Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الرعد 13:1 – الرعد 13:43

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الرعد 13:1
  2. الرعد 13:2
  3. الرعد 13:3
  4. الرعد 13:4
  5. الرعد 13:5
  6. الرعد 13:6
  7. الرعد 13:7
  8. الرعد 13:8
  9. الرعد 13:9
  10. الرعد 13:10
  11. الرعد 13:11
  12. الرعد 13:12
  13. الرعد 13:13
  14. الرعد 13:14
  15. الرعد 13:15
  16. الرعد 13:16
  17. الرعد 13:17
  18. الرعد 13:18
  19. الرعد 13:19
  20. الرعد 13:20
  21. الرعد 13:21
  22. الرعد 13:22
  23. الرعد 13:23
  24. الرعد 13:24
  25. الرعد 13:25
  26. الرعد 13:26
  27. الرعد 13:27
  28. الرعد 13:28
  29. الرعد 13:29
  30. الرعد 13:30
  31. الرعد 13:31
  32. الرعد 13:32
  33. الرعد 13:33
  34. الرعد 13:34
  35. الرعد 13:35
  36. الرعد 13:36
  37. الرعد 13:37
  38. الرعد 13:38
  39. الرعد 13:39
  40. الرعد 13:40
  41. الرعد 13:41
  42. الرعد 13:42
  43. الرعد 13:43

الرعد 13:1

درس نمبر 112 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 18 سورة کا آغاز اسلامی نظریہ حیات کے ایک بنیادی مسئلہ سے کیا جاتا ہے۔ یہ کہ یہ کتاب من جانب اللہ نازل ہوئی ہے۔ یہ جن حقائق پر مشتمل ہے ، وہ حق اور سچے ہیں۔ یہ بات اسلامی نظریہ حیات کے اساسیات میں سے ہے۔ باقی تمام نظریات و عقائد اسی نکتے پر تعمیر ہوتے ہیں۔ عقیدۂ توحید ، عقیدۂ بعث بعد الموت ، زندگی میں عمل صالح کی افادیت اور تمام اخلاقی تعلیمات اس بات پر موقوف ہیں کہ یہ سب احکام من جانب اللہ ہیں اور یہ قرآن کی شکل میں جبرائیل (علیہ السلام) خدا کی طرف سے لے کر آئے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ برحق ہیں۔ یہ ہے وہ بنیاد جس پر پورا دین تعمیر ہوا ہے۔ آیت نمبر 1 المر تلک ۔۔۔۔۔ الحق (13 : 1) ” یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں “۔ یعنی یہ آیات اس بات کی شاہد ہیں کہ یہ وحی منجانب اللہ ہے۔ کیونکہ یہ آیات انہی حروف تہجی سے مرکب ہیں۔ اور جب آج تک ان حروف سے ایسی کتاب کوئی نہیں بنا سکا تو ثابت ہوا کہ یہ وحی الٰہی ہیں۔ والذی انزل الیک من ربک الحق (13 : 1) ” اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے “۔ یہی حق ہے ، یہ ایسا خالص حق ہے جس میں باطل کی کوئی ملاوٹ نہیں ہے اور جس میں کوئی شک اور تردد نہیں ہے ۔ یہ حروف تہجی بھی اس پر دلیل ہیں کہ یہ حق ہے کیونکہ یہ اس کتاب کے من جانب اللہ ہونے پر دلیل ناطق ہیں۔ کیونکہ اللہ کی جانب سے جو آتا ہے وہ حق ہی ہوتا ہے اور اس میں شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ ولکن اکثر الناس لا یومنون (13 : 1) ” مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے “۔ وہ اس بات پر ایمان نہیں لاتے کہ یہ قرآن مجید من جانب اللہ ہے۔ اور نہ ان نتائج کو مانتے ہیں جو اس ایمان کے بعد سامنے آتے ہیں مثلاً عقیدۂ توحید ، صرف اللہ کی مکمل اطاعت ، عقیدہ بعث بعد الموت اور عقیدۂ توحید کے ساتھ عمل صالح۔ اور پوری زندگی کی اصلاح۔ یہ ہے اس سورة کا کلمہ آغاز اور اس کے اندر پوری سورة کے مضامین کو نچوڑ کر بند کردیا گیا ہے۔ ان تمام موضوعات کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے جو اس میں موجود ہیں۔ چناچہ تفصیلات کا آغاز مناظر قدرت الٰہیہ کے بیان سے کیا جاتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق ، اس کی حرکت اور اس کے اثرات و آثار کس قدر گہری حکمت پر مبنی ہیں اور بذات خود یہ کائنات کس قدر عجیب چیز ہے ۔ جب یہ کائنات عجیب ہے ، اس کی مخلوق عجیب ہے اور اس کی حکمتیں ناقابل فہم ہیں تو انسان کی ہدایت کے لئے وحی و کتاب لابدی ہیں اور یہ کہ اس فانی دنیا کے بعد دائمی زندگی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ نیز اس کائنات کی اس پیچیدہ قدرت و حکمت کا تقاضا۔ منطقی تقاضا بھی یہ ہے کہ موت کے بعد تمام مخلوقات زندہ کر کے اٹھائی جائے۔ تمام لوگ اس کے سامنے حاضر ہوں جس نے ان کو پیدا کیا اور جس نے ان کے لئے اس کائنات کو مسخر کیا اور اس کی نعمتوں سے نوازا تا کہ وہ پوری زندگی کا جواب دیں۔ حساب و کتاب ہو ، جزاء وسزا اور عمل آزمائش مکمل ہو۔ مناظر قدرت کی عکاسی اور تصویر کشی یوں شروع ہوتی ہے کہ سب سے پہلے بڑے بڑے قدرتی مناظر کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ ایک ٹچ آسمانوں کو دیا جاتا ہے اور ایک ٹچ طویل و عریض زمین کو دیا جاتا ہے اور پھر اس زمین پر بکھری ہوئی حیات اور سا کے عجائبات سامنے آتے ہیں۔ اس کے بعد نہایت ہی تعجب سے کہا جاتا ہے کہ آخر ان لوگوں کے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں۔ یہ لوگ دراصل ان قدرتی شواہد کے بعد آیات و معجزات کا مقابلہ کر کے دراصل عذاب الٰہی کو دعوت دیتے ہیں۔

الرعد 13:2

آیت نمبر 2 تا 7 آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔ یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔ لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔ یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔ ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔ یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔ پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔ پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔ کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔ یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق اور اپنے وقت مقرر تک کے لئے ٹھیک ٹھیک جا رہے ہیں اور چلتے رہیں گے اور جو ذات باری ان عظیم الشان کرامات کو اس فضائے بسیط میں یوں بغیر ظاہری سہارے کے چلا رہی ہے ، اس ذات نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے اور یہ کسی صورت میں بھی وقت مقررہ سے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ ذات برتر مدبر ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ جلیل القدر ہے۔ اللہ کی مدبرانہ شان کا ایک مظہریہ ہے کہ یفصل الایت (13 : 2) ” وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے “۔ ان کو منظم طریقے سے باہم مربوط انداز میں پیش کرتا ہے اور ہر ایک چیز کو اپنی مقررہ میعاد پر لاتا ہے۔ اسباب کے مطابق لاتا ہے اور مقاصد متعین کر کے لاتا ہے۔ یہ کیوں ؟ لعلکم بلقاء ربکم توقنون (13 : 2) ” شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو “۔ کیونکہ جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ آیات الٰہیہ مفصل اور مربوط ہیں اور ان کی پشت پر کائناتی آیات بھی موید ہیں ، یہ تکوینی آیات وہ ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں اس کی تخلیق کے وقت سے ودیعت کی ہوئی ہیں اور ان قدرتی دلائل اور آثار کے ساتھ ساتھ اللہ نے کتابی آیات و دلائل بھی نازل کئے اور یوں ان کی تائید فرمائی۔ ان تمام آیات دلائل کے نتیجے میں انسان لازمی طور پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے۔ وہاں انسانی اعمال کی جانچ پڑتا ہوگی ، ان اعمال پر ان کو جزاء و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے یہ وہ نتائج ہیں جن کا اظہار حکمت تخلیق سے ہوتا ہے۔ اب مناظر قدرت کی تصویر کشی کا یہ عظیم خط عالم بالا سے عالم زیریں کی طرف آتا ہے اور عالم زیریں کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے۔ وھو الذی مد الارض۔۔۔۔۔۔ یتفکرون (13 : 3) ” اور وہی ہے جس نے زمین پھیلا رکھی ہے ، اس میں پہاڑ کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دئیے ہیں ، اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے ۔ ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر سے کام لیتے ہیں “۔ اس زمین کی تصویر کشی میں پہلا رنگ اس کا بچھایا جانا ہے۔ نظروں کے سامنے یہ بچھی ہوئی ہے اور طول و عرض میں یہ وسیع ہے۔ اگرچہ اس کی حقیقی شکل گول ہے ، گول ہونے کے ساتھ ساتھ یہ طویل و عریض ہے۔ یہ ہے اس تصویر کشی کا پہلا رنگ۔ اس کے بعد اس تصویر میں اونچے اونچے پہاڑ نمودار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے درمیان میں نہریں نظر آتی ہیں۔ یوں اس زمین کے ابتدائی خدو خال متعین ہوتے ہیں جو اس منظر کو نہایت ہی موزوں بناتے ہیں۔ زمین کے عمومی خدو خال کے تعین کے لئے ضروری ہے کہ یہاں نہایت ہی اصولی اور عمومی مظاہر کا تذکرہ ہو ، زمین کے اندر زندگی کا اہم اصول اور اس زندگی کو قائم رکھنے کا اصولی مظہر یعنی حیوانی اور نباتی زندگی کے اندر مادہ اور نر کی تقسیم ، حیوانی زندگی میں نر اور مادہ کا وجود تو ظاہر ہے لیکن نباتاتی حیات کے اندر نر و مادہ کا نظام جو بذات خود قیام حیات کے لیے ایک اصول ہے۔ من کل الثمرت جعل فیھا روجین اثنین (13 : 3) ” اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں “۔ یہ تو ہے پہلا اصولی مظہر اور یغشی الیل النہار (13 : 3) ” اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے “۔ تمام ثمرات کے جوڑے کیے ہیں ۔ ایک درخت میں دو قسم کے اعضاء ہوتے ہیں۔ مادہ یا نر یا بعض درخت مادہ ہوتے ہیں۔ اور بعض نر ہوتے ہیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو انسان کے لئے اس کائنات کے اسرار رموز کی نشاندہی کی راہ کھولتی ہیں۔ یعنی رات اور دن اور حیوانات میں نر و مادہ کے رنگ تو ظاہر ہیں ، پھلوں کے اندر تناسل و توالد ایک راز تھا۔ خود رات اور دن کا یہ منظر کہ رات اور دن آگے پیچھے آرہے ہیں۔ ایک دوسرے کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا نظام بڑا ہی عجیب اور سحر انگیز ہے۔ یہ گہرے غوروفکر کا موضوع ہے۔ رات کا آنا اور دن کا بھاگ جانا ، فجر کا نمودار ہونا اور رات کے اندھیروں کا چھٹ جانا ۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو ہم رات اور دن دیکھتے دیکھتے اس کے ساتھ ایسے مانوس اور مالوف ہوگئے ہیں کہ ہمارے پردۂ احساس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تعجب انگیز اور حیران کن ہیں۔ اگر ہم اپنی عادت کو ذرا دور پھینک دیں اور اپنے ذہنی جمود کو ترک کر کے اس کائنات کو شاعرانہ حساسیت کے ساتھ دیکھیں اور اس رات دن کے چلتے رہنے کو ایک معمولی چیز نہ سمجھیں تو گردش ایام کا یہ نظام ایک گہری حکمت الٰہیہ کا پتہ دیتا ہے اور نظر آتا ہے کہ اس کے اندر صائع کائنات کی عجیب کاری گری عیاں ہے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (13 : 3) ” ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں “۔ اس منظر کو چھوڑ کر آگے بڑھنے سے قبل ، مناسب ہے کہ ہم ان تقابلی امور پر ایک نظر دوڑائیں جو اس منظر میں پیش کئے گئے ہیں۔ مثلاً ایک طرف اپنی جگہ ۔۔۔ ہوئے بلند پہاڑ ہیں اور دوسری طرف بہتے ہوئے ندی نالے اور دریا ہیں۔ تمام پھلوں میں نر اور مادہ ہیں۔ رات اور دن ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں ، زمین ہے جو بچھی ہوئی ہے اور آسمان ہے جو بہت بلندیوں پر ہے ، اور دونوں اس عظیم کائنات کے اہم اور باہم متکافل نکتے ہیں۔ دونوں عظیم کائنات کے اجزاء ہیں۔ یہ تو تھے اس کائنات اور ارض وسما کے عمومی خدو خال اور بڑی لکیریں۔ اب ذرا زمین کے نہایت ہی باریک خطوط اور رنگ ڈھنگ ملاحظہ کریں۔ وفی الارض قطع۔۔۔۔۔۔۔ یعقلون (13 : 4) ” اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوتے ہیں۔ انگور کے باغ ہیں ، کھیتیاں ہیں۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دہرے ، سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے ، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کم تر۔۔۔۔ سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ یہ مظاہر قدرت ایسے ہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگ ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن ان کے اندر یہ خیال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ ان کی حقیقت معلوم کریں۔ وفی الارض قطع متجورت (13 : 4) ” اور زمین میں قطعات ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوئے ہیں “۔ ان قطعات کی خصوصیات الگ الگ ہیں۔ اگر یہ قطعات الگ الگ خصوصیت اور نوعیت کے نہ ہوتے تو ان کو قطعات نہ کہا جاتا بلکہ قطعہ کہا جاتا۔ یعنی ان میں بعض قطعات اچھے اور زرخیز ہیں اور بعض بنجر اور چٹیل ہیں۔ بعض صحراء میں جو بےآب وگیاہ ہیں اور بعض خالص چٹانیں ہیں۔ اور ان میں بھی پھر مختلف درجات کے ٹکڑے ہیں انواع و اقسام کے۔ بعض شہروں اور آبادیوں کے لئے ، بعض جنگلوں اور سبزیوں کے لئے ، اور بعض بےآب وگیاہ اور مردہ میدان ہیں۔ اور بعض آبی ہیں اور بعض بارانی اور اس طرح قسم قسم کے ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور باہم مفصل بھی ہیں اور سب کے سب اس زمین کا حصہ ہیں۔ یہ تھے زمین کی تصویر کشی کے سلسلے کے ابتدائی اور عمومی خطوط ۔ اس کے بعد اب اس تصویر میں تفصیلی رنگ بھرے جاتے ہیں اور مختلف جزوی چیزیں نمودار ہوتی ہیں۔ فصل ، کھجور اور انگور۔ یہ نباتات۔۔۔۔ انگور وہ نباتات ہیں جو زمین پر چھتوں اور درختوں پر رینگتے ہیں۔ کھجور ان نباتات کی نمائندہ ہے جو اونچے اونچے درختوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور دوسرے فصل ، پھول اور غلے کا نمائندہ جو درمیانی شکل میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان تینوں کے ذکر سے تین قسم کے مختلف مناظر کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ یوں اس تصویر میں رنگ بھرے جاتے ہیں اور اس کے اندر مختلف نمائندہ نباتات کے نمونے دئیے جاتے ہیں۔ یہ کھجور کے درخت اکہرے بھی ہیں اور دہرے بھی ہیں۔ یعنی بعض کا تنا ایک ہی ہے اور بعض ایک ہی جڑ سے دوہرے بھی ہیں ، دو یا اس سے زیادہ۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں ، ایک ہی مٹی ہوتی ہے لیکن سب درختوں کے پھل مختلف ہیں اور مختلف ذائقہ رکھتے ہیں۔ ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل (13 : 4) ” مگر مزے میں ہم بعض کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں “۔ ایک ہی خطے کے مختلف پھل اور نباتات ہم نے چکھے ہیں۔ ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ انسان کے دل و دماغ کو قرآن کریم جس نکتے کی طرف متوجہ کرتا ہے کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے۔ ایسے ہی نکات ہیں جن کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم ایک جدید کتاب ہے۔ کیونکہ قرآن کریم انسانی احساس اور وجدان اور شعور کو پیش پا افتادہ حقائق کے بارے میں تازگی بخشتا ہے۔ خواہ یہ مناظر کائنات سے متعلق ہوں یا نفس انسانی سے متعلق ہوں۔ یہ نکات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان اگر پوری عمر لگادے تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ اور نہ ہی قرآن کے نکات اور عجائبات آنے والے ادوار میں ختم ہوں گے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (13 : 4) ” بیشک اس میں آیات و نشانات ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں “۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں پھر ایک نیا تقابل پایا جاتا ہے۔ زمین کے دو ٹکڑے باہم مقابل اور مختلف قسم کے ہیں۔ کھجور کے درخت بھی اکہرے اور دہرے باہم مقابل ہیں۔ پھر مختلف پھلوں کے ذائقے مختلف ہیں۔ اور نباتات بھی مختلف ہیں ، فصل ، درخت اور انگور۔ اس وسیع تر کائنات پر یہ سر سری نظر ڈالنے کے بعد اب لوگوں پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جو لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں پائے جانے والے دلائل اور نشانات پر غور نہیں کرتے اور ان کی عقل اس نتیجے تک نہیں پہنچ پاتی کہ اس عظیم کائنات کا کوئی خالق بھی ہے یا کوئی عظیم قوت ، قدرت اور حکمت مدبرہ ایسی موجود ہے جو اسے چلا رہی ہے تو گویا ان کے عقول جمود کا شکار ہیں۔ ان کے دل تنگ ہیں ، اور ان کی سوچ کے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔ کیا یہ صورت حالات تعجب انگیز نہیں ؟ وان تعجب فعجب ۔۔۔۔۔ خلدون (13 : 5) ” اگر تمہیں تعجب کرنا ہے ، تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے تعجب انگیز بات اور اس پر تعجب کرنا چاہئے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ جس ذات نے اس عظیم کائنات کی تخلیق کی ہے ، جو اسے موجودہ حیرت انگیز انداز سے چلا رہا ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ لوگوں کو جدید شکل میں از سر نو زندہ کر دے۔ اگر کوئی اس کو بعید از امکان سمجھتا ہے تو وہ اپنے خالق اور مدبر کائنات کا دراصل انکار کرتا ہے۔ ایسے لوگوں نے دراصل اپنی عقل کو قید رکھا ہے اور وہ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو سزا بھی ایسی ہی دے گا کہ ان کے گلوں میں بڑے طوق پڑے ہوں گے۔ چناچہ جب کہ ان کا عمل ایسا ہے یعنی عقل کو باندھنا ، ایسی ہی سزا ہے یعنی ان کے گلوں میں بڑے بڑے طوق باندھنا۔ اس لیے کہ انہوں نے اس خصوصیت انسانیہ کو معطل کردیا ہے جس کی وجہ سے انسان دوسرے حیوانات پر مکرم ہے۔ انہوں نے دنیا میں پسماندگی اختیار کر رکھی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی زندگی تجویز کی ہے جو اس حیات دنیا سے بھی پسماندہ ہو کیونکہ یہ لوگ فکر و شعور اور احساس وجدان کو معطل کر کے یہاں محض حیوانات کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ایک جدید مخلوق کے طور پر کس طرح اٹھائے گا ؟ لیکن ان کا یہ تعجب ہی دراصل تعجب انگیز ہے۔ یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر جلدی عذاب لے آئیں تو یہ بھی تعجب انگیز ہے کہ وہ ہدایت کا مطالبہ کرنے اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہونے کے بجائے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ (13 : 6) ” اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لئے جلدی مچا رہے ہیں “۔ یہ لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں غور نہیں کرتے ، حالانکہ اللہ کی نشانیاں اس پوری کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، زمین میں بھی ہیں ، آسمان میں بھی ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ اس سے پہلے ہلاک ہونے والے لوگوں کے لئے ایک مثال اور نمونہ عبرت بن کر رہ گئے۔ وقد خلت من قبلھم المثلت (13 : 6) ” حالانکہ ان سے پہلے عبرتناک مثالیں گزر چکی ہیں “۔ اور یہ لوگ ان مثالوں پر غور نہیں کرتے حالانکہ ان میں ان کے لیے سامان عبرت تھا۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت رحم کرنے والا ہے۔ اگرچہ وہ ایک عرصہ کے لئے ظلم کرتے ہیں ، اللہ لوگوں کے لئے اپنی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے تا کہ وہ توبہ کے راستے اس میں داخل ہوں۔ لیکن عذاب صرف ان لوگوں پر نازل کرتا ہے جو عذاب الٰہی کے نزول پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ گناہوں میں گھرے جا رہے ہوں اور اللہ کے کھلے دروازے سے اندر جانے کے لئے تیار نہ ہوں۔ وان ربک لشدید العقاب (13 : 6) ” بیشک تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کی مغفرت کو اس کی سزا پر مقدم رکھا گیا ہے ، جبکہ یہ لوگ عذاب کے مطالبے میں جلدی کر رہے تھے ، اور ہدایت قبول کرنے سے انکاری تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہ بھلائی کس قدر عظیم ہے جو اللہ لوگوں کے لئے چاہتا ہے جبکہ یہ لوگ خود اپنے لیے ایک عظیم شر چاہتے ہیں۔ اس صورت حالات کے نتیجے میں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ بصیرت کے اندھے ہیں ، دلوں کے اندھے ہیں اور یہ کہ وہ نار جہنم کے مستحق ہیں بوجہ اپنی ہٹ دھرمی کے۔ اس کے بعد روئے سخن اس مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے کہ ان لوگوں کا رویہ کس قدر عجیب ہے کہ ان کو اس کائنات کے اندے بیشمار جا بجا بکھرے ہوئے دلائل تکوینی تو نظر نہیں آتے ، مگر یہ لوگ ایک مخصوص معجزہ طلب کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے صرف ایک معجزہ طلب کرتے ہیں اور کائنات کے ہزارہا معجزات پر ان کی نظر نہیں ہے۔ ویقول الذین ۔۔۔۔ قوم ھاد (13 : 7) ” یہ لوگ جنہوں نے تمہارے بات ماننے سے انکار کردیا ہے ، کہتے ہیں کہ اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری ؟ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو ، اور ہر قوم کے لئے راہنما ہے “۔ یہ لوگ ایک معجزہ طلب کرتے ہیں ، جبکہ معجزات کا صدور رسول کے اپنے اختیار میں نہیں ہے ، نہ ان کی ذاتی خصوصیت ہے۔ معجزات تو اللہ بھیجتا ہے اور اس وقت بھیجتا ہے جب اللہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اے رسول ﷺ آپ تو محض ڈرانے والے ہیں جس طرح آپ سے قبل رسولوں کا منصب یہ تھا کہ وہ لوگوں کو ڈرانے والے تھے ۔ اللہ نے بیشمار اقوام کی ہدایت کے لئے بیشمار رسول بھیجے ہیں۔ لہٰذا معجزات ارسال کرنا اس ذات کا کام ہے جو اس کائنات اور بندوں کا مدبر ہے۔

الرعد 13:3

آیت نمبر 2 تا 7 آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔ یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔ لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔ یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔ ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔ یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔ پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔ پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔ کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔ یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق اور اپنے وقت مقرر تک کے لئے ٹھیک ٹھیک جا رہے ہیں اور چلتے رہیں گے اور جو ذات باری ان عظیم الشان کرامات کو اس فضائے بسیط میں یوں بغیر ظاہری سہارے کے چلا رہی ہے ، اس ذات نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے اور یہ کسی صورت میں بھی وقت مقررہ سے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ ذات برتر مدبر ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ جلیل القدر ہے۔ اللہ کی مدبرانہ شان کا ایک مظہریہ ہے کہ یفصل الایت (13 : 2) ” وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے “۔ ان کو منظم طریقے سے باہم مربوط انداز میں پیش کرتا ہے اور ہر ایک چیز کو اپنی مقررہ میعاد پر لاتا ہے۔ اسباب کے مطابق لاتا ہے اور مقاصد متعین کر کے لاتا ہے۔ یہ کیوں ؟ لعلکم بلقاء ربکم توقنون (13 : 2) ” شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو “۔ کیونکہ جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ آیات الٰہیہ مفصل اور مربوط ہیں اور ان کی پشت پر کائناتی آیات بھی موید ہیں ، یہ تکوینی آیات وہ ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں اس کی تخلیق کے وقت سے ودیعت کی ہوئی ہیں اور ان قدرتی دلائل اور آثار کے ساتھ ساتھ اللہ نے کتابی آیات و دلائل بھی نازل کئے اور یوں ان کی تائید فرمائی۔ ان تمام آیات دلائل کے نتیجے میں انسان لازمی طور پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے۔ وہاں انسانی اعمال کی جانچ پڑتا ہوگی ، ان اعمال پر ان کو جزاء و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے یہ وہ نتائج ہیں جن کا اظہار حکمت تخلیق سے ہوتا ہے۔ اب مناظر قدرت کی تصویر کشی کا یہ عظیم خط عالم بالا سے عالم زیریں کی طرف آتا ہے اور عالم زیریں کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے۔ وھو الذی مد الارض۔۔۔۔۔۔ یتفکرون (13 : 3) ” اور وہی ہے جس نے زمین پھیلا رکھی ہے ، اس میں پہاڑ کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دئیے ہیں ، اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے ۔ ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر سے کام لیتے ہیں “۔ اس زمین کی تصویر کشی میں پہلا رنگ اس کا بچھایا جانا ہے۔ نظروں کے سامنے یہ بچھی ہوئی ہے اور طول و عرض میں یہ وسیع ہے۔ اگرچہ اس کی حقیقی شکل گول ہے ، گول ہونے کے ساتھ ساتھ یہ طویل و عریض ہے۔ یہ ہے اس تصویر کشی کا پہلا رنگ۔ اس کے بعد اس تصویر میں اونچے اونچے پہاڑ نمودار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے درمیان میں نہریں نظر آتی ہیں۔ یوں اس زمین کے ابتدائی خدو خال متعین ہوتے ہیں جو اس منظر کو نہایت ہی موزوں بناتے ہیں۔ زمین کے عمومی خدو خال کے تعین کے لئے ضروری ہے کہ یہاں نہایت ہی اصولی اور عمومی مظاہر کا تذکرہ ہو ، زمین کے اندر زندگی کا اہم اصول اور اس زندگی کو قائم رکھنے کا اصولی مظہر یعنی حیوانی اور نباتی زندگی کے اندر مادہ اور نر کی تقسیم ، حیوانی زندگی میں نر اور مادہ کا وجود تو ظاہر ہے لیکن نباتاتی حیات کے اندر نر و مادہ کا نظام جو بذات خود قیام حیات کے لیے ایک اصول ہے۔ من کل الثمرت جعل فیھا روجین اثنین (13 : 3) ” اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں “۔ یہ تو ہے پہلا اصولی مظہر اور یغشی الیل النہار (13 : 3) ” اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے “۔ تمام ثمرات کے جوڑے کیے ہیں ۔ ایک درخت میں دو قسم کے اعضاء ہوتے ہیں۔ مادہ یا نر یا بعض درخت مادہ ہوتے ہیں۔ اور بعض نر ہوتے ہیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو انسان کے لئے اس کائنات کے اسرار رموز کی نشاندہی کی راہ کھولتی ہیں۔ یعنی رات اور دن اور حیوانات میں نر و مادہ کے رنگ تو ظاہر ہیں ، پھلوں کے اندر تناسل و توالد ایک راز تھا۔ خود رات اور دن کا یہ منظر کہ رات اور دن آگے پیچھے آرہے ہیں۔ ایک دوسرے کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا نظام بڑا ہی عجیب اور سحر انگیز ہے۔ یہ گہرے غوروفکر کا موضوع ہے۔ رات کا آنا اور دن کا بھاگ جانا ، فجر کا نمودار ہونا اور رات کے اندھیروں کا چھٹ جانا ۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو ہم رات اور دن دیکھتے دیکھتے اس کے ساتھ ایسے مانوس اور مالوف ہوگئے ہیں کہ ہمارے پردۂ احساس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تعجب انگیز اور حیران کن ہیں۔ اگر ہم اپنی عادت کو ذرا دور پھینک دیں اور اپنے ذہنی جمود کو ترک کر کے اس کائنات کو شاعرانہ حساسیت کے ساتھ دیکھیں اور اس رات دن کے چلتے رہنے کو ایک معمولی چیز نہ سمجھیں تو گردش ایام کا یہ نظام ایک گہری حکمت الٰہیہ کا پتہ دیتا ہے اور نظر آتا ہے کہ اس کے اندر صائع کائنات کی عجیب کاری گری عیاں ہے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (13 : 3) ” ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں “۔ اس منظر کو چھوڑ کر آگے بڑھنے سے قبل ، مناسب ہے کہ ہم ان تقابلی امور پر ایک نظر دوڑائیں جو اس منظر میں پیش کئے گئے ہیں۔ مثلاً ایک طرف اپنی جگہ ۔۔۔ ہوئے بلند پہاڑ ہیں اور دوسری طرف بہتے ہوئے ندی نالے اور دریا ہیں۔ تمام پھلوں میں نر اور مادہ ہیں۔ رات اور دن ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں ، زمین ہے جو بچھی ہوئی ہے اور آسمان ہے جو بہت بلندیوں پر ہے ، اور دونوں اس عظیم کائنات کے اہم اور باہم متکافل نکتے ہیں۔ دونوں عظیم کائنات کے اجزاء ہیں۔ یہ تو تھے اس کائنات اور ارض وسما کے عمومی خدو خال اور بڑی لکیریں۔ اب ذرا زمین کے نہایت ہی باریک خطوط اور رنگ ڈھنگ ملاحظہ کریں۔ وفی الارض قطع۔۔۔۔۔۔۔ یعقلون (13 : 4) ” اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوتے ہیں۔ انگور کے باغ ہیں ، کھیتیاں ہیں۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دہرے ، سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے ، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کم تر۔۔۔۔ سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ یہ مظاہر قدرت ایسے ہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگ ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن ان کے اندر یہ خیال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ ان کی حقیقت معلوم کریں۔ وفی الارض قطع متجورت (13 : 4) ” اور زمین میں قطعات ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوئے ہیں “۔ ان قطعات کی خصوصیات الگ الگ ہیں۔ اگر یہ قطعات الگ الگ خصوصیت اور نوعیت کے نہ ہوتے تو ان کو قطعات نہ کہا جاتا بلکہ قطعہ کہا جاتا۔ یعنی ان میں بعض قطعات اچھے اور زرخیز ہیں اور بعض بنجر اور چٹیل ہیں۔ بعض صحراء میں جو بےآب وگیاہ ہیں اور بعض خالص چٹانیں ہیں۔ اور ان میں بھی پھر مختلف درجات کے ٹکڑے ہیں انواع و اقسام کے۔ بعض شہروں اور آبادیوں کے لئے ، بعض جنگلوں اور سبزیوں کے لئے ، اور بعض بےآب وگیاہ اور مردہ میدان ہیں۔ اور بعض آبی ہیں اور بعض بارانی اور اس طرح قسم قسم کے ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور باہم مفصل بھی ہیں اور سب کے سب اس زمین کا حصہ ہیں۔ یہ تھے زمین کی تصویر کشی کے سلسلے کے ابتدائی اور عمومی خطوط ۔ اس کے بعد اب اس تصویر میں تفصیلی رنگ بھرے جاتے ہیں اور مختلف جزوی چیزیں نمودار ہوتی ہیں۔ فصل ، کھجور اور انگور۔ یہ نباتات۔۔۔۔ انگور وہ نباتات ہیں جو زمین پر چھتوں اور درختوں پر رینگتے ہیں۔ کھجور ان نباتات کی نمائندہ ہے جو اونچے اونچے درختوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور دوسرے فصل ، پھول اور غلے کا نمائندہ جو درمیانی شکل میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان تینوں کے ذکر سے تین قسم کے مختلف مناظر کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ یوں اس تصویر میں رنگ بھرے جاتے ہیں اور اس کے اندر مختلف نمائندہ نباتات کے نمونے دئیے جاتے ہیں۔ یہ کھجور کے درخت اکہرے بھی ہیں اور دہرے بھی ہیں۔ یعنی بعض کا تنا ایک ہی ہے اور بعض ایک ہی جڑ سے دوہرے بھی ہیں ، دو یا اس سے زیادہ۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں ، ایک ہی مٹی ہوتی ہے لیکن سب درختوں کے پھل مختلف ہیں اور مختلف ذائقہ رکھتے ہیں۔ ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل (13 : 4) ” مگر مزے میں ہم بعض کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں “۔ ایک ہی خطے کے مختلف پھل اور نباتات ہم نے چکھے ہیں۔ ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ انسان کے دل و دماغ کو قرآن کریم جس نکتے کی طرف متوجہ کرتا ہے کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے۔ ایسے ہی نکات ہیں جن کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم ایک جدید کتاب ہے۔ کیونکہ قرآن کریم انسانی احساس اور وجدان اور شعور کو پیش پا افتادہ حقائق کے بارے میں تازگی بخشتا ہے۔ خواہ یہ مناظر کائنات سے متعلق ہوں یا نفس انسانی سے متعلق ہوں۔ یہ نکات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان اگر پوری عمر لگادے تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ اور نہ ہی قرآن کے نکات اور عجائبات آنے والے ادوار میں ختم ہوں گے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (13 : 4) ” بیشک اس میں آیات و نشانات ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں “۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں پھر ایک نیا تقابل پایا جاتا ہے۔ زمین کے دو ٹکڑے باہم مقابل اور مختلف قسم کے ہیں۔ کھجور کے درخت بھی اکہرے اور دہرے باہم مقابل ہیں۔ پھر مختلف پھلوں کے ذائقے مختلف ہیں۔ اور نباتات بھی مختلف ہیں ، فصل ، درخت اور انگور۔ اس وسیع تر کائنات پر یہ سر سری نظر ڈالنے کے بعد اب لوگوں پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جو لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں پائے جانے والے دلائل اور نشانات پر غور نہیں کرتے اور ان کی عقل اس نتیجے تک نہیں پہنچ پاتی کہ اس عظیم کائنات کا کوئی خالق بھی ہے یا کوئی عظیم قوت ، قدرت اور حکمت مدبرہ ایسی موجود ہے جو اسے چلا رہی ہے تو گویا ان کے عقول جمود کا شکار ہیں۔ ان کے دل تنگ ہیں ، اور ان کی سوچ کے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔ کیا یہ صورت حالات تعجب انگیز نہیں ؟ وان تعجب فعجب ۔۔۔۔۔ خلدون (13 : 5) ” اگر تمہیں تعجب کرنا ہے ، تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے تعجب انگیز بات اور اس پر تعجب کرنا چاہئے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ جس ذات نے اس عظیم کائنات کی تخلیق کی ہے ، جو اسے موجودہ حیرت انگیز انداز سے چلا رہا ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ لوگوں کو جدید شکل میں از سر نو زندہ کر دے۔ اگر کوئی اس کو بعید از امکان سمجھتا ہے تو وہ اپنے خالق اور مدبر کائنات کا دراصل انکار کرتا ہے۔ ایسے لوگوں نے دراصل اپنی عقل کو قید رکھا ہے اور وہ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو سزا بھی ایسی ہی دے گا کہ ان کے گلوں میں بڑے طوق پڑے ہوں گے۔ چناچہ جب کہ ان کا عمل ایسا ہے یعنی عقل کو باندھنا ، ایسی ہی سزا ہے یعنی ان کے گلوں میں بڑے بڑے طوق باندھنا۔ اس لیے کہ انہوں نے اس خصوصیت انسانیہ کو معطل کردیا ہے جس کی وجہ سے انسان دوسرے حیوانات پر مکرم ہے۔ انہوں نے دنیا میں پسماندگی اختیار کر رکھی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی زندگی تجویز کی ہے جو اس حیات دنیا سے بھی پسماندہ ہو کیونکہ یہ لوگ فکر و شعور اور احساس وجدان کو معطل کر کے یہاں محض حیوانات کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ایک جدید مخلوق کے طور پر کس طرح اٹھائے گا ؟ لیکن ان کا یہ تعجب ہی دراصل تعجب انگیز ہے۔ یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر جلدی عذاب لے آئیں تو یہ بھی تعجب انگیز ہے کہ وہ ہدایت کا مطالبہ کرنے اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہونے کے بجائے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ (13 : 6) ” اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لئے جلدی مچا رہے ہیں “۔ یہ لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں غور نہیں کرتے ، حالانکہ اللہ کی نشانیاں اس پوری کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، زمین میں بھی ہیں ، آسمان میں بھی ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ اس سے پہلے ہلاک ہونے والے لوگوں کے لئے ایک مثال اور نمونہ عبرت بن کر رہ گئے۔ وقد خلت من قبلھم المثلت (13 : 6) ” حالانکہ ان سے پہلے عبرتناک مثالیں گزر چکی ہیں “۔ اور یہ لوگ ان مثالوں پر غور نہیں کرتے حالانکہ ان میں ان کے لیے سامان عبرت تھا۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت رحم کرنے والا ہے۔ اگرچہ وہ ایک عرصہ کے لئے ظلم کرتے ہیں ، اللہ لوگوں کے لئے اپنی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے تا کہ وہ توبہ کے راستے اس میں داخل ہوں۔ لیکن عذاب صرف ان لوگوں پر نازل کرتا ہے جو عذاب الٰہی کے نزول پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ گناہوں میں گھرے جا رہے ہوں اور اللہ کے کھلے دروازے سے اندر جانے کے لئے تیار نہ ہوں۔ وان ربک لشدید العقاب (13 : 6) ” بیشک تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کی مغفرت کو اس کی سزا پر مقدم رکھا گیا ہے ، جبکہ یہ لوگ عذاب کے مطالبے میں جلدی کر رہے تھے ، اور ہدایت قبول کرنے سے انکاری تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہ بھلائی کس قدر عظیم ہے جو اللہ لوگوں کے لئے چاہتا ہے جبکہ یہ لوگ خود اپنے لیے ایک عظیم شر چاہتے ہیں۔ اس صورت حالات کے نتیجے میں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ بصیرت کے اندھے ہیں ، دلوں کے اندھے ہیں اور یہ کہ وہ نار جہنم کے مستحق ہیں بوجہ اپنی ہٹ دھرمی کے۔ اس کے بعد روئے سخن اس مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے کہ ان لوگوں کا رویہ کس قدر عجیب ہے کہ ان کو اس کائنات کے اندے بیشمار جا بجا بکھرے ہوئے دلائل تکوینی تو نظر نہیں آتے ، مگر یہ لوگ ایک مخصوص معجزہ طلب کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے صرف ایک معجزہ طلب کرتے ہیں اور کائنات کے ہزارہا معجزات پر ان کی نظر نہیں ہے۔ ویقول الذین ۔۔۔۔ قوم ھاد (13 : 7) ” یہ لوگ جنہوں نے تمہارے بات ماننے سے انکار کردیا ہے ، کہتے ہیں کہ اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری ؟ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو ، اور ہر قوم کے لئے راہنما ہے “۔ یہ لوگ ایک معجزہ طلب کرتے ہیں ، جبکہ معجزات کا صدور رسول کے اپنے اختیار میں نہیں ہے ، نہ ان کی ذاتی خصوصیت ہے۔ معجزات تو اللہ بھیجتا ہے اور اس وقت بھیجتا ہے جب اللہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اے رسول ﷺ آپ تو محض ڈرانے والے ہیں جس طرح آپ سے قبل رسولوں کا منصب یہ تھا کہ وہ لوگوں کو ڈرانے والے تھے ۔ اللہ نے بیشمار اقوام کی ہدایت کے لئے بیشمار رسول بھیجے ہیں۔ لہٰذا معجزات ارسال کرنا اس ذات کا کام ہے جو اس کائنات اور بندوں کا مدبر ہے۔

الرعد 13:4

آیت نمبر 2 تا 7 آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔ یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔ لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔ یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔ ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔ یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔ پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔ پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔ کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔ یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق اور اپنے وقت مقرر تک کے لئے ٹھیک ٹھیک جا رہے ہیں اور چلتے رہیں گے اور جو ذات باری ان عظیم الشان کرامات کو اس فضائے بسیط میں یوں بغیر ظاہری سہارے کے چلا رہی ہے ، اس ذات نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے اور یہ کسی صورت میں بھی وقت مقررہ سے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ ذات برتر مدبر ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ جلیل القدر ہے۔ اللہ کی مدبرانہ شان کا ایک مظہریہ ہے کہ یفصل الایت (13 : 2) ” وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے “۔ ان کو منظم طریقے سے باہم مربوط انداز میں پیش کرتا ہے اور ہر ایک چیز کو اپنی مقررہ میعاد پر لاتا ہے۔ اسباب کے مطابق لاتا ہے اور مقاصد متعین کر کے لاتا ہے۔ یہ کیوں ؟ لعلکم بلقاء ربکم توقنون (13 : 2) ” شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو “۔ کیونکہ جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ آیات الٰہیہ مفصل اور مربوط ہیں اور ان کی پشت پر کائناتی آیات بھی موید ہیں ، یہ تکوینی آیات وہ ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں اس کی تخلیق کے وقت سے ودیعت کی ہوئی ہیں اور ان قدرتی دلائل اور آثار کے ساتھ ساتھ اللہ نے کتابی آیات و دلائل بھی نازل کئے اور یوں ان کی تائید فرمائی۔ ان تمام آیات دلائل کے نتیجے میں انسان لازمی طور پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے۔ وہاں انسانی اعمال کی جانچ پڑتا ہوگی ، ان اعمال پر ان کو جزاء و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے یہ وہ نتائج ہیں جن کا اظہار حکمت تخلیق سے ہوتا ہے۔ اب مناظر قدرت کی تصویر کشی کا یہ عظیم خط عالم بالا سے عالم زیریں کی طرف آتا ہے اور عالم زیریں کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے۔ وھو الذی مد الارض۔۔۔۔۔۔ یتفکرون (13 : 3) ” اور وہی ہے جس نے زمین پھیلا رکھی ہے ، اس میں پہاڑ کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دئیے ہیں ، اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے ۔ ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر سے کام لیتے ہیں “۔ اس زمین کی تصویر کشی میں پہلا رنگ اس کا بچھایا جانا ہے۔ نظروں کے سامنے یہ بچھی ہوئی ہے اور طول و عرض میں یہ وسیع ہے۔ اگرچہ اس کی حقیقی شکل گول ہے ، گول ہونے کے ساتھ ساتھ یہ طویل و عریض ہے۔ یہ ہے اس تصویر کشی کا پہلا رنگ۔ اس کے بعد اس تصویر میں اونچے اونچے پہاڑ نمودار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے درمیان میں نہریں نظر آتی ہیں۔ یوں اس زمین کے ابتدائی خدو خال متعین ہوتے ہیں جو اس منظر کو نہایت ہی موزوں بناتے ہیں۔ زمین کے عمومی خدو خال کے تعین کے لئے ضروری ہے کہ یہاں نہایت ہی اصولی اور عمومی مظاہر کا تذکرہ ہو ، زمین کے اندر زندگی کا اہم اصول اور اس زندگی کو قائم رکھنے کا اصولی مظہر یعنی حیوانی اور نباتی زندگی کے اندر مادہ اور نر کی تقسیم ، حیوانی زندگی میں نر اور مادہ کا وجود تو ظاہر ہے لیکن نباتاتی حیات کے اندر نر و مادہ کا نظام جو بذات خود قیام حیات کے لیے ایک اصول ہے۔ من کل الثمرت جعل فیھا روجین اثنین (13 : 3) ” اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں “۔ یہ تو ہے پہلا اصولی مظہر اور یغشی الیل النہار (13 : 3) ” اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے “۔ تمام ثمرات کے جوڑے کیے ہیں ۔ ایک درخت میں دو قسم کے اعضاء ہوتے ہیں۔ مادہ یا نر یا بعض درخت مادہ ہوتے ہیں۔ اور بعض نر ہوتے ہیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو انسان کے لئے اس کائنات کے اسرار رموز کی نشاندہی کی راہ کھولتی ہیں۔ یعنی رات اور دن اور حیوانات میں نر و مادہ کے رنگ تو ظاہر ہیں ، پھلوں کے اندر تناسل و توالد ایک راز تھا۔ خود رات اور دن کا یہ منظر کہ رات اور دن آگے پیچھے آرہے ہیں۔ ایک دوسرے کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا نظام بڑا ہی عجیب اور سحر انگیز ہے۔ یہ گہرے غوروفکر کا موضوع ہے۔ رات کا آنا اور دن کا بھاگ جانا ، فجر کا نمودار ہونا اور رات کے اندھیروں کا چھٹ جانا ۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو ہم رات اور دن دیکھتے دیکھتے اس کے ساتھ ایسے مانوس اور مالوف ہوگئے ہیں کہ ہمارے پردۂ احساس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تعجب انگیز اور حیران کن ہیں۔ اگر ہم اپنی عادت کو ذرا دور پھینک دیں اور اپنے ذہنی جمود کو ترک کر کے اس کائنات کو شاعرانہ حساسیت کے ساتھ دیکھیں اور اس رات دن کے چلتے رہنے کو ایک معمولی چیز نہ سمجھیں تو گردش ایام کا یہ نظام ایک گہری حکمت الٰہیہ کا پتہ دیتا ہے اور نظر آتا ہے کہ اس کے اندر صائع کائنات کی عجیب کاری گری عیاں ہے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (13 : 3) ” ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں “۔ اس منظر کو چھوڑ کر آگے بڑھنے سے قبل ، مناسب ہے کہ ہم ان تقابلی امور پر ایک نظر دوڑائیں جو اس منظر میں پیش کئے گئے ہیں۔ مثلاً ایک طرف اپنی جگہ ۔۔۔ ہوئے بلند پہاڑ ہیں اور دوسری طرف بہتے ہوئے ندی نالے اور دریا ہیں۔ تمام پھلوں میں نر اور مادہ ہیں۔ رات اور دن ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں ، زمین ہے جو بچھی ہوئی ہے اور آسمان ہے جو بہت بلندیوں پر ہے ، اور دونوں اس عظیم کائنات کے اہم اور باہم متکافل نکتے ہیں۔ دونوں عظیم کائنات کے اجزاء ہیں۔ یہ تو تھے اس کائنات اور ارض وسما کے عمومی خدو خال اور بڑی لکیریں۔ اب ذرا زمین کے نہایت ہی باریک خطوط اور رنگ ڈھنگ ملاحظہ کریں۔ وفی الارض قطع۔۔۔۔۔۔۔ یعقلون (13 : 4) ” اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوتے ہیں۔ انگور کے باغ ہیں ، کھیتیاں ہیں۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دہرے ، سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے ، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کم تر۔۔۔۔ سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ یہ مظاہر قدرت ایسے ہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگ ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن ان کے اندر یہ خیال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ ان کی حقیقت معلوم کریں۔ وفی الارض قطع متجورت (13 : 4) ” اور زمین میں قطعات ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوئے ہیں “۔ ان قطعات کی خصوصیات الگ الگ ہیں۔ اگر یہ قطعات الگ الگ خصوصیت اور نوعیت کے نہ ہوتے تو ان کو قطعات نہ کہا جاتا بلکہ قطعہ کہا جاتا۔ یعنی ان میں بعض قطعات اچھے اور زرخیز ہیں اور بعض بنجر اور چٹیل ہیں۔ بعض صحراء میں جو بےآب وگیاہ ہیں اور بعض خالص چٹانیں ہیں۔ اور ان میں بھی پھر مختلف درجات کے ٹکڑے ہیں انواع و اقسام کے۔ بعض شہروں اور آبادیوں کے لئے ، بعض جنگلوں اور سبزیوں کے لئے ، اور بعض بےآب وگیاہ اور مردہ میدان ہیں۔ اور بعض آبی ہیں اور بعض بارانی اور اس طرح قسم قسم کے ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور باہم مفصل بھی ہیں اور سب کے سب اس زمین کا حصہ ہیں۔ یہ تھے زمین کی تصویر کشی کے سلسلے کے ابتدائی اور عمومی خطوط ۔ اس کے بعد اب اس تصویر میں تفصیلی رنگ بھرے جاتے ہیں اور مختلف جزوی چیزیں نمودار ہوتی ہیں۔ فصل ، کھجور اور انگور۔ یہ نباتات۔۔۔۔ انگور وہ نباتات ہیں جو زمین پر چھتوں اور درختوں پر رینگتے ہیں۔ کھجور ان نباتات کی نمائندہ ہے جو اونچے اونچے درختوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور دوسرے فصل ، پھول اور غلے کا نمائندہ جو درمیانی شکل میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان تینوں کے ذکر سے تین قسم کے مختلف مناظر کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ یوں اس تصویر میں رنگ بھرے جاتے ہیں اور اس کے اندر مختلف نمائندہ نباتات کے نمونے دئیے جاتے ہیں۔ یہ کھجور کے درخت اکہرے بھی ہیں اور دہرے بھی ہیں۔ یعنی بعض کا تنا ایک ہی ہے اور بعض ایک ہی جڑ سے دوہرے بھی ہیں ، دو یا اس سے زیادہ۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں ، ایک ہی مٹی ہوتی ہے لیکن سب درختوں کے پھل مختلف ہیں اور مختلف ذائقہ رکھتے ہیں۔ ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل (13 : 4) ” مگر مزے میں ہم بعض کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں “۔ ایک ہی خطے کے مختلف پھل اور نباتات ہم نے چکھے ہیں۔ ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ انسان کے دل و دماغ کو قرآن کریم جس نکتے کی طرف متوجہ کرتا ہے کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے۔ ایسے ہی نکات ہیں جن کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم ایک جدید کتاب ہے۔ کیونکہ قرآن کریم انسانی احساس اور وجدان اور شعور کو پیش پا افتادہ حقائق کے بارے میں تازگی بخشتا ہے۔ خواہ یہ مناظر کائنات سے متعلق ہوں یا نفس انسانی سے متعلق ہوں۔ یہ نکات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان اگر پوری عمر لگادے تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ اور نہ ہی قرآن کے نکات اور عجائبات آنے والے ادوار میں ختم ہوں گے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (13 : 4) ” بیشک اس میں آیات و نشانات ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں “۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں پھر ایک نیا تقابل پایا جاتا ہے۔ زمین کے دو ٹکڑے باہم مقابل اور مختلف قسم کے ہیں۔ کھجور کے درخت بھی اکہرے اور دہرے باہم مقابل ہیں۔ پھر مختلف پھلوں کے ذائقے مختلف ہیں۔ اور نباتات بھی مختلف ہیں ، فصل ، درخت اور انگور۔ اس وسیع تر کائنات پر یہ سر سری نظر ڈالنے کے بعد اب لوگوں پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جو لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں پائے جانے والے دلائل اور نشانات پر غور نہیں کرتے اور ان کی عقل اس نتیجے تک نہیں پہنچ پاتی کہ اس عظیم کائنات کا کوئی خالق بھی ہے یا کوئی عظیم قوت ، قدرت اور حکمت مدبرہ ایسی موجود ہے جو اسے چلا رہی ہے تو گویا ان کے عقول جمود کا شکار ہیں۔ ان کے دل تنگ ہیں ، اور ان کی سوچ کے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔ کیا یہ صورت حالات تعجب انگیز نہیں ؟ وان تعجب فعجب ۔۔۔۔۔ خلدون (13 : 5) ” اگر تمہیں تعجب کرنا ہے ، تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے تعجب انگیز بات اور اس پر تعجب کرنا چاہئے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ جس ذات نے اس عظیم کائنات کی تخلیق کی ہے ، جو اسے موجودہ حیرت انگیز انداز سے چلا رہا ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ لوگوں کو جدید شکل میں از سر نو زندہ کر دے۔ اگر کوئی اس کو بعید از امکان سمجھتا ہے تو وہ اپنے خالق اور مدبر کائنات کا دراصل انکار کرتا ہے۔ ایسے لوگوں نے دراصل اپنی عقل کو قید رکھا ہے اور وہ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو سزا بھی ایسی ہی دے گا کہ ان کے گلوں میں بڑے طوق پڑے ہوں گے۔ چناچہ جب کہ ان کا عمل ایسا ہے یعنی عقل کو باندھنا ، ایسی ہی سزا ہے یعنی ان کے گلوں میں بڑے بڑے طوق باندھنا۔ اس لیے کہ انہوں نے اس خصوصیت انسانیہ کو معطل کردیا ہے جس کی وجہ سے انسان دوسرے حیوانات پر مکرم ہے۔ انہوں نے دنیا میں پسماندگی اختیار کر رکھی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی زندگی تجویز کی ہے جو اس حیات دنیا سے بھی پسماندہ ہو کیونکہ یہ لوگ فکر و شعور اور احساس وجدان کو معطل کر کے یہاں محض حیوانات کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ایک جدید مخلوق کے طور پر کس طرح اٹھائے گا ؟ لیکن ان کا یہ تعجب ہی دراصل تعجب انگیز ہے۔ یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر جلدی عذاب لے آئیں تو یہ بھی تعجب انگیز ہے کہ وہ ہدایت کا مطالبہ کرنے اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہونے کے بجائے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ (13 : 6) ” اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لئے جلدی مچا رہے ہیں “۔ یہ لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں غور نہیں کرتے ، حالانکہ اللہ کی نشانیاں اس پوری کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، زمین میں بھی ہیں ، آسمان میں بھی ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ اس سے پہلے ہلاک ہونے والے لوگوں کے لئے ایک مثال اور نمونہ عبرت بن کر رہ گئے۔ وقد خلت من قبلھم المثلت (13 : 6) ” حالانکہ ان سے پہلے عبرتناک مثالیں گزر چکی ہیں “۔ اور یہ لوگ ان مثالوں پر غور نہیں کرتے حالانکہ ان میں ان کے لیے سامان عبرت تھا۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت رحم کرنے والا ہے۔ اگرچہ وہ ایک عرصہ کے لئے ظلم کرتے ہیں ، اللہ لوگوں کے لئے اپنی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے تا کہ وہ توبہ کے راستے اس میں داخل ہوں۔ لیکن عذاب صرف ان لوگوں پر نازل کرتا ہے جو عذاب الٰہی کے نزول پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ گناہوں میں گھرے جا رہے ہوں اور اللہ کے کھلے دروازے سے اندر جانے کے لئے تیار نہ ہوں۔ وان ربک لشدید العقاب (13 : 6) ” بیشک تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کی مغفرت کو اس کی سزا پر مقدم رکھا گیا ہے ، جبکہ یہ لوگ عذاب کے مطالبے میں جلدی کر رہے تھے ، اور ہدایت قبول کرنے سے انکاری تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہ بھلائی کس قدر عظیم ہے جو اللہ لوگوں کے لئے چاہتا ہے جبکہ یہ لوگ خود اپنے لیے ایک عظیم شر چاہتے ہیں۔ اس صورت حالات کے نتیجے میں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ بصیرت کے اندھے ہیں ، دلوں کے اندھے ہیں اور یہ کہ وہ نار جہنم کے مستحق ہیں بوجہ اپنی ہٹ دھرمی کے۔ اس کے بعد روئے سخن اس مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے کہ ان لوگوں کا رویہ کس قدر عجیب ہے کہ ان کو اس کائنات کے اندے بیشمار جا بجا بکھرے ہوئے دلائل تکوینی تو نظر نہیں آتے ، مگر یہ لوگ ایک مخصوص معجزہ طلب کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے صرف ایک معجزہ طلب کرتے ہیں اور کائنات کے ہزارہا معجزات پر ان کی نظر نہیں ہے۔ ویقول الذین ۔۔۔۔ قوم ھاد (13 : 7) ” یہ لوگ جنہوں نے تمہارے بات ماننے سے انکار کردیا ہے ، کہتے ہیں کہ اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری ؟ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو ، اور ہر قوم کے لئے راہنما ہے “۔ یہ لوگ ایک معجزہ طلب کرتے ہیں ، جبکہ معجزات کا صدور رسول کے اپنے اختیار میں نہیں ہے ، نہ ان کی ذاتی خصوصیت ہے۔ معجزات تو اللہ بھیجتا ہے اور اس وقت بھیجتا ہے جب اللہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اے رسول ﷺ آپ تو محض ڈرانے والے ہیں جس طرح آپ سے قبل رسولوں کا منصب یہ تھا کہ وہ لوگوں کو ڈرانے والے تھے ۔ اللہ نے بیشمار اقوام کی ہدایت کے لئے بیشمار رسول بھیجے ہیں۔ لہٰذا معجزات ارسال کرنا اس ذات کا کام ہے جو اس کائنات اور بندوں کا مدبر ہے۔

الرعد 13:5

آیت نمبر 2 تا 7 آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔ یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔ لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔ یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔ ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔ یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔ پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔ پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔ کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔ یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق اور اپنے وقت مقرر تک کے لئے ٹھیک ٹھیک جا رہے ہیں اور چلتے رہیں گے اور جو ذات باری ان عظیم الشان کرامات کو اس فضائے بسیط میں یوں بغیر ظاہری سہارے کے چلا رہی ہے ، اس ذات نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے اور یہ کسی صورت میں بھی وقت مقررہ سے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ ذات برتر مدبر ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ جلیل القدر ہے۔ اللہ کی مدبرانہ شان کا ایک مظہریہ ہے کہ یفصل الایت (13 : 2) ” وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے “۔ ان کو منظم طریقے سے باہم مربوط انداز میں پیش کرتا ہے اور ہر ایک چیز کو اپنی مقررہ میعاد پر لاتا ہے۔ اسباب کے مطابق لاتا ہے اور مقاصد متعین کر کے لاتا ہے۔ یہ کیوں ؟ لعلکم بلقاء ربکم توقنون (13 : 2) ” شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو “۔ کیونکہ جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ آیات الٰہیہ مفصل اور مربوط ہیں اور ان کی پشت پر کائناتی آیات بھی موید ہیں ، یہ تکوینی آیات وہ ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں اس کی تخلیق کے وقت سے ودیعت کی ہوئی ہیں اور ان قدرتی دلائل اور آثار کے ساتھ ساتھ اللہ نے کتابی آیات و دلائل بھی نازل کئے اور یوں ان کی تائید فرمائی۔ ان تمام آیات دلائل کے نتیجے میں انسان لازمی طور پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے۔ وہاں انسانی اعمال کی جانچ پڑتا ہوگی ، ان اعمال پر ان کو جزاء و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے یہ وہ نتائج ہیں جن کا اظہار حکمت تخلیق سے ہوتا ہے۔ اب مناظر قدرت کی تصویر کشی کا یہ عظیم خط عالم بالا سے عالم زیریں کی طرف آتا ہے اور عالم زیریں کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے۔ وھو الذی مد الارض۔۔۔۔۔۔ یتفکرون (13 : 3) ” اور وہی ہے جس نے زمین پھیلا رکھی ہے ، اس میں پہاڑ کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دئیے ہیں ، اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے ۔ ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر سے کام لیتے ہیں “۔ اس زمین کی تصویر کشی میں پہلا رنگ اس کا بچھایا جانا ہے۔ نظروں کے سامنے یہ بچھی ہوئی ہے اور طول و عرض میں یہ وسیع ہے۔ اگرچہ اس کی حقیقی شکل گول ہے ، گول ہونے کے ساتھ ساتھ یہ طویل و عریض ہے۔ یہ ہے اس تصویر کشی کا پہلا رنگ۔ اس کے بعد اس تصویر میں اونچے اونچے پہاڑ نمودار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے درمیان میں نہریں نظر آتی ہیں۔ یوں اس زمین کے ابتدائی خدو خال متعین ہوتے ہیں جو اس منظر کو نہایت ہی موزوں بناتے ہیں۔ زمین کے عمومی خدو خال کے تعین کے لئے ضروری ہے کہ یہاں نہایت ہی اصولی اور عمومی مظاہر کا تذکرہ ہو ، زمین کے اندر زندگی کا اہم اصول اور اس زندگی کو قائم رکھنے کا اصولی مظہر یعنی حیوانی اور نباتی زندگی کے اندر مادہ اور نر کی تقسیم ، حیوانی زندگی میں نر اور مادہ کا وجود تو ظاہر ہے لیکن نباتاتی حیات کے اندر نر و مادہ کا نظام جو بذات خود قیام حیات کے لیے ایک اصول ہے۔ من کل الثمرت جعل فیھا روجین اثنین (13 : 3) ” اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں “۔ یہ تو ہے پہلا اصولی مظہر اور یغشی الیل النہار (13 : 3) ” اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے “۔ تمام ثمرات کے جوڑے کیے ہیں ۔ ایک درخت میں دو قسم کے اعضاء ہوتے ہیں۔ مادہ یا نر یا بعض درخت مادہ ہوتے ہیں۔ اور بعض نر ہوتے ہیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو انسان کے لئے اس کائنات کے اسرار رموز کی نشاندہی کی راہ کھولتی ہیں۔ یعنی رات اور دن اور حیوانات میں نر و مادہ کے رنگ تو ظاہر ہیں ، پھلوں کے اندر تناسل و توالد ایک راز تھا۔ خود رات اور دن کا یہ منظر کہ رات اور دن آگے پیچھے آرہے ہیں۔ ایک دوسرے کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا نظام بڑا ہی عجیب اور سحر انگیز ہے۔ یہ گہرے غوروفکر کا موضوع ہے۔ رات کا آنا اور دن کا بھاگ جانا ، فجر کا نمودار ہونا اور رات کے اندھیروں کا چھٹ جانا ۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو ہم رات اور دن دیکھتے دیکھتے اس کے ساتھ ایسے مانوس اور مالوف ہوگئے ہیں کہ ہمارے پردۂ احساس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تعجب انگیز اور حیران کن ہیں۔ اگر ہم اپنی عادت کو ذرا دور پھینک دیں اور اپنے ذہنی جمود کو ترک کر کے اس کائنات کو شاعرانہ حساسیت کے ساتھ دیکھیں اور اس رات دن کے چلتے رہنے کو ایک معمولی چیز نہ سمجھیں تو گردش ایام کا یہ نظام ایک گہری حکمت الٰہیہ کا پتہ دیتا ہے اور نظر آتا ہے کہ اس کے اندر صائع کائنات کی عجیب کاری گری عیاں ہے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (13 : 3) ” ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں “۔ اس منظر کو چھوڑ کر آگے بڑھنے سے قبل ، مناسب ہے کہ ہم ان تقابلی امور پر ایک نظر دوڑائیں جو اس منظر میں پیش کئے گئے ہیں۔ مثلاً ایک طرف اپنی جگہ ۔۔۔ ہوئے بلند پہاڑ ہیں اور دوسری طرف بہتے ہوئے ندی نالے اور دریا ہیں۔ تمام پھلوں میں نر اور مادہ ہیں۔ رات اور دن ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں ، زمین ہے جو بچھی ہوئی ہے اور آسمان ہے جو بہت بلندیوں پر ہے ، اور دونوں اس عظیم کائنات کے اہم اور باہم متکافل نکتے ہیں۔ دونوں عظیم کائنات کے اجزاء ہیں۔ یہ تو تھے اس کائنات اور ارض وسما کے عمومی خدو خال اور بڑی لکیریں۔ اب ذرا زمین کے نہایت ہی باریک خطوط اور رنگ ڈھنگ ملاحظہ کریں۔ وفی الارض قطع۔۔۔۔۔۔۔ یعقلون (13 : 4) ” اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوتے ہیں۔ انگور کے باغ ہیں ، کھیتیاں ہیں۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دہرے ، سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے ، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کم تر۔۔۔۔ سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ یہ مظاہر قدرت ایسے ہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگ ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن ان کے اندر یہ خیال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ ان کی حقیقت معلوم کریں۔ وفی الارض قطع متجورت (13 : 4) ” اور زمین میں قطعات ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوئے ہیں “۔ ان قطعات کی خصوصیات الگ الگ ہیں۔ اگر یہ قطعات الگ الگ خصوصیت اور نوعیت کے نہ ہوتے تو ان کو قطعات نہ کہا جاتا بلکہ قطعہ کہا جاتا۔ یعنی ان میں بعض قطعات اچھے اور زرخیز ہیں اور بعض بنجر اور چٹیل ہیں۔ بعض صحراء میں جو بےآب وگیاہ ہیں اور بعض خالص چٹانیں ہیں۔ اور ان میں بھی پھر مختلف درجات کے ٹکڑے ہیں انواع و اقسام کے۔ بعض شہروں اور آبادیوں کے لئے ، بعض جنگلوں اور سبزیوں کے لئے ، اور بعض بےآب وگیاہ اور مردہ میدان ہیں۔ اور بعض آبی ہیں اور بعض بارانی اور اس طرح قسم قسم کے ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور باہم مفصل بھی ہیں اور سب کے سب اس زمین کا حصہ ہیں۔ یہ تھے زمین کی تصویر کشی کے سلسلے کے ابتدائی اور عمومی خطوط ۔ اس کے بعد اب اس تصویر میں تفصیلی رنگ بھرے جاتے ہیں اور مختلف جزوی چیزیں نمودار ہوتی ہیں۔ فصل ، کھجور اور انگور۔ یہ نباتات۔۔۔۔ انگور وہ نباتات ہیں جو زمین پر چھتوں اور درختوں پر رینگتے ہیں۔ کھجور ان نباتات کی نمائندہ ہے جو اونچے اونچے درختوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور دوسرے فصل ، پھول اور غلے کا نمائندہ جو درمیانی شکل میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان تینوں کے ذکر سے تین قسم کے مختلف مناظر کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ یوں اس تصویر میں رنگ بھرے جاتے ہیں اور اس کے اندر مختلف نمائندہ نباتات کے نمونے دئیے جاتے ہیں۔ یہ کھجور کے درخت اکہرے بھی ہیں اور دہرے بھی ہیں۔ یعنی بعض کا تنا ایک ہی ہے اور بعض ایک ہی جڑ سے دوہرے بھی ہیں ، دو یا اس سے زیادہ۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں ، ایک ہی مٹی ہوتی ہے لیکن سب درختوں کے پھل مختلف ہیں اور مختلف ذائقہ رکھتے ہیں۔ ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل (13 : 4) ” مگر مزے میں ہم بعض کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں “۔ ایک ہی خطے کے مختلف پھل اور نباتات ہم نے چکھے ہیں۔ ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ انسان کے دل و دماغ کو قرآن کریم جس نکتے کی طرف متوجہ کرتا ہے کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے۔ ایسے ہی نکات ہیں جن کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم ایک جدید کتاب ہے۔ کیونکہ قرآن کریم انسانی احساس اور وجدان اور شعور کو پیش پا افتادہ حقائق کے بارے میں تازگی بخشتا ہے۔ خواہ یہ مناظر کائنات سے متعلق ہوں یا نفس انسانی سے متعلق ہوں۔ یہ نکات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان اگر پوری عمر لگادے تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ اور نہ ہی قرآن کے نکات اور عجائبات آنے والے ادوار میں ختم ہوں گے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (13 : 4) ” بیشک اس میں آیات و نشانات ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں “۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں پھر ایک نیا تقابل پایا جاتا ہے۔ زمین کے دو ٹکڑے باہم مقابل اور مختلف قسم کے ہیں۔ کھجور کے درخت بھی اکہرے اور دہرے باہم مقابل ہیں۔ پھر مختلف پھلوں کے ذائقے مختلف ہیں۔ اور نباتات بھی مختلف ہیں ، فصل ، درخت اور انگور۔ اس وسیع تر کائنات پر یہ سر سری نظر ڈالنے کے بعد اب لوگوں پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جو لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں پائے جانے والے دلائل اور نشانات پر غور نہیں کرتے اور ان کی عقل اس نتیجے تک نہیں پہنچ پاتی کہ اس عظیم کائنات کا کوئی خالق بھی ہے یا کوئی عظیم قوت ، قدرت اور حکمت مدبرہ ایسی موجود ہے جو اسے چلا رہی ہے تو گویا ان کے عقول جمود کا شکار ہیں۔ ان کے دل تنگ ہیں ، اور ان کی سوچ کے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔ کیا یہ صورت حالات تعجب انگیز نہیں ؟ وان تعجب فعجب ۔۔۔۔۔ خلدون (13 : 5) ” اگر تمہیں تعجب کرنا ہے ، تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے تعجب انگیز بات اور اس پر تعجب کرنا چاہئے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ جس ذات نے اس عظیم کائنات کی تخلیق کی ہے ، جو اسے موجودہ حیرت انگیز انداز سے چلا رہا ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ لوگوں کو جدید شکل میں از سر نو زندہ کر دے۔ اگر کوئی اس کو بعید از امکان سمجھتا ہے تو وہ اپنے خالق اور مدبر کائنات کا دراصل انکار کرتا ہے۔ ایسے لوگوں نے دراصل اپنی عقل کو قید رکھا ہے اور وہ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو سزا بھی ایسی ہی دے گا کہ ان کے گلوں میں بڑے طوق پڑے ہوں گے۔ چناچہ جب کہ ان کا عمل ایسا ہے یعنی عقل کو باندھنا ، ایسی ہی سزا ہے یعنی ان کے گلوں میں بڑے بڑے طوق باندھنا۔ اس لیے کہ انہوں نے اس خصوصیت انسانیہ کو معطل کردیا ہے جس کی وجہ سے انسان دوسرے حیوانات پر مکرم ہے۔ انہوں نے دنیا میں پسماندگی اختیار کر رکھی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی زندگی تجویز کی ہے جو اس حیات دنیا سے بھی پسماندہ ہو کیونکہ یہ لوگ فکر و شعور اور احساس وجدان کو معطل کر کے یہاں محض حیوانات کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ایک جدید مخلوق کے طور پر کس طرح اٹھائے گا ؟ لیکن ان کا یہ تعجب ہی دراصل تعجب انگیز ہے۔ یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر جلدی عذاب لے آئیں تو یہ بھی تعجب انگیز ہے کہ وہ ہدایت کا مطالبہ کرنے اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہونے کے بجائے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ (13 : 6) ” اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لئے جلدی مچا رہے ہیں “۔ یہ لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں غور نہیں کرتے ، حالانکہ اللہ کی نشانیاں اس پوری کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، زمین میں بھی ہیں ، آسمان میں بھی ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ اس سے پہلے ہلاک ہونے والے لوگوں کے لئے ایک مثال اور نمونہ عبرت بن کر رہ گئے۔ وقد خلت من قبلھم المثلت (13 : 6) ” حالانکہ ان سے پہلے عبرتناک مثالیں گزر چکی ہیں “۔ اور یہ لوگ ان مثالوں پر غور نہیں کرتے حالانکہ ان میں ان کے لیے سامان عبرت تھا۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت رحم کرنے والا ہے۔ اگرچہ وہ ایک عرصہ کے لئے ظلم کرتے ہیں ، اللہ لوگوں کے لئے اپنی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے تا کہ وہ توبہ کے راستے اس میں داخل ہوں۔ لیکن عذاب صرف ان لوگوں پر نازل کرتا ہے جو عذاب الٰہی کے نزول پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ گناہوں میں گھرے جا رہے ہوں اور اللہ کے کھلے دروازے سے اندر جانے کے لئے تیار نہ ہوں۔ وان ربک لشدید العقاب (13 : 6) ” بیشک تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کی مغفرت کو اس کی سزا پر مقدم رکھا گیا ہے ، جبکہ یہ لوگ عذاب کے مطالبے میں جلدی کر رہے تھے ، اور ہدایت قبول کرنے سے انکاری تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہ بھلائی کس قدر عظیم ہے جو اللہ لوگوں کے لئے چاہتا ہے جبکہ یہ لوگ خود اپنے لیے ایک عظیم شر چاہتے ہیں۔ اس صورت حالات کے نتیجے میں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ بصیرت کے اندھے ہیں ، دلوں کے اندھے ہیں اور یہ کہ وہ نار جہنم کے مستحق ہیں بوجہ اپنی ہٹ دھرمی کے۔ اس کے بعد روئے سخن اس مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے کہ ان لوگوں کا رویہ کس قدر عجیب ہے کہ ان کو اس کائنات کے اندے بیشمار جا بجا بکھرے ہوئے دلائل تکوینی تو نظر نہیں آتے ، مگر یہ لوگ ایک مخصوص معجزہ طلب کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے صرف ایک معجزہ طلب کرتے ہیں اور کائنات کے ہزارہا معجزات پر ان کی نظر نہیں ہے۔ ویقول الذین ۔۔۔۔ قوم ھاد (13 : 7) ” یہ لوگ جنہوں نے تمہارے بات ماننے سے انکار کردیا ہے ، کہتے ہیں کہ اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری ؟ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو ، اور ہر قوم کے لئے راہنما ہے “۔ یہ لوگ ایک معجزہ طلب کرتے ہیں ، جبکہ معجزات کا صدور رسول کے اپنے اختیار میں نہیں ہے ، نہ ان کی ذاتی خصوصیت ہے۔ معجزات تو اللہ بھیجتا ہے اور اس وقت بھیجتا ہے جب اللہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اے رسول ﷺ آپ تو محض ڈرانے والے ہیں جس طرح آپ سے قبل رسولوں کا منصب یہ تھا کہ وہ لوگوں کو ڈرانے والے تھے ۔ اللہ نے بیشمار اقوام کی ہدایت کے لئے بیشمار رسول بھیجے ہیں۔ لہٰذا معجزات ارسال کرنا اس ذات کا کام ہے جو اس کائنات اور بندوں کا مدبر ہے۔

الرعد 13:6

آیت نمبر 2 تا 7 آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔ یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔ لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔ یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔ ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔ یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔ پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔ پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔ کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔ یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق اور اپنے وقت مقرر تک کے لئے ٹھیک ٹھیک جا رہے ہیں اور چلتے رہیں گے اور جو ذات باری ان عظیم الشان کرامات کو اس فضائے بسیط میں یوں بغیر ظاہری سہارے کے چلا رہی ہے ، اس ذات نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے اور یہ کسی صورت میں بھی وقت مقررہ سے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ ذات برتر مدبر ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ جلیل القدر ہے۔ اللہ کی مدبرانہ شان کا ایک مظہریہ ہے کہ یفصل الایت (13 : 2) ” وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے “۔ ان کو منظم طریقے سے باہم مربوط انداز میں پیش کرتا ہے اور ہر ایک چیز کو اپنی مقررہ میعاد پر لاتا ہے۔ اسباب کے مطابق لاتا ہے اور مقاصد متعین کر کے لاتا ہے۔ یہ کیوں ؟ لعلکم بلقاء ربکم توقنون (13 : 2) ” شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو “۔ کیونکہ جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ آیات الٰہیہ مفصل اور مربوط ہیں اور ان کی پشت پر کائناتی آیات بھی موید ہیں ، یہ تکوینی آیات وہ ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں اس کی تخلیق کے وقت سے ودیعت کی ہوئی ہیں اور ان قدرتی دلائل اور آثار کے ساتھ ساتھ اللہ نے کتابی آیات و دلائل بھی نازل کئے اور یوں ان کی تائید فرمائی۔ ان تمام آیات دلائل کے نتیجے میں انسان لازمی طور پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے۔ وہاں انسانی اعمال کی جانچ پڑتا ہوگی ، ان اعمال پر ان کو جزاء و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے یہ وہ نتائج ہیں جن کا اظہار حکمت تخلیق سے ہوتا ہے۔ اب مناظر قدرت کی تصویر کشی کا یہ عظیم خط عالم بالا سے عالم زیریں کی طرف آتا ہے اور عالم زیریں کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے۔ وھو الذی مد الارض۔۔۔۔۔۔ یتفکرون (13 : 3) ” اور وہی ہے جس نے زمین پھیلا رکھی ہے ، اس میں پہاڑ کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دئیے ہیں ، اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے ۔ ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر سے کام لیتے ہیں “۔ اس زمین کی تصویر کشی میں پہلا رنگ اس کا بچھایا جانا ہے۔ نظروں کے سامنے یہ بچھی ہوئی ہے اور طول و عرض میں یہ وسیع ہے۔ اگرچہ اس کی حقیقی شکل گول ہے ، گول ہونے کے ساتھ ساتھ یہ طویل و عریض ہے۔ یہ ہے اس تصویر کشی کا پہلا رنگ۔ اس کے بعد اس تصویر میں اونچے اونچے پہاڑ نمودار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے درمیان میں نہریں نظر آتی ہیں۔ یوں اس زمین کے ابتدائی خدو خال متعین ہوتے ہیں جو اس منظر کو نہایت ہی موزوں بناتے ہیں۔ زمین کے عمومی خدو خال کے تعین کے لئے ضروری ہے کہ یہاں نہایت ہی اصولی اور عمومی مظاہر کا تذکرہ ہو ، زمین کے اندر زندگی کا اہم اصول اور اس زندگی کو قائم رکھنے کا اصولی مظہر یعنی حیوانی اور نباتی زندگی کے اندر مادہ اور نر کی تقسیم ، حیوانی زندگی میں نر اور مادہ کا وجود تو ظاہر ہے لیکن نباتاتی حیات کے اندر نر و مادہ کا نظام جو بذات خود قیام حیات کے لیے ایک اصول ہے۔ من کل الثمرت جعل فیھا روجین اثنین (13 : 3) ” اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں “۔ یہ تو ہے پہلا اصولی مظہر اور یغشی الیل النہار (13 : 3) ” اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے “۔ تمام ثمرات کے جوڑے کیے ہیں ۔ ایک درخت میں دو قسم کے اعضاء ہوتے ہیں۔ مادہ یا نر یا بعض درخت مادہ ہوتے ہیں۔ اور بعض نر ہوتے ہیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو انسان کے لئے اس کائنات کے اسرار رموز کی نشاندہی کی راہ کھولتی ہیں۔ یعنی رات اور دن اور حیوانات میں نر و مادہ کے رنگ تو ظاہر ہیں ، پھلوں کے اندر تناسل و توالد ایک راز تھا۔ خود رات اور دن کا یہ منظر کہ رات اور دن آگے پیچھے آرہے ہیں۔ ایک دوسرے کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا نظام بڑا ہی عجیب اور سحر انگیز ہے۔ یہ گہرے غوروفکر کا موضوع ہے۔ رات کا آنا اور دن کا بھاگ جانا ، فجر کا نمودار ہونا اور رات کے اندھیروں کا چھٹ جانا ۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو ہم رات اور دن دیکھتے دیکھتے اس کے ساتھ ایسے مانوس اور مالوف ہوگئے ہیں کہ ہمارے پردۂ احساس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تعجب انگیز اور حیران کن ہیں۔ اگر ہم اپنی عادت کو ذرا دور پھینک دیں اور اپنے ذہنی جمود کو ترک کر کے اس کائنات کو شاعرانہ حساسیت کے ساتھ دیکھیں اور اس رات دن کے چلتے رہنے کو ایک معمولی چیز نہ سمجھیں تو گردش ایام کا یہ نظام ایک گہری حکمت الٰہیہ کا پتہ دیتا ہے اور نظر آتا ہے کہ اس کے اندر صائع کائنات کی عجیب کاری گری عیاں ہے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (13 : 3) ” ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں “۔ اس منظر کو چھوڑ کر آگے بڑھنے سے قبل ، مناسب ہے کہ ہم ان تقابلی امور پر ایک نظر دوڑائیں جو اس منظر میں پیش کئے گئے ہیں۔ مثلاً ایک طرف اپنی جگہ ۔۔۔ ہوئے بلند پہاڑ ہیں اور دوسری طرف بہتے ہوئے ندی نالے اور دریا ہیں۔ تمام پھلوں میں نر اور مادہ ہیں۔ رات اور دن ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں ، زمین ہے جو بچھی ہوئی ہے اور آسمان ہے جو بہت بلندیوں پر ہے ، اور دونوں اس عظیم کائنات کے اہم اور باہم متکافل نکتے ہیں۔ دونوں عظیم کائنات کے اجزاء ہیں۔ یہ تو تھے اس کائنات اور ارض وسما کے عمومی خدو خال اور بڑی لکیریں۔ اب ذرا زمین کے نہایت ہی باریک خطوط اور رنگ ڈھنگ ملاحظہ کریں۔ وفی الارض قطع۔۔۔۔۔۔۔ یعقلون (13 : 4) ” اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوتے ہیں۔ انگور کے باغ ہیں ، کھیتیاں ہیں۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دہرے ، سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے ، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کم تر۔۔۔۔ سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ یہ مظاہر قدرت ایسے ہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگ ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن ان کے اندر یہ خیال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ ان کی حقیقت معلوم کریں۔ وفی الارض قطع متجورت (13 : 4) ” اور زمین میں قطعات ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوئے ہیں “۔ ان قطعات کی خصوصیات الگ الگ ہیں۔ اگر یہ قطعات الگ الگ خصوصیت اور نوعیت کے نہ ہوتے تو ان کو قطعات نہ کہا جاتا بلکہ قطعہ کہا جاتا۔ یعنی ان میں بعض قطعات اچھے اور زرخیز ہیں اور بعض بنجر اور چٹیل ہیں۔ بعض صحراء میں جو بےآب وگیاہ ہیں اور بعض خالص چٹانیں ہیں۔ اور ان میں بھی پھر مختلف درجات کے ٹکڑے ہیں انواع و اقسام کے۔ بعض شہروں اور آبادیوں کے لئے ، بعض جنگلوں اور سبزیوں کے لئے ، اور بعض بےآب وگیاہ اور مردہ میدان ہیں۔ اور بعض آبی ہیں اور بعض بارانی اور اس طرح قسم قسم کے ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور باہم مفصل بھی ہیں اور سب کے سب اس زمین کا حصہ ہیں۔ یہ تھے زمین کی تصویر کشی کے سلسلے کے ابتدائی اور عمومی خطوط ۔ اس کے بعد اب اس تصویر میں تفصیلی رنگ بھرے جاتے ہیں اور مختلف جزوی چیزیں نمودار ہوتی ہیں۔ فصل ، کھجور اور انگور۔ یہ نباتات۔۔۔۔ انگور وہ نباتات ہیں جو زمین پر چھتوں اور درختوں پر رینگتے ہیں۔ کھجور ان نباتات کی نمائندہ ہے جو اونچے اونچے درختوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور دوسرے فصل ، پھول اور غلے کا نمائندہ جو درمیانی شکل میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان تینوں کے ذکر سے تین قسم کے مختلف مناظر کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ یوں اس تصویر میں رنگ بھرے جاتے ہیں اور اس کے اندر مختلف نمائندہ نباتات کے نمونے دئیے جاتے ہیں۔ یہ کھجور کے درخت اکہرے بھی ہیں اور دہرے بھی ہیں۔ یعنی بعض کا تنا ایک ہی ہے اور بعض ایک ہی جڑ سے دوہرے بھی ہیں ، دو یا اس سے زیادہ۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں ، ایک ہی مٹی ہوتی ہے لیکن سب درختوں کے پھل مختلف ہیں اور مختلف ذائقہ رکھتے ہیں۔ ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل (13 : 4) ” مگر مزے میں ہم بعض کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں “۔ ایک ہی خطے کے مختلف پھل اور نباتات ہم نے چکھے ہیں۔ ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ انسان کے دل و دماغ کو قرآن کریم جس نکتے کی طرف متوجہ کرتا ہے کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے۔ ایسے ہی نکات ہیں جن کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم ایک جدید کتاب ہے۔ کیونکہ قرآن کریم انسانی احساس اور وجدان اور شعور کو پیش پا افتادہ حقائق کے بارے میں تازگی بخشتا ہے۔ خواہ یہ مناظر کائنات سے متعلق ہوں یا نفس انسانی سے متعلق ہوں۔ یہ نکات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان اگر پوری عمر لگادے تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ اور نہ ہی قرآن کے نکات اور عجائبات آنے والے ادوار میں ختم ہوں گے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (13 : 4) ” بیشک اس میں آیات و نشانات ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں “۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں پھر ایک نیا تقابل پایا جاتا ہے۔ زمین کے دو ٹکڑے باہم مقابل اور مختلف قسم کے ہیں۔ کھجور کے درخت بھی اکہرے اور دہرے باہم مقابل ہیں۔ پھر مختلف پھلوں کے ذائقے مختلف ہیں۔ اور نباتات بھی مختلف ہیں ، فصل ، درخت اور انگور۔ اس وسیع تر کائنات پر یہ سر سری نظر ڈالنے کے بعد اب لوگوں پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جو لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں پائے جانے والے دلائل اور نشانات پر غور نہیں کرتے اور ان کی عقل اس نتیجے تک نہیں پہنچ پاتی کہ اس عظیم کائنات کا کوئی خالق بھی ہے یا کوئی عظیم قوت ، قدرت اور حکمت مدبرہ ایسی موجود ہے جو اسے چلا رہی ہے تو گویا ان کے عقول جمود کا شکار ہیں۔ ان کے دل تنگ ہیں ، اور ان کی سوچ کے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔ کیا یہ صورت حالات تعجب انگیز نہیں ؟ وان تعجب فعجب ۔۔۔۔۔ خلدون (13 : 5) ” اگر تمہیں تعجب کرنا ہے ، تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے تعجب انگیز بات اور اس پر تعجب کرنا چاہئے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ جس ذات نے اس عظیم کائنات کی تخلیق کی ہے ، جو اسے موجودہ حیرت انگیز انداز سے چلا رہا ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ لوگوں کو جدید شکل میں از سر نو زندہ کر دے۔ اگر کوئی اس کو بعید از امکان سمجھتا ہے تو وہ اپنے خالق اور مدبر کائنات کا دراصل انکار کرتا ہے۔ ایسے لوگوں نے دراصل اپنی عقل کو قید رکھا ہے اور وہ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو سزا بھی ایسی ہی دے گا کہ ان کے گلوں میں بڑے طوق پڑے ہوں گے۔ چناچہ جب کہ ان کا عمل ایسا ہے یعنی عقل کو باندھنا ، ایسی ہی سزا ہے یعنی ان کے گلوں میں بڑے بڑے طوق باندھنا۔ اس لیے کہ انہوں نے اس خصوصیت انسانیہ کو معطل کردیا ہے جس کی وجہ سے انسان دوسرے حیوانات پر مکرم ہے۔ انہوں نے دنیا میں پسماندگی اختیار کر رکھی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی زندگی تجویز کی ہے جو اس حیات دنیا سے بھی پسماندہ ہو کیونکہ یہ لوگ فکر و شعور اور احساس وجدان کو معطل کر کے یہاں محض حیوانات کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ایک جدید مخلوق کے طور پر کس طرح اٹھائے گا ؟ لیکن ان کا یہ تعجب ہی دراصل تعجب انگیز ہے۔ یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر جلدی عذاب لے آئیں تو یہ بھی تعجب انگیز ہے کہ وہ ہدایت کا مطالبہ کرنے اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہونے کے بجائے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ (13 : 6) ” اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لئے جلدی مچا رہے ہیں “۔ یہ لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں غور نہیں کرتے ، حالانکہ اللہ کی نشانیاں اس پوری کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، زمین میں بھی ہیں ، آسمان میں بھی ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ اس سے پہلے ہلاک ہونے والے لوگوں کے لئے ایک مثال اور نمونہ عبرت بن کر رہ گئے۔ وقد خلت من قبلھم المثلت (13 : 6) ” حالانکہ ان سے پہلے عبرتناک مثالیں گزر چکی ہیں “۔ اور یہ لوگ ان مثالوں پر غور نہیں کرتے حالانکہ ان میں ان کے لیے سامان عبرت تھا۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت رحم کرنے والا ہے۔ اگرچہ وہ ایک عرصہ کے لئے ظلم کرتے ہیں ، اللہ لوگوں کے لئے اپنی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے تا کہ وہ توبہ کے راستے اس میں داخل ہوں۔ لیکن عذاب صرف ان لوگوں پر نازل کرتا ہے جو عذاب الٰہی کے نزول پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ گناہوں میں گھرے جا رہے ہوں اور اللہ کے کھلے دروازے سے اندر جانے کے لئے تیار نہ ہوں۔ وان ربک لشدید العقاب (13 : 6) ” بیشک تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کی مغفرت کو اس کی سزا پر مقدم رکھا گیا ہے ، جبکہ یہ لوگ عذاب کے مطالبے میں جلدی کر رہے تھے ، اور ہدایت قبول کرنے سے انکاری تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہ بھلائی کس قدر عظیم ہے جو اللہ لوگوں کے لئے چاہتا ہے جبکہ یہ لوگ خود اپنے لیے ایک عظیم شر چاہتے ہیں۔ اس صورت حالات کے نتیجے میں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ بصیرت کے اندھے ہیں ، دلوں کے اندھے ہیں اور یہ کہ وہ نار جہنم کے مستحق ہیں بوجہ اپنی ہٹ دھرمی کے۔ اس کے بعد روئے سخن اس مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے کہ ان لوگوں کا رویہ کس قدر عجیب ہے کہ ان کو اس کائنات کے اندے بیشمار جا بجا بکھرے ہوئے دلائل تکوینی تو نظر نہیں آتے ، مگر یہ لوگ ایک مخصوص معجزہ طلب کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے صرف ایک معجزہ طلب کرتے ہیں اور کائنات کے ہزارہا معجزات پر ان کی نظر نہیں ہے۔ ویقول الذین ۔۔۔۔ قوم ھاد (13 : 7) ” یہ لوگ جنہوں نے تمہارے بات ماننے سے انکار کردیا ہے ، کہتے ہیں کہ اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری ؟ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو ، اور ہر قوم کے لئے راہنما ہے “۔ یہ لوگ ایک معجزہ طلب کرتے ہیں ، جبکہ معجزات کا صدور رسول کے اپنے اختیار میں نہیں ہے ، نہ ان کی ذاتی خصوصیت ہے۔ معجزات تو اللہ بھیجتا ہے اور اس وقت بھیجتا ہے جب اللہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اے رسول ﷺ آپ تو محض ڈرانے والے ہیں جس طرح آپ سے قبل رسولوں کا منصب یہ تھا کہ وہ لوگوں کو ڈرانے والے تھے ۔ اللہ نے بیشمار اقوام کی ہدایت کے لئے بیشمار رسول بھیجے ہیں۔ لہٰذا معجزات ارسال کرنا اس ذات کا کام ہے جو اس کائنات اور بندوں کا مدبر ہے۔

الرعد 13:7

آیت نمبر 2 تا 7 آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔ یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔ لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔ یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔ ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔ یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔ پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔ پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔ کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔ یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق اور اپنے وقت مقرر تک کے لئے ٹھیک ٹھیک جا رہے ہیں اور چلتے رہیں گے اور جو ذات باری ان عظیم الشان کرامات کو اس فضائے بسیط میں یوں بغیر ظاہری سہارے کے چلا رہی ہے ، اس ذات نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے اور یہ کسی صورت میں بھی وقت مقررہ سے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ ذات برتر مدبر ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ جلیل القدر ہے۔ اللہ کی مدبرانہ شان کا ایک مظہریہ ہے کہ یفصل الایت (13 : 2) ” وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے “۔ ان کو منظم طریقے سے باہم مربوط انداز میں پیش کرتا ہے اور ہر ایک چیز کو اپنی مقررہ میعاد پر لاتا ہے۔ اسباب کے مطابق لاتا ہے اور مقاصد متعین کر کے لاتا ہے۔ یہ کیوں ؟ لعلکم بلقاء ربکم توقنون (13 : 2) ” شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو “۔ کیونکہ جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ آیات الٰہیہ مفصل اور مربوط ہیں اور ان کی پشت پر کائناتی آیات بھی موید ہیں ، یہ تکوینی آیات وہ ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں اس کی تخلیق کے وقت سے ودیعت کی ہوئی ہیں اور ان قدرتی دلائل اور آثار کے ساتھ ساتھ اللہ نے کتابی آیات و دلائل بھی نازل کئے اور یوں ان کی تائید فرمائی۔ ان تمام آیات دلائل کے نتیجے میں انسان لازمی طور پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے۔ وہاں انسانی اعمال کی جانچ پڑتا ہوگی ، ان اعمال پر ان کو جزاء و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے یہ وہ نتائج ہیں جن کا اظہار حکمت تخلیق سے ہوتا ہے۔ اب مناظر قدرت کی تصویر کشی کا یہ عظیم خط عالم بالا سے عالم زیریں کی طرف آتا ہے اور عالم زیریں کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے۔ وھو الذی مد الارض۔۔۔۔۔۔ یتفکرون (13 : 3) ” اور وہی ہے جس نے زمین پھیلا رکھی ہے ، اس میں پہاڑ کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دئیے ہیں ، اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے ۔ ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر سے کام لیتے ہیں “۔ اس زمین کی تصویر کشی میں پہلا رنگ اس کا بچھایا جانا ہے۔ نظروں کے سامنے یہ بچھی ہوئی ہے اور طول و عرض میں یہ وسیع ہے۔ اگرچہ اس کی حقیقی شکل گول ہے ، گول ہونے کے ساتھ ساتھ یہ طویل و عریض ہے۔ یہ ہے اس تصویر کشی کا پہلا رنگ۔ اس کے بعد اس تصویر میں اونچے اونچے پہاڑ نمودار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے درمیان میں نہریں نظر آتی ہیں۔ یوں اس زمین کے ابتدائی خدو خال متعین ہوتے ہیں جو اس منظر کو نہایت ہی موزوں بناتے ہیں۔ زمین کے عمومی خدو خال کے تعین کے لئے ضروری ہے کہ یہاں نہایت ہی اصولی اور عمومی مظاہر کا تذکرہ ہو ، زمین کے اندر زندگی کا اہم اصول اور اس زندگی کو قائم رکھنے کا اصولی مظہر یعنی حیوانی اور نباتی زندگی کے اندر مادہ اور نر کی تقسیم ، حیوانی زندگی میں نر اور مادہ کا وجود تو ظاہر ہے لیکن نباتاتی حیات کے اندر نر و مادہ کا نظام جو بذات خود قیام حیات کے لیے ایک اصول ہے۔ من کل الثمرت جعل فیھا روجین اثنین (13 : 3) ” اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں “۔ یہ تو ہے پہلا اصولی مظہر اور یغشی الیل النہار (13 : 3) ” اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے “۔ تمام ثمرات کے جوڑے کیے ہیں ۔ ایک درخت میں دو قسم کے اعضاء ہوتے ہیں۔ مادہ یا نر یا بعض درخت مادہ ہوتے ہیں۔ اور بعض نر ہوتے ہیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو انسان کے لئے اس کائنات کے اسرار رموز کی نشاندہی کی راہ کھولتی ہیں۔ یعنی رات اور دن اور حیوانات میں نر و مادہ کے رنگ تو ظاہر ہیں ، پھلوں کے اندر تناسل و توالد ایک راز تھا۔ خود رات اور دن کا یہ منظر کہ رات اور دن آگے پیچھے آرہے ہیں۔ ایک دوسرے کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا نظام بڑا ہی عجیب اور سحر انگیز ہے۔ یہ گہرے غوروفکر کا موضوع ہے۔ رات کا آنا اور دن کا بھاگ جانا ، فجر کا نمودار ہونا اور رات کے اندھیروں کا چھٹ جانا ۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو ہم رات اور دن دیکھتے دیکھتے اس کے ساتھ ایسے مانوس اور مالوف ہوگئے ہیں کہ ہمارے پردۂ احساس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تعجب انگیز اور حیران کن ہیں۔ اگر ہم اپنی عادت کو ذرا دور پھینک دیں اور اپنے ذہنی جمود کو ترک کر کے اس کائنات کو شاعرانہ حساسیت کے ساتھ دیکھیں اور اس رات دن کے چلتے رہنے کو ایک معمولی چیز نہ سمجھیں تو گردش ایام کا یہ نظام ایک گہری حکمت الٰہیہ کا پتہ دیتا ہے اور نظر آتا ہے کہ اس کے اندر صائع کائنات کی عجیب کاری گری عیاں ہے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (13 : 3) ” ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں “۔ اس منظر کو چھوڑ کر آگے بڑھنے سے قبل ، مناسب ہے کہ ہم ان تقابلی امور پر ایک نظر دوڑائیں جو اس منظر میں پیش کئے گئے ہیں۔ مثلاً ایک طرف اپنی جگہ ۔۔۔ ہوئے بلند پہاڑ ہیں اور دوسری طرف بہتے ہوئے ندی نالے اور دریا ہیں۔ تمام پھلوں میں نر اور مادہ ہیں۔ رات اور دن ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں ، زمین ہے جو بچھی ہوئی ہے اور آسمان ہے جو بہت بلندیوں پر ہے ، اور دونوں اس عظیم کائنات کے اہم اور باہم متکافل نکتے ہیں۔ دونوں عظیم کائنات کے اجزاء ہیں۔ یہ تو تھے اس کائنات اور ارض وسما کے عمومی خدو خال اور بڑی لکیریں۔ اب ذرا زمین کے نہایت ہی باریک خطوط اور رنگ ڈھنگ ملاحظہ کریں۔ وفی الارض قطع۔۔۔۔۔۔۔ یعقلون (13 : 4) ” اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوتے ہیں۔ انگور کے باغ ہیں ، کھیتیاں ہیں۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دہرے ، سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے ، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کم تر۔۔۔۔ سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ یہ مظاہر قدرت ایسے ہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگ ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن ان کے اندر یہ خیال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ ان کی حقیقت معلوم کریں۔ وفی الارض قطع متجورت (13 : 4) ” اور زمین میں قطعات ہیں جو ایک دوسرے کے متصل واقع ہوئے ہیں “۔ ان قطعات کی خصوصیات الگ الگ ہیں۔ اگر یہ قطعات الگ الگ خصوصیت اور نوعیت کے نہ ہوتے تو ان کو قطعات نہ کہا جاتا بلکہ قطعہ کہا جاتا۔ یعنی ان میں بعض قطعات اچھے اور زرخیز ہیں اور بعض بنجر اور چٹیل ہیں۔ بعض صحراء میں جو بےآب وگیاہ ہیں اور بعض خالص چٹانیں ہیں۔ اور ان میں بھی پھر مختلف درجات کے ٹکڑے ہیں انواع و اقسام کے۔ بعض شہروں اور آبادیوں کے لئے ، بعض جنگلوں اور سبزیوں کے لئے ، اور بعض بےآب وگیاہ اور مردہ میدان ہیں۔ اور بعض آبی ہیں اور بعض بارانی اور اس طرح قسم قسم کے ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور باہم مفصل بھی ہیں اور سب کے سب اس زمین کا حصہ ہیں۔ یہ تھے زمین کی تصویر کشی کے سلسلے کے ابتدائی اور عمومی خطوط ۔ اس کے بعد اب اس تصویر میں تفصیلی رنگ بھرے جاتے ہیں اور مختلف جزوی چیزیں نمودار ہوتی ہیں۔ فصل ، کھجور اور انگور۔ یہ نباتات۔۔۔۔ انگور وہ نباتات ہیں جو زمین پر چھتوں اور درختوں پر رینگتے ہیں۔ کھجور ان نباتات کی نمائندہ ہے جو اونچے اونچے درختوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور دوسرے فصل ، پھول اور غلے کا نمائندہ جو درمیانی شکل میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان تینوں کے ذکر سے تین قسم کے مختلف مناظر کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ یوں اس تصویر میں رنگ بھرے جاتے ہیں اور اس کے اندر مختلف نمائندہ نباتات کے نمونے دئیے جاتے ہیں۔ یہ کھجور کے درخت اکہرے بھی ہیں اور دہرے بھی ہیں۔ یعنی بعض کا تنا ایک ہی ہے اور بعض ایک ہی جڑ سے دوہرے بھی ہیں ، دو یا اس سے زیادہ۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں ، ایک ہی مٹی ہوتی ہے لیکن سب درختوں کے پھل مختلف ہیں اور مختلف ذائقہ رکھتے ہیں۔ ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل (13 : 4) ” مگر مزے میں ہم بعض کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں “۔ ایک ہی خطے کے مختلف پھل اور نباتات ہم نے چکھے ہیں۔ ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ انسان کے دل و دماغ کو قرآن کریم جس نکتے کی طرف متوجہ کرتا ہے کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے۔ ایسے ہی نکات ہیں جن کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم ایک جدید کتاب ہے۔ کیونکہ قرآن کریم انسانی احساس اور وجدان اور شعور کو پیش پا افتادہ حقائق کے بارے میں تازگی بخشتا ہے۔ خواہ یہ مناظر کائنات سے متعلق ہوں یا نفس انسانی سے متعلق ہوں۔ یہ نکات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان اگر پوری عمر لگادے تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ اور نہ ہی قرآن کے نکات اور عجائبات آنے والے ادوار میں ختم ہوں گے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (13 : 4) ” بیشک اس میں آیات و نشانات ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں “۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں پھر ایک نیا تقابل پایا جاتا ہے۔ زمین کے دو ٹکڑے باہم مقابل اور مختلف قسم کے ہیں۔ کھجور کے درخت بھی اکہرے اور دہرے باہم مقابل ہیں۔ پھر مختلف پھلوں کے ذائقے مختلف ہیں۔ اور نباتات بھی مختلف ہیں ، فصل ، درخت اور انگور۔ اس وسیع تر کائنات پر یہ سر سری نظر ڈالنے کے بعد اب لوگوں پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جو لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں پائے جانے والے دلائل اور نشانات پر غور نہیں کرتے اور ان کی عقل اس نتیجے تک نہیں پہنچ پاتی کہ اس عظیم کائنات کا کوئی خالق بھی ہے یا کوئی عظیم قوت ، قدرت اور حکمت مدبرہ ایسی موجود ہے جو اسے چلا رہی ہے تو گویا ان کے عقول جمود کا شکار ہیں۔ ان کے دل تنگ ہیں ، اور ان کی سوچ کے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔ کیا یہ صورت حالات تعجب انگیز نہیں ؟ وان تعجب فعجب ۔۔۔۔۔ خلدون (13 : 5) ” اگر تمہیں تعجب کرنا ہے ، تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے تعجب انگیز بات اور اس پر تعجب کرنا چاہئے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ جس ذات نے اس عظیم کائنات کی تخلیق کی ہے ، جو اسے موجودہ حیرت انگیز انداز سے چلا رہا ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ لوگوں کو جدید شکل میں از سر نو زندہ کر دے۔ اگر کوئی اس کو بعید از امکان سمجھتا ہے تو وہ اپنے خالق اور مدبر کائنات کا دراصل انکار کرتا ہے۔ ایسے لوگوں نے دراصل اپنی عقل کو قید رکھا ہے اور وہ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو سزا بھی ایسی ہی دے گا کہ ان کے گلوں میں بڑے طوق پڑے ہوں گے۔ چناچہ جب کہ ان کا عمل ایسا ہے یعنی عقل کو باندھنا ، ایسی ہی سزا ہے یعنی ان کے گلوں میں بڑے بڑے طوق باندھنا۔ اس لیے کہ انہوں نے اس خصوصیت انسانیہ کو معطل کردیا ہے جس کی وجہ سے انسان دوسرے حیوانات پر مکرم ہے۔ انہوں نے دنیا میں پسماندگی اختیار کر رکھی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی زندگی تجویز کی ہے جو اس حیات دنیا سے بھی پسماندہ ہو کیونکہ یہ لوگ فکر و شعور اور احساس وجدان کو معطل کر کے یہاں محض حیوانات کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ایک جدید مخلوق کے طور پر کس طرح اٹھائے گا ؟ لیکن ان کا یہ تعجب ہی دراصل تعجب انگیز ہے۔ یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر جلدی عذاب لے آئیں تو یہ بھی تعجب انگیز ہے کہ وہ ہدایت کا مطالبہ کرنے اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہونے کے بجائے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ (13 : 6) ” اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لئے جلدی مچا رہے ہیں “۔ یہ لوگ اس کائنات اور انفس و آفاق میں غور نہیں کرتے ، حالانکہ اللہ کی نشانیاں اس پوری کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، زمین میں بھی ہیں ، آسمان میں بھی ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ اس سے پہلے ہلاک ہونے والے لوگوں کے لئے ایک مثال اور نمونہ عبرت بن کر رہ گئے۔ وقد خلت من قبلھم المثلت (13 : 6) ” حالانکہ ان سے پہلے عبرتناک مثالیں گزر چکی ہیں “۔ اور یہ لوگ ان مثالوں پر غور نہیں کرتے حالانکہ ان میں ان کے لیے سامان عبرت تھا۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت رحم کرنے والا ہے۔ اگرچہ وہ ایک عرصہ کے لئے ظلم کرتے ہیں ، اللہ لوگوں کے لئے اپنی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے تا کہ وہ توبہ کے راستے اس میں داخل ہوں۔ لیکن عذاب صرف ان لوگوں پر نازل کرتا ہے جو عذاب الٰہی کے نزول پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ گناہوں میں گھرے جا رہے ہوں اور اللہ کے کھلے دروازے سے اندر جانے کے لئے تیار نہ ہوں۔ وان ربک لشدید العقاب (13 : 6) ” بیشک تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کی مغفرت کو اس کی سزا پر مقدم رکھا گیا ہے ، جبکہ یہ لوگ عذاب کے مطالبے میں جلدی کر رہے تھے ، اور ہدایت قبول کرنے سے انکاری تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہ بھلائی کس قدر عظیم ہے جو اللہ لوگوں کے لئے چاہتا ہے جبکہ یہ لوگ خود اپنے لیے ایک عظیم شر چاہتے ہیں۔ اس صورت حالات کے نتیجے میں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ بصیرت کے اندھے ہیں ، دلوں کے اندھے ہیں اور یہ کہ وہ نار جہنم کے مستحق ہیں بوجہ اپنی ہٹ دھرمی کے۔ اس کے بعد روئے سخن اس مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے کہ ان لوگوں کا رویہ کس قدر عجیب ہے کہ ان کو اس کائنات کے اندے بیشمار جا بجا بکھرے ہوئے دلائل تکوینی تو نظر نہیں آتے ، مگر یہ لوگ ایک مخصوص معجزہ طلب کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے صرف ایک معجزہ طلب کرتے ہیں اور کائنات کے ہزارہا معجزات پر ان کی نظر نہیں ہے۔ ویقول الذین ۔۔۔۔ قوم ھاد (13 : 7) ” یہ لوگ جنہوں نے تمہارے بات ماننے سے انکار کردیا ہے ، کہتے ہیں کہ اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری ؟ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو ، اور ہر قوم کے لئے راہنما ہے “۔ یہ لوگ ایک معجزہ طلب کرتے ہیں ، جبکہ معجزات کا صدور رسول کے اپنے اختیار میں نہیں ہے ، نہ ان کی ذاتی خصوصیت ہے۔ معجزات تو اللہ بھیجتا ہے اور اس وقت بھیجتا ہے جب اللہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اے رسول ﷺ آپ تو محض ڈرانے والے ہیں جس طرح آپ سے قبل رسولوں کا منصب یہ تھا کہ وہ لوگوں کو ڈرانے والے تھے ۔ اللہ نے بیشمار اقوام کی ہدایت کے لئے بیشمار رسول بھیجے ہیں۔ لہٰذا معجزات ارسال کرنا اس ذات کا کام ہے جو اس کائنات اور بندوں کا مدبر ہے۔

الرعد 13:8

یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔ آیت نمبر 8 تا 11 جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ دھوپ ، چھپ کر لوگوں کی سرگرمیاں اور دن کے وقت برملا لوگوں کی جدو جہد ، ان تمام امور کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ کے گماشتے ان تمام سرگرمیوں کو ریکارڈ بھی کر رہے ہیں۔ انسان کی یہ حیرانی دراصل خوف الٰہی کی وجہ سے ہے جس کے نتیجے میں انسان اللہ کی پناہ لیتا ہے۔ وہ اللہ کی پناہ گاہ ہی میں پناہ لیتا ہے۔ ایک مومن اچھی طرح جانتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اللہ کا علم تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے ، لیکن اصولی طور پر اللہ کے علم کے شمول اور وسعت کا اقرار اور بات ہے اور یہاں قرآن مجید نے جس موثر انداز میں بعض جزئیات کا ذکر کیا ہے اس کی اثر انگیزی اور بات ہے۔ محض تجریدی کلیہ کا بیان کردینا اور بات ہے اور کلیہ کے تحت کسی مثالی جزئیہ کا مطالعہ اور بات ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ بعض جزئیات ، حساس جزئیات کا ذکر فرماتے ہیں۔ اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ ہر حاملہ سے خیال کے پردے پر ہر حاملہ ، مطلق حاملہ آجاتی ہے ، اس پوری کائنات میں تمام زندہ حاملہ ، وسیع معنوں میں ہر حاملہ شہروں میں اور دیہاتوں میں۔ آبادیوں میں اور پہاڑوں میں ، جنگلوں میں دریاؤں میں ، گھروں میں اور غاروں میں ، ہر مادہ کے پیٹ میں جو کچھ پیدا ہو رہا ہے ، بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، ہر وہ قطرۂ خون جو بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ تو ہے ایک مخصوص مثال اور یہ کوئی تجریدی کلیہ نہیں ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور بس ، بلکہ ایک مخصوص شعبہ علم کی بات ہے۔ سواء منکم ۔۔۔۔ امر اللہ۔ (13 : 10- 11) ” تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں۔ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔ جب انسانی خیال پر سرگوشی کرنے والے ، ہر جہراً بات کرنے والے کے بارے میں سوچ ، اندھیروں میں چلنے والوں اور دن کی روشنی میں متحرک لوگوں کے بارے میں سوچ اور پھر اس پوری کائنات کے بارے میں سوچ اور پھر یہ سوچ کہ اللہ کا علم ان سب کا پیچھا کر رہا ہے اور اس کے گماشتے بھی لکھ رہے ہیں اور رات کے دونوں کناروں پر رپورٹ بھی بھیجتے ہیں۔ پھر ان جزئیات علم الٰہی کے انداز بیان پر بھی ذرا غور کیجئے : اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ جب اللہ نے یہ فرمایا کہ رحم مادر میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اللہ اسے جانتا ہے تو اس کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے ہاں ہر چیز کی مقدار مقرر ہے۔ نقص و زیادتی کے ساتھ مقدار کا لفظ لانا ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کا تعلق اس سے قبل کی اس آیت سے بھی ہے جس میں آیا ہے کہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ مرنے اور مٹی بن جانے کے بعد خلق جدید کی شکل میں لوگ کس طرح اٹھ کھڑے ہوں گے۔ نیز موضوع اور ظاہری شکل کے اعتبار سے یہ اس مضمون کے بھی مماثل ہے جس میں بارش کا ذکر ہے کہ بارش برستی ہے اور برادری اپنی مقدار کے مطابق پانی سے بہہ جاتی ہے۔ تمام امور میں مقدار ملحوظ ہے۔ کمی بیشی اور مقدار اس سورة کا نکتہ خاص ہے۔ علم الغیب ۔۔۔۔ المتعال (13 : 9) ” وہ پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کا عالم ہے وہ بزرگ اور ہر حال میں بالاتر رہنے والا ہے “۔ لفظ کبیر اور لفظ متعال دونوں پردۂ احساس پر ایک خاص اثر چھوڑتے ہیں ، اس کو میں پر تو سے تعبیر کرتا ہوں۔ کسی دوسرے لفظ سے اس کی تعبیر مشکل ہے۔ یعنی جو بھی مخلوق ہے ، اس کے اندر کوئی نہ کوئی نقص ضرور ہوتا ہے جو اسے صغیر بنا دیتا ہے۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو بھی ہم کبیر نہیں کہہ سکتے۔ یا کسی اور معاملے کو ہم کبیر نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اللہ کا ذکر آتے ہی تمام دوسرے امور صغیر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح لفظ متعال کے بارے میں بھی ہماری سوچ محدود ہے۔ کسی مفسر نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا کہ الکبیر المتعال کا دائرہ اخلاق کیا ہے۔ سواء منکم۔۔۔۔۔ بالنھار (13 : 10) ” تم میں سے کوئی شخص زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں “۔ عبارت میں تقابل واضح ہے۔ لفظ سارب قابل غور ہے۔ خود لفظ سارب اپنے مفہوم پر روشنی ڈالتا ہے۔ مفہوم ہے اخفا اور پوشیدگی یا قریب قریب پوشیدگی۔ سارب کا مفہوم ہے روشنی میں چلنے والا یعنی خفیہ چیزوں کو بھی اللہ جانتا ہے۔ حمل جو چھپا ہوا ہے ، راز جو خفیہ ہوتے ہیں ، وہ شخص جو رات کے اندھیرے میں چلتا ہے پھر اللہ کے گماشتے جو نظر نہیں آتے ، سارب خفیہ کے بالمقابل لفظ ہے لیکن خود اس کے اندر بھی نرمی ، لطف اور اخفاء کا پر تو موجود ہے۔ لہ معقبت ۔۔۔۔ امر اللہ (13 : 11) ” ہر شخص کے آگے پیچھے اس کے مقدر کئے ہوئے نگراں موجود ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔ وہ فرشتے جو انسانوں کی حفاظت کے لئے مقرر ہیں ، ہر آنے جانے والے کی حفاظت کرتے ہیں ، جو انسانوں کو ہر وسوسہ اور ہر خلجان سے بچاتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہاں ان نگرانوں کی کوئی تعریف و تفصیل بیان نہیں کی جاتی۔ صرف یہ تعریف ان کی یہاں ہے کہ من امر اللہ۔ جو اللہ کے حکم سے کام کرتے ہیں ، ہم بھی یہاں ان کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں کہ وہ کیا ہیں ، ان کی صفات کیسی ہیں ، وہ کس طرح یہ نگرانی کرتے ہیں ، کہاں ہوتے ہیں ، اللہ نے چونکہ اس بات کو مخفی رکھا ہے ، اور اس کے اخفاء ہی سے وہ خوف پیدا ہوتا ہے جس کو یہاں پیدا کرنا مطلوب ہے۔ لہٰذا قرآن نے جس قدر کہہ دیا ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ اور یہ اخفاء اور اجمال اتفاقی اور بےمقصد نہیں ہے ، جو لوگ قرآن کریم کے اسلوب کے اظہار کے بارے میں کچھ بھی تعلق رکھتے ہیں ان کے لئے یہ بات مشکل ہے کہ وہ قرآن کی پیدا کردہ ایک فضا کو ختم کردیں کیونکہ تفصیلات دینے سے وہ تاثر ختم ہوجائے گا۔ ان اللہ لا۔۔۔۔۔۔۔ بانفسھم (13 : 11) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی “۔ اللہ ان کی نگرانی اپنے کارندوں کے ذریعے یوں کرتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ لوگ اپنے اندر کیا کیا تبدیلیاں لاتے ہیں اور اپنے حالات کو بدلنے کی کیا سعی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ترقی و پسماندگی میں ، عزت و ذلت میں ، بلندی اور زوال میں کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک لوگ خود اپنی سوچ ، اپنے شعور ، اپنے اعمال اور اپنی سرگرمیوں کو بدلتے نہیں۔ چناچہ اللہ بھی لوگوں کی سوچ اور ان کے فکر و عمل کے مطابق لوگوں کے حالات میں تبدیلی پیدا کردیتا ہے ۔ اگرچہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا ایسا کریں گے اور یہ یہ نہ کریں گے ۔ عملی نتائج لوگوں کے فکرو عمل کے مطابق ہی نکلتے ہیں۔ ہاں یہ نتائج عملاً اس دور میں پیدا ہوئے جو لوگوں کی زندگی کے ساتھ متعین ہوتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر بہت ہی بڑی ذمہ داری عائد کردی ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا تقاضا تھا اور اسی کے مطابق سنت الٰہیہ جاری وساری ہے کہ لوگوں کے حالات لوگوں کے بدلنے پر موقوف ہوں گے۔ سنت الٰہیہ ان کے طرز عمل اور ان کی طرز فکر پر مرتب ہوگی۔ یہ ایک صریح نص ہے ، لہٰذا اس میں کسی تاویل اور تحریف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس سنت الٰہیہ کے تعین کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہایت ہی مکرم بنادیا ہے کہ خود انسان کے عمل سے سنت الٰہیہ بنتی ہے۔ اس سنت الٰہیہ کے تعین کے بعد سیاق کلام بتا دیتا ہے کہ اللہ کسی قوم کو ہلاکت میں ڈالتا ہے تو سنت کیا ہوتی ہے۔ وہ بھی یہی ہوتی ہے کہ جب لوگ اپنے اندر بری تبدیلی لاتے ہیں تو پھر سنت الٰہیہ بھی ان کو برے دن دکھاتی ہے۔ واذا اراد اللہ۔۔۔۔۔۔ من وال (13 : 11) ” اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی ، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گار ہوسکتا ہے “۔ یہاں سیاق کلام زوال کا یہ پہلو اس طرح بیان کرتا ہے کیونکہ یہاں موضوع و مضمون ایسا ہے کہ لوگ اچھائی سے زیادہ برائی کے طلبگار ہیں۔ جبکہ اللہ نے ان کو بتایا کہ وہ عذاب سے قبل تمہاری مغفرت کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ لوگ کس قدر غافل ہوگئے ہیں۔ اس لئے یہاں ان کے انجام بد کا کردیا جاتا ہے تا کہ وہ ڈریں اور عقل کے ناخن لیں کیونکہ اللہ کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں اور جب تمہاری ہلاکت کا فیصلہ آگیا تو پھر کوئی تمہارا حامی و مددگار نہ ہوگا۔ ٭٭٭

الرعد 13:9

یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔ آیت نمبر 8 تا 11 جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ دھوپ ، چھپ کر لوگوں کی سرگرمیاں اور دن کے وقت برملا لوگوں کی جدو جہد ، ان تمام امور کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ کے گماشتے ان تمام سرگرمیوں کو ریکارڈ بھی کر رہے ہیں۔ انسان کی یہ حیرانی دراصل خوف الٰہی کی وجہ سے ہے جس کے نتیجے میں انسان اللہ کی پناہ لیتا ہے۔ وہ اللہ کی پناہ گاہ ہی میں پناہ لیتا ہے۔ ایک مومن اچھی طرح جانتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اللہ کا علم تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے ، لیکن اصولی طور پر اللہ کے علم کے شمول اور وسعت کا اقرار اور بات ہے اور یہاں قرآن مجید نے جس موثر انداز میں بعض جزئیات کا ذکر کیا ہے اس کی اثر انگیزی اور بات ہے۔ محض تجریدی کلیہ کا بیان کردینا اور بات ہے اور کلیہ کے تحت کسی مثالی جزئیہ کا مطالعہ اور بات ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ بعض جزئیات ، حساس جزئیات کا ذکر فرماتے ہیں۔ اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ ہر حاملہ سے خیال کے پردے پر ہر حاملہ ، مطلق حاملہ آجاتی ہے ، اس پوری کائنات میں تمام زندہ حاملہ ، وسیع معنوں میں ہر حاملہ شہروں میں اور دیہاتوں میں۔ آبادیوں میں اور پہاڑوں میں ، جنگلوں میں دریاؤں میں ، گھروں میں اور غاروں میں ، ہر مادہ کے پیٹ میں جو کچھ پیدا ہو رہا ہے ، بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، ہر وہ قطرۂ خون جو بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ تو ہے ایک مخصوص مثال اور یہ کوئی تجریدی کلیہ نہیں ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور بس ، بلکہ ایک مخصوص شعبہ علم کی بات ہے۔ سواء منکم ۔۔۔۔ امر اللہ۔ (13 : 10- 11) ” تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں۔ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔ جب انسانی خیال پر سرگوشی کرنے والے ، ہر جہراً بات کرنے والے کے بارے میں سوچ ، اندھیروں میں چلنے والوں اور دن کی روشنی میں متحرک لوگوں کے بارے میں سوچ اور پھر اس پوری کائنات کے بارے میں سوچ اور پھر یہ سوچ کہ اللہ کا علم ان سب کا پیچھا کر رہا ہے اور اس کے گماشتے بھی لکھ رہے ہیں اور رات کے دونوں کناروں پر رپورٹ بھی بھیجتے ہیں۔ پھر ان جزئیات علم الٰہی کے انداز بیان پر بھی ذرا غور کیجئے : اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ جب اللہ نے یہ فرمایا کہ رحم مادر میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اللہ اسے جانتا ہے تو اس کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے ہاں ہر چیز کی مقدار مقرر ہے۔ نقص و زیادتی کے ساتھ مقدار کا لفظ لانا ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کا تعلق اس سے قبل کی اس آیت سے بھی ہے جس میں آیا ہے کہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ مرنے اور مٹی بن جانے کے بعد خلق جدید کی شکل میں لوگ کس طرح اٹھ کھڑے ہوں گے۔ نیز موضوع اور ظاہری شکل کے اعتبار سے یہ اس مضمون کے بھی مماثل ہے جس میں بارش کا ذکر ہے کہ بارش برستی ہے اور برادری اپنی مقدار کے مطابق پانی سے بہہ جاتی ہے۔ تمام امور میں مقدار ملحوظ ہے۔ کمی بیشی اور مقدار اس سورة کا نکتہ خاص ہے۔ علم الغیب ۔۔۔۔ المتعال (13 : 9) ” وہ پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کا عالم ہے وہ بزرگ اور ہر حال میں بالاتر رہنے والا ہے “۔ لفظ کبیر اور لفظ متعال دونوں پردۂ احساس پر ایک خاص اثر چھوڑتے ہیں ، اس کو میں پر تو سے تعبیر کرتا ہوں۔ کسی دوسرے لفظ سے اس کی تعبیر مشکل ہے۔ یعنی جو بھی مخلوق ہے ، اس کے اندر کوئی نہ کوئی نقص ضرور ہوتا ہے جو اسے صغیر بنا دیتا ہے۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو بھی ہم کبیر نہیں کہہ سکتے۔ یا کسی اور معاملے کو ہم کبیر نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اللہ کا ذکر آتے ہی تمام دوسرے امور صغیر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح لفظ متعال کے بارے میں بھی ہماری سوچ محدود ہے۔ کسی مفسر نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا کہ الکبیر المتعال کا دائرہ اخلاق کیا ہے۔ سواء منکم۔۔۔۔۔ بالنھار (13 : 10) ” تم میں سے کوئی شخص زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں “۔ عبارت میں تقابل واضح ہے۔ لفظ سارب قابل غور ہے۔ خود لفظ سارب اپنے مفہوم پر روشنی ڈالتا ہے۔ مفہوم ہے اخفا اور پوشیدگی یا قریب قریب پوشیدگی۔ سارب کا مفہوم ہے روشنی میں چلنے والا یعنی خفیہ چیزوں کو بھی اللہ جانتا ہے۔ حمل جو چھپا ہوا ہے ، راز جو خفیہ ہوتے ہیں ، وہ شخص جو رات کے اندھیرے میں چلتا ہے پھر اللہ کے گماشتے جو نظر نہیں آتے ، سارب خفیہ کے بالمقابل لفظ ہے لیکن خود اس کے اندر بھی نرمی ، لطف اور اخفاء کا پر تو موجود ہے۔ لہ معقبت ۔۔۔۔ امر اللہ (13 : 11) ” ہر شخص کے آگے پیچھے اس کے مقدر کئے ہوئے نگراں موجود ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔ وہ فرشتے جو انسانوں کی حفاظت کے لئے مقرر ہیں ، ہر آنے جانے والے کی حفاظت کرتے ہیں ، جو انسانوں کو ہر وسوسہ اور ہر خلجان سے بچاتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہاں ان نگرانوں کی کوئی تعریف و تفصیل بیان نہیں کی جاتی۔ صرف یہ تعریف ان کی یہاں ہے کہ من امر اللہ۔ جو اللہ کے حکم سے کام کرتے ہیں ، ہم بھی یہاں ان کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں کہ وہ کیا ہیں ، ان کی صفات کیسی ہیں ، وہ کس طرح یہ نگرانی کرتے ہیں ، کہاں ہوتے ہیں ، اللہ نے چونکہ اس بات کو مخفی رکھا ہے ، اور اس کے اخفاء ہی سے وہ خوف پیدا ہوتا ہے جس کو یہاں پیدا کرنا مطلوب ہے۔ لہٰذا قرآن نے جس قدر کہہ دیا ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ اور یہ اخفاء اور اجمال اتفاقی اور بےمقصد نہیں ہے ، جو لوگ قرآن کریم کے اسلوب کے اظہار کے بارے میں کچھ بھی تعلق رکھتے ہیں ان کے لئے یہ بات مشکل ہے کہ وہ قرآن کی پیدا کردہ ایک فضا کو ختم کردیں کیونکہ تفصیلات دینے سے وہ تاثر ختم ہوجائے گا۔ ان اللہ لا۔۔۔۔۔۔۔ بانفسھم (13 : 11) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی “۔ اللہ ان کی نگرانی اپنے کارندوں کے ذریعے یوں کرتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ لوگ اپنے اندر کیا کیا تبدیلیاں لاتے ہیں اور اپنے حالات کو بدلنے کی کیا سعی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ترقی و پسماندگی میں ، عزت و ذلت میں ، بلندی اور زوال میں کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک لوگ خود اپنی سوچ ، اپنے شعور ، اپنے اعمال اور اپنی سرگرمیوں کو بدلتے نہیں۔ چناچہ اللہ بھی لوگوں کی سوچ اور ان کے فکر و عمل کے مطابق لوگوں کے حالات میں تبدیلی پیدا کردیتا ہے ۔ اگرچہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا ایسا کریں گے اور یہ یہ نہ کریں گے ۔ عملی نتائج لوگوں کے فکرو عمل کے مطابق ہی نکلتے ہیں۔ ہاں یہ نتائج عملاً اس دور میں پیدا ہوئے جو لوگوں کی زندگی کے ساتھ متعین ہوتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر بہت ہی بڑی ذمہ داری عائد کردی ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا تقاضا تھا اور اسی کے مطابق سنت الٰہیہ جاری وساری ہے کہ لوگوں کے حالات لوگوں کے بدلنے پر موقوف ہوں گے۔ سنت الٰہیہ ان کے طرز عمل اور ان کی طرز فکر پر مرتب ہوگی۔ یہ ایک صریح نص ہے ، لہٰذا اس میں کسی تاویل اور تحریف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس سنت الٰہیہ کے تعین کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہایت ہی مکرم بنادیا ہے کہ خود انسان کے عمل سے سنت الٰہیہ بنتی ہے۔ اس سنت الٰہیہ کے تعین کے بعد سیاق کلام بتا دیتا ہے کہ اللہ کسی قوم کو ہلاکت میں ڈالتا ہے تو سنت کیا ہوتی ہے۔ وہ بھی یہی ہوتی ہے کہ جب لوگ اپنے اندر بری تبدیلی لاتے ہیں تو پھر سنت الٰہیہ بھی ان کو برے دن دکھاتی ہے۔ واذا اراد اللہ۔۔۔۔۔۔ من وال (13 : 11) ” اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی ، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گار ہوسکتا ہے “۔ یہاں سیاق کلام زوال کا یہ پہلو اس طرح بیان کرتا ہے کیونکہ یہاں موضوع و مضمون ایسا ہے کہ لوگ اچھائی سے زیادہ برائی کے طلبگار ہیں۔ جبکہ اللہ نے ان کو بتایا کہ وہ عذاب سے قبل تمہاری مغفرت کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ لوگ کس قدر غافل ہوگئے ہیں۔ اس لئے یہاں ان کے انجام بد کا کردیا جاتا ہے تا کہ وہ ڈریں اور عقل کے ناخن لیں کیونکہ اللہ کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں اور جب تمہاری ہلاکت کا فیصلہ آگیا تو پھر کوئی تمہارا حامی و مددگار نہ ہوگا۔ ٭٭٭

الرعد 13:10

یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔ آیت نمبر 8 تا 11 جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ دھوپ ، چھپ کر لوگوں کی سرگرمیاں اور دن کے وقت برملا لوگوں کی جدو جہد ، ان تمام امور کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ کے گماشتے ان تمام سرگرمیوں کو ریکارڈ بھی کر رہے ہیں۔ انسان کی یہ حیرانی دراصل خوف الٰہی کی وجہ سے ہے جس کے نتیجے میں انسان اللہ کی پناہ لیتا ہے۔ وہ اللہ کی پناہ گاہ ہی میں پناہ لیتا ہے۔ ایک مومن اچھی طرح جانتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اللہ کا علم تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے ، لیکن اصولی طور پر اللہ کے علم کے شمول اور وسعت کا اقرار اور بات ہے اور یہاں قرآن مجید نے جس موثر انداز میں بعض جزئیات کا ذکر کیا ہے اس کی اثر انگیزی اور بات ہے۔ محض تجریدی کلیہ کا بیان کردینا اور بات ہے اور کلیہ کے تحت کسی مثالی جزئیہ کا مطالعہ اور بات ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ بعض جزئیات ، حساس جزئیات کا ذکر فرماتے ہیں۔ اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ ہر حاملہ سے خیال کے پردے پر ہر حاملہ ، مطلق حاملہ آجاتی ہے ، اس پوری کائنات میں تمام زندہ حاملہ ، وسیع معنوں میں ہر حاملہ شہروں میں اور دیہاتوں میں۔ آبادیوں میں اور پہاڑوں میں ، جنگلوں میں دریاؤں میں ، گھروں میں اور غاروں میں ، ہر مادہ کے پیٹ میں جو کچھ پیدا ہو رہا ہے ، بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، ہر وہ قطرۂ خون جو بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ تو ہے ایک مخصوص مثال اور یہ کوئی تجریدی کلیہ نہیں ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور بس ، بلکہ ایک مخصوص شعبہ علم کی بات ہے۔ سواء منکم ۔۔۔۔ امر اللہ۔ (13 : 10- 11) ” تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں۔ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔ جب انسانی خیال پر سرگوشی کرنے والے ، ہر جہراً بات کرنے والے کے بارے میں سوچ ، اندھیروں میں چلنے والوں اور دن کی روشنی میں متحرک لوگوں کے بارے میں سوچ اور پھر اس پوری کائنات کے بارے میں سوچ اور پھر یہ سوچ کہ اللہ کا علم ان سب کا پیچھا کر رہا ہے اور اس کے گماشتے بھی لکھ رہے ہیں اور رات کے دونوں کناروں پر رپورٹ بھی بھیجتے ہیں۔ پھر ان جزئیات علم الٰہی کے انداز بیان پر بھی ذرا غور کیجئے : اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ جب اللہ نے یہ فرمایا کہ رحم مادر میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اللہ اسے جانتا ہے تو اس کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے ہاں ہر چیز کی مقدار مقرر ہے۔ نقص و زیادتی کے ساتھ مقدار کا لفظ لانا ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کا تعلق اس سے قبل کی اس آیت سے بھی ہے جس میں آیا ہے کہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ مرنے اور مٹی بن جانے کے بعد خلق جدید کی شکل میں لوگ کس طرح اٹھ کھڑے ہوں گے۔ نیز موضوع اور ظاہری شکل کے اعتبار سے یہ اس مضمون کے بھی مماثل ہے جس میں بارش کا ذکر ہے کہ بارش برستی ہے اور برادری اپنی مقدار کے مطابق پانی سے بہہ جاتی ہے۔ تمام امور میں مقدار ملحوظ ہے۔ کمی بیشی اور مقدار اس سورة کا نکتہ خاص ہے۔ علم الغیب ۔۔۔۔ المتعال (13 : 9) ” وہ پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کا عالم ہے وہ بزرگ اور ہر حال میں بالاتر رہنے والا ہے “۔ لفظ کبیر اور لفظ متعال دونوں پردۂ احساس پر ایک خاص اثر چھوڑتے ہیں ، اس کو میں پر تو سے تعبیر کرتا ہوں۔ کسی دوسرے لفظ سے اس کی تعبیر مشکل ہے۔ یعنی جو بھی مخلوق ہے ، اس کے اندر کوئی نہ کوئی نقص ضرور ہوتا ہے جو اسے صغیر بنا دیتا ہے۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو بھی ہم کبیر نہیں کہہ سکتے۔ یا کسی اور معاملے کو ہم کبیر نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اللہ کا ذکر آتے ہی تمام دوسرے امور صغیر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح لفظ متعال کے بارے میں بھی ہماری سوچ محدود ہے۔ کسی مفسر نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا کہ الکبیر المتعال کا دائرہ اخلاق کیا ہے۔ سواء منکم۔۔۔۔۔ بالنھار (13 : 10) ” تم میں سے کوئی شخص زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں “۔ عبارت میں تقابل واضح ہے۔ لفظ سارب قابل غور ہے۔ خود لفظ سارب اپنے مفہوم پر روشنی ڈالتا ہے۔ مفہوم ہے اخفا اور پوشیدگی یا قریب قریب پوشیدگی۔ سارب کا مفہوم ہے روشنی میں چلنے والا یعنی خفیہ چیزوں کو بھی اللہ جانتا ہے۔ حمل جو چھپا ہوا ہے ، راز جو خفیہ ہوتے ہیں ، وہ شخص جو رات کے اندھیرے میں چلتا ہے پھر اللہ کے گماشتے جو نظر نہیں آتے ، سارب خفیہ کے بالمقابل لفظ ہے لیکن خود اس کے اندر بھی نرمی ، لطف اور اخفاء کا پر تو موجود ہے۔ لہ معقبت ۔۔۔۔ امر اللہ (13 : 11) ” ہر شخص کے آگے پیچھے اس کے مقدر کئے ہوئے نگراں موجود ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔ وہ فرشتے جو انسانوں کی حفاظت کے لئے مقرر ہیں ، ہر آنے جانے والے کی حفاظت کرتے ہیں ، جو انسانوں کو ہر وسوسہ اور ہر خلجان سے بچاتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہاں ان نگرانوں کی کوئی تعریف و تفصیل بیان نہیں کی جاتی۔ صرف یہ تعریف ان کی یہاں ہے کہ من امر اللہ۔ جو اللہ کے حکم سے کام کرتے ہیں ، ہم بھی یہاں ان کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں کہ وہ کیا ہیں ، ان کی صفات کیسی ہیں ، وہ کس طرح یہ نگرانی کرتے ہیں ، کہاں ہوتے ہیں ، اللہ نے چونکہ اس بات کو مخفی رکھا ہے ، اور اس کے اخفاء ہی سے وہ خوف پیدا ہوتا ہے جس کو یہاں پیدا کرنا مطلوب ہے۔ لہٰذا قرآن نے جس قدر کہہ دیا ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ اور یہ اخفاء اور اجمال اتفاقی اور بےمقصد نہیں ہے ، جو لوگ قرآن کریم کے اسلوب کے اظہار کے بارے میں کچھ بھی تعلق رکھتے ہیں ان کے لئے یہ بات مشکل ہے کہ وہ قرآن کی پیدا کردہ ایک فضا کو ختم کردیں کیونکہ تفصیلات دینے سے وہ تاثر ختم ہوجائے گا۔ ان اللہ لا۔۔۔۔۔۔۔ بانفسھم (13 : 11) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی “۔ اللہ ان کی نگرانی اپنے کارندوں کے ذریعے یوں کرتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ لوگ اپنے اندر کیا کیا تبدیلیاں لاتے ہیں اور اپنے حالات کو بدلنے کی کیا سعی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ترقی و پسماندگی میں ، عزت و ذلت میں ، بلندی اور زوال میں کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک لوگ خود اپنی سوچ ، اپنے شعور ، اپنے اعمال اور اپنی سرگرمیوں کو بدلتے نہیں۔ چناچہ اللہ بھی لوگوں کی سوچ اور ان کے فکر و عمل کے مطابق لوگوں کے حالات میں تبدیلی پیدا کردیتا ہے ۔ اگرچہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا ایسا کریں گے اور یہ یہ نہ کریں گے ۔ عملی نتائج لوگوں کے فکرو عمل کے مطابق ہی نکلتے ہیں۔ ہاں یہ نتائج عملاً اس دور میں پیدا ہوئے جو لوگوں کی زندگی کے ساتھ متعین ہوتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر بہت ہی بڑی ذمہ داری عائد کردی ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا تقاضا تھا اور اسی کے مطابق سنت الٰہیہ جاری وساری ہے کہ لوگوں کے حالات لوگوں کے بدلنے پر موقوف ہوں گے۔ سنت الٰہیہ ان کے طرز عمل اور ان کی طرز فکر پر مرتب ہوگی۔ یہ ایک صریح نص ہے ، لہٰذا اس میں کسی تاویل اور تحریف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس سنت الٰہیہ کے تعین کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہایت ہی مکرم بنادیا ہے کہ خود انسان کے عمل سے سنت الٰہیہ بنتی ہے۔ اس سنت الٰہیہ کے تعین کے بعد سیاق کلام بتا دیتا ہے کہ اللہ کسی قوم کو ہلاکت میں ڈالتا ہے تو سنت کیا ہوتی ہے۔ وہ بھی یہی ہوتی ہے کہ جب لوگ اپنے اندر بری تبدیلی لاتے ہیں تو پھر سنت الٰہیہ بھی ان کو برے دن دکھاتی ہے۔ واذا اراد اللہ۔۔۔۔۔۔ من وال (13 : 11) ” اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی ، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گار ہوسکتا ہے “۔ یہاں سیاق کلام زوال کا یہ پہلو اس طرح بیان کرتا ہے کیونکہ یہاں موضوع و مضمون ایسا ہے کہ لوگ اچھائی سے زیادہ برائی کے طلبگار ہیں۔ جبکہ اللہ نے ان کو بتایا کہ وہ عذاب سے قبل تمہاری مغفرت کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ لوگ کس قدر غافل ہوگئے ہیں۔ اس لئے یہاں ان کے انجام بد کا کردیا جاتا ہے تا کہ وہ ڈریں اور عقل کے ناخن لیں کیونکہ اللہ کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں اور جب تمہاری ہلاکت کا فیصلہ آگیا تو پھر کوئی تمہارا حامی و مددگار نہ ہوگا۔ ٭٭٭

الرعد 13:11

یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔ آیت نمبر 8 تا 11 جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ دھوپ ، چھپ کر لوگوں کی سرگرمیاں اور دن کے وقت برملا لوگوں کی جدو جہد ، ان تمام امور کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ کے گماشتے ان تمام سرگرمیوں کو ریکارڈ بھی کر رہے ہیں۔ انسان کی یہ حیرانی دراصل خوف الٰہی کی وجہ سے ہے جس کے نتیجے میں انسان اللہ کی پناہ لیتا ہے۔ وہ اللہ کی پناہ گاہ ہی میں پناہ لیتا ہے۔ ایک مومن اچھی طرح جانتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اللہ کا علم تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے ، لیکن اصولی طور پر اللہ کے علم کے شمول اور وسعت کا اقرار اور بات ہے اور یہاں قرآن مجید نے جس موثر انداز میں بعض جزئیات کا ذکر کیا ہے اس کی اثر انگیزی اور بات ہے۔ محض تجریدی کلیہ کا بیان کردینا اور بات ہے اور کلیہ کے تحت کسی مثالی جزئیہ کا مطالعہ اور بات ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ بعض جزئیات ، حساس جزئیات کا ذکر فرماتے ہیں۔ اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ ہر حاملہ سے خیال کے پردے پر ہر حاملہ ، مطلق حاملہ آجاتی ہے ، اس پوری کائنات میں تمام زندہ حاملہ ، وسیع معنوں میں ہر حاملہ شہروں میں اور دیہاتوں میں۔ آبادیوں میں اور پہاڑوں میں ، جنگلوں میں دریاؤں میں ، گھروں میں اور غاروں میں ، ہر مادہ کے پیٹ میں جو کچھ پیدا ہو رہا ہے ، بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، ہر وہ قطرۂ خون جو بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ تو ہے ایک مخصوص مثال اور یہ کوئی تجریدی کلیہ نہیں ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور بس ، بلکہ ایک مخصوص شعبہ علم کی بات ہے۔ سواء منکم ۔۔۔۔ امر اللہ۔ (13 : 10- 11) ” تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں۔ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔ جب انسانی خیال پر سرگوشی کرنے والے ، ہر جہراً بات کرنے والے کے بارے میں سوچ ، اندھیروں میں چلنے والوں اور دن کی روشنی میں متحرک لوگوں کے بارے میں سوچ اور پھر اس پوری کائنات کے بارے میں سوچ اور پھر یہ سوچ کہ اللہ کا علم ان سب کا پیچھا کر رہا ہے اور اس کے گماشتے بھی لکھ رہے ہیں اور رات کے دونوں کناروں پر رپورٹ بھی بھیجتے ہیں۔ پھر ان جزئیات علم الٰہی کے انداز بیان پر بھی ذرا غور کیجئے : اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ جب اللہ نے یہ فرمایا کہ رحم مادر میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اللہ اسے جانتا ہے تو اس کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے ہاں ہر چیز کی مقدار مقرر ہے۔ نقص و زیادتی کے ساتھ مقدار کا لفظ لانا ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کا تعلق اس سے قبل کی اس آیت سے بھی ہے جس میں آیا ہے کہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ مرنے اور مٹی بن جانے کے بعد خلق جدید کی شکل میں لوگ کس طرح اٹھ کھڑے ہوں گے۔ نیز موضوع اور ظاہری شکل کے اعتبار سے یہ اس مضمون کے بھی مماثل ہے جس میں بارش کا ذکر ہے کہ بارش برستی ہے اور برادری اپنی مقدار کے مطابق پانی سے بہہ جاتی ہے۔ تمام امور میں مقدار ملحوظ ہے۔ کمی بیشی اور مقدار اس سورة کا نکتہ خاص ہے۔ علم الغیب ۔۔۔۔ المتعال (13 : 9) ” وہ پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کا عالم ہے وہ بزرگ اور ہر حال میں بالاتر رہنے والا ہے “۔ لفظ کبیر اور لفظ متعال دونوں پردۂ احساس پر ایک خاص اثر چھوڑتے ہیں ، اس کو میں پر تو سے تعبیر کرتا ہوں۔ کسی دوسرے لفظ سے اس کی تعبیر مشکل ہے۔ یعنی جو بھی مخلوق ہے ، اس کے اندر کوئی نہ کوئی نقص ضرور ہوتا ہے جو اسے صغیر بنا دیتا ہے۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو بھی ہم کبیر نہیں کہہ سکتے۔ یا کسی اور معاملے کو ہم کبیر نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اللہ کا ذکر آتے ہی تمام دوسرے امور صغیر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح لفظ متعال کے بارے میں بھی ہماری سوچ محدود ہے۔ کسی مفسر نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا کہ الکبیر المتعال کا دائرہ اخلاق کیا ہے۔ سواء منکم۔۔۔۔۔ بالنھار (13 : 10) ” تم میں سے کوئی شخص زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں “۔ عبارت میں تقابل واضح ہے۔ لفظ سارب قابل غور ہے۔ خود لفظ سارب اپنے مفہوم پر روشنی ڈالتا ہے۔ مفہوم ہے اخفا اور پوشیدگی یا قریب قریب پوشیدگی۔ سارب کا مفہوم ہے روشنی میں چلنے والا یعنی خفیہ چیزوں کو بھی اللہ جانتا ہے۔ حمل جو چھپا ہوا ہے ، راز جو خفیہ ہوتے ہیں ، وہ شخص جو رات کے اندھیرے میں چلتا ہے پھر اللہ کے گماشتے جو نظر نہیں آتے ، سارب خفیہ کے بالمقابل لفظ ہے لیکن خود اس کے اندر بھی نرمی ، لطف اور اخفاء کا پر تو موجود ہے۔ لہ معقبت ۔۔۔۔ امر اللہ (13 : 11) ” ہر شخص کے آگے پیچھے اس کے مقدر کئے ہوئے نگراں موجود ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔ وہ فرشتے جو انسانوں کی حفاظت کے لئے مقرر ہیں ، ہر آنے جانے والے کی حفاظت کرتے ہیں ، جو انسانوں کو ہر وسوسہ اور ہر خلجان سے بچاتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہاں ان نگرانوں کی کوئی تعریف و تفصیل بیان نہیں کی جاتی۔ صرف یہ تعریف ان کی یہاں ہے کہ من امر اللہ۔ جو اللہ کے حکم سے کام کرتے ہیں ، ہم بھی یہاں ان کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں کہ وہ کیا ہیں ، ان کی صفات کیسی ہیں ، وہ کس طرح یہ نگرانی کرتے ہیں ، کہاں ہوتے ہیں ، اللہ نے چونکہ اس بات کو مخفی رکھا ہے ، اور اس کے اخفاء ہی سے وہ خوف پیدا ہوتا ہے جس کو یہاں پیدا کرنا مطلوب ہے۔ لہٰذا قرآن نے جس قدر کہہ دیا ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ اور یہ اخفاء اور اجمال اتفاقی اور بےمقصد نہیں ہے ، جو لوگ قرآن کریم کے اسلوب کے اظہار کے بارے میں کچھ بھی تعلق رکھتے ہیں ان کے لئے یہ بات مشکل ہے کہ وہ قرآن کی پیدا کردہ ایک فضا کو ختم کردیں کیونکہ تفصیلات دینے سے وہ تاثر ختم ہوجائے گا۔ ان اللہ لا۔۔۔۔۔۔۔ بانفسھم (13 : 11) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی “۔ اللہ ان کی نگرانی اپنے کارندوں کے ذریعے یوں کرتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ لوگ اپنے اندر کیا کیا تبدیلیاں لاتے ہیں اور اپنے حالات کو بدلنے کی کیا سعی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ترقی و پسماندگی میں ، عزت و ذلت میں ، بلندی اور زوال میں کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک لوگ خود اپنی سوچ ، اپنے شعور ، اپنے اعمال اور اپنی سرگرمیوں کو بدلتے نہیں۔ چناچہ اللہ بھی لوگوں کی سوچ اور ان کے فکر و عمل کے مطابق لوگوں کے حالات میں تبدیلی پیدا کردیتا ہے ۔ اگرچہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا ایسا کریں گے اور یہ یہ نہ کریں گے ۔ عملی نتائج لوگوں کے فکرو عمل کے مطابق ہی نکلتے ہیں۔ ہاں یہ نتائج عملاً اس دور میں پیدا ہوئے جو لوگوں کی زندگی کے ساتھ متعین ہوتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر بہت ہی بڑی ذمہ داری عائد کردی ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا تقاضا تھا اور اسی کے مطابق سنت الٰہیہ جاری وساری ہے کہ لوگوں کے حالات لوگوں کے بدلنے پر موقوف ہوں گے۔ سنت الٰہیہ ان کے طرز عمل اور ان کی طرز فکر پر مرتب ہوگی۔ یہ ایک صریح نص ہے ، لہٰذا اس میں کسی تاویل اور تحریف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس سنت الٰہیہ کے تعین کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہایت ہی مکرم بنادیا ہے کہ خود انسان کے عمل سے سنت الٰہیہ بنتی ہے۔ اس سنت الٰہیہ کے تعین کے بعد سیاق کلام بتا دیتا ہے کہ اللہ کسی قوم کو ہلاکت میں ڈالتا ہے تو سنت کیا ہوتی ہے۔ وہ بھی یہی ہوتی ہے کہ جب لوگ اپنے اندر بری تبدیلی لاتے ہیں تو پھر سنت الٰہیہ بھی ان کو برے دن دکھاتی ہے۔ واذا اراد اللہ۔۔۔۔۔۔ من وال (13 : 11) ” اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی ، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گار ہوسکتا ہے “۔ یہاں سیاق کلام زوال کا یہ پہلو اس طرح بیان کرتا ہے کیونکہ یہاں موضوع و مضمون ایسا ہے کہ لوگ اچھائی سے زیادہ برائی کے طلبگار ہیں۔ جبکہ اللہ نے ان کو بتایا کہ وہ عذاب سے قبل تمہاری مغفرت کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ لوگ کس قدر غافل ہوگئے ہیں۔ اس لئے یہاں ان کے انجام بد کا کردیا جاتا ہے تا کہ وہ ڈریں اور عقل کے ناخن لیں کیونکہ اللہ کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں اور جب تمہاری ہلاکت کا فیصلہ آگیا تو پھر کوئی تمہارا حامی و مددگار نہ ہوگا۔ ٭٭٭

الرعد 13:12

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔ آیت 12 تا 16 چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن مجید ان کو پیش کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ ملائکہ ، تسبیح ، سجود ، خوف ، طمع اور ان مشاہد کے سائے کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ سچی پکار کیا ہے اور باطل اور ناحق پکار کیا ہے۔ ان مناظر میں ایک دوسرے شخص کی شکل یوں پیش کی جاتی ہے جو پانی پینا چاہتا ہے لیکن اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا ، بلکہ ہاتھ کھول کر اور منہ کھولے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ پانی خودبخود اس کے منہ میں پڑجائے ، جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ، ایک قطرہ بھی۔ یہ تمام مناظر ، مثالیں اور اشیاء اس آیت میں محض اتفاقاً اور بےمقصد جمع نہیں کردی گئی ، ان سب چیزوں کا دراصل مدعا سے تعلق ہے۔ بلکہ یہ مناظر انسان کو ڈرانے ، امید ،۔۔۔ پیہم اور طمع اور خوف اور نفع و نقصان کی امید دلانے اور اللہ کے ساتھ انسانوں نے جو دوسرے شریک ٹھہرا رکھے ان کی قوت کی نفی کے لئے لائے گئے ہیں۔ ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ وطمعا (13 : 12) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں “۔ اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں یہ تکوینی مظاہر دکھاتا ہے۔ یہ اس کائنات کے طبیعی اور موسمی مظاہر ہیں جسے اس نے پیدا کیا ہے اور اس خاص انداز پر اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور یہ خواص ان اشیاء کے اندر پیدا کئے ہیں۔ وہ بجلی جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، یہ اس کے قانون قدرت کے مطابق کام کرتی ہے۔ تم اس سے ڈر بھی جاتے ہو کیونکہ اس کی ماہیت ہی ایسی ہے جو اعصاب کو ہلا مارتے ہے۔ کبھی کبھی یہ بجلی برق بن کر بھی گرتی ہے اور خوفناک شکل میں تباہی بھی مچاتی ہے۔ جیسا کہ بارہا تم کو ۔۔۔ بھی ہوا ہوگا۔ تم اس چمک اور بجلی کے بعد باراں رحمت کے امیدوار بھی ہوتے ہو ، کیونکہ اس چمک اور گرج کے بعد بعض اوقات موسلا دھار بارش ہوتی اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ وینشیء السحاب الثقال (13 : 12) ” وہی ہے جو بارش سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے “۔ بادلوں کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ سحاب۔۔۔۔ اس جنس کا واحد سحابہ ہے جو بادل کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ ثقال سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ یہ بادل اللہ کے پیدا کردہ ناموس فطرت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں اور موسلا دھار بارشیں برساتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ قانون قدرت اس طرح نہ وضع کرتا تو نہ بادل ہوتے اور نہ یوں بارشیں ہوتیں۔ یہ کہہ کر کہ بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور بارشیں کس طرح برستی ہیں ، ان کی علمی اور سائنسی کیفیت معلوم ہونے سے ان کی خوبصورتی اور سحر آفرینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ نہ اس سے اس مفہوم میں فرق پڑتا ہے جو قرآن کریم نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام کام اور عمل صرف اللہ کے پیدا کردہ تکوینی نظام کے مطابق ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کی صنعت کاری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ انسانوں کا اس پورے نظام میں کوئی دخل و عمل ہے۔ یہ تکوینی اور طبیعی قواعد جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے نہ خود کائنات نے پیدا کئے ہیں اور نہ خود بخود چل پڑے ہیں ، اس میں جو کچھ بھی چل رہا ہے ایک خالق مطلق کی وجہ سے چل رہا ہے۔ رعد ، باد ، باران کے مناظر میں ایک خاص منظر ہوتا ہے ۔ یہ طویل اور کڑاکے کی آواز۔ یہ بھی اس کرۂ ارض کے قوانین قدرت کا ایک مظاہرہ ہے اور اللہ کی صنعت کاری ہے۔ اس کا سائنسی تجزیہ جو بھی ہو ، اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ یہ اللہ کی تخلیق کا ایک حصہ ہے۔ یہ حمد و تسبیح اس معنی میں کرتا ہے کہ یہ اس قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے جس کے مطابق اللہ نے یہ نظام بنایا ہے ، جیسا کہ ہر خوبصورت بنائی ہوئی چیز کو دیکھ کر بنانے والی کی حمد و ثنا بےساختہ ہوتی رہتی ہے اور اس کی مصنوعہ چیز کے آثار اور جمال اور افادیت کو دیکھ کر ہر کوئی تعریف کرتا ہے۔ اسی طرح اس کائنات کے اندر پائے جانے والے کمالات اور حیرت انگیز افادیت کی چیزوں کو دیکھنے سے بےساختہ اللہ کی تسبیح زبان پر آجاتی ہے۔ تسبیح کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے اور رعد تو خود ہی پکار رہی ہے ۔ بہرحال ہم ان چیزوں کی تسبیح کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے اور نہ سمجھتے ہوئے بھی ہم ان حقائق پر ایمان لاتے ہیں ۔ خود اپنے بارے میں بھی ابھی تک ہم کم ہی جانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہم یہ بھی معلوم کرلیں کہ یہ چیزیں کیسے تسبیح کرتی ہیں۔ یہاں قرآن کریم نے رعد کے بارے میں ایسا انداز بیان اختیار کیا ہے کہ گویا رعد ایک زندہ مخلوق ہے اور وہ تسبیح کر رہی ہے ، قرآن کریم کا یہ مخصوص انداز ہے کہ وہ مناظر قدرت کو آثار زندگی سے مزین کردیتا ہے حالانکہ یہ مناظر قدرت خاموش ہوتے ہیں اور یہ اس لیے کہ اس پورے منظر میں تمام دوسرے مناظر زندہ ہیں جیسا کہ میں نے اپنی کتاب التصویر الغنی فی القرآن میں تفصیلات دی ہیں۔ اس منظر میں چونکہ زندہ چیزوں کے مناظر ہیں مثلاً تسبیح کر رہے ہیں۔ اللہ کو پکارنا ، شرکاء کو پکارنا اور یہ منظر کہ ایک آدمی پانی کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے کہ وہ خود بخود منہ میں پڑجائے جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ہے ، تو ایسے مناظر جن میں ایک طرف پکار ، بندگی اور حرکت ہے ، رعد کو بھی زندہ تصور کر کے تسبیح اور دعاء کی نسبت اس کی طرف کردی گئی۔ اب اس منظر کو ذرا مزید خوفناک بنایا جاتا ہے ، خوف ، دعاء ، برق اور رعد اور بھاری بادل اور یا دو باراں کے ساتھ اب بجلیاں بھی گرتی دکھائی دیتی ہیں ، اور کسی بےچارے پر برق گرتی ہے۔ یہ بجلی جس طرح گرتی ہے وہ اس کائنات کے قدرتی نظام کا حصہ ہے۔ بعض اوقات یہ برق ایسے شخص پر گر جاتی ہے جسے اللہ مزید مہلت دینا نہیں چاہتا کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اب مہلت دینا مناسب نہیں لہٰذا بعض لوگ اس برق کے ذریعے ہلاک کر دئیے جاتے ہیں۔ اور تعجب انگیز بات یہ ہے کہ رعد و برق اور طوفان بادوباراں کی اس فضا میں ، اور رعد اور برق کی جانب سے تسبیح اور ملائکہ کی جانب سے حالت خوف میں اظہار اطاعت ، اور اللہ کے ان غضبناک مظاہر قدرت کے عروج کی حالت میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو ذات باری کے متعلق شبہات کا اظہار کرتے ہیں ، اللہ کے بارے میں مجادلے اور مباحثے کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کی قدرت کے مظاہر بلکہ خوفناک مظاہر وہ خود بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ وھم یجادلون۔۔۔۔۔۔ المحال (13 : 13) ” یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ اس کی چال بڑی زبردست ہے “۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جو ذات باری میں کلام کرتے ہیں لیکن اس ہولناک فضا ، گریہ وزاری اور رعد اور برق ، چیخ اور دھاڑ اور اس ہنگامہ خیز فضا میں جس کی تمام چیزیں وجود باری پر دلالت کرتی ہیں ایسے چند لوگوں کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ کیونکہ اس کائنات کے تمام قابل ذکر مناظر اللہ کی وحدانیت ، اللہ کی تسبیح و تہلیل پر دلیل ناطق ہیں ، پھر فرشتوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو ہر وقت اللہ کے خوف کے مارے کانپتے رہتے ہیں ، لہٰذا ان مناظر کی موجودگی ، اور ان فرشتوں کے خوف اور تمام انسانوں کے خوف کی اس فضا میں اللہ کے بارے میں کلام کرنے والوں کی بات شا ذو نادر ہے اور بےمحل ہے۔ یہ لوگ اللہ کے بارے میں کلام کرتے ہیں ، مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں حالانکہ حقیقت پکارے گا ، لاحاصل پکارتا رہے گا۔ لہ دعوۃ الحق والذین ۔۔۔۔۔۔ فی ضلل (13 : 14) ” اسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ انہیں پکارنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا ، حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بےہدف ! “ یہ منظر بھی بولتا منظر ہے ، متحرک اور پر معنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک پکار حق ، اور وہی اس بات کی مستحق ہے اور حقیقت پسندانہ ہے اور اس کے سوا جو پکاریں بھی ہیں وہ باطل ، بےفائدہ اور گمراہانہ ہیں۔ کیا تم ذرا غور نہیں کرتے کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں ان میں سے ایک شخص کی مثال ایسی ہے کہ وہ پیاسا ہے اور پیاس کی وجہ سے نڈھال ہو رہا ہے ، اس نے بازو پھیلا رکھے ہیں ، ہاتھ کھول رکھے ہیں ، منہ کھلا ہے اور مسلسل پکار رہا ہے کسی کو ، اپنے سامنے موجود پانی کو ، اے پانی میرے منہ میں آکر پڑجا۔ حالانکہ وہ پڑنے والا نہیں ہے۔ یہ شخص اس پکار اور جدو جہد میں تھک کر چور ہوجاتا ہے اور اس کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا۔ وما ھو۔۔۔۔۔۔ فی ضلل (13 : 14) حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرے بےہدف ! “ یہ مثال اس فضا میں دی گئی ہے کہ ایک پیاس سے نڈھال آدمی ایک قطرۂ آب بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ ایسی فضا میں جس میں ہر طرف برق اور باد و باراں کا طوفان ہے اور یہ تمام خوفناک مناظر اللہ کے قانون قدرت کے مطابق متحرک ہیں۔ جس وقت یہ ناکام اور غلط کار لوگ اللہ کے سوا دوسرے الہوں کو پکارتے ہیں ، غیر اللہ سے امید رکھتے ہیں اور غیر اللہ کے سامنے دست بدعاء ہوتے ہیں ، یہ پوری کائنات اور اس کی ہر چیز اللہ کے سامنے سر بسجود ہوتی ہے ، یہ سب لوگ اور یہ سب مخلوق اللہ کے حکم کے تابع ہے اور اللہ کے قانون قدرت میں جکڑی ہوئی ہے۔ اللہ کی سنت کے مطابق چل رہی ہے۔ اس مخلوق میں سے جو مومن ہے وہ خوشی اور مرضی سے اطاعت کرتا ہے اور جو کافر ہیں وہ بھی کرھا اطاعت کرتے ہیں کیونکہ کوئی چیز ارادۂ الٰہی سے نہیں نکل سکتی اور نہ کوئی چیز ناموس الٰہیہ سے نکلتی ہے۔ وللہ یسجد من۔۔۔۔ الاصال (15) السجدہ ” وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً وکرھاً سجدہ کر رہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح وشام اس کے آگے جھکتے ہیں “۔ کیونکہ یہ فضا ہی عبادت اور بندگی اور پکار کی فضا ہے۔ سیاق کلام میں قرآن اللہ کے احکام بجا لانے کو لفظ عبادت سے تعبیر کرتا ہے کیونکہ سجدے میں انسان غایت درجہ خضوع اور اطاعت اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آسمانوں اور زمین کی مخلوق کا ذکر بھی کردیا جاتا ہے۔ اور اس کائنات کی تمام چیزوں کے سائے کو بھی اللہ کا مطیع کہا گیا کہ ان چیزوں کے سائے بھی اللہ کے سامنے جھکتے ہیں۔ گویا وہ اللہ کی عبادت اور بندگی کرتے ہیں کیونکہ یہ اطاعت الٰہیہ سے سرموانحراف نہیں کرسکتے اور وہ قانون قدرت کے یوں تابع ہیں جس طرح وہ شخص تبابع ہوتا ہے جو اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ یہ تمثیل بھی ہے اور حقیقت بھی ، کیونکہ سایہ سورج کی کرنوں کے تابع ہوتا ہے۔ اس تمثیل کا اس منظر کی فضا پر بھی اثر پڑتا ہے گو سجدے بھی دو قسم کے ہیں۔ افراد کے سجدے اور سایوں کے سجدے۔ اور یہ پوری کائنات بھی اللہ کے تابع فرمان ہے۔ چاہے راہ ایمان سے تابع ہو یا غیر ایمان یعنی قانون قدرت کے ذریعے۔ سب کی سب کائنات بہرحال سر بسجود ہے۔ اور یہ بدبخت مشرک ایسے ہیں جو ان حالات میں بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔ اس عجیب و غریب منظر اور اس پر تاثیر فضا میں اب ان سے پوچھا جاتا ہے ، ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کا جواب ہاں کے سوا کچھ نہیں اور یوں ان کو اضحو کہ بنایا جاتا ہے۔ قل من رب السموت۔۔۔۔۔۔ الواحد القھار (13 : 16) ” ان سے پوچھو ، آسمان و زمین کا رب کون ہے ؟۔۔۔ کہو ، اللہ۔ پھر ان سے کہو کہ حقیقت یہ ہے کہ تو کیا تم نے اسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھہرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ؟ کہو ، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے ؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں ؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اس کی وجہ سے ان پر تخلیق کا معالہ مشتبہ ہوگیا ؟ ۔۔۔۔ کہو ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے ، سب پر غالب ! “ ان سے پوچھو اور حال یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے اللہ کے ارادے اور اللہ کی قدرت سے ماخوذ ہے۔ اللہ کی قدرت میں بندھا ہوا ہے خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو۔ یہ بوجھ کہ کون ہے رب السموات والارض ؟ یہ سوال اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ کوئی جواب دیں اس کا جواب تو سیاق کلام میں آگیا ہے۔ یہ سب اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زبان سے اقرار کرلیں۔ جواب تو یہی ہے کہ ” اللہ “ ہے۔ پھر دوسرا سوال یہ کہ تم جن کو پکارتے ہو کیا وہ اپنے نفع ونقصان کے بھی مالک ہیں۔ یہ سوال بھی محض ان کی گوشمالی اور ان کو ذلیل کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ تم سوال کرتے جاؤ، جبکہ یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حق و باطل میں امتیاز ہوچکا ہے۔ اس قدر امتیاز ہوچکا ہے کہ جس طرح اندھے اور صاحب بصارت میں فرق ہے یا جس طرح روشنی اور تاریکی میں فرق ہے۔ اعمی اور بصیر میں اشارہ اس طرف ہے کہ ایک مومن بصیر ہوتا ہے اور ایک کافر اندھا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اندھا پن ہی انسان کو سچائی کے دیکھنے سے روکتا ہے حالانکہ یہ سچائی ظاہر و باطن ہے۔ اور اس کے آثار زمین و آسمان میں محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ ظلمات اور نور کے تذکرے سے بھی منکرین کے حالات اور مومنین کے حالات کی طرف اشارہ ہے۔ اندھیرا دیکھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور ان کی حالت بھی یہ ہے کہ ان کے اور سچائی کے درمیان پردے حائل ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ہستیاں جن کو یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں انہوں نے کوئی مخلوق پیدا کی ہے جس طرح مخلوقات اللہ تعالیٰ نے پیدا کی۔ اس طرح ان کو یہ شبہ پیدا ہوگیا کہ شاید یہ بھی خالقیت میں شریک ہیں یا ان کو شبہ ہوگیا کہ کون سی مخلوق اللہ کی ہے اور کون سی مخلوق ان ہستیوں کی ہے۔ یوں وہ بےچارے معذور ہیں اور یوں اس غلطی کا ارتکاب ممکن ہے کہ انہوں نے اللہ کی ذات وصفات میں ان دوسروں کو شریک کرلیا۔ کیونکہ اس ضرورت میں یہ ہستیاں صفت خالقیت میں شریک تھیں لیکن اگر کسی اور کی کوئی مخلوق ہی نہیں ہے تو پھر شرکت چہ معنی وارد۔ یہ اس قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ جو دعویٰ تو یہ کرتی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک خالق ہے اور پھر دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہراتی ہے۔ حالانکہ یہ ٹھہراتے ہوئے شریک خودان کے قول کے مطابق بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو الٰہ بھی مانتے ہیں ، ان کی بندگی بھی کرتے ہیں ، لہٰذا فکرو نظر و عقل و بصیرت کا یہ نہایت ہی گھٹیا نمونہ ہے۔ اور اس حقارت آمیز مذاق کے بعد یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے جس میں کوئی کلام اور مجادلہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قل اللہ۔۔۔۔۔ القھار (13 : 16) ” کہو ، ہر چیز کا خالق اللہ ہے ، وہ یکتا اور سب پر غالب ہے “۔ یعنی تخلیق میں بھی وہ واحد اور یکتا ہے۔ غلبے اور زبردستی میں بھی وہی یکتا ہے۔ قہار کے معنی ہیں انتہائی درجے کا غالب حکمران۔ عقیدۂ توحید اور رد شرک کو یہاں یوں احاطہ کیا جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں ، خواہ کوئی چیز خوشی سے سجدہ کرے (انسان) یا مجبوری سے اور اس سبق کے آخر میں اللہ کی قہاریت کا ذکر کر کے مسئلہ توحید کو یوں بیان کیا گیا کہ اللہ ایسا حکمران ہے جو غایت درجہ غالب اور گرفت والا ہے۔ زمین و آسمان کی سب چیزیں اس کی مطیع فرمان ہیں جیسا کہ رعد و برق اور کڑک سب کی سب اللہ کی تسبیح کرنے میں ہیں۔ ایسے حالات میں کوئی اندھا یا پتھر دل انسان ہی ہو سکتا ہے جو اللہ کا خوف نہ محسوس کرے اور ایسے شخص کی قسمت میں ہلاکت اور بربادی ہی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس سبق پر بات ختم کریں ضروری ہے کہ طرز ادا کے حوالے سے ہم بعض متقابل امور پر غور کریں۔ مثلاً گرج و چمک اور بھاری بادلوں کے اندر خوف اور امید کا ذکر ہے ، جو متقابل ہیں۔ سحاب کے ساتھ ثقال کا ذکر ہے اور ثقل کی وجہ سے وہ دھیمی رفتار سے چلتے ہیں جبکہ چمک اور برق نہایت ہی تیز رفتار ہوتی ہے۔ یہ دونوں مفہوم بھی باہم متقابل اور متضاد ہیں۔ رعد کی تسبیح اللہ کی حمد کے ساتھ ہے اور ملائکہ کی تسبیح خوف کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں بھی باہم متقابل مفہوم ہیں۔ دعوت حق اور دعوت باطل دونوں متقابل مقاصد ہیں۔ زمین و آسمان بھی باہم متقابل ہیں ، سجدۂ رضا و مجبوری ، طوعاً و کرھاً بھی باہم متقابل مفہوم ہیں۔ افراد اور ان کے سائے ، صبح وشام ، اعمی وبصیر ، ظلمات اور نور ، خالق حقیقی اور شرکائے عاجزین ، جو نفع ونقصان کا مالک ہے اور ان کے شرکاء کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اس طرح اس پورے سبق میں باہم متضاد اور متقابل امور کا ذکر کر کے حق و باطل کو سمجھایا گیا ہے۔ اور یہ نہایت ہی خوبصورت طرز ادا ہے اور ہے بھی عجیب و غریب ہم آہنگی کے ساتھ۔ اب ہم ذرا مزید آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ حق و باطل کی ایک اور مثال بیان فرماتے ہیں۔ ایک دعوت حق ہے جو ہمیشہ زمین پر باقی رہتی ہے اور ایک دعوت باطل ہے جو ادھر چلتی ہے جدھر ہوا کا رخ ہو۔ ایک بھلائی ہے جو پروقار اور جمی رہتی ہے۔ ایک شر اور برائی ہے جو پھلتی پھولتی نظر آتی ہے۔ یہاں جو مثال دی جا رہی ہے وہ اللہ واحد اور قہار کی قوت کیا ہے۔ یہ مثال بھی انہی مناظر قدرت کی ہم جنس ہے جو اس سبق کا موضوع خاص ہیں۔

الرعد 13:13

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔ آیت 12 تا 16 چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن مجید ان کو پیش کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ ملائکہ ، تسبیح ، سجود ، خوف ، طمع اور ان مشاہد کے سائے کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ سچی پکار کیا ہے اور باطل اور ناحق پکار کیا ہے۔ ان مناظر میں ایک دوسرے شخص کی شکل یوں پیش کی جاتی ہے جو پانی پینا چاہتا ہے لیکن اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا ، بلکہ ہاتھ کھول کر اور منہ کھولے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ پانی خودبخود اس کے منہ میں پڑجائے ، جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ، ایک قطرہ بھی۔ یہ تمام مناظر ، مثالیں اور اشیاء اس آیت میں محض اتفاقاً اور بےمقصد جمع نہیں کردی گئی ، ان سب چیزوں کا دراصل مدعا سے تعلق ہے۔ بلکہ یہ مناظر انسان کو ڈرانے ، امید ،۔۔۔ پیہم اور طمع اور خوف اور نفع و نقصان کی امید دلانے اور اللہ کے ساتھ انسانوں نے جو دوسرے شریک ٹھہرا رکھے ان کی قوت کی نفی کے لئے لائے گئے ہیں۔ ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ وطمعا (13 : 12) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں “۔ اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں یہ تکوینی مظاہر دکھاتا ہے۔ یہ اس کائنات کے طبیعی اور موسمی مظاہر ہیں جسے اس نے پیدا کیا ہے اور اس خاص انداز پر اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور یہ خواص ان اشیاء کے اندر پیدا کئے ہیں۔ وہ بجلی جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، یہ اس کے قانون قدرت کے مطابق کام کرتی ہے۔ تم اس سے ڈر بھی جاتے ہو کیونکہ اس کی ماہیت ہی ایسی ہے جو اعصاب کو ہلا مارتے ہے۔ کبھی کبھی یہ بجلی برق بن کر بھی گرتی ہے اور خوفناک شکل میں تباہی بھی مچاتی ہے۔ جیسا کہ بارہا تم کو ۔۔۔ بھی ہوا ہوگا۔ تم اس چمک اور بجلی کے بعد باراں رحمت کے امیدوار بھی ہوتے ہو ، کیونکہ اس چمک اور گرج کے بعد بعض اوقات موسلا دھار بارش ہوتی اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ وینشیء السحاب الثقال (13 : 12) ” وہی ہے جو بارش سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے “۔ بادلوں کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ سحاب۔۔۔۔ اس جنس کا واحد سحابہ ہے جو بادل کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ ثقال سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ یہ بادل اللہ کے پیدا کردہ ناموس فطرت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں اور موسلا دھار بارشیں برساتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ قانون قدرت اس طرح نہ وضع کرتا تو نہ بادل ہوتے اور نہ یوں بارشیں ہوتیں۔ یہ کہہ کر کہ بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور بارشیں کس طرح برستی ہیں ، ان کی علمی اور سائنسی کیفیت معلوم ہونے سے ان کی خوبصورتی اور سحر آفرینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ نہ اس سے اس مفہوم میں فرق پڑتا ہے جو قرآن کریم نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام کام اور عمل صرف اللہ کے پیدا کردہ تکوینی نظام کے مطابق ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کی صنعت کاری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ انسانوں کا اس پورے نظام میں کوئی دخل و عمل ہے۔ یہ تکوینی اور طبیعی قواعد جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے نہ خود کائنات نے پیدا کئے ہیں اور نہ خود بخود چل پڑے ہیں ، اس میں جو کچھ بھی چل رہا ہے ایک خالق مطلق کی وجہ سے چل رہا ہے۔ رعد ، باد ، باران کے مناظر میں ایک خاص منظر ہوتا ہے ۔ یہ طویل اور کڑاکے کی آواز۔ یہ بھی اس کرۂ ارض کے قوانین قدرت کا ایک مظاہرہ ہے اور اللہ کی صنعت کاری ہے۔ اس کا سائنسی تجزیہ جو بھی ہو ، اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ یہ اللہ کی تخلیق کا ایک حصہ ہے۔ یہ حمد و تسبیح اس معنی میں کرتا ہے کہ یہ اس قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے جس کے مطابق اللہ نے یہ نظام بنایا ہے ، جیسا کہ ہر خوبصورت بنائی ہوئی چیز کو دیکھ کر بنانے والی کی حمد و ثنا بےساختہ ہوتی رہتی ہے اور اس کی مصنوعہ چیز کے آثار اور جمال اور افادیت کو دیکھ کر ہر کوئی تعریف کرتا ہے۔ اسی طرح اس کائنات کے اندر پائے جانے والے کمالات اور حیرت انگیز افادیت کی چیزوں کو دیکھنے سے بےساختہ اللہ کی تسبیح زبان پر آجاتی ہے۔ تسبیح کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے اور رعد تو خود ہی پکار رہی ہے ۔ بہرحال ہم ان چیزوں کی تسبیح کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے اور نہ سمجھتے ہوئے بھی ہم ان حقائق پر ایمان لاتے ہیں ۔ خود اپنے بارے میں بھی ابھی تک ہم کم ہی جانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہم یہ بھی معلوم کرلیں کہ یہ چیزیں کیسے تسبیح کرتی ہیں۔ یہاں قرآن کریم نے رعد کے بارے میں ایسا انداز بیان اختیار کیا ہے کہ گویا رعد ایک زندہ مخلوق ہے اور وہ تسبیح کر رہی ہے ، قرآن کریم کا یہ مخصوص انداز ہے کہ وہ مناظر قدرت کو آثار زندگی سے مزین کردیتا ہے حالانکہ یہ مناظر قدرت خاموش ہوتے ہیں اور یہ اس لیے کہ اس پورے منظر میں تمام دوسرے مناظر زندہ ہیں جیسا کہ میں نے اپنی کتاب التصویر الغنی فی القرآن میں تفصیلات دی ہیں۔ اس منظر میں چونکہ زندہ چیزوں کے مناظر ہیں مثلاً تسبیح کر رہے ہیں۔ اللہ کو پکارنا ، شرکاء کو پکارنا اور یہ منظر کہ ایک آدمی پانی کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے کہ وہ خود بخود منہ میں پڑجائے جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ہے ، تو ایسے مناظر جن میں ایک طرف پکار ، بندگی اور حرکت ہے ، رعد کو بھی زندہ تصور کر کے تسبیح اور دعاء کی نسبت اس کی طرف کردی گئی۔ اب اس منظر کو ذرا مزید خوفناک بنایا جاتا ہے ، خوف ، دعاء ، برق اور رعد اور بھاری بادل اور یا دو باراں کے ساتھ اب بجلیاں بھی گرتی دکھائی دیتی ہیں ، اور کسی بےچارے پر برق گرتی ہے۔ یہ بجلی جس طرح گرتی ہے وہ اس کائنات کے قدرتی نظام کا حصہ ہے۔ بعض اوقات یہ برق ایسے شخص پر گر جاتی ہے جسے اللہ مزید مہلت دینا نہیں چاہتا کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اب مہلت دینا مناسب نہیں لہٰذا بعض لوگ اس برق کے ذریعے ہلاک کر دئیے جاتے ہیں۔ اور تعجب انگیز بات یہ ہے کہ رعد و برق اور طوفان بادوباراں کی اس فضا میں ، اور رعد اور برق کی جانب سے تسبیح اور ملائکہ کی جانب سے حالت خوف میں اظہار اطاعت ، اور اللہ کے ان غضبناک مظاہر قدرت کے عروج کی حالت میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو ذات باری کے متعلق شبہات کا اظہار کرتے ہیں ، اللہ کے بارے میں مجادلے اور مباحثے کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کی قدرت کے مظاہر بلکہ خوفناک مظاہر وہ خود بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ وھم یجادلون۔۔۔۔۔۔ المحال (13 : 13) ” یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ اس کی چال بڑی زبردست ہے “۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جو ذات باری میں کلام کرتے ہیں لیکن اس ہولناک فضا ، گریہ وزاری اور رعد اور برق ، چیخ اور دھاڑ اور اس ہنگامہ خیز فضا میں جس کی تمام چیزیں وجود باری پر دلالت کرتی ہیں ایسے چند لوگوں کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ کیونکہ اس کائنات کے تمام قابل ذکر مناظر اللہ کی وحدانیت ، اللہ کی تسبیح و تہلیل پر دلیل ناطق ہیں ، پھر فرشتوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو ہر وقت اللہ کے خوف کے مارے کانپتے رہتے ہیں ، لہٰذا ان مناظر کی موجودگی ، اور ان فرشتوں کے خوف اور تمام انسانوں کے خوف کی اس فضا میں اللہ کے بارے میں کلام کرنے والوں کی بات شا ذو نادر ہے اور بےمحل ہے۔ یہ لوگ اللہ کے بارے میں کلام کرتے ہیں ، مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں حالانکہ حقیقت پکارے گا ، لاحاصل پکارتا رہے گا۔ لہ دعوۃ الحق والذین ۔۔۔۔۔۔ فی ضلل (13 : 14) ” اسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ انہیں پکارنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا ، حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بےہدف ! “ یہ منظر بھی بولتا منظر ہے ، متحرک اور پر معنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک پکار حق ، اور وہی اس بات کی مستحق ہے اور حقیقت پسندانہ ہے اور اس کے سوا جو پکاریں بھی ہیں وہ باطل ، بےفائدہ اور گمراہانہ ہیں۔ کیا تم ذرا غور نہیں کرتے کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں ان میں سے ایک شخص کی مثال ایسی ہے کہ وہ پیاسا ہے اور پیاس کی وجہ سے نڈھال ہو رہا ہے ، اس نے بازو پھیلا رکھے ہیں ، ہاتھ کھول رکھے ہیں ، منہ کھلا ہے اور مسلسل پکار رہا ہے کسی کو ، اپنے سامنے موجود پانی کو ، اے پانی میرے منہ میں آکر پڑجا۔ حالانکہ وہ پڑنے والا نہیں ہے۔ یہ شخص اس پکار اور جدو جہد میں تھک کر چور ہوجاتا ہے اور اس کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا۔ وما ھو۔۔۔۔۔۔ فی ضلل (13 : 14) حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرے بےہدف ! “ یہ مثال اس فضا میں دی گئی ہے کہ ایک پیاس سے نڈھال آدمی ایک قطرۂ آب بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ ایسی فضا میں جس میں ہر طرف برق اور باد و باراں کا طوفان ہے اور یہ تمام خوفناک مناظر اللہ کے قانون قدرت کے مطابق متحرک ہیں۔ جس وقت یہ ناکام اور غلط کار لوگ اللہ کے سوا دوسرے الہوں کو پکارتے ہیں ، غیر اللہ سے امید رکھتے ہیں اور غیر اللہ کے سامنے دست بدعاء ہوتے ہیں ، یہ پوری کائنات اور اس کی ہر چیز اللہ کے سامنے سر بسجود ہوتی ہے ، یہ سب لوگ اور یہ سب مخلوق اللہ کے حکم کے تابع ہے اور اللہ کے قانون قدرت میں جکڑی ہوئی ہے۔ اللہ کی سنت کے مطابق چل رہی ہے۔ اس مخلوق میں سے جو مومن ہے وہ خوشی اور مرضی سے اطاعت کرتا ہے اور جو کافر ہیں وہ بھی کرھا اطاعت کرتے ہیں کیونکہ کوئی چیز ارادۂ الٰہی سے نہیں نکل سکتی اور نہ کوئی چیز ناموس الٰہیہ سے نکلتی ہے۔ وللہ یسجد من۔۔۔۔ الاصال (15) السجدہ ” وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً وکرھاً سجدہ کر رہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح وشام اس کے آگے جھکتے ہیں “۔ کیونکہ یہ فضا ہی عبادت اور بندگی اور پکار کی فضا ہے۔ سیاق کلام میں قرآن اللہ کے احکام بجا لانے کو لفظ عبادت سے تعبیر کرتا ہے کیونکہ سجدے میں انسان غایت درجہ خضوع اور اطاعت اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آسمانوں اور زمین کی مخلوق کا ذکر بھی کردیا جاتا ہے۔ اور اس کائنات کی تمام چیزوں کے سائے کو بھی اللہ کا مطیع کہا گیا کہ ان چیزوں کے سائے بھی اللہ کے سامنے جھکتے ہیں۔ گویا وہ اللہ کی عبادت اور بندگی کرتے ہیں کیونکہ یہ اطاعت الٰہیہ سے سرموانحراف نہیں کرسکتے اور وہ قانون قدرت کے یوں تابع ہیں جس طرح وہ شخص تبابع ہوتا ہے جو اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ یہ تمثیل بھی ہے اور حقیقت بھی ، کیونکہ سایہ سورج کی کرنوں کے تابع ہوتا ہے۔ اس تمثیل کا اس منظر کی فضا پر بھی اثر پڑتا ہے گو سجدے بھی دو قسم کے ہیں۔ افراد کے سجدے اور سایوں کے سجدے۔ اور یہ پوری کائنات بھی اللہ کے تابع فرمان ہے۔ چاہے راہ ایمان سے تابع ہو یا غیر ایمان یعنی قانون قدرت کے ذریعے۔ سب کی سب کائنات بہرحال سر بسجود ہے۔ اور یہ بدبخت مشرک ایسے ہیں جو ان حالات میں بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔ اس عجیب و غریب منظر اور اس پر تاثیر فضا میں اب ان سے پوچھا جاتا ہے ، ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کا جواب ہاں کے سوا کچھ نہیں اور یوں ان کو اضحو کہ بنایا جاتا ہے۔ قل من رب السموت۔۔۔۔۔۔ الواحد القھار (13 : 16) ” ان سے پوچھو ، آسمان و زمین کا رب کون ہے ؟۔۔۔ کہو ، اللہ۔ پھر ان سے کہو کہ حقیقت یہ ہے کہ تو کیا تم نے اسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھہرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ؟ کہو ، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے ؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں ؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اس کی وجہ سے ان پر تخلیق کا معالہ مشتبہ ہوگیا ؟ ۔۔۔۔ کہو ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے ، سب پر غالب ! “ ان سے پوچھو اور حال یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے اللہ کے ارادے اور اللہ کی قدرت سے ماخوذ ہے۔ اللہ کی قدرت میں بندھا ہوا ہے خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو۔ یہ بوجھ کہ کون ہے رب السموات والارض ؟ یہ سوال اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ کوئی جواب دیں اس کا جواب تو سیاق کلام میں آگیا ہے۔ یہ سب اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زبان سے اقرار کرلیں۔ جواب تو یہی ہے کہ ” اللہ “ ہے۔ پھر دوسرا سوال یہ کہ تم جن کو پکارتے ہو کیا وہ اپنے نفع ونقصان کے بھی مالک ہیں۔ یہ سوال بھی محض ان کی گوشمالی اور ان کو ذلیل کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ تم سوال کرتے جاؤ، جبکہ یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حق و باطل میں امتیاز ہوچکا ہے۔ اس قدر امتیاز ہوچکا ہے کہ جس طرح اندھے اور صاحب بصارت میں فرق ہے یا جس طرح روشنی اور تاریکی میں فرق ہے۔ اعمی اور بصیر میں اشارہ اس طرف ہے کہ ایک مومن بصیر ہوتا ہے اور ایک کافر اندھا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اندھا پن ہی انسان کو سچائی کے دیکھنے سے روکتا ہے حالانکہ یہ سچائی ظاہر و باطن ہے۔ اور اس کے آثار زمین و آسمان میں محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ ظلمات اور نور کے تذکرے سے بھی منکرین کے حالات اور مومنین کے حالات کی طرف اشارہ ہے۔ اندھیرا دیکھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور ان کی حالت بھی یہ ہے کہ ان کے اور سچائی کے درمیان پردے حائل ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ہستیاں جن کو یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں انہوں نے کوئی مخلوق پیدا کی ہے جس طرح مخلوقات اللہ تعالیٰ نے پیدا کی۔ اس طرح ان کو یہ شبہ پیدا ہوگیا کہ شاید یہ بھی خالقیت میں شریک ہیں یا ان کو شبہ ہوگیا کہ کون سی مخلوق اللہ کی ہے اور کون سی مخلوق ان ہستیوں کی ہے۔ یوں وہ بےچارے معذور ہیں اور یوں اس غلطی کا ارتکاب ممکن ہے کہ انہوں نے اللہ کی ذات وصفات میں ان دوسروں کو شریک کرلیا۔ کیونکہ اس ضرورت میں یہ ہستیاں صفت خالقیت میں شریک تھیں لیکن اگر کسی اور کی کوئی مخلوق ہی نہیں ہے تو پھر شرکت چہ معنی وارد۔ یہ اس قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ جو دعویٰ تو یہ کرتی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک خالق ہے اور پھر دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہراتی ہے۔ حالانکہ یہ ٹھہراتے ہوئے شریک خودان کے قول کے مطابق بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو الٰہ بھی مانتے ہیں ، ان کی بندگی بھی کرتے ہیں ، لہٰذا فکرو نظر و عقل و بصیرت کا یہ نہایت ہی گھٹیا نمونہ ہے۔ اور اس حقارت آمیز مذاق کے بعد یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے جس میں کوئی کلام اور مجادلہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قل اللہ۔۔۔۔۔ القھار (13 : 16) ” کہو ، ہر چیز کا خالق اللہ ہے ، وہ یکتا اور سب پر غالب ہے “۔ یعنی تخلیق میں بھی وہ واحد اور یکتا ہے۔ غلبے اور زبردستی میں بھی وہی یکتا ہے۔ قہار کے معنی ہیں انتہائی درجے کا غالب حکمران۔ عقیدۂ توحید اور رد شرک کو یہاں یوں احاطہ کیا جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں ، خواہ کوئی چیز خوشی سے سجدہ کرے (انسان) یا مجبوری سے اور اس سبق کے آخر میں اللہ کی قہاریت کا ذکر کر کے مسئلہ توحید کو یوں بیان کیا گیا کہ اللہ ایسا حکمران ہے جو غایت درجہ غالب اور گرفت والا ہے۔ زمین و آسمان کی سب چیزیں اس کی مطیع فرمان ہیں جیسا کہ رعد و برق اور کڑک سب کی سب اللہ کی تسبیح کرنے میں ہیں۔ ایسے حالات میں کوئی اندھا یا پتھر دل انسان ہی ہو سکتا ہے جو اللہ کا خوف نہ محسوس کرے اور ایسے شخص کی قسمت میں ہلاکت اور بربادی ہی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس سبق پر بات ختم کریں ضروری ہے کہ طرز ادا کے حوالے سے ہم بعض متقابل امور پر غور کریں۔ مثلاً گرج و چمک اور بھاری بادلوں کے اندر خوف اور امید کا ذکر ہے ، جو متقابل ہیں۔ سحاب کے ساتھ ثقال کا ذکر ہے اور ثقل کی وجہ سے وہ دھیمی رفتار سے چلتے ہیں جبکہ چمک اور برق نہایت ہی تیز رفتار ہوتی ہے۔ یہ دونوں مفہوم بھی باہم متقابل اور متضاد ہیں۔ رعد کی تسبیح اللہ کی حمد کے ساتھ ہے اور ملائکہ کی تسبیح خوف کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں بھی باہم متقابل مفہوم ہیں۔ دعوت حق اور دعوت باطل دونوں متقابل مقاصد ہیں۔ زمین و آسمان بھی باہم متقابل ہیں ، سجدۂ رضا و مجبوری ، طوعاً و کرھاً بھی باہم متقابل مفہوم ہیں۔ افراد اور ان کے سائے ، صبح وشام ، اعمی وبصیر ، ظلمات اور نور ، خالق حقیقی اور شرکائے عاجزین ، جو نفع ونقصان کا مالک ہے اور ان کے شرکاء کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اس طرح اس پورے سبق میں باہم متضاد اور متقابل امور کا ذکر کر کے حق و باطل کو سمجھایا گیا ہے۔ اور یہ نہایت ہی خوبصورت طرز ادا ہے اور ہے بھی عجیب و غریب ہم آہنگی کے ساتھ۔ اب ہم ذرا مزید آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ حق و باطل کی ایک اور مثال بیان فرماتے ہیں۔ ایک دعوت حق ہے جو ہمیشہ زمین پر باقی رہتی ہے اور ایک دعوت باطل ہے جو ادھر چلتی ہے جدھر ہوا کا رخ ہو۔ ایک بھلائی ہے جو پروقار اور جمی رہتی ہے۔ ایک شر اور برائی ہے جو پھلتی پھولتی نظر آتی ہے۔ یہاں جو مثال دی جا رہی ہے وہ اللہ واحد اور قہار کی قوت کیا ہے۔ یہ مثال بھی انہی مناظر قدرت کی ہم جنس ہے جو اس سبق کا موضوع خاص ہیں۔

الرعد 13:14

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔ آیت 12 تا 16 چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن مجید ان کو پیش کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ ملائکہ ، تسبیح ، سجود ، خوف ، طمع اور ان مشاہد کے سائے کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ سچی پکار کیا ہے اور باطل اور ناحق پکار کیا ہے۔ ان مناظر میں ایک دوسرے شخص کی شکل یوں پیش کی جاتی ہے جو پانی پینا چاہتا ہے لیکن اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا ، بلکہ ہاتھ کھول کر اور منہ کھولے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ پانی خودبخود اس کے منہ میں پڑجائے ، جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ، ایک قطرہ بھی۔ یہ تمام مناظر ، مثالیں اور اشیاء اس آیت میں محض اتفاقاً اور بےمقصد جمع نہیں کردی گئی ، ان سب چیزوں کا دراصل مدعا سے تعلق ہے۔ بلکہ یہ مناظر انسان کو ڈرانے ، امید ،۔۔۔ پیہم اور طمع اور خوف اور نفع و نقصان کی امید دلانے اور اللہ کے ساتھ انسانوں نے جو دوسرے شریک ٹھہرا رکھے ان کی قوت کی نفی کے لئے لائے گئے ہیں۔ ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ وطمعا (13 : 12) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں “۔ اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں یہ تکوینی مظاہر دکھاتا ہے۔ یہ اس کائنات کے طبیعی اور موسمی مظاہر ہیں جسے اس نے پیدا کیا ہے اور اس خاص انداز پر اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور یہ خواص ان اشیاء کے اندر پیدا کئے ہیں۔ وہ بجلی جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، یہ اس کے قانون قدرت کے مطابق کام کرتی ہے۔ تم اس سے ڈر بھی جاتے ہو کیونکہ اس کی ماہیت ہی ایسی ہے جو اعصاب کو ہلا مارتے ہے۔ کبھی کبھی یہ بجلی برق بن کر بھی گرتی ہے اور خوفناک شکل میں تباہی بھی مچاتی ہے۔ جیسا کہ بارہا تم کو ۔۔۔ بھی ہوا ہوگا۔ تم اس چمک اور بجلی کے بعد باراں رحمت کے امیدوار بھی ہوتے ہو ، کیونکہ اس چمک اور گرج کے بعد بعض اوقات موسلا دھار بارش ہوتی اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ وینشیء السحاب الثقال (13 : 12) ” وہی ہے جو بارش سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے “۔ بادلوں کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ سحاب۔۔۔۔ اس جنس کا واحد سحابہ ہے جو بادل کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ ثقال سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ یہ بادل اللہ کے پیدا کردہ ناموس فطرت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں اور موسلا دھار بارشیں برساتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ قانون قدرت اس طرح نہ وضع کرتا تو نہ بادل ہوتے اور نہ یوں بارشیں ہوتیں۔ یہ کہہ کر کہ بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور بارشیں کس طرح برستی ہیں ، ان کی علمی اور سائنسی کیفیت معلوم ہونے سے ان کی خوبصورتی اور سحر آفرینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ نہ اس سے اس مفہوم میں فرق پڑتا ہے جو قرآن کریم نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام کام اور عمل صرف اللہ کے پیدا کردہ تکوینی نظام کے مطابق ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کی صنعت کاری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ انسانوں کا اس پورے نظام میں کوئی دخل و عمل ہے۔ یہ تکوینی اور طبیعی قواعد جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے نہ خود کائنات نے پیدا کئے ہیں اور نہ خود بخود چل پڑے ہیں ، اس میں جو کچھ بھی چل رہا ہے ایک خالق مطلق کی وجہ سے چل رہا ہے۔ رعد ، باد ، باران کے مناظر میں ایک خاص منظر ہوتا ہے ۔ یہ طویل اور کڑاکے کی آواز۔ یہ بھی اس کرۂ ارض کے قوانین قدرت کا ایک مظاہرہ ہے اور اللہ کی صنعت کاری ہے۔ اس کا سائنسی تجزیہ جو بھی ہو ، اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ یہ اللہ کی تخلیق کا ایک حصہ ہے۔ یہ حمد و تسبیح اس معنی میں کرتا ہے کہ یہ اس قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے جس کے مطابق اللہ نے یہ نظام بنایا ہے ، جیسا کہ ہر خوبصورت بنائی ہوئی چیز کو دیکھ کر بنانے والی کی حمد و ثنا بےساختہ ہوتی رہتی ہے اور اس کی مصنوعہ چیز کے آثار اور جمال اور افادیت کو دیکھ کر ہر کوئی تعریف کرتا ہے۔ اسی طرح اس کائنات کے اندر پائے جانے والے کمالات اور حیرت انگیز افادیت کی چیزوں کو دیکھنے سے بےساختہ اللہ کی تسبیح زبان پر آجاتی ہے۔ تسبیح کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے اور رعد تو خود ہی پکار رہی ہے ۔ بہرحال ہم ان چیزوں کی تسبیح کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے اور نہ سمجھتے ہوئے بھی ہم ان حقائق پر ایمان لاتے ہیں ۔ خود اپنے بارے میں بھی ابھی تک ہم کم ہی جانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہم یہ بھی معلوم کرلیں کہ یہ چیزیں کیسے تسبیح کرتی ہیں۔ یہاں قرآن کریم نے رعد کے بارے میں ایسا انداز بیان اختیار کیا ہے کہ گویا رعد ایک زندہ مخلوق ہے اور وہ تسبیح کر رہی ہے ، قرآن کریم کا یہ مخصوص انداز ہے کہ وہ مناظر قدرت کو آثار زندگی سے مزین کردیتا ہے حالانکہ یہ مناظر قدرت خاموش ہوتے ہیں اور یہ اس لیے کہ اس پورے منظر میں تمام دوسرے مناظر زندہ ہیں جیسا کہ میں نے اپنی کتاب التصویر الغنی فی القرآن میں تفصیلات دی ہیں۔ اس منظر میں چونکہ زندہ چیزوں کے مناظر ہیں مثلاً تسبیح کر رہے ہیں۔ اللہ کو پکارنا ، شرکاء کو پکارنا اور یہ منظر کہ ایک آدمی پانی کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے کہ وہ خود بخود منہ میں پڑجائے جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ہے ، تو ایسے مناظر جن میں ایک طرف پکار ، بندگی اور حرکت ہے ، رعد کو بھی زندہ تصور کر کے تسبیح اور دعاء کی نسبت اس کی طرف کردی گئی۔ اب اس منظر کو ذرا مزید خوفناک بنایا جاتا ہے ، خوف ، دعاء ، برق اور رعد اور بھاری بادل اور یا دو باراں کے ساتھ اب بجلیاں بھی گرتی دکھائی دیتی ہیں ، اور کسی بےچارے پر برق گرتی ہے۔ یہ بجلی جس طرح گرتی ہے وہ اس کائنات کے قدرتی نظام کا حصہ ہے۔ بعض اوقات یہ برق ایسے شخص پر گر جاتی ہے جسے اللہ مزید مہلت دینا نہیں چاہتا کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اب مہلت دینا مناسب نہیں لہٰذا بعض لوگ اس برق کے ذریعے ہلاک کر دئیے جاتے ہیں۔ اور تعجب انگیز بات یہ ہے کہ رعد و برق اور طوفان بادوباراں کی اس فضا میں ، اور رعد اور برق کی جانب سے تسبیح اور ملائکہ کی جانب سے حالت خوف میں اظہار اطاعت ، اور اللہ کے ان غضبناک مظاہر قدرت کے عروج کی حالت میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو ذات باری کے متعلق شبہات کا اظہار کرتے ہیں ، اللہ کے بارے میں مجادلے اور مباحثے کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کی قدرت کے مظاہر بلکہ خوفناک مظاہر وہ خود بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ وھم یجادلون۔۔۔۔۔۔ المحال (13 : 13) ” یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ اس کی چال بڑی زبردست ہے “۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جو ذات باری میں کلام کرتے ہیں لیکن اس ہولناک فضا ، گریہ وزاری اور رعد اور برق ، چیخ اور دھاڑ اور اس ہنگامہ خیز فضا میں جس کی تمام چیزیں وجود باری پر دلالت کرتی ہیں ایسے چند لوگوں کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ کیونکہ اس کائنات کے تمام قابل ذکر مناظر اللہ کی وحدانیت ، اللہ کی تسبیح و تہلیل پر دلیل ناطق ہیں ، پھر فرشتوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو ہر وقت اللہ کے خوف کے مارے کانپتے رہتے ہیں ، لہٰذا ان مناظر کی موجودگی ، اور ان فرشتوں کے خوف اور تمام انسانوں کے خوف کی اس فضا میں اللہ کے بارے میں کلام کرنے والوں کی بات شا ذو نادر ہے اور بےمحل ہے۔ یہ لوگ اللہ کے بارے میں کلام کرتے ہیں ، مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں حالانکہ حقیقت پکارے گا ، لاحاصل پکارتا رہے گا۔ لہ دعوۃ الحق والذین ۔۔۔۔۔۔ فی ضلل (13 : 14) ” اسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ انہیں پکارنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا ، حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بےہدف ! “ یہ منظر بھی بولتا منظر ہے ، متحرک اور پر معنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک پکار حق ، اور وہی اس بات کی مستحق ہے اور حقیقت پسندانہ ہے اور اس کے سوا جو پکاریں بھی ہیں وہ باطل ، بےفائدہ اور گمراہانہ ہیں۔ کیا تم ذرا غور نہیں کرتے کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں ان میں سے ایک شخص کی مثال ایسی ہے کہ وہ پیاسا ہے اور پیاس کی وجہ سے نڈھال ہو رہا ہے ، اس نے بازو پھیلا رکھے ہیں ، ہاتھ کھول رکھے ہیں ، منہ کھلا ہے اور مسلسل پکار رہا ہے کسی کو ، اپنے سامنے موجود پانی کو ، اے پانی میرے منہ میں آکر پڑجا۔ حالانکہ وہ پڑنے والا نہیں ہے۔ یہ شخص اس پکار اور جدو جہد میں تھک کر چور ہوجاتا ہے اور اس کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا۔ وما ھو۔۔۔۔۔۔ فی ضلل (13 : 14) حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرے بےہدف ! “ یہ مثال اس فضا میں دی گئی ہے کہ ایک پیاس سے نڈھال آدمی ایک قطرۂ آب بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ ایسی فضا میں جس میں ہر طرف برق اور باد و باراں کا طوفان ہے اور یہ تمام خوفناک مناظر اللہ کے قانون قدرت کے مطابق متحرک ہیں۔ جس وقت یہ ناکام اور غلط کار لوگ اللہ کے سوا دوسرے الہوں کو پکارتے ہیں ، غیر اللہ سے امید رکھتے ہیں اور غیر اللہ کے سامنے دست بدعاء ہوتے ہیں ، یہ پوری کائنات اور اس کی ہر چیز اللہ کے سامنے سر بسجود ہوتی ہے ، یہ سب لوگ اور یہ سب مخلوق اللہ کے حکم کے تابع ہے اور اللہ کے قانون قدرت میں جکڑی ہوئی ہے۔ اللہ کی سنت کے مطابق چل رہی ہے۔ اس مخلوق میں سے جو مومن ہے وہ خوشی اور مرضی سے اطاعت کرتا ہے اور جو کافر ہیں وہ بھی کرھا اطاعت کرتے ہیں کیونکہ کوئی چیز ارادۂ الٰہی سے نہیں نکل سکتی اور نہ کوئی چیز ناموس الٰہیہ سے نکلتی ہے۔ وللہ یسجد من۔۔۔۔ الاصال (15) السجدہ ” وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً وکرھاً سجدہ کر رہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح وشام اس کے آگے جھکتے ہیں “۔ کیونکہ یہ فضا ہی عبادت اور بندگی اور پکار کی فضا ہے۔ سیاق کلام میں قرآن اللہ کے احکام بجا لانے کو لفظ عبادت سے تعبیر کرتا ہے کیونکہ سجدے میں انسان غایت درجہ خضوع اور اطاعت اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آسمانوں اور زمین کی مخلوق کا ذکر بھی کردیا جاتا ہے۔ اور اس کائنات کی تمام چیزوں کے سائے کو بھی اللہ کا مطیع کہا گیا کہ ان چیزوں کے سائے بھی اللہ کے سامنے جھکتے ہیں۔ گویا وہ اللہ کی عبادت اور بندگی کرتے ہیں کیونکہ یہ اطاعت الٰہیہ سے سرموانحراف نہیں کرسکتے اور وہ قانون قدرت کے یوں تابع ہیں جس طرح وہ شخص تبابع ہوتا ہے جو اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ یہ تمثیل بھی ہے اور حقیقت بھی ، کیونکہ سایہ سورج کی کرنوں کے تابع ہوتا ہے۔ اس تمثیل کا اس منظر کی فضا پر بھی اثر پڑتا ہے گو سجدے بھی دو قسم کے ہیں۔ افراد کے سجدے اور سایوں کے سجدے۔ اور یہ پوری کائنات بھی اللہ کے تابع فرمان ہے۔ چاہے راہ ایمان سے تابع ہو یا غیر ایمان یعنی قانون قدرت کے ذریعے۔ سب کی سب کائنات بہرحال سر بسجود ہے۔ اور یہ بدبخت مشرک ایسے ہیں جو ان حالات میں بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔ اس عجیب و غریب منظر اور اس پر تاثیر فضا میں اب ان سے پوچھا جاتا ہے ، ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کا جواب ہاں کے سوا کچھ نہیں اور یوں ان کو اضحو کہ بنایا جاتا ہے۔ قل من رب السموت۔۔۔۔۔۔ الواحد القھار (13 : 16) ” ان سے پوچھو ، آسمان و زمین کا رب کون ہے ؟۔۔۔ کہو ، اللہ۔ پھر ان سے کہو کہ حقیقت یہ ہے کہ تو کیا تم نے اسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھہرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ؟ کہو ، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے ؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں ؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اس کی وجہ سے ان پر تخلیق کا معالہ مشتبہ ہوگیا ؟ ۔۔۔۔ کہو ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے ، سب پر غالب ! “ ان سے پوچھو اور حال یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے اللہ کے ارادے اور اللہ کی قدرت سے ماخوذ ہے۔ اللہ کی قدرت میں بندھا ہوا ہے خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو۔ یہ بوجھ کہ کون ہے رب السموات والارض ؟ یہ سوال اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ کوئی جواب دیں اس کا جواب تو سیاق کلام میں آگیا ہے۔ یہ سب اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زبان سے اقرار کرلیں۔ جواب تو یہی ہے کہ ” اللہ “ ہے۔ پھر دوسرا سوال یہ کہ تم جن کو پکارتے ہو کیا وہ اپنے نفع ونقصان کے بھی مالک ہیں۔ یہ سوال بھی محض ان کی گوشمالی اور ان کو ذلیل کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ تم سوال کرتے جاؤ، جبکہ یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حق و باطل میں امتیاز ہوچکا ہے۔ اس قدر امتیاز ہوچکا ہے کہ جس طرح اندھے اور صاحب بصارت میں فرق ہے یا جس طرح روشنی اور تاریکی میں فرق ہے۔ اعمی اور بصیر میں اشارہ اس طرف ہے کہ ایک مومن بصیر ہوتا ہے اور ایک کافر اندھا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اندھا پن ہی انسان کو سچائی کے دیکھنے سے روکتا ہے حالانکہ یہ سچائی ظاہر و باطن ہے۔ اور اس کے آثار زمین و آسمان میں محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ ظلمات اور نور کے تذکرے سے بھی منکرین کے حالات اور مومنین کے حالات کی طرف اشارہ ہے۔ اندھیرا دیکھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور ان کی حالت بھی یہ ہے کہ ان کے اور سچائی کے درمیان پردے حائل ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ہستیاں جن کو یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں انہوں نے کوئی مخلوق پیدا کی ہے جس طرح مخلوقات اللہ تعالیٰ نے پیدا کی۔ اس طرح ان کو یہ شبہ پیدا ہوگیا کہ شاید یہ بھی خالقیت میں شریک ہیں یا ان کو شبہ ہوگیا کہ کون سی مخلوق اللہ کی ہے اور کون سی مخلوق ان ہستیوں کی ہے۔ یوں وہ بےچارے معذور ہیں اور یوں اس غلطی کا ارتکاب ممکن ہے کہ انہوں نے اللہ کی ذات وصفات میں ان دوسروں کو شریک کرلیا۔ کیونکہ اس ضرورت میں یہ ہستیاں صفت خالقیت میں شریک تھیں لیکن اگر کسی اور کی کوئی مخلوق ہی نہیں ہے تو پھر شرکت چہ معنی وارد۔ یہ اس قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ جو دعویٰ تو یہ کرتی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک خالق ہے اور پھر دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہراتی ہے۔ حالانکہ یہ ٹھہراتے ہوئے شریک خودان کے قول کے مطابق بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو الٰہ بھی مانتے ہیں ، ان کی بندگی بھی کرتے ہیں ، لہٰذا فکرو نظر و عقل و بصیرت کا یہ نہایت ہی گھٹیا نمونہ ہے۔ اور اس حقارت آمیز مذاق کے بعد یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے جس میں کوئی کلام اور مجادلہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قل اللہ۔۔۔۔۔ القھار (13 : 16) ” کہو ، ہر چیز کا خالق اللہ ہے ، وہ یکتا اور سب پر غالب ہے “۔ یعنی تخلیق میں بھی وہ واحد اور یکتا ہے۔ غلبے اور زبردستی میں بھی وہی یکتا ہے۔ قہار کے معنی ہیں انتہائی درجے کا غالب حکمران۔ عقیدۂ توحید اور رد شرک کو یہاں یوں احاطہ کیا جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں ، خواہ کوئی چیز خوشی سے سجدہ کرے (انسان) یا مجبوری سے اور اس سبق کے آخر میں اللہ کی قہاریت کا ذکر کر کے مسئلہ توحید کو یوں بیان کیا گیا کہ اللہ ایسا حکمران ہے جو غایت درجہ غالب اور گرفت والا ہے۔ زمین و آسمان کی سب چیزیں اس کی مطیع فرمان ہیں جیسا کہ رعد و برق اور کڑک سب کی سب اللہ کی تسبیح کرنے میں ہیں۔ ایسے حالات میں کوئی اندھا یا پتھر دل انسان ہی ہو سکتا ہے جو اللہ کا خوف نہ محسوس کرے اور ایسے شخص کی قسمت میں ہلاکت اور بربادی ہی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس سبق پر بات ختم کریں ضروری ہے کہ طرز ادا کے حوالے سے ہم بعض متقابل امور پر غور کریں۔ مثلاً گرج و چمک اور بھاری بادلوں کے اندر خوف اور امید کا ذکر ہے ، جو متقابل ہیں۔ سحاب کے ساتھ ثقال کا ذکر ہے اور ثقل کی وجہ سے وہ دھیمی رفتار سے چلتے ہیں جبکہ چمک اور برق نہایت ہی تیز رفتار ہوتی ہے۔ یہ دونوں مفہوم بھی باہم متقابل اور متضاد ہیں۔ رعد کی تسبیح اللہ کی حمد کے ساتھ ہے اور ملائکہ کی تسبیح خوف کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں بھی باہم متقابل مفہوم ہیں۔ دعوت حق اور دعوت باطل دونوں متقابل مقاصد ہیں۔ زمین و آسمان بھی باہم متقابل ہیں ، سجدۂ رضا و مجبوری ، طوعاً و کرھاً بھی باہم متقابل مفہوم ہیں۔ افراد اور ان کے سائے ، صبح وشام ، اعمی وبصیر ، ظلمات اور نور ، خالق حقیقی اور شرکائے عاجزین ، جو نفع ونقصان کا مالک ہے اور ان کے شرکاء کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اس طرح اس پورے سبق میں باہم متضاد اور متقابل امور کا ذکر کر کے حق و باطل کو سمجھایا گیا ہے۔ اور یہ نہایت ہی خوبصورت طرز ادا ہے اور ہے بھی عجیب و غریب ہم آہنگی کے ساتھ۔ اب ہم ذرا مزید آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ حق و باطل کی ایک اور مثال بیان فرماتے ہیں۔ ایک دعوت حق ہے جو ہمیشہ زمین پر باقی رہتی ہے اور ایک دعوت باطل ہے جو ادھر چلتی ہے جدھر ہوا کا رخ ہو۔ ایک بھلائی ہے جو پروقار اور جمی رہتی ہے۔ ایک شر اور برائی ہے جو پھلتی پھولتی نظر آتی ہے۔ یہاں جو مثال دی جا رہی ہے وہ اللہ واحد اور قہار کی قوت کیا ہے۔ یہ مثال بھی انہی مناظر قدرت کی ہم جنس ہے جو اس سبق کا موضوع خاص ہیں۔

الرعد 13:15

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔ آیت 12 تا 16 چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن مجید ان کو پیش کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ ملائکہ ، تسبیح ، سجود ، خوف ، طمع اور ان مشاہد کے سائے کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ سچی پکار کیا ہے اور باطل اور ناحق پکار کیا ہے۔ ان مناظر میں ایک دوسرے شخص کی شکل یوں پیش کی جاتی ہے جو پانی پینا چاہتا ہے لیکن اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا ، بلکہ ہاتھ کھول کر اور منہ کھولے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ پانی خودبخود اس کے منہ میں پڑجائے ، جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ، ایک قطرہ بھی۔ یہ تمام مناظر ، مثالیں اور اشیاء اس آیت میں محض اتفاقاً اور بےمقصد جمع نہیں کردی گئی ، ان سب چیزوں کا دراصل مدعا سے تعلق ہے۔ بلکہ یہ مناظر انسان کو ڈرانے ، امید ،۔۔۔ پیہم اور طمع اور خوف اور نفع و نقصان کی امید دلانے اور اللہ کے ساتھ انسانوں نے جو دوسرے شریک ٹھہرا رکھے ان کی قوت کی نفی کے لئے لائے گئے ہیں۔ ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ وطمعا (13 : 12) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں “۔ اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں یہ تکوینی مظاہر دکھاتا ہے۔ یہ اس کائنات کے طبیعی اور موسمی مظاہر ہیں جسے اس نے پیدا کیا ہے اور اس خاص انداز پر اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور یہ خواص ان اشیاء کے اندر پیدا کئے ہیں۔ وہ بجلی جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، یہ اس کے قانون قدرت کے مطابق کام کرتی ہے۔ تم اس سے ڈر بھی جاتے ہو کیونکہ اس کی ماہیت ہی ایسی ہے جو اعصاب کو ہلا مارتے ہے۔ کبھی کبھی یہ بجلی برق بن کر بھی گرتی ہے اور خوفناک شکل میں تباہی بھی مچاتی ہے۔ جیسا کہ بارہا تم کو ۔۔۔ بھی ہوا ہوگا۔ تم اس چمک اور بجلی کے بعد باراں رحمت کے امیدوار بھی ہوتے ہو ، کیونکہ اس چمک اور گرج کے بعد بعض اوقات موسلا دھار بارش ہوتی اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ وینشیء السحاب الثقال (13 : 12) ” وہی ہے جو بارش سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے “۔ بادلوں کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ سحاب۔۔۔۔ اس جنس کا واحد سحابہ ہے جو بادل کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ ثقال سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ یہ بادل اللہ کے پیدا کردہ ناموس فطرت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں اور موسلا دھار بارشیں برساتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ قانون قدرت اس طرح نہ وضع کرتا تو نہ بادل ہوتے اور نہ یوں بارشیں ہوتیں۔ یہ کہہ کر کہ بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور بارشیں کس طرح برستی ہیں ، ان کی علمی اور سائنسی کیفیت معلوم ہونے سے ان کی خوبصورتی اور سحر آفرینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ نہ اس سے اس مفہوم میں فرق پڑتا ہے جو قرآن کریم نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام کام اور عمل صرف اللہ کے پیدا کردہ تکوینی نظام کے مطابق ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کی صنعت کاری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ انسانوں کا اس پورے نظام میں کوئی دخل و عمل ہے۔ یہ تکوینی اور طبیعی قواعد جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے نہ خود کائنات نے پیدا کئے ہیں اور نہ خود بخود چل پڑے ہیں ، اس میں جو کچھ بھی چل رہا ہے ایک خالق مطلق کی وجہ سے چل رہا ہے۔ رعد ، باد ، باران کے مناظر میں ایک خاص منظر ہوتا ہے ۔ یہ طویل اور کڑاکے کی آواز۔ یہ بھی اس کرۂ ارض کے قوانین قدرت کا ایک مظاہرہ ہے اور اللہ کی صنعت کاری ہے۔ اس کا سائنسی تجزیہ جو بھی ہو ، اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ یہ اللہ کی تخلیق کا ایک حصہ ہے۔ یہ حمد و تسبیح اس معنی میں کرتا ہے کہ یہ اس قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے جس کے مطابق اللہ نے یہ نظام بنایا ہے ، جیسا کہ ہر خوبصورت بنائی ہوئی چیز کو دیکھ کر بنانے والی کی حمد و ثنا بےساختہ ہوتی رہتی ہے اور اس کی مصنوعہ چیز کے آثار اور جمال اور افادیت کو دیکھ کر ہر کوئی تعریف کرتا ہے۔ اسی طرح اس کائنات کے اندر پائے جانے والے کمالات اور حیرت انگیز افادیت کی چیزوں کو دیکھنے سے بےساختہ اللہ کی تسبیح زبان پر آجاتی ہے۔ تسبیح کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے اور رعد تو خود ہی پکار رہی ہے ۔ بہرحال ہم ان چیزوں کی تسبیح کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے اور نہ سمجھتے ہوئے بھی ہم ان حقائق پر ایمان لاتے ہیں ۔ خود اپنے بارے میں بھی ابھی تک ہم کم ہی جانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہم یہ بھی معلوم کرلیں کہ یہ چیزیں کیسے تسبیح کرتی ہیں۔ یہاں قرآن کریم نے رعد کے بارے میں ایسا انداز بیان اختیار کیا ہے کہ گویا رعد ایک زندہ مخلوق ہے اور وہ تسبیح کر رہی ہے ، قرآن کریم کا یہ مخصوص انداز ہے کہ وہ مناظر قدرت کو آثار زندگی سے مزین کردیتا ہے حالانکہ یہ مناظر قدرت خاموش ہوتے ہیں اور یہ اس لیے کہ اس پورے منظر میں تمام دوسرے مناظر زندہ ہیں جیسا کہ میں نے اپنی کتاب التصویر الغنی فی القرآن میں تفصیلات دی ہیں۔ اس منظر میں چونکہ زندہ چیزوں کے مناظر ہیں مثلاً تسبیح کر رہے ہیں۔ اللہ کو پکارنا ، شرکاء کو پکارنا اور یہ منظر کہ ایک آدمی پانی کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے کہ وہ خود بخود منہ میں پڑجائے جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ہے ، تو ایسے مناظر جن میں ایک طرف پکار ، بندگی اور حرکت ہے ، رعد کو بھی زندہ تصور کر کے تسبیح اور دعاء کی نسبت اس کی طرف کردی گئی۔ اب اس منظر کو ذرا مزید خوفناک بنایا جاتا ہے ، خوف ، دعاء ، برق اور رعد اور بھاری بادل اور یا دو باراں کے ساتھ اب بجلیاں بھی گرتی دکھائی دیتی ہیں ، اور کسی بےچارے پر برق گرتی ہے۔ یہ بجلی جس طرح گرتی ہے وہ اس کائنات کے قدرتی نظام کا حصہ ہے۔ بعض اوقات یہ برق ایسے شخص پر گر جاتی ہے جسے اللہ مزید مہلت دینا نہیں چاہتا کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اب مہلت دینا مناسب نہیں لہٰذا بعض لوگ اس برق کے ذریعے ہلاک کر دئیے جاتے ہیں۔ اور تعجب انگیز بات یہ ہے کہ رعد و برق اور طوفان بادوباراں کی اس فضا میں ، اور رعد اور برق کی جانب سے تسبیح اور ملائکہ کی جانب سے حالت خوف میں اظہار اطاعت ، اور اللہ کے ان غضبناک مظاہر قدرت کے عروج کی حالت میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو ذات باری کے متعلق شبہات کا اظہار کرتے ہیں ، اللہ کے بارے میں مجادلے اور مباحثے کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کی قدرت کے مظاہر بلکہ خوفناک مظاہر وہ خود بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ وھم یجادلون۔۔۔۔۔۔ المحال (13 : 13) ” یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ اس کی چال بڑی زبردست ہے “۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جو ذات باری میں کلام کرتے ہیں لیکن اس ہولناک فضا ، گریہ وزاری اور رعد اور برق ، چیخ اور دھاڑ اور اس ہنگامہ خیز فضا میں جس کی تمام چیزیں وجود باری پر دلالت کرتی ہیں ایسے چند لوگوں کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ کیونکہ اس کائنات کے تمام قابل ذکر مناظر اللہ کی وحدانیت ، اللہ کی تسبیح و تہلیل پر دلیل ناطق ہیں ، پھر فرشتوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو ہر وقت اللہ کے خوف کے مارے کانپتے رہتے ہیں ، لہٰذا ان مناظر کی موجودگی ، اور ان فرشتوں کے خوف اور تمام انسانوں کے خوف کی اس فضا میں اللہ کے بارے میں کلام کرنے والوں کی بات شا ذو نادر ہے اور بےمحل ہے۔ یہ لوگ اللہ کے بارے میں کلام کرتے ہیں ، مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں حالانکہ حقیقت پکارے گا ، لاحاصل پکارتا رہے گا۔ لہ دعوۃ الحق والذین ۔۔۔۔۔۔ فی ضلل (13 : 14) ” اسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ انہیں پکارنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا ، حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بےہدف ! “ یہ منظر بھی بولتا منظر ہے ، متحرک اور پر معنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک پکار حق ، اور وہی اس بات کی مستحق ہے اور حقیقت پسندانہ ہے اور اس کے سوا جو پکاریں بھی ہیں وہ باطل ، بےفائدہ اور گمراہانہ ہیں۔ کیا تم ذرا غور نہیں کرتے کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں ان میں سے ایک شخص کی مثال ایسی ہے کہ وہ پیاسا ہے اور پیاس کی وجہ سے نڈھال ہو رہا ہے ، اس نے بازو پھیلا رکھے ہیں ، ہاتھ کھول رکھے ہیں ، منہ کھلا ہے اور مسلسل پکار رہا ہے کسی کو ، اپنے سامنے موجود پانی کو ، اے پانی میرے منہ میں آکر پڑجا۔ حالانکہ وہ پڑنے والا نہیں ہے۔ یہ شخص اس پکار اور جدو جہد میں تھک کر چور ہوجاتا ہے اور اس کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا۔ وما ھو۔۔۔۔۔۔ فی ضلل (13 : 14) حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرے بےہدف ! “ یہ مثال اس فضا میں دی گئی ہے کہ ایک پیاس سے نڈھال آدمی ایک قطرۂ آب بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ ایسی فضا میں جس میں ہر طرف برق اور باد و باراں کا طوفان ہے اور یہ تمام خوفناک مناظر اللہ کے قانون قدرت کے مطابق متحرک ہیں۔ جس وقت یہ ناکام اور غلط کار لوگ اللہ کے سوا دوسرے الہوں کو پکارتے ہیں ، غیر اللہ سے امید رکھتے ہیں اور غیر اللہ کے سامنے دست بدعاء ہوتے ہیں ، یہ پوری کائنات اور اس کی ہر چیز اللہ کے سامنے سر بسجود ہوتی ہے ، یہ سب لوگ اور یہ سب مخلوق اللہ کے حکم کے تابع ہے اور اللہ کے قانون قدرت میں جکڑی ہوئی ہے۔ اللہ کی سنت کے مطابق چل رہی ہے۔ اس مخلوق میں سے جو مومن ہے وہ خوشی اور مرضی سے اطاعت کرتا ہے اور جو کافر ہیں وہ بھی کرھا اطاعت کرتے ہیں کیونکہ کوئی چیز ارادۂ الٰہی سے نہیں نکل سکتی اور نہ کوئی چیز ناموس الٰہیہ سے نکلتی ہے۔ وللہ یسجد من۔۔۔۔ الاصال (15) السجدہ ” وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً وکرھاً سجدہ کر رہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح وشام اس کے آگے جھکتے ہیں “۔ کیونکہ یہ فضا ہی عبادت اور بندگی اور پکار کی فضا ہے۔ سیاق کلام میں قرآن اللہ کے احکام بجا لانے کو لفظ عبادت سے تعبیر کرتا ہے کیونکہ سجدے میں انسان غایت درجہ خضوع اور اطاعت اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آسمانوں اور زمین کی مخلوق کا ذکر بھی کردیا جاتا ہے۔ اور اس کائنات کی تمام چیزوں کے سائے کو بھی اللہ کا مطیع کہا گیا کہ ان چیزوں کے سائے بھی اللہ کے سامنے جھکتے ہیں۔ گویا وہ اللہ کی عبادت اور بندگی کرتے ہیں کیونکہ یہ اطاعت الٰہیہ سے سرموانحراف نہیں کرسکتے اور وہ قانون قدرت کے یوں تابع ہیں جس طرح وہ شخص تبابع ہوتا ہے جو اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ یہ تمثیل بھی ہے اور حقیقت بھی ، کیونکہ سایہ سورج کی کرنوں کے تابع ہوتا ہے۔ اس تمثیل کا اس منظر کی فضا پر بھی اثر پڑتا ہے گو سجدے بھی دو قسم کے ہیں۔ افراد کے سجدے اور سایوں کے سجدے۔ اور یہ پوری کائنات بھی اللہ کے تابع فرمان ہے۔ چاہے راہ ایمان سے تابع ہو یا غیر ایمان یعنی قانون قدرت کے ذریعے۔ سب کی سب کائنات بہرحال سر بسجود ہے۔ اور یہ بدبخت مشرک ایسے ہیں جو ان حالات میں بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔ اس عجیب و غریب منظر اور اس پر تاثیر فضا میں اب ان سے پوچھا جاتا ہے ، ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کا جواب ہاں کے سوا کچھ نہیں اور یوں ان کو اضحو کہ بنایا جاتا ہے۔ قل من رب السموت۔۔۔۔۔۔ الواحد القھار (13 : 16) ” ان سے پوچھو ، آسمان و زمین کا رب کون ہے ؟۔۔۔ کہو ، اللہ۔ پھر ان سے کہو کہ حقیقت یہ ہے کہ تو کیا تم نے اسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھہرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ؟ کہو ، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے ؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں ؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اس کی وجہ سے ان پر تخلیق کا معالہ مشتبہ ہوگیا ؟ ۔۔۔۔ کہو ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے ، سب پر غالب ! “ ان سے پوچھو اور حال یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے اللہ کے ارادے اور اللہ کی قدرت سے ماخوذ ہے۔ اللہ کی قدرت میں بندھا ہوا ہے خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو۔ یہ بوجھ کہ کون ہے رب السموات والارض ؟ یہ سوال اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ کوئی جواب دیں اس کا جواب تو سیاق کلام میں آگیا ہے۔ یہ سب اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زبان سے اقرار کرلیں۔ جواب تو یہی ہے کہ ” اللہ “ ہے۔ پھر دوسرا سوال یہ کہ تم جن کو پکارتے ہو کیا وہ اپنے نفع ونقصان کے بھی مالک ہیں۔ یہ سوال بھی محض ان کی گوشمالی اور ان کو ذلیل کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ تم سوال کرتے جاؤ، جبکہ یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حق و باطل میں امتیاز ہوچکا ہے۔ اس قدر امتیاز ہوچکا ہے کہ جس طرح اندھے اور صاحب بصارت میں فرق ہے یا جس طرح روشنی اور تاریکی میں فرق ہے۔ اعمی اور بصیر میں اشارہ اس طرف ہے کہ ایک مومن بصیر ہوتا ہے اور ایک کافر اندھا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اندھا پن ہی انسان کو سچائی کے دیکھنے سے روکتا ہے حالانکہ یہ سچائی ظاہر و باطن ہے۔ اور اس کے آثار زمین و آسمان میں محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ ظلمات اور نور کے تذکرے سے بھی منکرین کے حالات اور مومنین کے حالات کی طرف اشارہ ہے۔ اندھیرا دیکھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور ان کی حالت بھی یہ ہے کہ ان کے اور سچائی کے درمیان پردے حائل ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ہستیاں جن کو یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں انہوں نے کوئی مخلوق پیدا کی ہے جس طرح مخلوقات اللہ تعالیٰ نے پیدا کی۔ اس طرح ان کو یہ شبہ پیدا ہوگیا کہ شاید یہ بھی خالقیت میں شریک ہیں یا ان کو شبہ ہوگیا کہ کون سی مخلوق اللہ کی ہے اور کون سی مخلوق ان ہستیوں کی ہے۔ یوں وہ بےچارے معذور ہیں اور یوں اس غلطی کا ارتکاب ممکن ہے کہ انہوں نے اللہ کی ذات وصفات میں ان دوسروں کو شریک کرلیا۔ کیونکہ اس ضرورت میں یہ ہستیاں صفت خالقیت میں شریک تھیں لیکن اگر کسی اور کی کوئی مخلوق ہی نہیں ہے تو پھر شرکت چہ معنی وارد۔ یہ اس قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ جو دعویٰ تو یہ کرتی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک خالق ہے اور پھر دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہراتی ہے۔ حالانکہ یہ ٹھہراتے ہوئے شریک خودان کے قول کے مطابق بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو الٰہ بھی مانتے ہیں ، ان کی بندگی بھی کرتے ہیں ، لہٰذا فکرو نظر و عقل و بصیرت کا یہ نہایت ہی گھٹیا نمونہ ہے۔ اور اس حقارت آمیز مذاق کے بعد یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے جس میں کوئی کلام اور مجادلہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قل اللہ۔۔۔۔۔ القھار (13 : 16) ” کہو ، ہر چیز کا خالق اللہ ہے ، وہ یکتا اور سب پر غالب ہے “۔ یعنی تخلیق میں بھی وہ واحد اور یکتا ہے۔ غلبے اور زبردستی میں بھی وہی یکتا ہے۔ قہار کے معنی ہیں انتہائی درجے کا غالب حکمران۔ عقیدۂ توحید اور رد شرک کو یہاں یوں احاطہ کیا جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں ، خواہ کوئی چیز خوشی سے سجدہ کرے (انسان) یا مجبوری سے اور اس سبق کے آخر میں اللہ کی قہاریت کا ذکر کر کے مسئلہ توحید کو یوں بیان کیا گیا کہ اللہ ایسا حکمران ہے جو غایت درجہ غالب اور گرفت والا ہے۔ زمین و آسمان کی سب چیزیں اس کی مطیع فرمان ہیں جیسا کہ رعد و برق اور کڑک سب کی سب اللہ کی تسبیح کرنے میں ہیں۔ ایسے حالات میں کوئی اندھا یا پتھر دل انسان ہی ہو سکتا ہے جو اللہ کا خوف نہ محسوس کرے اور ایسے شخص کی قسمت میں ہلاکت اور بربادی ہی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس سبق پر بات ختم کریں ضروری ہے کہ طرز ادا کے حوالے سے ہم بعض متقابل امور پر غور کریں۔ مثلاً گرج و چمک اور بھاری بادلوں کے اندر خوف اور امید کا ذکر ہے ، جو متقابل ہیں۔ سحاب کے ساتھ ثقال کا ذکر ہے اور ثقل کی وجہ سے وہ دھیمی رفتار سے چلتے ہیں جبکہ چمک اور برق نہایت ہی تیز رفتار ہوتی ہے۔ یہ دونوں مفہوم بھی باہم متقابل اور متضاد ہیں۔ رعد کی تسبیح اللہ کی حمد کے ساتھ ہے اور ملائکہ کی تسبیح خوف کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں بھی باہم متقابل مفہوم ہیں۔ دعوت حق اور دعوت باطل دونوں متقابل مقاصد ہیں۔ زمین و آسمان بھی باہم متقابل ہیں ، سجدۂ رضا و مجبوری ، طوعاً و کرھاً بھی باہم متقابل مفہوم ہیں۔ افراد اور ان کے سائے ، صبح وشام ، اعمی وبصیر ، ظلمات اور نور ، خالق حقیقی اور شرکائے عاجزین ، جو نفع ونقصان کا مالک ہے اور ان کے شرکاء کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اس طرح اس پورے سبق میں باہم متضاد اور متقابل امور کا ذکر کر کے حق و باطل کو سمجھایا گیا ہے۔ اور یہ نہایت ہی خوبصورت طرز ادا ہے اور ہے بھی عجیب و غریب ہم آہنگی کے ساتھ۔ اب ہم ذرا مزید آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ حق و باطل کی ایک اور مثال بیان فرماتے ہیں۔ ایک دعوت حق ہے جو ہمیشہ زمین پر باقی رہتی ہے اور ایک دعوت باطل ہے جو ادھر چلتی ہے جدھر ہوا کا رخ ہو۔ ایک بھلائی ہے جو پروقار اور جمی رہتی ہے۔ ایک شر اور برائی ہے جو پھلتی پھولتی نظر آتی ہے۔ یہاں جو مثال دی جا رہی ہے وہ اللہ واحد اور قہار کی قوت کیا ہے۔ یہ مثال بھی انہی مناظر قدرت کی ہم جنس ہے جو اس سبق کا موضوع خاص ہیں۔

الرعد 13:16

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔ آیت 12 تا 16 چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن مجید ان کو پیش کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ ملائکہ ، تسبیح ، سجود ، خوف ، طمع اور ان مشاہد کے سائے کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ سچی پکار کیا ہے اور باطل اور ناحق پکار کیا ہے۔ ان مناظر میں ایک دوسرے شخص کی شکل یوں پیش کی جاتی ہے جو پانی پینا چاہتا ہے لیکن اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا ، بلکہ ہاتھ کھول کر اور منہ کھولے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ پانی خودبخود اس کے منہ میں پڑجائے ، جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ، ایک قطرہ بھی۔ یہ تمام مناظر ، مثالیں اور اشیاء اس آیت میں محض اتفاقاً اور بےمقصد جمع نہیں کردی گئی ، ان سب چیزوں کا دراصل مدعا سے تعلق ہے۔ بلکہ یہ مناظر انسان کو ڈرانے ، امید ،۔۔۔ پیہم اور طمع اور خوف اور نفع و نقصان کی امید دلانے اور اللہ کے ساتھ انسانوں نے جو دوسرے شریک ٹھہرا رکھے ان کی قوت کی نفی کے لئے لائے گئے ہیں۔ ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ وطمعا (13 : 12) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں “۔ اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں یہ تکوینی مظاہر دکھاتا ہے۔ یہ اس کائنات کے طبیعی اور موسمی مظاہر ہیں جسے اس نے پیدا کیا ہے اور اس خاص انداز پر اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور یہ خواص ان اشیاء کے اندر پیدا کئے ہیں۔ وہ بجلی جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، یہ اس کے قانون قدرت کے مطابق کام کرتی ہے۔ تم اس سے ڈر بھی جاتے ہو کیونکہ اس کی ماہیت ہی ایسی ہے جو اعصاب کو ہلا مارتے ہے۔ کبھی کبھی یہ بجلی برق بن کر بھی گرتی ہے اور خوفناک شکل میں تباہی بھی مچاتی ہے۔ جیسا کہ بارہا تم کو ۔۔۔ بھی ہوا ہوگا۔ تم اس چمک اور بجلی کے بعد باراں رحمت کے امیدوار بھی ہوتے ہو ، کیونکہ اس چمک اور گرج کے بعد بعض اوقات موسلا دھار بارش ہوتی اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ وینشیء السحاب الثقال (13 : 12) ” وہی ہے جو بارش سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے “۔ بادلوں کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ سحاب۔۔۔۔ اس جنس کا واحد سحابہ ہے جو بادل کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ ثقال سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ یہ بادل اللہ کے پیدا کردہ ناموس فطرت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں اور موسلا دھار بارشیں برساتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ قانون قدرت اس طرح نہ وضع کرتا تو نہ بادل ہوتے اور نہ یوں بارشیں ہوتیں۔ یہ کہہ کر کہ بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور بارشیں کس طرح برستی ہیں ، ان کی علمی اور سائنسی کیفیت معلوم ہونے سے ان کی خوبصورتی اور سحر آفرینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ نہ اس سے اس مفہوم میں فرق پڑتا ہے جو قرآن کریم نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام کام اور عمل صرف اللہ کے پیدا کردہ تکوینی نظام کے مطابق ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کی صنعت کاری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ انسانوں کا اس پورے نظام میں کوئی دخل و عمل ہے۔ یہ تکوینی اور طبیعی قواعد جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے نہ خود کائنات نے پیدا کئے ہیں اور نہ خود بخود چل پڑے ہیں ، اس میں جو کچھ بھی چل رہا ہے ایک خالق مطلق کی وجہ سے چل رہا ہے۔ رعد ، باد ، باران کے مناظر میں ایک خاص منظر ہوتا ہے ۔ یہ طویل اور کڑاکے کی آواز۔ یہ بھی اس کرۂ ارض کے قوانین قدرت کا ایک مظاہرہ ہے اور اللہ کی صنعت کاری ہے۔ اس کا سائنسی تجزیہ جو بھی ہو ، اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ یہ اللہ کی تخلیق کا ایک حصہ ہے۔ یہ حمد و تسبیح اس معنی میں کرتا ہے کہ یہ اس قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے جس کے مطابق اللہ نے یہ نظام بنایا ہے ، جیسا کہ ہر خوبصورت بنائی ہوئی چیز کو دیکھ کر بنانے والی کی حمد و ثنا بےساختہ ہوتی رہتی ہے اور اس کی مصنوعہ چیز کے آثار اور جمال اور افادیت کو دیکھ کر ہر کوئی تعریف کرتا ہے۔ اسی طرح اس کائنات کے اندر پائے جانے والے کمالات اور حیرت انگیز افادیت کی چیزوں کو دیکھنے سے بےساختہ اللہ کی تسبیح زبان پر آجاتی ہے۔ تسبیح کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے اور رعد تو خود ہی پکار رہی ہے ۔ بہرحال ہم ان چیزوں کی تسبیح کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے اور نہ سمجھتے ہوئے بھی ہم ان حقائق پر ایمان لاتے ہیں ۔ خود اپنے بارے میں بھی ابھی تک ہم کم ہی جانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہم یہ بھی معلوم کرلیں کہ یہ چیزیں کیسے تسبیح کرتی ہیں۔ یہاں قرآن کریم نے رعد کے بارے میں ایسا انداز بیان اختیار کیا ہے کہ گویا رعد ایک زندہ مخلوق ہے اور وہ تسبیح کر رہی ہے ، قرآن کریم کا یہ مخصوص انداز ہے کہ وہ مناظر قدرت کو آثار زندگی سے مزین کردیتا ہے حالانکہ یہ مناظر قدرت خاموش ہوتے ہیں اور یہ اس لیے کہ اس پورے منظر میں تمام دوسرے مناظر زندہ ہیں جیسا کہ میں نے اپنی کتاب التصویر الغنی فی القرآن میں تفصیلات دی ہیں۔ اس منظر میں چونکہ زندہ چیزوں کے مناظر ہیں مثلاً تسبیح کر رہے ہیں۔ اللہ کو پکارنا ، شرکاء کو پکارنا اور یہ منظر کہ ایک آدمی پانی کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے کہ وہ خود بخود منہ میں پڑجائے جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ہے ، تو ایسے مناظر جن میں ایک طرف پکار ، بندگی اور حرکت ہے ، رعد کو بھی زندہ تصور کر کے تسبیح اور دعاء کی نسبت اس کی طرف کردی گئی۔ اب اس منظر کو ذرا مزید خوفناک بنایا جاتا ہے ، خوف ، دعاء ، برق اور رعد اور بھاری بادل اور یا دو باراں کے ساتھ اب بجلیاں بھی گرتی دکھائی دیتی ہیں ، اور کسی بےچارے پر برق گرتی ہے۔ یہ بجلی جس طرح گرتی ہے وہ اس کائنات کے قدرتی نظام کا حصہ ہے۔ بعض اوقات یہ برق ایسے شخص پر گر جاتی ہے جسے اللہ مزید مہلت دینا نہیں چاہتا کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اب مہلت دینا مناسب نہیں لہٰذا بعض لوگ اس برق کے ذریعے ہلاک کر دئیے جاتے ہیں۔ اور تعجب انگیز بات یہ ہے کہ رعد و برق اور طوفان بادوباراں کی اس فضا میں ، اور رعد اور برق کی جانب سے تسبیح اور ملائکہ کی جانب سے حالت خوف میں اظہار اطاعت ، اور اللہ کے ان غضبناک مظاہر قدرت کے عروج کی حالت میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو ذات باری کے متعلق شبہات کا اظہار کرتے ہیں ، اللہ کے بارے میں مجادلے اور مباحثے کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کی قدرت کے مظاہر بلکہ خوفناک مظاہر وہ خود بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ وھم یجادلون۔۔۔۔۔۔ المحال (13 : 13) ” یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ اس کی چال بڑی زبردست ہے “۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جو ذات باری میں کلام کرتے ہیں لیکن اس ہولناک فضا ، گریہ وزاری اور رعد اور برق ، چیخ اور دھاڑ اور اس ہنگامہ خیز فضا میں جس کی تمام چیزیں وجود باری پر دلالت کرتی ہیں ایسے چند لوگوں کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ کیونکہ اس کائنات کے تمام قابل ذکر مناظر اللہ کی وحدانیت ، اللہ کی تسبیح و تہلیل پر دلیل ناطق ہیں ، پھر فرشتوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو ہر وقت اللہ کے خوف کے مارے کانپتے رہتے ہیں ، لہٰذا ان مناظر کی موجودگی ، اور ان فرشتوں کے خوف اور تمام انسانوں کے خوف کی اس فضا میں اللہ کے بارے میں کلام کرنے والوں کی بات شا ذو نادر ہے اور بےمحل ہے۔ یہ لوگ اللہ کے بارے میں کلام کرتے ہیں ، مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں حالانکہ حقیقت پکارے گا ، لاحاصل پکارتا رہے گا۔ لہ دعوۃ الحق والذین ۔۔۔۔۔۔ فی ضلل (13 : 14) ” اسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ انہیں پکارنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا ، حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بےہدف ! “ یہ منظر بھی بولتا منظر ہے ، متحرک اور پر معنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک پکار حق ، اور وہی اس بات کی مستحق ہے اور حقیقت پسندانہ ہے اور اس کے سوا جو پکاریں بھی ہیں وہ باطل ، بےفائدہ اور گمراہانہ ہیں۔ کیا تم ذرا غور نہیں کرتے کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں ان میں سے ایک شخص کی مثال ایسی ہے کہ وہ پیاسا ہے اور پیاس کی وجہ سے نڈھال ہو رہا ہے ، اس نے بازو پھیلا رکھے ہیں ، ہاتھ کھول رکھے ہیں ، منہ کھلا ہے اور مسلسل پکار رہا ہے کسی کو ، اپنے سامنے موجود پانی کو ، اے پانی میرے منہ میں آکر پڑجا۔ حالانکہ وہ پڑنے والا نہیں ہے۔ یہ شخص اس پکار اور جدو جہد میں تھک کر چور ہوجاتا ہے اور اس کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا۔ وما ھو۔۔۔۔۔۔ فی ضلل (13 : 14) حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرے بےہدف ! “ یہ مثال اس فضا میں دی گئی ہے کہ ایک پیاس سے نڈھال آدمی ایک قطرۂ آب بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ ایسی فضا میں جس میں ہر طرف برق اور باد و باراں کا طوفان ہے اور یہ تمام خوفناک مناظر اللہ کے قانون قدرت کے مطابق متحرک ہیں۔ جس وقت یہ ناکام اور غلط کار لوگ اللہ کے سوا دوسرے الہوں کو پکارتے ہیں ، غیر اللہ سے امید رکھتے ہیں اور غیر اللہ کے سامنے دست بدعاء ہوتے ہیں ، یہ پوری کائنات اور اس کی ہر چیز اللہ کے سامنے سر بسجود ہوتی ہے ، یہ سب لوگ اور یہ سب مخلوق اللہ کے حکم کے تابع ہے اور اللہ کے قانون قدرت میں جکڑی ہوئی ہے۔ اللہ کی سنت کے مطابق چل رہی ہے۔ اس مخلوق میں سے جو مومن ہے وہ خوشی اور مرضی سے اطاعت کرتا ہے اور جو کافر ہیں وہ بھی کرھا اطاعت کرتے ہیں کیونکہ کوئی چیز ارادۂ الٰہی سے نہیں نکل سکتی اور نہ کوئی چیز ناموس الٰہیہ سے نکلتی ہے۔ وللہ یسجد من۔۔۔۔ الاصال (15) السجدہ ” وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً وکرھاً سجدہ کر رہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح وشام اس کے آگے جھکتے ہیں “۔ کیونکہ یہ فضا ہی عبادت اور بندگی اور پکار کی فضا ہے۔ سیاق کلام میں قرآن اللہ کے احکام بجا لانے کو لفظ عبادت سے تعبیر کرتا ہے کیونکہ سجدے میں انسان غایت درجہ خضوع اور اطاعت اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آسمانوں اور زمین کی مخلوق کا ذکر بھی کردیا جاتا ہے۔ اور اس کائنات کی تمام چیزوں کے سائے کو بھی اللہ کا مطیع کہا گیا کہ ان چیزوں کے سائے بھی اللہ کے سامنے جھکتے ہیں۔ گویا وہ اللہ کی عبادت اور بندگی کرتے ہیں کیونکہ یہ اطاعت الٰہیہ سے سرموانحراف نہیں کرسکتے اور وہ قانون قدرت کے یوں تابع ہیں جس طرح وہ شخص تبابع ہوتا ہے جو اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ یہ تمثیل بھی ہے اور حقیقت بھی ، کیونکہ سایہ سورج کی کرنوں کے تابع ہوتا ہے۔ اس تمثیل کا اس منظر کی فضا پر بھی اثر پڑتا ہے گو سجدے بھی دو قسم کے ہیں۔ افراد کے سجدے اور سایوں کے سجدے۔ اور یہ پوری کائنات بھی اللہ کے تابع فرمان ہے۔ چاہے راہ ایمان سے تابع ہو یا غیر ایمان یعنی قانون قدرت کے ذریعے۔ سب کی سب کائنات بہرحال سر بسجود ہے۔ اور یہ بدبخت مشرک ایسے ہیں جو ان حالات میں بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔ اس عجیب و غریب منظر اور اس پر تاثیر فضا میں اب ان سے پوچھا جاتا ہے ، ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کا جواب ہاں کے سوا کچھ نہیں اور یوں ان کو اضحو کہ بنایا جاتا ہے۔ قل من رب السموت۔۔۔۔۔۔ الواحد القھار (13 : 16) ” ان سے پوچھو ، آسمان و زمین کا رب کون ہے ؟۔۔۔ کہو ، اللہ۔ پھر ان سے کہو کہ حقیقت یہ ہے کہ تو کیا تم نے اسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھہرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ؟ کہو ، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے ؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں ؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اس کی وجہ سے ان پر تخلیق کا معالہ مشتبہ ہوگیا ؟ ۔۔۔۔ کہو ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے ، سب پر غالب ! “ ان سے پوچھو اور حال یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے اللہ کے ارادے اور اللہ کی قدرت سے ماخوذ ہے۔ اللہ کی قدرت میں بندھا ہوا ہے خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو۔ یہ بوجھ کہ کون ہے رب السموات والارض ؟ یہ سوال اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ کوئی جواب دیں اس کا جواب تو سیاق کلام میں آگیا ہے۔ یہ سب اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زبان سے اقرار کرلیں۔ جواب تو یہی ہے کہ ” اللہ “ ہے۔ پھر دوسرا سوال یہ کہ تم جن کو پکارتے ہو کیا وہ اپنے نفع ونقصان کے بھی مالک ہیں۔ یہ سوال بھی محض ان کی گوشمالی اور ان کو ذلیل کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ تم سوال کرتے جاؤ، جبکہ یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حق و باطل میں امتیاز ہوچکا ہے۔ اس قدر امتیاز ہوچکا ہے کہ جس طرح اندھے اور صاحب بصارت میں فرق ہے یا جس طرح روشنی اور تاریکی میں فرق ہے۔ اعمی اور بصیر میں اشارہ اس طرف ہے کہ ایک مومن بصیر ہوتا ہے اور ایک کافر اندھا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اندھا پن ہی انسان کو سچائی کے دیکھنے سے روکتا ہے حالانکہ یہ سچائی ظاہر و باطن ہے۔ اور اس کے آثار زمین و آسمان میں محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ ظلمات اور نور کے تذکرے سے بھی منکرین کے حالات اور مومنین کے حالات کی طرف اشارہ ہے۔ اندھیرا دیکھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور ان کی حالت بھی یہ ہے کہ ان کے اور سچائی کے درمیان پردے حائل ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ہستیاں جن کو یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں انہوں نے کوئی مخلوق پیدا کی ہے جس طرح مخلوقات اللہ تعالیٰ نے پیدا کی۔ اس طرح ان کو یہ شبہ پیدا ہوگیا کہ شاید یہ بھی خالقیت میں شریک ہیں یا ان کو شبہ ہوگیا کہ کون سی مخلوق اللہ کی ہے اور کون سی مخلوق ان ہستیوں کی ہے۔ یوں وہ بےچارے معذور ہیں اور یوں اس غلطی کا ارتکاب ممکن ہے کہ انہوں نے اللہ کی ذات وصفات میں ان دوسروں کو شریک کرلیا۔ کیونکہ اس ضرورت میں یہ ہستیاں صفت خالقیت میں شریک تھیں لیکن اگر کسی اور کی کوئی مخلوق ہی نہیں ہے تو پھر شرکت چہ معنی وارد۔ یہ اس قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ جو دعویٰ تو یہ کرتی ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک خالق ہے اور پھر دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہراتی ہے۔ حالانکہ یہ ٹھہراتے ہوئے شریک خودان کے قول کے مطابق بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو الٰہ بھی مانتے ہیں ، ان کی بندگی بھی کرتے ہیں ، لہٰذا فکرو نظر و عقل و بصیرت کا یہ نہایت ہی گھٹیا نمونہ ہے۔ اور اس حقارت آمیز مذاق کے بعد یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے جس میں کوئی کلام اور مجادلہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قل اللہ۔۔۔۔۔ القھار (13 : 16) ” کہو ، ہر چیز کا خالق اللہ ہے ، وہ یکتا اور سب پر غالب ہے “۔ یعنی تخلیق میں بھی وہ واحد اور یکتا ہے۔ غلبے اور زبردستی میں بھی وہی یکتا ہے۔ قہار کے معنی ہیں انتہائی درجے کا غالب حکمران۔ عقیدۂ توحید اور رد شرک کو یہاں یوں احاطہ کیا جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں ، خواہ کوئی چیز خوشی سے سجدہ کرے (انسان) یا مجبوری سے اور اس سبق کے آخر میں اللہ کی قہاریت کا ذکر کر کے مسئلہ توحید کو یوں بیان کیا گیا کہ اللہ ایسا حکمران ہے جو غایت درجہ غالب اور گرفت والا ہے۔ زمین و آسمان کی سب چیزیں اس کی مطیع فرمان ہیں جیسا کہ رعد و برق اور کڑک سب کی سب اللہ کی تسبیح کرنے میں ہیں۔ ایسے حالات میں کوئی اندھا یا پتھر دل انسان ہی ہو سکتا ہے جو اللہ کا خوف نہ محسوس کرے اور ایسے شخص کی قسمت میں ہلاکت اور بربادی ہی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس سبق پر بات ختم کریں ضروری ہے کہ طرز ادا کے حوالے سے ہم بعض متقابل امور پر غور کریں۔ مثلاً گرج و چمک اور بھاری بادلوں کے اندر خوف اور امید کا ذکر ہے ، جو متقابل ہیں۔ سحاب کے ساتھ ثقال کا ذکر ہے اور ثقل کی وجہ سے وہ دھیمی رفتار سے چلتے ہیں جبکہ چمک اور برق نہایت ہی تیز رفتار ہوتی ہے۔ یہ دونوں مفہوم بھی باہم متقابل اور متضاد ہیں۔ رعد کی تسبیح اللہ کی حمد کے ساتھ ہے اور ملائکہ کی تسبیح خوف کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں بھی باہم متقابل مفہوم ہیں۔ دعوت حق اور دعوت باطل دونوں متقابل مقاصد ہیں۔ زمین و آسمان بھی باہم متقابل ہیں ، سجدۂ رضا و مجبوری ، طوعاً و کرھاً بھی باہم متقابل مفہوم ہیں۔ افراد اور ان کے سائے ، صبح وشام ، اعمی وبصیر ، ظلمات اور نور ، خالق حقیقی اور شرکائے عاجزین ، جو نفع ونقصان کا مالک ہے اور ان کے شرکاء کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اس طرح اس پورے سبق میں باہم متضاد اور متقابل امور کا ذکر کر کے حق و باطل کو سمجھایا گیا ہے۔ اور یہ نہایت ہی خوبصورت طرز ادا ہے اور ہے بھی عجیب و غریب ہم آہنگی کے ساتھ۔ اب ہم ذرا مزید آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ حق و باطل کی ایک اور مثال بیان فرماتے ہیں۔ ایک دعوت حق ہے جو ہمیشہ زمین پر باقی رہتی ہے اور ایک دعوت باطل ہے جو ادھر چلتی ہے جدھر ہوا کا رخ ہو۔ ایک بھلائی ہے جو پروقار اور جمی رہتی ہے۔ ایک شر اور برائی ہے جو پھلتی پھولتی نظر آتی ہے۔ یہاں جو مثال دی جا رہی ہے وہ اللہ واحد اور قہار کی قوت کیا ہے۔ یہ مثال بھی انہی مناظر قدرت کی ہم جنس ہے جو اس سبق کا موضوع خاص ہیں۔

الرعد 13:17

آیت نمبر 17 پانی کا نزول اور ندی نالوں کا اس کے ساتھ بہہ نکلنا ایک ایسا مفہوم ہے جو برق اور رعد اور بادلوں کے ساتھ ہم معنی و ہم جنس ہے۔ سابق منظر میں رعد و برق اور سحاب ثقال کا ذکر تھا۔ دونوں اس کائنات کے عام مناظر فطرت کا حصہ ہیں۔ اس سورة کا پیشتر موضوع اور مضمون انہی کے گرد گھومتا ہے۔ اور ان مناظر سے اللہ واحد اور قہار کی قدرت ، غلبے اور گرفت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ ندی نالے اپنی مقدار کے مطابق بہہ نکلتے ہیں ، ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق ۔ اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک مقدار مقرر کر رکھی ہے ۔ ہر نالے اور ندی کے لیے بھی پانی کی مقدار مقرر ہے ۔ یہ اللہ کی شان مدبرانہ ہے ، جو اس سورة کا موضوع خاص ہے۔ تمثیل کا یہ دائرہ اور موضوع اور منظر وہی ہے جو پیش پا افتادہ ہے اور جس کو رات اور دن لوگ دیکھتے رہتے ہیں یہ منظر ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے لیکن یہ اندھوں کی طرح اس پر کوئی غور نہیں کرتے اور نہ یہ مناظر ان کے دامن کش ہوتے ہیں۔ ہماری نظروں کے سامنے پانی برستا رہتا ہے ، ندی اور نالے بہتے رہتے ہیں اور اس دنیا کے خس و خاشاک کو ساتھ بہا کرلے جاتے رہتے ہیں۔ ان ندی نالوں پر جھاگ بھی اٹھتی رہتی ہے ، اس قدر کہ بعض اوقات پانی چھپ جاتا ہے۔ اور جھاگ کے پہاڑ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس جھاگ کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ، اس کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ اور پانی جو جھاگ کے نیچے قائم رہتا ہے اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے ۔ نہایت سکون کے ساتھ لگا بندھا ۔ پھر یہ پانی اپنے اندر ایک افادیت رکھتا ہے۔ خیر ہی خیر اور زندگی اور شادابی۔ یہی صورت ان دھاتوں اور خزانوں کی ہوتی ہے جنہیں پگھلایا جاتا ہے۔ اس سے مصنوعات بنتی ہے ، آلات بنتے ہیں اور انسانوں کی حیات کے لئے ممد ثابت ہوتے ہیں مثلاً لوہا ، تانبا اور سیسہ وغیرہ ۔ ان پر بھی جھاگ اٹھتی ہے جو بیکار ہوتی ہے اور جسے پھینک دیا جاتا ہے اور جو صافی چیز ہوتی ہے وہ نیچے رہ جاتی ہے۔ جب جھاگ اٹھ جاتی ہے تو اصل چیز نیچے سے نمودار ہوتی ہے۔ دنیا کی زندگی میں حق و باطل کی یہ مثال ہے۔ باطل کا یہ مظہر اور منظر بسا اوقات سامنے آتا ہے وہ بلند ہوتا ہے ، پھولتا ہے ، دوڑتا بھاگتا ہے۔ اس کا بہت فلو نظر آتا ہے۔ لیکن یہ باطل جھاگ کی طرح ہوتا ہے یا گندے اور خبیث مادے کی طرح ہوتا اور فضلے کی طرح پھینک دیا جاتا ہے یا ختم ہوجاتا ہے اور اس کی نہ ٹھوس حقیقت ہوتی ہے اور نہ اس کے اندر ٹھہراؤ اور جماؤ ہوتا ہے جبکہ حق ہمیشہ پروقار ، ٹھہرا ہوا اور جما ہوا ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس پر شبہ ہوتا ہے کہ یہ جم گیا ہے ، اس میں جمود ہے ، بلکہ یہ ختم ہوگیا ہے۔ اس کا سکون موت کی علامت ہے۔ لیکن حق ہمیشہ دنیا میں باقی رہتا ہے جس طرح پانی باقی رہتا ہے اور جھاگ ختم ہوجاتی ہے اور جس طرح پگھلا ہوا مواد اپنی اصل حالت میں باقی رہتا ہے اور لوگوں کو نفع دیتا ہے اور اس کی جھاگ یا فضلہ ختم ہوجاتا ہے اسی طرح حق قائم رہتا ہے۔ کذلک یضرب اللہ الامثال (13 : 17) “ اسی طرح اللہ مثالیں دیتا ہے ”۔ اسی طرح اللہ ہر دعوت اور ہر تحریک کا انجام مقرر کرتا ہے ، ہر نظریہ اور اس کے احیاء کی جدو جہد کا یہی انجام ہوتا ہے۔ اللہ لوگوں کے اعمال و اقوال کے ساتھ یہی سلوک کرتا ہے۔ وہ مدبر کائنات ہے۔ واحد حاکم اور قہار ہے۔ وہ حق و باطل کی کشمکش کا بھی مدبر ہے اور اس نے یہ قانون قدرت وضع کیا ہے کہ آخر کار باطل نے زائل ہونا ہے اور حق نے غالب آنا ہے۔ لہٰذا یہ بات پلے باندھ رکھو کہ جن لوگوں نے حق پر لبیک کہا ان کا انجام اچھا ہوگا۔ اور جن لوگوں نے دعوت حق کا انکار کردیا وہ ایک نہایت ہی خوفناک اور ہولناک انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ ان کی حالت یہ ہوگی کہ اگر ان میں سے کوئی پوری زمین اور آسمانوں کا مالک ہو تو وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو چھڑانے کے لئے بالکل تیار ہوگا ، لیکن اس کے پاس زمین و آسمان کہاں ہوں گے کہ وہ دے سکے۔ ان کا حساب تو رسوا کن ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور کیا ہی برا ٹھکانا ہوگا۔

الرعد 13:18

آیت نمبر 18 یہاں دعوت حق کو قبول کرنے والوں کے مقابلے ہیں وہ لوگ ہیں جو قبول نہیں کرتے اور حسنہ کے مقابلے میں سوء الحساب ہے۔ اور جنت کے مقابلے میں بئس المھاد ہے۔ اور یہ تقابلی انداز کلام اس پورہ سورة میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔

الرعد 13:19

درس نمبر 113 ایک نظر میں اس سورة کے حصہ اول میں موضوع تھا اس کائنات کے آفاق اور عالم غیب کی گہرائیاں اور نفس انسانی کے عجائبات اور گہری انسانی نفسیات اور ان پر غور۔ اس دوسرے حصے میں انسانی وجدان کے محسوسات ، انسانی عقل کے اخذ کردہ نتائج اور نہایت ہی لطیف اور گہری سوچ ، خصوصاً رسالت ، منصب رسالت اور وحی الٰہی کے بارے میں حقائق ، عقیدۂ توحید اور رد شرک ، لوگوں کی نادانی اور معجزات کا مطالبہ اور وقوع قیامت میں جلدی۔ مسائل وہی ہیں جو پہلے حصے میں تھے ، البتہ سفر ایک دوسری وادی میں ہے یعنی وادی عقل وخرد میں۔ اس حصے میں سفر کا آغاز وادی کفرو ایمان میں ہوتا ہے۔ کفر کی وادی میں اندھیری رات جیسی تاریکی ہے جبکہ وادی ایمان میں روز روشن کی طرح روشنی ہے۔ ایک میں علم ہے اور دوسری میں تاریکی اور جہالت ہے۔ اس کے بعد روئے سخن کافرین کی خصوصیات و علامات اور مومنین کی صفات اور مزاج کی طرف پھرجاتا ہے اور پھر مشاہد قیامت میں سے ایک منظر سامنے آتا ہے جس میں اہل جنت کے انعامات اور اہل جہنم کے عذاب کا ذکر ہے۔ درمیان میں رزق کی کشادگی اور رزق کی تنگی کے موضوع پر بھی بات ہوتی ہے اور دونوں حالات کسی کو اللہ کی مشیت کے مطابق پیش آتے ہیں۔ ایک محفل ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جن کے دل ذکر الٰہی کے ساتھ مطمئن ہیں۔ پھر قرآن کریم کے اوصاف اور اس کی قوت کا ذکر ، قریب ہے کہ اس سے متاثر ہو کر پہاڑ چل پڑیں ، قریب ہے کہ زمین مارے خوف کے پھٹ پڑے اور قریب ہے کہ مردے بھی بات کرنے لگیں۔ پھر وہ عذاب اور مصائب جو کفار کو درپیش ہوتے ہیں یا ان کے علاقوں کے قریب ہی دوسری اقوام پر نازل ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ عبرت نہیں لیتے۔ پھر مزاحیہ انداز کلام ان کے الہوں کے بارے میں ، پھر قدرے ان اقوام کی وادی میں سیر جن کو ہلاک کیا گیا اور جن کے مقامات اور مصارع ان کے پاس ہی ہیں۔ آخر میں ان کو اس انجام سے ڈرایا جاتا ہے جو ان کے لئے بےچینی سے انتظار کر رہا ہے کیونکہ وہ رسول برحق کی تکذیب کر رہے ہیں۔ اچھا چلو اس انجام معلوم کی طرف اگر نہیں مانتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حصہ اول میں عقل وخرد کو جھنجھوڑنے کے لئے جو ضربات لگائی گئی تھیں ، گویا اس دوسرے حصے میں اس کا خاطر خواہ اثر ہوا اور اب عقل نے سوچنا شروع کردیا ہے۔ انسانی عقل کے دروازے قدرے کھل گئے ہیں اور انسان نے دعوت اسلامی کے بارے میں سوچنا شروع کردیا۔ لہٰذا سورة کے ان دونوں حصوں میں باہم ربط ہے۔ یعنی اس سورة کے دونوں حصے انسانی عقل و کرد کی تاروں کو چھیڑ رہے ہیں تا کہ انسانی احساس اور عقل کام کریں ۔ اس حصے میں پہلا مسئلہ ، مسئلہ وحی الٰہی ہے۔ اس سورة کے آغاز میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں دوبارہ اس پر غور کیا جاتا ہے ، نہایت ہی جدید انداز میں۔ آیت نمبر 19 یہاں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اس بات پر یقین کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ نازل ہوتا ہے وہ حق ہے اور ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جو یقین نہیں کرتے جو جانتے نہیں بلکہ ان کے بالمقابل جو لوگ ہیں وہ اندھے ہیں۔ قرآن کریم کا یہ نہایت ہی پیارا ، موثر اور دل میں بیٹھ جانے والا انداز ہے کہ وہ کسی شخص یا کردار یا رویے کو مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور یہ حجیم اور تمثیل بجائے خود حقیقت ، سچی اور بلا مبالغہ بھی ہوتی ہے مثلاً یہاں مخالفین کو اندھا کہا گیا ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ اس واضح اور ظاہر و باطن حقیقت کو جو شخص نہیں دیکھتا وہ اندھا ہی ہو سکتا ہے۔ اس حقیقت کے سامنے اس کے حوالے سے لوگوں کی دو اقسام ہیں ۔ ایک گروہ دیکھنے والا ہے تو وہ سمجھتا ہے۔ دوسرا اندھوں کا گروہ ہے اور وہ جاہل ہے۔ بعض اندھے پن سے مراد آنکھوں کا اندھا نہیں ہے بلکہ دل کا اندھا ہے۔ مطلب اس شخص سے ہے جس کی قوائے مدرکہ بجھ گئی ہوں ، جن کے دلوں پر تالے پڑگئے ہوں اور جن کی روح آتش معرفت سے محروم ہوگئی ہو اور ان کے دلوں میں معرفت الٰہی کی آخری چنگاری بھی بجھ گئی ہو۔ انما یتذکر اولوا الالباب (13 : 19) “ نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں ”۔ وہ لوگ جن کے دل و دماغ میں قوت ادراک ہو اور جن کو سچائی کی یاد دہانی کرائی جائے تو وہ اس یاد دہانی اور نصیحت کو قبول کریں اور اگر ان کے سامنے حق کے دلائل پیش کئے جائیں تو وہ ان پر غوروفکر کرتے ہوں۔ اولوا لالباب کی اعلیٰ اور اہم صفات یہ ہیں :

الرعد 13:20

آیت نمبر 20 اللہ کا عہد مطلق ہے ، اس سے وہ تمام عہد مراد ہیں جو اللہ کے ہیں اور میثاق بھی مطلق ہے اور اس سے مراد بھی وہ تمام میثاق ہیں جو اللہ کے ساتھ کئے گئے۔ سب سے بڑا عہد ، عہد ایمانی ہے کیونکہ دوسرے تمام عہد اس کا نتیجہ اور اس کے تقاضے ہیں۔ سب سے بڑا میثاق یہ کہ ہم ایمان کے تقاضے پورے کریں گے۔ عہد ایمان قدیم بھی ہے اور جدید بھی ہے۔ قدیم عہد وہ ہے جو فطرت انسانی کے ساتھ مربوط ہے اور اس کا تعلق ناموس کائنات سے ہے ، جس کے مطابق یہ پوری کائنات چلتی ہے اور فطرت انسانی براہ راست اس واحد ارادے کا ادراک کرلیتی ہے جس سے یہ کائنات پیدا ہوئی اور اس بات کا یقین کرتی ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے اور وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی بندگی کی جائے۔ یہ فطری میثاق وہ ہے جو تمام انسانوں سے لیا گیا ہے جبکہ وہ آدم کی پشت میں تھے ، اپنے محل پر ہم نے عہد الست کی یہی تفسیر پسند کی ہے۔ پھر اس عہد کی تجدید رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہوتی ہے جن کو اللہ نے امتوں کے لئے بھیجا اس لیے نہیں کہ وہ کوئی جدید عہد لیں بلکہ اس لیے کہ وہ یاددہانی کرائیں اسی عہد الست کی اور اس کی تفسیر اور تشریح لوگوں کے سامنے کریں ۔ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اس عہد کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اللہ کے سوا تمام دوسروں کی بندگی کا جوا اپنی گردن سے اتار پھینکیں اور علم صالح اور راہ راست پر چلنے کا مضبوط رویہ اختیار کریں۔ ہر معاملے میں اللہ وحدہ کی طرف رجوع کریں جس کے ساتھ انسانوں نے اصل عہد کیا ہوا ہے۔ اس عطیم عہد الٰہی کے حکم ہی میں بعد میں آنے والے عہد ہیں ، خواہ وہ عہد و میثاق انسانوں کے ساتھ ہو۔ رسولوں کے ساتھ ہو ، عوام الناس کے ساتھ ہو ، قریب کے رشتہ داروں کے ساتھ ہو ، امراء کے ساتھ ہو یا جماعتوں کے ساتھ ہو۔ چناچہ جو شخص عہد اول اور میثاق اول کی فکر کرے گا وہ تمام دوسرے مواثیق کی رعایت کرے گا کیونکہ تمام عہودو مواثیق پر عمل کرنا ایک فریضہ ہے۔ جو شخص عہد اول کا پاس رکھتا ہے وہ دوسرے عہود کا بھی پاس رکھے گا کیونکہ یہ تمام عہد اسی کے ذیل میں آتے ہیں۔

الرعد 13:21

یہ ایک عظیم اصول ہے جس کے اوپر پوری زندگی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ اس اصول کو قرآن کریم چند کلمات کے اندر ضبط فرماتا ہے : آیت نمبر 21 تا 22 یہ اجمالی اور کلی قاعدہ ہے ، یعنی اللہ نے جن روابط کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے جوڑتے ہیں یعنی وہ مکمل اطاعت کرتے اور پوری طرح وفادار اور استوار ہوتے ہیں۔ سنت الٰہیہ کے مطابق سیدھے چلتے ہیں اور ان کی رفتار میں کوئی کجی نہیں ہوتی۔ اس لیے یہاں ایک کلی قاعدہ بیان کردیا اور جس کے اندر اللہ کے وہ تمام مفرد احکام آگئے جن کا اللہ نے حکم دیا ہے کیونکہ تمام احکام کو یہاں ایک ایک کر کے بیان کرنا بہت ہی مشکل تھا اور یہاں مقصود بھی نہ تھا بلکہ یہاں مقصود یہ تھا کہ انسان تقاضاہائے فطرت پر سیدھا چلے اور تمام معاملات میں اطاعت شعار ہو۔ اطاعت کا رشتہ ٹوٹنے نہ پائے اور آیت کے آخر میں یہ اشارہ بھی کردیا گیا کہ وہ لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اطاعت کاملہ کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ ویخشون ۔۔۔۔۔ الحساب (13 : 21) “ اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے ”۔ اللہ کی مشیت اور قیامت کے برے حساب سے وہ ڈرتے ہیں کیونکہ وہ عقلمند ہیں اور عقلمند آدمی حساب و کتاب سے قبل ہی اپنا حساب تیار کرتے ہیں۔ والذین صبروا ابتغاء وجہ ربھم (13 : 22) “ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لئے صبر سے کام لیتے ہیں ”۔ صبر کی کئی انواع و اقسام ہیں اور صبر کے کچھ تقاضے ہیں ۔ ایک صبر یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی راہ میں مشکلات پر صبر کرے۔ مثلاً اعمال ، جہاد اور دعوت اسلامی کی راہ میں مشکلات ۔ نیز نعمتوں پر صبر اور مشکلات حیات میں صبر۔ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو خوشحالی میں صبر کریں اور کبرو غرور اور ناشکری نہ کریں۔ لوگوں کی حماقتوں اور جہالتوں پر صبر ، جبکہ ان کی وجہ سے بسا اوقات انسان کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح دوسرے معاملات اور اجتماعی زندگی کے روابط میں صبر۔ یہ سب صبر اللہ کی رضا مندی کے لئے ہیں ، اس لیے نہیں کہ لوگ یہ کہیں کہ یہ شخص باہمت ہے یا یہ کہ لوگ کہیں یہ شخص فریاد کررہا ہے۔ نہ محض اپنے آپ کو شریف ثابت کرنے کے لئے یا محض اس لیے کہ جزع و فزع سے مزید نقصان ہوگا۔ غرض اللہ کی رضا مندی کے سوا کسی بھی مقصد کے لئے کیا جانے والا صبر مقبول نہیں ہے۔ نعمت اور آزمائش میں صبر یوں ہے کہ انسان اللہ کے فیصلے پر شاکر اور قانع رہے۔ واقاموا الصلوٰۃ (13 : 22) “ اور نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اقامت صلوٰۃ بھی اللہ کے میثاق اور عہد میں شامل ہے لیکن یہاں اس کا ذکر علیحدہ اس لیے کردیا گیا کہ وفائے میثاق کی یہ پہلی علامت اور رکن رکین ہے۔ نیز اللہ کی طرف توجہ کامل کا یہ اہم اور تم مظہر ہے اور بندے اور رب کے درمیان جسمانی رابطہ ہے۔ نماز خالص اللہ کے لیے ہے ، اس کی ہر حرکت اور اس کا ہر کلمہ اللہ اور صرف اللہ کے لئے ہے۔ وانفقوا ۔۔۔۔۔ وعلانیۃ (13 : 22) “ اور ہمارے دئیے ہوئے رزق سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں ”۔ یہ حکم بھی اس آیت میں شامل ہے کہ اللہ نے جو روابط جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں جوڑتے ہیں اور میثاق الٰہی کی ذمہ داریاں اور تقاضے پورے کرتے ہیں۔ لیکن اس کو بھی یہاں خصوصیت کے ساتھ لایا گیا کیونکہ یہ اللہ کے بندوں کے درمیان اجتماعی روابط کا مظہر ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ سے خدائی اور اسلامی زندگی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔ دینے والے کا دل بخل کی بیماری سے پاک ہوتا ہے اور لینے والے کا دل کینہ سے پاک ہوتا ہے۔ ایک اسلامی سوسائٹی کی اجتماعی زندگی باہم محبت اور تعاون پر مبنی ہوجاتی ہے۔ پوشیدہ خرچ ان مقامات میں ہوتا ہے جہاں لینے کی عزت نفس کو بچانا ہوتا ہے۔ ۔۔۔ اعلانیہ ایسے مقامات پر ہوتا ہے جہاں دوسروں کے لئے نمونہ بننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں شریعت کا نفاذ مقصود ہو یا قانون کی اطاعت مقصود ہو یا دوسرا کوئی اجتماعی فائدہ ہو۔ و یدرءون بالحسنۃ السیئۃ (13 : 22) “ اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں ”۔ یہاں مقصود یہ ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں۔ اس سے مراد دینی معاملات میں نہیں ہیں کہ دینی معاملات میں اگر کوئی برا کرے تو تم اس کے ساتھ اچھا کردو۔ لیکن یہاں قرآن کریم کی تعبیر تمہید سے آگے بڑھ کر نتیجے کا ذکر کرتی ہے۔ برائی کا جواب نیکی سے دینے سے ایک سرکش شخص کی سرکشی میں کمی آجاتی ہے اور ایک انسان پھر برائی کے بدلے میں بھلائی پر مائل ہوجاتا ہے۔ اور شر کی آگ سے بجھ جاتی ہے اور شیطان کے وسوسے ختم ہوجاتے ہیں۔ یوں برائی کا دفعیہ ہوجاتا ہے اور وہ ختم ہوجاتی ہے۔ چناچہ آیت میں حسنہ کا ذکر پہلے کیا گیا۔ پھر اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بدی کا جواب نیکی سے صرف اس وقت دیا جائے گا جب یہ امید ہو کہ اس طرح شر کا دفعیہ ہوگا اور برائی ختم ہوگی لیکن اگر کوئی شخص اس سے مزید اکڑتا ہے اور اسے جراءت ہوتی ہے تو ایسا رویہ اچھا نہ ہوگا۔ بلکہ ایسے حالات میں اس بات کی ضرورت ہوگی کہ برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور جہاں بھی مدافعت کی ضرورت ہو شر کا دفاع کیا جائے گا تا کہ شر کی قوتیں بھول نہ جائیں اور ان کو مزید سرکشی اختیار کرنے کی جراءت نہ ہو۔ برائی کا جواب نیکی سے اس وقت دیا جاتا ہے کہ دو افراد کے درمیان معاملہ ہو اور وہ دونوں مساوی حیثیت کے مالک ہوں۔ رہے وہ معاملات جن کا تعلق دین اسلام سے ہے تو اس میں یہ رویہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے کیونک دین کے معاملات میں کسی جسارت کرنے والے شخص کے سامنے ننگی تلوار ہی صحیح کاٹ کرتی ہے۔ نیز جن لوگوں کا وطیرہ یہ ہو کہ وہ زمین میں فساد کرتے پھریں ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جانا چاہئے لیکن کسی معاملے میں کیا رویہ اختیار کیا جائے قرآن نے ایسی ہدایات کو ایک فرد کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ عقل کو کام میں لا کر ایسا رویہ اختیار کرے جن میں خیر ہو اور بہتری ہو۔

الرعد 13:22

یہ ایک عظیم اصول ہے جس کے اوپر پوری زندگی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ اس اصول کو قرآن کریم چند کلمات کے اندر ضبط فرماتا ہے : آیت نمبر 21 تا 22 یہ اجمالی اور کلی قاعدہ ہے ، یعنی اللہ نے جن روابط کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے جوڑتے ہیں یعنی وہ مکمل اطاعت کرتے اور پوری طرح وفادار اور استوار ہوتے ہیں۔ سنت الٰہیہ کے مطابق سیدھے چلتے ہیں اور ان کی رفتار میں کوئی کجی نہیں ہوتی۔ اس لیے یہاں ایک کلی قاعدہ بیان کردیا اور جس کے اندر اللہ کے وہ تمام مفرد احکام آگئے جن کا اللہ نے حکم دیا ہے کیونکہ تمام احکام کو یہاں ایک ایک کر کے بیان کرنا بہت ہی مشکل تھا اور یہاں مقصود بھی نہ تھا بلکہ یہاں مقصود یہ تھا کہ انسان تقاضاہائے فطرت پر سیدھا چلے اور تمام معاملات میں اطاعت شعار ہو۔ اطاعت کا رشتہ ٹوٹنے نہ پائے اور آیت کے آخر میں یہ اشارہ بھی کردیا گیا کہ وہ لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اطاعت کاملہ کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ ویخشون ۔۔۔۔۔ الحساب (13 : 21) “ اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے ”۔ اللہ کی مشیت اور قیامت کے برے حساب سے وہ ڈرتے ہیں کیونکہ وہ عقلمند ہیں اور عقلمند آدمی حساب و کتاب سے قبل ہی اپنا حساب تیار کرتے ہیں۔ والذین صبروا ابتغاء وجہ ربھم (13 : 22) “ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لئے صبر سے کام لیتے ہیں ”۔ صبر کی کئی انواع و اقسام ہیں اور صبر کے کچھ تقاضے ہیں ۔ ایک صبر یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی راہ میں مشکلات پر صبر کرے۔ مثلاً اعمال ، جہاد اور دعوت اسلامی کی راہ میں مشکلات ۔ نیز نعمتوں پر صبر اور مشکلات حیات میں صبر۔ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو خوشحالی میں صبر کریں اور کبرو غرور اور ناشکری نہ کریں۔ لوگوں کی حماقتوں اور جہالتوں پر صبر ، جبکہ ان کی وجہ سے بسا اوقات انسان کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح دوسرے معاملات اور اجتماعی زندگی کے روابط میں صبر۔ یہ سب صبر اللہ کی رضا مندی کے لئے ہیں ، اس لیے نہیں کہ لوگ یہ کہیں کہ یہ شخص باہمت ہے یا یہ کہ لوگ کہیں یہ شخص فریاد کررہا ہے۔ نہ محض اپنے آپ کو شریف ثابت کرنے کے لئے یا محض اس لیے کہ جزع و فزع سے مزید نقصان ہوگا۔ غرض اللہ کی رضا مندی کے سوا کسی بھی مقصد کے لئے کیا جانے والا صبر مقبول نہیں ہے۔ نعمت اور آزمائش میں صبر یوں ہے کہ انسان اللہ کے فیصلے پر شاکر اور قانع رہے۔ واقاموا الصلوٰۃ (13 : 22) “ اور نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اقامت صلوٰۃ بھی اللہ کے میثاق اور عہد میں شامل ہے لیکن یہاں اس کا ذکر علیحدہ اس لیے کردیا گیا کہ وفائے میثاق کی یہ پہلی علامت اور رکن رکین ہے۔ نیز اللہ کی طرف توجہ کامل کا یہ اہم اور تم مظہر ہے اور بندے اور رب کے درمیان جسمانی رابطہ ہے۔ نماز خالص اللہ کے لیے ہے ، اس کی ہر حرکت اور اس کا ہر کلمہ اللہ اور صرف اللہ کے لئے ہے۔ وانفقوا ۔۔۔۔۔ وعلانیۃ (13 : 22) “ اور ہمارے دئیے ہوئے رزق سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں ”۔ یہ حکم بھی اس آیت میں شامل ہے کہ اللہ نے جو روابط جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں جوڑتے ہیں اور میثاق الٰہی کی ذمہ داریاں اور تقاضے پورے کرتے ہیں۔ لیکن اس کو بھی یہاں خصوصیت کے ساتھ لایا گیا کیونکہ یہ اللہ کے بندوں کے درمیان اجتماعی روابط کا مظہر ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ سے خدائی اور اسلامی زندگی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔ دینے والے کا دل بخل کی بیماری سے پاک ہوتا ہے اور لینے والے کا دل کینہ سے پاک ہوتا ہے۔ ایک اسلامی سوسائٹی کی اجتماعی زندگی باہم محبت اور تعاون پر مبنی ہوجاتی ہے۔ پوشیدہ خرچ ان مقامات میں ہوتا ہے جہاں لینے کی عزت نفس کو بچانا ہوتا ہے۔ ۔۔۔ اعلانیہ ایسے مقامات پر ہوتا ہے جہاں دوسروں کے لئے نمونہ بننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں شریعت کا نفاذ مقصود ہو یا قانون کی اطاعت مقصود ہو یا دوسرا کوئی اجتماعی فائدہ ہو۔ و یدرءون بالحسنۃ السیئۃ (13 : 22) “ اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں ”۔ یہاں مقصود یہ ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں۔ اس سے مراد دینی معاملات میں نہیں ہیں کہ دینی معاملات میں اگر کوئی برا کرے تو تم اس کے ساتھ اچھا کردو۔ لیکن یہاں قرآن کریم کی تعبیر تمہید سے آگے بڑھ کر نتیجے کا ذکر کرتی ہے۔ برائی کا جواب نیکی سے دینے سے ایک سرکش شخص کی سرکشی میں کمی آجاتی ہے اور ایک انسان پھر برائی کے بدلے میں بھلائی پر مائل ہوجاتا ہے۔ اور شر کی آگ سے بجھ جاتی ہے اور شیطان کے وسوسے ختم ہوجاتے ہیں۔ یوں برائی کا دفعیہ ہوجاتا ہے اور وہ ختم ہوجاتی ہے۔ چناچہ آیت میں حسنہ کا ذکر پہلے کیا گیا۔ پھر اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بدی کا جواب نیکی سے صرف اس وقت دیا جائے گا جب یہ امید ہو کہ اس طرح شر کا دفعیہ ہوگا اور برائی ختم ہوگی لیکن اگر کوئی شخص اس سے مزید اکڑتا ہے اور اسے جراءت ہوتی ہے تو ایسا رویہ اچھا نہ ہوگا۔ بلکہ ایسے حالات میں اس بات کی ضرورت ہوگی کہ برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور جہاں بھی مدافعت کی ضرورت ہو شر کا دفاع کیا جائے گا تا کہ شر کی قوتیں بھول نہ جائیں اور ان کو مزید سرکشی اختیار کرنے کی جراءت نہ ہو۔ برائی کا جواب نیکی سے اس وقت دیا جاتا ہے کہ دو افراد کے درمیان معاملہ ہو اور وہ دونوں مساوی حیثیت کے مالک ہوں۔ رہے وہ معاملات جن کا تعلق دین اسلام سے ہے تو اس میں یہ رویہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے کیونک دین کے معاملات میں کسی جسارت کرنے والے شخص کے سامنے ننگی تلوار ہی صحیح کاٹ کرتی ہے۔ نیز جن لوگوں کا وطیرہ یہ ہو کہ وہ زمین میں فساد کرتے پھریں ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جانا چاہئے لیکن کسی معاملے میں کیا رویہ اختیار کیا جائے قرآن نے ایسی ہدایات کو ایک فرد کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ عقل کو کام میں لا کر ایسا رویہ اختیار کرے جن میں خیر ہو اور بہتری ہو۔

الرعد 13:23

آیت نمبر 23 تا 24 ان ہی لوگوں کے لئے آخرت کا گھر ہے۔ یہ آخرت میں عالی مقام ہوں گے۔ ایسے باغات ہوں گے جو ان کے قیام کے لئے ابدی اور دائمی ہوں گے۔ ایسے ہی باغات میں ان کے اقارب و رشتہ دار ، آباء و اولاد ان کے ساتھ ہوں گے ، یعنی ان میں سے وہ جو صالح ہوں گے اور یہ لوگ ان باغات میں اپنی نیکی اور صلاح کی بنیاد پر داخل ہوں لیکن ان کے ساتھ ان کے اکرام کے طور پر ان کے رشتہ دار بھی داخل ہوں گے۔ دوست اور یار بھی وہاں ہوں گے۔ دوست و احباب اور آباء واولاد کا اجتماع ایک محبوب اور لذیذ چیز ہے جس سے جنت کے مزے دو چند ہوں گے۔ اس اجتماع میں جہاں دوست و احباب ہوں گے اور جہاں اعزہ و اقارب ہوں گے ملائکہ کی طرف سے اھلاً و سھلاً اور مبارکباد کے پیغامات ہوں گے اور بیشمار لوگ وہاں آجا رہے ہوں گے۔ یدخلون علیھم من کل باب (13 : 23) ” ہر طرف سے ان پر داخل ہوں گے “ یہاں آکر انداز گفتگو اس طرح ہوجاتا کہ گویا ہم اس منظر کو دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف سے ملائکہ گروہ در گروہ آ رہے ہیں اور مبارک و سلامت ہو رہی ہے۔ سلم علیکم۔۔۔۔۔ الدار (13 : 24) ” تم پر سلامتی ہے ، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہوئے ہو “۔ گویا ایک محفل مسرت ہوگی اور ہر طرف سے خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی اور سلامت و مبارک اور جشن مسرت کی ہلچل برپا ہوگی۔ اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کی عقل کام نہ کر رہی تھی اس لیے وہ نصیحت نہ پکڑ سکے ، نہ ان میں بصیرت تھی کہ وہ مشکلات راہ حق پر صبر کرتے۔ ان لوگوں کی حالت ہر لحاظ سے عقلمند اور دانشور لوگوں کے برخلاف اور علی العکس ہوگی۔

الرعد 13:24

آیت نمبر 23 تا 24 ان ہی لوگوں کے لئے آخرت کا گھر ہے۔ یہ آخرت میں عالی مقام ہوں گے۔ ایسے باغات ہوں گے جو ان کے قیام کے لئے ابدی اور دائمی ہوں گے۔ ایسے ہی باغات میں ان کے اقارب و رشتہ دار ، آباء و اولاد ان کے ساتھ ہوں گے ، یعنی ان میں سے وہ جو صالح ہوں گے اور یہ لوگ ان باغات میں اپنی نیکی اور صلاح کی بنیاد پر داخل ہوں لیکن ان کے ساتھ ان کے اکرام کے طور پر ان کے رشتہ دار بھی داخل ہوں گے۔ دوست اور یار بھی وہاں ہوں گے۔ دوست و احباب اور آباء واولاد کا اجتماع ایک محبوب اور لذیذ چیز ہے جس سے جنت کے مزے دو چند ہوں گے۔ اس اجتماع میں جہاں دوست و احباب ہوں گے اور جہاں اعزہ و اقارب ہوں گے ملائکہ کی طرف سے اھلاً و سھلاً اور مبارکباد کے پیغامات ہوں گے اور بیشمار لوگ وہاں آجا رہے ہوں گے۔ یدخلون علیھم من کل باب (13 : 23) ” ہر طرف سے ان پر داخل ہوں گے “ یہاں آکر انداز گفتگو اس طرح ہوجاتا کہ گویا ہم اس منظر کو دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف سے ملائکہ گروہ در گروہ آ رہے ہیں اور مبارک و سلامت ہو رہی ہے۔ سلم علیکم۔۔۔۔۔ الدار (13 : 24) ” تم پر سلامتی ہے ، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہوئے ہو “۔ گویا ایک محفل مسرت ہوگی اور ہر طرف سے خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی اور سلامت و مبارک اور جشن مسرت کی ہلچل برپا ہوگی۔ اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کی عقل کام نہ کر رہی تھی اس لیے وہ نصیحت نہ پکڑ سکے ، نہ ان میں بصیرت تھی کہ وہ مشکلات راہ حق پر صبر کرتے۔ ان لوگوں کی حالت ہر لحاظ سے عقلمند اور دانشور لوگوں کے برخلاف اور علی العکس ہوگی۔

الرعد 13:25

آیت نمبر 25 یہ اس عہد الست کو توڑتے ہیں جو فطرت انسانی نے ناموس ازلی کی صورت میں اللہ کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ اس کے بعد تمام وعدوں اور معاہدوں کو توڑتے ہیں۔ اگر ایک انسان عہد الست کو توڑ دے تو گویا وہ ان تمام وعدوں اور عہدوں کا ناقض ہوگا جو اس عہد الست پر قائم ہیں۔ جس شخص کے دل میں خوف خدا نہیں ہے وہ کسی شخص ، کسی عہد اور کسی میثاق کا پاس کیسے کرسکتا ہے ۔ یعنی ایسے شخص بالعموم ان روابط کو توڑتے ہیں جن کے جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ اہل عقل و دانش تو صبر کرتے تھے ، نماز قائم کرتے تھے اور اعلانیہ اور پوشیدہ راہ خدا میں انفاق کرتے تھے اور پھر ان کا عمومی رویہ یہ تھا کہ وہ برائی کا جواب نیکی سے دیتے تھے۔ لیکن یہ لوگ فساد فی الارض برپا کرتے ہیں۔ اہل دانش کی جن چیزوں کا اوپر ذکر ہوا ان میں سے کسی ایک کو چھوڑنے سے فساد فی الارض نمودار ہوتا ہے۔ ” وہ لوگ “ وہ جو اللہ سے دور ہیں اور راندۂ درگاہ ہیں ان کے لئے لعنت ہے۔ تکریم و استقبال کے مقابلے میں راندگی ہے اور نعم الدار کے مقابلے میں سوء الدار ہے۔ یہ لوگ اس لیے راندۂ درگاہ ہوئے کہ وہ متاع حیات دنیا میں ہی غرق رہے اور ان کی نظریں آخرت کی دائمی نعمتوں کی طرف نہ اٹھ سکیں۔ حالانکہ رزق کا تعین صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہی اس میں توسیع بھی کرتا ہے ، وہی رزق میں تنگی بھی کرتا ہے ، یہ سب کام اللہ کے اختیار میں تھا اور کوئی شخص اپنے لیے خود فراخی رزق کا انتظام نہیں کرسکتا تھا کہ اس پر اتراتا۔ اگر یہ لوگ آخرت کے طلبگار ہوتے تو یہ ضروری نہ تھا کہ اللہ ان سے دنیا کی خوشحالی چھین لیتا کیونکہ وہی داتا تھا۔

الرعد 13:26

آیت نمبر 26 اس سے قبل اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ ایک شخص اس حقیقت کو جانتا ہے اور مانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو سچائی نازل ہو رہی ہے ، وہ حق ہے ، وہی دانشمند اور عقلمند ہے اور جو نہیں جانتا وہ اعمیٰ ہے۔ اب یہاں اہل کفر کی کم عقلی اور اندھے پن کی کچھ مثالیں دی جاتی ہیں کہ یہ لوگ اس کائنات میں اللہ کی آیات و نشانات کو نہیں دیکھ پا رہے۔ دانشوروں کے لئے یہ تو قرآن ہی کافی معجزہ ہے لیکن عقل کے یہ کورے قرآن سے بھی بڑا کوئی معجزہ طلب کرتے ہیں۔ سورة کے پہلے حصے میں ان کے مطالبات کا ذکر ہوچکا ہے اور وہاں یہ جواب بھی دے دیا گیا تھا کہ رسول تو صرف ڈرانے والا ہے اور معجزات کا صدور اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہاں ایسے ہی مطالبات کو پھر دہرا کر بتایا جاتا ہے کہ ضلالت و ہدایت کے اسباب کیا ہوتے ہیں ۔ پھر ان دلوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اللہ کے ذکر ہی سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس قرآن اور ذکر الٰہی سے آگے مزید خوارق عادت معجزات کا مطالبہ نہیں کرتے۔ یہ قرآن اپنی جگہ گہری اثر آفرینی کا حامل ہے یہاں تک کہ اسے سن کر قریب ہے کہ پہاڑ چل پڑیں اور قریب ہے کہ زمین پھٹ پڑے اور قریب ہے کہ مردے بھی اس کی حقانیت کے نعرے لگانے لگ جائیں کیونکہ اس قرآن میں بےپناہ قوت ، مادہ حیات اور انقلابی اسپرٹ ہے۔ آخر میں مومنین کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں سے مایوس ہوجائیں جو معجزات طلب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ میں ان لوگوں کے رویہ کا مطالعہ کریں جنہوں نے اچھی مثالیں چھوڑی ہیں اور پھر ان لوگوں کی حالت کو بھی دیکھیں جو ان جیسے تھے اور جو اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔

الرعد 13:27

آیت نمبر 27 تا 32 ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔ قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔ لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کی طرف میلان اور انابت نہیں رکھتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ، لہٰذا اللہ بھی ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہٰذا دلوں کے اندر ہدایت کی استعداد اور پھر طلب ہدایت اور اس راہ میں سعی کرنے سے ہدایت ملتی ہے۔ لیکن جو دل اللہ کی ہدایت کی استعداد ہی سے محروم ہوتے ہیں اور جو اس سمت میں حرکت ہی نہیں کرتے وہ اللہ سے اور ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد مومن دلوں کی ایک نہایت ہی شفاف تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کشی نہایت ہی اطمینان وقرار ، انس و محبت اور مسرت اور بشاشت کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔ الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (13 : 28) ” وہ جنہوں نے نبی کی دعوت کو مان لیا ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے متعلق ہیں۔ وہ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں اور اللہ کے ہاں مامون اور محفوظ ہیں۔ وہ تنہائی کی مشکلات سے بھی مطمئن ہوتے ہیں ، راہ حق کی پریشانیوں میں بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ اور وہ تخلیق کائنات ، اس کے آغاز اور انجام کے بارے میں بھی شفاف سوچ رکھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں ، وہ ہر ظلم ، ہر شر اور ہر زیادتی سے اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں الایہ کہ اللہ کی مشیت سے کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں اور اسے ابتلا سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ ہدایت ، رزق ، دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کے بارے میں بھی ان کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے وہ مطمئن ہوتے ہیں۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” بیشک اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے “۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کے ذکر سے جو اطمینان پیدا ہوتا ہے اس کا صحیح علم صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں ایمان کی بشاشت اور مٹھاس پیدا ہوجائے اور ان کو اللہ کا فضل حاصل ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگ اس ایمانی بشاشت اور طمانیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو الفاظ کے ذریعہ دوسرے لوگوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ایسے لوگوں تک جن کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کیونکہ یہ حقائق الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان دلوں میں سرایت کرتا ہے۔ ان کو سکون اور فرحت دیتا ہے ، ہمت دیتا ہے۔ وہ امن و سلامتی کا شعور پاتے ہیں۔ ایسے اہل معرفت محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، ان کو ایک پورا ماحول اپنا دوست اور یار نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کے اردگرد اللہ کی صنعت کاریاں ہوتی ہیں جبکہ خود صاحب معرفت اللہ ہی کی حمایت میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں سے بڑا بد بخت اس روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو تعلق باللہ کی وجہ سے اور ذکر الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انس و محبت سے بیخبر ہوں۔ اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے اوپر چلے پھرے اور اسے اپنے کائناتی ماحول سے کوئی انس و محبت نہ ہو۔ اس سے بڑا کوئی بدبخت نہ ہوگا جو اس دنیا میں چلے پھرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ کیوں آیا ہے اور کدھر جا رہا ہے ؟ اور اس کے اوپر زندگی کا یہ بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ اور اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو اس کرۂ ارض پر چلتا پھرتا ہو اور وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے اس لیے بدکتا ہو۔ اسے معلوم ہو کہ اس کے اور ہر چیز کے درمیان ایک نہایت ہی لطیف تعلق ہے ؟ اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو سفر حیات طے کر رہا ہے لیکن اکیلا ہے ، راندہ ہے ، گم کردہ راہ ہے اور پہاڑوں اور صحراؤں میں اکیلا پھر رہا ہے اور زندگی کا یہ کٹھن سفر وہ اکیلا بغیر گائیڈ کے ، بغیر انیس سفر کے اور بغیر ہادی و مددگار کے طے کر رہا ہے۔ اور اسے نشان منزل تک معلوم نہیں۔ یاد رکھو ! زندگی کے اس کٹھن سفر میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں ، نہایت ہی تاریک گھڑیاں جن کا مقابلہ صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ کا ہوگیا ہو ، جسے اللہ کی حمایت کا بھروسہ ہو ، ورنہ خواہ کوئی کس قدر طاقتور ، بہادر اور مستقل مزاج کیوں نہ ہو زندگی میں بعض ایسی تاریک گھڑیاں آتی ہیں کہ انسان کی تمام قوتیں جواب دے جاتی ہیں۔ آخری سہارا صرف تعلق باللہ کی قوت اور ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” خبردار ! ذکر الٰہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے “۔ یہ لوگ جو اللہ کی طرف جھکنے والے ہیں اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے مطمئن ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا انجام بہت ہی اچھا ہوگا کیونکہ انہوں نے اچھا طرز عمل اختیار کیا اور وہ اللہ کے مطیع فرمان رہے۔ الذین امنوا۔۔۔۔۔۔ ماب (13 : 29) ” جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول کیا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لئے اچھا انجام ہے۔ طوبیٰ طاب یطیب سے ہے بوزن کبریٰ ۔ یہ صیغہ تفخیم اور تعظیم کے لئے آتا ہے یعنی ان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا اچھا انجام اس خدا کے ہاں ہوگا جس کے وہ اپنی زندگی میں مطیع فرمان رہے۔ وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ایمان اطمینان کا شعور حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذہنی خلجان میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی اس ذہنی پریشانی کو دور کرنے کے لئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور اے پیغمبر آپ کسی قوم میں آنے والے پہلے رسول نہیں ہیں کہ ان لوگوں کے لئے یہ معاملہ ناقابل فہم ہوگیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی اقوام گزری ہیں اور کئی رسول گزرے ہیں۔ اگر یہ لوگ کفر پر تل گئے ہیں تو آپ اپنے منہاج پر کام کرتے رہیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔ کذلک ارسلنک ۔۔۔۔۔۔ والیہ متاب (13 : 30) ” اے نبی اسی شان سے ہم نے تم رسول بنا کر بھیجا۔ ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت ہی مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا طجا وماویٰ ہے “۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ رحمٰن کا کفر کرتے ہیں جس کی رحمت بہت ہی بڑی ہے۔ جس کے ذکر سے دل مطمئن ہوجاتے ہیں اور اس کی عظیم رحمت کا شعور ان میں پیدا ہوجاتا ہے۔ اے پیغمبر آپ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ جو وحی آپ کی طرف آتی ہے آپ ان لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔ آپ کے بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے ۔ اگر وہ کفر کے ارتکاب پر تل گئے ہیں تو اعلان کردیں کہ میرا بھروسہ تو صرف اللہ وحدہ پر ہے اور یہ کہ میں اسی کی طرف لوٹنے والا ہوں اور کسی اور کی طرف پناہ لینے کے لئے مجھے رجوع نہیں کرنا ہے۔ ہم نے آپ کو صرف یہ ڈیوٹی دی ہے کہ آپ قرآن کی دعوت لوگوں تک پہنچا دیں۔ یہ قرآن پڑھیں ، بذاب خود یہ کتاب اور یہ کلام بہت ہی عجائب اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر کسی قرآن کے ذریعہ پہاڑ چلائے جاتے ، یا زمین کے ٹکڑے کر دئیے جاتے ، یا اس کے ذریعہ مردے باتیں کرنے لگتے تو یہ باتین اس قرآن میں بھی ہوتیں اور اس کے ذریعے یہ مذکور معجزات ظہور پذیر ہوتے لیکن قرآن (ہر کتاب الٰہی) تو اس لیے نازل کیا جاتا ہے کہ عوام کو ان کی ڈیوٹیاں اور ان کے فرائض سے آگاہ کیا جائے ۔ اگر یہ مخاطبین اب کفر کرنے پر تل گئے ہیں اور ہرگز مان کر نہیں دیتے تو وقت آگیا ہے کہ مومنین ان سے مایوس ہوجائیں اور ان کو چھوڑ دیں کہ مکذبین کے ساتھ اللہ کا جو سلوک ہوتا ہے وہ آجائے۔ ولو ان قراناً ۔۔۔۔۔۔ یخلف المیعاد (13 : 31) ” اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین شق ہوجاتی ، یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے ) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن مجید کو قبول کیا اور اس کی کیفیات میں ڈوب گئے اس نے ان کے اندر اس قدر انقلاب برپا کردیا کہ پہاڑوں کے چلائے جانے ، زمین کے شق ہونے اور مردوں کے زندہ ہونے سے وہ بڑا معجزہ تھا۔ ان مذکور معجزات سے بھی ان لوگوں کی زندگیوں میں دور رس تبدیلی ہوئی اور بڑے معجزات رونما ہوئے۔ ان کی زندگی کی قدریں بدل دی گئیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں نے خود اس زمین کے چہرے کو بھی بدل کر رکھ دیا اور اسلام اور مسلمانوں نے اس کرۂ ارض کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ اس قرآن کی اثر آفرینی ، اس کی ذات اور طرز ادا میں ، اس کی دعوت اور فلسفے میں اس کے موضوعات کلام اور طرز کلام میں بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے۔ اس کے اندر کسی بڑے سے بڑے معجزے کے مقابلے میں بہت بڑی تاثیر ہے۔ اور اس کی اس معجزانہ شان سے وہی شخص واقف ہے جو ان معالی اور فلسفوں اور انداز تعبیر اور اسالیب کلام سے واقف ہو۔ اور ان کو ان چیزوں کے سمجھنے کی ذہنی قوت مدرکہ حاصل ہو۔ جن لوگوں نے اسے سمجھا ، اس پر عمل کیا اور اس کی کیفیات اور اس کے انوار میں ڈوبے انہوں نے پہاڑوں کے چلانے سے بھی بڑے معجزے کر دکھائے۔ قرآن مجید کے اثرات کے نتیجے میں تو اقوام اور نسلوں کے حالات اور سوچ کے دھارے بدل گئے۔ انہوں نے ان چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو زمین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں۔ فکری جمود اور رسم و رواج کا وہ جمود جو قرآن اور مسلمانوں نے توڑا وہ زمین اور پتھروں سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ انہوں نے ایسی اقوام کو زندہ کیا جو مردوں سے زیادہ مردہ تھیں۔ زندہ ہو کر بھی مردہ تھیں ، وہ اقوام جن کی روح کو وہم اور گمان نے قتل کردیا تھا۔ وہ بتان وہم و گمان کے پجاری تھے۔ عربوں کے اندر جو انقلاب رونما ہوا ، ان کی زندگی کے اندر جو تبدیلی نمودار ہوئی اور اس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں یہ کہ انقلاب صرف اور صرف قرآن کی وجہ سے آیا جس نے ان کی زندگی کا منہاج ہی بدل کر رکھ دیا تو کیا یہ انقلاب پہاڑوں کے چلنے ، زمین کے ٹکڑے ہونے اور مردوں کے گویا ہونے سے کوئی کم انقلاب تھا۔ بل للہ الامر جمیعاً (13 : 31) ” بلکہ سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے “۔ وہی ہے ، جو تحریک کی نوعیت کو اختیار کرتا ہے اور وہی ہے جو تحریک کے لئے وسائل اور ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اگر اس قرآن کو سن کر بھی کسی قوم کے دلوں میں حرکت اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا تو اہل ایمان جو ابھی ایسے دلوں کو حرکت میں لانے کی سعی کر رہے ہیں ان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے مایوس ہوجائیں ۔ ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کے اندر ہدایت کی استعداد پیدا کردیتا۔ اور انسانوں کو بھی اسی طرح ہدایت کی جبلت پر تخلیق کردیتا جس طرح فرشتوں کو اس نے ہدایت پر پیدا کیا ہے۔ یا لوگوں کو مجبور کر کے ہدایت کی راہ پر چلا دیتا لیکن اللہ نے انسانوں کے بارے میں نہ خیر کی اسکیم تیار کی اور نہ فرشتوں جیسی جبلت ان کو دی ۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اللہ کو معلوم تھا کہ انسان اس مقصد کے تقاضے کس طرح پورے کرسکتا ہے۔ لہٰذا چاہئے کہ لوگوں کو اب اللہ کے فیصلوں پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اللہ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ان اقوام عرب کو اس طرح نیست و نابود نہ کرے گا جس طرح بعض اقوام کو ہلاک کیا گیا تھا تو ان پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہتی ہے۔ یا ان کے گھروں کے قریب آتی رہتی ہے ۔ اور یہ لوگ وقتاً فوقتاً اللہ کے عذابوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض ان مصائب میں ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔ او تحل قریباً من دارھم (13 : 31) ” یا ان کے گھروں کے قریب نازل ہوتی ہے “۔ جس سے وہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور پھر وہ نہایت ہی قلق اور خوف سے انتظار کرتے ہیں کہ کہیں اس جیسی مصیبت دوبارہ نہ آجائے۔ بعض لوگ نرم بھی ہوجاتے ہیں ، ان میں ایک تحریک پیدا ہوتی ہے اور ان کو حقیقی زندگی مل جاتی ہے۔ حتی یاتیی وعداللہ (13 : 31) ” یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر شخص اس دن اس انجام سے دوچار ہونے والا ہے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اس بات کی مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں کہ اللہ مہلت دیتا ہے لیکن مہلت اور انتظار کے بعد اللہ کی پکڑ بھی آجاتی ہے۔ ولقد استھزیء۔۔۔۔۔۔ عقاب (13 : 32) ” اور تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ ۔ یہ ایک سوال ہے جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ عذاب ایسا رہا ہے کہ نسلیں اس کا چرچا کرتی رہیں۔ دوسرا مسئلہ شرکاء کا ہے۔ سورة کے حصہ اول میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں بھی ان بیچارون کا ذکر نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ کے ساتھ ان کا تقابل یوں کیا جاتا ہے کہ اللہ تو ہر تنفس پر قائم ہے ۔ وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور جو لوگ اللہ پر یہ افتراء باندھتے ہیں کہ اس کے شریک ہیں ان کو اس دنیا میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت تو بہت ہی شدید ہے۔ جبکہ اہل تقویٰ کے لئے امن و سلامتی انتظار کر رہی ہے۔

الرعد 13:28

آیت نمبر 27 تا 32 ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔ قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔ لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کی طرف میلان اور انابت نہیں رکھتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ، لہٰذا اللہ بھی ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہٰذا دلوں کے اندر ہدایت کی استعداد اور پھر طلب ہدایت اور اس راہ میں سعی کرنے سے ہدایت ملتی ہے۔ لیکن جو دل اللہ کی ہدایت کی استعداد ہی سے محروم ہوتے ہیں اور جو اس سمت میں حرکت ہی نہیں کرتے وہ اللہ سے اور ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد مومن دلوں کی ایک نہایت ہی شفاف تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کشی نہایت ہی اطمینان وقرار ، انس و محبت اور مسرت اور بشاشت کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔ الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (13 : 28) ” وہ جنہوں نے نبی کی دعوت کو مان لیا ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے متعلق ہیں۔ وہ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں اور اللہ کے ہاں مامون اور محفوظ ہیں۔ وہ تنہائی کی مشکلات سے بھی مطمئن ہوتے ہیں ، راہ حق کی پریشانیوں میں بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ اور وہ تخلیق کائنات ، اس کے آغاز اور انجام کے بارے میں بھی شفاف سوچ رکھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں ، وہ ہر ظلم ، ہر شر اور ہر زیادتی سے اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں الایہ کہ اللہ کی مشیت سے کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں اور اسے ابتلا سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ ہدایت ، رزق ، دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کے بارے میں بھی ان کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے وہ مطمئن ہوتے ہیں۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” بیشک اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے “۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کے ذکر سے جو اطمینان پیدا ہوتا ہے اس کا صحیح علم صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں ایمان کی بشاشت اور مٹھاس پیدا ہوجائے اور ان کو اللہ کا فضل حاصل ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگ اس ایمانی بشاشت اور طمانیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو الفاظ کے ذریعہ دوسرے لوگوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ایسے لوگوں تک جن کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کیونکہ یہ حقائق الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان دلوں میں سرایت کرتا ہے۔ ان کو سکون اور فرحت دیتا ہے ، ہمت دیتا ہے۔ وہ امن و سلامتی کا شعور پاتے ہیں۔ ایسے اہل معرفت محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، ان کو ایک پورا ماحول اپنا دوست اور یار نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کے اردگرد اللہ کی صنعت کاریاں ہوتی ہیں جبکہ خود صاحب معرفت اللہ ہی کی حمایت میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں سے بڑا بد بخت اس روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو تعلق باللہ کی وجہ سے اور ذکر الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انس و محبت سے بیخبر ہوں۔ اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے اوپر چلے پھرے اور اسے اپنے کائناتی ماحول سے کوئی انس و محبت نہ ہو۔ اس سے بڑا کوئی بدبخت نہ ہوگا جو اس دنیا میں چلے پھرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ کیوں آیا ہے اور کدھر جا رہا ہے ؟ اور اس کے اوپر زندگی کا یہ بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ اور اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو اس کرۂ ارض پر چلتا پھرتا ہو اور وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے اس لیے بدکتا ہو۔ اسے معلوم ہو کہ اس کے اور ہر چیز کے درمیان ایک نہایت ہی لطیف تعلق ہے ؟ اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو سفر حیات طے کر رہا ہے لیکن اکیلا ہے ، راندہ ہے ، گم کردہ راہ ہے اور پہاڑوں اور صحراؤں میں اکیلا پھر رہا ہے اور زندگی کا یہ کٹھن سفر وہ اکیلا بغیر گائیڈ کے ، بغیر انیس سفر کے اور بغیر ہادی و مددگار کے طے کر رہا ہے۔ اور اسے نشان منزل تک معلوم نہیں۔ یاد رکھو ! زندگی کے اس کٹھن سفر میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں ، نہایت ہی تاریک گھڑیاں جن کا مقابلہ صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ کا ہوگیا ہو ، جسے اللہ کی حمایت کا بھروسہ ہو ، ورنہ خواہ کوئی کس قدر طاقتور ، بہادر اور مستقل مزاج کیوں نہ ہو زندگی میں بعض ایسی تاریک گھڑیاں آتی ہیں کہ انسان کی تمام قوتیں جواب دے جاتی ہیں۔ آخری سہارا صرف تعلق باللہ کی قوت اور ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” خبردار ! ذکر الٰہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے “۔ یہ لوگ جو اللہ کی طرف جھکنے والے ہیں اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے مطمئن ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا انجام بہت ہی اچھا ہوگا کیونکہ انہوں نے اچھا طرز عمل اختیار کیا اور وہ اللہ کے مطیع فرمان رہے۔ الذین امنوا۔۔۔۔۔۔ ماب (13 : 29) ” جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول کیا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لئے اچھا انجام ہے۔ طوبیٰ طاب یطیب سے ہے بوزن کبریٰ ۔ یہ صیغہ تفخیم اور تعظیم کے لئے آتا ہے یعنی ان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا اچھا انجام اس خدا کے ہاں ہوگا جس کے وہ اپنی زندگی میں مطیع فرمان رہے۔ وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ایمان اطمینان کا شعور حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذہنی خلجان میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی اس ذہنی پریشانی کو دور کرنے کے لئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور اے پیغمبر آپ کسی قوم میں آنے والے پہلے رسول نہیں ہیں کہ ان لوگوں کے لئے یہ معاملہ ناقابل فہم ہوگیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی اقوام گزری ہیں اور کئی رسول گزرے ہیں۔ اگر یہ لوگ کفر پر تل گئے ہیں تو آپ اپنے منہاج پر کام کرتے رہیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔ کذلک ارسلنک ۔۔۔۔۔۔ والیہ متاب (13 : 30) ” اے نبی اسی شان سے ہم نے تم رسول بنا کر بھیجا۔ ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت ہی مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا طجا وماویٰ ہے “۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ رحمٰن کا کفر کرتے ہیں جس کی رحمت بہت ہی بڑی ہے۔ جس کے ذکر سے دل مطمئن ہوجاتے ہیں اور اس کی عظیم رحمت کا شعور ان میں پیدا ہوجاتا ہے۔ اے پیغمبر آپ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ جو وحی آپ کی طرف آتی ہے آپ ان لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔ آپ کے بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے ۔ اگر وہ کفر کے ارتکاب پر تل گئے ہیں تو اعلان کردیں کہ میرا بھروسہ تو صرف اللہ وحدہ پر ہے اور یہ کہ میں اسی کی طرف لوٹنے والا ہوں اور کسی اور کی طرف پناہ لینے کے لئے مجھے رجوع نہیں کرنا ہے۔ ہم نے آپ کو صرف یہ ڈیوٹی دی ہے کہ آپ قرآن کی دعوت لوگوں تک پہنچا دیں۔ یہ قرآن پڑھیں ، بذاب خود یہ کتاب اور یہ کلام بہت ہی عجائب اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر کسی قرآن کے ذریعہ پہاڑ چلائے جاتے ، یا زمین کے ٹکڑے کر دئیے جاتے ، یا اس کے ذریعہ مردے باتیں کرنے لگتے تو یہ باتین اس قرآن میں بھی ہوتیں اور اس کے ذریعے یہ مذکور معجزات ظہور پذیر ہوتے لیکن قرآن (ہر کتاب الٰہی) تو اس لیے نازل کیا جاتا ہے کہ عوام کو ان کی ڈیوٹیاں اور ان کے فرائض سے آگاہ کیا جائے ۔ اگر یہ مخاطبین اب کفر کرنے پر تل گئے ہیں اور ہرگز مان کر نہیں دیتے تو وقت آگیا ہے کہ مومنین ان سے مایوس ہوجائیں اور ان کو چھوڑ دیں کہ مکذبین کے ساتھ اللہ کا جو سلوک ہوتا ہے وہ آجائے۔ ولو ان قراناً ۔۔۔۔۔۔ یخلف المیعاد (13 : 31) ” اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین شق ہوجاتی ، یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے ) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن مجید کو قبول کیا اور اس کی کیفیات میں ڈوب گئے اس نے ان کے اندر اس قدر انقلاب برپا کردیا کہ پہاڑوں کے چلائے جانے ، زمین کے شق ہونے اور مردوں کے زندہ ہونے سے وہ بڑا معجزہ تھا۔ ان مذکور معجزات سے بھی ان لوگوں کی زندگیوں میں دور رس تبدیلی ہوئی اور بڑے معجزات رونما ہوئے۔ ان کی زندگی کی قدریں بدل دی گئیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں نے خود اس زمین کے چہرے کو بھی بدل کر رکھ دیا اور اسلام اور مسلمانوں نے اس کرۂ ارض کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ اس قرآن کی اثر آفرینی ، اس کی ذات اور طرز ادا میں ، اس کی دعوت اور فلسفے میں اس کے موضوعات کلام اور طرز کلام میں بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے۔ اس کے اندر کسی بڑے سے بڑے معجزے کے مقابلے میں بہت بڑی تاثیر ہے۔ اور اس کی اس معجزانہ شان سے وہی شخص واقف ہے جو ان معالی اور فلسفوں اور انداز تعبیر اور اسالیب کلام سے واقف ہو۔ اور ان کو ان چیزوں کے سمجھنے کی ذہنی قوت مدرکہ حاصل ہو۔ جن لوگوں نے اسے سمجھا ، اس پر عمل کیا اور اس کی کیفیات اور اس کے انوار میں ڈوبے انہوں نے پہاڑوں کے چلانے سے بھی بڑے معجزے کر دکھائے۔ قرآن مجید کے اثرات کے نتیجے میں تو اقوام اور نسلوں کے حالات اور سوچ کے دھارے بدل گئے۔ انہوں نے ان چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو زمین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں۔ فکری جمود اور رسم و رواج کا وہ جمود جو قرآن اور مسلمانوں نے توڑا وہ زمین اور پتھروں سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ انہوں نے ایسی اقوام کو زندہ کیا جو مردوں سے زیادہ مردہ تھیں۔ زندہ ہو کر بھی مردہ تھیں ، وہ اقوام جن کی روح کو وہم اور گمان نے قتل کردیا تھا۔ وہ بتان وہم و گمان کے پجاری تھے۔ عربوں کے اندر جو انقلاب رونما ہوا ، ان کی زندگی کے اندر جو تبدیلی نمودار ہوئی اور اس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں یہ کہ انقلاب صرف اور صرف قرآن کی وجہ سے آیا جس نے ان کی زندگی کا منہاج ہی بدل کر رکھ دیا تو کیا یہ انقلاب پہاڑوں کے چلنے ، زمین کے ٹکڑے ہونے اور مردوں کے گویا ہونے سے کوئی کم انقلاب تھا۔ بل للہ الامر جمیعاً (13 : 31) ” بلکہ سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے “۔ وہی ہے ، جو تحریک کی نوعیت کو اختیار کرتا ہے اور وہی ہے جو تحریک کے لئے وسائل اور ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اگر اس قرآن کو سن کر بھی کسی قوم کے دلوں میں حرکت اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا تو اہل ایمان جو ابھی ایسے دلوں کو حرکت میں لانے کی سعی کر رہے ہیں ان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے مایوس ہوجائیں ۔ ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کے اندر ہدایت کی استعداد پیدا کردیتا۔ اور انسانوں کو بھی اسی طرح ہدایت کی جبلت پر تخلیق کردیتا جس طرح فرشتوں کو اس نے ہدایت پر پیدا کیا ہے۔ یا لوگوں کو مجبور کر کے ہدایت کی راہ پر چلا دیتا لیکن اللہ نے انسانوں کے بارے میں نہ خیر کی اسکیم تیار کی اور نہ فرشتوں جیسی جبلت ان کو دی ۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اللہ کو معلوم تھا کہ انسان اس مقصد کے تقاضے کس طرح پورے کرسکتا ہے۔ لہٰذا چاہئے کہ لوگوں کو اب اللہ کے فیصلوں پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اللہ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ان اقوام عرب کو اس طرح نیست و نابود نہ کرے گا جس طرح بعض اقوام کو ہلاک کیا گیا تھا تو ان پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہتی ہے۔ یا ان کے گھروں کے قریب آتی رہتی ہے ۔ اور یہ لوگ وقتاً فوقتاً اللہ کے عذابوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض ان مصائب میں ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔ او تحل قریباً من دارھم (13 : 31) ” یا ان کے گھروں کے قریب نازل ہوتی ہے “۔ جس سے وہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور پھر وہ نہایت ہی قلق اور خوف سے انتظار کرتے ہیں کہ کہیں اس جیسی مصیبت دوبارہ نہ آجائے۔ بعض لوگ نرم بھی ہوجاتے ہیں ، ان میں ایک تحریک پیدا ہوتی ہے اور ان کو حقیقی زندگی مل جاتی ہے۔ حتی یاتیی وعداللہ (13 : 31) ” یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر شخص اس دن اس انجام سے دوچار ہونے والا ہے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اس بات کی مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں کہ اللہ مہلت دیتا ہے لیکن مہلت اور انتظار کے بعد اللہ کی پکڑ بھی آجاتی ہے۔ ولقد استھزیء۔۔۔۔۔۔ عقاب (13 : 32) ” اور تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ ۔ یہ ایک سوال ہے جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ عذاب ایسا رہا ہے کہ نسلیں اس کا چرچا کرتی رہیں۔ دوسرا مسئلہ شرکاء کا ہے۔ سورة کے حصہ اول میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں بھی ان بیچارون کا ذکر نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ کے ساتھ ان کا تقابل یوں کیا جاتا ہے کہ اللہ تو ہر تنفس پر قائم ہے ۔ وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور جو لوگ اللہ پر یہ افتراء باندھتے ہیں کہ اس کے شریک ہیں ان کو اس دنیا میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت تو بہت ہی شدید ہے۔ جبکہ اہل تقویٰ کے لئے امن و سلامتی انتظار کر رہی ہے۔

الرعد 13:29

آیت نمبر 27 تا 32 ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔ قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔ لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کی طرف میلان اور انابت نہیں رکھتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ، لہٰذا اللہ بھی ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہٰذا دلوں کے اندر ہدایت کی استعداد اور پھر طلب ہدایت اور اس راہ میں سعی کرنے سے ہدایت ملتی ہے۔ لیکن جو دل اللہ کی ہدایت کی استعداد ہی سے محروم ہوتے ہیں اور جو اس سمت میں حرکت ہی نہیں کرتے وہ اللہ سے اور ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد مومن دلوں کی ایک نہایت ہی شفاف تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کشی نہایت ہی اطمینان وقرار ، انس و محبت اور مسرت اور بشاشت کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔ الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (13 : 28) ” وہ جنہوں نے نبی کی دعوت کو مان لیا ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے متعلق ہیں۔ وہ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں اور اللہ کے ہاں مامون اور محفوظ ہیں۔ وہ تنہائی کی مشکلات سے بھی مطمئن ہوتے ہیں ، راہ حق کی پریشانیوں میں بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ اور وہ تخلیق کائنات ، اس کے آغاز اور انجام کے بارے میں بھی شفاف سوچ رکھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں ، وہ ہر ظلم ، ہر شر اور ہر زیادتی سے اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں الایہ کہ اللہ کی مشیت سے کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں اور اسے ابتلا سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ ہدایت ، رزق ، دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کے بارے میں بھی ان کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے وہ مطمئن ہوتے ہیں۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” بیشک اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے “۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کے ذکر سے جو اطمینان پیدا ہوتا ہے اس کا صحیح علم صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں ایمان کی بشاشت اور مٹھاس پیدا ہوجائے اور ان کو اللہ کا فضل حاصل ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگ اس ایمانی بشاشت اور طمانیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو الفاظ کے ذریعہ دوسرے لوگوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ایسے لوگوں تک جن کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کیونکہ یہ حقائق الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان دلوں میں سرایت کرتا ہے۔ ان کو سکون اور فرحت دیتا ہے ، ہمت دیتا ہے۔ وہ امن و سلامتی کا شعور پاتے ہیں۔ ایسے اہل معرفت محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، ان کو ایک پورا ماحول اپنا دوست اور یار نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کے اردگرد اللہ کی صنعت کاریاں ہوتی ہیں جبکہ خود صاحب معرفت اللہ ہی کی حمایت میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں سے بڑا بد بخت اس روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو تعلق باللہ کی وجہ سے اور ذکر الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انس و محبت سے بیخبر ہوں۔ اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے اوپر چلے پھرے اور اسے اپنے کائناتی ماحول سے کوئی انس و محبت نہ ہو۔ اس سے بڑا کوئی بدبخت نہ ہوگا جو اس دنیا میں چلے پھرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ کیوں آیا ہے اور کدھر جا رہا ہے ؟ اور اس کے اوپر زندگی کا یہ بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ اور اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو اس کرۂ ارض پر چلتا پھرتا ہو اور وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے اس لیے بدکتا ہو۔ اسے معلوم ہو کہ اس کے اور ہر چیز کے درمیان ایک نہایت ہی لطیف تعلق ہے ؟ اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو سفر حیات طے کر رہا ہے لیکن اکیلا ہے ، راندہ ہے ، گم کردہ راہ ہے اور پہاڑوں اور صحراؤں میں اکیلا پھر رہا ہے اور زندگی کا یہ کٹھن سفر وہ اکیلا بغیر گائیڈ کے ، بغیر انیس سفر کے اور بغیر ہادی و مددگار کے طے کر رہا ہے۔ اور اسے نشان منزل تک معلوم نہیں۔ یاد رکھو ! زندگی کے اس کٹھن سفر میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں ، نہایت ہی تاریک گھڑیاں جن کا مقابلہ صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ کا ہوگیا ہو ، جسے اللہ کی حمایت کا بھروسہ ہو ، ورنہ خواہ کوئی کس قدر طاقتور ، بہادر اور مستقل مزاج کیوں نہ ہو زندگی میں بعض ایسی تاریک گھڑیاں آتی ہیں کہ انسان کی تمام قوتیں جواب دے جاتی ہیں۔ آخری سہارا صرف تعلق باللہ کی قوت اور ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” خبردار ! ذکر الٰہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے “۔ یہ لوگ جو اللہ کی طرف جھکنے والے ہیں اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے مطمئن ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا انجام بہت ہی اچھا ہوگا کیونکہ انہوں نے اچھا طرز عمل اختیار کیا اور وہ اللہ کے مطیع فرمان رہے۔ الذین امنوا۔۔۔۔۔۔ ماب (13 : 29) ” جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول کیا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لئے اچھا انجام ہے۔ طوبیٰ طاب یطیب سے ہے بوزن کبریٰ ۔ یہ صیغہ تفخیم اور تعظیم کے لئے آتا ہے یعنی ان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا اچھا انجام اس خدا کے ہاں ہوگا جس کے وہ اپنی زندگی میں مطیع فرمان رہے۔ وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ایمان اطمینان کا شعور حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذہنی خلجان میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی اس ذہنی پریشانی کو دور کرنے کے لئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور اے پیغمبر آپ کسی قوم میں آنے والے پہلے رسول نہیں ہیں کہ ان لوگوں کے لئے یہ معاملہ ناقابل فہم ہوگیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی اقوام گزری ہیں اور کئی رسول گزرے ہیں۔ اگر یہ لوگ کفر پر تل گئے ہیں تو آپ اپنے منہاج پر کام کرتے رہیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔ کذلک ارسلنک ۔۔۔۔۔۔ والیہ متاب (13 : 30) ” اے نبی اسی شان سے ہم نے تم رسول بنا کر بھیجا۔ ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت ہی مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا طجا وماویٰ ہے “۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ رحمٰن کا کفر کرتے ہیں جس کی رحمت بہت ہی بڑی ہے۔ جس کے ذکر سے دل مطمئن ہوجاتے ہیں اور اس کی عظیم رحمت کا شعور ان میں پیدا ہوجاتا ہے۔ اے پیغمبر آپ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ جو وحی آپ کی طرف آتی ہے آپ ان لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔ آپ کے بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے ۔ اگر وہ کفر کے ارتکاب پر تل گئے ہیں تو اعلان کردیں کہ میرا بھروسہ تو صرف اللہ وحدہ پر ہے اور یہ کہ میں اسی کی طرف لوٹنے والا ہوں اور کسی اور کی طرف پناہ لینے کے لئے مجھے رجوع نہیں کرنا ہے۔ ہم نے آپ کو صرف یہ ڈیوٹی دی ہے کہ آپ قرآن کی دعوت لوگوں تک پہنچا دیں۔ یہ قرآن پڑھیں ، بذاب خود یہ کتاب اور یہ کلام بہت ہی عجائب اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر کسی قرآن کے ذریعہ پہاڑ چلائے جاتے ، یا زمین کے ٹکڑے کر دئیے جاتے ، یا اس کے ذریعہ مردے باتیں کرنے لگتے تو یہ باتین اس قرآن میں بھی ہوتیں اور اس کے ذریعے یہ مذکور معجزات ظہور پذیر ہوتے لیکن قرآن (ہر کتاب الٰہی) تو اس لیے نازل کیا جاتا ہے کہ عوام کو ان کی ڈیوٹیاں اور ان کے فرائض سے آگاہ کیا جائے ۔ اگر یہ مخاطبین اب کفر کرنے پر تل گئے ہیں اور ہرگز مان کر نہیں دیتے تو وقت آگیا ہے کہ مومنین ان سے مایوس ہوجائیں اور ان کو چھوڑ دیں کہ مکذبین کے ساتھ اللہ کا جو سلوک ہوتا ہے وہ آجائے۔ ولو ان قراناً ۔۔۔۔۔۔ یخلف المیعاد (13 : 31) ” اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین شق ہوجاتی ، یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے ) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن مجید کو قبول کیا اور اس کی کیفیات میں ڈوب گئے اس نے ان کے اندر اس قدر انقلاب برپا کردیا کہ پہاڑوں کے چلائے جانے ، زمین کے شق ہونے اور مردوں کے زندہ ہونے سے وہ بڑا معجزہ تھا۔ ان مذکور معجزات سے بھی ان لوگوں کی زندگیوں میں دور رس تبدیلی ہوئی اور بڑے معجزات رونما ہوئے۔ ان کی زندگی کی قدریں بدل دی گئیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں نے خود اس زمین کے چہرے کو بھی بدل کر رکھ دیا اور اسلام اور مسلمانوں نے اس کرۂ ارض کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ اس قرآن کی اثر آفرینی ، اس کی ذات اور طرز ادا میں ، اس کی دعوت اور فلسفے میں اس کے موضوعات کلام اور طرز کلام میں بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے۔ اس کے اندر کسی بڑے سے بڑے معجزے کے مقابلے میں بہت بڑی تاثیر ہے۔ اور اس کی اس معجزانہ شان سے وہی شخص واقف ہے جو ان معالی اور فلسفوں اور انداز تعبیر اور اسالیب کلام سے واقف ہو۔ اور ان کو ان چیزوں کے سمجھنے کی ذہنی قوت مدرکہ حاصل ہو۔ جن لوگوں نے اسے سمجھا ، اس پر عمل کیا اور اس کی کیفیات اور اس کے انوار میں ڈوبے انہوں نے پہاڑوں کے چلانے سے بھی بڑے معجزے کر دکھائے۔ قرآن مجید کے اثرات کے نتیجے میں تو اقوام اور نسلوں کے حالات اور سوچ کے دھارے بدل گئے۔ انہوں نے ان چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو زمین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں۔ فکری جمود اور رسم و رواج کا وہ جمود جو قرآن اور مسلمانوں نے توڑا وہ زمین اور پتھروں سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ انہوں نے ایسی اقوام کو زندہ کیا جو مردوں سے زیادہ مردہ تھیں۔ زندہ ہو کر بھی مردہ تھیں ، وہ اقوام جن کی روح کو وہم اور گمان نے قتل کردیا تھا۔ وہ بتان وہم و گمان کے پجاری تھے۔ عربوں کے اندر جو انقلاب رونما ہوا ، ان کی زندگی کے اندر جو تبدیلی نمودار ہوئی اور اس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں یہ کہ انقلاب صرف اور صرف قرآن کی وجہ سے آیا جس نے ان کی زندگی کا منہاج ہی بدل کر رکھ دیا تو کیا یہ انقلاب پہاڑوں کے چلنے ، زمین کے ٹکڑے ہونے اور مردوں کے گویا ہونے سے کوئی کم انقلاب تھا۔ بل للہ الامر جمیعاً (13 : 31) ” بلکہ سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے “۔ وہی ہے ، جو تحریک کی نوعیت کو اختیار کرتا ہے اور وہی ہے جو تحریک کے لئے وسائل اور ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اگر اس قرآن کو سن کر بھی کسی قوم کے دلوں میں حرکت اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا تو اہل ایمان جو ابھی ایسے دلوں کو حرکت میں لانے کی سعی کر رہے ہیں ان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے مایوس ہوجائیں ۔ ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کے اندر ہدایت کی استعداد پیدا کردیتا۔ اور انسانوں کو بھی اسی طرح ہدایت کی جبلت پر تخلیق کردیتا جس طرح فرشتوں کو اس نے ہدایت پر پیدا کیا ہے۔ یا لوگوں کو مجبور کر کے ہدایت کی راہ پر چلا دیتا لیکن اللہ نے انسانوں کے بارے میں نہ خیر کی اسکیم تیار کی اور نہ فرشتوں جیسی جبلت ان کو دی ۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اللہ کو معلوم تھا کہ انسان اس مقصد کے تقاضے کس طرح پورے کرسکتا ہے۔ لہٰذا چاہئے کہ لوگوں کو اب اللہ کے فیصلوں پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اللہ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ان اقوام عرب کو اس طرح نیست و نابود نہ کرے گا جس طرح بعض اقوام کو ہلاک کیا گیا تھا تو ان پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہتی ہے۔ یا ان کے گھروں کے قریب آتی رہتی ہے ۔ اور یہ لوگ وقتاً فوقتاً اللہ کے عذابوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض ان مصائب میں ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔ او تحل قریباً من دارھم (13 : 31) ” یا ان کے گھروں کے قریب نازل ہوتی ہے “۔ جس سے وہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور پھر وہ نہایت ہی قلق اور خوف سے انتظار کرتے ہیں کہ کہیں اس جیسی مصیبت دوبارہ نہ آجائے۔ بعض لوگ نرم بھی ہوجاتے ہیں ، ان میں ایک تحریک پیدا ہوتی ہے اور ان کو حقیقی زندگی مل جاتی ہے۔ حتی یاتیی وعداللہ (13 : 31) ” یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر شخص اس دن اس انجام سے دوچار ہونے والا ہے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اس بات کی مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں کہ اللہ مہلت دیتا ہے لیکن مہلت اور انتظار کے بعد اللہ کی پکڑ بھی آجاتی ہے۔ ولقد استھزیء۔۔۔۔۔۔ عقاب (13 : 32) ” اور تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ ۔ یہ ایک سوال ہے جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ عذاب ایسا رہا ہے کہ نسلیں اس کا چرچا کرتی رہیں۔ دوسرا مسئلہ شرکاء کا ہے۔ سورة کے حصہ اول میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں بھی ان بیچارون کا ذکر نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ کے ساتھ ان کا تقابل یوں کیا جاتا ہے کہ اللہ تو ہر تنفس پر قائم ہے ۔ وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور جو لوگ اللہ پر یہ افتراء باندھتے ہیں کہ اس کے شریک ہیں ان کو اس دنیا میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت تو بہت ہی شدید ہے۔ جبکہ اہل تقویٰ کے لئے امن و سلامتی انتظار کر رہی ہے۔

الرعد 13:30

آیت نمبر 27 تا 32 ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔ قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔ لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کی طرف میلان اور انابت نہیں رکھتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ، لہٰذا اللہ بھی ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہٰذا دلوں کے اندر ہدایت کی استعداد اور پھر طلب ہدایت اور اس راہ میں سعی کرنے سے ہدایت ملتی ہے۔ لیکن جو دل اللہ کی ہدایت کی استعداد ہی سے محروم ہوتے ہیں اور جو اس سمت میں حرکت ہی نہیں کرتے وہ اللہ سے اور ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد مومن دلوں کی ایک نہایت ہی شفاف تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کشی نہایت ہی اطمینان وقرار ، انس و محبت اور مسرت اور بشاشت کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔ الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (13 : 28) ” وہ جنہوں نے نبی کی دعوت کو مان لیا ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے متعلق ہیں۔ وہ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں اور اللہ کے ہاں مامون اور محفوظ ہیں۔ وہ تنہائی کی مشکلات سے بھی مطمئن ہوتے ہیں ، راہ حق کی پریشانیوں میں بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ اور وہ تخلیق کائنات ، اس کے آغاز اور انجام کے بارے میں بھی شفاف سوچ رکھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں ، وہ ہر ظلم ، ہر شر اور ہر زیادتی سے اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں الایہ کہ اللہ کی مشیت سے کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں اور اسے ابتلا سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ ہدایت ، رزق ، دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کے بارے میں بھی ان کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے وہ مطمئن ہوتے ہیں۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” بیشک اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے “۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کے ذکر سے جو اطمینان پیدا ہوتا ہے اس کا صحیح علم صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں ایمان کی بشاشت اور مٹھاس پیدا ہوجائے اور ان کو اللہ کا فضل حاصل ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگ اس ایمانی بشاشت اور طمانیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو الفاظ کے ذریعہ دوسرے لوگوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ایسے لوگوں تک جن کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کیونکہ یہ حقائق الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان دلوں میں سرایت کرتا ہے۔ ان کو سکون اور فرحت دیتا ہے ، ہمت دیتا ہے۔ وہ امن و سلامتی کا شعور پاتے ہیں۔ ایسے اہل معرفت محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، ان کو ایک پورا ماحول اپنا دوست اور یار نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کے اردگرد اللہ کی صنعت کاریاں ہوتی ہیں جبکہ خود صاحب معرفت اللہ ہی کی حمایت میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں سے بڑا بد بخت اس روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو تعلق باللہ کی وجہ سے اور ذکر الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انس و محبت سے بیخبر ہوں۔ اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے اوپر چلے پھرے اور اسے اپنے کائناتی ماحول سے کوئی انس و محبت نہ ہو۔ اس سے بڑا کوئی بدبخت نہ ہوگا جو اس دنیا میں چلے پھرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ کیوں آیا ہے اور کدھر جا رہا ہے ؟ اور اس کے اوپر زندگی کا یہ بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ اور اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو اس کرۂ ارض پر چلتا پھرتا ہو اور وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے اس لیے بدکتا ہو۔ اسے معلوم ہو کہ اس کے اور ہر چیز کے درمیان ایک نہایت ہی لطیف تعلق ہے ؟ اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو سفر حیات طے کر رہا ہے لیکن اکیلا ہے ، راندہ ہے ، گم کردہ راہ ہے اور پہاڑوں اور صحراؤں میں اکیلا پھر رہا ہے اور زندگی کا یہ کٹھن سفر وہ اکیلا بغیر گائیڈ کے ، بغیر انیس سفر کے اور بغیر ہادی و مددگار کے طے کر رہا ہے۔ اور اسے نشان منزل تک معلوم نہیں۔ یاد رکھو ! زندگی کے اس کٹھن سفر میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں ، نہایت ہی تاریک گھڑیاں جن کا مقابلہ صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ کا ہوگیا ہو ، جسے اللہ کی حمایت کا بھروسہ ہو ، ورنہ خواہ کوئی کس قدر طاقتور ، بہادر اور مستقل مزاج کیوں نہ ہو زندگی میں بعض ایسی تاریک گھڑیاں آتی ہیں کہ انسان کی تمام قوتیں جواب دے جاتی ہیں۔ آخری سہارا صرف تعلق باللہ کی قوت اور ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” خبردار ! ذکر الٰہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے “۔ یہ لوگ جو اللہ کی طرف جھکنے والے ہیں اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے مطمئن ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا انجام بہت ہی اچھا ہوگا کیونکہ انہوں نے اچھا طرز عمل اختیار کیا اور وہ اللہ کے مطیع فرمان رہے۔ الذین امنوا۔۔۔۔۔۔ ماب (13 : 29) ” جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول کیا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لئے اچھا انجام ہے۔ طوبیٰ طاب یطیب سے ہے بوزن کبریٰ ۔ یہ صیغہ تفخیم اور تعظیم کے لئے آتا ہے یعنی ان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا اچھا انجام اس خدا کے ہاں ہوگا جس کے وہ اپنی زندگی میں مطیع فرمان رہے۔ وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ایمان اطمینان کا شعور حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذہنی خلجان میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی اس ذہنی پریشانی کو دور کرنے کے لئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور اے پیغمبر آپ کسی قوم میں آنے والے پہلے رسول نہیں ہیں کہ ان لوگوں کے لئے یہ معاملہ ناقابل فہم ہوگیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی اقوام گزری ہیں اور کئی رسول گزرے ہیں۔ اگر یہ لوگ کفر پر تل گئے ہیں تو آپ اپنے منہاج پر کام کرتے رہیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔ کذلک ارسلنک ۔۔۔۔۔۔ والیہ متاب (13 : 30) ” اے نبی اسی شان سے ہم نے تم رسول بنا کر بھیجا۔ ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت ہی مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا طجا وماویٰ ہے “۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ رحمٰن کا کفر کرتے ہیں جس کی رحمت بہت ہی بڑی ہے۔ جس کے ذکر سے دل مطمئن ہوجاتے ہیں اور اس کی عظیم رحمت کا شعور ان میں پیدا ہوجاتا ہے۔ اے پیغمبر آپ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ جو وحی آپ کی طرف آتی ہے آپ ان لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔ آپ کے بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے ۔ اگر وہ کفر کے ارتکاب پر تل گئے ہیں تو اعلان کردیں کہ میرا بھروسہ تو صرف اللہ وحدہ پر ہے اور یہ کہ میں اسی کی طرف لوٹنے والا ہوں اور کسی اور کی طرف پناہ لینے کے لئے مجھے رجوع نہیں کرنا ہے۔ ہم نے آپ کو صرف یہ ڈیوٹی دی ہے کہ آپ قرآن کی دعوت لوگوں تک پہنچا دیں۔ یہ قرآن پڑھیں ، بذاب خود یہ کتاب اور یہ کلام بہت ہی عجائب اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر کسی قرآن کے ذریعہ پہاڑ چلائے جاتے ، یا زمین کے ٹکڑے کر دئیے جاتے ، یا اس کے ذریعہ مردے باتیں کرنے لگتے تو یہ باتین اس قرآن میں بھی ہوتیں اور اس کے ذریعے یہ مذکور معجزات ظہور پذیر ہوتے لیکن قرآن (ہر کتاب الٰہی) تو اس لیے نازل کیا جاتا ہے کہ عوام کو ان کی ڈیوٹیاں اور ان کے فرائض سے آگاہ کیا جائے ۔ اگر یہ مخاطبین اب کفر کرنے پر تل گئے ہیں اور ہرگز مان کر نہیں دیتے تو وقت آگیا ہے کہ مومنین ان سے مایوس ہوجائیں اور ان کو چھوڑ دیں کہ مکذبین کے ساتھ اللہ کا جو سلوک ہوتا ہے وہ آجائے۔ ولو ان قراناً ۔۔۔۔۔۔ یخلف المیعاد (13 : 31) ” اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین شق ہوجاتی ، یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے ) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن مجید کو قبول کیا اور اس کی کیفیات میں ڈوب گئے اس نے ان کے اندر اس قدر انقلاب برپا کردیا کہ پہاڑوں کے چلائے جانے ، زمین کے شق ہونے اور مردوں کے زندہ ہونے سے وہ بڑا معجزہ تھا۔ ان مذکور معجزات سے بھی ان لوگوں کی زندگیوں میں دور رس تبدیلی ہوئی اور بڑے معجزات رونما ہوئے۔ ان کی زندگی کی قدریں بدل دی گئیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں نے خود اس زمین کے چہرے کو بھی بدل کر رکھ دیا اور اسلام اور مسلمانوں نے اس کرۂ ارض کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ اس قرآن کی اثر آفرینی ، اس کی ذات اور طرز ادا میں ، اس کی دعوت اور فلسفے میں اس کے موضوعات کلام اور طرز کلام میں بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے۔ اس کے اندر کسی بڑے سے بڑے معجزے کے مقابلے میں بہت بڑی تاثیر ہے۔ اور اس کی اس معجزانہ شان سے وہی شخص واقف ہے جو ان معالی اور فلسفوں اور انداز تعبیر اور اسالیب کلام سے واقف ہو۔ اور ان کو ان چیزوں کے سمجھنے کی ذہنی قوت مدرکہ حاصل ہو۔ جن لوگوں نے اسے سمجھا ، اس پر عمل کیا اور اس کی کیفیات اور اس کے انوار میں ڈوبے انہوں نے پہاڑوں کے چلانے سے بھی بڑے معجزے کر دکھائے۔ قرآن مجید کے اثرات کے نتیجے میں تو اقوام اور نسلوں کے حالات اور سوچ کے دھارے بدل گئے۔ انہوں نے ان چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو زمین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں۔ فکری جمود اور رسم و رواج کا وہ جمود جو قرآن اور مسلمانوں نے توڑا وہ زمین اور پتھروں سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ انہوں نے ایسی اقوام کو زندہ کیا جو مردوں سے زیادہ مردہ تھیں۔ زندہ ہو کر بھی مردہ تھیں ، وہ اقوام جن کی روح کو وہم اور گمان نے قتل کردیا تھا۔ وہ بتان وہم و گمان کے پجاری تھے۔ عربوں کے اندر جو انقلاب رونما ہوا ، ان کی زندگی کے اندر جو تبدیلی نمودار ہوئی اور اس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں یہ کہ انقلاب صرف اور صرف قرآن کی وجہ سے آیا جس نے ان کی زندگی کا منہاج ہی بدل کر رکھ دیا تو کیا یہ انقلاب پہاڑوں کے چلنے ، زمین کے ٹکڑے ہونے اور مردوں کے گویا ہونے سے کوئی کم انقلاب تھا۔ بل للہ الامر جمیعاً (13 : 31) ” بلکہ سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے “۔ وہی ہے ، جو تحریک کی نوعیت کو اختیار کرتا ہے اور وہی ہے جو تحریک کے لئے وسائل اور ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اگر اس قرآن کو سن کر بھی کسی قوم کے دلوں میں حرکت اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا تو اہل ایمان جو ابھی ایسے دلوں کو حرکت میں لانے کی سعی کر رہے ہیں ان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے مایوس ہوجائیں ۔ ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کے اندر ہدایت کی استعداد پیدا کردیتا۔ اور انسانوں کو بھی اسی طرح ہدایت کی جبلت پر تخلیق کردیتا جس طرح فرشتوں کو اس نے ہدایت پر پیدا کیا ہے۔ یا لوگوں کو مجبور کر کے ہدایت کی راہ پر چلا دیتا لیکن اللہ نے انسانوں کے بارے میں نہ خیر کی اسکیم تیار کی اور نہ فرشتوں جیسی جبلت ان کو دی ۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اللہ کو معلوم تھا کہ انسان اس مقصد کے تقاضے کس طرح پورے کرسکتا ہے۔ لہٰذا چاہئے کہ لوگوں کو اب اللہ کے فیصلوں پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اللہ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ان اقوام عرب کو اس طرح نیست و نابود نہ کرے گا جس طرح بعض اقوام کو ہلاک کیا گیا تھا تو ان پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہتی ہے۔ یا ان کے گھروں کے قریب آتی رہتی ہے ۔ اور یہ لوگ وقتاً فوقتاً اللہ کے عذابوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض ان مصائب میں ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔ او تحل قریباً من دارھم (13 : 31) ” یا ان کے گھروں کے قریب نازل ہوتی ہے “۔ جس سے وہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور پھر وہ نہایت ہی قلق اور خوف سے انتظار کرتے ہیں کہ کہیں اس جیسی مصیبت دوبارہ نہ آجائے۔ بعض لوگ نرم بھی ہوجاتے ہیں ، ان میں ایک تحریک پیدا ہوتی ہے اور ان کو حقیقی زندگی مل جاتی ہے۔ حتی یاتیی وعداللہ (13 : 31) ” یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر شخص اس دن اس انجام سے دوچار ہونے والا ہے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اس بات کی مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں کہ اللہ مہلت دیتا ہے لیکن مہلت اور انتظار کے بعد اللہ کی پکڑ بھی آجاتی ہے۔ ولقد استھزیء۔۔۔۔۔۔ عقاب (13 : 32) ” اور تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ ۔ یہ ایک سوال ہے جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ عذاب ایسا رہا ہے کہ نسلیں اس کا چرچا کرتی رہیں۔ دوسرا مسئلہ شرکاء کا ہے۔ سورة کے حصہ اول میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں بھی ان بیچارون کا ذکر نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ کے ساتھ ان کا تقابل یوں کیا جاتا ہے کہ اللہ تو ہر تنفس پر قائم ہے ۔ وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور جو لوگ اللہ پر یہ افتراء باندھتے ہیں کہ اس کے شریک ہیں ان کو اس دنیا میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت تو بہت ہی شدید ہے۔ جبکہ اہل تقویٰ کے لئے امن و سلامتی انتظار کر رہی ہے۔

الرعد 13:31

آیت نمبر 27 تا 32 ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔ قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔ لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کی طرف میلان اور انابت نہیں رکھتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ، لہٰذا اللہ بھی ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہٰذا دلوں کے اندر ہدایت کی استعداد اور پھر طلب ہدایت اور اس راہ میں سعی کرنے سے ہدایت ملتی ہے۔ لیکن جو دل اللہ کی ہدایت کی استعداد ہی سے محروم ہوتے ہیں اور جو اس سمت میں حرکت ہی نہیں کرتے وہ اللہ سے اور ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد مومن دلوں کی ایک نہایت ہی شفاف تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کشی نہایت ہی اطمینان وقرار ، انس و محبت اور مسرت اور بشاشت کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔ الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (13 : 28) ” وہ جنہوں نے نبی کی دعوت کو مان لیا ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے متعلق ہیں۔ وہ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں اور اللہ کے ہاں مامون اور محفوظ ہیں۔ وہ تنہائی کی مشکلات سے بھی مطمئن ہوتے ہیں ، راہ حق کی پریشانیوں میں بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ اور وہ تخلیق کائنات ، اس کے آغاز اور انجام کے بارے میں بھی شفاف سوچ رکھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں ، وہ ہر ظلم ، ہر شر اور ہر زیادتی سے اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں الایہ کہ اللہ کی مشیت سے کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں اور اسے ابتلا سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ ہدایت ، رزق ، دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کے بارے میں بھی ان کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے وہ مطمئن ہوتے ہیں۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” بیشک اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے “۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کے ذکر سے جو اطمینان پیدا ہوتا ہے اس کا صحیح علم صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں ایمان کی بشاشت اور مٹھاس پیدا ہوجائے اور ان کو اللہ کا فضل حاصل ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگ اس ایمانی بشاشت اور طمانیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو الفاظ کے ذریعہ دوسرے لوگوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ایسے لوگوں تک جن کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کیونکہ یہ حقائق الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان دلوں میں سرایت کرتا ہے۔ ان کو سکون اور فرحت دیتا ہے ، ہمت دیتا ہے۔ وہ امن و سلامتی کا شعور پاتے ہیں۔ ایسے اہل معرفت محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، ان کو ایک پورا ماحول اپنا دوست اور یار نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کے اردگرد اللہ کی صنعت کاریاں ہوتی ہیں جبکہ خود صاحب معرفت اللہ ہی کی حمایت میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں سے بڑا بد بخت اس روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو تعلق باللہ کی وجہ سے اور ذکر الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انس و محبت سے بیخبر ہوں۔ اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے اوپر چلے پھرے اور اسے اپنے کائناتی ماحول سے کوئی انس و محبت نہ ہو۔ اس سے بڑا کوئی بدبخت نہ ہوگا جو اس دنیا میں چلے پھرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ کیوں آیا ہے اور کدھر جا رہا ہے ؟ اور اس کے اوپر زندگی کا یہ بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ اور اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو اس کرۂ ارض پر چلتا پھرتا ہو اور وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے اس لیے بدکتا ہو۔ اسے معلوم ہو کہ اس کے اور ہر چیز کے درمیان ایک نہایت ہی لطیف تعلق ہے ؟ اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو سفر حیات طے کر رہا ہے لیکن اکیلا ہے ، راندہ ہے ، گم کردہ راہ ہے اور پہاڑوں اور صحراؤں میں اکیلا پھر رہا ہے اور زندگی کا یہ کٹھن سفر وہ اکیلا بغیر گائیڈ کے ، بغیر انیس سفر کے اور بغیر ہادی و مددگار کے طے کر رہا ہے۔ اور اسے نشان منزل تک معلوم نہیں۔ یاد رکھو ! زندگی کے اس کٹھن سفر میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں ، نہایت ہی تاریک گھڑیاں جن کا مقابلہ صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ کا ہوگیا ہو ، جسے اللہ کی حمایت کا بھروسہ ہو ، ورنہ خواہ کوئی کس قدر طاقتور ، بہادر اور مستقل مزاج کیوں نہ ہو زندگی میں بعض ایسی تاریک گھڑیاں آتی ہیں کہ انسان کی تمام قوتیں جواب دے جاتی ہیں۔ آخری سہارا صرف تعلق باللہ کی قوت اور ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” خبردار ! ذکر الٰہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے “۔ یہ لوگ جو اللہ کی طرف جھکنے والے ہیں اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے مطمئن ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا انجام بہت ہی اچھا ہوگا کیونکہ انہوں نے اچھا طرز عمل اختیار کیا اور وہ اللہ کے مطیع فرمان رہے۔ الذین امنوا۔۔۔۔۔۔ ماب (13 : 29) ” جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول کیا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لئے اچھا انجام ہے۔ طوبیٰ طاب یطیب سے ہے بوزن کبریٰ ۔ یہ صیغہ تفخیم اور تعظیم کے لئے آتا ہے یعنی ان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا اچھا انجام اس خدا کے ہاں ہوگا جس کے وہ اپنی زندگی میں مطیع فرمان رہے۔ وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ایمان اطمینان کا شعور حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذہنی خلجان میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی اس ذہنی پریشانی کو دور کرنے کے لئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور اے پیغمبر آپ کسی قوم میں آنے والے پہلے رسول نہیں ہیں کہ ان لوگوں کے لئے یہ معاملہ ناقابل فہم ہوگیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی اقوام گزری ہیں اور کئی رسول گزرے ہیں۔ اگر یہ لوگ کفر پر تل گئے ہیں تو آپ اپنے منہاج پر کام کرتے رہیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔ کذلک ارسلنک ۔۔۔۔۔۔ والیہ متاب (13 : 30) ” اے نبی اسی شان سے ہم نے تم رسول بنا کر بھیجا۔ ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت ہی مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا طجا وماویٰ ہے “۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ رحمٰن کا کفر کرتے ہیں جس کی رحمت بہت ہی بڑی ہے۔ جس کے ذکر سے دل مطمئن ہوجاتے ہیں اور اس کی عظیم رحمت کا شعور ان میں پیدا ہوجاتا ہے۔ اے پیغمبر آپ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ جو وحی آپ کی طرف آتی ہے آپ ان لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔ آپ کے بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے ۔ اگر وہ کفر کے ارتکاب پر تل گئے ہیں تو اعلان کردیں کہ میرا بھروسہ تو صرف اللہ وحدہ پر ہے اور یہ کہ میں اسی کی طرف لوٹنے والا ہوں اور کسی اور کی طرف پناہ لینے کے لئے مجھے رجوع نہیں کرنا ہے۔ ہم نے آپ کو صرف یہ ڈیوٹی دی ہے کہ آپ قرآن کی دعوت لوگوں تک پہنچا دیں۔ یہ قرآن پڑھیں ، بذاب خود یہ کتاب اور یہ کلام بہت ہی عجائب اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر کسی قرآن کے ذریعہ پہاڑ چلائے جاتے ، یا زمین کے ٹکڑے کر دئیے جاتے ، یا اس کے ذریعہ مردے باتیں کرنے لگتے تو یہ باتین اس قرآن میں بھی ہوتیں اور اس کے ذریعے یہ مذکور معجزات ظہور پذیر ہوتے لیکن قرآن (ہر کتاب الٰہی) تو اس لیے نازل کیا جاتا ہے کہ عوام کو ان کی ڈیوٹیاں اور ان کے فرائض سے آگاہ کیا جائے ۔ اگر یہ مخاطبین اب کفر کرنے پر تل گئے ہیں اور ہرگز مان کر نہیں دیتے تو وقت آگیا ہے کہ مومنین ان سے مایوس ہوجائیں اور ان کو چھوڑ دیں کہ مکذبین کے ساتھ اللہ کا جو سلوک ہوتا ہے وہ آجائے۔ ولو ان قراناً ۔۔۔۔۔۔ یخلف المیعاد (13 : 31) ” اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین شق ہوجاتی ، یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے ) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن مجید کو قبول کیا اور اس کی کیفیات میں ڈوب گئے اس نے ان کے اندر اس قدر انقلاب برپا کردیا کہ پہاڑوں کے چلائے جانے ، زمین کے شق ہونے اور مردوں کے زندہ ہونے سے وہ بڑا معجزہ تھا۔ ان مذکور معجزات سے بھی ان لوگوں کی زندگیوں میں دور رس تبدیلی ہوئی اور بڑے معجزات رونما ہوئے۔ ان کی زندگی کی قدریں بدل دی گئیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں نے خود اس زمین کے چہرے کو بھی بدل کر رکھ دیا اور اسلام اور مسلمانوں نے اس کرۂ ارض کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ اس قرآن کی اثر آفرینی ، اس کی ذات اور طرز ادا میں ، اس کی دعوت اور فلسفے میں اس کے موضوعات کلام اور طرز کلام میں بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے۔ اس کے اندر کسی بڑے سے بڑے معجزے کے مقابلے میں بہت بڑی تاثیر ہے۔ اور اس کی اس معجزانہ شان سے وہی شخص واقف ہے جو ان معالی اور فلسفوں اور انداز تعبیر اور اسالیب کلام سے واقف ہو۔ اور ان کو ان چیزوں کے سمجھنے کی ذہنی قوت مدرکہ حاصل ہو۔ جن لوگوں نے اسے سمجھا ، اس پر عمل کیا اور اس کی کیفیات اور اس کے انوار میں ڈوبے انہوں نے پہاڑوں کے چلانے سے بھی بڑے معجزے کر دکھائے۔ قرآن مجید کے اثرات کے نتیجے میں تو اقوام اور نسلوں کے حالات اور سوچ کے دھارے بدل گئے۔ انہوں نے ان چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو زمین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں۔ فکری جمود اور رسم و رواج کا وہ جمود جو قرآن اور مسلمانوں نے توڑا وہ زمین اور پتھروں سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ انہوں نے ایسی اقوام کو زندہ کیا جو مردوں سے زیادہ مردہ تھیں۔ زندہ ہو کر بھی مردہ تھیں ، وہ اقوام جن کی روح کو وہم اور گمان نے قتل کردیا تھا۔ وہ بتان وہم و گمان کے پجاری تھے۔ عربوں کے اندر جو انقلاب رونما ہوا ، ان کی زندگی کے اندر جو تبدیلی نمودار ہوئی اور اس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں یہ کہ انقلاب صرف اور صرف قرآن کی وجہ سے آیا جس نے ان کی زندگی کا منہاج ہی بدل کر رکھ دیا تو کیا یہ انقلاب پہاڑوں کے چلنے ، زمین کے ٹکڑے ہونے اور مردوں کے گویا ہونے سے کوئی کم انقلاب تھا۔ بل للہ الامر جمیعاً (13 : 31) ” بلکہ سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے “۔ وہی ہے ، جو تحریک کی نوعیت کو اختیار کرتا ہے اور وہی ہے جو تحریک کے لئے وسائل اور ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اگر اس قرآن کو سن کر بھی کسی قوم کے دلوں میں حرکت اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا تو اہل ایمان جو ابھی ایسے دلوں کو حرکت میں لانے کی سعی کر رہے ہیں ان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے مایوس ہوجائیں ۔ ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کے اندر ہدایت کی استعداد پیدا کردیتا۔ اور انسانوں کو بھی اسی طرح ہدایت کی جبلت پر تخلیق کردیتا جس طرح فرشتوں کو اس نے ہدایت پر پیدا کیا ہے۔ یا لوگوں کو مجبور کر کے ہدایت کی راہ پر چلا دیتا لیکن اللہ نے انسانوں کے بارے میں نہ خیر کی اسکیم تیار کی اور نہ فرشتوں جیسی جبلت ان کو دی ۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اللہ کو معلوم تھا کہ انسان اس مقصد کے تقاضے کس طرح پورے کرسکتا ہے۔ لہٰذا چاہئے کہ لوگوں کو اب اللہ کے فیصلوں پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اللہ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ان اقوام عرب کو اس طرح نیست و نابود نہ کرے گا جس طرح بعض اقوام کو ہلاک کیا گیا تھا تو ان پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہتی ہے۔ یا ان کے گھروں کے قریب آتی رہتی ہے ۔ اور یہ لوگ وقتاً فوقتاً اللہ کے عذابوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض ان مصائب میں ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔ او تحل قریباً من دارھم (13 : 31) ” یا ان کے گھروں کے قریب نازل ہوتی ہے “۔ جس سے وہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور پھر وہ نہایت ہی قلق اور خوف سے انتظار کرتے ہیں کہ کہیں اس جیسی مصیبت دوبارہ نہ آجائے۔ بعض لوگ نرم بھی ہوجاتے ہیں ، ان میں ایک تحریک پیدا ہوتی ہے اور ان کو حقیقی زندگی مل جاتی ہے۔ حتی یاتیی وعداللہ (13 : 31) ” یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر شخص اس دن اس انجام سے دوچار ہونے والا ہے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اس بات کی مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں کہ اللہ مہلت دیتا ہے لیکن مہلت اور انتظار کے بعد اللہ کی پکڑ بھی آجاتی ہے۔ ولقد استھزیء۔۔۔۔۔۔ عقاب (13 : 32) ” اور تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ ۔ یہ ایک سوال ہے جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ عذاب ایسا رہا ہے کہ نسلیں اس کا چرچا کرتی رہیں۔ دوسرا مسئلہ شرکاء کا ہے۔ سورة کے حصہ اول میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں بھی ان بیچارون کا ذکر نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ کے ساتھ ان کا تقابل یوں کیا جاتا ہے کہ اللہ تو ہر تنفس پر قائم ہے ۔ وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور جو لوگ اللہ پر یہ افتراء باندھتے ہیں کہ اس کے شریک ہیں ان کو اس دنیا میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت تو بہت ہی شدید ہے۔ جبکہ اہل تقویٰ کے لئے امن و سلامتی انتظار کر رہی ہے۔

الرعد 13:32

آیت نمبر 27 تا 32 ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔ قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔ لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کی طرف میلان اور انابت نہیں رکھتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ، لہٰذا اللہ بھی ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہٰذا دلوں کے اندر ہدایت کی استعداد اور پھر طلب ہدایت اور اس راہ میں سعی کرنے سے ہدایت ملتی ہے۔ لیکن جو دل اللہ کی ہدایت کی استعداد ہی سے محروم ہوتے ہیں اور جو اس سمت میں حرکت ہی نہیں کرتے وہ اللہ سے اور ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد مومن دلوں کی ایک نہایت ہی شفاف تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کشی نہایت ہی اطمینان وقرار ، انس و محبت اور مسرت اور بشاشت کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔ الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (13 : 28) ” وہ جنہوں نے نبی کی دعوت کو مان لیا ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے متعلق ہیں۔ وہ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں اور اللہ کے ہاں مامون اور محفوظ ہیں۔ وہ تنہائی کی مشکلات سے بھی مطمئن ہوتے ہیں ، راہ حق کی پریشانیوں میں بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ اور وہ تخلیق کائنات ، اس کے آغاز اور انجام کے بارے میں بھی شفاف سوچ رکھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں ، وہ ہر ظلم ، ہر شر اور ہر زیادتی سے اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں الایہ کہ اللہ کی مشیت سے کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں اور اسے ابتلا سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ ہدایت ، رزق ، دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کے بارے میں بھی ان کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے وہ مطمئن ہوتے ہیں۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” بیشک اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے “۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کے ذکر سے جو اطمینان پیدا ہوتا ہے اس کا صحیح علم صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں ایمان کی بشاشت اور مٹھاس پیدا ہوجائے اور ان کو اللہ کا فضل حاصل ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگ اس ایمانی بشاشت اور طمانیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو الفاظ کے ذریعہ دوسرے لوگوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ایسے لوگوں تک جن کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کیونکہ یہ حقائق الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان دلوں میں سرایت کرتا ہے۔ ان کو سکون اور فرحت دیتا ہے ، ہمت دیتا ہے۔ وہ امن و سلامتی کا شعور پاتے ہیں۔ ایسے اہل معرفت محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، ان کو ایک پورا ماحول اپنا دوست اور یار نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کے اردگرد اللہ کی صنعت کاریاں ہوتی ہیں جبکہ خود صاحب معرفت اللہ ہی کی حمایت میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں سے بڑا بد بخت اس روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو تعلق باللہ کی وجہ سے اور ذکر الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انس و محبت سے بیخبر ہوں۔ اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے اوپر چلے پھرے اور اسے اپنے کائناتی ماحول سے کوئی انس و محبت نہ ہو۔ اس سے بڑا کوئی بدبخت نہ ہوگا جو اس دنیا میں چلے پھرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ کیوں آیا ہے اور کدھر جا رہا ہے ؟ اور اس کے اوپر زندگی کا یہ بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ اور اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو اس کرۂ ارض پر چلتا پھرتا ہو اور وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے اس لیے بدکتا ہو۔ اسے معلوم ہو کہ اس کے اور ہر چیز کے درمیان ایک نہایت ہی لطیف تعلق ہے ؟ اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو سفر حیات طے کر رہا ہے لیکن اکیلا ہے ، راندہ ہے ، گم کردہ راہ ہے اور پہاڑوں اور صحراؤں میں اکیلا پھر رہا ہے اور زندگی کا یہ کٹھن سفر وہ اکیلا بغیر گائیڈ کے ، بغیر انیس سفر کے اور بغیر ہادی و مددگار کے طے کر رہا ہے۔ اور اسے نشان منزل تک معلوم نہیں۔ یاد رکھو ! زندگی کے اس کٹھن سفر میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں ، نہایت ہی تاریک گھڑیاں جن کا مقابلہ صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ کا ہوگیا ہو ، جسے اللہ کی حمایت کا بھروسہ ہو ، ورنہ خواہ کوئی کس قدر طاقتور ، بہادر اور مستقل مزاج کیوں نہ ہو زندگی میں بعض ایسی تاریک گھڑیاں آتی ہیں کہ انسان کی تمام قوتیں جواب دے جاتی ہیں۔ آخری سہارا صرف تعلق باللہ کی قوت اور ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” خبردار ! ذکر الٰہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے “۔ یہ لوگ جو اللہ کی طرف جھکنے والے ہیں اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے مطمئن ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا انجام بہت ہی اچھا ہوگا کیونکہ انہوں نے اچھا طرز عمل اختیار کیا اور وہ اللہ کے مطیع فرمان رہے۔ الذین امنوا۔۔۔۔۔۔ ماب (13 : 29) ” جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول کیا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لئے اچھا انجام ہے۔ طوبیٰ طاب یطیب سے ہے بوزن کبریٰ ۔ یہ صیغہ تفخیم اور تعظیم کے لئے آتا ہے یعنی ان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا اچھا انجام اس خدا کے ہاں ہوگا جس کے وہ اپنی زندگی میں مطیع فرمان رہے۔ وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ایمان اطمینان کا شعور حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذہنی خلجان میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی اس ذہنی پریشانی کو دور کرنے کے لئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور اے پیغمبر آپ کسی قوم میں آنے والے پہلے رسول نہیں ہیں کہ ان لوگوں کے لئے یہ معاملہ ناقابل فہم ہوگیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی اقوام گزری ہیں اور کئی رسول گزرے ہیں۔ اگر یہ لوگ کفر پر تل گئے ہیں تو آپ اپنے منہاج پر کام کرتے رہیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔ کذلک ارسلنک ۔۔۔۔۔۔ والیہ متاب (13 : 30) ” اے نبی اسی شان سے ہم نے تم رسول بنا کر بھیجا۔ ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت ہی مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا طجا وماویٰ ہے “۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ رحمٰن کا کفر کرتے ہیں جس کی رحمت بہت ہی بڑی ہے۔ جس کے ذکر سے دل مطمئن ہوجاتے ہیں اور اس کی عظیم رحمت کا شعور ان میں پیدا ہوجاتا ہے۔ اے پیغمبر آپ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ جو وحی آپ کی طرف آتی ہے آپ ان لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔ آپ کے بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے ۔ اگر وہ کفر کے ارتکاب پر تل گئے ہیں تو اعلان کردیں کہ میرا بھروسہ تو صرف اللہ وحدہ پر ہے اور یہ کہ میں اسی کی طرف لوٹنے والا ہوں اور کسی اور کی طرف پناہ لینے کے لئے مجھے رجوع نہیں کرنا ہے۔ ہم نے آپ کو صرف یہ ڈیوٹی دی ہے کہ آپ قرآن کی دعوت لوگوں تک پہنچا دیں۔ یہ قرآن پڑھیں ، بذاب خود یہ کتاب اور یہ کلام بہت ہی عجائب اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر کسی قرآن کے ذریعہ پہاڑ چلائے جاتے ، یا زمین کے ٹکڑے کر دئیے جاتے ، یا اس کے ذریعہ مردے باتیں کرنے لگتے تو یہ باتین اس قرآن میں بھی ہوتیں اور اس کے ذریعے یہ مذکور معجزات ظہور پذیر ہوتے لیکن قرآن (ہر کتاب الٰہی) تو اس لیے نازل کیا جاتا ہے کہ عوام کو ان کی ڈیوٹیاں اور ان کے فرائض سے آگاہ کیا جائے ۔ اگر یہ مخاطبین اب کفر کرنے پر تل گئے ہیں اور ہرگز مان کر نہیں دیتے تو وقت آگیا ہے کہ مومنین ان سے مایوس ہوجائیں اور ان کو چھوڑ دیں کہ مکذبین کے ساتھ اللہ کا جو سلوک ہوتا ہے وہ آجائے۔ ولو ان قراناً ۔۔۔۔۔۔ یخلف المیعاد (13 : 31) ” اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین شق ہوجاتی ، یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے ) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن مجید کو قبول کیا اور اس کی کیفیات میں ڈوب گئے اس نے ان کے اندر اس قدر انقلاب برپا کردیا کہ پہاڑوں کے چلائے جانے ، زمین کے شق ہونے اور مردوں کے زندہ ہونے سے وہ بڑا معجزہ تھا۔ ان مذکور معجزات سے بھی ان لوگوں کی زندگیوں میں دور رس تبدیلی ہوئی اور بڑے معجزات رونما ہوئے۔ ان کی زندگی کی قدریں بدل دی گئیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں نے خود اس زمین کے چہرے کو بھی بدل کر رکھ دیا اور اسلام اور مسلمانوں نے اس کرۂ ارض کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ اس قرآن کی اثر آفرینی ، اس کی ذات اور طرز ادا میں ، اس کی دعوت اور فلسفے میں اس کے موضوعات کلام اور طرز کلام میں بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے۔ اس کے اندر کسی بڑے سے بڑے معجزے کے مقابلے میں بہت بڑی تاثیر ہے۔ اور اس کی اس معجزانہ شان سے وہی شخص واقف ہے جو ان معالی اور فلسفوں اور انداز تعبیر اور اسالیب کلام سے واقف ہو۔ اور ان کو ان چیزوں کے سمجھنے کی ذہنی قوت مدرکہ حاصل ہو۔ جن لوگوں نے اسے سمجھا ، اس پر عمل کیا اور اس کی کیفیات اور اس کے انوار میں ڈوبے انہوں نے پہاڑوں کے چلانے سے بھی بڑے معجزے کر دکھائے۔ قرآن مجید کے اثرات کے نتیجے میں تو اقوام اور نسلوں کے حالات اور سوچ کے دھارے بدل گئے۔ انہوں نے ان چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو زمین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں۔ فکری جمود اور رسم و رواج کا وہ جمود جو قرآن اور مسلمانوں نے توڑا وہ زمین اور پتھروں سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ انہوں نے ایسی اقوام کو زندہ کیا جو مردوں سے زیادہ مردہ تھیں۔ زندہ ہو کر بھی مردہ تھیں ، وہ اقوام جن کی روح کو وہم اور گمان نے قتل کردیا تھا۔ وہ بتان وہم و گمان کے پجاری تھے۔ عربوں کے اندر جو انقلاب رونما ہوا ، ان کی زندگی کے اندر جو تبدیلی نمودار ہوئی اور اس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں یہ کہ انقلاب صرف اور صرف قرآن کی وجہ سے آیا جس نے ان کی زندگی کا منہاج ہی بدل کر رکھ دیا تو کیا یہ انقلاب پہاڑوں کے چلنے ، زمین کے ٹکڑے ہونے اور مردوں کے گویا ہونے سے کوئی کم انقلاب تھا۔ بل للہ الامر جمیعاً (13 : 31) ” بلکہ سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے “۔ وہی ہے ، جو تحریک کی نوعیت کو اختیار کرتا ہے اور وہی ہے جو تحریک کے لئے وسائل اور ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اگر اس قرآن کو سن کر بھی کسی قوم کے دلوں میں حرکت اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا تو اہل ایمان جو ابھی ایسے دلوں کو حرکت میں لانے کی سعی کر رہے ہیں ان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے مایوس ہوجائیں ۔ ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کے اندر ہدایت کی استعداد پیدا کردیتا۔ اور انسانوں کو بھی اسی طرح ہدایت کی جبلت پر تخلیق کردیتا جس طرح فرشتوں کو اس نے ہدایت پر پیدا کیا ہے۔ یا لوگوں کو مجبور کر کے ہدایت کی راہ پر چلا دیتا لیکن اللہ نے انسانوں کے بارے میں نہ خیر کی اسکیم تیار کی اور نہ فرشتوں جیسی جبلت ان کو دی ۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اللہ کو معلوم تھا کہ انسان اس مقصد کے تقاضے کس طرح پورے کرسکتا ہے۔ لہٰذا چاہئے کہ لوگوں کو اب اللہ کے فیصلوں پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اللہ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ان اقوام عرب کو اس طرح نیست و نابود نہ کرے گا جس طرح بعض اقوام کو ہلاک کیا گیا تھا تو ان پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہتی ہے۔ یا ان کے گھروں کے قریب آتی رہتی ہے ۔ اور یہ لوگ وقتاً فوقتاً اللہ کے عذابوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض ان مصائب میں ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔ او تحل قریباً من دارھم (13 : 31) ” یا ان کے گھروں کے قریب نازل ہوتی ہے “۔ جس سے وہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور پھر وہ نہایت ہی قلق اور خوف سے انتظار کرتے ہیں کہ کہیں اس جیسی مصیبت دوبارہ نہ آجائے۔ بعض لوگ نرم بھی ہوجاتے ہیں ، ان میں ایک تحریک پیدا ہوتی ہے اور ان کو حقیقی زندگی مل جاتی ہے۔ حتی یاتیی وعداللہ (13 : 31) ” یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر شخص اس دن اس انجام سے دوچار ہونے والا ہے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اس بات کی مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں کہ اللہ مہلت دیتا ہے لیکن مہلت اور انتظار کے بعد اللہ کی پکڑ بھی آجاتی ہے۔ ولقد استھزیء۔۔۔۔۔۔ عقاب (13 : 32) ” اور تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ ۔ یہ ایک سوال ہے جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ عذاب ایسا رہا ہے کہ نسلیں اس کا چرچا کرتی رہیں۔ دوسرا مسئلہ شرکاء کا ہے۔ سورة کے حصہ اول میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں بھی ان بیچارون کا ذکر نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ کے ساتھ ان کا تقابل یوں کیا جاتا ہے کہ اللہ تو ہر تنفس پر قائم ہے ۔ وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور جو لوگ اللہ پر یہ افتراء باندھتے ہیں کہ اس کے شریک ہیں ان کو اس دنیا میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت تو بہت ہی شدید ہے۔ جبکہ اہل تقویٰ کے لئے امن و سلامتی انتظار کر رہی ہے۔

الرعد 13:33

آیت نمبر 33 تا 35 اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔ افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب کر رہا ہے ۔ کون ؟ اللہ۔ اب کون ہے جو مارے خوف کے کانپ نہیں اٹھتا جبکہ یہ تصور ہو بھی حقیقت نفس الامری۔ قرآن انسان قوائے مدرکہ کے سامنے اس معنوی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کرتا ہے ، کیونکہ انسان مجرد مفہومات کے مقابلے میں محسوس مناظر سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ جب صورت حالات یہ ہو تو پھر بھی یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ان لوگوں کی یہ حرکت اس منظر کی روشنی میں نہایت ہی مکروہ اور گھناؤنی نظر آتی ہے۔ اس منظر کو دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کے رویے پر تعجب کرنے لگتا ہے۔ وجعلوا للہ شرکاء (13 : 33) ” لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا رکھے ہیں “۔ حالانکہ اللہ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر شخص کی کمائی اس کی نظروں میں ہے ، کوئی چیز اللہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔ قل سموھم (13 : 33) ” کہو ، ذرا نام لو ان کے “۔ کیونکہ ان شریکوں کے جو نام بولے جاتے ہیں وہ نکرے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض بتوں اور شریکوں کے نام بھی ہوں لیکن انداز بیان محض تحکم اور حقارت کے انداز میں ان کو مجہول شخصیات تصور کر کے پوچھتا ہے کہ ذرا ان کے اصل نام تو لو۔ ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض (13 : 33) ” کیا تم اللہ کو ایک نئی خبر دیتے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے یعنی تم انسان ہو کر بھی ایک ایسی خبر رکھتے ہو جس کا علم اللہ کو اپنی مملکت میں نہیں۔ عجیب سوچ ہے یہ تمہاری۔ تم تو جانتے ہو کہ اللہ کے سوا اور الٰہ بھی ہیں اور اللہ کو اس کا پتہ نہیں ؟ جبکہ اس قسم کے دعویٰ کرنے کی جسارت یہ کفار بھی نہ کرتے تھے لیکن لسان الحال سے ان کا دعویٰ یہی تھا کہ اللہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں فلاں بھی الٰہ ہیں۔ ام بظاھر من القوم (13 : 33) ” یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے ، کہہ ڈالتے ہو “۔ تم لوگ دوسرے الہوں کے وجود کے قول محض سطحی بات کے طور پر کردیتے ہو اور اس بات کا کوئی مفہوم اور معنی نہیں ہوتا جبکہ مسئلہ الوہیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ محض سطحی باتوں سے ہوجائے اگر گپ شپ میں الوہیت اور توحید و شرک کے مسائل حل ہوجائیں۔ یہاں تک تو مذاقیہ جواب تھا۔ اب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر بات کی جاتی ہے۔ بل زین للذین۔۔۔۔۔ من ھاد (13 : 33) ” حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے “۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا۔ اپنے آپ سے دلائل ایمان کو چھپایا ، اپنے دل و دماغ کو دلائل ایمان و ہدایت سے مستور رکھا۔ اس لیے ان پر سنت الٰہیہ کا اطلاق برحق ہوگیا۔ ان کے نفوس نے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حق پر ہیں۔ اور یہ باور کرایا کہ ان کی مکاریاں اور حق کے خلاف ان کی تدابیر بہت اچھی اور کامیاب ہیں۔ اس طرح ان کے اس طرز عمل نے انہیں راہ حق سے روک دیا۔ جس شخص کو اللہ کے سنن ہدایت و ضلالت کے تحت گمراہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لئے پھر کوئی بھی ہادی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب کوئی فرد یا قوم سنن الٰہیہ کے اسباب فراہم کر دے تو پھر اللہ کی سنت اٹل ہوجاتی ہے۔ اور ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا (13 : 34) ” ایسے لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے “۔ اگر ان کو کوئی مصیبت آلے یا ان کے گھروں کے قریب ہی کوئی مصیبت نازل ہوجائے تو بھی ان کے لئے عذاب ہے کہ یہ لوگ ہر وقت اس خوف اور قلق میں رہیں گے کہ ابھی یہی مصیبت ہم پر ٹوٹنے والی ہے۔ نیز اگر کسی کا دل ایمان کے لئے خشک ہوجائے اور پتھر بن جائے تو یہ کیا تھوڑا عذاب ہے جبکہ ایسے بےایمان دل ہر وقت حیرت ، پریشانی اور بےچینی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کو حادثات پیش آتے رہتے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ ان پر یہ عذاب کیوں آگیا۔ ولعذاب الاخرۃ اشق (13 : 34) ” اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے “۔ یہاں آخرت کے عذاب کی سختیوں کی تفصیلات نہیں دی جاتیں تا کہ انسان خود اس کے بارے میں سوچ لے۔ وما لھم من اللہ من واق (13 : 34) ” کوئی ایسا نہیں جو انہیں خدا سے بچانے والا ہو۔ اللہ کی پکڑ سے چھڑا سکے اور اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ان پر جو عذاب بھی آئے گا وہ اسے جھیلتے رہیں گے۔ دوسری جانب اہل تقویٰ اور اہل ایمان ہیں۔ یہ کفار تو ایسے ہوں گے کہ اللہ کے عذاب سے ان کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ متقین وہ ہوں گے جنہوں نے ایمان ، صلاح کے ہتھیار سے اپنے نفوس کو بچایا۔ یہ لوگ عذاب سے مامون اور محفوظ ہوں گے ۔ بلکہ امن و سلامتی کے علاوہ ان کو رہائش کے لئے باغات ملیں گے۔ مثل الجنۃ۔۔۔۔۔ وظلھا (13 : 35) ” خدا ترس انسانوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال “۔ یہ ہے سازو سامان ان کے لئے اور یہ ہے ان کی تفریح اور خوشی۔ یہ منظر کہ گھنی چھاؤں ہے اور باغات ہیں اور ان میں دائمی پھل ہیں ایک نہایت ہی فرحت بخش منظر ہے جبکہ دوسری جانب جہنم کی مشقتیں ہیں۔ یہ عذاب اور یہ حیثیتیں ان لوگوں اور ان لوگوں کا قدرتی انجام ہیں۔ تلک عقبی الذین اتقوا وعقبی الکفرین النار (13 : 35) ” یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے “۔

الرعد 13:34

آیت نمبر 33 تا 35 اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔ افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب کر رہا ہے ۔ کون ؟ اللہ۔ اب کون ہے جو مارے خوف کے کانپ نہیں اٹھتا جبکہ یہ تصور ہو بھی حقیقت نفس الامری۔ قرآن انسان قوائے مدرکہ کے سامنے اس معنوی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کرتا ہے ، کیونکہ انسان مجرد مفہومات کے مقابلے میں محسوس مناظر سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ جب صورت حالات یہ ہو تو پھر بھی یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ان لوگوں کی یہ حرکت اس منظر کی روشنی میں نہایت ہی مکروہ اور گھناؤنی نظر آتی ہے۔ اس منظر کو دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کے رویے پر تعجب کرنے لگتا ہے۔ وجعلوا للہ شرکاء (13 : 33) ” لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا رکھے ہیں “۔ حالانکہ اللہ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر شخص کی کمائی اس کی نظروں میں ہے ، کوئی چیز اللہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔ قل سموھم (13 : 33) ” کہو ، ذرا نام لو ان کے “۔ کیونکہ ان شریکوں کے جو نام بولے جاتے ہیں وہ نکرے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض بتوں اور شریکوں کے نام بھی ہوں لیکن انداز بیان محض تحکم اور حقارت کے انداز میں ان کو مجہول شخصیات تصور کر کے پوچھتا ہے کہ ذرا ان کے اصل نام تو لو۔ ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض (13 : 33) ” کیا تم اللہ کو ایک نئی خبر دیتے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے یعنی تم انسان ہو کر بھی ایک ایسی خبر رکھتے ہو جس کا علم اللہ کو اپنی مملکت میں نہیں۔ عجیب سوچ ہے یہ تمہاری۔ تم تو جانتے ہو کہ اللہ کے سوا اور الٰہ بھی ہیں اور اللہ کو اس کا پتہ نہیں ؟ جبکہ اس قسم کے دعویٰ کرنے کی جسارت یہ کفار بھی نہ کرتے تھے لیکن لسان الحال سے ان کا دعویٰ یہی تھا کہ اللہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں فلاں بھی الٰہ ہیں۔ ام بظاھر من القوم (13 : 33) ” یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے ، کہہ ڈالتے ہو “۔ تم لوگ دوسرے الہوں کے وجود کے قول محض سطحی بات کے طور پر کردیتے ہو اور اس بات کا کوئی مفہوم اور معنی نہیں ہوتا جبکہ مسئلہ الوہیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ محض سطحی باتوں سے ہوجائے اگر گپ شپ میں الوہیت اور توحید و شرک کے مسائل حل ہوجائیں۔ یہاں تک تو مذاقیہ جواب تھا۔ اب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر بات کی جاتی ہے۔ بل زین للذین۔۔۔۔۔ من ھاد (13 : 33) ” حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے “۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا۔ اپنے آپ سے دلائل ایمان کو چھپایا ، اپنے دل و دماغ کو دلائل ایمان و ہدایت سے مستور رکھا۔ اس لیے ان پر سنت الٰہیہ کا اطلاق برحق ہوگیا۔ ان کے نفوس نے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حق پر ہیں۔ اور یہ باور کرایا کہ ان کی مکاریاں اور حق کے خلاف ان کی تدابیر بہت اچھی اور کامیاب ہیں۔ اس طرح ان کے اس طرز عمل نے انہیں راہ حق سے روک دیا۔ جس شخص کو اللہ کے سنن ہدایت و ضلالت کے تحت گمراہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لئے پھر کوئی بھی ہادی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب کوئی فرد یا قوم سنن الٰہیہ کے اسباب فراہم کر دے تو پھر اللہ کی سنت اٹل ہوجاتی ہے۔ اور ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا (13 : 34) ” ایسے لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے “۔ اگر ان کو کوئی مصیبت آلے یا ان کے گھروں کے قریب ہی کوئی مصیبت نازل ہوجائے تو بھی ان کے لئے عذاب ہے کہ یہ لوگ ہر وقت اس خوف اور قلق میں رہیں گے کہ ابھی یہی مصیبت ہم پر ٹوٹنے والی ہے۔ نیز اگر کسی کا دل ایمان کے لئے خشک ہوجائے اور پتھر بن جائے تو یہ کیا تھوڑا عذاب ہے جبکہ ایسے بےایمان دل ہر وقت حیرت ، پریشانی اور بےچینی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کو حادثات پیش آتے رہتے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ ان پر یہ عذاب کیوں آگیا۔ ولعذاب الاخرۃ اشق (13 : 34) ” اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے “۔ یہاں آخرت کے عذاب کی سختیوں کی تفصیلات نہیں دی جاتیں تا کہ انسان خود اس کے بارے میں سوچ لے۔ وما لھم من اللہ من واق (13 : 34) ” کوئی ایسا نہیں جو انہیں خدا سے بچانے والا ہو۔ اللہ کی پکڑ سے چھڑا سکے اور اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ان پر جو عذاب بھی آئے گا وہ اسے جھیلتے رہیں گے۔ دوسری جانب اہل تقویٰ اور اہل ایمان ہیں۔ یہ کفار تو ایسے ہوں گے کہ اللہ کے عذاب سے ان کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ متقین وہ ہوں گے جنہوں نے ایمان ، صلاح کے ہتھیار سے اپنے نفوس کو بچایا۔ یہ لوگ عذاب سے مامون اور محفوظ ہوں گے ۔ بلکہ امن و سلامتی کے علاوہ ان کو رہائش کے لئے باغات ملیں گے۔ مثل الجنۃ۔۔۔۔۔ وظلھا (13 : 35) ” خدا ترس انسانوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال “۔ یہ ہے سازو سامان ان کے لئے اور یہ ہے ان کی تفریح اور خوشی۔ یہ منظر کہ گھنی چھاؤں ہے اور باغات ہیں اور ان میں دائمی پھل ہیں ایک نہایت ہی فرحت بخش منظر ہے جبکہ دوسری جانب جہنم کی مشقتیں ہیں۔ یہ عذاب اور یہ حیثیتیں ان لوگوں اور ان لوگوں کا قدرتی انجام ہیں۔ تلک عقبی الذین اتقوا وعقبی الکفرین النار (13 : 35) ” یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے “۔

الرعد 13:35

آیت نمبر 33 تا 35 اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔ افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب کر رہا ہے ۔ کون ؟ اللہ۔ اب کون ہے جو مارے خوف کے کانپ نہیں اٹھتا جبکہ یہ تصور ہو بھی حقیقت نفس الامری۔ قرآن انسان قوائے مدرکہ کے سامنے اس معنوی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کرتا ہے ، کیونکہ انسان مجرد مفہومات کے مقابلے میں محسوس مناظر سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ جب صورت حالات یہ ہو تو پھر بھی یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ان لوگوں کی یہ حرکت اس منظر کی روشنی میں نہایت ہی مکروہ اور گھناؤنی نظر آتی ہے۔ اس منظر کو دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کے رویے پر تعجب کرنے لگتا ہے۔ وجعلوا للہ شرکاء (13 : 33) ” لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا رکھے ہیں “۔ حالانکہ اللہ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر شخص کی کمائی اس کی نظروں میں ہے ، کوئی چیز اللہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔ قل سموھم (13 : 33) ” کہو ، ذرا نام لو ان کے “۔ کیونکہ ان شریکوں کے جو نام بولے جاتے ہیں وہ نکرے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض بتوں اور شریکوں کے نام بھی ہوں لیکن انداز بیان محض تحکم اور حقارت کے انداز میں ان کو مجہول شخصیات تصور کر کے پوچھتا ہے کہ ذرا ان کے اصل نام تو لو۔ ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض (13 : 33) ” کیا تم اللہ کو ایک نئی خبر دیتے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے یعنی تم انسان ہو کر بھی ایک ایسی خبر رکھتے ہو جس کا علم اللہ کو اپنی مملکت میں نہیں۔ عجیب سوچ ہے یہ تمہاری۔ تم تو جانتے ہو کہ اللہ کے سوا اور الٰہ بھی ہیں اور اللہ کو اس کا پتہ نہیں ؟ جبکہ اس قسم کے دعویٰ کرنے کی جسارت یہ کفار بھی نہ کرتے تھے لیکن لسان الحال سے ان کا دعویٰ یہی تھا کہ اللہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں فلاں بھی الٰہ ہیں۔ ام بظاھر من القوم (13 : 33) ” یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے ، کہہ ڈالتے ہو “۔ تم لوگ دوسرے الہوں کے وجود کے قول محض سطحی بات کے طور پر کردیتے ہو اور اس بات کا کوئی مفہوم اور معنی نہیں ہوتا جبکہ مسئلہ الوہیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ محض سطحی باتوں سے ہوجائے اگر گپ شپ میں الوہیت اور توحید و شرک کے مسائل حل ہوجائیں۔ یہاں تک تو مذاقیہ جواب تھا۔ اب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر بات کی جاتی ہے۔ بل زین للذین۔۔۔۔۔ من ھاد (13 : 33) ” حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے “۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا۔ اپنے آپ سے دلائل ایمان کو چھپایا ، اپنے دل و دماغ کو دلائل ایمان و ہدایت سے مستور رکھا۔ اس لیے ان پر سنت الٰہیہ کا اطلاق برحق ہوگیا۔ ان کے نفوس نے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حق پر ہیں۔ اور یہ باور کرایا کہ ان کی مکاریاں اور حق کے خلاف ان کی تدابیر بہت اچھی اور کامیاب ہیں۔ اس طرح ان کے اس طرز عمل نے انہیں راہ حق سے روک دیا۔ جس شخص کو اللہ کے سنن ہدایت و ضلالت کے تحت گمراہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لئے پھر کوئی بھی ہادی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب کوئی فرد یا قوم سنن الٰہیہ کے اسباب فراہم کر دے تو پھر اللہ کی سنت اٹل ہوجاتی ہے۔ اور ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا (13 : 34) ” ایسے لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے “۔ اگر ان کو کوئی مصیبت آلے یا ان کے گھروں کے قریب ہی کوئی مصیبت نازل ہوجائے تو بھی ان کے لئے عذاب ہے کہ یہ لوگ ہر وقت اس خوف اور قلق میں رہیں گے کہ ابھی یہی مصیبت ہم پر ٹوٹنے والی ہے۔ نیز اگر کسی کا دل ایمان کے لئے خشک ہوجائے اور پتھر بن جائے تو یہ کیا تھوڑا عذاب ہے جبکہ ایسے بےایمان دل ہر وقت حیرت ، پریشانی اور بےچینی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کو حادثات پیش آتے رہتے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ ان پر یہ عذاب کیوں آگیا۔ ولعذاب الاخرۃ اشق (13 : 34) ” اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے “۔ یہاں آخرت کے عذاب کی سختیوں کی تفصیلات نہیں دی جاتیں تا کہ انسان خود اس کے بارے میں سوچ لے۔ وما لھم من اللہ من واق (13 : 34) ” کوئی ایسا نہیں جو انہیں خدا سے بچانے والا ہو۔ اللہ کی پکڑ سے چھڑا سکے اور اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ان پر جو عذاب بھی آئے گا وہ اسے جھیلتے رہیں گے۔ دوسری جانب اہل تقویٰ اور اہل ایمان ہیں۔ یہ کفار تو ایسے ہوں گے کہ اللہ کے عذاب سے ان کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ متقین وہ ہوں گے جنہوں نے ایمان ، صلاح کے ہتھیار سے اپنے نفوس کو بچایا۔ یہ لوگ عذاب سے مامون اور محفوظ ہوں گے ۔ بلکہ امن و سلامتی کے علاوہ ان کو رہائش کے لئے باغات ملیں گے۔ مثل الجنۃ۔۔۔۔۔ وظلھا (13 : 35) ” خدا ترس انسانوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال “۔ یہ ہے سازو سامان ان کے لئے اور یہ ہے ان کی تفریح اور خوشی۔ یہ منظر کہ گھنی چھاؤں ہے اور باغات ہیں اور ان میں دائمی پھل ہیں ایک نہایت ہی فرحت بخش منظر ہے جبکہ دوسری جانب جہنم کی مشقتیں ہیں۔ یہ عذاب اور یہ حیثیتیں ان لوگوں اور ان لوگوں کا قدرتی انجام ہیں۔ تلک عقبی الذین اتقوا وعقبی الکفرین النار (13 : 35) ” یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے “۔

الرعد 13:36

آیت نمبر 33 تا 35 اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔ افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب کر رہا ہے ۔ کون ؟ اللہ۔ اب کون ہے جو مارے خوف کے کانپ نہیں اٹھتا جبکہ یہ تصور ہو بھی حقیقت نفس الامری۔ قرآن انسان قوائے مدرکہ کے سامنے اس معنوی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کرتا ہے ، کیونکہ انسان مجرد مفہومات کے مقابلے میں محسوس مناظر سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ جب صورت حالات یہ ہو تو پھر بھی یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ان لوگوں کی یہ حرکت اس منظر کی روشنی میں نہایت ہی مکروہ اور گھناؤنی نظر آتی ہے۔ اس منظر کو دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کے رویے پر تعجب کرنے لگتا ہے۔ وجعلوا للہ شرکاء (13 : 33) ” لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا رکھے ہیں “۔ حالانکہ اللہ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر شخص کی کمائی اس کی نظروں میں ہے ، کوئی چیز اللہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔ قل سموھم (13 : 33) ” کہو ، ذرا نام لو ان کے “۔ کیونکہ ان شریکوں کے جو نام بولے جاتے ہیں وہ نکرے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض بتوں اور شریکوں کے نام بھی ہوں لیکن انداز بیان محض تحکم اور حقارت کے انداز میں ان کو مجہول شخصیات تصور کر کے پوچھتا ہے کہ ذرا ان کے اصل نام تو لو۔ ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض (13 : 33) ” کیا تم اللہ کو ایک نئی خبر دیتے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے یعنی تم انسان ہو کر بھی ایک ایسی خبر رکھتے ہو جس کا علم اللہ کو اپنی مملکت میں نہیں۔ عجیب سوچ ہے یہ تمہاری۔ تم تو جانتے ہو کہ اللہ کے سوا اور الٰہ بھی ہیں اور اللہ کو اس کا پتہ نہیں ؟ جبکہ اس قسم کے دعویٰ کرنے کی جسارت یہ کفار بھی نہ کرتے تھے لیکن لسان الحال سے ان کا دعویٰ یہی تھا کہ اللہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں فلاں بھی الٰہ ہیں۔ ام بظاھر من القوم (13 : 33) ” یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے ، کہہ ڈالتے ہو “۔ تم لوگ دوسرے الہوں کے وجود کے قول محض سطحی بات کے طور پر کردیتے ہو اور اس بات کا کوئی مفہوم اور معنی نہیں ہوتا جبکہ مسئلہ الوہیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ محض سطحی باتوں سے ہوجائے اگر گپ شپ میں الوہیت اور توحید و شرک کے مسائل حل ہوجائیں۔ یہاں تک تو مذاقیہ جواب تھا۔ اب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر بات کی جاتی ہے۔ بل زین للذین۔۔۔۔۔ من ھاد (13 : 33) ” حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے “۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا۔ اپنے آپ سے دلائل ایمان کو چھپایا ، اپنے دل و دماغ کو دلائل ایمان و ہدایت سے مستور رکھا۔ اس لیے ان پر سنت الٰہیہ کا اطلاق برحق ہوگیا۔ ان کے نفوس نے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حق پر ہیں۔ اور یہ باور کرایا کہ ان کی مکاریاں اور حق کے خلاف ان کی تدابیر بہت اچھی اور کامیاب ہیں۔ اس طرح ان کے اس طرز عمل نے انہیں راہ حق سے روک دیا۔ جس شخص کو اللہ کے سنن ہدایت و ضلالت کے تحت گمراہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لئے پھر کوئی بھی ہادی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب کوئی فرد یا قوم سنن الٰہیہ کے اسباب فراہم کر دے تو پھر اللہ کی سنت اٹل ہوجاتی ہے۔ اور ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا (13 : 34) ” ایسے لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے “۔ اگر ان کو کوئی مصیبت آلے یا ان کے گھروں کے قریب ہی کوئی مصیبت نازل ہوجائے تو بھی ان کے لئے عذاب ہے کہ یہ لوگ ہر وقت اس خوف اور قلق میں رہیں گے کہ ابھی یہی مصیبت ہم پر ٹوٹنے والی ہے۔ نیز اگر کسی کا دل ایمان کے لئے خشک ہوجائے اور پتھر بن جائے تو یہ کیا تھوڑا عذاب ہے جبکہ ایسے بےایمان دل ہر وقت حیرت ، پریشانی اور بےچینی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کو حادثات پیش آتے رہتے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ ان پر یہ عذاب کیوں آگیا۔ ولعذاب الاخرۃ اشق (13 : 34) ” اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے “۔ یہاں آخرت کے عذاب کی سختیوں کی تفصیلات نہیں دی جاتیں تا کہ انسان خود اس کے بارے میں سوچ لے۔ وما لھم من اللہ من واق (13 : 34) ” کوئی ایسا نہیں جو انہیں خدا سے بچانے والا ہو۔ اللہ کی پکڑ سے چھڑا سکے اور اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ان پر جو عذاب بھی آئے گا وہ اسے جھیلتے رہیں گے۔ دوسری جانب اہل تقویٰ اور اہل ایمان ہیں۔ یہ کفار تو ایسے ہوں گے کہ اللہ کے عذاب سے ان کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ متقین وہ ہوں گے جنہوں نے ایمان ، صلاح کے ہتھیار سے اپنے نفوس کو بچایا۔ یہ لوگ عذاب سے مامون اور محفوظ ہوں گے ۔ بلکہ امن و سلامتی کے علاوہ ان کو رہائش کے لئے باغات ملیں گے۔ مثل الجنۃ۔۔۔۔۔ وظلھا (13 : 35) ” خدا ترس انسانوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال “۔ یہ ہے سازو سامان ان کے لئے اور یہ ہے ان کی تفریح اور خوشی۔ یہ منظر کہ گھنی چھاؤں ہے اور باغات ہیں اور ان میں دائمی پھل ہیں ایک نہایت ہی فرحت بخش منظر ہے جبکہ دوسری جانب جہنم کی مشقتیں ہیں۔ یہ عذاب اور یہ حیثیتیں ان لوگوں اور ان لوگوں کا قدرتی انجام ہیں۔ تلک عقبی الذین اتقوا وعقبی الکفرین النار (13 : 35) ” یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے “۔

الرعد 13:37

اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا موقف ہے اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں خصوصاً اہل کتاب کی۔ نہ کسی چھوٹے معاملے میں اور نہ کسی بڑے معاملے میں۔ رہے وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں تو انہیں صاف صاف کہہ دو کہ میری ڈیوٹی دعوت پہنچانا ہے۔ جب معجزات کی ضرورت ہو تو اللہ کے اذن سے ان کا ظہور و صدور ہوتا ہے۔ آیت نمبر 36 تا 40 اہل کتاب میں سے جو سچے لوگ ہیں جو دین عیسیٰ کی بنیادی تعلیمات پر کاربند ہیں ، وہ جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو قرآن کی تعلیمات کو اپنی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ پاتے ہیں۔ مثلاً عقیدۂ توحید وغیرہ میں۔ نیز وہ دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید تمام ادیان سماوی اور تمام کتب سماوی کی حقانیت کا قائل ہے ، ان سب کا ذکر نہایت ہی احترام سے کرتا ہے اور یہ تصور دیتا ہے کہ تمام اہل ایمان خواہ نبی آخر الزمان کے مومن ہوں یا انبیائے سابقین کے مومن ہوں وہ ایک ہی جماعت اور ایک ہی امت ہیں اور ذات باری ان کا آمرہ ہے۔ ایسے لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کی کیفیت قلبی کو فرحت سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ جب کوئی شخص سچائی پاتا ہے تو اسے بہت ہی خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کی تصدیق جب قرآن میں پاتے ہیں تو ان کو عقیدہ اور بھی پختہ ہوجاتا ہے اور وہ قرآن پر ایمان لا کر اس تحریک کے حامی بن جاتے ہیں۔ ومن الاحزاب من ینکر بعضہ (13 : 36) ” اور مختلف گروہوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “۔ یعنی ان سے مراد اہل کتاب اور مشرکین کی بعض جماعتیں ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ کیونکہ مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں منکرین کا ذکر کر کے ان کا رد کردیا جائے۔ قل انما امرت۔۔۔۔۔ ماب (13 : 36) ” تم صاف کہہ دو کہ مجھے صاف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے “۔ یعنی بندگی بھی اسی کی ہے۔ دعوت بھی اللہ کی طرف ہے اور رجوع بھی صرف اللہ ہی کی طرف ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف واضح کردیں جو قرآنی تعلیمات میں سے بعض چیزوں کے منکر ہیں۔ یہ کہ وہ پوری کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے جو ان پر نازل ہوئی ہے چاہے اس پر اہل کتاب خوش ہوں یا ان میں سے کچھ لوگ ناراض ہوں کیونکہ جو کچھ ان پر نازل ہوا ہے وہ حکم اخیر ہے۔ سابقہ احکام منسوخ ہوگئے ہیں اور یہ کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی ہے اور اس کا مفہوم بھی واضح اور مکمل ہے کیونکہ اب یہ اللہ کا آخری پیغام ہے۔ اس لیے ہم نے اب اپنے تمام نظریات اس سے اخذ کرتے ہیں۔ وکذلک انزلنہ حکماً عربیاً (13 : 37) ” اس طرح ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے “۔ ولئن اتبعت۔۔۔۔ واق (13 : 37) ” اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے “۔ کیونکہ تمہارے پاس جو علم آرہا ہے وہ علم الیقین ہے ، اور دوسرے گروہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، علم و یقین پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ حکم حضرت نبی ﷺ کو تہدید آمیز الفاظ میں دیا گیا ہے۔ یہ انداز اس حقیقت کو ذہن نشین کرنے کے لئے زیادہ بلیغ طریقہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس معاملے میں قصامح کی کوئی گنجائش نہیں ہے یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کی اجازت نہیں حالانکہ رسول ﷺ سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی کو یہ اعتراض ہے کہ حضرت نبی ﷺ بشر ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمام رسول بشر ہی گزرے ہیں۔ ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ وذریۃ (13 : 38) ” تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا بنایا تھا “۔ اور اگر اعتراض یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوئی مادی معجزہ لے کر نہیں آئے۔ تو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ان کا کام ہی نہیں ہے ، یہ تو اللہ کا کام ہے۔ وما کان ۔۔۔۔۔ باذن اللہ (13 : 38) ” اور کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا “۔ اللہ اپنی حکمت کے مطابق ، جہاں ضرورت ہو وہاں خارق عادت معجزات کا صدور کرا دیتا ہے۔ ہاں اہل کتاب کو دی ہوئی کتابوں اور نبی آخر الزمان کو دی ہوئی کتاب میں بعض جزئیات کے حوالے سے اختلاف ضرور ہے۔ اس لیے کہ ہر دور کی کتاب الگ ہوتی ہے۔ لیکن یہ آخری کتاب ہے۔ لکل اجل کتاب۔۔۔۔۔۔۔ ام الکتب (13 : 38 – 39) ” ہر دور کے لئے ایک کتاب ہے ، اللہ جو کچھ چاہتا ہے ، مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتب ہے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا ہو تو وہ جس حکم کو چاہتا ہے ، مٹا دیتا ہے اور جو مفید ہو اسے قائم رکھتا ہے۔ تمام باتوں کی اصل کتاب اور سکیم اس کے پاس محفوظ ہے۔ جس کے اندر اس حذف اور فسخ اور نئے احکام کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ لہٰذا ! سب کتب اسی کی ہیں ، وہی اس میں تصرف اور فسخ کرتا ہے جہاں اور جب اس کی حکمت متقاضی ہو۔ اس کی مشیت کو نہ کوئی رد کرسکتا ہے اور نہ کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جس عذاب کی دھمکی دی اور جس برے انجام سے انہوں نے دوچار ہونا ہے ، چاہے حضور اکرم ﷺ کی موجودگی میں وہ اس انجام سے دو چار ہوں یا حضور اکرم ﷺ اس سے قبل ہی فوت ہوجائیں ، اس سے ان لوگوں کے انجام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے رسول کی رسالت اور باری تعالیٰ کی الوہیت پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وان ما نرینک۔۔۔۔۔ الحساب (13 : 40) ” اے نبی ﷺ جس برے انجام کی دھمکی ہم ان لوگوں کو دے رہے ہیں اس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھالیں ، بہرحال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے “۔ اس فیصلہ کن ہدایت میں ، تحریک اسلامی کی نوعیت اور تحریک کی لیڈر شپ کے لئے سامان بصیرت ہے ، لیڈر شپ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ہر مرحلے میں مناسب پالیسی اختیار کرے اور اپنا فریضہ سر انجام دے۔ ان کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ تحریک کو اس انجام تک پہنچائیں جہاں تک اسے اللہ پہنچانا چاہتا ہے۔ نیز ان کا یہ فریضہ بھی نہیں کہ وہ تحریکی اقدامات اور مراحل میں شتابی دکھائیں نہ ان کا یہ کام ہے کہ تحریک کی ناکامی کا اعلان کر کے مایوس ہوجائیں۔ جب لیڈر شپ دیکھے کہ اللہ کے فیصلے میں دیر ہو رہی ہے اور ان کو تمکن فی الارض نصیب نہیں ہو رہا ہے اور اقدار سے وہ ابھی دور ہیں تو پریشان نہ ہوں ، وہ تو صرف داعی ہیں ، محض داعی۔ اللہ کی قوت کے آثار تمہارے ماحول میں نظر آرہے ہیں۔ اللہ بڑی بڑی مضبوط اقوام کو پکڑتا ہے۔ وہ زوال کے گڑھے میں گرتی ہیں ، اس وقت جبکہ وہ زمین پر سرکشی اختیار کرتی ہیں اور فساد برپا کرتی ہیں۔ ایسی اقوام کی قوت میں کمی ہوتی ہے ، دولت میں کمی ہوتی ہے اور ان کی اہمیت کم ہوتی جاتی ہے۔ کسی وقت تو ان کی حکومت سے سورج غروب نہیں ہوتا لیکن بعد میں وہ سکڑ کر رہ جاتی ہیں اور جب اللہ کسی قوم کی شکست وخسارے کا فیصلہ کرتا ہے تو اللہ سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے اور اللہ کا فیصلہ نافذ ہوکر رہتا ہے۔

الرعد 13:38

اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا موقف ہے اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں خصوصاً اہل کتاب کی۔ نہ کسی چھوٹے معاملے میں اور نہ کسی بڑے معاملے میں۔ رہے وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں تو انہیں صاف صاف کہہ دو کہ میری ڈیوٹی دعوت پہنچانا ہے۔ جب معجزات کی ضرورت ہو تو اللہ کے اذن سے ان کا ظہور و صدور ہوتا ہے۔ آیت نمبر 36 تا 40 اہل کتاب میں سے جو سچے لوگ ہیں جو دین عیسیٰ کی بنیادی تعلیمات پر کاربند ہیں ، وہ جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو قرآن کی تعلیمات کو اپنی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ پاتے ہیں۔ مثلاً عقیدۂ توحید وغیرہ میں۔ نیز وہ دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید تمام ادیان سماوی اور تمام کتب سماوی کی حقانیت کا قائل ہے ، ان سب کا ذکر نہایت ہی احترام سے کرتا ہے اور یہ تصور دیتا ہے کہ تمام اہل ایمان خواہ نبی آخر الزمان کے مومن ہوں یا انبیائے سابقین کے مومن ہوں وہ ایک ہی جماعت اور ایک ہی امت ہیں اور ذات باری ان کا آمرہ ہے۔ ایسے لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کی کیفیت قلبی کو فرحت سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ جب کوئی شخص سچائی پاتا ہے تو اسے بہت ہی خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کی تصدیق جب قرآن میں پاتے ہیں تو ان کو عقیدہ اور بھی پختہ ہوجاتا ہے اور وہ قرآن پر ایمان لا کر اس تحریک کے حامی بن جاتے ہیں۔ ومن الاحزاب من ینکر بعضہ (13 : 36) ” اور مختلف گروہوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “۔ یعنی ان سے مراد اہل کتاب اور مشرکین کی بعض جماعتیں ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ کیونکہ مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں منکرین کا ذکر کر کے ان کا رد کردیا جائے۔ قل انما امرت۔۔۔۔۔ ماب (13 : 36) ” تم صاف کہہ دو کہ مجھے صاف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے “۔ یعنی بندگی بھی اسی کی ہے۔ دعوت بھی اللہ کی طرف ہے اور رجوع بھی صرف اللہ ہی کی طرف ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف واضح کردیں جو قرآنی تعلیمات میں سے بعض چیزوں کے منکر ہیں۔ یہ کہ وہ پوری کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے جو ان پر نازل ہوئی ہے چاہے اس پر اہل کتاب خوش ہوں یا ان میں سے کچھ لوگ ناراض ہوں کیونکہ جو کچھ ان پر نازل ہوا ہے وہ حکم اخیر ہے۔ سابقہ احکام منسوخ ہوگئے ہیں اور یہ کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی ہے اور اس کا مفہوم بھی واضح اور مکمل ہے کیونکہ اب یہ اللہ کا آخری پیغام ہے۔ اس لیے ہم نے اب اپنے تمام نظریات اس سے اخذ کرتے ہیں۔ وکذلک انزلنہ حکماً عربیاً (13 : 37) ” اس طرح ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے “۔ ولئن اتبعت۔۔۔۔ واق (13 : 37) ” اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے “۔ کیونکہ تمہارے پاس جو علم آرہا ہے وہ علم الیقین ہے ، اور دوسرے گروہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، علم و یقین پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ حکم حضرت نبی ﷺ کو تہدید آمیز الفاظ میں دیا گیا ہے۔ یہ انداز اس حقیقت کو ذہن نشین کرنے کے لئے زیادہ بلیغ طریقہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس معاملے میں قصامح کی کوئی گنجائش نہیں ہے یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کی اجازت نہیں حالانکہ رسول ﷺ سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی کو یہ اعتراض ہے کہ حضرت نبی ﷺ بشر ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمام رسول بشر ہی گزرے ہیں۔ ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ وذریۃ (13 : 38) ” تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا بنایا تھا “۔ اور اگر اعتراض یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوئی مادی معجزہ لے کر نہیں آئے۔ تو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ان کا کام ہی نہیں ہے ، یہ تو اللہ کا کام ہے۔ وما کان ۔۔۔۔۔ باذن اللہ (13 : 38) ” اور کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا “۔ اللہ اپنی حکمت کے مطابق ، جہاں ضرورت ہو وہاں خارق عادت معجزات کا صدور کرا دیتا ہے۔ ہاں اہل کتاب کو دی ہوئی کتابوں اور نبی آخر الزمان کو دی ہوئی کتاب میں بعض جزئیات کے حوالے سے اختلاف ضرور ہے۔ اس لیے کہ ہر دور کی کتاب الگ ہوتی ہے۔ لیکن یہ آخری کتاب ہے۔ لکل اجل کتاب۔۔۔۔۔۔۔ ام الکتب (13 : 38 – 39) ” ہر دور کے لئے ایک کتاب ہے ، اللہ جو کچھ چاہتا ہے ، مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتب ہے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا ہو تو وہ جس حکم کو چاہتا ہے ، مٹا دیتا ہے اور جو مفید ہو اسے قائم رکھتا ہے۔ تمام باتوں کی اصل کتاب اور سکیم اس کے پاس محفوظ ہے۔ جس کے اندر اس حذف اور فسخ اور نئے احکام کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ لہٰذا ! سب کتب اسی کی ہیں ، وہی اس میں تصرف اور فسخ کرتا ہے جہاں اور جب اس کی حکمت متقاضی ہو۔ اس کی مشیت کو نہ کوئی رد کرسکتا ہے اور نہ کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جس عذاب کی دھمکی دی اور جس برے انجام سے انہوں نے دوچار ہونا ہے ، چاہے حضور اکرم ﷺ کی موجودگی میں وہ اس انجام سے دو چار ہوں یا حضور اکرم ﷺ اس سے قبل ہی فوت ہوجائیں ، اس سے ان لوگوں کے انجام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے رسول کی رسالت اور باری تعالیٰ کی الوہیت پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وان ما نرینک۔۔۔۔۔ الحساب (13 : 40) ” اے نبی ﷺ جس برے انجام کی دھمکی ہم ان لوگوں کو دے رہے ہیں اس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھالیں ، بہرحال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے “۔ اس فیصلہ کن ہدایت میں ، تحریک اسلامی کی نوعیت اور تحریک کی لیڈر شپ کے لئے سامان بصیرت ہے ، لیڈر شپ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ہر مرحلے میں مناسب پالیسی اختیار کرے اور اپنا فریضہ سر انجام دے۔ ان کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ تحریک کو اس انجام تک پہنچائیں جہاں تک اسے اللہ پہنچانا چاہتا ہے۔ نیز ان کا یہ فریضہ بھی نہیں کہ وہ تحریکی اقدامات اور مراحل میں شتابی دکھائیں نہ ان کا یہ کام ہے کہ تحریک کی ناکامی کا اعلان کر کے مایوس ہوجائیں۔ جب لیڈر شپ دیکھے کہ اللہ کے فیصلے میں دیر ہو رہی ہے اور ان کو تمکن فی الارض نصیب نہیں ہو رہا ہے اور اقدار سے وہ ابھی دور ہیں تو پریشان نہ ہوں ، وہ تو صرف داعی ہیں ، محض داعی۔ اللہ کی قوت کے آثار تمہارے ماحول میں نظر آرہے ہیں۔ اللہ بڑی بڑی مضبوط اقوام کو پکڑتا ہے۔ وہ زوال کے گڑھے میں گرتی ہیں ، اس وقت جبکہ وہ زمین پر سرکشی اختیار کرتی ہیں اور فساد برپا کرتی ہیں۔ ایسی اقوام کی قوت میں کمی ہوتی ہے ، دولت میں کمی ہوتی ہے اور ان کی اہمیت کم ہوتی جاتی ہے۔ کسی وقت تو ان کی حکومت سے سورج غروب نہیں ہوتا لیکن بعد میں وہ سکڑ کر رہ جاتی ہیں اور جب اللہ کسی قوم کی شکست وخسارے کا فیصلہ کرتا ہے تو اللہ سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے اور اللہ کا فیصلہ نافذ ہوکر رہتا ہے۔

الرعد 13:39

اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا موقف ہے اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں خصوصاً اہل کتاب کی۔ نہ کسی چھوٹے معاملے میں اور نہ کسی بڑے معاملے میں۔ رہے وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں تو انہیں صاف صاف کہہ دو کہ میری ڈیوٹی دعوت پہنچانا ہے۔ جب معجزات کی ضرورت ہو تو اللہ کے اذن سے ان کا ظہور و صدور ہوتا ہے۔ آیت نمبر 36 تا 40 اہل کتاب میں سے جو سچے لوگ ہیں جو دین عیسیٰ کی بنیادی تعلیمات پر کاربند ہیں ، وہ جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو قرآن کی تعلیمات کو اپنی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ پاتے ہیں۔ مثلاً عقیدۂ توحید وغیرہ میں۔ نیز وہ دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید تمام ادیان سماوی اور تمام کتب سماوی کی حقانیت کا قائل ہے ، ان سب کا ذکر نہایت ہی احترام سے کرتا ہے اور یہ تصور دیتا ہے کہ تمام اہل ایمان خواہ نبی آخر الزمان کے مومن ہوں یا انبیائے سابقین کے مومن ہوں وہ ایک ہی جماعت اور ایک ہی امت ہیں اور ذات باری ان کا آمرہ ہے۔ ایسے لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کی کیفیت قلبی کو فرحت سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ جب کوئی شخص سچائی پاتا ہے تو اسے بہت ہی خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کی تصدیق جب قرآن میں پاتے ہیں تو ان کو عقیدہ اور بھی پختہ ہوجاتا ہے اور وہ قرآن پر ایمان لا کر اس تحریک کے حامی بن جاتے ہیں۔ ومن الاحزاب من ینکر بعضہ (13 : 36) ” اور مختلف گروہوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “۔ یعنی ان سے مراد اہل کتاب اور مشرکین کی بعض جماعتیں ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ کیونکہ مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں منکرین کا ذکر کر کے ان کا رد کردیا جائے۔ قل انما امرت۔۔۔۔۔ ماب (13 : 36) ” تم صاف کہہ دو کہ مجھے صاف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے “۔ یعنی بندگی بھی اسی کی ہے۔ دعوت بھی اللہ کی طرف ہے اور رجوع بھی صرف اللہ ہی کی طرف ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف واضح کردیں جو قرآنی تعلیمات میں سے بعض چیزوں کے منکر ہیں۔ یہ کہ وہ پوری کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے جو ان پر نازل ہوئی ہے چاہے اس پر اہل کتاب خوش ہوں یا ان میں سے کچھ لوگ ناراض ہوں کیونکہ جو کچھ ان پر نازل ہوا ہے وہ حکم اخیر ہے۔ سابقہ احکام منسوخ ہوگئے ہیں اور یہ کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی ہے اور اس کا مفہوم بھی واضح اور مکمل ہے کیونکہ اب یہ اللہ کا آخری پیغام ہے۔ اس لیے ہم نے اب اپنے تمام نظریات اس سے اخذ کرتے ہیں۔ وکذلک انزلنہ حکماً عربیاً (13 : 37) ” اس طرح ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے “۔ ولئن اتبعت۔۔۔۔ واق (13 : 37) ” اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے “۔ کیونکہ تمہارے پاس جو علم آرہا ہے وہ علم الیقین ہے ، اور دوسرے گروہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، علم و یقین پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ حکم حضرت نبی ﷺ کو تہدید آمیز الفاظ میں دیا گیا ہے۔ یہ انداز اس حقیقت کو ذہن نشین کرنے کے لئے زیادہ بلیغ طریقہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس معاملے میں قصامح کی کوئی گنجائش نہیں ہے یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کی اجازت نہیں حالانکہ رسول ﷺ سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی کو یہ اعتراض ہے کہ حضرت نبی ﷺ بشر ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمام رسول بشر ہی گزرے ہیں۔ ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ وذریۃ (13 : 38) ” تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا بنایا تھا “۔ اور اگر اعتراض یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوئی مادی معجزہ لے کر نہیں آئے۔ تو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ان کا کام ہی نہیں ہے ، یہ تو اللہ کا کام ہے۔ وما کان ۔۔۔۔۔ باذن اللہ (13 : 38) ” اور کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا “۔ اللہ اپنی حکمت کے مطابق ، جہاں ضرورت ہو وہاں خارق عادت معجزات کا صدور کرا دیتا ہے۔ ہاں اہل کتاب کو دی ہوئی کتابوں اور نبی آخر الزمان کو دی ہوئی کتاب میں بعض جزئیات کے حوالے سے اختلاف ضرور ہے۔ اس لیے کہ ہر دور کی کتاب الگ ہوتی ہے۔ لیکن یہ آخری کتاب ہے۔ لکل اجل کتاب۔۔۔۔۔۔۔ ام الکتب (13 : 38 – 39) ” ہر دور کے لئے ایک کتاب ہے ، اللہ جو کچھ چاہتا ہے ، مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتب ہے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا ہو تو وہ جس حکم کو چاہتا ہے ، مٹا دیتا ہے اور جو مفید ہو اسے قائم رکھتا ہے۔ تمام باتوں کی اصل کتاب اور سکیم اس کے پاس محفوظ ہے۔ جس کے اندر اس حذف اور فسخ اور نئے احکام کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ لہٰذا ! سب کتب اسی کی ہیں ، وہی اس میں تصرف اور فسخ کرتا ہے جہاں اور جب اس کی حکمت متقاضی ہو۔ اس کی مشیت کو نہ کوئی رد کرسکتا ہے اور نہ کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جس عذاب کی دھمکی دی اور جس برے انجام سے انہوں نے دوچار ہونا ہے ، چاہے حضور اکرم ﷺ کی موجودگی میں وہ اس انجام سے دو چار ہوں یا حضور اکرم ﷺ اس سے قبل ہی فوت ہوجائیں ، اس سے ان لوگوں کے انجام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے رسول کی رسالت اور باری تعالیٰ کی الوہیت پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وان ما نرینک۔۔۔۔۔ الحساب (13 : 40) ” اے نبی ﷺ جس برے انجام کی دھمکی ہم ان لوگوں کو دے رہے ہیں اس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھالیں ، بہرحال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے “۔ اس فیصلہ کن ہدایت میں ، تحریک اسلامی کی نوعیت اور تحریک کی لیڈر شپ کے لئے سامان بصیرت ہے ، لیڈر شپ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ہر مرحلے میں مناسب پالیسی اختیار کرے اور اپنا فریضہ سر انجام دے۔ ان کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ تحریک کو اس انجام تک پہنچائیں جہاں تک اسے اللہ پہنچانا چاہتا ہے۔ نیز ان کا یہ فریضہ بھی نہیں کہ وہ تحریکی اقدامات اور مراحل میں شتابی دکھائیں نہ ان کا یہ کام ہے کہ تحریک کی ناکامی کا اعلان کر کے مایوس ہوجائیں۔ جب لیڈر شپ دیکھے کہ اللہ کے فیصلے میں دیر ہو رہی ہے اور ان کو تمکن فی الارض نصیب نہیں ہو رہا ہے اور اقدار سے وہ ابھی دور ہیں تو پریشان نہ ہوں ، وہ تو صرف داعی ہیں ، محض داعی۔ اللہ کی قوت کے آثار تمہارے ماحول میں نظر آرہے ہیں۔ اللہ بڑی بڑی مضبوط اقوام کو پکڑتا ہے۔ وہ زوال کے گڑھے میں گرتی ہیں ، اس وقت جبکہ وہ زمین پر سرکشی اختیار کرتی ہیں اور فساد برپا کرتی ہیں۔ ایسی اقوام کی قوت میں کمی ہوتی ہے ، دولت میں کمی ہوتی ہے اور ان کی اہمیت کم ہوتی جاتی ہے۔ کسی وقت تو ان کی حکومت سے سورج غروب نہیں ہوتا لیکن بعد میں وہ سکڑ کر رہ جاتی ہیں اور جب اللہ کسی قوم کی شکست وخسارے کا فیصلہ کرتا ہے تو اللہ سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے اور اللہ کا فیصلہ نافذ ہوکر رہتا ہے۔

الرعد 13:40

اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا موقف ہے اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں خصوصاً اہل کتاب کی۔ نہ کسی چھوٹے معاملے میں اور نہ کسی بڑے معاملے میں۔ رہے وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں تو انہیں صاف صاف کہہ دو کہ میری ڈیوٹی دعوت پہنچانا ہے۔ جب معجزات کی ضرورت ہو تو اللہ کے اذن سے ان کا ظہور و صدور ہوتا ہے۔ آیت نمبر 36 تا 40 اہل کتاب میں سے جو سچے لوگ ہیں جو دین عیسیٰ کی بنیادی تعلیمات پر کاربند ہیں ، وہ جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو قرآن کی تعلیمات کو اپنی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ پاتے ہیں۔ مثلاً عقیدۂ توحید وغیرہ میں۔ نیز وہ دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید تمام ادیان سماوی اور تمام کتب سماوی کی حقانیت کا قائل ہے ، ان سب کا ذکر نہایت ہی احترام سے کرتا ہے اور یہ تصور دیتا ہے کہ تمام اہل ایمان خواہ نبی آخر الزمان کے مومن ہوں یا انبیائے سابقین کے مومن ہوں وہ ایک ہی جماعت اور ایک ہی امت ہیں اور ذات باری ان کا آمرہ ہے۔ ایسے لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کی کیفیت قلبی کو فرحت سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ جب کوئی شخص سچائی پاتا ہے تو اسے بہت ہی خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کی تصدیق جب قرآن میں پاتے ہیں تو ان کو عقیدہ اور بھی پختہ ہوجاتا ہے اور وہ قرآن پر ایمان لا کر اس تحریک کے حامی بن جاتے ہیں۔ ومن الاحزاب من ینکر بعضہ (13 : 36) ” اور مختلف گروہوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “۔ یعنی ان سے مراد اہل کتاب اور مشرکین کی بعض جماعتیں ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ کیونکہ مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں منکرین کا ذکر کر کے ان کا رد کردیا جائے۔ قل انما امرت۔۔۔۔۔ ماب (13 : 36) ” تم صاف کہہ دو کہ مجھے صاف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے “۔ یعنی بندگی بھی اسی کی ہے۔ دعوت بھی اللہ کی طرف ہے اور رجوع بھی صرف اللہ ہی کی طرف ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف واضح کردیں جو قرآنی تعلیمات میں سے بعض چیزوں کے منکر ہیں۔ یہ کہ وہ پوری کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے جو ان پر نازل ہوئی ہے چاہے اس پر اہل کتاب خوش ہوں یا ان میں سے کچھ لوگ ناراض ہوں کیونکہ جو کچھ ان پر نازل ہوا ہے وہ حکم اخیر ہے۔ سابقہ احکام منسوخ ہوگئے ہیں اور یہ کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی ہے اور اس کا مفہوم بھی واضح اور مکمل ہے کیونکہ اب یہ اللہ کا آخری پیغام ہے۔ اس لیے ہم نے اب اپنے تمام نظریات اس سے اخذ کرتے ہیں۔ وکذلک انزلنہ حکماً عربیاً (13 : 37) ” اس طرح ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے “۔ ولئن اتبعت۔۔۔۔ واق (13 : 37) ” اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے “۔ کیونکہ تمہارے پاس جو علم آرہا ہے وہ علم الیقین ہے ، اور دوسرے گروہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، علم و یقین پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ حکم حضرت نبی ﷺ کو تہدید آمیز الفاظ میں دیا گیا ہے۔ یہ انداز اس حقیقت کو ذہن نشین کرنے کے لئے زیادہ بلیغ طریقہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس معاملے میں قصامح کی کوئی گنجائش نہیں ہے یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کی اجازت نہیں حالانکہ رسول ﷺ سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی کو یہ اعتراض ہے کہ حضرت نبی ﷺ بشر ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمام رسول بشر ہی گزرے ہیں۔ ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ وذریۃ (13 : 38) ” تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا بنایا تھا “۔ اور اگر اعتراض یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوئی مادی معجزہ لے کر نہیں آئے۔ تو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ان کا کام ہی نہیں ہے ، یہ تو اللہ کا کام ہے۔ وما کان ۔۔۔۔۔ باذن اللہ (13 : 38) ” اور کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا “۔ اللہ اپنی حکمت کے مطابق ، جہاں ضرورت ہو وہاں خارق عادت معجزات کا صدور کرا دیتا ہے۔ ہاں اہل کتاب کو دی ہوئی کتابوں اور نبی آخر الزمان کو دی ہوئی کتاب میں بعض جزئیات کے حوالے سے اختلاف ضرور ہے۔ اس لیے کہ ہر دور کی کتاب الگ ہوتی ہے۔ لیکن یہ آخری کتاب ہے۔ لکل اجل کتاب۔۔۔۔۔۔۔ ام الکتب (13 : 38 – 39) ” ہر دور کے لئے ایک کتاب ہے ، اللہ جو کچھ چاہتا ہے ، مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتب ہے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا ہو تو وہ جس حکم کو چاہتا ہے ، مٹا دیتا ہے اور جو مفید ہو اسے قائم رکھتا ہے۔ تمام باتوں کی اصل کتاب اور سکیم اس کے پاس محفوظ ہے۔ جس کے اندر اس حذف اور فسخ اور نئے احکام کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ لہٰذا ! سب کتب اسی کی ہیں ، وہی اس میں تصرف اور فسخ کرتا ہے جہاں اور جب اس کی حکمت متقاضی ہو۔ اس کی مشیت کو نہ کوئی رد کرسکتا ہے اور نہ کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جس عذاب کی دھمکی دی اور جس برے انجام سے انہوں نے دوچار ہونا ہے ، چاہے حضور اکرم ﷺ کی موجودگی میں وہ اس انجام سے دو چار ہوں یا حضور اکرم ﷺ اس سے قبل ہی فوت ہوجائیں ، اس سے ان لوگوں کے انجام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے رسول کی رسالت اور باری تعالیٰ کی الوہیت پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وان ما نرینک۔۔۔۔۔ الحساب (13 : 40) ” اے نبی ﷺ جس برے انجام کی دھمکی ہم ان لوگوں کو دے رہے ہیں اس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھالیں ، بہرحال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے “۔ اس فیصلہ کن ہدایت میں ، تحریک اسلامی کی نوعیت اور تحریک کی لیڈر شپ کے لئے سامان بصیرت ہے ، لیڈر شپ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ہر مرحلے میں مناسب پالیسی اختیار کرے اور اپنا فریضہ سر انجام دے۔ ان کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ تحریک کو اس انجام تک پہنچائیں جہاں تک اسے اللہ پہنچانا چاہتا ہے۔ نیز ان کا یہ فریضہ بھی نہیں کہ وہ تحریکی اقدامات اور مراحل میں شتابی دکھائیں نہ ان کا یہ کام ہے کہ تحریک کی ناکامی کا اعلان کر کے مایوس ہوجائیں۔ جب لیڈر شپ دیکھے کہ اللہ کے فیصلے میں دیر ہو رہی ہے اور ان کو تمکن فی الارض نصیب نہیں ہو رہا ہے اور اقدار سے وہ ابھی دور ہیں تو پریشان نہ ہوں ، وہ تو صرف داعی ہیں ، محض داعی۔ اللہ کی قوت کے آثار تمہارے ماحول میں نظر آرہے ہیں۔ اللہ بڑی بڑی مضبوط اقوام کو پکڑتا ہے۔ وہ زوال کے گڑھے میں گرتی ہیں ، اس وقت جبکہ وہ زمین پر سرکشی اختیار کرتی ہیں اور فساد برپا کرتی ہیں۔ ایسی اقوام کی قوت میں کمی ہوتی ہے ، دولت میں کمی ہوتی ہے اور ان کی اہمیت کم ہوتی جاتی ہے۔ کسی وقت تو ان کی حکومت سے سورج غروب نہیں ہوتا لیکن بعد میں وہ سکڑ کر رہ جاتی ہیں اور جب اللہ کسی قوم کی شکست وخسارے کا فیصلہ کرتا ہے تو اللہ سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے اور اللہ کا فیصلہ نافذ ہوکر رہتا ہے۔

الرعد 13:41

آیت نمبر 41 یہ لوگ امم سابقہ سے مکاری ، تدابیر اور سیاست اور دھوکہ بازی میں زیادہ نہیں ہیں لیکن اللہ نے اس کے باوجود ان اقوام کو پکڑا کیونکہ اللہ کی قوت اور تدبیر ان سے زیادہ محکم تھی۔

الرعد 13:42

آیت نمبر 42 سورة کا خاتمہ اس بات کی نقل سے ہوتا ہے کہ کفار نے آپ کی رسالت کا صاف صاف انکار کردیا۔ اس سورة کا آغاز آپ کی رسالت کے مضمون سے ہوا تھا۔ یوں آغاز و انجام میں سورة کا مضمون اور محور بتا دیا گیا۔ اللہ یہاں خود شہادت دے رہے ہیں کہ اے پیغمبر ، آپ کی رسالت پر میں خود گواہ ہوں اور اللہ کی گواہی کے بعد کسی کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کتاب اور وحی و رسالت کے بارے میں وہی سب سے زیادہ علیم وخبیر ہے۔

الرعد 13:43

آیت نمبر 43 یہ سورة ختم ہوتی ہے ، اس نے انسانی دل کو پوری کائنات کی سیر کرائی اور نفس انسانی کی دنیا میں بھی گھمایا ، اور اس پر نہایت ہی گہرے اور وسیع اثرات ڈالے اور پھر دل مومن کو اس دلیل پر لا کر کھڑا کردیا کہ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے اس پر اللہ گواہ ہے اور یہ اللہ کی شہادت سورة کے آغاز میں بھی لائی گئی اور اختتام پر بھی لائی گئی۔ اللہ کی شہادت کے بعد کسی دعویٰ کے ثبوت کے لئے اور کیا شہادت درکار ہوگی۔ اللہ کی شہادت پر تو بات ختم ہوجاتی ہے۔ اس سورة کے خاتمہ پر یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اس سورة میں اسلامی نظریہ حیات اور جس منہاج پر قرآن نے اس نظریہ کو پیش کیا ہے اس پر غور کرنا ضروری ہے ، حق تو یہ تھا کہ جن آیات میں اس کو بیان کیا گیا ہے ، ہم وہاں ہی یہ تفصیل دے دیتے لیکن ہم نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ آیات کی تفسیر کے درمیان میں ایک تفصیلی بحث لا کر آیات کی روانی کو ختم کردیں۔ اس لیے ہم نے مناسب سمجھا کہ اس موضوع کو سورة کے آخر تک موکر کردیں۔ اسلامی نظریہ حیات اور اس کے منہاج کی طرف آیات کے ذیل میں ہم نے اشارات بہرحال کیے ہیں۔ یہاں سورة کے اختتام کے بعد اب مناسب ہے کہ قدرے مفصل بات رکھی جائے۔ واللہ المستعان ! اس سورة کا آغاز کلام ، اس کے موضوعات ، اور اس کے اندر دی جانے والی اکثر ہدایات یہ بتاتی ہیں کہ یہ سورة مکی ہے ، اور جس طرح بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ مدنی ہے ، درحقیقت یہ مدنی نہیں ہے۔ جس طرح بعض مصاحف میں بھی اسے مدنی لکھا گیا ہے ، ان کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة مکہ کے اس دور میں نازل ہوئی جس میں لوگ دعوت اسلامی سے سخت منہ موڑے ہوئے تھے۔ وہ جھٹلاتے تھے بلکہ دعوت اسلامی کو چیلنج دے رہے تھے۔ مثلاً یہ سورة بتاتی ہے کہ مشرکین بار بار معجزات طلب کرتے تھے ، اور یہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ ان پر جلدی نازل کیوں نہیں ہوتا۔ اس لیے اس بات کی ضرورت تھی کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں کو یہ مشورہ دیا جاتا کہ وہ گھبرائیں نہیں اور جس حق پر وہ ہیں اس پر جم جائیں۔ ان کے پاس جو دعوت ہے وہ چونکہ بلند دعوت ہے ، اس لیے اس کے ذریعہ وہ اس اعراض ، تکذیب اور اس چیلنج کا مقابلے کریں اور صرف اللہ سے دعا کریں کہ وہ ان کی مشکلات کو دور کر دے اور کھل کر اعلان کریں کہ اللہ وحدہ حاکم اور خالق ورب ہے ، اور اس موقف پر جم جائیں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ یہی حق ہے اگرچہ مشرکین اس کی تکذیب کریں۔ یہ سورة مشرکین کے سامنے یہ دلائل بھی رکھتی ہے جو اس کائنات میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں اور وہ دلائل بھی جو خود ان کے نفسوں میں ہیں۔ پھر تاریخ انسانیت اور اس کے اہم واقعات میں ہیں۔ غرض یہ اور اس قسم کے بیشمار دلائل ہیں جو اس سورة میں نہایت ہی موثر انداز میں پیش کئے گئے ہیں جن کے اثرات قلب پر گہرے پڑتے ہیں اور جن سے انسانی فکر کو بہت زیادہ غذا ملتی ہے۔ مثلاً اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب ہی حق ہے اور یہی سچائی ہے ، اگرچہ لوگ اس سے منہ موڑیں ، اس کو جھٹلائیں ، اسے چیلنج دیں ، اور اسے قبول کرنے میں دیر کریں۔ اس راہ کی مشکلات اس بات پر دلیل نہیں ہیں کہ یہ کتاب سچ نہیں ہے۔ المر تلک۔۔۔۔۔ یومنون (13 : 1) ” یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے ۔ مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے “۔ کذلک یضرب اللہ۔۔۔۔۔ الامثال ( 13 : 17) ” اسی مثال سے اللہ حق و باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے ، جو جھاگ ہے وہ اڑ جاتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لئے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے “۔ افمن یعلم۔۔۔۔۔۔۔ الالباب (13 : 19) ” بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رب کی اس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے ، اور وہ شخص جو اس حقیقت سے اندھا ہے ، دونوں یکساں ہوجائیں۔ نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں “۔ ویقول الذین۔۔۔۔۔۔ تطمئن القلوب (13 : 27 – 28) ” یہ لوگ جنہوں نے (رسالت محمدی کو ماننے سے ) انکار کردیا ہے۔ کہتے ہیں : ” اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی “۔ کہو ، اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے ، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اس کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے (دعوت اسلامی) کو مان لیا ہے ، اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ کذلک ارسلنک ۔۔۔۔۔۔ والیہ متاب (13 : 30) ” اے نبی ﷺ ، اسی شان سے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں ، تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے ، اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا ملجا وماویٰ ہے “۔ والذین اتینھم ۔۔۔۔۔۔ من ولی ولا واق (13 : 36- 37) ” اے نبی ﷺ ، جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی ، وہ اس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے ، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے۔ تم صاف کہہ دو کہ ” مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں ، لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے “۔ اسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے۔ اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے “۔ وان ما نرینک۔۔۔۔۔ الحساب (13 : 40 ) ” اور اے نبی ﷺ ، جس برے انجام کی دھمکی ہم ان لوگوں کو دے رہے ہیں اس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھالیں ، بہرحال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے “۔ ویقول الذین۔۔۔۔۔ علم الکتب (43) ” یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔ کہو ، ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے اور پھر اس شخص کی گواہی جو کتاب آسمانی کا علم رکھتا ہے “۔ ذرا ان آیات پر غور کیجئے ، ان سے محسوس ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ حضور اکرم ﷺ کی ذات اور اس قرآن کا کس طرح مقابلہ اور مزاحمت کر رہے تھے۔ اور ان حالات میں اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم نے مشرکین مکہ کے اس سخت موقف کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ ان آیات میں جو بات کھل کر اور واضح طور پر کہی گئی ہے وہ یہ ہے ، کہ لوگوں کے منہ موڑنے ، جھٹلانے ، ۔۔۔ کرنے ، مزاحمت کرنے اور دعوت کو نہایت سست رفتاری سے قبول کرنے اور دعوت کی راہ میں بےپناہ مشکلات کھڑی کرنے کی اس مشرکانہ پالیسی کے بالمقابل اللہ نے حضور اکرم ﷺ کو صاف صاف ہدایت دی کہ آپ ان سے دو ٹوک انداز میں بات کریں اور جو سچائی آپ پر نازل کی گئی ہے وہ صاف صاف بتائیں۔ دعوت اسلامی کے بنیادی نکات یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ اور خالق نہیں ، اس کے سوا کوئی حاکم اور قانون ساز نہیں ہے ، اس کے سوا کوئی بندگی اور اطاعت کے لائق نہیں ، وہی واحد اور قہار ہے ، سب لوگوں نے اس کے پاس جانا ہے یا جنت میں یا آگ میں ، اور یہی وہ نکاتے تھے جن کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان کی مزاحمت کرتے تھے۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا گیا کہ آپ اس سچائی میں سے بعض چیزوں کو چھپا کر یا بعض کے اعلان میں تاخیر کر کے ان مشرکین کی خوشنودی حاصل کرنے کی سعی نہ کریں۔ اس سلسلے میں حضور اکرم ﷺ کو کھلی دھمکی دی گئی کہ اگر آپ نے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی تو آپ کے لئے بھی اللہ کے ہاں سزا ہے ، کوئی آپ کو بچا نہیں سکے گا۔ یہ کھلا اشارہ ، بلکہ اعلان ان لوگوں کو صاف صاف بتاتا ہے ، جو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں ، کہ اس دعوت کا یہی منہاج ہے اور اس میں کسی اجتہاد کی ضرورت نہیں ہے ، نہ اس میں کوئی خاص حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ داعیوں کو چاہئے کہ وہ اس دعوت کے بنیادی نکات کا اعلان صاف صاف کریں۔ ان میں سے کسی نکتے کو حذف نہ کریں۔ نہ اس کو موخر کریں۔ ان بنیادی حقائق اور نکات میں سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ چونکہ الٰہ ، حام اور رب اور قانون ساز صرف اللہ ہے اس لیے اللہ کے سوا کسی اور شخص یا ارادے کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ حالات جیسے بھی ہوں ، مخالف قوتیں جس قدر بھی طاقتور اور سخت ہوں ، اس نکتے کا اعلان ضروری ہے۔ اگرچہ لوگ نہ مانتے ہوں ، منہ موڑتے ہوں ، یا راہ میں سخت سے سخت مشکلات حائل ہوں ، اور نہایت ہی خطرناک حالات ہوں۔ یہ بات نہ حکمت کے ضمن میں آتی ہے اور نہ موعظہ حسنہ کے ضمن میں آتی ہے کہ دعوت اسلامی کے کچھ نکات کو چھپا دیا جائے یا موخر کردیا جائے محض اس لیے کہ ملک کے اندر موجود طاغوتی قوتیں اس بات کو پسند نہیں کرتیں ، یا کارکنوں پر تشدد کرتی ہیں ، اعراض کرتی ہیں۔ یا داعیوں کے خلاف سازشیں کرتی ہیں ، کیونکہ ان وجوہات کی بنا پر داعیان حق کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اسلام کے ان اساسی نکات میں سے کسی کو ترک کردیں یا موخر کردیں۔ داعیان حق کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ایسے شعائر ، اخلاق اور اطوار اپنائیں یا روحانی اور اخلاقی اصلاح کی راہ اختیار کریں اور اللہ کی وحدانیت اور حاکمیت کا صاف اعلان ترک کردیں اور اس کے نتیجے میں صرف اسلامی نظام کی اطاعت کی دعوت اس لئے چھوڑ دیں کہ وہ ان طاغوتی قوتوں کے غضب اور انتقام سے بچ جائیں۔ یہ بات یاد رہے کہ اللہ نے اسلامی نظریہ حیات کے پیش کرنے کا منہاج یہی اور صرف یہی بتایا ہے ، اور یہی منہاج ہے جس پر اللہ کے حکم کے مطابق حضرت محمد ﷺ پوری زندگی میں چلتے رہے۔ نیز کسی بعد میں آنے والے داعی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے اس طریق کار کو ترک کر دے یا کوئی دوسرا طریق کار اختیار کرے۔ اللہ خود اپنے دین کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ وہ داعیوں کے بچانے کا بھی ذمہ دار ہے۔ اور خود سرکشوں کی ریشہ دوانیوں سے نمٹ لینے والا ہے۔ قرآن کریم نے دعوت اسلامی کا جو اسلوب اختیار کیا ہے اس میں وہ احکام اور ہدایات و دلائل بھی ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائے ہیں اور اس میں وہ دلائل ، شواہد اور اشارات بھی ہیں جو اس کائنات کی کھلی کتاب میں موجود اور مشاہد ہیں۔ قرآن کریم اس پوری کائنات کو انسانی شخصیت کے لئے موضوع غوروفکر قرار دیتا ہے اور یہ حکم دیتا ہے کہ اس کائنات کے اشارات کو اخذ کرو ، کیونکہ اس کائنات میں ایسے دلائل موجود ہیں جو اللہ کی تدبیر اور تقدیر کی طرف اشارات کرتے ہیں۔ پھر قرآن مجید وحی متلو اور کتاب کائنات کے ساتھ ، انسانی تاریخ کے اہم واقعات کو بھی ماخذ علم و ہدایت قرار دیتا ہے ۔ انسانی تاریخ میں دست قدرت کی تدبیر و تقدیر کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چناچہ قرآن انسان کو تاریخ کے سامنے بھی پیش کرتا ہے اور یہ حکم دیتا ہے کہ انسان اپنے حس و شعور اور قوت مدرکہ کو تاریخ پر غور کرنے کے لئے استعمال کرے۔ اب لیجئے اس کائنات کی کھلی کتاب کو ، یہ سورة اس کے کئی صفحات کو پیش کرتی ہے۔ اکثر مقامات پر آیات الٰہیہ قرآنیہ پیش کرنے کے بعد کتاب کائنات کو پیش کیا جاتا ہے۔ بعض نمونے ملاحظہ ہوں : المر تلک ایت۔۔۔۔۔ یومنون (13 : 1) ” یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں اور جو کچھ رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے “۔ اللہ الذی۔۔۔۔ توقنون (2) وھو الذی ۔۔۔۔۔ یتکفرون (3) وفی الارض۔۔۔۔۔ یعقلون (4) (13 : 2 تا 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمان کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں ، پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرماہوا۔ اس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا۔ اس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقت مقرر تک کے لئے چل رہی ہے اور اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے۔ وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو ، اور وہی ہے جس نے یہ زمین پھیلا رکھی ہے۔ اس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دئیے ہیں۔ اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کر دئیے ہیں اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے۔ ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں۔ ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر سے کام لیتے ہیں۔ اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں ، جو ایک دوسرے سے متصل واقعہ ہیں ، انگور کے باغ ہیں ، کھیتیاں ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دہرے ، سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے ، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر۔ ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ چناچہ اس پوری سورة میں اس کائنات سے ایسے مناظر پیش کئے جاتے ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اللہ اس کا خالق ، مالک اور حاکم ہے اور اس پوری کائنات کو وہ چلا رہا ہے۔ اور اس کے اندر اس کا نظام تقدیر چل رہا ہے ۔ اس کے بعد پھر قرآن کریم لوگوں کو نصیحت کرتا ہے۔ وہ ان تمام مشاہد ومناظر کو اچھی طرح دیکھتے ہیں اور پھر اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ اللہ دوبارہ تخلیق کرے گا۔ وحی کا انکار اس بنا پر کرتے ہیں کہ یہ قرآن بعث بعد الموت کا مدعی ہے۔ وان تعجب فعجب۔۔۔۔۔ خلدون (13 : 5) ” اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ ” جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے “۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے “۔ ھو الذی یریکم۔۔۔۔۔ الثقال (12) ویسبح الرعد۔۔۔۔ من یشاء (13) (13 : 12- 13) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے ، جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں۔ وہی تو ہے جو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے ، بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے ، اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے تسبیح کرتے ہیں۔ وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور بسا اوقات انہیں جس پر چاہتا ہے ، گرا دیتا ہے “۔ اللہ اس کائنات کے صفحات ان لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، حالانکہ وہ اللہ کی ربوبیت کے آثار رات دن مشاہدہ کرتے ہیں۔ اللہ کی قدرت اور اس کی سلطنت کے آثار ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں ، یہ دیکھتے ہیں کہ یہ پوری کائنات اس کی مطیع فرمان ہے۔ وہ اس کائنات کے اندر اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے تصرفات کرتا ہے اور اس کائنات میں اس کے سوا کوئی کسی قسم کا تصرف ، اور تدبیر و تقدیر نہیں کرسکتا۔ وھم یجادلون ۔۔۔۔۔۔ المحال (13) لہ دعوۃ الحق۔۔۔۔۔ فی ضلل (14) وللہ یسجد من ۔۔۔۔۔۔ والاصال (15) السجدہ ، قل من رب ۔۔۔۔۔۔ الواحد القھار (16) (13 : 13 تا 16) ” لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں ، فی الواقع اس کی چال بڑی زبردست ہے۔ اسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ انہیں پکارنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا ، حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرے ہدف ! وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً و کرھاً سجدہ کر رہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح و شام اس کے آگے جھکتے ہیں۔ ان سے پوچھو ، آسمان و زمین کا رب کون ہے ؟ کہو ، اللہ۔ پھر ان سے کہو کہ حقیقت یہ ہے تو کیا تم نے اسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھہرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ؟ کہو ، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے ؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں ؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اس کی وجہ سے ان پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہوگیا ؟ کہو ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے ، سب پر غالب ! “ یوں یہ کائنات دلائل قدرت اور اشارات ایمان کی ایک بھر پور نمائش گاہ بن جاتی ہے۔ یہ انسانی فطرت کو نہایت گہری اور جامع منطق اور سوچ عطا کرتی ہے۔ اور یہ کائنات پوری انسانی شخصیت سے مخاطب ہوتی ہے۔ اس کے تمام قوائے مدرکہ سے ہمکلام ہوتی ہے ، اور یہ مکالمہ عجیب ہے اور نہایت منطقی اور مرتب ہے۔ اس کے بعد قرآن کریم انسان کے غوروفکر کے لئے انسانی تاریخ کو پیش کرتا ہے ، انسان کو قرآن کریم یہ سکھاتا ہے کہ اس کی پوری زندگی اور اس کا بہاؤ، اللہ کے دست قدرت میں ہے ، اللہ حاکم ، قاہر ، مدبر اور مکمل کنٹرول کرنے والا ہے۔ ویستعجلونک بالسیئۃ۔۔۔۔۔۔ لشدید العقاب (13 : 6) ” یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لئے جلدی مچا رہے ہیں ، حالانکہ ان سے پہلے عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں اور بیشک تیرا رب بخشش والا ہے انسانوں کے لئے ان کے ظلم پر اور وہ سخت سزا دینے والا بھی ہے “۔ اللہ یعلم ۔۔۔۔۔ بمقدار (8) علم الغیب ۔۔۔۔۔ المتعال (9) سواء منکم ۔۔۔۔ بالنھار (10) لہ معقبت ۔۔۔۔۔ من وال (11) (13 : 8 تا 11) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے۔ وہ پوشیدہ اور ظاہر ، ہر چیز کا عالم ہے۔ وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالا تر رہنے والا ہے۔ تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں۔ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کئے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل لیتی اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی ، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہو سکتا ہے “۔ اللہ یبسط الرزق۔۔۔۔۔۔ الا متاع (13 : 26) ” اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں ، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ولا یزال۔۔۔۔۔ المیعاد (13) ولقد استھزئ۔۔۔۔۔ کان عقاب (32) (13 : 31- 32) ” جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ اور اللہ یقیناً اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “۔ اولم یروا۔۔۔۔ سریع الحساب (41) وقد مکر ۔۔۔۔ عقب الدار (42) (13 : 41-42) ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اس سرزمین پر چلے آرہے ہیں اور اس کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آتے ہیں ؟ اللہ حکومت کر رہا ہے۔ کوئی اس کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے اور اسے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ ان سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں وہ بھی بڑی بڑی چالیں چل چکے ہیں ، مگر اصل فیصلہ کن چال تو پوری کی پوری اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کمائی کر رہا ہے ، اور عنقریب یہ منکرین حق دیکھ لیں گے کہ انجام کس کا بخیر ہوتا ہے “۔ یوں قرآن کریم اپنے منہاج کے مطابق انسانی تاریخ سے شواہد اور بصیرت افروز دلائل پیش کرتا ہے اور ان کو اس قدر موثر بنا دیتا ہے کہ وہ مجموعی طور پر انسانی فطرت کو اپیل کرتے ہیں اور یہ دلائل نہایت منظم اور مرتب انداز میں پیش کئے جاتے ہیں۔ مذکورہ بالا تصریحات سے ہمیں ایک نشان راہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ دعوت اسلامی کا اہم نشان ہے۔ وہ یہ کہ قرآن کریم انسانی شخصیت کو ہمہ جہت اور ہمہ پہلو خطاب کرتا ہے۔ قرآن انسانی شخصیت کے کسی ایک پہلو کو خطاب نہیں کرتا مثلاً فکرو ذہن کا پہلو یا الہام و بصیرت کا پہلو ، یا احساسات اور شعور کا پہلو۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کریم کو دعوت اسلامی کی گائیڈ بک بنا لیں۔ داعی ہر مسئلہ کی تلاش تمام دوسرے ذرائع سے پہلے قرآن سے کرے ، اور قرآن سے معلوم کرے کہ وہ لوگوں کو دعوت کس اسلوب اور کس طریقے سے دے اور کس طرح مردہ دلوں کی زندگی دے اور کس طرح وہ بجھی ہوئی روحوں میں آگ لگائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس اللہ نے قرآن کو اتارا وہی خالق انسان ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسان کا مزاج کیسا ہے اور اس کی ساخت کیسی ہے۔ وہ انسانی نفسیات کے نشیب و فراز سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ان حضرت میں کہاں کہاں ٹیٹرھ ہے۔ پھر داعیوں کا یہ بھی فریضہ ہے کہ وہ اپنی دعوت کا آغاز اللہ کی وحدت الوہیت اور وحدت حاکمیت کے مسئلے سے کریں۔ اور یہ دعوت دیں کہ انسان پر اللہ کی بادشاہت کا قیام ضروری ہے اور ان داعیوں کا یہ بھی فریضہ ہے کہ وہ لوگوں کو رب تعالیٰ سے متعارف کرانے کا وہی طریقہ اختیار کریں جو قرآن نے اپنایا ہے اور یہی طریقہ حق اور سچ ہے۔ ان لوگوں کو اللہ کے دین اور نظام حیات پر لے آئیں اور ان سے تسلیم کرائیں کہ اللہ بھی وہی ہے اور ایک ہے اور رب بھی وہی ہے اور حاکم ہے اور نظام اور قانون بھی اسی کا چلے گا جو شریعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت کرانے کے لئے اور شرک کے ہر قسم کے شبہات کی مکمل نفی کے لئے قرآن کریم یہ تدبیر اختیار کرتا ہے کہ لوگوں کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی حقیقت بیان کردی جائے اور منصب رسالت کی صحیح تعریف پیش کردی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام سے پہلے اہل کتاب کے درمیان حقیقت الوہیت کو حقیقت نبوت کے درمیان خلط ملط کر کے فکری انحراف پیدا ہوگیا تھا۔ عیسائیوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ذات میں ذات باری کے خصائص اور حاکمیت الٰہیہ کے خصائص کا اضافہ کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے لاہوتی اور ناسوتی مباحث نے عیسائیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا تھا۔ ایک عرصہ تک کئی فرقے دست و گریبان ہوتے رہے۔ یہ اختلاط صرف عیسائیوں کے ہاں ہی نہ ہوا بلکہ اس میدان میں بیشمار بت پرستانہ مذاہب کو دھوکہ ہوا۔ نبوت کے تصورات ناقابل فہم ہوگئے۔ بعض لوگوں نے نبیوں کو جادوگروں سے جوڑ دیا۔ بعض نے نبی اور کشفی فلاسفہ کو ایک قرار دیا۔ بعض نے نبیوں اور جنوں کے درمیان رشتہ قائم کیا اور بعض نے نبیوں کو خفیہ ارواح کے ساتھ جوڑ دیا۔ عرب بت پرستوں میں ان میں سے اکثر باتیں پائی جاتی تھیں۔ اس لیے بعض لوگ نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ غیب کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ بعض یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ہمیں خارق عادت معجزات دکھائیں۔ بعض متعین مطالبے بھی تھے۔ بعض آپ پر جادوگر ہونے کا الزام لگاتے تھے اور بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ آپ پر جنوں کا اثر ہوگیا ہے اور آپ مجنون ہیں۔ بعض کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ کے ساتھ فرشتے ہوں۔ غرض اس قسم کے چیلنج اور مطالبے وہ کرتے تھے اور الزامات لگاتے تھے۔ یہ سب مطالبات اس لئے تھے کہ وہ نبوت کے بارے میں بت پرستانہ جاہلی تصور رکھتے تھے۔ چناچہ قرآن کریم نے نبی اور منصب نبوت کی اصلیت پر طویل کلام کیا اور یہ بتایا کہ رسول کی طبعی حیثیت کیا ہے اور رسالت کی ماہیت کیا ہے اور الوہیت کی حقیقت کیا ہے ؟ جو اللہ وحدہ لا شریک کی ذات میں ہے ، اور بندگی اور عبودیت کی حقیقت کیا جو ان تمام انواع و اقسام مخلوقات میں پائی جاتی ہے۔ یہ بندگی اور عبودیت انبیاء (علیہم السلام) کی شخصیات میں بھی ممثل ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) بھی اللہ کے صالح بندے ہیں۔ وہ بشر کے علاوہ کوئی اور مخلوق نہیں ہیں۔ ان کے اندر ان صفات میں سے کوئی صفت نہیں ہے جو الٰہی صفات ہیں اور ان کو جنات اور کسی اور خفیہ مخلوق کے ساتھ کوئی تعلق و نسبت نہیں ہے۔ بس فقط ان پر اللہ کی وحی آتی ہے اور اس اسلامی وحی کے ساتھ بھی ان کو کسی خارق عادت معجزہ کو ظاہر کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگر کوئی معجزہ صادر ہوتا ہے تو وہ اللہ کے اذن سے ہوتا ہے ، وہ انسانوں میں سے انسان ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اللہ نے ان کو منصب رسالت کے لئے منتخب کرلیا ہے اور نبی اور رسول منتخب ہونے کے بعد بھی وہ بشر اور بندے ہی رہے۔ چناچہ اس سورة میں کئی مقامات پر مقام رسالت اور طبیعت نبی کی وضاحت کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا کہ نبی اور رسول کے حدود کیا ہیں ، چناچہ بت پرستیوں نے نبی کی ذات کے ساتھ جن غلط تصورات و افکار کو وابستہ کردیا تھا ان کو صاف کیا گیا اور نبیوں کی طرف جن قصوں اور دیو مالائی کہانیوں کی نسبت کی جاتی تھی اس کی مکمل نفی کردی گئی۔ جن کی وجہ سے خصوصاً اہل کتاب کے افکار و عقائد میں فساد پیدا ہوا۔ چناچہ اس سورة نے ان اداروں کے اندر داخل شدہ بت پرستانہ اوہام اور کہانیوں کو مکمل طور پر صاف کردیا۔ یہ مباحث قرآن نے محض لاہوتی اور ناسوتی فلاسفی کے طور پر نہیں چھیڑے۔ نہ کسی فلسفیانہ علمی بحث کے طور پر ، بلکہ یہ مباحث اس وقت کے معاشرے میں اٹھنے والے عملی سوالات کے جواب میں آئے ہیں۔ اس لیے یہ جوابات عملی چیلنج کے جواب میں ایک رد عمل اور تحریک کے طور پر آئے ہیں اور یہ اس وقت برپا جہاد میں سے ایک عملی جہاد تھا ، مثلاً : ویقول الذین ۔۔۔۔ قوم ھاد (13 : 7) ” یہ لوگ جنہوں نے تمہاری بات ماننے سے انکار کردیا ہے کہتے ہیں کہ ” اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ؟ تم محض خبردار کردینے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک راہنما ہے “۔ ویقول الذین ۔۔۔۔ من اناب (13 : 27) ” یہ لوگ جنہوں نے انکار کردیا ، کہتے ہیں ” اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری “۔۔۔۔ کہو ، اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اس کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔ کذلک ارسلنک ۔۔۔۔۔ والیہ متاب (13 : 30) ” اے محمد ﷺ ! اسی شان سے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے ، ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں ، تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے اس حال میں کہ وہ اپنے نہایت مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا ملجا و ماویٰ ہے “۔ ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ اجل کتاب (13 : 38) ” تجھ سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں ، اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا ، اور کسی رسول کو بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا۔ ہر دور کے لئے ایک کتاب ہے “۔ وان ما نرینک ۔۔۔۔۔ وعلینا الحساب (13 : 40) ” اے نبی جس برے انجام کی دھمکی ہم ان لوگوں کو دے رہے ہیں ، اس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھا لیں بہرحال تمہارا کام صرف پیغام دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ رسالت کے منصب کی نوعیت اور رسول کے اختیارات کی حدود کو ان آیات میں نہایت اچھی طرح واضح کردیا جاتا ہے کہ رسول تو صرف ڈرانے والے ہیں ، اس کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ جو پیغام آپ تک آیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دے اور جو وحی آتی ہے اس کی تلاوت کرے۔ وہ کوئی معجزہ اللہ کے حکم کے بغیر نہیں پیش کرسکتا۔ وہ اللہ کے بندے ہیں ، اللہ ان کے بھی رب ہیں اور آپ نے بھی اللہ ہی کے سامنے جانا ہے۔ آپ دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہیں۔ آپ نے شادی کی اور آپ کی اولاد ہوئی اور آپ نے اپنی انسانیت اور بشریت کو اپنے تمام تقاضوں کے ساتھ برتا۔ جس طرح آپ نے اللہ کی عملاً بندگی کی اور بندگی کے تمام حقوق ادا کئے۔ قرآن نے مکمل صفائی کے ساتھ دنیا کی فضا سے منصب نبوت اور ذات انبیاء کے ساتھ وابستہ اوہام و خرافات کو صاف کیا اور یہ ابر آلود مطلع صاف ہوگیا۔ کلیسا نے نبی اور نبوت کے ساتھ اور مسیح اور ان کی والدہ کے ساتھ جو خود ساختہ عقائد متعلق کر دئیے تھے قرآن کریم نے ان کی نفی کردی۔ یا جس طرح دوسرے بت پرستانہ عقائد نے نبیوں کے ساتھ جو ادہام و خرافات وابستہ کر دئیے تھے قرآن نے ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ عیسائیت کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تو ایک سچے آسمانی دین کے رنگ میں پاک و صاف پیش کیا گیا تھا مگر ایک ہی صدی کے اندر عیسائیت ایک مکمل بت پرستانہ دین بن گیا حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو صرف اللہ کے بندے کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس نکتے پر بحث کے خاتمے سے قبل درج ذیل آیت پر غور کرنا ضروری ہے۔ وان مانرینک۔۔۔۔۔ الحساب (13 : 40) ” اور اے نبی ﷺ ! جس برے انجام کی دھمکی ہم ان لوگوں کو دے رہے ہیں اس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھالیں ، بہرحال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے “۔ یہ بات اس نبی سے کہی جا رہی ہے جس پر یہ قرآن وحی ہو کر نازل ہوا ہے۔ آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ خود یہ بات لوگوں کو بتائیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ دعوت دین کا انجام آپ کے اپنے اختیار میں نہیں ہے اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ خود آپ کے ہاتھوں ہی سے دین غالب ہو اور پھیل جائے۔ آپ کا فریضہ اس حد تک محدود ہے کہ آپ تبلیغ کریں ، ہدایت دینا یا نہ دینا اللہ کا کام ہے۔ اب یہ کام آپ کے جیتے جی ہوجائے یا اس سے پہلے آپ کو موت اپنی آغوش میں لے لے یہ امور آپ کے فرائض میں شامل نہیں۔ آپ کا فریضہ صرف یہ ہے کہ آپ یہ دعوت لوگوں تک پہنچا دیں۔ اس کے بعد حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ نبی ﷺ کے کچھ اختیارات لے لیے گئے اور آپ کی دعوت کو محدود کردیا گیا۔ کیونکہ حضور ﷺ کے فرائض ہی محدود ہیں اور فیصلہ کرنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)