Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — النحل 16:1 – النحل 16:128

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. النحل 16:1
  2. النحل 16:2
  3. النحل 16:3
  4. النحل 16:4
  5. النحل 16:5
  6. النحل 16:6
  7. النحل 16:7
  8. النحل 16:8
  9. النحل 16:9
  10. النحل 16:10
  11. النحل 16:11
  12. النحل 16:12
  13. النحل 16:13
  14. النحل 16:14
  15. النحل 16:15
  16. النحل 16:16
  17. النحل 16:17
  18. النحل 16:18
  19. النحل 16:19
  20. النحل 16:20
  21. النحل 16:21
  22. النحل 16:22
  23. النحل 16:23
  24. النحل 16:24
  25. النحل 16:25
  26. النحل 16:26
  27. النحل 16:27
  28. النحل 16:28
  29. النحل 16:29
  30. النحل 16:30
  31. النحل 16:31
  32. النحل 16:32
  33. النحل 16:33
  34. النحل 16:34
  35. النحل 16:35
  36. النحل 16:36
  37. النحل 16:37
  38. النحل 16:38
  39. النحل 16:39
  40. النحل 16:40
  41. النحل 16:41
  42. النحل 16:42
  43. النحل 16:43
  44. النحل 16:44
  45. النحل 16:45
  46. النحل 16:46
  47. النحل 16:47
  48. النحل 16:48
  49. النحل 16:49
  50. النحل 16:50
  51. النحل 16:51
  52. النحل 16:52
  53. النحل 16:53
  54. النحل 16:54
  55. النحل 16:55
  56. النحل 16:56
  57. النحل 16:57
  58. النحل 16:58
  59. النحل 16:59
  60. النحل 16:60
  61. النحل 16:61
  62. النحل 16:62
  63. النحل 16:63
  64. النحل 16:64
  65. النحل 16:65
  66. النحل 16:66
  67. النحل 16:67
  68. النحل 16:68
  69. النحل 16:69
  70. النحل 16:70
  71. النحل 16:71
  72. النحل 16:72
  73. النحل 16:73
  74. النحل 16:74
  75. النحل 16:75
  76. النحل 16:76
  77. النحل 16:77
  78. النحل 16:78
  79. النحل 16:79
  80. النحل 16:80
  81. النحل 16:81
  82. النحل 16:82
  83. النحل 16:83
  84. النحل 16:84
  85. النحل 16:85
  86. النحل 16:86
  87. النحل 16:87
  88. النحل 16:88
  89. النحل 16:89
  90. النحل 16:90
  91. النحل 16:91
  92. النحل 16:92
  93. النحل 16:93
  94. النحل 16:94
  95. النحل 16:95
  96. النحل 16:96
  97. النحل 16:97
  98. النحل 16:98
  99. النحل 16:99
  100. النحل 16:100
  101. النحل 16:101
  102. النحل 16:102
  103. النحل 16:103
  104. النحل 16:104
  105. النحل 16:105
  106. النحل 16:106
  107. النحل 16:107
  108. النحل 16:108
  109. النحل 16:109
  110. النحل 16:110
  111. النحل 16:111
  112. النحل 16:112
  113. النحل 16:113
  114. النحل 16:114
  115. النحل 16:115
  116. النحل 16:116
  117. النحل 16:117
  118. النحل 16:118
  119. النحل 16:119
  120. النحل 16:120
  121. النحل 16:121
  122. النحل 16:122
  123. النحل 16:123
  124. النحل 16:124
  125. النحل 16:125
  126. النحل 16:126
  127. النحل 16:127
  128. النحل 16:128

النحل 16:1

آیت نمبر 1 تا 2 مشرکین مکہ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جس طرح اقوام سابقہ کی ہلاکت کی بات کرتے ہیں ، ہم پر بھی دنیا یا آخرت کا عذاب لے آئیں۔ مکہ میں آپ ﷺ کی زندگی گزر رہی تھی اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے وہ اپنے اس مطالبے پر زیادہ زور دیتے۔ بلکہ مذاق کرنے لگتے اور خندہ و استہزاء میں بہت ہی آگے بڑھ جاتے۔ وہ اس تاثر کا اظہار کرتے کہ حضرت محمد ﷺ انہیں خواہ مخواہ ڈراتے ہیں ، جو ڈراوے وہ دیتے ہیں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ محض اوہام پر ایمان نہیں لا سکتے ہیں ، نہ ایسی چیز کے سامنے سر تسلیم خم کرسکتے ہیں جن کا وجود ہی نہ ہو۔ اللہ ان کو جو مہلت دے رہا تھا اور مواقع فراہم کر رہا تھا اس میں گہری حکمت اور رحمت تھی اور وہ اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ مزید یہ قرآن کریم جو آیات کونیہ پیش کر رہا تھا اور خود قرآن جو عقلی دلائل پیش کر رہا تھا وہ اس پر غوروفکر نہ کرتے تھے ، حالانکہ یہ دلائل قلب و نظر پر جو اثرات چھوڑتے تھے ، وہ تخویف بذریعہ عذاب سے زیادہ کارگر ہو سکتے تھے۔ انسان کو اللہ نے عقل و خرد سے نوازا ہے ، اس کے شایان شان تو یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر غور کرے ، محض ڈراوے سے تسلیم کرنا تو ان لوگوں کے لئے ہے جو عقل و خرد کے پہلو سے کمزور ہوں۔ ذراوے سے حریت ارادہ پر بھی زد پڑتی ہے۔ ایسے حالات میں فرمایا : اتی امر اللہ (16 : 1) “ اللہ کا فیصلہ آگیا ”۔ یعنی اللہ فیصلہ کرچکے ہیں ، ان کا ارادہ متوجہ ہوگیا ہے جو وقت صدور اللہ نے مقرر کیا ہے اس میں ان اوامرو احکام اور فیصلوں کا صدور ہوجائے گا۔ لہٰذا : فلا تستعجلوہ (16 : 1) “ جلدی نہ مچاؤ ”۔ اللہ کے فیصلے اس کی مشیت کے مطابق ہوتے ہیں۔ تمہاری طرف سے شتابی کرنا اللہ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ تمہاری طرف سے درازی مہلت کی امیدیں بھی ان کو موخر نہیں کرسکتیں۔ عذاب آتا ہے یا قیامت برپا ہوتی ہے ، اس کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ اس فیصلے کا وقوع اور نفاذ اپنے مقررہ وقت پر بہرحال ہوگا۔ اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ ایک شخص اپنی حالت پر جس قدر جمنے کی کوشش بھی کرے یہ فیصلہ کن انداز گفتگو اسے بہرحال متاثر کرتا ہے ، چاہے وہ استکبار کی وجہ سے اپنے تاثر کو ظاہر نہ کرے۔ جس قدر انداز فیصلہ کن ہے اسی طرح یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ اللہ کا حکم جب آتا ہے تو وہ اٹل ہوتا ہے ۔ بس صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ کا ارادہ کسی امر سے متعلق ہوجائے بس وہ امر واقع ہوجاتا ہے۔ چشم زدن میں وہ وجود میں آجاتا ہے۔ لہٰذا یہ زور دار انداز کلام کسی شاعرانہ مبالغہ آرائی پر بھی مبنی نہیں ہے۔ جس طرح انداز کلام شعور کو متاثر کرتا اسی طرح اللہ کے فیصلے واقعی صورت حالات میں انقلاب برپا کردیتے ہیں۔ رہے مشرکین مکہ کے اعمال شرکیہ اور عقائد شرکیہ اور ان کے وہ تمام تصورات جو اعمال شرکیہ اور عقائد شرکیہ پر مبنی ہیں تو اللہ کی ذات ان سے پاک ہے۔ سبحنہ وتعالیٰ عما یشرکون (16 : 1) “ پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں ”۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے تمام ان مشرکوں سے جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ یادر ہے کہ شرک میں کوئی انسان تب ہی مبتلا ہوتا ہے جب وہ فکر اعتبار سے گرا پڑا ہو اور اس کے تصورات کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں۔ اللہ کے احکام واوامر آگئے ، جو شرک سے پاک ہیں اور امر دینے والے باری تعالیٰ بھی شرک سے پاک ہیں اور اہل مکہ اللہ تعالیٰ کو جو مقام دیتے ہیں وہ اس سے بہت بلند ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گمراہانہ خیالات میں ڈوبا ہوا نہیں چھوڑتے ۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے فرشتے بھیجتے ہیں اور یہ فرشتے ایسے پیغام کے حامل ہوتے ہیں جو انسانوں کی حیات نو اور نجات اخروی کے پروگرام پر مشتمل ہوتا ہے۔ ینزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔ من عبادہ (16 : 2) “ وہ اس روح کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے ” اور یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ آسمانوں سے فقط بارش ہی نہیں برساتا جو ان کے جسم کے لئے سازو سامان فراہم کرتی ہے بلکہ وہ ملائکہ کو انسان کی روحانی غذا دے کر بھی بھیجتا ہے۔ قرآن کریم اور اسلام کو روح کہنا نہایت ہی معنی خیز ہے۔ پیغام قرآن ایک سوسائٹی کو اسی طرح زندہ کرتا ہے جس طرح ایک انسان کے جسم میں روح ڈال کر زندہ کیا جاتا ہے۔ اس پیغام سے نفس و ضمیر زندہ ہوتا ہے۔ عقل و شعور کو جلا ملتی ہے اور سوسائٹی اس طرح زندہ اور صحت مند ہوتی ہے کہ اس سے ہر قسم کے فساد ختم ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا آسمانوں سے انسانی زندگی کے لئے جو برکات و انعامات نازل ہوتے ہیں ، یہ ان میں سے اعلیٰ و افضل ہے۔ یہ نعمت عظمیٰ وہ مخلوق لے کر آتی ہے جو پاک طینت ہے۔ جو اللہ کے بندوں میں سے برگزیدہ افراد پر نازل ہوتی ہے ، جو افضل العباد ہوتے ہیں اور اس روح کائنات کا خلاصہ کیا ہے۔ لا الہ الا انا فاتقون (16 : 2) “ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو ”۔ اللہ وحدہ لا شریک حاکم و معبود ہیں۔ یہ تمام عقیدہ عقائد کی روح ہے ، یہ نفس انسانی کی زندگی ہے ، یہ وہ تصور ہے جس سے سوسائٹی زندہ و توانا ہوتی ہے اور اس کے سوا جو تصورات ہیں انسانی سوسائٹی کے لئے مہلک اور تباہ کن ہیں۔ جو شخص اللہ وحدہ کی ذات پر ایمان نہیں رکھتا وہ حیران و پریشان ، تباہ و برباد ہوتا ہے۔ اسے ہر طرف سے ایک باطل عقیدہ اپنی طرف کھینچ رہا ہوتا ہے ، اوہام پر مبنی باہم تناقص تصورات ہر طرف سے دامن گیر ہوتے ہیں اور اس کا نفس ہر وقت وساوس ، ان جانے خوف اور وہم کی آماجگاہ بنا رہتا ہے اور وہ کبھی بھی کسی ایک سمت میں کسی متعین ہدف کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ افکار پریشان اور اعمال بےترتیب کے اندر گھرا ہوتا ہے۔ اسلام کی تعبیر روح سے کرنا دراصل ان تمام مفہومات کا اظہار ہے اور سورة کے آغاز میں جہاں اللہ تعالیٰ اپنے تمام انعامات کا ذکر فرماتے ہیں ، اسلام کو روح حیات قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات دراصل وہ نعمت عظمیٰ ہے ، جس کے بغیر انسان اللہ کی دوسرے نعمتوں سے بھی کماحقہ مستفید نہیں ہو سکتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ نعمت کسی کو نہ دی گئی ہو تو اس کے لئے دوسرے انعامات بھی اپنی قدرو قیمت کھو دیتے ہیں کیونکہ یہ نعمت ہی دراصل انسان کو حیات جاوداں بخشتی ہے۔ اس آیت میں ڈراوے اور انذار کو وحی و رسالت کا اصل مشن قرار دیا گیا ہے اس لیے کہ اس سورة کے پورے مضامین مکذبین ، مشرکین اور اللہ کی نعمتوں کے منکر اور ناشکرے طبقات کے گرد گھومتے ہیں۔ نیز اس میں ان لوگوں پر بھی تنقید کی گئی ہے جو حلال کو حرام قرار دیتے ہیں جو بہت بڑا جرم ہے اور شرک ہے ، نیز اللہ کے ساتھ عہد کر کے توڑنے والوں پر بھی اس سورة میں تنقید ہے ، نیز جہاں ان لوگوں سے بھی بحث کی گئی ہے جو اسلام کو قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا آغاز سورة میں یہ کہنا کہ لوگوں کو ان گھناؤنے جرائم سے ڈراؤ، ایک مناسب آغاز کلام سے کہ لوگو احتیاط کرو ، اللہ سے ڈرو ، اور آخرت کا خوف کرو۔ ٭٭٭ اس تمہید کے بعد لوگوں کے سامنے وہ دلائل و شواہد پیش کئے جاتے ہیں جو اس پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ، جو توحید باری تعالیٰ پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر اللہ کے بعض انعامات کا ذکر ہے جو منعم حقیقی کے احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ان نشانات و انعامات کا ذکر بکثرت اور فوج در فوج ہے۔ آغاز تخلیق ارض و سما اور تخلیق حضرت انسان سے ہوتا ہے۔

النحل 16:2

آیت نمبر 1 تا 2 مشرکین مکہ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جس طرح اقوام سابقہ کی ہلاکت کی بات کرتے ہیں ، ہم پر بھی دنیا یا آخرت کا عذاب لے آئیں۔ مکہ میں آپ ﷺ کی زندگی گزر رہی تھی اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے وہ اپنے اس مطالبے پر زیادہ زور دیتے۔ بلکہ مذاق کرنے لگتے اور خندہ و استہزاء میں بہت ہی آگے بڑھ جاتے۔ وہ اس تاثر کا اظہار کرتے کہ حضرت محمد ﷺ انہیں خواہ مخواہ ڈراتے ہیں ، جو ڈراوے وہ دیتے ہیں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ محض اوہام پر ایمان نہیں لا سکتے ہیں ، نہ ایسی چیز کے سامنے سر تسلیم خم کرسکتے ہیں جن کا وجود ہی نہ ہو۔ اللہ ان کو جو مہلت دے رہا تھا اور مواقع فراہم کر رہا تھا اس میں گہری حکمت اور رحمت تھی اور وہ اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ مزید یہ قرآن کریم جو آیات کونیہ پیش کر رہا تھا اور خود قرآن جو عقلی دلائل پیش کر رہا تھا وہ اس پر غوروفکر نہ کرتے تھے ، حالانکہ یہ دلائل قلب و نظر پر جو اثرات چھوڑتے تھے ، وہ تخویف بذریعہ عذاب سے زیادہ کارگر ہو سکتے تھے۔ انسان کو اللہ نے عقل و خرد سے نوازا ہے ، اس کے شایان شان تو یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر غور کرے ، محض ڈراوے سے تسلیم کرنا تو ان لوگوں کے لئے ہے جو عقل و خرد کے پہلو سے کمزور ہوں۔ ذراوے سے حریت ارادہ پر بھی زد پڑتی ہے۔ ایسے حالات میں فرمایا : اتی امر اللہ (16 : 1) “ اللہ کا فیصلہ آگیا ”۔ یعنی اللہ فیصلہ کرچکے ہیں ، ان کا ارادہ متوجہ ہوگیا ہے جو وقت صدور اللہ نے مقرر کیا ہے اس میں ان اوامرو احکام اور فیصلوں کا صدور ہوجائے گا۔ لہٰذا : فلا تستعجلوہ (16 : 1) “ جلدی نہ مچاؤ ”۔ اللہ کے فیصلے اس کی مشیت کے مطابق ہوتے ہیں۔ تمہاری طرف سے شتابی کرنا اللہ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ تمہاری طرف سے درازی مہلت کی امیدیں بھی ان کو موخر نہیں کرسکتیں۔ عذاب آتا ہے یا قیامت برپا ہوتی ہے ، اس کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ اس فیصلے کا وقوع اور نفاذ اپنے مقررہ وقت پر بہرحال ہوگا۔ اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ ایک شخص اپنی حالت پر جس قدر جمنے کی کوشش بھی کرے یہ فیصلہ کن انداز گفتگو اسے بہرحال متاثر کرتا ہے ، چاہے وہ استکبار کی وجہ سے اپنے تاثر کو ظاہر نہ کرے۔ جس قدر انداز فیصلہ کن ہے اسی طرح یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ اللہ کا حکم جب آتا ہے تو وہ اٹل ہوتا ہے ۔ بس صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ کا ارادہ کسی امر سے متعلق ہوجائے بس وہ امر واقع ہوجاتا ہے۔ چشم زدن میں وہ وجود میں آجاتا ہے۔ لہٰذا یہ زور دار انداز کلام کسی شاعرانہ مبالغہ آرائی پر بھی مبنی نہیں ہے۔ جس طرح انداز کلام شعور کو متاثر کرتا اسی طرح اللہ کے فیصلے واقعی صورت حالات میں انقلاب برپا کردیتے ہیں۔ رہے مشرکین مکہ کے اعمال شرکیہ اور عقائد شرکیہ اور ان کے وہ تمام تصورات جو اعمال شرکیہ اور عقائد شرکیہ پر مبنی ہیں تو اللہ کی ذات ان سے پاک ہے۔ سبحنہ وتعالیٰ عما یشرکون (16 : 1) “ پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں ”۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے تمام ان مشرکوں سے جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ یادر ہے کہ شرک میں کوئی انسان تب ہی مبتلا ہوتا ہے جب وہ فکر اعتبار سے گرا پڑا ہو اور اس کے تصورات کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں۔ اللہ کے احکام واوامر آگئے ، جو شرک سے پاک ہیں اور امر دینے والے باری تعالیٰ بھی شرک سے پاک ہیں اور اہل مکہ اللہ تعالیٰ کو جو مقام دیتے ہیں وہ اس سے بہت بلند ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گمراہانہ خیالات میں ڈوبا ہوا نہیں چھوڑتے ۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے فرشتے بھیجتے ہیں اور یہ فرشتے ایسے پیغام کے حامل ہوتے ہیں جو انسانوں کی حیات نو اور نجات اخروی کے پروگرام پر مشتمل ہوتا ہے۔ ینزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔ من عبادہ (16 : 2) “ وہ اس روح کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے ” اور یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ آسمانوں سے فقط بارش ہی نہیں برساتا جو ان کے جسم کے لئے سازو سامان فراہم کرتی ہے بلکہ وہ ملائکہ کو انسان کی روحانی غذا دے کر بھی بھیجتا ہے۔ قرآن کریم اور اسلام کو روح کہنا نہایت ہی معنی خیز ہے۔ پیغام قرآن ایک سوسائٹی کو اسی طرح زندہ کرتا ہے جس طرح ایک انسان کے جسم میں روح ڈال کر زندہ کیا جاتا ہے۔ اس پیغام سے نفس و ضمیر زندہ ہوتا ہے۔ عقل و شعور کو جلا ملتی ہے اور سوسائٹی اس طرح زندہ اور صحت مند ہوتی ہے کہ اس سے ہر قسم کے فساد ختم ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا آسمانوں سے انسانی زندگی کے لئے جو برکات و انعامات نازل ہوتے ہیں ، یہ ان میں سے اعلیٰ و افضل ہے۔ یہ نعمت عظمیٰ وہ مخلوق لے کر آتی ہے جو پاک طینت ہے۔ جو اللہ کے بندوں میں سے برگزیدہ افراد پر نازل ہوتی ہے ، جو افضل العباد ہوتے ہیں اور اس روح کائنات کا خلاصہ کیا ہے۔ لا الہ الا انا فاتقون (16 : 2) “ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو ”۔ اللہ وحدہ لا شریک حاکم و معبود ہیں۔ یہ تمام عقیدہ عقائد کی روح ہے ، یہ نفس انسانی کی زندگی ہے ، یہ وہ تصور ہے جس سے سوسائٹی زندہ و توانا ہوتی ہے اور اس کے سوا جو تصورات ہیں انسانی سوسائٹی کے لئے مہلک اور تباہ کن ہیں۔ جو شخص اللہ وحدہ کی ذات پر ایمان نہیں رکھتا وہ حیران و پریشان ، تباہ و برباد ہوتا ہے۔ اسے ہر طرف سے ایک باطل عقیدہ اپنی طرف کھینچ رہا ہوتا ہے ، اوہام پر مبنی باہم تناقص تصورات ہر طرف سے دامن گیر ہوتے ہیں اور اس کا نفس ہر وقت وساوس ، ان جانے خوف اور وہم کی آماجگاہ بنا رہتا ہے اور وہ کبھی بھی کسی ایک سمت میں کسی متعین ہدف کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ افکار پریشان اور اعمال بےترتیب کے اندر گھرا ہوتا ہے۔ اسلام کی تعبیر روح سے کرنا دراصل ان تمام مفہومات کا اظہار ہے اور سورة کے آغاز میں جہاں اللہ تعالیٰ اپنے تمام انعامات کا ذکر فرماتے ہیں ، اسلام کو روح حیات قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات دراصل وہ نعمت عظمیٰ ہے ، جس کے بغیر انسان اللہ کی دوسرے نعمتوں سے بھی کماحقہ مستفید نہیں ہو سکتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ نعمت کسی کو نہ دی گئی ہو تو اس کے لئے دوسرے انعامات بھی اپنی قدرو قیمت کھو دیتے ہیں کیونکہ یہ نعمت ہی دراصل انسان کو حیات جاوداں بخشتی ہے۔ اس آیت میں ڈراوے اور انذار کو وحی و رسالت کا اصل مشن قرار دیا گیا ہے اس لیے کہ اس سورة کے پورے مضامین مکذبین ، مشرکین اور اللہ کی نعمتوں کے منکر اور ناشکرے طبقات کے گرد گھومتے ہیں۔ نیز اس میں ان لوگوں پر بھی تنقید کی گئی ہے جو حلال کو حرام قرار دیتے ہیں جو بہت بڑا جرم ہے اور شرک ہے ، نیز اللہ کے ساتھ عہد کر کے توڑنے والوں پر بھی اس سورة میں تنقید ہے ، نیز جہاں ان لوگوں سے بھی بحث کی گئی ہے جو اسلام کو قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا آغاز سورة میں یہ کہنا کہ لوگوں کو ان گھناؤنے جرائم سے ڈراؤ، ایک مناسب آغاز کلام سے کہ لوگو احتیاط کرو ، اللہ سے ڈرو ، اور آخرت کا خوف کرو۔ ٭٭٭ اس تمہید کے بعد لوگوں کے سامنے وہ دلائل و شواہد پیش کئے جاتے ہیں جو اس پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ، جو توحید باری تعالیٰ پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر اللہ کے بعض انعامات کا ذکر ہے جو منعم حقیقی کے احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ان نشانات و انعامات کا ذکر بکثرت اور فوج در فوج ہے۔ آغاز تخلیق ارض و سما اور تخلیق حضرت انسان سے ہوتا ہے۔

النحل 16:3

آیت نمبر 3 تا 4 وہی بات کہ تخلیق کائنات حق پر ہے۔ خلق السموت والارض بالحق (16 : 3) “ اس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے ”۔ گویا اس کی تخلیق کا بنیادی عنصر حق ہے۔ اس کائنات کو حق کے مطابق چلایا جا رہا ہے اور اس کائنات کو چلانے اور اس کے اندر موجود تمام مخلوقات کو چلانے کا بنیادی عنصر اور بنیادی قوت حق اور سچائی ہے۔ اس کائنات کی کوئی چیز عبث ، اتفاقی اور بےمقصد نہیں ہے۔ یہ چیز سچائی پر قائم ہے۔ سچائی کے ساتھ وابستہ ہے ، وہ سچائی کی طرف بڑھتی ہے اور اس کا انجام بھی سچائی کے مطابق ہوگا۔ تعلی عما یشرکون (16 : 3) “ وہ بہت بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں ”۔ اللہ لوگوں کے شرک سے بہت بلند اور دور ہے ، اللہ جو خالق سماوات والارض ہے ، اس کے ساتھ خود اس کی مخلوق میں سے بعض چیزوں کو شریک کرنے کی تک کیا ہے ؟ لہٰذا اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کے شریک ہونے کے لائق ہی نہیں ہے ، لہٰذا وہ واحد لا شریک ہے۔ خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین (16 : 4) “ اس نے انسان کو ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے وہ صریحاً جھگڑالو ہستی بن گیا ”۔ اس کے آغاز کو دیکھو اور اس کی تکمیل کے بعد اس کے نخروں کو دیکھو کس قدر عظیم فرق ہے۔ اس حقیر اور سادہ بوند کو دیکھو اور پھر ایک مکمل جھگڑالو اور خالق کے مقابل میں آنے والے اس حضرت کو دیکھو کہ وہ خود خالق کے ساتھ مجادلہ کرتا ہے ، خالق کے وجود تک کا منکر ہوجاتا ہے یا اس کی وحدانیت کا انکار کر کے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتا ہے۔ اس کی حالت نطفہ اور حالت جدال کے درمیان زمان و مکان کا کوئی بہت بڑا فاصلہ بھی نہیں ہوتا ۔ قرآن بھی ایسا انداز تعبیر اختیار کرتا ہے کہ یہ فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ انسان کے آغاز و انجام میں یہ فرق جس قدر عظیم اور واضح ہے اسی طرح اچانک ہے۔ چناچہ ایک ہی لمحے میں انسان کے سامنے دو مختلف مناظر آجاتے ہیں۔ ایک وہ منظر کہ انسان ایک حقیر بوند ہے اور دوسرا وہ منظر کہ وہ کامل ہو کر ناز نخرے کرتا ہے اور خود خالق کے بالمقابل آکھڑا ہوتا ہے۔ تصویر کشی کا یہ اعجاز بھی ہے اور ایجاز بھی یعنی مختصر ترین الفاظ میں معجزانہ طرز ادا۔ اب ذرا منظر کائنات پر غور کریں ، یہ ایک وسیع منظر ہے۔ زمین و آسمان کا وسیع دائرہ جس میں حضرت انسان کھڑا ہے۔ اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہے۔ اس میں بحث کا آغاز ان جانوروں سے کیا جاتا ہے جو واضح طور پر خادم انسان ہیں۔

النحل 16:4

آیت نمبر 3 تا 4 وہی بات کہ تخلیق کائنات حق پر ہے۔ خلق السموت والارض بالحق (16 : 3) “ اس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے ”۔ گویا اس کی تخلیق کا بنیادی عنصر حق ہے۔ اس کائنات کو حق کے مطابق چلایا جا رہا ہے اور اس کائنات کو چلانے اور اس کے اندر موجود تمام مخلوقات کو چلانے کا بنیادی عنصر اور بنیادی قوت حق اور سچائی ہے۔ اس کائنات کی کوئی چیز عبث ، اتفاقی اور بےمقصد نہیں ہے۔ یہ چیز سچائی پر قائم ہے۔ سچائی کے ساتھ وابستہ ہے ، وہ سچائی کی طرف بڑھتی ہے اور اس کا انجام بھی سچائی کے مطابق ہوگا۔ تعلی عما یشرکون (16 : 3) “ وہ بہت بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں ”۔ اللہ لوگوں کے شرک سے بہت بلند اور دور ہے ، اللہ جو خالق سماوات والارض ہے ، اس کے ساتھ خود اس کی مخلوق میں سے بعض چیزوں کو شریک کرنے کی تک کیا ہے ؟ لہٰذا اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کے شریک ہونے کے لائق ہی نہیں ہے ، لہٰذا وہ واحد لا شریک ہے۔ خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین (16 : 4) “ اس نے انسان کو ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے وہ صریحاً جھگڑالو ہستی بن گیا ”۔ اس کے آغاز کو دیکھو اور اس کی تکمیل کے بعد اس کے نخروں کو دیکھو کس قدر عظیم فرق ہے۔ اس حقیر اور سادہ بوند کو دیکھو اور پھر ایک مکمل جھگڑالو اور خالق کے مقابل میں آنے والے اس حضرت کو دیکھو کہ وہ خود خالق کے ساتھ مجادلہ کرتا ہے ، خالق کے وجود تک کا منکر ہوجاتا ہے یا اس کی وحدانیت کا انکار کر کے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتا ہے۔ اس کی حالت نطفہ اور حالت جدال کے درمیان زمان و مکان کا کوئی بہت بڑا فاصلہ بھی نہیں ہوتا ۔ قرآن بھی ایسا انداز تعبیر اختیار کرتا ہے کہ یہ فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ انسان کے آغاز و انجام میں یہ فرق جس قدر عظیم اور واضح ہے اسی طرح اچانک ہے۔ چناچہ ایک ہی لمحے میں انسان کے سامنے دو مختلف مناظر آجاتے ہیں۔ ایک وہ منظر کہ انسان ایک حقیر بوند ہے اور دوسرا وہ منظر کہ وہ کامل ہو کر ناز نخرے کرتا ہے اور خود خالق کے بالمقابل آکھڑا ہوتا ہے۔ تصویر کشی کا یہ اعجاز بھی ہے اور ایجاز بھی یعنی مختصر ترین الفاظ میں معجزانہ طرز ادا۔ اب ذرا منظر کائنات پر غور کریں ، یہ ایک وسیع منظر ہے۔ زمین و آسمان کا وسیع دائرہ جس میں حضرت انسان کھڑا ہے۔ اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہے۔ اس میں بحث کا آغاز ان جانوروں سے کیا جاتا ہے جو واضح طور پر خادم انسان ہیں۔

النحل 16:5

آیت نمبر 5 تا 8 جس معاشرے میں قرآن مجید نازل ہوا ، مثلاً سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ، اور اس قسم کے تمام معاشرے جو آج بھی موجود ہیں ، خصوصاً وہ سوسائٹیاں جن کی معیشت زراعت پر مبنی ہے۔ ایسے معاشروں میں انسان کی زندگی کا تصور بھی ان جانوروں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ جزیرۃ العرب میں متعارف جانور یہی تھے ، اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکریاں کھانے پینے کے لئے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے سواریوں اور زینت کے لئے۔ گھوڑوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کا کھانا حرام سمجھتے ہیں کہ بعض احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے نیز قرآن نے اسے رکوب کے لئے بتایا ہے جبکہ دوسرے ائمہ جائز سمجھتے ہیں کیونکہ صحیح احادیث میں گھوڑوں کا گوشت کھانا جائز بتایا گیا ہے۔ قرآن کریم نے یہاں ان جانوروں کو بطور نعمت پیش کیا ہے ، اس لیے کہ ان میں بعض کے ساتھ انسان کی مادی ضروریات وابستہ ہیں اور بعض انسان کے لئے زینت ہیں۔ نیز ان کی جلد سے انسان اپنے لیے لباس بناتا ہے ، ان کی اون اور بالوں سے مختلف مصنوعات تیار ہوتی ہیں ، ان کا دودھ ، گوشت وغیرہ استعمال ہوتا ہے۔ گھی اور چربی اور ہڈیاں تک کام میں آتی ہیں۔ یہ جانور بار برداری کا کام کرتے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک انسان خود بھی سامان پہنچا سکتا ہے مگر بہت بڑی مشقت کے ساتھ۔ نیز صبح جب تم مویشی نکالتے ہو چرنے کے لئے اور شام کو واپس لاتے ہو ، تو یہ تمہارے لئے ایک جمال ہے۔ تم انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہو۔ جب وہ خوبصورت اور موٹے تازے تمہاری نگاہوں کے سامنے آتے ہیں ، شام کے وقت جب خوب پھلے پھولے واپس آتے ہیں ۔ دیہاتی لوگ ان آیات کا مفہوم ، شہریوں کی نسبت زیادہ گہرائی تک سمجھتے ہیں۔ گھوڑے ، خچر اور گدھے زیادہ تر بار برداری کے کام آتے ہیں ۔ ان کو سواری کے طور پر بہت خوبصورت بھی بنایا جاتا ہے۔ لترکبوھا وزینۃ (16 : 8) “ تا کہ ان پر سوار ہو اور تمہاری زندگی کی رونق بنیں ”۔ لفظ زینہ یہاں زیادہ توجہ کے قابل ہے۔ اس سے زندگی کے بارے میں اسلام اور قرآن کا نقطہ نظر سامنے آتا ہے۔ اسلامی زاویہ سے جمال اور حسن زندگی کا اصلی جزو ہے۔ نعمت کا مفہوم ضروریات زندگی ، کھانے پینے اور سواری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انسانی شوق اور تفریح بھی ضروریات زندگی میں سے ہے ۔ حسن و جمال کی حس ، تفریح اور مسرت کا شعور اور اعلیٰ انسانی ذوق ، محض حیوانی ضروریات و حاجات سے ، اسلام کی نظر میں زیادہ اہم ہے۔ ان ربکم لرؤف رحیم (16 : 7) “ تمہارا رب بڑا شفیق و مہربان ہے ”۔ یہ تعقیب اس حقیقت پر ہے کہ باربرداری کا کام اگر خود انسان کو کرنا پڑے تو یہ بہت ہی مشقت کا کام ہے۔ لہٰذا اللہ نے باربرداری کے لئے جو جانور پیدا کئے ہیں وہ اللہ کی رحمت بےپایاں اور نعمت عظیم ہے۔ ویخلق ما لا تعلمون (16 : 8) “ اور وہ بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں ”۔ یہ تعقیب ہے اس پر کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جانور پیدا کئے جنہیں تم کھاتے بھی ہو۔ باربرداری کا کام بھی ان سے لیتے ہو اور وہ تمہارے لیے زینت اور خوشی اور مسرت کا سامان بھی ہیں۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض ایسی چیزوں کی تخلیق بھی کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔ لہٰذا ان مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کے لئے انسانی سوچ کو کھلا رکھا گیا ہے کیونکہ دور جدید میں حمل ونقل کے نئے نئے ذرائع بھی تخلیقات الہٰیہ میں آتے ہیں ، نیز زیب وزینت اور تفریح و مسرت کے نئے نئے ذرائع بھی تم پیدا کرسکتے ہو۔ لہٰذا اس تصور کو ابتدائی معاشرہ جس میں قرآن مجید نازل ہوا ، اسی تک محدود نہیں کردیا گیا۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات زمان و مکان میں مقید نہیں۔ ہر دور اور ہر زمان و مکان کے آگے مزید دور اور مزید زمان ومکان آتے ہیں اور ان میں ضرورت و مسرت کے جدید ذرائع ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کو یہ امید دی جاتی ہے کہ وہ مزید تخلیقات الٰہیہ کی توقع رکھیں۔ اگر توفیق الٰہی سے انسان کوئی جدید سہولت اور زینت ایجاد کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ وہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ اور جدید انکشافات و ایجادات سے فائدہ نہ اٹھائیں اور یہ نہ کہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد تو مذکورہ بالا جانوروں ہی سے ضرورت پوری کرتے تھے۔ گھوڑے ، خچر اور گدھوں ہی سے باربرداری کا کام لیتے تھے لہٰذا ہم جدید ذرائع حمل ونقل کو کام میں نہیں لاتے اور نہ ہی ان سے استفادہ کرتے ہیں اور یہ کہ چونکہ قرآن نے صرف مذکورہ بالا اقسام کی تصریح کردی ہے لہٰذا ان کے سوا سہولیات ، خوراک اور زیبائش حرام ہے اسی لیے کہا گیا کہ تخلیقات کا دائرہ وسیع ہے۔ اسلام ایک ایسا نظریہ ہے جو کھلا اور لچکدار ہے۔ وہ زندہ کی تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے استفادہ کرتا ہے اس لیے قرآن کریم مسلمانوں کے ذہن کو آنے والے ادوار کی قوتوں اور علوم کی فراہم کردہ سہولیات سے استفادے کے لئے تیار کرتا ہے۔ ایک مسلمان کا ذہن اس قدر کھلا ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کے تمام انکشافات کو دینی ذہن کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اسے از عجائبات الٰہی اور عجائبات علوم میں سے سمجھتا ہے اور زندگی کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔ دور جدید میں حمل ، نقل اور سواری کے نئے نئے وسائل ایجاد ہوگئے ہیں۔ سہولیات کے ساتھ ساتھ یہ وسائل زیب وزینت کے بھی اعلیٰ ذرائع ہیں۔ نزول قرآن کے دور کے لوگ ان کے بارے میں تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ نیز آئندہ ایسے وسائل بھی ایجاد ہوں گے جن کے بارے میں ہمارے دور کے لوگ سوچ نہیں سکتے۔ ایسے ہی حالات کے لیے قرآن کریم لوگوں کو فکری زاویہ سے تیار کرتا ہے کہ ان کا ذہن منجمد نہ ہو۔ یہی ہے مفہوم ویخلق ما لا تعلمون (16 : 8) کا۔ یہاں بحث یہ تھی کہ اللہ نے انسان کے لئے ذرائع نقل و حمل پیدا کئے۔ ان ذرائع کو استعمال کر کے انسان بڑے بڑے فاصلے طے کرتا ہے۔ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے ، موضوع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ روحانی راستے اور روحانی سفر اور ان کے ذرائع نقل و حمل کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی طرف جانے کے بھی راستے ہیں۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ بالکل سیدھا راستہ ہے۔ دنیا میں اللہ تک پہنچانے کے لئے بعض ٹیڑھے راستے بھی ہیں ، جو در حقیقت اللہ تک نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ خود اللہ ہی بتا تا ہے۔ اس راستے کو معلوم کرنے کے لئے اللہ نے اس کائنات میں نشانات رکھے ہوئے ہیں ان پر تدبر کیا جانا چاہئے اسی لئے خود انسانوں میں سے بعض افراد کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے کہ وہ بھی اس راستے کی نشاندہی کردیں۔

النحل 16:6

آیت نمبر 5 تا 8 جس معاشرے میں قرآن مجید نازل ہوا ، مثلاً سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ، اور اس قسم کے تمام معاشرے جو آج بھی موجود ہیں ، خصوصاً وہ سوسائٹیاں جن کی معیشت زراعت پر مبنی ہے۔ ایسے معاشروں میں انسان کی زندگی کا تصور بھی ان جانوروں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ جزیرۃ العرب میں متعارف جانور یہی تھے ، اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکریاں کھانے پینے کے لئے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے سواریوں اور زینت کے لئے۔ گھوڑوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کا کھانا حرام سمجھتے ہیں کہ بعض احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے نیز قرآن نے اسے رکوب کے لئے بتایا ہے جبکہ دوسرے ائمہ جائز سمجھتے ہیں کیونکہ صحیح احادیث میں گھوڑوں کا گوشت کھانا جائز بتایا گیا ہے۔ قرآن کریم نے یہاں ان جانوروں کو بطور نعمت پیش کیا ہے ، اس لیے کہ ان میں بعض کے ساتھ انسان کی مادی ضروریات وابستہ ہیں اور بعض انسان کے لئے زینت ہیں۔ نیز ان کی جلد سے انسان اپنے لیے لباس بناتا ہے ، ان کی اون اور بالوں سے مختلف مصنوعات تیار ہوتی ہیں ، ان کا دودھ ، گوشت وغیرہ استعمال ہوتا ہے۔ گھی اور چربی اور ہڈیاں تک کام میں آتی ہیں۔ یہ جانور بار برداری کا کام کرتے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک انسان خود بھی سامان پہنچا سکتا ہے مگر بہت بڑی مشقت کے ساتھ۔ نیز صبح جب تم مویشی نکالتے ہو چرنے کے لئے اور شام کو واپس لاتے ہو ، تو یہ تمہارے لئے ایک جمال ہے۔ تم انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہو۔ جب وہ خوبصورت اور موٹے تازے تمہاری نگاہوں کے سامنے آتے ہیں ، شام کے وقت جب خوب پھلے پھولے واپس آتے ہیں ۔ دیہاتی لوگ ان آیات کا مفہوم ، شہریوں کی نسبت زیادہ گہرائی تک سمجھتے ہیں۔ گھوڑے ، خچر اور گدھے زیادہ تر بار برداری کے کام آتے ہیں ۔ ان کو سواری کے طور پر بہت خوبصورت بھی بنایا جاتا ہے۔ لترکبوھا وزینۃ (16 : 8) “ تا کہ ان پر سوار ہو اور تمہاری زندگی کی رونق بنیں ”۔ لفظ زینہ یہاں زیادہ توجہ کے قابل ہے۔ اس سے زندگی کے بارے میں اسلام اور قرآن کا نقطہ نظر سامنے آتا ہے۔ اسلامی زاویہ سے جمال اور حسن زندگی کا اصلی جزو ہے۔ نعمت کا مفہوم ضروریات زندگی ، کھانے پینے اور سواری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انسانی شوق اور تفریح بھی ضروریات زندگی میں سے ہے ۔ حسن و جمال کی حس ، تفریح اور مسرت کا شعور اور اعلیٰ انسانی ذوق ، محض حیوانی ضروریات و حاجات سے ، اسلام کی نظر میں زیادہ اہم ہے۔ ان ربکم لرؤف رحیم (16 : 7) “ تمہارا رب بڑا شفیق و مہربان ہے ”۔ یہ تعقیب اس حقیقت پر ہے کہ باربرداری کا کام اگر خود انسان کو کرنا پڑے تو یہ بہت ہی مشقت کا کام ہے۔ لہٰذا اللہ نے باربرداری کے لئے جو جانور پیدا کئے ہیں وہ اللہ کی رحمت بےپایاں اور نعمت عظیم ہے۔ ویخلق ما لا تعلمون (16 : 8) “ اور وہ بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں ”۔ یہ تعقیب ہے اس پر کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جانور پیدا کئے جنہیں تم کھاتے بھی ہو۔ باربرداری کا کام بھی ان سے لیتے ہو اور وہ تمہارے لیے زینت اور خوشی اور مسرت کا سامان بھی ہیں۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض ایسی چیزوں کی تخلیق بھی کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔ لہٰذا ان مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کے لئے انسانی سوچ کو کھلا رکھا گیا ہے کیونکہ دور جدید میں حمل ونقل کے نئے نئے ذرائع بھی تخلیقات الہٰیہ میں آتے ہیں ، نیز زیب وزینت اور تفریح و مسرت کے نئے نئے ذرائع بھی تم پیدا کرسکتے ہو۔ لہٰذا اس تصور کو ابتدائی معاشرہ جس میں قرآن مجید نازل ہوا ، اسی تک محدود نہیں کردیا گیا۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات زمان و مکان میں مقید نہیں۔ ہر دور اور ہر زمان و مکان کے آگے مزید دور اور مزید زمان ومکان آتے ہیں اور ان میں ضرورت و مسرت کے جدید ذرائع ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کو یہ امید دی جاتی ہے کہ وہ مزید تخلیقات الٰہیہ کی توقع رکھیں۔ اگر توفیق الٰہی سے انسان کوئی جدید سہولت اور زینت ایجاد کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ وہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ اور جدید انکشافات و ایجادات سے فائدہ نہ اٹھائیں اور یہ نہ کہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد تو مذکورہ بالا جانوروں ہی سے ضرورت پوری کرتے تھے۔ گھوڑے ، خچر اور گدھوں ہی سے باربرداری کا کام لیتے تھے لہٰذا ہم جدید ذرائع حمل ونقل کو کام میں نہیں لاتے اور نہ ہی ان سے استفادہ کرتے ہیں اور یہ کہ چونکہ قرآن نے صرف مذکورہ بالا اقسام کی تصریح کردی ہے لہٰذا ان کے سوا سہولیات ، خوراک اور زیبائش حرام ہے اسی لیے کہا گیا کہ تخلیقات کا دائرہ وسیع ہے۔ اسلام ایک ایسا نظریہ ہے جو کھلا اور لچکدار ہے۔ وہ زندہ کی تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے استفادہ کرتا ہے اس لیے قرآن کریم مسلمانوں کے ذہن کو آنے والے ادوار کی قوتوں اور علوم کی فراہم کردہ سہولیات سے استفادے کے لئے تیار کرتا ہے۔ ایک مسلمان کا ذہن اس قدر کھلا ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کے تمام انکشافات کو دینی ذہن کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اسے از عجائبات الٰہی اور عجائبات علوم میں سے سمجھتا ہے اور زندگی کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔ دور جدید میں حمل ، نقل اور سواری کے نئے نئے وسائل ایجاد ہوگئے ہیں۔ سہولیات کے ساتھ ساتھ یہ وسائل زیب وزینت کے بھی اعلیٰ ذرائع ہیں۔ نزول قرآن کے دور کے لوگ ان کے بارے میں تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ نیز آئندہ ایسے وسائل بھی ایجاد ہوں گے جن کے بارے میں ہمارے دور کے لوگ سوچ نہیں سکتے۔ ایسے ہی حالات کے لیے قرآن کریم لوگوں کو فکری زاویہ سے تیار کرتا ہے کہ ان کا ذہن منجمد نہ ہو۔ یہی ہے مفہوم ویخلق ما لا تعلمون (16 : 8) کا۔ یہاں بحث یہ تھی کہ اللہ نے انسان کے لئے ذرائع نقل و حمل پیدا کئے۔ ان ذرائع کو استعمال کر کے انسان بڑے بڑے فاصلے طے کرتا ہے۔ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے ، موضوع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ روحانی راستے اور روحانی سفر اور ان کے ذرائع نقل و حمل کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی طرف جانے کے بھی راستے ہیں۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ بالکل سیدھا راستہ ہے۔ دنیا میں اللہ تک پہنچانے کے لئے بعض ٹیڑھے راستے بھی ہیں ، جو در حقیقت اللہ تک نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ خود اللہ ہی بتا تا ہے۔ اس راستے کو معلوم کرنے کے لئے اللہ نے اس کائنات میں نشانات رکھے ہوئے ہیں ان پر تدبر کیا جانا چاہئے اسی لئے خود انسانوں میں سے بعض افراد کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے کہ وہ بھی اس راستے کی نشاندہی کردیں۔

النحل 16:7

آیت نمبر 5 تا 8 جس معاشرے میں قرآن مجید نازل ہوا ، مثلاً سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ، اور اس قسم کے تمام معاشرے جو آج بھی موجود ہیں ، خصوصاً وہ سوسائٹیاں جن کی معیشت زراعت پر مبنی ہے۔ ایسے معاشروں میں انسان کی زندگی کا تصور بھی ان جانوروں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ جزیرۃ العرب میں متعارف جانور یہی تھے ، اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکریاں کھانے پینے کے لئے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے سواریوں اور زینت کے لئے۔ گھوڑوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کا کھانا حرام سمجھتے ہیں کہ بعض احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے نیز قرآن نے اسے رکوب کے لئے بتایا ہے جبکہ دوسرے ائمہ جائز سمجھتے ہیں کیونکہ صحیح احادیث میں گھوڑوں کا گوشت کھانا جائز بتایا گیا ہے۔ قرآن کریم نے یہاں ان جانوروں کو بطور نعمت پیش کیا ہے ، اس لیے کہ ان میں بعض کے ساتھ انسان کی مادی ضروریات وابستہ ہیں اور بعض انسان کے لئے زینت ہیں۔ نیز ان کی جلد سے انسان اپنے لیے لباس بناتا ہے ، ان کی اون اور بالوں سے مختلف مصنوعات تیار ہوتی ہیں ، ان کا دودھ ، گوشت وغیرہ استعمال ہوتا ہے۔ گھی اور چربی اور ہڈیاں تک کام میں آتی ہیں۔ یہ جانور بار برداری کا کام کرتے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک انسان خود بھی سامان پہنچا سکتا ہے مگر بہت بڑی مشقت کے ساتھ۔ نیز صبح جب تم مویشی نکالتے ہو چرنے کے لئے اور شام کو واپس لاتے ہو ، تو یہ تمہارے لئے ایک جمال ہے۔ تم انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہو۔ جب وہ خوبصورت اور موٹے تازے تمہاری نگاہوں کے سامنے آتے ہیں ، شام کے وقت جب خوب پھلے پھولے واپس آتے ہیں ۔ دیہاتی لوگ ان آیات کا مفہوم ، شہریوں کی نسبت زیادہ گہرائی تک سمجھتے ہیں۔ گھوڑے ، خچر اور گدھے زیادہ تر بار برداری کے کام آتے ہیں ۔ ان کو سواری کے طور پر بہت خوبصورت بھی بنایا جاتا ہے۔ لترکبوھا وزینۃ (16 : 8) “ تا کہ ان پر سوار ہو اور تمہاری زندگی کی رونق بنیں ”۔ لفظ زینہ یہاں زیادہ توجہ کے قابل ہے۔ اس سے زندگی کے بارے میں اسلام اور قرآن کا نقطہ نظر سامنے آتا ہے۔ اسلامی زاویہ سے جمال اور حسن زندگی کا اصلی جزو ہے۔ نعمت کا مفہوم ضروریات زندگی ، کھانے پینے اور سواری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انسانی شوق اور تفریح بھی ضروریات زندگی میں سے ہے ۔ حسن و جمال کی حس ، تفریح اور مسرت کا شعور اور اعلیٰ انسانی ذوق ، محض حیوانی ضروریات و حاجات سے ، اسلام کی نظر میں زیادہ اہم ہے۔ ان ربکم لرؤف رحیم (16 : 7) “ تمہارا رب بڑا شفیق و مہربان ہے ”۔ یہ تعقیب اس حقیقت پر ہے کہ باربرداری کا کام اگر خود انسان کو کرنا پڑے تو یہ بہت ہی مشقت کا کام ہے۔ لہٰذا اللہ نے باربرداری کے لئے جو جانور پیدا کئے ہیں وہ اللہ کی رحمت بےپایاں اور نعمت عظیم ہے۔ ویخلق ما لا تعلمون (16 : 8) “ اور وہ بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں ”۔ یہ تعقیب ہے اس پر کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جانور پیدا کئے جنہیں تم کھاتے بھی ہو۔ باربرداری کا کام بھی ان سے لیتے ہو اور وہ تمہارے لیے زینت اور خوشی اور مسرت کا سامان بھی ہیں۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض ایسی چیزوں کی تخلیق بھی کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔ لہٰذا ان مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کے لئے انسانی سوچ کو کھلا رکھا گیا ہے کیونکہ دور جدید میں حمل ونقل کے نئے نئے ذرائع بھی تخلیقات الہٰیہ میں آتے ہیں ، نیز زیب وزینت اور تفریح و مسرت کے نئے نئے ذرائع بھی تم پیدا کرسکتے ہو۔ لہٰذا اس تصور کو ابتدائی معاشرہ جس میں قرآن مجید نازل ہوا ، اسی تک محدود نہیں کردیا گیا۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات زمان و مکان میں مقید نہیں۔ ہر دور اور ہر زمان و مکان کے آگے مزید دور اور مزید زمان ومکان آتے ہیں اور ان میں ضرورت و مسرت کے جدید ذرائع ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کو یہ امید دی جاتی ہے کہ وہ مزید تخلیقات الٰہیہ کی توقع رکھیں۔ اگر توفیق الٰہی سے انسان کوئی جدید سہولت اور زینت ایجاد کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ وہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ اور جدید انکشافات و ایجادات سے فائدہ نہ اٹھائیں اور یہ نہ کہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد تو مذکورہ بالا جانوروں ہی سے ضرورت پوری کرتے تھے۔ گھوڑے ، خچر اور گدھوں ہی سے باربرداری کا کام لیتے تھے لہٰذا ہم جدید ذرائع حمل ونقل کو کام میں نہیں لاتے اور نہ ہی ان سے استفادہ کرتے ہیں اور یہ کہ چونکہ قرآن نے صرف مذکورہ بالا اقسام کی تصریح کردی ہے لہٰذا ان کے سوا سہولیات ، خوراک اور زیبائش حرام ہے اسی لیے کہا گیا کہ تخلیقات کا دائرہ وسیع ہے۔ اسلام ایک ایسا نظریہ ہے جو کھلا اور لچکدار ہے۔ وہ زندہ کی تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے استفادہ کرتا ہے اس لیے قرآن کریم مسلمانوں کے ذہن کو آنے والے ادوار کی قوتوں اور علوم کی فراہم کردہ سہولیات سے استفادے کے لئے تیار کرتا ہے۔ ایک مسلمان کا ذہن اس قدر کھلا ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کے تمام انکشافات کو دینی ذہن کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اسے از عجائبات الٰہی اور عجائبات علوم میں سے سمجھتا ہے اور زندگی کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔ دور جدید میں حمل ، نقل اور سواری کے نئے نئے وسائل ایجاد ہوگئے ہیں۔ سہولیات کے ساتھ ساتھ یہ وسائل زیب وزینت کے بھی اعلیٰ ذرائع ہیں۔ نزول قرآن کے دور کے لوگ ان کے بارے میں تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ نیز آئندہ ایسے وسائل بھی ایجاد ہوں گے جن کے بارے میں ہمارے دور کے لوگ سوچ نہیں سکتے۔ ایسے ہی حالات کے لیے قرآن کریم لوگوں کو فکری زاویہ سے تیار کرتا ہے کہ ان کا ذہن منجمد نہ ہو۔ یہی ہے مفہوم ویخلق ما لا تعلمون (16 : 8) کا۔ یہاں بحث یہ تھی کہ اللہ نے انسان کے لئے ذرائع نقل و حمل پیدا کئے۔ ان ذرائع کو استعمال کر کے انسان بڑے بڑے فاصلے طے کرتا ہے۔ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے ، موضوع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ روحانی راستے اور روحانی سفر اور ان کے ذرائع نقل و حمل کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی طرف جانے کے بھی راستے ہیں۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ بالکل سیدھا راستہ ہے۔ دنیا میں اللہ تک پہنچانے کے لئے بعض ٹیڑھے راستے بھی ہیں ، جو در حقیقت اللہ تک نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ خود اللہ ہی بتا تا ہے۔ اس راستے کو معلوم کرنے کے لئے اللہ نے اس کائنات میں نشانات رکھے ہوئے ہیں ان پر تدبر کیا جانا چاہئے اسی لئے خود انسانوں میں سے بعض افراد کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے کہ وہ بھی اس راستے کی نشاندہی کردیں۔

النحل 16:8

آیت نمبر 5 تا 8 جس معاشرے میں قرآن مجید نازل ہوا ، مثلاً سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ، اور اس قسم کے تمام معاشرے جو آج بھی موجود ہیں ، خصوصاً وہ سوسائٹیاں جن کی معیشت زراعت پر مبنی ہے۔ ایسے معاشروں میں انسان کی زندگی کا تصور بھی ان جانوروں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ جزیرۃ العرب میں متعارف جانور یہی تھے ، اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکریاں کھانے پینے کے لئے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے سواریوں اور زینت کے لئے۔ گھوڑوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کا کھانا حرام سمجھتے ہیں کہ بعض احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے نیز قرآن نے اسے رکوب کے لئے بتایا ہے جبکہ دوسرے ائمہ جائز سمجھتے ہیں کیونکہ صحیح احادیث میں گھوڑوں کا گوشت کھانا جائز بتایا گیا ہے۔ قرآن کریم نے یہاں ان جانوروں کو بطور نعمت پیش کیا ہے ، اس لیے کہ ان میں بعض کے ساتھ انسان کی مادی ضروریات وابستہ ہیں اور بعض انسان کے لئے زینت ہیں۔ نیز ان کی جلد سے انسان اپنے لیے لباس بناتا ہے ، ان کی اون اور بالوں سے مختلف مصنوعات تیار ہوتی ہیں ، ان کا دودھ ، گوشت وغیرہ استعمال ہوتا ہے۔ گھی اور چربی اور ہڈیاں تک کام میں آتی ہیں۔ یہ جانور بار برداری کا کام کرتے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک انسان خود بھی سامان پہنچا سکتا ہے مگر بہت بڑی مشقت کے ساتھ۔ نیز صبح جب تم مویشی نکالتے ہو چرنے کے لئے اور شام کو واپس لاتے ہو ، تو یہ تمہارے لئے ایک جمال ہے۔ تم انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہو۔ جب وہ خوبصورت اور موٹے تازے تمہاری نگاہوں کے سامنے آتے ہیں ، شام کے وقت جب خوب پھلے پھولے واپس آتے ہیں ۔ دیہاتی لوگ ان آیات کا مفہوم ، شہریوں کی نسبت زیادہ گہرائی تک سمجھتے ہیں۔ گھوڑے ، خچر اور گدھے زیادہ تر بار برداری کے کام آتے ہیں ۔ ان کو سواری کے طور پر بہت خوبصورت بھی بنایا جاتا ہے۔ لترکبوھا وزینۃ (16 : 8) “ تا کہ ان پر سوار ہو اور تمہاری زندگی کی رونق بنیں ”۔ لفظ زینہ یہاں زیادہ توجہ کے قابل ہے۔ اس سے زندگی کے بارے میں اسلام اور قرآن کا نقطہ نظر سامنے آتا ہے۔ اسلامی زاویہ سے جمال اور حسن زندگی کا اصلی جزو ہے۔ نعمت کا مفہوم ضروریات زندگی ، کھانے پینے اور سواری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انسانی شوق اور تفریح بھی ضروریات زندگی میں سے ہے ۔ حسن و جمال کی حس ، تفریح اور مسرت کا شعور اور اعلیٰ انسانی ذوق ، محض حیوانی ضروریات و حاجات سے ، اسلام کی نظر میں زیادہ اہم ہے۔ ان ربکم لرؤف رحیم (16 : 7) “ تمہارا رب بڑا شفیق و مہربان ہے ”۔ یہ تعقیب اس حقیقت پر ہے کہ باربرداری کا کام اگر خود انسان کو کرنا پڑے تو یہ بہت ہی مشقت کا کام ہے۔ لہٰذا اللہ نے باربرداری کے لئے جو جانور پیدا کئے ہیں وہ اللہ کی رحمت بےپایاں اور نعمت عظیم ہے۔ ویخلق ما لا تعلمون (16 : 8) “ اور وہ بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں ”۔ یہ تعقیب ہے اس پر کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جانور پیدا کئے جنہیں تم کھاتے بھی ہو۔ باربرداری کا کام بھی ان سے لیتے ہو اور وہ تمہارے لیے زینت اور خوشی اور مسرت کا سامان بھی ہیں۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض ایسی چیزوں کی تخلیق بھی کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔ لہٰذا ان مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کے لئے انسانی سوچ کو کھلا رکھا گیا ہے کیونکہ دور جدید میں حمل ونقل کے نئے نئے ذرائع بھی تخلیقات الہٰیہ میں آتے ہیں ، نیز زیب وزینت اور تفریح و مسرت کے نئے نئے ذرائع بھی تم پیدا کرسکتے ہو۔ لہٰذا اس تصور کو ابتدائی معاشرہ جس میں قرآن مجید نازل ہوا ، اسی تک محدود نہیں کردیا گیا۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات زمان و مکان میں مقید نہیں۔ ہر دور اور ہر زمان و مکان کے آگے مزید دور اور مزید زمان ومکان آتے ہیں اور ان میں ضرورت و مسرت کے جدید ذرائع ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کو یہ امید دی جاتی ہے کہ وہ مزید تخلیقات الٰہیہ کی توقع رکھیں۔ اگر توفیق الٰہی سے انسان کوئی جدید سہولت اور زینت ایجاد کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ وہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ اور جدید انکشافات و ایجادات سے فائدہ نہ اٹھائیں اور یہ نہ کہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد تو مذکورہ بالا جانوروں ہی سے ضرورت پوری کرتے تھے۔ گھوڑے ، خچر اور گدھوں ہی سے باربرداری کا کام لیتے تھے لہٰذا ہم جدید ذرائع حمل ونقل کو کام میں نہیں لاتے اور نہ ہی ان سے استفادہ کرتے ہیں اور یہ کہ چونکہ قرآن نے صرف مذکورہ بالا اقسام کی تصریح کردی ہے لہٰذا ان کے سوا سہولیات ، خوراک اور زیبائش حرام ہے اسی لیے کہا گیا کہ تخلیقات کا دائرہ وسیع ہے۔ اسلام ایک ایسا نظریہ ہے جو کھلا اور لچکدار ہے۔ وہ زندہ کی تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے استفادہ کرتا ہے اس لیے قرآن کریم مسلمانوں کے ذہن کو آنے والے ادوار کی قوتوں اور علوم کی فراہم کردہ سہولیات سے استفادے کے لئے تیار کرتا ہے۔ ایک مسلمان کا ذہن اس قدر کھلا ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کے تمام انکشافات کو دینی ذہن کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اسے از عجائبات الٰہی اور عجائبات علوم میں سے سمجھتا ہے اور زندگی کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔ دور جدید میں حمل ، نقل اور سواری کے نئے نئے وسائل ایجاد ہوگئے ہیں۔ سہولیات کے ساتھ ساتھ یہ وسائل زیب وزینت کے بھی اعلیٰ ذرائع ہیں۔ نزول قرآن کے دور کے لوگ ان کے بارے میں تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ نیز آئندہ ایسے وسائل بھی ایجاد ہوں گے جن کے بارے میں ہمارے دور کے لوگ سوچ نہیں سکتے۔ ایسے ہی حالات کے لیے قرآن کریم لوگوں کو فکری زاویہ سے تیار کرتا ہے کہ ان کا ذہن منجمد نہ ہو۔ یہی ہے مفہوم ویخلق ما لا تعلمون (16 : 8) کا۔ یہاں بحث یہ تھی کہ اللہ نے انسان کے لئے ذرائع نقل و حمل پیدا کئے۔ ان ذرائع کو استعمال کر کے انسان بڑے بڑے فاصلے طے کرتا ہے۔ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے ، موضوع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ روحانی راستے اور روحانی سفر اور ان کے ذرائع نقل و حمل کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی طرف جانے کے بھی راستے ہیں۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ بالکل سیدھا راستہ ہے۔ دنیا میں اللہ تک پہنچانے کے لئے بعض ٹیڑھے راستے بھی ہیں ، جو در حقیقت اللہ تک نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ خود اللہ ہی بتا تا ہے۔ اس راستے کو معلوم کرنے کے لئے اللہ نے اس کائنات میں نشانات رکھے ہوئے ہیں ان پر تدبر کیا جانا چاہئے اسی لئے خود انسانوں میں سے بعض افراد کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے کہ وہ بھی اس راستے کی نشاندہی کردیں۔

النحل 16:9

آیت نمبر 9 سیدھا راستہ یا سبیل قاصد صراط مستقیم ہے ، گویا وہ راستہ خود منزل مقصود کا قصد کرتا ہے۔ وہ منزل سے ادھر ادھر نہیں ہوتا اور سبیل جائر اس راستے کو کہتے ہیں جو منزل مقصود سے منحرف ہوتا ہے اور منزل مقصود تک نہیں پہنچتا یا منزل مقصود سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ ولو شاء لھدکم اجمعین (16 : 9) “ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ”۔ لیکن اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ انسان کو اس نے ہدایت و ضلالت کی استعداد دے دی اور انسان ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے یا ضلالت کی راہ لیتا ہے یہ اللہ نے اس کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دیا ہے۔ چناچہ انسانوں میں سے بعض تو سبیل قاصد پر چلتے ہیں اور بعض ٹیٹرھی راہ کو کرلیتے ہیں۔ یہ دونوں قسم کے لوگ اللہ کے دائرہ مشیت کے بہرحال اندر ہی رہتے ہیں کیونکہ انسان کے لئے آزادی اور اختیار کا تعین بہرحال اللہ ہی نے کیا تھا۔

النحل 16:10

اب آیات تخلیق اور انعامات کا دوسرا حصہ۔ آیت نمبر 10 تا 11 یہ پانی آسمانوں سے اترتا ہے ، ان قوانین کے مطابق جو قدرت نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں۔ یہ قوانین اس کائنات کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان حرکات کے نتائج خالق مدبر کے ارادے اور تدبیر کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ یہ بارش جو آسمانوں سے برستی ہے اسے اللہ کے انعامات میں سے ایک انعام کہا گیا ہے۔ منہ شراب (16 : 10) “ تم اس سے پیتے ہو ”۔ اس کی بڑی خصوصیت تو آبنوشی ہے۔ اس کے بعد اس کی خصوصیت : ومنہ شجر فیہ تسیمون (16 : 10) “ اس میں درخت پیدا ہوتے ہیں جو تمہارے جانوروں کے لئے چارہ بنتے ہیں ”۔ تمام چراگاہیں اور درختوں کے پتے اس ذیل میں آتے ہیں۔ چراگاہوں اور درختوں کا ذکر جانوروں کی مناسبت سے ہوا ، جن سے جانوروں کے چارے کا انتظام کیا گیا۔ پھر زرعی پیداوار کا ذکر ہوا جو انسان کے لئے خوراک کا کام دیتی ہے۔ مزید انسان کی خوراک کے سلسلے میں زیتون ، کھجور ، انگور وغیرہ پھلوں کی انواع و اقسام وغیرہ کا ذکر ہوا۔ ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون (16 : 11) “ اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر کرتے ہیں ”۔ کس امر میں غوروفکر ؟ اس میں کہ اللہ اس کائنات کی تدبیر کس عظیم حکمت سے کر رہا ہے۔ اس نے اس کے اندر کس قدر اٹل قوانین فطرت جاری کر دئیے ہیں جو بشر کے لئے ممد حیات ہیں۔ انسان اس کرۂ ارض یا ستارۂ کائنات موسومہ بہ زمین میں ہرگز زندہ نہ رہ سکتا ، اگر اللہ اس کائنات میں ایسے قوانین فطرت وضع نہ کرتا جو اس کے لئے ممد حیات ہیں اور اس کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس کی فطری خواہشات کو پورا کرنے والے ہیں۔ یہ محض حسن اتفاق نہیں ہے کہ اس کرۂ ارض پر انسان کو پیدا کردیا گیا ہو اور اس کرۂ ارض کو دوسرے کر ات سماوی کے ساتھ موجودہ نسبت میں رکھ دیا گیا ہو اور فضائی اور کلیاتی حرکات اس نظام کے مطابق محض اتفاقاً متعین ہوگئی ہوں جس طرح کہ آج ہیں اور یہ محض اتفاقاً انسان کے لئے ممد حیات بن گئی ہوں جس طرح کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ جو لوگ غوروفکر کی صلاحیت رکھتے ہیں ، وہ اللہ کے حسن تدبیر اور حکمت تدبیر کو سمجھتے ہیں۔ مدبرین کرۂ ارض کی خصوصیات روئیدگی ، اس کے پھل پھول اور ہواؤں اور بارشوں کے نظام کو اللہ کے نوامیس فطرت کے ساتھ جوڑتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے کہ ایک خالق حکیم ہے جس نے یہ سب کچھ کیا۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ اس کا ارادہ ایک ہی جیسا ہے ، اور اس کے قوانین کے اثرات وثمرات یکساں ہیں۔ رہے غافل تو وہ ان چیزوں کو صبح و شام دیکھتے ہیں ، گرمیوں اور سردیوں میں دیکھتے ہیں ، لیکن ان کے مدارک فہم و ادراک سوئے رہتے ہیں۔ ان کے قوائے اخذو ادراک اور ان کا ضمیر و شعور اس حکیم کی تلاش میں نہیں نکلتا جس نے اس کائنات بوقلموں کو پیدا کیا۔ وہ نہیں سوچتے کہ اس عجیب و غریب نظام کا موجد کون ہے۔

النحل 16:11

اب آیات تخلیق اور انعامات کا دوسرا حصہ۔ آیت نمبر 10 تا 11 یہ پانی آسمانوں سے اترتا ہے ، ان قوانین کے مطابق جو قدرت نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں۔ یہ قوانین اس کائنات کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان حرکات کے نتائج خالق مدبر کے ارادے اور تدبیر کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ یہ بارش جو آسمانوں سے برستی ہے اسے اللہ کے انعامات میں سے ایک انعام کہا گیا ہے۔ منہ شراب (16 : 10) “ تم اس سے پیتے ہو ”۔ اس کی بڑی خصوصیت تو آبنوشی ہے۔ اس کے بعد اس کی خصوصیت : ومنہ شجر فیہ تسیمون (16 : 10) “ اس میں درخت پیدا ہوتے ہیں جو تمہارے جانوروں کے لئے چارہ بنتے ہیں ”۔ تمام چراگاہیں اور درختوں کے پتے اس ذیل میں آتے ہیں۔ چراگاہوں اور درختوں کا ذکر جانوروں کی مناسبت سے ہوا ، جن سے جانوروں کے چارے کا انتظام کیا گیا۔ پھر زرعی پیداوار کا ذکر ہوا جو انسان کے لئے خوراک کا کام دیتی ہے۔ مزید انسان کی خوراک کے سلسلے میں زیتون ، کھجور ، انگور وغیرہ پھلوں کی انواع و اقسام وغیرہ کا ذکر ہوا۔ ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون (16 : 11) “ اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر کرتے ہیں ”۔ کس امر میں غوروفکر ؟ اس میں کہ اللہ اس کائنات کی تدبیر کس عظیم حکمت سے کر رہا ہے۔ اس نے اس کے اندر کس قدر اٹل قوانین فطرت جاری کر دئیے ہیں جو بشر کے لئے ممد حیات ہیں۔ انسان اس کرۂ ارض یا ستارۂ کائنات موسومہ بہ زمین میں ہرگز زندہ نہ رہ سکتا ، اگر اللہ اس کائنات میں ایسے قوانین فطرت وضع نہ کرتا جو اس کے لئے ممد حیات ہیں اور اس کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس کی فطری خواہشات کو پورا کرنے والے ہیں۔ یہ محض حسن اتفاق نہیں ہے کہ اس کرۂ ارض پر انسان کو پیدا کردیا گیا ہو اور اس کرۂ ارض کو دوسرے کر ات سماوی کے ساتھ موجودہ نسبت میں رکھ دیا گیا ہو اور فضائی اور کلیاتی حرکات اس نظام کے مطابق محض اتفاقاً متعین ہوگئی ہوں جس طرح کہ آج ہیں اور یہ محض اتفاقاً انسان کے لئے ممد حیات بن گئی ہوں جس طرح کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ جو لوگ غوروفکر کی صلاحیت رکھتے ہیں ، وہ اللہ کے حسن تدبیر اور حکمت تدبیر کو سمجھتے ہیں۔ مدبرین کرۂ ارض کی خصوصیات روئیدگی ، اس کے پھل پھول اور ہواؤں اور بارشوں کے نظام کو اللہ کے نوامیس فطرت کے ساتھ جوڑتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے کہ ایک خالق حکیم ہے جس نے یہ سب کچھ کیا۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ اس کا ارادہ ایک ہی جیسا ہے ، اور اس کے قوانین کے اثرات وثمرات یکساں ہیں۔ رہے غافل تو وہ ان چیزوں کو صبح و شام دیکھتے ہیں ، گرمیوں اور سردیوں میں دیکھتے ہیں ، لیکن ان کے مدارک فہم و ادراک سوئے رہتے ہیں۔ ان کے قوائے اخذو ادراک اور ان کا ضمیر و شعور اس حکیم کی تلاش میں نہیں نکلتا جس نے اس کائنات بوقلموں کو پیدا کیا۔ وہ نہیں سوچتے کہ اس عجیب و غریب نظام کا موجد کون ہے۔

النحل 16:12

اب آیات دلائل کائنات کا تیسرا گروپ۔ آیت نمبر 12 تدبیر مخلوقات اور انسان پر اس کے انعامات کا ایک مظہر گردش لیل و نہار ہے۔ شمس و قمر کی گردش اور سیاروں اور ستاروں کا یہ نظام بھی انسان کے لئے ممد حیات ہے۔ یہ تمام مظاہر انسانوں کی ڈیوٹی میں لگے ہوئے ہیں ، اپنے یوم تخلیق سے یہ خدمت انسان پر مامور ہیں۔ گردش لیل ونہار تو حیات انسان میں فیصلہ کن اثر رکھتی ہے۔ ذرا سوچو کہ اگر دن بھی قائم و دائم ہوجائے اور رات نہ آئے یا رات ہی قائم رہ جائے اور دن نہ آئے تو ؟ پہلی صورت میں زمین جل جائے اور دوسری صورت میں زمین جم جائے۔ شمس وقمر اور اس کرۂ ارض پر نظام حیات سے اس کا تعلق بالکل واضح ہے۔ شمس و قمر کی گردش سے انسانی زندگی براہ راست متعلق ہے۔ والنجوم مسخرت بامرہ ( 16 : 12) ” سب ستارے اس کے حکم سے مسخر ہیں “۔ یہ سب انسان اور غیر انسانی مخلوقات کے لئے مفید اور ممد حیات ہیں جن کی افادیت کا حقیقی علم صرف اللہ کو ہے “۔ یہ باتیں اللہ کی حکمت و تدبیر کا ایک حصہ ہیں اور اللہ کے تمام قوانین مدبرہ باہم ہم آہنگ ہیں ، ان قوانین مدبرہ اور حکمت تدبیر کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے جو غوروفکر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مظاہر فطرت کے پیچھے ایک قوت مدبرہ کارفرما ہے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (16 : 12) ” اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔

النحل 16:13

اب آیات و دلائل کائنات کا چوتھا گروپ : آیت نمبر 13 اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس کے اندر قسم قسم کی معدنیات پیدا کیں ، رنگ برنگ کے پتھر اور دوسری چیزیں جن پر انسانوں کی زندگی موقوف ہے لیکن اللہ نے ان ضروریات حیات کے ایسے ذخیرے پیدا کئے ہیں جو نہ ختم ہونے والے ہیں۔ پھر نئی نئی دریافتیں جو انسان اس زمین میں کر رہا ہے اور زمین کے اندر پوشیدہ خزانے اور ذرائع قوت دریافت کر رہا ہے ، جوں جوں اس کی حاجات و ضروریات بڑھتی ہے وہ دریافتیں کرتا چلا جاتا ہے۔ ایک خزانہ ختم ہوتا ہے تو قوت کے کئی اور خزانے دریافت ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کا رزق ہے جو اس نے بندوں کے لئے ذخیرہ کر رکھا ہے۔ ان فی ذلک لایۃ لقوم یذکرون (16 : 13) ” ان میں ضرور نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سبق حاصل کرتے ہیں “۔ ایسے لوگ اس بات کو نہیں بھولتے کہ دست قدرت نے یہ خزانے ہمارے لیے ودیعت کئے ہیں۔ اب آیات دلائل کائنات کا پانچواں گروپ آتا ہے۔ جو ان مخلوقات متنوعہ کے بارے میں ہے جن سے تلخ سمندر بھرا پڑا ہے۔ سمندر کا پانی پینے کے قابل تو نہیں ہے لیکن انسان کے لئے کئی پہلوؤں سے مفید ہے۔

النحل 16:14

آیت نمبر 14 سمندروں کی متنوع حیات بھی انسانی زندگی کے لئے مفید و ممد ہے۔ سمندروں میں انسانی زندگی کی دلچسپیوں کے دوسرے سامان بھی موجود ہیں۔ مچھلیوں اور دوسرے حیوانات بحری انسان کے لئے بہترین غذا ہیں۔ نیز سمندر کے موتی ، مونگے اور سیپ انسان کے لئے بطور زیور آج کے دور جدید میں بھی کام دیتے ہیں۔ یہاں کشتی کا فائدہ صرف سفر ہی نہیں بتایا گیا بلکہ سمندروں میں کشتیوں کے چلنے کے منظر کے حسن کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ وتری الفلک مواخر فیہ (16 : 14) ” تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے چلتی ہے “۔ لفظ تری سے کشتی ، پانی اور کشتی کی روانی کے خوبصورت منظر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سمندری جہاز پانی کو چیرتے ہوئے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس فقرے سے ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام اس جہان کے جمالیاتی پہلو کو نظر انداز نہیں کرتا۔ کائنات کی ہر چیز کو افادۂ حیات کے علاوہ انسان کے لئے حسین بھی بنایا گیا ہے۔ پھر قرآن مجید اس منظر سے انسان کو سبق سکھاتا ہے کہ یہ تمہارے لیے مفید بھی ہے ، تمہارے سفر و تجارت کا ذریعہ بھی ، اور یہ منظر تمہاری آنکھوں کے لئے خوبصورت بھی ہے لیکن ان تمام چیزوں کا تقاضا یہ بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجالاؤ۔ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون (16 : 14) ” یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو “۔

النحل 16:15

اب اس سبق میں آیات و دلائل کائنات کا آخری گروپ۔ آیت نمبر 15 تا 16 پہاڑوں کو زمین میں میخ بنایا۔ جدید علم جغرافیہ اس کے اسباب سے بحث کرتا ہے ، لیکن علم جدید نے یہ نہیں بتایا کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ایک طرف ڈھلک جاتی ۔ یہ حقیقت صرف قرآن مجید نے بیان کی ہے۔ جدید علم جغرافیہ پہاڑوں کے وجود کے متضاد اسباب بیان کرتا ہے ۔ مثلاً یہ کہ زمین کا اندرون ایک گرم لاوا ہے۔ وہ جب ٹھنڈا ہوتا ہے تو سکڑ جاتا ہے اور اس کے اوپر زمین کی سطح بھی سکڑ کر ایک شکن کی صورت میں پہاڑ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یوں اونچے اونچے پہاڑ اور وادیاں وجود میں آجاتی ہیں۔ لیکن قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ یہ پہاڑ زمین کے اندر توازن رفتار پیدا کرتے ہیں۔ علم جدید نے شاید ابھی تک اس پہلو پر غور نہیں کیا۔ ان پہاڑوں کے بالمقابل بڑی بڑی وادیاں ہیں اور ان میں مختلف راستے اور ندیاں نالے ہیں۔ اس کی طرف بھی متوجہ کیا جاتا ہے۔ پہاڑوں کے ساتھ ندی نالے طبعی تعلق رکھتے ہیں۔ پہاڑوں سے دریا نکلتے ہیں۔ پہاڑوں کے اوپر برف پڑتی ہے اور بارش ہوتی ہے اور پھر اس سے دریاؤں اور ندی نالوں سے راستے نکلتے ہیں۔ پھر ان راستوں پر لوگ چلتے ہیں۔ سامان پہنچاتے اور باربرداری کا کام کرتے ہیں۔ پھر ان راستوں کے لئے نشانات راہ وضع ہوتے ہیں ، جس طرح یہ پہاڑ راستوں کا نشان ہوتے ہیں ، اسی طرح صحراؤں اور سمندروں میں ستارے راہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ غرض اللہ کی یہ پوری کائنات انسان کے لئے مفید ہے۔ آیات تخلیق اور نشانات انعامات باری اور حکمت تدبیر کائنات کے بیان بعد اب وہ بات واضح طور پر بیان کی جاتی ہے جس کے لئے یہ پورے دلائل و شواہد پیش کئے گئے۔ یہ تمام شواہد اس مقصد کے لئے لائے گئے تھے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اور وہ ان باتوں سے منزہ ہے جو یہ لوگ اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔

النحل 16:16

اب اس سبق میں آیات و دلائل کائنات کا آخری گروپ۔ آیت نمبر 15 تا 16 پہاڑوں کو زمین میں میخ بنایا۔ جدید علم جغرافیہ اس کے اسباب سے بحث کرتا ہے ، لیکن علم جدید نے یہ نہیں بتایا کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ایک طرف ڈھلک جاتی ۔ یہ حقیقت صرف قرآن مجید نے بیان کی ہے۔ جدید علم جغرافیہ پہاڑوں کے وجود کے متضاد اسباب بیان کرتا ہے ۔ مثلاً یہ کہ زمین کا اندرون ایک گرم لاوا ہے۔ وہ جب ٹھنڈا ہوتا ہے تو سکڑ جاتا ہے اور اس کے اوپر زمین کی سطح بھی سکڑ کر ایک شکن کی صورت میں پہاڑ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یوں اونچے اونچے پہاڑ اور وادیاں وجود میں آجاتی ہیں۔ لیکن قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ یہ پہاڑ زمین کے اندر توازن رفتار پیدا کرتے ہیں۔ علم جدید نے شاید ابھی تک اس پہلو پر غور نہیں کیا۔ ان پہاڑوں کے بالمقابل بڑی بڑی وادیاں ہیں اور ان میں مختلف راستے اور ندیاں نالے ہیں۔ اس کی طرف بھی متوجہ کیا جاتا ہے۔ پہاڑوں کے ساتھ ندی نالے طبعی تعلق رکھتے ہیں۔ پہاڑوں سے دریا نکلتے ہیں۔ پہاڑوں کے اوپر برف پڑتی ہے اور بارش ہوتی ہے اور پھر اس سے دریاؤں اور ندی نالوں سے راستے نکلتے ہیں۔ پھر ان راستوں پر لوگ چلتے ہیں۔ سامان پہنچاتے اور باربرداری کا کام کرتے ہیں۔ پھر ان راستوں کے لئے نشانات راہ وضع ہوتے ہیں ، جس طرح یہ پہاڑ راستوں کا نشان ہوتے ہیں ، اسی طرح صحراؤں اور سمندروں میں ستارے راہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ غرض اللہ کی یہ پوری کائنات انسان کے لئے مفید ہے۔ آیات تخلیق اور نشانات انعامات باری اور حکمت تدبیر کائنات کے بیان بعد اب وہ بات واضح طور پر بیان کی جاتی ہے جس کے لئے یہ پورے دلائل و شواہد پیش کئے گئے۔ یہ تمام شواہد اس مقصد کے لئے لائے گئے تھے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اور وہ ان باتوں سے منزہ ہے جو یہ لوگ اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔

النحل 16:17

آیت نمبر 17 تا 21 اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔ یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی تخلیق کی ہے اس شخص کے برابر تصور کرسکتا ہے جس نے کوئی چیز بھی پیدا نہیں کی۔ نہ بڑی اور نہ چھوٹی۔ افلا تذکرون (16 : 17) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ اس کے لئے تو محض یادداشت تازہ کرنے کی ضرورت ہے ، یہ امر تو تمہاری فطرت کے اندر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کے کئی رنگ اور کئی پہلو بیان کرنے کے بعد یہ کہا : وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (16 : 18) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے “۔ شکر ادا کرنا تو دور کی بات ہے اس لیے کہ نہ ان کا شمار ممکن ہے اور نہ شکر ، بلکہ اللہ کے اکثر انعامات ایسے ہیں جن کے بارے میں ابھی تک انسان کو علم ہی حاصل نہیں ہوسکا۔ کیونکہ بعض امور کو انسان روٹین کے امور سمجھتا ہے۔ ان کا اسے شعور ہی نہیں ہوتا۔ اسے تب احساس ہوتا ہے جب کوئی نعمت چھن جاتی ہے۔ ذرا انسان کے جسم کی میکان کی ترکیب کو دیکھو ! جس کا ہر حصہ ایک فریضہ ادا کر رہا ہے اور انسان کو احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی پرزۂ جسم ناکارہ ہوجائے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر عظیم نعمت سے محروم ہوگیا ہے۔ بس انسان پر تقصیر اور ضعیف کی مدد کو تو اللہ کی صفت رحمت اور صفت عفو ریت پہنچتی ہے۔ ان اللہ لغفور رحیم (16 : 18) ” بیشک اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا رحیم ہے “۔ وہ خالق ایسی ذات ہے جو ہمارے کھلے اور پوشیدہ تمام امور سے واقف ہے۔ واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون (16 : 19) ” اور اللہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی “۔ لہٰذا یہ بات تعجب انگیز ہے کہ لوگ اللہ کی ذات کو ان اشخاص و اشیاء کے ساتھ برابر کرتے ہیں جو نہ کوئی حقیر سی شے بھی پیدا کرسکتے ہیں ، نہ کوئی چیز جانتے ہیں ، بلکہ وہ تو مردہ ہیں ، ان کے اندر زندگی داخل ہی نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ ہے کہ وہ شعور نہیں رکھتے۔ والذین یدعون ۔۔۔۔۔ وھم یخلقون (20) اموات ۔۔۔۔۔ یبعثون (21) (16 : 20- 21) ” اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں ، مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا “۔ یہاں جو بعث بعد الموت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے خالق تو وہ ہوتا ہے جسے بعث کا علم ہو ، کیونکہ تخلیق کی تکمیل تب ہوگی جب قیامت برپا ہوگی اور اس وقت تمام ذی عقل افراد کو ان کے کئے کی جزاء وسزا دی جائے گی۔ لہٰذا ایسے خدا جن کو بعث بعد الموت کا علم ہی نہیں ہے وہ خدایا الٰہ ہونے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو ایک مذاق ہے کہ ایک خالق کو نہ اپنی مخلوق کا پتہ ہو اور نہ یہ علم ہو کہ اس مخلوق کو کب اٹھایا جائے گا۔

النحل 16:18

آیت نمبر 17 تا 21 اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔ یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی تخلیق کی ہے اس شخص کے برابر تصور کرسکتا ہے جس نے کوئی چیز بھی پیدا نہیں کی۔ نہ بڑی اور نہ چھوٹی۔ افلا تذکرون (16 : 17) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ اس کے لئے تو محض یادداشت تازہ کرنے کی ضرورت ہے ، یہ امر تو تمہاری فطرت کے اندر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کے کئی رنگ اور کئی پہلو بیان کرنے کے بعد یہ کہا : وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (16 : 18) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے “۔ شکر ادا کرنا تو دور کی بات ہے اس لیے کہ نہ ان کا شمار ممکن ہے اور نہ شکر ، بلکہ اللہ کے اکثر انعامات ایسے ہیں جن کے بارے میں ابھی تک انسان کو علم ہی حاصل نہیں ہوسکا۔ کیونکہ بعض امور کو انسان روٹین کے امور سمجھتا ہے۔ ان کا اسے شعور ہی نہیں ہوتا۔ اسے تب احساس ہوتا ہے جب کوئی نعمت چھن جاتی ہے۔ ذرا انسان کے جسم کی میکان کی ترکیب کو دیکھو ! جس کا ہر حصہ ایک فریضہ ادا کر رہا ہے اور انسان کو احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی پرزۂ جسم ناکارہ ہوجائے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر عظیم نعمت سے محروم ہوگیا ہے۔ بس انسان پر تقصیر اور ضعیف کی مدد کو تو اللہ کی صفت رحمت اور صفت عفو ریت پہنچتی ہے۔ ان اللہ لغفور رحیم (16 : 18) ” بیشک اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا رحیم ہے “۔ وہ خالق ایسی ذات ہے جو ہمارے کھلے اور پوشیدہ تمام امور سے واقف ہے۔ واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون (16 : 19) ” اور اللہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی “۔ لہٰذا یہ بات تعجب انگیز ہے کہ لوگ اللہ کی ذات کو ان اشخاص و اشیاء کے ساتھ برابر کرتے ہیں جو نہ کوئی حقیر سی شے بھی پیدا کرسکتے ہیں ، نہ کوئی چیز جانتے ہیں ، بلکہ وہ تو مردہ ہیں ، ان کے اندر زندگی داخل ہی نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ ہے کہ وہ شعور نہیں رکھتے۔ والذین یدعون ۔۔۔۔۔ وھم یخلقون (20) اموات ۔۔۔۔۔ یبعثون (21) (16 : 20- 21) ” اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں ، مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا “۔ یہاں جو بعث بعد الموت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے خالق تو وہ ہوتا ہے جسے بعث کا علم ہو ، کیونکہ تخلیق کی تکمیل تب ہوگی جب قیامت برپا ہوگی اور اس وقت تمام ذی عقل افراد کو ان کے کئے کی جزاء وسزا دی جائے گی۔ لہٰذا ایسے خدا جن کو بعث بعد الموت کا علم ہی نہیں ہے وہ خدایا الٰہ ہونے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو ایک مذاق ہے کہ ایک خالق کو نہ اپنی مخلوق کا پتہ ہو اور نہ یہ علم ہو کہ اس مخلوق کو کب اٹھایا جائے گا۔

النحل 16:19

آیت نمبر 17 تا 21 اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔ یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی تخلیق کی ہے اس شخص کے برابر تصور کرسکتا ہے جس نے کوئی چیز بھی پیدا نہیں کی۔ نہ بڑی اور نہ چھوٹی۔ افلا تذکرون (16 : 17) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ اس کے لئے تو محض یادداشت تازہ کرنے کی ضرورت ہے ، یہ امر تو تمہاری فطرت کے اندر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کے کئی رنگ اور کئی پہلو بیان کرنے کے بعد یہ کہا : وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (16 : 18) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے “۔ شکر ادا کرنا تو دور کی بات ہے اس لیے کہ نہ ان کا شمار ممکن ہے اور نہ شکر ، بلکہ اللہ کے اکثر انعامات ایسے ہیں جن کے بارے میں ابھی تک انسان کو علم ہی حاصل نہیں ہوسکا۔ کیونکہ بعض امور کو انسان روٹین کے امور سمجھتا ہے۔ ان کا اسے شعور ہی نہیں ہوتا۔ اسے تب احساس ہوتا ہے جب کوئی نعمت چھن جاتی ہے۔ ذرا انسان کے جسم کی میکان کی ترکیب کو دیکھو ! جس کا ہر حصہ ایک فریضہ ادا کر رہا ہے اور انسان کو احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی پرزۂ جسم ناکارہ ہوجائے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر عظیم نعمت سے محروم ہوگیا ہے۔ بس انسان پر تقصیر اور ضعیف کی مدد کو تو اللہ کی صفت رحمت اور صفت عفو ریت پہنچتی ہے۔ ان اللہ لغفور رحیم (16 : 18) ” بیشک اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا رحیم ہے “۔ وہ خالق ایسی ذات ہے جو ہمارے کھلے اور پوشیدہ تمام امور سے واقف ہے۔ واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون (16 : 19) ” اور اللہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی “۔ لہٰذا یہ بات تعجب انگیز ہے کہ لوگ اللہ کی ذات کو ان اشخاص و اشیاء کے ساتھ برابر کرتے ہیں جو نہ کوئی حقیر سی شے بھی پیدا کرسکتے ہیں ، نہ کوئی چیز جانتے ہیں ، بلکہ وہ تو مردہ ہیں ، ان کے اندر زندگی داخل ہی نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ ہے کہ وہ شعور نہیں رکھتے۔ والذین یدعون ۔۔۔۔۔ وھم یخلقون (20) اموات ۔۔۔۔۔ یبعثون (21) (16 : 20- 21) ” اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں ، مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا “۔ یہاں جو بعث بعد الموت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے خالق تو وہ ہوتا ہے جسے بعث کا علم ہو ، کیونکہ تخلیق کی تکمیل تب ہوگی جب قیامت برپا ہوگی اور اس وقت تمام ذی عقل افراد کو ان کے کئے کی جزاء وسزا دی جائے گی۔ لہٰذا ایسے خدا جن کو بعث بعد الموت کا علم ہی نہیں ہے وہ خدایا الٰہ ہونے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو ایک مذاق ہے کہ ایک خالق کو نہ اپنی مخلوق کا پتہ ہو اور نہ یہ علم ہو کہ اس مخلوق کو کب اٹھایا جائے گا۔

النحل 16:20

آیت نمبر 17 تا 21 اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔ یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی تخلیق کی ہے اس شخص کے برابر تصور کرسکتا ہے جس نے کوئی چیز بھی پیدا نہیں کی۔ نہ بڑی اور نہ چھوٹی۔ افلا تذکرون (16 : 17) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ اس کے لئے تو محض یادداشت تازہ کرنے کی ضرورت ہے ، یہ امر تو تمہاری فطرت کے اندر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کے کئی رنگ اور کئی پہلو بیان کرنے کے بعد یہ کہا : وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (16 : 18) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے “۔ شکر ادا کرنا تو دور کی بات ہے اس لیے کہ نہ ان کا شمار ممکن ہے اور نہ شکر ، بلکہ اللہ کے اکثر انعامات ایسے ہیں جن کے بارے میں ابھی تک انسان کو علم ہی حاصل نہیں ہوسکا۔ کیونکہ بعض امور کو انسان روٹین کے امور سمجھتا ہے۔ ان کا اسے شعور ہی نہیں ہوتا۔ اسے تب احساس ہوتا ہے جب کوئی نعمت چھن جاتی ہے۔ ذرا انسان کے جسم کی میکان کی ترکیب کو دیکھو ! جس کا ہر حصہ ایک فریضہ ادا کر رہا ہے اور انسان کو احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی پرزۂ جسم ناکارہ ہوجائے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر عظیم نعمت سے محروم ہوگیا ہے۔ بس انسان پر تقصیر اور ضعیف کی مدد کو تو اللہ کی صفت رحمت اور صفت عفو ریت پہنچتی ہے۔ ان اللہ لغفور رحیم (16 : 18) ” بیشک اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا رحیم ہے “۔ وہ خالق ایسی ذات ہے جو ہمارے کھلے اور پوشیدہ تمام امور سے واقف ہے۔ واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون (16 : 19) ” اور اللہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی “۔ لہٰذا یہ بات تعجب انگیز ہے کہ لوگ اللہ کی ذات کو ان اشخاص و اشیاء کے ساتھ برابر کرتے ہیں جو نہ کوئی حقیر سی شے بھی پیدا کرسکتے ہیں ، نہ کوئی چیز جانتے ہیں ، بلکہ وہ تو مردہ ہیں ، ان کے اندر زندگی داخل ہی نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ ہے کہ وہ شعور نہیں رکھتے۔ والذین یدعون ۔۔۔۔۔ وھم یخلقون (20) اموات ۔۔۔۔۔ یبعثون (21) (16 : 20- 21) ” اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں ، مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا “۔ یہاں جو بعث بعد الموت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے خالق تو وہ ہوتا ہے جسے بعث کا علم ہو ، کیونکہ تخلیق کی تکمیل تب ہوگی جب قیامت برپا ہوگی اور اس وقت تمام ذی عقل افراد کو ان کے کئے کی جزاء وسزا دی جائے گی۔ لہٰذا ایسے خدا جن کو بعث بعد الموت کا علم ہی نہیں ہے وہ خدایا الٰہ ہونے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو ایک مذاق ہے کہ ایک خالق کو نہ اپنی مخلوق کا پتہ ہو اور نہ یہ علم ہو کہ اس مخلوق کو کب اٹھایا جائے گا۔

النحل 16:21

آیت نمبر 17 تا 21 اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔ یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی تخلیق کی ہے اس شخص کے برابر تصور کرسکتا ہے جس نے کوئی چیز بھی پیدا نہیں کی۔ نہ بڑی اور نہ چھوٹی۔ افلا تذکرون (16 : 17) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ اس کے لئے تو محض یادداشت تازہ کرنے کی ضرورت ہے ، یہ امر تو تمہاری فطرت کے اندر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کے کئی رنگ اور کئی پہلو بیان کرنے کے بعد یہ کہا : وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (16 : 18) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے “۔ شکر ادا کرنا تو دور کی بات ہے اس لیے کہ نہ ان کا شمار ممکن ہے اور نہ شکر ، بلکہ اللہ کے اکثر انعامات ایسے ہیں جن کے بارے میں ابھی تک انسان کو علم ہی حاصل نہیں ہوسکا۔ کیونکہ بعض امور کو انسان روٹین کے امور سمجھتا ہے۔ ان کا اسے شعور ہی نہیں ہوتا۔ اسے تب احساس ہوتا ہے جب کوئی نعمت چھن جاتی ہے۔ ذرا انسان کے جسم کی میکان کی ترکیب کو دیکھو ! جس کا ہر حصہ ایک فریضہ ادا کر رہا ہے اور انسان کو احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی پرزۂ جسم ناکارہ ہوجائے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر عظیم نعمت سے محروم ہوگیا ہے۔ بس انسان پر تقصیر اور ضعیف کی مدد کو تو اللہ کی صفت رحمت اور صفت عفو ریت پہنچتی ہے۔ ان اللہ لغفور رحیم (16 : 18) ” بیشک اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا رحیم ہے “۔ وہ خالق ایسی ذات ہے جو ہمارے کھلے اور پوشیدہ تمام امور سے واقف ہے۔ واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون (16 : 19) ” اور اللہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی “۔ لہٰذا یہ بات تعجب انگیز ہے کہ لوگ اللہ کی ذات کو ان اشخاص و اشیاء کے ساتھ برابر کرتے ہیں جو نہ کوئی حقیر سی شے بھی پیدا کرسکتے ہیں ، نہ کوئی چیز جانتے ہیں ، بلکہ وہ تو مردہ ہیں ، ان کے اندر زندگی داخل ہی نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ ہے کہ وہ شعور نہیں رکھتے۔ والذین یدعون ۔۔۔۔۔ وھم یخلقون (20) اموات ۔۔۔۔۔ یبعثون (21) (16 : 20- 21) ” اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں ، مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا “۔ یہاں جو بعث بعد الموت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے خالق تو وہ ہوتا ہے جسے بعث کا علم ہو ، کیونکہ تخلیق کی تکمیل تب ہوگی جب قیامت برپا ہوگی اور اس وقت تمام ذی عقل افراد کو ان کے کئے کی جزاء وسزا دی جائے گی۔ لہٰذا ایسے خدا جن کو بعث بعد الموت کا علم ہی نہیں ہے وہ خدایا الٰہ ہونے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو ایک مذاق ہے کہ ایک خالق کو نہ اپنی مخلوق کا پتہ ہو اور نہ یہ علم ہو کہ اس مخلوق کو کب اٹھایا جائے گا۔

النحل 16:22

درس نمبر 120 ایک نظر میں درس سابق میں ہمیں بتایا گیا کہ خالق کائنات کی اس عظیم مخلوق میں بیشمار آیات و نشانات موجود ہیں۔ اس عظیم تخلیق میں حضرت انسان کے فائدے ہی فائدے ہیں اور یہ کہ خالق حقیقی انسان کے ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہے ۔ جبکہ جن ہستیوں اور اشیاء کو تم الٰہ سمجھتے ہو ، ان کی کوئی تخلیق نہیں ہے۔ وہ خود مخلوق ہیں ، وہ کسی چیز کا علم و شعور نہیں رکھتے ، بلکہ وہ مردہ ہیں اور ان کو اب اس جہان میں زندگی حاصل نہیں ہو سکتی ، یا وہ حیات کے قابل ہی نہیں ہیں۔ نیز ان ہستیوں کو اس قدر بھی معلوم نہیں ہے کہ سزاء و جزاء و جزاء کے لئے ان کو کب اٹھایا جائے گا۔ یہ تمام دلائل قطعاً اس بات کو ثابت کردیتے ہیں کہ یہ ہستیاں عبادت کے لائق نہیں ہیں اور یہ کہ عقیدۂ شرک سرے سے باطل اور لغو ہے۔ اس سورة میں عقیدۂ توحید کے بیان کا یہ پہلا دور تھا جس میں قیام قیامت کی طرف بھی اشارہ تھا۔ اس سبق میں بھی وہ مضمون ہے جو ہم نے پچھلے سبق میں چھوڑا۔ بیان توحید کا یہ دوسرا دور ہے ، اس کا آغاز اس دعویٰ سے ہوتا ہے کہ تمہارا الٰہ بس ایک ہی الٰہ ہے۔ اور جو لوگ صرف ایک ہی الٰہ کو نہیں مانتے درحقیقت ان کے دل منکر ہیں۔ چونکہ انکار ان کے دلوں کے زند جاگزیں ہے اسی لیے اس کائنات کے شواہد و افرہ کے ہوتے ہوئے بھی وہ اقرار نہیں کرتے۔ دل میں انکار کی جاگزینی کے ساتھ ساتھ یہ لوگ غرور اور کبر کی بیماری میں مبتلا ہیں اور یہ کبر بھی انہیں حقیقت کو تسلیم کرنے سے روکتا ہے۔ یہ مضمون ایک موثر منظر پر یوں ختم ہوجاتا ہے کہ اس کائنات میں تمام سائے در حقیقت ذات کبریا کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اس کائنات کے تمام جانور بھی اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ ملائکہ بھی الٰہ واحد کے سامنے جھکتے ہیں جن کی ذات استکبار سے خالی اور جن کے قلوب خوف سے پاک ہیں اور ہر وقت بلا کسی چوں و چرا کے اللہ کے احکام بجا لاتے ہیں اور اطاعت امر کے یہ مظہر مستکبرین کے استکبار کے بالمقابل بیان ہوئے جو اس سبق کے آغاز میں بیان ہوا۔ اس سبق کے آغاز اور اختتام کے درمیان قرآن مجید ان مستکبرین کے نقطہ نظر کو بھی قارئین کے سامنے رکھتا ہے کہ ان کا موقف کیا ہے ؟ یہ کہ وحی اور قرآن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ پرانے قصے ہیں اور یہ کہ وہ کیوں شرک کرتے ہیں ؟ وہ ان چیزوں کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں جن کو اللہ نے حرام قرار نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی مرضی ہے ، اگر اللہ نہ چاہتا تو وہ کب ایسا کرسکتے۔ قیامت کے بارے میں ان کا موقف یہ ہے کہ وہ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ ہرگز مردوں کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ ان کے ان تمام مزعومات کو اس سبق میں سختی سے رد کیا جاتا ہے اور رد کا انداز یہ ہے کہ جب قیامت کے روز یہ اٹھیں گے تو یہ بذات خود اپنے ان نظریات کا صاف صاف انکار کردیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہلاک شدہ امتوں کے بعض واقعات بطور مثال پیش کئے جاتے ہیں اور ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ تم پر بھی رات اور دن کی کسی گھڑی میں اسی طرح عذاب آسکتا ہے جبکہ آپ کو کوئی توقع نہ ہوگی اور بعض صورتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں کہ تم کو عذاب کی توقع ہوگی اور تم انتظار کر رہے ہوگے۔ اس کے بالمقابل اس سبق میں مومنین کے موقف اور نظریات کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، خصوصاً جبکہ موت اور بعث بعد الموت کے وقت ان کا مکالمہ فرشتوں سے ہوگا ۔ اس طرح یہ سبق ختم ہوتا ہے جس میں خشوع و خضوع اور اطاعت وامتنال امر الٰہی کے مناظر بھی ہیں اور انکار کے بھی اور یہ پوری کائنات ، اس کے سائے ، فرشتے اور گردش لیل و نہار اور ارض و سما سب کے سب امتثال امر الٰہی کے نشانات ہیں۔ آیت نمبر 22 تا 23 ترجمہ : یہاں اللہ وحدہ پر ایمان اور یوم آخرت پر ایمان کو یکجا کیا گیا ہے بلکہ اللہ وحدہ پر ایمان کا لازمی نتیجہ آخرت پر ایمان کو قرار دیا گیا ہے کیونکہ اللہ وحدہ کی بندگی کا براہ راست تعلق عقیدۂ آخرت اور جزاء وسزا کے قیام سے ہے۔ صرف اسی صورت میں خالق حقیقی کی حکمت تخلیق کا اظہار اور مکمل انصاف ہو سکتا ہے۔ الھکم الہ واحد ( 16 : 22) “ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے ”۔ اس سورة میں تخلیق باری کے جو نشانات گنوائے گئے۔ اللہ کے جن جن انعامات کا ذکر ہوا ، اور اللہ کے علم و حکمت کی جن باتوں کو بیان کیا گیا ، وہ سب اس حقیقت عظیہ کی متقاضی ہیں کہ اللہ ایک ہے ، اس کے آثار اس کائنات کے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت میں عیاں ہیں ، اور ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور باہم تعاون اور توافق پایا جاتا ہے اور یہ تمام قوانین ہمقدم ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے وہ آخرت کو تسلیم نہیں کرتے۔ جو لوگ اللہ کی تخلیق ، اس کی وحدانیت اور اس کی حکمت اور عدل پر ایمان لاتے ہیں ، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ پھر قیام قیامت پر ایمان لائیں ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اس کا سبب دلائل و نشانات کی کمی نہیں ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ انکار کی علت خود ان کی ذات کے اندر پوشیدہ ہے۔ ان کے مزاج میں انکار ہے اور ان کے دل انکار کرنے والے ہیں۔ ان کے دل و دماغ میں پہلے سے انکار بیٹھا ہوا ہے۔ اس لیے وہ دلائل وبراہین کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور دلائل وبراہین کی طرف توجہ کیوں نہیں کرتے ؟ اس لیے کہ وہ مستکبرین ہیں اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ نہ دلائل کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ حضرت نبی ﷺ کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں۔ دراصل یہ لوگ اللہ کی بندگی کرنا نہیں چاہتے۔ لہٰذا انکار کرتے ہیں اور اس کا حقیقی سبب خود ان کے نفوس کے اندر ہے۔ اللہ جس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے وہ اپنی مخلوق کے ہر کل پرزے سے واقف ہے ، وہ ان امور سے بھی واقف ہے جو پوشیدہ ہیں اور ان سے بھی جو ظاہر ہیں وہ لاریب سب کچھ جانتا ہے اور ان کے اس رویے کو ناپسند بھی کرتا ہے۔ انہ لا یحب المسکتبرین (16 : 23) “ اور اللہ ان لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو غرور نفس میں مبتلا ہیں ”۔ ایک متکبر دل سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس کائنات کے دلائل و شواہد پر مطمین ہوجائے اور سر تسلیم خم کر دے۔ چناچہ وہ اللہ کی طرف سے ناپسندیدہ لوگ ہیں کیونکہ وہ غرور نفس میں مبتلا ہیں اور اللہ ان کے حالات اور حقیقت سے خوب واقف ہے اور ان کے ہر ظاہر و باطن سے بھی واقف ہے۔

النحل 16:23

درس نمبر 120 ایک نظر میں درس سابق میں ہمیں بتایا گیا کہ خالق کائنات کی اس عظیم مخلوق میں بیشمار آیات و نشانات موجود ہیں۔ اس عظیم تخلیق میں حضرت انسان کے فائدے ہی فائدے ہیں اور یہ کہ خالق حقیقی انسان کے ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہے ۔ جبکہ جن ہستیوں اور اشیاء کو تم الٰہ سمجھتے ہو ، ان کی کوئی تخلیق نہیں ہے۔ وہ خود مخلوق ہیں ، وہ کسی چیز کا علم و شعور نہیں رکھتے ، بلکہ وہ مردہ ہیں اور ان کو اب اس جہان میں زندگی حاصل نہیں ہو سکتی ، یا وہ حیات کے قابل ہی نہیں ہیں۔ نیز ان ہستیوں کو اس قدر بھی معلوم نہیں ہے کہ سزاء و جزاء و جزاء کے لئے ان کو کب اٹھایا جائے گا۔ یہ تمام دلائل قطعاً اس بات کو ثابت کردیتے ہیں کہ یہ ہستیاں عبادت کے لائق نہیں ہیں اور یہ کہ عقیدۂ شرک سرے سے باطل اور لغو ہے۔ اس سورة میں عقیدۂ توحید کے بیان کا یہ پہلا دور تھا جس میں قیام قیامت کی طرف بھی اشارہ تھا۔ اس سبق میں بھی وہ مضمون ہے جو ہم نے پچھلے سبق میں چھوڑا۔ بیان توحید کا یہ دوسرا دور ہے ، اس کا آغاز اس دعویٰ سے ہوتا ہے کہ تمہارا الٰہ بس ایک ہی الٰہ ہے۔ اور جو لوگ صرف ایک ہی الٰہ کو نہیں مانتے درحقیقت ان کے دل منکر ہیں۔ چونکہ انکار ان کے دلوں کے زند جاگزیں ہے اسی لیے اس کائنات کے شواہد و افرہ کے ہوتے ہوئے بھی وہ اقرار نہیں کرتے۔ دل میں انکار کی جاگزینی کے ساتھ ساتھ یہ لوگ غرور اور کبر کی بیماری میں مبتلا ہیں اور یہ کبر بھی انہیں حقیقت کو تسلیم کرنے سے روکتا ہے۔ یہ مضمون ایک موثر منظر پر یوں ختم ہوجاتا ہے کہ اس کائنات میں تمام سائے در حقیقت ذات کبریا کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اس کائنات کے تمام جانور بھی اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ ملائکہ بھی الٰہ واحد کے سامنے جھکتے ہیں جن کی ذات استکبار سے خالی اور جن کے قلوب خوف سے پاک ہیں اور ہر وقت بلا کسی چوں و چرا کے اللہ کے احکام بجا لاتے ہیں اور اطاعت امر کے یہ مظہر مستکبرین کے استکبار کے بالمقابل بیان ہوئے جو اس سبق کے آغاز میں بیان ہوا۔ اس سبق کے آغاز اور اختتام کے درمیان قرآن مجید ان مستکبرین کے نقطہ نظر کو بھی قارئین کے سامنے رکھتا ہے کہ ان کا موقف کیا ہے ؟ یہ کہ وحی اور قرآن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ پرانے قصے ہیں اور یہ کہ وہ کیوں شرک کرتے ہیں ؟ وہ ان چیزوں کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں جن کو اللہ نے حرام قرار نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی مرضی ہے ، اگر اللہ نہ چاہتا تو وہ کب ایسا کرسکتے۔ قیامت کے بارے میں ان کا موقف یہ ہے کہ وہ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ ہرگز مردوں کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ ان کے ان تمام مزعومات کو اس سبق میں سختی سے رد کیا جاتا ہے اور رد کا انداز یہ ہے کہ جب قیامت کے روز یہ اٹھیں گے تو یہ بذات خود اپنے ان نظریات کا صاف صاف انکار کردیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہلاک شدہ امتوں کے بعض واقعات بطور مثال پیش کئے جاتے ہیں اور ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ تم پر بھی رات اور دن کی کسی گھڑی میں اسی طرح عذاب آسکتا ہے جبکہ آپ کو کوئی توقع نہ ہوگی اور بعض صورتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں کہ تم کو عذاب کی توقع ہوگی اور تم انتظار کر رہے ہوگے۔ اس کے بالمقابل اس سبق میں مومنین کے موقف اور نظریات کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، خصوصاً جبکہ موت اور بعث بعد الموت کے وقت ان کا مکالمہ فرشتوں سے ہوگا ۔ اس طرح یہ سبق ختم ہوتا ہے جس میں خشوع و خضوع اور اطاعت وامتنال امر الٰہی کے مناظر بھی ہیں اور انکار کے بھی اور یہ پوری کائنات ، اس کے سائے ، فرشتے اور گردش لیل و نہار اور ارض و سما سب کے سب امتثال امر الٰہی کے نشانات ہیں۔ آیت نمبر 22 تا 23 ترجمہ : یہاں اللہ وحدہ پر ایمان اور یوم آخرت پر ایمان کو یکجا کیا گیا ہے بلکہ اللہ وحدہ پر ایمان کا لازمی نتیجہ آخرت پر ایمان کو قرار دیا گیا ہے کیونکہ اللہ وحدہ کی بندگی کا براہ راست تعلق عقیدۂ آخرت اور جزاء وسزا کے قیام سے ہے۔ صرف اسی صورت میں خالق حقیقی کی حکمت تخلیق کا اظہار اور مکمل انصاف ہو سکتا ہے۔ الھکم الہ واحد ( 16 : 22) “ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے ”۔ اس سورة میں تخلیق باری کے جو نشانات گنوائے گئے۔ اللہ کے جن جن انعامات کا ذکر ہوا ، اور اللہ کے علم و حکمت کی جن باتوں کو بیان کیا گیا ، وہ سب اس حقیقت عظیہ کی متقاضی ہیں کہ اللہ ایک ہے ، اس کے آثار اس کائنات کے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت میں عیاں ہیں ، اور ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور باہم تعاون اور توافق پایا جاتا ہے اور یہ تمام قوانین ہمقدم ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے وہ آخرت کو تسلیم نہیں کرتے۔ جو لوگ اللہ کی تخلیق ، اس کی وحدانیت اور اس کی حکمت اور عدل پر ایمان لاتے ہیں ، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ پھر قیام قیامت پر ایمان لائیں ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اس کا سبب دلائل و نشانات کی کمی نہیں ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ انکار کی علت خود ان کی ذات کے اندر پوشیدہ ہے۔ ان کے مزاج میں انکار ہے اور ان کے دل انکار کرنے والے ہیں۔ ان کے دل و دماغ میں پہلے سے انکار بیٹھا ہوا ہے۔ اس لیے وہ دلائل وبراہین کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور دلائل وبراہین کی طرف توجہ کیوں نہیں کرتے ؟ اس لیے کہ وہ مستکبرین ہیں اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ نہ دلائل کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ حضرت نبی ﷺ کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں۔ دراصل یہ لوگ اللہ کی بندگی کرنا نہیں چاہتے۔ لہٰذا انکار کرتے ہیں اور اس کا حقیقی سبب خود ان کے نفوس کے اندر ہے۔ اللہ جس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے وہ اپنی مخلوق کے ہر کل پرزے سے واقف ہے ، وہ ان امور سے بھی واقف ہے جو پوشیدہ ہیں اور ان سے بھی جو ظاہر ہیں وہ لاریب سب کچھ جانتا ہے اور ان کے اس رویے کو ناپسند بھی کرتا ہے۔ انہ لا یحب المسکتبرین (16 : 23) “ اور اللہ ان لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو غرور نفس میں مبتلا ہیں ”۔ ایک متکبر دل سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس کائنات کے دلائل و شواہد پر مطمین ہوجائے اور سر تسلیم خم کر دے۔ چناچہ وہ اللہ کی طرف سے ناپسندیدہ لوگ ہیں کیونکہ وہ غرور نفس میں مبتلا ہیں اور اللہ ان کے حالات اور حقیقت سے خوب واقف ہے اور ان کے ہر ظاہر و باطن سے بھی واقف ہے۔

النحل 16:24

آیت نمبر 24 تا 25 یہ مستکبرین اور منکر دل والوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ ما ذا انزل ربکم (16 : 24) “ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے ”۔ یہ لوگ اس سوال کا صحیح جواب نہیں دیتے۔ حالانکہ جواب سیدھا سادہ ہے۔ یہ لوگ قرآن کریم کو پڑھ سکتے ہیں ، اس کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ اگر ایمان نہ بھی لائیں پھر بھی دیانت داری سے صحیح جواب تو دے سکتے تھے لیکن انہوں نے سیدھا جواب دینے کے بجائے یہ جواب دیا : اساطیر الاولین (16 : 24) “ وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں ”۔ اساطیر ان کہانیوں کو کہا جاتا ہے جو وہم سے پر ہوں اور خرافات پر مشتمل ہوں۔ یہ لوگ قرآن کے بارے میں ایسے ریمارکس پاس کرتے ہیں حالانکہ قرآن مجید انسانی عقل ، انسانی نفسیات ، انسانی طرز زندگی ، لوگوں کے عمومی طرز عمل ، سوسائٹی کے طبقات کے باہم تعلق اور انسان کے ماضی ، اس کے حال اور اس کے مستقبل پر نہایت ہی معقول تنقیدہ تبصرہ کرتا ہے اور حقیقی راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن نے امم ماضیہ کے واقعات بیان کئے ہیں ، لہٰذا اس کے بارے میں ان کی یہ سطحی رائے ہے۔ یوں یہ لوگ خود اپنے گناہوں کا بوجھ بھی بڑھاتے ہیں اور اپنے متبعین کے گناہوں کا بھی ایک حصہ اپنے بوجھ میں ڈالتے ہیں۔ کیونکہ ان کی باتوں سے ان کے پیروکار گمراہ ہوتے ہیں اور اسلام اور ایمان سے رک جاتے ہیں۔ یہ متبعین چونکہ خود جاہل ہیں کوئی صحیح رائے وہ خود قائم نہیں کرسکتے۔ قرآن کریم ان لوگوں کے گناہوں کی تعبیر ایک ایسے بوجھ سے کرتے ہیں جو کوئی مسافر اٹھاتا ہے۔ یہ بوجھ زیادہ ہوتا ہے لیکن یہ احمق مسافر اس کو اور زیادہ کرتا جاتا ہے۔ یہ بوجھ نفس انسانی کو اس قدر جھکا دیتا ہے ، اس قدر مشقت میں ڈال دیتا ہے جس طرح بھاری بوجھ کمر کو دہرا کردیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روحانی اور نفسیاتی بوجھ بھی انسان کے لئے اس طرح باعث درماندگی ہوتا ہے جس طرح جسمانی بوجھ جسم کے لئے تھکن کا موجب ہوتا ہے بلکہ نفسیاتی بوجھ جسم کو جسمانی بوجھ کے مقابلے میں زیادہ چور چور کردیتا ہے۔ ابن ابو حاتم ، سدی سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے ایک میٹنگ کی اور اس میں قرار دیا کہ حضرت محمد ﷺ شیریں زبان ہیں۔ جب وہ کسی سے بات کرتے ہیں تو اس کی عقل جاتی رہتی ہے ۔ لہٰذا قریش میں سے چند ایسے افراد کا انتخاب کرو جو معروف ہوں اور ان کا نسب بھی معروف ہو۔ ان کو مکہ کی راہوں پر ایک دو رات کے لئے بٹھا دو تا کہ جو شخص بھی محمد ﷺ سے ملاقات کے لئے آئے وہ اسے واپس کردیں۔ چناچہ کچھ لوگ نکلے اور مکہ کے راستے پر بیٹھ گئے۔ جو شخص بھی اپنی قوم کی طرف سے محمد ﷺ کے حالات معلوم کرنے کے لئے مکہ آتا ، تو ان میں سے جو شخص راستے میں بیٹھا ہوتا وہ کہتا میں فلاں ابن فلاں ہوں۔ تو یہ شخص اسے پہچان لیتا کیونکہ وہ مشہور شخص ہوتا۔ پھر وہ کہتا کہ میں تمہیں محمد ﷺ کے بارے بتاتا ہوں ۔ وہ ایک بہت بڑا جھوٹا شخص ہے۔ اس معاملے میں اس کے متبعین یا تو بیوقوف لوگ ہیں یا غلام ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ رہے اس کی قوم کے اکابر اور شیوخ تو وہ سب کے سب اس کے خلاف ہیں۔ اس طرح وہ شخص معتبر دیہہ کی بات سن کر واپس ہوجاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔ الاولین (16 : 24) “ اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا نازل کیا ہے تو کہتے وہ تو پرانے زمانے کی کہانیاں ہیں ”۔ اب اگر یہ شخص صاحب عزم صمیم ہوتا اور اس کے لئے ہدایت لکھی ہوئی ہوتی تو یہ لوگ جب اپنی بات کرتے تو وہ کہتا میں اپنی قوم کا کس قدر بےکار نمائندہ ہوں گا کہ میں دور کا سفر کر کے آیا اور ایک دن کا سفر رہ گیا اور اب میں اس شخص سے ملے بغیر واپس چلا جاؤں ۔ یہ دیکھے بغیر کہ وہ کیا کہتا ہے اور قوم کے پاس کوئی مصدقہ بیان لے کر نہ جاؤں۔ تو ایسا شخص مکہ میں داخل ہوتا۔ وہ مومنین سے ملتا اور پوچھتا کہ حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کیا ہیں ، تو وہ اس کو اچھی باتیں بتاتے ”۔ قریش نے تحریک اسلامی کے خلاف ایک زبردست مخالفانہ پروپیگنڈے کی مہم شروع کر رکھی تھی۔ قریش کے بعد بھی ہر زمان و مکان میں مستکبرین پر تحریک اسلامی کے خلاف ایسی ہی مخالفانہ مہم چلاتے ہیں کیونکہ ان کا غرور اور استکبار ان کو دلیل اور سچائی کے اتباع سے روکتا ہے۔ پس قریش کے یہ مستکبرین ، پہلے منکر اور معاندنہ تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے ان مستکبرین کا انجام واضح طور پر پیش کرتا ہے جس سے ان سے قبل کے مستکبرین دوچار ہوئے ، خصوصاًقیامت کے دن ان کا جو انجام ہونے والا ہے ، بلکہ یہ انجام ان کا قیامت سے بھی پہلے اس وقت شروع ہونے والا ہے جونہی ان کی روح جسد خاکی سے نکل جائے گی۔ قرآن کریم ان کے سامنے ، یہ مناظر نہایت ہی موثر انداز میں پیش کرتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کا اسلوب ہے۔

النحل 16:25

آیت نمبر 24 تا 25 یہ مستکبرین اور منکر دل والوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ ما ذا انزل ربکم (16 : 24) “ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے ”۔ یہ لوگ اس سوال کا صحیح جواب نہیں دیتے۔ حالانکہ جواب سیدھا سادہ ہے۔ یہ لوگ قرآن کریم کو پڑھ سکتے ہیں ، اس کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ اگر ایمان نہ بھی لائیں پھر بھی دیانت داری سے صحیح جواب تو دے سکتے تھے لیکن انہوں نے سیدھا جواب دینے کے بجائے یہ جواب دیا : اساطیر الاولین (16 : 24) “ وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں ”۔ اساطیر ان کہانیوں کو کہا جاتا ہے جو وہم سے پر ہوں اور خرافات پر مشتمل ہوں۔ یہ لوگ قرآن کے بارے میں ایسے ریمارکس پاس کرتے ہیں حالانکہ قرآن مجید انسانی عقل ، انسانی نفسیات ، انسانی طرز زندگی ، لوگوں کے عمومی طرز عمل ، سوسائٹی کے طبقات کے باہم تعلق اور انسان کے ماضی ، اس کے حال اور اس کے مستقبل پر نہایت ہی معقول تنقیدہ تبصرہ کرتا ہے اور حقیقی راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن نے امم ماضیہ کے واقعات بیان کئے ہیں ، لہٰذا اس کے بارے میں ان کی یہ سطحی رائے ہے۔ یوں یہ لوگ خود اپنے گناہوں کا بوجھ بھی بڑھاتے ہیں اور اپنے متبعین کے گناہوں کا بھی ایک حصہ اپنے بوجھ میں ڈالتے ہیں۔ کیونکہ ان کی باتوں سے ان کے پیروکار گمراہ ہوتے ہیں اور اسلام اور ایمان سے رک جاتے ہیں۔ یہ متبعین چونکہ خود جاہل ہیں کوئی صحیح رائے وہ خود قائم نہیں کرسکتے۔ قرآن کریم ان لوگوں کے گناہوں کی تعبیر ایک ایسے بوجھ سے کرتے ہیں جو کوئی مسافر اٹھاتا ہے۔ یہ بوجھ زیادہ ہوتا ہے لیکن یہ احمق مسافر اس کو اور زیادہ کرتا جاتا ہے۔ یہ بوجھ نفس انسانی کو اس قدر جھکا دیتا ہے ، اس قدر مشقت میں ڈال دیتا ہے جس طرح بھاری بوجھ کمر کو دہرا کردیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روحانی اور نفسیاتی بوجھ بھی انسان کے لئے اس طرح باعث درماندگی ہوتا ہے جس طرح جسمانی بوجھ جسم کے لئے تھکن کا موجب ہوتا ہے بلکہ نفسیاتی بوجھ جسم کو جسمانی بوجھ کے مقابلے میں زیادہ چور چور کردیتا ہے۔ ابن ابو حاتم ، سدی سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے ایک میٹنگ کی اور اس میں قرار دیا کہ حضرت محمد ﷺ شیریں زبان ہیں۔ جب وہ کسی سے بات کرتے ہیں تو اس کی عقل جاتی رہتی ہے ۔ لہٰذا قریش میں سے چند ایسے افراد کا انتخاب کرو جو معروف ہوں اور ان کا نسب بھی معروف ہو۔ ان کو مکہ کی راہوں پر ایک دو رات کے لئے بٹھا دو تا کہ جو شخص بھی محمد ﷺ سے ملاقات کے لئے آئے وہ اسے واپس کردیں۔ چناچہ کچھ لوگ نکلے اور مکہ کے راستے پر بیٹھ گئے۔ جو شخص بھی اپنی قوم کی طرف سے محمد ﷺ کے حالات معلوم کرنے کے لئے مکہ آتا ، تو ان میں سے جو شخص راستے میں بیٹھا ہوتا وہ کہتا میں فلاں ابن فلاں ہوں۔ تو یہ شخص اسے پہچان لیتا کیونکہ وہ مشہور شخص ہوتا۔ پھر وہ کہتا کہ میں تمہیں محمد ﷺ کے بارے بتاتا ہوں ۔ وہ ایک بہت بڑا جھوٹا شخص ہے۔ اس معاملے میں اس کے متبعین یا تو بیوقوف لوگ ہیں یا غلام ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ رہے اس کی قوم کے اکابر اور شیوخ تو وہ سب کے سب اس کے خلاف ہیں۔ اس طرح وہ شخص معتبر دیہہ کی بات سن کر واپس ہوجاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔ الاولین (16 : 24) “ اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا نازل کیا ہے تو کہتے وہ تو پرانے زمانے کی کہانیاں ہیں ”۔ اب اگر یہ شخص صاحب عزم صمیم ہوتا اور اس کے لئے ہدایت لکھی ہوئی ہوتی تو یہ لوگ جب اپنی بات کرتے تو وہ کہتا میں اپنی قوم کا کس قدر بےکار نمائندہ ہوں گا کہ میں دور کا سفر کر کے آیا اور ایک دن کا سفر رہ گیا اور اب میں اس شخص سے ملے بغیر واپس چلا جاؤں ۔ یہ دیکھے بغیر کہ وہ کیا کہتا ہے اور قوم کے پاس کوئی مصدقہ بیان لے کر نہ جاؤں۔ تو ایسا شخص مکہ میں داخل ہوتا۔ وہ مومنین سے ملتا اور پوچھتا کہ حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کیا ہیں ، تو وہ اس کو اچھی باتیں بتاتے ”۔ قریش نے تحریک اسلامی کے خلاف ایک زبردست مخالفانہ پروپیگنڈے کی مہم شروع کر رکھی تھی۔ قریش کے بعد بھی ہر زمان و مکان میں مستکبرین پر تحریک اسلامی کے خلاف ایسی ہی مخالفانہ مہم چلاتے ہیں کیونکہ ان کا غرور اور استکبار ان کو دلیل اور سچائی کے اتباع سے روکتا ہے۔ پس قریش کے یہ مستکبرین ، پہلے منکر اور معاندنہ تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے ان مستکبرین کا انجام واضح طور پر پیش کرتا ہے جس سے ان سے قبل کے مستکبرین دوچار ہوئے ، خصوصاًقیامت کے دن ان کا جو انجام ہونے والا ہے ، بلکہ یہ انجام ان کا قیامت سے بھی پہلے اس وقت شروع ہونے والا ہے جونہی ان کی روح جسد خاکی سے نکل جائے گی۔ قرآن کریم ان کے سامنے ، یہ مناظر نہایت ہی موثر انداز میں پیش کرتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کا اسلوب ہے۔

النحل 16:26

آیت نمبر 26 تا 29 قد مکرالذین من قبلھم (16 : 26) “ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے ) ایسے ہی مکاریاں کرچکے ہیں ”۔ قرآن کریم ان کے پروپیگنڈے کو ایک ایسی عمارت سے تعبیر کرتا ہے جس کی بنیادیں بھی ہیں اور ستون بھی اور چھت بھی ہے۔ اس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کا پروپیگنڈا بڑ اگہرا ، مضبوط ، پختہ اور ضخیم تھا لیکن اللہ کی قوت اور تدبیر کے مقابلے میں یہ کامیاب نہ ہوا۔ فاقی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیھم الشقف من فوقھم (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی ”۔ یہ ایک ایسا منظر اور ایسی تصویر کشی ہے جس سے مکمل تباہی کا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ یہ تباہی اوپر سے بھی آتی ہے اور نیچے سے بھی آتی ہے کیونکہ جن بنیادوں پر یہ عمارت کھڑی تھی وہی گر گئیں اور اوپر سے چھت ان پر اس طرح آگری کہ وہ دب گئے اور دفن ہو کر رہ گئے۔ واتھم العذاب من حیث لا یشعرون (16 : 26) “ اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کے ان کو گمان تک نہ تھا ”۔ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ جس عمارت کو انہوں نے نہایت ہی پختہ کر کے تعمیر کیا تھا اور ان کو پورا بھروسہ تھا کہ وہ اس میں پناہ لیں گے وہی ان کا مقبرہ بن گئی اور وہ ان پر ایسی ہلاکت لائی کہ اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی ان پر تباہی آئی۔ وہ عمارت انہوں نے اس قدر مضبوط بنائی تھی کہ اس کی کسی جہت سے بھی ان کو تباہی کا ڈر نہ تھا۔ تبایہ و بربادی کا یہ ایک مکمل منظر ہے۔ یہ مکر کرنے والوں کے مکر اور مخالفانہ تدابیر کرنے والوں کی تدابیر کے ساتھ معنی خیز مذاق ہے۔ جو لوگ تحریک اسلامی کی راہ روکنے کے لئے مکر کرتے ہیں یہ سوچتے ہیں کہ ان کے مکر کا کوئی توڑ نہ ہوگا اور یہ کہ ان کی تدابیر ناکام نہ ہوں گی حالانکہ اللہ ان کی تمام مکاریوں اور تدابیر کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ منظر قریش کے دور کے بھی دیکھا گیا ۔ ان سے پہلے بھی تاریخ نے بھی بارہا دیکھا اور بعد کے ادوار میں بھی دیکھا گیا۔ دعوت اسلامی آج تک اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ مکر کرنے والے جس قدر چاہیں تدابیر سوچیں ، جس قدر چاہیں ، مکاریاں کریں۔ تحریک اسلامی کے کارکن ان تاریخی مناظر کو بار بار پڑھ کر دیکھتے ہیں جس طرح قرآن کریم نے منظر کشی فرمائی۔ فاتی اللہ بنیانھم ۔۔۔۔۔ لا یشعرون (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا ان کو گمان تک نہ تھا ”۔ یہ تو ان کا انجام ہوا اس دنیا میں اور اس کرۂ ارض پر۔ لیکن تم ثم یوم القیمۃ یخزیھم ویقول این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیھم (16 : 27) “ پھر قیامت کے روز اللہ انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان سے کہے گا اب بتاؤ کہاں ہیں وہ شریک جن کے لئے تم اہل حق سے جھگڑے کیا کرتے تھے ”۔ قرآن کریم یہاں مشاہد قیامت سے ایک منظر تصویر کشی کر رہا ہے۔ یہ مکار مستکبرین اس منظر میں نہایت ہی شرمندگی کی حالت میں ہیں۔ ان کا تکبر کافور ہوچکا ہے اور ان کی مکاریوں کے دن لد گئے ہیں۔ اب وہ اس ذات کبریا کے دربار میں ہیں جو تخلیق کا بھی مالک ہے اور فیصلے بھی اب اسی کے چلتے ہیں۔ اللہ اب ان کو مزید شرمندہ اور خوار کرنے کے لئے سوال کرتے ہیں۔ این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیھم (16 : 27) “ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم جھگڑتے رہتے تھے ”۔ جن جعلی شریکوں کے متعلق تم رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان سے جھگڑتے تھے وہ کہاں تھے۔ جو لوگ عقیدۂ توحید کے قائل تھے تم ان سے مناظرے کیا کرتے تھے۔ یہاں یہ لوگ گم سم کھڑے ہیں۔ شرمندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لیکن فرشتے ، رسول ، اہل علم اور اہل ایمان کو اب بولنے کی اجازت ہوگی کیونکہ یہ لوگ تو اب کامیاب ہوچکے ہوں گے لہٰذا بولنا اب ان کا حق ہوگا۔ قال الذین ۔۔۔۔۔ علی الکفرین (16 : 27) “ جن لوگوں کو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے ، آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لئے ”۔ فی الواقعہ آج رسوائی اور بدبختی صرف کافروں کے لئے ہے۔ الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم (16 : 28) “ انہی کافروں کے لئے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ”۔ اب قرآن کریم ان لوگوں کو ایک قدم پیچھے لے جاتا ہے ، قیامت سے قبل ان لوگوں کی موت کا وقت قریب ہے ، ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہیں ، ان کے جسم سے ان کی روح کو نہایت ہی کرختگی کے ساتھ کھینچ کر نکالا جاتا ہے ، اس لیے کہ یہ لوگ ایمان و یقین سے محروم تھے۔ انہوں نے اپنی روحی کو ہلاکت میں ڈال دیا تھا۔ پھر ان کی جانیں آگ اور دائمی کے عذاب کے حوالے ہوگئیں۔ جب ان لوگوں کی موت قریب آئی اور ابھی تو زمین میں یہ جھوٹ ، مکر اور فریب کا کاروبار کر رہے تھے تودیکھو کہ یہ کس قدر ساؤ ہوگئے ہیں۔ فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء (16 : 28) “ تو یہ لوگ فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں “ ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے ”۔ یہ مستکبرین اب تو سلامتی کے پیغامبر بن گئے ہیں ، وہ تو اس سر تسلیم خم کرنے اور اطاعت کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ یہ بھی ان کا جھوٹ ہے اور یہ جھوٹ ان کے دنیاوی سلسلہ جھوٹ کا حصہ ہے۔ یہ نہایت ہی عاجزی سے کہتے ہیں۔ ما کنا نعمل من سوء (16 : 28) “ ہم تو قصور نہیں کر رہے تھے ”۔ یہ بھی نہایت ہی شرمساری اور ذلت کا منظر ہے۔ ان مستکبرین کو دیکھو اور ان کی اس حالت کو دیکھو۔ لیکن اللہ کی طرف سے جواب آئے گا “ ہاں ” اور یہ جواب علیم وخبیر کی طرف سے ہوگا۔ بلیٰ ان اللہ علیم بما کنتم تعملون (16 : 28) “ ہاں اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے ”۔ لہٰذا اب یہاں جھوٹ ، مغالطہ اور ملمع کاری نہیں چل سکتی۔ اب ان کے فیصلے اور جزاء کا وقت آتا ہے ۔ یہ متکبرین کی جزاء ہے۔ فادخلوا ابواب ۔۔۔۔۔ المتکبرین (16 : 29) “ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ۔ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے ”۔ پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے متکبروں کے لئے ”۔ اب فریق بالمقابل ، وہ لوگ ہیں جنہوں نے تقویٰ کی راہ اختیار کی۔ یہ لوگ متکبرین اور مستکبرین کے مد مقابل ہیں شروع سے انتہا تک۔

النحل 16:27

آیت نمبر 26 تا 29 قد مکرالذین من قبلھم (16 : 26) “ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے ) ایسے ہی مکاریاں کرچکے ہیں ”۔ قرآن کریم ان کے پروپیگنڈے کو ایک ایسی عمارت سے تعبیر کرتا ہے جس کی بنیادیں بھی ہیں اور ستون بھی اور چھت بھی ہے۔ اس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کا پروپیگنڈا بڑ اگہرا ، مضبوط ، پختہ اور ضخیم تھا لیکن اللہ کی قوت اور تدبیر کے مقابلے میں یہ کامیاب نہ ہوا۔ فاقی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیھم الشقف من فوقھم (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی ”۔ یہ ایک ایسا منظر اور ایسی تصویر کشی ہے جس سے مکمل تباہی کا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ یہ تباہی اوپر سے بھی آتی ہے اور نیچے سے بھی آتی ہے کیونکہ جن بنیادوں پر یہ عمارت کھڑی تھی وہی گر گئیں اور اوپر سے چھت ان پر اس طرح آگری کہ وہ دب گئے اور دفن ہو کر رہ گئے۔ واتھم العذاب من حیث لا یشعرون (16 : 26) “ اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کے ان کو گمان تک نہ تھا ”۔ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ جس عمارت کو انہوں نے نہایت ہی پختہ کر کے تعمیر کیا تھا اور ان کو پورا بھروسہ تھا کہ وہ اس میں پناہ لیں گے وہی ان کا مقبرہ بن گئی اور وہ ان پر ایسی ہلاکت لائی کہ اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی ان پر تباہی آئی۔ وہ عمارت انہوں نے اس قدر مضبوط بنائی تھی کہ اس کی کسی جہت سے بھی ان کو تباہی کا ڈر نہ تھا۔ تبایہ و بربادی کا یہ ایک مکمل منظر ہے۔ یہ مکر کرنے والوں کے مکر اور مخالفانہ تدابیر کرنے والوں کی تدابیر کے ساتھ معنی خیز مذاق ہے۔ جو لوگ تحریک اسلامی کی راہ روکنے کے لئے مکر کرتے ہیں یہ سوچتے ہیں کہ ان کے مکر کا کوئی توڑ نہ ہوگا اور یہ کہ ان کی تدابیر ناکام نہ ہوں گی حالانکہ اللہ ان کی تمام مکاریوں اور تدابیر کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ منظر قریش کے دور کے بھی دیکھا گیا ۔ ان سے پہلے بھی تاریخ نے بھی بارہا دیکھا اور بعد کے ادوار میں بھی دیکھا گیا۔ دعوت اسلامی آج تک اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ مکر کرنے والے جس قدر چاہیں تدابیر سوچیں ، جس قدر چاہیں ، مکاریاں کریں۔ تحریک اسلامی کے کارکن ان تاریخی مناظر کو بار بار پڑھ کر دیکھتے ہیں جس طرح قرآن کریم نے منظر کشی فرمائی۔ فاتی اللہ بنیانھم ۔۔۔۔۔ لا یشعرون (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا ان کو گمان تک نہ تھا ”۔ یہ تو ان کا انجام ہوا اس دنیا میں اور اس کرۂ ارض پر۔ لیکن تم ثم یوم القیمۃ یخزیھم ویقول این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیھم (16 : 27) “ پھر قیامت کے روز اللہ انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان سے کہے گا اب بتاؤ کہاں ہیں وہ شریک جن کے لئے تم اہل حق سے جھگڑے کیا کرتے تھے ”۔ قرآن کریم یہاں مشاہد قیامت سے ایک منظر تصویر کشی کر رہا ہے۔ یہ مکار مستکبرین اس منظر میں نہایت ہی شرمندگی کی حالت میں ہیں۔ ان کا تکبر کافور ہوچکا ہے اور ان کی مکاریوں کے دن لد گئے ہیں۔ اب وہ اس ذات کبریا کے دربار میں ہیں جو تخلیق کا بھی مالک ہے اور فیصلے بھی اب اسی کے چلتے ہیں۔ اللہ اب ان کو مزید شرمندہ اور خوار کرنے کے لئے سوال کرتے ہیں۔ این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیھم (16 : 27) “ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم جھگڑتے رہتے تھے ”۔ جن جعلی شریکوں کے متعلق تم رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان سے جھگڑتے تھے وہ کہاں تھے۔ جو لوگ عقیدۂ توحید کے قائل تھے تم ان سے مناظرے کیا کرتے تھے۔ یہاں یہ لوگ گم سم کھڑے ہیں۔ شرمندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لیکن فرشتے ، رسول ، اہل علم اور اہل ایمان کو اب بولنے کی اجازت ہوگی کیونکہ یہ لوگ تو اب کامیاب ہوچکے ہوں گے لہٰذا بولنا اب ان کا حق ہوگا۔ قال الذین ۔۔۔۔۔ علی الکفرین (16 : 27) “ جن لوگوں کو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے ، آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لئے ”۔ فی الواقعہ آج رسوائی اور بدبختی صرف کافروں کے لئے ہے۔ الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم (16 : 28) “ انہی کافروں کے لئے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ”۔ اب قرآن کریم ان لوگوں کو ایک قدم پیچھے لے جاتا ہے ، قیامت سے قبل ان لوگوں کی موت کا وقت قریب ہے ، ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہیں ، ان کے جسم سے ان کی روح کو نہایت ہی کرختگی کے ساتھ کھینچ کر نکالا جاتا ہے ، اس لیے کہ یہ لوگ ایمان و یقین سے محروم تھے۔ انہوں نے اپنی روحی کو ہلاکت میں ڈال دیا تھا۔ پھر ان کی جانیں آگ اور دائمی کے عذاب کے حوالے ہوگئیں۔ جب ان لوگوں کی موت قریب آئی اور ابھی تو زمین میں یہ جھوٹ ، مکر اور فریب کا کاروبار کر رہے تھے تودیکھو کہ یہ کس قدر ساؤ ہوگئے ہیں۔ فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء (16 : 28) “ تو یہ لوگ فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں “ ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے ”۔ یہ مستکبرین اب تو سلامتی کے پیغامبر بن گئے ہیں ، وہ تو اس سر تسلیم خم کرنے اور اطاعت کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ یہ بھی ان کا جھوٹ ہے اور یہ جھوٹ ان کے دنیاوی سلسلہ جھوٹ کا حصہ ہے۔ یہ نہایت ہی عاجزی سے کہتے ہیں۔ ما کنا نعمل من سوء (16 : 28) “ ہم تو قصور نہیں کر رہے تھے ”۔ یہ بھی نہایت ہی شرمساری اور ذلت کا منظر ہے۔ ان مستکبرین کو دیکھو اور ان کی اس حالت کو دیکھو۔ لیکن اللہ کی طرف سے جواب آئے گا “ ہاں ” اور یہ جواب علیم وخبیر کی طرف سے ہوگا۔ بلیٰ ان اللہ علیم بما کنتم تعملون (16 : 28) “ ہاں اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے ”۔ لہٰذا اب یہاں جھوٹ ، مغالطہ اور ملمع کاری نہیں چل سکتی۔ اب ان کے فیصلے اور جزاء کا وقت آتا ہے ۔ یہ متکبرین کی جزاء ہے۔ فادخلوا ابواب ۔۔۔۔۔ المتکبرین (16 : 29) “ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ۔ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے ”۔ پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے متکبروں کے لئے ”۔ اب فریق بالمقابل ، وہ لوگ ہیں جنہوں نے تقویٰ کی راہ اختیار کی۔ یہ لوگ متکبرین اور مستکبرین کے مد مقابل ہیں شروع سے انتہا تک۔

النحل 16:28

آیت نمبر 26 تا 29 قد مکرالذین من قبلھم (16 : 26) “ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے ) ایسے ہی مکاریاں کرچکے ہیں ”۔ قرآن کریم ان کے پروپیگنڈے کو ایک ایسی عمارت سے تعبیر کرتا ہے جس کی بنیادیں بھی ہیں اور ستون بھی اور چھت بھی ہے۔ اس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کا پروپیگنڈا بڑ اگہرا ، مضبوط ، پختہ اور ضخیم تھا لیکن اللہ کی قوت اور تدبیر کے مقابلے میں یہ کامیاب نہ ہوا۔ فاقی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیھم الشقف من فوقھم (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی ”۔ یہ ایک ایسا منظر اور ایسی تصویر کشی ہے جس سے مکمل تباہی کا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ یہ تباہی اوپر سے بھی آتی ہے اور نیچے سے بھی آتی ہے کیونکہ جن بنیادوں پر یہ عمارت کھڑی تھی وہی گر گئیں اور اوپر سے چھت ان پر اس طرح آگری کہ وہ دب گئے اور دفن ہو کر رہ گئے۔ واتھم العذاب من حیث لا یشعرون (16 : 26) “ اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کے ان کو گمان تک نہ تھا ”۔ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ جس عمارت کو انہوں نے نہایت ہی پختہ کر کے تعمیر کیا تھا اور ان کو پورا بھروسہ تھا کہ وہ اس میں پناہ لیں گے وہی ان کا مقبرہ بن گئی اور وہ ان پر ایسی ہلاکت لائی کہ اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی ان پر تباہی آئی۔ وہ عمارت انہوں نے اس قدر مضبوط بنائی تھی کہ اس کی کسی جہت سے بھی ان کو تباہی کا ڈر نہ تھا۔ تبایہ و بربادی کا یہ ایک مکمل منظر ہے۔ یہ مکر کرنے والوں کے مکر اور مخالفانہ تدابیر کرنے والوں کی تدابیر کے ساتھ معنی خیز مذاق ہے۔ جو لوگ تحریک اسلامی کی راہ روکنے کے لئے مکر کرتے ہیں یہ سوچتے ہیں کہ ان کے مکر کا کوئی توڑ نہ ہوگا اور یہ کہ ان کی تدابیر ناکام نہ ہوں گی حالانکہ اللہ ان کی تمام مکاریوں اور تدابیر کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ منظر قریش کے دور کے بھی دیکھا گیا ۔ ان سے پہلے بھی تاریخ نے بھی بارہا دیکھا اور بعد کے ادوار میں بھی دیکھا گیا۔ دعوت اسلامی آج تک اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ مکر کرنے والے جس قدر چاہیں تدابیر سوچیں ، جس قدر چاہیں ، مکاریاں کریں۔ تحریک اسلامی کے کارکن ان تاریخی مناظر کو بار بار پڑھ کر دیکھتے ہیں جس طرح قرآن کریم نے منظر کشی فرمائی۔ فاتی اللہ بنیانھم ۔۔۔۔۔ لا یشعرون (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا ان کو گمان تک نہ تھا ”۔ یہ تو ان کا انجام ہوا اس دنیا میں اور اس کرۂ ارض پر۔ لیکن تم ثم یوم القیمۃ یخزیھم ویقول این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیھم (16 : 27) “ پھر قیامت کے روز اللہ انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان سے کہے گا اب بتاؤ کہاں ہیں وہ شریک جن کے لئے تم اہل حق سے جھگڑے کیا کرتے تھے ”۔ قرآن کریم یہاں مشاہد قیامت سے ایک منظر تصویر کشی کر رہا ہے۔ یہ مکار مستکبرین اس منظر میں نہایت ہی شرمندگی کی حالت میں ہیں۔ ان کا تکبر کافور ہوچکا ہے اور ان کی مکاریوں کے دن لد گئے ہیں۔ اب وہ اس ذات کبریا کے دربار میں ہیں جو تخلیق کا بھی مالک ہے اور فیصلے بھی اب اسی کے چلتے ہیں۔ اللہ اب ان کو مزید شرمندہ اور خوار کرنے کے لئے سوال کرتے ہیں۔ این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیھم (16 : 27) “ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم جھگڑتے رہتے تھے ”۔ جن جعلی شریکوں کے متعلق تم رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان سے جھگڑتے تھے وہ کہاں تھے۔ جو لوگ عقیدۂ توحید کے قائل تھے تم ان سے مناظرے کیا کرتے تھے۔ یہاں یہ لوگ گم سم کھڑے ہیں۔ شرمندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لیکن فرشتے ، رسول ، اہل علم اور اہل ایمان کو اب بولنے کی اجازت ہوگی کیونکہ یہ لوگ تو اب کامیاب ہوچکے ہوں گے لہٰذا بولنا اب ان کا حق ہوگا۔ قال الذین ۔۔۔۔۔ علی الکفرین (16 : 27) “ جن لوگوں کو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے ، آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لئے ”۔ فی الواقعہ آج رسوائی اور بدبختی صرف کافروں کے لئے ہے۔ الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم (16 : 28) “ انہی کافروں کے لئے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ”۔ اب قرآن کریم ان لوگوں کو ایک قدم پیچھے لے جاتا ہے ، قیامت سے قبل ان لوگوں کی موت کا وقت قریب ہے ، ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہیں ، ان کے جسم سے ان کی روح کو نہایت ہی کرختگی کے ساتھ کھینچ کر نکالا جاتا ہے ، اس لیے کہ یہ لوگ ایمان و یقین سے محروم تھے۔ انہوں نے اپنی روحی کو ہلاکت میں ڈال دیا تھا۔ پھر ان کی جانیں آگ اور دائمی کے عذاب کے حوالے ہوگئیں۔ جب ان لوگوں کی موت قریب آئی اور ابھی تو زمین میں یہ جھوٹ ، مکر اور فریب کا کاروبار کر رہے تھے تودیکھو کہ یہ کس قدر ساؤ ہوگئے ہیں۔ فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء (16 : 28) “ تو یہ لوگ فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں “ ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے ”۔ یہ مستکبرین اب تو سلامتی کے پیغامبر بن گئے ہیں ، وہ تو اس سر تسلیم خم کرنے اور اطاعت کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ یہ بھی ان کا جھوٹ ہے اور یہ جھوٹ ان کے دنیاوی سلسلہ جھوٹ کا حصہ ہے۔ یہ نہایت ہی عاجزی سے کہتے ہیں۔ ما کنا نعمل من سوء (16 : 28) “ ہم تو قصور نہیں کر رہے تھے ”۔ یہ بھی نہایت ہی شرمساری اور ذلت کا منظر ہے۔ ان مستکبرین کو دیکھو اور ان کی اس حالت کو دیکھو۔ لیکن اللہ کی طرف سے جواب آئے گا “ ہاں ” اور یہ جواب علیم وخبیر کی طرف سے ہوگا۔ بلیٰ ان اللہ علیم بما کنتم تعملون (16 : 28) “ ہاں اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے ”۔ لہٰذا اب یہاں جھوٹ ، مغالطہ اور ملمع کاری نہیں چل سکتی۔ اب ان کے فیصلے اور جزاء کا وقت آتا ہے ۔ یہ متکبرین کی جزاء ہے۔ فادخلوا ابواب ۔۔۔۔۔ المتکبرین (16 : 29) “ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ۔ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے ”۔ پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے متکبروں کے لئے ”۔ اب فریق بالمقابل ، وہ لوگ ہیں جنہوں نے تقویٰ کی راہ اختیار کی۔ یہ لوگ متکبرین اور مستکبرین کے مد مقابل ہیں شروع سے انتہا تک۔

النحل 16:29

آیت نمبر 26 تا 29 قد مکرالذین من قبلھم (16 : 26) “ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے ) ایسے ہی مکاریاں کرچکے ہیں ”۔ قرآن کریم ان کے پروپیگنڈے کو ایک ایسی عمارت سے تعبیر کرتا ہے جس کی بنیادیں بھی ہیں اور ستون بھی اور چھت بھی ہے۔ اس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کا پروپیگنڈا بڑ اگہرا ، مضبوط ، پختہ اور ضخیم تھا لیکن اللہ کی قوت اور تدبیر کے مقابلے میں یہ کامیاب نہ ہوا۔ فاقی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیھم الشقف من فوقھم (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی ”۔ یہ ایک ایسا منظر اور ایسی تصویر کشی ہے جس سے مکمل تباہی کا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ یہ تباہی اوپر سے بھی آتی ہے اور نیچے سے بھی آتی ہے کیونکہ جن بنیادوں پر یہ عمارت کھڑی تھی وہی گر گئیں اور اوپر سے چھت ان پر اس طرح آگری کہ وہ دب گئے اور دفن ہو کر رہ گئے۔ واتھم العذاب من حیث لا یشعرون (16 : 26) “ اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کے ان کو گمان تک نہ تھا ”۔ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ جس عمارت کو انہوں نے نہایت ہی پختہ کر کے تعمیر کیا تھا اور ان کو پورا بھروسہ تھا کہ وہ اس میں پناہ لیں گے وہی ان کا مقبرہ بن گئی اور وہ ان پر ایسی ہلاکت لائی کہ اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی ان پر تباہی آئی۔ وہ عمارت انہوں نے اس قدر مضبوط بنائی تھی کہ اس کی کسی جہت سے بھی ان کو تباہی کا ڈر نہ تھا۔ تبایہ و بربادی کا یہ ایک مکمل منظر ہے۔ یہ مکر کرنے والوں کے مکر اور مخالفانہ تدابیر کرنے والوں کی تدابیر کے ساتھ معنی خیز مذاق ہے۔ جو لوگ تحریک اسلامی کی راہ روکنے کے لئے مکر کرتے ہیں یہ سوچتے ہیں کہ ان کے مکر کا کوئی توڑ نہ ہوگا اور یہ کہ ان کی تدابیر ناکام نہ ہوں گی حالانکہ اللہ ان کی تمام مکاریوں اور تدابیر کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ منظر قریش کے دور کے بھی دیکھا گیا ۔ ان سے پہلے بھی تاریخ نے بھی بارہا دیکھا اور بعد کے ادوار میں بھی دیکھا گیا۔ دعوت اسلامی آج تک اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ مکر کرنے والے جس قدر چاہیں تدابیر سوچیں ، جس قدر چاہیں ، مکاریاں کریں۔ تحریک اسلامی کے کارکن ان تاریخی مناظر کو بار بار پڑھ کر دیکھتے ہیں جس طرح قرآن کریم نے منظر کشی فرمائی۔ فاتی اللہ بنیانھم ۔۔۔۔۔ لا یشعرون (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا ان کو گمان تک نہ تھا ”۔ یہ تو ان کا انجام ہوا اس دنیا میں اور اس کرۂ ارض پر۔ لیکن تم ثم یوم القیمۃ یخزیھم ویقول این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیھم (16 : 27) “ پھر قیامت کے روز اللہ انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان سے کہے گا اب بتاؤ کہاں ہیں وہ شریک جن کے لئے تم اہل حق سے جھگڑے کیا کرتے تھے ”۔ قرآن کریم یہاں مشاہد قیامت سے ایک منظر تصویر کشی کر رہا ہے۔ یہ مکار مستکبرین اس منظر میں نہایت ہی شرمندگی کی حالت میں ہیں۔ ان کا تکبر کافور ہوچکا ہے اور ان کی مکاریوں کے دن لد گئے ہیں۔ اب وہ اس ذات کبریا کے دربار میں ہیں جو تخلیق کا بھی مالک ہے اور فیصلے بھی اب اسی کے چلتے ہیں۔ اللہ اب ان کو مزید شرمندہ اور خوار کرنے کے لئے سوال کرتے ہیں۔ این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیھم (16 : 27) “ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم جھگڑتے رہتے تھے ”۔ جن جعلی شریکوں کے متعلق تم رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان سے جھگڑتے تھے وہ کہاں تھے۔ جو لوگ عقیدۂ توحید کے قائل تھے تم ان سے مناظرے کیا کرتے تھے۔ یہاں یہ لوگ گم سم کھڑے ہیں۔ شرمندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لیکن فرشتے ، رسول ، اہل علم اور اہل ایمان کو اب بولنے کی اجازت ہوگی کیونکہ یہ لوگ تو اب کامیاب ہوچکے ہوں گے لہٰذا بولنا اب ان کا حق ہوگا۔ قال الذین ۔۔۔۔۔ علی الکفرین (16 : 27) “ جن لوگوں کو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے ، آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لئے ”۔ فی الواقعہ آج رسوائی اور بدبختی صرف کافروں کے لئے ہے۔ الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم (16 : 28) “ انہی کافروں کے لئے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ”۔ اب قرآن کریم ان لوگوں کو ایک قدم پیچھے لے جاتا ہے ، قیامت سے قبل ان لوگوں کی موت کا وقت قریب ہے ، ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہیں ، ان کے جسم سے ان کی روح کو نہایت ہی کرختگی کے ساتھ کھینچ کر نکالا جاتا ہے ، اس لیے کہ یہ لوگ ایمان و یقین سے محروم تھے۔ انہوں نے اپنی روحی کو ہلاکت میں ڈال دیا تھا۔ پھر ان کی جانیں آگ اور دائمی کے عذاب کے حوالے ہوگئیں۔ جب ان لوگوں کی موت قریب آئی اور ابھی تو زمین میں یہ جھوٹ ، مکر اور فریب کا کاروبار کر رہے تھے تودیکھو کہ یہ کس قدر ساؤ ہوگئے ہیں۔ فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء (16 : 28) “ تو یہ لوگ فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں “ ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے ”۔ یہ مستکبرین اب تو سلامتی کے پیغامبر بن گئے ہیں ، وہ تو اس سر تسلیم خم کرنے اور اطاعت کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ یہ بھی ان کا جھوٹ ہے اور یہ جھوٹ ان کے دنیاوی سلسلہ جھوٹ کا حصہ ہے۔ یہ نہایت ہی عاجزی سے کہتے ہیں۔ ما کنا نعمل من سوء (16 : 28) “ ہم تو قصور نہیں کر رہے تھے ”۔ یہ بھی نہایت ہی شرمساری اور ذلت کا منظر ہے۔ ان مستکبرین کو دیکھو اور ان کی اس حالت کو دیکھو۔ لیکن اللہ کی طرف سے جواب آئے گا “ ہاں ” اور یہ جواب علیم وخبیر کی طرف سے ہوگا۔ بلیٰ ان اللہ علیم بما کنتم تعملون (16 : 28) “ ہاں اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے ”۔ لہٰذا اب یہاں جھوٹ ، مغالطہ اور ملمع کاری نہیں چل سکتی۔ اب ان کے فیصلے اور جزاء کا وقت آتا ہے ۔ یہ متکبرین کی جزاء ہے۔ فادخلوا ابواب ۔۔۔۔۔ المتکبرین (16 : 29) “ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ۔ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے ”۔ پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے متکبروں کے لئے ”۔ اب فریق بالمقابل ، وہ لوگ ہیں جنہوں نے تقویٰ کی راہ اختیار کی۔ یہ لوگ متکبرین اور مستکبرین کے مد مقابل ہیں شروع سے انتہا تک۔

النحل 16:30

آیت نمبر 30 تا 32 متقین اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلامی کا بنیادی عنصر خیر ہے۔ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے ، جو امرونہی اور ہدایت و قانون پر مشتمل ہے ، اس کی روح انسان کی بھلائی ہے ۔ یہ لوگ پوری داستان کو ایک لفظ کے کوزے میں بند کردیتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں (خیرا) اور اس کے بعد وہ اس خیر کی تشریح اپنے علم و فضل کے مطابق کرتے ہیں۔ للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ (16 : 30) “ اس طرح کے نیکو کاروں کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے ”۔ بہترین زندگی ، بہترین سازو سامان اور بہترین مقام و مرتبہ۔ ولدار الاخرۃ خیر ( 16 : 30) “ اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے لئے بہتر ہے ”۔ اس دنیا کی بہتری سے بھی اس کی بہتری برتر ہے۔ ولنعم دار المتقین (16 : 30) “ بڑا چھا گھر ہے متقیوں کا ”۔ یہ تو تھی اجمالی بات۔ اب اس اجمال کی تفصیلات یہ ہیں :۔ جنت عدن (16 : 31) “ دائمی قیام کی جنتیں ”۔ یہ ان کی اقامت گاہیں ہوں گی۔ تجری من تحتھا الانھر (16 : 31) “ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ”۔ بہت سہولتیں ہوں گی۔ لھم فیھا ما یشاؤن ( 16 : 31) “ اور سب کچھ وہاں عین ان کی خواہش کے مطابق ہوگا ”۔ وہاں نہ کسی چیز سے محرومیت ہوگی اور نہ محنت ہوگی نہ رزق محدود ہوگا جس طرح اس دنیا میں ہے۔ کذلک یجزی اللہ المتقین (16 : 31) “ اس طرح جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو ”۔ اب متقین کو بھی سیاق کلام ایک قدم پیچھے لے کر چلتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل مستکبرین کو پیچھے کی طرف حالت نزع میں لے جایا گیا تھا ۔ کیا دیکھتے ہیں ، ان کی حالت نہایت ہی پرسکون ہے۔ الذین تتوفھم الملئکۃ صبیین (16 : 32) “ وہ لوگ جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں ، ملائکہ قبض کرتے ہیں ”۔ ان کے نفوس پاکیزہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ سے ملنے والے ہوتے ہیں۔ وہ سکرات الموت اور مشکلات نزع روح سے محفوظ ہوتے ہیں۔ یقولون سلم علیکم (16 : 32) “ فرشتے کہتے کہ سلام ہو تم پر ”۔ یہ سلام ان کو اطمینان دلانے کے لئے اور مرحبا اور خوش آمدید کہنے کے لئے ہوگا۔ ادخلوا اجنۃ بما کنتم تعملون (16 : 32) “ جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے ”۔ گویا ان کو جنت کی خوشخبری دے دی جاتی ہے ، حالانکہ وہ ابھی تک آخرت کے دروازے پر ہی ہیں۔ یہ پوری پوری جزاء ہے ان کے اعمال کے بدلے۔ ٭٭٭ موت کا منظر اور بعث بعد موت کا منظر فضا پر سایہ فگن ہے کہ اسکرین پر ایک سوال آتا ہے۔ یہ سوال اس فضا میں مشرکین قریش سے کیا جاتا ہے کہ وہ اب کسی چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ آیا وہ فرشتوں کا انتظار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آئیں اور مذکورہ بالا طریقے پر ان کی روح قبض کرلیں یا وہ اس بات کا انتظار کرنا چاہتے کہ اللہ قیامت برپا کر دے کیونکہ ان دونوں مراحل سے ان کو بہرحال گزرنا ہے۔ موت کے وقت بھی یہی منظر ہوگا اور بعث بعد الموت کے وقت وہی سزا ہوگی ، کیا ان دونوں مناظر میں ان کے لئے کوئی عبرت و نصیحت کا مقام نہیں ہے ؟

النحل 16:31

آیت نمبر 30 تا 32 متقین اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلامی کا بنیادی عنصر خیر ہے۔ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے ، جو امرونہی اور ہدایت و قانون پر مشتمل ہے ، اس کی روح انسان کی بھلائی ہے ۔ یہ لوگ پوری داستان کو ایک لفظ کے کوزے میں بند کردیتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں (خیرا) اور اس کے بعد وہ اس خیر کی تشریح اپنے علم و فضل کے مطابق کرتے ہیں۔ للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ (16 : 30) “ اس طرح کے نیکو کاروں کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے ”۔ بہترین زندگی ، بہترین سازو سامان اور بہترین مقام و مرتبہ۔ ولدار الاخرۃ خیر ( 16 : 30) “ اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے لئے بہتر ہے ”۔ اس دنیا کی بہتری سے بھی اس کی بہتری برتر ہے۔ ولنعم دار المتقین (16 : 30) “ بڑا چھا گھر ہے متقیوں کا ”۔ یہ تو تھی اجمالی بات۔ اب اس اجمال کی تفصیلات یہ ہیں :۔ جنت عدن (16 : 31) “ دائمی قیام کی جنتیں ”۔ یہ ان کی اقامت گاہیں ہوں گی۔ تجری من تحتھا الانھر (16 : 31) “ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ”۔ بہت سہولتیں ہوں گی۔ لھم فیھا ما یشاؤن ( 16 : 31) “ اور سب کچھ وہاں عین ان کی خواہش کے مطابق ہوگا ”۔ وہاں نہ کسی چیز سے محرومیت ہوگی اور نہ محنت ہوگی نہ رزق محدود ہوگا جس طرح اس دنیا میں ہے۔ کذلک یجزی اللہ المتقین (16 : 31) “ اس طرح جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو ”۔ اب متقین کو بھی سیاق کلام ایک قدم پیچھے لے کر چلتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل مستکبرین کو پیچھے کی طرف حالت نزع میں لے جایا گیا تھا ۔ کیا دیکھتے ہیں ، ان کی حالت نہایت ہی پرسکون ہے۔ الذین تتوفھم الملئکۃ صبیین (16 : 32) “ وہ لوگ جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں ، ملائکہ قبض کرتے ہیں ”۔ ان کے نفوس پاکیزہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ سے ملنے والے ہوتے ہیں۔ وہ سکرات الموت اور مشکلات نزع روح سے محفوظ ہوتے ہیں۔ یقولون سلم علیکم (16 : 32) “ فرشتے کہتے کہ سلام ہو تم پر ”۔ یہ سلام ان کو اطمینان دلانے کے لئے اور مرحبا اور خوش آمدید کہنے کے لئے ہوگا۔ ادخلوا اجنۃ بما کنتم تعملون (16 : 32) “ جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے ”۔ گویا ان کو جنت کی خوشخبری دے دی جاتی ہے ، حالانکہ وہ ابھی تک آخرت کے دروازے پر ہی ہیں۔ یہ پوری پوری جزاء ہے ان کے اعمال کے بدلے۔ ٭٭٭ موت کا منظر اور بعث بعد موت کا منظر فضا پر سایہ فگن ہے کہ اسکرین پر ایک سوال آتا ہے۔ یہ سوال اس فضا میں مشرکین قریش سے کیا جاتا ہے کہ وہ اب کسی چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ آیا وہ فرشتوں کا انتظار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آئیں اور مذکورہ بالا طریقے پر ان کی روح قبض کرلیں یا وہ اس بات کا انتظار کرنا چاہتے کہ اللہ قیامت برپا کر دے کیونکہ ان دونوں مراحل سے ان کو بہرحال گزرنا ہے۔ موت کے وقت بھی یہی منظر ہوگا اور بعث بعد الموت کے وقت وہی سزا ہوگی ، کیا ان دونوں مناظر میں ان کے لئے کوئی عبرت و نصیحت کا مقام نہیں ہے ؟

النحل 16:32

آیت نمبر 30 تا 32 متقین اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلامی کا بنیادی عنصر خیر ہے۔ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے ، جو امرونہی اور ہدایت و قانون پر مشتمل ہے ، اس کی روح انسان کی بھلائی ہے ۔ یہ لوگ پوری داستان کو ایک لفظ کے کوزے میں بند کردیتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں (خیرا) اور اس کے بعد وہ اس خیر کی تشریح اپنے علم و فضل کے مطابق کرتے ہیں۔ للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ (16 : 30) “ اس طرح کے نیکو کاروں کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے ”۔ بہترین زندگی ، بہترین سازو سامان اور بہترین مقام و مرتبہ۔ ولدار الاخرۃ خیر ( 16 : 30) “ اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے لئے بہتر ہے ”۔ اس دنیا کی بہتری سے بھی اس کی بہتری برتر ہے۔ ولنعم دار المتقین (16 : 30) “ بڑا چھا گھر ہے متقیوں کا ”۔ یہ تو تھی اجمالی بات۔ اب اس اجمال کی تفصیلات یہ ہیں :۔ جنت عدن (16 : 31) “ دائمی قیام کی جنتیں ”۔ یہ ان کی اقامت گاہیں ہوں گی۔ تجری من تحتھا الانھر (16 : 31) “ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ”۔ بہت سہولتیں ہوں گی۔ لھم فیھا ما یشاؤن ( 16 : 31) “ اور سب کچھ وہاں عین ان کی خواہش کے مطابق ہوگا ”۔ وہاں نہ کسی چیز سے محرومیت ہوگی اور نہ محنت ہوگی نہ رزق محدود ہوگا جس طرح اس دنیا میں ہے۔ کذلک یجزی اللہ المتقین (16 : 31) “ اس طرح جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو ”۔ اب متقین کو بھی سیاق کلام ایک قدم پیچھے لے کر چلتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل مستکبرین کو پیچھے کی طرف حالت نزع میں لے جایا گیا تھا ۔ کیا دیکھتے ہیں ، ان کی حالت نہایت ہی پرسکون ہے۔ الذین تتوفھم الملئکۃ صبیین (16 : 32) “ وہ لوگ جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں ، ملائکہ قبض کرتے ہیں ”۔ ان کے نفوس پاکیزہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ سے ملنے والے ہوتے ہیں۔ وہ سکرات الموت اور مشکلات نزع روح سے محفوظ ہوتے ہیں۔ یقولون سلم علیکم (16 : 32) “ فرشتے کہتے کہ سلام ہو تم پر ”۔ یہ سلام ان کو اطمینان دلانے کے لئے اور مرحبا اور خوش آمدید کہنے کے لئے ہوگا۔ ادخلوا اجنۃ بما کنتم تعملون (16 : 32) “ جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے ”۔ گویا ان کو جنت کی خوشخبری دے دی جاتی ہے ، حالانکہ وہ ابھی تک آخرت کے دروازے پر ہی ہیں۔ یہ پوری پوری جزاء ہے ان کے اعمال کے بدلے۔ ٭٭٭ موت کا منظر اور بعث بعد موت کا منظر فضا پر سایہ فگن ہے کہ اسکرین پر ایک سوال آتا ہے۔ یہ سوال اس فضا میں مشرکین قریش سے کیا جاتا ہے کہ وہ اب کسی چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ آیا وہ فرشتوں کا انتظار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آئیں اور مذکورہ بالا طریقے پر ان کی روح قبض کرلیں یا وہ اس بات کا انتظار کرنا چاہتے کہ اللہ قیامت برپا کر دے کیونکہ ان دونوں مراحل سے ان کو بہرحال گزرنا ہے۔ موت کے وقت بھی یہی منظر ہوگا اور بعث بعد الموت کے وقت وہی سزا ہوگی ، کیا ان دونوں مناظر میں ان کے لئے کوئی عبرت و نصیحت کا مقام نہیں ہے ؟

النحل 16:33

آیت نمبر 33 تا 34 لوگ بھی عجیب ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ ایک راستے پر ان کے پیش رو چلے اور وہ عذاب الٰہی سے دوچار ہوئے ، تباہی و بربادی ان کے حصے میں آئی ، پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کا جو حشر ہوا وہ ان کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتے نہیں کہ سنت ۔۔۔ ایک ہے اور اس کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہی نکلتے ہیں۔ یہ کہ مکافات عمل ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے ، یہ کہ قانون قدرت اور سنن الٰہیہ اٹل ہیں اور وہ کسی سے رو رعایت نہیں کرتیں ، نہ ان میں کسی کے لئے کوئی تخلف ہو سکتا ہے۔ وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون (16 : 33) “ پھر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے خود اپنے اوپر کیا ”۔ اللہ نے تو ان کو تدبر ، تفکر اور اختیار تمیزی کی آزادی دی تھی ، ان پر انبیاء کے ذریعہ آفاقی دلائل اور ان کے نفوس کے اندر پائے جانے والے شواہد دکھائے تھے ، ان کو برے انجام سے ڈرایا تھا ، ان کو عمل کے لئے آزاد چھوڑ دیا تھا کہ اللہ کی سنت کے مطابق جو چاہیں روش اختیار کریں۔ چناچہ ان پر ظلم و زیادتی ان کے برے اعمال نے کی کیونکہ جن نتائج سے وہ دو چار ہوئے وہ ان کے اعمال کے طبیعی نتائج تھے۔ فاصابھم سیات ۔۔۔۔۔ بہ یستھزؤن ( 16 : 34) “ پس ان کے کرتوتوں کی خرابیاں آخر کار ان کی دامن گیر ہوگئیں اور وہی چیز ان پر مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے اعمال سے باہر کوئی سزا نہ ہوگی۔ سزا ان کے اعمال کا طبیعی نتیجہ ہے۔ اور ان کے ذاتی اعمال کے نتائج ہیں جو یہ بھگت رہے ہیں۔ وہ جو اعمال کر رہے ہیں ان کے مطابق وہ انسانیت کے نچلے درجے تک گر جاتے ہیں لہٰذا وہ توہین آمیز درجے کے عذاب ہی کے مستحق ہوں گے۔

النحل 16:34

آیت نمبر 33 تا 34 لوگ بھی عجیب ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ ایک راستے پر ان کے پیش رو چلے اور وہ عذاب الٰہی سے دوچار ہوئے ، تباہی و بربادی ان کے حصے میں آئی ، پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کا جو حشر ہوا وہ ان کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتے نہیں کہ سنت ۔۔۔ ایک ہے اور اس کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہی نکلتے ہیں۔ یہ کہ مکافات عمل ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے ، یہ کہ قانون قدرت اور سنن الٰہیہ اٹل ہیں اور وہ کسی سے رو رعایت نہیں کرتیں ، نہ ان میں کسی کے لئے کوئی تخلف ہو سکتا ہے۔ وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون (16 : 33) “ پھر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے خود اپنے اوپر کیا ”۔ اللہ نے تو ان کو تدبر ، تفکر اور اختیار تمیزی کی آزادی دی تھی ، ان پر انبیاء کے ذریعہ آفاقی دلائل اور ان کے نفوس کے اندر پائے جانے والے شواہد دکھائے تھے ، ان کو برے انجام سے ڈرایا تھا ، ان کو عمل کے لئے آزاد چھوڑ دیا تھا کہ اللہ کی سنت کے مطابق جو چاہیں روش اختیار کریں۔ چناچہ ان پر ظلم و زیادتی ان کے برے اعمال نے کی کیونکہ جن نتائج سے وہ دو چار ہوئے وہ ان کے اعمال کے طبیعی نتائج تھے۔ فاصابھم سیات ۔۔۔۔۔ بہ یستھزؤن ( 16 : 34) “ پس ان کے کرتوتوں کی خرابیاں آخر کار ان کی دامن گیر ہوگئیں اور وہی چیز ان پر مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے اعمال سے باہر کوئی سزا نہ ہوگی۔ سزا ان کے اعمال کا طبیعی نتیجہ ہے۔ اور ان کے ذاتی اعمال کے نتائج ہیں جو یہ بھگت رہے ہیں۔ وہ جو اعمال کر رہے ہیں ان کے مطابق وہ انسانیت کے نچلے درجے تک گر جاتے ہیں لہٰذا وہ توہین آمیز درجے کے عذاب ہی کے مستحق ہوں گے۔

النحل 16:35

اب مشرکین کے شرکیہ نظریات و افعال پر ان کی جانب سے پیش کردہ نئی دلیل ۔ آیت نمبر 35 تا 36 ان لوگوں کی اس نئی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے شرک ، بتوں کی بندگی اور اپنے آباؤ اجداد کی طرف سے شرک اور بتوں کی بندگی اور بعض حلال چیزوں کو حرام کرنے کے فعل کو اللہ کے ارادے اور مشیت کی طرف موڑتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا اور اس کا ارادہ نہ ہوتا تو نہ ہم یہ خلاف شریعت کام کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو یہ سب کام کب ہوتے ؟ دراصل ان لوگوں نے مشیت کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں۔ یہ لوگ انسان سے انسان کی دو اہم امتیازی خصوصیت چھین لینا چاہتے ہیں جو اللہ نے انسان کو بخشی ہے۔ اللہ اپنے بندوں سے یہ نہیں چاہتے کہ وہ شرک کریں ، نہ اللہ کی یہ رضا ہے کہ اللہ کی حلال کردہ طیبات کو ناحق حرام کردیا جائے۔ اللہ کی رضا تو تمام قوانین شریعت اور تمام نبیوں کی ہدایات میں ثبت شدہ ہے۔ تمام رسولوں نے اس کی تبلیغ کی ہے ، اس کے لئے جدوجہد کی ہے اور انہوں نے پوری طرح فریضہ دعوت دین ادا کیا ہے۔ ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ الطاغوت (16 : 36) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبر دار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ پس یہ ہے اللہ کا حکم اور یہ ہے اس کا ارادہ اپنی مخلوق کے بارے میں۔ اللہ بہرحال لوگوں کو ایسے کاموں سے نہیں روکتا جن کے بارے میں وہ ازروئے تخلیق رکنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ نہ اللہ نے لوگوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخالفت کریں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب لوگ اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں تو اللہ ان کو پکڑتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (16 : 36) ” پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا “۔ اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ وہ انسان کو ہدایت و ضلالت کی استعداد کے ساتھ پیدا کرے اور انسان کو یہ اختیار ہو کہ وہ آزادانہ طور پر جو راہ چاہے اختیار کرے۔ پھر اللہ نے انسان کو عقل عطا کی تا کہ وہ عقل کو کام میں لا کر ان دونوں راستوں میں سے کوئی ایک راہ اپنے لئے منتخب کرے ، خصوصاً عقل کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ایسے دلائل و شواہد بھی رکھے ہیں جو انسان کی آنکھ ، کان اور عقل و شعور اور دل و دماغ کو دعوت غوروفکر دے رہے ہیں ، اور وہ ان دلائل و شواہد کو رات دن دیکھ رہا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر اکتفاء نہ کیا کہ انسان صرف عقل و شعور کے بل بوتے پر ہی اپنے لیے صحیح راہ کا انتخاب کرے۔ اللہ نے ہر دور اور ہر امت کے لئے ایک رسول بھی بھیجا تا کہ اگر انسان کی عقل کے لئے کسی مشکل معاملے کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے تو رسول ایک شریعت کی صورت میں ایک معیار ، نیک و بد بھی مفصل طور پر انسانوں کے سامنے پیش کردے تا کہ انسان کی ذاتی خواہشات اور اس کے میلانات اسے گمراہ نہ کرسکیں۔ پھر اللہ نے ان رسولوں کو قہارو جبار نہیں بنایا کہ لوگوں کی گردنیں موڑ کر ان کو راہ ایمان پر ڈال دیں۔ ان کو بھی صرف مبلغ بنایا کہ وہ لوگوں کو صحیح راستے کی طرف تبلیغ و تلقین کے ذریعے موڑیں ، وہ ان کو بتائیں کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ نہ بتوں ، نہ اپنی ہوا وہوس کی اور نہ کسی بادشاہ کی۔ ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ واجتنبوا الطاغوت (16 : 36) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبردار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ چناچہ ایک فریق نے اس دعوت کو قبول کرلیا۔ فمنھم من ھدی اللہ (16 : 36) ” اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی “۔ اور بعض نے گمراہی اختیار کی راہ لی۔ ومنھم من حقت علیہ الضللۃ (16 : 36) ” اور کسی پر ضلالت مسلط ہوگئی “۔ یہ دونوں فریق اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر ہی رہے۔ ان میں سے کسی فریق کو بھی اللہ نے ہدایت یا ضلالت پر مجبور نہیں کیا ، اللہ نے ان کے لئے یہ راستہ وضع کیا کہ ان میں سے ہر فریق اپنے آزادانہ ارادے اور آزادانہ طرز عمل سے جو راہ چاہے اختیار کرے جبکہ اللہ نے ان کے لئے نشانات راہ اور علامات حق اس کائنات میں بھی اور ان کے نفوس میں بھی ودیعت کر دئیے۔ اس طرح قرآن کریم اس تفصیل سے اس وہم کا قلع قمع کردیتا ہے جس کی طرف مشرکین نے اپنے استدلال میں اشارہ کیا تھا۔ آج ہمارے دور میں بھی بہت سے نافرماں اور سرکش ایسا ہی استدلال کرتے ہیں حالانکہ اس سلسلے میں اسلامی عقائد و نظریات بالکل واضح ہیں۔ یوں کہ اللہ اپنے بندوں کو بھلائی کا حکم دیتا ہے ، برائی سے منع کرتا ہے ، برائی کرنے والوں کو کبھی کبھی اس دنیا میں بھی سزا دے دیتا ہے اور یہ سزا ایسی واضح ہوتی ہے جس سے اللہ کا غضب بالکل عیاں ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد یہ استدلال کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ کوئی یہ کہے کہ اللہ کا ارادہ ہمیں برائیوں پر مجبور کرتا ہے ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو واضح اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی راستہ اختیار کریں اور یہ اختیار دینا ہی اللہ کا ارادہ ہے۔ اس معنی میں ان سے جو اچھائی یا بھلائی یا شر اور معصیت صادر ہوتی ہے ، وہ اس مفہوم میں اللہ کی مشیت اور ارادے کے مطابق ہوتی ہے ، جیسا کہ ہم نے واضح کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ آخر میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الٰہیہ بتائی جاتی ہے۔

النحل 16:36

اب مشرکین کے شرکیہ نظریات و افعال پر ان کی جانب سے پیش کردہ نئی دلیل ۔ آیت نمبر 35 تا 36 ان لوگوں کی اس نئی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے شرک ، بتوں کی بندگی اور اپنے آباؤ اجداد کی طرف سے شرک اور بتوں کی بندگی اور بعض حلال چیزوں کو حرام کرنے کے فعل کو اللہ کے ارادے اور مشیت کی طرف موڑتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا اور اس کا ارادہ نہ ہوتا تو نہ ہم یہ خلاف شریعت کام کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو یہ سب کام کب ہوتے ؟ دراصل ان لوگوں نے مشیت کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں۔ یہ لوگ انسان سے انسان کی دو اہم امتیازی خصوصیت چھین لینا چاہتے ہیں جو اللہ نے انسان کو بخشی ہے۔ اللہ اپنے بندوں سے یہ نہیں چاہتے کہ وہ شرک کریں ، نہ اللہ کی یہ رضا ہے کہ اللہ کی حلال کردہ طیبات کو ناحق حرام کردیا جائے۔ اللہ کی رضا تو تمام قوانین شریعت اور تمام نبیوں کی ہدایات میں ثبت شدہ ہے۔ تمام رسولوں نے اس کی تبلیغ کی ہے ، اس کے لئے جدوجہد کی ہے اور انہوں نے پوری طرح فریضہ دعوت دین ادا کیا ہے۔ ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ الطاغوت (16 : 36) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبر دار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ پس یہ ہے اللہ کا حکم اور یہ ہے اس کا ارادہ اپنی مخلوق کے بارے میں۔ اللہ بہرحال لوگوں کو ایسے کاموں سے نہیں روکتا جن کے بارے میں وہ ازروئے تخلیق رکنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ نہ اللہ نے لوگوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخالفت کریں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب لوگ اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں تو اللہ ان کو پکڑتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (16 : 36) ” پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا “۔ اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ وہ انسان کو ہدایت و ضلالت کی استعداد کے ساتھ پیدا کرے اور انسان کو یہ اختیار ہو کہ وہ آزادانہ طور پر جو راہ چاہے اختیار کرے۔ پھر اللہ نے انسان کو عقل عطا کی تا کہ وہ عقل کو کام میں لا کر ان دونوں راستوں میں سے کوئی ایک راہ اپنے لئے منتخب کرے ، خصوصاً عقل کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ایسے دلائل و شواہد بھی رکھے ہیں جو انسان کی آنکھ ، کان اور عقل و شعور اور دل و دماغ کو دعوت غوروفکر دے رہے ہیں ، اور وہ ان دلائل و شواہد کو رات دن دیکھ رہا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر اکتفاء نہ کیا کہ انسان صرف عقل و شعور کے بل بوتے پر ہی اپنے لیے صحیح راہ کا انتخاب کرے۔ اللہ نے ہر دور اور ہر امت کے لئے ایک رسول بھی بھیجا تا کہ اگر انسان کی عقل کے لئے کسی مشکل معاملے کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے تو رسول ایک شریعت کی صورت میں ایک معیار ، نیک و بد بھی مفصل طور پر انسانوں کے سامنے پیش کردے تا کہ انسان کی ذاتی خواہشات اور اس کے میلانات اسے گمراہ نہ کرسکیں۔ پھر اللہ نے ان رسولوں کو قہارو جبار نہیں بنایا کہ لوگوں کی گردنیں موڑ کر ان کو راہ ایمان پر ڈال دیں۔ ان کو بھی صرف مبلغ بنایا کہ وہ لوگوں کو صحیح راستے کی طرف تبلیغ و تلقین کے ذریعے موڑیں ، وہ ان کو بتائیں کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ نہ بتوں ، نہ اپنی ہوا وہوس کی اور نہ کسی بادشاہ کی۔ ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ واجتنبوا الطاغوت (16 : 36) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبردار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ چناچہ ایک فریق نے اس دعوت کو قبول کرلیا۔ فمنھم من ھدی اللہ (16 : 36) ” اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی “۔ اور بعض نے گمراہی اختیار کی راہ لی۔ ومنھم من حقت علیہ الضللۃ (16 : 36) ” اور کسی پر ضلالت مسلط ہوگئی “۔ یہ دونوں فریق اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر ہی رہے۔ ان میں سے کسی فریق کو بھی اللہ نے ہدایت یا ضلالت پر مجبور نہیں کیا ، اللہ نے ان کے لئے یہ راستہ وضع کیا کہ ان میں سے ہر فریق اپنے آزادانہ ارادے اور آزادانہ طرز عمل سے جو راہ چاہے اختیار کرے جبکہ اللہ نے ان کے لئے نشانات راہ اور علامات حق اس کائنات میں بھی اور ان کے نفوس میں بھی ودیعت کر دئیے۔ اس طرح قرآن کریم اس تفصیل سے اس وہم کا قلع قمع کردیتا ہے جس کی طرف مشرکین نے اپنے استدلال میں اشارہ کیا تھا۔ آج ہمارے دور میں بھی بہت سے نافرماں اور سرکش ایسا ہی استدلال کرتے ہیں حالانکہ اس سلسلے میں اسلامی عقائد و نظریات بالکل واضح ہیں۔ یوں کہ اللہ اپنے بندوں کو بھلائی کا حکم دیتا ہے ، برائی سے منع کرتا ہے ، برائی کرنے والوں کو کبھی کبھی اس دنیا میں بھی سزا دے دیتا ہے اور یہ سزا ایسی واضح ہوتی ہے جس سے اللہ کا غضب بالکل عیاں ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد یہ استدلال کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ کوئی یہ کہے کہ اللہ کا ارادہ ہمیں برائیوں پر مجبور کرتا ہے ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو واضح اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی راستہ اختیار کریں اور یہ اختیار دینا ہی اللہ کا ارادہ ہے۔ اس معنی میں ان سے جو اچھائی یا بھلائی یا شر اور معصیت صادر ہوتی ہے ، وہ اس مفہوم میں اللہ کی مشیت اور ارادے کے مطابق ہوتی ہے ، جیسا کہ ہم نے واضح کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ آخر میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الٰہیہ بتائی جاتی ہے۔

النحل 16:37

آیت نمبر 37 ہدایت و ضلالت کا مدار اس پر نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس پر زیادہ حریص ہیں یا نہیں ہیں کیونکہ رسول کا کام تو صرف ابلاغ ہے۔ رہی ہدایت و ضلالت تو وہ سنت الٰہیہ کے مطابق ملتی ہے اور یہ سنت ایسی ہے کہ اس کے نتائج کو روکا نہیں جاسکتا۔ جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے تو وہ اسے سنت الٰہیہ کے مطابق گمراہ کرتا ہے۔ جو شخص سنت الٰہیہ کے مطابق گمراہ ہوجائے اسے اللہ ہدایت نہیں دیتا کیونکہ سنت الٰہیہ اپنے نتائج ظاہر کرتی رہتی ہے۔ یہ سنت دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور واللہ فعال لما یشاء ” اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔ وما لھم من نصرین (16 : 37) ” ان کے لئے کوئی مدد گار نہ ہوگا “۔ یعنی اللہ کی مشیت کے مقابلے میں ۔

النحل 16:38

اب منکرین اور مستکبرین کی تیسری کٹ حجتی :۔ آیت نمبر 38 تا 40 جب سے اللہ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور انہوں نے بعث بعد موت سے ڈرایا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع ہوا تو اکثر لوگ بعث بعد الموت کے عقیدے کے بارے میں خلجان میں مبتلا رہے ہیں۔ اہل قریش بھی اللہ کے نام کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ یہ لوگ اللہ کے وجود کے تو قائل تھے لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اپنی اصلی حالت میں دوبارہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام تو بہت ہی مشکل ہے کہ جب انسان گل سڑ کر ذرے ذرے ہوجائے تو پھر کس طرح جمع ہوگا۔ لیکن ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ اللہ نے پہلی بار کس طرح ان ذرات کو حیات بخشی۔ یہ لوگ قدرت الٰہیہ کو بھی اچھی طرح نہ سمجھ سکے اور خدا کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کیا۔ اللہ کے لئے کسی چیز کا ایجاد کرنا کچھ ممکن نہیں ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے تو کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوجا ، پھر وہ ہوجاتی ہے۔ نیز انہوں نے یہ بھی نہ سوچا سکہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔ بیشمار امور اس جہان میں ایسے ہیں جو اپنے قدرتی انجام تک نہیں پہنچتے۔ اس جہان میں حق و باطل کے بارے میں لوگوں کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے بارے میں لوگوں کے تصورات مختلف ہیں۔ خیروشر کا معیار مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان ان امور کا فیصلہ اس جہان میں ہی نہیں چکاتا کیونکہ مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگوں کو اس جہاں میں مہلت و امتیاز دیا جائے اور یہاں ہی سب کو جزاء و سزا نہ دے دی جائے۔ ان امور کا فیصلہ قیامت میں بعث بعد الموت کے وقت ہوتا ہے۔ قرآن کریم اس کا فرانہ کٹ حجتی کو آغاز ہی میں رد کردیتا ہے اور اس غلطی اور غلط سوچ کو اللہ تعالیٰ یوں دور کرتا ہے کہ بلی وعدا علیہ حقا (16 : 38) ” یہ تو ایک وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے “۔ اور جب اللہ کسی بات کا ارادہ کرلے تو اس کی خلاف ورزی کسی حال میں بھی نہیں ہوتی۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (16 : 38) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “ کہ اللہ کے عہد کی حقیقت کیا ہوتی ہے یعنی وہ اٹل ہوتا ہے۔ پھر اللہ کے اس فیصلے کے پیچھے ایک گہری حکمت بھی ہے۔ لیبین لھم الذی ۔۔۔۔۔ کانوا کذبین (16 : 39) ” اور ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ، اور منکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ کس بات میں ؟ اس بات میں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اس بات میں کہ وہ رسول کو جھوٹا سمجھتے تھے ، اس بات میں کہ ان کے نزدیک قیام قیامت ممکن نہیں ہے۔ نیز اپنے اعمال و اعتقادات وغیرہ ہیں۔ رہا اس کا عملاً قیام تو وہ کوئی مشکل نہیں۔ انما قولنا۔۔۔۔۔۔ کن فیکون (16 : 40) ” ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں کہ ہوجا اور بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اور قیام قیامت بھی ایسے ہی حالات میں سے ایک حالت ہے جوں ہی ارادہ الٰہی اس طرف متوجہ ہوا وہ برپا ہوجائے گی۔

النحل 16:39

اب منکرین اور مستکبرین کی تیسری کٹ حجتی :۔ آیت نمبر 38 تا 40 جب سے اللہ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور انہوں نے بعث بعد موت سے ڈرایا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع ہوا تو اکثر لوگ بعث بعد الموت کے عقیدے کے بارے میں خلجان میں مبتلا رہے ہیں۔ اہل قریش بھی اللہ کے نام کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ یہ لوگ اللہ کے وجود کے تو قائل تھے لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اپنی اصلی حالت میں دوبارہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام تو بہت ہی مشکل ہے کہ جب انسان گل سڑ کر ذرے ذرے ہوجائے تو پھر کس طرح جمع ہوگا۔ لیکن ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ اللہ نے پہلی بار کس طرح ان ذرات کو حیات بخشی۔ یہ لوگ قدرت الٰہیہ کو بھی اچھی طرح نہ سمجھ سکے اور خدا کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کیا۔ اللہ کے لئے کسی چیز کا ایجاد کرنا کچھ ممکن نہیں ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے تو کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوجا ، پھر وہ ہوجاتی ہے۔ نیز انہوں نے یہ بھی نہ سوچا سکہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔ بیشمار امور اس جہان میں ایسے ہیں جو اپنے قدرتی انجام تک نہیں پہنچتے۔ اس جہان میں حق و باطل کے بارے میں لوگوں کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے بارے میں لوگوں کے تصورات مختلف ہیں۔ خیروشر کا معیار مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان ان امور کا فیصلہ اس جہان میں ہی نہیں چکاتا کیونکہ مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگوں کو اس جہاں میں مہلت و امتیاز دیا جائے اور یہاں ہی سب کو جزاء و سزا نہ دے دی جائے۔ ان امور کا فیصلہ قیامت میں بعث بعد الموت کے وقت ہوتا ہے۔ قرآن کریم اس کا فرانہ کٹ حجتی کو آغاز ہی میں رد کردیتا ہے اور اس غلطی اور غلط سوچ کو اللہ تعالیٰ یوں دور کرتا ہے کہ بلی وعدا علیہ حقا (16 : 38) ” یہ تو ایک وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے “۔ اور جب اللہ کسی بات کا ارادہ کرلے تو اس کی خلاف ورزی کسی حال میں بھی نہیں ہوتی۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (16 : 38) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “ کہ اللہ کے عہد کی حقیقت کیا ہوتی ہے یعنی وہ اٹل ہوتا ہے۔ پھر اللہ کے اس فیصلے کے پیچھے ایک گہری حکمت بھی ہے۔ لیبین لھم الذی ۔۔۔۔۔ کانوا کذبین (16 : 39) ” اور ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ، اور منکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ کس بات میں ؟ اس بات میں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اس بات میں کہ وہ رسول کو جھوٹا سمجھتے تھے ، اس بات میں کہ ان کے نزدیک قیام قیامت ممکن نہیں ہے۔ نیز اپنے اعمال و اعتقادات وغیرہ ہیں۔ رہا اس کا عملاً قیام تو وہ کوئی مشکل نہیں۔ انما قولنا۔۔۔۔۔۔ کن فیکون (16 : 40) ” ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں کہ ہوجا اور بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اور قیام قیامت بھی ایسے ہی حالات میں سے ایک حالت ہے جوں ہی ارادہ الٰہی اس طرف متوجہ ہوا وہ برپا ہوجائے گی۔

النحل 16:40

اب منکرین اور مستکبرین کی تیسری کٹ حجتی :۔ آیت نمبر 38 تا 40 جب سے اللہ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور انہوں نے بعث بعد موت سے ڈرایا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع ہوا تو اکثر لوگ بعث بعد الموت کے عقیدے کے بارے میں خلجان میں مبتلا رہے ہیں۔ اہل قریش بھی اللہ کے نام کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ یہ لوگ اللہ کے وجود کے تو قائل تھے لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اپنی اصلی حالت میں دوبارہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام تو بہت ہی مشکل ہے کہ جب انسان گل سڑ کر ذرے ذرے ہوجائے تو پھر کس طرح جمع ہوگا۔ لیکن ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ اللہ نے پہلی بار کس طرح ان ذرات کو حیات بخشی۔ یہ لوگ قدرت الٰہیہ کو بھی اچھی طرح نہ سمجھ سکے اور خدا کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کیا۔ اللہ کے لئے کسی چیز کا ایجاد کرنا کچھ ممکن نہیں ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے تو کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوجا ، پھر وہ ہوجاتی ہے۔ نیز انہوں نے یہ بھی نہ سوچا سکہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔ بیشمار امور اس جہان میں ایسے ہیں جو اپنے قدرتی انجام تک نہیں پہنچتے۔ اس جہان میں حق و باطل کے بارے میں لوگوں کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے بارے میں لوگوں کے تصورات مختلف ہیں۔ خیروشر کا معیار مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان ان امور کا فیصلہ اس جہان میں ہی نہیں چکاتا کیونکہ مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگوں کو اس جہاں میں مہلت و امتیاز دیا جائے اور یہاں ہی سب کو جزاء و سزا نہ دے دی جائے۔ ان امور کا فیصلہ قیامت میں بعث بعد الموت کے وقت ہوتا ہے۔ قرآن کریم اس کا فرانہ کٹ حجتی کو آغاز ہی میں رد کردیتا ہے اور اس غلطی اور غلط سوچ کو اللہ تعالیٰ یوں دور کرتا ہے کہ بلی وعدا علیہ حقا (16 : 38) ” یہ تو ایک وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے “۔ اور جب اللہ کسی بات کا ارادہ کرلے تو اس کی خلاف ورزی کسی حال میں بھی نہیں ہوتی۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (16 : 38) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “ کہ اللہ کے عہد کی حقیقت کیا ہوتی ہے یعنی وہ اٹل ہوتا ہے۔ پھر اللہ کے اس فیصلے کے پیچھے ایک گہری حکمت بھی ہے۔ لیبین لھم الذی ۔۔۔۔۔ کانوا کذبین (16 : 39) ” اور ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ، اور منکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ کس بات میں ؟ اس بات میں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اس بات میں کہ وہ رسول کو جھوٹا سمجھتے تھے ، اس بات میں کہ ان کے نزدیک قیام قیامت ممکن نہیں ہے۔ نیز اپنے اعمال و اعتقادات وغیرہ ہیں۔ رہا اس کا عملاً قیام تو وہ کوئی مشکل نہیں۔ انما قولنا۔۔۔۔۔۔ کن فیکون (16 : 40) ” ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں کہ ہوجا اور بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اور قیام قیامت بھی ایسے ہی حالات میں سے ایک حالت ہے جوں ہی ارادہ الٰہی اس طرف متوجہ ہوا وہ برپا ہوجائے گی۔

النحل 16:41

منکرین اور مکذبین کے بالمقابل ذرا مومنین صادقین کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے جو نہ صرف اپنے نظریہ حیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس کے لئے اپنا مال اور اپنا ملک چھوڑ کر ہجرت بھی کرتے ہیں اور یہ کام وہ صرف رضائے الٰہی کی خاطر کرتے ہیں۔ آیت نمبر 41 تا 42 یہ لوگ جنہوں نے اپنے ملک و مال کو چھوڑ کر ہجرت کی ، اپنی جائیداد اور محبب آبائی وطن سے دستکش ہوگئے۔ انہوں نے ملک ، رشتہ داروں اور اپنی محبوب یادوں کی قربانی دی۔ یہ لوگ دار آخرت میں عوضانہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جو جو قربانیاں دیں اس کا اجر تو انہیں ملنا چاہئے۔ پھر یہ مال اور ملک انہوں نے خوشی سے نہیں چھوڑا بلکہ ظلم سے تنگ آکر چھوڑا۔ اگر یہاں انہوں نے اپنی اچھی رہائش گاہیں چھوڑیں تو لازم ہے کہ دنیا میں بھی ان کو ان حالات سے اچھے حالات نصیب ہوں۔ لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ (16 : 41) ” ان کو ہم دنیا میں بھی اچھا ٹھکانا دیں گے “۔ اور آخرت میں بھی ان کو ہم اچھے مقامات پر ٹھہرائیں گے۔ ولاجر الاخرۃ اکبر (16 : 41) ” اور آخرت کا اجر بہرحال بڑا ہے “۔ اے کاش کہ لوگ اس بات کو جانتے۔ الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون (16 : 42) ” جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں “۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے ، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں۔ اگر قیامت نہ ہو تو ایسے لوگوں کا اجر کہاں ان کو ملے گا۔ ٭٭٭ اس سے قبل مشرکین کے عذرات کو رد کرتے وقت یہ کہا گیا کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے کہ تم یا تمہارے آباء شرک کرو ، ورنہ وہ رسول کیوں بھیجتا۔ جو ہر امت میں بھیجے گئے۔ یہاں اب رسولوں کے منصب کے فرائض ذرا تفصیل سے بیان کئے جاتے ہیں اور نبی آخر الزمان ﷺ کے فرائض کا بھی تعین کیا جاتا ہے ، اور حکم دیا جاتا ہے کہ وہ جو دعوت دے رہے ہیں اگر تم نے اس کا انکار کیا تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔

النحل 16:42

منکرین اور مکذبین کے بالمقابل ذرا مومنین صادقین کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے جو نہ صرف اپنے نظریہ حیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس کے لئے اپنا مال اور اپنا ملک چھوڑ کر ہجرت بھی کرتے ہیں اور یہ کام وہ صرف رضائے الٰہی کی خاطر کرتے ہیں۔ آیت نمبر 41 تا 42 یہ لوگ جنہوں نے اپنے ملک و مال کو چھوڑ کر ہجرت کی ، اپنی جائیداد اور محبب آبائی وطن سے دستکش ہوگئے۔ انہوں نے ملک ، رشتہ داروں اور اپنی محبوب یادوں کی قربانی دی۔ یہ لوگ دار آخرت میں عوضانہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جو جو قربانیاں دیں اس کا اجر تو انہیں ملنا چاہئے۔ پھر یہ مال اور ملک انہوں نے خوشی سے نہیں چھوڑا بلکہ ظلم سے تنگ آکر چھوڑا۔ اگر یہاں انہوں نے اپنی اچھی رہائش گاہیں چھوڑیں تو لازم ہے کہ دنیا میں بھی ان کو ان حالات سے اچھے حالات نصیب ہوں۔ لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ (16 : 41) ” ان کو ہم دنیا میں بھی اچھا ٹھکانا دیں گے “۔ اور آخرت میں بھی ان کو ہم اچھے مقامات پر ٹھہرائیں گے۔ ولاجر الاخرۃ اکبر (16 : 41) ” اور آخرت کا اجر بہرحال بڑا ہے “۔ اے کاش کہ لوگ اس بات کو جانتے۔ الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون (16 : 42) ” جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں “۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے ، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں۔ اگر قیامت نہ ہو تو ایسے لوگوں کا اجر کہاں ان کو ملے گا۔ ٭٭٭ اس سے قبل مشرکین کے عذرات کو رد کرتے وقت یہ کہا گیا کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے کہ تم یا تمہارے آباء شرک کرو ، ورنہ وہ رسول کیوں بھیجتا۔ جو ہر امت میں بھیجے گئے۔ یہاں اب رسولوں کے منصب کے فرائض ذرا تفصیل سے بیان کئے جاتے ہیں اور نبی آخر الزمان ﷺ کے فرائض کا بھی تعین کیا جاتا ہے ، اور حکم دیا جاتا ہے کہ وہ جو دعوت دے رہے ہیں اگر تم نے اس کا انکار کیا تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔

النحل 16:43

آیت نمبر 43 تا 44 یعنی اس سے قبل ہم نے جو رسول بھیجے تھے وہ آدمی ہی تھے۔ فرشتے نہ تھے۔ نہ آدم اور فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق تھے۔ البتہ یہ برگزیدہ لوگ تھے۔ نوحی الیھم (16 : 43) “ جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے “ جیسا کہ آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ ان کے فرائض بھی یہی تھے کہ دعوت کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ جس طرح آپ کا بھی یہی فریضہ ہے۔ فسئلوا اھل الذکر (16 : 43) ” اہل ذکر سے پوچھ لو “۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے پاس بہت سے رسول آئے کہ یہ رسول آدمی تھے یا فرشتے یا کوئی اور مخلوق۔ ان کنتم لا تعلمون (16 : 43) ” اگر تم خود نہیں مانتے “۔ ان رسولوں کو کتابیں بھی دی گئیں اور دلائل بھی دئیے گئے۔ عربی میں زیر کے معنی متفرق کتابوں کے ہوتے ہیں۔ وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم (16 : 44) ” اور ہم نے اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لئے اتاری گئی ہے “۔ نبی آخر الزمان کا بیان ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو پہلے اہل کتاب تھے ، جنہوں نے اپنی کتاب میں اختلاف کیا اور قرآن آیا اور ان کے اختلافات کا فیصلہ کردیا اور مسئلہ مختلفہ میں حق بات کہہ دی۔ ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو ان کے سوا آپ کے معاصر تھے ، جن کے سامنے قرآن مجید نازل ہوا تا کہ لوگ اللہ کی آیات اور قرآن کی آیات دونوں میں غورو فکر کریں۔ ولعلھم یتفکرون (16 : 44) ” قرآن مجید میں ہر وقت انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور انسانی شعور کو جگانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ درس ، جس کا آغاز مستکبرین اور مکارین کی سمت ہوا تھا ، اس کے آخر میں قارئین کو چند وجدانی احساس دلائے جاتے ہیں۔ پہلا احساس یہ دلایا جاتا ہے کہ انسان کو رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کے عذاب اور اللہ کی جوابی تدبیر سے بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ دوسرا احساس یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا چاہئے اور اس کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنا چاہئے۔ یہ انسان ہی ہے جو تکبر کرتے ہوئے غافل اور منکر ہوجاتا ورنہ اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتی ہے۔

النحل 16:44

آیت نمبر 43 تا 44 یعنی اس سے قبل ہم نے جو رسول بھیجے تھے وہ آدمی ہی تھے۔ فرشتے نہ تھے۔ نہ آدم اور فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق تھے۔ البتہ یہ برگزیدہ لوگ تھے۔ نوحی الیھم (16 : 43) “ جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے “ جیسا کہ آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ ان کے فرائض بھی یہی تھے کہ دعوت کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ جس طرح آپ کا بھی یہی فریضہ ہے۔ فسئلوا اھل الذکر (16 : 43) ” اہل ذکر سے پوچھ لو “۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے پاس بہت سے رسول آئے کہ یہ رسول آدمی تھے یا فرشتے یا کوئی اور مخلوق۔ ان کنتم لا تعلمون (16 : 43) ” اگر تم خود نہیں مانتے “۔ ان رسولوں کو کتابیں بھی دی گئیں اور دلائل بھی دئیے گئے۔ عربی میں زیر کے معنی متفرق کتابوں کے ہوتے ہیں۔ وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم (16 : 44) ” اور ہم نے اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لئے اتاری گئی ہے “۔ نبی آخر الزمان کا بیان ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو پہلے اہل کتاب تھے ، جنہوں نے اپنی کتاب میں اختلاف کیا اور قرآن آیا اور ان کے اختلافات کا فیصلہ کردیا اور مسئلہ مختلفہ میں حق بات کہہ دی۔ ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو ان کے سوا آپ کے معاصر تھے ، جن کے سامنے قرآن مجید نازل ہوا تا کہ لوگ اللہ کی آیات اور قرآن کی آیات دونوں میں غورو فکر کریں۔ ولعلھم یتفکرون (16 : 44) ” قرآن مجید میں ہر وقت انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور انسانی شعور کو جگانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ درس ، جس کا آغاز مستکبرین اور مکارین کی سمت ہوا تھا ، اس کے آخر میں قارئین کو چند وجدانی احساس دلائے جاتے ہیں۔ پہلا احساس یہ دلایا جاتا ہے کہ انسان کو رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کے عذاب اور اللہ کی جوابی تدبیر سے بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ دوسرا احساس یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا چاہئے اور اس کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنا چاہئے۔ یہ انسان ہی ہے جو تکبر کرتے ہوئے غافل اور منکر ہوجاتا ورنہ اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتی ہے۔

النحل 16:45

آیت نمبر 45 تا 50 یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔ افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔ فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔ او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔ یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔ اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔ سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔ قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا کتنا دل گروا ہے کہ تو تکبر بھی کرتا ہے اور سرتابی بھی۔ یہ تیری نہایت ہی تعجب انگیز حرکت ہے ! یہ سبق یہاں منکرین اور مستکبرین کی طرف اشارہ کر کے ختم ہوجاتا ہے تا کہ سبق کے آخر میں ان کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کر دے کہ تمہارا انکار و استکبار فطرت کائنات کے خلاف ہے۔

النحل 16:46

آیت نمبر 45 تا 50 یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔ افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔ فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔ او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔ یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔ اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔ سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔ قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا کتنا دل گروا ہے کہ تو تکبر بھی کرتا ہے اور سرتابی بھی۔ یہ تیری نہایت ہی تعجب انگیز حرکت ہے ! یہ سبق یہاں منکرین اور مستکبرین کی طرف اشارہ کر کے ختم ہوجاتا ہے تا کہ سبق کے آخر میں ان کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کر دے کہ تمہارا انکار و استکبار فطرت کائنات کے خلاف ہے۔

النحل 16:47

آیت نمبر 45 تا 50 یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔ افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔ فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔ او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔ یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔ اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔ سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔ قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا کتنا دل گروا ہے کہ تو تکبر بھی کرتا ہے اور سرتابی بھی۔ یہ تیری نہایت ہی تعجب انگیز حرکت ہے ! یہ سبق یہاں منکرین اور مستکبرین کی طرف اشارہ کر کے ختم ہوجاتا ہے تا کہ سبق کے آخر میں ان کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کر دے کہ تمہارا انکار و استکبار فطرت کائنات کے خلاف ہے۔

النحل 16:48

آیت نمبر 45 تا 50 یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔ افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔ فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔ او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔ یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔ اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔ سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔ قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا کتنا دل گروا ہے کہ تو تکبر بھی کرتا ہے اور سرتابی بھی۔ یہ تیری نہایت ہی تعجب انگیز حرکت ہے ! یہ سبق یہاں منکرین اور مستکبرین کی طرف اشارہ کر کے ختم ہوجاتا ہے تا کہ سبق کے آخر میں ان کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کر دے کہ تمہارا انکار و استکبار فطرت کائنات کے خلاف ہے۔

النحل 16:49

آیت نمبر 45 تا 50 یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔ افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔ فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔ او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔ یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔ اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔ سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔ قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا کتنا دل گروا ہے کہ تو تکبر بھی کرتا ہے اور سرتابی بھی۔ یہ تیری نہایت ہی تعجب انگیز حرکت ہے ! یہ سبق یہاں منکرین اور مستکبرین کی طرف اشارہ کر کے ختم ہوجاتا ہے تا کہ سبق کے آخر میں ان کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کر دے کہ تمہارا انکار و استکبار فطرت کائنات کے خلاف ہے۔

النحل 16:50

آیت نمبر 45 تا 50 یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔ افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔ فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔ او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔ یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔ اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔ سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔ قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا کتنا دل گروا ہے کہ تو تکبر بھی کرتا ہے اور سرتابی بھی۔ یہ تیری نہایت ہی تعجب انگیز حرکت ہے ! یہ سبق یہاں منکرین اور مستکبرین کی طرف اشارہ کر کے ختم ہوجاتا ہے تا کہ سبق کے آخر میں ان کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کر دے کہ تمہارا انکار و استکبار فطرت کائنات کے خلاف ہے۔

النحل 16:51

درس نمبر 121 ایک نظر میں مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی ! اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔ واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔ اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔ احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان کے افادے کی ہر چیز میں متحرک ہے۔ اس سبق کا خاتمہ پھر ان دو مثالوں پر ہوتا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے۔ یہ گویا انسانی عقل و وجدان کو احساس دلانے کی ایک مفید کوشش ہے ، جس کے گہرے اثرات ہیں اور اس میں نفس انسانی کے رباب کے نہایت ہی حساس تاروں کو چھیڑا گیا ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ نفس انسانی اس سے متاثر نہ ہو اور لبیک نہ کہے۔ آیت نمبر 51 تا 55 اللہ کا یہ فرمان ہے کہ دو الٰہ نہ بناؤ۔ خدا تو بس ایک ہی ہے۔ اس بات کے لئے اسلوب نہایت ہی فیصلہ کن اور مثبت اختیار کیا گیا۔ اللہ کے بعد دو کا لفظ آیا ہے اور دوسرے فقرے میں نہایت تاکیدی مصرع کہ ” اللہ تو بس ایک ہی ہے ، اور ان دونوں فقروں کے بعد ایک دوسرا مصرع ہے ” لہٰذا تم مجھی سے ڈرو “۔ اور میرے سوا کسی اور سے نہ ڈرو۔ کسی کے ساتھ ڈرنے کا ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو جس طرح مجھ سے ڈرنا ہوتا ہے ۔ فارھبون اس لیے کہا گیا کہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ ڈرو۔ اسلامی نظریہ حیات میں عقیدۂ توحید ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اسلامی نظریہ حیات قائم ہی عقیدۂ توحید پر ہے۔ جب تک توحید نہ ہو ایمان قائم ہی نہیں ہو سکتا اور ایمان کے بغیر اسلام کا نظریہ حیات قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ مسئلہ انسان کے قلب و دماغ میں اس قدر واضح ہونا چاہئے کہ اس میں کوئی التباس نہ ہو اور کوئی پیچیدگی نہ ہو۔ اور جب خالق ومالک و الٰہ وہی ہے تو پھر اس زمین و آسمان اور کائنات کا مالک بھی وہی ہے۔ ولہ ما فی السموت والارض (16 : 56) ” وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے “۔ ولہ الدین واصباً (16 : 52) ” خالصتاً اسی کا دین چل رہا ہے “۔ یعنی جب سے یہ کائنات اور دین وجود میں آئے ہیں اسی کا دین مسلسل چل رہا ہے اور منعم بھی وہی اللہ ہے۔ وما بکم من نعمۃ فمن اللہ (16 : 53) ” تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ، اللہ ہی کی طرف سے ہے “۔ یہ بات تمہاری فطرت کے اندر رکھی ہوئی ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو تمہاری فطرت پکار اٹھتی ہے کہ صرف کو پکارو۔ اس مشکل وقت میں پھر کوئی وہمی مددگار یا بت انسان کو یاد نہیں رہتا۔ ثم اذا مسکم الضر فالیہ تجئرون (16 : 53) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو “۔ اور تم اس وقت پھر چیخ چیخ کر پکارتے ہو کہ وہ تمہیں اس مشکل سے نجات دے۔ یوں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو خدائی ، حاکمیت ، ملک ، قانون سازی ، نعمت اور ہدایت اور نظام زندگی دینے کا واحد سر چشمہ قرار دیتا ہے۔ انسانی فطرت اس بات کی تصدیق یوں کرتی ہے کہ جب انسان کسی عظیم مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس وقت انسان کی حقیقی فطرت تمام شرک کے تمام شائیوں اور آلائشوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض لوگ پھر بھی ایسے کج دماغ ہوتے ہیں کہ جب یہ مہیب خطرہ ان سے ٹل جاتا ہے تو یہ لوگ اچانک شرک کرنے لگتے ہیں۔ یوں وہ اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے اور اللہ کی ہدایات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ لیکن دنیا کا یہ مختصر دور جلد ختم ہوگا اور ذرا انتظار کرو کہ آخرت میں ان کو مصیبت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ فتمتعوا فسوف تعلمون (16 : 55) ” اچھا مزے کرلو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ نمونہ مخلوقات جس کے خدو خال قرآن مجید نے یہاں نقش کئے۔ ثم اذا مسکم الضر ۔۔۔۔۔۔۔ یشرکون (16 : 54) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو پھر تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو۔ مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکایک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے۔ اس طرز کے لوگ انسانوں میں ہمیشہ پائے جاتے ہیں۔ مشکلات میں دل اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ انسان بتقاضائے فطرت اس بات کو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ عافیت کے زمانہ میں انسان عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اس لیے اس کا تعلق باللہ کمزور پڑجاتا ہے۔ اس میں کئی رنگ کی کج رویاں پائی جاتی ہیں ، ان میں سب سے بڑی کج روی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، نیز انسان بعض رسوم اور اقدار کو بھی خدائی درجہ دے دیتا ہے ، اگرچہ ان کو وہ الٰہ نہیں کہتا۔ بعض اوقات اس کا انحراف بہت ہی شدید ہوجاتا ہے اور فطرت پوری طرح بگڑ جاتی ہے کہ بعض لوگ نہایت ہی شدید حالات میں بھی اللہ کو نہیں پکارتے بلکہ وہ بعض دوسری ہستیوں کو بچاؤ، نجات اور امداد کے لئے پکارتے ہیں۔ ان کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہستیاں اللہ کے ہاں جاہ و منزلت رکھتی ہیں اور بعض اوقات بعض لوگ اس تصور کے سوا بھی دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اولیاء اللہ کو مصیبت کے وقت پکارتے ہیں۔ ان لوگوں کی یہ حرکت مشرکین جاہلیت کے شرک سے بھی بدتر ہے کیونکہ مشرکین جاہلیت کے بارے میں تو قرآن یہ کہتا ہے کہ سخت مشکلات میں یہ لوگ صرف اللہ کو پکارتے تھے۔

النحل 16:52

درس نمبر 121 ایک نظر میں مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی ! اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔ واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔ اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔ احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان کے افادے کی ہر چیز میں متحرک ہے۔ اس سبق کا خاتمہ پھر ان دو مثالوں پر ہوتا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے۔ یہ گویا انسانی عقل و وجدان کو احساس دلانے کی ایک مفید کوشش ہے ، جس کے گہرے اثرات ہیں اور اس میں نفس انسانی کے رباب کے نہایت ہی حساس تاروں کو چھیڑا گیا ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ نفس انسانی اس سے متاثر نہ ہو اور لبیک نہ کہے۔ آیت نمبر 51 تا 55 اللہ کا یہ فرمان ہے کہ دو الٰہ نہ بناؤ۔ خدا تو بس ایک ہی ہے۔ اس بات کے لئے اسلوب نہایت ہی فیصلہ کن اور مثبت اختیار کیا گیا۔ اللہ کے بعد دو کا لفظ آیا ہے اور دوسرے فقرے میں نہایت تاکیدی مصرع کہ ” اللہ تو بس ایک ہی ہے ، اور ان دونوں فقروں کے بعد ایک دوسرا مصرع ہے ” لہٰذا تم مجھی سے ڈرو “۔ اور میرے سوا کسی اور سے نہ ڈرو۔ کسی کے ساتھ ڈرنے کا ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو جس طرح مجھ سے ڈرنا ہوتا ہے ۔ فارھبون اس لیے کہا گیا کہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ ڈرو۔ اسلامی نظریہ حیات میں عقیدۂ توحید ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اسلامی نظریہ حیات قائم ہی عقیدۂ توحید پر ہے۔ جب تک توحید نہ ہو ایمان قائم ہی نہیں ہو سکتا اور ایمان کے بغیر اسلام کا نظریہ حیات قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ مسئلہ انسان کے قلب و دماغ میں اس قدر واضح ہونا چاہئے کہ اس میں کوئی التباس نہ ہو اور کوئی پیچیدگی نہ ہو۔ اور جب خالق ومالک و الٰہ وہی ہے تو پھر اس زمین و آسمان اور کائنات کا مالک بھی وہی ہے۔ ولہ ما فی السموت والارض (16 : 56) ” وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے “۔ ولہ الدین واصباً (16 : 52) ” خالصتاً اسی کا دین چل رہا ہے “۔ یعنی جب سے یہ کائنات اور دین وجود میں آئے ہیں اسی کا دین مسلسل چل رہا ہے اور منعم بھی وہی اللہ ہے۔ وما بکم من نعمۃ فمن اللہ (16 : 53) ” تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ، اللہ ہی کی طرف سے ہے “۔ یہ بات تمہاری فطرت کے اندر رکھی ہوئی ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو تمہاری فطرت پکار اٹھتی ہے کہ صرف کو پکارو۔ اس مشکل وقت میں پھر کوئی وہمی مددگار یا بت انسان کو یاد نہیں رہتا۔ ثم اذا مسکم الضر فالیہ تجئرون (16 : 53) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو “۔ اور تم اس وقت پھر چیخ چیخ کر پکارتے ہو کہ وہ تمہیں اس مشکل سے نجات دے۔ یوں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو خدائی ، حاکمیت ، ملک ، قانون سازی ، نعمت اور ہدایت اور نظام زندگی دینے کا واحد سر چشمہ قرار دیتا ہے۔ انسانی فطرت اس بات کی تصدیق یوں کرتی ہے کہ جب انسان کسی عظیم مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس وقت انسان کی حقیقی فطرت تمام شرک کے تمام شائیوں اور آلائشوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض لوگ پھر بھی ایسے کج دماغ ہوتے ہیں کہ جب یہ مہیب خطرہ ان سے ٹل جاتا ہے تو یہ لوگ اچانک شرک کرنے لگتے ہیں۔ یوں وہ اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے اور اللہ کی ہدایات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ لیکن دنیا کا یہ مختصر دور جلد ختم ہوگا اور ذرا انتظار کرو کہ آخرت میں ان کو مصیبت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ فتمتعوا فسوف تعلمون (16 : 55) ” اچھا مزے کرلو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ نمونہ مخلوقات جس کے خدو خال قرآن مجید نے یہاں نقش کئے۔ ثم اذا مسکم الضر ۔۔۔۔۔۔۔ یشرکون (16 : 54) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو پھر تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو۔ مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکایک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے۔ اس طرز کے لوگ انسانوں میں ہمیشہ پائے جاتے ہیں۔ مشکلات میں دل اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ انسان بتقاضائے فطرت اس بات کو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ عافیت کے زمانہ میں انسان عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اس لیے اس کا تعلق باللہ کمزور پڑجاتا ہے۔ اس میں کئی رنگ کی کج رویاں پائی جاتی ہیں ، ان میں سب سے بڑی کج روی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، نیز انسان بعض رسوم اور اقدار کو بھی خدائی درجہ دے دیتا ہے ، اگرچہ ان کو وہ الٰہ نہیں کہتا۔ بعض اوقات اس کا انحراف بہت ہی شدید ہوجاتا ہے اور فطرت پوری طرح بگڑ جاتی ہے کہ بعض لوگ نہایت ہی شدید حالات میں بھی اللہ کو نہیں پکارتے بلکہ وہ بعض دوسری ہستیوں کو بچاؤ، نجات اور امداد کے لئے پکارتے ہیں۔ ان کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہستیاں اللہ کے ہاں جاہ و منزلت رکھتی ہیں اور بعض اوقات بعض لوگ اس تصور کے سوا بھی دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اولیاء اللہ کو مصیبت کے وقت پکارتے ہیں۔ ان لوگوں کی یہ حرکت مشرکین جاہلیت کے شرک سے بھی بدتر ہے کیونکہ مشرکین جاہلیت کے بارے میں تو قرآن یہ کہتا ہے کہ سخت مشکلات میں یہ لوگ صرف اللہ کو پکارتے تھے۔

النحل 16:53

درس نمبر 121 ایک نظر میں مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی ! اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔ واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔ اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔ احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان کے افادے کی ہر چیز میں متحرک ہے۔ اس سبق کا خاتمہ پھر ان دو مثالوں پر ہوتا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے۔ یہ گویا انسانی عقل و وجدان کو احساس دلانے کی ایک مفید کوشش ہے ، جس کے گہرے اثرات ہیں اور اس میں نفس انسانی کے رباب کے نہایت ہی حساس تاروں کو چھیڑا گیا ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ نفس انسانی اس سے متاثر نہ ہو اور لبیک نہ کہے۔ آیت نمبر 51 تا 55 اللہ کا یہ فرمان ہے کہ دو الٰہ نہ بناؤ۔ خدا تو بس ایک ہی ہے۔ اس بات کے لئے اسلوب نہایت ہی فیصلہ کن اور مثبت اختیار کیا گیا۔ اللہ کے بعد دو کا لفظ آیا ہے اور دوسرے فقرے میں نہایت تاکیدی مصرع کہ ” اللہ تو بس ایک ہی ہے ، اور ان دونوں فقروں کے بعد ایک دوسرا مصرع ہے ” لہٰذا تم مجھی سے ڈرو “۔ اور میرے سوا کسی اور سے نہ ڈرو۔ کسی کے ساتھ ڈرنے کا ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو جس طرح مجھ سے ڈرنا ہوتا ہے ۔ فارھبون اس لیے کہا گیا کہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ ڈرو۔ اسلامی نظریہ حیات میں عقیدۂ توحید ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اسلامی نظریہ حیات قائم ہی عقیدۂ توحید پر ہے۔ جب تک توحید نہ ہو ایمان قائم ہی نہیں ہو سکتا اور ایمان کے بغیر اسلام کا نظریہ حیات قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ مسئلہ انسان کے قلب و دماغ میں اس قدر واضح ہونا چاہئے کہ اس میں کوئی التباس نہ ہو اور کوئی پیچیدگی نہ ہو۔ اور جب خالق ومالک و الٰہ وہی ہے تو پھر اس زمین و آسمان اور کائنات کا مالک بھی وہی ہے۔ ولہ ما فی السموت والارض (16 : 56) ” وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے “۔ ولہ الدین واصباً (16 : 52) ” خالصتاً اسی کا دین چل رہا ہے “۔ یعنی جب سے یہ کائنات اور دین وجود میں آئے ہیں اسی کا دین مسلسل چل رہا ہے اور منعم بھی وہی اللہ ہے۔ وما بکم من نعمۃ فمن اللہ (16 : 53) ” تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ، اللہ ہی کی طرف سے ہے “۔ یہ بات تمہاری فطرت کے اندر رکھی ہوئی ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو تمہاری فطرت پکار اٹھتی ہے کہ صرف کو پکارو۔ اس مشکل وقت میں پھر کوئی وہمی مددگار یا بت انسان کو یاد نہیں رہتا۔ ثم اذا مسکم الضر فالیہ تجئرون (16 : 53) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو “۔ اور تم اس وقت پھر چیخ چیخ کر پکارتے ہو کہ وہ تمہیں اس مشکل سے نجات دے۔ یوں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو خدائی ، حاکمیت ، ملک ، قانون سازی ، نعمت اور ہدایت اور نظام زندگی دینے کا واحد سر چشمہ قرار دیتا ہے۔ انسانی فطرت اس بات کی تصدیق یوں کرتی ہے کہ جب انسان کسی عظیم مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس وقت انسان کی حقیقی فطرت تمام شرک کے تمام شائیوں اور آلائشوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض لوگ پھر بھی ایسے کج دماغ ہوتے ہیں کہ جب یہ مہیب خطرہ ان سے ٹل جاتا ہے تو یہ لوگ اچانک شرک کرنے لگتے ہیں۔ یوں وہ اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے اور اللہ کی ہدایات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ لیکن دنیا کا یہ مختصر دور جلد ختم ہوگا اور ذرا انتظار کرو کہ آخرت میں ان کو مصیبت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ فتمتعوا فسوف تعلمون (16 : 55) ” اچھا مزے کرلو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ نمونہ مخلوقات جس کے خدو خال قرآن مجید نے یہاں نقش کئے۔ ثم اذا مسکم الضر ۔۔۔۔۔۔۔ یشرکون (16 : 54) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو پھر تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو۔ مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکایک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے۔ اس طرز کے لوگ انسانوں میں ہمیشہ پائے جاتے ہیں۔ مشکلات میں دل اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ انسان بتقاضائے فطرت اس بات کو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ عافیت کے زمانہ میں انسان عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اس لیے اس کا تعلق باللہ کمزور پڑجاتا ہے۔ اس میں کئی رنگ کی کج رویاں پائی جاتی ہیں ، ان میں سب سے بڑی کج روی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، نیز انسان بعض رسوم اور اقدار کو بھی خدائی درجہ دے دیتا ہے ، اگرچہ ان کو وہ الٰہ نہیں کہتا۔ بعض اوقات اس کا انحراف بہت ہی شدید ہوجاتا ہے اور فطرت پوری طرح بگڑ جاتی ہے کہ بعض لوگ نہایت ہی شدید حالات میں بھی اللہ کو نہیں پکارتے بلکہ وہ بعض دوسری ہستیوں کو بچاؤ، نجات اور امداد کے لئے پکارتے ہیں۔ ان کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہستیاں اللہ کے ہاں جاہ و منزلت رکھتی ہیں اور بعض اوقات بعض لوگ اس تصور کے سوا بھی دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اولیاء اللہ کو مصیبت کے وقت پکارتے ہیں۔ ان لوگوں کی یہ حرکت مشرکین جاہلیت کے شرک سے بھی بدتر ہے کیونکہ مشرکین جاہلیت کے بارے میں تو قرآن یہ کہتا ہے کہ سخت مشکلات میں یہ لوگ صرف اللہ کو پکارتے تھے۔

النحل 16:54

درس نمبر 121 ایک نظر میں مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی ! اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔ واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔ اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔ احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان کے افادے کی ہر چیز میں متحرک ہے۔ اس سبق کا خاتمہ پھر ان دو مثالوں پر ہوتا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے۔ یہ گویا انسانی عقل و وجدان کو احساس دلانے کی ایک مفید کوشش ہے ، جس کے گہرے اثرات ہیں اور اس میں نفس انسانی کے رباب کے نہایت ہی حساس تاروں کو چھیڑا گیا ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ نفس انسانی اس سے متاثر نہ ہو اور لبیک نہ کہے۔ آیت نمبر 51 تا 55 اللہ کا یہ فرمان ہے کہ دو الٰہ نہ بناؤ۔ خدا تو بس ایک ہی ہے۔ اس بات کے لئے اسلوب نہایت ہی فیصلہ کن اور مثبت اختیار کیا گیا۔ اللہ کے بعد دو کا لفظ آیا ہے اور دوسرے فقرے میں نہایت تاکیدی مصرع کہ ” اللہ تو بس ایک ہی ہے ، اور ان دونوں فقروں کے بعد ایک دوسرا مصرع ہے ” لہٰذا تم مجھی سے ڈرو “۔ اور میرے سوا کسی اور سے نہ ڈرو۔ کسی کے ساتھ ڈرنے کا ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو جس طرح مجھ سے ڈرنا ہوتا ہے ۔ فارھبون اس لیے کہا گیا کہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ ڈرو۔ اسلامی نظریہ حیات میں عقیدۂ توحید ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اسلامی نظریہ حیات قائم ہی عقیدۂ توحید پر ہے۔ جب تک توحید نہ ہو ایمان قائم ہی نہیں ہو سکتا اور ایمان کے بغیر اسلام کا نظریہ حیات قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ مسئلہ انسان کے قلب و دماغ میں اس قدر واضح ہونا چاہئے کہ اس میں کوئی التباس نہ ہو اور کوئی پیچیدگی نہ ہو۔ اور جب خالق ومالک و الٰہ وہی ہے تو پھر اس زمین و آسمان اور کائنات کا مالک بھی وہی ہے۔ ولہ ما فی السموت والارض (16 : 56) ” وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے “۔ ولہ الدین واصباً (16 : 52) ” خالصتاً اسی کا دین چل رہا ہے “۔ یعنی جب سے یہ کائنات اور دین وجود میں آئے ہیں اسی کا دین مسلسل چل رہا ہے اور منعم بھی وہی اللہ ہے۔ وما بکم من نعمۃ فمن اللہ (16 : 53) ” تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ، اللہ ہی کی طرف سے ہے “۔ یہ بات تمہاری فطرت کے اندر رکھی ہوئی ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو تمہاری فطرت پکار اٹھتی ہے کہ صرف کو پکارو۔ اس مشکل وقت میں پھر کوئی وہمی مددگار یا بت انسان کو یاد نہیں رہتا۔ ثم اذا مسکم الضر فالیہ تجئرون (16 : 53) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو “۔ اور تم اس وقت پھر چیخ چیخ کر پکارتے ہو کہ وہ تمہیں اس مشکل سے نجات دے۔ یوں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو خدائی ، حاکمیت ، ملک ، قانون سازی ، نعمت اور ہدایت اور نظام زندگی دینے کا واحد سر چشمہ قرار دیتا ہے۔ انسانی فطرت اس بات کی تصدیق یوں کرتی ہے کہ جب انسان کسی عظیم مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس وقت انسان کی حقیقی فطرت تمام شرک کے تمام شائیوں اور آلائشوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض لوگ پھر بھی ایسے کج دماغ ہوتے ہیں کہ جب یہ مہیب خطرہ ان سے ٹل جاتا ہے تو یہ لوگ اچانک شرک کرنے لگتے ہیں۔ یوں وہ اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے اور اللہ کی ہدایات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ لیکن دنیا کا یہ مختصر دور جلد ختم ہوگا اور ذرا انتظار کرو کہ آخرت میں ان کو مصیبت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ فتمتعوا فسوف تعلمون (16 : 55) ” اچھا مزے کرلو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ نمونہ مخلوقات جس کے خدو خال قرآن مجید نے یہاں نقش کئے۔ ثم اذا مسکم الضر ۔۔۔۔۔۔۔ یشرکون (16 : 54) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو پھر تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو۔ مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکایک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے۔ اس طرز کے لوگ انسانوں میں ہمیشہ پائے جاتے ہیں۔ مشکلات میں دل اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ انسان بتقاضائے فطرت اس بات کو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ عافیت کے زمانہ میں انسان عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اس لیے اس کا تعلق باللہ کمزور پڑجاتا ہے۔ اس میں کئی رنگ کی کج رویاں پائی جاتی ہیں ، ان میں سب سے بڑی کج روی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، نیز انسان بعض رسوم اور اقدار کو بھی خدائی درجہ دے دیتا ہے ، اگرچہ ان کو وہ الٰہ نہیں کہتا۔ بعض اوقات اس کا انحراف بہت ہی شدید ہوجاتا ہے اور فطرت پوری طرح بگڑ جاتی ہے کہ بعض لوگ نہایت ہی شدید حالات میں بھی اللہ کو نہیں پکارتے بلکہ وہ بعض دوسری ہستیوں کو بچاؤ، نجات اور امداد کے لئے پکارتے ہیں۔ ان کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہستیاں اللہ کے ہاں جاہ و منزلت رکھتی ہیں اور بعض اوقات بعض لوگ اس تصور کے سوا بھی دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اولیاء اللہ کو مصیبت کے وقت پکارتے ہیں۔ ان لوگوں کی یہ حرکت مشرکین جاہلیت کے شرک سے بھی بدتر ہے کیونکہ مشرکین جاہلیت کے بارے میں تو قرآن یہ کہتا ہے کہ سخت مشکلات میں یہ لوگ صرف اللہ کو پکارتے تھے۔

النحل 16:55

درس نمبر 121 ایک نظر میں مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی ! اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔ واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔ اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔ احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان کے افادے کی ہر چیز میں متحرک ہے۔ اس سبق کا خاتمہ پھر ان دو مثالوں پر ہوتا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے۔ یہ گویا انسانی عقل و وجدان کو احساس دلانے کی ایک مفید کوشش ہے ، جس کے گہرے اثرات ہیں اور اس میں نفس انسانی کے رباب کے نہایت ہی حساس تاروں کو چھیڑا گیا ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ نفس انسانی اس سے متاثر نہ ہو اور لبیک نہ کہے۔ آیت نمبر 51 تا 55 اللہ کا یہ فرمان ہے کہ دو الٰہ نہ بناؤ۔ خدا تو بس ایک ہی ہے۔ اس بات کے لئے اسلوب نہایت ہی فیصلہ کن اور مثبت اختیار کیا گیا۔ اللہ کے بعد دو کا لفظ آیا ہے اور دوسرے فقرے میں نہایت تاکیدی مصرع کہ ” اللہ تو بس ایک ہی ہے ، اور ان دونوں فقروں کے بعد ایک دوسرا مصرع ہے ” لہٰذا تم مجھی سے ڈرو “۔ اور میرے سوا کسی اور سے نہ ڈرو۔ کسی کے ساتھ ڈرنے کا ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو جس طرح مجھ سے ڈرنا ہوتا ہے ۔ فارھبون اس لیے کہا گیا کہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ ڈرو۔ اسلامی نظریہ حیات میں عقیدۂ توحید ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اسلامی نظریہ حیات قائم ہی عقیدۂ توحید پر ہے۔ جب تک توحید نہ ہو ایمان قائم ہی نہیں ہو سکتا اور ایمان کے بغیر اسلام کا نظریہ حیات قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ مسئلہ انسان کے قلب و دماغ میں اس قدر واضح ہونا چاہئے کہ اس میں کوئی التباس نہ ہو اور کوئی پیچیدگی نہ ہو۔ اور جب خالق ومالک و الٰہ وہی ہے تو پھر اس زمین و آسمان اور کائنات کا مالک بھی وہی ہے۔ ولہ ما فی السموت والارض (16 : 56) ” وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے “۔ ولہ الدین واصباً (16 : 52) ” خالصتاً اسی کا دین چل رہا ہے “۔ یعنی جب سے یہ کائنات اور دین وجود میں آئے ہیں اسی کا دین مسلسل چل رہا ہے اور منعم بھی وہی اللہ ہے۔ وما بکم من نعمۃ فمن اللہ (16 : 53) ” تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ، اللہ ہی کی طرف سے ہے “۔ یہ بات تمہاری فطرت کے اندر رکھی ہوئی ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو تمہاری فطرت پکار اٹھتی ہے کہ صرف کو پکارو۔ اس مشکل وقت میں پھر کوئی وہمی مددگار یا بت انسان کو یاد نہیں رہتا۔ ثم اذا مسکم الضر فالیہ تجئرون (16 : 53) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو “۔ اور تم اس وقت پھر چیخ چیخ کر پکارتے ہو کہ وہ تمہیں اس مشکل سے نجات دے۔ یوں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو خدائی ، حاکمیت ، ملک ، قانون سازی ، نعمت اور ہدایت اور نظام زندگی دینے کا واحد سر چشمہ قرار دیتا ہے۔ انسانی فطرت اس بات کی تصدیق یوں کرتی ہے کہ جب انسان کسی عظیم مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس وقت انسان کی حقیقی فطرت تمام شرک کے تمام شائیوں اور آلائشوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض لوگ پھر بھی ایسے کج دماغ ہوتے ہیں کہ جب یہ مہیب خطرہ ان سے ٹل جاتا ہے تو یہ لوگ اچانک شرک کرنے لگتے ہیں۔ یوں وہ اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے اور اللہ کی ہدایات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ لیکن دنیا کا یہ مختصر دور جلد ختم ہوگا اور ذرا انتظار کرو کہ آخرت میں ان کو مصیبت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ فتمتعوا فسوف تعلمون (16 : 55) ” اچھا مزے کرلو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ نمونہ مخلوقات جس کے خدو خال قرآن مجید نے یہاں نقش کئے۔ ثم اذا مسکم الضر ۔۔۔۔۔۔۔ یشرکون (16 : 54) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو پھر تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو۔ مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکایک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے۔ اس طرز کے لوگ انسانوں میں ہمیشہ پائے جاتے ہیں۔ مشکلات میں دل اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ انسان بتقاضائے فطرت اس بات کو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ عافیت کے زمانہ میں انسان عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اس لیے اس کا تعلق باللہ کمزور پڑجاتا ہے۔ اس میں کئی رنگ کی کج رویاں پائی جاتی ہیں ، ان میں سب سے بڑی کج روی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، نیز انسان بعض رسوم اور اقدار کو بھی خدائی درجہ دے دیتا ہے ، اگرچہ ان کو وہ الٰہ نہیں کہتا۔ بعض اوقات اس کا انحراف بہت ہی شدید ہوجاتا ہے اور فطرت پوری طرح بگڑ جاتی ہے کہ بعض لوگ نہایت ہی شدید حالات میں بھی اللہ کو نہیں پکارتے بلکہ وہ بعض دوسری ہستیوں کو بچاؤ، نجات اور امداد کے لئے پکارتے ہیں۔ ان کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہستیاں اللہ کے ہاں جاہ و منزلت رکھتی ہیں اور بعض اوقات بعض لوگ اس تصور کے سوا بھی دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اولیاء اللہ کو مصیبت کے وقت پکارتے ہیں۔ ان لوگوں کی یہ حرکت مشرکین جاہلیت کے شرک سے بھی بدتر ہے کیونکہ مشرکین جاہلیت کے بارے میں تو قرآن یہ کہتا ہے کہ سخت مشکلات میں یہ لوگ صرف اللہ کو پکارتے تھے۔

النحل 16:56

مثلا یہ لوگ اپنے اوپر بعض جانوروں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ نہ ان پر سوار ہوتے ہیں اور نہ ان کا گوشت چکھتے ہیں یا بعض جانوروں کے گوشت کو مردوں کے لئے مخصوص کرتے ہیں اور عورتوں پر وہ حرام تصور ہوتے ہیں اور یہ کام وہ اپنے نام نہاد الہٰوں کے نام پہ کرتے ہیں۔ ان کے ان مزعومات کی تفصیلات ہم نے سورة انعام میں دے دی ہیں۔ اور جن الہوں کے نام پر یہ لوگ شرک کرتے ہیں ان کے بارے میں ان لوگوں کو کوئی علم نہیں ہے یہ ان کے موروثی تصورات ہیں جو جاہلیت سے ان کے ہاں نقل ہوتے چلے آئے ہیں۔ حالانکہ یہ نعمتیں ان کو اللہ نے دی ہیں جو وحدہ لا شریک ہے اور جن الہوں کی طرف یہ ان کو منسوب کرتے ہیں ان کے بارے میں خد ان کو کچھ علم نہیں ہے۔ غرض یہ ان نام نہاد الہوں کے عطا کردہ انعامات نہیں ہیں بلکہ یہ انعامات اللہ وحدہ کے ہیں جس کے ساتھ یہ لوگ شریک کرتے ہیں۔ یوں قرآن کے نظریہ حیات اور ان جاہلوں کے نظریات کے درمیان واضح فرق معلوم ہوجاتا ہے۔ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ رزق سب کا سب الٰہ واحد کا عطا کردہ ہے۔ اور اس کے نام سے استعمال ہونا چاہئے یہ لوگ بعض ارزاق کو ان الہٰوں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ایسی ہستیوں کو الٰہ بناتے ہیں جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ دونوں نظریات میں یہ واضح فرق ہے۔ لیکن آج قرآن کے ہوتے ہوئے اور عقیدۂ توحید کی وضاحت کے بعد بھی بعض لوگ اللہ کی عطا کردہ بعض اقسام رزق کو ایسی شخصیات کے نام سے منسوب کرتے ہیں جو جاہلیت کے الہٰوں کے مشابہ ہیں۔ آج بھی بعض لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ “ یہ سید بدوی کا بکرا ہے ”۔ یہ بکرا جہاں چاہے چرے چگے کوئی اسے منع نہیں کرے گا ۔ کوئی شخص اس کو نہ کھائے گا۔ وہ سید بدوی کے نام سے ذبح ہوگا اور اس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے گا۔ بعض لوگ آج بھی بعض اولیاء کے نام جانوروں کی نذریں مانتے ہیں اور پھر یہ نذریں چڑھاتے ہیں۔ یہ ان اولیائے کے نام پر ہوتی ہیں اور ان پر اللہ کا نام ہی نہیں لیا جاتا۔ صرف مذکور ولی کا نام لیا جاتا ہے۔ اہل جاہلیت بھی اسی طرح بعض نامعلوم خداؤں کے نام پر ایسی نذریں چڑھاتے تھے۔ ایسے جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے اگر چہ ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام لیا جائے کیونکہ یہ اہل نفیر اللہ کے زمرے میں آتا ہے۔ آیت نمبر 56 ترجمہ : “ اللہ قسم کھا کر تاکید مزید سے یہ بات کرتے ہیں ۔ چناچہ یہ ایک افتراء ہے اور اسلامی عقیدہ اور ایمان کو جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے۔ اس سے عقیدۂ توحید کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں اللہ ضرور پوچھے گا۔

النحل 16:57

آیت نمبر 57 تا 59 عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔ ان کے اس نظریاتی فساد ہی کی وجہ سے ان کے ہاں یہ رسم بد پڑگئی کہ وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے یا اگر زندہ رکھ لیتے تو ان کو نہایت ہی ذلت ، بدسلوکی اور کم تر درجے میں رکھتے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیوں کی وجہ سے ان کو خفت اٹھانی پڑے گی اور ان کی مالی حالت گر جائے گی کیونکہ عورتیں نہ جنگ کرسکتی ہیں اور نہ بہت زیادہ کمائی کے لائق ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لوٹ مار اور ڈاکے میں عورتوں کو باندیاں بنا کرلے جاتے تھے یا وہ خاندان پر بوجھ بن جاتی تھیں۔ یوں خاندان کی مالیات پر بوجھ ہوتیں ، اس لیے وہ انہیں پسند نہ کرتے۔ جبکہ صحیح نظریات ان سب باتوں سے بہت دور ہیں۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب کا رازق ہے۔ ہر شخص کو وہی بات پیش آتی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ انسان کو اللہ نے ذی شرف پیدا کیا ہے اور اس میں مرد عورت برابر ہیں ، پھر عوت کے بغیر نہ انسانیت جاری رہ سکتی اور نہ مکمل ہو سکتی جیسا کہ اللہ کا حکم ہے۔ یہاں جاہلیت کے رسم و رواج کی خوب تصویر کشی کی جاتی ہے۔ واذا بشر احدکم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم (16 : 57) “ جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے ”۔ یعنی حزن و ملال سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے غم کو چھپانے کی سعی لا حاصل کرتا ہے ۔ وہ اس ولادت کو ایک مصیبت سمجھتا ہے لیکن در حقیقت وہ اللہ کا عطیہ ہوتی ہے جیسا کہ بینا ایک عطیہ ہوتا ہے کیونکہ انسان بذات خود رحم مادر میں نہ مرد بنا سکتا ہے اور نہ عورت پیدا کرسکتا ہے۔ نہ انسان خود جنین میں حیات پھونک سکتا ہے نہ انسان ایک سادہ نطفے سے انسان تیار کرسکتا ہے۔ اگر انسان صرف انسانی زندگی کی تخلیق پر ہی غور کرے کہ کس طرح نطفے سے لے کر ایک تندرست و توانا انسان تک وہ نشوونما پاتی ہے تو بچہ چاہے مرد ہو یا عورت ہو ، وہ خوشی خوشہ اس کا استقبال کرے۔ سوچنے والے انسان کے لئے تو ہر بچہ اللہ کا معجزہ ہے اور یہ معجزہ بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن بار بار دہرائے جانے کے باوجود اس معجزے کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان صحیح الفکر ہو تو وہ لڑکی کی پیدائش کی اطلاع پا کر نہ غمگین ہو اور نہ لوگوں سے چھپتا پھرے۔ اس لیے کہ لڑکی کی تخلیق میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس معاملے میں ایک باپ تو اس عظیم معجزہ کے صدور میں محض ایک پرزہ ہے اور بس۔ اب اللہ کی حکمت کو دیکھیں اور یہ کہ معجزۂ حیات کا صدور کس طرح ہوتا ہے ؟ بادی النظر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ انسان کو اللہ ایک مرد اور عورت کے ملاپ کے ساتھ پیدا کرتا ہے ، حیات انسانی کے وجود میں آنے کے لئے جس طرح مرد ضروری ہے ، اسی طرح عورت بھی ضروری ہے بلکہ مرد کے مقابلے میں عورت کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ بچے کی نشوونما کے لئے تو عورت زیادہ ضروری اور اہم ہے جبکہ مرد کے لئے بھی وہ جائے قرار ہے۔ تو پھر عورت کی پیدائش پر کسی کا چہرہ کیوں سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر قوم سے کیوں بھاگتا پھرتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ حیات بشر کا تسلسل عورت کے بغیر ممکن نہیں ہے ؟ ظاہر ہے کہ سوچ ، نظریہ اور عقیدے کا انحراف اور فساد معاشرے کے اندر رسم و رواج اور لوگوں کے طرز عمل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ الاساء ما یحکمون (16 : 59) “ دیکھو کیسے میرے حکم ہیں جو یہ لگاتے ہیں ”۔ اور ان کے یہ فیصلے اور اندازے کس قدر غلط ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سوسائٹی کے اجتماعی تصورات اور سوسائٹی کی اجتماعی اخلاقیات کو درست کرنے کے لئے اسلامی نظریہ حیات کی اہمیت کیا ہے ؟ نیز اسلام نے عورت کے بارے میں انسانی نقطہ نظر میں کس قدر عظیم انقلاب برپا کیا ہے اور عورت کو کس قدر شرف عطا کیا۔ نہ صرف عورت کو بلکہ پوری انسانیت کو شر عطا کیا گیا ہے۔ کیونکہ دور جاہلیت میں نہ یہ کہ صرف عورت ذلیل تھی بلکہ انسانیت بذات خود ذلیل تھی۔ کیا یہ بات ظاہر نہیں ہے کہ عورت انسانیت کا اہم عنصر ہے اور اس کی توہین بذات خود ذلیل تھی۔ اس کو زندہ درگور کرنا انسانیت کا دفن کرنا ہے۔ کیا یہ فعل زندگی کے ایک اہم حصے کو ضائع کرنا نہ تھا اور اللہ کی حکمت تخلیق کے ساتھ جنگ نہ تھی۔ اللہ کی حکمت تخلیق تو یہ ہے کہ نہ صرف انسان بلکہ ہر زندہ چیز کی تخلیق نر اور مادہ سے ہو۔ جب بھی انسانیت صحیح عقائد اور صحیح نظریہ حیات سے منحرف ہوئی ہے ، اس کے اخلاق ، اس کے رسم و رواج کسی نہ کسی جاہلیت میں ڈوب گئے۔ آج دور جدید میں بھی اعلیٰ ترقیات کے باوجود دنیا بیسویں صدی کی جاہلیت کا شکار ہوگئی ہے آج بھی لڑکی کی پیدائش پر اس خوشی اور مسرت کا اظہار نہیں کیا جاتا ، جس طرح لڑکے کی پیدائش پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ بھی جاہلیت کے تصورات و رسومات میں سے ایک رسم ہے۔ اور یہ اس لیے پائی جاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ہماری نظروں میں صاف اور ستھرا نہیں ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آج کل جاہلیت جدیدہ کے پرستار اشاروں کنایوں میں اسلامی عقائد و نظریات پر انگلی اٹھاتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو یہ مقام دیا گیا ہے اور یہ کہ اسے آزادی نہیں ہے۔ یہ لوگ جاہلیت جدیدہ سے متاثر ہو کر اسلام پر اعتراضات کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے پیش نظر وہ عظیم انقلاب نہیں ہے جو عورت کے بارے میں اسلامی نظریات نے آج سے صدیوں قبل برپا کیا۔ عورت کے بارے میں لوگوں کی سوچ بدل دی اور اسے بلند رتبہ دیا۔ عورت کے بارے میں اسلام نے یہ انقلابی فکر محض دنیاوی ضرورت یا اجتماعی تقاضے یا اقتصادی ضرورت کے تحت نہیں دی تھی بلکہ یہ فکر و نظر کی تبدیلی ، اس اسلامی نظریہ حیات کو وجہ سے پیدا کی گئی جس نے پوری انسانیت کو شرف فضیلت بخشا۔ پوری انسانیت کی تکریم کی وجہ سے عورت کو بھی شرف ملا۔ یہ قرار دیا گیا کہ عورت حصہ حیات اور حصہ انسانیت ہے ، لہٰذا بشریت کے دو حصوں مردو عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ حیات اور جاہلی نظریہ حیات کے درمیان فرق کیا ہے ؟ یہ فرق یوں ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک ذمہ دار اور جوابدہ معاشرہ ہوتا ہے اور وہ آخرت کی جوابدہی پر ایمان رکھتا ہے جبکہ جاہلی معاشرہ وہ ہے جو آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ وہ ہر چیز کی قدرو قیمت اسی دنیا کے حوالے سے طے کرتا ہے۔ لہٰذا اعلیٰ عقیدہ اور نظریہ کے مظاہر بھی اعلیٰ ہوتے ہیں۔

النحل 16:58

آیت نمبر 57 تا 59 عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔ ان کے اس نظریاتی فساد ہی کی وجہ سے ان کے ہاں یہ رسم بد پڑگئی کہ وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے یا اگر زندہ رکھ لیتے تو ان کو نہایت ہی ذلت ، بدسلوکی اور کم تر درجے میں رکھتے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیوں کی وجہ سے ان کو خفت اٹھانی پڑے گی اور ان کی مالی حالت گر جائے گی کیونکہ عورتیں نہ جنگ کرسکتی ہیں اور نہ بہت زیادہ کمائی کے لائق ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لوٹ مار اور ڈاکے میں عورتوں کو باندیاں بنا کرلے جاتے تھے یا وہ خاندان پر بوجھ بن جاتی تھیں۔ یوں خاندان کی مالیات پر بوجھ ہوتیں ، اس لیے وہ انہیں پسند نہ کرتے۔ جبکہ صحیح نظریات ان سب باتوں سے بہت دور ہیں۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب کا رازق ہے۔ ہر شخص کو وہی بات پیش آتی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ انسان کو اللہ نے ذی شرف پیدا کیا ہے اور اس میں مرد عورت برابر ہیں ، پھر عوت کے بغیر نہ انسانیت جاری رہ سکتی اور نہ مکمل ہو سکتی جیسا کہ اللہ کا حکم ہے۔ یہاں جاہلیت کے رسم و رواج کی خوب تصویر کشی کی جاتی ہے۔ واذا بشر احدکم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم (16 : 57) “ جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے ”۔ یعنی حزن و ملال سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے غم کو چھپانے کی سعی لا حاصل کرتا ہے ۔ وہ اس ولادت کو ایک مصیبت سمجھتا ہے لیکن در حقیقت وہ اللہ کا عطیہ ہوتی ہے جیسا کہ بینا ایک عطیہ ہوتا ہے کیونکہ انسان بذات خود رحم مادر میں نہ مرد بنا سکتا ہے اور نہ عورت پیدا کرسکتا ہے۔ نہ انسان خود جنین میں حیات پھونک سکتا ہے نہ انسان ایک سادہ نطفے سے انسان تیار کرسکتا ہے۔ اگر انسان صرف انسانی زندگی کی تخلیق پر ہی غور کرے کہ کس طرح نطفے سے لے کر ایک تندرست و توانا انسان تک وہ نشوونما پاتی ہے تو بچہ چاہے مرد ہو یا عورت ہو ، وہ خوشی خوشہ اس کا استقبال کرے۔ سوچنے والے انسان کے لئے تو ہر بچہ اللہ کا معجزہ ہے اور یہ معجزہ بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن بار بار دہرائے جانے کے باوجود اس معجزے کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان صحیح الفکر ہو تو وہ لڑکی کی پیدائش کی اطلاع پا کر نہ غمگین ہو اور نہ لوگوں سے چھپتا پھرے۔ اس لیے کہ لڑکی کی تخلیق میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس معاملے میں ایک باپ تو اس عظیم معجزہ کے صدور میں محض ایک پرزہ ہے اور بس۔ اب اللہ کی حکمت کو دیکھیں اور یہ کہ معجزۂ حیات کا صدور کس طرح ہوتا ہے ؟ بادی النظر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ انسان کو اللہ ایک مرد اور عورت کے ملاپ کے ساتھ پیدا کرتا ہے ، حیات انسانی کے وجود میں آنے کے لئے جس طرح مرد ضروری ہے ، اسی طرح عورت بھی ضروری ہے بلکہ مرد کے مقابلے میں عورت کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ بچے کی نشوونما کے لئے تو عورت زیادہ ضروری اور اہم ہے جبکہ مرد کے لئے بھی وہ جائے قرار ہے۔ تو پھر عورت کی پیدائش پر کسی کا چہرہ کیوں سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر قوم سے کیوں بھاگتا پھرتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ حیات بشر کا تسلسل عورت کے بغیر ممکن نہیں ہے ؟ ظاہر ہے کہ سوچ ، نظریہ اور عقیدے کا انحراف اور فساد معاشرے کے اندر رسم و رواج اور لوگوں کے طرز عمل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ الاساء ما یحکمون (16 : 59) “ دیکھو کیسے میرے حکم ہیں جو یہ لگاتے ہیں ”۔ اور ان کے یہ فیصلے اور اندازے کس قدر غلط ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سوسائٹی کے اجتماعی تصورات اور سوسائٹی کی اجتماعی اخلاقیات کو درست کرنے کے لئے اسلامی نظریہ حیات کی اہمیت کیا ہے ؟ نیز اسلام نے عورت کے بارے میں انسانی نقطہ نظر میں کس قدر عظیم انقلاب برپا کیا ہے اور عورت کو کس قدر شرف عطا کیا۔ نہ صرف عورت کو بلکہ پوری انسانیت کو شر عطا کیا گیا ہے۔ کیونکہ دور جاہلیت میں نہ یہ کہ صرف عورت ذلیل تھی بلکہ انسانیت بذات خود ذلیل تھی۔ کیا یہ بات ظاہر نہیں ہے کہ عورت انسانیت کا اہم عنصر ہے اور اس کی توہین بذات خود ذلیل تھی۔ اس کو زندہ درگور کرنا انسانیت کا دفن کرنا ہے۔ کیا یہ فعل زندگی کے ایک اہم حصے کو ضائع کرنا نہ تھا اور اللہ کی حکمت تخلیق کے ساتھ جنگ نہ تھی۔ اللہ کی حکمت تخلیق تو یہ ہے کہ نہ صرف انسان بلکہ ہر زندہ چیز کی تخلیق نر اور مادہ سے ہو۔ جب بھی انسانیت صحیح عقائد اور صحیح نظریہ حیات سے منحرف ہوئی ہے ، اس کے اخلاق ، اس کے رسم و رواج کسی نہ کسی جاہلیت میں ڈوب گئے۔ آج دور جدید میں بھی اعلیٰ ترقیات کے باوجود دنیا بیسویں صدی کی جاہلیت کا شکار ہوگئی ہے آج بھی لڑکی کی پیدائش پر اس خوشی اور مسرت کا اظہار نہیں کیا جاتا ، جس طرح لڑکے کی پیدائش پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ بھی جاہلیت کے تصورات و رسومات میں سے ایک رسم ہے۔ اور یہ اس لیے پائی جاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ہماری نظروں میں صاف اور ستھرا نہیں ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آج کل جاہلیت جدیدہ کے پرستار اشاروں کنایوں میں اسلامی عقائد و نظریات پر انگلی اٹھاتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو یہ مقام دیا گیا ہے اور یہ کہ اسے آزادی نہیں ہے۔ یہ لوگ جاہلیت جدیدہ سے متاثر ہو کر اسلام پر اعتراضات کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے پیش نظر وہ عظیم انقلاب نہیں ہے جو عورت کے بارے میں اسلامی نظریات نے آج سے صدیوں قبل برپا کیا۔ عورت کے بارے میں لوگوں کی سوچ بدل دی اور اسے بلند رتبہ دیا۔ عورت کے بارے میں اسلام نے یہ انقلابی فکر محض دنیاوی ضرورت یا اجتماعی تقاضے یا اقتصادی ضرورت کے تحت نہیں دی تھی بلکہ یہ فکر و نظر کی تبدیلی ، اس اسلامی نظریہ حیات کو وجہ سے پیدا کی گئی جس نے پوری انسانیت کو شرف فضیلت بخشا۔ پوری انسانیت کی تکریم کی وجہ سے عورت کو بھی شرف ملا۔ یہ قرار دیا گیا کہ عورت حصہ حیات اور حصہ انسانیت ہے ، لہٰذا بشریت کے دو حصوں مردو عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ حیات اور جاہلی نظریہ حیات کے درمیان فرق کیا ہے ؟ یہ فرق یوں ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک ذمہ دار اور جوابدہ معاشرہ ہوتا ہے اور وہ آخرت کی جوابدہی پر ایمان رکھتا ہے جبکہ جاہلی معاشرہ وہ ہے جو آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ وہ ہر چیز کی قدرو قیمت اسی دنیا کے حوالے سے طے کرتا ہے۔ لہٰذا اعلیٰ عقیدہ اور نظریہ کے مظاہر بھی اعلیٰ ہوتے ہیں۔

النحل 16:59

آیت نمبر 57 تا 59 عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔ ان کے اس نظریاتی فساد ہی کی وجہ سے ان کے ہاں یہ رسم بد پڑگئی کہ وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے یا اگر زندہ رکھ لیتے تو ان کو نہایت ہی ذلت ، بدسلوکی اور کم تر درجے میں رکھتے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیوں کی وجہ سے ان کو خفت اٹھانی پڑے گی اور ان کی مالی حالت گر جائے گی کیونکہ عورتیں نہ جنگ کرسکتی ہیں اور نہ بہت زیادہ کمائی کے لائق ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لوٹ مار اور ڈاکے میں عورتوں کو باندیاں بنا کرلے جاتے تھے یا وہ خاندان پر بوجھ بن جاتی تھیں۔ یوں خاندان کی مالیات پر بوجھ ہوتیں ، اس لیے وہ انہیں پسند نہ کرتے۔ جبکہ صحیح نظریات ان سب باتوں سے بہت دور ہیں۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب کا رازق ہے۔ ہر شخص کو وہی بات پیش آتی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ انسان کو اللہ نے ذی شرف پیدا کیا ہے اور اس میں مرد عورت برابر ہیں ، پھر عوت کے بغیر نہ انسانیت جاری رہ سکتی اور نہ مکمل ہو سکتی جیسا کہ اللہ کا حکم ہے۔ یہاں جاہلیت کے رسم و رواج کی خوب تصویر کشی کی جاتی ہے۔ واذا بشر احدکم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم (16 : 57) “ جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے ”۔ یعنی حزن و ملال سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے غم کو چھپانے کی سعی لا حاصل کرتا ہے ۔ وہ اس ولادت کو ایک مصیبت سمجھتا ہے لیکن در حقیقت وہ اللہ کا عطیہ ہوتی ہے جیسا کہ بینا ایک عطیہ ہوتا ہے کیونکہ انسان بذات خود رحم مادر میں نہ مرد بنا سکتا ہے اور نہ عورت پیدا کرسکتا ہے۔ نہ انسان خود جنین میں حیات پھونک سکتا ہے نہ انسان ایک سادہ نطفے سے انسان تیار کرسکتا ہے۔ اگر انسان صرف انسانی زندگی کی تخلیق پر ہی غور کرے کہ کس طرح نطفے سے لے کر ایک تندرست و توانا انسان تک وہ نشوونما پاتی ہے تو بچہ چاہے مرد ہو یا عورت ہو ، وہ خوشی خوشہ اس کا استقبال کرے۔ سوچنے والے انسان کے لئے تو ہر بچہ اللہ کا معجزہ ہے اور یہ معجزہ بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن بار بار دہرائے جانے کے باوجود اس معجزے کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان صحیح الفکر ہو تو وہ لڑکی کی پیدائش کی اطلاع پا کر نہ غمگین ہو اور نہ لوگوں سے چھپتا پھرے۔ اس لیے کہ لڑکی کی تخلیق میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس معاملے میں ایک باپ تو اس عظیم معجزہ کے صدور میں محض ایک پرزہ ہے اور بس۔ اب اللہ کی حکمت کو دیکھیں اور یہ کہ معجزۂ حیات کا صدور کس طرح ہوتا ہے ؟ بادی النظر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ انسان کو اللہ ایک مرد اور عورت کے ملاپ کے ساتھ پیدا کرتا ہے ، حیات انسانی کے وجود میں آنے کے لئے جس طرح مرد ضروری ہے ، اسی طرح عورت بھی ضروری ہے بلکہ مرد کے مقابلے میں عورت کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ بچے کی نشوونما کے لئے تو عورت زیادہ ضروری اور اہم ہے جبکہ مرد کے لئے بھی وہ جائے قرار ہے۔ تو پھر عورت کی پیدائش پر کسی کا چہرہ کیوں سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر قوم سے کیوں بھاگتا پھرتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ حیات بشر کا تسلسل عورت کے بغیر ممکن نہیں ہے ؟ ظاہر ہے کہ سوچ ، نظریہ اور عقیدے کا انحراف اور فساد معاشرے کے اندر رسم و رواج اور لوگوں کے طرز عمل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ الاساء ما یحکمون (16 : 59) “ دیکھو کیسے میرے حکم ہیں جو یہ لگاتے ہیں ”۔ اور ان کے یہ فیصلے اور اندازے کس قدر غلط ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سوسائٹی کے اجتماعی تصورات اور سوسائٹی کی اجتماعی اخلاقیات کو درست کرنے کے لئے اسلامی نظریہ حیات کی اہمیت کیا ہے ؟ نیز اسلام نے عورت کے بارے میں انسانی نقطہ نظر میں کس قدر عظیم انقلاب برپا کیا ہے اور عورت کو کس قدر شرف عطا کیا۔ نہ صرف عورت کو بلکہ پوری انسانیت کو شر عطا کیا گیا ہے۔ کیونکہ دور جاہلیت میں نہ یہ کہ صرف عورت ذلیل تھی بلکہ انسانیت بذات خود ذلیل تھی۔ کیا یہ بات ظاہر نہیں ہے کہ عورت انسانیت کا اہم عنصر ہے اور اس کی توہین بذات خود ذلیل تھی۔ اس کو زندہ درگور کرنا انسانیت کا دفن کرنا ہے۔ کیا یہ فعل زندگی کے ایک اہم حصے کو ضائع کرنا نہ تھا اور اللہ کی حکمت تخلیق کے ساتھ جنگ نہ تھی۔ اللہ کی حکمت تخلیق تو یہ ہے کہ نہ صرف انسان بلکہ ہر زندہ چیز کی تخلیق نر اور مادہ سے ہو۔ جب بھی انسانیت صحیح عقائد اور صحیح نظریہ حیات سے منحرف ہوئی ہے ، اس کے اخلاق ، اس کے رسم و رواج کسی نہ کسی جاہلیت میں ڈوب گئے۔ آج دور جدید میں بھی اعلیٰ ترقیات کے باوجود دنیا بیسویں صدی کی جاہلیت کا شکار ہوگئی ہے آج بھی لڑکی کی پیدائش پر اس خوشی اور مسرت کا اظہار نہیں کیا جاتا ، جس طرح لڑکے کی پیدائش پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ بھی جاہلیت کے تصورات و رسومات میں سے ایک رسم ہے۔ اور یہ اس لیے پائی جاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ہماری نظروں میں صاف اور ستھرا نہیں ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آج کل جاہلیت جدیدہ کے پرستار اشاروں کنایوں میں اسلامی عقائد و نظریات پر انگلی اٹھاتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو یہ مقام دیا گیا ہے اور یہ کہ اسے آزادی نہیں ہے۔ یہ لوگ جاہلیت جدیدہ سے متاثر ہو کر اسلام پر اعتراضات کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے پیش نظر وہ عظیم انقلاب نہیں ہے جو عورت کے بارے میں اسلامی نظریات نے آج سے صدیوں قبل برپا کیا۔ عورت کے بارے میں لوگوں کی سوچ بدل دی اور اسے بلند رتبہ دیا۔ عورت کے بارے میں اسلام نے یہ انقلابی فکر محض دنیاوی ضرورت یا اجتماعی تقاضے یا اقتصادی ضرورت کے تحت نہیں دی تھی بلکہ یہ فکر و نظر کی تبدیلی ، اس اسلامی نظریہ حیات کو وجہ سے پیدا کی گئی جس نے پوری انسانیت کو شرف فضیلت بخشا۔ پوری انسانیت کی تکریم کی وجہ سے عورت کو بھی شرف ملا۔ یہ قرار دیا گیا کہ عورت حصہ حیات اور حصہ انسانیت ہے ، لہٰذا بشریت کے دو حصوں مردو عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ حیات اور جاہلی نظریہ حیات کے درمیان فرق کیا ہے ؟ یہ فرق یوں ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک ذمہ دار اور جوابدہ معاشرہ ہوتا ہے اور وہ آخرت کی جوابدہی پر ایمان رکھتا ہے جبکہ جاہلی معاشرہ وہ ہے جو آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ وہ ہر چیز کی قدرو قیمت اسی دنیا کے حوالے سے طے کرتا ہے۔ لہٰذا اعلیٰ عقیدہ اور نظریہ کے مظاہر بھی اعلیٰ ہوتے ہیں۔

النحل 16:60

آیت نمبر 60 یہاں شرک کے مسئلے کو مسئلہ انکار آخرت سے ملا دیا جاتا ہے اس لیے کہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہے اور دونوں میں ایک ہی قسم کی گمراہی ہے۔ انسانی شعور میں شرک اور انکار آخرت باہم مخلوط ہوتے ہیں اور انسانی شخصیت اور انسانی معاشرے پر ان کے اثرات بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جب ہم ان لوگوں کو بات سمجھائیں جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے تو وہ ہر پہلو کے اعتبار سے برے لوگ نظر آئیں گے۔ اپنے شعور ، اپنے طرز عمل اور اپنے عقائد کے اعتبار سے ، غرض وہ ہر پہلو سے برے ہوں گے۔ یہ لوگ زمین و آسمان میں ہر جگہ برے لوگ ہوں گے۔ اللہ کی اگر ہم کوئی مثال دیں گے تو وہ ہر اعتبار سے ایک اعلیٰ مثال ہوگی ۔ اللہ کی ذات اور کسی دوسری شخصیت میں کوئی مماثلت ممکن ہی نہیں ہے لہٰذا چھوڑ دو ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ وھو العزیز الحکیم (16 : 60) “ وہی تو سب پر غالب اور حکمت میں کامل ہے ”۔ وہ نہایت ہی زبردست طاقت والا ہے۔ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ وہی حکیم ہے ، وہ ہر چیز کو اپنے مقام پر رکھتا ہے تا کہ ہر پرزہ اپنی صحیح جگہ پر اس کی حکمت ، اور اس کے قانون کے مطابق صحیح انداز میں کام کرسکے۔ وہ تو اس قدر طاقتور ہے کہ اگر لوگوں کی بدعملی اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان کو فوراً پکڑ لے تو ان کو پوری دنیا کو تہ وبالا کر دے۔ لیکن اس کی اسکیم کا تقاضا یہ تھا کہ ان کو قدرے مہلت دی جائے کیونکہ وہ عزیز و حکیم ہے۔

النحل 16:61

آیت نمبر 61 اللہ ہی ہے جس نے اس تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے ، خصوصاً انسانوں کو۔ پھر ان پر وسیع انعامات کئے ، لیکن انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے کہ وہ ظلم بھی کرتا ہے اور فساد فی الارض کی مرتکب بھی ہوتا ہے اور اس کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ عقیدۂ توحید سے انحراف کر کے شرک کرتا ہے۔ پھر دوسرا ظلم یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے پر بھی ظلم کرتے ہیں۔ پھر وہ دوسری مخلوقات کو بھی اذیت دیتے ہیں۔ لیکن ان تمام مظالم کے باوجود اللہ تعالیٰ صبر کرتا ہے ، ان پر رحم کرتا ہے اور ان کو مہلت دیتا ہے۔ لیکن آخرکار ان کو یونہی چھوڑ نہ دیا جائے گا بلکہ ان سے اس مہلت کے اختتام پر اس سے حساب لیا جائے گا۔ اللہ کی قوت حکیمانہ ہے اور اس کی رحمت عادلانہ ہے لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب مہلت ملتی ہے تو وہ غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کی رحمت اور حکمت کو صحیح طرح نہیں سمجھتے۔ یہاں تک کہ اللہ کی قوت اور اس کی صفت عدل ان کو گرفت میں لے لیتی ہے۔ اور یہ کام اس وقت ہوتا ہے جب مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے۔ اللہ نے یہ مہلت کیوں دی ؟ اس لیے کہ وہ رحیم ہے۔ فاذا جاء ۔۔۔۔ یستقدمون (16 : 61) “ پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر اس سے ایک گھڑی بھر بھی کوئی آگے پیچھے نہیں ہوتا ”۔ لیکن ان لوگوں کی سوچ و طرز عمل کا تعجب انگیز پہلو یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف وہ بات منسوب کرتے ہیں جسے وہ خود اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرتے۔ اور پھر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوں گے اور ان کے ساتھ اچھا اور بھلائی کا سلوک ہوگا اور یہ اچھا سلوک ان کی اس کج فکری اور کج روی پر ہوگا۔ لیکن قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں بتا دیتا ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یقیناً اس سے مختلف ہوگا جو یہ لوگ سوچتے ہیں۔

النحل 16:62

آیت نمبر 62 انداز بیان یوں ہے کہ گویا ان کی زبانیں بذات خود مجسمہ کذب ہیں یا یہ جھوٹ کی تصویر ہیں۔ بذات خود ان کی زبان کے لوتھڑے سے جھوٹ ٹپکتا ہے۔ جیسا کہ ضرب المثل ہے “ اس کا قد خوبصورتی کی تعریف کرتا ہے۔ اور اس کی آنکھ حور کی مدح خواں ہے ”۔ گویا اس کا قد ہی مظہر ہے کہ وہ خوبصورت اور سمارٹ ہے اور اس کی آنکھ اسی طرح ہے جس طرح حورعین۔ اسی انداز بیان کے مطابق کہا گیا کہ “ ان کی زبانیں جھوٹ کی تعریف کر رہی ہیں ”۔ گویا وہ مجسمہ جھوٹ ہیں کیونکہ یہ زبانیں ہر وقت جھوٹ بولتی رہتی ہیں اس لیے وہ بذات خود جھوٹ ہیں۔ ان کا جھوٹ کیا ہے ؟ یہ دعویٰ کہ ان کے لئے کوئی اچھا ہی انجام ہے لیکن عقیدہ یہ ہے کہ جو بات خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ خدائے کبریا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ البتہ وہ سچائی جس سے وہ دوچار ہونے والے ہیں۔ آیت کی تکمیل سے قبل ہی ان کو بتا دی جاتی ہے اور وہ لاریب اور بلاشبہ اس سے دوچار ہوں گے ، وہ یہ ہے کہ ان لوگوں کی سزا آگ ہے اور وہ بغیر کسی تاخیر کے سب سے پہلے اس میں ڈالے جائیں گے۔ مفرطون کے معنی ہیں معجلون ، اور مفرط وہ شخص ہوتا ہے جسے سب سے پہلے بھیجا جائے بغیر کسی تاخیر کے۔ ٭٭٭ اے پیغمبر یہ لوگ پہلے ظالم اور تجاوز کرنے والے نہیں ہیں اور یہ سب سے پہلے ناشکرے نہیں ہیں۔ ان سے پہلے بھی تاریخ عالم میں بہت سے بےراہ رو اور ناشکرے گزرے ہیں۔ شیطان نے ان کو گمراہ کیا اور ان کے لئے ان کے نظریات اور اعمال کو خوبصورت بنایا۔ شیطان ان کا نگراں بن گیا ، اور ان کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتا پھراتا رہا اور تم سے پہلے بھی اللہ نے ایسے لوگوں کو شیطانی چنگل سے چھڑانے کے لئے رسول بھیجے تا کہ وہ ان کو سچ اور حق بتا دیں اور ان اختلافات کو اچھی طرح حل کردیں جن میں ان کے درمیان اختلاف واضح ہوگیا تھا تا کہ یہ حل ان کے لئے ہدایت و رحمت کا باعث ہو ، خصوصاً ان لوگوں کے لئے جو ایمان لے آئیں۔

النحل 16:63

آیت نمبر 63 تا 64 پس اس آخری رسول اور اس آخری کتاب کا کام یہ ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا فیصلہ کر دے جن میں امم سابقہ اور کتب سابقہ کے ماننے والوں کے درمیان اختلافات واقعہ ہوگئے تھے اور وہ طائفہ طائفہ اور فرقہ فرقہ ہوگئے تھے کیونکہ اصل حقیقت تو عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کے اوپر جو شبہات ، شرک اور تشبیہات کے رنگ چڑھ گئے وہ سب باطل ہیں۔ قرآن کریم آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ ان تمام باطل تصورات کو صاف کر کے رکھ دے اور ان لوگوں کے لئے باعث رحمت و ہدایت ہو جن کے قلوب ایمان و ایقان کے لئے کھلے ہوں اور وہ گوہر ایمان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ٭٭٭ یہاں قرآن کریم نے اللہ کی الوہیت اور حاکمیت پر وہ دلائل دینے شروع کر دئیے ہیں جو اس کائنات میں بالکل عیاں ہیں۔ پھر ان صفات اور صلاحیتوں کو بیان کیا گیا ہے جو اللہ نے انسان کی ذات کے اندر ودیعت کر رکھی ہیں اور پھر وہ انعامات و احسانات بیان کئے ہیں جو اللہ نے اس انسان پر کئے ہیں ، وہ اس کے اردگرد موجود ہیں اور اللہ کے سوا یہ نعمتیں کوئی اور ذات نہ پیدا کرسکتی ہے ، نہ فراہم کرسکتی ہے۔ اس سے قبل والی آیت میں کتاب الٰہی کے نزول کی بات ہوئی تھی اور یہ اللہ کی نازل کردہ کتابوں میں سے آخری کتاب ہے جو بھلائی پر مشتمل ہے اور اس میں انسان کی روحانی زندگی کا سامان ہے ، چناچہ اس مناسبت سے یہاں آسمانوں سے بارشیں برسانے کا ذکر کیا گیا جس میں انسانوں کی جسمانی زندگی کا سامان ہے۔

النحل 16:64

آیت نمبر 63 تا 64 پس اس آخری رسول اور اس آخری کتاب کا کام یہ ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا فیصلہ کر دے جن میں امم سابقہ اور کتب سابقہ کے ماننے والوں کے درمیان اختلافات واقعہ ہوگئے تھے اور وہ طائفہ طائفہ اور فرقہ فرقہ ہوگئے تھے کیونکہ اصل حقیقت تو عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کے اوپر جو شبہات ، شرک اور تشبیہات کے رنگ چڑھ گئے وہ سب باطل ہیں۔ قرآن کریم آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ ان تمام باطل تصورات کو صاف کر کے رکھ دے اور ان لوگوں کے لئے باعث رحمت و ہدایت ہو جن کے قلوب ایمان و ایقان کے لئے کھلے ہوں اور وہ گوہر ایمان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ٭٭٭ یہاں قرآن کریم نے اللہ کی الوہیت اور حاکمیت پر وہ دلائل دینے شروع کر دئیے ہیں جو اس کائنات میں بالکل عیاں ہیں۔ پھر ان صفات اور صلاحیتوں کو بیان کیا گیا ہے جو اللہ نے انسان کی ذات کے اندر ودیعت کر رکھی ہیں اور پھر وہ انعامات و احسانات بیان کئے ہیں جو اللہ نے اس انسان پر کئے ہیں ، وہ اس کے اردگرد موجود ہیں اور اللہ کے سوا یہ نعمتیں کوئی اور ذات نہ پیدا کرسکتی ہے ، نہ فراہم کرسکتی ہے۔ اس سے قبل والی آیت میں کتاب الٰہی کے نزول کی بات ہوئی تھی اور یہ اللہ کی نازل کردہ کتابوں میں سے آخری کتاب ہے جو بھلائی پر مشتمل ہے اور اس میں انسان کی روحانی زندگی کا سامان ہے ، چناچہ اس مناسبت سے یہاں آسمانوں سے بارشیں برسانے کا ذکر کیا گیا جس میں انسانوں کی جسمانی زندگی کا سامان ہے۔

النحل 16:65

آیت نمبر 65 پانی تو ہر چیز کی زندگی کا سامان ہے۔ قرآن مجید اسے پورے کرۂ ارض کے لئے علی العموم سامان حیات قرار دیتا ہے ، جو چیز بھی اس کرۂ ارض کی پشت پر ہو اور اللہ جو ہر چیز کو حالت مرونی سے زندگی کی حالت میں لاتا ہے وہی ہے جو الٰہ ہونے کے لائق و سزاوار ہے۔ ذلک لایۃ لقوم یسمعون (16 : 65) “ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لئے ” تا کہ وہ جس چیز کو سنیں اس پر غور کریں اور سمجھیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے یہ کہ دلائل الوہیت اور دلائل حیات بعد الموت جس کا قرآن کریم با ربار تذکرہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہے اس کائنات میں جابجا بکھرے پڑے ہیں ، لیکن یہ آیات و معجزات ان لوگوں کے لئے ہیں جو سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور پھر مزید غوروفکر کرتے ہیں۔ مویشیوں اور جانوروں کے اندر بھی ایک نصیحت آموز چیز موجود ہے۔ یہ خالق کائنات کی عجیب تخلیق ہے اور یہی ایک دلیل الٰہ العالمین کی کبریائی کے لئے بس ہے۔

النحل 16:66

آیت نمبر 66 یہ دودھ ، جسے ہم حیوانات کے پستانوں سے نچوڑتے ہیں ، یہ کس چیز سے پیدا ہوتا ہے ؟ یہ گوبر اور خون کے بیچ میں سے نکلتا ہے ۔ فرث اس محصول کو کہتے ہیں جو ہضم کے بعد جگالی کرنے والے جانور کے اوجھ میں رہ جاتا ہے۔ نیز ہضم کے بعد جو محلول رہ جاتا ہے اور اسے آنتیں خون کی شکل میں تبدیلی کردیتی ہیں اسے بھی فرث کہا جاتا ہے۔ یہ خون جسم کے ہر خلیے میں گردش کرتا ہے۔ یہ خون جب جانور کی کھیری میں دودھ کے غدود میں جاتا ہے تو یہ دودھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ قدرت کا عجوبہ ہے کہ یہ خون دودھ بن جاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ محلول اور یہ خون کس طرح دودھ کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ پھر ہر قسم کی خوراک کا خلاصہ خون کی شکل کس طرح اختیار کرلیتا ہے۔ پھر اس خون کی قوت میں سے جسم کے ہر خلیے کو اس کی ضرورت کے مطابق غذا کا فراہم ہونا ایک ایسا عمل ہے جو نہایت ہی پیچیدہ اور تعجب انگیز ہے۔ یہ عمل جسم میں ہر سیکنڈ کے حساب سے تکمیل پاتا ہے۔ اس طرح جسم میں جلنے کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ ہر سیکنڈ میں ، انسانی جسم کی اس پیچیدہ مشینری میں تخریب و تعمیر کا یہ عمل جاری ہے اور اس وقت جاری رہتا ہے جب تک جسم سے روح پرواز نہیں کر جاتی۔ کوئی انسان جس کا شعور زندہ ہو ، وہ ان عجیب عملیات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، جن میں جسم انسانی کی اس عجیب مشینری کا ہر ذرہ خالق کا ثناخواں نظر آتا ہے۔ یہ ایک ایسی عجیب مشینری ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی پیچیدہ سے پیچیدہ مشینری اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ انسان کے لئے جسم انسانی کے لاتعداد خلیوں میں سے ایک خلیہ بھی بنانا ممکن نہیں ہے۔ ہم نے جسم انسانی میں خوراک کے ہضم ، اس کے خون کی شکل اختیار کرنے اور پھر چلنے اور ختم ہونے کے عمل کا ایک عام جائزہ لیا ہے۔ اس جسم کے اندر ایسے ایسے کام ہو رہے ہیں کہ اگر ان کا سائنسی مطالعہ اور ملاحظہ کیا جائے تو عقل دنگ رہ جائے۔ خود جسم انسانی کے خلیوں میں سے ایک خلیے کا مطالعہ اور اس پر غوروفکر بھی نہ ختم ہونے والی سوچ عطا کرتا ہے۔ ماضی قریب تک یہ تمام عجائبات راز ہی رہے ، اور یہ حقیقت جس کا ذکر یہاں قرآن مجید کر رہا ہے کہ دودھ گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے ، انسان اس سے ماضی قریب تک واقف نہ تھا۔ ادوار سابقہ میں انسان نہ اس کا تصور کرسکتا تھا اور نہ ہمارے دور کی طرح اس کا دقیق سائنسی مطالعہ کرنے کے قابل تھا۔ اس بارے میں کوئی انسان نہ شک کرسکتا ہے اور نہ بحث کرسکتا ہے۔ اس قسم کے پیچیدہ سائنسی حقائق میں سے کسی ایک حقیقت کی طرف قرآن کریم کا واضح طور پر اشارہ کرنا ہی اس بات کے لئے کافی ثبوت ہے کہ قرآن کریم وحی الٰہی پر مشتمل ہے کیونکہ یہ وہ حقیقت ہے جس کا سائنٹیفک علم کسی انسان کو بھی اس دور میں نہ تھا۔ لیکن ان خالص سائنسی حقائق کو اگر ایک طرف بھی چھوڑ دیں تو بھی قرآن کریم میں ایسے دلائل و خصائص موجود ہیں جو اس کے وحی الٰہی ہونے کا اثبات کرتے ہیں۔ ہاں اس قسم کی سائنسی حقیقتوں میں سے ایک واضح حقیقت سامنے آجانا مخالفین اور معاندین کے منہ کو بند کرنے کے لئے کافی ہے۔

النحل 16:67

آیت نمبر 67 یہ پھل جو اس تروتازگی اور نباتاتی حیات سے پیدا ہوتے ہیں جو آسمانوں سے پانی برسنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ، ان سے تم شراب بناتے ہو (اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی ) اور رزق حسن بناتے ہو۔ اس آیت میں بہرحال اشارہ کردیا گیا ہے کہ رزق حسن شراب سے کوئی الگ چیز ہے اور یہ کہ شراب رزق حسن نہیں ہے۔ یہ دراصل تمہید تھی اس حکم کے لئے جو بعد میں تحریم شراب کے بارے میں نازل ہوا۔ اس آیت میں صرف واقعاتی تجربہ ہے کہ کھجوروں اور انگور اللہ نے پیدا کئے اور تم اس سے یہ یہ مصنوعات تیار کرتے ہو ، یہاں کسی چیز کی حلت اور حرمت سے بہرحال بحث نہیں ہے اگرچہ یہ حرمت کے لئے تمہید ضرور ہے ان فی ذلک لایۃ لقوم یعقلون (16 : 67) “ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لئے ”۔ لہٰذا عقل مند لوگ جب سمجھ لیتے ہیں تو وہ یہی فیصلہ کرتے ہیں کہ بندگی کا سزاوار وہی خالق ہے جو یہ چیزیں پیدا کرتا ہے۔

النحل 16:68

آیت نمبر 68 تا 69 شہد کی مکھی اس الہام کے مطابق کام کرتی ہے جو خالق نے تخلیق کے وقت اس کی فطرت میں رکھ دیا ہے۔ یہ بھی وحی کی ایک قسم ہے اور یہ مکھی اس کے مطابق عمل پیرا ہے۔ یہ مکھیاں جس پیچیدہ انداز میں اپنا کام جاری رکھتی ہیں ، اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ وہ کس انجینئرنگ سے اپنا چھتہ تیار کرتی ہیں۔ وہ باہم تقسیم کار کس طرح کرتی ہیں اور پھر وہ عسل مصفیٰ کو کس طرح علیحدہ کرتی ہیں ؟ یہ اپنی فطرت کے مطابق گھر بناتی ہیں ، پہاڑوں میں ، درختوں کی شاخوں میں ، لوگ دیواروں پر جو بیل بوٹے چڑھاتے ہیں ان میں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان کی فطرت کے مطابق زمین کے اندر راستے ہموار کیے ہیں کہ یہ عسل مصفیٰ شفاء للناس ہے۔ بعض ڈاکٹروں نے اس پر تحقیق کی ہے اور یہ تحقیق نہایت ہی فنی انداز کی ہے۔ لیکن ایک مسلم کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے وہ شفاء للناس ہے۔ حضور اکرم ﷺ سے بعض احادیث میں بھی عسل مصفیٰ کی ان خصوصیات کی طرف اشارہ ہے بخاری شریف نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا ، حضور ﷺ میرے بھائی کو اسہال ہو رہے ہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا ، اسے شہد پلا دو ۔ تو اس نے اسے شہد پلا دیا۔ اس کے بعد وہ پھر آیا اور کہا ، حضور ﷺ میں نے اسے شہد پلایا مگر اس سے تو اس کے اسہال اور زیادہ ہوگئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور اسے شہد پلاؤ۔ وہ گیا اور اس نے اور شہد پلایا۔ پھر آیا اور کہا ، حضور ﷺ وہ تو اور بھی زیادہ ہو رہا ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے تو سچ کہا ہے تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹ بول رہا ہے ، لہٰذا جاؤ اور اسے مزید شہد پلاؤ۔ وہ شخص گیا اور اس نے بھائی کو مزید شہد پلایا اور وہ تندرست ہوگیا۔ اس حدیث شریف کو پڑھ کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے کہ ایک رسول ایمان و ایقان کے کس اعلیٰ مقام پر ہوتا ہے۔ مریض کا بھائی بار بار اطلاع کرتا ہے کہ مرض میں اضافہ ہی ہو رہا ہے لیکن حضور اکرم ﷺ وہی علاج تجویز کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے شفاء کہا ہے۔ آخر کار قرآن کی بات عملاً سچی ثابت ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان تمام مسائل میں جن کا فیصلہ قرآن نے کردیا ہے اسی طرح کے ایمان و ایقان کا اظہار کریں۔ اگرچہ بظاہر صورت حالات قرآن کے حکم کے خلاف ہی کیوں نہ نظر آئے۔ کیونکہ ظاہری حالات کے مشاہدے میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن قرآنی حقائق کبھی غلط نہیں ہو سکتے اور آخر کار قرآنی حقائق ہی سچے ثابت ہوتے ہیں۔ اب ذرا طرز کلام کی فصاحت و مناسبت پر غور کریں۔ آسمانوں سے پانی اترنے کی نعمت ، گوبر اور خون کے درمیان سے بغیر دودھ کی پیدائش ، کھجوروں اور انگوروں سے شکرو شراب کی پیدائش ، شہد کی مکھی سے مختلف رنگوں کا شہد ، یہ تمام مشروبات ہیں اور ان مشروبات کا اخراج ایسے اجسام سے ہورہا ہے جو ان سے شکل و جنس میں بھی مختلف ہیں۔ چونکہ یہاں ذکر مشروبات کا تھا اس لیے جانوروں کے ضمن میں صرف دودھ کا ذکر کیا گیا کیونکہ وہ مشروب ہے تا کہ مضمون و مفہوم آپس میں متناسب ہوجائیں۔ آگے دوسرا سبق آرہا ہے۔ اس میں انعام کے ضمن میں چمڑوں ، بالوں اور اون کا بھی ذکر ہے کیونکہ وہاں خیموں اور گھروں کا مضمون ہے لہٰذا وہاں حیوانات کی ان چیزوں کا بھی ذکر کیا گیا جو اس مضمون اور منظر کے ساتھ متناسب تھیں۔ قرآن مجید کے اسلوب کلام کا یہ ایک بہت ہی اہم فنی پہلو ہے کہ وہ الفاظ کے ساتھ معنوی ہم آہنگی کا بھی خیال رکھتا ہے۔

النحل 16:69

آیت نمبر 68 تا 69 شہد کی مکھی اس الہام کے مطابق کام کرتی ہے جو خالق نے تخلیق کے وقت اس کی فطرت میں رکھ دیا ہے۔ یہ بھی وحی کی ایک قسم ہے اور یہ مکھی اس کے مطابق عمل پیرا ہے۔ یہ مکھیاں جس پیچیدہ انداز میں اپنا کام جاری رکھتی ہیں ، اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ وہ کس انجینئرنگ سے اپنا چھتہ تیار کرتی ہیں۔ وہ باہم تقسیم کار کس طرح کرتی ہیں اور پھر وہ عسل مصفیٰ کو کس طرح علیحدہ کرتی ہیں ؟ یہ اپنی فطرت کے مطابق گھر بناتی ہیں ، پہاڑوں میں ، درختوں کی شاخوں میں ، لوگ دیواروں پر جو بیل بوٹے چڑھاتے ہیں ان میں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان کی فطرت کے مطابق زمین کے اندر راستے ہموار کیے ہیں کہ یہ عسل مصفیٰ شفاء للناس ہے۔ بعض ڈاکٹروں نے اس پر تحقیق کی ہے اور یہ تحقیق نہایت ہی فنی انداز کی ہے۔ لیکن ایک مسلم کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے وہ شفاء للناس ہے۔ حضور اکرم ﷺ سے بعض احادیث میں بھی عسل مصفیٰ کی ان خصوصیات کی طرف اشارہ ہے بخاری شریف نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا ، حضور ﷺ میرے بھائی کو اسہال ہو رہے ہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا ، اسے شہد پلا دو ۔ تو اس نے اسے شہد پلا دیا۔ اس کے بعد وہ پھر آیا اور کہا ، حضور ﷺ میں نے اسے شہد پلایا مگر اس سے تو اس کے اسہال اور زیادہ ہوگئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور اسے شہد پلاؤ۔ وہ گیا اور اس نے اور شہد پلایا۔ پھر آیا اور کہا ، حضور ﷺ وہ تو اور بھی زیادہ ہو رہا ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے تو سچ کہا ہے تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹ بول رہا ہے ، لہٰذا جاؤ اور اسے مزید شہد پلاؤ۔ وہ شخص گیا اور اس نے بھائی کو مزید شہد پلایا اور وہ تندرست ہوگیا۔ اس حدیث شریف کو پڑھ کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے کہ ایک رسول ایمان و ایقان کے کس اعلیٰ مقام پر ہوتا ہے۔ مریض کا بھائی بار بار اطلاع کرتا ہے کہ مرض میں اضافہ ہی ہو رہا ہے لیکن حضور اکرم ﷺ وہی علاج تجویز کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے شفاء کہا ہے۔ آخر کار قرآن کی بات عملاً سچی ثابت ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان تمام مسائل میں جن کا فیصلہ قرآن نے کردیا ہے اسی طرح کے ایمان و ایقان کا اظہار کریں۔ اگرچہ بظاہر صورت حالات قرآن کے حکم کے خلاف ہی کیوں نہ نظر آئے۔ کیونکہ ظاہری حالات کے مشاہدے میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن قرآنی حقائق کبھی غلط نہیں ہو سکتے اور آخر کار قرآنی حقائق ہی سچے ثابت ہوتے ہیں۔ اب ذرا طرز کلام کی فصاحت و مناسبت پر غور کریں۔ آسمانوں سے پانی اترنے کی نعمت ، گوبر اور خون کے درمیان سے بغیر دودھ کی پیدائش ، کھجوروں اور انگوروں سے شکرو شراب کی پیدائش ، شہد کی مکھی سے مختلف رنگوں کا شہد ، یہ تمام مشروبات ہیں اور ان مشروبات کا اخراج ایسے اجسام سے ہورہا ہے جو ان سے شکل و جنس میں بھی مختلف ہیں۔ چونکہ یہاں ذکر مشروبات کا تھا اس لیے جانوروں کے ضمن میں صرف دودھ کا ذکر کیا گیا کیونکہ وہ مشروب ہے تا کہ مضمون و مفہوم آپس میں متناسب ہوجائیں۔ آگے دوسرا سبق آرہا ہے۔ اس میں انعام کے ضمن میں چمڑوں ، بالوں اور اون کا بھی ذکر ہے کیونکہ وہاں خیموں اور گھروں کا مضمون ہے لہٰذا وہاں حیوانات کی ان چیزوں کا بھی ذکر کیا گیا جو اس مضمون اور منظر کے ساتھ متناسب تھیں۔ قرآن مجید کے اسلوب کلام کا یہ ایک بہت ہی اہم فنی پہلو ہے کہ وہ الفاظ کے ساتھ معنوی ہم آہنگی کا بھی خیال رکھتا ہے۔

النحل 16:70

اب روئے سخن جانوروں ، درختوں ، پھلوں ، شہد کی مکھیوں ، شہد کے انعامات کے مقابلے میں نفس انسانی کے قریب تر ، انسانی شخصیت کی گہرائیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے موضوع کی طرف مڑ جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف مراحل ، انسان کی عمر ، اس کا رزق ، اس کا جوڑا ، بچے اور پوتے وغیرہ جو انسانی دلچسپی کے مخصوص ترین موضوعات ہیں۔ انسان ایسی باتوں سے بہت ہی متاثر ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کے میدان ہیں۔ آیت نمبر 70 تا 73 ان حساس موضوعات میں سے پہلا موضوع انسانی زندگی ، انسانی موت اور زندگی کے مراحل کے بارے میں ہے اور یہ تمام انسانوں کی دلچسپی کا محبوب موضوع ہے۔ انسانی زندگی پر غور کرنے سے انسان یقیناً بعض اوقات سخت سے سخت دل انسان بھی نرمی کا احساس کرلیتے ہیں اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ اس پر ہونے والے تمام انعامات تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور جب انسان کے دل میں ان انعامات کے زوال کی بات ڈال دی جائے تو فطرت انسانی کے اندر ودیعت کردہ خدا خوفی کا احساس ، تقویٰ کا وجدان اور اس زندگی کے عطا کرنے والے کی طرف میلان پیدا ہو سکتا ہے۔ خصوصاً بڑھاپے کی صورت حالات میں جب انسان ارذل العمر میں داخل ہوتا ہے وہ علوم کو بھولنا شروع کردیتا ہے اور دوبارہ ایک بچے کی طرح سادہ ، عاجز اور انجان ہوجاتا ہے۔ جب انسان ایسے حالات پر سنجیدگی سے غور کرے تو وہ اپنے موجودہ جوانی ، قوت ، علم اور عزت و وقار پر سوچے تو وہ کافی حد تک راہ راست پر آسکتا ہے۔ ان اللہ علیم قدیر (16 : 70) “ بیشک اللہ علیم و قدیر ہے ”۔ یہ نتیجہ یہاں اس لیے بتایا گیا کہ انسان کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ مکمل ازلی اور ابدی علم صرف اللہ کا ہے اور حقیقی ازلی اور ابدی قدرت بھی صرف اللہ کے پاس ہے۔ انسان کا علم بھی محدود ہے اور زوال پذیر بھی ہے۔ انسان کی قدرت بھی محدود ہے اور قابل زوال بھی ہے ، اس کے علم اور اس کی قدرت میں بھی جزئی علم وقدرت۔ ان آیات میں دوسرا ٹچ انسان کے وسائل رزق سے متعلق ہے۔ رزق کے میدان میں ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان تفاوت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ قرآن کریم اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ رزق کے معاملے میں لوگوں کے درمیان فرق ہے اور اللہ نے بعض کو بعض پر برتری دی ہے اور یہ برتری بھی سنت الٰہیہ کے تابع ہے۔ مراتب میں یہ تفاوت بھی محض اتفاقی نہیں ہے بلکہ اس میں بھی اللہ کی گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص بڑا عالم ، مفکر اور عقلمند ہوتا ہے لیکن وسائل رزق اور ان میں ترقی کی صلاحیتیں اس میں محدود ہوتی ہیں کیونکہ دوسرے شعبوں میں اللہ نے ایسے لوگوں کو قیمتی صلاحیتیں دی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا انسان بہت ہی سادہ ، باغی اور جاہلی نظر آئے گا لیکن حصول رزق اور اس کی ترقی کے میدان میں یہ شخص بہت ہی ماہر ہوگا۔ پھر لوگوں کے درمیان صلاحیتوں میں تفاوت اور تنوع پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات لوگ غور نہیں کرتے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ رزق کو صلاحیتوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، حالانکہ حصول رزق بھی صلاحیتوں میں سے ایک صلاحیت ہوتی ہے۔ نیز بعض اوقات رزق کی فراوانی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے جبکہ رزق کی تنگی میں بھی بعض اوقات کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور اس حکمت کی بنا پر اللہ بعض لوگوں کو آزماتا ہے۔ بہرحال رزق اور وسائل رزق میں تفاوت ایک ایسی حقیقت ہے جو موجود ہے اور اس کا مدار صلاحیتوں کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔ تاہم رزق کا اختلاف صلاحیتوں کے مطابق تب ہوگا جب معاشرے میں مواقع حصول رزق پر ظالمانہ کنٹرول اور مصنوعی تفاوت نہ ہو جس طرح آج کل کے فساد زدہ معاشروں میں ہے۔ اس آیت میں اشارہ اس معاشرے کی طرف ہے جو حضور ﷺ کے وقت دور جاہلیت میں موجود تھا۔ اس صورت حال کو ایک مثال کے طور پر پیش کر کے اللہ تعالیٰ مشرکانہ افکار کے نظام عقائد میں سے ایک عقیدے کی تصحیح فرماتا ہے۔ مکہ کے بت پرستانہ معاشرے میں یہ رواج تھا ، جس طرح ہم نے اس سے قبل اس کی تشریح کردی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دئیے ہوئے اموال میں سے بعض چیزوں کو بتوں کے لئے مخصوص کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھو ، تمہارے بھی غلام ہیں ، جس طرح تم اللہ کے غلام ہو ، (یاد رہے کہ اس وقت کے جاہلی معاشرے میں غلامی کا ادارہ موجود تھا ) ۔ تم ہرگز اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ یہ غلام تمہاری کمائی میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوجائیں تو اللہ کس طرح یہ بات پسند کرے گا کہ اس کی مخلوقات و مملوکات میں سے بعض چیزیں ان لوگوں کی ہوجائیں جنہیں ناحق اللہ کی خدائی کے امور میں شریک کردیا گیا ہے۔ افبنعمۃ اللہ یجحدون (16 : 71) “ کیا یہ اللہ کے انعامات و احسانات کا انکار کرتے ہیں ”۔ اللہ نے تو ان پر انعامات کی بارش کردی اور انہوں نے مقابلے میں دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا۔ حالانکہ ان کی جانب سے شکر کا واحد طریقہ یہ تھا کہ وہ اللہ وحدہ کو الٰہ سمجھتے۔ یہ تیسری احساس جگانے والی تنبیہ نفس انسانی ، اس کے جوڑے ، بیٹوں ، پوتوں اور دوسری اولاد کے بارے میں ہے۔ سب سے پہلے ذکر مخالف جنس پر مشتمل جوڑنے اور ان کے باہم زندہ تعلق کے بارے میں ہے۔ جعل لکم من انفسکم ازواجا (16 : 72) “ جس نے تمہارے لیے تمہاری ہی ہم جنس بیویاں بنائیں ”۔ وہ تمہارے ہی نفس کا حصہ ہیں ، وہ تمہارا ہی حصہ ہیں ، یہ تم سے کوئی کم تر درجے کی مخلوق نہیں ہے کہ تمہیں عورتوں کی پیدائش سے شرم آتی ہے۔ وجعل لکم من ازواجم بنین وحفدۃ (16 : 72) “ اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے ”۔ انسان فانی ہے لیکن وہ اپنی ذات کا تسلسل بذریعہ اولاد و احفاد چاہتا ہے۔ حیات انسانی کا یہ پہلو نہایت ہی حساس ہے اور اس تار کو معمولی طور پر چھوٹے ہی سے زمزمہ حیات گونجنے لگتا ہے۔ وسائل رزق کے مقابلے میں اولاد و احفاد کا یہاں ذکر کیا گیا بطور نعمت تا کہ انسانی شعور کے سامنے یہ سوال رکھا جائے۔ افبالباطل یومنون وبنعمت اللہ ھم یکفرون (16 : 72) “ تو اب بھی یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ”۔ یوں کہ وہ اللہ کے شریک قرار دیتے ہیں اور اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ یہ تمام انعامات اللہ کے عطا کردہ ہیں اور یہ نعمات اللہ کی الوہیت و حاکمیت پر گواہ بھی ہیں اور عملاً ان کی زندگی میں یہ نعمتیں موجود بھی ہیں اور ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کے سوا جو بھی ہے وہ باطل ہے۔ اور یہ الٰہ جن کو یہ پکارتے ہیں لا محالہ باطل ہیں ، محض اوہام ہیں ، ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ان کے بارے میں ایسی سوچ اور مرتبے کا کوئی حق و حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا اس حرکت کا ارتکاب کر کے وہ انعامات الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں ۔ جبکہ اس حقیقت کو وہ خود بھی اپنی فطری صلاحیت سے محسوس بھی کرتے ہیں اور احساس ہوتے ہوئے انکار کرتے ہیں۔ ویعبدون من ۔۔۔۔ یستطیعون (16 : 73) “ اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں ”۔ یہ عجیب بات ہے کہ انسانی فطرت اس حد تک منحرف ہوجائے اور ایسی چیزوں کی بندگی کرے جن کے ہاتھ میں لوگوں کا رزق نہیں ہے اور نہ وہ ایک ہی دن کے لئے لوگوں کے رزق کا انتظام کرنے کے اہل ہیں۔ جبکہ یہ لوگ اللہ کو خالق ، رازق ، فریاد رس مانتے بھی ہیں اور اس کا انکار نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود اللہ کے مماثل اور اس جیسی شخصیات کے قائل ہیں۔

النحل 16:71

اب روئے سخن جانوروں ، درختوں ، پھلوں ، شہد کی مکھیوں ، شہد کے انعامات کے مقابلے میں نفس انسانی کے قریب تر ، انسانی شخصیت کی گہرائیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے موضوع کی طرف مڑ جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف مراحل ، انسان کی عمر ، اس کا رزق ، اس کا جوڑا ، بچے اور پوتے وغیرہ جو انسانی دلچسپی کے مخصوص ترین موضوعات ہیں۔ انسان ایسی باتوں سے بہت ہی متاثر ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کے میدان ہیں۔ آیت نمبر 70 تا 73 ان حساس موضوعات میں سے پہلا موضوع انسانی زندگی ، انسانی موت اور زندگی کے مراحل کے بارے میں ہے اور یہ تمام انسانوں کی دلچسپی کا محبوب موضوع ہے۔ انسانی زندگی پر غور کرنے سے انسان یقیناً بعض اوقات سخت سے سخت دل انسان بھی نرمی کا احساس کرلیتے ہیں اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ اس پر ہونے والے تمام انعامات تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور جب انسان کے دل میں ان انعامات کے زوال کی بات ڈال دی جائے تو فطرت انسانی کے اندر ودیعت کردہ خدا خوفی کا احساس ، تقویٰ کا وجدان اور اس زندگی کے عطا کرنے والے کی طرف میلان پیدا ہو سکتا ہے۔ خصوصاً بڑھاپے کی صورت حالات میں جب انسان ارذل العمر میں داخل ہوتا ہے وہ علوم کو بھولنا شروع کردیتا ہے اور دوبارہ ایک بچے کی طرح سادہ ، عاجز اور انجان ہوجاتا ہے۔ جب انسان ایسے حالات پر سنجیدگی سے غور کرے تو وہ اپنے موجودہ جوانی ، قوت ، علم اور عزت و وقار پر سوچے تو وہ کافی حد تک راہ راست پر آسکتا ہے۔ ان اللہ علیم قدیر (16 : 70) “ بیشک اللہ علیم و قدیر ہے ”۔ یہ نتیجہ یہاں اس لیے بتایا گیا کہ انسان کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ مکمل ازلی اور ابدی علم صرف اللہ کا ہے اور حقیقی ازلی اور ابدی قدرت بھی صرف اللہ کے پاس ہے۔ انسان کا علم بھی محدود ہے اور زوال پذیر بھی ہے۔ انسان کی قدرت بھی محدود ہے اور قابل زوال بھی ہے ، اس کے علم اور اس کی قدرت میں بھی جزئی علم وقدرت۔ ان آیات میں دوسرا ٹچ انسان کے وسائل رزق سے متعلق ہے۔ رزق کے میدان میں ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان تفاوت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ قرآن کریم اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ رزق کے معاملے میں لوگوں کے درمیان فرق ہے اور اللہ نے بعض کو بعض پر برتری دی ہے اور یہ برتری بھی سنت الٰہیہ کے تابع ہے۔ مراتب میں یہ تفاوت بھی محض اتفاقی نہیں ہے بلکہ اس میں بھی اللہ کی گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص بڑا عالم ، مفکر اور عقلمند ہوتا ہے لیکن وسائل رزق اور ان میں ترقی کی صلاحیتیں اس میں محدود ہوتی ہیں کیونکہ دوسرے شعبوں میں اللہ نے ایسے لوگوں کو قیمتی صلاحیتیں دی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا انسان بہت ہی سادہ ، باغی اور جاہلی نظر آئے گا لیکن حصول رزق اور اس کی ترقی کے میدان میں یہ شخص بہت ہی ماہر ہوگا۔ پھر لوگوں کے درمیان صلاحیتوں میں تفاوت اور تنوع پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات لوگ غور نہیں کرتے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ رزق کو صلاحیتوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، حالانکہ حصول رزق بھی صلاحیتوں میں سے ایک صلاحیت ہوتی ہے۔ نیز بعض اوقات رزق کی فراوانی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے جبکہ رزق کی تنگی میں بھی بعض اوقات کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور اس حکمت کی بنا پر اللہ بعض لوگوں کو آزماتا ہے۔ بہرحال رزق اور وسائل رزق میں تفاوت ایک ایسی حقیقت ہے جو موجود ہے اور اس کا مدار صلاحیتوں کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔ تاہم رزق کا اختلاف صلاحیتوں کے مطابق تب ہوگا جب معاشرے میں مواقع حصول رزق پر ظالمانہ کنٹرول اور مصنوعی تفاوت نہ ہو جس طرح آج کل کے فساد زدہ معاشروں میں ہے۔ اس آیت میں اشارہ اس معاشرے کی طرف ہے جو حضور ﷺ کے وقت دور جاہلیت میں موجود تھا۔ اس صورت حال کو ایک مثال کے طور پر پیش کر کے اللہ تعالیٰ مشرکانہ افکار کے نظام عقائد میں سے ایک عقیدے کی تصحیح فرماتا ہے۔ مکہ کے بت پرستانہ معاشرے میں یہ رواج تھا ، جس طرح ہم نے اس سے قبل اس کی تشریح کردی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دئیے ہوئے اموال میں سے بعض چیزوں کو بتوں کے لئے مخصوص کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھو ، تمہارے بھی غلام ہیں ، جس طرح تم اللہ کے غلام ہو ، (یاد رہے کہ اس وقت کے جاہلی معاشرے میں غلامی کا ادارہ موجود تھا ) ۔ تم ہرگز اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ یہ غلام تمہاری کمائی میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوجائیں تو اللہ کس طرح یہ بات پسند کرے گا کہ اس کی مخلوقات و مملوکات میں سے بعض چیزیں ان لوگوں کی ہوجائیں جنہیں ناحق اللہ کی خدائی کے امور میں شریک کردیا گیا ہے۔ افبنعمۃ اللہ یجحدون (16 : 71) “ کیا یہ اللہ کے انعامات و احسانات کا انکار کرتے ہیں ”۔ اللہ نے تو ان پر انعامات کی بارش کردی اور انہوں نے مقابلے میں دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا۔ حالانکہ ان کی جانب سے شکر کا واحد طریقہ یہ تھا کہ وہ اللہ وحدہ کو الٰہ سمجھتے۔ یہ تیسری احساس جگانے والی تنبیہ نفس انسانی ، اس کے جوڑے ، بیٹوں ، پوتوں اور دوسری اولاد کے بارے میں ہے۔ سب سے پہلے ذکر مخالف جنس پر مشتمل جوڑنے اور ان کے باہم زندہ تعلق کے بارے میں ہے۔ جعل لکم من انفسکم ازواجا (16 : 72) “ جس نے تمہارے لیے تمہاری ہی ہم جنس بیویاں بنائیں ”۔ وہ تمہارے ہی نفس کا حصہ ہیں ، وہ تمہارا ہی حصہ ہیں ، یہ تم سے کوئی کم تر درجے کی مخلوق نہیں ہے کہ تمہیں عورتوں کی پیدائش سے شرم آتی ہے۔ وجعل لکم من ازواجم بنین وحفدۃ (16 : 72) “ اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے ”۔ انسان فانی ہے لیکن وہ اپنی ذات کا تسلسل بذریعہ اولاد و احفاد چاہتا ہے۔ حیات انسانی کا یہ پہلو نہایت ہی حساس ہے اور اس تار کو معمولی طور پر چھوٹے ہی سے زمزمہ حیات گونجنے لگتا ہے۔ وسائل رزق کے مقابلے میں اولاد و احفاد کا یہاں ذکر کیا گیا بطور نعمت تا کہ انسانی شعور کے سامنے یہ سوال رکھا جائے۔ افبالباطل یومنون وبنعمت اللہ ھم یکفرون (16 : 72) “ تو اب بھی یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ”۔ یوں کہ وہ اللہ کے شریک قرار دیتے ہیں اور اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ یہ تمام انعامات اللہ کے عطا کردہ ہیں اور یہ نعمات اللہ کی الوہیت و حاکمیت پر گواہ بھی ہیں اور عملاً ان کی زندگی میں یہ نعمتیں موجود بھی ہیں اور ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کے سوا جو بھی ہے وہ باطل ہے۔ اور یہ الٰہ جن کو یہ پکارتے ہیں لا محالہ باطل ہیں ، محض اوہام ہیں ، ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ان کے بارے میں ایسی سوچ اور مرتبے کا کوئی حق و حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا اس حرکت کا ارتکاب کر کے وہ انعامات الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں ۔ جبکہ اس حقیقت کو وہ خود بھی اپنی فطری صلاحیت سے محسوس بھی کرتے ہیں اور احساس ہوتے ہوئے انکار کرتے ہیں۔ ویعبدون من ۔۔۔۔ یستطیعون (16 : 73) “ اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں ”۔ یہ عجیب بات ہے کہ انسانی فطرت اس حد تک منحرف ہوجائے اور ایسی چیزوں کی بندگی کرے جن کے ہاتھ میں لوگوں کا رزق نہیں ہے اور نہ وہ ایک ہی دن کے لئے لوگوں کے رزق کا انتظام کرنے کے اہل ہیں۔ جبکہ یہ لوگ اللہ کو خالق ، رازق ، فریاد رس مانتے بھی ہیں اور اس کا انکار نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود اللہ کے مماثل اور اس جیسی شخصیات کے قائل ہیں۔

النحل 16:72

اب روئے سخن جانوروں ، درختوں ، پھلوں ، شہد کی مکھیوں ، شہد کے انعامات کے مقابلے میں نفس انسانی کے قریب تر ، انسانی شخصیت کی گہرائیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے موضوع کی طرف مڑ جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف مراحل ، انسان کی عمر ، اس کا رزق ، اس کا جوڑا ، بچے اور پوتے وغیرہ جو انسانی دلچسپی کے مخصوص ترین موضوعات ہیں۔ انسان ایسی باتوں سے بہت ہی متاثر ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کے میدان ہیں۔ آیت نمبر 70 تا 73 ان حساس موضوعات میں سے پہلا موضوع انسانی زندگی ، انسانی موت اور زندگی کے مراحل کے بارے میں ہے اور یہ تمام انسانوں کی دلچسپی کا محبوب موضوع ہے۔ انسانی زندگی پر غور کرنے سے انسان یقیناً بعض اوقات سخت سے سخت دل انسان بھی نرمی کا احساس کرلیتے ہیں اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ اس پر ہونے والے تمام انعامات تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور جب انسان کے دل میں ان انعامات کے زوال کی بات ڈال دی جائے تو فطرت انسانی کے اندر ودیعت کردہ خدا خوفی کا احساس ، تقویٰ کا وجدان اور اس زندگی کے عطا کرنے والے کی طرف میلان پیدا ہو سکتا ہے۔ خصوصاً بڑھاپے کی صورت حالات میں جب انسان ارذل العمر میں داخل ہوتا ہے وہ علوم کو بھولنا شروع کردیتا ہے اور دوبارہ ایک بچے کی طرح سادہ ، عاجز اور انجان ہوجاتا ہے۔ جب انسان ایسے حالات پر سنجیدگی سے غور کرے تو وہ اپنے موجودہ جوانی ، قوت ، علم اور عزت و وقار پر سوچے تو وہ کافی حد تک راہ راست پر آسکتا ہے۔ ان اللہ علیم قدیر (16 : 70) “ بیشک اللہ علیم و قدیر ہے ”۔ یہ نتیجہ یہاں اس لیے بتایا گیا کہ انسان کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ مکمل ازلی اور ابدی علم صرف اللہ کا ہے اور حقیقی ازلی اور ابدی قدرت بھی صرف اللہ کے پاس ہے۔ انسان کا علم بھی محدود ہے اور زوال پذیر بھی ہے۔ انسان کی قدرت بھی محدود ہے اور قابل زوال بھی ہے ، اس کے علم اور اس کی قدرت میں بھی جزئی علم وقدرت۔ ان آیات میں دوسرا ٹچ انسان کے وسائل رزق سے متعلق ہے۔ رزق کے میدان میں ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان تفاوت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ قرآن کریم اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ رزق کے معاملے میں لوگوں کے درمیان فرق ہے اور اللہ نے بعض کو بعض پر برتری دی ہے اور یہ برتری بھی سنت الٰہیہ کے تابع ہے۔ مراتب میں یہ تفاوت بھی محض اتفاقی نہیں ہے بلکہ اس میں بھی اللہ کی گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص بڑا عالم ، مفکر اور عقلمند ہوتا ہے لیکن وسائل رزق اور ان میں ترقی کی صلاحیتیں اس میں محدود ہوتی ہیں کیونکہ دوسرے شعبوں میں اللہ نے ایسے لوگوں کو قیمتی صلاحیتیں دی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا انسان بہت ہی سادہ ، باغی اور جاہلی نظر آئے گا لیکن حصول رزق اور اس کی ترقی کے میدان میں یہ شخص بہت ہی ماہر ہوگا۔ پھر لوگوں کے درمیان صلاحیتوں میں تفاوت اور تنوع پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات لوگ غور نہیں کرتے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ رزق کو صلاحیتوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، حالانکہ حصول رزق بھی صلاحیتوں میں سے ایک صلاحیت ہوتی ہے۔ نیز بعض اوقات رزق کی فراوانی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے جبکہ رزق کی تنگی میں بھی بعض اوقات کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور اس حکمت کی بنا پر اللہ بعض لوگوں کو آزماتا ہے۔ بہرحال رزق اور وسائل رزق میں تفاوت ایک ایسی حقیقت ہے جو موجود ہے اور اس کا مدار صلاحیتوں کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔ تاہم رزق کا اختلاف صلاحیتوں کے مطابق تب ہوگا جب معاشرے میں مواقع حصول رزق پر ظالمانہ کنٹرول اور مصنوعی تفاوت نہ ہو جس طرح آج کل کے فساد زدہ معاشروں میں ہے۔ اس آیت میں اشارہ اس معاشرے کی طرف ہے جو حضور ﷺ کے وقت دور جاہلیت میں موجود تھا۔ اس صورت حال کو ایک مثال کے طور پر پیش کر کے اللہ تعالیٰ مشرکانہ افکار کے نظام عقائد میں سے ایک عقیدے کی تصحیح فرماتا ہے۔ مکہ کے بت پرستانہ معاشرے میں یہ رواج تھا ، جس طرح ہم نے اس سے قبل اس کی تشریح کردی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دئیے ہوئے اموال میں سے بعض چیزوں کو بتوں کے لئے مخصوص کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھو ، تمہارے بھی غلام ہیں ، جس طرح تم اللہ کے غلام ہو ، (یاد رہے کہ اس وقت کے جاہلی معاشرے میں غلامی کا ادارہ موجود تھا ) ۔ تم ہرگز اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ یہ غلام تمہاری کمائی میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوجائیں تو اللہ کس طرح یہ بات پسند کرے گا کہ اس کی مخلوقات و مملوکات میں سے بعض چیزیں ان لوگوں کی ہوجائیں جنہیں ناحق اللہ کی خدائی کے امور میں شریک کردیا گیا ہے۔ افبنعمۃ اللہ یجحدون (16 : 71) “ کیا یہ اللہ کے انعامات و احسانات کا انکار کرتے ہیں ”۔ اللہ نے تو ان پر انعامات کی بارش کردی اور انہوں نے مقابلے میں دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا۔ حالانکہ ان کی جانب سے شکر کا واحد طریقہ یہ تھا کہ وہ اللہ وحدہ کو الٰہ سمجھتے۔ یہ تیسری احساس جگانے والی تنبیہ نفس انسانی ، اس کے جوڑے ، بیٹوں ، پوتوں اور دوسری اولاد کے بارے میں ہے۔ سب سے پہلے ذکر مخالف جنس پر مشتمل جوڑنے اور ان کے باہم زندہ تعلق کے بارے میں ہے۔ جعل لکم من انفسکم ازواجا (16 : 72) “ جس نے تمہارے لیے تمہاری ہی ہم جنس بیویاں بنائیں ”۔ وہ تمہارے ہی نفس کا حصہ ہیں ، وہ تمہارا ہی حصہ ہیں ، یہ تم سے کوئی کم تر درجے کی مخلوق نہیں ہے کہ تمہیں عورتوں کی پیدائش سے شرم آتی ہے۔ وجعل لکم من ازواجم بنین وحفدۃ (16 : 72) “ اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے ”۔ انسان فانی ہے لیکن وہ اپنی ذات کا تسلسل بذریعہ اولاد و احفاد چاہتا ہے۔ حیات انسانی کا یہ پہلو نہایت ہی حساس ہے اور اس تار کو معمولی طور پر چھوٹے ہی سے زمزمہ حیات گونجنے لگتا ہے۔ وسائل رزق کے مقابلے میں اولاد و احفاد کا یہاں ذکر کیا گیا بطور نعمت تا کہ انسانی شعور کے سامنے یہ سوال رکھا جائے۔ افبالباطل یومنون وبنعمت اللہ ھم یکفرون (16 : 72) “ تو اب بھی یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ”۔ یوں کہ وہ اللہ کے شریک قرار دیتے ہیں اور اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ یہ تمام انعامات اللہ کے عطا کردہ ہیں اور یہ نعمات اللہ کی الوہیت و حاکمیت پر گواہ بھی ہیں اور عملاً ان کی زندگی میں یہ نعمتیں موجود بھی ہیں اور ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کے سوا جو بھی ہے وہ باطل ہے۔ اور یہ الٰہ جن کو یہ پکارتے ہیں لا محالہ باطل ہیں ، محض اوہام ہیں ، ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ان کے بارے میں ایسی سوچ اور مرتبے کا کوئی حق و حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا اس حرکت کا ارتکاب کر کے وہ انعامات الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں ۔ جبکہ اس حقیقت کو وہ خود بھی اپنی فطری صلاحیت سے محسوس بھی کرتے ہیں اور احساس ہوتے ہوئے انکار کرتے ہیں۔ ویعبدون من ۔۔۔۔ یستطیعون (16 : 73) “ اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں ”۔ یہ عجیب بات ہے کہ انسانی فطرت اس حد تک منحرف ہوجائے اور ایسی چیزوں کی بندگی کرے جن کے ہاتھ میں لوگوں کا رزق نہیں ہے اور نہ وہ ایک ہی دن کے لئے لوگوں کے رزق کا انتظام کرنے کے اہل ہیں۔ جبکہ یہ لوگ اللہ کو خالق ، رازق ، فریاد رس مانتے بھی ہیں اور اس کا انکار نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود اللہ کے مماثل اور اس جیسی شخصیات کے قائل ہیں۔

النحل 16:73

اب روئے سخن جانوروں ، درختوں ، پھلوں ، شہد کی مکھیوں ، شہد کے انعامات کے مقابلے میں نفس انسانی کے قریب تر ، انسانی شخصیت کی گہرائیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے موضوع کی طرف مڑ جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف مراحل ، انسان کی عمر ، اس کا رزق ، اس کا جوڑا ، بچے اور پوتے وغیرہ جو انسانی دلچسپی کے مخصوص ترین موضوعات ہیں۔ انسان ایسی باتوں سے بہت ہی متاثر ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کے میدان ہیں۔ آیت نمبر 70 تا 73 ان حساس موضوعات میں سے پہلا موضوع انسانی زندگی ، انسانی موت اور زندگی کے مراحل کے بارے میں ہے اور یہ تمام انسانوں کی دلچسپی کا محبوب موضوع ہے۔ انسانی زندگی پر غور کرنے سے انسان یقیناً بعض اوقات سخت سے سخت دل انسان بھی نرمی کا احساس کرلیتے ہیں اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ اس پر ہونے والے تمام انعامات تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور جب انسان کے دل میں ان انعامات کے زوال کی بات ڈال دی جائے تو فطرت انسانی کے اندر ودیعت کردہ خدا خوفی کا احساس ، تقویٰ کا وجدان اور اس زندگی کے عطا کرنے والے کی طرف میلان پیدا ہو سکتا ہے۔ خصوصاً بڑھاپے کی صورت حالات میں جب انسان ارذل العمر میں داخل ہوتا ہے وہ علوم کو بھولنا شروع کردیتا ہے اور دوبارہ ایک بچے کی طرح سادہ ، عاجز اور انجان ہوجاتا ہے۔ جب انسان ایسے حالات پر سنجیدگی سے غور کرے تو وہ اپنے موجودہ جوانی ، قوت ، علم اور عزت و وقار پر سوچے تو وہ کافی حد تک راہ راست پر آسکتا ہے۔ ان اللہ علیم قدیر (16 : 70) “ بیشک اللہ علیم و قدیر ہے ”۔ یہ نتیجہ یہاں اس لیے بتایا گیا کہ انسان کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ مکمل ازلی اور ابدی علم صرف اللہ کا ہے اور حقیقی ازلی اور ابدی قدرت بھی صرف اللہ کے پاس ہے۔ انسان کا علم بھی محدود ہے اور زوال پذیر بھی ہے۔ انسان کی قدرت بھی محدود ہے اور قابل زوال بھی ہے ، اس کے علم اور اس کی قدرت میں بھی جزئی علم وقدرت۔ ان آیات میں دوسرا ٹچ انسان کے وسائل رزق سے متعلق ہے۔ رزق کے میدان میں ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان تفاوت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ قرآن کریم اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ رزق کے معاملے میں لوگوں کے درمیان فرق ہے اور اللہ نے بعض کو بعض پر برتری دی ہے اور یہ برتری بھی سنت الٰہیہ کے تابع ہے۔ مراتب میں یہ تفاوت بھی محض اتفاقی نہیں ہے بلکہ اس میں بھی اللہ کی گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص بڑا عالم ، مفکر اور عقلمند ہوتا ہے لیکن وسائل رزق اور ان میں ترقی کی صلاحیتیں اس میں محدود ہوتی ہیں کیونکہ دوسرے شعبوں میں اللہ نے ایسے لوگوں کو قیمتی صلاحیتیں دی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا انسان بہت ہی سادہ ، باغی اور جاہلی نظر آئے گا لیکن حصول رزق اور اس کی ترقی کے میدان میں یہ شخص بہت ہی ماہر ہوگا۔ پھر لوگوں کے درمیان صلاحیتوں میں تفاوت اور تنوع پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات لوگ غور نہیں کرتے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ رزق کو صلاحیتوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، حالانکہ حصول رزق بھی صلاحیتوں میں سے ایک صلاحیت ہوتی ہے۔ نیز بعض اوقات رزق کی فراوانی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے جبکہ رزق کی تنگی میں بھی بعض اوقات کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور اس حکمت کی بنا پر اللہ بعض لوگوں کو آزماتا ہے۔ بہرحال رزق اور وسائل رزق میں تفاوت ایک ایسی حقیقت ہے جو موجود ہے اور اس کا مدار صلاحیتوں کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔ تاہم رزق کا اختلاف صلاحیتوں کے مطابق تب ہوگا جب معاشرے میں مواقع حصول رزق پر ظالمانہ کنٹرول اور مصنوعی تفاوت نہ ہو جس طرح آج کل کے فساد زدہ معاشروں میں ہے۔ اس آیت میں اشارہ اس معاشرے کی طرف ہے جو حضور ﷺ کے وقت دور جاہلیت میں موجود تھا۔ اس صورت حال کو ایک مثال کے طور پر پیش کر کے اللہ تعالیٰ مشرکانہ افکار کے نظام عقائد میں سے ایک عقیدے کی تصحیح فرماتا ہے۔ مکہ کے بت پرستانہ معاشرے میں یہ رواج تھا ، جس طرح ہم نے اس سے قبل اس کی تشریح کردی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دئیے ہوئے اموال میں سے بعض چیزوں کو بتوں کے لئے مخصوص کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھو ، تمہارے بھی غلام ہیں ، جس طرح تم اللہ کے غلام ہو ، (یاد رہے کہ اس وقت کے جاہلی معاشرے میں غلامی کا ادارہ موجود تھا ) ۔ تم ہرگز اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ یہ غلام تمہاری کمائی میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوجائیں تو اللہ کس طرح یہ بات پسند کرے گا کہ اس کی مخلوقات و مملوکات میں سے بعض چیزیں ان لوگوں کی ہوجائیں جنہیں ناحق اللہ کی خدائی کے امور میں شریک کردیا گیا ہے۔ افبنعمۃ اللہ یجحدون (16 : 71) “ کیا یہ اللہ کے انعامات و احسانات کا انکار کرتے ہیں ”۔ اللہ نے تو ان پر انعامات کی بارش کردی اور انہوں نے مقابلے میں دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا۔ حالانکہ ان کی جانب سے شکر کا واحد طریقہ یہ تھا کہ وہ اللہ وحدہ کو الٰہ سمجھتے۔ یہ تیسری احساس جگانے والی تنبیہ نفس انسانی ، اس کے جوڑے ، بیٹوں ، پوتوں اور دوسری اولاد کے بارے میں ہے۔ سب سے پہلے ذکر مخالف جنس پر مشتمل جوڑنے اور ان کے باہم زندہ تعلق کے بارے میں ہے۔ جعل لکم من انفسکم ازواجا (16 : 72) “ جس نے تمہارے لیے تمہاری ہی ہم جنس بیویاں بنائیں ”۔ وہ تمہارے ہی نفس کا حصہ ہیں ، وہ تمہارا ہی حصہ ہیں ، یہ تم سے کوئی کم تر درجے کی مخلوق نہیں ہے کہ تمہیں عورتوں کی پیدائش سے شرم آتی ہے۔ وجعل لکم من ازواجم بنین وحفدۃ (16 : 72) “ اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے ”۔ انسان فانی ہے لیکن وہ اپنی ذات کا تسلسل بذریعہ اولاد و احفاد چاہتا ہے۔ حیات انسانی کا یہ پہلو نہایت ہی حساس ہے اور اس تار کو معمولی طور پر چھوٹے ہی سے زمزمہ حیات گونجنے لگتا ہے۔ وسائل رزق کے مقابلے میں اولاد و احفاد کا یہاں ذکر کیا گیا بطور نعمت تا کہ انسانی شعور کے سامنے یہ سوال رکھا جائے۔ افبالباطل یومنون وبنعمت اللہ ھم یکفرون (16 : 72) “ تو اب بھی یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ”۔ یوں کہ وہ اللہ کے شریک قرار دیتے ہیں اور اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ یہ تمام انعامات اللہ کے عطا کردہ ہیں اور یہ نعمات اللہ کی الوہیت و حاکمیت پر گواہ بھی ہیں اور عملاً ان کی زندگی میں یہ نعمتیں موجود بھی ہیں اور ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کے سوا جو بھی ہے وہ باطل ہے۔ اور یہ الٰہ جن کو یہ پکارتے ہیں لا محالہ باطل ہیں ، محض اوہام ہیں ، ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ان کے بارے میں ایسی سوچ اور مرتبے کا کوئی حق و حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا اس حرکت کا ارتکاب کر کے وہ انعامات الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں ۔ جبکہ اس حقیقت کو وہ خود بھی اپنی فطری صلاحیت سے محسوس بھی کرتے ہیں اور احساس ہوتے ہوئے انکار کرتے ہیں۔ ویعبدون من ۔۔۔۔ یستطیعون (16 : 73) “ اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں ”۔ یہ عجیب بات ہے کہ انسانی فطرت اس حد تک منحرف ہوجائے اور ایسی چیزوں کی بندگی کرے جن کے ہاتھ میں لوگوں کا رزق نہیں ہے اور نہ وہ ایک ہی دن کے لئے لوگوں کے رزق کا انتظام کرنے کے اہل ہیں۔ جبکہ یہ لوگ اللہ کو خالق ، رازق ، فریاد رس مانتے بھی ہیں اور اس کا انکار نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود اللہ کے مماثل اور اس جیسی شخصیات کے قائل ہیں۔

النحل 16:74

آیت نمبر 74 اس کے بعد اللہ ان لوگوں کے سامنے دو مثالیں پیش کرتا ہے ، ایک شخص مالک رازق ہے اور دوسرا شخص مملوک غلام اور عاجز ہے۔ کسی چیز کا نہ مالک ہے اور نہ کسب کمائی پر قادر ہے۔ یہ مثال اس لیے دی جارہی ہے کہ جس عظیم حقیقت کو وہ بھول چکے ہیں وہ ان کے فہم کے قریب تر ہوجائے۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ کی کوئی مثال نہیں ، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ اس کی الوہیت و حاکمیت اور بندگی میں اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کو بھی شریک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مخلوق سب اس کی غلام اور بندہ ہے۔

النحل 16:75

آیت نمبر 74 اس کے بعد اللہ ان لوگوں کے سامنے دو مثالیں پیش کرتا ہے ، ایک شخص مالک رازق ہے اور دوسرا شخص مملوک غلام اور عاجز ہے۔ کسی چیز کا نہ مالک ہے اور نہ کسب کمائی پر قادر ہے۔ یہ مثال اس لیے دی جارہی ہے کہ جس عظیم حقیقت کو وہ بھول چکے ہیں وہ ان کے فہم کے قریب تر ہوجائے۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ کی کوئی مثال نہیں ، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ اس کی الوہیت و حاکمیت اور بندگی میں اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کو بھی شریک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مخلوق سب اس کی غلام اور بندہ ہے۔

النحل 16:76

آیت نمبر 75 تا 76 پہلی مثال تو ان کے اندر موجود صورت حالات سے لی گئی ہے۔ اس وقت عرب کے جاہلی معاشرے میں مملوکہ غلام موجود تھے ، یہ اس قدر بےبس مخلوق تھی کہ نہ وہ کسی چیز کے مالک ہوتے تھے اور نہ ان کو کوئی اختیار حاصل تھا۔ یہ لوگ بھی مالک مختار و متصرف اور عاجز غلام اور بےاختیار کے درمیان فرق مراتب سے اچھی طرح واقف تھے۔ لہٰذا ان سے کہا گیا کہ مالک حقیقی کو تم کس طرح اپنے غلاموں کے ساتھ برابر قرار دیتے ہو اور ان غلاموں کو مالک کا شریک قرار دیتے ہو ، کیونکہ تمام انسان اللہ کے غلام اور بندے ہیں۔ دوسری مثال ایسے شخص کی ہے جو گونگا ، بلید ۔۔۔ اور کم نوال ہے۔ وہ کسی کام کو نہیں جانتا ، مالک پر بوجھ ہے۔ جدھر بھی بھیجا جائے کوئی خیر کا کام اس سے نہ بن پائے۔ لیکن دوسرا شخص قوی الجسم ، سلیم العقل ہے ، خوب بات کرتا ہے اور بات بھی عدل و انصاف کی کرتا ہے ، اور کردار کے اعتبار سے راہ راست پر قائم ہے۔ ان دونوں اشخاص میں کوئی سلیم العقل شخص مساوات قائم نہیں کرسکتا۔ بس ایک بت اور ایک پتھر اور اللہ سبحانہ قادر وعلیم کے درمیان کس طرح شرکت و مساوات قائم ہو سکتی ہے ، جبکہ اللہ حکم دیتا ہے کہ معروف کا حکم دو اور منکر سے لوگوں کو روکو اور صراط مستقیم کی طرف آؤ۔ یہ سبق جو اللہ کے اس حکم سے شروع ہوا تھا کہ جدالیین کا نظریہ نہ رکھو ، ان دونوں مثالوں سے اس سبق کا خاتمہ ہوا جن سے ثابت ہوا کہ شرکیہ عقائد و نظریات تعجب انگیز ہیں۔

النحل 16:77

بعثت بعد الموت کا مسئلہ وہ مسئلہ ہے جو ہر دور میں نہایت درجہ مختلف فیہ رہا ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں نے ہر رسول کے ساتھ مکالمہ ، مجادلہ اور مناظرہ کیا ہے۔ اپنی اصل میں یہ وہ غیب ہے جو اللہ کے مخصوص ترین رازوں میں سے ہے۔ تشریح : وللہ غیب السموت والارض (61 : 77) ” زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے “۔ انسانوں کی حالت تو یہ ہے کہ وہ پردہ غیب کے پیچھے پوشیدہ اسرار و رموز کے پانے سے عاجزو قاصر ہیں۔ ان کا مادی علم جس قدر بھی آگے بڑھ جائے اور دنیا کی مادیات کے بارے میں ان پر جس قدر علوم کے خزانے بھی کھل جائیں۔ وہ زمین کے اندر پوشیدہ خزانوں کی ایک بڑی مقدار کو دریافت کیوں نہ کرلیں وہ ان اسرار کائنات کو پا نہیں سکتے۔ جبکہ اس کائنات میں علوم غیب کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے برگزیدہ انسان کو بھی یہ معلوم نہیں کہ کل اس کی ذات کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ، بلکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ نکلنے والا سانس پھر لوٹے گا یا نہیں۔ انسان کی خواہشات کی دنیا تو طویل و عریض ہے لیکن پردہ غیب کے پیچھے سے تقدیر اس پر خندہ زن ہوتی ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ بعض اوقات اگلے ہی لمحے میں اسے مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو اگلے لمحے آنے والے واقعات سے لاعلم رکھا ہے تاکہ وہ ہر وقت پر امید رہیں ، کام کرتے رہیں ، پیدا کرتے رہیں ، اور نشوونما دیتے رہیں اور جن کاموں کا انہوں نے آغاز کیا ہے انہیں پیچھے چھوڑ دیں تاکہ آنے والے ان کی تکمیل کریں۔ یہاں تک کہ تقدیر وہ چہرہ نمودار کردے جو پس پردہ ہے۔ قیامت بھی ان پوشیدہ اور مستور غیبوں سے ہے۔ اور اگر لوگوں کو قیام قیامت کی سات کا علم ہوجائے تو زندگی کی گاڑی یکدم رک جائے یا اس کے اندر عظیم خلل پڑجائے۔ زندگی کے شب و روز اس طرح نہ گزریں جس طرح کہ قانون قدرت نے ان کے لئے ضابطہ بندی کی ہوئی ہے بلکہ لوگ بیٹھ جاتے اور سال و ماہ اور دن اور گھنٹے گنتے کہ بس اب قیام قیامت کے اتنے دن رہ گئے۔ وما امر الساعۃ الا کلمح البصر اوھو اقرب۔ (61 : 77) ” اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیر نہ لے گا مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے بلکہ اس سے بھی کچھ کم۔ یہ بہت ہی قریب ہے لیکن اس کے وقت کا حساب انسان کے ماہ و سال کے حساب سے مختلف پیمانوں کے ساتھ ہے۔ اس کے انتظامات کے لئے اللہ کو کسی وقت کی ضرورت نہیں ہے۔ پلک جھپکنے کی دیر کافی ہے ، اس سے بھی کم وقت میں یہ تمہارے سامنے اپنے پورے مناظر کے ساتھ حاضر ہوگی۔ ان اللہ علی کل شیئی قدیر (61 : 77) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ انسانوں اور مخلوقات کی یہ ان گنت تعداد کو حاضر کرنا ، ان کا اٹھانا ، جمع کرنا ، حساب و کتاب لینا ، جزاء و سزا دینا اس قدرت کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے جس نے صرف کن کہنا ہے اور سب کچھ ہوجانا ہے۔ یہ معاملہ صرف ان لوگوں کے لئے خوفناک اور مشکل ہے جو انسانی پیمانوں سے معاملات کو سوچتے ہیں۔ انسانی نظروں سے دیکھتے ہیں اور انسانی اعداد میں حساب و کتاب کرتے ہیں ۔ اس لئے ان کی سوچ اور اندازے غلط ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم واقعہ کو انسانی زندگی کی بعض مثالوں سے انسان کے لئے قریب الفہم بناتے ہیں ، کیونکہ اس عظیم اور ہولناک واقعہ کے حقیقی تصور سے انسان کی قوت ادراک اور قوت تصور عاجز ہے۔ یہ مثالیں انسانی زندگی میں دہرائی جاتی ہیں۔

النحل 16:78

آیت : واللہ اخرجکم………تشکرون۔ (87) تشریح : یہ بھی ایک عالم غیب ہے جو انسان کے بہت ہی قریب ہے ، لیکن قریب ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فہم و ادراک سے بہت بعید بھی ہے۔ یہ کہ اس عالم غیب بطن مادر میں جنین کس طرح تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔ بعض اوقات لوگ جنین کے حالات ملاحظہ کرتے ہیں ، لیکن ان کا علم محدود ہے اور وہ یہ معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ کس طرح تکمیل اور نشوونما کے مراحل طے کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی نشوونما میں راز حیات اصل راز ہے ، جس کا عل آج تک پوشیدہ ہے۔ وہ علم جس کا انسان دعویٰ کرتا ہے اور جس کے ساتھ انسان آگے بڑھتا ہے اور جس کے ذریعے وہ قیامت کے قیام کو بھی معلوم کرنا چاہتا ہے ، وہ ایک حادث علم ہے کیونکہ پہلے انسان کچھ بھی نہ جانتا تھا۔ واللہ اخرجکم من بطون امھتکم لا تعلمون شئیا۔ (61 : 87) ” اللہ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے “۔ ہر عالم اور ہر محقق کی ولادت اور اس حال میں ماں کے پیٹ سے اس کا نکلنا کہ وہ کچھ نہیں جانتا ایک قریب المہد واقعہ ہے۔ اس کے بعد اس نے جو علم سیکھا وہ اللہ کا دین ہے اور یہ اللہ نے انسان کو اسی قدر دیا ہے جس قدر اس جہاں میں انسان کے لئے زندگی گزارنے کے لئے کافی ہو ، یعنی اس پوری کائنات میں جو انسان کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہے۔ وجعل لکم السمع والبصار ولافئدۃ (61 : 87) ” اس نے تمہیں کان دئیے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دئیے “۔ قرآن کریم انسان کے قوائے مدرکہ کے مجموعے پر قلب اور فواد کا اطلاق کرتا ہے۔ اس میں عقل بھی آتی ہے اور اس میں وہ وجدانی اور الہامی قوتیں بھی آتی ہیں جن کی حقیقت سے انسان خبردار نہیں ہے۔ اور انسان کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ قوتیں کس طرح کام کرتی ہیں اور تمہیں کان ، آنکھیں اور دل دئیے۔ لعلکم تشکرون (61 : 87) ” اس لئے کہ تم شکر گزار بنو “ جب تم غور کرو کہ یہ چیزیں انسان کو دے کر اللہ نے کس قدر کرم کیا ہے ، نیز ان کے علاوہ اللہ کے انعامات کو ان آلات مدرکہ سے پا کر تم اللہ کا شکر ادا کرو ، اور شکر کا پہلا مظہر یہ ہے کہ انسان اللہ وحدہ پر ایمان لائے۔ ایک دوسرا تعجب انگیز منظر جو رحمت الہیہ کے آثار میں سے ہے اور جو انسانوں کے پیش پا افتادہ ہے ، انسان اسے دیکھتا ہے اور تدبر نہیں کرتا۔

النحل 16:79

پرندے زمین و آسمان کی فضا میں مسخر ہیں۔ یہ اسی میں اڑتے پھرتے ہیں ، ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ منظر ہم بار بار دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے اس کے اندر جو عجوبہ ہے ، وہ غیر محسوس ہوگیا ہے۔ اس کی طرف انسان کا دل و دماغ تب توجہ کرتا ہے جب وہ جاگنے والا ہو ، اور اس کو شاعرانہ قوت مشاہدہ دی گئی ہو۔ ایک شاعرانہ ظرف نگاہی رکھنے والا شخص تو اس پر ایک نظم اور قصیدہ لکھ سکتا ہے اور وہ بےساختہ اس قدیم ، مالوف اور جدید شاعرانہ منظر کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے۔ یا یمسکھن الا اللہ (61 : 97) ” اللہ کے سوا کس نے انہیں تھام رکھا ہے “۔ یہ کس طرح ، پرندوں کی فطرت ہی ایسے اصولوں پر وضع کی گئی ، اس کے ارد گرد فضائی حالات اللہ نے ایسے بنائے کہ اس میں وہ اڑ سکیں اور زمین پر کسی بھی وقت نہ گریں۔ ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (61 : 97) ” اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ ایک قلب مومن اس کائنات کی عجائبات پر اسی طرح نظر دوڑاتا ہے جس طرح شاعر کسی چیز کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے اور اس کا شعور اور اس کا ضمیر ان مخلوقات کے حسن اور کمال کو محسوس کرتا ہے۔ پھر وہ اپنے احساس کی تعبیر نہایت ہی خوبصورتی سے کرتا ہے۔ ایمان کی شکل میں ، اللہ کی بندگی کی شکل میں اور اللہ کی ثنا اور تسبیح کی شکل میں۔ اہل ایمان میں سے اللہ نے جن لوگوں کو قادر الکلامی دی ہے ، وہ اللہ کی ان تخلیقات میں عجیب و غریب پہلو دیکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔ ایسے مومنین کی تخلیقات اس قدر گہری ہوتی ہیں کہ عام شاعر کی اس مقام تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔

النحل 16:80

پرندے زمین و آسمان کی فضا میں مسخر ہیں۔ یہ اسی میں اڑتے پھرتے ہیں ، ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ منظر ہم بار بار دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے اس کے اندر جو عجوبہ ہے ، وہ غیر محسوس ہوگیا ہے۔ اس کی طرف انسان کا دل و دماغ تب توجہ کرتا ہے جب وہ جاگنے والا ہو ، اور اس کو شاعرانہ قوت مشاہدہ دی گئی ہو۔ ایک شاعرانہ ظرف نگاہی رکھنے والا شخص تو اس پر ایک نظم اور قصیدہ لکھ سکتا ہے اور وہ بےساختہ اس قدیم ، مالوف اور جدید شاعرانہ منظر کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے۔ یا یمسکھن الا اللہ (61 : 97) ” اللہ کے سوا کس نے انہیں تھام رکھا ہے “۔ یہ کس طرح ، پرندوں کی فطرت ہی ایسے اصولوں پر وضع کی گئی ، اس کے ارد گرد فضائی حالات اللہ نے ایسے بنائے کہ اس میں وہ اڑ سکیں اور زمین پر کسی بھی وقت نہ گریں۔ ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (61 : 97) ” اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ ایک قلب مومن اس کائنات کی عجائبات پر اسی طرح نظر دوڑاتا ہے جس طرح شاعر کسی چیز کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے اور اس کا شعور اور اس کا ضمیر ان مخلوقات کے حسن اور کمال کو محسوس کرتا ہے۔ پھر وہ اپنے احساس کی تعبیر نہایت ہی خوبصورتی سے کرتا ہے۔ ایمان کی شکل میں ، اللہ کی بندگی کی شکل میں اور اللہ کی ثنا اور تسبیح کی شکل میں۔ اہل ایمان میں سے اللہ نے جن لوگوں کو قادر الکلامی دی ہے ، وہ اللہ کی ان تخلیقات میں عجیب و غریب پہلو دیکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔ ایسے مومنین کی تخلیقات اس قدر گہری ہوتی ہیں کہ عام شاعر کی اس مقام تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔

النحل 16:81

اب مضمون ، اللہ کی تخلیقات کے اسرار و رموز بیان کرتے ہوئے ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے۔ اللہ کی قدرت کے مزید نشانات اور اللہ کے انعامات کے کچھ مزید نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کے گھر اور ان کی مسرتیں ، گھروں کا ماحول سازوسامان اور پناہ گاہیں۔ گھر اور پرسکون گھر کس قدر عظیم نعمت ہے ، اس کی قدر وہ جانیں جو مہاجر ہیں ، جو گھروں سے نکال دئیے گئے ہیں اور مارے مارے پھر رہے ہیں۔ نہ ان کا گھر ہے اور نہ سکون ہے۔ یہاں گھروں اور سایوں کا ذکر غیب کے ذکر کے بعد آتا ہے۔ ربط یوں ہے کہ ایک سایہ بھی کسی چیز کو ڈھانپ لیتا ہے اور غیب بھی ان امور کو ڈھانپ لیتا ہے جو غیب میں ہوتے ہیں۔ دونوں میں ستر اور پوشیدگی ہے۔ گھروں کی تعبیر جائے سکون سے کرنے سے ایک حساس شخص ہی لطف اندوز ہوسکتا ہے ، غافل لوگ اس سے کما حقہ لطف نہیں لے سکتے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہ بتا دیا جائے کہ گھر کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے ۔ قرآن کریم نے گھر کی تعبیر یوں کی ہے۔ واللہ جعل لکم من بیوتک سکنا (61 : 08) ” اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا ہے “۔ اسلام چاہتا ہے کہ ایک گھر نفسیاتی اطمینان ، شعوری ٹھہرائو اور جذباتی سکون کی جگہ ہو۔ یہ خوشی کی جگہ ہو ، انسان وہاں آکر خوش ہوں۔ اور اس میں انسان کے لئے مادی اور روحانی سکون کا انتظام ہو۔ اس میں جو لوگ رہتے ہوں وہ ایک دوسرے کے لئے باعث اطمینان اور خوشی ہوں ، اور ان میں سے ہر ایک شخص دوسرے کے لئے سامان سکون ہو۔ اسلام کسی بھی گھر کو نزاع ، جھگڑے ، بےاتفاقی اور مخاصمت کی جگہ بنانا نہیں چاہتا کیونکہ وہ اس کے نزدیک ٹھہرنے ، سکون ، امن اور اطمینان و سلامتی کی جگہ ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام گھر کے احترام کی ضمانت دیتا ہے تاکہ گھر کے امن و سکون اور سلامتی کی ضمانت دی جاسکے۔ مثلاً کسی شخص کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل ہو۔ کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے گھر میں بس گھس جائے۔ بغیر حق کے اور بغیر اجازت کے۔ اسی طرح کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ گھروالوں کی اجازت کے بغیر کسی بھی وجہ سے کسی کی پرائیویسی میں دخل انداز ہو ، نہ کسی کو گھر کے خلاف تجسس کی اجازت ہے اور نہ کسی کی غیبت کی اجازت ہے کیونکہ ان امور سے کسی بھی گھر کا امن و سکون اور خوشی اور اطمینان ختم سکتا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے ایک گھر کو جائے سکون قرار دیا ہے۔ یہ منظر چونکہ گھر ، پناہ گاہ اور لباس سے متعلق تھا ، اس لئے یہاں جانوروں کے بھی اس پہلو کا ذکر کیا گیا ، جو ان مقاصد کے لئے مفید ہے یعنی مسکن و لباس کا پہلو۔ وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا تستخفونھا یوم ظعنکم و یوم اقامتکم و من اصوافھا واوبار ھا واشعار ھا اثاثا ومتاعا الی حین (61 : 08) ” اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لئے ایسے مکان پیدا کیے جنہیں تم سفر اور قیام ، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں “۔ یہاں بھی جانوروں کے مفادات میں سے ضروریات کا ذکر کیا اور ان چیزوں کا ذکر بھی کیا جو حسن اور شوق کا سامان کرتی ہیں۔ متاع اور ثاث السیت میں یہی فرق ہے۔ متاع سے مراد فرش ، قالین اور دوسرا سامان آرائش ہے لیکن اس میں وہ سب چیزیں شامل ہیں جو تمتع کی تعریف میں آتی ہیں اور فرحت بخشش ہوتی ہیں۔ سکون اطمینان کی فضا میں اب انداز تعبیر لطیف ہوجاتا ہے۔ سایوں ، پناہ گاہوں ، پہاڑوں اور گرمی سردی اور جنگی پوشاکوں کی بات چلتی ہے۔ واللہ جعل لکم مما خلق ظللا وجعل لکم من الجبال اکناناو جعل لکم سرابیل تقیکم الحر وسرابیل تقیکم باسکم (61 : 18) ” اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لئے سائے کا انتطام کیا ، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں ، اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں۔ اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس میں جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں “۔ چھائوں میں انسان کے لئے سکون ہے اور چھائوں کے تصور میں بھی فرحت ہے۔ پہاڑی پناہ گاہوں میں انسان اطمینان اور امن محسوس کرتا ہے۔ پھر وہ پوشاکیں جو سردی ، گرمی میں اور جنگ کی حالت میں کام آتی ہیں انسان کی دلچسپی کا سامان ہیں اور انسان کی حفاظت کے لئے ضروری ہیں۔ پھر خوشی اور مسرت کا بھی ان میں سامان ہے اس لئے اس پر یہ نتیجہ سامنے آتا ہے۔ کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلم تسلمون (61 : 18) ” اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرمانبردار بن جائو “۔ اسلام کا مفہوم ہی سکون ، سپردگی اور سلامتی ہے۔ اس طرح اس منظر کی تمام چیزوں کے درمیان معنوی ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو قرآن کریم کے اسلوب کلام کا خاص انداز ہے۔ اب اگر وہ اسلام کو قبول کرتے ہیں تو بہتر ، اور اگر وہ منہ موڑتے ہیں اور بھاگتے ہیں تو رسول کا فریضہ تو صرف ابلاغ ہے۔ اگر یہ انکار پر تل گئے ہیں تو انکار کردیں لیکن جن نعمتوں کا ذکر ہوا ان کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ مان جائیں۔

النحل 16:82

اب وہ بات سامنے لائی جاتی ہے جس کا آغاز کلام میں ذکر ہوا تھا ، وہ یہ کہ جب قیامت آجائے گی تو کافر کس حالت میں دو چار ہوں گے۔

النحل 16:83

اب وہ بات سامنے لائی جاتی ہے جس کا آغاز کلام میں ذکر ہوا تھا ، وہ یہ کہ جب قیامت آجائے گی تو کافر کس حالت میں دو چار ہوں گے۔

النحل 16:84

تشریح : یہ قیامت کا منظر ہے۔ انبیاء کھڑے ہیں اور وہ تمام واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان جو کشمکش ہوئی وہ اسکرین پر چل رہی ہوگی۔ کفار دنگ کھڑے ہوں گے۔ اب ان کو حجت بازی کی اجازت نہ ہوگی۔ سفارشیں لانے کے اجازت نہ ہوگی۔ ان سے یہ مطالبہ بھی نہ کیا جائے گا کہ یہ یہ کام کرکے رب کو راضی کرو کیونکہ اب تو توبہ کا دروازہ بند اور عمل کا میدان ختم ہے۔ اب تو مکافات عمل کا میدان ہے۔

النحل 16:85

واذا را الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنھم ولا ھم ینظرون (61 : 58) ” ظالم لوگ جب ایک دفعہ عذاب دیکھ لیں گے تو اس کے بعد نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ انہیں ایک لمحہ بھر مہلت دی جائے گی “۔ ابمیدان حشر میں وہ لوگ نمودار ہوں گے جن کو یہ کفار و مشرکین بزعم خود خدا کا شریک سمجھتے تھے اور اللہ کے سوا ان کو خدا سمجھ کر ان کی بندگی کرتے تھے۔ تو اب مہر سکوت ٹوٹ جائے گی اور مشرکین دوڑ کر پکاریں گے۔

النحل 16:86

ربنا ھولاء شرکادنا الذین کنا ندعوا من دونک (61 : 68) ” اے پروردگار یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے “۔ اب تو وہ اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “۔ آج وہ نہیں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے شرکاء ہیں بلکہ کہتے ہیں ” یہ ہمارے شرکاء ہیں “۔ لیکن وہ تو خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ اور اس عظیم تمہت اور الزام کو سن کو فوراً بول اٹھیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ، تم بڑے جھوٹے ہو۔ فالقوا الیھم القول انکم الکذبون (61 : 68) ” وہ دور ہی سے ان کی طرف جواب پھینکیں گے ، بیشک تم تو بہت بڑے جھوٹے ہو “۔ اور یہ شرکاء اور صلحاء اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے نہایت ہی بندگی کی حالت میں۔

النحل 16:87

والقوا الی اللہ مومئذ السلم (61 : 78) ” اور یہ سب اللہ کے سامنے جھک جائیں گے “۔ اور مشرکین کے ہاتھ ان کی افتراء پردازیوں میں سے کچھ بھی نہ آئے گا۔ وہ کسی دلیل پر اعتماد نہ کرسکیں گے اور ان کی تمام صحت بازیاں کافور ہوجائیں گی۔ وضل عنھم ما کانو یفترون (61 : 68) ” اور ان کی وہ سب افتراء پردازیاں ختم ہوجائیں گی “۔ اب فیصلہ یہ صادر ہوتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ لی اور دوسروں کے لئے بھی باعث گمراہی بنے ، ان کا عذاب دوگنا ہوگا کیونکہ انہوں نے دوسروں کو بھی راہ راست سے روکا۔

النحل 16:88

الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذابا فوقا العذاب بما کانوا یفسدون (61 : 88) ” جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا ، انہیں ہم عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس فساد کے بدلے جو دنیا میں وہ برپا کرتے تھے۔ بیشک کفر بذات خود ایک فساد ہے ، دوسرے کو کافر بنانا بہت بڑا فساد ہے۔ انہوں نے اپنے کفر کے جرم کا بھی ارتکاب کیا اور دوسروں کو بھی ہدایت سے روکا۔ اس لئے ان کا عذاب دگنا کردیا گیا۔ یہی ان کے جرم کا پورا بدلہ ہے۔ یہ معامہ تمام اقوام کا ہوگا لیکن رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی قوم کا معاملہ یوں ہوگا۔

النحل 16:89

تشریح : مشرکین کا منظر نظروں کے سامنے ہے۔ بہت ہی سخت حالات ہیں۔ شرکاء ان لوگوں کی تکذیب کر رہے ہیں جو انہیں شریک سمجھ رہتے تھے اور وہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر رہے اور اپنے دنیاوی متبعین کے الزامات سے براءت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے ہی حالات میں رسول اللہ ﷺ اور مشرکین مکہ اور منکرین قریش کے کیس کی بھی ایک جھلکی نظروں کے سامنے آتی ہے۔ صرف ایک جھلکی : وجتنابک شھیدا علی ھولاء (61 : 98) ” اور ان لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لئے ہم تمہیں لائیں گے “۔ اس کے بعد متصلاً یہ بات آتی ہے کہ اے رسول تم پر جو کتاب اتاری گئی ہے وہ ایک جامع کتاب ہے۔ ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیئی وھدی ورحمہ و بشری للمسلمین (61 : 98) ” اور ہدایت و رحمت اور خوشخبری ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے سرتسلیم خم کردیا ہے “۔ لہٰذا جو شخص ہدایت و رحمت چاہتا ہے تو وہ قیام قیامت سے پہلے ہی اسلام قبول کرے ، کیونکہ اس دن پھر کافروں کو دوبارہ عمل کی نہ اجازت ہوگی اور نہ ان کو معذرت پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔ یوں قرآن مجید منظر کشی کے انداز میں اپنے مطالب بیان کرتا ہے خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ۔ درس نمبر 321 ایک نظر میں سابقہ درس میں اس آیت پر ختم ہوا تھا۔ ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شئی وھدی ورحمتہ و بشری للمسلمین (61 : 98) ” اور اے نبی ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کا بیان ہے اور ہدایت ، رحمت اور خوشخبری ہے ، مسلمانوں کے لئے “۔ چناچہ اس درس میں اس کی بعض تعلیمات بیان کی گئی ہیں یعنی وہ کیا تعلیمات ہیں جو ہدایت رحمت ، اور بشارت ہیں۔ یہ کہ اس میں عدل ، احسان ، رشتہ داروں پر خرچ کا حکم ، فحاشی کی ممانعت ، گناہ اور حد سے تجاوز کی ممانعت ہے اور نیز اس میں وعدے کے وفا کرنے کا حکم ہے اور قسموں کے توڑنے کی ممانعت ہے۔ یہ وہ اہم اور بنیادی تعلیمات ہیں کہ اس کتاب میں ان پر زور دیا گیا ہے۔ اس سبق میں نقض عہد کو جرم قرار دیا گیا ہے ، اسی طرح قسمیں کھا کر لوگوں کو گمراہ کرنا اور ان کو دھوکہ دینے کو بھی بہت بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کے لئے عذاب عظیم کی شدید وعید ہے۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ صبر کرتے ہیں ان کے لئے خوشخبری ہے کہ ان کو ان کے اچھے اعمال کا صلہ ملے گا۔ اس کے بعد کتاب عظیم کے آداب تلاوت بیان ہوئے ہیں مثلاً یہ کہ تلاوت سے قبل شیطان رحیم سے اللہ کی پناہ مانگیں تاکہ یہ مردود مجلس تلاوت قرآن سے بھاگ جائے۔ نیز کتاب عظیم کے بارے میں مشرکین کی بعض خود ساختہ باتوں کا بھی ذکر ہے۔ مثلاً بعض مشرکین یہ کہتے تھے کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ خود باتیں بنا کر ناحق خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ بعض یہ کہتے تھے کہ ایک عجمی غلام ہے جو حضور ﷺ کو یہ باتیں بتاتا ہے۔ اس سبق کے آخر میں ان لوگوں کی سزا کا ذکر ہے جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرتے ہیں۔ نیز ایسے لوگوں کا بھی ذکر ہے جنہیں کفر پر مجبور کردیا جائے لیکن ان کا قلب ایمان سے مطمئن ہو۔ نیز ان برگزیدہ لوگوں کا ذکر ہے جن پر ایمان کی وجہ سے تشدد ہوا۔ اور انہوں نے ہجرت کی ، جہاد کیا اور صبر کیا۔ یہ سب باتیں اللہ کی طرف سے واضح ہدایات ہیں ، بہترین راہنمائی ہیں ۔ اللہ کی رحمت ہیں اور اہل ایمان کے لئے خوشخبری ہیں۔

النحل 16:90

قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد یہ ہے اس نظریہ کے مطابق ایک امت کو میدان میں لایا جائے ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جو ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ ایک نیا جہاں پیدا کیا جائے اور ایک نیا نظام تشکیل دیا جائے۔ ایک ایسی عالمی دعوت اور تحریک برپا کی جائے جو کسی گروہ ، قبیلے اور کسی نسل کی طرفدار نہ ہو۔ اس دعوت میں اجتماعی رابطے اور تعلق کی بنیاد کسی عصبیت اور قومیت پر نہ ہو۔ چناچہ اس کتاب کی تعلیمات ان اصولوں پر مبنی ہیں جن کے اوپر سوسائٹی اور امت کی تشکیل ممکن ہے۔ ان تعلیمات اور اصولوں پر افراد اقوام اور امم کو پورا اطمینان حاصل ہو ، اور باہم معاملات و تعلقات ، وعدوں اور معاہدوں پر پورا بھروسہ ہو۔ اس کتاب کی تعلیمات میں سے پہلی تعلیم عدل سے متعلق ہے۔ ایسا عادالانہ نظام جس میں ایک فرد ، ایک جماعت ، ایک قوم اور اقوام سب کے حقوق محفوظ ہوں۔ یہ عدل کسی کی خواہش سے متاثر نہ ہو۔ محبت اور بغض سے متاثر نہ ہو۔ رشتہ داری اور اقربا پروری کا اس میں نام و نشان نہ ہو۔ امیر و غریب کے لئے یکساں ہو ، قوی اور ضعیب کے حقوق اس میں برابر ہوں۔ یہ عدل اپنی راہ میں سیدھا چلے اور اس میں سب کے لئے ایک ہی معیار اور ایک ہی پیمانہ ہو۔ اس عدل کے ساتھ ساتھ اس کتاب کی تعلیمات ایک دوسرے اہم اصول ، احسان پر مبنی ہیں۔ جہاں تک عدل کا تعلق ہے ، اس کی تلوار نہایت ہی تیز ، مضبوط اور بےلچک ہوتی ہے اور سیدھا کاٹتی چلی جاتی ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات نے عدل کے ساتھ ساتھ دلوں کو جیتنے کے لئے احسان کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ یہ لازم نہیں کیا کہ بےلچک عدل کے مطابق اپنے حقوق بہرحال لئے جائیں ، اگر کوئی اپنے حقوق سے دست کش ہونا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے۔ اس سے دلوں کی دشمنی دور ہوجاتی ہے اس سے زخم مند مل ہوجاتے ہیں۔ نیز فضائل اخلاق اور کریمانہ طرز عمل کا اظہار ہوتا ہے۔ احسان کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے۔ ہر چھا کام احسان ہے۔ احسان کے حکم میں ہر عمل اور ہر معاملہ آتا ہے۔ انسان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق ، انسان کا اپنے خاندان کے ساتھ تعلق ، انسان کا جماعت کے ساتھ تعلق اور انسان کا پوری انسانیت کے ساتھ تعلق۔ بعض مفسرین نے محض اس لئے کہ یہ آیت مکی ہے ، عدل کو عبادات واجبیہ اور احسان کو عبادات نفلی پر محمول کیا ہے کیونکہ مکہ میں اسلامی قوانین نازل نہ ہوئے تھے۔ لیکن عدل و احسان میں قانون کے علاوہ اخلاقی معاملات اور انفرادی طرز عمل بھی آتے ہیں اس لئے ان کو عبادات کے ساتھ مخصوص کرنا درست نہیں ہے۔ احسان کی ایک قسم رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور ان پر خرچ ہے اور اس کا خصوصی حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اسلام میں اس کی بہت بڑی اہمیت اور عظمت ہے اور اس کی بہت بڑی تاکید ہے۔ اس میں پائے جانے والی بنیادی سوچ خاندان کی عصبیت نہیں ہے بلکہ اس سے غرض وغایت خاندانی نظام اور خاندانی نظام کے اوپر تعمیر کردہ اسلامی نظام تکافل اجتماعی ہے۔ اسلام نے اپنے اجتماعی نظام کا پہلا یونٹ خاندان کو قرار دیا ہے اور اس کے بعد وہ اسے بتدریج سوسائٹی تک عام کرتا ہے کیونکہ اجتماعی تکافل (Security) کے بارے میں اسلام کی اپنی سوچ ہے۔ وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی (61 : 09) ” اور بدی اور بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے “۔ فحشاء ہر اس بات کو کہتے ہیں جو حد سے تجاوز کرے۔ یہ زیادہ تر اس تجاوز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی کی ذاتی عزت کے خلاف ہو کیونکہ جنسی بےراہ روی بھی ایک ایسا فعل ہے جو اپنی حدود سے آگے بڑھ کر کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی زیادتی اور حدود سے تجاوز پایا جاتا ہے۔ بالعموم یہ لفظ جنسی بےراہ روی کے ساتھ مخصوص ہوگیا ہے۔ المنکر وہ فعل ہے جس کا فطرت سلیمہ انکار کرے اور شریعت بھی اسے اسی وجہ سے منکر سمجھتی ہے کیونکہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام ایک فطری نظام ہے۔ شرعیت اور قانون تو اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ اور فطرت انسانی بسا اوقات بگڑ جاتی ہے۔ فطرت کے بگاڑ کے وقت پھر شریعت معیار بن جاتی ہے۔ البغی سے مراد ظلم اور لوگوں کے حقوق پر دست درازی ہے۔ دنیا میں کوئی معاشرہ بھی فحاشی ، منکرات اور ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا۔ ایسا معاشرہ کبھی بھی قائم نہیں رہ سکتا جس میں فحاشی وسیع پیمانے پر رائج ہو ، نیز ایسی سوسائٹی بھی کبھی پنپ نہیں سکتی ، جس میں منکرات نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہو۔ ایسا کوئی ملکی نظام قائم نہیں رہ سکتا جس کی اساس ظلم پر ہو۔ کوئی بھی معاشرہ ایسے اجتماعی نظام کو بہت ہی کم عرصہ تک برداشت کرتا ہے ، جلد ہی اس نظام کے خلاف لوگ احتجاج شروع کردیتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کوئی ظالمانہ اور جابرانہ معاشرہ پر قوت اور پر شوکت ہو۔ اگرچہ ایسے اجتماعی نظام کے بااختیار لوگ ایسے نظام کی حمایت اور بچائو کے لئے لا انتہاء وسائل استعمال کریں۔ انسانی تاریخ کا اگر تفصیلی مطالعہ کیا جائے تو یہ تاریخ در حقیقت فحاشی ، منکرات اور ظلم کے خلاف مسلسل احتجاج سے عبارت ہے لہٰذا اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ تاریخ میں کچھ عرصے تک کوئی اجتماعی نظام فحاشی ، منکرات اور ظلم پر قائم رہا ہے۔ ایسے نظاموں کے خلاف چونکہ ہمیشہ احتجاج اور رد عمل ہوتا رہا ہے اس لئے تاریخ سے یہی سبق ملتا ہے۔ ایسے نظام میں اسلامی سوسائٹی کے جسم کے لئے فارن باڈی رہے ہیں اور انسانی سوسائٹی نے ہمیشہ ایسے نظاموں کو جھاڑ کر پھینک دیا ہے جس طرح ہر جسم اپنے اندر فارن باڈی کے آنے کے خلاف رد عمل کرتا ہے۔ چناچہ اللہ کی طرف سے عدل و احسان کا حکم دینا اور فحاشی ، منکرات اور ظلم سے منع کرنا فطرت سلیمہ کے عین مطابق ہے۔ اسلام اس فطری رد عمل کو اسلامی جدوجہد قرار دے کر اسے قوت عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حکم پر سبق آموز تبصرہ یوں آتا ہے۔ یعظکم لعلکم تذکرن (61 : 09) ” وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو “۔ یہ نصیحت اس لئے ہے کہ تم اپنی اصل فطرت کی طرف رجوع کرو اور اسے یاد کرو “۔

النحل 16:91

واوفوا بعھد اللہ اذا عھدتم ولا تنقضوا الایمان بعد تو کیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا ان اللہ یعلم یا تفعلون (61 : 19) ” اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو ، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو۔ جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہیں۔ اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے “۔ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد میں مسلمانوں کی طرف سے نبی ﷺ کے ساتھ کیا ہوا عہد بھی شامل ہے ، اور وہ عہد بھی شامل ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ نیز کسی بھی انسانی سوسائٹی میں تعلقات کا قیام صرف اسی وجہ سے ہے کہ لوگ عہد کا احترام کریں۔ اس کے بغیر تو کوئی معاشرہ قائم ہی نہیں رہ سکتا۔ نہ انسانیت قائم رہ سکتی ہے۔ یہ آیت لوگوں کو اس بات پر ملامت کرتی ہے کہ وہ عہد کو پختہ باندھنے کے بعد اسے توڑیں ، حالانکہ انہوں نے اس عہد کا گواہ اور ضامن صرف اللہ کو ٹھہرایا ہے اور اللہ کے نام سے یہ عہد ہوا ، ذرا ہلکی سی تنبیہ بھی۔ ان اللہ یعلم ما تفعلون (61 : 19) ” اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے “۔ اسلام نے وفائے عہد میں بہت ہی سختی کی ہے۔ اس میں کسی بھی وقت چشم پوشی کی اجازت نہیں دی۔ اس لئے کہ وفائے عہد وہ بنیاد ہے جس پر پورا اجتماعی نظام قائم ہوتا ہے ، اس کے سوا اجتماعی نظام منہدم ہوجاتا ہے۔ اسلامی نصوص قرآن وسنت نے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا کہ وفائے عہد کا حکم دے دیا جائے اور نقص عہد کے خلاف محض و عید کردی جائے بلکہ اس کی بار بار تاکید کی ہے ، اور نقص عہد کی قباحتیں بیان کی ہیں۔ ان تمام اسباب وجوہات کو بھی دور کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی وقت نقص عہد کا باعث بنیں۔

النحل 16:92

قرآن کہتا ہے : ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ انما یبلوکم اللہ بہ ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (61 : 19) ” تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکرو فریب کا ہتھیار بناتے ہوتا کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔ حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے ، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا “۔ جو شخص عہد توڑتا ہے وہ اس بیوقوف عورت کی طرح ہے جو کمزور ہے اور ہر وقت رائے اور عزم بدل دینے والی ہے۔ بار بار سوت کا تتی ہے اور پھر اسے توڑ دیتی ہے اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھر اسے سوت بنا دیتی ہے۔ اس تمثیل کا ہر جز تعجب اور حقارت کا اظہار کرتا ہے۔ اور اس عورت کے فعل کو فعل شنیع اور قابل نفرت بناتا ہے۔ یہی اصل مقصود ہے اس تشبیہ سے۔ کوئی بھی شریف النفس انسان اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ اس صعیف الارادہ ، احمق عورت کی طرح ہوجائے جو ایسا کرتی ہو جس میں اس کے لئے کوئی فائدہ نہ ہو۔ ان میں سے بعض لوگ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے کیے ہوئے عہد کو اس لئے توڑنے کی سوچ رہے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی جمعیت قلیل ہے اور وہ کمزور ہے جبکہ ان کے مقابلہ میں قریش کی جمعیت کثیر ہے۔ چناچہ ایسے لوگوں کو متنبہ کیا گیا کہ یہ ان کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ہے کہ وہ ایسے قسمیہ معاہدوں کو دھوکہ اور بےایمانی کا ذریعہ بنائیں اور کسی بھی وقت گردن سے اتار پھینکیں۔ تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (61 : 29) ” تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار نہ بنائو اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر ہے “۔ یعنی اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے تعداد میں زیادہ ہے اور تمہاری مصلحت زیادہ تعداد والی امت سے وابستہ ہے۔ اس آیت کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کوئی محض اس لئے عہد کو توڑے کہ کسی ملک کے مصالح اس کا تقاضا کرتا ہوں۔ مثلاً پہلے ایک حکومت دوسری حکومت کے ساتھ یا دوسری حکومتوں کے مجموعے کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے اور پھر اس کو محض اس لئے توڑ دے کسی دوسری طرف اقوام کا بڑا جتھہ ہے اور اس حکومت کے مصالح اس دوسرے مجموعے کے ساتھ وابستہ ہوں۔ اسلام اس قسم کی مصلحتوں کو خاطر میں ہیں لاتا۔ اسلا چاہتا ہے کہ ہر حالت میں عہد کو وفا کیا جائے اور کسی بھی عہد کو دھوکے اور مفاد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ یہ شرط اس کے علاوہ ہے کہ کوئی عہد صرف نیکی اور خدا خوفی کی اساس پر ہو ، کسی غیر مستحسن اور خدا کی نافرمانی کے مقاصد کے لئے کوئی عہد سرے سے کیا ہی نہ جائے۔ اثم ، فسوق اور نافرمانی کی بنیاد پر کوئی عہد نہ کیا جائے۔ یہ بات تو ناقابل تصور ہے کہ اقوام و ملل کو لوٹنے کے لئے کوئی عہد کیا جائے۔ یہ ہے وہ اصول جس پر اسلامی جماعت کی تشکیل ہوئی اور اسلامی مملکت کی یہی پالیسی رہی۔ اس کے نتیجے میں پوری دنیا اطمینان ، اعتماد اور پاکیزگی کی دولت سے مالا مال ہوگئی۔ اسی پر مسلمان ، افراد اور امم سے معاملہ کرتے رہے جب تک کہ مسلمان جہاں کے قائد تھے۔ قرآن کریم کی یہ آیت مسلمانوں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں کو وجہ جواز بنا کر معاہدات کو پس پشت نہ ڈالیں اور یہ کہ ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ کوئی شخص یا حکو مت معاہدے کو توڑنے کے لئے مجبور ہوجائے۔ ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (61 : 29) ” اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے زیادہ ہے “۔ یہ ایک آزمائش ہے اور اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ اس طرح اللہ ان کی قوت ارادی ، ان کے جذبہ وفائے عہد اور ان کی عزت نفس کی اس ذات کے احترام کرنے میں آزمائش کرتا ہے جس کے نام پر انہوں نے یہ عہد کیا تھا۔ یعنی اس پر انہوں نے اللہ کو شاہد و گواہ بنالیا تھا۔ انمایبلوکم اللہ بہ (61 : 29) ” بیشک اللہ تعالیٰ اس معاملے میں تمہیں آزماتا ہے “۔ افراد اور اقوام کے درمیان جو اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ، ان کے پورے فیصلے یہاں ہی نہیں ہوجاتے ، اللہ فرماتے ہیں کہ آخری فیصلہ اللہ نے قیامت کے دن کرنا ہے۔ ولیبنن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (61 : 29) ” اور اللہ ضرور قیامت کے دن تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا “۔ ان الفاظ کو بطور تمہید یہاں لایا گیا ہے ، یہ اس مر کے لئے تمہید ہیں کہ رائے ، نظریہ اور عقیدے کے خلاف لوگوں کے ساتھ بھی اگر عہد ہو تو اسے پورا کیا جائے یون کہ ولو شاء اللہ لجعلم امۃ واحدہ ولکن یضل من یشاء ویھدی من یشاء ولتسئلن عما کنتم تعملون (61 : 29) ” اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو وہ سب کو ایک ہی امت بنا دیتا ، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھاتا ہے اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہوگی “۔ اگر اللہ چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی استعداد پر پیدا کرتا ، لیکن اللہ نے ان کو بالکل مختلف صلاحتیں دیں اور ان کو ایک ہی طباعت کے نسخے نہیں بنایا۔ مختلف طرز پر بنایا ہے۔ پھر ان کے لئے اس نے ہدایت پانے اور ضلالت پانے کے ضابطے بنا دئیے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا مسئول بنایا۔ لہٰذا اختلاف عقائد و مذاہب اس بات کا جواز نہیں ہے کہ تم اس سے نقص عہد کرو۔ اختلاف مذاہب کے اور اسباب ہیں جن کا تعلق اللہ کی مشیت سے ہے۔ رہا عہد تو اس کا دفا کرنا لازم ہے۔ اگرچہ عقائد کا اختلاف ہو۔ یہ ہے اسلام کا اولین اصول بین المل کی معاملات اور مذہبی رواداری۔ اس اصول میں اسلام اپنے عروج پر ہے اور قرآن کریم کے زیر ہدایت اس اصول کو اس دنیا میں صرف مسلمانوں نے عملی شکل دی۔ مزید تفصیلات دی جاتی ہیں جن میں وفائے عہد کی تاکید کی گئی ہے اور اس بات کی مزید ممانعت کی گئی ہے کہ تم معاہدے کو دھوکہ دہی اور فساد پرستی کے لئے استعمال کرو۔ یہ دنیاوی مفاد پرستی اور دنیائے دنی کے وقتی مفادات تمہیں اطمینان کی وہ دولت نہیں دے سکتے۔ اس کے نتیجے میں انسان کی نفسیاتی اور اجتماعی زندگی کے تمام اصول ٹوٹ جائیں گے اور اجتماعی معاملات اور تعلقات میں ایک بھونچال پیدا ہوجائے گا۔ یہ تو تھا دنیا کا عذاب۔ رہی آخرت تو آخرت میں ایسے لوگوں کو سخت عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔ یہاں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر تم نے وفائے عہد کیا اور اس کے نتیجے میں تمہیں کوئی دنیاوی نقصان ہوگیا تو اس کی جزاء بھی اللہ دے گا۔ دنیا کے مفادات تو فنا ہونے والے ہیں اور آخرت کے مفادات باقی رہنے والے ہیں۔ اللہ کے خزانے وسیع ہیں اور اس کے پاس نہ ختم ہونے والی دولت ہے۔

النحل 16:93

قرآن کہتا ہے : ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ انما یبلوکم اللہ بہ ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (61 : 19) ” تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکرو فریب کا ہتھیار بناتے ہوتا کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔ حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے ، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا “۔ جو شخص عہد توڑتا ہے وہ اس بیوقوف عورت کی طرح ہے جو کمزور ہے اور ہر وقت رائے اور عزم بدل دینے والی ہے۔ بار بار سوت کا تتی ہے اور پھر اسے توڑ دیتی ہے اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھر اسے سوت بنا دیتی ہے۔ اس تمثیل کا ہر جز تعجب اور حقارت کا اظہار کرتا ہے۔ اور اس عورت کے فعل کو فعل شنیع اور قابل نفرت بناتا ہے۔ یہی اصل مقصود ہے اس تشبیہ سے۔ کوئی بھی شریف النفس انسان اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ اس صعیف الارادہ ، احمق عورت کی طرح ہوجائے جو ایسا کرتی ہو جس میں اس کے لئے کوئی فائدہ نہ ہو۔ ان میں سے بعض لوگ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے کیے ہوئے عہد کو اس لئے توڑنے کی سوچ رہے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی جمعیت قلیل ہے اور وہ کمزور ہے جبکہ ان کے مقابلہ میں قریش کی جمعیت کثیر ہے۔ چناچہ ایسے لوگوں کو متنبہ کیا گیا کہ یہ ان کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ہے کہ وہ ایسے قسمیہ معاہدوں کو دھوکہ اور بےایمانی کا ذریعہ بنائیں اور کسی بھی وقت گردن سے اتار پھینکیں۔ تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (61 : 29) ” تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار نہ بنائو اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر ہے “۔ یعنی اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے تعداد میں زیادہ ہے اور تمہاری مصلحت زیادہ تعداد والی امت سے وابستہ ہے۔ اس آیت کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کوئی محض اس لئے عہد کو توڑے کہ کسی ملک کے مصالح اس کا تقاضا کرتا ہوں۔ مثلاً پہلے ایک حکومت دوسری حکومت کے ساتھ یا دوسری حکومتوں کے مجموعے کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے اور پھر اس کو محض اس لئے توڑ دے کسی دوسری طرف اقوام کا بڑا جتھہ ہے اور اس حکومت کے مصالح اس دوسرے مجموعے کے ساتھ وابستہ ہوں۔ اسلام اس قسم کی مصلحتوں کو خاطر میں ہیں لاتا۔ اسلا چاہتا ہے کہ ہر حالت میں عہد کو وفا کیا جائے اور کسی بھی عہد کو دھوکے اور مفاد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ یہ شرط اس کے علاوہ ہے کہ کوئی عہد صرف نیکی اور خدا خوفی کی اساس پر ہو ، کسی غیر مستحسن اور خدا کی نافرمانی کے مقاصد کے لئے کوئی عہد سرے سے کیا ہی نہ جائے۔ اثم ، فسوق اور نافرمانی کی بنیاد پر کوئی عہد نہ کیا جائے۔ یہ بات تو ناقابل تصور ہے کہ اقوام و ملل کو لوٹنے کے لئے کوئی عہد کیا جائے۔ یہ ہے وہ اصول جس پر اسلامی جماعت کی تشکیل ہوئی اور اسلامی مملکت کی یہی پالیسی رہی۔ اس کے نتیجے میں پوری دنیا اطمینان ، اعتماد اور پاکیزگی کی دولت سے مالا مال ہوگئی۔ اسی پر مسلمان ، افراد اور امم سے معاملہ کرتے رہے جب تک کہ مسلمان جہاں کے قائد تھے۔ قرآن کریم کی یہ آیت مسلمانوں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں کو وجہ جواز بنا کر معاہدات کو پس پشت نہ ڈالیں اور یہ کہ ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ کوئی شخص یا حکو مت معاہدے کو توڑنے کے لئے مجبور ہوجائے۔ ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (61 : 29) ” اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے زیادہ ہے “۔ یہ ایک آزمائش ہے اور اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ اس طرح اللہ ان کی قوت ارادی ، ان کے جذبہ وفائے عہد اور ان کی عزت نفس کی اس ذات کے احترام کرنے میں آزمائش کرتا ہے جس کے نام پر انہوں نے یہ عہد کیا تھا۔ یعنی اس پر انہوں نے اللہ کو شاہد و گواہ بنالیا تھا۔ انمایبلوکم اللہ بہ (61 : 29) ” بیشک اللہ تعالیٰ اس معاملے میں تمہیں آزماتا ہے “۔ افراد اور اقوام کے درمیان جو اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ، ان کے پورے فیصلے یہاں ہی نہیں ہوجاتے ، اللہ فرماتے ہیں کہ آخری فیصلہ اللہ نے قیامت کے دن کرنا ہے۔ ولیبنن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (61 : 29) ” اور اللہ ضرور قیامت کے دن تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا “۔ ان الفاظ کو بطور تمہید یہاں لایا گیا ہے ، یہ اس مر کے لئے تمہید ہیں کہ رائے ، نظریہ اور عقیدے کے خلاف لوگوں کے ساتھ بھی اگر عہد ہو تو اسے پورا کیا جائے یون کہ ولو شاء اللہ لجعلم امۃ واحدہ ولکن یضل من یشاء ویھدی من یشاء ولتسئلن عما کنتم تعملون (61 : 29) ” اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو وہ سب کو ایک ہی امت بنا دیتا ، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھاتا ہے اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہوگی “۔ اگر اللہ چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی استعداد پر پیدا کرتا ، لیکن اللہ نے ان کو بالکل مختلف صلاحتیں دیں اور ان کو ایک ہی طباعت کے نسخے نہیں بنایا۔ مختلف طرز پر بنایا ہے۔ پھر ان کے لئے اس نے ہدایت پانے اور ضلالت پانے کے ضابطے بنا دئیے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا مسئول بنایا۔ لہٰذا اختلاف عقائد و مذاہب اس بات کا جواز نہیں ہے کہ تم اس سے نقص عہد کرو۔ اختلاف مذاہب کے اور اسباب ہیں جن کا تعلق اللہ کی مشیت سے ہے۔ رہا عہد تو اس کا دفا کرنا لازم ہے۔ اگرچہ عقائد کا اختلاف ہو۔ یہ ہے اسلام کا اولین اصول بین المل کی معاملات اور مذہبی رواداری۔ اس اصول میں اسلام اپنے عروج پر ہے اور قرآن کریم کے زیر ہدایت اس اصول کو اس دنیا میں صرف مسلمانوں نے عملی شکل دی۔ مزید تفصیلات دی جاتی ہیں جن میں وفائے عہد کی تاکید کی گئی ہے اور اس بات کی مزید ممانعت کی گئی ہے کہ تم معاہدے کو دھوکہ دہی اور فساد پرستی کے لئے استعمال کرو۔ یہ دنیاوی مفاد پرستی اور دنیائے دنی کے وقتی مفادات تمہیں اطمینان کی وہ دولت نہیں دے سکتے۔ اس کے نتیجے میں انسان کی نفسیاتی اور اجتماعی زندگی کے تمام اصول ٹوٹ جائیں گے اور اجتماعی معاملات اور تعلقات میں ایک بھونچال پیدا ہوجائے گا۔ یہ تو تھا دنیا کا عذاب۔ رہی آخرت تو آخرت میں ایسے لوگوں کو سخت عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔ یہاں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر تم نے وفائے عہد کیا اور اس کے نتیجے میں تمہیں کوئی دنیاوی نقصان ہوگیا تو اس کی جزاء بھی اللہ دے گا۔ دنیا کے مفادات تو فنا ہونے والے ہیں اور آخرت کے مفادات باقی رہنے والے ہیں۔ اللہ کے خزانے وسیع ہیں اور اس کے پاس نہ ختم ہونے والی دولت ہے۔

النحل 16:94

تشریح : قسموں کو دھوکے اور فریب کے لئے استعمال کرنے کے نتیجے میں انسانی ضمیر سے عقیدہ مر جاتا ہے اور دوسروں کے ضمیر میں اس کی صورت بگڑ جاتی ہے۔ جو شخص قسم اٹھاتا ہے اور یہ جانے ہوئے اٹھاتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے ، ایسے شخص کے دل میں کوئی عقیدہ قرار نہیں پکڑ سکتا۔ نہ ایسا شخص کسی راستے پر ثابت قدمی سے چل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جن کے خلاف قسم اٹھاتا ہے ان کی نظروں میں بھی اپنے دین و ایمان کی شکل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ دوسرا فریق جان لیتا ہے کہ اس کی یہ قسمیں دھوکے کے لئے تھیں۔ یوں یہ شخص ان لوگوں کو دین اسلام سے متنفر کرکے ان کی گمرالی کا سبب بنتا ہے کیونکہ یہ دوسرے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے ایک بری مثال قائم کرتا ہے۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اہل اسلام اپنے وعدے کے بہت پکے ہیں ، عہدے کے پابند ہیں ، معاملات میں صاف ہیں اور ایمان میں مخلص ہیں تو کفار جماعتوں اور اقوام کی شکل میں اسلام میں داخل ہوگئے کیونکہ وفائے عہد اور ایفائے میثاق کے نتیجے میں ان کو جو خسارہ ہوتا تھا ، اس سے فائدہ بہت زیادہ تھا۔ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ نے مسلمانوں کا کردار تعمیر کرتے ہوئے اس پہلو سے ان کی زندگیوں پر بہت ہی اچھے نقوش چھوڑے اور انہی نقوش کے مطابق مسلمان انفرادی طور اور حکومتی سطح پر لوگوں سے معاملات کرتے رہے۔ ان کا یہ طرز عمل نہایت ہی امتیازی تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت معاویہ اور شاہ روم کے درمیان معاہدہ امن کا ایک وقت مقرر تھا۔ حضرت معاویہ نے اختتام اجل سے پہلے ہی شاہ شام کے خلاف لشکر کشی کردی جبکہ ان کو معلوم ہی نہ تھا۔ اس موقع پر حضرت عمر ابن عتبہ نے فرمایا اللہ اکبر ، یا معاویہ ، وعدے کی وفا کرو ، غداری مت کرو ، میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے ” جس شخص اور کسی قوم کے درمیان ایک میعاد امن مقرر ہو ، تو وہ اپنے اس عہد کو ہر گز حلال نہ کرے جب تک وقت گزر نہ جائے۔ چناچہ حضرت معاویہ لشکر لے کر واپس ہوگئے۔ اسلامی تاریخ ایسی روایات سے بھری پڑی ہے کہ مسلمانوں نے نقص عہد میں صریح فائدے کے باوجود عہد کا پاس رکھا اور ظاہری مصلحتوں کو چھوڑ دیا۔ قرآن کریم نے مسلمانوں کے دلوں پر یہی اسلامی رنگ چڑھا دیا تھا۔ قرآن نے وفائے عہد کی ترغیب دی ، عہد شکنی سے ڈرایا۔ حضور ﷺ نے لوگوں کو ڈرایا اور یہ قرار دیا ہے کہ فریقین ہی معاہدے کے فریق نہیں ہوتے بلکہ اللہ بھی فریق ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے یہ قرار دیا کہ عہد شکنی کی صورت میں جو نفع ہوتا ہے وہ نہایت ہی معمولی اور حقیر ہوتا ہے اور اللہ وفائے عہد پر جو اجر اور انعام دے گا وہ بہت ہی بڑا انعام ہوگا۔

النحل 16:95

ولا تشروا بعھد اللہ ثمنا قلیلا انما عند اللہ ھو خیر لکم ان کنتم تعلمون (61 : 59) ” اللہ کے عہد کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے بیچ نہ ڈالو ، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ، اگر تم جانو “۔ پھر قرآن کریم یاد دلاتا ہے کہ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے ، اگرچہ وہ ان کی ملکیت ہو ، وہ زائل ہونے والا ہے اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔

النحل 16:96

ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق (61 : 59) ” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہی باقی رہنے والا ہے “۔ قرآن کریم وفائے عہد کے لئے لوگوں کے عزم کو قوت دیتا ہے اور وفائے عہد کی راہ میں تکالیف اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے اور ان تکالیف پر صبر کرنے والوں کے ساتھ اجر حسن کا وعدہ کرتا ہے۔ ولنجرزین الذین صبروا اجرھم باحسن ما کانوا یعملون (61 : 69) ” اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر ، ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے “ ۔ اور اس سلسلے میں ان سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں ان کو معاف کردیں گے۔ پس جزاء میں صرف اعمال کا اچھا پہلو ملحوظ رہے گا۔ عمل اور جزاء کی مناسبت سے یہاں عمومی ضابطہ بتا دیا جاتا ہے۔

النحل 16:97

چناچہ اس آیت سے درج ذیل اصول وضع ہوتے ہیں : (1) جزاء و سزا میں انسان کے دونوں جنس مرد اور عورت ایک ہی حکم رکھتے ہیں۔ دونوں اس معاملے میں بالکل مساوی ہیں اور دونوں کی سزا وجزاء برابر ہے۔ اللہ کے ہاں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ لفظ (من) اگرچہ مرد اور عورت دونوں کے لئے آتا ہے لیکن من ذکر اونثی (61 : 79) ” کا لفظ زیادہ تاکید اور وضاحت کے لئے اضافہ کردیا۔ اس سورة میں اس لفظ کو بالخصوص اس لئے بھی لایا گیا کہ اس میں عورت کے بارے میں اہل جاہلیت کے برے خیالات کی تردید بھی کی گئی تھی۔ مثلاً یہ کہ عورتوں کے بارے میں اس سوسائٹی کی رائے اچھی نہ تھی اور جس شخص کو یہ خبر ملتی کہ اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو وہ بدررنگ ہوجاتا اور لوگوں سے چھپتا پھرتا۔ پریشانی ، شرمندگی اور عار میں مبتلا ہوتا۔ (2) ہر عمل کے لئے کسی اساس کا ہونا ضروری ہے۔ اسلام میں اعمال کے لئے ایک ہی اساس ہے ، وہ یہ کہ وھو مومن (61 : 79) ” بشرطیکہ وہ مومن ہو “ یہ ایمان کسی بھی اخلاقی عمارت کے لئے ایک پختہ اساس ہے ، اس کے بغیر کوئی عمارت تعمیر نہیں ہوسکتی۔ اس کے بغیر اعمال یونہی ہوں گے جس طرح ریت کا ڈھیر کہ جب اسے کوئی سخت آندھی لے تو ہوا میں بکھر جائے۔ عقیدہ اور نظریہ وہ چیز ہے جس کے ساتھ اعمال کی تاریں جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ اگر یہ نہ ہو تو پھر اعمال کے تارو پود ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جاتے ہیں۔ عقیدہ اعمال صالحہ کا سبب بنتا ہے اور ان کو مقصدیت عطا کرتا ہے۔ عقیدہ اور نظریہ اعمال خیر یہ کو ایک ایسی اساس عطا کرتا ہے جس کی اوپر وہ سب ٹھہرے ہوتے ہیں ، مضبوط ہوتے ہیں۔ ان میں عارضی پن اور تزلزل نہیں ہوتا اور نہ مفادات اور خواہشات کے مطابق بدلتے رہے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اگر اعمال صالحہ ایمان کی اساس پر استوار ہوں تو نتائج یہ ہوں گے کہ ایسے لوگوں کو اس جہاں میں بھی حیات طیبہ عطا ہوگی۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ حیات عیاشی ، خوشحالی اور دولتمندی کی زندگی ہو ، کبھی یہ بھی ہوگا کہ ایک مومن کو یہ چیزیں بھی دستیاب ہوں گی۔ اور کبھی نہ ہوں گے۔ لیکن یاد رہے کہ بعض اوقات بقدر کفایت مال کے ساتھ بھی انسان کی زندگی نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ گزرتی ہے بشرطیکہ تعلق باللہ قائم ہو ، اطمینان قلبی نصیب ہو اور اللہ پر بھروسہ اور اللہ کی رضا حاصل ہو۔ انسان کو جسمانی صحت نصیب ہو ، اس کی خواہشات میں ٹھہرائو اور اس کی ہر چیز میں برکت ہو۔ گھر کا ماحول اچھا ہو ، اور افراد خانہ کے دلوں میں محبت ہو۔ ماحول ایسا ہو کہ اس میں اعمال صالحہ ہو رہے ہوں اور ان اعمال کی وجہ سے ہر طرف زندگی میں طمانیت اور ضمیر میں سکون ہو۔ مال تو امن و سکون کا ایک معمولی عنصر ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مال بقدر کفایت ہو ورنہ وبال بن جاتا ہے۔ لیکن یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے کہ انسان کا دل پاکیزہ ، برگزیدہ اور اعلیٰ مقاصد کے ساتھ لگا ہوا ہے کہ جو اللہ کے ہاں قیمتی ہیں۔ یاد رہے کہ دنیا کی حیات طیبہ آخرت کے اجر میں کوئی کمی نہیں لاتی۔ آخرت کا اجر تو ان اچھے اعمال پر ہوگا جو اہل دین نے سرانجام دئیے اور باحسن ما کانوا یعملون (61 : 79) ” سے ضمناً یہ بات نکلتی ہے کہ برے اعمال قلم زدہوجائیں گے۔ کیا اچھا سلوک ہے اور کس قدر کرم نوازی ہے ذات باری کی۔ جس کتاب کے ذریعہ مذکورہ بالا تعلیمات دی گئیں اب اس کتاب کے بارے میں چند کلمات اس کے ، آداب تلاوت اور اس کے بارے میں مشرکین کے تبصروں پر تنقید۔

النحل 16:98

تلاوت سے قبول اعوذ باللہ من الشطین الرجیم پڑھنا اس لئے ضروری ہے کہ تلاوت قرآن مجید سے قبل ایسی فضا تیار ہو جس میں کوئی شیطانی وسوسہ نہ ہو ، اور انسانی شعور سب کا سب اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے۔ اس میں کوئی گندہ جذبہ کارفرما نہ ہو۔ اور شیطانی شر اس سے دور ہو۔ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو۔

النحل 16:99

انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا وعلیٰ ربھن یتوکلون (61 : 99) ” اسے ان لوگوں پر تسلط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ لہٰذا جو لوگ اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ان کے دل اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں۔ شیطان ان پر غالب نہیں آسکتا اگرچہ وہ ان پر ڈورے ڈالے کیونکہ ان کا تعلق خدا کے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ ان کو اس مطعون کے دام سے بچاتا ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ ساتھ ہوتے اور اللہ کے پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان سے کبھی غلطی سرزد ہوتی ہے لیکن وہ شیطان کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتے۔ لہٰذا وہ تعوذ کے ذریعے شیطان کو بھگاتے رہتے ہیں اور اللہ کی طرف لوٹتے رہتے ہیں۔

النحل 16:100

انما سلطنۃ علی الذین یتولونہ (61 : 001) ” اس کا زور تو انہی لوگو پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے ہیں “۔ وہ اس کو اپنا دوست بناتے ہیں ، وہ اس کے سامنے جھکتے ہیں اور اس کی خواہشات و میلانات کو پورا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ شرک کرتے ہیں۔ آج بھی بعض اقوام میں شیطان کی بندگی اور ” اللہ شر “ کی بندگی کا رواج موجود ہے۔ محض شیطان کی اتباع کرنا اور اس سے دوستی کرنا بھی ایک نوع کا شرک ہے۔ اب قرآن کے بارے میں مشرکین کے اقاویل اور جواب۔

النحل 16:101

مشرکین کو معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب کا فنکشن کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ یہ ایک عالمی سوسائٹی وجود میں لائے یعنی امت مسلمہ اور اس بات سے وہ بیخبر ہیں۔ یہ امت ایسی ہو جو پوری دنیا کی قیادت کرے اور یہ کہ یہ آخری امت ہے۔ آئندہ دنیا میں سب کچھ اس نے کرنا ہے ، آسمانوں سے اب کوئی نئی رسالت نہیں آتنی ہے۔ پھر یہ کہ اللہ جس نے انسان کو پیدا کیا وہی جانتا ہے کہ انسان کی مصلحت اور ضرورت کیا ہے۔ جب کسی حکم کا مقصد پورا ہوجائے اور اس وقتی حکم کی میعاد پوری ہوجائے تو اللہ ایک جدید حکم لے آتا ہے کیونکہ جدید حالات میں اس جدید حکم کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور وہ زیادہ مناسب بھی ہوتا ہے۔ سابقہ وقتی حکم کے مقابلے میں اب یہ حکم دائمی اور ابد الدھر تک قائم رہنے کا اہل ہوتا ہے۔ اللہ ہی سب کچھ جانتا ہے اور آیات الہیہ کی مثال تو ایسی ہے کہ جس طرح مریض کو گھونٹ گھونٹ دوا پلائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ شفایات ہوجاتا ہے۔ اب دوائی کے بجائے اسے معمول کی غذائیں دی جاتی ہیں تاکہ وہ معمول کی زندگی بسر کرے۔ لیکن مشرکین مکہ اس حکمت سے واقف نہ تھے ، اس لئے وہ یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ ایک آیت کے بعد دوسری آیت کیوں آرہی ہے۔ خود حضور کی زندگی میں قوانین کیوں بدل رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اس پر محمول کیا کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ اپنی طرف سے آیات بناتے ہیں ، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضور ﷺ تو صادق و امین ہیں اور کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے ، چہ جائیکہ وہ اللہ پر جھوٹ بولیں۔ بل اکثر ھم لا یعلمون (61 : 101) ” حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے “۔

النحل 16:102

قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق (61 : 201) ” کہہ دو اسے تو روح القدس مانے ٹھیک ٹھیک تیرے رب کی طرف سے بتدریج مجھ پر نازل کیا ہے “۔ لہٰذا اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ افتراء ہو۔ اسے روح القدس لے کر آئے ہیں ، اللہ کی طرف سے لائے ہیں اور اس کی تعلیمات سچائی پر مشتمل ہیں۔ ان میں باطل کا شائبہ تک نہیں ہے اور یہ اس لئے آئی کہ یشت الذین امنوا (61 : 201) ” تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کریں “۔ ان کے دل اللہ کے ساتھ جڑ جائیں اور وہ معلوم کرلیں کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ حق پر جم جائیں اور ان کی سچائی پر مطمئن ہوجائیں تاکہ وھدی و بشری للمسلمین (61 : 201) ” اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے اور انہیں سعادت اور فلاح کی خوشخبری دے “۔ یہ خوشخبری خصوصا نصرت اور تمکین فی الارض کے بارے میں ہے۔

النحل 16:103

ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا لسان عربی مبین (61 : 3019 ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔ ان کی طرف سے دوسرا افتراء یہ تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو کوئی آدمی یہ قرآن مجید سکھاتا ہے۔ انہوں نے اس کا نام بھی لیا تھا۔ البتہ اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ وہ ایک عجمی غلام کی طرف اشارہ کرتے تھے جو دراصل بعض قبائل قریش کا غلام تھا اور یہ حلفاء کے قریب تجارت کرتا تھا۔ اس کے پاس حضور اکرم ﷺ بیٹھا کرتے تھے۔ یہ شخص عجمی تھا اور عربی زبان جانتا ہی نہ تھا۔ صرف عربی میں بقدر ضرورت شد بد رکھتا تھا۔ محمد ابن اسحاق کی روایت ہے کہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضور اکرم ﷺ مروہ کے قریب ایک عیسائی غلام کے پاس بیٹھا کرتے تھے اس کا نام جبر تھا۔ یہ ابنی الحضرم شاخ کا غلام تھا۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ولقد تعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا السان عربی میبن (61 : 301) ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔ عبد اللہ ابن کثیر نے کہا ہے اور عکرمہ اور قتادہ سے نقل کیا ہے کہ اس کا نام بعیش تھا ابن کثیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلام کو تعلیم دیتے تھے۔ یہ مکہ میں تھا اور اس کا نام بلمام تھا اور حضور اکرم ﷺ اس کے پاس جایا کرتے تھے۔ مشرکین کو معلوم تھا کہ آپ ﷺ اس کے پاس آتے جاتے ہیں تو انہوں نے یہ الزام لگایا کہ آپ ﷺ کو یہ تعلیمات بلمام دے رہا ہے۔ بہرحال نام جو بھی ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس الزام کی جو تردید کی ہے وہ سادہ اور لاجواب ہے۔ اور یہ کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ جس شخص کا تم کہتے ہو اس کی تو زبان عجمی ہے اور قرآن عربی مبین میں ہے۔ ان لوگوں نے حضور اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا تھا اسے ہم ہرگز سنجیدہ الزام نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ بھی ان کی جانب سے جھوٹے پروپیگنڈے کی سازش تھی۔ اس لئے کہ وہ قرآن مجید کی ادبی اور نظریاتی قدر و قیمت اور اس کے اعجاز کو اچھی طرح جانتے تھے۔ یہ تو ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی عجمی حضور اکرم ﷺ کو یہ کلام سکھا سکے۔ اگر کوئی عجمی اس قسم کا کلام لاسکتا تو وہ اسے بطور اپنے کلام کے کیوں پیش نہ کرتا۔ آج جبکہ انسان نے بہت زیادہ ترقی کرلی ہے اور انسانی قابلیت کے نتیجے میں تصنیف و تالیف کا فن بہت ہی آگے بڑھ گیا ہے۔ نیز قانون سازی اور نظم و نسق کے جدید ترین طریقے وجود میں آگئے ہیں۔ آج ایک معمولی علم رکھنے والا کوئی شخص اور اجتماعی نظاموں اور قانونی نظاموں سے واقف کوئی بھی شخص یہ تصور نہیں کرسکتا کہ یہ کتاب کسی ایک انسان کی تصنیف ہوسکتی ہے۔ روس کے مادہ پرست اور ملحدوں کی رائے بھی یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کسی ایک شخص کی تصنیف نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک پوری جماعت کی تصنیف ہے بلکہ اس کے بعض حصے جزیرۃ العرب کی تصنیف بھی نہیں ہوسکتے۔ اس کے بعض حصے ایسے ہیں کہ وہ یقینا باہر سے لائے گئے ہیں۔ یہ نگارشات انہوں نے 4591 ء میں اس کانفرنس کے نتجے میں مرتب کیں جو قرآن کریم پر تنقید کے لئے انہوں نے منعقد کی تھی۔ روسیوں نے یہ تجویز اس لئے پیش کی کہ ایک شخص کے اندر اس قدر قابلیت نہیں ہوسکتی کہ وہ ایسی کتاب تصنیف کرے۔ اور نہ کسی ایک قوم کا یہ کام ہے لیکن روسیوں کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ سیدھی سادی بات تسلیم کرلیں کہ یہ کتاب انسانی تصنیف نہیں ہوسکتی لہٰذا یہ وحی رب العالمین ہے۔ لیکن وہ چونکہ مادہ پرست اور ملحد تھے ، اور خدا ، رسولوں اور رسالت کے وجود ہی کے منکر تھے اس لیے انہوں نے یہ سچائی تسلیم نہ کی۔ اگر بیسویں صدی کے مستشرقین کی سوچ یہ ہے کہ قرآن کریم کسی ایک انسانی کی تصنیف نہیں ہوسکتا تو پھر جزیرۃ العرب کے ایک عجمی غلام کی تصنیف کس طرح ہوسکتا ہے۔

النحل 16:104

قرآن کریم ان کے ان اقوال کی وجہ یہ بتاتا ہے : ان الذین لا یومنون بایت اللہ لا یھدیھم اللہ ولھم عذاب الیم (61 : 401) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ، اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے “۔ یہ لوگ جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق نہیں دی کہ وہ اس کتاب کے بارے میں صحیح رائے قائم کریں۔ نہ وہ اصل حقیقت کی طرف راہ پاسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کفر کریں گے ، منہ موڑیں گے اور کبھی بھی مان کر نہ دیں گے۔ اس لئے ولھم عذاب الیم (61 : 401) ” ان کے لئے دردناک عذاب ہے “۔ یہاں اب بتایا جاتا ہے کہ رسول امین کس طرح اللہ پر افترا باندھ سکتے ہیں۔ ایسا کام تو وہ لوگ کرتے ہیں جو بدقماش لوگ ہوں اور جو افتراء پر دازی کرتے رہتے ہیں۔

النحل 16:105

انما یفتری الکذب الذین لا یومنون بایت اللہ واولئک ھم الکذبون (61 : 501) ”(جھوٹی باتیں نبی نہیں گھڑتا بلکہ) جھوٹ وہ لوگ گھڑ رہے ہیں جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ، وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں “۔ جھوٹ اس قدر گھنائونا گناہ ہے کہ کوئی مومن کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ حضور اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں صاف فرمایا ہے کہ کوئی مسلم جھوٹ نہیں بول سکتا اگرچہ مسلم سے دوسرے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں۔ اب یہاں سے آگے ان لوگوں کے احکام بیان کیے جات ہیں جو ایمان کے بعد کفر اختیار کرتے ہیں۔

النحل 16:106

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔ بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔ اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔ یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔ ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو مجھے اپنی پوری مملکت دے دے اور تمام عربوں کی حکومت بھی عطا کردے ، اس کے عوض کہ میں محمد ﷺ کے دین کو ترک کردوں اور وہ بھی پلک جھپکنے جتنی دیر کے لئے تو بھی میں یہ کام نہ کروں گا۔ اس نے کہا تو پھر میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ کہتے ہیں کہ اس نے حکم دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ پھر اس نے تیرا ندازوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے پائوں اور ہاتھوں کے قریب تیر ماریں۔ چناچہ وہ تیرمارتے رہے اور بادشاہ ان پر نصرانیت کا دین پیش کرتا رہا۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ انہیں سولی سے اتار دیں۔ چناچہ انہیں تختہ دار سے اتارا گیا۔ اس کے بعد تاننے کے ایک (تیل کی) ہنڈیا یا دیگ لائی گئی۔ اسے گرم کیا گیا۔ اس کے بعد ایک مسلمان قیدی لایا گیا ، اسے اس کے اندر پھینکا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ چمکدار ہڈیاں بن کر رہ گیا۔ اس کے بعد پھر اس نے ان پر اپنا دین پیش کیا اور انہوں نے انکار کردیا۔ اب اس نے حکم دیا کہ ان کو بھی اس میں پھینک دیا جائے۔ انہیں لوہے کی چرخی پر چڑھایا گیا تاکہ اس کے اندر پھینک دیں۔ اس وقت وہ روئے۔ اس پر اس بادشاہ کو یہ لالچ پیدا ہوگیا کہ شاید اب مان جائیں تو انہوں نے اسے بلایا تو انہوں نے کہا کہ میں رویا اس لئے ہوں کہ میری جان ایک ہے اور یہ ابھی اسی دیگ میں ڈال دی جائے گی اور ختم ہوجائے گی لیکن میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے جسم کے ہر بال کے برابر جانیں عطا ہوتیں اور وہ اللہ کی راہ میں قربان ہوتیں۔ ایک روایت میں ہے کہ اس نے ان کو قید کردیا اور کھانا بند کردیا۔ ایک عرصے تک یہ پابندی تھی۔ اس کے بعد انہیں شراب اور خنزیر بھیجا تو انہوں نے ان کو ہاتھ نہ لگایا۔ تو انہوں نے بلا کر پوچھا کہ تم نے ان کو کیوں ہاتھ نہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں اس وقت تو میرے لئے حلال ہیں لیکن میں تمہیں خوش کرنا نہیں چاہتا۔ اس پر اس نے کہا چلو میرے سرہی کو چوم لو ، میں تمہیں رہا کردوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردو گے ؟ تو اس نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے اس کے سر کو چوم لیا اور انہوں نے وہ تمام قیدی رہا کردئیے جو ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ لوٹے تو عمر بن الخطاب ؓ نے فرمایا ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ کا سر چومے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔ وہ اٹھے اور انہوں نے ان کے سر کو چوما۔ اللہ دونوں سے راضی ہو۔ یہ اس لئے کہ عقیدہ اور نظیرہ ایک عظیم دولت ہیں۔ نظریہ میں کمزورہ نہیں دکھائی جاتی اور رخصتوں پر عمل نہیں ہوتا۔ اس کے لئے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگرچہ رخصت ہوتی ہے لیکن ایک مومن نفس اس کو ترجیح دیتا ہے کہ وہ عزیمت پر عمل کرے کیونکہ نظریہ ایک ایسی امانت ہے جس پر انسان کو پوری زندگی اور پورے دنیاوی مفادات کو قربان کرنا چاہیے۔

النحل 16:107

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔ بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔ اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔ یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔ ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو مجھے اپنی پوری مملکت دے دے اور تمام عربوں کی حکومت بھی عطا کردے ، اس کے عوض کہ میں محمد ﷺ کے دین کو ترک کردوں اور وہ بھی پلک جھپکنے جتنی دیر کے لئے تو بھی میں یہ کام نہ کروں گا۔ اس نے کہا تو پھر میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ کہتے ہیں کہ اس نے حکم دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ پھر اس نے تیرا ندازوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے پائوں اور ہاتھوں کے قریب تیر ماریں۔ چناچہ وہ تیرمارتے رہے اور بادشاہ ان پر نصرانیت کا دین پیش کرتا رہا۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ انہیں سولی سے اتار دیں۔ چناچہ انہیں تختہ دار سے اتارا گیا۔ اس کے بعد تاننے کے ایک (تیل کی) ہنڈیا یا دیگ لائی گئی۔ اسے گرم کیا گیا۔ اس کے بعد ایک مسلمان قیدی لایا گیا ، اسے اس کے اندر پھینکا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ چمکدار ہڈیاں بن کر رہ گیا۔ اس کے بعد پھر اس نے ان پر اپنا دین پیش کیا اور انہوں نے انکار کردیا۔ اب اس نے حکم دیا کہ ان کو بھی اس میں پھینک دیا جائے۔ انہیں لوہے کی چرخی پر چڑھایا گیا تاکہ اس کے اندر پھینک دیں۔ اس وقت وہ روئے۔ اس پر اس بادشاہ کو یہ لالچ پیدا ہوگیا کہ شاید اب مان جائیں تو انہوں نے اسے بلایا تو انہوں نے کہا کہ میں رویا اس لئے ہوں کہ میری جان ایک ہے اور یہ ابھی اسی دیگ میں ڈال دی جائے گی اور ختم ہوجائے گی لیکن میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے جسم کے ہر بال کے برابر جانیں عطا ہوتیں اور وہ اللہ کی راہ میں قربان ہوتیں۔ ایک روایت میں ہے کہ اس نے ان کو قید کردیا اور کھانا بند کردیا۔ ایک عرصے تک یہ پابندی تھی۔ اس کے بعد انہیں شراب اور خنزیر بھیجا تو انہوں نے ان کو ہاتھ نہ لگایا۔ تو انہوں نے بلا کر پوچھا کہ تم نے ان کو کیوں ہاتھ نہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں اس وقت تو میرے لئے حلال ہیں لیکن میں تمہیں خوش کرنا نہیں چاہتا۔ اس پر اس نے کہا چلو میرے سرہی کو چوم لو ، میں تمہیں رہا کردوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردو گے ؟ تو اس نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے اس کے سر کو چوم لیا اور انہوں نے وہ تمام قیدی رہا کردئیے جو ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ لوٹے تو عمر بن الخطاب ؓ نے فرمایا ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ کا سر چومے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔ وہ اٹھے اور انہوں نے ان کے سر کو چوما۔ اللہ دونوں سے راضی ہو۔ یہ اس لئے کہ عقیدہ اور نظیرہ ایک عظیم دولت ہیں۔ نظریہ میں کمزورہ نہیں دکھائی جاتی اور رخصتوں پر عمل نہیں ہوتا۔ اس کے لئے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگرچہ رخصت ہوتی ہے لیکن ایک مومن نفس اس کو ترجیح دیتا ہے کہ وہ عزیمت پر عمل کرے کیونکہ نظریہ ایک ایسی امانت ہے جس پر انسان کو پوری زندگی اور پورے دنیاوی مفادات کو قربان کرنا چاہیے۔

النحل 16:108

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔ بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔ اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔ یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔ ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو مجھے اپنی پوری مملکت دے دے اور تمام عربوں کی حکومت بھی عطا کردے ، اس کے عوض کہ میں محمد ﷺ کے دین کو ترک کردوں اور وہ بھی پلک جھپکنے جتنی دیر کے لئے تو بھی میں یہ کام نہ کروں گا۔ اس نے کہا تو پھر میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ کہتے ہیں کہ اس نے حکم دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ پھر اس نے تیرا ندازوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے پائوں اور ہاتھوں کے قریب تیر ماریں۔ چناچہ وہ تیرمارتے رہے اور بادشاہ ان پر نصرانیت کا دین پیش کرتا رہا۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ انہیں سولی سے اتار دیں۔ چناچہ انہیں تختہ دار سے اتارا گیا۔ اس کے بعد تاننے کے ایک (تیل کی) ہنڈیا یا دیگ لائی گئی۔ اسے گرم کیا گیا۔ اس کے بعد ایک مسلمان قیدی لایا گیا ، اسے اس کے اندر پھینکا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ چمکدار ہڈیاں بن کر رہ گیا۔ اس کے بعد پھر اس نے ان پر اپنا دین پیش کیا اور انہوں نے انکار کردیا۔ اب اس نے حکم دیا کہ ان کو بھی اس میں پھینک دیا جائے۔ انہیں لوہے کی چرخی پر چڑھایا گیا تاکہ اس کے اندر پھینک دیں۔ اس وقت وہ روئے۔ اس پر اس بادشاہ کو یہ لالچ پیدا ہوگیا کہ شاید اب مان جائیں تو انہوں نے اسے بلایا تو انہوں نے کہا کہ میں رویا اس لئے ہوں کہ میری جان ایک ہے اور یہ ابھی اسی دیگ میں ڈال دی جائے گی اور ختم ہوجائے گی لیکن میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے جسم کے ہر بال کے برابر جانیں عطا ہوتیں اور وہ اللہ کی راہ میں قربان ہوتیں۔ ایک روایت میں ہے کہ اس نے ان کو قید کردیا اور کھانا بند کردیا۔ ایک عرصے تک یہ پابندی تھی۔ اس کے بعد انہیں شراب اور خنزیر بھیجا تو انہوں نے ان کو ہاتھ نہ لگایا۔ تو انہوں نے بلا کر پوچھا کہ تم نے ان کو کیوں ہاتھ نہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں اس وقت تو میرے لئے حلال ہیں لیکن میں تمہیں خوش کرنا نہیں چاہتا۔ اس پر اس نے کہا چلو میرے سرہی کو چوم لو ، میں تمہیں رہا کردوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردو گے ؟ تو اس نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے اس کے سر کو چوم لیا اور انہوں نے وہ تمام قیدی رہا کردئیے جو ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ لوٹے تو عمر بن الخطاب ؓ نے فرمایا ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ کا سر چومے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔ وہ اٹھے اور انہوں نے ان کے سر کو چوما۔ اللہ دونوں سے راضی ہو۔ یہ اس لئے کہ عقیدہ اور نظیرہ ایک عظیم دولت ہیں۔ نظریہ میں کمزورہ نہیں دکھائی جاتی اور رخصتوں پر عمل نہیں ہوتا۔ اس کے لئے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگرچہ رخصت ہوتی ہے لیکن ایک مومن نفس اس کو ترجیح دیتا ہے کہ وہ عزیمت پر عمل کرے کیونکہ نظریہ ایک ایسی امانت ہے جس پر انسان کو پوری زندگی اور پورے دنیاوی مفادات کو قربان کرنا چاہیے۔

النحل 16:109

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔ بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔ اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔ یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔ ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو مجھے اپنی پوری مملکت دے دے اور تمام عربوں کی حکومت بھی عطا کردے ، اس کے عوض کہ میں محمد ﷺ کے دین کو ترک کردوں اور وہ بھی پلک جھپکنے جتنی دیر کے لئے تو بھی میں یہ کام نہ کروں گا۔ اس نے کہا تو پھر میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ کہتے ہیں کہ اس نے حکم دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ پھر اس نے تیرا ندازوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے پائوں اور ہاتھوں کے قریب تیر ماریں۔ چناچہ وہ تیرمارتے رہے اور بادشاہ ان پر نصرانیت کا دین پیش کرتا رہا۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ انہیں سولی سے اتار دیں۔ چناچہ انہیں تختہ دار سے اتارا گیا۔ اس کے بعد تاننے کے ایک (تیل کی) ہنڈیا یا دیگ لائی گئی۔ اسے گرم کیا گیا۔ اس کے بعد ایک مسلمان قیدی لایا گیا ، اسے اس کے اندر پھینکا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ چمکدار ہڈیاں بن کر رہ گیا۔ اس کے بعد پھر اس نے ان پر اپنا دین پیش کیا اور انہوں نے انکار کردیا۔ اب اس نے حکم دیا کہ ان کو بھی اس میں پھینک دیا جائے۔ انہیں لوہے کی چرخی پر چڑھایا گیا تاکہ اس کے اندر پھینک دیں۔ اس وقت وہ روئے۔ اس پر اس بادشاہ کو یہ لالچ پیدا ہوگیا کہ شاید اب مان جائیں تو انہوں نے اسے بلایا تو انہوں نے کہا کہ میں رویا اس لئے ہوں کہ میری جان ایک ہے اور یہ ابھی اسی دیگ میں ڈال دی جائے گی اور ختم ہوجائے گی لیکن میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے جسم کے ہر بال کے برابر جانیں عطا ہوتیں اور وہ اللہ کی راہ میں قربان ہوتیں۔ ایک روایت میں ہے کہ اس نے ان کو قید کردیا اور کھانا بند کردیا۔ ایک عرصے تک یہ پابندی تھی۔ اس کے بعد انہیں شراب اور خنزیر بھیجا تو انہوں نے ان کو ہاتھ نہ لگایا۔ تو انہوں نے بلا کر پوچھا کہ تم نے ان کو کیوں ہاتھ نہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں اس وقت تو میرے لئے حلال ہیں لیکن میں تمہیں خوش کرنا نہیں چاہتا۔ اس پر اس نے کہا چلو میرے سرہی کو چوم لو ، میں تمہیں رہا کردوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردو گے ؟ تو اس نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے اس کے سر کو چوم لیا اور انہوں نے وہ تمام قیدی رہا کردئیے جو ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ لوٹے تو عمر بن الخطاب ؓ نے فرمایا ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ کا سر چومے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔ وہ اٹھے اور انہوں نے ان کے سر کو چوما۔ اللہ دونوں سے راضی ہو۔ یہ اس لئے کہ عقیدہ اور نظیرہ ایک عظیم دولت ہیں۔ نظریہ میں کمزورہ نہیں دکھائی جاتی اور رخصتوں پر عمل نہیں ہوتا۔ اس کے لئے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگرچہ رخصت ہوتی ہے لیکن ایک مومن نفس اس کو ترجیح دیتا ہے کہ وہ عزیمت پر عمل کرے کیونکہ نظریہ ایک ایسی امانت ہے جس پر انسان کو پوری زندگی اور پورے دنیاوی مفادات کو قربان کرنا چاہیے۔

النحل 16:110

یہ لوگ عربوں میں ضعفاء میں سے تھے اور سرکش مشرکین نے ان کو ان کے دین اور نظریہ کی وجہ سے تکالیف دیں۔ لیکن جونہی ان کو مواقعہ ملا انہوں نے ہجرت کی۔ اسلام پختگی حاصل کی۔ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور دعوت اسلامی کی خاطر تکالیف اٹھاتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کو مغفرت کی بشارت دیتے ہیں ۔ ان ربک من بعدھا لغفور رحیم (61 : 011) ” ان کے لئے یقینا تیرا رب غفور ورحیم ہے “۔ یہ وہ دن ہے جس میں ہر نفس اپنے معاملات میں گھرا ہوگا۔ کوئی کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہوگا۔

النحل 16:111

یوم تاتی کل نفس تحادل عن نفسھا (61 : 111) ” ہر متنفس اپنے ہی بچائو کی فکر میں لگا ہوا ہوگا “۔ انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن ہر شخص سخت ہولناک حالت میں ہوگا ، ہر شخص اپنے ہی بارے میں فکر کر رہا ہوگا ، اپنا ہی کیس لڑ رہا ہوگا۔ لیکن کسی کا جھگڑا اسے کچھ فائدے نہ دے گا۔ وہاں تو ہر کسی کو اپنی ہی کمائی ملے گی۔ وھم لا یظلمون (61 : 111) ” کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا “۔ درس نمبر 421 ایک نظر میں اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ نے اس سورة میں دو مثالوں کے ذریعے اسلامی عقیدہ توحید کو سمجھایا ہے۔ یہاں اباہل مکہ اور مشرکین قریش اور مکہ کے حالات پر ایک مثال دی جاتی ہے۔ اہل مکہ پر اللہ نے اپنے انعامات کی بارش کردی تھی لیکن انہوں نے اپنی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا۔ اس مثال کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو اس انجام سے خبردار کرنا چاہتے ہیں جو مستقبل کے پردوں میں ان کا منتظر ہے۔ اس مثال میں جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ وافر رزق اور امن و اطمینان کی نعمت ہے جو مکہ میں موجود تھی ، اس حوالے سے پھر ان کے سامنے یہ بات بھی رکھی جاتی ہے کہ انہوں نے بت پرستی کی وجہ سے اپنے اوپر بعض طیبات اور حلال چیزوں کو خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے حالانکہ اللہ نے چیزوں کو حلال قرار دیا ہے۔ اللہ نے حرام چیزوں کو بیان کردیا ہے اور یہ چیزیں ان میں سے نہیں ہیں۔ یہ بھی ایک طرح سے انعامات الہیہ کی ناشکری ہے۔ اس طرح کی ناشکری کے نتیجہ میں بھی تم پر عذاب الیم نازل ہوسکتا ہے اور یہ اللہ پر بہت ہی بڑا افتراء ہے اور اللہ نے ان اشیاء کی حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔ پھر مسلمانوں پر جو ناپاک چیزیں حرام کی گئیں اس کے حوالے سے ان اشیاء کا بھی ذکر کیا جاتا ہے جو یہودیوں پر حرام کی گئیں۔ یہ چیزیں ان پر بطور سزائوں کے بعض جرائم کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں۔ نیز یہ ان کے بعض مظالم کی وجہ سے بطور سزا حرام ہوئی تھیں۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد سے حرام نہ تھیں جو اپنی ذات میں ایک امت تھے اور اللہ کی طرف یکسو اور حنیف تھے۔ شرک نہ کرتے تھے اور اللہ نے ان کو ہدایت دی تھی۔ وہ برگزیدہ تھے اور صراط مستقیم پر تھے۔ یہ طیبات ان پر بھی حلال تھیں اور ان کی اولاد پر بھی۔ یہاں تک کہ بعد کے ادوار میں بنی اسرائیل پر بطور سزا حرام ہوئیں اور ان جہالتوں سے کوئی تائب نہ ہوجائے تو اللہ غفور ورحیم ہے۔ اس کے بعد دین ابراہیم کے تسلسل کے طور پر حضرت محمد ﷺ کا دین آیا ، اس میں وہ تمام طیبات از سر نو حلال کردی گئیں جو دین ابراہیم میں حلال تھیں ۔ اسی طرح یوم سبت میں یہودیوں کو شکار سے منع کیا گیا تھا ، اسے بھی حلال کردیا گیا تھا کیونکہ یہودیوں نے سبت کی پابندی کو بھی مشکوک بنا دیا تھا۔ بعض لوگ رک گئے اور بعض نے سبت کی پابندی کو توڑ دیا۔ اس لئے اللہ نے ان لوگوں کو بھی مشکوک بنا دیا تھا۔ بعض لوگ رک گئے اور بعض نے سبت کی پابندی کو توڑ دیا ۔ اس لئے اللہ نے ان لوگوں کے چہرے مسخ کردئیے اور ان کو انسانیت کے درجہ سے گرا دیا۔ اس مناسبت سے رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ کی طرف نہایت ہی حکمت سے اور بہترین نصیحت سے دعوت دیتے ہیں اور ان کے ساتھ نہایت ہی بھلے انداز میں مکالمہ کریں۔ اگر آپ پر زیادتی ہو توق صاص اس کی سنتب سے عادلانہ ہو ، کسی صورت میں بھی حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ اگر مخالف کو معاف کردیا جائے اور صبر سے کام لیا جائے تو یہ سب سے بہتر ہے۔ اس کے بعد یاد رکھو کہ اچھا انجام متقین اور محسنین ہی کا ہے کیونکہ اللہ اہل تقویٰ اور اہل احسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ ان کی امداد کرتا ہے ، ان کی نگرانی کرتا ہے اور صلاح و فلاح کی راہ کی طرف ان کو راہنمائی کرتا رہتا ہے۔

النحل 16:112

یہ مثال مکہ پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ اللہ نے اس بستی میں بیت اللہ بنایا۔ پھر اس کو حرکت دیتے ہوئے بلد حرام قرار دیا۔ جو شخص اس میں داخل ہوجائے وہ آمن اور مامون ہوگا۔ کسی کو اجازت نہ ہوگی کہ کوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھائے اگرچہ وہ قاتل ہو۔ جب تک وہ بیت اللہ میں ہے کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ جزیرۃ العرب کی حالت یہ ہوتی تھی کہ مکہ کے ارد گرد کے تمام علاقوں میں امن وامان نہ تھا اور لوگوں کو اچک لیا جاتا تھا۔ لیکن اہل مکہ ہر وقت امن وامان میں رہتے تھے اور نہایت ہی اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ نیز ان کا سامان زیست بھی ہر طرف سے چلا آرہا تھا ، حاجیوں کے ساتھ اور پر امن تجارتی قافلوں کے ساتھ ، حالانکہ وہ وادی غیر ذی زرع میں بستے تھے۔ اس کے باوجود ہر چیز کا ثمرہ اور ہر قسم کا پھل ان تک پہنچتا تھا۔ یوں وہ امن کے مزے لیتے تھے اور خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کا یہ حال اس وقت سے تھا جب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے لئے دعا کی تھی۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو یہ لوگ آپ ﷺ سے اچھی طرح واقف تھے ۔ یہ آپ ﷺ کو صادق و امین کہتے تھے۔ وہ آپ ﷺ میں کوئی کمزوری نہ پاتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو نبوت عطا کرتے ہیں تاکہ آپ ﷺ ان کو اور ان کے ارد گرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کی اصلاح کریں۔ اور آپ ﷺ کا دین بھی دین ابراہیم ہے جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی۔ جس کے جوار رحمت میں یہ لوگ امن و اطمینان کی زندگی بسر کرتے ہیں اور نہایت ہی خوشحالی اور فارغ البالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے پیروکاروں پر قسم قسم کی سختیاں کرتے ہیں اور ستم ڈھاتے ہیں۔ کسی قریہ کی یہ مثال جو اللہ اہل مکہ کے لئے بیان کرتے ہیں اور وہ خود ان کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے۔ اس کا انجام ان کے انتظام میں ہے جس طرح اللہ نے اس گائوں کی مثال دی جس کے باسی مطمئن اور پر امن تھے۔ ان کے لئے سامان زیست وافر مقدار میں ہر طرف سے آرہا تھا لیکن انہوں نے اللہ کے انعامات کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول کی تکذیب کی۔ پھر کیا ہوا۔ فازاقھا اللہ لباس الحوع الخوف بما کانوا یصنعون (61 : 211) ” تب اللہ نے اس کے باشدوں کو ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا لباس ہوگا “۔ ان پر دوسرے عذاب بھی آئے اس لئے کہ وہ ظالم تھے۔ یہاں اللہ تعالیٰ خوف اور بھوک کو لباس کی طرح مجسم کرکے پیش فرماتے ہیں۔ گویا وہ ہر وقت اس حالت میں رہتے ہیں اور بھوک و افلاس ان کا لباس ہے اور اس لباس کو وہ پہنتے نہیں چکھتے ہیں کیونکہ محض لباس پہننے سے چکھنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس میں قوت ذائقہ اور لامسہ بیک وقت کام کرتی ہے اور اس طرح بھوک اور خوف کا احساس دو چند ہوجاتا ہے اور بات نفس میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ یہ نہایت ہی زودار انداز بیان اس لئے اختیار کیا گیا ہے تاکہ وہ آنے والے انجام کے بارے میں اچھی طرح سوچ سکیں۔ اس مثال میں ایک طرف سے اللہ کی نعمتوں اور رزق کا تخیل دیا گیا ہے اور دوسری جانب ان سے محرومتی کا تصور دیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے یہاں یہ …دیا گیا کہ ان کے لئے جو طیبات حلال کردی گئی ہیں ، ان کو کھائو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرو۔ راہ ایمان پرسیدھے چلو اور شرک سے بچو جس کی وجہ سے ان کے نام نہاد الہوں نے ان پر بعض طیبات بےجواز حرام کردئیے ہیں۔

النحل 16:113

یہ مثال مکہ پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ اللہ نے اس بستی میں بیت اللہ بنایا۔ پھر اس کو حرکت دیتے ہوئے بلد حرام قرار دیا۔ جو شخص اس میں داخل ہوجائے وہ آمن اور مامون ہوگا۔ کسی کو اجازت نہ ہوگی کہ کوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھائے اگرچہ وہ قاتل ہو۔ جب تک وہ بیت اللہ میں ہے کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ جزیرۃ العرب کی حالت یہ ہوتی تھی کہ مکہ کے ارد گرد کے تمام علاقوں میں امن وامان نہ تھا اور لوگوں کو اچک لیا جاتا تھا۔ لیکن اہل مکہ ہر وقت امن وامان میں رہتے تھے اور نہایت ہی اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ نیز ان کا سامان زیست بھی ہر طرف سے چلا آرہا تھا ، حاجیوں کے ساتھ اور پر امن تجارتی قافلوں کے ساتھ ، حالانکہ وہ وادی غیر ذی زرع میں بستے تھے۔ اس کے باوجود ہر چیز کا ثمرہ اور ہر قسم کا پھل ان تک پہنچتا تھا۔ یوں وہ امن کے مزے لیتے تھے اور خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کا یہ حال اس وقت سے تھا جب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے لئے دعا کی تھی۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو یہ لوگ آپ ﷺ سے اچھی طرح واقف تھے ۔ یہ آپ ﷺ کو صادق و امین کہتے تھے۔ وہ آپ ﷺ میں کوئی کمزوری نہ پاتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو نبوت عطا کرتے ہیں تاکہ آپ ﷺ ان کو اور ان کے ارد گرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کی اصلاح کریں۔ اور آپ ﷺ کا دین بھی دین ابراہیم ہے جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی۔ جس کے جوار رحمت میں یہ لوگ امن و اطمینان کی زندگی بسر کرتے ہیں اور نہایت ہی خوشحالی اور فارغ البالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے پیروکاروں پر قسم قسم کی سختیاں کرتے ہیں اور ستم ڈھاتے ہیں۔ کسی قریہ کی یہ مثال جو اللہ اہل مکہ کے لئے بیان کرتے ہیں اور وہ خود ان کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے۔ اس کا انجام ان کے انتظام میں ہے جس طرح اللہ نے اس گائوں کی مثال دی جس کے باسی مطمئن اور پر امن تھے۔ ان کے لئے سامان زیست وافر مقدار میں ہر طرف سے آرہا تھا لیکن انہوں نے اللہ کے انعامات کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول کی تکذیب کی۔ پھر کیا ہوا۔ فازاقھا اللہ لباس الحوع الخوف بما کانوا یصنعون (61 : 211) ” تب اللہ نے اس کے باشدوں کو ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا لباس ہوگا “۔ ان پر دوسرے عذاب بھی آئے اس لئے کہ وہ ظالم تھے۔ یہاں اللہ تعالیٰ خوف اور بھوک کو لباس کی طرح مجسم کرکے پیش فرماتے ہیں۔ گویا وہ ہر وقت اس حالت میں رہتے ہیں اور بھوک و افلاس ان کا لباس ہے اور اس لباس کو وہ پہنتے نہیں چکھتے ہیں کیونکہ محض لباس پہننے سے چکھنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس میں قوت ذائقہ اور لامسہ بیک وقت کام کرتی ہے اور اس طرح بھوک اور خوف کا احساس دو چند ہوجاتا ہے اور بات نفس میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ یہ نہایت ہی زودار انداز بیان اس لئے اختیار کیا گیا ہے تاکہ وہ آنے والے انجام کے بارے میں اچھی طرح سوچ سکیں۔ اس مثال میں ایک طرف سے اللہ کی نعمتوں اور رزق کا تخیل دیا گیا ہے اور دوسری جانب ان سے محرومتی کا تصور دیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے یہاں یہ …دیا گیا کہ ان کے لئے جو طیبات حلال کردی گئی ہیں ، ان کو کھائو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرو۔ راہ ایمان پرسیدھے چلو اور شرک سے بچو جس کی وجہ سے ان کے نام نہاد الہوں نے ان پر بعض طیبات بےجواز حرام کردئیے ہیں۔

النحل 16:114

تشریح : اللہ تعالیٰ محرمات کی حد بندی فرما دیتے ہیں۔ محرمات کا شمار کردیا جاتا ہے کہ بس یہی ہیں اس کے سوا کوئی چیز حرام نہیں اور اس شمار میں وہ محرمات نہیں جو انہوں نے از خود اپنے اوپر حرام کر رکھے ہیں۔ مثلاً بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔

النحل 16:115

یہ چیزیں مختلف وجوہات سے حرام کی گئی ہیں یا تو اس لئے کہ ان میں جسمانی مصرت ہے یا حسی مضرت ہے مثلاً مردار ، خون اور لحم لغنزیز میں یا نفسیاتی اور نظریاتی مضرت ہے مثلاً وہ ذبحیے جن پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔ آیت : فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان اللہ غفور رحیم۔ (521) ۔ ترجمہ :” البتہ بھوک سے مجبور اور بےقرار ہو کر اگر کوئی ان چیزوں کو کھانے ، بغیر اس کے کہ وہ قانون الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو یا حد ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو ، تو یقینا اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے “۔ اس لئے کہ دین اسلام ایک سہل دین ہے اور اس میں کسی پر غیر ضروری سختی نہیں ہے۔ جس شخص کو موت کا ڈر ہو ، یا بھوک سے سخت بیماری کا اندیشہ ہو یا سخت پیاس کا اندیشہ ہو تو وہ بقدر ضرورت ان چیزوں کو استعمال کرسکتا ہے۔ اس بارے میں فقہی اختلافات ہیں جن کا تذکرہ پہلے ہم کر آئے ہیں۔ غیر باغ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اصول حرمت کو توڑنے والا نہ ہو اور غیر عاد کا مطلب یہ ہے کہ وہ قدر ضرورت سے آگے بڑھنے والا نہ ہو کیونکہ صرف بقدر ضرورت اجازت دی گئی ہے۔ یہ ہیں حدود حلال و حرام جو اللہ نے مطعومات میں وضع کیے ہیں۔ لہٰذا بت پرسانہ اوہام کے نتیجے میں حلال و حرام کے ان حدود سے تجاوز مت کرو ور نہ جھوٹ بولو ، اس طرح کہ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دو اور یہ کہو کہ یہ اللہ کا حکم ہے کیونکہ حلال و حرام کے حدود قیود وضع کرنا صرف اللہ کے اختیارات میں ہے۔ اس کا تعلق قانون سازی سے ہے اور قانون سازی کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ جو شخص اللہ کے اذن کے سوا اور قرآن و سنت کی دلیل کے سوا قانون سازی کرے گا اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھے گا وہ جھوٹا ہے اور جھوٹے اللہ کے ہاں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

النحل 16:116

یہ تمہاری زبانیں جو جھوٹے طور پر بعض چیزوں کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہ حرام ہے اور یہ حلال ہے ان کو حلال و حرام نہ سمجھو۔ یہ افتراء علی اللہ ہے۔ نیز تم جو ایسا کہتے ہو کہ یہ حرام ہے اور یہ حلال ہے بغیر دلیل شرعی کے جھوٹ بھی ہے۔ ایسے لوگ ظٓہر ہے کہ دنیا کے چند روزہ زندگی میں ضرورعیش و عشرت کرلیں گے لیکن آخرت میں ان کے لئے عذاب ہے اور یہ لوگ سخت گھاٹے میں ہوں گے۔ ان آیات کے باوجود ، بعض لوگ اسلامی ممالک میں قانون سازی کا کام کرتے ہیں اور ایسی قانون سازی کرتے ہیں جو قرآن و سنت کے صریح خلاف ہوتی ہے اور پھر بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی ہوگی بلکہ عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے۔

النحل 16:117

یہاں سورة انعام کی ایک آیت کے مضمون کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ ان میں بعض مزید چیزیں بھی یہودیوں پر حرام کی گئی تھیں۔ ایک یہ ہے۔ وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر الغنم حرمنا علیھم شحومھما الا ما حملت ظھور ھما او الحوایا او ما اختلط بعظم (6 : 741) ” اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے ، ان پر ہم نے ہر ناخن والی چیز کو حرام کیا تھا اور گائے اور بھیڑ بکری سے ہم نے ان پر چربی حرام کردی تھی ماسوائے اس کے جو ان کی پیٹھ پر یا آنتوں کے ساتھ یا ہڈیوں سے مخلوط ہو “ تو بتایا جاتا ہے کہ یہ چیزیں ان پر بطور سزا حرام ہوئی تھیں۔

النحل 16:118

بنی اسرائیل پر یہ چیزین اس لئے حرام کی گئی تھیں کہ وہ مسلسل نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرتے تھے اور یہ ان کی جانب سے خود پنے آپ پر ظلم تھا۔ اب اگر کسی نے برے کام پر اصرار نہ کیا اور جہالت سے سچے دل سے تائب ہوگیا تو اللہ غفور الرحیم ہے۔ اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ آیت عام ہے یہودیوں کے لئے بھی تھی اور ان کے بعد آج مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ نیز آج یہودی اور غیر یہودی کافر اگر تائب ہوجائیں تو ان کے بھی تمام گناہ بخشے جائیں گے۔ اس مناسبت سے کہ بعض چیزیں یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں اور یہ کہ اہل مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور جن چیزوں کو انہوں نے اپنے الہوں کے نام پر حرام قرار دیا ہے وہ احکام ان کو دین ابراہیم سے ملے ہیں۔ یہاں روئے سخن ابراہیم (علیہ السلام) اور دین ابراہیم کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کیا تھے اور آپ کا دین کیا تھا اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ حقیقی دین ابراہیم پر ہیں اور یہ کہ یہودیوں پر جو مخصوص چیزیں ان کے جرائم کی وجہ سے حرام ہوئیں وہ دین ابراہیم میں حرام نہ تھیں۔

النحل 16:119

بنی اسرائیل پر یہ چیزین اس لئے حرام کی گئی تھیں کہ وہ مسلسل نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرتے تھے اور یہ ان کی جانب سے خود پنے آپ پر ظلم تھا۔ اب اگر کسی نے برے کام پر اصرار نہ کیا اور جہالت سے سچے دل سے تائب ہوگیا تو اللہ غفور الرحیم ہے۔ اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ آیت عام ہے یہودیوں کے لئے بھی تھی اور ان کے بعد آج مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ نیز آج یہودی اور غیر یہودی کافر اگر تائب ہوجائیں تو ان کے بھی تمام گناہ بخشے جائیں گے۔ اس مناسبت سے کہ بعض چیزیں یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں اور یہ کہ اہل مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور جن چیزوں کو انہوں نے اپنے الہوں کے نام پر حرام قرار دیا ہے وہ احکام ان کو دین ابراہیم سے ملے ہیں۔ یہاں روئے سخن ابراہیم (علیہ السلام) اور دین ابراہیم کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کیا تھے اور آپ کا دین کیا تھا اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ حقیقی دین ابراہیم پر ہیں اور یہ کہ یہودیوں پر جو مخصوص چیزیں ان کے جرائم کی وجہ سے حرام ہوئیں وہ دین ابراہیم میں حرام نہ تھیں۔

النحل 16:120

قرآن کریم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بطور نمونہ ہدایت ، مجسمہ انابت اور صبرو شکر کا پیکر اور مطیع اور عبادت گزار بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ وہ امت تھے ، یعنی ان کے اندر جو اطاعت ، انابت اور شکر و برکت تھی وہ پوری امت کے برابر تھی۔ یا اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ امام ہدایت تھے…مفسرین سے دونوں مفہوم مروی ہیں۔ اور دونوں مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ کیونکہ جو امام ہدایت کی راہ دکھائے وہی امت کا قائد ہوتا ہے اور ایسے امام کو ان تمام لوگوں کے اعمال کا ثواب بھی ملے گا جن کو اس نے ہدایت کا راستہ دکھایا۔ اس طرح یہ راہنما بذات خود ایک امت بن جاتا ہے۔ وہ فرد واحد نہیں رہتا۔ قائنا للہ (61 : 021) کا مفہوم ہے اطاعت گزار ، خشوع کرنے والا اور عبادت کرنے والا۔ حنیفا (61 : 021) کا مفہوم ہے حق کی طرف متوجہ ہونے والا۔ سچائی کا قلبی میلان رکھنے والا۔ ولم یک من المشرکین (61 : 021) ” وہ مشرکین میں سے نہ تھے “۔ لہٰذا مشرکین کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنا تعلق ان سے ظاہر کریں۔ نہ اپنے آپ کو ان کے ذریعے متبرک بنائیں۔

النحل 16:121

شاکر الانعمہ (61 : 121) ” وہ اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار تھے “۔ قول کے ساتھ بھی اور عمل کے ساتھ بھی۔ جبکہ مشرکین مکہ زبانی طور پر بھی اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے ہیں اور عملاً بھی کفران نعمت کرتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ اللہ کے انعامات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اور محض اوہام اور خواہشات کے نتیجے میں اللہ کی بعض نعمتوں کو اپنے اوپر حرام کرتے ہیں۔ اجتبہ (61 : 121) ” اللہ نے انہیں چن لیا “۔ وھدہ الی صراط مستقیم (61 : 121) ” اور اسے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی “ اور صراط مستقیم خالص اور سیدھی توحید کی راہ ہے۔ یہ ہیں حضرت ابراہیم جن کے ساتھ یہودی بھی تعلق جوڑتے ہیں اور جن کے ساتھ مشرکین مکہ بھی اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔

النحل 16:122

شاکر الانعمہ (61 : 121) ” وہ اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار تھے “۔ قول کے ساتھ بھی اور عمل کے ساتھ بھی۔ جبکہ مشرکین مکہ زبانی طور پر بھی اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے ہیں اور عملاً بھی کفران نعمت کرتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ اللہ کے انعامات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اور محض اوہام اور خواہشات کے نتیجے میں اللہ کی بعض نعمتوں کو اپنے اوپر حرام کرتے ہیں۔ اجتبہ (61 : 121) ” اللہ نے انہیں چن لیا “۔ وھدہ الی صراط مستقیم (61 : 121) ” اور اسے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی “ اور صراط مستقیم خالص اور سیدھی توحید کی راہ ہے۔ یہ ہیں حضرت ابراہیم جن کے ساتھ یہودی بھی تعلق جوڑتے ہیں اور جن کے ساتھ مشرکین مکہ بھی اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔

النحل 16:123

ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابرھیم حنیفا وما کان من المشرکین (61 : 321) ” اور پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکین میں سے نہ تھا “۔ پس ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حقیقی رابطہ اس دین جدید کا ہے۔ رہا یہ سوال کہ سبت کی تحریم یعنی ہفتے کے دن دنیاوی کاموں کی ممانعت تو یہ صرف یہودیوں کے ساتھ مخصوص معاملہ تھا۔ اس میں بھی انہوں نے اختلافات کیے۔ سبت کی تحریم کا بھی دین ابراہیم سے تعلق نہیں ہے لہذا سبت کی تحریم دین محمد میں بھی نہیں ہے۔

النحل 16:124

انما جعل الشبت علی الذین اختلفوا فیہ (61 : 421) ” رہا سبت تو وہ ہم نے ان لوگوں پر مسلط کیا تھا جنوہوں نے اس کے احکام میں اختلاف کیا “۔ اور اس کا فیصلہ بھی اللہ کے حوالے ہے۔ وان ربک لیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون (61 : 421) ” اور یقینا تیرا رب قیامت کے روز ان سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں “۔ یہاں تک دین جدید اور خالص عقیدہ توحید اور دین ابراہیم اور ان کے عقیدہ توحید کے باہم تعلق اور ان دونوں اور مشرکین و یہود کے منحرف عقائد کے درمیان فرق و امتیاز کی بات تھی۔ قرآن مجید کے مقاصد میں سے یہ ایک اہم مقصد بھی تھا۔ اب آخر میں رسول اللہ ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپے رب کی راہ میں آگے بڑھتے رہیں اور بہترین نصیحت اور حکمت اور اعتدال کے ساتھ اپنی دعوت کو پھیلاتے رہیں۔ اگر مخالفین کے ساتھ مکالمہ کرنا پڑے تو یہ نہایت ہی احسن طریقے سے ہونا چاہیے۔ ہاں اگر مخالفین تحریک اسلامی پر دست درازی کریں تو انتقام میں حد سے نہ گزریں اور قصاص کی حد تک اپنی جوابی کاروائی محدود رکھیں۔ ہاں اگر آپ مخالفین کی بعض قابل معافی حرکات سے درگزر کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ آپ اطمینان رکھیں کہ اچھا انجام یقینا خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں۔ اگر وہ مان کر نہیں دیتے اور اگر وہ آپ کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف مکاریاں کرتے ہیں تو بھی آپ پرواہ نہ کریں۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔

النحل 16:125

یہ ہیں دعوت اسلامی کی بنیادیں اور یہ ہیں تحریک اسلام کے کام کے اصول و قواعد اور یہ طریقہ کار خود نبی کریم ﷺ کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ نیز آپ ﷺ کے بعد آنے والے تمام اور داعیان حق کے لئے یہی دستور العمل ہے اور یہی منہاج دعوت ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ یہ دعوت الی اللہ ہے۔ اللہ کے راستے اور اللہ کے نظام کی طرف دعوت کسی شخصیت یا کسی قوم کی طرف نہیں ہے۔ اس میں داعی کا کردار صرف یہ ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔ اس لئے دعوت دینا اس کا کوئی احسان نہیں ہے کہ وہ جتلاتا پھرے نہ دعوت اسلامی پر احسان ہے اور ان لوگوں پر احسان ہے جو داعی کے پیروکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس کا اجر بھی اللہ پر ہے۔ دعوت حکمت اور حسن تدبیر کے ساتھ جاری رہنی چاہیے۔ مخاطب کے ظروف و احوال کو اس میں مد نظر رکھنا چاہیے اور یہ متعین کرنا چاہیے کہ بیک وقت مخاطب کو کس قدر دعوت دینا چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ لوگوں کو اس قدر احکام اور نواہی مختصر وقت میں سنادئیے جائیں اور وہ ذہنا ان کے لئے تیار نہ ہوں۔ یوں وہ اسے بوجھ اور ناقابل برداشت بوجھ سمجھ لیں۔ طریقہ دعوت مناسب ہو۔ ظروف و احوال کے مطابق ہو اور اس میں تبدیلی ہوتی رہے۔ داعی جوش و خروش میں آکر سختی نہ کرے نہ حکمت سے زیادہ جوش و غیرت پیدا کرے۔ ہر معاملے میں اعتدال سے کام لے۔ اس کا اندازوعظ نرم اور نہایت ہی دلکش ہو۔ بات اس اندا میں ہو کہ دل و دماغ میں بیٹھ جائے۔ صرف کو سنے اور شرمندہ کرنے کے اندز ہی کو نہ اپنائیں۔ نیز داعی لوگوں کی ان غلطیوں کو نہ کھولے جو جہالت اور نادانی کی وجہ سے کسی سے سر زد ہوجائیں۔ بعض اوقات ایسی غلطیاں نیک نیتی سے ہوجاتی ہیں۔ وعظم میں نرمی سے بعض اوقات نہایت ہی سرکش اور اخلاق سے گرے ہوئے لوگ بھی ہدایت پا لیتے ہیں۔ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر ، لیکن زجر و توجیح اور لعنت و ملامت کا اثر بعض اوقات الٹا ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ اگر مجادلہ کا موقع پیش آئے تو وہ بھی احسن طریق سے ہو۔ یہ مناسب نہ ہوگا کہ مخالف پر داعی حملہ آور ہوجائے اور اس کو ذلیل کرے یا اس کی قباحتیں بیان کرے۔ دعت میں مباحثے کا انداز یہ ہو کہ مخاطب کو یقین ہوجائے کہ دعوت دینے والا محض غلبہ اور کلام میں برتری کا حصول نہیں چاہتا بلکہ داعی محض ایک حقیقت ذہن نشین کرانا چاہتا ہے۔ ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ عناد کا مادہ ہوتا ہے اور ہر شخص کی عزت نفس ہوتی ہے۔ وہ آخر دم تک اپنی رائے کی مدافعت چاہتا ہے تاکہ ہر ہزیمت اور شکست سے بچے۔ اعتقاد و نظریہ دراصل رائے ہوتی ہے اور لوگ رائے کی قدر قیمت اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ اگر کسی کو رائے بدلنے کا کہا جائے تو سمھتے ہیں کہ ان کے رعب ، ان کے احترام اور ان کی شخصیت میں فرق آجائے گا۔ اگر داعی اچھے انداز میں مباحثہ اور مکالمے کرے تو اس سے کسی شخص کے ذاتی احساس کو ٹھیس نہ پہنچے گی اور مخاطب یہ سمجھے گا کہ اس کی عزت نفس ، اس کی شخصیت اور عزت و کرامت محفوظ ہے اور داعی صرف دعوت پہنچانا چاہتا ہے۔ محض اللہ کے لئے اسے ایک اچھی راہ کی طرف بلا رہا ہے۔ اس کام سے اس کی کوئی ذاتی غرض وابستہ نہیں ہے ، نہ وہ اپنی فتح اور مخاطب کی شکست چاہتا ہے۔ داعی کے زیادہ جوش اور جذبے کو ذرا کم کرنے کی خاطر نص قرآنی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ دراصل اللہ ہی زیادہ علیم ہے وہی جانتا ہے کہ کون گمراہ ہے اور کون ہدایت پانے والا ہے۔ لہٰذا بحث و مباحثے کے اندر بہت زیادہ جوش اور جدال کی ضرورت نہیں ہے بلکہ شستہ انداز میں دعوت دے دی جائے اور اس کے بعد اس کے نتائج اللہ پر چھوڑ دئیے جائیں۔ جب تک دعوت اسلامی میں کارکردگی صرف لسانی دعوت اور دلیل کے ساتھ بحث و مباحثے تک محدود ہے ، دعوت اسلامی کا اسلامی دستور العمل یہی ہے۔ لیکن اگر مخالف دست درازی پر اتر آئے تو پھر یہ پالیسی نہ رہے گی کیونکہ دست درازی ایک محسوس اور مادی فعل ہے۔ سچائی کی عزت اور سچائی کے مقام کو بحال رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ باطل کی طرف سے دست درازی کا مناسب جواب دیا جائے۔ یہ نہ ہو کہ باطل ماحول پر پوری طرح غالب آجائے۔ ہاں باطل کی دست درازی کا جواب بھی حدودو قیود کے اندر ہو۔ یہ نہ ہو کہ مخالف کو ذلیل کرکے عبرت آموز سزا دی جائے ۔ کیونکہ اسلام ایک عادلانہ دین ہے۔ یہ امن و سلامتی کو بہت پسند کرتا ہے۔ اسلام صرف اپنی ذات اور اہل اسلام کا دفاع چاہتا ہے۔ وہ کسی صورت میں زیادتی اور دست درازی کا قائل نہیں ہے۔

النحل 16:126

وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبئتم بہ (61 : 621) ” اگر تم بدلہ لو تو اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی “۔ یہ دعوت اسلامی کے طریقہ کار سے باہر کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے اندر داخل ہے۔ دعوت اسلامی کا دفاع کرنا اور اس معاملے میں اعتدال کا رویہ اپنانا ، یہ تحریک اسلامی کے وقار اور عزت کا باعث ہوگا۔ لوگوں کے دلوں میں یہ کوئی بےوقعت دعوت نہ ہوگی۔ کوئی ایسی دعوت جس کا وقار نہ ہو ، لوگ اسے ہرگز قبول نہیں کرتے۔ نہ لوگوں کو یہ یقین آتا ہے کہ یہ دعوت دین ہے۔ نیز اللہ کا یہ منشا نہیں ہے کہ وہ دعوت اسلامی کو یوں بےوقار اور لاچار چھوڑ دے جو اپنے عزت و وقار کا دفاع نہ کرسکتی ہو۔ اس لئے اہل ایمان جب تک کہ وہ اللہ کے دین کے داعی ہوں ، ذلت ہرگز برداشت نہیں کرسکتے۔ نیز داعی کا منصب یہ ہے کہ وہ اس کرہ ارض پر سچائی کا امین ہے۔ اس نے لوگوں کے درمیان عدل و انصاف قائم کرنا ہے ، اور اس نے ہی انسانیت کی قیادت راہ راست کی طرف کرنی ہے۔ وہ یہ کام ہرگز نہیں کرسکتے اگر ان کو سزا دی جائے اور وہ بدلہ نہ لے سکیں اور وہ دست درازی کرنے والے کی مناسب سرزنش نہ کرسکیں۔ اس سلسلے میں مناسب جواب اور سرزنش کا اصول ، اصول قصاص ہوگا۔ قرآن کا اصل منشا تو یہ ہے کہ انسان عفو و درگزر سے کام لے۔ لیکن عفو و درگزر اس وقت ہوتا ہے جب انسان انتقام اور بدلہ لینے پر قدرت رکھتا ہو اور ایسے حالات میں عفو و درگزر کا بہت ہی اچھا اثر ہوتا ہے اور دعوت کو بہت فائدہ بھی ہوتا ہے۔ اگر بعض افراد پر دست درازی ہو لیکن دعوت کو فائدہ ہو تو اشخاص پر تعدی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن اگر عفو و درگزر سے دعوت الیٰ اللہ کی توہین ہوتی ہو اور اس کے وقار پر حرف آتا ہو تو اس صورت میں قصاص کا اصول ہی بہتر ہے۔ چونکہ صبر اور درگزر کرنے سے داعی اپنے جذبات اور جذبہ انتقام پر کنٹرول کرنا سیکھتا ہے اس لئے قرآن کریم اس فعل اور اس کے اجر کو اللہ اور آخرت سے وابستہ کرتا ہے۔ ولئن صبرتم لھو خیر للصبرین (621) واصبر وما صبرک انا باللہ (721) (61 : 621۔ 721) ” لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے اور صبر کرو ، تمہارا صبر اللہ ہی کے لئے ہے “۔ یہ اللہ ہی ہے جو صبر اور ضبط نفس کی توفیق دیتا ہے اور اس میں انسان کا مددگار ہوتا ہے اور یہ جذبہ للبیت ہی ہے جو انسان کو ذاتی انتقام اور قصاص اور بدلہ لینے کے مقابلے میں صبر پر آمادہ کرتا ہے۔ قرآن کریم نبی ﷺ کے لئے نصیحت کے انداز میں یہ اصول وضع کر رہا ہے اور آپ کے ہر دعوت دین دینے والے کے لئے یہی ضابطہ عمل ہے کہ اگر لوگ ہدایت کی راہ پر نہیں آتے تو وہ پریشان نہ ہو۔ اس کا فرض وہی ہے جو وہ ادا کر رہا ہے۔ ہدایت و ضلالت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہدایت و ضلالت سنت الہٰیہ کے مطابق ہے اور سنت الہٰیہ وہ استعداد ہے جو ہدایت و ضلالت کے لئے اللہ نے نفوس انسانیہ کے اندر ودیعت کردی ہے۔ نیز یہ کہ مخالفین کی مکاریوں کی وجہ سے داعی دل تنگ نہ ہو۔ کیونکہ وہ تو داعی ہے۔ اللہ اس کا محافظ ہے۔ وہی مخالفین کی مکاریوں اور ریشہ دوانیوں کا جواب دے گا۔ اللہ کسی داعی کو اس کے مخالفین کے حوالے نہیں کرتا بشرطیکہ وہ دعوت میں مخلص ہے ، اللہ کے لئے کام کر رہا ہے اور اس کے پیش نظر کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ یہ جو اس کو اذیت دی جا رہی ہے یہ اس کے صبر کا امتحان ہے۔ اللہ کی نصرت آنے میں دیر اس لئے ہو رہی ہے کہ اللہ پر اس کے بھروسے اور یقین کو آزمایا جارہا ہے لیکن اچھا انجام یقینی ہے اور فتح اس کے قدم چومنے سے والی ہے۔

النحل 16:127

وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبئتم بہ (61 : 621) ” اگر تم بدلہ لو تو اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی “۔ یہ دعوت اسلامی کے طریقہ کار سے باہر کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے اندر داخل ہے۔ دعوت اسلامی کا دفاع کرنا اور اس معاملے میں اعتدال کا رویہ اپنانا ، یہ تحریک اسلامی کے وقار اور عزت کا باعث ہوگا۔ لوگوں کے دلوں میں یہ کوئی بےوقعت دعوت نہ ہوگی۔ کوئی ایسی دعوت جس کا وقار نہ ہو ، لوگ اسے ہرگز قبول نہیں کرتے۔ نہ لوگوں کو یہ یقین آتا ہے کہ یہ دعوت دین ہے۔ نیز اللہ کا یہ منشا نہیں ہے کہ وہ دعوت اسلامی کو یوں بےوقار اور لاچار چھوڑ دے جو اپنے عزت و وقار کا دفاع نہ کرسکتی ہو۔ اس لئے اہل ایمان جب تک کہ وہ اللہ کے دین کے داعی ہوں ، ذلت ہرگز برداشت نہیں کرسکتے۔ نیز داعی کا منصب یہ ہے کہ وہ اس کرہ ارض پر سچائی کا امین ہے۔ اس نے لوگوں کے درمیان عدل و انصاف قائم کرنا ہے ، اور اس نے ہی انسانیت کی قیادت راہ راست کی طرف کرنی ہے۔ وہ یہ کام ہرگز نہیں کرسکتے اگر ان کو سزا دی جائے اور وہ بدلہ نہ لے سکیں اور وہ دست درازی کرنے والے کی مناسب سرزنش نہ کرسکیں۔ اس سلسلے میں مناسب جواب اور سرزنش کا اصول ، اصول قصاص ہوگا۔ قرآن کا اصل منشا تو یہ ہے کہ انسان عفو و درگزر سے کام لے۔ لیکن عفو و درگزر اس وقت ہوتا ہے جب انسان انتقام اور بدلہ لینے پر قدرت رکھتا ہو اور ایسے حالات میں عفو و درگزر کا بہت ہی اچھا اثر ہوتا ہے اور دعوت کو بہت فائدہ بھی ہوتا ہے۔ اگر بعض افراد پر دست درازی ہو لیکن دعوت کو فائدہ ہو تو اشخاص پر تعدی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن اگر عفو و درگزر سے دعوت الیٰ اللہ کی توہین ہوتی ہو اور اس کے وقار پر حرف آتا ہو تو اس صورت میں قصاص کا اصول ہی بہتر ہے۔ چونکہ صبر اور درگزر کرنے سے داعی اپنے جذبات اور جذبہ انتقام پر کنٹرول کرنا سیکھتا ہے اس لئے قرآن کریم اس فعل اور اس کے اجر کو اللہ اور آخرت سے وابستہ کرتا ہے۔ ولئن صبرتم لھو خیر للصبرین (621) واصبر وما صبرک انا باللہ (721) (61 : 621۔ 721) ” لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے اور صبر کرو ، تمہارا صبر اللہ ہی کے لئے ہے “۔ یہ اللہ ہی ہے جو صبر اور ضبط نفس کی توفیق دیتا ہے اور اس میں انسان کا مددگار ہوتا ہے اور یہ جذبہ للبیت ہی ہے جو انسان کو ذاتی انتقام اور قصاص اور بدلہ لینے کے مقابلے میں صبر پر آمادہ کرتا ہے۔ قرآن کریم نبی ﷺ کے لئے نصیحت کے انداز میں یہ اصول وضع کر رہا ہے اور آپ کے ہر دعوت دین دینے والے کے لئے یہی ضابطہ عمل ہے کہ اگر لوگ ہدایت کی راہ پر نہیں آتے تو وہ پریشان نہ ہو۔ اس کا فرض وہی ہے جو وہ ادا کر رہا ہے۔ ہدایت و ضلالت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہدایت و ضلالت سنت الہٰیہ کے مطابق ہے اور سنت الہٰیہ وہ استعداد ہے جو ہدایت و ضلالت کے لئے اللہ نے نفوس انسانیہ کے اندر ودیعت کردی ہے۔ نیز یہ کہ مخالفین کی مکاریوں کی وجہ سے داعی دل تنگ نہ ہو۔ کیونکہ وہ تو داعی ہے۔ اللہ اس کا محافظ ہے۔ وہی مخالفین کی مکاریوں اور ریشہ دوانیوں کا جواب دے گا۔ اللہ کسی داعی کو اس کے مخالفین کے حوالے نہیں کرتا بشرطیکہ وہ دعوت میں مخلص ہے ، اللہ کے لئے کام کر رہا ہے اور اس کے پیش نظر کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ یہ جو اس کو اذیت دی جا رہی ہے یہ اس کے صبر کا امتحان ہے۔ اللہ کی نصرت آنے میں دیر اس لئے ہو رہی ہے کہ اللہ پر اس کے بھروسے اور یقین کو آزمایا جارہا ہے لیکن اچھا انجام یقینی ہے اور فتح اس کے قدم چومنے سے والی ہے۔

النحل 16:128

ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون (61 : 821) ” بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں اور احسان پر عمل کرتے ہیں “۔ جس کے ساتھ اللہ ہو ، تو اسے کوئی ڈر نہیں ہے۔ جو چاہے اس کے خلاف سازش کرے اور اس کے خلاف تدابیر کرے ، اللہ بہرحال اپنے نیک بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ ہے دعوت اسلامی کا دستور العمل اسے خود باری تعالیٰ نے وضع کیا ہے۔ اگر داعی اس پر چلے تو کامیابی یقینی ہے۔ یہ اللہ کا فرمان ہے اور اللہ سے زیادہ سچی بات کون کرسکتا ہے۔