Fi Zilal al-Quran — الحجر 15:1 – الحجر 15:99
Contents
- الحجر 15:1
- الحجر 15:2
- الحجر 15:3
- الحجر 15:4
- الحجر 15:5
- الحجر 15:6
- الحجر 15:7
- الحجر 15:8
- الحجر 15:9
- الحجر 15:10
- الحجر 15:11
- الحجر 15:12
- الحجر 15:13
- الحجر 15:14
- الحجر 15:15
- الحجر 15:16
- الحجر 15:17
- الحجر 15:18
- الحجر 15:19
- الحجر 15:20
- الحجر 15:21
- الحجر 15:22
- الحجر 15:23
- الحجر 15:24
- الحجر 15:25
- الحجر 15:26
- الحجر 15:27
- الحجر 15:28
- الحجر 15:29
- الحجر 15:30
- الحجر 15:31
- الحجر 15:32
- الحجر 15:33
- الحجر 15:34
- الحجر 15:35
- الحجر 15:36
- الحجر 15:37
- الحجر 15:38
- الحجر 15:39
- الحجر 15:40
- الحجر 15:41
- الحجر 15:42
- الحجر 15:43
- الحجر 15:44
- الحجر 15:45
- الحجر 15:46
- الحجر 15:47
- الحجر 15:48
- الحجر 15:49
- الحجر 15:50
- الحجر 15:51
- الحجر 15:52
- الحجر 15:53
- الحجر 15:54
- الحجر 15:55
- الحجر 15:56
- الحجر 15:57
- الحجر 15:58
- الحجر 15:59
- الحجر 15:60
- الحجر 15:61
- الحجر 15:62
- الحجر 15:63
- الحجر 15:64
- الحجر 15:65
- الحجر 15:66
- الحجر 15:67
- الحجر 15:68
- الحجر 15:69
- الحجر 15:70
- الحجر 15:71
- الحجر 15:72
- الحجر 15:73
- الحجر 15:74
- الحجر 15:75
- الحجر 15:76
- الحجر 15:77
- الحجر 15:78
- الحجر 15:79
- الحجر 15:80
- الحجر 15:81
- الحجر 15:82
- الحجر 15:83
- الحجر 15:84
- الحجر 15:85
- الحجر 15:86
- الحجر 15:87
- الحجر 15:88
- الحجر 15:89
- الحجر 15:90
- الحجر 15:91
- الحجر 15:92
- الحجر 15:93
- الحجر 15:94
- الحجر 15:95
- الحجر 15:96
- الحجر 15:97
- الحجر 15:98
- الحجر 15:99
الحجر 15:1
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:2
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:3
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:4
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:5
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:6
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:7
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:8
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:9
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:10
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:11
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:12
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:13
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:14
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:15
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔
وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (5) (15 : 4 : 5) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔
یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔
حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (15 : 5) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) (15 : 6- 7) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔
یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم ﷺ کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے انک لمجنون (15 : 6) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔
لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (15 : 7) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔
قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟
ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (15 : 9) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔
اب حضور اکرم ﷺ کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔
ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (10) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (11) (15 : 10- 11) “ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔
کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (12) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (13) (15 : 12- 13) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔
ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (14) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (15) (15 : 14- 15) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔
یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔
یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭
اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔
الحجر 15:16
آیت نمبر 16 تا 18
اس پھیلی ہوئی کائنات کی یہ پہلی لائن ہے۔ اس عجیب و غریب کائنات کے نقش و نگار کی یہ پہلی تصویر ہے۔ اس کائنات میں نزول ملائکہ سے بھی زیادہ عجائبات ہمارے سامنے ہیں۔ خود ان کائنات کی تشکیل اور طبیعی لحاظ سے اس کی کارکردگی اللہ کی قدرت و صنعت کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے احتیاج ہی نہیں ہے۔
بروج کیا ہیں ، یہی ستارے اور سیارے عظیم سے عظیم تر۔ ان سیاروں اور ستاروں کے مدار اور مقامات بھی برج ہو سکتے ہیں۔ جو بھی مراد ہو لیکن دونوں حالات میں ان کی کار کردگی ایک معجز دلیل ہے اور اللہ کی قدرت اور حکمت پر شاہد عادل ہے ، کس قدر پیچیدہ ، موثر ہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورت منظر ہے۔
وزینھا للنظرین (15 : 16) “ ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لئے مزین کیا ”۔ اس پوری کائنات اور خصوصاً سماء دنیا کے حسن و جمال کو تو دیکھئے۔ اس آیت سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کائنات میں حکمت و تقدیر کے علاوہ حسن و جمال کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے محض ضمامت اس کائنات میں مدنظر نہیں ، محض وسعت مد نظر نہیں ، محض اس کی پیچیدہ ساخت پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ اس کی ساخت میں ایک خاص خوبصورتی کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔
ایک خوبصورت رات میں کبھی آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا ہے ؟ جس میں کواکب بکھرے پڑے ہوتے ہیں ، ہر ایک ستارہ روشنی چھوڑ رہا ہوتا ہے گویا کہ ایک انگارہ ہے جو اپنی جگہ دہک رہا ہے ، پھر اس حالت میں ہماری نظر ایک نہایت ہی بعید ستارے پر ہوتی ہے ۔ پھر ایک دوسرا منظر آپ سامنے لائیں۔ ایک خوبصورت رات ہے اس میں چودھویں کا چاند بلند یوں پر ہے اور اس کے سامنے کائنات خاموش کھڑی ہے۔
اس کائنات کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کے لئے بغیر چاند کے شفاف رات اور چودھویں کے چاند کی ایک خوبصورت رات میں ، ایک شاعرانہ نگاہ ہی کافی ہوتی ہے ، کس قدر وسیع حسن و جمال ہے ؟ اور کس قدر گہرا اثر ہے اس کا پردۂ احساس پر ؟ کیا اسی کے سوا کسی اور برہان کی ضرورت ہے ؟
وزینھا للنظرین (15 : 16) “ اے دیکھنے والوں کے لئے ہم نے مزین کیا ہے ”۔ جو دیکھنے والے نہیں ہیں۔ لیکن اس کائنات کو حسن و جمال سے پھر دینے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی محفوظ اور پاکیزہ بھی بنایا گیا ہے۔
وحفظنھا من کل شیطن رجیم (15 : 17) “ اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا ”۔ کوئی شیطان قوت اسے خراب نہیں کرسکتی اور کوئی شیطانی قوت اس کی فضا کو آلودہ نہیں کرسکتی۔ اس کائنات کے نظام میں کوئی شیطانی قوت اپنا وائرس داخل کر کے اس کے نظم کو خراب نہیں کرسکتی۔ اسے گندہ نہیں کرسکتی ، اور اس کی رفتار کا منہ موڑ کر اسے گمراہ نہیں کرسکتی ، جس طرح شیطان انسان کے ساتھ اس کرۂ ارض پر یہ سب کام کرتا ہے اور اس کرۂ ارض پر اس کا یہ مشن ہے۔ اس کرۂ ارض پر تو شیطان اپنا مشن پورا کرسکتا ہے لیکن آسمانوں کے نظام میں اس کا کوئی عمل و دخل نہیں ہے۔ آسمانوں پر اور بلندیوں پر اس کی دسترس نہیں ہے۔ اس کی ناپاکیاں ، گمراہیاں وہاں کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔ آسمانوں پر اس کے حملے رہ کر دئیے جاتے ہیں۔ وہاں ان کے دفاع کا انتظام ہے۔
الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین (15 : 18) “ الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اس کا پیچھا کرتا ہے ”۔ شیطان کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ آسمانوں سے کس طرح سن گن لیتا ہے ، وہ کیا چیز چراتا ہے۔ ان سب امور کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ہم ان کا مفہوم صرف اسی قدر سمجھ سکتے ہیں جس قدر ان نصوص قرآنیہ میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لئے مزید جستجو کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس شعبے میں کچھ مزید دریافت بھی کرلیں کہ شیطان کس طرح سن گن لیتا ہے تو اس کا ہمارے ایمان کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان معاملات میں تحقیق و تدقیق سے فائدے کو بجائے نقصان ہوتا ہے کہ انسان اس زندگی کے عملی معاملات سے دور ہو کر محض عقلی گھوڑے دوڑانے لگتا ہے اور وہ کئی نئی حقیقت اور کوئی نیا علم بھی نہیں پا سکتا۔
ہم نے جس قدر جاننا ہے وہ یہی ہے کہ شیطان کا عمل و دخل آسمانوں میں نہیں ہے۔ اس وسیع کائنات کا یہ حسن و جمال اور ھرکت و فعالیت شیطان کی دسترس سے محفوظ ہے۔ اس کائنات کے امور میں شیطانی قوتوں کی طرف سے جو دخل اندازی ہوتی ہے ، یا دخل اندازی کی جو کوشش ہوتی ہے ، اس موقع پر شیطانی قوتوں کو مار بھگایا جاتا ہے اور شہاب ثاقب کی وجہ سے ان کے عزائم رک جاتے ہیں۔
یہاں جس انداز میں بلند قلعوں اور برجوں کا ذکر ہوا ہے ، جس طرح شیطانوں کے اوپر چڑھنے کی مساعی کا ذکر ہوا اور پھر جس انداز میں ان پر بمباری ہوتی ہے تصور اور تخیل اور مشاہدے کے اعتبار سے یہ منظر ایک نہایت ہی خوبصورت منظر ہے اور قرآن کریم کی فنی تصویر کشی کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔
کائنات کی اس وسیع پینگ کی دوسری لائن ، وہ وسیع زمین ہے جس پر ہم بستے ہیں۔ ہماری نظروں سے یہ وسیع تر اور طویل و عریض ہے۔ ہماری سیروسیاحت کے لئے یہ بہت کھلی ہے۔ اس کے اندر اونچے اونچے پہاڑ ، قسم قسم کی روئیدگی اور پھل اور پھول ہیں۔ نیز انسانوں اور تمام دوسری زندہ مخلوق کے لئے رزق کا وافر سروسامان ہے۔
الحجر 15:17
آیت نمبر 16 تا 18
اس پھیلی ہوئی کائنات کی یہ پہلی لائن ہے۔ اس عجیب و غریب کائنات کے نقش و نگار کی یہ پہلی تصویر ہے۔ اس کائنات میں نزول ملائکہ سے بھی زیادہ عجائبات ہمارے سامنے ہیں۔ خود ان کائنات کی تشکیل اور طبیعی لحاظ سے اس کی کارکردگی اللہ کی قدرت و صنعت کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے احتیاج ہی نہیں ہے۔
بروج کیا ہیں ، یہی ستارے اور سیارے عظیم سے عظیم تر۔ ان سیاروں اور ستاروں کے مدار اور مقامات بھی برج ہو سکتے ہیں۔ جو بھی مراد ہو لیکن دونوں حالات میں ان کی کار کردگی ایک معجز دلیل ہے اور اللہ کی قدرت اور حکمت پر شاہد عادل ہے ، کس قدر پیچیدہ ، موثر ہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورت منظر ہے۔
وزینھا للنظرین (15 : 16) “ ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لئے مزین کیا ”۔ اس پوری کائنات اور خصوصاً سماء دنیا کے حسن و جمال کو تو دیکھئے۔ اس آیت سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کائنات میں حکمت و تقدیر کے علاوہ حسن و جمال کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے محض ضمامت اس کائنات میں مدنظر نہیں ، محض وسعت مد نظر نہیں ، محض اس کی پیچیدہ ساخت پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ اس کی ساخت میں ایک خاص خوبصورتی کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔
ایک خوبصورت رات میں کبھی آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا ہے ؟ جس میں کواکب بکھرے پڑے ہوتے ہیں ، ہر ایک ستارہ روشنی چھوڑ رہا ہوتا ہے گویا کہ ایک انگارہ ہے جو اپنی جگہ دہک رہا ہے ، پھر اس حالت میں ہماری نظر ایک نہایت ہی بعید ستارے پر ہوتی ہے ۔ پھر ایک دوسرا منظر آپ سامنے لائیں۔ ایک خوبصورت رات ہے اس میں چودھویں کا چاند بلند یوں پر ہے اور اس کے سامنے کائنات خاموش کھڑی ہے۔
اس کائنات کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کے لئے بغیر چاند کے شفاف رات اور چودھویں کے چاند کی ایک خوبصورت رات میں ، ایک شاعرانہ نگاہ ہی کافی ہوتی ہے ، کس قدر وسیع حسن و جمال ہے ؟ اور کس قدر گہرا اثر ہے اس کا پردۂ احساس پر ؟ کیا اسی کے سوا کسی اور برہان کی ضرورت ہے ؟
وزینھا للنظرین (15 : 16) “ اے دیکھنے والوں کے لئے ہم نے مزین کیا ہے ”۔ جو دیکھنے والے نہیں ہیں۔ لیکن اس کائنات کو حسن و جمال سے پھر دینے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی محفوظ اور پاکیزہ بھی بنایا گیا ہے۔
وحفظنھا من کل شیطن رجیم (15 : 17) “ اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا ”۔ کوئی شیطان قوت اسے خراب نہیں کرسکتی اور کوئی شیطانی قوت اس کی فضا کو آلودہ نہیں کرسکتی۔ اس کائنات کے نظام میں کوئی شیطانی قوت اپنا وائرس داخل کر کے اس کے نظم کو خراب نہیں کرسکتی۔ اسے گندہ نہیں کرسکتی ، اور اس کی رفتار کا منہ موڑ کر اسے گمراہ نہیں کرسکتی ، جس طرح شیطان انسان کے ساتھ اس کرۂ ارض پر یہ سب کام کرتا ہے اور اس کرۂ ارض پر اس کا یہ مشن ہے۔ اس کرۂ ارض پر تو شیطان اپنا مشن پورا کرسکتا ہے لیکن آسمانوں کے نظام میں اس کا کوئی عمل و دخل نہیں ہے۔ آسمانوں پر اور بلندیوں پر اس کی دسترس نہیں ہے۔ اس کی ناپاکیاں ، گمراہیاں وہاں کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔ آسمانوں پر اس کے حملے رہ کر دئیے جاتے ہیں۔ وہاں ان کے دفاع کا انتظام ہے۔
الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین (15 : 18) “ الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اس کا پیچھا کرتا ہے ”۔ شیطان کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ آسمانوں سے کس طرح سن گن لیتا ہے ، وہ کیا چیز چراتا ہے۔ ان سب امور کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ہم ان کا مفہوم صرف اسی قدر سمجھ سکتے ہیں جس قدر ان نصوص قرآنیہ میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لئے مزید جستجو کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس شعبے میں کچھ مزید دریافت بھی کرلیں کہ شیطان کس طرح سن گن لیتا ہے تو اس کا ہمارے ایمان کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان معاملات میں تحقیق و تدقیق سے فائدے کو بجائے نقصان ہوتا ہے کہ انسان اس زندگی کے عملی معاملات سے دور ہو کر محض عقلی گھوڑے دوڑانے لگتا ہے اور وہ کئی نئی حقیقت اور کوئی نیا علم بھی نہیں پا سکتا۔
ہم نے جس قدر جاننا ہے وہ یہی ہے کہ شیطان کا عمل و دخل آسمانوں میں نہیں ہے۔ اس وسیع کائنات کا یہ حسن و جمال اور ھرکت و فعالیت شیطان کی دسترس سے محفوظ ہے۔ اس کائنات کے امور میں شیطانی قوتوں کی طرف سے جو دخل اندازی ہوتی ہے ، یا دخل اندازی کی جو کوشش ہوتی ہے ، اس موقع پر شیطانی قوتوں کو مار بھگایا جاتا ہے اور شہاب ثاقب کی وجہ سے ان کے عزائم رک جاتے ہیں۔
یہاں جس انداز میں بلند قلعوں اور برجوں کا ذکر ہوا ہے ، جس طرح شیطانوں کے اوپر چڑھنے کی مساعی کا ذکر ہوا اور پھر جس انداز میں ان پر بمباری ہوتی ہے تصور اور تخیل اور مشاہدے کے اعتبار سے یہ منظر ایک نہایت ہی خوبصورت منظر ہے اور قرآن کریم کی فنی تصویر کشی کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔
کائنات کی اس وسیع پینگ کی دوسری لائن ، وہ وسیع زمین ہے جس پر ہم بستے ہیں۔ ہماری نظروں سے یہ وسیع تر اور طویل و عریض ہے۔ ہماری سیروسیاحت کے لئے یہ بہت کھلی ہے۔ اس کے اندر اونچے اونچے پہاڑ ، قسم قسم کی روئیدگی اور پھل اور پھول ہیں۔ نیز انسانوں اور تمام دوسری زندہ مخلوق کے لئے رزق کا وافر سروسامان ہے۔
الحجر 15:18
آیت نمبر 16 تا 18
اس پھیلی ہوئی کائنات کی یہ پہلی لائن ہے۔ اس عجیب و غریب کائنات کے نقش و نگار کی یہ پہلی تصویر ہے۔ اس کائنات میں نزول ملائکہ سے بھی زیادہ عجائبات ہمارے سامنے ہیں۔ خود ان کائنات کی تشکیل اور طبیعی لحاظ سے اس کی کارکردگی اللہ کی قدرت و صنعت کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے احتیاج ہی نہیں ہے۔
بروج کیا ہیں ، یہی ستارے اور سیارے عظیم سے عظیم تر۔ ان سیاروں اور ستاروں کے مدار اور مقامات بھی برج ہو سکتے ہیں۔ جو بھی مراد ہو لیکن دونوں حالات میں ان کی کار کردگی ایک معجز دلیل ہے اور اللہ کی قدرت اور حکمت پر شاہد عادل ہے ، کس قدر پیچیدہ ، موثر ہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورت منظر ہے۔
وزینھا للنظرین (15 : 16) “ ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لئے مزین کیا ”۔ اس پوری کائنات اور خصوصاً سماء دنیا کے حسن و جمال کو تو دیکھئے۔ اس آیت سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کائنات میں حکمت و تقدیر کے علاوہ حسن و جمال کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے محض ضمامت اس کائنات میں مدنظر نہیں ، محض وسعت مد نظر نہیں ، محض اس کی پیچیدہ ساخت پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ اس کی ساخت میں ایک خاص خوبصورتی کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔
ایک خوبصورت رات میں کبھی آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا ہے ؟ جس میں کواکب بکھرے پڑے ہوتے ہیں ، ہر ایک ستارہ روشنی چھوڑ رہا ہوتا ہے گویا کہ ایک انگارہ ہے جو اپنی جگہ دہک رہا ہے ، پھر اس حالت میں ہماری نظر ایک نہایت ہی بعید ستارے پر ہوتی ہے ۔ پھر ایک دوسرا منظر آپ سامنے لائیں۔ ایک خوبصورت رات ہے اس میں چودھویں کا چاند بلند یوں پر ہے اور اس کے سامنے کائنات خاموش کھڑی ہے۔
اس کائنات کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کے لئے بغیر چاند کے شفاف رات اور چودھویں کے چاند کی ایک خوبصورت رات میں ، ایک شاعرانہ نگاہ ہی کافی ہوتی ہے ، کس قدر وسیع حسن و جمال ہے ؟ اور کس قدر گہرا اثر ہے اس کا پردۂ احساس پر ؟ کیا اسی کے سوا کسی اور برہان کی ضرورت ہے ؟
وزینھا للنظرین (15 : 16) “ اے دیکھنے والوں کے لئے ہم نے مزین کیا ہے ”۔ جو دیکھنے والے نہیں ہیں۔ لیکن اس کائنات کو حسن و جمال سے پھر دینے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی محفوظ اور پاکیزہ بھی بنایا گیا ہے۔
وحفظنھا من کل شیطن رجیم (15 : 17) “ اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا ”۔ کوئی شیطان قوت اسے خراب نہیں کرسکتی اور کوئی شیطانی قوت اس کی فضا کو آلودہ نہیں کرسکتی۔ اس کائنات کے نظام میں کوئی شیطانی قوت اپنا وائرس داخل کر کے اس کے نظم کو خراب نہیں کرسکتی۔ اسے گندہ نہیں کرسکتی ، اور اس کی رفتار کا منہ موڑ کر اسے گمراہ نہیں کرسکتی ، جس طرح شیطان انسان کے ساتھ اس کرۂ ارض پر یہ سب کام کرتا ہے اور اس کرۂ ارض پر اس کا یہ مشن ہے۔ اس کرۂ ارض پر تو شیطان اپنا مشن پورا کرسکتا ہے لیکن آسمانوں کے نظام میں اس کا کوئی عمل و دخل نہیں ہے۔ آسمانوں پر اور بلندیوں پر اس کی دسترس نہیں ہے۔ اس کی ناپاکیاں ، گمراہیاں وہاں کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔ آسمانوں پر اس کے حملے رہ کر دئیے جاتے ہیں۔ وہاں ان کے دفاع کا انتظام ہے۔
الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین (15 : 18) “ الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اس کا پیچھا کرتا ہے ”۔ شیطان کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ آسمانوں سے کس طرح سن گن لیتا ہے ، وہ کیا چیز چراتا ہے۔ ان سب امور کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ہم ان کا مفہوم صرف اسی قدر سمجھ سکتے ہیں جس قدر ان نصوص قرآنیہ میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لئے مزید جستجو کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس شعبے میں کچھ مزید دریافت بھی کرلیں کہ شیطان کس طرح سن گن لیتا ہے تو اس کا ہمارے ایمان کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان معاملات میں تحقیق و تدقیق سے فائدے کو بجائے نقصان ہوتا ہے کہ انسان اس زندگی کے عملی معاملات سے دور ہو کر محض عقلی گھوڑے دوڑانے لگتا ہے اور وہ کئی نئی حقیقت اور کوئی نیا علم بھی نہیں پا سکتا۔
ہم نے جس قدر جاننا ہے وہ یہی ہے کہ شیطان کا عمل و دخل آسمانوں میں نہیں ہے۔ اس وسیع کائنات کا یہ حسن و جمال اور ھرکت و فعالیت شیطان کی دسترس سے محفوظ ہے۔ اس کائنات کے امور میں شیطانی قوتوں کی طرف سے جو دخل اندازی ہوتی ہے ، یا دخل اندازی کی جو کوشش ہوتی ہے ، اس موقع پر شیطانی قوتوں کو مار بھگایا جاتا ہے اور شہاب ثاقب کی وجہ سے ان کے عزائم رک جاتے ہیں۔
یہاں جس انداز میں بلند قلعوں اور برجوں کا ذکر ہوا ہے ، جس طرح شیطانوں کے اوپر چڑھنے کی مساعی کا ذکر ہوا اور پھر جس انداز میں ان پر بمباری ہوتی ہے تصور اور تخیل اور مشاہدے کے اعتبار سے یہ منظر ایک نہایت ہی خوبصورت منظر ہے اور قرآن کریم کی فنی تصویر کشی کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔
کائنات کی اس وسیع پینگ کی دوسری لائن ، وہ وسیع زمین ہے جس پر ہم بستے ہیں۔ ہماری نظروں سے یہ وسیع تر اور طویل و عریض ہے۔ ہماری سیروسیاحت کے لئے یہ بہت کھلی ہے۔ اس کے اندر اونچے اونچے پہاڑ ، قسم قسم کی روئیدگی اور پھل اور پھول ہیں۔ نیز انسانوں اور تمام دوسری زندہ مخلوق کے لئے رزق کا وافر سروسامان ہے۔
الحجر 15:19
آیت نمبر 19 تا 20
اس کائنات کی فضاؤں میں ایک قسم کی وسعت اور عظمت پائی جاتی ہے۔ آسمانوں میں بڑے بڑے قلعوں کا ذکر ہے۔ لفظ بروج کے تلفظ میں بھی ایک قسم کا زمزمہ اور عظمت ہے۔ “ شہاب ” کو لفظ مبین سے بیان کیا گیا۔ اس میں ایک عظمت کی طرف اشارہ ہے۔
زمین میں پہاڑوں کو رواسی کہا گیا اور ان پہاڑوں کے بھاری بھرکم ہونے کا اظہار لفظ الفینا سے کیا گیا۔ پھر نباتات کو موزون کی صفت سے موصوف کیا گیا۔ موزون لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے بھاری بھرکم ہے۔ اگرچہ یہاں مفہوم یہ ہے کہ اپنی پیچیدہ ساخت کے اعتبار سے وہ محکم اور متوازن ہے۔ پھر عظمت کی اس فضا میں معیشت کے بجائے معایش کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور اسے نکرہ کی صورت میں مجمل چھوڑا گیا ہے۔ پھر من لستم لہ برزقین (15 : 20) میں بھی تمام زندہ مخلوقات کی طرف اشارہ کردیا گیا جو اس کرۂ ارض پر پائی جاتی ہیں۔ غرض تعبیرات ، الفاظ اور مفاہیم ، ہر اعتبار سے اس منظر میں عظمت ہی عظمت پائی جاتی ہے۔ یہ تکوینی آیت ہے۔ یہ آفاق کائنات سے گزر کر انفس کو بھی لیتی ہے۔ یہ وسیع تر سرزمین جو دعوت نظارہ اور دعوت سپردے رہی ہے ، یہ عظیم الشان پہاڑ جو سینہ گیتی پر ابھرے ہوئے ہیں اور یہ قسم قسم کے نباتات جو اس میں اگے ہوئے ہیں اور پھر بات اس پہلو پر مرکوز ہوتی ہے کہ یہ سب کے سب انسانوں کے مفاد کے لئے ہیں۔ اس کرۂ ارض پر زندگی کا سروسامان اور نوع نوع کی خوراکیں ، آیت میں ان کو مجمل چھوڑ دیا گیا ہے تا کہ ان کی وسعت اور عظمت کی طرف اشارہ ہو ، یہ سب کچھ اے انسان ، تیرے لئے ہے اور پھر تمہارے لیے ایسی مخلوقات بھی پیدا کی گئی ہیں کہ جو تمہارے لیے مفید ہیں اور تم ان کو پالیتے نہیں ہو۔ اللہ اور صرف اللہ ان کو پالتا ہے۔ تم اس طرح ایک امت اور مخلوق ہو ، جس طرح دوسری مخلوقات ہیں جن کی تعداد اور انواع بھی کسی کو معلوم نہیں ہے۔ یہ نوع نوع کی مخلوق اللہ کے رزق خاص پر پلتی ہے۔ اور اللہ نے ، اے انسان انہیں مفت تمہاری خدمت میں لگایا ہے۔ پھر بعض صنف مخلوقات ایسی ہے کہ اللہ کے رزق پر پلتی ہے اور ان پر کوئی فرائض نہیں ہیں۔
یہ تمام انواع و اقسام کی مخلوقات اور ان کے لئے قسم قسم کا رزق ، اللہ تعالیٰ نے پورا پورا ، اس کائنات میں پیدا کر رکھا ہے اور یہ سب مخلوق اور ان کا سامان زیست اللہ کے دست قدرت اور تصرف ذاتی میں ہے اور اللہ اپنی سنت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے تمام امور میں تصرف فرماتا ہے اور اپنے احکام اپنی مخلوقات کے اندر جاری فرماتا ہے۔
الحجر 15:20
آیت نمبر 19 تا 20
اس کائنات کی فضاؤں میں ایک قسم کی وسعت اور عظمت پائی جاتی ہے۔ آسمانوں میں بڑے بڑے قلعوں کا ذکر ہے۔ لفظ بروج کے تلفظ میں بھی ایک قسم کا زمزمہ اور عظمت ہے۔ “ شہاب ” کو لفظ مبین سے بیان کیا گیا۔ اس میں ایک عظمت کی طرف اشارہ ہے۔
زمین میں پہاڑوں کو رواسی کہا گیا اور ان پہاڑوں کے بھاری بھرکم ہونے کا اظہار لفظ الفینا سے کیا گیا۔ پھر نباتات کو موزون کی صفت سے موصوف کیا گیا۔ موزون لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے بھاری بھرکم ہے۔ اگرچہ یہاں مفہوم یہ ہے کہ اپنی پیچیدہ ساخت کے اعتبار سے وہ محکم اور متوازن ہے۔ پھر عظمت کی اس فضا میں معیشت کے بجائے معایش کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور اسے نکرہ کی صورت میں مجمل چھوڑا گیا ہے۔ پھر من لستم لہ برزقین (15 : 20) میں بھی تمام زندہ مخلوقات کی طرف اشارہ کردیا گیا جو اس کرۂ ارض پر پائی جاتی ہیں۔ غرض تعبیرات ، الفاظ اور مفاہیم ، ہر اعتبار سے اس منظر میں عظمت ہی عظمت پائی جاتی ہے۔ یہ تکوینی آیت ہے۔ یہ آفاق کائنات سے گزر کر انفس کو بھی لیتی ہے۔ یہ وسیع تر سرزمین جو دعوت نظارہ اور دعوت سپردے رہی ہے ، یہ عظیم الشان پہاڑ جو سینہ گیتی پر ابھرے ہوئے ہیں اور یہ قسم قسم کے نباتات جو اس میں اگے ہوئے ہیں اور پھر بات اس پہلو پر مرکوز ہوتی ہے کہ یہ سب کے سب انسانوں کے مفاد کے لئے ہیں۔ اس کرۂ ارض پر زندگی کا سروسامان اور نوع نوع کی خوراکیں ، آیت میں ان کو مجمل چھوڑ دیا گیا ہے تا کہ ان کی وسعت اور عظمت کی طرف اشارہ ہو ، یہ سب کچھ اے انسان ، تیرے لئے ہے اور پھر تمہارے لیے ایسی مخلوقات بھی پیدا کی گئی ہیں کہ جو تمہارے لیے مفید ہیں اور تم ان کو پالیتے نہیں ہو۔ اللہ اور صرف اللہ ان کو پالتا ہے۔ تم اس طرح ایک امت اور مخلوق ہو ، جس طرح دوسری مخلوقات ہیں جن کی تعداد اور انواع بھی کسی کو معلوم نہیں ہے۔ یہ نوع نوع کی مخلوق اللہ کے رزق خاص پر پلتی ہے۔ اور اللہ نے ، اے انسان انہیں مفت تمہاری خدمت میں لگایا ہے۔ پھر بعض صنف مخلوقات ایسی ہے کہ اللہ کے رزق پر پلتی ہے اور ان پر کوئی فرائض نہیں ہیں۔
یہ تمام انواع و اقسام کی مخلوقات اور ان کے لئے قسم قسم کا رزق ، اللہ تعالیٰ نے پورا پورا ، اس کائنات میں پیدا کر رکھا ہے اور یہ سب مخلوق اور ان کا سامان زیست اللہ کے دست قدرت اور تصرف ذاتی میں ہے اور اللہ اپنی سنت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے تمام امور میں تصرف فرماتا ہے اور اپنے احکام اپنی مخلوقات کے اندر جاری فرماتا ہے۔
الحجر 15:21
آیت نمبر 21
لہٰذا مخلوقات میں سے کوئی نوع بھی کسی چیز کی مالک نہیں ہے ، تمام خزانے اللہ کی حاکمیت میں ہیں ، اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہیں۔ اللہ اپنی مخلوق کے لئے جو خزانے چاہتا ہے ، ایک معلوم اور متعین مقدار کے مطابق اتارتا ہے ، کوئی چیز بھی آگ پر نازل نہیں ہوتی اور نہ کوئی چیز اتفاقاً وقوع پذیر ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ جن چیزوں کو ایک معلوم مقدار کے مطابق بھیجتا ہے ، ان میں سے ہوائیں اور بارشیں بھی ہیں۔
الحجر 15:22
آیت نمبر 22
ہواؤں کے دوش پر کیا بار ہوتا ہے ؟ پانی جس طرح اللہ ناقہ کو حاملہ کرتا ہے اور پھر بادل جو حامل ماء ہوتے ہیں آسمانوں سے برس پڑتے ہیں اور یوں ہم تمہیں پانی پلاتے ہیں۔ کیا بارش کے یہ خزانے تمہاری تحویل میں ہیں ؟ کہ جب ضرورت ہو برسالو ، بلکہ یہ خزانے اللہ کی تحویل میں ہیں اور اللہ ایک معلوم مقدار کے مطابق برساتا ہے۔
یہ ہوائیں فضائی عوام کے مطابق چلتی ہیں اور ان فضائی ضوابط کے مطابق ان میں پانی ہوتا ہے اور برستا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ان فضاؤں کو کس نے پیدا کیا اور ہواؤں اور بارشوں کے یہ عوامل اور ضوابط کس نے بنائے ؟ یہ یقیناً خالق کائنات کا کام ہے لہٰذا یہ تمام عوامل و اسباب اللہ کے ناموس کلی اور سپر کمپیوٹر کے مطابق ہیں۔
وان من ۔۔۔۔۔۔ بقدر معلوم (15 : 21) “ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں ”۔ اس آیت کا انداز تعبیر ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ ہر حرکت یہاں تک کہ سیرابی کو بھی اللہ طرف منسوب کیا گیا۔
فاسقینکموہ (15 : 22) “ ہم نے اسے تمہیں پلایا ”۔ حالانکہ مفہوم یہ ہے کہ ہم نے تمہاری تخلیق یوں بنائی ہے کہ تم پانی کی طلب کرتے ہو ، اور پانی کو یوں بنایا کہ وہ تماری طلب کو پورا کرتا ہے اور اس طلب اور رسد کو ہم نے متوازن بنایا۔ لیکن انداز تعبیر ایسا ہے جو موقع و مقام کلام کے مطابق ہے۔ ہر فعل اور ہر حرکت کی نسبت اللہ کی ہے کیونکہ تصور یہ دینا مقصود ہے کہ اس کائنات کی ہر حرکت اور ہر واقعہ اللہ کے ارادے اور حکم سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ آسمانوں کے لئے اللہ کا جو تکوینی قانون ہے ، وہی تمام مخلوقات کے لئے بھی ہے۔ پہلی آیت میں مکذبین کے بارے میں سنت الہٰیہ کا بیان تھا ، اس دوسرے ٹکڑے میں آسمان و زمین اور کائنات کے بارے میں سنت الٰہیہ کا بیان ہے اور اس فضا میں ہواؤں اور پانیوں کا نظام بھی اسی سنت کے مطابق ہے۔ ان میں سے کوئی امر بھی سنت الٰہیہ کے سوا یا باہر وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ تمام امور اس ناموس اکبر کے مطابق چلتے ہیں جو اس کائنات میں جاری ہے اور جسے قرآن حق کہتا ہے : اب اس مضمون کا خاتمہ یوں ہوتا ہے کہ موت وحیات بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ تمام چیزوں کو زندگی دینا ، مارنا اور پھر سے اٹھانا اور حساب و کتاب اللہ کے اختیار میں ہے۔
الحجر 15:23
آیت نمبر 23 تا 25
یہاں یہ دو دوسرا پیراگراف پہلے پیراگراف سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ پہلے میں یہ کہا گیا تھا۔
وانا لنحن ۔۔۔۔۔ الوارثون (23) ولاد علمنا۔۔۔۔ المستاخرین (24) (15 : 23- 24) “ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے ”۔ جبکہ یہاں یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ سب کا وارث ہے اور موت کے بعد اس کی طرف لوگ اٹھیں گے۔ اللہ جانتا ہے اور اس نے لکھ رکھا ہے کہ کوئی پہلے مار دیا جائے اور کس کو مہلت عمل دی جائے اور بعد میں وہ اس جہاں سے رخصت ہو ، بہرحال موت کے بعد سب نے اٹھنا ہے ، اور اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔
انہ حکیم علیم (15 : 25) “ وہ حکیم وعلیم ہے ”۔ وہ اپنے حکمت کے مطابق اقوام و افراد کے لئے وقت مہلت طے کرتا ہے۔ اسے موت کا وقت معلوم ہے اور حشر کا وقت بھی اس نے مقرر و متعین کر رکھا ہے اور درمیانی عرصے کے امور بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔
اس پیراگراف اور سابق دونوں پیراگراف میں منظر کی حرکات ہم آہنگ ہیں۔ آسمانوں سے نزول ہدایت ، فرشتوں کا اترنا ، شیاطین پرستاروں کی بمباری ، ہواؤں کا چلنا اور بارشوں کا نزول ، یہ سب مناظر دونوں میں ہیں۔ پھر اس دنیا اور کائنات کے بڑے بڑے واقعات آسمان ، قلعے ، ستارے اور سیارے ، زمین ، پہاڑ ، ہوائیں ، بارشیں اور نباتات بھی مشترکہ مناظر ہیں۔ ہٹ دھرمی کے اظہار کے لئے بھی ایسی ہی مثال دی گئی جو ان پیروں کے مضمون سے ہم آہنگ ہے کہ اگر آسمان میں ایک دروازہ کھول دیا جائے اور یہ لوگ اس میں چڑھ جائیں تو پھر بھی ان کے مکابرہ اور ہٹ دھرمی کا حال یہی ہوگا۔ غرض مضمون اور اس کی تصویر کشی قرآن عظیم کے انوکھے انداز تعبیر کو ظاہر کرتی ہے۔
٭٭٭
اب یہاں تخلیق انسانیت کا قصہ عظیم پیش کیا جاتا ہے۔ آغاز انسانیت اور اس جہان میں ہدایت و ضلالت کی حکمت اور اس کے اسباب و عوامل ، یعنی قصہ آدم۔ وہ کن عناصر سے کس طرح پیدا ہوئے ؟ اور ان کی تخلیق کے وقت اور بعد کیا حالات ان کو پیش آئے۔
اس سے پہلے ، اس تفسیر میں قصہ آدم کا مطالعہ ہم نے دو دفعہ کیا ہے یعنی سورة بقرہ اور سورة اعراف میں۔ دونوں مقامات پر یہ قصہ بعض مخصوص حالات میں ، مخصوص مقاصد کے لئے بیان ہوا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں مقامات پر اس قصے کی مختلف کڑیاں لائی گئیں اور طرز ادا بھی دونوں جگہ مختلف رہا۔ قصے کی فضا اور اس کے اثرات مختلف رہے اگرچہ دونوں مقامات پر بعض اثرات اور نتائج یکساں بھی تھے۔ یہ قصہ یہاں تیسری بار آرہا ہے۔
تینوں مقامات پر اس قصے کے بعض تمہیدی بیانات یکساں ہیں۔ مثلاً سورة بقرہ میں جہاں یہ قصہ آیا ، وہاں اس سے قبل یہ کہا گیا۔
ھو الذین خلق لکم ۔۔۔۔۔۔ شییء علیم (2 : 29) “ وہی تو ہے ، جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں ، پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ”۔ اور سورة اعراف (11) میں جہاں یہ قصہ آیا اس سے پہلے کہا گیا ۔
ولقد مکنکم ۔۔۔۔۔ ما تشکرون (7 : 10) “ ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا ، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوئے ”۔ اور یہاں سورة حجر (19) میں کہا گیا ہے :
والارض مددنھا ۔۔۔۔ موزون (15 : 19) “ ہم نے زمین کو پھیلایا ، اس میں پہاڑ جمائے۔ اس میں ہر قسم کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی۔ لیکن ان تینوں مقامات پر قصے کا انداز بیان مختلف ہے۔ اور اس سے غرض وغایت بھی مختلف ہے۔
سورة بقرہ میں اس قصے سے غرض یہ تھی کہ تخلیق کائنات کے بعد اللہ نے اس کرۂ ارض پر حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنا نائب و خلیفہ بنایا اور زمین کے اندر جو سہولیات موجود ہیں وہ سب بنی آدم کے لئے ہیں۔ چناچہ بات کی ابتداء ہی یوں ہوئی۔
واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ (2 : 30) “ اور اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا ، میں زمین میں خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں ”۔ اس لیے وہاں اس قصے میں آدم (علیہ السلام) کے منصب خلافت ارضی کے اسرارو رموز بیان کیے گئے ہیں جن پر فرشتوں کو تعجب ہوا ، کیونکہ وہ اسرار و رموز ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کو اپنے خلیفہ کا مقام ان پر ظاہر کرنا پڑا۔
وعلم ادم الاسماء ۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (31) قالوا سبحانک ۔۔۔۔۔ العلیم الحکیم (32) قال یادم انبئھم ۔۔۔۔۔۔ کنتم تکتمون (33) (31 تا 33) “ اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے ، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا “ اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا ) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ ”۔ انہوں نے نے عرض کیا : نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں ، جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ”۔ پھر اللہ نے آدم سے کہا ، تم ان چیزوں کے نام بتاؤ ”۔ جب اس نے ان سب کے نام بتا دئیے ، تو اللہ نے فرمایا : “ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں اور جو تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے بھی ہم جانتے ہیں ”۔
اس کے بعد بقرہ میں ملائکہ کا سجدہ اور ابلیس کے انکار و استکبار کے واقعات بیان ہوئے۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ کو جنت میں بسانے کی کہانی بیان کی گئی۔ پھر بتا یا گیا کہ کس طرح شیطان نے آدم و حواکو بہکایا اور یوں انہیں جنت سے خارج کرا دیا۔ اس کے بعد آدم و حوا کو زمین پر اتارا گیا اور یہاں ان کے ذمے فریضہ خلافت ارضی کی ذمہ داری لگائی گئی ۔ لیکن جنت سے خارج کرنے سے قبل ان سے امتحان لے کر زمین میں رہنے کے لئے تیار کیا گیا۔ انہوں نے توبہ کی اور اللہ سے مغفرت طلب کی۔ سورة بقرہ میں اس قصے کے بعد بنی اسرائیل کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ وہ میرے ان انعامات کو یاد کریں جو میں نے ان پر کئے۔ اور انہوں نے خدا کے ساتھ جو عہد کئے اس کو پورا کریں کیونکہ یہ فریضہ وہ ہے جو تمام انسانوں کے ابو الاباء حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے اوپر عائد کیا اور اسی عہد کی اساس پر ان کو خلافت ارضی نصیب ہوتی۔
سورة اعراف میں بھی یہ قصہ آیا ہے۔ اس میں وہ طویل کہانی بیان کی گئی جو عروج فی الجنۃ اور وہاں سے پھر نکالے جانے سے متعلق ہے۔ اس قصے میں یہ سبق یاد دلایا گیا ہے کہ ابلیس آغاز کائنات سے انسان کا دشمن تھا اور آخر تک رہے گا۔ یہاں تک کہ آدم و ابلیس جس طرح پہلے دربار الٰہی میں تھے پھر وہاں پیش ہوں۔ اب ایک فریق تو ان لوگوں کا ہوگا جو جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں سے شیطان نے ان کے والدین کو نکالا تھا ، کیونکہ ان لوگوں نے شیطان کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کی مخالفت کی۔ ایک دوسرا فریق آگ میں گرایا جائے گا ، کیونکہ انہوں نے شیطان مردود اور ہٹ دھرم کے قدموں کی پیروی کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں بھی ملائکہ کی جانب سے آدم کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا ذکر بھی ہوا۔ یہ تذکرہ بھی ہوا کہ ابلیس نے انکار اور استکبار کیا۔ اس نے اللہ سے مطالبہ کیا کہ قیامت تک اسے مہلت دی جائے تا کہ وہ ان بنی آدم کو گمراہ کرسکے جن کی وجہ سے وہ جنت سے بےآبرو کر کے نکالا گیا۔ اب آدم اور اس کی زوجہ کو جنت میں بسایا گیا اور حکم دیا گیا کہ وہ جو چاہیں وہاں کھائیں پئیں صرف ایک درخت کے قریب نہ جائیں۔ یہ ایک درکت کی ممانعت بھی دراصل علامتی ممانعت تھی۔ مقصد یہ تھا کہ آدم (علیہ السلام) کے جذبہ اطاعت امر اور ان کی قوت ارادی کو ٹیسٹ کیا جائے۔ اس کے بعد وہاں یہ تذکرہ آتا ہے کہ کس طرح شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسے ڈالے اور کس طرح انہوں نے اس درخت کا پھل چکھ لیا اور پھر کس طرح معجزانہ انداز میں ان کے جسم عریاں ہوگئے اور کس طرح اللہ کا عتاب حضرت آدم اور ان کی زوجہ پر نازل ہوا اور کس طرح ان کو ، سب کو ، زمین میں اتار کر بسا دیا گیا کہ وہ اس کرۂ ارض پر بھی حق و باطل کے معرکے میں شریک ہوں۔ فرمایا گیا :
قال اھبطوا ۔۔۔۔۔ الی حین (24) قال فیھا ۔۔۔۔۔ تخرجون (25) (7 : 24- 25) “ فرمایا اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی جائے قرار اور سامان زیست ہے ”۔ اور فرمایا : “ وہیں تم کو جینا ہے اور وہیں مرنا ہے اور اسی سے تم کو آخر کار نکالا جائے گا ”۔
انسانیت کی یہ کہانی سورة اعراف میں اسی طرح چلتی ہے یہاں تک کہ سب لوگ دوبارہ میدان حشر میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ وہاں بڑی تفصیل کے ساتھ ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں اور ردو قدح اور حساب و کتاب کے بعد ایک فریق جنت میں اور ایک فریق دوزخ میں چلا جاتا ہے۔
ونادی اصحب النار۔۔۔۔۔ علی الکفرین (7 : 50) “ اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر بھی ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے ، اس میں سے کچھ پھینک دو ۔ وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں منکرین حق پر حرام کردی ہیں ”۔ (50) اور اس کے بعد اب اس منظر پر پردہ گرجاتا ہے۔
لیکن یہاں اس قصے کا مدعا کیا ہے ؟ یہاں تخلیق انسان کے اسرارو رموز اور فلسفہ ہدایت و ضلالت زیر بحث ہیں اور انسان کی ذات میں ہدایت و ضلالت کے جو عوام رکھ دئیے گئے ہیں ان سے بحث کی گئی ہے۔ چناچہ یہاں بات کا آغاز اس امر سے کیا جاتا ہے کہ انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا گیا اور اللہ نے پھر اس میں اپنی روشن روح پھونکی اور اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے جنوں کو آگ کی لپیٹ دے پیدا کردیا تھا ، یہاں پھر سجود ملائکہ ، انکار ابلیس کے واقعات آتے ہیں۔ ابلیس کہتا ہے کہ کیا میں ایک ایسے انسان کے سامنے سربسجود ہوجاؤں جسے مٹی سے پیدا کیا گیا۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ کس طرح شیطان کو ملعون قرار دے کر درگاہ الٰہی سے نکالا گیا۔ پھر اس کی طرف سے درخواست پیش ہوتی ہے کہ اسے قیامت تک کے لئے مہلت دی جائے ۔ اس کی درخواست منظور ہوتی ہے۔ یہاں شیطان اعتراف کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے گا لیکن اللہ کے جو مخلص بندے ہوں گے ان پر اسے کوئی قدرت حاصل نہ ہو سکے گی۔ وہ جن لوگوں کو گمراہ کرے گا وہ اس کی اطاعت اور اس کے طریقوں کو قبول کرنے کے لئے از خود تیار ہوں گے اور اللہ کے دین اور طریقے میں ان کو کوئی دلچسپی نہ ہوگی ۔ دونوں فریقوں کا انجام مختصراً بیان کردیا جاتا ہے بغیر تفصیل کے کیونکہ یہاں مقصد صرف تخلیق انسان اور فلسفہ ہدایت و ضلالت موضوع کلام ہے۔
الحجر 15:24
آیت نمبر 23 تا 25
یہاں یہ دو دوسرا پیراگراف پہلے پیراگراف سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ پہلے میں یہ کہا گیا تھا۔
وانا لنحن ۔۔۔۔۔ الوارثون (23) ولاد علمنا۔۔۔۔ المستاخرین (24) (15 : 23- 24) “ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے ”۔ جبکہ یہاں یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ سب کا وارث ہے اور موت کے بعد اس کی طرف لوگ اٹھیں گے۔ اللہ جانتا ہے اور اس نے لکھ رکھا ہے کہ کوئی پہلے مار دیا جائے اور کس کو مہلت عمل دی جائے اور بعد میں وہ اس جہاں سے رخصت ہو ، بہرحال موت کے بعد سب نے اٹھنا ہے ، اور اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔
انہ حکیم علیم (15 : 25) “ وہ حکیم وعلیم ہے ”۔ وہ اپنے حکمت کے مطابق اقوام و افراد کے لئے وقت مہلت طے کرتا ہے۔ اسے موت کا وقت معلوم ہے اور حشر کا وقت بھی اس نے مقرر و متعین کر رکھا ہے اور درمیانی عرصے کے امور بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔
اس پیراگراف اور سابق دونوں پیراگراف میں منظر کی حرکات ہم آہنگ ہیں۔ آسمانوں سے نزول ہدایت ، فرشتوں کا اترنا ، شیاطین پرستاروں کی بمباری ، ہواؤں کا چلنا اور بارشوں کا نزول ، یہ سب مناظر دونوں میں ہیں۔ پھر اس دنیا اور کائنات کے بڑے بڑے واقعات آسمان ، قلعے ، ستارے اور سیارے ، زمین ، پہاڑ ، ہوائیں ، بارشیں اور نباتات بھی مشترکہ مناظر ہیں۔ ہٹ دھرمی کے اظہار کے لئے بھی ایسی ہی مثال دی گئی جو ان پیروں کے مضمون سے ہم آہنگ ہے کہ اگر آسمان میں ایک دروازہ کھول دیا جائے اور یہ لوگ اس میں چڑھ جائیں تو پھر بھی ان کے مکابرہ اور ہٹ دھرمی کا حال یہی ہوگا۔ غرض مضمون اور اس کی تصویر کشی قرآن عظیم کے انوکھے انداز تعبیر کو ظاہر کرتی ہے۔
٭٭٭
اب یہاں تخلیق انسانیت کا قصہ عظیم پیش کیا جاتا ہے۔ آغاز انسانیت اور اس جہان میں ہدایت و ضلالت کی حکمت اور اس کے اسباب و عوامل ، یعنی قصہ آدم۔ وہ کن عناصر سے کس طرح پیدا ہوئے ؟ اور ان کی تخلیق کے وقت اور بعد کیا حالات ان کو پیش آئے۔
اس سے پہلے ، اس تفسیر میں قصہ آدم کا مطالعہ ہم نے دو دفعہ کیا ہے یعنی سورة بقرہ اور سورة اعراف میں۔ دونوں مقامات پر یہ قصہ بعض مخصوص حالات میں ، مخصوص مقاصد کے لئے بیان ہوا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں مقامات پر اس قصے کی مختلف کڑیاں لائی گئیں اور طرز ادا بھی دونوں جگہ مختلف رہا۔ قصے کی فضا اور اس کے اثرات مختلف رہے اگرچہ دونوں مقامات پر بعض اثرات اور نتائج یکساں بھی تھے۔ یہ قصہ یہاں تیسری بار آرہا ہے۔
تینوں مقامات پر اس قصے کے بعض تمہیدی بیانات یکساں ہیں۔ مثلاً سورة بقرہ میں جہاں یہ قصہ آیا ، وہاں اس سے قبل یہ کہا گیا۔
ھو الذین خلق لکم ۔۔۔۔۔۔ شییء علیم (2 : 29) “ وہی تو ہے ، جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں ، پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ”۔ اور سورة اعراف (11) میں جہاں یہ قصہ آیا اس سے پہلے کہا گیا ۔
ولقد مکنکم ۔۔۔۔۔ ما تشکرون (7 : 10) “ ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا ، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوئے ”۔ اور یہاں سورة حجر (19) میں کہا گیا ہے :
والارض مددنھا ۔۔۔۔ موزون (15 : 19) “ ہم نے زمین کو پھیلایا ، اس میں پہاڑ جمائے۔ اس میں ہر قسم کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی۔ لیکن ان تینوں مقامات پر قصے کا انداز بیان مختلف ہے۔ اور اس سے غرض وغایت بھی مختلف ہے۔
سورة بقرہ میں اس قصے سے غرض یہ تھی کہ تخلیق کائنات کے بعد اللہ نے اس کرۂ ارض پر حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنا نائب و خلیفہ بنایا اور زمین کے اندر جو سہولیات موجود ہیں وہ سب بنی آدم کے لئے ہیں۔ چناچہ بات کی ابتداء ہی یوں ہوئی۔
واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ (2 : 30) “ اور اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا ، میں زمین میں خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں ”۔ اس لیے وہاں اس قصے میں آدم (علیہ السلام) کے منصب خلافت ارضی کے اسرارو رموز بیان کیے گئے ہیں جن پر فرشتوں کو تعجب ہوا ، کیونکہ وہ اسرار و رموز ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کو اپنے خلیفہ کا مقام ان پر ظاہر کرنا پڑا۔
وعلم ادم الاسماء ۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (31) قالوا سبحانک ۔۔۔۔۔ العلیم الحکیم (32) قال یادم انبئھم ۔۔۔۔۔۔ کنتم تکتمون (33) (31 تا 33) “ اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے ، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا “ اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا ) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ ”۔ انہوں نے نے عرض کیا : نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں ، جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ”۔ پھر اللہ نے آدم سے کہا ، تم ان چیزوں کے نام بتاؤ ”۔ جب اس نے ان سب کے نام بتا دئیے ، تو اللہ نے فرمایا : “ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں اور جو تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے بھی ہم جانتے ہیں ”۔
اس کے بعد بقرہ میں ملائکہ کا سجدہ اور ابلیس کے انکار و استکبار کے واقعات بیان ہوئے۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ کو جنت میں بسانے کی کہانی بیان کی گئی۔ پھر بتا یا گیا کہ کس طرح شیطان نے آدم و حواکو بہکایا اور یوں انہیں جنت سے خارج کرا دیا۔ اس کے بعد آدم و حوا کو زمین پر اتارا گیا اور یہاں ان کے ذمے فریضہ خلافت ارضی کی ذمہ داری لگائی گئی ۔ لیکن جنت سے خارج کرنے سے قبل ان سے امتحان لے کر زمین میں رہنے کے لئے تیار کیا گیا۔ انہوں نے توبہ کی اور اللہ سے مغفرت طلب کی۔ سورة بقرہ میں اس قصے کے بعد بنی اسرائیل کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ وہ میرے ان انعامات کو یاد کریں جو میں نے ان پر کئے۔ اور انہوں نے خدا کے ساتھ جو عہد کئے اس کو پورا کریں کیونکہ یہ فریضہ وہ ہے جو تمام انسانوں کے ابو الاباء حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے اوپر عائد کیا اور اسی عہد کی اساس پر ان کو خلافت ارضی نصیب ہوتی۔
سورة اعراف میں بھی یہ قصہ آیا ہے۔ اس میں وہ طویل کہانی بیان کی گئی جو عروج فی الجنۃ اور وہاں سے پھر نکالے جانے سے متعلق ہے۔ اس قصے میں یہ سبق یاد دلایا گیا ہے کہ ابلیس آغاز کائنات سے انسان کا دشمن تھا اور آخر تک رہے گا۔ یہاں تک کہ آدم و ابلیس جس طرح پہلے دربار الٰہی میں تھے پھر وہاں پیش ہوں۔ اب ایک فریق تو ان لوگوں کا ہوگا جو جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں سے شیطان نے ان کے والدین کو نکالا تھا ، کیونکہ ان لوگوں نے شیطان کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کی مخالفت کی۔ ایک دوسرا فریق آگ میں گرایا جائے گا ، کیونکہ انہوں نے شیطان مردود اور ہٹ دھرم کے قدموں کی پیروی کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں بھی ملائکہ کی جانب سے آدم کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا ذکر بھی ہوا۔ یہ تذکرہ بھی ہوا کہ ابلیس نے انکار اور استکبار کیا۔ اس نے اللہ سے مطالبہ کیا کہ قیامت تک اسے مہلت دی جائے تا کہ وہ ان بنی آدم کو گمراہ کرسکے جن کی وجہ سے وہ جنت سے بےآبرو کر کے نکالا گیا۔ اب آدم اور اس کی زوجہ کو جنت میں بسایا گیا اور حکم دیا گیا کہ وہ جو چاہیں وہاں کھائیں پئیں صرف ایک درخت کے قریب نہ جائیں۔ یہ ایک درکت کی ممانعت بھی دراصل علامتی ممانعت تھی۔ مقصد یہ تھا کہ آدم (علیہ السلام) کے جذبہ اطاعت امر اور ان کی قوت ارادی کو ٹیسٹ کیا جائے۔ اس کے بعد وہاں یہ تذکرہ آتا ہے کہ کس طرح شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسے ڈالے اور کس طرح انہوں نے اس درخت کا پھل چکھ لیا اور پھر کس طرح معجزانہ انداز میں ان کے جسم عریاں ہوگئے اور کس طرح اللہ کا عتاب حضرت آدم اور ان کی زوجہ پر نازل ہوا اور کس طرح ان کو ، سب کو ، زمین میں اتار کر بسا دیا گیا کہ وہ اس کرۂ ارض پر بھی حق و باطل کے معرکے میں شریک ہوں۔ فرمایا گیا :
قال اھبطوا ۔۔۔۔۔ الی حین (24) قال فیھا ۔۔۔۔۔ تخرجون (25) (7 : 24- 25) “ فرمایا اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی جائے قرار اور سامان زیست ہے ”۔ اور فرمایا : “ وہیں تم کو جینا ہے اور وہیں مرنا ہے اور اسی سے تم کو آخر کار نکالا جائے گا ”۔
انسانیت کی یہ کہانی سورة اعراف میں اسی طرح چلتی ہے یہاں تک کہ سب لوگ دوبارہ میدان حشر میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ وہاں بڑی تفصیل کے ساتھ ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں اور ردو قدح اور حساب و کتاب کے بعد ایک فریق جنت میں اور ایک فریق دوزخ میں چلا جاتا ہے۔
ونادی اصحب النار۔۔۔۔۔ علی الکفرین (7 : 50) “ اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر بھی ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے ، اس میں سے کچھ پھینک دو ۔ وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں منکرین حق پر حرام کردی ہیں ”۔ (50) اور اس کے بعد اب اس منظر پر پردہ گرجاتا ہے۔
لیکن یہاں اس قصے کا مدعا کیا ہے ؟ یہاں تخلیق انسان کے اسرارو رموز اور فلسفہ ہدایت و ضلالت زیر بحث ہیں اور انسان کی ذات میں ہدایت و ضلالت کے جو عوام رکھ دئیے گئے ہیں ان سے بحث کی گئی ہے۔ چناچہ یہاں بات کا آغاز اس امر سے کیا جاتا ہے کہ انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا گیا اور اللہ نے پھر اس میں اپنی روشن روح پھونکی اور اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے جنوں کو آگ کی لپیٹ دے پیدا کردیا تھا ، یہاں پھر سجود ملائکہ ، انکار ابلیس کے واقعات آتے ہیں۔ ابلیس کہتا ہے کہ کیا میں ایک ایسے انسان کے سامنے سربسجود ہوجاؤں جسے مٹی سے پیدا کیا گیا۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ کس طرح شیطان کو ملعون قرار دے کر درگاہ الٰہی سے نکالا گیا۔ پھر اس کی طرف سے درخواست پیش ہوتی ہے کہ اسے قیامت تک کے لئے مہلت دی جائے ۔ اس کی درخواست منظور ہوتی ہے۔ یہاں شیطان اعتراف کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے گا لیکن اللہ کے جو مخلص بندے ہوں گے ان پر اسے کوئی قدرت حاصل نہ ہو سکے گی۔ وہ جن لوگوں کو گمراہ کرے گا وہ اس کی اطاعت اور اس کے طریقوں کو قبول کرنے کے لئے از خود تیار ہوں گے اور اللہ کے دین اور طریقے میں ان کو کوئی دلچسپی نہ ہوگی ۔ دونوں فریقوں کا انجام مختصراً بیان کردیا جاتا ہے بغیر تفصیل کے کیونکہ یہاں مقصد صرف تخلیق انسان اور فلسفہ ہدایت و ضلالت موضوع کلام ہے۔
الحجر 15:25
آیت نمبر 23 تا 25
یہاں یہ دو دوسرا پیراگراف پہلے پیراگراف سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ پہلے میں یہ کہا گیا تھا۔
وانا لنحن ۔۔۔۔۔ الوارثون (23) ولاد علمنا۔۔۔۔ المستاخرین (24) (15 : 23- 24) “ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے ”۔ جبکہ یہاں یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ سب کا وارث ہے اور موت کے بعد اس کی طرف لوگ اٹھیں گے۔ اللہ جانتا ہے اور اس نے لکھ رکھا ہے کہ کوئی پہلے مار دیا جائے اور کس کو مہلت عمل دی جائے اور بعد میں وہ اس جہاں سے رخصت ہو ، بہرحال موت کے بعد سب نے اٹھنا ہے ، اور اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔
انہ حکیم علیم (15 : 25) “ وہ حکیم وعلیم ہے ”۔ وہ اپنے حکمت کے مطابق اقوام و افراد کے لئے وقت مہلت طے کرتا ہے۔ اسے موت کا وقت معلوم ہے اور حشر کا وقت بھی اس نے مقرر و متعین کر رکھا ہے اور درمیانی عرصے کے امور بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔
اس پیراگراف اور سابق دونوں پیراگراف میں منظر کی حرکات ہم آہنگ ہیں۔ آسمانوں سے نزول ہدایت ، فرشتوں کا اترنا ، شیاطین پرستاروں کی بمباری ، ہواؤں کا چلنا اور بارشوں کا نزول ، یہ سب مناظر دونوں میں ہیں۔ پھر اس دنیا اور کائنات کے بڑے بڑے واقعات آسمان ، قلعے ، ستارے اور سیارے ، زمین ، پہاڑ ، ہوائیں ، بارشیں اور نباتات بھی مشترکہ مناظر ہیں۔ ہٹ دھرمی کے اظہار کے لئے بھی ایسی ہی مثال دی گئی جو ان پیروں کے مضمون سے ہم آہنگ ہے کہ اگر آسمان میں ایک دروازہ کھول دیا جائے اور یہ لوگ اس میں چڑھ جائیں تو پھر بھی ان کے مکابرہ اور ہٹ دھرمی کا حال یہی ہوگا۔ غرض مضمون اور اس کی تصویر کشی قرآن عظیم کے انوکھے انداز تعبیر کو ظاہر کرتی ہے۔
٭٭٭
اب یہاں تخلیق انسانیت کا قصہ عظیم پیش کیا جاتا ہے۔ آغاز انسانیت اور اس جہان میں ہدایت و ضلالت کی حکمت اور اس کے اسباب و عوامل ، یعنی قصہ آدم۔ وہ کن عناصر سے کس طرح پیدا ہوئے ؟ اور ان کی تخلیق کے وقت اور بعد کیا حالات ان کو پیش آئے۔
اس سے پہلے ، اس تفسیر میں قصہ آدم کا مطالعہ ہم نے دو دفعہ کیا ہے یعنی سورة بقرہ اور سورة اعراف میں۔ دونوں مقامات پر یہ قصہ بعض مخصوص حالات میں ، مخصوص مقاصد کے لئے بیان ہوا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں مقامات پر اس قصے کی مختلف کڑیاں لائی گئیں اور طرز ادا بھی دونوں جگہ مختلف رہا۔ قصے کی فضا اور اس کے اثرات مختلف رہے اگرچہ دونوں مقامات پر بعض اثرات اور نتائج یکساں بھی تھے۔ یہ قصہ یہاں تیسری بار آرہا ہے۔
تینوں مقامات پر اس قصے کے بعض تمہیدی بیانات یکساں ہیں۔ مثلاً سورة بقرہ میں جہاں یہ قصہ آیا ، وہاں اس سے قبل یہ کہا گیا۔
ھو الذین خلق لکم ۔۔۔۔۔۔ شییء علیم (2 : 29) “ وہی تو ہے ، جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں ، پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ”۔ اور سورة اعراف (11) میں جہاں یہ قصہ آیا اس سے پہلے کہا گیا ۔
ولقد مکنکم ۔۔۔۔۔ ما تشکرون (7 : 10) “ ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا ، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوئے ”۔ اور یہاں سورة حجر (19) میں کہا گیا ہے :
والارض مددنھا ۔۔۔۔ موزون (15 : 19) “ ہم نے زمین کو پھیلایا ، اس میں پہاڑ جمائے۔ اس میں ہر قسم کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی۔ لیکن ان تینوں مقامات پر قصے کا انداز بیان مختلف ہے۔ اور اس سے غرض وغایت بھی مختلف ہے۔
سورة بقرہ میں اس قصے سے غرض یہ تھی کہ تخلیق کائنات کے بعد اللہ نے اس کرۂ ارض پر حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنا نائب و خلیفہ بنایا اور زمین کے اندر جو سہولیات موجود ہیں وہ سب بنی آدم کے لئے ہیں۔ چناچہ بات کی ابتداء ہی یوں ہوئی۔
واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ (2 : 30) “ اور اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا ، میں زمین میں خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں ”۔ اس لیے وہاں اس قصے میں آدم (علیہ السلام) کے منصب خلافت ارضی کے اسرارو رموز بیان کیے گئے ہیں جن پر فرشتوں کو تعجب ہوا ، کیونکہ وہ اسرار و رموز ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کو اپنے خلیفہ کا مقام ان پر ظاہر کرنا پڑا۔
وعلم ادم الاسماء ۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (31) قالوا سبحانک ۔۔۔۔۔ العلیم الحکیم (32) قال یادم انبئھم ۔۔۔۔۔۔ کنتم تکتمون (33) (31 تا 33) “ اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے ، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا “ اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا ) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ ”۔ انہوں نے نے عرض کیا : نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں ، جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ”۔ پھر اللہ نے آدم سے کہا ، تم ان چیزوں کے نام بتاؤ ”۔ جب اس نے ان سب کے نام بتا دئیے ، تو اللہ نے فرمایا : “ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں اور جو تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے بھی ہم جانتے ہیں ”۔
اس کے بعد بقرہ میں ملائکہ کا سجدہ اور ابلیس کے انکار و استکبار کے واقعات بیان ہوئے۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ کو جنت میں بسانے کی کہانی بیان کی گئی۔ پھر بتا یا گیا کہ کس طرح شیطان نے آدم و حواکو بہکایا اور یوں انہیں جنت سے خارج کرا دیا۔ اس کے بعد آدم و حوا کو زمین پر اتارا گیا اور یہاں ان کے ذمے فریضہ خلافت ارضی کی ذمہ داری لگائی گئی ۔ لیکن جنت سے خارج کرنے سے قبل ان سے امتحان لے کر زمین میں رہنے کے لئے تیار کیا گیا۔ انہوں نے توبہ کی اور اللہ سے مغفرت طلب کی۔ سورة بقرہ میں اس قصے کے بعد بنی اسرائیل کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ وہ میرے ان انعامات کو یاد کریں جو میں نے ان پر کئے۔ اور انہوں نے خدا کے ساتھ جو عہد کئے اس کو پورا کریں کیونکہ یہ فریضہ وہ ہے جو تمام انسانوں کے ابو الاباء حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے اوپر عائد کیا اور اسی عہد کی اساس پر ان کو خلافت ارضی نصیب ہوتی۔
سورة اعراف میں بھی یہ قصہ آیا ہے۔ اس میں وہ طویل کہانی بیان کی گئی جو عروج فی الجنۃ اور وہاں سے پھر نکالے جانے سے متعلق ہے۔ اس قصے میں یہ سبق یاد دلایا گیا ہے کہ ابلیس آغاز کائنات سے انسان کا دشمن تھا اور آخر تک رہے گا۔ یہاں تک کہ آدم و ابلیس جس طرح پہلے دربار الٰہی میں تھے پھر وہاں پیش ہوں۔ اب ایک فریق تو ان لوگوں کا ہوگا جو جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں سے شیطان نے ان کے والدین کو نکالا تھا ، کیونکہ ان لوگوں نے شیطان کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کی مخالفت کی۔ ایک دوسرا فریق آگ میں گرایا جائے گا ، کیونکہ انہوں نے شیطان مردود اور ہٹ دھرم کے قدموں کی پیروی کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں بھی ملائکہ کی جانب سے آدم کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا ذکر بھی ہوا۔ یہ تذکرہ بھی ہوا کہ ابلیس نے انکار اور استکبار کیا۔ اس نے اللہ سے مطالبہ کیا کہ قیامت تک اسے مہلت دی جائے تا کہ وہ ان بنی آدم کو گمراہ کرسکے جن کی وجہ سے وہ جنت سے بےآبرو کر کے نکالا گیا۔ اب آدم اور اس کی زوجہ کو جنت میں بسایا گیا اور حکم دیا گیا کہ وہ جو چاہیں وہاں کھائیں پئیں صرف ایک درخت کے قریب نہ جائیں۔ یہ ایک درکت کی ممانعت بھی دراصل علامتی ممانعت تھی۔ مقصد یہ تھا کہ آدم (علیہ السلام) کے جذبہ اطاعت امر اور ان کی قوت ارادی کو ٹیسٹ کیا جائے۔ اس کے بعد وہاں یہ تذکرہ آتا ہے کہ کس طرح شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسے ڈالے اور کس طرح انہوں نے اس درخت کا پھل چکھ لیا اور پھر کس طرح معجزانہ انداز میں ان کے جسم عریاں ہوگئے اور کس طرح اللہ کا عتاب حضرت آدم اور ان کی زوجہ پر نازل ہوا اور کس طرح ان کو ، سب کو ، زمین میں اتار کر بسا دیا گیا کہ وہ اس کرۂ ارض پر بھی حق و باطل کے معرکے میں شریک ہوں۔ فرمایا گیا :
قال اھبطوا ۔۔۔۔۔ الی حین (24) قال فیھا ۔۔۔۔۔ تخرجون (25) (7 : 24- 25) “ فرمایا اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی جائے قرار اور سامان زیست ہے ”۔ اور فرمایا : “ وہیں تم کو جینا ہے اور وہیں مرنا ہے اور اسی سے تم کو آخر کار نکالا جائے گا ”۔
انسانیت کی یہ کہانی سورة اعراف میں اسی طرح چلتی ہے یہاں تک کہ سب لوگ دوبارہ میدان حشر میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ وہاں بڑی تفصیل کے ساتھ ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں اور ردو قدح اور حساب و کتاب کے بعد ایک فریق جنت میں اور ایک فریق دوزخ میں چلا جاتا ہے۔
ونادی اصحب النار۔۔۔۔۔ علی الکفرین (7 : 50) “ اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر بھی ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے ، اس میں سے کچھ پھینک دو ۔ وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں منکرین حق پر حرام کردی ہیں ”۔ (50) اور اس کے بعد اب اس منظر پر پردہ گرجاتا ہے۔
لیکن یہاں اس قصے کا مدعا کیا ہے ؟ یہاں تخلیق انسان کے اسرارو رموز اور فلسفہ ہدایت و ضلالت زیر بحث ہیں اور انسان کی ذات میں ہدایت و ضلالت کے جو عوام رکھ دئیے گئے ہیں ان سے بحث کی گئی ہے۔ چناچہ یہاں بات کا آغاز اس امر سے کیا جاتا ہے کہ انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا گیا اور اللہ نے پھر اس میں اپنی روشن روح پھونکی اور اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے جنوں کو آگ کی لپیٹ دے پیدا کردیا تھا ، یہاں پھر سجود ملائکہ ، انکار ابلیس کے واقعات آتے ہیں۔ ابلیس کہتا ہے کہ کیا میں ایک ایسے انسان کے سامنے سربسجود ہوجاؤں جسے مٹی سے پیدا کیا گیا۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ کس طرح شیطان کو ملعون قرار دے کر درگاہ الٰہی سے نکالا گیا۔ پھر اس کی طرف سے درخواست پیش ہوتی ہے کہ اسے قیامت تک کے لئے مہلت دی جائے ۔ اس کی درخواست منظور ہوتی ہے۔ یہاں شیطان اعتراف کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے گا لیکن اللہ کے جو مخلص بندے ہوں گے ان پر اسے کوئی قدرت حاصل نہ ہو سکے گی۔ وہ جن لوگوں کو گمراہ کرے گا وہ اس کی اطاعت اور اس کے طریقوں کو قبول کرنے کے لئے از خود تیار ہوں گے اور اللہ کے دین اور طریقے میں ان کو کوئی دلچسپی نہ ہوگی ۔ دونوں فریقوں کا انجام مختصراً بیان کردیا جاتا ہے بغیر تفصیل کے کیونکہ یہاں مقصد صرف تخلیق انسان اور فلسفہ ہدایت و ضلالت موضوع کلام ہے۔
الحجر 15:26
ذرا اب اس قصے کے مناظر کو یہاں ہم تفصیل سے لیتے ہیں۔
آیت نمبر 26 تا 27
قصے کے آغاز ہی میں یہ کہا جاتا ہے کہ انسان اور جنات یا شیطانوں کی فطرتوں میں یوم تخلیق کائنات سے ہی فرق امتیاز ہے۔ انسان کو بجنے والی خشک مٹی سے پیدا کیا گیا جو سڑی ہوئی خمیری مٹی یعنی کیچڑ سے لی گئی تھی یعنی اس مٹی کو ٹھوکا جائے تو بجتی ہے اور شیطان کو نار سموم یا آگ کی لپیٹ یا شعلے سے بنایا گیا ہے۔ بعد میں معلوم ہوگا کہ انسان کے مزاج میں ایک جدید عنصر بھی داخل ہوا ہے یعنی انسان کے اندر اللہ نے اپنی روح پھونکی ہے۔ رہا شیطان تو وہ نار سموم ہی کی طبیعت پر قائم ہے۔
واذ قال ربک ۔۔۔۔۔ حما مسنون (28) فاذا سویتہ ۔۔۔۔ سجدین (29) فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون (30) الا ابلیس۔۔۔۔ السجدین (31) قال یا بلیس ۔۔۔۔۔ السجدین (32) قال لم اکن ۔۔۔۔۔ مسنون (33) قال ۔۔۔۔ رجیم (34) وان علیک ۔۔۔۔ یوم الدین (35) ( 15 : 31 تا 35) “ پھر یاد کرو اس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ “ میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں۔ جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا ”۔ چناچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ، سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا ”۔ اس نے کہا “ میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے ”۔ رب نے فرمایا : “ اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے اور اب روز جزاء تک تجھ پر لعنت ہے ”۔
پھر یاد کرو اس موقع کو کہ جب اللہ فرشتوں کے ساتھ ہمکلام ہوا۔ یہ کب کی بات ہے ؟ کہاں یہ واقعہ پیش آیا ؟ اس کی تفصیلی کیفیت کیسی تھی ؟ ان سوالات کا جاب ہم نے پارۂ اول میں سورة بقرہ میں دے دیا ہے۔ وہ یہ کہ ان سوالات کا شافی جواب ہی نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ عالم بالا کی کہانی ہے اور ہمارے پاس کوئی نص صریح نہیں ہے کیونکہ عالم غیب سے متعلق کسی سوال کا جواب ہم صرف نص صریح ہی سے دے سکتے ہیں۔ جو لوگ ایسے سوالات کا جواب دینا چاہتے ہیں وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی سعی لا حاصل کر رہے ہیں اور ان کی باتوں پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
رہی یہ بات کہ انسان کو ایسی مٹی سے کیسے بنایا گیا جو سڑی ہوئی تھی اور اس خمیری مٹی سے بنا کر اس کو کسی طرح خشک کردیا گیا تھا کہ وہ بجتی تھی۔ پھر یہ کہ اس کے اندر روح کس طرح ڈال دی گئی۔ ہم صاف صاف کہتے ہیں کہ ان امور کی تفصیلی کیفیات سے ہم بیخبر ہیں۔ کسی صورت میں بھی ہم از سر نو اس کیفیت کا سائنسی تجزیہ نہیں کرسکتے۔
اس سلسلے میں قرآن کریم کی جو آیات وارد ہیں۔ ان کو پیش نظر رکھتے ہیں ، خصوصاً یہ آیت کہ۔
ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین (23 : 2) “ ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ”۔ اور دوسری آیت میں ہے۔
ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من ماء مھین “ ہم نے انسان کو مٹی کی ست سے پیدا کیا جو حقیر پانی کی شکل میں ہے ”۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصلیت اور زندگی کی حقیقت اس زمین کی مٹی سے ہے اور انسان کے اندر وہی اہم عناصر موجود ہیں جو اس زمین کے اہم عناصر ترکیبی ہیں۔ اسی طرح انسان اور تمام دوسرے زندوں کے اجسام انہی عناصر سے بنے ہوئے ہیں۔ لفظ سلالۃ ایک خاصل انداز کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہاں تک تو قرآن اشارہ کرتا ہے اور اس کے الفاظ سے یہ مفہوم نکلتا ہے ، لیکن اس سے آگے جدید دور کے انکشافات سے جو کچھ معلوم ہوا اسے قرآن مجید سے اخذ کرنا ایک تکلف ہی ہے۔ موجودہ آیات ان مفاہیم کی متحمل نہیں ہیں۔ جہاں تک سائنسی تحقیقات کا تعلق ان کا اپنا ایک انداز ہے۔ سائنسی تحقیقات اپنے وسائل و ذرائع کے ساتھ جاری رہیں گی۔ اور سائنسی تحقیقات کے نتائج فرضی ہوتے ہیں۔ سائنسی تحقیقات اپنے وسائل ذرائع کے ساتھ جاری رہیں گی۔ اور سائنسی تحقیقات کے نتائج فرض ہوتے ہیں اور وہ حقائق نہیں بلکہ نظریات ہوتے ہیں ۔ ان نظریات میں سے بعض حقائق کا روپ نہیں اختیار کرتے وہ بحث و تمحیص کے بعد بدل بھی جاتے ہیں لیکن ان سائنسی تحقیقات کا کوئی نتیجہ بھی ان اصولی حقائق سے متضاد نہیں ہوتا جو قرآن میں ثبت ہیں۔ قرآن کریم نے جو ابتدائی حقیقت دی ہے وہ صرف یہ ہے کہ “ ابتداء انسان کو مٹی کے ست سے تخلیق کیا گیا ہے اور اس کی تخلیق میں پانی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ لہٰذا ابتدائی حقیقت جو قرآن کریم نے بیان کی ہے ، اپنی جگہ باقی ہے ، بعد میں آنے والے نظریات اس کی تفصیلات ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیچڑ اور اس کے اندر پائے جانے والے عناصر طبیبہ نے ایک زندہ انسان کی شکل کس طرح اختیار کی۔ کس طرح اعضا بنے اور کس طرح انسان کی شکل و صورت وجود میں آئی۔ یہ وہ راز ہے جس کے علل و اسباب معلوم کرنے سے انسان آج تک بےبس ہے۔ پہلے خلیے کو زندگی کس طرح ملی۔ انسان اور زندگی کی نشو ونما پر کام کرنے والے سائنس دان آج تک اس راز سے آگاہ نہیں ہو سکے۔ رہی اعلیٰ درجے کی انسانی زندگی جس کے اندر فہم و فراست کی قوتیں موجود ہیں ، اس کے اندر ایسی امتیازی قوتیں موجود ہیں جن کے ذریعے انسان نے پوری کائنات کو مسخر کرلیا ہے ، تمام دوسرے درجے کے زندہ حیوانات کو قابو کرلیا ہے۔ اس حضرت انسان کو اس پوری دنیا پر فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ یہ تو وہ عظیم راز ہے جس کے بارے میں انسانی نظریات آج تک مخبوط الحواس ہیں۔ لیکن اس اہم راز کے بارے میں قرآن کریم انسان کو نہایت ہی سادہ ، واضح اور اجمالی علم دیتا ہے۔
سویتہ ونفخت فیہ من روحی (15 : 29) ( جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو ) تو درحقیقت یہ اللہ کی پیدا کردہ روح ہے جو اس حقیر عضویاتی مخلوق کو ایک بلند انسانی مخلوق بنا دیتی ہے۔ لیکن اہم سوال یہی ہے کہ یہ کیسے ہوا ؟ اس کا جواب یہ حقیقت ہے کہ اس انسان کو اس قدر قوت مدرکہ دی کب گئی ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکے۔ چناچہ مسلمانوں کا موقف یہ ہے کہ وہ اس راز کا ادراک ہی نہیں کرسکتے۔ یہ موقف نہایت ہی ٹھوس ہے اور ہم اس پر بڑے اطمینان سے کھڑے ہیں۔
اس سے قبل یعنی تخلیق انسان سے قبل اللہ نے شیطان کو آگ کی لپیٹ سے پیدا کیا تھا۔ شیطان اور شیطانی قوت تخلیق آدم سے بھی پہلے موجود تھی۔ یہ ہے وہ علمی اور یقینی اطلاع جو اللہ نے ہمیں دی ہے۔ رہی یہ بات کہ ذلت شیطانی کی کیفیت کیا ہے اور اس کی تخلیق کی تفصیلات کیا ہیں تو یہ ایک دوسری حقیقت ہے اور اللہ نے ہمارا یہ فرض قرار نہیں دیا کہ ہم ان لاحاصل چیزوں میں فضول بحثیں اور تحقیقات کریں۔ ہاں ہم اس ناری مخلوق کی بعض صفات سے ضرور واقف ہیں اور آگ کی لپیٹ اور شعلوں کو بھی جانتے ہیں اور اس قوت کی ناری صفات انسانی ذات پر اثر انداز بھی ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ آگ سے ہیں۔ نیز ہمیں اس قدر معلوم ہے کہ جنات کی ذات صفات میں اذیت اور برق رفتاری شامل ہے کیونکہ ان کی تخلیق نار سموم سے ہے۔ اس قصے کے درمیان میں سے یہ بات بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان میں صفت غرور اور تکبر پایا جاتا ہے۔ چونکہ شیطان جن تھا اس لیے غرور و استکبار اس کے مزاج کا خاصہ ہونا چاہئے کیونکہ نار کے ساتھ یہ صفات لگا کھاتی ہے۔
انسان کی تخلیق چونکہ سڑے ہوئے گارے سے ہوئی ، جو خشک ہو کر صلصال بن گیا تھا یعنی بجنے کی آواز اس سے نکلتی تھی۔ پھر اس میں ذات باری کی طرف سے ایسی روح پھونکی گئی جس کی وجہ سے زندہ مخلوق کی یہ صنف دوسری مخلوقات سے ممتاز ہوگئی ۔ پھر اسے مخصوص انسانی صفات بھی عطا ہوئیں۔ اور ان صفات میں سے اہم صفت انسان کی وہ علمی ترقی تھی جو وہ انسانیات کے شعبے میں کر رہا تھا۔
یہ نفح روح ، دراصل انسان کو عالم بالا سے مربوط کردیتی ہے۔ یہی صفت ہے جو انسان کو خدا رسیدگی کی قوت دیتی ہے اور یہی قوت انسان کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ خدا سے ہدایت اخذ کرسکے ، یوں حضرت انسانی جسمانی اور مادی اور حواس کی دنیا سے بلند ہوجائے اور اس عالم تجرید میں کام کرے ، جس میں دل و دماغ جو لانی دکھاتے ہیں۔ اس طرح انسان کو وہ راز عطا کیا جاتا ہے جس تک انسان ایسے حالات میں پہنچتا ہے کہ وہ زمان و مکان سے وراء ہوتا ہے اور دائرہ حواس سے آگے بڑھ کر غیر محدود تصورات کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔
یہ اونچے درجات حاصل کرنے کے باوجود انسان کے ساتھ مادیت کی آلودگی بہرحال قائم رہتی ہے۔ اس کا مزاج مادی ہی رہتا ہے اور وہ مادی ضروریات اور کمزوریوں کا شکار رہتا ہے۔ وہ کھاتا ہے ، پیتا ہے ، لباس کا محتاج ہوتا ہے۔ طبعی میلانات اور جنسی خواہشات رکھتا ہے۔ کمزوریاں اور کو تاہیاں اس میں ہوتی ہیں اور اپنے جسمانی اور تصوراتی کمزوری کی وجہ سے پھر اس سے برے افعال سرزد ہوتے ہیں۔
اسلام کا منشا اور اعلیٰ نصب العین یہ ہے کہ انسان ، انسان مادی اور مٹی کے تقاضوں اور روحانی اور علوی تقاضوں کے درمیان ایک حسین توازن کے اعلیٰ اور ارفع مقام تک پہنچ جائے۔ یہ وہ ترقی یافتہ اور بلند مقام ہے جسے ہم کمال بسری سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسلام انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اپنے عناصر ترکیبی میں سے کسی ایک کو نظر انداز کر دے اور یا خالص روحانی بن جائے ، رہبان ہو یا ہندو ، جوگی ہو یا خالص مادہ پرست بن جائے اور مادی اقدار کے سوا تمام اعلیٰ اقدار کی نفی کر کے حیوان بن جائے۔ اگر انسان ان دونوں عناصر میں سے کسی ایک ہی کا انتخاب کرے گا تو وہ کبھی بھی کمال و ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتا۔ جو قومیں صرف ایک عنصر کو پیش نظر رکھ کر انسان کو نرمی دیتی ہیں وہ ان مقاصد کے خلاف کام کر رہی ہیں جن کے لئے اس مخلوق کی تخلیق کی گئی ہے۔
جو لوگ انسان کی جسمانی قوتوں کو معطل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہی ہیں جو انسان کی روحانی قوتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں فریق انسان کے سیدھے فطری مزاج کے خلاف جا رہے ہیں۔ ایسے لوگ انسان سے وہ کام لینا چاہتے ہیں جس کے بارے میں خالق انسان کا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں کیونکہ یہ لوگ جسد انسانی کے ایک حصے کو کاٹ رہے ہیں ، لہٰذا وہ اس سلسلے میں خدا کے سامنے جوابدہ ہوں گے کیونکہ وہ فطرت کے خلاف جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو تنبیہ کی جو رہبانیت اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے تھے ۔ مثلاً یہ کہ بعض نے کہا کہ وہ کبھی عورت کے قریب نہ جائے گا۔ بعض نے کہا کہ وہ صائم الدہر ہوگا ، کبھی بھی افطار نہ کرے گا۔ کسی نے کہا کہ وہ ساری ساری رات عبادت کرے گا۔ ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں سوئے گا۔ حضور ﷺ نے ان کو سخت تنبیہ فرمائی۔ حدیث عائشہ کے آخر میں ہے : فمن رغب عن سنتی فلیس منی “ جو شخص میری سنت سے منہ موڑے گا وہ میری امت سے نہ ہوگا ”۔
اسلام نے انسان کے لئے قوانین شریعت کی جو ضابطہ بندی کی ہے وہ اسی اصول پر کی ہے ۔ اسلام نے اخلاق و قانون کا ایسا ضابطہ دیا ہے جو اسی اصول پر مبنی ہے اور اس میں انسان کی تمام فطری صلاحیتوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اسلام انسان کی صلاحیتوں میں سے کسی صلاحیت کی بیخ کنی نہیں کرتا ، ہاں اسلام ان صلاحیتوں کے درمیان ایک قسم کا توازن ضرور قائم کرتا ہے تا کہ ان میں سے کوئی طاقت اور صلاحیت حد اعتدال سے تجاوز نہ کر جائے اور کوئی صلاحیت دوسری کو ختم نہ کر دے۔ کیونکہ توازن بگاڑنے سے بہرحال غیر متواز صلاحیت ختم ہوگی اور انسان کی بعض خصوصیات کو وجود ہی باقی نہ رہے گا۔ اور یوں انسان ایک شرعی جرم کا مرتکب ہوگا کیونکہ اللہ کا یہ بھی حکم ہے کہ اپنی فطری قوتوں کو محفوظ رکھو اور ان کی نشوونما کرو۔ کیونکہ یہ اللہ کی عطا کردہ ہیں اور کسی مقصد کے لئے ہیں ، محض اضافی نہیں ہیں اور نہ بےمقصد ہیں۔
یہ تھیں وہ بعض باتیں اور کچھ خیالات جو انسان کی تخلیق کی حقیقت پر غور کرنے کے بعد دل میں اترے۔ قرآن کریم تخلیق انسان کے بارے میں یہی حقائق ذہن نشین کراتا ہے۔ اب مناسب ہے کہ ہم اس قصے کے مشاہد اور مناظر کی طرف آئیں۔
الحجر 15:27
ذرا اب اس قصے کے مناظر کو یہاں ہم تفصیل سے لیتے ہیں۔
آیت نمبر 26 تا 27
قصے کے آغاز ہی میں یہ کہا جاتا ہے کہ انسان اور جنات یا شیطانوں کی فطرتوں میں یوم تخلیق کائنات سے ہی فرق امتیاز ہے۔ انسان کو بجنے والی خشک مٹی سے پیدا کیا گیا جو سڑی ہوئی خمیری مٹی یعنی کیچڑ سے لی گئی تھی یعنی اس مٹی کو ٹھوکا جائے تو بجتی ہے اور شیطان کو نار سموم یا آگ کی لپیٹ یا شعلے سے بنایا گیا ہے۔ بعد میں معلوم ہوگا کہ انسان کے مزاج میں ایک جدید عنصر بھی داخل ہوا ہے یعنی انسان کے اندر اللہ نے اپنی روح پھونکی ہے۔ رہا شیطان تو وہ نار سموم ہی کی طبیعت پر قائم ہے۔
واذ قال ربک ۔۔۔۔۔ حما مسنون (28) فاذا سویتہ ۔۔۔۔ سجدین (29) فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون (30) الا ابلیس۔۔۔۔ السجدین (31) قال یا بلیس ۔۔۔۔۔ السجدین (32) قال لم اکن ۔۔۔۔۔ مسنون (33) قال ۔۔۔۔ رجیم (34) وان علیک ۔۔۔۔ یوم الدین (35) ( 15 : 31 تا 35) “ پھر یاد کرو اس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ “ میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں۔ جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا ”۔ چناچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ، سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا ”۔ اس نے کہا “ میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے ”۔ رب نے فرمایا : “ اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے اور اب روز جزاء تک تجھ پر لعنت ہے ”۔
پھر یاد کرو اس موقع کو کہ جب اللہ فرشتوں کے ساتھ ہمکلام ہوا۔ یہ کب کی بات ہے ؟ کہاں یہ واقعہ پیش آیا ؟ اس کی تفصیلی کیفیت کیسی تھی ؟ ان سوالات کا جاب ہم نے پارۂ اول میں سورة بقرہ میں دے دیا ہے۔ وہ یہ کہ ان سوالات کا شافی جواب ہی نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ عالم بالا کی کہانی ہے اور ہمارے پاس کوئی نص صریح نہیں ہے کیونکہ عالم غیب سے متعلق کسی سوال کا جواب ہم صرف نص صریح ہی سے دے سکتے ہیں۔ جو لوگ ایسے سوالات کا جواب دینا چاہتے ہیں وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی سعی لا حاصل کر رہے ہیں اور ان کی باتوں پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
رہی یہ بات کہ انسان کو ایسی مٹی سے کیسے بنایا گیا جو سڑی ہوئی تھی اور اس خمیری مٹی سے بنا کر اس کو کسی طرح خشک کردیا گیا تھا کہ وہ بجتی تھی۔ پھر یہ کہ اس کے اندر روح کس طرح ڈال دی گئی۔ ہم صاف صاف کہتے ہیں کہ ان امور کی تفصیلی کیفیات سے ہم بیخبر ہیں۔ کسی صورت میں بھی ہم از سر نو اس کیفیت کا سائنسی تجزیہ نہیں کرسکتے۔
اس سلسلے میں قرآن کریم کی جو آیات وارد ہیں۔ ان کو پیش نظر رکھتے ہیں ، خصوصاً یہ آیت کہ۔
ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین (23 : 2) “ ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ”۔ اور دوسری آیت میں ہے۔
ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من ماء مھین “ ہم نے انسان کو مٹی کی ست سے پیدا کیا جو حقیر پانی کی شکل میں ہے ”۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصلیت اور زندگی کی حقیقت اس زمین کی مٹی سے ہے اور انسان کے اندر وہی اہم عناصر موجود ہیں جو اس زمین کے اہم عناصر ترکیبی ہیں۔ اسی طرح انسان اور تمام دوسرے زندوں کے اجسام انہی عناصر سے بنے ہوئے ہیں۔ لفظ سلالۃ ایک خاصل انداز کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہاں تک تو قرآن اشارہ کرتا ہے اور اس کے الفاظ سے یہ مفہوم نکلتا ہے ، لیکن اس سے آگے جدید دور کے انکشافات سے جو کچھ معلوم ہوا اسے قرآن مجید سے اخذ کرنا ایک تکلف ہی ہے۔ موجودہ آیات ان مفاہیم کی متحمل نہیں ہیں۔ جہاں تک سائنسی تحقیقات کا تعلق ان کا اپنا ایک انداز ہے۔ سائنسی تحقیقات اپنے وسائل و ذرائع کے ساتھ جاری رہیں گی۔ اور سائنسی تحقیقات کے نتائج فرضی ہوتے ہیں۔ سائنسی تحقیقات اپنے وسائل ذرائع کے ساتھ جاری رہیں گی۔ اور سائنسی تحقیقات کے نتائج فرض ہوتے ہیں اور وہ حقائق نہیں بلکہ نظریات ہوتے ہیں ۔ ان نظریات میں سے بعض حقائق کا روپ نہیں اختیار کرتے وہ بحث و تمحیص کے بعد بدل بھی جاتے ہیں لیکن ان سائنسی تحقیقات کا کوئی نتیجہ بھی ان اصولی حقائق سے متضاد نہیں ہوتا جو قرآن میں ثبت ہیں۔ قرآن کریم نے جو ابتدائی حقیقت دی ہے وہ صرف یہ ہے کہ “ ابتداء انسان کو مٹی کے ست سے تخلیق کیا گیا ہے اور اس کی تخلیق میں پانی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ لہٰذا ابتدائی حقیقت جو قرآن کریم نے بیان کی ہے ، اپنی جگہ باقی ہے ، بعد میں آنے والے نظریات اس کی تفصیلات ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیچڑ اور اس کے اندر پائے جانے والے عناصر طبیبہ نے ایک زندہ انسان کی شکل کس طرح اختیار کی۔ کس طرح اعضا بنے اور کس طرح انسان کی شکل و صورت وجود میں آئی۔ یہ وہ راز ہے جس کے علل و اسباب معلوم کرنے سے انسان آج تک بےبس ہے۔ پہلے خلیے کو زندگی کس طرح ملی۔ انسان اور زندگی کی نشو ونما پر کام کرنے والے سائنس دان آج تک اس راز سے آگاہ نہیں ہو سکے۔ رہی اعلیٰ درجے کی انسانی زندگی جس کے اندر فہم و فراست کی قوتیں موجود ہیں ، اس کے اندر ایسی امتیازی قوتیں موجود ہیں جن کے ذریعے انسان نے پوری کائنات کو مسخر کرلیا ہے ، تمام دوسرے درجے کے زندہ حیوانات کو قابو کرلیا ہے۔ اس حضرت انسان کو اس پوری دنیا پر فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ یہ تو وہ عظیم راز ہے جس کے بارے میں انسانی نظریات آج تک مخبوط الحواس ہیں۔ لیکن اس اہم راز کے بارے میں قرآن کریم انسان کو نہایت ہی سادہ ، واضح اور اجمالی علم دیتا ہے۔
سویتہ ونفخت فیہ من روحی (15 : 29) ( جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو ) تو درحقیقت یہ اللہ کی پیدا کردہ روح ہے جو اس حقیر عضویاتی مخلوق کو ایک بلند انسانی مخلوق بنا دیتی ہے۔ لیکن اہم سوال یہی ہے کہ یہ کیسے ہوا ؟ اس کا جواب یہ حقیقت ہے کہ اس انسان کو اس قدر قوت مدرکہ دی کب گئی ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکے۔ چناچہ مسلمانوں کا موقف یہ ہے کہ وہ اس راز کا ادراک ہی نہیں کرسکتے۔ یہ موقف نہایت ہی ٹھوس ہے اور ہم اس پر بڑے اطمینان سے کھڑے ہیں۔
اس سے قبل یعنی تخلیق انسان سے قبل اللہ نے شیطان کو آگ کی لپیٹ سے پیدا کیا تھا۔ شیطان اور شیطانی قوت تخلیق آدم سے بھی پہلے موجود تھی۔ یہ ہے وہ علمی اور یقینی اطلاع جو اللہ نے ہمیں دی ہے۔ رہی یہ بات کہ ذلت شیطانی کی کیفیت کیا ہے اور اس کی تخلیق کی تفصیلات کیا ہیں تو یہ ایک دوسری حقیقت ہے اور اللہ نے ہمارا یہ فرض قرار نہیں دیا کہ ہم ان لاحاصل چیزوں میں فضول بحثیں اور تحقیقات کریں۔ ہاں ہم اس ناری مخلوق کی بعض صفات سے ضرور واقف ہیں اور آگ کی لپیٹ اور شعلوں کو بھی جانتے ہیں اور اس قوت کی ناری صفات انسانی ذات پر اثر انداز بھی ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ آگ سے ہیں۔ نیز ہمیں اس قدر معلوم ہے کہ جنات کی ذات صفات میں اذیت اور برق رفتاری شامل ہے کیونکہ ان کی تخلیق نار سموم سے ہے۔ اس قصے کے درمیان میں سے یہ بات بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان میں صفت غرور اور تکبر پایا جاتا ہے۔ چونکہ شیطان جن تھا اس لیے غرور و استکبار اس کے مزاج کا خاصہ ہونا چاہئے کیونکہ نار کے ساتھ یہ صفات لگا کھاتی ہے۔
انسان کی تخلیق چونکہ سڑے ہوئے گارے سے ہوئی ، جو خشک ہو کر صلصال بن گیا تھا یعنی بجنے کی آواز اس سے نکلتی تھی۔ پھر اس میں ذات باری کی طرف سے ایسی روح پھونکی گئی جس کی وجہ سے زندہ مخلوق کی یہ صنف دوسری مخلوقات سے ممتاز ہوگئی ۔ پھر اسے مخصوص انسانی صفات بھی عطا ہوئیں۔ اور ان صفات میں سے اہم صفت انسان کی وہ علمی ترقی تھی جو وہ انسانیات کے شعبے میں کر رہا تھا۔
یہ نفح روح ، دراصل انسان کو عالم بالا سے مربوط کردیتی ہے۔ یہی صفت ہے جو انسان کو خدا رسیدگی کی قوت دیتی ہے اور یہی قوت انسان کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ خدا سے ہدایت اخذ کرسکے ، یوں حضرت انسانی جسمانی اور مادی اور حواس کی دنیا سے بلند ہوجائے اور اس عالم تجرید میں کام کرے ، جس میں دل و دماغ جو لانی دکھاتے ہیں۔ اس طرح انسان کو وہ راز عطا کیا جاتا ہے جس تک انسان ایسے حالات میں پہنچتا ہے کہ وہ زمان و مکان سے وراء ہوتا ہے اور دائرہ حواس سے آگے بڑھ کر غیر محدود تصورات کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔
یہ اونچے درجات حاصل کرنے کے باوجود انسان کے ساتھ مادیت کی آلودگی بہرحال قائم رہتی ہے۔ اس کا مزاج مادی ہی رہتا ہے اور وہ مادی ضروریات اور کمزوریوں کا شکار رہتا ہے۔ وہ کھاتا ہے ، پیتا ہے ، لباس کا محتاج ہوتا ہے۔ طبعی میلانات اور جنسی خواہشات رکھتا ہے۔ کمزوریاں اور کو تاہیاں اس میں ہوتی ہیں اور اپنے جسمانی اور تصوراتی کمزوری کی وجہ سے پھر اس سے برے افعال سرزد ہوتے ہیں۔
اسلام کا منشا اور اعلیٰ نصب العین یہ ہے کہ انسان ، انسان مادی اور مٹی کے تقاضوں اور روحانی اور علوی تقاضوں کے درمیان ایک حسین توازن کے اعلیٰ اور ارفع مقام تک پہنچ جائے۔ یہ وہ ترقی یافتہ اور بلند مقام ہے جسے ہم کمال بسری سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسلام انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اپنے عناصر ترکیبی میں سے کسی ایک کو نظر انداز کر دے اور یا خالص روحانی بن جائے ، رہبان ہو یا ہندو ، جوگی ہو یا خالص مادہ پرست بن جائے اور مادی اقدار کے سوا تمام اعلیٰ اقدار کی نفی کر کے حیوان بن جائے۔ اگر انسان ان دونوں عناصر میں سے کسی ایک ہی کا انتخاب کرے گا تو وہ کبھی بھی کمال و ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتا۔ جو قومیں صرف ایک عنصر کو پیش نظر رکھ کر انسان کو نرمی دیتی ہیں وہ ان مقاصد کے خلاف کام کر رہی ہیں جن کے لئے اس مخلوق کی تخلیق کی گئی ہے۔
جو لوگ انسان کی جسمانی قوتوں کو معطل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہی ہیں جو انسان کی روحانی قوتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں فریق انسان کے سیدھے فطری مزاج کے خلاف جا رہے ہیں۔ ایسے لوگ انسان سے وہ کام لینا چاہتے ہیں جس کے بارے میں خالق انسان کا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں کیونکہ یہ لوگ جسد انسانی کے ایک حصے کو کاٹ رہے ہیں ، لہٰذا وہ اس سلسلے میں خدا کے سامنے جوابدہ ہوں گے کیونکہ وہ فطرت کے خلاف جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو تنبیہ کی جو رہبانیت اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے تھے ۔ مثلاً یہ کہ بعض نے کہا کہ وہ کبھی عورت کے قریب نہ جائے گا۔ بعض نے کہا کہ وہ صائم الدہر ہوگا ، کبھی بھی افطار نہ کرے گا۔ کسی نے کہا کہ وہ ساری ساری رات عبادت کرے گا۔ ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں سوئے گا۔ حضور ﷺ نے ان کو سخت تنبیہ فرمائی۔ حدیث عائشہ کے آخر میں ہے : فمن رغب عن سنتی فلیس منی “ جو شخص میری سنت سے منہ موڑے گا وہ میری امت سے نہ ہوگا ”۔
اسلام نے انسان کے لئے قوانین شریعت کی جو ضابطہ بندی کی ہے وہ اسی اصول پر کی ہے ۔ اسلام نے اخلاق و قانون کا ایسا ضابطہ دیا ہے جو اسی اصول پر مبنی ہے اور اس میں انسان کی تمام فطری صلاحیتوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اسلام انسان کی صلاحیتوں میں سے کسی صلاحیت کی بیخ کنی نہیں کرتا ، ہاں اسلام ان صلاحیتوں کے درمیان ایک قسم کا توازن ضرور قائم کرتا ہے تا کہ ان میں سے کوئی طاقت اور صلاحیت حد اعتدال سے تجاوز نہ کر جائے اور کوئی صلاحیت دوسری کو ختم نہ کر دے۔ کیونکہ توازن بگاڑنے سے بہرحال غیر متواز صلاحیت ختم ہوگی اور انسان کی بعض خصوصیات کو وجود ہی باقی نہ رہے گا۔ اور یوں انسان ایک شرعی جرم کا مرتکب ہوگا کیونکہ اللہ کا یہ بھی حکم ہے کہ اپنی فطری قوتوں کو محفوظ رکھو اور ان کی نشوونما کرو۔ کیونکہ یہ اللہ کی عطا کردہ ہیں اور کسی مقصد کے لئے ہیں ، محض اضافی نہیں ہیں اور نہ بےمقصد ہیں۔
یہ تھیں وہ بعض باتیں اور کچھ خیالات جو انسان کی تخلیق کی حقیقت پر غور کرنے کے بعد دل میں اترے۔ قرآن کریم تخلیق انسان کے بارے میں یہی حقائق ذہن نشین کراتا ہے۔ اب مناسب ہے کہ ہم اس قصے کے مشاہد اور مناظر کی طرف آئیں۔
الحجر 15:28
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا :
آیت نمبر 28 تا 29
چناچہ فرشتوں نے ایسا ہی کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا تھا۔ اور اللہ نے چونکہ انسان کی تخلیق کا ارادہ کرلیا تھا اس لیے انسان مطلوبہ ارادہ کرتے ہی تخلیق ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی روح جو اس فانی جسد خاکی میں پھونکی گئی اور جو لافانی چیز ہے وہ کس طرح اس جسد خاکی کے ساتھ آمیختہ ہوگئی ، جو فانی چیز ہے۔ ایک مومن تو ایسے سوالات نہیں کرتا کیونکہ اس موضوع پر یہ مباحثہ و مذاکرہ ایک عبث کوشش ہے۔ بلکہ اس قسم کے مباحث میں جدل وجدال کرنا محض تضیع اوقات ہوتا ہے ۔ ان موضوعات پر کلام کر کے ہم عقل کو ایک ایسے دائرے میں داخل کرتے ہیں جس میں اس کے اسباب ادراک اور اس کی قوت فیصلہ کام ہی نہیں کرسکتی۔ اس سلسلے میں جو بحثیں اس سے قبل ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں وہ اس جہل پر مبنی ہیں جس میں انسان خود عقل انسانی کی حقیقت کو سمجھنے کے حوالے سے مبتلا ہے۔ عقل انسانی کا یہ مقام ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی حدود سے آگے بڑھ کر ماوراء کے حدود میں دخل دے۔ کیونکہ عقل میں وہ طاقت ہی نہیں ہے کہ اپنے اسباب ادراک کی حدود اور صلاحیت سے آگے بڑھے کیونکہ خالق کائنات کی کیفیت عقل انسانی کی حدود سے باہر ہے۔ لہٰذا اس میدان میں عقل کو لگانا ہی حماقت ہے۔ تخلیق کائنات کے راز معلوم کرنے میں عقل انسانی کو کھپانا ہی بنیادی غلطی ہے۔ عقل اس بات میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی کہ ایک فانی چیز سے ایک خالد اور دائمی حقیقت کے ساتھ کس طرح وابستہ و آمیختہ ہو سکتی ہے۔ ایک چیز ازلی ہے اور دوسری حادث اور نہ اللہ نے عقل انسانی سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے اور اسے ثات کرے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صرف یہ بتایا ہے کہ ایسا ہوا لیکن کسی جگہ یہ نہیں بتایا کہ کیسے ہوا ؟ کیونکر ایسا ہوا ؟ یہ بات تو ثابت ہے کہ انسان مخلوق ہے اور ہمارے سامنے موجود ہے۔ عقل انسانی اس موجود حقیقت کا انکار تو نہیں کرسکتی۔ نہ عقل انسانی خود اس تخلیق کی کیفیت بتا سکتی ہے۔ عقل انسانی کے بس میں صرف یہ بات ہے کہ وہ قرآن کی خبر کی تصدیق کر دے۔ جہاں تک حقیقت تک رسائی کا تعلق ہے تو عقل انسانی ایسا نہیں کرسکتی۔ اور یہ بات ہدایتہً ثابت ہے کہ خود انسان اور عقل انسانی ایک حادث اور مخلوق اور فانی حقائق ہیں اور یہ بھی ثابت ہے کہ کوئی فانی اور مخلوق چیز لافانی ، ازلی اور ابدی حقائق پر کوئی حکم نہیں لگا سکتی۔ کسی شکل و صورت میں بھی نہیں لگا سکتی۔ اس سلسلے میں عقل کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ اس میدان میں جو لانی دکھانے سے باز آجائے اور ایسے میدانوں میں کام کرے جو اس کے لئے کھلے اور محفوظ ہیں۔ مثلاً عام سائنسی میدان۔
میں نے اپنی عادت کے برعکس اس عقلی مسئلے پر یہاں قدرے طویل بحث کردی ہے حالانکہ ظلال القرآن میں ہمارا یہ طریقہ نہیں رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ امور غیب کی نوعیت ایک جیسی ہے اور ان تمام امور غیبیہ کے مسئلے میں ہم ایک ایسا اصولی قاعدہ وضع کرنا چاہتے ہیں کہ انسانی دل و دماغ اور انسانی سوچ اور ایمان اس فائدے پر مطمئن ہوجائیں۔ بہرحال اس کے بعد کیا ہوا ؟
الحجر 15:29
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا :
آیت نمبر 28 تا 29
چناچہ فرشتوں نے ایسا ہی کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا تھا۔ اور اللہ نے چونکہ انسان کی تخلیق کا ارادہ کرلیا تھا اس لیے انسان مطلوبہ ارادہ کرتے ہی تخلیق ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی روح جو اس فانی جسد خاکی میں پھونکی گئی اور جو لافانی چیز ہے وہ کس طرح اس جسد خاکی کے ساتھ آمیختہ ہوگئی ، جو فانی چیز ہے۔ ایک مومن تو ایسے سوالات نہیں کرتا کیونکہ اس موضوع پر یہ مباحثہ و مذاکرہ ایک عبث کوشش ہے۔ بلکہ اس قسم کے مباحث میں جدل وجدال کرنا محض تضیع اوقات ہوتا ہے ۔ ان موضوعات پر کلام کر کے ہم عقل کو ایک ایسے دائرے میں داخل کرتے ہیں جس میں اس کے اسباب ادراک اور اس کی قوت فیصلہ کام ہی نہیں کرسکتی۔ اس سلسلے میں جو بحثیں اس سے قبل ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں وہ اس جہل پر مبنی ہیں جس میں انسان خود عقل انسانی کی حقیقت کو سمجھنے کے حوالے سے مبتلا ہے۔ عقل انسانی کا یہ مقام ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی حدود سے آگے بڑھ کر ماوراء کے حدود میں دخل دے۔ کیونکہ عقل میں وہ طاقت ہی نہیں ہے کہ اپنے اسباب ادراک کی حدود اور صلاحیت سے آگے بڑھے کیونکہ خالق کائنات کی کیفیت عقل انسانی کی حدود سے باہر ہے۔ لہٰذا اس میدان میں عقل کو لگانا ہی حماقت ہے۔ تخلیق کائنات کے راز معلوم کرنے میں عقل انسانی کو کھپانا ہی بنیادی غلطی ہے۔ عقل اس بات میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی کہ ایک فانی چیز سے ایک خالد اور دائمی حقیقت کے ساتھ کس طرح وابستہ و آمیختہ ہو سکتی ہے۔ ایک چیز ازلی ہے اور دوسری حادث اور نہ اللہ نے عقل انسانی سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے اور اسے ثات کرے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صرف یہ بتایا ہے کہ ایسا ہوا لیکن کسی جگہ یہ نہیں بتایا کہ کیسے ہوا ؟ کیونکر ایسا ہوا ؟ یہ بات تو ثابت ہے کہ انسان مخلوق ہے اور ہمارے سامنے موجود ہے۔ عقل انسانی اس موجود حقیقت کا انکار تو نہیں کرسکتی۔ نہ عقل انسانی خود اس تخلیق کی کیفیت بتا سکتی ہے۔ عقل انسانی کے بس میں صرف یہ بات ہے کہ وہ قرآن کی خبر کی تصدیق کر دے۔ جہاں تک حقیقت تک رسائی کا تعلق ہے تو عقل انسانی ایسا نہیں کرسکتی۔ اور یہ بات ہدایتہً ثابت ہے کہ خود انسان اور عقل انسانی ایک حادث اور مخلوق اور فانی حقائق ہیں اور یہ بھی ثابت ہے کہ کوئی فانی اور مخلوق چیز لافانی ، ازلی اور ابدی حقائق پر کوئی حکم نہیں لگا سکتی۔ کسی شکل و صورت میں بھی نہیں لگا سکتی۔ اس سلسلے میں عقل کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ اس میدان میں جو لانی دکھانے سے باز آجائے اور ایسے میدانوں میں کام کرے جو اس کے لئے کھلے اور محفوظ ہیں۔ مثلاً عام سائنسی میدان۔
میں نے اپنی عادت کے برعکس اس عقلی مسئلے پر یہاں قدرے طویل بحث کردی ہے حالانکہ ظلال القرآن میں ہمارا یہ طریقہ نہیں رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ امور غیب کی نوعیت ایک جیسی ہے اور ان تمام امور غیبیہ کے مسئلے میں ہم ایک ایسا اصولی قاعدہ وضع کرنا چاہتے ہیں کہ انسانی دل و دماغ اور انسانی سوچ اور ایمان اس فائدے پر مطمئن ہوجائیں۔ بہرحال اس کے بعد کیا ہوا ؟
الحجر 15:30
آیت نمبر 30 تا 31
فرشتوں نے تو یہ سجدہ اس لیے کیا کہ ان کی فطرت ہی عبادت الٰہی اور تعمیل حکم ہے۔ بغیر چون و چرا کے اور ابلیس نے انکار اس لیے کیا کہ وہ ملائکہ میں سے نہ تھا۔ ملائکہ نوری مخلوق ہیں اور شیطان ناری۔ فرشتے ایسے ہیں کہ ان کو اللہ کی طرف سے جو حکم بھی ملے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے ، انہیں جو حکم ملے وہ کر گزرتے ہیں اور ابلیس نے یہ حکم ملتے ہی انکار کیا اور استکبار کیا۔ اس لیے یقیناً وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔ یہاں استثناء متصل نہیں ہے ، یہ اس طرح ہے جس طرح کہتے ہیں کہ فلاں کی اولاد تو سب آگئے مگر احمد نہیں آیا۔ جبکہ احمد فلاں کے بیٹوں میں سے نہیں ہوتا۔ صرف یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہی رہنے والا ہوتا ہے یا ان کے آنے والے کے فعل کے ساتھ۔ اس کا بھی کچھ تعلق ہوتا ہے اس لیے اسے استثنائیہ جملے میں یکجا کردیا جاتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکم تو تھا ہی فرشتوں کو ، پھر ابلیس اس حکم کے مدلول میں کس طرح شامل ہوگیا۔ تو جواب یہ ہے کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے ابلیس بھی اس حکم میں شامل تھا۔ سورة اعراف میں تو صراحت کے ساتھ ابلیس کو شامل کیا گیا۔
قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک ” اس نے کہا کس چیز نے تجھے منع کیا کہ تو سجدہ کرے جبکہ میں نے تمہیں حکم دیا ہے “۔ قرآن کریم کا یہ انداز بیان ہے کہ وہ حالاتی مفہوم پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ اسلوب قرآن میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ آیت مذکورہ اس بات پر قطعی الدلالت ہے کہ اللہ کی طرف ابلیس کو بھی حکم دے دیا گیا تھا اور یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ حکم وہی ہو جو فرشتوں کو دیا گیا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتوں کے احکام میں ہی ابلیس کو شامل کردیا گیا ہو کیونکہ وہ ان سے متعلق تھا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابلیس کو علیحدہ حکم دیا گیا ہو ، لیکن یہاں اس کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ یہاں اسے نظر انداز کرنا مطلوب تھا اور فرشتوں کو نمایاں کرنا مطلوب تھا۔ لیکن جس طرح ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا اور ہم بھی یہی موقف اختیار کرتے ہیں۔
فرشتوں کی حقیقت کیا ہے ؟ ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ غیبی امور ہیں اور مسلمات ایمانیہ میں سے ہیں۔ ہم ان پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح نصوص میں ان کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر تشریح کی ہے عقل کے لئے ان حقائق تک رسائی ممکن نہیں ہے اس لیے وہ نصوص کے سوا کسی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس کا دائرہ کار نہایت ہی محدود ہے۔
الحجر 15:31
آیت نمبر 30 تا 31
فرشتوں نے تو یہ سجدہ اس لیے کیا کہ ان کی فطرت ہی عبادت الٰہی اور تعمیل حکم ہے۔ بغیر چون و چرا کے اور ابلیس نے انکار اس لیے کیا کہ وہ ملائکہ میں سے نہ تھا۔ ملائکہ نوری مخلوق ہیں اور شیطان ناری۔ فرشتے ایسے ہیں کہ ان کو اللہ کی طرف سے جو حکم بھی ملے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے ، انہیں جو حکم ملے وہ کر گزرتے ہیں اور ابلیس نے یہ حکم ملتے ہی انکار کیا اور استکبار کیا۔ اس لیے یقیناً وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔ یہاں استثناء متصل نہیں ہے ، یہ اس طرح ہے جس طرح کہتے ہیں کہ فلاں کی اولاد تو سب آگئے مگر احمد نہیں آیا۔ جبکہ احمد فلاں کے بیٹوں میں سے نہیں ہوتا۔ صرف یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہی رہنے والا ہوتا ہے یا ان کے آنے والے کے فعل کے ساتھ۔ اس کا بھی کچھ تعلق ہوتا ہے اس لیے اسے استثنائیہ جملے میں یکجا کردیا جاتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکم تو تھا ہی فرشتوں کو ، پھر ابلیس اس حکم کے مدلول میں کس طرح شامل ہوگیا۔ تو جواب یہ ہے کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے ابلیس بھی اس حکم میں شامل تھا۔ سورة اعراف میں تو صراحت کے ساتھ ابلیس کو شامل کیا گیا۔
قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک ” اس نے کہا کس چیز نے تجھے منع کیا کہ تو سجدہ کرے جبکہ میں نے تمہیں حکم دیا ہے “۔ قرآن کریم کا یہ انداز بیان ہے کہ وہ حالاتی مفہوم پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ اسلوب قرآن میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ آیت مذکورہ اس بات پر قطعی الدلالت ہے کہ اللہ کی طرف ابلیس کو بھی حکم دے دیا گیا تھا اور یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ حکم وہی ہو جو فرشتوں کو دیا گیا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتوں کے احکام میں ہی ابلیس کو شامل کردیا گیا ہو کیونکہ وہ ان سے متعلق تھا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابلیس کو علیحدہ حکم دیا گیا ہو ، لیکن یہاں اس کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ یہاں اسے نظر انداز کرنا مطلوب تھا اور فرشتوں کو نمایاں کرنا مطلوب تھا۔ لیکن جس طرح ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا اور ہم بھی یہی موقف اختیار کرتے ہیں۔
فرشتوں کی حقیقت کیا ہے ؟ ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ غیبی امور ہیں اور مسلمات ایمانیہ میں سے ہیں۔ ہم ان پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح نصوص میں ان کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر تشریح کی ہے عقل کے لئے ان حقائق تک رسائی ممکن نہیں ہے اس لیے وہ نصوص کے سوا کسی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس کا دائرہ کار نہایت ہی محدود ہے۔
الحجر 15:32
آیت نمبر 32 تا 33
یہ غرور و استکبار کا مزاج بول رہا ہے ۔ نظر آتا ہے کہ گرم آگ سے پیدا ہونے والی یہ مخلوق کس قدر سرکش ہے۔ اسے خشک بجنے والا گارا نظر آتا ہے۔ اس سے بھی پہلے اس کی سڑی ہوئی حالت بھی نظر آتی ہے لیکن اسے وہ قدرتی روح نظر نہیں آتی جو عالم بالا سے اس جسد خاکی میں پھونکی گئی۔ یہ مغرور تکبر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی عظمت ، شان اور مرتبے سے یہ بات فروتر ہے کہ میں ایک ایسی مخلوق کو سجدہ کروں جسے گلی سڑی ہوئی مٹی کے ایسے گارے سے بنایا گیا ہے جو بج رہا ہے۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہو سکتا تھا کہ اسے راندۂ درگاہ کردیا جائے اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملعون قرار دے دیا جائے۔ ،
الحجر 15:33
آیت نمبر 32 تا 33
یہ غرور و استکبار کا مزاج بول رہا ہے ۔ نظر آتا ہے کہ گرم آگ سے پیدا ہونے والی یہ مخلوق کس قدر سرکش ہے۔ اسے خشک بجنے والا گارا نظر آتا ہے۔ اس سے بھی پہلے اس کی سڑی ہوئی حالت بھی نظر آتی ہے لیکن اسے وہ قدرتی روح نظر نہیں آتی جو عالم بالا سے اس جسد خاکی میں پھونکی گئی۔ یہ مغرور تکبر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی عظمت ، شان اور مرتبے سے یہ بات فروتر ہے کہ میں ایک ایسی مخلوق کو سجدہ کروں جسے گلی سڑی ہوئی مٹی کے ایسے گارے سے بنایا گیا ہے جو بج رہا ہے۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہو سکتا تھا کہ اسے راندۂ درگاہ کردیا جائے اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملعون قرار دے دیا جائے۔ ،
الحجر 15:34
آیت نمبر 34 تا 35
اب اس کا حسد ، بغض اور شرارت کا مزاج سامنے آتا ہے۔
الحجر 15:35
آیت نمبر 34 تا 35
اب اس کا حسد ، بغض اور شرارت کا مزاج سامنے آتا ہے۔
الحجر 15:36
آیت نمبر 36 تا 38
یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔
الحجر 15:37
آیت نمبر 36 تا 38
یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔
الحجر 15:38
آیت نمبر 36 تا 38
یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔
الحجر 15:39
آیت نمبر 39 تا 40
یہاں ابلیس نے اپنا میدان جنگ خود ہی متعین کردیا ہے ، یہ کہ وہ زمین میں انسان کے خلاف جنگ کرے گا۔
لا زینن لھم فی الارض ” مین زمین میں ان کے لئے اپنے دل فریبیاں پیدا کروں گا “۔ اسی طرح اس نے میدان جنگ میں استعمال ہونے والے اپنے ہتھیار کا بھی اعلان کردیا۔ وہ یہ کہ میں غلط اور مضر اعمال کو ان کے لئے خوشنما بناؤں گا۔ برے کو بھلا قرار دوں گا۔ مصنوعی خوبصورتیوں کے ذریعے ان کو دام فریب میں گرفتار کروں گا۔ چناچہ جو شخص بھی شرکا ارتکاب کرتا ہے وہ تب ہی کرتا ہے کہ شیطان اس کے لئے اسے خوشنما بنا دیتا ہے۔ شر کو وہ خیر کا لباس پہناتا ہے اور وہ شر کو ہرگز شر کی صورت میں پیش نہیں کرتا۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ شیطانی حربے کو اچھی طرح سمجھ لے انسان کو ہر اس معاملے پر چوکنا ہو کر غور کرنا چاہئے ۔ جس چیز کو خوشنما بنا دیا گیا ہو اور جس کی طرف نفس انسانی کا میلان زیادہ ہو ، اس بات کا غالب امکان ہے کہ ایسے معاملات کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوگا انسان شیطان کے ان خوشنما ہتھیاروں سے تب ہی بچ سکتا ہے کہ وہ تعلق باللہ کو ہر وقت مضبوط رکھے ، اللہ کی بندگی کماحقہ ادا کرے کیونکہ شیطان خود اقرار کرتا ہے کہ اللہ کے مخلص بندوں کے مقابلے میں اس کے یہ ہتھیار کندہوں گے۔ وہ کہتا ہے۔
ولاغوینھم اجمعین (39) الا عبادک منھم المخلصین (40) (15 : 39- 40) ” میں ان سب کو بہکا دوں گا سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے خالص کرلیا ہو “۔ اور ہر دور میں اللہ اپنے بعض بندوں کو خالص کرلیتا ہے۔ جبکہ اللہ کے وہ بندے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیتے ہیں اور وہ اللہ بندگی اسی طرح کرتے ہیں جس طرح کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر شیطان کے حربے کارگر نہیں ہوتے ۔
شیطان نے یہ استثناء خود کردیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کائنات میں سنت الٰہیہ کیا ہوگی ؟ اور یہ کہ سنت الٰہیہ سے فرار ممکن نہیں ہے۔ سنت الہٰیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بندوں کو اپنے لیے چن لے گا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کردیا۔ ایسے بندے اللہ کی حمایت میں ہوں گے۔ اللہ کی زیر نگرانی ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے بھی صاف صاف جواب دے دیا :
الحجر 15:40
آیت نمبر 39 تا 40
یہاں ابلیس نے اپنا میدان جنگ خود ہی متعین کردیا ہے ، یہ کہ وہ زمین میں انسان کے خلاف جنگ کرے گا۔
لا زینن لھم فی الارض ” مین زمین میں ان کے لئے اپنے دل فریبیاں پیدا کروں گا “۔ اسی طرح اس نے میدان جنگ میں استعمال ہونے والے اپنے ہتھیار کا بھی اعلان کردیا۔ وہ یہ کہ میں غلط اور مضر اعمال کو ان کے لئے خوشنما بناؤں گا۔ برے کو بھلا قرار دوں گا۔ مصنوعی خوبصورتیوں کے ذریعے ان کو دام فریب میں گرفتار کروں گا۔ چناچہ جو شخص بھی شرکا ارتکاب کرتا ہے وہ تب ہی کرتا ہے کہ شیطان اس کے لئے اسے خوشنما بنا دیتا ہے۔ شر کو وہ خیر کا لباس پہناتا ہے اور وہ شر کو ہرگز شر کی صورت میں پیش نہیں کرتا۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ شیطانی حربے کو اچھی طرح سمجھ لے انسان کو ہر اس معاملے پر چوکنا ہو کر غور کرنا چاہئے ۔ جس چیز کو خوشنما بنا دیا گیا ہو اور جس کی طرف نفس انسانی کا میلان زیادہ ہو ، اس بات کا غالب امکان ہے کہ ایسے معاملات کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوگا انسان شیطان کے ان خوشنما ہتھیاروں سے تب ہی بچ سکتا ہے کہ وہ تعلق باللہ کو ہر وقت مضبوط رکھے ، اللہ کی بندگی کماحقہ ادا کرے کیونکہ شیطان خود اقرار کرتا ہے کہ اللہ کے مخلص بندوں کے مقابلے میں اس کے یہ ہتھیار کندہوں گے۔ وہ کہتا ہے۔
ولاغوینھم اجمعین (39) الا عبادک منھم المخلصین (40) (15 : 39- 40) ” میں ان سب کو بہکا دوں گا سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے خالص کرلیا ہو “۔ اور ہر دور میں اللہ اپنے بعض بندوں کو خالص کرلیتا ہے۔ جبکہ اللہ کے وہ بندے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیتے ہیں اور وہ اللہ بندگی اسی طرح کرتے ہیں جس طرح کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر شیطان کے حربے کارگر نہیں ہوتے ۔
شیطان نے یہ استثناء خود کردیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کائنات میں سنت الٰہیہ کیا ہوگی ؟ اور یہ کہ سنت الٰہیہ سے فرار ممکن نہیں ہے۔ سنت الہٰیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بندوں کو اپنے لیے چن لے گا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کردیا۔ ایسے بندے اللہ کی حمایت میں ہوں گے۔ اللہ کی زیر نگرانی ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے بھی صاف صاف جواب دے دیا :
الحجر 15:41
آیت نمبر 41 تا 42
یہ سیدھی راہ ہے ، یہ ناموس فطرت ہے ، یہ سنت الٰہیہ ہے ، ہدایت و ضلالت میں اللہ نے یہی سنت قرار دی ہے ، یہ کہ اللہ کے مخلص بندوں پر شیطانی چالیں کارگر نہ ہوں گی اور یہی قانون الٰہی ہے ، شیطان ان پر اثرات نہ ڈال سکے گا اور اس دنیا کو وہ ان کے لئے مزین نہ بنا سکے گا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ اللہ نے شیطان کو یہ کام کرنے سے روک دیا ہے۔ وہ اللہ کی حمایت میں آچکے ہیں ، ان بندوں تک شیطان کا داخلہ بند ہوتا ہے ، اس لیے کہ ان کی نظریں ہر وقت اللہ پر ہوتی ہیں اور یہ بندے ناموس فطرت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ شیطانی چالیں صرف ان لوگوں پر چلتی ہیں جو گمراہ ہوں اور جو شیطان کی پیروی کرتے ہوں۔ یہ بھی استثناء منقطع ہے کیونکہ اللہ کے صالح بندے گمراہوں میں شمار ہی نہیں ہوتے۔ شیطان تو صرف ان لوگوں کو شکار کرتا ہے جو بھٹک چکے ہوں جیسا کہ بھیڑیا بھٹکی ہوئی بکری کو بسہولت شکار کرلیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے نفوس خالص ہیں اور اللہ کے لئے خالص ہوچکے ہیں تو ایسے لوگوں کو اللہ ضائع ہونے نہیں دیتا۔ اس کی رحمتیں وسیع ہوتی ہیں۔ اگر وہ ایک لمحہ کے لئے پیچھے بھی رہ جائیں تو بھی وہ راہ پالیتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو گمراہ ہوچکے ہیں تو ان کا انجام آغاز کائنات ہی سے معلوم ہے اور اس کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔
الحجر 15:42
آیت نمبر 41 تا 42
یہ سیدھی راہ ہے ، یہ ناموس فطرت ہے ، یہ سنت الٰہیہ ہے ، ہدایت و ضلالت میں اللہ نے یہی سنت قرار دی ہے ، یہ کہ اللہ کے مخلص بندوں پر شیطانی چالیں کارگر نہ ہوں گی اور یہی قانون الٰہی ہے ، شیطان ان پر اثرات نہ ڈال سکے گا اور اس دنیا کو وہ ان کے لئے مزین نہ بنا سکے گا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ اللہ نے شیطان کو یہ کام کرنے سے روک دیا ہے۔ وہ اللہ کی حمایت میں آچکے ہیں ، ان بندوں تک شیطان کا داخلہ بند ہوتا ہے ، اس لیے کہ ان کی نظریں ہر وقت اللہ پر ہوتی ہیں اور یہ بندے ناموس فطرت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ شیطانی چالیں صرف ان لوگوں پر چلتی ہیں جو گمراہ ہوں اور جو شیطان کی پیروی کرتے ہوں۔ یہ بھی استثناء منقطع ہے کیونکہ اللہ کے صالح بندے گمراہوں میں شمار ہی نہیں ہوتے۔ شیطان تو صرف ان لوگوں کو شکار کرتا ہے جو بھٹک چکے ہوں جیسا کہ بھیڑیا بھٹکی ہوئی بکری کو بسہولت شکار کرلیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے نفوس خالص ہیں اور اللہ کے لئے خالص ہوچکے ہیں تو ایسے لوگوں کو اللہ ضائع ہونے نہیں دیتا۔ اس کی رحمتیں وسیع ہوتی ہیں۔ اگر وہ ایک لمحہ کے لئے پیچھے بھی رہ جائیں تو بھی وہ راہ پالیتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو گمراہ ہوچکے ہیں تو ان کا انجام آغاز کائنات ہی سے معلوم ہے اور اس کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔
الحجر 15:43
آیت نمبر 43 تا 44
سات دروازے کا لفظ محض عدد کا اظہار ہے یا واقعی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے دونوں معنوں کے لینے سے حقیقت نفس الامری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گمراہوں کی کئی اقسام اور درجات ہیں اور گمراہی کی بھی کئی شکلیں اور رنگ ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کے لوگوں کے لئے ایک دروازہ مخصوص ہوگا ان کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے۔
یہ قصہ اب مقام عبرت اور غرض وغایت کے بیان کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کی جا چکی ہے کہ انسان کی ذات میں اس کا مادی پہلو کس طرح انسان کے روحانی پہلو پر غالب آجاتا ہے اور یہ کہ جو لوگ تعلق باللہ کو تازہ اور زندہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کو دسترس حاصل نہیں ہوتی۔ چناچہ آخر میں گمراہوں کے انجام کے بالمقابل بتا دیا جاتا ہے کہ اہل حق کا انجام کس قدر خوبصورت ہوگا۔
الحجر 15:44
آیت نمبر 43 تا 44
سات دروازے کا لفظ محض عدد کا اظہار ہے یا واقعی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے دونوں معنوں کے لینے سے حقیقت نفس الامری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گمراہوں کی کئی اقسام اور درجات ہیں اور گمراہی کی بھی کئی شکلیں اور رنگ ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کے لوگوں کے لئے ایک دروازہ مخصوص ہوگا ان کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے۔
یہ قصہ اب مقام عبرت اور غرض وغایت کے بیان کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کی جا چکی ہے کہ انسان کی ذات میں اس کا مادی پہلو کس طرح انسان کے روحانی پہلو پر غالب آجاتا ہے اور یہ کہ جو لوگ تعلق باللہ کو تازہ اور زندہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کو دسترس حاصل نہیں ہوتی۔ چناچہ آخر میں گمراہوں کے انجام کے بالمقابل بتا دیا جاتا ہے کہ اہل حق کا انجام کس قدر خوبصورت ہوگا۔
الحجر 15:45
آیت نمبر 45 تا 48
متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ یہ لوگ زمین میں خدا سے ڈرتے تھے ، لیکن یہاں ان کے لئے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔ رب کریم کے جوار رحمت میں خوش و خرم ہوں گے۔
درس نمبر 117 ایک نظر میں
اس سبق میں اللہ کی رحمت اور اللہ کے عذاب دونوں کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی کبرسنی کے باوجود اولاد دی جاتی ہے اور اسے اولاد علیم کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو نجات دی جاتی ہے اور اس رحمت سے صرف ان کی بیوی محروم ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ظالمین سے تھا۔ پھر یہاں اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے برے دنوں کا تذکرہ بھی ہے۔
یہ تمام قصص اور مثالیں اس تمہید کے بعد آتی ہیں :
نبیء عبادی ۔۔۔۔۔ الرحیم (39) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50) (15 : 49 – 50) ” اے نبی میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے “۔ چناچہ ان امثلہ و قصص میں سے بعض تو اللہ کی رحمت کی مثالیں ہیں اور بعض اللہ کے عذاب کی۔ یہ قصص اس سورة کے ابتدائی تبصرے کے بھی مناسب ہیں جس میں لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا :
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔ یعلمون (3) وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ (5) (15 : 3 تا 5) ” چھوڑ دو ، انہیں ، کھائیں پئیں ، مزے کریں اور بھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جھوٹی امید۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ تو اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ چناچہ یہ قصص ان بستیوں کی مثالیں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جب ان کی مہلت عمل ختم ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ نیز سورة کے آغاز میں فرشتوں کے نزول کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا کہ وہ حق کے ساتھ اترتے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی ۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) ما ننزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔ منظرین (6 تا 8) ” یہ لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے تو یقیناً دیوانہ ہے اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کر کیوں نہیں آتا ؟ ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر ان لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی “ ۔ یوں یہ سورة ایک متحد اور مربوط مضمون بن جاتی ہے جس کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور ایک دوسرے کے موید نظر آتے ہیں ، یہ اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن سے نازل نہ ہوتی تھیں جس طرح ہم مصحف میں پاتے ہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ سورتوں کے اندر آیات کی ترتیب اللہ کی جانب سے ہے یعنی توقیفی ہے۔ لہٰذا اس خدائی ترتیب کے اندر حکمت اور ترتیب ضرور ملحوظ ہے۔ ان سورتوں کے مضامین کی ترتیب اور ہم آہنگی کے سلسلے میں اللہ نے بعض پہلو ہم پر منکشف کیے ہیں جن کا بیان ہم نے تمام سورتوں کے مقدمات میں کیا ہے۔ ہر سورة کی ایک فضا اور اس کے خدو خال بیاں کئے ہیں ، حقیقی علم بہر حال اللہ کو ہے۔ ہم نے جو ترتیب ، ربط مضامین اور حکمت بیان کی ہے وہ اجتہادی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
الحجر 15:46
آیت نمبر 45 تا 48
متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ یہ لوگ زمین میں خدا سے ڈرتے تھے ، لیکن یہاں ان کے لئے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔ رب کریم کے جوار رحمت میں خوش و خرم ہوں گے۔
درس نمبر 117 ایک نظر میں
اس سبق میں اللہ کی رحمت اور اللہ کے عذاب دونوں کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی کبرسنی کے باوجود اولاد دی جاتی ہے اور اسے اولاد علیم کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو نجات دی جاتی ہے اور اس رحمت سے صرف ان کی بیوی محروم ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ظالمین سے تھا۔ پھر یہاں اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے برے دنوں کا تذکرہ بھی ہے۔
یہ تمام قصص اور مثالیں اس تمہید کے بعد آتی ہیں :
نبیء عبادی ۔۔۔۔۔ الرحیم (39) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50) (15 : 49 – 50) ” اے نبی میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے “۔ چناچہ ان امثلہ و قصص میں سے بعض تو اللہ کی رحمت کی مثالیں ہیں اور بعض اللہ کے عذاب کی۔ یہ قصص اس سورة کے ابتدائی تبصرے کے بھی مناسب ہیں جس میں لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا :
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔ یعلمون (3) وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ (5) (15 : 3 تا 5) ” چھوڑ دو ، انہیں ، کھائیں پئیں ، مزے کریں اور بھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جھوٹی امید۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ تو اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ چناچہ یہ قصص ان بستیوں کی مثالیں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جب ان کی مہلت عمل ختم ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ نیز سورة کے آغاز میں فرشتوں کے نزول کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا کہ وہ حق کے ساتھ اترتے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی ۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) ما ننزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔ منظرین (6 تا 8) ” یہ لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے تو یقیناً دیوانہ ہے اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کر کیوں نہیں آتا ؟ ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر ان لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی “ ۔ یوں یہ سورة ایک متحد اور مربوط مضمون بن جاتی ہے جس کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور ایک دوسرے کے موید نظر آتے ہیں ، یہ اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن سے نازل نہ ہوتی تھیں جس طرح ہم مصحف میں پاتے ہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ سورتوں کے اندر آیات کی ترتیب اللہ کی جانب سے ہے یعنی توقیفی ہے۔ لہٰذا اس خدائی ترتیب کے اندر حکمت اور ترتیب ضرور ملحوظ ہے۔ ان سورتوں کے مضامین کی ترتیب اور ہم آہنگی کے سلسلے میں اللہ نے بعض پہلو ہم پر منکشف کیے ہیں جن کا بیان ہم نے تمام سورتوں کے مقدمات میں کیا ہے۔ ہر سورة کی ایک فضا اور اس کے خدو خال بیاں کئے ہیں ، حقیقی علم بہر حال اللہ کو ہے۔ ہم نے جو ترتیب ، ربط مضامین اور حکمت بیان کی ہے وہ اجتہادی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
الحجر 15:47
آیت نمبر 45 تا 48
متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ یہ لوگ زمین میں خدا سے ڈرتے تھے ، لیکن یہاں ان کے لئے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔ رب کریم کے جوار رحمت میں خوش و خرم ہوں گے۔
درس نمبر 117 ایک نظر میں
اس سبق میں اللہ کی رحمت اور اللہ کے عذاب دونوں کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی کبرسنی کے باوجود اولاد دی جاتی ہے اور اسے اولاد علیم کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو نجات دی جاتی ہے اور اس رحمت سے صرف ان کی بیوی محروم ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ظالمین سے تھا۔ پھر یہاں اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے برے دنوں کا تذکرہ بھی ہے۔
یہ تمام قصص اور مثالیں اس تمہید کے بعد آتی ہیں :
نبیء عبادی ۔۔۔۔۔ الرحیم (39) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50) (15 : 49 – 50) ” اے نبی میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے “۔ چناچہ ان امثلہ و قصص میں سے بعض تو اللہ کی رحمت کی مثالیں ہیں اور بعض اللہ کے عذاب کی۔ یہ قصص اس سورة کے ابتدائی تبصرے کے بھی مناسب ہیں جس میں لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا :
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔ یعلمون (3) وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ (5) (15 : 3 تا 5) ” چھوڑ دو ، انہیں ، کھائیں پئیں ، مزے کریں اور بھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جھوٹی امید۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ تو اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ چناچہ یہ قصص ان بستیوں کی مثالیں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جب ان کی مہلت عمل ختم ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ نیز سورة کے آغاز میں فرشتوں کے نزول کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا کہ وہ حق کے ساتھ اترتے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی ۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) ما ننزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔ منظرین (6 تا 8) ” یہ لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے تو یقیناً دیوانہ ہے اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کر کیوں نہیں آتا ؟ ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر ان لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی “ ۔ یوں یہ سورة ایک متحد اور مربوط مضمون بن جاتی ہے جس کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور ایک دوسرے کے موید نظر آتے ہیں ، یہ اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن سے نازل نہ ہوتی تھیں جس طرح ہم مصحف میں پاتے ہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ سورتوں کے اندر آیات کی ترتیب اللہ کی جانب سے ہے یعنی توقیفی ہے۔ لہٰذا اس خدائی ترتیب کے اندر حکمت اور ترتیب ضرور ملحوظ ہے۔ ان سورتوں کے مضامین کی ترتیب اور ہم آہنگی کے سلسلے میں اللہ نے بعض پہلو ہم پر منکشف کیے ہیں جن کا بیان ہم نے تمام سورتوں کے مقدمات میں کیا ہے۔ ہر سورة کی ایک فضا اور اس کے خدو خال بیاں کئے ہیں ، حقیقی علم بہر حال اللہ کو ہے۔ ہم نے جو ترتیب ، ربط مضامین اور حکمت بیان کی ہے وہ اجتہادی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
الحجر 15:48
آیت نمبر 45 تا 48
متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ یہ لوگ زمین میں خدا سے ڈرتے تھے ، لیکن یہاں ان کے لئے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔ رب کریم کے جوار رحمت میں خوش و خرم ہوں گے۔
درس نمبر 117 ایک نظر میں
اس سبق میں اللہ کی رحمت اور اللہ کے عذاب دونوں کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی کبرسنی کے باوجود اولاد دی جاتی ہے اور اسے اولاد علیم کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو نجات دی جاتی ہے اور اس رحمت سے صرف ان کی بیوی محروم ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ظالمین سے تھا۔ پھر یہاں اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے برے دنوں کا تذکرہ بھی ہے۔
یہ تمام قصص اور مثالیں اس تمہید کے بعد آتی ہیں :
نبیء عبادی ۔۔۔۔۔ الرحیم (39) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50) (15 : 49 – 50) ” اے نبی میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے “۔ چناچہ ان امثلہ و قصص میں سے بعض تو اللہ کی رحمت کی مثالیں ہیں اور بعض اللہ کے عذاب کی۔ یہ قصص اس سورة کے ابتدائی تبصرے کے بھی مناسب ہیں جس میں لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا :
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔ یعلمون (3) وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ (5) (15 : 3 تا 5) ” چھوڑ دو ، انہیں ، کھائیں پئیں ، مزے کریں اور بھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جھوٹی امید۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ تو اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ چناچہ یہ قصص ان بستیوں کی مثالیں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جب ان کی مہلت عمل ختم ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ نیز سورة کے آغاز میں فرشتوں کے نزول کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا کہ وہ حق کے ساتھ اترتے ہیں۔
وقالوا یایھا الذی ۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) ما ننزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔ منظرین (6 تا 8) ” یہ لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے تو یقیناً دیوانہ ہے اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کر کیوں نہیں آتا ؟ ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر ان لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی “ ۔ یوں یہ سورة ایک متحد اور مربوط مضمون بن جاتی ہے جس کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور ایک دوسرے کے موید نظر آتے ہیں ، یہ اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن سے نازل نہ ہوتی تھیں جس طرح ہم مصحف میں پاتے ہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ سورتوں کے اندر آیات کی ترتیب اللہ کی جانب سے ہے یعنی توقیفی ہے۔ لہٰذا اس خدائی ترتیب کے اندر حکمت اور ترتیب ضرور ملحوظ ہے۔ ان سورتوں کے مضامین کی ترتیب اور ہم آہنگی کے سلسلے میں اللہ نے بعض پہلو ہم پر منکشف کیے ہیں جن کا بیان ہم نے تمام سورتوں کے مقدمات میں کیا ہے۔ ہر سورة کی ایک فضا اور اس کے خدو خال بیاں کئے ہیں ، حقیقی علم بہر حال اللہ کو ہے۔ ہم نے جو ترتیب ، ربط مضامین اور حکمت بیان کی ہے وہ اجتہادی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
الحجر 15:49
درس نمبر 117 تشریح آیات
49 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 84
آیت نمبر 49 تا 50
گمراہوں کے عذاب اور متبعین کی جزاء کے ذکر کے متصلاً بعد حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اس مضمون کا اعلان کردیں۔ سیاق کلام میں اس کا ربط ظاہر ہے ، یہاں اعلان رحمت اور مغفرت کو مقدم کیا گیا ہے اور اعلان سزا کا تذکرہ بعد میں کیا گیا ہے ، کیونکہ اللہ کی رضا اس میں ہے کہ لوگوں کو اس کی رحمت و مغفرت نصیب ہو ، کیونکہ اللہ نے رحمت و مغفرت کو اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ، ہاں کبھی کبھی مضمون اور مقام کے تقاضے کے مطابق صرف عذاب کا تذکرہ ہوتا ہے یا تذکرہ تو دونوں کا ہوتا ہے لیکن سیاق کلام میں کسی مخصوص حکمت کی وجہ سے عذاب الٰہی کا تذکرہ پہلے آجاتا ہے۔ اس کی تشریح ایسے مقامات پر بھی کی گئی ہے
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان فرشتوں کا قصہ آتا ہے جو قوم لوط کی بیخ کنی کے لئے بھیجے گئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا یہ قصہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے اور ہر جگہ اسے مختلف انداز میں لایا گیا ہے۔ ہر مقام کی مناسبت سے اس قصے کا ایک حصہ لیا گیا ہے۔ ہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ بعض مقامات پر علیحدہ بھی آیا ہے۔
سورة اعراف میں قصہ لوط کا ایک حصہ گذر گیا ہے۔ پھر سورة ہود میں بھی قصہ ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ہے۔ سورة اعراف میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی جانب سے اپنی قوم کی فحاشی پر نکیر اور سرزنش کا ذکر تھا اور قوم کی طرف سے ان کی نکیر کا یہ جواب دیا گیا تھا :
اخرجوھم من قریتکم انھم اناس یتطھرون ” نکالو ان کو اپنے گاؤں سے ، یہ لوگ بہت پاکباز بنتے ہیں “۔ لیکن جب عذاب الٰہی آیا تو اللہ نے انہیں اور ان کے اہل و عیال کو نجات دے دی ، ماسوائے ان کی ایک بیوی کے جو پیچھے رہنے والوں میں شامل ہوگئی۔ یہاں فرشتون کی آمد اور ان کے بارے میں قوم کی سرگوشیوں کا ذکر نہ تھا۔
سورة ہود میں یہ قصہ ذکر ملائکہ پر مشتمل ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بات کی گئی ہے لیکن انداز گفتگو ہر جگہ مختلف ہے۔ وہاں بعض تفصیلات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص ہیں۔ آپ کی بیوی کھڑی تھی اور فرشتوں کی جانب سے بشارت سن رہی تھی۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے تکرار شروع کردی۔ ان کڑیوں کا تذکرہ یہاں چھوڑ دیا گیا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بارے میں واقعات کی ترتیب بھی مختلف ہے۔ سورة ہود میں جو واقعات بیان ہوئے ، ان میں فرشتوں کی حقیقت کو پوشیدہ رکھا گیا۔ ان کی حقیقت ان پر اس وقت کھلی جب لوگ لوط (علیہ السلام) کے خوبصورت مہمانوں کا سن کر دوڑتے ہوئے چلے آ رہے تھے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو بےعزتی سے بچانے کی خاطر ان کی منت سماجت کر رہے تھے اور وہ آپ کی ایک بھی نہ مان رہے تھے یہاں تک کہ ان کو دل بھر آیا اور وہ یہ اندوہناک بات کرنے پر بھی مجبور ہوگئے۔
لو ان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید ” اے کاش کہ میں تمہارے مقابلے میں قوت رکھتا یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ میں اس کی پناہ لیتا “۔ یہاں قصے میں ابتداء ہی سے فرشتوں کی حقیقت بتا دی گئی ہے اور لوگوں کے مشورے اور برے ارادوں کی بات کو بعد میں لایا گیا ہے ، کیونکہ یہاں یہ مقصود نہیں ہے کہ قصہ کے واقعات کی ترتیب کیا ہے بلکہ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کا عذاب کس طرح آتا ہے اور یہ کہ جب فرشتے آتے ہیں تو پھر مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے۔
الحجر 15:50
درس نمبر 117 تشریح آیات
49 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 84
آیت نمبر 49 تا 50
گمراہوں کے عذاب اور متبعین کی جزاء کے ذکر کے متصلاً بعد حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اس مضمون کا اعلان کردیں۔ سیاق کلام میں اس کا ربط ظاہر ہے ، یہاں اعلان رحمت اور مغفرت کو مقدم کیا گیا ہے اور اعلان سزا کا تذکرہ بعد میں کیا گیا ہے ، کیونکہ اللہ کی رضا اس میں ہے کہ لوگوں کو اس کی رحمت و مغفرت نصیب ہو ، کیونکہ اللہ نے رحمت و مغفرت کو اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ، ہاں کبھی کبھی مضمون اور مقام کے تقاضے کے مطابق صرف عذاب کا تذکرہ ہوتا ہے یا تذکرہ تو دونوں کا ہوتا ہے لیکن سیاق کلام میں کسی مخصوص حکمت کی وجہ سے عذاب الٰہی کا تذکرہ پہلے آجاتا ہے۔ اس کی تشریح ایسے مقامات پر بھی کی گئی ہے
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان فرشتوں کا قصہ آتا ہے جو قوم لوط کی بیخ کنی کے لئے بھیجے گئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا یہ قصہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے اور ہر جگہ اسے مختلف انداز میں لایا گیا ہے۔ ہر مقام کی مناسبت سے اس قصے کا ایک حصہ لیا گیا ہے۔ ہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ بعض مقامات پر علیحدہ بھی آیا ہے۔
سورة اعراف میں قصہ لوط کا ایک حصہ گذر گیا ہے۔ پھر سورة ہود میں بھی قصہ ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ہے۔ سورة اعراف میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی جانب سے اپنی قوم کی فحاشی پر نکیر اور سرزنش کا ذکر تھا اور قوم کی طرف سے ان کی نکیر کا یہ جواب دیا گیا تھا :
اخرجوھم من قریتکم انھم اناس یتطھرون ” نکالو ان کو اپنے گاؤں سے ، یہ لوگ بہت پاکباز بنتے ہیں “۔ لیکن جب عذاب الٰہی آیا تو اللہ نے انہیں اور ان کے اہل و عیال کو نجات دے دی ، ماسوائے ان کی ایک بیوی کے جو پیچھے رہنے والوں میں شامل ہوگئی۔ یہاں فرشتون کی آمد اور ان کے بارے میں قوم کی سرگوشیوں کا ذکر نہ تھا۔
سورة ہود میں یہ قصہ ذکر ملائکہ پر مشتمل ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بات کی گئی ہے لیکن انداز گفتگو ہر جگہ مختلف ہے۔ وہاں بعض تفصیلات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص ہیں۔ آپ کی بیوی کھڑی تھی اور فرشتوں کی جانب سے بشارت سن رہی تھی۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے تکرار شروع کردی۔ ان کڑیوں کا تذکرہ یہاں چھوڑ دیا گیا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بارے میں واقعات کی ترتیب بھی مختلف ہے۔ سورة ہود میں جو واقعات بیان ہوئے ، ان میں فرشتوں کی حقیقت کو پوشیدہ رکھا گیا۔ ان کی حقیقت ان پر اس وقت کھلی جب لوگ لوط (علیہ السلام) کے خوبصورت مہمانوں کا سن کر دوڑتے ہوئے چلے آ رہے تھے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو بےعزتی سے بچانے کی خاطر ان کی منت سماجت کر رہے تھے اور وہ آپ کی ایک بھی نہ مان رہے تھے یہاں تک کہ ان کو دل بھر آیا اور وہ یہ اندوہناک بات کرنے پر بھی مجبور ہوگئے۔
لو ان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید ” اے کاش کہ میں تمہارے مقابلے میں قوت رکھتا یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ میں اس کی پناہ لیتا “۔ یہاں قصے میں ابتداء ہی سے فرشتوں کی حقیقت بتا دی گئی ہے اور لوگوں کے مشورے اور برے ارادوں کی بات کو بعد میں لایا گیا ہے ، کیونکہ یہاں یہ مقصود نہیں ہے کہ قصہ کے واقعات کی ترتیب کیا ہے بلکہ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کا عذاب کس طرح آتا ہے اور یہ کہ جب فرشتے آتے ہیں تو پھر مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے۔
الحجر 15:51
آیت نمبر 51 تا 56
جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :
فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔
قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔
چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔
قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :
قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔
قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔
اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔
الحجر 15:52
آیت نمبر 51 تا 56
جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :
فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔
قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔
چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔
قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :
قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔
قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔
اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔
الحجر 15:53
آیت نمبر 51 تا 56
جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :
فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔
قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔
چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔
قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :
قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔
قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔
اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔
الحجر 15:54
آیت نمبر 51 تا 56
جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :
فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔
قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔
چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔
قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :
قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔
قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔
اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔
الحجر 15:55
آیت نمبر 51 تا 56
جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :
فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔
قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔
چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔
قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :
قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔
قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔
اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔
الحجر 15:56
آیت نمبر 51 تا 56
جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :
فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔
قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔
چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔
قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :
قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔
قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔
اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔
الحجر 15:57
آیت نمبر 57 تا 60
یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو دونے کے بعد اس کے تھنوں میں رہ جاتا ہے ) چناچہ فرشتے قوم لوط کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔
الحجر 15:58
آیت نمبر 57 تا 60
یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو دونے کے بعد اس کے تھنوں میں رہ جاتا ہے ) چناچہ فرشتے قوم لوط کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔
الحجر 15:59
آیت نمبر 57 تا 60
یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو دونے کے بعد اس کے تھنوں میں رہ جاتا ہے ) چناچہ فرشتے قوم لوط کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔
الحجر 15:60
آیت نمبر 57 تا 60
یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو دونے کے بعد اس کے تھنوں میں رہ جاتا ہے ) چناچہ فرشتے قوم لوط کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔
الحجر 15:61
آیت نمبر 61 تا 66
یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔
قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو یقین تھا کہ یہ قوم ان کے مہمانوں کے ساتھ برا سلوک کرے گی۔ نیز یہ کہ وہ اپنی قوم میں کمزور ہیں اور لوگ طاقتور اور فساق و فجار ہیں ، یعنی وہ کہہ رہے ہیں کہ تم عجیب لوگ ہو کہ اس گاؤں میں آگئے ہو حالانکہ یہ لوگ جس فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور تم جیسے لوگوں کے ساتھ وہ جو سلوک کرتے ہیں وہ معروف و مشہور ہے لیکن فرشتوں نے وضاحت کردی :
قالوا بل ۔۔۔۔ فیہ یمترون (63) واتینک ۔۔۔۔۔ لصدقون (64) (15 : 63- 64) ” انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس آنے کے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ ان تاکیدان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس معاملے میں کس قدر بےبس ہوگئے تھے اور ان کی بےچینی کا عالم کیا تھا۔ وہ حیران تھے کہ ایک طرف سے وہ اپنے مہمانوں کے حوالے سے ذمہ دار ہیں اور دوسری جانب وہ قوم کے مقابلے میں بےبس ہیں۔ چناچہ فرشتوں نے نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں ان کو تسلی دی اور ان کو فائنل ہدایات دینے سے قبل ان کو اچھی طرح مطمئن کردیا کہ اب ان لوگوں کا وقت ختم ہے۔
فاسر باھلک ۔۔۔۔۔۔ حیث تومرون (15 : 65) ” لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی بات پلٹ کر نہ دیکھے۔ بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے “۔ سری ، رات کے سفر کو کہتے ہیں۔ رات کا قطعہ یعنی اس کا ایک حصہ ، حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر رات کے وقت نکل جائیں ، صبح سے پہلے پہلے ، حضرت خود ان کے پیچھے پیچھے جائیں۔ ان میں سے کوئی تذبذب نہ کرے ، پیچھے نہ دیکھے یعنی اپنے علاقے کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ انسان جب اپنا محبوب علاقہ چھوڑتا ہے تو وہ نکلنے میں سست روی اختیار کرتا ہے۔ بار بار پیچھے دیکھتا ہے اور یہاں چونکہ صبح کے وقت ہی عذاب آنے والا تھا اور وقت مقرر تھا اس لیے ان کو بروقت نکلنے کی سخت تاکید کی گئی ۔
وقضینا الیہ۔۔۔۔۔ مصبحین (15 : 66) ” اور اسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی “۔ یہ عظیم فیصلہ تھا اور پیغمبر کو قبل از وقت اس سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ صبح سے پہلے پہلے ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ جب ان کی جڑ کٹ گئی تو شاخیں خود بخود کٹ گئیں۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس سے ان کا مکمل استیصال ظاہر ہوتا ہے ، لہٰذا اہل اسلام کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ ان میں سے کوئی پیچھے نہ دیکھے۔ یہ نہ ہو کہ کفار کی طرح یہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائے۔ کیونکہ پیچھے رہنے والے عمومی عذاب سے کیسے بچ سکتے ہیں۔
یہاں سیاق کلام میں اس انجام کو دوسرے واقعات سے قبل ہی پیش کردیا گیا کیونکہ سورة کے موضوع اور محل کا تقاضا ہی یہ تھا۔ اس کے بعد وہ واقعات دے دئیے جو مہمانوں کی آمد کے موقع پر پیش آئے۔
انہوں نے جب سنا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر چاند جیسے چہروں والے نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں ، (بعض روایات میں آیا ہے کہ ان مہمانوں کے بارے میں اطلاع خود حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے ان اوباشوں کو دی تھی ) تو یہ لوگ بہت خوش ہوئے کہ خوب شکار ملا ہے۔
الحجر 15:62
آیت نمبر 61 تا 66
یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔
قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو یقین تھا کہ یہ قوم ان کے مہمانوں کے ساتھ برا سلوک کرے گی۔ نیز یہ کہ وہ اپنی قوم میں کمزور ہیں اور لوگ طاقتور اور فساق و فجار ہیں ، یعنی وہ کہہ رہے ہیں کہ تم عجیب لوگ ہو کہ اس گاؤں میں آگئے ہو حالانکہ یہ لوگ جس فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور تم جیسے لوگوں کے ساتھ وہ جو سلوک کرتے ہیں وہ معروف و مشہور ہے لیکن فرشتوں نے وضاحت کردی :
قالوا بل ۔۔۔۔ فیہ یمترون (63) واتینک ۔۔۔۔۔ لصدقون (64) (15 : 63- 64) ” انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس آنے کے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ ان تاکیدان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس معاملے میں کس قدر بےبس ہوگئے تھے اور ان کی بےچینی کا عالم کیا تھا۔ وہ حیران تھے کہ ایک طرف سے وہ اپنے مہمانوں کے حوالے سے ذمہ دار ہیں اور دوسری جانب وہ قوم کے مقابلے میں بےبس ہیں۔ چناچہ فرشتوں نے نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں ان کو تسلی دی اور ان کو فائنل ہدایات دینے سے قبل ان کو اچھی طرح مطمئن کردیا کہ اب ان لوگوں کا وقت ختم ہے۔
فاسر باھلک ۔۔۔۔۔۔ حیث تومرون (15 : 65) ” لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی بات پلٹ کر نہ دیکھے۔ بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے “۔ سری ، رات کے سفر کو کہتے ہیں۔ رات کا قطعہ یعنی اس کا ایک حصہ ، حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر رات کے وقت نکل جائیں ، صبح سے پہلے پہلے ، حضرت خود ان کے پیچھے پیچھے جائیں۔ ان میں سے کوئی تذبذب نہ کرے ، پیچھے نہ دیکھے یعنی اپنے علاقے کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ انسان جب اپنا محبوب علاقہ چھوڑتا ہے تو وہ نکلنے میں سست روی اختیار کرتا ہے۔ بار بار پیچھے دیکھتا ہے اور یہاں چونکہ صبح کے وقت ہی عذاب آنے والا تھا اور وقت مقرر تھا اس لیے ان کو بروقت نکلنے کی سخت تاکید کی گئی ۔
وقضینا الیہ۔۔۔۔۔ مصبحین (15 : 66) ” اور اسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی “۔ یہ عظیم فیصلہ تھا اور پیغمبر کو قبل از وقت اس سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ صبح سے پہلے پہلے ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ جب ان کی جڑ کٹ گئی تو شاخیں خود بخود کٹ گئیں۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس سے ان کا مکمل استیصال ظاہر ہوتا ہے ، لہٰذا اہل اسلام کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ ان میں سے کوئی پیچھے نہ دیکھے۔ یہ نہ ہو کہ کفار کی طرح یہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائے۔ کیونکہ پیچھے رہنے والے عمومی عذاب سے کیسے بچ سکتے ہیں۔
یہاں سیاق کلام میں اس انجام کو دوسرے واقعات سے قبل ہی پیش کردیا گیا کیونکہ سورة کے موضوع اور محل کا تقاضا ہی یہ تھا۔ اس کے بعد وہ واقعات دے دئیے جو مہمانوں کی آمد کے موقع پر پیش آئے۔
انہوں نے جب سنا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر چاند جیسے چہروں والے نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں ، (بعض روایات میں آیا ہے کہ ان مہمانوں کے بارے میں اطلاع خود حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے ان اوباشوں کو دی تھی ) تو یہ لوگ بہت خوش ہوئے کہ خوب شکار ملا ہے۔
الحجر 15:63
آیت نمبر 61 تا 66
یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔
قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو یقین تھا کہ یہ قوم ان کے مہمانوں کے ساتھ برا سلوک کرے گی۔ نیز یہ کہ وہ اپنی قوم میں کمزور ہیں اور لوگ طاقتور اور فساق و فجار ہیں ، یعنی وہ کہہ رہے ہیں کہ تم عجیب لوگ ہو کہ اس گاؤں میں آگئے ہو حالانکہ یہ لوگ جس فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور تم جیسے لوگوں کے ساتھ وہ جو سلوک کرتے ہیں وہ معروف و مشہور ہے لیکن فرشتوں نے وضاحت کردی :
قالوا بل ۔۔۔۔ فیہ یمترون (63) واتینک ۔۔۔۔۔ لصدقون (64) (15 : 63- 64) ” انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس آنے کے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ ان تاکیدان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس معاملے میں کس قدر بےبس ہوگئے تھے اور ان کی بےچینی کا عالم کیا تھا۔ وہ حیران تھے کہ ایک طرف سے وہ اپنے مہمانوں کے حوالے سے ذمہ دار ہیں اور دوسری جانب وہ قوم کے مقابلے میں بےبس ہیں۔ چناچہ فرشتوں نے نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں ان کو تسلی دی اور ان کو فائنل ہدایات دینے سے قبل ان کو اچھی طرح مطمئن کردیا کہ اب ان لوگوں کا وقت ختم ہے۔
فاسر باھلک ۔۔۔۔۔۔ حیث تومرون (15 : 65) ” لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی بات پلٹ کر نہ دیکھے۔ بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے “۔ سری ، رات کے سفر کو کہتے ہیں۔ رات کا قطعہ یعنی اس کا ایک حصہ ، حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر رات کے وقت نکل جائیں ، صبح سے پہلے پہلے ، حضرت خود ان کے پیچھے پیچھے جائیں۔ ان میں سے کوئی تذبذب نہ کرے ، پیچھے نہ دیکھے یعنی اپنے علاقے کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ انسان جب اپنا محبوب علاقہ چھوڑتا ہے تو وہ نکلنے میں سست روی اختیار کرتا ہے۔ بار بار پیچھے دیکھتا ہے اور یہاں چونکہ صبح کے وقت ہی عذاب آنے والا تھا اور وقت مقرر تھا اس لیے ان کو بروقت نکلنے کی سخت تاکید کی گئی ۔
وقضینا الیہ۔۔۔۔۔ مصبحین (15 : 66) ” اور اسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی “۔ یہ عظیم فیصلہ تھا اور پیغمبر کو قبل از وقت اس سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ صبح سے پہلے پہلے ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ جب ان کی جڑ کٹ گئی تو شاخیں خود بخود کٹ گئیں۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس سے ان کا مکمل استیصال ظاہر ہوتا ہے ، لہٰذا اہل اسلام کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ ان میں سے کوئی پیچھے نہ دیکھے۔ یہ نہ ہو کہ کفار کی طرح یہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائے۔ کیونکہ پیچھے رہنے والے عمومی عذاب سے کیسے بچ سکتے ہیں۔
یہاں سیاق کلام میں اس انجام کو دوسرے واقعات سے قبل ہی پیش کردیا گیا کیونکہ سورة کے موضوع اور محل کا تقاضا ہی یہ تھا۔ اس کے بعد وہ واقعات دے دئیے جو مہمانوں کی آمد کے موقع پر پیش آئے۔
انہوں نے جب سنا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر چاند جیسے چہروں والے نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں ، (بعض روایات میں آیا ہے کہ ان مہمانوں کے بارے میں اطلاع خود حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے ان اوباشوں کو دی تھی ) تو یہ لوگ بہت خوش ہوئے کہ خوب شکار ملا ہے۔
الحجر 15:64
آیت نمبر 61 تا 66
یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔
قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو یقین تھا کہ یہ قوم ان کے مہمانوں کے ساتھ برا سلوک کرے گی۔ نیز یہ کہ وہ اپنی قوم میں کمزور ہیں اور لوگ طاقتور اور فساق و فجار ہیں ، یعنی وہ کہہ رہے ہیں کہ تم عجیب لوگ ہو کہ اس گاؤں میں آگئے ہو حالانکہ یہ لوگ جس فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور تم جیسے لوگوں کے ساتھ وہ جو سلوک کرتے ہیں وہ معروف و مشہور ہے لیکن فرشتوں نے وضاحت کردی :
قالوا بل ۔۔۔۔ فیہ یمترون (63) واتینک ۔۔۔۔۔ لصدقون (64) (15 : 63- 64) ” انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس آنے کے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ ان تاکیدان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس معاملے میں کس قدر بےبس ہوگئے تھے اور ان کی بےچینی کا عالم کیا تھا۔ وہ حیران تھے کہ ایک طرف سے وہ اپنے مہمانوں کے حوالے سے ذمہ دار ہیں اور دوسری جانب وہ قوم کے مقابلے میں بےبس ہیں۔ چناچہ فرشتوں نے نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں ان کو تسلی دی اور ان کو فائنل ہدایات دینے سے قبل ان کو اچھی طرح مطمئن کردیا کہ اب ان لوگوں کا وقت ختم ہے۔
فاسر باھلک ۔۔۔۔۔۔ حیث تومرون (15 : 65) ” لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی بات پلٹ کر نہ دیکھے۔ بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے “۔ سری ، رات کے سفر کو کہتے ہیں۔ رات کا قطعہ یعنی اس کا ایک حصہ ، حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر رات کے وقت نکل جائیں ، صبح سے پہلے پہلے ، حضرت خود ان کے پیچھے پیچھے جائیں۔ ان میں سے کوئی تذبذب نہ کرے ، پیچھے نہ دیکھے یعنی اپنے علاقے کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ انسان جب اپنا محبوب علاقہ چھوڑتا ہے تو وہ نکلنے میں سست روی اختیار کرتا ہے۔ بار بار پیچھے دیکھتا ہے اور یہاں چونکہ صبح کے وقت ہی عذاب آنے والا تھا اور وقت مقرر تھا اس لیے ان کو بروقت نکلنے کی سخت تاکید کی گئی ۔
وقضینا الیہ۔۔۔۔۔ مصبحین (15 : 66) ” اور اسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی “۔ یہ عظیم فیصلہ تھا اور پیغمبر کو قبل از وقت اس سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ صبح سے پہلے پہلے ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ جب ان کی جڑ کٹ گئی تو شاخیں خود بخود کٹ گئیں۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس سے ان کا مکمل استیصال ظاہر ہوتا ہے ، لہٰذا اہل اسلام کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ ان میں سے کوئی پیچھے نہ دیکھے۔ یہ نہ ہو کہ کفار کی طرح یہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائے۔ کیونکہ پیچھے رہنے والے عمومی عذاب سے کیسے بچ سکتے ہیں۔
یہاں سیاق کلام میں اس انجام کو دوسرے واقعات سے قبل ہی پیش کردیا گیا کیونکہ سورة کے موضوع اور محل کا تقاضا ہی یہ تھا۔ اس کے بعد وہ واقعات دے دئیے جو مہمانوں کی آمد کے موقع پر پیش آئے۔
انہوں نے جب سنا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر چاند جیسے چہروں والے نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں ، (بعض روایات میں آیا ہے کہ ان مہمانوں کے بارے میں اطلاع خود حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے ان اوباشوں کو دی تھی ) تو یہ لوگ بہت خوش ہوئے کہ خوب شکار ملا ہے۔
الحجر 15:65
آیت نمبر 61 تا 66
یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔
قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو یقین تھا کہ یہ قوم ان کے مہمانوں کے ساتھ برا سلوک کرے گی۔ نیز یہ کہ وہ اپنی قوم میں کمزور ہیں اور لوگ طاقتور اور فساق و فجار ہیں ، یعنی وہ کہہ رہے ہیں کہ تم عجیب لوگ ہو کہ اس گاؤں میں آگئے ہو حالانکہ یہ لوگ جس فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور تم جیسے لوگوں کے ساتھ وہ جو سلوک کرتے ہیں وہ معروف و مشہور ہے لیکن فرشتوں نے وضاحت کردی :
قالوا بل ۔۔۔۔ فیہ یمترون (63) واتینک ۔۔۔۔۔ لصدقون (64) (15 : 63- 64) ” انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس آنے کے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ ان تاکیدان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس معاملے میں کس قدر بےبس ہوگئے تھے اور ان کی بےچینی کا عالم کیا تھا۔ وہ حیران تھے کہ ایک طرف سے وہ اپنے مہمانوں کے حوالے سے ذمہ دار ہیں اور دوسری جانب وہ قوم کے مقابلے میں بےبس ہیں۔ چناچہ فرشتوں نے نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں ان کو تسلی دی اور ان کو فائنل ہدایات دینے سے قبل ان کو اچھی طرح مطمئن کردیا کہ اب ان لوگوں کا وقت ختم ہے۔
فاسر باھلک ۔۔۔۔۔۔ حیث تومرون (15 : 65) ” لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی بات پلٹ کر نہ دیکھے۔ بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے “۔ سری ، رات کے سفر کو کہتے ہیں۔ رات کا قطعہ یعنی اس کا ایک حصہ ، حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر رات کے وقت نکل جائیں ، صبح سے پہلے پہلے ، حضرت خود ان کے پیچھے پیچھے جائیں۔ ان میں سے کوئی تذبذب نہ کرے ، پیچھے نہ دیکھے یعنی اپنے علاقے کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ انسان جب اپنا محبوب علاقہ چھوڑتا ہے تو وہ نکلنے میں سست روی اختیار کرتا ہے۔ بار بار پیچھے دیکھتا ہے اور یہاں چونکہ صبح کے وقت ہی عذاب آنے والا تھا اور وقت مقرر تھا اس لیے ان کو بروقت نکلنے کی سخت تاکید کی گئی ۔
وقضینا الیہ۔۔۔۔۔ مصبحین (15 : 66) ” اور اسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی “۔ یہ عظیم فیصلہ تھا اور پیغمبر کو قبل از وقت اس سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ صبح سے پہلے پہلے ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ جب ان کی جڑ کٹ گئی تو شاخیں خود بخود کٹ گئیں۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس سے ان کا مکمل استیصال ظاہر ہوتا ہے ، لہٰذا اہل اسلام کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ ان میں سے کوئی پیچھے نہ دیکھے۔ یہ نہ ہو کہ کفار کی طرح یہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائے۔ کیونکہ پیچھے رہنے والے عمومی عذاب سے کیسے بچ سکتے ہیں۔
یہاں سیاق کلام میں اس انجام کو دوسرے واقعات سے قبل ہی پیش کردیا گیا کیونکہ سورة کے موضوع اور محل کا تقاضا ہی یہ تھا۔ اس کے بعد وہ واقعات دے دئیے جو مہمانوں کی آمد کے موقع پر پیش آئے۔
انہوں نے جب سنا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر چاند جیسے چہروں والے نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں ، (بعض روایات میں آیا ہے کہ ان مہمانوں کے بارے میں اطلاع خود حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے ان اوباشوں کو دی تھی ) تو یہ لوگ بہت خوش ہوئے کہ خوب شکار ملا ہے۔
الحجر 15:66
آیت نمبر 61 تا 66
یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔
قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو یقین تھا کہ یہ قوم ان کے مہمانوں کے ساتھ برا سلوک کرے گی۔ نیز یہ کہ وہ اپنی قوم میں کمزور ہیں اور لوگ طاقتور اور فساق و فجار ہیں ، یعنی وہ کہہ رہے ہیں کہ تم عجیب لوگ ہو کہ اس گاؤں میں آگئے ہو حالانکہ یہ لوگ جس فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور تم جیسے لوگوں کے ساتھ وہ جو سلوک کرتے ہیں وہ معروف و مشہور ہے لیکن فرشتوں نے وضاحت کردی :
قالوا بل ۔۔۔۔ فیہ یمترون (63) واتینک ۔۔۔۔۔ لصدقون (64) (15 : 63- 64) ” انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس آنے کے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ ان تاکیدان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس معاملے میں کس قدر بےبس ہوگئے تھے اور ان کی بےچینی کا عالم کیا تھا۔ وہ حیران تھے کہ ایک طرف سے وہ اپنے مہمانوں کے حوالے سے ذمہ دار ہیں اور دوسری جانب وہ قوم کے مقابلے میں بےبس ہیں۔ چناچہ فرشتوں نے نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں ان کو تسلی دی اور ان کو فائنل ہدایات دینے سے قبل ان کو اچھی طرح مطمئن کردیا کہ اب ان لوگوں کا وقت ختم ہے۔
فاسر باھلک ۔۔۔۔۔۔ حیث تومرون (15 : 65) ” لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی بات پلٹ کر نہ دیکھے۔ بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے “۔ سری ، رات کے سفر کو کہتے ہیں۔ رات کا قطعہ یعنی اس کا ایک حصہ ، حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر رات کے وقت نکل جائیں ، صبح سے پہلے پہلے ، حضرت خود ان کے پیچھے پیچھے جائیں۔ ان میں سے کوئی تذبذب نہ کرے ، پیچھے نہ دیکھے یعنی اپنے علاقے کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ انسان جب اپنا محبوب علاقہ چھوڑتا ہے تو وہ نکلنے میں سست روی اختیار کرتا ہے۔ بار بار پیچھے دیکھتا ہے اور یہاں چونکہ صبح کے وقت ہی عذاب آنے والا تھا اور وقت مقرر تھا اس لیے ان کو بروقت نکلنے کی سخت تاکید کی گئی ۔
وقضینا الیہ۔۔۔۔۔ مصبحین (15 : 66) ” اور اسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی “۔ یہ عظیم فیصلہ تھا اور پیغمبر کو قبل از وقت اس سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ صبح سے پہلے پہلے ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ جب ان کی جڑ کٹ گئی تو شاخیں خود بخود کٹ گئیں۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس سے ان کا مکمل استیصال ظاہر ہوتا ہے ، لہٰذا اہل اسلام کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ ان میں سے کوئی پیچھے نہ دیکھے۔ یہ نہ ہو کہ کفار کی طرح یہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائے۔ کیونکہ پیچھے رہنے والے عمومی عذاب سے کیسے بچ سکتے ہیں۔
یہاں سیاق کلام میں اس انجام کو دوسرے واقعات سے قبل ہی پیش کردیا گیا کیونکہ سورة کے موضوع اور محل کا تقاضا ہی یہ تھا۔ اس کے بعد وہ واقعات دے دئیے جو مہمانوں کی آمد کے موقع پر پیش آئے۔
انہوں نے جب سنا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر چاند جیسے چہروں والے نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں ، (بعض روایات میں آیا ہے کہ ان مہمانوں کے بارے میں اطلاع خود حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے ان اوباشوں کو دی تھی ) تو یہ لوگ بہت خوش ہوئے کہ خوب شکار ملا ہے۔
الحجر 15:67
آیت نمبر 67
اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ فسق و فجور اور فحاشی وبے حیائی کی حدیں پار کر گئے تھے اور یہ قوم سب کی سب اخلاقی مریض تھی۔ یہ منظر کس قدر عجیب و شرمناک ہے کہ یہ لوگ گروہ در گروہ آرہے ہیں ، خوشیاں منا رہے ہیں اور اعلانیہ کہہ رہے کہ آج خوب شکار ہاتھ آیا ہے۔ ایک تو برائی اور بےراہ روی ہے ، دوسرے یہ کہ یہ اعلانیہ اور دیدہ دلیری سے کی جا رہی ہے۔ کوئی بھی صحت مند انسانی معاشرہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ایک فرد تو یہ رویہ کبھی کبھار اختیار کرسکتا ہے لیکن وہ بھی اپنی بیماری کو چھپاتا ہے۔ وہ یہ بےراہ لذت خفیہ طور پر حاصل کرسکتا ہے اور اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے شرمندگی سے بچا سکتا ہے ۔ لیکن ایک پورا معاشرہ اعلانیہ ایسا کرے اس لیے کہ اگر جنسی لذت سے کوئی سلیم الفطرت شخص جائز حدود کے اندر بھی لطف اندوز ہوتا ہے تو وہ بھی خفیہ طور پر ایسا کرتا ہے۔ بعض حیوانات بھی جنسی ملاپ کو چھپاتے ہیں لیکن ان لوگوں کو دیکھو کہ یہ لوگ میلے ٹھیلے کی طرح اعلانیہ اس فحاشی کے لئے جا رہے ہیں ، اس کا اعلانیہ مطالبہ کرتے ہیں ، ارادہ ظاہر کرتے ہیں اور اجتماعی شکل میں اس کام کے لئے آتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی حالت ہے کہ انسانی سوسائٹی کی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔
ان حالات میں ، نہایت بےبسی کے حالات میں ، حضرت لوط (علیہ السلام) نہایت ہی کربناک اور اندوہناک حال پریشانی میں کھڑے ہیں ، وہ اپنے مہمانوں اور اپنی آبرو بچانے کی سعی کرتے ہیں ، وہ انہیں انسانی شرافت اور انسانی قدروں کا واسطہ دے رہے ہیں ، وہ ان کو خدا سے ڈراتے ہیں ، وہ اللہ کا واسطہ دے رہے ہیں ، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کے دل خدا خوفی سے عاری ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان لوگوں میں نہ آدمیت کا احساس ہے ، نہ انسانی شعور ہے ، اور نہ ان کے اندر خدا خوفی اور تقویٰ نام کی کوئی چیز ہے۔ لیکن وہ اس حالت پریشانی میں بھی بہرحال اپنی آخری کوشش کرتے ہیں اور انہیں انسانیت کا واسطہ دیتے ہیں کہ یہ لوگ تو مہمان ہیں اور خدا سے ڈراتے ہیں کہ تمہارے جو ارادے ہیں وہ خدا کے حکم کے خلاف ہیں ، بہرحال وہ سعی کرتے ہیں۔
الحجر 15:68
آیت نمبر 68 تا 69
حضرت لوط (علیہ السلام) کی یہ دلدوز اپیل ، بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں انسانی جذبات کو ابھارے اور یہ کہ وہ شرم محسوس کریں ، اس کے جواب میں انہوں نے مزید دیدہ دلیری شروع کردی۔ انہوں نے خود حضرت لوط (علیہ السلام) کو ڈانٹ پلانا شروع کردی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کو اپنا مہمان بناتے ہیں جو ہمارے کام کے ہیں۔ گویا مجرم وہ نہیں ہیں بلکہ اصل مجرم حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں کہ وہ ان کے سامنے ایک ایسا شکار لاتے ہیں جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ پر کوئی ضبط نہیں کرسکے۔
الحجر 15:69
آیت نمبر 68 تا 69
حضرت لوط (علیہ السلام) کی یہ دلدوز اپیل ، بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں انسانی جذبات کو ابھارے اور یہ کہ وہ شرم محسوس کریں ، اس کے جواب میں انہوں نے مزید دیدہ دلیری شروع کردی۔ انہوں نے خود حضرت لوط (علیہ السلام) کو ڈانٹ پلانا شروع کردی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کو اپنا مہمان بناتے ہیں جو ہمارے کام کے ہیں۔ گویا مجرم وہ نہیں ہیں بلکہ اصل مجرم حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں کہ وہ ان کے سامنے ایک ایسا شکار لاتے ہیں جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ پر کوئی ضبط نہیں کرسکے۔
الحجر 15:70
آیت نمبر 70
لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو راہ فطرت سلیم بہرحال دکھاتے جا رہے ہیں۔ وہ ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ خالق حیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ بقائے نسل کے علاوہ یہ راہ دونوں جنسوں کے لئے مفید ، فرحت بخش اور باعث سکون بھی ہے ۔ قانون اور فطرت کے دائرے کے اندر۔ چناچہ حضرت انہیں راہ راست پر لانے کی یوں سعی فرماتے ہیں :
الحجر 15:71
آیت نمبر 71
حضرت لوط (علیہ السلام) ایک نبی تھے ، وہ اپنی حقیقی بیٹیاں ان اوباشوں کے سامنے پیش نہ کر رہے تھے تا کہ وہ ان کے ساتھ بدکاری کریں بلکہ وہ ان کو قوم کی خواتین کی طرف متوجہ کر رہے تھے کہ اللہ نے ان خواتین کو اس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور یہ فطری اور صحت مند راہ ہے۔ خود حضرت بھی جانتے تھے کہ ان کا مطالبہ یہ نہ تھا کہ آپ کی بیٹیوں کے ساتھ بدکار کریں بلکہ انہوں نے تو فطری راہ کو چھوڑ کر بےراہ روی کی اپنائی ہوئی تھی۔
یہ منطر پیش نظر تھا ، قوم لوط اپنی مریضانہ ذہنیت کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے ، اشاروں کنایوں میں برے ارادوں کا اظہار ہو رہا تھا ، ادھر حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کے دفاع میں لگے ہوئے تھے ، وہ ان کی غیر خوابیدہ کو جگا رہے تھے۔ وہ ان کے ضمیر اور وجدان کو جگا رہے تھے اور ان میں فطرت سلیمہ کے رحجان کو تلاش کر رہے تھے جبکہ وہ اپنے سفلی ارادہ میں آگے ہی بڑھ رہے تھے۔
یہ منظر یوں ہی اسکرین پر تھا کہ اچانک خالص عربوں کے انداز میں لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط کی اس کشمکش پر ایک تبصرہ آتا ہے اور خطاب قسم سے شروع ہوتا ہے :
الحجر 15:72
آیت نمبر 72
یہ تھی ان کی اصل تصویر اور اس حالت میں وہ ہمیشہ رہتے تھے ، اس لیے حضرت لوط (علیہ السلام) کو سعی کے باوجود ان کے بارے میں یہ امید نہ تھی کہ وہ راہ راست پر آجائیں گے ، نہ یہ امید تھی کہ ان میں شرافت اور غیرت کے جذبات جاگ اٹھیں گے یا وہ خدا سے ڈر کر راہ راست اور فطرت سلیمہ کی طرف لوٹ آئیں گے۔
اب ان کے خاتمے کا وقت قریب آتا جا رہا ہے اور اللہ کا کلمہ سچ ہو رہا ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو نہیں بھیجتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت پھر کسی کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ اب ہمارے سامنے آخری منظر آتا ہے۔ یہ ہلاکت ، تباہی اور زمین میں دھنس جانے کا منظر ہے۔ ایک ہمہ گیر تباہی ہے جو ہر طرف نظر آتی ہے۔
الحجر 15:73
آیت نمبر 73 تا 74
حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں پر جو عذاب آیا وہ بظاہر شدید زلزلے اور آتش فشانی کے مشابہ ہے ، جس میں گاؤں کے گاؤں دھنس جاتے ہیں ، جس میں پتھروں کی بارش بھی ہوتی ہے اور جس میں خاک آلود پتھر بھی ہوتے ہیں اور ہمہ گیر تباہی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے بحیرۂ لوط اس ہمہ گیر حادثے کے بعد نمودار ہوا ، اس وقت جب سدوم کی پوری کی پوری آبادی زمین میں دھنس گئی ، اور اس جگہ اس قدر بڑا گڑھا نمودار ہوا کہ وہاں پانی جمع ہو کر بحیرہ بن گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی یہ بستیاں حجاز سے شام جاتے ہوئے شارع عام پر واقعہ تھیں اور ان کو دیکھ کر ہر عقل مند اور ذی بصیرت شخص عبرت حاصل کرسکتا ہے لیکن یہ تمام آیات و نشانات صرف ان دلوں کے لئے مفید ہوتے ہیں جن میں صلاحیت ہو اور جو ہدایت کے لئے کھلے ہوں اور جن میں حقیقی ایمانی نظریات موجود ہوں۔
الحجر 15:74
آیت نمبر 73 تا 74
حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں پر جو عذاب آیا وہ بظاہر شدید زلزلے اور آتش فشانی کے مشابہ ہے ، جس میں گاؤں کے گاؤں دھنس جاتے ہیں ، جس میں پتھروں کی بارش بھی ہوتی ہے اور جس میں خاک آلود پتھر بھی ہوتے ہیں اور ہمہ گیر تباہی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے بحیرۂ لوط اس ہمہ گیر حادثے کے بعد نمودار ہوا ، اس وقت جب سدوم کی پوری کی پوری آبادی زمین میں دھنس گئی ، اور اس جگہ اس قدر بڑا گڑھا نمودار ہوا کہ وہاں پانی جمع ہو کر بحیرہ بن گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی یہ بستیاں حجاز سے شام جاتے ہوئے شارع عام پر واقعہ تھیں اور ان کو دیکھ کر ہر عقل مند اور ذی بصیرت شخص عبرت حاصل کرسکتا ہے لیکن یہ تمام آیات و نشانات صرف ان دلوں کے لئے مفید ہوتے ہیں جن میں صلاحیت ہو اور جو ہدایت کے لئے کھلے ہوں اور جن میں حقیقی ایمانی نظریات موجود ہوں۔
الحجر 15:75
آیت نمبر 75 تا 77
یہ تھی تصدیق ایک سچے ڈرانے والے کی ، فرشتوں کا نزول دراصل اعلان نزول عذاب الٰہی تھا اور جب یہ عذاب آتا ہے تو پھر وہ ٹلتا نہیں اور نہ اس میں تاخیر ممکن ہوتی ہے اور نہ پھر مہلت عمل ملتی ہے۔
٭٭٭
یہی صورت حال اصحاب ایکہ کو پیش آئی جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دعوت تھے۔ (ایکہ کا مفہوم گھنے جنگلات والے ، حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب ایکہ اور قوم مدین کی طرف بھیجے گئے تھے ) یہی حالات قوم صالح کے ساتھ پیش آئے جنہیں حجر والے بھی کہا جاتا ہے۔
الحجر 15:76
آیت نمبر 75 تا 77
یہ تھی تصدیق ایک سچے ڈرانے والے کی ، فرشتوں کا نزول دراصل اعلان نزول عذاب الٰہی تھا اور جب یہ عذاب آتا ہے تو پھر وہ ٹلتا نہیں اور نہ اس میں تاخیر ممکن ہوتی ہے اور نہ پھر مہلت عمل ملتی ہے۔
٭٭٭
یہی صورت حال اصحاب ایکہ کو پیش آئی جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دعوت تھے۔ (ایکہ کا مفہوم گھنے جنگلات والے ، حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب ایکہ اور قوم مدین کی طرف بھیجے گئے تھے ) یہی حالات قوم صالح کے ساتھ پیش آئے جنہیں حجر والے بھی کہا جاتا ہے۔
الحجر 15:77
آیت نمبر 75 تا 77
یہ تھی تصدیق ایک سچے ڈرانے والے کی ، فرشتوں کا نزول دراصل اعلان نزول عذاب الٰہی تھا اور جب یہ عذاب آتا ہے تو پھر وہ ٹلتا نہیں اور نہ اس میں تاخیر ممکن ہوتی ہے اور نہ پھر مہلت عمل ملتی ہے۔
٭٭٭
یہی صورت حال اصحاب ایکہ کو پیش آئی جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دعوت تھے۔ (ایکہ کا مفہوم گھنے جنگلات والے ، حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب ایکہ اور قوم مدین کی طرف بھیجے گئے تھے ) یہی حالات قوم صالح کے ساتھ پیش آئے جنہیں حجر والے بھی کہا جاتا ہے۔
الحجر 15:78
آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد مدین اور ایکہ والے ہیں کیونکہ ان دونوں بستیوں کے کھنڈرات شارع عام پر موجود ہیں اور ابھی تک ان کے آثار قائم ہیں۔ ان دونوں سے مراد قریہ لوط اور قریہ شعیب بھی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی شارع عام پر موجود ہیں۔ ہلاکت سے دوچار ہونے والی اقوام کا شارع عام پر ہونا زیادہ عبرت آموز ہوتا ہے کیونکہ انسان صبح و شام وہاں سے گزرتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ یہ بستیاں بھی اسی طرح زندہ تھیں جس طرح آج ان کا ماحول زندہ ہے۔ ان کھنڈرات کے اردگرد زندگی سے بھر پور آبادیاں ہیں اور وہ سوئی پڑی ہیں
اصحاب الحجر کون تھے ؟ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ حجر بھی شام اور حجاز کے درمیان وادی القریٰ میں واقع ہے۔ یہ وادی اور اس کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں کیونکہ یہ بستیاں انہوں نے بڑی بڑی چٹانیں کاٹ کر بنائی تھیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ترقی یافتہ تھے اور ان کے ہاں ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کرچکی تھی۔
ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15 : 80) “ حجر کے لوگ بھی اس سے قبل رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں ”۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لیکن صالح جماعت رسل کے نمائندہ تھے۔ لہٰذا ایک کی تکذیب سب کی تکذیب قرار پائی۔ جب انہوں نے ان کی تکذیب کی تو کہا گیا کہ انہوں نے تمام مرسلین کی تکذیب کی۔ کیونکہ رسول اور رسالت ایک ہی ادارہ ہیں۔ وہ ہر دور میں اور ہر زمانہ میں ایک ہی نظریہ پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود وہ ایک ہی تھے۔
واتینھم ایتنا فکانوا عنھا معرضین (15 : 81) ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے ”۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نشانی اور ان کا معجزہ تو ناقہ تھی لیکن نشانی کے بجائے نشانیاں اس لیے کہا گیا کہ ناقہ کے علاوہ اور نشانیاں بھی تو اس کائنات میں بکھری پڑی ہیں۔ خود انسان کی ذات میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ یہ سب نشانیاں ہمارے غورو فکر کو دعوت دے رہی ہیں ، اگر انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ایک معجزے سے انکار کیا تو دراصل انہوں نے اس کائنات میں بکھرے ہوئے تمام معجزات کا انکار کردیا۔ انہوں نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے اپنے ضمیر و شعور کے دروازے بند رکھے۔
وکانوا۔۔۔۔۔ امنین (82) فاخذتھم ۔۔۔۔ مصبحین (83) فما اغنی ۔۔۔۔۔ یکسبون (84) (15 : 82 تا 84) “ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بےخوف اور مطمئن تھے۔ آخر کار ایک زبردست دھماکے نے ان کو صبح ہوتے ہی آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ”۔ یہ لمحہ ان کے لئے اچانک آیا ، یہ لوگ پہاڑ کے تراشے ہوئے مکانات کے اندر محفوظ بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے جو کچھ کمایا تھا ، جو مضبوط عمارات تعمیر کی تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کر جس قدر مضبوط رہائش گاہیں بنائی تھیں ان میں سے کچھ ان کے کام نہ آیا۔ ایک زبردست دھماکہ ہوا اور ان بستیوں میں پھر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ لمحہ انسانی شعور پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر جو لوگ اپنے لئے پناہ گاہیں بناتے ہیں ان سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان رات گزار کر جب صبح میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت وہ بڑے اطمینان سے رات کو بلا خوف و خطر الوداع کہتا ہے ، لیکن صبح کے ان اطمینان بخش لمحات میں ان کو ایک زبردست دھماکہ پیش آتا ہے اور وہ اپنی قیمتی جانوں کے ساتھ سب کچھ کھو دیتے ہیں ، ان کی تمام احتیاطی تدابیر ختم ہوجاتی ہیں ، ان کے محفوظ قلعے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کڑک دار دھماکے کے پیچھے کچھ چیز بچ کر نہیں نکلتی۔ یہ تیز ہوا تھی ، یا تیز دار تھی اور اس کے اثر سے یہ لوگ اپنے محفوظ ترین گھروں میں لاشوں کے ڈھیر بن گئے۔
یوں اس سورة میں تاریخی قصص و واقعات پر ایک سر سری نظر ڈالی جاتی ہے اور ان تمام قصص میں صرف یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے ، اقوام کی بربادی کا وقت آ پہنچتا ہے پھر سنت الہٰیہ کے مطابق عذاب الٰہی آتا ہے اور فرشتے حق کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور پھر سنت الٰہیہ ایک لمحے کی مہلت نہیں دیتی ۔ یہ سبق ان تمام قصص کا قدر مشترک ہے اور اس کی وجہ سے یہ سب واقعات آپس میں مربوط ہیں۔
الحجر 15:79
آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد مدین اور ایکہ والے ہیں کیونکہ ان دونوں بستیوں کے کھنڈرات شارع عام پر موجود ہیں اور ابھی تک ان کے آثار قائم ہیں۔ ان دونوں سے مراد قریہ لوط اور قریہ شعیب بھی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی شارع عام پر موجود ہیں۔ ہلاکت سے دوچار ہونے والی اقوام کا شارع عام پر ہونا زیادہ عبرت آموز ہوتا ہے کیونکہ انسان صبح و شام وہاں سے گزرتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ یہ بستیاں بھی اسی طرح زندہ تھیں جس طرح آج ان کا ماحول زندہ ہے۔ ان کھنڈرات کے اردگرد زندگی سے بھر پور آبادیاں ہیں اور وہ سوئی پڑی ہیں
اصحاب الحجر کون تھے ؟ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ حجر بھی شام اور حجاز کے درمیان وادی القریٰ میں واقع ہے۔ یہ وادی اور اس کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں کیونکہ یہ بستیاں انہوں نے بڑی بڑی چٹانیں کاٹ کر بنائی تھیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ترقی یافتہ تھے اور ان کے ہاں ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کرچکی تھی۔
ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15 : 80) “ حجر کے لوگ بھی اس سے قبل رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں ”۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لیکن صالح جماعت رسل کے نمائندہ تھے۔ لہٰذا ایک کی تکذیب سب کی تکذیب قرار پائی۔ جب انہوں نے ان کی تکذیب کی تو کہا گیا کہ انہوں نے تمام مرسلین کی تکذیب کی۔ کیونکہ رسول اور رسالت ایک ہی ادارہ ہیں۔ وہ ہر دور میں اور ہر زمانہ میں ایک ہی نظریہ پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود وہ ایک ہی تھے۔
واتینھم ایتنا فکانوا عنھا معرضین (15 : 81) ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے ”۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نشانی اور ان کا معجزہ تو ناقہ تھی لیکن نشانی کے بجائے نشانیاں اس لیے کہا گیا کہ ناقہ کے علاوہ اور نشانیاں بھی تو اس کائنات میں بکھری پڑی ہیں۔ خود انسان کی ذات میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ یہ سب نشانیاں ہمارے غورو فکر کو دعوت دے رہی ہیں ، اگر انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ایک معجزے سے انکار کیا تو دراصل انہوں نے اس کائنات میں بکھرے ہوئے تمام معجزات کا انکار کردیا۔ انہوں نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے اپنے ضمیر و شعور کے دروازے بند رکھے۔
وکانوا۔۔۔۔۔ امنین (82) فاخذتھم ۔۔۔۔ مصبحین (83) فما اغنی ۔۔۔۔۔ یکسبون (84) (15 : 82 تا 84) “ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بےخوف اور مطمئن تھے۔ آخر کار ایک زبردست دھماکے نے ان کو صبح ہوتے ہی آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ”۔ یہ لمحہ ان کے لئے اچانک آیا ، یہ لوگ پہاڑ کے تراشے ہوئے مکانات کے اندر محفوظ بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے جو کچھ کمایا تھا ، جو مضبوط عمارات تعمیر کی تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کر جس قدر مضبوط رہائش گاہیں بنائی تھیں ان میں سے کچھ ان کے کام نہ آیا۔ ایک زبردست دھماکہ ہوا اور ان بستیوں میں پھر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ لمحہ انسانی شعور پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر جو لوگ اپنے لئے پناہ گاہیں بناتے ہیں ان سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان رات گزار کر جب صبح میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت وہ بڑے اطمینان سے رات کو بلا خوف و خطر الوداع کہتا ہے ، لیکن صبح کے ان اطمینان بخش لمحات میں ان کو ایک زبردست دھماکہ پیش آتا ہے اور وہ اپنی قیمتی جانوں کے ساتھ سب کچھ کھو دیتے ہیں ، ان کی تمام احتیاطی تدابیر ختم ہوجاتی ہیں ، ان کے محفوظ قلعے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کڑک دار دھماکے کے پیچھے کچھ چیز بچ کر نہیں نکلتی۔ یہ تیز ہوا تھی ، یا تیز دار تھی اور اس کے اثر سے یہ لوگ اپنے محفوظ ترین گھروں میں لاشوں کے ڈھیر بن گئے۔
یوں اس سورة میں تاریخی قصص و واقعات پر ایک سر سری نظر ڈالی جاتی ہے اور ان تمام قصص میں صرف یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے ، اقوام کی بربادی کا وقت آ پہنچتا ہے پھر سنت الہٰیہ کے مطابق عذاب الٰہی آتا ہے اور فرشتے حق کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور پھر سنت الٰہیہ ایک لمحے کی مہلت نہیں دیتی ۔ یہ سبق ان تمام قصص کا قدر مشترک ہے اور اس کی وجہ سے یہ سب واقعات آپس میں مربوط ہیں۔
الحجر 15:80
آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد مدین اور ایکہ والے ہیں کیونکہ ان دونوں بستیوں کے کھنڈرات شارع عام پر موجود ہیں اور ابھی تک ان کے آثار قائم ہیں۔ ان دونوں سے مراد قریہ لوط اور قریہ شعیب بھی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی شارع عام پر موجود ہیں۔ ہلاکت سے دوچار ہونے والی اقوام کا شارع عام پر ہونا زیادہ عبرت آموز ہوتا ہے کیونکہ انسان صبح و شام وہاں سے گزرتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ یہ بستیاں بھی اسی طرح زندہ تھیں جس طرح آج ان کا ماحول زندہ ہے۔ ان کھنڈرات کے اردگرد زندگی سے بھر پور آبادیاں ہیں اور وہ سوئی پڑی ہیں
اصحاب الحجر کون تھے ؟ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ حجر بھی شام اور حجاز کے درمیان وادی القریٰ میں واقع ہے۔ یہ وادی اور اس کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں کیونکہ یہ بستیاں انہوں نے بڑی بڑی چٹانیں کاٹ کر بنائی تھیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ترقی یافتہ تھے اور ان کے ہاں ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کرچکی تھی۔
ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15 : 80) “ حجر کے لوگ بھی اس سے قبل رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں ”۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لیکن صالح جماعت رسل کے نمائندہ تھے۔ لہٰذا ایک کی تکذیب سب کی تکذیب قرار پائی۔ جب انہوں نے ان کی تکذیب کی تو کہا گیا کہ انہوں نے تمام مرسلین کی تکذیب کی۔ کیونکہ رسول اور رسالت ایک ہی ادارہ ہیں۔ وہ ہر دور میں اور ہر زمانہ میں ایک ہی نظریہ پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود وہ ایک ہی تھے۔
واتینھم ایتنا فکانوا عنھا معرضین (15 : 81) ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے ”۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نشانی اور ان کا معجزہ تو ناقہ تھی لیکن نشانی کے بجائے نشانیاں اس لیے کہا گیا کہ ناقہ کے علاوہ اور نشانیاں بھی تو اس کائنات میں بکھری پڑی ہیں۔ خود انسان کی ذات میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ یہ سب نشانیاں ہمارے غورو فکر کو دعوت دے رہی ہیں ، اگر انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ایک معجزے سے انکار کیا تو دراصل انہوں نے اس کائنات میں بکھرے ہوئے تمام معجزات کا انکار کردیا۔ انہوں نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے اپنے ضمیر و شعور کے دروازے بند رکھے۔
وکانوا۔۔۔۔۔ امنین (82) فاخذتھم ۔۔۔۔ مصبحین (83) فما اغنی ۔۔۔۔۔ یکسبون (84) (15 : 82 تا 84) “ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بےخوف اور مطمئن تھے۔ آخر کار ایک زبردست دھماکے نے ان کو صبح ہوتے ہی آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ”۔ یہ لمحہ ان کے لئے اچانک آیا ، یہ لوگ پہاڑ کے تراشے ہوئے مکانات کے اندر محفوظ بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے جو کچھ کمایا تھا ، جو مضبوط عمارات تعمیر کی تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کر جس قدر مضبوط رہائش گاہیں بنائی تھیں ان میں سے کچھ ان کے کام نہ آیا۔ ایک زبردست دھماکہ ہوا اور ان بستیوں میں پھر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ لمحہ انسانی شعور پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر جو لوگ اپنے لئے پناہ گاہیں بناتے ہیں ان سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان رات گزار کر جب صبح میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت وہ بڑے اطمینان سے رات کو بلا خوف و خطر الوداع کہتا ہے ، لیکن صبح کے ان اطمینان بخش لمحات میں ان کو ایک زبردست دھماکہ پیش آتا ہے اور وہ اپنی قیمتی جانوں کے ساتھ سب کچھ کھو دیتے ہیں ، ان کی تمام احتیاطی تدابیر ختم ہوجاتی ہیں ، ان کے محفوظ قلعے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کڑک دار دھماکے کے پیچھے کچھ چیز بچ کر نہیں نکلتی۔ یہ تیز ہوا تھی ، یا تیز دار تھی اور اس کے اثر سے یہ لوگ اپنے محفوظ ترین گھروں میں لاشوں کے ڈھیر بن گئے۔
یوں اس سورة میں تاریخی قصص و واقعات پر ایک سر سری نظر ڈالی جاتی ہے اور ان تمام قصص میں صرف یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے ، اقوام کی بربادی کا وقت آ پہنچتا ہے پھر سنت الہٰیہ کے مطابق عذاب الٰہی آتا ہے اور فرشتے حق کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور پھر سنت الٰہیہ ایک لمحے کی مہلت نہیں دیتی ۔ یہ سبق ان تمام قصص کا قدر مشترک ہے اور اس کی وجہ سے یہ سب واقعات آپس میں مربوط ہیں۔
الحجر 15:81
آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد مدین اور ایکہ والے ہیں کیونکہ ان دونوں بستیوں کے کھنڈرات شارع عام پر موجود ہیں اور ابھی تک ان کے آثار قائم ہیں۔ ان دونوں سے مراد قریہ لوط اور قریہ شعیب بھی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی شارع عام پر موجود ہیں۔ ہلاکت سے دوچار ہونے والی اقوام کا شارع عام پر ہونا زیادہ عبرت آموز ہوتا ہے کیونکہ انسان صبح و شام وہاں سے گزرتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ یہ بستیاں بھی اسی طرح زندہ تھیں جس طرح آج ان کا ماحول زندہ ہے۔ ان کھنڈرات کے اردگرد زندگی سے بھر پور آبادیاں ہیں اور وہ سوئی پڑی ہیں
اصحاب الحجر کون تھے ؟ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ حجر بھی شام اور حجاز کے درمیان وادی القریٰ میں واقع ہے۔ یہ وادی اور اس کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں کیونکہ یہ بستیاں انہوں نے بڑی بڑی چٹانیں کاٹ کر بنائی تھیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ترقی یافتہ تھے اور ان کے ہاں ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کرچکی تھی۔
ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15 : 80) “ حجر کے لوگ بھی اس سے قبل رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں ”۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لیکن صالح جماعت رسل کے نمائندہ تھے۔ لہٰذا ایک کی تکذیب سب کی تکذیب قرار پائی۔ جب انہوں نے ان کی تکذیب کی تو کہا گیا کہ انہوں نے تمام مرسلین کی تکذیب کی۔ کیونکہ رسول اور رسالت ایک ہی ادارہ ہیں۔ وہ ہر دور میں اور ہر زمانہ میں ایک ہی نظریہ پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود وہ ایک ہی تھے۔
واتینھم ایتنا فکانوا عنھا معرضین (15 : 81) ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے ”۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نشانی اور ان کا معجزہ تو ناقہ تھی لیکن نشانی کے بجائے نشانیاں اس لیے کہا گیا کہ ناقہ کے علاوہ اور نشانیاں بھی تو اس کائنات میں بکھری پڑی ہیں۔ خود انسان کی ذات میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ یہ سب نشانیاں ہمارے غورو فکر کو دعوت دے رہی ہیں ، اگر انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ایک معجزے سے انکار کیا تو دراصل انہوں نے اس کائنات میں بکھرے ہوئے تمام معجزات کا انکار کردیا۔ انہوں نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے اپنے ضمیر و شعور کے دروازے بند رکھے۔
وکانوا۔۔۔۔۔ امنین (82) فاخذتھم ۔۔۔۔ مصبحین (83) فما اغنی ۔۔۔۔۔ یکسبون (84) (15 : 82 تا 84) “ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بےخوف اور مطمئن تھے۔ آخر کار ایک زبردست دھماکے نے ان کو صبح ہوتے ہی آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ”۔ یہ لمحہ ان کے لئے اچانک آیا ، یہ لوگ پہاڑ کے تراشے ہوئے مکانات کے اندر محفوظ بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے جو کچھ کمایا تھا ، جو مضبوط عمارات تعمیر کی تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کر جس قدر مضبوط رہائش گاہیں بنائی تھیں ان میں سے کچھ ان کے کام نہ آیا۔ ایک زبردست دھماکہ ہوا اور ان بستیوں میں پھر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ لمحہ انسانی شعور پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر جو لوگ اپنے لئے پناہ گاہیں بناتے ہیں ان سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان رات گزار کر جب صبح میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت وہ بڑے اطمینان سے رات کو بلا خوف و خطر الوداع کہتا ہے ، لیکن صبح کے ان اطمینان بخش لمحات میں ان کو ایک زبردست دھماکہ پیش آتا ہے اور وہ اپنی قیمتی جانوں کے ساتھ سب کچھ کھو دیتے ہیں ، ان کی تمام احتیاطی تدابیر ختم ہوجاتی ہیں ، ان کے محفوظ قلعے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کڑک دار دھماکے کے پیچھے کچھ چیز بچ کر نہیں نکلتی۔ یہ تیز ہوا تھی ، یا تیز دار تھی اور اس کے اثر سے یہ لوگ اپنے محفوظ ترین گھروں میں لاشوں کے ڈھیر بن گئے۔
یوں اس سورة میں تاریخی قصص و واقعات پر ایک سر سری نظر ڈالی جاتی ہے اور ان تمام قصص میں صرف یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے ، اقوام کی بربادی کا وقت آ پہنچتا ہے پھر سنت الہٰیہ کے مطابق عذاب الٰہی آتا ہے اور فرشتے حق کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور پھر سنت الٰہیہ ایک لمحے کی مہلت نہیں دیتی ۔ یہ سبق ان تمام قصص کا قدر مشترک ہے اور اس کی وجہ سے یہ سب واقعات آپس میں مربوط ہیں۔
الحجر 15:82
آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد مدین اور ایکہ والے ہیں کیونکہ ان دونوں بستیوں کے کھنڈرات شارع عام پر موجود ہیں اور ابھی تک ان کے آثار قائم ہیں۔ ان دونوں سے مراد قریہ لوط اور قریہ شعیب بھی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی شارع عام پر موجود ہیں۔ ہلاکت سے دوچار ہونے والی اقوام کا شارع عام پر ہونا زیادہ عبرت آموز ہوتا ہے کیونکہ انسان صبح و شام وہاں سے گزرتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ یہ بستیاں بھی اسی طرح زندہ تھیں جس طرح آج ان کا ماحول زندہ ہے۔ ان کھنڈرات کے اردگرد زندگی سے بھر پور آبادیاں ہیں اور وہ سوئی پڑی ہیں
اصحاب الحجر کون تھے ؟ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ حجر بھی شام اور حجاز کے درمیان وادی القریٰ میں واقع ہے۔ یہ وادی اور اس کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں کیونکہ یہ بستیاں انہوں نے بڑی بڑی چٹانیں کاٹ کر بنائی تھیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ترقی یافتہ تھے اور ان کے ہاں ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کرچکی تھی۔
ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15 : 80) “ حجر کے لوگ بھی اس سے قبل رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں ”۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لیکن صالح جماعت رسل کے نمائندہ تھے۔ لہٰذا ایک کی تکذیب سب کی تکذیب قرار پائی۔ جب انہوں نے ان کی تکذیب کی تو کہا گیا کہ انہوں نے تمام مرسلین کی تکذیب کی۔ کیونکہ رسول اور رسالت ایک ہی ادارہ ہیں۔ وہ ہر دور میں اور ہر زمانہ میں ایک ہی نظریہ پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود وہ ایک ہی تھے۔
واتینھم ایتنا فکانوا عنھا معرضین (15 : 81) ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے ”۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نشانی اور ان کا معجزہ تو ناقہ تھی لیکن نشانی کے بجائے نشانیاں اس لیے کہا گیا کہ ناقہ کے علاوہ اور نشانیاں بھی تو اس کائنات میں بکھری پڑی ہیں۔ خود انسان کی ذات میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ یہ سب نشانیاں ہمارے غورو فکر کو دعوت دے رہی ہیں ، اگر انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ایک معجزے سے انکار کیا تو دراصل انہوں نے اس کائنات میں بکھرے ہوئے تمام معجزات کا انکار کردیا۔ انہوں نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے اپنے ضمیر و شعور کے دروازے بند رکھے۔
وکانوا۔۔۔۔۔ امنین (82) فاخذتھم ۔۔۔۔ مصبحین (83) فما اغنی ۔۔۔۔۔ یکسبون (84) (15 : 82 تا 84) “ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بےخوف اور مطمئن تھے۔ آخر کار ایک زبردست دھماکے نے ان کو صبح ہوتے ہی آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ”۔ یہ لمحہ ان کے لئے اچانک آیا ، یہ لوگ پہاڑ کے تراشے ہوئے مکانات کے اندر محفوظ بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے جو کچھ کمایا تھا ، جو مضبوط عمارات تعمیر کی تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کر جس قدر مضبوط رہائش گاہیں بنائی تھیں ان میں سے کچھ ان کے کام نہ آیا۔ ایک زبردست دھماکہ ہوا اور ان بستیوں میں پھر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ لمحہ انسانی شعور پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر جو لوگ اپنے لئے پناہ گاہیں بناتے ہیں ان سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان رات گزار کر جب صبح میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت وہ بڑے اطمینان سے رات کو بلا خوف و خطر الوداع کہتا ہے ، لیکن صبح کے ان اطمینان بخش لمحات میں ان کو ایک زبردست دھماکہ پیش آتا ہے اور وہ اپنی قیمتی جانوں کے ساتھ سب کچھ کھو دیتے ہیں ، ان کی تمام احتیاطی تدابیر ختم ہوجاتی ہیں ، ان کے محفوظ قلعے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کڑک دار دھماکے کے پیچھے کچھ چیز بچ کر نہیں نکلتی۔ یہ تیز ہوا تھی ، یا تیز دار تھی اور اس کے اثر سے یہ لوگ اپنے محفوظ ترین گھروں میں لاشوں کے ڈھیر بن گئے۔
یوں اس سورة میں تاریخی قصص و واقعات پر ایک سر سری نظر ڈالی جاتی ہے اور ان تمام قصص میں صرف یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے ، اقوام کی بربادی کا وقت آ پہنچتا ہے پھر سنت الہٰیہ کے مطابق عذاب الٰہی آتا ہے اور فرشتے حق کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور پھر سنت الٰہیہ ایک لمحے کی مہلت نہیں دیتی ۔ یہ سبق ان تمام قصص کا قدر مشترک ہے اور اس کی وجہ سے یہ سب واقعات آپس میں مربوط ہیں۔
الحجر 15:83
آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد مدین اور ایکہ والے ہیں کیونکہ ان دونوں بستیوں کے کھنڈرات شارع عام پر موجود ہیں اور ابھی تک ان کے آثار قائم ہیں۔ ان دونوں سے مراد قریہ لوط اور قریہ شعیب بھی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی شارع عام پر موجود ہیں۔ ہلاکت سے دوچار ہونے والی اقوام کا شارع عام پر ہونا زیادہ عبرت آموز ہوتا ہے کیونکہ انسان صبح و شام وہاں سے گزرتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ یہ بستیاں بھی اسی طرح زندہ تھیں جس طرح آج ان کا ماحول زندہ ہے۔ ان کھنڈرات کے اردگرد زندگی سے بھر پور آبادیاں ہیں اور وہ سوئی پڑی ہیں
اصحاب الحجر کون تھے ؟ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ حجر بھی شام اور حجاز کے درمیان وادی القریٰ میں واقع ہے۔ یہ وادی اور اس کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں کیونکہ یہ بستیاں انہوں نے بڑی بڑی چٹانیں کاٹ کر بنائی تھیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ترقی یافتہ تھے اور ان کے ہاں ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کرچکی تھی۔
ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15 : 80) “ حجر کے لوگ بھی اس سے قبل رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں ”۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لیکن صالح جماعت رسل کے نمائندہ تھے۔ لہٰذا ایک کی تکذیب سب کی تکذیب قرار پائی۔ جب انہوں نے ان کی تکذیب کی تو کہا گیا کہ انہوں نے تمام مرسلین کی تکذیب کی۔ کیونکہ رسول اور رسالت ایک ہی ادارہ ہیں۔ وہ ہر دور میں اور ہر زمانہ میں ایک ہی نظریہ پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود وہ ایک ہی تھے۔
واتینھم ایتنا فکانوا عنھا معرضین (15 : 81) ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے ”۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نشانی اور ان کا معجزہ تو ناقہ تھی لیکن نشانی کے بجائے نشانیاں اس لیے کہا گیا کہ ناقہ کے علاوہ اور نشانیاں بھی تو اس کائنات میں بکھری پڑی ہیں۔ خود انسان کی ذات میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ یہ سب نشانیاں ہمارے غورو فکر کو دعوت دے رہی ہیں ، اگر انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ایک معجزے سے انکار کیا تو دراصل انہوں نے اس کائنات میں بکھرے ہوئے تمام معجزات کا انکار کردیا۔ انہوں نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے اپنے ضمیر و شعور کے دروازے بند رکھے۔
وکانوا۔۔۔۔۔ امنین (82) فاخذتھم ۔۔۔۔ مصبحین (83) فما اغنی ۔۔۔۔۔ یکسبون (84) (15 : 82 تا 84) “ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بےخوف اور مطمئن تھے۔ آخر کار ایک زبردست دھماکے نے ان کو صبح ہوتے ہی آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ”۔ یہ لمحہ ان کے لئے اچانک آیا ، یہ لوگ پہاڑ کے تراشے ہوئے مکانات کے اندر محفوظ بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے جو کچھ کمایا تھا ، جو مضبوط عمارات تعمیر کی تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کر جس قدر مضبوط رہائش گاہیں بنائی تھیں ان میں سے کچھ ان کے کام نہ آیا۔ ایک زبردست دھماکہ ہوا اور ان بستیوں میں پھر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ لمحہ انسانی شعور پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر جو لوگ اپنے لئے پناہ گاہیں بناتے ہیں ان سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان رات گزار کر جب صبح میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت وہ بڑے اطمینان سے رات کو بلا خوف و خطر الوداع کہتا ہے ، لیکن صبح کے ان اطمینان بخش لمحات میں ان کو ایک زبردست دھماکہ پیش آتا ہے اور وہ اپنی قیمتی جانوں کے ساتھ سب کچھ کھو دیتے ہیں ، ان کی تمام احتیاطی تدابیر ختم ہوجاتی ہیں ، ان کے محفوظ قلعے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کڑک دار دھماکے کے پیچھے کچھ چیز بچ کر نہیں نکلتی۔ یہ تیز ہوا تھی ، یا تیز دار تھی اور اس کے اثر سے یہ لوگ اپنے محفوظ ترین گھروں میں لاشوں کے ڈھیر بن گئے۔
یوں اس سورة میں تاریخی قصص و واقعات پر ایک سر سری نظر ڈالی جاتی ہے اور ان تمام قصص میں صرف یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے ، اقوام کی بربادی کا وقت آ پہنچتا ہے پھر سنت الہٰیہ کے مطابق عذاب الٰہی آتا ہے اور فرشتے حق کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور پھر سنت الٰہیہ ایک لمحے کی مہلت نہیں دیتی ۔ یہ سبق ان تمام قصص کا قدر مشترک ہے اور اس کی وجہ سے یہ سب واقعات آپس میں مربوط ہیں۔
الحجر 15:84
آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد مدین اور ایکہ والے ہیں کیونکہ ان دونوں بستیوں کے کھنڈرات شارع عام پر موجود ہیں اور ابھی تک ان کے آثار قائم ہیں۔ ان دونوں سے مراد قریہ لوط اور قریہ شعیب بھی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی شارع عام پر موجود ہیں۔ ہلاکت سے دوچار ہونے والی اقوام کا شارع عام پر ہونا زیادہ عبرت آموز ہوتا ہے کیونکہ انسان صبح و شام وہاں سے گزرتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ یہ بستیاں بھی اسی طرح زندہ تھیں جس طرح آج ان کا ماحول زندہ ہے۔ ان کھنڈرات کے اردگرد زندگی سے بھر پور آبادیاں ہیں اور وہ سوئی پڑی ہیں
اصحاب الحجر کون تھے ؟ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ حجر بھی شام اور حجاز کے درمیان وادی القریٰ میں واقع ہے۔ یہ وادی اور اس کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں کیونکہ یہ بستیاں انہوں نے بڑی بڑی چٹانیں کاٹ کر بنائی تھیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ترقی یافتہ تھے اور ان کے ہاں ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کرچکی تھی۔
ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15 : 80) “ حجر کے لوگ بھی اس سے قبل رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں ”۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لیکن صالح جماعت رسل کے نمائندہ تھے۔ لہٰذا ایک کی تکذیب سب کی تکذیب قرار پائی۔ جب انہوں نے ان کی تکذیب کی تو کہا گیا کہ انہوں نے تمام مرسلین کی تکذیب کی۔ کیونکہ رسول اور رسالت ایک ہی ادارہ ہیں۔ وہ ہر دور میں اور ہر زمانہ میں ایک ہی نظریہ پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود وہ ایک ہی تھے۔
واتینھم ایتنا فکانوا عنھا معرضین (15 : 81) ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے ”۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نشانی اور ان کا معجزہ تو ناقہ تھی لیکن نشانی کے بجائے نشانیاں اس لیے کہا گیا کہ ناقہ کے علاوہ اور نشانیاں بھی تو اس کائنات میں بکھری پڑی ہیں۔ خود انسان کی ذات میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ یہ سب نشانیاں ہمارے غورو فکر کو دعوت دے رہی ہیں ، اگر انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ایک معجزے سے انکار کیا تو دراصل انہوں نے اس کائنات میں بکھرے ہوئے تمام معجزات کا انکار کردیا۔ انہوں نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے اپنے ضمیر و شعور کے دروازے بند رکھے۔
وکانوا۔۔۔۔۔ امنین (82) فاخذتھم ۔۔۔۔ مصبحین (83) فما اغنی ۔۔۔۔۔ یکسبون (84) (15 : 82 تا 84) “ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بےخوف اور مطمئن تھے۔ آخر کار ایک زبردست دھماکے نے ان کو صبح ہوتے ہی آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ”۔ یہ لمحہ ان کے لئے اچانک آیا ، یہ لوگ پہاڑ کے تراشے ہوئے مکانات کے اندر محفوظ بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے جو کچھ کمایا تھا ، جو مضبوط عمارات تعمیر کی تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کر جس قدر مضبوط رہائش گاہیں بنائی تھیں ان میں سے کچھ ان کے کام نہ آیا۔ ایک زبردست دھماکہ ہوا اور ان بستیوں میں پھر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ لمحہ انسانی شعور پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر جو لوگ اپنے لئے پناہ گاہیں بناتے ہیں ان سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان رات گزار کر جب صبح میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت وہ بڑے اطمینان سے رات کو بلا خوف و خطر الوداع کہتا ہے ، لیکن صبح کے ان اطمینان بخش لمحات میں ان کو ایک زبردست دھماکہ پیش آتا ہے اور وہ اپنی قیمتی جانوں کے ساتھ سب کچھ کھو دیتے ہیں ، ان کی تمام احتیاطی تدابیر ختم ہوجاتی ہیں ، ان کے محفوظ قلعے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کڑک دار دھماکے کے پیچھے کچھ چیز بچ کر نہیں نکلتی۔ یہ تیز ہوا تھی ، یا تیز دار تھی اور اس کے اثر سے یہ لوگ اپنے محفوظ ترین گھروں میں لاشوں کے ڈھیر بن گئے۔
یوں اس سورة میں تاریخی قصص و واقعات پر ایک سر سری نظر ڈالی جاتی ہے اور ان تمام قصص میں صرف یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے ، اقوام کی بربادی کا وقت آ پہنچتا ہے پھر سنت الہٰیہ کے مطابق عذاب الٰہی آتا ہے اور فرشتے حق کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور پھر سنت الٰہیہ ایک لمحے کی مہلت نہیں دیتی ۔ یہ سبق ان تمام قصص کا قدر مشترک ہے اور اس کی وجہ سے یہ سب واقعات آپس میں مربوط ہیں۔
الحجر 15:85
درس نمبر 118 ایک نظر میں
یہ ہیں وہ سنن الٰہیہ جن میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ یہ کائنات اللہ کے ان نوامیس اور سنن کے مطابق چلتی ہے۔ یہی قوانین و نوامیس کائنات اور زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جماعت اور تحریکات کو بھی یہی کنٹرول کرتے ہیں۔ ہدایت و ضلالت کے نتائج بھی ان نوامیس الٰہیہ کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ اقوام کا انجام اور آخرت کا حساب و کتاب بھی انہی نوامیس فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس سورة کا ہر سبق انہی نوامیس فطرت اور سنت الٰہیہ کے مطابق اختتام پذیر ہوتا ہے اور مختلف اسالیب میں سنن الٰہیہ کو پیش کرتا ہے۔ یہ نوامیس فطرت اللہ کی تمام مخلوقات کے اندر پائے جاتے ہیں اور یہی حق ہے اور فطرت کائنات اسی حق پر قائم ہے۔
چناچہ اس سورة کے خاتمے پر اس عظیم سچائی کو واضح کر کے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ سچائی زمین و آسمان اور ان کے درمیان پائے جانے والے تمام موجودات کی فطرت میں عیاں ہے۔ یہ کہ قیامت برپا ہونے والی ہے۔ یہ اس کائنات کا فطری انجام ہے اور اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے ، اور یہ کہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے اور اس ناموس فطرت کے مطابق ہے۔ تمام رسولوں کے درمیان قدرت مشترک یہ ہے کہ وہ ایک ہی عظیم حق کے حامل ہیں جو روشن ہے۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ یہ سچائی تمام مخلوقات کے اندر موجود ہے ، اور اللہ ہی اس سچائی کا خالق ہے۔
ان ربک ھو الخلق العلیم (15 : 86) “ یقیناً تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے ”۔ لہٰذا اس سچائی کو آگے بڑھنا چاہئے اور اس سچائی پر جو اسلامی دعوت برپا ہے اسے چاہئے کہ وہ آگے بڑھے۔ داعیان حق کسی کی پرواہ نہ کریں اور آگے بڑھیں۔ اور دعوت کے مخالفین اور مذاق اڑانے والوں کی کوئی پرواہ نہ کریں۔
فاصدع بما تومر واعرض عن المشرکین ( 15 : 94) “ آپ ﷺ کو جو حکم دیا جاتا ہے اسے صاف صاف بتائیں اور مشرکین کو نظر انداز کردیں ”۔ اللہ کی سنت بھی اپنی راہ پر گامزن ہے ، وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ سنت الٰہیہ کی پشت پر جو سچائی ہے اور یہ سچائی دعوت اسلامی ، قیام قیامت اور تخلیق ارض سے وابستہ ہے۔ یہ سچائی ان تمام چیزوں سے متعلق ہے جو زمین و آسمان میں موجود ہیں اور جو اخلاق علیم کی پیدا کردہ ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی اور تنبیہ ہے جس پر اس سورة کا خامتہ ہو رہا ہے اور یہ تنبیہ انسان کو اس عظیم سچائی کی طرف متوجہ کرتی ہے جس پر یہ وجود قائم ہے۔
آیت نمبر 85 تا 86
یہ تبصرہ کہ آسمان و زمین کی تخلیق ایک سچائی کے ساتھ ہوئی ہے ایک عظیم اور اہم تبصرہ ہے یعنی یہ کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو چیزیں بھی ہیں یہ سچائی کے ساتھ پیدا کردہ ہیں۔ یہ انداز بیان بھی عجیب ہے کہ تمام موجودات حق کے سوا کسی اور ناموس پر پیدا نہیں کئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ اس فقرے کا حقیقی مفہوم کیا ہے ؟۔
وما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق (15 : 85) “ ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ”۔ مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق میں سچائی کا گہرا دخل ہے۔ یہ سچائی کائنات کی گہرائیوں میں ہے۔ کائنات کی رفتار کے ضابطے میں سچائی موجود ہے۔ کائنات کا انجام اور خاتمہ بھی حق پر ہوگا۔
اس کائنات کے وجود میں سچائی ہے اور اس کی منصوبہ بندی اور اس کے نقشہ تخلیق میں سچائی ہے ، یعنی یہ کہ یہ بطور کھیل تماشا پیدا نہیں کی گئی۔ نہ یہ کائنات اتفاقاً وجود میں آگئی ہے۔ اس کے اصل نقشے اور منصوبے میں نہ دھوکہ و فریب ہے ، نہ کھوٹ ہے اور نہ یہ باطل مخلوق ہے۔ اس پر اگر بظاہر باطل چھایا ہوا نظر آتا بھی ہے تو وہ اوپر ہوا ہوتا ہے ، باطل اس کائنات کے حقیقی عناصر میں سے نہیں ہے۔
اس کائنات کی ساخت میں سچائی بہت گہری ہے۔ اس کے عناصر ترکیبی وہ ہیں جو حق کے عناصر ترکیبی ہیں۔ اس میں نہ وہم ہے ، نہ فریب ہے۔ وہ قوانین جو عناصر کائنات کو جوڑے رکھتے ہیں ، وہ سچائی پر مبنی ہیں اور ان قوانین میں کبھی بھی تخلف نہیں ہوتا۔ نہ ان میں تبدیلی آتی ہے اور نہ ان میں اضطراب ہوتا ہے۔ نہ ان میں کوئی التباس اور افراتفری ہوتی ہے۔
اس کائنات کی تدبیر اور کنٹرول نہایت ہی گہرے ضوابط پر ہے۔ اور اسے سچائی کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ اس کائنات کے چلانے کے لئے جو نوامیس و ضوابط وضع کئے گئے ہیں وہ صحیح اور عادلانہ ہیں۔
اس کائنات کے انجام میں بھی حق گہرائی تک رچا بسا ہے۔ نہایت ہی محکم قوانین کے مطابق اس کائنات کے تمام نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان اشیاء کے اندر جو تغیر و تبدل بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ سچائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان اشیاء کے اندر جو تغیر و تبدل بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ سچائی کے ساتھ ہوتا ہے اور سچائی کے لئے ہوتا ہے ۔ اس کائنات میں جزاء و سزا کا ہر واقعہ اور ہر اصول سنت الٰہیہ کے مطابق ہے اور کوئی واقعہ سنت الہٰیہ کے برخلاف وقوع پذیر نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ قیامت جو یقیناً وقوع پذیر ہونے والی ہے ، وہ اسی سچائی کا نتیجہ ہے ، کیونکہ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ ہوئی ہے ، لہٰذا قیامت نے ایک دن واقعہ ہونا ہے ، یہ ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ جس ناموس کے مطابق یہ کائنات قائم و دائم ہے اور رواں دواں ہے ، اسی حق کا تقاضا ہے کہ ایک دن قیامت آئے۔ یہ بذات خود حق ہے۔ جب قیامت حق ہے تو اس کا وقوع بھی حق ہے۔
فاصفح الصفح الجمیل (15 : 85) “ لہٰذا ان لوگوں کی بیہودگیوں پر شریفانہ درگذر سے کام لیں ”۔ اور اپنے دل کو تنگ نہ کریں ، اور کسی کے ساتھ بغض و عداوت نہ رکھیں کیونکہ سچائی بہرحال سچ ہو کر رہنے والی ہے۔
ان ربک ھو الخلق العلیم ( 15 : 86) “ بیشک تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے ”۔ وہ پیدا کرنے والا ہے ، وہ جانتا ہے کہ اس نے کیا پیدا کیا اور کیوں پیدا کیا ؟ چونکہ اس نے سب کچھ پیدا کیا ہے لہٰذا ہر چیز کی ماہیت میں حق و دیعت شدہ ہے۔ لہٰذا جس طرح سچائی سے اس جہان کا آغاز ہوا اسی طرح سچائی پر اس کا اختتام ہوگا ۔ کیونکہ سچائی اس کائنات کی اصل ماہیت ہے اور سچائی کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ باطل ہے ، کھوٹ ہے ، ختم ہونے والی ہے اور زندہ و تابندہ اور دائماً سچائی نے رہنا ہے جو قلب کائنات کے اندر ودیعت شدہ ہے۔
رسول جو پیغام لے کر آئے ہیں وہ بھی اس کائناتی سچائی ہی کا ایک حصہ ہے ، اور اس کا ظہور بشکل قرآن ہے ، جو حضرت نبی ﷺ کو دیا گیا۔
الحجر 15:86
درس نمبر 118 ایک نظر میں
یہ ہیں وہ سنن الٰہیہ جن میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ یہ کائنات اللہ کے ان نوامیس اور سنن کے مطابق چلتی ہے۔ یہی قوانین و نوامیس کائنات اور زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جماعت اور تحریکات کو بھی یہی کنٹرول کرتے ہیں۔ ہدایت و ضلالت کے نتائج بھی ان نوامیس الٰہیہ کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ اقوام کا انجام اور آخرت کا حساب و کتاب بھی انہی نوامیس فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس سورة کا ہر سبق انہی نوامیس فطرت اور سنت الٰہیہ کے مطابق اختتام پذیر ہوتا ہے اور مختلف اسالیب میں سنن الٰہیہ کو پیش کرتا ہے۔ یہ نوامیس فطرت اللہ کی تمام مخلوقات کے اندر پائے جاتے ہیں اور یہی حق ہے اور فطرت کائنات اسی حق پر قائم ہے۔
چناچہ اس سورة کے خاتمے پر اس عظیم سچائی کو واضح کر کے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ سچائی زمین و آسمان اور ان کے درمیان پائے جانے والے تمام موجودات کی فطرت میں عیاں ہے۔ یہ کہ قیامت برپا ہونے والی ہے۔ یہ اس کائنات کا فطری انجام ہے اور اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے ، اور یہ کہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے اور اس ناموس فطرت کے مطابق ہے۔ تمام رسولوں کے درمیان قدرت مشترک یہ ہے کہ وہ ایک ہی عظیم حق کے حامل ہیں جو روشن ہے۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ یہ سچائی تمام مخلوقات کے اندر موجود ہے ، اور اللہ ہی اس سچائی کا خالق ہے۔
ان ربک ھو الخلق العلیم (15 : 86) “ یقیناً تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے ”۔ لہٰذا اس سچائی کو آگے بڑھنا چاہئے اور اس سچائی پر جو اسلامی دعوت برپا ہے اسے چاہئے کہ وہ آگے بڑھے۔ داعیان حق کسی کی پرواہ نہ کریں اور آگے بڑھیں۔ اور دعوت کے مخالفین اور مذاق اڑانے والوں کی کوئی پرواہ نہ کریں۔
فاصدع بما تومر واعرض عن المشرکین ( 15 : 94) “ آپ ﷺ کو جو حکم دیا جاتا ہے اسے صاف صاف بتائیں اور مشرکین کو نظر انداز کردیں ”۔ اللہ کی سنت بھی اپنی راہ پر گامزن ہے ، وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ سنت الٰہیہ کی پشت پر جو سچائی ہے اور یہ سچائی دعوت اسلامی ، قیام قیامت اور تخلیق ارض سے وابستہ ہے۔ یہ سچائی ان تمام چیزوں سے متعلق ہے جو زمین و آسمان میں موجود ہیں اور جو اخلاق علیم کی پیدا کردہ ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی اور تنبیہ ہے جس پر اس سورة کا خامتہ ہو رہا ہے اور یہ تنبیہ انسان کو اس عظیم سچائی کی طرف متوجہ کرتی ہے جس پر یہ وجود قائم ہے۔
آیت نمبر 85 تا 86
یہ تبصرہ کہ آسمان و زمین کی تخلیق ایک سچائی کے ساتھ ہوئی ہے ایک عظیم اور اہم تبصرہ ہے یعنی یہ کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو چیزیں بھی ہیں یہ سچائی کے ساتھ پیدا کردہ ہیں۔ یہ انداز بیان بھی عجیب ہے کہ تمام موجودات حق کے سوا کسی اور ناموس پر پیدا نہیں کئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ اس فقرے کا حقیقی مفہوم کیا ہے ؟۔
وما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق (15 : 85) “ ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ”۔ مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق میں سچائی کا گہرا دخل ہے۔ یہ سچائی کائنات کی گہرائیوں میں ہے۔ کائنات کی رفتار کے ضابطے میں سچائی موجود ہے۔ کائنات کا انجام اور خاتمہ بھی حق پر ہوگا۔
اس کائنات کے وجود میں سچائی ہے اور اس کی منصوبہ بندی اور اس کے نقشہ تخلیق میں سچائی ہے ، یعنی یہ کہ یہ بطور کھیل تماشا پیدا نہیں کی گئی۔ نہ یہ کائنات اتفاقاً وجود میں آگئی ہے۔ اس کے اصل نقشے اور منصوبے میں نہ دھوکہ و فریب ہے ، نہ کھوٹ ہے اور نہ یہ باطل مخلوق ہے۔ اس پر اگر بظاہر باطل چھایا ہوا نظر آتا بھی ہے تو وہ اوپر ہوا ہوتا ہے ، باطل اس کائنات کے حقیقی عناصر میں سے نہیں ہے۔
اس کائنات کی ساخت میں سچائی بہت گہری ہے۔ اس کے عناصر ترکیبی وہ ہیں جو حق کے عناصر ترکیبی ہیں۔ اس میں نہ وہم ہے ، نہ فریب ہے۔ وہ قوانین جو عناصر کائنات کو جوڑے رکھتے ہیں ، وہ سچائی پر مبنی ہیں اور ان قوانین میں کبھی بھی تخلف نہیں ہوتا۔ نہ ان میں تبدیلی آتی ہے اور نہ ان میں اضطراب ہوتا ہے۔ نہ ان میں کوئی التباس اور افراتفری ہوتی ہے۔
اس کائنات کی تدبیر اور کنٹرول نہایت ہی گہرے ضوابط پر ہے۔ اور اسے سچائی کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ اس کائنات کے چلانے کے لئے جو نوامیس و ضوابط وضع کئے گئے ہیں وہ صحیح اور عادلانہ ہیں۔
اس کائنات کے انجام میں بھی حق گہرائی تک رچا بسا ہے۔ نہایت ہی محکم قوانین کے مطابق اس کائنات کے تمام نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان اشیاء کے اندر جو تغیر و تبدل بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ سچائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان اشیاء کے اندر جو تغیر و تبدل بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ سچائی کے ساتھ ہوتا ہے اور سچائی کے لئے ہوتا ہے ۔ اس کائنات میں جزاء و سزا کا ہر واقعہ اور ہر اصول سنت الٰہیہ کے مطابق ہے اور کوئی واقعہ سنت الہٰیہ کے برخلاف وقوع پذیر نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ قیامت جو یقیناً وقوع پذیر ہونے والی ہے ، وہ اسی سچائی کا نتیجہ ہے ، کیونکہ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ ہوئی ہے ، لہٰذا قیامت نے ایک دن واقعہ ہونا ہے ، یہ ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ جس ناموس کے مطابق یہ کائنات قائم و دائم ہے اور رواں دواں ہے ، اسی حق کا تقاضا ہے کہ ایک دن قیامت آئے۔ یہ بذات خود حق ہے۔ جب قیامت حق ہے تو اس کا وقوع بھی حق ہے۔
فاصفح الصفح الجمیل (15 : 85) “ لہٰذا ان لوگوں کی بیہودگیوں پر شریفانہ درگذر سے کام لیں ”۔ اور اپنے دل کو تنگ نہ کریں ، اور کسی کے ساتھ بغض و عداوت نہ رکھیں کیونکہ سچائی بہرحال سچ ہو کر رہنے والی ہے۔
ان ربک ھو الخلق العلیم ( 15 : 86) “ بیشک تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے ”۔ وہ پیدا کرنے والا ہے ، وہ جانتا ہے کہ اس نے کیا پیدا کیا اور کیوں پیدا کیا ؟ چونکہ اس نے سب کچھ پیدا کیا ہے لہٰذا ہر چیز کی ماہیت میں حق و دیعت شدہ ہے۔ لہٰذا جس طرح سچائی سے اس جہان کا آغاز ہوا اسی طرح سچائی پر اس کا اختتام ہوگا ۔ کیونکہ سچائی اس کائنات کی اصل ماہیت ہے اور سچائی کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ باطل ہے ، کھوٹ ہے ، ختم ہونے والی ہے اور زندہ و تابندہ اور دائماً سچائی نے رہنا ہے جو قلب کائنات کے اندر ودیعت شدہ ہے۔
رسول جو پیغام لے کر آئے ہیں وہ بھی اس کائناتی سچائی ہی کا ایک حصہ ہے ، اور اس کا ظہور بشکل قرآن ہے ، جو حضرت نبی ﷺ کو دیا گیا۔
الحجر 15:87
آیت نمبر 87
۔ یہ سبع مثانی کیا ہیں ؟ راجح بات یہ ہے کہ یہ سورة فاتحہ کی سات آیات ہیں۔ جیسا کہ روایات میں بھی وارد ہے ، مثانی اس لیے کہا گیا ہے کہ نماز میں ان کو بار بار دہرایا جاتا ہے یا ان کو مثانی اس یے کہا گیا کہ ان میں اللہ کی ثنا بیان ہوتی ہے۔ جبکہ قرآن عظیم سے مراد بقیہ قرآن ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں قرآن عظیم کو آیات تخلیق کائنات اور آیات وقوع قیامت کے ساتھ ایک ہی لڑی میں لایا گیا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تخلیق کائنات ، قیام قیامت اور نزول قرآن اسی ایک سچائی کی کڑیاں ہیں جو اس پوری کائنات کی روح ہے۔ اس طرح قرآن کریم دلوں کو اس عظیم سچائی اور نوامیس قدرت کو سمجھنے کے لئے مائل کرتا ہے جو اس کائنات میں پوشیدہ ہیں۔ نفس انسانی اور آفاق میں موجود ہیں۔ انہی کے مطابق لوگوں کو ہدایت و ضلالت نصیب ہوتی ہے ۔ حق و باطل کا انجام ، خیر وشر کی اقدار ، صلاح و فساد کا تعین اسی ناموس حق کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم اس حقیقی سچائی کی دفعات اور اصولوں پر مشتمل ہے اور قرآن ہی کے ذریعے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ جس سچائی پر کائنات قائم ہے وہ کیا ہے ؟ گویا جس سچائی پر اس کائنات کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ قرآن کریم ہے۔ اس سے نوامیس فطرت ثابت ہوتے ہیں ، اور یہ ان نوامیس فطرت کے ساتھ مربوط اور مرتب ہے۔ یہ قرآن کریم کوئی عارضی چیز نہیں ہے ، نہ ملنے والی حقیقت ہے۔ یہ حق ہے اور یہ ہمیشہ موثر رہے گا۔ یہ زندگی کی راہنمائی کرتا رہے گا۔ اگرچہ خندۂ و استہزاء کرنے والے خندہ و استہزاء کرتے رہیں۔ اگرچہ باطل پرست باطل کے جھنڈے اٹھائیں کیونکہ باطل زائل ہونے والا ہے اور ایک دن مٹنے والا ہے۔
جن لوگوں کو سورة فاتحہ دی گئی اور یہ قرآن عظیم دیا گیا ، جو اس کائنات کی عظیم سچائی پر مشتمل ہے جس کا اس عظیم سچائی اور حق اکبر کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، ان کی نظریں اس قدر بلند ہوجاتی ہیں کہ وہ پھر اس دنیا میں باطل چیزوں اور زائل ہونے والی چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں۔ نہ ان کو باطل پرستوں کے ہاؤہو سے سے غرض ہوتی ہے ۔ وہ اس بات کو اہمیت ہی نہیں دیتے کہ وہ قلیل ہیں یا کثیر ہیں۔ ان کی تعداد کم ہے یا زیادہ ہے بہرحال ایسے لوگ اپنی راہ پر چلتے رہتے ہیں کیونکہ حق ان کے ساتھ ہوتا ہے لہٰذا ہر حال میں ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔
الحجر 15:88
آیت نمبر 88 تا 89
آنکھیں لمبی نہیں ہوتیں۔ لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم (15 : 88) “ تم اس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو۔ جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ”۔ درحقیقت نظریں پھیلتی اور لمبی ہوتی ہیں لیکن للچائی نظروں کی تعبیر ان الفاظ میں کی گئی کہ گویا آنکھیں نکل کر لمبی ہوگئی ہیں۔ تخیل کی یہ تعجب انگیز اور طرب آمیز تصویر کشی ہے۔ مفہوم یہی ہے کہ اے رسول ، ان چیزوں کی طرف توجہ ہی نہ کرو ، ان کو اہمیت ہی نہ دو ، بعض مردوں اور عورتوں اور طبقوں کو جو یہ دولت دی گئی ہے اس کی اہمیت کچھ بھی نہیں ہے۔
ان چیزوں کو زیادہ اہتمام سے نہ دیکھو۔ ان کو خوبصورت نہ سمجھو ، ان کو دیکھ کر تمہاری نظریں خیرہ نہ ہوجائیں اور تم ان کی تمنائیں نہ کرنے لگو۔ یہ تو زائل ہونے والی چیزیں ہیں ، یہ حق نہیں ہیں ، باطل ہیں جبکہ اے پیغمبر ، آپ تو عظیم سچائی ، مثانی اور قرآن عظیم کے حامل ہیں۔
اس کا یہ مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ دنیا میں محروم طبقات کو حالت محرومیت ہی میں چھوڑ دیا جائے ، اور منعم اور عیش پرست لوگوں کو ان کے مال و منال میں غرق اور مست چھوڑ دیا جائے جبکہ اعلیٰ اقدار مٹ جائیں اور معاشی عدل ختم ہوجائے اور دنیا مستقلاً محرومین اور مترفین کے درمیان منقسم ہوجائے۔ اسلام جو سچائی پر قائم ہے اور جو یہ تعلیم دیتا ہے کہ حق اس کائنات کی روح ہے تو وہ کیسے اس قسم کی ظالمانہ اور غیر عادلانہ صورت حال کو جاری رکھنے کی اجازت دے سکتا ہے۔
یہاں اس کا ایک خاص مقامی مفہوم ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کو رشد و ہدایت کی جو دولت دی گئی ہے وہ ان لوگوں کی زرق وبرق زندگی اور دولت سے زیادہ قیمتی ہے۔ لہٰذا آپ ان سرمایہ داروں کو نظر انداز کردیں اور مخلص مومنین کی طرف متوجہ ہوں ۔ کیونکہ یہ اہل ایمان جو دنیاوی اعتبار سے اگرچہ غریب ہوں گے لیکن یہ اس سچائی کے حاملین ہیں جس کے اوپر اس کائنات کی تخلیق کی گئی ہے اور ان تمام چیزوں کی تخلیق کی گئی ہے جو اس کائنات کے درمیان ہیں۔ دنیا دار لوگ تو باطل کے پیرو کار ہیں جو عارضی چیز ہے اور اس کا اس کائنات کی اصل حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ولا تحزن علیھم (15 : 88) “ اور ان کے حال پر اپنا دل نہ کڑھاؤ ”۔ یہ فکر نہ کرو کہ ان لوگوں کا انجام نہایت ہی بھیانک ظاہر ہونے والا ہے۔ قیامت کے دن یہ برا انجام اس حق کا تقاضا ہے لہٰذا ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔
واخفض جناحک للمومنین (15 : 88) “ اور ایمان لانے والوں کی طرف اپنے پر جھکاؤ ”۔ یہاں نرمی ، محبت اور شفقت کی تعبیر اس طرح کی گئی ہے کہ جس طرح پرندہ اپنے بچوں کے سامنے پر بچھاتا ہے۔ یہ نہایت ہی مصور انداز تعبیر ہے اور اسے قرآن کریم بہت زیادہ استعمال کرتا ہے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص فنی انداز ہے۔
وقل انی انا النذیر المبین (15 : 89) “ اور کہہ دو کہ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں ”۔ دعوت کا موثر اور حقیقی طریقہ ہی یہ ہے کہ بات واضح طور پر کہو ، یہاں موقعہ و محل چونکہ مکذبین اور مذاق کرنے والوں کا تھا۔ یہاں صرف ڈراوے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بشارت کو ترک کردیا گیا ہے۔ کیونکہ خطاب ان لوگوں سے تھا جو دنیا پرست ہیں اور اس سچائی پر غوروفکر نہیں کرتے جو تخلیق کائنات کی بنیاد ہے جس کے اوپر قرآن آیا ہے اور جس کے مطابق قیامت برپا ہوگی۔
تخلیق کائنات کی عظیم سچائی اور فاتحہ اور قرآن عظیم کے ذکر کے موقعہ پر یہاں یہ بھی بتا دیا گیا کہ رسولان سابق کے بعض معصبین قرآن کریم پر غور نہیں کرتے۔ اس کی بعض باتوں کو تو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔ قرآن کریم کی جو باتیں ان کی کتابوں سے موافق ہیں ان کو تسلیم کرتے ہیں اور جو باتیں زیادہ ہیں ان کو نہیں مانتے حالانکہ قرآن کریم اللہ کی آخری اور مکمل کتاب ہے اور اس میں وہ تمام سچائیاں جمع کردی گئی ہیں جن پر کتاب سابقہ مشتمل تھیں۔
الحجر 15:89
آیت نمبر 88 تا 89
آنکھیں لمبی نہیں ہوتیں۔ لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم (15 : 88) “ تم اس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو۔ جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ”۔ درحقیقت نظریں پھیلتی اور لمبی ہوتی ہیں لیکن للچائی نظروں کی تعبیر ان الفاظ میں کی گئی کہ گویا آنکھیں نکل کر لمبی ہوگئی ہیں۔ تخیل کی یہ تعجب انگیز اور طرب آمیز تصویر کشی ہے۔ مفہوم یہی ہے کہ اے رسول ، ان چیزوں کی طرف توجہ ہی نہ کرو ، ان کو اہمیت ہی نہ دو ، بعض مردوں اور عورتوں اور طبقوں کو جو یہ دولت دی گئی ہے اس کی اہمیت کچھ بھی نہیں ہے۔
ان چیزوں کو زیادہ اہتمام سے نہ دیکھو۔ ان کو خوبصورت نہ سمجھو ، ان کو دیکھ کر تمہاری نظریں خیرہ نہ ہوجائیں اور تم ان کی تمنائیں نہ کرنے لگو۔ یہ تو زائل ہونے والی چیزیں ہیں ، یہ حق نہیں ہیں ، باطل ہیں جبکہ اے پیغمبر ، آپ تو عظیم سچائی ، مثانی اور قرآن عظیم کے حامل ہیں۔
اس کا یہ مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ دنیا میں محروم طبقات کو حالت محرومیت ہی میں چھوڑ دیا جائے ، اور منعم اور عیش پرست لوگوں کو ان کے مال و منال میں غرق اور مست چھوڑ دیا جائے جبکہ اعلیٰ اقدار مٹ جائیں اور معاشی عدل ختم ہوجائے اور دنیا مستقلاً محرومین اور مترفین کے درمیان منقسم ہوجائے۔ اسلام جو سچائی پر قائم ہے اور جو یہ تعلیم دیتا ہے کہ حق اس کائنات کی روح ہے تو وہ کیسے اس قسم کی ظالمانہ اور غیر عادلانہ صورت حال کو جاری رکھنے کی اجازت دے سکتا ہے۔
یہاں اس کا ایک خاص مقامی مفہوم ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کو رشد و ہدایت کی جو دولت دی گئی ہے وہ ان لوگوں کی زرق وبرق زندگی اور دولت سے زیادہ قیمتی ہے۔ لہٰذا آپ ان سرمایہ داروں کو نظر انداز کردیں اور مخلص مومنین کی طرف متوجہ ہوں ۔ کیونکہ یہ اہل ایمان جو دنیاوی اعتبار سے اگرچہ غریب ہوں گے لیکن یہ اس سچائی کے حاملین ہیں جس کے اوپر اس کائنات کی تخلیق کی گئی ہے اور ان تمام چیزوں کی تخلیق کی گئی ہے جو اس کائنات کے درمیان ہیں۔ دنیا دار لوگ تو باطل کے پیرو کار ہیں جو عارضی چیز ہے اور اس کا اس کائنات کی اصل حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ولا تحزن علیھم (15 : 88) “ اور ان کے حال پر اپنا دل نہ کڑھاؤ ”۔ یہ فکر نہ کرو کہ ان لوگوں کا انجام نہایت ہی بھیانک ظاہر ہونے والا ہے۔ قیامت کے دن یہ برا انجام اس حق کا تقاضا ہے لہٰذا ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔
واخفض جناحک للمومنین (15 : 88) “ اور ایمان لانے والوں کی طرف اپنے پر جھکاؤ ”۔ یہاں نرمی ، محبت اور شفقت کی تعبیر اس طرح کی گئی ہے کہ جس طرح پرندہ اپنے بچوں کے سامنے پر بچھاتا ہے۔ یہ نہایت ہی مصور انداز تعبیر ہے اور اسے قرآن کریم بہت زیادہ استعمال کرتا ہے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص فنی انداز ہے۔
وقل انی انا النذیر المبین (15 : 89) “ اور کہہ دو کہ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں ”۔ دعوت کا موثر اور حقیقی طریقہ ہی یہ ہے کہ بات واضح طور پر کہو ، یہاں موقعہ و محل چونکہ مکذبین اور مذاق کرنے والوں کا تھا۔ یہاں صرف ڈراوے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بشارت کو ترک کردیا گیا ہے۔ کیونکہ خطاب ان لوگوں سے تھا جو دنیا پرست ہیں اور اس سچائی پر غوروفکر نہیں کرتے جو تخلیق کائنات کی بنیاد ہے جس کے اوپر قرآن آیا ہے اور جس کے مطابق قیامت برپا ہوگی۔
تخلیق کائنات کی عظیم سچائی اور فاتحہ اور قرآن عظیم کے ذکر کے موقعہ پر یہاں یہ بھی بتا دیا گیا کہ رسولان سابق کے بعض معصبین قرآن کریم پر غور نہیں کرتے۔ اس کی بعض باتوں کو تو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔ قرآن کریم کی جو باتیں ان کی کتابوں سے موافق ہیں ان کو تسلیم کرتے ہیں اور جو باتیں زیادہ ہیں ان کو نہیں مانتے حالانکہ قرآن کریم اللہ کی آخری اور مکمل کتاب ہے اور اس میں وہ تمام سچائیاں جمع کردی گئی ہیں جن پر کتاب سابقہ مشتمل تھیں۔
الحجر 15:90
آیت نمبر 90 تا 93
یعنی ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم دیا ہے۔ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جسے ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی۔ آپ اکیلے نبی نہ تھے جس کو کتاب دی گئی دوسرے انبیاء کو بھی دی گئی اور ان تمام کتابوں کی اصل الکتاب ہے۔ یہ واحد ہے اس کا مرجع ایک ہے کیونکہ سب کتب اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں۔ اس لیے جن لوگوں پر اس سے قبل کتاب نازل ہوچکی ہے ، ان کا تو حق نہیں ہے کہ وہ کسی کتاب کا انکار کریں کیونکہ کتاب نازل کرنے والا خالق حقیقی بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ کس دور میں لوگوں کو کس ضابطے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور اس کو تقسیم کرلیا ہے ، ایک حصے کو تو قبول کرتے ہیں اور دوسرے حصے کو رد کردیتے ہیں۔ ( عضین جمع عضی ہے یعنی جزء۔ عضی الشاۃ یعنی فصل بین اعضائھا ان لوگوں نے اس رویہ کی مخالفت کی جو ان سے اہل کتاب ہونے کے حوالے سے متوقع تھا۔
فو ربک لنسئلنھم اجمعین (92) عما کانوا یعملون (93) (15 : 92- 93) “ تو قسم ہے تیرے رب کی ہم ضرور ان سے پوچھیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو ”۔ اور پوچھنے کا مقصد معلوم ہے یعنی سزا۔ جب بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو حضور اکرم ﷺ کو براہ راست خطاب کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی راہ پر گامزن رہیں ۔ جو حکم اللہ نے آپ کو دیا ہے اسے ببانگ دہل کہہ دیں۔ یہاں اس کے لئے صدع کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی چیرنے کے ہیں یعنی پوری قوت سے بات کریں۔ لوگوں کا شرک کرنا اور اس پر اصرار کرنا آپ کو اپنی جدو جہد سے نہ روک دے۔ کیونکہ مشرکین اور دشمنان اسلام اپنے انجام سے جلد ہی خبردار ہوجائیں گے۔ اسی طرح آج جو لوگ تحریکی اسلامی سے استہزاء کرتے ہیں وہ بھی اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔ ان کے مذاق کو دعوت اسلامی کی رفتار پر اثر انداز ہونے نہ دیں۔
الحجر 15:91
آیت نمبر 90 تا 93
یعنی ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم دیا ہے۔ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جسے ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی۔ آپ اکیلے نبی نہ تھے جس کو کتاب دی گئی دوسرے انبیاء کو بھی دی گئی اور ان تمام کتابوں کی اصل الکتاب ہے۔ یہ واحد ہے اس کا مرجع ایک ہے کیونکہ سب کتب اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں۔ اس لیے جن لوگوں پر اس سے قبل کتاب نازل ہوچکی ہے ، ان کا تو حق نہیں ہے کہ وہ کسی کتاب کا انکار کریں کیونکہ کتاب نازل کرنے والا خالق حقیقی بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ کس دور میں لوگوں کو کس ضابطے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور اس کو تقسیم کرلیا ہے ، ایک حصے کو تو قبول کرتے ہیں اور دوسرے حصے کو رد کردیتے ہیں۔ ( عضین جمع عضی ہے یعنی جزء۔ عضی الشاۃ یعنی فصل بین اعضائھا ان لوگوں نے اس رویہ کی مخالفت کی جو ان سے اہل کتاب ہونے کے حوالے سے متوقع تھا۔
فو ربک لنسئلنھم اجمعین (92) عما کانوا یعملون (93) (15 : 92- 93) “ تو قسم ہے تیرے رب کی ہم ضرور ان سے پوچھیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو ”۔ اور پوچھنے کا مقصد معلوم ہے یعنی سزا۔ جب بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو حضور اکرم ﷺ کو براہ راست خطاب کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی راہ پر گامزن رہیں ۔ جو حکم اللہ نے آپ کو دیا ہے اسے ببانگ دہل کہہ دیں۔ یہاں اس کے لئے صدع کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی چیرنے کے ہیں یعنی پوری قوت سے بات کریں۔ لوگوں کا شرک کرنا اور اس پر اصرار کرنا آپ کو اپنی جدو جہد سے نہ روک دے۔ کیونکہ مشرکین اور دشمنان اسلام اپنے انجام سے جلد ہی خبردار ہوجائیں گے۔ اسی طرح آج جو لوگ تحریکی اسلامی سے استہزاء کرتے ہیں وہ بھی اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔ ان کے مذاق کو دعوت اسلامی کی رفتار پر اثر انداز ہونے نہ دیں۔
الحجر 15:92
آیت نمبر 90 تا 93
یعنی ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم دیا ہے۔ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جسے ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی۔ آپ اکیلے نبی نہ تھے جس کو کتاب دی گئی دوسرے انبیاء کو بھی دی گئی اور ان تمام کتابوں کی اصل الکتاب ہے۔ یہ واحد ہے اس کا مرجع ایک ہے کیونکہ سب کتب اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں۔ اس لیے جن لوگوں پر اس سے قبل کتاب نازل ہوچکی ہے ، ان کا تو حق نہیں ہے کہ وہ کسی کتاب کا انکار کریں کیونکہ کتاب نازل کرنے والا خالق حقیقی بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ کس دور میں لوگوں کو کس ضابطے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور اس کو تقسیم کرلیا ہے ، ایک حصے کو تو قبول کرتے ہیں اور دوسرے حصے کو رد کردیتے ہیں۔ ( عضین جمع عضی ہے یعنی جزء۔ عضی الشاۃ یعنی فصل بین اعضائھا ان لوگوں نے اس رویہ کی مخالفت کی جو ان سے اہل کتاب ہونے کے حوالے سے متوقع تھا۔
فو ربک لنسئلنھم اجمعین (92) عما کانوا یعملون (93) (15 : 92- 93) “ تو قسم ہے تیرے رب کی ہم ضرور ان سے پوچھیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو ”۔ اور پوچھنے کا مقصد معلوم ہے یعنی سزا۔ جب بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو حضور اکرم ﷺ کو براہ راست خطاب کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی راہ پر گامزن رہیں ۔ جو حکم اللہ نے آپ کو دیا ہے اسے ببانگ دہل کہہ دیں۔ یہاں اس کے لئے صدع کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی چیرنے کے ہیں یعنی پوری قوت سے بات کریں۔ لوگوں کا شرک کرنا اور اس پر اصرار کرنا آپ کو اپنی جدو جہد سے نہ روک دے۔ کیونکہ مشرکین اور دشمنان اسلام اپنے انجام سے جلد ہی خبردار ہوجائیں گے۔ اسی طرح آج جو لوگ تحریکی اسلامی سے استہزاء کرتے ہیں وہ بھی اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔ ان کے مذاق کو دعوت اسلامی کی رفتار پر اثر انداز ہونے نہ دیں۔
الحجر 15:93
آیت نمبر 90 تا 93
یعنی ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم دیا ہے۔ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جسے ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی۔ آپ اکیلے نبی نہ تھے جس کو کتاب دی گئی دوسرے انبیاء کو بھی دی گئی اور ان تمام کتابوں کی اصل الکتاب ہے۔ یہ واحد ہے اس کا مرجع ایک ہے کیونکہ سب کتب اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں۔ اس لیے جن لوگوں پر اس سے قبل کتاب نازل ہوچکی ہے ، ان کا تو حق نہیں ہے کہ وہ کسی کتاب کا انکار کریں کیونکہ کتاب نازل کرنے والا خالق حقیقی بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ کس دور میں لوگوں کو کس ضابطے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور اس کو تقسیم کرلیا ہے ، ایک حصے کو تو قبول کرتے ہیں اور دوسرے حصے کو رد کردیتے ہیں۔ ( عضین جمع عضی ہے یعنی جزء۔ عضی الشاۃ یعنی فصل بین اعضائھا ان لوگوں نے اس رویہ کی مخالفت کی جو ان سے اہل کتاب ہونے کے حوالے سے متوقع تھا۔
فو ربک لنسئلنھم اجمعین (92) عما کانوا یعملون (93) (15 : 92- 93) “ تو قسم ہے تیرے رب کی ہم ضرور ان سے پوچھیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو ”۔ اور پوچھنے کا مقصد معلوم ہے یعنی سزا۔ جب بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو حضور اکرم ﷺ کو براہ راست خطاب کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی راہ پر گامزن رہیں ۔ جو حکم اللہ نے آپ کو دیا ہے اسے ببانگ دہل کہہ دیں۔ یہاں اس کے لئے صدع کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی چیرنے کے ہیں یعنی پوری قوت سے بات کریں۔ لوگوں کا شرک کرنا اور اس پر اصرار کرنا آپ کو اپنی جدو جہد سے نہ روک دے۔ کیونکہ مشرکین اور دشمنان اسلام اپنے انجام سے جلد ہی خبردار ہوجائیں گے۔ اسی طرح آج جو لوگ تحریکی اسلامی سے استہزاء کرتے ہیں وہ بھی اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔ ان کے مذاق کو دعوت اسلامی کی رفتار پر اثر انداز ہونے نہ دیں۔
الحجر 15:94
آیت نمبر 94 تا 96
اور رسول اللہ ﷺ بہرحال انسان اور بشر تھے ، وہ جب دیکھتے کہ لوگ کفر و شرک پر اصرار کرتے ہیں ، الٹا داعیان کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، تو آپ کو سخت غصہ آتا تھا اور آپ نہایت ہی دل تنگ اور پریشان ہوتے تھے۔ اس پر آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اللہ کی تعریف و تسبیح کرتے رہیں۔ اللہ کی بندگی کرتے رہیں اور تسبیح و تہلیل اور عبادت اور ذکر وفکر میں مشغول رہیں۔ لوگوں کی جانب سے جو ہنسی مذاق ہوتا اسے برداشت کریں اور پوری زندگی میں اللہ کو یاد کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ آپ کو حق الیقین آجائے یعنی موت آجائے اور آپ رب تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں۔
الحجر 15:95
آیت نمبر 94 تا 96
اور رسول اللہ ﷺ بہرحال انسان اور بشر تھے ، وہ جب دیکھتے کہ لوگ کفر و شرک پر اصرار کرتے ہیں ، الٹا داعیان کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، تو آپ کو سخت غصہ آتا تھا اور آپ نہایت ہی دل تنگ اور پریشان ہوتے تھے۔ اس پر آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اللہ کی تعریف و تسبیح کرتے رہیں۔ اللہ کی بندگی کرتے رہیں اور تسبیح و تہلیل اور عبادت اور ذکر وفکر میں مشغول رہیں۔ لوگوں کی جانب سے جو ہنسی مذاق ہوتا اسے برداشت کریں اور پوری زندگی میں اللہ کو یاد کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ آپ کو حق الیقین آجائے یعنی موت آجائے اور آپ رب تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں۔
الحجر 15:96
آیت نمبر 94 تا 96
اور رسول اللہ ﷺ بہرحال انسان اور بشر تھے ، وہ جب دیکھتے کہ لوگ کفر و شرک پر اصرار کرتے ہیں ، الٹا داعیان کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، تو آپ کو سخت غصہ آتا تھا اور آپ نہایت ہی دل تنگ اور پریشان ہوتے تھے۔ اس پر آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اللہ کی تعریف و تسبیح کرتے رہیں۔ اللہ کی بندگی کرتے رہیں اور تسبیح و تہلیل اور عبادت اور ذکر وفکر میں مشغول رہیں۔ لوگوں کی جانب سے جو ہنسی مذاق ہوتا اسے برداشت کریں اور پوری زندگی میں اللہ کو یاد کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ آپ کو حق الیقین آجائے یعنی موت آجائے اور آپ رب تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں۔
الحجر 15:97
آیت نمبر 97 تا 99
یہ ہے اس سورة کا خاتمہ یعنی کافروں کو نظر انداز کرنا اور رب تعالیٰ کی طرف واپس ہونا اور یہ کہ جلد ہی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ یہ کافر خواہش رکھیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ؟
الحجر 15:98
آیت نمبر 97 تا 99
یہ ہے اس سورة کا خاتمہ یعنی کافروں کو نظر انداز کرنا اور رب تعالیٰ کی طرف واپس ہونا اور یہ کہ جلد ہی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ یہ کافر خواہش رکھیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ؟
الحجر 15:99
آیت نمبر 97 تا 99
یہ ہے اس سورة کا خاتمہ یعنی کافروں کو نظر انداز کرنا اور رب تعالیٰ کی طرف واپس ہونا اور یہ کہ جلد ہی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ یہ کافر خواہش رکھیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ؟