Fi Zilal al-Quran — إبراهيم 14:1 – إبراهيم 14:52
Contents
- إبراهيم 14:1
- إبراهيم 14:2
- إبراهيم 14:3
- إبراهيم 14:4
- إبراهيم 14:5
- إبراهيم 14:6
- إبراهيم 14:7
- إبراهيم 14:8
- إبراهيم 14:9
- إبراهيم 14:10
- إبراهيم 14:11
- إبراهيم 14:12
- إبراهيم 14:13
- إبراهيم 14:14
- إبراهيم 14:15
- إبراهيم 14:16
- إبراهيم 14:17
- إبراهيم 14:18
- إبراهيم 14:19
- إبراهيم 14:20
- إبراهيم 14:21
- إبراهيم 14:22
- إبراهيم 14:23
- إبراهيم 14:24
- إبراهيم 14:25
- إبراهيم 14:26
- إبراهيم 14:27
- إبراهيم 14:28
- إبراهيم 14:29
- إبراهيم 14:30
- إبراهيم 14:31
- إبراهيم 14:32
- إبراهيم 14:33
- إبراهيم 14:34
- إبراهيم 14:35
- إبراهيم 14:36
- إبراهيم 14:37
- إبراهيم 14:38
- إبراهيم 14:39
- إبراهيم 14:40
- إبراهيم 14:41
- إبراهيم 14:42
- إبراهيم 14:43
- إبراهيم 14:44
- إبراهيم 14:45
- إبراهيم 14:46
- إبراهيم 14:47
- إبراهيم 14:48
- إبراهيم 14:49
- إبراهيم 14:50
- إبراهيم 14:51
- إبراهيم 14:52
إبراهيم 14:1
اب پہلے سورة کا حصہ اول۔
درس نمبر 114 تشریح آیات
1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27
آیت نمبر 1 تا 4
الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و خرافات کی تاریکیاں ، رسوم تقالید کی تاریکیاں ، ارباب متفرقہ کی بندگی اور کشاکش اور حیرت کی تاریکیاں ، جاہلی اقدار اور پیمانوں اور جاہلی خیالات و تصورات کی تاریکیوں سے تم انسانیت نکالو اور قرآن کی روشنی میں داخل کر دو ۔ ایسی روشنی جو فی الحقیقت ان تمام تاریکیوں کو دور کر دے۔ وہ عالم ضمیر کو روشن کر دے اور میدان فکر و نظر میں اجالا برپا کردے۔ زندگی کی عملی راہوں میں اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ افکار میں اجالا برپا کر دے۔
اللہ پر ایمان لانا ایک نور ہے جس سے دل روشن ہوجاتا ہے اور جس کا دل روشن ہوجائے اس کی پوری شخصیت اور اس کا بشری ڈھانچہ بھی منور ہوجاتا ہے اور انسانی شخصیت کے دونوں پہلو ، مٹی اور روح اللہ دونوں روشن ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب انسانی شخصیت اس روشنی سے خالی ہوجائے اور جس کے اندر سے یہ چراغ بجھ جائے تو پھر انسان تاریک مٹی کا ایک ڈھیر ہوتا ہے اور خون اور گوشت کی شکل میں ایک کیچڑ ہوتا ہے۔ کیونکہ گوشت اور خون پوری طرح زمین کے مادی عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نور نہ ہو جو روح اللہ سے پھوٹتا ہے اور اس کے اندر ایمان اپنی شفاف صیقل شدہ صورت میں موجود ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ سیاہ مادہ شفاف اور چمکدار ہوجاتا ہے اور پھر یہ سیاہ کیچڑ ایک شفاف شیشہ ہوجاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ ایک ایسا نور ہے جس کے ساتھ نفس انسانی چمک اٹھتا ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی راہ متعین کرسکتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف راہ بالکل واضح نظر آتی ہے۔ اس راہ میں نہ دھند ہوتی ہے اور نہ غبار۔ اوہام و خرافات کا غبار ، لالچ اور خواہشات کا غبار اور جب نفس انسانی راہ دیکھ لے اور صاف صاف نظر آنے لگے تو پھر ایسی راہ میں کوئی ٹھوکر اور کوئی اضطراب نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی تردد ہوتا ہے اور نہ کوئی حیرانگی ہوتی ہے۔
پھر اللہ پر پختہ ایمان ایک ایسا نور ہے جس سے پوری زندگی چمک اٹھتی ہے۔ تمام لوگ اللہ کے مساوی بندے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ربط اور رشتہ خدائی رشتہ ہوتا ہے۔ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کرتے ہیں۔ اب ان میں آقا اور غلام کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ان کو اس پوری کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پوری کائنات سے بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ پوری کائنات ایک ناموس الٰہی اور قانون قدرت کے ساتھ چلتی ہے اس لیے وہ اس پوری کائنات ، اس کے اندر موجود پوری مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اس لیے کہ سب کے سب اللہ کے مخلوق ہیں۔
پھر ایمان ایک نور ہے ، انصاف کی روشنی ہے ، آزادی کی روشنی ہے۔ علم و معرفت کی روشنی ہے ، اللہ کے لئے محبت کی روشنی ہے۔ اللہ کے عدل ، حکمت اور رحمت پر اعتماد کی روشنی ہے۔ خواہ مشکلات ہوں یا مسرتیں ہوں یہ ایمان مشکلات میں صبر پر آمادہ کرتا ہے اور مسرتوں میں شکر رب کی تعلیم دینا ہے اور آزمائش میں حکمت و تجربہ عطا کرتا ہے۔
صرف اللہ پر ایمان کہ وہی الٰہ اور رب ہے ، یہ ایمان ایک نظام زندگی بھی ہے۔ فقط عقیدہ اور تصور ہی نہیں ہے جو دل کو روشن کرتا ہے۔ یہ نظام زندگی صرف اللہ کی بندگی کے اصول پر قائم ہے۔ جس میں صرف اللہ کی ربوبیت کا عقیدہ ہوتا ہے۔ اور تمام دوسری ربوبیتوں کا افکار ہوتا ہے ، جس کے اندر برتری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہوتی ہے ۔ وہی حاکم ہوتا ہے اور سب اس کے بندے ہوتے ہیں۔
اس نظام زندگی میں انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہے ، اس میں انسان کی ضروری اور لابدی حاجات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ایسی حاجات جو انسان کو سعادت سے ہمکنار کرتی ہیں۔ اس کو نور اطمینان دیتی ہے اور اسے خوشی اور مسرت عطا کرتی ہیں۔ اس نظام میں قرار و ثبات بھی موجود ہے اور جو معاشرے اللہ کے سوا دوسرے انسانوں کی بندگی کرتے ہیں۔ ان میں جو تغیرات ، انقلابات اور حیرانیاں اور پریشانیاں ہوتی ہے ان سے اس میں انسان محفوظ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا حاکم نہیں ہوتا۔ سیاست میں حکومت میں ، معاشیات میں اور سوسائٹی کے اجتماعی روابط اور رسم و رواج میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا غلام نہیں ہوتا۔ اس نظام میں انسانوں کی قوتیں اس کام میں صرف نہیں ہوتیں کہ وہ دوسرے انسانوں کو غلام بتائیں اور نہ اس نظام میں کوئی شخص کسی طاغوتی قوت کا طبلچی ہوتا ہے۔
اس مختصر جملے لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالو ” کے پیچھے معانی و مفہومات کے جہاں پوشیدہ ہیں بڑے بڑے حقائق یہاں ہیں اور قلب و نظر کی گہری سوچ کے نتیجے میں وہ نظر آسکتے ہیں۔ اسلامی نظام زندگی کے قیام کے بعد ہی وہ آفاق نظر آسکتے ہیں۔ صرف انسانی الفاظ ان وسیع معانی کے بیان کے لئے کافی نہیں ہے۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور باذن ربھم (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لاؤ ان کے رب کے حکم سے ”۔ اللہ کے حکم سے اور اذن ہی سے تم یہ کام کرسکتے ہو کیونکہ رسول کا کام تو صرف یہ ہے کہ وہ پیغام پہنچائے۔ اس کی ڈیوٹی صرف بیان ہے۔ رہا لوگوں کا تاریکیوں سے روشنی میں آنا تو یہ صرف اللہ کے فضل و کرم اور اس کے حکم اور اذن سے ہو سکتا ہے اور یہ کام اس سنت کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ کی مشیت کے مطابق کام کرتی ہے۔ رسول تو فقط رسول ہوتا ہے۔
الی صراط العزیز الحمید (14 : 1) “ اس خدا کے راستے کی طرف جو زبردست اور اپنی ذات میں محمود ہے ”۔ نحو کے اعتبار سے صراط نور کا بدل ہے ، اور اللہ کی راہ اللہ کا طریقہ ہے۔ اللہ کی سنت ہے ، اس کا وہ ناموس ہے جو اس پوری کائنات پر حکمران ہے ، اس کی راہ اس کی وہ شریعت ہے جو زندگی پر حاوی کرنے کے لئے بھیجی گئی ہے اور ایمان کی روشنی اور نور اسی شریعت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ بلکہ یہ نور بذات خود یہ صراط اور شریعت ہے۔ انسانی نفس کے اندر جو ایمانی نور چمکتا ہے وہی نور اس پوری کائنات کے اندر بھی چمکتا ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے ، ناموس فطرت ہے اور وہی شریعت ہے جو نفس اس نور سے منور ہو وہ ادراک اور تصور میں غلطی کا ارتکاب نہیں کرتا۔ طرز عمل اور طریقہ زندگی میں بھی وہ غلطی نہیں کرتا۔ یہی صراط مستقیم ہے۔ عزیز وحمید کی راہ یہی ہے اور یہ عزیز قوت قاہرہ کا مالک ہے ، اور اپنی ذات میں محمود اور پوری کائنات پر قابض ہے۔
یہاں اللہ کی قوت کا اظہار اس لیے کیا گیا ہے کہ کفار سن کر ذرا خائف ہوجائیں اور حمید اس لیے کہا گیا کہ اہل شکر اس کی حمد و ثنا کر کے اس کا شکر ادا کریں۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم بھی ہے۔ وہ لوگوں کا محتاج نہیں ہے وہ تو اس پوری کائنات کو اپنے قبضہ قدرت میں رکھتا ہے۔
اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض (14 : 2) “ اور زمین و آسمان کی ساری موجودات کا مالک ہے ”۔ جو شخص اندھیروں سے نکل کر نور میں آگیا اور اس نے راہ ہدایت پالی تو اس کے بارے میں یہاں خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے جو روشنی میں آنے سے انکار کرتے ہیں۔ کافروں کو عذاب شدید سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اس نعمت سے استفادہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ نے رسول بھیجا ، اسے ایک کتاب دی تا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کرے۔ یہ اس قدر عظیم نعمت ہے کہ کوئی انسان اس نعمت عظمیٰ کا شکر ہی ادا نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر کوئی الٹا اس نعمت کی ناشکری کرے تو پھر کہا :
وویل للکفرین من عذاب شدید (14 : 2) “ اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لئے ” ۔ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ صفت کیا ہے جس سے اس نعمت کی نا شکری اور کفر ہوتا ہے جو رسول کریم لے کر آئے ہیں۔ وہ صفت یہ ہے۔
الذین یستحبون ۔۔۔۔۔ فی ضلل بعید (14 : 3) “ جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق) ٹیڑھا ہوجائے ، یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی محبت ایمان کے تقاضوں کے ساتھ متصادم ہے اور صراط مستقیم پر استقامت کے خلاف ہے اور جب کوئی دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دے تو صورت یہ نہیں رہتی۔ آخرت کو ترجیح دینے سے دنیا میں بھی اعتدال پیدا ہوتا ہے اور دنیا میں خدا کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا آخرت کی محبت اور ترجیح سے ترک دنیا لازم نہیں آتا۔
واقعہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل آخرت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ دنیا کے میدان میں بھی خسارے میں نہیں ہوتے۔ یہ بات ان لوگوں کے ذہن میں آتی ہے جن کی فکر جاوۂ اعتدال سے منحرف ہو۔ اسلام میں آخرت کو ترجیح دینے کا تصور بھی دراصل دنیا ہی کی اصلاح کے لئے ہے۔ ایمان باللہ کے تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ فریضہ خلافت ارضی کو بحسن و خوبی سر انجام دیا جائے۔ حق خلافت ارضی میں یہ بھی داخل ہے کہ زمین کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی کی جائے اور اس کے اندر موجود خزانوں سے استفادہ کیا جائے۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ آخرت کے فائدے کے لئے دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے بلکہ سچائی ، انصاف ، راستی اور خدا کی رضا مندی کی خاطر زندگی کی تعمیر و ترقی ہی دراصل تمہید ہے ، آخرت کی ترقی کے لئے۔ یہ اسلام کی پالیسی ہے کہ دنیا میں بھی حسنہ ہو اور آخرت میں بھی حسنہ۔
پھر وہ لوگ کون ہیں جو دنیا کو آخرت کے مقابلے میں ترجیح دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نور ایمان کی روشنی میں اپنے مذموم مقاصد تک نہیں پہنچ سکتے ، وہ زمین کے قدرتی و مسائل پر تب ہی فیصلہ کرسکتے ہیں ، وہ حرام تب ہی کما سکتے ہیں ، وہ لوگوں کا استحصال تب ہی کرسکتے ہیں اور لوگوں کی اجتماع دولت کو تب ہی لوٹ سکتے ہیں جب وہ نور ایمان کے دائرے سے نکل جائیں اور اللہ کے دین کی طرف ہدایت اور اس پر استقامت سے محروم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے دنیا پر ست لوگوں کو بھی اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور خود بھی اللہ کے راستے پر نہیں چلتے بلکہ وہ اللہ کے دین اور شریعت کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرتے ہیں۔ دین سے استقامت اور عدالت کو معیشت سے عدل کو نکالنا چاہتے ہیں۔ جب یہ لوگ اپنے آپ کو اور دوسرے عوام الناس کو اللہ کی راہ سے روک لینے میں ، کامیاب ہوجاتے ہیں اور جب وہ اسلام کی عدالت اور استقامت سے دامن چھڑا لیتے ہیں ، تب جا کر ایسے لوگ ظلم کرسکتے ، سرکشی کرسکتے ، دھوکہ دے سکتے ، اور لوگوں کو فساد پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح وہ پھر زمین کے وسائل پر قابض ہوجاتے ہیں ، حرام کماتے ہیں ، ذلیل اور غیر اخلاقی ذرائع سے دولت جمع کرتے ہیں۔ پھر یہ زمین میں سرکشی اور علو فی الارض اختیار کرتے ہیں۔ لوگوں کو غلام بناتے ہیں اور لوگوں کو اس قدر کمزور کردیتے ہیں کہ ان میں مقابلے یا احتجاج کی سکت بھی نہیں رہتی۔
یہ واقعہ ہے کہ ایمانی نظام زندگی ہی دراصل زندگی ، حرمت اور معاشی انصاف کا ضامن ہے اور یہی اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ اس میں ان لوگوں کا اثرو رسوخ ختم ہوگا جو وسائل ارضی پر قابض ہونا چاہتے ہیں یا وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا پرستی کو رواج دینا چاہتے ہیں۔
وما ارسلنا من ۔۔۔۔۔۔ لھم (14 : 4) ” اور ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تا کہ وہ اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے “۔ یہ انسانوں کے لئے ہر نبی کی نبوت میں ایک بڑی نعمت رہی ہے کہ رسول ان کی زبان ہی کا بھیجا ہے تا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف بڑی سہولت سے نکال سکے اور اس بات کی ضرورت بھی تھی کہ وہ اہل لسان ہوتا کہ وہ بیان کرے اور یہ سمجھیں اور مقصد پورا ہو۔
رسول اللہ ﷺ کو بھی ان کی قوم کی زبان میں رسول بنا کر بھیجا گیا ۔ اگرچہ آپ پوری انسانیت کے لئے رسول تھے کیونکہ آپ کی قوم کے ذمہ یہ فریضہ عائد کردیا گیا تھا کہ اب پوری انسانیت تک عربوں کا فرض ہے کہ وہ اس پیغام کو پہچانیں۔ رسول اللہ ﷺ کی عمر تو محدود تھی۔ آپ کے ذمہ یہ فریضہ عائد کیا گیا کہ آپ سب سے پہلے جزیرۃ العرب کو جاہلیت سے پاک کردیں اور اسلام کو وہاں غالب کردیں تا کہ وہ مرکز اور سرچشمہ ہو اور آپ کی رسالت اور پیغام کو پھر امت کے لوگ دور دراز تک پہنچائیں اور عملاً ایسا ہی ہوا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب میں اسلام کو غالب کردیا تو اللہ نے آپ ؐ کو اس جہاں سے اٹھا لیا لیکن خود آپ نے جیش اسامہ کو جزیرۃ العرب کے اطراف کے لئے تیار کر کے بھیج دیا تھا۔ یہ لشکر ابھی نکلا نہ تھا کہ حضور ﷺ وفات پاگئے۔ اس سے قبل رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب سے باہر دوسرے ممالک تک اپنے دعوتی خطوط ارسال کر دئیے تھے۔ یہ خطوط آپ ؐ نے اس لیے بھیجے تھے کہ لوگ دیکھ لیں کہ آپ کی رسالت تمام انسانوں کے لئے ہے۔ لیکن اللہ نے رسول اللہ ﷺ کے لئے صرف یہی فریضہ مقرر کیا تھا اور مختصر عمر انسانی میں ایک انسان صرف یہی کرسکتا ہے کہ آپ جزیرۃ العرب میں عربی زبان میں تبلیغ کا کام کریں اور اس کے بعد پوری دنیا تک تبلیغ رسالت کا کام بعد میں دعوت اسلامی کے حاملیں کریں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا لہٰذا اس بات میں کوئی تعارض نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پوری انسانیت کے لئے تھی اور خود آپ ؐ نے اپنی قومی زبان میں کام کرنا تھا اور اپنی زندگی میں عملاً عربوں ہی میں کام کرنا تھا۔
فیضل اللہ ۔۔۔۔۔ العزیز الحکیم (14 : 4) ” پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخشتا ہے ، وہ بالادست اور حکیم ہے “۔ ہر رسول اور نبی آخر الزمان کی رسالت کا فریضہ صرف یہی ہے کہ وہ اپنا پیغام پہنچا دے۔ رہی یہ بات کہ کوئی ہدایت کی راہ لیتا ہے یا نہیں ، تو یہ کام تو کسی رسول کی قدرت میں نہیں ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ کسی کو ہدایت دے یا گمراہ کر دے۔ خود رسول کی خواہش بھی اس سلسلے میں ضروری نہیں ہے کہ پوری ہو۔ یہ شان الٰہی ہے ۔ اللہ نے اس کے لئے اس کائنات میں ایک سنت وضع کر رکھی ہے۔ یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق چلتی ہے۔ جو شخص گمراہی کے مقدمات اختیار کرتا ہے اور گمراہی کی راہ لیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور جو شخص ہدایت کے مقدمات اختیار کرتا ہے اور ہدایت کی راہیں اپناتا ہے تو وہ اہل ہدایت میں سے ہوجاتا ہے۔ یہ سب کام اللہ کی مشیت کے مطابق اور تابع ہوتے ہیں۔ اور انسان کے لئے یہی سنت اللہ نے وضع کی۔
وھو العزیز الحکیم (14 : 4) ” وہ بالادست اور حکیم ہے “۔ وہ اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ جس طرح اس کی مشیت ہو اس کے مطابق لوگوں کی زندگی پھرجائے اور وہ یہ تصرف اپنی حکمت اور اپنی تقدیر سے کرتا ہے ۔ اللہ نے تمام معاملات اپنے کنٹرول میں لے رکھے ہیں۔ اس کی مملکت میں واقعات اتفاقاً ، بغیر کسی سبب اور بغیر کسی تدبیر کے رونما نہیں ہوتے۔
إبراهيم 14:2
اب پہلے سورة کا حصہ اول۔
درس نمبر 114 تشریح آیات
1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27
آیت نمبر 1 تا 4
الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و خرافات کی تاریکیاں ، رسوم تقالید کی تاریکیاں ، ارباب متفرقہ کی بندگی اور کشاکش اور حیرت کی تاریکیاں ، جاہلی اقدار اور پیمانوں اور جاہلی خیالات و تصورات کی تاریکیوں سے تم انسانیت نکالو اور قرآن کی روشنی میں داخل کر دو ۔ ایسی روشنی جو فی الحقیقت ان تمام تاریکیوں کو دور کر دے۔ وہ عالم ضمیر کو روشن کر دے اور میدان فکر و نظر میں اجالا برپا کردے۔ زندگی کی عملی راہوں میں اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ افکار میں اجالا برپا کر دے۔
اللہ پر ایمان لانا ایک نور ہے جس سے دل روشن ہوجاتا ہے اور جس کا دل روشن ہوجائے اس کی پوری شخصیت اور اس کا بشری ڈھانچہ بھی منور ہوجاتا ہے اور انسانی شخصیت کے دونوں پہلو ، مٹی اور روح اللہ دونوں روشن ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب انسانی شخصیت اس روشنی سے خالی ہوجائے اور جس کے اندر سے یہ چراغ بجھ جائے تو پھر انسان تاریک مٹی کا ایک ڈھیر ہوتا ہے اور خون اور گوشت کی شکل میں ایک کیچڑ ہوتا ہے۔ کیونکہ گوشت اور خون پوری طرح زمین کے مادی عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نور نہ ہو جو روح اللہ سے پھوٹتا ہے اور اس کے اندر ایمان اپنی شفاف صیقل شدہ صورت میں موجود ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ سیاہ مادہ شفاف اور چمکدار ہوجاتا ہے اور پھر یہ سیاہ کیچڑ ایک شفاف شیشہ ہوجاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ ایک ایسا نور ہے جس کے ساتھ نفس انسانی چمک اٹھتا ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی راہ متعین کرسکتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف راہ بالکل واضح نظر آتی ہے۔ اس راہ میں نہ دھند ہوتی ہے اور نہ غبار۔ اوہام و خرافات کا غبار ، لالچ اور خواہشات کا غبار اور جب نفس انسانی راہ دیکھ لے اور صاف صاف نظر آنے لگے تو پھر ایسی راہ میں کوئی ٹھوکر اور کوئی اضطراب نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی تردد ہوتا ہے اور نہ کوئی حیرانگی ہوتی ہے۔
پھر اللہ پر پختہ ایمان ایک ایسا نور ہے جس سے پوری زندگی چمک اٹھتی ہے۔ تمام لوگ اللہ کے مساوی بندے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ربط اور رشتہ خدائی رشتہ ہوتا ہے۔ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کرتے ہیں۔ اب ان میں آقا اور غلام کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ان کو اس پوری کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پوری کائنات سے بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ پوری کائنات ایک ناموس الٰہی اور قانون قدرت کے ساتھ چلتی ہے اس لیے وہ اس پوری کائنات ، اس کے اندر موجود پوری مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اس لیے کہ سب کے سب اللہ کے مخلوق ہیں۔
پھر ایمان ایک نور ہے ، انصاف کی روشنی ہے ، آزادی کی روشنی ہے۔ علم و معرفت کی روشنی ہے ، اللہ کے لئے محبت کی روشنی ہے۔ اللہ کے عدل ، حکمت اور رحمت پر اعتماد کی روشنی ہے۔ خواہ مشکلات ہوں یا مسرتیں ہوں یہ ایمان مشکلات میں صبر پر آمادہ کرتا ہے اور مسرتوں میں شکر رب کی تعلیم دینا ہے اور آزمائش میں حکمت و تجربہ عطا کرتا ہے۔
صرف اللہ پر ایمان کہ وہی الٰہ اور رب ہے ، یہ ایمان ایک نظام زندگی بھی ہے۔ فقط عقیدہ اور تصور ہی نہیں ہے جو دل کو روشن کرتا ہے۔ یہ نظام زندگی صرف اللہ کی بندگی کے اصول پر قائم ہے۔ جس میں صرف اللہ کی ربوبیت کا عقیدہ ہوتا ہے۔ اور تمام دوسری ربوبیتوں کا افکار ہوتا ہے ، جس کے اندر برتری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہوتی ہے ۔ وہی حاکم ہوتا ہے اور سب اس کے بندے ہوتے ہیں۔
اس نظام زندگی میں انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہے ، اس میں انسان کی ضروری اور لابدی حاجات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ایسی حاجات جو انسان کو سعادت سے ہمکنار کرتی ہیں۔ اس کو نور اطمینان دیتی ہے اور اسے خوشی اور مسرت عطا کرتی ہیں۔ اس نظام میں قرار و ثبات بھی موجود ہے اور جو معاشرے اللہ کے سوا دوسرے انسانوں کی بندگی کرتے ہیں۔ ان میں جو تغیرات ، انقلابات اور حیرانیاں اور پریشانیاں ہوتی ہے ان سے اس میں انسان محفوظ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا حاکم نہیں ہوتا۔ سیاست میں حکومت میں ، معاشیات میں اور سوسائٹی کے اجتماعی روابط اور رسم و رواج میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا غلام نہیں ہوتا۔ اس نظام میں انسانوں کی قوتیں اس کام میں صرف نہیں ہوتیں کہ وہ دوسرے انسانوں کو غلام بتائیں اور نہ اس نظام میں کوئی شخص کسی طاغوتی قوت کا طبلچی ہوتا ہے۔
اس مختصر جملے لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالو ” کے پیچھے معانی و مفہومات کے جہاں پوشیدہ ہیں بڑے بڑے حقائق یہاں ہیں اور قلب و نظر کی گہری سوچ کے نتیجے میں وہ نظر آسکتے ہیں۔ اسلامی نظام زندگی کے قیام کے بعد ہی وہ آفاق نظر آسکتے ہیں۔ صرف انسانی الفاظ ان وسیع معانی کے بیان کے لئے کافی نہیں ہے۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور باذن ربھم (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لاؤ ان کے رب کے حکم سے ”۔ اللہ کے حکم سے اور اذن ہی سے تم یہ کام کرسکتے ہو کیونکہ رسول کا کام تو صرف یہ ہے کہ وہ پیغام پہنچائے۔ اس کی ڈیوٹی صرف بیان ہے۔ رہا لوگوں کا تاریکیوں سے روشنی میں آنا تو یہ صرف اللہ کے فضل و کرم اور اس کے حکم اور اذن سے ہو سکتا ہے اور یہ کام اس سنت کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ کی مشیت کے مطابق کام کرتی ہے۔ رسول تو فقط رسول ہوتا ہے۔
الی صراط العزیز الحمید (14 : 1) “ اس خدا کے راستے کی طرف جو زبردست اور اپنی ذات میں محمود ہے ”۔ نحو کے اعتبار سے صراط نور کا بدل ہے ، اور اللہ کی راہ اللہ کا طریقہ ہے۔ اللہ کی سنت ہے ، اس کا وہ ناموس ہے جو اس پوری کائنات پر حکمران ہے ، اس کی راہ اس کی وہ شریعت ہے جو زندگی پر حاوی کرنے کے لئے بھیجی گئی ہے اور ایمان کی روشنی اور نور اسی شریعت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ بلکہ یہ نور بذات خود یہ صراط اور شریعت ہے۔ انسانی نفس کے اندر جو ایمانی نور چمکتا ہے وہی نور اس پوری کائنات کے اندر بھی چمکتا ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے ، ناموس فطرت ہے اور وہی شریعت ہے جو نفس اس نور سے منور ہو وہ ادراک اور تصور میں غلطی کا ارتکاب نہیں کرتا۔ طرز عمل اور طریقہ زندگی میں بھی وہ غلطی نہیں کرتا۔ یہی صراط مستقیم ہے۔ عزیز وحمید کی راہ یہی ہے اور یہ عزیز قوت قاہرہ کا مالک ہے ، اور اپنی ذات میں محمود اور پوری کائنات پر قابض ہے۔
یہاں اللہ کی قوت کا اظہار اس لیے کیا گیا ہے کہ کفار سن کر ذرا خائف ہوجائیں اور حمید اس لیے کہا گیا کہ اہل شکر اس کی حمد و ثنا کر کے اس کا شکر ادا کریں۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم بھی ہے۔ وہ لوگوں کا محتاج نہیں ہے وہ تو اس پوری کائنات کو اپنے قبضہ قدرت میں رکھتا ہے۔
اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض (14 : 2) “ اور زمین و آسمان کی ساری موجودات کا مالک ہے ”۔ جو شخص اندھیروں سے نکل کر نور میں آگیا اور اس نے راہ ہدایت پالی تو اس کے بارے میں یہاں خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے جو روشنی میں آنے سے انکار کرتے ہیں۔ کافروں کو عذاب شدید سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اس نعمت سے استفادہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ نے رسول بھیجا ، اسے ایک کتاب دی تا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کرے۔ یہ اس قدر عظیم نعمت ہے کہ کوئی انسان اس نعمت عظمیٰ کا شکر ہی ادا نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر کوئی الٹا اس نعمت کی ناشکری کرے تو پھر کہا :
وویل للکفرین من عذاب شدید (14 : 2) “ اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لئے ” ۔ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ صفت کیا ہے جس سے اس نعمت کی نا شکری اور کفر ہوتا ہے جو رسول کریم لے کر آئے ہیں۔ وہ صفت یہ ہے۔
الذین یستحبون ۔۔۔۔۔ فی ضلل بعید (14 : 3) “ جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق) ٹیڑھا ہوجائے ، یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی محبت ایمان کے تقاضوں کے ساتھ متصادم ہے اور صراط مستقیم پر استقامت کے خلاف ہے اور جب کوئی دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دے تو صورت یہ نہیں رہتی۔ آخرت کو ترجیح دینے سے دنیا میں بھی اعتدال پیدا ہوتا ہے اور دنیا میں خدا کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا آخرت کی محبت اور ترجیح سے ترک دنیا لازم نہیں آتا۔
واقعہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل آخرت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ دنیا کے میدان میں بھی خسارے میں نہیں ہوتے۔ یہ بات ان لوگوں کے ذہن میں آتی ہے جن کی فکر جاوۂ اعتدال سے منحرف ہو۔ اسلام میں آخرت کو ترجیح دینے کا تصور بھی دراصل دنیا ہی کی اصلاح کے لئے ہے۔ ایمان باللہ کے تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ فریضہ خلافت ارضی کو بحسن و خوبی سر انجام دیا جائے۔ حق خلافت ارضی میں یہ بھی داخل ہے کہ زمین کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی کی جائے اور اس کے اندر موجود خزانوں سے استفادہ کیا جائے۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ آخرت کے فائدے کے لئے دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے بلکہ سچائی ، انصاف ، راستی اور خدا کی رضا مندی کی خاطر زندگی کی تعمیر و ترقی ہی دراصل تمہید ہے ، آخرت کی ترقی کے لئے۔ یہ اسلام کی پالیسی ہے کہ دنیا میں بھی حسنہ ہو اور آخرت میں بھی حسنہ۔
پھر وہ لوگ کون ہیں جو دنیا کو آخرت کے مقابلے میں ترجیح دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نور ایمان کی روشنی میں اپنے مذموم مقاصد تک نہیں پہنچ سکتے ، وہ زمین کے قدرتی و مسائل پر تب ہی فیصلہ کرسکتے ہیں ، وہ حرام تب ہی کما سکتے ہیں ، وہ لوگوں کا استحصال تب ہی کرسکتے ہیں اور لوگوں کی اجتماع دولت کو تب ہی لوٹ سکتے ہیں جب وہ نور ایمان کے دائرے سے نکل جائیں اور اللہ کے دین کی طرف ہدایت اور اس پر استقامت سے محروم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے دنیا پر ست لوگوں کو بھی اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور خود بھی اللہ کے راستے پر نہیں چلتے بلکہ وہ اللہ کے دین اور شریعت کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرتے ہیں۔ دین سے استقامت اور عدالت کو معیشت سے عدل کو نکالنا چاہتے ہیں۔ جب یہ لوگ اپنے آپ کو اور دوسرے عوام الناس کو اللہ کی راہ سے روک لینے میں ، کامیاب ہوجاتے ہیں اور جب وہ اسلام کی عدالت اور استقامت سے دامن چھڑا لیتے ہیں ، تب جا کر ایسے لوگ ظلم کرسکتے ، سرکشی کرسکتے ، دھوکہ دے سکتے ، اور لوگوں کو فساد پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح وہ پھر زمین کے وسائل پر قابض ہوجاتے ہیں ، حرام کماتے ہیں ، ذلیل اور غیر اخلاقی ذرائع سے دولت جمع کرتے ہیں۔ پھر یہ زمین میں سرکشی اور علو فی الارض اختیار کرتے ہیں۔ لوگوں کو غلام بناتے ہیں اور لوگوں کو اس قدر کمزور کردیتے ہیں کہ ان میں مقابلے یا احتجاج کی سکت بھی نہیں رہتی۔
یہ واقعہ ہے کہ ایمانی نظام زندگی ہی دراصل زندگی ، حرمت اور معاشی انصاف کا ضامن ہے اور یہی اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ اس میں ان لوگوں کا اثرو رسوخ ختم ہوگا جو وسائل ارضی پر قابض ہونا چاہتے ہیں یا وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا پرستی کو رواج دینا چاہتے ہیں۔
وما ارسلنا من ۔۔۔۔۔۔ لھم (14 : 4) ” اور ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تا کہ وہ اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے “۔ یہ انسانوں کے لئے ہر نبی کی نبوت میں ایک بڑی نعمت رہی ہے کہ رسول ان کی زبان ہی کا بھیجا ہے تا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف بڑی سہولت سے نکال سکے اور اس بات کی ضرورت بھی تھی کہ وہ اہل لسان ہوتا کہ وہ بیان کرے اور یہ سمجھیں اور مقصد پورا ہو۔
رسول اللہ ﷺ کو بھی ان کی قوم کی زبان میں رسول بنا کر بھیجا گیا ۔ اگرچہ آپ پوری انسانیت کے لئے رسول تھے کیونکہ آپ کی قوم کے ذمہ یہ فریضہ عائد کردیا گیا تھا کہ اب پوری انسانیت تک عربوں کا فرض ہے کہ وہ اس پیغام کو پہچانیں۔ رسول اللہ ﷺ کی عمر تو محدود تھی۔ آپ کے ذمہ یہ فریضہ عائد کیا گیا کہ آپ سب سے پہلے جزیرۃ العرب کو جاہلیت سے پاک کردیں اور اسلام کو وہاں غالب کردیں تا کہ وہ مرکز اور سرچشمہ ہو اور آپ کی رسالت اور پیغام کو پھر امت کے لوگ دور دراز تک پہنچائیں اور عملاً ایسا ہی ہوا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب میں اسلام کو غالب کردیا تو اللہ نے آپ ؐ کو اس جہاں سے اٹھا لیا لیکن خود آپ نے جیش اسامہ کو جزیرۃ العرب کے اطراف کے لئے تیار کر کے بھیج دیا تھا۔ یہ لشکر ابھی نکلا نہ تھا کہ حضور ﷺ وفات پاگئے۔ اس سے قبل رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب سے باہر دوسرے ممالک تک اپنے دعوتی خطوط ارسال کر دئیے تھے۔ یہ خطوط آپ ؐ نے اس لیے بھیجے تھے کہ لوگ دیکھ لیں کہ آپ کی رسالت تمام انسانوں کے لئے ہے۔ لیکن اللہ نے رسول اللہ ﷺ کے لئے صرف یہی فریضہ مقرر کیا تھا اور مختصر عمر انسانی میں ایک انسان صرف یہی کرسکتا ہے کہ آپ جزیرۃ العرب میں عربی زبان میں تبلیغ کا کام کریں اور اس کے بعد پوری دنیا تک تبلیغ رسالت کا کام بعد میں دعوت اسلامی کے حاملیں کریں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا لہٰذا اس بات میں کوئی تعارض نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پوری انسانیت کے لئے تھی اور خود آپ ؐ نے اپنی قومی زبان میں کام کرنا تھا اور اپنی زندگی میں عملاً عربوں ہی میں کام کرنا تھا۔
فیضل اللہ ۔۔۔۔۔ العزیز الحکیم (14 : 4) ” پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخشتا ہے ، وہ بالادست اور حکیم ہے “۔ ہر رسول اور نبی آخر الزمان کی رسالت کا فریضہ صرف یہی ہے کہ وہ اپنا پیغام پہنچا دے۔ رہی یہ بات کہ کوئی ہدایت کی راہ لیتا ہے یا نہیں ، تو یہ کام تو کسی رسول کی قدرت میں نہیں ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ کسی کو ہدایت دے یا گمراہ کر دے۔ خود رسول کی خواہش بھی اس سلسلے میں ضروری نہیں ہے کہ پوری ہو۔ یہ شان الٰہی ہے ۔ اللہ نے اس کے لئے اس کائنات میں ایک سنت وضع کر رکھی ہے۔ یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق چلتی ہے۔ جو شخص گمراہی کے مقدمات اختیار کرتا ہے اور گمراہی کی راہ لیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور جو شخص ہدایت کے مقدمات اختیار کرتا ہے اور ہدایت کی راہیں اپناتا ہے تو وہ اہل ہدایت میں سے ہوجاتا ہے۔ یہ سب کام اللہ کی مشیت کے مطابق اور تابع ہوتے ہیں۔ اور انسان کے لئے یہی سنت اللہ نے وضع کی۔
وھو العزیز الحکیم (14 : 4) ” وہ بالادست اور حکیم ہے “۔ وہ اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ جس طرح اس کی مشیت ہو اس کے مطابق لوگوں کی زندگی پھرجائے اور وہ یہ تصرف اپنی حکمت اور اپنی تقدیر سے کرتا ہے ۔ اللہ نے تمام معاملات اپنے کنٹرول میں لے رکھے ہیں۔ اس کی مملکت میں واقعات اتفاقاً ، بغیر کسی سبب اور بغیر کسی تدبیر کے رونما نہیں ہوتے۔
إبراهيم 14:3
اب پہلے سورة کا حصہ اول۔
درس نمبر 114 تشریح آیات
1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27
آیت نمبر 1 تا 4
الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و خرافات کی تاریکیاں ، رسوم تقالید کی تاریکیاں ، ارباب متفرقہ کی بندگی اور کشاکش اور حیرت کی تاریکیاں ، جاہلی اقدار اور پیمانوں اور جاہلی خیالات و تصورات کی تاریکیوں سے تم انسانیت نکالو اور قرآن کی روشنی میں داخل کر دو ۔ ایسی روشنی جو فی الحقیقت ان تمام تاریکیوں کو دور کر دے۔ وہ عالم ضمیر کو روشن کر دے اور میدان فکر و نظر میں اجالا برپا کردے۔ زندگی کی عملی راہوں میں اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ افکار میں اجالا برپا کر دے۔
اللہ پر ایمان لانا ایک نور ہے جس سے دل روشن ہوجاتا ہے اور جس کا دل روشن ہوجائے اس کی پوری شخصیت اور اس کا بشری ڈھانچہ بھی منور ہوجاتا ہے اور انسانی شخصیت کے دونوں پہلو ، مٹی اور روح اللہ دونوں روشن ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب انسانی شخصیت اس روشنی سے خالی ہوجائے اور جس کے اندر سے یہ چراغ بجھ جائے تو پھر انسان تاریک مٹی کا ایک ڈھیر ہوتا ہے اور خون اور گوشت کی شکل میں ایک کیچڑ ہوتا ہے۔ کیونکہ گوشت اور خون پوری طرح زمین کے مادی عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نور نہ ہو جو روح اللہ سے پھوٹتا ہے اور اس کے اندر ایمان اپنی شفاف صیقل شدہ صورت میں موجود ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ سیاہ مادہ شفاف اور چمکدار ہوجاتا ہے اور پھر یہ سیاہ کیچڑ ایک شفاف شیشہ ہوجاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ ایک ایسا نور ہے جس کے ساتھ نفس انسانی چمک اٹھتا ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی راہ متعین کرسکتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف راہ بالکل واضح نظر آتی ہے۔ اس راہ میں نہ دھند ہوتی ہے اور نہ غبار۔ اوہام و خرافات کا غبار ، لالچ اور خواہشات کا غبار اور جب نفس انسانی راہ دیکھ لے اور صاف صاف نظر آنے لگے تو پھر ایسی راہ میں کوئی ٹھوکر اور کوئی اضطراب نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی تردد ہوتا ہے اور نہ کوئی حیرانگی ہوتی ہے۔
پھر اللہ پر پختہ ایمان ایک ایسا نور ہے جس سے پوری زندگی چمک اٹھتی ہے۔ تمام لوگ اللہ کے مساوی بندے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ربط اور رشتہ خدائی رشتہ ہوتا ہے۔ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کرتے ہیں۔ اب ان میں آقا اور غلام کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ان کو اس پوری کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پوری کائنات سے بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ پوری کائنات ایک ناموس الٰہی اور قانون قدرت کے ساتھ چلتی ہے اس لیے وہ اس پوری کائنات ، اس کے اندر موجود پوری مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اس لیے کہ سب کے سب اللہ کے مخلوق ہیں۔
پھر ایمان ایک نور ہے ، انصاف کی روشنی ہے ، آزادی کی روشنی ہے۔ علم و معرفت کی روشنی ہے ، اللہ کے لئے محبت کی روشنی ہے۔ اللہ کے عدل ، حکمت اور رحمت پر اعتماد کی روشنی ہے۔ خواہ مشکلات ہوں یا مسرتیں ہوں یہ ایمان مشکلات میں صبر پر آمادہ کرتا ہے اور مسرتوں میں شکر رب کی تعلیم دینا ہے اور آزمائش میں حکمت و تجربہ عطا کرتا ہے۔
صرف اللہ پر ایمان کہ وہی الٰہ اور رب ہے ، یہ ایمان ایک نظام زندگی بھی ہے۔ فقط عقیدہ اور تصور ہی نہیں ہے جو دل کو روشن کرتا ہے۔ یہ نظام زندگی صرف اللہ کی بندگی کے اصول پر قائم ہے۔ جس میں صرف اللہ کی ربوبیت کا عقیدہ ہوتا ہے۔ اور تمام دوسری ربوبیتوں کا افکار ہوتا ہے ، جس کے اندر برتری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہوتی ہے ۔ وہی حاکم ہوتا ہے اور سب اس کے بندے ہوتے ہیں۔
اس نظام زندگی میں انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہے ، اس میں انسان کی ضروری اور لابدی حاجات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ایسی حاجات جو انسان کو سعادت سے ہمکنار کرتی ہیں۔ اس کو نور اطمینان دیتی ہے اور اسے خوشی اور مسرت عطا کرتی ہیں۔ اس نظام میں قرار و ثبات بھی موجود ہے اور جو معاشرے اللہ کے سوا دوسرے انسانوں کی بندگی کرتے ہیں۔ ان میں جو تغیرات ، انقلابات اور حیرانیاں اور پریشانیاں ہوتی ہے ان سے اس میں انسان محفوظ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا حاکم نہیں ہوتا۔ سیاست میں حکومت میں ، معاشیات میں اور سوسائٹی کے اجتماعی روابط اور رسم و رواج میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا غلام نہیں ہوتا۔ اس نظام میں انسانوں کی قوتیں اس کام میں صرف نہیں ہوتیں کہ وہ دوسرے انسانوں کو غلام بتائیں اور نہ اس نظام میں کوئی شخص کسی طاغوتی قوت کا طبلچی ہوتا ہے۔
اس مختصر جملے لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالو ” کے پیچھے معانی و مفہومات کے جہاں پوشیدہ ہیں بڑے بڑے حقائق یہاں ہیں اور قلب و نظر کی گہری سوچ کے نتیجے میں وہ نظر آسکتے ہیں۔ اسلامی نظام زندگی کے قیام کے بعد ہی وہ آفاق نظر آسکتے ہیں۔ صرف انسانی الفاظ ان وسیع معانی کے بیان کے لئے کافی نہیں ہے۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور باذن ربھم (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لاؤ ان کے رب کے حکم سے ”۔ اللہ کے حکم سے اور اذن ہی سے تم یہ کام کرسکتے ہو کیونکہ رسول کا کام تو صرف یہ ہے کہ وہ پیغام پہنچائے۔ اس کی ڈیوٹی صرف بیان ہے۔ رہا لوگوں کا تاریکیوں سے روشنی میں آنا تو یہ صرف اللہ کے فضل و کرم اور اس کے حکم اور اذن سے ہو سکتا ہے اور یہ کام اس سنت کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ کی مشیت کے مطابق کام کرتی ہے۔ رسول تو فقط رسول ہوتا ہے۔
الی صراط العزیز الحمید (14 : 1) “ اس خدا کے راستے کی طرف جو زبردست اور اپنی ذات میں محمود ہے ”۔ نحو کے اعتبار سے صراط نور کا بدل ہے ، اور اللہ کی راہ اللہ کا طریقہ ہے۔ اللہ کی سنت ہے ، اس کا وہ ناموس ہے جو اس پوری کائنات پر حکمران ہے ، اس کی راہ اس کی وہ شریعت ہے جو زندگی پر حاوی کرنے کے لئے بھیجی گئی ہے اور ایمان کی روشنی اور نور اسی شریعت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ بلکہ یہ نور بذات خود یہ صراط اور شریعت ہے۔ انسانی نفس کے اندر جو ایمانی نور چمکتا ہے وہی نور اس پوری کائنات کے اندر بھی چمکتا ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے ، ناموس فطرت ہے اور وہی شریعت ہے جو نفس اس نور سے منور ہو وہ ادراک اور تصور میں غلطی کا ارتکاب نہیں کرتا۔ طرز عمل اور طریقہ زندگی میں بھی وہ غلطی نہیں کرتا۔ یہی صراط مستقیم ہے۔ عزیز وحمید کی راہ یہی ہے اور یہ عزیز قوت قاہرہ کا مالک ہے ، اور اپنی ذات میں محمود اور پوری کائنات پر قابض ہے۔
یہاں اللہ کی قوت کا اظہار اس لیے کیا گیا ہے کہ کفار سن کر ذرا خائف ہوجائیں اور حمید اس لیے کہا گیا کہ اہل شکر اس کی حمد و ثنا کر کے اس کا شکر ادا کریں۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم بھی ہے۔ وہ لوگوں کا محتاج نہیں ہے وہ تو اس پوری کائنات کو اپنے قبضہ قدرت میں رکھتا ہے۔
اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض (14 : 2) “ اور زمین و آسمان کی ساری موجودات کا مالک ہے ”۔ جو شخص اندھیروں سے نکل کر نور میں آگیا اور اس نے راہ ہدایت پالی تو اس کے بارے میں یہاں خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے جو روشنی میں آنے سے انکار کرتے ہیں۔ کافروں کو عذاب شدید سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اس نعمت سے استفادہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ نے رسول بھیجا ، اسے ایک کتاب دی تا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کرے۔ یہ اس قدر عظیم نعمت ہے کہ کوئی انسان اس نعمت عظمیٰ کا شکر ہی ادا نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر کوئی الٹا اس نعمت کی ناشکری کرے تو پھر کہا :
وویل للکفرین من عذاب شدید (14 : 2) “ اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لئے ” ۔ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ صفت کیا ہے جس سے اس نعمت کی نا شکری اور کفر ہوتا ہے جو رسول کریم لے کر آئے ہیں۔ وہ صفت یہ ہے۔
الذین یستحبون ۔۔۔۔۔ فی ضلل بعید (14 : 3) “ جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق) ٹیڑھا ہوجائے ، یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی محبت ایمان کے تقاضوں کے ساتھ متصادم ہے اور صراط مستقیم پر استقامت کے خلاف ہے اور جب کوئی دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دے تو صورت یہ نہیں رہتی۔ آخرت کو ترجیح دینے سے دنیا میں بھی اعتدال پیدا ہوتا ہے اور دنیا میں خدا کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا آخرت کی محبت اور ترجیح سے ترک دنیا لازم نہیں آتا۔
واقعہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل آخرت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ دنیا کے میدان میں بھی خسارے میں نہیں ہوتے۔ یہ بات ان لوگوں کے ذہن میں آتی ہے جن کی فکر جاوۂ اعتدال سے منحرف ہو۔ اسلام میں آخرت کو ترجیح دینے کا تصور بھی دراصل دنیا ہی کی اصلاح کے لئے ہے۔ ایمان باللہ کے تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ فریضہ خلافت ارضی کو بحسن و خوبی سر انجام دیا جائے۔ حق خلافت ارضی میں یہ بھی داخل ہے کہ زمین کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی کی جائے اور اس کے اندر موجود خزانوں سے استفادہ کیا جائے۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ آخرت کے فائدے کے لئے دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے بلکہ سچائی ، انصاف ، راستی اور خدا کی رضا مندی کی خاطر زندگی کی تعمیر و ترقی ہی دراصل تمہید ہے ، آخرت کی ترقی کے لئے۔ یہ اسلام کی پالیسی ہے کہ دنیا میں بھی حسنہ ہو اور آخرت میں بھی حسنہ۔
پھر وہ لوگ کون ہیں جو دنیا کو آخرت کے مقابلے میں ترجیح دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نور ایمان کی روشنی میں اپنے مذموم مقاصد تک نہیں پہنچ سکتے ، وہ زمین کے قدرتی و مسائل پر تب ہی فیصلہ کرسکتے ہیں ، وہ حرام تب ہی کما سکتے ہیں ، وہ لوگوں کا استحصال تب ہی کرسکتے ہیں اور لوگوں کی اجتماع دولت کو تب ہی لوٹ سکتے ہیں جب وہ نور ایمان کے دائرے سے نکل جائیں اور اللہ کے دین کی طرف ہدایت اور اس پر استقامت سے محروم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے دنیا پر ست لوگوں کو بھی اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور خود بھی اللہ کے راستے پر نہیں چلتے بلکہ وہ اللہ کے دین اور شریعت کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرتے ہیں۔ دین سے استقامت اور عدالت کو معیشت سے عدل کو نکالنا چاہتے ہیں۔ جب یہ لوگ اپنے آپ کو اور دوسرے عوام الناس کو اللہ کی راہ سے روک لینے میں ، کامیاب ہوجاتے ہیں اور جب وہ اسلام کی عدالت اور استقامت سے دامن چھڑا لیتے ہیں ، تب جا کر ایسے لوگ ظلم کرسکتے ، سرکشی کرسکتے ، دھوکہ دے سکتے ، اور لوگوں کو فساد پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح وہ پھر زمین کے وسائل پر قابض ہوجاتے ہیں ، حرام کماتے ہیں ، ذلیل اور غیر اخلاقی ذرائع سے دولت جمع کرتے ہیں۔ پھر یہ زمین میں سرکشی اور علو فی الارض اختیار کرتے ہیں۔ لوگوں کو غلام بناتے ہیں اور لوگوں کو اس قدر کمزور کردیتے ہیں کہ ان میں مقابلے یا احتجاج کی سکت بھی نہیں رہتی۔
یہ واقعہ ہے کہ ایمانی نظام زندگی ہی دراصل زندگی ، حرمت اور معاشی انصاف کا ضامن ہے اور یہی اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ اس میں ان لوگوں کا اثرو رسوخ ختم ہوگا جو وسائل ارضی پر قابض ہونا چاہتے ہیں یا وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا پرستی کو رواج دینا چاہتے ہیں۔
وما ارسلنا من ۔۔۔۔۔۔ لھم (14 : 4) ” اور ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تا کہ وہ اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے “۔ یہ انسانوں کے لئے ہر نبی کی نبوت میں ایک بڑی نعمت رہی ہے کہ رسول ان کی زبان ہی کا بھیجا ہے تا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف بڑی سہولت سے نکال سکے اور اس بات کی ضرورت بھی تھی کہ وہ اہل لسان ہوتا کہ وہ بیان کرے اور یہ سمجھیں اور مقصد پورا ہو۔
رسول اللہ ﷺ کو بھی ان کی قوم کی زبان میں رسول بنا کر بھیجا گیا ۔ اگرچہ آپ پوری انسانیت کے لئے رسول تھے کیونکہ آپ کی قوم کے ذمہ یہ فریضہ عائد کردیا گیا تھا کہ اب پوری انسانیت تک عربوں کا فرض ہے کہ وہ اس پیغام کو پہچانیں۔ رسول اللہ ﷺ کی عمر تو محدود تھی۔ آپ کے ذمہ یہ فریضہ عائد کیا گیا کہ آپ سب سے پہلے جزیرۃ العرب کو جاہلیت سے پاک کردیں اور اسلام کو وہاں غالب کردیں تا کہ وہ مرکز اور سرچشمہ ہو اور آپ کی رسالت اور پیغام کو پھر امت کے لوگ دور دراز تک پہنچائیں اور عملاً ایسا ہی ہوا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب میں اسلام کو غالب کردیا تو اللہ نے آپ ؐ کو اس جہاں سے اٹھا لیا لیکن خود آپ نے جیش اسامہ کو جزیرۃ العرب کے اطراف کے لئے تیار کر کے بھیج دیا تھا۔ یہ لشکر ابھی نکلا نہ تھا کہ حضور ﷺ وفات پاگئے۔ اس سے قبل رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب سے باہر دوسرے ممالک تک اپنے دعوتی خطوط ارسال کر دئیے تھے۔ یہ خطوط آپ ؐ نے اس لیے بھیجے تھے کہ لوگ دیکھ لیں کہ آپ کی رسالت تمام انسانوں کے لئے ہے۔ لیکن اللہ نے رسول اللہ ﷺ کے لئے صرف یہی فریضہ مقرر کیا تھا اور مختصر عمر انسانی میں ایک انسان صرف یہی کرسکتا ہے کہ آپ جزیرۃ العرب میں عربی زبان میں تبلیغ کا کام کریں اور اس کے بعد پوری دنیا تک تبلیغ رسالت کا کام بعد میں دعوت اسلامی کے حاملیں کریں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا لہٰذا اس بات میں کوئی تعارض نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پوری انسانیت کے لئے تھی اور خود آپ ؐ نے اپنی قومی زبان میں کام کرنا تھا اور اپنی زندگی میں عملاً عربوں ہی میں کام کرنا تھا۔
فیضل اللہ ۔۔۔۔۔ العزیز الحکیم (14 : 4) ” پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخشتا ہے ، وہ بالادست اور حکیم ہے “۔ ہر رسول اور نبی آخر الزمان کی رسالت کا فریضہ صرف یہی ہے کہ وہ اپنا پیغام پہنچا دے۔ رہی یہ بات کہ کوئی ہدایت کی راہ لیتا ہے یا نہیں ، تو یہ کام تو کسی رسول کی قدرت میں نہیں ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ کسی کو ہدایت دے یا گمراہ کر دے۔ خود رسول کی خواہش بھی اس سلسلے میں ضروری نہیں ہے کہ پوری ہو۔ یہ شان الٰہی ہے ۔ اللہ نے اس کے لئے اس کائنات میں ایک سنت وضع کر رکھی ہے۔ یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق چلتی ہے۔ جو شخص گمراہی کے مقدمات اختیار کرتا ہے اور گمراہی کی راہ لیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور جو شخص ہدایت کے مقدمات اختیار کرتا ہے اور ہدایت کی راہیں اپناتا ہے تو وہ اہل ہدایت میں سے ہوجاتا ہے۔ یہ سب کام اللہ کی مشیت کے مطابق اور تابع ہوتے ہیں۔ اور انسان کے لئے یہی سنت اللہ نے وضع کی۔
وھو العزیز الحکیم (14 : 4) ” وہ بالادست اور حکیم ہے “۔ وہ اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ جس طرح اس کی مشیت ہو اس کے مطابق لوگوں کی زندگی پھرجائے اور وہ یہ تصرف اپنی حکمت اور اپنی تقدیر سے کرتا ہے ۔ اللہ نے تمام معاملات اپنے کنٹرول میں لے رکھے ہیں۔ اس کی مملکت میں واقعات اتفاقاً ، بغیر کسی سبب اور بغیر کسی تدبیر کے رونما نہیں ہوتے۔
إبراهيم 14:4
اب پہلے سورة کا حصہ اول۔
درس نمبر 114 تشریح آیات
1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27
آیت نمبر 1 تا 4
الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و خرافات کی تاریکیاں ، رسوم تقالید کی تاریکیاں ، ارباب متفرقہ کی بندگی اور کشاکش اور حیرت کی تاریکیاں ، جاہلی اقدار اور پیمانوں اور جاہلی خیالات و تصورات کی تاریکیوں سے تم انسانیت نکالو اور قرآن کی روشنی میں داخل کر دو ۔ ایسی روشنی جو فی الحقیقت ان تمام تاریکیوں کو دور کر دے۔ وہ عالم ضمیر کو روشن کر دے اور میدان فکر و نظر میں اجالا برپا کردے۔ زندگی کی عملی راہوں میں اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ افکار میں اجالا برپا کر دے۔
اللہ پر ایمان لانا ایک نور ہے جس سے دل روشن ہوجاتا ہے اور جس کا دل روشن ہوجائے اس کی پوری شخصیت اور اس کا بشری ڈھانچہ بھی منور ہوجاتا ہے اور انسانی شخصیت کے دونوں پہلو ، مٹی اور روح اللہ دونوں روشن ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب انسانی شخصیت اس روشنی سے خالی ہوجائے اور جس کے اندر سے یہ چراغ بجھ جائے تو پھر انسان تاریک مٹی کا ایک ڈھیر ہوتا ہے اور خون اور گوشت کی شکل میں ایک کیچڑ ہوتا ہے۔ کیونکہ گوشت اور خون پوری طرح زمین کے مادی عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نور نہ ہو جو روح اللہ سے پھوٹتا ہے اور اس کے اندر ایمان اپنی شفاف صیقل شدہ صورت میں موجود ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ سیاہ مادہ شفاف اور چمکدار ہوجاتا ہے اور پھر یہ سیاہ کیچڑ ایک شفاف شیشہ ہوجاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ ایک ایسا نور ہے جس کے ساتھ نفس انسانی چمک اٹھتا ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی راہ متعین کرسکتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف راہ بالکل واضح نظر آتی ہے۔ اس راہ میں نہ دھند ہوتی ہے اور نہ غبار۔ اوہام و خرافات کا غبار ، لالچ اور خواہشات کا غبار اور جب نفس انسانی راہ دیکھ لے اور صاف صاف نظر آنے لگے تو پھر ایسی راہ میں کوئی ٹھوکر اور کوئی اضطراب نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی تردد ہوتا ہے اور نہ کوئی حیرانگی ہوتی ہے۔
پھر اللہ پر پختہ ایمان ایک ایسا نور ہے جس سے پوری زندگی چمک اٹھتی ہے۔ تمام لوگ اللہ کے مساوی بندے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ربط اور رشتہ خدائی رشتہ ہوتا ہے۔ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کرتے ہیں۔ اب ان میں آقا اور غلام کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ان کو اس پوری کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پوری کائنات سے بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ پوری کائنات ایک ناموس الٰہی اور قانون قدرت کے ساتھ چلتی ہے اس لیے وہ اس پوری کائنات ، اس کے اندر موجود پوری مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اس لیے کہ سب کے سب اللہ کے مخلوق ہیں۔
پھر ایمان ایک نور ہے ، انصاف کی روشنی ہے ، آزادی کی روشنی ہے۔ علم و معرفت کی روشنی ہے ، اللہ کے لئے محبت کی روشنی ہے۔ اللہ کے عدل ، حکمت اور رحمت پر اعتماد کی روشنی ہے۔ خواہ مشکلات ہوں یا مسرتیں ہوں یہ ایمان مشکلات میں صبر پر آمادہ کرتا ہے اور مسرتوں میں شکر رب کی تعلیم دینا ہے اور آزمائش میں حکمت و تجربہ عطا کرتا ہے۔
صرف اللہ پر ایمان کہ وہی الٰہ اور رب ہے ، یہ ایمان ایک نظام زندگی بھی ہے۔ فقط عقیدہ اور تصور ہی نہیں ہے جو دل کو روشن کرتا ہے۔ یہ نظام زندگی صرف اللہ کی بندگی کے اصول پر قائم ہے۔ جس میں صرف اللہ کی ربوبیت کا عقیدہ ہوتا ہے۔ اور تمام دوسری ربوبیتوں کا افکار ہوتا ہے ، جس کے اندر برتری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہوتی ہے ۔ وہی حاکم ہوتا ہے اور سب اس کے بندے ہوتے ہیں۔
اس نظام زندگی میں انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہے ، اس میں انسان کی ضروری اور لابدی حاجات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ایسی حاجات جو انسان کو سعادت سے ہمکنار کرتی ہیں۔ اس کو نور اطمینان دیتی ہے اور اسے خوشی اور مسرت عطا کرتی ہیں۔ اس نظام میں قرار و ثبات بھی موجود ہے اور جو معاشرے اللہ کے سوا دوسرے انسانوں کی بندگی کرتے ہیں۔ ان میں جو تغیرات ، انقلابات اور حیرانیاں اور پریشانیاں ہوتی ہے ان سے اس میں انسان محفوظ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا حاکم نہیں ہوتا۔ سیاست میں حکومت میں ، معاشیات میں اور سوسائٹی کے اجتماعی روابط اور رسم و رواج میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا غلام نہیں ہوتا۔ اس نظام میں انسانوں کی قوتیں اس کام میں صرف نہیں ہوتیں کہ وہ دوسرے انسانوں کو غلام بتائیں اور نہ اس نظام میں کوئی شخص کسی طاغوتی قوت کا طبلچی ہوتا ہے۔
اس مختصر جملے لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالو ” کے پیچھے معانی و مفہومات کے جہاں پوشیدہ ہیں بڑے بڑے حقائق یہاں ہیں اور قلب و نظر کی گہری سوچ کے نتیجے میں وہ نظر آسکتے ہیں۔ اسلامی نظام زندگی کے قیام کے بعد ہی وہ آفاق نظر آسکتے ہیں۔ صرف انسانی الفاظ ان وسیع معانی کے بیان کے لئے کافی نہیں ہے۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور باذن ربھم (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لاؤ ان کے رب کے حکم سے ”۔ اللہ کے حکم سے اور اذن ہی سے تم یہ کام کرسکتے ہو کیونکہ رسول کا کام تو صرف یہ ہے کہ وہ پیغام پہنچائے۔ اس کی ڈیوٹی صرف بیان ہے۔ رہا لوگوں کا تاریکیوں سے روشنی میں آنا تو یہ صرف اللہ کے فضل و کرم اور اس کے حکم اور اذن سے ہو سکتا ہے اور یہ کام اس سنت کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ کی مشیت کے مطابق کام کرتی ہے۔ رسول تو فقط رسول ہوتا ہے۔
الی صراط العزیز الحمید (14 : 1) “ اس خدا کے راستے کی طرف جو زبردست اور اپنی ذات میں محمود ہے ”۔ نحو کے اعتبار سے صراط نور کا بدل ہے ، اور اللہ کی راہ اللہ کا طریقہ ہے۔ اللہ کی سنت ہے ، اس کا وہ ناموس ہے جو اس پوری کائنات پر حکمران ہے ، اس کی راہ اس کی وہ شریعت ہے جو زندگی پر حاوی کرنے کے لئے بھیجی گئی ہے اور ایمان کی روشنی اور نور اسی شریعت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ بلکہ یہ نور بذات خود یہ صراط اور شریعت ہے۔ انسانی نفس کے اندر جو ایمانی نور چمکتا ہے وہی نور اس پوری کائنات کے اندر بھی چمکتا ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے ، ناموس فطرت ہے اور وہی شریعت ہے جو نفس اس نور سے منور ہو وہ ادراک اور تصور میں غلطی کا ارتکاب نہیں کرتا۔ طرز عمل اور طریقہ زندگی میں بھی وہ غلطی نہیں کرتا۔ یہی صراط مستقیم ہے۔ عزیز وحمید کی راہ یہی ہے اور یہ عزیز قوت قاہرہ کا مالک ہے ، اور اپنی ذات میں محمود اور پوری کائنات پر قابض ہے۔
یہاں اللہ کی قوت کا اظہار اس لیے کیا گیا ہے کہ کفار سن کر ذرا خائف ہوجائیں اور حمید اس لیے کہا گیا کہ اہل شکر اس کی حمد و ثنا کر کے اس کا شکر ادا کریں۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم بھی ہے۔ وہ لوگوں کا محتاج نہیں ہے وہ تو اس پوری کائنات کو اپنے قبضہ قدرت میں رکھتا ہے۔
اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض (14 : 2) “ اور زمین و آسمان کی ساری موجودات کا مالک ہے ”۔ جو شخص اندھیروں سے نکل کر نور میں آگیا اور اس نے راہ ہدایت پالی تو اس کے بارے میں یہاں خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے جو روشنی میں آنے سے انکار کرتے ہیں۔ کافروں کو عذاب شدید سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اس نعمت سے استفادہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ نے رسول بھیجا ، اسے ایک کتاب دی تا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کرے۔ یہ اس قدر عظیم نعمت ہے کہ کوئی انسان اس نعمت عظمیٰ کا شکر ہی ادا نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر کوئی الٹا اس نعمت کی ناشکری کرے تو پھر کہا :
وویل للکفرین من عذاب شدید (14 : 2) “ اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لئے ” ۔ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ صفت کیا ہے جس سے اس نعمت کی نا شکری اور کفر ہوتا ہے جو رسول کریم لے کر آئے ہیں۔ وہ صفت یہ ہے۔
الذین یستحبون ۔۔۔۔۔ فی ضلل بعید (14 : 3) “ جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق) ٹیڑھا ہوجائے ، یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی محبت ایمان کے تقاضوں کے ساتھ متصادم ہے اور صراط مستقیم پر استقامت کے خلاف ہے اور جب کوئی دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دے تو صورت یہ نہیں رہتی۔ آخرت کو ترجیح دینے سے دنیا میں بھی اعتدال پیدا ہوتا ہے اور دنیا میں خدا کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا آخرت کی محبت اور ترجیح سے ترک دنیا لازم نہیں آتا۔
واقعہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل آخرت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ دنیا کے میدان میں بھی خسارے میں نہیں ہوتے۔ یہ بات ان لوگوں کے ذہن میں آتی ہے جن کی فکر جاوۂ اعتدال سے منحرف ہو۔ اسلام میں آخرت کو ترجیح دینے کا تصور بھی دراصل دنیا ہی کی اصلاح کے لئے ہے۔ ایمان باللہ کے تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ فریضہ خلافت ارضی کو بحسن و خوبی سر انجام دیا جائے۔ حق خلافت ارضی میں یہ بھی داخل ہے کہ زمین کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی کی جائے اور اس کے اندر موجود خزانوں سے استفادہ کیا جائے۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ آخرت کے فائدے کے لئے دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے بلکہ سچائی ، انصاف ، راستی اور خدا کی رضا مندی کی خاطر زندگی کی تعمیر و ترقی ہی دراصل تمہید ہے ، آخرت کی ترقی کے لئے۔ یہ اسلام کی پالیسی ہے کہ دنیا میں بھی حسنہ ہو اور آخرت میں بھی حسنہ۔
پھر وہ لوگ کون ہیں جو دنیا کو آخرت کے مقابلے میں ترجیح دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نور ایمان کی روشنی میں اپنے مذموم مقاصد تک نہیں پہنچ سکتے ، وہ زمین کے قدرتی و مسائل پر تب ہی فیصلہ کرسکتے ہیں ، وہ حرام تب ہی کما سکتے ہیں ، وہ لوگوں کا استحصال تب ہی کرسکتے ہیں اور لوگوں کی اجتماع دولت کو تب ہی لوٹ سکتے ہیں جب وہ نور ایمان کے دائرے سے نکل جائیں اور اللہ کے دین کی طرف ہدایت اور اس پر استقامت سے محروم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے دنیا پر ست لوگوں کو بھی اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور خود بھی اللہ کے راستے پر نہیں چلتے بلکہ وہ اللہ کے دین اور شریعت کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرتے ہیں۔ دین سے استقامت اور عدالت کو معیشت سے عدل کو نکالنا چاہتے ہیں۔ جب یہ لوگ اپنے آپ کو اور دوسرے عوام الناس کو اللہ کی راہ سے روک لینے میں ، کامیاب ہوجاتے ہیں اور جب وہ اسلام کی عدالت اور استقامت سے دامن چھڑا لیتے ہیں ، تب جا کر ایسے لوگ ظلم کرسکتے ، سرکشی کرسکتے ، دھوکہ دے سکتے ، اور لوگوں کو فساد پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح وہ پھر زمین کے وسائل پر قابض ہوجاتے ہیں ، حرام کماتے ہیں ، ذلیل اور غیر اخلاقی ذرائع سے دولت جمع کرتے ہیں۔ پھر یہ زمین میں سرکشی اور علو فی الارض اختیار کرتے ہیں۔ لوگوں کو غلام بناتے ہیں اور لوگوں کو اس قدر کمزور کردیتے ہیں کہ ان میں مقابلے یا احتجاج کی سکت بھی نہیں رہتی۔
یہ واقعہ ہے کہ ایمانی نظام زندگی ہی دراصل زندگی ، حرمت اور معاشی انصاف کا ضامن ہے اور یہی اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ اس میں ان لوگوں کا اثرو رسوخ ختم ہوگا جو وسائل ارضی پر قابض ہونا چاہتے ہیں یا وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا پرستی کو رواج دینا چاہتے ہیں۔
وما ارسلنا من ۔۔۔۔۔۔ لھم (14 : 4) ” اور ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تا کہ وہ اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے “۔ یہ انسانوں کے لئے ہر نبی کی نبوت میں ایک بڑی نعمت رہی ہے کہ رسول ان کی زبان ہی کا بھیجا ہے تا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف بڑی سہولت سے نکال سکے اور اس بات کی ضرورت بھی تھی کہ وہ اہل لسان ہوتا کہ وہ بیان کرے اور یہ سمجھیں اور مقصد پورا ہو۔
رسول اللہ ﷺ کو بھی ان کی قوم کی زبان میں رسول بنا کر بھیجا گیا ۔ اگرچہ آپ پوری انسانیت کے لئے رسول تھے کیونکہ آپ کی قوم کے ذمہ یہ فریضہ عائد کردیا گیا تھا کہ اب پوری انسانیت تک عربوں کا فرض ہے کہ وہ اس پیغام کو پہچانیں۔ رسول اللہ ﷺ کی عمر تو محدود تھی۔ آپ کے ذمہ یہ فریضہ عائد کیا گیا کہ آپ سب سے پہلے جزیرۃ العرب کو جاہلیت سے پاک کردیں اور اسلام کو وہاں غالب کردیں تا کہ وہ مرکز اور سرچشمہ ہو اور آپ کی رسالت اور پیغام کو پھر امت کے لوگ دور دراز تک پہنچائیں اور عملاً ایسا ہی ہوا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب میں اسلام کو غالب کردیا تو اللہ نے آپ ؐ کو اس جہاں سے اٹھا لیا لیکن خود آپ نے جیش اسامہ کو جزیرۃ العرب کے اطراف کے لئے تیار کر کے بھیج دیا تھا۔ یہ لشکر ابھی نکلا نہ تھا کہ حضور ﷺ وفات پاگئے۔ اس سے قبل رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب سے باہر دوسرے ممالک تک اپنے دعوتی خطوط ارسال کر دئیے تھے۔ یہ خطوط آپ ؐ نے اس لیے بھیجے تھے کہ لوگ دیکھ لیں کہ آپ کی رسالت تمام انسانوں کے لئے ہے۔ لیکن اللہ نے رسول اللہ ﷺ کے لئے صرف یہی فریضہ مقرر کیا تھا اور مختصر عمر انسانی میں ایک انسان صرف یہی کرسکتا ہے کہ آپ جزیرۃ العرب میں عربی زبان میں تبلیغ کا کام کریں اور اس کے بعد پوری دنیا تک تبلیغ رسالت کا کام بعد میں دعوت اسلامی کے حاملیں کریں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا لہٰذا اس بات میں کوئی تعارض نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پوری انسانیت کے لئے تھی اور خود آپ ؐ نے اپنی قومی زبان میں کام کرنا تھا اور اپنی زندگی میں عملاً عربوں ہی میں کام کرنا تھا۔
فیضل اللہ ۔۔۔۔۔ العزیز الحکیم (14 : 4) ” پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخشتا ہے ، وہ بالادست اور حکیم ہے “۔ ہر رسول اور نبی آخر الزمان کی رسالت کا فریضہ صرف یہی ہے کہ وہ اپنا پیغام پہنچا دے۔ رہی یہ بات کہ کوئی ہدایت کی راہ لیتا ہے یا نہیں ، تو یہ کام تو کسی رسول کی قدرت میں نہیں ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ کسی کو ہدایت دے یا گمراہ کر دے۔ خود رسول کی خواہش بھی اس سلسلے میں ضروری نہیں ہے کہ پوری ہو۔ یہ شان الٰہی ہے ۔ اللہ نے اس کے لئے اس کائنات میں ایک سنت وضع کر رکھی ہے۔ یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق چلتی ہے۔ جو شخص گمراہی کے مقدمات اختیار کرتا ہے اور گمراہی کی راہ لیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور جو شخص ہدایت کے مقدمات اختیار کرتا ہے اور ہدایت کی راہیں اپناتا ہے تو وہ اہل ہدایت میں سے ہوجاتا ہے۔ یہ سب کام اللہ کی مشیت کے مطابق اور تابع ہوتے ہیں۔ اور انسان کے لئے یہی سنت اللہ نے وضع کی۔
وھو العزیز الحکیم (14 : 4) ” وہ بالادست اور حکیم ہے “۔ وہ اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ جس طرح اس کی مشیت ہو اس کے مطابق لوگوں کی زندگی پھرجائے اور وہ یہ تصرف اپنی حکمت اور اپنی تقدیر سے کرتا ہے ۔ اللہ نے تمام معاملات اپنے کنٹرول میں لے رکھے ہیں۔ اس کی مملکت میں واقعات اتفاقاً ، بغیر کسی سبب اور بغیر کسی تدبیر کے رونما نہیں ہوتے۔
إبراهيم 14:5
اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔
آیت نمبر 5 تا 8
حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔
حضور ﷺ کو حکم پوری انسانیت کے لئے ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم صرف ان کی قوم کے لئے تھا ۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالو۔
وذکرھم بایم اللہ (14 : 5) ” اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کرو “۔ سب کے سب دن اللہ کے ہیں۔ لیکن یہاں ان تاریخی دنوں سے مقصد ہے جن میں اللہ کے انعامات یا اللہ کا عذاب واضح طور پر نظر آتا ہے تا کہ ان سے انسانیت یا انسانیت کی کوئی جماعت استفادہ کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ اللسام نے اپنی قوم کو ایام اللہ سے ڈرایا اور اقوام کے تاریخی واقعات ، قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی اقوام کے بارے میں یاد دہانی کرائی۔ یہ ہیں ایام اللہ۔
ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (14 : 5) ” ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو “۔ ان ایام میں بعض آیات ، دلائل اور نشانات اقوام کی بدبختی کے ہیں تو اس سے صبر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے اور بعض آیات اللہ کی نعمتوں کی ہوتی ہیں اور ان سے شکر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا اور شکر بجا لانے والا ہوتا ہے وہی ان نصیحتوں کا ادراک کرسکتا ہے اور ان کے اندر پائی جانے والی حکمت اور عبرت کو سمجھ سکتا ہے۔ نیز ان میں اس کے لئے تسلی اور یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نبوت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قوم کو نصیحت کرتے رہے۔
واذ قال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ من ربکم عظیم (14 : 6) ” یاد کرو جب موسیٰ علی السلام نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ یہ نعمت کی اللہ نے ، ان کو سخت عذاب سے نجات دی۔ یہ عذاب ان کو آل فرعون کی طرف سے دیا جا رہا تھا اور یہ عذاب مسلسل ان پر ڈھایا جا رہا تھا۔ اس میں کوئی وقفہ یا کوئی چھٹی کا پیریڈ نہ تھا اور اس عذاب کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے بچوں میں سے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر قوت مدافعت باقی نہ رہے اور مردوں کی کمی کی وجہ سے جنگی اعتبار سے وہ ضعیف ہوجائیں تا کہ ان کو ذلیل کر کے رکھا جاسکے۔ اللہ نے ان کو غلامی اور ذلت کی اس حالت سے نکالا۔ چناچہ یہاں ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یاد دلاتے ہیں تا کہ وہ شکر بجا لائیں۔
وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (14 : 6) ” اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ پہلے تو ان کو نعمت کے ساتھ نہیں بلکہ مصیبت میں آزمایا گیا تا کہ ان کے صبر ، برداشت اور قوت مدافعت اور عزم کو آزمایا جائے کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اور کس قدر اللہ کے احکام بجا لانے والے ہیں۔ صبر کا یہ مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان ذلت کو برداشت کرتے کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی بنا لے بلکہ صبر یہ ہے کہ انسان مصائب کو برداشت کرے لیکن اس کی استقامت میں کوئی تزلزل نہ آئے۔ وہ شکست برداشت نہ کرے ، روحانی طور پر ہمت نہ ہارے ، اپنے پروگرام پر چلنے کا عزم پورا رکھتا ہو اور اس کے اندر ظلم اور سرکشی کے مقابلے کے لئے تیاری کا عزم موجود ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو صبر نہیں بلکہ خواری اور ذلت کو قبول کرنا ہے اور نجات میں بھی ان کے لئے آزمائش ہے کہ آیا وہ شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی اس نعمت کا اعتراف کرتے ہیں یا نہیں۔ اور نجات کے بدلے اللہ کی راہ ہدایت کو اپناتے ہیں یا نہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اب مزید بیان کرتے ہیں۔ ایام اللہ کے بیان کے بعد اب ان کو مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تمہیں چاہئے کہ صبر اور شکر کو اپنا وطیرہ بنا لو اور اگر تم شکر کروگے تو اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور اگر کفر کروگے تو اللہ کا عذاب پھر تیار ہوگا۔
واذ تاذن ۔۔۔۔۔۔ عذابی لشدید (14 : 7) ” یاد رکھو ، تمہارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے “۔
یہ ایک عظیم حقیقت ہے ، یہ حقیقت کہ شکر نعمت سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفران نعمت سے انسان اللہ کی شدید پکڑ میں آجاتا ہے۔ جب ہم ذرا اس حقیقت پر غور کرتے ہیں تو پہلی ہی سوچ میں ہمارے دل اس حقیقت پر مطمئن ہوجاتے ہیں کیونکہ ایک تو یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے لیکن اگر ہم اس کے اسباب کو بھی معلوم کرنا چاہیں اور ایسے اسباب کی تلاش کریں جنہیں ہم سمجھ سکتے ہیں تو بھی ہمیں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
شکر نعمت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر کرنے والے کے نفس میں ایک صحیح معیار بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ کی نعمت کا فطری تقاضا ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ ہر فطرت سلیم ، احسان کا فطری صلہ شکر کو سمجھتی ہے۔ ایک تو یہ سبب ہے ، دوسرے یہ کہ جو شخص نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہی ان نعمتوں کا متصرف ہے۔ اس طرح یہ شخص سر کشی سے باز رہتا ہے ، لوگوں پر اپنے آپ کو برتر نہیں سمجھتا اور اللہ کی نعمتوں کو مخلوق خدا کے اذیت دینے ، شر کرنے ، معاشرے میں فساد پھیلانے اور خصوصاً گندگی پھیلانے کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔
ان امور سے انسان کے نفس کے اندر پاکی آجاتی ہے اور ایسا شخص عمل صالح کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ خدا کی دی ہوئی دولت میں اچھا تصرف کرتا ہے اور اس اچھے تصرف کی وجہ سے اس میں ترقی ہوتی ہے اور برکت آجاتی ہے ۔ اس طرح ایسے شخص سے اس کے اردگرد کے لوگ بھی خوش ہوتے ہیں اور پھر اس خوشی کی وجہ سے وہ اس کی اور معاونت کرتے ہیں۔ اس طرح معیشت کی ترقی کے لئے مزید پر امن ماحول فراہم ہوتا ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک مومن کے لئے تو صرف یہی کافی ہے کہ اگر شکر کرو گے تو میں زیادہ دولت دوں گا چاہے وہ دوسرے اسباب کو سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے کیونکہ اللہ کا وعدہ ایک حق ہے اور اس نے بہرحال پورا ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر دو طرح کا ہوتا ہے ایک تو اس طرح کہ نعمت کا شکر ادا نہ کیا جائے ، دوسرے اس طرح کہ دولت مند شخص اس بات کا انکار کردے کہ ان نعمتوں کا بخشنے والا اللہ ہے۔ وہ ان نعمتوں کو اپنے علم ، اپنی مہارت اور اپنی ذاتی جدو جہد کا ثمرہ قرار دے۔ گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ علم ، مہارت ، جدو جہد کی قوت یہ اللہ کی نعمتیں نہیں ہیں۔ یہ اس کی خود کی پیدا کردہ ہیں اور بھی کفران نعمت یوں ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے یہ شخص سرکشی اختیار کرتا ہے ، تکبر کرتا ہے ، اپنے آپ کو لوگوں کے مقابلے میں بڑی چیز سمجھتا ہے اور ان کے ذریعہ فساد پھیلاتا ہے اور عیش و عشرت کرتا ہے۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری میں آتے ہیں۔ عذاب شدید کی بھی پھر مختلف شکلیں ہیں ، کبھی تو یہ یوں آتا ہے کہ اللہ کی نعمت کسی سے سلب کرلی جاتی ہے اور وہ مشخص طور پر ان سے محروم ہوجاتا ہے یا انسانی شعور پر نعمتوں کا جو اثر ہوتا ہے وہ مٹ جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی نعمت کو انسان کے لئے مصیبت بنا دیا جاتا ہے اور صاحب نعمت پر اس کی وجہ مصائب آجاتے ہیں۔ جو لوگ اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں وہ اس کے ساتھ حسد کرتے ہیں اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اس پر ایک عرصے کے بعد عذاب آجاتا ہے اور کبھی اس عذاب کو آخرت تک ملتوی کردیا جاتا ہے۔ لیکن عذاب ملتا ضرور ہے کیونکہ کفران نعمت کا جرم بغیر سزا کے نہیں رہ سکتا۔
اگر کوئی شکر کرتا ہے تو اللہ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اور اگر کوئی کفران نعمت کرتا ہے تو اللہ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اللہ تو بذات خود غنی ہے اور دونوں جہانوں میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ بذات خود محمود ہے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ صرف لوگوں کے شکر اور حمد کے ساتھ محمود ہو سکتا ہے۔
وقال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ لغنی حمید (14 : 8) ” اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بےنیاز ہے اور اپنی ذات میں محمود ہے “۔ اگر تم شکر کرو گے تو اس سے تمہاری زندگی سدھرے گی۔ لوگوں کے نفوس اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور پاکیزہ ہوں گے اور شکر کی وجہ سے وہ سدھر جائیں گے۔ وہ مطمئن ہوجائیں گے کہ اب یہ نعمت انشاء اللہ جاری رہے گی اور اس کے بگڑنے اور ختم ہونے کا خطرہ نہ رہے گا۔ نیز بطور شکر نعمت جو خرچ کیا جائے گا اس پر کوئی نفس پریشان نہ ہوگا بلکہ خوش ہوگا۔ کیونکہ منعم موجود ہے اور بطور شکر جو حصہ جائے گا اس سے بقیہ حصہ پاک ہوگا اور اجر مزید ملے گا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے وعظ و نصیحت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ پس منظر میں چلے گئے تا کہ منظر پر ایک عظیم معرکہ دکھایا جاسکے۔ جو تمام انبیاء کی امتوں اور ان کے بالمقابل جاہلیتوں میں برپا ہوگا۔ ان جاہلیتوں نے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ قرآن مجید کا یہ انوکھا اسلوب ہے کہ وہ کلام کا انداز یکلخت بدل کر اسے زندہ منظر میں بدل دیتا ہے۔ یہ منظر زندہ اور متحرک ہوتا ہے۔ اس میں افراد چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور ان کے تاثرات بھی صاف نظر آتے ہیں۔ زمان ومکان کو لپیٹ کر اب ایک عظیم منظر۔
إبراهيم 14:6
اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔
آیت نمبر 5 تا 8
حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔
حضور ﷺ کو حکم پوری انسانیت کے لئے ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم صرف ان کی قوم کے لئے تھا ۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالو۔
وذکرھم بایم اللہ (14 : 5) ” اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کرو “۔ سب کے سب دن اللہ کے ہیں۔ لیکن یہاں ان تاریخی دنوں سے مقصد ہے جن میں اللہ کے انعامات یا اللہ کا عذاب واضح طور پر نظر آتا ہے تا کہ ان سے انسانیت یا انسانیت کی کوئی جماعت استفادہ کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ اللسام نے اپنی قوم کو ایام اللہ سے ڈرایا اور اقوام کے تاریخی واقعات ، قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی اقوام کے بارے میں یاد دہانی کرائی۔ یہ ہیں ایام اللہ۔
ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (14 : 5) ” ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو “۔ ان ایام میں بعض آیات ، دلائل اور نشانات اقوام کی بدبختی کے ہیں تو اس سے صبر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے اور بعض آیات اللہ کی نعمتوں کی ہوتی ہیں اور ان سے شکر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا اور شکر بجا لانے والا ہوتا ہے وہی ان نصیحتوں کا ادراک کرسکتا ہے اور ان کے اندر پائی جانے والی حکمت اور عبرت کو سمجھ سکتا ہے۔ نیز ان میں اس کے لئے تسلی اور یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نبوت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قوم کو نصیحت کرتے رہے۔
واذ قال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ من ربکم عظیم (14 : 6) ” یاد کرو جب موسیٰ علی السلام نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ یہ نعمت کی اللہ نے ، ان کو سخت عذاب سے نجات دی۔ یہ عذاب ان کو آل فرعون کی طرف سے دیا جا رہا تھا اور یہ عذاب مسلسل ان پر ڈھایا جا رہا تھا۔ اس میں کوئی وقفہ یا کوئی چھٹی کا پیریڈ نہ تھا اور اس عذاب کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے بچوں میں سے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر قوت مدافعت باقی نہ رہے اور مردوں کی کمی کی وجہ سے جنگی اعتبار سے وہ ضعیف ہوجائیں تا کہ ان کو ذلیل کر کے رکھا جاسکے۔ اللہ نے ان کو غلامی اور ذلت کی اس حالت سے نکالا۔ چناچہ یہاں ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یاد دلاتے ہیں تا کہ وہ شکر بجا لائیں۔
وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (14 : 6) ” اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ پہلے تو ان کو نعمت کے ساتھ نہیں بلکہ مصیبت میں آزمایا گیا تا کہ ان کے صبر ، برداشت اور قوت مدافعت اور عزم کو آزمایا جائے کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اور کس قدر اللہ کے احکام بجا لانے والے ہیں۔ صبر کا یہ مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان ذلت کو برداشت کرتے کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی بنا لے بلکہ صبر یہ ہے کہ انسان مصائب کو برداشت کرے لیکن اس کی استقامت میں کوئی تزلزل نہ آئے۔ وہ شکست برداشت نہ کرے ، روحانی طور پر ہمت نہ ہارے ، اپنے پروگرام پر چلنے کا عزم پورا رکھتا ہو اور اس کے اندر ظلم اور سرکشی کے مقابلے کے لئے تیاری کا عزم موجود ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو صبر نہیں بلکہ خواری اور ذلت کو قبول کرنا ہے اور نجات میں بھی ان کے لئے آزمائش ہے کہ آیا وہ شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی اس نعمت کا اعتراف کرتے ہیں یا نہیں۔ اور نجات کے بدلے اللہ کی راہ ہدایت کو اپناتے ہیں یا نہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اب مزید بیان کرتے ہیں۔ ایام اللہ کے بیان کے بعد اب ان کو مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تمہیں چاہئے کہ صبر اور شکر کو اپنا وطیرہ بنا لو اور اگر تم شکر کروگے تو اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور اگر کفر کروگے تو اللہ کا عذاب پھر تیار ہوگا۔
واذ تاذن ۔۔۔۔۔۔ عذابی لشدید (14 : 7) ” یاد رکھو ، تمہارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے “۔
یہ ایک عظیم حقیقت ہے ، یہ حقیقت کہ شکر نعمت سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفران نعمت سے انسان اللہ کی شدید پکڑ میں آجاتا ہے۔ جب ہم ذرا اس حقیقت پر غور کرتے ہیں تو پہلی ہی سوچ میں ہمارے دل اس حقیقت پر مطمئن ہوجاتے ہیں کیونکہ ایک تو یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے لیکن اگر ہم اس کے اسباب کو بھی معلوم کرنا چاہیں اور ایسے اسباب کی تلاش کریں جنہیں ہم سمجھ سکتے ہیں تو بھی ہمیں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
شکر نعمت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر کرنے والے کے نفس میں ایک صحیح معیار بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ کی نعمت کا فطری تقاضا ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ ہر فطرت سلیم ، احسان کا فطری صلہ شکر کو سمجھتی ہے۔ ایک تو یہ سبب ہے ، دوسرے یہ کہ جو شخص نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہی ان نعمتوں کا متصرف ہے۔ اس طرح یہ شخص سر کشی سے باز رہتا ہے ، لوگوں پر اپنے آپ کو برتر نہیں سمجھتا اور اللہ کی نعمتوں کو مخلوق خدا کے اذیت دینے ، شر کرنے ، معاشرے میں فساد پھیلانے اور خصوصاً گندگی پھیلانے کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔
ان امور سے انسان کے نفس کے اندر پاکی آجاتی ہے اور ایسا شخص عمل صالح کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ خدا کی دی ہوئی دولت میں اچھا تصرف کرتا ہے اور اس اچھے تصرف کی وجہ سے اس میں ترقی ہوتی ہے اور برکت آجاتی ہے ۔ اس طرح ایسے شخص سے اس کے اردگرد کے لوگ بھی خوش ہوتے ہیں اور پھر اس خوشی کی وجہ سے وہ اس کی اور معاونت کرتے ہیں۔ اس طرح معیشت کی ترقی کے لئے مزید پر امن ماحول فراہم ہوتا ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک مومن کے لئے تو صرف یہی کافی ہے کہ اگر شکر کرو گے تو میں زیادہ دولت دوں گا چاہے وہ دوسرے اسباب کو سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے کیونکہ اللہ کا وعدہ ایک حق ہے اور اس نے بہرحال پورا ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر دو طرح کا ہوتا ہے ایک تو اس طرح کہ نعمت کا شکر ادا نہ کیا جائے ، دوسرے اس طرح کہ دولت مند شخص اس بات کا انکار کردے کہ ان نعمتوں کا بخشنے والا اللہ ہے۔ وہ ان نعمتوں کو اپنے علم ، اپنی مہارت اور اپنی ذاتی جدو جہد کا ثمرہ قرار دے۔ گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ علم ، مہارت ، جدو جہد کی قوت یہ اللہ کی نعمتیں نہیں ہیں۔ یہ اس کی خود کی پیدا کردہ ہیں اور بھی کفران نعمت یوں ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے یہ شخص سرکشی اختیار کرتا ہے ، تکبر کرتا ہے ، اپنے آپ کو لوگوں کے مقابلے میں بڑی چیز سمجھتا ہے اور ان کے ذریعہ فساد پھیلاتا ہے اور عیش و عشرت کرتا ہے۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری میں آتے ہیں۔ عذاب شدید کی بھی پھر مختلف شکلیں ہیں ، کبھی تو یہ یوں آتا ہے کہ اللہ کی نعمت کسی سے سلب کرلی جاتی ہے اور وہ مشخص طور پر ان سے محروم ہوجاتا ہے یا انسانی شعور پر نعمتوں کا جو اثر ہوتا ہے وہ مٹ جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی نعمت کو انسان کے لئے مصیبت بنا دیا جاتا ہے اور صاحب نعمت پر اس کی وجہ مصائب آجاتے ہیں۔ جو لوگ اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں وہ اس کے ساتھ حسد کرتے ہیں اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اس پر ایک عرصے کے بعد عذاب آجاتا ہے اور کبھی اس عذاب کو آخرت تک ملتوی کردیا جاتا ہے۔ لیکن عذاب ملتا ضرور ہے کیونکہ کفران نعمت کا جرم بغیر سزا کے نہیں رہ سکتا۔
اگر کوئی شکر کرتا ہے تو اللہ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اور اگر کوئی کفران نعمت کرتا ہے تو اللہ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اللہ تو بذات خود غنی ہے اور دونوں جہانوں میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ بذات خود محمود ہے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ صرف لوگوں کے شکر اور حمد کے ساتھ محمود ہو سکتا ہے۔
وقال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ لغنی حمید (14 : 8) ” اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بےنیاز ہے اور اپنی ذات میں محمود ہے “۔ اگر تم شکر کرو گے تو اس سے تمہاری زندگی سدھرے گی۔ لوگوں کے نفوس اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور پاکیزہ ہوں گے اور شکر کی وجہ سے وہ سدھر جائیں گے۔ وہ مطمئن ہوجائیں گے کہ اب یہ نعمت انشاء اللہ جاری رہے گی اور اس کے بگڑنے اور ختم ہونے کا خطرہ نہ رہے گا۔ نیز بطور شکر نعمت جو خرچ کیا جائے گا اس پر کوئی نفس پریشان نہ ہوگا بلکہ خوش ہوگا۔ کیونکہ منعم موجود ہے اور بطور شکر جو حصہ جائے گا اس سے بقیہ حصہ پاک ہوگا اور اجر مزید ملے گا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے وعظ و نصیحت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ پس منظر میں چلے گئے تا کہ منظر پر ایک عظیم معرکہ دکھایا جاسکے۔ جو تمام انبیاء کی امتوں اور ان کے بالمقابل جاہلیتوں میں برپا ہوگا۔ ان جاہلیتوں نے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ قرآن مجید کا یہ انوکھا اسلوب ہے کہ وہ کلام کا انداز یکلخت بدل کر اسے زندہ منظر میں بدل دیتا ہے۔ یہ منظر زندہ اور متحرک ہوتا ہے۔ اس میں افراد چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور ان کے تاثرات بھی صاف نظر آتے ہیں۔ زمان ومکان کو لپیٹ کر اب ایک عظیم منظر۔
إبراهيم 14:7
اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔
آیت نمبر 5 تا 8
حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔
حضور ﷺ کو حکم پوری انسانیت کے لئے ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم صرف ان کی قوم کے لئے تھا ۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالو۔
وذکرھم بایم اللہ (14 : 5) ” اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کرو “۔ سب کے سب دن اللہ کے ہیں۔ لیکن یہاں ان تاریخی دنوں سے مقصد ہے جن میں اللہ کے انعامات یا اللہ کا عذاب واضح طور پر نظر آتا ہے تا کہ ان سے انسانیت یا انسانیت کی کوئی جماعت استفادہ کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ اللسام نے اپنی قوم کو ایام اللہ سے ڈرایا اور اقوام کے تاریخی واقعات ، قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی اقوام کے بارے میں یاد دہانی کرائی۔ یہ ہیں ایام اللہ۔
ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (14 : 5) ” ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو “۔ ان ایام میں بعض آیات ، دلائل اور نشانات اقوام کی بدبختی کے ہیں تو اس سے صبر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے اور بعض آیات اللہ کی نعمتوں کی ہوتی ہیں اور ان سے شکر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا اور شکر بجا لانے والا ہوتا ہے وہی ان نصیحتوں کا ادراک کرسکتا ہے اور ان کے اندر پائی جانے والی حکمت اور عبرت کو سمجھ سکتا ہے۔ نیز ان میں اس کے لئے تسلی اور یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نبوت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قوم کو نصیحت کرتے رہے۔
واذ قال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ من ربکم عظیم (14 : 6) ” یاد کرو جب موسیٰ علی السلام نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ یہ نعمت کی اللہ نے ، ان کو سخت عذاب سے نجات دی۔ یہ عذاب ان کو آل فرعون کی طرف سے دیا جا رہا تھا اور یہ عذاب مسلسل ان پر ڈھایا جا رہا تھا۔ اس میں کوئی وقفہ یا کوئی چھٹی کا پیریڈ نہ تھا اور اس عذاب کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے بچوں میں سے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر قوت مدافعت باقی نہ رہے اور مردوں کی کمی کی وجہ سے جنگی اعتبار سے وہ ضعیف ہوجائیں تا کہ ان کو ذلیل کر کے رکھا جاسکے۔ اللہ نے ان کو غلامی اور ذلت کی اس حالت سے نکالا۔ چناچہ یہاں ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یاد دلاتے ہیں تا کہ وہ شکر بجا لائیں۔
وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (14 : 6) ” اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ پہلے تو ان کو نعمت کے ساتھ نہیں بلکہ مصیبت میں آزمایا گیا تا کہ ان کے صبر ، برداشت اور قوت مدافعت اور عزم کو آزمایا جائے کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اور کس قدر اللہ کے احکام بجا لانے والے ہیں۔ صبر کا یہ مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان ذلت کو برداشت کرتے کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی بنا لے بلکہ صبر یہ ہے کہ انسان مصائب کو برداشت کرے لیکن اس کی استقامت میں کوئی تزلزل نہ آئے۔ وہ شکست برداشت نہ کرے ، روحانی طور پر ہمت نہ ہارے ، اپنے پروگرام پر چلنے کا عزم پورا رکھتا ہو اور اس کے اندر ظلم اور سرکشی کے مقابلے کے لئے تیاری کا عزم موجود ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو صبر نہیں بلکہ خواری اور ذلت کو قبول کرنا ہے اور نجات میں بھی ان کے لئے آزمائش ہے کہ آیا وہ شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی اس نعمت کا اعتراف کرتے ہیں یا نہیں۔ اور نجات کے بدلے اللہ کی راہ ہدایت کو اپناتے ہیں یا نہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اب مزید بیان کرتے ہیں۔ ایام اللہ کے بیان کے بعد اب ان کو مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تمہیں چاہئے کہ صبر اور شکر کو اپنا وطیرہ بنا لو اور اگر تم شکر کروگے تو اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور اگر کفر کروگے تو اللہ کا عذاب پھر تیار ہوگا۔
واذ تاذن ۔۔۔۔۔۔ عذابی لشدید (14 : 7) ” یاد رکھو ، تمہارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے “۔
یہ ایک عظیم حقیقت ہے ، یہ حقیقت کہ شکر نعمت سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفران نعمت سے انسان اللہ کی شدید پکڑ میں آجاتا ہے۔ جب ہم ذرا اس حقیقت پر غور کرتے ہیں تو پہلی ہی سوچ میں ہمارے دل اس حقیقت پر مطمئن ہوجاتے ہیں کیونکہ ایک تو یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے لیکن اگر ہم اس کے اسباب کو بھی معلوم کرنا چاہیں اور ایسے اسباب کی تلاش کریں جنہیں ہم سمجھ سکتے ہیں تو بھی ہمیں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
شکر نعمت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر کرنے والے کے نفس میں ایک صحیح معیار بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ کی نعمت کا فطری تقاضا ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ ہر فطرت سلیم ، احسان کا فطری صلہ شکر کو سمجھتی ہے۔ ایک تو یہ سبب ہے ، دوسرے یہ کہ جو شخص نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہی ان نعمتوں کا متصرف ہے۔ اس طرح یہ شخص سر کشی سے باز رہتا ہے ، لوگوں پر اپنے آپ کو برتر نہیں سمجھتا اور اللہ کی نعمتوں کو مخلوق خدا کے اذیت دینے ، شر کرنے ، معاشرے میں فساد پھیلانے اور خصوصاً گندگی پھیلانے کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔
ان امور سے انسان کے نفس کے اندر پاکی آجاتی ہے اور ایسا شخص عمل صالح کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ خدا کی دی ہوئی دولت میں اچھا تصرف کرتا ہے اور اس اچھے تصرف کی وجہ سے اس میں ترقی ہوتی ہے اور برکت آجاتی ہے ۔ اس طرح ایسے شخص سے اس کے اردگرد کے لوگ بھی خوش ہوتے ہیں اور پھر اس خوشی کی وجہ سے وہ اس کی اور معاونت کرتے ہیں۔ اس طرح معیشت کی ترقی کے لئے مزید پر امن ماحول فراہم ہوتا ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک مومن کے لئے تو صرف یہی کافی ہے کہ اگر شکر کرو گے تو میں زیادہ دولت دوں گا چاہے وہ دوسرے اسباب کو سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے کیونکہ اللہ کا وعدہ ایک حق ہے اور اس نے بہرحال پورا ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر دو طرح کا ہوتا ہے ایک تو اس طرح کہ نعمت کا شکر ادا نہ کیا جائے ، دوسرے اس طرح کہ دولت مند شخص اس بات کا انکار کردے کہ ان نعمتوں کا بخشنے والا اللہ ہے۔ وہ ان نعمتوں کو اپنے علم ، اپنی مہارت اور اپنی ذاتی جدو جہد کا ثمرہ قرار دے۔ گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ علم ، مہارت ، جدو جہد کی قوت یہ اللہ کی نعمتیں نہیں ہیں۔ یہ اس کی خود کی پیدا کردہ ہیں اور بھی کفران نعمت یوں ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے یہ شخص سرکشی اختیار کرتا ہے ، تکبر کرتا ہے ، اپنے آپ کو لوگوں کے مقابلے میں بڑی چیز سمجھتا ہے اور ان کے ذریعہ فساد پھیلاتا ہے اور عیش و عشرت کرتا ہے۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری میں آتے ہیں۔ عذاب شدید کی بھی پھر مختلف شکلیں ہیں ، کبھی تو یہ یوں آتا ہے کہ اللہ کی نعمت کسی سے سلب کرلی جاتی ہے اور وہ مشخص طور پر ان سے محروم ہوجاتا ہے یا انسانی شعور پر نعمتوں کا جو اثر ہوتا ہے وہ مٹ جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی نعمت کو انسان کے لئے مصیبت بنا دیا جاتا ہے اور صاحب نعمت پر اس کی وجہ مصائب آجاتے ہیں۔ جو لوگ اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں وہ اس کے ساتھ حسد کرتے ہیں اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اس پر ایک عرصے کے بعد عذاب آجاتا ہے اور کبھی اس عذاب کو آخرت تک ملتوی کردیا جاتا ہے۔ لیکن عذاب ملتا ضرور ہے کیونکہ کفران نعمت کا جرم بغیر سزا کے نہیں رہ سکتا۔
اگر کوئی شکر کرتا ہے تو اللہ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اور اگر کوئی کفران نعمت کرتا ہے تو اللہ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اللہ تو بذات خود غنی ہے اور دونوں جہانوں میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ بذات خود محمود ہے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ صرف لوگوں کے شکر اور حمد کے ساتھ محمود ہو سکتا ہے۔
وقال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ لغنی حمید (14 : 8) ” اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بےنیاز ہے اور اپنی ذات میں محمود ہے “۔ اگر تم شکر کرو گے تو اس سے تمہاری زندگی سدھرے گی۔ لوگوں کے نفوس اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور پاکیزہ ہوں گے اور شکر کی وجہ سے وہ سدھر جائیں گے۔ وہ مطمئن ہوجائیں گے کہ اب یہ نعمت انشاء اللہ جاری رہے گی اور اس کے بگڑنے اور ختم ہونے کا خطرہ نہ رہے گا۔ نیز بطور شکر نعمت جو خرچ کیا جائے گا اس پر کوئی نفس پریشان نہ ہوگا بلکہ خوش ہوگا۔ کیونکہ منعم موجود ہے اور بطور شکر جو حصہ جائے گا اس سے بقیہ حصہ پاک ہوگا اور اجر مزید ملے گا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے وعظ و نصیحت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ پس منظر میں چلے گئے تا کہ منظر پر ایک عظیم معرکہ دکھایا جاسکے۔ جو تمام انبیاء کی امتوں اور ان کے بالمقابل جاہلیتوں میں برپا ہوگا۔ ان جاہلیتوں نے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ قرآن مجید کا یہ انوکھا اسلوب ہے کہ وہ کلام کا انداز یکلخت بدل کر اسے زندہ منظر میں بدل دیتا ہے۔ یہ منظر زندہ اور متحرک ہوتا ہے۔ اس میں افراد چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور ان کے تاثرات بھی صاف نظر آتے ہیں۔ زمان ومکان کو لپیٹ کر اب ایک عظیم منظر۔
إبراهيم 14:8
اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔
آیت نمبر 5 تا 8
حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔
حضور ﷺ کو حکم پوری انسانیت کے لئے ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم صرف ان کی قوم کے لئے تھا ۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالو۔
وذکرھم بایم اللہ (14 : 5) ” اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کرو “۔ سب کے سب دن اللہ کے ہیں۔ لیکن یہاں ان تاریخی دنوں سے مقصد ہے جن میں اللہ کے انعامات یا اللہ کا عذاب واضح طور پر نظر آتا ہے تا کہ ان سے انسانیت یا انسانیت کی کوئی جماعت استفادہ کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ اللسام نے اپنی قوم کو ایام اللہ سے ڈرایا اور اقوام کے تاریخی واقعات ، قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی اقوام کے بارے میں یاد دہانی کرائی۔ یہ ہیں ایام اللہ۔
ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (14 : 5) ” ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو “۔ ان ایام میں بعض آیات ، دلائل اور نشانات اقوام کی بدبختی کے ہیں تو اس سے صبر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے اور بعض آیات اللہ کی نعمتوں کی ہوتی ہیں اور ان سے شکر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا اور شکر بجا لانے والا ہوتا ہے وہی ان نصیحتوں کا ادراک کرسکتا ہے اور ان کے اندر پائی جانے والی حکمت اور عبرت کو سمجھ سکتا ہے۔ نیز ان میں اس کے لئے تسلی اور یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔
چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نبوت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قوم کو نصیحت کرتے رہے۔
واذ قال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ من ربکم عظیم (14 : 6) ” یاد کرو جب موسیٰ علی السلام نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ یہ نعمت کی اللہ نے ، ان کو سخت عذاب سے نجات دی۔ یہ عذاب ان کو آل فرعون کی طرف سے دیا جا رہا تھا اور یہ عذاب مسلسل ان پر ڈھایا جا رہا تھا۔ اس میں کوئی وقفہ یا کوئی چھٹی کا پیریڈ نہ تھا اور اس عذاب کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے بچوں میں سے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر قوت مدافعت باقی نہ رہے اور مردوں کی کمی کی وجہ سے جنگی اعتبار سے وہ ضعیف ہوجائیں تا کہ ان کو ذلیل کر کے رکھا جاسکے۔ اللہ نے ان کو غلامی اور ذلت کی اس حالت سے نکالا۔ چناچہ یہاں ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یاد دلاتے ہیں تا کہ وہ شکر بجا لائیں۔
وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (14 : 6) ” اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ پہلے تو ان کو نعمت کے ساتھ نہیں بلکہ مصیبت میں آزمایا گیا تا کہ ان کے صبر ، برداشت اور قوت مدافعت اور عزم کو آزمایا جائے کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اور کس قدر اللہ کے احکام بجا لانے والے ہیں۔ صبر کا یہ مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان ذلت کو برداشت کرتے کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی بنا لے بلکہ صبر یہ ہے کہ انسان مصائب کو برداشت کرے لیکن اس کی استقامت میں کوئی تزلزل نہ آئے۔ وہ شکست برداشت نہ کرے ، روحانی طور پر ہمت نہ ہارے ، اپنے پروگرام پر چلنے کا عزم پورا رکھتا ہو اور اس کے اندر ظلم اور سرکشی کے مقابلے کے لئے تیاری کا عزم موجود ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو صبر نہیں بلکہ خواری اور ذلت کو قبول کرنا ہے اور نجات میں بھی ان کے لئے آزمائش ہے کہ آیا وہ شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی اس نعمت کا اعتراف کرتے ہیں یا نہیں۔ اور نجات کے بدلے اللہ کی راہ ہدایت کو اپناتے ہیں یا نہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اب مزید بیان کرتے ہیں۔ ایام اللہ کے بیان کے بعد اب ان کو مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تمہیں چاہئے کہ صبر اور شکر کو اپنا وطیرہ بنا لو اور اگر تم شکر کروگے تو اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور اگر کفر کروگے تو اللہ کا عذاب پھر تیار ہوگا۔
واذ تاذن ۔۔۔۔۔۔ عذابی لشدید (14 : 7) ” یاد رکھو ، تمہارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے “۔
یہ ایک عظیم حقیقت ہے ، یہ حقیقت کہ شکر نعمت سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفران نعمت سے انسان اللہ کی شدید پکڑ میں آجاتا ہے۔ جب ہم ذرا اس حقیقت پر غور کرتے ہیں تو پہلی ہی سوچ میں ہمارے دل اس حقیقت پر مطمئن ہوجاتے ہیں کیونکہ ایک تو یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے لیکن اگر ہم اس کے اسباب کو بھی معلوم کرنا چاہیں اور ایسے اسباب کی تلاش کریں جنہیں ہم سمجھ سکتے ہیں تو بھی ہمیں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
شکر نعمت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر کرنے والے کے نفس میں ایک صحیح معیار بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ کی نعمت کا فطری تقاضا ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ ہر فطرت سلیم ، احسان کا فطری صلہ شکر کو سمجھتی ہے۔ ایک تو یہ سبب ہے ، دوسرے یہ کہ جو شخص نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہی ان نعمتوں کا متصرف ہے۔ اس طرح یہ شخص سر کشی سے باز رہتا ہے ، لوگوں پر اپنے آپ کو برتر نہیں سمجھتا اور اللہ کی نعمتوں کو مخلوق خدا کے اذیت دینے ، شر کرنے ، معاشرے میں فساد پھیلانے اور خصوصاً گندگی پھیلانے کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔
ان امور سے انسان کے نفس کے اندر پاکی آجاتی ہے اور ایسا شخص عمل صالح کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ خدا کی دی ہوئی دولت میں اچھا تصرف کرتا ہے اور اس اچھے تصرف کی وجہ سے اس میں ترقی ہوتی ہے اور برکت آجاتی ہے ۔ اس طرح ایسے شخص سے اس کے اردگرد کے لوگ بھی خوش ہوتے ہیں اور پھر اس خوشی کی وجہ سے وہ اس کی اور معاونت کرتے ہیں۔ اس طرح معیشت کی ترقی کے لئے مزید پر امن ماحول فراہم ہوتا ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک مومن کے لئے تو صرف یہی کافی ہے کہ اگر شکر کرو گے تو میں زیادہ دولت دوں گا چاہے وہ دوسرے اسباب کو سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے کیونکہ اللہ کا وعدہ ایک حق ہے اور اس نے بہرحال پورا ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر دو طرح کا ہوتا ہے ایک تو اس طرح کہ نعمت کا شکر ادا نہ کیا جائے ، دوسرے اس طرح کہ دولت مند شخص اس بات کا انکار کردے کہ ان نعمتوں کا بخشنے والا اللہ ہے۔ وہ ان نعمتوں کو اپنے علم ، اپنی مہارت اور اپنی ذاتی جدو جہد کا ثمرہ قرار دے۔ گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ علم ، مہارت ، جدو جہد کی قوت یہ اللہ کی نعمتیں نہیں ہیں۔ یہ اس کی خود کی پیدا کردہ ہیں اور بھی کفران نعمت یوں ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے یہ شخص سرکشی اختیار کرتا ہے ، تکبر کرتا ہے ، اپنے آپ کو لوگوں کے مقابلے میں بڑی چیز سمجھتا ہے اور ان کے ذریعہ فساد پھیلاتا ہے اور عیش و عشرت کرتا ہے۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری میں آتے ہیں۔ عذاب شدید کی بھی پھر مختلف شکلیں ہیں ، کبھی تو یہ یوں آتا ہے کہ اللہ کی نعمت کسی سے سلب کرلی جاتی ہے اور وہ مشخص طور پر ان سے محروم ہوجاتا ہے یا انسانی شعور پر نعمتوں کا جو اثر ہوتا ہے وہ مٹ جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی نعمت کو انسان کے لئے مصیبت بنا دیا جاتا ہے اور صاحب نعمت پر اس کی وجہ مصائب آجاتے ہیں۔ جو لوگ اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں وہ اس کے ساتھ حسد کرتے ہیں اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اس پر ایک عرصے کے بعد عذاب آجاتا ہے اور کبھی اس عذاب کو آخرت تک ملتوی کردیا جاتا ہے۔ لیکن عذاب ملتا ضرور ہے کیونکہ کفران نعمت کا جرم بغیر سزا کے نہیں رہ سکتا۔
اگر کوئی شکر کرتا ہے تو اللہ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اور اگر کوئی کفران نعمت کرتا ہے تو اللہ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اللہ تو بذات خود غنی ہے اور دونوں جہانوں میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ بذات خود محمود ہے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ صرف لوگوں کے شکر اور حمد کے ساتھ محمود ہو سکتا ہے۔
وقال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ لغنی حمید (14 : 8) ” اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بےنیاز ہے اور اپنی ذات میں محمود ہے “۔ اگر تم شکر کرو گے تو اس سے تمہاری زندگی سدھرے گی۔ لوگوں کے نفوس اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور پاکیزہ ہوں گے اور شکر کی وجہ سے وہ سدھر جائیں گے۔ وہ مطمئن ہوجائیں گے کہ اب یہ نعمت انشاء اللہ جاری رہے گی اور اس کے بگڑنے اور ختم ہونے کا خطرہ نہ رہے گا۔ نیز بطور شکر نعمت جو خرچ کیا جائے گا اس پر کوئی نفس پریشان نہ ہوگا بلکہ خوش ہوگا۔ کیونکہ منعم موجود ہے اور بطور شکر جو حصہ جائے گا اس سے بقیہ حصہ پاک ہوگا اور اجر مزید ملے گا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے وعظ و نصیحت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ پس منظر میں چلے گئے تا کہ منظر پر ایک عظیم معرکہ دکھایا جاسکے۔ جو تمام انبیاء کی امتوں اور ان کے بالمقابل جاہلیتوں میں برپا ہوگا۔ ان جاہلیتوں نے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ قرآن مجید کا یہ انوکھا اسلوب ہے کہ وہ کلام کا انداز یکلخت بدل کر اسے زندہ منظر میں بدل دیتا ہے۔ یہ منظر زندہ اور متحرک ہوتا ہے۔ اس میں افراد چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور ان کے تاثرات بھی صاف نظر آتے ہیں۔ زمان ومکان کو لپیٹ کر اب ایک عظیم منظر۔
إبراهيم 14:9
آیت نمبر 9 تا 11
یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب رسول اور ان کی امم موجود ہیں اور تمام رسولوں کا مقابلہ جاہلیتوں کے ساتھ ہے۔ اقوام اور رسولوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے مٹا دئیے جاتے ہیں اور واقعات کو زمان ومکان سے علیحدہ کر کے پیش کردیا جاتا ہے ، جب کہ زمان و مکان کے پردوں کے پیچھے وجود کی حقیقت ہے۔
الم یاتکم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (14 : 9) ” کیا تمہیں ان قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد ، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ “ یہ بہت سی اقوام ہیں ۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہوا۔ یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور اقوام ثمود کے درمیان۔ یہاں سیاق کلام کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان اقوام کی تفصیلات دی جائیں کیونکہ رسول بھی دراصل ایک زمرہ ہیں اور جن لوگوں کو تبلیغ کی جا رہی تھی وہ بھی ایک زمرہ کے لوگ ہیں۔
جاء تھم رسلھم ۔۔۔۔۔ الیہ مریب (14 : 9) ” تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ ” جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔
فردوا ایدیھم (14 : 9) کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی آواز کو بلند کرنے کے لئے منہ کے سامنے ہاتھ رکھتا ہے تا کہ آواز بلند ہو اور دور تک سنی جاسکے۔ اس وقت لوگ اپنے منہ کے سامنے ہتھیلی ہلاتے ہیں تا کہ ہتھیلی کے آگے پیچھے ہونے سے آواز زیادہ بلند ہو۔ اس طرح آواز میں زیادہ موجیں پیدا ہوں اور اس تموج کی وجہ سے آواز دور تک جائے۔ یہاں ان کی اس حرکت کو اس لئے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ پرزور انداز میں تکذیب کرتے تھے۔ ببانگ دہل اور توہین آمیز طریقے سے نہایت ہی کرخت اور تہذیب و آداب سے خالی طریقوں سے انہوں نے پیغمبروں کی بات کا انکار کیا۔
رسولوں کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اللہ ایک ہے اور وہی وحدہ الٰہ ورب ہے اور اپنے بندوں میں سے کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اس حقیقت میں شک کرنا جس کا ادراک ہر فطرت سلیمہ کرتی ہے اور اس کائنات کے اندر پھیلے ہوئے شواہد بھی ظاہرو باہر ہیں تو ایسے حالات میں عقیدۂ توحید میں شک کرنا نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت ہے۔ رسولوں نے اس شک کو بےحد مکروہ سمجھا کہ زمین و آسمان کا یہ نظام شاہد عادل ہے۔
قالت رسلھم ۔۔۔۔ والارض (14 : 10) ” ان کے رسولوں نے کہا ” کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے “۔ کیا اللہ کے بارے میں شک ہے حالانکہ زمین و آسمان کا یہ نظام بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے یہ نظام بنایا ہے اور اسے چلایا ہے ۔ رسولوں نے یہ بات اس لیے کی کہ زمین و آسمان نہایت ہی واضح اور کھلے دلائل و نشانات ہیں۔ ان کی طرف صرف اشارہ ہی کافی ہے۔ ان کے نظام کو ہر گمراہ دیکھ کر راہ ہدایت پر آسکتا ہے۔ رسولوں نے زمین و آسمان کی طرف فقط اشارے ہی کو کافی سمجھا۔ اس کے بعد رسولوں نے بندوں پر اللہ کی نعمتوں کو گنوانا شروع کردیا کہ اللہ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور ایک وقت تک مہلت بھی دی تا کہ وہ دعوت ہدایت پر سوچ سکیں۔
یدعوکم لیغفر لکم من ذنوبکم (14 : 10) ” وہ تمہیں بلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے “۔ حقیقی دعوت تو ایمان کی دعوت ہے جس کے نتیجے میں مغفرت نصیب ہوتی ہے۔ لیکن یہاں دعوت و مغفرت کو ایک ساتھ لایا گیا ہے تا کہ اللہ کا احسان اچھی طرح واضح ہو کہ ایمان لاتے ہیں مغفرت ہوجاتی ہے اور پھر ان لوگوں کا رویہ اور سخت انکار مزید قابل تعجب ہے اور قابل مذمت ہوجاتا ہے کہ مغفرت کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور یہ لوگ ہیں کہ منہ میں ہاتھ ڈال کر انکار کرتے ہیں۔
ویؤخرکم الی اجل مسمی (14 : 10) ” اور تم کو ایک مدت مقررہ تک مہلت دے “۔ اللہ تعالیٰ ایمان و مغفرت کی دعوت دینے کے ساتھ ہی ان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ فوراً قبول کریں اور نہ ان کی تکذیب کے بعد فوراً ان کو ہلاک کرتا ہے ، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ یہ مہلت اس دنیا میں بھی ایک وقت تک ہوتی ہے ۔ اور قیامت تک بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس عرصے میں تم اچھی طرح اس دعوت پر غور کرسکتے ہو اور اللہ کی عزت اور رسولوں کے بیان پر بھی غور کرسکتے ہو۔ یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت اور مہربانی ہے اور یہ بھی اللہ کے انعامات میں سے ایک نعمت ہے۔ تو کیا ایسے انعامات الہٰیہ کا وہی جواب ہے جو تم دے رہے ہو۔ لیکن یہ لوگ بہت ہی جاہل ہیں اور وہ اسی پرانے جاہلانہ اعتراض کا سہارا لیتے ہیں۔
قالوا ان انتم ۔۔۔۔۔ یعبد اباؤنا (14 : 10) ” انہوں نے جواب دیا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔ تم ہمیں ان ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے “۔ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ یہ تو انسانوں کے لئے اعزاز تھا لیکن یہ وہ نہ صرف یہ کہ اسے سمجھتے نہیں بلکہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اس میں نہ صرف شک کرتے ہیں ، بلکہ وہ الٹا رسولوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف یہ سازش کی ہے کہ ہمیں اس راہ سے ہٹا دیں جس پر ہمارے باپ دادا چلے آئے ہیں۔ لیکن سوچتے نہیں کہ رسول کیوں نہیں اس راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ تمام بت پرست ہمیشہ عقلی جمود میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کے پاس یہی دلیل ہوتی ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد یہی کام کرتے رہے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ آباء کے مذہب کی حیثیت کیا ہے ؟ اگر غورو فکر سے کام لیا جائے تو ان الہٰوں کی حیثیت کیا ہے ؟ بجائے اس کے کہ وہ کوئی عقل و فکر سے کام لیں اور اس جدید معقول دعوت کو قبول کرلیں یہ لوگ الٹا پیغمبروں سے ثبوت مانگتے ہیں۔
فاتونا بسلطن مبین (14 : 10) ” اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند “ ۔ رسول اپنی بشریت کا انکار نہیں بلکہ اقرار کرتے ہیں بلکہ وہ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ انہیں بار رسالت کے اٹھانے کے اہل بنایا ۔
قالت لھم ۔۔۔۔۔ من عبادہ (14 : 11) ” ان کے رسولوں نے ان سے کہا ” واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جو کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کے احسان کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس پوری سورة میں فضا اللہ کے احسانات کی ہے۔ ہر جگہ اللہ کے انعامات کا ذکر ہے۔ چناچہ یہاں بھی لکھا گیا کہ اللہ کے احسانات ہیں جس پر ہوجائیں۔ یہ احسان صرف رسولوں کی ذات پر ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ پوری بشریت پر احسان ہے کہ اس میں سے بعض افراد کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ دوسروں کی ہدایت اور راہنمائی کا کام کریں۔ یہ ڈیوٹی ہے کیا ؟ یہ کہ عالم بالا سے ان کا رابطہ ہو اور پھر لوگوں تک پیغام پہنچائیں اور پھر پوری انسانیت پر احسان ہے کہ یہ رسول لوگوں کی فطرت کو جگائیں اور اس کے اوپر سے زنگ دور کردیں تا کہ فطرت انسانی میں وہ قوتیں تازہ ہوجائیں جو ہدایت کو قبول کریں اور جمود کی موت سے نکل کر قبولت حق کی زندگی میں داخل ہوں۔ پھر انسانیت پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ یہ رسول لوگوں کو مختلف الہٰوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل کریں اور ان کی عزت نفس ، اور ان کی قوتوں کو لوگوں کی غلامی میں صرف ہونے سے بچائیں۔ کیونکہ غلامی میں جب ایک انسان اپنے جیسے انسان کے سامنے جھکتا ہے تو اس کی عزت نفس ختم ہوجاتی ہے۔ انسانی قوت اپنے جیسے انسانوں کو الٰہ بنا کر بکھر جاتی ہے۔
رہی یہ بات کہ رسول کوئی واضح معجزہ پیش کریں یا کسی فوق الفطرت قوت کا مظاہرہ کریں تو تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا کہ معجزات کا صدور تو اللہ کے ہاتھ میں ہے تا کہ عوام الناس کے تاریک ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ذات الٰہی اور ذات بشر میں فرق کیا ہے تا کہ لوگوں کے ذہنوں میں توحید کا ایسا صاف تصور بیٹھ جائے کہ اللہ کی ذات صفات میں کوئی شریک نہ ہو۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر پہنچ کر تمام بت پرستوں نے راستہ گم کردیا اور عیسائیوں نے بھی توحید کا راستہ اس وقت گم کردیا جب انہوں نے اپنے دین کو یونانی ، رومی ، مصری اور ہندی فلسفوں کے ساتھ مکس کرلیا۔ عیسائیوں کی گمراہی کا آغاز ہی اس عقیدے سے ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر خوارق عادت معجزات کا صدور ہوا۔ چناچہ خود عیسائیوں نے بعد میں ان کو الٰہ مان لیا۔
وما کان لنا۔۔۔۔۔۔ المومنون ( 14 : 11) ” اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے “۔ رسولوں کا کہنا یہ تھا کہ ہم اللہ کی قوت کے سوا کسی اور قوت پر کبھی کوئی بھروسہ نہیں کرتے اور یہ ان کا دائمی اصول ہے۔ کیونکہ اہل ایمان کا بھروسہ صرف اللہ ہی پر ہوتا ہے۔ ایک مومن کا دل صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور وہ اس کے اوپر بھروسہ کرتا ہے۔
رسولوں کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی طرف سے تمام زیادتیوں کا مقابلہ ایمان سے کرتے ہیں۔ اور ان کی اذیتوں کا مقابلے ثابت قدمی سے کرتے ہیں۔ رسول سو الیہ انداز میں ان جاہلوں سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں۔
إبراهيم 14:10
آیت نمبر 9 تا 11
یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب رسول اور ان کی امم موجود ہیں اور تمام رسولوں کا مقابلہ جاہلیتوں کے ساتھ ہے۔ اقوام اور رسولوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے مٹا دئیے جاتے ہیں اور واقعات کو زمان ومکان سے علیحدہ کر کے پیش کردیا جاتا ہے ، جب کہ زمان و مکان کے پردوں کے پیچھے وجود کی حقیقت ہے۔
الم یاتکم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (14 : 9) ” کیا تمہیں ان قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد ، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ “ یہ بہت سی اقوام ہیں ۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہوا۔ یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور اقوام ثمود کے درمیان۔ یہاں سیاق کلام کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان اقوام کی تفصیلات دی جائیں کیونکہ رسول بھی دراصل ایک زمرہ ہیں اور جن لوگوں کو تبلیغ کی جا رہی تھی وہ بھی ایک زمرہ کے لوگ ہیں۔
جاء تھم رسلھم ۔۔۔۔۔ الیہ مریب (14 : 9) ” تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ ” جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔
فردوا ایدیھم (14 : 9) کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی آواز کو بلند کرنے کے لئے منہ کے سامنے ہاتھ رکھتا ہے تا کہ آواز بلند ہو اور دور تک سنی جاسکے۔ اس وقت لوگ اپنے منہ کے سامنے ہتھیلی ہلاتے ہیں تا کہ ہتھیلی کے آگے پیچھے ہونے سے آواز زیادہ بلند ہو۔ اس طرح آواز میں زیادہ موجیں پیدا ہوں اور اس تموج کی وجہ سے آواز دور تک جائے۔ یہاں ان کی اس حرکت کو اس لئے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ پرزور انداز میں تکذیب کرتے تھے۔ ببانگ دہل اور توہین آمیز طریقے سے نہایت ہی کرخت اور تہذیب و آداب سے خالی طریقوں سے انہوں نے پیغمبروں کی بات کا انکار کیا۔
رسولوں کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اللہ ایک ہے اور وہی وحدہ الٰہ ورب ہے اور اپنے بندوں میں سے کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اس حقیقت میں شک کرنا جس کا ادراک ہر فطرت سلیمہ کرتی ہے اور اس کائنات کے اندر پھیلے ہوئے شواہد بھی ظاہرو باہر ہیں تو ایسے حالات میں عقیدۂ توحید میں شک کرنا نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت ہے۔ رسولوں نے اس شک کو بےحد مکروہ سمجھا کہ زمین و آسمان کا یہ نظام شاہد عادل ہے۔
قالت رسلھم ۔۔۔۔ والارض (14 : 10) ” ان کے رسولوں نے کہا ” کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے “۔ کیا اللہ کے بارے میں شک ہے حالانکہ زمین و آسمان کا یہ نظام بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے یہ نظام بنایا ہے اور اسے چلایا ہے ۔ رسولوں نے یہ بات اس لیے کی کہ زمین و آسمان نہایت ہی واضح اور کھلے دلائل و نشانات ہیں۔ ان کی طرف صرف اشارہ ہی کافی ہے۔ ان کے نظام کو ہر گمراہ دیکھ کر راہ ہدایت پر آسکتا ہے۔ رسولوں نے زمین و آسمان کی طرف فقط اشارے ہی کو کافی سمجھا۔ اس کے بعد رسولوں نے بندوں پر اللہ کی نعمتوں کو گنوانا شروع کردیا کہ اللہ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور ایک وقت تک مہلت بھی دی تا کہ وہ دعوت ہدایت پر سوچ سکیں۔
یدعوکم لیغفر لکم من ذنوبکم (14 : 10) ” وہ تمہیں بلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے “۔ حقیقی دعوت تو ایمان کی دعوت ہے جس کے نتیجے میں مغفرت نصیب ہوتی ہے۔ لیکن یہاں دعوت و مغفرت کو ایک ساتھ لایا گیا ہے تا کہ اللہ کا احسان اچھی طرح واضح ہو کہ ایمان لاتے ہیں مغفرت ہوجاتی ہے اور پھر ان لوگوں کا رویہ اور سخت انکار مزید قابل تعجب ہے اور قابل مذمت ہوجاتا ہے کہ مغفرت کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور یہ لوگ ہیں کہ منہ میں ہاتھ ڈال کر انکار کرتے ہیں۔
ویؤخرکم الی اجل مسمی (14 : 10) ” اور تم کو ایک مدت مقررہ تک مہلت دے “۔ اللہ تعالیٰ ایمان و مغفرت کی دعوت دینے کے ساتھ ہی ان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ فوراً قبول کریں اور نہ ان کی تکذیب کے بعد فوراً ان کو ہلاک کرتا ہے ، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ یہ مہلت اس دنیا میں بھی ایک وقت تک ہوتی ہے ۔ اور قیامت تک بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس عرصے میں تم اچھی طرح اس دعوت پر غور کرسکتے ہو اور اللہ کی عزت اور رسولوں کے بیان پر بھی غور کرسکتے ہو۔ یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت اور مہربانی ہے اور یہ بھی اللہ کے انعامات میں سے ایک نعمت ہے۔ تو کیا ایسے انعامات الہٰیہ کا وہی جواب ہے جو تم دے رہے ہو۔ لیکن یہ لوگ بہت ہی جاہل ہیں اور وہ اسی پرانے جاہلانہ اعتراض کا سہارا لیتے ہیں۔
قالوا ان انتم ۔۔۔۔۔ یعبد اباؤنا (14 : 10) ” انہوں نے جواب دیا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔ تم ہمیں ان ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے “۔ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ یہ تو انسانوں کے لئے اعزاز تھا لیکن یہ وہ نہ صرف یہ کہ اسے سمجھتے نہیں بلکہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اس میں نہ صرف شک کرتے ہیں ، بلکہ وہ الٹا رسولوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف یہ سازش کی ہے کہ ہمیں اس راہ سے ہٹا دیں جس پر ہمارے باپ دادا چلے آئے ہیں۔ لیکن سوچتے نہیں کہ رسول کیوں نہیں اس راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ تمام بت پرست ہمیشہ عقلی جمود میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کے پاس یہی دلیل ہوتی ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد یہی کام کرتے رہے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ آباء کے مذہب کی حیثیت کیا ہے ؟ اگر غورو فکر سے کام لیا جائے تو ان الہٰوں کی حیثیت کیا ہے ؟ بجائے اس کے کہ وہ کوئی عقل و فکر سے کام لیں اور اس جدید معقول دعوت کو قبول کرلیں یہ لوگ الٹا پیغمبروں سے ثبوت مانگتے ہیں۔
فاتونا بسلطن مبین (14 : 10) ” اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند “ ۔ رسول اپنی بشریت کا انکار نہیں بلکہ اقرار کرتے ہیں بلکہ وہ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ انہیں بار رسالت کے اٹھانے کے اہل بنایا ۔
قالت لھم ۔۔۔۔۔ من عبادہ (14 : 11) ” ان کے رسولوں نے ان سے کہا ” واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جو کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کے احسان کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس پوری سورة میں فضا اللہ کے احسانات کی ہے۔ ہر جگہ اللہ کے انعامات کا ذکر ہے۔ چناچہ یہاں بھی لکھا گیا کہ اللہ کے احسانات ہیں جس پر ہوجائیں۔ یہ احسان صرف رسولوں کی ذات پر ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ پوری بشریت پر احسان ہے کہ اس میں سے بعض افراد کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ دوسروں کی ہدایت اور راہنمائی کا کام کریں۔ یہ ڈیوٹی ہے کیا ؟ یہ کہ عالم بالا سے ان کا رابطہ ہو اور پھر لوگوں تک پیغام پہنچائیں اور پھر پوری انسانیت پر احسان ہے کہ یہ رسول لوگوں کی فطرت کو جگائیں اور اس کے اوپر سے زنگ دور کردیں تا کہ فطرت انسانی میں وہ قوتیں تازہ ہوجائیں جو ہدایت کو قبول کریں اور جمود کی موت سے نکل کر قبولت حق کی زندگی میں داخل ہوں۔ پھر انسانیت پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ یہ رسول لوگوں کو مختلف الہٰوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل کریں اور ان کی عزت نفس ، اور ان کی قوتوں کو لوگوں کی غلامی میں صرف ہونے سے بچائیں۔ کیونکہ غلامی میں جب ایک انسان اپنے جیسے انسان کے سامنے جھکتا ہے تو اس کی عزت نفس ختم ہوجاتی ہے۔ انسانی قوت اپنے جیسے انسانوں کو الٰہ بنا کر بکھر جاتی ہے۔
رہی یہ بات کہ رسول کوئی واضح معجزہ پیش کریں یا کسی فوق الفطرت قوت کا مظاہرہ کریں تو تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا کہ معجزات کا صدور تو اللہ کے ہاتھ میں ہے تا کہ عوام الناس کے تاریک ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ذات الٰہی اور ذات بشر میں فرق کیا ہے تا کہ لوگوں کے ذہنوں میں توحید کا ایسا صاف تصور بیٹھ جائے کہ اللہ کی ذات صفات میں کوئی شریک نہ ہو۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر پہنچ کر تمام بت پرستوں نے راستہ گم کردیا اور عیسائیوں نے بھی توحید کا راستہ اس وقت گم کردیا جب انہوں نے اپنے دین کو یونانی ، رومی ، مصری اور ہندی فلسفوں کے ساتھ مکس کرلیا۔ عیسائیوں کی گمراہی کا آغاز ہی اس عقیدے سے ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر خوارق عادت معجزات کا صدور ہوا۔ چناچہ خود عیسائیوں نے بعد میں ان کو الٰہ مان لیا۔
وما کان لنا۔۔۔۔۔۔ المومنون ( 14 : 11) ” اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے “۔ رسولوں کا کہنا یہ تھا کہ ہم اللہ کی قوت کے سوا کسی اور قوت پر کبھی کوئی بھروسہ نہیں کرتے اور یہ ان کا دائمی اصول ہے۔ کیونکہ اہل ایمان کا بھروسہ صرف اللہ ہی پر ہوتا ہے۔ ایک مومن کا دل صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور وہ اس کے اوپر بھروسہ کرتا ہے۔
رسولوں کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی طرف سے تمام زیادتیوں کا مقابلہ ایمان سے کرتے ہیں۔ اور ان کی اذیتوں کا مقابلے ثابت قدمی سے کرتے ہیں۔ رسول سو الیہ انداز میں ان جاہلوں سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں۔
إبراهيم 14:11
آیت نمبر 9 تا 11
یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب رسول اور ان کی امم موجود ہیں اور تمام رسولوں کا مقابلہ جاہلیتوں کے ساتھ ہے۔ اقوام اور رسولوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے مٹا دئیے جاتے ہیں اور واقعات کو زمان ومکان سے علیحدہ کر کے پیش کردیا جاتا ہے ، جب کہ زمان و مکان کے پردوں کے پیچھے وجود کی حقیقت ہے۔
الم یاتکم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (14 : 9) ” کیا تمہیں ان قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد ، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ “ یہ بہت سی اقوام ہیں ۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہوا۔ یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور اقوام ثمود کے درمیان۔ یہاں سیاق کلام کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان اقوام کی تفصیلات دی جائیں کیونکہ رسول بھی دراصل ایک زمرہ ہیں اور جن لوگوں کو تبلیغ کی جا رہی تھی وہ بھی ایک زمرہ کے لوگ ہیں۔
جاء تھم رسلھم ۔۔۔۔۔ الیہ مریب (14 : 9) ” تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ ” جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔
فردوا ایدیھم (14 : 9) کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی آواز کو بلند کرنے کے لئے منہ کے سامنے ہاتھ رکھتا ہے تا کہ آواز بلند ہو اور دور تک سنی جاسکے۔ اس وقت لوگ اپنے منہ کے سامنے ہتھیلی ہلاتے ہیں تا کہ ہتھیلی کے آگے پیچھے ہونے سے آواز زیادہ بلند ہو۔ اس طرح آواز میں زیادہ موجیں پیدا ہوں اور اس تموج کی وجہ سے آواز دور تک جائے۔ یہاں ان کی اس حرکت کو اس لئے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ پرزور انداز میں تکذیب کرتے تھے۔ ببانگ دہل اور توہین آمیز طریقے سے نہایت ہی کرخت اور تہذیب و آداب سے خالی طریقوں سے انہوں نے پیغمبروں کی بات کا انکار کیا۔
رسولوں کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اللہ ایک ہے اور وہی وحدہ الٰہ ورب ہے اور اپنے بندوں میں سے کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اس حقیقت میں شک کرنا جس کا ادراک ہر فطرت سلیمہ کرتی ہے اور اس کائنات کے اندر پھیلے ہوئے شواہد بھی ظاہرو باہر ہیں تو ایسے حالات میں عقیدۂ توحید میں شک کرنا نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت ہے۔ رسولوں نے اس شک کو بےحد مکروہ سمجھا کہ زمین و آسمان کا یہ نظام شاہد عادل ہے۔
قالت رسلھم ۔۔۔۔ والارض (14 : 10) ” ان کے رسولوں نے کہا ” کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے “۔ کیا اللہ کے بارے میں شک ہے حالانکہ زمین و آسمان کا یہ نظام بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے یہ نظام بنایا ہے اور اسے چلایا ہے ۔ رسولوں نے یہ بات اس لیے کی کہ زمین و آسمان نہایت ہی واضح اور کھلے دلائل و نشانات ہیں۔ ان کی طرف صرف اشارہ ہی کافی ہے۔ ان کے نظام کو ہر گمراہ دیکھ کر راہ ہدایت پر آسکتا ہے۔ رسولوں نے زمین و آسمان کی طرف فقط اشارے ہی کو کافی سمجھا۔ اس کے بعد رسولوں نے بندوں پر اللہ کی نعمتوں کو گنوانا شروع کردیا کہ اللہ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور ایک وقت تک مہلت بھی دی تا کہ وہ دعوت ہدایت پر سوچ سکیں۔
یدعوکم لیغفر لکم من ذنوبکم (14 : 10) ” وہ تمہیں بلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے “۔ حقیقی دعوت تو ایمان کی دعوت ہے جس کے نتیجے میں مغفرت نصیب ہوتی ہے۔ لیکن یہاں دعوت و مغفرت کو ایک ساتھ لایا گیا ہے تا کہ اللہ کا احسان اچھی طرح واضح ہو کہ ایمان لاتے ہیں مغفرت ہوجاتی ہے اور پھر ان لوگوں کا رویہ اور سخت انکار مزید قابل تعجب ہے اور قابل مذمت ہوجاتا ہے کہ مغفرت کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور یہ لوگ ہیں کہ منہ میں ہاتھ ڈال کر انکار کرتے ہیں۔
ویؤخرکم الی اجل مسمی (14 : 10) ” اور تم کو ایک مدت مقررہ تک مہلت دے “۔ اللہ تعالیٰ ایمان و مغفرت کی دعوت دینے کے ساتھ ہی ان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ فوراً قبول کریں اور نہ ان کی تکذیب کے بعد فوراً ان کو ہلاک کرتا ہے ، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ یہ مہلت اس دنیا میں بھی ایک وقت تک ہوتی ہے ۔ اور قیامت تک بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس عرصے میں تم اچھی طرح اس دعوت پر غور کرسکتے ہو اور اللہ کی عزت اور رسولوں کے بیان پر بھی غور کرسکتے ہو۔ یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت اور مہربانی ہے اور یہ بھی اللہ کے انعامات میں سے ایک نعمت ہے۔ تو کیا ایسے انعامات الہٰیہ کا وہی جواب ہے جو تم دے رہے ہو۔ لیکن یہ لوگ بہت ہی جاہل ہیں اور وہ اسی پرانے جاہلانہ اعتراض کا سہارا لیتے ہیں۔
قالوا ان انتم ۔۔۔۔۔ یعبد اباؤنا (14 : 10) ” انہوں نے جواب دیا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔ تم ہمیں ان ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے “۔ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ یہ تو انسانوں کے لئے اعزاز تھا لیکن یہ وہ نہ صرف یہ کہ اسے سمجھتے نہیں بلکہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اس میں نہ صرف شک کرتے ہیں ، بلکہ وہ الٹا رسولوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف یہ سازش کی ہے کہ ہمیں اس راہ سے ہٹا دیں جس پر ہمارے باپ دادا چلے آئے ہیں۔ لیکن سوچتے نہیں کہ رسول کیوں نہیں اس راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ تمام بت پرست ہمیشہ عقلی جمود میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کے پاس یہی دلیل ہوتی ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد یہی کام کرتے رہے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ آباء کے مذہب کی حیثیت کیا ہے ؟ اگر غورو فکر سے کام لیا جائے تو ان الہٰوں کی حیثیت کیا ہے ؟ بجائے اس کے کہ وہ کوئی عقل و فکر سے کام لیں اور اس جدید معقول دعوت کو قبول کرلیں یہ لوگ الٹا پیغمبروں سے ثبوت مانگتے ہیں۔
فاتونا بسلطن مبین (14 : 10) ” اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند “ ۔ رسول اپنی بشریت کا انکار نہیں بلکہ اقرار کرتے ہیں بلکہ وہ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ انہیں بار رسالت کے اٹھانے کے اہل بنایا ۔
قالت لھم ۔۔۔۔۔ من عبادہ (14 : 11) ” ان کے رسولوں نے ان سے کہا ” واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جو کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کے احسان کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس پوری سورة میں فضا اللہ کے احسانات کی ہے۔ ہر جگہ اللہ کے انعامات کا ذکر ہے۔ چناچہ یہاں بھی لکھا گیا کہ اللہ کے احسانات ہیں جس پر ہوجائیں۔ یہ احسان صرف رسولوں کی ذات پر ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ پوری بشریت پر احسان ہے کہ اس میں سے بعض افراد کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ دوسروں کی ہدایت اور راہنمائی کا کام کریں۔ یہ ڈیوٹی ہے کیا ؟ یہ کہ عالم بالا سے ان کا رابطہ ہو اور پھر لوگوں تک پیغام پہنچائیں اور پھر پوری انسانیت پر احسان ہے کہ یہ رسول لوگوں کی فطرت کو جگائیں اور اس کے اوپر سے زنگ دور کردیں تا کہ فطرت انسانی میں وہ قوتیں تازہ ہوجائیں جو ہدایت کو قبول کریں اور جمود کی موت سے نکل کر قبولت حق کی زندگی میں داخل ہوں۔ پھر انسانیت پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ یہ رسول لوگوں کو مختلف الہٰوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل کریں اور ان کی عزت نفس ، اور ان کی قوتوں کو لوگوں کی غلامی میں صرف ہونے سے بچائیں۔ کیونکہ غلامی میں جب ایک انسان اپنے جیسے انسان کے سامنے جھکتا ہے تو اس کی عزت نفس ختم ہوجاتی ہے۔ انسانی قوت اپنے جیسے انسانوں کو الٰہ بنا کر بکھر جاتی ہے۔
رہی یہ بات کہ رسول کوئی واضح معجزہ پیش کریں یا کسی فوق الفطرت قوت کا مظاہرہ کریں تو تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا کہ معجزات کا صدور تو اللہ کے ہاتھ میں ہے تا کہ عوام الناس کے تاریک ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ذات الٰہی اور ذات بشر میں فرق کیا ہے تا کہ لوگوں کے ذہنوں میں توحید کا ایسا صاف تصور بیٹھ جائے کہ اللہ کی ذات صفات میں کوئی شریک نہ ہو۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر پہنچ کر تمام بت پرستوں نے راستہ گم کردیا اور عیسائیوں نے بھی توحید کا راستہ اس وقت گم کردیا جب انہوں نے اپنے دین کو یونانی ، رومی ، مصری اور ہندی فلسفوں کے ساتھ مکس کرلیا۔ عیسائیوں کی گمراہی کا آغاز ہی اس عقیدے سے ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر خوارق عادت معجزات کا صدور ہوا۔ چناچہ خود عیسائیوں نے بعد میں ان کو الٰہ مان لیا۔
وما کان لنا۔۔۔۔۔۔ المومنون ( 14 : 11) ” اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے “۔ رسولوں کا کہنا یہ تھا کہ ہم اللہ کی قوت کے سوا کسی اور قوت پر کبھی کوئی بھروسہ نہیں کرتے اور یہ ان کا دائمی اصول ہے۔ کیونکہ اہل ایمان کا بھروسہ صرف اللہ ہی پر ہوتا ہے۔ ایک مومن کا دل صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور وہ اس کے اوپر بھروسہ کرتا ہے۔
رسولوں کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی طرف سے تمام زیادتیوں کا مقابلہ ایمان سے کرتے ہیں۔ اور ان کی اذیتوں کا مقابلے ثابت قدمی سے کرتے ہیں۔ رسول سو الیہ انداز میں ان جاہلوں سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں۔
إبراهيم 14:12
آیت نمبر 12
وما لنا۔۔۔۔۔۔۔ ھدنا سبلنا (14 : 12) ” اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟ “ یہ اس شخص کی بات ہے جسے اپنے موقف اور اپنے طریقہ کار پر پختہ یقین ہو اور وہ اپنے منہاج پر مطمئن ہو۔ اس کا دامن اپنے حقیقی ولی اور ناصر کے اعتماد سے بھرا ہوا ہو ، اور وہ یقین رکھتا کہ جو ذات ہدایت دیتی ہے وہ اس کی معین و مددگار ہوگی۔ اگر ایک راہ رو صحیح راہ پر جا رہا ہو تو اسے کیا پرواہ ہے کہ وہ منزل تک پہنچتا ہے یا نہیں۔ اصل فکر تو اس بات کی ہونا چاہئے کہ راہ رو جس راہ پر سفر کر رہا ہے وہ راہ دعوت ہے یا نہیں۔
جو شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ دست قدرت اس کی رہنمائی کر رہا ہے اور اپنے قدم بقدم چلا رہا ہے ، تو وہ ایک ایسا شخص ہے جس کا شعور اللہ کے وجود اور اس کی قدرت قاہرہ کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسے شخص کا دل اللہ تک پہنچا ہوا ہوتا ہے۔ جس شخص کو یہ شعور حاصل ہو وہ اپنی راہ پر چلنے میں پھر کوئی تردد نہیں کرتا اگرچہ راستے میں مشکلات ہوں ، اور اگرچہ راستے میں بڑی سے بڑی طاغوتی قوتیں بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں انبیاء (علیہم السلام) کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ یہ یقین رکھیں کہ اللہ ان کا ہادی و ناصر ہے اور وہ طاغوتی قوتوں کو خاطر نہیں نہ لا کر اپنی راہ پر بےدھڑک چلیں۔ اور اللہ پر بھروسہ کریں اور طاغوتی قوتوں کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لا آگے ہی بڑھیں۔
اس عظیم حقیقت تک صرف وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جو کسی موجود اور مستحکم مقتدر اعلیٰ طاغوتی نظام کے خلاف عملاً اسلامی تحریک کو لے کر اٹھتے ہیں۔ صرف ایسے عملی لوگوں کے دل میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ اللہ خود ان کی راہنمائی کر رہا ہے۔ وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان کے دل ایمان ویقین سے بھر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دل محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لئے روشنی کی کھڑکیاں کھل گئی ہیں اور ان کھڑکیوں اور روشن دانوں سے ان پر روشنی آتی ہے ، جو ایمان کی روشنی ہوتی ہے۔ اس رابطے کے ذریعہ ایمان کی تازہ ہوا کے جھونکے بھی آتے رہتے ہیں اور ایسے دل اللہ کے ساتھ نہایت انس اور قرب محسوس کرتے ہیں۔ تحریک اسلامی کے جن کارکنوں کے دلوں میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے وہ پھر اس زمین پر پائے جانے والی مقتدر طاغوتی قوتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ ان کو نہ کوئی دھوکہ دے سکتا ہے اور نہ کوئی دھمکا سکتا ہے۔ ایسے کارکن پھر ایسی طاغوتی قوت کی قوت اور اقتدار کو نہایت ہی حقارت سے دیکھتے ہیں اس لیے کہ ان کے قلوب اللہ تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور ان حقیر لوگوں کی سازشوں اور مظالم کو پھر وہ خاطر ہی میں نہیں لاتے۔
وما لنا الا۔۔۔۔۔۔۔۔ ما اذیتمونا ” اور ہم کیوں اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟ “ اور جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو ان پر ہم صبر کریں گے “۔ ہم صبر سے کام لیں گے اور انشاء اللہ ہمارے پاؤں ہرگز نہ ڈگمگائیں گے ، ہم کمزوری نہ دکھائیں گے اور ہمارے قدم متزلزل نہ ہوں گے اور وھن ہمارے قریب نہ آئے گا اور نہ ہم الٹے پاؤں پھریں گے۔ ہم اس راہ سے ہرگز ادھر ادھر نہ ہوں گے ۔ نہ جدو جہد میں کمی کریں گے اور نہ ہی ہم شک میں گرفتار ہوں گے۔ اور یہ اس لیے کہ :
وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون (14 : 12) ” اور بھروسہ کرنے والے ، اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ اب سرکش طاغوتی قوتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں ، یہ قوتیں ، مجادلہ اور مباحثہ ترک کردیتی ہیں ، غوروفکر چھوڑ دیتی ہیں کیونکہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ یہ لوگ لوہے کے چنے ہیں۔ ان کو نہیں چبایا جاسکتا۔ نظریات کے مقابلے میں ان قوتوں کو شکست ہوجاتی ہے ۔ اب یہ لوگ تشدد کے اوچھے ہتھیار لے کر سامنے آتے ہیں کیونکہ طاغوتی سرکش قوتوں کے پاس اس کے سوا ہوتا گیا ہے۔
إبراهيم 14:13
آیت نمبر 13 تا 14
اس مقام پر اسلام اور جاہلیت کے معرکے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دراصل کوئی جاہلی نظام اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اسلام کا کوئی مستقل اقتدار اعلیٰ ہو ، اور وہ جاہلیت کے انتداب سے باہر ہو۔ نہ جاہلیت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے مستحکم نظام سے باہر کوئی اسلامی نظام ہو ، اگرچہ اسلام کی یہ مقتدر اعلیٰ قوت جاہلیت کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصول پر چلنے کے لئے راضی ہو۔ اس لیے کہ جاہلیت کو پتہ ہے کہ اسلام ایک مستقل متحرک سوسائٹی کی شکل اختیار کرتا ہے جس کی اپنی قیادت ہوتی ہے ، جس کا اپنا دائرہ دوستاں ہوتا ہے ، جبکہ یہی وہ بات ہے جسے کوئی نظام جاہلیت کبھی گوارا نہیں کرتا۔ چناچہ یہاں جاہلیت رسولان کرام سے فقط یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ وہ اپنی دعوتی سرگرمیاں بند کردیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ تم ہماری ملت اور ہماری پارٹی میں واپس آجاؤ، اور ہماری جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ، بلکہ ہماری کان میں پگھل جاؤ، اس طرح کہ تمہارا کوئی مستقل وجود نہ رہے۔ یہی تو وہ بات ہے جسے اسلامی نظام کا مزاج قبول ہی نہیں کرتا اور نہ اس بات سے رسول۔۔۔۔ دستبردار ہوتے ہیں۔ چناچہ وہ انکار کردیتے ہیں اس لئے کہ ایک مسلم جو جاہلی سوسائٹی سے کٹ کر باہر آتا ہے کس طرح وہ دوبارہ اس سوسائٹی میں گھل مل سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر جاہلی سوسائٹی ، ایسے عناصر سے مرکب ہوتی ہے جو اپنے طبعی مزاج کے اعتبار سے کسی اسلامی عنصر کو قبول ہی نہیں کرتی الا یہ کہ کوئی مسلمان اپنی پوری تحریکی اور عملی قوتیں اس جاہلی سوسائٹی کے استحکام ہی کے لئے خرچ کر رہا ہو ، اور جاہلیت کی بنیادیں مضبوط کر رہا ہو۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ وہ جاہلیت میں گھس کر اور جاہلیت کے نظام کے اندر پگھل کر اور اس کا کل پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ دراصل اسلامی سوسائٹی کے عضویاتی عناصر ترکیبی اور اس کے مزاج ہی سے واقف نہیں ہیں اور نہ جاہلی معاشرے کے مزاج سے یہ لوگ واقف ہیں۔ ہر معاشرہ دراصل اپنے اندر صرف انہی اجزاء کو قبول کرتا ہے جو اس معاشرے کے لئے کام کر رہے ہوں۔ اس کے مقام اور نظام کو مستحکم کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولان کرام اعلانیہ انکار کردیتے ہیں کہ ہم اب تمہاری ملت اور سوسائٹی میں واپس نہیں آسکتے۔ اس مقام پر اللہ کی قوت قاہرہ پھر جاہلیت پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ ایسی ضرب ہوتی ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ یہ ضرب نہایت ہی عظیم قوت کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس ضرب کو پھر بڑے بڑے سرکش اور ڈکٹیٹر بھی نہیں سہہ سکتے۔
یہ بات جان لینا چاہئے کہ اللہ کی عظیم قوت تحریکی معاملات میں تب مداخلت کرتی ہے جب رسول اپنی قوم سے مکمل علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں اس جاہلیت سے نجات دے دی ہے ، اس لیے اب وہ دوبارہ اس نظام جاہلیت میں واپس نہیں جاسکتے۔ جب تک وہ اپنی امتیازی شان پر اصرار نہیں کرتے۔ جب تک وہ اپنے دینی نظریہ پر مصر نہیں ہوتے اور اپنی قیادت کی ماتحتی میں اپنی الگ سوسائٹی کی تشکیل نہیں کرتے۔ اور جب تک یہ تحریک اور قیادت نظریاتی بنیادوں پر اپنی قوم کو منقسم نہیں کردیتی۔ غرض جب تک یہ صورت نہیں ہوتی کہ ایک قوم دو ملتوں کی شکل میں منقسم ہوجائے ، جن کا نظریہ ، جن کا طریق زندگی ، جن کی سوسائٹی اور جن کی قیادت علیحدہ ہوجائے تو اس وقت تک اللہ کی عظیم قوت مداخلت نہیں کرتی۔ جب اسلامی تحریک یہ پوزیشن اختیار کرلیتی ہے تو پھر اللہ کی عظیم قوت جاہلیت پر فیصلہ کن ضرب لگاتی ہے۔ اب پھر کیا ہوتا ہے ، وہ تمام طاغوتی قوتیں پاش پاش کردی جاتی ہیں جو تحریک اسلامی کے لئے خطرہ ہوتی ہیں اور پھر ایسے لوگوں کو اللہ کی عظیم قوت زمین میں مستحکم کر کے بٹھا دیتی ہے اور تب جا کر اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے جو رسولوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ان کے بعد داعیان حق کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ لیکن اگر تحریک اسلامی جاہلی سوسائٹی کا حصہ ہو۔ اس کے اندر پگھل چکی ہو ، اور جاہلی سوسائٹی کے طور طریقوں کے اندر ، جاہلی تنظیم کے اندر کام کر رہی ہو ، اس سے علیحدہ ، ممتاز اور جدا تحریک یا نظام نہ رکھتی ہو اور اس کی اپنی قیادت نہ ہو۔ اس وقت تک یہ مداخلت نہیں ہوتی اور نہ اللہ کی نصرت آتی ہے۔
فاوحی الیھم ربھم لنھلکن الظلمین (14 : 13) “ تب ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے ”۔ یہ نون تاکید اور عظمت کے لئے ہے۔ یہ دونوں معانی اس سخت موقعہ پر بہت اہمیت رکھتے ہیں ، یعنی ہم ان جابر مشرکوں ، ظالموں اور سرکشوں کو ہلاک کردیں گے ، ان کی ذاتی خرابیوں کی وجہ سے اور اس سچائی کی خاطر جو عوام کے لئے بھیجی گئی اور اس خوف و ہراس کی وجہ سے جو انہوں نے عوام کے اندر پیدا کردیا تھا۔
ولنسکننکم الارض من بعدھم (14 : 14) “ اور اس کے بعد تمہیں زمین پر آباد کریں گے ”۔ یہ کام کسی طرف داری یا مزاح کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے اور اللہ کے ہاں فیصلے عدل کے مطابق ہوتے ہیں۔
ذلک لمن خاف مقامی وخاف وعید (14 : 14) “ یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو ”۔ یعنی ایک مقتدر کو بنا کر کسی اور کو اقتدار دینا ، اور زمین کی خلافت دینا ، اس لیے ہوتا ہے کہ سرکشوں کو ہٹا کر ان کی جگہ خدا کا خوف رکھنے والی قیادت لائی جائے۔ پھر وہ دست درازی نہ کرے ، زمین میں غرور اور تکبر نہ کرے ، جباری و قہاری سے حکمرانی نہ کرے ، اللہ کے حدود سے ڈرے اور اللہ کے سامنے جوابدہ ہو اور فساد فی الارض سے بچے ، زمین میں ظلم نہ کرے ، اس لیے کہ اسے یہ اقتدار اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اس کے لئے اہل سمجھی گئی ہے۔
جب اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مکمل جدائی ہوجاتی ہے تو پھر سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کی اس حقیر دنیاوی قوت کے مقابلے میں اللہ جبار وقہار اور مکمل گھیر لینے والے کی عظیم قوت سامنے آتی ہے۔ کیونکہ رسولوں کی تبلیغ کی مہم ختم ہوجاتی ہے ، حق و باطل ایک دوسرے کے بالمقابل صف آراء ہوجاتے ہیں اور مومن جھوٹوں سے جدا ہوجاتے ہیں۔ اب صورت حالات یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف ایک کیمپ میں دنیا کے سرکشوں کی قوت سامنے آتی ہے اور رسول اور داعیان حق دوسری طرف کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ اللہ کی عظیم قوت ہوتی ہے۔ دونوں فتح و نصرت کے لئے دعا کرتے ہیں ، اور انجام یوں ہوتا ہے۔
إبراهيم 14:14
آیت نمبر 13 تا 14
اس مقام پر اسلام اور جاہلیت کے معرکے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دراصل کوئی جاہلی نظام اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اسلام کا کوئی مستقل اقتدار اعلیٰ ہو ، اور وہ جاہلیت کے انتداب سے باہر ہو۔ نہ جاہلیت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے مستحکم نظام سے باہر کوئی اسلامی نظام ہو ، اگرچہ اسلام کی یہ مقتدر اعلیٰ قوت جاہلیت کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصول پر چلنے کے لئے راضی ہو۔ اس لیے کہ جاہلیت کو پتہ ہے کہ اسلام ایک مستقل متحرک سوسائٹی کی شکل اختیار کرتا ہے جس کی اپنی قیادت ہوتی ہے ، جس کا اپنا دائرہ دوستاں ہوتا ہے ، جبکہ یہی وہ بات ہے جسے کوئی نظام جاہلیت کبھی گوارا نہیں کرتا۔ چناچہ یہاں جاہلیت رسولان کرام سے فقط یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ وہ اپنی دعوتی سرگرمیاں بند کردیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ تم ہماری ملت اور ہماری پارٹی میں واپس آجاؤ، اور ہماری جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ، بلکہ ہماری کان میں پگھل جاؤ، اس طرح کہ تمہارا کوئی مستقل وجود نہ رہے۔ یہی تو وہ بات ہے جسے اسلامی نظام کا مزاج قبول ہی نہیں کرتا اور نہ اس بات سے رسول۔۔۔۔ دستبردار ہوتے ہیں۔ چناچہ وہ انکار کردیتے ہیں اس لئے کہ ایک مسلم جو جاہلی سوسائٹی سے کٹ کر باہر آتا ہے کس طرح وہ دوبارہ اس سوسائٹی میں گھل مل سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر جاہلی سوسائٹی ، ایسے عناصر سے مرکب ہوتی ہے جو اپنے طبعی مزاج کے اعتبار سے کسی اسلامی عنصر کو قبول ہی نہیں کرتی الا یہ کہ کوئی مسلمان اپنی پوری تحریکی اور عملی قوتیں اس جاہلی سوسائٹی کے استحکام ہی کے لئے خرچ کر رہا ہو ، اور جاہلیت کی بنیادیں مضبوط کر رہا ہو۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ وہ جاہلیت میں گھس کر اور جاہلیت کے نظام کے اندر پگھل کر اور اس کا کل پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ دراصل اسلامی سوسائٹی کے عضویاتی عناصر ترکیبی اور اس کے مزاج ہی سے واقف نہیں ہیں اور نہ جاہلی معاشرے کے مزاج سے یہ لوگ واقف ہیں۔ ہر معاشرہ دراصل اپنے اندر صرف انہی اجزاء کو قبول کرتا ہے جو اس معاشرے کے لئے کام کر رہے ہوں۔ اس کے مقام اور نظام کو مستحکم کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولان کرام اعلانیہ انکار کردیتے ہیں کہ ہم اب تمہاری ملت اور سوسائٹی میں واپس نہیں آسکتے۔ اس مقام پر اللہ کی قوت قاہرہ پھر جاہلیت پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ ایسی ضرب ہوتی ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ یہ ضرب نہایت ہی عظیم قوت کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس ضرب کو پھر بڑے بڑے سرکش اور ڈکٹیٹر بھی نہیں سہہ سکتے۔
یہ بات جان لینا چاہئے کہ اللہ کی عظیم قوت تحریکی معاملات میں تب مداخلت کرتی ہے جب رسول اپنی قوم سے مکمل علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں اس جاہلیت سے نجات دے دی ہے ، اس لیے اب وہ دوبارہ اس نظام جاہلیت میں واپس نہیں جاسکتے۔ جب تک وہ اپنی امتیازی شان پر اصرار نہیں کرتے۔ جب تک وہ اپنے دینی نظریہ پر مصر نہیں ہوتے اور اپنی قیادت کی ماتحتی میں اپنی الگ سوسائٹی کی تشکیل نہیں کرتے۔ اور جب تک یہ تحریک اور قیادت نظریاتی بنیادوں پر اپنی قوم کو منقسم نہیں کردیتی۔ غرض جب تک یہ صورت نہیں ہوتی کہ ایک قوم دو ملتوں کی شکل میں منقسم ہوجائے ، جن کا نظریہ ، جن کا طریق زندگی ، جن کی سوسائٹی اور جن کی قیادت علیحدہ ہوجائے تو اس وقت تک اللہ کی عظیم قوت مداخلت نہیں کرتی۔ جب اسلامی تحریک یہ پوزیشن اختیار کرلیتی ہے تو پھر اللہ کی عظیم قوت جاہلیت پر فیصلہ کن ضرب لگاتی ہے۔ اب پھر کیا ہوتا ہے ، وہ تمام طاغوتی قوتیں پاش پاش کردی جاتی ہیں جو تحریک اسلامی کے لئے خطرہ ہوتی ہیں اور پھر ایسے لوگوں کو اللہ کی عظیم قوت زمین میں مستحکم کر کے بٹھا دیتی ہے اور تب جا کر اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے جو رسولوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ان کے بعد داعیان حق کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ لیکن اگر تحریک اسلامی جاہلی سوسائٹی کا حصہ ہو۔ اس کے اندر پگھل چکی ہو ، اور جاہلی سوسائٹی کے طور طریقوں کے اندر ، جاہلی تنظیم کے اندر کام کر رہی ہو ، اس سے علیحدہ ، ممتاز اور جدا تحریک یا نظام نہ رکھتی ہو اور اس کی اپنی قیادت نہ ہو۔ اس وقت تک یہ مداخلت نہیں ہوتی اور نہ اللہ کی نصرت آتی ہے۔
فاوحی الیھم ربھم لنھلکن الظلمین (14 : 13) “ تب ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے ”۔ یہ نون تاکید اور عظمت کے لئے ہے۔ یہ دونوں معانی اس سخت موقعہ پر بہت اہمیت رکھتے ہیں ، یعنی ہم ان جابر مشرکوں ، ظالموں اور سرکشوں کو ہلاک کردیں گے ، ان کی ذاتی خرابیوں کی وجہ سے اور اس سچائی کی خاطر جو عوام کے لئے بھیجی گئی اور اس خوف و ہراس کی وجہ سے جو انہوں نے عوام کے اندر پیدا کردیا تھا۔
ولنسکننکم الارض من بعدھم (14 : 14) “ اور اس کے بعد تمہیں زمین پر آباد کریں گے ”۔ یہ کام کسی طرف داری یا مزاح کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے اور اللہ کے ہاں فیصلے عدل کے مطابق ہوتے ہیں۔
ذلک لمن خاف مقامی وخاف وعید (14 : 14) “ یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو ”۔ یعنی ایک مقتدر کو بنا کر کسی اور کو اقتدار دینا ، اور زمین کی خلافت دینا ، اس لیے ہوتا ہے کہ سرکشوں کو ہٹا کر ان کی جگہ خدا کا خوف رکھنے والی قیادت لائی جائے۔ پھر وہ دست درازی نہ کرے ، زمین میں غرور اور تکبر نہ کرے ، جباری و قہاری سے حکمرانی نہ کرے ، اللہ کے حدود سے ڈرے اور اللہ کے سامنے جوابدہ ہو اور فساد فی الارض سے بچے ، زمین میں ظلم نہ کرے ، اس لیے کہ اسے یہ اقتدار اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اس کے لئے اہل سمجھی گئی ہے۔
جب اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مکمل جدائی ہوجاتی ہے تو پھر سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کی اس حقیر دنیاوی قوت کے مقابلے میں اللہ جبار وقہار اور مکمل گھیر لینے والے کی عظیم قوت سامنے آتی ہے۔ کیونکہ رسولوں کی تبلیغ کی مہم ختم ہوجاتی ہے ، حق و باطل ایک دوسرے کے بالمقابل صف آراء ہوجاتے ہیں اور مومن جھوٹوں سے جدا ہوجاتے ہیں۔ اب صورت حالات یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف ایک کیمپ میں دنیا کے سرکشوں کی قوت سامنے آتی ہے اور رسول اور داعیان حق دوسری طرف کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ اللہ کی عظیم قوت ہوتی ہے۔ دونوں فتح و نصرت کے لئے دعا کرتے ہیں ، اور انجام یوں ہوتا ہے۔
إبراهيم 14:15
آیت نمبر 15 تا 17
یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس قدر شدید ہے کہ شاید ابھی مرجائے مگر اسے مرنے کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ شدید عذاب پر عذاب اس پر آرہا ہے ، اسی لئے تو نہیں مرتا۔
یہ ایک عجیب منظر ہے۔ اس میں ایک شکست خوردہ جبار اور ڈکٹیٹر کی تصویر کشی کی گئی ہے اور اس تصویر کے پس منظر میں دکھائی جاتی ہے جس طرح کسی منظر کے درمیان میں تخیل آتا ہے۔
إبراهيم 14:16
آیت نمبر 15 تا 17
یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس قدر شدید ہے کہ شاید ابھی مرجائے مگر اسے مرنے کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ شدید عذاب پر عذاب اس پر آرہا ہے ، اسی لئے تو نہیں مرتا۔
یہ ایک عجیب منظر ہے۔ اس میں ایک شکست خوردہ جبار اور ڈکٹیٹر کی تصویر کشی کی گئی ہے اور اس تصویر کے پس منظر میں دکھائی جاتی ہے جس طرح کسی منظر کے درمیان میں تخیل آتا ہے۔
إبراهيم 14:17
آیت نمبر 15 تا 17
یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس قدر شدید ہے کہ شاید ابھی مرجائے مگر اسے مرنے کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ شدید عذاب پر عذاب اس پر آرہا ہے ، اسی لئے تو نہیں مرتا۔
یہ ایک عجیب منظر ہے۔ اس میں ایک شکست خوردہ جبار اور ڈکٹیٹر کی تصویر کشی کی گئی ہے اور اس تصویر کے پس منظر میں دکھائی جاتی ہے جس طرح کسی منظر کے درمیان میں تخیل آتا ہے۔
إبراهيم 14:18
آیت نمبر 18
یہ منظر کہ سخت طوفانی ہوا کے دن راکھ اڑرہی ہے ، پیش آتا رہتا ہے اور ہر کسی کے ذہن میں ہے۔ یہاں اس منظر سے قرآن کریم یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ کوئی چیز کسی طرح مجسم طور پر ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا مالک اس کے یوں ضائع ہونے کو کسی طرح نہیں روک سکتا اور نہ ایسی ضائع شدہ چیز سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے اس طوفانی منظر میں اس مفہوم کو مجسم کر کے پیش کیا جاتا ہے اور یہ منظر انسانی شعور کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے ، ضیاع اعمال کی تعبیر اگر مجرد ذہنی اور فلسفیانہ انداز میں کی گئی ہوتی تو اس کا اس قد اثر ہرگز نہ ہوتا۔ اس سے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجاتی ہے کہ یہ اعمال پوری طرح اکارت گئے۔
یہ منظر کفار کے اعمال کی بساط لپیٹ کر رکھ دیتا ہے جو اعمال ایمان کی مضبوط بنیاد پر قائم نہیں ہوتے اور جو اپنے حقیقی اسباب کے ساتھ مضبوط رسی سے باندھے ہوئے نہیں اور جن کا باعث اور سبب تعلق باللہ نہیں ہوتا۔ وہ اسی طرح اڑ جاتے ہیں جس طرح سخت آندھی میں راکھ اڑ جاتی ہے اور ایسے اعمال نہ مضبوطی سے قائم ہو سکتے اور نہ منظم ہو سکتے ہیں ، کیونکہ اصل بات عمل نہیں ہوتا بلکہ وہ داعیہ ہوتا ہے جس کی اساس پر عمل کا ظہور ہوتا ہے اس لیے کہ عمل ایک آلاتی حرکت ہے ، جس طرح مشین حرکت کرتی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ عمل کے پیچھے محرک ہو اور اس عمل کا کوئی متعین مقصد ہو۔
اس منظر میں ایک گہر معنوی حقیقت اور ظاہری تصور کے درمیان مکمل مطابقت ہے اور یہ منظر اس مفہوم کو نہایت موثر ، اشاراتی اور دلچسپ اسلوب میں ظاہر کرتا ہے اور پھر جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ اس مفہوم پر فٹ آتا ہے۔
ذلک ھو الضلل البعید (14 : 18) “ یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے ”۔ یہ نتیجہ جس قدر تاریک ہے وہ راکھ کی اڑان کی تاریکی کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے ، کافر خود اپنے اعمال کے غبار میں گم گشتہ راہ نظر آتا ہے۔
پھر ایک دوسری جھلکی جو اگلی آیت میں آرہی ہے ، وہ بھی اس منظر کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس میں سیاق کلام میں اہل قریش کو یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اقوام سابقہ کے مکذبین والا انجام تمہارے انتظار ہیں ہے۔ اگر تم درست نہ ہوئے تو اللہ تمہیں مٹا کر کسی دوسری قوم کو میدان میں اتار دے گا۔
إبراهيم 14:19
آیت نمبر 19 تا 20
ایمان اور کفر کے موضوع سے اور رسولوں اور جاہلیتوں کے مقابلے کے مضمون سے اب بات زمین و آسمان کے مناظر کی طرف آجاتی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق اس انداز میں روئے سخن کا پھرجانا ایک طبیعی امر ہے اور انسانی شعور میں بھی یہ تبدیلی یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اسلامی نظام حیات اور قرآنی اسلوب ایک ایمانی اور خدائی اسلوب ہے اس لیے کہ فطرت انسانی اور روح کائنات کے درمیان ایک خاص زبان کے ذریعہ پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ انسانی فطرت ، خلوت کائنات کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہے ، انسان جونہی اس کائنات کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ اس سے اثرات اور پیغامات وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔
وہ لوگ جو اس کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر بھی ان کی فطرت ، فطرت کائنات کے اشارات اور پیغامات اخذ نہیں کرتی ، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی فطرت کی مشین بگڑ گئی ہے اور اس مشین کا ریسیور خراب ہوگیا ہے ، ان کے باطنی حواس خراب ہوگئے ہیں۔ اس طرح جس طرح آنکھ اندھی ہوجاتی ہے ، کان بہرے ہوجاتے ہیں ، زبان گونگی ہوجاتی ہے ، پرزے موجود ہیں مگر کام نہیں کرتے۔ ایسے افراد جن کی فطرت کے اہم پرزے خراب ہوگئے ہوں وہ اس دنیا کی قیادت کے بہرحال اہل نہیں رہتے۔ وہ تمام لوگ اس کیٹگری میں آتے ہیں جن کی سوچ پر مادیت چھا گئی ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو سائنس دان کہتے ہیں ۔ اور اپنے اوپر دانشوری کا غلط اطلاق کرتے ہوں۔ اس لیے کہ علم و دانش انسانی فطرت کو معطل نہیں کرتے۔ اور انسان کو روح کائنات سے کاٹتے نہیں بلکہ جوڑتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو قرآن اندھا ، گونگا اور بہرہ کہتا ہے اور انسانی زندگی کی قیادت اگر اندھوں کے ہاتھ میں ہو تو وہ کبھی درست نہیں ہو سکتی۔
زمین و آسمان کی تخلیق میں عظیم قدرت اور مضبوط نظم کے اشارات ہیں۔ سچائی اور حق نہایت مضبوط ہے۔ اپنے مفہوم میں بھی اور لفظ “ حق ” کے تلفظ میں بھی قوت ہے۔ یہ حق چٹان کی طرح ٹھوس نظر آتا ہے جس طرح طوفانی ہوا میں اڑنے والی باطل کی راکھ نظر آتی ہے۔ جو دور تک صحراؤں میں اڑتی نظر آتی ہے اور ناپید ہوجاتی ہے۔
تحریک اسلامی کے معاندین کو اس فضا میں سخت دھمکی دی جاتی ہے۔
ان یشا یذھبکم ویات بخلق جدید (14 : 19) “ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے ”۔ اور جو ذات زمین و آسمان پیدا کرسکتی ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتی ہے کہ انسانوں کے مقابلے میں کوئی دوسری ہی مخلوق لے آئے۔ یا کسی ایک قوم کو زمین کی قیادت سے ہٹا کر کسی دوسری قوم کو لے آئے۔ اقوام کا منصہ شہود سے یوں غائب ہوتے چلے جانے کے معانی اس منظر کے ساتھ پوری طرح متفق ہیں جس میں کفار کے اعمال راکھ کی طرح آندھی میں دوڑتے نظر آتے ہیں اور نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں۔
وما ذلک علی اللہ بعزیز (14 : 20) “ ایسا کرنا اس اللہ پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ” اور اس پر زمین و آسمان کی تخلیق شاہد ہے۔ پھر انسانی تاریخ میں اقوام جس طرح مٹتی رہی ہیں اور ایک کا زوال اور دوسری کا عروج سامنے آتا رہا ہے۔ یہ بھی اس پر گواہ ہے ۔ جس طرح ایک طوفان آسانی سے راکھ کو اڑا دیتا ہے ، یہ کام اس سے بھی اللہ کے لئے آسان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کیا ہی اعجاز ہے ، قرآن کریم کا جس میں مناظر اور تصاویر اور معانی ہم آہنگ ہیں اور کلام نہایت ہی متناسب ہے۔ الفاظ ، معانی اور مناظر کے اعتبار سے۔
اب ہم فنی تصویر ، خوبصورت طرز ادا اور متناسب اسلوب اظہار کے ایک دوسرے افق کے سامنے آجاتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو ہماری آنکھ جباروں اور ڈکٹیٹروں کی بربادی کا منظر دیکھ رہی تھی۔ اس دنیا ہی میں ہر ڈکٹیٹر ذلیل ہو کر رہا۔ اس کا منظر اسکرین پر تھا کہ اس کے پیچھے ایک خیال بھی منظر پر آگیا جس میں قیامت میں اس کا حشر دکھایا گیا تھا۔ حالانکہ وہ ابھی دنیا ہی میں ذلیل ہو رہا تھا۔ اب ہمارے سامنے ان ڈکٹیٹروں کا حشر میدان حشر میں نظر آرہا ہے۔ ان کا یہ منظر اب انسانیت کی عظیم کہانی کے مناظر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے آرہا ہے۔ یہ شاید آخری منظر ہے۔ لیکن یہ منظر قیامت کے نہایت ہی عجیب اور دلچسپ مناظر میں سے ایک ہے ، جو تاثرات اور حرکات سے بھر پور ہے۔ اور جس کے اندر گمراہوں اور گمراہ کرنے والے بااثر لوگوں اور شیطان کے درمیان بھر پور مکالمے ہیں۔ ذرا قرآن کے الفاظ میں دیکھئے :
إبراهيم 14:20
آیت نمبر 19 تا 20
ایمان اور کفر کے موضوع سے اور رسولوں اور جاہلیتوں کے مقابلے کے مضمون سے اب بات زمین و آسمان کے مناظر کی طرف آجاتی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق اس انداز میں روئے سخن کا پھرجانا ایک طبیعی امر ہے اور انسانی شعور میں بھی یہ تبدیلی یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اسلامی نظام حیات اور قرآنی اسلوب ایک ایمانی اور خدائی اسلوب ہے اس لیے کہ فطرت انسانی اور روح کائنات کے درمیان ایک خاص زبان کے ذریعہ پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ انسانی فطرت ، خلوت کائنات کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہے ، انسان جونہی اس کائنات کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ اس سے اثرات اور پیغامات وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔
وہ لوگ جو اس کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر بھی ان کی فطرت ، فطرت کائنات کے اشارات اور پیغامات اخذ نہیں کرتی ، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی فطرت کی مشین بگڑ گئی ہے اور اس مشین کا ریسیور خراب ہوگیا ہے ، ان کے باطنی حواس خراب ہوگئے ہیں۔ اس طرح جس طرح آنکھ اندھی ہوجاتی ہے ، کان بہرے ہوجاتے ہیں ، زبان گونگی ہوجاتی ہے ، پرزے موجود ہیں مگر کام نہیں کرتے۔ ایسے افراد جن کی فطرت کے اہم پرزے خراب ہوگئے ہوں وہ اس دنیا کی قیادت کے بہرحال اہل نہیں رہتے۔ وہ تمام لوگ اس کیٹگری میں آتے ہیں جن کی سوچ پر مادیت چھا گئی ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو سائنس دان کہتے ہیں ۔ اور اپنے اوپر دانشوری کا غلط اطلاق کرتے ہوں۔ اس لیے کہ علم و دانش انسانی فطرت کو معطل نہیں کرتے۔ اور انسان کو روح کائنات سے کاٹتے نہیں بلکہ جوڑتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو قرآن اندھا ، گونگا اور بہرہ کہتا ہے اور انسانی زندگی کی قیادت اگر اندھوں کے ہاتھ میں ہو تو وہ کبھی درست نہیں ہو سکتی۔
زمین و آسمان کی تخلیق میں عظیم قدرت اور مضبوط نظم کے اشارات ہیں۔ سچائی اور حق نہایت مضبوط ہے۔ اپنے مفہوم میں بھی اور لفظ “ حق ” کے تلفظ میں بھی قوت ہے۔ یہ حق چٹان کی طرح ٹھوس نظر آتا ہے جس طرح طوفانی ہوا میں اڑنے والی باطل کی راکھ نظر آتی ہے۔ جو دور تک صحراؤں میں اڑتی نظر آتی ہے اور ناپید ہوجاتی ہے۔
تحریک اسلامی کے معاندین کو اس فضا میں سخت دھمکی دی جاتی ہے۔
ان یشا یذھبکم ویات بخلق جدید (14 : 19) “ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے ”۔ اور جو ذات زمین و آسمان پیدا کرسکتی ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتی ہے کہ انسانوں کے مقابلے میں کوئی دوسری ہی مخلوق لے آئے۔ یا کسی ایک قوم کو زمین کی قیادت سے ہٹا کر کسی دوسری قوم کو لے آئے۔ اقوام کا منصہ شہود سے یوں غائب ہوتے چلے جانے کے معانی اس منظر کے ساتھ پوری طرح متفق ہیں جس میں کفار کے اعمال راکھ کی طرح آندھی میں دوڑتے نظر آتے ہیں اور نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں۔
وما ذلک علی اللہ بعزیز (14 : 20) “ ایسا کرنا اس اللہ پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ” اور اس پر زمین و آسمان کی تخلیق شاہد ہے۔ پھر انسانی تاریخ میں اقوام جس طرح مٹتی رہی ہیں اور ایک کا زوال اور دوسری کا عروج سامنے آتا رہا ہے۔ یہ بھی اس پر گواہ ہے ۔ جس طرح ایک طوفان آسانی سے راکھ کو اڑا دیتا ہے ، یہ کام اس سے بھی اللہ کے لئے آسان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کیا ہی اعجاز ہے ، قرآن کریم کا جس میں مناظر اور تصاویر اور معانی ہم آہنگ ہیں اور کلام نہایت ہی متناسب ہے۔ الفاظ ، معانی اور مناظر کے اعتبار سے۔
اب ہم فنی تصویر ، خوبصورت طرز ادا اور متناسب اسلوب اظہار کے ایک دوسرے افق کے سامنے آجاتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو ہماری آنکھ جباروں اور ڈکٹیٹروں کی بربادی کا منظر دیکھ رہی تھی۔ اس دنیا ہی میں ہر ڈکٹیٹر ذلیل ہو کر رہا۔ اس کا منظر اسکرین پر تھا کہ اس کے پیچھے ایک خیال بھی منظر پر آگیا جس میں قیامت میں اس کا حشر دکھایا گیا تھا۔ حالانکہ وہ ابھی دنیا ہی میں ذلیل ہو رہا تھا۔ اب ہمارے سامنے ان ڈکٹیٹروں کا حشر میدان حشر میں نظر آرہا ہے۔ ان کا یہ منظر اب انسانیت کی عظیم کہانی کے مناظر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے آرہا ہے۔ یہ شاید آخری منظر ہے۔ لیکن یہ منظر قیامت کے نہایت ہی عجیب اور دلچسپ مناظر میں سے ایک ہے ، جو تاثرات اور حرکات سے بھر پور ہے۔ اور جس کے اندر گمراہوں اور گمراہ کرنے والے بااثر لوگوں اور شیطان کے درمیان بھر پور مکالمے ہیں۔ ذرا قرآن کے الفاظ میں دیکھئے :
إبراهيم 14:21
آیت نمبر 21 تا 22
دعوت اسلامی اور داعیان حق کی یہ داستان ، اور جھٹلانے والوں اور ڈکٹیٹروں کی یہ کہانی اب اس دنیا کے اسٹیج سے آخرت کے اسٹیج پر منتقل ہوگئی ہے اور نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔
وبرزوا للہ جمیعاً ( 14 : 21) “ اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بےنقاب ہوں گے ”۔ یہ سرکش ڈکٹیٹر بھی کھڑے ہیں۔ اللہ کے سامنے اور ان کے کمزور کردار والے متبعین بھی کھڑے ہیں جنہوں نے ذلت اور کمزور کا کردار پسند کرلیا تھا ۔ شیطان بھی ایک طرف کھڑا ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ بھی کھڑے ہیں جو رسولوں پر ایمان لائے تھے اور نیک کام کرتے تھے ۔ یہ سب اب ایک میدان قیامت میں ہیں ، کھلے میدان میں ۔ اللہ کے لئے تو یہ پہلے بھی ظاہر و باہر تھے لیکن آج وہ خود اپنے احساس و شعور میں اپنے آپ کو ننگا اور بےحجاب محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ میدان حشر میں کوئی پردہ اور اوٹ نہیں ہے۔ یہ میدان بھرا ہوا ہے ، پردہ اٹھتا ہے اور مکالمہ شروع ہوتا ہے۔
فقال الضعفوا ۔۔۔۔۔۔ من شییء (14 : 21) “ اس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے ، وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے “ دنیا میں تم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرسکتے ہو ؟” بودے کردار کے کمزور لوگ بہرحال کمزور ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس اعلیٰ انسانی دولت سے دستبردار ہوجاتے ہیں جو اللہ نے ہر انسان کو دی ہے۔ وہ آزادی کی دولت ہے ، آزادی رائے ہے ، آزادی دین اور نظریہ اور حریت عمل ہے۔ ان لوگوں نے اپنی مرضی سے اپنی آزادی کو ترک کر کے غلامی اختیار کرلی ہے اور سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے غلام بن گئے ہیں ۔ یہ غیر اللہ کے بندے اور غلام بن گئے ہیں اور اللہ کی غلامی کی بجائے انہوں نے انسانوں کی غلامی اختیار کرلی ہے ، لیکن اسلام میں ضعیفی کوئی معقول عذر نہیں ہے بلکہ ضعیفی ایک جرم ہے ، اللہ کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی کا غلام بن جائے وہ تو انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ باعزت زندگی اختیار کرو ، میری عزت کرو ، میری پناہ میں آجاؤ۔ اللہ نے ہر انسان کو آزاد اور مکرم بنایا ہے اور اسے یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی آزادی کو بیچ دے ، یا کسی بڑی سے بڑی مادی قوت کے سامنے سپر انداز ہوجائے چاہے وہ بہت بڑی قوت کیوں نہ ہو۔ کسی بھی قوت کو اللہ یہ حق نہیں دیتا کہ وہ دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنا کے رکھے۔ اسلام میں ہر انسان کی آزادی اور عزت کا احترا ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی مادی قوت بھی صرف انسانی جان اور جسم کا تعلق ختم کرسکتی ہے۔ تشدد اور اذیت دے سکتی ہے لیکن کسی کی آزاد سلب نہیں کرسکتی۔ انسانی ضمیر ، انسانی روح اور انسانی عقل پر کوئی ڈکٹیٹر حکومت نہیں کرسکتا ، نہ عقل ، روح اور ضمیر کو کوئی قید کرسکتا ہے ، ضمیر اور روح ، اور عقل اور حریت سے ایک انسان خود دستبردار ہوا کرتا ہے۔ پھر وہ ذلیل ہو کر مستضعفین میں داخل ہوجاتا ہے۔
اپنے عقائد ، نظریات ، افکار اور طرز عمل میں کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو کوئی انسان سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے تابع نہیں بنا سکتا۔ کوئی شخص بھی کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ کسی سرکش اور ڈکٹیٹرکا دین قبول کرلے ، کیونکہ اللہ خالق و رازق موجود ہے جو سب کا کفیل و ذمہ دار ہے۔ صرف ضعیف لوگ خود اپنی خوشی سے یہ کام کرتے ہیں ، یہ خود ضعیف بن گئے ، ان کی قوت اور کسی سرکش اور ڈکٹیٹر کی قوت برابر ہے۔ جاہ و مرتبہ اور مال و منال کے اعتبار سے یہ مستضعفین ڈکٹیٹر کے برابر ہوتے ہیں۔ کسی ڈکٹیٹر کا مرتبہ اور منصب کسی کو ضعیف نہیں بنا سکتا بلکہ یہ ذہنی طور پر بودے کردار کے لوگ ہوتے ہیں ، اپنے ایمان اور روح کے اعتبار سے یہ کمزور لوگ ہوتے ہیں ، بےعزت اور آبرو باختہ لوگ ہوتے ہیں اور اپنی آزادی اور عزت کو معمولی مفادات کے لئے بیچ دینے والے لوگ ہوتے ہیں جو جھکتے ہیں حالانکہ عزت و آبرو اور آزادی انسان کا نہایت قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ان بودے لوگوں کی ایک بھیڑ ہے اور سرکش اور ڈکٹیٹر چند ایک ہیں۔ آخر یہ بھیڑ کیوں چند لوگوں کی غلامی اختیار کرتی ہے ، دراصل ان عوام میں ہمت نہیں ہوتی ، یہ روحانی اعتبار سے شکست خوردہ ہوتے ہیں۔ ان کے اندر حمیت نہیں ہوتی ، عزت نفس نہیں ہوتی اور یہ روحانی اور داخلی طور پر ان ڈکٹیٹروں کے سامنے شکست کھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی ڈکٹیٹر جمہور عوام کو صرف ان کی مرضی ہی سے ذلیل کرتا ہے۔ اگر عوام اٹھ کھڑے ہوں تو ان کے سامنے کوئی ڈکٹیٹرکھڑا نہیں رہ سکتا۔ لیکن یہ صورت حال خود عوام کے کمزور ارادے کی وجہ سے ہے۔
کسی انسان پر ذلت تب ہی طاری ہوتی ہے ، جب اس کے اندر ذلیل ہونے کی صلاحیت ہو ، ڈکٹیٹر ہمیشہ عوام کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اب ذرا کمزوروں کی ذہنیت کو دیکھو کہ قیامت کے دن وہ کس انداز سے پیش آتا ہے ، ان کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت بودے کردار کے مالک تھے اور ہیں۔
ان کنا لکم ۔۔۔۔۔۔ من شییء (14 : 21) “ دنیا مین ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرسکتے ہو ؟” یہ تمہاری تابع داری ہی ہمیں اس انجام تک لے آئی ہے جو بہت ہی المناک انجام ہے۔ یا ان کا مقصد فقط یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کا عذاب تو دیکھ لیا ہے ، اب یہ ان مستکبرین کی سرزنش کرنا چاہتے ہیں کہ تمہاری قیادت اور راہنمائی یہ رنگ لاتی ہے ، اب آگے بڑھو اس عذاب کے لئے۔ بہرحال ان کا مطلب جو بھی ہو ، ہر حال میں ان کی ذلت پر بھی دلالت کرتا ہے اور منکرین کا جواب۔
قالوا لو ھدنا ۔۔۔۔۔ من محیص (14 : 21) “ وہ جواب دیں گے ، اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع و فزع کریں یا صبر ، بہرحال ہمارے لیے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے ”۔
یہ بادل ناخواستہ ایک دو ٹوک جواب ہے ، “ اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھا دیتے ”۔ اب ہمیں کیوں ملامت کرتے ہو ، ہماری راہ بھی ایک ہے اور انجام بھی ایک ہے ، آخر ہم کب راہ نجات پر چلے کہ تم کو گمراہ کردیا۔ اگر ہمیں ہدایت نصیب ہوتی تو تم بھی ہمارے ساتھ راہ ہدایت پر ہوتے ، جس طرح ہماری گمراہی نے تمہیں گمراہ کیا۔ اب قیامت میں یہ لوگ اپنی ہدایت اور ضلالت کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اب تو یہ اللہ کی کبریائی کو تسلیم کرتے ہیں اور اللہ پر ایمان لاتے ہیں حالانکہ دنیا میں یہ ان ضعفاء پر اس طرح دست درازیاں کرتے تھے کہ گویا ان سرکشوں سے کوئی پوچھنے والا جباروقہار ہے ہی نہیں۔ اب یہاں وہ ہدایت و ضلالت کو اللہ کی طرف منسوب کر کے اس کی ذمہ داری سے بچنا چاہتے ہیں ، حالانکہ اللہ نے تو ان کو یہ حکم نہ دیا تھا کہ تم گمراہ ہوجاؤ ؟
ان اللہ لا یامر بالفحشاء “ اللہ لوگوں کو فحاشی کا حکم نہیں دیتا ”۔ لیکن در پردہ یہ ان کمزور فطرت لوگوں کو ملامت بھی کرتے ہیں ، ان کا مطلب یہ ہے کہ اب جزع و فزع سے فائدہ نہیں ، نہ صبر کرنے سے فائدہ ہے۔ عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے ، صبر سے یا جزع و فزع سے یہ تو ٹلنے کا نہیں۔ اب تو بہ کا دروازہ بند ہے۔ اگر یہ کھلا ہوتا تو گمراہ لوگ فریاد کر کے ہدایت پر آسکتے تھے ، اگر دنیا میں کوئی سختی ہوتی اور تم صبر کرتے تو بھی اللہ کی رحمت کی امید تھی۔ اب تو مہلت ختم ہے اور عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
سواء علینا اجزعنا ام صبرنا ما لنا من محیص (14 : 21) “ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع و فزع کریں یا صبر ، بہرحال ہمارے لیے بچنے پر ایک تعجب انگیز کردار آتا ہے۔ شیطان نمودار ہوتا ہے ، جو گمراہی کا داعی اور سرکشی کا حدی خواں ہے۔ یہ اسٹیج پر زاہدوں کے جبے میں آتا ہے۔ کاہنوں کی طرح نمودار ہوتا ہے ، اور دونوں فریقوں پر اپنے شیطانی غرور کا اظہار کرتا ہے اور ان کو ایسا چرکہ لگاتا ہے کہ یہ زبانی زخم شاید عذاب جہنم سے بھی کڑوا ہے۔
وقال الشیطن لما ۔۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا ۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریادرسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں ، ایسے ظالموں کے لئے دردناک سزا یقینی ہے ”۔
خدا کی پناہ ، حقیقت یہ ہے کہ شیطان درحقیقت شیطان ہے۔ اس منظر میں یہ مکمل فارم میں ہے جس طرح مستکبرین ڈکٹیٹر اور مستضعفین بودے کردار کے لوگ اپنی صحیح فارم میں ہیں۔
یہ وہی شیطان ہے جو سینوں کے اندر وسوسہ اندازیاں کیا کرتا تھا ، لوگوں کو بدکرداریوں اور گناہوں کے لئے دھوکے دیتا تھا ، کفر کو لوگوں کے لئے مزین بناتا تھا۔ دعوت اسلامی کے سننے سے لوگوں کو روکتا تھا ، آج وہ انہیں نہایت ہی نیش زنی اور طعنہ زنی اور دردناک مزاح سے کہتا ہے کہ تمہاری اپنی غلطی ہے۔ اب یہ بھی اس کے بیان کردہ حقائق کا کوئی جواب نہیں دے سکتے کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے اس کے مطابق تو آخری فیصلہ ہوچکا ہے۔ اب تو وہ سچی بات کہتا ہے لیکن بعد از وقت ۔
ان اللہ وعدکم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم (14 : 22) “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی پورا نہ کیا ”۔ اس کے بعد شیطان ایک نیا طعنہ دے کر انہیں چرکا لگاتا ہے کہ کیوں تم نے میری دعوت پر لبیک کہا ، مجھے تم پر کوئی اقتدار تو حاصل نہ تھا۔ صرف یہ بات تھی کہ تم لوگوں نے اپنی شخصیت کو بھلا دیا ہے میرے اور تمہارے درمیان جو دشمنی تھی اس کو نظر انداز کردیا۔ اور تم نے میری غلط دعوت کو قبول کرلیا۔ اور انبیاء کی سچی دعوت کو ترک کردیا۔
وما کان لی ۔۔۔۔۔ فاستجبتم لی (14 : 22) “ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا ”۔ اس کے بعد وہ انہیں مزید شرمندہ کرتا ہے اور کہتا ہے مجھے ملامت نہ کرو بلکہ تم خود قابل سرزنش ہو کہ تم نے میری اطاعت کی۔
فلا تلومونی ولو موا انفسکم (14 : 22) “ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو ”۔ اب وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور ان سے دستکش ہوجاتا ہے ، حالانکہ خود اس نے ان کے ساتھ وعدے کئے تھے اور ان کو امیدیں دلائی تھیں ، اور ان کے دل میں وسوسے ڈالے تھے کہ تمہارا کچھ بھی نہ بگڑے گا۔ اب جبکہ وہ فریاد کر رہے ہیں تو ان کی کوئی مدد نہیں کر رہا ہے۔ اور اگر وہ ان سے فریاد کرے تو وہ بھی کوئی مدد اس شیطان کی نہیں کرسکتے۔
ما انا بمصر خکم وما انتم بمصرخی (14 : 22) “ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری ” ۔ اب تو ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی تعلق اور کوئی دوستی نہیں ہے۔
اب وہ اس بات سے اپنی براءت کا اعلان کرتا ہے کہ تم نے مجھے اللہ کا شریک بنایا۔ صاف صاف انکار کرتا ہے کہ میں نے تو ایسا نہیں کہا۔
انی کفرت بما اشرکتمون من قبل (14 : 22) “ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہو ”۔ شیطان اپنی تقریر ایک ایسی بات پر ختم کرتا ہے جو اس کے دوستوں کے لئے سخت حوصلہ شکن ہے۔
ان الظلمین لھم عذاب الیم (14 : 22) “ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یہ دیکھو شیطان کا کردار ! یہی تو ہے جو ان کو گمراہی کی طرف بلا رہا تھا اور وہ اس کے کہنے پر گمراہ ہوگئے تھے۔ ان کو رسول خدا کی طرف بلا رہے تھے اور ان لوگوں نے رسولان کی ایک نہ مانی۔ انکار کردیا۔
قبل اس کے کہ اس منظر پر پردہ گرجائے دوسری طرف سے ایک اہل ایمان کا گروپ نمودار ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آج قیامت کے دن سر خرو ہوگئے ہیں۔ ان کی نجات کا فیصلہ ہوگیا ہے۔
إبراهيم 14:22
آیت نمبر 21 تا 22
دعوت اسلامی اور داعیان حق کی یہ داستان ، اور جھٹلانے والوں اور ڈکٹیٹروں کی یہ کہانی اب اس دنیا کے اسٹیج سے آخرت کے اسٹیج پر منتقل ہوگئی ہے اور نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔
وبرزوا للہ جمیعاً ( 14 : 21) “ اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بےنقاب ہوں گے ”۔ یہ سرکش ڈکٹیٹر بھی کھڑے ہیں۔ اللہ کے سامنے اور ان کے کمزور کردار والے متبعین بھی کھڑے ہیں جنہوں نے ذلت اور کمزور کا کردار پسند کرلیا تھا ۔ شیطان بھی ایک طرف کھڑا ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ بھی کھڑے ہیں جو رسولوں پر ایمان لائے تھے اور نیک کام کرتے تھے ۔ یہ سب اب ایک میدان قیامت میں ہیں ، کھلے میدان میں ۔ اللہ کے لئے تو یہ پہلے بھی ظاہر و باہر تھے لیکن آج وہ خود اپنے احساس و شعور میں اپنے آپ کو ننگا اور بےحجاب محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ میدان حشر میں کوئی پردہ اور اوٹ نہیں ہے۔ یہ میدان بھرا ہوا ہے ، پردہ اٹھتا ہے اور مکالمہ شروع ہوتا ہے۔
فقال الضعفوا ۔۔۔۔۔۔ من شییء (14 : 21) “ اس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے ، وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے “ دنیا میں تم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرسکتے ہو ؟” بودے کردار کے کمزور لوگ بہرحال کمزور ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس اعلیٰ انسانی دولت سے دستبردار ہوجاتے ہیں جو اللہ نے ہر انسان کو دی ہے۔ وہ آزادی کی دولت ہے ، آزادی رائے ہے ، آزادی دین اور نظریہ اور حریت عمل ہے۔ ان لوگوں نے اپنی مرضی سے اپنی آزادی کو ترک کر کے غلامی اختیار کرلی ہے اور سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے غلام بن گئے ہیں ۔ یہ غیر اللہ کے بندے اور غلام بن گئے ہیں اور اللہ کی غلامی کی بجائے انہوں نے انسانوں کی غلامی اختیار کرلی ہے ، لیکن اسلام میں ضعیفی کوئی معقول عذر نہیں ہے بلکہ ضعیفی ایک جرم ہے ، اللہ کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی کا غلام بن جائے وہ تو انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ باعزت زندگی اختیار کرو ، میری عزت کرو ، میری پناہ میں آجاؤ۔ اللہ نے ہر انسان کو آزاد اور مکرم بنایا ہے اور اسے یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی آزادی کو بیچ دے ، یا کسی بڑی سے بڑی مادی قوت کے سامنے سپر انداز ہوجائے چاہے وہ بہت بڑی قوت کیوں نہ ہو۔ کسی بھی قوت کو اللہ یہ حق نہیں دیتا کہ وہ دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنا کے رکھے۔ اسلام میں ہر انسان کی آزادی اور عزت کا احترا ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی مادی قوت بھی صرف انسانی جان اور جسم کا تعلق ختم کرسکتی ہے۔ تشدد اور اذیت دے سکتی ہے لیکن کسی کی آزاد سلب نہیں کرسکتی۔ انسانی ضمیر ، انسانی روح اور انسانی عقل پر کوئی ڈکٹیٹر حکومت نہیں کرسکتا ، نہ عقل ، روح اور ضمیر کو کوئی قید کرسکتا ہے ، ضمیر اور روح ، اور عقل اور حریت سے ایک انسان خود دستبردار ہوا کرتا ہے۔ پھر وہ ذلیل ہو کر مستضعفین میں داخل ہوجاتا ہے۔
اپنے عقائد ، نظریات ، افکار اور طرز عمل میں کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو کوئی انسان سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے تابع نہیں بنا سکتا۔ کوئی شخص بھی کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ کسی سرکش اور ڈکٹیٹرکا دین قبول کرلے ، کیونکہ اللہ خالق و رازق موجود ہے جو سب کا کفیل و ذمہ دار ہے۔ صرف ضعیف لوگ خود اپنی خوشی سے یہ کام کرتے ہیں ، یہ خود ضعیف بن گئے ، ان کی قوت اور کسی سرکش اور ڈکٹیٹر کی قوت برابر ہے۔ جاہ و مرتبہ اور مال و منال کے اعتبار سے یہ مستضعفین ڈکٹیٹر کے برابر ہوتے ہیں۔ کسی ڈکٹیٹر کا مرتبہ اور منصب کسی کو ضعیف نہیں بنا سکتا بلکہ یہ ذہنی طور پر بودے کردار کے لوگ ہوتے ہیں ، اپنے ایمان اور روح کے اعتبار سے یہ کمزور لوگ ہوتے ہیں ، بےعزت اور آبرو باختہ لوگ ہوتے ہیں اور اپنی آزادی اور عزت کو معمولی مفادات کے لئے بیچ دینے والے لوگ ہوتے ہیں جو جھکتے ہیں حالانکہ عزت و آبرو اور آزادی انسان کا نہایت قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ان بودے لوگوں کی ایک بھیڑ ہے اور سرکش اور ڈکٹیٹر چند ایک ہیں۔ آخر یہ بھیڑ کیوں چند لوگوں کی غلامی اختیار کرتی ہے ، دراصل ان عوام میں ہمت نہیں ہوتی ، یہ روحانی اعتبار سے شکست خوردہ ہوتے ہیں۔ ان کے اندر حمیت نہیں ہوتی ، عزت نفس نہیں ہوتی اور یہ روحانی اور داخلی طور پر ان ڈکٹیٹروں کے سامنے شکست کھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی ڈکٹیٹر جمہور عوام کو صرف ان کی مرضی ہی سے ذلیل کرتا ہے۔ اگر عوام اٹھ کھڑے ہوں تو ان کے سامنے کوئی ڈکٹیٹرکھڑا نہیں رہ سکتا۔ لیکن یہ صورت حال خود عوام کے کمزور ارادے کی وجہ سے ہے۔
کسی انسان پر ذلت تب ہی طاری ہوتی ہے ، جب اس کے اندر ذلیل ہونے کی صلاحیت ہو ، ڈکٹیٹر ہمیشہ عوام کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اب ذرا کمزوروں کی ذہنیت کو دیکھو کہ قیامت کے دن وہ کس انداز سے پیش آتا ہے ، ان کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت بودے کردار کے مالک تھے اور ہیں۔
ان کنا لکم ۔۔۔۔۔۔ من شییء (14 : 21) “ دنیا مین ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرسکتے ہو ؟” یہ تمہاری تابع داری ہی ہمیں اس انجام تک لے آئی ہے جو بہت ہی المناک انجام ہے۔ یا ان کا مقصد فقط یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کا عذاب تو دیکھ لیا ہے ، اب یہ ان مستکبرین کی سرزنش کرنا چاہتے ہیں کہ تمہاری قیادت اور راہنمائی یہ رنگ لاتی ہے ، اب آگے بڑھو اس عذاب کے لئے۔ بہرحال ان کا مطلب جو بھی ہو ، ہر حال میں ان کی ذلت پر بھی دلالت کرتا ہے اور منکرین کا جواب۔
قالوا لو ھدنا ۔۔۔۔۔ من محیص (14 : 21) “ وہ جواب دیں گے ، اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع و فزع کریں یا صبر ، بہرحال ہمارے لیے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے ”۔
یہ بادل ناخواستہ ایک دو ٹوک جواب ہے ، “ اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھا دیتے ”۔ اب ہمیں کیوں ملامت کرتے ہو ، ہماری راہ بھی ایک ہے اور انجام بھی ایک ہے ، آخر ہم کب راہ نجات پر چلے کہ تم کو گمراہ کردیا۔ اگر ہمیں ہدایت نصیب ہوتی تو تم بھی ہمارے ساتھ راہ ہدایت پر ہوتے ، جس طرح ہماری گمراہی نے تمہیں گمراہ کیا۔ اب قیامت میں یہ لوگ اپنی ہدایت اور ضلالت کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اب تو یہ اللہ کی کبریائی کو تسلیم کرتے ہیں اور اللہ پر ایمان لاتے ہیں حالانکہ دنیا میں یہ ان ضعفاء پر اس طرح دست درازیاں کرتے تھے کہ گویا ان سرکشوں سے کوئی پوچھنے والا جباروقہار ہے ہی نہیں۔ اب یہاں وہ ہدایت و ضلالت کو اللہ کی طرف منسوب کر کے اس کی ذمہ داری سے بچنا چاہتے ہیں ، حالانکہ اللہ نے تو ان کو یہ حکم نہ دیا تھا کہ تم گمراہ ہوجاؤ ؟
ان اللہ لا یامر بالفحشاء “ اللہ لوگوں کو فحاشی کا حکم نہیں دیتا ”۔ لیکن در پردہ یہ ان کمزور فطرت لوگوں کو ملامت بھی کرتے ہیں ، ان کا مطلب یہ ہے کہ اب جزع و فزع سے فائدہ نہیں ، نہ صبر کرنے سے فائدہ ہے۔ عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے ، صبر سے یا جزع و فزع سے یہ تو ٹلنے کا نہیں۔ اب تو بہ کا دروازہ بند ہے۔ اگر یہ کھلا ہوتا تو گمراہ لوگ فریاد کر کے ہدایت پر آسکتے تھے ، اگر دنیا میں کوئی سختی ہوتی اور تم صبر کرتے تو بھی اللہ کی رحمت کی امید تھی۔ اب تو مہلت ختم ہے اور عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
سواء علینا اجزعنا ام صبرنا ما لنا من محیص (14 : 21) “ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع و فزع کریں یا صبر ، بہرحال ہمارے لیے بچنے پر ایک تعجب انگیز کردار آتا ہے۔ شیطان نمودار ہوتا ہے ، جو گمراہی کا داعی اور سرکشی کا حدی خواں ہے۔ یہ اسٹیج پر زاہدوں کے جبے میں آتا ہے۔ کاہنوں کی طرح نمودار ہوتا ہے ، اور دونوں فریقوں پر اپنے شیطانی غرور کا اظہار کرتا ہے اور ان کو ایسا چرکہ لگاتا ہے کہ یہ زبانی زخم شاید عذاب جہنم سے بھی کڑوا ہے۔
وقال الشیطن لما ۔۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا ۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریادرسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں ، ایسے ظالموں کے لئے دردناک سزا یقینی ہے ”۔
خدا کی پناہ ، حقیقت یہ ہے کہ شیطان درحقیقت شیطان ہے۔ اس منظر میں یہ مکمل فارم میں ہے جس طرح مستکبرین ڈکٹیٹر اور مستضعفین بودے کردار کے لوگ اپنی صحیح فارم میں ہیں۔
یہ وہی شیطان ہے جو سینوں کے اندر وسوسہ اندازیاں کیا کرتا تھا ، لوگوں کو بدکرداریوں اور گناہوں کے لئے دھوکے دیتا تھا ، کفر کو لوگوں کے لئے مزین بناتا تھا۔ دعوت اسلامی کے سننے سے لوگوں کو روکتا تھا ، آج وہ انہیں نہایت ہی نیش زنی اور طعنہ زنی اور دردناک مزاح سے کہتا ہے کہ تمہاری اپنی غلطی ہے۔ اب یہ بھی اس کے بیان کردہ حقائق کا کوئی جواب نہیں دے سکتے کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے اس کے مطابق تو آخری فیصلہ ہوچکا ہے۔ اب تو وہ سچی بات کہتا ہے لیکن بعد از وقت ۔
ان اللہ وعدکم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم (14 : 22) “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی پورا نہ کیا ”۔ اس کے بعد شیطان ایک نیا طعنہ دے کر انہیں چرکا لگاتا ہے کہ کیوں تم نے میری دعوت پر لبیک کہا ، مجھے تم پر کوئی اقتدار تو حاصل نہ تھا۔ صرف یہ بات تھی کہ تم لوگوں نے اپنی شخصیت کو بھلا دیا ہے میرے اور تمہارے درمیان جو دشمنی تھی اس کو نظر انداز کردیا۔ اور تم نے میری غلط دعوت کو قبول کرلیا۔ اور انبیاء کی سچی دعوت کو ترک کردیا۔
وما کان لی ۔۔۔۔۔ فاستجبتم لی (14 : 22) “ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا ”۔ اس کے بعد وہ انہیں مزید شرمندہ کرتا ہے اور کہتا ہے مجھے ملامت نہ کرو بلکہ تم خود قابل سرزنش ہو کہ تم نے میری اطاعت کی۔
فلا تلومونی ولو موا انفسکم (14 : 22) “ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو ”۔ اب وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور ان سے دستکش ہوجاتا ہے ، حالانکہ خود اس نے ان کے ساتھ وعدے کئے تھے اور ان کو امیدیں دلائی تھیں ، اور ان کے دل میں وسوسے ڈالے تھے کہ تمہارا کچھ بھی نہ بگڑے گا۔ اب جبکہ وہ فریاد کر رہے ہیں تو ان کی کوئی مدد نہیں کر رہا ہے۔ اور اگر وہ ان سے فریاد کرے تو وہ بھی کوئی مدد اس شیطان کی نہیں کرسکتے۔
ما انا بمصر خکم وما انتم بمصرخی (14 : 22) “ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری ” ۔ اب تو ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی تعلق اور کوئی دوستی نہیں ہے۔
اب وہ اس بات سے اپنی براءت کا اعلان کرتا ہے کہ تم نے مجھے اللہ کا شریک بنایا۔ صاف صاف انکار کرتا ہے کہ میں نے تو ایسا نہیں کہا۔
انی کفرت بما اشرکتمون من قبل (14 : 22) “ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہو ”۔ شیطان اپنی تقریر ایک ایسی بات پر ختم کرتا ہے جو اس کے دوستوں کے لئے سخت حوصلہ شکن ہے۔
ان الظلمین لھم عذاب الیم (14 : 22) “ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یہ دیکھو شیطان کا کردار ! یہی تو ہے جو ان کو گمراہی کی طرف بلا رہا تھا اور وہ اس کے کہنے پر گمراہ ہوگئے تھے۔ ان کو رسول خدا کی طرف بلا رہے تھے اور ان لوگوں نے رسولان کی ایک نہ مانی۔ انکار کردیا۔
قبل اس کے کہ اس منظر پر پردہ گرجائے دوسری طرف سے ایک اہل ایمان کا گروپ نمودار ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آج قیامت کے دن سر خرو ہوگئے ہیں۔ ان کی نجات کا فیصلہ ہوگیا ہے۔
إبراهيم 14:23
آیت نمبر 23
اب پردہ گرتا ہے۔۔۔ کیا ہی خوبصورت منظر ہے۔ دعوت اسلامی اور داعیوں اور جھٹلانے والوں اور سرکش ڈکٹیٹروں کی یہ کیا ہی خوبصورت کہانی ہے۔
ذرا پیچھے اس کہانی کے تمام مناظر پر دوبارہ نگاہ ڈالیں اور اس فضا کو ذہن میں رکھیں۔ پہلے منظر میں تحریک اسلامی اور جاہلیت کا مقابلہ اس کرۂ ارض پر دکھایا گیا۔ رسولان کرام کا گروہ سرکشوں کے مقابلے میں کھڑا تھا۔
واستفتحوا ۔۔۔۔۔ جبار عنید (15) من ورائہ ۔۔۔۔۔ صدید (16) یتجرعہ ولا۔۔۔۔۔۔ عذاب غلیظ (17) ( 14 : 15 تا 17) “ انہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں ان کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی ، پھر اس کے بعد آگے اس کے لئے جہنم ہے۔ وہاں اسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا۔ موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا ”۔
پھر آخرت کے اسٹیج پر بھی ہم نے ابھی ابھی وہ انوکھا منظر دیکھ لیا ہے۔ یہ سرکش ڈکٹیٹروں ، جابر بٹے ہوئے لوگوں اور خود شیطان کے عجیب مکالمے پر مشتمل تھا۔ اس بہترین قصے کی فضا میں اور نیک لوگوں کے اچھے انجام اور برے لوگوں کے برے انجام کے ان مناظر کے بعد اب اللہ تعالیٰ اچھی باتوں اور صحیح نظریہ حیات اور بری باتوں اور برے فلسفوں کی مثال دیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں نیک و بد اور طیب و خبیث کی کشمکش انسان کی پوری زندگی میں جاری رہتی ہے۔ گویا ایک قصے کے خاتمے اور پردہ گرجانے کے بعد اب اس پوری کہانی پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔
إبراهيم 14:24
آیت نمبر 24 تا 27
کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی نہ کسی دور میں کوئی نہ کوئی نبی آیا ہے اور وہ اصلاح ، دعوت اور ایمان کا پھل دیتا رہا ہے جس میں بھلائی اور اچھی زندگی کا سامان فراہم ہوتا رہا ہے۔
لیکن یہ تمثیل اس سورة کی فضا اور اس قصے کی فضا کے ساتھ متناسب ہونے کے ساتھ ساتھ مطالب و معانی کا نہایت وسیع آفاق رکھتی ہے اور اس کے اندر گہرے حقائق ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ حق ہے ، جو ایک مفید اور اصل دار درخت کی طرح ہوتا ہے ، یہ حق مستحکم ، ٹھوس اور مفید ہوتا ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں لیکن یہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ باطل کی طوفانی ہوائیں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں اور ظلم و سرکشی کے کدال اسے اکھاڑ نہیں پھینک سکتے۔ اگرچہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ظلم اور سرکشی کے سخت طوفان اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ یہ درخت نہایت بلند ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں فضاؤں میں بڑی دور تک جاتی ہیں۔ یہ سرکشی اور ظلم پر بڑی بلندی سے حقارت آمیز نظر ڈالتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شر اس کا بلند فضاؤں میں بھی مقابلے کر رہا ہے لیکن اس درخت کا پھل آتا ہی رہتا ہے ، پھر اس درخت کی تخم ریزی صالح انسانوں کے دلوں میں ہوتی اور اس کی پود لگتی ہی رہتی ہے اور یہ نسلاً بعد نسل بڑھتا ہی رہتا ہے۔
باطل جو کلمہ خبیثہ ہوتا ہے۔ یہ بےکار جھاڑی اور بوٹی کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ جھاڑیاں بھی بہار دکھاتی ہیں اور گھنے جنگلات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور بعض لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل کا درخت حق سے بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ معمولی طاقت صرف کرنے سے اسے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ جس طرح فصل سے جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھے لوگ اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں اس لیے وہ قرار و بقا سے محروم ہوتا ہے کیونکہ ہوتا ہی خبیث ہے۔
یہ محض ایک مثال یا ضرب المثل ہی نہیں ہے ، نہ کوئی ایسی بات ہے جس کے ذریعہ نیک لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ، بلکہ یہ تمثیل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس حقیقت کے ظاہر ہونے میں دیر لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سچائی اور بھلائی کو کبھی بیخ دین سے نہیں اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا اور نہ یہ سچائی کبھی مرتی یا نابود ہوتی ہے اگرچہ شر کی گرفت سخت ہو اور شر اس کی راہ روک رہا ہو۔ اسی طرح خالص شر بھی دنیا میں پھلتا پھولتا نہیں۔ دراصل وہ اپنے ساتھ خیر کا کوئی حصہ ملاتا ہے ، اور جب اس شر کے ساتھ ملائے ہوئے خیر کے عناصر ختم ہوجاتے ہیں تو پھر شر اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بڑی قوت اور عظیم طاقت نظر آتا ہے ہو۔ بہرحال اصل حقیقت یہ ہے کہ خیر ہی خیرت سے ہوتا ہے اور شر ہمیشہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔
ویضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرون (14 : 25) “ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں ”۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جو زمین پر حقیقت کی شکل میں موجود ہیں۔ لوگ ان پر نظر نہیں ڈالتے ، قرآن صرف لوگوں کو متوجہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ تذکرہ ہے۔
شجرۂ ثابتہ اور اس مستحکم درخت کی تعبیر میں حق کے ثبات کی تصویر کشی بھی ہے ، یوں کہ حق کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور وہ آسمان تک بلند شاخیں رکھتا ہے اور نظر بھی آتا ہے کہ وہ بلند ہے۔ حق کھڑا رہتا ہے اور یہ جتلاتا ہے کہ وہ مضبوط اور ٹھوس ہے ، اس کلمہ طیبہ اور شجرۂ طیبہ کے ذریعہ ایک تمثیل دے کر اللہ کیا چاہتا ہے ؟
یثبت اللہ ۔۔۔۔۔ وفی الاخرۃ (14 : 27) “ ایمان والوں کو اللہ اس قول ثابت کی بنیاد پر ، دنیا و آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے ”۔ اور طرح کلمہ خبیثہ کی تمثیل دے کر کہ وہ شجرۂ خبیثہ کی طرح ہے اور اس کے لئے کوئی ثبات وقرار نہیں ہے۔
ویضل اللہ الظلمین (14 : 27) “ اور ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے ”۔ چناچہ انداز کلام اور اس سے مراد مفہوم کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ”۔ اللہ اہل ایمان کو اس زندگی میں ثبات وقرار عطا کرتا ہے اور یہاں ان کی بات پختہ ہوتی ہے آخرت میں انہیں مضبوط کرتا ہے ، وہاں ان کا انجام پختہ وہتا ہے کیونکہ ان کے دلوں کی دھرتی پر ایمان پختہ کھڑا ہوتا ہے۔ ان کی فطرت کا حصہ ہوتا ہے اور اس درخت سے ان کی زندگی سے اعمال صالحہ پھوٹتے رہتے ہیں۔ پے در پے یہ اعمال آتے ہیں۔ یہ درخت قرآن و سنت کی تعلیمات کے ذریعہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے۔ اس کے سامنے امید کی شمع ہوتا ہے ۔ اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا یقین ہوتا ہے ، یہ سب باتیں یا پھل حق ہیں اور ٹھوس ہیں۔ ایک ہی راہ ہے اور ایک ہی طریقہ ہے۔ اور جن لوگوں کے ضمیر کی دھرتی میں یہ درخت کھڑا ہوتا ہے اس سرزمین میں قلق ، بےچینی ، حیرت اور اضطراب نہیں ہوتا۔
ظالموں کو اپنے ظلم اور شرک کی وجہ سے (قرآن میں ظلم کا اطلاق بالعموم شرک پر ہوتا ہے ) نور اور روشنی سے دور کردیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اوہام و خرافات کی تنگ و تاریک وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ یہ ہوائے نفس کی مختلف راہوں پر چلتے ہیں۔ اللہ کی ایک ہی راہ سے محروم ہوتے ہیں ، تو اللہ اپنی سنت جاریہ کے مطابق پھر ان کو مزید گمراہ کرتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے خود ظلم ، تاریکی اور ہوائے نفس کی بندگی کی راہ کو اختیار کیا۔ تو یہ بھٹکتے رہے اور بدی کی راہوں میں ادھر ادھر بھاگتے رہے۔
ویفعل اللہ ما یشاء ( 14 : 27) “ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے ”۔ اس کا ارادہ بےقید ہے ، ٹھیک ہے کہ وہ ایک ناموس فطرت جاری کرتا ہے لیکن وہ خود اپنے ناموس فطرت کا پابند نہیں ہے ۔ البتہ اس کے قانون پر جو چلے وہ اس کو پسند کرتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے جاری کئے ہوئے ناموس فطرت کو بدل بھی دیتا ہے کیونکہ اللہ کو روکنے والی کوئی قوت نہیں ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے ، وہی ہوتا ہے۔
اس تبصرے سے رسولان کرام کے عظیم قصے ، اور کہانی کی بات کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ دعوت اسلامی کی کہانی تھی۔ اس کا پہلا حصہ اس سورة کے آغاز میں ایک بڑے حصے میں پھیلا ہوا تھا۔ یہاں حضرت ابراہیم ابو الانبیاء کی کہانی تھی۔ پھر چند دوسرے انبیاء کی کہانی تھی جس کی شاخیں تاریخ کے اندر دور تک پھیلی ہوئی تھیں اور یہ کلمہ طیبہ کے درخت کے مالی تھے جو حق کی طرح پھلتا پھولتا تھا۔ یہ کلمہ طیبہ جو یہ سب پیغمبر لے کر آئے یہ شجرۂ طیبہ کی طرح تھا۔ یہ کلمہ توحید تھا ، تمام انبیاء کا شجرۂ طیبہ ایک ہی تھا ، ایک ہی پھل دیتا تھا ، یہ کلمہ توحید تھا اور تمام انبیاء کے ہاں یہ کلمہ ایک رہا اور دعوت بھی ایک ہی رہی۔
یہ تھی اسلام اور جاہلیت کے درمیان طویل کشمکش۔ اس کی طرف ہم نے اس پوری سورة میں جا بجا سر سری اشارات کئے ہیں۔ میں اس بات کو ضروری سمجھتا ہوں کہ ان اشارات پر دوبارہ قدرے غور کیا جائے۔
چناچہ اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں قافلہ ایمان ایک ہی قافلہ ہے۔ آدم (علیہ السلام) سے ادھر یہ قافلہ رواں دواں ہے اور رسولان کرام اس قافلے کے قائد ہیں۔ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی نظریہ و عقیدہ کی طرف تھی۔ ایک آواز انہوں نے بلند کی اور ایک ہی طریق کار پر انہوں نے کام کیا۔ سب کی دعوت یہ تھی کہ الٰہ اور حاکم ایک ہی ہے ، وہی رب ہے ، اور اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ اور رب اور حاکم نہیں ہے ، اور اہل ایمان کو اس کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ۔ نہ اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ میں آنا چاہئے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا سمجھنا چاہئے۔
پس اللہ وحدہ کو ایک سمجھے اور عقیدۂ توحید کی وہ تاریخ جسے آج کل علماء “ تقابل ادیان ” بتلاتے پھرتے ہیں ، کہ پہلے لوگ متعدد الہٰوں کو مانتے تھے۔ پھر دو الہٰوں کو ماننے لگے یعنی “ خیر و شر کے الٰہ ، اس طرح لوگ پہلے شجر وحجر ، سورج ، چاند ، ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتے تھے اور پھر آخر میں انہوں نے الٰہ واحد کی پوجا شروع کردی۔ یوں ان کے نظریات میں ارتقاء ہوا اور انسانیت کا علم و فلسفہ ترقی کرتا رہا۔ اسی طرح ان کی سوسائٹی بھی ترقی کر کے ، ایک بادشاہ کی بادشاہی کے قیام تک جا پہنچی۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ جب سے انسانی تاریخ شروع ہوئی ہے تمام رسولوں نے عقیدۂ توحید کی تبلیغ کی ہے۔ تمام رسولوں کی رسالت اور دعوت میں یہی بنیادی عنصر تھا اور اس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ جس قدر معروف سماوی دین ہیں ، قرآن کریم کے مطابق ان کی دعوت یہی تھی۔
اگر تقابل ادیان کے علماء اپنی بات اس طرح کرتے کہ رسولوں نے جو عقیدۂ توحید آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک بیان کیا۔ اس کے بعد سمجھنے کے لئے انسانوں کے فہم و ادراک میں یوں ارتقاء ہوا کہ رسولان کرام کی مسلسل جدو جہد کی وجہ سے عوام الناس کے اذہان میں یہ روشنی پھیلتی چلی گئی اور آخر میں اس طویل جدو جہد کے لئے زیادہ لوگ اللہ کے دین ، عقیدہ توحید کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوگئے تو ان علماء تقابل ادیان کی بات معقول نظر آتی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس منہاج بحث و تحقیق سے متاثر ہیں ، جو یورب میں مروج ہے۔ اس منہاج کی تہ میں دراصل کنیا کے خلاف عداوت دفن ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دور جدید کے مسلم مفکرین نے بھی اس کا خیال نہیں رکھا۔ بہرحال تقابل ادیان دانستہ و نا دانستہ صحیح اسلامی اور دینی سوچ کے مخالف چلتے ہیں اور یہ انداز ثابت کرتے ہیں کہ ادیان کی بنیاد وحی پر نہیں ہے بلکہ دین بھی دراصل انسانی سوچ کا ارتقاء ہے۔ جس طرح دوسرے انسانی افکار ، فلسفوں اور تجربوں میں ارتقاء ہوتا رہا ہے اسی طرح دینی فکر بھی ارتقاء پذیر رہی ہے۔ غرض اس قدیمی دشمنی اور اس سوچ ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے دور کے ماہرین علماء تقابل ادیان اس طرز پر بات کرتے ہیں اور اپنی اس سوچ اور فکر کو علمی اور تحقیقی سوچ کہتے ہیں۔
اگر کسی اور ملک و ملت کا کوئی فرد اس منہاج سے دھوکہ کھاتا ہے تو کھائے مگر ایک مسلمان اس منہاج سے ایک منٹ کے لئے بھی متاثر نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کے پاس اپنے دین کے حوالے سے ایک صحیح منہاج فکر موجود ہے اور ان کے پاس دین کے حوالے سے ان کے اپنے کچھ طے شدہ اصول ہیں ، اور اپنا منہاج بحث موجود ہے۔
غرض تمام انبیاء انسانیت کے سامنے ایک ہی دعوت پیش کرتے رہے۔ ایک ہی نظریہ دیتے رہے۔ اور اسی منہاج کے مطابق انہوں نے اپنے اپنے دور میں جاہلیت کا مقابلہ کیا۔ قرآن کریم اس بات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ تمام رسول یہ دعوت لے کر آئے ، یہ ایک ہی نظریہ پیش کر کے ، ہر دور میں ایک ہی طرح جاہلیت کا مقابلہ کرتے رہے۔ اور اس معاملے میں قرآن نے زمان و مکان کے حوالے سے کسی ارتقاء کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمیں دعوت فکر دیتی ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اسلام ہمیشہ اسلام رہا ہے اور جاہلیت ہمیشہ جاہلیت رہی ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں ان کے درمیان کوئی اتحاد نہیں رہا ہے۔ جب اسلام کی بنیاد پر کوئی سوسائٹی بنی ہے ، اس کے ایک ہی مہ و سال رہے ہیں اور جب بھی جاہلیت کی اساس پر کوئی اکٹھ ہوا ہے وہ بھی ایک جیسا رہا ہے۔ مثلاً جاہلیت کی پہلی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں انسان ، انسان کا غلام ہوتا ہے اور اس میں حاکم اللہ نہیں ہوتا بلکہ کوئی اور ہوتا ہے۔ پرورش کرنے والا بھی اور ہوتا ہے ، چاہے کوئی متعدد الہٰوں کا قائل ہو یا اللہ ایک سمجھتا ہو مگر رب اور حاکم متعدد ہوں تو بھی یہ سوسائٹی ایک جاہلی سوسائٹی ہوگی اور اس سوسائٹی میں جاہلیت کے تمام اوصاف و علامات موجود ہوں گی۔
رسولوں کی دعوت کی بنیا یہ رہی ہے کہ اللہ کو ایک سمجھاجائے اور تمام جھوٹے خداؤں کا انکار کردیا جائے۔ دین صرف اللہ کا ہو ، صرف اللہ کے دین و شریعت کی اطاعت ہو اور صرف اللہ کو حاکم اور قانون ساز تصور کیا جائے۔ یہ نظریہ براہ راست اس نظریہ کی ضد ہے جو جاہلیت کی اساس رہا ہے۔ جونہی کوئی شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ حاکم بھی اللہ ہوگا ، قانون بھی اللہ کا ہوگا تو ہر جاہلیت اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے ، خصوصاً جب لوگ اس نظریہ کے گرد جمع ہو کر ایک جماعتی زندگی اختیار کرلیں اور خصوصاً یہ افراد جاہلیت سے چھٹ چھٹ کر آرہے ہوں اور ایک اکٹھ اختیار کر رہے ہوں ، ایسی صورت میں نظریہ جاہلیہ اور حاکم جاہلیت ایسے افراد کے اجتماع کو اپنے خلاف ایک بغاوت سمجھتے ہیں۔ پھر ہر جاہلی حکومت یہ خیال کرتی ہے کہ ان لوگوں کا عقیدہ مشکوک ہے۔ حالانکہ یہ امور ایسے ہیں کہ ہر دور میں یہ تحریک اسلامی کے لئے لابدی ہیں کہ وہ اپنے نظریات کا کھل کر اعلان کرے۔ پھر ان کی اساس پر جمعیت تشکیل دے اور پھر یہ لوگ مل کر کام کریں۔ ہر دور میں یہ طریق کار ضروری ہے۔
ہر دور میں نظام جاہلیت کا ایک نظام ہوتا ہے اور اس کی عضویاتی تشکیل ہوتی ہے۔ جب وہ نظام دیکھتا ہے کہ اس کے مقابلے میں ایک متضاد نظریاتی نظام آگیا ہے اور ایک نئی سوسائٹی بھی بن رہی ہے جو ان کی سوسائٹی کے بالکل متضاد عضویاتی تشکیل اور نظام رکھتی ہے۔ کیونکہ جاہلی سوسائٹی کی تہ میں متعدد الہٰوں کا نظریہ ہوتا ہے۔ حاکم اس میں متعدد ہوتے ہیں اور اس میں انسان انسانوں کے غلام اور تابع ہوتے ہیں جبکہ اسلامی سوسائٹی میں ایک الٰہ اور حاکم کا نظریہ ہوتا ہے اور اس میں تمام لوگ اللہ کے بندے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کا بندہ نہیں ہوتا تو پھر جاہلی سوسائٹی اس نئی سوسائٹی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
خطرے میں اضافہ اس بات سے بھی ہوجاتا ہے کہ یہ نو تشکیل شدہ اسلامی سوسائٹی روز بروز جاہلی سوسائٹی کے جسم کو کھاتی چلی جاتی ہے۔ ابتداء میں جب اسلامی سوسائٹی بنتی ہے تو خطرہ کم ہوتا ہے لیکن جب وہ جاہلیت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ لوگوں کو اپنی غلامی سے نکالو اور تم سب اللہ کی غلامی میں داخل ہوجاؤ۔ چونکہ آغاز رسل سے یہی طریق کار رہا ہے ، دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی کا اس لیے آغاز ہی سے ہر دور میں جاہلیت نے اسلامی تحریک کو اپنے وجود کے خلاف چیلنج سمجھا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے اور قدرتی معلوم ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح کوئی قائم وجود کسی حملہ آور کے مقابلے میں اپنی حفاظت کرتا ہے اور جس طرح ہر وہ شخص اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے جس نے عوام سے حاکمیت غصب کی ہوئی ہوتی ہے۔
جب جاہلیت محسوس کرتی ہے کہ تحریک اسلامی اس کے وجود کے لئے خطرہ بن گئی ہے تو وہ بھی اس مقابلے کو موت وحیات کا مسئلہ سمجھتی رہی ہے۔ جاہلیت نے تحریک اسلامی کے ساتھ کبھی بھی نرمی ، مصالحت اور امن و سلامتی کے اصول کو نہیں اپنایا۔ کبھی بھی اس معرکے میں جاہلیت نے اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دیا۔ نہ رسولان کرام نے اس معرکے میں کبھی اپنے آپ کو دھوکا دیا ہے۔ نہ ان کے بعد کسی مومن داعی نے اس سلسلے میں اپنے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔ جاہلیت کا اعلان یہ رہا ہے۔
وقال الذین ۔۔۔۔۔ فی ملتنا (14 : 13) “ اور کفار نے ہمیشہ ان کے پاس آنے والے رسولوں کو یہ کہا کہ تو ہم اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تمہیں واپس ہماری ملت اور دائرہ اقتدار میں آنا ہوگا ”۔ یہ لوگ رسولوں اور مومنوں کا علیحدہ وجود تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ ان کا اپنا کوئی نظریہ ہو یا اپنی کوئی جماعت ہو۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ واپس ہماری پارٹی میں آجاؤ یا جلاوطن ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ۔ واپس آجاؤ، ہماری سوسائٹی میں مدغم نہ ہوجاؤ، پگھل جاؤ اور اپنی علیحدہ سوسائٹی اور اجتماعیت مت بناؤ۔
لیکن رسولان کرام نے بھی اس بات کو کبھی قبول نہیں کیا کہ وہ ملت جاہلیہ میں پگھل جائیں اور مدغم ہوجائیں۔ اپنا وجود ختم کردیں اور اپنی شخصیت کو ختم کردیں۔ اس لیے کہ ان کی سوسائٹی بالکل ایک نئے نظریہ ، نئے آئین و دستور منشور پر قائم ہوتی ہے جو جاہلیت کے نظریہ اور دستور ومنشور سے متضاد ہوتا ہے۔ رسولوں نے اس طرح کا جواب بھی نہیں دیا اور عمل بھی نہیں کیا جو ہمارے دور کے بعض جاہل لوگ کہتے ہیں کہ جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ اور اندر اندر سے کام کرد ، اندر جا کر اپنے عقیدے کو پھیلاؤ۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کسی جاہلی معاشرے میں اہل دعوت ایک نیا اسلامی نظریہ لے کر اٹھتے ہیں تو اس نظریہ کی اساس پر خود بخود ان کی سوسائٹی ، ان کی قیادت اور ان کی وفاداریاں الگ ہوجاتی ہیں ۔ یہ فطری بات ہے اس میں کسی کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ کسی بھی سوسائٹی کی تشکیل کے لئے فطری انداز ہے جو طبعی ہے اور لازمی ہے۔ اس عمل سے اگر کسی جاہلی سوسائٹی کے اندر رد عمل ہوتا ہے کہ لوگوں کو صرف ایک خدا کی بندگی ، حاکمیت اور قانون اور دستور و منشور پر جمع کیا جا رہا ہے تو یہ رد عمل بھی طبیعی ہوتا ہے۔ اس جاہلی نظام کے تمام کل پرزے پھر اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان اس جاہلی سوسائٹی کا کل پرزہ بنتا ہے تو یہ دراصل اس جاہلی سوسائٹی کا خادم ہوگا ، اسلام کا نہ ہوگا جس طرح بعض احمق یہ سمجھتے ہیں کہ جاہلیت کا پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرو۔
اس کے بعد وہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ جو کسی بھی دعوت کے لئے مقدر ہے ، اور جو شخص دعوت اسلامی کا کام کرتا ہے خواہ کسی زمان و مکان میں ہو ، وہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے دوستوں کے ساتھ جو نصرت کا وعدہ فرمایا ہے ضرور یہ کہا ہے کہ میری نصرت آئے گی اور انہیں زمین میں اقتدار ملے گا تو یہ وعدہ اس وقت تک حقیقت کا روپ اختیار نہ کرے گا جب تک وہ کسی جاہلی سوسائٹی سے ممتاز ہو کر علیحدہ نہ ہوجائیں ، اور وہ اس دعوت کی بنیاد پر اپنی قوم سے الگ ہو کر اپنی سوسائٹی اور اپنی جمعیت تشکیل نہ دے لیں۔ اگر وہ کسی جاہلی سوسائٹی کا ہی حصہ رہیں “ اس میں چلیں پھریں ، اسی کے کل پرزے ہوں ، تو اگرچہ وہ اسلام کے نظریہ حیات پر یقین رکھتے ہوں ، اس کے لئے کام کرتے ہو ، اللہ کی اس نصرت اور وعدے میں تاخیر ہوجائے گی۔ یہ وہ لازمی ، عظیم اور بنیادی شرط ہے جس پر دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں نے مکمل عمل کرنا ہے۔ اس بات کو انہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔
آخر میں ایک پہلو دوسرا بھی قابل غور ہے ، قرآن کریم رسولان کرام کے اس قافلے کو کس خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں جاہلیت کا نہایت ہی خوبصورتی اور ثابت قدمی سے مقابلے کرتا چلا آرہا ہے۔ یہ بیان اس لیے خوبصورت ہے کہ اس قافلے کے مسافر جس حق کے حامل ہیں وہ نہایت ہی سادہ ، فطری اور خوبصورت ہے۔ یہ مسافر مطمئن ہیں ، سنجیدہ اور اپنی راہ پر ۔۔۔۔ ہوئے چلے آرہے ہیں۔
قالت لھم رسلھم ۔۔۔۔۔۔ فلیتوکل المومنون (14 : 11) “ ان کے رسولوں نے ان سے کہا “ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے ”۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں ۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے ”۔
آنکھوں کو چکا چوند کرنے والی یہ خوبصورتی ، اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ یہ ایک متحدہ قافلہ ہے جو ہر زمان و مکان میں ، متحدہ جاہلیت کا مقابلہ کرتا چلا آیا ہے ، ہر دور میں اور ہر قوم میں۔
پھر یہ خوبصورتی ایک دوسرے پہلو سے بھی ہمارے سامنے آتی ہے کہ اس دعوت اور اس حق کا جس کے یہ رسولان کرام حامل ہیں ، اور اس حق کا جو اس کائنات میں پوشیدہ باہم گہرا رابطہ ہے کیونکہ رسول یہ کہتے ہیں۔
افی اللہ شک فاطر السموت والارض (14 : 10) “ کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے ” ۔ اور دوسری آیت میں ہے۔
وما لنا ۔۔۔۔۔۔ ھدنا سبلنا (14 : 12) “ اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟” اور دوسری جگہ ہے۔
الم تر ان اللہ خلق السموت ۔۔۔۔۔۔۔ بخلق جدید (19) وما ذلک علی اللہ بعزیز (20) (14 : 19- 20) “ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے ؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔ ایسا کرنا اس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ”۔
اس طرح اس کائناتی سچائی اور دعوت اسلامی کی سچائی کے درمیان گہرا رابطہ قائم ہوتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذات باری جو برحق ہے وہ ان دونوں سچائیوں کا سرچشمہ ہے اور یہ سچائیاں گہری مستحکم اور دور تک اس کائنات میں جڑیں رکھتی ہیں۔
کشجرۃ خبیثۃ ۔۔۔۔۔۔۔ من قرار (14 : 26) “ جس طرح ایک خبیث درخت ہوتا ہے جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور اسے زمین پر قرار نصیب نہیں ہوتا ”۔
إبراهيم 14:25
آیت نمبر 24 تا 27
کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی نہ کسی دور میں کوئی نہ کوئی نبی آیا ہے اور وہ اصلاح ، دعوت اور ایمان کا پھل دیتا رہا ہے جس میں بھلائی اور اچھی زندگی کا سامان فراہم ہوتا رہا ہے۔
لیکن یہ تمثیل اس سورة کی فضا اور اس قصے کی فضا کے ساتھ متناسب ہونے کے ساتھ ساتھ مطالب و معانی کا نہایت وسیع آفاق رکھتی ہے اور اس کے اندر گہرے حقائق ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ حق ہے ، جو ایک مفید اور اصل دار درخت کی طرح ہوتا ہے ، یہ حق مستحکم ، ٹھوس اور مفید ہوتا ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں لیکن یہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ باطل کی طوفانی ہوائیں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں اور ظلم و سرکشی کے کدال اسے اکھاڑ نہیں پھینک سکتے۔ اگرچہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ظلم اور سرکشی کے سخت طوفان اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ یہ درخت نہایت بلند ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں فضاؤں میں بڑی دور تک جاتی ہیں۔ یہ سرکشی اور ظلم پر بڑی بلندی سے حقارت آمیز نظر ڈالتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شر اس کا بلند فضاؤں میں بھی مقابلے کر رہا ہے لیکن اس درخت کا پھل آتا ہی رہتا ہے ، پھر اس درخت کی تخم ریزی صالح انسانوں کے دلوں میں ہوتی اور اس کی پود لگتی ہی رہتی ہے اور یہ نسلاً بعد نسل بڑھتا ہی رہتا ہے۔
باطل جو کلمہ خبیثہ ہوتا ہے۔ یہ بےکار جھاڑی اور بوٹی کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ جھاڑیاں بھی بہار دکھاتی ہیں اور گھنے جنگلات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور بعض لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل کا درخت حق سے بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ معمولی طاقت صرف کرنے سے اسے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ جس طرح فصل سے جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھے لوگ اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں اس لیے وہ قرار و بقا سے محروم ہوتا ہے کیونکہ ہوتا ہی خبیث ہے۔
یہ محض ایک مثال یا ضرب المثل ہی نہیں ہے ، نہ کوئی ایسی بات ہے جس کے ذریعہ نیک لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ، بلکہ یہ تمثیل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس حقیقت کے ظاہر ہونے میں دیر لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سچائی اور بھلائی کو کبھی بیخ دین سے نہیں اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا اور نہ یہ سچائی کبھی مرتی یا نابود ہوتی ہے اگرچہ شر کی گرفت سخت ہو اور شر اس کی راہ روک رہا ہو۔ اسی طرح خالص شر بھی دنیا میں پھلتا پھولتا نہیں۔ دراصل وہ اپنے ساتھ خیر کا کوئی حصہ ملاتا ہے ، اور جب اس شر کے ساتھ ملائے ہوئے خیر کے عناصر ختم ہوجاتے ہیں تو پھر شر اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بڑی قوت اور عظیم طاقت نظر آتا ہے ہو۔ بہرحال اصل حقیقت یہ ہے کہ خیر ہی خیرت سے ہوتا ہے اور شر ہمیشہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔
ویضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرون (14 : 25) “ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں ”۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جو زمین پر حقیقت کی شکل میں موجود ہیں۔ لوگ ان پر نظر نہیں ڈالتے ، قرآن صرف لوگوں کو متوجہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ تذکرہ ہے۔
شجرۂ ثابتہ اور اس مستحکم درخت کی تعبیر میں حق کے ثبات کی تصویر کشی بھی ہے ، یوں کہ حق کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور وہ آسمان تک بلند شاخیں رکھتا ہے اور نظر بھی آتا ہے کہ وہ بلند ہے۔ حق کھڑا رہتا ہے اور یہ جتلاتا ہے کہ وہ مضبوط اور ٹھوس ہے ، اس کلمہ طیبہ اور شجرۂ طیبہ کے ذریعہ ایک تمثیل دے کر اللہ کیا چاہتا ہے ؟
یثبت اللہ ۔۔۔۔۔ وفی الاخرۃ (14 : 27) “ ایمان والوں کو اللہ اس قول ثابت کی بنیاد پر ، دنیا و آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے ”۔ اور طرح کلمہ خبیثہ کی تمثیل دے کر کہ وہ شجرۂ خبیثہ کی طرح ہے اور اس کے لئے کوئی ثبات وقرار نہیں ہے۔
ویضل اللہ الظلمین (14 : 27) “ اور ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے ”۔ چناچہ انداز کلام اور اس سے مراد مفہوم کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ”۔ اللہ اہل ایمان کو اس زندگی میں ثبات وقرار عطا کرتا ہے اور یہاں ان کی بات پختہ ہوتی ہے آخرت میں انہیں مضبوط کرتا ہے ، وہاں ان کا انجام پختہ وہتا ہے کیونکہ ان کے دلوں کی دھرتی پر ایمان پختہ کھڑا ہوتا ہے۔ ان کی فطرت کا حصہ ہوتا ہے اور اس درخت سے ان کی زندگی سے اعمال صالحہ پھوٹتے رہتے ہیں۔ پے در پے یہ اعمال آتے ہیں۔ یہ درخت قرآن و سنت کی تعلیمات کے ذریعہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے۔ اس کے سامنے امید کی شمع ہوتا ہے ۔ اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا یقین ہوتا ہے ، یہ سب باتیں یا پھل حق ہیں اور ٹھوس ہیں۔ ایک ہی راہ ہے اور ایک ہی طریقہ ہے۔ اور جن لوگوں کے ضمیر کی دھرتی میں یہ درخت کھڑا ہوتا ہے اس سرزمین میں قلق ، بےچینی ، حیرت اور اضطراب نہیں ہوتا۔
ظالموں کو اپنے ظلم اور شرک کی وجہ سے (قرآن میں ظلم کا اطلاق بالعموم شرک پر ہوتا ہے ) نور اور روشنی سے دور کردیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اوہام و خرافات کی تنگ و تاریک وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ یہ ہوائے نفس کی مختلف راہوں پر چلتے ہیں۔ اللہ کی ایک ہی راہ سے محروم ہوتے ہیں ، تو اللہ اپنی سنت جاریہ کے مطابق پھر ان کو مزید گمراہ کرتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے خود ظلم ، تاریکی اور ہوائے نفس کی بندگی کی راہ کو اختیار کیا۔ تو یہ بھٹکتے رہے اور بدی کی راہوں میں ادھر ادھر بھاگتے رہے۔
ویفعل اللہ ما یشاء ( 14 : 27) “ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے ”۔ اس کا ارادہ بےقید ہے ، ٹھیک ہے کہ وہ ایک ناموس فطرت جاری کرتا ہے لیکن وہ خود اپنے ناموس فطرت کا پابند نہیں ہے ۔ البتہ اس کے قانون پر جو چلے وہ اس کو پسند کرتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے جاری کئے ہوئے ناموس فطرت کو بدل بھی دیتا ہے کیونکہ اللہ کو روکنے والی کوئی قوت نہیں ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے ، وہی ہوتا ہے۔
اس تبصرے سے رسولان کرام کے عظیم قصے ، اور کہانی کی بات کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ دعوت اسلامی کی کہانی تھی۔ اس کا پہلا حصہ اس سورة کے آغاز میں ایک بڑے حصے میں پھیلا ہوا تھا۔ یہاں حضرت ابراہیم ابو الانبیاء کی کہانی تھی۔ پھر چند دوسرے انبیاء کی کہانی تھی جس کی شاخیں تاریخ کے اندر دور تک پھیلی ہوئی تھیں اور یہ کلمہ طیبہ کے درخت کے مالی تھے جو حق کی طرح پھلتا پھولتا تھا۔ یہ کلمہ طیبہ جو یہ سب پیغمبر لے کر آئے یہ شجرۂ طیبہ کی طرح تھا۔ یہ کلمہ توحید تھا ، تمام انبیاء کا شجرۂ طیبہ ایک ہی تھا ، ایک ہی پھل دیتا تھا ، یہ کلمہ توحید تھا اور تمام انبیاء کے ہاں یہ کلمہ ایک رہا اور دعوت بھی ایک ہی رہی۔
یہ تھی اسلام اور جاہلیت کے درمیان طویل کشمکش۔ اس کی طرف ہم نے اس پوری سورة میں جا بجا سر سری اشارات کئے ہیں۔ میں اس بات کو ضروری سمجھتا ہوں کہ ان اشارات پر دوبارہ قدرے غور کیا جائے۔
چناچہ اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں قافلہ ایمان ایک ہی قافلہ ہے۔ آدم (علیہ السلام) سے ادھر یہ قافلہ رواں دواں ہے اور رسولان کرام اس قافلے کے قائد ہیں۔ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی نظریہ و عقیدہ کی طرف تھی۔ ایک آواز انہوں نے بلند کی اور ایک ہی طریق کار پر انہوں نے کام کیا۔ سب کی دعوت یہ تھی کہ الٰہ اور حاکم ایک ہی ہے ، وہی رب ہے ، اور اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ اور رب اور حاکم نہیں ہے ، اور اہل ایمان کو اس کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ۔ نہ اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ میں آنا چاہئے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا سمجھنا چاہئے۔
پس اللہ وحدہ کو ایک سمجھے اور عقیدۂ توحید کی وہ تاریخ جسے آج کل علماء “ تقابل ادیان ” بتلاتے پھرتے ہیں ، کہ پہلے لوگ متعدد الہٰوں کو مانتے تھے۔ پھر دو الہٰوں کو ماننے لگے یعنی “ خیر و شر کے الٰہ ، اس طرح لوگ پہلے شجر وحجر ، سورج ، چاند ، ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتے تھے اور پھر آخر میں انہوں نے الٰہ واحد کی پوجا شروع کردی۔ یوں ان کے نظریات میں ارتقاء ہوا اور انسانیت کا علم و فلسفہ ترقی کرتا رہا۔ اسی طرح ان کی سوسائٹی بھی ترقی کر کے ، ایک بادشاہ کی بادشاہی کے قیام تک جا پہنچی۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ جب سے انسانی تاریخ شروع ہوئی ہے تمام رسولوں نے عقیدۂ توحید کی تبلیغ کی ہے۔ تمام رسولوں کی رسالت اور دعوت میں یہی بنیادی عنصر تھا اور اس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ جس قدر معروف سماوی دین ہیں ، قرآن کریم کے مطابق ان کی دعوت یہی تھی۔
اگر تقابل ادیان کے علماء اپنی بات اس طرح کرتے کہ رسولوں نے جو عقیدۂ توحید آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک بیان کیا۔ اس کے بعد سمجھنے کے لئے انسانوں کے فہم و ادراک میں یوں ارتقاء ہوا کہ رسولان کرام کی مسلسل جدو جہد کی وجہ سے عوام الناس کے اذہان میں یہ روشنی پھیلتی چلی گئی اور آخر میں اس طویل جدو جہد کے لئے زیادہ لوگ اللہ کے دین ، عقیدہ توحید کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوگئے تو ان علماء تقابل ادیان کی بات معقول نظر آتی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس منہاج بحث و تحقیق سے متاثر ہیں ، جو یورب میں مروج ہے۔ اس منہاج کی تہ میں دراصل کنیا کے خلاف عداوت دفن ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دور جدید کے مسلم مفکرین نے بھی اس کا خیال نہیں رکھا۔ بہرحال تقابل ادیان دانستہ و نا دانستہ صحیح اسلامی اور دینی سوچ کے مخالف چلتے ہیں اور یہ انداز ثابت کرتے ہیں کہ ادیان کی بنیاد وحی پر نہیں ہے بلکہ دین بھی دراصل انسانی سوچ کا ارتقاء ہے۔ جس طرح دوسرے انسانی افکار ، فلسفوں اور تجربوں میں ارتقاء ہوتا رہا ہے اسی طرح دینی فکر بھی ارتقاء پذیر رہی ہے۔ غرض اس قدیمی دشمنی اور اس سوچ ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے دور کے ماہرین علماء تقابل ادیان اس طرز پر بات کرتے ہیں اور اپنی اس سوچ اور فکر کو علمی اور تحقیقی سوچ کہتے ہیں۔
اگر کسی اور ملک و ملت کا کوئی فرد اس منہاج سے دھوکہ کھاتا ہے تو کھائے مگر ایک مسلمان اس منہاج سے ایک منٹ کے لئے بھی متاثر نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کے پاس اپنے دین کے حوالے سے ایک صحیح منہاج فکر موجود ہے اور ان کے پاس دین کے حوالے سے ان کے اپنے کچھ طے شدہ اصول ہیں ، اور اپنا منہاج بحث موجود ہے۔
غرض تمام انبیاء انسانیت کے سامنے ایک ہی دعوت پیش کرتے رہے۔ ایک ہی نظریہ دیتے رہے۔ اور اسی منہاج کے مطابق انہوں نے اپنے اپنے دور میں جاہلیت کا مقابلہ کیا۔ قرآن کریم اس بات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ تمام رسول یہ دعوت لے کر آئے ، یہ ایک ہی نظریہ پیش کر کے ، ہر دور میں ایک ہی طرح جاہلیت کا مقابلہ کرتے رہے۔ اور اس معاملے میں قرآن نے زمان و مکان کے حوالے سے کسی ارتقاء کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمیں دعوت فکر دیتی ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اسلام ہمیشہ اسلام رہا ہے اور جاہلیت ہمیشہ جاہلیت رہی ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں ان کے درمیان کوئی اتحاد نہیں رہا ہے۔ جب اسلام کی بنیاد پر کوئی سوسائٹی بنی ہے ، اس کے ایک ہی مہ و سال رہے ہیں اور جب بھی جاہلیت کی اساس پر کوئی اکٹھ ہوا ہے وہ بھی ایک جیسا رہا ہے۔ مثلاً جاہلیت کی پہلی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں انسان ، انسان کا غلام ہوتا ہے اور اس میں حاکم اللہ نہیں ہوتا بلکہ کوئی اور ہوتا ہے۔ پرورش کرنے والا بھی اور ہوتا ہے ، چاہے کوئی متعدد الہٰوں کا قائل ہو یا اللہ ایک سمجھتا ہو مگر رب اور حاکم متعدد ہوں تو بھی یہ سوسائٹی ایک جاہلی سوسائٹی ہوگی اور اس سوسائٹی میں جاہلیت کے تمام اوصاف و علامات موجود ہوں گی۔
رسولوں کی دعوت کی بنیا یہ رہی ہے کہ اللہ کو ایک سمجھاجائے اور تمام جھوٹے خداؤں کا انکار کردیا جائے۔ دین صرف اللہ کا ہو ، صرف اللہ کے دین و شریعت کی اطاعت ہو اور صرف اللہ کو حاکم اور قانون ساز تصور کیا جائے۔ یہ نظریہ براہ راست اس نظریہ کی ضد ہے جو جاہلیت کی اساس رہا ہے۔ جونہی کوئی شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ حاکم بھی اللہ ہوگا ، قانون بھی اللہ کا ہوگا تو ہر جاہلیت اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے ، خصوصاً جب لوگ اس نظریہ کے گرد جمع ہو کر ایک جماعتی زندگی اختیار کرلیں اور خصوصاً یہ افراد جاہلیت سے چھٹ چھٹ کر آرہے ہوں اور ایک اکٹھ اختیار کر رہے ہوں ، ایسی صورت میں نظریہ جاہلیہ اور حاکم جاہلیت ایسے افراد کے اجتماع کو اپنے خلاف ایک بغاوت سمجھتے ہیں۔ پھر ہر جاہلی حکومت یہ خیال کرتی ہے کہ ان لوگوں کا عقیدہ مشکوک ہے۔ حالانکہ یہ امور ایسے ہیں کہ ہر دور میں یہ تحریک اسلامی کے لئے لابدی ہیں کہ وہ اپنے نظریات کا کھل کر اعلان کرے۔ پھر ان کی اساس پر جمعیت تشکیل دے اور پھر یہ لوگ مل کر کام کریں۔ ہر دور میں یہ طریق کار ضروری ہے۔
ہر دور میں نظام جاہلیت کا ایک نظام ہوتا ہے اور اس کی عضویاتی تشکیل ہوتی ہے۔ جب وہ نظام دیکھتا ہے کہ اس کے مقابلے میں ایک متضاد نظریاتی نظام آگیا ہے اور ایک نئی سوسائٹی بھی بن رہی ہے جو ان کی سوسائٹی کے بالکل متضاد عضویاتی تشکیل اور نظام رکھتی ہے۔ کیونکہ جاہلی سوسائٹی کی تہ میں متعدد الہٰوں کا نظریہ ہوتا ہے۔ حاکم اس میں متعدد ہوتے ہیں اور اس میں انسان انسانوں کے غلام اور تابع ہوتے ہیں جبکہ اسلامی سوسائٹی میں ایک الٰہ اور حاکم کا نظریہ ہوتا ہے اور اس میں تمام لوگ اللہ کے بندے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کا بندہ نہیں ہوتا تو پھر جاہلی سوسائٹی اس نئی سوسائٹی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
خطرے میں اضافہ اس بات سے بھی ہوجاتا ہے کہ یہ نو تشکیل شدہ اسلامی سوسائٹی روز بروز جاہلی سوسائٹی کے جسم کو کھاتی چلی جاتی ہے۔ ابتداء میں جب اسلامی سوسائٹی بنتی ہے تو خطرہ کم ہوتا ہے لیکن جب وہ جاہلیت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ لوگوں کو اپنی غلامی سے نکالو اور تم سب اللہ کی غلامی میں داخل ہوجاؤ۔ چونکہ آغاز رسل سے یہی طریق کار رہا ہے ، دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی کا اس لیے آغاز ہی سے ہر دور میں جاہلیت نے اسلامی تحریک کو اپنے وجود کے خلاف چیلنج سمجھا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے اور قدرتی معلوم ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح کوئی قائم وجود کسی حملہ آور کے مقابلے میں اپنی حفاظت کرتا ہے اور جس طرح ہر وہ شخص اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے جس نے عوام سے حاکمیت غصب کی ہوئی ہوتی ہے۔
جب جاہلیت محسوس کرتی ہے کہ تحریک اسلامی اس کے وجود کے لئے خطرہ بن گئی ہے تو وہ بھی اس مقابلے کو موت وحیات کا مسئلہ سمجھتی رہی ہے۔ جاہلیت نے تحریک اسلامی کے ساتھ کبھی بھی نرمی ، مصالحت اور امن و سلامتی کے اصول کو نہیں اپنایا۔ کبھی بھی اس معرکے میں جاہلیت نے اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دیا۔ نہ رسولان کرام نے اس معرکے میں کبھی اپنے آپ کو دھوکا دیا ہے۔ نہ ان کے بعد کسی مومن داعی نے اس سلسلے میں اپنے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔ جاہلیت کا اعلان یہ رہا ہے۔
وقال الذین ۔۔۔۔۔ فی ملتنا (14 : 13) “ اور کفار نے ہمیشہ ان کے پاس آنے والے رسولوں کو یہ کہا کہ تو ہم اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تمہیں واپس ہماری ملت اور دائرہ اقتدار میں آنا ہوگا ”۔ یہ لوگ رسولوں اور مومنوں کا علیحدہ وجود تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ ان کا اپنا کوئی نظریہ ہو یا اپنی کوئی جماعت ہو۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ واپس ہماری پارٹی میں آجاؤ یا جلاوطن ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ۔ واپس آجاؤ، ہماری سوسائٹی میں مدغم نہ ہوجاؤ، پگھل جاؤ اور اپنی علیحدہ سوسائٹی اور اجتماعیت مت بناؤ۔
لیکن رسولان کرام نے بھی اس بات کو کبھی قبول نہیں کیا کہ وہ ملت جاہلیہ میں پگھل جائیں اور مدغم ہوجائیں۔ اپنا وجود ختم کردیں اور اپنی شخصیت کو ختم کردیں۔ اس لیے کہ ان کی سوسائٹی بالکل ایک نئے نظریہ ، نئے آئین و دستور منشور پر قائم ہوتی ہے جو جاہلیت کے نظریہ اور دستور ومنشور سے متضاد ہوتا ہے۔ رسولوں نے اس طرح کا جواب بھی نہیں دیا اور عمل بھی نہیں کیا جو ہمارے دور کے بعض جاہل لوگ کہتے ہیں کہ جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ اور اندر اندر سے کام کرد ، اندر جا کر اپنے عقیدے کو پھیلاؤ۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کسی جاہلی معاشرے میں اہل دعوت ایک نیا اسلامی نظریہ لے کر اٹھتے ہیں تو اس نظریہ کی اساس پر خود بخود ان کی سوسائٹی ، ان کی قیادت اور ان کی وفاداریاں الگ ہوجاتی ہیں ۔ یہ فطری بات ہے اس میں کسی کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ کسی بھی سوسائٹی کی تشکیل کے لئے فطری انداز ہے جو طبعی ہے اور لازمی ہے۔ اس عمل سے اگر کسی جاہلی سوسائٹی کے اندر رد عمل ہوتا ہے کہ لوگوں کو صرف ایک خدا کی بندگی ، حاکمیت اور قانون اور دستور و منشور پر جمع کیا جا رہا ہے تو یہ رد عمل بھی طبیعی ہوتا ہے۔ اس جاہلی نظام کے تمام کل پرزے پھر اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان اس جاہلی سوسائٹی کا کل پرزہ بنتا ہے تو یہ دراصل اس جاہلی سوسائٹی کا خادم ہوگا ، اسلام کا نہ ہوگا جس طرح بعض احمق یہ سمجھتے ہیں کہ جاہلیت کا پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرو۔
اس کے بعد وہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ جو کسی بھی دعوت کے لئے مقدر ہے ، اور جو شخص دعوت اسلامی کا کام کرتا ہے خواہ کسی زمان و مکان میں ہو ، وہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے دوستوں کے ساتھ جو نصرت کا وعدہ فرمایا ہے ضرور یہ کہا ہے کہ میری نصرت آئے گی اور انہیں زمین میں اقتدار ملے گا تو یہ وعدہ اس وقت تک حقیقت کا روپ اختیار نہ کرے گا جب تک وہ کسی جاہلی سوسائٹی سے ممتاز ہو کر علیحدہ نہ ہوجائیں ، اور وہ اس دعوت کی بنیاد پر اپنی قوم سے الگ ہو کر اپنی سوسائٹی اور اپنی جمعیت تشکیل نہ دے لیں۔ اگر وہ کسی جاہلی سوسائٹی کا ہی حصہ رہیں “ اس میں چلیں پھریں ، اسی کے کل پرزے ہوں ، تو اگرچہ وہ اسلام کے نظریہ حیات پر یقین رکھتے ہوں ، اس کے لئے کام کرتے ہو ، اللہ کی اس نصرت اور وعدے میں تاخیر ہوجائے گی۔ یہ وہ لازمی ، عظیم اور بنیادی شرط ہے جس پر دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں نے مکمل عمل کرنا ہے۔ اس بات کو انہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔
آخر میں ایک پہلو دوسرا بھی قابل غور ہے ، قرآن کریم رسولان کرام کے اس قافلے کو کس خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں جاہلیت کا نہایت ہی خوبصورتی اور ثابت قدمی سے مقابلے کرتا چلا آرہا ہے۔ یہ بیان اس لیے خوبصورت ہے کہ اس قافلے کے مسافر جس حق کے حامل ہیں وہ نہایت ہی سادہ ، فطری اور خوبصورت ہے۔ یہ مسافر مطمئن ہیں ، سنجیدہ اور اپنی راہ پر ۔۔۔۔ ہوئے چلے آرہے ہیں۔
قالت لھم رسلھم ۔۔۔۔۔۔ فلیتوکل المومنون (14 : 11) “ ان کے رسولوں نے ان سے کہا “ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے ”۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں ۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے ”۔
آنکھوں کو چکا چوند کرنے والی یہ خوبصورتی ، اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ یہ ایک متحدہ قافلہ ہے جو ہر زمان و مکان میں ، متحدہ جاہلیت کا مقابلہ کرتا چلا آیا ہے ، ہر دور میں اور ہر قوم میں۔
پھر یہ خوبصورتی ایک دوسرے پہلو سے بھی ہمارے سامنے آتی ہے کہ اس دعوت اور اس حق کا جس کے یہ رسولان کرام حامل ہیں ، اور اس حق کا جو اس کائنات میں پوشیدہ باہم گہرا رابطہ ہے کیونکہ رسول یہ کہتے ہیں۔
افی اللہ شک فاطر السموت والارض (14 : 10) “ کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے ” ۔ اور دوسری آیت میں ہے۔
وما لنا ۔۔۔۔۔۔ ھدنا سبلنا (14 : 12) “ اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟” اور دوسری جگہ ہے۔
الم تر ان اللہ خلق السموت ۔۔۔۔۔۔۔ بخلق جدید (19) وما ذلک علی اللہ بعزیز (20) (14 : 19- 20) “ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے ؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔ ایسا کرنا اس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ”۔
اس طرح اس کائناتی سچائی اور دعوت اسلامی کی سچائی کے درمیان گہرا رابطہ قائم ہوتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذات باری جو برحق ہے وہ ان دونوں سچائیوں کا سرچشمہ ہے اور یہ سچائیاں گہری مستحکم اور دور تک اس کائنات میں جڑیں رکھتی ہیں۔
کشجرۃ خبیثۃ ۔۔۔۔۔۔۔ من قرار (14 : 26) “ جس طرح ایک خبیث درخت ہوتا ہے جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور اسے زمین پر قرار نصیب نہیں ہوتا ”۔
إبراهيم 14:26
آیت نمبر 24 تا 27
کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی نہ کسی دور میں کوئی نہ کوئی نبی آیا ہے اور وہ اصلاح ، دعوت اور ایمان کا پھل دیتا رہا ہے جس میں بھلائی اور اچھی زندگی کا سامان فراہم ہوتا رہا ہے۔
لیکن یہ تمثیل اس سورة کی فضا اور اس قصے کی فضا کے ساتھ متناسب ہونے کے ساتھ ساتھ مطالب و معانی کا نہایت وسیع آفاق رکھتی ہے اور اس کے اندر گہرے حقائق ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ حق ہے ، جو ایک مفید اور اصل دار درخت کی طرح ہوتا ہے ، یہ حق مستحکم ، ٹھوس اور مفید ہوتا ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں لیکن یہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ باطل کی طوفانی ہوائیں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں اور ظلم و سرکشی کے کدال اسے اکھاڑ نہیں پھینک سکتے۔ اگرچہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ظلم اور سرکشی کے سخت طوفان اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ یہ درخت نہایت بلند ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں فضاؤں میں بڑی دور تک جاتی ہیں۔ یہ سرکشی اور ظلم پر بڑی بلندی سے حقارت آمیز نظر ڈالتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شر اس کا بلند فضاؤں میں بھی مقابلے کر رہا ہے لیکن اس درخت کا پھل آتا ہی رہتا ہے ، پھر اس درخت کی تخم ریزی صالح انسانوں کے دلوں میں ہوتی اور اس کی پود لگتی ہی رہتی ہے اور یہ نسلاً بعد نسل بڑھتا ہی رہتا ہے۔
باطل جو کلمہ خبیثہ ہوتا ہے۔ یہ بےکار جھاڑی اور بوٹی کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ جھاڑیاں بھی بہار دکھاتی ہیں اور گھنے جنگلات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور بعض لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل کا درخت حق سے بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ معمولی طاقت صرف کرنے سے اسے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ جس طرح فصل سے جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھے لوگ اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں اس لیے وہ قرار و بقا سے محروم ہوتا ہے کیونکہ ہوتا ہی خبیث ہے۔
یہ محض ایک مثال یا ضرب المثل ہی نہیں ہے ، نہ کوئی ایسی بات ہے جس کے ذریعہ نیک لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ، بلکہ یہ تمثیل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس حقیقت کے ظاہر ہونے میں دیر لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سچائی اور بھلائی کو کبھی بیخ دین سے نہیں اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا اور نہ یہ سچائی کبھی مرتی یا نابود ہوتی ہے اگرچہ شر کی گرفت سخت ہو اور شر اس کی راہ روک رہا ہو۔ اسی طرح خالص شر بھی دنیا میں پھلتا پھولتا نہیں۔ دراصل وہ اپنے ساتھ خیر کا کوئی حصہ ملاتا ہے ، اور جب اس شر کے ساتھ ملائے ہوئے خیر کے عناصر ختم ہوجاتے ہیں تو پھر شر اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بڑی قوت اور عظیم طاقت نظر آتا ہے ہو۔ بہرحال اصل حقیقت یہ ہے کہ خیر ہی خیرت سے ہوتا ہے اور شر ہمیشہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔
ویضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرون (14 : 25) “ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں ”۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جو زمین پر حقیقت کی شکل میں موجود ہیں۔ لوگ ان پر نظر نہیں ڈالتے ، قرآن صرف لوگوں کو متوجہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ تذکرہ ہے۔
شجرۂ ثابتہ اور اس مستحکم درخت کی تعبیر میں حق کے ثبات کی تصویر کشی بھی ہے ، یوں کہ حق کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور وہ آسمان تک بلند شاخیں رکھتا ہے اور نظر بھی آتا ہے کہ وہ بلند ہے۔ حق کھڑا رہتا ہے اور یہ جتلاتا ہے کہ وہ مضبوط اور ٹھوس ہے ، اس کلمہ طیبہ اور شجرۂ طیبہ کے ذریعہ ایک تمثیل دے کر اللہ کیا چاہتا ہے ؟
یثبت اللہ ۔۔۔۔۔ وفی الاخرۃ (14 : 27) “ ایمان والوں کو اللہ اس قول ثابت کی بنیاد پر ، دنیا و آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے ”۔ اور طرح کلمہ خبیثہ کی تمثیل دے کر کہ وہ شجرۂ خبیثہ کی طرح ہے اور اس کے لئے کوئی ثبات وقرار نہیں ہے۔
ویضل اللہ الظلمین (14 : 27) “ اور ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے ”۔ چناچہ انداز کلام اور اس سے مراد مفہوم کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ”۔ اللہ اہل ایمان کو اس زندگی میں ثبات وقرار عطا کرتا ہے اور یہاں ان کی بات پختہ ہوتی ہے آخرت میں انہیں مضبوط کرتا ہے ، وہاں ان کا انجام پختہ وہتا ہے کیونکہ ان کے دلوں کی دھرتی پر ایمان پختہ کھڑا ہوتا ہے۔ ان کی فطرت کا حصہ ہوتا ہے اور اس درخت سے ان کی زندگی سے اعمال صالحہ پھوٹتے رہتے ہیں۔ پے در پے یہ اعمال آتے ہیں۔ یہ درخت قرآن و سنت کی تعلیمات کے ذریعہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے۔ اس کے سامنے امید کی شمع ہوتا ہے ۔ اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا یقین ہوتا ہے ، یہ سب باتیں یا پھل حق ہیں اور ٹھوس ہیں۔ ایک ہی راہ ہے اور ایک ہی طریقہ ہے۔ اور جن لوگوں کے ضمیر کی دھرتی میں یہ درخت کھڑا ہوتا ہے اس سرزمین میں قلق ، بےچینی ، حیرت اور اضطراب نہیں ہوتا۔
ظالموں کو اپنے ظلم اور شرک کی وجہ سے (قرآن میں ظلم کا اطلاق بالعموم شرک پر ہوتا ہے ) نور اور روشنی سے دور کردیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اوہام و خرافات کی تنگ و تاریک وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ یہ ہوائے نفس کی مختلف راہوں پر چلتے ہیں۔ اللہ کی ایک ہی راہ سے محروم ہوتے ہیں ، تو اللہ اپنی سنت جاریہ کے مطابق پھر ان کو مزید گمراہ کرتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے خود ظلم ، تاریکی اور ہوائے نفس کی بندگی کی راہ کو اختیار کیا۔ تو یہ بھٹکتے رہے اور بدی کی راہوں میں ادھر ادھر بھاگتے رہے۔
ویفعل اللہ ما یشاء ( 14 : 27) “ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے ”۔ اس کا ارادہ بےقید ہے ، ٹھیک ہے کہ وہ ایک ناموس فطرت جاری کرتا ہے لیکن وہ خود اپنے ناموس فطرت کا پابند نہیں ہے ۔ البتہ اس کے قانون پر جو چلے وہ اس کو پسند کرتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے جاری کئے ہوئے ناموس فطرت کو بدل بھی دیتا ہے کیونکہ اللہ کو روکنے والی کوئی قوت نہیں ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے ، وہی ہوتا ہے۔
اس تبصرے سے رسولان کرام کے عظیم قصے ، اور کہانی کی بات کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ دعوت اسلامی کی کہانی تھی۔ اس کا پہلا حصہ اس سورة کے آغاز میں ایک بڑے حصے میں پھیلا ہوا تھا۔ یہاں حضرت ابراہیم ابو الانبیاء کی کہانی تھی۔ پھر چند دوسرے انبیاء کی کہانی تھی جس کی شاخیں تاریخ کے اندر دور تک پھیلی ہوئی تھیں اور یہ کلمہ طیبہ کے درخت کے مالی تھے جو حق کی طرح پھلتا پھولتا تھا۔ یہ کلمہ طیبہ جو یہ سب پیغمبر لے کر آئے یہ شجرۂ طیبہ کی طرح تھا۔ یہ کلمہ توحید تھا ، تمام انبیاء کا شجرۂ طیبہ ایک ہی تھا ، ایک ہی پھل دیتا تھا ، یہ کلمہ توحید تھا اور تمام انبیاء کے ہاں یہ کلمہ ایک رہا اور دعوت بھی ایک ہی رہی۔
یہ تھی اسلام اور جاہلیت کے درمیان طویل کشمکش۔ اس کی طرف ہم نے اس پوری سورة میں جا بجا سر سری اشارات کئے ہیں۔ میں اس بات کو ضروری سمجھتا ہوں کہ ان اشارات پر دوبارہ قدرے غور کیا جائے۔
چناچہ اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں قافلہ ایمان ایک ہی قافلہ ہے۔ آدم (علیہ السلام) سے ادھر یہ قافلہ رواں دواں ہے اور رسولان کرام اس قافلے کے قائد ہیں۔ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی نظریہ و عقیدہ کی طرف تھی۔ ایک آواز انہوں نے بلند کی اور ایک ہی طریق کار پر انہوں نے کام کیا۔ سب کی دعوت یہ تھی کہ الٰہ اور حاکم ایک ہی ہے ، وہی رب ہے ، اور اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ اور رب اور حاکم نہیں ہے ، اور اہل ایمان کو اس کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ۔ نہ اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ میں آنا چاہئے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا سمجھنا چاہئے۔
پس اللہ وحدہ کو ایک سمجھے اور عقیدۂ توحید کی وہ تاریخ جسے آج کل علماء “ تقابل ادیان ” بتلاتے پھرتے ہیں ، کہ پہلے لوگ متعدد الہٰوں کو مانتے تھے۔ پھر دو الہٰوں کو ماننے لگے یعنی “ خیر و شر کے الٰہ ، اس طرح لوگ پہلے شجر وحجر ، سورج ، چاند ، ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتے تھے اور پھر آخر میں انہوں نے الٰہ واحد کی پوجا شروع کردی۔ یوں ان کے نظریات میں ارتقاء ہوا اور انسانیت کا علم و فلسفہ ترقی کرتا رہا۔ اسی طرح ان کی سوسائٹی بھی ترقی کر کے ، ایک بادشاہ کی بادشاہی کے قیام تک جا پہنچی۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ جب سے انسانی تاریخ شروع ہوئی ہے تمام رسولوں نے عقیدۂ توحید کی تبلیغ کی ہے۔ تمام رسولوں کی رسالت اور دعوت میں یہی بنیادی عنصر تھا اور اس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ جس قدر معروف سماوی دین ہیں ، قرآن کریم کے مطابق ان کی دعوت یہی تھی۔
اگر تقابل ادیان کے علماء اپنی بات اس طرح کرتے کہ رسولوں نے جو عقیدۂ توحید آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک بیان کیا۔ اس کے بعد سمجھنے کے لئے انسانوں کے فہم و ادراک میں یوں ارتقاء ہوا کہ رسولان کرام کی مسلسل جدو جہد کی وجہ سے عوام الناس کے اذہان میں یہ روشنی پھیلتی چلی گئی اور آخر میں اس طویل جدو جہد کے لئے زیادہ لوگ اللہ کے دین ، عقیدہ توحید کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوگئے تو ان علماء تقابل ادیان کی بات معقول نظر آتی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس منہاج بحث و تحقیق سے متاثر ہیں ، جو یورب میں مروج ہے۔ اس منہاج کی تہ میں دراصل کنیا کے خلاف عداوت دفن ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دور جدید کے مسلم مفکرین نے بھی اس کا خیال نہیں رکھا۔ بہرحال تقابل ادیان دانستہ و نا دانستہ صحیح اسلامی اور دینی سوچ کے مخالف چلتے ہیں اور یہ انداز ثابت کرتے ہیں کہ ادیان کی بنیاد وحی پر نہیں ہے بلکہ دین بھی دراصل انسانی سوچ کا ارتقاء ہے۔ جس طرح دوسرے انسانی افکار ، فلسفوں اور تجربوں میں ارتقاء ہوتا رہا ہے اسی طرح دینی فکر بھی ارتقاء پذیر رہی ہے۔ غرض اس قدیمی دشمنی اور اس سوچ ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے دور کے ماہرین علماء تقابل ادیان اس طرز پر بات کرتے ہیں اور اپنی اس سوچ اور فکر کو علمی اور تحقیقی سوچ کہتے ہیں۔
اگر کسی اور ملک و ملت کا کوئی فرد اس منہاج سے دھوکہ کھاتا ہے تو کھائے مگر ایک مسلمان اس منہاج سے ایک منٹ کے لئے بھی متاثر نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کے پاس اپنے دین کے حوالے سے ایک صحیح منہاج فکر موجود ہے اور ان کے پاس دین کے حوالے سے ان کے اپنے کچھ طے شدہ اصول ہیں ، اور اپنا منہاج بحث موجود ہے۔
غرض تمام انبیاء انسانیت کے سامنے ایک ہی دعوت پیش کرتے رہے۔ ایک ہی نظریہ دیتے رہے۔ اور اسی منہاج کے مطابق انہوں نے اپنے اپنے دور میں جاہلیت کا مقابلہ کیا۔ قرآن کریم اس بات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ تمام رسول یہ دعوت لے کر آئے ، یہ ایک ہی نظریہ پیش کر کے ، ہر دور میں ایک ہی طرح جاہلیت کا مقابلہ کرتے رہے۔ اور اس معاملے میں قرآن نے زمان و مکان کے حوالے سے کسی ارتقاء کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمیں دعوت فکر دیتی ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اسلام ہمیشہ اسلام رہا ہے اور جاہلیت ہمیشہ جاہلیت رہی ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں ان کے درمیان کوئی اتحاد نہیں رہا ہے۔ جب اسلام کی بنیاد پر کوئی سوسائٹی بنی ہے ، اس کے ایک ہی مہ و سال رہے ہیں اور جب بھی جاہلیت کی اساس پر کوئی اکٹھ ہوا ہے وہ بھی ایک جیسا رہا ہے۔ مثلاً جاہلیت کی پہلی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں انسان ، انسان کا غلام ہوتا ہے اور اس میں حاکم اللہ نہیں ہوتا بلکہ کوئی اور ہوتا ہے۔ پرورش کرنے والا بھی اور ہوتا ہے ، چاہے کوئی متعدد الہٰوں کا قائل ہو یا اللہ ایک سمجھتا ہو مگر رب اور حاکم متعدد ہوں تو بھی یہ سوسائٹی ایک جاہلی سوسائٹی ہوگی اور اس سوسائٹی میں جاہلیت کے تمام اوصاف و علامات موجود ہوں گی۔
رسولوں کی دعوت کی بنیا یہ رہی ہے کہ اللہ کو ایک سمجھاجائے اور تمام جھوٹے خداؤں کا انکار کردیا جائے۔ دین صرف اللہ کا ہو ، صرف اللہ کے دین و شریعت کی اطاعت ہو اور صرف اللہ کو حاکم اور قانون ساز تصور کیا جائے۔ یہ نظریہ براہ راست اس نظریہ کی ضد ہے جو جاہلیت کی اساس رہا ہے۔ جونہی کوئی شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ حاکم بھی اللہ ہوگا ، قانون بھی اللہ کا ہوگا تو ہر جاہلیت اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے ، خصوصاً جب لوگ اس نظریہ کے گرد جمع ہو کر ایک جماعتی زندگی اختیار کرلیں اور خصوصاً یہ افراد جاہلیت سے چھٹ چھٹ کر آرہے ہوں اور ایک اکٹھ اختیار کر رہے ہوں ، ایسی صورت میں نظریہ جاہلیہ اور حاکم جاہلیت ایسے افراد کے اجتماع کو اپنے خلاف ایک بغاوت سمجھتے ہیں۔ پھر ہر جاہلی حکومت یہ خیال کرتی ہے کہ ان لوگوں کا عقیدہ مشکوک ہے۔ حالانکہ یہ امور ایسے ہیں کہ ہر دور میں یہ تحریک اسلامی کے لئے لابدی ہیں کہ وہ اپنے نظریات کا کھل کر اعلان کرے۔ پھر ان کی اساس پر جمعیت تشکیل دے اور پھر یہ لوگ مل کر کام کریں۔ ہر دور میں یہ طریق کار ضروری ہے۔
ہر دور میں نظام جاہلیت کا ایک نظام ہوتا ہے اور اس کی عضویاتی تشکیل ہوتی ہے۔ جب وہ نظام دیکھتا ہے کہ اس کے مقابلے میں ایک متضاد نظریاتی نظام آگیا ہے اور ایک نئی سوسائٹی بھی بن رہی ہے جو ان کی سوسائٹی کے بالکل متضاد عضویاتی تشکیل اور نظام رکھتی ہے۔ کیونکہ جاہلی سوسائٹی کی تہ میں متعدد الہٰوں کا نظریہ ہوتا ہے۔ حاکم اس میں متعدد ہوتے ہیں اور اس میں انسان انسانوں کے غلام اور تابع ہوتے ہیں جبکہ اسلامی سوسائٹی میں ایک الٰہ اور حاکم کا نظریہ ہوتا ہے اور اس میں تمام لوگ اللہ کے بندے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کا بندہ نہیں ہوتا تو پھر جاہلی سوسائٹی اس نئی سوسائٹی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
خطرے میں اضافہ اس بات سے بھی ہوجاتا ہے کہ یہ نو تشکیل شدہ اسلامی سوسائٹی روز بروز جاہلی سوسائٹی کے جسم کو کھاتی چلی جاتی ہے۔ ابتداء میں جب اسلامی سوسائٹی بنتی ہے تو خطرہ کم ہوتا ہے لیکن جب وہ جاہلیت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ لوگوں کو اپنی غلامی سے نکالو اور تم سب اللہ کی غلامی میں داخل ہوجاؤ۔ چونکہ آغاز رسل سے یہی طریق کار رہا ہے ، دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی کا اس لیے آغاز ہی سے ہر دور میں جاہلیت نے اسلامی تحریک کو اپنے وجود کے خلاف چیلنج سمجھا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے اور قدرتی معلوم ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح کوئی قائم وجود کسی حملہ آور کے مقابلے میں اپنی حفاظت کرتا ہے اور جس طرح ہر وہ شخص اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے جس نے عوام سے حاکمیت غصب کی ہوئی ہوتی ہے۔
جب جاہلیت محسوس کرتی ہے کہ تحریک اسلامی اس کے وجود کے لئے خطرہ بن گئی ہے تو وہ بھی اس مقابلے کو موت وحیات کا مسئلہ سمجھتی رہی ہے۔ جاہلیت نے تحریک اسلامی کے ساتھ کبھی بھی نرمی ، مصالحت اور امن و سلامتی کے اصول کو نہیں اپنایا۔ کبھی بھی اس معرکے میں جاہلیت نے اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دیا۔ نہ رسولان کرام نے اس معرکے میں کبھی اپنے آپ کو دھوکا دیا ہے۔ نہ ان کے بعد کسی مومن داعی نے اس سلسلے میں اپنے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔ جاہلیت کا اعلان یہ رہا ہے۔
وقال الذین ۔۔۔۔۔ فی ملتنا (14 : 13) “ اور کفار نے ہمیشہ ان کے پاس آنے والے رسولوں کو یہ کہا کہ تو ہم اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تمہیں واپس ہماری ملت اور دائرہ اقتدار میں آنا ہوگا ”۔ یہ لوگ رسولوں اور مومنوں کا علیحدہ وجود تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ ان کا اپنا کوئی نظریہ ہو یا اپنی کوئی جماعت ہو۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ واپس ہماری پارٹی میں آجاؤ یا جلاوطن ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ۔ واپس آجاؤ، ہماری سوسائٹی میں مدغم نہ ہوجاؤ، پگھل جاؤ اور اپنی علیحدہ سوسائٹی اور اجتماعیت مت بناؤ۔
لیکن رسولان کرام نے بھی اس بات کو کبھی قبول نہیں کیا کہ وہ ملت جاہلیہ میں پگھل جائیں اور مدغم ہوجائیں۔ اپنا وجود ختم کردیں اور اپنی شخصیت کو ختم کردیں۔ اس لیے کہ ان کی سوسائٹی بالکل ایک نئے نظریہ ، نئے آئین و دستور منشور پر قائم ہوتی ہے جو جاہلیت کے نظریہ اور دستور ومنشور سے متضاد ہوتا ہے۔ رسولوں نے اس طرح کا جواب بھی نہیں دیا اور عمل بھی نہیں کیا جو ہمارے دور کے بعض جاہل لوگ کہتے ہیں کہ جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ اور اندر اندر سے کام کرد ، اندر جا کر اپنے عقیدے کو پھیلاؤ۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کسی جاہلی معاشرے میں اہل دعوت ایک نیا اسلامی نظریہ لے کر اٹھتے ہیں تو اس نظریہ کی اساس پر خود بخود ان کی سوسائٹی ، ان کی قیادت اور ان کی وفاداریاں الگ ہوجاتی ہیں ۔ یہ فطری بات ہے اس میں کسی کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ کسی بھی سوسائٹی کی تشکیل کے لئے فطری انداز ہے جو طبعی ہے اور لازمی ہے۔ اس عمل سے اگر کسی جاہلی سوسائٹی کے اندر رد عمل ہوتا ہے کہ لوگوں کو صرف ایک خدا کی بندگی ، حاکمیت اور قانون اور دستور و منشور پر جمع کیا جا رہا ہے تو یہ رد عمل بھی طبیعی ہوتا ہے۔ اس جاہلی نظام کے تمام کل پرزے پھر اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان اس جاہلی سوسائٹی کا کل پرزہ بنتا ہے تو یہ دراصل اس جاہلی سوسائٹی کا خادم ہوگا ، اسلام کا نہ ہوگا جس طرح بعض احمق یہ سمجھتے ہیں کہ جاہلیت کا پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرو۔
اس کے بعد وہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ جو کسی بھی دعوت کے لئے مقدر ہے ، اور جو شخص دعوت اسلامی کا کام کرتا ہے خواہ کسی زمان و مکان میں ہو ، وہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے دوستوں کے ساتھ جو نصرت کا وعدہ فرمایا ہے ضرور یہ کہا ہے کہ میری نصرت آئے گی اور انہیں زمین میں اقتدار ملے گا تو یہ وعدہ اس وقت تک حقیقت کا روپ اختیار نہ کرے گا جب تک وہ کسی جاہلی سوسائٹی سے ممتاز ہو کر علیحدہ نہ ہوجائیں ، اور وہ اس دعوت کی بنیاد پر اپنی قوم سے الگ ہو کر اپنی سوسائٹی اور اپنی جمعیت تشکیل نہ دے لیں۔ اگر وہ کسی جاہلی سوسائٹی کا ہی حصہ رہیں “ اس میں چلیں پھریں ، اسی کے کل پرزے ہوں ، تو اگرچہ وہ اسلام کے نظریہ حیات پر یقین رکھتے ہوں ، اس کے لئے کام کرتے ہو ، اللہ کی اس نصرت اور وعدے میں تاخیر ہوجائے گی۔ یہ وہ لازمی ، عظیم اور بنیادی شرط ہے جس پر دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں نے مکمل عمل کرنا ہے۔ اس بات کو انہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔
آخر میں ایک پہلو دوسرا بھی قابل غور ہے ، قرآن کریم رسولان کرام کے اس قافلے کو کس خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں جاہلیت کا نہایت ہی خوبصورتی اور ثابت قدمی سے مقابلے کرتا چلا آرہا ہے۔ یہ بیان اس لیے خوبصورت ہے کہ اس قافلے کے مسافر جس حق کے حامل ہیں وہ نہایت ہی سادہ ، فطری اور خوبصورت ہے۔ یہ مسافر مطمئن ہیں ، سنجیدہ اور اپنی راہ پر ۔۔۔۔ ہوئے چلے آرہے ہیں۔
قالت لھم رسلھم ۔۔۔۔۔۔ فلیتوکل المومنون (14 : 11) “ ان کے رسولوں نے ان سے کہا “ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے ”۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں ۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے ”۔
آنکھوں کو چکا چوند کرنے والی یہ خوبصورتی ، اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ یہ ایک متحدہ قافلہ ہے جو ہر زمان و مکان میں ، متحدہ جاہلیت کا مقابلہ کرتا چلا آیا ہے ، ہر دور میں اور ہر قوم میں۔
پھر یہ خوبصورتی ایک دوسرے پہلو سے بھی ہمارے سامنے آتی ہے کہ اس دعوت اور اس حق کا جس کے یہ رسولان کرام حامل ہیں ، اور اس حق کا جو اس کائنات میں پوشیدہ باہم گہرا رابطہ ہے کیونکہ رسول یہ کہتے ہیں۔
افی اللہ شک فاطر السموت والارض (14 : 10) “ کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے ” ۔ اور دوسری آیت میں ہے۔
وما لنا ۔۔۔۔۔۔ ھدنا سبلنا (14 : 12) “ اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟” اور دوسری جگہ ہے۔
الم تر ان اللہ خلق السموت ۔۔۔۔۔۔۔ بخلق جدید (19) وما ذلک علی اللہ بعزیز (20) (14 : 19- 20) “ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے ؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔ ایسا کرنا اس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ”۔
اس طرح اس کائناتی سچائی اور دعوت اسلامی کی سچائی کے درمیان گہرا رابطہ قائم ہوتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذات باری جو برحق ہے وہ ان دونوں سچائیوں کا سرچشمہ ہے اور یہ سچائیاں گہری مستحکم اور دور تک اس کائنات میں جڑیں رکھتی ہیں۔
کشجرۃ خبیثۃ ۔۔۔۔۔۔۔ من قرار (14 : 26) “ جس طرح ایک خبیث درخت ہوتا ہے جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور اسے زمین پر قرار نصیب نہیں ہوتا ”۔
إبراهيم 14:27
آیت نمبر 24 تا 27
کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی نہ کسی دور میں کوئی نہ کوئی نبی آیا ہے اور وہ اصلاح ، دعوت اور ایمان کا پھل دیتا رہا ہے جس میں بھلائی اور اچھی زندگی کا سامان فراہم ہوتا رہا ہے۔
لیکن یہ تمثیل اس سورة کی فضا اور اس قصے کی فضا کے ساتھ متناسب ہونے کے ساتھ ساتھ مطالب و معانی کا نہایت وسیع آفاق رکھتی ہے اور اس کے اندر گہرے حقائق ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ حق ہے ، جو ایک مفید اور اصل دار درخت کی طرح ہوتا ہے ، یہ حق مستحکم ، ٹھوس اور مفید ہوتا ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں لیکن یہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ باطل کی طوفانی ہوائیں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں اور ظلم و سرکشی کے کدال اسے اکھاڑ نہیں پھینک سکتے۔ اگرچہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ظلم اور سرکشی کے سخت طوفان اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ یہ درخت نہایت بلند ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں فضاؤں میں بڑی دور تک جاتی ہیں۔ یہ سرکشی اور ظلم پر بڑی بلندی سے حقارت آمیز نظر ڈالتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شر اس کا بلند فضاؤں میں بھی مقابلے کر رہا ہے لیکن اس درخت کا پھل آتا ہی رہتا ہے ، پھر اس درخت کی تخم ریزی صالح انسانوں کے دلوں میں ہوتی اور اس کی پود لگتی ہی رہتی ہے اور یہ نسلاً بعد نسل بڑھتا ہی رہتا ہے۔
باطل جو کلمہ خبیثہ ہوتا ہے۔ یہ بےکار جھاڑی اور بوٹی کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ جھاڑیاں بھی بہار دکھاتی ہیں اور گھنے جنگلات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور بعض لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل کا درخت حق سے بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ معمولی طاقت صرف کرنے سے اسے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ جس طرح فصل سے جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھے لوگ اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں اس لیے وہ قرار و بقا سے محروم ہوتا ہے کیونکہ ہوتا ہی خبیث ہے۔
یہ محض ایک مثال یا ضرب المثل ہی نہیں ہے ، نہ کوئی ایسی بات ہے جس کے ذریعہ نیک لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ، بلکہ یہ تمثیل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس حقیقت کے ظاہر ہونے میں دیر لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سچائی اور بھلائی کو کبھی بیخ دین سے نہیں اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا اور نہ یہ سچائی کبھی مرتی یا نابود ہوتی ہے اگرچہ شر کی گرفت سخت ہو اور شر اس کی راہ روک رہا ہو۔ اسی طرح خالص شر بھی دنیا میں پھلتا پھولتا نہیں۔ دراصل وہ اپنے ساتھ خیر کا کوئی حصہ ملاتا ہے ، اور جب اس شر کے ساتھ ملائے ہوئے خیر کے عناصر ختم ہوجاتے ہیں تو پھر شر اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بڑی قوت اور عظیم طاقت نظر آتا ہے ہو۔ بہرحال اصل حقیقت یہ ہے کہ خیر ہی خیرت سے ہوتا ہے اور شر ہمیشہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔
ویضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرون (14 : 25) “ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں ”۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جو زمین پر حقیقت کی شکل میں موجود ہیں۔ لوگ ان پر نظر نہیں ڈالتے ، قرآن صرف لوگوں کو متوجہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ تذکرہ ہے۔
شجرۂ ثابتہ اور اس مستحکم درخت کی تعبیر میں حق کے ثبات کی تصویر کشی بھی ہے ، یوں کہ حق کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور وہ آسمان تک بلند شاخیں رکھتا ہے اور نظر بھی آتا ہے کہ وہ بلند ہے۔ حق کھڑا رہتا ہے اور یہ جتلاتا ہے کہ وہ مضبوط اور ٹھوس ہے ، اس کلمہ طیبہ اور شجرۂ طیبہ کے ذریعہ ایک تمثیل دے کر اللہ کیا چاہتا ہے ؟
یثبت اللہ ۔۔۔۔۔ وفی الاخرۃ (14 : 27) “ ایمان والوں کو اللہ اس قول ثابت کی بنیاد پر ، دنیا و آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے ”۔ اور طرح کلمہ خبیثہ کی تمثیل دے کر کہ وہ شجرۂ خبیثہ کی طرح ہے اور اس کے لئے کوئی ثبات وقرار نہیں ہے۔
ویضل اللہ الظلمین (14 : 27) “ اور ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے ”۔ چناچہ انداز کلام اور اس سے مراد مفہوم کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ”۔ اللہ اہل ایمان کو اس زندگی میں ثبات وقرار عطا کرتا ہے اور یہاں ان کی بات پختہ ہوتی ہے آخرت میں انہیں مضبوط کرتا ہے ، وہاں ان کا انجام پختہ وہتا ہے کیونکہ ان کے دلوں کی دھرتی پر ایمان پختہ کھڑا ہوتا ہے۔ ان کی فطرت کا حصہ ہوتا ہے اور اس درخت سے ان کی زندگی سے اعمال صالحہ پھوٹتے رہتے ہیں۔ پے در پے یہ اعمال آتے ہیں۔ یہ درخت قرآن و سنت کی تعلیمات کے ذریعہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے۔ اس کے سامنے امید کی شمع ہوتا ہے ۔ اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا یقین ہوتا ہے ، یہ سب باتیں یا پھل حق ہیں اور ٹھوس ہیں۔ ایک ہی راہ ہے اور ایک ہی طریقہ ہے۔ اور جن لوگوں کے ضمیر کی دھرتی میں یہ درخت کھڑا ہوتا ہے اس سرزمین میں قلق ، بےچینی ، حیرت اور اضطراب نہیں ہوتا۔
ظالموں کو اپنے ظلم اور شرک کی وجہ سے (قرآن میں ظلم کا اطلاق بالعموم شرک پر ہوتا ہے ) نور اور روشنی سے دور کردیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اوہام و خرافات کی تنگ و تاریک وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ یہ ہوائے نفس کی مختلف راہوں پر چلتے ہیں۔ اللہ کی ایک ہی راہ سے محروم ہوتے ہیں ، تو اللہ اپنی سنت جاریہ کے مطابق پھر ان کو مزید گمراہ کرتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے خود ظلم ، تاریکی اور ہوائے نفس کی بندگی کی راہ کو اختیار کیا۔ تو یہ بھٹکتے رہے اور بدی کی راہوں میں ادھر ادھر بھاگتے رہے۔
ویفعل اللہ ما یشاء ( 14 : 27) “ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے ”۔ اس کا ارادہ بےقید ہے ، ٹھیک ہے کہ وہ ایک ناموس فطرت جاری کرتا ہے لیکن وہ خود اپنے ناموس فطرت کا پابند نہیں ہے ۔ البتہ اس کے قانون پر جو چلے وہ اس کو پسند کرتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے جاری کئے ہوئے ناموس فطرت کو بدل بھی دیتا ہے کیونکہ اللہ کو روکنے والی کوئی قوت نہیں ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے ، وہی ہوتا ہے۔
اس تبصرے سے رسولان کرام کے عظیم قصے ، اور کہانی کی بات کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ دعوت اسلامی کی کہانی تھی۔ اس کا پہلا حصہ اس سورة کے آغاز میں ایک بڑے حصے میں پھیلا ہوا تھا۔ یہاں حضرت ابراہیم ابو الانبیاء کی کہانی تھی۔ پھر چند دوسرے انبیاء کی کہانی تھی جس کی شاخیں تاریخ کے اندر دور تک پھیلی ہوئی تھیں اور یہ کلمہ طیبہ کے درخت کے مالی تھے جو حق کی طرح پھلتا پھولتا تھا۔ یہ کلمہ طیبہ جو یہ سب پیغمبر لے کر آئے یہ شجرۂ طیبہ کی طرح تھا۔ یہ کلمہ توحید تھا ، تمام انبیاء کا شجرۂ طیبہ ایک ہی تھا ، ایک ہی پھل دیتا تھا ، یہ کلمہ توحید تھا اور تمام انبیاء کے ہاں یہ کلمہ ایک رہا اور دعوت بھی ایک ہی رہی۔
یہ تھی اسلام اور جاہلیت کے درمیان طویل کشمکش۔ اس کی طرف ہم نے اس پوری سورة میں جا بجا سر سری اشارات کئے ہیں۔ میں اس بات کو ضروری سمجھتا ہوں کہ ان اشارات پر دوبارہ قدرے غور کیا جائے۔
چناچہ اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں قافلہ ایمان ایک ہی قافلہ ہے۔ آدم (علیہ السلام) سے ادھر یہ قافلہ رواں دواں ہے اور رسولان کرام اس قافلے کے قائد ہیں۔ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی نظریہ و عقیدہ کی طرف تھی۔ ایک آواز انہوں نے بلند کی اور ایک ہی طریق کار پر انہوں نے کام کیا۔ سب کی دعوت یہ تھی کہ الٰہ اور حاکم ایک ہی ہے ، وہی رب ہے ، اور اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ اور رب اور حاکم نہیں ہے ، اور اہل ایمان کو اس کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ۔ نہ اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ میں آنا چاہئے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا سمجھنا چاہئے۔
پس اللہ وحدہ کو ایک سمجھے اور عقیدۂ توحید کی وہ تاریخ جسے آج کل علماء “ تقابل ادیان ” بتلاتے پھرتے ہیں ، کہ پہلے لوگ متعدد الہٰوں کو مانتے تھے۔ پھر دو الہٰوں کو ماننے لگے یعنی “ خیر و شر کے الٰہ ، اس طرح لوگ پہلے شجر وحجر ، سورج ، چاند ، ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتے تھے اور پھر آخر میں انہوں نے الٰہ واحد کی پوجا شروع کردی۔ یوں ان کے نظریات میں ارتقاء ہوا اور انسانیت کا علم و فلسفہ ترقی کرتا رہا۔ اسی طرح ان کی سوسائٹی بھی ترقی کر کے ، ایک بادشاہ کی بادشاہی کے قیام تک جا پہنچی۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ جب سے انسانی تاریخ شروع ہوئی ہے تمام رسولوں نے عقیدۂ توحید کی تبلیغ کی ہے۔ تمام رسولوں کی رسالت اور دعوت میں یہی بنیادی عنصر تھا اور اس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ جس قدر معروف سماوی دین ہیں ، قرآن کریم کے مطابق ان کی دعوت یہی تھی۔
اگر تقابل ادیان کے علماء اپنی بات اس طرح کرتے کہ رسولوں نے جو عقیدۂ توحید آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک بیان کیا۔ اس کے بعد سمجھنے کے لئے انسانوں کے فہم و ادراک میں یوں ارتقاء ہوا کہ رسولان کرام کی مسلسل جدو جہد کی وجہ سے عوام الناس کے اذہان میں یہ روشنی پھیلتی چلی گئی اور آخر میں اس طویل جدو جہد کے لئے زیادہ لوگ اللہ کے دین ، عقیدہ توحید کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوگئے تو ان علماء تقابل ادیان کی بات معقول نظر آتی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس منہاج بحث و تحقیق سے متاثر ہیں ، جو یورب میں مروج ہے۔ اس منہاج کی تہ میں دراصل کنیا کے خلاف عداوت دفن ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دور جدید کے مسلم مفکرین نے بھی اس کا خیال نہیں رکھا۔ بہرحال تقابل ادیان دانستہ و نا دانستہ صحیح اسلامی اور دینی سوچ کے مخالف چلتے ہیں اور یہ انداز ثابت کرتے ہیں کہ ادیان کی بنیاد وحی پر نہیں ہے بلکہ دین بھی دراصل انسانی سوچ کا ارتقاء ہے۔ جس طرح دوسرے انسانی افکار ، فلسفوں اور تجربوں میں ارتقاء ہوتا رہا ہے اسی طرح دینی فکر بھی ارتقاء پذیر رہی ہے۔ غرض اس قدیمی دشمنی اور اس سوچ ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے دور کے ماہرین علماء تقابل ادیان اس طرز پر بات کرتے ہیں اور اپنی اس سوچ اور فکر کو علمی اور تحقیقی سوچ کہتے ہیں۔
اگر کسی اور ملک و ملت کا کوئی فرد اس منہاج سے دھوکہ کھاتا ہے تو کھائے مگر ایک مسلمان اس منہاج سے ایک منٹ کے لئے بھی متاثر نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کے پاس اپنے دین کے حوالے سے ایک صحیح منہاج فکر موجود ہے اور ان کے پاس دین کے حوالے سے ان کے اپنے کچھ طے شدہ اصول ہیں ، اور اپنا منہاج بحث موجود ہے۔
غرض تمام انبیاء انسانیت کے سامنے ایک ہی دعوت پیش کرتے رہے۔ ایک ہی نظریہ دیتے رہے۔ اور اسی منہاج کے مطابق انہوں نے اپنے اپنے دور میں جاہلیت کا مقابلہ کیا۔ قرآن کریم اس بات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ تمام رسول یہ دعوت لے کر آئے ، یہ ایک ہی نظریہ پیش کر کے ، ہر دور میں ایک ہی طرح جاہلیت کا مقابلہ کرتے رہے۔ اور اس معاملے میں قرآن نے زمان و مکان کے حوالے سے کسی ارتقاء کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمیں دعوت فکر دیتی ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اسلام ہمیشہ اسلام رہا ہے اور جاہلیت ہمیشہ جاہلیت رہی ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں ان کے درمیان کوئی اتحاد نہیں رہا ہے۔ جب اسلام کی بنیاد پر کوئی سوسائٹی بنی ہے ، اس کے ایک ہی مہ و سال رہے ہیں اور جب بھی جاہلیت کی اساس پر کوئی اکٹھ ہوا ہے وہ بھی ایک جیسا رہا ہے۔ مثلاً جاہلیت کی پہلی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں انسان ، انسان کا غلام ہوتا ہے اور اس میں حاکم اللہ نہیں ہوتا بلکہ کوئی اور ہوتا ہے۔ پرورش کرنے والا بھی اور ہوتا ہے ، چاہے کوئی متعدد الہٰوں کا قائل ہو یا اللہ ایک سمجھتا ہو مگر رب اور حاکم متعدد ہوں تو بھی یہ سوسائٹی ایک جاہلی سوسائٹی ہوگی اور اس سوسائٹی میں جاہلیت کے تمام اوصاف و علامات موجود ہوں گی۔
رسولوں کی دعوت کی بنیا یہ رہی ہے کہ اللہ کو ایک سمجھاجائے اور تمام جھوٹے خداؤں کا انکار کردیا جائے۔ دین صرف اللہ کا ہو ، صرف اللہ کے دین و شریعت کی اطاعت ہو اور صرف اللہ کو حاکم اور قانون ساز تصور کیا جائے۔ یہ نظریہ براہ راست اس نظریہ کی ضد ہے جو جاہلیت کی اساس رہا ہے۔ جونہی کوئی شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ حاکم بھی اللہ ہوگا ، قانون بھی اللہ کا ہوگا تو ہر جاہلیت اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے ، خصوصاً جب لوگ اس نظریہ کے گرد جمع ہو کر ایک جماعتی زندگی اختیار کرلیں اور خصوصاً یہ افراد جاہلیت سے چھٹ چھٹ کر آرہے ہوں اور ایک اکٹھ اختیار کر رہے ہوں ، ایسی صورت میں نظریہ جاہلیہ اور حاکم جاہلیت ایسے افراد کے اجتماع کو اپنے خلاف ایک بغاوت سمجھتے ہیں۔ پھر ہر جاہلی حکومت یہ خیال کرتی ہے کہ ان لوگوں کا عقیدہ مشکوک ہے۔ حالانکہ یہ امور ایسے ہیں کہ ہر دور میں یہ تحریک اسلامی کے لئے لابدی ہیں کہ وہ اپنے نظریات کا کھل کر اعلان کرے۔ پھر ان کی اساس پر جمعیت تشکیل دے اور پھر یہ لوگ مل کر کام کریں۔ ہر دور میں یہ طریق کار ضروری ہے۔
ہر دور میں نظام جاہلیت کا ایک نظام ہوتا ہے اور اس کی عضویاتی تشکیل ہوتی ہے۔ جب وہ نظام دیکھتا ہے کہ اس کے مقابلے میں ایک متضاد نظریاتی نظام آگیا ہے اور ایک نئی سوسائٹی بھی بن رہی ہے جو ان کی سوسائٹی کے بالکل متضاد عضویاتی تشکیل اور نظام رکھتی ہے۔ کیونکہ جاہلی سوسائٹی کی تہ میں متعدد الہٰوں کا نظریہ ہوتا ہے۔ حاکم اس میں متعدد ہوتے ہیں اور اس میں انسان انسانوں کے غلام اور تابع ہوتے ہیں جبکہ اسلامی سوسائٹی میں ایک الٰہ اور حاکم کا نظریہ ہوتا ہے اور اس میں تمام لوگ اللہ کے بندے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کا بندہ نہیں ہوتا تو پھر جاہلی سوسائٹی اس نئی سوسائٹی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
خطرے میں اضافہ اس بات سے بھی ہوجاتا ہے کہ یہ نو تشکیل شدہ اسلامی سوسائٹی روز بروز جاہلی سوسائٹی کے جسم کو کھاتی چلی جاتی ہے۔ ابتداء میں جب اسلامی سوسائٹی بنتی ہے تو خطرہ کم ہوتا ہے لیکن جب وہ جاہلیت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ لوگوں کو اپنی غلامی سے نکالو اور تم سب اللہ کی غلامی میں داخل ہوجاؤ۔ چونکہ آغاز رسل سے یہی طریق کار رہا ہے ، دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی کا اس لیے آغاز ہی سے ہر دور میں جاہلیت نے اسلامی تحریک کو اپنے وجود کے خلاف چیلنج سمجھا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے اور قدرتی معلوم ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح کوئی قائم وجود کسی حملہ آور کے مقابلے میں اپنی حفاظت کرتا ہے اور جس طرح ہر وہ شخص اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے جس نے عوام سے حاکمیت غصب کی ہوئی ہوتی ہے۔
جب جاہلیت محسوس کرتی ہے کہ تحریک اسلامی اس کے وجود کے لئے خطرہ بن گئی ہے تو وہ بھی اس مقابلے کو موت وحیات کا مسئلہ سمجھتی رہی ہے۔ جاہلیت نے تحریک اسلامی کے ساتھ کبھی بھی نرمی ، مصالحت اور امن و سلامتی کے اصول کو نہیں اپنایا۔ کبھی بھی اس معرکے میں جاہلیت نے اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دیا۔ نہ رسولان کرام نے اس معرکے میں کبھی اپنے آپ کو دھوکا دیا ہے۔ نہ ان کے بعد کسی مومن داعی نے اس سلسلے میں اپنے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔ جاہلیت کا اعلان یہ رہا ہے۔
وقال الذین ۔۔۔۔۔ فی ملتنا (14 : 13) “ اور کفار نے ہمیشہ ان کے پاس آنے والے رسولوں کو یہ کہا کہ تو ہم اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تمہیں واپس ہماری ملت اور دائرہ اقتدار میں آنا ہوگا ”۔ یہ لوگ رسولوں اور مومنوں کا علیحدہ وجود تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ ان کا اپنا کوئی نظریہ ہو یا اپنی کوئی جماعت ہو۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ واپس ہماری پارٹی میں آجاؤ یا جلاوطن ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ۔ واپس آجاؤ، ہماری سوسائٹی میں مدغم نہ ہوجاؤ، پگھل جاؤ اور اپنی علیحدہ سوسائٹی اور اجتماعیت مت بناؤ۔
لیکن رسولان کرام نے بھی اس بات کو کبھی قبول نہیں کیا کہ وہ ملت جاہلیہ میں پگھل جائیں اور مدغم ہوجائیں۔ اپنا وجود ختم کردیں اور اپنی شخصیت کو ختم کردیں۔ اس لیے کہ ان کی سوسائٹی بالکل ایک نئے نظریہ ، نئے آئین و دستور منشور پر قائم ہوتی ہے جو جاہلیت کے نظریہ اور دستور ومنشور سے متضاد ہوتا ہے۔ رسولوں نے اس طرح کا جواب بھی نہیں دیا اور عمل بھی نہیں کیا جو ہمارے دور کے بعض جاہل لوگ کہتے ہیں کہ جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ اور اندر اندر سے کام کرد ، اندر جا کر اپنے عقیدے کو پھیلاؤ۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کسی جاہلی معاشرے میں اہل دعوت ایک نیا اسلامی نظریہ لے کر اٹھتے ہیں تو اس نظریہ کی اساس پر خود بخود ان کی سوسائٹی ، ان کی قیادت اور ان کی وفاداریاں الگ ہوجاتی ہیں ۔ یہ فطری بات ہے اس میں کسی کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ کسی بھی سوسائٹی کی تشکیل کے لئے فطری انداز ہے جو طبعی ہے اور لازمی ہے۔ اس عمل سے اگر کسی جاہلی سوسائٹی کے اندر رد عمل ہوتا ہے کہ لوگوں کو صرف ایک خدا کی بندگی ، حاکمیت اور قانون اور دستور و منشور پر جمع کیا جا رہا ہے تو یہ رد عمل بھی طبیعی ہوتا ہے۔ اس جاہلی نظام کے تمام کل پرزے پھر اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان اس جاہلی سوسائٹی کا کل پرزہ بنتا ہے تو یہ دراصل اس جاہلی سوسائٹی کا خادم ہوگا ، اسلام کا نہ ہوگا جس طرح بعض احمق یہ سمجھتے ہیں کہ جاہلیت کا پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرو۔
اس کے بعد وہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ جو کسی بھی دعوت کے لئے مقدر ہے ، اور جو شخص دعوت اسلامی کا کام کرتا ہے خواہ کسی زمان و مکان میں ہو ، وہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے دوستوں کے ساتھ جو نصرت کا وعدہ فرمایا ہے ضرور یہ کہا ہے کہ میری نصرت آئے گی اور انہیں زمین میں اقتدار ملے گا تو یہ وعدہ اس وقت تک حقیقت کا روپ اختیار نہ کرے گا جب تک وہ کسی جاہلی سوسائٹی سے ممتاز ہو کر علیحدہ نہ ہوجائیں ، اور وہ اس دعوت کی بنیاد پر اپنی قوم سے الگ ہو کر اپنی سوسائٹی اور اپنی جمعیت تشکیل نہ دے لیں۔ اگر وہ کسی جاہلی سوسائٹی کا ہی حصہ رہیں “ اس میں چلیں پھریں ، اسی کے کل پرزے ہوں ، تو اگرچہ وہ اسلام کے نظریہ حیات پر یقین رکھتے ہوں ، اس کے لئے کام کرتے ہو ، اللہ کی اس نصرت اور وعدے میں تاخیر ہوجائے گی۔ یہ وہ لازمی ، عظیم اور بنیادی شرط ہے جس پر دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں نے مکمل عمل کرنا ہے۔ اس بات کو انہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔
آخر میں ایک پہلو دوسرا بھی قابل غور ہے ، قرآن کریم رسولان کرام کے اس قافلے کو کس خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں جاہلیت کا نہایت ہی خوبصورتی اور ثابت قدمی سے مقابلے کرتا چلا آرہا ہے۔ یہ بیان اس لیے خوبصورت ہے کہ اس قافلے کے مسافر جس حق کے حامل ہیں وہ نہایت ہی سادہ ، فطری اور خوبصورت ہے۔ یہ مسافر مطمئن ہیں ، سنجیدہ اور اپنی راہ پر ۔۔۔۔ ہوئے چلے آرہے ہیں۔
قالت لھم رسلھم ۔۔۔۔۔۔ فلیتوکل المومنون (14 : 11) “ ان کے رسولوں نے ان سے کہا “ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے ”۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں ۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے ”۔
آنکھوں کو چکا چوند کرنے والی یہ خوبصورتی ، اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ یہ ایک متحدہ قافلہ ہے جو ہر زمان و مکان میں ، متحدہ جاہلیت کا مقابلہ کرتا چلا آیا ہے ، ہر دور میں اور ہر قوم میں۔
پھر یہ خوبصورتی ایک دوسرے پہلو سے بھی ہمارے سامنے آتی ہے کہ اس دعوت اور اس حق کا جس کے یہ رسولان کرام حامل ہیں ، اور اس حق کا جو اس کائنات میں پوشیدہ باہم گہرا رابطہ ہے کیونکہ رسول یہ کہتے ہیں۔
افی اللہ شک فاطر السموت والارض (14 : 10) “ کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے ” ۔ اور دوسری آیت میں ہے۔
وما لنا ۔۔۔۔۔۔ ھدنا سبلنا (14 : 12) “ اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟” اور دوسری جگہ ہے۔
الم تر ان اللہ خلق السموت ۔۔۔۔۔۔۔ بخلق جدید (19) وما ذلک علی اللہ بعزیز (20) (14 : 19- 20) “ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے ؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔ ایسا کرنا اس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ”۔
اس طرح اس کائناتی سچائی اور دعوت اسلامی کی سچائی کے درمیان گہرا رابطہ قائم ہوتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذات باری جو برحق ہے وہ ان دونوں سچائیوں کا سرچشمہ ہے اور یہ سچائیاں گہری مستحکم اور دور تک اس کائنات میں جڑیں رکھتی ہیں۔
کشجرۃ خبیثۃ ۔۔۔۔۔۔۔ من قرار (14 : 26) “ جس طرح ایک خبیث درخت ہوتا ہے جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور اسے زمین پر قرار نصیب نہیں ہوتا ”۔
إبراهيم 14:28
درس نمبر 115 تشریح آیات
28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52
سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب سخت ہے۔ اس کے نبیوں کے حالات اور ان کی تکذیب کرنے والے سرکشوں کا انجام دیا گیا ہے۔ یہ قصہ شروع ہوا اور پھر سیاق سے غائب ہوگیا۔ اس کی مختلف کڑیاں آتی رہیں اور مختلف مناظر بھی آتے رہے۔ یہاں تک کہ کافر قیامت کے میدان تک پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے شیطان کا وعظ سنا لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ قیامت میں وعظ چہ معنی وارد۔
رسولان کرام کی یہ طویل کہانی اسٹیج کرنے کے بعد اب بات حضرت محمد ﷺ اور آپ کی قوم تک آپہنچتی ہے کہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا کہ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنیوں میں داخل کرے اور یہ اللہ کا بہت بڑا انعام تھا اور رسول اللہ تمہیں بلاتے ہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے گا مگر تمہارا رد عمل بھی یہی ہے کہ تم اس نعمت کی ناشکری کرتے ہو اس دعوت کا انکار کرتے ہو اور کفر کو اختیار کرتے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ اور اس کی دعوت پر کفر اور نا شکری کو ترجیح دیتے ہو۔
اس کے بعد پوری انسانیت پر اللہ کے انعامات و اکرامات گنوائے جاتے ہیں۔ اور اس پر کھلے کائناتی مناظر سے مثالیں دی جاتی ہیں اور اللہ کی نعمت کے شکر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرو ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ مالی فوائد ہوں گے اور نہ خریدو فروخت ہوگی اور وہ دوستی یاری ہوگی۔
سوال یہ تھا کہ اللہ ان کافروں کو پکڑتا کیوں نہیں ؟ اللہ نے ان کے معاملے کو نہ یونہی مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ اللہ غافل ہے بلکہ اللہ ان کے معاملے کو اس دن کے عذاب کے لئے مؤخر کر رہا ہے جس میں نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے رسولان کرام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اگرچہ کفار مکر کریں اور اگرچہ ان کا مکر اس قدر عظیم ہو کہ بڑے بڑے پہاڑوں کو بلا مارنے والا ہو۔ یوں یہ دوسرا حصہ بھی پہلے حصے سے مربوط اور مسلسل ہوجاتا ہے۔
آیت نمبر 28 تا 30
کیا ہی عجیب صورت حال ہے ، کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں کسی قوم کو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ رسول ایک عظیم دعوت کا حامل ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری قوم فلاح و مغفرت حاصل کرسکتی ہے اور جنت میں داخل ہو سکتی ہے ، لیکن قوم ہے کہ ان نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے بجائے کفر کو لے رہی ہے ، اور اس قوم کے قائد جن کے ہاتھ میں جاہل عوام کی باگ ڈور ہے وہ قوم کی قیادت جنت کے بجائے ہلاکت کے گڑھے کی طرف کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم کی حالت یہی ہوتی ہے ۔ اس کے اٹھانے والے اور اس کے گرانے والے قائدین ہی ہوتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قوم کے قائدین بھی لوگوں کو جہنم کے دہانے تک پہنچانے کے بعد اس میں گرانے اور ٹھہرانے کا انتظام کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے انبیاء کے مخالف جاہلیت زدہ قائدین نے اپنی قوم کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنی اقوام کا برا حشر کیا ، اسی طرح اہل مکہ بھی یہی کر رہے ہیں۔
کسی قوم کے قائدین کا یہ عجیب فعل ہوتا ہے ، حالانکہ انہوں نے زمانہ ما قبل کی اقوام کی تاریخ کو پڑھا اور دیکھا ہوتا ہے۔ اگر نہیں دیکھا تھا اور پڑھا تھا تو قرآن نے یہ انجام ان کے سامنے کس قدر موثر ، ڈرامائی انداز میں اسٹیج کیا ہے۔ ابھی ابھی اس کے مناظر نظروں سے گزرے ہیں ، اور یہ مناظر اس قدر دلچسپ تھے کہ گویا (Living) تھے اور عنقریب وہ ان کو عملاً اسی طرح دیکھیں گے ۔ کیونکہ نصوص قرآن وہی مناظر پیش کرتی ہیں جو ہونے والے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ قرآن ان کو اس قدر موثر اور دلنشیں انداز میں پیش کرتا ہے کہ گویا واقع ہوگئے ہیں۔ غرض ان لوگوں کے طرز عمل میں تعجب انگیز پہلو یہ ہے کہ اس نعمت کے بدلے وہ کفر خرید رہے ہیں اور جس توحید کی دعوت ان کو دی جا رہی ہے اس کا انکار کر رہے ہیں۔
وجعلوا ۔۔۔۔۔۔ عن سبیلہ (14 : 30) “ اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کئے ہیں تا کہ وہ انہیں اللہ کے راستے بھٹکا دیں ”۔ یعنی یہ اللہ کے ساتھ دوسری شخصیات کو برابر کرتے ہیں اور ان کی عبادت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان کی حاکمت کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان دوسری شخصیات میں اس طرح خصیوصیات تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی خصوصیات ہیں حالانکہ اللہ کا کوئی شریک اور مثل نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ یہ شریک اس لیے ٹھہرائے ہیں تا کہ لوگوں کو اللہ وحدہ اور صراط مستقیم سے بد راہ کردیں ، کیونکہ اللہ کی راہ کے سوا وہ اور جن راہوں پر چلیں گے وہ شیطانی راہیں ہوں گی۔
اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ قوم کے کبراء اور لیڈروں نے عمداً اس قوم کو اللہ کی راہ سے بدراہ کیا اور اللہ کو الٰہ واحد قرار دینے کے بجائے لوگوں کو دوسرے الہٰوں کی قیادت میں دے دیا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ان دوسرے الہٰوں کے روپ میں یہ لوگ اپنی قیادت اور سیادت بھی چمکاتے تھے جبکہ عقیدۂ توحید ہر سرکش ڈکٹیٹر کی قیادت کے لئے اور اس کے مفادات کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ ہر زمانے اور ہر سوسائٹی میں طاغوتی قوتوں کا یہی رویہ ہوتا ہے جس طرح زمانہ سابقہ کی جاہلیتوں میں یہی صورت رہی اسی طرح دور جدید کی جاہلیت میں بھی یہی صورت ہے کہ لوگ کسی نہ کسی صورت میں عقیدۂ توحید کو چھوڑ کر اپنی قیادت کسی طاغوتی قوت کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ دور جدید میں لوگ اپنی حریت اور آزادی ایسے ہی طاغوتی الہٰوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ ان کی خواہشات کے مطابق چلتے ہیں ، ان سے قانون اور شریعت اخذ کرتے ہیں ، اور اللہ کے قانون کے بجائے ان کبراء سے قوانین اور ہدایات اخذ کرتے ہیں۔ اللہ کی توحید کے نظریہ کو جب اس مفہوم تک وسعت دی جاتی ہے کہ حاکم بھی اللہ ہے ، اور قانون ساز بھی اللہ تو دور جدید کے لیڈر بھی جاہلیت اولیٰ کی طاغوتی قوتوں کی طرح تحریک اسلامی کے خلاف میدان میں آجاتے ہیں۔ یہ تحریک اسلامی کو اپنی خدائی کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں اور اسے پھر ہر طریقے سے بچانے کی سعی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح لوگ آج پارلیمنٹ یا آرڈیننس کے ذریعہ غیر اللہ سے قانون اخذ کرتے ہیں ، جو اللہ کے احکام کے خلاف ہوتے ہیں ، بلکہ اللہ کے حرام کو حلال کرتے ہیں اور اللہ کے حلال کردہ کو حرام کرتے ہیں تو یہ لوگ بھی دراصل شرک کرتے ہیں اور ایسے لیڈر اور قانون ساز اللہ کے شریک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور یوں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ بھی اپنی قوم کو صاف صاف کہہ دیں کہ مزے کرلو ، تمہارے چند دن ہیں ، جب یہ مہلت ختم ہوگی تو تم اور تمہاری ایسی قیادت سب واصل جہنم ہوگی۔
اے پیغمبران کو اپنے اس حال پر چھوڑ دے اور اب میرے بندوں کو وعظ دیں جو ایمان لا چکے ہیں ، جو اللہ کی اس نعمت کی قدر کرتے ہیں اور انکار نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمت کو کفر کے بدلے نہیں بیچتے ، کہ وہ میرا شکر ادا کریں ، میری عبادت کریں اور اطاعت کریں۔ ان کفار کو چھوڑ کر آپ اپنی پوری توجہ اہل اسلام کو دیں۔
إبراهيم 14:29
درس نمبر 115 تشریح آیات
28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52
سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب سخت ہے۔ اس کے نبیوں کے حالات اور ان کی تکذیب کرنے والے سرکشوں کا انجام دیا گیا ہے۔ یہ قصہ شروع ہوا اور پھر سیاق سے غائب ہوگیا۔ اس کی مختلف کڑیاں آتی رہیں اور مختلف مناظر بھی آتے رہے۔ یہاں تک کہ کافر قیامت کے میدان تک پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے شیطان کا وعظ سنا لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ قیامت میں وعظ چہ معنی وارد۔
رسولان کرام کی یہ طویل کہانی اسٹیج کرنے کے بعد اب بات حضرت محمد ﷺ اور آپ کی قوم تک آپہنچتی ہے کہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا کہ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنیوں میں داخل کرے اور یہ اللہ کا بہت بڑا انعام تھا اور رسول اللہ تمہیں بلاتے ہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے گا مگر تمہارا رد عمل بھی یہی ہے کہ تم اس نعمت کی ناشکری کرتے ہو اس دعوت کا انکار کرتے ہو اور کفر کو اختیار کرتے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ اور اس کی دعوت پر کفر اور نا شکری کو ترجیح دیتے ہو۔
اس کے بعد پوری انسانیت پر اللہ کے انعامات و اکرامات گنوائے جاتے ہیں۔ اور اس پر کھلے کائناتی مناظر سے مثالیں دی جاتی ہیں اور اللہ کی نعمت کے شکر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرو ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ مالی فوائد ہوں گے اور نہ خریدو فروخت ہوگی اور وہ دوستی یاری ہوگی۔
سوال یہ تھا کہ اللہ ان کافروں کو پکڑتا کیوں نہیں ؟ اللہ نے ان کے معاملے کو نہ یونہی مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ اللہ غافل ہے بلکہ اللہ ان کے معاملے کو اس دن کے عذاب کے لئے مؤخر کر رہا ہے جس میں نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے رسولان کرام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اگرچہ کفار مکر کریں اور اگرچہ ان کا مکر اس قدر عظیم ہو کہ بڑے بڑے پہاڑوں کو بلا مارنے والا ہو۔ یوں یہ دوسرا حصہ بھی پہلے حصے سے مربوط اور مسلسل ہوجاتا ہے۔
آیت نمبر 28 تا 30
کیا ہی عجیب صورت حال ہے ، کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں کسی قوم کو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ رسول ایک عظیم دعوت کا حامل ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری قوم فلاح و مغفرت حاصل کرسکتی ہے اور جنت میں داخل ہو سکتی ہے ، لیکن قوم ہے کہ ان نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے بجائے کفر کو لے رہی ہے ، اور اس قوم کے قائد جن کے ہاتھ میں جاہل عوام کی باگ ڈور ہے وہ قوم کی قیادت جنت کے بجائے ہلاکت کے گڑھے کی طرف کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم کی حالت یہی ہوتی ہے ۔ اس کے اٹھانے والے اور اس کے گرانے والے قائدین ہی ہوتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قوم کے قائدین بھی لوگوں کو جہنم کے دہانے تک پہنچانے کے بعد اس میں گرانے اور ٹھہرانے کا انتظام کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے انبیاء کے مخالف جاہلیت زدہ قائدین نے اپنی قوم کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنی اقوام کا برا حشر کیا ، اسی طرح اہل مکہ بھی یہی کر رہے ہیں۔
کسی قوم کے قائدین کا یہ عجیب فعل ہوتا ہے ، حالانکہ انہوں نے زمانہ ما قبل کی اقوام کی تاریخ کو پڑھا اور دیکھا ہوتا ہے۔ اگر نہیں دیکھا تھا اور پڑھا تھا تو قرآن نے یہ انجام ان کے سامنے کس قدر موثر ، ڈرامائی انداز میں اسٹیج کیا ہے۔ ابھی ابھی اس کے مناظر نظروں سے گزرے ہیں ، اور یہ مناظر اس قدر دلچسپ تھے کہ گویا (Living) تھے اور عنقریب وہ ان کو عملاً اسی طرح دیکھیں گے ۔ کیونکہ نصوص قرآن وہی مناظر پیش کرتی ہیں جو ہونے والے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ قرآن ان کو اس قدر موثر اور دلنشیں انداز میں پیش کرتا ہے کہ گویا واقع ہوگئے ہیں۔ غرض ان لوگوں کے طرز عمل میں تعجب انگیز پہلو یہ ہے کہ اس نعمت کے بدلے وہ کفر خرید رہے ہیں اور جس توحید کی دعوت ان کو دی جا رہی ہے اس کا انکار کر رہے ہیں۔
وجعلوا ۔۔۔۔۔۔ عن سبیلہ (14 : 30) “ اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کئے ہیں تا کہ وہ انہیں اللہ کے راستے بھٹکا دیں ”۔ یعنی یہ اللہ کے ساتھ دوسری شخصیات کو برابر کرتے ہیں اور ان کی عبادت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان کی حاکمت کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان دوسری شخصیات میں اس طرح خصیوصیات تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی خصوصیات ہیں حالانکہ اللہ کا کوئی شریک اور مثل نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ یہ شریک اس لیے ٹھہرائے ہیں تا کہ لوگوں کو اللہ وحدہ اور صراط مستقیم سے بد راہ کردیں ، کیونکہ اللہ کی راہ کے سوا وہ اور جن راہوں پر چلیں گے وہ شیطانی راہیں ہوں گی۔
اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ قوم کے کبراء اور لیڈروں نے عمداً اس قوم کو اللہ کی راہ سے بدراہ کیا اور اللہ کو الٰہ واحد قرار دینے کے بجائے لوگوں کو دوسرے الہٰوں کی قیادت میں دے دیا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ان دوسرے الہٰوں کے روپ میں یہ لوگ اپنی قیادت اور سیادت بھی چمکاتے تھے جبکہ عقیدۂ توحید ہر سرکش ڈکٹیٹر کی قیادت کے لئے اور اس کے مفادات کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ ہر زمانے اور ہر سوسائٹی میں طاغوتی قوتوں کا یہی رویہ ہوتا ہے جس طرح زمانہ سابقہ کی جاہلیتوں میں یہی صورت رہی اسی طرح دور جدید کی جاہلیت میں بھی یہی صورت ہے کہ لوگ کسی نہ کسی صورت میں عقیدۂ توحید کو چھوڑ کر اپنی قیادت کسی طاغوتی قوت کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ دور جدید میں لوگ اپنی حریت اور آزادی ایسے ہی طاغوتی الہٰوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ ان کی خواہشات کے مطابق چلتے ہیں ، ان سے قانون اور شریعت اخذ کرتے ہیں ، اور اللہ کے قانون کے بجائے ان کبراء سے قوانین اور ہدایات اخذ کرتے ہیں۔ اللہ کی توحید کے نظریہ کو جب اس مفہوم تک وسعت دی جاتی ہے کہ حاکم بھی اللہ ہے ، اور قانون ساز بھی اللہ تو دور جدید کے لیڈر بھی جاہلیت اولیٰ کی طاغوتی قوتوں کی طرح تحریک اسلامی کے خلاف میدان میں آجاتے ہیں۔ یہ تحریک اسلامی کو اپنی خدائی کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں اور اسے پھر ہر طریقے سے بچانے کی سعی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح لوگ آج پارلیمنٹ یا آرڈیننس کے ذریعہ غیر اللہ سے قانون اخذ کرتے ہیں ، جو اللہ کے احکام کے خلاف ہوتے ہیں ، بلکہ اللہ کے حرام کو حلال کرتے ہیں اور اللہ کے حلال کردہ کو حرام کرتے ہیں تو یہ لوگ بھی دراصل شرک کرتے ہیں اور ایسے لیڈر اور قانون ساز اللہ کے شریک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور یوں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ بھی اپنی قوم کو صاف صاف کہہ دیں کہ مزے کرلو ، تمہارے چند دن ہیں ، جب یہ مہلت ختم ہوگی تو تم اور تمہاری ایسی قیادت سب واصل جہنم ہوگی۔
اے پیغمبران کو اپنے اس حال پر چھوڑ دے اور اب میرے بندوں کو وعظ دیں جو ایمان لا چکے ہیں ، جو اللہ کی اس نعمت کی قدر کرتے ہیں اور انکار نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمت کو کفر کے بدلے نہیں بیچتے ، کہ وہ میرا شکر ادا کریں ، میری عبادت کریں اور اطاعت کریں۔ ان کفار کو چھوڑ کر آپ اپنی پوری توجہ اہل اسلام کو دیں۔
إبراهيم 14:30
درس نمبر 115 تشریح آیات
28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52
سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب سخت ہے۔ اس کے نبیوں کے حالات اور ان کی تکذیب کرنے والے سرکشوں کا انجام دیا گیا ہے۔ یہ قصہ شروع ہوا اور پھر سیاق سے غائب ہوگیا۔ اس کی مختلف کڑیاں آتی رہیں اور مختلف مناظر بھی آتے رہے۔ یہاں تک کہ کافر قیامت کے میدان تک پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے شیطان کا وعظ سنا لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ قیامت میں وعظ چہ معنی وارد۔
رسولان کرام کی یہ طویل کہانی اسٹیج کرنے کے بعد اب بات حضرت محمد ﷺ اور آپ کی قوم تک آپہنچتی ہے کہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا کہ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنیوں میں داخل کرے اور یہ اللہ کا بہت بڑا انعام تھا اور رسول اللہ تمہیں بلاتے ہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے گا مگر تمہارا رد عمل بھی یہی ہے کہ تم اس نعمت کی ناشکری کرتے ہو اس دعوت کا انکار کرتے ہو اور کفر کو اختیار کرتے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ اور اس کی دعوت پر کفر اور نا شکری کو ترجیح دیتے ہو۔
اس کے بعد پوری انسانیت پر اللہ کے انعامات و اکرامات گنوائے جاتے ہیں۔ اور اس پر کھلے کائناتی مناظر سے مثالیں دی جاتی ہیں اور اللہ کی نعمت کے شکر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرو ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ مالی فوائد ہوں گے اور نہ خریدو فروخت ہوگی اور وہ دوستی یاری ہوگی۔
سوال یہ تھا کہ اللہ ان کافروں کو پکڑتا کیوں نہیں ؟ اللہ نے ان کے معاملے کو نہ یونہی مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ اللہ غافل ہے بلکہ اللہ ان کے معاملے کو اس دن کے عذاب کے لئے مؤخر کر رہا ہے جس میں نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے رسولان کرام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اگرچہ کفار مکر کریں اور اگرچہ ان کا مکر اس قدر عظیم ہو کہ بڑے بڑے پہاڑوں کو بلا مارنے والا ہو۔ یوں یہ دوسرا حصہ بھی پہلے حصے سے مربوط اور مسلسل ہوجاتا ہے۔
آیت نمبر 28 تا 30
کیا ہی عجیب صورت حال ہے ، کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں کسی قوم کو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ رسول ایک عظیم دعوت کا حامل ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری قوم فلاح و مغفرت حاصل کرسکتی ہے اور جنت میں داخل ہو سکتی ہے ، لیکن قوم ہے کہ ان نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے بجائے کفر کو لے رہی ہے ، اور اس قوم کے قائد جن کے ہاتھ میں جاہل عوام کی باگ ڈور ہے وہ قوم کی قیادت جنت کے بجائے ہلاکت کے گڑھے کی طرف کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم کی حالت یہی ہوتی ہے ۔ اس کے اٹھانے والے اور اس کے گرانے والے قائدین ہی ہوتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قوم کے قائدین بھی لوگوں کو جہنم کے دہانے تک پہنچانے کے بعد اس میں گرانے اور ٹھہرانے کا انتظام کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے انبیاء کے مخالف جاہلیت زدہ قائدین نے اپنی قوم کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنی اقوام کا برا حشر کیا ، اسی طرح اہل مکہ بھی یہی کر رہے ہیں۔
کسی قوم کے قائدین کا یہ عجیب فعل ہوتا ہے ، حالانکہ انہوں نے زمانہ ما قبل کی اقوام کی تاریخ کو پڑھا اور دیکھا ہوتا ہے۔ اگر نہیں دیکھا تھا اور پڑھا تھا تو قرآن نے یہ انجام ان کے سامنے کس قدر موثر ، ڈرامائی انداز میں اسٹیج کیا ہے۔ ابھی ابھی اس کے مناظر نظروں سے گزرے ہیں ، اور یہ مناظر اس قدر دلچسپ تھے کہ گویا (Living) تھے اور عنقریب وہ ان کو عملاً اسی طرح دیکھیں گے ۔ کیونکہ نصوص قرآن وہی مناظر پیش کرتی ہیں جو ہونے والے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ قرآن ان کو اس قدر موثر اور دلنشیں انداز میں پیش کرتا ہے کہ گویا واقع ہوگئے ہیں۔ غرض ان لوگوں کے طرز عمل میں تعجب انگیز پہلو یہ ہے کہ اس نعمت کے بدلے وہ کفر خرید رہے ہیں اور جس توحید کی دعوت ان کو دی جا رہی ہے اس کا انکار کر رہے ہیں۔
وجعلوا ۔۔۔۔۔۔ عن سبیلہ (14 : 30) “ اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کئے ہیں تا کہ وہ انہیں اللہ کے راستے بھٹکا دیں ”۔ یعنی یہ اللہ کے ساتھ دوسری شخصیات کو برابر کرتے ہیں اور ان کی عبادت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان کی حاکمت کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان دوسری شخصیات میں اس طرح خصیوصیات تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی خصوصیات ہیں حالانکہ اللہ کا کوئی شریک اور مثل نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ یہ شریک اس لیے ٹھہرائے ہیں تا کہ لوگوں کو اللہ وحدہ اور صراط مستقیم سے بد راہ کردیں ، کیونکہ اللہ کی راہ کے سوا وہ اور جن راہوں پر چلیں گے وہ شیطانی راہیں ہوں گی۔
اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ قوم کے کبراء اور لیڈروں نے عمداً اس قوم کو اللہ کی راہ سے بدراہ کیا اور اللہ کو الٰہ واحد قرار دینے کے بجائے لوگوں کو دوسرے الہٰوں کی قیادت میں دے دیا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ان دوسرے الہٰوں کے روپ میں یہ لوگ اپنی قیادت اور سیادت بھی چمکاتے تھے جبکہ عقیدۂ توحید ہر سرکش ڈکٹیٹر کی قیادت کے لئے اور اس کے مفادات کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ ہر زمانے اور ہر سوسائٹی میں طاغوتی قوتوں کا یہی رویہ ہوتا ہے جس طرح زمانہ سابقہ کی جاہلیتوں میں یہی صورت رہی اسی طرح دور جدید کی جاہلیت میں بھی یہی صورت ہے کہ لوگ کسی نہ کسی صورت میں عقیدۂ توحید کو چھوڑ کر اپنی قیادت کسی طاغوتی قوت کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ دور جدید میں لوگ اپنی حریت اور آزادی ایسے ہی طاغوتی الہٰوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ ان کی خواہشات کے مطابق چلتے ہیں ، ان سے قانون اور شریعت اخذ کرتے ہیں ، اور اللہ کے قانون کے بجائے ان کبراء سے قوانین اور ہدایات اخذ کرتے ہیں۔ اللہ کی توحید کے نظریہ کو جب اس مفہوم تک وسعت دی جاتی ہے کہ حاکم بھی اللہ ہے ، اور قانون ساز بھی اللہ تو دور جدید کے لیڈر بھی جاہلیت اولیٰ کی طاغوتی قوتوں کی طرح تحریک اسلامی کے خلاف میدان میں آجاتے ہیں۔ یہ تحریک اسلامی کو اپنی خدائی کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں اور اسے پھر ہر طریقے سے بچانے کی سعی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح لوگ آج پارلیمنٹ یا آرڈیننس کے ذریعہ غیر اللہ سے قانون اخذ کرتے ہیں ، جو اللہ کے احکام کے خلاف ہوتے ہیں ، بلکہ اللہ کے حرام کو حلال کرتے ہیں اور اللہ کے حلال کردہ کو حرام کرتے ہیں تو یہ لوگ بھی دراصل شرک کرتے ہیں اور ایسے لیڈر اور قانون ساز اللہ کے شریک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور یوں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ بھی اپنی قوم کو صاف صاف کہہ دیں کہ مزے کرلو ، تمہارے چند دن ہیں ، جب یہ مہلت ختم ہوگی تو تم اور تمہاری ایسی قیادت سب واصل جہنم ہوگی۔
اے پیغمبران کو اپنے اس حال پر چھوڑ دے اور اب میرے بندوں کو وعظ دیں جو ایمان لا چکے ہیں ، جو اللہ کی اس نعمت کی قدر کرتے ہیں اور انکار نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمت کو کفر کے بدلے نہیں بیچتے ، کہ وہ میرا شکر ادا کریں ، میری عبادت کریں اور اطاعت کریں۔ ان کفار کو چھوڑ کر آپ اپنی پوری توجہ اہل اسلام کو دیں۔
إبراهيم 14:31
آیت نمبر 31
میرے بندوں سے کہیں کہ میرا شکر اقامت صلوٰۃ کے ذریعہ ادا کریں۔ نماز شکر الٰہی ادا کرنے کا مخصوص ترین طریقہ ہے۔ پھر میرا شکر ادا کرنے کا اہم طریقہ انفاق فی سبیل اللہ ہے جو کچھ میں نے ان کو دیا ہے ، اس سے اعلانیہ اور خفیہ خرچ کریں۔ خفیہ اس وقت جب لینے والوں کی عزت نفس کی حفاظت بھی مقصود ہو اور دینے والوں کی مروت بھی محفوظ ہو ، کیونکہ جو لوگ تفاخر ، ظاہر داری اور مقابلے کے لئے خرچ کرتے ہیں وہ انفاق فی سبیل اللہ نہیں ہوتا ، اور اعلانیہ وہاں خرچہ کریں جہاں صدقات واجبہ کا ادا کرنا مقصود ہو ، اور جہاں انفاق کو مثالی بنانا مقصود ہو ، دونوں طریقوں میں سے کسی طریقے کا انتخاب کرنے والے کے ضمیر پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
اور ان کو یہ بھی کہہ دیں کہ انفاق کا بھی ایک وقت ہے ، ایک مہلت ہے ، جب مہلت ختم ہوگئی تو پھر نہ تجارت ہوگی ، نہ مال بڑھے گا اور نہ دوستیاں ہوں گی اور نہ انفاق کے لئے ہاتھ میں کچھ ہوگا۔ وہاں تو اچھے اعمال ہی کام آئیں گے۔
من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) ” قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نواز ہو سکے گی “۔ اب اللہ تعالیٰ اس کائنات کی عظیم کتاب کو کھول کر اپنے انعامات گنواتے ہیں۔ یہ عظیم اور ناقابل شمار انعامات ہیں۔ اس کتاب کے بڑے بڑے صفحات ہیں اور ان کے اندر تاحد نظر اقسام والوان کے انعامات ہیں۔ دور تک پھیلے ہوئے آسمان ، یہ زمین ، شمس و قمر ، رات اور دن کی گردش ، آسمانوں سے نازل ہونے والا پانی ، زمین سے اگنے والے انواع و اقسام کے نباتات ، سمندر ، سمندری مخلوق اور جہاز رانی ، زمین کی ندیاں ، نالے اور دریا ، غرض وہ سب کچھ جو انسان رات اور دن دیکھ رہا ہے۔ لیکن لوگ اپنی جہالت اور جاہلیت کی وجہ سے ان صفحات کو نہیں پڑھتے۔ ان میں غوروفکر نہیں کرتے۔ بیشک انسان ظالم اور ناشکرا ہے۔ اللہ کی نعمتوں کو چھوڑ کر کفر اپناتا ہے۔ اللہ کے ساتھ شریک بناتا ہے حالانکہ اللہ وحدہ خالق و رازق ہے اور اس پوری کائنات کو اسی نے انسان کے لئے مسخر رکھا ہے۔
إبراهيم 14:32
آیت نمبر 32 تا 34
یہ ایک زبردست تنقیدی حملہ ہے ، انسانی شعور پر کوڑے برسائے جا رہے ہیں۔ زمین و آسمان کے بڑے بڑے اجرام و پہاڑ ، شمس و قمر ، گردش لیل ونہار ، بارشیں اور پھل ، یہ سب کوڑے اور سنگ باری کا کام کر رہے ہیں۔ ان میں اس ظالم انسان کے شعور کے لئے سخت کاٹ بھی ہے اور پر محبت اور پرسوز آواز بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل فکر کے لئے اس کتاب کے معجزات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر اور نفس انسانی کی الجھنوں کو عقیدۂ توحید کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اور ہر چمک کو ایک اشاراتی رنگ دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی نفس کے تصورات اور اشراقات میں سے ہر اشراق سے اشارات اخذ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یوں یہ کتاب اس پوری کائنات کو اللہ کے نشانات اور دلائل کی نمائش گاہ بنا دیتی ہے ، جس میں دست قدرت کے عجائبات جگہ جگہ سجے ہوئے ہیں۔ ہر منظر اور ہر سٹال پر قدرت الہٰیہ کے عجائبات کے طومار لگے ہوئے ہیں۔ ہر تصور اور ہر رنگ اور ہر سایہ میں قدرت ہی قدرت نظر آتی ہے۔ قرآن کریم وجود باری کے مسئلہ پر منطقی مناظرہ نہیں شروع کرتا جس میں ۔۔۔۔۔ کے لاہوتی اور ناسوتی مباحث ہوں۔ فلسفیانہ ، مجرد ، مردہ ، خشک مباحث ، جن میں قلب انسانی کے لئے کچھ تروتازگی نہیں ہوتی بلکہ نفس انسانی پر یہ مباحث بوجھ ہوتی ہے۔ قرآن کریم اس مسئلہ کو نہایت موثر ، اشاراتی انداز دیتا ہے اور کائنات کے مناظر ، عجائبات ، فطری دلچسپ اور بدیبیات کے ذریعہ نہایت ہی خوبصورت انداز میں اور نہایت منطقی ترتیب سے اسے پیش کرتا ہے۔
یہ عظیم اور بھر پور منظر ہے ، جس کے مناظر اس لائن پر چلتے ہیں جس میں ، اللہ کے بندوں پر اس کے انعامات و اکرامات دکھائے گئے ہیں۔ دست قدرت کی کاری گری کے عجیب نمونے ہیں۔ اس لائن پر پہلے زمین و آسمان کے وسیع فاصلے اور لاتعداد عجائبات آتے ہیں۔ پھر بارشوں کے مناظر اور ان کے نتائج نباتات اور پھول پھل آتے ہیں ، اور یہ سب کچھ زمین پر پانی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ، پھر اس راہ میں ہمارے سامنے سمندروں کے نظارے آتے ہیں جس میں کشتیاں اور جہاز چلتے ہیں جو لوگوں کی ضروریات اٹھائے ہوئے ہیں ، پھر ہمارے سامنے ایک نیا نظارہ آتا ہے جو شمس و قمر اور زمین سے متعلق ہے جس میں ان کی گردش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گردش لیل و نہار کے مناظر اور پھر ان تمام انعامات کی ایک مجموعی جھلک جس میں انسان کی ہر ضرورت اور خواہش اور ان کے پورے ہونے کی جھلک دکھالی گئی ہے۔
واتکم من کل ۔۔۔۔۔۔۔ لا تحصوھا (14 : 34) ” جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا “ ۔ اب سوال یہ کیا جاتا ہے کہ ان چیزوں کے بعد بھی تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ تمہارا اندازہ اور فیصلہ کس قدر ظالمانہ ہے کہ تم اللہ کی مخلوقات میں سے زمین و آسمان کی ایک ادنیٰ مخلوق کو پوجتے ہو۔
وانزل من السماء ۔۔۔۔۔ رزقا لکم (14 : 32) ” اور جس نے آسمانوں سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لئے طرح طرح کے پھل پیدا کئے “۔ زراعت تو انسانی رزق کا سب سے بڑا اور پہلا ذریعہ ہے ، اور تمام ظاہری انعامات کا تعلق زراعت سے ہے۔ بارش اور اس کے نتیجے میں نباتات کا پیدا ہونا اس قانون فطرت کے تابع ہے جو اللہ نے اس کرۂ ارض پر جاری کیا ہے۔ یہ قانون قدرت بارشیں برساتا ہے ، نباتات اگاتا ہے اور پھر اس سے مختلف قسم کے پھل تیار ہوتے ہیں اور یہ سب موافقات اور سہولیات انسان کے لئے ہیں۔ رزق کے ایک دانے کی تشکیل اور فراہمی کے اندر کسی قدر عوامل کام کرتے ہیں ، مثلاً زمین ، پانی ، سورج کی شعاعیں اور ہوا۔ لوگ لفظ رزق سن کر صرف مال و دولت کی آخری شکل کو ذہن میں لاتے ہیں حالانکہ انسانی رزق کے دائرے میں بہت سی چیزیں آتی ہیں اور رزق کا مکمل نظام بہت ہی گہرا ہے ۔ اس کرۂ ارض پر انسانی زندگی کے قیام کے لئے کم از کم جس چیز کی ضرورت ہے اس کی فراہمی کے لئے یہ کائنات بڑے بڑے اجرام فلکی کو حرکت دے رہی ہے۔ اس کے اندر ایک نہایت گہرا قانون قدرت کام کرتا ہے اور ہزارہا سہولیات اور موافقات فراہم ہوتے ہیں جو باہم ہمقدم ہو کر کام کرتے ہیں۔ تب جا کر انسان کی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے کم سے کم معیار پورا ہوتا ہے۔ اگر ان موافقات میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو اس حضرت انسان کا زندہ رہنا ہی محال ہوجائے اور اس کا وجود ہی نہ ہو۔ اس آیت میں جن اجرام کی حرکت اور خدمت کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ انسان کے رزق کے اسباب فراہم کرتے ہیں ، یہ کافی و شافی ہے اور یہ تمام دست قدرت کے ہیں۔
وسخرلکم الفلک اتجری فی البحر بامرہ (14 : 32) ” اور جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے “۔ کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے عناصر میں یہ خواص رکھے جن کی وجہ سے کشتی پانیوں پر چلتی ہے اور انسان کو ایسے عقلی خواص دئیے جس نے یہ باتیں معلوم کیں۔ یہ سب کام انسان اللہ کے امر سے کرسکتا ہے۔
وسخر لکم الانھر (14 : 32) ” اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا “۔ ان دریاؤں کے بہایا ، ان کے نتیجے میں زندگی کے دریا بہنے لگے اور انسانوں کے لئے خیر کے سوتے پھوٹ پڑے۔ پھر ان دریاؤں میں مچھلیاں اور بھلائی کی دوسری اشیاء ، یہ سب چیزیں اللہ نے انسان کے لئے پیدا کیں۔ پرندے ہیں یا چرندے ہیں ، انسان ان سے استفادہ کرتا ہے۔
وسخر لکم الشمس والقمر دائبین (14 : 33) ” اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں “ ۔ انسان براہ راست شمس و قمر سے استفادہ تو نہیں کرسکتا جس طرح پانی ، فصلوں اور پھلوں سے ، سمندروں اور کشتیوں اور نہروں اور دریاؤں سے براہ راست کرتا ہے لیکن شمس قمر کے آثار انسان کے لئے مفید ہیں۔ ان سے انسان زندگی کا مواد لیتا ہے اور قوت حاصل کرتا ہے کیونکہ ان کو اللہ نے ایسے قانون قدرت کا پابند کردیا ہے کہ یہ مسلسل انسان کے لئے اس کی ضرورت فراہم کرتے رہتے ہیں۔ انسانی زندگی کی ضروریات اور جسم انسانی کے خلیے سورج کی ان شعاعوں سے ترکیب ، تجدید اور تغیر پاتے ہیں۔
وسخرلکم الیل والنھار (14 : 33) ” اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا “۔ ان کو اللہ نے انسانی ضرورت کے مطابق بنایا ، گردش لیل و نہار کا موجودہ نظام اس کرۂ ارض پر حیات انسانی کے لئے اور اس کی سرگرمیوں کے لئے از بس ضروری ہے۔ اگر یہاں ہمیشہ دن ہوتا یا ہمیشہ رات ہوتی تو انسان سرے سے زندہ ہی نہ رہ سکتا۔ زمین کا یہ ماحول اس کے لئے ناسازگار ہوجاتا ، یہ زندگی ، یہ ترقیات اور یہ پیدا وار مشکل بن جاتی۔
اللہ تعالیٰ کے بیشمار انعامات کی تو یہ صرف آؤٹ لائن ہیں۔ ان خطوط کے اندر انعامات الٰہی کے جو نکات ہیں ، اگر ایک ایک نکتے پر بحث کی جائے تو مستقل کتاب بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ ان کو اجمالاً سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک اصولی بات۔
واتکم من کل ما سالتموہ ” جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا “۔ مال ، اولاد ، صحت ، سازو سامان وغیرہ وغیرہ۔
وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (14 : 34) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے “۔ یہ اس قدر زیادہ ہیں کہ انسانوں کی ایک عظیم جماعت بھی انہیں گن نہیں سکتی۔ بلکہ تمام انسان لگ جائیں تو بھی نہیں گن سکتے ۔ اس لیے کہ انسان زمان و مکان کے اندر محدد ہے ، اس کا علم محدود ہے ، اس کے علم کی ابتداء بھی ہے اور انتہا بھی ہے اور زمان و مکان کے درمیان محدودبھی ہے جبکہ اللہ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان کے دائرہ علم و ادراک سے وراء ہیں۔ ان سب حقائق کے بعد بھی ، اے لوگو ، تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو ، اور یہ سب کچھ جانتے ہوئے تم اللہ کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ شکر کے بجائے تم کفر کرتے ہو ، حق ہے :
ان الانسان لظلوم کفار (14 : 34) ” حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بےانصاف اور ناشکرا ہے “۔ جب انسانی ضمیر جاگ اٹھتا ہے اور اپنے اردگرد کائنات کو چشم بینا سے دیکھنے لگتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ یہ پوری کائنات اس کے لئے مسخر کردی گئی ہے ۔ یا تو براہ راست اس کے کنٹرول میں ہے یا اس طرح کہ اللہ کے جاری کردہ ناموس قدرت کی رو سے یہ انسان کے لئے کام کر رہی ہے اور انسان کی ضروریات فراہم کر رہی ہے۔ جب اس طرح انسان اپنے ماحول پر غور کرتا ہے تو وہ اس حقیقت کو پالیتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کی وجہ سے یہ پورا ماحول انسان کا دوست ہے ، انسان کا مددگار ہے ، اور اللہ نے اس کو انسان کے لئے نہایت ہی نرم اور مطیع فرمان بنا دیا ہے۔ پھر انسان کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ وہ سر اٹھا کر ذرا اپنے ماحول پر غوروفکر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو وہ کانپنے لگتا ہے۔ اللہ کا خوف کھاتا ہے۔ سجدہ ریز ہوجاتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور پھر وہ خضوع و خشوع میں اس رب منعم کی طرف دیکھتا ہے۔ اگر وہ کسی مشکل میں ہو تو فراخی کی دعا کرتا ہے اور اگر وہ اللہ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہو تو یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ان نعمتوں کو محفوظ اور جاری رکھ۔
اور انسان ذاکر اور شاکر اور متدبر کا اعلیٰ نمونہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ، جن کے نام سے یہ سورة معنون ہے اور یہی مناسبت ہے کہ اس سورة کے مضامین اور فضا بھی شکر اور ناشکری اور کفران نعمت کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے اعلیٰ کردار میں پیش کیا جاتا ہے جس میں وہ مجسمہ شکر ہیں۔ نہایت خشوع و خضوع کی حالت میں ہیں اور نہایت ہی نرم اور دھیمے زمزمہ میں دست بدعا ہیں۔ آپ کی دعاؤں اور شکر کا یہ زمزہ آسمان کی طرف نہایت ہی نرم اور باادب موجوں کی شکل میں بلند ہوتا ہے اور دور تک اس کی گونج آسمانوں میں غائب ہوجاتی ہے۔
إبراهيم 14:33
آیت نمبر 32 تا 34
یہ ایک زبردست تنقیدی حملہ ہے ، انسانی شعور پر کوڑے برسائے جا رہے ہیں۔ زمین و آسمان کے بڑے بڑے اجرام و پہاڑ ، شمس و قمر ، گردش لیل ونہار ، بارشیں اور پھل ، یہ سب کوڑے اور سنگ باری کا کام کر رہے ہیں۔ ان میں اس ظالم انسان کے شعور کے لئے سخت کاٹ بھی ہے اور پر محبت اور پرسوز آواز بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل فکر کے لئے اس کتاب کے معجزات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر اور نفس انسانی کی الجھنوں کو عقیدۂ توحید کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اور ہر چمک کو ایک اشاراتی رنگ دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی نفس کے تصورات اور اشراقات میں سے ہر اشراق سے اشارات اخذ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یوں یہ کتاب اس پوری کائنات کو اللہ کے نشانات اور دلائل کی نمائش گاہ بنا دیتی ہے ، جس میں دست قدرت کے عجائبات جگہ جگہ سجے ہوئے ہیں۔ ہر منظر اور ہر سٹال پر قدرت الہٰیہ کے عجائبات کے طومار لگے ہوئے ہیں۔ ہر تصور اور ہر رنگ اور ہر سایہ میں قدرت ہی قدرت نظر آتی ہے۔ قرآن کریم وجود باری کے مسئلہ پر منطقی مناظرہ نہیں شروع کرتا جس میں ۔۔۔۔۔ کے لاہوتی اور ناسوتی مباحث ہوں۔ فلسفیانہ ، مجرد ، مردہ ، خشک مباحث ، جن میں قلب انسانی کے لئے کچھ تروتازگی نہیں ہوتی بلکہ نفس انسانی پر یہ مباحث بوجھ ہوتی ہے۔ قرآن کریم اس مسئلہ کو نہایت موثر ، اشاراتی انداز دیتا ہے اور کائنات کے مناظر ، عجائبات ، فطری دلچسپ اور بدیبیات کے ذریعہ نہایت ہی خوبصورت انداز میں اور نہایت منطقی ترتیب سے اسے پیش کرتا ہے۔
یہ عظیم اور بھر پور منظر ہے ، جس کے مناظر اس لائن پر چلتے ہیں جس میں ، اللہ کے بندوں پر اس کے انعامات و اکرامات دکھائے گئے ہیں۔ دست قدرت کی کاری گری کے عجیب نمونے ہیں۔ اس لائن پر پہلے زمین و آسمان کے وسیع فاصلے اور لاتعداد عجائبات آتے ہیں۔ پھر بارشوں کے مناظر اور ان کے نتائج نباتات اور پھول پھل آتے ہیں ، اور یہ سب کچھ زمین پر پانی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ، پھر اس راہ میں ہمارے سامنے سمندروں کے نظارے آتے ہیں جس میں کشتیاں اور جہاز چلتے ہیں جو لوگوں کی ضروریات اٹھائے ہوئے ہیں ، پھر ہمارے سامنے ایک نیا نظارہ آتا ہے جو شمس و قمر اور زمین سے متعلق ہے جس میں ان کی گردش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گردش لیل و نہار کے مناظر اور پھر ان تمام انعامات کی ایک مجموعی جھلک جس میں انسان کی ہر ضرورت اور خواہش اور ان کے پورے ہونے کی جھلک دکھالی گئی ہے۔
واتکم من کل ۔۔۔۔۔۔۔ لا تحصوھا (14 : 34) ” جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا “ ۔ اب سوال یہ کیا جاتا ہے کہ ان چیزوں کے بعد بھی تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ تمہارا اندازہ اور فیصلہ کس قدر ظالمانہ ہے کہ تم اللہ کی مخلوقات میں سے زمین و آسمان کی ایک ادنیٰ مخلوق کو پوجتے ہو۔
وانزل من السماء ۔۔۔۔۔ رزقا لکم (14 : 32) ” اور جس نے آسمانوں سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لئے طرح طرح کے پھل پیدا کئے “۔ زراعت تو انسانی رزق کا سب سے بڑا اور پہلا ذریعہ ہے ، اور تمام ظاہری انعامات کا تعلق زراعت سے ہے۔ بارش اور اس کے نتیجے میں نباتات کا پیدا ہونا اس قانون فطرت کے تابع ہے جو اللہ نے اس کرۂ ارض پر جاری کیا ہے۔ یہ قانون قدرت بارشیں برساتا ہے ، نباتات اگاتا ہے اور پھر اس سے مختلف قسم کے پھل تیار ہوتے ہیں اور یہ سب موافقات اور سہولیات انسان کے لئے ہیں۔ رزق کے ایک دانے کی تشکیل اور فراہمی کے اندر کسی قدر عوامل کام کرتے ہیں ، مثلاً زمین ، پانی ، سورج کی شعاعیں اور ہوا۔ لوگ لفظ رزق سن کر صرف مال و دولت کی آخری شکل کو ذہن میں لاتے ہیں حالانکہ انسانی رزق کے دائرے میں بہت سی چیزیں آتی ہیں اور رزق کا مکمل نظام بہت ہی گہرا ہے ۔ اس کرۂ ارض پر انسانی زندگی کے قیام کے لئے کم از کم جس چیز کی ضرورت ہے اس کی فراہمی کے لئے یہ کائنات بڑے بڑے اجرام فلکی کو حرکت دے رہی ہے۔ اس کے اندر ایک نہایت گہرا قانون قدرت کام کرتا ہے اور ہزارہا سہولیات اور موافقات فراہم ہوتے ہیں جو باہم ہمقدم ہو کر کام کرتے ہیں۔ تب جا کر انسان کی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے کم سے کم معیار پورا ہوتا ہے۔ اگر ان موافقات میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو اس حضرت انسان کا زندہ رہنا ہی محال ہوجائے اور اس کا وجود ہی نہ ہو۔ اس آیت میں جن اجرام کی حرکت اور خدمت کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ انسان کے رزق کے اسباب فراہم کرتے ہیں ، یہ کافی و شافی ہے اور یہ تمام دست قدرت کے ہیں۔
وسخرلکم الفلک اتجری فی البحر بامرہ (14 : 32) ” اور جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے “۔ کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے عناصر میں یہ خواص رکھے جن کی وجہ سے کشتی پانیوں پر چلتی ہے اور انسان کو ایسے عقلی خواص دئیے جس نے یہ باتیں معلوم کیں۔ یہ سب کام انسان اللہ کے امر سے کرسکتا ہے۔
وسخر لکم الانھر (14 : 32) ” اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا “۔ ان دریاؤں کے بہایا ، ان کے نتیجے میں زندگی کے دریا بہنے لگے اور انسانوں کے لئے خیر کے سوتے پھوٹ پڑے۔ پھر ان دریاؤں میں مچھلیاں اور بھلائی کی دوسری اشیاء ، یہ سب چیزیں اللہ نے انسان کے لئے پیدا کیں۔ پرندے ہیں یا چرندے ہیں ، انسان ان سے استفادہ کرتا ہے۔
وسخر لکم الشمس والقمر دائبین (14 : 33) ” اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں “ ۔ انسان براہ راست شمس و قمر سے استفادہ تو نہیں کرسکتا جس طرح پانی ، فصلوں اور پھلوں سے ، سمندروں اور کشتیوں اور نہروں اور دریاؤں سے براہ راست کرتا ہے لیکن شمس قمر کے آثار انسان کے لئے مفید ہیں۔ ان سے انسان زندگی کا مواد لیتا ہے اور قوت حاصل کرتا ہے کیونکہ ان کو اللہ نے ایسے قانون قدرت کا پابند کردیا ہے کہ یہ مسلسل انسان کے لئے اس کی ضرورت فراہم کرتے رہتے ہیں۔ انسانی زندگی کی ضروریات اور جسم انسانی کے خلیے سورج کی ان شعاعوں سے ترکیب ، تجدید اور تغیر پاتے ہیں۔
وسخرلکم الیل والنھار (14 : 33) ” اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا “۔ ان کو اللہ نے انسانی ضرورت کے مطابق بنایا ، گردش لیل و نہار کا موجودہ نظام اس کرۂ ارض پر حیات انسانی کے لئے اور اس کی سرگرمیوں کے لئے از بس ضروری ہے۔ اگر یہاں ہمیشہ دن ہوتا یا ہمیشہ رات ہوتی تو انسان سرے سے زندہ ہی نہ رہ سکتا۔ زمین کا یہ ماحول اس کے لئے ناسازگار ہوجاتا ، یہ زندگی ، یہ ترقیات اور یہ پیدا وار مشکل بن جاتی۔
اللہ تعالیٰ کے بیشمار انعامات کی تو یہ صرف آؤٹ لائن ہیں۔ ان خطوط کے اندر انعامات الٰہی کے جو نکات ہیں ، اگر ایک ایک نکتے پر بحث کی جائے تو مستقل کتاب بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ ان کو اجمالاً سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک اصولی بات۔
واتکم من کل ما سالتموہ ” جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا “۔ مال ، اولاد ، صحت ، سازو سامان وغیرہ وغیرہ۔
وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (14 : 34) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے “۔ یہ اس قدر زیادہ ہیں کہ انسانوں کی ایک عظیم جماعت بھی انہیں گن نہیں سکتی۔ بلکہ تمام انسان لگ جائیں تو بھی نہیں گن سکتے ۔ اس لیے کہ انسان زمان و مکان کے اندر محدد ہے ، اس کا علم محدود ہے ، اس کے علم کی ابتداء بھی ہے اور انتہا بھی ہے اور زمان و مکان کے درمیان محدودبھی ہے جبکہ اللہ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان کے دائرہ علم و ادراک سے وراء ہیں۔ ان سب حقائق کے بعد بھی ، اے لوگو ، تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو ، اور یہ سب کچھ جانتے ہوئے تم اللہ کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ شکر کے بجائے تم کفر کرتے ہو ، حق ہے :
ان الانسان لظلوم کفار (14 : 34) ” حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بےانصاف اور ناشکرا ہے “۔ جب انسانی ضمیر جاگ اٹھتا ہے اور اپنے اردگرد کائنات کو چشم بینا سے دیکھنے لگتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ یہ پوری کائنات اس کے لئے مسخر کردی گئی ہے ۔ یا تو براہ راست اس کے کنٹرول میں ہے یا اس طرح کہ اللہ کے جاری کردہ ناموس قدرت کی رو سے یہ انسان کے لئے کام کر رہی ہے اور انسان کی ضروریات فراہم کر رہی ہے۔ جب اس طرح انسان اپنے ماحول پر غور کرتا ہے تو وہ اس حقیقت کو پالیتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کی وجہ سے یہ پورا ماحول انسان کا دوست ہے ، انسان کا مددگار ہے ، اور اللہ نے اس کو انسان کے لئے نہایت ہی نرم اور مطیع فرمان بنا دیا ہے۔ پھر انسان کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ وہ سر اٹھا کر ذرا اپنے ماحول پر غوروفکر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو وہ کانپنے لگتا ہے۔ اللہ کا خوف کھاتا ہے۔ سجدہ ریز ہوجاتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور پھر وہ خضوع و خشوع میں اس رب منعم کی طرف دیکھتا ہے۔ اگر وہ کسی مشکل میں ہو تو فراخی کی دعا کرتا ہے اور اگر وہ اللہ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہو تو یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ان نعمتوں کو محفوظ اور جاری رکھ۔
اور انسان ذاکر اور شاکر اور متدبر کا اعلیٰ نمونہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ، جن کے نام سے یہ سورة معنون ہے اور یہی مناسبت ہے کہ اس سورة کے مضامین اور فضا بھی شکر اور ناشکری اور کفران نعمت کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے اعلیٰ کردار میں پیش کیا جاتا ہے جس میں وہ مجسمہ شکر ہیں۔ نہایت خشوع و خضوع کی حالت میں ہیں اور نہایت ہی نرم اور دھیمے زمزمہ میں دست بدعا ہیں۔ آپ کی دعاؤں اور شکر کا یہ زمزہ آسمان کی طرف نہایت ہی نرم اور باادب موجوں کی شکل میں بلند ہوتا ہے اور دور تک اس کی گونج آسمانوں میں غائب ہوجاتی ہے۔
إبراهيم 14:34
آیت نمبر 32 تا 34
یہ ایک زبردست تنقیدی حملہ ہے ، انسانی شعور پر کوڑے برسائے جا رہے ہیں۔ زمین و آسمان کے بڑے بڑے اجرام و پہاڑ ، شمس و قمر ، گردش لیل ونہار ، بارشیں اور پھل ، یہ سب کوڑے اور سنگ باری کا کام کر رہے ہیں۔ ان میں اس ظالم انسان کے شعور کے لئے سخت کاٹ بھی ہے اور پر محبت اور پرسوز آواز بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل فکر کے لئے اس کتاب کے معجزات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر اور نفس انسانی کی الجھنوں کو عقیدۂ توحید کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اور ہر چمک کو ایک اشاراتی رنگ دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی نفس کے تصورات اور اشراقات میں سے ہر اشراق سے اشارات اخذ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یوں یہ کتاب اس پوری کائنات کو اللہ کے نشانات اور دلائل کی نمائش گاہ بنا دیتی ہے ، جس میں دست قدرت کے عجائبات جگہ جگہ سجے ہوئے ہیں۔ ہر منظر اور ہر سٹال پر قدرت الہٰیہ کے عجائبات کے طومار لگے ہوئے ہیں۔ ہر تصور اور ہر رنگ اور ہر سایہ میں قدرت ہی قدرت نظر آتی ہے۔ قرآن کریم وجود باری کے مسئلہ پر منطقی مناظرہ نہیں شروع کرتا جس میں ۔۔۔۔۔ کے لاہوتی اور ناسوتی مباحث ہوں۔ فلسفیانہ ، مجرد ، مردہ ، خشک مباحث ، جن میں قلب انسانی کے لئے کچھ تروتازگی نہیں ہوتی بلکہ نفس انسانی پر یہ مباحث بوجھ ہوتی ہے۔ قرآن کریم اس مسئلہ کو نہایت موثر ، اشاراتی انداز دیتا ہے اور کائنات کے مناظر ، عجائبات ، فطری دلچسپ اور بدیبیات کے ذریعہ نہایت ہی خوبصورت انداز میں اور نہایت منطقی ترتیب سے اسے پیش کرتا ہے۔
یہ عظیم اور بھر پور منظر ہے ، جس کے مناظر اس لائن پر چلتے ہیں جس میں ، اللہ کے بندوں پر اس کے انعامات و اکرامات دکھائے گئے ہیں۔ دست قدرت کی کاری گری کے عجیب نمونے ہیں۔ اس لائن پر پہلے زمین و آسمان کے وسیع فاصلے اور لاتعداد عجائبات آتے ہیں۔ پھر بارشوں کے مناظر اور ان کے نتائج نباتات اور پھول پھل آتے ہیں ، اور یہ سب کچھ زمین پر پانی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ، پھر اس راہ میں ہمارے سامنے سمندروں کے نظارے آتے ہیں جس میں کشتیاں اور جہاز چلتے ہیں جو لوگوں کی ضروریات اٹھائے ہوئے ہیں ، پھر ہمارے سامنے ایک نیا نظارہ آتا ہے جو شمس و قمر اور زمین سے متعلق ہے جس میں ان کی گردش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گردش لیل و نہار کے مناظر اور پھر ان تمام انعامات کی ایک مجموعی جھلک جس میں انسان کی ہر ضرورت اور خواہش اور ان کے پورے ہونے کی جھلک دکھالی گئی ہے۔
واتکم من کل ۔۔۔۔۔۔۔ لا تحصوھا (14 : 34) ” جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا “ ۔ اب سوال یہ کیا جاتا ہے کہ ان چیزوں کے بعد بھی تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ تمہارا اندازہ اور فیصلہ کس قدر ظالمانہ ہے کہ تم اللہ کی مخلوقات میں سے زمین و آسمان کی ایک ادنیٰ مخلوق کو پوجتے ہو۔
وانزل من السماء ۔۔۔۔۔ رزقا لکم (14 : 32) ” اور جس نے آسمانوں سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لئے طرح طرح کے پھل پیدا کئے “۔ زراعت تو انسانی رزق کا سب سے بڑا اور پہلا ذریعہ ہے ، اور تمام ظاہری انعامات کا تعلق زراعت سے ہے۔ بارش اور اس کے نتیجے میں نباتات کا پیدا ہونا اس قانون فطرت کے تابع ہے جو اللہ نے اس کرۂ ارض پر جاری کیا ہے۔ یہ قانون قدرت بارشیں برساتا ہے ، نباتات اگاتا ہے اور پھر اس سے مختلف قسم کے پھل تیار ہوتے ہیں اور یہ سب موافقات اور سہولیات انسان کے لئے ہیں۔ رزق کے ایک دانے کی تشکیل اور فراہمی کے اندر کسی قدر عوامل کام کرتے ہیں ، مثلاً زمین ، پانی ، سورج کی شعاعیں اور ہوا۔ لوگ لفظ رزق سن کر صرف مال و دولت کی آخری شکل کو ذہن میں لاتے ہیں حالانکہ انسانی رزق کے دائرے میں بہت سی چیزیں آتی ہیں اور رزق کا مکمل نظام بہت ہی گہرا ہے ۔ اس کرۂ ارض پر انسانی زندگی کے قیام کے لئے کم از کم جس چیز کی ضرورت ہے اس کی فراہمی کے لئے یہ کائنات بڑے بڑے اجرام فلکی کو حرکت دے رہی ہے۔ اس کے اندر ایک نہایت گہرا قانون قدرت کام کرتا ہے اور ہزارہا سہولیات اور موافقات فراہم ہوتے ہیں جو باہم ہمقدم ہو کر کام کرتے ہیں۔ تب جا کر انسان کی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے کم سے کم معیار پورا ہوتا ہے۔ اگر ان موافقات میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو اس حضرت انسان کا زندہ رہنا ہی محال ہوجائے اور اس کا وجود ہی نہ ہو۔ اس آیت میں جن اجرام کی حرکت اور خدمت کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ انسان کے رزق کے اسباب فراہم کرتے ہیں ، یہ کافی و شافی ہے اور یہ تمام دست قدرت کے ہیں۔
وسخرلکم الفلک اتجری فی البحر بامرہ (14 : 32) ” اور جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے “۔ کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے عناصر میں یہ خواص رکھے جن کی وجہ سے کشتی پانیوں پر چلتی ہے اور انسان کو ایسے عقلی خواص دئیے جس نے یہ باتیں معلوم کیں۔ یہ سب کام انسان اللہ کے امر سے کرسکتا ہے۔
وسخر لکم الانھر (14 : 32) ” اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا “۔ ان دریاؤں کے بہایا ، ان کے نتیجے میں زندگی کے دریا بہنے لگے اور انسانوں کے لئے خیر کے سوتے پھوٹ پڑے۔ پھر ان دریاؤں میں مچھلیاں اور بھلائی کی دوسری اشیاء ، یہ سب چیزیں اللہ نے انسان کے لئے پیدا کیں۔ پرندے ہیں یا چرندے ہیں ، انسان ان سے استفادہ کرتا ہے۔
وسخر لکم الشمس والقمر دائبین (14 : 33) ” اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں “ ۔ انسان براہ راست شمس و قمر سے استفادہ تو نہیں کرسکتا جس طرح پانی ، فصلوں اور پھلوں سے ، سمندروں اور کشتیوں اور نہروں اور دریاؤں سے براہ راست کرتا ہے لیکن شمس قمر کے آثار انسان کے لئے مفید ہیں۔ ان سے انسان زندگی کا مواد لیتا ہے اور قوت حاصل کرتا ہے کیونکہ ان کو اللہ نے ایسے قانون قدرت کا پابند کردیا ہے کہ یہ مسلسل انسان کے لئے اس کی ضرورت فراہم کرتے رہتے ہیں۔ انسانی زندگی کی ضروریات اور جسم انسانی کے خلیے سورج کی ان شعاعوں سے ترکیب ، تجدید اور تغیر پاتے ہیں۔
وسخرلکم الیل والنھار (14 : 33) ” اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا “۔ ان کو اللہ نے انسانی ضرورت کے مطابق بنایا ، گردش لیل و نہار کا موجودہ نظام اس کرۂ ارض پر حیات انسانی کے لئے اور اس کی سرگرمیوں کے لئے از بس ضروری ہے۔ اگر یہاں ہمیشہ دن ہوتا یا ہمیشہ رات ہوتی تو انسان سرے سے زندہ ہی نہ رہ سکتا۔ زمین کا یہ ماحول اس کے لئے ناسازگار ہوجاتا ، یہ زندگی ، یہ ترقیات اور یہ پیدا وار مشکل بن جاتی۔
اللہ تعالیٰ کے بیشمار انعامات کی تو یہ صرف آؤٹ لائن ہیں۔ ان خطوط کے اندر انعامات الٰہی کے جو نکات ہیں ، اگر ایک ایک نکتے پر بحث کی جائے تو مستقل کتاب بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ ان کو اجمالاً سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک اصولی بات۔
واتکم من کل ما سالتموہ ” جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا “۔ مال ، اولاد ، صحت ، سازو سامان وغیرہ وغیرہ۔
وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (14 : 34) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے “۔ یہ اس قدر زیادہ ہیں کہ انسانوں کی ایک عظیم جماعت بھی انہیں گن نہیں سکتی۔ بلکہ تمام انسان لگ جائیں تو بھی نہیں گن سکتے ۔ اس لیے کہ انسان زمان و مکان کے اندر محدد ہے ، اس کا علم محدود ہے ، اس کے علم کی ابتداء بھی ہے اور انتہا بھی ہے اور زمان و مکان کے درمیان محدودبھی ہے جبکہ اللہ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان کے دائرہ علم و ادراک سے وراء ہیں۔ ان سب حقائق کے بعد بھی ، اے لوگو ، تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو ، اور یہ سب کچھ جانتے ہوئے تم اللہ کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ شکر کے بجائے تم کفر کرتے ہو ، حق ہے :
ان الانسان لظلوم کفار (14 : 34) ” حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بےانصاف اور ناشکرا ہے “۔ جب انسانی ضمیر جاگ اٹھتا ہے اور اپنے اردگرد کائنات کو چشم بینا سے دیکھنے لگتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ یہ پوری کائنات اس کے لئے مسخر کردی گئی ہے ۔ یا تو براہ راست اس کے کنٹرول میں ہے یا اس طرح کہ اللہ کے جاری کردہ ناموس قدرت کی رو سے یہ انسان کے لئے کام کر رہی ہے اور انسان کی ضروریات فراہم کر رہی ہے۔ جب اس طرح انسان اپنے ماحول پر غور کرتا ہے تو وہ اس حقیقت کو پالیتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کی وجہ سے یہ پورا ماحول انسان کا دوست ہے ، انسان کا مددگار ہے ، اور اللہ نے اس کو انسان کے لئے نہایت ہی نرم اور مطیع فرمان بنا دیا ہے۔ پھر انسان کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ وہ سر اٹھا کر ذرا اپنے ماحول پر غوروفکر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو وہ کانپنے لگتا ہے۔ اللہ کا خوف کھاتا ہے۔ سجدہ ریز ہوجاتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور پھر وہ خضوع و خشوع میں اس رب منعم کی طرف دیکھتا ہے۔ اگر وہ کسی مشکل میں ہو تو فراخی کی دعا کرتا ہے اور اگر وہ اللہ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہو تو یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ان نعمتوں کو محفوظ اور جاری رکھ۔
اور انسان ذاکر اور شاکر اور متدبر کا اعلیٰ نمونہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ، جن کے نام سے یہ سورة معنون ہے اور یہی مناسبت ہے کہ اس سورة کے مضامین اور فضا بھی شکر اور ناشکری اور کفران نعمت کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے اعلیٰ کردار میں پیش کیا جاتا ہے جس میں وہ مجسمہ شکر ہیں۔ نہایت خشوع و خضوع کی حالت میں ہیں اور نہایت ہی نرم اور دھیمے زمزمہ میں دست بدعا ہیں۔ آپ کی دعاؤں اور شکر کا یہ زمزہ آسمان کی طرف نہایت ہی نرم اور باادب موجوں کی شکل میں بلند ہوتا ہے اور دور تک اس کی گونج آسمانوں میں غائب ہوجاتی ہے۔
إبراهيم 14:35
آیت نمبر 35 تا 41
اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔
رب اجعل ھذا البلد امنا (14 : 35) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔
واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( 14 : 35) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔
رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14 : 36) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ جو شخص میرے طریقے کو اپنائے گا وہی میرا ہوگا ، وہ میری طرف نسبت کرسکے گا ، اور قیامت میں میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ ایمان اور نظریہ کا رفیق ہوگا۔
فمن تبعنی فانہ منی (14 : 36) ” لہٰذا ان میں سے جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے “۔ اور جو میرے طریقے کو چھوڑ دے تو اس کا انجام میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔
ومن عصانی فانک غفور رحیم (14 : 36) “ اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو ، تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ” ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر مہربان ، رحیم اور بردباد اور صبر کرنے والے تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں کی ہلاکت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقوں کو نہیں اپناتے اور ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، آپ ان کے لئے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے بلکہ عذاب کا تذکرہ ہی نہیں کرتے۔ آپ ان لوگوں کو جو حضرت کے طریقوں سے ہٹ جاتے ہیں ، اللہ کے رحم و کرم کے سپرد کرتے ہیں ، عفو و درگزر کے حوالے کرتے ہیں۔ چناچہ اس فضا پر رحمت اور مغفرت کے سائے پھیل جاتے ہیں اور رحمت و شفقت اور معرفت کے ان سایوں کے نتیجے میں معصیت کی فضا دب جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) معصیت کی فضا کو کھولتے نہیں ، پس منظر میں لے جاتے ہیں۔
اب اس سے آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سامنے یہ درخواست پیش فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ میں نے اپنی اولاد میں سے بعض لوگوں کو اس بنجر وادی میں مستقلاً آباد کردیا ہے۔ جو بیت اللہ کے قریب ہونے کے سوا بنجر اور پسماندہ ہے اور یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہاں بسانے کا مقصد کیا ہے۔
ربنا انی اسکنت۔۔۔۔۔ بیتک المحرم (14 : 37) “ اے میرے رب ، میں نے اس بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے ساتھ لا بسایا ہے ”۔ یہ کیوں ؟
ربنا لیقیموا الصلوٰۃ (14 : 37) “ پروردگار ، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ”۔ فقط اقامت صلوٰہ مقصد ہے اور صرف اس مقصد کے لئے اس بنجر اور خشک وادی میں ان کو بسایا ہے۔
فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم (14 : 37) “ لہٰذا لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا ”۔ دعا میں کس قدر رقت ہے اور فضا میں کس قدر سرور ہے ، دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور مشتاقان دید اڑ اڑ کر اس شہر پر گرتے نظر آتے ہیں۔ اس وادی غیر ذی زرع اور خشک و بنجر کی طرف عاشقوں کے قافلے رواں دواں ہیں۔ غرض اس دعا کے اندر اس قدر ترو تازگی ہے اور دعا کے اندر اس قدر رقت ہے کہ قریب ہے کہ پوری کائنات کے آنسو اس وادی کو تر کردیں۔
وارزقھم من الثمرات (14 : 37) “ اور انہیں کھانے کو پھل دے ”۔ اور یہ پھل ان کو ان لوگوں کے ذریعہ ملیں جو ہر طرف سے اس گھر اور ان لوگوں پر پروانوں کی طرح آکر گریں۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے کریں ، اور اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جیسے شکر گزار ہونے کی خواہش ظاہر ہے کہ یہی ہے۔
لعلھم یشکرون ( 14 : 37) “ شاید یہ شکر گزار بنیں ”۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو بیت اللہ کے پڑوس میں آباد کرتے ہیں اور سیاق کلام سے اس کا مقصد یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں رہ کر نمازوں کو قائم کریں جس طرح نماز کو قائم کرنے کا طریقہ ہوتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس خواہش کے پیچھے صرف یہ جذبہ ہے کہ لوگ اللہ کے شکر گزارہوں۔ لوگوں کے دل بیت اللہ اور اہل بیت اللہ کی طرف کھچ آئیں ، پھر لوگوں کے اس اجتماع سے ان کے لئے پھلوں اور غلوں کی شکل میں خوراک فراہم ہو اور اس کے جواب میں یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں۔
اس دعا کی روشنی میں قرآن کریم اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قریش جس مقصد کے لئے بیت اللہ کے قریب بسائے گئے تھے انہوں نے وہ مقصد ترک کردیا ہے۔ نہ وہ اللہ کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور نہ اللہ کے ان انعامات پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوچکی ہے ۔ بیت اللہ پر لوگوں کا اجتماع جاری ہے اور پھل اور فروٹ ہر طرف سے ان کے لئے وافر مقدار میں آرہے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس دعا پر ، کہ اس نے اپنی اولاد کو یہاں بسایا ہے اور ان کو پھل اور دوسری ضروریات فراہم ہوں ، تا کہ وہ نماز قائم کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں ، اب خود تبصرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تو سب لوگوں کے دلوں کی خواہشات کو جانتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں۔ اگر کوئی خدا کے خوف سے نماز پڑھتا ہے اور شکر کرتا ہے تو اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی طرف توجہ میں مظاہر کی اہمیت نہیں ہے ، جس طرح یہ لوگ بیت اللہ میں تالیاں بجاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ عبادت اور دعا تو اصل وہ ہوتی ہے جس میں کسی کا قلب و ضمیر اللہ کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ اللہ سے کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان میں ظاہر و خفیہ ہر چیز کو جانتا ہے۔
ربنا انک تعلم ۔۔۔۔۔۔ فی السماء (14 : 37) “ پروردگار ، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ”۔ اور واقعی اللہ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین مین نہ آسمانوں میں ”۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سابقہ مہربانیوں کو یاد کر کے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور حمد کرتے ہیں۔
الحمد للہ الذی ۔۔۔۔۔ لسمیع الدعاء (14 : 39) “ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھ اپنے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے دئیے ، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے ”۔ اگر کسی کو بڑھاپے میں اولاد دے دی جائے جبکہ اس سے قبل اس کی اولاد نہ ہو تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کیونکہ اولاد دراصل انسانی زندگی کا تسلسل ہے۔ اگر انسان کی زندگی قریب الاختتام ہو اور اسے غیر متوقع طور پر اولاد مل جائے تو یہ نہایت ہی اطمینان کی بات ہوتی ہے کیونکہ انسانی نفس ہمیشہ یہ ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم حمد باری کرتے ہیں اور اللہ کی مزید رحمت کے امیداوار ہیں۔
اب اس شکر اور حمد کے بعد یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے شکر ادا کرنے اور حمد باری تعالیٰ پر مداومت عطا فرما ، کہ میں تیری عبادت کرتا رہوں ، اطاعت کرتا رہوں۔ یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اس عزم کو اظہار کرتے ہیں کہ وہ شکر کرتے رہیں گے ، عبادت الٰہی کرتے رہیں گے اور یہ دعا اس ڈر سے کر رہے ہیں کہ کہیں اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے ، کوئی امر ان کو اس سے موڑ نہ دے۔ چناچہ اپنے اس عزم کو بھی اب اللہ کی امداد سے جاری رکھنے کی دعا کرتے ہیں۔
رب اجعلنی۔۔۔۔۔ وتقبل دعاء ( 14 : 40) “ اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں ) ۔ پروردگار ، میر دعا قبول کر ”۔ ایک بار پھر ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اہل قریش کے موقف میں مکمل تضاد نظر آتا ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ سے اس بات کے لئے مدد طلب کرتے ہیں کہ مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے اور اس کام میں مجھے اور میری اولاد کو توفیق دے مگر اس کی اولاد ہے کہ وہ نماز سے اعراض کر رہی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہی سے جو رسول ان کے پاس آیا اور جو انہیں نصیحت کرتا ہے ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات یاد دلاتا ہے یہ لوگ اس کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ، حالانکہ یہ خود ان میں سے ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس خضوع وخشوع اور عاجزی سے بھری ہوئی دعا کو اپنے لیے اور اپنے والدین کے لئے اور تمام مومنین کے لئے طلب مغفرت پر ختم فرماتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں حساب کے دن بخش دیجئے۔ کیونکہ حساب کے دن تو ہر شخص کو صرف عمل ہی فائدہ دے گا یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت ہی اس کا کام کرے گی۔
ربنا اغفرلی ۔۔۔۔۔۔۔ یقوم الحساب (14 : 41) “ پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا ”۔ خشوع و خضوع سے بھر پور اس دعا کا منظر یہاں ختم ہوتا ہے جس میں اللہ کی بےبہا نعمتوں اور ان پر شکر کے مناظر دکھائے گئے ، جس میں گفتگو کا ٹون نہایت ہی دھیمی موسیقی کا تھا ، جس طرح ہلکی ہوا میں سطح آب پر ہلکی سی موجیں اٹھتی ہیں۔ اس منظر سے پورے ماحول پر ایک الوداعی اور لطیف جذباتی فضا طاری ہوجاتی ہے۔ انسانی دل اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کے انعامات کو یاد کرتے ہیں اور یہ منظر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک بندۂ ذاکر وشاکر کے طور پر تصور کرتا ہے ، جس طرح اس دعا سے پہلے تمام بندگان خدا کو قرآن نے دعوت دی تھی کہ وہ اللہ کے بندگان ذاکر و شاکر بن جائیں۔
یہاں قارئین یہ بات نوٹ کرنا بھول نہ جائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پر سوز دعا میں “ ربنا ” اور “ رب ” اور “ ربی ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنے لیے اور آپ کے بعد اپنی اولاد کے لئے اللہ کی صفت ربوبیت کو جان بوجھ کر استعمال کیا ہے اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ آپ یہاں اللہ کی صفت الوہیت کو نہیں لاتے بلکہ صفت ربوبیت کو ۔۔۔۔ لاتے ہیں اس لیے کہ تمام جاہلیتوں خصوصاً عربی جاہلیت میں اللہ کی الوہیت مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ جس چیز میں ہمیشہ اختلاف واقع ہوتا ہے وہ اللہ کی صفت ربوبیت ہے۔ یعنی رب وہ ہوتا ہے جس کا تجویز کردہ نظام ، دین اور شریعت اس زمین پر چلتا ہے۔ اور یہی اصل عملی مسئلہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسلام اور جاہلیت میں تمیز ہوتی ہے ، توحید شرک سے جدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ یا تو اللہ کے دین میں ہوں گے تو اللہ ان کا رب ہوگا یا وہ غیر اللہ کے نظام میں ہوں گے پھر یہ غیر اللہ ان کا رب ہوگا۔ اسلام اور جاہلیت اور توحید اور شرک میں یہی فرق ہے جو عملی زندگی میں اسلام کو جاہلیت اور توحید کو شرک سے جدا کرتا ہے۔ قرآن کریم یہاں قریش پر ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ربوبیت کے مسئلے کو اس لیے پیش کرتا ہے اور ربوبیت پر اسی لیے زور دیتا ہے کہ وہ عربوں اور قریش پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنے جد امجد کی وصیت اور دعاؤں کے خلاف جا رہے ہو۔
سیاق کلام میں اس حصے کا آغاز ان آیات پر کیا گیا تھا۔
الم تر الی ۔۔۔۔۔۔ دار البوار (14 : 28) “ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا ”۔ یہ لوگ بدستور اپنی اس ظالمانہ چال پر قائم رہے ، لیکن ان پر عذاب الٰہی بھی نہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان سے یہ کہیں :
قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار ( 14 : 30) “ کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کار تمہیں پلٹ کر دوزخ ہی میں جانا ہے ”۔ اور حضور اکرم ﷺ کو مزید حکم دیا گیا تھا کہ آپ اپنی دعوت کا رخ اہل ایمان کی طرف پھیر دیں ، انہیں نماز اور کھلے طور پر اور خفیہ طور پر انفاق پر آمادہ کریں۔
من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) “ قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی ” اب اس حصے کی تکمیل اس پر ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے اس انجام تک کب پہنچیں گے اور یہ بات قیامت کے مناظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔ جو پے درپے آتے ہیں۔ جن میں مارے خوف کے انسانی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں اور دل تھر تھر کانپتے ہیں۔
إبراهيم 14:36
آیت نمبر 35 تا 41
اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔
رب اجعل ھذا البلد امنا (14 : 35) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔
واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( 14 : 35) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔
رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14 : 36) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ جو شخص میرے طریقے کو اپنائے گا وہی میرا ہوگا ، وہ میری طرف نسبت کرسکے گا ، اور قیامت میں میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ ایمان اور نظریہ کا رفیق ہوگا۔
فمن تبعنی فانہ منی (14 : 36) ” لہٰذا ان میں سے جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے “۔ اور جو میرے طریقے کو چھوڑ دے تو اس کا انجام میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔
ومن عصانی فانک غفور رحیم (14 : 36) “ اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو ، تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ” ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر مہربان ، رحیم اور بردباد اور صبر کرنے والے تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں کی ہلاکت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقوں کو نہیں اپناتے اور ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، آپ ان کے لئے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے بلکہ عذاب کا تذکرہ ہی نہیں کرتے۔ آپ ان لوگوں کو جو حضرت کے طریقوں سے ہٹ جاتے ہیں ، اللہ کے رحم و کرم کے سپرد کرتے ہیں ، عفو و درگزر کے حوالے کرتے ہیں۔ چناچہ اس فضا پر رحمت اور مغفرت کے سائے پھیل جاتے ہیں اور رحمت و شفقت اور معرفت کے ان سایوں کے نتیجے میں معصیت کی فضا دب جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) معصیت کی فضا کو کھولتے نہیں ، پس منظر میں لے جاتے ہیں۔
اب اس سے آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سامنے یہ درخواست پیش فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ میں نے اپنی اولاد میں سے بعض لوگوں کو اس بنجر وادی میں مستقلاً آباد کردیا ہے۔ جو بیت اللہ کے قریب ہونے کے سوا بنجر اور پسماندہ ہے اور یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہاں بسانے کا مقصد کیا ہے۔
ربنا انی اسکنت۔۔۔۔۔ بیتک المحرم (14 : 37) “ اے میرے رب ، میں نے اس بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے ساتھ لا بسایا ہے ”۔ یہ کیوں ؟
ربنا لیقیموا الصلوٰۃ (14 : 37) “ پروردگار ، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ”۔ فقط اقامت صلوٰہ مقصد ہے اور صرف اس مقصد کے لئے اس بنجر اور خشک وادی میں ان کو بسایا ہے۔
فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم (14 : 37) “ لہٰذا لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا ”۔ دعا میں کس قدر رقت ہے اور فضا میں کس قدر سرور ہے ، دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور مشتاقان دید اڑ اڑ کر اس شہر پر گرتے نظر آتے ہیں۔ اس وادی غیر ذی زرع اور خشک و بنجر کی طرف عاشقوں کے قافلے رواں دواں ہیں۔ غرض اس دعا کے اندر اس قدر ترو تازگی ہے اور دعا کے اندر اس قدر رقت ہے کہ قریب ہے کہ پوری کائنات کے آنسو اس وادی کو تر کردیں۔
وارزقھم من الثمرات (14 : 37) “ اور انہیں کھانے کو پھل دے ”۔ اور یہ پھل ان کو ان لوگوں کے ذریعہ ملیں جو ہر طرف سے اس گھر اور ان لوگوں پر پروانوں کی طرح آکر گریں۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے کریں ، اور اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جیسے شکر گزار ہونے کی خواہش ظاہر ہے کہ یہی ہے۔
لعلھم یشکرون ( 14 : 37) “ شاید یہ شکر گزار بنیں ”۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو بیت اللہ کے پڑوس میں آباد کرتے ہیں اور سیاق کلام سے اس کا مقصد یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں رہ کر نمازوں کو قائم کریں جس طرح نماز کو قائم کرنے کا طریقہ ہوتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس خواہش کے پیچھے صرف یہ جذبہ ہے کہ لوگ اللہ کے شکر گزارہوں۔ لوگوں کے دل بیت اللہ اور اہل بیت اللہ کی طرف کھچ آئیں ، پھر لوگوں کے اس اجتماع سے ان کے لئے پھلوں اور غلوں کی شکل میں خوراک فراہم ہو اور اس کے جواب میں یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں۔
اس دعا کی روشنی میں قرآن کریم اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قریش جس مقصد کے لئے بیت اللہ کے قریب بسائے گئے تھے انہوں نے وہ مقصد ترک کردیا ہے۔ نہ وہ اللہ کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور نہ اللہ کے ان انعامات پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوچکی ہے ۔ بیت اللہ پر لوگوں کا اجتماع جاری ہے اور پھل اور فروٹ ہر طرف سے ان کے لئے وافر مقدار میں آرہے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس دعا پر ، کہ اس نے اپنی اولاد کو یہاں بسایا ہے اور ان کو پھل اور دوسری ضروریات فراہم ہوں ، تا کہ وہ نماز قائم کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں ، اب خود تبصرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تو سب لوگوں کے دلوں کی خواہشات کو جانتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں۔ اگر کوئی خدا کے خوف سے نماز پڑھتا ہے اور شکر کرتا ہے تو اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی طرف توجہ میں مظاہر کی اہمیت نہیں ہے ، جس طرح یہ لوگ بیت اللہ میں تالیاں بجاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ عبادت اور دعا تو اصل وہ ہوتی ہے جس میں کسی کا قلب و ضمیر اللہ کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ اللہ سے کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان میں ظاہر و خفیہ ہر چیز کو جانتا ہے۔
ربنا انک تعلم ۔۔۔۔۔۔ فی السماء (14 : 37) “ پروردگار ، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ”۔ اور واقعی اللہ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین مین نہ آسمانوں میں ”۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سابقہ مہربانیوں کو یاد کر کے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور حمد کرتے ہیں۔
الحمد للہ الذی ۔۔۔۔۔ لسمیع الدعاء (14 : 39) “ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھ اپنے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے دئیے ، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے ”۔ اگر کسی کو بڑھاپے میں اولاد دے دی جائے جبکہ اس سے قبل اس کی اولاد نہ ہو تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کیونکہ اولاد دراصل انسانی زندگی کا تسلسل ہے۔ اگر انسان کی زندگی قریب الاختتام ہو اور اسے غیر متوقع طور پر اولاد مل جائے تو یہ نہایت ہی اطمینان کی بات ہوتی ہے کیونکہ انسانی نفس ہمیشہ یہ ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم حمد باری کرتے ہیں اور اللہ کی مزید رحمت کے امیداوار ہیں۔
اب اس شکر اور حمد کے بعد یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے شکر ادا کرنے اور حمد باری تعالیٰ پر مداومت عطا فرما ، کہ میں تیری عبادت کرتا رہوں ، اطاعت کرتا رہوں۔ یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اس عزم کو اظہار کرتے ہیں کہ وہ شکر کرتے رہیں گے ، عبادت الٰہی کرتے رہیں گے اور یہ دعا اس ڈر سے کر رہے ہیں کہ کہیں اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے ، کوئی امر ان کو اس سے موڑ نہ دے۔ چناچہ اپنے اس عزم کو بھی اب اللہ کی امداد سے جاری رکھنے کی دعا کرتے ہیں۔
رب اجعلنی۔۔۔۔۔ وتقبل دعاء ( 14 : 40) “ اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں ) ۔ پروردگار ، میر دعا قبول کر ”۔ ایک بار پھر ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اہل قریش کے موقف میں مکمل تضاد نظر آتا ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ سے اس بات کے لئے مدد طلب کرتے ہیں کہ مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے اور اس کام میں مجھے اور میری اولاد کو توفیق دے مگر اس کی اولاد ہے کہ وہ نماز سے اعراض کر رہی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہی سے جو رسول ان کے پاس آیا اور جو انہیں نصیحت کرتا ہے ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات یاد دلاتا ہے یہ لوگ اس کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ، حالانکہ یہ خود ان میں سے ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس خضوع وخشوع اور عاجزی سے بھری ہوئی دعا کو اپنے لیے اور اپنے والدین کے لئے اور تمام مومنین کے لئے طلب مغفرت پر ختم فرماتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں حساب کے دن بخش دیجئے۔ کیونکہ حساب کے دن تو ہر شخص کو صرف عمل ہی فائدہ دے گا یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت ہی اس کا کام کرے گی۔
ربنا اغفرلی ۔۔۔۔۔۔۔ یقوم الحساب (14 : 41) “ پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا ”۔ خشوع و خضوع سے بھر پور اس دعا کا منظر یہاں ختم ہوتا ہے جس میں اللہ کی بےبہا نعمتوں اور ان پر شکر کے مناظر دکھائے گئے ، جس میں گفتگو کا ٹون نہایت ہی دھیمی موسیقی کا تھا ، جس طرح ہلکی ہوا میں سطح آب پر ہلکی سی موجیں اٹھتی ہیں۔ اس منظر سے پورے ماحول پر ایک الوداعی اور لطیف جذباتی فضا طاری ہوجاتی ہے۔ انسانی دل اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کے انعامات کو یاد کرتے ہیں اور یہ منظر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک بندۂ ذاکر وشاکر کے طور پر تصور کرتا ہے ، جس طرح اس دعا سے پہلے تمام بندگان خدا کو قرآن نے دعوت دی تھی کہ وہ اللہ کے بندگان ذاکر و شاکر بن جائیں۔
یہاں قارئین یہ بات نوٹ کرنا بھول نہ جائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پر سوز دعا میں “ ربنا ” اور “ رب ” اور “ ربی ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنے لیے اور آپ کے بعد اپنی اولاد کے لئے اللہ کی صفت ربوبیت کو جان بوجھ کر استعمال کیا ہے اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ آپ یہاں اللہ کی صفت الوہیت کو نہیں لاتے بلکہ صفت ربوبیت کو ۔۔۔۔ لاتے ہیں اس لیے کہ تمام جاہلیتوں خصوصاً عربی جاہلیت میں اللہ کی الوہیت مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ جس چیز میں ہمیشہ اختلاف واقع ہوتا ہے وہ اللہ کی صفت ربوبیت ہے۔ یعنی رب وہ ہوتا ہے جس کا تجویز کردہ نظام ، دین اور شریعت اس زمین پر چلتا ہے۔ اور یہی اصل عملی مسئلہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسلام اور جاہلیت میں تمیز ہوتی ہے ، توحید شرک سے جدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ یا تو اللہ کے دین میں ہوں گے تو اللہ ان کا رب ہوگا یا وہ غیر اللہ کے نظام میں ہوں گے پھر یہ غیر اللہ ان کا رب ہوگا۔ اسلام اور جاہلیت اور توحید اور شرک میں یہی فرق ہے جو عملی زندگی میں اسلام کو جاہلیت اور توحید کو شرک سے جدا کرتا ہے۔ قرآن کریم یہاں قریش پر ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ربوبیت کے مسئلے کو اس لیے پیش کرتا ہے اور ربوبیت پر اسی لیے زور دیتا ہے کہ وہ عربوں اور قریش پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنے جد امجد کی وصیت اور دعاؤں کے خلاف جا رہے ہو۔
سیاق کلام میں اس حصے کا آغاز ان آیات پر کیا گیا تھا۔
الم تر الی ۔۔۔۔۔۔ دار البوار (14 : 28) “ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا ”۔ یہ لوگ بدستور اپنی اس ظالمانہ چال پر قائم رہے ، لیکن ان پر عذاب الٰہی بھی نہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان سے یہ کہیں :
قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار ( 14 : 30) “ کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کار تمہیں پلٹ کر دوزخ ہی میں جانا ہے ”۔ اور حضور اکرم ﷺ کو مزید حکم دیا گیا تھا کہ آپ اپنی دعوت کا رخ اہل ایمان کی طرف پھیر دیں ، انہیں نماز اور کھلے طور پر اور خفیہ طور پر انفاق پر آمادہ کریں۔
من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) “ قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی ” اب اس حصے کی تکمیل اس پر ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے اس انجام تک کب پہنچیں گے اور یہ بات قیامت کے مناظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔ جو پے درپے آتے ہیں۔ جن میں مارے خوف کے انسانی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں اور دل تھر تھر کانپتے ہیں۔
إبراهيم 14:37
آیت نمبر 35 تا 41
اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔
رب اجعل ھذا البلد امنا (14 : 35) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔
واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( 14 : 35) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔
رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14 : 36) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ جو شخص میرے طریقے کو اپنائے گا وہی میرا ہوگا ، وہ میری طرف نسبت کرسکے گا ، اور قیامت میں میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ ایمان اور نظریہ کا رفیق ہوگا۔
فمن تبعنی فانہ منی (14 : 36) ” لہٰذا ان میں سے جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے “۔ اور جو میرے طریقے کو چھوڑ دے تو اس کا انجام میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔
ومن عصانی فانک غفور رحیم (14 : 36) “ اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو ، تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ” ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر مہربان ، رحیم اور بردباد اور صبر کرنے والے تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں کی ہلاکت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقوں کو نہیں اپناتے اور ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، آپ ان کے لئے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے بلکہ عذاب کا تذکرہ ہی نہیں کرتے۔ آپ ان لوگوں کو جو حضرت کے طریقوں سے ہٹ جاتے ہیں ، اللہ کے رحم و کرم کے سپرد کرتے ہیں ، عفو و درگزر کے حوالے کرتے ہیں۔ چناچہ اس فضا پر رحمت اور مغفرت کے سائے پھیل جاتے ہیں اور رحمت و شفقت اور معرفت کے ان سایوں کے نتیجے میں معصیت کی فضا دب جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) معصیت کی فضا کو کھولتے نہیں ، پس منظر میں لے جاتے ہیں۔
اب اس سے آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سامنے یہ درخواست پیش فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ میں نے اپنی اولاد میں سے بعض لوگوں کو اس بنجر وادی میں مستقلاً آباد کردیا ہے۔ جو بیت اللہ کے قریب ہونے کے سوا بنجر اور پسماندہ ہے اور یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہاں بسانے کا مقصد کیا ہے۔
ربنا انی اسکنت۔۔۔۔۔ بیتک المحرم (14 : 37) “ اے میرے رب ، میں نے اس بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے ساتھ لا بسایا ہے ”۔ یہ کیوں ؟
ربنا لیقیموا الصلوٰۃ (14 : 37) “ پروردگار ، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ”۔ فقط اقامت صلوٰہ مقصد ہے اور صرف اس مقصد کے لئے اس بنجر اور خشک وادی میں ان کو بسایا ہے۔
فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم (14 : 37) “ لہٰذا لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا ”۔ دعا میں کس قدر رقت ہے اور فضا میں کس قدر سرور ہے ، دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور مشتاقان دید اڑ اڑ کر اس شہر پر گرتے نظر آتے ہیں۔ اس وادی غیر ذی زرع اور خشک و بنجر کی طرف عاشقوں کے قافلے رواں دواں ہیں۔ غرض اس دعا کے اندر اس قدر ترو تازگی ہے اور دعا کے اندر اس قدر رقت ہے کہ قریب ہے کہ پوری کائنات کے آنسو اس وادی کو تر کردیں۔
وارزقھم من الثمرات (14 : 37) “ اور انہیں کھانے کو پھل دے ”۔ اور یہ پھل ان کو ان لوگوں کے ذریعہ ملیں جو ہر طرف سے اس گھر اور ان لوگوں پر پروانوں کی طرح آکر گریں۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے کریں ، اور اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جیسے شکر گزار ہونے کی خواہش ظاہر ہے کہ یہی ہے۔
لعلھم یشکرون ( 14 : 37) “ شاید یہ شکر گزار بنیں ”۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو بیت اللہ کے پڑوس میں آباد کرتے ہیں اور سیاق کلام سے اس کا مقصد یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں رہ کر نمازوں کو قائم کریں جس طرح نماز کو قائم کرنے کا طریقہ ہوتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس خواہش کے پیچھے صرف یہ جذبہ ہے کہ لوگ اللہ کے شکر گزارہوں۔ لوگوں کے دل بیت اللہ اور اہل بیت اللہ کی طرف کھچ آئیں ، پھر لوگوں کے اس اجتماع سے ان کے لئے پھلوں اور غلوں کی شکل میں خوراک فراہم ہو اور اس کے جواب میں یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں۔
اس دعا کی روشنی میں قرآن کریم اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قریش جس مقصد کے لئے بیت اللہ کے قریب بسائے گئے تھے انہوں نے وہ مقصد ترک کردیا ہے۔ نہ وہ اللہ کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور نہ اللہ کے ان انعامات پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوچکی ہے ۔ بیت اللہ پر لوگوں کا اجتماع جاری ہے اور پھل اور فروٹ ہر طرف سے ان کے لئے وافر مقدار میں آرہے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس دعا پر ، کہ اس نے اپنی اولاد کو یہاں بسایا ہے اور ان کو پھل اور دوسری ضروریات فراہم ہوں ، تا کہ وہ نماز قائم کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں ، اب خود تبصرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تو سب لوگوں کے دلوں کی خواہشات کو جانتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں۔ اگر کوئی خدا کے خوف سے نماز پڑھتا ہے اور شکر کرتا ہے تو اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی طرف توجہ میں مظاہر کی اہمیت نہیں ہے ، جس طرح یہ لوگ بیت اللہ میں تالیاں بجاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ عبادت اور دعا تو اصل وہ ہوتی ہے جس میں کسی کا قلب و ضمیر اللہ کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ اللہ سے کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان میں ظاہر و خفیہ ہر چیز کو جانتا ہے۔
ربنا انک تعلم ۔۔۔۔۔۔ فی السماء (14 : 37) “ پروردگار ، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ”۔ اور واقعی اللہ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین مین نہ آسمانوں میں ”۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سابقہ مہربانیوں کو یاد کر کے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور حمد کرتے ہیں۔
الحمد للہ الذی ۔۔۔۔۔ لسمیع الدعاء (14 : 39) “ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھ اپنے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے دئیے ، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے ”۔ اگر کسی کو بڑھاپے میں اولاد دے دی جائے جبکہ اس سے قبل اس کی اولاد نہ ہو تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کیونکہ اولاد دراصل انسانی زندگی کا تسلسل ہے۔ اگر انسان کی زندگی قریب الاختتام ہو اور اسے غیر متوقع طور پر اولاد مل جائے تو یہ نہایت ہی اطمینان کی بات ہوتی ہے کیونکہ انسانی نفس ہمیشہ یہ ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم حمد باری کرتے ہیں اور اللہ کی مزید رحمت کے امیداوار ہیں۔
اب اس شکر اور حمد کے بعد یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے شکر ادا کرنے اور حمد باری تعالیٰ پر مداومت عطا فرما ، کہ میں تیری عبادت کرتا رہوں ، اطاعت کرتا رہوں۔ یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اس عزم کو اظہار کرتے ہیں کہ وہ شکر کرتے رہیں گے ، عبادت الٰہی کرتے رہیں گے اور یہ دعا اس ڈر سے کر رہے ہیں کہ کہیں اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے ، کوئی امر ان کو اس سے موڑ نہ دے۔ چناچہ اپنے اس عزم کو بھی اب اللہ کی امداد سے جاری رکھنے کی دعا کرتے ہیں۔
رب اجعلنی۔۔۔۔۔ وتقبل دعاء ( 14 : 40) “ اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں ) ۔ پروردگار ، میر دعا قبول کر ”۔ ایک بار پھر ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اہل قریش کے موقف میں مکمل تضاد نظر آتا ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ سے اس بات کے لئے مدد طلب کرتے ہیں کہ مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے اور اس کام میں مجھے اور میری اولاد کو توفیق دے مگر اس کی اولاد ہے کہ وہ نماز سے اعراض کر رہی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہی سے جو رسول ان کے پاس آیا اور جو انہیں نصیحت کرتا ہے ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات یاد دلاتا ہے یہ لوگ اس کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ، حالانکہ یہ خود ان میں سے ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس خضوع وخشوع اور عاجزی سے بھری ہوئی دعا کو اپنے لیے اور اپنے والدین کے لئے اور تمام مومنین کے لئے طلب مغفرت پر ختم فرماتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں حساب کے دن بخش دیجئے۔ کیونکہ حساب کے دن تو ہر شخص کو صرف عمل ہی فائدہ دے گا یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت ہی اس کا کام کرے گی۔
ربنا اغفرلی ۔۔۔۔۔۔۔ یقوم الحساب (14 : 41) “ پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا ”۔ خشوع و خضوع سے بھر پور اس دعا کا منظر یہاں ختم ہوتا ہے جس میں اللہ کی بےبہا نعمتوں اور ان پر شکر کے مناظر دکھائے گئے ، جس میں گفتگو کا ٹون نہایت ہی دھیمی موسیقی کا تھا ، جس طرح ہلکی ہوا میں سطح آب پر ہلکی سی موجیں اٹھتی ہیں۔ اس منظر سے پورے ماحول پر ایک الوداعی اور لطیف جذباتی فضا طاری ہوجاتی ہے۔ انسانی دل اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کے انعامات کو یاد کرتے ہیں اور یہ منظر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک بندۂ ذاکر وشاکر کے طور پر تصور کرتا ہے ، جس طرح اس دعا سے پہلے تمام بندگان خدا کو قرآن نے دعوت دی تھی کہ وہ اللہ کے بندگان ذاکر و شاکر بن جائیں۔
یہاں قارئین یہ بات نوٹ کرنا بھول نہ جائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پر سوز دعا میں “ ربنا ” اور “ رب ” اور “ ربی ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنے لیے اور آپ کے بعد اپنی اولاد کے لئے اللہ کی صفت ربوبیت کو جان بوجھ کر استعمال کیا ہے اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ آپ یہاں اللہ کی صفت الوہیت کو نہیں لاتے بلکہ صفت ربوبیت کو ۔۔۔۔ لاتے ہیں اس لیے کہ تمام جاہلیتوں خصوصاً عربی جاہلیت میں اللہ کی الوہیت مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ جس چیز میں ہمیشہ اختلاف واقع ہوتا ہے وہ اللہ کی صفت ربوبیت ہے۔ یعنی رب وہ ہوتا ہے جس کا تجویز کردہ نظام ، دین اور شریعت اس زمین پر چلتا ہے۔ اور یہی اصل عملی مسئلہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسلام اور جاہلیت میں تمیز ہوتی ہے ، توحید شرک سے جدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ یا تو اللہ کے دین میں ہوں گے تو اللہ ان کا رب ہوگا یا وہ غیر اللہ کے نظام میں ہوں گے پھر یہ غیر اللہ ان کا رب ہوگا۔ اسلام اور جاہلیت اور توحید اور شرک میں یہی فرق ہے جو عملی زندگی میں اسلام کو جاہلیت اور توحید کو شرک سے جدا کرتا ہے۔ قرآن کریم یہاں قریش پر ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ربوبیت کے مسئلے کو اس لیے پیش کرتا ہے اور ربوبیت پر اسی لیے زور دیتا ہے کہ وہ عربوں اور قریش پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنے جد امجد کی وصیت اور دعاؤں کے خلاف جا رہے ہو۔
سیاق کلام میں اس حصے کا آغاز ان آیات پر کیا گیا تھا۔
الم تر الی ۔۔۔۔۔۔ دار البوار (14 : 28) “ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا ”۔ یہ لوگ بدستور اپنی اس ظالمانہ چال پر قائم رہے ، لیکن ان پر عذاب الٰہی بھی نہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان سے یہ کہیں :
قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار ( 14 : 30) “ کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کار تمہیں پلٹ کر دوزخ ہی میں جانا ہے ”۔ اور حضور اکرم ﷺ کو مزید حکم دیا گیا تھا کہ آپ اپنی دعوت کا رخ اہل ایمان کی طرف پھیر دیں ، انہیں نماز اور کھلے طور پر اور خفیہ طور پر انفاق پر آمادہ کریں۔
من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) “ قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی ” اب اس حصے کی تکمیل اس پر ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے اس انجام تک کب پہنچیں گے اور یہ بات قیامت کے مناظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔ جو پے درپے آتے ہیں۔ جن میں مارے خوف کے انسانی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں اور دل تھر تھر کانپتے ہیں۔
إبراهيم 14:38
آیت نمبر 35 تا 41
اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔
رب اجعل ھذا البلد امنا (14 : 35) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔
واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( 14 : 35) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔
رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14 : 36) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ جو شخص میرے طریقے کو اپنائے گا وہی میرا ہوگا ، وہ میری طرف نسبت کرسکے گا ، اور قیامت میں میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ ایمان اور نظریہ کا رفیق ہوگا۔
فمن تبعنی فانہ منی (14 : 36) ” لہٰذا ان میں سے جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے “۔ اور جو میرے طریقے کو چھوڑ دے تو اس کا انجام میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔
ومن عصانی فانک غفور رحیم (14 : 36) “ اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو ، تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ” ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر مہربان ، رحیم اور بردباد اور صبر کرنے والے تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں کی ہلاکت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقوں کو نہیں اپناتے اور ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، آپ ان کے لئے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے بلکہ عذاب کا تذکرہ ہی نہیں کرتے۔ آپ ان لوگوں کو جو حضرت کے طریقوں سے ہٹ جاتے ہیں ، اللہ کے رحم و کرم کے سپرد کرتے ہیں ، عفو و درگزر کے حوالے کرتے ہیں۔ چناچہ اس فضا پر رحمت اور مغفرت کے سائے پھیل جاتے ہیں اور رحمت و شفقت اور معرفت کے ان سایوں کے نتیجے میں معصیت کی فضا دب جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) معصیت کی فضا کو کھولتے نہیں ، پس منظر میں لے جاتے ہیں۔
اب اس سے آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سامنے یہ درخواست پیش فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ میں نے اپنی اولاد میں سے بعض لوگوں کو اس بنجر وادی میں مستقلاً آباد کردیا ہے۔ جو بیت اللہ کے قریب ہونے کے سوا بنجر اور پسماندہ ہے اور یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہاں بسانے کا مقصد کیا ہے۔
ربنا انی اسکنت۔۔۔۔۔ بیتک المحرم (14 : 37) “ اے میرے رب ، میں نے اس بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے ساتھ لا بسایا ہے ”۔ یہ کیوں ؟
ربنا لیقیموا الصلوٰۃ (14 : 37) “ پروردگار ، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ”۔ فقط اقامت صلوٰہ مقصد ہے اور صرف اس مقصد کے لئے اس بنجر اور خشک وادی میں ان کو بسایا ہے۔
فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم (14 : 37) “ لہٰذا لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا ”۔ دعا میں کس قدر رقت ہے اور فضا میں کس قدر سرور ہے ، دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور مشتاقان دید اڑ اڑ کر اس شہر پر گرتے نظر آتے ہیں۔ اس وادی غیر ذی زرع اور خشک و بنجر کی طرف عاشقوں کے قافلے رواں دواں ہیں۔ غرض اس دعا کے اندر اس قدر ترو تازگی ہے اور دعا کے اندر اس قدر رقت ہے کہ قریب ہے کہ پوری کائنات کے آنسو اس وادی کو تر کردیں۔
وارزقھم من الثمرات (14 : 37) “ اور انہیں کھانے کو پھل دے ”۔ اور یہ پھل ان کو ان لوگوں کے ذریعہ ملیں جو ہر طرف سے اس گھر اور ان لوگوں پر پروانوں کی طرح آکر گریں۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے کریں ، اور اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جیسے شکر گزار ہونے کی خواہش ظاہر ہے کہ یہی ہے۔
لعلھم یشکرون ( 14 : 37) “ شاید یہ شکر گزار بنیں ”۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو بیت اللہ کے پڑوس میں آباد کرتے ہیں اور سیاق کلام سے اس کا مقصد یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں رہ کر نمازوں کو قائم کریں جس طرح نماز کو قائم کرنے کا طریقہ ہوتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس خواہش کے پیچھے صرف یہ جذبہ ہے کہ لوگ اللہ کے شکر گزارہوں۔ لوگوں کے دل بیت اللہ اور اہل بیت اللہ کی طرف کھچ آئیں ، پھر لوگوں کے اس اجتماع سے ان کے لئے پھلوں اور غلوں کی شکل میں خوراک فراہم ہو اور اس کے جواب میں یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں۔
اس دعا کی روشنی میں قرآن کریم اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قریش جس مقصد کے لئے بیت اللہ کے قریب بسائے گئے تھے انہوں نے وہ مقصد ترک کردیا ہے۔ نہ وہ اللہ کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور نہ اللہ کے ان انعامات پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوچکی ہے ۔ بیت اللہ پر لوگوں کا اجتماع جاری ہے اور پھل اور فروٹ ہر طرف سے ان کے لئے وافر مقدار میں آرہے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس دعا پر ، کہ اس نے اپنی اولاد کو یہاں بسایا ہے اور ان کو پھل اور دوسری ضروریات فراہم ہوں ، تا کہ وہ نماز قائم کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں ، اب خود تبصرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تو سب لوگوں کے دلوں کی خواہشات کو جانتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں۔ اگر کوئی خدا کے خوف سے نماز پڑھتا ہے اور شکر کرتا ہے تو اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی طرف توجہ میں مظاہر کی اہمیت نہیں ہے ، جس طرح یہ لوگ بیت اللہ میں تالیاں بجاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ عبادت اور دعا تو اصل وہ ہوتی ہے جس میں کسی کا قلب و ضمیر اللہ کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ اللہ سے کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان میں ظاہر و خفیہ ہر چیز کو جانتا ہے۔
ربنا انک تعلم ۔۔۔۔۔۔ فی السماء (14 : 37) “ پروردگار ، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ”۔ اور واقعی اللہ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین مین نہ آسمانوں میں ”۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سابقہ مہربانیوں کو یاد کر کے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور حمد کرتے ہیں۔
الحمد للہ الذی ۔۔۔۔۔ لسمیع الدعاء (14 : 39) “ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھ اپنے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے دئیے ، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے ”۔ اگر کسی کو بڑھاپے میں اولاد دے دی جائے جبکہ اس سے قبل اس کی اولاد نہ ہو تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کیونکہ اولاد دراصل انسانی زندگی کا تسلسل ہے۔ اگر انسان کی زندگی قریب الاختتام ہو اور اسے غیر متوقع طور پر اولاد مل جائے تو یہ نہایت ہی اطمینان کی بات ہوتی ہے کیونکہ انسانی نفس ہمیشہ یہ ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم حمد باری کرتے ہیں اور اللہ کی مزید رحمت کے امیداوار ہیں۔
اب اس شکر اور حمد کے بعد یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے شکر ادا کرنے اور حمد باری تعالیٰ پر مداومت عطا فرما ، کہ میں تیری عبادت کرتا رہوں ، اطاعت کرتا رہوں۔ یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اس عزم کو اظہار کرتے ہیں کہ وہ شکر کرتے رہیں گے ، عبادت الٰہی کرتے رہیں گے اور یہ دعا اس ڈر سے کر رہے ہیں کہ کہیں اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے ، کوئی امر ان کو اس سے موڑ نہ دے۔ چناچہ اپنے اس عزم کو بھی اب اللہ کی امداد سے جاری رکھنے کی دعا کرتے ہیں۔
رب اجعلنی۔۔۔۔۔ وتقبل دعاء ( 14 : 40) “ اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں ) ۔ پروردگار ، میر دعا قبول کر ”۔ ایک بار پھر ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اہل قریش کے موقف میں مکمل تضاد نظر آتا ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ سے اس بات کے لئے مدد طلب کرتے ہیں کہ مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے اور اس کام میں مجھے اور میری اولاد کو توفیق دے مگر اس کی اولاد ہے کہ وہ نماز سے اعراض کر رہی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہی سے جو رسول ان کے پاس آیا اور جو انہیں نصیحت کرتا ہے ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات یاد دلاتا ہے یہ لوگ اس کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ، حالانکہ یہ خود ان میں سے ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس خضوع وخشوع اور عاجزی سے بھری ہوئی دعا کو اپنے لیے اور اپنے والدین کے لئے اور تمام مومنین کے لئے طلب مغفرت پر ختم فرماتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں حساب کے دن بخش دیجئے۔ کیونکہ حساب کے دن تو ہر شخص کو صرف عمل ہی فائدہ دے گا یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت ہی اس کا کام کرے گی۔
ربنا اغفرلی ۔۔۔۔۔۔۔ یقوم الحساب (14 : 41) “ پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا ”۔ خشوع و خضوع سے بھر پور اس دعا کا منظر یہاں ختم ہوتا ہے جس میں اللہ کی بےبہا نعمتوں اور ان پر شکر کے مناظر دکھائے گئے ، جس میں گفتگو کا ٹون نہایت ہی دھیمی موسیقی کا تھا ، جس طرح ہلکی ہوا میں سطح آب پر ہلکی سی موجیں اٹھتی ہیں۔ اس منظر سے پورے ماحول پر ایک الوداعی اور لطیف جذباتی فضا طاری ہوجاتی ہے۔ انسانی دل اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کے انعامات کو یاد کرتے ہیں اور یہ منظر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک بندۂ ذاکر وشاکر کے طور پر تصور کرتا ہے ، جس طرح اس دعا سے پہلے تمام بندگان خدا کو قرآن نے دعوت دی تھی کہ وہ اللہ کے بندگان ذاکر و شاکر بن جائیں۔
یہاں قارئین یہ بات نوٹ کرنا بھول نہ جائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پر سوز دعا میں “ ربنا ” اور “ رب ” اور “ ربی ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنے لیے اور آپ کے بعد اپنی اولاد کے لئے اللہ کی صفت ربوبیت کو جان بوجھ کر استعمال کیا ہے اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ آپ یہاں اللہ کی صفت الوہیت کو نہیں لاتے بلکہ صفت ربوبیت کو ۔۔۔۔ لاتے ہیں اس لیے کہ تمام جاہلیتوں خصوصاً عربی جاہلیت میں اللہ کی الوہیت مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ جس چیز میں ہمیشہ اختلاف واقع ہوتا ہے وہ اللہ کی صفت ربوبیت ہے۔ یعنی رب وہ ہوتا ہے جس کا تجویز کردہ نظام ، دین اور شریعت اس زمین پر چلتا ہے۔ اور یہی اصل عملی مسئلہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسلام اور جاہلیت میں تمیز ہوتی ہے ، توحید شرک سے جدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ یا تو اللہ کے دین میں ہوں گے تو اللہ ان کا رب ہوگا یا وہ غیر اللہ کے نظام میں ہوں گے پھر یہ غیر اللہ ان کا رب ہوگا۔ اسلام اور جاہلیت اور توحید اور شرک میں یہی فرق ہے جو عملی زندگی میں اسلام کو جاہلیت اور توحید کو شرک سے جدا کرتا ہے۔ قرآن کریم یہاں قریش پر ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ربوبیت کے مسئلے کو اس لیے پیش کرتا ہے اور ربوبیت پر اسی لیے زور دیتا ہے کہ وہ عربوں اور قریش پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنے جد امجد کی وصیت اور دعاؤں کے خلاف جا رہے ہو۔
سیاق کلام میں اس حصے کا آغاز ان آیات پر کیا گیا تھا۔
الم تر الی ۔۔۔۔۔۔ دار البوار (14 : 28) “ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا ”۔ یہ لوگ بدستور اپنی اس ظالمانہ چال پر قائم رہے ، لیکن ان پر عذاب الٰہی بھی نہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان سے یہ کہیں :
قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار ( 14 : 30) “ کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کار تمہیں پلٹ کر دوزخ ہی میں جانا ہے ”۔ اور حضور اکرم ﷺ کو مزید حکم دیا گیا تھا کہ آپ اپنی دعوت کا رخ اہل ایمان کی طرف پھیر دیں ، انہیں نماز اور کھلے طور پر اور خفیہ طور پر انفاق پر آمادہ کریں۔
من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) “ قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی ” اب اس حصے کی تکمیل اس پر ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے اس انجام تک کب پہنچیں گے اور یہ بات قیامت کے مناظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔ جو پے درپے آتے ہیں۔ جن میں مارے خوف کے انسانی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں اور دل تھر تھر کانپتے ہیں۔
إبراهيم 14:39
آیت نمبر 35 تا 41
اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔
رب اجعل ھذا البلد امنا (14 : 35) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔
واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( 14 : 35) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔
رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14 : 36) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ جو شخص میرے طریقے کو اپنائے گا وہی میرا ہوگا ، وہ میری طرف نسبت کرسکے گا ، اور قیامت میں میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ ایمان اور نظریہ کا رفیق ہوگا۔
فمن تبعنی فانہ منی (14 : 36) ” لہٰذا ان میں سے جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے “۔ اور جو میرے طریقے کو چھوڑ دے تو اس کا انجام میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔
ومن عصانی فانک غفور رحیم (14 : 36) “ اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو ، تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ” ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر مہربان ، رحیم اور بردباد اور صبر کرنے والے تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں کی ہلاکت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقوں کو نہیں اپناتے اور ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، آپ ان کے لئے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے بلکہ عذاب کا تذکرہ ہی نہیں کرتے۔ آپ ان لوگوں کو جو حضرت کے طریقوں سے ہٹ جاتے ہیں ، اللہ کے رحم و کرم کے سپرد کرتے ہیں ، عفو و درگزر کے حوالے کرتے ہیں۔ چناچہ اس فضا پر رحمت اور مغفرت کے سائے پھیل جاتے ہیں اور رحمت و شفقت اور معرفت کے ان سایوں کے نتیجے میں معصیت کی فضا دب جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) معصیت کی فضا کو کھولتے نہیں ، پس منظر میں لے جاتے ہیں۔
اب اس سے آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سامنے یہ درخواست پیش فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ میں نے اپنی اولاد میں سے بعض لوگوں کو اس بنجر وادی میں مستقلاً آباد کردیا ہے۔ جو بیت اللہ کے قریب ہونے کے سوا بنجر اور پسماندہ ہے اور یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہاں بسانے کا مقصد کیا ہے۔
ربنا انی اسکنت۔۔۔۔۔ بیتک المحرم (14 : 37) “ اے میرے رب ، میں نے اس بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے ساتھ لا بسایا ہے ”۔ یہ کیوں ؟
ربنا لیقیموا الصلوٰۃ (14 : 37) “ پروردگار ، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ”۔ فقط اقامت صلوٰہ مقصد ہے اور صرف اس مقصد کے لئے اس بنجر اور خشک وادی میں ان کو بسایا ہے۔
فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم (14 : 37) “ لہٰذا لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا ”۔ دعا میں کس قدر رقت ہے اور فضا میں کس قدر سرور ہے ، دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور مشتاقان دید اڑ اڑ کر اس شہر پر گرتے نظر آتے ہیں۔ اس وادی غیر ذی زرع اور خشک و بنجر کی طرف عاشقوں کے قافلے رواں دواں ہیں۔ غرض اس دعا کے اندر اس قدر ترو تازگی ہے اور دعا کے اندر اس قدر رقت ہے کہ قریب ہے کہ پوری کائنات کے آنسو اس وادی کو تر کردیں۔
وارزقھم من الثمرات (14 : 37) “ اور انہیں کھانے کو پھل دے ”۔ اور یہ پھل ان کو ان لوگوں کے ذریعہ ملیں جو ہر طرف سے اس گھر اور ان لوگوں پر پروانوں کی طرح آکر گریں۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے کریں ، اور اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جیسے شکر گزار ہونے کی خواہش ظاہر ہے کہ یہی ہے۔
لعلھم یشکرون ( 14 : 37) “ شاید یہ شکر گزار بنیں ”۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو بیت اللہ کے پڑوس میں آباد کرتے ہیں اور سیاق کلام سے اس کا مقصد یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں رہ کر نمازوں کو قائم کریں جس طرح نماز کو قائم کرنے کا طریقہ ہوتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس خواہش کے پیچھے صرف یہ جذبہ ہے کہ لوگ اللہ کے شکر گزارہوں۔ لوگوں کے دل بیت اللہ اور اہل بیت اللہ کی طرف کھچ آئیں ، پھر لوگوں کے اس اجتماع سے ان کے لئے پھلوں اور غلوں کی شکل میں خوراک فراہم ہو اور اس کے جواب میں یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں۔
اس دعا کی روشنی میں قرآن کریم اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قریش جس مقصد کے لئے بیت اللہ کے قریب بسائے گئے تھے انہوں نے وہ مقصد ترک کردیا ہے۔ نہ وہ اللہ کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور نہ اللہ کے ان انعامات پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوچکی ہے ۔ بیت اللہ پر لوگوں کا اجتماع جاری ہے اور پھل اور فروٹ ہر طرف سے ان کے لئے وافر مقدار میں آرہے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس دعا پر ، کہ اس نے اپنی اولاد کو یہاں بسایا ہے اور ان کو پھل اور دوسری ضروریات فراہم ہوں ، تا کہ وہ نماز قائم کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں ، اب خود تبصرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تو سب لوگوں کے دلوں کی خواہشات کو جانتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں۔ اگر کوئی خدا کے خوف سے نماز پڑھتا ہے اور شکر کرتا ہے تو اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی طرف توجہ میں مظاہر کی اہمیت نہیں ہے ، جس طرح یہ لوگ بیت اللہ میں تالیاں بجاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ عبادت اور دعا تو اصل وہ ہوتی ہے جس میں کسی کا قلب و ضمیر اللہ کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ اللہ سے کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان میں ظاہر و خفیہ ہر چیز کو جانتا ہے۔
ربنا انک تعلم ۔۔۔۔۔۔ فی السماء (14 : 37) “ پروردگار ، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ”۔ اور واقعی اللہ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین مین نہ آسمانوں میں ”۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سابقہ مہربانیوں کو یاد کر کے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور حمد کرتے ہیں۔
الحمد للہ الذی ۔۔۔۔۔ لسمیع الدعاء (14 : 39) “ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھ اپنے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے دئیے ، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے ”۔ اگر کسی کو بڑھاپے میں اولاد دے دی جائے جبکہ اس سے قبل اس کی اولاد نہ ہو تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کیونکہ اولاد دراصل انسانی زندگی کا تسلسل ہے۔ اگر انسان کی زندگی قریب الاختتام ہو اور اسے غیر متوقع طور پر اولاد مل جائے تو یہ نہایت ہی اطمینان کی بات ہوتی ہے کیونکہ انسانی نفس ہمیشہ یہ ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم حمد باری کرتے ہیں اور اللہ کی مزید رحمت کے امیداوار ہیں۔
اب اس شکر اور حمد کے بعد یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے شکر ادا کرنے اور حمد باری تعالیٰ پر مداومت عطا فرما ، کہ میں تیری عبادت کرتا رہوں ، اطاعت کرتا رہوں۔ یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اس عزم کو اظہار کرتے ہیں کہ وہ شکر کرتے رہیں گے ، عبادت الٰہی کرتے رہیں گے اور یہ دعا اس ڈر سے کر رہے ہیں کہ کہیں اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے ، کوئی امر ان کو اس سے موڑ نہ دے۔ چناچہ اپنے اس عزم کو بھی اب اللہ کی امداد سے جاری رکھنے کی دعا کرتے ہیں۔
رب اجعلنی۔۔۔۔۔ وتقبل دعاء ( 14 : 40) “ اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں ) ۔ پروردگار ، میر دعا قبول کر ”۔ ایک بار پھر ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اہل قریش کے موقف میں مکمل تضاد نظر آتا ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ سے اس بات کے لئے مدد طلب کرتے ہیں کہ مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے اور اس کام میں مجھے اور میری اولاد کو توفیق دے مگر اس کی اولاد ہے کہ وہ نماز سے اعراض کر رہی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہی سے جو رسول ان کے پاس آیا اور جو انہیں نصیحت کرتا ہے ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات یاد دلاتا ہے یہ لوگ اس کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ، حالانکہ یہ خود ان میں سے ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس خضوع وخشوع اور عاجزی سے بھری ہوئی دعا کو اپنے لیے اور اپنے والدین کے لئے اور تمام مومنین کے لئے طلب مغفرت پر ختم فرماتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں حساب کے دن بخش دیجئے۔ کیونکہ حساب کے دن تو ہر شخص کو صرف عمل ہی فائدہ دے گا یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت ہی اس کا کام کرے گی۔
ربنا اغفرلی ۔۔۔۔۔۔۔ یقوم الحساب (14 : 41) “ پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا ”۔ خشوع و خضوع سے بھر پور اس دعا کا منظر یہاں ختم ہوتا ہے جس میں اللہ کی بےبہا نعمتوں اور ان پر شکر کے مناظر دکھائے گئے ، جس میں گفتگو کا ٹون نہایت ہی دھیمی موسیقی کا تھا ، جس طرح ہلکی ہوا میں سطح آب پر ہلکی سی موجیں اٹھتی ہیں۔ اس منظر سے پورے ماحول پر ایک الوداعی اور لطیف جذباتی فضا طاری ہوجاتی ہے۔ انسانی دل اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کے انعامات کو یاد کرتے ہیں اور یہ منظر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک بندۂ ذاکر وشاکر کے طور پر تصور کرتا ہے ، جس طرح اس دعا سے پہلے تمام بندگان خدا کو قرآن نے دعوت دی تھی کہ وہ اللہ کے بندگان ذاکر و شاکر بن جائیں۔
یہاں قارئین یہ بات نوٹ کرنا بھول نہ جائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پر سوز دعا میں “ ربنا ” اور “ رب ” اور “ ربی ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنے لیے اور آپ کے بعد اپنی اولاد کے لئے اللہ کی صفت ربوبیت کو جان بوجھ کر استعمال کیا ہے اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ آپ یہاں اللہ کی صفت الوہیت کو نہیں لاتے بلکہ صفت ربوبیت کو ۔۔۔۔ لاتے ہیں اس لیے کہ تمام جاہلیتوں خصوصاً عربی جاہلیت میں اللہ کی الوہیت مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ جس چیز میں ہمیشہ اختلاف واقع ہوتا ہے وہ اللہ کی صفت ربوبیت ہے۔ یعنی رب وہ ہوتا ہے جس کا تجویز کردہ نظام ، دین اور شریعت اس زمین پر چلتا ہے۔ اور یہی اصل عملی مسئلہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسلام اور جاہلیت میں تمیز ہوتی ہے ، توحید شرک سے جدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ یا تو اللہ کے دین میں ہوں گے تو اللہ ان کا رب ہوگا یا وہ غیر اللہ کے نظام میں ہوں گے پھر یہ غیر اللہ ان کا رب ہوگا۔ اسلام اور جاہلیت اور توحید اور شرک میں یہی فرق ہے جو عملی زندگی میں اسلام کو جاہلیت اور توحید کو شرک سے جدا کرتا ہے۔ قرآن کریم یہاں قریش پر ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ربوبیت کے مسئلے کو اس لیے پیش کرتا ہے اور ربوبیت پر اسی لیے زور دیتا ہے کہ وہ عربوں اور قریش پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنے جد امجد کی وصیت اور دعاؤں کے خلاف جا رہے ہو۔
سیاق کلام میں اس حصے کا آغاز ان آیات پر کیا گیا تھا۔
الم تر الی ۔۔۔۔۔۔ دار البوار (14 : 28) “ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا ”۔ یہ لوگ بدستور اپنی اس ظالمانہ چال پر قائم رہے ، لیکن ان پر عذاب الٰہی بھی نہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان سے یہ کہیں :
قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار ( 14 : 30) “ کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کار تمہیں پلٹ کر دوزخ ہی میں جانا ہے ”۔ اور حضور اکرم ﷺ کو مزید حکم دیا گیا تھا کہ آپ اپنی دعوت کا رخ اہل ایمان کی طرف پھیر دیں ، انہیں نماز اور کھلے طور پر اور خفیہ طور پر انفاق پر آمادہ کریں۔
من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) “ قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی ” اب اس حصے کی تکمیل اس پر ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے اس انجام تک کب پہنچیں گے اور یہ بات قیامت کے مناظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔ جو پے درپے آتے ہیں۔ جن میں مارے خوف کے انسانی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں اور دل تھر تھر کانپتے ہیں۔
إبراهيم 14:40
آیت نمبر 35 تا 41
اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔
رب اجعل ھذا البلد امنا (14 : 35) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔
واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( 14 : 35) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔
رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14 : 36) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ جو شخص میرے طریقے کو اپنائے گا وہی میرا ہوگا ، وہ میری طرف نسبت کرسکے گا ، اور قیامت میں میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ ایمان اور نظریہ کا رفیق ہوگا۔
فمن تبعنی فانہ منی (14 : 36) ” لہٰذا ان میں سے جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے “۔ اور جو میرے طریقے کو چھوڑ دے تو اس کا انجام میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔
ومن عصانی فانک غفور رحیم (14 : 36) “ اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو ، تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ” ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر مہربان ، رحیم اور بردباد اور صبر کرنے والے تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں کی ہلاکت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقوں کو نہیں اپناتے اور ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، آپ ان کے لئے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے بلکہ عذاب کا تذکرہ ہی نہیں کرتے۔ آپ ان لوگوں کو جو حضرت کے طریقوں سے ہٹ جاتے ہیں ، اللہ کے رحم و کرم کے سپرد کرتے ہیں ، عفو و درگزر کے حوالے کرتے ہیں۔ چناچہ اس فضا پر رحمت اور مغفرت کے سائے پھیل جاتے ہیں اور رحمت و شفقت اور معرفت کے ان سایوں کے نتیجے میں معصیت کی فضا دب جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) معصیت کی فضا کو کھولتے نہیں ، پس منظر میں لے جاتے ہیں۔
اب اس سے آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سامنے یہ درخواست پیش فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ میں نے اپنی اولاد میں سے بعض لوگوں کو اس بنجر وادی میں مستقلاً آباد کردیا ہے۔ جو بیت اللہ کے قریب ہونے کے سوا بنجر اور پسماندہ ہے اور یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہاں بسانے کا مقصد کیا ہے۔
ربنا انی اسکنت۔۔۔۔۔ بیتک المحرم (14 : 37) “ اے میرے رب ، میں نے اس بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے ساتھ لا بسایا ہے ”۔ یہ کیوں ؟
ربنا لیقیموا الصلوٰۃ (14 : 37) “ پروردگار ، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ”۔ فقط اقامت صلوٰہ مقصد ہے اور صرف اس مقصد کے لئے اس بنجر اور خشک وادی میں ان کو بسایا ہے۔
فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم (14 : 37) “ لہٰذا لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا ”۔ دعا میں کس قدر رقت ہے اور فضا میں کس قدر سرور ہے ، دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور مشتاقان دید اڑ اڑ کر اس شہر پر گرتے نظر آتے ہیں۔ اس وادی غیر ذی زرع اور خشک و بنجر کی طرف عاشقوں کے قافلے رواں دواں ہیں۔ غرض اس دعا کے اندر اس قدر ترو تازگی ہے اور دعا کے اندر اس قدر رقت ہے کہ قریب ہے کہ پوری کائنات کے آنسو اس وادی کو تر کردیں۔
وارزقھم من الثمرات (14 : 37) “ اور انہیں کھانے کو پھل دے ”۔ اور یہ پھل ان کو ان لوگوں کے ذریعہ ملیں جو ہر طرف سے اس گھر اور ان لوگوں پر پروانوں کی طرح آکر گریں۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے کریں ، اور اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جیسے شکر گزار ہونے کی خواہش ظاہر ہے کہ یہی ہے۔
لعلھم یشکرون ( 14 : 37) “ شاید یہ شکر گزار بنیں ”۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو بیت اللہ کے پڑوس میں آباد کرتے ہیں اور سیاق کلام سے اس کا مقصد یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں رہ کر نمازوں کو قائم کریں جس طرح نماز کو قائم کرنے کا طریقہ ہوتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس خواہش کے پیچھے صرف یہ جذبہ ہے کہ لوگ اللہ کے شکر گزارہوں۔ لوگوں کے دل بیت اللہ اور اہل بیت اللہ کی طرف کھچ آئیں ، پھر لوگوں کے اس اجتماع سے ان کے لئے پھلوں اور غلوں کی شکل میں خوراک فراہم ہو اور اس کے جواب میں یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں۔
اس دعا کی روشنی میں قرآن کریم اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قریش جس مقصد کے لئے بیت اللہ کے قریب بسائے گئے تھے انہوں نے وہ مقصد ترک کردیا ہے۔ نہ وہ اللہ کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور نہ اللہ کے ان انعامات پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوچکی ہے ۔ بیت اللہ پر لوگوں کا اجتماع جاری ہے اور پھل اور فروٹ ہر طرف سے ان کے لئے وافر مقدار میں آرہے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس دعا پر ، کہ اس نے اپنی اولاد کو یہاں بسایا ہے اور ان کو پھل اور دوسری ضروریات فراہم ہوں ، تا کہ وہ نماز قائم کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں ، اب خود تبصرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تو سب لوگوں کے دلوں کی خواہشات کو جانتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں۔ اگر کوئی خدا کے خوف سے نماز پڑھتا ہے اور شکر کرتا ہے تو اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی طرف توجہ میں مظاہر کی اہمیت نہیں ہے ، جس طرح یہ لوگ بیت اللہ میں تالیاں بجاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ عبادت اور دعا تو اصل وہ ہوتی ہے جس میں کسی کا قلب و ضمیر اللہ کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ اللہ سے کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان میں ظاہر و خفیہ ہر چیز کو جانتا ہے۔
ربنا انک تعلم ۔۔۔۔۔۔ فی السماء (14 : 37) “ پروردگار ، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ”۔ اور واقعی اللہ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین مین نہ آسمانوں میں ”۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سابقہ مہربانیوں کو یاد کر کے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور حمد کرتے ہیں۔
الحمد للہ الذی ۔۔۔۔۔ لسمیع الدعاء (14 : 39) “ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھ اپنے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے دئیے ، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے ”۔ اگر کسی کو بڑھاپے میں اولاد دے دی جائے جبکہ اس سے قبل اس کی اولاد نہ ہو تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کیونکہ اولاد دراصل انسانی زندگی کا تسلسل ہے۔ اگر انسان کی زندگی قریب الاختتام ہو اور اسے غیر متوقع طور پر اولاد مل جائے تو یہ نہایت ہی اطمینان کی بات ہوتی ہے کیونکہ انسانی نفس ہمیشہ یہ ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم حمد باری کرتے ہیں اور اللہ کی مزید رحمت کے امیداوار ہیں۔
اب اس شکر اور حمد کے بعد یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے شکر ادا کرنے اور حمد باری تعالیٰ پر مداومت عطا فرما ، کہ میں تیری عبادت کرتا رہوں ، اطاعت کرتا رہوں۔ یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اس عزم کو اظہار کرتے ہیں کہ وہ شکر کرتے رہیں گے ، عبادت الٰہی کرتے رہیں گے اور یہ دعا اس ڈر سے کر رہے ہیں کہ کہیں اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے ، کوئی امر ان کو اس سے موڑ نہ دے۔ چناچہ اپنے اس عزم کو بھی اب اللہ کی امداد سے جاری رکھنے کی دعا کرتے ہیں۔
رب اجعلنی۔۔۔۔۔ وتقبل دعاء ( 14 : 40) “ اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں ) ۔ پروردگار ، میر دعا قبول کر ”۔ ایک بار پھر ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اہل قریش کے موقف میں مکمل تضاد نظر آتا ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ سے اس بات کے لئے مدد طلب کرتے ہیں کہ مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے اور اس کام میں مجھے اور میری اولاد کو توفیق دے مگر اس کی اولاد ہے کہ وہ نماز سے اعراض کر رہی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہی سے جو رسول ان کے پاس آیا اور جو انہیں نصیحت کرتا ہے ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات یاد دلاتا ہے یہ لوگ اس کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ، حالانکہ یہ خود ان میں سے ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس خضوع وخشوع اور عاجزی سے بھری ہوئی دعا کو اپنے لیے اور اپنے والدین کے لئے اور تمام مومنین کے لئے طلب مغفرت پر ختم فرماتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں حساب کے دن بخش دیجئے۔ کیونکہ حساب کے دن تو ہر شخص کو صرف عمل ہی فائدہ دے گا یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت ہی اس کا کام کرے گی۔
ربنا اغفرلی ۔۔۔۔۔۔۔ یقوم الحساب (14 : 41) “ پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا ”۔ خشوع و خضوع سے بھر پور اس دعا کا منظر یہاں ختم ہوتا ہے جس میں اللہ کی بےبہا نعمتوں اور ان پر شکر کے مناظر دکھائے گئے ، جس میں گفتگو کا ٹون نہایت ہی دھیمی موسیقی کا تھا ، جس طرح ہلکی ہوا میں سطح آب پر ہلکی سی موجیں اٹھتی ہیں۔ اس منظر سے پورے ماحول پر ایک الوداعی اور لطیف جذباتی فضا طاری ہوجاتی ہے۔ انسانی دل اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کے انعامات کو یاد کرتے ہیں اور یہ منظر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک بندۂ ذاکر وشاکر کے طور پر تصور کرتا ہے ، جس طرح اس دعا سے پہلے تمام بندگان خدا کو قرآن نے دعوت دی تھی کہ وہ اللہ کے بندگان ذاکر و شاکر بن جائیں۔
یہاں قارئین یہ بات نوٹ کرنا بھول نہ جائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پر سوز دعا میں “ ربنا ” اور “ رب ” اور “ ربی ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنے لیے اور آپ کے بعد اپنی اولاد کے لئے اللہ کی صفت ربوبیت کو جان بوجھ کر استعمال کیا ہے اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ آپ یہاں اللہ کی صفت الوہیت کو نہیں لاتے بلکہ صفت ربوبیت کو ۔۔۔۔ لاتے ہیں اس لیے کہ تمام جاہلیتوں خصوصاً عربی جاہلیت میں اللہ کی الوہیت مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ جس چیز میں ہمیشہ اختلاف واقع ہوتا ہے وہ اللہ کی صفت ربوبیت ہے۔ یعنی رب وہ ہوتا ہے جس کا تجویز کردہ نظام ، دین اور شریعت اس زمین پر چلتا ہے۔ اور یہی اصل عملی مسئلہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسلام اور جاہلیت میں تمیز ہوتی ہے ، توحید شرک سے جدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ یا تو اللہ کے دین میں ہوں گے تو اللہ ان کا رب ہوگا یا وہ غیر اللہ کے نظام میں ہوں گے پھر یہ غیر اللہ ان کا رب ہوگا۔ اسلام اور جاہلیت اور توحید اور شرک میں یہی فرق ہے جو عملی زندگی میں اسلام کو جاہلیت اور توحید کو شرک سے جدا کرتا ہے۔ قرآن کریم یہاں قریش پر ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ربوبیت کے مسئلے کو اس لیے پیش کرتا ہے اور ربوبیت پر اسی لیے زور دیتا ہے کہ وہ عربوں اور قریش پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنے جد امجد کی وصیت اور دعاؤں کے خلاف جا رہے ہو۔
سیاق کلام میں اس حصے کا آغاز ان آیات پر کیا گیا تھا۔
الم تر الی ۔۔۔۔۔۔ دار البوار (14 : 28) “ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا ”۔ یہ لوگ بدستور اپنی اس ظالمانہ چال پر قائم رہے ، لیکن ان پر عذاب الٰہی بھی نہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان سے یہ کہیں :
قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار ( 14 : 30) “ کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کار تمہیں پلٹ کر دوزخ ہی میں جانا ہے ”۔ اور حضور اکرم ﷺ کو مزید حکم دیا گیا تھا کہ آپ اپنی دعوت کا رخ اہل ایمان کی طرف پھیر دیں ، انہیں نماز اور کھلے طور پر اور خفیہ طور پر انفاق پر آمادہ کریں۔
من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) “ قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی ” اب اس حصے کی تکمیل اس پر ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے اس انجام تک کب پہنچیں گے اور یہ بات قیامت کے مناظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔ جو پے درپے آتے ہیں۔ جن میں مارے خوف کے انسانی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں اور دل تھر تھر کانپتے ہیں۔
إبراهيم 14:41
آیت نمبر 35 تا 41
اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔
رب اجعل ھذا البلد امنا (14 : 35) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔
واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( 14 : 35) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔
رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14 : 36) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ جو شخص میرے طریقے کو اپنائے گا وہی میرا ہوگا ، وہ میری طرف نسبت کرسکے گا ، اور قیامت میں میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ ایمان اور نظریہ کا رفیق ہوگا۔
فمن تبعنی فانہ منی (14 : 36) ” لہٰذا ان میں سے جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے “۔ اور جو میرے طریقے کو چھوڑ دے تو اس کا انجام میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔
ومن عصانی فانک غفور رحیم (14 : 36) “ اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو ، تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ” ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر مہربان ، رحیم اور بردباد اور صبر کرنے والے تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں کی ہلاکت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقوں کو نہیں اپناتے اور ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، آپ ان کے لئے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے بلکہ عذاب کا تذکرہ ہی نہیں کرتے۔ آپ ان لوگوں کو جو حضرت کے طریقوں سے ہٹ جاتے ہیں ، اللہ کے رحم و کرم کے سپرد کرتے ہیں ، عفو و درگزر کے حوالے کرتے ہیں۔ چناچہ اس فضا پر رحمت اور مغفرت کے سائے پھیل جاتے ہیں اور رحمت و شفقت اور معرفت کے ان سایوں کے نتیجے میں معصیت کی فضا دب جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) معصیت کی فضا کو کھولتے نہیں ، پس منظر میں لے جاتے ہیں۔
اب اس سے آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سامنے یہ درخواست پیش فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ میں نے اپنی اولاد میں سے بعض لوگوں کو اس بنجر وادی میں مستقلاً آباد کردیا ہے۔ جو بیت اللہ کے قریب ہونے کے سوا بنجر اور پسماندہ ہے اور یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہاں بسانے کا مقصد کیا ہے۔
ربنا انی اسکنت۔۔۔۔۔ بیتک المحرم (14 : 37) “ اے میرے رب ، میں نے اس بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے ساتھ لا بسایا ہے ”۔ یہ کیوں ؟
ربنا لیقیموا الصلوٰۃ (14 : 37) “ پروردگار ، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ”۔ فقط اقامت صلوٰہ مقصد ہے اور صرف اس مقصد کے لئے اس بنجر اور خشک وادی میں ان کو بسایا ہے۔
فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم (14 : 37) “ لہٰذا لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا ”۔ دعا میں کس قدر رقت ہے اور فضا میں کس قدر سرور ہے ، دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور مشتاقان دید اڑ اڑ کر اس شہر پر گرتے نظر آتے ہیں۔ اس وادی غیر ذی زرع اور خشک و بنجر کی طرف عاشقوں کے قافلے رواں دواں ہیں۔ غرض اس دعا کے اندر اس قدر ترو تازگی ہے اور دعا کے اندر اس قدر رقت ہے کہ قریب ہے کہ پوری کائنات کے آنسو اس وادی کو تر کردیں۔
وارزقھم من الثمرات (14 : 37) “ اور انہیں کھانے کو پھل دے ”۔ اور یہ پھل ان کو ان لوگوں کے ذریعہ ملیں جو ہر طرف سے اس گھر اور ان لوگوں پر پروانوں کی طرح آکر گریں۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے کریں ، اور اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جیسے شکر گزار ہونے کی خواہش ظاہر ہے کہ یہی ہے۔
لعلھم یشکرون ( 14 : 37) “ شاید یہ شکر گزار بنیں ”۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو بیت اللہ کے پڑوس میں آباد کرتے ہیں اور سیاق کلام سے اس کا مقصد یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں رہ کر نمازوں کو قائم کریں جس طرح نماز کو قائم کرنے کا طریقہ ہوتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس خواہش کے پیچھے صرف یہ جذبہ ہے کہ لوگ اللہ کے شکر گزارہوں۔ لوگوں کے دل بیت اللہ اور اہل بیت اللہ کی طرف کھچ آئیں ، پھر لوگوں کے اس اجتماع سے ان کے لئے پھلوں اور غلوں کی شکل میں خوراک فراہم ہو اور اس کے جواب میں یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں۔
اس دعا کی روشنی میں قرآن کریم اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قریش جس مقصد کے لئے بیت اللہ کے قریب بسائے گئے تھے انہوں نے وہ مقصد ترک کردیا ہے۔ نہ وہ اللہ کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور نہ اللہ کے ان انعامات پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوچکی ہے ۔ بیت اللہ پر لوگوں کا اجتماع جاری ہے اور پھل اور فروٹ ہر طرف سے ان کے لئے وافر مقدار میں آرہے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس دعا پر ، کہ اس نے اپنی اولاد کو یہاں بسایا ہے اور ان کو پھل اور دوسری ضروریات فراہم ہوں ، تا کہ وہ نماز قائم کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں ، اب خود تبصرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تو سب لوگوں کے دلوں کی خواہشات کو جانتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں۔ اگر کوئی خدا کے خوف سے نماز پڑھتا ہے اور شکر کرتا ہے تو اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی طرف توجہ میں مظاہر کی اہمیت نہیں ہے ، جس طرح یہ لوگ بیت اللہ میں تالیاں بجاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ عبادت اور دعا تو اصل وہ ہوتی ہے جس میں کسی کا قلب و ضمیر اللہ کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ اللہ سے کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان میں ظاہر و خفیہ ہر چیز کو جانتا ہے۔
ربنا انک تعلم ۔۔۔۔۔۔ فی السماء (14 : 37) “ پروردگار ، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ”۔ اور واقعی اللہ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین مین نہ آسمانوں میں ”۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سابقہ مہربانیوں کو یاد کر کے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور حمد کرتے ہیں۔
الحمد للہ الذی ۔۔۔۔۔ لسمیع الدعاء (14 : 39) “ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھ اپنے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے دئیے ، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے ”۔ اگر کسی کو بڑھاپے میں اولاد دے دی جائے جبکہ اس سے قبل اس کی اولاد نہ ہو تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کیونکہ اولاد دراصل انسانی زندگی کا تسلسل ہے۔ اگر انسان کی زندگی قریب الاختتام ہو اور اسے غیر متوقع طور پر اولاد مل جائے تو یہ نہایت ہی اطمینان کی بات ہوتی ہے کیونکہ انسانی نفس ہمیشہ یہ ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم حمد باری کرتے ہیں اور اللہ کی مزید رحمت کے امیداوار ہیں۔
اب اس شکر اور حمد کے بعد یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے شکر ادا کرنے اور حمد باری تعالیٰ پر مداومت عطا فرما ، کہ میں تیری عبادت کرتا رہوں ، اطاعت کرتا رہوں۔ یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اس عزم کو اظہار کرتے ہیں کہ وہ شکر کرتے رہیں گے ، عبادت الٰہی کرتے رہیں گے اور یہ دعا اس ڈر سے کر رہے ہیں کہ کہیں اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے ، کوئی امر ان کو اس سے موڑ نہ دے۔ چناچہ اپنے اس عزم کو بھی اب اللہ کی امداد سے جاری رکھنے کی دعا کرتے ہیں۔
رب اجعلنی۔۔۔۔۔ وتقبل دعاء ( 14 : 40) “ اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں ) ۔ پروردگار ، میر دعا قبول کر ”۔ ایک بار پھر ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اہل قریش کے موقف میں مکمل تضاد نظر آتا ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ سے اس بات کے لئے مدد طلب کرتے ہیں کہ مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے اور اس کام میں مجھے اور میری اولاد کو توفیق دے مگر اس کی اولاد ہے کہ وہ نماز سے اعراض کر رہی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہی سے جو رسول ان کے پاس آیا اور جو انہیں نصیحت کرتا ہے ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات یاد دلاتا ہے یہ لوگ اس کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ، حالانکہ یہ خود ان میں سے ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس خضوع وخشوع اور عاجزی سے بھری ہوئی دعا کو اپنے لیے اور اپنے والدین کے لئے اور تمام مومنین کے لئے طلب مغفرت پر ختم فرماتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں حساب کے دن بخش دیجئے۔ کیونکہ حساب کے دن تو ہر شخص کو صرف عمل ہی فائدہ دے گا یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت ہی اس کا کام کرے گی۔
ربنا اغفرلی ۔۔۔۔۔۔۔ یقوم الحساب (14 : 41) “ پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا ”۔ خشوع و خضوع سے بھر پور اس دعا کا منظر یہاں ختم ہوتا ہے جس میں اللہ کی بےبہا نعمتوں اور ان پر شکر کے مناظر دکھائے گئے ، جس میں گفتگو کا ٹون نہایت ہی دھیمی موسیقی کا تھا ، جس طرح ہلکی ہوا میں سطح آب پر ہلکی سی موجیں اٹھتی ہیں۔ اس منظر سے پورے ماحول پر ایک الوداعی اور لطیف جذباتی فضا طاری ہوجاتی ہے۔ انسانی دل اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کے انعامات کو یاد کرتے ہیں اور یہ منظر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک بندۂ ذاکر وشاکر کے طور پر تصور کرتا ہے ، جس طرح اس دعا سے پہلے تمام بندگان خدا کو قرآن نے دعوت دی تھی کہ وہ اللہ کے بندگان ذاکر و شاکر بن جائیں۔
یہاں قارئین یہ بات نوٹ کرنا بھول نہ جائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پر سوز دعا میں “ ربنا ” اور “ رب ” اور “ ربی ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنے لیے اور آپ کے بعد اپنی اولاد کے لئے اللہ کی صفت ربوبیت کو جان بوجھ کر استعمال کیا ہے اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ آپ یہاں اللہ کی صفت الوہیت کو نہیں لاتے بلکہ صفت ربوبیت کو ۔۔۔۔ لاتے ہیں اس لیے کہ تمام جاہلیتوں خصوصاً عربی جاہلیت میں اللہ کی الوہیت مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ جس چیز میں ہمیشہ اختلاف واقع ہوتا ہے وہ اللہ کی صفت ربوبیت ہے۔ یعنی رب وہ ہوتا ہے جس کا تجویز کردہ نظام ، دین اور شریعت اس زمین پر چلتا ہے۔ اور یہی اصل عملی مسئلہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسلام اور جاہلیت میں تمیز ہوتی ہے ، توحید شرک سے جدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ یا تو اللہ کے دین میں ہوں گے تو اللہ ان کا رب ہوگا یا وہ غیر اللہ کے نظام میں ہوں گے پھر یہ غیر اللہ ان کا رب ہوگا۔ اسلام اور جاہلیت اور توحید اور شرک میں یہی فرق ہے جو عملی زندگی میں اسلام کو جاہلیت اور توحید کو شرک سے جدا کرتا ہے۔ قرآن کریم یہاں قریش پر ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ربوبیت کے مسئلے کو اس لیے پیش کرتا ہے اور ربوبیت پر اسی لیے زور دیتا ہے کہ وہ عربوں اور قریش پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنے جد امجد کی وصیت اور دعاؤں کے خلاف جا رہے ہو۔
سیاق کلام میں اس حصے کا آغاز ان آیات پر کیا گیا تھا۔
الم تر الی ۔۔۔۔۔۔ دار البوار (14 : 28) “ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا ”۔ یہ لوگ بدستور اپنی اس ظالمانہ چال پر قائم رہے ، لیکن ان پر عذاب الٰہی بھی نہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان سے یہ کہیں :
قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار ( 14 : 30) “ کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کار تمہیں پلٹ کر دوزخ ہی میں جانا ہے ”۔ اور حضور اکرم ﷺ کو مزید حکم دیا گیا تھا کہ آپ اپنی دعوت کا رخ اہل ایمان کی طرف پھیر دیں ، انہیں نماز اور کھلے طور پر اور خفیہ طور پر انفاق پر آمادہ کریں۔
من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) “ قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی ” اب اس حصے کی تکمیل اس پر ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے اس انجام تک کب پہنچیں گے اور یہ بات قیامت کے مناظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔ جو پے درپے آتے ہیں۔ جن میں مارے خوف کے انسانی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں اور دل تھر تھر کانپتے ہیں۔
إبراهيم 14:42
آیت نمبر 42 تا 43
رسول اللہ ﷺ اللہ کو ظالموں کے اعمال سے غافل نہ سمجھتے تھے۔ لیکن بظاہر یہ بات نظر آتی تھی کہ لوگ دیکھتے تھے کہ ظالم عیش کر رہے ہیں۔ اللہ کی دھمکیاں سن رہے ہیں ، دنیا کی زندگی گزر رہی ہے اور ان ظالموں کو اللہ کا کوئی عذاب اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ یہ انداز کلام اختیار کرتے ہیں تا کہ یہ یقین کرلیا جائے کہ یہ لوگ اپنے لیے متعین مہلت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آخر میں اللہ ایسے لوگوں کو وقت آنے پر پکڑتا ہے اور اس کی پکڑ ایسی ہوتی ہے کہ پھر اس سے کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔ وہ ایسا سخت دن ہوگا جس میں ان کی نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ نہایت جزع و فزع کی حالت میں ہوں گے۔ آنکھیں کھلی ہوں گی لیکن ان کے حواس مبہوت ہوجائیں گے اور ان کو کچھ نظر نہ آئے گا۔ اس قدر خوف ہوگا کہ ان کی نظر جہاں جم گئی جم گئی اور پھر اس ہولناک دن میں پوری قوم کی حالت یوں ہوگی کہ وہ بھاگے بھاگے پھریں گے۔ کسی چیز کی طرف ان کا دھیان نہ ہوگا۔ کسی چیز کی طرف التفات نہ ہوگا۔ سر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ خوشی سے نہیں بلکہ مجبوراً ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ کسی بھی منظر پر جب ان کی نظر اٹھ کر جم جائے گی تو اس سے ہٹا نہ سکیں گے اور نظر وہیں ٹک جائے گی۔ ان کے دل ہوا ہوں گے ، اڑے اڑے پھر رہے ہوں۔ نہ کچھ یاد ہوگا ، نہ کوئی حجت و دلیل ہوگی نہ کوئی تدبیر ہوگی۔
یہ ہے وہ دن جس کی طرف اللہ ان کو موخر کر رہا ہے۔ اس طرح یہ اس میدان میں کھڑے ہوں گے ، نہایت خوفزدہ۔ آیت کے ان چار ٹکڑوں میں ان کی حالت یہ نظر آتی ہے جس طرح ایک طاقتور باشے (باز) کے پنجوں میں ایک نہایت ہی چھوٹا پرندہ پھنس جاتا ہے اور وہ اسے دبوچ لیتا ہے۔ ذرا دوبارہ پڑھیں :
انما یوخرھم ۔۔۔۔۔ الابصار (42) مھطعین ۔۔۔۔۔ وافئدتھم ھواء (43) (14 : 42- 43) اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے۔ اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں ، سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں ، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں ”۔
سر اٹھائے تیز تیز بھاگنا ، یوں کہ نظریں آسمانوں پر جمی ہوں اس طرح کہ ٹکٹکی بندھ گئی ہو ، اور دل کی حالت یہ ہو کہ وہ ہوا کی طرح اڑ رہا ہے اور کچھ سمجھ میں نہ آرہا ہو ، تو یہ ایسی حالت جس میں انتہائی خوف ظاہر کیا گیا ہے ، جس میں انسان کی نظر ایک جگہ ٹک جاتی ہے۔
یہ دن جس کی طرف اللہ ان کو لے جا رہا ہے اور اس مہلت کے ختم ہونے کا وہاں ان کا انتظار ہو رہا ہے ، تو اے پیغمبر ، ان لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس میں کوئی عذر قبول نہ ہوگا اور کوئی صورت چھٹکارے کی نہ ہوگی۔ چناچہ اس خوفناک دن کا ایک دوسرا منظر لایا جاتا ہے۔
إبراهيم 14:43
آیت نمبر 42 تا 43
رسول اللہ ﷺ اللہ کو ظالموں کے اعمال سے غافل نہ سمجھتے تھے۔ لیکن بظاہر یہ بات نظر آتی تھی کہ لوگ دیکھتے تھے کہ ظالم عیش کر رہے ہیں۔ اللہ کی دھمکیاں سن رہے ہیں ، دنیا کی زندگی گزر رہی ہے اور ان ظالموں کو اللہ کا کوئی عذاب اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ یہ انداز کلام اختیار کرتے ہیں تا کہ یہ یقین کرلیا جائے کہ یہ لوگ اپنے لیے متعین مہلت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آخر میں اللہ ایسے لوگوں کو وقت آنے پر پکڑتا ہے اور اس کی پکڑ ایسی ہوتی ہے کہ پھر اس سے کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔ وہ ایسا سخت دن ہوگا جس میں ان کی نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ نہایت جزع و فزع کی حالت میں ہوں گے۔ آنکھیں کھلی ہوں گی لیکن ان کے حواس مبہوت ہوجائیں گے اور ان کو کچھ نظر نہ آئے گا۔ اس قدر خوف ہوگا کہ ان کی نظر جہاں جم گئی جم گئی اور پھر اس ہولناک دن میں پوری قوم کی حالت یوں ہوگی کہ وہ بھاگے بھاگے پھریں گے۔ کسی چیز کی طرف ان کا دھیان نہ ہوگا۔ کسی چیز کی طرف التفات نہ ہوگا۔ سر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ خوشی سے نہیں بلکہ مجبوراً ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ کسی بھی منظر پر جب ان کی نظر اٹھ کر جم جائے گی تو اس سے ہٹا نہ سکیں گے اور نظر وہیں ٹک جائے گی۔ ان کے دل ہوا ہوں گے ، اڑے اڑے پھر رہے ہوں۔ نہ کچھ یاد ہوگا ، نہ کوئی حجت و دلیل ہوگی نہ کوئی تدبیر ہوگی۔
یہ ہے وہ دن جس کی طرف اللہ ان کو موخر کر رہا ہے۔ اس طرح یہ اس میدان میں کھڑے ہوں گے ، نہایت خوفزدہ۔ آیت کے ان چار ٹکڑوں میں ان کی حالت یہ نظر آتی ہے جس طرح ایک طاقتور باشے (باز) کے پنجوں میں ایک نہایت ہی چھوٹا پرندہ پھنس جاتا ہے اور وہ اسے دبوچ لیتا ہے۔ ذرا دوبارہ پڑھیں :
انما یوخرھم ۔۔۔۔۔ الابصار (42) مھطعین ۔۔۔۔۔ وافئدتھم ھواء (43) (14 : 42- 43) اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے۔ اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں ، سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں ، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں ”۔
سر اٹھائے تیز تیز بھاگنا ، یوں کہ نظریں آسمانوں پر جمی ہوں اس طرح کہ ٹکٹکی بندھ گئی ہو ، اور دل کی حالت یہ ہو کہ وہ ہوا کی طرح اڑ رہا ہے اور کچھ سمجھ میں نہ آرہا ہو ، تو یہ ایسی حالت جس میں انتہائی خوف ظاہر کیا گیا ہے ، جس میں انسان کی نظر ایک جگہ ٹک جاتی ہے۔
یہ دن جس کی طرف اللہ ان کو لے جا رہا ہے اور اس مہلت کے ختم ہونے کا وہاں ان کا انتظار ہو رہا ہے ، تو اے پیغمبر ، ان لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس میں کوئی عذر قبول نہ ہوگا اور کوئی صورت چھٹکارے کی نہ ہوگی۔ چناچہ اس خوفناک دن کا ایک دوسرا منظر لایا جاتا ہے۔
إبراهيم 14:44
آیت نمبر 44 تا 45
اے پیغمبر ان لوگوں کو اس عذاب سے ڈرائیں جس کا نقشہ ابھی کھینچا گیا ، اس دن یہ ظالم بڑے پر امید ہو کر اور برخوردار بن کر یہ سوال کریں گے ۔ “ ربنا ” (اے ہمارے رب) آج تو وہ بہت احترام سے ربنا کہتے ہیں جبکہ دنیا میں تو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔
اخرنا الی۔۔۔۔۔۔۔ ونتبع الرسل (14 : 44) “ ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔
اب یہاں حکایتی انداز کلام براہ راست خطاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، گویا وہ ہمارے سامنے کھڑے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں ، دعا کر رہے ہیں اور ہم اب میدان محشر میں ہیں ، حیات دنیا کا دفتر لپیٹ دیا گیا ہے اور وہ دیکھو عالم بالا سے ان کو براہ راست مخاطب کر کے سخت سرزنش اور سخت شرمندہ کیا جا رہا ہے اور ان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ذرا پیچھے مڑکر دیکھو تم کیا کرتے رہے ہو۔
اولم تکونوا اقستم من قبل مالکم من زوال (14 : 44) “ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ”۔ اب تمہاری کیا رائے ہے ؟ تم زوال پذیر ہوگئے یا نہیں ؟ تم تو ایسی باتیں کیا کرتے تھے جبکہ امم سابقہ کے آثار اور تاریخ تمہارے سامنے تھی۔ ظالموں اور سرکشوں کا انجام تو سامنے تھا۔
وسکنتم فی مسکن ۔۔۔۔۔ لکم الامثال (14 : 45) “ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے کر تمہیں سمجھا چکے تھے ”۔ لیکن تمہارا رویہ بھی عجیب تھا کہ ان ظالموں کے کھنڈرات اور ان کے احوال کو دیکھ کر کہ وہ ان سے خالی پڑے ہیں اور ان کے شہروں میں اب تم بس رہے ہو اور پھر بھی تم قسمیں کھا رہے تھے۔ “ تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہے ”۔۔۔ یہاں اب یہ منظر ختم ہوجاتا ہے اور ہم جان لیتے ہیں کہ ان کی دعا اور اسے مسترد کرنے کے بعد اب ان کا انجام کیا ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی میں ایسی صورت حال رات اور دن پیش آتی رہتی ہے۔ کئی سرکش اور ڈکٹیٹر ان لوگوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے اور بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ ان برسر اقتدار سرکشوں کے ہاتھوں ہی وہ مغلوب ہو کر نکالے گئے ہوتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے یہ جانشینان پھر سرکشی اور جباری و قہاری شروع کردیتے ہیں اور عین ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور ہلاکت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے شعور و وجدان کے اندر اس سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے عبرتناک واقعات کوئی ارتعاش پیدا نہیں کرتے حالانکہ ان کی تاریخ پکار رہی ہوتی ہے۔ یہی تمہاری تاریخ ہے۔ پھر جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ بھی ان کے ساتھ ، اسی انجام سے دوچار ہوتے ہوئے جا ملتے ہیں اور اللہ کی زمین ان ناپاک لوگوں سے خالی کردی جاتی ہے۔
اب پردہ گرتا ہے ، قیامت کا منظر لپیٹ دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے موجودہ حالات پر بات شروع ہوتی ہے جو اس دنیا میں موجود تھے۔ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور مومنین کے خلاف رات اور دن سازشیں کر رہے تھے اور زندگی کے میدانوں کے ہر پہلو کے اعتبار سے اسلام کے خلاف فتنے برپا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا مکرو فریب اور پروپیگنڈا جس قدر بھی عظیم ہو تمہیں اللہ اقوام ما قبل ہی کی طرح پکڑے گا۔
إبراهيم 14:45
آیت نمبر 44 تا 45
اے پیغمبر ان لوگوں کو اس عذاب سے ڈرائیں جس کا نقشہ ابھی کھینچا گیا ، اس دن یہ ظالم بڑے پر امید ہو کر اور برخوردار بن کر یہ سوال کریں گے ۔ “ ربنا ” (اے ہمارے رب) آج تو وہ بہت احترام سے ربنا کہتے ہیں جبکہ دنیا میں تو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔
اخرنا الی۔۔۔۔۔۔۔ ونتبع الرسل (14 : 44) “ ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔
اب یہاں حکایتی انداز کلام براہ راست خطاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، گویا وہ ہمارے سامنے کھڑے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں ، دعا کر رہے ہیں اور ہم اب میدان محشر میں ہیں ، حیات دنیا کا دفتر لپیٹ دیا گیا ہے اور وہ دیکھو عالم بالا سے ان کو براہ راست مخاطب کر کے سخت سرزنش اور سخت شرمندہ کیا جا رہا ہے اور ان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ذرا پیچھے مڑکر دیکھو تم کیا کرتے رہے ہو۔
اولم تکونوا اقستم من قبل مالکم من زوال (14 : 44) “ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ”۔ اب تمہاری کیا رائے ہے ؟ تم زوال پذیر ہوگئے یا نہیں ؟ تم تو ایسی باتیں کیا کرتے تھے جبکہ امم سابقہ کے آثار اور تاریخ تمہارے سامنے تھی۔ ظالموں اور سرکشوں کا انجام تو سامنے تھا۔
وسکنتم فی مسکن ۔۔۔۔۔ لکم الامثال (14 : 45) “ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے کر تمہیں سمجھا چکے تھے ”۔ لیکن تمہارا رویہ بھی عجیب تھا کہ ان ظالموں کے کھنڈرات اور ان کے احوال کو دیکھ کر کہ وہ ان سے خالی پڑے ہیں اور ان کے شہروں میں اب تم بس رہے ہو اور پھر بھی تم قسمیں کھا رہے تھے۔ “ تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہے ”۔۔۔ یہاں اب یہ منظر ختم ہوجاتا ہے اور ہم جان لیتے ہیں کہ ان کی دعا اور اسے مسترد کرنے کے بعد اب ان کا انجام کیا ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی میں ایسی صورت حال رات اور دن پیش آتی رہتی ہے۔ کئی سرکش اور ڈکٹیٹر ان لوگوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے اور بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ ان برسر اقتدار سرکشوں کے ہاتھوں ہی وہ مغلوب ہو کر نکالے گئے ہوتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے یہ جانشینان پھر سرکشی اور جباری و قہاری شروع کردیتے ہیں اور عین ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور ہلاکت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے شعور و وجدان کے اندر اس سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے عبرتناک واقعات کوئی ارتعاش پیدا نہیں کرتے حالانکہ ان کی تاریخ پکار رہی ہوتی ہے۔ یہی تمہاری تاریخ ہے۔ پھر جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ بھی ان کے ساتھ ، اسی انجام سے دوچار ہوتے ہوئے جا ملتے ہیں اور اللہ کی زمین ان ناپاک لوگوں سے خالی کردی جاتی ہے۔
اب پردہ گرتا ہے ، قیامت کا منظر لپیٹ دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے موجودہ حالات پر بات شروع ہوتی ہے جو اس دنیا میں موجود تھے۔ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور مومنین کے خلاف رات اور دن سازشیں کر رہے تھے اور زندگی کے میدانوں کے ہر پہلو کے اعتبار سے اسلام کے خلاف فتنے برپا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا مکرو فریب اور پروپیگنڈا جس قدر بھی عظیم ہو تمہیں اللہ اقوام ما قبل ہی کی طرح پکڑے گا۔
إبراهيم 14:46
آیت نمبر 46
اللہ ان کو بھی گھیرے ہوئے ہے اور ان کی مکاری بھی اللہ کے دائرہ قدرت میں ہے اگرچہ ان کی تدابیر اس قدر سخت اور شدید ہوں کہ ان کے ذریعہ پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹایا جاسکتا ہو۔ ظاہر ہے کہ کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے لئے بہت بڑی قوت کی ضرورت ہے اور اس کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اگرچہ یہ بہت بڑے بڑے مکر اور فریب کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی فریب اللہ کے دائرہ قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اللہ جس طرح چاہے وہ ان کی مکاریوں کو ختم کرسکتا ہے۔
إبراهيم 14:47
آیت نمبر 47
یہ لوگ جو تدابیر کرتے ہیں یہ اللہ کے مقابلے میں موثر نہیں ہیں اور اللہ اپنے رسولوں اور اپنی تحریکات کی جب مدد کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ “ وہ تو زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے ”۔
اس سے کوئی ظالم بچ کر نہیں نکل سکتا اور کوئی مکار اس کے عذاب سے نجات نہیں پا سکتا۔ یہاں ظلم اور سرکشی اور عظیم مکاری کے بالمقابل لفظ انتقام لایا گیا ہے جو نہایت موزوں ہے کیونکہ ظالم اور مکار سے انتقام لینا مناسب ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف جب انتقام کی نسبت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ظلم و سرکشی کی مناسب جزاء و سزا اور اس میں بھی عادلانہ طریق کار۔ اور یہ عادلانہ جزاء و سزا تب واقعہ ہوگی۔
إبراهيم 14:48
یہ کیونکر ہوگا ، اس کی تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے ، نہ ہمیں معلوم ہے کہ اس دوسری زمین کی طبیعات کیسی ہوں گی اور یہ ہوگی کہاں ، البتہ قرآن کی یہ آیات ہمارے شعور کے اندر یہ تاثر بٹھاتی ہے کہ یہ لوگ کیا ہیں اور ان کی مکاریاں کیا ہیں ، اللہ کی قدرت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ زمین و آسمان کو بدل کر رکھ دے گا۔ ان کی کامیابیاں اللہ کے مقابلے میں حقیر اور معمولی ہیں۔ وہ دیکھو دوسرے منظر میں یہ زمین و آسمان تو قدرت نے بدل کر رکھ دئیے ! !
آیت نمبر 48
ترجمہ : ان کو یہ احساس ہوجائے گا کہ وہ تو اللہ کے سامنے کھلے اور ننگے کھڑے ہیں۔ کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہے وہ اپنے گھروں میں نہیں ہیں ! وہ تو قبروں میں بھی نہیں ! وہ تو ایک کھلے میدان میں اللہ واحد وقہار کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہاں “ قہار ” کا لفظ عمداً استعمال ہوا تا کہ سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کو ذرا متنبہ کردیا جائے کہ ان کی سرکشی اللہ کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ اگرچہ یہ سرکشی اور مکاری اس قدر سخت ہو کہ اس سے پہاڑوں کو بنایا جاسکتا ہو۔
اب ہمارے سامنے مناظر عذاب قیامت میں سے ایک شدید اور سخت منظر پیش کیا جاتا ہے جو نہایت ذلیل کرنے والا ہے اور سرکشوں اور جابر مکاروں کے لئے موزوں ہے۔
إبراهيم 14:49
آیت نمبر 49 تا 50
ان مجرموں کا منظر یوں ہے کہ دو دو زنجیروں میں بندھے ہوں گے۔ صف در صف جا رہے ہوں گے۔ اللہ قہار کی طرف سے یہ ان کی تذلیل ہوگی۔ مزید یہ کہ ان کا لباس ایک ایسے مواد سے بنا ہوگا جو سخت آتش گیر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاہ تارکول سے ہوگا۔ یہ ان کی مزید تذلیل ہوگی۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے قریب آتے ہی یہ لوگ شعلوں کے نذر ہوں گے۔
وتغشی وجوھم النار (14 : 50) “ ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی ”۔ یہ ایک ذلیل عذاب ہوگا ، اور ان کے مکر اور سرکشی اور استکبار کے لئے مناسب علاج۔
إبراهيم 14:50
آیت نمبر 49 تا 50
ان مجرموں کا منظر یوں ہے کہ دو دو زنجیروں میں بندھے ہوں گے۔ صف در صف جا رہے ہوں گے۔ اللہ قہار کی طرف سے یہ ان کی تذلیل ہوگی۔ مزید یہ کہ ان کا لباس ایک ایسے مواد سے بنا ہوگا جو سخت آتش گیر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاہ تارکول سے ہوگا۔ یہ ان کی مزید تذلیل ہوگی۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے قریب آتے ہی یہ لوگ شعلوں کے نذر ہوں گے۔
وتغشی وجوھم النار (14 : 50) “ ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی ”۔ یہ ایک ذلیل عذاب ہوگا ، اور ان کے مکر اور سرکشی اور استکبار کے لئے مناسب علاج۔
إبراهيم 14:51
آیت نمبر 51
انہوں نے اپنی زندگی میں ظلم اور مکاری کو اپنا کسب بنا لیا تھا ، تو اللہ کی طرف سے ان پر قہر نازل ہوگا اور وہ ذلیل ہوں گے۔ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ، ان کی مکاری اور گہری تدابیر کے لئے مناسب ہے کہ جلدی ان کا حساب لیا جائے کیونکہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ ان کی اس مکاری کو ظاہر نہ کرے گا اور کوئی قوت بھی ان پر غالب نہ آسکے گی چناچہ اللہ بڑی سرعت سے اب ان سے حساب بھی لے گا اور نہایت ذلت کے ساتھ انہیں عذاب بھی دے گا۔
آخر میں سورت کا خاتمہ اسی مضمون پر ہوتا ہے جس سے اس کو شروع کیا گیا تھا لیکن یہ خاتمہ ایک اعلان عام کی شکل میں ہے جو ببانگ دہل کیا جاتا ہے تا کہ تمام لوگوں تک ہر جگہ یہ اعلان عام پہنچ جائے۔
إبراهيم 14:52
آیت نمبر 52
اس اعلان عام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ جان لیں کہ اللہ ایک ہی الٰہ اور حاکم ہے۔ یہ وہ بنیادی اصول ہے جس کے اوپر اسلامی نظام قائم ہے۔
لیکن اس اعلان عام سے اصل غرض وغایت مجرد نہیں ہے بلکہ اصل مقصود یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگی کا پورا نظام اس اصول پر قائم کریں اور اپنی پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت اختیار کریں۔ اگر وہ اللہ کو واحد الٰہ اور حاکم سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اگر کسی کو الٰہ اور خالق ومالک سمجھا جاتا ہے تو وہی حاکم اور رب بھی ہوگا۔ وہی سربراہ ، متصرف فی الامور ، ڈائریکٹر اور قانون ساز ہوگا۔ اس ایمان و اعلان پر اگر انسانی زندگی کو عملاً قائم کیا جائے تو وہ عملی نظام اس نظام کے سراسر متضاد ہوگا جو اس اصول اور اعلان پر قائم کیا جائے کہ کچھ لوگ اپنے جیسے کچھ لوگوں کے غلام ہوں گے۔ اور انسانوں میں سے کچھ حاکم ، قانون ساز اور ظالم ہوں گے۔ یہ ایک بنیادی اختلاف ہے ، جس کی وجہ سے عقائد و تصورات مختلف ہوجاتے ہیں۔ شعائر اور مراہم عبادت مکتلف ہوجاتے ہیں۔ اخلاق اور طرز عمل مختلف ہوجاتے ہیں۔ حسن و قبح کی قدریں بدل جاتی ہیں ، اور سیاسی اور اقتصادی نظام بدل جاتے ہیں۔ غرض کسی سوسائٹی کو ان میں سے کسی قاعدے پر منظم کیا جائے تو اس کے انفرادی اور اجتماعی خدو خال ہی بدل جائیں گے۔
یہ نظریہ کہ اللہ ایک ہے اور وہی حاکم ہے اس کی بنیاد پر ایک مکمل نظام حیارت تعمیر ہوتا ہے۔ یہ نظریہ صرف ذہنوں میں بیٹھے رہنے والا نظریہ نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ حیات محض عقائد تک محدود نہیں ہے ، اس کی حدود بہت آگے چلی جاتی ہیں۔ یہ نظریہ انسان کی پوری عملی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اللہ کی حاکمیت کا نظریہ اسلامی عقائد کا ایک حصہ ہے۔ اسلامی اخلاق کا قیام بھی ہمارے عقائد کا حصہ ہے۔ اور یہ ایک ایسا عقیدہ اور نظریہ حیات ہے جس سے ایک مکمل نظام پھوٹ کر نکلتا ہے۔ نئی قدریں وجود میں آتی ہیں اور یہ دنیا میں نئے حالات اور نیا دستوری اور قانونی نظام پیش کرتا ہے۔
ہم اس وقت تک قرآنی ، مقاصد و اہداف کو ادراک نہیں کرسکتے ، جب تک ہم قرآنی عقائد و نظریات کو اچھی طرح نہ سمجھ لیں اور جب تک ہم کلمہ شہادت کے مفہوم کو اچھی طرح نہ سمجھ لیں کہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اصلی مفہوم کیا ہے اور جب تک ہم اس کے مفہوم کو اس کی وسعتوں کے ساتھ نہ سمجھ لیں ۔ جب تک ہم یہ نہ سمجھ لیں کہ اسلام میں ” عبادت “ کا مفہوم کیا ہے۔ اور جب تک ہم عبادت کی تعریف میں یہ نہ شامل کرلیں کہ اس سے مراد پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت و غلامی ہے۔ صرف نماز کے اوقات میں نہیں ، بلکہ زندگی کے تمام امور میں۔
عرب بت پرستی جس کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے اور اپنی اولاد کے بارے میں دعا کی کہ اللہ ہمیں اس سے بچائیو ، یہ اس قدر سادہ نہ تھی جس طرح عرب حضور اکرم ﷺ کے دور میں اس پر عامل تھے یا جس طرح دوسری جاہلیتوں میں مختلف انداز میں اس پر عمل ہوتا تھا ، کہ درختوں اور پتھروں کی پوجا ہو رہی ہے ، حیوانوں اور پرندوں کو پوجا جا رہا ہے ، ستاروں اور سیاروں کو پوجا جا رہا ہے ، ارواح اور اوہام کو پوجا جا رہا ہے۔ یہ سادہ شکلیں ہی شرک نہ تھا ، اور نہ بتوں کی عبادت کی فقط یہ سادہ شکلیں تھیں ، نہ شرک ان سادہ شکلوں میں محدود تھا۔ نہ اس بت پرستی کا یہی مفہوم تھا اور اس سے آگے ہم شرک کی دوسری شکلیں دریافت نہیں کرسکتے یا ہیں ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ شرک کی لاتعداد صورتیں ہیں ، ہم اپنی فکر کو ان صورتوں تک محدود نہیں کرسکتے یا ہیں ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ شرک کی لاتعداد صورتیں ہیں ، ہم اپنی فکر کو ان صورتوں تک محدود نہیں کرسکتے ، بلکہ جاہلیت جدیدہ میں شرک کی بیشمار جدید صورتیں بھی پیدا ہوگئی ہیں۔
لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم شرک کو سمجھیں اور شرک کے ساتھ بت پرستی کے تعلق کو بھی سمجھیں ، نیز بتوں کی حقیقت پر بھی غور کرنا ضروری ہے ، اور دور جدید میں ، جاہلیت جدیدہ نے جو نئے اصنام گھڑ لیے ہیں ان کا بت پرستی کے ساتھ تعلق دریافت کرنا بھی ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کے مخالف شرک کا دائرہ ہر اس صورت حال تک وسیع ہوتا ہے جس میں زندگی کے محاملات میں سے کسی ایک حال میں اللہ وحدہ کی اطاعت نہ ہو ، یہ حال بھی شرک کی تعریف میں آتا ہے کہ ایک انسان زندگی کے بعض معاملات میں مطیع فرمان ہوتے ہوئے بھی دوسرے معاملات میں غیر اللہ کا مطیع ہو ، شرک صرف مراسم عبودیت کے اندر محدود نہیں ہے ، یہ تو شرک کی ایک مخصوص صورت ہوتی ہے۔ جدید دور میں ہماری زندگیوں میں بعض ایسی واضح مثالیں موجود ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ یہ شرک صریح کی واضح مثالیں ہیں۔ ایک شخص جو اللہ کو وحدہ لا شریک تسلیم کرتا ہے۔ پھر وضو ، طہارت ، نماز ، روزے ، حج اور تمام دوسری عبادات میں اللہ کی طرف رخ رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اقتصادی معاملات اور اجتماعی قوانین میں ، غیر اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور وہ اپنی اجتماعی قدروں میں ایسے تصورات ایسی صطلاحات کا تابع ہے جو غیر اللہ کی جاری کردہ ہیں اور اپنے اخلاق ، اپنی عادات اور رسم و رواج میں ، اپنے لباس میں ، ایسے لوگوں کی اطاعت کرتا ہے ، جو اللہ کے احکام کے بالمقابل اس پر یہ تصورات ، اخلاق ، عادات اور لباس مسلط کرتے ہیں اور یہ ایسے ہیں جو صراحتہ شریعت کے مخالف ہیں ، اللہ کے احکام کے خلاف ہیں ، اور حقیقتاً اسلام کے خلاف ہیں تو یہ عمل اس کلمہ شہادت کے خلاف ہے جو وہ شخص پڑھتا ہے ، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ یہ ہے وہ اصل بات جس سے ہمارے دور کے مسلمان غافل ہیں۔ حالانکہ یہ شرک ہے ، آج کے مسلمان نہایت بھونڈے انداز میں غیر اللہ یہ اطاعت کرتے ہیں اور یہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ یہ شرک ہے اور ہر دور کے مشرک یہی کام کرتے رہے ہیں۔
بت کیا ہیں ، یہ ضروری نہیں ہے کہ بت ہی مجسمے ہوں جو پتھروں سے بنے ہوں۔ یہ بت تو دراصل رمز ہیں طاغوت کے لئے ، ان بتوں کے پیچھے اصل طاغوت ہوتا ہے جو ان بتوں کے نام اور عنوان سے لوگوں سے اپنی بندگی کراتا ہے۔ اور ان بتوں کے نام سے اپنا اور اپنی بندگی کا نظام جاری کرتا ہے۔
بت تو نہ بات کرتے تھے ، نہ سنتے تھے اور نہ دیکھتے تھے ، دراصل مجاور ، ۔۔۔۔۔۔ اور حاکم وقت ان کی پشت پر ہوتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ ان کے نام سے تعویذ اور گنڈے کرتے تھے ، دم درود کرتے تھے اور اس طرح وہ جمہور عوام کو اپنا غلام بنائے رکھتے تھے۔ اب اگر کسی جگہ ایسے ہی شعار اٹھ کھڑے ہوں۔ کچھ ادارے ہوں اور ان اداروں کے نام سے کچھ کاہن اور کچھ مہنت اور کچھ احکام اپنے تصورات ، اپنے قوانین اور اپنے اعمال و تصرفات عوام پر مسلط کرتے ہوں تو اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ بھی شرک باللہ ہوگا۔
اگر قومیت کو ایک بت بنا لیا جائے۔ اگر کسی وطن کو بت بنا لیا جائے ، یا کسی مملکت کو بت بنا لیا جائے ، یا کسی طبقے کو بت بنا لیا جائے اور لوگوں سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس بت کو پوجیں ، اور اللہ کے علی الرغم پوجیں اور ان کی راہ میں جان ، مال ، اخلاق اور اپنی عزت سب کچھ قربان کریں ، یوں کہ جب ان بتوں کے مطالبات اور شریعت کے مطالبات کے درمیان تعارض آجائے تو اللہ کی شریعت اس کے قوانین اور اس کے مطالبات کو پس پشت ڈال دیا جائے اور ان نئے بتوں کے مطالبات ، تقاضوں ، قوانین اور اخلاق کو نافذ کردیا جائے یا صحیح الفاظ میں ان مفادات اور جدید بتوں کی پشت پر موجود طاغوتی قوتوں کی اطاعت کی جائے تو یہ صریح شرک ہوگا ۔ اور ایسے لوگ بت پرست ہوں گے ، مشرک ہوں کیونکہ بت کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ پتھر اور لکڑی کا بت ہو ، ہر مذہب اور ہر شعار بت ہوتا ہے۔
اسلام صرف اس لیے نہیں آیا تھا کہ وہ لکڑیوں اور پتھروں کے بنے ہوئے بتوں کو توڑ دے اور یہ مسلسل مشقتیں جو رسولان کرام کے طویل سلسلہ نے برداشت کیں ، اور اس کے سلسلے میں ناقابل برداشت اور ناقابل تصور تکالیف برداشت کیں ، یہ محض پتھر اور لکڑی کے بتوں کے ختم کرنے کے لئے نہ تھیں بلکہ مقصد ہر قسم کی بت پرستی کو ختم کرنا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ زندگی کے تمام معاملات میں اللہ کی اطاعت کا نظام قائم کر دے۔ ہر شکل اور ہر صورت میں اور زندگی کے تمام معاملات میں سے ، چاہے اس کی شکل و صورت جو بھی ہو ، غیر اللہ کی اطاعت کو ختم کر دے لہٰذا زندگی کے ہر طور طریقے اور نظام میں ہمیں معلوم کرنا چاہیے کہ اس کی کون سی صورت توحید ہے اور کون سی صورت شرک ہے ، اس میں اطاعت اور بندگی اللہ وحدہ کی ہے یا کسی اور طاغوتی قوت کی ہے ، کسی اور رب یا بت کی ہے۔
وہ لوگ جو محض اس لیے اپنے آپ کو اللہ کے دین میں سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی زبان سے کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ادا کرتے ہیں اور وہ بھی محض اس لیے کہ وہ طہارت ، مراسم عبودیت ، نماز ، روزہ ، حج اور نکاح و طلاق میں یا مسئلہ میراث میں اللہ کے قانون کو مانتے ہیں۔ جب کہ اس سے آگے ان کی پوری زندگی ان قوانین کے مطابق ہے جو اللہ کے قوانین کے خلاف ہیں اور ان قوانین کی اکثریت ایسی ہے جو قرآن و سنت کے صریح خلاف ہیں ، اور وہ ان قوانین اور اس نظام کے لئے اپنے نفس ، اپنے مال اور اپنے اخلاق اور کلچر کو قربان کرتے ہیں ، خواہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ، اور یہ کام وہ اس لیے کرتے ہیں کہ یہ جدید بت ان سے راضی ہوں ، اور صورت حالات یہ ہو کہ کسی مرحلے میں اللہ کے احکام اور قوانین کا ان بتوں کے احکام کو نافذ کریں تو یہ صریح بت پرستی ہے۔
جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اللہ کے دین میں سمجھتے ہیں اور ان کا حال وہ ہے جو ابھی بتا یا گیا ، ان کو چاہئے کہ وہ اس شرک سے باز آجائیں جس میں وہ ہیں۔ دین اسلام ایسا مزاح نہیں ہے جو یہ لوگ سمجھتے ہیں جو مشرق و مغرب میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ دین اسلام روزمرہ کی جزئیات حیات کو بھی اپنے دائرہ میں لیتا ہے اور یہ مطالبہ کرتا ہے کہ زندگی کی تمام جزئیات میں اللہ وحدہ کی اطاعت کی جائے ، اصول اور کلیات اور دستور و قانون تو بڑی بات ہے۔ یہ ہے وہ اسلام جس کے سوا خدا کسی ” دین “ کو قبول نہیں کرتا۔
شرک اس کے اندر محدود نہیں ہے کہ کوئی اللہ کو ایک نہ سمجھے بلکہ شرک کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ کوئی کسی غیر اللہ کو حاکم سمجھے۔ پتھروں اور لکڑیوں کے بنے ہوئے بتوں کو پوجنا بت پرستی کا بہت سادہ تصور ہے ، اصل بت پرستی خلاف اسلام اداروں کی پرستش ہے۔
سادہ ترین الفاظ میں ، میں یوں کہتا ہوں کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ ان کی زندگی میں اہم کون ہے ؟ وہ کس کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ؟ وہ کس کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ؟ وہ کس کی پیروی ، اتباع کرتے ہیں ؟ کس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں ؟ اگر وہ یہ سب کام اللہ کے لئے کرتے ہیں تو وہ مسلم ہیں ، اگر وہ یہ کام کسی اور کے لئے کرتے ہیں تو یہ ان کے دین پر ہیں۔ بت ہیں تو بتوں کے دین پر۔ طاغوت میں تو طاغوت کے دین ہو۔
یہ ہے پیغام ! سب انسانوں کو اس سے ڈرایا جائے ! ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ ان معنوں میں وحدہ لا شریک ہے ! اگر عقل ہے تو ان باتوں کو سمجھو !
ھذا بلاغ ھذا بلاغ صدق اللہ العظیم