Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الإسراء 17:1 – الكهف 18:110

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الإسراء 17:1
  2. الإسراء 17:2
  3. الإسراء 17:3
  4. الإسراء 17:4
  5. الإسراء 17:5
  6. الإسراء 17:6
  7. الإسراء 17:7
  8. الإسراء 17:8
  9. الإسراء 17:9
  10. الإسراء 17:10
  11. الإسراء 17:11
  12. الإسراء 17:12
  13. الإسراء 17:13
  14. الإسراء 17:14
  15. الإسراء 17:15
  16. الإسراء 17:16
  17. الإسراء 17:17
  18. الإسراء 17:18
  19. الإسراء 17:19
  20. الإسراء 17:20
  21. الإسراء 17:21
  22. الإسراء 17:22
  23. الإسراء 17:23
  24. الإسراء 17:24
  25. الإسراء 17:25
  26. الإسراء 17:26
  27. الإسراء 17:27
  28. الإسراء 17:28
  29. الإسراء 17:29
  30. الإسراء 17:30
  31. الإسراء 17:31
  32. الإسراء 17:32
  33. الإسراء 17:33
  34. الإسراء 17:34
  35. الإسراء 17:35
  36. الإسراء 17:36
  37. الإسراء 17:37
  38. الإسراء 17:38
  39. الإسراء 17:39
  40. الإسراء 17:40
  41. الإسراء 17:41
  42. الإسراء 17:42
  43. الإسراء 17:43
  44. الإسراء 17:44
  45. الإسراء 17:45
  46. الإسراء 17:46
  47. الإسراء 17:47
  48. الإسراء 17:48
  49. الإسراء 17:49
  50. الإسراء 17:50
  51. الإسراء 17:51
  52. الإسراء 17:52
  53. الإسراء 17:53
  54. الإسراء 17:54
  55. الإسراء 17:55
  56. الإسراء 17:56
  57. الإسراء 17:57
  58. الإسراء 17:58
  59. الإسراء 17:59
  60. الإسراء 17:60
  61. الإسراء 17:61
  62. الإسراء 17:62
  63. الإسراء 17:63
  64. الإسراء 17:64
  65. الإسراء 17:65
  66. الإسراء 17:66
  67. الإسراء 17:67
  68. الإسراء 17:68
  69. الإسراء 17:69
  70. الإسراء 17:70
  71. الإسراء 17:71
  72. الإسراء 17:72
  73. الإسراء 17:73
  74. الإسراء 17:74
  75. الإسراء 17:75
  76. الإسراء 17:76
  77. الإسراء 17:77
  78. الإسراء 17:78
  79. الإسراء 17:79
  80. الإسراء 17:80
  81. الإسراء 17:81
  82. الإسراء 17:82
  83. الإسراء 17:83
  84. الإسراء 17:84
  85. الإسراء 17:85
  86. الإسراء 17:86
  87. الإسراء 17:87
  88. الإسراء 17:88
  89. الإسراء 17:89
  90. الإسراء 17:90
  91. الإسراء 17:91
  92. الإسراء 17:92
  93. الإسراء 17:93
  94. الإسراء 17:94
  95. الإسراء 17:95
  96. الإسراء 17:96
  97. الإسراء 17:97
  98. الإسراء 17:98
  99. الإسراء 17:99
  100. الإسراء 17:100
  101. الإسراء 17:101
  102. الإسراء 17:102
  103. الإسراء 17:103
  104. الإسراء 17:104
  105. الإسراء 17:105
  106. الإسراء 17:106
  107. الإسراء 17:107
  108. الإسراء 17:108
  109. الإسراء 17:109
  110. الإسراء 17:110
  111. الإسراء 17:111
  112. الكهف 18:1
  113. الكهف 18:2
  114. الكهف 18:3
  115. الكهف 18:4
  116. الكهف 18:5
  117. الكهف 18:6
  118. الكهف 18:7
  119. الكهف 18:8
  120. الكهف 18:9
  121. الكهف 18:10
  122. الكهف 18:11
  123. الكهف 18:12
  124. الكهف 18:13
  125. الكهف 18:14
  126. الكهف 18:15
  127. الكهف 18:16
  128. الكهف 18:17
  129. الكهف 18:18
  130. الكهف 18:19
  131. الكهف 18:20
  132. الكهف 18:21
  133. الكهف 18:22
  134. الكهف 18:23
  135. الكهف 18:24
  136. الكهف 18:25
  137. الكهف 18:26
  138. الكهف 18:27
  139. الكهف 18:28
  140. الكهف 18:29
  141. الكهف 18:30
  142. الكهف 18:31
  143. الكهف 18:32
  144. الكهف 18:33
  145. الكهف 18:34
  146. الكهف 18:35
  147. الكهف 18:36
  148. الكهف 18:37
  149. الكهف 18:38
  150. الكهف 18:39
  151. الكهف 18:40
  152. الكهف 18:41
  153. الكهف 18:42
  154. الكهف 18:43
  155. الكهف 18:44
  156. الكهف 18:45
  157. الكهف 18:46
  158. الكهف 18:47
  159. الكهف 18:48
  160. الكهف 18:49
  161. الكهف 18:50
  162. الكهف 18:51
  163. الكهف 18:52
  164. الكهف 18:53
  165. الكهف 18:54
  166. الكهف 18:55
  167. الكهف 18:56
  168. الكهف 18:57
  169. الكهف 18:58
  170. الكهف 18:59
  171. الكهف 18:60
  172. الكهف 18:61
  173. الكهف 18:62
  174. الكهف 18:63
  175. الكهف 18:64
  176. الكهف 18:65
  177. الكهف 18:66
  178. الكهف 18:67
  179. الكهف 18:68
  180. الكهف 18:69
  181. الكهف 18:70
  182. الكهف 18:71
  183. الكهف 18:72
  184. الكهف 18:73
  185. الكهف 18:74
  186. الكهف 18:75
  187. الكهف 18:76
  188. الكهف 18:77
  189. الكهف 18:78
  190. الكهف 18:79
  191. الكهف 18:80
  192. الكهف 18:81
  193. الكهف 18:82
  194. الكهف 18:83
  195. الكهف 18:84
  196. الكهف 18:85
  197. الكهف 18:86
  198. الكهف 18:87
  199. الكهف 18:88
  200. الكهف 18:89
  201. الكهف 18:90
  202. الكهف 18:91
  203. الكهف 18:92
  204. الكهف 18:93
  205. الكهف 18:94
  206. الكهف 18:95
  207. الكهف 18:96
  208. الكهف 18:97
  209. الكهف 18:98
  210. الكهف 18:99
  211. الكهف 18:100
  212. الكهف 18:101
  213. الكهف 18:102
  214. الكهف 18:103
  215. الكهف 18:104
  216. الكهف 18:105
  217. الكهف 18:106
  218. الكهف 18:107
  219. الكهف 18:108
  220. الكهف 18:109
  221. الكهف 18:110

الإسراء 17:1

سورت کا آغاز تسبیح سے ہوتا ہے ، چونکہ مقام ایسا ہے جہاں بندے اور رب کی ملاقات ہور ہی ہے ، اس لئے ایسی فضا اور ایسے حالات میں تسبیح و تحلیل ایک مناسب فعل ہے اور حضرت محمد ﷺ کی صفت عبدیت کو یہاں خصوصیات کے ساتھ اس لئے بیان کیا گیا کہ اس قدر عروج اور بلندی درجات حضور اکرم ﷺ اللہ کے بندے ہی ہیں۔ دوسرے غلط مذاہب کی طرح مقام عبودیت اور مقام الوہیت کو ایک کرنے کے بجائے اس کو ممتاز رکھنا چاہیے۔ ان دونوں کا امتزاج ممکن نہیں۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آپ کی ذات میں الوہیت کو جمع کیا گیا۔ یہ محض اس لئے کیا گیا کہ آپ کی ولادت معجزانہ تھی ، آپ سے معجزات کا صدور ہوا اور پھر آپ کو اس دنیا سے معجزانہ طور پر اٹھایا گیا۔ ان وجوہات کی بنا پر بعض لوگوں نے ذات غیبی میں مقام الوہیت و عبودیت کا امتزاج کردیا۔ لیکن اسلامی عقیدے کو اس معاملے میں سادہ ، صاف اور خالص رکھا گیا اور اسلام نے ذات باری کے ساتھ ہر قسم کی شرک کی نفی کی خواہ قریب ہو یا بعید۔ اسراء سری سے مشتق ہے ، جس کے معنی رات کے وقت چلنے کے ہیں۔ اس سے اسریٰ ے مفہوم ہی میں رات کا وقت داخل ہے۔ لہٰذا اسری کے بعد رات کی صراحت ضروری نہیں ہے لیکن سیاق کلام میں رات کی صراحت بھی کردی گئی ہے۔ سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا (71 : 1) ” پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو رات کو “۔ یہ اس لئے کہ اس سفر کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ دکھایا جائے کہ اس سفر پر ات کے سائے تھے ، نہایت ہی پرسکون ماحول تھا۔ اور یہ قرآن کریم کا خصوصی اسلوب ہے کہ وہ ہر واقعہ کے ماحول کو بھی نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتا ہے ، جن حالات میں واقعہ ہوتا ہے۔ ویسی ہی فضا انسان کی قوت مدرکہ اور اس کے نفس پر سایہ فگن ہوجاتی ہے اور وہ واقعہ کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہ سفر مبارکہ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اللہ نے کرایا اور اللہ لطیف وخبیر ہے۔ اس سفر کی غرض وغایت یہ بتانا تھی کہ تمام توحیدی اور ادیان سماوی کا سرچشمہ اور تاریخ ایک ہے ، یہ ادیان ابراہیم اور اسماعیل (علیہم السلام) سے چلے ہیں اور ان کا خاتمہ حضرت محمد خاتم النبین پر ہوا ہے۔ ان ادیان کے مقامات مقدسہ بھی یکساں طور پر قابل احترام ہیں۔ لہٰذا خاتم النبین ، تمام انبیاء اور ان کے مقامت مقدسہ کے وارث اور امین ہیں۔ گویا یہ سفر زمان و مکان کے حدود کے اندر مقید نہیں ہے ، یہ کوئی مخصوص واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک آفاتی سفر ہے اور بادی النظر میں اس سے جو مقصد و مفہوم نکلتا ہے اس سے کہیں آگے اس کی غرض وغایت زیادہ وسیع ہے اور اس کے اندر گہری حکمت ہے۔ یہاں مسجد اقصیٰ کی تعریف میں یہ کہا گیا ہے۔ الذی برکنا حولہ (71 : 1) ” جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسجد پر ہر وقت برکات الہیہ کا فیضان ہوتا رہتا ہے اور وہ اس میں ڈوبی ہوتی ہے۔ اگر یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے اسے بابرکت بنایا ہے یا یہ کہا جاتا کہ اس میں برکات ہیں تو مفہوم میں اس قدر وسعت نہ ہوتی جس طرح ان الفاظ میں ہے کہ ہم نے اس کے ماحول کو بابرکت بنایا ہے۔ یہ سفر بذات خود بھی ایک معجزہ تھا ، لیکن اس کے اندر آپ کو مزید معجزات اور آیات کی سیر بھی کرالی گئی۔ لنریہ من ایتنا (71 : 1) ” تاکہ ہم اسے کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائیں “۔ سب سے پہلے تو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر ہی ایک معجزہ ہے ، کہ اس قدر قلیل وقت میں یہ سفر اختتام کو پہنچا کہ حضور ﷺ کا بستر بھی ٹھنڈا نہ ہوا تھا ، چاہے اس سفر کی کیفیت جو بھی ہو ، بہرحال یہ ایک معجزہ تھا ، مقصد یہ تھا کہ حضور ﷺ کو وسیع تر کائنات کی سیر کرائی جائے اور یہ بتایا جائے کہ اس انسانی مخلوق کی ذلت میں بڑے بڑے کمالات پوشیدہ ہیں ، نیز اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ حضرت خاتم النین کو ان حقائق کے ادراک کے لئے تیار کیا جائے جو انبیاء کی ذات پر البقاء ہوتے ہیں ، اور جن کے اخذ کی استعداد صرف ان مخصوص بندوں کو دی جاتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ رسالت کا اعزاز بخشنے کے لئے منتخب کیا ہے اور یہ انبیاء اسی نوع بشر سے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے خلق کثیر پر فضیلت دی ہوتی ہے اور جس کے اندر اللہ نہایت ہی لطیف اسرار رکھے ہوتے ہیں۔ انہ ھو السمیع البصیر (71 : 1) ” وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے “۔ وہ ہر لطیف اور باریک چیز کو نگاہ میں رکھتا ہے۔ ایسی آواز بھی سنتا ہے جو بہت ہی دھیمی ، ہو یعنی وہ تمام لطائف اور تمام اسرار سے واقف ہے۔ سیاق کلام میں آغاز اللہ کی تسبیح سے ہوتا ہے۔ سبحن الذی اسری بعبدہ نیلا (71 : 1) اور تسبیح اللہ کی تعریف ہے۔ اس کے بعد مقصد سفر بتایا جاتا ہے جو اثباتی اور قطعی پہلو رکھتا ہے۔ لنریہ من ایتنا (71 : 1) اور اس کے بعد پھر اللہ کی تعریف کی طرف بات منتقل ہوجاتی ہے۔ یہ سب مطالب و مفہومات اپنے اندر ایک گہرا توازن رکھتے ہیں۔ تسبیح تو صفت باری تعالیٰ ہے جو انسان کی طرف سے اللہ کے لئے ہے۔ مقصد اللہ کی طرف سے ایک فیصلہ ہے اور سمیع وبصیر اللہ ہی کی صفت وائمہ قائمہ ہے جو خبر کے انداز میں بیان ہوئی ہے۔ غرض ایک ہی آیت میں یہ سب معانی بڑی خوبصورتی کے ساتھ جمع ہوگئے ہیں اور جو اپنا مفہوم نہایت ہی باریکی سے ادا کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کو رات کا یہ سفر کرانا ایک معجزہ ہے۔ جس طرح دوسرے معجزات اللہ تعالیٰ صادر فرماتا رہا ہے۔ معجزہ یوں ہے کہ انسان سفر کے سلسلے میں جس انداز کا عادی ہے اس سے ذرا ہٹ کر ہے۔ مسجد اقصیٰ اس سفر میں ایک مرحلہ رہا ہے۔ مسجد اقصیٰ اس علاقے کا قلب ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بسایا اور پھر وہاں سے ان کو نکالا۔ درج ذیل آیات کے ضمن میں بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ کے واقعات آئیں گے۔

الإسراء 17:2

تشریح : بنی اسرائیل کی سیرت اور تاریخ کا یہ حصہ قرآن کریم کی صرف اسی سورت میں بیان ہوا ہے اس میں بنی اسرائیل کے اس انجام کا ذکر ہے جس پر وہ پہنچے اور جس کے نتیجے میں ان کی عزت و شوکت ، زوال و نکبت سے بدل گئی۔ اس تاریخی تبصرہ کے ذریعے انسانوں کو یہ سمجھایا گیا کہ اقوام کے عروج وزوال میں اصلاح و فساد کا کتنا گہرا دخل ہوا کرتا ہے۔ بعد کی آیات میں ، اسی سورت میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ سنت الہیہ ہے اللہ جس قوم کو ہلاک کرنا چاہتے ہے وہ اس قوم کے مترفین کے اندر فساد پیدا کرتا ہے ، وہ بگاڑ میں ڈوب جاتے ہیں اور ہلاک کردئیے جاتے اور اس طرح نیست و نابود ہوجاتے ہیں۔ یہاں ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کو تورات دی گئی۔ اس میں ان کے لئے ہدایات تھیں ، پھر ان کے جد امجد حضرت نوح (علیہ السلام) جو عبد ، شکور اور صالح تھے اور وہ آباء و اجداد جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ یہ سب لوگ صالح اور مومن تھے کیونکہ انہوں نے اپنے ساتھ کشتی میں صالحین مومنین کو بٹھایا تھا۔ واتینا موسیٰ الکتب وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل الا تنخذوا من دونی وکیلا (2) ذریۃ من حملنا مع نوح انہ کان عبد الشکورا (3) (71 : 2۔ 3) ” ہم نے اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی اور اسے بنی اسرائیل کے لئے ذریعہ ہدایت بنایا تھا۔ اس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) ایک شکر گزار بندہ تھا “۔ بنی اسرائیل کو کتاب کے ذریعہ یاد دہانی اور ڈراوا اس لئے دیا گیا کہ اللہ کا یہ اصول ہے کہ وہ کسی قوم کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا یا عذاب نہیں دیتا جب تک ان پر رسولوں کے ذریعہ حجت تمام نہ ہوجائے۔ جس کا تذکرہ بھی بصر احت جلد ہی آئے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ بنی اسرائیل کو کتاب دینے کا پہلا مقصد یہ بتایا گیا۔ ھدی لبنی اسرائیل الا تتخذوا من دونی وکیلا (71 : 2) ” اسے بنی اسرائیل کے لئے ذریعہ ہدایت بنایا اور یہ تاکید کہ میرے سوا کسی کو وکیل نہ بنانا “۔ یعنی صرف اللہ پر بھروسہ کرو ، صرف اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوجائو ، یہی ہدایت ہے اور یہی اصل ایمان ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کو وکیل بناتا ہے وہ نہ ہدایت پر ہے اور نہ مومن ہے۔ ان کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھا اور اس جہاں کے عہد اول میں یہی لوگ خلاصہ انسانیت تھے۔ کیونکہ وہ حضرت نوح کے یعنی ایک عہد شکور کے ساتھی اور رفقاء تھے اور صالح لوگ تھے ، اس طرح اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایک مومن کا حقیقی شجرہ ٔ نسب اس کا ایمانی شجرہ نسب ہوتا ہے۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کی صفت عبودیت کا ذکر ہوا ہے کیونکہ یہی انسانیت کی اصل غایب ہے ، لیکن اس کے علاوہ یہ حکمت بھی ہے کہ یہاں چونکہ حضر محمد ﷺ کی صفت عبدہ کا ذکر ہوگیا تھا اس لئے رسولوں میں سے ایک دوسرے ممتاز رسول ، حضرت نوع (علیہ السلام) کی صفت عبودیت کا بھی تذکرہ کردیا گیا اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ ہر صورت میں ایک مخصوص انداز بیان اپناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی تھی اس میں بنی اسرائیل کو صاف صاف بتایا تھا کہ تمہارے فساد کی وجہ سے تمہیں ہلاک کردیا جائے گا۔ تم دو مرتبہ فساد اور بگاڑ میں مبتلا ہوگئے اور دو مرتبہ تمہیں بلاک کیا جائے گا۔ کیونکہ ہلاکت و بربادی کے اسباب تم دو مرتبہ فراہم کرو گے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت اٹل ہوتی ہے۔ جو قوم بھی فساد و بگاڑ میں مبتلا ہو وہ ہلاک کردی جاتی ہے۔

الإسراء 17:3

تشریح : بنی اسرائیل کی سیرت اور تاریخ کا یہ حصہ قرآن کریم کی صرف اسی سورت میں بیان ہوا ہے اس میں بنی اسرائیل کے اس انجام کا ذکر ہے جس پر وہ پہنچے اور جس کے نتیجے میں ان کی عزت و شوکت ، زوال و نکبت سے بدل گئی۔ اس تاریخی تبصرہ کے ذریعے انسانوں کو یہ سمجھایا گیا کہ اقوام کے عروج وزوال میں اصلاح و فساد کا کتنا گہرا دخل ہوا کرتا ہے۔ بعد کی آیات میں ، اسی سورت میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ سنت الہیہ ہے اللہ جس قوم کو ہلاک کرنا چاہتے ہے وہ اس قوم کے مترفین کے اندر فساد پیدا کرتا ہے ، وہ بگاڑ میں ڈوب جاتے ہیں اور ہلاک کردئیے جاتے اور اس طرح نیست و نابود ہوجاتے ہیں۔ یہاں ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کو تورات دی گئی۔ اس میں ان کے لئے ہدایات تھیں ، پھر ان کے جد امجد حضرت نوح (علیہ السلام) جو عبد ، شکور اور صالح تھے اور وہ آباء و اجداد جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ یہ سب لوگ صالح اور مومن تھے کیونکہ انہوں نے اپنے ساتھ کشتی میں صالحین مومنین کو بٹھایا تھا۔ واتینا موسیٰ الکتب وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل الا تنخذوا من دونی وکیلا (2) ذریۃ من حملنا مع نوح انہ کان عبد الشکورا (3) (71 : 2۔ 3) ” ہم نے اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی اور اسے بنی اسرائیل کے لئے ذریعہ ہدایت بنایا تھا۔ اس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) ایک شکر گزار بندہ تھا “۔ بنی اسرائیل کو کتاب کے ذریعہ یاد دہانی اور ڈراوا اس لئے دیا گیا کہ اللہ کا یہ اصول ہے کہ وہ کسی قوم کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا یا عذاب نہیں دیتا جب تک ان پر رسولوں کے ذریعہ حجت تمام نہ ہوجائے۔ جس کا تذکرہ بھی بصر احت جلد ہی آئے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ بنی اسرائیل کو کتاب دینے کا پہلا مقصد یہ بتایا گیا۔ ھدی لبنی اسرائیل الا تتخذوا من دونی وکیلا (71 : 2) ” اسے بنی اسرائیل کے لئے ذریعہ ہدایت بنایا اور یہ تاکید کہ میرے سوا کسی کو وکیل نہ بنانا “۔ یعنی صرف اللہ پر بھروسہ کرو ، صرف اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوجائو ، یہی ہدایت ہے اور یہی اصل ایمان ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کو وکیل بناتا ہے وہ نہ ہدایت پر ہے اور نہ مومن ہے۔ ان کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھا اور اس جہاں کے عہد اول میں یہی لوگ خلاصہ انسانیت تھے۔ کیونکہ وہ حضرت نوح کے یعنی ایک عہد شکور کے ساتھی اور رفقاء تھے اور صالح لوگ تھے ، اس طرح اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایک مومن کا حقیقی شجرہ ٔ نسب اس کا ایمانی شجرہ نسب ہوتا ہے۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کی صفت عبودیت کا ذکر ہوا ہے کیونکہ یہی انسانیت کی اصل غایب ہے ، لیکن اس کے علاوہ یہ حکمت بھی ہے کہ یہاں چونکہ حضر محمد ﷺ کی صفت عبدہ کا ذکر ہوگیا تھا اس لئے رسولوں میں سے ایک دوسرے ممتاز رسول ، حضرت نوع (علیہ السلام) کی صفت عبودیت کا بھی تذکرہ کردیا گیا اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ ہر صورت میں ایک مخصوص انداز بیان اپناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی تھی اس میں بنی اسرائیل کو صاف صاف بتایا تھا کہ تمہارے فساد کی وجہ سے تمہیں ہلاک کردیا جائے گا۔ تم دو مرتبہ فساد اور بگاڑ میں مبتلا ہوگئے اور دو مرتبہ تمہیں بلاک کیا جائے گا۔ کیونکہ ہلاکت و بربادی کے اسباب تم دو مرتبہ فراہم کرو گے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت اٹل ہوتی ہے۔ جو قوم بھی فساد و بگاڑ میں مبتلا ہو وہ ہلاک کردی جاتی ہے۔

الإسراء 17:4

وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتب لتفسدون فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا (71 : 4) ” پھر ہم اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر بھی متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھائو گے “۔ یہ تنبیہ ان کو دراصل اس بات کی پیشگی اطلاع تھی کہ تمہارے ساتھ یہ یہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ اللہ ان کے ہونے والے انجام سے پیشگی باخبر تھا۔ یہ اطلاع محض پیشگی علم کی وجہ سے تھی۔ اس میں ان کے لئے جبر کا کوئی پہلو نہ تھا۔ یا یہ کہ ان کے اندر جو فساد بعد میں پیدا ہوا ، وہ محض اس پیشگی اطلاع کی وجہ سے پیدا ہوا ، کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کسی کو فساد پر مجبور کرے۔ قل ان اللہ لا یا مر بالفحشاء ” کہہ دو ، اللہ فحاشی پھیلانے کا حکم نہیں دیتا “۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ کیا کرنے والے تھے۔ اللہ کے علم میں جو بات ہوتی ہے ، اگرچہ بشر کو اس کا علم نہیں ہوتا اور پردہ تب اٹھتا ہے جو بشر اس کام کو کر بیٹھتا ہے۔ اللہ کا فیصلہ یہ تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب میں بتا بھی دیا تھا کہ بنی اسرائیل اپنی تاریخ میں دو مرتبہ فساد برپا کریں گے۔ اور اس طرح وہ زمین میں سرکشی اختیار کرلیں گے۔ بیت المقدس پر ان کا غلبہ ہوگا۔ لیکن اپنے اس غلبے کو دوہ ذریعہ فساد بتائیں گے۔ جن لوگوں پر ان کو برتری حاصل ہوگی ان کی جان اور آبرو کے نزدیک مباح ہوجائے گی اور یہ لوگوں کو تباہ کردیں گے۔

الإسراء 17:5

فاذا جاء وعدا اولھما بعثنا علیکم عبادالنا اولی باس شدید فحاسوا خلل الدیار وکان وعدا مفعولا (71 : 5) ” آخر کار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا ، تو اے بنی اسرائیل ، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اتھائے جو نہایت زور آور تجھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا “۔ یہ ان کی پہلی سرکشی تھی۔ ان لوگوں نے بیت المقدس میں پڑتی ترقی اور سر بلندی حاصل کی۔ ان کے پاس حکومت اور قوت جمع ہوگئی ، جس پر انہوں نے فساد شروع کردیا۔ اللہ انے ان پر ایک دوسری زور آور اور صاحب قوت قوم کو مسلط کردیا۔ ان لوگوں کی گرفت مضبوط تھی۔ انہوں نے تمام علاقوں کو اپنے لئے حلال قرار دے دیا اور صبح و شامل حملہ آور ہوتے رہے اور جو کچھ ان کے سامنے آتا اسے تاخت و تاراج کرتے رہے ۔ اور وہ کسی کام کے کر گزرنے میں کوئی باک اور ڈر محسوس ہی نہ کرتے تھے۔ وکان وعدا مفعولا (71 : 5) ” یہ اللہ کا ایسا وعدہ تھا جس نے پورا ہو کر ہی رہنا تھا “۔ کیونکہ اللہ کے وعدے اور فیصلے میں نہ تخلف ممکن ہے اور نہ اللہ کا کوئی فیصلہ جھوٹا ہوسکتا ہے۔ جب بنی اسرائیل نے مغلوبیت ، ذلت اور غلامی کا مزہ چکھا ، تو انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور انہوں نے اپنے حالات کو درست کیا ، تو ان پر جو عذاب مسلط کیا گیا تھا اس سے انکی گلوخلاصی ہوئی ، کیونکہ فاتحوں کے اندر بھی اسی طرح کا فساد پیدا ہوگیا۔ ان کو بھی اپنی قوت پر گھمنڈ ہوگیا ، انہوں نے بھی زمین میں فساد پیدا کردیا تو اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان مغلوبین کو منظم کرکے ان حملہ آوروں پر غالب کردیا اور اب بنی اسرائیل کے مستضعفین دوبارہ غالب آگئے۔

الإسراء 17:6

ثم رددنا لکم الکرۃ علیھم وامددنکم باومال وبنین وجعلنکم اکثر نفیرا (71 : 6) ” اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبہ کا موقعہ دلایا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدددی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی “۔ اس کے بعد یہی عمل از سر نو دہرایا جاتا ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ اس پیشن گوئی کا دوسرا حصہ روبعمل آئے اور جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہو ، اللہ تعالیٰ یہاں ایک نہایت ہی اہم اساسی قانون مکافات عمل بیان کردیتا ہے۔

الإسراء 17:7

ان احسسنتم احسنتھم لانفسکم وان اساتھم فلھا (71 : 7) ” دیکھو تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے یہ لئے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے ہی برائی ثابت ہوئی “۔ مکافات عمل کا یہ تو وہ اساسی قاعدہ ہے جو دنیا و آخرت میں یکساں لاگو ہے۔ یہ کہ انسان اپنے اعمال کا خود حقدار و ذمہ دار ہے۔ اس کے تمام پھل اور نتائج اس کے لئے ہیں۔ عمل اور جزائے عمل لازم و ملزوم ہیں۔ نتیجہ عمل سے پیدا ہوتا ہے ، اس لئے انسان ایک مسئول اور ذمہ دار ہستی ہے ، اگر چاہے تو اپنے ساتھ اچھا کرے یا برا کرے ، اگر اسے اچھے عمل یا برے عمل کا ثمرہ ملے تو اسے گلہ نہیں کرنا چاہیے۔ مکافات عمل کا یہ قاعدہ بیان کرنے کے بعد اب دوبارہ روئے سخن اس پیشن گوئی کہ طرف مڑ جاتا ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا۔ فاذا جاء وعد الاخرۃ لیسوئوا وجوھکم ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرۃ ولیتبر واماعلوا تتبیرا (71 : 7) ” پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کرکے رکھ دیں “۔ یہاں سیاق کلام میں بنی اسرائیل کے دوسرے فساد کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ کیونکہ پہلے یہ کہ دیا گیا تھا کہ لتفسدن فی الارض مرتین ” تم دو بار زمین میں فساد برپا کرو گے “۔ اور دوسری بار ان پر جیسے لوگوں کو مسلط کیا گیا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے دوسری بار بھی بگاڑ کی راہ اختیار کی تھی۔ فاذا جاء وعد الاخرۃ لیسوئوا (71 : 7) ” پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں “۔ یعنی انہوں نے ان سے اس قدر انتقام لیا کہ ان کی شخصیت اس کے اثرات سے بدل گئی۔ یہاں تک کہ یہ ذلت و نکبت ان کے چہروں پر ظاہر ہوگئی۔ انہوں نے تمام مقدسات کی بےحرمتی کی اور ہر چیز کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ ولید خلوا السجد کما دخلوہ اول مرۃ (71 : 7) ” وہ بھی اسی طرح مسجد میں داخل ہوئے جس طرح پہلے دشمن داخل ہوئے تھے “۔ جس جس چیز پر ان کا غلبہ ہوتا تھا ، اسے تاخت و تاراج کرتے اور ہر چیز کو تباہ کرتے جاتے۔ ولیتبروا ما علوا تتبرا (71 : 7) ” تاکہ جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے تباہ کردیں “۔ یعنی انہوں نے بیت المقدس کو پوری طرح تباہ کردیا اور ان لوگوں کو ملک بدر کرکے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ چناچہ یہ پیشن گوئی سچی ثابت ہوئی۔ اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور بنی اسرائیل پر ایسے ہی لوگ مسلط ہوگئے۔ پھر دوبارہ ان پر دشمن مسلط کیے گئے اور انہوں نے ان کو ملک بدر کرکے ملک کو تباہ کیا۔ قرآن کریم نے اس بات کی تصریح نہیں کی کہ یہ لوگ کون تھے کیونکہ بنی اسرائیل کی دوبارہ کی تباہی کے بیان سے جو مقصد تھا وہ اسی قدر بیان سے پورا ہوگیا۔ اگر بتا دیا جاتا کہ فلاں فلاں اقوام کو ان پر مسلط کیا گیا تو اس سے کسی مفہوم میں اضافہ نہیں ہوجاتا۔ یہاں مقصد اس سنت الٰہی کا بیان تھا جس کا تعلق اقوام کے عروج وزوال سے ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ ایسی تباہیاں کیوں لاتا ہے ؟ تو بتایا جاتا ہے کہ بعض اوقات کسی قوم کی تباہی ہی اس کے لئے باعث رحمت ہوتی ہے۔

الإسراء 17:8

عسبی ربکم ان یرحمکم (71 : 8) ” ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر حم کرے “۔ اگر تم اپنی تاریخ سے عبرت حاصل کرو۔ لیکن یاد رکھو اگر تم نے سرکشی کا یہ عمل پھر دہرایا تو اس کے نتائج پھر ظاہر ہوں گے۔ اللہ کی سنت جاری وساری ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ وان عدتم عدنا (71 : 8) ” لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے “۔ ہاں انہوں نے پھر فساد کیا ، اللہ نے ان پر مسلمانوں کو مسلط کردیا اور ان کو جزیرۃ العرب سے خارج ۔۔ کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے پوری دنیا میں فساد کیا تو اللہ نے ان پر اپنے اور بندوں کو مسلط کردیا اور ہٹلر نے ان کی گوشمالی کی۔ اور دور حاضر ہوں انہوں نے پھر فساد اور سرکشی شروع کردی ہے۔ اسرائیل کی شکل میں منطم ہو کر انہوں نے پورے شرق اوسط کو مصائب میں مبتلا کردیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان پر اللہ کسی ایسی قوم کو مسلط کردے جو ان کو ان کی سرکشی کی پوری سزا دے تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پورا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ قطعی ہے کہ اگر تم نے پھر ایسا کیا تو ہم ۔۔ ایسا کریں گے۔ اور وہ وقت دور نہیں کہ بنی اسرائیل اپنے کیے کا مزہ چکھ لیں۔ اب یہاں سیاق کلام اہل کفر کے اخروی انجام کی طرف ہوجاتا ہے کیونکہ اکثر مقصد ۔۔ کافر ہی ہوتے ہیں ان کے درمیان یک رنگی ہوتی ہے۔ وجعلنا جھنم لککفرین حصیرا (71 : 8) ” اور کافروں کے لئے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا دیا ہے “۔ یہ جہنم اس طرح ان کو گھیر لے گی کہ ان میں سے کوئی اسے بچ کر نہ نکل سکے گا۔ یہ جہنم اس قدر وسیع ہوگی کہ سب اس میں سماجائیں گے۔ سبق کے اس حصے میں تاریخ بنی اسرائیل کا یہ پہلو بیان ہوا کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی کہ یہ لوگ اس سے ہدایت لیں۔ لیکن انہوں نے ہدایت نہ لی بلکہ گمراہ ہوئے اور اللہ کی ہلاکت نے ان کو آلیا۔ اب سیاق کلام قرآن کریم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے کہ اس طرح یہ قرآن بھی نہایت ہی ٹھوس تعلیمات پیش کر رہا ہے۔

الإسراء 17:9

یہ قرآن راہ راست دکھاتا ہے۔ یہ ہر قسم کی ہدایت کا سرچشمہ ہے اور ہر کسی کے لئے منبع ہدایت ہے۔ بغیر کسی حدود وقیود کے۔ انسانوں کی راہنمائی کے لئے جس ہدایت ، جس نظام کی ضرورت ہے وہ اس میں موجود ہے۔ ہر دور اور ہر قسم کے معاشرے میں۔ انسانی ضمیر و شعور کو یہ ایک واضح عقیدہ اور صاف و سادہ خیالات عطا کرتا ہے ، ایسے عقائد و تصورات جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ خیالات انسانی شعور کو وہم و گمان ، اوہام و خرافات سے پاک کرکے اس کی سوچ کو قوانین قدرت اور ۔۔۔۔ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔ پھر یہ قرآن انسان کے ظاہر و باطن کو باہم مربوط کرتا ہے۔ انسانی سوچ اور عمل کو باہم یکساں کرتا ہے اور انسانی نظریات اور اعمال کے اندر ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ گویا انسان کی شخصیت کے تمام پہلو ایک ہی رسی میں بندھ جات ہیں ، زمین پر انسان کے اعمال و خیالات عالم بالا کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں ، انسان اس دنیا میں جو جدوجہد کرتا ہے ، وہ عبادت بن جاتی ہے۔ عبادات میں بھی اس کی پالیسی اور ہدایت نہایت ہی متوازن ہے۔ وہ صرف اس قدر عبادت اور بندگی کا حکم دیتا ہے جس قدر انسان کے بس میں ہو۔ ایسے احکام نہیں دیتا کہ انسان کے اندر ان کی تعمیل کی طاقت ہی نہ ہو۔ یہ انسان کو سستی اور عیش پرستی کے حولاے بھی نہیں کرتا کہ انسان عیش پرست ہوجائے بلکہ ہر میدان میں اس کی ہدایات توازن و اعتدال پر مبنی ہیں۔ اس میں انسانوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں بھی نہایت ہی مستحکم ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک فرد اور فرد کے تعلقات کے بارے میں ، میاں اوری بیوی کے بارے میں ، حاکم و محکوم کے بارے میں ، اقوام اور حکومتوں کے بارے میں۔ یہ کتاب اس قسم کے تمام روابط کو نہایت ہی مستحکم بنیادوں پر قائم کرتی ہے ، ایسی مستحکم بنیادیں جو آراء اور خواہشات سے متاثر نہیں ہوتیں۔ دوستی اور دشمنی سے بھی ان اصولوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اغراض و مفادات بھی ان روابط کو متاثر ہے ، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ہر قسم کی سرزمین اور ہر علاقے کے لئے جامع ہدایت کیا ہے ، اس طرح اس نے اس کتاب میں ایک ایسا جامع نظام مرتب کردیا جو دنیا کے تمام انسانوں کی قانونی ، معاشی ، اجتماعی اور اخلاقی ضروریات کے لئے مستحکم ہدایات دیتا ہے بلکہ اس نے بہترین بین الاقوامی ہدایات بھی دی ہیں۔ اس نے تمام ادیان سماوی کے بارے میں بھی بہترین ہدایات دی ہیں ، تمام ادیان کے مقامات مقدسہ کا احترام سکھایا ہدایات دیتا ہے بلکہ اس نے بہترین بین الاقوامی ہدایات بھی دی ہیں۔ اس نے تمام ادیان سماوی کے بارے میں بھی بہترین ہدایات دی ہیں ، تمام ادیان کے مقامات مقدسہ کا احترام سکھایا ہے۔ چناچہ جب انسان اس کتاب سے ہدایات اخذ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں تمام انسانوں کے درمیان ایک بھائی چارہ قائم ہوجاتا ہے اور انسان نہایت ہی امن وامان سے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرا ان وہ راہ دکھاتا ہے ، جو سیدھی اور مستحکم ہے۔ ان ھذا القران یھدی لگتی ھی اقوم و یبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا کبیرا (9) وان الذین لا یومنون بالاخرۃ اعتدنا لھم عذابا الیما (01) (71 : 9۔ 01) ” جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا مہاجر ہے اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے “۔ عمل اور جزائے عمل کا یہ بنیادی اصول ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے نتائج مرتب ہوں گے۔ ایمان اور عمل صالح دونوں ضروری ہیں۔ بغیر ایمان کے عمل مفید نہیں ہے اور بغیر عمل کے صرف ایمان معتبر نہیں ہے۔ اگر ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو تو وہ ناتمام مسلمانی ہے۔ اور عمل بلا ایمان بھی بےبنیاد ہے۔ ایمان اور عمل دونوں ہوں تو زندگی راہ راست پر چلتی ہیں اور ایمان اور عمل دونوں ہوں تو انسان ہدایت اخذ کرسکتا ہے۔ جو لوگ قرآن کریم کی راہ نہیں لیتے وہ انسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور انسان بہت ہی جلد باز ہے۔ وہ اپنے نفع میں بھی جلدی کرتا ہے اور نقصان میں بھی۔ وہ اس قدر جلدی سے آگے بڑھنا چاہتا ہے کہ اپنے جذبات پر اسے کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وہ آگے ہی بڑھنا چاہتا ہے اگرچہ اس کے سامنے شر ہو۔

الإسراء 17:10

یہ قرآن راہ راست دکھاتا ہے۔ یہ ہر قسم کی ہدایت کا سرچشمہ ہے اور ہر کسی کے لئے منبع ہدایت ہے۔ بغیر کسی حدود وقیود کے۔ انسانوں کی راہنمائی کے لئے جس ہدایت ، جس نظام کی ضرورت ہے وہ اس میں موجود ہے۔ ہر دور اور ہر قسم کے معاشرے میں۔ انسانی ضمیر و شعور کو یہ ایک واضح عقیدہ اور صاف و سادہ خیالات عطا کرتا ہے ، ایسے عقائد و تصورات جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ خیالات انسانی شعور کو وہم و گمان ، اوہام و خرافات سے پاک کرکے اس کی سوچ کو قوانین قدرت اور ۔۔۔۔ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔ پھر یہ قرآن انسان کے ظاہر و باطن کو باہم مربوط کرتا ہے۔ انسانی سوچ اور عمل کو باہم یکساں کرتا ہے اور انسانی نظریات اور اعمال کے اندر ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ گویا انسان کی شخصیت کے تمام پہلو ایک ہی رسی میں بندھ جات ہیں ، زمین پر انسان کے اعمال و خیالات عالم بالا کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں ، انسان اس دنیا میں جو جدوجہد کرتا ہے ، وہ عبادت بن جاتی ہے۔ عبادات میں بھی اس کی پالیسی اور ہدایت نہایت ہی متوازن ہے۔ وہ صرف اس قدر عبادت اور بندگی کا حکم دیتا ہے جس قدر انسان کے بس میں ہو۔ ایسے احکام نہیں دیتا کہ انسان کے اندر ان کی تعمیل کی طاقت ہی نہ ہو۔ یہ انسان کو سستی اور عیش پرستی کے حولاے بھی نہیں کرتا کہ انسان عیش پرست ہوجائے بلکہ ہر میدان میں اس کی ہدایات توازن و اعتدال پر مبنی ہیں۔ اس میں انسانوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں بھی نہایت ہی مستحکم ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک فرد اور فرد کے تعلقات کے بارے میں ، میاں اوری بیوی کے بارے میں ، حاکم و محکوم کے بارے میں ، اقوام اور حکومتوں کے بارے میں۔ یہ کتاب اس قسم کے تمام روابط کو نہایت ہی مستحکم بنیادوں پر قائم کرتی ہے ، ایسی مستحکم بنیادیں جو آراء اور خواہشات سے متاثر نہیں ہوتیں۔ دوستی اور دشمنی سے بھی ان اصولوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اغراض و مفادات بھی ان روابط کو متاثر ہے ، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ہر قسم کی سرزمین اور ہر علاقے کے لئے جامع ہدایت کیا ہے ، اس طرح اس نے اس کتاب میں ایک ایسا جامع نظام مرتب کردیا جو دنیا کے تمام انسانوں کی قانونی ، معاشی ، اجتماعی اور اخلاقی ضروریات کے لئے مستحکم ہدایات دیتا ہے بلکہ اس نے بہترین بین الاقوامی ہدایات بھی دی ہیں۔ اس نے تمام ادیان سماوی کے بارے میں بھی بہترین ہدایات دی ہیں ، تمام ادیان کے مقامات مقدسہ کا احترام سکھایا ہدایات دیتا ہے بلکہ اس نے بہترین بین الاقوامی ہدایات بھی دی ہیں۔ اس نے تمام ادیان سماوی کے بارے میں بھی بہترین ہدایات دی ہیں ، تمام ادیان کے مقامات مقدسہ کا احترام سکھایا ہے۔ چناچہ جب انسان اس کتاب سے ہدایات اخذ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں تمام انسانوں کے درمیان ایک بھائی چارہ قائم ہوجاتا ہے اور انسان نہایت ہی امن وامان سے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرا ان وہ راہ دکھاتا ہے ، جو سیدھی اور مستحکم ہے۔ ان ھذا القران یھدی لگتی ھی اقوم و یبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا کبیرا (9) وان الذین لا یومنون بالاخرۃ اعتدنا لھم عذابا الیما (01) (71 : 9۔ 01) ” جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا مہاجر ہے اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے “۔ عمل اور جزائے عمل کا یہ بنیادی اصول ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے نتائج مرتب ہوں گے۔ ایمان اور عمل صالح دونوں ضروری ہیں۔ بغیر ایمان کے عمل مفید نہیں ہے اور بغیر عمل کے صرف ایمان معتبر نہیں ہے۔ اگر ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو تو وہ ناتمام مسلمانی ہے۔ اور عمل بلا ایمان بھی بےبنیاد ہے۔ ایمان اور عمل دونوں ہوں تو زندگی راہ راست پر چلتی ہیں اور ایمان اور عمل دونوں ہوں تو انسان ہدایت اخذ کرسکتا ہے۔ جو لوگ قرآن کریم کی راہ نہیں لیتے وہ انسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور انسان بہت ہی جلد باز ہے۔ وہ اپنے نفع میں بھی جلدی کرتا ہے اور نقصان میں بھی۔ وہ اس قدر جلدی سے آگے بڑھنا چاہتا ہے کہ اپنے جذبات پر اسے کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وہ آگے ہی بڑھنا چاہتا ہے اگرچہ اس کے سامنے شر ہو۔

الإسراء 17:11

یہ اس لئے کہ وہ معاملات کے انجام سے بالکل بیخبر ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ کسی کام کو اچھا سمجھ کر کرتا ہے اور درحقیقت وہ شر ہوتا ہے اور اس کے کے گزرنے میں وہ بہت جلدی کرتا ہے ، بعض اوقات وہ کسی کام کو شر سمجھ کر کرتا ہے لیکن وہ خیر ہوتا ہے۔ غرض انسان کسی بھی کام کے عواقب و نتائج کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ جبکہ قرآن کریم جو ہدایت دیتا ہے وہ نہایت ہی سیدھی ، نہایت ہی دھیمی اور پروقار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی رہنمائی والی راہ جدا ہے اور انسان کی خود طے کردہ راہ جدا ہے۔ اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہے۔ سابقہ آیات میں چند معجزانہ اشارات تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے واقعہ معراج اور اس کے اندر پائے جانے والے معجزات ، حضرت نوح (علیہ السلام) کا معجزانہ طور پر طوفان سے بچنا اور ان لوگوں کی طرف اشارہ جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے۔ تاریخ بنی اسرائیل کے مدوجزر اور اور ان میں اللہ کے معجزانہ فیصلے اور اقوام کے عروج وزوال کے اصول کے طرف اشارہ ” اور انسانی زندگی میں مکافات عمل اور قرآن کریم کی کتاب ہدایت اور منہاج عمل ہونے کی طرف اشارہ۔ ان تمام معجزانہ امور کے بعد اب روئے سخن معجزات کائنات کی طرف پھرجاتا ہے ، ان سابقہ معجزات کا صدور تو پیغمبروں کے ذریعہ ہوا۔ لیکن یہ معجزات ایسے ہیں کہ ہر کسی کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ ان کائناتی معجزات کے ساتھ انسانی زندگی کی جدوجہد اور انسانی اعمال بھی وابستہ ہیں۔ انسانی اعمال اور جدوجہد کا نتیجہ ان قوانین قدرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چناچہ جس طرح انسانی عمل اور مکافات عمل کا اصول کائنات میں رواں دواں ہے ۔ اسی طرح نوامیس فطرت کے اصول بھی انسانی زندگی کے ساتھ مربوط ہیں ، جس طرح انسانی ، عمران کچھ قواعد پر مبنی ہے ، اسی طرح یہ کائنات بھی بعض قواعد پر مبنی ہے۔ اور اس کے اندر کوئی تخلف نہیں ہوتا۔ رات و دن کا یہ نظام جس طرح نہایت ہی اٹل قواعد پر مبنی ہے اسی طرح سنت الہیہ بھی اس کائنات میں جاری وساری ہے اور اس کے اصول بھی اٹل ہیں ۔ او وہ بھی اسی ژات باری کے ارادے سے چل رہے ہیں جس کے ارادے سے رات و دن چل رہے ہیں۔

الإسراء 17:12

وہ قوانین قدرت جو رات و دن کو کنٹرول کرتے ہیں ، انہی کے ساتھ انسان کے کسب اور جدوجہد کا تعلق بھی ہے۔ رات اور دن کی بنیاد پر سالوں کا حساب ہوتا ہے ، انہی کے ساتھ انسانی کسب و عمل بھی منسلک ہے۔ وہ اچھائی کرے یا برائی کرے اس پر جزاء و سزا مرتب ہوگی۔ اسی کے ساتھ ہدایت و ضلالت بھی مربوط ہے۔ اور تمام امور میں انفرادی ذمہ داری کا اصول کارفرما ہے ، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ اسی پر یہ اصول بھی طے ہوا ہے کہ اللہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک رسول نہ بھیج دے۔ اور اسی سے یہ اصول بھی مربوط ہے کہ جب اللہ کسی بستی کو ہلاک کرتا ہے تو تب کرتا ہے کہ اس کے مترفین اس نسبتی میں فسق و فجور اور دنگا فساد برپا کردیتے ہیں۔ اسی پر یہ اصول بھی مبنی ہے کہ بعض لوگ صرف دنیا کو طلب کرتے ہیں اور بعض آخرت کے طلبگار ہوتے ہیں ، تو اہل دنیا کو اللہ دنیا دیتا ہے اور اہل آخرت کو اللہ آخرت دیتا ہے۔ یہ تمام امور خواہ دینی اور عمرانی ہوں یا تکوینی دونوں ایک ہی ناموس الٰہی کے مطابق چلتے ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں جاری کر رکھا ہے۔ اور یہ ناموس الٰہی اور یہ سنت المیہ اٹل ہے۔ اس کے اصولوں کے اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی چیز بھی محض اتفاقی نہیں ہے۔ وجعلنا الیل والنھار ایتین فمحونا ایۃ الیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ لتبتغوا فضلنا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والحساب وکل شئی فصلنہ تفصیلا (71 : 21) ” دیکھو ، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بےنور بنایا اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو۔ اسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کرکے رکھا۔ رات اور دن اس کائنات کی نہایت ہی بڑی نشانیاں ہیں اور رات اور دن کے نظام کا اصول نہایت ہی دقیق اور باریک اصول پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کبھی کوئی خلل واقع نہیں ہوا ، اس میں کبھی بھی تعطیل واقع نہیں ہوئی ، یہ رات اور ون وائما چل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ (فمحونا) سے مراد کیا ہے۔ تو (فسحونا) کا مفہوم یہی معلوم ہوتا ہے کہ رات کو روشنی نہیں ہوتی۔ اس میں اس کائنات کی حرکات اور نظارے اچھی طرح نظر نہیں آتے۔ ظاہر ہے کہ دن کی سرگرمیوں اور رنگا رنگیوں کے مقابلے میں رات کو محو اور بےنور کہہ سکتے ہیں۔ دن کھلا ہے جس میں سب کچھ نظر آتا ہے اور رات ذرا محو ہے کہ اس مین دن کی طرح سب کچھ نظر نہیں آتا۔ رات کو محو ، اس لئے رکھا گیا اور دن کو کھلا اس لئے رکھا گیا ہے کہ لتبتغوا فضلا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والھساب (71 : 21) ” تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو “۔ رات آرام ، سکون اور ملاپ کا وقت ہوتا ہے اور دن جدوجہد ، کسب و کمائی اور قیام و سفر کے لئے ہوتا ہے اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے کی وجہ سے ماہ و سال کا حساب مکمل ہوتا ہے۔ وعدے کے وقت کا حساب ، موسم اور فصل کا حساب غرض تمام معاملات کا حساب رات اور ان کے نظام سے قائم ہے۔ وکل شئی فصلنہ تفصیلا (71 : 21) ” اور ہم نے ہر چیز کو الگ ممیز کرکے رکھ دیا ہے “۔ یعنی اس کائنات میں کوئی چیز ’ کوئی اہم اور غیر اہم بات ہم نے محض بخت و اتفاق کے حوالے نہیں کی بلکہ وہ ہمارے ناموس قدرت کے مطابق ہے۔ یا قانون قدرت پوری طرح مفصل اور جامع اور دقیق ہے مثلاً رات اور دن کی گردش ہی کو دیکھئے۔ اس سے اس کائنات کے مدبر کی گہری تدبیر کا ثبوت ملتا ہے۔ جس طرح کائنات میں ایک مکمل ضابطہ کارفرما ہے۔ اسی طرح جزاء و عمل اور قانون و مکافات عمل بھی ایک نہایت ہی گہرا اور اٹل ضابطہ ہے۔

الإسراء 17:13

وکل انسان الزمنہ ئرہ فی عنقہ انخرج لہ یوم القیمۃ کتبا یلقہ منشور (31) اقراء اکتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا (41) (71 : 31۔ 41) ” ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے ، اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اس کے لئے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا پڑھ اپنا نامہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لئے تو خود ہی کافی ہے “۔ انسان کا شگون اس کا عمل ہے ، جو اس کی قسمت میں لکھا ہے۔ اس سے مراد خود انسان کا کسب وعمل ہے اور اس کے گلے میں لٹکانے سے مراد یہ ہے کہ انسان سے اس کا شگون یعنی اعمال کبھی جدا نہیں ہوتے۔ یہ قرآن کریم کا انداز ہے کہ قرآن کریم معافی و مفاہیم کو بھی ایک مجسم شکل میں پیش کرتا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کے ثمرہ کا ذمہ وار ہے اور وہ ان اعمال کے اثرات سے بھاگ نہیں سکتا۔ اسی طرح قیامت کے دن کتاب منشور سے بھی مراد اس کے اعمال کا ظہور ہے۔ یعنی اعمال کھلے ہوں گے۔ کوئی چھپا نہ سکے گا۔ یا کوئی عمل حساب سے رہ نہ جائے گا۔ لیکن قرآن اسے کھلی کتاب کی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے جس سے مخاطب پر زیادہ اثر ہوتا ہے اور بات انسانی احساس کا حصہ بن جاتی ہے۔ چناچہ انسانی خیال یکدم پرندے اور کتاب کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور وہ اس سخت دن کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ جس کے تمام راز کھل جائیں گے۔ ایک کھلی کتاب ہوگی اور اس دن کسی محاسب کی ضرورت نہ ہوگی۔

الإسراء 17:14

اقراء کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا (71 : 41) ” پڑھ اپنا نامہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لئے تو خود ہی کافی ہے “۔ اسی اٹل قانون قدرت کے ساتھ عمل اور مکافات عمل کا قانون وابستہ ہے۔ من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فائما یضل علیھا والا تزر وازرۃ وزر اخری (71 : 51) ” جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لئے مفید ہے ، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر ہے “۔ چناچہ عمل کی ذمہ داری انفرادی ہے اور اس کی وجہ سے ہر انسان اپنے نفس کے ساتھ منسلک ہے۔ اگر ہدایت اختیار کرتا ہے تو بھی اپنے لیے کرتا ہے ، اگر گمراہ ہوتا ہے تو وہ خود ہی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی دوسرے کے کیے کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ اور کوئی بھی کسی کے بوجھ میں کمی نہ کرسکے گا۔ ہر انسان سے خود اس کے اعمال کی باز پرس ہوگی اور صرف اس کے اعمال حسنہ کی جزا دی جائے گی اور کوئی دوست بھی کسی دوست کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت مہربانی کرتے ہوئے انسان کو صرف اس اصول پر مسئول اور ذمہ دار نہیں بنایا جو اس کائنات فطرت میں موجود ہے اور نہ اس کو صرف عہد الست کی بنا پر مسئول بنایا جو اللہ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب وہ آدم کی پشت میں تھے بلکہ اللہ نے نہایت مہربانی کرتے ہوئے سلسلہ رسل جاری فرمایا ، جو لوگوں کو ناموس شریعت کی یاد دہانی کراتے رہے ، انجام بد سے لوگوں کو ڈراتے رہے۔ اور یہ اصول مقرر فرمایا۔

الإسراء 17:15

وما کنا معذبین حتی نبعث (71 : 51) ” اور ہم اس وقت تک سزا دینے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج دیں یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ وہ عذاب دینے سے قبل لوگوں پر حجت تمام کرتا ہے۔ اور کوئی عذر رہنے نہی دیتا۔ یہ سنت الہیہ اس دنیا میں لوگوں پر عذاب نازل کرنے کے سلسلے میں بھی ہے۔ یہ عذاب بھی اللہ کے اس ناموس اور کوئی عذر رہنے نہیں دیتا۔ یہ سنت الہیہ اس دنیا میں لوگوں پر عذاب نازل کرنے کے سلسلے میں بھی ہے۔ یہ عذاب بھی اللہ کے اس ناموس قدرت کے مطابق ہی نازل ہوتا ہے جس کے مطابق نظام لیل و نہار جاری وساری ہے۔

الإسراء 17:16

واذا اردنا ان نھلک قریۃ امرنا مترفیھا ففسقوا فیھا فحق علیھا القول فدمر نھا تد میرا (71 : 61) ” جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہوجاتا ہے اور ہم اسے برباد کرکے رکھ دیتے ہیں “۔ یہ مترفین کون لوگ ہوتے ہیں ؟ یہ کبراء کا وہ طبقہ ہے جو مالدار اور کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔ نوکر ان کے آگے پیچھے ہوتے ہیں۔ آرام طلب ہوتے ہیں اور خوشحالی ، عزت اور قیادت ان کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ لوگ ڈھیلے ڈھانے ، گندے اور فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور یہ لوگ اعلیٰ اقدار ، مذہبی مقدسات اور شرف و وقار کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور عیاشی اور فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جب ایسے لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں ہے تو وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ پھر وہ پوری امت میں فحاشی اور بےراہ روی پھیلاتے ہیں۔ اور جن اعلیٰ اقدار کی وجہ سے دنیا میں اقوام بنتی ہیں اور عروج حاصل کرتی ہیں ان کو ایسے لوگ سرعام پامال کرتے ہیں۔ یوں امت کا اجتماعی نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ اور اس میں سے زندگی ، قوت اور ترقی کے عناصر ختم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یوۃ وہ امت آخر کار تباہ ہو کر نیست و نابو دہوجاتی ہے۔ اس آیت میں اللہ کی اسی سنت پر بحث کی گئی ہے جب اللہ کسی امت کی ہلاکت کا فیصلہ کردیتا ہے ، اس لئے کہ اس نے اپنی بربادی کے تمام اسباب خود مکمل کردئیے ہوتے ہیں تو اس میں قسم کے مترفین زیادہ ہوجاتے ہیں۔ پھر اللہ کے ایسے لوگوں کی رسی ڈھیلی کردیتا ہے ، کوئی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ یہ مترفین امت کے قائدین بن جاتے ہیں ، فسق و فجورعام ہوجاتا ہے ، یوں امت کا اجتماعی نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ اس میں سستی آجاتی ہے ، اس کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے ، اور اچانک وہ ہلاک اور برباد ہوجاتی ہے۔ اس ہلاکت کی ذمہ داری پھر پوری امت پر ہوتی ہے کیونکہ امت کے افراد میں سے کسی نے ، جماعتوں میں سے کسی نے مترفین کے ہاتھ نہیں پکرے۔ نظام کی اصلاح کے لئے اجتماعی سعی اور جدوجہد نہیں کی۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ قوم کے اندر مترفین کو پیدا نہ ہونے دیا جائے۔ ان کا وجود ہی اس بات کی علامت ہے کہ قوم پر ہلاکت آنے والی ہے۔ اگر کسی امت کا اجتماعی نظام ایسے لوگوں کی راہ روک دے اور ان کو پیدا ہونے ہی نہ دے تو امت ہلاکت سے بچ سکتی ہے۔ کیونکہ ہلاکت کا سبب صرف یہ مترفین اور ان کا فسق و فجور ہوتا ہے۔ یہی لوگ کسی امت اور سوسائٹی کو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں۔ اللہ نے انسانیت کے لئے ایسے فطری قوانین مقرر کیے ہیں ، جو اٹل ہیں اور ان میں کبھی بھی تخلف یا استثناء نہیں ہوتی۔ یہ ناقابل تبدل سنن الہیہ ہیں۔ ان نوامیس اور سنن کے مطابق جب کسی واقعہ کے لئے اسباب فراہم ہوجاتے ہیں تو وہ واقعہ ہوجاتا۔ یوں اللہ کا ارادہ پورا ہوجاتا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور اس کی بات پوری ہوجاتی ہے۔ لیکن اللہ کسی کو فسق و فجور کا حکم نہیں دیتا۔ وہ فحاشی کا حکم کبھی نہیں دیتا۔ اس لئے اگر کسی سوسائٹی میں طبقہ مترفین پایا جاتا ہے تو اس کا وجود ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس سوسائٹی نے اپنی ہلاکت کے اسباب پیدا کرنا شروع کردئے ہیں۔ اس کی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں اور یہ تتر بتر ہونے والی ہے۔ اور وہ تقدیر الٰہی کے مطابق اپنے قدرتی انجام تک پہنچنے والی ہے۔ ہو یہ کہ سنت الہیہ کے فیصلے کے مطابق وہ ان مترفین کی وجہ سے نیست ونابود ہوگئی۔ کیونکہ اس نے کود اپنے اندر اس طبقہ مترفین کو پیدا ہونے دیا۔ اب یہاں ارادہ الہیہ سے مراد کیا ہے ؟ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ اللہ پکر پکڑ کر مترفین کو پیدا کرتا ہے اور وہ پھر مجبور ہو کر فسق و فجور کرتے ہیں اور اللہ زبردستی کرکے کسی سے اس کی ہلاکت کے اسباب پیدا کراتا ہے۔ بلکہ دراصل اسباب وہ سوسائٹی خود فراہم کرتی ہے اور سنن الیہ کے مطابق نتیجہ بعد میں مرتب ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ یہ قانون فطرت اور سنت الہیہ اللہ کی جاری کردہ ہے۔ لیکن ہلاکت کا حقیقی سبب وجود مترفین اور فسق و فجور ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سو سائٹی پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہاں نظام اجتماعی میں پائے جانے والے خلل کو دور کردے اور مترفین کو فسق و فجور کرنے سے روکا جائے تاکہ سنن الیہ کے مطابق پوری سوسائٹی پر ہلاکت اور بربادی کا عذاب نہ آجائے۔ قرون اولیٰ سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد یہ سنت جاری وساری ہے۔ زمانوں کے بعد زمانے گزر گئے اور یہی ہوتا رہا ہے۔ جب بھی کسی امت میں فسق و فجور عام ہوا وہ ہلاک ہوئی۔ اور اللہ اپنے بندوں کی بداعمالیوں سے اچھی طرح خبردار ہے۔

الإسراء 17:17

وکم اھلکنا من القرون من بعد نوح وکفی بربک بذنوب عبادہ خبیرا بصیرا (71 : 71) ” دیکھ لو ، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوح (علیہ السلام) کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک لوئیں۔ تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔ اب آخر میں بتایا جاتا ہے بعض لوگ صرف دنیا ہی کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ صرف اس دنیا کے لئے ۔ وہ اس زمین سے اوپر کی طرف نظریں نہیں اٹھاتے ، ایسے لوگوں کو اللہ صرف اس دنیا کے سامان فراہم کرتا ہے ، اور آخرت میں ایسے لوگوں کے حصے میں صرف جہنم آتی ہے ، اور جو لوگ صرف اس دنیا ہی کے لئے زندہ ہوتے ہیں اور ان کی نظریں اس سے آگے کسی منظر کی تلاش میں نہیں اٹھتیں ، وہ اسی دنیا میں ڈوب جاتے ہیں۔ وہ اس زمین کے کیچڑ میں لت پت ہوتے ہیں ، کیڑوں کی طرح گندی نالیوں میں پڑے رہتے ہیں ، اور ہر قسم کی گندی لذت کوشی میں ڈوبے ہوئے ہوتے اور شہوت اور جذبات کے غلام ہوتے ہیں اور دنیاوی لذت کے حصول میں ایسے ایسے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کو جہنم رسید کردیتے ہیں۔

الإسراء 17:18

من کان یرید لعاجلۃ عجلنا لہ فیھا ما نشاء لمن نریدثم جعلنا لہ جھنم یصلھا مذموما مدحورا (71 : 81) ” جو کوئی (اس دنیا میں) جلدی حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہش مند ہو ، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں ، پھر اس کے مقسو میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ، ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر “۔ مذموم اور ملامت زدہ اس لئے کہ اس نے یہی کمائی کی اور رحمت سے محروم یوں کہ وہ عذاب میں مبتلا ہوگیا۔

الإسراء 17:19

ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکورا (71 : 91) ” اور جو آخرت کا خواہش مند ہو اور اس کے لئے سعی کرے جیسی کہ اس کے لئے سعی کرنی چاہیے اور وہ وہ مومن تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی “۔ پس جو لوگ آخرت چاہتے ہیں ضروری ہے کہ اس کے لئے سعی بھی کریں۔ اس کی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اور اسکے تقاضے پورے کریں اور یہ تمام جدوجہد ایمان کے بعد ہو ، ظاہر ہے کہ ایمان محض خواہش اور تمنا کا نام نہیں ہے ، بلکہ ایمان یہ ہے کہ وہ دل میں بیٹھ جائے اور عمل صالح اس کی تصدیق کرے۔ یہاں یہ بات درست ہے کہ آخرت کے لئے سعی کرنے کے نتیجے میں انسان دنیا کے مفاد اور سہولتوں اور لذتوں سے یکدم محروم نہیں ہوتا۔ بلکہ اس دنیا میں رہتے ہوئے وہ آخرت کو مدنظر رکھتا ہے ، یہ نہیں ہوتا کہ دنیا ہی اس کا منتہائے مقصود ہو ، آخرت بھی پیش نظر ہوتی ہے اور جب آخرت انسان کے پیش نظر ہو تو پھر دنیا کا رہن سہن انسان کے لئے مضر نہیں ہوتا۔ اور جو شخص صرف دنیا چاہتا ہے وہ جہنم میں ملامت زدہ اور رحمت سے محروم پھینک دیا جائے گا اور جو شخص آخرت کے لئے ساعی ہے تو اس کا استقبال ملا اعلیٰ میں نہایت ہی عزت اور تکریم سے ہوگا ، کیونکہ اس نے دنیا کو چھوڑ کر آخرت کے لئے کام کیا اور قریب کو چھوڑ کر اس نے بعید اور بلند آفاق کی طرف نظریں اٹھائیں۔ دنیا کی زندگی کی حقیقت کیا یہ ؟ وہ لوگ اس کی حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں جو کیڑوں مکوڑوں ، حشرات الارض ، حیوانات اور و حوش کی زندگی کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ دنیا کی انسانی زندگی اور دنیا میں مذکورہ بالا حشرات الارض کی زندگی میں کوئی بنیادی امتیاز نہیں ہے۔ انسان کی انسانیت کے ساتھ لائق زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ، یہ اللہ کے جوار میں دائمی زندگی ہے۔ کیونکہ انسان کو اللہ نے ایک خاص انداز سے پیدا کیا اور اس کو برابر کیا۔ اس کے اندر اپنی خاص روح پھونکی اور اسے زمین کے اوپر آباد کیا اور یہاں اسے مستحکم کرکے علم سے نوازا اور فرشتوں پر برتری عطا کی۔ جو شخص دنیا کے لئے جدوجہد کرے اس کے سامنے بھی میدان کھلا ہے اور جو آخرت کے لئے جدوجہد کرے اس کے لئے بھی میدان کھلا ہے۔ دونوں کو اللہ ان کے مطلوبہ مقاصد اور مطالب اور اہداف تک پہنچاتا ہے۔ کوئی دنیا چاہیے یا آخرت۔ اللہ کسی کی راہ نہیں روکتا جہاں کوئی چاہے اللہ کی مشیت اسے لے جاتی ہے۔

الإسراء 17:20

کلا نمد ھولاء وھولاء من عطاء ربک و ما کان عطاء ربک محظورا (71 : 2) ” ان کو بھی اور ان کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں ، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے “۔ لیکن زمین کے اندر ، اس دنیا میں بھی لوگوں کے درمیان حسب و درجات ، حسب وسائل اور حسب اسباب اور حسب میلانات و رحجانات اور مطابق سعی وجہد فرق مراتب ملحوظ ہے۔ کیونکہ دنیا کا دائرہ بھی محدود ہے ، اور یہ کرہ ارض بھی محدود ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں آخرت وسیع ہے۔ وہاں کی وسعتیں لامحدود ہیں۔ عالم آخرت ! اس کے کیا کہنے ، اس کے مقابلے میں یہ پوری دنیا ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔

الإسراء 17:21

” مگر دیکھ لو ، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے۔ اور آخرت میں اس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے ، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی “۔ اس لئے اگر کوئی حقیقی طور پر بلند مرتبہ چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس عظیم اور سچی تفاوت و امتیاز کے لئے جدوجہد کرے جو آخرت میں ہوگی ، جس کا میدان وسیع اور جہاں کسی جگہ کوئی تنگی اور کمی نہیں ہے۔ اور وہ اس قدر وسیع ہے کہ اس کی حدود سے صرف اللہ ہی خبردار ہے اور جو لوگ مقام امتیاز میں باہم مقابلہ کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مقام آخرت کے لئے مقابلہ کریں۔ دنیائے دنی کے حقیر اور قلیل ساز و سامان کے لئے کیا بھاگنا !

الإسراء 17:22

اس سورت کے پہلے سبق میں عمل و مکافات عمل کے اصولوں اور ہدایت و ضلالت کے قوانین اور کسب اور حساب کی ذمہ داریوں کو کائناتی اصولوں اور طبعی قوانین اور گردش لیل و نہار سے مربوط کیا گیا تھا۔ اس سبق میں انسانی طرز عمل ، اخلاق وآداب اور انفرادی اخلاق اور اجتماعی طرز عمل اور قوانین کو اسلامی نظریہ حیات کے اساسی اصول و عقائد یعنی توحید الٰہی کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ چناچہ تمام انفرادی اور اجتماعی روابط کی اساس یہی عقیدہ توحید ہے ، جو ایک مضبوط رسی ہے۔ اور یہی ایک خاندان اور ایک سو سائٹی کی اجتماعی زندگی کی اساس اور رابطہ ہے۔ درس سابق میں کہا گیا تھا کہ یہ قرآن بالکل ایک سیدھی راہ کی طرف ہدایت اور رہنمائی کرتا ہے۔ اور اس کے اندر اس راہنمائی کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ ان ھذا القران………تفصیلا (21) (71 : 9۔ 21) ” جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر ہے اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب مہیا کر رکھا ہے “۔ ” انسان شر اس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے۔ انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے “۔ ” دیکھو ‘ ہم نے رات اور دن و دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بےنور بنایا اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو۔ اسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کرکے رکھا ہے “۔ جبکہ اس سبق میں قرآن کریم کے احکامات میں سے بعض احکام ، منہیات میں سے بعض مناھی کی تفصیلات دی گئی ہیں اور یہ انسانی زندگی کے عملی معاملات سے متعلق ہیں۔ چناچہ درس کا آغاز شرک کی ممانعت سے ہوتا ہے ، اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ صرف اللہ وحدہ لا شریک مستحق عبادت ہے۔ اس کے بعد احکام شروع ہوتے ہیں۔ پہلا حکم والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں ہے۔ پھر رشتہ داروں ، مساکین اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک ، پھر اعطاء اور خرچ میں اعتدال اور حفاظت ، وفائے عہد ، ناپ تول برابر رکھنے کا حکم ، سچائی پر قائم رہنے کا حکم ، تکبر سے اجتناب اور آخر میں پھر شرک سے اجتناب۔ چناچہ تمام اخلاقی اور قانونی احکام کو عقیدہ توحید کے اندر باندھ دیا گیا ہے۔ کیونکہ اسلامی نظام پورے کا پورا اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہے اور اسلا می نظریہ حیات کلمہ طیبہ پر قائم ہے۔ اس آیت میں شرک سے ممانعت اور اس کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے۔ امر تو عام ہے لیکن اسے صیغہ مفرد کی شکل میں لا کر ایک فرد کو مخاطب کیا گیا تاکہ ہر فرد یہ سمجھے کہ یہ حکم اسی کے لئے ہے اور مخصوص طور پر ہر فرد کے لئے صادر ہوا ہے۔ کیونکہ عقیدہ ایک شخصی معاملہ ہے اور اس کے بارے میں ایک شخص ہی انفرادی طور پر مسئول ہے اور انجام یہ ہے کہ جو شخص بھی شرک کا ارتکاب کرے گا ، وہ مذموم ہوگا ، کیونکہ اس نے قابل مذمت فعل کا ارتکاب کیا ہے اور پھر دوسرا انجام یہ ہے کہ وہ شرمندہ اور بےیارو مددگار رہ جائے گا ، اگرچہ اس کے خیال میں اس کے مددگار بہت ہوں اور جو شخص مذموم ہوجائے اور اس کی امداد کے لئے کوئی نہ آئے تو وہ بھی علیحدہ ہو کر شرمندگی کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔ کیونکہ انسان ضعیفی کی حالت میں اکثر بیٹھ جاتا ہے۔ کوئی حرکت نہیں کرسکتا اس لئے لفظ قعود (بیٹھنا) ایسے شخص کے لئے اس جگہ نہایت ہی بامعنی ہے۔

الإسراء 17:23

وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ ” تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ : تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو ، مگر صرف اس کی “۔ شرک کے بعد اب یہ حکم بھی دے دیا کہ بندگی بھی صرف اللہ کی کرو ، اور یہ حکم فیصلے کی صورت میں دیا گیا ہے۔ یعنی جس طرح فیصلہ ایک حتمی امر ہوتا ہے اور اس کی تعمیل ضروری ہوتی ہے ، اسی طرح اس حکم کی تعمیل بھی ضروری ہے۔ لفظ قضی سے حکم کو مزید تاکیدی کردیا گیا ، اس کے علاوہ نفی اور استثنی بذات خود ایک تاکیدی اور حصری انداز ہے کہ یہی کچھ ہو اور اس کے سوا کچھ نہ ہو۔ چناچہ انداز بیان کے اندر تاکید مزید کا طریقہ اختیار کیا گیا کیونکہ توحید فی العقیدہ اور توحید فی العبادۃ نہایت ہی اساسی مسائل ہیں۔ اور جب یہ قاعدہ اور بنیاد اور اساس رکھ دی گئی تو اب انفرادی احکام صادر ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور اجتماعی احکام اور قوانین وضع ہونے لگتے ہیں۔ اس سے قبل ذہنوں میں عقیدہ توحید بٹھا دیا گیا ہے۔ اس عقیدے کے ذریعے اعمال اور فرائض و قوانین کا داعیہ بھی نفوس کے اندر پیدا ہوچکا ہے۔ انسان کے لئے سب سے پہلا راطہ رابطہ عقیدہ ہے۔ عقیدے اور نظریات ہی انسانوں کو متحد رکھ سکتے ہیں۔ عقائد و نظریات کے بعد انسانیت کے لئے پہلا یونٹ خاندان کا یونٹ ہے اور خاندان کی تشکیل والدین سے ہوتی ہے ، اس لئے پہلا حکم یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ وحدہ کی بندگی کے پہلا حکم یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور اسلام میں اس کی بہت اہمیت ہے ، یہ پہلی قدر ہے۔ وبالوالدین احسانا……صغیرا۔ (42) ۔ نہایت ہی خوبصورت انداز کلام اور نہایت ہی نرم اور پرسوز الفاظ کے ساتھ قرآن کریم اولاد کے دلوں میں والدین کے حق میں عزت و احترام پیدا کرتا ہے اور ان کے وجدان اور ان کے دل میں جذبات عطوفت کو موجزن کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب زندگی اپنی راہوں پر رواں دواں ہوتی ہے تو تمام لوگوں کی نظریں ، جذبات اور اہتمام اور توجہ آگے کی طرف ہوتی ہے۔ ہر انسان پیچھے والدین کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے آگے اپنی اولاد کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اگلی نسل کی فکر یہ سب کو ہوتی ہے ، کم لوگ ہوتے ہیں جو پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں۔ والد والدہ اور گزرنے والوں کی طرف توجہ کم لوگوں کی ہوتی ہے ، چناچہ قرآن کریم نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ والدین اور جانے والی نسل کی بابت اولاد کے وجدان اور شعور کو جگایا جائے تا کہ وہ پیچھے دیکھ کر والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ تمام والدین کے اندر فطری داعیہ ہوتا ہے کہ وہ اولاد کا غم کھائیں ، والدین تو بچوں کے لئے اپنی جان تک دے دیتے ہیں ، جس طرح ایک دانہ خاک میں مل کر ایک پوردے کی شک میں اختیار کتا ہے اور خود گم ہوجاتا ہے اور انڈے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کچھ بچے کی شکل اختیار کر لیت ا ہے۔ اس طرح بچے اپنے والدین سے تمام رس ، تمام قوت ، تمام اہتمام اور تمام طاقت نچوڑ لیتے ہیں اور والدین ناتواں اور بوڑھے ہوجاتے ہیں ، بسا اوقات موت اپنی مہلت دے دیتی ہے ، اور وہ نہایت ہی بےبسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو وہ بہت جلد یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں اور وہ آگے کو دیکھتے ہیں اور خود اپنے فرائض منصبی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ان کی توجہ اپنی بیوی بچوں کی طرف ہوتی ہے اور یوں زندگی کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ والد اور والدہ کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنی اولاد کا خیال رکھیں بلکہ اولاد کو اس تلقین کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے ضعیف والدین کا خیال رکھیں اور اس سلسلے میں ان کے شعور و وجدان کو جگانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس نسل کی بہبود کا بھی خیال رکھیں جس نے اپنے خون کا آخری قطرہ خشک کرے ان کو پروان چڑھایا۔ یہاں تک کہ وہ خود خشک اور ضعیف ہوگئے۔ والدین کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کا حکم اللہ نے قضا اور فیصلہ کی شکل میں دیا۔ یعنی یہ اللہ کا فیصلہ ہے ، اور ہر حاکم اپنے فیصلہ کو نافذ کراتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حکم نہایت ہی تاکیدی ہے جو ڈگری کی شکل میں ہے۔ جس طرح اس سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ اللہ نے فیصلہ دیا ہے کہ صرف اس کی بندگی کرو۔ اس کے بعد والدین کے بارے میں نہایت ہی رحیانہ وکریمانہ اور شفیقانہ انداز گفتگو ہے۔ نہایت ہی جذباتی انداز میں ایام طفولیت میں والدین کی مشقتوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ بچے کے ساتھ کس قدر پیار و محبت کا سلوک انہوں نے کیا تھا۔ اما یبلغن عندک الکبر احدھما و کلھما (71 : 32) ” اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں “۔ بڑھاپے کا خود اپنا وقار ہوتا ہے لیکن بڑھاپے میں جو ضعف ہوتا ہے وہ بھی لفظ (کبر) میں شامل ہے۔ اور عندک سے یہ اشارہ ہے کہ بڑھاپے میں والدین بچوں کے ہاں پناہ بھی لیتے ہیں اور حالت ناتوالی میں حمایت کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ ………(71 : 32) ” توا نہیں اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑک کر جواب دو “۔ والدین کے احترام اور ادب کا یہ پہلا مرحلہ ہے کہ اولاد کی طرف سے والدین کے حق میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہ کیا جائے جس میں تنقید ، زجر ، توسیخ ، اور جھڑکی آتی ہو ، یا اس میں کوئی چیز تو ہیں آمیز اور سوئے ادب کے زمرے میں آتی ہو۔ وقل لھما قولا کریما (71 : 32) ” بلکہ ان کے ساتھ احترام کے ساتھ بات کرو “۔ بات کی حد تک یہ نہایت ہی اعلیٰ مقام ہے کہ والدین کے ساتھ نہایت ہی احترام کا سلوک کیا جائے۔

الإسراء 17:24

واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ (71 : 42) ” اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو “۔ یہاں نہایت ہی نرم اور شفاف انداز بیان اختیار کیا گیا ہے انداز بیان کے اندر اطاعت اور بندگی اور وفا شعاری کو مجسم کردیا گیا ہے یعنی اس طرح بچھ جائو اور اس قدر برخوداری اختیار کرو کہ گویا ” جھکنا “ ایک مجسم پرندے کی شکل میں کھڑا ہے اور اس کے پر ہیں اور اس نے اپنے پر بھی بچھا رکھے ہیں۔ وقل رب ارحمھما کما زبینی صغیرنا (71 : 42) ” اور دعا کیا کرو ، پروردگار ، ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا “۔ خوشگوار یادیں ہیں۔ محبت کی یادیں بچپن کی یادیں اور ماں اور باپ کی محبت کی یادیں۔ لیکن اس یاد سے انہیں سمجھایا جا رہا ہے کہ اب یہ مشفق والدین اسی طرح تمہاری شفقت کے محتاج و ۔۔۔ ہیں۔ جس طرح تم تھے اور دعا اس لئے کی گئی کہ انسانی شفقت و رحمت کے مقابلے میں اللہ کی رحمت و شفقت زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت و شفقت کا دائرہ نہایت ہی وسیع ہے اور انہوں نے اپنی اولاد کے ساتھ جو محنت و مشقت کی ہے اس کا اجر صرف اللہ ہی دے سکتا ہے۔ اولاد کے لئے یہ ممکن ہے کہ والدین کو وہ رحم اور شفقت دے سکیں جس کے وہ حق دار ہیں۔ حافظ ابوبکر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے۔ انہوں نے حضرت برید سے انہوں نے اپنے والد سے کہ ایک شخص طواف میں تھا اور وہ اپنی والدہ کو اٹھا کر طواف کرا رہا تھا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں نے اسی طرح اپنی والدہ کا حق ادا کردیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ” نہیں “۔ بلکہ ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔ انسان کے تمام تاثرات اور حرکات چونکہ انسانی نظریہ کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور نظریہ کی اساس پر وجود میں آتے ہیں اس لئے ان تمام احکام کے آخر میں تمام امور کو اللہ کی طرف لوٹایا جاتا ہے ، جو نیتوں کو جانتا ہے اور احوال اور افعال کے پیچھے جو نیت ہے ، اس سے بھی واقف ہے۔

الإسراء 17:25

اس سے قبل کہ مزید احکام و ہدایات دی جائیں اور اخلاق و قوانین بنائے جائیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کے ہر قول اور ہر فعل سے اللہ خبردار ہے۔ اور اس کا دروازہ کھلا ہے۔ ہر گناہ گار کسی بھی وقت توبہ کرکے واپس آسکتا ہے۔ جب تک کسی انسان میں اسلاح کا مادہ موجود ہے ، وہ توبہ کرکے واپس آسکتا ہے۔ ” اواب “ اس شخص کو کہتے ہیں کہ جب اس سے کوئی قصور سرزد ہوجائے تو وہ جلدی اللہ کی طرف لوٹ آئے اور توبہ و استغفار کرے۔ والدین کے بعد اب قریبی رشتہ داروں کے بارے میں ہدایات دی جاتی ہیں اور رشتہ داروں کے ساتھ مساکین اور مسافر بھی شامل کردئیے جاتے ہیں۔ قریبی رشتہ داروں کے علاوہ انسانی روابط کے زمرے میں مساکین اور مسافر سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ یوں حسن سلوک اور کفالت اجتماعی کے دائرے کو پوری انسانیت تک وسیع کردیا گیا ہے۔

الإسراء 17:26

اسلام نے اقرباء ، مساکین اور مسافروں کے لئے لوگوں کے ذمہ ایک حق مقرر کیا ہے اور یہ حق ان مدات میں انفاق کے ذریعہ پورا کیا جاسکتا ہے۔ نیز ان مدات پر خرچ محض خیرات اور مہربانی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو ہر مسلمان کی گردن پر لازم ہے۔ اور اس حق کو فریضہ قرار دینے کے بعد اسے اسلامی عقیدہ توحید اور اسلامی عبادت اور بندگی کے ساتھ منسلک کرکے اسے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا حق اور فریضہ ہے جس سے مکلف صرف ادائیگی کے بعد ہی بری المذمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس مد میں خرچ کرنے والا تو اپنا فریضہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب سے اس کے اور مستفید کے درمیان محبت بھی پیدا ہوگی۔ اس کے بعد قرآن کریم تبذیر کی ممانعت کرتا ہے۔ تبذیر کیا ہے ؟ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ اس کی تعریف یوں کرتے تھے کہ ایسی مد میں خرچ کرنا جس میں خرچ کرنے کا حق نہ ہو ، تبذیر ہے۔ اور مجاہد کہتے ہیں کہ اگر سچائی کی راہ پر کوئی انسان اپنا پورا مال خرچ کر دے تو وہ تبذیر تر ہوگا اور اگر کوئی دو کلو بھی بغیر حق کے خرچ کرے تو وہ تبذیر ہے۔ لہذا تبذیر کا تعلق انفاق کی مقدار سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق اس مد سے ہے جس میں خرچ کیا جاتا ہے۔ مبذرین کو شیطان کا بھائی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ باطل اور شر اور معصیت میں خرچ کرتے ہیں۔ اور یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ وہرب کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتا۔ اور شیطان کے بھائی بھی اللہ کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمتوں کا حق یہ ہے کہ ان کو اپن جگہ خرچ کیا جائے۔ اگر کسی کے پاس اس قدر مال نہ ہو کہ وہ رشتہ داروں ، مساکین ، مسافروں کا حق ادا کرے اور وہ ان کا سامنا کرنے میں شرم محسوس کرتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے سوال کرے کہ اللہ اسے بھی رزق وافر دے اور ان کو بھی رزق وافر دے۔ اور ان حقداروں کے ساتھ وعدہ کرلے کہ جب حالات درست ہوں گے اور وہ کچھ کرنے کے قابل ہوا تو کرے گا وہ وعدہ کرے اور اچھی نرم بات ان کے ساتھ کرے۔ دل تنگی اور تھڑ دلی کا مظاہرہ نہ کرے۔ اور خاموشی بھی اختیار نہ کرے۔ مبادا کہ وہ دل میں تنگی محسوس کریں اور اس کی خاموشی کو دوسری معنی پہنائیں۔ کیونکہ اچھی طرح بات کرنے سے اور نرمی سے سمجھانے کے نتیجے میں ان کو تسلی ہوگی۔ پچھلی آیت میں چونکہ تبذیر اور فضول خرچی کی ممانعت کی گئی۔ اس کی مناسبت سے یہاں خرچ میں میانہ روی کا حکم دے دیا گیا۔

الإسراء 17:27

اسلام نے اقرباء ، مساکین اور مسافروں کے لئے لوگوں کے ذمہ ایک حق مقرر کیا ہے اور یہ حق ان مدات میں انفاق کے ذریعہ پورا کیا جاسکتا ہے۔ نیز ان مدات پر خرچ محض خیرات اور مہربانی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو ہر مسلمان کی گردن پر لازم ہے۔ اور اس حق کو فریضہ قرار دینے کے بعد اسے اسلامی عقیدہ توحید اور اسلامی عبادت اور بندگی کے ساتھ منسلک کرکے اسے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا حق اور فریضہ ہے جس سے مکلف صرف ادائیگی کے بعد ہی بری المذمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس مد میں خرچ کرنے والا تو اپنا فریضہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب سے اس کے اور مستفید کے درمیان محبت بھی پیدا ہوگی۔ اس کے بعد قرآن کریم تبذیر کی ممانعت کرتا ہے۔ تبذیر کیا ہے ؟ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ اس کی تعریف یوں کرتے تھے کہ ایسی مد میں خرچ کرنا جس میں خرچ کرنے کا حق نہ ہو ، تبذیر ہے۔ اور مجاہد کہتے ہیں کہ اگر سچائی کی راہ پر کوئی انسان اپنا پورا مال خرچ کر دے تو وہ تبذیر تر ہوگا اور اگر کوئی دو کلو بھی بغیر حق کے خرچ کرے تو وہ تبذیر ہے۔ لہذا تبذیر کا تعلق انفاق کی مقدار سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق اس مد سے ہے جس میں خرچ کیا جاتا ہے۔ مبذرین کو شیطان کا بھائی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ باطل اور شر اور معصیت میں خرچ کرتے ہیں۔ اور یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ وہرب کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتا۔ اور شیطان کے بھائی بھی اللہ کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمتوں کا حق یہ ہے کہ ان کو اپن جگہ خرچ کیا جائے۔ اگر کسی کے پاس اس قدر مال نہ ہو کہ وہ رشتہ داروں ، مساکین ، مسافروں کا حق ادا کرے اور وہ ان کا سامنا کرنے میں شرم محسوس کرتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے سوال کرے کہ اللہ اسے بھی رزق وافر دے اور ان کو بھی رزق وافر دے۔ اور ان حقداروں کے ساتھ وعدہ کرلے کہ جب حالات درست ہوں گے اور وہ کچھ کرنے کے قابل ہوا تو کرے گا وہ وعدہ کرے اور اچھی نرم بات ان کے ساتھ کرے۔ دل تنگی اور تھڑ دلی کا مظاہرہ نہ کرے۔ اور خاموشی بھی اختیار نہ کرے۔ مبادا کہ وہ دل میں تنگی محسوس کریں اور اس کی خاموشی کو دوسری معنی پہنائیں۔ کیونکہ اچھی طرح بات کرنے سے اور نرمی سے سمجھانے کے نتیجے میں ان کو تسلی ہوگی۔ پچھلی آیت میں چونکہ تبذیر اور فضول خرچی کی ممانعت کی گئی۔ اس کی مناسبت سے یہاں خرچ میں میانہ روی کا حکم دے دیا گیا۔

الإسراء 17:28

اسلام نے اقرباء ، مساکین اور مسافروں کے لئے لوگوں کے ذمہ ایک حق مقرر کیا ہے اور یہ حق ان مدات میں انفاق کے ذریعہ پورا کیا جاسکتا ہے۔ نیز ان مدات پر خرچ محض خیرات اور مہربانی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو ہر مسلمان کی گردن پر لازم ہے۔ اور اس حق کو فریضہ قرار دینے کے بعد اسے اسلامی عقیدہ توحید اور اسلامی عبادت اور بندگی کے ساتھ منسلک کرکے اسے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا حق اور فریضہ ہے جس سے مکلف صرف ادائیگی کے بعد ہی بری المذمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس مد میں خرچ کرنے والا تو اپنا فریضہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب سے اس کے اور مستفید کے درمیان محبت بھی پیدا ہوگی۔ اس کے بعد قرآن کریم تبذیر کی ممانعت کرتا ہے۔ تبذیر کیا ہے ؟ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ اس کی تعریف یوں کرتے تھے کہ ایسی مد میں خرچ کرنا جس میں خرچ کرنے کا حق نہ ہو ، تبذیر ہے۔ اور مجاہد کہتے ہیں کہ اگر سچائی کی راہ پر کوئی انسان اپنا پورا مال خرچ کر دے تو وہ تبذیر تر ہوگا اور اگر کوئی دو کلو بھی بغیر حق کے خرچ کرے تو وہ تبذیر ہے۔ لہذا تبذیر کا تعلق انفاق کی مقدار سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق اس مد سے ہے جس میں خرچ کیا جاتا ہے۔ مبذرین کو شیطان کا بھائی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ باطل اور شر اور معصیت میں خرچ کرتے ہیں۔ اور یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ وہرب کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتا۔ اور شیطان کے بھائی بھی اللہ کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمتوں کا حق یہ ہے کہ ان کو اپن جگہ خرچ کیا جائے۔ اگر کسی کے پاس اس قدر مال نہ ہو کہ وہ رشتہ داروں ، مساکین ، مسافروں کا حق ادا کرے اور وہ ان کا سامنا کرنے میں شرم محسوس کرتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے سوال کرے کہ اللہ اسے بھی رزق وافر دے اور ان کو بھی رزق وافر دے۔ اور ان حقداروں کے ساتھ وعدہ کرلے کہ جب حالات درست ہوں گے اور وہ کچھ کرنے کے قابل ہوا تو کرے گا وہ وعدہ کرے اور اچھی نرم بات ان کے ساتھ کرے۔ دل تنگی اور تھڑ دلی کا مظاہرہ نہ کرے۔ اور خاموشی بھی اختیار نہ کرے۔ مبادا کہ وہ دل میں تنگی محسوس کریں اور اس کی خاموشی کو دوسری معنی پہنائیں۔ کیونکہ اچھی طرح بات کرنے سے اور نرمی سے سمجھانے کے نتیجے میں ان کو تسلی ہوگی۔ پچھلی آیت میں چونکہ تبذیر اور فضول خرچی کی ممانعت کی گئی۔ اس کی مناسبت سے یہاں خرچ میں میانہ روی کا حکم دے دیا گیا۔

الإسراء 17:29

اسلامی نظام زندگی میں توازن بنیادی اصول ہے ، تفریط کی طرح غلو بھی توازن میں خلل انداز ہوتا ہے۔ لیکن توازن کے بیان میں بھی تصویر کشی کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ بخیل کی تصویریوں کھینچی گئی کہ وہ ایک شخص ہے جس نے اپنے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ رکھے ہیں اور مسرف اور مبذر کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جس نے اپنے دونوں ہاتھ اور بازو کھول رکھے ہیں۔ اور وہ کسی چیز کو اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ اور بخیل اور مسرف دونوں کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے کہ ایک شخس ہے جو ہر طرف سے مسترد شدہ ملامت کردہ ہے۔ اور عاجز و ناتواں اور لاچار ہے۔ محسور خیبر سے ہے اور خیبر اس سواری کو کہتے ہیں جو جعف و ناتوانی کی وجہ سے بیٹھ جائے اور اس میں چلنے کی سکت ہی نہ رہے۔ بخیل ملامت زدہ ہوتا ہے اور مبذر عاجز ہوجاتا ہے اور دونوں ملامت زدہ ہوتے ہیں۔ جبکہ شریعت کا حکم ہے۔ خیر الاموراوسطھا (میانہ روی بہترین طریق کار ہے) یہ حکم دینے کے بعد کہ میانہ روی اختیار کو جائے ، یہ بتایا جاتا ہے کہ حقیقی رزاق اللہ ہے ، وہی ہے جو کسی کو رزق فراواں دیتا ہے اور کسی پر رزق کے سلسلے میں تنگی کرتا ہے چونکہ رزاق دہی ہے اس لئے وہ میانہ روی کا حکم دیتا ہے۔

الإسراء 17:30

وہ اچھی طرح دیکھ کر کسی کو رزق میں راوانی دیتا ہے ، اور اچھی طرح دیکھ کر اور جان کر کسی کو رزق میں تنگ کرتا ہے ۔ وہ میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور بخل و اسراف کی ممانعت کرتا ہے اس لئے کہ وہ تمام حالات میں لوگوں کے بارے خبیر وبصیر ہے اور سب کچھ جانتا ہے اس لئے وہ اپنے علم کے مطابق حکم دیتا ہے۔ اور اس نے یہ قرآن نازل ہی اس لئے کیا ہے کہ تمام حالات میں یہ اچھی او سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اہل جاہلیت اپنی لڑکیوں کو قتل کردیتے تھے ، اس ڈر سے کہ وہ ان پر بوجھ بن کر ان کو معاشی لحاظ سے کمزور کردیں گی اور ان کے لئے ان کا سنبھالنا مشکل ہوگا۔ سابقہ آیت میں چونکہ یہ حقیقت بتا دی گئی تھی کہ رزق کی فراوانی اور تنگی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے یہاں صاف صاف کہہ دیا کہ اب تم لوگ اولاد کو معاشی زاویہ سے نہ دیکھو۔ کثرت اولاد یا لڑکیوں کی وجہ سے کوئی غریب نہیں ہوگا۔ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا اکثرت نسل یا کثرت اقسام نسل کے نتیجے میں معاشی تنگی نہیں ہوگی اور نہ افراد خانہ کم ہونے کی وجہ سے کوئی معاشی لحاظ سے خوشحال ہوگا۔

الإسراء 17:31

حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی گمراہی کے نتیجے میں کسی بھی سوسائٹی کے اندر عملی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ نظریاتی بےراہ روی کی وجہ سے صرف نظریہ ہی خراب نہیں ہوتا یا اس کے نتیجے میں محض مذہبی مراسم میں کمزوری نہیں آتی بلکہ سوسائٹی کا اجتماعی نظام بھی خراب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا نظریہ درست ہو تو صرف اس کی عبادت ہی درست نہیں ہوجاتیں بلکہ اس سوسائٹی کا عملی نظام ، اس کے اجتماعی ادارے بھی صحیح و سلامت ہوجاتے ہیں اور درست سمت میں کام کرتے ہیں۔ اور لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کی یہ رسم محض غلط عقیدے پر قائم کی تھی کہ لڑکیوں کی وجہ سے غربت آتی ہے ، جب یہ عقیدہ پیدا ہوا کہ رزاق صرف اللہ ہے تو اس کے بعد قتل اولاد خود بخود موقوف ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی نظریہ زندگی پر عملاً اثر انداز ہوتا ہے۔ نظریہ محض خلا میں نہیں ہوتا یا محض کسی شخص کے دماغ تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ کہ وہ عمل کی دنیا تک اترتا ہے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ قرآن کے انداز تعبیر کی ایک نہایت ہی گہری مثال پر قدرے غور کریں۔ یہ عجیب لطیف مثال ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے رزق کو آباء کے رزق پر مقدم رکھا۔ نحن نرقھم وایاکم (71 : 13) ” ہم تمہاری اولاد کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی “۔ لیکن سورت انعام میں اولاد کے رزق پر آبا کے رزق کو مقدم رکھا گیا ، وہاں کہا گیا۔ نحن نرزقکم وایاھم (6 : 151) ” ہم تمہیں اولاد کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی “۔ لیکن سورت انعام میں اولاد کے رزق پر آبا کے رزق کو مقدم رکھا گیا ، وہاں کہا گیا۔ نحن نرزقکم وایاھم (6 : 151) ” ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہاری اولاد کو بھی “۔ کیونکہ دونوں آیات کے مفہوم میں ایک دوسرا اختلاف ہے۔ پوری آیات یوں ہیں : ولا تقتلوا اولاد کم خشیۃ املاق نحن نرزقھم وایاکم (71 : 13) اور انعام میں یوں تھی : ولا تقتلوا اولادکم من املاق نحن نرزقکم ویاھم (6 : 151) یہاں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اولاد کو اس لئے قتل نہ کرو کہ تم غریب ہوجائو گے۔ خشیۃ املاق (71 : 13) اس لئے اللہ نے فرمایا کہ اولاد کا رزق ہم پر ہے۔ اور انعام یہ تھا من املاق یعنی فقر اور تنگی رزق پہلے سے موجود تھے ، اس لئے والدین کے رزق کو پہلے لایا گیا۔ یہ ایک لطیف فرق ہے اور اسی وجہ سے تقدیم و تاخیر کا یہ عمل ہوا۔ قتل اولاد کی ممانعت کی نسبت ہی سے ممانعت زنا کا حکم آتا ہے۔

الإسراء 17:32

اس لئے کہ قتل اولاد اور زنا کے درمیان تعلق موجود ہے ، نیز اس کے بعد قتل نفس کا مضمون آتا ہے۔ قتل اولاد ، زنا اور قتل نفس کے درمیان مخصوص تعلق موجود ہے۔ قتل اولاد توبعینہ قتل نفس ہے ، لیکن زنا بھی مختلف پہلوئوں سے دراصل قتل نفس ہی ہے۔ کیونکہ سب سے پہلے زانی حیات کو بےمحل گرانا ہے ، اگر زنا کے نتیجے میں کوئی اولاد پیدا ہوجائے تو اس سے فرار حاصل کیا جاتا ہے۔ پہلے جنہیں ہی کو قتل کردیا جاتا ہے ، ورنہ بچہ پیدا ہونے کے بعد بالعموم قتل کردیا جاتا ہے۔ پیدائش سے پہلے یا بعد وہ اگر زندہ رہ بھی جائے تو یا وہ مادر پدر آزاد ہوتا ہے یا پھر معاشرے میں ذلیل و خوار ہو کر رہتا ہے۔ بہرحال اگر قتل نہ ہو اور زندہ بچ بھی جائے تو کسی نہ کسی طرح وہ ایک کم تر درجے کی زندگی ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک گو نہ وہ بھی قتل ہے۔ پھر زنا دراصل پوری سوسائٹی کے لئے قتل کا سبب ہے۔ کیونکہ اس میں نسب مل جاتے ہیں اور خون خالص نہیں رہتے اور بچوں کے بارے میں یقینی صورت نہیں رہتی۔ یہ دراصل ایک سو سائٹی کی موت ہوتی ہے۔ ایک طرح زنا قتل کے برابر اس طرح بھی ہوتا ہے کہ جس سوسائٹی میں زنا عام ہوتا ہے اس میں ازدواجی زندگی کی ضرورت نہیں رہتی۔ یوں بھی سوسائٹی سے خاندانی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ حالانکہ خاندان ایک بچے کے لئے بہترین جائے پرورش ہوتا ہے۔ خاندان کے بغیر کسی بچے کی فطرت سلیمہ اپنی جگہ قائم نہیں رہ سکتی۔ اور اس کی تربیت میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور رہ جاتا ہے۔ پھر تاریخ گواہ ہے کہ جس سوسائٹی میں زنا عام ہوا ہے ، وہ تباہی و بربادی اور زوال کی طرف سفر شروع کردیتی ہے۔ تاریخ قدیم اور عصر جدید دونوں کا عمرانی مطالعہ یہی نتیجہ دیتا ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپ میں زنا عام ہے حالانکہ وہ اس وقت مادی ترقی کے قائدین ہیں لیکن ان میں سے فرانس جیسی قوم کے زوال کے آثار تو ابھی سے نمودار ہوچکے ہیں جس طرح ایک فرد جوانی کے ایام میں تروتازہ رہتا ہے اور اس کی اخلاقی بےراوہ روی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی اور بڑھاپے میں پھر وہ یکدم گر جاتا ہے اسی طرح اخلاقی بےراہ روی میں مبتلا اقوام یکدم زوال کا شکار نہیں ہوجایا کرتیں ، جب ان پر زوال آتا ہے تو یکدم گرجاتی ہیں۔ اسلام زنا کے قریب جانے سے بھی روکتا ہے ، یعنی مقدمات زنا کے حالات سے ہی دور رہنے کا حکم دیتا ہے یہ زنا کی ممانعت کی سخت تاکید ہے۔ کیونکہ اگر کوئی ایسے حالات سے نہیں بچتا جن کے نتیجے میں زنا واقع ہوجاتا ہے تو بھی اپنے ۔۔ کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے اسلام سد باب ذریعہ پر عمل کرتا ہے تاکہ اس فحاشی میں مبتلا ہونے کا کوئی راستہ ہی نہ رہے۔ اسلام غیر ضروری اختلاط مرد و زن کی ممانعت کرتا ہے ، غیر مرد اور عورت کی ایک جگہ تنہائی کی ممانعت کرتا ہے ، اسلام نوجوانوں کی شادی کی تلقین کرتا ہے۔ ایسی باتوں کو روکتا ہے جن کے نتیجے میں شادی ممنوع ہوجائے مثلاً جہیز اور زیادہ مر۔ اور اس خوف کا بھی قلع قمع کرتا ہے کہ شادی کی وجہ سے تنگ دستی نہ آجائے اور جو لوگ شادی کی تلاش میں ہوں ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ پاک دامنی کی راہ اختیار کریں اور پھر بھی اگر کوئی اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اسلام اسے سخت سزا دیتا ہے نیز زنا کے الزام کو بھی قابل حد جرم قرار دیتا ہے اور اس مقصد کے لئے تمام ذرائع و اسباب اختیار کرتا ہے کہ سوسائٹی زنا کے ارتکاب سے بچ جائے۔ اور اس طرح وہ تباہی اور ہلاکت سے بچ جائے۔ چناچہ قتل اولاد اور زنا کی ممانعت کے ساتھ ہی حکم آتا ہے ناحق کسی زندہ انسان کی جان لینا بھی اسلام میں ایک عظیم جرم ہے۔

الإسراء 17:33

اسلام سلامتی کا دین ہے۔ اسلام میں شرک باللہ کے بعد سب سے بڑا جرم قتل ناحق ہے۔ زندگی دینے والا اللہ ہے ، اللہ کے سوا کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی سے اللہ کا یہ عطیہ سلب کرے ، الایہ کہ اللہ کے طے کردہ قوانین کے مطابق کسی کی زندگی لی جاسکتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بھی چند محدود جرائم پر انسانی جان لینے کی اجازت دی ہے۔ اور ان حدود میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ طے شدہ حدود کسی کی ذاتی رائے یا خواہش پر نہیں چھوڑ دئیے گئے۔ صحیحن میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” کوئی مسلمان جو کلمہ شہادت ادا کرتا ہے اور شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کا قتل جائز نہیں ہے۔ مگر صرف تین صورتوں میں ، یہ کہ اس نے ناحق قتل کیا ہو ، وہ محصن ہو اور زنا کا ارتکاب کیا ہو ، یہ کہ وہ تارک دین ہو اور جماعت مسلمہ کو اس نے چھوڑ دیا ہو “۔ اسلام میں قتل نفس کی گنجائش کی پہلی صورت ہے کہ کسی نے قتل کا ارتکاب کیا ہو اور اس کے خلاف عدالت مجاز سے منصفانہ فیصلہ قصاص صادر ہوچکا ہو۔ اس کے بارے میں قرآن کریم کہتا ہے : ولکم فی القصاص حیاہ ” تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے “۔ اس طرح کہ نفاذ قصاص سے مجرموں کے ہاتھ پکڑے جاتے ہیں اور وہ پھر کسی زندہ شخص کی جان لینے سے باز رہتے ہیں۔ جب نظام قصاص موثر طر پر نافذ ہوتا ہے تو یہ دوسرے لوگوں کو اس قسم کے جرم کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ نیز اس طرح یہ بھی زندگی ہے کہ قاتل کے ورثاء ایک شخص کو قتل کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ ایک قتل کے بدلے کئی لوگوں کا خون نہیں بہاتے۔ نہ وہ اس سلسلے کو جاری رکھتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ سلسلہ قتل کو جاری رکھتے ہیں اور جانبین سے کئی قتل ہوجاتے ہیں۔ نیز نظام قصاص کے اجراء میں اس طرح بھی زندگی ہے کہ ہر شخص کی جان اپنی جگہ محفوظ ہوجاتی ہے اور اسے عدالت پر اعتماد ہوتا ہے۔ یوں پوری امت اور سوسائٹی مطمئن ہوتی اور امن و چین سے زندگی گزارتی ہے۔ قتل کی دوسری صورت مرتد کی ہے۔ یہ دراصل روحانی فساد اور طوائف الملوکی کے دفعیے کے لئے ضروری ہے۔ جب ایک شخص اپنی خوشی سے بغیر کسی جبر کے اسلام قبول کرتا ہے ، اسلامی جماعت میں داخل ہوتا ہے اور امت کا حصہ بن جاتا ہے اور امت اس کی ذات میں داخل ہوجاتی ہے ، وہ امت اسلامیہ کے رازوں اور بھیدوں سے واقف ہوجاتا ہے ، اور پھر وہ اگر امت کو چھوڑ کر مرتد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر پائی جانے والی امت کو قتل کرتا ہے۔ اگر یہ شخص پہلے ہی اسلام میں داخل نہ ہوتا تو اسے کس نے مجبور کیا تھا۔ اگر وہ اہل کتاب میں سے تھا تو اسلام نے اس کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری لی تھی اور اگر وہ مشرک تھا تو اسلام اسے پناہ دیتا تھا اور اسے اس کی جائے پناہ تک پہنچانے کی ذمہ داری لیتا تھا ، اس لئے اگر وہ اپنی خوشی سے اسلام میں داخل ہوا ہے تو اب اسے لازماً اسلام میں رہنا ہوگا ورنہ قتل مرتد کی سز اپائے گا۔ ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق (71 : 33) ” اور جس نفس کا قتل اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ “۔ اور قتل مرتد بھی ایک حق ہے۔ تیسری قسم کا قتل یہ ہے کہ کوئی محصن زنا کا ارتکاب کرے۔ یہ فحاشی کی اشاعت ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ تین اسباب ایسے ہیں جن کی وجہ سے اسلام میں سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ ان تین اسباب کے بغیر ناحق کوئی کسی شخص کو قتل کرے گا تو پھر مقتول کے ورثاء کو اختیار ہوگا کہ قاتل کو بعد از ثبوت جرم قتل کردیں۔ پھر بھی اگر وہ چاہیں تو قتل کرادیں ، اگر چاہیں تو دیت لے کر معاف کردیں ، چاہیں تو بغیر دیت کے معاف کردیں۔ یہ اختیار مقتول کے ورثاء کا ہے کہ وہ سج طرح چاہیں فیصلہ کریں۔ لیکن ورثاء کو بھی قتل کا اختیار دینے کے ساتھ ساتھ ان پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ اس اختیار سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ قتل میں اسراف نہ کریں۔ اسراف یہ ہے کہ مقتول کے علاوہ اوروں کو قتل نہ کریں جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے انتقام میں ہوتا تھا کہ قاتل کے بہن بھائی اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی ناحق قتل کردیا جاتا۔ حالانکہ ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ ان کا قصور صرف یہ ہوتا کہ وہ قاتل کے افراد خاندان یا افراد قبیلہ ہیں۔ اس طرح مثلہ کرنے اور قتل میں ناجائز آلات استعمال کرنے کے سلسلے میں ممانعت کی گئی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اسراف فی القتل کی تمام شطوں کی ممانعت کی ہے۔ فلا یسرف فی القتل انہ کان منصورا (71 : 33) ” پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے بیشک اس کی مدد کی جائے گی “۔ اس کے بارے میں اللہ نے فیصلہ کردیا۔ دین اسلام اور اسلامی قانون اس کے حق کا موید ہے۔ اور حاکم وقت کا بھی فرض ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کی نصرت کرے۔ لہٰذا سے چاہیے کہ وہ قصاص لینے میں بھی انصاف کرے ، اس لئے کہ تمام اسلامی ادارے اس کے حامی و ناصر ہیں۔ یہ کیوں کہا گیا کہ قصاص لینے کا اختیار مقتول کے ورثاء کو دے دیا گیا ؟ جبکہ حکومت ، حکومتی اداروں اور تمام سوسائٹی کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ورثائے مقتول کی نصرت کریں۔ یہ ایک نہایت ہی فطری عمل ہے ، اس طرح انسان کا جذبہ انتقام سرد پڑجاتا ہے اور مقتول کے ورثاء کے دلوں میں جذبہ انتقام کی موجوں میں ٹھہرائو پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ انتقام بعض اوقات اس قدر زدید ہوتا ہے کہ لوگ اس سے مغلوب ہو کر دائیں بائیں جو بھی سامنے آتا ہے اسے گاجر اور مولی کی طرح کاٹ دیتے ہیں لیکن جب ورثاء یہ محسوس کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قاتل کی زندگی ان کے اختیار میں دے دی ہے اور یہ کہ حاکم بھی ان کی امداد پر کمربستہ ہے۔ اور عدالت ان کی پشت پر ہے تو اس طرح اس کا جوش انتقام سرد پڑجاتا ہے اور وہ عدالت کے منصفانہ فیصلہ کا انتظار کرتا ہے اور قصاص پر اکتفاء کرتا ہے۔ انسان بہرحال انسان ہے اور اس کی فطرت کے اندر قصاص کا داعیہ موجود ہے۔ اور اسلام چونکہ دین فطرت اس لئے وہ انسان کی اس فطری خواہش کو پورا کرتا ہے اور محفوظ اور مامون حدود کے اندر اسے بدست خود انتقام لینے کی اجازت دیتا ہے۔ اسلام عفو و درگزر کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ وہ لوگوں کو اس پر آمادہ کرتا ہے کہ عفو و درگزر سے کام لیں اور اس پر اجر بھی دیتا ہے لیکن یہ سب کچھ حق قصاص عطا کرنے کے بعد۔ جب فیصلہ دے دیا جائے تو پھر یہ وارث یا وار ثان مقتول کا حق ہے کہ قصاص لیں ، دیت لیں یا بالکل عفو و درگزر سے کام لیں۔ ہاں اگر ان کے اند ریہ احساس ہو کہ انہیں عفود درگزر پر مجبور کیا گیا ہے تو اس صورت میں وہ پھر جذبات انتقام سے مغلوب ہوسکتے ہیں اور زیادتی کرسکتے ہیں۔ جان اور عزت کی حفاظت کے بعد اب روئے سخن مال یتیم اور عہد کی حفاظت کی طرف آتا ہے۔

الإسراء 17:34

اسلام ہر مسلمان کی جان ، مال اور آبرو کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تمام مسلمان مسلمانوں پر حرام ہیں ، ان کی جان ، ان کی آبرو اور ان کا مال “۔ لیکن قرآن کریم اور سنت دونوں نے مال یتیم کے بارے میں بالخصوص سخت شدید سے ممانعت کی ہے۔ طریق احسن کو چھوڑ کر کسی اور صورت میں بھی اس کے قریب تک جانے سے منع کیا ہے۔ یہ اس لئے کہ یتیم کمزور ہوتا ہے وہ اپنے مال کی حفاظت اور تدبیر کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور وہ اپنے مال کی مدافعت بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اسلامی نظام زندگی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مال یتیم کی حفاظت اور تدبیر کرے۔ اور یہ اس وقت تک جاری رہے جب تک وہ سن رشد کو پہنچ نہیں جاتا اور جب تک وہ اس بات کے اہل نہیں ہوجاتا کہ وہ اپنے مال میں مناسب تصرفات کرسکے۔ ان احکام اور اوامرو نواہی کے اندر یہ لطیف نکتہ پایا جاتا ہے کہ جن احکام کا تعلق ایک فرد سے ہے ان کے بارے میں مفروصیغہ استعمال ہوا ہے اور جن کا تعلق سوسائٹی یا حکومت اور اجتماعی نظام سے ہے ان کو جمع کے صیغے میں لایا گیا ہے۔ مثلاً والدین کے ساتھ حسن سلوک ، اقربائ، مساکین اور مسافروں کی مالی امداد ، فضول خرچی کی ممانعت ، خرچ کرنے میں بخل اور اسراف کے درمیان متعدل راہ اپنانے کا حکم ، حق پر ثابت قدمی اور کبرو غرور کی ممانعت کے احکام ور امرو نہی میں صیغہ مفرد استعمال ہوا ہے ، اور قتل اولاد کی ممانعت کے احکام ، حرمت زنا ، قتل نفس ، مال یتیم کی حفاظت ، وفائے عہد کے احکام ، ناپ و تول پورا کرنے کے حکم یا نہی میں جمع کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مال یتیم کے قریب نہ جانے کی ممانعت صیغہ جمع کی صورت میں آئی ہے تاکہ پوری سلامی سوسائٹی حفاظت مال یتیم کی ذمہ داری میں برابر کی شریک ہو ، کیونکہ یہ ایک اجتماعی نوعیت کی ذمہ داری ہے۔ مال یتیم کی حفاظت چونکہ پوری سوسائٹی کی ذمہ داری ہے ، اسی کے ساتھ وفائے عہد کے احکام بھی دئیے گئے۔ کیونکہ اجتماعی ذمہ داریوں کے سلسلے میں بالعموم عہد نیا اور دیا جاتا ہے۔ لہذا وفائے عہد کا ایک عمومی حکم یہاں دے دیا گیا۔ واوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا (71 : 43) ” اور وعدہ کو پور اکرو ، بیشک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا “۔ وفائے عہد کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود سوال کرے گا اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ، ان سے قیامت کے دن اس سلسلے میں باز پرس ہوگی۔ اسلام نے وفائے عہد کے سلسلے میں تاکید شدید کی ہے۔ کیونکہ ایک فرد اور جماعت کے کردار میں وفائے عہد اصل معیار ہے کہ کون شخص ٹھوس اور ثابت قدم ہے ، کون ضمیر کے اعتبار سے پاکیزہ ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار اور مختلف طریقوں سے وفائے عہد کی تاکید کی گئی ہے۔ چاہے یہ عہد اللہ کی طرف سے ہو ، لوگوں کی طرف سے ہو ، فرد کی طرف سے ہو ، کسی جماعت یا سوسائٹی کی طرف سے ہو ، رعایا کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے ہو ، حاکم کی طرف سے ہو یا محکوم کی طرف سے ، نیز بین الاقوامی تعلقات میں اسلام نے عہد کی پابندی کی وہ مثایں قائم کیں کہ انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں صرف اس حصے میں ملتی ہیں جن میں مسلمان دنیا کے حکمران تھے ، یا دنیا کے حکمرانوں میں سے معتبر حکمران تھے (دیکھئے کتاب ” عالمی امن “ ) ۔ ناپ تول کا پورا کرنا بھی دراصل وفائے عہد کے زمرے میں آتا ہے ، کہا گیا :

الإسراء 17:35

وفائے عہد اور ناپ اور تول پورا پورا اور ٹھیک ٹھیک کرنے اور وفائے عہد کے درمیان لفظی اور معنوی مناسبت تو بالکل ظاہر ہے۔ لہذا وفائے عہد کے حکم کے بعد ناپ اور تول پورے کرنے کے احکام کی طرف آنا موضوع کی مناسبت سے درست ہے۔ ناپ اور تول پورا کرنا معاملات میں دیانت و امانت کا حصہ ہے۔ اس سے تاجر کو قلبی طہارت بھی حاصل ہوتی ہے او سوسائٹی کی نشوونما صحت مند بنیادوں پر ہوتی ہے۔ لوگوں کے درمیان معاملات میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور اس سے برکت پیدا ہوتی ہے۔ ذلک خیر واحسن تاویلا (71 : 53) ” یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی بہتر ہے “۔ یعنی دنیا میں بھی بہتر ہے اور آخرت میں بھی بہتر ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ” جو شخص بھی حرام پر قدرت رکھتا ہو اور پھر حرام سے اجتناب کرے اور یہ کام وہ محض رضاے الٰہی کے لئے کرے ، تو اللہ آخرت سے قبل کود اس دنیا میں اسے اس سے بہتر دیتا ہے “۔ جو لوگ ناپ اور تول میں کمی کرتے ہیں وہ دراصل نہایت ہی گندہ کا کرتے ہیں ، یہ نفسیاتی گراوٹ ہے اور معاملے میں دھوکہ اور خیانت ہے۔ اس سے مارکیٹ میں اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کساد بازاری بھی پیدا ہوتی ہے اور پوری سوسائٹی سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔ چناچہ اس سے تمام تر افراد جماعت کو نقصان ہوتا ہے حالانکہ وہ بظاہر سمجھتے ہیں کہ اس خیانت کے ذریعے وہ کما رہے ہیں ، لیکن وہ محض ظاہری اور وقتی کمائی ہوتی ہے لیکن مال کار میں نقصان ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب کساد بازاری آتی ہے تو نقصان اس خیانت کار کو بھی ہوتا ہے۔ جو لوگ تجارتی دنیا میں دور کی نظر رکھتے ہیں انہوں نے اپنے ذاتی تجربے سے اس حقیقت کو پا لیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے کسی اخلاقی یا دینی جز بے سے یہ کام نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے سائنٹیفک سٹڈی سے اس حقیقت تک رسائی حاصل کی۔ سوال یہ ہے کہ پھر دونوں میں فرق کیا ہے ؟ جو شخص محض تجارتی مقاصد کے لئے دیانت داری کرتا ہے اور جو شخص دینی جذبے سے دیانت داری کرتا ہے دونوں میں کیا فرق ہے ، جو شخص اخلاقی اور دینی عقیدے اور جذبے سے یہ کام کرتا ہے اس کا نقطہ نظر اور اس کی ذہنی سطح زیادہ اعلیٰ ، ارفع اور بلند ہے ، اور دل کی زیادہ تطہیر اس سے ہوتی ہے۔ اور اس کی زندگی میں زیادہ سکون و اطمینان ہوتا ہے۔ اس طرح اسلام عملی زندگی میں بھی ہمیشہ وسیع اور ارفع اور روشن مستقبل کی طرف بڑھتا ہے اور دور تک انسانوں کی مادری اور روحانی راہنمائی کرتا ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کا یہ کمال ہے کہ وہ نظریہ ، عقیدہ اور تصورات میں بہت زیادہ صفائی ، وضاحت اور حقیقت پسندی کا قائل ہے ، اسلام کسی معاملے پر پیچیدگی ، وہم و شبہات کی اجازت نہیں دیتا۔

الإسراء 17:36

ان چند الفاظ میں انسانی دل و دماغ کے لئے ایک بہترین منہاج عمل اور طریق کار وضع کردیا گیا ہے اور یہ ایک سائنسی انداز جسے دوسرے لوگوں نے حال ہی میں معلوم کیا ہے۔ اسلام نے اس میں قلب کی درستی ، خدا ترسی اور سائنس میں حکمت خداوندی پر غور کا جوڑ لگا کر ایک خشک علم کے مقابلے میں اسے مزید مقدس اور بامعنی بنا دیا ہے۔ یہ اسلام اور قرآن کی خصوصیات ہے۔ قرآن کریم یہ حکم دیتا ہے کہ ہر معاملے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قبل پوری تحقیق کرو ، معاملے کو پایہ ثبوت تک پہنچائو ، یہ اسلام کا نہایت ہی باریک طریق کار ہے۔ جب دل و دماغ اس منہاج پر گامزن ہوجائیں۔ تو پھرو ہم و گمان کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہتی اور معاملات ، فیصلوں کا مدار تحقیق اور ثبوت پر ہوتا ہے ، مفروضوں پر نہیں۔ انسانیت کو یہ علمی اور سائنسی انداز سب سے پہلے قرآن نے دیا ہے۔ وہ علمی امانت جس کے ساتھ دور جدید کے لوگ مسلح ہیں ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اس علی امانت کا ایک حصہ ہے۔ جس کی تلقین قرآن کرتا ہے یعنی قلب و نظر کی وہ امانت جسے عقل کہتے ہیں اور جس کے استعمال اور کام میں لانے کی قرآن کریم بار بار تلقین کرتا ہے اور یہ قرار دیتا ہے کہ انسان سمع اور بصر اور قلب و نظر کی قوتوں کو کام میں لانے کا ذمہ دار ہے اور یہ ذمہ داری اس ذات کے سامنے ہے جس نے یہ قوتیں انسان کو عطا کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام اعضاء اور جوارح ، اس کے حواس اور اس کی عقل یہ سب اللہ کی امانتیں ہیں اور ان امانتوں کا مالک اللہ ہے ، وہ انسان سے پوچھے گا کہ اس نے یہ قوتیں کام میں لائی تھیں یا نہیں۔ جب انسان ایک لفظ بولتا ہے تو اس کے مفہوم پر غور کرتے ہوئے انسان معلوم کرلیتا ہے کہ عقل اور فکر و نظر اور سمع و احساس کسی قدر عظیم قوتیں ہیں۔ خصوصاً جب ایک انسان کوئی کہانی یا روایت بیان کرتا ہے ، یا کوئی فیصلہ کرتا ہے ، کسی کے خلاف ، کسی حادثے کے بارے میں ، یا کسی اور معاملے میں۔ ولا تقف مالیس لک بہ علم (71 : 63) ” کسی ایسے چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو ‘۔ یعنی اس بات میں نہ پڑو ، جس کا تمہیں یقینی علم نہ ہو ، جب تک اس کی صحت کے بارے میں تمہیں وثوق حاصل نہ ہو ، خواہ بات ہو یا کوئی روایت ہو ، کسی منظر کی تشریح ہو یا کسی واقعہ کے اسباب پر بحث ہو ، کوئی شرعی اور قانونی مسئلہ ہو یا کوئی اعتقادی اور نظریاتی مسئلہ ہو۔ حدیث شریف میں آتا ہے : ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث “ بدگمانی سے دور رہو ، کیونکہ محض ظن وتخمین کی بات جھوٹی بات ہوتی ہے “۔ سنن ابو دائود میں ہے۔ بسئی معلیہ الرجل زعموا “ کسی شخص کی یہ بہت بری سواری ہے کہ وہ کہے ” لوگ یہ سمجھت ہیں “۔ اور ایک دوسری حدیث میں ہے۔ ان افری الفریی ان یری الرجل عینہ مالم تریا ” سب سے بڑی افتراء یہ ہے کہ ایک شخص اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھی “۔ یوں آیات و احادیث و رویات کا ایک بڑا ذخیرہ اس بات کی توثیق و تائید کرتا ہے کہ اسلام میں عقل و خرد اور ثبوت احکام کے لئے نہایت ہی مستحکم اور معقول طریق کار اپنایا گیا ہے۔ تمام اسلامی احکام کے ثبوت ، میں پوری طرح چھان بین کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔ چناچہ ایک مسلمان اپنی سوچ ، اپنے تصور ، اپنے شعور ، اپنے فیصلوں میں پختہ ثبوت اور یقین کا قائل ہوتا ہے ، وہ کوئی بات ، کوئی روایت ، کوئی حکم ، اور کوئی فیصلہ بغیر شہادت اور ثبوت کے نہیں مانتا۔ جب تک اس کے تمام اجزاء پایہ ثبوت و یقین تک پہنچ نہ جائیں۔ اور یہ ثبوت معقول حالت کے اندر نہ ہو ، اور جس میں کوئی شک و شبہ نہ رہا ہو۔ بیشک قرآن نے بہت ہی صحیح کہا ہے۔ ان ھذا القرآن یھدی للتی ھیی اقوم (71 : 9) ” بیشک یہ قرآن ایک صحیح راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے “۔ صدق اللہ العظیم۔ یہ احکام ، اوا مرو نواہی جو عقیدہ توحید پر مبنی ہیں ، یہاں ان کا خاتمہ ایک نہایت ہی اہم اخلاقی تعلیم پر کیا جاتا ہے ، وہ یہ کہ انسان اپنی بےبضاعتی کو بھی پیش نظر رکھے اور اپنے آپ کو بڑی چیز نہ سمجھے۔

الإسراء 17:37

انسان جب صاحب مال و جمال بن جاتا ہے اور اسے دنیا میں قوت اور سلطنت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ اپنے دل و دماغ سے خدا کا تصور نکال دیتا ہے ، جو اس پوری کائنات کا خالق ومالک ہے ، تو اس نظریاتی بےراہ راوی کی وجہ سے وہ کبرو غرور میں مبتلا ہوتا ہے۔ اگر انسان اس بات کو سمجھ لے کر اس کے پاس جو قوت اور مال ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے۔ اور یہ کہ اللہ کی قوت کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ تو اس کے دل و دماغ پر کبرو غرور کا غبار کبھی نہ چھائے۔ اور وہ اکڑ کر نہ چلے اور زمین کے اوپر نہایت ہی شریفانہ چال چلے۔ اس میں کوئی اکٹر نہ ہو۔ قرآن کریم اس قسم کے متکبر ، مغرور انسان کے سامنے اس کی کمزوریاں رکھتا ہے کہ دیکھو۔ انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الحبال طولا (71 : 73) ” تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو “۔ انسان جسمانی اعتبار سے بہت ہی نحیف و نزار ہے۔ جسمانی اعتبار سے یہ اللہ کی دوسری مخلوقات کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ انسان کے اندر جو قوت ہے وہ خدائی قوت ہے ، اس کو غلبہ صرف اللہ کے دین کے وجہ سے حاصل ہے ، اور یہ جو اس کائنات میں معزز ہے تو اس لئے کہ اللہ نے اپنی روح پھونک کر اسے معزز بنایا ہے۔ یہ عاجزی اور یہ تواضع جس کی طرف قرآن بلاتا ہے تکبر غرور اور خیالاتی برتری کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔ یوں انسان درگاہ باری تعالیٰ میں بھی باادب رہتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا معاملہ بھی شریفانہ ہوتا ہے اور خیالات و تصورات میں سنجیدہ اور سوشل لائف میں متوازن ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے بعد ، اگر کوئی غرور وتکبر کرتا ہے تو وہ کم عقل ، بیوقوف اور گھٹیا انسان ہوتا ہے۔ ایسے افراد کو اللہ پسند نہیں کرتا ، کیونکہ وہ غرور میں مبتلا ہے اور عوام الناس بھی ایسے شخص کو ناپسند کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو یوں بڑا سمجھتا ہے اور بےجا پھولا ہوا ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے : من تواضحع اللہ رفعہ فھو فی نفسہ حقیر وعند الناس کبیر ، ومن استکبر وضعہ اللہ فھو فی نفسہ کبیر وعند الناس حقیر۔ ھتی لھوا بغض الیھم من الکلب والخنزیر ” جو شخص تواضع کرے محض رضائے الٰہی کے لئے ، تو اسے اللہ اٹھائے گا ، وہ تو اپنے خیال میں حقیر ہوگا لیکن لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوگا ، جو تکبر کرے ، اللہ اسے گرا دیتا ہے ، وہ تو اپنے خیال میں بڑا آدمی ہوتا ہے ، مگر لوگوں کے نزدیک حقیر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ اس سے اس قدر نفرت کرنے لگتے ہیں جس طرح کتے اور خنزیر سے “ ( ابن کثیر) ۔ اب یہ بحث یہاں ایک اصول بات پر ختم ہوتی ہے ، جس قدر امور سے اس فہرست میں مطلع کیا گیا ہے وہ افعال مذمومہ ہیں ، اب عموماً کہا جاتا ہے کہ اللہ تمام برے اعمال اور افعال اور صفات کو پسند نہیں کرتا۔

الإسراء 17:38

یہاں تما احکام اور منبیات کا سبب بتا دیا گیا کہ ان امور کے ممانعت ان کے برے پہلو کی وجہ سے ہے۔ ان میں کوئی اچھا پہلو بھی ہوسکتا ہے لیکن ان کی ممانعت اس لئے کی گئی ہے کہ ان میں برائی کا پہلو غالب ہے۔ یہ تما احکام اور اخلاقی تعلیمات کو اب عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے ہیں۔ لہٰذا شرک سے بچو اور قرآن کی تعلیمات حکمت کی یہ خاص خاص باتیں ہیں ، یہ حکمت قرآن کا ایک حصہ ہیں۔

الإسراء 17:39

اس سبق کا یہ خاتمہ ، اس کے آغاز کے ساتھ مماثل ہے۔ گویا اس کے دونوں سرے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یوں نظر آتا ہے کہ تمام سبق اس عظیم قاعدے اور اصول پر قائم ہے۔ جس پر اسلامی نظام حیات کی بنیاد اٹھائی گئی ہے یعنی عقیدہ توحید اور صرف اللہ وحدہ کی بندگی اور اطاعت اور اللہ کے سوا تمام طاغوتوں کی بندگی اور اطاعت سے انکار۔

الإسراء 17:40

درس نمبر 721 ایک نظر میں۔ دوسرے سبق کا آغاز و انجام عقیدہ توحید کے بیان اور رد شرک کے مضمون کے ساتھ ہوا ، اور اس آغاز و انجام کے درمیان بیشمار احکام امرو ونہی اور بیشمار آداب و اخلاق بیان ہوئے جو سب کے سب عقیدہ توحید کے ساتھ مربوط تھے اور اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے تھے۔ اس سبق کا آغاز و انجام بھی شرک کی ایک مخصوص قسم کے رد کے ساتھ ہوتا ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کا کوئی بیٹا اور شریک نہیں ہے۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے لیے بیٹا ہونا ایک ایسا نظریہ ہے جس کی کمزوری اور لچرپن بالکل واضح ہے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اللہ وحدہ کی مخلوق ہے اور سب چیزیں اس ثنا خواں اور تسبیح گویا ہیں۔ وان من شئی الا یسبح بحمدہ (71 : 44) ” جو چیز بھی ہے وہ اس کی تعریف کے ساتھ اس کی ثنا خواں ہے “۔ اور تمام اشیاء کا انجام ایک ہے اور سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور جو چیزیں بھی زمین و آسمان میں ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ اور اللہ وحدہ اپنی مخلوقات کے اندر جو تصرفات بھی کرتا ہے ، کوئی اس کے معامالت میں اس سے باز پرس نہیں کرسکتا۔ ان یشاء یرحمکم او ان یشاء یعذبکم (71 : 45) ” اگر چاہے تو تم پر رحم کردے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے “۔ اس سبق کے درمیان بتایا جاتا ہے کہ شرکیہ عقائد کمزور اور غیر معقول ہیں اور ذات باری تعالیٰ وحدہ ، حاکم ، مطاع ، ضاحب قدرت ، متصرف اور تمام معاملات کائنات میں خود مختار ہے۔ اور اسے کوئی بھی باز پرس کرنے والا نہیں ہے۔ دنیاوی امور میں اس کے ہاتھ میں ہیں ، اخروی بھی اس کے ہاتھ میں ہیں ، ظاہری بھی اور خفیہ بھی۔ اور یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع فرمان ہے ، اس کی طرف متوجہ ہے اور اس کی تعریف اور تسبیح کرتی ہے۔ اور اس کام میں انسان ، حیوان ، چرند ، پرند اور تمام اشیاء شامل ہیں۔ یہ استفہام انکاری ہے ، اور یہ انداز اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب مخاطب کو یہ بتانا مقصو ہو کہ تمہاری یہ حرکت بہت ہی بری ہے۔ تم یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ حالانکہ اللہ بیوی ، اولاد ، مثلا اور مثال سے پاک ہے۔ اور اس کا کوئی شبیہ او کوئی شریک نہیں ہے۔ اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے لئے تو لڑکیوں کو معیوب سمجھتے ہیں اور اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور خود رزق کے خوف ور عار لاحق ہونے کی وہج سے بیٹیوں کو قتل کرتے ہیں اور اس کے باوجود فرشتوں کو لڑکیاں قرار دیتے ہیں اور انہیں اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ تو اگر لڑکے اور لڑکیاں دینے والا اللہ ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو لڑکے دے اور اپنے لئے لڑکیاں رکھے جو درجے میں لڑکوں سے کم ہیں۔ یہ ستدلال محض اس کے رواج کے مطابق کیا گیا ، کیونکہ ان کے ہاں لڑکوں کو برا سمجھا جاتا تھا اور لڑکوں کو اچھا تاکہ یہ بتایا جائے کہ کود ان کے تصورات کے مطابق بھی۔ ان کا قول کمزور ہے۔ ورنہ بات درحقیقت اپنی اصل ہی سے غلط تھی۔ انکم لتقولون قولا عظیما (71 : 04) ” بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبان سے نکالتے ہو “۔ یہ برائی کے اعتبار سے بہت ہی بڑی بات ہے اور یہ اللہ کی شان میں بری جسارت ہے اور نہایت ہی گندی بات ہے اور یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور اسلامی عقائد ، قرآنی آیات اور حقائق کے ساتھ متصادم ہے اور ناقابل یقین و تصدیق ہے۔

الإسراء 17:41

قرآن کریم عقیدہ توحید لے کر آیا۔ اس عقیدے کو قرآن نے مختلف اسالیب سے بیان کیا اور اس پر بیشمار دلائل دئیے۔ اور کئی طریقے اختیار کیے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور فطری دلائل اور فطری اور منطقی طرز استدلال کو سمجھیں اور توحید کا فطری عقیدہ قبول کرلیں اور اس کائنا ت میں اللہ وحدہ لاشیرک کی ذات پر جو آثار و دلائل موجود ہیں ان پر غور کریں مگر ان لوگوں نے اس کے سوا کچھ نہ کیا کہ انہوں نے قرآن سے نفرت کی۔ کیونکہ انہیں ڈر یہ تھا کہ اگر انہوں نے قرآن کو سنا اور پڑھا تو وہ ان عقائد باطلہ پر قائم نہ رہ سکیں گے ، جن کو وہ مضبوطی سے پکڑے رہنا چاہتے ہیں ، کیونکہ ان کے عقائد شرکیہ ، اوہام اور خرافات پر مبنی تھے ور قرآن کے فطری اور منطقی استدلال کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتے تھے۔ جس طرح اس سے قبل لڑکیوں کی نسبت الی اللہ کے معامل میں قرآن کریم نے ان کے خیالات کے مطابق بات کی تھی کہ خود اپنے لئے تو لڑکیوں کو پسند نہیں کرتے مگر اللہ کے لئے ثابت کرتے ہیں ، اب یہاں ان کے عقیدہ شرکیہ کو فرض کرکے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی دوسرے خدا بھی ہوتے تو وہ اللہ کی ذات تک پہنچے کی کوء نہ کوئی سبیل نکالتے۔ وہ اللہ کا قرب حاصل کرتے۔

الإسراء 17:42

جیسا کہ نحویوں نے کہا ہے کو حرف امتناع ہے اور یہ استعمال ہی قضیہ معنفہ پر ہوتا ہے ، لہٰذا اللہ کے سوا الہوں کا وجود ہی ناممکن ہے۔ اور جن ہستیوں کو یہ الہہ بناتے ہیں وہ خود اللہ کی مخلوقات ہیں۔ چاہے وہ ستارے ہوں ، سیارے ہوں ، انسان ہوں یا حیوان ہوں ، نباتات ہوں یا جمادات ہوں۔ اور یہ تمام مخلوقات قانون قدرت کے مطابق سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں اور یہ سب مخلوقات ارادہ باری تعالیٰ کی مطیع فرمان ہیں۔ اور ہر چیز اللہ کی طرف رواں دواں ہے۔ اذا لا بتغوا الی ذی العرش سبیلا (71 : 24) ” تو وہ مالک عرش کے مقام کو پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے “ یہاں عرش سے مراد مطلق بلندی اور ان مخلوقات پر برتری ہے جن کو یہ لوگ الہ سمجھتے ہیں۔ یہ تمام مخلوق اللہ کے عرش کے تحت ہیں اور اللہ کی حکمرانی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔

الإسراء 17:43

جیسا کہ نحویوں نے کہا ہے کو حرف امتناع ہے اور یہ استعمال ہی قضیہ معنفہ پر ہوتا ہے ، لہٰذا اللہ کے سوا الہوں کا وجود ہی ناممکن ہے۔ اور جن ہستیوں کو یہ الہہ بناتے ہیں وہ خود اللہ کی مخلوقات ہیں۔ چاہے وہ ستارے ہوں ، سیارے ہوں ، انسان ہوں یا حیوان ہوں ، نباتات ہوں یا جمادات ہوں۔ اور یہ تمام مخلوقات قانون قدرت کے مطابق سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں اور یہ سب مخلوقات ارادہ باری تعالیٰ کی مطیع فرمان ہیں۔ اور ہر چیز اللہ کی طرف رواں دواں ہے۔ اذا لا بتغوا الی ذی العرش سبیلا (71 : 24) ” تو وہ مالک عرش کے مقام کو پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے “ یہاں عرش سے مراد مطلق بلندی اور ان مخلوقات پر برتری ہے جن کو یہ لوگ الہ سمجھتے ہیں۔ یہ تمام مخلوق اللہ کے عرش کے تحت ہیں اور اللہ کی حکمرانی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔

الإسراء 17:44

اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس حقیقت کا اظہار کر رہا ہے ، اللہ کی تسبیح و تہلیل کر رہا ہے ، یہ پوری کائنات ایک زندہ کائنات ہے اور اللہ کی تسبیح و تہلیل میں مصروف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔ یہ ایک منفرد کائنات منظر ہے ، جب انسان سوچتا ہے کہ ہر شجر و حجر ، ہر بیج اور ہر پتہ ، ہر پھل اور پھول ، ہر پودا اور ہر درخت ، پر چرند اور ہر پرند ، ہر انسان اور ہر حیوان ، ہر دوڑنے والا اور ہر رینگنے والا ، ہر اڑنے والا اور ہر تیرنے والا ، زمین کا ہر مکیں اور ہوا کا ہر باسی ، پستیوں میں رہنے والا یا بلندیوں پر بسیرا رکھنے والا ، سب کے سب اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور ثنا خوان ہیں۔ جب انسان تمام چیزوں کی حقیقت اور ماہیت پر غور کرتا ہے تو اس کے شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا ہوتا ہے ، اسے اپنے ارد گرد تمام مخلوق حرکت کرتی ہوتی اور زندہ نظر آتی ہے اور وہ اسے محسوس کرتا ہے ، وہ جس چیز کو بھی ہاتھ سے چھوٹا ہے یا پائوں سے روندتا ہے ، وہ اسے ثنا خوان الٰہی نظر آتی ہے اور زندہ و تابندہ دکھائی دیتی ہے۔ وان من شیئی الا یسبح بحمدہ (71 : 44) ” کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو “۔ اور اس کی تسبیح کا اندازہ مخصوص ہے۔ ولکن لا تفقھون تسبیحھم (71 : 44) ” مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو “۔ تم اس لئے نہیں سمجھتے کہ مادیت نے تمہاری روح کو چھپا رکھا ہے ، تمہارے دل ان کی آواز کو نہیں سنتے ، اور اس کائنات کے اسرار و رموز پر تم نے غور نہیں کیا۔ اس کائنات کے ان قوانین قدرت پر تم نے غور نہیں کیا جو اس کے اندر جاری وساری ہیں۔ حالانکہ در حقیقت اس کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے رب کی طرف رواں و کشاں ہے۔ قوانین قدرت کے مطابق اس کائنات کے مدبر کا حدی خواں ہے۔ یاد رکھو ، کہ جب روح شفاف ہوجاتی ہے اور انسان روحانی صفائی کے مدارج طے کرلیتا یہ تو وہ سب چیزوں کی تسبیح سنتا ہے ، ہر متحرک اور ہر ساکن مخلوق کی آواز وہ سنتا ہے۔ اسے ہر چیز کی نبض چلتی نظر آتی ہے اور ہر چیز کی تسبیح سنائی دیتی ہے۔ اس کا رابطہ عالم بالا سے ہوجاتا ہے اور وہ اس کائنات کے ان اسرار و رموز کو دیکھتا ہے جس سے غافل لوگ بیخبر ہوتے ہیں ، کیونکہ مادیت کے پردہ نے ان غافلوں کی روح کو بار رکھا ہوتا ہے ، حالانکہ روح کائنات ہر ساکن و جامد میں بھی متحرک ہے۔ ہر چیز میں ہر شجر و حجر میں۔ انہ کان حلیما غفورا (71 : 44) ” حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے “۔ حلم اور مغفرت کا ذکر یہاں اسی لئے کیا گیا کہ انسان ہر معاملے میں پر تقصیر ہے۔ خصوصاً وہ اس حقیقت کے اور اک سے قاصر ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی ثنا خواں ہے۔ نہ صرف یہ ہے کہ وہ نبات و جماد کے اقرار و تسبیح سے جاہل بلکہ یہ انسان انسان ہوتے ہوئے بھی باری تعالیٰ کا منکر بن جاتا ہے۔ کوئی شرک کرتا ہے ، کوئی اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتا ہے ، کوئی بلکہ اکثریت کائنات کی تسبیح سے بیخبر ہے ، حالانکہ شجر و حجر کے مقابلے میں بشرپر زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کا مطیع ہو اور ثنا خواں ہو اور ذات باری کی معرفت کا حامل ہو۔ اگر اللہ کی درگزر نہ ہوتی ، وہ مہلت نہ دیتا ، مغفرت نہ کرتا ، تو کب کے وہ تباہ ہوچکے ہوتے لیکن وہ حلیم و غفور ہے۔ بار بار نصیحت کرتا ہے ، ڈراتا ہے اور نصیحت کرتا ہے۔ کبراء قریش چپکے چپکے قرآن سنا کرتے تھے ، لیکن وہ ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی کرتے تھے کہ ان کے دلوں پر قرآن کا اثر نہ ہوجائے ، وہ زبردستی اپنے اوپر مرتب ہونیو الے اثرات کو جھڑک دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے اور رسول ﷺ کے درمیان پر دے حائل کر رکھے تھے۔ وہ اپنے آپ کو غافل رکھتے تھے۔ کانوں میں انگلیاں ڈالتے تھے ، چناچہ اللہ نے بھی انہیں ان کی اس روش پر چلنے دیا۔ ان کے اور قرآن کے درمیان پردے حائل ہوگئے۔ ان کے دلوں پر تالے لگ گئی اور کانوں میں بھاری پن آگیا۔

الإسراء 17:45

ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔ (محمد ابن شہاب ، زہری سے) کہ ابو سفیان ابن حرب ، ابو جہل ، اور اخس ابن شریق ابن عمرو ابن وھب ثقفی ایک رات کو اپنے اپنے طور پر نکلے ، تاکہ حضور ﷺ سے قرآن سنیں۔ آپ ﷺ رات کو اپنے گھر میں ۔۔ نماز میں قرآن پڑھتے تھے۔ ہر شخص نے اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر کلام الٰہی سنا۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے متعلق نہ جانتا تھا۔ رات کو وہ سنتے رہے ، یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ صبح واپس ہوتے وقت راستے میں ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ” دوبارہ یہ کام نہ کرنا اگر نادان لوگوں نے ت میں دیکھ لیا تو وہ اچھا تاثر نہ لیں گے “۔ پھر چلے گئے۔ دوسرے دن یوں ہوا کہ دوبارہ یہ تینوں اپنی اپنی جگہ پہنچ گئے۔ رات گئے تک سنتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو پھر راستے میں انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا۔ پھر انہوں نے وہی بات کی جو پہلے دن کی تھی پھر چلے گئے۔ جب تیسری رات ہوئی تو پھر سب کے سب اپنی اپنی جگہ پہنچ گئے اور سنتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو پھر اتفاقاً ایک دوسرے کو مل گئے۔ اب کے انہوں نے کہا کہ جب تک ہم معاہدہ نہ کرلیں واپس نہ ہوں گے۔ چناچہ انہوں نے باقاعدہ معاہدہ کیا کہ اب ہر گز یہ کلام نہ سنیں گے۔ جب صبح ہوئی تو احنس ابن شریق نے اپنی لاٹھی لو ، ابو سفیان ابن حرب کے پاس آیا خود اس کے گھر میں۔ تو ان سے کہا ابو حنظلہ ، براہ کرم تم نے محمد ﷺ سے جو کلام سنا اس کے بارے میں بتائیے۔ تمہاری حقیقی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ ، خدا کی قسم کہ میں نے بعض چیزیں ایسی سنی ہیں جنہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی سمجھتا ہوں۔ ہاں بعض چیزوں کا مطلب میں نہیں سمجھتا۔ اس پر اجنس نے کہا اور میری بھی یہی رائے ہے۔ اس خدا کی قسم جس کے ساتھ تم نے قسم کھائی۔ اس کے بعد وہ وہاں سے چلا اور ابو جہل کے پاس آیا۔ یہ اس سے بھی اس کے گھر پر ملا۔ اور یہی سوال کیا کہ ابو حکم براہ کرم محمد ﷺ سے جو کچھ تو نے سنا اس کے بارے میں تمہاری حقیقی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کیا سنا ؟ ہمارے اور بنو عبد مناف کا عزت و شرف کے بارے میں مقابلہ تھا۔ انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا ، ہم نے بھی کھلایا ، انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں ، ہم نے بھی دیں۔ انہوں نے عطیے دئیے ، ہم نے بھی دئیے ، یہاں تک کہ ہم گھٹنے سے گھٹنا ملا کر چلے اور ہم مقابلے کے گھوڑوں کی طرح دوڑے۔ اب انہوں نے یہ دعویٰ کردیا ہے کہ ہم میں ایک نبی آیا ہے جس وحی آتی ہے۔ تو ہم اسے کس طرح تسلیم کرسکتے ہیں ؟ ہم اس پر نہ ایمان لائیں گے نہ اس کی تصدیق کریں گے۔ اس پر احنس ابن شریق اسے چھوڑ کر اٹھ گیا…“۔ یہ تھے ان لوگوں کے حالات۔ یہ قرآن سے متاثر ہوتے تھے لیکن وہ زبردستی اس تاثر کو دور کرنے کی سعی کرتے۔ ان کے دل اس کی طرف کھنچتے تھے مگر وہ زبردستی اس سے دور کرتے۔ چناچہ ان کے اس رویے کی وجہ سے اللہ نے ان کے اور قرآن کے درمیان ایسے خفیہ پردے حائل کردیے جو بظاہر نظر نہ آتے تھے مگر ۔۔۔ پردے تھے۔ وہ قرآن سے فائدہ نہ اٹھاتے تھے اور وہ قرآن سنت تھے مگر ہدایت نہ لیتے تھے۔ وہ جب سنتے تو مبہوت و محسو رہوجاتے ، لیکن واپس ہو کر پھر خفیہ مشورے کرتے۔ سازشیں کرتے اور پختہ عہد کرتے کہ اب کے بعد پھر سرے سے سنیں گے ہی نہیں تاکہ ان کے دلوں پر قرآنی اثرات نہ پڑجائیں۔ ان کا دماغ متاثر نہ ہوجائے۔ کیونکہ قرآن مجید کی تعلیمات جس نظریہ حیات اور جس عقیدہ توحید پر مبنی تھیں اس کے نتیجے میں قائم ہونے والا نظام اور معاشرہ ان کی خود ساختہ برتری اور امتیازات کو ختم کردیتا تھا اور یہ بات ان کے لئے ناقابل برداشت تھی۔

الإسراء 17:46

اذا ذکرت ربک فی القران وحدہ ولا علی ادبار ھم نفورا (71 : 64) ۔ ترجمہ : ” اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں “۔ یہ نفرت ان کو لفظ وحدہ سے تھی۔ کیونکہ عقیدہ توحید ان کے اجتماعی نظام کو ختم کر رہا تھا۔ ان کا اجتماعی نظام بت پرستی اور جاہلیت کے رسم و رواج پر قائم تھا ، جس میں قریش کی امتیازی حیثیت تھی ، ورنہ وہ خود جانتے تھے کہ ان کے عقائد میں کس قدر جھول ہے اور اسلام کے نظریات کس قدر پختہ ہیں۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن ایک نہایت ہی بلند پایہ پیغام و کلام ہے۔ اور اس کی ایک امتیازی شان ہے۔ اور قرآن کے اثرات کا یہ عالم تھا کہ وہ اس کی طرف کھینچے چلے جاتے تھے حالانکہ وہ اس سے اپنے آپ کو بچانے کی سعی بھی کرتے تھے اور اس کے اثرات کو زائل کرنے میں جدوجہد بھی کرتے تھے۔ ان کا ضمیر اور ان کی فطرت ان کو اس بات پر مجبور کررہی تھی کہ وہ بات سنیں ، متاثر ہوں ، لیکن غرور کی وجہ سے وہ تسلیم کرنے اور یقین کرنے سے باز رو رہے تھے۔ اپنی ہٹ دھرمی اور مکابرہ کو وہ یوں چھپاتے تھے کہ رسول اللہ پر مختلف قسم کے الزامات عائد کرتے تھے۔ مثلاً یہ کہ آپ جادوگر ہیں۔

الإسراء 17:47

اذ یقول الظلمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا (71 : 74) ” یہ ظالم آپس میں کہتے تھے کہ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے “۔ لیکن خود ان کے اس الزام کے اندر ان کی کمزوری ظاہر ہے ، اس الزام ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ قرآن سے بےحد متاثر تھے۔ کیونکہ وہ اندر اندر سے یہ اعتراف کرتے تھے کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا ، اس کے اندر غیر بشری رنگ ہے ، یہ نہایت ہی خفیہ انداز میں غیر محسوس طور پر اپنے شعور اور وجدان میں اس بات کو پاتے تھے کہ یہ کوئی فوق البشر کلام ہے ، اس لئے کبھی اسے جادوگری کہتے ، کبھی کچھ اور کہتے ، کیونکہ وہ خود سمجھتے تھے کہ یہ کوئی معمولی کلام نہیں ہے۔ اس کی ترتیب اور اس کی ساخت میں ایک فوقیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ بات وہ تسلیم کرتے تھے کہ یہ کلام خود حضرت محمد ﷺ کا نہیں ہے بلکہ کسی جادو کا کرشمہ ہے۔ انسانی قوت کا کرشمہ نہیں بلکہ جادوگری ہے ، لیکن ان کو حقیقت کے اعتراف کی توفیق نہ ہوتی ورنہ وہ کہتے کہ یہ کلام الٰہی ہے کیونکہ انسان ، کوئی بھی انسان ایسا کلام پیش نہیں کرسکتا ، نہ انسان کے علاوہ کوئی اور مخلوق ایسا کلام بنا سکتی ہے۔

الإسراء 17:48

انظر کیف ضربوا لک الامچال فصلوا فلا یستطیعون سبیلا (71 : 74) دیکھو کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں ، یہ بھٹک گئے ہیں ، انہیں راستہ نہیں ملتا “۔ یہ آپ ﷺ کو جادوگر اور جادو زدہ کہتے ہیں ، حالانکہ آپ ﷺ تو رسول ہیں۔ یہ خود گمراہ ہوگئے ، راہ ہدایت نہیں پا رہے ، یہ اس قدر حیران ہوگئے کہ انہیں کوئی راہ نہیں سوجھتی۔ نہ وہ راہ راست پر آتے ہیں اور نہ ہی اپنے غلط موقف پر کوئی صحیح استدلال کرسکتے ہیں۔ یہ تو تھے ان کے اقوال اور ان کی آراء قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں۔ قرآن کے فلسفہ کائنات کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ وہ قیامت اور بعث بعد الموت کے قائل نہ تھے اور اسے مستبد سمجھتے تھے۔

الإسراء 17:49

بعثت بعد الموت کا مسئلہ رسول اللہ اور مشرکین مکہ کے درمیان بار بار زیر بحث آتا تھا۔ قرآن کریم نے بکثرت ان مباحث کو نقل کیا ہے ، حالانکہ اس کائنات اور موت وحیات کی حقیقت پر غوروفکر کرنے والا ہر آدمی بڑی آسانی کے ساتھ اسے سمجھ سکتا ہے۔ حشر ونشر کی نوعیت کو بسہولت سمجھتا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم نے اس پر بار بار روشنی ڈالی ہے ، لیکن جس سادگی اور سلامت اور جس وضاحت کے ساتھ قرآن نے اس مسئلہ کو سمجھایا ، یہ لوگ اسے نہ سمجھ سکے۔ لہٰذا وہ یہی کہتے رہے کہ مرمٹنے کے بعد وہ کیسے دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ وقالوء اذا کنا عظاما ورفاتاء انا لمبعوثون خلقا جدیدا (71 : 94) ” وہ کہتے ہیں کہ جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے ؟ “ وہ یہ باتیں اس لئے کرتے تھ کہ وہ حیات کی اصل حقیقت کے بارے میں سوچتے ہی نہ تھے کہ وہ ایک وقت بالکل نہ تھے اور اللہ انہیں وجود میں لایا۔ اور یہ کہ ابتدائی تخلیق مشکل ہوتی ہے جبکہ دوربارہ تخلیق کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ پھر یہ بھی وہ نہیں سوچتے کہ اللہ کی قدرت لامحدود ہے ، اس کے سامنے مشکل نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اللہ کی تخلیق کا آلہ اور سبب فقط کن فیکون ہے۔ لہٰذا کوئی چیز سہل یا دشوار انسانوں کے نقطہ نظر سے تو ہوسکتی ہے لیکن اللہ کے نقطہ نظر سے نہیں۔ وہاں تو صرف ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے اس تعجب کو یوں رد کردیا گیا۔

الإسراء 17:50

قل کو نو حجارۃ او حدیدا (05) او ……(15) (71 : 05۔ 15) ۔ ” ان سے کہو ” تم پتھر یا لوہا بھی ہوجائو ‘ یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبول حیات سے بعید تر ہو “۔ جہاں تک ہڈیوں اور مٹی کا تعلق ہے ان کے ساتھ تو پھر بھی زندگی کی یادیں وابستہ ہیں اور پتھر اور لوہا تو زندگی سے بہت دور ہیں کہ تم پتھر ہوجائو ، لوہا ہو جائو اور کوئی سخت چیز ہو جائو جو تمہارے خیال میں آثار حیات کو قبول کرنے سے بہت ہی دور ہو ، جس میں زندگی کی روح نہ پھونکی جاسکتی ہو تو بھی جب اللہ چاہے گا تمہیں زندہ کر دے گا۔ یہ لوگ نہ پتھر بن سکتے تھے اور نہ لوہا ، لیکن یہ ان کو بطور چیلنج کہا جا رہا ہے ، اس چیلنج میں ایک طرح کی زجرو توبیخ بھی پوشیدہ ہے۔ پتھروں اور لوہے میں کوئی احساس نہیں ہوتا ، لہٰذا ایک بعید اشارہ اس طرف ہے کہ تمہاری سوچ پتھر اور لوہے کی طرح بےلچک ہے۔

الإسراء 17:51

فسیقولون من یعیدنا (71 : 15) ” وہ ضرور پوچھیں گے کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا لائے گا ؟ “ یعنی جب ہم مٹی ہوگئے ، بوسیدہ ہدیاں ہوگئیں ، تو کون ہے وہ جو ہمیں دوبارہ حیات دے گا۔ یا جب ہم پتھر اور لوہا بن گئے تو پھر کون حیات دے گا ؟ قل الذین فطرکم اول مرۃ (81 : 15) ” کہہ دو ، وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا “۔ ان کے سوال کا یہ نہایت ہی سادی اور صاف اور دل لگتا جواب ہے۔ کیونکہ جس ذات سے پہلی مرتبہ ان کو زندگی دی وہ دوبارہ بھی دے سکتا ہے لیکن وہ اس سادہ جواب سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور نہ اطمینان ان کو ہوتا ہے۔ فسیتغضون الیک رء وسھم (71 : 15) ” وہ سر ہلا کر پوچھیں گے “۔ یعنی سر کو اوپر نیچے کر کے سوالیہ انداز اختیار کریں گے ، یہ حرکت وہ اس لئے کریں گے کہ وہ اس بات کو بعید از امکان سمجھتے ہیں یا غرور کے طور پر سر ہلائیں گے۔ و یقولون متی ھو (71 : 15) ” اچھا تو یہ ہوگا کب ؟ “ یہ بھی وہ نہایت ہی لاپرواہی سے وقوع قیامت کو بعید از امکان سمجھتے ہوئے کہیں گے۔ قل عسی ان یکون قریبا (71 : 15) ” آپ جواب دیں ، کیا عجب کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہو “۔ وقوع قیامت کے وقت کا علم تو رسول اللہ ﷺ کو بھی نہیں دیا گیا لیکن شاید یہ وقت ان لوگوں کے گمان اور ظن وتخمین سے قریب تر ہو۔ مناسب تو یہی ہے کہ وہ اس کے وقع سے ڈریں کیونکہ یہ اس حال میں واقع ہوگا کہ لوگ غفلت میں ہوں گے۔ تکذیب کر رہے ہوں گے ، مذاق کر رہے ہوں گے اور قیامت برپا ہوجائے گی۔ اور قرآن اپنے مخصوص انداز کے مطابق اچانک قیامت کے مناظر کا بیان شروع کردیتا ہے۔

الإسراء 17:52

یوم یدعو کم فتستحیبون بحمدہ وتظنون ان لبثتم الا قلیلا (71 : 25) ” جس روز تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس پکار کے جواب میں نکل آئو گے “۔ یہ ان لوگوں کا منظر ہے جو وقع قیامت کے منکر تھے۔ آج وہ لبیک کہتے ہوئے میدان حشر میں چلے آرہے ہیں۔ ان کی زبانوں پر بےساختہ حمدو ثنا جاری ہے ، اور اس کے سوا ان کے ساتھ کوئی سو ال و جواب نہیں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے سوالات کا یہ عجیب جواب دیا ہے ، یہ لوگ تو اس بات کا انکار کررہے کہ قیامت ہوگی۔ لیکن آج وہ الحمد اللہ ، الحمد اللہ کہتے ہوئے دورے آرہے ہیں۔ آ ج پوری زندگی کی اسکرین اس طرح لپیٹ دی جائے گی جس طرح سایہ سمٹ آتا ہے۔ وتظنون ان لبثتم الا قلیلا (71 : 25) ” اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر اسی اس حالت میں پڑے رہے ہیں “۔ دنیا میں زندگی کے طویل ایام کی چادر کو اور پھر برزخ میں صدیوں کے عرصے کو یوں لپیٹ کر رکھ دینا یہ بتاتا ہے کہ یہ دنیا ، اس کی زندگی اور عالم برزخ میں صدیاں کس قدر مختصر عرصہ ہیں ، یہ سب کچھ چند لمحات ہیں۔ طویل زندگی کے لمحات اور تاثرات انسانی احساس میں نہایت مختصر ہوتے ہیں۔ یہ ایک وقت ہوتا ہے جو گزر جائے۔ ایک زمانہ ہوتا ہے جو بیت جائے اور ایک سایہ ہوتا ہے جو لپیٹ لیا جائے اور سازوسامان دنیا ہوتا ہے جو فنا ہوجائے۔ اب وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کو ، اللہ کے اس پختہ عہد کو جھٹلانے والوں اور اس کے ساتھ مذاق کرنے والوں ، سر ہلانے والوں اور مذاق مذاق میں اعتراض کرنے والوں کو چھوڑ کر ، اللہ کے مومن بندوں کے ساتھ مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ حضور اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ میرے بندوں سے یہ کہو کہ وہ ہمیشہ اچھی بات کریں۔

الإسراء 17:53

میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ منہ سے وہی بات نکالا کریں جو بہتر ہو۔ ہر حال میں بہترین بات سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ کیونکہ بری بات سے لوگوں کا دل دکھتا ہے اور شیطان کا مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کے درمیان رخنہ ڈال دے۔ اور اس سے وہ صرف اس صورت میں بچ سکتے ہیں کہ وہ اچھی بات کریں۔ اگر کوئی بری بات منہ سے نکل جائے تو جواب بھی برا ہوگا۔ یوں نزاع شروع ہوجائے گا اور محبت اور آشتی کی فضا نہ رہے گی۔ سختی پیدا ہوگی ، پھر دشمنی ہوجائے گی۔ جبکہ اچھی بات سے دلوں کے زخم مند مل ہوجاتے ہیں اور دلوں کو خشکی اور سختی میں لچک پیدا ہوتی ہے۔ اور آخر کار اچھے کلمات سے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ ان الشیطن کان للانسان عدوا مبینا (71 : 35) ” حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے “۔ شیان تاک میں رہتا ہے کہ کسی کے منہ سے بری بات نکلے ، اس کی زبان لغزش کرے اور یوں اسے بغض وعداوت کی آگ بھڑکانے کا موقعہ مل جائے اور بھائی بھائی کا دشمن ہوجائے ، جبکہ بھلی بات سے رخنے بھر جاتے ہیں ، شیان کی راہ بند ہوجاتی ہے اور اسلامی اخوت شیطان کی وسوسہ اندازیوں اور رخنہ پردازیوں سے مامون ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد روئے سخن اب انسانوں کے انجام کی طرف مڑ جاتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی ایک آواز پر یہ لوگ جمع ہوجائیں گے۔ اس دن ان کا نظام خالص اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس دن کوئی شریک نہ ہوگا۔ اللہ چاہے گا تو رحم کرے گا ، چاہے گا تو سزا گا ، اب لوگوں کا انجام اللہ ہی کے فیصلے پر ہوگا۔ اب تو رسول بھی ان کے لئے وکیل نہ ہوگا۔ وہ تو رسول تھا۔

الإسراء 17:54

بےقید علم اللہ ہی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جامع علم کی بنا پر لوگوں کے ساتھ رحیمانہ سلوک کرے گا یا عذاب دے گا۔ جہاں تک رسول کا تعلق ہے تو لوگوں تک پیغام پہنچانے کے بعد اس کی ڈیوٹی ختم ہوجاتی ہے۔ اللہ کا جامع علم آسمان اور زمینوں کے درمیان موجود تمام مخلوقات کے ساتھ وابستہ ہے ، خواہ ملائکہ ہوں ، جن ہوں ، انس ہوں یا دوسری مخلوقات جن کو اللہ کے سوا ابھی تک کوئی نہیں جانتا۔ نہ اس مخلوق کی مقدار سے لوگ باخبر ہیں نہ اس کی اہمیت سے بیخبر ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم اپنی مخلوقات کے بارے میں مکمل ہے ، اس لئے اس نے اپنے علم ہی کی بنا پر بعض انبیاء پر بعض کو فضیلت دی ہے۔

الإسراء 17:55

ولقد فضلنا بعض النبین علی بعض۔ یہ فضیلت دہ ہے جس کی حقیقت اور سبب صرف اللہ کے علم میں ہے۔ اس فضیلت کے مظاہر پر ہم نے پارہ سو تم میں بحث کی ہے یعنی آیت۔ تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض کے ضمن ہیں۔ لہذا تفصیلات وہاں ہی ملاحظہ کریں۔ واتینا دائود زبورا۔ (55) ۔ یہ فضیلت کا ایک خاص نمونہ ہے۔ یعنی حضرت دائود کو جو کمالات دئیے گئے وہ دوسرے انبیاء میں نہ تھے ، زبور کا ذکر اس لئے کیا کہ کتاب دوسرے معجزات کے مقابلے میں بڑا معجزہ ہوتا ہے ، خصوصا بعض مخصوص اور متعین ادوار میں ۔ اس سبق کا خاتمہ بھی اسی مضمون پر ہوتا ہے جس سے آغاز ہوا تھ ایعنی اللہ کی بیٹیوں کی نفی اور شریکوں کی نفی اور یہ کہ دعاء و پکار میں صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور یہ کہ لوگوں کو نفع و نقصان دینے میں صرف اللہ ہی کارساز ہے۔ یہاں ان لوگوں کو چیلنج دیا جاتا ہے جو شرک کے قائل ہیں کہ وہ اپنے شریکوں کا ذرا پکاریں اور دیکھیں کہ وہ انہیں کیا فائدہ دے سکتے ہیں ؟ یا ان پر آنے والی کس مصیبت کا منہ موڑ سکتے ہیں ؟

الإسراء 17:56

اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں ہے جو مصیبت کو ٹال سکے یا اس کا منہ موڑ سکے۔ یہ کام صرف اللہ وحدہ کرسکتا ہے۔ صرف اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کو قسمتوں کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں مثلاً فرشتے ، جن اور انس وہ سب کے سب اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کی مخلوق ہیں۔ وہ خود اللہ تک رسائی کے طریقے تلاش کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ اور وہ خود اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ فی الحقیت ذات باری کو جانتے ہیں۔

الإسراء 17:57

بعض لوگ حضرت عزیر کو ابن اللہ کہتے تھے اور یہ لوگ حضرت عزیر کی بندگی بھی کرتے تھے۔ بعض لوگ ایسے تھے جو حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور ان کی بندگی کرتے تھے۔ بعض لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور ان کی پوجا کرتے تھے اور بعض لوگوں نے ان کے سوا اور معبود اور خدا بنا رکھے تھے۔ اللہ ان سب لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ جن لوگوں کو تم پکارتے ہو ، وہ خود اللہ کے دربار میں رسائی حاصل کرنے کے لئے وسیلے تلاش کرتے ہیں اور عبادات کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ اور اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اللہ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں ، تو تمہارے مناسب حال بھی یہ بات ہے کہ تم بھی اللہ کا تقرب حاصل کرو جیسا کہ یہ معبود اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہیں ، حالانکہ یہ معبود نہیں ہیں ، یہ تو اللہ کے بندے ہیں۔ اور اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یوں اس سبق کا آغاز اور انجام رد شرک سے ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ شرک کی تمام صورتیں باطل ہیں ، صرف اللہ وحدہ الہ ہے ، قابل عبادت ہے اور اس بات کے لائق ہے ہم اسے پکاریں۔

الإسراء 17:58

درس نمبر 821 ایک نظر میں درس سابق کا خاتمہ یوں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک اپنے بندوں کے معاملات میں متصرف ہے چاہے تو ان پر حم کردے اور چاہے تو انہیں سزا دے دے۔ اور لوگ جن الہوں کی بندگی کرتے ہیں وہ نہ ان سے کوئی مصیبت ٹال سکتے ہیں اور نہ کسی مصیبت کا منہ دوسروں کی طرف موڑسکتے ہیں۔ اب یہاں یہ بتایا جاتا ہے تمام انسانوں کا آخری انجام کیا ہوگا۔ کیونکہ اللہ نے اپنے علم کے مطابق جو فیصلے کیے ہیں ، وہ اٹل ہیں۔ اور یہ آخری انجام یوں ہوگا کہ قیامت سے قبل اللہ تمام بستیوں کو ہلاک کردے گا۔ اگر ان بستیوں میں سے کوئی بستی ایسے جرائم کا ارتکاب کرے جسے دنیا میں سزا دینا لازمی ہو تو یہاں ہی اسے عذاب دے دیا جاتا ہے۔ لہذا تمام زندہ انسان دو طرح کے انجام سے لازماً دو چار ہوں گے یا تو اپنی موت مریں گے یا عذاب الٰہی کے نتیجے میں ہلاک ہوں گے۔ عذاب الٰہی کے ذکر کی مناسبت سے یہاں ان معجزات کا ذکر کردیا جاتا ہے جن کا ظہور انبیائے سابق کے ہاتھوں پر ہوا۔ یعنی رسالت محمدیہ سے پہلے رسولوں پر۔ ایسے خوارق عادت معجزات کا ظہور رسالت محمدیہ کے ہاتھوں اس لئے نہیں کیا گیا امت محمدیہ کے لئے وہ عذاب مقدر نہیں جو ان اقوام پر آیا کیونکہ اللہ کی یہ سنت ہے کہ جب کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے اور پھر بھی امت تسلیم نہیں کرتی تو پھر اس پر عذاب الٰہی آتا ہے۔ اور امت محمدیہ کے لئے چونکہ ہلاکت مقدر نہیں اس لئے ایسے معجزات حضرت محمد ﷺ کو نہیں دئیے گئے۔ اور امم سابقہ کے انبیاء کو یہ معجزات ڈرانے کی خاطر دئیے گئے لیکن جب معجزات دیکھ کر وہ نہ ڈرے تو ہلاک ہوئے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ تک لوگوں کی رسائی کے راستے بند کردئیے۔ چناچہ وہ آپ کو کوئی دکھ نہ پہنچا سکے۔ اور اللہ نے آپ ﷺ کو سچی سیر کرائی اور جو کچھ دکھانا تھا ، دکھایا تاکہ یہ واقعہ لوگوں کے لئے آزمائش ہو اور اسے دوسرے معجزات کی طرح خارق عادت معجزہ نہ بنایا اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شجرہ ملعونہ سے ڈرایا مگر وہ مزید سرکشی کرتے رہے۔ شجرہ ملعونہ سے مراد زقوم ہے جس کی روئیدگی جہنم کی تہہ میں ہوتی ہے ، اس تخویف کا لوگوں کے رویہ پر کوئی اثر نہ ہو لہٰذا معجزات کا صدور بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوسکتا تھا۔ اس مضمون کے دوران قصہ آدم و ابلیس بھی بیان ہوا ہے۔ اللہ نے ابلیس کو یہ اجازت دی کہ وہ ابن آدم میں سے جس کو چاہے گمراہ کرے مگر میرے صالح بندوں پر تیری دسترس نہ ہوگی۔ کیونکہ میں نے ان کو برے اثر سے محفوظ کردیا ہے۔ چناچہ اس قصے ذریعہ گمراہی کے اصل اسباب لوگوں کو بتادئیے گئے ، جو لوگوں کو کفر اور سرکشی پر آمادہ کرتے ہیں اور وہ اللہ کی بات پر تدبر نہیں کرتے۔ یہاں سیاق کلام انسان کو یہ تاثر دیتا ہے کہ اللہ کی جانب سے اس پر کس قدر فضل و کرم ہے لیکن اس فضل و کرم کے مقابلے میں انسان ہے کہ اللہ کا انکار کرتا ہے اور سرکشی اختیار کرتا ہے۔ اور انسان کو اللہ صرف اس وقت یاد آتا ہے جب وہ نہایت ہی اضطرابی حالت میں ہو ، اگر سمندر میں کوئی مشکلات پیش آجائیں تو انسان پھر اللہ کی پناہ میں آجاتا ہے لیکن جونہی اللہ نجات دیتا ہے تو لوگ پھر شرک کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تو انہیں سمندر اور خشکی دونوں میں پکڑ سکتا ہے۔ حالانکہ انسان کو اللہ اپنی مخلوقات کے ایک بڑے حصے پر فضیلت بخشی ہے ، لیکن انسان ہے کہ شکر نہیں کرتا اور اللہ کو یاد نہیں کرتا۔ یہ سبق قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پر ختم ہوتا ہے ، جب یہ لوگ وہ سب کچھ پالیں گے جو انہوں نے کمایا تھا لہٰذا نجات صرف اس صورت میں کہ انسان اگلے جہاں کے لئے کچھ کمائی کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ جب قیامت آئے تو اس کرہ ارض کی چھاتی پر حیات کا نام و نشان نہ ہو ، لہٰذا قیامت سے قبل اس کرہ ارض کی تمام زندہ چیزیں ختم ہونے والی ہیں۔ اسی طرح اس کرہ ارض پر واقع بعض بستیوں کے لئے تباہی مقدر ہے اس لئے کہ وہ جرائم کا ارتکاب کرتی ہیں اور ان جرائم کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے۔ یہ تقدیر اللہ کے علم میں ہوتی ہے کہ ایسا ہونا ہے کیونکہ جو ہوچکا یا جو ہونے والا ہے اللہ کے علم میں دونوں برابر ہیں۔ تمام رسولوں کو معجزات دئیے گئے تھے اور یہ معجزات رسولوں کی حقانیت کی تصدیق کرتے تھے اور ان معجزات کے ذریعے لوگوں کو اس بات سے ڈرایا جاتا تھا کہ اگر انہوں نے تکذیب کی تو ان پر ہلاکت آجائے گی لیکن ان خوارق عادت معجزات کو دیکھ کر صرف ان لوگوں کو ایمان نصیب ہوا جن کے دل ایمان کے لئے تیار تھے۔ رہے وہ لوگ جن کو کفر پر اصرار تھا تو انہوں نے انکار ہی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی آخر الزمان کو ایسے خارچ عادت معجزات نہ دئیے گئے۔

الإسراء 17:59

اسلام کا معجزہ و فقط یہ قرآن ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو زندگی کا ایک مکمل نظام عطا کرتی ہے۔ یہ کتاب انسان کے دل و دماغ اور عقل و خرد کو اپیل کرتی ہے۔ انسان کی فطرت سلیمہ کو اپیل کرتی ہے۔ پھر یہ ایک زندہ جاوید اور مسلسل معجزہ ہے ، قیامت تک لوگ اسے پڑھیں گے اور ایمان لاتے رہیں گے۔ رہے خارچ عادت معجزات تو وہ صرف مخصوص نسل کو اپیل کرتے ہیں ، جنہوں نے انہیں دیکھا۔ بعد میں آنے والوں کے لئے وہ ایک تاریخی واقعہ بن جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے انبیائے سابقین کے ان معجزات کو دیکھا ان میں سے اکثریت نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔ اللہ نے بطور نمونہ قوم ثمود کے معجزہ ناقہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے ایک واضح معجزے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ ناقہ ان کے طلب کردہ معجزے کے طور پر آئی تھی لیکن انہوں نے اس کے باوجود اس کے ساتھ ناانصافی کی اور اسے ہلاک کردیا۔ اسی طرح اللہ نے یہ پوری قوم ہلاک کردی اور معجزات کا صدور ہی اس لئے ہوتا ہے کہ اگر ان کے بعد بھی کوئی تسلیم نہیں کرتا تو اسے ہلاک کردیا جائے۔ ان انسانی تجریات کا تقاضا یہ تھا کہ آکری رسالت کو خوارق عادت معجزات کی تائید کی ضرورت نہ ہو کیونکہ یہ آخری کتاب اور یہ آخری رسالت ان تمام نسلوں کے لئے ہے جو تاقیامت تک اس دنیا میں آئیں گی۔ یہ صرف ان نسلوں تک محدود نہیں ہے جن کے سامنے حضور اکرم ﷺ بذات خود موجود تھے کیونکہ یہ آخری رسالت عقل انسانی کے بلوغ کی رسالت ہے اور اب یہ تمام آنے والی نسلوں کی عقل و دانش سے مخاطب ہے۔ اور یہ رسالت انسان کے فہم اور ادراک کی قوتوں کا احترام کرتی ہے کیونکہ اپنے فہم و ادراک ہی کی وجہ سے انسان کو دوسری مخلوقات پر فضیلت دی گئی ہے۔ رہے وہ معجزات جن کا صدور حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ پر ہوا ، ان میں سے ایک معجزہ واقعہ اسرا اور معراج ہے ، تو یہ معجزہ برائے تصدیق رسالت نہ تھا۔ یہ تو لوگوں کی فہم و فراست کی ایک آزمائش تھی۔

الإسراء 17:60

واقعہ اسرا کے بعد بعض وہ لوگ جو حضور اکرم ﷺ پر ایمان لاچکے تھے ، مرتد ہوگئے اور دوسرے اہل ایمان اس واقعہ کع سن کر مزید ثابت قد ہوگئے اور ان کے یقین میں ضافہ ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس رات اللہ نے اپنے بندے کو جو کچھ دکھایا ، وہ لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بنا اور یہ اہل ایمان کے لئے آزمائش تھی۔ ” اللہ نے لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ کا یہ وعدہ تھا کہ لوگ آپ ﷺ کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور ان کی رسائی آپ تک نہ ہوسکے گی۔ حضور اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ ان کی رسائی ان تک نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ کو سچے خواب میں یہ بات من عند اللہ بتا دی گئی تھی اور سفرا سرا میں حضور اکرم ﷺ کو جو باتیں بتائی گئیں ان میں سے ایک درخت زقوم کے بارے میں تھی کہ یہ جہنمیوں کی خوراک ہوگی اور ابو جہل اور دوسرے مشرکین نے اس کی بھی تکذیب کی اور ابوجہل نے مذاق کے طور پر کہا مجھے کچھ اور مکھن دے دو ، جب دیا گیا تو وہ کھجور کے ساھت مکھن ملا کر کھاتا اور کہنا جاتا۔ “ کھائو اس زقوم کو کہ میں اس کے سوا کسی اور زقوم کو نہیں جانتا “۔ اگر حضور اکرم ﷺ کو خارق عادت معجزات بھی دے دئیے جاتے تو بھی وہ اس قوم پر اثر انداز نہ ہوتے ، جس طرح انبیائے سابقین کے حق میں آنے والے معجزات اور آیات لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئے۔ جس طرح معجزہ اسرا ومعراج اور زقوم کے درخت سے ڈراوے نے ان کو ہدایت نہ بخشی اور وہ مزید سرکشی اختیار کرتے رہے اسی طرح دوسرے معجزات اگر صاد ربھی ہوجاتے تو لوگوں پر ان کا کوئی اثر نہ ہوتا۔ اللہ نے عذاب الٰہی کے ذریعہ امت محمدیہ کی ہلاکت لکھی ہوئی نہ تھی ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو ایسا خارق عادت معجزہ نہیں دیا ، کیونکہ اللہ کا اصول یہ تھا کہ اگر پھر بھی کوئی تکذیب کرے تو اسے ہلاک کردیا جائے۔ رہے قریش تو ان کو اللہ نے مہلت دی اور ان کو قوم نوح ، قوم ہود ، قوم صالح ، قوم لوط اور قوم شعیب (علیہم السلام) کی طرح جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینا ، کیونکہ قریش کے مکذبین میں سے پیش تر لوگ بعد میں ایمان لائے اور وہ اسلام کے نامور سپای بنے۔ اور ان ہی میں سے بعض لوگ نہایت ہی سچے مسلمانوں میں شمار ہوئے اور قرآن کریم ، ایک کھلی کتاب کے طور پر محمد ﷺ کے لئے ایک معجزہ ہے۔ اور آج بھی اس پر بیشمار ایسے لوگ ایمان لاتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا عہد دیکھا ہی نہیں۔ ہزار ہا افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے جنہوں نے قرآن مجید کو پڑھایا ایسے لوگوں کے شاگرد اور ساتھی اور رفیق بنے جنہوں نے قرآن مجید پڑھا اور سمجھا۔ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ، قیامت تک ، یہ ایک کھلی کتاب ہوگا اور مستقبل کے پردہ غیب کے پیچھے ہزار ہو لوگ ایسے ہیں جو اس کو پڑھ کر ہدایت لیں گے اور ان میں ایسے لوگ بھی آئیں گے جو نہایت ہی پختہ مومن ، نہایت ہی صالح ، اسلام کے لئے نہایت ہی مفید اور متقی ہوں گے۔ وہ سچا خواب جو رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا اور اس خواب کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو جو علوم عطا ہوئے اور جو ملعون درخت رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا جو شیاطین کے متبعین کی خوراک ہوگا۔ اس کے بعد اسی مناسبت سے ابلیس معلون کی بحث آتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس شیطان نے بنی آدمی کو کس طرح چیلنج دیا۔

الإسراء 17:61

یہاں بتایا جاتا ہے کہ گمراہ لوگوں کی گمراہی کا اصل سبب کیا ہوتا ہے۔ چناچہ قصہ آدم و ابلیس کا یہ منظر یہاں پیش کیا جاتا ہے ، تاکہ وہ لوگ جو گمراہی کے اصل اسباب معلوم کرنا چاہتے ہیں ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ اسباب کیا ہیں اور یہ کہ شیطان ان کا بنیادی دشمن ہے۔ یہ ان کے جد امجد کا بھی دشمن تھا ، یوں انسانوں کے ابو الاباء کا رشتہ بتا کر انہیں ڈرایا جاتا ہے کہ شیطان ان کا جدی دشمن ہے۔ واذ قلنا للملئکۃ اسجدو……(71 : 16) ” اور یاد کرو جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ، تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ اس نے کہا :” میں اس جو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے “۔ یہ کبر کی وجہ سے شیطان کے حسد کا ظہور ہے کہ وہ مٹی کو تو دیکھتا ہے لیکن یہ نہیں دیکھتا کہ اس مٹی میں اللہ نے اپنی روح پھونکی ہوئی ہے۔ یہاں ابلیس بنی آدم کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ مٹی سے تخلیق کردہ یہ مخلوق بڑی آسانی سے گمراہ کی جاسکتی ہے۔ وہ بڑے غرور سے کہتا ہے :

الإسراء 17:62

قال ارائیتک ھذا الذی کر مت علی (71 : 26) ” ذرا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اسے مجھ پر فضیلت دی “۔ اس پر نظر تو ڈالو ! کیا اس کو تو نے مجھ سے برتر قرار دیا ، اور لقد کرمنا بنی ادم کہا۔ لئن اخرتن الی یوم القیمۃ لا حتنکن ذریتہ الا قلیلا (71 : 26) ” اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں ، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے “۔ میں ان پر حاوی ہوجائوں گا اور ان کو اپنی گرفت میں لے لوں گا ، ان کی لگام میرے ہاتھ میں ہوگی ، بلکہ یہ میری مٹھی میں ہوں گے اور جس طرح چاہوں گا ان کے معاملات میں تصرف کردوں گا۔ شیطان کے دہن میں چیلنج دیتے وقت یہ حقیقت نہ تھی کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جس طرح گمراہی کی استعداد رکھی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ہدایت اور قبولیت خیر کی استعداد بھی رکھی ہے۔ جب انسان ایسے حالات میں ہو کہ اس کا تعلق باللہ قائم ہو تو وہ بلند ہوگا اور اعلیٰ مدارج کی طرف اٹھنے والا ہوگا اور ایسے حالات میں وہ شر اور گمراہی سے بچ جائے گا ، شیان کو معلوم نہ تھا کہ یہ بلا ارادہ چلنے والے حیوانات کی طرح نہیں ہے بلکہ انسان کو قوت ارادی دی گئی ہے جو اسے دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔ ارادہ اور پختہ ارادہ ہی اس مخلوق کی بڑی امتیازی خصوصیت ہے اور اس کے اندر اس مخلوق کا راز پنہاں ہے۔ اللہ کا یہ ارادہ ہوگیا کہ شرو گمراہی کے اس پیغامبر کو کھلا میدان دے دیا جائے اور جس طرح چاہے انسان کو گمراہ کرنے کی سعی کرے۔

الإسراء 17:63

قال……(71 : 32) ” اللہ نے فرمایا ، اچھا تو جا ، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں تجھ سمیت ان کے لئے جہنم ہی بھرپور جزاء ہے “۔ جائو جو کرنا چاہتے ہو کرو ، تمہیں اجازت ہے جس قدر لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہو کرو ، اس نے ان کو بھی عقل و ارادے کا ہتھیار دے دیا ہے۔ انکو بھی یہ قوت و اختیار حاصل ہے کہ وہ تیرے مطیع فرمان ہوجائیں یا تم سے اعراض کریں۔ فمن تبعک (71 : 32) ” ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا “۔ یعنی اپنی ذات کے اندر گمراہی کی استعداد کو زیادہ کرتے ہوئے اور ہدایت کی استعداد کو کمزور کرتے ہوئے ، اللہ کی پکار سے اعراض کرتے ہوئے اور شیطان کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ، اس کائنات میں موجود اللہ کی تکوینی آیات و دلائل سے منہ موڑتے ہوئے اور پھر رسولوں کی دی ہوئی آیات ور معجزات سے منہ پھیرتے ہوئے۔ فان ……(71 : 36) ” تو پھر جہنم تم سب کے لئے بھرپور جزاء ہے۔

الإسراء 17:64

واستفزز……(71 : 46) ” تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھسلا سکتا ہے پھسلا دے ، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا “۔ یہاں شیطان کے وسائل گمراہی اور ضلالت کو مجسم طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ کسی طرح شیان انسانوں کے دل ، ان کے شعور اور ان کی عقل پر تسلط اختیار کرلیتا ہے۔ گویا آدم و ابلیس کے درمیان کھلی جنگ ہے۔ ہمہ گیر جنگ ہے۔ اس میں آواز ، گھوڑے اور ٹینک پیارے اور تمام دوسرے وسائل شیطان استعمال کرتا ہے جیسا کہ تمام روایتی جنگوں کے درمیان ہر قسم کے ہتھیار استعمال ہوتے ہیں۔ آوازیں بھی دی جاتیں اور آوازوں اور مبارزت کی وجہ سے دشمن کو خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ استدراج اور کیمو فلاج سے کام لیا جاتا ہے۔ جنگی چالیں چلی جاتی ہیں ، پہلے کسی دشمن کو کھلے میدان میں لایا جاتا ہے ، پھر اس پر وار کیا جاتا ہے یا گھیر لیا جاتا ہے۔ وشارکھم فی الاموال والاولاد (71 : 46) ” مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھا لگا “۔ جاہلانہ بت پرستی کے اندر یہ شرکت پائی جاتی ہے۔ مثلاً اپنے بنائے ہوئے بتوں اور الہوں کے لئے اہل جاہلیت اپنے اموال میں سے حصے مقرر کرتے تھے۔ یہ تمام حصے گویا شیطان کے تھے۔ اولاد میں شیطان کی حصہ داری یوں تھی کہ اولاد میں سے بعض کو وہ ان الہوں کی خدمت کے لئے وقف کردیتے تھے جو درحقیقت شیان کے ہوجاتے تھے۔ مثلاً عبد اللہ اور عبدہ مناۃ اور بعض اوقات وہ براہ راست شیان کا حصہ کرتے تھے مثلاً عبد الحارث یعنی شیان کا بندہ ۔ اسی طرح وہ تمام دولت جو حرام ذرائع سے آتی تھی یا جو حرام طریقوں میں صرف ہوتی تھی ، بدکاریوں اور گنہ کاریوں کی راہ میں جو لٹائی جاتی تھی۔ حرام اولاد بھی شرکت شیطان کا ایک نمونہ ہے۔ یہاں مراد عمومی شرکت ہے۔ ذکر صرف مال اور اولاد کا ہوا ہے اس لئے کہ مال اور اولاد معشیت کے بنیادی فیکٹر ہیں۔ ابلیس کو ابنی آدم کے گمراہ کرنے میں ہر قسم کے وسائل استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ یعنی ایسے وعدے جو پورے نہ کیے جاسکیں۔ وعدھم ……(71 : 46) ” اور ان کو وعدوں کے جال میں پھنسا دے اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں “۔ مثلاً یہ کہ اگر تم نے میری راہ اپنائی تو تم پر کوئی عذاب نہ ہوا ، تم سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور یہ کہ حرام ذرائع سے ہر قسم کا مال تمہارے پاس جمع ہوگا۔ تم دنیا میں غالب اور کامیاب رہو گا اور ناپاک ذرائع آمدنی اور نجس طرز معیشت کے تمام دروازے تمہارے لئے کھلے ہوں گے۔ شیطان کا سب سے بڑا جھوٹا وعدہ یہ ہوتا ہے کہ گناہوں اور خطا کاریوں کے بعد تمہیں معاف کردیا جائے گا۔ یہ وہ سوراخ ہے ، جس کے ذریعے شیطان ہر دل میں داخل ہوجاتا ہے خصوصاً ایسے کمزور لوگوں کے دلوں میں جو گناہوں اور خطاکاریوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے یا ایسے لوگوں کے دلوں میں جو ارتکاب معصیت میں بےباک ہوتے ہیں اور انہیں قابل فخر و عزت سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ وہ یوں چاپلوسی اختیار کرتا ہے کہ بھائی اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے اور اللہ غفور ورحیم ہے۔ اسے اس بات میں دلچسپی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں کو سزا دے۔ شیطان ! تم جائو تمہیں اجازت ہے کہ جو لوگ تمہاری طرف میلان رکھتے ہیں ان کو پھانسو لیکن میرے بعض بندے ایسے بھی ہوں گے جن پر تمہارے دائو نہیں چلیں گے کیونکہ وہ ایسے قلعوں میں محفوظ ہوں گے جو تمہارے اور تمہاری افواج کی دسترس سے دور ہوں گے۔

الإسراء 17:65

ان عبادی ………(71 : 56) ” یقینا میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار نہ ہوگا اور توکل کے لئے تیرا رب کافی ہے “۔ جب دل اللہ کے ساتھ جڑ جائیں گے ، اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں گے ، جب انسان ایسی رسی تھام لیں گے جو مضبوط ہوگی اور جو ٹوٹنے والی نہ ہوگی۔ جب عالم بالا کی روح ان میں سرایت کر جائے گی تو اس وقت شیطان کی قوت کچھ کام نہ کرے گی۔ یہ دل محفوظ ہوں گے۔ ایسی روحیں اللہ کے نور سے منور ہوں گے اور ایسے لوگوں کا وکیل تمہارا رب ہوگا اور توکل اور بھروسے کے لئے وہ قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ وہ بڑا ناصر اور مددگار ہے اور شیطان سے وہی بچانے والا ہے۔ یوں شیطان اپن وعدے اور اپنے چیلنج کو پورا کرنے میں لگ گیا ، بندوں کو ذلیل اور گمراہ کرنا شروع کردیا۔ لیکن اللہ کے بندوں اور عباد الرحمن کے قریب بھی وہ نہ بھٹک سکا ، کیونکہ ان پر اس کی ایک نہیں چلتی۔ یہ ہے وہ شیطانی منصوبہ جو اس نے انسانوں کے لئے علی الاعلان تیار کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اس قدر سادہ لوح ہیں کہ شیطان کی اطاعت اختیار کرتے ہیں۔ اس کی باتوں پر کان دھرتے ہیں۔ اللہ کی آواز اور پیغمبروں کی پکار پر کان نہیں دھرتے۔ حالانکہ اللہ ان کے لئے کریم و رحیم ہے۔ اور ان کو صحیح راہ بتلاتا ہے۔ ان کے لئے معیشت کے وسائل اللہ نے پیدا کیے ہیں۔ اللہ ہی ہے جو مشکلات اور کربناک حالات میں ان کی مدد کو پہنچتا ہے۔ اور ایسے حالات میں جب کہ انسان کسی دنیاوی مدد سے مایوس ہوتا ہے ، اللہ ان کی مدد کو پہنچتا ہے۔

الإسراء 17:66

یہاں قرآن کریم ایک عجیب منظر کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ ایک کشتی ہے جو گہرے سمندروں میں چلتی ہے۔ اس سفر میں بعض نہایت ہی کر بناک مناظر آتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک منظر ہمارے سامنے ہے۔ سمندر کی گہرائیوں اور طلاطم مین انسان کے اندر کسی فوق الفطرت ہستی کا شعور بہت ہی پیدا ہوت ا ہے۔ سمندر کی تاریکیوں اور پہنائیوں میں جہاز لکڑی کا یا دھات کا ہو ایک چھوٹا سا نکتہ ہوتا ہے۔ جو سمندر کی پہاڑ جیسی لہروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ موجیں اور طوفان اسے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دھکیلتے چلے جاتے ہیں۔ لوگ مارے کوکے اس نکتے جیسے چھوٹے سے جہاز سے چمٹے ہوتے ہیں۔ یہ وہ منظر ہے جس کا گہرا احساس ہر اس شخص کو ہوتا ہے جس نے کبھی بحری سفر کیا ہو اور اسے ایسے لمحات پیش آئے ہوں۔ دل خشک اور سانس رکی ہوئی ہوتی ہے اور ہر جھٹکے اور ہر زیروبم سے دل بیٹھتے جاتے ہیں۔ چھوٹا جہاز ہو یا بڑا سب میں ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔ نہایت ہی بڑے بڑے بحری جہاز بھی بعض اوقات یوں نظر آتے ہیں جس طرح ایک نہایت ہی سخت طوفان بادو باراں میں ایک پرندے کا پر۔ اس منظر کی تعبیر نہایت ہی حساس انداز سے کی گئی ہے۔ دلوں پر اس کا گہرا اثر ہوتا ہے اور انسان کو یہ شعور ملتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ اس کشتی کو چلاتا ہے اور اسے رفتار دیتا ہے تاکہ وہ جہانوں میں چلیں اور اللہ کا فضل و کرم تلاش کریں۔ انہ کان بکم رحیما (71 : 66) ” بیشک وہ تمہارے حال پر بہت ہی مہربان ہے “۔ کیونکہ سمندروں میں اللہ کا رحم و کرم سب کا مطلوب ہوتا ہے اور ہر سوار رحمت ربی کا طلبگار ہوتا ہے اور اس کا شعور اپنے اندر پاتا ہے۔

الإسراء 17:67

آپ اس کشتی رانی اور خوشگوار سفر کے دوران اچانک مشکلات اور اضطرابات سے دوچار ہوتے ہیں ، کشی موجوں کے تھپیڑوں میں گھری ہوتی ہے۔ وہ اس قدر ہچکولے کھاتی ہے کہ اس کے سواروں کو اب اللہ کے سوا تمام باطل الہہ بھول جاتے ہیں ۔ اب اس ہمہ گیر خطرے میں وہ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں اور صرف اللہ کا پکارتے ہیں۔ ضل من تدعون الا ایاہ (71 : 76) ” تو اس کے سوا تم جن جن کو پکارتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں “۔ لیکن انسان بہرحال انسان تو ہے ہی۔ جونہی یہ طوفان بیٹھتا ہے ، جونہی اس کے قدم خشکی پر پڑتے ہیں ، تو یہ کرب اور کوکے وہ لمحات فوراً بھول جاتا ہے ، پھر وہ اللہ کو بھی بھول جاتا ہے۔ اب وہ ہوا وہوس اور خواہشات اور چاہتوں کی موجوں میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ اور سمندر کے خطرات میں اس کی حقیقی فطرت پر سے جو پردے ہٹ گئے تھے اور جو غبار چھٹ گئی تھی وہ دوبارہ آجاتی ہے۔ فلما نجکم……(71 : 76) ” مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے “۔ مگر صرف وہ لوگ جن کے دل اللہ سے ملے ہوئے ہوں اور وہ نور ربانی سے منور ہوں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نہایت ہی موثر انداز ین ان کے شعور اور وجدان کو بیدار کرتا ہے کہ سمندر کے جن خطرات سے تم باہر نکل آئے ہو ، وہ تو دوسری شکلوں میں خشکی میں بھی تمہارا پیچھا کر رہے ہیں۔ نیز تم لوگ دوبارہ سمندر کے سفر پر بھی تو جاسکتے ہو ، مقصد یہ ہے کہ روحانی امن و سکون صرف اللہ کے ساتھ رابطے اور ذکر الٰہی ہی میں ملتا ہے۔ صرف اللہ کے جوار رحمت ہی میں سکون ملتا ہے ، حقیقی سکون۔ نہ سمندر میں اور نہ خشکی میں ، نہ خوشگوار سمندری سفر میں اور نہ ناقابل کنٹرول بحری امواج میں۔ نہ حصن حصین میں اور نہ محلات اور کوٹھیوں میں۔

الإسراء 17:68

انسان جہاں ہوا اور جس دور میں ، جس لمحے میں ہو ، وہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس طرح خشکی میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، اسی طرح سمندر میں بھی وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں۔ تو وہ کس طرح امن میں ہوں گے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی زلزلے میں ، زمین دھنس میں جائیں ، کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے یا دوسری کوئی آفت سماوی ان پر ٹوٹ پڑے۔ اگر کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے تو ان پر گرم لاوے ، گرم پانی ، کیچڑ اور پتھروں کا سیلاب آجائے ، اور وہ اس طرح ہلاکت کا شکار ہوجائیں کہ اللہ کے سوا کوئی ان کے لئے ناصر و مددگار نہ رہے۔ کوئی ان کی حمایت نہ کرسکے اور کوئی انہیں بچا نہ سکے۔ پھر کیا گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ سفر پر نہ جائیں یا اللہ انہی نہ بھیج دے۔ اور دوبارہ ان کو ناقابل کنٹرول موجوں کے حوالے کردے۔ یا ایسی ہوائیں ان پر آجائیں کہ کشتیوں اور جہازوں کو توڑ پھوڑ دیں اور ان کو ان کے کفر اور ناشکری کی وجہ سے غرق کردے اور اگر اللہ ایسا کردے تو اس سے پھر کون ہے پوچھنے والا۔ کیا یہ لوگ کوئی داد رسی کی جگہ پات ہیں ؟ خبردار ، یہ صریح غفلت ہے کہ لوگ اپنے رب سے منہ پھیر لیں اور پھر مامون ہو کر بیٹھ جائیں کہ ان پر کوئی عذاب نہ آئے گا۔ حالانکہ شدید ترین مصائب میں وہ بتقاضائے فطرت رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن نارمل حالات میں وہ دوبارہ غفلت کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ گویا جو شدت اور تکلیف گزری وہ آخری تھی اور دوبارہ کوئی تکلیف ان پر آنے والی نہیں ہے۔ اور پھر خدا کا کوئی عذاب آنے والا نہیں ہے۔ انسان کے یہ لچھن اس حقیقت کے ہوتے ہوئے کہ اسے اللہ نے اپنی مخلوق کے ایک بڑے حصے پر فضیلت دی ہے۔ سب سے پہلے تو اس کی تخلیق ایک بہترین ہیبت پر کی گئی۔ اس کا بڑا خمیر مٹی سے تیار کیا گیا اور اس کے اندر اللہ نے اپنی روح حیات پھونک دی۔ یوں اس مخلوق کے اندر مادی اور روحانی قوتیں ، زمنی اور آسمانی قوتیں جمع ہوگئی یعنی حضرت انسان کے اس ہیکل میں۔ پھر اللہ نے اس کے اندر عجیب عجیب فطری قوتیں ودیعت فرمائی ہیں۔ اور ان قوتوں ہی کی وجہ سے وہ خلافت فی الارض کے منصب کا اہل قرار پایا۔ وہ اس زمین میں تبدیلیاں کرتا ہے ، اس میں تصرفات کرتا ہے ، اس کو نشوونما دیتا ہے اور نئی نئی ایجادات کرتا ہے۔ اس مین دی ترکیب کرتا ہے اور مرکبات کا تجزیہ کرتا ہے اور اندگی کی نشوونما کو کمال تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ پھر اس پوری کائنات نے ، اس انسان کا استقبال جس انداز میں کیا ، وہ بھی اس کی تکریم خاص ہے۔ تمام ملائکہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اسے سجدہ کریں۔ یوں ایک کائناتی محفل اور سماوی تقریب میں اسے یہ اعزاز عملاً بخشا گیا رسمی طور پر ۔ پھر اس انسان کی تکریم اور عزت افزائی کا اعلان اللہ نے اپنی اس آخری کتاب میں کیا جو اللہ کی آخری کتاب ہے اور ابدالا باد تک رہنے والی ہے ، یعنی قران کریم میں۔

الإسراء 17:69

انسان جہاں ہوا اور جس دور میں ، جس لمحے میں ہو ، وہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس طرح خشکی میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، اسی طرح سمندر میں بھی وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں۔ تو وہ کس طرح امن میں ہوں گے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی زلزلے میں ، زمین دھنس میں جائیں ، کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے یا دوسری کوئی آفت سماوی ان پر ٹوٹ پڑے۔ اگر کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے تو ان پر گرم لاوے ، گرم پانی ، کیچڑ اور پتھروں کا سیلاب آجائے ، اور وہ اس طرح ہلاکت کا شکار ہوجائیں کہ اللہ کے سوا کوئی ان کے لئے ناصر و مددگار نہ رہے۔ کوئی ان کی حمایت نہ کرسکے اور کوئی انہیں بچا نہ سکے۔ پھر کیا گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ سفر پر نہ جائیں یا اللہ انہی نہ بھیج دے۔ اور دوبارہ ان کو ناقابل کنٹرول موجوں کے حوالے کردے۔ یا ایسی ہوائیں ان پر آجائیں کہ کشتیوں اور جہازوں کو توڑ پھوڑ دیں اور ان کو ان کے کفر اور ناشکری کی وجہ سے غرق کردے اور اگر اللہ ایسا کردے تو اس سے پھر کون ہے پوچھنے والا۔ کیا یہ لوگ کوئی داد رسی کی جگہ پات ہیں ؟ خبردار ، یہ صریح غفلت ہے کہ لوگ اپنے رب سے منہ پھیر لیں اور پھر مامون ہو کر بیٹھ جائیں کہ ان پر کوئی عذاب نہ آئے گا۔ حالانکہ شدید ترین مصائب میں وہ بتقاضائے فطرت رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن نارمل حالات میں وہ دوبارہ غفلت کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ گویا جو شدت اور تکلیف گزری وہ آخری تھی اور دوبارہ کوئی تکلیف ان پر آنے والی نہیں ہے۔ اور پھر خدا کا کوئی عذاب آنے والا نہیں ہے۔ انسان کے یہ لچھن اس حقیقت کے ہوتے ہوئے کہ اسے اللہ نے اپنی مخلوق کے ایک بڑے حصے پر فضیلت دی ہے۔ سب سے پہلے تو اس کی تخلیق ایک بہترین ہیبت پر کی گئی۔ اس کا بڑا خمیر مٹی سے تیار کیا گیا اور اس کے اندر اللہ نے اپنی روح حیات پھونک دی۔ یوں اس مخلوق کے اندر مادی اور روحانی قوتیں ، زمنی اور آسمانی قوتیں جمع ہوگئی یعنی حضرت انسان کے اس ہیکل میں۔ پھر اللہ نے اس کے اندر عجیب عجیب فطری قوتیں ودیعت فرمائی ہیں۔ اور ان قوتوں ہی کی وجہ سے وہ خلافت فی الارض کے منصب کا اہل قرار پایا۔ وہ اس زمین میں تبدیلیاں کرتا ہے ، اس میں تصرفات کرتا ہے ، اس کو نشوونما دیتا ہے اور نئی نئی ایجادات کرتا ہے۔ اس مین دی ترکیب کرتا ہے اور مرکبات کا تجزیہ کرتا ہے اور اندگی کی نشوونما کو کمال تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ پھر اس پوری کائنات نے ، اس انسان کا استقبال جس انداز میں کیا ، وہ بھی اس کی تکریم خاص ہے۔ تمام ملائکہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اسے سجدہ کریں۔ یوں ایک کائناتی محفل اور سماوی تقریب میں اسے یہ اعزاز عملاً بخشا گیا رسمی طور پر ۔ پھر اس انسان کی تکریم اور عزت افزائی کا اعلان اللہ نے اپنی اس آخری کتاب میں کیا جو اللہ کی آخری کتاب ہے اور ابدالا باد تک رہنے والی ہے ، یعنی قران کریم میں۔

الإسراء 17:70

وحملنھم فی البر والبحر (71 : 07) ” او انہیں خشکی اور تری میں سواریاں عطا کیں “۔ خشکی اور تری میں انسانی ٹرانسپورٹ کا مہیا ہونا صرف اسی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو ایک ایسی فطرت دی ہے اور ایسا نظام فطرت دیا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور اس کی سہولیات کے لئے زر و معاون ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کے نظام اور خصوصاً زمین و آسمان کی گردش اور ساخت کو انسانی حیات کے موافق نہ بناتا تو اس کے لئے یہاں زندگی گزار تا یا زندہ رہنا ہی مشکل ہوتا۔ نظام فطرت کی تو اے طیبہ کو دیکھا جائے تو بہ نسبت انسان کے وہ بہت ، سرکش اور پر قوت ہیں اور انسان کے لئے بحر و بر میں یہ حکمرانی ممکن نہ ہوتی۔ لیکن انسان کو اللہ نے وہقوت دی جس کی وجہ سے اس نے اس کائنات کو مسخر کرلیا اور پھر اسے مسخر کرنے کے بعد اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا اور یہ سب کچھ محض اللہ کے فضل و کرم سے ہوا۔ ورزقنھم من الطیبت (71 : 07) ” اور ان کا پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا “۔ انسان چونکہ اپنی پوری زندگی ، آغاز انسانیت سے یہاں گزار رہا ہے۔ اور دنیا کا ایک طویل عرصہ اور تاریخ گزر چکی ہے۔ اس لئے وہ روٹین میں اللہ کی عطا کردہ بیشمار پاکیزہ نعمتوں کو سرے سے شمار ہی نہیں کرتا۔ ان میں سے کسی نعمت کا احساس اسے تب ہوتا ہے جب وہ اس نعمت سے محروم ہوتا ہے۔ جب وہ محروم ہوجاتا ہے تب اسے احساس ہوتا ہے کہ اللہ کی کس قدر نعمت تھی جس سے وہ محروم ہوگیا اور وہ کس قدر مزے لیتا رہا ہے۔ لیکن جب یہ محرومیت دور ہوجاتی ہے تو پھر وہ بھول جاتا ہے۔ یہ سورج ، ہوا ، پانی ، یہ صحت ، یہ چلنے پھرنے کی قوت ، بہ حواس ، یہ عقل ، یہ کھانے پینے کی چیزیں ، بہ طویل و عریض کائنات جس میں وہ خلیفۃ اللہ ہے اور اس میں۔ لاتغذ ولا تحصی طیبات جن سے وہ لطف اندوز ہورہا ہے۔ وفضلنھم علی ……(71 : 07) ” اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت دی “۔ پہلی فضیلت تو یہ دی کہ اس عظیم کائنات کا خلیفہ اسے بنایا۔ پھر انسان کو ایسی خصوصیات بخشیں کہ وہ پوری مخلوق میں ایک ممتاز مخلوق بن گیا۔ اللہ کی تمام مخلوق میں۔ انسان کی سب سے بڑی تکریم یہ ہے کہ انسان خود اپنا ناظم اور کنٹرولر ہو۔ وہ ذمہ دار ہو اور اپنے افعال و اعمال کے نتائج بھگتے۔ کیونکہ یہی وہ بڑی خصویت ہے جس کی وجہ سے انسان انسان کہلایا ہے۔ یعنی یہ کہ وہ آزاد ہے جو چاہے کرے اور جو بھی کرے اس کے نتائج و عواقب کا ذمہ دار ہو اور جو بوئے اسے کاٹے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دار العمل میں وہ اللہ کا خلیفہ قرار پایا ہے۔ لہٰذا عدل و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دار الحساب اور یوم الحساب میں وہ اپنے کئے کا ذمہ دار ہو اور اس نے جو بویا ہو ، اسے کاٹے۔

الإسراء 17:71

یہ ایک نیا منظر ہے ، مناظر قیامت میں سے۔ تمام لوگ میدان میں حشر میں ہوں گے۔ ہر جماعت کو اس کے نام و عنوان اور اس کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اگر کسی کا کوئی نبی ہوگا تو وہ ان کا امام ہوگا۔ یا دنیا میں اگر ان کا کوئی پیشوا اور مقتداء ہوگا تو اس کے ساتھ۔ امام کے سامنے ان کو ان کا نامہ اعمال تھمایا جائے گا۔ دائیں ہاتھ ، جن کو اعمال نامے دئیے جا رہے ہیں وہ ان کو خوشی خوشی سے پرھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اعمال کا پورا پورا اجر ان کو مل رہا ہے۔ ایک فقیل (وہ دھاگہ جو گٹھلی کے درمیان ہوتا ہے) کے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا۔ جس شخص نے اس دنیا میں دلائل ہدایت کے دیکھنے میں اندھے پن کا ثبوت دیا ، وہ وہاں بھی اندھا ہوگا اور اپنے اعمال نامے میں کوء خیر و ہدایت نہ دیکھ سکے گا۔ اور جزاء پھر معلو ہے کیا ہوگی ؟ سیاق کلام کے اس منظر کو اس طرح بتاتا ہے کہ جس طرح وہ شخص قیامت میں اندھا ہوگا۔ ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوگا۔ کوئی ہاتھ پکڑ کر اسے راہ راست پر لے جانے والا نہ ہوگا۔ نہ کوئی ایسا ذریعہ ہوگا۔ جس کی وجہ سے وہ راہ معلوم کرسکے۔ بس اس شخص کو اس منظر میں یوں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ادھر ادھر پھر رہا ہے۔ آگے قاری پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ خود سوچ لے کہ ایسے شخص کا انجام کیا ہوا یا ہوگا ؟

الإسراء 17:72

یہ ایک نیا منظر ہے ، مناظر قیامت میں سے۔ تمام لوگ میدان میں حشر میں ہوں گے۔ ہر جماعت کو اس کے نام و عنوان اور اس کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اگر کسی کا کوئی نبی ہوگا تو وہ ان کا امام ہوگا۔ یا دنیا میں اگر ان کا کوئی پیشوا اور مقتداء ہوگا تو اس کے ساتھ۔ امام کے سامنے ان کو ان کا نامہ اعمال تھمایا جائے گا۔ دائیں ہاتھ ، جن کو اعمال نامے دئیے جا رہے ہیں وہ ان کو خوشی خوشی سے پرھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اعمال کا پورا پورا اجر ان کو مل رہا ہے۔ ایک فقیل (وہ دھاگہ جو گٹھلی کے درمیان ہوتا ہے) کے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا۔ جس شخص نے اس دنیا میں دلائل ہدایت کے دیکھنے میں اندھے پن کا ثبوت دیا ، وہ وہاں بھی اندھا ہوگا اور اپنے اعمال نامے میں کوء خیر و ہدایت نہ دیکھ سکے گا۔ اور جزاء پھر معلو ہے کیا ہوگی ؟ سیاق کلام کے اس منظر کو اس طرح بتاتا ہے کہ جس طرح وہ شخص قیامت میں اندھا ہوگا۔ ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوگا۔ کوئی ہاتھ پکڑ کر اسے راہ راست پر لے جانے والا نہ ہوگا۔ نہ کوئی ایسا ذریعہ ہوگا۔ جس کی وجہ سے وہ راہ معلوم کرسکے۔ بس اس شخص کو اس منظر میں یوں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ادھر ادھر پھر رہا ہے۔ آگے قاری پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ خود سوچ لے کہ ایسے شخص کا انجام کیا ہوا یا ہوگا ؟

الإسراء 17:73

درس نمبر 921 ایک نظر میں۔ سورة اسرا کا یہ آخری سبق بھی اس سورت کے بنیادی محور کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات اور ان کی قوم کا ان کے بارے میں موقف۔ قرآن اور اس کی خصوصیات۔ یہ اس سورت کا بھی اور اس سبق کا بھی اہم موضوع ہے۔ اس سبق کا آغاز ان مساعی پر تبصرے سے ہوتا جو مشرکین نبی ﷺ کو آپ ﷺ کے عقائد و اعمال میں بعض سے ہٹانے کے سلسلے میں کر رہے تھے۔ پھر یہ کہ وہ آپ کو مکہ سے نکالنے کے سلسلے میں جو منصوبے بنا رہے تھے اور آپ ﷺ کو کمزور کرکے اور آپ ﷺ کے حامیوں کو کم کرکے وہ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے ان ارداوں میں ناکام کردیا۔ اور اللہ نے آپ ﷺ کو ان کے فتنوں سے بچا لیا۔ کیونکہ اللہ کے علم میں یہ بات تحریر تھی کہ اہل مکہ کے لئے ابھی تک مہلت موجود ہے۔ اور ان کے لئے اللہ کے فیصلے ایسی تباہی نہ تھی جسی امم سابقہ کے لئے لکھی گئی تھی۔ اگر وہ رسول اللہ کو نکالتے یا ایسا اللہ نے مقدر کیا ہوتا تو پھر ان پر بھی وہ عذاب نازل ہوتا ہے جو امم سابقہ پر ہوا کیونکہ اللہ کی سنت نبیوں اور ان کی امتوں کے سلسلے میں ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی راہپر چلتے رہیں ، نماز پڑھیں ، قرآن کی تلاوت فرمائیں۔ اور دعا کریں کہ اللہ آپ کو جہاں بھی لے جائے سچائی کے ساتھ لے جائے اور جہاں سے بھی نکالے سچائی کے ساتھ نکالے اور آپ کے لئے ایک ایسی حکومتی قوت فراہم کرے جو حضور ﷺ کے مقصد کے حصول کے لئے آپ ﷺ کی نصرت کرے۔ اور وہ حکومت یہ اعلان کردے کہ حق آگیا اور باطل چلا گیا اور زائل ہوگیا اور مغلوب ہوگیا۔ پس یہ ہے اللہ کے ساتھ رابطہ اور یہ ہے وہ زبردست ہتھیار جو آپ ﷺ کو فتنوں سے بچا سکتا ہے اور جو آپ ﷺ کے لئے ایسی قوت بن سکتا ہے جو آپ ﷺ کی نصرت کرے۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ قرآن ایک شفا ہے اور ان لوگوں کے لئے رحمت کا باعث ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس کی تکذیب کرتے ہیں وہ ان کے لئے باعث عذاب اور مصیبت ہے۔ دنیا میں بی وہ اس کی وجہ سے مصیبت میں رہیں گے اور اس سے روگردانی کی وجہ سے آکرت میں بھی واصل جہنم ہوں گے۔ اسی مضمون کی مناسبت سے یہ بتایا جاتا ہے کہ رحمت کی حالت میں اور عذاب کی حالت میں انسان کے شب و روز کیسے ہوتے ہے۔ جب اس پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے تو وہ متکبر اور حق سے منہ موڑنے والا بن جاتا ہے اور جب وہ گرفتار مصیبت ہوتا ہے تو نہایت ہی مایوس اور شکستہ دل ہوتا ہے اور اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ہر انسان اپنے طریق کار کے مطابق زندگی اختیار کرتا ہے لیکن اس معلوم ہونا چاہیے کہ آخرت میں جزاء سزا بھی اس کے رویہ کے مطابق ہوگی لہٰذا اسے اپنے رویے کا تعین سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ اپنے علمی کمال اور خصوصیات کے باوجود انسان کا علم بہت ہی قلیل ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ روح کے بارے میں سوالات کرتے تھے ، حالانکہ روح اللہ کے غیوب میں سے ایک غیب ہے ، انسانی قوائے مدرکہ میں ابھی اس کے ادراک کی قوت نہیں ہے۔ یقینی علم وہی ہے جو اللہ نے رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا ہے۔ یہ اللہ کا رسول اللہ پر بہت ہی بڑا فضل ہے اور اگر اللہ اپنے اس فضل کو واپس لے لے تو اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ لیکن یہ اللہ کا رحم و کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو یہ اعزاز بخشا ۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن ایک کتاب معجز ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے کوئی بھی ایسی کتاب پیش کرنے سے عاجز ہے۔ اگرچہ وہ سب جمع ہوجائیں ، اور ایک دوسرے کی امداد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں دلائل ہدایت کو مختلف اسالیب سے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے تاکہ ہر معیار علم و دانش کے لوگ اس سے استفادہ کرسکیں۔ لیکن تعجب ہے کہ کفار قریش نے اسے کافی نہ سمجھا اور وہ رسول اللہ ﷺ سے مادی معجزات طلب کرنے لگے مثلاً زمین سے چشمے نکالنا ، یا یہ کہ آپ ﷺ کے لئے کوئی بہت ہی قیمتی مکان ہو ، پھر ان کی ہٹ دھرمی اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے مطالبات کرنا شروع کردئیے و انسانی خصائص کے خلاف تھے ، مثلاً یہ کہ آپ ﷺ آسمان میں چڑھ جائیں۔ اور یہ واقعہ ان لوگوں کے سامنے ہو ، اس کے بعد آپ ایک لکھی ہوئی تحریر لے کر آئیں جسے وہ پڑھ سکیں یا یہ کہ آسمان کا یہ ایک ٹکڑا ان پر گرا دیں بلکہ اس سے بڑھ کر انہوں نے کفر و ہٹ دھرمی کی حدیں پار کرتے ہوئے یہ مطالبہ شروع کردیتا ہے کہ آپ ﷺ فرشتوں اور خدا تعالیٰ کو سیدھے ان کے سامنے لے کر آجائیں۔ ہٹ دھرمی پر مبنی ان کے مطالبات کا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بنا دئیے گئے ہوتے تو بھی یہ انسانی تھرڈ لے پن اور کنجوسی کا شکار ہوجاتے اور ان کو یہ خوف لاحق ہوجاتا کہ کہیں خزائن رحمت ربی ختم ہی نہ ہوجائیں لیکن یہ لوگ جو مطالبات کرتے ہیں اس میدان میں یہ بہت ہی سخی ہیں ، کسی حد تک رکھتے ہی نہیں اور ایک سے ایک بڑا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے ان بےجا مطالبات کی بحث ہی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے کیسے کیسے خارق عادت معجزات دئیے تھے لیکن اس کے باوجود بھی فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ تو اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کردیا۔ جس طرح اللہ کی سنت ہے کہ وہ مکذبین کو ہلاک فرماتا ہے۔ رہا قرآن مجید تو وہ تو باقی رہنے والا اور برحق معجزہ ہے۔ اس کا نزول متفرق طور پر ہوا ہے۔ امت کی ضرورت اور حاجت کے مطابق یہ وقتاً فوقتاً ہوا ہے۔ امم سابقہ کے اہل علم بھی جانتے ہیں کہ یہ کتاب ، کتاب حق ہے۔ وہ اس پر یقین کرتے ہیں اور بہت ہی ڈراتے ہیں اور ایمان لا کر تسلیم خم کرتے ہیں۔ سورت کا خاتمہ اس مضمون اور ہدایت پر ہوتا ہے کہ رسول اللہ اللہ کی بندگی کریں۔ صرف اللہ کی بندگی اور اللہ کی حمدو ثنا کریں۔ جس طرح سورت کا آغاز بھی اسی مضمون سے ہوا تھا یعنی اللہ کی پاکی اور تسبیح کے ساتھ۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کوششوں کا ذکر فرماتے ہیں جو مشرکین مکہ نبی ﷺ کو اپنے موقف سے ہٹانے کے سلسلے میں کرتے تھے۔ ان کی پہلی کوشش یہ تھی کہ حضور ﷺ قرآن میں کچھ تبدیلیاں کردیں اور ان کے خیال میں جو بعض بہت سخت باتیں تھیں ، ان کو بدل کر دوسری باتیں لے آئیں ، اگر آپ ایسا کرتے تو یہ اللہ پر افتراء ہوتی ، لیکن ایسا کیسے ممکن تھا کیونکہ آپ صادق و امین تھے۔ یہ کوشش انہوں نے مختلف تجاویز دے کر کی مثلاً ایک تجویز انہوں نے یہ دی کہ وہ حضور اکرم ﷺ کے اللہ کی بندگی کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ حضور ﷺ ان کے الہوں پر تنقید چھوڑ دیں۔ نیز ان کے آباء و اجداد جو کچھ کرتے رہے ، ان کو بھی برا بھلا نہ کہیں ، بعض لوگوں نے یہ کہا کہ وہ اس بات کے لئے تب تیار ہوں گے کہ جب وہ ان کے علاقے کو بھی اسی طرح حرام قرار دے دیں جس طرح بیت اللہ حرام ہے۔ بعض اکابرین مکہ کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم ایمان لانے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ آپ ﷺ ہمارے لئے ایک خاص مجلس مقرر کردیں اور فقراء کے لئے ایک الگ مجلس وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں ان کوششوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ کیا گیا ہے ۔ تفصیلات نہیں دی گئیں۔ مقصد یہ بتانا ہے کہ اے محمد ﷺ تم پر یہ اللہ کا فضل و کرم تھا کہ تمہیں راہ حق پر ثابت قدم رکھا اور تمہیں مشرکین کے فتنوں سے بچایا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ اس ثابت قدمی کو واپس لے لیتا اور جو عظمت آپ کو دی ہوئی تھی ، وہ کھینچ لیتا تو آپ ﷺ ان مطالبات کو مان کر ان کی طرف جھک جاتے اور اس طرح یہ کفار آپ ﷺ کو دوست بنا لیتے اور پھر آپ کے اس جھکنے کی سز آپ کو ملتی۔ اور پھر یہ عذاب دوسرے عام لوگوں کے مقابلے میں اس زندگی اور قیامت دونوں میں دو چند ہوتا اور پھر یہ لوگ آپ کی کوئی نصرت اور مدد بھی نہ کرسکتے۔ یہ کوششیں اور سازشیں ، جن سے اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو بچایا ، ہر دور کے کبرائ، داعیان ھق کو پھسلانے کی خاطر کرتے رہے۔ مثلاً وہ داعیان حق کو اپنے موقف سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ دعوت اسلامی کی سختی میں قدرے نرمی کردی جائے اور اس سیدھے راستے میں ٹیڑھ پن پیدا کردیا جائے۔ کبرائے وقت ہمیہش درمیانی درجے کی راہ تلاش کرتے رہے ہیں اور اہل حق کو معاونت کی نیز بڑے برے مفادت کی پیش کش کرتے رہے ہیں اور راہ حق سے بھٹکانے کی سعی کرتے رہے ہیں۔ بعض داعیان حق معاملے کو معمولی سمجھتے ہوئے اپنی دعوت میں تبدیلی کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ کبراء اور اہلیان حکومت ایسے داعیان حق سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ اپنی دعوت کو بالکل چھوڑ دیں۔ البتہ وہ اس قدر غیر محسوس اور معمولی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہیں جن کے نتیجے میں دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ گزارہ کرسکیں۔ شیطان بعض داعیان حق کو اس نکتے پر پھسلا دیتا ہے اور داعیان حق یہ سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلام کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ کوئی برسر اقتدار بڑا آدمی دعوت اسلامی کا حامی بن جائے۔ اگرچہ اس سلسلے میں انہیں اپنے موقف میں بعض تبدیلیاں لائی کیوں نہ پڑیں۔ لیکن نکتہ آغاز سے جب راہ حق سے ایک معمولی سے انحراف کا آغاز کیا جائے تو راستے کی انتہا میں جا کر وہ انحراف بہت ہی معمولی جزاء کیوں ہو یا کسی نہایت ہی جزئی مسئلہ سے غفلت برتی جائے اور چشم پوشی کی جائے تو پھر داعی کے بس میں یہ بات نہیں رہتی کہ وہ کسی حد پر جا کر رکے کیونکہ جب ایک آدمی ڈالنے کے لئے تیار ہوجائے تو پھر وہ ہتھیار ڈالتا ہی چلا جاتا ہے۔ اور وہ ایک کے بعد دوسری پسپائی اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پوری دعوت کو قبول کیا ہے۔ اور مکمل اسلامی نظام کے قیام کی دعوت ہماری دعوت ہے۔ اس لئے جو شخص بھی اسلامی نظام کے کسی جزء کو نظر انداز کرتا ہے اگرچہ وہ بہت ہی چھوٹا اور جزئی مسئلہ کیوں نہ ہو ، اور جو شخص دعوت اسلامی کے کسی بھی چھوٹے مسئلہ کے بارے میں خاموشی اختیار کرتا ہے وہ دعوت اسلامی پر درحقیقت مومن نہیں ہے۔ اس لئے کہ ایک مومن کی نظریں دعوت اسلامی کا ہر جزء اہم ہوتا ہے۔ اسلامی نظام کے اجزاء میں سے کوئی جزء فاضل و مفضول نہیں ہے۔ اس میں ضروری اور غیر ضروری کچھ بھی نہیں۔ اس میں کوئی ایک جزء بھی ایسا نہیں ہے جس سے انسان بری الذمہ قرار دیا جاسکے۔ اسلامی نظام ایک کل ہے ، اگر اس میں سے ایک جزء بھی غائب کردیا جائے تو تمام اجزاء بےمقصد ہوجاتے ہیں۔ جس طرح کوئی وہ ترکیب ، کسی نسخے اور فارمولے سے ایک جزء غائب ہوجانے تو تمام دوسرے اجزاء کے خواص کام نہیں کرتے۔ اہل اقتدار کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے اجزاء کو ایک ایک کرکے ، داعیان نظام اسلامی سے ترک کراتے ہیں۔ جب اہل حق کسی ایک جزء پر مسالت اور صلح کرتے ہیں تو ان کی پوزیشن ختم ہوجاتی ہے۔ اور اہل اقتدار اور ڈکٹیٹر پھر ایک ایک بات پر سودا بازی کی کوشش کرتے ہیں اور آخر کار وہ اپنی تمام شرائط منوا لیتے ہیں اور دعوت اسلامی کا وجود ہی ختم ہوجاتا ہے۔ یہ کہ بر سر اقتدار (اور بااثر) لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنی دعوت کے کسی معمولی جزء سے چشم پوشی کرنا ، درحقیقت شکست خوردگی ہے۔ روحانی اور اخلاقی شکست کو تسلیم کرنا ہے۔ اور یہ برسر اقتدار اور بااثر لوگوں پر اعتماد کرنا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کی حمایت کریں گے۔ حالانکہ ایک سچا مومن اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں صرف اللہ پر اعتماد کرتا ہے ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ لیکن جب داعیوں کے قلب و نظر میں شکست نے راہ پا لی تو پھر ہی شکست شکست ہی ہوگی اور کسی صورت میں بھی اسے فتح سے نہ بدلا جاسکے گا۔ اللہ کا یہ رسول اللہ پر بہت بڑا احسان تھا کہ اللہ نے حضور ﷺ کو اسلامی نظام حیات اور ان تمام امور پر ثابت قدم کردیا تھا جو آپ ﷺ کی طرف وحی ہوتے تھے۔ اور مشرکین نیز مشرکانہ معاشرے کے تمام فتنوں سے اللہ نے آپ ﷺ کو بچا لیا تھا۔ اور آپ ﷺ کو اس قدر ثابت قدمی عطا کردی تھی کہ آپ ﷺ کسی دینی معاملے میں ان کی طرف نہ جھکتے تھے۔ اگرچہ وہ معمولی سا کیوں نہ ہوتا اور دین کے معاملے میں مداخلت کے عذاب سے حضور اکرم ﷺ کو اللہ نے بچا لیا ، جو دنیا میں بھی ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس سے دو چند ہوتا ہے اور دنیا میں یوں کہ ایسے داعیوں کو اللہ کی معاونت اور نصرت حاصل نہیں رہتی۔ جب مشرکین اس کوشش میں ناکام ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ ، بعض قرآنی ہدایات کو چھوڑ دیں یا بدل دیں اور ان کی یہ سازش کامیاب نہ ہوئی تو انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکال دیں لیکن وہ آپ ﷺ کو نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے تو اللہ نے بذریعہ وحی حضور ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ خود مہاجر والی اللہ بن کر مدینہ چلے جائیں کیونکہ اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ اہل قریش کو ہلاک نہ کیا جائے۔ اور اگر وہ زبردستی رسول اللہ ﷺ کو نکال دیتے یا آپ کو نکلنے پر مجبور کردیتے تو ان پر تباہی ایک عذاب کی صورت میں نازل ہوجاتی ۔ اور وہ نیست و نابود ہوجاتے ،

الإسراء 17:74

درس نمبر 921 ایک نظر میں۔ سورة اسرا کا یہ آخری سبق بھی اس سورت کے بنیادی محور کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات اور ان کی قوم کا ان کے بارے میں موقف۔ قرآن اور اس کی خصوصیات۔ یہ اس سورت کا بھی اور اس سبق کا بھی اہم موضوع ہے۔ اس سبق کا آغاز ان مساعی پر تبصرے سے ہوتا جو مشرکین نبی ﷺ کو آپ ﷺ کے عقائد و اعمال میں بعض سے ہٹانے کے سلسلے میں کر رہے تھے۔ پھر یہ کہ وہ آپ کو مکہ سے نکالنے کے سلسلے میں جو منصوبے بنا رہے تھے اور آپ ﷺ کو کمزور کرکے اور آپ ﷺ کے حامیوں کو کم کرکے وہ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے ان ارداوں میں ناکام کردیا۔ اور اللہ نے آپ ﷺ کو ان کے فتنوں سے بچا لیا۔ کیونکہ اللہ کے علم میں یہ بات تحریر تھی کہ اہل مکہ کے لئے ابھی تک مہلت موجود ہے۔ اور ان کے لئے اللہ کے فیصلے ایسی تباہی نہ تھی جسی امم سابقہ کے لئے لکھی گئی تھی۔ اگر وہ رسول اللہ کو نکالتے یا ایسا اللہ نے مقدر کیا ہوتا تو پھر ان پر بھی وہ عذاب نازل ہوتا ہے جو امم سابقہ پر ہوا کیونکہ اللہ کی سنت نبیوں اور ان کی امتوں کے سلسلے میں ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی راہپر چلتے رہیں ، نماز پڑھیں ، قرآن کی تلاوت فرمائیں۔ اور دعا کریں کہ اللہ آپ کو جہاں بھی لے جائے سچائی کے ساتھ لے جائے اور جہاں سے بھی نکالے سچائی کے ساتھ نکالے اور آپ کے لئے ایک ایسی حکومتی قوت فراہم کرے جو حضور ﷺ کے مقصد کے حصول کے لئے آپ ﷺ کی نصرت کرے۔ اور وہ حکومت یہ اعلان کردے کہ حق آگیا اور باطل چلا گیا اور زائل ہوگیا اور مغلوب ہوگیا۔ پس یہ ہے اللہ کے ساتھ رابطہ اور یہ ہے وہ زبردست ہتھیار جو آپ ﷺ کو فتنوں سے بچا سکتا ہے اور جو آپ ﷺ کے لئے ایسی قوت بن سکتا ہے جو آپ ﷺ کی نصرت کرے۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ قرآن ایک شفا ہے اور ان لوگوں کے لئے رحمت کا باعث ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس کی تکذیب کرتے ہیں وہ ان کے لئے باعث عذاب اور مصیبت ہے۔ دنیا میں بی وہ اس کی وجہ سے مصیبت میں رہیں گے اور اس سے روگردانی کی وجہ سے آکرت میں بھی واصل جہنم ہوں گے۔ اسی مضمون کی مناسبت سے یہ بتایا جاتا ہے کہ رحمت کی حالت میں اور عذاب کی حالت میں انسان کے شب و روز کیسے ہوتے ہے۔ جب اس پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے تو وہ متکبر اور حق سے منہ موڑنے والا بن جاتا ہے اور جب وہ گرفتار مصیبت ہوتا ہے تو نہایت ہی مایوس اور شکستہ دل ہوتا ہے اور اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ہر انسان اپنے طریق کار کے مطابق زندگی اختیار کرتا ہے لیکن اس معلوم ہونا چاہیے کہ آخرت میں جزاء سزا بھی اس کے رویہ کے مطابق ہوگی لہٰذا اسے اپنے رویے کا تعین سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ اپنے علمی کمال اور خصوصیات کے باوجود انسان کا علم بہت ہی قلیل ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ روح کے بارے میں سوالات کرتے تھے ، حالانکہ روح اللہ کے غیوب میں سے ایک غیب ہے ، انسانی قوائے مدرکہ میں ابھی اس کے ادراک کی قوت نہیں ہے۔ یقینی علم وہی ہے جو اللہ نے رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا ہے۔ یہ اللہ کا رسول اللہ پر بہت ہی بڑا فضل ہے اور اگر اللہ اپنے اس فضل کو واپس لے لے تو اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ لیکن یہ اللہ کا رحم و کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو یہ اعزاز بخشا ۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن ایک کتاب معجز ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے کوئی بھی ایسی کتاب پیش کرنے سے عاجز ہے۔ اگرچہ وہ سب جمع ہوجائیں ، اور ایک دوسرے کی امداد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں دلائل ہدایت کو مختلف اسالیب سے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے تاکہ ہر معیار علم و دانش کے لوگ اس سے استفادہ کرسکیں۔ لیکن تعجب ہے کہ کفار قریش نے اسے کافی نہ سمجھا اور وہ رسول اللہ ﷺ سے مادی معجزات طلب کرنے لگے مثلاً زمین سے چشمے نکالنا ، یا یہ کہ آپ ﷺ کے لئے کوئی بہت ہی قیمتی مکان ہو ، پھر ان کی ہٹ دھرمی اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے مطالبات کرنا شروع کردئیے و انسانی خصائص کے خلاف تھے ، مثلاً یہ کہ آپ ﷺ آسمان میں چڑھ جائیں۔ اور یہ واقعہ ان لوگوں کے سامنے ہو ، اس کے بعد آپ ایک لکھی ہوئی تحریر لے کر آئیں جسے وہ پڑھ سکیں یا یہ کہ آسمان کا یہ ایک ٹکڑا ان پر گرا دیں بلکہ اس سے بڑھ کر انہوں نے کفر و ہٹ دھرمی کی حدیں پار کرتے ہوئے یہ مطالبہ شروع کردیتا ہے کہ آپ ﷺ فرشتوں اور خدا تعالیٰ کو سیدھے ان کے سامنے لے کر آجائیں۔ ہٹ دھرمی پر مبنی ان کے مطالبات کا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بنا دئیے گئے ہوتے تو بھی یہ انسانی تھرڈ لے پن اور کنجوسی کا شکار ہوجاتے اور ان کو یہ خوف لاحق ہوجاتا کہ کہیں خزائن رحمت ربی ختم ہی نہ ہوجائیں لیکن یہ لوگ جو مطالبات کرتے ہیں اس میدان میں یہ بہت ہی سخی ہیں ، کسی حد تک رکھتے ہی نہیں اور ایک سے ایک بڑا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے ان بےجا مطالبات کی بحث ہی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے کیسے کیسے خارق عادت معجزات دئیے تھے لیکن اس کے باوجود بھی فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ تو اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کردیا۔ جس طرح اللہ کی سنت ہے کہ وہ مکذبین کو ہلاک فرماتا ہے۔ رہا قرآن مجید تو وہ تو باقی رہنے والا اور برحق معجزہ ہے۔ اس کا نزول متفرق طور پر ہوا ہے۔ امت کی ضرورت اور حاجت کے مطابق یہ وقتاً فوقتاً ہوا ہے۔ امم سابقہ کے اہل علم بھی جانتے ہیں کہ یہ کتاب ، کتاب حق ہے۔ وہ اس پر یقین کرتے ہیں اور بہت ہی ڈراتے ہیں اور ایمان لا کر تسلیم خم کرتے ہیں۔ سورت کا خاتمہ اس مضمون اور ہدایت پر ہوتا ہے کہ رسول اللہ اللہ کی بندگی کریں۔ صرف اللہ کی بندگی اور اللہ کی حمدو ثنا کریں۔ جس طرح سورت کا آغاز بھی اسی مضمون سے ہوا تھا یعنی اللہ کی پاکی اور تسبیح کے ساتھ۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کوششوں کا ذکر فرماتے ہیں جو مشرکین مکہ نبی ﷺ کو اپنے موقف سے ہٹانے کے سلسلے میں کرتے تھے۔ ان کی پہلی کوشش یہ تھی کہ حضور ﷺ قرآن میں کچھ تبدیلیاں کردیں اور ان کے خیال میں جو بعض بہت سخت باتیں تھیں ، ان کو بدل کر دوسری باتیں لے آئیں ، اگر آپ ایسا کرتے تو یہ اللہ پر افتراء ہوتی ، لیکن ایسا کیسے ممکن تھا کیونکہ آپ صادق و امین تھے۔ یہ کوشش انہوں نے مختلف تجاویز دے کر کی مثلاً ایک تجویز انہوں نے یہ دی کہ وہ حضور اکرم ﷺ کے اللہ کی بندگی کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ حضور ﷺ ان کے الہوں پر تنقید چھوڑ دیں۔ نیز ان کے آباء و اجداد جو کچھ کرتے رہے ، ان کو بھی برا بھلا نہ کہیں ، بعض لوگوں نے یہ کہا کہ وہ اس بات کے لئے تب تیار ہوں گے کہ جب وہ ان کے علاقے کو بھی اسی طرح حرام قرار دے دیں جس طرح بیت اللہ حرام ہے۔ بعض اکابرین مکہ کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم ایمان لانے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ آپ ﷺ ہمارے لئے ایک خاص مجلس مقرر کردیں اور فقراء کے لئے ایک الگ مجلس وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں ان کوششوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ کیا گیا ہے ۔ تفصیلات نہیں دی گئیں۔ مقصد یہ بتانا ہے کہ اے محمد ﷺ تم پر یہ اللہ کا فضل و کرم تھا کہ تمہیں راہ حق پر ثابت قدم رکھا اور تمہیں مشرکین کے فتنوں سے بچایا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ اس ثابت قدمی کو واپس لے لیتا اور جو عظمت آپ کو دی ہوئی تھی ، وہ کھینچ لیتا تو آپ ﷺ ان مطالبات کو مان کر ان کی طرف جھک جاتے اور اس طرح یہ کفار آپ ﷺ کو دوست بنا لیتے اور پھر آپ کے اس جھکنے کی سز آپ کو ملتی۔ اور پھر یہ عذاب دوسرے عام لوگوں کے مقابلے میں اس زندگی اور قیامت دونوں میں دو چند ہوتا اور پھر یہ لوگ آپ کی کوئی نصرت اور مدد بھی نہ کرسکتے۔ یہ کوششیں اور سازشیں ، جن سے اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو بچایا ، ہر دور کے کبرائ، داعیان ھق کو پھسلانے کی خاطر کرتے رہے۔ مثلاً وہ داعیان حق کو اپنے موقف سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ دعوت اسلامی کی سختی میں قدرے نرمی کردی جائے اور اس سیدھے راستے میں ٹیڑھ پن پیدا کردیا جائے۔ کبرائے وقت ہمیہش درمیانی درجے کی راہ تلاش کرتے رہے ہیں اور اہل حق کو معاونت کی نیز بڑے برے مفادت کی پیش کش کرتے رہے ہیں اور راہ حق سے بھٹکانے کی سعی کرتے رہے ہیں۔ بعض داعیان حق معاملے کو معمولی سمجھتے ہوئے اپنی دعوت میں تبدیلی کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ کبراء اور اہلیان حکومت ایسے داعیان حق سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ اپنی دعوت کو بالکل چھوڑ دیں۔ البتہ وہ اس قدر غیر محسوس اور معمولی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہیں جن کے نتیجے میں دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ گزارہ کرسکیں۔ شیطان بعض داعیان حق کو اس نکتے پر پھسلا دیتا ہے اور داعیان حق یہ سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلام کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ کوئی برسر اقتدار بڑا آدمی دعوت اسلامی کا حامی بن جائے۔ اگرچہ اس سلسلے میں انہیں اپنے موقف میں بعض تبدیلیاں لائی کیوں نہ پڑیں۔ لیکن نکتہ آغاز سے جب راہ حق سے ایک معمولی سے انحراف کا آغاز کیا جائے تو راستے کی انتہا میں جا کر وہ انحراف بہت ہی معمولی جزاء کیوں ہو یا کسی نہایت ہی جزئی مسئلہ سے غفلت برتی جائے اور چشم پوشی کی جائے تو پھر داعی کے بس میں یہ بات نہیں رہتی کہ وہ کسی حد پر جا کر رکے کیونکہ جب ایک آدمی ڈالنے کے لئے تیار ہوجائے تو پھر وہ ہتھیار ڈالتا ہی چلا جاتا ہے۔ اور وہ ایک کے بعد دوسری پسپائی اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پوری دعوت کو قبول کیا ہے۔ اور مکمل اسلامی نظام کے قیام کی دعوت ہماری دعوت ہے۔ اس لئے جو شخص بھی اسلامی نظام کے کسی جزء کو نظر انداز کرتا ہے اگرچہ وہ بہت ہی چھوٹا اور جزئی مسئلہ کیوں نہ ہو ، اور جو شخص دعوت اسلامی کے کسی بھی چھوٹے مسئلہ کے بارے میں خاموشی اختیار کرتا ہے وہ دعوت اسلامی پر درحقیقت مومن نہیں ہے۔ اس لئے کہ ایک مومن کی نظریں دعوت اسلامی کا ہر جزء اہم ہوتا ہے۔ اسلامی نظام کے اجزاء میں سے کوئی جزء فاضل و مفضول نہیں ہے۔ اس میں ضروری اور غیر ضروری کچھ بھی نہیں۔ اس میں کوئی ایک جزء بھی ایسا نہیں ہے جس سے انسان بری الذمہ قرار دیا جاسکے۔ اسلامی نظام ایک کل ہے ، اگر اس میں سے ایک جزء بھی غائب کردیا جائے تو تمام اجزاء بےمقصد ہوجاتے ہیں۔ جس طرح کوئی وہ ترکیب ، کسی نسخے اور فارمولے سے ایک جزء غائب ہوجانے تو تمام دوسرے اجزاء کے خواص کام نہیں کرتے۔ اہل اقتدار کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے اجزاء کو ایک ایک کرکے ، داعیان نظام اسلامی سے ترک کراتے ہیں۔ جب اہل حق کسی ایک جزء پر مسالت اور صلح کرتے ہیں تو ان کی پوزیشن ختم ہوجاتی ہے۔ اور اہل اقتدار اور ڈکٹیٹر پھر ایک ایک بات پر سودا بازی کی کوشش کرتے ہیں اور آخر کار وہ اپنی تمام شرائط منوا لیتے ہیں اور دعوت اسلامی کا وجود ہی ختم ہوجاتا ہے۔ یہ کہ بر سر اقتدار (اور بااثر) لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنی دعوت کے کسی معمولی جزء سے چشم پوشی کرنا ، درحقیقت شکست خوردگی ہے۔ روحانی اور اخلاقی شکست کو تسلیم کرنا ہے۔ اور یہ برسر اقتدار اور بااثر لوگوں پر اعتماد کرنا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کی حمایت کریں گے۔ حالانکہ ایک سچا مومن اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں صرف اللہ پر اعتماد کرتا ہے ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ لیکن جب داعیوں کے قلب و نظر میں شکست نے راہ پا لی تو پھر ہی شکست شکست ہی ہوگی اور کسی صورت میں بھی اسے فتح سے نہ بدلا جاسکے گا۔ اللہ کا یہ رسول اللہ پر بہت بڑا احسان تھا کہ اللہ نے حضور ﷺ کو اسلامی نظام حیات اور ان تمام امور پر ثابت قدم کردیا تھا جو آپ ﷺ کی طرف وحی ہوتے تھے۔ اور مشرکین نیز مشرکانہ معاشرے کے تمام فتنوں سے اللہ نے آپ ﷺ کو بچا لیا تھا۔ اور آپ ﷺ کو اس قدر ثابت قدمی عطا کردی تھی کہ آپ ﷺ کسی دینی معاملے میں ان کی طرف نہ جھکتے تھے۔ اگرچہ وہ معمولی سا کیوں نہ ہوتا اور دین کے معاملے میں مداخلت کے عذاب سے حضور اکرم ﷺ کو اللہ نے بچا لیا ، جو دنیا میں بھی ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس سے دو چند ہوتا ہے اور دنیا میں یوں کہ ایسے داعیوں کو اللہ کی معاونت اور نصرت حاصل نہیں رہتی۔ جب مشرکین اس کوشش میں ناکام ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ ، بعض قرآنی ہدایات کو چھوڑ دیں یا بدل دیں اور ان کی یہ سازش کامیاب نہ ہوئی تو انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکال دیں لیکن وہ آپ ﷺ کو نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے تو اللہ نے بذریعہ وحی حضور ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ خود مہاجر والی اللہ بن کر مدینہ چلے جائیں کیونکہ اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ اہل قریش کو ہلاک نہ کیا جائے۔ اور اگر وہ زبردستی رسول اللہ ﷺ کو نکال دیتے یا آپ کو نکلنے پر مجبور کردیتے تو ان پر تباہی ایک عذاب کی صورت میں نازل ہوجاتی ۔ اور وہ نیست و نابود ہوجاتے ،

الإسراء 17:75

درس نمبر 921 ایک نظر میں۔ سورة اسرا کا یہ آخری سبق بھی اس سورت کے بنیادی محور کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات اور ان کی قوم کا ان کے بارے میں موقف۔ قرآن اور اس کی خصوصیات۔ یہ اس سورت کا بھی اور اس سبق کا بھی اہم موضوع ہے۔ اس سبق کا آغاز ان مساعی پر تبصرے سے ہوتا جو مشرکین نبی ﷺ کو آپ ﷺ کے عقائد و اعمال میں بعض سے ہٹانے کے سلسلے میں کر رہے تھے۔ پھر یہ کہ وہ آپ کو مکہ سے نکالنے کے سلسلے میں جو منصوبے بنا رہے تھے اور آپ ﷺ کو کمزور کرکے اور آپ ﷺ کے حامیوں کو کم کرکے وہ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے ان ارداوں میں ناکام کردیا۔ اور اللہ نے آپ ﷺ کو ان کے فتنوں سے بچا لیا۔ کیونکہ اللہ کے علم میں یہ بات تحریر تھی کہ اہل مکہ کے لئے ابھی تک مہلت موجود ہے۔ اور ان کے لئے اللہ کے فیصلے ایسی تباہی نہ تھی جسی امم سابقہ کے لئے لکھی گئی تھی۔ اگر وہ رسول اللہ کو نکالتے یا ایسا اللہ نے مقدر کیا ہوتا تو پھر ان پر بھی وہ عذاب نازل ہوتا ہے جو امم سابقہ پر ہوا کیونکہ اللہ کی سنت نبیوں اور ان کی امتوں کے سلسلے میں ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی راہپر چلتے رہیں ، نماز پڑھیں ، قرآن کی تلاوت فرمائیں۔ اور دعا کریں کہ اللہ آپ کو جہاں بھی لے جائے سچائی کے ساتھ لے جائے اور جہاں سے بھی نکالے سچائی کے ساتھ نکالے اور آپ کے لئے ایک ایسی حکومتی قوت فراہم کرے جو حضور ﷺ کے مقصد کے حصول کے لئے آپ ﷺ کی نصرت کرے۔ اور وہ حکومت یہ اعلان کردے کہ حق آگیا اور باطل چلا گیا اور زائل ہوگیا اور مغلوب ہوگیا۔ پس یہ ہے اللہ کے ساتھ رابطہ اور یہ ہے وہ زبردست ہتھیار جو آپ ﷺ کو فتنوں سے بچا سکتا ہے اور جو آپ ﷺ کے لئے ایسی قوت بن سکتا ہے جو آپ ﷺ کی نصرت کرے۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ قرآن ایک شفا ہے اور ان لوگوں کے لئے رحمت کا باعث ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس کی تکذیب کرتے ہیں وہ ان کے لئے باعث عذاب اور مصیبت ہے۔ دنیا میں بی وہ اس کی وجہ سے مصیبت میں رہیں گے اور اس سے روگردانی کی وجہ سے آکرت میں بھی واصل جہنم ہوں گے۔ اسی مضمون کی مناسبت سے یہ بتایا جاتا ہے کہ رحمت کی حالت میں اور عذاب کی حالت میں انسان کے شب و روز کیسے ہوتے ہے۔ جب اس پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے تو وہ متکبر اور حق سے منہ موڑنے والا بن جاتا ہے اور جب وہ گرفتار مصیبت ہوتا ہے تو نہایت ہی مایوس اور شکستہ دل ہوتا ہے اور اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ہر انسان اپنے طریق کار کے مطابق زندگی اختیار کرتا ہے لیکن اس معلوم ہونا چاہیے کہ آخرت میں جزاء سزا بھی اس کے رویہ کے مطابق ہوگی لہٰذا اسے اپنے رویے کا تعین سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ اپنے علمی کمال اور خصوصیات کے باوجود انسان کا علم بہت ہی قلیل ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ روح کے بارے میں سوالات کرتے تھے ، حالانکہ روح اللہ کے غیوب میں سے ایک غیب ہے ، انسانی قوائے مدرکہ میں ابھی اس کے ادراک کی قوت نہیں ہے۔ یقینی علم وہی ہے جو اللہ نے رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا ہے۔ یہ اللہ کا رسول اللہ پر بہت ہی بڑا فضل ہے اور اگر اللہ اپنے اس فضل کو واپس لے لے تو اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ لیکن یہ اللہ کا رحم و کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو یہ اعزاز بخشا ۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن ایک کتاب معجز ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے کوئی بھی ایسی کتاب پیش کرنے سے عاجز ہے۔ اگرچہ وہ سب جمع ہوجائیں ، اور ایک دوسرے کی امداد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں دلائل ہدایت کو مختلف اسالیب سے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے تاکہ ہر معیار علم و دانش کے لوگ اس سے استفادہ کرسکیں۔ لیکن تعجب ہے کہ کفار قریش نے اسے کافی نہ سمجھا اور وہ رسول اللہ ﷺ سے مادی معجزات طلب کرنے لگے مثلاً زمین سے چشمے نکالنا ، یا یہ کہ آپ ﷺ کے لئے کوئی بہت ہی قیمتی مکان ہو ، پھر ان کی ہٹ دھرمی اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے مطالبات کرنا شروع کردئیے و انسانی خصائص کے خلاف تھے ، مثلاً یہ کہ آپ ﷺ آسمان میں چڑھ جائیں۔ اور یہ واقعہ ان لوگوں کے سامنے ہو ، اس کے بعد آپ ایک لکھی ہوئی تحریر لے کر آئیں جسے وہ پڑھ سکیں یا یہ کہ آسمان کا یہ ایک ٹکڑا ان پر گرا دیں بلکہ اس سے بڑھ کر انہوں نے کفر و ہٹ دھرمی کی حدیں پار کرتے ہوئے یہ مطالبہ شروع کردیتا ہے کہ آپ ﷺ فرشتوں اور خدا تعالیٰ کو سیدھے ان کے سامنے لے کر آجائیں۔ ہٹ دھرمی پر مبنی ان کے مطالبات کا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بنا دئیے گئے ہوتے تو بھی یہ انسانی تھرڈ لے پن اور کنجوسی کا شکار ہوجاتے اور ان کو یہ خوف لاحق ہوجاتا کہ کہیں خزائن رحمت ربی ختم ہی نہ ہوجائیں لیکن یہ لوگ جو مطالبات کرتے ہیں اس میدان میں یہ بہت ہی سخی ہیں ، کسی حد تک رکھتے ہی نہیں اور ایک سے ایک بڑا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے ان بےجا مطالبات کی بحث ہی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے کیسے کیسے خارق عادت معجزات دئیے تھے لیکن اس کے باوجود بھی فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ تو اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کردیا۔ جس طرح اللہ کی سنت ہے کہ وہ مکذبین کو ہلاک فرماتا ہے۔ رہا قرآن مجید تو وہ تو باقی رہنے والا اور برحق معجزہ ہے۔ اس کا نزول متفرق طور پر ہوا ہے۔ امت کی ضرورت اور حاجت کے مطابق یہ وقتاً فوقتاً ہوا ہے۔ امم سابقہ کے اہل علم بھی جانتے ہیں کہ یہ کتاب ، کتاب حق ہے۔ وہ اس پر یقین کرتے ہیں اور بہت ہی ڈراتے ہیں اور ایمان لا کر تسلیم خم کرتے ہیں۔ سورت کا خاتمہ اس مضمون اور ہدایت پر ہوتا ہے کہ رسول اللہ اللہ کی بندگی کریں۔ صرف اللہ کی بندگی اور اللہ کی حمدو ثنا کریں۔ جس طرح سورت کا آغاز بھی اسی مضمون سے ہوا تھا یعنی اللہ کی پاکی اور تسبیح کے ساتھ۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کوششوں کا ذکر فرماتے ہیں جو مشرکین مکہ نبی ﷺ کو اپنے موقف سے ہٹانے کے سلسلے میں کرتے تھے۔ ان کی پہلی کوشش یہ تھی کہ حضور ﷺ قرآن میں کچھ تبدیلیاں کردیں اور ان کے خیال میں جو بعض بہت سخت باتیں تھیں ، ان کو بدل کر دوسری باتیں لے آئیں ، اگر آپ ایسا کرتے تو یہ اللہ پر افتراء ہوتی ، لیکن ایسا کیسے ممکن تھا کیونکہ آپ صادق و امین تھے۔ یہ کوشش انہوں نے مختلف تجاویز دے کر کی مثلاً ایک تجویز انہوں نے یہ دی کہ وہ حضور اکرم ﷺ کے اللہ کی بندگی کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ حضور ﷺ ان کے الہوں پر تنقید چھوڑ دیں۔ نیز ان کے آباء و اجداد جو کچھ کرتے رہے ، ان کو بھی برا بھلا نہ کہیں ، بعض لوگوں نے یہ کہا کہ وہ اس بات کے لئے تب تیار ہوں گے کہ جب وہ ان کے علاقے کو بھی اسی طرح حرام قرار دے دیں جس طرح بیت اللہ حرام ہے۔ بعض اکابرین مکہ کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم ایمان لانے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ آپ ﷺ ہمارے لئے ایک خاص مجلس مقرر کردیں اور فقراء کے لئے ایک الگ مجلس وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں ان کوششوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ کیا گیا ہے ۔ تفصیلات نہیں دی گئیں۔ مقصد یہ بتانا ہے کہ اے محمد ﷺ تم پر یہ اللہ کا فضل و کرم تھا کہ تمہیں راہ حق پر ثابت قدم رکھا اور تمہیں مشرکین کے فتنوں سے بچایا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ اس ثابت قدمی کو واپس لے لیتا اور جو عظمت آپ کو دی ہوئی تھی ، وہ کھینچ لیتا تو آپ ﷺ ان مطالبات کو مان کر ان کی طرف جھک جاتے اور اس طرح یہ کفار آپ ﷺ کو دوست بنا لیتے اور پھر آپ کے اس جھکنے کی سز آپ کو ملتی۔ اور پھر یہ عذاب دوسرے عام لوگوں کے مقابلے میں اس زندگی اور قیامت دونوں میں دو چند ہوتا اور پھر یہ لوگ آپ کی کوئی نصرت اور مدد بھی نہ کرسکتے۔ یہ کوششیں اور سازشیں ، جن سے اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو بچایا ، ہر دور کے کبرائ، داعیان ھق کو پھسلانے کی خاطر کرتے رہے۔ مثلاً وہ داعیان حق کو اپنے موقف سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ دعوت اسلامی کی سختی میں قدرے نرمی کردی جائے اور اس سیدھے راستے میں ٹیڑھ پن پیدا کردیا جائے۔ کبرائے وقت ہمیہش درمیانی درجے کی راہ تلاش کرتے رہے ہیں اور اہل حق کو معاونت کی نیز بڑے برے مفادت کی پیش کش کرتے رہے ہیں اور راہ حق سے بھٹکانے کی سعی کرتے رہے ہیں۔ بعض داعیان حق معاملے کو معمولی سمجھتے ہوئے اپنی دعوت میں تبدیلی کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ کبراء اور اہلیان حکومت ایسے داعیان حق سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ اپنی دعوت کو بالکل چھوڑ دیں۔ البتہ وہ اس قدر غیر محسوس اور معمولی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہیں جن کے نتیجے میں دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ گزارہ کرسکیں۔ شیطان بعض داعیان حق کو اس نکتے پر پھسلا دیتا ہے اور داعیان حق یہ سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلام کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ کوئی برسر اقتدار بڑا آدمی دعوت اسلامی کا حامی بن جائے۔ اگرچہ اس سلسلے میں انہیں اپنے موقف میں بعض تبدیلیاں لائی کیوں نہ پڑیں۔ لیکن نکتہ آغاز سے جب راہ حق سے ایک معمولی سے انحراف کا آغاز کیا جائے تو راستے کی انتہا میں جا کر وہ انحراف بہت ہی معمولی جزاء کیوں ہو یا کسی نہایت ہی جزئی مسئلہ سے غفلت برتی جائے اور چشم پوشی کی جائے تو پھر داعی کے بس میں یہ بات نہیں رہتی کہ وہ کسی حد پر جا کر رکے کیونکہ جب ایک آدمی ڈالنے کے لئے تیار ہوجائے تو پھر وہ ہتھیار ڈالتا ہی چلا جاتا ہے۔ اور وہ ایک کے بعد دوسری پسپائی اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پوری دعوت کو قبول کیا ہے۔ اور مکمل اسلامی نظام کے قیام کی دعوت ہماری دعوت ہے۔ اس لئے جو شخص بھی اسلامی نظام کے کسی جزء کو نظر انداز کرتا ہے اگرچہ وہ بہت ہی چھوٹا اور جزئی مسئلہ کیوں نہ ہو ، اور جو شخص دعوت اسلامی کے کسی بھی چھوٹے مسئلہ کے بارے میں خاموشی اختیار کرتا ہے وہ دعوت اسلامی پر درحقیقت مومن نہیں ہے۔ اس لئے کہ ایک مومن کی نظریں دعوت اسلامی کا ہر جزء اہم ہوتا ہے۔ اسلامی نظام کے اجزاء میں سے کوئی جزء فاضل و مفضول نہیں ہے۔ اس میں ضروری اور غیر ضروری کچھ بھی نہیں۔ اس میں کوئی ایک جزء بھی ایسا نہیں ہے جس سے انسان بری الذمہ قرار دیا جاسکے۔ اسلامی نظام ایک کل ہے ، اگر اس میں سے ایک جزء بھی غائب کردیا جائے تو تمام اجزاء بےمقصد ہوجاتے ہیں۔ جس طرح کوئی وہ ترکیب ، کسی نسخے اور فارمولے سے ایک جزء غائب ہوجانے تو تمام دوسرے اجزاء کے خواص کام نہیں کرتے۔ اہل اقتدار کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے اجزاء کو ایک ایک کرکے ، داعیان نظام اسلامی سے ترک کراتے ہیں۔ جب اہل حق کسی ایک جزء پر مسالت اور صلح کرتے ہیں تو ان کی پوزیشن ختم ہوجاتی ہے۔ اور اہل اقتدار اور ڈکٹیٹر پھر ایک ایک بات پر سودا بازی کی کوشش کرتے ہیں اور آخر کار وہ اپنی تمام شرائط منوا لیتے ہیں اور دعوت اسلامی کا وجود ہی ختم ہوجاتا ہے۔ یہ کہ بر سر اقتدار (اور بااثر) لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنی دعوت کے کسی معمولی جزء سے چشم پوشی کرنا ، درحقیقت شکست خوردگی ہے۔ روحانی اور اخلاقی شکست کو تسلیم کرنا ہے۔ اور یہ برسر اقتدار اور بااثر لوگوں پر اعتماد کرنا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کی حمایت کریں گے۔ حالانکہ ایک سچا مومن اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں صرف اللہ پر اعتماد کرتا ہے ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ لیکن جب داعیوں کے قلب و نظر میں شکست نے راہ پا لی تو پھر ہی شکست شکست ہی ہوگی اور کسی صورت میں بھی اسے فتح سے نہ بدلا جاسکے گا۔ اللہ کا یہ رسول اللہ پر بہت بڑا احسان تھا کہ اللہ نے حضور ﷺ کو اسلامی نظام حیات اور ان تمام امور پر ثابت قدم کردیا تھا جو آپ ﷺ کی طرف وحی ہوتے تھے۔ اور مشرکین نیز مشرکانہ معاشرے کے تمام فتنوں سے اللہ نے آپ ﷺ کو بچا لیا تھا۔ اور آپ ﷺ کو اس قدر ثابت قدمی عطا کردی تھی کہ آپ ﷺ کسی دینی معاملے میں ان کی طرف نہ جھکتے تھے۔ اگرچہ وہ معمولی سا کیوں نہ ہوتا اور دین کے معاملے میں مداخلت کے عذاب سے حضور اکرم ﷺ کو اللہ نے بچا لیا ، جو دنیا میں بھی ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس سے دو چند ہوتا ہے اور دنیا میں یوں کہ ایسے داعیوں کو اللہ کی معاونت اور نصرت حاصل نہیں رہتی۔ جب مشرکین اس کوشش میں ناکام ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ ، بعض قرآنی ہدایات کو چھوڑ دیں یا بدل دیں اور ان کی یہ سازش کامیاب نہ ہوئی تو انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکال دیں لیکن وہ آپ ﷺ کو نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے تو اللہ نے بذریعہ وحی حضور ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ خود مہاجر والی اللہ بن کر مدینہ چلے جائیں کیونکہ اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ اہل قریش کو ہلاک نہ کیا جائے۔ اور اگر وہ زبردستی رسول اللہ ﷺ کو نکال دیتے یا آپ کو نکلنے پر مجبور کردیتے تو ان پر تباہی ایک عذاب کی صورت میں نازل ہوجاتی ۔ اور وہ نیست و نابود ہوجاتے ،

الإسراء 17:76

واذالا یلبثون خلفک الا قلیلا (71 : 67) ” اگر وہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں گے “۔ کیونکہ یہ اللہ کی جاری وساری سنت ہے۔

الإسراء 17:77

سنۃ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا ولا تحد لسنتنا تحویلا (71 : 77) ” یہ ہمارا مستقبل طریق کار ہے جو ان سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پائو گے “۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اٹل قانون بنایا ہے کہ جو قوم رسول کو ملک بدر کردیتی ہے اللہ اے نیست و نابود کردیتا ہے۔ کیونکہ رسولوں کا ملک بدر کرنا اس قدر بڑا جرم ہے کہ اسے سرزنش کے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ اللہ کی اس کائنات کو اس کے اٹل قوانیں اور سنن چلا رہے ہیں اور لوگوں کے انفرادی اعمال کا اس میں کوئی لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ کائنات محض اتفاقات کے مطابق نہیں چل رہی ہے کہ کچھ واقعات ہوجائیں اور گزر جائیں اور یہ کائنات یونہی چل رہی ہو۔ بلکہ اس کائنات کو اللہ کے اٹل قوانین کنٹرول کرتے ہیں۔ چونکہ عالم بالا میں ، بعض حکمتوں کی بنا پر یہ طے تھا کہ قریش کو بلاک اور نیست و نابود نہیں کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو طبیعی خوارق عادت معجزات نہیں دیے اور نہ قریش کو ہمت دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو زبردستی یا حالات سے مجبور کر کے مکہ سے نکال دیں بلکہ بذریعہ وحی حکم دیا کہ آپ اس آبادی کو خود ہی چھوڑ دیں۔ یوں اللہ کی سنت جاری وساری رہی۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ سے لو لگائے رکھیں ، اللہ سے نصرت اور معاونت طلب کرتے رہے اور جس راہ کو آپ ﷺ نے اپنایا ہے اس پر چلتے رہیں۔ حق کا بول بالا ہوگا اور باطل مغلوب اور زائل ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

الإسراء 17:78

دلوک الشمس سے مراد ہے سورج کا غروب کی طرف مائل ہونا یعنی غروب آفتاب سے لے کر اندھیرے تک۔ یہ حکم خاص نبی ﷺ کو ہے۔ جہاں تک پانچ فرض نمازوں کا تعلق ہے تو ان کے اپنے اوقات ہیں اور تواتر سے احادیث رسول کے ذریعہ ثابت ہیں۔ نیز آپ ﷺ کی عملی سنت بھی متواتر ہے۔ بعض نے دلوک الشمس سے مراد زوال آفتاب لیا ہے یعنی آسمان کے درمیان سے آفتاب کا گزر جانا اور غسق اللیل کی تفسیر بعض لوگوں نے اول لیل سے کی ہے۔ اور قرآن الفجر سے مراد صبح کی نماز کی گئی ہے۔ اور یوں اس آیت سے زوال آفتاب سے رات کے اندھیروں تک۔ دلوک الشمس الی غسق الیل (71 : 87) سے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں لی گئی ہیں اور تہجد کا حکم حضور اکرم ﷺ کے لئے مخصوص کیا گیا ہے اور یہ آپ ﷺ کے لئے نفل یعنی زائد حکم ہے۔ لیکن ہماری رائے پہلی تفسیر ہی کی طرف جاتی ہے۔ یعنی اس آیت کے تمام احکام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مختص ہیں اور پانچ نمازوں کے اوقات احادیث متواترہ اور سنت عملیہ متواترہ سے ثابت ہیں۔ اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل (71 : 87) ” یعنی نما زقائم کرو جب سورج غروب کی طرف جھکنے لگے اور رات آنے لگے اور تاریکیاں چھانے لگیں “۔ اور صبح کے وقت کا قرآن پڑھو۔ ان قرآن الفجر کان مشھودا (71 : 87) ” اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر شہود ہوتا ہے “۔ ان دونوں اوقات کی اپنی خصوصیات بھی ہیں۔ دن کا جانا اور شب کا آنا یا رات کا جانا اور دن کا آنا ، نفس انسانی پر دونوں اوقات گہری تاثیر چھوڑتے ہیں۔ جب رات آتی ہے تو اس میں تاریکیاں آگے بڑھتی ہیں اور جب دن نمودار ہوتا ہے تو روشنیاں آگے بڑھتی ہیں۔ دونوں اوقات میں قلب اور فکر و نظر پر مخصوس اثرات ہوتے ہیں۔ دونوں اوقات میں انسانی دماغ اس کائناتی نظام پر غوروفکر کرنے کے لئے مائل ہوتا ہے۔ انسان اس ناموس فطرت کے بارے میں سوچتا ہے کہ یہ ناموس چل رہا ہے اور اٹل ہے۔ نماز کی طرح صبح کے وقت قرآن کے مطالعے کا بھی نفس انسانی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ذہن میں تازگی آجاتی ہے۔ نہایت سکون اور ٹھندے دل سے انسان سوچتا ہے اور سمجھتا ہے روشنی آرہی ہوتی ہے ، زندگی کی نبض متحرک ہوجاتی ہے اور زندگی بھرپور طور پر حرکت میں آجاتی ہے۔

الإسراء 17:79

ومن الیل فتحجد بہ نافلۃ لک (71 : 97) ” اور رات کو قرآن کے ساتھ تہجد پڑھو یہ تمہارے لئے نفل ہے “۔ تہجد سے مراد پچھلی رات کی وہ نماز ہے جو رات کے اول حصے میں سونے کے بعد اٹھ کر پڑھی جاتی ہے اور بہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے یعنی رات کو قرآن کے ساتھ تہجد پڑھو کیونکہ قرآن مجید نماز کی روح ہے اور نماز کی بنیادی عنصر ہے۔ عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا (71 : 97) ” بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کردے “۔ یعنی نماز کی پابندی ، قرآن فجر کی تلاوت اور تہجد گزاری اور اللہ کے ساتھ اس پختہ اور دائمی تعلق کی وجہ سے۔ کیونکہ مقام محمود تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے۔ جب مقام محمود تک پہنچنے کے لئے اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ اور برگزیدہ رسول کا حکم دیتا ہے کہ وہ نماز پڑھیں ، قرآن کی تلاوت کریں اور تہجد پر عمل پیرا رہیں تو دوسری لوگ ان عبادات کے زیادہ محتاج ہیں اور وہ اپنے لئے مقرر مراتب تک تب ہی پہنچ سکتے ہیں جب وہ ان عبادات پر اچھی طرح عمل پیرا ہوں۔ یہی صحیح راستہ اور یہی تحریک اسلامی کے کارکنوں کا زاد راہ ہے۔

الإسراء 17:80

وقل رب ……نصیرا (71 : 08) ۔ ” اور دعا کرو ، کہ پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے “۔ یہ دعا ہے جو اللہ اپنے نبی ﷺ کو سکھاتا ہے تاکہ وہ ان الفاظ میں اللہ کو پکارے۔ اور آپ ﷺ کے بعد آپ کی امت کو بھی معلوم ہو کہ وہ کس طرح اللہ کو پکارے اور کن معاملات میں اللہ کی طرف متوجہ ہو ، سچائی کے ساتھ دخول اور سچائی کے ساتھ خروج کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ میرا دل اور آخر ، اور اولیٰ اور آخری کے مابین تمام مراحل میں مجھے سچائی پر قائم رکھ۔ اور یہاں سچائی کی دعا کی اہمیت یوں بڑھ جاتی ہے کہ جس مرحلے میں یہ آیات آئیں اس میں داخل کردیں اور ظاہر ہے کہ یہ اللہ پر افتراء ہوتا۔ نیز سچائی کا اپنا پر تو اور رنگ ہوتا ہے ، مثلاً ثابت قدمی ، اطمینان ، پاکیزگی معاملات ، اخلاص وغیرہ سب کے سب سچائی کے رنگ ہیں۔ واجعل لی من لدنک سلطنا نصیرا (71 : 08) ” اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے “۔ ایک قوت ، ہیبت مجھے حاصل ہوجائے ، جس کی وجہ میں زمین کے اقتدار پر قابض ہوجائوں اور مشرکین کی قوت کو مغلوب کرلوں۔ من لدنک (71 : 08) یعنی (اپنی طرف سے) میں یہ رنگ ہے کہ اللہ کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کا گہرا قرب ہے۔ اور آپ ﷺ صرف اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور صرف اس سے مدد کے طلبگار ہیں اور اللہ ہی حمایت و حفاظت میں اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی داعی صرف اللہ ہی سے اقتدار کا طالب ہوتا ہے اور ایک داعی سے لوگ صرف اس صورت میں خوف کھاتے ہیں کہ وہ الٰہی قوت سے مسلح ہو۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کوئی حاکم اور صاحب اقتدار نبی ﷺ یا کسی داعی کی حمایت پر کمربستہ ہوجائے بلکہ کسی دنیاوی قوت سے پہلے داعی کو الٰہی قوت سے لیس ہونا ضروری ہے۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی تحریک اور دعوت بعض اوقات اہل اقتدار اور صاحب قوت لوگوں کے دلوں کو فتح کرلیتی ہے ، اور وہ دعوت کے سپاہی بن جاتے ہیں اور دعوت کی خدمت کرتے ہیں اور فلاح پاتے ہیں۔ لیکن اگر دعوت اور تحریک کسی بادشاہ یا صاحب اقتدار کے تابع ہو اور اس کی سپاہ گری کا کام کرے اور کسی شخص کی خدمت گار ہو تو وہ دعوت کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ دعوت اسلامی تو امر الٰہی ہے ، اور اسے اعلیٰ وارفع ہونا چاہیے۔ اور اہل اقتدار اور ذی جائو لوگوں کو اس کا خادم ہونا چاہیے۔

الإسراء 17:81

وقل ……(71 : 18) ” اور اعلان کر دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تو مٹنے ہی والا ہے “۔ یعنی اللہ کی جانب سے جو اقتدار نبی اور داعیوں کو ملتا ہے اس کی بدولت۔ اے نبی ﷺ اعلان کردو کہ یہ اقتدار اب آہی گیا اور اس کی وجہ سے باطل گویا مٹ ہی گیا کیونکہ حق اپنے اندر قوت ، سچائی اور ثبات رکھتا ہے۔ اور باطل کے مزاج میں کمزوری اور مٹنا ہے۔ سچائی کا مزاج یہ یہ کہ وہ زندہ رہے ، پھلے پھولے اور قائم و دوائم رہے اور باطل کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ مٹ جائے ، ختم ہوجائے اور اس کا نام و نشان تک نہ رہے۔ ” باطل مٹنے والا ہے “۔ یہ ایک الٰہی حقیقت ہے اور اللہ اسے نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں بیان فرما تا ہے۔ اگرچہ بظاہر باطل رائج نظر آئے ، اس کی حکومت ہو اور اس کا رعب ہو ، کیونکہ باطل پھلا اور پھولا نظر آتا ہے لیکن اس کا موٹاپا بیماری کا موٹاپا ہوتا ہے۔ وہ چونکہ بےحقیقت ہوتا ہے اس لئے اس کے غبارے سے جلد ہی ہوا نکل جاتی ہے۔ اور اس پر کبھی کسی قوم کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن باطل ایسے ذرائع اختیار کرتا ہے کہ لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کرکے ان کو مرعوب کردے اور ایسے ذرائع اختیار کرتا ہے کہ وہ مستقل اور پختہ اور ایک عظیم نظام نظر آئے لیکن اسکی مثال ایسی خود روگھاس کی ہوتی ہے جو جلد ہی خشک ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ کسی خشک گھاس اور پھوس کو آگ لگ جائے تو یکدم شعلے آسمانوں تک پھیل جاتے ہیں لیکن جلد ہی وہ شعلے بیٹھ جاتے ہیں اور راکھ کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ جبکہ ایک مضبوط انگارہ دھکتا رہتا ہے اور اس کی چنگاریاں دیر تک راکھ میں بھی دبی رہتی ہیں یا اس طرح کہ وہ جھاگ کی طرح ہوتا ہے۔ یکدم پھول جاتا ہے لیکن جلدی بیٹھ جاتا ہے اور پانی جو ایک حقیقت رکھتا ہے اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ ان الباطل کان زھوقا (71 : 18) ” بیشک باطل مٹنے ہی والا ہے “۔ کیونکہ باطل کے اندر باقی رہنے والے عناصر ہی نہیں ہوتے۔ بعض خارجی عوامل ہوتے ہیں جن سے وہ وقتی طور پر فائدہ لیتا ہے۔ اس کا وجود غیر طبیعی ہوتا ہے۔ جب یہ خارجی عوامل ختم ہوتے ہے اور یہ خارجی سہارے دور ہوتے ہیں یا کمزور پڑتے ہیں تو یہ دھڑام سے گرتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔ جہاں تک حق اور سچائی کا تعلق ہے اس کی ذات کے اندر اس کے دوام کا سامان ہوتا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ لوگوں کی خواہشات نفس سچائی کے خلاف ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ماحول سچائی کے خلاف ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات وقت کے اہل اقتدار سچائی کے خلاف ہوتے ہیں۔ لیکن حق کا ثبات اس کا سکون و اطمینان آخر کار اسے فتح سے ہمکنار کرتا ہے اور اس کے بقاء کا ضامن ہوتا ہے اس لئے کہ یہ حق اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اللہ کا نام ہی حق ہے اور اللہ چونکہ زندہ باقی اور لازوال ہے اس لئے سچائی اور حق بھی لازوال ہے۔ ان الباطل کان زھوقا (71 : 18) ” بیشک باطل مٹنے والا ہے “۔ اس کے پیچھے بعض اوقات بڑی قوت ہوتی ہے اور وقت کا اقتدار بھی اس کا حامی ہوتا ہے لیکن اللہ کا وعدہ سچا ہے ور اللہ کی قوت اور سلطنت اور اقتدار بزرگ و برتر ہے۔ جن اہل ایمان نے ایمان کا حقیقی ذائقہ چکھ لیا ہوتا ہے وہ اللہ کے وعدے کی مٹھاس اور اللہ کے اس وعدے کی سچائی کو محسوس کرتے ہیں۔ کون ہے جو اللہ سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والا ہے اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ سچی بات کرنے والا ہے۔

الإسراء 17:82

وتنزل من القران ما ھو شفاء ورحمۃ للمومنین (71 : 28) ” ہم اس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لئے تو شفا اور رحمت ہے “۔ یقینا قرآن میں شفاء ہے۔ یقینا قرآن میں رحمت الٰہی کے خزانے میں۔ لیکن ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں ایمان کی تازگی داخل ہوچکی ہو ، ان کے دل روشن ہوچکے ہوں اور وہ قبولیت حق کے لئے کھل گئے ہیں اور وہ روح قرآن کو اپنے اندر جذب کر رہے ہوں اور ان کے دلوں میں سکون اور سکینت اور طمانیت داخل ہوچکی ہو۔ قرآن کریم تمام وسوسوں ، تمام حیرانیوں ، اور تمام بےچینیوں کی دوا ہے ور اس میں ان روحانی بیماریوں کی شفاء ہے۔ یہ بندے کے دل کو اللہ سے جوڑتا ہے۔ یوں اسے سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے اور اسے یہ شعور ملتا ہے کہ وہ اللہ کی حمایت میں ہے اور حالت امن و سلامتی میں ہے۔ اس طرح وہ اللہ سے راضی ہو کر راضی رہتا ہے۔ زندگی خوشی سے گزارتا ہے اور زندگی کے جو حالات بھی ہوں ان میں راضی رہت ا ہے۔ بےچینی بھی ایک قسم کا مرض ہے ، حیرانی بھی ایک مرض ہے۔ وسوسہ بھی ایک بیماری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اہل ایمان کے لئے رحمت ہے۔ اسی طرح قرآن مجید ، ہوائے نفس ، گندگی ، لالچ ، حسد اور شیطان کی وسوسہ اندازیوں کے مقابلے میں بھی شفاء ہے۔ یہ قلبی اور روحانی بیماریاں ہیں جن کے نتیجے میں دلی بیماریاں ضعف اور تکان پیدا ہوتی ہے۔ اور انسانی روح اور دل بوسیدہ ہو کر ٹوٹ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مومنین کے لئے شفاء و رحمت ہے۔ قرآن کریم میں شعور اور فکر کی بےلگامی کا بھی علاج ہے۔ عقل و فکر کے انتشار سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ قرآن انسان کو بےفائدہ کاموں میں اپنی جسم و عقل کی قوتوں کے خرچ کرنے سے روکتا ہے۔ اور مفید اور ترقی کے کاموں میں اپنی قوتیں صرف کرنے کے لئے آزاد چھوڑتا ہے۔ وہ انسان کے لئے ایک صحت مند اور مضبوط منہاج زندگی تجویز کرتا ہے۔ انسانی سرگرمیاں فائدہ مند اور محفوظ ہوتی ہیں اور لغزشوں اور بےراہ رویوں سے قرآن انسان کو بچاتا ہے۔ جسمانی میدان میں بھی قرآن انسان کو اعتدال کی راہ دکھاتا ہے۔ وہ حکم دیتا ہے ہے کہ اپنی قوتوں کو اعتدال کے ساتھ صحت مند میدانوں میں خرچ کرو ، نہ جسمانی قوتوں پر غیر ضروری پابندی ہے اور نہ ان کے استعمال میں بےراہ روی کی اجازت دی گئی ہے۔ لہٰذ اجسمانی قوت کی بھی حفاظت کی جاتی ہے ، تاکہ وہ صحت مند میدانوں میں صرف ہو۔ لہٰذا یہ اہل ایمان کے لئے ایک قسم کی رحمت ہے۔ پھر قرآن شریف میں ان اجتماعی بیماریاں کا بھی علاج ہے جن سے کسی سوسائٹی کے اجتماعی نظام میں خلل اور بیماری پیدا ہوتی ہے ، جن سے سوسائٹی کا امن اور سلامتی تباہ ہوجاتی ہے۔ اور افراد معاشرہ کے درمیان کوئی اطمینان نہیں رہتا۔ قرآن ہدایات پر عمل کے بعد اسلامی سوسائٹی اسلام کے اجتماعی عدل اور اجتماعی سلامتی اور امن کے زیر سایہ ، نہایت ہی اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہے ، لہٰذا اس مفہوم میں بھی قرآن رحمت اور شفاء ہے۔ ولا یزید الظلمین الا خسارا (71 : 28) ” مگر ظالموں کے لئے خسارے کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا “۔ کیونکہ ظالم اس نسخہ و شفاء سے استفادہ نہیں کرتے ، جو اس قرآن کے اندر موجود ہے۔ پھر ظالم یوں بھی خسارے میں ہوتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمان قرا ان کے ریعہ سربلندی حاصل کرتے چلے جاتے ہیں ، وہ دل ہی دل میں کڑھتے ہیں اور ان کو زبردست غصہ آتا ہے ، مگر بےبس ہوتے ہیں اور جہاں ان کا بس چلتا ہے وہ وہاں ظلم و ستم کا ریکارڈ قائم کردیتے ہیں۔ پھر وہ دنیا میں مسلمانوں کے مقابلے میں مغلوب ہوجاتے ہیں لہٰذا وہ خسارے میں ہیں اور آخرت میں ان کے کفر کی وجہ سے ان کو عذاب ہوگا نیز وہ جن سرکشیوں میں غرق تھے اور ان پر اصرار کرتے تھے ان کی وجہ سے انہیں سخت سزا ہوگی۔ لہٰذا اس سے بڑا اور کیا خسارہ ان کو ہوسکتا ہے۔ اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ ظالموں کے لئے خسارے کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہ ہوگا۔ اور جب انسان اللہ کی رحمت اور شفاء سے محروم کردیا جائے اور جب اسے اس کی خواہشات نفس اور سفلی جذبات اور میلانات کے حوالے کردیا جائے۔ اگر وہ مالی لحاظ سے خوشحالی ہو تو وہ مغرور ، متکبر اور سرکش ہوجاتا ہے۔ اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا ، اللہ کو یاد نہیں کرتا ، اور اگر اس پر کوئی مصیبت یا بدحالی آجائے تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس اور قنوطی ہوجاتا ہے اور اس کے سامنے زندگی تاریک ہی تاریک نظر آتی ہے۔

الإسراء 17:83

زیادہ دولت مندی انسان کو سرکش اور مغرور بنا دیت ہے۔ الایہ کہ کوئی دولت مند یہ یقین رکھتا ہو کہ اس دولت کا عطا کرنے والا اللہ ہے اور وہ اللہ کا شکر بھی ادا کرتا ہو۔ لیکن اگر بدحالی آجائے تو انسان مایوس ہوجاتا ہے اور اس پر قنوطیت چھا جاتی ہے۔ الایہ کہ کسی کا تعلق باللہ مضبوط ہو ، وہ امید کرتا ہے کہ اللہ اس کی مشکلات دور کردے گا تو ایسا شخص اللہ کے رحم و فضل سے مایوس نہیں ہوتا۔ وہ ہر وقت اللہ کے فضل و کرم کا امیداوار اور خوش اور شاکر رہتا ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی کیا اہمیت ہے۔ غرض مشکلات اور خوشحالی دونوں مین ایمان اللہ کی رحمت اور شفاء ہے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ہر فریق اپنی طرز زندگی پر جما ہوا ہے ، اب اپنی خواہشات و روایات کے مطابق ہر شخص چلتا ہے اور ہر شخص کے طرز عمل کے بارے میں فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔

الإسراء 17:84

یہاں نہایت ہی نرم الفاط میں تنبیہ کی گئی ہے اور ہر شخص کا ڈرایا گیا ہے کہ وہ اپنے رحجان ، طرز عمل اور نظام زندگی کے بارے میں اچھی طرح غور کرلے ، احتیاط کرے اور یہ تسلی کرلے کہ اس کا طرز عمل ، نظام فکر اور نظام زندگی اسلامی ہدایات کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ہے تو اسے اللہ کے راستے کی طرف لوٹ آنا چاہیے۔ بعض لوگ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ لیکن قرآن کریم کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے کہ جن کی ان کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور انسانی عقل اور قوت مدر کہ ان ہدایات یا ان موضوعات کو سمجھ سکے اور سہولت کے ساتھ اپنی گرفت میں لے سکے۔ لہٰذا اسلام اور قرا ان فکری قوت کو ان موضوعات پر ضائع نہیں کرتا جن کا انسان کو کوئی فائدہ نہیں ، کوئی ضرورت نہیں یا جن موضوعات پر عقل کو رسائی حاصل نہیں ہے جب ان لوگوں نے روح کے بارے میں پوچھا اللہ نے سیدھا سادا جواب دیا کہ روح امر الٰہی ہے اور اس سلسلے میں تمہیں بہت کم علم دیا گیا ہے ۔

الإسراء 17:85

اس آیت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ عقل انسانی پر روح کا انکشاف بند کردیا گیا ہے اور اسے روح کے میدان میں کام نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ یہاں عقل کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار اور اس حد تک محدود رہے جس تک وہ ادراک کرسکتا ہے ، کیونکہ بغیر حقیقی علم و ادراک کے بےتک باتیں کرنے سے حقیقت تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ پھر عقل کی قوت کو ایسے کام میں کھپانا جس کا ادراک عقل کے لئے ممکن ہی نہ ہو ، ایک بےمقصد کام ہے۔ روح در حقیقت اللہ کے غیوب میں سے ایک غیب ہ۔ اللہ کے سوا اس کی حقیقت سے کوئی واقف نہیں ہے۔ نہ اس کا ادراک کوئی کرسکتا ہے۔ اور نہ وہ وسائل انسان کو دئیے گئے ہیں بلکہ یہ ایک لاہوتی راز ہے ، جو اس بشری ڈھانچے میں رکھا گیا ہے ۔ اور بعض دوسری مخلوقات کو بھی دیا گیا ہے ، جس کی حقیقت کو ہم نہیں جانتے۔ پھر انسان کا علم قادر مطلق کے علم کے مقابلے میں بہت ہی محدود ہے۔ اس کائنات کے اسرار و رموز اس قدر گہرے ہیں کہ انسانی عقل کے دائرہ ادارک سے ماوراء ہیں۔ انسان اس کائنات کا مدبر نہیں ہے کیونکہ انسانی قوت اور طاقت اس کائنات پر حاوی نہیں ہے انسان کو تو صرف اس قدر قوت اور حکمت دی گئی ہے جس کے ساتھ وہ اس کرہ ارض پر خلافت فی الارض کا وظیفہ پورا کرسکے۔ اور یہاں وہ کام کرسکے جس کے بارے میں اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کرے اور وہ اپنا کام اپنے محدود علم کے مطابق کرے۔ انسان نے اس کرہ ارض پر بیشمار ایجادات کی ہیں لیکن وہ آج تک روح کی حقیقت معلوم کرنے سے صاف عاجز ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ روح کیا ہے ؟ کس طرح یہ روح انسانی ڈھانچے میں ڈالی جاتی ہے۔ کس طرح یہ نکل جاتی ہے یہ پہلے کہاں تھی ، نکل کر کہاں جاتی ہے۔ الایہ کہ علیم وخبیر نے اس سلسلے میں بذریعہ وحی جو علم دیا ہے وہ انسان کا ماخذ علم ہے۔ قرآن کریم میں جو کچھ نازل ہوتا ہے وہ یقینی علم ہے کیونکہ وہ علیم وخبیر کے یقینی ذریعے سے آیا ہے ، اگر اللہ چاہتا تو انسانیت کو اس سے محروم رکھتا اور وہ پیغام ہی انسانوں کے پاس نہ بھیجتا جو اس نے بھیجا لیکن یہ اللہ کا رحم و کرم تھا کہ اس نے وحی الٰہی کے نزول کا سلسلہ شروع کیا۔

الإسراء 17:86

اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر اپنا احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ازراہ کرم تو پر وحی نازل کی۔ اور پھر قرآن کریم کو محفوظ رکھا۔ رسول اللہ سے زیادہ یہ احسان انسانوں پر ہے کیونکہ انسانیت پوری کی پوری اس قرآن کی بدولت رحمت اور ہدایت سے سرفراز ہے۔ اور نسلاً بعد نسل یہ سرچشمہ نور و ہدایت ضوفشاں ہے۔ جس طرح روح اللہ کے اسرار میں سے ہے اور کوئی انسان اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ، اس طرح یہ قرآن بھی اللہ کی معجزانہ صفت ہے اور کوئی انسان بلکہ تمام مخلوق بھی جمع ہوجائے تو اس کی نقل نہیں اتارسکتی۔ اور انس و جن و جو ظاہری اور خفیہ مخلوقات ہیں دونوں جمع ہو کر بھی اگر سعی کریں تو قرآن جیسی کتاب ان کے لئے لانا ممکن نہیں ہے۔ اگر چہ وہ ایک دوسرے کے سچے معاون کیوں نہ بن جائیں۔

الإسراء 17:87

اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر اپنا احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ازراہ کرم تو پر وحی نازل کی۔ اور پھر قرآن کریم کو محفوظ رکھا۔ رسول اللہ سے زیادہ یہ احسان انسانوں پر ہے کیونکہ انسانیت پوری کی پوری اس قرآن کی بدولت رحمت اور ہدایت سے سرفراز ہے۔ اور نسلاً بعد نسل یہ سرچشمہ نور و ہدایت ضوفشاں ہے۔ جس طرح روح اللہ کے اسرار میں سے ہے اور کوئی انسان اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ، اس طرح یہ قرآن بھی اللہ کی معجزانہ صفت ہے اور کوئی انسان بلکہ تمام مخلوق بھی جمع ہوجائے تو اس کی نقل نہیں اتارسکتی۔ اور انس و جن و جو ظاہری اور خفیہ مخلوقات ہیں دونوں جمع ہو کر بھی اگر سعی کریں تو قرآن جیسی کتاب ان کے لئے لانا ممکن نہیں ہے۔ اگر چہ وہ ایک دوسرے کے سچے معاون کیوں نہ بن جائیں۔

الإسراء 17:88

یہ قرآن محض عبارتوں ، تراکیب اور الفاظ کا نام نہیں ہے کہ جن و انس اس کی نقل کرلیں گے۔ بلکہ یہ قرآن اللہ کی دوسری مخلوقات اور عجائب کی طرح ہے جن کی نقل کوئی انسان نہیں کرسکتا۔ یہ روح کی طرح ایک امر الٰہی ہے نہ انسان روح کے اسرار و رموز اور حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ انسان صرف روح کے اوصاف اور آثار کو جانتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کے معانی ، نظریا ات اور اسرار کو پوری طرح انسان نہیں سمجھ سکتے کہ اس جیسے کتاب لے آئیں۔ پھر قرآن ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں انسانی فطرت کے تمام قوانین اور تمام طور طریقوں کو مدنظر رکھ کر یہ حکم تجویز کیا گیا ہے اور یہ نظام ایسا ہے کہ ہر انسانی سوسائٹی کو ہر طرح کے حالات میں راہنمائی فراہم کرسکتا ہے ۔ چناچہ اس میں ایک فرد کے لئے بھی ہدایت ہے ، ایک مختلف النوع سوسائٹی کے لئے بھی ہدایات ہیں۔ اس میں ایسے قوانین وضع کیے گئے ہیں جو زندگی کے تمام نشیب و فراز اور زندگی کے مختلف النوع مسائل کے مکمل اور تشفی بخش حل تجویز کرتے ہیں اور ہر حل پوری طرح مکمل اور ہمہ گیر ہے۔ ان قوانین کے اندر ایسی جامعیت ہے کہ یہ مختلف النوع اور بدلتی ہوئی زندگی کے مختلف حالات میں سے ہر حال پر ، اس کے قوانین منطق ہوتے ہیں۔ خواہ یہ حالات انفرادی زندگی سے متعلق ہوں یا اجتماعی زندگی سے۔ کیونکہ ان قوانین کا مقنن وہ ذات ہے جو اس انسان کے فطری تقاضوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ اور انسان کی مختلف النوع ضروریات سے واقف ہے کیونکہ وہ خود انسان کا خالق ہے۔ رہے وہ قوانین اور طرز ہائے زندگی اور تنظمیات جو انسان نے وضع کیے ہیں تو ان کے اندر انسانی کمزوری کی چھاپ اس وقت بھی موجود ہوتی ہے جس وقت کوئی اسمبلی ان قوانین کو وضع کرتی ہے۔ لہٰذا یہ قوانین وقتی ہوتے ہیں بلکہ وقتی ضروریات کے لئے بھی ناکافی ہوتے ہیں اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہوجاتے ہیں اور انہیں فرسودہ کہا جاتا ہے۔ جب حالات بدلتے ہیں تو پھر ان قوانین کے بدلنے کے لئے واویلا کیا جاتا ہے تاکہ وہ جدید تقاضوں کو پورا کرسکیں۔ قرآن کریم کے اعجاز کا مفہوم صرف ختم قرآن ، فصیح وبلیغ عبارات اور معانی کے حسن ادا تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جن و انس اس جیسی کتاب لانے سے جو عاجز رہے ہیں اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جن و انس نے آج ایسا انظام حیات تجویز نہیں کیا جو قرآن نے پیش کیا ہے جو ایک مکمل نظام زندگی ہے اور زندگی کے پورے معاملات پر محیط ہے۔

الإسراء 17:89

ذرا دیکھئے ، یہ لوگ قرآن کریم کی اس معجزانہ شان کو نہ سمجھ سکے اور حضور اکرم ﷺ سے ایسے مادی معجزات اور خوارق عادت امور کے وقع کا مطالبہ کرتے رہے۔ معمولی غور سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انکے مطالبات کس قدر طفلانہ ہیں۔ یہ لوگ ذات باری تعالیٰ کے حق میں بھی توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے وقت انہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ خود ہمارے سامنے حاضر ہوجائے۔ حالانکہ قرآن مجید نے جو تعلیمات پیش کی ہیں ، وہ نہایت ہی معقول انداز میں اور پھیر پھیر کر مختلف اسالیب میں اور مختلف مثالوں کی مدد سے ہر درجہ عقل و فکر کے لوگوں کے لئے سہل انداز میں پیش کی ہیں ، اور یہ تعلیمات اور یہ انداز کلام ابدالا باد کے لئے مفید ہے لیکن فابی اکثر الناس الا کفورا (71 : 98) ” مگر اکثر لوگ انکار پر ہی جمے رہے “۔ اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کو اس شرط سے مشروط کردیا کہ آپ ہمارے لئے زمین سے چشمے نکال دیں۔ یا آسمان کا کوئی ٹکڑا ان پر عذاب بن کر گرے جس طرح آپ ہمیں ڈراتے ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا یا یہ کہ اللہ اور ملائکہ ہمارے سامنے آکر حاضر ہوجائیں اور اللہ اور فرشتے رسول اللہ ﷺ کے ھق میں ایسی مداخلت کریں۔ جیسی مدافعت قبائل ایک دوسرے کے لئے کرتے ہیں۔ یا یہ کہ نہایت ہی قیمتی دھاتوں سے ان کے لئے ایک محل بنے یا یہ کہ حضور ﷺ ان کے سامنے آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وہ دیکھ رہے ہوں اور اس طرح واپس آئیں کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک کتاب ہو جسے وہ پڑھ سکیں۔ یہ تھے ان کے مطالبات۔ ان کے تصور اور قوت مدرکہ کی ناپختگی کا اظہار ان مطالبات سے ظاہر ہے۔ نیز ان مطالبات سے ان کی ہٹ دھرمی بھی اچھی طرح معلوم ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف یہ مطالبہ کرتے ہیں آپ کے پاس قیمتی دھاتوں کا بنا ہوا مکان ہونا چاہیے اور دوسری طرف سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ زمین سے آسمان کی طرف چڑھ جائیں۔ ایک طرف زمین سے چشمے نکالنے کا مطالبہ اور دوسری طرف سے فرشتوں اور خدا تعالیٰ سے یہ مطالبہ کہ وہ ان کے سامنے چلے آئیں۔ ان کے ذہن میں ان تمام باتوں کے درمیان مشترک چیز یہ ہے کہ یہ سب خارق عادت امور ہیں۔ اگر حضرت محمد ﷺ ان شرائط کو پورا کردیں تب وہ ایمان لانے پر غور کرسکتے ہیں اور آپ ﷺ کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی کند ذہنی کا حال یہ ہے کہ ان کو قرآن کی شکل میں آنے والا معجزہ نظر نہیں آتا۔ بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ نہ لفظ میں ، نہ نظم و ترکیب میں ، نہ اسلوب میں اور نہ معانی میں اور نہ نظام زندگی کے اعتبار سے اس جیسی کتاب لاسکے ہیں۔ ان کے حواس اور قوائے مدرکہ اس اعجاز کا ادراک تو نہیں کرسکتیں البتہ ایسے معجزات کے یہ لوگ طلبگار ہیں جن کو ان کی حواس دیکھ سکیں۔ معجزات جن کا صدور پیغمبروں کے ہاتھوں ہوا کرتا ہے وہ کسی پیغمبر کی کار ستانی نہیں ہوتی نہ پیغمبر کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ معجزات دکھاتا پھرے۔ یہ کام تو خداوند کریم کا ہے۔ وہ اپنی حکمت اور اسکیم کے مطابق معجزات بھی ظاہر کرتا ہے۔ نیز کسی رسول کو یہ حق بھی نہیں ہے کہ وہ ان معجزات کا مطالبہ کرے۔ اگر اللہ ان کا صدور نہ چاہتا ہو ، اس کائنات کو تدبیر میں اللہ کی جو حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں ان کو جانتے ہوئے اور بارگاہ تعالیٰ میں ادب و احترام کا لحاظ کرتے ہوئے ، رسولوں کی عادت اور آداب یہ ہوتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے معجزے کا مطالبہ نہیں کیا کرتے۔

الإسراء 17:90

ذرا دیکھئے ، یہ لوگ قرآن کریم کی اس معجزانہ شان کو نہ سمجھ سکے اور حضور اکرم ﷺ سے ایسے مادی معجزات اور خوارق عادت امور کے وقع کا مطالبہ کرتے رہے۔ معمولی غور سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انکے مطالبات کس قدر طفلانہ ہیں۔ یہ لوگ ذات باری تعالیٰ کے حق میں بھی توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے وقت انہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ خود ہمارے سامنے حاضر ہوجائے۔ حالانکہ قرآن مجید نے جو تعلیمات پیش کی ہیں ، وہ نہایت ہی معقول انداز میں اور پھیر پھیر کر مختلف اسالیب میں اور مختلف مثالوں کی مدد سے ہر درجہ عقل و فکر کے لوگوں کے لئے سہل انداز میں پیش کی ہیں ، اور یہ تعلیمات اور یہ انداز کلام ابدالا باد کے لئے مفید ہے لیکن فابی اکثر الناس الا کفورا (71 : 98) ” مگر اکثر لوگ انکار پر ہی جمے رہے “۔ اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کو اس شرط سے مشروط کردیا کہ آپ ہمارے لئے زمین سے چشمے نکال دیں۔ یا آسمان کا کوئی ٹکڑا ان پر عذاب بن کر گرے جس طرح آپ ہمیں ڈراتے ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا یا یہ کہ اللہ اور ملائکہ ہمارے سامنے آکر حاضر ہوجائیں اور اللہ اور فرشتے رسول اللہ ﷺ کے ھق میں ایسی مداخلت کریں۔ جیسی مدافعت قبائل ایک دوسرے کے لئے کرتے ہیں۔ یا یہ کہ نہایت ہی قیمتی دھاتوں سے ان کے لئے ایک محل بنے یا یہ کہ حضور ﷺ ان کے سامنے آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وہ دیکھ رہے ہوں اور اس طرح واپس آئیں کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک کتاب ہو جسے وہ پڑھ سکیں۔ یہ تھے ان کے مطالبات۔ ان کے تصور اور قوت مدرکہ کی ناپختگی کا اظہار ان مطالبات سے ظاہر ہے۔ نیز ان مطالبات سے ان کی ہٹ دھرمی بھی اچھی طرح معلوم ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف یہ مطالبہ کرتے ہیں آپ کے پاس قیمتی دھاتوں کا بنا ہوا مکان ہونا چاہیے اور دوسری طرف سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ زمین سے آسمان کی طرف چڑھ جائیں۔ ایک طرف زمین سے چشمے نکالنے کا مطالبہ اور دوسری طرف سے فرشتوں اور خدا تعالیٰ سے یہ مطالبہ کہ وہ ان کے سامنے چلے آئیں۔ ان کے ذہن میں ان تمام باتوں کے درمیان مشترک چیز یہ ہے کہ یہ سب خارق عادت امور ہیں۔ اگر حضرت محمد ﷺ ان شرائط کو پورا کردیں تب وہ ایمان لانے پر غور کرسکتے ہیں اور آپ ﷺ کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی کند ذہنی کا حال یہ ہے کہ ان کو قرآن کی شکل میں آنے والا معجزہ نظر نہیں آتا۔ بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ نہ لفظ میں ، نہ نظم و ترکیب میں ، نہ اسلوب میں اور نہ معانی میں اور نہ نظام زندگی کے اعتبار سے اس جیسی کتاب لاسکے ہیں۔ ان کے حواس اور قوائے مدرکہ اس اعجاز کا ادراک تو نہیں کرسکتیں البتہ ایسے معجزات کے یہ لوگ طلبگار ہیں جن کو ان کی حواس دیکھ سکیں۔ معجزات جن کا صدور پیغمبروں کے ہاتھوں ہوا کرتا ہے وہ کسی پیغمبر کی کار ستانی نہیں ہوتی نہ پیغمبر کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ معجزات دکھاتا پھرے۔ یہ کام تو خداوند کریم کا ہے۔ وہ اپنی حکمت اور اسکیم کے مطابق معجزات بھی ظاہر کرتا ہے۔ نیز کسی رسول کو یہ حق بھی نہیں ہے کہ وہ ان معجزات کا مطالبہ کرے۔ اگر اللہ ان کا صدور نہ چاہتا ہو ، اس کائنات کو تدبیر میں اللہ کی جو حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں ان کو جانتے ہوئے اور بارگاہ تعالیٰ میں ادب و احترام کا لحاظ کرتے ہوئے ، رسولوں کی عادت اور آداب یہ ہوتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے معجزے کا مطالبہ نہیں کیا کرتے۔

الإسراء 17:91

ذرا دیکھئے ، یہ لوگ قرآن کریم کی اس معجزانہ شان کو نہ سمجھ سکے اور حضور اکرم ﷺ سے ایسے مادی معجزات اور خوارق عادت امور کے وقع کا مطالبہ کرتے رہے۔ معمولی غور سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انکے مطالبات کس قدر طفلانہ ہیں۔ یہ لوگ ذات باری تعالیٰ کے حق میں بھی توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے وقت انہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ خود ہمارے سامنے حاضر ہوجائے۔ حالانکہ قرآن مجید نے جو تعلیمات پیش کی ہیں ، وہ نہایت ہی معقول انداز میں اور پھیر پھیر کر مختلف اسالیب میں اور مختلف مثالوں کی مدد سے ہر درجہ عقل و فکر کے لوگوں کے لئے سہل انداز میں پیش کی ہیں ، اور یہ تعلیمات اور یہ انداز کلام ابدالا باد کے لئے مفید ہے لیکن فابی اکثر الناس الا کفورا (71 : 98) ” مگر اکثر لوگ انکار پر ہی جمے رہے “۔ اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کو اس شرط سے مشروط کردیا کہ آپ ہمارے لئے زمین سے چشمے نکال دیں۔ یا آسمان کا کوئی ٹکڑا ان پر عذاب بن کر گرے جس طرح آپ ہمیں ڈراتے ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا یا یہ کہ اللہ اور ملائکہ ہمارے سامنے آکر حاضر ہوجائیں اور اللہ اور فرشتے رسول اللہ ﷺ کے ھق میں ایسی مداخلت کریں۔ جیسی مدافعت قبائل ایک دوسرے کے لئے کرتے ہیں۔ یا یہ کہ نہایت ہی قیمتی دھاتوں سے ان کے لئے ایک محل بنے یا یہ کہ حضور ﷺ ان کے سامنے آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وہ دیکھ رہے ہوں اور اس طرح واپس آئیں کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک کتاب ہو جسے وہ پڑھ سکیں۔ یہ تھے ان کے مطالبات۔ ان کے تصور اور قوت مدرکہ کی ناپختگی کا اظہار ان مطالبات سے ظاہر ہے۔ نیز ان مطالبات سے ان کی ہٹ دھرمی بھی اچھی طرح معلوم ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف یہ مطالبہ کرتے ہیں آپ کے پاس قیمتی دھاتوں کا بنا ہوا مکان ہونا چاہیے اور دوسری طرف سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ زمین سے آسمان کی طرف چڑھ جائیں۔ ایک طرف زمین سے چشمے نکالنے کا مطالبہ اور دوسری طرف سے فرشتوں اور خدا تعالیٰ سے یہ مطالبہ کہ وہ ان کے سامنے چلے آئیں۔ ان کے ذہن میں ان تمام باتوں کے درمیان مشترک چیز یہ ہے کہ یہ سب خارق عادت امور ہیں۔ اگر حضرت محمد ﷺ ان شرائط کو پورا کردیں تب وہ ایمان لانے پر غور کرسکتے ہیں اور آپ ﷺ کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی کند ذہنی کا حال یہ ہے کہ ان کو قرآن کی شکل میں آنے والا معجزہ نظر نہیں آتا۔ بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ نہ لفظ میں ، نہ نظم و ترکیب میں ، نہ اسلوب میں اور نہ معانی میں اور نہ نظام زندگی کے اعتبار سے اس جیسی کتاب لاسکے ہیں۔ ان کے حواس اور قوائے مدرکہ اس اعجاز کا ادراک تو نہیں کرسکتیں البتہ ایسے معجزات کے یہ لوگ طلبگار ہیں جن کو ان کی حواس دیکھ سکیں۔ معجزات جن کا صدور پیغمبروں کے ہاتھوں ہوا کرتا ہے وہ کسی پیغمبر کی کار ستانی نہیں ہوتی نہ پیغمبر کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ معجزات دکھاتا پھرے۔ یہ کام تو خداوند کریم کا ہے۔ وہ اپنی حکمت اور اسکیم کے مطابق معجزات بھی ظاہر کرتا ہے۔ نیز کسی رسول کو یہ حق بھی نہیں ہے کہ وہ ان معجزات کا مطالبہ کرے۔ اگر اللہ ان کا صدور نہ چاہتا ہو ، اس کائنات کو تدبیر میں اللہ کی جو حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں ان کو جانتے ہوئے اور بارگاہ تعالیٰ میں ادب و احترام کا لحاظ کرتے ہوئے ، رسولوں کی عادت اور آداب یہ ہوتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے معجزے کا مطالبہ نہیں کیا کرتے۔

الإسراء 17:92

ذرا دیکھئے ، یہ لوگ قرآن کریم کی اس معجزانہ شان کو نہ سمجھ سکے اور حضور اکرم ﷺ سے ایسے مادی معجزات اور خوارق عادت امور کے وقع کا مطالبہ کرتے رہے۔ معمولی غور سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انکے مطالبات کس قدر طفلانہ ہیں۔ یہ لوگ ذات باری تعالیٰ کے حق میں بھی توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے وقت انہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ خود ہمارے سامنے حاضر ہوجائے۔ حالانکہ قرآن مجید نے جو تعلیمات پیش کی ہیں ، وہ نہایت ہی معقول انداز میں اور پھیر پھیر کر مختلف اسالیب میں اور مختلف مثالوں کی مدد سے ہر درجہ عقل و فکر کے لوگوں کے لئے سہل انداز میں پیش کی ہیں ، اور یہ تعلیمات اور یہ انداز کلام ابدالا باد کے لئے مفید ہے لیکن فابی اکثر الناس الا کفورا (71 : 98) ” مگر اکثر لوگ انکار پر ہی جمے رہے “۔ اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کو اس شرط سے مشروط کردیا کہ آپ ہمارے لئے زمین سے چشمے نکال دیں۔ یا آسمان کا کوئی ٹکڑا ان پر عذاب بن کر گرے جس طرح آپ ہمیں ڈراتے ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا یا یہ کہ اللہ اور ملائکہ ہمارے سامنے آکر حاضر ہوجائیں اور اللہ اور فرشتے رسول اللہ ﷺ کے ھق میں ایسی مداخلت کریں۔ جیسی مدافعت قبائل ایک دوسرے کے لئے کرتے ہیں۔ یا یہ کہ نہایت ہی قیمتی دھاتوں سے ان کے لئے ایک محل بنے یا یہ کہ حضور ﷺ ان کے سامنے آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وہ دیکھ رہے ہوں اور اس طرح واپس آئیں کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک کتاب ہو جسے وہ پڑھ سکیں۔ یہ تھے ان کے مطالبات۔ ان کے تصور اور قوت مدرکہ کی ناپختگی کا اظہار ان مطالبات سے ظاہر ہے۔ نیز ان مطالبات سے ان کی ہٹ دھرمی بھی اچھی طرح معلوم ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف یہ مطالبہ کرتے ہیں آپ کے پاس قیمتی دھاتوں کا بنا ہوا مکان ہونا چاہیے اور دوسری طرف سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ زمین سے آسمان کی طرف چڑھ جائیں۔ ایک طرف زمین سے چشمے نکالنے کا مطالبہ اور دوسری طرف سے فرشتوں اور خدا تعالیٰ سے یہ مطالبہ کہ وہ ان کے سامنے چلے آئیں۔ ان کے ذہن میں ان تمام باتوں کے درمیان مشترک چیز یہ ہے کہ یہ سب خارق عادت امور ہیں۔ اگر حضرت محمد ﷺ ان شرائط کو پورا کردیں تب وہ ایمان لانے پر غور کرسکتے ہیں اور آپ ﷺ کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی کند ذہنی کا حال یہ ہے کہ ان کو قرآن کی شکل میں آنے والا معجزہ نظر نہیں آتا۔ بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ نہ لفظ میں ، نہ نظم و ترکیب میں ، نہ اسلوب میں اور نہ معانی میں اور نہ نظام زندگی کے اعتبار سے اس جیسی کتاب لاسکے ہیں۔ ان کے حواس اور قوائے مدرکہ اس اعجاز کا ادراک تو نہیں کرسکتیں البتہ ایسے معجزات کے یہ لوگ طلبگار ہیں جن کو ان کی حواس دیکھ سکیں۔ معجزات جن کا صدور پیغمبروں کے ہاتھوں ہوا کرتا ہے وہ کسی پیغمبر کی کار ستانی نہیں ہوتی نہ پیغمبر کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ معجزات دکھاتا پھرے۔ یہ کام تو خداوند کریم کا ہے۔ وہ اپنی حکمت اور اسکیم کے مطابق معجزات بھی ظاہر کرتا ہے۔ نیز کسی رسول کو یہ حق بھی نہیں ہے کہ وہ ان معجزات کا مطالبہ کرے۔ اگر اللہ ان کا صدور نہ چاہتا ہو ، اس کائنات کو تدبیر میں اللہ کی جو حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں ان کو جانتے ہوئے اور بارگاہ تعالیٰ میں ادب و احترام کا لحاظ کرتے ہوئے ، رسولوں کی عادت اور آداب یہ ہوتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے معجزے کا مطالبہ نہیں کیا کرتے۔

الإسراء 17:93

قل سبحان ربی ھل کنت الا بسرا (39) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟ “ یہ ہے ادب رسول ، جو اپنی بشریت کی حدود پر جا کر رک جاتے ہیں ، رسول اپنے مقررہ فرائض منصبی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ وہ اللہ سے مطالبات نہیں کرتے۔ اور اپنے فرائض کے حدود سے آگے بڑھ کر بھی کام نہیں کرتے۔ وہ بڑا شبہ جو مختلف اقوام و ملن کو حضرت محمد ﷺ سے قبل لاحق ہوا اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد بھی کئی ملتوں کو لاحق ہوا اور جس کی وہ سے ان اقوام نے رسولوں کی تصدیق نہ کی اور ان ہدایات کو تسلیم نہ کیا جو رسول لے کر آئے تھے وہ یہ تھا کہ یہ لوگ اس بات کو مستبعد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہوسکتا ہے اور یہ کہ رسول فرشتہ نہیں ہوتا۔

الإسراء 17:94

لوگوں کے درمیان یہ وہم اس لئے پھیلا کہ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ اللہ کے ہاں انسان کی انسانیت اور بشریت کی کیا قدر ہے۔ اس لئے انہوں نے اس بات کو مناسب نہ سمجھا کہ کوئی بشر اللہ کا رسول بن جائے۔ نیز انہوں نے اس کائنات کے مزاج اور فرشتوں کے مزاج اور نوعیت کے سمجھنے میں بھی غلطی کی۔ کیونکہ فرشتوں کو اللہ نے اس لئے پیدا ہی نہیں کیا کہ وہ کرہ ارض پر بسیں اور یہاں لوگ انہیں جانیں اور پہنچانیں اور وہ فرشتوں کی شکل میں ہوں۔

الإسراء 17:95

اگر اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہوتا کہ زمین میں فرشتے بسیں تو وہ آدمیوں کی شکل و صورت میں ہوتے کیونکہ آدمی کی شکل و صورت ایسی ہے جو اس کرہ ارض پر سکونت کے لئے مناسب ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ کہا گیا ہے۔ ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا (6 : 9) ” اگر ہم پیغمبر کو فرشتہ بناتے تو بھی وہ ایک آدمی ہی ہوتا “۔ اور اللہ تو سب چیزوں پر قدرت رکھتا ہے۔ لیکن اللہ نے اس کرہ ارض کے لئے نوامیس قدرت بنائے ہیں اور ان نوامیس قدرت کے مطابق انسان کی تخلیق کی ہے۔ اسی طرح دوسری مخلوقات کو بھی ان کے مطابق بنایا ہے۔ اور یہ طے کیا ہے کہ یہ قوانین قدرت جاری وساری رہیں گے اور یہ کائنات ان کے مطابق چلتی رہے گی تاکہ اس کی حکمت خلق وتکوین پوری ہو لیکن افسوس ہے کہ لوگ اللہ کی حکمت تخلیق کائنات اور انسان کو نہیں سمجھتے۔ چونکہ اللہ کی حکمت یہ ہے ، تو اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ جدل وجدال نہ کریں۔ اور تمام امور کو اللہ کے حوالے کردیں۔ وہ دیکھ رہا ہے ان لوگوں کے معاملات میں تصرف چھوڑ دیں۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ اور ان کے اعمال سے بھی خبردار ہے۔

الإسراء 17:96

اس بات میں ایک قسم کی جھڑکی اور تہدید کا رنگ ہے۔ اللہ تو گواہ ہے لیکن اس گواہی کا انجام کیا ہوگا تو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر دیکھئے۔

الإسراء 17:97

اللہ نے ہدایت و ضلالت کے کچھ قوانین بنائے ہیں اور لوگوں کو ان قوانین کے مطابق طرز عمل اختیار کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اور ان قوانین کے مطابق و نفع و نقصان کے ذمہ دارہوں گے۔ ان قوانین میں سے ایک یہ قانون بھی ہے کہ انسان ہدایت و ضلالت دونوں کی استعداد رکھتا ہے۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ ہدایت کے رولز کے مطابق راہ اختیار کرتا ہے یہ ضلالت کے رولز اپناتا ہے۔ جو ہدایت کے اصول اور سنن اپناتا ہے وہ ہدایت کا مستحق ہوجاتا ہے اور جو ضلالت کے اصول اور سنن اپناتا ہے وہ ضلالت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس نے گمراہی کا اپنایا اور ہدایت کے اصولوں سے اعراض کیا۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے عزاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ فلن تحدلھم اولیاء من دونہ (71 : 79) ” اللہ کے سوا ایسے لوگوں کے لئے کوئی حامی و ناصر نہ ہوگا “۔ اور ایسے لوگوں کو اللہ قیامت کے دن نہایت ہی توہین آمیز اور خوفناک صورت میں اٹھائے گا۔ علی وجوھھم (71 : 79) ” اوندھے منہ “۔ یہ ہاتھوں کے سہارے چل رہے ہوں گے۔ عمیا وبکما وصما (71 : 79) ” اندھے ، گونگے اور بہرے “ ۔ ان کے وہ تمام اعضاء جو اس اژدھام میں ان کے لئے مفید ہوسکتے تھے سب کے سب بےکار ہوچکے ہوں گے اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ دنیا میں ان کو یہ اعضا اس لئے دئے گئے تھے کہ یہ لوگ ان کو صحیح کام میں لائیں اور ہدایت کے دلائل کو سمجھنے کی سعی کریں مگر انہوں نے ان اعضاء وجوارح کر بری راہوں میں استعمال کیا۔ ماوھم جھنم (71 : 79) ” ان کا ٹھکانا جہنم ہے “۔ ایسی آگ جو کبھی بجھتی نہیں اور نہ سرد پڑتی ہے۔ کلما خبت زدنھم سعیرا (71 : 79) ” جب بھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے بھڑکا دیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک انجام ہے اور یہ نہایت ہی ڈرائونی سزا ہے لیکن یہ لوگ اس کے مستحق اس لئے ہوگئے ہیں کہ انہوں نے آیات الیہ کا کفر کیا۔

الإسراء 17:98

ذلک جزا اوھم بانھم کفروا بایتنا (71 : 89) ” یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا “۔ انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا۔ اور وقوع قیامت کو مستبعد سمجھتا۔ وقالواء ………جدیدا (71 : 89) ” اور کہا کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اتھا کر کھڑا کیا جائے گا “۔ سیاق کلام میں اس منظر کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے گویا وہ آج موجود ہے۔ اور وہ دنیا جس میں وہ رہ رہے تھے اسے گویا لپیٹ لیا گیا ہے اور وہ ماضی بعید بن گئی ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مستقبل کے واقعات کو نہایت ہی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور منظر یوں نظر آتا ہے کہ گویا وہ ایک زندہ واقعہ ہے اس طرح واقعات کا اثر دلوں پر بہت ہی گہرا ہوتا ہے۔ اور انسانی شعور پر یہ واقعات اپنا پورا اثر التے ہیں۔ اب قرآن مجید حقیقی صورت حالت ان کے سامنے رکھتا ہے اور انداز سخن بھی واقعی بن جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ تم اس حقیقت کو دیکھ رہے ہو مگر غفلت سے کام لے رہے ہو۔

الإسراء 17:99

اولم یروا……(71 : 99) ” کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے “۔ لہٰذا بعثت بعد الموت میں کیا انہونی بات ہے ، اللہ اس عظیم کائنات کا خالق ہے۔ وہ ان جیسے آسمان و زمین کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ ان کو ختم کرکے دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ وجعل ……(71 : 99) ” اس نے ان کے حشر کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے “۔ میں ان کو مہلت دے رہا ہوں اور ان کا وقت مقرر ہے۔ فابی ……(71 : 99) ” مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے “۔ لہٰذا ان ظالموں کو جو سزا ہوگی وہ دلائل و مشاہدات اور آیات کی وضاحت کے اعتبار سے معقول ہوگی۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے ان معجزات کا مطالبہ کرتے تھے اور یہ مطالبات نہایت ہی نامعقول تھے مثلاً یہ کہ قیمتی دھاتوں کا مکان ، کھجوروں اور انگوروں کا باغ اور زمین سے پھاڑ کر چشمے نکالنا ، مگر تم لوگ خود اس قدر بخیل ہو کہ اگر اللہ کی رحمت کے خزانوں کی کنجیاں تمہیں دے دی جائیں تو ان میں سے کچھ بھی خرچ نہ کرتے اور ہاتھ روک لیتے کہ کہیں یہ خزانے ختم نہ ہوجائیں حالانکہ اللہ کی رحمت کے خزانے ختم ہونے والے نہیں ہوتے۔

الإسراء 17:100

بخل اور کنجوسی کی یہ حد ہے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ اس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس کے ختم ہونے کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ نہ اس میں کوئی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ لیکن وہ اس قدر بخیل ہیں کہ اگر سمندر پر بھی بیٹھے ہوں تو ان کو پانی کی کمی نظر آتی ہے۔ اس طرح ان کو اللہ کی رحمت میں بھی کمی نظر آتی ہے۔ بہرحال اگر ان کے سامنے وہ معجزات کثرت سے بھی لائے جائیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، ان کے دل چونکہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں اس لئے یہ نہ مانیں گے۔ دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو۔ 9 بڑے معجزات دئیے گئے ، مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے مان کر نہ دیا۔ اس لئے اس پر تباہی آئی۔

الإسراء 17:101

قصہ بنی اسرائیل کو یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ سورت کے مضمون کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ مسجد اقصیٰ اور بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ یہاں دیا گیا ہے۔ اس قصے کے آخر میں بھی آخرت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور فرعون اور اس کی قوم کے لئے آنے کا تذکرہ ہے۔ یہ ان مناظر قیامت کی مناسبت سے ہے جو ابھی سورت میں گزرے تھے اور جن میں بتایا گیا تھا کہ مکذبین کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نو معجزات جن کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا وہ یدبیضا ، عصا ، فرعون اور اس کی قوم پر خشک سالی ، ہر قسم کی پیداوار کی کمی ، طوفان ، ٹڈی دل ، قمل ، مینڈک اور خون تھے۔ فسئل بنی اسرائیل ……(71 : 101) ” فرعون نے اس سے کہا اے موسیٰ میں سمجھتا ہوں تو ضرور سحر زدہ آدمی ہے “۔ سچی بات ، عقیدہ توحید ، ظلم و سرکشی کا ترک کرنا اور لوگوں کو ایذا نہ دینے کی دعوت دیتا ، ایک باغی اور سرکش شخص کے نزدیک ایک سحر زدہ شخص کا کام ہے۔ کوئی معقول آدمی یہ کام نہیں کرسکتا۔ کیونکہ فرعون کی طرح کے سرکش اور مغرور ڈکٹیٹر ان باتوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کے سامنے تو کوئی شخص سر اٹھا کے نہیں چل سکتا۔ چہ جائیکہ وہ ایسی باتیں کرے۔ ان کے خیال میں کوئی معقول فرد ایسی باتیں نہیں کرسکتا ۔ سر پھرے ہی ایسی باتیں کرتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) تو ایک بہادر آدمی تھے اور ان کا دل سچائی کے نور اور خدائی روشنی سے بھرا ہوا تھا۔ وہ مطمئن تھے کہ اللہ کی امداد اور سر پرستی انہیں حاصل ہے۔ تو انہوں نے کہا۔

الإسراء 17:102

قال لقد ……(71 : 201) ” انہوں نے کہا ، تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں زمین اور آسمانوں کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں ، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے “۔ تو ہلاک ہونے والا اور تہس نہس ہونے والا ہے۔ کیونکہ تو آیات اہلیہ کی تکذیب کر رہا ہے۔ تو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور ان خارق عادت معجزات کا صدور و ظہور نہیں کرسکتا۔ یہ نہایت ہی واضح اور بصیرت افروز نشانیاں ہیں۔ گویا یہ نشانیاں خود انکھیں ہیں جن کی وجہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اب یہ سرکش آدمی اپنی مادی قوت کا سارا لیتا ہے۔ اور یہ عزم کرتا ہے کہ وہ موسیٰ کو زمین سے نکال کر ان کی قوم کو تباہ برباد کردے گا۔

الإسراء 17:103

فاراد ان یستفزھم من الارض (71 : 301) ” آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے “۔ تمام ڈکٹیٹر اور سرکش لوگ کلمہ حق کے بارے میں یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ ان کے پاس کلمہ حق کا یہی جواب ہوتا ہے۔ اس مقام پر آکر ایسے سرکشوں پر اللہ کا کلمہ اور اللہ کی سنت کا اطلاق برحق ہوجاتا ہے اور پھر اللہ کی اٹل سنت کے مطابق ، ظالموں کو ہلاک کردیا جاتا ہے اور زمین کے اندر جو کمزور اہل ایمان اور صبر کرنے والے طبقات ہوتے ہیں ، ان کو زمین کو وارث بنا دیا جاتا ہے۔ فاغرقنہ………(401) (71 : 301۔ 401) ” مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو ، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا ، تو ہم تو سب کو ایک ساتھ لاحاضر کریں گے “۔ یہ تھا انجام آیات الٰہی کے جھٹلانے کا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کے اقتدار کا وارث ان لوگوں کو بنایا ، جو زمین میں پسے ہوئے تھے۔ اور اب ان کو کہا گیا کہ تمہارے مستقبل کا دار و مدار تمہارے اعمال و افعال پر ہوگا۔ اس سورت کے آغاز میں بتا دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا تھا ؟ یہاں صرف یہ کہا جاتا ہے کہ تم اور تمہارے دشمن اب قیامت کے سپرد ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو تم سب کو لپیٹ کر اللہ لے آئے گا۔ یہ تھی مثال اس پیغمبر کی جو نو خوارق عادت معجزات لے کر آئے اور ان کا استقبال جھٹلانے والوں نے اس طرح کیا۔ اور اللہ کی اٹل سنت نے پھر اپنا کام یوں کیا۔ رہا یہ قرآن تو یہ تو ایک ابدی سچائی لے کر آیا ہے۔ اور اسے تھوڑا تھوڑا کرکے وقفے وقفے کے بعد نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ اسے لوگوں کو پڑھ کر مہلت بعد مہلت کے ساتھ سنائیں۔

الإسراء 17:104

فاراد ان یستفزھم من الارض (71 : 301) ” آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے “۔ تمام ڈکٹیٹر اور سرکش لوگ کلمہ حق کے بارے میں یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ ان کے پاس کلمہ حق کا یہی جواب ہوتا ہے۔ اس مقام پر آکر ایسے سرکشوں پر اللہ کا کلمہ اور اللہ کی سنت کا اطلاق برحق ہوجاتا ہے اور پھر اللہ کی اٹل سنت کے مطابق ، ظالموں کو ہلاک کردیا جاتا ہے اور زمین کے اندر جو کمزور اہل ایمان اور صبر کرنے والے طبقات ہوتے ہیں ، ان کو زمین کو وارث بنا دیا جاتا ہے۔ فاغرقنہ………(401) (71 : 301۔ 401) ” مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو ، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا ، تو ہم تو سب کو ایک ساتھ لاحاضر کریں گے “۔ یہ تھا انجام آیات الٰہی کے جھٹلانے کا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کے اقتدار کا وارث ان لوگوں کو بنایا ، جو زمین میں پسے ہوئے تھے۔ اور اب ان کو کہا گیا کہ تمہارے مستقبل کا دار و مدار تمہارے اعمال و افعال پر ہوگا۔ اس سورت کے آغاز میں بتا دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا تھا ؟ یہاں صرف یہ کہا جاتا ہے کہ تم اور تمہارے دشمن اب قیامت کے سپرد ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو تم سب کو لپیٹ کر اللہ لے آئے گا۔ یہ تھی مثال اس پیغمبر کی جو نو خوارق عادت معجزات لے کر آئے اور ان کا استقبال جھٹلانے والوں نے اس طرح کیا۔ اور اللہ کی اٹل سنت نے پھر اپنا کام یوں کیا۔ رہا یہ قرآن تو یہ تو ایک ابدی سچائی لے کر آیا ہے۔ اور اسے تھوڑا تھوڑا کرکے وقفے وقفے کے بعد نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ اسے لوگوں کو پڑھ کر مہلت بعد مہلت کے ساتھ سنائیں۔

الإسراء 17:105

نزول قرآن کا مقصد ایک امت کی تشکیل و تربیت تھا۔ پھر اس امت کے لئے ایک نظام حیات کی تشکیل قرآن کے پیش نظر تھی تاکہ یہ امت قرآن اور اس نظام کو لے کر اکناف عالم میں پھیل جائے۔ اور تمام انسانیت کو اس مکمل اور خود کفیل نظام حیات کی تعلیم دے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب متفرق طور پر مختلف اوقات میں اس امت کی واقعی ضرورت کے مطابق اترتی رہی۔ اور ان حالات کے مطابق اس کا نزول ہوتا رہا۔ جن حالات میں اس امت کی دو اول میں تربیت ہو رہی تھی۔ چونکہ مقصد ایک امت کی تربیت تھا۔ اس لئے نزول قرآن بھی متفرق طور پر ایک طویل عرصے تک ہوتا رہا کیونکہ کسی جماعت کی تربیت کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ یہ تربیت عملی تجربات کی شکل میں ایک طویل عرصہ تک ہوتی رہتی ہے۔ چناچہ یہ قرآن آیا اور اس نے اپنے ایک ایک جزئی حکم کو عملی مرحلے میں نافذ کیا اور وہ ایک نظام کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ نظام محض نظریاتی قانون سازی کی شکل میں نہیں آیا۔ نہ یہ مجرد فکر اور نظریہ کی شکل میں پیش ہوا ، کیونکہ نظریاتی بحثیں محض ذہنی عیاشی اور محض پڑھنے پڑھانے کے لئے ہوتی ہیں۔ یہ تھی قرآن مجید کے متفرق نزول کی حکمت۔ اور یہی وہ تھی کہ قرآن مجید کو یکبار ایک کتاب کی شکل میں نہیں اتارا گیا۔ قرآن کریم مسلمانوں کی پہلی نسل نے خد اور سول سے اس طرح اخذ کیا کہ یہ ان کے لئے ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں عملی ہدایات تھیں۔ جب بھی کوئی امر آیا یا نہی وارد ہوئی ، جب بھی کوئی اخلاقی ادب سکھایا گیا یا کوء فریضہ نازل ہوا تو یہ عمل کے لئے تھا۔ مسلمانوں نے قرآن مجید کو محض پڑھنے پڑھانے اور ذہنی اور نظریاتی اور نفسیاتی عیاشی کے طور پر نہیں لیا۔ جیسا کہ وہ شعر و ادب کو لیتے تھے۔ نہ وہ لہو ولعب کے طور پر اسے لیتے تھے جس طرح وہ قصے کہانیوں کو بطور لہو و لعب استعمال کرتے تھے۔ جب بھی قرآن نازل ہوا انہوں نے اس کی کیفیات کو اپنے اوپر طاری کردیا۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسے عملی شکل دے دی۔ ان کا شعور اور ان کا ضمیر اس رنگ میں رنگا گیا۔ قرآن ان کے طرز عمل اور ان کی سرگرمیوں پر چھا گیا۔ ان کے گھروں ، ان کے بازاروں میں قرآن کا دور دورہ ہوگیا اور وہ ان کے لئے ایک نظام زندگی بن گیا اور انہوں نے قرآن کے علاوہ ہر طور طریق کو ترک کردیا۔ جو طور طریقے ان کو وراثت میں جاہلیت سے ملے تھے یا جن کو وہ جانتے تھے یا جن کے مطابق وہ نزول قرآن سے قبل چل رہے تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرمتے ہیں کہ ہم میں سے جو شخص دس آیات پڑھ لیتا تھا تو وہ آگے نہ بڑھتا تھا جب تک وہ ان کا مفہوم نہ جان لیتا اور ان پر عمل نہ کرلیتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن مجید حق پر قائم ہوتے ہوئے اتارا ہے۔ وبالحق انزلنہ (71 : 501) ” اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے “۔ یہ اس لئے نازل ہوا کہ زمین پر سچائی کو مستقلا ٹھہرا دے اور اس کی بنیادیں مضبوط کردے۔ وبالحق نزل (71 : 501) ” اور یہ قرآن بھی حق کے ساتھ اترا “۔ گویا اس کا مواد بھی سچائی پر مشتمل ہے اور اس کی غرض وغایت بھی سچائی ہے۔ اس کا بنیادی عصر ہی سچائی ہے اور اس کی اہم تعلمات بھی سچائی پر مبنی ہیں۔ وہ حق اور سچائی جو اس کائنات میں کارفرما ناموس قدرت کی شکل مین رواں اور جس حق و سچائی کی قوت پر یہ کائنات قائم ہے ، اور جس سچائی کے ساتھ یہ کائنات اور ارض و سما پیوستہ ہیں اسی کے ساتھ یہ قرآن بھی مربوط ہے۔ یہاں قرآن اسی نظام کائنات (حق) کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہی سمجھتاتا ہے کہ یہ قرآن بھی اس عظیم تکوینی سچائی کا ذریعہ ہے۔ پس حق قرآن مجید کا جسم و جان ہے اور حق ہی اس کا بنیادی عنصر اور اس کا مقصود ہے اور رسول مبشر ، نذیر اور مبلغ ہے اس عظیم سچائی کا ، جسے وہ لے کر آیا ہے۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس حق کے ذریعے اپنی قوم کا مقابلہ کریں۔ اور انہیں چھوڑ دیں کہ وہ جو راہ اختیار کرنا چاہیں اختیار کریں۔ اگر چاہیں تو قرآن پر ایمان لائیں ، اگر چاہیں تو نہ لائیں۔ لیکن وہ جو راہ بھی اختیار کریں گے اس راہ کے نتائج و عواقب کے وہ ذمہ دار ہوں گے اور ان لوگوں کے سامنے بطور مثال ان اہل کتاب کو پیش کردیں ، یہودو نصاریٰ کو ان میں سے جنہوں نے قرآن مجید پر ایمان لایا ہے۔ شاید کہ وہ ان کے لئے اچھی مثال کا کام کریں۔ کیونکہ قریش تو امی ہیں۔ ان کہ پاس نہ تو تعلیم ہے۔ اور نہ ان کو اس سے قبل کوئی کتاب دی گئی ہے۔

الإسراء 17:106

نزول قرآن کا مقصد ایک امت کی تشکیل و تربیت تھا۔ پھر اس امت کے لئے ایک نظام حیات کی تشکیل قرآن کے پیش نظر تھی تاکہ یہ امت قرآن اور اس نظام کو لے کر اکناف عالم میں پھیل جائے۔ اور تمام انسانیت کو اس مکمل اور خود کفیل نظام حیات کی تعلیم دے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب متفرق طور پر مختلف اوقات میں اس امت کی واقعی ضرورت کے مطابق اترتی رہی۔ اور ان حالات کے مطابق اس کا نزول ہوتا رہا۔ جن حالات میں اس امت کی دو اول میں تربیت ہو رہی تھی۔ چونکہ مقصد ایک امت کی تربیت تھا۔ اس لئے نزول قرآن بھی متفرق طور پر ایک طویل عرصے تک ہوتا رہا کیونکہ کسی جماعت کی تربیت کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ یہ تربیت عملی تجربات کی شکل میں ایک طویل عرصہ تک ہوتی رہتی ہے۔ چناچہ یہ قرآن آیا اور اس نے اپنے ایک ایک جزئی حکم کو عملی مرحلے میں نافذ کیا اور وہ ایک نظام کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ نظام محض نظریاتی قانون سازی کی شکل میں نہیں آیا۔ نہ یہ مجرد فکر اور نظریہ کی شکل میں پیش ہوا ، کیونکہ نظریاتی بحثیں محض ذہنی عیاشی اور محض پڑھنے پڑھانے کے لئے ہوتی ہیں۔ یہ تھی قرآن مجید کے متفرق نزول کی حکمت۔ اور یہی وہ تھی کہ قرآن مجید کو یکبار ایک کتاب کی شکل میں نہیں اتارا گیا۔ قرآن کریم مسلمانوں کی پہلی نسل نے خد اور سول سے اس طرح اخذ کیا کہ یہ ان کے لئے ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں عملی ہدایات تھیں۔ جب بھی کوئی امر آیا یا نہی وارد ہوئی ، جب بھی کوئی اخلاقی ادب سکھایا گیا یا کوء فریضہ نازل ہوا تو یہ عمل کے لئے تھا۔ مسلمانوں نے قرآن مجید کو محض پڑھنے پڑھانے اور ذہنی اور نظریاتی اور نفسیاتی عیاشی کے طور پر نہیں لیا۔ جیسا کہ وہ شعر و ادب کو لیتے تھے۔ نہ وہ لہو ولعب کے طور پر اسے لیتے تھے جس طرح وہ قصے کہانیوں کو بطور لہو و لعب استعمال کرتے تھے۔ جب بھی قرآن نازل ہوا انہوں نے اس کی کیفیات کو اپنے اوپر طاری کردیا۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسے عملی شکل دے دی۔ ان کا شعور اور ان کا ضمیر اس رنگ میں رنگا گیا۔ قرآن ان کے طرز عمل اور ان کی سرگرمیوں پر چھا گیا۔ ان کے گھروں ، ان کے بازاروں میں قرآن کا دور دورہ ہوگیا اور وہ ان کے لئے ایک نظام زندگی بن گیا اور انہوں نے قرآن کے علاوہ ہر طور طریق کو ترک کردیا۔ جو طور طریقے ان کو وراثت میں جاہلیت سے ملے تھے یا جن کو وہ جانتے تھے یا جن کے مطابق وہ نزول قرآن سے قبل چل رہے تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرمتے ہیں کہ ہم میں سے جو شخص دس آیات پڑھ لیتا تھا تو وہ آگے نہ بڑھتا تھا جب تک وہ ان کا مفہوم نہ جان لیتا اور ان پر عمل نہ کرلیتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن مجید حق پر قائم ہوتے ہوئے اتارا ہے۔ وبالحق انزلنہ (71 : 501) ” اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے “۔ یہ اس لئے نازل ہوا کہ زمین پر سچائی کو مستقلا ٹھہرا دے اور اس کی بنیادیں مضبوط کردے۔ وبالحق نزل (71 : 501) ” اور یہ قرآن بھی حق کے ساتھ اترا “۔ گویا اس کا مواد بھی سچائی پر مشتمل ہے اور اس کی غرض وغایت بھی سچائی ہے۔ اس کا بنیادی عصر ہی سچائی ہے اور اس کی اہم تعلمات بھی سچائی پر مبنی ہیں۔ وہ حق اور سچائی جو اس کائنات میں کارفرما ناموس قدرت کی شکل مین رواں اور جس حق و سچائی کی قوت پر یہ کائنات قائم ہے ، اور جس سچائی کے ساتھ یہ کائنات اور ارض و سما پیوستہ ہیں اسی کے ساتھ یہ قرآن بھی مربوط ہے۔ یہاں قرآن اسی نظام کائنات (حق) کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہی سمجھتاتا ہے کہ یہ قرآن بھی اس عظیم تکوینی سچائی کا ذریعہ ہے۔ پس حق قرآن مجید کا جسم و جان ہے اور حق ہی اس کا بنیادی عنصر اور اس کا مقصود ہے اور رسول مبشر ، نذیر اور مبلغ ہے اس عظیم سچائی کا ، جسے وہ لے کر آیا ہے۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس حق کے ذریعے اپنی قوم کا مقابلہ کریں۔ اور انہیں چھوڑ دیں کہ وہ جو راہ اختیار کرنا چاہیں اختیار کریں۔ اگر چاہیں تو قرآن پر ایمان لائیں ، اگر چاہیں تو نہ لائیں۔ لیکن وہ جو راہ بھی اختیار کریں گے اس راہ کے نتائج و عواقب کے وہ ذمہ دار ہوں گے اور ان لوگوں کے سامنے بطور مثال ان اہل کتاب کو پیش کردیں ، یہودو نصاریٰ کو ان میں سے جنہوں نے قرآن مجید پر ایمان لایا ہے۔ شاید کہ وہ ان کے لئے اچھی مثال کا کام کریں۔ کیونکہ قریش تو امی ہیں۔ ان کہ پاس نہ تو تعلیم ہے۔ اور نہ ان کو اس سے قبل کوئی کتاب دی گئی ہے۔

الإسراء 17:107

یہ نہایت ہی پر تاثیر منظر ہے۔ ان لوگوں کا منظر جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا تھا۔ وہ قرآن سنت ہیں۔ ان پر خوف کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔ یخرون للاذقان (71 : 701) ” اور وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں “ ۔ یہ سجدہ نہایت ہی بےساختہ ہوتا ہے۔ وہ سجدے میں نہیں گرتے بلکہ ان کی ٹھوڑیاں سجدہ کرتی ہیں۔ پھر ان کے احساسات کے اندر جو چیز ان کو چھبتی ہے وہ اس کا اظہار کرت ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت اور اللہ کے وعدوں کے سچا ہونے کے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔ سبحن ……(71 : 801) ” پاک ہے ہمارا رب اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا “۔ وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ کہ ان کے تاثرات کو الفاط میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے دل جوش میں آتے ہیں اور ان کے تاثرات آنسوئوں کی شکل میں باہر آجاتے ہیں۔ ویخرون للاذقان یبکون (81 : 901) ” اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں “۔

الإسراء 17:108

یہ نہایت ہی پر تاثیر منظر ہے۔ ان لوگوں کا منظر جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا تھا۔ وہ قرآن سنت ہیں۔ ان پر خوف کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔ یخرون للاذقان (71 : 701) ” اور وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں “ ۔ یہ سجدہ نہایت ہی بےساختہ ہوتا ہے۔ وہ سجدے میں نہیں گرتے بلکہ ان کی ٹھوڑیاں سجدہ کرتی ہیں۔ پھر ان کے احساسات کے اندر جو چیز ان کو چھبتی ہے وہ اس کا اظہار کرت ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت اور اللہ کے وعدوں کے سچا ہونے کے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔ سبحن ……(71 : 801) ” پاک ہے ہمارا رب اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا “۔ وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ کہ ان کے تاثرات کو الفاط میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے دل جوش میں آتے ہیں اور ان کے تاثرات آنسوئوں کی شکل میں باہر آجاتے ہیں۔ ویخرون للاذقان یبکون (81 : 901) ” اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں “۔

الإسراء 17:109

ویزیدھم خشوعا (71 : 901) ” اور قرآن کو سن کر ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے “۔ جبکہ اس سب قتل وہ نہایت ہی خشوع اور عاجزی سے اس کا استقبال کرچکے تھے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو نہایت ہی گہرے شعوری تاثرات کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ فیوض قرآن سے مسفتید ہونے کے لئے اپنے دلوں کو کھول دیتے ہیں ، جو قرآن مجید کی حقیقت ، اس کی قدر و قیمت اور اس کی تعلیمات کو جانتے ہیں اور جو لوگ قرآن سے قبل کتب الہیہ کے علوم سے واقف ہوتے ہیں ایسے لوگ قرآن کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، اس لئے کہ حقیقی علم وہی ہے جو کتب سماوی نے دیا ہے اور جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یہ منظر یہاں ایسے حالات میں پیش کیا گیا ہے کہ اہل مکہ نہایت ہی خلجان اور حیرت میں تھے کہ وہ اس علم کو قبول کریں یا نہ کریں جو قرآن دیتا ہے۔ ایسے حالات میں علمائے اہل کتاب کا یہ منظر پیش کرنے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کی ذات کو کوئی جس نام سے پکارے پکار سکتا ہے۔ اس کے لئے کئی اسمائے حسنی ہیں۔ جاہلیت میں یہ لوگ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرتے تھے۔ وہ رحمن کو اللہ کا نام نہ سمجھتے تھے اس لئے کہا گیا کہ اللہ کے اسمائے صفات بیشمار ہیں جن سے چاہو ، اسے پکارو۔

الإسراء 17:110

یہ تو اوہام جاہلیت ہیں اور بت پرستی کی واہی باتیں ہیں کہ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرو ، ایسی باتوں کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اب پیغمبر ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ، صبر اور خفا میں میانہ روی اختیار کریں ، کیونکہ وہ لوگ حضور ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر مذاق اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اور اس طرح کر نا اللہ کے حضور حاضر ہوتے وقت زیادہ مناسب بھی ہے۔ ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (011) ۔ جس طرح سورت کے مضامین کا آغاز یوں ہوا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کا کوئی شریک اور بیٹا نہیں ہے۔ اور اس کو دلی اور مدد گار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ علی و کبیر ہے ، تو اسی مضمون پر اس سورت کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے مضامین کا محور یہی ہے۔ انہی مضامین سے اس کا آغاز ہوا اور انہی پر اس کا اختتام ہوا۔

الإسراء 17:111

یہ تو اوہام جاہلیت ہیں اور بت پرستی کی واہی باتیں ہیں کہ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرو ، ایسی باتوں کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اب پیغمبر ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ، صبر اور خفا میں میانہ روی اختیار کریں ، کیونکہ وہ لوگ حضور ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر مذاق اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اور اس طرح کر نا اللہ کے حضور حاضر ہوتے وقت زیادہ مناسب بھی ہے۔ ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (011) ۔ جس طرح سورت کے مضامین کا آغاز یوں ہوا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کا کوئی شریک اور بیٹا نہیں ہے۔ اور اس کو دلی اور مدد گار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ علی و کبیر ہے ، تو اسی مضمون پر اس سورت کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے مضامین کا محور یہی ہے۔ انہی مضامین سے اس کا آغاز ہوا اور انہی پر اس کا اختتام ہوا۔

الكهف 18:1

یہ تو اوہام جاہلیت ہیں اور بت پرستی کی واہی باتیں ہیں کہ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرو ، ایسی باتوں کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اب پیغمبر ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ، صبر اور خفا میں میانہ روی اختیار کریں ، کیونکہ وہ لوگ حضور ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر مذاق اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اور اس طرح کر نا اللہ کے حضور حاضر ہوتے وقت زیادہ مناسب بھی ہے۔ ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (011) ۔ جس طرح سورت کے مضامین کا آغاز یوں ہوا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کا کوئی شریک اور بیٹا نہیں ہے۔ اور اس کو دلی اور مدد گار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ علی و کبیر ہے ، تو اسی مضمون پر اس سورت کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے مضامین کا محور یہی ہے۔ انہی مضامین سے اس کا آغاز ہوا اور انہی پر اس کا اختتام ہوا۔

الكهف 18:2

اس سورت کا آغاز نہایت ہی پر اعتماد اور فیصلہ کن انداز میں ہو رہا ہے ۔ اللہ کی تعریف اس بات پر کی جا رہی ہے کہ اس نے اپنے بندے پر یہ کتاب اتاری۔ یہ ایک سیدھی کتاب ہے ، اس کی تعلیمات سیدھی ہیں اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں کوئی ٹیڑھ پن اور ہیر پھیر نہیں ہے ، اس میں لاگ لپیٹ کے بغیر بات کی جا رہ ی ہے۔ یہ کیوں ؟ لینذرباسا شدیداً من لدنہ (81 : 2) ” تکاہ لوگوں کو خدا کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراوے۔ “ پہلی ہی آیت سے نشان منزل آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا نظریہ کیا ہے ، بغیر کسی التباس اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ اللہ نے یہ کتاب نازل کی ہے او اللہ قابل حمد وثناء ہے کہ اس نے یہ احسان کیا۔ محمد اللہ کے بندے ہیں جیسا کہ متام لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک۔ او یہ کتاب کیسی ہے ؟ اس میں کوئی ٹیڑھ پن نہیں ہے۔ یہ قیم ہے۔ اس کی تعلیمات کے سیھدے پن کا اظہار ایک دفعہ یوں کیا جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی ٹیڑھ پن نہیں اور دوسری مرتبہ یوں کہا جاتا ہے کہ یہ قیم ہے یعنی سیدھی۔ یعنی اس کتاب اور اسلام کے صراط مستقیم ہونے کی تاکید شدید۔ اور یہ کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ لینذر باسا شدیداً من لدنہ وبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا حسناً (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دے دے کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے۔ “ اس پوری سورت میں سخت اور قطعی الفاظ میں ڈراوا بھی ہے۔ ڈراوے کا آغاز تو اجمالی اور اصولی طور پر ہوتا ہے۔ لینذر باسا شدیداً من لذنہ (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کردے۔ اور اس کے بعد پھر مخصوص طور پر مشرکین کو ڈرایا جاتا ہے۔ وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا۔ اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ “ لیکن انذار اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ مومنین کے لئے تبشیر بھی ہے۔ ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو عمل صالح کرتے ہیں۔ یہاں ایمان کے بعد عمل صالح کی قید لگائی گئی ہے۔ الذین یعملون الصلحت (81 : 2) یہ اس لئے لگائی گئی ہے کہ عمل صالح ایمان کی دلیل ہوتا ہے اور ظاہری عمل کی بنا پر کوئی کسی کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی غلط سوچ اور غلط انداز فکر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کائنات کے سب سے بڑے اور سب سے مشکل اور نازک مسئلے کے بارے کس قدر غلط سوچ رکھتے ہیں یعنی اس کائنات کے بارے میں اور اس کے خلاق کے بارے میں عقائد کے مسئلے کے متعلق۔

الكهف 18:3

اس سورت کا آغاز نہایت ہی پر اعتماد اور فیصلہ کن انداز میں ہو رہا ہے ۔ اللہ کی تعریف اس بات پر کی جا رہی ہے کہ اس نے اپنے بندے پر یہ کتاب اتاری۔ یہ ایک سیدھی کتاب ہے ، اس کی تعلیمات سیدھی ہیں اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں کوئی ٹیڑھ پن اور ہیر پھیر نہیں ہے ، اس میں لاگ لپیٹ کے بغیر بات کی جا رہ ی ہے۔ یہ کیوں ؟ لینذرباسا شدیداً من لدنہ (81 : 2) ” تکاہ لوگوں کو خدا کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراوے۔ “ پہلی ہی آیت سے نشان منزل آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا نظریہ کیا ہے ، بغیر کسی التباس اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ اللہ نے یہ کتاب نازل کی ہے او اللہ قابل حمد وثناء ہے کہ اس نے یہ احسان کیا۔ محمد اللہ کے بندے ہیں جیسا کہ متام لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک۔ او یہ کتاب کیسی ہے ؟ اس میں کوئی ٹیڑھ پن نہیں ہے۔ یہ قیم ہے۔ اس کی تعلیمات کے سیھدے پن کا اظہار ایک دفعہ یوں کیا جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی ٹیڑھ پن نہیں اور دوسری مرتبہ یوں کہا جاتا ہے کہ یہ قیم ہے یعنی سیدھی۔ یعنی اس کتاب اور اسلام کے صراط مستقیم ہونے کی تاکید شدید۔ اور یہ کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ لینذر باسا شدیداً من لدنہ وبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا حسناً (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دے دے کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے۔ “ اس پوری سورت میں سخت اور قطعی الفاظ میں ڈراوا بھی ہے۔ ڈراوے کا آغاز تو اجمالی اور اصولی طور پر ہوتا ہے۔ لینذر باسا شدیداً من لذنہ (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کردے۔ اور اس کے بعد پھر مخصوص طور پر مشرکین کو ڈرایا جاتا ہے۔ وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا۔ اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ “ لیکن انذار اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ مومنین کے لئے تبشیر بھی ہے۔ ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو عمل صالح کرتے ہیں۔ یہاں ایمان کے بعد عمل صالح کی قید لگائی گئی ہے۔ الذین یعملون الصلحت (81 : 2) یہ اس لئے لگائی گئی ہے کہ عمل صالح ایمان کی دلیل ہوتا ہے اور ظاہری عمل کی بنا پر کوئی کسی کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی غلط سوچ اور غلط انداز فکر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کائنات کے سب سے بڑے اور سب سے مشکل اور نازک مسئلے کے بارے کس قدر غلط سوچ رکھتے ہیں یعنی اس کائنات کے بارے میں اور اس کے خلاق کے بارے میں عقائد کے مسئلے کے متعلق۔

الكهف 18:4

اس سورت کا آغاز نہایت ہی پر اعتماد اور فیصلہ کن انداز میں ہو رہا ہے ۔ اللہ کی تعریف اس بات پر کی جا رہی ہے کہ اس نے اپنے بندے پر یہ کتاب اتاری۔ یہ ایک سیدھی کتاب ہے ، اس کی تعلیمات سیدھی ہیں اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں کوئی ٹیڑھ پن اور ہیر پھیر نہیں ہے ، اس میں لاگ لپیٹ کے بغیر بات کی جا رہ ی ہے۔ یہ کیوں ؟ لینذرباسا شدیداً من لدنہ (81 : 2) ” تکاہ لوگوں کو خدا کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراوے۔ “ پہلی ہی آیت سے نشان منزل آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا نظریہ کیا ہے ، بغیر کسی التباس اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ اللہ نے یہ کتاب نازل کی ہے او اللہ قابل حمد وثناء ہے کہ اس نے یہ احسان کیا۔ محمد اللہ کے بندے ہیں جیسا کہ متام لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک۔ او یہ کتاب کیسی ہے ؟ اس میں کوئی ٹیڑھ پن نہیں ہے۔ یہ قیم ہے۔ اس کی تعلیمات کے سیھدے پن کا اظہار ایک دفعہ یوں کیا جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی ٹیڑھ پن نہیں اور دوسری مرتبہ یوں کہا جاتا ہے کہ یہ قیم ہے یعنی سیدھی۔ یعنی اس کتاب اور اسلام کے صراط مستقیم ہونے کی تاکید شدید۔ اور یہ کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ لینذر باسا شدیداً من لدنہ وبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا حسناً (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دے دے کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے۔ “ اس پوری سورت میں سخت اور قطعی الفاظ میں ڈراوا بھی ہے۔ ڈراوے کا آغاز تو اجمالی اور اصولی طور پر ہوتا ہے۔ لینذر باسا شدیداً من لذنہ (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کردے۔ اور اس کے بعد پھر مخصوص طور پر مشرکین کو ڈرایا جاتا ہے۔ وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا۔ اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ “ لیکن انذار اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ مومنین کے لئے تبشیر بھی ہے۔ ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو عمل صالح کرتے ہیں۔ یہاں ایمان کے بعد عمل صالح کی قید لگائی گئی ہے۔ الذین یعملون الصلحت (81 : 2) یہ اس لئے لگائی گئی ہے کہ عمل صالح ایمان کی دلیل ہوتا ہے اور ظاہری عمل کی بنا پر کوئی کسی کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی غلط سوچ اور غلط انداز فکر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کائنات کے سب سے بڑے اور سب سے مشکل اور نازک مسئلے کے بارے کس قدر غلط سوچ رکھتے ہیں یعنی اس کائنات کے بارے میں اور اس کے خلاق کے بارے میں عقائد کے مسئلے کے متعلق۔

الكهف 18:5

مالھم بہ من علم ولا لابئھم (81 : 5) ” بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے ، وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔ “ قرآن کریم نے ان کے کلام اور ان کے عقیدے کے لئے جو الفاظ چنے ہیں وہ تعبیر مفہوم اور الفاظ کی آواز دونوں کے اعتبار سے ان کے کلمہ اور ان کی بات کے قابل مذمت ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔ پہلا لفظ ہے (کبرت) تاکہ سننے والے کو معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ جو بات کرتے ہیں وہ غایت درجے کی قابل مذمت اور بہت بڑی بات ہے باعتبار نتائج۔ کلمۃ تو ضمیر جملہ سے تمیز کے طور پر لایا گیا۔ یعنی کبرت کے اندر موجود ضمیر ہے۔ یہ زیادہ متوجہ کرنے کے لئے کہ ان کے منہ سے یہ عظیم با بڑی لاپرواہی اور بےت کے انداز میں نکل رہی ہے اور بغیر کسی احتیاط اور جھجک کے بس نکلی چلی آرہی ہے۔ تخرج من افواھھم (81 : 5) ” ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ “ افواھھم کا تلفظ بھی بڑا برا ہے اور مفہوم کے اعتبار سے بھی اس لفظ سے ان کی بات زیادہ قابل مذمت معلوم ہوتی ہے اور لفظی اعتبار سے بھی ایک شخص اس لفظ کو منہ کھول کر افوا ادا کرتا ہے اور اس کے بعد باہم متصل دوھاء کی ادائیگی سے اس کا منہ بھر جاتا ہے اور ہم تک پہنچتے پہنچتے اس کا منہ پھول جاتا ہے۔ لہٰذا مفہوم اور ترکیب اور تلفظ تینوں اعتبار سے اس بات اور کلمہ کی شناخت کا اظہار ہوتا ہے اور پھر اس کی بعد تاکید منفی بھی آجاتی ہے۔ یعنی : ان یقولون الا کذباً (81 : 5) (نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ۔ “ پھر یہاں ما یقولون نہیں کہا ہے۔ ان یقولون کہا ہے کیونکہ لفظ ان میں نون سکان ہونے کی وجہ سے سختی اور فیصلہ کن انداز پایا جاتا ہے اور ما میں مد الف ہے جو نرم بات کو ظاہر کرتی ہے۔ اور یہ سب لفظی اور معنوی سختی محض تاکید کے لئے کہی گئی ہے کہ یہ کلمہ یا یہ بات جو یہ آگ کہتے ہیں ، نہایت ہی عظیم بات ہے اور اس کے نتائج ان کے لئے بہت ہی سنگین ہیں۔ “ ان کی اس بات پر گرفت شدید کے ساتھ ساتھ اس طرح کی ایک تنبیہ نبی ﷺ کو بھی کی جاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ اس بات پر بہت ہی پریشان تھے کہ آپ کی قوم کی تکذیب کر رہی ہے اور ایسے طریقے اختیار کر رہی ہے جن کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ، تو حضور اکرم کو بھی ذرا سخت الفاظ میں کہا جاتا ہے۔

الكهف 18:6

فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یومنوا بھذا الحدیث اسفا (81 : 6) ” اچھا تو اے نبی شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو ، اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔ “ یعنی تم رنج و ملال کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاک کردینا چاہتے ہو کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ حالانکہ ان لوگوں کا رویہ تو یہ ہے کہ آپ ان کے بارے میں کوئی رنج اور غم اپنے اوپر طاری نہ کریں۔ اب ان کو چھوڑ دیں۔ یہ اس دنیا میں گم ہیں اور اس دنیا میں جو سروسامان ہم نے پیدا کیا ہے ، وہ محض زیب وزینت کا سامان ہے۔ مال اور اولاد اور یہ ان لوگوں کے لئے امتحان اور آزمائش ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس دنیا میں کون اچھے اعمال کرتا ہے اور کون برے اعمال کرتا ہے۔ کون اس دنیا کی متاع کے لئے اپنے آپ کو مستحق ثابت کرتا ہے اور کون آخرت کے ساز و سامان کا خیال کرتا ہے۔

الكهف 18:7

انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملاً (18 : 8) ” واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی سروسامان زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے “ ال لہ کو تو خوب معلوم ہے لیکن مقصد یہ ہے کہ عملاً ان باتوں کا صدور ان سے ہوجائے اور ظاہر ہوجائے کہ زندگی میں کون ہے جو احسن رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہاں برے اعمال کرنے والوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے ، کیونکہ انداز کلام سے ان کے بارے میں مفہوم واضح ہے۔ اور دنیا کی اس زیب وزینت کا انجام بھی معلوم ہے۔ ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ اس دنیا کی یہ سب رنگینیاں ختم ہوجائیں گی اور دنیا ایک چٹیل میدان ہوگی اور اس پر جو کچھ ہے سب نیست و نابود ہوگا ، انسان حیوانات و نباتات سب ختم ہوں گے۔ یہ دنیا خشک اور چٹیل میدان ہوگی۔

الكهف 18:8

وانا لجعلون ما علیھا صعیدا جرزا (81 : 8) ” آخر کار اس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔ “ تعبیر فیصلہ کن انداز کی ہے۔ منظر بھی سخت ہے۔ (جرزاً ) کا کلمہ لفظاً اور معنی خشکی اور بےآب وگیاہ میدان کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح لفظ (صعیداً ) بھی میدان ، ہمواری اور سختی کو لفظاً اور معنی ظاہر کرتا ہے۔ …… اب قصہ اصحاب کہف آتا ہے۔ یہ ایسے لوگوں کا ایک نمونہ پیش کرتا ہے جن کے دلوں میں ایمان بیٹھ جاتا ہے اور جب ایمان دلوں میں اتر جاتا ہے تو وہ اطمینان اور سکون سے اس طرح بھر جاتے ہیں جس طرح اصحاب کہف تھے۔ پھر یہ دل زمین کی آرائش اور زیب وزینت کو کچھ نہیں سمجھتے۔ یہ لوگ غار میں پناہ لیتے ہیں ، غار میں کیا چیز لے جا کر چھپاتے ہیں ؟ ایمان اور صرف دولت ایمان۔ یہ لوگ اس وقت غار میں جاتے ہیں جب وہ ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے لوگوں میں نہیں رہ سکتے۔ اب دیکھئے کہ اللہ ایسے لوگوں کو کس طرح بچاتا ہے۔ ان کو فتنوں سے محفوظ کرتا ہے اور اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے۔ اس قصے کے بارے میں بیشمار روایات ہیں اور بہت سی آراء ہیں اور قصے کہانیوں کی بعض پرانی کتابوں میں ان کے بارے میں مختلف روایات ہیں ہمارا طریق کار یہ ہے کہ ہم قرآن کی حد تک اپنے آپ کو محدود کرتے ہیں ، کیونکہ قرآن ہی واحد یقینی مصدر علم ہے۔ روایات اور قصوں کو ہم ان کی جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ روایات ہمارے تفسیری دخیرے میں راہ پا گئی ہیں۔ بغیر سند اور صحت کی جانچ پڑتال کئے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ قرآن نے اس بات سے منع کیا ہے کہ اس سلسلے میں غیر قرآنی مصادر کی طرف ہرگز رجوع نہ کیا جائے اور اس میں محتض تیر تکے نہ چلائے جائیں۔ اس قصے اور ذوالقرنین کے قصے کے نزول کے سلسلے میں ایسی روایات وارد ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے اہل مکہ کو سوالات دے کر ابھارا کہ یہ سوالات رسول اللہ ﷺ سے کئے جائیں۔ ان دو قصوں کے بارے میں اور روح کے بارے میں یا اہل مکہ نے یہودیوں سے امداد طلبک رتے ہوئے یہ کہا کہ ہمیں کچھ ایسے سوالات بتائو تاکہ ہم ان کے ذریعے رسول اللہ ﷺ سے امتحان لیں یہ دونوں باتیں صحیح ہو سکتی ہیں کیونکہ ذوالقرنین کے قصے کی ابتدا میں ہے۔ ویسئلونک عن ذی القرنین قل ساتلو علیکم منہ ذکراً (81 : 38) ” وہ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دو میں اس کے بارے میں تمہیں بتائوں گا۔ “ لیکن قصہ اصحاب کہف کے بارے میں اس قسم کی بات نہیں آئی۔ اس لئے ہم اس قصے کا مطالعہ کرتے ہیں۔ یہ قصہ بذات خود سورت کے محور اور موضوع کلام سے واضح طور پر مربوط ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے یہ بات کہہ دی ہے۔ فنی اعتبار سے اس قصے کو پیش کرنے کے لئے قرآن میں جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ وہ پہلے اجمالی تخلیص کا ہے اور پھر اس کی تفصیلات پر بحث کا ہے۔ یہ قصہ کئی مناظر کی شکل میں پیش کیا گیا ہے لیکن مختلف مناظر کے درمیان خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ مضمون اور سیاق کلام سے یہ خلا خود بخود ذہن میں آجاتے ہیں اس قصے کا آغاز یوں ہے :

الكهف 18:9

یہ اس قصے کی تلخیص ہے اور اس کی روٹ لائن اس میں دی گئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک گروہ تھا۔ تعداد معلوم نہیں ہے۔ یہ اہل ایمان تھے۔ انہوں نے غار میں پناہ لی تھی۔ ان کے کانوں پر مہر لگا دی گئی تھی یعنی سو گئے تھے ، کئی سال تک سالوں کی تعداد معلوم نہیں اس طویل نیند سے وہ اٹھائے گئے۔ ان کی میعاد کہف کے بارے ان میں دو گروہ ہوگئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ کس کا اندازہ زیادہ درست ہے اور یہ کہ یہ قصہ عجیب و غریب ہونے کے باوجود عجیب نہیں ہے۔ اس کائنات میں اس سے بھی زیادہ عجوبے ہیں اور اصحاف کہف اور اصحاب رقمی سے زیادہ عجیب تر۔ یہ پرکشش تلخیص دینے کے بعد اب اس قصے کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ تفصیلات سے پہلے بتایا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں چونکہ تاریخی روایات میں بےحد اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں ہم جو کچھ بتا رہے ہیں وہ فیصلہ کن امر ہے اور یہی حق الیقین ہے۔

الكهف 18:10

یہ اس قصے کی تلخیص ہے اور اس کی روٹ لائن اس میں دی گئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک گروہ تھا۔ تعداد معلوم نہیں ہے۔ یہ اہل ایمان تھے۔ انہوں نے غار میں پناہ لی تھی۔ ان کے کانوں پر مہر لگا دی گئی تھی یعنی سو گئے تھے ، کئی سال تک سالوں کی تعداد معلوم نہیں اس طویل نیند سے وہ اٹھائے گئے۔ ان کی میعاد کہف کے بارے ان میں دو گروہ ہوگئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ کس کا اندازہ زیادہ درست ہے اور یہ کہ یہ قصہ عجیب و غریب ہونے کے باوجود عجیب نہیں ہے۔ اس کائنات میں اس سے بھی زیادہ عجوبے ہیں اور اصحاف کہف اور اصحاب رقمی سے زیادہ عجیب تر۔ یہ پرکشش تلخیص دینے کے بعد اب اس قصے کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ تفصیلات سے پہلے بتایا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں چونکہ تاریخی روایات میں بےحد اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں ہم جو کچھ بتا رہے ہیں وہ فیصلہ کن امر ہے اور یہی حق الیقین ہے۔

الكهف 18:11

یہ اس قصے کی تلخیص ہے اور اس کی روٹ لائن اس میں دی گئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک گروہ تھا۔ تعداد معلوم نہیں ہے۔ یہ اہل ایمان تھے۔ انہوں نے غار میں پناہ لی تھی۔ ان کے کانوں پر مہر لگا دی گئی تھی یعنی سو گئے تھے ، کئی سال تک سالوں کی تعداد معلوم نہیں اس طویل نیند سے وہ اٹھائے گئے۔ ان کی میعاد کہف کے بارے ان میں دو گروہ ہوگئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ کس کا اندازہ زیادہ درست ہے اور یہ کہ یہ قصہ عجیب و غریب ہونے کے باوجود عجیب نہیں ہے۔ اس کائنات میں اس سے بھی زیادہ عجوبے ہیں اور اصحاف کہف اور اصحاب رقمی سے زیادہ عجیب تر۔ یہ پرکشش تلخیص دینے کے بعد اب اس قصے کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ تفصیلات سے پہلے بتایا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں چونکہ تاریخی روایات میں بےحد اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں ہم جو کچھ بتا رہے ہیں وہ فیصلہ کن امر ہے اور یہی حق الیقین ہے۔

الكهف 18:12

یہ اس قصے کی تلخیص ہے اور اس کی روٹ لائن اس میں دی گئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک گروہ تھا۔ تعداد معلوم نہیں ہے۔ یہ اہل ایمان تھے۔ انہوں نے غار میں پناہ لی تھی۔ ان کے کانوں پر مہر لگا دی گئی تھی یعنی سو گئے تھے ، کئی سال تک سالوں کی تعداد معلوم نہیں اس طویل نیند سے وہ اٹھائے گئے۔ ان کی میعاد کہف کے بارے ان میں دو گروہ ہوگئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ کس کا اندازہ زیادہ درست ہے اور یہ کہ یہ قصہ عجیب و غریب ہونے کے باوجود عجیب نہیں ہے۔ اس کائنات میں اس سے بھی زیادہ عجوبے ہیں اور اصحاف کہف اور اصحاب رقمی سے زیادہ عجیب تر۔ یہ پرکشش تلخیص دینے کے بعد اب اس قصے کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ تفصیلات سے پہلے بتایا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں چونکہ تاریخی روایات میں بےحد اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں ہم جو کچھ بتا رہے ہیں وہ فیصلہ کن امر ہے اور یہی حق الیقین ہے۔

الكهف 18:13

اس قصے کے مناظر میں سے یہ پہلا منظر ہے۔ انھم فتیۃ امنوا بربھم (81 : 31) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ “ اور مزید یہ کہ وزدنھم ھدی (81 : 31) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ “ اور مزید یہ کہ وزدنھم ھدی (81 : 31) ” اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ “ عینی ان کو یہ الہام کردیا تھا کہ وہ اپنے معاملات میں کس طرح تدابیر اختیار کریں اور پھر و ربطنا علی قلوبھم (81 : 31) ” اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے۔ “ چناچہ یہ لوگ اپنے ایمان پر ثابت قدم ہوگئے۔ راسخ العقیدہ ہوگئے اور جس سچائی کو انہوں نے اختیار کیا تھا اور جان لیا تھا اس پر استقامت اختیار کرلی تھی اور جو ایمان انہوں نے اپنایا تھا وہ انہیں بہت ہی عزیز تھا۔

الكهف 18:14

اذقاموا (81 : 31) یعنی وہ اٹھے اور انہوں نے ایمان کی تحریک برپا کردی اور وہ عزم و ثبات کا پیکر بن گئے۔ فقالوا ربنا رب السموت والارض (81 : 31) ” انہوں نے کہا ہمارا رب تو بس وہ ی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ “ وہ رب کائنات ہے۔ سب کی سب کا۔ لن دعوا من دونہ الھا (81 : 31) ” ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ “ کیونکہ وہ واجد ہے اور بلا شریک ہے۔ لقد قلنا اذا شططا (81 : 31) ” اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بےجا بات کریں گے۔ “ حق سے تجاوز کریں گے اور صحیح راستے سے ایک طرف ہوجائیں گے۔ اس کے بعد وہ اس امر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس پر ان کی قوم عمل پیرا تھی ، وہ ان کے عقائد پر تنقید کرتے ہیں اور اس منہجا پر اعتراض کرتے ہیں جس کے مطابق ان کی قوم زندگی بسر کر رہی تھی ،

الكهف 18:15

ھولآء قومنا اتخذوا من دونہ الھۃ لولا یاتون علیھم بسلطن بین (81 : 51) ” یہ ہماری قوم تو رب کائنات کو چھوڑ کر دور سے خدا بنا بیٹھی ہے ، یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی بین دلیل کیوں نہیں لاتے۔ “ اسلامی نظریہ حیات میں یہ بات عقیدے کا حصہ ہے کہ انسان جو موقف اختیار کرے اس پر اس کے پاس دلیل بین ہو۔ ایسی دلیل ہو جو دل کو لگتی ہو ، اور عقل اسے تسلیم کرتی ہو ، اگر ایسا نہیں ہے تو وہ کذب اور افتراء ہے اور یہ چونکہ کذب علی اللہ ہے ، اس لئے یہ زیادہ گھنائونا جھوٹ ہے۔ فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً (81 : 51) ” آخر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ “ یہاں تک تو اسے قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کا موقف واضح ، صریح اور دو ٹوک ہے ، اس میں کوئی تردد یا کوئی توقف نہیں ہے۔ یہ نوجوان ہیں ، جسمانی لحاظ سے بھی قوی ہیں ، ایمان میں بھی شدید ہیں اور قوم جس غلط راہ پر چل رہی ہے ، اس سے بھی انہیں سخت نفرت ہے۔ دو گروہوں کی راہیں مختلف ہوچکی ہیں ، ان کی زندگی کے طریقے ایک دوسرے سے جدا ہوچکے ہیں ، اب دونوں کے باہم ملنے کے لئے کوئی موقف نہیں ہے۔ ان دونوں کی زندگیاں ایک جگہ نہیں گزر سکتیں۔ لہٰذا صرف ایک راہ رہ جاتی ہے وہ یہ کہ یہ نوجوان اپنے نظریات کو لے کر ہجرت کر جائیں ، یہ اپنی قوم کی طرف رسول بنا کر نہ بھیجے گئے تھے تاکہ وہ اپنی قوم کا مقابلہ کریں۔ اپنے نظریات پر جم جائیں ، غلط نظریات کے مقابلے میں صحیح نظریات پیش کریں۔ ان کو دعوت دیں اور اس انجام تک پہنچیں جن تک رسول پہنچتے ہیں بلکہ وہ کچھ نوجوان تھے ، کافرانہ ماحول میں ان کو ایمان کی روشنی مل گئی تھی۔ اگر وہ ایسے ماحول میں اپنے عقائد کا اظہار کرتے ہیں تو اس معاشرے میں ان کا زندہ رہنا مشکل ہے۔ صورت حال یہ تھی کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ مقابلہ بھی نہ کرسکتے تھے ، خود قوم کی راہ پر بھی نہ جاسکتے تھے ، قوم کو اپنی راہ پر نہ لا سکتے تھے ، نہ وہ تقیہ کر کے ان کے غلط الہوں کی عبادت کرسکتے تھے اور نہ اپنی عبادت کو چھپا سکتے تھے بلکہ راجح بات یہ ہے کہ ان کے عقائد و نظریات کے بارے میں کافروں کو علم ہوچکا تھا۔ اس لئے ان کے لئے صرف ایک ہی راہ رہ گئی تھی کہ وہ اپنے دین اور نظریات کو لے کر بھاگ نکلیں اور شہر میں پر آسائش زندگی بسر کرنے کے بجائے کسی غار میں جا چھپیں۔ انہوں نے باہم مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا :

الكهف 18:16

واذا اعتزلتموھم و مایعبدون الا اللہ فاو وآ الی الکھف ینشرلکم ربکم من رحمتہ ویھیمی لکم من امرکم مرفقاً (81 : 61) ” اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبود ان غیر اللہ سے بےتعلق ہوچکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو ، تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا امن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لئے سرو سامان مہیا کرے گا۔ “ یہاں حقیقی مومن دلوں کی اصل حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہ نوجوان اپنی قوم کو چھوڑ کر علیحدہ ہوگئے ہیں۔ یہ اپنے علاقے کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ رہے ہیں ، گھروں اور کاروبار اور کرہ ارض اور اس دنیا کی زیب وزینت کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ رہے ہیں ، گھروں اور کاروبار اور کرہ ارض اور اس دنیا کی زیب وزینت کو چھوڑ رہے ہیں اور یہ لوگ کہاں پناہ لے رہے ہیں ؟ ایک کرخت پتھریلی جگہ اور تاریک غار میں۔ لیکن یہاں رحمت خداوندی ہے اور اس رحمت میں وہ خوش ہیں۔ اس تاریک غار میں انہیں اللہ کی رحمت سے رضا مندی نہایت وسیع نظر آتی ہے۔ ینشرلکم ربکم من رحمتہ (81 : 61) ” تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن پھیلا دے گا۔ “ ینشر کا لفظ کشادگی ، وسعت اور خوشی اور مسرت کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ تاریک غار ان کے لئے ایک کھلا میدان ہے اور کھلی فضا ہے۔ طویل و عریض میدان ہے اور اس میں رحمت خداوندی کی چھائوں ہے اور یہاں وہ نہایت ہی خوشحالی ، آرام اور سکون محسوس کرتے ہیں۔ جب اللہ کی رحمت ہو تو نہایت ہی تنگ جگہ ایک وسیع میدان نظر آتی ہے اور ان کی اونچی اونچی دیواریں کر جاتی ہیں اور تنہائی اور وحشت کے غبار چھٹ جاتے ہیں۔ رحمت خداوندی شفقت اور خوشی اور سہولت کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ اس ظاہری دنیا کی قدر وق یمت کیا ہے ؟ اور دنیاوی زندگی کی ان اقدار کی کیا قیمت جن سے لوگ اس زندگی میں متعارف ہوچکے ہیں ؟ اور ان کے عادی ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی دنیا ایک دوسری دنیا ہے۔ اس دنیا کے ساز و سامان کچھ اور ہیں۔ اس دنیا میں ایک مومن رحمٰن کے ساتھ ، انس و محبت کے ساتھ ، اللہ کے سایہ میں اللہ کی رضا مندی ، محبت اور اطمینان کے وسیع سائے میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ اب اس منظر سے پردہ گرتا ہے اور جب پردہ اٹھتا ہے تو ایک دوسرا منظر ہمارے سامنے ہے۔ یہ نوجوان ہیں یہ اس غار میں نہایت ہی اطمینان سے گہری نیند میں ڈوبے ہوئے آرام کر رہے ہیں۔

الكهف 18:17

یہ عجیب مصورانہ منظر ہے ، غار کے اندر پڑے ہوئے نوجوانوں کی ہو بہو تصویر کشی کی گئی ہے۔ الفاظ کے ذریعے ایسی تصویر کشی جس طرح فلم چل رہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں۔ سورج طلوع ہوتا ہے اور وہ ایک طرف ہو کر گزر جاتا ہے گویا وہ عمداً ایسا کر رہا ہے تو اور کا لفظ سورج کے طلوع کے عمل کے ساتھ ساتھ سورج کے ارادے کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ ان کو چھوڑ کر دائیں طرف نکل جاتا ہے اور جب وہ غروب وہتا ہے کہ وہ شمال کی طرف ہو کر گزر جاتا ہے اور یہ لوگ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔ اس منظر کی تکمیل سے پہلے درمیان میں ایک قرآنی تبصرہ بھی آجاتا ہے۔ قرآن کا یہ مخصوص اسلوب کلام ہے کہ قصے کے درمیان مناسب جگہ پر انسانی دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔ ذلک من ایت اللہ (81 : 81) ” یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ “ ان کو غار میں یوں رکھنا ، سورج کی شعاعوں سے ان کو محفوظ رکھنا ، اور سورج کی روشنی ان کو فراہم کرنا اور غار کے اندر ان کو اس حال میں رکھنا کہ نہ مرتے ہیں اور نہ حرکت کرتے ہیں۔ من یھد اللہ فھو المھتد ومن یضلل فلن تجدلہ ولیا مرشداً (81 : 81) ” جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لئے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے۔ “ ہدایت اور ضلالت کے لئے ایک قانون قدرت اور ایک سنت الہیہ ہے جو شخص آیات الہیہ کو دیکھ کر ہدایت کی راہ لے ، اس کے ناموس قدرت کے تحت تو وہ حقیقی ہدایت ہوگا اور جس نے ہدایت کے اسباب ہی فراہم نہ کئے وہ گمراہ ہوا اور اس کی گمراہی بھی سنت الہیہ کے مطابق اور ناموس قدرت کے تحت ہوتی ہے اور اسے یوں اللہ ہی گمراہ کردیتا ہے اور پھر اس کا کوئی ولی مرشد نہیں ہوتا۔ اس درمیانی نوٹ کے بعد یہ منظر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ سوتے میں کروٹیں لے رہے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہیں۔ مگر درحقیقت وہ سو رہے ہیں اور ان کا کتا کتوں کی عادت کے مطابق اپنے باز و غار کے دہانے پر پھیلائے سو رہا ہے۔ گویا وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں جو بھی ان کو دیکھے مرعوب ہو کر بھاگ اٹھے۔ کیونکہ وہ اس طرح سو رہے ہیں کہ جاگتے نظر آتے ہیں ، کروٹ بدل رہے ہیں اور جاگتے نہیں۔ یہ تھی اللہ کی تدبیر ان کے بارے میں تاکید وہ اپنے مقررہ وقت تک یوں ہی رہیں۔ … اچانک یہ لوگ جاگ اٹھتے ہیں۔ ان میں زندگی کی حرکت دوڑ رہی ہے دیکھو اور سنو اس نئیم نظر کو۔ “

الكهف 18:18

یہ عجیب مصورانہ منظر ہے ، غار کے اندر پڑے ہوئے نوجوانوں کی ہو بہو تصویر کشی کی گئی ہے۔ الفاظ کے ذریعے ایسی تصویر کشی جس طرح فلم چل رہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں۔ سورج طلوع ہوتا ہے اور وہ ایک طرف ہو کر گزر جاتا ہے گویا وہ عمداً ایسا کر رہا ہے تو اور کا لفظ سورج کے طلوع کے عمل کے ساتھ ساتھ سورج کے ارادے کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ ان کو چھوڑ کر دائیں طرف نکل جاتا ہے اور جب وہ غروب وہتا ہے کہ وہ شمال کی طرف ہو کر گزر جاتا ہے اور یہ لوگ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔ اس منظر کی تکمیل سے پہلے درمیان میں ایک قرآنی تبصرہ بھی آجاتا ہے۔ قرآن کا یہ مخصوص اسلوب کلام ہے کہ قصے کے درمیان مناسب جگہ پر انسانی دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔ ذلک من ایت اللہ (81 : 81) ” یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ “ ان کو غار میں یوں رکھنا ، سورج کی شعاعوں سے ان کو محفوظ رکھنا ، اور سورج کی روشنی ان کو فراہم کرنا اور غار کے اندر ان کو اس حال میں رکھنا کہ نہ مرتے ہیں اور نہ حرکت کرتے ہیں۔ من یھد اللہ فھو المھتد ومن یضلل فلن تجدلہ ولیا مرشداً (81 : 81) ” جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لئے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے۔ “ ہدایت اور ضلالت کے لئے ایک قانون قدرت اور ایک سنت الہیہ ہے جو شخص آیات الہیہ کو دیکھ کر ہدایت کی راہ لے ، اس کے ناموس قدرت کے تحت تو وہ حقیقی ہدایت ہوگا اور جس نے ہدایت کے اسباب ہی فراہم نہ کئے وہ گمراہ ہوا اور اس کی گمراہی بھی سنت الہیہ کے مطابق اور ناموس قدرت کے تحت ہوتی ہے اور اسے یوں اللہ ہی گمراہ کردیتا ہے اور پھر اس کا کوئی ولی مرشد نہیں ہوتا۔ اس درمیانی نوٹ کے بعد یہ منظر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ سوتے میں کروٹیں لے رہے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہیں۔ مگر درحقیقت وہ سو رہے ہیں اور ان کا کتا کتوں کی عادت کے مطابق اپنے باز و غار کے دہانے پر پھیلائے سو رہا ہے۔ گویا وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں جو بھی ان کو دیکھے مرعوب ہو کر بھاگ اٹھے۔ کیونکہ وہ اس طرح سو رہے ہیں کہ جاگتے نظر آتے ہیں ، کروٹ بدل رہے ہیں اور جاگتے نہیں۔ یہ تھی اللہ کی تدبیر ان کے بارے میں تاکید وہ اپنے مقررہ وقت تک یوں ہی رہیں۔ … اچانک یہ لوگ جاگ اٹھتے ہیں۔ ان میں زندگی کی حرکت دوڑ رہی ہے دیکھو اور سنو اس نئیم نظر کو۔ “

الكهف 18:19

اس قصے کے بیان میں سرپرائز کا عمل جاری ہے۔ اچانک جب یہ منظر سامنے آتا ہے تو نوجوان اب جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ یہ اندازہ صحیح اندازہ نہیں کرسکتے کہ انہوں نے اس غار میں کتنا وقت گزارا ۔ اور کتنی دیر تک سوتے رہے۔ یہ آنکھیں ملتے ہیں ، ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ پوچھتے ہیں بھائی کتنی دیر ہوگئی۔ طویل نند سے جاگ کر ہر شخ پہلا سوال یہی کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک طویل نیند کے کچھ آثار بھی پا رہے تھے۔ تو انہوں نے یہی اندازہ لگایا۔ لبثنا یوما او بعض یوم (81 : 91) ” شاید ایک دن یا اس سے کچھ کم “ اس کے بعد انہوں نے یہ موضوع سخن ترک کردیا ، جس پر بحث کا کوئی عملی فائدہ نہ تھا۔ اور اس مسئلے کو اللہ کے علم کے حوالے کر کے انہوں نے عملی کام میں مشغول ہونا مناسب سمجھا۔ یہ اہل ایمان کی شان اور عادت ہوتی ہے کہ وہ ان معاملات میں طویل دلچسپی نہیں لیتے ، جن میں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بھوکے تھے اور ان کے پاس چاندی کے روپے تھے جنہیں وہ شہر سے لے کر نکلے تھے۔ قالوا ربکم اعلم بما لبتتم فابعثوآ احدکم بورقکم ھذہ الی المدینۃ فلینظر ایھا از کی طعاماً فلیاتکم برزق منہ (81 : 91) ” پھر وہ بولے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتن اوقت اسی حالت میں گزرا ، چلو اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے ، وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لئے لائے۔ “ یعنی وہ پاکیزہ اور اچھا کھانا شہر میں تلاش کرے اور اس میں سے کچھ خرید کرلے آئے۔ وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ ان کی جائے پناہ کسی کو معلوم نہ ہوجائے اور انہیں شہر کے حکمران پکڑ نہ لیں اور اس طرح ان کو سنگسار کر کے قتل نہ کردیں۔ کیونکہ ان حکمرانوں کے خیال میں وہ مروجہ دین سے خارج ہوگئے تھے۔ اس لئے کہا یک مشرک گائوں میں وہ ایک خدا کو پوجنے تھے یا انہیں اس کا ڈر تھا کہ انہیں ان کے عقائد کی وجہ سے سزا دے کر فتنے میں نہ ڈال دیں۔ یہی وہ بات تھی جس سے وہ ڈرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ اس شخص جن کو جو شہر جا رہا تھا ، سخت احتیاط کرنے کی تاکید کر رہے تھے۔ ولیتلطف ولایشعرن بکم احداً (91) انھم ان یظھروا علیکم یرجموکم او یعبدوکم فی ملتھم ولن تفلحوا اذا ابداً (02) (81 : 91-02) ” اور چاہئے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔ اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑگیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے ، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے ، اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے۔ “ ظاہر ہے کہ جو شخص ایمان کی راہ چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرے وہ کب فلاح پا سکتا ہے۔ یہ تو عظیم خسارہ ہے ۔ ہم اس منظر میں دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ اس طرح ہم کلام ہیں ، ڈر رہے ہیں ، پکڑے جانے کا خوف ہے اور سہمے ہوئے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ زمانہ گزر گیا۔ سال و ماہ ایک عرصہ تک گردش کرچکے ہیں۔ صدیوں کے بعد نئے لوگ پیدا ہوگئے ہیں او نیا زمانہ ہے۔ وہ شہر جس کے وہ باشندے تھے اس کے در و دیوار بدل گئے ہیں اور جن حکمرانوں سے وہ ڈر رہے ہیں ان کا دور ہی چلا گیا ہے اور وہ قصہ کہ اس طرح فلاح صدی میں فلاں حکمران کے ظلم سے تنگ آ کر نوجوانوں کا ایک گرو شہر چھوڑ گیا تھا۔ وہ باپ دادا سے لوگوں میں نقل ہوتا چلا آ رہا تھا اور لوگوں کے درمیان ان کے بارے میں اختلاف رائے بھی نقل در نقل ہوتا ہوتا چلا آ رہا تھا۔ ان کی تعداد ان کے عقائد کے بارے میں اور یہ کہ کتنا رصہ ہوا ہے ان کا اس شہر کو چھوڑنے کا اور یہ کہ کب سے وہ لوگ روپوش ہیں۔ یہاں آ کر پردہ گر جاتا ہے ، غار کے اندر ان کی گفتگو ختم ہو جای ہے۔ یہاں سیاق کلام میں پھر ایک خلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ذہن انسانی خود اسے بھر دیتا ہے او ایک دوسرا منظر سامنے آجاتا ہے۔ اب معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل شراب سب کے سب مومن ہوچکے ہیں اور اہل شہر کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اصحاب کیف میں سے ہے جو مدت دراز ہوئی ایمان یجذبے سے شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے تو وہ ان لوگوں کا غایت درجہ احترام کرتے ہیں لیکن ہم یہاں سوچ سکتے ہیں کہ جب اس شخص کو معلوم ہوگا کہ وہ جب شہر چھوڑ کر گئے ہیں تو صدیوں کا عرصہ گزر گیا ہے۔ نیز اس شخص نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ شہر بدل گیا ہے۔ جب سے انہوں نے چھوڑا ہے ، بہت ہی طویل عرصہ گزر گیا ہے۔ ان کے اردگرد کی دنیا بالکل بدل گئی ہے۔ اس لئے ان کے لئے ہر چیز ایک عجوبہ ہے۔ وہ جب اپنے آپ کو دیکھ رہے تھے تو وہ زمانہ قدیم کے لوگ نظر آتے تھے۔ بلکہ لوگوں کے احساس اور ان کی نظر میں وہ عجوبہ تھے۔ اس لئے لوگوں نے بھی ان کے ساتھ عام انسانوں جیسا سلوک نہ کیا ہوگا اور ان کے اپنے دور میں جو رابطے ، رشتہ داریاں ، رسم و رواج کے عادات واطوار سب کے سب بدل گئے ہیں ، گویا وہ زمانہ قدیم کی ایک زندہ یاد گار ہیں۔ جو واقعی زندہ اس معاشرے میں لا کر کھڑے کردیئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کا مزید کرم یہی ہو سکتا ہے کہ ان کو فوراً اس دنیا سے اٹھا لے۔ چناچہ یہ لوگ فی الفور فوت ہوجاتے ہیں۔ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم یہ سب واقعات تصور کرلیں۔ کیونکہ قرآن ان واقعات کو چھوڑ کر اب آخری منظر پیش کرتا ہے۔ یہ لوگ فوت ہوگئے ہیں اور لوگ اس غار کے بہر جمع ہیں اور ان کے بارے میں باہم گفتگو اور تکرار کر رہے ہیں۔ لوگوں کا تنازعہ یہ تھا کہ یہ لوگ کس دین پر تھے۔ اب ان کو کس طرح دوام بخشا جائے اور کیا ذرائع اختیار کئے جائیں کہ ان کا ذکر دائما رہ جائے اور اگلی نسلیں بھی انہیں یاد رکھیں تاکہ ان کے اس عجیب واقعہ سے اگلی نسلیں بھی عبرت لیں اور اصحاب کہف ، سب کے لئے مشعل راہ ہوں۔

الكهف 18:20

اس قصے کے بیان میں سرپرائز کا عمل جاری ہے۔ اچانک جب یہ منظر سامنے آتا ہے تو نوجوان اب جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ یہ اندازہ صحیح اندازہ نہیں کرسکتے کہ انہوں نے اس غار میں کتنا وقت گزارا ۔ اور کتنی دیر تک سوتے رہے۔ یہ آنکھیں ملتے ہیں ، ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ پوچھتے ہیں بھائی کتنی دیر ہوگئی۔ طویل نند سے جاگ کر ہر شخ پہلا سوال یہی کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک طویل نیند کے کچھ آثار بھی پا رہے تھے۔ تو انہوں نے یہی اندازہ لگایا۔ لبثنا یوما او بعض یوم (81 : 91) ” شاید ایک دن یا اس سے کچھ کم “ اس کے بعد انہوں نے یہ موضوع سخن ترک کردیا ، جس پر بحث کا کوئی عملی فائدہ نہ تھا۔ اور اس مسئلے کو اللہ کے علم کے حوالے کر کے انہوں نے عملی کام میں مشغول ہونا مناسب سمجھا۔ یہ اہل ایمان کی شان اور عادت ہوتی ہے کہ وہ ان معاملات میں طویل دلچسپی نہیں لیتے ، جن میں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بھوکے تھے اور ان کے پاس چاندی کے روپے تھے جنہیں وہ شہر سے لے کر نکلے تھے۔ قالوا ربکم اعلم بما لبتتم فابعثوآ احدکم بورقکم ھذہ الی المدینۃ فلینظر ایھا از کی طعاماً فلیاتکم برزق منہ (81 : 91) ” پھر وہ بولے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتن اوقت اسی حالت میں گزرا ، چلو اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے ، وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لئے لائے۔ “ یعنی وہ پاکیزہ اور اچھا کھانا شہر میں تلاش کرے اور اس میں سے کچھ خرید کرلے آئے۔ وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ ان کی جائے پناہ کسی کو معلوم نہ ہوجائے اور انہیں شہر کے حکمران پکڑ نہ لیں اور اس طرح ان کو سنگسار کر کے قتل نہ کردیں۔ کیونکہ ان حکمرانوں کے خیال میں وہ مروجہ دین سے خارج ہوگئے تھے۔ اس لئے کہا یک مشرک گائوں میں وہ ایک خدا کو پوجنے تھے یا انہیں اس کا ڈر تھا کہ انہیں ان کے عقائد کی وجہ سے سزا دے کر فتنے میں نہ ڈال دیں۔ یہی وہ بات تھی جس سے وہ ڈرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ اس شخص جن کو جو شہر جا رہا تھا ، سخت احتیاط کرنے کی تاکید کر رہے تھے۔ ولیتلطف ولایشعرن بکم احداً (91) انھم ان یظھروا علیکم یرجموکم او یعبدوکم فی ملتھم ولن تفلحوا اذا ابداً (02) (81 : 91-02) ” اور چاہئے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔ اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑگیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے ، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے ، اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے۔ “ ظاہر ہے کہ جو شخص ایمان کی راہ چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرے وہ کب فلاح پا سکتا ہے۔ یہ تو عظیم خسارہ ہے ۔ ہم اس منظر میں دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ اس طرح ہم کلام ہیں ، ڈر رہے ہیں ، پکڑے جانے کا خوف ہے اور سہمے ہوئے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ زمانہ گزر گیا۔ سال و ماہ ایک عرصہ تک گردش کرچکے ہیں۔ صدیوں کے بعد نئے لوگ پیدا ہوگئے ہیں او نیا زمانہ ہے۔ وہ شہر جس کے وہ باشندے تھے اس کے در و دیوار بدل گئے ہیں اور جن حکمرانوں سے وہ ڈر رہے ہیں ان کا دور ہی چلا گیا ہے اور وہ قصہ کہ اس طرح فلاح صدی میں فلاں حکمران کے ظلم سے تنگ آ کر نوجوانوں کا ایک گرو شہر چھوڑ گیا تھا۔ وہ باپ دادا سے لوگوں میں نقل ہوتا چلا آ رہا تھا اور لوگوں کے درمیان ان کے بارے میں اختلاف رائے بھی نقل در نقل ہوتا ہوتا چلا آ رہا تھا۔ ان کی تعداد ان کے عقائد کے بارے میں اور یہ کہ کتنا رصہ ہوا ہے ان کا اس شہر کو چھوڑنے کا اور یہ کہ کب سے وہ لوگ روپوش ہیں۔ یہاں آ کر پردہ گر جاتا ہے ، غار کے اندر ان کی گفتگو ختم ہو جای ہے۔ یہاں سیاق کلام میں پھر ایک خلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ذہن انسانی خود اسے بھر دیتا ہے او ایک دوسرا منظر سامنے آجاتا ہے۔ اب معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل شراب سب کے سب مومن ہوچکے ہیں اور اہل شہر کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اصحاب کیف میں سے ہے جو مدت دراز ہوئی ایمان یجذبے سے شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے تو وہ ان لوگوں کا غایت درجہ احترام کرتے ہیں لیکن ہم یہاں سوچ سکتے ہیں کہ جب اس شخص کو معلوم ہوگا کہ وہ جب شہر چھوڑ کر گئے ہیں تو صدیوں کا عرصہ گزر گیا ہے۔ نیز اس شخص نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ شہر بدل گیا ہے۔ جب سے انہوں نے چھوڑا ہے ، بہت ہی طویل عرصہ گزر گیا ہے۔ ان کے اردگرد کی دنیا بالکل بدل گئی ہے۔ اس لئے ان کے لئے ہر چیز ایک عجوبہ ہے۔ وہ جب اپنے آپ کو دیکھ رہے تھے تو وہ زمانہ قدیم کے لوگ نظر آتے تھے۔ بلکہ لوگوں کے احساس اور ان کی نظر میں وہ عجوبہ تھے۔ اس لئے لوگوں نے بھی ان کے ساتھ عام انسانوں جیسا سلوک نہ کیا ہوگا اور ان کے اپنے دور میں جو رابطے ، رشتہ داریاں ، رسم و رواج کے عادات واطوار سب کے سب بدل گئے ہیں ، گویا وہ زمانہ قدیم کی ایک زندہ یاد گار ہیں۔ جو واقعی زندہ اس معاشرے میں لا کر کھڑے کردیئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کا مزید کرم یہی ہو سکتا ہے کہ ان کو فوراً اس دنیا سے اٹھا لے۔ چناچہ یہ لوگ فی الفور فوت ہوجاتے ہیں۔ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم یہ سب واقعات تصور کرلیں۔ کیونکہ قرآن ان واقعات کو چھوڑ کر اب آخری منظر پیش کرتا ہے۔ یہ لوگ فوت ہوگئے ہیں اور لوگ اس غار کے بہر جمع ہیں اور ان کے بارے میں باہم گفتگو اور تکرار کر رہے ہیں۔ لوگوں کا تنازعہ یہ تھا کہ یہ لوگ کس دین پر تھے۔ اب ان کو کس طرح دوام بخشا جائے اور کیا ذرائع اختیار کئے جائیں کہ ان کا ذکر دائما رہ جائے اور اگلی نسلیں بھی انہیں یاد رکھیں تاکہ ان کے اس عجیب واقعہ سے اگلی نسلیں بھی عبرت لیں اور اصحاب کہف ، سب کے لئے مشعل راہ ہوں۔

الكهف 18:21

اس واقعہ سے قرآن مجید کے پیش نظر کیا نتیجہ نکالنا مقصود ہے ؟ یہ کہ بعث بعد الموت کے لئے یہ واقعہ ایک قریب انفہم اور محسوس نمونہ ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ موجودہ انسانی ڈھانچے کو بھی صدیوں تک زندہ رکھ سکتا ہے اور دوبارہ بھی اٹھا سکتا ہے اور قیام قیامت اور بعث بعد الموت حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یوں اللہ نے ان نوجوانوں کو ان کی نیند سے جگایا اور ان کی قوم کو بتایا کہ صدیوں تک یہ لوگ یونہی پڑے تھے۔ اب بعض لوگوں نے کہا بعض لوگوں نے کہا ان پر دیوار چن دو کیونکہ ان کے عقائد کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔ ان کا رب ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے یعنی ان کے عقائد اور ان کی پوزیشن کے بارے میں لیکن اس وقت اصحاب حل و عقد نے کہا ’ ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے “ مسجد سے مقصد یہاں عبادت گاہ ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ تھا کہ و انبیاء اور اولیاء کی قبروں کے قریب عبادت گاہ بنا دیتے تھے۔ جس طرح آج مسلمانوں میں سے جو لوگ نبی ﷺ کے طریقہ کار کو چھوڑ کر ، صلحاء کی قبروں کے ساتھ مساجد اور گنبد بناتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پ جنہوں نے اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں سے عبادت گاہ بنا دی “ اب اس منظر پر بھی پردہ گرتا ہے اور جب پردہ اٹھتا ہے تو اصحاب کہف کے بارے میں اب تاریخی مباحث شروع ہیں ، جیسا کہ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔ لوگ تاریخی خبریں اور روایات نقل کرتے رہتے ہیں۔ بعض واقعات کو حذف کردیتے ہیں ، بعض میں اضافہ کردیتے ہیں اور نسلا بعد نسل ان واقعات میں اپنے خیالات بھرتے رہتے ہیں اب قصے پھیلتے جاتے ہیں اصل قصہ الگ رہ جاتا ہے کچھ اور واقعات اہمیت اختیار کرلیتے ہیں ایک ایک بات کے بارے میں اقوال و اختلاف سامنے آتے ہیں اور قیل و قال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور جوں جوں وقت گزرتا ہے اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔

الكهف 18:22

اب ان لوگوں کی تعداد کے بارے میں بحث لا حاصل ہے۔ اس لئے کہ اگر ان کی تعداد تین ہو یا چار ہو ، پانچ ہو یا زیادہ تو اس سے اصل واقعہ اور اس سے جو عبرت سکھانا تھا اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ کتنے تھے ، یہ بات اللہ ہی جانتا ہے۔ یا وہ قلیل لوگ جانتے تھے جن کے سامنے یہ واقعہ ہوا۔ یا جن تک صحیح روایات پہنچیں۔ لہٰذا ان کی تعداد کے بارے میں مباحثہ کرنا بےفائدہ بات ہے ان کی تعداد کم ہو یا زیادہ ان کے واقعہ سے جو نصیحت اور عبرت حاصل ہوتی ہے ، اس پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لئے قرآن مجید حضور ﷺ کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ آپ ﷺ کسی سے ان کی تعداد کے بارے میں نہ الجھیں اور نہ ان کے بارے ان اہل کتاب سے پوچھیں کیونکہ ان کا علم خود مضطرب ہے۔ اس لئے کہ اسلام اور قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ انسان کو عقل و خرو کی قوتوں کو ایسے کاموں میں نہیں کھپانا چاہئے جس سے کوئی فائدہ نہ ہو۔ نیز ایک مسلم کو اس موضوع پر بحث نہیں کرنا چاہئے جس میں اسے پورا پورا علم حاصل نہ ہو۔ یہ واقعہ ایک قدیم تاریخی واقعہ ہے۔ اصل حقائق سے صرف اللہ خبردار ہے۔ لہٰذا اسے علم الٰہی کے لئے چھوڑ دینا چاہئے۔ ماضی کے غیوبات کے باے میں بحث سے منع کیا گیا تو اس موقعہ پر اس سے بھی منع کردیا گیا کہ مستقبل کے غیوبات کے بارے میں فضول پیشن گوئیوں میں بھی نہ الجھا جائے کہ کل کیا ہوگا ؟ جب انسان مستقبل کے بارے میں کوئی بات جانتا نہیں تو وہ اس کے بارے میں کیا قطعی رائے دے سکتا ہے ؟

الكهف 18:23

واقعہ یہ ہے کہ ہر حرکت اور پر سکون بلکہ زندہ انسانوں کے سا انسوں میں سے ہر سانس اللہ کے ارادے کی مرہون منت ہے۔ عالم غیب لمحہ حاضرہ کے پردے کے پچیھے مستور ہے اور انسانی آنکھ اس پر دے کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی۔ انسان چاہے بہت ہی عقلمند ہو ، مستقبل کے بارے میں اس کی عقل کند ہے اور کچھ جاننے سے قاصر ہے۔ لہٰذا کسی انسان کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں کل یہ کروں گا۔ جبکہ کل پردہ غیب کے پیچھے ہے اور کل کے نتائج کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ انسان بیٹھ جائے اور مستقبل کے امور کے بارے میں کوئی غور و فکر نہ کرے۔ اور وہ اپنی زندگی کے بارے میں صرف ایک دن ہی کی منصوبہ بندی کرے یا لمحہ بہ لمحہ زندگی کے بارے میں نئی نئی سوچ سامنے لائے اور اپنی سابقہ زندگی کو حال اور مستقبل کے ساتھ مربوط نہ کرے۔ ایسا مفہوم اس آیت کا ہرگز نہیں ہے بلکہ مفہوم یہ ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں غیبی اور ناگہانی واقعات اور اللہ کی مشیت کا بھی خیال رکھے۔ وہ جو عزم چاہے کرے ، جو منصوبہ چاہے بنائے ، لیکن اس کے بارے میں اللہ کی مدد کا طلب گار ہو ، یہ بات ذہن میں رکھے کہ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اگر کام اس کے منصوبے کے مطابق ہوگیا تو بہتر ورنہ اگر اللہ کی مشیت نے اس کے لخاف کوئی اور تدبیر کردی تو اسے بھی وہ معبد نہ سمجھے ، کیونکہ اللہ کا حکم بہر حال برتر رہتا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ سوچے ، تدبیر کرے۔ لیکن اسے یہ شعور زندہ رکھنا چاہئے کہ وہ جو سوچتا ہے ، وہ توفیق الٰہی اور اللہ کی فراہم کردہ آسانیوں کے نتیجے ہی میں کرسکتا ہے۔ اس کی وہی سوچ اور وہی تدبیر کامیاب ہو سکتی ہے جس کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال ہو۔ یاد رہے کہ یہ کاہلی ، سستی ، ضعف اور بےتدبیری کا جواز فراہم نہ کرے بلکہ چاہئے کہ اس سے قوت ، اعتماد ، اطمینان اور عزم مضبوط ہو۔ اور اگر کام اس کی تدابیر کے خلاف ہوجائے تو بس وہ یہی کہہ دے کہ اللہ کا حکم اور فیصلہ ایسا ہی ہوگا۔ ہم اللہ کے فیصلے پر راضی ہیں مطمئن ہیں اور سر تسلیم خم کرتے ہیں کیو ن کہ ہونا وہی تھا جو ہوا ، البتہ ہمیں وہ معلوم نہ تھا وہ پردہ غیب کے پیچھے مستور تھا۔ یہ ہے وہ طریقہ کار جس پر اسلام ایک مومن کو ڈالنا چاہتا ہے لہٰذا ایک مومن تنہائی اور وحشت محسوس نہیں کرتا۔ بلکہ ہر وقت فکر و تدبیر کرتا رہتا ہے اور اگر وہ کامیاب ہوتا ہے تو وہ غرور اور سرکشی اختیار نہیں کرتا۔ نہ وہ قنوطیت اور مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی منصوبے میں ناکام ہوجائے ، بلکہ کامیابی اور ناکامی دونوں میں وہ اللہ سے جڑا رہتا ہے۔ اس کا اللہ پر پورا پورا بھروسہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق پر راضی ہوتا ہے۔ اس کے فیصلوں پر راضی برضا ہوتا ہے نہ وہ متکبر ہوتا ہے اور نہ قنوطی ہوتا ہے۔

الكهف 18:24

” اور جب تم بھول ائو تو اللہ کو یاد کرو “ اگر کسی وقت تم اللہ کی طرف متوجہ ہونا بھول جائو تو فوراً اس کی طرف متوجہ ہو جائو اور کہہ دو ” اور کہو ، امید ہے کہ میرا رب اس معاملے میں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔ “ اس نہج کے مطابق انسانی دل ہمیشہ اللہ سے جڑا ہوتا ہے اپنے اہم امور میں بھی اور اپنے تمام منصوبوں میں بھی۔ یہاں لفظ عسی (امید ہے) اور لفظ ناقرب (یعنی قریب تر بات) کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس لئے کہ یہ مقام بلند پانا عام لوگوں کے لئے بہت ہی مشکل ہے اور ہر انسان کو چاہئے کہ وہ ایسے مقام پر قائم رہنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔ اس قصے سے یہاں تک ہمیں معلوم نہ تھا کہ یہ لوگ غار میں کتنا عرصہ رہے۔ اب ہمیں یقینی طور پر معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کتنا عرصہ رہے ہیں۔

الكهف 18:25

یہ ہے ان کے بارے میں فیصلہ کن بات۔ اللہ جو عالم ہے غیوب السموات والارض کا اس نے یہ اطلاع دے دی۔ وہی ہے جو بہترین سننے والا ہے اور وہی ہے جو بہترین دیکھنے والا ہے۔ اس اعلان کے بعد کسی کے لئے کوئی بحث وجدال کی گنجائش نہیں ہے۔ اس قصے پر اب یہ تبصرہ سامنے آتا ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ولی ہے اور اس کے حکم اور اس کے قانون میں بھی کوئی شریک نہیں ہے۔

الكهف 18:26

رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ جو وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی آپ ﷺ اس کی تلاوت کریں۔ اسی میں دو ٹوک فیصلے ہیں۔ اس کے تمام فیصلے عین سچائی ہیں ، اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ ہمیں صرف اللہ کو پکارنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ کے سوا کوئی اور پناہ نہیں ہے۔ دیکھئے اصحاب کہف اللہ کی طرف بھاگے تو اللہ نے ان پر رحمت کی۔

الكهف 18:27

یوں یہ قصہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے اس کے آغاز میں اس کے درمیان میں اور اس کی انتہا میں جا بجا وہ ہدایات ہیں جن کی وجہ سے اس قصے کو قرآن میں جگہ دی گئی ہے۔ دینی اور نظریاتی ہدایات ساتھ ساتھ قصے کا فنی انداز بیان بھی نہایت اعلیٰ ہے۔

الكهف 18:28

درس نمبر 131 ایک نظر میں یہ سبق سب کا سب اسلامی نظریہ حیات کی قدروں کے تعین کے موضوع کے ساتھ منسلک ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اعلیٰ قدریں صرف مال و دولت ، منصب و مرتبہ اور اقتدار و اختیارات ہی نہیں ہیں ، نیز اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اعلیٰ قدریں صرف زندگی کا سازوسامان یا عیش و عشرت ہی نہیں ہیں۔ یہ تو سب کھوٹی اور زائل ہونے والی چیزیں ہیں۔ ان چیزوں سے جو حلال و طیب ہیں۔ اسلام ان کے خلاف نہیں ہے ، لیکن اسلام ان چیزوں کو انسانی زندگی کا مقصد اعلیٰ بھی قرار نہیں دیتا۔ اگر کوئی ان چیزوں سے زندگی میں فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو وہ بیشک اٹھائے ، لیکن وہ اس ذات باری کا بھی شکریہ ادا کرے جس نے انسان کے لیے یہ نعمتیں پیدا کی ہیں اور یہ شکر عمل صالح کے ذریعہ ادا کرے۔ کیونکہ اعمال صالحہ اللہ کے ہاں باقی رہنے والے ہیں اور ان کے نتائج انسانوں کے لئے عقبیٰ میں اچھے ہیں۔ اس سبق کا آغاز حضرت نبی ﷺ کو اس ہدایت سے ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے ساتھ جم جائیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور جن لوگوں نے اللہ کو بھلا دیا ، ان کو بھلا دیں۔ اس کے بعد فریقین کو ایک مثال سے واضح کیا جاتا ہے کہ ایک شخص اپنے مال ، عزت اور سازوسامان پر اتراتا ہے اور دوسرا ایمان خالص پر فخر کرتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ اللہ کے ہاں جو اجر ہے وہ سب سے بہتر ہے۔ اس کے بعد حیات دنیا کی فنا اور زوال کو ایک تمثیل سے واضح کیا جاتا ہے جس طرح دنیا میں شادابی پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ چیزیں بھس بن جاتی ہے اور ان کو ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور آخر میں یہ ثابت شدہ حقیقت بیان کی جاتی ہے۔ المال و البنون…املا (36:18) ” یہ مال اور یہ اولاد محض دنیاوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور انہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں “۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات اشراف قریش کے بارے میں نازل ہوئیں جن کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ﷺ اپنی مجلس سے غربائ، اہل ایمان مثلاً بلال ، عمار ، جناب اور ابن مسعود ؓ کو نکال دیں۔ حضور اکرم ﷺ کی خواہش تھی کہ اکابر قریش اگر ایمان لے آئیں تو اسلام کو ترقی نصیب ہوجائے۔ نیز آپ ﷺ یہ بھی خواہش رکھتے تھے کہ ان کے لئے عام مسلمانوں سے علیحدہ ایک مجلس کا انتظام کریں ، کیونکہ ان غرباء کے بدن پر ایسے جبے تھے جن سے پسینے کی بو آتی تھی اور گہرائے قریش کو یہ بات اذیت دیتی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ ان کے ایمان کے معاملے میں دلچسپی رکھتے تھے ، اس لئے آپ نے دل میں اہل قریش کے اس مطالبے پر غور شروع کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ و اصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ و العشی (27:18) ” اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلبگار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں “۔ یہ آیت نازل کرکے اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی قدر قائم کردی اور حق و باطل کی جدائی کے لئے ایک ایسا ترازو قائم کردیا جس میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی اور اس کے بعد پھر یہ اصول آتا ہے۔ فمن شاء فلیومن و من شذہ فیکفر (29:18) ” جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے “۔ اسلام کسی کی چاپلوسی نہیں کرتا اور نہ ہی وہ جاہلیت کے پیمانوں سے لوگوں کو ناپتا ہے ، نہ اسلام کسی بھی جاہلیت کے پیمانوں کو قبول کرتا ہے جو اسلام کے پیمانوں سے علیحدہ ہیں۔ و اصبر نفسک ” اپنے دل کو مطمئن کر دو “۔ نہ پریشان ہو اور نہ جلدی کرو۔ مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ و العشی یریدون وجھہ (28:18) ” ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کی رضا کے طلبگار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں “۔ ان کا مطلوب اللہ ہوتا ہے وہ صبح و شام اللہ کی ہی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ سے منہ نہیں پھیرتے۔ صرف اس کی رضا مندی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اور یہ لوگ جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ اس سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔ جس کی تلاش میں یہ طالبان دینا ہوتے ہیں۔ ولاتعد عینک عنھم ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا (28:18) ” اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو ، کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو “۔ یعنی آپ کی نظروں میں دنیا کی زیب وزینت کی اہمیت زیادہ نہ ہوجائے ، جس کا اہتمام ، یہ اہل دنیا بہت کرتے ہیں ، کیونکہ یہ تو دنیا کی زندگی کی زیب و زبیت ہے اور جو لوگ صبح و شام اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں ہیں ان کی نظریں جس افق پر ہیں وہ بہت بلند ہے۔ ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا و اتبع ھوہ و کان امرہ فرطاً (28:18) ” کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو ، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے اور جس کا طریق کار افراط وتفریط پر مبنی ہے “۔ یعنی ان کا جو مطالبہ ہے کہ امرائے قریش اور ان کے درمیان امتیازی سلوک کرو ، اس معاملے میں ان کی پیروی نہ کرو ، اگر یہ لوگ اللہ کا ذکر کرتے تو ان کے کبرو غرور میں کچھ کمی آجاتی اور ان کے سر ذرا جھک جاتے۔ اس غلو میں وہ کمی کردیتے اور غرور کی جن بلند چوٹیوں پر وہ بیٹھے ہیں ان سے ذرا نیچے اتر آئے اور اللہ کی بزرگی اور بلندی کا شعور انہیں حاصل ہوتا۔ جس کے نتیجے میں ان کے نزدیک تمام انسان مساوی ہوجاتے ۔ یہ لوگ اسلامی اخوت کے رابطے کو سمجھ جاتے ، جس کے اندر تمام انسان بھائی بھائی ہوجاتے ہیں۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں یعنی جاہلی خواہشات کی ۔ یہ بیوقوف ہیں ، ان کی خواہشات احمقانہ ہیں ، انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ہے ، لہٰذا اس کا صلہ ان کو یہ ملنا چاہیے کہ ان کو بھی بھلا دیا جائے۔ اسلام کا یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے تمام انسانوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا۔ اللہ کے ہاں کسی کو مال ، نسب ، مرتبہ کے زاویہ سے کوئی فضیلت نہیں ہے ، کیونکہ یہ قدریں تو زائل ہونے والی کھوٹی قدریں ہیں۔ اللہ کے نزدیک درجات کی بلندی و پستی صرف اس لحاط سے ہے کہ اللہ کے ہاں مرتبہ کس کا بلند ہے اور اللہ کے ہاں درجات کی بلندی کی پیمائش اس طرح ہوتی ہے کہ کون اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہے ، کون کس قدر اللہ کی طرف خالص ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ ہوائے نفس ہے ، حماقت ہے اور باطل اور زوال پذیر ہے۔ ولاتطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا (28:18) ” کسی ایسے شخص کی اطاعات نہ کرو ، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے “۔ اس کا دل غافل ہوا کہ وہ اپنی ذآت ، اپنے مال اور اپنی اولاد کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوگیا ، اس کی توجہات کا مرکز دنیا کا سازوسامان ، دنیا کی لذات اور خواہشات نفس بن گئے۔ اس کے دل میں اللہ کے لئے کوئی جگہ نہ رہی۔ یاد رہے کہ جو دل بھی ان مشاغل میں مشغول ہوجائیں اور ان کو اپنا مقصود اور مطلوب بنا لیں ، وہ ذکر الٰہی سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اللہ ان کی غفلت میں اور اضافہ کرتا ہے اور جس حال میں وہ ہوتے ہیں اس میں ان کو مہلت دیتا ہے۔ ان لوگوں کی زندگی ایسے ہی گزر جاتی ہے اور ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے جو انجام تیار کیا ہوتا ہے ، اس تک وہ پہنچ جاتے ہیں۔ یہ لوگ خود اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور دوسروں کے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں۔

الكهف 18:29

و قل الحق من ربکم فم شاء فلیومن و من شاء فلیکفر (29:18) ” صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، اب جس کا جی جا ہے مان لے اور جس کا جی چاہی انکار کر دے “۔ نہایت عزت کے ساتھ ، نہایت صاف گوئی کے ساتھ ، نہایت ہی فیصلہ کن انداز میں ہے یہ اعلان۔ حق کسی کے سامنے جھکتا نہیں۔ کسی کے سامنے ٹیڑہ اختیار نہیں کرتا۔ وہ بڑی قوت کے ساتھ آتا ہے۔ نہایت صراحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اس میں کوئی رو رعایت نہیں ہوتی۔ جو چاہے اسے مان لے ، جو چاہے اس کا انکار کر دے۔ اگر کسی کو سچائی پسند نہ ہو تو اپنی راہ لے۔ اگر کسی شخص کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کی خواہشات اللہ کی ہدایات کے تابع ہوں گی تو پھر نظریہ کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی سودا بازی نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی کی کھوپڑی اللہ کی بلندی کے مقابلے میں نہیں جھکتی اور وہ اپنے غرور کے بلند محلات سے نیچی نہیں اترتا تو اسلامی نظریہ حیات کو بھی اس کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کسی شخص کی ملکیت نہیں ہے کہ وہ اس میں رو رعایت کر دے ، سودا بازی کر دے ، یہ تو اللہ کی ملکیت ہے۔ اللہ تمام جہانوں سے غنی ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے ، جہاں تک اسلامی نظریہ حیات کا تعلق ہے۔ وہ کسی شخص پر فخر نہیں کرتا اور نہ کسی ایسے شخص سے نظریاتی امداد طلب کرتا ہے جو شخص اسے خالص طور پر قبول نہیں کرتا یا جو شخص اس نظریے کو پوری طرح قبول نہیں کرتا ، جس طرح کہ وہ ہے ، بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔ اور جو شخص اپنے آپ کو ان لوگوں سے بلند کوئی مخلوق سمجھتا ہے جو اپنے آپ کو رات اور دن رب کی پکار میں مصروف رکھتے ہیں اور صرف اللہ کی رضامندی کے طلبگار ہیں ، ایسے شخص سے کسی خیر کی توقع نہیں ہے ، نہ اسلام کے لئے ور نہ مسلمانوں کے لئے۔ انا اعتدنا للظلمین (29:18) ” ہم نے (انکار کرنے والے) ظالموں کے لئے ایک آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہ آگ تیار ہے اور حاضر و ومجود ہے۔ اسے جلانے کے لئے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ اس کے جلانے کے لئے اور تیار کرنے پر کوئی وقت لگتا ہے۔ باوجود اس کے کہ اللہ کی جانب سے کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے صرف کن کی ضرورت ہوتی ہے یعنی جب اللہ کا ارادہ ہوجائے تو وہ کام ہوجاتا ہے۔ لیکن یہاں آگ کے لئے لفظ ” اعتدنا “ استعمال کیا گیا ہے یعنی ہم نے اسے تیار کیا ہے یعنی بڑی سرعت سے اس کو تیار کیا گیا ہے ، یعنی ان کے لئے پکڑ لیا جائے گا اور جلدی سے اس تیار شدہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ آگ ایسی ہوگی کہ اس کی خیمے جیسی لپیٹیں ظالموں کو گھیر لیں گی۔ یہ اس سے بھاگ نہ سکیں گے۔ نہ ان کو اس سے چھوٹنے اور نجات پانے کی کوئی امید ہے۔ نہ ان کو یہ امید ہے کہ کس طرف سے ان کو کوئی ٹھنڈی ہوا ملے گی… نہ یہ امید ہے کہ اس مین ان کے لئے آرام کا وقفہ ہوگا۔ اگر وہ وہاں گرمی پیاس اور شدت سے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ اور ان کو ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی چھت جیسا ہوگا اور ایک قول کے مطابق گرم پیپ جیسا ہوگا۔ یہ منہ کو بھون ڈالے گا۔ جب یہ منہ کو بھول ڈالے گا تو ان کے گلوں اور ان کے پیٹ کا اس سے کیا حال ہوجائے گا۔

الكهف 18:30

و قل الحق من ربکم فم شاء فلیومن و من شاء فلیکفر (29:18) ” صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، اب جس کا جی جا ہے مان لے اور جس کا جی چاہی انکار کر دے “۔ نہایت عزت کے ساتھ ، نہایت صاف گوئی کے ساتھ ، نہایت ہی فیصلہ کن انداز میں ہے یہ اعلان۔ حق کسی کے سامنے جھکتا نہیں۔ کسی کے سامنے ٹیڑہ اختیار نہیں کرتا۔ وہ بڑی قوت کے ساتھ آتا ہے۔ نہایت صراحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اس میں کوئی رو رعایت نہیں ہوتی۔ جو چاہے اسے مان لے ، جو چاہے اس کا انکار کر دے۔ اگر کسی کو سچائی پسند نہ ہو تو اپنی راہ لے۔ اگر کسی شخص کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کی خواہشات اللہ کی ہدایات کے تابع ہوں گی تو پھر نظریہ کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی سودا بازی نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی کی کھوپڑی اللہ کی بلندی کے مقابلے میں نہیں جھکتی اور وہ اپنے غرور کے بلند محلات سے نیچی نہیں اترتا تو اسلامی نظریہ حیات کو بھی اس کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کسی شخص کی ملکیت نہیں ہے کہ وہ اس میں رو رعایت کر دے ، سودا بازی کر دے ، یہ تو اللہ کی ملکیت ہے۔ اللہ تمام جہانوں سے غنی ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے ، جہاں تک اسلامی نظریہ حیات کا تعلق ہے۔ وہ کسی شخص پر فخر نہیں کرتا اور نہ کسی ایسے شخص سے نظریاتی امداد طلب کرتا ہے جو شخص اسے خالص طور پر قبول نہیں کرتا یا جو شخص اس نظریے کو پوری طرح قبول نہیں کرتا ، جس طرح کہ وہ ہے ، بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔ اور جو شخص اپنے آپ کو ان لوگوں سے بلند کوئی مخلوق سمجھتا ہے جو اپنے آپ کو رات اور دن رب کی پکار میں مصروف رکھتے ہیں اور صرف اللہ کی رضامندی کے طلبگار ہیں ، ایسے شخص سے کسی خیر کی توقع نہیں ہے ، نہ اسلام کے لئے ور نہ مسلمانوں کے لئے۔ انا اعتدنا للظلمین (29:18) ” ہم نے (انکار کرنے والے) ظالموں کے لئے ایک آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہ آگ تیار ہے اور حاضر و ومجود ہے۔ اسے جلانے کے لئے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ اس کے جلانے کے لئے اور تیار کرنے پر کوئی وقت لگتا ہے۔ باوجود اس کے کہ اللہ کی جانب سے کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے صرف کن کی ضرورت ہوتی ہے یعنی جب اللہ کا ارادہ ہوجائے تو وہ کام ہوجاتا ہے۔ لیکن یہاں آگ کے لئے لفظ ” اعتدنا “ استعمال کیا گیا ہے یعنی ہم نے اسے تیار کیا ہے یعنی بڑی سرعت سے اس کو تیار کیا گیا ہے ، یعنی ان کے لئے پکڑ لیا جائے گا اور جلدی سے اس تیار شدہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ آگ ایسی ہوگی کہ اس کی خیمے جیسی لپیٹیں ظالموں کو گھیر لیں گی۔ یہ اس سے بھاگ نہ سکیں گے۔ نہ ان کو اس سے چھوٹنے اور نجات پانے کی کوئی امید ہے۔ نہ ان کو یہ امید ہے کہ کس طرف سے ان کو کوئی ٹھنڈی ہوا ملے گی… نہ یہ امید ہے کہ اس مین ان کے لئے آرام کا وقفہ ہوگا۔ اگر وہ وہاں گرمی پیاس اور شدت سے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ اور ان کو ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی چھت جیسا ہوگا اور ایک قول کے مطابق گرم پیپ جیسا ہوگا۔ یہ منہ کو بھون ڈالے گا۔ جب یہ منہ کو بھول ڈالے گا تو ان کے گلوں اور ان کے پیٹ کا اس سے کیا حال ہوجائے گا۔

الكهف 18:31

بئس الشراب (29:18) ” بدترین پینے کی چیز “ ۔ یعنی یہ بدترین تواضع ہوگی جو گرمی سے جلے ہوئے ان پیاسے لوگوں کی کی جائے گی۔ کیا بری آگ ہوگی اور پھر اس آگ کے وہ خیمے کس قدر برے ہوں گے ، جو ان کے ٹھہرنے اور آرام کے لئے ان کو مہیا کئے جائیں گے۔ ان کو رہنے کے لئے جو سہولیات دی جا رہی ہیں ان میں بھی ان کے ساتھ ایک نہایت ہی سخت مذاق ہوگا ، کیونکہ وہاں ان کو سہولیات تو نہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہاں تو ان کو بھول ڈالنے کا انتظام ہوگا۔ البتہ یہاں آگ کے خیموں کا ذکر اس لئے ہے کہ ان لوگوں کی سہولیات کے ساتھ ان لوگوں کی سہولیات کا مقابلہ ہوجائے ، جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کیا ، لیکن دونوں کی سہولیات میں زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔ یہ تو رہے حالات ان لوگوں کے جنہوں نے کفر اتخیار کیا۔ اب رہے وہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کیا اور نیک عمل کئے تو ان کے لئے سدا بہار باغات ہوں گے اور یہ ان باغات میں رہیں گے۔ ان کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ” اونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے “۔ اور ریشم کے قسم قسم کے کپڑوں میں ملبوس ہوں گے۔ نرم ریشم کے اور اطلس کے نرم اور موٹے کپڑوں میں اور زیب وزینت کے لئے انہیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ نعم الثواب و حسنت مرتفقا ” بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کا جائے قیام ! “ اب جس کی مرضی ہو وہ اس راہ کو اختیار کرے ، جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے ، جو چاہے فقراء ایمان کی مجلس میں بیٹھے جبکہ انکے جبوں اور لباس سے پسینہ کی بو آرہی ہے اور جو چاہے ان سے نفرت کرے ، جن لوگوں کو ان غریب حضرات کے لباس سے پسینے کی بو پسند نہیں ، جن کے دل پاک ہیں اور ذکر ِ الٰہی سے معطر ہیں تو پھر ان کو چاہئے کہ وہ جہنم کی آگ سے بنائے ہوئے محلات اور خیموں کی سہولیات حاصل کرلیں اور پھر تیار ہوجائیں ، تیل کی تلچھٹ یا پیٹ کا شربت پینے کے لئے ، جس سے اہل جہنم کے منہ بھر جائیں گے۔ اس کے بعد باقی رہنے والی اسلامی اقتدار اور فنا ہونے والی کافرانہ اقتدار کو سمجھانے کے لئے دو آدمیوں اور دو باغیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے ۔ دو کردار پیش کئے جاتے ہیں۔ ایک کردار ان لوگوں کا ہے جو زوال پذیر اقدار کے حامل کا نمونہ ہے اور دوسرا کردار ان لوگوں کا ہے جو لازوال اقدار کے حاملین ہیں۔ یہ دونوں نمونے نہانے ہی واضح طور پر پیش کئے جاتے ہیں تاکہ ان نفوس کے لئے نمونہ ہو ، جو اس دنیا کی زندگی کی فانی اقدار کے دلدادہ ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی نمونہ ہو جو اللہ کی رضا اور آخروی اور اقدار کے دلدادہ ہیں اور یہ کردار دونوں قسم کے لئے ایک انسانی نمونہ ہیں جو شخص دو باغوں کا مالک ہے اور دنیا داروں کا نمونہ ہے ، جسے دولت اور ثروت مدہوش کردیتی ہے اور سازو سامان دنیا اسے سرکش کردیتا ہے اور وہ اس قوت قاہرہ کو بھلا دیتا ہے ، جو لوگوں اور ان کی تقدیر کی مالک ہے۔ ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی یہ دنیا داری دائمی ہے اور اس کے لئے کوئی فنا نہیں ہے اور اس شخص کا ساتھی اہل ایمان کے لئے ایک نمونہ ہے ، ان لوگوں کے لئے جن کو اپنے ایمان پر فخر ہوتا ہے ، جو بروقت اپنے رب کو یاد کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان نعمتوں کا بھی کوئی خالق ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی حمد و شکر بجا لائیں ، اس کی ناشکری نہ کریں اور انکار بھی نہ کریں۔ قصے کا آغاز دو باغوں کے بیان سے ہوتا ہے کہ وہ کس قدر قیمتی اور سر سبز باغ ہیں۔

الكهف 18:32

یہ دو باغ انگوروں سے بھرے ہوئے تھے اور ان کے اردگرد کھجوروں کی باڑھ لگی ہوئی تھی اور ان کے درمیان زرعی زمین بھی تھی اور ان کے درمیان پانی کی ایک نہر تھی۔ یہ ایک خوبصورت منظر تھا اور اس میں بھرپور زندگی تھی اور سامان زندگی تھا۔

الكهف 18:33

” دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی “۔ یہاں قرآن کریم نقص اور کمی کے لئے لفظ ” ظلم “ استعمال کرتا ہے تاکہ ان دونوں باغوں اور ان کے مالک کے کردار کے درمیان تقابل پیدا کیا جاس کے ، کیونکہ باغات نے تو اپنا حق ادا کردیا ، جبکہ باغات کے مالک نے تکبر کیا ، سرکشی اختیار کی اور کبرو غرور کی وجہ سے اللہ کا شکر ادا نہ کیا اور ظلم کیا۔ اب ذرا ان دو باغوں کے اس مالک کو ملاحظہ کریں کہ اس کا پیمانہ بھر جاتا ہے اور وہ ان کو دیکھ کر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے۔ فخر و مباہات سے اس کا سر غرور میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کا پیمانہ مرغی کے پیمان کی طرح ہے ، جلدی بھر جاتا ہے اور پھر یہ طائوس کی طرح فخر سے ناچنے لگتا ہے اور اپنے فقیر ساتھی اور ہمسائے پر بوجہ کبر ، اپنے آپ کو بلند سمجھتا ہے اور یوں گویا ہوتا ہے :

الكهف 18:34

پھر وہ اپنے اس رفیق کو لے کر ایک باغ میں پھرتا ہے۔ اس کا دل خوشی سے جوش میں آتا ہے۔ اب یہ سخت غرور کی حالت میں داخل ہوتا ہے ، اللہ کو اس نے پوری طرح بھلا دیا۔ اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہے کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر بجا لانا بھی ضروری ہے اور اس کے دل میں یہ خیال آگیا کہ یہ باغات کبھی بھی نیست و نابود نہ ہوں۔ اس نے قیام قیامت کو بالکل بھلا دیا اور اس کا صاف صاف انکار کردیا۔ پھر اس نے قیام قیامت کا سرے سے انکار کردیا۔ چلو اگر قیامت قائم بھی ہوجائے تو وہاں بھی اس کے ساتھی ترجیحی سلو اور عزت کا معاملہ ہوگا۔ اس دنیا میں دو باغات کا مالک نہیں ہے ، لہٰذا لازمی ہے کہ وہاں بھی اسے یہ سہولتیں بہرحال حاصل ہوں۔

الكهف 18:35

ہمیشہ اصحاب جاہ و مال اور اہل ثروت اور اہل ِ اقتدار کے دلوں میں یہی سودا سمایا ہوتا ہے کہ اس فانی دنیا میں ان کی قدرو منزلت ہے ، اسی طرح آخرت میں بھی انہیں ییہ اعزاز ملے گا۔ عالم بالا میں بھی کرسی نسین ہوں گے۔ اگر اہل ِ دنیا کے ہاں ان کا یہ مرتبہ ہے تو اہل سماء میں کیوں نہ ہوگا۔ اب ذرا اس کے اس ساتھی کو دیکھئے جو فقیر ہے اور اس کے پاس کوئی دولت نہیں ہے۔ نہ کہ اس کے پاس باغ ہے اور نہ اس کے پھل ہیں۔ کیونکہ اس کے نزدیک ان باغات کے مقابلے میں ایک اور چیز ایسی ہے جو زیادہ قیمتی ہے۔ اسے اپنے عقیدت اور ایمان پر فخر ہے۔ اسے اپنے اس رب پر بھی فخر ہے جس کے سامنے بڑے بڑے سر جھک جاتے ہیں۔ یہ شخص اپنے اس مغرور سر پھرے اور منکر حق متکبر ساتھی کو بڑے اعتماد سے مخاطب کرتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ تم اپنے آپ کو کوئی بہت بڑی چیز سمجھتے ہو ، لیکن ذرا اپنی پیدائش کو تو دیکھو کہ تمہیں ایک ناپاک پانی سے پیدا کیا ہے ، پھر کیچڑ ہے وہ اسے یاد دلاتا ہے کہ منعم حقیقی کا شکر ادا کرنا لازم ہے اور کبرو غرور کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ یہ رجل صالح ات کہتا ہے کہ تمہارے باغ و راغ کی بہ نسبت مجھے عند اللہ بہتر اجر ملے گا۔

الكهف 18:36

ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اچاک سرسبزی اور شادابی کے ان مناظر سے نکل کر ہم لوگ تباہی اور بربادی کے مناظر میں داخل ہوتے ہیں۔ تکبر اور اشکبار کے منظر کے بجائے اب ندامت اور اللہ سے مغفرت طلب کا منظر آجاتا ہے۔ وہ بات اب سامنے آجاتی ہے جس کی توقع یہ رجل مومن رکھتا تھا۔

الكهف 18:37

ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اچاک سرسبزی اور شادابی کے ان مناظر سے نکل کر ہم لوگ تباہی اور بربادی کے مناظر میں داخل ہوتے ہیں۔ تکبر اور اشکبار کے منظر کے بجائے اب ندامت اور اللہ سے مغفرت طلب کا منظر آجاتا ہے۔ وہ بات اب سامنے آجاتی ہے جس کی توقع یہ رجل مومن رکھتا تھا۔

الكهف 18:38

ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اچاک سرسبزی اور شادابی کے ان مناظر سے نکل کر ہم لوگ تباہی اور بربادی کے مناظر میں داخل ہوتے ہیں۔ تکبر اور اشکبار کے منظر کے بجائے اب ندامت اور اللہ سے مغفرت طلب کا منظر آجاتا ہے۔ وہ بات اب سامنے آجاتی ہے جس کی توقع یہ رجل مومن رکھتا تھا۔

الكهف 18:39

ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اچاک سرسبزی اور شادابی کے ان مناظر سے نکل کر ہم لوگ تباہی اور بربادی کے مناظر میں داخل ہوتے ہیں۔ تکبر اور اشکبار کے منظر کے بجائے اب ندامت اور اللہ سے مغفرت طلب کا منظر آجاتا ہے۔ وہ بات اب سامنے آجاتی ہے جس کی توقع یہ رجل مومن رکھتا تھا۔

الكهف 18:40

ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اچاک سرسبزی اور شادابی کے ان مناظر سے نکل کر ہم لوگ تباہی اور بربادی کے مناظر میں داخل ہوتے ہیں۔ تکبر اور اشکبار کے منظر کے بجائے اب ندامت اور اللہ سے مغفرت طلب کا منظر آجاتا ہے۔ وہ بات اب سامنے آجاتی ہے جس کی توقع یہ رجل مومن رکھتا تھا۔

الكهف 18:41

ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اچاک سرسبزی اور شادابی کے ان مناظر سے نکل کر ہم لوگ تباہی اور بربادی کے مناظر میں داخل ہوتے ہیں۔ تکبر اور اشکبار کے منظر کے بجائے اب ندامت اور اللہ سے مغفرت طلب کا منظر آجاتا ہے۔ وہ بات اب سامنے آجاتی ہے جس کی توقع یہ رجل مومن رکھتا تھا۔

الكهف 18:42

یہ ایک مکمل نظر آنے والا ، مجسم منظر ہے۔ اس باغ کا تمام کا تمام پھل تباہ ہوگیا ہے۔ گویا اس پر ہر جانب سے حملہ ہوا اور اس میں سے ایک دانہ بھی نہ بچا اور اس کے تمام درخت اور بوٹے اپنے تنوں اور تینوں پر پڑے تھے اور اس کے درخت اور بیلیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھس بن گئیں۔ مالک نے جو یہ منظر دیکھا کہ اس کا باغ تو مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ، تو وہ اپنے اس عظیم مالی بربادی پر ہاتھ ملنے لگا۔ اس کی پوری کی پوری محنت آج چلی گئی۔ اب تو وہ اس پر بھی تادم ہے کہ اس نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کیا۔ اب وہ اللہ کی ربوبیت اور وحدانیت کو پوری طرح تسلیم کر رہا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل اس نے کسی شرکیہ عقیدے کا اظہار نہیں کیا لیکن اس نے اس زمین کی فانی اقدار کو عالم بالا کی لافانی اقدار پر ترجیح دی۔ یہ اس کی جانب سے ایک قسم کا شرک تھا اور اب وہ اس سے بھی تائب ہو رہا ہے ، لیکن اب وقت اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ وحدہ ہی والی ہے اور وہی قادر مطلق ہے۔ نہیں کوئی قوت مگر اس کی قدرت۔ نہیں کوئی نصرت مگر اس کی نصرت ، اس کا ثواب اچھا ثواب ہے اور اگر کسی انسان کی کوئی بچت اللہ کے ہاں باقی ہے تو وہ سب سے زیادہ اچھی بچت ہے۔

الكهف 18:43

اب پردہ کرتا ہے اور یہ منظر بھی اوجھل ہوجاتا ہے جس میں باغ مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا وہ اپنی تنیوں پر پڑا تھا مالک ہاتھ مل رہا تھا اور شرمندگی سے سرنگوں تھا۔ اللہ کا جلال اس منظر پر سایہ لگن تھا۔ جس کے سامنے انسانی قوت اور انسانی طاقت نیست و نابود ہوی ہے۔ اس منظر کے بعد اب حیات دنیا کو ایک تمثیل سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو حیات دنیا اس باغ کی طرح ہی ہے ، یہ بہت ہی ناپختہ ، مختصر اور بےقرار ہے۔

الكهف 18:44

اب پردہ کرتا ہے اور یہ منظر بھی اوجھل ہوجاتا ہے جس میں باغ مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا وہ اپنی تنیوں پر پڑا تھا مالک ہاتھ مل رہا تھا اور شرمندگی سے سرنگوں تھا۔ اللہ کا جلال اس منظر پر سایہ لگن تھا۔ جس کے سامنے انسانی قوت اور انسانی طاقت نیست و نابود ہوی ہے۔ اس منظر کے بعد اب حیات دنیا کو ایک تمثیل سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو حیات دنیا اس باغ کی طرح ہی ہے ، یہ بہت ہی ناپختہ ، مختصر اور بےقرار ہے۔

الكهف 18:45

یہ منظر درحقیقت ایک مختصر جھلکی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو بتایا جائے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ آسمانی سے پانی برستا ہے ، یہ پانی نہ بہتا ہے اور نہ سیلاب کی شکل اختیار کرتا ہے بلکہ یہ براہ راست نباتات کے ساتھ مختلط ہوجاتی ہے اور یہ نباتات ابھی پوری طرح نشو و نما نہیں پاتے اور پکتے ہی نہیں کہ یہ ایک بھوسے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور وہ دیکھو ہوا اس بھوسے کو اڑائے پھرتی ہے۔ غرض تین مختصر ترین جملوں میں زندگی کی کہانی کہہ دی جاتی ہے۔ یہاں تین فقروں کے اندر مختصر ترین جملوں میں زندگی کی کہانی کہہ دی جاتی ہے۔ یہاں تین فقروں کے اندر مختصر ترین انداز میں پوری زندگی کی کہانی کہہ دی اور پھر یہ کہا کہ زندگی بہت ہی مختصر ہے۔ کس قدر مختصر اور کس قدر آسان بس کماء انزلناہ من السماء فاختلط بہ نبات الارض (81 : 53) ” اس پانی کی طرح جسے ہم نے آسمان سے برسا دیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہوگئی ‘ دنیائے فانی کی زندگی کی یہ مختصر جھلکی دکھانے کے بعد ، اب قرآن مجید زندگی کی دائمی قدر بن بتاتا ہے ، جن کو لوگوں مسعبد سمجھتے ہیں لیکن وہ باقی رہنے والی قدریں ہیں اور جن کو اہمیت دی جانی چاہئے۔

الكهف 18:46

مال اور اولاد اس زندگی کی زینت ہے اور اسلام جائز حدود کے اندر دنیا کی زینت سے نہیں روکتا۔ لیکن اسلام زینت دنیا کو اسی قدر اہمیت دیتا ہے اور اسی قدر قیمت دیتا ہے جس کی وہ مستحق ہیں۔ یعنی فنا اور دوام کے اعتبار سے۔ ضرورت سے زیادہ قیمت ان چیزوں کو نہیں دیتا۔ ماں اور اولاد زینت ہیں لیکن ان کی قدر و قیمت یہ نہیں ہے کہ وہ معیار اور میزان بن جائیں اور لوگوں کو دنیا میں ان کے سارے تولا جائے۔ اصل قیمت باقیات صالحات کی ہے۔ وہ اعمال ، وہ اقوال اور وہ عبادات ، جن کا جار قیامت میں ملنے والا ہے۔ اگرچہ لوگ عموماً مال اور اولاد سے دلچسپیاں واسبتہ کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور ان کے دل مال اور اولاد ہی سے متعلق ہوتے ہیں۔ لیکن باقیات صالحات زیادہ بہتر ہیں اور ہمیں چاہئے کہ ہم باقیات صالحات سے امیدیں وابستہ کریں جن کی جزاء قیامت میں ملنے والی ہوتی ہے۔

الكهف 18:47

درس نمبر 231 ایک نظر میں درس سابقہ کا خاتمہ باقیات صالحات پر ہوا تھا۔ اس سبق کا آغاز ہی یوم قیامت کے بیان سے ہوتا ہے جس میں باقیات صالحات کا وزن ہوگا ار ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ قیامت کا بیان بھی حسب معمول مناظر قیامت میں سے ایک منظر کی صورت میں ہے۔ اس کے بعد پھر ابلیس کے اس طرز عمل کو پیش کیا جاتا ہے۔ جو اس نے اس وقت اختیار کیا جب اللہ نے اسے حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کرے ، اس نے امر ربی کی تعمیل سے انکار کیا۔ انسانوں پر تعجب ہے کہ وہ پھر شیطان کو اپنا دوست بناتے ہیں ، حالانکہ ان کو معلوم ہے کہ تمام شیاطین انسانوں کے دشمن ہیں اور اس دوستی کے نتیجے میں وہ قیامت کے روز عذاب جہنم تک پہنچنے والے ہیں۔ پھر یہ شرکاء جوق یا مت کے دن ان لوگوں کی پکار کا جواب ہی نہ دیں گے جو ان شرکاء کی بندگی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار مثالیں دیں اور لوگوں کو سکھایا کہ وہ اس دن کے حساب و کتاب سے اپنے آپ کو بچائیں۔ لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ بلکہ الٹا امم سابقہ کی ہلاکت کی طرح کے عذا بکا مطالبہ کرتے ہیں اور باطل انداز میں اہل ایمان کے ساتھ مجادلہ کرتے ہیں تاکہ حق کا مقابلہ کریں۔ اللہ کی آیات اور اللہ کے رسولوں کے ساتھ مذاق کریں۔ اگر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو ان پر یہ عذاب آ بھی جاتا۔ قیامت کا یہ منظر اور امم سابقہ کے عذاب کا ذکر اس سورت کے مرکزی مضمون سے ہم آہنگ ہیں کہ لوگوں کے ذہن میں اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی قدریں بٹھانی چاہئیں تکاہ وہ ہدایت پکڑیں۔

الكهف 18:48

یہ ایک منظر ہے جس میں اس کائنات کا طبیعی ماحول ، اور اس کائنات اور انسانی دلوں پر خو و ہراس کے نقوش داع نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے کردار بڑے بڑے پہاڑ ہیں جو دیکھتے دیکھتے دھواں بن جاتے ہیں اور یہ نہایت تیزی سے چلتے ہیں ، دلوں پر خوف طاری ہے ، زمین اچانک چٹیل میدان بن جاتی ہے۔ نہ اس میں سرسبزی اور شادابی ، نہ پہاڑ ہیں اور نہ خوبصورت وادیاں بلکہ دلوں کے حال میں اس منظر میں سامنے آجاتے ہیں اور کوئی بات خفیہ نہیں رہتی۔ یہ ہموار اور چٹیل میدان زمین ، جو کسی چیز کو نہیں چھپا سکتی اور نہ اس پر کسی کے چھپنے کی کوئی جگہ ہے ، اسی زمین سے یکدم تمام مخلوقات اک آئے گی۔ وحشرنھم فلم نغادر منھم احداً (81 : 83) ” انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ ایک بھی نہ چھوٹے گا۔ “ اس جامع حشر کے بعد اگلا منظر پھر اللہ کے سامنے حاضری کا ہے۔ وعرضوا علی ربک صفاً (81 : 83) ” سب کے سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کئے جائیں گے۔ “ یہ تمام مخلوق جس کی تعداد معلوم نہیں ہے۔ اس وقت سے لے کر جب سے انسانیت کو یہاں بسایاگ یا اور جب تک اس زمین پر انسانیت کو آہستہ آہستہ مٹایا گیا۔ یہ سب مخلوق اٹھائی جا چکی ہے ، سب جمع ہوگئی ہے ، حلقوں کی شکل میں کھڑی ہے ، کوئی آدمی بھی غیر حاضر نہیں ہے ، کیونکہ سب زمین ایک میدان ہے۔ اس میں چھپنے کی کوئی جگہ ہی نہیں۔ اب بات کا انداز ایک بیانیہ منظر سے ، طاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ گویا منظر سامنے موجود ہے اور ہم اسے دیکھ رہے ہیں اور اس میں جو مکالمہ ہو رہا ہے گویا ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں اور کانوں سے سن رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اس منظر کے وجود میں آنے کے منکر تھے ، ان کے چہروں پر شرمندگی بالکل عیاں ہے۔ لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ بل زعمتم الن نجعل لکم موعداً (81 : 83) ” دیکھ لو آگ یء نا تم ہمارے پاس جیسے ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ تم نے یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا تھا۔ “ اس بیانیہ انداز خطاب میں یکلخت تبدیلی کر کے اسے خطابی انداز میں لانے سے منظر میں ایک طرح کی زندگی پیدا کردی جاتی ہے۔ کردار زندہ و متحرک نظر آتے ہیں اور منظر ہمارے سامنے مجسم ہوجاتا ہے۔ گویا یہ مستقبل میں آنے والا قیام قیامت کا کوئی منظر نہیں ہے۔ بلکہ موجودہ دور کا منظر ہے۔ جو لوگ قیامت کی تکذیب کرتے تھے ان کے چہروں پر شمندگی صاف صاف نظر آتی ہے اور باری تعالیٰ کی ڈانٹ ان لوگوں کی سر زنش یوں کر رہی ہے ۔ لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ (81 : 83) ” آگئے ناتم ہمارے سامنے اس طرح جس طر ہم نے ت میں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ “ اور تم یہ سمجھتے تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ بل زعمتم الن نجعل لکم موعدا (81 : 83) ” تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا تھا۔ ‘ بیانیہ انداز کلام سے خطاب کی طرف آنے کے بعد پھر قایمت کے واقعات کا بیان شروع ہوتا ہے۔

الكهف 18:49

وو ضع الکتب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ (18 : 93) ” اور نامہ عمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندرا جات سے ڈر رہے ہوں گے۔ “ یہ ہے ان کے اعمال کا پورا رجسٹر ، ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا ، وہ اسے پڑھ رہے ہوں گے ، بار بار ورق گردانی کر رہے ہوں گے ، وہ حیران ہوں گے کہ وہ نہایت ہی جامع ریکارڈ ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی یہاں درج ہیں۔ یہ اپنے انجام سے ڈر رہے ہوں گے۔ دل ان کے غم کے مارے پھٹ رہے ہوں کہ اس کتاب کی وجہ سے جو ذرہ ذرہ ریکارڈ کر رہی ہوگی۔ نہ کوئی چھوٹی چیز اس سے چھوٹی ہوئی ہے اور نہ بڑی۔ ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا (81 : 93) ” کہ رہے ہوں گے ، ہائے ہماری کم بختی ، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہوگئی ہو۔ “ یہ ایک ایسے شخص کا کلام ہے جو سخت گھاٹے میں آگیا ہے ، سخت پریشان ہے ، سخت خوفزدہ ہے ، کیونکہ جلد ہی وہ نہایت بھیانک انجام سے دوچار ہنے والا ہے اور وہ اس قدر مضبوط بندھا وہا ہے کہ اس کے بھاگنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ نہ کوئی مغالطہ دے سکتا ہے اور نہ کوئی بانہ اور تاویل کرسکتا ہے۔ ووجدوا ماعملوا حاضراً (81 : 93) ” جو جو انہوں نے کیا تھا وہ سب حاضر پائیں گے۔ “ اور ان کو اپنے کئے کی سزا ملے گی۔ ولایظلم ربک احداً (81 : 93) ” اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہیں کرتا۔ “ …… یہ مجرمین جن کا میدان حشر میں یہ حال ہو رہا ہے۔ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ شیطان ان کا دشمن ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس شیطان کے ساتھی دوستی کی اور اس نے ان کو اس مقام پر بد تک پہنچایا ، لہٰذا کیا ان کی یہ حرکت تعجب انگیز نہیں ہے کہ یہ لوگ ابلیس اور اس کی ذریت کو ، دوست رکھیں حالانکہ ابلیس کے اس واقعہ کے بعد انسانوں سے اس کی دشمنی کا اعلان ہوچکا تھا۔

الكهف 18:50

آدم ابلیس کے اس قدیمی قصے کی طرف یہاں ایک اشارہ سا کیا گیا ہے اور یہ بھی بطور تعجب کے کہ ابن آدم پھر بھی ابلیس اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہیں حالانکہ ابلیس ابن آدمی کا قدیمی دشم نہ اور یہ تکریم آدم کی وجہ سے دشمن ہوا ہے اور پھر بھ ہم اللہ کو چھوڑ کر اپنے دشمن سے دوست کرتے ہیں۔ اور ابلیس کی دوستی یہ ہے کہ ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور اللہ کی اطاعت نہیں کرتے جو اللہ کا دوست ہوتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ یہ لوگ اپنے ان دشمنوں کے ساتھ کیوں دوستی رکھتے ہیں حالانکہ ان لوگوں کے پاس نہ علم ہے اور نہ قوت ہے۔ اور نہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت ان لوگوں کو بلایا تھا اور نہ خود ان کی تخلیق کے وقت ان کو بلایا تھا ، بلکہ وہ تھے ہی نہیں۔ اس لئے یہ لوگ اللہ کے غیوب سے کس طرح واقف ہو سکتے ہیں۔ نیز اللہ نے ان کو اپنے مددگار بھی نہیں پیدا کیا کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو۔ اس لئے اس دوستی کا کوئی جواز نہیں ہے۔

الكهف 18:51

اللہ تو بےنیاز ہے۔ وہ ذوالقوۃ المتین ہے ، اس کو کسی مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔ خواہ وہ مضل ہو اغیر مضل یہاں یہ جو کہا یا کہ اللہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار نہیں بناتا تو یہ دراصل مشرکین کے اوہام کی بیخ کنی کے لئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے کہ اللہ نے کیا ایسے لوگوں کو اپنا شریک بنا لیا ہے جو ہدایت کی بجائے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جو لوگ شیطان کو اللہ کا شریک سمجھتے تھے وہ یہ حرکت اس لئے کرتے تھے کہ شیطان کے پاس کوئی خفیہ علم ہے اور کوئی فوق الفطری قوت ہے۔ اس لئے لوگ شیطان کے ساتھ دوستی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان لوگوں کی اس حماقت کو اس طرح فرماتا ہے کہ اگر بطور فرض محال میں نے کسی کو اپنا مددگار بنانا ہی تھا تو کیا اسے ضال اور مضل کو بنانا تھا۔ یہ ایک الزامی انداز تعبیر ہے۔ چناچہ قیامت کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ دیکھ لیں کہ ان شریکوں اور شریک کرنے والے بحرمین کی حالت وہاں کیا ہوگی۔

الكهف 18:52

یہ لوگ اب ایک ایسی عدالت میں کھڑے ہوں گے جس میں کوئی دعویٰ بغیر دلیل کے مسموع نہیں ہے۔ اللہ ان سے مطالبہ کرے گا کہ لائیے وہ شرکاء جو تم میرے ساتھ قرار دیتے تھے۔ حکم ہوگا جائو ان کو بلا کر لائو۔ یہ لوگ اپنی حماقت میں اور مدہوشی میں پکارنے لگیں گے لیکن ان کے شرکاء ظاہر ہے کہ کوئی جواب نہ دیں گے۔ وہ خود مخلوق ہوں گے اور قیامت کے میدان میں نہ اپنی کسی چیز اور نہ دوسروں کے لئے کسی چیز کے مالک ہوں گے۔ خود خوفزدہ ہوں گے۔ اللہ ان شریک کرنے والوں اور ان کے شریکوں کے درمیان ایک ہلاکت کا گڑھا پیدا کردیں گے جس کو کوئی بھی پار نہیں کرسکے گا اور یہ گڑھا آگ کا ہوگا۔ وجعلنا بینھم موبقاً (81 : 25) ” ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کردیں گے۔ “ یہ مجرم اب اگلے مرحلے کو دیکھیں گے۔ ہی خوف و ہراس میں مبتلا ہوجائیں گے۔ ان کو آگ نظر آئے گی اور ان کو ہر لحظہ اس میں پڑنے کا خطرہ ہوگا ۔ عذاب کا یہ انتظار کس قر شدید ہوتا ہے۔ جب کوئی یہ توقع کرے کہ ابھی آنے والا ہے اور اب ہمیں اس سے نجات پانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔

الكهف 18:53

ورا المجرمون النار فظنوا انھم مواقعوھا ولم یحدوا عنھا مصرفاً (81 : 35) ” مجرم اس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب ہمیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لئے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ “ …… ان کے لئے اس سے رہائی کا راستہ تو تھا۔ اے کاش کہ وہ اس سے قبل دنیا میں اپنے دلوں کو قرآن کی طرف پھیرتے اور قرآن جس سچائی کو لے کر آیا تھا اس کے مقابلے میں نہ اتر آتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں اثمال کے ذریعے بات کو بار بار پھیر کر سمجھانے کی کوشش کی تھی اور ہر حال ان کو سمجھایا تھا۔

الكهف 18:54

قرآن مجید نے یہاں انسان کو ایک چیز کہا ہے اور یہ کہ وہ بڑی جھگڑا لو چیز ہے۔ چیز سے تعبیر اس لئے کیا گیا تاکہ انسان اپنے کبر و غرور سے ذرا نیچے اترے اور یہ سمجھے کہ وہ بھی اللہ کی بیشمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور انسان تمام مخلوقات سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اس کے باوجود کہ اللہ نے اس قرآن میں انسان کو مختلف طریقوں سے سمجھانے کی سعی کی اور مثالوں سے اسے سمجھایا۔ اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اکثر لوگ کیوں ایمان نہ لائے ؟ وہ کیا شبہ تھا جو رکاوٹ بنا ؟ مختلف رسولوں کے زمانے میں اکث لوگ ایمان سے محروم رہے۔

الكهف 18:55

حالانکہ ان لوگوں کے پاس اس قدر راہنمائی آچکی تھی جو اس کے لئے کافی تھی کہ وہ راہ ہدایت پر آجائیں۔ لیکن انہوں نے راہ ہدایت کو اس لئے قبول نہ کیا کہ وہ اس قسم کے عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جیسا کہ ان سے پہلے مکذبین پر آیا۔ پھر سوال یہ ہے کہ وہ کیوں ایسا خوفناک مطالبہ کرتے تھے یا ان کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ عذاب لے آئیں وہ دیکھ لیں اور اس وقت وہ ایمان لائیں گے۔ لیکن یہ دونوں کام رسولوں کی ڈیوٹی میں شامل بنیں ہیں۔ کیونکہ مکذبین کے سامنے معجزے پیش کرنا ، پھر انکار کی وجہ سے ان کو ہلاک کرنا بھی رسولوں کے اختیار میں نہیں ہے جیسا کہ سابقہ رسولوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ یا معجزات کے علاوہ عذاب کا آجانا یہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ رسولوں کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ وہ خوشخبری دیں اور ڈرائیں۔

الكهف 18:56

حق واضح ہے ، لیکن اہل کفر باطل ہتھیاروں سے حق کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اہل باطل جو خارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں یا یہ لوگ عذاب کے مطالبے میں جلدی کرتے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں کرتے کہ ان کو اطمینان ہوجائے بلکہ یہ لوگ اللہ کی آیات کے ساتھ مذاقک رتے ہیں اور رسولوں کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔

الكهف 18:57

یہ لوگ دراصل اللہ کی آیات اور اللہ کے رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ اسلئے ان سے یہ توقع نہ کی جائے کہ یہ لوگ قرآن کو سمجھ لیں گے۔ نہ ان سے یہ توقع کر ھی جائے کہ یہ لوگ اس کی تعلیمات سے نفع اٹھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش کی وجہ سے ان دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے۔ لہٰذا یہ نہ سن سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی اس روش مذاق اور استہزاء کی وجہ سے ان کے لئے ضلالت لکھ دی گئی ہے۔ لہٰذا اب ان کو کبھی بھی ہدایت نہیں ملے گی کیونکہ ہدایت ان لوگوں کو ملتی ہے جو کھلے دل و دماغ سے بات کو سنتے ہیں۔

الكهف 18:58

لیکن اللہ ان لوگوں کو خالص اپنی رحمت کی وجہ سے مہلت دیتا ہے اور ان پر وہ ہلاکت نہیں لاتا جس کے لئے وہ جلدی کر رہے لیکن اس مہلت کی بھی ایک حد مقرر ہے۔ یعنی دنیا میں بھی ان پر عذاب الٰہی کے نزول کے لئے وقت مقرر ہے اور پھر آخرت میں ان کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس میں انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے چونکہ ظلم کیا ہے اس لئے یہ لوگ بھی امم سابقہ کی طرح ہلاکت کے مستحق قرار پا چکے ہیں۔ لیکن اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر کے مطابق چونکہ ان کے لئے ایک مہلت مقرر کر رکھی ہے اس لئے اللہ ان کو اس طرح ہلاکت سے دوچار نہیں کر رہا ہے جس طرح اللہ نے ظالم امم سابقہ کو ہلاک کیا۔ ہاں ان کے لئے علیحدہ میعاد مقرر ہے۔

الكهف 18:59

لہٰذا ان لوگوں کو چاہئے کہ اس مہلت سے دھوکہ نہ کھائیں۔ ان کی مہلت بھی ختم ہونے ہی والی ہے۔ اللہ کی سنت اپنا کام کر رہی ہے وہ اٹل ہے اور اللہ جو معیاد مقرر کرتا ہے وہ آ کر رہتی ہے۔

الكهف 18:60

درس نمبر 331 ایک نظر میں اس سبق میں حضرت موسیٰ السلام کی سیرت کا جو گوشتہ بیان ہوا ہے وہ صرف اسی سورت کے اسی مقام پر مذکور ہے۔ قرآن میں کسی دوسری جگہ اس کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن کریم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں فرمایا صرف یہ کہا ہے کہ وہ مجمع البحرین ہے۔ نیز اس واقعہ کی تاریخ بھی متعین نہیں ہے کہ آیا تو کہاں اور کس وقت پیش آیا بیت المقدس پر حملے کے وقت سے پہلے آیا یا بعد میں۔ جب موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ بیت المقدس میں داخل ہوں تو انہوں نے داخل ہونے سے انکار کردیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہاں جبار قوم بستی ہے اور قابض ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ واقعہ اس دور میں پیش آیا جب یہ صحرا نور دی کر رہے تھے۔ قرآن ریم نے اس بندئہ صالح کے بارے میں بھی تفصیلات نہیں دی ہیں جن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ملنے گئے تھے۔ یہ کون تھے ؟ ان کا نام کیا تھا ؟ یہ نبی تھے ؟ رسول تھے ؟ کوئی عالم دین تھے ؟ یا کوئی ولی تھے ؟ اس قصے کے بارے میں حضرت ابن عباس اور ان کے علاوہ دوسرے حضرات سے بہت سی روایات وارد ہیں لیکن ہم صرف قرآن مجید کے بیان تک اپنے آپ کو محدود رکھیں گے تاکہ ہم قرآن ہی کے سایہ میں رہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ جس انداز میں اس قصے کو قرآن نے دیا ہے اس میں اس کی تاریخ بھی نہیں دی ، نام بھی نہیں دیئے ، جگہ کا تعین بھی نہیں کیا ، اس میں کوئی خاص حکمت ہوگی۔ لہٰذا ہم بھی اس قدر معلومات پر اکتفاء کرتے ہیں جس قدر قرآن نے دے دی ہے۔ (1) 1۔ بخاری میں ہے ۔ سعید ابن جبیر نے حضرت ابن عباس سے پوچھا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ جو موسیٰ حضر سے ملے وہ موسائے بنی اسرائیل نہ تھے۔ ابن عباس نے فرمایا وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ہمیں ابی بن کعب نے حضور سے سن کر بتایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے سامنے خطبہ دے رہے تھے تو ان سے پوچھا گیا کہ کون زیادہ علم رکھتا ہے تو موسیٰ نے کہا میں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کو غصہ آیا کیونکہ موسیٰ نے اپنے علم کو اللہ کی طرف منسوب نہ کیا۔ تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی بتایا کہ مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے سوال کیا کہ اے اللہ میں اس سے کیسے مل سکتا ہوں۔ اللہ نے فرمایا تم اپنے پاس ایک مچھلی کو تھیلے میں رکھ لو ، جہاں تم نے مچھلی کو گم کردیا بس وہ جگہ ہوگی اس بندئہ صالح کی۔ مجمع البحرین سے کون سی جگہ مراد ہے ، غالب یہ ہے کہ شاید بحر روم اور بحر قلزم کے درمیان کوئی جگہ یا بحر اسود یا بحر احمر کے درمیان کوئی جگہ ہے۔ ان کا مقام التقاء بحیرہ مرہ یا بحیرہ تساح ہو سکتا ہے یا خلیج عقبہ اور خلیج سویس کے اجتماع کی جگہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ بحر احمر کی دو شاخیں ہیں۔ کیونکہ یہی وہ جگہ تھی جہاں خروج کے بعد بنی اسرائیل چلتے پھرتے رہے۔ بہر حال قرآن کریم نے اس بات کو مجمل چھوڑ دیا ہے ۔ ہم بھی فقط یہی اشارہ کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ (1) قصے کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک خاص ہدف تھا۔ جہاں تک انہوں نے پہنچنے کا عزم کر رکھا تھا۔ آپ کے پیش نظر کوئی خاص مطلب تھا۔ کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ مجمع البحرین تک ضرور پہنچیں گے چاہے اس سفر میں زیادہ مشقت درپیش ہوا اور چاہے اس میں زیادہ عرصہ لگ جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تعبیر او امضی حقباً (81 : 06) ” ورنہ میں زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا۔ “ حقب کے معنی ایک سال کے ہیں یا بعض اقوال کے مطابق 08 سال کے ہیں۔ بہرحال مقصد یہ ہے کہ وہ بہرحال مجمع البحرین تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ کوئی متعین زمانہ مراد نہیں ہے۔ (1) قتادہ وغیرہ نے کہا کہ اس سے مراد بحر فارس ہے جو شرق کی جانب سے اور بحر روم ہے جو مغرب کی جانب سے قریب ہے۔ محمد ابن کعب قرظی نے کہا ہے کہ مجمع البحرین بلاد مغرب میں طبخہ کے قریب ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اقوال مستبعد ہیں۔

الكهف 18:61

راجح بات یہ ہے کہ یہ مچھلی بھونی ہوئی تھی اور اس کا زندہ رہنا اور پھر اس کا سمندر کے اندر عجیب انداز میں گم ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ایک نشانی تھی۔ اس کے ذریعے اللہ نے ان کو بتانا تھا کہ عبدصالح کا مقام یہی ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نوکر نے جو بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے قابل تعجب انداز میں سمندر میں اپنی راہ لی تھی۔ یہ بات کہ زندہ مچھلی اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ سمندر میں چلی گی تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ سبب ترجیح یہ ہے کہ یہ سفر سب کا سب غیبی معجزات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ان میں سے ایک معجزہ تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ عبدصالح کے مقام سے وہ آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس سے ملاقات اس پتھر کے پاس ہوگی۔ چناچہ وہ واپس ہوئے اور وہاں ان کو عبد صلح انتظار کرتے ہوئے ملے۔

الكهف 18:62

راجح بات یہ ہے کہ یہ مچھلی بھونی ہوئی تھی اور اس کا زندہ رہنا اور پھر اس کا سمندر کے اندر عجیب انداز میں گم ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ایک نشانی تھی۔ اس کے ذریعے اللہ نے ان کو بتانا تھا کہ عبدصالح کا مقام یہی ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نوکر نے جو بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے قابل تعجب انداز میں سمندر میں اپنی راہ لی تھی۔ یہ بات کہ زندہ مچھلی اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ سمندر میں چلی گی تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ سبب ترجیح یہ ہے کہ یہ سفر سب کا سب غیبی معجزات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ان میں سے ایک معجزہ تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ عبدصالح کے مقام سے وہ آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس سے ملاقات اس پتھر کے پاس ہوگی۔ چناچہ وہ واپس ہوئے اور وہاں ان کو عبد صلح انتظار کرتے ہوئے ملے۔

الكهف 18:63

راجح بات یہ ہے کہ یہ مچھلی بھونی ہوئی تھی اور اس کا زندہ رہنا اور پھر اس کا سمندر کے اندر عجیب انداز میں گم ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ایک نشانی تھی۔ اس کے ذریعے اللہ نے ان کو بتانا تھا کہ عبدصالح کا مقام یہی ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نوکر نے جو بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے قابل تعجب انداز میں سمندر میں اپنی راہ لی تھی۔ یہ بات کہ زندہ مچھلی اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ سمندر میں چلی گی تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ سبب ترجیح یہ ہے کہ یہ سفر سب کا سب غیبی معجزات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ان میں سے ایک معجزہ تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ عبدصالح کے مقام سے وہ آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس سے ملاقات اس پتھر کے پاس ہوگی۔ چناچہ وہ واپس ہوئے اور وہاں ان کو عبد صلح انتظار کرتے ہوئے ملے۔

الكهف 18:64

معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک خفیہ راز تھا اور اس راز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نوجوان بھی باخبر نہ تھے۔ ملاقات تک اسے خبر نہ تھی اور بعد کے مناظر میں بھی ان نوجوان حضرت موسیٰ اور عبدصالح کے ساتھ نظر نہیں آتے۔

الكهف 18:65

معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک خفیہ راز تھا اور اس راز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نوجوان بھی باخبر نہ تھے۔ ملاقات تک اسے خبر نہ تھی اور بعد کے مناظر میں بھی ان نوجوان حضرت موسیٰ اور عبدصالح کے ساتھ نظر نہیں آتے۔

الكهف 18:66

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی احترام سے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا آپ ہمیں کچھ سکھائیں گے ؟ یعنی آپ کو اللہ نے جو علم دیا ہے اس میں سے کوئی راہنمائی اور دانشمندی ہمیں بھی سکھائیں گے۔ لیکن اس شخص کا علم وہ علم نہ تھا جو انسانوں کو سکھایا گیا ہے اور جس کے اسباب و نتائج معلمو اور قریب الفہم ہوتے ہیں بلکہ اس کے علم کا تعلق علم لدنی اور اس کائنات کے تکوینی انتظام کے ساتھ تھا۔ یہ اللہ کے غیبی امور کا ایک حصہ تھا۔ جو اس عبدصالح کو اللہ نے اپنی مخصوص مصلحتوں اور حکمت کے تحت سکھایا ہوا تھا۔ اس لئے عبدصالح کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ اس کے تصرفات کو برداشت نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ تو رسول اور نبی ہیں ۔ خلاف شریعت کسی بات کو برداشت نہ کریں گے۔ کیونکہ یہ تصرفات بظاہر شریعت کے بھی خلاف ہوں گے اور عقلی طرز عمل کے بھی خلاف ہوں گے اور اس بات کی ضرورت ہوگی کہ ان کی تہہ میں جو تکوینی حکمت پوشیدہ تھی وہ بھی ان کو بتائی جائے۔ اگر اصل حقیقت نہ بتائی جائے تو یہ قابل اعتراض ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عبدصالح اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ تم صبر نہ کرسکو گے۔

الكهف 18:67

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صبر اور اطاعت کے زعم کا اظہار کرتے ہیں ، اس سلسلے میں اللہ کی مدد کی بھی امید کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

الكهف 18:68

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صبر اور اطاعت کے زعم کا اظہار کرتے ہیں ، اس سلسلے میں اللہ کی مدد کی بھی امید کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

الكهف 18:69

عبدصالح اب بطور تاکید دوبارہ صبر کی تلقین کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے ساتھ رہنے کی شرط یہ ہے کہ میرے تصرفات کی بابت آپ کوئی سوال نہ کریں گے ، یہاں تک کہ وہ خود ان تصرفات کی حقیقت بیان نہ کردوں۔

الكهف 18:70

حضرت موسیٰ یہ شرط قبول کرتے ہیں۔ اب پہلا تصرف اور اس کا منظر۔

الكهف 18:71

یہ کشتی ان دونوں کو بھی لے جا رہی اور ساتھ ہی اور سوار بھی اس پر موجود ہیں۔ یہ سب لوگ سمندر کے درمیان موجوں میں سفر کر رہے ہیں۔ عبدصالح اس میں شگاف ڈال دیتے ہیں۔ بظاہر تو یہ نظر آتا ہے کہ اس شگاف کی وجہ سے یہ کشتی غرق ہو سکتی ہے اور مالکوں اور سواروں کے لئے مصیبت کا باعث ہو سکتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ عبداصالح نے یہ حرکت کیوں کی ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذہن سے شرائط سفر محو ہوگئیں۔ وہ اس غیر معقول حرکت کو برداشت نہ کرسکے۔ جو عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔ انسان بعض اوقات محض تصور کی حد تک بہت کچھ کہتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی عملی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے تمام نظریاتی جائزے اور توقعات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ عملی میدان میں اس کا ردعمل محض نظری میدان سے مختلف ہوتا ہے۔ عملی تجربات اور ہوتے ہیں اور نظری تصورات اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نظری طور پر متنبہ بھی کردیا گیا تھا کہ تم ان امور پر صبر نہ کرسکو گے جن کے بارے میں تمہیں علم نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے فضل و کرم سے صبر کرنے کا عزم بھی کرتے ہیں ، وعدہ بھی کرتے ہیں ، شرط قبول بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ عملاً ایک منظر کو دیکھتے ہیں تو سب کچھ بھول کر اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی طبیعت بھی انفعالی اور جذباتی تھی۔ اس لئے وہ صبر نہ کرسکے۔ وہ وعدے کا ایفا نہ کرسکے۔ وہ اس فعل کے انوکھے پن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی برائی کو برداشت نہ کیا۔ مثلاً مصر میں جب ایک قبطی ایک بنی اسرائیل سے لڑ رہا تھا تو آپ نے غصے میں اسے مکا رسید کیا اور وہ مر گیا۔ پھر انہوں نے اس فعل پر اللہ سے معافی مانگی۔ پھر دوسرے دن جب وہی بنی اسرائیل پھر ایک مصری سے لڑر رہا تھا تو آپ پھر غصہ ہوئے۔ بہرحال حضرت مسویٰ اپنی افتاد طبع کے مطابق ہیاں بھی برداشت نہ کرسکے۔ واقعہ عجیب و غریب تھا۔ عقل و نقل کے خلاف تھا۔ اور اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ کیا تھا اور شرط بھی قبول کرلی تھی لیکن نظریات اور ہوتے ہیں اور عملی صورت حالات اور ہوتی ہے۔ چناچہ جب عملاً موسیٰ علیہ السالم کے سامنے یہ صورت حالات پیش ہوئی تو آپ نے بےساختہ اعتراض کردیا۔

الكهف 18:72

اب حضرت موسیٰ معذرت کرتے ہیں کہ وہ تو بھول گئے اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ میرے عذر کو قبول کرلیں ، بھول ہوگئی اور یہ کہ اس معاملے میں آپ میرے ساتھ سختی نہ کریں۔

الكهف 18:73

عبد صالح بھی یہ عذر و معذرت قبول کرلیتے ہیں اور ہم اب دوسرے منظر کے سامنے ہیں۔

الكهف 18:74

پہلے تو کشتی میں شگاف ڈالا تھا اور لوگوں کی ہلاکت کا محض احتمال تھا لیکن اب تو واضح طور پر انہوں نے ایک شخص کو قتل کردیا۔ یہ قتل عمد تھا۔ محض احتمال قتل نہ تھا اور یہ گناہ کبیرہ تھا۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) صبر نہ کرسکتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے عہد کیا تھا اور انہیں یہ عہد یاد بھی تھا۔ اس دفعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ بھولے تھے اور نہ غافل تھے۔ اب انہوں نے بالا ارادہ اعتراض کردیا۔ کیونکہ وہ اس گناہ کبیرہ پر اعتراض کئے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ نہ وہ اس کی کوئی تاویل کرسکتے تھے۔ ان کے خیال میں یہ لڑکا بےگناہ تھا۔ اس نے ایسا کوء فعل نہ کیا جس کے نتیجے میں اس کا قتل جائز ہو۔ بلکہ وہ تھا بھی نابالغ اس پر تو حد جاری ہی نہ ہو سکتی تھی۔ عبدصالح دوبارہ ان سے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک معاہدہ ہوچکا ہے اور وہ انہیں پھر یاد دلاتے ہیں اور یہ کہ تجربے کے بعد تجربہ بتلاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) برداشت نہیں کرسکتے۔

الكهف 18:75

موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ اب ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ وہ اب سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دو مرتبہ وعدہ خلافی کرلی۔ اور ان کی یاد دہانی کے بعد پھر وہ بھول گئے۔ چناچہ وہ آگے بڑھ کر خود ہی اپنے لئے آخری بار مقرر فرماتے ہیں کہ اگر اب کے میں نے خلاف ورزی کی تو آپ مجھے علیحدہ کردیں۔

الكهف 18:76

اب ہم ذرا آگے بڑھتے ہیں اور تیسرے منظر کے سامنے کھڑے ہیں۔

الكهف 18:77

یہ دونوں بھوک تھے۔ لیکن وہ دونوں ایسے گائوں میں تھے جس کے باشندے بخیل تھے۔ وہ کسی بھوکے کو کھانا نہ کھلاتے تھے نہ کسی مہمان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔ اچانک یہ شخص دیکھتا ہے کہ ایک دیوار گرا چاہتی ہے۔ یہاں بھی انداز ایسا ہے کہ دیوار گویا زندہ ہے اور وہ بالا ارادہ گرنا چاہتی ہے۔ یرید ان ینقص (81 : 88) ” وہ ارادہ کرتی ہے کہ گر جائے۔ “ یہ بندئہ خدا بس دیکھتے ہی بغیر کسی معاوضہ کے دیوار کو از سر نو کھڑا کرنے میں لگ گیا۔ یہاں موسیٰ (علیہ السلام) سہ بارہ محسوس کرتے ہیں کہ اس شخص کے طرز عمل میں کھلا تضاد ہے۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ یہ شخص مشقت برداشت کرتا ہے اور اس گائوں میں یہ نیکی کا کام کرتا ہے جبکہ ہم بھوکے ہیں اور ان لوگوں نے ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کردیا۔ کیا کم از کم یہ بات معقول نہ تھی کہ وہ اس دیوار کو درست رنے پر معاوضہ طلب کرتے اور اس کے عوض کھانا کھالیتے۔ پس اب اس سے دونوں کے درمیان جدائی ہوگئی۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے کوئی عذر نہ تھا۔ نہ اب دونوں کے درمیان مزید رفاقت کی کوئی گنجائش رہ گئی تھی۔

الكهف 18:78

یہاں تک حضرت موسیٰ اور ہم جو قرآن پڑھتے ہیں ، یہ حیران کن واقعات دیکھتے چلے آئے ہیں۔ یہ عجیب واقعات ہیں۔ ہم ان کے راز کو نہیں جانتے۔ لیکن ان کے بارے میں ہر قاری قرآن کی رائے دہی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہے بلکہ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ شخص ہے کون جو اس قسم کے عجیب اقدامات کر رہا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں اس کا نام بھی نہیں بتایا۔ نام تو قرآن نے اس لئے نہیں بتایا کہ اس عجیب اور حیرت انگیز قصے ، کی فضا مزید حیران کن ہوجائے بلکہ نام کے اظہار کی یہاں اہمیت ہی نہیں ہے بلکہ اصل اہمیت کی ہے کہ اس کائنات میں ان واقعات کی پشت پر جو حکمت ہے وہ معلوم ہوجائے اور بظاہر جو تصرفات عجیب نظر آتے ہیں وہ معقول نظر آئیں اور ان کے دور رس اسباب معلوم ہوں۔ نامع معلوم ہو کہ نہ ہو ، بلکہ ان کی پراسرار شخصیت کے ساتھ موزوں یہی ہے کہ وہ نامعلوم رہیں۔ کیونکہ پوری سورت اور اس قصے میں غیبی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس بندئہ خدا سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنا سفر طے کر رہے ہیں لیکن پتھر کے پاس حضرت موسیٰ کے غلام کھانا بھول جاتے ہیں۔ بھول بھی اس لئے جاتے ہیں کہ واپس اس چٹان تک لوٹ آئیں۔ وہاں یہ شخص غائبانہ انداز میں موجود ہوجاتا ہے۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی غذا نہ بھولتے تو وہ ان سے نہ مل سکتے اور آگے ہی چلے جاتے۔ لیکن دست قدرت نے انہیں دوبارہ پتھر تک لوٹایا۔ غرض قصے کی تمام فضا پراسرار ہے اور ایک کردار کا نام تک معلوم نہیں ہے۔ لیکن اب ان پر اسرار واقعات کا راز کھلتا ہے۔

الكهف 18:79

اور اس عیب کی وجہ سے یہ کشتی بیگار میں پکڑے جانے سے بچ گئی اور یہ عیب ایک چھوٹا نقصان تھا اور ایک بڑے نقصان سے بچنے کے لئے چھوٹا نقصان برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اگر کشتی کو یہ تھوڑا سا نقصان نہ پہنچایا جاتا تو اس کو شدید نقصان اٹھانا پڑتا۔

الكهف 18:80

یہ لڑنا بظاہر تو قتل کے مستحق نہ تھا۔ نہ واجب القتل تھا ، لیکن مستقبل میں وہ بہت ہی خطرناک بن رہا تھا۔ سخت کافر اور حد سے تجاوز کرنے والا ہو رہا تھا۔ اس کے نفس کے اندر ان برائیوں کے بیج موجود اور بعد میں ظاہر ہونے والے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتا تو اپنے کفر اور سرکشی کی وجہ سے والدین کی نافرمانی کرتا اور یہ والدین اس کی محبت کی وجہ سے اس کی راہ پر چلتے۔ اس لئے اللہ نے اس بندئہ صالح کو حکم دیا کہ اس لڑکے کو قتل کر دے اور اللہ اس کے والدین کو اس کے بدلے نہایت ہی صالح اولاد دے دے گا جو والدین کے ساتھ زیادہ حسن سلوک کرنے والی ہوگی۔ اگر ان امور کو انسان کے ظاہری علم ہی پر چھوڑ دیا جاتا تو انسان اس لڑکے کے بارے میں ظاہری فیصلہ ہی کرتا اور اس لڑکے کو قانوناً کچھ بھی نہ کہا جاسکتا تھا۔ کیونکہ اس نے شریعت کے مطابق ایسا کوئی جرم نہ کیا تھا کہ اسے قتل کردیا جاتا۔ نیز اللہ کے سوا اگر کوئی غیب بھی جانتا ہو تو بھی کسی فرد کو کوئی اس طرح قتل نہیں کرسکتا۔ کوئی جج بھی اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرسکتا۔ فیصلہ قانون کے مطابق ہی ہوگا۔ لیکن یہاں عبد صالح نے فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق کیا اور یہ حکم مستقبل کے اعمال کے ساتھ وابستہ علم الٰہی کی وجہ سے کیا گیا۔

الكهف 18:81

یہ دیوار جسے از سر نو کھڑا کرنے میں اس شخص نے اپنے آپ کو تھکایا اور گائوں والوں سے اس پر کوئی اجر بھی طلب نہ کیا۔ جبکہ دونوں بھوکے بھی تھے اور گائوں والوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار بھی کردیا تھا۔ اس کے نیچے خزانہ تھا اور یہ خزانہ گائوں کے دو ضعیف یتیموں کی ملکیت تھا۔ اگر یہ دیوار گر جاتی ، خزانہ ظاہر ہوجاتا تو لوگ اسے اڑا لیتے اور یہ یتیم کوئی مدافعت نہ کرسکتے چونکہ ان کا باپ صالح تھا اس لئے باپ کی نیکی نے ان بچوں کو فائدہ دیا۔ ان کی ذاتی کمزوریوں پر بھی اللہ کو رحم آیا۔ اس لئے اللہ کے حکم سے یہ دیوار تعمیر ہوئی کہ وہ ذرا مضبوط ہوجائیں اور اپنا خزانہ نکالیں اور اسے بچا بھی سکیں۔ اس کے بعد یہ عبد صالح اس کارنامے سے اپنے ہاتھ جھاڑ دیتا ہے۔ یہ تو اللہ کی رحمت تھی جس نے یہ سب تصرفات کیے۔ اللہ کا حکم تھا ، اپنی مرضی سے اس نے کچھ نہ کیا۔ ان تمام امور میں اللہ نے عبدصالح کو غیب کی اطلاع کردی اور حکم دیا کہ یہ تصرفات کرو۔ رحمۃ من ربک وما فعلتہ عن امری (81 : 88) ” یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا۔ میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کردیا۔ “ اب ان تصرفات کا پس منظر سامنے آگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اللہ کا غیبی نظام کیا ہے اور اللہ اپنے غیب اسی کو بتاتا ہے جس کے بارے میں اس کی رضا ہو۔ جب اس راز کا انکشاف ہوتا ہے تو دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں اور عبدصالح منظر سے غائب ہوجاتا ہے۔ جس طرح وہ اچانک نمودار ہوا تھا۔ اس طرح اچانک پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس قصے میں اس عظیم حکمت اور تدبر کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ جس کے مطباق اس کائنات کا نظام چلتا ہے اور یہ سب حکمت پس رپدہ غیب سے اپنا کام کرتی ہے۔ اب یہاں دیکھیے کہ قصہ موسیٰ اور قصہ اصحاب کہف میں بھی غائبانہ حکمت الہیہ ایک قدر مشرک ہے۔ یہ کائنات اللہ کے وسیع علم کے مطباق چل رہی ہے۔ انسان کے لئے اس پر حاوی ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ انسان پر دئہ غیب سے ادھر کھڑا ہے۔ پر دئہ غیب کے اسرار و رموز سے واقف اللہ ہی ہے۔

الكهف 18:82

یہ دیوار جسے از سر نو کھڑا کرنے میں اس شخص نے اپنے آپ کو تھکایا اور گائوں والوں سے اس پر کوئی اجر بھی طلب نہ کیا۔ جبکہ دونوں بھوکے بھی تھے اور گائوں والوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار بھی کردیا تھا۔ اس کے نیچے خزانہ تھا اور یہ خزانہ گائوں کے دو ضعیف یتیموں کی ملکیت تھا۔ اگر یہ دیوار گر جاتی ، خزانہ ظاہر ہوجاتا تو لوگ اسے اڑا لیتے اور یہ یتیم کوئی مدافعت نہ کرسکتے چونکہ ان کا باپ صالح تھا اس لئے باپ کی نیکی نے ان بچوں کو فائدہ دیا۔ ان کی ذاتی کمزوریوں پر بھی اللہ کو رحم آیا۔ اس لئے اللہ کے حکم سے یہ دیوار تعمیر ہوئی کہ وہ ذرا مضبوط ہوجائیں اور اپنا خزانہ نکالیں اور اسے بچا بھی سکیں۔ اس کے بعد یہ عبد صالح اس کارنامے سے اپنے ہاتھ جھاڑ دیتا ہے۔ یہ تو اللہ کی رحمت تھی جس نے یہ سب تصرفات کیے۔ اللہ کا حکم تھا ، اپنی مرضی سے اس نے کچھ نہ کیا۔ ان تمام امور میں اللہ نے عبدصالح کو غیب کی اطلاع کردی اور حکم دیا کہ یہ تصرفات کرو۔ رحمۃ من ربک وما فعلتہ عن امری (81 : 88) ” یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا۔ میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کردیا۔ “ اب ان تصرفات کا پس منظر سامنے آگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اللہ کا غیبی نظام کیا ہے اور اللہ اپنے غیب اسی کو بتاتا ہے جس کے بارے میں اس کی رضا ہو۔ جب اس راز کا انکشاف ہوتا ہے تو دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں اور عبدصالح منظر سے غائب ہوجاتا ہے۔ جس طرح وہ اچانک نمودار ہوا تھا۔ اس طرح اچانک پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس قصے میں اس عظیم حکمت اور تدبر کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ جس کے مطباق اس کائنات کا نظام چلتا ہے اور یہ سب حکمت پس رپدہ غیب سے اپنا کام کرتی ہے۔ اب یہاں دیکھیے کہ قصہ موسیٰ اور قصہ اصحاب کہف میں بھی غائبانہ حکمت الہیہ ایک قدر مشرک ہے۔ یہ کائنات اللہ کے وسیع علم کے مطباق چل رہی ہے۔ انسان کے لئے اس پر حاوی ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ انسان پر دئہ غیب سے ادھر کھڑا ہے۔ پر دئہ غیب کے اسرار و رموز سے واقف اللہ ہی ہے۔

الكهف 18:83

درس نمبر 431 ایک نظر میں یہ سورة کہف کا آخری سبق ہے۔ اس سبق کا بڑا حصہ ذوالقرنین کے قصے کے بارے میں ہے۔ اس میں ذوالقرنین کے تین سفروں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ سفر مشرق ، سفر مغرب اور سفروسط نیز اس میں یاجوج اور ماجوج کے مقابلے میں ان کی جانب سے دیوار کھڑی کرنے کا خصوصی ذکر ہے۔ قرآن کریم نے اس قصے میں ذوالقرنین کا ایک قول نقل کیا ہے۔ تعمیر سد کے بعد وہ کہتا ہے۔ قال ھذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکاء وکان وعد ربی حقاً (81 : 89) ” ذوالقرنین نے کہا ، یہ میرے رب کی رحمت ہے ، مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ “ اس کے بعد نفخ صور اور قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے اور اس سبق اور اس سورة دونوں کا خاتمہ تین مختصر قطعات پر ہوتا ہے۔ جن پر بات ختم کی جاتی ہے اور ہر ایک مقطعہ کا آغاز لفظ قل کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان قطعات کے ذریعہ پوری سورة کے مضامین کا خلاصہ دیا جاتا ہے اور سورة کا عام فکری رجحان بتا دیا جاتا ہے۔ گویا یہ خلاصہ کلام قاری کے دل و دماغ کی تاروں پر آخری ضربات ہیں لیکن ذرا زیادہ قوت کے ساتھ ہیں۔ محمد ابن اسحاق نے اس سورة کے شان نزول کے سلسلے میں یہ روایت نقل کی ہے۔ ” مجھے ہمارے شہر کے ایک شیخ نے بتایا ، جس نے ہمارے ہاں چالیس سال سے اوپر قیام کیا۔ انہوں نے عکرمہ ، عن ابن عباس کی سند سے روایت کی ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ قریش نے نضر ابن حارث اور عقبہ ابن ابی معیط کو مدینہ میں یہود کے علماء کے پاس بھیجا ، قریش نے ان سے کہا کہ ان علماء سے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں دریافت کرو ، ان کا پورا تعارف کر ائو ، ان کی باتوں کے بارے میں ان کو پوری طرح آگاہ کرو ، یہ لوگ پہلے اہل کتاب ہیں ، ان کے پاس انبیاء کے بارے میں ہمارے مقابلے میں زیادہ علم ہے۔ یہ لوگ اس سفر پر نکلے یہاں تک کہ یہ مدینہ آئے ، انہوں نے یہودی علماء سے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں سوالات کئے۔ انہوں نے حضرت محمد کا پورا تعارف کرایا اور آپ کے بعض اقوال و نظریات ان کو بتائے ان دونوں نے یہ گزاشر کی کہ تم لوگ حاملین تورات ہو ، ہم تمہارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ تم ہمیں ہمارے اس شخص کے بارے میں صحیح معلومات دو اور اپنی رائے بھی دو ۔ کہتے ہیں کہ ان علماء نے اس وفد کو مشورہ دیا کہ ہم تمہیں تین سوالات بتاتے ہیں ، تم یہ سوالات ان سے پوچھو۔ اگر اس نے ان تینوں کے جوابات تمہیں دے دیئے تو وہ بیشک نبی مرسل ہیں ، اللہ کے سچے نبی ہیں۔ اگر انہوں نے ان سوالات کے جوابات نہ دیئے تو پھر یہ شخص باتیں بتانے والا ہے۔ تم جانو اور وہ پہلا سوال یہ ہے کہ وہ نوجوان کون تھے جو پہلے زمانے میں دین کی خاطر گھر بار چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ان کا معاملہ کیا تھا ؟ کیونکہ ان کا قصہ بڑا عجیب ہے۔ ان سے دوسرا سوال یہ کرو کہ وہ مہم جو شخص کون تھا جس نے کرہ ارض کے مشرق و مغرب کا سفر کیا۔ اس کے متعلق واقعات و خبریں۔ تیسرا سوال یہ کہ ان سے پوچھیں کہ روح کیا ہے۔ اگر اس نے ان تین سوالات کے جوابات دے دیئے تو وہ سچا نبی ہے۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی اطاعت کرو ، اور اگر اس نے ان سوالات کا جواب نہ دیا تو وہ اپنی طرف سے باتیں بنانے والا شخص ہے ، اس کے بارے میں تم جو چاہو کرو۔ نضر اور عقبہ واپس قریش کے پاس آئے۔ انہوں نے رپورٹ دی کہ ہم تمہارے اور محمد کے درمیان ایک فیصلہ کن بات لے کر آئے ہیں۔ ہمیں یہودی علماء نے یہ مشورہ دیا کہ اس سے کچھ باتیں پوچھو۔ انہوں نے قریش کو یہ سوالات بتائے۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور کہا ، محمد ہمیں ان سوالات کے بارے میں صحیح بتائو۔ انہوں نے وہ سوالات آپ کے سامنے رکھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں تمہارے سوالات کا جواب کل دوں گا لیکن آپ نے اس موقع پر لفظ انشاء اللہ نے کہا۔ یہ لوگ چلے گئے ، رسول اللہ ﷺ پندرہ شب و روز جبرئیل کا اتنظار کرتے رہے لیکن وحی نہ آئی نہ جبرئیل آئے۔ اہل مکہ مارے خوشی کے ناچنے لگے۔ وہ کہتے ہمارے ساتھ محمد کا وعدہ کل کا تھا لیکن آج پندرہواں دن ہے اور محمد ہمیں سوالات کا جواب نہیں دے سکا۔ اس پر حضور اکرم ﷺ کو بےحد رنج ہوا۔ کیونکہ ایک تو وحی بند ہوگئی ، دوسرے اہل مکہ بغلیں بجانے لگے۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل سورة کہ لے کر نازل ہوئے۔ اس سورة میں آپ کو تنبیہ کی گئی کہ آپ ان لوگوں کے باتوں سے پریشان کیو ہوئے ؟ اس سورة میں نوجوانوں کا قصہ شرق و غرب تک پہنچنے والے شخص کا قصہ اور روح کے بارے میں جواب نازل ہوا۔ یہ تو تھی ایک رویات اور حضرت ابن عباس ؓ سے آیت روح کے نزول کے سلسلے میں ایک دوسری روایت بھی مروی ہے ……نے اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ یہ کہ یہودیوں نے حضور سے سوال کیا کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ جسم میں جو روح ہے اسے کس طرح سزا دی جاتی ہے جبکہ روح من جانب اللہ ہے ؟ اس بارے میں آپ پر کوئی آیت نازل نہ ہوئی تھی اس لئے آپ نے ان کو کوئی جواب نہ دیا۔ اس پر یہ آیت ازل ہوئی۔ قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً (81 : 58) ” کہہ دو ، روح اللہ کے امر میں سے ایک امر ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ ‘ چونکہ اسباب نزول میں روایات متعدد ہیں لہٰذا ہم اسی مفہوم پر اکتفا کرتے ہیں جو قرآن کی نص قطعی سے ثابت ہے۔ اس آیت میں صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کے بارے میں اس وقت سوال کیا گیا تھا لیکن یقینی طور پر معلوم نہیں ہے کہ یہ سوال کس نے کیا تھا۔ نیز اگر معلوم بھی ہوجائے کہ یہ سوال کس نے کن حالات میں کیا تھا تو اس سے اس قصے کے اصل حقائق اور عبرت آموزی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ تفسیر میں اسی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھیں جس حد تک نص سے بات معلوم ہوتی ہے۔ اس پر حاشیہ آرائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ماہر فلکیات ابو ریحان البیرونی نے اپنی کتاب (الا ثارلباقیۃ عن القرون الخالیہ) میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں جس ذوالقرنین کا ذکر ہے وہ ملوک حمیر میں تھا انہوں نے محض اس کے نام ذوالقرنین سے یہ قیاس کیا ہے کیونکہ ملوک حمیر اپنے نام کے ساتھ (ذو) کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ مثلاً ذونواس ، اس کا نام دراصل ابوبکر بن افریقی تھا۔ یہ اپنی فوجیں لے کر بحر متوسط کے ساحل کے ساتھ ساتھ آخر تک گیا۔ تونس اور مراکش اس نے فتح کیا۔ اس نے شہر افریقہ بتایا ، بعد کے زمانوں میں پورے بر اعظم کا نام افریقہ پڑگیا اور ذوالقرنین اس کو سا لئے کہا گیا کہ یہ سورج کے دونوں سینگوں تک پہنچ گیا۔ (یعنی مشرق و مغرب تک) ۔ البیرونی کی یہ بات صحیح بیھ ہو سکتی ہے لیکن ہمارے پاس ایسے ذرائع نہیں ہیں کہ ہم بالجزم کوئی بات کہہ سکیں یا اس شخص کی حقیقت کے بارے میں چھان بین کرسکیں اس لئے کہ انسانی تاریخ میں اس شخص کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں ہے ، جس کی تاریخ کے ایک حصے کے بارے میں ہمیں قرآن کریم بتاتا ہے۔ اس قصے کی نوعیت بھی ایسی ہے جس طرح قصص القرآن کے دور سے حصو کی ہے۔ مثلاً قصہ قوم نوح ، قوم ہود ، قوم صالح وغیرہ۔ کیونکہ ان قصص کا تعلق جس دور سے ہے وہ ماقبل التاریخ دور ہے۔ تاریخ نو دور جدید کی ایک مولود چیز ہے جبکہ انسانوں کا زمانہ اس سے بہت پہلے کا ہے۔ زمانہ ” تاریخ مدون “ سے قبل ایسے واقعات گزرے ہیں جن کے بارے میں انسان کو کوئی علم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی ایسا تاریخی ریکارڈ نہیں ہے ، جہاں سے ہم کوئی یقینی بات اخذ کرسکیں۔ اگر تورات تحریف اور اضافوں سے پاک ہوتی تو وہ ان قدیم واقعات کے بارے میں ایک قابل اعتماد ریکارڈ ہوتی۔ لیکن تورات ایسے قصے کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ نیز اس میں ایسی باتیں کثرت سے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصل وحی پر اضافہ ہیں۔ تو رات میں جو تاریخی قصے ہیں وہ تاریخ کا مستند ماخذ نہیں ہو سکتے۔ اب قرآن ہی وہ ماخذ رہ جاتا ہے جو حذف و اضافہ اور تحریف سے پاک ہے اور اس کے اندر جو بھی تاریخی مواد ہے وہ درست ہے۔ ایک نہایت ہی مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب ہم قرآن کریم کی تاریخ کی روشنی میں نہیں پڑھ سکتے۔ اس کی دو واضح وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ تاریخ بالکل دور جدید کی لکھی ہوئی چیز ہے اور ہے بھی نامکمل۔ انساین تاریخ کے کئی واقعات بلکہ بیشمار اہم واقعات میں ریکارڈ ہونے سے بالکل رہ گئے ہیں۔ ان کے بارے میں انسانوں کو اب کوئی علم نہیں ہے۔ قرآن کریم ان واقعات میں سے بعض واقعات کو پیشک رتا ہے جن کے بارے میں تاریخ فہمی دامن ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تاریخ نے اگرچہ بعض واقعات کو سمجھا اور قلم بند کیا ہے لیکن یہ کام بہرحال دوسرے انسانی اعمال کی طرح قصور اور غلطی سے مبرا نہیں ہے۔ اس میں غلطی اور تخریف کا ہر جگہ امکان موجود ہے ۔ ہم خود اپنے زمانے میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ذرائع مواصلات ترقی کر گئے ہیں اور تحقیقات کے لئے بیشمار ذرائع میسر ہیں لیکن ایک ہی واقعہ کے بارے میں رپورٹروں کی رپورٹ مختلف ہوتی ہے۔ لوگ مختلف زاویوں سے اسیب یان کرتے ہیں اور متضاد تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ ہے وہ خام مواد جس سے انسانوں کی تاریخ کو مرتب کیا گیا ہے۔ کوئی جس قدر چاہے تحقیق و تفتیش کا دعویٰ کیوں نہ کرے تاریخی ریکارڈ بہرحال مشکوک ہوتا ہے۔ یہ بات کرنا تو موجودہ دور کے مرتب کردہ اصول تاریخ کے بھی خلاف ہے کہ قرآن مجید جن واقعات کا ذکر کرتا ہے ان کو ہم تاریخ کی کسوٹی پر رکھیں ، جبکہ اسلامی عقیدہ اور اسلامی نظریہ حیات تو اس کی سرے سے اجازت ہی نہیں دیتا کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ قرآن مجید ایک قول فیصل ہے۔ اس اندازہ کی بات نہ تو وہ شخص کرسکتا ہے جو ایک سچا مومن ہے اور نہ وہ شخص کر سکات ہے جو دور جدید کے انداز تحقیق و تفتیش کو جانتا ہے۔ قرآن کریم کی صحت کو تاریخ سے معلوم کرنا محض بےعقلی ہے۔ پوچھنے والوں نے ذوالقرنین کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ سوالات پوچھے۔ آپ کی سیرت کے مصدقہ ذرائع اور مصادر بتاتے ہیں کہ آپ پر اللہ نے وحی بھیجی اور وہ قرآن میں قلم بند کردی گئی۔ قرآن کے سوا اس دور کی تاریخ کے بارے میں اور کوئی ریکارڈ موجود نہی ہے لہذا ہم بغیر علم کے اس کے بارے عقل گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔ تفاسیر میں بیشمار اقوال وارد ہیں لیکن ہماری تفسیروں کے بیشمار اقوال بھی قابل یقین نہیں ہیں۔ ہم ان تفاسیر کے اقوال میں سے جو قول بھی لیں ہمیں چاہئے کہ اس کی اچھی طرح جانچ پڑتال کریں کیونکہ ہماری قدیم تفاسیر میں اسرائیلیات اور قصے کہانیاں بھی راہ پا گئی ہیں۔ قرآن مجید کے سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے تین سفر کئے۔ ایک سفر مشرق ، ایک سفر مغرب اور تیسرا سفر (بین البدین) دو بندوں والی جگہ کا سفر۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کریم کے مطابق انہی تین سفروں کو یہاں لیں۔ قرآن کریم ذوالقرنین کی بات یوں شروع کرتا ہے۔

الكهف 18:84

اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو زمین میں اقتدار دیا تھا اور ایک مضبوط سلطنت دی تھی اور اسے ہر چیز کے وسائل و اسباب عطا کئے تھے۔ اس وجہ سے وہ علاقوں کے علاقے فتح کرتا چلا گیا۔ اس نے دنیا میں تعمیر اور ترقی کے کام شروع کردیئے۔ یہ شخص قوت اور ساز و سامان کے اعتبار سے اس وقت کے تمام وسائل پر دسترس رکھتا تھا۔ چناچہ اس نے اپنی قوت اور وسائل کو سب سے پہلے مغرب کی طرف متوجہ کیا۔

الكهف 18:85

مغرب الشمس وہ جگہ ہے جہاں دیکھنے والے کو سورج غروب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ مختلف مقامات میں سورج کی جائے غروب مختلف ہوتی ہے ، بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج پہاڑ کے پیچھے غروب ہو رہا ہے ۔ بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج پانیوں میں غروب ہوتا ہے جس طرح بڑے بڑے سمندروں میں ہوتا ہے۔ بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج صحرائوں اور ریگستانوں میں غروب ہو رہا ہے ۔ مثلاً جہاں نظر کے سامنے صحرا اور ریگستان ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین بحر اوقیانوس کے ساحل تک پہنچ گیا تھا۔ اسے بحر ظلمات بھی کہتے ہیں اور اس وقت یہ گمان کیا جاتا تھا کہ خشکی اس سمندر کے ساحل پر ختم ہوجاتی ہے اس لئے اس نے دیکھا کہ سورج کالے پانیوں میں ڈوبنے لگا ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ یہ شخص جاتے جاتے ایک ایسے ساحل پر پہنچ گیا جہاں کوئی دریا آ کر سمندر میں گرتا تھا۔ ایسے مقامات پر گھاس اور کیچڑ اور سیاہ دلدل جمع ہوجاتی ہے۔ ایسے مقامات پر تالات بھی نظر آتے ہیں جو چشموں کے مانند ہوتے ہیں۔ یہاں سورج کی جائے غروب کے بارے میں قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں وہ یہ ہیں : وجدھا تغرب فی عین حمئۃ (81 : 68) ” اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا۔ “ قرآن کی اس نشاندہی کے باوجود ہم اس جگہ کی نشاندہی نہیں کرسکتے کیونکہ قرآن میں کسی جگہ کی تخصیص نہیں کی ، ایسی جگہ یا جگہیں کئی ہو سکتی ہیں۔ قرآن کے علاوہ اور کوئی مرجع و ماخذ بھی ایسا نہیں ہے ، جس پر ہم اس مقام کے تعین کے سلسلے میں اعتماد کرسکتے ہوں۔ اس کے علاوہ کوئی شخص جو تفسیر بھی کرے گا اس میں غلطی کا امکان ہوگا کیونکہ وہ تفسیر کسی مسند ذریعہ علم کی طرف منسوب نہ ہوگی۔ بہرحال اس سیاہ چشمے یا سیاہ دلدل کے پاس ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔

الكهف 18:86

قلنا یذا القرنین اما ان تعذب واما ان تخذفیھم حسناً (81 : 68) ” ہم نے ہا اے ذوالقرنین ، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہ اختیار کرے۔ “ یہ بات اللہ نے ذوالقرنین کو کس انداز میں کہی یہ ان پر وحی تھی یا اس صورت حال کی حکایت تھی کیونکہ اللہ نے ذوالقرنین کو ان پر مسلط کردیا تھا۔ ان کے تمام معاملات اس کے اختیار میں دے دیئے تھے ، گویا لسان حال سے اس کو کہہ دیا کہ اب تم جانور اور وہ جانیں۔ تم حکمران ہو اور وہ رعایا۔ حکمران رعایا پر یا ظلم کرتا ہے یا احسان ، یہ دونوں انداز تعیر عربی میں درست ہیں اور یہاں دونوں ممکن ہیں۔ آیت کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے اور وہ بھی۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ذوالقرنین نے اپنے ممالک مفتوحہ کے بارے میں اپنی پالیسی کا یہ اعلان کردیا تھا۔ چاہے لوگ خود اس کے تابع فرمان ہوئے ہوں یا اس نے فتح کیے ہوں ، بہرحال اس کا دستور یہ تھا۔

الكهف 18:87

اس نے کہا ” جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے ، پھر وہ اپنے رب کی طرف بلایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔ اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ، اس کے لئے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے۔ “ اس نے اعلان کیا کہ ظالموں کو وہ سخت سزا دے گا اور پھر ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے گا اور اللہ ان کو مزید سخت عذاب دے گا۔ (نکرا) کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا سخت عذاب دے گا جس کی کوئی مثال نہ ہوگی۔ رہے صالح مسلمان تو ان کے لئے جزائے حسن ہے۔ ان کے ساتھ بہتر سلوک ہوگا ، ان کی تکریم ہوگی ، ان کی معاونت ہوگی اور ان کے لئے آسانیاں ہوں گی۔ یہ ہے ایک صالح حکومت کا منشور۔ اسلامی حکومت میں حکومتی پالیسی میں مومن صالح کی عزت اور حوصلہ افزائی ہونا چاہئے۔ اس کے لئے سہولتیں اور جزائے حسن کا اتنظار ہونا چاہئے ، ظالموں اور حد سے تجاوز کرنے والوں پر سختی ہونا چاہئے اور ان کی پکڑ دھکڑ اور سزا جاری رہنا چاہئے۔ جب کسی معاشرے میں صالح عنصر کی تکریم اور اس کے احسان کا بدلہ احسان سے ملے اور اس کی حوصلہ افزائی ہو اور عزت و منزلت ہو اور مجرمین اور ظالموں کی بےعزتی ، سزا اور ان کے اوپر سختی ہو تو عام لوگوں کا میلان اصلاح کی طرف ہوجاتا ہے۔ لیکن جب حکومت کا دستور یوں بدل جائے کہ ظالم ، چور اور ڈاکو دربار حکومت میں راہ پا لیں ، ان کی عزت ہو اور وہ حکام کے مقرب ہوں اور نیک اور صالح لوگوں کے خلاف حکومت کا اعلان جنگ ہو ، ان کی بیخ کنی کی جا رہی ہو تو تو سمجھئے کہ اب حکومت عذاب الٰہی بن کر عوام پر مسلط ہوگئی ہے اور یہ حکومت وسیلہ اصلحا نہیں ہے بلکہ ذریعہ فساد ہے۔ ایسے حالات میں بالعموم سوسائٹی میں فساد اور طوائف الملوکی پھیل جاتی ہے اور برائی نیکی پر غالب آجاتی ہے۔ اب ذوالقرنین کا سفر مشرق شروع ہوتا ہے ، جہاں تک وہ مشرق کی طرف بڑھ سکتا ہے اور اسباب جہاں تک اسے میسر ہیں۔

الكهف 18:88

اس نے کہا ” جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے ، پھر وہ اپنے رب کی طرف بلایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔ اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ، اس کے لئے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے۔ “ اس نے اعلان کیا کہ ظالموں کو وہ سخت سزا دے گا اور پھر ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے گا اور اللہ ان کو مزید سخت عذاب دے گا۔ (نکرا) کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا سخت عذاب دے گا جس کی کوئی مثال نہ ہوگی۔ رہے صالح مسلمان تو ان کے لئے جزائے حسن ہے۔ ان کے ساتھ بہتر سلوک ہوگا ، ان کی تکریم ہوگی ، ان کی معاونت ہوگی اور ان کے لئے آسانیاں ہوں گی۔ یہ ہے ایک صالح حکومت کا منشور۔ اسلامی حکومت میں حکومتی پالیسی میں مومن صالح کی عزت اور حوصلہ افزائی ہونا چاہئے۔ اس کے لئے سہولتیں اور جزائے حسن کا اتنظار ہونا چاہئے ، ظالموں اور حد سے تجاوز کرنے والوں پر سختی ہونا چاہئے اور ان کی پکڑ دھکڑ اور سزا جاری رہنا چاہئے۔ جب کسی معاشرے میں صالح عنصر کی تکریم اور اس کے احسان کا بدلہ احسان سے ملے اور اس کی حوصلہ افزائی ہو اور عزت و منزلت ہو اور مجرمین اور ظالموں کی بےعزتی ، سزا اور ان کے اوپر سختی ہو تو عام لوگوں کا میلان اصلاح کی طرف ہوجاتا ہے۔ لیکن جب حکومت کا دستور یوں بدل جائے کہ ظالم ، چور اور ڈاکو دربار حکومت میں راہ پا لیں ، ان کی عزت ہو اور وہ حکام کے مقرب ہوں اور نیک اور صالح لوگوں کے خلاف حکومت کا اعلان جنگ ہو ، ان کی بیخ کنی کی جا رہی ہو تو تو سمجھئے کہ اب حکومت عذاب الٰہی بن کر عوام پر مسلط ہوگئی ہے اور یہ حکومت وسیلہ اصلحا نہیں ہے بلکہ ذریعہ فساد ہے۔ ایسے حالات میں بالعموم سوسائٹی میں فساد اور طوائف الملوکی پھیل جاتی ہے اور برائی نیکی پر غالب آجاتی ہے۔ اب ذوالقرنین کا سفر مشرق شروع ہوتا ہے ، جہاں تک وہ مشرق کی طرف بڑھ سکتا ہے اور اسباب جہاں تک اسے میسر ہیں۔

الكهف 18:89

اس نے کہا ” جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے ، پھر وہ اپنے رب کی طرف بلایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔ اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ، اس کے لئے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے۔ “ اس نے اعلان کیا کہ ظالموں کو وہ سخت سزا دے گا اور پھر ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے گا اور اللہ ان کو مزید سخت عذاب دے گا۔ (نکرا) کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا سخت عذاب دے گا جس کی کوئی مثال نہ ہوگی۔ رہے صالح مسلمان تو ان کے لئے جزائے حسن ہے۔ ان کے ساتھ بہتر سلوک ہوگا ، ان کی تکریم ہوگی ، ان کی معاونت ہوگی اور ان کے لئے آسانیاں ہوں گی۔ یہ ہے ایک صالح حکومت کا منشور۔ اسلامی حکومت میں حکومتی پالیسی میں مومن صالح کی عزت اور حوصلہ افزائی ہونا چاہئے۔ اس کے لئے سہولتیں اور جزائے حسن کا اتنظار ہونا چاہئے ، ظالموں اور حد سے تجاوز کرنے والوں پر سختی ہونا چاہئے اور ان کی پکڑ دھکڑ اور سزا جاری رہنا چاہئے۔ جب کسی معاشرے میں صالح عنصر کی تکریم اور اس کے احسان کا بدلہ احسان سے ملے اور اس کی حوصلہ افزائی ہو اور عزت و منزلت ہو اور مجرمین اور ظالموں کی بےعزتی ، سزا اور ان کے اوپر سختی ہو تو عام لوگوں کا میلان اصلاح کی طرف ہوجاتا ہے۔ لیکن جب حکومت کا دستور یوں بدل جائے کہ ظالم ، چور اور ڈاکو دربار حکومت میں راہ پا لیں ، ان کی عزت ہو اور وہ حکام کے مقرب ہوں اور نیک اور صالح لوگوں کے خلاف حکومت کا اعلان جنگ ہو ، ان کی بیخ کنی کی جا رہی ہو تو تو سمجھئے کہ اب حکومت عذاب الٰہی بن کر عوام پر مسلط ہوگئی ہے اور یہ حکومت وسیلہ اصلحا نہیں ہے بلکہ ذریعہ فساد ہے۔ ایسے حالات میں بالعموم سوسائٹی میں فساد اور طوائف الملوکی پھیل جاتی ہے اور برائی نیکی پر غالب آجاتی ہے۔ اب ذوالقرنین کا سفر مشرق شروع ہوتا ہے ، جہاں تک وہ مشرق کی طرف بڑھ سکتا ہے اور اسباب جہاں تک اسے میسر ہیں۔

الكهف 18:90

مغرب الشمس کے بارے میں جو تفسیر کی گئی وہی مشرق کے بارے میں بھی درست ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ وہاں سے سورج طلوع ہو رہا ہے۔ قرآن حکیم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں کیا ، لیکن قرآن نے اس کے کوائف اور وہاں کے لوگوں کے وہ حالات قلم بند کئے ہیں ، جن میں ذوالقرنین نے لوگوں کو وہاں پایا۔ حتی اذا بلغ مطلع الشمس وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا ستراً (81 : 09) ” یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ “ یعنی یہ ایک کھلی سر زمین تھی ، سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ یہ صفت صحرائوں اور کھلے میدانوں پر صادق آتی ہے۔ اس میں بھی کسی خاص مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔ ہمارے خیال میں مشرق بعید کی کوئی جگہ تھی ، جہاں دیکھنے والا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ سورج ایک ہموار اور کھلی زمین پر چمک رہا ہے۔ یہ مشرقی افریقہ کی کوئی جگہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ آیت لم نجعل لھم من دونھا سترا (81 : 09) ” ہم نے اس کی دھوپ سے بچنے کے لئے ان کے لئے کوئی سامان نہ بنایا تھا۔ “ اس سے مراد ایک ایسی قوم ہو سکتی ہے جس کے جسم پر کوئی لباس نہ ہو اور وہ ننگے جسم والے تھے اور ان کے جسم پر سورج کی دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی لباس نہ تھا۔ اس سے قبل ذوالقرنین اپنی حکومت کا دستور و منشور پیش کرچکا تھا ، اس لئے یہاں اس مشرقی قوم کے لئے اس نے دوبارہ اپنے دستور کا اعلان نہیں کیا کیونکہ اس کا پروگرام معلوم تھا۔ اللہ کو معلوم تھا کہ اس کی زنگدی کے مقاصد اور نصب العین کیا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی ایک خاص فنی خصوصیت کا ملاحظہ ضروری ہے۔ اس لئے یہاں قدرے وقفہ کرتے ہوئے طرز ادا کے پہلو سے قرآن کریم کی فنی ہم آہنگی پر بات کریں گے۔ یہاں سفر شرقی میں جو منظر ہے وہ یہ ہے کہ ایک قوم چٹیل میدان میں رہتی ہے اور سورج کی گرمی سے سر چھپانے کے لئے اس کے پاس کوئی سامان نہیں ہے۔ اسی طرح ذوالقرنین کا دل بھی اللہ کے علم کے سامنے کھلا ہے۔ کوئی بات اللہ سے چھپائی نہیں جاسکتی۔ اللہ فرماتے ہیں ” ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اسے ہم جانتے تھے۔ “ یوں مضمون کا ظاہری اور باطنی انداز یکساں ہوجاتا ہے۔ یہ قرآن کا نہیات ہی خاص انداز ہے کہ وہ گفتگو کے ظاہری ماحول اور معنوی تصورات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

الكهف 18:91

مغرب الشمس کے بارے میں جو تفسیر کی گئی وہی مشرق کے بارے میں بھی درست ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ وہاں سے سورج طلوع ہو رہا ہے۔ قرآن حکیم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں کیا ، لیکن قرآن نے اس کے کوائف اور وہاں کے لوگوں کے وہ حالات قلم بند کئے ہیں ، جن میں ذوالقرنین نے لوگوں کو وہاں پایا۔ حتی اذا بلغ مطلع الشمس وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا ستراً (81 : 09) ” یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ “ یعنی یہ ایک کھلی سر زمین تھی ، سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ یہ صفت صحرائوں اور کھلے میدانوں پر صادق آتی ہے۔ اس میں بھی کسی خاص مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔ ہمارے خیال میں مشرق بعید کی کوئی جگہ تھی ، جہاں دیکھنے والا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ سورج ایک ہموار اور کھلی زمین پر چمک رہا ہے۔ یہ مشرقی افریقہ کی کوئی جگہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ آیت لم نجعل لھم من دونھا سترا (81 : 09) ” ہم نے اس کی دھوپ سے بچنے کے لئے ان کے لئے کوئی سامان نہ بنایا تھا۔ “ اس سے مراد ایک ایسی قوم ہو سکتی ہے جس کے جسم پر کوئی لباس نہ ہو اور وہ ننگے جسم والے تھے اور ان کے جسم پر سورج کی دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی لباس نہ تھا۔ اس سے قبل ذوالقرنین اپنی حکومت کا دستور و منشور پیش کرچکا تھا ، اس لئے یہاں اس مشرقی قوم کے لئے اس نے دوبارہ اپنے دستور کا اعلان نہیں کیا کیونکہ اس کا پروگرام معلوم تھا۔ اللہ کو معلوم تھا کہ اس کی زنگدی کے مقاصد اور نصب العین کیا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی ایک خاص فنی خصوصیت کا ملاحظہ ضروری ہے۔ اس لئے یہاں قدرے وقفہ کرتے ہوئے طرز ادا کے پہلو سے قرآن کریم کی فنی ہم آہنگی پر بات کریں گے۔ یہاں سفر شرقی میں جو منظر ہے وہ یہ ہے کہ ایک قوم چٹیل میدان میں رہتی ہے اور سورج کی گرمی سے سر چھپانے کے لئے اس کے پاس کوئی سامان نہیں ہے۔ اسی طرح ذوالقرنین کا دل بھی اللہ کے علم کے سامنے کھلا ہے۔ کوئی بات اللہ سے چھپائی نہیں جاسکتی۔ اللہ فرماتے ہیں ” ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اسے ہم جانتے تھے۔ “ یوں مضمون کا ظاہری اور باطنی انداز یکساں ہوجاتا ہے۔ یہ قرآن کا نہیات ہی خاص انداز ہے کہ وہ گفتگو کے ظاہری ماحول اور معنوی تصورات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

الكهف 18:92

مغرب الشمس کے بارے میں جو تفسیر کی گئی وہی مشرق کے بارے میں بھی درست ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ وہاں سے سورج طلوع ہو رہا ہے۔ قرآن حکیم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں کیا ، لیکن قرآن نے اس کے کوائف اور وہاں کے لوگوں کے وہ حالات قلم بند کئے ہیں ، جن میں ذوالقرنین نے لوگوں کو وہاں پایا۔ حتی اذا بلغ مطلع الشمس وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا ستراً (81 : 09) ” یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ “ یعنی یہ ایک کھلی سر زمین تھی ، سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ یہ صفت صحرائوں اور کھلے میدانوں پر صادق آتی ہے۔ اس میں بھی کسی خاص مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔ ہمارے خیال میں مشرق بعید کی کوئی جگہ تھی ، جہاں دیکھنے والا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ سورج ایک ہموار اور کھلی زمین پر چمک رہا ہے۔ یہ مشرقی افریقہ کی کوئی جگہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ آیت لم نجعل لھم من دونھا سترا (81 : 09) ” ہم نے اس کی دھوپ سے بچنے کے لئے ان کے لئے کوئی سامان نہ بنایا تھا۔ “ اس سے مراد ایک ایسی قوم ہو سکتی ہے جس کے جسم پر کوئی لباس نہ ہو اور وہ ننگے جسم والے تھے اور ان کے جسم پر سورج کی دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی لباس نہ تھا۔ اس سے قبل ذوالقرنین اپنی حکومت کا دستور و منشور پیش کرچکا تھا ، اس لئے یہاں اس مشرقی قوم کے لئے اس نے دوبارہ اپنے دستور کا اعلان نہیں کیا کیونکہ اس کا پروگرام معلوم تھا۔ اللہ کو معلوم تھا کہ اس کی زنگدی کے مقاصد اور نصب العین کیا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی ایک خاص فنی خصوصیت کا ملاحظہ ضروری ہے۔ اس لئے یہاں قدرے وقفہ کرتے ہوئے طرز ادا کے پہلو سے قرآن کریم کی فنی ہم آہنگی پر بات کریں گے۔ یہاں سفر شرقی میں جو منظر ہے وہ یہ ہے کہ ایک قوم چٹیل میدان میں رہتی ہے اور سورج کی گرمی سے سر چھپانے کے لئے اس کے پاس کوئی سامان نہیں ہے۔ اسی طرح ذوالقرنین کا دل بھی اللہ کے علم کے سامنے کھلا ہے۔ کوئی بات اللہ سے چھپائی نہیں جاسکتی۔ اللہ فرماتے ہیں ” ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اسے ہم جانتے تھے۔ “ یوں مضمون کا ظاہری اور باطنی انداز یکساں ہوجاتا ہے۔ یہ قرآن کا نہیات ہی خاص انداز ہے کہ وہ گفتگو کے ظاہری ماحول اور معنوی تصورات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

الكهف 18:93

مغرب الشمس کے بارے میں جو تفسیر کی گئی وہی مشرق کے بارے میں بھی درست ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ وہاں سے سورج طلوع ہو رہا ہے۔ قرآن حکیم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں کیا ، لیکن قرآن نے اس کے کوائف اور وہاں کے لوگوں کے وہ حالات قلم بند کئے ہیں ، جن میں ذوالقرنین نے لوگوں کو وہاں پایا۔ حتی اذا بلغ مطلع الشمس وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا ستراً (81 : 09) ” یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ “ یعنی یہ ایک کھلی سر زمین تھی ، سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ یہ صفت صحرائوں اور کھلے میدانوں پر صادق آتی ہے۔ اس میں بھی کسی خاص مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔ ہمارے خیال میں مشرق بعید کی کوئی جگہ تھی ، جہاں دیکھنے والا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ سورج ایک ہموار اور کھلی زمین پر چمک رہا ہے۔ یہ مشرقی افریقہ کی کوئی جگہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ آیت لم نجعل لھم من دونھا سترا (81 : 09) ” ہم نے اس کی دھوپ سے بچنے کے لئے ان کے لئے کوئی سامان نہ بنایا تھا۔ “ اس سے مراد ایک ایسی قوم ہو سکتی ہے جس کے جسم پر کوئی لباس نہ ہو اور وہ ننگے جسم والے تھے اور ان کے جسم پر سورج کی دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی لباس نہ تھا۔ اس سے قبل ذوالقرنین اپنی حکومت کا دستور و منشور پیش کرچکا تھا ، اس لئے یہاں اس مشرقی قوم کے لئے اس نے دوبارہ اپنے دستور کا اعلان نہیں کیا کیونکہ اس کا پروگرام معلوم تھا۔ اللہ کو معلوم تھا کہ اس کی زنگدی کے مقاصد اور نصب العین کیا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی ایک خاص فنی خصوصیت کا ملاحظہ ضروری ہے۔ اس لئے یہاں قدرے وقفہ کرتے ہوئے طرز ادا کے پہلو سے قرآن کریم کی فنی ہم آہنگی پر بات کریں گے۔ یہاں سفر شرقی میں جو منظر ہے وہ یہ ہے کہ ایک قوم چٹیل میدان میں رہتی ہے اور سورج کی گرمی سے سر چھپانے کے لئے اس کے پاس کوئی سامان نہیں ہے۔ اسی طرح ذوالقرنین کا دل بھی اللہ کے علم کے سامنے کھلا ہے۔ کوئی بات اللہ سے چھپائی نہیں جاسکتی۔ اللہ فرماتے ہیں ” ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اسے ہم جانتے تھے۔ “ یوں مضمون کا ظاہری اور باطنی انداز یکساں ہوجاتا ہے۔ یہ قرآن کا نہیات ہی خاص انداز ہے کہ وہ گفتگو کے ظاہری ماحول اور معنوی تصورات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

الكهف 18:94

اب ذوالقرنین نے تیسری مہم شروع کی۔ وہ دو پہاڑوں یا دو بندوں کے درمیان پہنچا۔ ہم اس مقام کا تعین بھی نہیں کرسکتے۔ نہ ہم ان دو بندوں کا تعین کرسکتے ہیں کہ یہ بند کہاں تھے۔ مفہوم یہی ہو سکتا ہے ” قدرتی پہاڑوں کی شکل میں بند یا رکاوٹیں تھیں ای دو مصنوعی رکاوٹیں تھیں اور ان کے دریمان ایک کھلی جگہ تھی جو گزر گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ یہاں کوئی نہایت ہی پہاڑی پسماندہ قوم آباد تھی۔ یہ لوگ ایسے تھے کہ لایکادون یفقھون قولاً (81 : 39) ” جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتے تھے۔ “ اس قوم نے جب دیکھا کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح ہے اور قوت اور ٹیکنالوجی سے واقف ہے تو انہوں نے اس کے سامنے درخواست پیش کی کہ قوم یاجوج وماجوج سے بچانے کے لئے وہ ان کے لئے ایک سد تعمیر کر دے کیونکہ یاجوج و ماجوج اس راہ سے ان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ان کے علاقے میں فسادپھیلاتے ہیں۔ وہ خود نہ یہ دیوار بنا سکتے ہیں اور نہ ان کے فساد کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کام وہ ایک خصا ٹیکس کے بدلے کریں جو وہ اس کے لئے جمع کریں گے۔ ذوالقرنین ایک صالح حکمران تھے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے مقاصد کا اعلان اس سے قبل کردیا ہے کہ وہ زمین میں سے ظلم و فساد کو جڑ سے اکھاڑ کر ختم کردینا چاہتے ہیں۔ چناچہ اس نے ان کی جانب سے ٹیکس یا مالی معاوضے کی پیشکش کو مسترد کردیا اور یہ بند ان کو بلا معاوضہ بنا کردینا منظور کیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ یکا کہ اس شر و فساد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس گزر گاہ ہی کو ختم کردیا جائے اور دونوں طرف کی قدرتی رکاوٹوں کے درمیان ایک سد تعمیر کردیا جائے۔ ذوالقرنین نے اس پسماندہ قوم سے صرف افرادی قوت کا مطالبہ کیا اور کہا :

الكهف 18:95

اب ذوالقرنین نے تیسری مہم شروع کی۔ وہ دو پہاڑوں یا دو بندوں کے درمیان پہنچا۔ ہم اس مقام کا تعین بھی نہیں کرسکتے۔ نہ ہم ان دو بندوں کا تعین کرسکتے ہیں کہ یہ بند کہاں تھے۔ مفہوم یہی ہو سکتا ہے ” قدرتی پہاڑوں کی شکل میں بند یا رکاوٹیں تھیں ای دو مصنوعی رکاوٹیں تھیں اور ان کے دریمان ایک کھلی جگہ تھی جو گزر گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ یہاں کوئی نہایت ہی پہاڑی پسماندہ قوم آباد تھی۔ یہ لوگ ایسے تھے کہ لایکادون یفقھون قولاً (81 : 39) ” جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتے تھے۔ “ اس قوم نے جب دیکھا کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح ہے اور قوت اور ٹیکنالوجی سے واقف ہے تو انہوں نے اس کے سامنے درخواست پیش کی کہ قوم یاجوج وماجوج سے بچانے کے لئے وہ ان کے لئے ایک سد تعمیر کر دے کیونکہ یاجوج و ماجوج اس راہ سے ان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ان کے علاقے میں فسادپھیلاتے ہیں۔ وہ خود نہ یہ دیوار بنا سکتے ہیں اور نہ ان کے فساد کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کام وہ ایک خصا ٹیکس کے بدلے کریں جو وہ اس کے لئے جمع کریں گے۔ ذوالقرنین ایک صالح حکمران تھے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے مقاصد کا اعلان اس سے قبل کردیا ہے کہ وہ زمین میں سے ظلم و فساد کو جڑ سے اکھاڑ کر ختم کردینا چاہتے ہیں۔ چناچہ اس نے ان کی جانب سے ٹیکس یا مالی معاوضے کی پیشکش کو مسترد کردیا اور یہ بند ان کو بلا معاوضہ بنا کردینا منظور کیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ یکا کہ اس شر و فساد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس گزر گاہ ہی کو ختم کردیا جائے اور دونوں طرف کی قدرتی رکاوٹوں کے درمیان ایک سد تعمیر کردیا جائے۔ ذوالقرنین نے اس پسماندہ قوم سے صرف افرادی قوت کا مطالبہ کیا اور کہا :

الكهف 18:96

” تم بس محنت سے میری مدد کرو ، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں لاکر دو “ چناچہ انہوں نے لوہے کے ٹکڑے جمع کئے اور دونوں قدرتی رکاوٹوں کے درمیان دیوار بنا دی اور جب یہ دیوار ان پہاڑوں کے برابر ہوگئی تو انہوں نے حکم دیا کہ اس لوہے کو گرم کرنے کے لئے اسے ہوا دو ، یہ لوہا اس قدر گرم ہوگیا کہ آگ نظر آنے لگی۔ پھر انہوں نے کہا اچھا اس پر میں اب پگھلا ہوا تانبا ڈلاوں گا۔ یہ پگھلا ہوا تانبا لوہے سے مل جائے گا اور یہ ل ہے کی دیوار اور مضبوط ہوجائے گی۔ دور جدید میں اس طریقے کو لوہے کی قوت اور مضبوطی میں اضافہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ۔ کیونکہ لوہے کے اندر ایک خاص مقدار سے تانبا ملا نے سے لوہے کی قوت اور مضبوطی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یہ ٹیکنالوجی اللہ نے سب سے پہلے ذوالقرنین کو سکھائی تھی۔ اور پھر اسے اپنی لازوال کتاب میں بھی قلم بند کردیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ تمہارے علم سے پہلے بھی اللہ نے ایسے بندوں کو بعض راز دیئے ، کس قدر پہلے ؟ یعنی زمانہ ماقل تاریخ میں۔ غرض یو یہ دو قدرتی رکاوٹیں آپس میں مل گئیں اور یاجوج و ماجوج کی راہ مسدود ہوگئی۔ اپنی لازوال کتاب میں بھی قلم بند کردیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ تمہارے علم سے پہلے بھی اللہ نے اپنے بندوں کو بعض راز دیئے ، کس قدر پہلے ؟ یعنی زمانہ ماقبل تاریخ میں۔ غرض یوں یہ دو قدرتی رکاوٹیں آپس میں مل گئیں اور یاجوج و ماجوج کی راہ مسدود ہوگئی۔

الكهف 18:97

فما اسطاعوا ان یظھروہ (81 : 89) ” یہ اس پر غالب بھی نہ آسکتے تھے۔ “ اس کے اوپر بھی نہ چڑھ سکتے تھے اور وما استطاعوالہ نقباً (81 : 89) ” اور اس میں نقب لگانا بھی ان کے لئے مشکل تھا۔ “ اس لئے وہ اس بندے آگے بڑھ ہی نہ سکتے تھے چناچہ ان کے لئے اس ضعیف اور پسماندہ قوم پر حملہ آور ہونا ممکن ہی نہیں رہا اس لئے وہ امن میں ہوگئے اور اطمینان سے رہنے لگے۔ اب ذوالقرنین دیکھ رہا تھا کہ اس نے کس قدر عظیم مفید عوامی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا دیا ہے۔ تاہم اس پر اس نے کبرو غرور نہ کیا۔ علم اور ٹیکنالوجی کی قوت نے اسے مدہوش نہ کیا بلکہ اس نے اللہ کو یاد کیا اور وہ شکر بجالایا۔ اللہ نے اسے جس عمل صالح کی توفیق دی تھی اسے اس نے اللہ ہی کی طرف لوٹا دیا اور اپنی قوت سے دستبردار ہو کر اللہ کی قوت کے دائرے میں پناہ طلب کی۔ اپنے امور اللہ کے سپرد کردیئے اور اس نے اپنے اس عقیدے کا اظہار کیا کہ پہاڑ ، رکاوٹیں اور بند سب کے سب قیامت سے قبل ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے اور یہ زمین ایک چٹیل ہموار میدان کی شکل اختیار کرلے گی۔

الكهف 18:98

قال ھذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکآء وکان وعد ربی حقاً (81 : 89) ” یہ میرے رب کی رحمت ہے مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اسے پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ “ یوں سیرت ذوالقرنین کا یہ حلقہ ختم ہوتا ہے۔ ذوالقرنین ایک اچھے حکمران کا نمونہ تھے جسے اللہ نے تمکین فی الارض عطا کی۔ ترقی اور قوت کے اسباب فراہم کئے۔ اس نے زمین کے شرق و غرب کو روند ڈالا۔ لیکن اس نے کبر و غرور کو اپنے قریب آنے نہ دیا ، نہ اس نے سرکشی اور نافرمانی کی۔ نہ اس نے اپنے مفتوحہ علاقوں کے اندر لوٹ مار مچائی۔ نہ افراد ، نہ علاقوں اور ملکوں کا استحصال کیا۔ اپنے مفتوجہ علاقوں کو غلام بھی نہ بنایا۔ نہ اس نے علاقوں کو اپنے مفادات کے لئے فتح کیا۔ بلکہ یہ حکمران جہاں جاتا ہے وہاں عدل و انصاف کا سایہ پھیلاتا ہے۔ پسماندہ لوگوں کی امداد کرتا ہے اور بغیر ٹیکس لئے لوگوں پر ظلم کرنے والوں کا ہاتھ روکتا ہے۔ سائنسی قوت اور ٹیکنالوجی جو اللہ نے اسے دی ، اسے وہ انسانیت کی اصلاح اور تعمیر کے لئے استعملا کرتا ہے۔ ظلم کو روک کر حق حقدار تک پہنچاتا ہے اور یہ سارے کام کر کے پھر وہ ان کا کریڈٹ اللہ کو دیتا ہے کہ یہ تو اللہ کی توفیق اور رحمت ہے۔ اپنی اس قوت ، جبروت اور جلال کے باوجود وہ اس حقیقت کو یاد رکھتا ہے کہ ایک دن سب قوتیں ، ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور لوگ اللہ کے ہاں حاضر ہوں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ یاجوج و ماجوج کون ہیں ؟ اور اب یہ لوگ کہاں ہیں ؟ ان کا واقعہ کیا تھا اور کیا ہوگا ؟ واقعہ یہ ہے کہ ان تمام سوالات کا علی وجہ الیقین جواب دینا بہت ہی دشوار ہے کیونکہ یاوجود و ماجوج کے بارے میں تاریخ خاموشی ہے اور صرف قرآن نے بھی ان کے بارے میں یہ مختصر واقعہ دیا ہے۔ بعض صحیح احادیث میں بھی ان کے بارے میں مختصر سی معلومات ہیں۔ اس موقعہ پر قرآن کریم ذوالقرنین کی زبانی یہ بات کہتا ہے : اس موقعہ پر قرآن کریم ذوالقرنین کی زبانی یہ بات کہتا ہے : فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکاء وکان وعد ربی حقاً (81 : 89) ” مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اسے پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ “ یہ نص کسی مخصوص وقت کا تعین نہیں کرتی کہ اللہ کا وعدہ کب آئے گا۔ اللہ کے وعدے سے مراد یہاں وہ معیاد ہے کہ جب یہ بند ٹوٹ جائے گا۔ یہو سکتا ہے کہ اللہ کا وعدہ گزر چکا ہو اور وہ بند ٹوٹ چکا ہو ، جب تارتاریوں نے عالم اسلام پر بلا بولا تھا تو انہوں نیت مام مہذب ممالک میں پھیل کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ (1) شورہ انبیاء کی ایک آیت میں ہے۔ حتی اذا فتحت ……الحق (89) (12 : 69-89) “ یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے ۔ (1) پندرہویں صدی میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ترمذ شہر کیق ریب ایک ل ہے کے دروازے کی دریافت ہوئی ہے۔ ایک جرمن سیاح سیفلڈ برجر نے اسے دیکھا اور اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک ہسپانوی مورخ کلانیجو نے 3041 ھ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سمرقند سے انڈیا کی طرف جاتے ہوئے راستے میں لوہے کا ایک دروازہ واقع ہے ہو سکتا ہے کہ ذوالقرنین کا بنایا ہوا ہو۔ جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے اور وعدئہ برحق کے آنے کا وقت قریب آ لگے گا۔ “ اس آیت میں بھی خروج یا جوج و ماجوج کا زمانہ متعین نہیں ہے۔ وعدئہ برحق کے قریب آنے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب آجائے گی۔ قیامت کا قریب آجانا واقعہ ہوچکا ہے ، جب سے رسول اللہ مبعثو ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ہے : افتربت الساعۃ وانشق القمر ” قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ “ اب قریب کا مطلب اس زمانے کے لحاظ سے نہیں ہے جس کا شمار ہم کرتے ہیں ، اللہ کے حساب میں قرب اور دوری کا اور مفہوم ہے ہو سکتا ہے کہ قیامت کے قریب آنے اور وقوع قیامت کے درمیان بھی کئی ملین سال گزر جائیں یا صدیاں گزر جائیں جنہیں انسان اپنے حساب میں ایک طویل عرصہ سمجھتا ہے جبکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت ہی مختصر عرصہ ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ تفسیر بھی جائز ہ ہے کہ حضور کی رسالت کے زمانے کے بعد اور ہمارے اس دور سے قبل ہی یہ بند کھل گیا ہو اور مغلوں اور تارتاریوں کا خروج خروج یاجوج و ماجوج ہو۔ ایک صحیح حدیث جسے امام احمد نے سفیان عن عروہ کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے انب بنت ابو سلمہ ، حبیبہ بنت امام حبیبہ بنت ابوسفیان سے۔ اس نے اپنی ماں حبیبہ سے۔ انہوں نے زینب بنت حجش ام المومنین سے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ خواب سے پیدا ہوئے تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے ” ہلاکت ہے عربوں کے لئے اس شر سے جو قریب ہوگئی ہے۔ آج یاجوج اور ماجو کے بند میں اس قدر شگاف پڑگیا ہے اور آپ نے اپنے انگوٹھے اور اشارہ کی انگلی کے درمیان فاصلہ کر کے بتایا کہ اس قدر شگاف پڑگیا ہے۔ میں نے دریافت کیا رسول خدا کیا ہمیں ہلاک کردیا جائے گا حلان کہ ہمارے درمیان صالح لوگ بھی موجود ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں جب برا عنصر زیادہ ہوجائے۔ اس پیشین گوئی کو چودہ سو سال ہوگئے ہیں۔ تارتاریوں کی تاخت و تاراج اس کے بعد واقعہ ہوئی۔ انہوں نے عربوں کی حکومت کو ، خلافت عباسیہ کے زمانے میں ، معتصم کی خلافت کے دور میں ، جو عباسی خلفاء میں سے آخری خلیفہ تھا ، ختم کردیا ۔ یہ حضور اکر مکہ خواب کی تعبیر ہو سکتی ہے۔ حقیقی علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ کوئی یقینی بات نہیں ہے بلکہ ہماری ترجیح ہے۔ اب ہم دوبارہ سیاق قرآن کی طرف آتے ہیں۔ ذوالقرنین کے تذکرہ کے بعد بطور تعقیب مناظر قیامت میں سے ایک منظر سامنے لایا جاتا ہے۔

الكهف 18:99

یہ ایک ایسا منظر ہے جو مختلف انسانی گروہوں کی عکاسی کر رہا ہے ، جس میں مختلف گروپ نظر آ رہے ہیں جو مختلف رنگوں ، مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ ایک وسیع میدان میں اٹھائے گئے ہیں اور یہ لوگ بغیر کسی نظام اور ترتیب کے ایک دوسرے کے خلاف گتھم گتھا ہو رہے ہیں ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیوں ادھر سے ادھر بھاگ رہا ہے۔ یہ لوگ دریا کی موجوں کی طرح ایک دور سے کے ساتھ ٹکراتے ہیں اور باہم مل جاتے ہیں بغیر کسی انتظام کے۔ پھر ایک صور پھونکا جائے گا۔ ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعاً (81 : 99) ” پھر صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔ “ اب وہ ایک صف میں منظر طریقے سے کھڑے ہیں۔ پھر وہ کافر جنہوں نے اللہ کی یاد سے منہ موڑا اور جو اس طرح نظر آ رہے تھے کہ شاید ان کی آنکھوں پر پردے ہیں اور شاید ان کے کانوں میں سننے کی قوت ہی نہیں ہے۔ ان پر جنم پیش ہوگی ۔ اب یہ لوگ جہنم سے اس طرح منہ نہ موڑ سکیں گے جس طرح یہ دنیا میں ہایت سے منہ موڑ رہے تھے۔ اب ان میں موڑنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اب ان کی آنکھوں کے اوپر سے پردے ہٹ جائیں گے اب وہ سرکشی اور اعراض کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے یعنی جزاء پوری کی پوری جزائ۔ قرآن کریم نے یہاں اس منظر کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کے اعراض کی تصویر کو اور ان کے لئے جہنم کی تپیش کو ایک دوسرے کے بالمقبال پیش کیا ہے دونوں چیزیں عملاً حرکت کرتے ہوئے منظر کی صورت میں پیش کی گئی ہیں اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ہے اور اس تقابلی منظر کشی پر پھر تبصرہ ، نہایت ہی ختلخ اور حقارت آمیز تبصرہ یوں کیا جاتا ہے !

الكهف 18:100

یہ ایک ایسا منظر ہے جو مختلف انسانی گروہوں کی عکاسی کر رہا ہے ، جس میں مختلف گروپ نظر آ رہے ہیں جو مختلف رنگوں ، مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ ایک وسیع میدان میں اٹھائے گئے ہیں اور یہ لوگ بغیر کسی نظام اور ترتیب کے ایک دوسرے کے خلاف گتھم گتھا ہو رہے ہیں ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیوں ادھر سے ادھر بھاگ رہا ہے۔ یہ لوگ دریا کی موجوں کی طرح ایک دور سے کے ساتھ ٹکراتے ہیں اور باہم مل جاتے ہیں بغیر کسی انتظام کے۔ پھر ایک صور پھونکا جائے گا۔ ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعاً (81 : 99) ” پھر صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔ “ اب وہ ایک صف میں منظر طریقے سے کھڑے ہیں۔ پھر وہ کافر جنہوں نے اللہ کی یاد سے منہ موڑا اور جو اس طرح نظر آ رہے تھے کہ شاید ان کی آنکھوں پر پردے ہیں اور شاید ان کے کانوں میں سننے کی قوت ہی نہیں ہے۔ ان پر جنم پیش ہوگی ۔ اب یہ لوگ جہنم سے اس طرح منہ نہ موڑ سکیں گے جس طرح یہ دنیا میں ہایت سے منہ موڑ رہے تھے۔ اب ان میں موڑنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اب ان کی آنکھوں کے اوپر سے پردے ہٹ جائیں گے اب وہ سرکشی اور اعراض کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے یعنی جزاء پوری کی پوری جزائ۔ قرآن کریم نے یہاں اس منظر کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کے اعراض کی تصویر کو اور ان کے لئے جہنم کی تپیش کو ایک دوسرے کے بالمقبال پیش کیا ہے دونوں چیزیں عملاً حرکت کرتے ہوئے منظر کی صورت میں پیش کی گئی ہیں اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ہے اور اس تقابلی منظر کشی پر پھر تبصرہ ، نہایت ہی ختلخ اور حقارت آمیز تبصرہ یوں کیا جاتا ہے !

الكهف 18:101

یہ ایک ایسا منظر ہے جو مختلف انسانی گروہوں کی عکاسی کر رہا ہے ، جس میں مختلف گروپ نظر آ رہے ہیں جو مختلف رنگوں ، مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ ایک وسیع میدان میں اٹھائے گئے ہیں اور یہ لوگ بغیر کسی نظام اور ترتیب کے ایک دوسرے کے خلاف گتھم گتھا ہو رہے ہیں ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیوں ادھر سے ادھر بھاگ رہا ہے۔ یہ لوگ دریا کی موجوں کی طرح ایک دور سے کے ساتھ ٹکراتے ہیں اور باہم مل جاتے ہیں بغیر کسی انتظام کے۔ پھر ایک صور پھونکا جائے گا۔ ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعاً (81 : 99) ” پھر صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔ “ اب وہ ایک صف میں منظر طریقے سے کھڑے ہیں۔ پھر وہ کافر جنہوں نے اللہ کی یاد سے منہ موڑا اور جو اس طرح نظر آ رہے تھے کہ شاید ان کی آنکھوں پر پردے ہیں اور شاید ان کے کانوں میں سننے کی قوت ہی نہیں ہے۔ ان پر جنم پیش ہوگی ۔ اب یہ لوگ جہنم سے اس طرح منہ نہ موڑ سکیں گے جس طرح یہ دنیا میں ہایت سے منہ موڑ رہے تھے۔ اب ان میں موڑنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اب ان کی آنکھوں کے اوپر سے پردے ہٹ جائیں گے اب وہ سرکشی اور اعراض کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے یعنی جزاء پوری کی پوری جزائ۔ قرآن کریم نے یہاں اس منظر کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کے اعراض کی تصویر کو اور ان کے لئے جہنم کی تپیش کو ایک دوسرے کے بالمقبال پیش کیا ہے دونوں چیزیں عملاً حرکت کرتے ہوئے منظر کی صورت میں پیش کی گئی ہیں اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ہے اور اس تقابلی منظر کشی پر پھر تبصرہ ، نہایت ہی ختلخ اور حقارت آمیز تبصرہ یوں کیا جاتا ہے !

الكهف 18:102

کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔ کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔ انا اعتدنا جھنم للکفرین نزلاً (81 : 201) ” ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لئے جھنم تیار کر رکھی ہے۔ “ اللہ بچائے ! کیا ہی خوفناک استقبال ہے۔ اس انجام سے دوچار ہونے کے لئے نہ ان کو کوئی جدوجہد کرنی پڑے گی اور نہ کوئی انتظار کرنا ہوگا۔ یہ سب کچھ ان کے لئے تیار ہے۔ صرف مہمانوں کے پہنچنے کی دیر ہے ؟ اب فکر و شعور کی تاروں پر آخری ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ تمام خطوط کو یہاں جمع کر کے اب ان پر آخری تبصرے کئے جاتے ہیں۔ پہلا تبصرہ اسلامی قدروں اور حسن و قبح کے پیمانوں کے بارے میں ہے۔ وہ اقدار اور پیمانے جو گمراہوں اور خسارے سے دوچار ہونے والوں کے ہاں مقبول عام ہیں اور یقینی نتائج کے حالم ہیں۔ اعمال و اشخاص سے متعلق ان کے افکار کی روشنی میں۔

الكهف 18:103

کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔ کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔ انا اعتدنا جھنم للکفرین نزلاً (81 : 201) ” ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لئے جھنم تیار کر رکھی ہے۔ “ اللہ بچائے ! کیا ہی خوفناک استقبال ہے۔ اس انجام سے دوچار ہونے کے لئے نہ ان کو کوئی جدوجہد کرنی پڑے گی اور نہ کوئی انتظار کرنا ہوگا۔ یہ سب کچھ ان کے لئے تیار ہے۔ صرف مہمانوں کے پہنچنے کی دیر ہے ؟ اب فکر و شعور کی تاروں پر آخری ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ تمام خطوط کو یہاں جمع کر کے اب ان پر آخری تبصرے کئے جاتے ہیں۔ پہلا تبصرہ اسلامی قدروں اور حسن و قبح کے پیمانوں کے بارے میں ہے۔ وہ اقدار اور پیمانے جو گمراہوں اور خسارے سے دوچار ہونے والوں کے ہاں مقبول عام ہیں اور یقینی نتائج کے حالم ہیں۔ اعمال و اشخاص سے متعلق ان کے افکار کی روشنی میں۔

الكهف 18:104

اے نبی ﷺ لوگوں کو یہ بات سمجھائو کہ ناکام اور نامراد لوگ کون ہیں ؟ ایسے نامراد کہ ان سے بڑا نامراد اور خسارے میں پڑنے والا اور کوئی نہیں ہے۔ وہ لوگ جن کی سعی اور جدوجہد اس دنیا میں بھٹکی رہی ہے۔ ان کی یہ جدوجہد ان کو راہ راست پر نہ لا سکی اور اس پوری سعی کا کوئی ثمرہ اور نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ وھم یحسبون انھم یحسبون صنعا (81 : 301) ” اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ “ وہ اس قدر غفلت میں پڑے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ ان کی یہ جدوجہد ضائع جا رہی ہے۔ اپنی جدوجہد میں غلط سمت پر بہت دور نکلے جا رہے ہیں اور اپنی پوری زنگدی کو اس میں کھپا کر ضائع کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں یہ خوفناک سوال کر کے بتائو تمہیں ؟ اور جب سامعین کا شوق بڑھ جاتا ہے اور وہ بےتاب ہوجاتے ہیں کہ پردہ گرے اور وہ حقیقت کو دیکھیں تو انہیں بتا دیا جاتا ہے۔

الكهف 18:105

اولئک الذین کفروا بایت ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم (81 : 501) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا ، اس لئے ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ “ حبوط کا اصلی اور لغوی مفہوم ، جانور کا پیٹ پھولنا ہے ، جب وہ کوئی زہریلی گھاس کھالے۔ ضائع ہونے والے انسانی اعمال کی حقیقت بنانے کے لئے حبوط سے کوئی موزوں لفظ نہیں ہے۔ یہ جانور پھول جاتا ہے ، نادان مالک جانتا ہے کہ یہ جانور توانا اور مضبوط ہوگیا ہے اور اب وہ کامیاب اور نفع بخش ہوگا لیکن اس کے نتیجے میں اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے۔ اولئک الذین کفر وا بایت ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم فلا نقیم لھم یوم القیمۃ وزناً (81 : 501) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا ، اس لئے ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے۔ قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ “ کیونکہ یہ بےکار اور مہمل ہوگئے تھے۔ نہ ان کی قیمت ہے اور نہ وزن اللہ کے صحیح پیمانوں کے مطابق ان کا وزن نہ ہوگا ، تو اب کیا ہوگا ان لوگوں کا ؟

الكهف 18:106

لیکن منظر مکلم تب ہوتا ہے جب اس میں اہل ایمان کا انجام بھی سامنے لایا جائے۔ اس کے پیمانوں اور قاتدار کا انجام بھی بتا دیا جائے۔

الكهف 18:107

ان لوگوں کی جنت الفردوس میں مہمانی مقابل ہے کفار کی مہمانی کے جو جہنم میں ہو رہی ہے۔ کتنا ہی بڑا فراق ہے دونوں میں ۔ یہاں نہایت ہی لطیف انداز میں انساین نفس اور اس کے احساسات اور مسرتوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

الكهف 18:108

لایبغون عنھا حولاً (81 : 801) ” کہ کبھی اس جگہ سے نکل جانے کو ان کا جی نہ چاہے گا۔ “ اس انسانی نفسیاتی اشارے میں جو گہرائی ہے ، اس پر ہمیں چاہئے کہ قدرے غور کریں۔ یہ لوگ جنت الفردوس میں ہمیشہ رہیں گے لیکن نفس انسانی ہمیشہ تغیر طلب ہے۔ کسی کام کا تسلسل اسے ملول کردیتا ہے۔ کسی ایک جگہ ہمیشہ رہتے رہتے اور کسی ایک ہی حالت میں ہوتے ہوئے وہ تنگ آجاتا ہے اور جب انسانی نعمتوں میں ڈوبا ہوتا ہے اور اسے یہ خطرہ نہیں رہتا کہ اس نعمت کا زوال بھی ہوگا تو اس کے دل میں کوئی حرص اور لالچ نہیں رہتی اور جب انسان ایک ہی ڈگر پر چلتا رہتا ہے تو وہ اکتا جاتا ہے بلکہ یہ اکتاہٹ دل کی تنگی میں بدل جاتی ہے اور انسان پھر چاہتا ہے کہ اس سے کسی طرح جان چھوٹ جائے۔ ذائقہ بدل جائے۔ یہ ایک حکمت ہے ، نہایت ہی گہری حکمت ، جس پر اللہ نے انسان کی جبلت تیار کی ہے اور یہ گہری فطرت وجبلت اللہ نے انسان کے اندر اس لئے پیدا کی ہے کہ یہ انسان کے فریضہ خلافت ارضی کی انجام دہی کے لئے لابدی تھی۔ اس سلسلے میں انسان کو جو کردار سپرد کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ہر وقت زندگی کے شب و روز کو بدلتا رہے اور بہتر سے بہتر بنا کر اسے ترقی دیتا رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس معیار پہ پنچ جائے جو تقدیر الٰہی میں مقدر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان فطرتاً تغیر پسند ہے۔ وہ نئے نئے انکشافات اور نئی نئی اطلاعات کا دلدادہ ہے۔ ہر حال سے دوسرے حال میں داخل ہونا چاہئے ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اس کا من پسند مشغلہ ہے۔ ایک منظر سے دوسرے منظر ایک نظام سے دوسرا نظام وغیرہ تاکہ انسان یہ سفر کرتے کرتے اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے زندگی کے اندر حقیقی تبدیلی لاتا رہے اور زمین کے اندر پوشیدہ رازوں تک آئے دن پہنچتا رہے۔ زمین کی مادی شکل اور نظام کی نئی نئی شکلیں وضع کرے۔ انکشافات ان ایجادات اور علم کی اس ترقی کے نتیجے میں زندگی بھی بدلتی رہے اور یوں آہستہ آہستہ یہ اس کمال تک پہنچ جائے جو اللہ نے اس کے لئے مقدر کیا ہوا ہے۔ اور پھر فطرت کا ایک دوسرا رنگ بھی ہے۔ ہم بعض اوقات قدیم سے بھی محبت کرتے ہیں۔ پرانی روایات کو بھی سینے سے لگاتے ہیں۔ بعض اوقات اپنی عادت کو بدلنا بھی نہیں چاہتے جبکہ ہماری یہ عادات بعض اوقات ہمیں جامد بھی بنا دیتی ہیں۔ شوق تغیر کے ساتھ ساتھ عادات و تقالید کا یہ جمود دراصل جوش تغیر کے اندر ایک توازن پیدا کردیتا ہے۔ جب بھی یہ توازن ختم ہوتا ہے تو جمود ڈیرے ڈال دیتا ہے۔ جب جمود حد سے بڑھتا ہے تو ردعمل میں انقلاب آتا ہے اور یہ انقلاب زنگدی کی گاڑی کو کبھی کبھار اس قدر تیز کردیتا ہے کہ توازن قائم نہیں رہتا۔ انسانی زندگی کا بہترین دور وہ ہوتا ہے کہ جب تغیر و ثبات اور ترقی اور جمود اور حرکت و قیام کی قوتوں کے درمیان توازن ہو۔ یاد رکھئے کہ جب کسی سوسائٹی پر جمود طاری ہوجاتا ہے تو زنگدی کی وہ قوتیں جو اسے آگے بڑھانے والی ہوتی ہیں وہ محدود ہو کر رہ جاتی ہیں اور سوسائٹی پر موت کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ اس کے افراد بھی مردہ تصور ہوتے ہیں۔ یہ ہے انسانی فطرت جس کو اس کے فریضہ خلافت ارضی کے لئے موزوں بنایا گیا ہے۔ رہی جنت تو وہ ترقی کا منتہائے کمال ہے۔ وہاں تغیر کی تو ضرورت نہ ہوگی ، بلکہ اس سے اونچا کوئی معیار ہی نہیں ہے۔ اس سے آگے کوئی منزل نہیں ہے۔ اگر وہاں بھی انسان کو زمین کی فطرت پر قائم رکھا گیا اور صورت یہ ہوگئی کہ جنت تو نعیم مقیم ہے ، اس کے ختم ہونے کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ وہاں تغیر کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی واقعہ نہ ہوگی اور حالات جوں کے توں رہیں گے جبکہ انسان جنت میں بھی سیماب فطرت ہے تو پھر یہ جنت اس کے لئے جہنم بن جائے گی۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد یہ انسان اکتا جائے گا بلکہ جنت کو قید خانہ سمجھے گا اور یہ انسان کوشش کرے گا کہ اسے اس جنت کو چھوڑنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ وہ ایک تھوڑے عرصے کے لئے باہر جانا چاہتا ہے اگرچہ باہر جہنم ہی کیوں نہ ہوتا کہ وہ اپنے جذبہ تغیر اور تبدیلی کو تسکین دے سکے۔ لیکن جس انسان کو اللہ نے اس جہان میں پیدا کر کے بھیجا ہے وہ اس کے بارے میں خوب جانتا ہے۔ وہ وہاں انسان کے ان دنیاوی جذبات کو بدل دے گا۔ انسان وہاں تغیر اور تبدیلی کی چاہت ہی نہ رکھے گا۔ یہ اس لئے کہ وہاں انسانی فطرت حالات خلود کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے گی کیونکہ اس نے وہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ اب ذرا انسانی شعور و آگاہی کی تاروں پر ایک دوسری ضرب لگائی جاتی ہے۔ اس سے انسانی شعور کو یہ آگاہی دینا مقصود ہے کہ انسانی علم محدود ہے۔ اس کی فہم و ادراک کی قوت اور دائرہ محدود ہے۔ لیکن اس معنوی مفہوم کو قرآن کریم نہایت ہی محسوس اور عام فہم انداز میں پیش کرتا ہے۔

الكهف 18:109

انسانی معلومات کی حد تک سب سے بڑا ذخیرہ آب سمندر ہے۔ انسان جو علوم لکھتے ہیں وہ سیاہی کے ساتھ لکھتے ہیں۔ اپنے علم کو وہ روشنائی کی شکل میں کاغذ پر لاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ان کا علم بہت ہی وسیع ہے۔ قرآن مجید یہاں ان کو یہ سمجھاتا ہے کہ اگر ان وسیع اور گہرے سمندروں کو روشنائی بنا دیا جائے اور اللہ کے علم کو لکھنا شروع کیا جائے ، تو یہ سمندر تو خشک ہوجائیں گے مگر اللہ کے علوم ختم نہیں ہو سکتے۔ ذرا آگے سوچو کہ اس سمندر جتنا اور سمندر لے آئے ہم ۔ دوسرا سمندر بھی ختم ہوگیا ، مگر اللہ کے کلمات و علوم ختم نہ ہوئے۔ اس محسوس تصور ، اور اس مجسم حرکت کے ذریعے انسانی محدود و تصور اور ناپختہ شعور اور قاصر قوت مدرکہ کے قریب حقیقت لائی گئی کہ اللہ کا بہت وسیع ہے۔ اگرچہ اللہ کے علم کی وسعت کی حقیقت اب بھی ہمارے اور اس کی حدود سے وراء ہے۔ یہ ہے وہ مقصد ، یعنی تقریب الی الافھام ، جس کے لئے قرآن کریم امثال لاتا ہے اور نہایت ہی گہرے اور ناقابل فہم معانی کو ایک مشاہدے اور تصویر کی شکل میں انسانی فہم و ادراک کے قریب لایا جاتا ہے۔ اس مثال میں بحر کو چونکہ انسان بہت ہی وسیع سمجھتا ہے اور اپنے علم کو بھی سمندر کی طرح بہت ہی وسیع سمجھتا ہے ، اس لئے قرآن بتاتا ہے کہ وسیع اور گہرا ہنے کے باوجود یہ سمندر بھی محدود ہے اور کلمات جو علم الٰہی کو ظاہر کرتے ہیں ، لامحدود ہیں۔ انسان ان کی انتہا تک نہیں پہنچ سکتا۔ انسان علم الٰہی کا نہ ادراک کرسکتا ہے ، نہ اسے قلم بند کرسکتا ہے اور نہ اس کی نقل کرسکتا ہے۔ انسان اپنے انفس و آفاق کی دنیا میں جو معمولی سی پیش رفت کرلیتا ہے ، وہ اس پر بھی اترانا شروع کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید اسے بہت بڑی علمی فتح حاصل ہوگئی ہے۔ بعض کو تو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ وہ سب کچھ جان گئے ہیں یا جلد ہی سب کچھ جان لیں گے۔ لیکن عالم مجہول انسان کے سامنے ایسے آفاق رکھتا ہے جن کو سر کرنا اور جن تک انسان کا پہنچ جانا نہایت ہی دور کی بات ہے۔ انسان جب بھی اپنے حقیقی علم کا جائزہ لے گا کہ وہ سمجھے گا کہ وہ تو ابھی تک ساحل ہی پر کھڑا ہے۔ انسان آج تک اللہ کے جن علوم کو دائرہ علم اور دائرہ تحریر میں لاسکا ہے وہ علم الٰہی کا ایک نہایت ہی محدود اور قلیل حصہ ہیں کیونکہ محدود اور لامحدود کے درمیان ہم کوئی نسبت قائم نہیں کرس کتے اور نہ ان کے درمیان کوئی نسبت ہے۔ چہ نسبت خاک رابا عالم پاک۔ غرض انسان جس قدر علوم چاہے سیکھے اور اس کرئہ ارض کے بارے جو انکشافات چاہے ، کرے۔ لیکن اسے چاہئے کہ غرور علمی کو ذرا تھوک دے ۔ اس کے علم کی انتہا اگر یہ ہو کہ ” سمندر روشنائی بن کر خشک ہوجائے تو بھی علم الٰہی کی تحریر و تشدید ختم نہ ہوگی اگرچہ اس جیسا کوئی اور سمندر بھی لے آیا جائے ، کلمات الہیہ کا اختتام نہ ہو سکے گا۔ علم انسانی کی محدود یت کو ثابت کرنے کے لئے آپ انسانی شعور کی تاروں کو تیسری مرتبہ چھیڑا جاتا ہے۔ یہاں انسان کے مرتبہ و کمال کی تصویر کشی کی جاتی ہے اور رسالت آخیرہ کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ نبی آخری الزمان کا علم بھی ذات باری کی لامحدود علم کے مقابلے میں بہت ہی محدود ہے۔ انسانی فکر و نظر اس کے لامحدود علم کے مقابلے میں قاصر ہی رہے گا۔

الكهف 18:110

یہ ہے مقام الوہیت کا افق بعید ، افق بلند۔ اس کے مقابلے میں انسانی علم کا افق بہت ہی نیچے ہے۔ کیونکہ علم نبوی ہو ، بہرحال نبی بشر ہی تو ہوتا ہے۔ قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی (81 : 011) ” اے نبی کہو میں تو ایک انسان ہی ہوں تم ہی جیسا میری طرف وحی کی جاتی۔ “ بس یہی فرق ہے میرے اور تمہارے درمیان کہ میں باری تعالیٰ کے بلند آفاق علم سے کچھ حاصل کرتا رہتا ہوں۔ اس دائمی سرچشمے سے میں علم حاصل کرتا ہوں۔ میں ان ہدایات سے سرمو انحراف نہیں کرسکتا جو مجھے عالم بالا سے ملتی ہیں۔ میں انسان ہوں ، پہلے خود سیکھتا ہوں ، پھر سکھاتا ہوں لہٰذا جو شخص ان بلند علوم کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ ان علوم سے فائدہ اٹھائے جو اس سرچشمے سے رسول اللہ ﷺ نے سکھائے۔ انسانوں کو چاہئے کہ وہ حصول علوم کے لئے سرچشمہ نبوت سے سیراب ہوں اور اس کے سواتمام سرچشموں کو چھوڑ دیں۔ فمن کان یرجوالقآء ربعہ فلیعمل عملاً صالحاً ولایشرک بعبادۃ ربہ احداً (81 : 011) ” پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو ، اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ “ بار گاہ الٰہی کی بلند مملکت میں داخل ہونے کے لئے علم نبوت ویزا ہیں۔ اس سورة کا آغاز بھی مضمون وحی اور توحید سے ہوا تھا۔ خاتمہ بھی علوم الہیہ کے سلسلے میں ان اہم ہدایات سے ہوا اور انسانی شعور و آگہی کے تاروں کو یوں چھیڑا گیا کہ ان سے وہ نغمات حقیقت بلند ہونے لگے جو اس کائنات کے راز کو ظاہر کرتے ہیں۔ عظیم راز یعنی وحی الٰہی و توحید مطلق کے راز۔