Fi Zilal al-Quran — مريم 19:1 – طه 20:135
Contents
- مريم 19:1
- مريم 19:2
- مريم 19:3
- مريم 19:4
- مريم 19:5
- مريم 19:6
- مريم 19:7
- مريم 19:8
- مريم 19:9
- مريم 19:10
- مريم 19:11
- مريم 19:12
- مريم 19:13
- مريم 19:14
- مريم 19:15
- مريم 19:16
- مريم 19:17
- مريم 19:18
- مريم 19:19
- مريم 19:20
- مريم 19:21
- مريم 19:22
- مريم 19:23
- مريم 19:24
- مريم 19:25
- مريم 19:26
- مريم 19:27
- مريم 19:28
- مريم 19:29
- مريم 19:30
- مريم 19:31
- مريم 19:32
- مريم 19:33
- مريم 19:34
- مريم 19:35
- مريم 19:36
- مريم 19:37
- مريم 19:38
- مريم 19:39
- مريم 19:40
- مريم 19:41
- مريم 19:42
- مريم 19:43
- مريم 19:44
- مريم 19:45
- مريم 19:46
- مريم 19:47
- مريم 19:48
- مريم 19:49
- مريم 19:50
- مريم 19:51
- مريم 19:52
- مريم 19:53
- مريم 19:54
- مريم 19:55
- مريم 19:56
- مريم 19:57
- مريم 19:58
- مريم 19:59
- مريم 19:60
- مريم 19:61
- مريم 19:62
- مريم 19:63
- مريم 19:64
- مريم 19:65
- مريم 19:66
- مريم 19:67
- مريم 19:68
- مريم 19:69
- مريم 19:70
- مريم 19:71
- مريم 19:72
- مريم 19:73
- مريم 19:74
- مريم 19:75
- مريم 19:76
- مريم 19:77
- مريم 19:78
- مريم 19:79
- مريم 19:80
- مريم 19:81
- مريم 19:82
- مريم 19:83
- مريم 19:84
- مريم 19:85
- مريم 19:86
- مريم 19:87
- مريم 19:88
- مريم 19:89
- مريم 19:90
- مريم 19:91
- مريم 19:92
- مريم 19:93
- مريم 19:94
- مريم 19:95
- مريم 19:96
- مريم 19:97
- مريم 19:98
- طه 20:1
- طه 20:2
- طه 20:3
- طه 20:4
- طه 20:5
- طه 20:6
- طه 20:7
- طه 20:8
- طه 20:9
- طه 20:10
- طه 20:11
- طه 20:12
- طه 20:13
- طه 20:14
- طه 20:15
- طه 20:16
- طه 20:17
- طه 20:18
- طه 20:19
- طه 20:20
- طه 20:21
- طه 20:22
- طه 20:23
- طه 20:24
- طه 20:25
- طه 20:26
- طه 20:27
- طه 20:28
- طه 20:29
- طه 20:30
- طه 20:31
- طه 20:32
- طه 20:33
- طه 20:34
- طه 20:35
- طه 20:36
- طه 20:37
- طه 20:38
- طه 20:39
- طه 20:40
- طه 20:41
- طه 20:42
- طه 20:43
- طه 20:44
- طه 20:45
- طه 20:46
- طه 20:47
- طه 20:48
- طه 20:49
- طه 20:50
- طه 20:51
- طه 20:52
- طه 20:53
- طه 20:54
- طه 20:55
- طه 20:56
- طه 20:57
- طه 20:58
- طه 20:59
- طه 20:60
- طه 20:61
- طه 20:62
- طه 20:63
- طه 20:64
- طه 20:65
- طه 20:66
- طه 20:67
- طه 20:68
- طه 20:69
- طه 20:70
- طه 20:71
- طه 20:72
- طه 20:73
- طه 20:74
- طه 20:75
- طه 20:76
- طه 20:77
- طه 20:78
- طه 20:79
- طه 20:80
- طه 20:81
- طه 20:82
- طه 20:83
- طه 20:84
- طه 20:85
- طه 20:86
- طه 20:87
- طه 20:88
- طه 20:89
- طه 20:90
- طه 20:91
- طه 20:92
- طه 20:93
- طه 20:94
- طه 20:95
- طه 20:96
- طه 20:97
- طه 20:98
- طه 20:99
- طه 20:100
- طه 20:101
- طه 20:102
- طه 20:103
- طه 20:104
- طه 20:105
- طه 20:106
- طه 20:107
- طه 20:108
- طه 20:109
- طه 20:110
- طه 20:111
- طه 20:112
- طه 20:113
- طه 20:114
- طه 20:115
- طه 20:116
- طه 20:117
- طه 20:118
- طه 20:119
- طه 20:120
- طه 20:121
- طه 20:122
- طه 20:123
- طه 20:124
- طه 20:125
- طه 20:126
- طه 20:127
- طه 20:128
- طه 20:129
- طه 20:130
- طه 20:131
- طه 20:132
- طه 20:133
- طه 20:134
- طه 20:135
مريم 19:1
یہ حروف مقطعات جن سے اس سورة کا آغاز ہو رہا ہے ان کی تفسیر میں ہماری یہی رائے ہے کہ یہ وہی حروف ہیں جن سے قرآن کریم بنا ہے۔ ان ہی سے یہ معجز کتاب بنی ہے اور انسانیت اس کتاب جیسی کتاب لانے سے عاجز ہے۔ حالانکہ یہ حروف اور ان سے بنے ہوئے کلمات انسانوں کی دسترس میں ہیں ، لیکن وہ اس موجود مواد سے کوئی ایسی کتاب تیار کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔
ان حروف کے تذکرے کے بعد حضرت زکریا اور یحییٰ کا قصہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس قصے کا بیشتر مواد رحمت الٰہی پر مبنی ہے۔ پورے ماحول پر رحمت خداوندی سایہ فگن ہے۔ چناچہ آغاز ہی لفظ رحمت سے ہوتا ہے ، ذکر رحمت سے ہوتا ہے ……
مريم 19:2
اصل قصے کا آغاز ایک دعا کے منظر سے ہوتا ہے۔ یہ دعا حضرت زکریا کرتے ہیں اور نہایت عاجزی اور خضوع و خشوع کے ساتھ کرتے ہیں۔
مريم 19:3
وہ اپنے رب کے ساتھ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر مناجات کرتے ہیں۔ نہ کوئی دیکھتا ہے ، نہ کوئی سنتا ہے گوشہ تنہائی میں نہایت خلوص کے ساتھ رب کو پکارتے ہیں اور اپنا سینہ کھول کر اپنے رب کے سامنے رکھتے ہیں (جو خوب جانتا ہے) وہ اپنا بوجھ ، پریشانی ، اللہ کے سامنے رکھتے ہیں۔ نہایت قرب و اتصال کی حالت میں وہ رب کو پکارتے ہیں۔ (رب) ۔ وہ یہاں حرف ندایا کو بھی بیچ میں نہیں لاتے۔ اللہ تو بغیر دعا کے بھی سنتا ہے اور دیکھتا ہے ، اسے کسی پکارنے والے کی پکار کی ضرورت نہیں ، لیکن یہ ایک غمزدہ شخص کی ضرورت ہے کہ وہ پکارے ، وہ شکوہ کرے ، اور اللہ رحیم و کریم ہے۔ اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے او وہ جانتا ہے کہ پکارنے ، رونے اور شکوہ کرنے سے بھی اس مخلوق کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ اس لئے اللہ نے حکم دیا ہے کہ دعا کرو ، گڑگڑائو ، جس چیز سے تمہارے دل پر بوجھ پڑتا ہے اسے باہر نکالو ،
وقال ربکم ادعونی استجب لکم ” اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو ، میں تمہاری پکار کو سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں۔ “ تاکہ تمہارے اعصاب پر سے قدرے بوجھ اتر جائے۔ تمہارے دلوں کو یہ اطمینان تو ہوجائے کہ ہم نے ایک قوی ترہستی کے پاس رپورٹ کردی ہے۔ وہ بڑی قوت والا قادر مطلق ہے تاکہ تمہیں یہ شعور مل جائے کہ تمہارا رباطہ اس ذات سے ہے جس کے ہاں کوئی سوال مایوس نہیں ہوتا اور اس پر جو بھروسہ کرے وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہوتا۔
حضرت زکریا رب کے سامنے یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی ہڈیاں ڈھیلی پڑگئی ہیں اور جب ہڈیاں ڈھیلی پڑج ائیں تو جسم سارا کا سارا ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ کیونکہ ہڈیاں ہی تو جسم کا مضبوط ترین حصہ ہیں۔ جسم کا بنیادی ڈھانچہ ہی ہڈیوں سے کھڑا ہوتا ہے۔ پھر وہ بالوں کی سفیدی کی شکایت کرتے ہیں۔ انداز تعبیر کو دیکھیے کہ گویا سفیدی ایک آگ ہے جو سر کے بالوں کو لگی ہوئی ہے۔ سر اس میں تیزی سے جل رہا ہے اور جلد ہی اس میں کوئی سیاہ بال نہ رہے گا۔
ہڈیوں کا ڈھیلا پڑنا اور سر کے بالوں کا سفید ہونا دونوں کنایہ ہے ، بڑھاپے سے اور اس ضعف و کمزوری سے جس سے وہ دوچار ہیں اور اللہ کی رحمت سے بھی وہ ناامید نہیں ہیں۔ عرض پیش کرتے ہیں۔
اور وہ ساتھ ساتھ قبولیت دعا سے پہلے اپنا تبصرہ بھی کرتے ہیں۔
مريم 19:4
ولم اکن بدعاءک رب شقیاً (91 : 3) ” اور اے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں ہوا۔ “ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں رب تعالیٰ کی یہ دعادت رہی ہے کہ جب بھی انہوں نے دعا کی ہے رب تعالیٰ نے منظور فرمائی ہے۔ جب وہ اپنے زمانہ جوانی اور قوت میں دعا میں نامراد نہیں رہے تو اب حالت ضعیفی میں تو وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ انہیں نامراد نہ کرے اور ان کی دعا کو قبول کرلے۔
یہ تھی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اپنے رب کے جناب میں ، نہایت ہی خفیہ انداز میں اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ ، الفاظ ، عانی ، ماحول اور اثرات پر اعتبار سے اس میں نرمی پائی جاتی ہے ، اور منظر پر نہایت ہی ادب اور شائستگی چھائی ہوتی ہے۔
اب جواب دعاء ملاحظہ ہو اور اس موقعہ پر مکالمات :۔
مريم 19:5
ولم اکن بدعاءک رب شقیاً (91 : 3) ” اور اے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں ہوا۔ “ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں رب تعالیٰ کی یہ دعادت رہی ہے کہ جب بھی انہوں نے دعا کی ہے رب تعالیٰ نے منظور فرمائی ہے۔ جب وہ اپنے زمانہ جوانی اور قوت میں دعا میں نامراد نہیں رہے تو اب حالت ضعیفی میں تو وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ انہیں نامراد نہ کرے اور ان کی دعا کو قبول کرلے۔
یہ تھی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اپنے رب کے جناب میں ، نہایت ہی خفیہ انداز میں اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ ، الفاظ ، عانی ، ماحول اور اثرات پر اعتبار سے اس میں نرمی پائی جاتی ہے ، اور منظر پر نہایت ہی ادب اور شائستگی چھائی ہوتی ہے۔
اب جواب دعاء ملاحظہ ہو اور اس موقعہ پر مکالمات :۔
مريم 19:6
ولم اکن بدعاءک رب شقیاً (91 : 3) ” اور اے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں ہوا۔ “ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں رب تعالیٰ کی یہ دعادت رہی ہے کہ جب بھی انہوں نے دعا کی ہے رب تعالیٰ نے منظور فرمائی ہے۔ جب وہ اپنے زمانہ جوانی اور قوت میں دعا میں نامراد نہیں رہے تو اب حالت ضعیفی میں تو وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ انہیں نامراد نہ کرے اور ان کی دعا کو قبول کرلے۔
یہ تھی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اپنے رب کے جناب میں ، نہایت ہی خفیہ انداز میں اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ ، الفاظ ، عانی ، ماحول اور اثرات پر اعتبار سے اس میں نرمی پائی جاتی ہے ، اور منظر پر نہایت ہی ادب اور شائستگی چھائی ہوتی ہے۔
اب جواب دعاء ملاحظہ ہو اور اس موقعہ پر مکالمات :۔
مريم 19:7
قبولیت دعا کے اس لمحے کی تصویر کشی نہایت ہی مہربانی ، محبت اور رضا کی فضا میں ہے۔ عالم بالا سے رب ذوالجلال خود اپنے بندے کو پکارتے ہیں یزکریا (اے زکریا) اور پکارتے ہی اسے خوشخبری دے دی جاتی ہے۔ انا نبشرک بغلم (91 : 8) ” ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ “ اب اللہ ان پر مہربانی کی انتہا کردیتے ہیں کہ لڑکے کا نام بھی عالم بالا سے تجویز ہوتا ہے۔ اسمہ یحی (91 : 8) ” جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ ‘ اور پھر یہ کہ اس سے قبل یہ نام کسی فرد بشر کا نہیں رکھا گیا۔ لم نجعل لہ من قبل سمیاً (91 : 8) ” اس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا۔
یہ اللہ کے کرم کا فیض اور بارش ہے ، اسے اللہ اپنے اس بندے پر نچھاور کر رہا ہے جس نے اسے نہایت ہی عاجزی سے پکارا۔ تنہئای میں پکارا ، اپنا سینہ کھول کر رب کے سامنے رکھ دیا کہ اسے ڈر گئیا ہے۔ اپنا مسئلہ اللہ کے سامنے رکھا۔ اس دعا پر ان کو جس چیز نے مجبور کیا تھا وہ یہ تھی کہ انہیں اپنے عزیزوں اور ساتھیوں سے خطرہ لاحق تھا کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کی امانت اور مالی انتظام اچھی طرح نہ کرسکیں گے۔ اللہ نے ان پر فضل کیا اور ان کی خواہش پوری کردی اور ان کو راضی کردیا۔
ان کی دعا چونکہ فوری طور پر منظور ہوگئی ، ان کی خواہش اولاد کا جوش فوراً ٹھنڈا ہوگیا ، امید کی حرارت یقین میں بدل گئی۔ وہ اچانک ایک واقعی صورتحال سے دوچار ہوگئے کہ عملاً اب یہ کام کس طرح ہوگا۔ وہ تو سوکھا بوڑھا ہے ، ہڈیاں ڈھیلی پڑگئی ہیں ، سر سفید ہے۔ پھر بیوی بانجھ ہے ، جوانی میں اس سے کوئی اولاد نہیں ہوئی ، اب کس طرح وہ بچہ دے گی۔ اس لئے مزید طلب اطمینان قدرتی ہے۔ لہٰذا وہ معلوم کرتے ہیں کہ اس بچے کا ذریعہ کون اور کیا ہوگا ؟
مريم 19:8
قال رب انی یکون لی غلم و کانت امراتی عاقراً وقدبلغت من الکبر عتیاً (91 : 8) ” عرض کیا ، پروردگار ! بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا ، جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکا ہوں۔ “ چونکہ ان کو ایک عملی صورتحال سے دوچار ہنا پڑا۔ پھر اللہ کا وعدہ بھی ہے اور ٹال ہے۔ ان کو پورا پورا یقین ہے کہ یہ عمل ہونے والا ہے لیکن وہ اس کی کیفیت معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یہ وعدہ کس طرح حقیقت کا روپ اختیار کرے گا تاکہ ان کا دل مطمئن ہو۔ یہ ایک قدرتی اور طبیعی نفسیاتی حالت ہوتی ہے۔ حضرت زکریا نبی صالح ہیں مگر ایک بشر ہیں اور ایک واقعیت پسند انسان۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ واقعی حقیقی صورت حالات کو اللہ کس طرح بدل دے گا ؟
اللہ کی ہاں سے اس کا بھی جواب آجاتا ہے۔ اے بندے یہ کام کوئی مشکل نہیں ہے۔ ذرا اپنے نفس کو تو دیکھو کہ تم کیسے وجود میں آگئے جبکہ تم سرے سے تھے ہی نہیں۔ ہر ذات ذات کی یہی مثال ہے۔ اس کائنات کی ہر زندہ چیز نہ تھی اور ہوگئی۔
مريم 19:9
قال کذلک قال ربک ھو علی ھین وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئاً (91 : 9) ” جواب ملا ، ایسا ہی ہوگا ، تیرا رب فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لئے ایک ذرا سی بات ہے۔ اس سے پہلے میں تجھے پیدا کرچکا ہوں جب کہ تو کوئی چیز نہ تھا۔ “
اپنی مخلوقات کی پیدائش میں اللہ کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔ چھوٹی اور بڑی چیز ، حقیر اور عظیم چیز سب کا سبب صرف کن ہے۔ جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو ہوجاتا ہے۔
یہ اللہ ہی ہے جس نے بانجھ عورت کو ایسا بنایا ہے کہ اس کی اولاد نہ ہو اور بوڑھوں کو ایسا بنایا ہے کہ اس سے سلسلہ تناسل کا چلنا ختم ہوجائے۔ وہ بانجھ کو درست بھی کرسکتا ہے اور بانجھ پن کو دور کرسکتا ہے اور ایک بوڑھے مرد میں از سر نو قوت تولید پیدا کرسکتا ہے اور یہ کام بہ نسبت اس کے ، کہ اللہ نے انسان کو اس حال میں پیدا کیا کہ وہ کچھ نہ تھا ، آسان ہے۔ اگرچہ اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ کس چیز کو ابتدائً پیدا کرے یا اس کا اعادہ کرتا چلا جائے۔
ان سب حقائق کے باوجود حضرت زکریا مکمل اطمینان کے لئے اس قدر بےتاب ہیں کہ وہ اس ناقابل توقع عمل کے لئے علامت اور نشانی طلب فرماتے ہیں کہ جب یہ خوشخبری عملاً ظہور پذیر ہوگی تو اس کی علامت کیا ہوگی۔ تو اللہ نے اس خوشخبری کے لئے ایک ایسی علامت مقرر کی جو اس فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں حضرت نے یہ دعا ابتدائً کی تھی اور قبول ہوئی تھی تاکہ زکریا اس علامت کے ذریعہ رب تعالیٰ کا شکر بھی ادا کریں کہ اللہ نے انہیں اس بڑھاپے میں ایک بچہ دیا۔ وہ لوگوں کی دنیا سے کٹ جائیں اور تین دن صرف اللہ کے ساتھ مشغول ہوں۔ ان دنوں میں اس کی زبان صرف تسبیح الٰہی میں گویا ہو سکے گی اور اگر وہ لوگوں سے بات کرنا چاہیں گے تو زبان بند ہوجائے گی۔ حالانکہ ان کے اعضاء درست ہوں گے۔ ان کی زبان کو بھی کوئی معاملہ لاحق نہ ہوگا۔
مريم 19:10
قال ایتک الا تکلم الناس ثلث لیال سویا (91 : 01) ” فرمایا تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے گا۔ “ چناچہ ایسا ہی ہوا۔
مريم 19:11
فخرج علی قومہ من المحراب فاوحی ال یھم ان سبحوا بکرہ و عشیا ً (91 : 11) ” چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرو۔ “ تاکہ وہ بھی اس فضا اور اس حالت میں داخل ہوجائیں جس وہ داخل ہوچکے ہیں اور وہ بھی ان کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اللہ نے اس پر اور ان پر احسان کیا کیونکہ یہ لڑکا ان کے بعد ان کا امام اور راہنما ہوگا۔
یہاں قرآن مجید زکریا کو حالت خاموشی میں چھوڑ دیتا ہے ، پردہ گرتا ہے ، اور اس منظر کا صفحہ لپیٹ لیا جاتا ہے اور جب دوسرا منظر سامنے آتا ہے تو اس میں خود حضرت یحییٰ چلے آ رہے ہیں اور ان کو عالم بالا سے رب کی ندا آتی ہے۔
مريم 19:12
یبحی خذ الکتب بقوۃ (91 : 21) ” اے یحییٰ کتاب الٰہی کو مضبوط سے تھام لے۔ “ حضرت یحییٰ پیدا بھی ہوئے ، بچپنا گزرا ، جوان ہوئے اور یہ سب کچھ ان دو مناظر کے درمیان گیپ میں ہوگیا۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص فنی انداز بیان ہے۔ وہ صے کے اہم حلقوں کو پیش کردیتا ہے جن میں بھرپور زندگی اور ہماہمی ہوتی ہے۔ غیر اہم حلقے ذہن انسانی کے لئے چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔
حضرت یحییٰ کو کلمہ ندا کے ساتھ پکارا جاتا ہے اور بعد میں ان سے بات ہوتی ہے کیونکہ آواز دے کر کسی کو پکارنے کا منظر نہایت ہی دلکش منظر ہوتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم بالا میں حضرت یحییٰ کا مقام کیا ہے ، پھر یہ کہ حضرت زکریا کی دعا کی قبولیت کس قدر اہم واقعہ تھا۔ ان کی دعا ہی یہ تھی کہ ان کا ولی وارث ہونا چاہئے ، جو ان کے بعد ان کا خلیفہ ہو اور منصب خلافت کو اچھی طرح چلائے ، نظریاتی حوالے سے بھی اور خاندانی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی۔ چناچہ حضرت یحییٰ کو یہ چارج دیا جارہا ہے تاکہ وہ حسب دعا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
یبحی خذ الکتب بقوۃ (91 : 21) ” اے یحییٰ کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھام لے۔ “ اس کتاب سے مراد تورات ہے ، جو مسویٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی کتاب تھی۔ اور انبیاء بنی اسرائیل اسی کتاب کو لے کر چلتے تھے ، اسی پر عمل پیرا ہوتے تھے اور اسی کے مطابق فیصلے کرتے تھے ۔ حضرت یحییٰ اپنے والد زکریا کے وارث تھے ، اس لئے ان کو آواز دی گیء کہ وہ اب اس بوجھ کو اٹھائیں اور قوت اور عزم سے اس امانت کو لے کر اٹھیں اور اس کام میں سستی نہ کریں اور نہ کوئی کمزوری دکھائیں اور اس وراثت کی ذمہ داریوں سے پیچھے نہ ہٹیں۔
اس پکار کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے یحییٰ کو کیسی شخصیت عطا کی تھی تاکہ وہ منصب خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرے۔
مريم 19:13
” ہم نے اسے بچپن ہی میں حکم سے نوازا اور اپنی طرف سے اسے نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیز گار تھا۔ “ یہ تھی وہ قابلیت جس سے اللہ نے ان کو نوازا تھا اور اس طرح منصب خلافت زکریا کی ذمہ داریاں نبھانے میں ان کی مدد کی گئی۔
اسے بچپن ہی میں حکم اور حکمت عطا کردی گئی تھی ، لہٰذا وہ اہلیت میں بھی یکتا کردیئے گئے جس طرح وہ اپنے نام اور اپنی ولادت میں ممتاز تھے۔ حکمت جو کسی بھی شخص میں بڑے تجربے کے بعد آتی ہے حضرت یحییٰ کو زمانہ طفولیت ہی میں عطا کردی گئی تھی۔
نیز آپ کو پیدائشی طور پر نرم دلی عطا کردی گئی تھی ، اس لئے ان کو اس کے اظہار کے لئے کوئی تکلیف نہ کرنا پڑی اور نہ اس کی ٹریننگ کر کے ، اس رویہ کو عادت ثانیہ بنانے کی ضرورت تھی۔ بلکہ وقت پیداش وہ ان کی فطرت ثانیہ تھی۔ نرم دلی ہر ذمہ دار کے لئے خصوصاً نبی کے لئے ایک بنیادی صفت ہے تاکہ وہ مختلف لوگوں کو اپنے اردگرد جمع کرسکے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی گہری محبت پیدا ہوجائے اور وہ کچے چلے آئیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو طہارت ، عفت اور قلبی صفائی عطا کردی تھی۔ اس کے ذریعہ وہ دلوں کی کدورت ، اور دلوں کی میل کو صاف کرتے تھے اور عوام کے اندر پاکیزگی اور اخلاقی تطہیر کا کام کرتے تھے۔
وکان تقیاً (31) ” وہ بڑے پرہیز گار تھے۔ “ موصول باللہ تھے ، اللہ سے ڈرنے والے تھے ، اللہ کو ہر وقت پیش نظر رکھنے والے تھے ، اس سے ڈرنے والے تھے اور اللہ کی نگرانی کا خیال رکھنے والے تھے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ اللہ ظاہر و باطن کو دیکھ رہا ہے۔ یہ تھا وہ زاد راہ جو اللہ نے بچپن ہی میں حضرت یحییٰ کو دے دیا تھا ، تاکہ وہ اپنے باپ کا خلیفہ ہو ، جس کے لئے زکریا نے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اور گڑا گڑا کر دعا کی تھی اور رب نے اس دعا کو قبول کرلیا تھا اور یہ پاکیزہ بچہ ان کو عطا کیا تھا۔
یہاں آ کر یحییٰ بھی منظر سے اچانو اوجھل ہوجاتے ہیں ، پردہ گرتا ہے ، جس طرح اس سے قبل زکریا (علیہ السلام) اچانک پس منظر میں چلے گئے تھے ، لیکن چند جھلکیوں میں ان کی زنگدی کے خطوط کھینچ دیئے گئے ، ان کے رجحانات اور طرز زندگی کی جھلکیاں دکھا دی گئیں۔ پوری کہانی کا مقصد دو مناظر تھے ، حضرت زکریا کی دعا اور خدا کی جانب سے اعلان قبولیت اور یہ مقصد چند الفاظ میں عالم بالا سے حضرت یحییٰ کو آواز دے کر پکارنے اور ان کی اہلیت اور قابلیت کے ذکر کے اندر پورا کردیا گیا۔ لہٰذا تفصیلات دینے اور ایک ایک واقعہ قلم بند کرنے یک ضرورت ہی نہ رہی۔ اگر ان مناظر کے بعد کوئی حضرت یحییٰ کی زندگی کے بہت سے واقعات بھی دے دے تو مقصد قصہ میں کوئی اضافہ نہ کرسکے گا۔
اب قرآن کریم حضرت یحییٰ کی پیدائش سے بھی زیادہ عیجب ولادت کی طرف آتا ہے۔ یہ قصہ ولادت عیسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ سیاق کلام بڑھاپے میں ایک بانجھ عورت اور ایک کھوسٹ بوڑھے سے بچہ کی ولادت کا عجیب منظر پیش کر کے اب بتدریج قارئین کو ایک نہایت ہی مختلف فیہ عجیب تر واقعہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس دوسرے واقعہ میں زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ایک کنواری سے بن باپ بچہ پیدا ہوگیا۔
اگر ہم خود حضرت انسان اور آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو نظر انداز کردیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت تاریخ انسانیت میں ایک بہت بڑا عجوبہ ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں ہے ، نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ماقبل تاریخ میں اور نہ آپ کے بعد کی تاریخ میں۔
حضرت عیسیٰ کی ولادت سے بھی بڑا عجوبہ خود آدم کی تخلیق ہے ، لیکن اس وقت انسانیت موجود ہی نہ تھی کہ اللہ نے انسان اول کو کس طرح بغیر باپ اور ماں کے پیدا کیا۔ انسان بعد میں پیدا ہوئے اور انہوں نے تخلیق آدم کا مشاہدہ نہ کیا تھا۔ مشیت خداوندی نے یہ چاہا کہ یہ دوسرا عجوبہ خود لوگوں کے سامنے واقع ہو۔ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوجائیں اور جب سے انسان کو اس کرئہ ارض پر آباد کیا گیا ہے اور جس سنت کے مطابق انسان کا سل سلہ توالدو تناسل جاری ہے اس سے ہٹ کر ایک واقعہ ایسا ہوجائے کہ لوگ بچشم سرا سے دیکھ لیں اور یہ واقعہ اس قدر مشہور ممتاز اور ناقابل فراموش ہو کر صدیوں تک آنے والی نسلیں اس سے عبرت لیں کیونکہ پہلا معجزہ اور اعجوبہ وجود انسان سے قبل ہوا تھا۔
اللہ نے اپنی تمام مخلوقات کے لئے ایک سنت جاری فرما دی ہے کہ تمام انواع و اقسام کے جاندار ایک مخصوص سنت توالد و تناسل کے مطباق چلتے رہیں اور یہ سلسلہ مرد و عورت سے جاری ہوگا۔ یہاں تک کہ جن چیزوں میں مرد اور عورت نہیں ہے ، ان میں بھی فرد واحد میں مذکر و مونث کے خلیے رکھ دیئے گئے ہیں۔ یہ سنت قرون سے چلتی آرہی ہے اور ذہن انساین میں یہ پوری طرح بیٹھ گئی ہے۔ انسان یہ سوچنے لگا ہے کہ شاید تخلیق کا یہی واحد طریقہ ممکن ہے۔ تخلیق آدم کو وہ بھلا بیٹھا کہ کس طرح پہلا انسان وجود میں آیا۔ انسانی سوچ اور مشاہدے سے یہ بات ذرا باہر بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی بن باپ تخلیق کر کے یہ بتایا کہ اللہ اپنی جاری کی ہوئی سنت کا خود پابند نہیں ہے۔ اللہ کا ارادہ آزاد ہے اس کی قدرت بےقید ہے اور اس کا ارادہ کسی شکل اور طریقہ کا پابند نہیں ہے۔ تالہ پابند نے نہیں ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ جیسا واقعہ جاری نہ رہا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے لئے جو سنت جاری کر رکھی تھی اسے جاری رکھنا تھا۔ حضرت عیسیٰ کے واقعہ سے توالدو تناسل انسانیت کی سنت جاریہ کو بدلنا مقصود نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت ، مشیت اور ارادے کی آزادی کے ثبوت کے لئے بس یہ ایک مثال ہی کافی تھی کہ اللہ خود اپنے جاری کردہ قوانین کا پابند نہیں ہے۔
ولنجعلہ ایۃ للناس ” تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی بنائیں۔ “
یہ واقعہ چونکہ سنت الہیہ سے ہٹ کر عجیب و غریب تھا اس لئے بعض فرقے اسے صحیح طرح نہ سمجھ سکے اور اس واقعہ کو ظاہر کرنے کی حکمت بھی وہ نہ سمجھ سکے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرف الوہیت کی صفات کی نسبت شروع کردی اور آپ کی ولادت کے بارے میں اوہام و خرافات کا تانا بانا بننا شروع کردیا۔ انہوں نے ان کی اس تخلیق سے اللہ کا جو اصل مقصد تھا اسے سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ ہدایت کے بجائے الٹا گمراہی کی طرف چلے گئے۔ یعنی بجائے اس کے کہ وہ کہتے کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت الہیہ بےقید ہے انہوں نے خود حضرت عیسیٰ کو الہ بنا لیا اور ان کے عقائد خراب ہوگئے۔
اس سورة میں قرآن کریم اس واقعہ کو ذرا تفصیل سے نقل کرتا ہے ، اس واقعہ کا حقیقی مقصد بتاتا ہے اور خرافات اور قصے کہانیوں کی تردید کرتا ہے۔ انداز بیان نہیات ہی پر تاثیر مناظر کی شکل میں ہے ، جو جذباتی مناظر اور انساین تاثرات سے بھرپور ہیں۔ جو شخص ان مناظر کی غور سے پڑھتا ہے اور چشم تصور سے دیکھتا ہے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ کانپ اٹھتا ہے ، ذرا غور سے پڑھیں۔
مريم 19:14
” ہم نے اسے بچپن ہی میں حکم سے نوازا اور اپنی طرف سے اسے نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیز گار تھا۔ “ یہ تھی وہ قابلیت جس سے اللہ نے ان کو نوازا تھا اور اس طرح منصب خلافت زکریا کی ذمہ داریاں نبھانے میں ان کی مدد کی گئی۔
اسے بچپن ہی میں حکم اور حکمت عطا کردی گئی تھی ، لہٰذا وہ اہلیت میں بھی یکتا کردیئے گئے جس طرح وہ اپنے نام اور اپنی ولادت میں ممتاز تھے۔ حکمت جو کسی بھی شخص میں بڑے تجربے کے بعد آتی ہے حضرت یحییٰ کو زمانہ طفولیت ہی میں عطا کردی گئی تھی۔
نیز آپ کو پیدائشی طور پر نرم دلی عطا کردی گئی تھی ، اس لئے ان کو اس کے اظہار کے لئے کوئی تکلیف نہ کرنا پڑی اور نہ اس کی ٹریننگ کر کے ، اس رویہ کو عادت ثانیہ بنانے کی ضرورت تھی۔ بلکہ وقت پیداش وہ ان کی فطرت ثانیہ تھی۔ نرم دلی ہر ذمہ دار کے لئے خصوصاً نبی کے لئے ایک بنیادی صفت ہے تاکہ وہ مختلف لوگوں کو اپنے اردگرد جمع کرسکے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی گہری محبت پیدا ہوجائے اور وہ کچے چلے آئیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو طہارت ، عفت اور قلبی صفائی عطا کردی تھی۔ اس کے ذریعہ وہ دلوں کی کدورت ، اور دلوں کی میل کو صاف کرتے تھے اور عوام کے اندر پاکیزگی اور اخلاقی تطہیر کا کام کرتے تھے۔
وکان تقیاً (31) ” وہ بڑے پرہیز گار تھے۔ “ موصول باللہ تھے ، اللہ سے ڈرنے والے تھے ، اللہ کو ہر وقت پیش نظر رکھنے والے تھے ، اس سے ڈرنے والے تھے اور اللہ کی نگرانی کا خیال رکھنے والے تھے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ اللہ ظاہر و باطن کو دیکھ رہا ہے۔ یہ تھا وہ زاد راہ جو اللہ نے بچپن ہی میں حضرت یحییٰ کو دے دیا تھا ، تاکہ وہ اپنے باپ کا خلیفہ ہو ، جس کے لئے زکریا نے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اور گڑا گڑا کر دعا کی تھی اور رب نے اس دعا کو قبول کرلیا تھا اور یہ پاکیزہ بچہ ان کو عطا کیا تھا۔
یہاں آ کر یحییٰ بھی منظر سے اچانو اوجھل ہوجاتے ہیں ، پردہ گرتا ہے ، جس طرح اس سے قبل زکریا (علیہ السلام) اچانک پس منظر میں چلے گئے تھے ، لیکن چند جھلکیوں میں ان کی زنگدی کے خطوط کھینچ دیئے گئے ، ان کے رجحانات اور طرز زندگی کی جھلکیاں دکھا دی گئیں۔ پوری کہانی کا مقصد دو مناظر تھے ، حضرت زکریا کی دعا اور خدا کی جانب سے اعلان قبولیت اور یہ مقصد چند الفاظ میں عالم بالا سے حضرت یحییٰ کو آواز دے کر پکارنے اور ان کی اہلیت اور قابلیت کے ذکر کے اندر پورا کردیا گیا۔ لہٰذا تفصیلات دینے اور ایک ایک واقعہ قلم بند کرنے یک ضرورت ہی نہ رہی۔ اگر ان مناظر کے بعد کوئی حضرت یحییٰ کی زندگی کے بہت سے واقعات بھی دے دے تو مقصد قصہ میں کوئی اضافہ نہ کرسکے گا۔
اب قرآن کریم حضرت یحییٰ کی پیدائش سے بھی زیادہ عیجب ولادت کی طرف آتا ہے۔ یہ قصہ ولادت عیسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ سیاق کلام بڑھاپے میں ایک بانجھ عورت اور ایک کھوسٹ بوڑھے سے بچہ کی ولادت کا عجیب منظر پیش کر کے اب بتدریج قارئین کو ایک نہایت ہی مختلف فیہ عجیب تر واقعہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس دوسرے واقعہ میں زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ایک کنواری سے بن باپ بچہ پیدا ہوگیا۔
اگر ہم خود حضرت انسان اور آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو نظر انداز کردیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت تاریخ انسانیت میں ایک بہت بڑا عجوبہ ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں ہے ، نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ماقبل تاریخ میں اور نہ آپ کے بعد کی تاریخ میں۔
حضرت عیسیٰ کی ولادت سے بھی بڑا عجوبہ خود آدم کی تخلیق ہے ، لیکن اس وقت انسانیت موجود ہی نہ تھی کہ اللہ نے انسان اول کو کس طرح بغیر باپ اور ماں کے پیدا کیا۔ انسان بعد میں پیدا ہوئے اور انہوں نے تخلیق آدم کا مشاہدہ نہ کیا تھا۔ مشیت خداوندی نے یہ چاہا کہ یہ دوسرا عجوبہ خود لوگوں کے سامنے واقع ہو۔ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوجائیں اور جب سے انسان کو اس کرئہ ارض پر آباد کیا گیا ہے اور جس سنت کے مطابق انسان کا سل سلہ توالدو تناسل جاری ہے اس سے ہٹ کر ایک واقعہ ایسا ہوجائے کہ لوگ بچشم سرا سے دیکھ لیں اور یہ واقعہ اس قدر مشہور ممتاز اور ناقابل فراموش ہو کر صدیوں تک آنے والی نسلیں اس سے عبرت لیں کیونکہ پہلا معجزہ اور اعجوبہ وجود انسان سے قبل ہوا تھا۔
اللہ نے اپنی تمام مخلوقات کے لئے ایک سنت جاری فرما دی ہے کہ تمام انواع و اقسام کے جاندار ایک مخصوص سنت توالد و تناسل کے مطباق چلتے رہیں اور یہ سلسلہ مرد و عورت سے جاری ہوگا۔ یہاں تک کہ جن چیزوں میں مرد اور عورت نہیں ہے ، ان میں بھی فرد واحد میں مذکر و مونث کے خلیے رکھ دیئے گئے ہیں۔ یہ سنت قرون سے چلتی آرہی ہے اور ذہن انساین میں یہ پوری طرح بیٹھ گئی ہے۔ انسان یہ سوچنے لگا ہے کہ شاید تخلیق کا یہی واحد طریقہ ممکن ہے۔ تخلیق آدم کو وہ بھلا بیٹھا کہ کس طرح پہلا انسان وجود میں آیا۔ انسانی سوچ اور مشاہدے سے یہ بات ذرا باہر بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی بن باپ تخلیق کر کے یہ بتایا کہ اللہ اپنی جاری کی ہوئی سنت کا خود پابند نہیں ہے۔ اللہ کا ارادہ آزاد ہے اس کی قدرت بےقید ہے اور اس کا ارادہ کسی شکل اور طریقہ کا پابند نہیں ہے۔ تالہ پابند نے نہیں ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ جیسا واقعہ جاری نہ رہا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے لئے جو سنت جاری کر رکھی تھی اسے جاری رکھنا تھا۔ حضرت عیسیٰ کے واقعہ سے توالدو تناسل انسانیت کی سنت جاریہ کو بدلنا مقصود نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت ، مشیت اور ارادے کی آزادی کے ثبوت کے لئے بس یہ ایک مثال ہی کافی تھی کہ اللہ خود اپنے جاری کردہ قوانین کا پابند نہیں ہے۔
ولنجعلہ ایۃ للناس ” تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی بنائیں۔ “
یہ واقعہ چونکہ سنت الہیہ سے ہٹ کر عجیب و غریب تھا اس لئے بعض فرقے اسے صحیح طرح نہ سمجھ سکے اور اس واقعہ کو ظاہر کرنے کی حکمت بھی وہ نہ سمجھ سکے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرف الوہیت کی صفات کی نسبت شروع کردی اور آپ کی ولادت کے بارے میں اوہام و خرافات کا تانا بانا بننا شروع کردیا۔ انہوں نے ان کی اس تخلیق سے اللہ کا جو اصل مقصد تھا اسے سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ ہدایت کے بجائے الٹا گمراہی کی طرف چلے گئے۔ یعنی بجائے اس کے کہ وہ کہتے کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت الہیہ بےقید ہے انہوں نے خود حضرت عیسیٰ کو الہ بنا لیا اور ان کے عقائد خراب ہوگئے۔
اس سورة میں قرآن کریم اس واقعہ کو ذرا تفصیل سے نقل کرتا ہے ، اس واقعہ کا حقیقی مقصد بتاتا ہے اور خرافات اور قصے کہانیوں کی تردید کرتا ہے۔ انداز بیان نہیات ہی پر تاثیر مناظر کی شکل میں ہے ، جو جذباتی مناظر اور انساین تاثرات سے بھرپور ہیں۔ جو شخص ان مناظر کی غور سے پڑھتا ہے اور چشم تصور سے دیکھتا ہے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ کانپ اٹھتا ہے ، ذرا غور سے پڑھیں۔
مريم 19:15
” ہم نے اسے بچپن ہی میں حکم سے نوازا اور اپنی طرف سے اسے نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیز گار تھا۔ “ یہ تھی وہ قابلیت جس سے اللہ نے ان کو نوازا تھا اور اس طرح منصب خلافت زکریا کی ذمہ داریاں نبھانے میں ان کی مدد کی گئی۔
اسے بچپن ہی میں حکم اور حکمت عطا کردی گئی تھی ، لہٰذا وہ اہلیت میں بھی یکتا کردیئے گئے جس طرح وہ اپنے نام اور اپنی ولادت میں ممتاز تھے۔ حکمت جو کسی بھی شخص میں بڑے تجربے کے بعد آتی ہے حضرت یحییٰ کو زمانہ طفولیت ہی میں عطا کردی گئی تھی۔
نیز آپ کو پیدائشی طور پر نرم دلی عطا کردی گئی تھی ، اس لئے ان کو اس کے اظہار کے لئے کوئی تکلیف نہ کرنا پڑی اور نہ اس کی ٹریننگ کر کے ، اس رویہ کو عادت ثانیہ بنانے کی ضرورت تھی۔ بلکہ وقت پیداش وہ ان کی فطرت ثانیہ تھی۔ نرم دلی ہر ذمہ دار کے لئے خصوصاً نبی کے لئے ایک بنیادی صفت ہے تاکہ وہ مختلف لوگوں کو اپنے اردگرد جمع کرسکے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی گہری محبت پیدا ہوجائے اور وہ کچے چلے آئیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو طہارت ، عفت اور قلبی صفائی عطا کردی تھی۔ اس کے ذریعہ وہ دلوں کی کدورت ، اور دلوں کی میل کو صاف کرتے تھے اور عوام کے اندر پاکیزگی اور اخلاقی تطہیر کا کام کرتے تھے۔
وکان تقیاً (31) ” وہ بڑے پرہیز گار تھے۔ “ موصول باللہ تھے ، اللہ سے ڈرنے والے تھے ، اللہ کو ہر وقت پیش نظر رکھنے والے تھے ، اس سے ڈرنے والے تھے اور اللہ کی نگرانی کا خیال رکھنے والے تھے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ اللہ ظاہر و باطن کو دیکھ رہا ہے۔ یہ تھا وہ زاد راہ جو اللہ نے بچپن ہی میں حضرت یحییٰ کو دے دیا تھا ، تاکہ وہ اپنے باپ کا خلیفہ ہو ، جس کے لئے زکریا نے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اور گڑا گڑا کر دعا کی تھی اور رب نے اس دعا کو قبول کرلیا تھا اور یہ پاکیزہ بچہ ان کو عطا کیا تھا۔
یہاں آ کر یحییٰ بھی منظر سے اچانو اوجھل ہوجاتے ہیں ، پردہ گرتا ہے ، جس طرح اس سے قبل زکریا (علیہ السلام) اچانک پس منظر میں چلے گئے تھے ، لیکن چند جھلکیوں میں ان کی زنگدی کے خطوط کھینچ دیئے گئے ، ان کے رجحانات اور طرز زندگی کی جھلکیاں دکھا دی گئیں۔ پوری کہانی کا مقصد دو مناظر تھے ، حضرت زکریا کی دعا اور خدا کی جانب سے اعلان قبولیت اور یہ مقصد چند الفاظ میں عالم بالا سے حضرت یحییٰ کو آواز دے کر پکارنے اور ان کی اہلیت اور قابلیت کے ذکر کے اندر پورا کردیا گیا۔ لہٰذا تفصیلات دینے اور ایک ایک واقعہ قلم بند کرنے یک ضرورت ہی نہ رہی۔ اگر ان مناظر کے بعد کوئی حضرت یحییٰ کی زندگی کے بہت سے واقعات بھی دے دے تو مقصد قصہ میں کوئی اضافہ نہ کرسکے گا۔
اب قرآن کریم حضرت یحییٰ کی پیدائش سے بھی زیادہ عیجب ولادت کی طرف آتا ہے۔ یہ قصہ ولادت عیسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ سیاق کلام بڑھاپے میں ایک بانجھ عورت اور ایک کھوسٹ بوڑھے سے بچہ کی ولادت کا عجیب منظر پیش کر کے اب بتدریج قارئین کو ایک نہایت ہی مختلف فیہ عجیب تر واقعہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس دوسرے واقعہ میں زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ایک کنواری سے بن باپ بچہ پیدا ہوگیا۔
اگر ہم خود حضرت انسان اور آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو نظر انداز کردیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت تاریخ انسانیت میں ایک بہت بڑا عجوبہ ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں ہے ، نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ماقبل تاریخ میں اور نہ آپ کے بعد کی تاریخ میں۔
حضرت عیسیٰ کی ولادت سے بھی بڑا عجوبہ خود آدم کی تخلیق ہے ، لیکن اس وقت انسانیت موجود ہی نہ تھی کہ اللہ نے انسان اول کو کس طرح بغیر باپ اور ماں کے پیدا کیا۔ انسان بعد میں پیدا ہوئے اور انہوں نے تخلیق آدم کا مشاہدہ نہ کیا تھا۔ مشیت خداوندی نے یہ چاہا کہ یہ دوسرا عجوبہ خود لوگوں کے سامنے واقع ہو۔ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوجائیں اور جب سے انسان کو اس کرئہ ارض پر آباد کیا گیا ہے اور جس سنت کے مطابق انسان کا سل سلہ توالدو تناسل جاری ہے اس سے ہٹ کر ایک واقعہ ایسا ہوجائے کہ لوگ بچشم سرا سے دیکھ لیں اور یہ واقعہ اس قدر مشہور ممتاز اور ناقابل فراموش ہو کر صدیوں تک آنے والی نسلیں اس سے عبرت لیں کیونکہ پہلا معجزہ اور اعجوبہ وجود انسان سے قبل ہوا تھا۔
اللہ نے اپنی تمام مخلوقات کے لئے ایک سنت جاری فرما دی ہے کہ تمام انواع و اقسام کے جاندار ایک مخصوص سنت توالد و تناسل کے مطباق چلتے رہیں اور یہ سلسلہ مرد و عورت سے جاری ہوگا۔ یہاں تک کہ جن چیزوں میں مرد اور عورت نہیں ہے ، ان میں بھی فرد واحد میں مذکر و مونث کے خلیے رکھ دیئے گئے ہیں۔ یہ سنت قرون سے چلتی آرہی ہے اور ذہن انساین میں یہ پوری طرح بیٹھ گئی ہے۔ انسان یہ سوچنے لگا ہے کہ شاید تخلیق کا یہی واحد طریقہ ممکن ہے۔ تخلیق آدم کو وہ بھلا بیٹھا کہ کس طرح پہلا انسان وجود میں آیا۔ انسانی سوچ اور مشاہدے سے یہ بات ذرا باہر بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی بن باپ تخلیق کر کے یہ بتایا کہ اللہ اپنی جاری کی ہوئی سنت کا خود پابند نہیں ہے۔ اللہ کا ارادہ آزاد ہے اس کی قدرت بےقید ہے اور اس کا ارادہ کسی شکل اور طریقہ کا پابند نہیں ہے۔ تالہ پابند نے نہیں ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ جیسا واقعہ جاری نہ رہا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے لئے جو سنت جاری کر رکھی تھی اسے جاری رکھنا تھا۔ حضرت عیسیٰ کے واقعہ سے توالدو تناسل انسانیت کی سنت جاریہ کو بدلنا مقصود نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت ، مشیت اور ارادے کی آزادی کے ثبوت کے لئے بس یہ ایک مثال ہی کافی تھی کہ اللہ خود اپنے جاری کردہ قوانین کا پابند نہیں ہے۔
ولنجعلہ ایۃ للناس ” تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی بنائیں۔ “
یہ واقعہ چونکہ سنت الہیہ سے ہٹ کر عجیب و غریب تھا اس لئے بعض فرقے اسے صحیح طرح نہ سمجھ سکے اور اس واقعہ کو ظاہر کرنے کی حکمت بھی وہ نہ سمجھ سکے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرف الوہیت کی صفات کی نسبت شروع کردی اور آپ کی ولادت کے بارے میں اوہام و خرافات کا تانا بانا بننا شروع کردیا۔ انہوں نے ان کی اس تخلیق سے اللہ کا جو اصل مقصد تھا اسے سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ ہدایت کے بجائے الٹا گمراہی کی طرف چلے گئے۔ یعنی بجائے اس کے کہ وہ کہتے کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت الہیہ بےقید ہے انہوں نے خود حضرت عیسیٰ کو الہ بنا لیا اور ان کے عقائد خراب ہوگئے۔
اس سورة میں قرآن کریم اس واقعہ کو ذرا تفصیل سے نقل کرتا ہے ، اس واقعہ کا حقیقی مقصد بتاتا ہے اور خرافات اور قصے کہانیوں کی تردید کرتا ہے۔ انداز بیان نہیات ہی پر تاثیر مناظر کی شکل میں ہے ، جو جذباتی مناظر اور انساین تاثرات سے بھرپور ہیں۔ جو شخص ان مناظر کی غور سے پڑھتا ہے اور چشم تصور سے دیکھتا ہے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ کانپ اٹھتا ہے ، ذرا غور سے پڑھیں۔
مريم 19:16
یہ پہلا منظر ہے۔ ایک کنواری نوجوان عورت ہے ، نہایت ہی پاکباز ہے ، اس کی ماں نے اسے اس وقت عبادت خانے کی خدمت کے لئے نذر کردیا تھا جب وہ ابھی ماں کے پیٹ میں تھی۔ اس کے بارے میں سب کے سب یہی جانتے تھے کہ وہ نہایت ہی پاکباز عورت ہے ، عفت ماب ہے ۔ وہ ہارون کی طرف نسبت رکھتی ہے جو اسرائیلی معبد کے متولی اور پاکباز شخص تھے۔ ان کے خاندان کی شہرت بھی یہ تھی کہ وہ نہایت ہی پاکباز لوگوں کا خاندان ہے اور زمانہ قدیم سے یہ لوگ پاک سیرت چلے آ رہے ہیں۔
یہ عورت اپنے اہل و عیال اور اپنے اس پاکیزہ خاندان سے چھپتی پھرتی ہے ، اس کے حالات ایسے ہیں کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو رہی ہے۔ سیاق کلام میں اس حقیقت کی صراحت نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ یہ کنواریوں کے مخصوص پوشیدہ امور کے ساتھ متعلق ہے۔
یہ اپنی اس خلوت میں ہے ، اپنی زندگی سے مطمئن ہے لیکن وہ کیا دیکھتی ہے کہ ایک نوجوان اس کے کمرے میں کھڑا ہے ، ایک مکمل نوجوان۔
مريم 19:17
فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشراً سویاً (91 : 81) ” اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پور انسان کی شکل میں نمودار ہوا۔ یہ اب کسی بھی کنواری عورت کی طرح گھبرا اٹھتی ہے ، جس کے کمرے میں اچانک ایک پورا نوجوان مرد داخل ہوجائے۔ وہ اللہ کی پناہ میں آتی ہے۔ اللہ سے پناہ طلب کرتی ہے ، اس شخص کو اللہ اور تقویٰ و طہارت کا واسطہ دیتی ہے۔ اللہ کے خوف کا واسطہ دیتی ہے ، وہ کہتی ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ، یہ جگہ خالی نہیں ہے۔ اللہ موجود ہے۔
مريم 19:18
قالت انی اعوذ بالرحمٰن منک ان کنت تقیاً (91 : 81) ” مریم کی ایک بول اٹھی کہ اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں۔ “ کسی بھی مت قی آدمی کے سامنے اگر خدا کا ذکر کیا جائے تو اس کا شعور تقویٰ بیدار ہوتا ہے اور وہ شیطانی وسوسہ اور شہوت کی اکساہٹ سے باز آجاتا ہے۔
یہ پاک فطرت دوشیزہ ، نہایت ہی اچھی تربیت یافتہ ، نہایت ہی پاک ماحول میں رہنے والی ، جس کی کفالت کی ذمہ داری زکریا جیسے پاکباز شخص کے ذمہ ہے۔ جب وہ جنین کی حالت میں تھی تو اسے اس معبد کے لئے نذر کردیا گیا تھا۔ اس کے لئے یہ پہلا جھٹکا تھا ۔ ذرا سوچئے کہ یہ فرشتہ یا یہ نوجوان اسے یوں جواب دیتا ہے :
مريم 19:19
قال انما انا رسول ربک لاھب لک غلما زکیا (91 : 91) ” اس نے کہا میں تو تمہارے رب کا فر ستادہ ہوں اور اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔ “
اس اعلان سے سوچا جاسکتا ہے کہ اس دوشیزہ پر کس قدر خوف طاری ہوگیا ہوگا ، اسے کس قدر شرمنگدی لاحق ہوگئی ہوگی۔ اسے تو ابھی یہ یقین ہی نہیں ہے کہ یہ نوجوان اللہ کا فرستاندہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اس رنگ میں اسے دھوکہ دے رہا ہو ، جبکہ وہ اس شرمیلی پاکیزہ فطرت خاتون کو صراحت کے ساتھ پکار رہا ہے کہ میں تمہیں ایک پاکیزہ بچہ دینے آیا ہوں ، یہ اس خاتون کے لئے دوسرا دھچکا ہے۔
جب کبھی کسی خاتون کی عزت و ناموس خطرے میں ہو اس کے اندر قدرتی طور پر شجاعت پیدا ہوجاتی ہے۔ چناچہ حضرت مریم جرأت کے ساتھ پوچھتی ہیں۔
مريم 19:20
قالت انی یکون لی غلم ولم یمسسی بشر ولم اک بغیا (91 : 02) مریم نے کہا میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا ، جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں۔ “ یوں وہ صراحت کے ساتھ بات کرتی ہیں ، کھلے الفاظ میں ، وہ اور یہ شخص دونوں تنہائی میں ہیں۔ اچانک اس شخص کے در آنے کی غرض وغایت بھی ظاہر ہوگئی ہے۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ وہ اسے کس طرح بچہ دینا چاہتا ہے۔ ہاں جب اس نے کہا کہ میں تمہارے رب کافر ستادہ ہوں تو اس کے خوف میں اس سے بھی کمی نہیں اتٓی کہ وہ اسے ایک ایسا بچہ دینے والے ہیں جو اپک ہوگا ، جس کی ولادت ناجائز ذرائع سے نہ ہوگی ، اس کی سیرت بھی بری نہ ہوگی۔ اس لئے وہ اسی موقعہ پر کھل کر بات کرتی ہیں اور یہی مناسب بھی ہے کہ معلوم کیا جائے کہ کس طرح یہ بچہ پیدا ہو سکتا ہے جبکہ مجھے تو کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور میں کوئی عصمت فروش عورت بھی نہیں ہوں کہ لوگ میرے بچے کو قبول کرلیں کہ یہ فاحشہ کا بچہ ہے۔
یہاں تک کے سوال و جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مریم مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدائش کے سوا کوئی اور صورت پیدائش پر یقین نہ رکھتی تھی اور ایک عام انسان کے لئے یہی قدرتی سوچ ہے۔
مريم 19:21
قال کذلک قال ربک ھو علی ھین ولنجعلہ ایۃ للناس و رحمۃ منا (91 : 12) ” فرشتے نے کہا ایسا ہی ہوگا تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لئے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لئے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لئے نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے رحمت۔ “
یہ خارق عادت طریقہ ولادت جس کے بارے میں مریم بھی نہیں سوچ سکتی اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ کیونکہ اللہ جب کسی چیز کو وجود میں لانا چاہتے ہیں تو وہ صرف کن کہتے ہیں اور وہ ہوجاتی ہے۔ اللہ کے لئے سب کچھ آسان ہے چاہے مروجہ سنت الہیہ کے مطابق قدرتی طریقوں سے ہو یا غیر معمولی طریقوں سے ہو۔ فرشتہ اب صاف صاف بتا دیتا ہے کہ خدا کا یہی فرمان ہے کہ ایسا ہی ہوگا اور میرے لئے یہ آسان ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس اعجوبے کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ کی قدرت اور اللہ کا ارادہ اور اس کی مشیت بےقید ہیں ، یہ واقعہ سب سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے رحمت ہوگا پھر تمام انسانوں کے لئے رحمت ہوگا۔ اس واقعہ کے ظہور سے لوگوں کو معرفت الٰہی حاصل ہوگی ، وہ اللہ کی بندگی کریں گے ، اور اللہ کی رضامندی کے متلاشی ہوں گے۔
روح الامین اور کنواری مریم کے درمیان اب یہ مکالمہ یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ اس مکاملے کے بعد کیا ہوا ، اب یہاں اس کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ اب یہاں قصے کے درمیان ایک خلا ہے ، یہ مناظر قصہ پیش کرنے کے درمیان ایک فنی خلا ہے۔ البتہ فرشتہ اس قدر ضرور کہہ دیتا ہے کہ یہ بچہ یونہی ایک کنواری سے پیدا ہوگا ، کنواری کو کسی نے چھوا تک نہ ہوگا ، یہ بچہ لوگوں کے لئے معجزہ ہوگا ، اللہ کی طرف سے رحمت ہوگا اور اس کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ اور ایسا ہی ہوگا۔
اب اس قصے کا ایک دوسرا منظر سامنے آتا ہے ، ہماری پاک دامن کنواری کو ایک دوسری حیران کن اور پریشان کن حالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ منظر پہلے منظر سے بھی زیادہ خوفناک ہے ، اس کے لئے۔
مريم 19:22
یہ اس پاک دامن دوشیزہ کے لئے تیسرا دھچکا ہے۔ سیاق کلام میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ یہ حمل کیسے ٹھہرا ، کتنا عرصہ رہا یا کوئی عادی حمل تھا جس طرح عورتوں کو ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی جانب سے ایک پھونک تھی اور عورت کے رحم میں بیضے کے اندر حرکت پیدا ہوگئی۔ یہ خون کالوتھڑا بن گیا ، اس کے اندر ہڈیاں بن گئیں ، ہڈیوں پر گوشت بننا شروع ہوگیا اور جنین نے حمل کا مقررہ وقت پورا کیا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ عورت کے بیضے میں حرکت پیدا کی اور اس نے اپنا طبیعی عمل شروع کردیا۔ یہ بیھ ممکن ہے کہ اس غیر معمولی واقعہ میں بیضے نے اپنا عادی کورس پورا نہ کیا ہو ، یہ تمام مراحل اعجوبے کی طرح جلدی جلدی طے ہوگئے ہوں اور رحم مادر میں بچہ جلدی جلدی تکمیل کے مراحل طے کر گیا ہو۔ یہاں ایٓت میں تو کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ دونوں طریقفوں اور امکانیات میں سے کون سا عمل ہوا۔ لہٰذا ہم بھی اس بحث میں نہیں پڑتے جس کے بارے میں تحقیق کے لئے مہارے پاس کوئی مسند مواد نہیں ہے۔ ہمیں جو بات یہاں بتائی اور دکھائی جاتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حمل ٹھہرا اور مریم اپنی فیملی سے دور ایک تنہا مقام میں چلی گئی ہیں۔ یہ صورت حالات ان کے لئے سابقہ حالات سے زیادہ خوفناک ہے پہلے موقف میں تو ان کو صرف اپنے کنوارے پن ، تربیت اور اخلاق کی فکر تھی ، یہ صرف ان کا خفیہ مسئلہ تھا۔ خفیہ رہ سکتا تھا ، لیکن یہاں یہ مسئلہ اب سوسائٹی کے سامنے آنے الا ہے۔ نفسیاتی تکالیف کے ساتھ اب وہ جسمانی تکالیف سے بھی دوچار ہیں۔ دردزہ کی تکلیف انہیں کھجور کے ایک تنے کے پاس لاتی ہے۔ وہ مجبوراً اس درخت کا سہارا لیتی ہے۔ یہاں یہ یکہ و تنہا ہے۔ کنوارے پن کی پہلی ولادت میں زچگی کی تکالیف بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ کچھ تجربہ نہیں رکھتیں ، کوئی معاون و مددگار بھی نہیں ہے ، اچانک اس کے منہ سے یہ کلمات نکلتے ہیں۔
مريم 19:23
یلیتنی مت قبل ھذا و کنت نسیا منسیاً (91 : 32) ” کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان ہی نہ رہتا۔ “ قرآن نے اس بات کو جن الفاظ میں بیان کیا ہے گویا ہم اس کے چہرے کے خدو خال دیکھ رہے ہیں ، اس کے دلی اضطراب کو گویا ہم محسوس کرسکتا ہے۔ رنج و الم جو ان کو ہے ہر شخص اسے حقیقی طور پر محسوس کرتا ہے۔ ایسے مواقع یہ تمنا جائز ہے کہ اس کا نام و نشان مٹ جائے۔ منسیاً وہ کپڑا جسے حیض کے خون کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے بعد پھینک دیا جاتا ہے اور بھلا دیا جاتا ہے (ایسی جگہ پھینک دیا جاتا ہے کہ کوئی دیکھ بھی نہ سکے۔ )
اس شدت رنج و الم میں اچانک ایک عظیم سرپرائز دیا جاتا ہے۔
مريم 19:24
یا اللہ ، یہ کیسا بچہ ہے ، ابھی تو پیدا ہوا ہے ، زمین پر پڑا ہے اور وہ باتیں کر رہا ہے۔ اب مریم کو خوشی کے ساتھ سکون حاصل ہوگیا۔ اب وہ اپنے رب سے واصل ہیں۔ ان کے کھانے اور پینے کا بندوبست بھی کردیا گیا ہے ، عجیب انداز میں اور ان کو اس معجزانہ ولات کی دلیل اور جواز بھی سمجھا دیا گیا ہے۔
اے ماں تو پریشان نہ ہو۔ قد جعل ربک تحتک سریاً (91 : 32) ” تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہے۔ “ وہ تمہیں بھولا نہیں اور نہ تمہیں بےسہارا چھوڑ دیا ہے ، بلکہ اس نے تمہارے لئے تمہارے قدموں کے نیچے ایک چشمہ جاری نکال دیا ہے۔ رجح بات یہ ہے کہ ایک لحظہ میں یہ چشمہ معجزانہ طور پر پھوٹ پڑا۔ زمین سے یا پانی کی کسی گزر گاہ سے۔ جس کھجور کا تم نے سہارا لے رکھا ہے اسے ذرا حرکت دو ، تیرے اوپر ترو تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ چناچہ یہ تیسری خوراک ہے اور وہ شراب طہور ہے۔ نفاس اور زچگی کی مریضہ کے لئے میٹھا کھانا بہت مفید ہوتا ہے ، کجوریں تازہ اور خشک زچگی کی مریض خواتین کا بہترین طعام ہے۔
مريم 19:25
یا اللہ ، یہ کیسا بچہ ہے ، ابھی تو پیدا ہوا ہے ، زمین پر پڑا ہے اور وہ باتیں کر رہا ہے۔ اب مریم کو خوشی کے ساتھ سکون حاصل ہوگیا۔ اب وہ اپنے رب سے واصل ہیں۔ ان کے کھانے اور پینے کا بندوبست بھی کردیا گیا ہے ، عجیب انداز میں اور ان کو اس معجزانہ ولات کی دلیل اور جواز بھی سمجھا دیا گیا ہے۔
اے ماں تو پریشان نہ ہو۔ قد جعل ربک تحتک سریاً (91 : 32) ” تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہے۔ “ وہ تمہیں بھولا نہیں اور نہ تمہیں بےسہارا چھوڑ دیا ہے ، بلکہ اس نے تمہارے لئے تمہارے قدموں کے نیچے ایک چشمہ جاری نکال دیا ہے۔ رجح بات یہ ہے کہ ایک لحظہ میں یہ چشمہ معجزانہ طور پر پھوٹ پڑا۔ زمین سے یا پانی کی کسی گزر گاہ سے۔ جس کھجور کا تم نے سہارا لے رکھا ہے اسے ذرا حرکت دو ، تیرے اوپر ترو تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ چناچہ یہ تیسری خوراک ہے اور وہ شراب طہور ہے۔ نفاس اور زچگی کی مریضہ کے لئے میٹھا کھانا بہت مفید ہوتا ہے ، کجوریں تازہ اور خشک زچگی کی مریض خواتین کا بہترین طعام ہے۔
مريم 19:26
فکلی و اشربی و قری عینا (91 : 62) ” تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ “ یہ خوشگوار طعام و شراب اسعتمال کرو اور بچے کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کرو اور اگر کوئی سوال کرے تو اشاروں سے یہ کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں ، میں نے روزے کی نذر مانی ہے ، عبادت اور ذکر الٰہی کے لئے کٹ گئی ہوں ، آج میں کسی سے بات نہ کروں گی کسی کو اس کے سوال کا جواب نہ دوں گی۔
ہمارا خیال ہے کھجور کے اس درخت کو ہلانے سے قبل وہ بےحد خوفزدہ ہوگئی ہوگی ، نہایت ہی پریشانی کا وقت اس پر گزرا ہوگا ، لیکن جب درخت کے ہلاتے ہی اس پر تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں تو وہ سمجھ گئی ہوگی کہ اللہ اس کے ساتھ ہے۔ اسے اللہ نے نہیں چھوڑا اور یہ کہ حجت الہیہ اس کے پاس ہے۔ یہ بچہ جو ولادت ہوتے ہی باتیں کرتا ہے ، یہ حجت الہیہ ہے اس لئے یہ باتیں اس معجزے کی تفسیر کردیں گی ، جو اس بچے کی ولادت کے سلسلے میں ظہور پذیر ہوا۔
اب اگلا نہایت ہی موثر منظر دیکھیے :
مريم 19:27
فکلی و اشربی و قری عینا (91 : 62) ” تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ “ یہ خوشگوار طعام و شراب اسعتمال کرو اور بچے کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کرو اور اگر کوئی سوال کرے تو اشاروں سے یہ کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں ، میں نے روزے کی نذر مانی ہے ، عبادت اور ذکر الٰہی کے لئے کٹ گئی ہوں ، آج میں کسی سے بات نہ کروں گی کسی کو اس کے سوال کا جواب نہ دوں گی۔
ہمارا خیال ہے کھجور کے اس درخت کو ہلانے سے قبل وہ بےحد خوفزدہ ہوگئی ہوگی ، نہایت ہی پریشانی کا وقت اس پر گزرا ہوگا ، لیکن جب درخت کے ہلاتے ہی اس پر تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں تو وہ سمجھ گئی ہوگی کہ اللہ اس کے ساتھ ہے۔ اسے اللہ نے نہیں چھوڑا اور یہ کہ حجت الہیہ اس کے پاس ہے۔ یہ بچہ جو ولادت ہوتے ہی باتیں کرتا ہے ، یہ حجت الہیہ ہے اس لئے یہ باتیں اس معجزے کی تفسیر کردیں گی ، جو اس بچے کی ولادت کے سلسلے میں ظہور پذیر ہوا۔
اب اگلا نہایت ہی موثر منظر دیکھیے :
مريم 19:28
جب یہ آتی ہے تو پوری قوم کے چہرے سیاہ نظر آتے ہیں ، یہ لوگ اس کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی شریف ، پاکدامن اور ہیکل کو بخشی ہوئی متبرک بیٹی ، عبادت گزار اور اچھی شہرت والی راہبہ ، ایک بچے کو اٹھائے چلی آرہی ہے۔ وہ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے تھے۔
قالوایمریم لقد جئت شیئاً فریا (82) ” یاخت ھرون مکان ابوک امرا سوء وما کانت املک بغیاً (82) (91 : 82-82) لوگ کہنے لگے ” اے مریم ، یہ تو تو نے بڑا باپ کر ڈالا۔ اے ہارون کی بہن ، نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیرا ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔ “ ان کی زبانوں کی کاٹ تیز ہے کہ تو نے تو بہت ہی مگر وہ کام کر ڈالا۔ طعنے دینے لگے اور تو تو ہارون کی بہن ہے ، جو نبی ہیں ، جو اس ہیکل کے متولی رہے ہیں اور اس کے بعد ان کی اولاد اس ہیکل کی وارث رہی ہے۔ تمہاری نسبت اس طرف ہے کہ تو اس ہیکل کی راہبہ ہے اور یہاں عبادت کے لئے وقف ہے۔ کیا اس نسبت ، اس مقام ، اس حیثیت اور اس مکروہ فعل کے درمیان کوئی نسبت ہے۔ تمہارا باپ بھی ایسا نہ تھا ، تمہاری ماں بدکار نہ تھی۔ یہ جو کام تو نے کیا ہے یہ تو بدکار لوگوں کی بہن بیٹیاں کرتی ہیں۔ عصمت فروش طبقات کے ہاں ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں۔
مریم وہی کرتی ہیں جس کا اس معجزانہ بچے نے ان کو بوقت پیدائش مشورہ دے دیا تھا۔
مريم 19:29
فاشارت الیہ (91 : 92) ” مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا۔ “ اس عجیب صورتحال کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ تعجب اور غیظ و غضب اور شرمندگی میں یہ لوگ مریم کے در پے ہوئے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ ان کی بیٹی ان کے سامنے برملا ایک بچہ اٹھائے چلی آرہی ہے۔ وہ ان لوگوں کے غیض و غضب کو اہمیت نہیں دیتی ، خاموش ہوجاتی ہے اور بچے کی طرف اشارہ کردیتی ہے کہ پوچھو اس سے سارے واقعہ کا راز ، اور وہ جل بھن کر کہتے ہیں :
قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیاً (91 : 92) ” ہم اس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے۔ “
اب ایک دوسرا معجزہ رونما ہوتا ہے :
مريم 19:30
یوں حضرت عیسیٰ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ، وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں ، جس طرح بعض عیسانی فرقے دعویٰ کرتے ہیں۔ نہ وہ بذات خود الہ ہیں جس طرح بعض دور سے فرقے عقیدہ رکھتے ہیں ۔ نہ یہ بات ہے کہ وہ تینوں کا ایک ہیں اور تین الہ واحد ہیں جیسا کہ ایک دوسرا فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے۔ نہ بیٹا بنایا ہے اور نہ شریک۔ مجھ میں برکت ڈلای ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ پوری زندگی میں نماز ادا کروں اور زکوۃ رپ عمل کروں۔ والدہ کے ساتھ حسن سلوک کروں اور فیملی کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھوں۔ خود میری زنگدی محدود ہے۔ موت کے لئے ایک دن مقرر ہے۔ مروں گا ، پھر اٹھایا جائوں گا۔ اللہ نے میرے لئے سلامتی ، امن ، اطمینان کا پورا پورا سامان کردیا ہے ، ولادت کے وقت بھی ، موت کے وقت بھی اور بعث بعد موت کے وقت بھی۔
یہ آیت حضرت عیسیٰ کی موت اور بعث بعد موت پر نص صریح ہے۔ اس میں کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی اور نہ اس میں بحث کی کوئی گنجائش ہے۔
قرآن مجید یہ منظر پیش کر کے اس پر کسی اور بات کا اضافہ نہیں کرتا۔ یہ تفصیلات نہیں دی جاتیں کہ اس معجزے کے بعد قوم کا ردعمل کیا ہوا۔ اس کے بعد مریم اور ان کے اس ذی شان بچے کا کیا بنا۔ جس نبوت کی طرف انہوں نے اپنے کلام میں اشارہ کیا تھا وہ انہیں کب ملی کیونکہ انہوں نے کہا تھا۔
اتنی الکتب وجعلنن نبیاً (91 : 03) ” مجھے اس نے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ “ کیونکہ اس جگہ قرآن کا مقصود یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خارق عادت معجزہ پیش کردیا جائے اور جب بات اس حیران کن اور معجزانہ کلام تک پہنچتی ہے تو پردہ گرتا ہے تاکہ اس کے بعد وہ اصل بات نہایت ہی مثبت ، فیصلہ کن انداز میں کی جائے کیونکہ یہ بہتر موقعہ ہے کہ اس مقام پر نہایت ہی سنجیدہ لہجے میں اصل بات کہہ دی جائے۔
مريم 19:31
یوں حضرت عیسیٰ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ، وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں ، جس طرح بعض عیسانی فرقے دعویٰ کرتے ہیں۔ نہ وہ بذات خود الہ ہیں جس طرح بعض دور سے فرقے عقیدہ رکھتے ہیں ۔ نہ یہ بات ہے کہ وہ تینوں کا ایک ہیں اور تین الہ واحد ہیں جیسا کہ ایک دوسرا فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے۔ نہ بیٹا بنایا ہے اور نہ شریک۔ مجھ میں برکت ڈلای ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ پوری زندگی میں نماز ادا کروں اور زکوۃ رپ عمل کروں۔ والدہ کے ساتھ حسن سلوک کروں اور فیملی کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھوں۔ خود میری زنگدی محدود ہے۔ موت کے لئے ایک دن مقرر ہے۔ مروں گا ، پھر اٹھایا جائوں گا۔ اللہ نے میرے لئے سلامتی ، امن ، اطمینان کا پورا پورا سامان کردیا ہے ، ولادت کے وقت بھی ، موت کے وقت بھی اور بعث بعد موت کے وقت بھی۔
یہ آیت حضرت عیسیٰ کی موت اور بعث بعد موت پر نص صریح ہے۔ اس میں کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی اور نہ اس میں بحث کی کوئی گنجائش ہے۔
قرآن مجید یہ منظر پیش کر کے اس پر کسی اور بات کا اضافہ نہیں کرتا۔ یہ تفصیلات نہیں دی جاتیں کہ اس معجزے کے بعد قوم کا ردعمل کیا ہوا۔ اس کے بعد مریم اور ان کے اس ذی شان بچے کا کیا بنا۔ جس نبوت کی طرف انہوں نے اپنے کلام میں اشارہ کیا تھا وہ انہیں کب ملی کیونکہ انہوں نے کہا تھا۔
اتنی الکتب وجعلنن نبیاً (91 : 03) ” مجھے اس نے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ “ کیونکہ اس جگہ قرآن کا مقصود یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خارق عادت معجزہ پیش کردیا جائے اور جب بات اس حیران کن اور معجزانہ کلام تک پہنچتی ہے تو پردہ گرتا ہے تاکہ اس کے بعد وہ اصل بات نہایت ہی مثبت ، فیصلہ کن انداز میں کی جائے کیونکہ یہ بہتر موقعہ ہے کہ اس مقام پر نہایت ہی سنجیدہ لہجے میں اصل بات کہہ دی جائے۔
مريم 19:32
یوں حضرت عیسیٰ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ، وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں ، جس طرح بعض عیسانی فرقے دعویٰ کرتے ہیں۔ نہ وہ بذات خود الہ ہیں جس طرح بعض دور سے فرقے عقیدہ رکھتے ہیں ۔ نہ یہ بات ہے کہ وہ تینوں کا ایک ہیں اور تین الہ واحد ہیں جیسا کہ ایک دوسرا فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے۔ نہ بیٹا بنایا ہے اور نہ شریک۔ مجھ میں برکت ڈلای ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ پوری زندگی میں نماز ادا کروں اور زکوۃ رپ عمل کروں۔ والدہ کے ساتھ حسن سلوک کروں اور فیملی کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھوں۔ خود میری زنگدی محدود ہے۔ موت کے لئے ایک دن مقرر ہے۔ مروں گا ، پھر اٹھایا جائوں گا۔ اللہ نے میرے لئے سلامتی ، امن ، اطمینان کا پورا پورا سامان کردیا ہے ، ولادت کے وقت بھی ، موت کے وقت بھی اور بعث بعد موت کے وقت بھی۔
یہ آیت حضرت عیسیٰ کی موت اور بعث بعد موت پر نص صریح ہے۔ اس میں کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی اور نہ اس میں بحث کی کوئی گنجائش ہے۔
قرآن مجید یہ منظر پیش کر کے اس پر کسی اور بات کا اضافہ نہیں کرتا۔ یہ تفصیلات نہیں دی جاتیں کہ اس معجزے کے بعد قوم کا ردعمل کیا ہوا۔ اس کے بعد مریم اور ان کے اس ذی شان بچے کا کیا بنا۔ جس نبوت کی طرف انہوں نے اپنے کلام میں اشارہ کیا تھا وہ انہیں کب ملی کیونکہ انہوں نے کہا تھا۔
اتنی الکتب وجعلنن نبیاً (91 : 03) ” مجھے اس نے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ “ کیونکہ اس جگہ قرآن کا مقصود یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خارق عادت معجزہ پیش کردیا جائے اور جب بات اس حیران کن اور معجزانہ کلام تک پہنچتی ہے تو پردہ گرتا ہے تاکہ اس کے بعد وہ اصل بات نہایت ہی مثبت ، فیصلہ کن انداز میں کی جائے کیونکہ یہ بہتر موقعہ ہے کہ اس مقام پر نہایت ہی سنجیدہ لہجے میں اصل بات کہہ دی جائے۔
مريم 19:33
یوں حضرت عیسیٰ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ، وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں ، جس طرح بعض عیسانی فرقے دعویٰ کرتے ہیں۔ نہ وہ بذات خود الہ ہیں جس طرح بعض دور سے فرقے عقیدہ رکھتے ہیں ۔ نہ یہ بات ہے کہ وہ تینوں کا ایک ہیں اور تین الہ واحد ہیں جیسا کہ ایک دوسرا فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے۔ نہ بیٹا بنایا ہے اور نہ شریک۔ مجھ میں برکت ڈلای ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ پوری زندگی میں نماز ادا کروں اور زکوۃ رپ عمل کروں۔ والدہ کے ساتھ حسن سلوک کروں اور فیملی کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھوں۔ خود میری زنگدی محدود ہے۔ موت کے لئے ایک دن مقرر ہے۔ مروں گا ، پھر اٹھایا جائوں گا۔ اللہ نے میرے لئے سلامتی ، امن ، اطمینان کا پورا پورا سامان کردیا ہے ، ولادت کے وقت بھی ، موت کے وقت بھی اور بعث بعد موت کے وقت بھی۔
یہ آیت حضرت عیسیٰ کی موت اور بعث بعد موت پر نص صریح ہے۔ اس میں کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی اور نہ اس میں بحث کی کوئی گنجائش ہے۔
قرآن مجید یہ منظر پیش کر کے اس پر کسی اور بات کا اضافہ نہیں کرتا۔ یہ تفصیلات نہیں دی جاتیں کہ اس معجزے کے بعد قوم کا ردعمل کیا ہوا۔ اس کے بعد مریم اور ان کے اس ذی شان بچے کا کیا بنا۔ جس نبوت کی طرف انہوں نے اپنے کلام میں اشارہ کیا تھا وہ انہیں کب ملی کیونکہ انہوں نے کہا تھا۔
اتنی الکتب وجعلنن نبیاً (91 : 03) ” مجھے اس نے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ “ کیونکہ اس جگہ قرآن کا مقصود یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خارق عادت معجزہ پیش کردیا جائے اور جب بات اس حیران کن اور معجزانہ کلام تک پہنچتی ہے تو پردہ گرتا ہے تاکہ اس کے بعد وہ اصل بات نہایت ہی مثبت ، فیصلہ کن انداز میں کی جائے کیونکہ یہ بہتر موقعہ ہے کہ اس مقام پر نہایت ہی سنجیدہ لہجے میں اصل بات کہہ دی جائے۔
مريم 19:34
یہ ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل حقیقت ‘ نہ ان لوگوں کی بات درست ہے جو ان کو الہٰ بناتے ہیں۔ نہ ان لوگوں کی بات درست ہے جو ان کی ولادت کے بارے میں ان کی والدہ محترمہ کو متہم کرتے ہیں۔ ان کی ولادت ‘ ان کی نشوونما اور مرتبہ و مقام کی یہی حقیقت ہے۔ یہی قول حق ہیجس میں لوگ شک کرتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں۔ وہ زبانی طور پر اس کی تصدیق کرتے ہیں اور حالات قصہ بھی یہی بتاتے ہیں۔
مريم 19:35
ماکان ۔۔ من ولد (91 : 53) ” اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے “۔ وہ اس سے بہت بلند ہے۔ اس کا یہ کام نہیں ہے اور نہ اس کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ بیٹا تو ان لوگوں کی ضرورت ہے جو فنا ہونے والے ہیں۔ وہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کسی کو اپنا بیٹا بناتے ہیں ‘ پھر ایک ضعیف والد کو آخری عمر میں مدد کے لئے بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ باقی اور لازوال ہے ‘ وہ قادر مطلق ہے ‘ کسی کا محتاج نہیں ہے اور تمام کائنات اس کے کلمہ کن سے بنتی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے ہوجاتا ‘ محض اس کا ارادہ اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے ‘ لہٰذا اسے نہ اولاد اور نہ شریک کی ضرورت ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی بات اس پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ لہٰذا صرف اسی خدائے واحد کی عبادت کرو۔
مريم 19:36
وان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (91 : 63) ” اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ‘ بس تم اسی کی بندگی کرو ‘ یہی سیدھی راہ ہے “۔ لہٰذا عیسیٰ کی شہادت اور ان کے قصے کی اس شہادت کے بعد اب اوہام اور اساطیر اور قصے ‘ کہانیوں کی اب کوئی گنجائش نہیں۔ یہ تبصرہ مشیت اور قرار داد کی صورت میں کیا گیا ہے۔
اس تقریر اور قرار داد کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مختلف پارٹیوں کے اختلافات پر تبصرہ کیا جاتا ہے کہ اس حقیقت کے آنے کے بعد اب ان اختلافات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
فاختلف الاحزاب من بینھم (91 : 73) ” مگر پھر مختلف گروہ باہم اختلاف کرنے لگے “۔ قیصر روم آفنطین نے پادریوں کیا یک مجلس منعقد کی تھی جس میں دو ہزار ایک سو ستر (0712) پادری شریک ہوئے تھے ۔ یہ مجلس ان کی تین مجالس میں سے ایک تھی۔ اس میں حضرت عیسیٰ کے بارے میں ان کے درمیان شدید اختلاف ہوگیا۔ ہر فرقے نے اپنا موقف بیان کیا۔ بعض نے کہا کہ وہ خدا ہے جو زمین پر اترا ‘ جس کو چاہا زندہ کیا ‘ جس کو چاہا مارا اور پھر وہ آسمانوں پر چلا گیا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ وہ ابن اللہ ہے ‘ بعض نے کہا کہ وہ اقاینم خلاثہ میں سے ایک ہیں ‘ باپ بیٹا اور روح القدس ۔ بعض نے کہا کہ وہ تینوں میں سے ایک ہیں ‘ یعنی اللہ بھی الہٰ ہے وہ بھی الہٰ ہیں اور والدہ بھی الہٰ ہیں۔ بعض نے کہا کہ وہ اللہ کیب ندے ‘ اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ ان بڑے اقوال کے علاوہ اور فرقوں نے بھی کئی اقوال پیش کئے۔ کسی عقیدے پر تین صداسی افراد سے زیادہ کا انفاق نہ ہوا ۔ یہ تعداد ایک قول پر جمع ہوگئی۔ قیصر روم اس کی طرف مائل ہوگیا اور اس قول کے ماننے والوں کی امداد کی اور دوسروں کو ختم کردیا ‘ خصوصاً اہل توحید کو نیست ونابود کردیا۔
حضرت عیسیٰ کے بارے میں غلط عقائد کا تعین چونکہ مذہبی پیشوائوں کی مجالس نے کیا تھا ‘ اس لیے یہاں سیاق کلام ان لوگوں کو ڈراتا ہے جنہوں نے توحید کے علاوہ دوسرے عقائد اختیار کئے۔ ان کو ڈرایا جاتا ہے ‘ اس دن سے ‘ جس میں ان مجالس کے مقابلے میں زیادہ لوگ جمع ہوں گے اور یہ لوگ دیکھیں گے کہ کافروں کا انجام کس قدر عبرت ناک ہوگا۔
مريم 19:37
ان لوگوں کے لئے اس دن بہت بڑی ہلاکت ہوگی ‘ بہت بڑا خوفناک منظر ہوگا ‘ وہ عظیم اور خوفناک منظر جن وانس سب دیکھ رہ ہوں گے ‘ ملائکہ بھی حاضر ہوں گے۔ اس اللہ کے سامنے سب لوگ کھڑے ہوں جس کے ساتھ ان احزاب نے شرک کیا۔
یہاں اللہ تعالیٰ بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کی حالت دیدنی ہوگی کہ یہ لوگ یہاں اس دنیا میں دلائل ہدایت سے منہ موڑ رہے تھے ‘ لیکن وہاں تو ان کے کان بھی اچھی طرح سن رہے ہوں گے اور آنکھیں بھی اچھی طرح دیکھ رہی ہوں گی۔
مريم 19:38
اسمع بھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (91 : 83) ” جب وہ ہمارے سامنے اضر ہوں گے اس روز تو ان کے کان بھی خوب سن رہے ہوں گے ‘ اور ان کی آنکھیں بھی خوب دیکھ رہی ہوں گی مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں “۔ آج ان کی حالت یہ ہے کہ نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں جبکہ آج سننا اور دیکھنا ہدایت کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن جس دن سننا اور دیکھنا شرمندگی کا باعث ہوگا اس دن یہ خوب سن اور دیکھ رہے ہوں گے۔ اس دن یہ ایسی چیزیں دیکھیں گے جو دیکھنے کے قابل نہ ہوں گی اور ایسی چیزی سنیں گے جسے سننا نہ چاہیں گے۔ یہ ہوگا مشد عظیم کا دن۔
مريم 19:39
وانذر ھم یوم الحسرۃ (91 : 93) ” اور ان کو پچھتاوے کے دن سے ڈرائو “۔ اس قدر حسرتیں ہوں گی کہ قیامت کا دن ہی حسرتوں کا دن ہوگا۔ حسرت کے سوا وہاں کچھ نہ وہ گا۔ میدان میں ہر طرف حسرت ہی حسرت ہوگی لیکن اس دن حسرت کرنا مفید مطلب نہ ہوگا۔
اذ قضی الامر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لایئو منون (91 : 93) ” جب فیصلہ کردیا جائے اور یہ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لارہے “۔ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے لیکن قیامت کا دن ان کے کفر کے ساتھ ڑا ہوا ہے۔ جس غفلت میں یہ ڈوبے ہوئے ہیں اس کے ساتھ قیامت جڑی ہوئی ہے۔
ان کو اس دن سے ڈرائو جس میں شک نہیں ہے۔ کیونکہ زمین کے اوپر جو چیز اور جو انسان بھی ہیں وہ سب کے سب اللہ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اللہ ہی سب کا وارث ہے۔
مريم 19:40
وانذر ھم یوم الحسرۃ (91 : 93) ” اور ان کو پچھتاوے کے دن سے ڈرائو “۔ اس قدر حسرتیں ہوں گی کہ قیامت کا دن ہی حسرتوں کا دن ہوگا۔ حسرت کے سوا وہاں کچھ نہ وہ گا۔ میدان میں ہر طرف حسرت ہی حسرت ہوگی لیکن اس دن حسرت کرنا مفید مطلب نہ ہوگا۔
اذ قضی الامر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لایئو منون (91 : 93) ” جب فیصلہ کردیا جائے اور یہ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لارہے “۔ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے لیکن قیامت کا دن ان کے کفر کے ساتھ ڑا ہوا ہے۔ جس غفلت میں یہ ڈوبے ہوئے ہیں اس کے ساتھ قیامت جڑی ہوئی ہے۔
ان کو اس دن سے ڈرائو جس میں شک نہیں ہے۔ کیونکہ زمین کے اوپر جو چیز اور جو انسان بھی ہیں وہ سب کے سب اللہ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اللہ ہی سب کا وارث ہے۔
مريم 19:41
درس نمبر 631 ایک نظر میں
پہلے سبق کے آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کی حقیقت بیان کی گئی ‘ اور بتایا گیا کہ جو لوگ ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ‘ وہ محض وہم و گمان اور قصے ‘ کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں۔ بڑی گمراہی میں مبتلا ہیں اور ان کہانیوں سے بعض گمراہ اہل کتاب استدلال کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کا ایک حصہ دیا جاتا ہے جس میں عقائد شرکیہ کی گمراہی اور بطلان کو واضح کیا گیا ہے۔ عرب اور مشرکین مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ اس گھر کے متولی ہیں جس کی تعمیر حضرض ابراہیم و اسماعیل علیھا السلام نے فرمائی تھی۔
حضرت ابراہیم اپنے اس قصے کی اس کڑی میں نہایت ہی حلیم الطبع کردار والے نظر آتے ہیں اور اللہ کی مشیت پر راضی ہونے والے شخص ہیں۔ ان کی شخصیت کے یہ خدوخال ان کے الفاظ ‘ ان کے انداز کلام سے بھی اچھی طرح معلوم ہوتے ہیں جن کی حکایت قرآن کریم نے عربی میں بیان کی ہے۔ نیز ان کے اقدامات سے اور والد کی جہالت کے مقابلہ کے سلسلے میں ان کے رویہ سے بھی ان کی شخصیت واضح ہو رہی ہے۔ لیکن اللہ کی طرف سے ان کے اس کردار اور ان کے ان اوصاف کا صلہ بھی ان کو خوب ملا۔ ان کے مشرک باپ اور مشرک فیملی کی جگہ اللہ نے ان کو ایسی صالح اولاد دی جن سے ایک بڑی امت پیدا ہوئی۔ اس امت میں بڑے بڑے انبیاء و صالحین پیدا ہوئے لیکن ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کردیا۔ اور خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرنے لگے اور اس راہ سے وہ منحرف ہوگئے ‘ جو ان کے لیے ان کے باپ ابراہیم نے تجویز کیا تھا۔ اور انہوں نے حضرت ابراہیم کا دین تک ترک کردیا اور مشرکین مکہ انہی لوگوں کے سر خیل تھے ۔
اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو صدیق اور نبی کہا۔ صدیق سے یہ بھی مفہوم کہ وہ بہت ہی سچے تھے اور یہ بھی نکلتا ہے کہ وہ بہت تصدیق کرنے والے تھے۔ دونوں معنی حضرت ابراہیم کی شخصیت کے ساتھ مناسب ہیں۔
مريم 19:42
وہ نہایت ہی ادب اور تہذیب کے ساتھ اپنے باپ سے ہمکلام ہیں۔ وہ یہ کوشش کررہے ہیں کہ اللہ نے جو ہدایت ان کو دی ہے ‘ اس سے ان کے والد بھی مستفید ہوجائیں۔ جو علم اللہ نے ان کو دیا ہے وہ اپنے باپ کو بھی سکھا دیں۔ وہ نہایت ہیمحبت کے انداز میں باپ سے مخاطب ہیں۔ ابا جان ‘ نہایت ہی نرم الفاظ ہیں۔
لم تعبدو مالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیئا (91 : 24) ” آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں ‘ نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں ؟ “ عبادت کا اصول تو یہ ہے کہ انسان اس ذلت کے آگے سرنگوں ہو جو انسان سے اعلیٰ وارفع ہو۔ زیادہ علم والا اور زیادہ قوت والا ہو اور وہ ذات انسان کو مقام انسانیت سے بھی بلند کردے اور مزید اونچا مرتبہ دے دے۔ ایک انسان ان چیزوں کی عبادت اور بندگی کیسے کرسکتا ہے جو اس سے کم تر ہوں ! بلکہ وہ دوسرے حیوانات سے بھی کم تر ہوں ‘ نہ سنتی ہوں ‘ نہ دیکھتی ہوں اور نہ کسی کے نفع و نقصان کی مالک ہوں۔ یہ تقریر انہوں نے اس لئے کی کہ ان کے والد اور ان کی قوم بتوں کی پوجا کرتے تھے جس طرح اہل قریش بتوں کی پوجا کرتے تھے جن کے ساتھ اسلام کا مقابلہ تھا۔
یہ تو تھی پہلی جھلک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کی جو انہوں نے اپنے والد کے سامنے پیش کی۔ اس کے بعد انہوں نے مزید تشریح کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ یہ بات وہ خود اپنی جانب سے نہیں کہہ رہے بلکہ دراصل یہ وہ علم ہے جو ان کے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ اللہ نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں آپ کو یہ دعوت دوں اگر چہ میں عمر میں آپ سے کم ہوں اور میرا تجربہ بھی آپ سے کم ہے لیکن عالم بالا کی امداد سے میں حقیقت تک پہنچ گیا ہوں۔ وہ اپنے والد کو درد مندی کے ساتھ نصیحت کرتے ہیں کہ آپ کو اس علم کا پتہ نہیں ہے لہذا آپ کو چاہیے کہ آپ میری اطاعت کریں۔ میں آپ کو راہ راست دکھا سکتا ہوں۔
مريم 19:43
یآبت انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صراطا سویا (91 : 34) ” ابا جان ‘ میرے پاس ایک ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ‘ آپ میرے پیچھے چلیں ‘ میں آپ کو سیدھا راستہ دکھائوں گا “۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک والد اپنے ہدایت یافتہ بیٹے کے پیچھے چلے ‘ اگر ایک بیٹا نبی ہو اور اس کا اعلیٰ ذریعہ علم سے رابطہ ہو۔ اس صورت میں والد بیٹے کی نہیں بلکہ اس اعلیٰ شرچشمے کی اطاعت کر رہا ہوتا ہے اور ہدایت یافتہ ہوجاتا ہے۔
اس وضاحت کے بعد کہ بتوں کی بندگی کرنا ایک منکر فعل ہے اور یہ کہ میری دعوت کا سرچشمہ ذات باری ہے جبکہ والد جس موقف کو اپنائے ہوئے ہیں اس کا سرچشمہ کچھ اور ہے اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صراحت کے ساتھ بتاتے ہیں کہ والد صاحب ‘ آپ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ شیطان کی راہ ہے ‘ جبکہ میں جس راہ کی طرف آپ کو بلارہا ہوں وہ رحمن کی راہ ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اے باپ ‘ آپ پر اللہ کا غضب نازل نہ ہوجائے اور آپ اور آپ ہمیشہ کے لئے شیطان کے پیروکاروں میں شامل ہوجائیں۔
مريم 19:44
یابت لا تعدالشیطن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عصیا (44) یابت انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولیا (54) (91 : 44۔ 54) ” ابا جان ‘ آپ شیطان کی بندگی نہ کریں ‘ شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا جان ‘ مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں “۔
یہ شیطان ہی ہے جو اللہ کے سوابتوں کی بندگی پر لوگوں کو آمادہ کرتا ہے جو لوگ بتوں کی بندگی کرتے ہیں گویا وہ شیطان کی بندگی کرتے ہیں۔ اور شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد کو ڈراتے ہیں کہ ان پر کہیں اللہ کا غضب نہ آجائے اور اس طرح اللہ کہیں انہیں شیطان کا دوست ہی نہ بنا دے اور وہ مستقلاً سیطان کے تابع نہ ہوجائیں۔ اللہ جب بندے کو اپنی عبادت کی توفیق دیتا ہے تو یہ اس کا انعام ہوتا ہے اور جب اللہ اپنی سنت کے مطابق کسی کے بارے میں فیصلہ کردے کہ وہ شیطان کا دوست ہوگا تو یہ اللہ کا غضب ہوتا ہے اور اس غضب کے نتیجے ہی میں پھر یہ شخص سخت عذاب اور بڑے خسارے سے دوچار ہوجاتا ہے یعنی قیامت میں۔
لیکن نہایت ہی نرم و نازک الفاظ میں یہ پرتاثیر دعوت ایک کٹٹر مشرک کے دل پر کوئی اثر نہیں کرتی۔ کیونکہ یہ دل پتھر کی طرح سخت ہوگیا ہے۔ جواب میں والد ابراہیم سخت غصے میں آکر دھمکی پر اتر آتے ہیں۔
مريم 19:45
یابت لا تعدالشیطن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عصیا (44) یابت انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولیا (54) (91 : 44۔ 54) ” ابا جان ‘ آپ شیطان کی بندگی نہ کریں ‘ شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا جان ‘ مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں “۔
یہ شیطان ہی ہے جو اللہ کے سوابتوں کی بندگی پر لوگوں کو آمادہ کرتا ہے جو لوگ بتوں کی بندگی کرتے ہیں گویا وہ شیطان کی بندگی کرتے ہیں۔ اور شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد کو ڈراتے ہیں کہ ان پر کہیں اللہ کا غضب نہ آجائے اور اس طرح اللہ کہیں انہیں شیطان کا دوست ہی نہ بنا دے اور وہ مستقلاً سیطان کے تابع نہ ہوجائیں۔ اللہ جب بندے کو اپنی عبادت کی توفیق دیتا ہے تو یہ اس کا انعام ہوتا ہے اور جب اللہ اپنی سنت کے مطابق کسی کے بارے میں فیصلہ کردے کہ وہ شیطان کا دوست ہوگا تو یہ اللہ کا غضب ہوتا ہے اور اس غضب کے نتیجے ہی میں پھر یہ شخص سخت عذاب اور بڑے خسارے سے دوچار ہوجاتا ہے یعنی قیامت میں۔
لیکن نہایت ہی نرم و نازک الفاظ میں یہ پرتاثیر دعوت ایک کٹٹر مشرک کے دل پر کوئی اثر نہیں کرتی۔ کیونکہ یہ دل پتھر کی طرح سخت ہوگیا ہے۔ جواب میں والد ابراہیم سخت غصے میں آکر دھمکی پر اتر آتے ہیں۔
مريم 19:46
جواب میں والد صاحب نے کہا کہ ابراہیم تو میرے معبودوں سے نفرت کرتے ہو ‘ اور اس نفرت کی وجہ سے تم ان کی عبادت سے پھرگئے ہو ‘ یا تمہیں اس قدر جرائت ہوگئی ہے ‘ میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے اس مکروہ موقف پر نظر ثانی نہ کی تو میں تمہیں رجم کردوں گا۔
لئن لم تنتہ لا رجمنک (91 : 64) ” اگر تو باز نہ آیاتو میں تجھے سنگسار کردوں گا “۔ میرے سامنے سے ہٹو اور ہمیشہ کے لئے یہاں سے چلے جائو۔ اسی میں تمہاری خیر ہے ورنہ یہاں زندہ نہ بچو گے۔
واھجرنی ملیا (91 : 64) ” ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہو جائو “۔
یہ شخص ہدایت کی دعوت کا جواب اس سختی سے دیتا ہے اور نہایت ہی باادب خطاب اور درخواست کو بھی سختی سے رد کردیتا ہے۔ یہ ہے ایمان اور کفر کے درمیان فرق۔ ملاحظہ کیجئے کہ جس دل کو اسلامنے مہذب بنا دیا وہ کیسا ہے اور جس دل کو کفر نے برباد کردیا وہ کیسا ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) طیس میں بھی نہ آئے ‘ انہوں نے بھلائی ‘ محبت اور ادب کو ہاتھ سے جانے نہ دیا اور یوں گویا ہوئے :
مريم 19:47
تم پر خدا کی سلامتی ہو ‘ نہ جھگڑا ہے ‘ نہ تردید ہے ‘ نہ دھمکی اور نہ ارادہ قتل کے جواب میں رد عمل ہے۔ بلکہ جواب یہ ہے کہ میں تمہارے بارے میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا کہ وہ آپ کو اس گمراہی سے اور شیطان کی دوستی سے کسی طرح نکال لائے۔ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کو ہدایت نصیب کرے۔ میرے ساتھ میرے رب کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے جب بھی دعا کی ہے میرے رب نے مجھے نامراد نہیں لوٹایا اور اگر میرا آپ کے پاس رہنا اور آپ کی نظروں کے سامنے پھرنا آپ کو پسند نہیں تو اے ابا جان ‘ میں آپ کو اور آپ کی قوم کو چھوڑدوں گا۔ آپ جانیں اور آپ کے معبود جانیں۔ میں تو اپنے رب وحدہ ہی کی بندگی کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ میرا رب میری اس دعا کو مسترد نہیں کرے گا۔
حضرت ابراہیم جس بات کی امید کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ میرا رب مجھے شقی نہیں بنائے گا۔ ان کی یہ بات بھی نہایت کسر نفی ‘ ادب اور تقویٰ پر مبنی ہے۔ وہ اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے۔ صرف یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اللہ مجھے شقاوت اور بد بختی سے بچائے گا۔
یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ ‘ اپنی قوم ‘ اپنے اہل اور رشتہ داروں اور ان کی بت پرستیوں کو چھوڑ کر علاقے کو خیر باد کہہ دیا۔ اللہ نے بھی انہیں تنہا نہ چھوڑا۔ اللہ نے بھی انہیں اولاد دی اور مقام عالی عطا کیا۔
مريم 19:48
تم پر خدا کی سلامتی ہو ‘ نہ جھگڑا ہے ‘ نہ تردید ہے ‘ نہ دھمکی اور نہ ارادہ قتل کے جواب میں رد عمل ہے۔ بلکہ جواب یہ ہے کہ میں تمہارے بارے میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا کہ وہ آپ کو اس گمراہی سے اور شیطان کی دوستی سے کسی طرح نکال لائے۔ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کو ہدایت نصیب کرے۔ میرے ساتھ میرے رب کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے جب بھی دعا کی ہے میرے رب نے مجھے نامراد نہیں لوٹایا اور اگر میرا آپ کے پاس رہنا اور آپ کی نظروں کے سامنے پھرنا آپ کو پسند نہیں تو اے ابا جان ‘ میں آپ کو اور آپ کی قوم کو چھوڑدوں گا۔ آپ جانیں اور آپ کے معبود جانیں۔ میں تو اپنے رب وحدہ ہی کی بندگی کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ میرا رب میری اس دعا کو مسترد نہیں کرے گا۔
حضرت ابراہیم جس بات کی امید کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ میرا رب مجھے شقی نہیں بنائے گا۔ ان کی یہ بات بھی نہایت کسر نفی ‘ ادب اور تقویٰ پر مبنی ہے۔ وہ اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے۔ صرف یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اللہ مجھے شقاوت اور بد بختی سے بچائے گا۔
یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ ‘ اپنی قوم ‘ اپنے اہل اور رشتہ داروں اور ان کی بت پرستیوں کو چھوڑ کر علاقے کو خیر باد کہہ دیا۔ اللہ نے بھی انہیں تنہا نہ چھوڑا۔ اللہ نے بھی انہیں اولاد دی اور مقام عالی عطا کیا۔
مريم 19:49
حضرت اسحاق ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ یہ سارہ سے پیدا ہوئے ‘ جو پہلے بانجھ تھیں اور یعقوب حضرت اسحاق کے بیٹے ہیں ‘ لیکن یعقوب (علیہ السلام) کو بھی ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ دادا کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے اور دادا کے زیر تربیت رہے تھے ۔ گویا وہ براہ راست ان کے بیٹے تھے۔ انہوں نے براہ راست حضرت ابراہیم سے دین سیکھا اور پھر اپنی اولاد کو سکھایا۔ یہ بھی اپنے باپ کی طرح نبی تھے۔
مريم 19:50
ووھبنا لھم من رحمتنا (91 : 05) ” اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا “۔ یعنی حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب اور ان کی نسل کو۔ یہاں ان حضرات کے مقام اعلیٰ کو رحمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ اس پوری سورة پر رحمت کے سائے چھائے ہوئے ہیں اور رحمت وہ رفیق ہمدم ہے جو حضرت ابراہیم کو اپنی قوم اور علاقے کے چھوڑنے کے عوض دی گئی تاکہ ان کی تنہائیوں میں رحمت ان کے ساتھ رہے۔
وجعلنا لھم لسان صدق علیا (91 : 05) ” اور ان کو ہم نے سچی ناموری عطا کی “۔ یعنی وہ اپنی دعوت میں سچے تھے ‘ لوگ ان کی بات کو سچا مانتے تھے ‘ عوام الناس میں ان کا احترام تھا اور لوگ ان کی اطاعت کرتے تھے۔
اب حضرت ابراہیم کی اولاد ہی کی بات ذرا آگے بڑھتی ہے۔ پہلے حضرت اسحاق کی اولاد حضرت موسیٰ اور ہارون ؐ کو لیا جاتا ہے۔
مريم 19:51
حضرت موسیٰ ؐ کی صفت اخلاص کا ذکر ہے ‘ اللہ نے ان کو اپنے لئے خالص کرلیا تھا ‘ دعوت اسلامی کے لیے وہ وقف تھے ۔ وہ رسول اور نبی تھے ‘ رسول وہ ہوتا ہے کہ جن کے لئے یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت کو دوسروں تک پہنچائیں۔ جبکہ نبی کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں تک دعوت پہنچائیں ‘ ان کا منصب یہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست اللہ سے ہدایت اور نظریہ لیتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی گزرے ہیں ‘ ان کی دعوت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کی دعوت اور دین کو قائم کریں۔ تورات کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کریں ‘ جو اللہ کی جانب سے آیا ہوا قانون ہے۔
یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربانیون والا حبار بما استحفظوا من کتب اللہ وکانوا علیہ شھداء یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت یوں دی جاتی ہے کہ طور ایمن کی جانب سے اللہ نے ان سے کلام کیا۔ ایمن یعنی دائیں جانب سے یہ حضرت موسیٰ کے موقف کے اعتبار سے دایاں کہا۔ حضرت موسیٰ ؐ اللہ کے اس قدر مقرب بندے تھے کہ انہوں نے قریب سے اللہ کے ساتھ کلام کیا اور یہ کلام مناجات کی صورت میں تھا۔ ہمیں اس کلام کی کیفیت کا علم نہیں ہے ‘ نہ ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ اس کلام کا ادراک حضرت موسیٰ ﷺ نے کیسے کیا۔ یہ کوئی آواز تھی جسے کان سن رہے تھے ‘ یا یہ کوئی ایسی چیز تھی جو پورے جسد موسیٰ ؐ میں ڈال دی جاتی تھی۔ یہ بھی ہم نہیں جانتے کہ حضرت موسیٰ کی شخصیت کو اس ازلی کلام کی وصولی کے لئے کس طرح تیار کیا گیا ۔ ہمارا ایمان فقط یہ ہے کہ ایسا ہوا۔ اللہ کے لئے ہر چیز آسان ہے اور یہ بھی کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے ساتھ کسی نہ کسی طرح ڈائریکٹ رابطہ کرے۔ انسان اپنی بشریت پر قائم ہو ‘ اور اللہ کا کلام علوی اپنی علویت پر قائم ہو اور رابطہ ہوجائے۔ آخر اس سے قبل بھی انسان اللہ کی جانب سے روح پھونکنے ہی سے انسان بنا۔
پھر اللہ حضرت موسیٰ پر اپنی اس رحمت کا بھی ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کو ان کے مطالبے پر ایک معاون اور مدد گار کے طور پر ہارون دیا۔
واخی ہارون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکذبون (82 : 43) ” اے اللہ ‘ میرے بھائی ہارون کو جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے ‘ بھی میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج دے ‘ وہ میری تصدیق کرے گا ‘ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تکذیب کردیں گے “۔ اور ہارون کو اللہ کی رحمت نے ان کا ساتھی بنا دیا۔ اس پوری سورة میں رحمت ہی رحمت ہے۔
اب اولاد ابراہیم کی دوسری شاخ کو لیا جاتا ہے یعنی عربوں کے باپ اسماعیل کو۔
مريم 19:52
حضرت موسیٰ ؐ کی صفت اخلاص کا ذکر ہے ‘ اللہ نے ان کو اپنے لئے خالص کرلیا تھا ‘ دعوت اسلامی کے لیے وہ وقف تھے ۔ وہ رسول اور نبی تھے ‘ رسول وہ ہوتا ہے کہ جن کے لئے یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت کو دوسروں تک پہنچائیں۔ جبکہ نبی کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں تک دعوت پہنچائیں ‘ ان کا منصب یہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست اللہ سے ہدایت اور نظریہ لیتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی گزرے ہیں ‘ ان کی دعوت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کی دعوت اور دین کو قائم کریں۔ تورات کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کریں ‘ جو اللہ کی جانب سے آیا ہوا قانون ہے۔
یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربانیون والا حبار بما استحفظوا من کتب اللہ وکانوا علیہ شھداء یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت یوں دی جاتی ہے کہ طور ایمن کی جانب سے اللہ نے ان سے کلام کیا۔ ایمن یعنی دائیں جانب سے یہ حضرت موسیٰ کے موقف کے اعتبار سے دایاں کہا۔ حضرت موسیٰ ؐ اللہ کے اس قدر مقرب بندے تھے کہ انہوں نے قریب سے اللہ کے ساتھ کلام کیا اور یہ کلام مناجات کی صورت میں تھا۔ ہمیں اس کلام کی کیفیت کا علم نہیں ہے ‘ نہ ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ اس کلام کا ادراک حضرت موسیٰ ﷺ نے کیسے کیا۔ یہ کوئی آواز تھی جسے کان سن رہے تھے ‘ یا یہ کوئی ایسی چیز تھی جو پورے جسد موسیٰ ؐ میں ڈال دی جاتی تھی۔ یہ بھی ہم نہیں جانتے کہ حضرت موسیٰ کی شخصیت کو اس ازلی کلام کی وصولی کے لئے کس طرح تیار کیا گیا ۔ ہمارا ایمان فقط یہ ہے کہ ایسا ہوا۔ اللہ کے لئے ہر چیز آسان ہے اور یہ بھی کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے ساتھ کسی نہ کسی طرح ڈائریکٹ رابطہ کرے۔ انسان اپنی بشریت پر قائم ہو ‘ اور اللہ کا کلام علوی اپنی علویت پر قائم ہو اور رابطہ ہوجائے۔ آخر اس سے قبل بھی انسان اللہ کی جانب سے روح پھونکنے ہی سے انسان بنا۔
پھر اللہ حضرت موسیٰ پر اپنی اس رحمت کا بھی ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کو ان کے مطالبے پر ایک معاون اور مدد گار کے طور پر ہارون دیا۔
واخی ہارون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکذبون (82 : 43) ” اے اللہ ‘ میرے بھائی ہارون کو جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے ‘ بھی میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج دے ‘ وہ میری تصدیق کرے گا ‘ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تکذیب کردیں گے “۔ اور ہارون کو اللہ کی رحمت نے ان کا ساتھی بنا دیا۔ اس پوری سورة میں رحمت ہی رحمت ہے۔
اب اولاد ابراہیم کی دوسری شاخ کو لیا جاتا ہے یعنی عربوں کے باپ اسماعیل کو۔
مريم 19:53
حضرت موسیٰ ؐ کی صفت اخلاص کا ذکر ہے ‘ اللہ نے ان کو اپنے لئے خالص کرلیا تھا ‘ دعوت اسلامی کے لیے وہ وقف تھے ۔ وہ رسول اور نبی تھے ‘ رسول وہ ہوتا ہے کہ جن کے لئے یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت کو دوسروں تک پہنچائیں۔ جبکہ نبی کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں تک دعوت پہنچائیں ‘ ان کا منصب یہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست اللہ سے ہدایت اور نظریہ لیتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی گزرے ہیں ‘ ان کی دعوت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کی دعوت اور دین کو قائم کریں۔ تورات کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کریں ‘ جو اللہ کی جانب سے آیا ہوا قانون ہے۔
یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربانیون والا حبار بما استحفظوا من کتب اللہ وکانوا علیہ شھداء یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت یوں دی جاتی ہے کہ طور ایمن کی جانب سے اللہ نے ان سے کلام کیا۔ ایمن یعنی دائیں جانب سے یہ حضرت موسیٰ کے موقف کے اعتبار سے دایاں کہا۔ حضرت موسیٰ ؐ اللہ کے اس قدر مقرب بندے تھے کہ انہوں نے قریب سے اللہ کے ساتھ کلام کیا اور یہ کلام مناجات کی صورت میں تھا۔ ہمیں اس کلام کی کیفیت کا علم نہیں ہے ‘ نہ ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ اس کلام کا ادراک حضرت موسیٰ ﷺ نے کیسے کیا۔ یہ کوئی آواز تھی جسے کان سن رہے تھے ‘ یا یہ کوئی ایسی چیز تھی جو پورے جسد موسیٰ ؐ میں ڈال دی جاتی تھی۔ یہ بھی ہم نہیں جانتے کہ حضرت موسیٰ کی شخصیت کو اس ازلی کلام کی وصولی کے لئے کس طرح تیار کیا گیا ۔ ہمارا ایمان فقط یہ ہے کہ ایسا ہوا۔ اللہ کے لئے ہر چیز آسان ہے اور یہ بھی کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے ساتھ کسی نہ کسی طرح ڈائریکٹ رابطہ کرے۔ انسان اپنی بشریت پر قائم ہو ‘ اور اللہ کا کلام علوی اپنی علویت پر قائم ہو اور رابطہ ہوجائے۔ آخر اس سے قبل بھی انسان اللہ کی جانب سے روح پھونکنے ہی سے انسان بنا۔
پھر اللہ حضرت موسیٰ پر اپنی اس رحمت کا بھی ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کو ان کے مطالبے پر ایک معاون اور مدد گار کے طور پر ہارون دیا۔
واخی ہارون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکذبون (82 : 43) ” اے اللہ ‘ میرے بھائی ہارون کو جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے ‘ بھی میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج دے ‘ وہ میری تصدیق کرے گا ‘ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تکذیب کردیں گے “۔ اور ہارون کو اللہ کی رحمت نے ان کا ساتھی بنا دیا۔ اس پوری سورة میں رحمت ہی رحمت ہے۔
اب اولاد ابراہیم کی دوسری شاخ کو لیا جاتا ہے یعنی عربوں کے باپ اسماعیل کو۔
مريم 19:54
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے صادق الوعد کی صفت لائی گئی ہے۔ ہر نبی اور صالح شخص کو صادق الوعد ہونا چاہیے اور ہوتا ہے۔ لیکن حضرت اسماعیل میں یہ صفت بہت ہی نمایاں تھی اس لئے انکی خصوصی صفات میں سے یہاں اس صفت کو بیان کردیا گیا۔
ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ” رسول نبی “ تھے ‘ لہٰذا ان کی مخصوص دعوت ہوگئی۔ عرب میں حضور کے زمانے تک بعض موحدیں پائے جاتے تھے۔ یہ انہی کی دعوت کے آثار باقیہ تھے۔ ان کے دین اور دعوت کے ارکان بھی یہاں گنوائے گئے ہیں ‘ زکوۃ اور صلوۃ اور تظہیراہل خانہان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ اللہ کی بار گاہ میں وہ پسندیدہ انسان تھے۔ رضائے خداوندی بھی اس سورة کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ رحمت و رضا مندی قریب قریب کی صفات ہیں۔
اس سبق کا خاتمہ ذکر ادریس (علیہ السلام) پر ہوتا ہے :
مريم 19:55
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے صادق الوعد کی صفت لائی گئی ہے۔ ہر نبی اور صالح شخص کو صادق الوعد ہونا چاہیے اور ہوتا ہے۔ لیکن حضرت اسماعیل میں یہ صفت بہت ہی نمایاں تھی اس لئے انکی خصوصی صفات میں سے یہاں اس صفت کو بیان کردیا گیا۔
ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ” رسول نبی “ تھے ‘ لہٰذا ان کی مخصوص دعوت ہوگئی۔ عرب میں حضور کے زمانے تک بعض موحدیں پائے جاتے تھے۔ یہ انہی کی دعوت کے آثار باقیہ تھے۔ ان کے دین اور دعوت کے ارکان بھی یہاں گنوائے گئے ہیں ‘ زکوۃ اور صلوۃ اور تظہیراہل خانہان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ اللہ کی بار گاہ میں وہ پسندیدہ انسان تھے۔ رضائے خداوندی بھی اس سورة کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ رحمت و رضا مندی قریب قریب کی صفات ہیں۔
اس سبق کا خاتمہ ذکر ادریس (علیہ السلام) پر ہوتا ہے :
مريم 19:56
حضرت ادریس کے زمانے کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں اور انبیائے بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں۔ اس لئے بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کو صدیق اور نبی کہتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ ایک عالی مقام شخص تھے ان کا ذکر دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔
بعض لوگوں کی رائے صہم نہ اس کی تصدیق کرسکتے ہیں اور نہ انکار) یہ ہے کہ مصر کیماہرین آثار قدیمہ نے یہ لکھا ہے کہ ادریس دراصل ” اوزریس “ کے لفظ کا عربی تلفظ ہے اور یہ قدیم مصری زبان کا لفظ ہے جس طرح یحیٰ یوحنا کا عربی سلفظ ہے اور السیع الشیع کا عربی تلفظ ہے۔ ان کے بارے میں بہت سے قصے ‘ مشہور ہیں۔ یہ کہ وہ آسمانوں پر چلے گئے اور وہاں ان کے لئے ایک بڑا تخت بنایا گای۔ یہ کہ جس شخص کی نیکیاں گناہوں پر بھاری ہوگئیں تو وہ دیوتا ” اوزریس “ کے پاس چلا جائے گا۔ یہ کہ ” اوزریس “ نے آسمانوں پر چڑھنے سے قبل لوگوں کو بہت سے علوم و معارف سکھائے۔ یہ بات دل کو لگتی ہے۔
بہر حال وہ جو بھی ہیں ہمارے لئے ان کے بارے میں قرآن مجید کی دی ہوئی معلومات کا فی ہیں اور یہ بنی اسرائیل کے انبیاء سے پہلے گزرے ہیں۔
یہاں سیاق کلام میں ان انبیاء کا تذکرہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ صحیح مومن ‘ اتقیاء اور انبیاء کیسے تھے اور وہ لوگ کیسے ہیں جو ان کی اولاد اور جانشیں ہونیکا دعویٰ کرتے ہیں ‘ مثلا عرب اور مشرکین بنی اسرائیل۔ دونوں کے درمیان اب کوئی بھی چیز مابہ الاشتراک نہیں ہے۔
مريم 19:57
حضرت ادریس کے زمانے کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں اور انبیائے بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں۔ اس لئے بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کو صدیق اور نبی کہتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ ایک عالی مقام شخص تھے ان کا ذکر دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔
بعض لوگوں کی رائے صہم نہ اس کی تصدیق کرسکتے ہیں اور نہ انکار) یہ ہے کہ مصر کیماہرین آثار قدیمہ نے یہ لکھا ہے کہ ادریس دراصل ” اوزریس “ کے لفظ کا عربی تلفظ ہے اور یہ قدیم مصری زبان کا لفظ ہے جس طرح یحیٰ یوحنا کا عربی سلفظ ہے اور السیع الشیع کا عربی تلفظ ہے۔ ان کے بارے میں بہت سے قصے ‘ مشہور ہیں۔ یہ کہ وہ آسمانوں پر چلے گئے اور وہاں ان کے لئے ایک بڑا تخت بنایا گای۔ یہ کہ جس شخص کی نیکیاں گناہوں پر بھاری ہوگئیں تو وہ دیوتا ” اوزریس “ کے پاس چلا جائے گا۔ یہ کہ ” اوزریس “ نے آسمانوں پر چڑھنے سے قبل لوگوں کو بہت سے علوم و معارف سکھائے۔ یہ بات دل کو لگتی ہے۔
بہر حال وہ جو بھی ہیں ہمارے لئے ان کے بارے میں قرآن مجید کی دی ہوئی معلومات کا فی ہیں اور یہ بنی اسرائیل کے انبیاء سے پہلے گزرے ہیں۔
یہاں سیاق کلام میں ان انبیاء کا تذکرہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ صحیح مومن ‘ اتقیاء اور انبیاء کیسے تھے اور وہ لوگ کیسے ہیں جو ان کی اولاد اور جانشیں ہونیکا دعویٰ کرتے ہیں ‘ مثلا عرب اور مشرکین بنی اسرائیل۔ دونوں کے درمیان اب کوئی بھی چیز مابہ الاشتراک نہیں ہے۔
مريم 19:58
انسانی تاریخ کے باب نبوت میں ‘ قرآن کریم نے یہاں ممتاز ترین لوگوں پر اکتفاء کیا ہے۔ یہ من ذریۃ ادم (91 : 85) ” اولاد آدم سے “ ہیں۔ وممن حملنا مع نوح (91 : 85) ” اور ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا “۔ اور ومن ذریۃ ابرھیم واسرائیل (91 : 85) ” اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے “۔ آدم تو سب کے جد امجد ہیں ‘ نوح بھی آدم ثانی ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) نبوت کی دو مشہور شاخوں کے باپ ہیں اور یعقوب بنی اسرائیل کے جد امجد ہیں جن میں بیشمار رسول اور نبی آئے اور اسماعیل کی طرف عربوں کی نسبت ہے جن کی اولاد میں نبی آخرالزمان مبعوث ہیں۔ یہ نبی اور انکا اتباع کرنے والے صالح اور برگزیدہ لوگ اور ان کی اولاد ‘ یہ کون لوگ ہیں ؟ ان کی ممتاز صفت یہ ہے۔
اذا تتلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وب کیا (91 : 85 السجدۃ) ” جب رحمن کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے “۔ یہ ایسے پرہیز گار لوگ تھے جو ذات باری کے بارے میں بہت ہی حساس تھے۔ جب اللہ کی آیات ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے وجدان میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ان پر اس قدر اثر ہوتا ہے کہ اس کے اظہار کے لئے ان کو موزوں کلمات نہیں ملتے جن کے ذریعے وہ اپنے احساسات کا اظہار کرسکیں۔ ان احساسات کا اظہار وہ آنسوئوں سے کرتے ہیں اور معاً سجدے میں گر کر اور رو کر وہ اپنے جذبات اندرونی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان حساس ‘ متقی آیات الہی سن کر رونے والوں کے بعد پھر کون آیا ؟ ان کے بعد ایسے اخلاف آئے جو اللہ سے دور ہوگئے۔
مريم 19:59
اضاعوا الصلوۃ (91 : 95) ” جنہوں نے نمازوں کو ضائع کردیا “۔ نمازوں کو چھوڑ دیا اور ان کا انکار ہی کردیا۔
واتعوا الشھوت (91 : 95) ” انہوں نے خواہشات نفس کی پیروی شروع کردی “۔ پیروی خواہشات میں غرق ہوگئے۔ ذرا غور کیجئے کہ اسلاف اور اخلاف کے درمیان کس قدر فرق ہوگیا ہے اور ان کے درمیان مشابہت کے عام خدو خال مٹ گئے۔
ایسے لوگوں کو قرآن کریم تہدید آمیز تنبیہ کرتا ہے کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘ انہوں نے اپنے صالح آباء کی پاک سیرتوں کو چھوڑ دیا ہے اس لیے فسوف یلقون غیا (91 : 95) ” پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں “۔ غی کا مفہوم ہے گمراہی یعنی وہ گمراہ ہوجائیں گے اور بےراہ روی کا شکار ہوجائیں گے اور انجام یہ ہوگا کہ وہ تباہ ہوجائیں گے۔
لیکن ان اندوہناک اور تباہ کن حالات کے باوجود قرآن توبہ کا دروازہ کھول دیتا ہے جہاں سے باور حمت کے تازہ جھونکے آتے ہیں اور اللہ کی مہربانی اور نعمتوں کے راستے کھلے نظر آتے ہیں۔
مريم 19:60
وہ توبہ جو ایمان اور عمل صالح پیدا کردیتی ہے ‘ وہی صحیح معنوں میں توبہ ہوتی ہے اور وہی برے انجام سے انسان کو بچاتی ہے۔ ایسے حقیقی تائب برے انجام تک پہچنے سے بچ جاتے ہیں۔ وہ تو جنت میں جاتے ہیں اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوتا۔ جنت میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہوتے ہیں۔ وہ جنت مجس کا وعدہ اللہ نے اپنے بندوں سے کرر کھا ہے۔ وہ اس پر ایمان لائے اور دیکھنے سے قبل ہی اس پر یقین کیا۔ ہی اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔
اہل جنت اور جنت کی تصویر کیا ہوگی ؟
مريم 19:61
وہ توبہ جو ایمان اور عمل صالح پیدا کردیتی ہے ‘ وہی صحیح معنوں میں توبہ ہوتی ہے اور وہی برے انجام سے انسان کو بچاتی ہے۔ ایسے حقیقی تائب برے انجام تک پہچنے سے بچ جاتے ہیں۔ وہ تو جنت میں جاتے ہیں اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوتا۔ جنت میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہوتے ہیں۔ وہ جنت مجس کا وعدہ اللہ نے اپنے بندوں سے کرر کھا ہے۔ وہ اس پر ایمان لائے اور دیکھنے سے قبل ہی اس پر یقین کیا۔ ہی اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔
اہل جنت اور جنت کی تصویر کیا ہوگی ؟
مريم 19:62
لایسمعون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الاسلما (91 : 26) ” وہاں وہ کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے ‘ جو بات بھی سنیں گے صحیح سنیں گے “۔ کوئی فضول بات وہاں نہ ہوگی ‘ نہ شور و شغب ہوگا۔ وہاں ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔ اس جنت میں ضروریات اور رزق ہر وقت مطابق خواہش دستیاب ہوگا۔ کسی نفس کو کوئی قلق نہ ہوگا ‘ کوئی خوف نہ ہوگا۔ کسی چیز کی کمی کا خطرہ نہ ہوگا۔
ولھم۔۔۔۔۔ وعشیا (91 : 26) ” اور ان کا رزق انہیں صبح و شام پہیم ملتارہ گا “۔ مطابق خواہش۔۔۔۔ غرض نہایت ہی خوشگوار ماحول ہوگا اور اللہ کی نعمتوں کا ہر سوا علان ہوگا۔
مريم 19:63
تلک الجنۃ التی۔۔۔۔۔۔۔ کان تقیا (91 : 36) ” یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیز گا ررہا ہے “۔ جو شخص جنت کی وراثت چاہتا ہے ‘ اسے اللہ نے راہ بتادی ہے۔ یعنی توبہ ‘ ایمان ‘ عمل صالح۔ نسبی ورراثت کو یہاں ذریعہ استحقاق نہیں بنایا ہے۔ نسبی لحاظ سے ایک قوم نے ان برگزیدہ صالحین کیوراثت پائی تھی مگر انہوں نے نماز اور زکوۃ کو ضائع کردیا اور شہوات نفسانیہ کے پیچھے پڑگئے۔ ان کو نسبی وراثت نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ ایسے لوگ جلد ہی فسوف یلقون غیا (91 : 95) ” برے انجام تک پہنچ جائیں گے “۔
اس سبق کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ رب مطلق ہے۔ اس کی عبادت اور بندگی کرو اور اس راہ کی مشکلات پر صبر کرو اور اس کی ثبیہ اور نظیر کا انکار کرو۔
مريم 19:64
اس بارے میں کافی روایات ہیں کہ
وما نتزل الا بامر ربک (91 : 46) ” اے محمد ﷺ ‘ ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترا کرتے “۔ اللہ کے حکم کے مطابق جبرائیل نے یہ بات اپنی زبان میں کہی کیونکہ کسی موقع پر جب وحی نہ آئی تو آپ کو وحشت اور پریشانی لاحق ہوگئی اور آپ کا شوق بڑھ گیا کہ کیوں اس قدر طویل عرصہ عالم بالا سے رابطہ نہیں ہوا۔ چناچہ اللہ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ تم یہ پیغام دے دو اور کہہ دو کہ ہم تو اللہ کے حکم کے مطابق نازل ہوتے ہیں اور حکم دینا اللہ کا کام ہے۔
لہ مابین۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلک (91 : 46) ” جو کچھ ہمارے آگے ہے ‘ جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے “۔ وہ کسی چیز کو بھلاتا نہیں۔ وحی تب ہی نازل ہوتی ہے جب اللہ کی حکمت کا تقاضا ہو کہ نازل ہوجائے۔
وماکان ربک نسیا (91 : 46) ” اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے “۔ اس کے بعد شاید یہی تھا کہ آپ کو صبر کرنے کی تلقین کی جائے اور یہ حکم دیا جائے کہ آپ اللہ کی بندگی پر جم جائیں ‘ صرف اللہ کو اپنا رب سمجھیں۔
مريم 19:65
رب السموت والارض وما بینھما (91 : 56) ” وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان کے درمیان ساری چیزوں کا “۔ اس کے سوا کوئی رب نہیں ‘ اس عظیم کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔
فاعبدہ واصبر لعبادتہ (91 : 56) ” اسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو “۔ اسلام میں عبادت صرف مراسم پرستش کا نام نہیں ہے۔ ہر تصور ‘ ہر ارادہ ‘ ہر ہر حرکت اور ہر سرگرمی عبادت کے دائرے میں آتی ہے اور یہ نہایت ہی مشکل کام ہے کہ انسان زندگی کے پورے معاملات میں صرف اللہ کی بندگی کرتا ہے ‘ اس لیے اس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے اور بڑے صبر اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے اس لیے ضروری ہے اس زمین کی تمام سرگرمیوں میں انسان آسمان کی طرف متوجہ رہے۔ زمین کی آلودگیوں میں ‘ مادی ضروریات کی کشاکش میں ‘ خواہشات نفس کے دبائو میں اور زندگی کے گونا گوں نشیب و فراز میں۔
اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ انسان کو اس کے مابق زندگی گزارنا ہے۔ اسے اپنے اندر یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ ہر چھوٹے بڑے معاملے میں وہ درحقیقت اللہ کی اطاعت کرکے عبادت کررہا ہے۔ اس طرح اس کی پوری زندگی اور اس کی ہر حرکت ہر روش عالم بالا سے مل کر طاہر اور پاکیزہ ہوجاتی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو بہت بڑے صبر ‘ بہت بڑی جدوجہد اور بہت بڑی محنت کا طلبگار ہے۔
” اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کی بندگی پر جم جائو کیونکہ اللہ ہی وہ واحد ذلت ہے جو اس لائق ہے کہ دل و دماغ اس کی طرف متوجہ ہوں ‘ کیونکہ کوئی اس کا ہمسر ‘ کوئی اس کا ہم نام نہیں اور کوئی اس کا ہم پایہ نہیں ہے۔ کیا اللہ کی کوئی نظیر ہے ؟ ہر گز نہیں ‘ وہ نظیر اور شبیہ سے پاک ہے۔ صدق اللہ العظیم !
مريم 19:66
درس نمبر 731 ایک نظر میں
اس سورة میں حضرت ذکریا ﷺ کا قصہ گزر گیا ہے اور حضرت یحییٰ ﷺ کی ولادت کی بات بھی گزر گئی ہے۔ حضرت مریم ﷺ کا قصہ اور حضرت عیسیٰ ؐ کی پیدائش کا واقعہ بھی گزر گیا ہے۔ حضر ابراہیم ﷺ اور ان کی جانب سے باپ اور قوم کو چھوڑ دینے کا قصہ اور ان حضرات کے بعد آنے والے اہل ہدایت اور اہل ضلالت کا ذکر بھی گزرا ہے۔ ان سب قصوں کے بعد یہ ذکر آیا کہ اس کائنات کا رب وحدہ لاشریک ہے اور وہی بلاشریک عبادت کا مستحق ہے۔ یہ تمام قصص صرف اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ اللہ وحدہ ہی قابل عبادت و بندگی ہے۔
اس مضمون کے بعد اب یہ پورا سبق عقیدہ توحید اور عقیدہ بعث بعد الموت کے بارے میں ہے۔ ان عقائد کو مناظر قیامت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے اور یہ مناظر تاثرات اور زندگی کی ہماہمی سے بھرپور ہیں ‘ پھر پوری کائنات بھی ان مناظر میں شریک محفل ہے۔ تمام انسان اور پوری زمین ‘ تمام انسان اور تمام جن ‘ مومنین بھی اور کافر بھی ان مناظر میں اسٹیج کے کردار ہیں۔
پھر یہ مناظر اس دنیا سے بھی تعلق رکھتے ہیں ور قیامت کی طرف بھی نکل جاتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ گویا ایک ہی اسٹیج پر دنیا و آخرت دونوں کے مناظر دکھائے جارہے ہیں۔ آغاز اس دنیا سے ہوتا ہے اور انجام آخرت میں جا کر نہایت ہی موثر انداز میں دکھایا جاتا ہے۔ دنیا و آخرت میں بس چند آیات و چند کلمات کا فاصلہ رہ جاتا ہے جس سے پردہ شعور انسانی پر یہ احساس ابھر آتا ہے کہ یہ دنیا اور وہ جہاں دونوں ایک اسٹیج اور منظر کے دو حصے ہیں۔
پہل انسان اسٹیج پر آتا ہے اور وہ بعث بعد الموت کے بارے میں اپنا موقف بیان کرتا ہے۔ وہ ایک ایسی بات کرتا ہے جسے آج تک کئی انسان دہراتے چلے آئے ہیں۔ مختلف زمانوں میں انسانوں نے یہی بات کہی ہے۔ گویا یہ ایک عالمی انسانی شبہ ہے اور تمام قوموں اور تمام نسلوں کو اس سوال نے ستایا ہے۔
ویقول الانسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اخرج حیا (91 : 77) ” انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مرچکوں گا تو پھر زندہ کرکے نکال لایا جائوں گا ؟ “ یہ سوال انسان کے دل میں محض اس کی غفلت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس نے غور نہیں کیا کہ وہ موجود ہے اور اسے بہر ال پیدا کیا گیا ہے ‘ تو وہ موجود ہے۔ یہ کہاں تھا ؟ کیسے تھا ؟ یقیناً یہ نہ تھا پھر ہوا۔ اگر انسان ذرا بھی غور کرتا تو وہ سمجھ جاتا کہ پہلی بار کی پیدائش کے مقابلے میں دوبارہ اٹھانا تو بہت آسانکام ہے۔
مريم 19:67
اولا یذکرالانسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولم یک شیئا (91 : 67) ” کیا انسان کو یان نہیں آتا کہ ہم نے پہلے اس کو پیدا کرچکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ؟ “
آگے جا کر اس انکار اور زبردستی کی انکار پر ذرا تہدید آمیز لہجے میں بات کی جاتی ہے۔ اللہ اپنی ذات کی قسم اٹھاتے ہیں اور ذات باری کی قسم ایک قسم ہے کہ لازماً ان لوگوں کو اور تمام لوگوں کو اٹھایا جائیگا۔ ان کو اٹھا کر میدان حشر میں لایا جائے گا اور یہ ایک فیصلہ شدہ اور طے شدہ امر ہے۔
مريم 19:68
فوربک۔۔۔۔۔۔ والشیطین (91 : 86) ” تیرے رب کی قسم ہم ضرور ان سب کو اٹھائیں گے “۔ اور یہ اکیلے ہی نہ ہوں گے۔ ان کے ساتھ شیاطین کو بھی اٹھائیں گے۔ کیونکہ یہ اور شیاطین ایک ہی قماش کے لوگ ہیں۔ یہ شیاطین ہی تو ہیں جو انکے دلوں میں ایسے شبہات پیدا کرتے ہیں۔ یہ تو تابع ہیں اور شیاطین ان کے لیڈر ہیں۔ ان کے درمیان تابع اور مقبوع کا رشتہ ہے۔
اب اگلے مرحلے میں یہ سب گھٹنوں کے بل آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ ان کی نہایت ہی برے حال کی حسی تصویر ہے۔
سخت شرمندگی اور توہین آمیز حالت میں ہیں یہ لوگ۔
ثم لنحضرنھم حول جھنم جثیا (91 : 67) ” پھر جہنم کے گرد لا کر انہیں گھٹنوں کے بل گرا دیں گے “۔ یہ ایک مجسم منظر ہے ‘ بےحدوحساب لوگ جمع کئے گئے ہیں ‘ جہنم کی طرف ان کو اہانت آمیز انداز میں گھٹنوں کے بل لایا جارہا ہے۔ یہ لاچاری میں اسے دیکھ رہے ہیں اور اس کے شعلوں کی لپٹوں کو محسوس کرتے ہیں۔ ہر وقت وہ اس خوف میں ہیں کہ ابھی پکڑے گئے اور اس میں پھینکے گئے۔ جزع و فزع میں وہ گھنٹوں کے بل چلے اور اوندھے گرادیئے گئے۔
دنیا کے جباروں اور قہاروں کے لئے یہ بہت ہی توہین آمیز منظر ہے۔ اس منظر میں ان منکرین کی صفوں سے ان لوگوں کو چھانٹا جارہا ہے جو اوروں کے مقابلے میں زیادہ سرکش تھے۔ کھینچ کھینچ کر ان کو باہر صفوں سے نکالا جارہا ہے۔
مريم 19:69
ثم لننزعن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عتیا (91 : 96) ” پھر چھانٹ کر نکالیں گے ہم ہر گروہ سے ان لوگوں کو جو اللہ کے شدید نافرمان تھے “۔ چھانٹ لینے کے لئے نہایت ہی تاکیدی مشدولفظ استعمال ہوا ہے ‘ تاکہ لفظ کی سختی ‘ تشدید اور معنوی مبالغہ چھانٹ لینے کے عمل کو مزید خوفناک بنادے ‘ جس کے بعد پھر انا لوگوں کو جہنم میں پھینکنے کا عمل آتا ہے۔ خیال ان تمام حرکات کو عملی شکل دیتا ہے۔
اللہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ ان میں سے کوئی جہنم میں تپائے جانے کا مستحق ہے۔ اس لئے وہ ان لاتعداد اور ان گنت انسانوں کے سیلاب میں سے ان کو چن کر باہر نکال لائے گا۔
مريم 19:70
ثم لنحن ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھا صلیا (91 : 07) ” پھر ہم یہ جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے “۔ ان کو وہ نکال لائے گا اور وہ جہنم میں ڈالے جانے والوں کا ہر اول دستہ ہوں گے۔ اس منظر کو اہل ایمان دیکھ رہے ہوں گے۔
مريم 19:71
وان منکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقضیا (91 : 17) ” اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر واردنہ ہو ‘ یہ تو ایک طے شدہ بات ہے ‘ جسے پورا کرنا تیرے رب کے ذمہ ہے “۔ تمام لوگ جہنم کے قریب کئے جائیں گے اور جب وہ جہنم کو دیکھیں گی تو اس کی آگ کے شعلے بلند ہوں گے ‘ جوش میں ہوں گے اور پھٹ رہے ہوں گے۔ وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ نافرمان بندے لوگوں میں سے نکالے جائیں گے اور اسمیں گرائے جائیں گے۔
مريم 19:72
ثم ننجی الذین اتقوا (91 : 27) ” پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میں متقی تھے “۔ یہ دوزخ ان سے دور ہوجائے گی اور وہ اس میں ڈالے جانے سے بچا لئے جائیں گے اور
ونذر الظلمین فیھا جثیا (91 : 27) ” اور ظالموں کو اس میں گہرا ہوا چھوڑ دیں گے “۔
اب روئے سخن اس ڈرائو نے منظر سے پھرجاتا ہے جس میں نافرمان نہایت ہی اہانت کے ساتھ گھٹنوں کے بل چلائے جارہے ہیں۔ جس میں متقی لوگ نجات پاجاتے ہیں اور ظالموں کو اوندھے منہ جہنم میں گرا ہوا چھوڑا جارہا ہے۔ یکایک ہم پھر دنیا میں آجاتے ہیں ‘ یہاں اہل کفر اہل ایمان کے مقابلے میں اپنی بڑائی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کو ان کی بد حالی پر طعنے دیتے ہیں۔ اپنی دولت مندی پر ‘ ظاہری شان پر اور دنیاوی قدروں پر فخر کرتے ہیں حالانکہ یہ دار فنا کی چیزیں ہیں ‘ ختم ہونے والی قدریں ہیں۔
مريم 19:73
بڑی بڑی مجلسیں اور عیش و طرب کی محفلیں اور وہ قدریں جن پر کبراء اور مترفین زمانہ اخلاقی فساد میں عمل پیرا ہوا کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں بظاہر نچلے درجے کی سوسائٹیاں اور غربت و افلاس والوں کی محفلیں جن میں ایمان کے سوا اور کوئی سازو سامان کم ہی ہوتا ہے۔ نیز ان میں زیب وزینت اور شان و شوکت کم ہوتی ہے۔ نہ قیمتی لباس ہوتے ہیں اور نہ قیمتی جائے قیام۔ اس دنیا میں لوگ ان ہی چیزوں میں باہم مقابلہ کرتے ہیں اور ان ہی کی بنیاد پر طبقاتی امتیازات قائم ہوتے ہیں۔
اس مقابلے اور نمایش گاہ میں ‘ پہلے طبقے کے اسٹال پر بڑا بڑا دنیاوی سازو سامان ‘ مال و جمال ‘ قوت اور مرتبہ ‘ بڑے بڑے معاذات ‘ بڑی بڑی آمدنیاں ‘ کھانے پینے کے لذیذ سازو سامان ہوتے ہیں اور دوسرے طبقے کے اسٹال پر فقرو تواضع ہے۔ ایسا سازو سامان جو کبرا کے ہاں قیمتی ہے ‘ ان کی نظروں میں حقیر ہے ‘ جاہ و مرتبہ ان کے ہاں پر کا ہ کے برابر ہے۔ یہ دوسرا اسٹال عیش طرب کے لئے نہیں۔ معاذات کے لئے نہیں ‘ حکام کے ہاں اثر و رسوخ کے لئے نہیں ‘ اقتدار ہر فخر کے لئے نہیں بلکہ محض نظریاتی متاع گراں بہا کی طرف بلاتا ہے ‘ اس اسٹال پر کوئی قیمتی دنیاوی مال و متاع نہیں ہے ‘ کوئی ارائش و زیبائش نہیں ہے لیکن وہاں اللہ کے کلمے کی سر بلندی کا داعی ہے ‘ صرف کلمہ حق کی سر بلندی کی طرف یہ دوسرا فرق بلاتا ‘ نہ صرف یہ کہ یہاں مذکور دنیاوی چیزیں نہیں بلکہ مشقت ‘ جدوجہد اور قربانیاں ہیں۔ ان تمام مشقتوں کا عوض بھی اس دنیا میں نہیں ہے۔ یہاں انہیں صرف اللہ کا قرب حاصل ہوگا ‘ جہاں تک اجر اور جزاء کا تعلق ہے وہ آخرت میں ہے۔
یہ قریش جن کو حضور اکرم ﷺ کے دور میں آیات الہیہ سنائی جارہی تھی ‘ وہ اہل ایمان فقراء کو دیکھ کر یہ کہتے تھے :
ای الفریقین خیر مقاما واحسن ندیا (91 : 37) ” بتائو ‘ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالات میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں “۔ وہ کبرا بہتر ہیں جو محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتے یا وہ فقراء بہتر ہیں جو اس کے ارد گرد جمع ہیں ان میں سے کن کے حالات دنیاوی اعتبار سے بہتر ہیں اور کس کی سوسائٹی شاندار ہے۔ ایک طرف نضیر ابن حارث ‘ عمرو ابن ہشام ‘ ولید بن مغیرہ اور ان کے بھائی اور دوسرے سردار ہیں اور دوسری جانب بلال ‘ عمار ‘ باب اور ان کے دوسرے بھائی ہیں جن کے پاس ایک کوڑی نہیں ہے۔ اگر محمد ﷺ جن باتوں کی طرف بلاتے ہیں وہ اچھی ہوتیں تو ان کے ساتھی یہ لوگ جن کی قریش کی سوسائٹی میں کوئی قدروقیمت نہیں ہے اور نہ ان کا کوئی رعب ہے۔ یہ لوگ سب کے سب ایک مسکین حباب کے گھر جمع ہوتے ہیں جو غریب اور بےروز گا رہے۔ اور محمد ﷺ کے مخالف بڑی بڑی شاندار مجالس میں بیٹھتے ہیں اور سوسائٹی میں ان کا اونچا مرتبہ ہے۔
یہ ہے دنیا پرستوں کی منطق اور ان کی سوچ۔ ہر زمان و مکان میں دنیا پرستوں اور کوتاہ بینوں کی یہی انداز فکر ہوتی ہے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا ہی یہ ہے کہ دعوت اسلامی اور اس کے املیں دنیاوی زیب وزینت سے خاخلی ہوں ‘ زیب وزینت اور مصنوعی رنگ و روغن ان کی اصل حقیقت کو نہ چھپا سکے۔ ان کی کسی چیز میں کوئی کلا کاری نہ ہو۔ اس دعوت کو ان داعوں کی قیادت کو قبول کرنا چاہے وہ خالص اللہ کے لئے قبول کریں ‘ اس دعوت کو قبول کریں۔ اس میں دنیا اور دنیا پرستوں کا کوئی کردار نہ ہو۔ ان میں کوئی نمائش اور طمع کاری نہ ہو تاکہ جو لوگ دنیا کے مفادات چاہتے ہیں ‘ دنیا کا نفع چاہتے ہیں وہ اس طرف نہ آئیں جو دنیا کی زیب وزینت چاہتے ہیں ‘ شان و شوکت چاہتے ہیں اور مال و متاع چاہتے ہیں وہ دورر ہیں۔
ان بر خود غلط گمراہوں اور کافروں کی منطق ‘ شان و سکت اور زیب وزینت کی نمائش کرنے والوں کی اس طرز فکر کو ایک وجدانی چٹکی سے ڈرا تاریخ انسانیت کی طرف موڑ دیا جاتا ہے کہ تاریخ انسانی میں کئی اقوام ‘ اس قسم کا بظاہر شاندار مقام عزت رکھتی تھیں ‘ دنیا کے مال و متاع اور نعمتوں میں مست تھیں لیکن ذرا دیکھو ‘ ان کا کیا انجام ہوا ؟
مريم 19:74
ہوا یہ کہ ان کی اس شان و شوکت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ ان کے زیب وزینت نے ان کو عذاب الہٰی سے نہ بچا یا۔ جب ان پر ہلاکت آئی تو یہ سب ظاہر داریاں مٹ گئیں۔
یادرکھو ‘ انسان بہت جلد بھول جاتا ہے۔ اگر وہ ذرا بھی تاریخ کے اسباق یاد کرتا اور ذرا بھی غور کرتا تو وہ ان ظاہر داریوں پر کبھی غرور نہ کرتا حالانکہ انسانی تاریخ میں جو اقوام ہلاک ہوئیں ‘ ان کی ہلاکتوں اور بربادیوں میں بہت بڑا سامان عبرت ہے۔ تاریخ انسانی انسان کے دامن کو پکڑ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتی ہے کہ ذرا دیکھو ‘ خدا کے عذاب سے ڈرو ‘ اللہ کی پکڑ سے خوف کھائو۔ لیکن انسان ہے کہ سر نیچے کئے ہوئے اپنی غلط روش پر چل رہا ہے۔ وہ پیچھے کی طرف نہیں دیکھتا کہ آگے جاتے ہوئے ٹھوکروں سے بچے ‘ حالانکہ اقوام ماضی میں سے جن لوگوں کو ٹھوکر لگی وہ ان سے زیادہ صاحب قوت تھیں ‘ زیادہ دولت مند تھیں ‘ زیادہ آبادی والی تھیں۔
لیکن اس اچھٹتی نظر کے بعد قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے یہ وجدانی اشارہ کافی نہیں ہے۔ ان کو چیلنج کے انداز میں کہو کہ اچھا جو گروہ گمراہی میں اور غلط راستے پر ہے ‘ اللہ اسے مزید گمراہ کرے اور وہ پہنچے اس انجام تک جو گمراہوں کا قدرتی انجام ہوتا ہے خواہ اس جہاں میں ایا آخرت میں۔
مريم 19:75
ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے معجبین سے زیادہ صحیح راستے پر ہیں ‘ محض اس لیے کہ وہ دولت مند ہیں ‘ شاو شوکت والے ہیں۔ اچھا ان کی دولت اور شان میں اور اضافہ ہو ‘ اور اے محمد ﷺ تم ان کو یہ بد دعا دو کہ گمراہی میں یہ اور دور نکل جائیں۔ اللہ ان کی رسی اور دراز کردے۔ اہل ہدایت کو مزید ہدایت دے تاکہ یہ لوگ اپنے انجام تک پہنچ جائیں اور ان کا انجام یہی ہو سکتا ہے کہ یا دنیا میں ان کو مسلمانوں کے ہاتھوں سزادی جائے اور یا آخرت میں ان کو سزا دی جائے۔ اس وقت پھر ان کو صحیح صورت حالات کا علم ہوجائے گا ‘ کہ کس کا مقام و مرتبہ اچھا ہے اور کون کمزور اور ناتواں اور بےبس ہے۔ اس وقت مسلمان بہت خوش ہوں گے اور عزت پائیں گے۔
مريم 19:76
والبقیت۔۔۔۔۔۔ وخیر مردا (91 : 67) ” اور باقی رہ جانے والی نیکایں ہی تیرے رب کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں “۔ ان تمام چیزوں سے بہتر ہیں جن پر اہل دنیا فخر کرتے ہیں اور گمراہ ہوتے ہیں۔
اب کافروں کے فخر و مباہات کا ایک دوسرا نمونہ ملاحظہ ہو ۔ ان کی ایک دوسری بات جس پر تعجب کر کے سخت نکیر کی جاتی ہے۔
مريم 19:77
اس آیت کے شان نزول میں حضرت خباب ابن الارت کی یہ روایت آئی ہے :” میں ایک لوہار تھا۔ عاص ابن وائل پر میرا قرض تھا۔ میں اس کے پاس آیا اور اس سے اپنے قرضے کا تقاضا کیا تو اس نے کہا خدا کی قسم میں تجھے ہر گز تمہارا قرض نہ دوں گا جب تک تم محمد ﷺ پر ایمان لانے سے انکار نہ کردو۔ تو میں نے کہا خدا کی قسمایسا نہیں ہوسکتا۔ میں حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ تم ایک بار مرکر دوبارہ زندہ نہ ہو جائو۔ اس نے کہا اچھا پھر جب میں مر گیا اور دوبارہ زندہ ہوگیا تو وہ وہاں میرے پاس بہت مال ہوگا ‘ میری اولاد ہوگی ‘ وہاں آنا میرے پاس میں آپ کو قرض دے دوں گا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
افرء یت الذی۔۔۔۔۔۔ ما لاو ولدا (91 : 77) ” تو نے دیکھا اس شخص کو ‘ جو ہماری آیات کے ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتارہوں گا “۔
عاص ابن وائل کی یہ بات کفار قریش کے اس ذاق کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے جو وہ بعث بعد الموت کے نظر یہ کے ساتھ کرتے تھے۔ قرآن کریم ایسے لوگوں کی سوچ پر تعجب سے یہ تبصرہ اور گرفت کرتا ہے۔
مريم 19:78
اطلع الغیب (91 : 87) ” کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے “۔ کیا اسے قبل ازوقت معلوم ہے کہ وہاں کیا ہوگا۔
ام اتخذ۔۔۔۔۔۔۔۔ عھدا (91 : 87) ” یا اس نے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے “ اور اسے یقین ہے کہ اللہ اپنے عہد کا پابند ہے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے۔
کلا ” ہر گز نہیں “ کلا نفی اور زجر کا لفظ ہے۔ نہ اسے غیب کا علم ہے اور نہ اس نے اللہ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے بلکہ یہکفر پر تل گیا ہے اور محض مذاق کرتا ہے۔ ایسے مقامات پر ایسے کافروں کے لائق یہی ہے کہ انہیں تہدیدآمیز تنبیہ کردی جائے۔
مريم 19:79
کلا سنکتب۔۔۔۔۔۔ مدا (91 : 97) ” ہر گز نہیں ‘ جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لئے سزا میں اور اضافہ کریں گے “۔ یعنی وہ جو کچھ کہتا ہے اسے لکھیں گے کہ یوم الحساب کے لئے حسب معمول اس کا ریکارڈ تیار ہوتا کہ نہ وہ بھولے اور نہ مغالتہ ہو ‘ یہ تہدید اور ڈراوی کی نہایت ہی بہتر ین تصویر کشی ہے۔ حالانکہ مغالطہ تو وہاں ہو نہیں سکتا۔ اللہ کا علم تو نہ صغیرہ کو چھوڑتا ہے اور نہ کبیرہ کو۔ یعنی ہم اس کے عذاب کو طویل و عریض کرتے چلے جائیں گے۔ اس میں کوئی کمی اور کوئی انقطاع نہ ہوگا۔ مزید ڈر اور اتصویر کشی کے انداز میں ملاحظہ ہو۔
مريم 19:80
ونرثہ مایقول (91 : 08) ” جس سرو سامان اور لائو لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا “۔ یہ جو مال واولاد چھوڑے گا اسے ہم اس طرح لے لیں گے جس طرح وارث اپنی موروثہ اشیاء کو لے لیتا ہے۔
ویاتینا فردا (91 : 08) ” یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا “۔ اس کے پاس نہ مال ہوگا ‘ نہ اولاد ہوگی اور نہ کوئی مدد گار ہوگا ‘ نہ کوئی سند و ثبوت ہوگا۔ یہ اکیلا ‘ ضعیف و ناتواں ہمارے سامنے ہوگا۔ تو کیا تو نے ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتا ہے ‘ وہ اس دن کے ساتھمذاق کرتا ہے جس دن یہ تہی دست ہوگا۔ اس دنیا میں اس کے تمام مملوکات اس کے ہاتھ سے چلے جائیں گے۔ یہ شخص ہے نمونہ کفر اور مثال کفار ‘ انکار ‘ اوعا اور گمراہی کی مثال ۔ اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ کفر اور شرک کی علامات کیا ہیں۔
مريم 19:81
یہ لوگ جو آیات الہیہ کا انکار کرتے ہیں ‘ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو الہٰ بناتے ہیں اور انکے ہاں اپنی عزت بناتے ہیں اور انہیں سے غلبہ اور نصرت مانگتے ہیں اور ان میں سے بعض لوگ تو ملائل کہ کی بندگی کرتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو جنوں کی پرستش کرتے ہیں ‘ ان سے نصرت طلب کرتے ہیں لیکن ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا ‘ عنقریب وہ سب معبود ان سب کی عبادت ‘ بندگی اور پکارنے کا انکار کریں گے۔ ان کے اس فعل سے نفرت کریں گے اور اللہ کے سامنے ان سے پانی برائت کا اظہار کریں گے۔
مريم 19:82
ویکونون علیھ ضدا (91 : 28) ” اور یہ الٹے ان کے مخالف بن جائیں گے “۔ یعنی ان سے بری الذمہ ہوجائیں گے اور ان کے خلاف شہادت دیں گے “۔ جو شیاطین ان کو اس کام پر اکسا رہے ہیں ‘ یہ ہم نے ان پر مسلط کیے ہیں۔ ان کو اللہ نے اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ورغلا سکتے ہیں اور یہ اس وقت سے ماذون ہیں جب سے ابلیس نے اللہ سے اجازت چاہی کہ مجھے مہلت دیں۔
مريم 19:83
ویکونون علیھ ضدا (91 : 28) ” اور یہ الٹے ان کے مخالف بن جائیں گے “۔ یعنی ان سے بری الذمہ ہوجائیں گے اور ان کے خلاف شہادت دیں گے “۔ جو شیاطین ان کو اس کام پر اکسا رہے ہیں ‘ یہ ہم نے ان پر مسلط کیے ہیں۔ ان کو اللہ نے اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ورغلا سکتے ہیں اور یہ اس وقت سے ماذون ہیں جب سے ابلیس نے اللہ سے اجازت چاہی کہ مجھے مہلت دیں۔
مريم 19:84
فلا تعجل علیھم (91 : 48) ” آپ ان پر نزول عذاب کے لئے عجلت نہ کریں ’‘’۔ اپنے دل کو بھی تنگ نہ کریں ‘ پریشان نہ ہوں ‘ ان لوگوں کو تھوڑی سی مہلت دے دی گئی ہے۔ ان کے اعمال ئنے جارہے ہیں۔ ان کا حساب رکھا جارہا ہے۔ انداز بیان یہ ظاہر کررہا ہے کہ ان کے اعمال کا حساب نہایت ہی باریکی سے رکھا جارہا ہے۔
انما تعد لھم عدا (91 : 48) ” ہم ان کے دن گن رہے ہیں “۔ کس قدر خوفناک دھمکی ہے یہ ! وہ شخص ہلاک ہوا جسکے گناہوں ‘ جس کے اعمال ‘ جس کی ہر سانس کا حساب اللہ خود رکھ رہا ہے ‘ اور نہایت باریکی سے اس کا حساب ریکارڈ کیا جارہا ہے ‘ تاکہ سختی سے اس کی گرفت ہو سکے۔ جو شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کرئہ ارض کی زندگی میں اس کا افر اس کے اعمال کی نگرانی کر رہا ہے اور اس کی غلطیاں نوٹ کی جارہی ہیں ‘ وہ ڈر جاتا ہے۔ اسے ہر وقت خوف رہتا ہے ‘ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ شاید اس سے کسی وقت کوئی غلطی سرزد ہو کر نوٹ نہ ہوجائے۔ لیکن جس شخص کی غلطیاں اللہ بذات خود نوٹ کررہا ہو تو۔۔۔۔۔۔ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں اس گنتی اور حساب کا انجام دکھایا جاتا ہے۔ اہل ایمان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کے دربار میں معزز وفود کی شکل میں آرہے ہیں ‘ نہایت عزت اور احترام کے ساتھ۔
مريم 19:85
یوم تحشر المتقین الی الرحمن وفدا (91 : 58) ” وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمن کے حضور پیش کریں گے “ اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانک کرلے جائیں گے۔
مريم 19:86
ونسوق المجرمین الی جھنم وردا (91 : 68) ” اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم میں ہانک لے جائیں گے “۔ اس دن کسی کی کوئی سفارش نہ ہوگی ‘ ماسوائے اس شخص کے جس نے کوئی اچھا عمل کیا۔ یہ عمل صالح اس کا سفارشی ہوگا اور اللہ اپنے عہد کو پوراکرے گا۔ اللہ نے وعدہ کررکھا ہے کہ جو ایمان لائے اور عمل صالح کرے اس کو پوری جز ادے گا اور اللہ عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
ایک بار پھر روئے سخن مشرکین کے عقیدہ منکرہ کی طرف مڑ جاتا ہے۔ بعض مشرکین عرب کا یہ قول تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہودیوں کا ایک مشرک طبقہ حضرت عزیز کو ابن اللہ کہتا تھا ‘ نصاریٰ کے مشرکین کہتے تھے مسیح ابن اللہ ہیں ‘ ان مشرکانہ اقوال کی وجہ سے پوری کائنات کا نپنے لگتی ہے۔ فطرت کائنات اس کا انکار کرتی ہے اور اس کا ضمیر اس سے ابا کرتا ہے۔
مريم 19:87
اس منظر میں فضا غضب ‘ غیرت اور ردعمل کی ہے۔ اس فضا کو الفاظ کی گونج اور گرج اور عبارات اور فقروں کی ضربات مزید تیز کردیتی ہیں۔ کائنات کے ضمیر میں ایک اشتہعال ہے۔ نفس کائنات کی تمام نفرت کرنے والی قوتوں کے اندر بھونچال آیا ہوا ہے۔ تمام تکوینی قوتوں کے اندر ‘ ذات باری کی شان میں اس قدر سخت گستاخی کرنے کی وجہ سے ‘ سخت اشتعال ہے۔ جب کسی انسان کی ذات یا اس کے محبوب شخص کی توہین کردی جائے اور اس کی عزت خطرے میں ہو تو اس کے تمام اعضاء یکدم ردعمل میں ہوتے ہیں۔ اسی رطح یہ پوری کائنات اس منظر میں نہایت ہی رد عمل میں ہے کیونکہ اس کے مالک کی شان میں گستاخی ہو رہی ہے۔
اس کلمہ کفر اور شان باری کی توہین کے ردعمل میں پوری کائنات ‘ زمین ‘ آسمان ‘ درخت اور پہاڑ سب ردعمل میں ہیں۔ اور اس کے اظہار کے لئے جو الفاظ قرآن نے چنے ہیں وہ بذات خود زلزلہ انگیز ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ اس کلمہ کفر کا اظہار ہوتے ہی کہ وقالو اتخذالرحمن ولدا (91 : 88) ” وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے کسی کو بیٹاب بنایا ہے “۔
فوراً ہی ردعمل سامنے آتا ہے اور اس کی سخت مذمت کی جاتی ہے اور فوراً تردید آجاتی ہے۔
مريم 19:88
اس منظر میں فضا غضب ‘ غیرت اور ردعمل کی ہے۔ اس فضا کو الفاظ کی گونج اور گرج اور عبارات اور فقروں کی ضربات مزید تیز کردیتی ہیں۔ کائنات کے ضمیر میں ایک اشتہعال ہے۔ نفس کائنات کی تمام نفرت کرنے والی قوتوں کے اندر بھونچال آیا ہوا ہے۔ تمام تکوینی قوتوں کے اندر ‘ ذات باری کی شان میں اس قدر سخت گستاخی کرنے کی وجہ سے ‘ سخت اشتعال ہے۔ جب کسی انسان کی ذات یا اس کے محبوب شخص کی توہین کردی جائے اور اس کی عزت خطرے میں ہو تو اس کے تمام اعضاء یکدم ردعمل میں ہوتے ہیں۔ اسی رطح یہ پوری کائنات اس منظر میں نہایت ہی رد عمل میں ہے کیونکہ اس کے مالک کی شان میں گستاخی ہو رہی ہے۔
اس کلمہ کفر اور شان باری کی توہین کے ردعمل میں پوری کائنات ‘ زمین ‘ آسمان ‘ درخت اور پہاڑ سب ردعمل میں ہیں۔ اور اس کے اظہار کے لئے جو الفاظ قرآن نے چنے ہیں وہ بذات خود زلزلہ انگیز ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ اس کلمہ کفر کا اظہار ہوتے ہی کہ وقالو اتخذالرحمن ولدا (91 : 88) ” وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے کسی کو بیٹاب بنایا ہے “۔
فوراً ہی ردعمل سامنے آتا ہے اور اس کی سخت مذمت کی جاتی ہے اور فوراً تردید آجاتی ہے۔
مريم 19:89
لقد جئتم شیئا ادا (91 : 98) ” سخت بیہودہ بات ہے جو تم لوگ گھڑ لائے ہو “۔ اس کی تردید کے ساتھ ہی تمام ماحول بھڑک اٹھتا ہے ‘ ہر چیز میں حرکت آجاتی ہے۔ پوری کائنات رب کی توہین کے ردعمل میں غضبناک ہوجاتی ہے۔ ہر چیز یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کلمہ کفر سے اس کے وجود ‘ اس کی ذات ‘ اس کی فطرت کی توہین کی گئی ہے ‘ چونکہ ہر چیز کے ضمیر اور اس کی شخصیت کا رد عمل باہر آجاتا ہے ‘ اور وہ بنیادیں ہی ہل جاتی ہیں جن پر اس کلمہ کفر سے قبل کائنات کی ہر چیز میں سکون اور ٹھہرائو تھا۔
مريم 19:90
تکاد السموات۔۔۔۔۔۔۔۔ ھدا (09) ان دعوا۔۔۔۔ ولدا (9) (91 : 09۔ 19) ” قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں ‘ زمین شق ہوجائے ‘ اور پہاڑ گر جائیں ‘ اس بات پر کہ لوگوں نے رحمن کے لئے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا۔ رحمن کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے “۔ اس خوفناک ماحول میں یہ قرار داد پیش کردی جاتی ہے۔
مريم 19:91
زمین و آسمان میں جو چیز بھی ہے وہ اپنے رب معبود کے سامنے ایک مطیع فرمان عبادت گزار کی طرح جھکتی ہے۔ لہذا اسے ولد اور شریک کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سب تو مخلوق اور بندے ہیں۔ یہ پوری کائنات کے حقیقی مفہوم پر غور کرنا ہے۔
مريم 19:92
زمین و آسمان میں جو چیز بھی ہے وہ اپنے رب معبود کے سامنے ایک مطیع فرمان عبادت گزار کی طرح جھکتی ہے۔ لہذا اسے ولد اور شریک کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سب تو مخلوق اور بندے ہیں۔ یہ پوری کائنات کے حقیقی مفہوم پر غور کرنا ہے۔
مريم 19:93
زمین و آسمان میں جو چیز بھی ہے وہ اپنے رب معبود کے سامنے ایک مطیع فرمان عبادت گزار کی طرح جھکتی ہے۔ لہذا اسے ولد اور شریک کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سب تو مخلوق اور بندے ہیں۔ یہ پوری کائنات کے حقیقی مفہوم پر غور کرنا ہے۔
مريم 19:94
لقد احصھم وعدھم عدا (91 : 49) ” سب پر وہ محیط ہے اور اس نے ان کو شمار کر رکھا ہے “۔ لہٰذانہ کوئی اس سے بھاگ سکتا ہے ‘ نہ وہ کسی کو بھول سکتا ہے۔
مريم 19:95
وکلھم اتیہ یوم القیمۃ فردا (91 : 59) ” سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے “۔ تمام افراد اللہ کی نظروں میں ہیں۔ پھر یہ تمام اللہ کے سامنے فرداً فرداً آئیں گے۔ کوئی جتھا نہ ہوگا ‘ کوئی مونس و مدد گار نہ ہوگا۔ وہاں ان سے اجتماعیت کی روح اور اجتماعیت کا شعور ہی نکال دیا جائے گا۔ ہر شخص اللہ کے سامنے وحید و فرید ہوگا یکہ و تنہا۔
اس تنہائی ‘ اکیلے پن ‘ وحشت اور ڈر کے ماحول میں اچانک اہل ایمان کا گروہ نمودار ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت سے تروتازہ اور اس کے سایہ عاطفت میں ہے ‘ نہایت ہی خوش و خرم ‘ رحمن کی محبتوں میں ڈوبا ہوا۔
مريم 19:96
یہاں محبتوں کے تحفے فضا کو معطر بنا دیتے ہیں۔ اللہ کی رضا مندی کی روح انسانی نفوس کے اندر سرایت کرج اتی ہے۔ عالم بالا میں اس روح کا دور دورہ ہوتا ہے۔ پھر یہ روح زمین پر اترتی ہے اور لوگوں میں پھییل جاتی ہے۔ تمام فضا ‘ پوری سوسائٹی اور پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلاتا ہے اور کہتا ہے جبرائیل ! میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں ‘ پس تم بھی اس سے محبت رکھو۔ فرمایا تو جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمان والوں میں منادی کی جاتی ہے کہ سنو ‘ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے ‘ اس سے محبت رکھو ‘ تو اہل سماء اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اس کی بعد اس شخصیت کو زمین پر قبول عام حاصل ہوجاتا ہے اور جب اللہ کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو جبرائیل کو بلاکر کہہ دیتا ہے میں فلاں سے نفرت کرتا ہوں تو بھی اس سے بغض رکھو ‘ تو جبرایل اس سے بغض رکھتے ہیں ‘ پھر آسمان والوں میں منادی کردی جاتی ہے کہ اللہ فلاں سے بغض رکھتا ہے ‘ تم بھی اس سے دشمنی کرو ‘ پس تمام اہل آسمان اس سے دشمنی کرتے ہیں۔ اس کے بعد پوری زمین میں اس کے ساتھ نفرت رکھ دی جاتی ہے۔
اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ مومنینو متقین کے لئے یہ قرآن خوشخبری اور منکرین اور مخاصمت کرنے والوں کے لئے ڈر اوا ہے اور یہ خوشخبری اور ڈراوا قرآن کریم کے اولین مقاصد میں سے ہے۔ اللہ نے عربوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے قرآن کریم کو عربی میں نازل کیا تاکہ وہ اسے پڑھیں اور رسول انہیں پڑھ کر سنائیں اور ان کو ڈرائیں۔
مريم 19:97
یہ سورة ایک ایسے منظر پر ختم ہوتی ہے جس کو دیکھ کر ہر انسان ایک طویل وقفے کے لئے غور کرتا ہے اور انسانی شعور و وجدان کے اندر ایک طویل تاثر قائم رہتا ہے اور ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ انسان سوچتاہی رہ جاتا ہے اور دیر تک غور کرتارہتا ہے۔
مريم 19:98
یہ ایک سخت جھٹکا ہے۔ اس کے بعد ایک مہیب سکوت اور خاموشی۔ گویا ہم تباہی اور ہلاکت کی وادی میں ہیں اور ان تمام وادویں کو ایک ایک کرکے دیکھ رہے ہیں جن کو صدیوں سے ہلاک و برباد کیا جاتارہا۔ ہلاکتوں کا یہ ایک طویل سلسلہ ہمارے پیش نظر ہے۔ ہمارا خیال ان اقوام کی زندگیوں ‘ ان کی ترقیوں اور رنگا رنگ سرگرمیوں کے ساتھ چلتا ہے۔ بڑے بڑے سہر اور ان میں آبادیاں اور پھر زندگی کی حرکت اور دوڑ دھوپ نظر آتی ہے اور پھر جب ان آبادیوں پر ‘ اللہ کی ہلاکت آتی ہے تو وہاں الو بولتا نظر آتا ہے۔ زندگی یکدم خاموش ہوجاتی ہے۔ ہر طرف موت ہی موت نظر آتی ہے۔ ہر طرف انسانی لاشیں ہیں ؟ ہڈیاں ہیں اور پھر سیاہ مٹی ہے ‘ نہ زندگی ہے ‘ نہ احساس ہے ‘ نہ حرکت ہے ‘ نہ آواز ہے ‘
ھل تحس منھم من احد (91 : 89) ” ان میں سے کیا کسی کا احساس تم پاتے ہو “۔ کوئی نام و نشان ہے ؟ ذرا خوب دیکھو ان تہذیبوں کو ‘
اوتسمع لھم رکزا (91 : 89) ” یا ان کی بھنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے “۔ ذرا کان لگا کر سننے کی کوشش کرو ‘ یہ خوفناک خاموشی ‘ یہ مہیب سناٹا ‘ ذرا دیکھو ‘ یہاں اللہ وحدہ ‘ جی لایموت اور قہارو جبار کے سوا کوئی اور ہے ؟
طه 20:1
سورة طہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنی (1 : 8) ” “۔
نہایت ہی نرم و نازک اور تروتازہ آغاز ہے ‘ حروف مقطعات طا۔ ہا۔ اشارہ یہی ہے کہ یہ وپری سورة ایسے ہی حروف مقطعات سے مرکب ہے۔ جس طرح یہ قرآن ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جیسا کہ دوسری سورتوں کے آغاز میں بھی یہی اشارہ ان حروف کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ یہاں جو دو حروف چنے گئے ہیں ان میں ایک مزید یہ اشارہ بھی پیش نظر ہے کہ انکے تلفظ کے آخر میں الف مقصورہ آتا ہے جس طرح اس پوری سورة میں فواصل الف مقصورہ پر ختم ہوتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر آتا ہے ‘ جس طرح پورے قرآن میں جس سورة کا آغازحروف مقطعات سے ہوتا ہے ‘ ان کے بعد متصلاً قرآن کریم کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں حضور اکرم ﷺ کو خطاب کی شکل میں تبصرہ ہے قرآن مجید اور اس کی دعوت پر کہ یہ مصیبت نہیں ہے۔
مآ انزلنا۔۔۔۔ لتشقی (02 : 2) ” ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں پڑ جائو “ یعنی یہ قرآن آپ پر نازل ہوا کہ آپ اس کی تبلیغ کریں ‘ اس کی وجہ سے تم پر کوئی مصیبت نہ آئے گی۔ یہ نہیں کہ اس کی تلاوت میں آپکو تکلیف ہو ‘ یہ نہیں کہ اس پر عمل میں آپ کو کوئی مشقت ہو ‘ یہ تو یاد دہانی اور نصیحت آموزی کے لئے آسان کردیا گیا ہے۔ اس کے اندر جو احکام دیئے گئے ہیں وہ انسانی طاقت کی حدد کے اندر اندر ہیں۔ یہ نعمت خداوندی ہے ‘ مصیبت و عذاب خداوندی نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ تو عالم بالا سے انسان کا رابطہ ہوتا ہے اور انسان کو عالم بالا کی تائید حاصل ہوتی ہے اور وہ قوت و اطمینان حاصل کرتا ہے۔ اللہ کی رضا مندی کا شعور ‘ اللہ کے ساتھ انس و محبت کا شعور ‘ اور اللہ کے ساتھ صلے اور رابطے کا شعور اس سے حاصل ہوتا ہے۔
یہ قرآن اس لئے بھی نازل نہیں ہوا کہ اگر لوگ اسے نہیں مانتے تو آپ پر یشان ہوں کیونکہ یہ آپ کے فرائض میں نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ نہ اس لئے نازل ہوا ہے کہ آپ ان لوگوں کے عدم ایمان کی وجہ سے دل کو حسرتوں کا خزانہ بنادیں۔ یہ تو صرف اس لیے ہے کہ آپ نصیحت کرتے چلے جائیں اور لوگوں کو انجام بد سے ڈراتے چلے جائیں۔
الا تذکرۃ المن یخشی (02 : 3) ” یہ تو ایک یاد دہانی ہے ‘ ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ جو شخص ڈرتا ہے ‘ جب اسے نصیحت کی جائے تو وہ اثر قبول کرتا ہے ‘ اللہ سے ڈرتا ہے اور اللہ سے معافی طلب کرتا ہے بس یہاں تک رسول اور داعی کے فرائض پورے ہوجاتے ہیں۔ رسولوں اور داعیوں کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کو لگے ہوئے تالے کھول دیں یا لوگوں کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوں۔ یہ کام تو اللہ کا ہے جس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس پوری کائنات کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے ‘ اس پر محیط ہی اور اس کو دلوں کے خفیہ ارادے اور راز تک معلوم ہیں۔
تنیزلا ممن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما تحتا الثری (6) (02 : 4 تا 6) ” نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو۔ وہ رحمن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ کیونکہ جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے وہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے ‘ ان بلند ترین آسمانوں کو ‘ کیونکہ یہ قرآن بھی اسی طرح ایک تکوینی مظہر ہے جس طرح زمین و آسمان مظاہر کو نیہ ہیں۔ یہ بھی عالم بالا سے اترا ہے۔ یہاں قرآن مجید ان قوانین قدرت کو جو اس کائنات میں کار فرما ہیں اور ان قوانین کو جو اس قرآن میں ضبط کیے گئے ہیں یکجا کر کے بیان کرتا ہے۔ آسمانوں کا پر تو زمین پر پڑتا ہے اور اس طرح قرآن بھی ملاء اعلیٰ سے زمین کی طرف آتا ہے۔
جس ذات نے ملا اعلیٰ کی طرف سے یہ قرآن نازل کیا ہے اور جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے وہ کون ہے ؟ رحمن ہے اور رحمن جو نہایت ہی مہربان ہوتا ہے ‘ اس کی جانب سے اترا ہوا قرآن کبھی بھی باعث مشقت اور مصیبت نہیں ہوسکتا۔ قرآن اور رحمن دونوں میں صفت رحمت قدر مشرک ہے۔ اور یہ رحمت ہی ہے جس نے اس پوری کائنات کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
طه 20:2
سورة طہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنی (1 : 8) ” “۔
نہایت ہی نرم و نازک اور تروتازہ آغاز ہے ‘ حروف مقطعات طا۔ ہا۔ اشارہ یہی ہے کہ یہ وپری سورة ایسے ہی حروف مقطعات سے مرکب ہے۔ جس طرح یہ قرآن ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جیسا کہ دوسری سورتوں کے آغاز میں بھی یہی اشارہ ان حروف کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ یہاں جو دو حروف چنے گئے ہیں ان میں ایک مزید یہ اشارہ بھی پیش نظر ہے کہ انکے تلفظ کے آخر میں الف مقصورہ آتا ہے جس طرح اس پوری سورة میں فواصل الف مقصورہ پر ختم ہوتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر آتا ہے ‘ جس طرح پورے قرآن میں جس سورة کا آغازحروف مقطعات سے ہوتا ہے ‘ ان کے بعد متصلاً قرآن کریم کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں حضور اکرم ﷺ کو خطاب کی شکل میں تبصرہ ہے قرآن مجید اور اس کی دعوت پر کہ یہ مصیبت نہیں ہے۔
مآ انزلنا۔۔۔۔ لتشقی (02 : 2) ” ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں پڑ جائو “ یعنی یہ قرآن آپ پر نازل ہوا کہ آپ اس کی تبلیغ کریں ‘ اس کی وجہ سے تم پر کوئی مصیبت نہ آئے گی۔ یہ نہیں کہ اس کی تلاوت میں آپکو تکلیف ہو ‘ یہ نہیں کہ اس پر عمل میں آپ کو کوئی مشقت ہو ‘ یہ تو یاد دہانی اور نصیحت آموزی کے لئے آسان کردیا گیا ہے۔ اس کے اندر جو احکام دیئے گئے ہیں وہ انسانی طاقت کی حدد کے اندر اندر ہیں۔ یہ نعمت خداوندی ہے ‘ مصیبت و عذاب خداوندی نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ تو عالم بالا سے انسان کا رابطہ ہوتا ہے اور انسان کو عالم بالا کی تائید حاصل ہوتی ہے اور وہ قوت و اطمینان حاصل کرتا ہے۔ اللہ کی رضا مندی کا شعور ‘ اللہ کے ساتھ انس و محبت کا شعور ‘ اور اللہ کے ساتھ صلے اور رابطے کا شعور اس سے حاصل ہوتا ہے۔
یہ قرآن اس لئے بھی نازل نہیں ہوا کہ اگر لوگ اسے نہیں مانتے تو آپ پر یشان ہوں کیونکہ یہ آپ کے فرائض میں نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ نہ اس لئے نازل ہوا ہے کہ آپ ان لوگوں کے عدم ایمان کی وجہ سے دل کو حسرتوں کا خزانہ بنادیں۔ یہ تو صرف اس لیے ہے کہ آپ نصیحت کرتے چلے جائیں اور لوگوں کو انجام بد سے ڈراتے چلے جائیں۔
الا تذکرۃ المن یخشی (02 : 3) ” یہ تو ایک یاد دہانی ہے ‘ ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ جو شخص ڈرتا ہے ‘ جب اسے نصیحت کی جائے تو وہ اثر قبول کرتا ہے ‘ اللہ سے ڈرتا ہے اور اللہ سے معافی طلب کرتا ہے بس یہاں تک رسول اور داعی کے فرائض پورے ہوجاتے ہیں۔ رسولوں اور داعیوں کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کو لگے ہوئے تالے کھول دیں یا لوگوں کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوں۔ یہ کام تو اللہ کا ہے جس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس پوری کائنات کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے ‘ اس پر محیط ہی اور اس کو دلوں کے خفیہ ارادے اور راز تک معلوم ہیں۔
تنیزلا ممن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما تحتا الثری (6) (02 : 4 تا 6) ” نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو۔ وہ رحمن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ کیونکہ جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے وہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے ‘ ان بلند ترین آسمانوں کو ‘ کیونکہ یہ قرآن بھی اسی طرح ایک تکوینی مظہر ہے جس طرح زمین و آسمان مظاہر کو نیہ ہیں۔ یہ بھی عالم بالا سے اترا ہے۔ یہاں قرآن مجید ان قوانین قدرت کو جو اس کائنات میں کار فرما ہیں اور ان قوانین کو جو اس قرآن میں ضبط کیے گئے ہیں یکجا کر کے بیان کرتا ہے۔ آسمانوں کا پر تو زمین پر پڑتا ہے اور اس طرح قرآن بھی ملاء اعلیٰ سے زمین کی طرف آتا ہے۔
جس ذات نے ملا اعلیٰ کی طرف سے یہ قرآن نازل کیا ہے اور جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے وہ کون ہے ؟ رحمن ہے اور رحمن جو نہایت ہی مہربان ہوتا ہے ‘ اس کی جانب سے اترا ہوا قرآن کبھی بھی باعث مشقت اور مصیبت نہیں ہوسکتا۔ قرآن اور رحمن دونوں میں صفت رحمت قدر مشرک ہے۔ اور یہ رحمت ہی ہے جس نے اس پوری کائنات کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
طه 20:3
سورة طہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنی (1 : 8) ” “۔
نہایت ہی نرم و نازک اور تروتازہ آغاز ہے ‘ حروف مقطعات طا۔ ہا۔ اشارہ یہی ہے کہ یہ وپری سورة ایسے ہی حروف مقطعات سے مرکب ہے۔ جس طرح یہ قرآن ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جیسا کہ دوسری سورتوں کے آغاز میں بھی یہی اشارہ ان حروف کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ یہاں جو دو حروف چنے گئے ہیں ان میں ایک مزید یہ اشارہ بھی پیش نظر ہے کہ انکے تلفظ کے آخر میں الف مقصورہ آتا ہے جس طرح اس پوری سورة میں فواصل الف مقصورہ پر ختم ہوتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر آتا ہے ‘ جس طرح پورے قرآن میں جس سورة کا آغازحروف مقطعات سے ہوتا ہے ‘ ان کے بعد متصلاً قرآن کریم کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں حضور اکرم ﷺ کو خطاب کی شکل میں تبصرہ ہے قرآن مجید اور اس کی دعوت پر کہ یہ مصیبت نہیں ہے۔
مآ انزلنا۔۔۔۔ لتشقی (02 : 2) ” ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں پڑ جائو “ یعنی یہ قرآن آپ پر نازل ہوا کہ آپ اس کی تبلیغ کریں ‘ اس کی وجہ سے تم پر کوئی مصیبت نہ آئے گی۔ یہ نہیں کہ اس کی تلاوت میں آپکو تکلیف ہو ‘ یہ نہیں کہ اس پر عمل میں آپ کو کوئی مشقت ہو ‘ یہ تو یاد دہانی اور نصیحت آموزی کے لئے آسان کردیا گیا ہے۔ اس کے اندر جو احکام دیئے گئے ہیں وہ انسانی طاقت کی حدد کے اندر اندر ہیں۔ یہ نعمت خداوندی ہے ‘ مصیبت و عذاب خداوندی نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ تو عالم بالا سے انسان کا رابطہ ہوتا ہے اور انسان کو عالم بالا کی تائید حاصل ہوتی ہے اور وہ قوت و اطمینان حاصل کرتا ہے۔ اللہ کی رضا مندی کا شعور ‘ اللہ کے ساتھ انس و محبت کا شعور ‘ اور اللہ کے ساتھ صلے اور رابطے کا شعور اس سے حاصل ہوتا ہے۔
یہ قرآن اس لئے بھی نازل نہیں ہوا کہ اگر لوگ اسے نہیں مانتے تو آپ پر یشان ہوں کیونکہ یہ آپ کے فرائض میں نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ نہ اس لئے نازل ہوا ہے کہ آپ ان لوگوں کے عدم ایمان کی وجہ سے دل کو حسرتوں کا خزانہ بنادیں۔ یہ تو صرف اس لیے ہے کہ آپ نصیحت کرتے چلے جائیں اور لوگوں کو انجام بد سے ڈراتے چلے جائیں۔
الا تذکرۃ المن یخشی (02 : 3) ” یہ تو ایک یاد دہانی ہے ‘ ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ جو شخص ڈرتا ہے ‘ جب اسے نصیحت کی جائے تو وہ اثر قبول کرتا ہے ‘ اللہ سے ڈرتا ہے اور اللہ سے معافی طلب کرتا ہے بس یہاں تک رسول اور داعی کے فرائض پورے ہوجاتے ہیں۔ رسولوں اور داعیوں کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کو لگے ہوئے تالے کھول دیں یا لوگوں کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوں۔ یہ کام تو اللہ کا ہے جس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس پوری کائنات کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے ‘ اس پر محیط ہی اور اس کو دلوں کے خفیہ ارادے اور راز تک معلوم ہیں۔
تنیزلا ممن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما تحتا الثری (6) (02 : 4 تا 6) ” نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو۔ وہ رحمن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ کیونکہ جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے وہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے ‘ ان بلند ترین آسمانوں کو ‘ کیونکہ یہ قرآن بھی اسی طرح ایک تکوینی مظہر ہے جس طرح زمین و آسمان مظاہر کو نیہ ہیں۔ یہ بھی عالم بالا سے اترا ہے۔ یہاں قرآن مجید ان قوانین قدرت کو جو اس کائنات میں کار فرما ہیں اور ان قوانین کو جو اس قرآن میں ضبط کیے گئے ہیں یکجا کر کے بیان کرتا ہے۔ آسمانوں کا پر تو زمین پر پڑتا ہے اور اس طرح قرآن بھی ملاء اعلیٰ سے زمین کی طرف آتا ہے۔
جس ذات نے ملا اعلیٰ کی طرف سے یہ قرآن نازل کیا ہے اور جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے وہ کون ہے ؟ رحمن ہے اور رحمن جو نہایت ہی مہربان ہوتا ہے ‘ اس کی جانب سے اترا ہوا قرآن کبھی بھی باعث مشقت اور مصیبت نہیں ہوسکتا۔ قرآن اور رحمن دونوں میں صفت رحمت قدر مشرک ہے۔ اور یہ رحمت ہی ہے جس نے اس پوری کائنات کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
طه 20:4
سورة طہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنی (1 : 8) ” “۔
نہایت ہی نرم و نازک اور تروتازہ آغاز ہے ‘ حروف مقطعات طا۔ ہا۔ اشارہ یہی ہے کہ یہ وپری سورة ایسے ہی حروف مقطعات سے مرکب ہے۔ جس طرح یہ قرآن ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جیسا کہ دوسری سورتوں کے آغاز میں بھی یہی اشارہ ان حروف کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ یہاں جو دو حروف چنے گئے ہیں ان میں ایک مزید یہ اشارہ بھی پیش نظر ہے کہ انکے تلفظ کے آخر میں الف مقصورہ آتا ہے جس طرح اس پوری سورة میں فواصل الف مقصورہ پر ختم ہوتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر آتا ہے ‘ جس طرح پورے قرآن میں جس سورة کا آغازحروف مقطعات سے ہوتا ہے ‘ ان کے بعد متصلاً قرآن کریم کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں حضور اکرم ﷺ کو خطاب کی شکل میں تبصرہ ہے قرآن مجید اور اس کی دعوت پر کہ یہ مصیبت نہیں ہے۔
مآ انزلنا۔۔۔۔ لتشقی (02 : 2) ” ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں پڑ جائو “ یعنی یہ قرآن آپ پر نازل ہوا کہ آپ اس کی تبلیغ کریں ‘ اس کی وجہ سے تم پر کوئی مصیبت نہ آئے گی۔ یہ نہیں کہ اس کی تلاوت میں آپکو تکلیف ہو ‘ یہ نہیں کہ اس پر عمل میں آپ کو کوئی مشقت ہو ‘ یہ تو یاد دہانی اور نصیحت آموزی کے لئے آسان کردیا گیا ہے۔ اس کے اندر جو احکام دیئے گئے ہیں وہ انسانی طاقت کی حدد کے اندر اندر ہیں۔ یہ نعمت خداوندی ہے ‘ مصیبت و عذاب خداوندی نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ تو عالم بالا سے انسان کا رابطہ ہوتا ہے اور انسان کو عالم بالا کی تائید حاصل ہوتی ہے اور وہ قوت و اطمینان حاصل کرتا ہے۔ اللہ کی رضا مندی کا شعور ‘ اللہ کے ساتھ انس و محبت کا شعور ‘ اور اللہ کے ساتھ صلے اور رابطے کا شعور اس سے حاصل ہوتا ہے۔
یہ قرآن اس لئے بھی نازل نہیں ہوا کہ اگر لوگ اسے نہیں مانتے تو آپ پر یشان ہوں کیونکہ یہ آپ کے فرائض میں نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ نہ اس لئے نازل ہوا ہے کہ آپ ان لوگوں کے عدم ایمان کی وجہ سے دل کو حسرتوں کا خزانہ بنادیں۔ یہ تو صرف اس لیے ہے کہ آپ نصیحت کرتے چلے جائیں اور لوگوں کو انجام بد سے ڈراتے چلے جائیں۔
الا تذکرۃ المن یخشی (02 : 3) ” یہ تو ایک یاد دہانی ہے ‘ ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ جو شخص ڈرتا ہے ‘ جب اسے نصیحت کی جائے تو وہ اثر قبول کرتا ہے ‘ اللہ سے ڈرتا ہے اور اللہ سے معافی طلب کرتا ہے بس یہاں تک رسول اور داعی کے فرائض پورے ہوجاتے ہیں۔ رسولوں اور داعیوں کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کو لگے ہوئے تالے کھول دیں یا لوگوں کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوں۔ یہ کام تو اللہ کا ہے جس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس پوری کائنات کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے ‘ اس پر محیط ہی اور اس کو دلوں کے خفیہ ارادے اور راز تک معلوم ہیں۔
تنیزلا ممن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما تحتا الثری (6) (02 : 4 تا 6) ” نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو۔ وہ رحمن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ کیونکہ جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے وہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے ‘ ان بلند ترین آسمانوں کو ‘ کیونکہ یہ قرآن بھی اسی طرح ایک تکوینی مظہر ہے جس طرح زمین و آسمان مظاہر کو نیہ ہیں۔ یہ بھی عالم بالا سے اترا ہے۔ یہاں قرآن مجید ان قوانین قدرت کو جو اس کائنات میں کار فرما ہیں اور ان قوانین کو جو اس قرآن میں ضبط کیے گئے ہیں یکجا کر کے بیان کرتا ہے۔ آسمانوں کا پر تو زمین پر پڑتا ہے اور اس طرح قرآن بھی ملاء اعلیٰ سے زمین کی طرف آتا ہے۔
جس ذات نے ملا اعلیٰ کی طرف سے یہ قرآن نازل کیا ہے اور جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے وہ کون ہے ؟ رحمن ہے اور رحمن جو نہایت ہی مہربان ہوتا ہے ‘ اس کی جانب سے اترا ہوا قرآن کبھی بھی باعث مشقت اور مصیبت نہیں ہوسکتا۔ قرآن اور رحمن دونوں میں صفت رحمت قدر مشرک ہے۔ اور یہ رحمت ہی ہے جس نے اس پوری کائنات کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
طه 20:5
الرحمن علی العرش استوی (02 : 5) ” رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے “۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔ لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ‘ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔
اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (02 : 6) ” وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی ضرورت کا تصور اس سے عظیم تر ہے۔ زمین اور آسمانوں اور مٹی کے نیچے کا ذکر محض اس لئے کیا گیا ہے کہ عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں کہ اللہ کی گرفت میں جو کائنات ہے اس کی وسعت کا ادراک آہستہ آہستہ وسیع ہو رہا ہے اور بہت بڑا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو یہ خطاب اس لیے کیا جارہا ہے کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے اور وہ یہ سمجھ لیں کہ رب ان کے ساتھ ہے۔ رب تعالیٰ ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا کہ وہ تکالیف منصب نبوت کی وجہ سے مشقت میں پڑجائیں۔ کافروں کا مقابلہ آپ بلا سند نہیں کررہے ‘ اگر آپ اللہ کو جہراً پکاریں تو بھی حرج نہیں لیکن اللہ سراً اور جہراً دونوں پکارنے والوں کو جانتا ہے۔ انسانی دل و دماغ اور شعور میں جب یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اللہ اس کے قریب ہے ‘ اور اس کی دلی دنیا سے بھی واقف ہے تو انسان مطمئن ہوجاتا ہے اور راضی برضا ہوتا ہے۔ پھر وہ اس قرآن کو پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ جھٹلا نے ولے مخالفوں کے درمیان تنہائی محسوس نہیں کرتا اور وہ مخالفین کے درمیان اپنے آپ کو یکہ و تنہا بھی محسوس نہیں کرتا۔
یہ ابتدائی آیات ‘ جو تمہیدی بھی ہیں ‘ اس اعلان پر ختم ہوتی ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور کائنات اس کے کنٹرول میں ہے۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے اور اس کائنات کے بارے میں پوری پوری خبرداری اسے حاصل ہے۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ قصہ نمونہ ہے اس بات کا کہ اللہ اپنے داعیوں کی حفاظت اور حمایت کس طرح کرتا ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے جو قصص قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں ‘ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان سب کے مقابلے میں قرآن مجید کے اندر زیادہ جگہ لیتا ہے۔ اس قصے کی مختلف کڑیاں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں آتی ہیں۔ ان کڑیوں کا انتخاب ہر سورة کے مضمون اور موضوع کی مناسبت سے کیا جاتا ہے اور اس کا انداز بیان بھی اسی رنگ میں ہوتا ہے جس رنگ میں پوری سورة کا انداز بیان ہوتا ہے۔ اس سے قبل اس قصے کی کچھ کڑیاں ‘ سورة بقرہ ‘ سورة مائدہ ‘ سورة اعراف ‘ سورة یونس ‘ سورة اسرائ ‘ سورة کہف میں آچکی ہیں اور دوسری سورتوں میں بھی اس قصے کی طرف اشارات موجود ہیں۔
مائدہ میں جو کچھ آیا وہ صرف ایک کڑی ہے یعنی یہ کڑی کہ بنی اسرائیل جب بیت المقدس میں آئے تو یہ لوگ شہر کے باہر کھڑے ہوگئے اور شہر کے اندر داخل ہونے سے رک گئے ‘ اس لئے کہ اس شہر میں ایک جبار قوم رہتی ہے۔ سورة کہف میں بھی اس کی ایک ہی کڑی ہے ‘ یعنی حضرت موسیٰ اور عبد صالح کے ساتھ ان کی ملاقات اور مختصر صحبت۔
بقرہ ‘ اعراف ‘ یونس اور طہ میں قصہ موسیٰ و فرعون کی گئی کڑیاں آئی ہیں لیکن ان میں سے بھی مختلف سورتوں میں آنے والی کڑیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جس طرح اس قصے کی کڑیاں مختلف ہیں۔ اسی طرح مختلف سورتوں میں ان کڑیوں کے مختلف پہلو موقع و مناسبت سے مختلف دیئے گئے ہیں اور انداز بیان بھی مختلف ہے۔
سورة بقرہ میں جب یہ قصہ آیا تو اس سے قبل قصہ آدم و ابلیس تھا اور اس میں آدم (علیہ السلام) کو عالم بالا میں اعزاز بخشا گیا تھا۔ آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی سپرد کی گئی تھی اور آدم کو معاف کر کے ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہوا تھا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان ہوئے ‘ یہ یاد دلانے کے لئے کہ اے بنی اسرائیل ذرا غور کرو تم پر اللہ نے کیسی کیسی مہربانیاں کیں۔ تمہارے ساتھ عہد کیا ‘ تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی۔ تمہیں صحرا میں پانی پلایا اور تمہارے لئے پتھروں سے چشمے نکالے ‘ تمہیں صحرا میں من وسلوی کی شکل میں کھانا فراہم کیا۔ پھر موسٰی (علیہ السلام) کی ہمارے ساتھ ملاقات اور ہم کلامی کا وقت آیا اور پیچھے سے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی لیکن اللہ نے تمہیں پھر بھی معاف کردیا۔ پہاڑ کے نیچے تم سے عہد لیا۔ پھر سبت کے معاملے میں تم نے حد سے تجاوز کیا۔ اور پھر گائے کے ذبح کرنے کا قصہ تو عجیب تر ہے۔
اعراف میں اس قصے سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مکذبین پر اللہ کا عذاب حضرت موسیٰ سے قبل کیسے کیسے آیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کا قصہ آیا۔ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی تقریب ہے۔ اس کے بعد معجزات عصا ’‘ ید بیضا ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جو میں اور مینڈک اور خون ‘ اور اس کے بعد جادو گروں کے ساتھ مقابلہ ‘ اور فرعون کا بھی اسی طرح خاتمہ جس طرح پہلے کے مکذبین کا ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ واقعہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں انہوں نے پچھڑے کو خدا بنا لیا۔ اس کے بعد اس قصے کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کی وراثت ان لوگوں کے لئے ہے جو نبی امی پر ایمان لے آئیں۔
سورة یونس میں جہاں یہ قصہ آیا ہے ‘ اس میں اس سے قبل ان اقوام کا ذکر ہے جو ہلاک کی گئیں۔ یہاں حضرت موسیٰ ﷺ کی رسالت کی کڑی ‘ جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی کڑی اور فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کی کڑی بالتفصیل لائی گئی ہے۔
ہاں سورة طہ میں سورة کا آغاز ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ اللہ جن لوگوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے ان پر اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور وہ اللہ کی پناہ میں ہوتے ہیں اور ان پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ چناچہ قصے کا آغاز اس منظر سے ہوتا جس میں حضرت موسیٰ طور پر رب ذوالجلال سے ہم کلام ہیں ‘ اس کے بعد اس میں وہ مناظرآتے ہیں جن میں صاف نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ اللہ کی پناہ میں ہیں اور تائید ایز دی ان کی پشت پر ہے ۔ بچپن میں میں ہی رحمت ان کے شامل حال رہی اور ان کی پرورش اور نگرانی ہوتی رہی۔
والقیت۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عینی (02 : 93) ” اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالاجائے “۔
وھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (9 : 01) ” اور تمہیں کچھ موسیٰ ؐ کی خبر بھی پہنچی ہے ؟ جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ ” ذرا ٹھہرو ‘ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں ‘ یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق ) کوئی رہنمائی مل جائے ؟ “
کیا تمہیں موسیٰ ؐ کی کہانی معلوم ہے۔ اس کہانی سے یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ اللہ جن لوگوں کو منصب رسالت عطا کرتا ہے وہ ان لوگوں کو اپنی خاص پناہ میں رکھتا ہے اور ان کو بروقت ہدایت دیتارہتا ہے۔
طه 20:6
الرحمن علی العرش استوی (02 : 5) ” رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے “۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔ لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ‘ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔
اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (02 : 6) ” وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی ضرورت کا تصور اس سے عظیم تر ہے۔ زمین اور آسمانوں اور مٹی کے نیچے کا ذکر محض اس لئے کیا گیا ہے کہ عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں کہ اللہ کی گرفت میں جو کائنات ہے اس کی وسعت کا ادراک آہستہ آہستہ وسیع ہو رہا ہے اور بہت بڑا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو یہ خطاب اس لیے کیا جارہا ہے کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے اور وہ یہ سمجھ لیں کہ رب ان کے ساتھ ہے۔ رب تعالیٰ ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا کہ وہ تکالیف منصب نبوت کی وجہ سے مشقت میں پڑجائیں۔ کافروں کا مقابلہ آپ بلا سند نہیں کررہے ‘ اگر آپ اللہ کو جہراً پکاریں تو بھی حرج نہیں لیکن اللہ سراً اور جہراً دونوں پکارنے والوں کو جانتا ہے۔ انسانی دل و دماغ اور شعور میں جب یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اللہ اس کے قریب ہے ‘ اور اس کی دلی دنیا سے بھی واقف ہے تو انسان مطمئن ہوجاتا ہے اور راضی برضا ہوتا ہے۔ پھر وہ اس قرآن کو پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ جھٹلا نے ولے مخالفوں کے درمیان تنہائی محسوس نہیں کرتا اور وہ مخالفین کے درمیان اپنے آپ کو یکہ و تنہا بھی محسوس نہیں کرتا۔
یہ ابتدائی آیات ‘ جو تمہیدی بھی ہیں ‘ اس اعلان پر ختم ہوتی ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور کائنات اس کے کنٹرول میں ہے۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے اور اس کائنات کے بارے میں پوری پوری خبرداری اسے حاصل ہے۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ قصہ نمونہ ہے اس بات کا کہ اللہ اپنے داعیوں کی حفاظت اور حمایت کس طرح کرتا ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے جو قصص قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں ‘ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان سب کے مقابلے میں قرآن مجید کے اندر زیادہ جگہ لیتا ہے۔ اس قصے کی مختلف کڑیاں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں آتی ہیں۔ ان کڑیوں کا انتخاب ہر سورة کے مضمون اور موضوع کی مناسبت سے کیا جاتا ہے اور اس کا انداز بیان بھی اسی رنگ میں ہوتا ہے جس رنگ میں پوری سورة کا انداز بیان ہوتا ہے۔ اس سے قبل اس قصے کی کچھ کڑیاں ‘ سورة بقرہ ‘ سورة مائدہ ‘ سورة اعراف ‘ سورة یونس ‘ سورة اسرائ ‘ سورة کہف میں آچکی ہیں اور دوسری سورتوں میں بھی اس قصے کی طرف اشارات موجود ہیں۔
مائدہ میں جو کچھ آیا وہ صرف ایک کڑی ہے یعنی یہ کڑی کہ بنی اسرائیل جب بیت المقدس میں آئے تو یہ لوگ شہر کے باہر کھڑے ہوگئے اور شہر کے اندر داخل ہونے سے رک گئے ‘ اس لئے کہ اس شہر میں ایک جبار قوم رہتی ہے۔ سورة کہف میں بھی اس کی ایک ہی کڑی ہے ‘ یعنی حضرت موسیٰ اور عبد صالح کے ساتھ ان کی ملاقات اور مختصر صحبت۔
بقرہ ‘ اعراف ‘ یونس اور طہ میں قصہ موسیٰ و فرعون کی گئی کڑیاں آئی ہیں لیکن ان میں سے بھی مختلف سورتوں میں آنے والی کڑیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جس طرح اس قصے کی کڑیاں مختلف ہیں۔ اسی طرح مختلف سورتوں میں ان کڑیوں کے مختلف پہلو موقع و مناسبت سے مختلف دیئے گئے ہیں اور انداز بیان بھی مختلف ہے۔
سورة بقرہ میں جب یہ قصہ آیا تو اس سے قبل قصہ آدم و ابلیس تھا اور اس میں آدم (علیہ السلام) کو عالم بالا میں اعزاز بخشا گیا تھا۔ آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی سپرد کی گئی تھی اور آدم کو معاف کر کے ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہوا تھا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان ہوئے ‘ یہ یاد دلانے کے لئے کہ اے بنی اسرائیل ذرا غور کرو تم پر اللہ نے کیسی کیسی مہربانیاں کیں۔ تمہارے ساتھ عہد کیا ‘ تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی۔ تمہیں صحرا میں پانی پلایا اور تمہارے لئے پتھروں سے چشمے نکالے ‘ تمہیں صحرا میں من وسلوی کی شکل میں کھانا فراہم کیا۔ پھر موسٰی (علیہ السلام) کی ہمارے ساتھ ملاقات اور ہم کلامی کا وقت آیا اور پیچھے سے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی لیکن اللہ نے تمہیں پھر بھی معاف کردیا۔ پہاڑ کے نیچے تم سے عہد لیا۔ پھر سبت کے معاملے میں تم نے حد سے تجاوز کیا۔ اور پھر گائے کے ذبح کرنے کا قصہ تو عجیب تر ہے۔
اعراف میں اس قصے سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مکذبین پر اللہ کا عذاب حضرت موسیٰ سے قبل کیسے کیسے آیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کا قصہ آیا۔ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی تقریب ہے۔ اس کے بعد معجزات عصا ’‘ ید بیضا ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جو میں اور مینڈک اور خون ‘ اور اس کے بعد جادو گروں کے ساتھ مقابلہ ‘ اور فرعون کا بھی اسی طرح خاتمہ جس طرح پہلے کے مکذبین کا ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ واقعہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں انہوں نے پچھڑے کو خدا بنا لیا۔ اس کے بعد اس قصے کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کی وراثت ان لوگوں کے لئے ہے جو نبی امی پر ایمان لے آئیں۔
سورة یونس میں جہاں یہ قصہ آیا ہے ‘ اس میں اس سے قبل ان اقوام کا ذکر ہے جو ہلاک کی گئیں۔ یہاں حضرت موسیٰ ﷺ کی رسالت کی کڑی ‘ جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی کڑی اور فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کی کڑی بالتفصیل لائی گئی ہے۔
ہاں سورة طہ میں سورة کا آغاز ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ اللہ جن لوگوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے ان پر اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور وہ اللہ کی پناہ میں ہوتے ہیں اور ان پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ چناچہ قصے کا آغاز اس منظر سے ہوتا جس میں حضرت موسیٰ طور پر رب ذوالجلال سے ہم کلام ہیں ‘ اس کے بعد اس میں وہ مناظرآتے ہیں جن میں صاف نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ اللہ کی پناہ میں ہیں اور تائید ایز دی ان کی پشت پر ہے ۔ بچپن میں میں ہی رحمت ان کے شامل حال رہی اور ان کی پرورش اور نگرانی ہوتی رہی۔
والقیت۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عینی (02 : 93) ” اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالاجائے “۔
وھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (9 : 01) ” اور تمہیں کچھ موسیٰ ؐ کی خبر بھی پہنچی ہے ؟ جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ ” ذرا ٹھہرو ‘ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں ‘ یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق ) کوئی رہنمائی مل جائے ؟ “
کیا تمہیں موسیٰ ؐ کی کہانی معلوم ہے۔ اس کہانی سے یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ اللہ جن لوگوں کو منصب رسالت عطا کرتا ہے وہ ان لوگوں کو اپنی خاص پناہ میں رکھتا ہے اور ان کو بروقت ہدایت دیتارہتا ہے۔
طه 20:7
الرحمن علی العرش استوی (02 : 5) ” رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے “۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔ لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ‘ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔
اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (02 : 6) ” وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی ضرورت کا تصور اس سے عظیم تر ہے۔ زمین اور آسمانوں اور مٹی کے نیچے کا ذکر محض اس لئے کیا گیا ہے کہ عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں کہ اللہ کی گرفت میں جو کائنات ہے اس کی وسعت کا ادراک آہستہ آہستہ وسیع ہو رہا ہے اور بہت بڑا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو یہ خطاب اس لیے کیا جارہا ہے کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے اور وہ یہ سمجھ لیں کہ رب ان کے ساتھ ہے۔ رب تعالیٰ ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا کہ وہ تکالیف منصب نبوت کی وجہ سے مشقت میں پڑجائیں۔ کافروں کا مقابلہ آپ بلا سند نہیں کررہے ‘ اگر آپ اللہ کو جہراً پکاریں تو بھی حرج نہیں لیکن اللہ سراً اور جہراً دونوں پکارنے والوں کو جانتا ہے۔ انسانی دل و دماغ اور شعور میں جب یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اللہ اس کے قریب ہے ‘ اور اس کی دلی دنیا سے بھی واقف ہے تو انسان مطمئن ہوجاتا ہے اور راضی برضا ہوتا ہے۔ پھر وہ اس قرآن کو پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ جھٹلا نے ولے مخالفوں کے درمیان تنہائی محسوس نہیں کرتا اور وہ مخالفین کے درمیان اپنے آپ کو یکہ و تنہا بھی محسوس نہیں کرتا۔
یہ ابتدائی آیات ‘ جو تمہیدی بھی ہیں ‘ اس اعلان پر ختم ہوتی ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور کائنات اس کے کنٹرول میں ہے۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے اور اس کائنات کے بارے میں پوری پوری خبرداری اسے حاصل ہے۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ قصہ نمونہ ہے اس بات کا کہ اللہ اپنے داعیوں کی حفاظت اور حمایت کس طرح کرتا ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے جو قصص قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں ‘ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان سب کے مقابلے میں قرآن مجید کے اندر زیادہ جگہ لیتا ہے۔ اس قصے کی مختلف کڑیاں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں آتی ہیں۔ ان کڑیوں کا انتخاب ہر سورة کے مضمون اور موضوع کی مناسبت سے کیا جاتا ہے اور اس کا انداز بیان بھی اسی رنگ میں ہوتا ہے جس رنگ میں پوری سورة کا انداز بیان ہوتا ہے۔ اس سے قبل اس قصے کی کچھ کڑیاں ‘ سورة بقرہ ‘ سورة مائدہ ‘ سورة اعراف ‘ سورة یونس ‘ سورة اسرائ ‘ سورة کہف میں آچکی ہیں اور دوسری سورتوں میں بھی اس قصے کی طرف اشارات موجود ہیں۔
مائدہ میں جو کچھ آیا وہ صرف ایک کڑی ہے یعنی یہ کڑی کہ بنی اسرائیل جب بیت المقدس میں آئے تو یہ لوگ شہر کے باہر کھڑے ہوگئے اور شہر کے اندر داخل ہونے سے رک گئے ‘ اس لئے کہ اس شہر میں ایک جبار قوم رہتی ہے۔ سورة کہف میں بھی اس کی ایک ہی کڑی ہے ‘ یعنی حضرت موسیٰ اور عبد صالح کے ساتھ ان کی ملاقات اور مختصر صحبت۔
بقرہ ‘ اعراف ‘ یونس اور طہ میں قصہ موسیٰ و فرعون کی گئی کڑیاں آئی ہیں لیکن ان میں سے بھی مختلف سورتوں میں آنے والی کڑیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جس طرح اس قصے کی کڑیاں مختلف ہیں۔ اسی طرح مختلف سورتوں میں ان کڑیوں کے مختلف پہلو موقع و مناسبت سے مختلف دیئے گئے ہیں اور انداز بیان بھی مختلف ہے۔
سورة بقرہ میں جب یہ قصہ آیا تو اس سے قبل قصہ آدم و ابلیس تھا اور اس میں آدم (علیہ السلام) کو عالم بالا میں اعزاز بخشا گیا تھا۔ آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی سپرد کی گئی تھی اور آدم کو معاف کر کے ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہوا تھا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان ہوئے ‘ یہ یاد دلانے کے لئے کہ اے بنی اسرائیل ذرا غور کرو تم پر اللہ نے کیسی کیسی مہربانیاں کیں۔ تمہارے ساتھ عہد کیا ‘ تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی۔ تمہیں صحرا میں پانی پلایا اور تمہارے لئے پتھروں سے چشمے نکالے ‘ تمہیں صحرا میں من وسلوی کی شکل میں کھانا فراہم کیا۔ پھر موسٰی (علیہ السلام) کی ہمارے ساتھ ملاقات اور ہم کلامی کا وقت آیا اور پیچھے سے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی لیکن اللہ نے تمہیں پھر بھی معاف کردیا۔ پہاڑ کے نیچے تم سے عہد لیا۔ پھر سبت کے معاملے میں تم نے حد سے تجاوز کیا۔ اور پھر گائے کے ذبح کرنے کا قصہ تو عجیب تر ہے۔
اعراف میں اس قصے سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مکذبین پر اللہ کا عذاب حضرت موسیٰ سے قبل کیسے کیسے آیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کا قصہ آیا۔ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی تقریب ہے۔ اس کے بعد معجزات عصا ’‘ ید بیضا ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جو میں اور مینڈک اور خون ‘ اور اس کے بعد جادو گروں کے ساتھ مقابلہ ‘ اور فرعون کا بھی اسی طرح خاتمہ جس طرح پہلے کے مکذبین کا ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ واقعہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں انہوں نے پچھڑے کو خدا بنا لیا۔ اس کے بعد اس قصے کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کی وراثت ان لوگوں کے لئے ہے جو نبی امی پر ایمان لے آئیں۔
سورة یونس میں جہاں یہ قصہ آیا ہے ‘ اس میں اس سے قبل ان اقوام کا ذکر ہے جو ہلاک کی گئیں۔ یہاں حضرت موسیٰ ﷺ کی رسالت کی کڑی ‘ جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی کڑی اور فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کی کڑی بالتفصیل لائی گئی ہے۔
ہاں سورة طہ میں سورة کا آغاز ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ اللہ جن لوگوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے ان پر اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور وہ اللہ کی پناہ میں ہوتے ہیں اور ان پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ چناچہ قصے کا آغاز اس منظر سے ہوتا جس میں حضرت موسیٰ طور پر رب ذوالجلال سے ہم کلام ہیں ‘ اس کے بعد اس میں وہ مناظرآتے ہیں جن میں صاف نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ اللہ کی پناہ میں ہیں اور تائید ایز دی ان کی پشت پر ہے ۔ بچپن میں میں ہی رحمت ان کے شامل حال رہی اور ان کی پرورش اور نگرانی ہوتی رہی۔
والقیت۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عینی (02 : 93) ” اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالاجائے “۔
وھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (9 : 01) ” اور تمہیں کچھ موسیٰ ؐ کی خبر بھی پہنچی ہے ؟ جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ ” ذرا ٹھہرو ‘ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں ‘ یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق ) کوئی رہنمائی مل جائے ؟ “
کیا تمہیں موسیٰ ؐ کی کہانی معلوم ہے۔ اس کہانی سے یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ اللہ جن لوگوں کو منصب رسالت عطا کرتا ہے وہ ان لوگوں کو اپنی خاص پناہ میں رکھتا ہے اور ان کو بروقت ہدایت دیتارہتا ہے۔
طه 20:8
الرحمن علی العرش استوی (02 : 5) ” رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے “۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔ لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ‘ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔
اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (02 : 6) ” وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی ضرورت کا تصور اس سے عظیم تر ہے۔ زمین اور آسمانوں اور مٹی کے نیچے کا ذکر محض اس لئے کیا گیا ہے کہ عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں کہ اللہ کی گرفت میں جو کائنات ہے اس کی وسعت کا ادراک آہستہ آہستہ وسیع ہو رہا ہے اور بہت بڑا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو یہ خطاب اس لیے کیا جارہا ہے کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے اور وہ یہ سمجھ لیں کہ رب ان کے ساتھ ہے۔ رب تعالیٰ ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا کہ وہ تکالیف منصب نبوت کی وجہ سے مشقت میں پڑجائیں۔ کافروں کا مقابلہ آپ بلا سند نہیں کررہے ‘ اگر آپ اللہ کو جہراً پکاریں تو بھی حرج نہیں لیکن اللہ سراً اور جہراً دونوں پکارنے والوں کو جانتا ہے۔ انسانی دل و دماغ اور شعور میں جب یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اللہ اس کے قریب ہے ‘ اور اس کی دلی دنیا سے بھی واقف ہے تو انسان مطمئن ہوجاتا ہے اور راضی برضا ہوتا ہے۔ پھر وہ اس قرآن کو پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ جھٹلا نے ولے مخالفوں کے درمیان تنہائی محسوس نہیں کرتا اور وہ مخالفین کے درمیان اپنے آپ کو یکہ و تنہا بھی محسوس نہیں کرتا۔
یہ ابتدائی آیات ‘ جو تمہیدی بھی ہیں ‘ اس اعلان پر ختم ہوتی ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور کائنات اس کے کنٹرول میں ہے۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے اور اس کائنات کے بارے میں پوری پوری خبرداری اسے حاصل ہے۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ قصہ نمونہ ہے اس بات کا کہ اللہ اپنے داعیوں کی حفاظت اور حمایت کس طرح کرتا ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے جو قصص قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں ‘ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان سب کے مقابلے میں قرآن مجید کے اندر زیادہ جگہ لیتا ہے۔ اس قصے کی مختلف کڑیاں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں آتی ہیں۔ ان کڑیوں کا انتخاب ہر سورة کے مضمون اور موضوع کی مناسبت سے کیا جاتا ہے اور اس کا انداز بیان بھی اسی رنگ میں ہوتا ہے جس رنگ میں پوری سورة کا انداز بیان ہوتا ہے۔ اس سے قبل اس قصے کی کچھ کڑیاں ‘ سورة بقرہ ‘ سورة مائدہ ‘ سورة اعراف ‘ سورة یونس ‘ سورة اسرائ ‘ سورة کہف میں آچکی ہیں اور دوسری سورتوں میں بھی اس قصے کی طرف اشارات موجود ہیں۔
مائدہ میں جو کچھ آیا وہ صرف ایک کڑی ہے یعنی یہ کڑی کہ بنی اسرائیل جب بیت المقدس میں آئے تو یہ لوگ شہر کے باہر کھڑے ہوگئے اور شہر کے اندر داخل ہونے سے رک گئے ‘ اس لئے کہ اس شہر میں ایک جبار قوم رہتی ہے۔ سورة کہف میں بھی اس کی ایک ہی کڑی ہے ‘ یعنی حضرت موسیٰ اور عبد صالح کے ساتھ ان کی ملاقات اور مختصر صحبت۔
بقرہ ‘ اعراف ‘ یونس اور طہ میں قصہ موسیٰ و فرعون کی گئی کڑیاں آئی ہیں لیکن ان میں سے بھی مختلف سورتوں میں آنے والی کڑیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جس طرح اس قصے کی کڑیاں مختلف ہیں۔ اسی طرح مختلف سورتوں میں ان کڑیوں کے مختلف پہلو موقع و مناسبت سے مختلف دیئے گئے ہیں اور انداز بیان بھی مختلف ہے۔
سورة بقرہ میں جب یہ قصہ آیا تو اس سے قبل قصہ آدم و ابلیس تھا اور اس میں آدم (علیہ السلام) کو عالم بالا میں اعزاز بخشا گیا تھا۔ آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی سپرد کی گئی تھی اور آدم کو معاف کر کے ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہوا تھا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان ہوئے ‘ یہ یاد دلانے کے لئے کہ اے بنی اسرائیل ذرا غور کرو تم پر اللہ نے کیسی کیسی مہربانیاں کیں۔ تمہارے ساتھ عہد کیا ‘ تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی۔ تمہیں صحرا میں پانی پلایا اور تمہارے لئے پتھروں سے چشمے نکالے ‘ تمہیں صحرا میں من وسلوی کی شکل میں کھانا فراہم کیا۔ پھر موسٰی (علیہ السلام) کی ہمارے ساتھ ملاقات اور ہم کلامی کا وقت آیا اور پیچھے سے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی لیکن اللہ نے تمہیں پھر بھی معاف کردیا۔ پہاڑ کے نیچے تم سے عہد لیا۔ پھر سبت کے معاملے میں تم نے حد سے تجاوز کیا۔ اور پھر گائے کے ذبح کرنے کا قصہ تو عجیب تر ہے۔
اعراف میں اس قصے سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مکذبین پر اللہ کا عذاب حضرت موسیٰ سے قبل کیسے کیسے آیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کا قصہ آیا۔ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی تقریب ہے۔ اس کے بعد معجزات عصا ’‘ ید بیضا ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جو میں اور مینڈک اور خون ‘ اور اس کے بعد جادو گروں کے ساتھ مقابلہ ‘ اور فرعون کا بھی اسی طرح خاتمہ جس طرح پہلے کے مکذبین کا ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ واقعہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں انہوں نے پچھڑے کو خدا بنا لیا۔ اس کے بعد اس قصے کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کی وراثت ان لوگوں کے لئے ہے جو نبی امی پر ایمان لے آئیں۔
سورة یونس میں جہاں یہ قصہ آیا ہے ‘ اس میں اس سے قبل ان اقوام کا ذکر ہے جو ہلاک کی گئیں۔ یہاں حضرت موسیٰ ﷺ کی رسالت کی کڑی ‘ جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی کڑی اور فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کی کڑی بالتفصیل لائی گئی ہے۔
ہاں سورة طہ میں سورة کا آغاز ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ اللہ جن لوگوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے ان پر اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور وہ اللہ کی پناہ میں ہوتے ہیں اور ان پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ چناچہ قصے کا آغاز اس منظر سے ہوتا جس میں حضرت موسیٰ طور پر رب ذوالجلال سے ہم کلام ہیں ‘ اس کے بعد اس میں وہ مناظرآتے ہیں جن میں صاف نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ اللہ کی پناہ میں ہیں اور تائید ایز دی ان کی پشت پر ہے ۔ بچپن میں میں ہی رحمت ان کے شامل حال رہی اور ان کی پرورش اور نگرانی ہوتی رہی۔
والقیت۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عینی (02 : 93) ” اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالاجائے “۔
وھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (9 : 01) ” اور تمہیں کچھ موسیٰ ؐ کی خبر بھی پہنچی ہے ؟ جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ ” ذرا ٹھہرو ‘ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں ‘ یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق ) کوئی رہنمائی مل جائے ؟ “
کیا تمہیں موسیٰ ؐ کی کہانی معلوم ہے۔ اس کہانی سے یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ اللہ جن لوگوں کو منصب رسالت عطا کرتا ہے وہ ان لوگوں کو اپنی خاص پناہ میں رکھتا ہے اور ان کو بروقت ہدایت دیتارہتا ہے۔
طه 20:9
وھل اتک حدیث موسیٰ (02 : 9) ” کیا موسیٰ ؐ کا قصہ تمہیں معلوم ہے “۔ اگر نہیں تو سنئے ‘ حضرت موسیٰ ؐ مدین سے واپسی مصر جارہے تھے۔ وہ طور کے دامن میں سفر کررہے تھے ‘ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھی اور ان کے اور اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ پوراہو گیا تھا۔ معاہدہ یہ تھا کہ حضرت شعیب اپنی بیٹیوں میں سے ایک کو انکے نکاح میں دے دے گا اگر وہ انکی آٹھ سال تک خدمت کرتا رہے یا دس سال تک۔ میعاد پوری کرنے کے بعد حضرت موسیٰ ؐ عازم مصر ہوئے تاکہ وہاں وہ اپنی بیوی کیساتھ مستقلاً زندگی گزاریں۔ مصر میں جہاں ان کی ولادت ہوئی اور جہاں ان کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل آباد ہیں ‘ فرعون کے ظلم و ستم سہ رہے ہیں اور غلامانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔
یہ کیوں واپس ہو رہے ہیں جبکہ مصر سے تو وہ خارج البلد ہوگئے تھے۔ مفرور ہوگئے تھے ‘ جب ایک بار انہوں نے دیکھا کہ ایک قبطی ان کے ہم قوم بنی اسرائیلی سے لزرہا ہے ‘ اس جھگڑے میں قبطی ان کے ہاتھوں قتل ہوگیا تھا۔ حضرت موسیٰ ؐ مصر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے جبکہ بنی اسرائیل پر انواع والوان کے مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے تھے۔ مدین میں اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) کے ہاں ان کو پناہ مل گئی جہاں انہوں نے دامادی اختیار کرلی اور ان کی ایک بیٹی سے ان کا نکاح ہوگیا۔
دست قدرت نے حضرت موسیٰ ؐ کے لئے ایک اہم رول تجویز کر رھکا تھا لیکن بظاہر وطن کی محبت اور اہل و عیال اور قوم کی کشش ان کو مجبور کررہی ہے کہ وہ مدین سے مصر کی طرف واپس ہوجائیں۔ اس دنیا میں بطور انسان ہم لوگ اسی طرح ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں ‘ جذبات ‘ میلانات اور محبتیں ہمیں ادھر ادھر گھماتی رہتی ہیں ‘ جدوجہد اور منافع ‘ مصائب اور امیدیں ‘ یہ باتیں ہمیں ادھر ادھر حرکت دیتی رہتی ہیں ‘ لیکن یہ محض ظاہری چیزیں ہیں ‘ دراصل محرک ایک خفیہ دست قدرت ہے جسے ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ دست قدرت پوشیدہ مقاصد کے لئے ہمیں حرکت دے رہا ہے۔ یہ مدبرکائنات ‘ اور عزیز اور جبار کا دست قدرت ہے جس کے پاس ہماری ڈائری ہے۔
غرض دست قدرت نے حضرت موسیٰ ؐ کو مدین سے اٹھایا۔ صحرائے سینا میں وہ راہ گم کر بیٹھے ‘ ان کی بیوی ان کے ساتھ ہے ‘ ممکن ہے کوئی خادم بھی ساتھ ہو ‘ رات کا وقت ہے ‘ اندھیری رات ہے ‘ اور صحرا وسیع ہے۔ یہ صورت حال اس آیت سے معلوم ہوتی ہے انہوں نے اہلیہ سے کہا : انی انست نارا۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (02 : 01) ” ذرا ٹھہرو ‘ میں نے ایک آگے دیکھی ہے ‘ شاید میں تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں یا اس آگ پر مجھے کوئی راہنمائی مل جائے۔ کیونکہ دیہاتی لوگ اونچی جگہ آگ جلایا کرتے ہیں تاکہ صحرا میں چلنے والے گم کردہ راہ لوگ اسے دیکھ لیں اور ان کو راستہ معلوم ہوجائے یا ان کو کھانے پینیکا سامان مل جائے یا ایسا شخص مل جائے جو انہیں سیدھی راہ بتلادے۔
حضرت موسیٰ ؐ نے ایک ٹیلے پر آگ دیکھی تو خوش ہوئے ‘ اس طرف چل دیئے تاکہ وہاں سے کوئی انگارہ لے آئیں اور اس سے آگ جلا کر رات کے وقت یہ لوگ تاپیں۔ رات سرد ہے اور صحرائوں کی راتیں تو بہت سرد ہوتی ہیں یا کوئی راہنما مل جائے یا اسے آگ کی روشنی میں راستہ دیکھا جاسکے۔
وہ گئے تو اس لئے کہ آگ کا انگارہ لے آئیں یا صحرا میں کوئی راہنمائی کرنے والا مل جائے لیکنوہاں وہ اچانک ایک عظیم الشان واقعہ سیدوچار ہوگئے۔ یہاں انہیں ایسی آگ ملی جو جسم کے تاپنے کے کام نہ آتی تھی بلکہ روح کی تپانے کے لیے کار گر تھی۔ یہ آگ صرف صحرا میں رہنمائی کے لئے مفید مطلب نہ تھی بلکہ یہآگ زندگی کے عظیم سفر کے لئے راہ دکھانے والی تھی۔
طه 20:10
وھل اتک حدیث موسیٰ (02 : 9) ” کیا موسیٰ ؐ کا قصہ تمہیں معلوم ہے “۔ اگر نہیں تو سنئے ‘ حضرت موسیٰ ؐ مدین سے واپسی مصر جارہے تھے۔ وہ طور کے دامن میں سفر کررہے تھے ‘ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھی اور ان کے اور اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ پوراہو گیا تھا۔ معاہدہ یہ تھا کہ حضرت شعیب اپنی بیٹیوں میں سے ایک کو انکے نکاح میں دے دے گا اگر وہ انکی آٹھ سال تک خدمت کرتا رہے یا دس سال تک۔ میعاد پوری کرنے کے بعد حضرت موسیٰ ؐ عازم مصر ہوئے تاکہ وہاں وہ اپنی بیوی کیساتھ مستقلاً زندگی گزاریں۔ مصر میں جہاں ان کی ولادت ہوئی اور جہاں ان کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل آباد ہیں ‘ فرعون کے ظلم و ستم سہ رہے ہیں اور غلامانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔
یہ کیوں واپس ہو رہے ہیں جبکہ مصر سے تو وہ خارج البلد ہوگئے تھے۔ مفرور ہوگئے تھے ‘ جب ایک بار انہوں نے دیکھا کہ ایک قبطی ان کے ہم قوم بنی اسرائیلی سے لزرہا ہے ‘ اس جھگڑے میں قبطی ان کے ہاتھوں قتل ہوگیا تھا۔ حضرت موسیٰ ؐ مصر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے جبکہ بنی اسرائیل پر انواع والوان کے مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے تھے۔ مدین میں اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) کے ہاں ان کو پناہ مل گئی جہاں انہوں نے دامادی اختیار کرلی اور ان کی ایک بیٹی سے ان کا نکاح ہوگیا۔
دست قدرت نے حضرت موسیٰ ؐ کے لئے ایک اہم رول تجویز کر رھکا تھا لیکن بظاہر وطن کی محبت اور اہل و عیال اور قوم کی کشش ان کو مجبور کررہی ہے کہ وہ مدین سے مصر کی طرف واپس ہوجائیں۔ اس دنیا میں بطور انسان ہم لوگ اسی طرح ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں ‘ جذبات ‘ میلانات اور محبتیں ہمیں ادھر ادھر گھماتی رہتی ہیں ‘ جدوجہد اور منافع ‘ مصائب اور امیدیں ‘ یہ باتیں ہمیں ادھر ادھر حرکت دیتی رہتی ہیں ‘ لیکن یہ محض ظاہری چیزیں ہیں ‘ دراصل محرک ایک خفیہ دست قدرت ہے جسے ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ دست قدرت پوشیدہ مقاصد کے لئے ہمیں حرکت دے رہا ہے۔ یہ مدبرکائنات ‘ اور عزیز اور جبار کا دست قدرت ہے جس کے پاس ہماری ڈائری ہے۔
غرض دست قدرت نے حضرت موسیٰ ؐ کو مدین سے اٹھایا۔ صحرائے سینا میں وہ راہ گم کر بیٹھے ‘ ان کی بیوی ان کے ساتھ ہے ‘ ممکن ہے کوئی خادم بھی ساتھ ہو ‘ رات کا وقت ہے ‘ اندھیری رات ہے ‘ اور صحرا وسیع ہے۔ یہ صورت حال اس آیت سے معلوم ہوتی ہے انہوں نے اہلیہ سے کہا : انی انست نارا۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (02 : 01) ” ذرا ٹھہرو ‘ میں نے ایک آگے دیکھی ہے ‘ شاید میں تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں یا اس آگ پر مجھے کوئی راہنمائی مل جائے۔ کیونکہ دیہاتی لوگ اونچی جگہ آگ جلایا کرتے ہیں تاکہ صحرا میں چلنے والے گم کردہ راہ لوگ اسے دیکھ لیں اور ان کو راستہ معلوم ہوجائے یا ان کو کھانے پینیکا سامان مل جائے یا ایسا شخص مل جائے جو انہیں سیدھی راہ بتلادے۔
حضرت موسیٰ ؐ نے ایک ٹیلے پر آگ دیکھی تو خوش ہوئے ‘ اس طرف چل دیئے تاکہ وہاں سے کوئی انگارہ لے آئیں اور اس سے آگ جلا کر رات کے وقت یہ لوگ تاپیں۔ رات سرد ہے اور صحرائوں کی راتیں تو بہت سرد ہوتی ہیں یا کوئی راہنما مل جائے یا اسے آگ کی روشنی میں راستہ دیکھا جاسکے۔
وہ گئے تو اس لئے کہ آگ کا انگارہ لے آئیں یا صحرا میں کوئی راہنمائی کرنے والا مل جائے لیکنوہاں وہ اچانک ایک عظیم الشان واقعہ سیدوچار ہوگئے۔ یہاں انہیں ایسی آگ ملی جو جسم کے تاپنے کے کام نہ آتی تھی بلکہ روح کی تپانے کے لیے کار گر تھی۔ یہ آگ صرف صحرا میں رہنمائی کے لئے مفید مطلب نہ تھی بلکہ یہآگ زندگی کے عظیم سفر کے لئے راہ دکھانے والی تھی۔
طه 20:11
فلمآ اتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (21 : 61) ’ اور میں نے تجھ و چن لیا ہے ‘ سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔ میں ہی اللہ ہوں ‘ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ‘ ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا “۔
انسان کا خون خشک ہوجاتا ہے اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ محض اس منظر کے تصور سے ‘ ایک غیر آباد پہاڑی پر موسیٰ اکیلے کھڑے ہیں۔ تاریک اور سیاہ رات ہے۔ ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا ‘ عجیب اور خوفناک خاموشی ہے ‘ طور کے دامن سے انہوں نے آگ دیکھی تھی ‘ وہ اس کی تلاش میں نکلے تھے ‘ لیکن ان کو ہر طرف سے پوری کائنات کی طرف سے یہ ندا آرہی ہے :
انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لما یوحی (31) (02 : 21۔ 31) ” اے موسیٰ میں تیرا رب ہوں ‘ جو تیاں اتار دے ‘ تو وادی مقدس طوی میں ہے اور میں نے تجھ کو چن لیا ہے “۔
یہ چھوٹا سا ذرہ ناچیز ‘ یہ محدود بشر لامحدود رب ذوالجلال کے سامنے کھڑا ہے ‘ جسے آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ وہ عظمت و جلال جس کے مقابلے میں یہ نظر آنے والی کائنات زیمن و آسمان سب حقیر ہیں یہ ذرہ ضعیف ‘ انسانی قوائے مدر کہ کے ساتھ ‘ ایک لامحود ذلت کے ساتھ مربوط ہوگیا ‘ اس کی آواز سن رہا ہے ‘ کس طرح ؟ اللہ کی خاص رحمت ہے ‘ ورنہ کیسے ممکن ہے۔ محدود اور لامحدود کا اتصال ؟
پوری انسانیت اب موسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں اٹھائی جارہی ہے ‘ سربلند کی جارہی ہے کہ ایک لمحے کے لئے وہ بشری شخصیت کو لئے ہوئے ہی لامحدود فیض و صول کررہی ہے۔ اس انسانیت کے لئے کیا یہ کوئی کم شرف ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کا اتصال اور رابطہ ‘ اس انداز میں ‘ رب ذوالجلال کے ساتھ ہوگیا ‘ لیکن ہم نہیں جانتے کہ کیونکر وہ گیا یہ ؟ کیونکہ انسانی قوائے مدر کہ اس حقیقت کا نہ ادراک کرسکتی ہیں اور نہ اس بارے میں کوئی فیصلہ دے سکتی ہیں۔ انسان کی قوائے مدرکہ کا بس یہ کام ہے کہ وہ حیران رہ کر اپنے قصور کا اعتراف کریں ‘ ایمان لائیں اور شہادت دیں کہ یہ حق ہے۔
فلما۔۔۔۔۔۔۔ یموسی (11) انی اناربک (21) (12 : 11۔ 21) ” جب وہاں پہنچا تو پکارا گیا اے موسیٰ ‘ میں ہی تیرا رب ہوں “۔ پکارا گیا ‘ ماضی مجہول کا صیغہ استعمال ہوا۔ کیونکہ آواز کے مصدر اور جہت کا تعین ممکن نہیں ہے۔ نہ آواز کی صورت اور کیفیت کا تعین ممکن ہے۔ نہ اس بات کا تعین ممکن ہے کہ کس طرح سنا اور کس طرح سمجھے۔ پکارا گیا جس طرح پکارا گیا اور انہوں نے سمجھا جس طرح سمجھا۔ کیونکہ یہ اتصال ان امور میں سے ہے جن پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ ایسا ہوا مگر اس کی کیفیت کے بارے میں نہیں پوچھتے کیونکہ یہ کیفیت انسانی قوت مدر کہ اور انسانی دائرہ تصور سے وراء ہے۔
انی انا۔۔۔۔۔۔۔ طوی (02 : 21) ” اے موسیٰ ‘ میں ہی تیرا رب ہوں ‘ جو تیاں اتار دے تو وادی مقدس طوی میں ہے “۔ تم بار گاہ رب العزت میں ہو ‘ اس لیے پائوں سے جوتے اتار دو تاکہ تم ننگے پائوں آئو ‘ ایک ایسی وادی میں جس پر پاکیزہ انوار کا نزول ہورہا ہے۔ اس لیے اس وادی کو اپنے جوتوں سے نہ روندو۔
طه 20:12
فلمآ اتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (21 : 61) ’ اور میں نے تجھ و چن لیا ہے ‘ سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔ میں ہی اللہ ہوں ‘ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ‘ ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا “۔
انسان کا خون خشک ہوجاتا ہے اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ محض اس منظر کے تصور سے ‘ ایک غیر آباد پہاڑی پر موسیٰ اکیلے کھڑے ہیں۔ تاریک اور سیاہ رات ہے۔ ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا ‘ عجیب اور خوفناک خاموشی ہے ‘ طور کے دامن سے انہوں نے آگ دیکھی تھی ‘ وہ اس کی تلاش میں نکلے تھے ‘ لیکن ان کو ہر طرف سے پوری کائنات کی طرف سے یہ ندا آرہی ہے :
انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لما یوحی (31) (02 : 21۔ 31) ” اے موسیٰ میں تیرا رب ہوں ‘ جو تیاں اتار دے ‘ تو وادی مقدس طوی میں ہے اور میں نے تجھ کو چن لیا ہے “۔
یہ چھوٹا سا ذرہ ناچیز ‘ یہ محدود بشر لامحدود رب ذوالجلال کے سامنے کھڑا ہے ‘ جسے آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ وہ عظمت و جلال جس کے مقابلے میں یہ نظر آنے والی کائنات زیمن و آسمان سب حقیر ہیں یہ ذرہ ضعیف ‘ انسانی قوائے مدر کہ کے ساتھ ‘ ایک لامحود ذلت کے ساتھ مربوط ہوگیا ‘ اس کی آواز سن رہا ہے ‘ کس طرح ؟ اللہ کی خاص رحمت ہے ‘ ورنہ کیسے ممکن ہے۔ محدود اور لامحدود کا اتصال ؟
پوری انسانیت اب موسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں اٹھائی جارہی ہے ‘ سربلند کی جارہی ہے کہ ایک لمحے کے لئے وہ بشری شخصیت کو لئے ہوئے ہی لامحدود فیض و صول کررہی ہے۔ اس انسانیت کے لئے کیا یہ کوئی کم شرف ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کا اتصال اور رابطہ ‘ اس انداز میں ‘ رب ذوالجلال کے ساتھ ہوگیا ‘ لیکن ہم نہیں جانتے کہ کیونکر وہ گیا یہ ؟ کیونکہ انسانی قوائے مدر کہ اس حقیقت کا نہ ادراک کرسکتی ہیں اور نہ اس بارے میں کوئی فیصلہ دے سکتی ہیں۔ انسان کی قوائے مدرکہ کا بس یہ کام ہے کہ وہ حیران رہ کر اپنے قصور کا اعتراف کریں ‘ ایمان لائیں اور شہادت دیں کہ یہ حق ہے۔
فلما۔۔۔۔۔۔۔ یموسی (11) انی اناربک (21) (12 : 11۔ 21) ” جب وہاں پہنچا تو پکارا گیا اے موسیٰ ‘ میں ہی تیرا رب ہوں “۔ پکارا گیا ‘ ماضی مجہول کا صیغہ استعمال ہوا۔ کیونکہ آواز کے مصدر اور جہت کا تعین ممکن نہیں ہے۔ نہ آواز کی صورت اور کیفیت کا تعین ممکن ہے۔ نہ اس بات کا تعین ممکن ہے کہ کس طرح سنا اور کس طرح سمجھے۔ پکارا گیا جس طرح پکارا گیا اور انہوں نے سمجھا جس طرح سمجھا۔ کیونکہ یہ اتصال ان امور میں سے ہے جن پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ ایسا ہوا مگر اس کی کیفیت کے بارے میں نہیں پوچھتے کیونکہ یہ کیفیت انسانی قوت مدر کہ اور انسانی دائرہ تصور سے وراء ہے۔
انی انا۔۔۔۔۔۔۔ طوی (02 : 21) ” اے موسیٰ ‘ میں ہی تیرا رب ہوں ‘ جو تیاں اتار دے تو وادی مقدس طوی میں ہے “۔ تم بار گاہ رب العزت میں ہو ‘ اس لیے پائوں سے جوتے اتار دو تاکہ تم ننگے پائوں آئو ‘ ایک ایسی وادی میں جس پر پاکیزہ انوار کا نزول ہورہا ہے۔ اس لیے اس وادی کو اپنے جوتوں سے نہ روندو۔
طه 20:13
وانا اخترتک (31) ” اور میں نے تجھ کو چن لیا “۔ ما شاء اللہ کیا اکرام ہے ! اللہ بذات خود انتخاب فرما رہے ہیں۔ اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو ‘ انسانوں کے ہزارہا گروہوں میں سے صرف ایک فرد کو ‘ یہ فرد اللہ کے پیدا کردہ ستاروں میں سے ایک ستارے پر رہتا ہے ‘ جو بہ نسبت پوری کائنات کے ایک ذرہ ہے۔ وہ کائنات جو صرف کن کے حکم کے نتیجے میں وجود میں آگئی لیکن یہ اس ذات باری کی ذرہ نوازی ہی تو ہے۔
اس اعزاز اور انتخاب کے بعد اور جوتے اتار کر بار گاہ رب العزت میں حاضری اور اخذ وحی کی تیاری و استعداد کے بعد حکم آتا ہے کہ اب سنو ‘ باران رحمت کا نزول ہورہا ہے۔
فاستمع لما یوحی (31) ” سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے “۔ جو پیغام دیا جارہا ہے ‘ وہ تین مربوط امور پر مشتمل ہے۔ عقیدہ توحید ‘ توجہ سے اللہ کی بندگی اور آخرت کی جوابدہی کا احساس اور اس کی تیاری۔ یہ نکات تمام رسالتوں کا نصب العین رہے ہیں جو ایک ہی نوعیت رکھتی ہیں۔
طه 20:14
اننی انا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (02 : 61) (02 : 41۔ 61) ” ‘۔
یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عنصر ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود پکار کر موسیٰ (علیہ السلام) کو جو پیغام دیا ‘ اس میں اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ ہمہ جہت تاکید۔
اننی انا اللہ میں لفظ ان تاکیدی ‘ پھر انا تاکیدی ‘ مبدا وخبر کی حصر تاکیدی ‘ پھر نفی و اثبات کی تاکیدی حصر
لا الہ الا انا (41) جس میں اللہ کی الوہیت کا اثبات اور تمام غیر اللہ کی الوہیت کی نفی ثابت کی گئی ہے۔ پھر الوہیت کے ثبوت کے بعد الہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کی تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ کی طرف توجہ کی جائے لیکن عبادات میں سے نماز کو یہاں خصوصی طور پر کیا گیا ہے۔
و اق ، الصلوۃ لذکری (41) ” میری یاد کے لئے نماز قائم کر “۔ نماز دراصل عبادت کی ایک مکمل صورت ہے اور ذکر الہٰی کا بہترین ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس کا فنکشن ہی اللہ کی یاد کو تازہ رکھنا ہے۔ اس میں انسان یاد الہٰی کے سوا تمام باتوں سے کٹ جاتا ہے۔ صرف یاد الٰہی پیش نظر رہ جاتی ہے اور کچھ دیر کے لئے انسان اللہ سے مربوط ہوجاتا ہے۔
رہی قیامت تو وہ پوری زندگی کی جوابدہی کا ایک عادلانہ وقت حساب و محاسبہ ہے۔ لوگ آخرت کی طرف جب متوجہ ہوتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اس کا خیال رکھتے ہیں اور زندگی کی پر پیچ راہوں میں ‘ ٹھوکروں اور پھسلن سے بچتے ہیں۔ قیام قیامت کی قرآن کریم میں باربار تاکید کی گئی ہے۔ بار بار کہا گیا ہے۔
ان الساعتہ اتیتہ (51) ” قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے “۔ اللہ نے اس کے قیام کے وقت اور تاریخ کو مخفی رکھا ہے۔ لہٰذا اس کے قیام کے بارے میں ہمارا علم اسی قدر ہے جس قدر اللہ نے ہمیں دیا ہے۔ اللہ نے اس کے بارے وہی کچھ علم دیا ہے جو اس کی حکمت کے مطابق ہے۔ بعض چیزوں سے لا علمی انسانی زندگی کو مناسب طریقے سے چلانے کے لئی بہت ہی اہم ہے لہٰذا اللہ نے بعض چیزوں کو جان بوجھ کر انسانوں سے مجمول رکھا تاکہ وہ حصول علم کے لئے تگ و دو کرتے رہیں۔ اگر تمام امور کے بارے میں اللہ انسان کو قبل از وقت علم دے دیتا اور انسان ایسے ہی ہوتے جس طرح کہ ان کی فطرت اس وقت ہے ‘ تو ان کی زندگی کی گاڑی رک جاتی اور زندگی جمود کا شکار ہوجاتی کیونکہ انسان کی جدوجہد ایک مجمول اور نامعلوم مستقبل کے لئے ہے۔ وہ احتیاط کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں ‘ امید رکھتے ہیں ‘ تجربے کرتے ہیں ‘ نئی نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اپنی خفیہ قوتوں کو کام میں لاتے ہیں۔ ان کے اردگرد کائنات میں پھیلی ہوئی قوتوں کے بارے میں وہ ہر وقت کھوج لگاتے ہیں اور اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں وہ نشانات الہیہ کو دریافت کرتے ہیں۔ وہ زمین میں اللہ کی مشعیت کے مطابق نئی نئی ایجادات کرتے ہیں اور ان کے دل قیام قیامت کے ساتھ اٹکے ہوتے ہیں ‘ جس کے قیام کا وقت انہیں معلوم نہیں ہے۔ یہ تصور ان کو بےراہ روی سے بچاتا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ قیامت کب آئے گی ‘ اس لیے ہر لمحہ وہ اس کے قیام کی توقع کرتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں۔ یہ تو ان لوگوں کی بات ہے جو صحیح الفطرت ہوں ‘ ان کی فطرت مستقیم ہو ‘ رہے وہ لوگ جن کی فطرت میں بگاڑ ہو ‘ جو خواہشات نفس کے بندے ہوں ‘ تو وہ غافل اور جاہل ہوجاتے ہیں ‘ ایسے لوگ زندگی کی پر پیچ راہوں میں کسی گڑھے میں گر جاتے ہیں اور ہلاک ہوجاتے ہیں۔
فلا یصدنک عنھا۔۔۔۔۔۔ ہوہ فتردی ( 02 : 61) ” پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہو تجھ کر اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے “۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی خواہشات نفس کے بندے ہوتے ہیں ‘ وہ قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ ایک صحیح الفطرت انسان تو یہی سوچتا ہے کہ اس دنیاوی زندگی میں انسان کمال تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس میں مکمل عدل کا قیام ممکن نہیں۔ اس لئے اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ضروری ہے جس میں مطلوبہ کمال حاصل کیا جاسکے۔ جس میں ہر انسان کو اس کے اعمال کے مطابق پوری پوری جزاء و سزا دی جاسکے۔
یہ تو تھی اس آسمانی پکار کی پہلی اہم بات ‘ جس کی تائید میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اردگرد پھیلی ہوئی پوری کائنات ان کے ہمرکاب تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عقیدہ توحید کی بنیادیں سکھائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچانک جس صورت حال سے دو چار ہونا پڑا ‘ ظاہر ہے کہ وہ اس موقع پر اپنی ذات اور وادی طوی میں آنے کی غرض وغایت اور اپنے پسماندگان سب کو وہ بھول گئے ہوں گے۔ وہ ہمہ تن اس نئی صورت حال کی طرف ہی متوجہ ہوں گے۔ گھبراہٹ اور خوف میں مزید کچھ سننے کے منتظر ہوں گے۔ وہ اس سوچ ہی میں گم تھے اور ان کے جسم کا ذرا ذرہ عالم بالا کی طرف متوجہ تھا کہ اچانک ان پر ایک سوال ہوتا ہے۔ ایک بہت آسان وال جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
طه 20:15
اننی انا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (02 : 61) (02 : 41۔ 61) ” ‘۔
یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عنصر ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود پکار کر موسیٰ (علیہ السلام) کو جو پیغام دیا ‘ اس میں اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ ہمہ جہت تاکید۔
اننی انا اللہ میں لفظ ان تاکیدی ‘ پھر انا تاکیدی ‘ مبدا وخبر کی حصر تاکیدی ‘ پھر نفی و اثبات کی تاکیدی حصر
لا الہ الا انا (41) جس میں اللہ کی الوہیت کا اثبات اور تمام غیر اللہ کی الوہیت کی نفی ثابت کی گئی ہے۔ پھر الوہیت کے ثبوت کے بعد الہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کی تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ کی طرف توجہ کی جائے لیکن عبادات میں سے نماز کو یہاں خصوصی طور پر کیا گیا ہے۔
و اق ، الصلوۃ لذکری (41) ” میری یاد کے لئے نماز قائم کر “۔ نماز دراصل عبادت کی ایک مکمل صورت ہے اور ذکر الہٰی کا بہترین ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس کا فنکشن ہی اللہ کی یاد کو تازہ رکھنا ہے۔ اس میں انسان یاد الہٰی کے سوا تمام باتوں سے کٹ جاتا ہے۔ صرف یاد الٰہی پیش نظر رہ جاتی ہے اور کچھ دیر کے لئے انسان اللہ سے مربوط ہوجاتا ہے۔
رہی قیامت تو وہ پوری زندگی کی جوابدہی کا ایک عادلانہ وقت حساب و محاسبہ ہے۔ لوگ آخرت کی طرف جب متوجہ ہوتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اس کا خیال رکھتے ہیں اور زندگی کی پر پیچ راہوں میں ‘ ٹھوکروں اور پھسلن سے بچتے ہیں۔ قیام قیامت کی قرآن کریم میں باربار تاکید کی گئی ہے۔ بار بار کہا گیا ہے۔
ان الساعتہ اتیتہ (51) ” قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے “۔ اللہ نے اس کے قیام کے وقت اور تاریخ کو مخفی رکھا ہے۔ لہٰذا اس کے قیام کے بارے میں ہمارا علم اسی قدر ہے جس قدر اللہ نے ہمیں دیا ہے۔ اللہ نے اس کے بارے وہی کچھ علم دیا ہے جو اس کی حکمت کے مطابق ہے۔ بعض چیزوں سے لا علمی انسانی زندگی کو مناسب طریقے سے چلانے کے لئی بہت ہی اہم ہے لہٰذا اللہ نے بعض چیزوں کو جان بوجھ کر انسانوں سے مجمول رکھا تاکہ وہ حصول علم کے لئے تگ و دو کرتے رہیں۔ اگر تمام امور کے بارے میں اللہ انسان کو قبل از وقت علم دے دیتا اور انسان ایسے ہی ہوتے جس طرح کہ ان کی فطرت اس وقت ہے ‘ تو ان کی زندگی کی گاڑی رک جاتی اور زندگی جمود کا شکار ہوجاتی کیونکہ انسان کی جدوجہد ایک مجمول اور نامعلوم مستقبل کے لئے ہے۔ وہ احتیاط کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں ‘ امید رکھتے ہیں ‘ تجربے کرتے ہیں ‘ نئی نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اپنی خفیہ قوتوں کو کام میں لاتے ہیں۔ ان کے اردگرد کائنات میں پھیلی ہوئی قوتوں کے بارے میں وہ ہر وقت کھوج لگاتے ہیں اور اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں وہ نشانات الہیہ کو دریافت کرتے ہیں۔ وہ زمین میں اللہ کی مشعیت کے مطابق نئی نئی ایجادات کرتے ہیں اور ان کے دل قیام قیامت کے ساتھ اٹکے ہوتے ہیں ‘ جس کے قیام کا وقت انہیں معلوم نہیں ہے۔ یہ تصور ان کو بےراہ روی سے بچاتا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ قیامت کب آئے گی ‘ اس لیے ہر لمحہ وہ اس کے قیام کی توقع کرتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں۔ یہ تو ان لوگوں کی بات ہے جو صحیح الفطرت ہوں ‘ ان کی فطرت مستقیم ہو ‘ رہے وہ لوگ جن کی فطرت میں بگاڑ ہو ‘ جو خواہشات نفس کے بندے ہوں ‘ تو وہ غافل اور جاہل ہوجاتے ہیں ‘ ایسے لوگ زندگی کی پر پیچ راہوں میں کسی گڑھے میں گر جاتے ہیں اور ہلاک ہوجاتے ہیں۔
فلا یصدنک عنھا۔۔۔۔۔۔ ہوہ فتردی ( 02 : 61) ” پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہو تجھ کر اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے “۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی خواہشات نفس کے بندے ہوتے ہیں ‘ وہ قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ ایک صحیح الفطرت انسان تو یہی سوچتا ہے کہ اس دنیاوی زندگی میں انسان کمال تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس میں مکمل عدل کا قیام ممکن نہیں۔ اس لئے اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ضروری ہے جس میں مطلوبہ کمال حاصل کیا جاسکے۔ جس میں ہر انسان کو اس کے اعمال کے مطابق پوری پوری جزاء و سزا دی جاسکے۔
یہ تو تھی اس آسمانی پکار کی پہلی اہم بات ‘ جس کی تائید میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اردگرد پھیلی ہوئی پوری کائنات ان کے ہمرکاب تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عقیدہ توحید کی بنیادیں سکھائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچانک جس صورت حال سے دو چار ہونا پڑا ‘ ظاہر ہے کہ وہ اس موقع پر اپنی ذات اور وادی طوی میں آنے کی غرض وغایت اور اپنے پسماندگان سب کو وہ بھول گئے ہوں گے۔ وہ ہمہ تن اس نئی صورت حال کی طرف ہی متوجہ ہوں گے۔ گھبراہٹ اور خوف میں مزید کچھ سننے کے منتظر ہوں گے۔ وہ اس سوچ ہی میں گم تھے اور ان کے جسم کا ذرا ذرہ عالم بالا کی طرف متوجہ تھا کہ اچانک ان پر ایک سوال ہوتا ہے۔ ایک بہت آسان وال جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
طه 20:16
اننی انا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (02 : 61) (02 : 41۔ 61) ” ‘۔
یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عنصر ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود پکار کر موسیٰ (علیہ السلام) کو جو پیغام دیا ‘ اس میں اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ ہمہ جہت تاکید۔
اننی انا اللہ میں لفظ ان تاکیدی ‘ پھر انا تاکیدی ‘ مبدا وخبر کی حصر تاکیدی ‘ پھر نفی و اثبات کی تاکیدی حصر
لا الہ الا انا (41) جس میں اللہ کی الوہیت کا اثبات اور تمام غیر اللہ کی الوہیت کی نفی ثابت کی گئی ہے۔ پھر الوہیت کے ثبوت کے بعد الہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کی تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ کی طرف توجہ کی جائے لیکن عبادات میں سے نماز کو یہاں خصوصی طور پر کیا گیا ہے۔
و اق ، الصلوۃ لذکری (41) ” میری یاد کے لئے نماز قائم کر “۔ نماز دراصل عبادت کی ایک مکمل صورت ہے اور ذکر الہٰی کا بہترین ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس کا فنکشن ہی اللہ کی یاد کو تازہ رکھنا ہے۔ اس میں انسان یاد الہٰی کے سوا تمام باتوں سے کٹ جاتا ہے۔ صرف یاد الٰہی پیش نظر رہ جاتی ہے اور کچھ دیر کے لئے انسان اللہ سے مربوط ہوجاتا ہے۔
رہی قیامت تو وہ پوری زندگی کی جوابدہی کا ایک عادلانہ وقت حساب و محاسبہ ہے۔ لوگ آخرت کی طرف جب متوجہ ہوتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اس کا خیال رکھتے ہیں اور زندگی کی پر پیچ راہوں میں ‘ ٹھوکروں اور پھسلن سے بچتے ہیں۔ قیام قیامت کی قرآن کریم میں باربار تاکید کی گئی ہے۔ بار بار کہا گیا ہے۔
ان الساعتہ اتیتہ (51) ” قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے “۔ اللہ نے اس کے قیام کے وقت اور تاریخ کو مخفی رکھا ہے۔ لہٰذا اس کے قیام کے بارے میں ہمارا علم اسی قدر ہے جس قدر اللہ نے ہمیں دیا ہے۔ اللہ نے اس کے بارے وہی کچھ علم دیا ہے جو اس کی حکمت کے مطابق ہے۔ بعض چیزوں سے لا علمی انسانی زندگی کو مناسب طریقے سے چلانے کے لئی بہت ہی اہم ہے لہٰذا اللہ نے بعض چیزوں کو جان بوجھ کر انسانوں سے مجمول رکھا تاکہ وہ حصول علم کے لئے تگ و دو کرتے رہیں۔ اگر تمام امور کے بارے میں اللہ انسان کو قبل از وقت علم دے دیتا اور انسان ایسے ہی ہوتے جس طرح کہ ان کی فطرت اس وقت ہے ‘ تو ان کی زندگی کی گاڑی رک جاتی اور زندگی جمود کا شکار ہوجاتی کیونکہ انسان کی جدوجہد ایک مجمول اور نامعلوم مستقبل کے لئے ہے۔ وہ احتیاط کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں ‘ امید رکھتے ہیں ‘ تجربے کرتے ہیں ‘ نئی نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اپنی خفیہ قوتوں کو کام میں لاتے ہیں۔ ان کے اردگرد کائنات میں پھیلی ہوئی قوتوں کے بارے میں وہ ہر وقت کھوج لگاتے ہیں اور اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں وہ نشانات الہیہ کو دریافت کرتے ہیں۔ وہ زمین میں اللہ کی مشعیت کے مطابق نئی نئی ایجادات کرتے ہیں اور ان کے دل قیام قیامت کے ساتھ اٹکے ہوتے ہیں ‘ جس کے قیام کا وقت انہیں معلوم نہیں ہے۔ یہ تصور ان کو بےراہ روی سے بچاتا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ قیامت کب آئے گی ‘ اس لیے ہر لمحہ وہ اس کے قیام کی توقع کرتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں۔ یہ تو ان لوگوں کی بات ہے جو صحیح الفطرت ہوں ‘ ان کی فطرت مستقیم ہو ‘ رہے وہ لوگ جن کی فطرت میں بگاڑ ہو ‘ جو خواہشات نفس کے بندے ہوں ‘ تو وہ غافل اور جاہل ہوجاتے ہیں ‘ ایسے لوگ زندگی کی پر پیچ راہوں میں کسی گڑھے میں گر جاتے ہیں اور ہلاک ہوجاتے ہیں۔
فلا یصدنک عنھا۔۔۔۔۔۔ ہوہ فتردی ( 02 : 61) ” پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہو تجھ کر اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے “۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی خواہشات نفس کے بندے ہوتے ہیں ‘ وہ قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ ایک صحیح الفطرت انسان تو یہی سوچتا ہے کہ اس دنیاوی زندگی میں انسان کمال تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس میں مکمل عدل کا قیام ممکن نہیں۔ اس لئے اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ضروری ہے جس میں مطلوبہ کمال حاصل کیا جاسکے۔ جس میں ہر انسان کو اس کے اعمال کے مطابق پوری پوری جزاء و سزا دی جاسکے۔
یہ تو تھی اس آسمانی پکار کی پہلی اہم بات ‘ جس کی تائید میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اردگرد پھیلی ہوئی پوری کائنات ان کے ہمرکاب تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عقیدہ توحید کی بنیادیں سکھائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچانک جس صورت حال سے دو چار ہونا پڑا ‘ ظاہر ہے کہ وہ اس موقع پر اپنی ذات اور وادی طوی میں آنے کی غرض وغایت اور اپنے پسماندگان سب کو وہ بھول گئے ہوں گے۔ وہ ہمہ تن اس نئی صورت حال کی طرف ہی متوجہ ہوں گے۔ گھبراہٹ اور خوف میں مزید کچھ سننے کے منتظر ہوں گے۔ وہ اس سوچ ہی میں گم تھے اور ان کے جسم کا ذرا ذرہ عالم بالا کی طرف متوجہ تھا کہ اچانک ان پر ایک سوال ہوتا ہے۔ ایک بہت آسان وال جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
طه 20:17
وما تلک۔۔۔۔۔ مارب اخری (71۔ 81) ’
سوال ہوتا ہے کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے حال میں نہ تھے۔ دیکھ کر بتایا کہ عصا ہے۔ سوال میں یہ نہ تھا کہ عصا کے فوائد کیا ہیں ؟ صرف یہ تھا کہ ہاتھ میں کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سمجھا کہ جو ہاتھ میں ہے ‘ اس کی ماہیت تو نہیں پوچھی جاتی ‘ ماہیت تو واضح ہے ‘ بلکہ عصا کے فوائد پوچھے جارہے ہیں ‘ اس لیے انہوں نے فوائد گنوا دیئے ‘ جو فوائد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جانتے تھے ‘ وہ بتا دیئے کہ وہ اس کا سہارا لیتے ہیں ‘ اس کے ذریعہ درختوں کے پتے جھاڑتے ہیں تا کہ بکریاں کھا لیں۔ آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریاں چراتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ واپسی کے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بکریوں کا ایک گلہ بھی تھا ‘ جو ان کے حصے میں آئی تھیں ‘ الایہ کہ یہ عصا اس قسم کے دوسرے مقاصد میں بھی استعمال ہوتا ہے ‘ ان کا ذکر انہوں نے اجمالا کردیا کہ اس میں اور بھی فوائد ہیں۔
لیکن ذرا آگے دیکھو کہ قدرت خداوندی اس عصا سے وہ کچھ کام لینا چاہتی ہے جس کا کبھی موسیٰ (علیہ السلام) نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ یہ تجربہ ان کو اس لیے کرایا جاتا ہے کہ وہ فرعون کے دربار میں بےدھڑک ہو کر جائیں۔
طه 20:18
وما تلک۔۔۔۔۔ مارب اخری (71۔ 81) ’
سوال ہوتا ہے کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے حال میں نہ تھے۔ دیکھ کر بتایا کہ عصا ہے۔ سوال میں یہ نہ تھا کہ عصا کے فوائد کیا ہیں ؟ صرف یہ تھا کہ ہاتھ میں کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سمجھا کہ جو ہاتھ میں ہے ‘ اس کی ماہیت تو نہیں پوچھی جاتی ‘ ماہیت تو واضح ہے ‘ بلکہ عصا کے فوائد پوچھے جارہے ہیں ‘ اس لیے انہوں نے فوائد گنوا دیئے ‘ جو فوائد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جانتے تھے ‘ وہ بتا دیئے کہ وہ اس کا سہارا لیتے ہیں ‘ اس کے ذریعہ درختوں کے پتے جھاڑتے ہیں تا کہ بکریاں کھا لیں۔ آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریاں چراتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ واپسی کے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بکریوں کا ایک گلہ بھی تھا ‘ جو ان کے حصے میں آئی تھیں ‘ الایہ کہ یہ عصا اس قسم کے دوسرے مقاصد میں بھی استعمال ہوتا ہے ‘ ان کا ذکر انہوں نے اجمالا کردیا کہ اس میں اور بھی فوائد ہیں۔
لیکن ذرا آگے دیکھو کہ قدرت خداوندی اس عصا سے وہ کچھ کام لینا چاہتی ہے جس کا کبھی موسیٰ (علیہ السلام) نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ یہ تجربہ ان کو اس لیے کرایا جاتا ہے کہ وہ فرعون کے دربار میں بےدھڑک ہو کر جائیں۔
طه 20:19
قال القھایموسی۔۔۔۔۔ سیرتھا الاولیٰ (91 تا 12) ”“۔ ۔
یہ خارق عادت معجزہ ظہور پذیر ہوگیا ‘ یہ معجزہ اس کائنات میں ہر لمحہ ہر طرف ظاہر ہوتا رہتا ہے ‘ لیکن لوگوں کی سوچ اس طرف نہیں جاتی۔ یعنی ” زندگی “ کا معجزہ ۔ ایک عصا سانپ بن گئی۔ اس دنیا میں ہر سیکنڈ میں عصا کی طرح اربوں مردہ ذرے زندگی پاتے ہیں اور زندہ خلیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں لیکن انسان انہین اس طرح نہیں دیکھ سکتا جس طرح وہ ایک بڑی عصا کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اس لیے کہ انسان اپنے حواس کا بندہ اور اپنے تجربات کا قیدی ہے۔ وہ اپنے تصورات میں حواس کے دائرے سے آگے جانے کی تکلیف نہیں کرتا۔ ایک عصا کا زندہ ہو کر سانپ بن جانا اور پھر چلنا انسانی احساس کو شدت سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ‘ لیکن وہ خلیے جو زندگی کے پہلے معجزے کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور وہ مظاہر جوہر لمحہ اربوں ذرات کے زندہ خلیوں کی شکل اختیار کرنے میں پیش آتے ہیں۔ یہ خفیہ یا باریک ہیں۔ اور انسان ان کی طرف متفت نہیں ہوتے۔ پھر جو لوگ ان کا ملاحظہ بھی کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ دیکھتے دیکھتے وہ ان مناظر کے اس زدر عادی ہوجاتے ہیں کہ پھر وہ ان سے متاثر ہی نہیں ہوتے اور غفلت کے ساتھ ان مناظر پر سے گزر جاتے ہیں۔
یہ معجزہ جب رہ نما ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) ششدر رہ گئے ‘ بلکہ ڈر گئے اور اللہ کو کہنا پڑاخذھا ولا۔۔۔۔ سیرتھا الاولیٰ (02 : 12) ” پکڑلے اس کو اور ڈرو نہیں ‘ ہم اسے پھر ویسا ہی کریں گے “۔ یعنی عصا۔۔۔ یہاں قرآن مجید نے ایک بات کا ذکر نہیں کیا جو دوسری جگہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھاگ کھڑے ہوئے اور پیچھے نہ دیکھا۔ یہاں صرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ نہ ڈرو ‘ یہ اس لیے کہ اس سورة کی فضا اور مناظر میں امن ‘ اطمینان ‘ سکون اور وقار چھایا ہوا ہے لہٰذا اس میں یہ مناسب نہیں ہے کہ اسٹیج پر جزع و فزع دکھایا جائے اور کوئی بھاگ کھڑا ہو۔
حضرت موسیٰ مطمئن ہوگئے ‘ عصا کو لیا توسانپ پھر عصا تھا۔ یہ معجزہ اب دوسری شکل میں ظاہر ہوگیا۔ ایک زندہ چیز کو مردہ بنایا گیا۔ اچانک زندہ رینگنے ‘ والی چیز مردہ اور عصا کی شکل میں آگئی۔ جس طرح کہ پہلے معجزے سے قبل تھی۔ ایک بار پھر موسیٰ کو عالم بالا سے حکم ملتا ہے۔
طه 20:20
قال القھایموسی۔۔۔۔۔ سیرتھا الاولیٰ (91 تا 12) ”“۔ ۔
یہ خارق عادت معجزہ ظہور پذیر ہوگیا ‘ یہ معجزہ اس کائنات میں ہر لمحہ ہر طرف ظاہر ہوتا رہتا ہے ‘ لیکن لوگوں کی سوچ اس طرف نہیں جاتی۔ یعنی ” زندگی “ کا معجزہ ۔ ایک عصا سانپ بن گئی۔ اس دنیا میں ہر سیکنڈ میں عصا کی طرح اربوں مردہ ذرے زندگی پاتے ہیں اور زندہ خلیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں لیکن انسان انہین اس طرح نہیں دیکھ سکتا جس طرح وہ ایک بڑی عصا کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اس لیے کہ انسان اپنے حواس کا بندہ اور اپنے تجربات کا قیدی ہے۔ وہ اپنے تصورات میں حواس کے دائرے سے آگے جانے کی تکلیف نہیں کرتا۔ ایک عصا کا زندہ ہو کر سانپ بن جانا اور پھر چلنا انسانی احساس کو شدت سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ‘ لیکن وہ خلیے جو زندگی کے پہلے معجزے کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور وہ مظاہر جوہر لمحہ اربوں ذرات کے زندہ خلیوں کی شکل اختیار کرنے میں پیش آتے ہیں۔ یہ خفیہ یا باریک ہیں۔ اور انسان ان کی طرف متفت نہیں ہوتے۔ پھر جو لوگ ان کا ملاحظہ بھی کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ دیکھتے دیکھتے وہ ان مناظر کے اس زدر عادی ہوجاتے ہیں کہ پھر وہ ان سے متاثر ہی نہیں ہوتے اور غفلت کے ساتھ ان مناظر پر سے گزر جاتے ہیں۔
یہ معجزہ جب رہ نما ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) ششدر رہ گئے ‘ بلکہ ڈر گئے اور اللہ کو کہنا پڑاخذھا ولا۔۔۔۔ سیرتھا الاولیٰ (02 : 12) ” پکڑلے اس کو اور ڈرو نہیں ‘ ہم اسے پھر ویسا ہی کریں گے “۔ یعنی عصا۔۔۔ یہاں قرآن مجید نے ایک بات کا ذکر نہیں کیا جو دوسری جگہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھاگ کھڑے ہوئے اور پیچھے نہ دیکھا۔ یہاں صرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ نہ ڈرو ‘ یہ اس لیے کہ اس سورة کی فضا اور مناظر میں امن ‘ اطمینان ‘ سکون اور وقار چھایا ہوا ہے لہٰذا اس میں یہ مناسب نہیں ہے کہ اسٹیج پر جزع و فزع دکھایا جائے اور کوئی بھاگ کھڑا ہو۔
حضرت موسیٰ مطمئن ہوگئے ‘ عصا کو لیا توسانپ پھر عصا تھا۔ یہ معجزہ اب دوسری شکل میں ظاہر ہوگیا۔ ایک زندہ چیز کو مردہ بنایا گیا۔ اچانک زندہ رینگنے ‘ والی چیز مردہ اور عصا کی شکل میں آگئی۔ جس طرح کہ پہلے معجزے سے قبل تھی۔ ایک بار پھر موسیٰ کو عالم بالا سے حکم ملتا ہے۔
طه 20:21
قال القھایموسی۔۔۔۔۔ سیرتھا الاولیٰ (91 تا 12) ”“۔ ۔
یہ خارق عادت معجزہ ظہور پذیر ہوگیا ‘ یہ معجزہ اس کائنات میں ہر لمحہ ہر طرف ظاہر ہوتا رہتا ہے ‘ لیکن لوگوں کی سوچ اس طرف نہیں جاتی۔ یعنی ” زندگی “ کا معجزہ ۔ ایک عصا سانپ بن گئی۔ اس دنیا میں ہر سیکنڈ میں عصا کی طرح اربوں مردہ ذرے زندگی پاتے ہیں اور زندہ خلیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں لیکن انسان انہین اس طرح نہیں دیکھ سکتا جس طرح وہ ایک بڑی عصا کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اس لیے کہ انسان اپنے حواس کا بندہ اور اپنے تجربات کا قیدی ہے۔ وہ اپنے تصورات میں حواس کے دائرے سے آگے جانے کی تکلیف نہیں کرتا۔ ایک عصا کا زندہ ہو کر سانپ بن جانا اور پھر چلنا انسانی احساس کو شدت سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ‘ لیکن وہ خلیے جو زندگی کے پہلے معجزے کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور وہ مظاہر جوہر لمحہ اربوں ذرات کے زندہ خلیوں کی شکل اختیار کرنے میں پیش آتے ہیں۔ یہ خفیہ یا باریک ہیں۔ اور انسان ان کی طرف متفت نہیں ہوتے۔ پھر جو لوگ ان کا ملاحظہ بھی کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ دیکھتے دیکھتے وہ ان مناظر کے اس زدر عادی ہوجاتے ہیں کہ پھر وہ ان سے متاثر ہی نہیں ہوتے اور غفلت کے ساتھ ان مناظر پر سے گزر جاتے ہیں۔
یہ معجزہ جب رہ نما ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) ششدر رہ گئے ‘ بلکہ ڈر گئے اور اللہ کو کہنا پڑاخذھا ولا۔۔۔۔ سیرتھا الاولیٰ (02 : 12) ” پکڑلے اس کو اور ڈرو نہیں ‘ ہم اسے پھر ویسا ہی کریں گے “۔ یعنی عصا۔۔۔ یہاں قرآن مجید نے ایک بات کا ذکر نہیں کیا جو دوسری جگہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھاگ کھڑے ہوئے اور پیچھے نہ دیکھا۔ یہاں صرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ نہ ڈرو ‘ یہ اس لیے کہ اس سورة کی فضا اور مناظر میں امن ‘ اطمینان ‘ سکون اور وقار چھایا ہوا ہے لہٰذا اس میں یہ مناسب نہیں ہے کہ اسٹیج پر جزع و فزع دکھایا جائے اور کوئی بھاگ کھڑا ہو۔
حضرت موسیٰ مطمئن ہوگئے ‘ عصا کو لیا توسانپ پھر عصا تھا۔ یہ معجزہ اب دوسری شکل میں ظاہر ہوگیا۔ ایک زندہ چیز کو مردہ بنایا گیا۔ اچانک زندہ رینگنے ‘ والی چیز مردہ اور عصا کی شکل میں آگئی۔ جس طرح کہ پہلے معجزے سے قبل تھی۔ ایک بار پھر موسیٰ کو عالم بالا سے حکم ملتا ہے۔
طه 20:22
واضمم یدک الیٰ ۔۔۔۔۔ ایتہ اخری (22) ”
موسیٰ نے ہاتھ اپنی بغلوں میں دبائے۔ یہاں قرآن کریم نے ہاتھ اور بغل کے لئے پر کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ پروں میں خوبصورتی اور حرکت ہے ‘ ہلکا پن ہے اور یہ مقام ایسا ہے کہ اس میں انسانیت زمین کی بوجھل فضا سے ہلکی ہو کر عالم بالا کی طرف پرواز کر رہی ہے اور یہ ہاتھ سفید ہر کر نکلے ‘ مرض کی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ معجزانہ سفید بغیر بیماری کے سفید ہوگا۔ اور عصا کے بعد یہ دوسری نشانی ہوگی آپ کی نبوت کی سچائی پر۔
طه 20:23
لنریک من ایتنا۔۔۔۔ انہ طغی (32۔ 42) ” اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں۔ اب تو فرعون کے پاس جا ‘ وہ سرکش ہوگیا ہے “۔
یہ نشانیاں اور معجزات جس کا حسن اظہار ہو رہا ہے اے موسیٰ (علیہ السلام) پہلے آپ کو دکھائی جارہی ہیں تاکہ تم مطمئن ہو کر اور ان سے مسلح ہو کر فرعون کے پاس جائو یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم نہ تھا کہ وہ اس عظیم مہم اور اس عظیم منصب کے لئے چن لئے گئے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ فرعون کون ہے کیونکہ وہ تو پہلے ہی اس کے گھر میں تھے ‘ اس کی سرکشی اور سخت داروگیر سے وہ وقف تھے۔ وہ بنی اسرائیل پر جو مظالم ڈھا رہا تھا اس سے بھی واقف تھے ‘ وہ اس وقت چونکہ بارگاہ رب العزت میں پہنچے ہوئے ہیں ‘ سمجھتے ہیں کہ ان کو بڑا اعزاز مل چکا ہے اور وہ ایک بہت ہی معزز بندے ہیں لہٰذا ان کے دل میں یہ بات آگئی کہ یہ موزوں وقت ہے کہ وہ اس مہم کے لیے ضروری سازو سامان اسی وقت طلب کرلیں تا کہ وہ پوری طرح لیس ہو کر فرعون کے پاس جائیں۔
طه 20:24
لنریک من ایتنا۔۔۔۔ انہ طغی (32۔ 42) ” اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں۔ اب تو فرعون کے پاس جا ‘ وہ سرکش ہوگیا ہے “۔
یہ نشانیاں اور معجزات جس کا حسن اظہار ہو رہا ہے اے موسیٰ (علیہ السلام) پہلے آپ کو دکھائی جارہی ہیں تاکہ تم مطمئن ہو کر اور ان سے مسلح ہو کر فرعون کے پاس جائو یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم نہ تھا کہ وہ اس عظیم مہم اور اس عظیم منصب کے لئے چن لئے گئے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ فرعون کون ہے کیونکہ وہ تو پہلے ہی اس کے گھر میں تھے ‘ اس کی سرکشی اور سخت داروگیر سے وہ وقف تھے۔ وہ بنی اسرائیل پر جو مظالم ڈھا رہا تھا اس سے بھی واقف تھے ‘ وہ اس وقت چونکہ بارگاہ رب العزت میں پہنچے ہوئے ہیں ‘ سمجھتے ہیں کہ ان کو بڑا اعزاز مل چکا ہے اور وہ ایک بہت ہی معزز بندے ہیں لہٰذا ان کے دل میں یہ بات آگئی کہ یہ موزوں وقت ہے کہ وہ اس مہم کے لیے ضروری سازو سامان اسی وقت طلب کرلیں تا کہ وہ پوری طرح لیس ہو کر فرعون کے پاس جائیں۔
طه 20:25
قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (52 تا 53) ”
اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ ‘ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہل کہ ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔
انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی ‘ راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا ، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔
طه 20:26
قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (52 تا 53) ”
اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ ‘ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہل کہ ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔
انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی ‘ راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا ، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔
طه 20:27
قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (52 تا 53) ”
اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ ‘ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہل کہ ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔
انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی ‘ راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا ، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔
طه 20:28
قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (52 تا 53) ”
اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ ‘ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہل کہ ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔
انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی ‘ راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا ، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔
طه 20:29
قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (52 تا 53) ”
اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ ‘ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہل کہ ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔
انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی ‘ راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا ، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔
طه 20:30
واخی ہارون ھوافصح من لسانا ” اور میرے بھائی ہارون ” مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں “۔ اس سے قبل وہ ایک عمومی دعا کرچکے تھے کہ اللہ مجھے شرح صدر عطا کر اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے۔ اس عمومی دعا اور مطالبہ کے بعد یہ خصوصی درخواست تھی تاکہ اس کام کے سلسلے میں آپ کو تمام سہولتیں حاصل ہوجائیں۔ پھر آپ نے یہ درخواست کی کہ میرے خاندان میں سے میرا ایک معاون اور مدد گار بھی مجھے عطا کر دے ہارون میرے بھائی ‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح النسان ‘ مضبوط دل والے اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ‘ جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زیادہ جذباتی ‘ تیز مزاج اور جلد متاثر ہونے والے تھے۔ چناچہ انہوں نے یہ درخواست کی کہ ان کو یہ معاون دے دیں تاکہ ان کی قوت اور فعالیت میں اضافہ ہو ‘ وہ ان کے لئے قوت کا باعث ہوں ‘ مشیر ہوں کیونکہ یہ مہم بہت ہی عظیم ہے۔
یہ مہم جسکے لئے وہ بھیجے جا رہے ہیں وہ ذکر کثیر اور تسبیح و ثنا کثیر کی محتاج ہے ‘ اس میں اللہ کے ساتھ مضبوط رابطہ ضروری ہے۔ اس لئے انہوں نے شرح صدرنیسیر امر ‘ زبان کی گرہ کھولنے ‘ معاون اور بھائی کو وزیر مقرر کرنے کے مطالبے کیے۔ یہ سب درخواستیں ایسی نہ تھیں کہ وہ براہ راست اس مہم کو آگے بڑھائیں۔ بلکہ یہ چیزیں اس مہم کی تیاری کے مرحلے کے لئے ضروری تھیں۔ یہ چیزیں انہیں اور ان کے بھائی کو اس کام کے لئے تیار کر رہی تھیں۔ تسبیح کثیر ‘ ذکر کثیر ‘ علم کثیر ‘ اور زبان کی صفائی اور اللہ سے علوم کا اخذ ‘ یہ سب تیاری کے مراحل ہیں۔
طه 20:31
واخی ہارون ھوافصح من لسانا ” اور میرے بھائی ہارون ” مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں “۔ اس سے قبل وہ ایک عمومی دعا کرچکے تھے کہ اللہ مجھے شرح صدر عطا کر اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے۔ اس عمومی دعا اور مطالبہ کے بعد یہ خصوصی درخواست تھی تاکہ اس کام کے سلسلے میں آپ کو تمام سہولتیں حاصل ہوجائیں۔ پھر آپ نے یہ درخواست کی کہ میرے خاندان میں سے میرا ایک معاون اور مدد گار بھی مجھے عطا کر دے ہارون میرے بھائی ‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح النسان ‘ مضبوط دل والے اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ‘ جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زیادہ جذباتی ‘ تیز مزاج اور جلد متاثر ہونے والے تھے۔ چناچہ انہوں نے یہ درخواست کی کہ ان کو یہ معاون دے دیں تاکہ ان کی قوت اور فعالیت میں اضافہ ہو ‘ وہ ان کے لئے قوت کا باعث ہوں ‘ مشیر ہوں کیونکہ یہ مہم بہت ہی عظیم ہے۔
یہ مہم جسکے لئے وہ بھیجے جا رہے ہیں وہ ذکر کثیر اور تسبیح و ثنا کثیر کی محتاج ہے ‘ اس میں اللہ کے ساتھ مضبوط رابطہ ضروری ہے۔ اس لئے انہوں نے شرح صدرنیسیر امر ‘ زبان کی گرہ کھولنے ‘ معاون اور بھائی کو وزیر مقرر کرنے کے مطالبے کیے۔ یہ سب درخواستیں ایسی نہ تھیں کہ وہ براہ راست اس مہم کو آگے بڑھائیں۔ بلکہ یہ چیزیں اس مہم کی تیاری کے مرحلے کے لئے ضروری تھیں۔ یہ چیزیں انہیں اور ان کے بھائی کو اس کام کے لئے تیار کر رہی تھیں۔ تسبیح کثیر ‘ ذکر کثیر ‘ علم کثیر ‘ اور زبان کی صفائی اور اللہ سے علوم کا اخذ ‘ یہ سب تیاری کے مراحل ہیں۔
طه 20:32
واخی ہارون ھوافصح من لسانا ” اور میرے بھائی ہارون ” مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں “۔ اس سے قبل وہ ایک عمومی دعا کرچکے تھے کہ اللہ مجھے شرح صدر عطا کر اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے۔ اس عمومی دعا اور مطالبہ کے بعد یہ خصوصی درخواست تھی تاکہ اس کام کے سلسلے میں آپ کو تمام سہولتیں حاصل ہوجائیں۔ پھر آپ نے یہ درخواست کی کہ میرے خاندان میں سے میرا ایک معاون اور مدد گار بھی مجھے عطا کر دے ہارون میرے بھائی ‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح النسان ‘ مضبوط دل والے اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ‘ جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زیادہ جذباتی ‘ تیز مزاج اور جلد متاثر ہونے والے تھے۔ چناچہ انہوں نے یہ درخواست کی کہ ان کو یہ معاون دے دیں تاکہ ان کی قوت اور فعالیت میں اضافہ ہو ‘ وہ ان کے لئے قوت کا باعث ہوں ‘ مشیر ہوں کیونکہ یہ مہم بہت ہی عظیم ہے۔
یہ مہم جسکے لئے وہ بھیجے جا رہے ہیں وہ ذکر کثیر اور تسبیح و ثنا کثیر کی محتاج ہے ‘ اس میں اللہ کے ساتھ مضبوط رابطہ ضروری ہے۔ اس لئے انہوں نے شرح صدرنیسیر امر ‘ زبان کی گرہ کھولنے ‘ معاون اور بھائی کو وزیر مقرر کرنے کے مطالبے کیے۔ یہ سب درخواستیں ایسی نہ تھیں کہ وہ براہ راست اس مہم کو آگے بڑھائیں۔ بلکہ یہ چیزیں اس مہم کی تیاری کے مرحلے کے لئے ضروری تھیں۔ یہ چیزیں انہیں اور ان کے بھائی کو اس کام کے لئے تیار کر رہی تھیں۔ تسبیح کثیر ‘ ذکر کثیر ‘ علم کثیر ‘ اور زبان کی صفائی اور اللہ سے علوم کا اخذ ‘ یہ سب تیاری کے مراحل ہیں۔
طه 20:33
واخی ہارون ھوافصح من لسانا ” اور میرے بھائی ہارون ” مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں “۔ اس سے قبل وہ ایک عمومی دعا کرچکے تھے کہ اللہ مجھے شرح صدر عطا کر اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے۔ اس عمومی دعا اور مطالبہ کے بعد یہ خصوصی درخواست تھی تاکہ اس کام کے سلسلے میں آپ کو تمام سہولتیں حاصل ہوجائیں۔ پھر آپ نے یہ درخواست کی کہ میرے خاندان میں سے میرا ایک معاون اور مدد گار بھی مجھے عطا کر دے ہارون میرے بھائی ‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح النسان ‘ مضبوط دل والے اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ‘ جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زیادہ جذباتی ‘ تیز مزاج اور جلد متاثر ہونے والے تھے۔ چناچہ انہوں نے یہ درخواست کی کہ ان کو یہ معاون دے دیں تاکہ ان کی قوت اور فعالیت میں اضافہ ہو ‘ وہ ان کے لئے قوت کا باعث ہوں ‘ مشیر ہوں کیونکہ یہ مہم بہت ہی عظیم ہے۔
یہ مہم جسکے لئے وہ بھیجے جا رہے ہیں وہ ذکر کثیر اور تسبیح و ثنا کثیر کی محتاج ہے ‘ اس میں اللہ کے ساتھ مضبوط رابطہ ضروری ہے۔ اس لئے انہوں نے شرح صدرنیسیر امر ‘ زبان کی گرہ کھولنے ‘ معاون اور بھائی کو وزیر مقرر کرنے کے مطالبے کیے۔ یہ سب درخواستیں ایسی نہ تھیں کہ وہ براہ راست اس مہم کو آگے بڑھائیں۔ بلکہ یہ چیزیں اس مہم کی تیاری کے مرحلے کے لئے ضروری تھیں۔ یہ چیزیں انہیں اور ان کے بھائی کو اس کام کے لئے تیار کر رہی تھیں۔ تسبیح کثیر ‘ ذکر کثیر ‘ علم کثیر ‘ اور زبان کی صفائی اور اللہ سے علوم کا اخذ ‘ یہ سب تیاری کے مراحل ہیں۔
طه 20:34
واخی ہارون ھوافصح من لسانا ” اور میرے بھائی ہارون ” مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں “۔ اس سے قبل وہ ایک عمومی دعا کرچکے تھے کہ اللہ مجھے شرح صدر عطا کر اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے۔ اس عمومی دعا اور مطالبہ کے بعد یہ خصوصی درخواست تھی تاکہ اس کام کے سلسلے میں آپ کو تمام سہولتیں حاصل ہوجائیں۔ پھر آپ نے یہ درخواست کی کہ میرے خاندان میں سے میرا ایک معاون اور مدد گار بھی مجھے عطا کر دے ہارون میرے بھائی ‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح النسان ‘ مضبوط دل والے اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ‘ جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زیادہ جذباتی ‘ تیز مزاج اور جلد متاثر ہونے والے تھے۔ چناچہ انہوں نے یہ درخواست کی کہ ان کو یہ معاون دے دیں تاکہ ان کی قوت اور فعالیت میں اضافہ ہو ‘ وہ ان کے لئے قوت کا باعث ہوں ‘ مشیر ہوں کیونکہ یہ مہم بہت ہی عظیم ہے۔
یہ مہم جسکے لئے وہ بھیجے جا رہے ہیں وہ ذکر کثیر اور تسبیح و ثنا کثیر کی محتاج ہے ‘ اس میں اللہ کے ساتھ مضبوط رابطہ ضروری ہے۔ اس لئے انہوں نے شرح صدرنیسیر امر ‘ زبان کی گرہ کھولنے ‘ معاون اور بھائی کو وزیر مقرر کرنے کے مطالبے کیے۔ یہ سب درخواستیں ایسی نہ تھیں کہ وہ براہ راست اس مہم کو آگے بڑھائیں۔ بلکہ یہ چیزیں اس مہم کی تیاری کے مرحلے کے لئے ضروری تھیں۔ یہ چیزیں انہیں اور ان کے بھائی کو اس کام کے لئے تیار کر رہی تھیں۔ تسبیح کثیر ‘ ذکر کثیر ‘ علم کثیر ‘ اور زبان کی صفائی اور اللہ سے علوم کا اخذ ‘ یہ سب تیاری کے مراحل ہیں۔
طه 20:35
انک کنت بنا بصیرا (02 : 53) ” تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران ہے “۔ آپ کو ہمارا حال اچھی طرح معلوم ہے ہم ضعیف و قصور کھتے ہیں اور آپ کو ہماری ضروریات کا اچھی طرح علم ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت ہی طویل سوال کیا اور اپنی ضروریات بتائیں۔ اپنی کمزوری کا اظہار کیا ‘ مدد ‘ سہولیات اور مسلسل رابطے کی ضرورت کا ذکر کیا۔ رب تعالیٰ تو سنتا ہے اور جانتا ہے ۔ آپ کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) ضعیف ہیں۔ مانگتے ہیں اور بات کرتے جاتے ہیں۔ تو رب ذوالجلال اپنے مہمان کو شرمندہ نہیں فرماتے ‘ کوئی سوال رد نہیں کرتے ‘ منظوری میں دیر بھی نہیں کرتے۔
طه 20:36
قال قد اوتیت سولک یمٰوسیٰ (63) ” فرمایا “ دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! “۔ ایک ہی فقرہ میں تمام سوالات منظور ‘ ایک ہی اجمالی آرڈر کردیا گیا۔
تفصیلات دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ وعدہ بھی نہیں بلکہ فائنل منظوری بلکہ دستی تعمیل۔ جو مانگا وہی دے دیا گیا۔ نہ دیر اور نہ بار بار کا مطالبہ۔ درخواست کی منظوری کے ساتھ ساتھ لطف و کرم کا اظہار بھی ہے ‘ تعظیم و تکریم بھی ہے ‘ پھر محبت کا اظہار یوں نام لے کر (اے موسیٰ ) اس سے بڑھ کر تکریم اور کیس ہو سکتی ہے۔ کہ پوری کائنات کی مجلس میں اللہ ایک بندے کا نام لے کر اس کے مطالبے منظور کرے۔
یہاں تک آپ نے دیکھا کہ اللہ کے فضل وکرم کی تکمیل کس قدر ہوچکی ہے ‘ محبت اور بےتکلفی کی باتیں ہو چکیں۔ طویل عر صے تک بھی قائم رہی ‘ مناجات ہوتی رہی ‘ تمام درخواستیں منظور اور فوراً تعمیل ہوگئی ‘ لیکن ان کے فضل پر کوئی داروغہ نہیں ہے۔ اور اللہ کی رحمتوں پر کوئی کنٹرول کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ اس بندے پر مزید فضل کرنا چاہتے ہیں ‘ اپنی رضا مندی کا یہ فیض ان پر طویل تر کرتے جاتے ہیں۔ اس دربار میں ان کی حاضری کا وقت مزید بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ اب موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی سابقہ مہربانیاں گنوا کر ان کے ساتھ مزید ہمکلام ہونا چاہتے ہیں کہ ان کو مزید اطمینان ہو ‘ وہ مزید بےتکلف ہوجائیں ‘ اللہ اپنی رحمتوں اور قدیم مہربانیوں کا ذکر شروع کردیتے ہیں۔ اس دربار علیہ میں ان کے لقاء کے وقت میں جس قدر اضافہ ہوتا ہے وہ ان کے لئے سرمایہ زندگی ہے اور باعث افتخار ہے۔ وہ ایک نہایت ہی روشن اور مقدس مقام پر کھڑے ہیں سنئے :
طه 20:37
و لقد مننا علیک۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (73 تا 14) ”
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے بادشاہ کے دربار میں پیغام حق پہنچانے کے لیے جارہے ہیں جو اس وقت اس کرئہ ارض پر نہایت ہی سرکش ‘ ظالم اور داداگیر بادشاہ تھا ، وہ کفر و ایمان کے معف کہ میں داخل ہو رہے تھے ‘ وہ پہلی بار فرعون کے دربار میں جارہے تھے۔ وہاں ان کے لیے مسائل ‘ واقعات اور مشکلات کے پہاڑ کھڑے تھے۔ پھر ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل عرصہ ذلت اور غلامی کی زندگی گزارتے گزارتے وہ اس کی خ اگر ہوگئے تھے۔ ان کی فطرت ہی بدل گئی موسیٰ (علیہ السلام) اگر اپنی مہم میں کامیاب ہوئے بھی تو ان کی قوم اس آزادی کے لئے نہ موزوں ہے نہ تیار۔ ان کے رب ان کو بتاتے ہیں کہ تمہیں تیاری کے بعد بھیجا جا رہا ہے اور وہ کسی بھی رسول کو جب بھیجتے ہیں کہ اس کے ارسال کے لیے اسٹیج تیار ہوتا ہے۔ یہ کہ اے موسیٰ تمہاری تربیت بھی ہم ایک عرصہ سے اپنی نگرانی میں کر رہے ہیں۔ جب تم دودھ پیتے بچے تھے تب سے ہم نے تمہیں تربیت دینا شروع کی ہے۔ اس ضیعف و ناتوانی کی حالت میں اللہ کا فضل تمہارے شامل حال رہا ہے ۔ تم فرعون کے ہاتھ میں تھے۔ تمہارے پاس کوئی قوت نہ تھی لیکن یہ اللہ ہہی کی حکمت تھی جس نے فرعون کی دست درازیوں سے تمہیں بچایا۔ یہ دست قدرت تھا جو تمہاری مدد کر رہا تھا۔ اللہ کی نظروں میں تم تھے۔ قدم قدم پر تمہاری نگرانی اور نگہبانی ہو رہی تھی ۔ لہٰذا آج بھی فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا ، آج تو تم جوان ہو۔ رب تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا ہوگیا ہے اور تم اس کی بارگاہ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں خود اپنے مشن کے لئے پیدا کیا ہے اور تربیت دی ہے اور چنا ہے۔
ولقد مننا علیک مرۃ اخری (02 : 73) ” ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا “۔ تم پر تو زمانہ قدیم سے مسلسل مہربانیاں ہو رہم ہیں۔ ایک عرصے سے اللہ کی مہربانی اور فضل تمہارے شامل حال ہے اور اس مشن کی سپردگی کے بعد تو یہ مسلسل جاری رہے گا۔
دیکھو ‘ تم پر یہ احسان کیا کم تھا کہ فرعون بچوں کو قتل کر رہا تھا اور ہم نے تیری ماں کو یہ الہام کیا کہ
ان اقذفیہ فی ۔۔۔۔۔ الیم بالساحل (02 : 53) ” ہم نے تیری ماں کو اشارہ دیا ‘ ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے کہ ” اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے ‘ دریا اسے ساحل پر پھینک گا “۔ یہ ایسے افعال ہیں جن میں سختی پائی جاتی ہے ’‘ بچے کو تابوت میں گرانا ‘ تابوت کو نذر سمندر کرنا ‘ سمندر کی طرف سے اسے ساحل پر پھینک دینا اور پھر کیا ؟ یہ تابوت اب کہاں جائے گا ‘ اس میں بچہ پھینکا گیا ہے ‘ تابوت سمندر کی لہروں کے کرم پر ہے۔ لہریں اسے ساحل پر پھینک دیتی ہیں۔ کون اب اسے لے گا ؟
عدولی وعدولہ (02 : 93) ” اسے میرا دشمن اور اس بچے کا شمن اٹھا لے گا “۔
ان خطرات کے ہجوم میں اور ان صدمات کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ اس ضعیف ‘ ناتوان اور بےبس بچے کو جو تابوت میں قید ہے ‘ کیا پیش آتا ہے ؟ کون اسے بچاتا ہے۔
طه 20:38
و لقد مننا علیک۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (73 تا 14) ”
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے بادشاہ کے دربار میں پیغام حق پہنچانے کے لیے جارہے ہیں جو اس وقت اس کرئہ ارض پر نہایت ہی سرکش ‘ ظالم اور داداگیر بادشاہ تھا ، وہ کفر و ایمان کے معف کہ میں داخل ہو رہے تھے ‘ وہ پہلی بار فرعون کے دربار میں جارہے تھے۔ وہاں ان کے لیے مسائل ‘ واقعات اور مشکلات کے پہاڑ کھڑے تھے۔ پھر ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل عرصہ ذلت اور غلامی کی زندگی گزارتے گزارتے وہ اس کی خ اگر ہوگئے تھے۔ ان کی فطرت ہی بدل گئی موسیٰ (علیہ السلام) اگر اپنی مہم میں کامیاب ہوئے بھی تو ان کی قوم اس آزادی کے لئے نہ موزوں ہے نہ تیار۔ ان کے رب ان کو بتاتے ہیں کہ تمہیں تیاری کے بعد بھیجا جا رہا ہے اور وہ کسی بھی رسول کو جب بھیجتے ہیں کہ اس کے ارسال کے لیے اسٹیج تیار ہوتا ہے۔ یہ کہ اے موسیٰ تمہاری تربیت بھی ہم ایک عرصہ سے اپنی نگرانی میں کر رہے ہیں۔ جب تم دودھ پیتے بچے تھے تب سے ہم نے تمہیں تربیت دینا شروع کی ہے۔ اس ضیعف و ناتوانی کی حالت میں اللہ کا فضل تمہارے شامل حال رہا ہے ۔ تم فرعون کے ہاتھ میں تھے۔ تمہارے پاس کوئی قوت نہ تھی لیکن یہ اللہ ہہی کی حکمت تھی جس نے فرعون کی دست درازیوں سے تمہیں بچایا۔ یہ دست قدرت تھا جو تمہاری مدد کر رہا تھا۔ اللہ کی نظروں میں تم تھے۔ قدم قدم پر تمہاری نگرانی اور نگہبانی ہو رہی تھی ۔ لہٰذا آج بھی فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا ، آج تو تم جوان ہو۔ رب تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا ہوگیا ہے اور تم اس کی بارگاہ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں خود اپنے مشن کے لئے پیدا کیا ہے اور تربیت دی ہے اور چنا ہے۔
ولقد مننا علیک مرۃ اخری (02 : 73) ” ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا “۔ تم پر تو زمانہ قدیم سے مسلسل مہربانیاں ہو رہم ہیں۔ ایک عرصے سے اللہ کی مہربانی اور فضل تمہارے شامل حال ہے اور اس مشن کی سپردگی کے بعد تو یہ مسلسل جاری رہے گا۔
دیکھو ‘ تم پر یہ احسان کیا کم تھا کہ فرعون بچوں کو قتل کر رہا تھا اور ہم نے تیری ماں کو یہ الہام کیا کہ
ان اقذفیہ فی ۔۔۔۔۔ الیم بالساحل (02 : 53) ” ہم نے تیری ماں کو اشارہ دیا ‘ ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے کہ ” اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے ‘ دریا اسے ساحل پر پھینک گا “۔ یہ ایسے افعال ہیں جن میں سختی پائی جاتی ہے ’‘ بچے کو تابوت میں گرانا ‘ تابوت کو نذر سمندر کرنا ‘ سمندر کی طرف سے اسے ساحل پر پھینک دینا اور پھر کیا ؟ یہ تابوت اب کہاں جائے گا ‘ اس میں بچہ پھینکا گیا ہے ‘ تابوت سمندر کی لہروں کے کرم پر ہے۔ لہریں اسے ساحل پر پھینک دیتی ہیں۔ کون اب اسے لے گا ؟
عدولی وعدولہ (02 : 93) ” اسے میرا دشمن اور اس بچے کا شمن اٹھا لے گا “۔
ان خطرات کے ہجوم میں اور ان صدمات کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ اس ضعیف ‘ ناتوان اور بےبس بچے کو جو تابوت میں قید ہے ‘ کیا پیش آتا ہے ؟ کون اسے بچاتا ہے۔
طه 20:39
والقبت علیک۔۔۔۔ علی عینی (02 : 93) ” میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے “۔ اے قادر مطلق تیری قدرت کے کیا کرشمے ہیں کہ تو اس باتواں پر محبت کا پردہ ڈال دیتا ہے ‘ نرم و نازک محبت اس کے لئے دفاع بن جاتی ہے۔ تمام ضربات کو یہ سہ لیتی ہے اور ڈھال بن جاتی ہے ‘ موجوں کے تھپیڑے آکر رک جاتے ہیں۔ شر اور سرکشی کی تمام قوتیں دیکھتے ہی موم ہوجاتی ہیں۔ اور کوئی اسے بری نظروں سے دیکھتا ہی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ ایک فلک ناتواں ہے ، دودھ پینے والا ‘ نہ چل پھر سکتا ہے ‘ نہ اپنا دفاع و بچائو کرسکتا ہے بلکہ وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔
اس منظر کی تصویر میں نمایاں طور پر دو باہم متضاد رنگ ہیں۔ ایک طرف ایک قہار و جبار اور سرکش قوت ہے جو اس بچے کے قتل کے در پے ہے۔ ماحول اس قدر کشیدہ اور سخت ہے کہ ہر طرف ورشکستگی ‘ ظلم ‘ تابوت ‘ امواج اور سمندر ہے ‘ دوسری طرف محبت کی مہین چادر ہے جو اس بچے کے اوپر بچھ گئی ہے۔ محبت کی چادر ‘ اللہ کے لطف و کرم کی یہ چادر ! یہ اسے ہر خطرے سے بچاتی چلی جاتی ہے۔ سمندر ‘ تابوت ‘ اور موجوں کی سختی سے اور حکمرانوں کی گرفت سے بھی۔ موسیٰ کے پاس کوئی لائو لشکر نہیں ہے بلکہ اس بچے کے چہرے پر قدرتی کشش ہے۔
ولتصنع علی عینی (02 : 93) ” کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے “۔ اس گہرے سایہ عاطفت اور اس دست قدرت کے کرشموں کی کیا تشریح کوئی کرے۔ قرآن کی یہ تعبیر کہ ” تم میری آنکھوں میں پلو “ ۔ یہ ایک نہایت ہی معجزانہ انداز تعبیر ہے۔ ایک انسان اللہ تعالیٰ کی آنکھوں میں پل رہا ہے۔ انسان اس تعبیر کے پیچھے جو معانی ہیں ان کا تصور کرنے سے قاصر ہے۔ یہ ایک اونچا مقام ہے ‘ اعزازو تکریم ہے کہ کوئی انسان ایک لمحہ کے لئے یہ نظر کرم پالے ‘ لیکن اس شخص کی خوش نسیبی دیکھئے کہ وہ کسی کی زیر نگرانی میں پل رہا ہے۔ یہ وہ کرم تھا جس کی وجہ سے موسیٰ کے اندر یہ قوت پیدا ہوئی وہ تکلیات کا متحمل ہو سکے اور اللہ سے ہمکلام ہو کر اس لا محدود ذات سے ہدایات اخذ کرسکے۔
تاکہ تم میری نگرانی میں پلو۔ ہم دونوں کے دشمن فرعون کی نظروں میں پلو ‘ بغیر کسی چوکیدار اور محافظ کے عین دشمن کے دونوں ہاتھوں کے اندر پلو ‘ دشمن کی آنکھ تمہاری طرف میلی نہیں ہوتی کیونکہ تم اس کی آنکھ کا تارا بن گئے ہو۔ اس کا ہوتھ برے ارادے سے آگے نہیں بڑھتا ‘ کیوں ؟ اللہ کی نظر ہے۔
دیکھو میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ فرعون کے گھر تم مزے سے رہو اور تمہاری ماں گھر میں بےتاب ہو اور ہر وقت خوف اور قلق میں مبتلا ہو۔ میں نے تم دونوں کو باہم ملا دیا۔
طه 20:40
اذ تمشی اختک۔۔۔۔۔۔ عینھا ولا تحزن (02 : 04) ” یاد کرو جب تمہاری بہن چل رہی تھی ‘ پھر جا کر کہتی ہے ” میں تمہیں اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے۔ اس طرح ہم نے تجھے پھر اپنی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو “۔ اس سلسلے میں اللہ کی تدبیریوں تھی کہ بچہ کسی دودھ پلانے والی کا پستان منہ میں نہ لیتا تھا۔ فرعون اور اس کی بیوی نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ کسی ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو اس بچے کی پرورش کرے ‘ جس کو دریا نے ساحل پر پھینک دیا تھا۔ لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ماں کی طرف سے اشارہ پا کر کہتی ہے کہ میں تمہیں بتائوں جو اس کی پرورش اچھی طرح کرے۔ یوں اس کی ماں وہاں پہنچ جاتی ہے اور وہ اس کے پستان کو منہ میں لے لیتے ہیں۔ یوں اللہ کی تدبیر اپنے انجام تک پہنچتی ہے کہ ماں جس نے الہامی اشارہ پاکر بچے کو صندوق میں بند کرکے سمندر کے اندر بہا دیا تھا اور سمندر کی لہروں نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا ‘ بچہ پھر اس ماں کی جھولی میں ہے۔ اللہ اس کے بچے کو دشمن سے لے کر ماں کے حوالے کردیتا ہے۔ یوں اس کی پرورش کا محفوظ انتظام کردیا جاتا ہے۔ اور اسے فرعون کے خطرے سے بھی بچا لیا جاتا ہے ‘ جو بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ دشمن خود اسے بچا رہا تھا۔ ایک دوسرا احسان وقتل نفسا۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (02 : 04۔ 14) ” اور تو نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا ‘ ہم نے تجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے نکالا اور تو مدین کے لوگوں میں کئی سال ٹھہرا رہا۔ پھر ایک ٹھیک وقت پر تو آگیا ہے ‘ اے موسیٰ ۔ میں نے تجھے اپنے کام کا بنا لیا ہے “۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب قصر فرعون میں موسیٰ جو ان ہوگئے۔ ایک دن وہ شہر میں تھے کہ ایک مصری اور ایک اسرائیلی کی باہم تکرار ہوگئی۔ اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد چاہی اور حضرت موسیٰ نے جلدی میں مصری کو ایک مکہ رسید کردیا۔ آپ قتل کرنا نہیں چاہتے تھے ‘ صرف اسے دور کرنا چاہتے تھے۔ اس فعل پر آپ بہت رنجیدہ ہوگئے کیونکہ وہ اللہ کی تربیت میں چل رہے تھے ‘ ان کے ضمیر نے ان کو ملامت کی کہ تم نے گناہ کردیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت اللہ نے حضرت موسیٰ کو استغفار سکھایا ہو اور ان کے دل سے یہ کدورت دور ہوگئی ہو ‘ لیکن اس کے باوجود اللہ نے موسیٰ کو بغیر آزمائش اور ابتلا کے نہیں چھوڑا کیونکہ اللہ نے حضرت موسیٰ سے اونچا کام لینا تھا۔ اس لیے خوف ‘ اور ملک چھوڑنے اور قصاص سے بچنے کی مشقت میں ڈالا۔ مسافری ‘ اہل و عیال سے دوری ‘ وطن سے دوری کی مشقتوں میں ڈالا۔ پھر ملازمت اور بھڑیں چرانے کا مشکل کام لیا۔ اور یہ اس شخص سے لیا گیا جو فرعون کے شاہی محل میں پلا ہے ‘ جو اپنے دور کا شہنشاہ اعظم تھا۔ اور اس کے دربار میں بہت بڑے عیش اور اس کے گھر میں تمام سہولیات تھیں جن کا تصور بھی عام لوگ نہ کرسکتے تھے۔
پھر ایک مقررہ وقت پر ‘ جب ان کی تربیت ہوگئی ‘ وہ پختہ ہوگئے۔ ان ابتلائوں میں انہوں نے صبر سیکھ لیا۔ امتحان میں پاس ہوگئے ‘ مصر میں حالات ان کے لئے سازگار ہوگئے۔ بنی اسرائیل پر مظالم انتہا کو پہنچ گئے۔ اس مقررہ وقتپر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے واپس بلایا حالانکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ خود آ رہے ہیں۔
فلبثت سنین فی۔۔۔۔۔ قدر یموسی (02 : 04) ” تو مدین کے لوگوں کئی سال ٹھہرا رہا ‘ پھر ایک ٹھیک وقت پر تو آگیا ہے اس موسیٰ (علیہ السلام) “۔ یعنی ایسے وقت میں جو میں نے تیرے لیے مقرر کیا تھا۔ تجھے اپنی نگرانی میں پالا تھا۔ خالص اپنے لئے ‘ اپنے مشن کے لئے اور دعوت کے لئے۔ اس لئے تیری زندگی میں کوئی چیز نہ اس دنیا سے ہے اور نہ اس دینا کے لئے ہے۔ تیرا سب کچھ میری طرف سے ہے اور اب تو میرے مشن کے لئے ہے۔ تیری تربیت اور اب تیرا مشن بھی میر مشن ہے ۔ اس لئے تیرے نفس میں نہ تیرا حصہ ہے ‘ نہ کسی اور کا کوئی حصہ ہے ‘ نہ تیرے اہل و عیال اور رشتہ داروں کا کوئی حصہ ہے۔ لہٰذا جس چیز کے لئے میں نے تمہیں تربیت دی ہے ‘ جس مشن کے لئے میں نے تمہیں تیار کیا ہے ‘ آپ اس کے لئے اب چل پڑیں۔
طه 20:41
اذ تمشی اختک۔۔۔۔۔۔ عینھا ولا تحزن (02 : 04) ” یاد کرو جب تمہاری بہن چل رہی تھی ‘ پھر جا کر کہتی ہے ” میں تمہیں اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے۔ اس طرح ہم نے تجھے پھر اپنی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو “۔ اس سلسلے میں اللہ کی تدبیریوں تھی کہ بچہ کسی دودھ پلانے والی کا پستان منہ میں نہ لیتا تھا۔ فرعون اور اس کی بیوی نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ کسی ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو اس بچے کی پرورش کرے ‘ جس کو دریا نے ساحل پر پھینک دیا تھا۔ لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ماں کی طرف سے اشارہ پا کر کہتی ہے کہ میں تمہیں بتائوں جو اس کی پرورش اچھی طرح کرے۔ یوں اس کی ماں وہاں پہنچ جاتی ہے اور وہ اس کے پستان کو منہ میں لے لیتے ہیں۔ یوں اللہ کی تدبیر اپنے انجام تک پہنچتی ہے کہ ماں جس نے الہامی اشارہ پاکر بچے کو صندوق میں بند کرکے سمندر کے اندر بہا دیا تھا اور سمندر کی لہروں نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا ‘ بچہ پھر اس ماں کی جھولی میں ہے۔ اللہ اس کے بچے کو دشمن سے لے کر ماں کے حوالے کردیتا ہے۔ یوں اس کی پرورش کا محفوظ انتظام کردیا جاتا ہے۔ اور اسے فرعون کے خطرے سے بھی بچا لیا جاتا ہے ‘ جو بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ دشمن خود اسے بچا رہا تھا۔ ایک دوسرا احسان وقتل نفسا۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (02 : 04۔ 14) ” اور تو نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا ‘ ہم نے تجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے نکالا اور تو مدین کے لوگوں میں کئی سال ٹھہرا رہا۔ پھر ایک ٹھیک وقت پر تو آگیا ہے ‘ اے موسیٰ ۔ میں نے تجھے اپنے کام کا بنا لیا ہے “۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب قصر فرعون میں موسیٰ جو ان ہوگئے۔ ایک دن وہ شہر میں تھے کہ ایک مصری اور ایک اسرائیلی کی باہم تکرار ہوگئی۔ اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد چاہی اور حضرت موسیٰ نے جلدی میں مصری کو ایک مکہ رسید کردیا۔ آپ قتل کرنا نہیں چاہتے تھے ‘ صرف اسے دور کرنا چاہتے تھے۔ اس فعل پر آپ بہت رنجیدہ ہوگئے کیونکہ وہ اللہ کی تربیت میں چل رہے تھے ‘ ان کے ضمیر نے ان کو ملامت کی کہ تم نے گناہ کردیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت اللہ نے حضرت موسیٰ کو استغفار سکھایا ہو اور ان کے دل سے یہ کدورت دور ہوگئی ہو ‘ لیکن اس کے باوجود اللہ نے موسیٰ کو بغیر آزمائش اور ابتلا کے نہیں چھوڑا کیونکہ اللہ نے حضرت موسیٰ سے اونچا کام لینا تھا۔ اس لیے خوف ‘ اور ملک چھوڑنے اور قصاص سے بچنے کی مشقت میں ڈالا۔ مسافری ‘ اہل و عیال سے دوری ‘ وطن سے دوری کی مشقتوں میں ڈالا۔ پھر ملازمت اور بھڑیں چرانے کا مشکل کام لیا۔ اور یہ اس شخص سے لیا گیا جو فرعون کے شاہی محل میں پلا ہے ‘ جو اپنے دور کا شہنشاہ اعظم تھا۔ اور اس کے دربار میں بہت بڑے عیش اور اس کے گھر میں تمام سہولیات تھیں جن کا تصور بھی عام لوگ نہ کرسکتے تھے۔
پھر ایک مقررہ وقت پر ‘ جب ان کی تربیت ہوگئی ‘ وہ پختہ ہوگئے۔ ان ابتلائوں میں انہوں نے صبر سیکھ لیا۔ امتحان میں پاس ہوگئے ‘ مصر میں حالات ان کے لئے سازگار ہوگئے۔ بنی اسرائیل پر مظالم انتہا کو پہنچ گئے۔ اس مقررہ وقتپر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے واپس بلایا حالانکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ خود آ رہے ہیں۔
فلبثت سنین فی۔۔۔۔۔ قدر یموسی (02 : 04) ” تو مدین کے لوگوں کئی سال ٹھہرا رہا ‘ پھر ایک ٹھیک وقت پر تو آگیا ہے اس موسیٰ (علیہ السلام) “۔ یعنی ایسے وقت میں جو میں نے تیرے لیے مقرر کیا تھا۔ تجھے اپنی نگرانی میں پالا تھا۔ خالص اپنے لئے ‘ اپنے مشن کے لئے اور دعوت کے لئے۔ اس لئے تیری زندگی میں کوئی چیز نہ اس دنیا سے ہے اور نہ اس دینا کے لئے ہے۔ تیرا سب کچھ میری طرف سے ہے اور اب تو میرے مشن کے لئے ہے۔ تیری تربیت اور اب تیرا مشن بھی میر مشن ہے ۔ اس لئے تیرے نفس میں نہ تیرا حصہ ہے ‘ نہ کسی اور کا کوئی حصہ ہے ‘ نہ تیرے اہل و عیال اور رشتہ داروں کا کوئی حصہ ہے۔ لہٰذا جس چیز کے لئے میں نے تمہیں تربیت دی ہے ‘ جس مشن کے لئے میں نے تمہیں تیار کیا ہے ‘ آپ اس کے لئے اب چل پڑیں۔
طه 20:42
اذھب انت و اخوک۔۔۔۔۔ او یخشی (24 تا 44) ” ۔
تم اور تمہارے بھائی دونوں میرے معجزات کے ساتھ مسلح ہو کر جائو ‘ انن میں سے معجزہ عصا اور ید بیضا کا مشاہدہ تو کرایا جاچکا ہے۔ تم میرے ذکر میں سستی نہ کرنا کیونکہ یہ اس میدان میں تمہارے لئے اہم سازو سامان ہے ‘ یہ تمہارا بڑا اسلحہ اور سہارا ہے اور مشکلات کے وقت یہی تمہارے لئے لیے جائے پناہ ہوگی۔ جائو تم فرعون کے پاس۔ اس سے قبل میں نے تم کو فرعون کے شر سے محفوظ کیا ہے جبکہ تم ایک بچے تھے۔ جسے تابوت میں بند کر کے سمندر کی نذر کردیا گیا تھا اور سمندر نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا تو ان مشکلات نے تمہیں کوئی نقصان نہ دیا۔ ان خوفناگ حالات میں تمہیں کوئی اذیت نہ دی گئی۔ اب تو تم تیاریوں کے ساتھ اس دربار میں جا رہے ہو ‘ تمہارے ساتھ تمہارے بھائی بھی ہیں۔ اس لیے پرواہ مت کرو۔ جبکہ ایسے مشکل حالات میں بھی ہم نے تمہیں نجات دی ہے۔
فرعون کے پاس رسالت لے کر جائو ‘ وہ بڑاسرکش ‘ جبار اور سر پھرا ہے۔
فقولا لہ قولا لبنا (02 : 44) ” اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا “۔ اس لیے کہ نرم بات کے رد عمل میں کوئی شخص اپنی بےعزتی سمجھ کر ضد میں نہیں آتا۔ اور سرکش جس جھوٹی کبریاتی کے ماحول میں رہتے ہیں ‘ اس کی وجہ سے وہ طیش میں نہیں آتے ۔ نرم بات کی یہ خاصیت ہوتے ہے کہ وہ دلوں کو بیدار کردیتی ہے ‘ اور ایک سرکش بھی نرم بات کی وجہ سے اپنے موقف پر غور کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
تم فرعون کے پاس جائو اور اس بات سے مایوس نہ ہوجانا کہ وہ راہ ہدایت پر کب آسکتا ہے۔ امید رکھنا کہ وہ نصیحت سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور اس کے دل میں خدا کا خوف بھی پیدا ہو سکتا ہے ‘ کیونکہ ایک داعی اگر ذہن میں یہ بات بسا لے کہ جس کے پاس وہ جا رہا ہے وہ تو راہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا تو وہ پر جوش طریقے سے اسے دعوت نہیں دے سکتا۔ اور اگر وہ انکار کر دے تو یہ ثابت قدمی کے ساتھ دعوت کا مشن جاری نہیں رکھ سکتا۔
اللہ کو تو معلوم تھا کہ فرعون کیا جواب دینے والا ہے۔ لیکن دعوت دینا اور اس کے لئے تمام طریقوں سے جدوجہداختیار کرنا ضروری ہے۔ اللہ کسی شخص کے بارے میں عملی فیصلہ تب ہی کرتا ہے ‘ جب اس سے خیروشر عملاً صادر ہوجائے۔ اگرچہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ نتیجہ خیر ہے یا شر۔ اللہ کا علم حادثات مستقبل کے بارے میں ایسا ہی ہے جیسا کہ حاضر کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہے یا ماضی کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہوتا ہے۔
یہاں تک خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا اور یہ منظر وادی طوی میں بندئہ و معبود کے درمیان مناجات کا منظر تھا۔ اب یہاں سیاق کلام میں درمیان کے واقعات کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ اب موسیٰ اور ہارون دونوں ہیں۔ یہ دونوں دربار میں جانے سے قبل اپنے خدشات کا اظہار پھر کرتے ہیں کہ دربا رفرعون میں انہیں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی بات سنتے ہی وہ کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھے اور جب ان کی بات اسے بری لگے تو وہ سر کشی اختیار کرلے۔
طه 20:43
اذھب انت و اخوک۔۔۔۔۔ او یخشی (24 تا 44) ” ۔
تم اور تمہارے بھائی دونوں میرے معجزات کے ساتھ مسلح ہو کر جائو ‘ انن میں سے معجزہ عصا اور ید بیضا کا مشاہدہ تو کرایا جاچکا ہے۔ تم میرے ذکر میں سستی نہ کرنا کیونکہ یہ اس میدان میں تمہارے لئے اہم سازو سامان ہے ‘ یہ تمہارا بڑا اسلحہ اور سہارا ہے اور مشکلات کے وقت یہی تمہارے لئے لیے جائے پناہ ہوگی۔ جائو تم فرعون کے پاس۔ اس سے قبل میں نے تم کو فرعون کے شر سے محفوظ کیا ہے جبکہ تم ایک بچے تھے۔ جسے تابوت میں بند کر کے سمندر کی نذر کردیا گیا تھا اور سمندر نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا تو ان مشکلات نے تمہیں کوئی نقصان نہ دیا۔ ان خوفناگ حالات میں تمہیں کوئی اذیت نہ دی گئی۔ اب تو تم تیاریوں کے ساتھ اس دربار میں جا رہے ہو ‘ تمہارے ساتھ تمہارے بھائی بھی ہیں۔ اس لیے پرواہ مت کرو۔ جبکہ ایسے مشکل حالات میں بھی ہم نے تمہیں نجات دی ہے۔
فرعون کے پاس رسالت لے کر جائو ‘ وہ بڑاسرکش ‘ جبار اور سر پھرا ہے۔
فقولا لہ قولا لبنا (02 : 44) ” اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا “۔ اس لیے کہ نرم بات کے رد عمل میں کوئی شخص اپنی بےعزتی سمجھ کر ضد میں نہیں آتا۔ اور سرکش جس جھوٹی کبریاتی کے ماحول میں رہتے ہیں ‘ اس کی وجہ سے وہ طیش میں نہیں آتے ۔ نرم بات کی یہ خاصیت ہوتے ہے کہ وہ دلوں کو بیدار کردیتی ہے ‘ اور ایک سرکش بھی نرم بات کی وجہ سے اپنے موقف پر غور کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
تم فرعون کے پاس جائو اور اس بات سے مایوس نہ ہوجانا کہ وہ راہ ہدایت پر کب آسکتا ہے۔ امید رکھنا کہ وہ نصیحت سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور اس کے دل میں خدا کا خوف بھی پیدا ہو سکتا ہے ‘ کیونکہ ایک داعی اگر ذہن میں یہ بات بسا لے کہ جس کے پاس وہ جا رہا ہے وہ تو راہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا تو وہ پر جوش طریقے سے اسے دعوت نہیں دے سکتا۔ اور اگر وہ انکار کر دے تو یہ ثابت قدمی کے ساتھ دعوت کا مشن جاری نہیں رکھ سکتا۔
اللہ کو تو معلوم تھا کہ فرعون کیا جواب دینے والا ہے۔ لیکن دعوت دینا اور اس کے لئے تمام طریقوں سے جدوجہداختیار کرنا ضروری ہے۔ اللہ کسی شخص کے بارے میں عملی فیصلہ تب ہی کرتا ہے ‘ جب اس سے خیروشر عملاً صادر ہوجائے۔ اگرچہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ نتیجہ خیر ہے یا شر۔ اللہ کا علم حادثات مستقبل کے بارے میں ایسا ہی ہے جیسا کہ حاضر کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہے یا ماضی کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہوتا ہے۔
یہاں تک خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا اور یہ منظر وادی طوی میں بندئہ و معبود کے درمیان مناجات کا منظر تھا۔ اب یہاں سیاق کلام میں درمیان کے واقعات کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ اب موسیٰ اور ہارون دونوں ہیں۔ یہ دونوں دربار میں جانے سے قبل اپنے خدشات کا اظہار پھر کرتے ہیں کہ دربا رفرعون میں انہیں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی بات سنتے ہی وہ کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھے اور جب ان کی بات اسے بری لگے تو وہ سر کشی اختیار کرلے۔
طه 20:44
اذھب انت و اخوک۔۔۔۔۔ او یخشی (24 تا 44) ” ۔
تم اور تمہارے بھائی دونوں میرے معجزات کے ساتھ مسلح ہو کر جائو ‘ انن میں سے معجزہ عصا اور ید بیضا کا مشاہدہ تو کرایا جاچکا ہے۔ تم میرے ذکر میں سستی نہ کرنا کیونکہ یہ اس میدان میں تمہارے لئے اہم سازو سامان ہے ‘ یہ تمہارا بڑا اسلحہ اور سہارا ہے اور مشکلات کے وقت یہی تمہارے لئے لیے جائے پناہ ہوگی۔ جائو تم فرعون کے پاس۔ اس سے قبل میں نے تم کو فرعون کے شر سے محفوظ کیا ہے جبکہ تم ایک بچے تھے۔ جسے تابوت میں بند کر کے سمندر کی نذر کردیا گیا تھا اور سمندر نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا تو ان مشکلات نے تمہیں کوئی نقصان نہ دیا۔ ان خوفناگ حالات میں تمہیں کوئی اذیت نہ دی گئی۔ اب تو تم تیاریوں کے ساتھ اس دربار میں جا رہے ہو ‘ تمہارے ساتھ تمہارے بھائی بھی ہیں۔ اس لیے پرواہ مت کرو۔ جبکہ ایسے مشکل حالات میں بھی ہم نے تمہیں نجات دی ہے۔
فرعون کے پاس رسالت لے کر جائو ‘ وہ بڑاسرکش ‘ جبار اور سر پھرا ہے۔
فقولا لہ قولا لبنا (02 : 44) ” اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا “۔ اس لیے کہ نرم بات کے رد عمل میں کوئی شخص اپنی بےعزتی سمجھ کر ضد میں نہیں آتا۔ اور سرکش جس جھوٹی کبریاتی کے ماحول میں رہتے ہیں ‘ اس کی وجہ سے وہ طیش میں نہیں آتے ۔ نرم بات کی یہ خاصیت ہوتے ہے کہ وہ دلوں کو بیدار کردیتی ہے ‘ اور ایک سرکش بھی نرم بات کی وجہ سے اپنے موقف پر غور کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
تم فرعون کے پاس جائو اور اس بات سے مایوس نہ ہوجانا کہ وہ راہ ہدایت پر کب آسکتا ہے۔ امید رکھنا کہ وہ نصیحت سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور اس کے دل میں خدا کا خوف بھی پیدا ہو سکتا ہے ‘ کیونکہ ایک داعی اگر ذہن میں یہ بات بسا لے کہ جس کے پاس وہ جا رہا ہے وہ تو راہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا تو وہ پر جوش طریقے سے اسے دعوت نہیں دے سکتا۔ اور اگر وہ انکار کر دے تو یہ ثابت قدمی کے ساتھ دعوت کا مشن جاری نہیں رکھ سکتا۔
اللہ کو تو معلوم تھا کہ فرعون کیا جواب دینے والا ہے۔ لیکن دعوت دینا اور اس کے لئے تمام طریقوں سے جدوجہداختیار کرنا ضروری ہے۔ اللہ کسی شخص کے بارے میں عملی فیصلہ تب ہی کرتا ہے ‘ جب اس سے خیروشر عملاً صادر ہوجائے۔ اگرچہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ نتیجہ خیر ہے یا شر۔ اللہ کا علم حادثات مستقبل کے بارے میں ایسا ہی ہے جیسا کہ حاضر کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہے یا ماضی کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہوتا ہے۔
یہاں تک خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا اور یہ منظر وادی طوی میں بندئہ و معبود کے درمیان مناجات کا منظر تھا۔ اب یہاں سیاق کلام میں درمیان کے واقعات کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ اب موسیٰ اور ہارون دونوں ہیں۔ یہ دونوں دربار میں جانے سے قبل اپنے خدشات کا اظہار پھر کرتے ہیں کہ دربا رفرعون میں انہیں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی بات سنتے ہی وہ کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھے اور جب ان کی بات اسے بری لگے تو وہ سر کشی اختیار کرلے۔
طه 20:45
قالا ابنا اننا۔۔۔۔۔۔ علی من کذب و تولی ( 54 تا 84 ) ” ۔
اس سے قبل جو طویل بحث ہوئی تھی اور جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رب تعالیٰ کے ساتھ وادی طوی میں ہم کلام تھے ‘ اس میں حضرت ہارون موجود نہ تھے۔ وہ ایک طویل مناجات تھی اور وسیع سوال و جواب اس میں ہوتے رہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں کا یہ جواب
اننا نخاف ان۔۔۔۔۔۔ ان یطغیٰ (02 : 54) ” دونوں نے عرض کیا پروردگار ‘ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا “۔ وادی طوی میں مناجات کی جگہ میں نہ تھا۔ قرآن کریم کا قصص کے بارے میں یہ طریقہ ہے کہ وہ قصص کے غیر ضروری حصے درمیان میں سے کاٹ دیتا ہے اور قصص کے جو مناظر وہ دکھاتا ہے اس کے درمیان ایک واضح خلا (Gap ) چھوڑ دیتا ہے۔ یہ خلا عقل انسانی خود پر کردیتی ہے اور سیاق کلام یا منظر آگے بڑھ کر زیادہ موثر اور زیادہ مفید ‘ زندہ اور متحرک مناظر پیش کرنا شروع کردیتا ہے جن کا انسان کے وجدان پر اثر ہوتا ہے۔
ظاہر ہے کہ طور سے واپسی پر ‘ موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے ‘ اللہ نے حضرت ہارون کو بھی یہ منصب دے دیا اور ان کو بھی یہ حکم دے دیا گیا کہ تم حضرت موسیٰ کے معاون پیغمبر ہو۔ اور تمہیں بھی بھائی کے ساتھ فرعون کو دعوت دینے کے لئے جانا ہے۔ اب جب وہ تیاریاں کر کے جانے لگتے ہیں تو پھر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔
قالا ربنا اننا۔۔۔۔۔ او ان یطغی (02 : 54) ” دونوں عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا “۔
فرط کا لغوی مفہوم یہ ہے کہ کوئی جلدی سے کسی کو اذیت دے۔ فوراً بات کرتے ہیں اور طغیان کا مفہوم فرط اور اذیت سے زیادہ جامع ہے اور فرعون ان دنوں ایک ایسا جبار حکمران تھا جس سے سب کچھ متوقع تھا۔
یہاں اب ان کو فیصلہ کن تسلی دے دی جاتی ہے جس کے بعد نہ کوئی خوف رہتا ہے اور نہ خدشہ۔
طه 20:46
قال لاتخافآ اننی معکما اسمع واری (02 : 63) ” فرمایا ڈرو مت ، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ “ میں تمہارے ساتھ ہوں ، اگر وہ قوی ہے ، بڑا ہے اور سرکش ہے تو اللہ تو پانے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول کرنے والا ہے۔
ھو القاھر فوق عبادہ وہ تمام کائنات ، تمام انسانوں ، تمام حیوانات اور تمام اشیاء کو صرف کن سے پیدا کرتا ہے۔ کن سے زیادہ اسے کچھ نہیں کہنا پڑتا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں بس یہ اجمالی تسلی کافی ہے۔ لیکن اللہ ان کے اندر مزید طمانیت اور احساس جگانے کے لئے فرماتے ہیں :
اسمع واری (02 : 63) ” میں سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔ “ فرعون کیا ہوتا ہے ؟ اس کی ملکیت میں کیا ہے ؟ وہ کیونکر زیادتی اور سرکشی کرسکتا ہے ؟ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
یہ اطمینان دلانے کے بعد ان کو انداز دعوت بھی سکھایا جاتا ہے اور مختصر دعوت بھی۔
طه 20:47
فاتیہ فقولاً ……وتولی (83) (02 : 83-83) ” جائو اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ “
اللہ نے آغاز ہی میں بتا دیا کہ ان کی رسالت کی دعوت کیا ہے۔
انا رسول ربک (83) ” ہم تیرے رب کے دو فرستادے ہیں۔ “ پہلی آاز میں اس کو یہ بتا دیا جائے کہ تمہارے ساتھ اور ایک ذات رب ہے ، لوگوں کا بھی رب ہے ، یہ صرف وسیٰ اور ہارون کا خدا اور رب نہیں۔ نہ وہ صرف بنی اسرائیل کا رب ہے۔ جیسا کہ اس وقت کی بت پرستانہ خرافات میں یہ عقیدہ ہوتا تھا کہ ہر قوم کا ایک رب ہوتا ہے اور ہر قبیلے کا اپنا خدا یا دیوتا ہوتا ہے۔ ایک یا زیادہ ، خود مصر کی تاریخ میں یہ تصور موجود رہا ہے کہ فرعون بھی رب تھا کیونکہ وہ دیوتائوں کی نسل سے تھا۔
اس کے بعد ان کی رسالت کے اصل موضوع اور مضمون کی وضاحت کی جاتی ہے۔
فارسل معنا بنی اسرآئیل ولاتعذبھم (02 : 83) ” بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ “ فرعون سے ان کا اصل مطالبہ یہ تھا کہ تم بنی اسرائیل کو رہائی دو ، وہ عقیدئہ توحید کی طرف واپس آجائیں ، اس سر زمین کی طرف واپس آجائیں جو اللہ نے ان کے لئے لکھی ہے کہ وہ یہاں رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس میں فساد برپا کردیں اور مکمل طور پر تباہ کردیئے جائیں ۔
اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہاری رسالت کی سچائی پر شہادت یہ ہوگی۔
قد جئنک بایۃ من ربک (02 : 83) ” ہم تیرے پاس رب کی نشانی لے کر آئے ہیں۔ “ یہ نشانی ، یہ معجزہ ہماری سچائی پر دلیل صادق ہے۔ اللہ کے حکم سے آنا تمہاری سچائی کی دلیل ہے۔
اس کے بعد اسے ترغیب دی جاتی ہے اور دعوت قبول کرنے کی طرف اسے مسائل کیا جاتا ہے۔
والسلم علی من اتبع الھدی (02 : 83) ” اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ “ شاید کہ وہ راہ ہدایت پالے اور ان سے اسلام کی دعوت سیکھ لے۔
اس کے بعد نہایت ہی عمدہ اور بالواسطہ طرز کلام میں اس کو کہا جاتا ہے تاکہ اسے غصہ نہ آجائے اور اس کو اپنے غرور کی وجہ سے بات بری نہ لگے۔
انا قداوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی (02 : 83) ” ہم کو حی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ “ ہو سکتا ہے کہ تم ان میں سے نہ ہو اور یہ بات ہم نہیں کہتے ، ہم پر وحی آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ و ہارون کو دولت اطمینان سے مالا مال کر کے ، دعوت کا طریق کار سمجھا کر بھیجا تاکہ وہ پوری طرح تیار ہو کر اپنا مشن اچھی طرح جانتے ہوئے جائیں۔ اب پردہ گر جاتا ہے ، اگلا منظر فرعون کا دربار ہے۔
طه 20:48
فاتیہ فقولاً ……وتولی (83) (02 : 83-83) ” جائو اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ “
اللہ نے آغاز ہی میں بتا دیا کہ ان کی رسالت کی دعوت کیا ہے۔
انا رسول ربک (83) ” ہم تیرے رب کے دو فرستادے ہیں۔ “ پہلی آاز میں اس کو یہ بتا دیا جائے کہ تمہارے ساتھ اور ایک ذات رب ہے ، لوگوں کا بھی رب ہے ، یہ صرف وسیٰ اور ہارون کا خدا اور رب نہیں۔ نہ وہ صرف بنی اسرائیل کا رب ہے۔ جیسا کہ اس وقت کی بت پرستانہ خرافات میں یہ عقیدہ ہوتا تھا کہ ہر قوم کا ایک رب ہوتا ہے اور ہر قبیلے کا اپنا خدا یا دیوتا ہوتا ہے۔ ایک یا زیادہ ، خود مصر کی تاریخ میں یہ تصور موجود رہا ہے کہ فرعون بھی رب تھا کیونکہ وہ دیوتائوں کی نسل سے تھا۔
اس کے بعد ان کی رسالت کے اصل موضوع اور مضمون کی وضاحت کی جاتی ہے۔
فارسل معنا بنی اسرآئیل ولاتعذبھم (02 : 83) ” بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ “ فرعون سے ان کا اصل مطالبہ یہ تھا کہ تم بنی اسرائیل کو رہائی دو ، وہ عقیدئہ توحید کی طرف واپس آجائیں ، اس سر زمین کی طرف واپس آجائیں جو اللہ نے ان کے لئے لکھی ہے کہ وہ یہاں رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس میں فساد برپا کردیں اور مکمل طور پر تباہ کردیئے جائیں ۔
اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہاری رسالت کی سچائی پر شہادت یہ ہوگی۔
قد جئنک بایۃ من ربک (02 : 83) ” ہم تیرے پاس رب کی نشانی لے کر آئے ہیں۔ “ یہ نشانی ، یہ معجزہ ہماری سچائی پر دلیل صادق ہے۔ اللہ کے حکم سے آنا تمہاری سچائی کی دلیل ہے۔
اس کے بعد اسے ترغیب دی جاتی ہے اور دعوت قبول کرنے کی طرف اسے مسائل کیا جاتا ہے۔
والسلم علی من اتبع الھدی (02 : 83) ” اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ “ شاید کہ وہ راہ ہدایت پالے اور ان سے اسلام کی دعوت سیکھ لے۔
اس کے بعد نہایت ہی عمدہ اور بالواسطہ طرز کلام میں اس کو کہا جاتا ہے تاکہ اسے غصہ نہ آجائے اور اس کو اپنے غرور کی وجہ سے بات بری نہ لگے۔
انا قداوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی (02 : 83) ” ہم کو حی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ “ ہو سکتا ہے کہ تم ان میں سے نہ ہو اور یہ بات ہم نہیں کہتے ، ہم پر وحی آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ و ہارون کو دولت اطمینان سے مالا مال کر کے ، دعوت کا طریق کار سمجھا کر بھیجا تاکہ وہ پوری طرح تیار ہو کر اپنا مشن اچھی طرح جانتے ہوئے جائیں۔ اب پردہ گر جاتا ہے ، اگلا منظر فرعون کا دربار ہے۔
طه 20:49
اب وہ فرعون کے دربار میں ہیں ، قرآن اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ وہ کس طرح پہنچے ، بہرحال وہ پہنچ گئے۔ ان کا رب ان کے ساتھ ہے اور دیکھ رہا ہے۔ موسیٰ اور ہارون نے نہایت ہی قوت اور اعتماد سے بات کرتے ہوئے دعوت پہنچائی۔ فرعون جو چاہے ہو ، وہ اسے ملے۔ انہوں نے ، جس طرح اللہ نے بتایا تھا اسے دعوت دی۔ یہ دوسرا منظر اب اس گفتگو سے شروع ہوتا ہے جو ان دونوں اور فرعون کے درمیان ہوئی :
قال ……ھدی (05)
یہ شخص یہ اعتراف نہیں کرتا کہ موسیٰ و ہارون کا رب ہی اس کا رب ہے ، جس طرح انہوں نے کہہ دیا کہ ہم دونوں اللہ تمہارے رب کے رسول ہیں۔ یہ شخص موسیٰ سے مخاطب ہوتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ اصل صاحب دعوت موسیٰ ہی ہیں۔
قال فمن ربکما یموسی (02 : 93) ” تم دونوں کا وہ رب کون ہے جس کے نام سے تم بات کرتے ہو اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہو۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے سامنے اللہ کی جس صفت کا ذکر کرتے ہیں وہ اللہ کی صفت تخلیق اور صفت تدبیر ہے۔
قال ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی (02 : 05) ” موسیٰ نے کہا ، ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی۔ پھر اس کو راستہ بتایا۔ “ رب وہ ہے جس نے ہر موجود کو وجود بخشا اور ایک مناسب صورت اور فطرت بھی عطا کی۔ اس کے بعد اس کو وہ طریقہ بتایا جس کے مطابق وہ اپنا فریضہ منصبی پوری طرح ادا کرسکے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا اور اسے وہ تمام سہولیات بھی عطا کردیں جو اس کے فریضہ منصبی کی ادائیگی کے لئے ضروری تھیں۔ یہاں لفظ ثم (تراخی زمانی) کے لئے نہیں ہے یعنی مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے پیدا کیا ، بعد میں عقلاً اسے ہدایت دی بلکہ پیدائش کے ساتھ ہی وہ فطری صلاحیت بھی عطا کردی۔ خلق و ہدایت میں فرق صرف مرتبہ و اہمیت کے اعتبار سے ہے یعنی تخلیق زیادہ اہم ہے اور ہدایت اور فرائض منصبی کی صلاحیت اور اسباب فراہم کرنا اس کے تابع ہے۔ عقلاً یہ خلق کے بعد ثانوی چیز ہے۔
یہ صفت جس کا ذکر قرآن کریم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی کیا ، یہ خدا کی تخلیق کے اعلیٰ ترین آثار کا خلاصہ ہے۔ یعنی کسی چیز کی تخلیق اور اسے اپنا فریضہ تخلیق ادا کرنے کے لئے فطری ہدایت اور سہولیات کی فراہمی ، انسان جب اس کائنات وسیع و عریض میں اپنی بصارت اور بصیرت دونوں کو کام لا کر غور کرتا ہے ، اپنے علم و مشاہدے کی حد تک ، تو ہر چھوٹی بڑی چیز کے اندر اسے قدرت کی یہ خالقیت اور تدبیر واضح طور پر نظر آتی ہے۔ کائنات کے چھوٹے سے چھوٹے جسم ذرہ اور بڑے سے بڑے زندہ جسم میں ، مساوی طور پر ابتدائی خلیے میں بھی اور انسان جیسے پیچیدہ مخلوق میں بھی یہ سب صفات اور قدرت کے یہ کرشمے نظر آتے ہیں۔
کائنات کا یہ عظیم وجود جس میں لاتعداد ذرے ، خلیے ، مخلوقات ، زندہ اور غیر زندہ اس کا ہر خلیہ ایک خاص زندگی کا مالک ہے اور متحرک ہے۔ اس کی ہر زندہ چیز متحرک ہے۔ اس کا ہر موجود دور سے کے ساتھ منسلک ہے ، ان میں سے ہر چیز انفرادی طور پر بھی اور دوسروں کے ساتھ مل کر بھی ، قوانین قدرت کے مطابق ، بغیر کسی ٹکرائو کے وظیفہ فطرت اور غرض تخلیق پورا کر رہی ہے اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس وسیع کائنات کے پیچیدہ نظام میں کوئی خلل نہیں ڈالتی۔
اگر ہم کسی ایک مخلوق و موجود کا تجزیہ کرتے ہیں تو وہ اپنی ذات میں ایک کائنات ہے۔ وہ اپنے اندر اپنے ذرات ، اپنے خلیوں ، اپنے اعضاء اور اپنے اعصاب کے مطابق تقاضائے فطرت پورے کر رہا ہے۔ دوسری طرف وہ اس پوری کائنات کے نظام فطرت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے اور یہ سب کچھ نہایت ہی باریک انتظام اور توافق کے ساتھ چلتا ہے۔
اس پوری کائنات کو تو ایک طرف رہنے دیں ، کائنات کی کسی ایک مخلوق کو آپ لے لیں ، ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے ، اس کی حقیقت معلوم کرنے ، صحت اور بیماری معلوم کرنے میں انسان اپنی وسیع کوششوں کے باوجود اور وسعت علم کے باوجود قاصر ہے۔ کسی ایک چیز کے مالہ و ماعلیہ کا علم وہ تمام نہیں کرسکا چہ جائیکہ وہ تحقیق کر کے سکے یا فطرت دے سکے اور ہدایت دے سکے یا اس ہئیت و شکل دے سکے۔ تمام اشیاء میں سے کسی ایک چیز کو بھی …واقعہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ الہ واحد کا کام ہے ، وہی ہمارا رب ہے جس نے ہر چیز کو وجود بخشا اور ہدایت دی۔
طه 20:50
اب وہ فرعون کے دربار میں ہیں ، قرآن اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ وہ کس طرح پہنچے ، بہرحال وہ پہنچ گئے۔ ان کا رب ان کے ساتھ ہے اور دیکھ رہا ہے۔ موسیٰ اور ہارون نے نہایت ہی قوت اور اعتماد سے بات کرتے ہوئے دعوت پہنچائی۔ فرعون جو چاہے ہو ، وہ اسے ملے۔ انہوں نے ، جس طرح اللہ نے بتایا تھا اسے دعوت دی۔ یہ دوسرا منظر اب اس گفتگو سے شروع ہوتا ہے جو ان دونوں اور فرعون کے درمیان ہوئی :
قال ……ھدی (05)
یہ شخص یہ اعتراف نہیں کرتا کہ موسیٰ و ہارون کا رب ہی اس کا رب ہے ، جس طرح انہوں نے کہہ دیا کہ ہم دونوں اللہ تمہارے رب کے رسول ہیں۔ یہ شخص موسیٰ سے مخاطب ہوتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ اصل صاحب دعوت موسیٰ ہی ہیں۔
قال فمن ربکما یموسی (02 : 93) ” تم دونوں کا وہ رب کون ہے جس کے نام سے تم بات کرتے ہو اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہو۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے سامنے اللہ کی جس صفت کا ذکر کرتے ہیں وہ اللہ کی صفت تخلیق اور صفت تدبیر ہے۔
قال ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی (02 : 05) ” موسیٰ نے کہا ، ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی۔ پھر اس کو راستہ بتایا۔ “ رب وہ ہے جس نے ہر موجود کو وجود بخشا اور ایک مناسب صورت اور فطرت بھی عطا کی۔ اس کے بعد اس کو وہ طریقہ بتایا جس کے مطابق وہ اپنا فریضہ منصبی پوری طرح ادا کرسکے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا اور اسے وہ تمام سہولیات بھی عطا کردیں جو اس کے فریضہ منصبی کی ادائیگی کے لئے ضروری تھیں۔ یہاں لفظ ثم (تراخی زمانی) کے لئے نہیں ہے یعنی مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے پیدا کیا ، بعد میں عقلاً اسے ہدایت دی بلکہ پیدائش کے ساتھ ہی وہ فطری صلاحیت بھی عطا کردی۔ خلق و ہدایت میں فرق صرف مرتبہ و اہمیت کے اعتبار سے ہے یعنی تخلیق زیادہ اہم ہے اور ہدایت اور فرائض منصبی کی صلاحیت اور اسباب فراہم کرنا اس کے تابع ہے۔ عقلاً یہ خلق کے بعد ثانوی چیز ہے۔
یہ صفت جس کا ذکر قرآن کریم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی کیا ، یہ خدا کی تخلیق کے اعلیٰ ترین آثار کا خلاصہ ہے۔ یعنی کسی چیز کی تخلیق اور اسے اپنا فریضہ تخلیق ادا کرنے کے لئے فطری ہدایت اور سہولیات کی فراہمی ، انسان جب اس کائنات وسیع و عریض میں اپنی بصارت اور بصیرت دونوں کو کام لا کر غور کرتا ہے ، اپنے علم و مشاہدے کی حد تک ، تو ہر چھوٹی بڑی چیز کے اندر اسے قدرت کی یہ خالقیت اور تدبیر واضح طور پر نظر آتی ہے۔ کائنات کے چھوٹے سے چھوٹے جسم ذرہ اور بڑے سے بڑے زندہ جسم میں ، مساوی طور پر ابتدائی خلیے میں بھی اور انسان جیسے پیچیدہ مخلوق میں بھی یہ سب صفات اور قدرت کے یہ کرشمے نظر آتے ہیں۔
کائنات کا یہ عظیم وجود جس میں لاتعداد ذرے ، خلیے ، مخلوقات ، زندہ اور غیر زندہ اس کا ہر خلیہ ایک خاص زندگی کا مالک ہے اور متحرک ہے۔ اس کی ہر زندہ چیز متحرک ہے۔ اس کا ہر موجود دور سے کے ساتھ منسلک ہے ، ان میں سے ہر چیز انفرادی طور پر بھی اور دوسروں کے ساتھ مل کر بھی ، قوانین قدرت کے مطابق ، بغیر کسی ٹکرائو کے وظیفہ فطرت اور غرض تخلیق پورا کر رہی ہے اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس وسیع کائنات کے پیچیدہ نظام میں کوئی خلل نہیں ڈالتی۔
اگر ہم کسی ایک مخلوق و موجود کا تجزیہ کرتے ہیں تو وہ اپنی ذات میں ایک کائنات ہے۔ وہ اپنے اندر اپنے ذرات ، اپنے خلیوں ، اپنے اعضاء اور اپنے اعصاب کے مطابق تقاضائے فطرت پورے کر رہا ہے۔ دوسری طرف وہ اس پوری کائنات کے نظام فطرت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے اور یہ سب کچھ نہایت ہی باریک انتظام اور توافق کے ساتھ چلتا ہے۔
اس پوری کائنات کو تو ایک طرف رہنے دیں ، کائنات کی کسی ایک مخلوق کو آپ لے لیں ، ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے ، اس کی حقیقت معلوم کرنے ، صحت اور بیماری معلوم کرنے میں انسان اپنی وسیع کوششوں کے باوجود اور وسعت علم کے باوجود قاصر ہے۔ کسی ایک چیز کے مالہ و ماعلیہ کا علم وہ تمام نہیں کرسکا چہ جائیکہ وہ تحقیق کر کے سکے یا فطرت دے سکے اور ہدایت دے سکے یا اس ہئیت و شکل دے سکے۔ تمام اشیاء میں سے کسی ایک چیز کو بھی …واقعہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ الہ واحد کا کام ہے ، وہی ہمارا رب ہے جس نے ہر چیز کو وجود بخشا اور ہدایت دی۔
طه 20:51
اب فرعن نے ایک نیا سوال پیش کیا۔
قال فما بال القرون الاولی (15)
“ یعنی جو لوگ تمہاری دعوت سے پہلے گزر گئے ہیں ان کا کیا ہوگا۔ وہ کدھر گئے ۔ ان کا رب کون تھا ؟ اور وہ تو اس الہ کے تصور کے بغیر چلے گئے جس کے بارے میں تم بات کرتے ہو۔ “
طه 20:52
قال علمھا ……ینسی (25)
فرعون کے اس دوسرے سوال کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ پر چھوڑ دیا کیونکہ اس کا تعلق زمانہ ماقبل سے تھا۔ جو اب کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں اللہ خوب جانتا ہے ، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور وہ کبھی بھولتا بھی نہیں۔ وہی ہے جو تمام زمانوں کی بات جانتا ہے ، ماضی ہو یا مستقبل ہو ، غیب بھی اللہ جانتا ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں احکام بھی اللہ صادر کرے گا۔
ان سوالات کے جوابات کے بعد حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے اللہ کا مزید تعارف کراتے ہیں کہ وہ اس کائنات کا مدبر ہے ، تمام انسانوں پر اس کی نعمتیں کیا کیا ہیں ، چناچہ کائنات اور مصری ماحول کے بعض اہم شواہد پیش کئے جاتے ہیں ، کیونکہ مصری سر زمین ایک سرسبز و شاداب زمین تھی۔ پانی وہاں وافر تھا اور فصل اور مویشی بکثرت تھے۔
طه 20:53
الذی ……النھی (35)
تمام علاقوں میں اور تمام زمانوں میں زمین انسانوں کے لئے ایک گہوارہ رہی ہے۔ ایسا ہی گہوارا جس طرح بچے گا گہوارہ ہوتا ہے ، انسانوں کی حیثیت زمین پر اسی طرح ہے کہ جس طرح ماں کے بچے ہوتے ہیں۔ زمین تمام انسانوں کے لئے ماں ہے۔ زمین کا دامن انہیں پناہ دیتا ہے اور زمین کے پستان سے وہ رزق کھاتے ہیں۔ نیز یہ ان کے لئے برائے آرام ، برائے سیر ، برائے زراعت اور زندگی کی تمام سرگرمیوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جب سے اللہ نے ہر چیز کو لباس تخلیق پہنایا ہے۔ اس دن سے اس نے اسے ایسا بنایا ہے ، زمین کو بھی اس نے یہ شکل وہیت دی ہے تاکہ ” انسانوں کی زندگی کے لئے صالح ہو۔ کیونکہ اللہ کی اسکیم میں انسان نے یہیں رہنا تھا۔ پھر جب انسان کو پیدا کیا تو اسے بھی ایسا ہی بنایا کہ وہ اس کرئہ ارض پر تخلیق کے لئے تیار ہو ، کیونکہ اللہ نے زمین کو بھی انسانوں کے لئے تیار کیا تھا اور گہوارہ بنایا تھا۔ دونوں مفہوم مہد یعنی تیار کیا اور مہد یعنی گہوارہ متقارب ہیں۔
زمین کا تیار شدہ ہونا یا گہوارہ ہونا جس طرح مصر میں ظاہر ہے دنیا کے کسی دوسرے خطے میں ظاہر نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سرسبز اور زرخیز وادی ہے۔ یہاں کے لوگ ہر کام میں کم محنت کر کے بہت کچھ پاتے ہیں ، زراعت میں باغات وغیرہ ہیں۔ گویا اطفال انسانیت کے لئے یہ نرم اور آرام دہ گہوارہ ہے۔
خالق کائنات جس نے زمین کو گہوارہ بنایا ، اس میں اس نے انسانوں کے لئے راستے بھی بنائے ، آسمانوں سے بارشوں کا انتظام کیا ، بارشوں کے پانیوں سے نہریں اور دریا چلے ، ان میں سے ایک دریائے نیل تھا جو فرعون کے قریب تھا ، اور مصریوں کے لئے بہت اہم پھر نباتات بھی جوڑوں کی شکل میں بنئای اور سر زمین مصر بہترین نمونہ ہے فصلوں کی پیداوار اور مویشیوں کے چرانے کے لئے۔
اللہ کی گہری مشیت کو دیکھیے کہ اللہ نے نباتات میں بھی انسانوں کی طرح نر اور مادہ پیدا کئے جس طرح تمام حیوانات نر و مادہ ہیں۔ تمام زندہ چیزوں میں نر و مادہ کے خلیے ہوتے ہیں اور بعض اوقات نر پودا اور ہوتا ہے اور مادہ پودا اور یوں قوانین قدرت میں ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
ان فی ذلک لایت الاولی النھی (02 : 35) ” یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لئے۔ “ اس کائنات کا نظام اس قدر سبق آموز ہے کہ جو شخص ذرا بھی معقولیت کے ساتھ اس کا مطالعہ کرے اس میں اسے بیشمار دلائل و نشانات نظر آئیں گے۔
طه 20:54
الذی ……النھی (35)
تمام علاقوں میں اور تمام زمانوں میں زمین انسانوں کے لئے ایک گہوارہ رہی ہے۔ ایسا ہی گہوارا جس طرح بچے گا گہوارہ ہوتا ہے ، انسانوں کی حیثیت زمین پر اسی طرح ہے کہ جس طرح ماں کے بچے ہوتے ہیں۔ زمین تمام انسانوں کے لئے ماں ہے۔ زمین کا دامن انہیں پناہ دیتا ہے اور زمین کے پستان سے وہ رزق کھاتے ہیں۔ نیز یہ ان کے لئے برائے آرام ، برائے سیر ، برائے زراعت اور زندگی کی تمام سرگرمیوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جب سے اللہ نے ہر چیز کو لباس تخلیق پہنایا ہے۔ اس دن سے اس نے اسے ایسا بنایا ہے ، زمین کو بھی اس نے یہ شکل وہیت دی ہے تاکہ ” انسانوں کی زندگی کے لئے صالح ہو۔ کیونکہ اللہ کی اسکیم میں انسان نے یہیں رہنا تھا۔ پھر جب انسان کو پیدا کیا تو اسے بھی ایسا ہی بنایا کہ وہ اس کرئہ ارض پر تخلیق کے لئے تیار ہو ، کیونکہ اللہ نے زمین کو بھی انسانوں کے لئے تیار کیا تھا اور گہوارہ بنایا تھا۔ دونوں مفہوم مہد یعنی تیار کیا اور مہد یعنی گہوارہ متقارب ہیں۔
زمین کا تیار شدہ ہونا یا گہوارہ ہونا جس طرح مصر میں ظاہر ہے دنیا کے کسی دوسرے خطے میں ظاہر نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سرسبز اور زرخیز وادی ہے۔ یہاں کے لوگ ہر کام میں کم محنت کر کے بہت کچھ پاتے ہیں ، زراعت میں باغات وغیرہ ہیں۔ گویا اطفال انسانیت کے لئے یہ نرم اور آرام دہ گہوارہ ہے۔
خالق کائنات جس نے زمین کو گہوارہ بنایا ، اس میں اس نے انسانوں کے لئے راستے بھی بنائے ، آسمانوں سے بارشوں کا انتظام کیا ، بارشوں کے پانیوں سے نہریں اور دریا چلے ، ان میں سے ایک دریائے نیل تھا جو فرعون کے قریب تھا ، اور مصریوں کے لئے بہت اہم پھر نباتات بھی جوڑوں کی شکل میں بنئای اور سر زمین مصر بہترین نمونہ ہے فصلوں کی پیداوار اور مویشیوں کے چرانے کے لئے۔
اللہ کی گہری مشیت کو دیکھیے کہ اللہ نے نباتات میں بھی انسانوں کی طرح نر اور مادہ پیدا کئے جس طرح تمام حیوانات نر و مادہ ہیں۔ تمام زندہ چیزوں میں نر و مادہ کے خلیے ہوتے ہیں اور بعض اوقات نر پودا اور ہوتا ہے اور مادہ پودا اور یوں قوانین قدرت میں ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
ان فی ذلک لایت الاولی النھی (02 : 35) ” یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لئے۔ “ اس کائنات کا نظام اس قدر سبق آموز ہے کہ جو شخص ذرا بھی معقولیت کے ساتھ اس کا مطالعہ کرے اس میں اسے بیشمار دلائل و نشانات نظر آئیں گے۔
طه 20:55
حضرت موسیٰ کی اس بات کی تکمیل کے لئے اب اللہ کا یہ فرمان آجاتا ہے :
منھا خلقنکم ……وابی (65)
اس زمین سے تمہیں پیدا کیا ہے جو تمہارے لئے گہوارہ ہے۔ جس میں تمہارے لئے راستے بنائے۔ جس پر ہم نے بارشیں برسائیں اور مختلف قسم کے نباتات پیدا کئے ، کھانے کے لئے اور چارے کے طور پر۔ اس زمین سے تم پیدا کئے گئے ہو ، اس میں تم دفنائے جائو گے اور سای سے ہم تمہیں دوبارہ نکال کر زندہ کردیں گے۔
انسان اس زمین کے مادے سے تخلیق کیا گیا ہے۔ زمین کے اکثر عناصر اس کے جسم میں موجود ہیں۔ اس کی فصل اور پیداوار اس کی خوراک ہے۔ اس کا پانی وہ پیتا ہے ، اسی کی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ یہ اسی کا بیٹا ہے اور یہ اس کے لئے گہوارہ ہے اور جب یہ اس میں دفن کیا جاتا ہے تو اس کا جسم گل سڑ کے خاک ہوجاتا ہے ، گس بن کر ہوا میں شامل ہوجاتا ہے ، اس زمین سے اسے پھر نکال کر حیات جدید دی جائے گی جیسا کہ پہلے اسے زندگی دی گئی۔
فرعون کے ساتھ گفتگو میں زمین کا تذکرہ بہت ہی مناسب ہے ، یہ بہت ہی متکبر تھا ، یہ اپنے آپ کو رب مخلوق سمجھتا تھا ، حالانکہ وہ اس زمین کا بچہ تھا اور اس زمین میں اسے جانا تھا وہ اس زمین میں تخلیق کردہ اشیاء میں سے ایک شے تھا اور زین ار اس کی ہر چیز کا ایک فرض منصبی مقرر ہے لیکن
ولقد ارینہ ایتنا کلھا فکذب وابی (0 : 65) ” ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹالئے چلا گیا۔ “ اس کے ماحول سے حضرت موسیٰ نے اسے جو آیات دکھائیں ان کی بھی اس نے تکذیب کی۔ اس کو عصا اور ید بیضا کی نشانیاں بھی دکھائیں ، جو آیات تکوینی کا ایک حصہ ہی ہیں مگر اس نے انکار ہی کیا ، اور آیات تکوینی اور آیات خارق عادت میں قرآن کے نزدیک کوئی زیادہ فرق نہیں ہے ، اس لئے قرآن نے یہاں دونوں کا ذکر مشترکہ طور پر کردیا۔ قرآن نے صرف اس بات کا ذکر کیا کہ فرعون نے ان تمام آیات و معجزات کو رد کردیا جادو کہہ کر۔
طه 20:56
حضرت موسیٰ کی اس بات کی تکمیل کے لئے اب اللہ کا یہ فرمان آجاتا ہے :
منھا خلقنکم ……وابی (65)
اس زمین سے تمہیں پیدا کیا ہے جو تمہارے لئے گہوارہ ہے۔ جس میں تمہارے لئے راستے بنائے۔ جس پر ہم نے بارشیں برسائیں اور مختلف قسم کے نباتات پیدا کئے ، کھانے کے لئے اور چارے کے طور پر۔ اس زمین سے تم پیدا کئے گئے ہو ، اس میں تم دفنائے جائو گے اور سای سے ہم تمہیں دوبارہ نکال کر زندہ کردیں گے۔
انسان اس زمین کے مادے سے تخلیق کیا گیا ہے۔ زمین کے اکثر عناصر اس کے جسم میں موجود ہیں۔ اس کی فصل اور پیداوار اس کی خوراک ہے۔ اس کا پانی وہ پیتا ہے ، اسی کی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ یہ اسی کا بیٹا ہے اور یہ اس کے لئے گہوارہ ہے اور جب یہ اس میں دفن کیا جاتا ہے تو اس کا جسم گل سڑ کے خاک ہوجاتا ہے ، گس بن کر ہوا میں شامل ہوجاتا ہے ، اس زمین سے اسے پھر نکال کر حیات جدید دی جائے گی جیسا کہ پہلے اسے زندگی دی گئی۔
فرعون کے ساتھ گفتگو میں زمین کا تذکرہ بہت ہی مناسب ہے ، یہ بہت ہی متکبر تھا ، یہ اپنے آپ کو رب مخلوق سمجھتا تھا ، حالانکہ وہ اس زمین کا بچہ تھا اور اس زمین میں اسے جانا تھا وہ اس زمین میں تخلیق کردہ اشیاء میں سے ایک شے تھا اور زین ار اس کی ہر چیز کا ایک فرض منصبی مقرر ہے لیکن
ولقد ارینہ ایتنا کلھا فکذب وابی (0 : 65) ” ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹالئے چلا گیا۔ “ اس کے ماحول سے حضرت موسیٰ نے اسے جو آیات دکھائیں ان کی بھی اس نے تکذیب کی۔ اس کو عصا اور ید بیضا کی نشانیاں بھی دکھائیں ، جو آیات تکوینی کا ایک حصہ ہی ہیں مگر اس نے انکار ہی کیا ، اور آیات تکوینی اور آیات خارق عادت میں قرآن کے نزدیک کوئی زیادہ فرق نہیں ہے ، اس لئے قرآن نے یہاں دونوں کا ذکر مشترکہ طور پر کردیا۔ قرآن نے صرف اس بات کا ذکر کیا کہ فرعون نے ان تمام آیات و معجزات کو رد کردیا جادو کہہ کر۔
طه 20:57
قال اجئتنا ……ضحی (95)
فرعون نے کوئی مناظرہنہ کیا ، دلیل کا جواب دلیل سے نہ دیا ، کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل قوی تھے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کا تعلق اس کائنات کی نشانیوں سے بھی تھا۔ ان دونوں خارق العادات معجزات سے بھی تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے تھے اس نے بس ہارے ہوئے آدمی کی طرح جھوٹے الزام کا سہارا لیا کہ موسیٰ نے عصا کو سانپ بنا کر پیش کیا ہے ، یہ ان کی کھلی جادوگری ہے۔ نیز وہ ہاتھ کو جادوگری سے سفید کردیتا ہے۔ اس وقت چونکہ مصر میں جادوگری عروج پر تھی اس لئے فرعون نے بھی یہی الزام لگایا۔ یہ دونوں معجزات بھی ایسے تھے کہ سحر شکن تھے حالانکہ سحر تو ایک نظر بندی اور تخلیل ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ دیکھنے اور سننے والوں کے حواس کو متار کر کے دھوکہ دے دیا جاتا ہے اور ایسے آثار نظر آتے ہیں جیسے کہ چیزوں کی حقیقت بھی بدل گئی ہے جیسا کہ بعض اوقات انسان ایسی چیزوں کو دیکھتا ہے جن کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ یا انسان کو بعض اوقات چیزوں کی وہ صورت نظر نہیں آتی جو فی الحقیقت ہوتی ہے۔ ایک جادو زدہ شخص پر بھی بعض اوقات ایسے اثرات ہوتے ہیں کہ جسمانی اور اعصابی طور پر تغیر نظر آتا ہے لیکن حقیقت نہیں بدلتی جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ایسے تھے کہ حقیقت بدل جاتی تھی۔ وقتی طور پر مکمل حقیقت بدل جاتی تھی۔
قال اجئننا لتخر جنا من ارضنا بسحرک یموسی (02 : 85) ” کہنے لگا اے موسیٰ تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال دے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں بنی اسرائیل کو سیاسی عمل کے طور پر غلام بنایا گیا تھا۔ اس لئے کہ وہ بڑی کثرت سے تھے ، ان کی آبادی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ جب اقتدار کا سوال آتا ہے تو سرکش حکمران عوام کو شدید سے شدید تر عذاب دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ وہ انسانوں کو ایسی تکلیفیں دیتے ہیں جن کا جواز انسانوں کے کسی تصور میں نہیں ہوتا۔ اور وہ تشدد انسانی ضمیر ، انسانی شرافت اور انسانی حقوق کے خلاف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا اور ان سے مزدوری لیتا تھا اور بیگار اور مزدوری بھی وہ جو سخت سے سخت ہو۔ جب موسیٰ اور ہارون علیھما السلام نے یہ مطالبہ کیا کہ
ارسل معنا بنی اسرآئیل ولا تعذبھم ” ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دو اور انہیں تکلیف نہ دو ۔ “ تو جواب میں اس نے یہ الزام لگایا۔
قال اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یموسیٰ (02 : 85) ” موسیٰ ، تم ہمارے پاس اس لئے آتے ہو کہ ہمیں اپنی سر زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دو ۔ “ کیونکہ بنی اسرائیل کی آزادی اور ہجرت کے یہ معنی ہیں کہ وہ حملہ کر کے مصر پر قابض بھی ہو سکتے ہیں۔
جب اس کے خیال میں موسیٰ (علیہ السلام) محض جادو کے زور سے بنی اسرائیل کو آزاد کرانا چاہتے ہیں تو قدرتی طور پر جواب یہی ہے کہ ہم بھی ایسا ہی جادو لے آئیں گے۔
طه 20:58
فلناتینک بسحر مثلہ (02 : 85) ” ہم تمہارے پاس ایسا ہی جادو لے آئیں گے۔ “ ہمیشہ سرکشوں اور بےدین لیڈروں نے یہی سمجھا ہے کہ دعوت حق دینے والے دراصل ملک کے اندر اقتدار اعلیٰ کے طالب ہوتے ہیں۔ ان کی دعوت دراصل ایک پردہ ہے جس کے پیچھے وہ انقلابی کام کرت یہیں۔ اس کے بعد جب وہ دیکھتے ہیں کہ داعی کے پاس دلائل و شواہد ہیں یا تو معجزات ہیں جس کے پیچھے وہ انقلابی کام کرتے ہیں۔ اس کے بعد جب وہ یکھتے ہیں کہ داعی کے پاس دلائل و شواہد ہیں یا تو معجزات ہیں جیسے حضرت موسیٰ کیے معجزات یا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو جاد کی طرح دال میں اتر جاتے ہیں چناچہ سرزکش ڈکٹیٹر حکمرن اپنے لئے ایسے ہی دلائل فراہم کرتے ہیں۔ سحر کے مقابلے میں سحر ، کلام کے مقابلے میں کلام ، اصلاح کے مقابلے میں اصلاح ، اچھے اعمال کے مقابلے میں اچھے اعمال ، لیکن وہ جانتے نہیں کہ اہل حق کے پاس ایمان ہوتا ہے اور ایمان کے مقابلے میں ان کے پاس ایمان نہیں ہوتا۔ اہل حق کو اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے اور ان سرکشوں کو اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔
چناچہ فرعون نے موسیٰ کے ساتھ مقابلے کا وقت مقرر کرلیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ تم جس وقت چاہو ، مقابلہ کرلو ، لیکن وقت مقررہ پر دونوں فریق حسب وعدہ ضرور آئیں گے اور چیلنج کو زور دار بنانے کے لئے اس نے یہ شرط لگائی کہ کوئی بھی وقت مقررہ سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور مقابلہ بھی کھلے میدان میں عوام الناس کے سامنے ہونا چاہئے۔
مکانا سوی (02 : 85) ” یعنی کھلا میدان “ موسیٰ علہی ال سلام سے پہلے فرعون نے چیلنج دیا ، اور مقابلے کا دن جشن کا مشورہ دن مقرر ہوا۔ جشن کے دن لوگ خوشایں مناتے ہیں اور خوب زیب وزینت سے آتے ہیں۔ کھلے میدانوں میں جمع ہوتے ہیں۔
طه 20:59
قال موعدکم یوم الزینۃ (02 : 95) موسیٰ نے کہا جشن کا دن طے ہوا۔ “ اور یہ بھی کہا کہ سورج نکلتے ہیں لوگ جمع ہوں تاکہ جگہ کھلی ہو ، وقت لوگوں کے اجتماع کا ہو ، صبح کا وقت اس لئے کہ زیادہ سے زیادہ آسکیں ، نہ گرمی ہو ، نہ رات کا اندھیرا ہو۔ بہت سویرے بھی نہ ہو کہ لوگ گھروں سے نکلنے کے لیء ابھی فارغ ہی نہ ہوئے ہوں۔ دوپہر بھی نہ ہو کہ بہت گرمی ہوتی ہے ، شام بھی نہ ہو کہ اندھیرا ہوجاتا ہے۔ لوگ جمع بھی نہیں ہوتے اور پھر روشنی کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔ الصحیٰ یعنی دن چڑھنے کا وقت سب سے موزوں ہے۔
اب یہ منظر موسیٰ و ہارون اور فرعون کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات کا منظر یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ ایک طرف ایک مومن داعی ہے اور دوسری طرف ایک متکبر اور سرکش مقتدر اعلیٰ …پردہ گرتا ہے اور آئندہ ملاقات کے میدان میں ہوگی۔
طه 20:60
فتول فرعون فجمع کیدہ ، ثم اتی (06)
قرآن مجید نے فرعون کی ہدایات فرعون کے سرداروں کے مشورے اور پھر اس کے اور جادوگروں کے درمیان جو مکالمہ ہوا ، ان سب امور کو مجمل چھوڑ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے باہم جو مشورے ہوئے ، جو تیاریاں کی گئیں ، جادگروں سے جو وعدہ ہوئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی یہ سب امور ترک کردیئے گئے ہیں۔ صرف ایک مختصر جملہ کہا کہ ” فرون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کر لئے اور مقابلے میں آگیا “ ۔ یہ مختصر اور چھٹوی سی آیت مسلسل تین اقدامات اور حرکات کو ظاہر کرتی ہے ، فرعون گیا ، تمام تدابیر اختیار کیں اور مقابلے پر آگیا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سوچا کہ مقابلے میں آنے سے قبل ان لوگوں کو نصیحت کرنا ایک بنیادی فریضہ ہے یہ کہ حق کے مقابلے میں وہ جو افتراء باندھ رہے ہیں وہ نہایت ہی خطرناک فعل ہے ، اس لئے کہ ہو سکتا ہے وہ باز آجائیں ، جادو کے ذریعہ سچائی کے مقابلے میں آنے کا ارادہ ترک کردیں ، یہاں جادو کو افترئا کہا گیا ہے۔
طه 20:61
قال لھم ……من افتری (16)
دل سے جو بات نکلتی ہے ، اثر رکھتی ہے۔ نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بات کا اثر بعض جادوگروں پر ہوا تھا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے یہ الفاظ نہایت ہی اخلاص اور دلسوزی سے ادا کئے تھے۔ اس کا ان پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے اس قدر پر نظرثانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن جو لوگ اس مقابلے میں اصرار کر رہے تھے اس کا ان پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے اس اقدام پر نظرثانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن جو لوگ اس مقابلے پر اصرار کر رہے تھے انہوں نے دوسروں کے ساتھ جھگڑنا شروع کردیا لیکن سرگوشی کی شکل میں تاکہ موسیٰ نہ سن سکے۔
طه 20:62
فتنازعوا امرھم ……استعلی (46)
جب اصرار کرنے والوں نے دیکھا کہ موسیٰ کی نصیحت کا بعض لوگوں پر اثر ہوگیا ہے تو انہوں نے ایک دوسرے کے حوصلے بلند کرنے کے لئے دلائل دینا شروع کئے کہ موسیٰ اور ہارون بہت خطرناک ہیں ، یہ مصر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے نظریات بدلنا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کا مقابلہ متحدہ ہو کر کرنا چاہئے۔ اس میں تر دد اور نزاع کے بجائے یکسوئی ہونی چاہئے۔ اور آج کا مقابلہ بہت ہی اہم ہے۔ اس میں جو بھی کامیاب مستقبل ہوا مستقبل اس کا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف ایک بات کی ، لیکن یہ بات چونکہ پختہ یقین اور سچائی پر مشتمل تھی اس لئے وہ مخالف کیمپ میں گولے کی طرحف گری اور اس نے سب کچھ ہلاک کر رکھ دیا۔ ان کے اندر افراتفری پیدا ہوگئی ، ان کو اپنے اوپر اعتماد نہ رہ۔ اپنے عقائد و نظریات پر وہ شک کرنے لگے۔ دعوت حق ہمیشہ ایسی ہوتی ہے اور داعیان حق کو ہمیشہ نہایت ہی زور دار طریقے سے بات کرنا چاہئے۔ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) صرف دو آدمی تھے۔ جادوگر بہت تھے ، ان کی پشت پر فرعون ، اس کی پوری حکومت ، اس کی فوج اور اس کا حکومتی رعب اور اس کے مالی وسائل تھے۔ جبکہ موسیٰ و ہارون کے ساتھ ان کا رب تھا اور یہ عقیدہ محکم تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہے ، سن رہا ہے اور کچھ دیکھ رہا ہے ۔
یہی وہ راز ہے جس سے فرعون جیسے قاہر و جابر کے یہ اقدامات اس کی پریشانی اور جادوگروں کی یہ دوڑ دھوپ اور پوری حکومت مشینری کا حرکت میں آنا سمجھ میں آجاتا ہے کیونکہ موسیٰ اور ہارون گیا تھا کہ فرعون جیسی قوت ان کو چیلنج دیتی ہے ، اور ان کے چیلنج کو قبول کرتی ہے۔ پھر یہ حکومت مکمل تیار کرتی ہے اور میدان میں آتی ہے تمام جادوگر جمع کرتی ہے۔ لوگ جمع کئے جاتے ہیں ، خود فرعون اور اس کے سردار اس مقابلے کا مشاہدہ کرتے ہیں نیز فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دو افراد کے ساتھ مقابلہ و مباحثہ کرنا قبول کس رطح کیا حالانکہ وہ بنی اسرائیل میں سے تھے اور بنی اسرائیل مصریوں کے غلام کے سچائی کیہیت ناک چادر ڈال دی تھی اور اللہ ان کے ساتھ کھڑا تھا ، سن رہا تھا اور دیکھ رہا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کا ایک جملہ ان کی صفوں پر زلزلہ برپا کردیتا ہے۔ وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ خفیہ مشورے کریں ، اسی خطرے کو محسوس کریں ، ایک دوسرے کی ہمت بندھائیں اور ایک دوسرے کو اتحاد و اتفاق کی دعوت دیں اور اس مقابلے میں ثابت قدمی اختیار کریں۔
طه 20:63
فتنازعوا امرھم ……استعلی (46)
جب اصرار کرنے والوں نے دیکھا کہ موسیٰ کی نصیحت کا بعض لوگوں پر اثر ہوگیا ہے تو انہوں نے ایک دوسرے کے حوصلے بلند کرنے کے لئے دلائل دینا شروع کئے کہ موسیٰ اور ہارون بہت خطرناک ہیں ، یہ مصر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے نظریات بدلنا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کا مقابلہ متحدہ ہو کر کرنا چاہئے۔ اس میں تر دد اور نزاع کے بجائے یکسوئی ہونی چاہئے۔ اور آج کا مقابلہ بہت ہی اہم ہے۔ اس میں جو بھی کامیاب مستقبل ہوا مستقبل اس کا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف ایک بات کی ، لیکن یہ بات چونکہ پختہ یقین اور سچائی پر مشتمل تھی اس لئے وہ مخالف کیمپ میں گولے کی طرحف گری اور اس نے سب کچھ ہلاک کر رکھ دیا۔ ان کے اندر افراتفری پیدا ہوگئی ، ان کو اپنے اوپر اعتماد نہ رہ۔ اپنے عقائد و نظریات پر وہ شک کرنے لگے۔ دعوت حق ہمیشہ ایسی ہوتی ہے اور داعیان حق کو ہمیشہ نہایت ہی زور دار طریقے سے بات کرنا چاہئے۔ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) صرف دو آدمی تھے۔ جادوگر بہت تھے ، ان کی پشت پر فرعون ، اس کی پوری حکومت ، اس کی فوج اور اس کا حکومتی رعب اور اس کے مالی وسائل تھے۔ جبکہ موسیٰ و ہارون کے ساتھ ان کا رب تھا اور یہ عقیدہ محکم تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہے ، سن رہا ہے اور کچھ دیکھ رہا ہے ۔
یہی وہ راز ہے جس سے فرعون جیسے قاہر و جابر کے یہ اقدامات اس کی پریشانی اور جادوگروں کی یہ دوڑ دھوپ اور پوری حکومت مشینری کا حرکت میں آنا سمجھ میں آجاتا ہے کیونکہ موسیٰ اور ہارون گیا تھا کہ فرعون جیسی قوت ان کو چیلنج دیتی ہے ، اور ان کے چیلنج کو قبول کرتی ہے۔ پھر یہ حکومت مکمل تیار کرتی ہے اور میدان میں آتی ہے تمام جادوگر جمع کرتی ہے۔ لوگ جمع کئے جاتے ہیں ، خود فرعون اور اس کے سردار اس مقابلے کا مشاہدہ کرتے ہیں نیز فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دو افراد کے ساتھ مقابلہ و مباحثہ کرنا قبول کس رطح کیا حالانکہ وہ بنی اسرائیل میں سے تھے اور بنی اسرائیل مصریوں کے غلام کے سچائی کیہیت ناک چادر ڈال دی تھی اور اللہ ان کے ساتھ کھڑا تھا ، سن رہا تھا اور دیکھ رہا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کا ایک جملہ ان کی صفوں پر زلزلہ برپا کردیتا ہے۔ وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ خفیہ مشورے کریں ، اسی خطرے کو محسوس کریں ، ایک دوسرے کی ہمت بندھائیں اور ایک دوسرے کو اتحاد و اتفاق کی دعوت دیں اور اس مقابلے میں ثابت قدمی اختیار کریں۔
طه 20:64
فتنازعوا امرھم ……استعلی (46)
جب اصرار کرنے والوں نے دیکھا کہ موسیٰ کی نصیحت کا بعض لوگوں پر اثر ہوگیا ہے تو انہوں نے ایک دوسرے کے حوصلے بلند کرنے کے لئے دلائل دینا شروع کئے کہ موسیٰ اور ہارون بہت خطرناک ہیں ، یہ مصر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے نظریات بدلنا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کا مقابلہ متحدہ ہو کر کرنا چاہئے۔ اس میں تر دد اور نزاع کے بجائے یکسوئی ہونی چاہئے۔ اور آج کا مقابلہ بہت ہی اہم ہے۔ اس میں جو بھی کامیاب مستقبل ہوا مستقبل اس کا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف ایک بات کی ، لیکن یہ بات چونکہ پختہ یقین اور سچائی پر مشتمل تھی اس لئے وہ مخالف کیمپ میں گولے کی طرحف گری اور اس نے سب کچھ ہلاک کر رکھ دیا۔ ان کے اندر افراتفری پیدا ہوگئی ، ان کو اپنے اوپر اعتماد نہ رہ۔ اپنے عقائد و نظریات پر وہ شک کرنے لگے۔ دعوت حق ہمیشہ ایسی ہوتی ہے اور داعیان حق کو ہمیشہ نہایت ہی زور دار طریقے سے بات کرنا چاہئے۔ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) صرف دو آدمی تھے۔ جادوگر بہت تھے ، ان کی پشت پر فرعون ، اس کی پوری حکومت ، اس کی فوج اور اس کا حکومتی رعب اور اس کے مالی وسائل تھے۔ جبکہ موسیٰ و ہارون کے ساتھ ان کا رب تھا اور یہ عقیدہ محکم تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہے ، سن رہا ہے اور کچھ دیکھ رہا ہے ۔
یہی وہ راز ہے جس سے فرعون جیسے قاہر و جابر کے یہ اقدامات اس کی پریشانی اور جادوگروں کی یہ دوڑ دھوپ اور پوری حکومت مشینری کا حرکت میں آنا سمجھ میں آجاتا ہے کیونکہ موسیٰ اور ہارون گیا تھا کہ فرعون جیسی قوت ان کو چیلنج دیتی ہے ، اور ان کے چیلنج کو قبول کرتی ہے۔ پھر یہ حکومت مکمل تیار کرتی ہے اور میدان میں آتی ہے تمام جادوگر جمع کرتی ہے۔ لوگ جمع کئے جاتے ہیں ، خود فرعون اور اس کے سردار اس مقابلے کا مشاہدہ کرتے ہیں نیز فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دو افراد کے ساتھ مقابلہ و مباحثہ کرنا قبول کس رطح کیا حالانکہ وہ بنی اسرائیل میں سے تھے اور بنی اسرائیل مصریوں کے غلام کے سچائی کیہیت ناک چادر ڈال دی تھی اور اللہ ان کے ساتھ کھڑا تھا ، سن رہا تھا اور دیکھ رہا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کا ایک جملہ ان کی صفوں پر زلزلہ برپا کردیتا ہے۔ وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ خفیہ مشورے کریں ، اسی خطرے کو محسوس کریں ، ایک دوسرے کی ہمت بندھائیں اور ایک دوسرے کو اتحاد و اتفاق کی دعوت دیں اور اس مقابلے میں ثابت قدمی اختیار کریں۔
طه 20:65
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جادوگر بہت پر اعتماد ہیں اور چینجل اور اصول کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
طه 20:66
‘ موسیٰ (علیہ السلام) نے چیلنج قبول کرتے ہوئے ان کو موقع دیا کہ پہلے پھینکیں اور اپنے لئے آخری و ار پسند کیا۔ لیکن بظاہر وہ ایک خوفناک اور عظیم جادو لے کر آئے ہیں۔ اچانک جب انہوں نے جادو شروع کیا تو میدان یوں لگتا تھا کہ سانپوں کی موجیں حرکت میں آگئی ہوں ، خود حضرت موسیٰ فرزدہ ہوگئے۔
فاذا حبالھم ……موسیٰ (76)
قرآن کریم کا انداز تعبیر بتاتا ہے کہ یہ جادو اس قدر عظیم تھا کہ حضرت موسیٰ بھی دل میں ڈر گئے جبکہ اس کے ساتھ اس کے رب بھی کھڑے تھے اور سب کچھ سن رہے تھے اور جان رہے تھے۔ موسیٰ تب ہی دل میں خائف ہو سکتے تھے کہ یہ سحر اس قدر خوفناک تھا کہ ایک لمحے کے لئے وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ زیادہ قوی ہیں اور انکے ساتھ رب عظیم کی عظیم قوت ہے چناچہ اللہ ان کو یاد دلاتے ہیں :
طه 20:67
‘ موسیٰ (علیہ السلام) نے چیلنج قبول کرتے ہوئے ان کو موقع دیا کہ پہلے پھینکیں اور اپنے لئے آخری و ار پسند کیا۔ لیکن بظاہر وہ ایک خوفناک اور عظیم جادو لے کر آئے ہیں۔ اچانک جب انہوں نے جادو شروع کیا تو میدان یوں لگتا تھا کہ سانپوں کی موجیں حرکت میں آگئی ہوں ، خود حضرت موسیٰ فرزدہ ہوگئے۔
فاذا حبالھم ……موسیٰ (76)
قرآن کریم کا انداز تعبیر بتاتا ہے کہ یہ جادو اس قدر عظیم تھا کہ حضرت موسیٰ بھی دل میں ڈر گئے جبکہ اس کے ساتھ اس کے رب بھی کھڑے تھے اور سب کچھ سن رہے تھے اور جان رہے تھے۔ موسیٰ تب ہی دل میں خائف ہو سکتے تھے کہ یہ سحر اس قدر خوفناک تھا کہ ایک لمحے کے لئے وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ زیادہ قوی ہیں اور انکے ساتھ رب عظیم کی عظیم قوت ہے چناچہ اللہ ان کو یاد دلاتے ہیں :
طه 20:68
قلنا تاتخف ……اثی (96)
موسیٰ تم نہ ڈرو۔ تم ہی یقیناً غالب رہو گے۔ تمہارے ساتھ سچائی ہے ان کے پاس باطل ہے ۔ تمہارے پاس ایک نظریہ ، ایک عقیدہ ہے اور ان کے پاس اس کے مقابلے کی فیس ہے اور کچھ دوسری سہولیات ہیں جو اس دنیا سے متعلق ہیں ، تمہارا رابطہ اس کائنات کی عظیم قوت اور سچائی کے ساتھ ہے اور وہ ایک حقیر بشر اور انسان کے خدمات گار ہیں۔ یہ بشر جس قدر قہار و جبار بھی ہو ، مگر فانی ہے۔
نہ ڈرو والق ما فی یمینک (02 : 96) ” پھینک جو تریے ہاتھ میں ہے۔ “ جو تیرے ہاتھ میں ہے ، عصا کا نام نہ لینے میں اس کی عظمت کا اظہار (تفخر کے لئے)
تلقف ما صنعوا (02 : 96) ” ابھی ان کی ساری بناونی چیزوں کو نگل جاتا ہے۔ “ کیونکہ انہوں نے جو کچھ دکھایا ہے وہ تو ایک جادو ہے ، جدوگروں کی کارستانی ہے اور جادوگر جہاں بھی جائے وہ کامیاب نہیں ہو سکتا ، چاہے وہ جو طریقہ بھی اپنائے کیونکہ وہ محض تخیل کے تابع ہوتا ہے۔ وہ تخیل پیدا کرتا ہے اور تخیل یا تخیل اور تنویم حقیقت کو نہیں بدلتے۔ ان کا انجام دہی ہوتا ہے جو اسک سچے کے مقابلے میں جھوٹے اور باطل پرست کا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کا باطل بظاہر بڑا اور پھولا ہوا نظر آتا ہے اور صرف اس شخص کو ڈرا سکتا ہے جو غافل اور جاہل اور حقیقت سے بیخبر ہو اور جسے حق کی قوت کا اندازہ نہیں ہوتا جو پوشیدہ ہوتی ہے ، جو خوفناک ہوتی ہے ، جو تکبر ، مبالغہ اور ظاہر مستی سے خالی ہوتی ہے مگر وہ حقیقی قوت ہوتی ہے اور باطل کا آخر کار سر پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ باطل اچانک مٹ جاتا ہے۔ حق کی قوت باطل کو نگل جاتی ہے۔ چناچہ باطل اپنی بساط لپیٹ کر غائب ہوجاتا ہے۔
غرض موسیٰ نے عصا پھینکا اور اس عظیم معجزے کا ظہور ہوگیا۔ یہاں قرآن مجید اس عظیم معجزے کے صرف وہ اثرات قلم بند کرتا ہے جو جادوگروں پر ہوئے ، کیونکہ مقابلہ وہ کر رہے تھے اس لئے انہی کوششیں زیادہ تھیں کہ وہ کامیاب ہوں ، اس سے قبل آگیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حوصلے بھی بڑھا رہے تھے اور مقابل یک یلئے ایک دوسرے کو اکسا رہے تھے۔ یہ لوگ اس قدر عظیم ماہر فن تھے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خوفزدہ کردیا تھا۔
موسیٰ (علیہ السلام) پیغمبر تھے لیکن انہیں یوں نظر آ رہا تھا کہ ان کے عصا اور رسیاں زندہ سانپ ہیں اور پورا میدان ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ قرآن یہاں ان کی اچانک مکمل تبدیلی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ان کا شعور ، ان کا وجدان ، ان کی ادنرونی دنیا یکسر بدل گئی ہے۔ اس تبدیلی کو صرف اسٹیج پر عملی ایکشن ہی سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ الفاظ میں اس کا عکس نہیں دکھایا جاسکتا ، چناچہ ایکشن ہوتا ہے۔
طه 20:69
قلنا تاتخف ……اثی (96)
موسیٰ تم نہ ڈرو۔ تم ہی یقیناً غالب رہو گے۔ تمہارے ساتھ سچائی ہے ان کے پاس باطل ہے ۔ تمہارے پاس ایک نظریہ ، ایک عقیدہ ہے اور ان کے پاس اس کے مقابلے کی فیس ہے اور کچھ دوسری سہولیات ہیں جو اس دنیا سے متعلق ہیں ، تمہارا رابطہ اس کائنات کی عظیم قوت اور سچائی کے ساتھ ہے اور وہ ایک حقیر بشر اور انسان کے خدمات گار ہیں۔ یہ بشر جس قدر قہار و جبار بھی ہو ، مگر فانی ہے۔
نہ ڈرو والق ما فی یمینک (02 : 96) ” پھینک جو تریے ہاتھ میں ہے۔ “ جو تیرے ہاتھ میں ہے ، عصا کا نام نہ لینے میں اس کی عظمت کا اظہار (تفخر کے لئے)
تلقف ما صنعوا (02 : 96) ” ابھی ان کی ساری بناونی چیزوں کو نگل جاتا ہے۔ “ کیونکہ انہوں نے جو کچھ دکھایا ہے وہ تو ایک جادو ہے ، جدوگروں کی کارستانی ہے اور جادوگر جہاں بھی جائے وہ کامیاب نہیں ہو سکتا ، چاہے وہ جو طریقہ بھی اپنائے کیونکہ وہ محض تخیل کے تابع ہوتا ہے۔ وہ تخیل پیدا کرتا ہے اور تخیل یا تخیل اور تنویم حقیقت کو نہیں بدلتے۔ ان کا انجام دہی ہوتا ہے جو اسک سچے کے مقابلے میں جھوٹے اور باطل پرست کا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کا باطل بظاہر بڑا اور پھولا ہوا نظر آتا ہے اور صرف اس شخص کو ڈرا سکتا ہے جو غافل اور جاہل اور حقیقت سے بیخبر ہو اور جسے حق کی قوت کا اندازہ نہیں ہوتا جو پوشیدہ ہوتی ہے ، جو خوفناک ہوتی ہے ، جو تکبر ، مبالغہ اور ظاہر مستی سے خالی ہوتی ہے مگر وہ حقیقی قوت ہوتی ہے اور باطل کا آخر کار سر پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ باطل اچانک مٹ جاتا ہے۔ حق کی قوت باطل کو نگل جاتی ہے۔ چناچہ باطل اپنی بساط لپیٹ کر غائب ہوجاتا ہے۔
غرض موسیٰ نے عصا پھینکا اور اس عظیم معجزے کا ظہور ہوگیا۔ یہاں قرآن مجید اس عظیم معجزے کے صرف وہ اثرات قلم بند کرتا ہے جو جادوگروں پر ہوئے ، کیونکہ مقابلہ وہ کر رہے تھے اس لئے انہی کوششیں زیادہ تھیں کہ وہ کامیاب ہوں ، اس سے قبل آگیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حوصلے بھی بڑھا رہے تھے اور مقابل یک یلئے ایک دوسرے کو اکسا رہے تھے۔ یہ لوگ اس قدر عظیم ماہر فن تھے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خوفزدہ کردیا تھا۔
موسیٰ (علیہ السلام) پیغمبر تھے لیکن انہیں یوں نظر آ رہا تھا کہ ان کے عصا اور رسیاں زندہ سانپ ہیں اور پورا میدان ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ قرآن یہاں ان کی اچانک مکمل تبدیلی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ان کا شعور ، ان کا وجدان ، ان کی ادنرونی دنیا یکسر بدل گئی ہے۔ اس تبدیلی کو صرف اسٹیج پر عملی ایکشن ہی سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ الفاظ میں اس کا عکس نہیں دکھایا جاسکتا ، چناچہ ایکشن ہوتا ہے۔
طه 20:70
فالقی السحرۃ ……موسیٰ (07)
حساس اعصاب والے افراد پر بعض اوقات بجلی جیسا اثر ہوتا ہے ، بٹن دبایا اور روشنی چمک اٹھی ، اندھیرا ختم ہوا۔ ان کے دل کا سوئچ آن ہوگیا اور ایک لحظ میں ان کی دنیا بدل گئی۔ دل کافر ، اب دل مومن تھا۔
لیکن اقتدار کے نشے میں بدمست لوگوں پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ مرد نادان پر کالم نرم و نازک بےاثر ہوتا ہے۔ ان کو کیا پتہ کہ اللہ مقلب القلوب ہے ، دلوں میں انقلاب کی طرح آتا ہے۔ اقتدار کے نشے میں بدمست ڈکٹیٹر چونکہ طویل عرصے تک سرکشی اور نافرمانی کی حالت میں رہتے ہیں اس لئے وہ نہیں سمجھتے ، پھر ان کے اقتدار کی وجہ سے دنیا ان کے اشاروں پر چلتی ہے اس لئے وہ حق کو بھی مطیع فرمان دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کو کیا پتہ کہ جب دل نور ایمان سے مالا مال ہوجاتے ہیں اور اللہ سے جڑ جاتے ہیں تو ان پر اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہوتی ، لیکن ان کو کیا پتہ کہ جب دل نور ایمان سے مالا مال ہوجاتے ہیں اور اللہ سے جڑ جاتے ہیں تو ان پر اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہوتی۔ اب منظر پر ایک جابر حکمران آتا ہے۔
طه 20:71
’ قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم (02 : 18) ” تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں جازت دیتا۔ “ یہ ایک سرکش حکمران کی سوچ ہے۔ وہ اس قدر بھی نہیں جانتا کہ یہ بیچارے خود بھی اب اپنے نفوس و قلوب کے مالک نہیں رہے۔ ان کے دلوں پر ایمان چھا گیا ہے۔ یہ خود بھی ایمان کو اب دل سے نکال نہیں سکتے۔ دل تو رحمٰن کی دو انگلیوں میں ہوتا ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔
انہ لکبیرکم ……السحر (02 : 18) ” معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گروہ ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی تھی۔ “ اس شخص کی نظروں میں شکست تسلیم کرنے کی اصل وجہ یہ ہے۔ یہ وجہ نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان اس راستے سے داخل ہوگیا جس کا وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ یہ وجہ بھی نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے قلب و نظر پر پڑے ہوئے پردے ہٹا دیئے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقی وجوہات ہیں۔
سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو سخت ترین تشدد کی دھمکی دیتے ہیں اور جب وہ لوگوں کے دلوں کو نہیں بدل سکتے تو وہ لوگوں کے جسم اور بدن کو اذیت دیتے ہیں۔ ان کا آخری حربہ یہی ہوتا ہے۔
فلا قطعن ایدیکم و ارجلکم من خلاف ولاوصلبنکم فی حذوع النخل (02 : 18) ” اچھا ، اب میں تمہارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سولی دیتا ہوں۔ “
ڈکٹیٹر کا ہتھیار اندھی قوت کا استعمال ہے۔ جانوروں اور درندو کی قوت جو جنگل کے قانون کے نام سے مشہور ہوتی ہے۔ وہ قوت جو کسی کمزور کو چیر پھاڑ کر رکھا جاتای ہے۔ اس کے خیال میں انسان کے درمیان جو دلیل سے بات کرتا ہے اور اس حیوان کے رمیان جو نیچے سے بات کرتا ہے ، کوئی فرق نہیں ہوتا۔
ولتعلمن اینا اشدعاذاباً و ابقی (02 : 18) ” پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔ “
لیکن اب وقت اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ ایمان کے احساس نے اس نہایت ہی حقیر ذرے کو ایک عظیم قوت سے ملا دیا تھا۔ یہ ذرہ اب عظیم قوت کا سرچشمہ تھا۔ اس کے سامنے فرعون جیسی عظیم قوت بھی ہیچ ہے۔ اب ان جادوگروں کے سامنے دنیا کی اس مختصر زنگدی کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان کے دلوں کے سامنے نہایت ہی روشن اور کھلی دنیا کے آفاق کھل گئے تھے۔ اب ان کے سامنے اس دنیا اور اس کے انعام و اکرام کی حقیقت ہی کیا رہ گئی تھی۔ دنیا کا مال و متاع ان کی نظروں میں اب بےوقعت تھا۔
طه 20:72
قالوا لن ……وابقیٰ (37)
’ یہ ہے ایمان کا احساس ، ان دلوں کے اندر جو چند لمحات قبل فرعون کی پوجا کرتے تھے اور فرعون کے قریب کے لئے وہ ایک دور سے سے آگے بڑھتے تھے۔ لیکن اچانک ان کے دلوں میں قوت کا ایک نیا سرچشمہ پھوٹ پڑا۔ اب وہ فرعون کی مملکت ، اس کی قوت ، اس کے مرتبے اور اس کے اقتدار کو چیلنج کر رہے ہیں۔
قالوا لن نوثرک علی ماجآء نا من البینت والذی فطرنا (02 : 28) ” جادوگروں نے جواب دیا قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعد بھی تجیھ ترجیح دیں۔ “ یہ بات ہمارے لئے بہت ہی مشکل ہے کیونکہ اللہ جل شانہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے۔
فاقض ما انت قاص (02 : 28) ” تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے۔ “ تمہارے پاس جو قوت ہے اسے استعمال کرلو۔
انما تقضی ھذہ الحیوۃ الدنیا (02 : 28) ” تو زیادہ سے زیادہ بس اس دنیا کی زندگی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ “ کیونکہ تیری حکومت اسی دنیا میں ہے۔ اس دنیا سے آگے تمہاری حکومت نہ ہوگی۔ اس دنیا کی زندگی تو بہت ہی مختصر ہے۔ بہت ہی معمولی ہے ، تمہارے پاس جو سزا ہے وہ ان دلوں کے لئے بہت آسان ہے جن کا رابطہ اللہ سے ہوجائے ، جن کی امیدیں ابدی زندگی کی بہترین کے ساتھ وابستہ ہوگئی ہیں۔
طه 20:73
انا امنا بربنا لیغفرلنا خطینا وما اکرھتنا علیہ من السحر (02 : 38) ” ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اس جادوگری سے جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے ، درگزر فرمائے۔ ‘ تم نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم جادوگری کریں اور ہم تیرے حکم سے سرتابی نہ کرسکتے تھے۔ امید ہے کہ اس ایمان لانے کی وجہ سے اللہ ہمارے گناہ معاف کر دے۔
واللہ خیر و ابقی (02 : 38) ” اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے الا ہے //اللہ نے جادگروں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس سرکش ڈکٹیٹر کے سامنے تم معلم اور مبلغ کا انداز اختیار کرلو۔ “
طه 20:74
انہ من یات ……تزکی (67)
اس نے ان کو دھمکی دی تھی کہ کون سخت ہے اور کس کا اقتدار دائمی ہے تو وہ پیش کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے سامنے مجرم بن کر آئے تو اس کو شدید عذاب ملتا ہے اور وہ عذاب دوزخ ہوتا ہے کیونکہ
فان لہ جھنم لا یموت فیھا ولا یحییٰ (02 : 38) ” اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور جیے گا۔ “ نہ وہ مر کر آرام کرے گا اور نہ زندہ رہ کر آرام میں ہوگا۔ وہ ایسا عذاب ہوگا کہ اس کے نتیجے میں موت بھی واقع نہ ہوگی ، نہ آرام کی زندگی ملے گی جبکہ دوسری جانب بلند درجے ہیں۔ ایسے باغات ہیں اور ان میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
وذلک جزوا من تزکی (02 : 68) ” اور یہ جزاء ہے اس شخص کی جو پاکیزگی ” اختیار کرے۔ “ اور گناہوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ ایک سرکش اور تشدد پسند مقتدر اعلیٰ کی دھمکی جس نے اہل ایمان کے دلوں کو ہلاک کر رکھ دیا ، لیکن جواب میں انہوں نے بھی قوت ایمانی کے ساتھ جواب دیا۔ ایمان کی سربلندی کا ثبوت دیا اور اس سرکش کو انجام ہد سے ڈرایا اور اسے گہرے ایمان کی چمک دکھائی۔
یہ منظر اب آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے لیکن اس نے ثابت کردیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں ایمان داخل ہوجاتا ہے تو وہ اس دنیا کے حدود وقیود کو پار کر کے ، اپنی آزادی اور حریت کا اعلان کردیتے ہیں۔ ان دلوں میں پھر طمع و لالچ نہیں رہتا ، ان کے سامنے زمین کا اقتدار ہیچ ہوتا ہے۔ اہل اقتدار کے ڈر سے وہ بےنیاز ہوجاتے ہیں۔ کوئی بھی انسان اور قلب انسانی آزادی کا یہ اعلان صرف ایمانی قوت کے بل بوتے پر کرسکتا ہے۔ اب پردہ گرتا ہے ، تاکہ اس قصے کی ایک جدید کڑی کو اسٹیج پر لایا جائے۔
یہ وہ منظر ہے جس میں ایک سچی جماعت کو اس کرئہ ارض پر بھی کامیابی نصیب ہوتی ہے لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب وہ نظریات اور ایمان کی دنیا میں اخلاقی فتح حاصل کرلیتی ہے۔ سیاق کلام میں عصا کو جادوگری پر فتح حاصل ہوچکی ہے۔ جادوگروں کے ایمان کو فرعون پر اخلاقی فتح حاصل ہوچکی ہے۔ ایمان کے بعد ان کو تمام دنیاوی خوف و خطر پر فتح حاصل ہوچکی ہے۔ وہ اب دھمکی اور دھونس سے نہیں ڈرتے۔ اب حق باطل پر ، ایمان ضلالت پر ، حق سرکشی پر عالم واقعہ میں فتح حصال کرتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ آخری فتح مشروط ہے ایمانی اور نظریاتی فتح کے ساتھ۔ واقعہ ار میدان جنگ میں فتح تب ہوتی ہے جب ضمیر کے اندر کوئی گروہ فاتح ہو۔ اہل حق کو ظاہری فتح ، ان کے باطن کی فتح کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایمان اور نظریات اپنے اندر ایک حقیقت رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت جب انسان کے شعور اور اس کی سوچ میں مجسم ہوتی ہے تو پھر یہ باہر نکلتی ہے اور لوگ اسے واقعی صورت میں زمین پر دیکھتے ہیں۔ اگر ایمان دلوں کے اندر مجسم شکل میں موجود نہ ہو ، اور سچائی ایک شعاع اور عمل کی شکل میں دلوں سے بہہ کر نکلتی ہو تو ایسے حالات میں سرکش اہل باطل ہی غالب ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی مادی قوت کے مالک ہوتے ہیں جس کے مقابلے کے لئے ایمانی قوت بھی اہل حق کے ساتھ نہیں ہوتی اور قوت کا توازن نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ قلب اور دل میں ایمان ایک حقیقی قوت کی شکل میں موجود ہو۔ یہ ایمانی قوت اگر کسی کے اندر موجود ہو تو وہ بڑی سے بڑی مادی قوت کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہی موقف تھا جو انہوں نے جادو گروں ، فرعون اور سرداران فرعن کے مقابلے میں اختیار کیا ۔ وہ ایمانی اور نظریاتی اور اخلاقی کامیابی کے بعد اس سر زمین پر بھی کامیاب ہوئے۔ ذرا اس منظر کو دیکھیے۔
طه 20:75
انہ من یات ……تزکی (67)
اس نے ان کو دھمکی دی تھی کہ کون سخت ہے اور کس کا اقتدار دائمی ہے تو وہ پیش کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے سامنے مجرم بن کر آئے تو اس کو شدید عذاب ملتا ہے اور وہ عذاب دوزخ ہوتا ہے کیونکہ
فان لہ جھنم لا یموت فیھا ولا یحییٰ (02 : 38) ” اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور جیے گا۔ “ نہ وہ مر کر آرام کرے گا اور نہ زندہ رہ کر آرام میں ہوگا۔ وہ ایسا عذاب ہوگا کہ اس کے نتیجے میں موت بھی واقع نہ ہوگی ، نہ آرام کی زندگی ملے گی جبکہ دوسری جانب بلند درجے ہیں۔ ایسے باغات ہیں اور ان میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
وذلک جزوا من تزکی (02 : 68) ” اور یہ جزاء ہے اس شخص کی جو پاکیزگی ” اختیار کرے۔ “ اور گناہوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ ایک سرکش اور تشدد پسند مقتدر اعلیٰ کی دھمکی جس نے اہل ایمان کے دلوں کو ہلاک کر رکھ دیا ، لیکن جواب میں انہوں نے بھی قوت ایمانی کے ساتھ جواب دیا۔ ایمان کی سربلندی کا ثبوت دیا اور اس سرکش کو انجام ہد سے ڈرایا اور اسے گہرے ایمان کی چمک دکھائی۔
یہ منظر اب آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے لیکن اس نے ثابت کردیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں ایمان داخل ہوجاتا ہے تو وہ اس دنیا کے حدود وقیود کو پار کر کے ، اپنی آزادی اور حریت کا اعلان کردیتے ہیں۔ ان دلوں میں پھر طمع و لالچ نہیں رہتا ، ان کے سامنے زمین کا اقتدار ہیچ ہوتا ہے۔ اہل اقتدار کے ڈر سے وہ بےنیاز ہوجاتے ہیں۔ کوئی بھی انسان اور قلب انسانی آزادی کا یہ اعلان صرف ایمانی قوت کے بل بوتے پر کرسکتا ہے۔ اب پردہ گرتا ہے ، تاکہ اس قصے کی ایک جدید کڑی کو اسٹیج پر لایا جائے۔
یہ وہ منظر ہے جس میں ایک سچی جماعت کو اس کرئہ ارض پر بھی کامیابی نصیب ہوتی ہے لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب وہ نظریات اور ایمان کی دنیا میں اخلاقی فتح حاصل کرلیتی ہے۔ سیاق کلام میں عصا کو جادوگری پر فتح حاصل ہوچکی ہے۔ جادوگروں کے ایمان کو فرعون پر اخلاقی فتح حاصل ہوچکی ہے۔ ایمان کے بعد ان کو تمام دنیاوی خوف و خطر پر فتح حاصل ہوچکی ہے۔ وہ اب دھمکی اور دھونس سے نہیں ڈرتے۔ اب حق باطل پر ، ایمان ضلالت پر ، حق سرکشی پر عالم واقعہ میں فتح حصال کرتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ آخری فتح مشروط ہے ایمانی اور نظریاتی فتح کے ساتھ۔ واقعہ ار میدان جنگ میں فتح تب ہوتی ہے جب ضمیر کے اندر کوئی گروہ فاتح ہو۔ اہل حق کو ظاہری فتح ، ان کے باطن کی فتح کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایمان اور نظریات اپنے اندر ایک حقیقت رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت جب انسان کے شعور اور اس کی سوچ میں مجسم ہوتی ہے تو پھر یہ باہر نکلتی ہے اور لوگ اسے واقعی صورت میں زمین پر دیکھتے ہیں۔ اگر ایمان دلوں کے اندر مجسم شکل میں موجود نہ ہو ، اور سچائی ایک شعاع اور عمل کی شکل میں دلوں سے بہہ کر نکلتی ہو تو ایسے حالات میں سرکش اہل باطل ہی غالب ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی مادی قوت کے مالک ہوتے ہیں جس کے مقابلے کے لئے ایمانی قوت بھی اہل حق کے ساتھ نہیں ہوتی اور قوت کا توازن نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ قلب اور دل میں ایمان ایک حقیقی قوت کی شکل میں موجود ہو۔ یہ ایمانی قوت اگر کسی کے اندر موجود ہو تو وہ بڑی سے بڑی مادی قوت کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہی موقف تھا جو انہوں نے جادو گروں ، فرعون اور سرداران فرعن کے مقابلے میں اختیار کیا ۔ وہ ایمانی اور نظریاتی اور اخلاقی کامیابی کے بعد اس سر زمین پر بھی کامیاب ہوئے۔ ذرا اس منظر کو دیکھیے۔
طه 20:76
انہ من یات ……تزکی (67)
اس نے ان کو دھمکی دی تھی کہ کون سخت ہے اور کس کا اقتدار دائمی ہے تو وہ پیش کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے سامنے مجرم بن کر آئے تو اس کو شدید عذاب ملتا ہے اور وہ عذاب دوزخ ہوتا ہے کیونکہ
فان لہ جھنم لا یموت فیھا ولا یحییٰ (02 : 38) ” اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور جیے گا۔ “ نہ وہ مر کر آرام کرے گا اور نہ زندہ رہ کر آرام میں ہوگا۔ وہ ایسا عذاب ہوگا کہ اس کے نتیجے میں موت بھی واقع نہ ہوگی ، نہ آرام کی زندگی ملے گی جبکہ دوسری جانب بلند درجے ہیں۔ ایسے باغات ہیں اور ان میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
وذلک جزوا من تزکی (02 : 68) ” اور یہ جزاء ہے اس شخص کی جو پاکیزگی ” اختیار کرے۔ “ اور گناہوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ ایک سرکش اور تشدد پسند مقتدر اعلیٰ کی دھمکی جس نے اہل ایمان کے دلوں کو ہلاک کر رکھ دیا ، لیکن جواب میں انہوں نے بھی قوت ایمانی کے ساتھ جواب دیا۔ ایمان کی سربلندی کا ثبوت دیا اور اس سرکش کو انجام ہد سے ڈرایا اور اسے گہرے ایمان کی چمک دکھائی۔
یہ منظر اب آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے لیکن اس نے ثابت کردیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں ایمان داخل ہوجاتا ہے تو وہ اس دنیا کے حدود وقیود کو پار کر کے ، اپنی آزادی اور حریت کا اعلان کردیتے ہیں۔ ان دلوں میں پھر طمع و لالچ نہیں رہتا ، ان کے سامنے زمین کا اقتدار ہیچ ہوتا ہے۔ اہل اقتدار کے ڈر سے وہ بےنیاز ہوجاتے ہیں۔ کوئی بھی انسان اور قلب انسانی آزادی کا یہ اعلان صرف ایمانی قوت کے بل بوتے پر کرسکتا ہے۔ اب پردہ گرتا ہے ، تاکہ اس قصے کی ایک جدید کڑی کو اسٹیج پر لایا جائے۔
یہ وہ منظر ہے جس میں ایک سچی جماعت کو اس کرئہ ارض پر بھی کامیابی نصیب ہوتی ہے لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب وہ نظریات اور ایمان کی دنیا میں اخلاقی فتح حاصل کرلیتی ہے۔ سیاق کلام میں عصا کو جادوگری پر فتح حاصل ہوچکی ہے۔ جادوگروں کے ایمان کو فرعون پر اخلاقی فتح حاصل ہوچکی ہے۔ ایمان کے بعد ان کو تمام دنیاوی خوف و خطر پر فتح حاصل ہوچکی ہے۔ وہ اب دھمکی اور دھونس سے نہیں ڈرتے۔ اب حق باطل پر ، ایمان ضلالت پر ، حق سرکشی پر عالم واقعہ میں فتح حصال کرتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ آخری فتح مشروط ہے ایمانی اور نظریاتی فتح کے ساتھ۔ واقعہ ار میدان جنگ میں فتح تب ہوتی ہے جب ضمیر کے اندر کوئی گروہ فاتح ہو۔ اہل حق کو ظاہری فتح ، ان کے باطن کی فتح کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایمان اور نظریات اپنے اندر ایک حقیقت رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت جب انسان کے شعور اور اس کی سوچ میں مجسم ہوتی ہے تو پھر یہ باہر نکلتی ہے اور لوگ اسے واقعی صورت میں زمین پر دیکھتے ہیں۔ اگر ایمان دلوں کے اندر مجسم شکل میں موجود نہ ہو ، اور سچائی ایک شعاع اور عمل کی شکل میں دلوں سے بہہ کر نکلتی ہو تو ایسے حالات میں سرکش اہل باطل ہی غالب ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی مادی قوت کے مالک ہوتے ہیں جس کے مقابلے کے لئے ایمانی قوت بھی اہل حق کے ساتھ نہیں ہوتی اور قوت کا توازن نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ قلب اور دل میں ایمان ایک حقیقی قوت کی شکل میں موجود ہو۔ یہ ایمانی قوت اگر کسی کے اندر موجود ہو تو وہ بڑی سے بڑی مادی قوت کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہی موقف تھا جو انہوں نے جادو گروں ، فرعون اور سرداران فرعن کے مقابلے میں اختیار کیا ۔ وہ ایمانی اور نظریاتی اور اخلاقی کامیابی کے بعد اس سر زمین پر بھی کامیاب ہوئے۔ ذرا اس منظر کو دیکھیے۔
طه 20:77
ولقد اوحینآ الی ……ھدی (97)
یہاں قرآن مجید نے وہ تمام واقعات حذف کردیئے ہیں جو جادوگروں کے ساتھ مقابلے کے بعد پیش آئے۔ فرعون نے جادوگروں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جبکہ وہ اپنی قوت ایمانی کیس اتھ فرعون کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ وہ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈرے ، انہوں نے حیات دنیا کے بارے میں اپنا جدید نظر یہ فرعون کے سامنے بڑی بےباکی سے پیش کیا۔ ان سب واقعات کو چھوڑ کر یہاں اب فتح ظاہری کا یہ منظر دکھایا جاتا ہے ، تاکہ قلبی اور نظریاتی فتح کے بعد اب میدانی فتح کو دکھایا جائے اور اللہ کی نصرت اور مدد اہل ایمان کو بچشم سر نظر آجائے۔ مکمل اور فیصلہ کن فتح۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس منظر سے قبل بنی اسرائیل کے منظر خروج اور سمندر کے سامنے ان کے کھڑے ہونے کے مناظر کو طول نہیں دیا گیا ، جس طرح ان مناظر کو دوسری سورتوں میں مفصل دکھایا گیا۔ بلکہ چند جھلکیوں کے بعد مکمل فتح ہمارے سامنے ہے کیونکہ یہ تمام حذف شدہ مناظر ذہن انسانی خود سوچ سکتا ہے۔ اس لئے یہ تخیل پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ میرے بندوں کو لے کر رات کو نکل جائیں۔ سمندر میں ان کو خشک راہ مل جائے گی اور فرعون کے لشکر ان کو نہ پکڑ سکیں گے۔ سمندر میں بننے والے خشک راستوں میں بھی خوف نہ کھائو ، اللہ نے سمندر میں پانی کو جس قانون کے مطابق رکھا ہوا ہے وہ اسے کچھ دیر کے لئے اپنی طبیعی ڈگر سے ہٹا بھی سکتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جب موسیٰ نکلے تو :
فاتبعھم ……وما ھدی (98) (02 : 88-98) ” پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا اور پھر سمندر ان پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا ، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔ “
قرآن مجید یہاں فرعون کی غرقابی کا بھی مجملاً ذکر کرتا ہے۔ تفصیلات نہیں دی جاتیں تاکہ یہ واقعہ مجمل ہی رہے۔ فرعون نے زنگدی بھر اپنی قوم کی قیادت فسق و فجور اور ضلالت میں کی اور اب تباہی اور بربادی کے وقت بھی سمندر میں اس نے اپنی قوم کی قیادت کی۔ جس طرح اس واقعہ کی اس کڑی کو یہاں قرآن مجید نے خاص حکمت کے تحت مجمل چھوڑا ہے ہم بھی اسے مجمل ہی رہنے دیتی ہیں۔ مناسب ہے کہ اس منظر سے ہمیں جو سبق حاصل ہوتا ہے اور اس منظر میں واقعات کا جو اثر دلوں پر ہوتا ہے اس کے حوالے سے بحث کی جائے۔
اس قصے میں پہلی عبرت یہ ہے کہ دست قدرت نے ایمان اور سرکشی کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور ان کے درمیان معرکہ برپا کیا گیا ہے ، اس معرکہ میں اہل ایمان سے صرف یہ مطالبہ کیا گیا کہ بس وہ فقط احکام کی اطاعت کرتے چلے جائیں۔ حکم ہوا کہ تم رات کو نکل پڑو اس لئے کہ دونوں محاذوں کے درمیان جنگی قوت کا توازن نہ تھا۔ حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو ان دو قوتوں کے درمیان کوئی نسبت ہی نہ تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم ضعیف ہیں۔ ان کے پاس کوئی مادی قوت نہیں ہے۔ جبکہ فرعون اور اس کی افواج ہر قسم کی قوت رکھتی ہیں۔ لہٰذا ان کے درمیان کسی مادی جنگ کا کوئی موقع ہی نہیں ہے اس لئے یہ جنگ دست قدرت نے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ لیکن جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمانی قوت مضبوط ہوگئی ، ایمان ان کے دلوں میں اچھی طرح داخل ہوگیا اور اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی مادی قوت نہ تھی تو قوت ایمانی نے ایک سرکش مقتدر اعلیٰ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈری اور اہل اقتدار کے پاس جو دولت اور عزت تھی اسے خاطر میں نہ لائی۔ سرکش ڈکٹیٹر نے کہا
فلاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف وانا وصلبنکم فی حذوع النخل (18) ” میں تمہارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کے تنوں پر تمہیں سولی دوں گا۔ “ تو جواب میں انہوں نے کہا۔
فاقض ما انت قاض انما تقضی ھذہ الحیوۃ الدنیا (02 : 28) ” تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے تو زیادہ سے زیادہ بس اس دنیا کی زنگدی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ “ جب دلوں کے میدان میں نظریاتی اور ایمانی قوت اور سرکشی اور اقتدار کی قوت کے درمیان معرکہ یہاں تک پہنچ گیا تو اب دست قدرت نے ایمان کا جھنڈا اٹھا لیا تاکہ اسے بلند کر دے اور اہل باطل کا جھنڈا سرنگوں کردیا گیا بغیر اس کے کہ اہل حق اس کے لئے کوئی مادی جدوجہد کریں۔
دوسری عبرت یہ ہے کہ جب تک بنی اسرائیل ذلت اور غلامی کا ٹیکس فرعون کو ادا کرتے رہے ان کے بیٹے قتل ہوتے رہے اور ان کی بیٹیاں زندہ چھوڑی جاتی رہیں تو دست قدرت ان کی امداد کے لئے بلند نہ ہوا اور یہ معرکہ آرائی نہ کرائی گئی۔ کیونکہ وہ یہ ٹیکس محض ذلت ، غلامی اور خوف کی وجہ سے ادا کرتے رہے لیکن جب ان لوگوں کے دلوں میں ایمان سربلند ہوگیا اور انہوں نے ایمان کی راہ میں مشکلات اور تشدد برداشت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جب انہوں نے سر اٹھا کے چلنے کی رسم ڈال لی۔ کلمہ حق بلند کرنا شروع کردیا اور فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا شروع کردیا اور یہ کام انہوں نے ہر قسم کا خطرہ انگیز کرتے ہوئے کیا تو پھر دست قدرت ان کی مدد کے لئے بلند ہوا۔ یہ معرکہ شروع ہوا ، اس وقت جبکہ میدانی فتح سے قبل اہل ایمان دل کی دنیا میں فتح پا چکے تھے۔
اس اجمال کے ذریعے یہاں قرآن کریم یہی عبرت اور سبق دینا چاہتا ہے اور ان مناظر میں تفصیلات یعنی جزوی تفصیلات نہیں دی گئی تاکہ دعوت اسلامی کے حاملین کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کی طرف سے ان کی نصرت کب ہوگی اور باغیوں اور سرکشوں کے ماقبلے میں فتح کب نصیب ہوگی۔
جب بنی اسرائیل فتح و نصرت کے جھنڈے اٹھاتے ہوئے ایک آزاد فضا میں قدم رکھ رہے تھے تو اب ان کو صنیحت کی جاتی ہے ، سچائی کا سبق یاد کرایا جاتا ہے اور انجام بد سے انہیں ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ اس سبق کو بھول نہ جائیں جو فرعون و موسیٰ کی کشمکش سے حاصل ہوتا ہے ۔ اب آزادی اور اقتدار کی فضا کہیں ان کو کبر و غرور میں مبتلا نہ کر دے اور وہ اس ساز و سامان کو نظر انداز نہ کردیں جس کی وجہ سے انہیں طاقت کے عدم توازن کے باوجود ، فتح نصیب ہوئی کیونکہ یہ اصل قوت ، قوت ایمانی ہی ہر میدان میں فتح کی ضامن ہے۔
طه 20:78
ولقد اوحینآ الی ……ھدی (97)
یہاں قرآن مجید نے وہ تمام واقعات حذف کردیئے ہیں جو جادوگروں کے ساتھ مقابلے کے بعد پیش آئے۔ فرعون نے جادوگروں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جبکہ وہ اپنی قوت ایمانی کیس اتھ فرعون کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ وہ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈرے ، انہوں نے حیات دنیا کے بارے میں اپنا جدید نظر یہ فرعون کے سامنے بڑی بےباکی سے پیش کیا۔ ان سب واقعات کو چھوڑ کر یہاں اب فتح ظاہری کا یہ منظر دکھایا جاتا ہے ، تاکہ قلبی اور نظریاتی فتح کے بعد اب میدانی فتح کو دکھایا جائے اور اللہ کی نصرت اور مدد اہل ایمان کو بچشم سر نظر آجائے۔ مکمل اور فیصلہ کن فتح۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس منظر سے قبل بنی اسرائیل کے منظر خروج اور سمندر کے سامنے ان کے کھڑے ہونے کے مناظر کو طول نہیں دیا گیا ، جس طرح ان مناظر کو دوسری سورتوں میں مفصل دکھایا گیا۔ بلکہ چند جھلکیوں کے بعد مکمل فتح ہمارے سامنے ہے کیونکہ یہ تمام حذف شدہ مناظر ذہن انسانی خود سوچ سکتا ہے۔ اس لئے یہ تخیل پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ میرے بندوں کو لے کر رات کو نکل جائیں۔ سمندر میں ان کو خشک راہ مل جائے گی اور فرعون کے لشکر ان کو نہ پکڑ سکیں گے۔ سمندر میں بننے والے خشک راستوں میں بھی خوف نہ کھائو ، اللہ نے سمندر میں پانی کو جس قانون کے مطابق رکھا ہوا ہے وہ اسے کچھ دیر کے لئے اپنی طبیعی ڈگر سے ہٹا بھی سکتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جب موسیٰ نکلے تو :
فاتبعھم ……وما ھدی (98) (02 : 88-98) ” پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا اور پھر سمندر ان پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا ، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔ “
قرآن مجید یہاں فرعون کی غرقابی کا بھی مجملاً ذکر کرتا ہے۔ تفصیلات نہیں دی جاتیں تاکہ یہ واقعہ مجمل ہی رہے۔ فرعون نے زنگدی بھر اپنی قوم کی قیادت فسق و فجور اور ضلالت میں کی اور اب تباہی اور بربادی کے وقت بھی سمندر میں اس نے اپنی قوم کی قیادت کی۔ جس طرح اس واقعہ کی اس کڑی کو یہاں قرآن مجید نے خاص حکمت کے تحت مجمل چھوڑا ہے ہم بھی اسے مجمل ہی رہنے دیتی ہیں۔ مناسب ہے کہ اس منظر سے ہمیں جو سبق حاصل ہوتا ہے اور اس منظر میں واقعات کا جو اثر دلوں پر ہوتا ہے اس کے حوالے سے بحث کی جائے۔
اس قصے میں پہلی عبرت یہ ہے کہ دست قدرت نے ایمان اور سرکشی کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور ان کے درمیان معرکہ برپا کیا گیا ہے ، اس معرکہ میں اہل ایمان سے صرف یہ مطالبہ کیا گیا کہ بس وہ فقط احکام کی اطاعت کرتے چلے جائیں۔ حکم ہوا کہ تم رات کو نکل پڑو اس لئے کہ دونوں محاذوں کے درمیان جنگی قوت کا توازن نہ تھا۔ حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو ان دو قوتوں کے درمیان کوئی نسبت ہی نہ تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم ضعیف ہیں۔ ان کے پاس کوئی مادی قوت نہیں ہے۔ جبکہ فرعون اور اس کی افواج ہر قسم کی قوت رکھتی ہیں۔ لہٰذا ان کے درمیان کسی مادی جنگ کا کوئی موقع ہی نہیں ہے اس لئے یہ جنگ دست قدرت نے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ لیکن جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمانی قوت مضبوط ہوگئی ، ایمان ان کے دلوں میں اچھی طرح داخل ہوگیا اور اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی مادی قوت نہ تھی تو قوت ایمانی نے ایک سرکش مقتدر اعلیٰ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈری اور اہل اقتدار کے پاس جو دولت اور عزت تھی اسے خاطر میں نہ لائی۔ سرکش ڈکٹیٹر نے کہا
فلاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف وانا وصلبنکم فی حذوع النخل (18) ” میں تمہارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کے تنوں پر تمہیں سولی دوں گا۔ “ تو جواب میں انہوں نے کہا۔
فاقض ما انت قاض انما تقضی ھذہ الحیوۃ الدنیا (02 : 28) ” تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے تو زیادہ سے زیادہ بس اس دنیا کی زنگدی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ “ جب دلوں کے میدان میں نظریاتی اور ایمانی قوت اور سرکشی اور اقتدار کی قوت کے درمیان معرکہ یہاں تک پہنچ گیا تو اب دست قدرت نے ایمان کا جھنڈا اٹھا لیا تاکہ اسے بلند کر دے اور اہل باطل کا جھنڈا سرنگوں کردیا گیا بغیر اس کے کہ اہل حق اس کے لئے کوئی مادی جدوجہد کریں۔
دوسری عبرت یہ ہے کہ جب تک بنی اسرائیل ذلت اور غلامی کا ٹیکس فرعون کو ادا کرتے رہے ان کے بیٹے قتل ہوتے رہے اور ان کی بیٹیاں زندہ چھوڑی جاتی رہیں تو دست قدرت ان کی امداد کے لئے بلند نہ ہوا اور یہ معرکہ آرائی نہ کرائی گئی۔ کیونکہ وہ یہ ٹیکس محض ذلت ، غلامی اور خوف کی وجہ سے ادا کرتے رہے لیکن جب ان لوگوں کے دلوں میں ایمان سربلند ہوگیا اور انہوں نے ایمان کی راہ میں مشکلات اور تشدد برداشت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جب انہوں نے سر اٹھا کے چلنے کی رسم ڈال لی۔ کلمہ حق بلند کرنا شروع کردیا اور فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا شروع کردیا اور یہ کام انہوں نے ہر قسم کا خطرہ انگیز کرتے ہوئے کیا تو پھر دست قدرت ان کی مدد کے لئے بلند ہوا۔ یہ معرکہ شروع ہوا ، اس وقت جبکہ میدانی فتح سے قبل اہل ایمان دل کی دنیا میں فتح پا چکے تھے۔
اس اجمال کے ذریعے یہاں قرآن کریم یہی عبرت اور سبق دینا چاہتا ہے اور ان مناظر میں تفصیلات یعنی جزوی تفصیلات نہیں دی گئی تاکہ دعوت اسلامی کے حاملین کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کی طرف سے ان کی نصرت کب ہوگی اور باغیوں اور سرکشوں کے ماقبلے میں فتح کب نصیب ہوگی۔
جب بنی اسرائیل فتح و نصرت کے جھنڈے اٹھاتے ہوئے ایک آزاد فضا میں قدم رکھ رہے تھے تو اب ان کو صنیحت کی جاتی ہے ، سچائی کا سبق یاد کرایا جاتا ہے اور انجام بد سے انہیں ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ اس سبق کو بھول نہ جائیں جو فرعون و موسیٰ کی کشمکش سے حاصل ہوتا ہے ۔ اب آزادی اور اقتدار کی فضا کہیں ان کو کبر و غرور میں مبتلا نہ کر دے اور وہ اس ساز و سامان کو نظر انداز نہ کردیں جس کی وجہ سے انہیں طاقت کے عدم توازن کے باوجود ، فتح نصیب ہوئی کیونکہ یہ اصل قوت ، قوت ایمانی ہی ہر میدان میں فتح کی ضامن ہے۔
طه 20:79
ولقد اوحینآ الی ……ھدی (97)
یہاں قرآن مجید نے وہ تمام واقعات حذف کردیئے ہیں جو جادوگروں کے ساتھ مقابلے کے بعد پیش آئے۔ فرعون نے جادوگروں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جبکہ وہ اپنی قوت ایمانی کیس اتھ فرعون کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ وہ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈرے ، انہوں نے حیات دنیا کے بارے میں اپنا جدید نظر یہ فرعون کے سامنے بڑی بےباکی سے پیش کیا۔ ان سب واقعات کو چھوڑ کر یہاں اب فتح ظاہری کا یہ منظر دکھایا جاتا ہے ، تاکہ قلبی اور نظریاتی فتح کے بعد اب میدانی فتح کو دکھایا جائے اور اللہ کی نصرت اور مدد اہل ایمان کو بچشم سر نظر آجائے۔ مکمل اور فیصلہ کن فتح۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس منظر سے قبل بنی اسرائیل کے منظر خروج اور سمندر کے سامنے ان کے کھڑے ہونے کے مناظر کو طول نہیں دیا گیا ، جس طرح ان مناظر کو دوسری سورتوں میں مفصل دکھایا گیا۔ بلکہ چند جھلکیوں کے بعد مکمل فتح ہمارے سامنے ہے کیونکہ یہ تمام حذف شدہ مناظر ذہن انسانی خود سوچ سکتا ہے۔ اس لئے یہ تخیل پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ میرے بندوں کو لے کر رات کو نکل جائیں۔ سمندر میں ان کو خشک راہ مل جائے گی اور فرعون کے لشکر ان کو نہ پکڑ سکیں گے۔ سمندر میں بننے والے خشک راستوں میں بھی خوف نہ کھائو ، اللہ نے سمندر میں پانی کو جس قانون کے مطابق رکھا ہوا ہے وہ اسے کچھ دیر کے لئے اپنی طبیعی ڈگر سے ہٹا بھی سکتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جب موسیٰ نکلے تو :
فاتبعھم ……وما ھدی (98) (02 : 88-98) ” پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا اور پھر سمندر ان پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا ، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔ “
قرآن مجید یہاں فرعون کی غرقابی کا بھی مجملاً ذکر کرتا ہے۔ تفصیلات نہیں دی جاتیں تاکہ یہ واقعہ مجمل ہی رہے۔ فرعون نے زنگدی بھر اپنی قوم کی قیادت فسق و فجور اور ضلالت میں کی اور اب تباہی اور بربادی کے وقت بھی سمندر میں اس نے اپنی قوم کی قیادت کی۔ جس طرح اس واقعہ کی اس کڑی کو یہاں قرآن مجید نے خاص حکمت کے تحت مجمل چھوڑا ہے ہم بھی اسے مجمل ہی رہنے دیتی ہیں۔ مناسب ہے کہ اس منظر سے ہمیں جو سبق حاصل ہوتا ہے اور اس منظر میں واقعات کا جو اثر دلوں پر ہوتا ہے اس کے حوالے سے بحث کی جائے۔
اس قصے میں پہلی عبرت یہ ہے کہ دست قدرت نے ایمان اور سرکشی کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور ان کے درمیان معرکہ برپا کیا گیا ہے ، اس معرکہ میں اہل ایمان سے صرف یہ مطالبہ کیا گیا کہ بس وہ فقط احکام کی اطاعت کرتے چلے جائیں۔ حکم ہوا کہ تم رات کو نکل پڑو اس لئے کہ دونوں محاذوں کے درمیان جنگی قوت کا توازن نہ تھا۔ حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو ان دو قوتوں کے درمیان کوئی نسبت ہی نہ تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم ضعیف ہیں۔ ان کے پاس کوئی مادی قوت نہیں ہے۔ جبکہ فرعون اور اس کی افواج ہر قسم کی قوت رکھتی ہیں۔ لہٰذا ان کے درمیان کسی مادی جنگ کا کوئی موقع ہی نہیں ہے اس لئے یہ جنگ دست قدرت نے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ لیکن جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمانی قوت مضبوط ہوگئی ، ایمان ان کے دلوں میں اچھی طرح داخل ہوگیا اور اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی مادی قوت نہ تھی تو قوت ایمانی نے ایک سرکش مقتدر اعلیٰ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈری اور اہل اقتدار کے پاس جو دولت اور عزت تھی اسے خاطر میں نہ لائی۔ سرکش ڈکٹیٹر نے کہا
فلاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف وانا وصلبنکم فی حذوع النخل (18) ” میں تمہارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کے تنوں پر تمہیں سولی دوں گا۔ “ تو جواب میں انہوں نے کہا۔
فاقض ما انت قاض انما تقضی ھذہ الحیوۃ الدنیا (02 : 28) ” تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے تو زیادہ سے زیادہ بس اس دنیا کی زنگدی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ “ جب دلوں کے میدان میں نظریاتی اور ایمانی قوت اور سرکشی اور اقتدار کی قوت کے درمیان معرکہ یہاں تک پہنچ گیا تو اب دست قدرت نے ایمان کا جھنڈا اٹھا لیا تاکہ اسے بلند کر دے اور اہل باطل کا جھنڈا سرنگوں کردیا گیا بغیر اس کے کہ اہل حق اس کے لئے کوئی مادی جدوجہد کریں۔
دوسری عبرت یہ ہے کہ جب تک بنی اسرائیل ذلت اور غلامی کا ٹیکس فرعون کو ادا کرتے رہے ان کے بیٹے قتل ہوتے رہے اور ان کی بیٹیاں زندہ چھوڑی جاتی رہیں تو دست قدرت ان کی امداد کے لئے بلند نہ ہوا اور یہ معرکہ آرائی نہ کرائی گئی۔ کیونکہ وہ یہ ٹیکس محض ذلت ، غلامی اور خوف کی وجہ سے ادا کرتے رہے لیکن جب ان لوگوں کے دلوں میں ایمان سربلند ہوگیا اور انہوں نے ایمان کی راہ میں مشکلات اور تشدد برداشت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جب انہوں نے سر اٹھا کے چلنے کی رسم ڈال لی۔ کلمہ حق بلند کرنا شروع کردیا اور فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا شروع کردیا اور یہ کام انہوں نے ہر قسم کا خطرہ انگیز کرتے ہوئے کیا تو پھر دست قدرت ان کی مدد کے لئے بلند ہوا۔ یہ معرکہ شروع ہوا ، اس وقت جبکہ میدانی فتح سے قبل اہل ایمان دل کی دنیا میں فتح پا چکے تھے۔
اس اجمال کے ذریعے یہاں قرآن کریم یہی عبرت اور سبق دینا چاہتا ہے اور ان مناظر میں تفصیلات یعنی جزوی تفصیلات نہیں دی گئی تاکہ دعوت اسلامی کے حاملین کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کی طرف سے ان کی نصرت کب ہوگی اور باغیوں اور سرکشوں کے ماقبلے میں فتح کب نصیب ہوگی۔
جب بنی اسرائیل فتح و نصرت کے جھنڈے اٹھاتے ہوئے ایک آزاد فضا میں قدم رکھ رہے تھے تو اب ان کو صنیحت کی جاتی ہے ، سچائی کا سبق یاد کرایا جاتا ہے اور انجام بد سے انہیں ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ اس سبق کو بھول نہ جائیں جو فرعون و موسیٰ کی کشمکش سے حاصل ہوتا ہے ۔ اب آزادی اور اقتدار کی فضا کہیں ان کو کبر و غرور میں مبتلا نہ کر دے اور وہ اس ساز و سامان کو نظر انداز نہ کردیں جس کی وجہ سے انہیں طاقت کے عدم توازن کے باوجود ، فتح نصیب ہوئی کیونکہ یہ اصل قوت ، قوت ایمانی ہی ہر میدان میں فتح کی ضامن ہے۔
طه 20:80
اب تو خطرے کا علاقہ گزر گیا۔ بنی اسرائیل کامیابی سے طور کی طرف سینئای کے میدان میں آگئے۔ فرعون اور اس کی افواج سمندر میں غرق ہوگئیں۔ بنی اسرائیل کی اس نجات پر ابھی تک زیادہ عرصہ نہیں گزرا ، یہ ان کے حافظے میں تازہ واقعہ ہے لیکن اس تازہ ترین نعمت کی طرف بھی باری تعالیٰ ان کی توجہ مبذول کراتے ہیں کہ تم اس واقعہ کو کہیں بھول نہ جائو۔ غور کرو اور شکر کرو۔
یہاں بنی اسرائیل کے ساتھ طور ایمان کے جس وعدے کا ذکر ہے ، یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ مصر سے اخراج کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے طور پر بلایا تھا تاکہ وہ اللہ کے ساتھ ملاقات کے لئے تربیت حاصل کریں گی اور اللہ وہ تعلیمات سنیں جو الواح میں انہیں دی جاتی تھیں۔ جن کا تعلق دین اور شریعت سے تھا اور بنی اسرائیل اس عالم کردار کے لئے تیار اور منظم ہوں جو انہوں نے ارض مقدس میں سرانجام دینا تھا۔
پھر ان کے لئے من نازل کرنا ، من ایک ایسا میٹھا مادہ تھا جو درختوں کے پتوں پر جمع ہوجاتا تھا اور سلویٰ ایک پرندہ تھا جو وہاں بکثرت ان کے لئے صحرا میں جمع ہوجاتا تھا ، جسے بہ سہولت پکڑا اور کھایا جاسکتا تھا۔ یہ دونوں چیزیں ان کے لئے اس چٹیل میدان اور غیر آباد صحرا میں خصوصی انعام تھیں۔ یہ چیزیں ان کو روزمرہ کے کھانے میں فراہم ہوجاتی تھیں اور بڑی سہولت سے فراہم ہوجاتی تھیں۔
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یہ انعامات یاد دلا کر یہ نصیحت کرتا ہے کہ ان کو کھائو لکین سرکشی مت کرو اور عیش و عشرت میں گم ہو کر ان مقاصد اور اس نصب العین کو نہ بھول جائو جس کے لئے تم مصر سے نکلے ہو ، اور جس بات سے یہاں خصوصاً انہیں منع کیا جا رہا ہے وہ سرکشی ہے۔ سرکشی کو تو وہ مصر میں دیکھ چکے تھے۔ اس کے تحت وہ مظالم سہہ چکے تھے اور اس کا انجام بھی دیکھ چکے تھے۔
طه 20:81
ولا تطغوا فیہ فیحل علیکم غضبی و من یحلل علیہ غضبی فقد ھوی (02 : 18) ” سرکشی نہ کرو ، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جن پر میرا غضب ٹوٹا ، وہ پھر گر کر ہی رہا۔ “ حال ہی میں وہ دیکھ چکے تھے کہ فرعون کس طرح گرا۔ وہ تخت سے بھی گرا اور پھر سمندر میں بھی گرا۔ گرنا جس طرح اوپر سے نیچے کے عمل کو دکھاتا ہے ، اسی طرح سرکشی اور تکبر نیچے سے اوپر کی طرف جانے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو قرآن کریم اپنے مخصوص انداز بیان کے مطابق باہم مربوط کر کے پیش کرتا ہے جس میں مفہومات باہم مقابل ہوتے ہیں۔
یہ تنبیہ اور ڈراوا اس قوم کے لئے ہے جو حال ہی میں ایک مخصوص مقصد کے لئے مصر سے نکلی ہے تاکہ آزادی اور عیش پرستی ان کو گمراہ نہ کر دے۔ وہ عیش پرستی اختیار کر کے کمزور نہ ہوجائیں۔ لیکن اس تنبیہ اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ توبہ کا دروازہ بھی کھلا رہتا ہے تاکہ اگر کسی سے غلطی ہو تو وہ واپس آسکے۔
طه 20:82
وانی لغفار لمن تاب و امن و عمل صالحا ثم اھتدی (02 : 28) ” البتہ جو توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھا چلے ، اس کے لئے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔ “ یہ یاد رہے کہ توبہ صرف لفظ کا نام نہیں ہے کہ کوئی اسے گائے بلکہ یہ تو قلبی عزم کا نام ہے۔ اس کے مفہوم کا تعین ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ ہی ہوتا ہے اور اس کا ظہور عالم واقعہ میں انسانی طرز عمل سے ہوتا ہے۔ اگر توبہ کرلی ، ایمان درست رہا اور عمل نے اس کی تصدیق کی تو تب انسان کو ہدایت یافتہ انسان کہا جاسکتا ہے ، انسان ہدایت اور عمل صالح کی ضمانت غرض جب توبہ کے بعد ہدایت نہ ہو یعنی عملی تبدیلی نہ ہو تو توبہ کا کوئی مفہوم نہیں رہتا۔
یہاں تک ہم بنی اسرائیل کی کامیابی اور اس پر تبصرہ و نصیحت کا منظر دیکھ رہے تھے ، اب پردہ گرتا ہے اور اس کے بعد دوسرے منظر میں حضرت موسیٰ طور ایمان پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ طور پر چالیس روز گزاریں اور اس کے بعد اللہ سے ہم کلا مہو کر اس سے احکام لیں۔ یعنی شکست کے بعد فتح حاصل کرنے کے احکام۔ فتح حاصل کرنا کچھ تقاضے بھی رکھتا ہے۔ ہر نظریہ کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ نیز احکام لینے کے لئے نفسیاتی تیاری اور اپنے اندر استعداد پیدا کرنا کچھ تقاضے بھی رکھتا ہے۔ ہر نظریہ کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ نیز احکام لینے کے لئے نفسیاتی تیاری اور اپنے اندر استعداد پیدا کرنا بھی ضروری تھا۔ حضرت موسیٰ پہاڑ پر چڑھ گئے اور قوم کو نیچے چھوڑ دیا اور حضرت ہارون کو ان میں اپنا نائب مقرر کیا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس ملاقات کا بےحد شوق تھا ، اللہ کے سامنے حاضری دینا بڑا اعزاز تھا ، وہ اس کے لئے بےتاب تھے۔ اس سے قبل وہ اللہ کے ساتھ ہمکلامی کی مٹھاس چکھ چکے تھے۔ اس لئے وہ بےحد شوق سے جلدی میں طور پر پہنچ گئے۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہوگئے ، لیکن ان کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی قوم نے ان کے بعد کیا گل کھلائے ہیں کیونکہ وہ ان کو پہاڑ کے نیچے چھوڑ آئے تھے۔
یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو رب تعالیٰ بتا دیتے ہیں کہ تمہارے بعد بنی اسرائیل نے کیا حرکت کی ہے۔ ذرا منظر کو دیکھیں اور گفتگو سنیں :
طه 20:83
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ سن کر حیران رہ گئے ۔ وہ رب تعالیٰ کی ملاقات کے لئے بےتاب تھے ۔ انہوں نے چالیس دن کا وقت بھی گزار لیا تھا اور ملاقات کی تیاری بھی کرلی تھی تاکہ وہ بنی اسرائیل کے لئے نیا نظام زندگی حاصل کرلیں کیونکہ ابھی ابھی وہ آپ کی قیادت میں فرعون کی غلامی سے رہا ہوئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل ایک ایسی امت ہو جس کے پاس ایک پغیام ہو اور اس کے کچھ فرائض ہوں۔
لیکن بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل ذلت کی زنگدی اور بت پرستانہ فرعونیت کی غلامی نے ان کا ضمیر بدل دیا تھا۔ وہ مشقت برداشت کرنے کے قابل نہ تھے۔ نہ مشکلات میں صبر کرسکتے تھے اور نہ کسی قول وقرار پر ثابت قدم رہ سکتے تھے۔ ان کے شعور میں غلامی تقلید اور سہل پسندی رچ بس گئی تھی۔ جونہی موسیٰ ان کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر ان سے ذرا دور ہوئے ان کے عقائد بدل گئے اور پہلی ہی آزمائش میں وہ چار شانے چت ہوگئے۔ ان کے لئے تو مسلسل امتحان ضروری تھا اور مسلسل مشکلات اور آزمائمشوں میں ان کو بار بار ڈالنا ضروری تھا تاکہ ان کی نفسیاتی تربیت ہو۔ گو سالہ پرستی ان کی پہلی آزمائش تھی ، یہ ایک مصنوعی بچھڑا تھا جو سامری نے ان کے لئے تیار کیا تھا۔
طه 20:84
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ سن کر حیران رہ گئے ۔ وہ رب تعالیٰ کی ملاقات کے لئے بےتاب تھے ۔ انہوں نے چالیس دن کا وقت بھی گزار لیا تھا اور ملاقات کی تیاری بھی کرلی تھی تاکہ وہ بنی اسرائیل کے لئے نیا نظام زندگی حاصل کرلیں کیونکہ ابھی ابھی وہ آپ کی قیادت میں فرعون کی غلامی سے رہا ہوئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل ایک ایسی امت ہو جس کے پاس ایک پغیام ہو اور اس کے کچھ فرائض ہوں۔
لیکن بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل ذلت کی زنگدی اور بت پرستانہ فرعونیت کی غلامی نے ان کا ضمیر بدل دیا تھا۔ وہ مشقت برداشت کرنے کے قابل نہ تھے۔ نہ مشکلات میں صبر کرسکتے تھے اور نہ کسی قول وقرار پر ثابت قدم رہ سکتے تھے۔ ان کے شعور میں غلامی تقلید اور سہل پسندی رچ بس گئی تھی۔ جونہی موسیٰ ان کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر ان سے ذرا دور ہوئے ان کے عقائد بدل گئے اور پہلی ہی آزمائش میں وہ چار شانے چت ہوگئے۔ ان کے لئے تو مسلسل امتحان ضروری تھا اور مسلسل مشکلات اور آزمائمشوں میں ان کو بار بار ڈالنا ضروری تھا تاکہ ان کی نفسیاتی تربیت ہو۔ گو سالہ پرستی ان کی پہلی آزمائش تھی ، یہ ایک مصنوعی بچھڑا تھا جو سامری نے ان کے لئے تیار کیا تھا۔
طه 20:85
قال فانا قدفتنا قومک من بعدلک واضلھم السامری (02 : 58) ” فرمایا اچھا تو سنو ، کہ ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ار سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا۔ “ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس ابتلاء کا پتہ نہ تھا۔ اللہ کے ساتھ ملاقات میں پہلی بار ان کو پتہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے یہ تختیاں لیں۔ ان میں ہدایت تھی۔ اس میں بنی اسرائیل کی زندگی کی تعمیر کے لئے ایک ایسا دستور تھا جو انہیں اس مقصد کے لئے تیار کر کے دیا گیا تھا جس کے لئے انہیں اٹھایا گیا تھا۔
یہاں کوہ طور موسیٰ (علیہ السلام) کی مناجات کا منظر جلدی سے لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ان تاثرات کو قلم بند کیا جائے جو ان پر وقم کی گمراہی کی خبر سن کر طاری ہوئے۔ واپسی کے لئے ان کی جلدی بھی منظر پر آئے اور یہ دکھایا جائے کہ وہ کس قدر غیض و غضب میں ہیں۔ اس قوم کو تو انہوں نے حال ہی میں فرعون کی غلامی سے چھڑایا تھا اور بت پرستی کی ذلت سے نجات دلائی تھی۔ پھر اللہ نے صحرا میں ان کے لئے کھانے پینے کی سہولتیں مہیا کیں اور صاف صاف ہدایات بھی دیں کہ گمراہی سے بچنا اور گمراہی کے عواقب اور نتائج بھی بتا دیئے۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ وہ پہلی ہی پکار پر بت پرست بن گئے اور پھر مصنوعی گو سالہ کی پرستش میں لگ گئے۔
یہاں قرآن مجید صراحت کے ساتھ یہ نہیں بتاتا کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ضلالت کی تفصیلات بتا دی تھی یا نہیں لیکن واپسی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غیض و غضب کا اظہار کرنا ، نہایت ہی ناراض ہونا ، بھائی پر غصہ ہونا اور قوم کو ملامت کرنا ، یہ سب امور یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ نے ان کو سب کچھ بتلا دیا تھا اور وہ جان گیء تھے کہ بنی اسرائیل نے کسی نہایت ہی بری حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔
طه 20:86
ہارون (موسیٰ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ ” لوگو تم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو ، تمہارا رب تو رحمٰن ہے ، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔ “ مگر انہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ” ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آجائے۔ “
یہ ہے وہ فتنہ جس کے ذریعہ بنی اسرائیل گمراہ ہوئے لیکن قرآن اس کا تذکرہ اس وقت کرتا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے آ کر تحقیق کرتے ہیں۔ اس سے قبل اللہ کے ساتھ مناجات کے موقعہ پر قرآن نے اس کا اظہار نہیں کیا۔ ان تفصیلات کو خفیہ رکھا تاکہ ان کو اس وقت ظاہر کیا جائے جب موسیٰ (علیہ السلام) خود تحقیقات کرلیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم ایک ایسے مصنوعی بچھڑے کی پوجا کر رہی جو آواز نکالتا ہے۔ یہ بچھڑا سونے سے بنا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہے تمہارا رب اور یہی ہے موسیٰ کا رب۔ موسیٰ غلطی سے طور پر چلے گئے ، رب سے ملاقات کے لئے حالانکہ رب تو یہ ہے حاضر تمہارے سامنے ! !
جب موسیٰ (علیہ السلام) آئے تو نہایت ہی طیش کی حالت میں ان سے پوچھنے لگے۔
یقوم الم یعدکم ربکم وعدا حسناً (02 : 68) ” اے میری قوم کے لوگو ، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کئے تھے۔ “ اللہ نے ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر تم عقیدہ توحید پر جمے رہے تو تم ارض مقدس میں داخل ہوگئے اور تمہیں نصرت ملے گی۔ اس عہد اور اس کے آثار کے ظہور پر کوئی زیادہ طویل عرصہ تک نہ گزر گیا تھا۔ وہ ان کی سخت گوشمالی کرتے ہیں۔
افطال علیکم العھد ام اردتم ان یحل علیکم غضب من ربکم (02 : 68) ” کیا تمہیں دن لگ گئے تھے یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے۔ “ کیونکہ تمہارا یہ عمل تو ایسا ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ کے غضب کے طلبگار ہو ، تم نے گویا عمداً یہ حرکت کی ہے اور قصداً تم اللہ کا غضب چاہت یہو۔ کیا کوئی بہت ہی طویل عرصہ گزر گیا تھا۔
فاخلفتم موعدی (02 : 68) ” تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی۔ “ تم نے یو وعدہ کیا تھا کہ میرے آنے تک تم میرے عہد پر قائم رہو گے۔ تم اپنے نظریات و عمل میں کوئی تبدیلی نہ کرو گے بغیر میری اجازت کے۔
اب ذرا ان کی معذرت کو دیکھو ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طویل ترین غلامی نے ان کے قلب و نظر کو فاسد کردیا تھا اور ان کا دماغ بھی صحیح طرح کام نہ کر رہا تھا۔
طه 20:87
ما اخلقنا موعدک بملکنا (02 : 88) ” ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اتخیار سے نہیں کی۔ “ بات اتنی بڑی تھی کہ ہمارے بس میں نہ تھا کہ ہم اس سے باز رہتے۔
ولکنا حملنا اوزارا من زینۃ القوم فقذفنھا (02 : 88) ” معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے اور ہم نے بس ان کو پھینک دیا۔ “ ان کے پاس مصری عورتوں کے زیورات تھے جو وہ ساتھ لے آئے تھے۔ اس بوجھ کی طرف وہ اشارہ کرتے ہیں۔ ہم نے ان زیورات کو بوجھ اتارنے کے لئے پھینک دیا تھا کیونکہ یہ ہمارے پاس تھے اور تھے حرام۔ سامری نے ان کو چن لیا اور ان سے یہ بچھڑا بنا دیا۔ سامری مصر کا باشندہ تھا جو ان کا ساتھی بن گیا تھا۔ یا یہ بنی اسرائیل ہی میں سے ایک شخص تھا ، جس نے یہ لقب اختیار کرلیا تھا۔ اس نے اس بچھڑے میں ایسے سوراخ بنائے تھے کہ جب ان سے ہوا نکلتی تو بچھڑے جیسی آواز نکلتی تھی۔ اس بچھڑے میں نہ زندگی تھی اور نہ روح تھی۔ کیونکہ وہ تو ایک مردہ جسم تھا جو اس جسم کو کہا جاتا ہے جس میں زندگی نہ ہو۔ جونہی انہوں نے اس بچھڑنے کو آواز کرتے پایا۔ انہوں نے اس خدا کو بھلا دیا جس نے انہیں مصر سے نجات دی تھی یعنی ذلت کی سر زمین سے۔ چناچہ انہوں نے سونے کے اس بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ اپنی کم عقلی اور حماقت کی وجہ سے یہ کہنے لگے :
طه 20:88
ھذا الھکم والہ موسیٰ (02 : 88) ” یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰ کا خدا۔ “ موسیٰ اسے پہاڑ پر ڈھونڈ رہا ہے اور وہ یہ ہے ہمارے پاس ، اور موسیٰ نے رب کا راستہ ہی بھلا دیا۔
یہ ایک ایسی بات ہے جس سے ان کی بےشعوری اور کم عقلی بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کس قدر آسانی سے اپنے اس نبی پر تہمت لگا رہے ہیں جس کے زیر قیادت ابھی ابھی اللہ کی زیر نگرانی اور زیر نظر انہوں نے نجات پائی اور عین اللہ کی ہدایات کے مطابق ان کو یہ آزادی حاصل ہوئی ۔ ایسے حالات میں ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ الزام لگانا کہ وہ اپنے رب سے کوئی رابطہ نہیں رکھتے ، انہوں نے راستہ ہی خطا کردیا اور وہ رب تک پہنچ ہی نہ پائے۔ یہ ایک بہت بڑی جسارت ہے ان کی طرف سے لیکن وہ بنی اسرائیل تھے۔
یہ بات وہ بظاہر تو بطور عذر کر رہے ہیں لیکن درصال یہ ان کی جانب سے واضح دھوکہ ہے۔
طه 20:89
افلا یرون الا یرجع الیھم قولاً ولا یملک لھم ضراً ولا نفعاً (02 : 98) ” کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ وہ تو زندہ بچھڑا بھی نہ تھا کہ وہ ان کی بات سن سکتا اور نہ اس قدر جواب دے سکتا تھا جس قدر ایک زندہ بچھڑا دے سکتا ہے۔ چونکہ یہ بچھڑا تو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے ہے ، لہٰذا وہ ان کے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سادہ حقیقت ہے کہ وہ نہ ہل چلاتا ہے نہ کنوئیں سے پانی نکال سکتا ہے نہ آٹے کی چکی چلا سکتا ہے۔
ان سب امور کو ایک طرف رہنے دیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) موجود تھے۔ وہ ان کے نبی بھی تھے اور اس نبی کے نئاب تھے جو ان کا نجات دہندہ تھا۔ اس وقت انہوں نے ان کو متنبہ بھی کیا جب ان پر یہ آزمائش آئی۔ انہوں نے کہا تھا :
طه 20:90
افلا یرون الا یرجع الیھم قولاً ولا یملک لھم ضراً ولا نفعاً (02 : 98) ” کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ وہ تو زندہ بچھڑا بھی نہ تھا کہ وہ ان کی بات سن سکتا اور نہ اس قدر جواب دے سکتا تھا جس قدر ایک زندہ بچھڑا دے سکتا ہے۔ چونکہ یہ بچھڑا تو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے ہے ، لہٰذا وہ ان کے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سادہ حقیقت ہے کہ وہ نہ ہل چلاتا ہے نہ کنوئیں سے پانی نکال سکتا ہے نہ آٹے کی چکی چلا سکتا ہے۔
ان سب امور کو ایک طرف رہنے دیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) موجود تھے۔ وہ ان کے نبی بھی تھے اور اس نبی کے نئاب تھے جو ان کا نجات دہندہ تھا۔ اس وقت انہوں نے ان کو متنبہ بھی کیا جب ان پر یہ آزمائش آئی۔ انہوں نے کہا تھا :
طه 20:91
افلا یرون الا یرجع الیھم قولاً ولا یملک لھم ضراً ولا نفعاً (02 : 98) ” کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ وہ تو زندہ بچھڑا بھی نہ تھا کہ وہ ان کی بات سن سکتا اور نہ اس قدر جواب دے سکتا تھا جس قدر ایک زندہ بچھڑا دے سکتا ہے۔ چونکہ یہ بچھڑا تو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے ہے ، لہٰذا وہ ان کے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سادہ حقیقت ہے کہ وہ نہ ہل چلاتا ہے نہ کنوئیں سے پانی نکال سکتا ہے نہ آٹے کی چکی چلا سکتا ہے۔
ان سب امور کو ایک طرف رہنے دیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) موجود تھے۔ وہ ان کے نبی بھی تھے اور اس نبی کے نئاب تھے جو ان کا نجات دہندہ تھا۔ اس وقت انہوں نے ان کو متنبہ بھی کیا جب ان پر یہ آزمائش آئی۔ انہوں نے کہا تھا :
طه 20:92
موسیٰ نے ہارون سے کہا ، اے ہارون ، جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو ، کیا تو نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔ سرزنش اس بات پر ہو رہی ہے کہ کیوں آپ نے ان کو اس پرستش پر رہنے دیا کیوں نہ تم نے اس کی ممانعت کی۔ میرے صریح احکام کے مطابق کہ میرے بعد کوئی نئی بات پیدا نہ کرنا۔ نہ کسی کو کوئی نئی رسم ایجاد کرنے کی جا ازت دینا۔ اللہ تعالیٰ ان کا مواخذہ کرتے ہیں کہ تم نے میرے احکام نافذ کیوں نہ کئے ؟ کیا تم نے بھی میری نافرمان کی ؟
اس سے قبل قرآن نے فیصلہ دے دیا ہے کہ حضرت ہارون کا موقف کیا تھا۔ وہ بھائی کو حقیقی صورت حالات بتاتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ ذرا غصہ فرد کیجیے وہ بھائی چارے کا واسطہ دے کر کہتے ہیں۔
طه 20:93
موسیٰ نے ہارون سے کہا ، اے ہارون ، جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو ، کیا تو نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔ سرزنش اس بات پر ہو رہی ہے کہ کیوں آپ نے ان کو اس پرستش پر رہنے دیا کیوں نہ تم نے اس کی ممانعت کی۔ میرے صریح احکام کے مطابق کہ میرے بعد کوئی نئی بات پیدا نہ کرنا۔ نہ کسی کو کوئی نئی رسم ایجاد کرنے کی جا ازت دینا۔ اللہ تعالیٰ ان کا مواخذہ کرتے ہیں کہ تم نے میرے احکام نافذ کیوں نہ کئے ؟ کیا تم نے بھی میری نافرمان کی ؟
اس سے قبل قرآن نے فیصلہ دے دیا ہے کہ حضرت ہارون کا موقف کیا تھا۔ وہ بھائی کو حقیقی صورت حالات بتاتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ ذرا غصہ فرد کیجیے وہ بھائی چارے کا واسطہ دے کر کہتے ہیں۔
طه 20:94
نظر آتا ہے کہ حضرت ہارون ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے اور حضرت موسیٰ کے مقابلے میں اپنے جذبات پر قابو رکھتے تھے۔ وہ حضرت موسیٰ کے شعور میں ایک حساس یونٹ تلاش کرتے ہیں۔ برادری ایک حساس رشتہ ہے۔ اپنے خیال کے مطابق وہ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اگر میں آپ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا تو بنی اسرائیل کے اند رفرقہ بندی ہوجاتی۔ ایک گروہ بچھڑے کی حمایت میں اٹھ جاتا دوسرا میرے ساتھ ہوجاتا حالانکہ آپ کا حکم یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی حفاظت اور نگرانی رکھ اور ان میں کوئی نئی بات پیدا ہونے نہ دو ، تو ان کو انتشار سے بچانا بھی اطاعت امر ہے۔
حضرت موسیٰ کے غضب اور غصے کا رخ سامری کی طرف مڑ جاتا ہے جس نے اس فتنے کو ایجاد کیا تھا۔ اس سے پہلے حضرت موسیٰ اس کی طرف اس لئے متوجہ نہیں ہوتے کہ لوگوں کا بھی یہ فریضہ تھا کہ وہ ہر کس و ناکس کی اطاعت نہ کریں۔ پھر حضرت ہارون کی ذمہ داری آتی ہے کیونکہ وہ بھی ذمہ دار تھے کہ بچھڑے کی وپجا کرنے والوں کی راہ روکتے۔ رہے سامری تو ان کی ذمہ داری سب سے آخر میں آتی ہے کیونکہ اس نے ان کو زبردستی بچھڑے کی عبادت کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔ نہ اس نے ان کی عقل پر تالالگا دیا تھا۔ اس نے ان کو گمراہ کیا اور یہ گمراہ ہونے کے لئے تیار ہوگئے۔ ان کے بس میں یہ بات تھی کہ وہ اپنے پہلے بنی کی اطاعت کرتے ، پھر ان کا یہ فریضہ تھا کہ دوسرے نبی کی نصیحت پر عمل کرتے۔ لہٰذا اصل ذمہ داری پہلے قوم کی ہے ، پھر ان کے نگراں کی اور اس کے بعد اس شخص کی ہے جس نے یہ فتنہ پیدا کیا۔ چناچہ حضرت موسیٰ سب سے آخر میں اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
طه 20:95
سامری تم بتائو تم نے کیا کیا اور کیوں کیا ؟ یہ لفظ بتاتا ہے کہ سامری نے کوئی بہت بڑا جرم کیا ہے۔
طه 20:96
سامری کے اس جواب کی تفسیر میں کئی اقوال و روایات وارد ہیں۔ اس نے کیا چیز دیکھ لی جو اوروں نے نہ دیکھی ؟ وہ رسول کون تھے جس کے نقش قدم سے انہوں نے مٹھی لی اور پھینک دی ؟ پھر اس فعل کا بچھڑا سازی سے کیا تعلق ہے ؟ بچھڑے میں اس مٹی نے کیا اثرات کیے ؟
ان روایات میں سے بیشتر میں یہ بات ہے کہ سامری نے جبرئیل (علیہ السلام) کو اس شکل میں دیکھا جس میں وہ زمین پر اترتے ہیں ان کے قدموں کے نیچے سے اس نے خاک اٹھا لی۔ یا اس کے گھوڑے کے قدموں کے نیچے سے خاک اٹھا لی اور اسے سونے سے بنائے ہوئے بچھڑے پر ڈالا اور اس سے آواز آنے لگی۔ یا اس مٹی نے سونے کے ڈھیر سے بچھڑا بنا دیا۔
قرآن کریم نے یہاں اس حقیقت واقعہ کی وضاحت نہیں کی۔ قرآن کریم نے صرف سامری کا قول نقل کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ سامری کی طرف سے عذر لنگ تھا ، اس نے یہ عذر گھڑا تاکہ اپنی اس حرکت کے نتائج سے بچ جائے۔ بچھڑا تو اس سونے سے بنایا تھا جو بنی اسرائیل مصر سے ساتھ لے آئے تھے اور پھر پھینک دیا تھا ۔ سامری نے اس انداز سے بتایا کہ ہوا اس سے ایسی آواز نکالتی تھی جیسا کہ ایک بچھڑے کی آواز آتی ہے۔ اس کے بعد اس نے رسول کے آثار کی مٹی کا ذکر کیا ۔ اس لئے کہ اپنی اس حرکت کو تقدس کا رنگ دے اور اس معاملے کا جوڑ رسول کے نقش قدم سے لگا دے۔
بہرحال حقیقت جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے جماعت بنی اسرائیل سے نکال دیا۔ پوری عمر کے لئے اسے ملک بدر کردیا اور آخرت میں اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مصنوعی الہ کے معاملے میں سامری کے ساتھ سخت برتائو کیا اور الہ کے بارے میں بھی ایسا رویہ اختیار کیا تاکہ لوگ دیکھیں کہ اس الہ نے اپنے بنانے والے کو بھی کوئی مدد نہ پہنچائی۔
طه 20:97
جائو تم ملک بدر ہو ، تمہیں کوئی شخص بھی ہاتھ نہ لگائے گا ، نہ اچھائی سے اور نہ برائی کے ساتھ اور نہ تم کسی کے ساتھ ہاتھ لگائو گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں یہ سزائوں میں سے ایک سزا تھی۔ یہ اچھوت بنانے کی سزا تھی اور مجرم کو گندا قرار دیا جاتا تھا کہ نہ وہ کسی کو ہاتھ لگائے ، نہ اس کے ساتھ کوئی ہاتھ لگائے۔ یہ کہ تمہارے لئے باز پرس کا ایک وقت مقرر ہے ، تو اس سے مراد قیامت کا وقت جزاء و سزا ہے جس سے اگر کوئی بچنا چاہے بھی تو نہیں بچ سکتا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے بڑی سختی اور غصے میں یہ احکام دیئے کہ اس بچھڑے کو لے جا کر جلائو اور اس کی آنکھ کو پانی میں بکھیر دو ۔ سختی اور غصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مزاج کا حصہ ہے۔ یہاں ان کی یہ سختی اور غصہ صرف اللہ کے لئے ہے اور اللہ کے دین کے معاملے میں غصہ معیوب نہیں ہوتا۔ دین کے معاملے میں شدت مستحسن سمجھی جاتی ہے۔
جب سامری کا یہ الہ جلتا ہوا نظر آتا تھا ، تو اس منظر کے سامنے حضرت موسیٰ نے مناسب سمجھا کہ اسلامی عقیدے اور الہ کے بارے میں حقیقت لوگوں کو بتا دی جائے۔
طه 20:98
اسلامی عقیدے کے بارے میں اس وضاحت کے ساتھ ہی اس سورة میں قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ حصہ اب ختم ہوتا ہے۔ اس قصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ حاملین دعوت اسلامی پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہر طرف سے ہوتی ہے۔ اگرچہ ابتداء میں ان سے کوئی غلطی بھی ہوجائے۔ اس کے بعد اس قصے کے دوسرے مراحل کو یہاں ترک کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل نافرمانیاں کرتی ہیں ، اور ان پر ایک کے بعد ایک عذاب آتا ہے۔ چونکہ یہاں رحمت اور مہربانی اور نوازشات کا موضوع ہے اور یہ رحمتیں اللہ کے نیک بندوں پر ہوتی ہیں ، اسلئے اس قصے کی وہ کڑیاں جن میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا تذکرہ آتا ہے ، ان کا ذکر چونکہ موضوع و مضمون اور سورة کی فضا کے خلاف ہے اس لئے ان کو یہاں حذف کر کے اس قصہ کو یہاں ختم کردیا گیا ہے۔
طه 20:99
درس نمبر 931 ایک نظر میں
سورة کے آغاز میں موضوع بحث قرآن مجید تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر اس لئے نازل نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالا جائے۔ اس کے بعد پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو لے کر یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں اور رسولوں کے ساتھ کس قدر رعایت کرتا ہے اور ان پر کس قدر مہربانیاں ہوتی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ ان کے بھائی اور ان کی قوم پر ہوئی تھیں۔
اس طویل قصے پر اب یہاں تبصرہ کیا جاتا ہے اور موضوع سخن پھر قرآن مجید ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ اس سے منہ پھیریں گے ، ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ انجام قیام کے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کر کے بتایا یا ہے کہ دنیا کے شب و روز سکڑ جائیں گے ، زمین کے اوپر سے پہاڑ اڑ جائیں گے اور یہ ننگی رہ جائے گی “ بس ایک چٹیل میدان ہوگا ، لوگ میدان حشر میں سہمے کھڑے ہوں گے اور تمام چہرے حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے اور سرنگوں ہوں گے۔ یہ منظر اور قرآن مجید کے تمام وہ مناظر جن میں لوگوں کو ڈرایا گیا ہے ، ان سے غرض وغایت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔ قرآن مجید کی بحث کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ تسلی بھی دی جاتی ہے کہ آپ قرآن مجید کو نہ بھولیں گے۔ بھول کے خوف سے اس کے دہرانے میں جلدی نہ کیجیے۔ اس کی وجہ سے اپنے اوپر مصیبت نہ لائیے ، اللہ اسے آپ کے لئے آسان کر دے گا اور آپ کو حفظ کرا دیا جائے گا۔ آپ بس یہ دعا کرتے رہیں کہ اے میرے رب ، میرے علم میں اضافہ کر۔
جب وحی نازل ہونے لگتی تو نبی ﷺ وحی ختم ہونے سے پہلے ہی قرآن کی عبارت کو دہرانا شروع فرما دیتے تھے ، اس خوف سے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ اس بارے میں ان کو تسلی دی گئی لیکن موضوع کی مناسبت سے بتایا گیا کہ آدم (علیہ السلام) اپنے عہد کو بھول گئے تھے۔ ابلیس نے انہیں بھلا دیا تھا اس لئے آدم اور ابلیس کے درمیان جدی دشمنی چلی آرہی ہے۔ اولاد آدم میں سے بعض لوگ اپنے عہد کو بھلاتے ہیں اور بعض اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس انجام کو بھی قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ گویا یہ سفر کا انجام ہے جو عالم بالا سے شروع ہوا او اس کا خاتمہ بھی عالم بالا پر جا کر ہوا۔
سورة کا خاتمہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اے رسول آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں جو دعوت کی تکذیب کرتے ہیں یا اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس دنیا میں ایک محدود وقت دیا گیا ہے۔ اس محدود وقت میں ان کو جو ساز و سامان اور متاع دنیا کی وافر مقدار دی گئی ہے ، یہ ان کے لئے کوئی بہتری نہیں ہے۔ یہ تو ان کے لئے فتنہ اور آزمائش ہے۔ آپ کو یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی اور اس کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجائیں ، یوں آپ کو کسی دولت مند کی دولت سے زیادہ اطمینان حاصل ہوگا اور آپ اپنی حالت پر راضی ہوں گے۔ اس سے قبل اللہ نے بہت سی اقوام کو اسی طرح آزمائش میں ڈال کر ہلاک کیا ہے۔ اللہ نے لوگوں کی طرف نبی آخر الزمان اور آخری رسول کو بھیج کر ان پر حجت تمام کردی ہے۔ اب لوگوں کے پاس جو از ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ لہٰذا آپ ان کے انجام کے معاملے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اور اس کو اللہ پر چھوڑ دیں اور کہہ دیں ۔
قل کل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحب الصراط السوی ومن اھتدی (20 : 531) ” اے محمد ، ان سے کہو ، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے ، بس اب منتظر رہو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ۔ “
طه 20:100
درس نمبر 931 ایک نظر میں
سورة کے آغاز میں موضوع بحث قرآن مجید تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر اس لئے نازل نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالا جائے۔ اس کے بعد پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو لے کر یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں اور رسولوں کے ساتھ کس قدر رعایت کرتا ہے اور ان پر کس قدر مہربانیاں ہوتی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ ان کے بھائی اور ان کی قوم پر ہوئی تھیں۔
اس طویل قصے پر اب یہاں تبصرہ کیا جاتا ہے اور موضوع سخن پھر قرآن مجید ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ اس سے منہ پھیریں گے ، ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ انجام قیام کے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کر کے بتایا یا ہے کہ دنیا کے شب و روز سکڑ جائیں گے ، زمین کے اوپر سے پہاڑ اڑ جائیں گے اور یہ ننگی رہ جائے گی “ بس ایک چٹیل میدان ہوگا ، لوگ میدان حشر میں سہمے کھڑے ہوں گے اور تمام چہرے حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے اور سرنگوں ہوں گے۔ یہ منظر اور قرآن مجید کے تمام وہ مناظر جن میں لوگوں کو ڈرایا گیا ہے ، ان سے غرض وغایت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔ قرآن مجید کی بحث کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ تسلی بھی دی جاتی ہے کہ آپ قرآن مجید کو نہ بھولیں گے۔ بھول کے خوف سے اس کے دہرانے میں جلدی نہ کیجیے۔ اس کی وجہ سے اپنے اوپر مصیبت نہ لائیے ، اللہ اسے آپ کے لئے آسان کر دے گا اور آپ کو حفظ کرا دیا جائے گا۔ آپ بس یہ دعا کرتے رہیں کہ اے میرے رب ، میرے علم میں اضافہ کر۔
جب وحی نازل ہونے لگتی تو نبی ﷺ وحی ختم ہونے سے پہلے ہی قرآن کی عبارت کو دہرانا شروع فرما دیتے تھے ، اس خوف سے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ اس بارے میں ان کو تسلی دی گئی لیکن موضوع کی مناسبت سے بتایا گیا کہ آدم (علیہ السلام) اپنے عہد کو بھول گئے تھے۔ ابلیس نے انہیں بھلا دیا تھا اس لئے آدم اور ابلیس کے درمیان جدی دشمنی چلی آرہی ہے۔ اولاد آدم میں سے بعض لوگ اپنے عہد کو بھلاتے ہیں اور بعض اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس انجام کو بھی قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ گویا یہ سفر کا انجام ہے جو عالم بالا سے شروع ہوا او اس کا خاتمہ بھی عالم بالا پر جا کر ہوا۔
سورة کا خاتمہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اے رسول آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں جو دعوت کی تکذیب کرتے ہیں یا اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس دنیا میں ایک محدود وقت دیا گیا ہے۔ اس محدود وقت میں ان کو جو ساز و سامان اور متاع دنیا کی وافر مقدار دی گئی ہے ، یہ ان کے لئے کوئی بہتری نہیں ہے۔ یہ تو ان کے لئے فتنہ اور آزمائش ہے۔ آپ کو یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی اور اس کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجائیں ، یوں آپ کو کسی دولت مند کی دولت سے زیادہ اطمینان حاصل ہوگا اور آپ اپنی حالت پر راضی ہوں گے۔ اس سے قبل اللہ نے بہت سی اقوام کو اسی طرح آزمائش میں ڈال کر ہلاک کیا ہے۔ اللہ نے لوگوں کی طرف نبی آخر الزمان اور آخری رسول کو بھیج کر ان پر حجت تمام کردی ہے۔ اب لوگوں کے پاس جو از ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ لہٰذا آپ ان کے انجام کے معاملے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اور اس کو اللہ پر چھوڑ دیں اور کہہ دیں ۔
قل کل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحب الصراط السوی ومن اھتدی (20 : 531) ” اے محمد ، ان سے کہو ، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے ، بس اب منتظر رہو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ۔ “
طه 20:101
درس نمبر 931 ایک نظر میں
سورة کے آغاز میں موضوع بحث قرآن مجید تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر اس لئے نازل نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالا جائے۔ اس کے بعد پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو لے کر یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں اور رسولوں کے ساتھ کس قدر رعایت کرتا ہے اور ان پر کس قدر مہربانیاں ہوتی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ ان کے بھائی اور ان کی قوم پر ہوئی تھیں۔
اس طویل قصے پر اب یہاں تبصرہ کیا جاتا ہے اور موضوع سخن پھر قرآن مجید ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ اس سے منہ پھیریں گے ، ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ انجام قیام کے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کر کے بتایا یا ہے کہ دنیا کے شب و روز سکڑ جائیں گے ، زمین کے اوپر سے پہاڑ اڑ جائیں گے اور یہ ننگی رہ جائے گی “ بس ایک چٹیل میدان ہوگا ، لوگ میدان حشر میں سہمے کھڑے ہوں گے اور تمام چہرے حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے اور سرنگوں ہوں گے۔ یہ منظر اور قرآن مجید کے تمام وہ مناظر جن میں لوگوں کو ڈرایا گیا ہے ، ان سے غرض وغایت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔ قرآن مجید کی بحث کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ تسلی بھی دی جاتی ہے کہ آپ قرآن مجید کو نہ بھولیں گے۔ بھول کے خوف سے اس کے دہرانے میں جلدی نہ کیجیے۔ اس کی وجہ سے اپنے اوپر مصیبت نہ لائیے ، اللہ اسے آپ کے لئے آسان کر دے گا اور آپ کو حفظ کرا دیا جائے گا۔ آپ بس یہ دعا کرتے رہیں کہ اے میرے رب ، میرے علم میں اضافہ کر۔
جب وحی نازل ہونے لگتی تو نبی ﷺ وحی ختم ہونے سے پہلے ہی قرآن کی عبارت کو دہرانا شروع فرما دیتے تھے ، اس خوف سے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ اس بارے میں ان کو تسلی دی گئی لیکن موضوع کی مناسبت سے بتایا گیا کہ آدم (علیہ السلام) اپنے عہد کو بھول گئے تھے۔ ابلیس نے انہیں بھلا دیا تھا اس لئے آدم اور ابلیس کے درمیان جدی دشمنی چلی آرہی ہے۔ اولاد آدم میں سے بعض لوگ اپنے عہد کو بھلاتے ہیں اور بعض اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس انجام کو بھی قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ گویا یہ سفر کا انجام ہے جو عالم بالا سے شروع ہوا او اس کا خاتمہ بھی عالم بالا پر جا کر ہوا۔
سورة کا خاتمہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اے رسول آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں جو دعوت کی تکذیب کرتے ہیں یا اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس دنیا میں ایک محدود وقت دیا گیا ہے۔ اس محدود وقت میں ان کو جو ساز و سامان اور متاع دنیا کی وافر مقدار دی گئی ہے ، یہ ان کے لئے کوئی بہتری نہیں ہے۔ یہ تو ان کے لئے فتنہ اور آزمائش ہے۔ آپ کو یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی اور اس کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجائیں ، یوں آپ کو کسی دولت مند کی دولت سے زیادہ اطمینان حاصل ہوگا اور آپ اپنی حالت پر راضی ہوں گے۔ اس سے قبل اللہ نے بہت سی اقوام کو اسی طرح آزمائش میں ڈال کر ہلاک کیا ہے۔ اللہ نے لوگوں کی طرف نبی آخر الزمان اور آخری رسول کو بھیج کر ان پر حجت تمام کردی ہے۔ اب لوگوں کے پاس جو از ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ لہٰذا آپ ان کے انجام کے معاملے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اور اس کو اللہ پر چھوڑ دیں اور کہہ دیں ۔
قل کل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحب الصراط السوی ومن اھتدی (20 : 531) ” اے محمد ، ان سے کہو ، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے ، بس اب منتظر رہو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ۔ “
طه 20:102
درس نمبر 931 ایک نظر میں
سورة کے آغاز میں موضوع بحث قرآن مجید تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر اس لئے نازل نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالا جائے۔ اس کے بعد پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو لے کر یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں اور رسولوں کے ساتھ کس قدر رعایت کرتا ہے اور ان پر کس قدر مہربانیاں ہوتی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ ان کے بھائی اور ان کی قوم پر ہوئی تھیں۔
اس طویل قصے پر اب یہاں تبصرہ کیا جاتا ہے اور موضوع سخن پھر قرآن مجید ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ اس سے منہ پھیریں گے ، ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ انجام قیام کے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کر کے بتایا یا ہے کہ دنیا کے شب و روز سکڑ جائیں گے ، زمین کے اوپر سے پہاڑ اڑ جائیں گے اور یہ ننگی رہ جائے گی “ بس ایک چٹیل میدان ہوگا ، لوگ میدان حشر میں سہمے کھڑے ہوں گے اور تمام چہرے حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے اور سرنگوں ہوں گے۔ یہ منظر اور قرآن مجید کے تمام وہ مناظر جن میں لوگوں کو ڈرایا گیا ہے ، ان سے غرض وغایت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔ قرآن مجید کی بحث کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ تسلی بھی دی جاتی ہے کہ آپ قرآن مجید کو نہ بھولیں گے۔ بھول کے خوف سے اس کے دہرانے میں جلدی نہ کیجیے۔ اس کی وجہ سے اپنے اوپر مصیبت نہ لائیے ، اللہ اسے آپ کے لئے آسان کر دے گا اور آپ کو حفظ کرا دیا جائے گا۔ آپ بس یہ دعا کرتے رہیں کہ اے میرے رب ، میرے علم میں اضافہ کر۔
جب وحی نازل ہونے لگتی تو نبی ﷺ وحی ختم ہونے سے پہلے ہی قرآن کی عبارت کو دہرانا شروع فرما دیتے تھے ، اس خوف سے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ اس بارے میں ان کو تسلی دی گئی لیکن موضوع کی مناسبت سے بتایا گیا کہ آدم (علیہ السلام) اپنے عہد کو بھول گئے تھے۔ ابلیس نے انہیں بھلا دیا تھا اس لئے آدم اور ابلیس کے درمیان جدی دشمنی چلی آرہی ہے۔ اولاد آدم میں سے بعض لوگ اپنے عہد کو بھلاتے ہیں اور بعض اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس انجام کو بھی قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ گویا یہ سفر کا انجام ہے جو عالم بالا سے شروع ہوا او اس کا خاتمہ بھی عالم بالا پر جا کر ہوا۔
سورة کا خاتمہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اے رسول آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں جو دعوت کی تکذیب کرتے ہیں یا اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس دنیا میں ایک محدود وقت دیا گیا ہے۔ اس محدود وقت میں ان کو جو ساز و سامان اور متاع دنیا کی وافر مقدار دی گئی ہے ، یہ ان کے لئے کوئی بہتری نہیں ہے۔ یہ تو ان کے لئے فتنہ اور آزمائش ہے۔ آپ کو یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی اور اس کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجائیں ، یوں آپ کو کسی دولت مند کی دولت سے زیادہ اطمینان حاصل ہوگا اور آپ اپنی حالت پر راضی ہوں گے۔ اس سے قبل اللہ نے بہت سی اقوام کو اسی طرح آزمائش میں ڈال کر ہلاک کیا ہے۔ اللہ نے لوگوں کی طرف نبی آخر الزمان اور آخری رسول کو بھیج کر ان پر حجت تمام کردی ہے۔ اب لوگوں کے پاس جو از ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ لہٰذا آپ ان کے انجام کے معاملے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اور اس کو اللہ پر چھوڑ دیں اور کہہ دیں ۔
قل کل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحب الصراط السوی ومن اھتدی (20 : 531) ” اے محمد ، ان سے کہو ، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے ، بس اب منتظر رہو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ۔ “
طه 20:103
آپ پر جو قصص نازل کئے جا رہے ہیں ، یہ ماضی کے واقعات ہیں۔ قرآن میں ان کو بیان کیا جا رہا ہے۔ قرآن کو اسی لحاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قصص بھی دراصل ذکر الٰہی اور آیات الٰہی ہیں اور قرون اوٹی میں جو آیات الٰہی ظاہر ہوئیں یہ ان کا بھی ذکر ہے۔
جو لوگ اس ذکر سے منہ موڑتے ہیں ، ان کو یہاں مجرمین کے نام سے پکارا گیا ہے۔ یہاں ان کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بڑے بڑے بوجھ اٹھا رکھے ہیں ، جس طرح مسافر اپنا بوجھ اٹھا رہا ہوتا ہے۔ لیکن ان کے اس بوجھ میں ان کے لئے کوئی مفید چیز نہیں ہے۔ جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن مجرمین کے چہرے نیلے ہوجائیں گے ، یعنی خوف کے وجہ سے اور بےحد غم کی وجہ سے ان کے چہرے نیلے نظر آئیں۔ وہ چپکے چپکے ایک دوسرے سے بات کر رہے ہوں گے۔ ماحول میں چھائے ہوئے خوف اور قیامت کے ہول کی وجہ سے وہ اونچی بات نہ کریں گے۔ وہ کا بات کر رہے ہوں گے۔ وہ ان دنوں کے بارے میں ہوگی جو انہوں نے زمین پر گزارے ہوں گے۔ ان کی حس اور شعور میں دنیا کا پورا زمانہ اس قدر سکڑا ہوا اور مختصر ہوگا کہ پوری زندگی یا زمین پر پورا انسانی دور نہیں چند ایام پر مشتمل نظر آئے گا۔
ان لبشتم الا عشراً (02 : 301) ” تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے۔ “ ان میں سے جو شخص زیادہ صائب الرائے ہوگا وہ اس سے بھی کم اندازہ لگائے گا کہ صرف ایک دن کی زندگی تھی۔
طه 20:104
ان لبشتم الایوماً (02 : 301) ” تم نے صرف ایک دن زندگی بسر کی۔ “ یوم دنیا کی یہ طویل زندگیاں انہیں نہایت ہی مختصر نظر آئیں گی۔ یہاں زندگی میں لوگوں نے جو عیاشیاں کی تھیں ، وہ زندگی کے غم نظر آئیں گے اور ایک نہایت ہی مختصر زمانہ نظر آئے گا۔ قدر و قیمت کے اعتبار سے بھی حقیر زمانہ ۔ کیونکہ دس راتوں کی کیا قیمت ہے اگرچہ حد درجہ عیش و عشرت وہ ، اور ایک رات کی قدر و قیمت کیا ہے اگرچہ اس کا ایک ایک منٹ خوش بختی سے بھرا پڑا ہو۔ ان دونوں کی قدر و قیمت بمقابلہ زمانہ لامحدود اور ایام خلود کیا قیمت ہو سکتی ہے ، جس میں یہ لوگ اب حساب و کتاب کے بعد جانے والے ہیں یعنی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔
اس ہولناک منظر قیامت سے ہمیں پھر یہاں دنیا میں لایا جاتا ہے ، یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ قیامت میں ان پہاڑوں کا کیا وہ گا۔ ان کو تو بس یہ پہاڑ بھی پڑے نظر آتے ہیں ۔ جواب میں اس وقت بھی نہایت ہی خوفناک اور ہولناک تصویر کشی کی جاتی ہے اور کہا اتا ہے تم پہاڑوں کا غم مت کرو خود اپنی فکر کرو کہ تم پر کیا گزرے گی۔
طه 20:105
ان لبشتم الایوماً (02 : 301) ” تم نے صرف ایک دن زندگی بسر کی۔ “ یوم دنیا کی یہ طویل زندگیاں انہیں نہایت ہی مختصر نظر آئیں گی۔ یہاں زندگی میں لوگوں نے جو عیاشیاں کی تھیں ، وہ زندگی کے غم نظر آئیں گے اور ایک نہایت ہی مختصر زمانہ نظر آئے گا۔ قدر و قیمت کے اعتبار سے بھی حقیر زمانہ ۔ کیونکہ دس راتوں کی کیا قیمت ہے اگرچہ حد درجہ عیش و عشرت وہ ، اور ایک رات کی قدر و قیمت کیا ہے اگرچہ اس کا ایک ایک منٹ خوش بختی سے بھرا پڑا ہو۔ ان دونوں کی قدر و قیمت بمقابلہ زمانہ لامحدود اور ایام خلود کیا قیمت ہو سکتی ہے ، جس میں یہ لوگ اب حساب و کتاب کے بعد جانے والے ہیں یعنی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔
اس ہولناک منظر قیامت سے ہمیں پھر یہاں دنیا میں لایا جاتا ہے ، یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ قیامت میں ان پہاڑوں کا کیا وہ گا۔ ان کو تو بس یہ پہاڑ بھی پڑے نظر آتے ہیں ۔ جواب میں اس وقت بھی نہایت ہی خوفناک اور ہولناک تصویر کشی کی جاتی ہے اور کہا اتا ہے تم پہاڑوں کا غم مت کرو خود اپنی فکر کرو کہ تم پر کیا گزرے گی۔
طه 20:106
ان لبشتم الایوماً (02 : 301) ” تم نے صرف ایک دن زندگی بسر کی۔ “ یوم دنیا کی یہ طویل زندگیاں انہیں نہایت ہی مختصر نظر آئیں گی۔ یہاں زندگی میں لوگوں نے جو عیاشیاں کی تھیں ، وہ زندگی کے غم نظر آئیں گے اور ایک نہایت ہی مختصر زمانہ نظر آئے گا۔ قدر و قیمت کے اعتبار سے بھی حقیر زمانہ ۔ کیونکہ دس راتوں کی کیا قیمت ہے اگرچہ حد درجہ عیش و عشرت وہ ، اور ایک رات کی قدر و قیمت کیا ہے اگرچہ اس کا ایک ایک منٹ خوش بختی سے بھرا پڑا ہو۔ ان دونوں کی قدر و قیمت بمقابلہ زمانہ لامحدود اور ایام خلود کیا قیمت ہو سکتی ہے ، جس میں یہ لوگ اب حساب و کتاب کے بعد جانے والے ہیں یعنی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔
اس ہولناک منظر قیامت سے ہمیں پھر یہاں دنیا میں لایا جاتا ہے ، یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ قیامت میں ان پہاڑوں کا کیا وہ گا۔ ان کو تو بس یہ پہاڑ بھی پڑے نظر آتے ہیں ۔ جواب میں اس وقت بھی نہایت ہی خوفناک اور ہولناک تصویر کشی کی جاتی ہے اور کہا اتا ہے تم پہاڑوں کا غم مت کرو خود اپنی فکر کرو کہ تم پر کیا گزرے گی۔
طه 20:107
ان لبشتم الایوماً (02 : 301) ” تم نے صرف ایک دن زندگی بسر کی۔ “ یوم دنیا کی یہ طویل زندگیاں انہیں نہایت ہی مختصر نظر آئیں گی۔ یہاں زندگی میں لوگوں نے جو عیاشیاں کی تھیں ، وہ زندگی کے غم نظر آئیں گے اور ایک نہایت ہی مختصر زمانہ نظر آئے گا۔ قدر و قیمت کے اعتبار سے بھی حقیر زمانہ ۔ کیونکہ دس راتوں کی کیا قیمت ہے اگرچہ حد درجہ عیش و عشرت وہ ، اور ایک رات کی قدر و قیمت کیا ہے اگرچہ اس کا ایک ایک منٹ خوش بختی سے بھرا پڑا ہو۔ ان دونوں کی قدر و قیمت بمقابلہ زمانہ لامحدود اور ایام خلود کیا قیمت ہو سکتی ہے ، جس میں یہ لوگ اب حساب و کتاب کے بعد جانے والے ہیں یعنی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔
اس ہولناک منظر قیامت سے ہمیں پھر یہاں دنیا میں لایا جاتا ہے ، یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ قیامت میں ان پہاڑوں کا کیا وہ گا۔ ان کو تو بس یہ پہاڑ بھی پڑے نظر آتے ہیں ۔ جواب میں اس وقت بھی نہایت ہی خوفناک اور ہولناک تصویر کشی کی جاتی ہے اور کہا اتا ہے تم پہاڑوں کا غم مت کرو خود اپنی فکر کرو کہ تم پر کیا گزرے گی۔
طه 20:108
یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔
یتبعون الداعی (02 : 801) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین ہموار ہوگی اس طرح ان کے دل بھی ہموار ہوں گے ، فوراً حکم کی تعمیل کریں گے۔
اس فضا میں پوری طرح خاموشی ہوگی ، نہایت ہی خوفناک خاموشی
وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الاھمسا (02 : 801) ” اور آوازیں رحمن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ “
طه 20:109
یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔
یتبعون الداعی (02 : 801) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین ہموار ہوگی اس طرح ان کے دل بھی ہموار ہوں گے ، فوراً حکم کی تعمیل کریں گے۔
اس فضا میں پوری طرح خاموشی ہوگی ، نہایت ہی خوفناک خاموشی
وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الاھمسا (02 : 801) ” اور آوازیں رحمن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ “
طه 20:110
یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔
یتبعون الداعی (02 : 801) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین ہموار ہوگی اس طرح ان کے دل بھی ہموار ہوں گے ، فوراً حکم کی تعمیل کریں گے۔
اس فضا میں پوری طرح خاموشی ہوگی ، نہایت ہی خوفناک خاموشی
وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الاھمسا (02 : 801) ” اور آوازیں رحمن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ “
طه 20:111
وعنت الوجوہ للحی القیوم (02 : 111) ” لوگوں کے سر اس حی و قویم کے آگے جھک جائیں گے۔ “ جلال خداوندی کا خوف لوگوں پر چھایا ہوا ہوگا۔ یہ میدان جو حد نظر سے آگے پھیلا ہوا ہوگا اس پر خوف ، خاموشی چھائی ہوئی ہوگی اور لوگ اس میں سہمے کھڑے ہوں ے۔ بات دھیمی ہوگی ، سوال سرگوشی میں ، حالت سہمی ہوئی ، چہرے جھکے ہوئے اور ال لہ ذوالجلال کا ڈرا ماحول پر چھایا ہوا ہوگا۔ کوئی اس میدان میں سفارش نہ کرسکے گا مگر وہ جس کی بات اللہ کو پسند ہو۔ علم سب کا سب اللہ کو ہوگا ، کوئی دوسرا جانتا نہیں ، ظالم اپنے ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو شرمساری سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان لوگوں میں اہل ایمان بھی کھڑے ہوں گے۔ ان کو نہ یہ خوف ہوگا کہ ان پر حساب و کتاب میں ظلم ہوگا اور نہ یہ ڈر ہوگا کہ ان کے اعمال میں سے کوئی عمل رہ جائے اور اس کی حق تلفی ہوجائے۔
طه 20:112
وعنت الوجوہ للحی القیوم (02 : 111) ” لوگوں کے سر اس حی و قویم کے آگے جھک جائیں گے۔ “ جلال خداوندی کا خوف لوگوں پر چھایا ہوا ہوگا۔ یہ میدان جو حد نظر سے آگے پھیلا ہوا ہوگا اس پر خوف ، خاموشی چھائی ہوئی ہوگی اور لوگ اس میں سہمے کھڑے ہوں ے۔ بات دھیمی ہوگی ، سوال سرگوشی میں ، حالت سہمی ہوئی ، چہرے جھکے ہوئے اور ال لہ ذوالجلال کا ڈرا ماحول پر چھایا ہوا ہوگا۔ کوئی اس میدان میں سفارش نہ کرسکے گا مگر وہ جس کی بات اللہ کو پسند ہو۔ علم سب کا سب اللہ کو ہوگا ، کوئی دوسرا جانتا نہیں ، ظالم اپنے ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو شرمساری سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان لوگوں میں اہل ایمان بھی کھڑے ہوں گے۔ ان کو نہ یہ خوف ہوگا کہ ان پر حساب و کتاب میں ظلم ہوگا اور نہ یہ ڈر ہوگا کہ ان کے اعمال میں سے کوئی عمل رہ جائے اور اس کی حق تلفی ہوجائے۔
طه 20:113
یعنی ہم نے نہایت ہی موثر انداز میں شاہد قیامت ، مناظر عذاب ، اور عبرت آموز کہانیاں ابر بار پیش کی ہیں تکاہ لوگوں کے اندر نیکی کے لئے جوش پیدا ہو اور جھٹلانے والے ڈر جائیں اور جان لیں کہ قیامت میں ان کا انجام کس قدر ہولناک ہوگا۔ یہی مضمون سورة کے آغاز میں بھی تھا۔
ما انزلنا علیک القرآن لتشقی (2) الاتذکرہ لمن یخشی (02 : 2-3) ” یہ قرآن ہم نے تجھ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں گرفتار ہو جائو بلکہ یہ تو اس شخص کے لئے یاد دہانی ہے جو ڈرے۔ “
جب جبرائیل وحی لے کر آتے تھے تو ابھی وہ پوری وحی نہ سنا چکتے کہ حضور دہرانا شروع کردیتے ، اس خوف سے کہ کہیں کوئی لفظ چھوٹ نہ جائے۔ ہر نئی وحی کا یاد کرنا آپ کے لئے شاق ہوتا تھا۔ چناچہ اللہ نے آپ کو یہ اطمینان دلا دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں ، اللہ اس کا ضامن ہے کہ آپ نہ بھولیں گے۔
طه 20:114
وہ اللہ تو بہت بلند ہے جس کے سامنے چہرے جھک جاتے ہیں ، اس کی جناب میں مایوسی تو ظالموں کو ہوتی ہے اور مومنین صالحین کے لئے تو وہاں اطمینان ہی اطمینان ہے۔ وہ بلندیوں سے اس قرآن کو بھیجتا ہے۔ آپ اس کے دہران میں جلدی نہ کریں۔ قرآن کے نزول میں گہری حکمت ہے۔ اس حکمت اور مقصد کو لازماً پورا کیا جائے گا۔ پس آپ رب تعالیٰ سے زیادتی علم کی دعا کرتے رہیں اور جو کچھ آپ کو دیا جا رہا ہے اس کے بارے میں مطمئن ہوجائیں۔ اس کے بارے میں یہ پریشانی نہ دکھائیں کہ وہ تجھ سے چلا جائے گا۔ علم تو وہ ی ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ وہ باقی ہے ، وہ ہمیشہ نفع دیتا رہے گا ، قائم رہے گا ، پھلتا پھولتا رہے گا اور کبھی ضائع نہ ہوگا۔
اسی مناسبت سے یعنی علم و نسیان علم کے مضمون کی مناسبت سے ، یہاں قصہ آدم آتا ہے۔ آدم سے کہا گیا تھا کہ جنت میں رہو اور ایک درخت کے قریب نہ جائو۔ وہ شیطان کے اس دھوکے میں آگئے کہ یہ تو شجرۃ الخلد ہے۔ اس لئے انہوں نے اسے چکھ لیا ۔ خلافت فی الارض عطا ہونے سے قبل یہ رب تعالیٰ کی طرف سے ان کی آزمائش تھی اور یہ تجربہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس لئے کرایا کہ بعد میں آنے والے انسانوں کے لئے عبرت ہو۔ جب یہ آزمائش ہوگئی تو اللہ کی رحمت آگئی ، آدم کو اٹھا لیا گیا اور ان کو راہ راست دکھا دی گئی۔
قرآنی قصص جہاں جہاں بھی آتے ہیں ، سیاق کلام میں ان کے لانے کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔ یہ قصہ یہاں اس واقعہ کے بعد آتا ہے کہ جب رسول اللہ وحی الٰہی کے اخذ میں نسیان کے خوف کی وجہ سے جلدی کرتے تھے۔ یہاں قصہ آدم میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ آدم سے یہ غلطی بھول کی وجہ سے ہوئی۔ نیز سورة کا پورا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن بندوں کو دعوت اسلامی کیل ئے منتخب کرتا ہے ان پر اس کی خصوصی نظر ہوتی ہے اور ان پر رحم و کرم کی بارشیں ہوتی ہیں۔ یوں یہ بتایا جاتا ہے کہ آدم سے بھول ہوگئی تو اللہ نے ان پر رحمت کی اور ہدایت دی۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک جھلکی آتی ہے کہ جس میں اطاعت شعاروں کا حال بتایا جاتا ہے۔ نیز نافرمانوں کا حال بھی یعنی آدم زمین پر اترتے ہیں اور قیام کے بعد پھر اصل مقام پر جا کر حساب و کتاب پیش کرتے ہیں۔
اس قصے کا آغاز یوں ہوتا ہے :
طه 20:115
آدم (علیہ السلام) کو حکم یہ تھا کہ وہ جنت کا ہر پھل کھائیں مگر ایک خاص درخت کا پھل نہ کھائیں۔ انسان کی تربیت اور اس کی قوت ارادی کو جانچنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے بعض چیزوں کی ممانعت کردی جائے تاکہ اس کی شخصیت پختہ ہو۔ یہ انسانی خواہشات اور مادی میلانات پر وہ کنٹرول کرسکے تاکہ وہ جب روحانی ترقی کے لئے اپنی ضروریات مادی کو کم کرنا چاہے تو کم کرسکے۔ وہ مرغوبات اور خواہشات کا غلام بن کر نہ رہ جائے۔ یہ وہ معیار ہے جو انسانی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے بھی ترقی کی ہے وہ ایسی رہی ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس پر ضبط کیا ہے۔ ان کے مرغوبات کے استعمال میں اعتدال ہوتا ہے اور خواہشات سے وہ بلند رہے ہیں۔ انسانی تاریخ میں جب کوئی قوم بندہ مرغوبات اور دلدادہ لذات بنی ہے ، وہ روحانی اعتبار سے گر کر حیوانی درجہ تک جا پہنچی ہے۔
یہی وجہ تھی کہ اللہ نے انسان اول کو اس آزمائش میں ڈالا کیونکہ اس کو منصب خلافت ارضی کے لے تیار کرنا تھا کیونکہ یہاں انہی انسانوں نے کامیاب زندگی بسر کرنی تھی جو مضبوط قوت ارادی کے مالک ہوں۔ وہ لوگ جو شیطانی چمک دمک اور شیطانی وسواس اور مرغوبات کے حصول اور فراوانی کے مقابلے میں ضبط نفس کرسکتے ہیں۔ یہ تھا انسان کا ، پہلے انسان کا پہلا تجربہ۔ اب نتیجے کا اعلان ہوتا ہے۔
فنسی ولم ندلہ عزماً (02 : 511) ” وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔ “
طه 20:116
جہاں یہ قصہ اجمالاً بیان ہوتا ہے۔ دوسری جگہ اس کی تفصیلات ہیں کیونکہ یہاں اس قصے کا صرف وہ پہلو دکھانا ہے جو انبیاء پر انعامات کا ہے۔ لہٰذا انعام کا پہلو جلدی بیان کرنے کے لئے یہ اجمال و اختصار ہے۔
طه 20:117
اللہ کی مہربانیوں اور عنایات میں سے ایک عنایت یہ تھی کہ اللہ نے حضرت آدم کو قبل از وقت بتا دیا تھا کہ شیطان تمہیں ستاتی ہے۔ “
اللہ کی مہربانیوں اور عنایات میں سے ایک عنایت یہ تھی کہ اللہ نے حضرت آدم کو قبل از وقت بتا دیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے کیونکہ اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حالانکہ اس سجدے کا حکم اللہ نے خود اس کو دیا تھا۔ اشاراتاً پہلے ہی تخلیق آدم کا منصوبہ بھی بتا دیا تھا۔
فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی (02 : 811) ” ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جائو۔ “ کیونکہ جنت سے نکل کر انسان کو مشقت ، جدوجہد ، بدعملی ، گمراہی ، پریشانیوں ، حیرانیوں ، شوق اور انتظار ، رنج اور محرومی سے دوچار ہوناپڑا۔ اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی ، یہ سب چیزیں جنت سے باہر انسان کے انتظار میں تھیں۔ جب تک آدم جنت میں تھے ان مشقتوں اور مصیبتوں سے محفوظ تھے۔
طه 20:118
ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری (811) وانک لا تظموا فیھا ولا تضحی (02 : 811-911) ” نہ بھوکے اور نہ ننگے رہو ، نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستائے۔ “ جب تک تم جنت میں ہو گے یہ سب سہولتیں تمہیں حاصل ہوں گی۔ بھوک اور لباس کی نایابی ، پیاس اور دھوپ کے بالمقابل ہیں لفظاً اور معناً یہ وہ مجموعہ ضروریات ہے جو ہر انسان کو اس زمین پر مشقت میں ڈالتا ہے۔
لیکن آدم ، جنت میں زندگی کی ٹھوکروں سے دوچار نہ ہوئے تھے ، تجربات نہ تھے۔ انسانی کمزور ساتھ تھی ، بقائے دوام کی خواہش انسان کی بڑی کمزوری ہے۔ پھر بقائے دوام کے ساتھ اقتدار مستحکم اس کے سوا انسان کو اور کیا چاہئے۔ چناچہ شیطان اس دروازے سے اس کے اندر آتا ہے۔
طه 20:119
ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری (811) وانک لا تظموا فیھا ولا تضحی (02 : 811-911) ” نہ بھوکے اور نہ ننگے رہو ، نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستائے۔ “ جب تک تم جنت میں ہو گے یہ سب سہولتیں تمہیں حاصل ہوں گی۔ بھوک اور لباس کی نایابی ، پیاس اور دھوپ کے بالمقابل ہیں لفظاً اور معناً یہ وہ مجموعہ ضروریات ہے جو ہر انسان کو اس زمین پر مشقت میں ڈالتا ہے۔
لیکن آدم ، جنت میں زندگی کی ٹھوکروں سے دوچار نہ ہوئے تھے ، تجربات نہ تھے۔ انسانی کمزور ساتھ تھی ، بقائے دوام کی خواہش انسان کی بڑی کمزوری ہے۔ پھر بقائے دوام کے ساتھ اقتدار مستحکم اس کے سوا انسان کو اور کیا چاہئے۔ چناچہ شیطان اس دروازے سے اس کے اندر آتا ہے۔
طه 20:120
شیطان نے انسان کی نہایت ہی حساس رگ پر ہاتھ رکھا۔ انسانی عمر بہرحال محدود ہے۔ انسانی قوت بہرحال محدود ہے۔ انسان طویل زندگی اور طویل اقتدار کا بےحد دلدادہ رہا ہے۔ ان دونوں راستوں سے شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ آدم بہرحال انسان تھے۔ آدم انسانی فطرت اور انسانی کمزوری کے حامل تھے۔ پھر اس تجربہ کے ساتھ دنیا کے منصوبے اور نظام تقدیر کا بھی تعلق تھا۔ چناچہ آدم بھول گیا اور اس نے ممنوعہ علاقے میں قدم رکھ لیا۔
طه 20:121
بظاہر مفہوم یہ ہے کہ انسان کی مخصوص شرمگاہیں مراد ہیں جو ان سے پوشیدہ تھیں۔ دونوں کے جسم میں عفت ، کے مقامات چناچہ انہوں نے اپنے فطری شرم و حیا کی وجہ سے ان مقامات کو چھپانا شرع کیا اور ان پر جنت کے پتے لپیٹنے لگے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس درخت کے پھل کھانے کے نتیجے میں ان کے اندر جنسی احساس پیدا ہوگیا ہو کیونکہ جب تک کسی انسان میں جنسی احساس پیدا نہ ہو انسان کو شرم و حیا کا احساس نہیں ہوتا۔ انسان کو ان چیزوں کی طرف توجہ تب ہوتی ہے جب جنسی خواہش پیدا ہو۔
ہو سکتا ہے کہ اللہ نے آدم و حوا پر اس مخصوص درخت کا پھل کھانا اس لئے منع کردیا ہو کہ اس کے نتیجے میں انسان کی جسمانی خواہشات نے پیدا ہونا تھا اور اللہ نے اپنے منصوبے کے مطابق ان کو موخر کیا وہا تھا۔ آدم سے نسیان کا صدور اسلئے بھی ہوگیا کہ اس کے تعلق باللہ میں کمی آگئی اور ان پر جسمانی خواہشات کے غلبے کی وجہ سے جنسی نظام پیدا ہوگیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا جذبہ خلود جنسی خواہشات کی شکل میں اس درخت کی وجہ سے نمودار ہوگیا ہو کہ اگرچہ اس میں ایک فرد تو خلود نہیں پاتا لیکن نوع انسانی کی بقا تو اسی میں موجود ہے۔ یہ سب تشریحات اس حقیقت کے ہوتے ہوئے معقول نظر آتی ہیں کہ اس پھل کے کھانے سے ان کی شرمگاہیں کھل گئیں۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ
فبدت لھما سواتھما (02 : 121) ” ان کی شرمگاہیں کھل گئیں۔ “ بلکہ یہ کہا ہے۔
فبدت لھما سواتھما (02 : 121) ” ان پر ان کی شرمگاہیں کھل گئیں۔ “ مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کا احساس ہی نہ تھا۔ یہ پھل کھاتے ہی ان کو اس انسانی داعیہ کا احساس ہوگیا۔ دوسری جگہ قرآن مجید نے اس حقیقت کی تعبیریوں کی ہے۔
لبیدی لھما ما ووری عنھما من سواتھما ” تاکہ ظاہر کر دے ان پر وہ چیز جو ان کی شرمگاہوں سے ہم نے خود ان سے چھپا رکھی تھی۔ “ اور دوسری جگہ ہے۔
ینزع عنھما لباسھا لیریھما سواتھما ” ان سے ان کے ستر اتار دیئے تاکہ وہ دکھائے ان کو ان کی شرمگاہیں۔ “ یہ مفہوم لیا جاسکتا ہے کہ وہ ان کے عدم شعور کی وجہ سے ستر تھا۔ لباس سے مراد پاکدامنی ، طہارت اور اللہ کے ساتھ تعلق کا لباس بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال یہ مختلف تفسیری مفروضے ہیں ہم ان میں کسی ایک پر زور نہیں دیتے اور نہ کسی ایک کو ترجیح دیتے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کی زندی کے اس پہلے انسانی تجربے کی صحیح صورت کا تعین کیا جائے۔
اس کے بعد آدم (علیہ السلام) اور آپ کی اہلیہ کو اس لغزش کے بعد اللہ کی رحمت نے ڈھانپ لیا کیونکہ یہ انسانیت کا پہلا تجربہ تھا۔
طه 20:122
اور یہ اس وقت ہوا جب آدم نے اللہ سے مغفرت طلب کی ، ندامت کا اظہار کیا اور عذم پیش کیا اور ان باتوں کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا تاکہ یہاں صرف رحمت خداوندی ہی نظر آئے۔
اس کے بعد اب دونوں فریقوں آدم و ابلیس کو حکم ہوا کہ زمین پر اترو ، تم ایک دوسرے کے سخت دشمن ہو ، تمہارے درمیان اب ایک طویل معرکہ ہوگا۔ یہ تو تمہارے معرکہ کی پہلی باری تھی۔
طه 20:123
یوں مخلوق خداوندی کے ان دو گروہوں کے درمیان عداوت ہوگئی اس لئے اب اولاد آدم یہ عذر پیش نہیں کرسکتی کہ مجھے تو خبر نہ تھی کہ شیطان ہمارا دشمن ہے۔ میں تو بیخبر ی میں مارا گیا ۔ اسی لئے انسان کو ، قبل از وقت پوری طرح خبردار کردیا گیا اور پوری کائنات میں اعلان کردیا یا کہ :۔
بعضکم لبعض عدو (02 : 321) ” تم دونوں فریق ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ “ یہ اعلان جس سے پوری کائنات گونج اٹھی جس پر تمام فرشتے گواہ ٹھہرے ، اللہ کی رحمت کا تقاضا پھر وہا کہ انسان کی ہدایت اور اسے یاد دہانی کرانے کے لئے وقتاً فوقتاً رسول بھیجے جائیں۔ چناچہ دشمن کا اعلان ہوا اور پھر فرمایا کہ رسول بھی آئیں گے اور اس کے بعد تمہیں آزادی ہوگی کہ تم کون سی راہ اختیار کرتے ہو۔
یہ منظر اس قصے کے بعد آتا ہے یوں کہ شاید یہ اس قصے کا حصہ ہے۔ درحقیقت اس کا اعلان بھی عالم بالا میں واقعہ آدم و ابلیس کے بعد ہوا۔ لہٰذا یہ اس پوری کائنات کیلئے زمانہ قدیم سے طے شدہ اصول ہے۔ یہ نہ واپس لیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی ترمیم ہو سکتی ہے۔
فمن اتبع ھد ای فلا یضل ولایشقی (02 : 321) ” تو جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بدبختی میں مبتلا ہوگا۔ “ وہ گمراہی اور مصیبت سے محفوظ ہوگا ، میری ہدایت کی پیروی کی وجہ سے گمراہی اور مصیبت جنت کے دروازے کے باہر بڑی بےتابی سے تمہارے انتظار میں ہیں لیکن جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ ان سے بچا رہے گا اور مصیبت دراصل گمراہی کا پھل ہے۔ اگرچہ گمراہ شخص دنیاوی ساز و سامان میں غرق ہو ، یہ ساز و سامان بھی ایک گمراہ کے لئے بڑی مصیبت ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی مصیبت اور آخرت میں بھی مصیبت ، دنیا میں حرام کی روزی جس قدر بھی وافر ہو ، اس کے نتیجے میں انسان کی زندگی میں تلخیاں اور مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ انسان جونہی اللہ کی رہنمائی سے نکلتا ہے وہ اندھیروں میں داخل ہوجاتا ہے ، ادھر ادھر ٹامک ٹوئایں مارتا ہے ، قلق اور پریشانی اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ کبھی ادھر بھاگتا ہے ، کبھی ادھر بھاگتا ہے ، اس کی زندگی واضح طور پر غیر متوازن ہوجاتی ہے۔ غرض مصیبت ایک گمراہ شخص کے ساتھ ہوتی ہے ، اگرچہ وہ عیش و عشرت میں ہو۔ اس کے لئے بہت بڑی بدبختی دار آخرت میں انتظار کرتی رہتی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ دنیا میں بھی گمراہی اور مصیبت سے مکمل طور پر نجات پاتا ہے اور آخرت میں تو وہ جنت الفردوس میں ہوگا۔ صرف یوم موعود آنے کی دیر ہے۔
طه 20:124
ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا (02 : 321) ” اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا ، اس کے لیء دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ “ وہ زندگی جس میں اللہ سے رابطہ نہ ہو اور جس پر اللہ کی رحمت نہ ہو ، وہ تنگ ہوگی ، اگرچہ بظاہر وہ بہت ہی وسیع ہو۔ یہ تنگ اس لئے ہوگی کہ اس کا رابطہ اللہ کی طرف سے کٹا ہوگا اور اللہ کی رحمت کے میدان کی طرف وہ راہ نہ پائے گی۔ اس میں حیرانی پریشانی اور بےیقینی کی تنگی ہوگی۔ اس میں حرص اور خوف کی تنگی ہوگی۔ ڈر اس بات پر کہ جو ہے وہ چلا نہ جائے۔ غرض اس بات پر کہ ھل من مزید یوں تنگی ہوگی کہ جہاں سے نفع کی معملوی امید ہو انسان اس کے پیچھے بھاگتا رہے گا اور اگر ایک کوڑی بھی کہیں نقصان ہوجائے ، مر جائے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اطمینان وقرار صرف اللہ کے ہاں ملتا ہے۔ اسے سکون و اعتماد تب ہی ملے گا جب اس نے مضبوط رسی پکڑی ہوگی جس کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اطمینان کو طویل و عریض ، گہرا اور اونچا بنا دیتا ہے۔ ہمہ جت وسعتیں ہوتی ہیں اور جو اس سے محروم ہوجائے اسے ہمہ جہت مصیبت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔
غرض خلاصہ یہ ہے کہ جو میرے اس ذکر اور نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کے لئے اس دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ (اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں) ۔
ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی (02 : 321) قیامت کے دن اندھا ہونا بھی دنیا کے اندھے پن کی طرح ایک گمراہی ہے۔ یہ اس لئے ہوگا کہ اس دن دنیا میں ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کا اظہار کیا تھا اور وہ وہاں پوچھے گا۔
طه 20:125
قال رب لم حشر تنی اعمی وقد کنت بصیراً (02 : 521) ” پروردگار دنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا ، یہاں مجھے اندھا کیوں اٹھایا۔ “ تو جواب آئے گا۔
طه 20:126
ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو جبکہ وہ تمہارے پاس آئی تھیں تو نے بھلا دیا تھا اسی طرح تو آج بھلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو دنیا میں بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔ “ جو شخص اللہ کی آیات سے منہ موڑتا ہے وہ اسراف کرتا ہے کیونکہ ہدایت اس کے قبضے میں ہوتی ہے اور وہ قیمتی دولت ہے اور یہ اسے پرے پھینک دیتا ہے۔ نیز وہ اپنی نظر کو غلط کاموں میں صرف کرتا ہے اور اس سے ان آیات کو نہیں دیکھتا جو اللہ تعالیٰ نے بھیجی ہیں ، لہٰذا اس کی معیشت بھی تنگ ہوگی اور قیامت میں وہ اندھا بھی ہوگا۔
یہاں تعبیر اور تصویر کشی میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ جنت سے اترنا اور بدبختی اور گمراہی میں پڑنا اس کے مقابلے میں جنت کی طرف واپسی اور گمراہی اور مصیبت سے نجات۔ دنیا میں کشیادگی رزق اور اس کے مقابلے میں تنگ معیشت ، ہدایت کے مقابلے میں اندھا وہنا اور راہ نہ پانا۔ یہ تمام باہم مفہم قصہ آدم و قصہ بشریت کے ضمن میں ہیں جو پوری بشریت کی کہانی ہے۔ چناچہ اس منظر کا آغاز بھی مثبت ہے اور اختتام بھی جنت میں ہوتا ہے اور یہی انداز تعبیر سورة اعراف میں بھی ہے۔ مگر تعبیرات میں تصویر کشی کا انداز ، موقعہ و محل کے اعتبار سے دونوں سورتوں میں مختلف ہے۔
یہ تو تھا جنت کا ایک منظر اب اس دنیا میں زمانہ مضای قریب کی ہلاک شدہ اقوام کے واقعات کی طرف اشارہ۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کو آنکھیں دیکھ سکتی ہیں اور جن کے آثار اب تک موجود ہیں ، جبکہ جنت کے مناظر نظروں سے اوجھل عالم غیب میں تھے۔ نظریں ان کے آثار کو نہیں دیکھ سکتیں۔
طه 20:127
ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو جبکہ وہ تمہارے پاس آئی تھیں تو نے بھلا دیا تھا اسی طرح تو آج بھلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو دنیا میں بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔ “ جو شخص اللہ کی آیات سے منہ موڑتا ہے وہ اسراف کرتا ہے کیونکہ ہدایت اس کے قبضے میں ہوتی ہے اور وہ قیمتی دولت ہے اور یہ اسے پرے پھینک دیتا ہے۔ نیز وہ اپنی نظر کو غلط کاموں میں صرف کرتا ہے اور اس سے ان آیات کو نہیں دیکھتا جو اللہ تعالیٰ نے بھیجی ہیں ، لہٰذا اس کی معیشت بھی تنگ ہوگی اور قیامت میں وہ اندھا بھی ہوگا۔
یہاں تعبیر اور تصویر کشی میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ جنت سے اترنا اور بدبختی اور گمراہی میں پڑنا اس کے مقابلے میں جنت کی طرف واپسی اور گمراہی اور مصیبت سے نجات۔ دنیا میں کشیادگی رزق اور اس کے مقابلے میں تنگ معیشت ، ہدایت کے مقابلے میں اندھا وہنا اور راہ نہ پانا۔ یہ تمام باہم مفہم قصہ آدم و قصہ بشریت کے ضمن میں ہیں جو پوری بشریت کی کہانی ہے۔ چناچہ اس منظر کا آغاز بھی مثبت ہے اور اختتام بھی جنت میں ہوتا ہے اور یہی انداز تعبیر سورة اعراف میں بھی ہے۔ مگر تعبیرات میں تصویر کشی کا انداز ، موقعہ و محل کے اعتبار سے دونوں سورتوں میں مختلف ہے۔
یہ تو تھا جنت کا ایک منظر اب اس دنیا میں زمانہ مضای قریب کی ہلاک شدہ اقوام کے واقعات کی طرف اشارہ۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کو آنکھیں دیکھ سکتی ہیں اور جن کے آثار اب تک موجود ہیں ، جبکہ جنت کے مناظر نظروں سے اوجھل عالم غیب میں تھے۔ نظریں ان کے آثار کو نہیں دیکھ سکتیں۔
طه 20:128
جب انسان اپنے دل و دماغ کو زمانہ ماضی کی ہلکا شدہ اقوام کی تاریخ پر مرکوز کرتا ہے اور ان کے کھنڈرات کو ، وادیوں اور پہاڑیوں میں دیکھتا ہے تو اگرچہ یہ لوگ کب کے ہلکا ہوگئے ہیں لیکن ان کی بڑی بڑی شخصیات ، ان کی بھاگتی ہوئی شکلیں ، ان کی حرکات و سکنات ، ان کی امنگیں اور آرزوئیں ، ان کی پریشانیاں اور ان کے منصوبے انسان کے ذہن کو بھر دیتے ہیں او انسان جب تک آنکھیں بند کر کے محض تصور ہی کرے تو یہ پوری دنیا ہمارے ذہن کی اسکرین پر بھی نظر آتی ہے اور جب انسان اچانک آنکھ کھولے تو نظر آتا ہے کہ ماضی کی عقوبت نے ان سب بستیوں کو ہڑپ کرلیا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ دست قدرت نے کس طرح ان لوگوں کو اور ان تہذیبوں کو نیست و نابود کردیا ہے۔ اس طرح زمانہ حال کے ان غافلوں کو بھی دست قدرت نابود کرسکتا ہے۔ یوں اس طرز تصور سے اس آیت کا مفہوم اور قرآن کا انداز بیان اور عبرت آموزی اچھی طرح انسان کے ذہن میں آجاتی ہے۔ تعجب ہے کہ لوگ کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے حالانکہ ان کھنڈرات میں تو عبرت کے بہت بڑے سامان ہیں بشرطیکہ عقل سلیم ہو۔
اگر اللہ نے پہلے سے فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور یہ بات اللہ کی خاص حکمت کے تحت طے نہ ہوگئی ہوتی تو اللہ اہل قریش کو بھی بعینہ اسی طرح نیست و نابود کردیتا اور یہ بھی نمونہ عبرت بن جاتے لیکن ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت مل چکی ہے۔
طه 20:129
ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاماً واجل مسمی (02 : 921) ” اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بطے نہ کردی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدت مقرر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور ان کا بھی فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ “ اگرچہ یہ لوگ ایک وقت مقررہ تک مہلت پا چکے ہیں لیکن ان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان کو جو شان و شوکت اور جو زیب وزینت دی گئی ہے آپ اس کے ذمہ دار نہیں۔ یہ ان کے لئے سخت آزمائش ہے اور یہ ان کے لئے بہت بڑا فتنہ ہے۔ اللہ نے جو کچھ تجھے بطور انعام دیا ہے۔ وہ ان کے اس فتنے کے طور پر دیئے ہونے سے بہتر ہے۔
طه 20:130
یہ لوگ کفر اور مذاق اور سرکشی اور اعراض کرتے ہوئے جو کچھ بھی کہتے ہیں اس پر آب پریشان نہ ہوں اور نہ اپنی جان ان کے لئے کھپائیں ، پس اب ان پر حجت تمام ہے کہ آپ صبح و شام رب کی عبادت کریں۔ صبح کے پرسکون وقت میں خدا کی یاد اور غروب آفتاب کے وقت کے سکون میں خدا کی یاد جس وقت ، یہ پوری کائنات آنکھیں بند کرتی ہے اور رات اور دن کے دو پرسکون اطراف میں خدا کی یاد ، دلوں کو بہت سکون فراہم کرتی ہے اور اللہ کی رضامندی کا باعث ہوتی ہے۔
اللہ کی تسبیح وثنا سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور اللہ کے قریب سے حاصل ہوتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو نہایت ہی اطمینان بشخ اور فرحت بخش ذات کی رفاقت میں محسوس کرتا ہے اور اس کے دامن رحمت میں مامون ہوتا ہے۔ تسبیح و عبادت کا پھل تو رضائے الٰہی ہے لیکن اس سے قبل مومن میں اندر سے سکون و اطمینان اگتا ہے اور طمانیت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ یہ اس فعل کا نوری انعام ہے۔ اے محمد ﷺ عبادت کرتے ہوئے اللہ کی طرف متوجہ ہو جائو اور ولاتمدن عیینک الی مامتعنا بہ ازوجاً منھم (02 : 131) ” اور نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو ، دنیوی زندگی کی اس شان و شوکت کو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔ “ دنیا کا ساز و سامان ، سامان آرائش و زیبائش ، مال و متاع ، جاہ و متاع۔ جاہ و مرتبہ ، زھرۃ الحیوۃ الدنیا (02 : 131) ” حیات دنیا کا پھول “ یہ زندگی اس طرح نمودار ہوتی ہے جس طرح کسی پودے پر نرم و نازک پھول ، چمکدار ار دلکش ، لیکن پھول سریع الزوال شام تک مرجھا جانے والا ، اگرچہ بہت ہی دلکش ، ہم ان کو زندگی کا یہ سریع الزوال شام تک مرجھا جانے والا ، اگرچہ بہت ہی دلکش۔ ہم ان کو زندگی کا یہ سریع الزوال پھول دے کر آزماتے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ اس پھول کے ساتھ یہ لوگ کیا سلوک کرتے ہیں۔
طه 20:131
ورزق ربک خیر و ابقی (02 : 131) ” اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق ہی اچھا اور پائندہ ہے۔ “ اللہ کا دیا ہوا رزق ایک نعمت ہوتی ہے ، آزمائش نہیں۔ رزق حلال اچھا ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے وہ دھوکہ بھی نہیں دیتا اور فتنہ بھی پیدا نہیں کرتا۔
یہ حیات دنیا کو چھوڑ دینے کی دعوت نہیں ہے لیکن اس میں یہ پیغام ضرور ہے کہ حقیقی اور پائیدار اقدار کو اہمیت دو ، اور یہ پائیدار اقدار تعلق باللہ اور اللہ کی رضامندی میں ہیں۔ لوگوں کو دنیا کے ساز و سامان کے آگے گر نہیں جانا چاہئے۔ ہم کہیں اعلیٰ اقدار پر فخر کرنے کی صفت کو گم ہی نہ کردیں۔ دنیا کا وہ ساز و سامان جو نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے۔ یہ کہیں تمہاری نظر بلند کو پست نہ کر دے۔ اس کے مقابلے میں سربلند رہنا۔
طه 20:132
وامر اھلک بالصلوۃ (02 : 231) ” اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو۔ “ ایک مسلمان کا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کو ایک مسلمان کا گھر بنائے۔ اپنے اہل و عیال کو وہ فریضہ ادا کرنے پر ابھارے جو اسے اللہ سے مربوط کرتا ہے تاکہ اس کے گھر میں یکجہتی پیدا ہو اور کیا ہی خوش نصیب ہوگا وہ گھر جس کے اندر پوری یکجہتی ہو۔
و اصطبرعلیھا (02 : 231) ” اور خود بھی اس کے پابند رہو۔ “ نماز کو پ وری طرح قائم کرو۔ اس کے آثار اپنے اندر پیدا کرو ، بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے بچاتی ہے۔ یہ ہیں نماز کے صحیح آثار۔ جب کوئی گھرانا نماز پر جم جاتا ہے تو اس سے پھر یہ آثار پیدا ہوتے ہیں ، اس کے شعور میں اور اس کے ہر طرز عمل میں۔ اگر نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے تو قائم شدہ نماز نہیں ہے۔ یہ محض حرکات و کلمات ہیں۔
یہ نماز ، یہ عبادت ، یہ اللہ سے رابطہ اور یہ فرائض اللہ کے لئے مفید نہیں ، اللہ تو ان سے غنی ہے ، ان کا اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔
لانسئلک رزقا نحن نرزقک (02 : 231) ” ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے ، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں۔ “ یہ عبادات تو اس لئے ہیں کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف پیدا ہو۔ تمہیں دے رہے ہیں۔ “ یہ عبادات تو اس لئے ہیں کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف پیدا ہو۔
والعاقبۃ للتقویٰ (02 : 231) ” اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لئے ہے۔ “ انسان ان عبادات سے دنیا میں بھی مفاد اٹھاتا ہے اور آخرت میں بھی۔ وہ عبادت کرتا ہے تو خود بھی خوش ہوتا ہے۔ مطمئن ہوتا ہے سکون حاصل کرتا ہے اور آخرت میں ان عبادات کا اجر بھی اسے ہی ملتا ہے۔
اب آخر میں ان اہل ثروت اور با اثر لوگوں پر ایک تبصرہ آتا ہے جو حضرت نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ کوئی خارق عادت معجزہ پیش کریں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا یہ قرآن تمہارے لئے کافی نہیں۔
طه 20:133
یہ تو ہٹ دھرمی اور مکابرہ ہے۔ محض سوال کرنے کی خاطر یہ سوال کیا گیا ، ورنہ قرآن کا معجزہ کیا کافی معجزہ نہیں ہے۔ قرآن موجودہ رسالت کا جوڑ زمانہ ماقبل کی رسالتوں سے لگاتا ہے۔ وہی تعلیمات پیش کرتا ہے ، جو پہلے رسولوں نے پیش کی ہیں بلکہ جن باتوں کا وہاں اجمال تھا یہاں ان کی تفصیل دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو تو بطور اتمام حجت بھیجا ہے۔
طه 20:134
یہ لوگ اس وقت ذلیل اور رسوا نہیں ہوئے تھے جب ان پر قرآن کی یہ آیات پڑھی جا رہی تھیں بلکہ یہ تو ان کے فیصلہ شدہ انجام کی ایک تصویر کشی ہے جس میں وہ لازماً رہیں گے۔ یہ آیات ان پر بطور اتمام حجت آگئیں تاکہ وہ قیامت کے دن ایسا نہ کہہ سکیں اور ان کے لئے کوئی عذر و معذرت باقی نہ رہے کہ ہمارے لئے کوئی پیغام نہیں آیا۔
جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کا حتمی انجام یہ ہے کہ یہ ذلیل اور رسوا ہونے والے ہیں تو قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ، ان کا فیصلہ تو ہوچکا ہے۔
حف القلم بما ھو کائن پریشان نہ ہوں کہ یہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ اعلان کردیں کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں۔
طه 20:135
یوں اس سورة کا خاتمہ ہوتا ہے جس کا آغاز اس فقرے سے ہوا تھا کہ اے نبی آپ پر یہ قرآن اس لئے نازل نہیں کیا گیا کہ آپ کسی مصیبت میں گھر جائیں بلکہ یہ ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جن کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ چناچہ سورة کا یہ خاتمہ بھی آغاز سے ہم آہنگ ہے کہ یہ ادنی تذکرہ ہے۔ اس شخص کے لئے جسے کوئی تذکرہ فائدہ دیتا ہو۔ جب یہ تذکرہ تم تک پہنچ گیا تو اب انتظار نتیجہ کے سوا کیا بات رہ جاتی ہے اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔