Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الأنبياء 21:1 – الحج 22:40

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الأنبياء 21:1
  2. الأنبياء 21:2
  3. الأنبياء 21:3
  4. الأنبياء 21:4
  5. الأنبياء 21:5
  6. الأنبياء 21:6
  7. الأنبياء 21:7
  8. الأنبياء 21:8
  9. الأنبياء 21:9
  10. الأنبياء 21:10
  11. الأنبياء 21:11
  12. الأنبياء 21:12
  13. الأنبياء 21:13
  14. الأنبياء 21:14
  15. الأنبياء 21:15
  16. الأنبياء 21:16
  17. الأنبياء 21:17
  18. الأنبياء 21:18
  19. الأنبياء 21:19
  20. الأنبياء 21:20
  21. الأنبياء 21:21
  22. الأنبياء 21:22
  23. الأنبياء 21:23
  24. الأنبياء 21:24
  25. الأنبياء 21:25
  26. الأنبياء 21:26
  27. الأنبياء 21:27
  28. الأنبياء 21:28
  29. الأنبياء 21:29
  30. الأنبياء 21:30
  31. الأنبياء 21:31
  32. الأنبياء 21:32
  33. الأنبياء 21:33
  34. الأنبياء 21:34
  35. الأنبياء 21:35
  36. الأنبياء 21:36
  37. الأنبياء 21:37
  38. الأنبياء 21:38
  39. الأنبياء 21:39
  40. الأنبياء 21:40
  41. الأنبياء 21:41
  42. الأنبياء 21:42
  43. الأنبياء 21:43
  44. الأنبياء 21:44
  45. الأنبياء 21:45
  46. الأنبياء 21:46
  47. الأنبياء 21:47
  48. الأنبياء 21:48
  49. الأنبياء 21:49
  50. الأنبياء 21:50
  51. الأنبياء 21:51
  52. الأنبياء 21:52
  53. الأنبياء 21:53
  54. الأنبياء 21:54
  55. الأنبياء 21:55
  56. الأنبياء 21:56
  57. الأنبياء 21:57
  58. الأنبياء 21:58
  59. الأنبياء 21:59
  60. الأنبياء 21:60
  61. الأنبياء 21:61
  62. الأنبياء 21:62
  63. الأنبياء 21:63
  64. الأنبياء 21:64
  65. الأنبياء 21:65
  66. الأنبياء 21:66
  67. الأنبياء 21:67
  68. الأنبياء 21:68
  69. الأنبياء 21:69
  70. الأنبياء 21:70
  71. الأنبياء 21:71
  72. الأنبياء 21:72
  73. الأنبياء 21:73
  74. الأنبياء 21:74
  75. الأنبياء 21:75
  76. الأنبياء 21:76
  77. الأنبياء 21:77
  78. الأنبياء 21:78
  79. الأنبياء 21:79
  80. الأنبياء 21:80
  81. الأنبياء 21:81
  82. الأنبياء 21:82
  83. الأنبياء 21:83
  84. الأنبياء 21:84
  85. الأنبياء 21:85
  86. الأنبياء 21:86
  87. الأنبياء 21:87
  88. الأنبياء 21:88
  89. الأنبياء 21:89
  90. الأنبياء 21:90
  91. الأنبياء 21:91
  92. الأنبياء 21:92
  93. الأنبياء 21:93
  94. الأنبياء 21:94
  95. الأنبياء 21:95
  96. الأنبياء 21:96
  97. الأنبياء 21:97
  98. الأنبياء 21:98
  99. الأنبياء 21:99
  100. الأنبياء 21:100
  101. الأنبياء 21:101
  102. الأنبياء 21:102
  103. الأنبياء 21:103
  104. الأنبياء 21:104
  105. الأنبياء 21:105
  106. الأنبياء 21:106
  107. الأنبياء 21:107
  108. الأنبياء 21:108
  109. الأنبياء 21:109
  110. الأنبياء 21:110
  111. الأنبياء 21:111
  112. الأنبياء 21:112
  113. الحج 22:1
  114. الحج 22:2
  115. الحج 22:3
  116. الحج 22:4
  117. الحج 22:5
  118. الحج 22:6
  119. الحج 22:7
  120. الحج 22:8
  121. الحج 22:9
  122. الحج 22:10
  123. الحج 22:11
  124. الحج 22:12
  125. الحج 22:13
  126. الحج 22:14
  127. الحج 22:15
  128. الحج 22:16
  129. الحج 22:17
  130. الحج 22:18
  131. الحج 22:19
  132. الحج 22:20
  133. الحج 22:21
  134. الحج 22:22
  135. الحج 22:23
  136. الحج 22:24
  137. الحج 22:25
  138. الحج 22:26
  139. الحج 22:27
  140. الحج 22:28
  141. الحج 22:29
  142. الحج 22:30
  143. الحج 22:31
  144. الحج 22:32
  145. الحج 22:33
  146. الحج 22:34
  147. الحج 22:35
  148. الحج 22:36
  149. الحج 22:37
  150. الحج 22:38
  151. الحج 22:39
  152. الحج 22:40

الأنبياء 21:1

سورة الانبیآء مکیۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واھلکنا المسرفین (1 : 9) یہ نہایت ہی زور دار آغاز ہے ‘ کسی بھی غافل شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ حساب سر پر ہے اور لوگ غفلت اور لاپرواہی میں بیٹھے ہیں۔ بڑی بےتابی سے رسول ان کے سامنے آیات الہیہ پیش کررہے ہیں اور وہ منہ موڑ کر دوسری جانب جارہے ہیں۔ فوراً چوکنا ہونے کی ضورت ہے اور یہ لوگ ہیں کہ خطرے کا شعور بھی نہیں رکھتے بلکہ جب بھی ان کو متنبہ کرنے کی نئی کوشش کی جاتی ہے یہ مذاق کرتے ہیں اور دعوت کو غیر اہم سمجھ کر کھیل میں لگ جاتے ہیں۔ لاھیۃ قلو بھم (12 : 3) ” ان کے دل غافل ہیں “۔ ان کے دل و دماغ اور شعور و وجدان کے تار بالکل خاموش ہیں۔ ان کے اندر کوئی نغمہ نہیں ہے۔ یہ ان شخصیات کی تصویر کشی ہے جو غایت درجہ لاابالی ہیں اور سنجیدگی ان میں مفقود ہے ‘ جو نہایت ہی خطرناک مقامات پر بھی غیر سنجیدہ رہتے ہیں ‘ جو نہایت محتاط رہنے کے مقام پر بھی گپ لگاتے ہیں ‘ نہایت ہی مقدس موقف اور مقدس مقام میں بھی گندگی گراتے ہیں۔ یہ قرآن جو ان کو منایا جارہا ہے ‘ یہ تو رب ذوالجلال کی طرف سے ایک پیغام ہے اور یہ اس سے لاپرواہ ہیں۔ کوئی وقار ‘ کوئی پاکیزگی ان میں نہیں ہے۔ جن لوگوں میں سنجیدگی ‘ وقار ‘ پاکیزگی ‘ جدت نظر نہیں ہوتی وہ آخرکار اس قدر ہلکے ‘ خشک ہوجاتے ہیں اور اس طرح ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں کہ وہ کسی اونچے مشن یا اہم فرائض کی ادائیگی اور بھاری بوجھ اٹھانے کے قابل ہی نہیں رہتے۔ ان کی زندگی ڈھیلی ‘ ان کے اخلاق گرے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کی اقدار ارزاں ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں میں ایک قسم کی بےباکی پیدا ہوجاتی ہے او وہ مقدس سے مقدس قدر کو بھی ہلکا سمجھتے ہیں۔ یہ شتر بےمہار ہوتے ہیں ‘ کس یدستور اور ضابطے کے پابند نہیں ہوتے۔ اور ان کو خیر و شر کا شعور ہی نہیں رہتا۔ اس قسم کے لوگ اس قرآن مجید کو سنجیدگی سے نہ لیتے تھے حالانکہ یہ قرآن مجید تو دستور حیات ‘ نظام زندگی ‘ نظام عمل ‘ نظام معاملہ تھا۔ اس کو سنجیدگی سے دیکھا چاہیے تھا لیکن ان لوگوں نے اسے نہایت ہی لا بالی پن سے ایک ستر بےمہار شخص کی طرح غفلت سے لیا اور مذاق کرنے لگے ۔ ایسے لوگ ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں۔ جب روح انسان اس طہارت اور اقدا کے اس تقدس کو خیر باد کہہ دے تو پھر معاشرہ مریض انسان پیدا کرتا ہے ‘ ستر بےمہار انسان پیدا کرتا ہے ‘ لا ابالی انسان پیدا کرتا ہے ‘ جن کا نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اور نہ وہ کسی چیز کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان نے اس سورة کو اس سندیگی ‘ اور اس اہمیت سے لیا کہ ان کے دل دنیا ومافیہا سے بےنیاز ہوگئے۔ ترجمہ آمدی میں عامر ابن ربیعہ کا یہ واقعہ آیا ہے کہ ان کے پاس عرب کا ایک آدمی آیا۔ اس نے ان کی بڑی قدر و منزلت کی اور عزت سے ٹھہرایا۔ اس کے بعد وہ شخص دوبارہ عامر کے پاس آیا۔ اس وقت اسے زمین الاٹ ہوچکی تھی اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سرزمین عرب کی ایک پوری وادی بطور جاگیر الاٹ کرالی ہے ‘ میں چاہتا ہوں کہ اس میں سے ایک ٹکڑا تمہیں دے دوں تاکہ وہ تمہیں اور تمہارے بعد تمہاری اولاد کے کام آئے۔ اس پر عامر نے کہا ‘ مجھے تمہاری اس جاگیر میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ آج ایک سورة نازل ہوئی ہے ‘ اس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب دنیا میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 1) ” قریب آگیا ہے ‘ لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں “۔ یہ ہے فرق دلوں میں۔ ایک طرف ہیں زندہ ‘ قبول کنندہ اور اثر گثرندہ دل اور دوسری جانب ہیں مردہ ‘ بجھے ہوئے اور ایسے دل جن میں فکر و شعور کے داخلے کی تمام کھڑکیاں بند ہیں۔ ان مردہ دلوں پر لہو و لعت کے کفن ہیں اور ان کو بےمہاری کے لا ابالی پن کے قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔ قرآن کا ان پراثر نہیں ہوتا کیونکہ ان کے دل بجھ گئے ہیں اور وہ اس طرح ہوگئے ہیں کہ ان میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے۔ واسروا۔۔۔۔۔ ظلموا (12 : 3) ” اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں “۔ اہل مکہ ہر وقت رسول اللہ ﷺ اور آپ کی تحریک کے بارے میں سرگوشیاں کرتے تھے۔ پھر یہ سرگوشیاں ان کی سازشوں کی شکل اختیار کرتی تھیں اور پھر یوں تبصرے کرتے تھے۔ ھل ھذآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وانتم تبصرون (12 : 3) ” یہ شخص آخر تم جیسا بشر ہی تو ہے تو کیا پھر تم آنکھوں دیکھتے (سمجھتے بوجھتے) جادو کے پھندے میں پھنس جائو گے “۔ یہ لوگ تو درحقیقت مرچکے ہیں اور ان کے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے اس لیے یہ قرآن سے خود تو متاثر ہوتے نہیں تھے لیکن جن دوسرے لوگوں پر قرآن کے اثرات ہوتے تھے ان کو یہ لوگ یوں بدراہ کرتے تھے کہ لوگوں دیکھو ‘ یہ محمد تو ہم جیسا انسان ہے ‘ تو اس پر کیوں ایمان لاتے ہو۔ اس کلام کا تم پر جو اثر ہوتا ہے تو وہ ایک جادو ہے۔ تم دیکھتے ہوئے اور سمجھتے ہوئے اس جادو کا اثر لیتے ہو۔ جب وہ ایسے اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے تو رسول اللہ کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں۔ یہ جو مشورے کررہے ہیں اور قرآن کے اثرات سے بچنے کے لیے جو بہانے اور پرو پیگنڈے کرتے ہیں ان کا کوئی اثر نہ ہوگا۔

الأنبياء 21:2

سورة الانبیآء مکیۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واھلکنا المسرفین (1 : 9) یہ نہایت ہی زور دار آغاز ہے ‘ کسی بھی غافل شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ حساب سر پر ہے اور لوگ غفلت اور لاپرواہی میں بیٹھے ہیں۔ بڑی بےتابی سے رسول ان کے سامنے آیات الہیہ پیش کررہے ہیں اور وہ منہ موڑ کر دوسری جانب جارہے ہیں۔ فوراً چوکنا ہونے کی ضورت ہے اور یہ لوگ ہیں کہ خطرے کا شعور بھی نہیں رکھتے بلکہ جب بھی ان کو متنبہ کرنے کی نئی کوشش کی جاتی ہے یہ مذاق کرتے ہیں اور دعوت کو غیر اہم سمجھ کر کھیل میں لگ جاتے ہیں۔ لاھیۃ قلو بھم (12 : 3) ” ان کے دل غافل ہیں “۔ ان کے دل و دماغ اور شعور و وجدان کے تار بالکل خاموش ہیں۔ ان کے اندر کوئی نغمہ نہیں ہے۔ یہ ان شخصیات کی تصویر کشی ہے جو غایت درجہ لاابالی ہیں اور سنجیدگی ان میں مفقود ہے ‘ جو نہایت ہی خطرناک مقامات پر بھی غیر سنجیدہ رہتے ہیں ‘ جو نہایت محتاط رہنے کے مقام پر بھی گپ لگاتے ہیں ‘ نہایت ہی مقدس موقف اور مقدس مقام میں بھی گندگی گراتے ہیں۔ یہ قرآن جو ان کو منایا جارہا ہے ‘ یہ تو رب ذوالجلال کی طرف سے ایک پیغام ہے اور یہ اس سے لاپرواہ ہیں۔ کوئی وقار ‘ کوئی پاکیزگی ان میں نہیں ہے۔ جن لوگوں میں سنجیدگی ‘ وقار ‘ پاکیزگی ‘ جدت نظر نہیں ہوتی وہ آخرکار اس قدر ہلکے ‘ خشک ہوجاتے ہیں اور اس طرح ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں کہ وہ کسی اونچے مشن یا اہم فرائض کی ادائیگی اور بھاری بوجھ اٹھانے کے قابل ہی نہیں رہتے۔ ان کی زندگی ڈھیلی ‘ ان کے اخلاق گرے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کی اقدار ارزاں ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں میں ایک قسم کی بےباکی پیدا ہوجاتی ہے او وہ مقدس سے مقدس قدر کو بھی ہلکا سمجھتے ہیں۔ یہ شتر بےمہار ہوتے ہیں ‘ کس یدستور اور ضابطے کے پابند نہیں ہوتے۔ اور ان کو خیر و شر کا شعور ہی نہیں رہتا۔ اس قسم کے لوگ اس قرآن مجید کو سنجیدگی سے نہ لیتے تھے حالانکہ یہ قرآن مجید تو دستور حیات ‘ نظام زندگی ‘ نظام عمل ‘ نظام معاملہ تھا۔ اس کو سنجیدگی سے دیکھا چاہیے تھا لیکن ان لوگوں نے اسے نہایت ہی لا بالی پن سے ایک ستر بےمہار شخص کی طرح غفلت سے لیا اور مذاق کرنے لگے ۔ ایسے لوگ ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں۔ جب روح انسان اس طہارت اور اقدا کے اس تقدس کو خیر باد کہہ دے تو پھر معاشرہ مریض انسان پیدا کرتا ہے ‘ ستر بےمہار انسان پیدا کرتا ہے ‘ لا ابالی انسان پیدا کرتا ہے ‘ جن کا نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اور نہ وہ کسی چیز کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان نے اس سورة کو اس سندیگی ‘ اور اس اہمیت سے لیا کہ ان کے دل دنیا ومافیہا سے بےنیاز ہوگئے۔ ترجمہ آمدی میں عامر ابن ربیعہ کا یہ واقعہ آیا ہے کہ ان کے پاس عرب کا ایک آدمی آیا۔ اس نے ان کی بڑی قدر و منزلت کی اور عزت سے ٹھہرایا۔ اس کے بعد وہ شخص دوبارہ عامر کے پاس آیا۔ اس وقت اسے زمین الاٹ ہوچکی تھی اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سرزمین عرب کی ایک پوری وادی بطور جاگیر الاٹ کرالی ہے ‘ میں چاہتا ہوں کہ اس میں سے ایک ٹکڑا تمہیں دے دوں تاکہ وہ تمہیں اور تمہارے بعد تمہاری اولاد کے کام آئے۔ اس پر عامر نے کہا ‘ مجھے تمہاری اس جاگیر میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ آج ایک سورة نازل ہوئی ہے ‘ اس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب دنیا میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 1) ” قریب آگیا ہے ‘ لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں “۔ یہ ہے فرق دلوں میں۔ ایک طرف ہیں زندہ ‘ قبول کنندہ اور اثر گثرندہ دل اور دوسری جانب ہیں مردہ ‘ بجھے ہوئے اور ایسے دل جن میں فکر و شعور کے داخلے کی تمام کھڑکیاں بند ہیں۔ ان مردہ دلوں پر لہو و لعت کے کفن ہیں اور ان کو بےمہاری کے لا ابالی پن کے قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔ قرآن کا ان پراثر نہیں ہوتا کیونکہ ان کے دل بجھ گئے ہیں اور وہ اس طرح ہوگئے ہیں کہ ان میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے۔ واسروا۔۔۔۔۔ ظلموا (12 : 3) ” اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں “۔ اہل مکہ ہر وقت رسول اللہ ﷺ اور آپ کی تحریک کے بارے میں سرگوشیاں کرتے تھے۔ پھر یہ سرگوشیاں ان کی سازشوں کی شکل اختیار کرتی تھیں اور پھر یوں تبصرے کرتے تھے۔ ھل ھذآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وانتم تبصرون (12 : 3) ” یہ شخص آخر تم جیسا بشر ہی تو ہے تو کیا پھر تم آنکھوں دیکھتے (سمجھتے بوجھتے) جادو کے پھندے میں پھنس جائو گے “۔ یہ لوگ تو درحقیقت مرچکے ہیں اور ان کے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے اس لیے یہ قرآن سے خود تو متاثر ہوتے نہیں تھے لیکن جن دوسرے لوگوں پر قرآن کے اثرات ہوتے تھے ان کو یہ لوگ یوں بدراہ کرتے تھے کہ لوگوں دیکھو ‘ یہ محمد تو ہم جیسا انسان ہے ‘ تو اس پر کیوں ایمان لاتے ہو۔ اس کلام کا تم پر جو اثر ہوتا ہے تو وہ ایک جادو ہے۔ تم دیکھتے ہوئے اور سمجھتے ہوئے اس جادو کا اثر لیتے ہو۔ جب وہ ایسے اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے تو رسول اللہ کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں۔ یہ جو مشورے کررہے ہیں اور قرآن کے اثرات سے بچنے کے لیے جو بہانے اور پرو پیگنڈے کرتے ہیں ان کا کوئی اثر نہ ہوگا۔

الأنبياء 21:3

سورة الانبیآء مکیۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واھلکنا المسرفین (1 : 9) یہ نہایت ہی زور دار آغاز ہے ‘ کسی بھی غافل شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ حساب سر پر ہے اور لوگ غفلت اور لاپرواہی میں بیٹھے ہیں۔ بڑی بےتابی سے رسول ان کے سامنے آیات الہیہ پیش کررہے ہیں اور وہ منہ موڑ کر دوسری جانب جارہے ہیں۔ فوراً چوکنا ہونے کی ضورت ہے اور یہ لوگ ہیں کہ خطرے کا شعور بھی نہیں رکھتے بلکہ جب بھی ان کو متنبہ کرنے کی نئی کوشش کی جاتی ہے یہ مذاق کرتے ہیں اور دعوت کو غیر اہم سمجھ کر کھیل میں لگ جاتے ہیں۔ لاھیۃ قلو بھم (12 : 3) ” ان کے دل غافل ہیں “۔ ان کے دل و دماغ اور شعور و وجدان کے تار بالکل خاموش ہیں۔ ان کے اندر کوئی نغمہ نہیں ہے۔ یہ ان شخصیات کی تصویر کشی ہے جو غایت درجہ لاابالی ہیں اور سنجیدگی ان میں مفقود ہے ‘ جو نہایت ہی خطرناک مقامات پر بھی غیر سنجیدہ رہتے ہیں ‘ جو نہایت محتاط رہنے کے مقام پر بھی گپ لگاتے ہیں ‘ نہایت ہی مقدس موقف اور مقدس مقام میں بھی گندگی گراتے ہیں۔ یہ قرآن جو ان کو منایا جارہا ہے ‘ یہ تو رب ذوالجلال کی طرف سے ایک پیغام ہے اور یہ اس سے لاپرواہ ہیں۔ کوئی وقار ‘ کوئی پاکیزگی ان میں نہیں ہے۔ جن لوگوں میں سنجیدگی ‘ وقار ‘ پاکیزگی ‘ جدت نظر نہیں ہوتی وہ آخرکار اس قدر ہلکے ‘ خشک ہوجاتے ہیں اور اس طرح ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں کہ وہ کسی اونچے مشن یا اہم فرائض کی ادائیگی اور بھاری بوجھ اٹھانے کے قابل ہی نہیں رہتے۔ ان کی زندگی ڈھیلی ‘ ان کے اخلاق گرے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کی اقدار ارزاں ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں میں ایک قسم کی بےباکی پیدا ہوجاتی ہے او وہ مقدس سے مقدس قدر کو بھی ہلکا سمجھتے ہیں۔ یہ شتر بےمہار ہوتے ہیں ‘ کس یدستور اور ضابطے کے پابند نہیں ہوتے۔ اور ان کو خیر و شر کا شعور ہی نہیں رہتا۔ اس قسم کے لوگ اس قرآن مجید کو سنجیدگی سے نہ لیتے تھے حالانکہ یہ قرآن مجید تو دستور حیات ‘ نظام زندگی ‘ نظام عمل ‘ نظام معاملہ تھا۔ اس کو سنجیدگی سے دیکھا چاہیے تھا لیکن ان لوگوں نے اسے نہایت ہی لا بالی پن سے ایک ستر بےمہار شخص کی طرح غفلت سے لیا اور مذاق کرنے لگے ۔ ایسے لوگ ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں۔ جب روح انسان اس طہارت اور اقدا کے اس تقدس کو خیر باد کہہ دے تو پھر معاشرہ مریض انسان پیدا کرتا ہے ‘ ستر بےمہار انسان پیدا کرتا ہے ‘ لا ابالی انسان پیدا کرتا ہے ‘ جن کا نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اور نہ وہ کسی چیز کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان نے اس سورة کو اس سندیگی ‘ اور اس اہمیت سے لیا کہ ان کے دل دنیا ومافیہا سے بےنیاز ہوگئے۔ ترجمہ آمدی میں عامر ابن ربیعہ کا یہ واقعہ آیا ہے کہ ان کے پاس عرب کا ایک آدمی آیا۔ اس نے ان کی بڑی قدر و منزلت کی اور عزت سے ٹھہرایا۔ اس کے بعد وہ شخص دوبارہ عامر کے پاس آیا۔ اس وقت اسے زمین الاٹ ہوچکی تھی اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سرزمین عرب کی ایک پوری وادی بطور جاگیر الاٹ کرالی ہے ‘ میں چاہتا ہوں کہ اس میں سے ایک ٹکڑا تمہیں دے دوں تاکہ وہ تمہیں اور تمہارے بعد تمہاری اولاد کے کام آئے۔ اس پر عامر نے کہا ‘ مجھے تمہاری اس جاگیر میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ آج ایک سورة نازل ہوئی ہے ‘ اس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب دنیا میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 1) ” قریب آگیا ہے ‘ لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں “۔ یہ ہے فرق دلوں میں۔ ایک طرف ہیں زندہ ‘ قبول کنندہ اور اثر گثرندہ دل اور دوسری جانب ہیں مردہ ‘ بجھے ہوئے اور ایسے دل جن میں فکر و شعور کے داخلے کی تمام کھڑکیاں بند ہیں۔ ان مردہ دلوں پر لہو و لعت کے کفن ہیں اور ان کو بےمہاری کے لا ابالی پن کے قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔ قرآن کا ان پراثر نہیں ہوتا کیونکہ ان کے دل بجھ گئے ہیں اور وہ اس طرح ہوگئے ہیں کہ ان میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے۔ واسروا۔۔۔۔۔ ظلموا (12 : 3) ” اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں “۔ اہل مکہ ہر وقت رسول اللہ ﷺ اور آپ کی تحریک کے بارے میں سرگوشیاں کرتے تھے۔ پھر یہ سرگوشیاں ان کی سازشوں کی شکل اختیار کرتی تھیں اور پھر یوں تبصرے کرتے تھے۔ ھل ھذآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وانتم تبصرون (12 : 3) ” یہ شخص آخر تم جیسا بشر ہی تو ہے تو کیا پھر تم آنکھوں دیکھتے (سمجھتے بوجھتے) جادو کے پھندے میں پھنس جائو گے “۔ یہ لوگ تو درحقیقت مرچکے ہیں اور ان کے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے اس لیے یہ قرآن سے خود تو متاثر ہوتے نہیں تھے لیکن جن دوسرے لوگوں پر قرآن کے اثرات ہوتے تھے ان کو یہ لوگ یوں بدراہ کرتے تھے کہ لوگوں دیکھو ‘ یہ محمد تو ہم جیسا انسان ہے ‘ تو اس پر کیوں ایمان لاتے ہو۔ اس کلام کا تم پر جو اثر ہوتا ہے تو وہ ایک جادو ہے۔ تم دیکھتے ہوئے اور سمجھتے ہوئے اس جادو کا اثر لیتے ہو۔ جب وہ ایسے اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے تو رسول اللہ کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں۔ یہ جو مشورے کررہے ہیں اور قرآن کے اثرات سے بچنے کے لیے جو بہانے اور پرو پیگنڈے کرتے ہیں ان کا کوئی اثر نہ ہوگا۔

الأنبياء 21:4

قل ربی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (12 : 4) ” رسول نے کہا میرا بر ہر اس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے اور وہ سمیع وعلیم ہے “۔ زمین کے جس حصے میں بھی تحریک اسلامی کے خلاف کوئی سرگوشی ہو ‘ اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے کیونکہ اللہ تو وہ ہے جو زمین و آسمان میں بولے جانے والے تمام اقوال کو جانتا ہے اور اس کے ہاں وہ ریکارڈ ہوتے ہیں اور وہ جو سازشیں بھی پکائیں اللہ اپنے رسول کو پہلے سے بتا دیتا ہے کہ وہ سمیع وعلیم ہے۔ انہوں نے بہت سوچا کہ قرآن کے اثرات کو کس پروپیگنڈے سے روکیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سحر ہے۔ یہ ایک مخلوط قسم کی سوچ اور منتشر افکار ہیں ‘ جن کو محمد جمع کرکے پیش کرتا ہے ‘ کبھی شعر ‘ کبھی کہانت کیا کہا۔

الأنبياء 21:5

بل قالو۔۔۔۔۔۔۔ شاعر (12 : 5) ” وہ کہتے ہیں بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں بلکہ یہ اس کی من گھڑت بات ہے بلکہ یہ شخص شاعر ہے “۔ یہ بلکہ بلکہ ہی کرتے رہیں گے ‘ کسی ایک بات پر بھی جم نہیں سکتے ‘ نہ ان کی ایک رائے ہے ‘ اصل بلکہ یہ ہے کہ دراصل یہ لوگ مختلف تدابیر اختیار کرتے ہیں کہ قرآن کے ان ولولہ انگیزاثرات کو کس طرس روکیں ‘ جو لوگوں پر اثر کررہے اور یہ لوگ دعوے پر دعویٰ کرتے چلے آرہے ہیں ‘ ایک سبب کے بعد دوسرا سبب لاتے ہیں۔ لیکن سخت حیراں ہیں ‘ کسی ایک بات پر جمتے نہیں ‘ اس لیے تمام حرکتوں اور اقوال کو چھوڑ کر آئو اس طرف آتے ہیں کہ کوئی ایسا معجزہ دکھا دیا جائے جو گزرے ہوئے رسولوں نے دکھائے تھے۔ فلیاتنا بأیۃ کمآ ارسل الاولون (12 : 5) ” ورنہ یہ لائے کوئی ایسی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے “۔ ہاں اس سے قبل رسولوں نے خارق عادت معجزات دکھائے تھے لیکن کیا جن کے سامنے معجزے پیش ہوئے تھے وہ سب ایمان لائے تھے۔ نہیں وہ تو ایمان نہ لائے اسی لیے تو ہلاک ہوئے اور یہ سنت الہیہ ہے۔ اٹل سنت الہیہ کہ جب کوئی خارق عادت معجزہ پیش ہوجائے اور پھر بھی لوگ نہ مانیں تو ان کو تباہ کرنا لازم ہے۔

الأنبياء 21:6

مآامنت۔۔۔۔۔۔۔۔ اھلکنھا (12 : 6) ” حالانکہ ان سے پہلے کوئی بستی بھی جسے ہم نے ہلاک کیا ‘ ایمان نہ لائی “۔ یہ اس وہ سے کہ جب کوئی قوم بغض وعناد کے اس مرتبے تک پہنچ جائے کہ وہ ایک محسوس خارق عادت معجزے کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو پھر تو اسے ہلاک کیا جانا ہی ٹھہرتا ہے۔ بار بار معجزات آئے ‘ باربار اقوام نے تکذیب کی اور بار بار ان مکذبین کو تاریخ میں ہلاک کیا جاتا رہا۔ تو اگر ان لوگوں کو ویسا ہی معجزہ دکھادیا جائے اور یہ بھی اسی طرح ایمان نہ لائیں تو پھر ہلاکت کے سوا اور کیا انجام ہوگا۔ افھم یومنون (12 : 6) ” کیا یہ ایمان لائیں گے “۔

الأنبياء 21:7

ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما کانوا خلدین (12 : 8) (12 : 7 : 8) ” اور اے نبی ﷺ تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔ تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ ان رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں اور نہ وہ سداجینے والے تھے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضایہی تھا کہ رسول انسان ہوں ‘ وہ اللہ سے وحی اخذ کریں اور لوگوں تک اسے پہنچائیں۔ اس سے قبل جس قدر رسول گزرے وہ جسم و جان رکھتے تھے اور جسم و جان رکھنے کے بعد وہ کھانا بھی کھاتے تھے ‘ کیونکہ کھانا جسم کا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ دائمی زندگی والے بھی نہ تھے۔ اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو رسولوں کی جسدیت ‘ کھانے پینے کے بارے میں اہل کتاب سے معلومات حاصل کرلو کیونکہ کھانا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ دائمی زندگی والے بھی نہ تھے۔ اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو رسولوں کی جسدیت ‘ کھانے پینے کے بارے میں اہل کتاب سے معلومات حاصل کرلو کیونکہ اہل کتاب عربوں کے مقابلے میں علوم انبیاء سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ تمام رسول بشر تھے۔ انسانوں کی طرح زندہ رہتے تھے۔ تاکہ ان کی عملی زندگی شریعت کی صورت اختیار کرلے۔ ان کا عملی مڈل لوگوں کے لیے اعلیٰ زندگی کا ماڈل ہو ‘ کیونکہ جو دعوت زندہ ہو اور زندگی کی عملی شکل میں ماڈل اور نمونہ ہو وہی موثر بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ دعوت عملاً مجسم شکل میں قائم ہے اور اس کو عملی شکل دے دی گئی ہے۔ اگر رسول غیر بشر ہوتے نہ کھاتے پیتے ‘ نہ بازاروں میں پھرتے ‘ عورتوں کے ساتھ ان کی معاشرت نہ ہوتی ‘ ان کے دلوں میں انسانی جذبات و میلانات نہ ہوتے تو ان کے اور لوگوں کے درمیان گہرا تعلق قائم نہ ہو سکتا۔ نہ وہ ان میلانات کو سمجھ سکتے جو انسان رکھتے ہیں اور نہ انسان ان کو اچھی طرح سمجھ سکتے اور نہ ان کی پیروی کرتے کیونکہ ان کی زندگی میں انسانوں کی پیروی کے لیے کوئی ماڈل ہی نہ ہوتا۔ اگر داعی جن لوگوں کو دعوت دیتا ہے ان کے رحجانات کو نہیں سمجھتا ‘ ان کے شعور ‘ جذبات اور خواہشات کو نہیں سمجھتا ‘ اور لوگوں کے اندر نہیں جاتا ان سے دور دور رہتا ہے ‘ وہ لوگوں کے ساتھ نہیں چلتا اور لوگ اس کے ساتھ نہیں چلتے وہ لوگوں کے سامنے جس قدر چلا چلا کر تقریریں کے تو لوگ اس کی تقریروں سے ہر گز متاثر نہ ہوں گے کیونکہ ان کے درمیان احساس و شعور کے فاصلے ہیں۔ ہر وہ داعی جس کا عمل اس کی بات کی تصدیق نہ کرے ‘ اس کے الفاظ لوگوں کے کانوں سے ٹکراکر واپس ہوں گے۔ دلوں کے اندر نہ اتر سکیں گے اگر چہ اس کے الفاظ زور دار ہوں اور اس کا کلام بلیغ ہو ‘ وہ سادہ بات جس کی پشت پر عمل ہوتا ہے جس سے کہنے والا خود متاثر ہوتا ہے ‘ وہی مفید ہو سکتی ہے اور لوگوں کے اندر حرکت پیدا کرسکتی ہے۔ جو لوگ یہ تجویز کرتے تھے کہ رسول کو ایک فرشتہ ہونا چاہیے ‘ جس طرح آج کل کے بعض لوگ رسول کو انسانی خواص سے عاری قرار دیتے ہیں ‘ یہ لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہیں کہ فرشتے اپنی تخلیقی ساخت اور اپنی فطرت کے اعتبار سے انسانوں جیسی زندگی گزارہی نہیں سکتے کیونکہ وہ جسم اور اس کے تقاضوں کے مطابق انسان کے احساس و شعور کو سمجھنے کے اہل نہیں ہیں۔ لہٰذا اس اعتبار سے ان کے لیے انسانوں جیسی زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں ہے۔ رسول کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان انسانی احساسات اور تقاضوں کو سمجھتا ہو اور اپنی عملی زندگی میں ان احساسات اور ان تقاضوں پر عمل بھی کرتا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لیے عملی دستور حیات بن سکے۔ یہ باتیں تو اپنی جگہ پر ہیں لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر رسول فرشتہ ہو تو اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے جنس بشری کو جو عظیم اعزاز دیا ‘ بشریت اس سے محروم ہوجاتی۔ یہ نہ ہوتا کہ انسانوں میں سے ایک انسان عالم بالا سے رابطہ قائم کرے یا اللہ سے ہمکلام ہو۔ بہرحال رسولوں کے انتخاب میں یہ اللہ کی سنت ہے کہ رسول بشر ہو اور یہ بھی سنت ہے کہ اللہ ان کو نجات دے اور مسرفین اور مکذبین کو ہلاک کردے۔ ثم صدقنھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المسرفین (12 : 9) ” پھر دیکھ لو کہ آخر کار ان کے ساتھ ہم نے اپنے وعدے پورے کیے اور انہیں جس کسی کو ہم نے چاہا ‘ بچا لیا اور مسرفین کو ہلاک کردیا “۔ تو رسولوں کے انتخاب کے لیے جو سنت ہے ‘ اسی طرح مکذبین کے لیے بھی یہ سنت ہے اور اللہ نے ان کو اور ان کے ساتھ فی الحقیقت ایمان لانے والوں کو بھی ہلاک کردیا۔ ایسے ایمان لانے والے جن کا عمل ان کے ایمان کی تصدیق نہ کرتا ہو۔ اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرتا ہے جو حد سے گزرتے ہیں۔ مشرکین جو حضور اکرم ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ساتھی مسلمانوں کو ایڈادیتے تھے اور ان کی تکذیب کرنے میں حد سے گزر گئے تھے ‘ ان کو اللہ اس سنت سے ڈراتا ہے اور ان کو سمجھا تا ہے کہ یہ ان پر اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ اللہ نے کوئی مادی خارق عادت معجزہ نہیں بھیجا جس کو اگر یہ جھٹلا دیتے جس طرح اقوام سابقہ نے جھٹلایا تھا تو یہ بھی ہلاک کردیئے جاتے۔ اس خارق عادت معجزے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے تمہیں قرآن کا معجزہ دیا ہے اور یہ کتاب تمہارے لیے باعث عزو شرف ہے کہ یہ تمہاری زبان میں ہے ‘ تمہاری زندگی کو استوار کرتی ہے اور یہ تمہاری تعمیر و تربیت اس طرح کرتی ہے کہ تمہیں وہ ایک قابل ذکر امت بنا دے۔ یہ کتاب لوگوں کے سامنے کھلی پڑی ہے ‘ چاہیے کہ وہ اس پر غور کریں اور اس کے ذریعہ انسانیت کے ارتقاء کی سیڑھی پر چڑھتے چلے جائیں۔

الأنبياء 21:8

ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما کانوا خلدین (12 : 8) (12 : 7 : 8) ” اور اے نبی ﷺ تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔ تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ ان رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں اور نہ وہ سداجینے والے تھے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضایہی تھا کہ رسول انسان ہوں ‘ وہ اللہ سے وحی اخذ کریں اور لوگوں تک اسے پہنچائیں۔ اس سے قبل جس قدر رسول گزرے وہ جسم و جان رکھتے تھے اور جسم و جان رکھنے کے بعد وہ کھانا بھی کھاتے تھے ‘ کیونکہ کھانا جسم کا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ دائمی زندگی والے بھی نہ تھے۔ اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو رسولوں کی جسدیت ‘ کھانے پینے کے بارے میں اہل کتاب سے معلومات حاصل کرلو کیونکہ کھانا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ دائمی زندگی والے بھی نہ تھے۔ اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو رسولوں کی جسدیت ‘ کھانے پینے کے بارے میں اہل کتاب سے معلومات حاصل کرلو کیونکہ اہل کتاب عربوں کے مقابلے میں علوم انبیاء سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ تمام رسول بشر تھے۔ انسانوں کی طرح زندہ رہتے تھے۔ تاکہ ان کی عملی زندگی شریعت کی صورت اختیار کرلے۔ ان کا عملی مڈل لوگوں کے لیے اعلیٰ زندگی کا ماڈل ہو ‘ کیونکہ جو دعوت زندہ ہو اور زندگی کی عملی شکل میں ماڈل اور نمونہ ہو وہی موثر بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ دعوت عملاً مجسم شکل میں قائم ہے اور اس کو عملی شکل دے دی گئی ہے۔ اگر رسول غیر بشر ہوتے نہ کھاتے پیتے ‘ نہ بازاروں میں پھرتے ‘ عورتوں کے ساتھ ان کی معاشرت نہ ہوتی ‘ ان کے دلوں میں انسانی جذبات و میلانات نہ ہوتے تو ان کے اور لوگوں کے درمیان گہرا تعلق قائم نہ ہو سکتا۔ نہ وہ ان میلانات کو سمجھ سکتے جو انسان رکھتے ہیں اور نہ انسان ان کو اچھی طرح سمجھ سکتے اور نہ ان کی پیروی کرتے کیونکہ ان کی زندگی میں انسانوں کی پیروی کے لیے کوئی ماڈل ہی نہ ہوتا۔ اگر داعی جن لوگوں کو دعوت دیتا ہے ان کے رحجانات کو نہیں سمجھتا ‘ ان کے شعور ‘ جذبات اور خواہشات کو نہیں سمجھتا ‘ اور لوگوں کے اندر نہیں جاتا ان سے دور دور رہتا ہے ‘ وہ لوگوں کے ساتھ نہیں چلتا اور لوگ اس کے ساتھ نہیں چلتے وہ لوگوں کے سامنے جس قدر چلا چلا کر تقریریں کے تو لوگ اس کی تقریروں سے ہر گز متاثر نہ ہوں گے کیونکہ ان کے درمیان احساس و شعور کے فاصلے ہیں۔ ہر وہ داعی جس کا عمل اس کی بات کی تصدیق نہ کرے ‘ اس کے الفاظ لوگوں کے کانوں سے ٹکراکر واپس ہوں گے۔ دلوں کے اندر نہ اتر سکیں گے اگر چہ اس کے الفاظ زور دار ہوں اور اس کا کلام بلیغ ہو ‘ وہ سادہ بات جس کی پشت پر عمل ہوتا ہے جس سے کہنے والا خود متاثر ہوتا ہے ‘ وہی مفید ہو سکتی ہے اور لوگوں کے اندر حرکت پیدا کرسکتی ہے۔ جو لوگ یہ تجویز کرتے تھے کہ رسول کو ایک فرشتہ ہونا چاہیے ‘ جس طرح آج کل کے بعض لوگ رسول کو انسانی خواص سے عاری قرار دیتے ہیں ‘ یہ لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہیں کہ فرشتے اپنی تخلیقی ساخت اور اپنی فطرت کے اعتبار سے انسانوں جیسی زندگی گزارہی نہیں سکتے کیونکہ وہ جسم اور اس کے تقاضوں کے مطابق انسان کے احساس و شعور کو سمجھنے کے اہل نہیں ہیں۔ لہٰذا اس اعتبار سے ان کے لیے انسانوں جیسی زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں ہے۔ رسول کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان انسانی احساسات اور تقاضوں کو سمجھتا ہو اور اپنی عملی زندگی میں ان احساسات اور ان تقاضوں پر عمل بھی کرتا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لیے عملی دستور حیات بن سکے۔ یہ باتیں تو اپنی جگہ پر ہیں لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر رسول فرشتہ ہو تو اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے جنس بشری کو جو عظیم اعزاز دیا ‘ بشریت اس سے محروم ہوجاتی۔ یہ نہ ہوتا کہ انسانوں میں سے ایک انسان عالم بالا سے رابطہ قائم کرے یا اللہ سے ہمکلام ہو۔ بہرحال رسولوں کے انتخاب میں یہ اللہ کی سنت ہے کہ رسول بشر ہو اور یہ بھی سنت ہے کہ اللہ ان کو نجات دے اور مسرفین اور مکذبین کو ہلاک کردے۔ ثم صدقنھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المسرفین (12 : 9) ” پھر دیکھ لو کہ آخر کار ان کے ساتھ ہم نے اپنے وعدے پورے کیے اور انہیں جس کسی کو ہم نے چاہا ‘ بچا لیا اور مسرفین کو ہلاک کردیا “۔ تو رسولوں کے انتخاب کے لیے جو سنت ہے ‘ اسی طرح مکذبین کے لیے بھی یہ سنت ہے اور اللہ نے ان کو اور ان کے ساتھ فی الحقیقت ایمان لانے والوں کو بھی ہلاک کردیا۔ ایسے ایمان لانے والے جن کا عمل ان کے ایمان کی تصدیق نہ کرتا ہو۔ اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرتا ہے جو حد سے گزرتے ہیں۔ مشرکین جو حضور اکرم ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ساتھی مسلمانوں کو ایڈادیتے تھے اور ان کی تکذیب کرنے میں حد سے گزر گئے تھے ‘ ان کو اللہ اس سنت سے ڈراتا ہے اور ان کو سمجھا تا ہے کہ یہ ان پر اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ اللہ نے کوئی مادی خارق عادت معجزہ نہیں بھیجا جس کو اگر یہ جھٹلا دیتے جس طرح اقوام سابقہ نے جھٹلایا تھا تو یہ بھی ہلاک کردیئے جاتے۔ اس خارق عادت معجزے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے تمہیں قرآن کا معجزہ دیا ہے اور یہ کتاب تمہارے لیے باعث عزو شرف ہے کہ یہ تمہاری زبان میں ہے ‘ تمہاری زندگی کو استوار کرتی ہے اور یہ تمہاری تعمیر و تربیت اس طرح کرتی ہے کہ تمہیں وہ ایک قابل ذکر امت بنا دے۔ یہ کتاب لوگوں کے سامنے کھلی پڑی ہے ‘ چاہیے کہ وہ اس پر غور کریں اور اس کے ذریعہ انسانیت کے ارتقاء کی سیڑھی پر چڑھتے چلے جائیں۔

الأنبياء 21:9

ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما کانوا خلدین (12 : 8) (12 : 7 : 8) ” اور اے نبی ﷺ تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔ تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ ان رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں اور نہ وہ سداجینے والے تھے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضایہی تھا کہ رسول انسان ہوں ‘ وہ اللہ سے وحی اخذ کریں اور لوگوں تک اسے پہنچائیں۔ اس سے قبل جس قدر رسول گزرے وہ جسم و جان رکھتے تھے اور جسم و جان رکھنے کے بعد وہ کھانا بھی کھاتے تھے ‘ کیونکہ کھانا جسم کا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ دائمی زندگی والے بھی نہ تھے۔ اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو رسولوں کی جسدیت ‘ کھانے پینے کے بارے میں اہل کتاب سے معلومات حاصل کرلو کیونکہ کھانا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ دائمی زندگی والے بھی نہ تھے۔ اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو رسولوں کی جسدیت ‘ کھانے پینے کے بارے میں اہل کتاب سے معلومات حاصل کرلو کیونکہ اہل کتاب عربوں کے مقابلے میں علوم انبیاء سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ تمام رسول بشر تھے۔ انسانوں کی طرح زندہ رہتے تھے۔ تاکہ ان کی عملی زندگی شریعت کی صورت اختیار کرلے۔ ان کا عملی مڈل لوگوں کے لیے اعلیٰ زندگی کا ماڈل ہو ‘ کیونکہ جو دعوت زندہ ہو اور زندگی کی عملی شکل میں ماڈل اور نمونہ ہو وہی موثر بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ دعوت عملاً مجسم شکل میں قائم ہے اور اس کو عملی شکل دے دی گئی ہے۔ اگر رسول غیر بشر ہوتے نہ کھاتے پیتے ‘ نہ بازاروں میں پھرتے ‘ عورتوں کے ساتھ ان کی معاشرت نہ ہوتی ‘ ان کے دلوں میں انسانی جذبات و میلانات نہ ہوتے تو ان کے اور لوگوں کے درمیان گہرا تعلق قائم نہ ہو سکتا۔ نہ وہ ان میلانات کو سمجھ سکتے جو انسان رکھتے ہیں اور نہ انسان ان کو اچھی طرح سمجھ سکتے اور نہ ان کی پیروی کرتے کیونکہ ان کی زندگی میں انسانوں کی پیروی کے لیے کوئی ماڈل ہی نہ ہوتا۔ اگر داعی جن لوگوں کو دعوت دیتا ہے ان کے رحجانات کو نہیں سمجھتا ‘ ان کے شعور ‘ جذبات اور خواہشات کو نہیں سمجھتا ‘ اور لوگوں کے اندر نہیں جاتا ان سے دور دور رہتا ہے ‘ وہ لوگوں کے ساتھ نہیں چلتا اور لوگ اس کے ساتھ نہیں چلتے وہ لوگوں کے سامنے جس قدر چلا چلا کر تقریریں کے تو لوگ اس کی تقریروں سے ہر گز متاثر نہ ہوں گے کیونکہ ان کے درمیان احساس و شعور کے فاصلے ہیں۔ ہر وہ داعی جس کا عمل اس کی بات کی تصدیق نہ کرے ‘ اس کے الفاظ لوگوں کے کانوں سے ٹکراکر واپس ہوں گے۔ دلوں کے اندر نہ اتر سکیں گے اگر چہ اس کے الفاظ زور دار ہوں اور اس کا کلام بلیغ ہو ‘ وہ سادہ بات جس کی پشت پر عمل ہوتا ہے جس سے کہنے والا خود متاثر ہوتا ہے ‘ وہی مفید ہو سکتی ہے اور لوگوں کے اندر حرکت پیدا کرسکتی ہے۔ جو لوگ یہ تجویز کرتے تھے کہ رسول کو ایک فرشتہ ہونا چاہیے ‘ جس طرح آج کل کے بعض لوگ رسول کو انسانی خواص سے عاری قرار دیتے ہیں ‘ یہ لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہیں کہ فرشتے اپنی تخلیقی ساخت اور اپنی فطرت کے اعتبار سے انسانوں جیسی زندگی گزارہی نہیں سکتے کیونکہ وہ جسم اور اس کے تقاضوں کے مطابق انسان کے احساس و شعور کو سمجھنے کے اہل نہیں ہیں۔ لہٰذا اس اعتبار سے ان کے لیے انسانوں جیسی زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں ہے۔ رسول کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان انسانی احساسات اور تقاضوں کو سمجھتا ہو اور اپنی عملی زندگی میں ان احساسات اور ان تقاضوں پر عمل بھی کرتا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لیے عملی دستور حیات بن سکے۔ یہ باتیں تو اپنی جگہ پر ہیں لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر رسول فرشتہ ہو تو اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے جنس بشری کو جو عظیم اعزاز دیا ‘ بشریت اس سے محروم ہوجاتی۔ یہ نہ ہوتا کہ انسانوں میں سے ایک انسان عالم بالا سے رابطہ قائم کرے یا اللہ سے ہمکلام ہو۔ بہرحال رسولوں کے انتخاب میں یہ اللہ کی سنت ہے کہ رسول بشر ہو اور یہ بھی سنت ہے کہ اللہ ان کو نجات دے اور مسرفین اور مکذبین کو ہلاک کردے۔ ثم صدقنھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المسرفین (12 : 9) ” پھر دیکھ لو کہ آخر کار ان کے ساتھ ہم نے اپنے وعدے پورے کیے اور انہیں جس کسی کو ہم نے چاہا ‘ بچا لیا اور مسرفین کو ہلاک کردیا “۔ تو رسولوں کے انتخاب کے لیے جو سنت ہے ‘ اسی طرح مکذبین کے لیے بھی یہ سنت ہے اور اللہ نے ان کو اور ان کے ساتھ فی الحقیقت ایمان لانے والوں کو بھی ہلاک کردیا۔ ایسے ایمان لانے والے جن کا عمل ان کے ایمان کی تصدیق نہ کرتا ہو۔ اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرتا ہے جو حد سے گزرتے ہیں۔ مشرکین جو حضور اکرم ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ساتھی مسلمانوں کو ایڈادیتے تھے اور ان کی تکذیب کرنے میں حد سے گزر گئے تھے ‘ ان کو اللہ اس سنت سے ڈراتا ہے اور ان کو سمجھا تا ہے کہ یہ ان پر اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ اللہ نے کوئی مادی خارق عادت معجزہ نہیں بھیجا جس کو اگر یہ جھٹلا دیتے جس طرح اقوام سابقہ نے جھٹلایا تھا تو یہ بھی ہلاک کردیئے جاتے۔ اس خارق عادت معجزے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے تمہیں قرآن کا معجزہ دیا ہے اور یہ کتاب تمہارے لیے باعث عزو شرف ہے کہ یہ تمہاری زبان میں ہے ‘ تمہاری زندگی کو استوار کرتی ہے اور یہ تمہاری تعمیر و تربیت اس طرح کرتی ہے کہ تمہیں وہ ایک قابل ذکر امت بنا دے۔ یہ کتاب لوگوں کے سامنے کھلی پڑی ہے ‘ چاہیے کہ وہ اس پر غور کریں اور اس کے ذریعہ انسانیت کے ارتقاء کی سیڑھی پر چڑھتے چلے جائیں۔

الأنبياء 21:10

لقد انزلنآ۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون ( ” ۔ قرآن ایک ایسا معجزہ ہے کہ یہ تمام نسلوں کے لی کھلا معجزہ ہے۔ یہ ایسا معجزہ نہیں ہے کہ ایک ہی نسل میں اس کا مظاہرہ ہو ‘ لوگ اس سے متاثر ہوں اور وہ ختم ہوجائے۔ یہ ایک دائم وقائم معجزہ ہے۔ قرآن کریم کے ذریعہ عربوں کو بھی بڑی شہرت ملی جب وہ قرآن کے پیغام کو لے کر مشرق و مغرب تک جا پہنچے۔ اس سے پہلے وہ کوئی قابل ذکر لوگ نہ تھے۔ نہ ان کے پاس انسانیت کو دینے کے لیے کوئی قابل ذکر چیز تھی۔ جب تک عربوں نے اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑے رکھا انہوں نے اس کے ذریعہ پوری انسانیت کی راہنمائی کی ‘ تو وہ بھی کامیاب رہے اور اس کی وجہ سے پوری انسانیت کو بھی کامیابی اور خوسحالی نصیب ہوئی ‘ جب عربوں نے اس کتاب کو چھوڑا تو انسانیت نے بھی انہیں چھوڑ دیا اور لوگوں کے اندر عربوں کا ذکر ختم ہونے لگا۔ یہ لوگ قافلہ انسانیت کے دم چھلا بن گئے اور انسانوں میں سے جو چاہے ‘ انہیں اچک لیتا ہے لیکن جب یہ کتاب انہوں نے مضبوطی سے تھام رکھی تھی تو لوگ ان کے ماحول میں اچک لیے جاتے تھے اور یہ محفوظ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ عرب قرآن کے سوا انسانیت کو کیا تحفہ دے سکتے ہیں ؟ قرآن کے سوا ان کے پاس اور ہے کیا ؟ ان کے پاس قرآنی فکر کے سوا انسانیت کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی اور فکر نہیں ہے۔ اگر وہ انسانیت کے سامنے یہ کساب پیش کریں گے تو انسانیت ان کو پہچان لے گی۔ ان کا ذکر کرے گی اور ان کو سروں پر اٹھائے گی کیونکہ اسے عربوں سے ایک نفع بخش پیغام ملے گا۔ لیکن اگر وہ انسانوں کے سامنے محض عربوں کو بحیثیت ایک قوم پیش کریں گے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی حیثیت کیا ہے اور وہ کیا ہیں ؟ اس کتاب کے سوا ان کے اس نسب نامے کی کیا وقعت ہے۔ انسانیت نے عربوں کو اس کتاب کے ذریعے ‘ اسلامی نظریہ حیات کے ذریعے اور اس کتاب سے اخذ کردہ نظام حیات کے ذریعے پہچانا تھا۔ انسانیت میں ان کو جو مقام حاصل ہوا تھا وہ اس لیے نہ تھا کہ وہ عرب ہیں۔ کیونکہ صرف عرب ہونا تاریخ انسانیت میں کوئی چیز نہیں ہے اور تہذیب کی ڈکشنری میں لفظ عرب کا کوئی مقام نہیں ہے۔ عربوں کی پہچان اسلامی تہذیب و تمدن سے تھی اور ہے۔ اسلامی تہذیب اور اسلامی فکر ‘ اسلامی فلسفہ اور اسلامی تمدن کے تو تمدن کی ڈکشنری میں نام ملیں گے لیکن عرب کا اس میں کوئی نام نہیں ہے۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن کریم یہاں ارشارہ کررہا ہے۔ مشرکین کو مخاطب کر کے کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب تمہاری پہچان ہے۔ لیکن تم اس کتاب میں آنے والی نئی تعلیمات کا استقبال غفلت ‘ اعراض اور تکذیب اور مذاق کے ساتھ کرتے تھے۔ لقد انزلنآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون (12 : 01) ” لوگو ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے ‘ کیا تم سمجھتے نہیں ہو “۔ عرب مشرکین پر اللہ کا کرم تھا کہ ان کے سامنے نبی ﷺ کے ذریعہ کوئی خارق عادت معجزہ پیش نہ کیا گیا ‘ ورنہ وہ انکار کرتے اور ان کی بیح گنی اسی طرح سنت الہیہ کے مطابق ہوجاتی جس طرح تاریخ میں کئی اقوام اور کئی بستیوں کی ہوئی۔ یہاں اللہ تعالیٰ ایک زندہ منظر کی شکل میں ایسی اقوام کے استیصال اور تباہی و بربادی کو دکھاتے ہیں۔

الأنبياء 21:11

وکم قصمنا من قریۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حصیدا خمدین (11 تا 51) ” قصم کا مفہوم ہے شدت سے کاٹنا ‘ اس لفظ کی آواز کی شدت بھی اس کے ملسوم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس لفظ کے تلفظ ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم بستیوں کو بڑی شدت اور سختی سے اس طرح توڑا پھوڑا گیا کہ ان کا وجود ہی ختم کردیا گیا اور ان کی حالت یہ ہوگئی کہ ان کو پیس کر رکھ دیا گیا۔ وانشانا ۔۔۔۔۔۔۔ اخرین (12 : 11) ” اور ان کے بعد دوسری کسی قوم کو اٹھایا “۔ یہاں قصم کا فعل بستیوں پر وارد ہوتا ہے اور بستیوں اور ان کے باشندوں سب کو پیس کر رکھ دیا جاتا ہے لیکن انشا کا فعل صرف قوم پر وارد ہوتا ہے ‘ پہلے قوم پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد وہ بستیاں آباد کرتی ہے۔ یہ تو ہے تو حقیقت واقعہ کہ تباہی بستیوں پر آتی ہے اور اس میں آبادی بھی ہلاک ہوجاتی ہے۔ اور جب اٹھایا جاتا ہے تو پہلے اقوام کو اٹھا یا جاتا ہے اور وہ پھر بستیاں آباد کرتی ہیں لیکن جس انداز میں ‘ ایک منظر کی شکل میں ہلاکت و بربادی کو پیش کیا گیا ہے ‘ یہ قرآن کریم کا مخصوص فنی اسلوب ہے۔ جب یہ تباہی آتی ہے تو اس میں لوگوں کا منظر بھی بڑا عجیب ہے۔ ان کی حالت یوں ہوتی ہے جس طرح پنجرے میں چوہے بند ہوجاتے ہیں ‘ جب تک وہ ہلاک نہ کردیئے جائیں ‘ وہ پنجرے کے اندر ادھر ادھر بھاگتے ہی رہتے ہیں۔

الأنبياء 21:12

فلمآاحسوا بأ سنآ اذا ھم منھا۔۔۔۔ (12 : 21) ” جب ان کو ہمارا عذاب محسوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے “۔ یعنی گائوں سے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ ان کو معلوم ہوگیا کہ عذاب الٰہی آگیا ‘ گویا یہ بھاگ دوڑ ان کو عذاب الٰہی سے بچا لے گی۔ گویا وہ اس قدر تیز بھاگ سکتے ہیں کہ عذاب الٰہی ان سے پیچھے رہ جائے گا ‘ لیکن ان کی یہ بھگدڑ ایسی ہی ہے جس طرح چوہا پنجرے میں دوڑتا ہے۔ وہ بغیر سوچ اور بغیر کسی شعور کے دوڑتا ہے۔

الأنبياء 21:13

لاترکضوا وارجعوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسئلون (12 : 31) ” بھاگو نہیں ‘ جائو اپنے انہی گھروں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کررہے تھے ‘ شاید کہ تم سے پوچھا جائے گا “۔ یہ تو تمہارا گائوں ہے اس سے مت بھاگو۔ اس کے اندر وہ سب سازو سامان ہے اور اس کے اندر تمہارے وہ مسکن ہیں ‘ جن میں تم عیش پرستیاں کرتے تھے۔ واپس ہو جائو شاید کہ تم سے پوچھا جائے کہ تم نے یہ دولت کن امور میں خرچ کی۔ اس سوال کا وہ جواب کیا دیں ؟ یہ تو ان کے ساتھ ایک سنجیدہ مذاق تھا۔ اب ذرا تھکتے ہیں تو اب ان کو سمجھ آتی ہے کہ عذاب الٰہی نے تو انہیں گھیر لیا ہے اور اب یہ بھگدڑ انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ دوڑ انہیں دائرہ عذاب سے باہر نہیں ناکل سکتی تو اب وہ بدل جاتے ہیں ‘ جرم کا اعتراف کرتے ہیں ‘ توبہ و استغفار کرتے ہیں۔ قالوا یویلنآ انا کنا ظلمین (12 : 41) ” ہائے ہماری کم بختی ‘ بیشک ہم خطا کار تھے “۔ لیکن اب کیا ہو سکتا ہے ‘ اب تو مہلت کی گھڑی ختم ہوچکی ہے۔ اب تو وہ جو چاہیں کہتے رہیں۔ اب یہ لوگ مرنے تک اقرار جرم کرتے رہیں ‘ توبہ کرتے رہیں۔ کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

الأنبياء 21:14

لاترکضوا وارجعوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسئلون (12 : 31) ” بھاگو نہیں ‘ جائو اپنے انہی گھروں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کررہے تھے ‘ شاید کہ تم سے پوچھا جائے گا “۔ یہ تو تمہارا گائوں ہے اس سے مت بھاگو۔ اس کے اندر وہ سب سازو سامان ہے اور اس کے اندر تمہارے وہ مسکن ہیں ‘ جن میں تم عیش پرستیاں کرتے تھے۔ واپس ہو جائو شاید کہ تم سے پوچھا جائے کہ تم نے یہ دولت کن امور میں خرچ کی۔ اس سوال کا وہ جواب کیا دیں ؟ یہ تو ان کے ساتھ ایک سنجیدہ مذاق تھا۔ اب ذرا تھکتے ہیں تو اب ان کو سمجھ آتی ہے کہ عذاب الٰہی نے تو انہیں گھیر لیا ہے اور اب یہ بھگدڑ انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ دوڑ انہیں دائرہ عذاب سے باہر نہیں ناکل سکتی تو اب وہ بدل جاتے ہیں ‘ جرم کا اعتراف کرتے ہیں ‘ توبہ و استغفار کرتے ہیں۔ قالوا یویلنآ انا کنا ظلمین (12 : 41) ” ہائے ہماری کم بختی ‘ بیشک ہم خطا کار تھے “۔ لیکن اب کیا ہو سکتا ہے ‘ اب تو مہلت کی گھڑی ختم ہوچکی ہے۔ اب تو وہ جو چاہیں کہتے رہیں۔ اب یہ لوگ مرنے تک اقرار جرم کرتے رہیں ‘ توبہ کرتے رہیں۔ کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

الأنبياء 21:15

فما زالت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خمدین (12 : 51) ” وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کھلیان کردیا ‘ زندگی کا ایک شرارہ ان میں نہ رہا “۔ یہ آدمیوں کا کھلیان تھا جس میں نہ حرکت تھی نہ حرارت۔ ابھی تک تو وہ ایک ایسا قریہ تھا کہ جس میں ہر طرف زندگی دوڑتی نظر آتی تھی اور یہ گائوں نہایت خوبصورت تھا۔ یہاں اب قرآن مجید اس نظریہ حیات ‘ جس پر کلام ہوا۔ اور اللہ کی اس تکوینی سنت جس کے مطابق یہ کائنات چلتی ہے ‘ کے درمیان ربط قائم فرماتے ہیں۔ یہ تکوینی سنت ہے جس نے اس کی فصل کو کاٹ کر پیس ڈالا۔ کیونکہ انہوں نے رب تعالیٰ کی تشریعی سنت کی پیروی نہ کی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ جس حق پر یہ کائنات قائم ہے اور جس حق پر پیغمبروں کی دعوت قائم ہے وہ ایک ہے اور اس کائنات اور زمین و آسمان کا ان دونوں سچائیوں سے رابطہ ہے۔ مشرکین کے پاس دعوت اسلامی کی جو جدید ہدایات آئیں وہ ان کا استقبال مذاق اور استہزائے کرتے اور لہو میں مشغول ہو کر منہ موڑ لیتے۔ وہ اس بات سے غافل رہے کہ یہ کس قدر اہم اور سچی دعوت نے یوم حساب قریب ہے اور وہ اس سے بھی غافل ہیں بلکہ مذاق کرتے ہیں تو اللہ کی تکوینی سنت بھی اپنا کام جاری رکھتی ہے اور وہ بھی مشرکین کے اس انکار اور اعراض کا نوٹس لیتی ہے کیونکہ حق ایک ہے وہ شریعت میں ہو یا کائنات میں۔

الأنبياء 21:16

وما خلقنا السمآ ئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مما تصفون (61 : 81) ” اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک حکمت اور اسکیم کے مطابق پیدا کیا ہے ‘ اس کا ایک مقصد ہے ۔ یہ کائنات محض کھیل تماشے کے طور پر نہیں پیدا کی گئی۔ یہ ایک حکیمانہ فعل ہے ‘ محض اتفاقی عمل نہیں ہے۔ جس سنجیدگی ‘ سچائی اور مقصدیت کے ساتھ زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا ہے ‘ اس کے ساتھ رسولوں کو بھی بھیجا گیا ہے۔ کتابیں نازل کی گئی ہیں ‘ فرائض منصبی مقرر ہوئے اور شریعت اور قانون بنائے گئے ہیں۔ لہٰذا مقصدیت اور سنجیدگی اس کائنات کی اساس ہے۔ اس کے چلانے کا بھی ایک مقصد ہے۔ اس میں انسانوں کو ایک نظریہ دینے میں بھی ایک مقصد ہے اور موت کے بعد حساب و کتاب میں بھی مقصدیت اور سنجیدگی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کوئی کھلونا بنانا چاہتا تو اپنے ہاں بنا لیتا۔ ایک ذاتی کھیل ہوتا اور اللہ کی دوسری مخلوقات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوتا۔ یہ محض الزامی اور جدلی فرض ہے۔ ” اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے پاس ہی سے کرلیتے “۔ جس طرح نحوی لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف امتناع برائے امتناع ہے۔ یعنی ” لو “ کے بعد ایک فقرہ شرط ہوتا ہے اور دوسرا جواب شرط ۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں فقروں کا واقع ہونن ناممکن اور ممتنع ہے۔ چونکہ اللہ نے ارادہ ہی نہیں کیا اس لیے لہو و لعب ہوا ہی نہیں ہے۔ نہ اللہ کے ہاں کوئی لہو ہوا اور نہ خارج میں کسی معاملے میں ہوا۔ اور یہ لہو ولعب ممکن ہی نہیں اس لیے کہ اس کی طرف اللہ کا ارادہ متوجہ ہی نہیں ہوا۔ ان کنا فعلین (12 : 71) کے معنی ہیں ما کنا فعلین یعنی ہم نے ایسا کرنا ہی نہ تھا ‘ ایسا کرنے والے ہی نہ تھے۔ تو یہ ایک فرض ہے برائے مباحثہ اور اس سے یہ حقیقت ثابت کرنا ہے کہ اللہ کی ذات سے متعلق جو امور بھی ہیں وہ اللہ کی ذات کی طرح قدیم ہیں۔ دائمی ہیں ‘ فانی نہیں ہیں۔ اگر اللہ لہو کا ارادہ کرتا تو یہ لہو ایک نیا معاملہ نہ ہوتا۔ یہ بھی ذات باری کی طرح قدیم ہوتا۔ ازلی ہوتی اور ابدی ہوتا کیونکہ اس کا تعلق ذات ازلی اور باقی سے ہوتا ۔ اسی لیے ” من لدنا “ کا لفظ استعمال ہوا ” اپنے ہی پاس “ لیکن اللہ کا طے شدہ قانون تو یہ ہے کہ کوئی معاملہ کھیل کے طور پر نہ ہو ‘ بلکہ ہر معاملہ سنجیدگی اور سچائی کے ساتھ ہو۔ اور وہ حق ہو۔ یوں حق باطل پر غالب آتا ہے۔

الأنبياء 21:17

وما خلقنا السمآ ئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مما تصفون (61 : 81) ” اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک حکمت اور اسکیم کے مطابق پیدا کیا ہے ‘ اس کا ایک مقصد ہے ۔ یہ کائنات محض کھیل تماشے کے طور پر نہیں پیدا کی گئی۔ یہ ایک حکیمانہ فعل ہے ‘ محض اتفاقی عمل نہیں ہے۔ جس سنجیدگی ‘ سچائی اور مقصدیت کے ساتھ زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا ہے ‘ اس کے ساتھ رسولوں کو بھی بھیجا گیا ہے۔ کتابیں نازل کی گئی ہیں ‘ فرائض منصبی مقرر ہوئے اور شریعت اور قانون بنائے گئے ہیں۔ لہٰذا مقصدیت اور سنجیدگی اس کائنات کی اساس ہے۔ اس کے چلانے کا بھی ایک مقصد ہے۔ اس میں انسانوں کو ایک نظریہ دینے میں بھی ایک مقصد ہے اور موت کے بعد حساب و کتاب میں بھی مقصدیت اور سنجیدگی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کوئی کھلونا بنانا چاہتا تو اپنے ہاں بنا لیتا۔ ایک ذاتی کھیل ہوتا اور اللہ کی دوسری مخلوقات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوتا۔ یہ محض الزامی اور جدلی فرض ہے۔ ” اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے پاس ہی سے کرلیتے “۔ جس طرح نحوی لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف امتناع برائے امتناع ہے۔ یعنی ” لو “ کے بعد ایک فقرہ شرط ہوتا ہے اور دوسرا جواب شرط ۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں فقروں کا واقع ہونن ناممکن اور ممتنع ہے۔ چونکہ اللہ نے ارادہ ہی نہیں کیا اس لیے لہو و لعب ہوا ہی نہیں ہے۔ نہ اللہ کے ہاں کوئی لہو ہوا اور نہ خارج میں کسی معاملے میں ہوا۔ اور یہ لہو ولعب ممکن ہی نہیں اس لیے کہ اس کی طرف اللہ کا ارادہ متوجہ ہی نہیں ہوا۔ ان کنا فعلین (12 : 71) کے معنی ہیں ما کنا فعلین یعنی ہم نے ایسا کرنا ہی نہ تھا ‘ ایسا کرنے والے ہی نہ تھے۔ تو یہ ایک فرض ہے برائے مباحثہ اور اس سے یہ حقیقت ثابت کرنا ہے کہ اللہ کی ذات سے متعلق جو امور بھی ہیں وہ اللہ کی ذات کی طرح قدیم ہیں۔ دائمی ہیں ‘ فانی نہیں ہیں۔ اگر اللہ لہو کا ارادہ کرتا تو یہ لہو ایک نیا معاملہ نہ ہوتا۔ یہ بھی ذات باری کی طرح قدیم ہوتا۔ ازلی ہوتی اور ابدی ہوتا کیونکہ اس کا تعلق ذات ازلی اور باقی سے ہوتا ۔ اسی لیے ” من لدنا “ کا لفظ استعمال ہوا ” اپنے ہی پاس “ لیکن اللہ کا طے شدہ قانون تو یہ ہے کہ کوئی معاملہ کھیل کے طور پر نہ ہو ‘ بلکہ ہر معاملہ سنجیدگی اور سچائی کے ساتھ ہو۔ اور وہ حق ہو۔ یوں حق باطل پر غالب آتا ہے۔

الأنبياء 21:18

بل نقذف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاھق (12 : 81) ” مگر ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے “۔ نحو میں لفظ بل اضراب کے لیے آتا ہے یعنی ایک بات کو چھوڑ کر متکلم دوسری بات لیتا ہے۔ یعنی لہو کی بات چھوڑ کر بتایا جاتا ہے کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہاں حق و باطل کی کشمکش ہے اور سنت الہیہ یہ ہے کہ اس کشمکش میں حق کو غلبہ نصیب ہو۔ اس منظر کا انداز تعبیر نہایت ہی حسی محسوس ہونے والا ‘ زندگی سے بھرپور اور حرکت سے بھر پور ہے۔ نقشہ کچھ یوں ہے کہ سچائی ایک گولہ ہے جو دست قدرت میں ہے ‘ قدرت اسے پھینکتی ہے ‘ یہ باطل کے سر پر لگتا ہے اور اس کے دماغ کو پھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور باطل صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے آناً فاناً ۔ یہ ایک طے شدہ سنت ہے ‘ اور سچائی اس کائنات کے اندر اصل ہے۔ کائنات کے وجود میں اس کا گہر ادخل ہے۔ باطل تو دائرہ کائنات سے خارج البلد ہے۔ اگر کہیں نظر آتا ہے تو یہ عارضی ہوتا ہے ‘ اس کی قوت گہری نہیں ہوسکتی ‘ اللہ اس باطل کو بھگاتا رہتا ہے۔ سچائی سے خود اللہ باطل پر بمباری کرتارہتا ہے اور اس کا سر توڑ تا رہتا ہے۔ لہٰذا جس چیز پر اللہ کی بمباری ہو ‘ جس چیز کو دست قدرت فنا کرتا ہو ‘ اس کے لیے بقا نہیں ہے۔ ہر گز نہیں ہے ! بعض سطحی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس وقت عملی صورت حالات اس کرئہ ارض پر اس کے خلاف ہے ‘ جو اللہ علیم وخبیر فرمارہا ہے۔ بظاہر حالات اس کے برعکس ہیں۔ یہ سوال ان تاریخی وقفوں میں پیدا ہوتا ہے جن میں کبھی کبھار باطل پھولا ہوا نظر آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ گویا اس کی حکمرانی رہے گی۔ اور ان وقفوں میں حق اور اہل حق اس قدر بدحال ‘ افسردہ اور غبار آلودہ ہوتے ہیں کہ وہ مغلوب نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں بعض مختصر وقفوں میں یوں ہوتا رہتا ہے۔ ان وقفوں کو اللہ تعالیٰ بعض اوقات ذرا طویل بھی کردیتا ہے مگر یہ اہل حق کی آزمائش کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے بعد سنت الہی کا دست غیب بمباری شروع کرتا ہے۔ یہ سنت الہیہ ہے اور اسی سنت پر ارض و سما کا نظام قائم ہے اور اسی پر اسلامی دعوتوں کا بھی نظام قائم ہے۔ جن لوگوں کا ایمان پختہ ہے ان کے دل میں تو ذرا شک بھی پیدا نہیں ہو سکتا کہ اس کائنات کی بنیاد سچائی پر ہے۔ وہ یہ شک نہیں کرسکتے کہ اللہ داعیان حق کی نصرت کرتے ہوئے باطل پر گولہ پھینکتا ہے اور اس کا بھیجا نکالا دیتا ہے۔ اہل حق کو اگر اللہ کچھ عرصہ کے لیے آزمائے تو ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کور اہ حق میں جم جانا چاہیے۔ اور اس آزمائش میں پورا اترنا چاہیے۔ ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان میں کچھ کمزور یاں ہیں اور اللہ چاہتا ہے کہ وہ دور ہوں اور وہ اس حق کے غلبے کے لیے تیار ہوں۔ وہ دست قدرت کا کام کریں ‘ اپنی کمزوریاں دور کریں ‘ اپنے اندر کمال پیدا کریں جس قدر وہ جلدی تیاریاں مکمل کریں گے ‘ ان کی آزمائش کا عرصہ اسی قدر جلدی ختم ہوگا اور پھر اللہ باطل پر جو گولہ باری کرے گا تو انہی کے ہاتھوں سے ہوگی۔ اہل حق کے غلبے کے لیے تیار ہوں۔ وہ دست دقدرت کا کام کریں ‘ اپنی کمزوریاں دور کریں ‘ اپنے اندر کمال پیدا کریں جس قدر وہ جلدی تیاریاں مکمل کریں گے ‘ ان کی آزمائش کا عرصہ اسی قدر جلدی ختم ہوگا اور پھر اللہ باطل پر جو گولہ باری کرے گا تو انہی کے ہاتھوں سے یہ ہوگی۔ (وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی) کا منظر ہوگا ‘ اچانک باطل اس دنیا سے نیست و نابود ہوجائے گا۔ یادرکھئے کہ باطل کا انجام مقرر ہے۔ بل نقذف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاھق (12 : 81) ” مگر ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے “۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ‘ وہ کرتا ہے۔ (روس میں دست قدرت نے یہ کام کردکھایا ہے۔ مترجم) قرآن کریم یہ حقیقت مشرکین مکہ کیذہن نشین کررہا ہے جو قرآن مجید کے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے تھے کہ یہ سحر ہے ‘ یہ شعر ہے ‘ یہ افتراء ہے۔ حالانکہ یہ برحق ہے اور قرآن کریم باطل پر حملہ آور ہے ‘ اس کا سر پھوڑ رہا ہے اور جلد ہی باطل اور شرک (جزیرۃ العرب سے ) مٹنے والا ہے۔ ان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تم قرآن مجید یا تحریک اسلامی کے بارے میں جو باتیں بناتے ہو ‘ وہ تمہارے لیے سامان ہلاکت ہیں۔ (ولکم الویل مما تصفون) اس کے بعد ان کے سامنے ان کی نافرمانی اور روگردانی کے مقابلے میں اطاعت کیش مخلوق کی اطاعت شعاری کا ایک نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ نمونہ ان لوگوں کی زندگی سے پیش کیا جاتا ہے جو ان کے مقابلے میں خدا تخالیٰ سے زیادہ قریب ہیں ‘ لیکن اس قربت کے باوجود وہ رات اور دن اس کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں اور بندگی کرتے کرتے تھکتے بھی نہیں۔

الأنبياء 21:19

ولہ من فی السموت والارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یفترون ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کے سوا اس کا پورا علم کسی کو نہیں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز کا احاطہ کرسکتا ہے ۔ علم و بشیر ہی صرف انسان کے بارے میں یقین سے جانتا ہے۔ اہل ایمان جن اور ملائکہ کے وجود پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ ان کا ذکر قرآن مجید میں ہے لیکن ان دو مخلوقوں کے بارے میں بھی ہم صرف اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں خالق نے علم دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اندونوں کے علاوہ کو اکب میں اور ذی عقل مخلوق بھی ہو اور اس کی شکل و صورت اس سیارے کے ماحول اور طبیعی حالات کے مطابق ہو ‘ لیکن یہ علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔ ولہ من فی السموات والارض (12 : 91) ” اور زمین و آسمان میں جو مخلوق بھی ہے ‘ اللہ کی ہے “۔ تو ہمیں جس جس مخلوق کے بارے میں علم ہے اسے ہم مانتے ہیں اور جس کے بارے میں علم نہیں ہے اسے خلاق کائنات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ومن عندہ ” اور جو اس کے پاس ہیں۔ اس کا قریبی مفہوم تو یہی ہے کہ مراد فرشتے ہیں ‘ لیکن ہم اس کے مفہوم میں تخصیص کیوں کریں۔ اس میں ملائل کہ اور دوسری مخلوقات شامل ہیں۔ اس کے ” پاس “ یا ” عندہ “ مفہوم اللہ کے حوالے سے مکانیت کا اظہار نہیں کرتا بلکہ اس سے قرب معلوم ہوتا ہے۔ ومن عندہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولایستحسرون (12 : 91) ” اور جو اللہ کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی عبادت سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ طول ہوتے ہیں “۔ جس طرح مشرکین مکہ محض تکبر کی وجہ سے اللہ کی بندگی سے منہ موڑتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں یعنی رات اور دن وہ مسلسل اللہ کی بندگی اور تسبیح و تہلیل کرتے ہیں۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے اس کی پوری زندگی عبادت بن سکتی ہے اور وہ اپنے آپ کو فرشتوں کی طرح مسلسل عبادت کی حالت میں رکھ سکتا اگر وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی بندگی اور اطاعت کرے اگرچہ اس کے بعض افعال ذاتی نوعیت کے ہوں ‘ مثلاً اس کا کھانا پینا۔ یہ کہ اللہ کی تعدد ولا تصی مخلوق رات اور دن اللہ کی عبادت میں مصروف ہے ‘ جو بھی زمین اور آسمانوں میں ہے ‘ لیکن مشرکین اللہ وحدہ کی بندگی سے سرتابی کر کے دوسرے الہوں کی بندگی کرتے ہیں اور انہیں پکارتے ہیں۔ ان کی یہ حرکت بہت ہی بری ہے۔ حالانکہ رات اور دن کا نظام اور اس پوری کائنات میں چلنے والا ناموس فطرت اس بات پر دلیل بین ہے کہ مدبر کائنات اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ نیز نقلی استدلال بھی اگر مانگتے ہیں تو پوآن اور تمام کتب سماوی اس پر متفق ہیں کہ اللہ الہٰ واحد ہے اور یہی تمام رسولوں اور کتابوں کی دعوت ہے۔

الأنبياء 21:20

ولہ من فی السموت والارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یفترون ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کے سوا اس کا پورا علم کسی کو نہیں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز کا احاطہ کرسکتا ہے ۔ علم و بشیر ہی صرف انسان کے بارے میں یقین سے جانتا ہے۔ اہل ایمان جن اور ملائکہ کے وجود پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ ان کا ذکر قرآن مجید میں ہے لیکن ان دو مخلوقوں کے بارے میں بھی ہم صرف اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں خالق نے علم دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اندونوں کے علاوہ کو اکب میں اور ذی عقل مخلوق بھی ہو اور اس کی شکل و صورت اس سیارے کے ماحول اور طبیعی حالات کے مطابق ہو ‘ لیکن یہ علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔ ولہ من فی السموات والارض (12 : 91) ” اور زمین و آسمان میں جو مخلوق بھی ہے ‘ اللہ کی ہے “۔ تو ہمیں جس جس مخلوق کے بارے میں علم ہے اسے ہم مانتے ہیں اور جس کے بارے میں علم نہیں ہے اسے خلاق کائنات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ومن عندہ ” اور جو اس کے پاس ہیں۔ اس کا قریبی مفہوم تو یہی ہے کہ مراد فرشتے ہیں ‘ لیکن ہم اس کے مفہوم میں تخصیص کیوں کریں۔ اس میں ملائل کہ اور دوسری مخلوقات شامل ہیں۔ اس کے ” پاس “ یا ” عندہ “ مفہوم اللہ کے حوالے سے مکانیت کا اظہار نہیں کرتا بلکہ اس سے قرب معلوم ہوتا ہے۔ ومن عندہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولایستحسرون (12 : 91) ” اور جو اللہ کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی عبادت سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ طول ہوتے ہیں “۔ جس طرح مشرکین مکہ محض تکبر کی وجہ سے اللہ کی بندگی سے منہ موڑتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں یعنی رات اور دن وہ مسلسل اللہ کی بندگی اور تسبیح و تہلیل کرتے ہیں۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے اس کی پوری زندگی عبادت بن سکتی ہے اور وہ اپنے آپ کو فرشتوں کی طرح مسلسل عبادت کی حالت میں رکھ سکتا اگر وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی بندگی اور اطاعت کرے اگرچہ اس کے بعض افعال ذاتی نوعیت کے ہوں ‘ مثلاً اس کا کھانا پینا۔ یہ کہ اللہ کی تعدد ولا تصی مخلوق رات اور دن اللہ کی عبادت میں مصروف ہے ‘ جو بھی زمین اور آسمانوں میں ہے ‘ لیکن مشرکین اللہ وحدہ کی بندگی سے سرتابی کر کے دوسرے الہوں کی بندگی کرتے ہیں اور انہیں پکارتے ہیں۔ ان کی یہ حرکت بہت ہی بری ہے۔ حالانکہ رات اور دن کا نظام اور اس پوری کائنات میں چلنے والا ناموس فطرت اس بات پر دلیل بین ہے کہ مدبر کائنات اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ نیز نقلی استدلال بھی اگر مانگتے ہیں تو پوآن اور تمام کتب سماوی اس پر متفق ہیں کہ اللہ الہٰ واحد ہے اور یہی تمام رسولوں اور کتابوں کی دعوت ہے۔

الأنبياء 21:21

ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الآ انا فاعبدون (12 : 52) ” کیا اسے چھوڑ کر انہوں نے دوسرے خدا بنا لیے ہیں ؟ اے نبی ﷺ ‘ ان سے کہو کہ ” لا ئو اپنی دلیل ‘ یہ کتاب بھی موجود ہے جس میں میرے دوسرے لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور وہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی “۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بیخبر ہیں ‘ اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیاج ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خاد نہیں ہے ‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو “۔ ان لوگوں کے بارے میں پوچھنا کہ انہوں نے اللہ کے سوا الہٰ پکڑ رکھے ہیں ‘ استفہام انکاری ہے اور پھر ان الہوں کی یہ صفت بیان کرنا کہ وہ لوگوں کو مارتے ہیں اور پھر زندہ کریں گے۔ یہ ان کے الہوں کے ساتھ مذاق ہے ‘ کیونکہ کسی الہٰ کا سچا تصور ہی یہ ہے کہ وہ موت کے بعد لوگوں کو زندہ کر کے حساب و کتاب لے۔ مذاق کے طور پر پوچھا جاتا ہے کہ بتائو ان کے یہ الہٰ حشر و نشر کا کام کرتے رہتے ہیں ؟ اگر نہیں ‘ اور مشرکینخود بھی مانتے ہیں کہ نہیں ‘ تو پھر کیوں ان کو الہٰ مانتے ہیں ‘ جبکہ وہ اپنے اندر الہٰ ہونے کی صفت اول ہی نہیں رکھتے۔ یہ عملی استدلال اور عملی منطق ہے۔ اب ایک دوسری حقیقت پسندانہ عملی دلیل ملاحظہ ؟ لوکان فیھمآ الہھۃ الا اللہ لفسدتا (12 : 22) ” اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا “۔ یہ کائنات ایک ایسے قانون قدرت کے اوپر قائم ہے جو اس کے تمام اجزاء کے درمیان ایک مکمل ربطہ قائم کرتا ہے اور اس کے تمام اجزاء باہم مربوط ہیں۔ ایک ایک جزء کی حرکت کائنات کے کل کی حرکت کے ساتھ مربوط ہے۔ یہ قانون واحد ایک واحد مقنن کے حکم اور ارادے کا مرہون منت ہے۔ اگر کائنات کی مدبر ہستیاں متعدد ہوتیں تو ارادے بھی متعدد ہوتے اور قوانین بھی متعدد ہوتے۔ ارادہ کرنے والی ذات کا مظہر اور ہوتا ہے اور کوئی قانون اور ضابطہ نافذ کرنے والی ذات کے ارادے کا مظہر اور ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کائنات کا یہ مکمل نظام کب کا باہم ٹکرا جاتا اور اس میں ہم آہنگی نہ رہتی اور اس کائنات میں آئے دن عظیم اضطرابات ہوتے رہتے کائنات کے اندر یہ ربط ‘ تنظیم اور ہم آہنگی اس قدر محسوس اور مشاہد ہے کہ ملحد سے ملحد شخص بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ دنیا میں جن لوگوں کی فطرت سلیم ہے وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون کار فرما ہے اور یہ ناموس ایک اہم شہادت ہے کہ پوری کائنات میں ایک ہی ادارہ کام کرتا ہے اور اس کا ایک ہی خالق اور مدبر ہے ‘ اس لیے اس کی ساخت اور رفتار میں کوئی فساد نہیں ہے۔ فسبحن اللہ رب العرش عما یصفون (12 : 22) ” پس پاک ہے اللہ رب العرش ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ وہ یہ باتیں بناتے ہیں کہ اللہ کے شریک ہیں حالانکہ وہ ان باتوں سے منزہ ہے۔ وہ عرش کا رب ہے۔ عرش اللہ کے اقتدار اعلیٰ ‘ اللہ کے قبضے اور احاطے اور اللہ کی بلندی کا رمز اور اشارہ ہے۔ اللہ ان کی بنائی ہوئی باتوں سے پاک ہے اور جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اسی کائنات کی سلامت رومی ‘ تنظیم اور ہم آہنگی اور یک رنگ ان کی باتوں کی تکذیب کرتی ہے۔

الأنبياء 21:22

ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الآ انا فاعبدون (12 : 52) ” کیا اسے چھوڑ کر انہوں نے دوسرے خدا بنا لیے ہیں ؟ اے نبی ﷺ ‘ ان سے کہو کہ ” لا ئو اپنی دلیل ‘ یہ کتاب بھی موجود ہے جس میں میرے دوسرے لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور وہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی “۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بیخبر ہیں ‘ اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیاج ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خاد نہیں ہے ‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو “۔ ان لوگوں کے بارے میں پوچھنا کہ انہوں نے اللہ کے سوا الہٰ پکڑ رکھے ہیں ‘ استفہام انکاری ہے اور پھر ان الہوں کی یہ صفت بیان کرنا کہ وہ لوگوں کو مارتے ہیں اور پھر زندہ کریں گے۔ یہ ان کے الہوں کے ساتھ مذاق ہے ‘ کیونکہ کسی الہٰ کا سچا تصور ہی یہ ہے کہ وہ موت کے بعد لوگوں کو زندہ کر کے حساب و کتاب لے۔ مذاق کے طور پر پوچھا جاتا ہے کہ بتائو ان کے یہ الہٰ حشر و نشر کا کام کرتے رہتے ہیں ؟ اگر نہیں ‘ اور مشرکینخود بھی مانتے ہیں کہ نہیں ‘ تو پھر کیوں ان کو الہٰ مانتے ہیں ‘ جبکہ وہ اپنے اندر الہٰ ہونے کی صفت اول ہی نہیں رکھتے۔ یہ عملی استدلال اور عملی منطق ہے۔ اب ایک دوسری حقیقت پسندانہ عملی دلیل ملاحظہ ؟ لوکان فیھمآ الہھۃ الا اللہ لفسدتا (12 : 22) ” اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا “۔ یہ کائنات ایک ایسے قانون قدرت کے اوپر قائم ہے جو اس کے تمام اجزاء کے درمیان ایک مکمل ربطہ قائم کرتا ہے اور اس کے تمام اجزاء باہم مربوط ہیں۔ ایک ایک جزء کی حرکت کائنات کے کل کی حرکت کے ساتھ مربوط ہے۔ یہ قانون واحد ایک واحد مقنن کے حکم اور ارادے کا مرہون منت ہے۔ اگر کائنات کی مدبر ہستیاں متعدد ہوتیں تو ارادے بھی متعدد ہوتے اور قوانین بھی متعدد ہوتے۔ ارادہ کرنے والی ذات کا مظہر اور ہوتا ہے اور کوئی قانون اور ضابطہ نافذ کرنے والی ذات کے ارادے کا مظہر اور ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کائنات کا یہ مکمل نظام کب کا باہم ٹکرا جاتا اور اس میں ہم آہنگی نہ رہتی اور اس کائنات میں آئے دن عظیم اضطرابات ہوتے رہتے کائنات کے اندر یہ ربط ‘ تنظیم اور ہم آہنگی اس قدر محسوس اور مشاہد ہے کہ ملحد سے ملحد شخص بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ دنیا میں جن لوگوں کی فطرت سلیم ہے وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون کار فرما ہے اور یہ ناموس ایک اہم شہادت ہے کہ پوری کائنات میں ایک ہی ادارہ کام کرتا ہے اور اس کا ایک ہی خالق اور مدبر ہے ‘ اس لیے اس کی ساخت اور رفتار میں کوئی فساد نہیں ہے۔ فسبحن اللہ رب العرش عما یصفون (12 : 22) ” پس پاک ہے اللہ رب العرش ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ وہ یہ باتیں بناتے ہیں کہ اللہ کے شریک ہیں حالانکہ وہ ان باتوں سے منزہ ہے۔ وہ عرش کا رب ہے۔ عرش اللہ کے اقتدار اعلیٰ ‘ اللہ کے قبضے اور احاطے اور اللہ کی بلندی کا رمز اور اشارہ ہے۔ اللہ ان کی بنائی ہوئی باتوں سے پاک ہے اور جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اسی کائنات کی سلامت رومی ‘ تنظیم اور ہم آہنگی اور یک رنگ ان کی باتوں کی تکذیب کرتی ہے۔

الأنبياء 21:23

لایسئل عما یفعل و ھم یسئلون (12 : 32) ” وہ اپنے کاموں کے لیے جواب دہ نہیں ہے اور دوسرے سب جواب دہ ہیں “۔ وہ تو خود اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے۔ اس کا ارادہ آزاد ہے۔ اس کے اوپر کوئی قید و بند نہیں ہے اور نہ کوئی دوسرا ارادہ آڑے آسکتا ہے۔ اس کے ارادے کے سامنے وہ قانون قدر بھی رکاوٹ نہیں بن سکتا جو اس نے خود جاری کیا ہے۔ سوال اور محاسبہ تو کسی معیار اور کسی پیمانے اور حدود کے مطاق ہوتا ہے جو وضع کیے گئے ہوں اور اللہ تو خود واضع حدود ہے اور معیار اور پیمانے مقرر کرنے والا ہے۔ وہ خود اپنیمقرر کردہ حدود اور معیار و مقیاس کا پا بند نہیں ہے۔ لوگوں کے لیے چونکہ اللہ کے مقرر کردہ حدود کی پابندی ضروری ہے اس لیے وہ سب اس کے سامنے مسئول ہیں۔ بعض انسانوں کو غور اس قدر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ وہ عجیب احمقانہ سوالات کرتے رہتے ہیں۔ اللہ نے یہ کام کیوں کیا ؟ یہ چیز کو یں بنائی ؟ اس کی کیا حکمت ہے ‘ ان کی منشا یہ ہے کہ وہ اس حکمت کو سمجھ نہیں پار ہے۔ ایسے لوگ اس میدان میں خالق کائنات کے بارے میں نہایت بےادبی کا رویہ بھی اختیار کرتے ہیں ‘ جس طرح وہ انسانی فہم و ادراک کی حدود سے بھی آگے جارہے ہیں ‘ کیونکہ انسان کے محدود قوائے مدر کہ ہر چیز کا سبب اور علت معلوم نہیں کرسکتے۔ اللہ وہ ذات ہے جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ تمام کائنات کی ہر چیز کی تدبیر اس کے ہاتھ میں ہے۔ تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہی ہے جو قادر مطلق ‘ مدبر اور حاکم اور حکیم ہے۔ لایسئل عما یفعل وھم یسئلون (12 : 32) ” وہ اپنے کاموں کے لیے جواب دہ نہیں ہے ‘ اور دوسرے سب جواب دہ ہیں “۔ اب اس تکوینی دلیل کے ساتھ ساتھ اللہ ان سے نقلی دلیل کا بھی مطالبہ کرتے ہیں ‘ کہ وہ کیا نقلی دلیل ہے جس کی بنا پر یہ لوگ شرک کرتے ہیں حالانکہ شرک پر تو کوئی دلیل نہیں ہوتی۔

الأنبياء 21:24

ام اتخذوا من دونہ۔۔۔۔۔ قبلی (12 : 42) سابقہ رسولوں کی کتابیں بھی موجود ہیں ان میں بھی کمازکم اللہ کے شریکوں کے بارے میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ یہ سب ادیان عقیدہ توحید پر قائم ہیں۔ لہٰذا مشرک جو شرک کرتے ہیں ‘ اس کا ماخذ کیا ہے ‘ یہ تو اس کائنات کے بھی خلاف ہے اور عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی خلاف ہے ۔ حقیقت یہ ہے۔ بل اکثرھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 42) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بیخبر ہیں ‘ اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں “۔

الأنبياء 21:25

ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعبدون (12 : 52) ” ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو “۔ اللہ نے جب سے لوگوں کی ہدایات کے لیے رسول بھیجے ہیں ان کی دعوت اور تعلیمات کا قاعدہ اساسی عقیدہ توحید رہا ہے۔ آج تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یعنی الہٰ اور معبود ایک ہی ہے۔ وہی رب ہے ‘ الوہیت اور ربوبیت کے درمیان جدائی ممکن نہیں ہے جو الہٰ ہے وہی رب ہے۔ لہٰذا ان تعلیمات میں الوہیت حاکمیت اور بندگی میں کوئی شرک نہیں اور یہ عقیدہ اسی طرح مستحکم ہے جس طرح اس کائنات کا نظام مستحکم ہے۔ یاد رہے کہ رسولوں کی تعلیمات بھی دراصل اس کائنات کے قوانین فطرت کا ایک حصہ ہیں۔ اب روئے سخن ایک دوسرے شرکیہ عقیدے کی طرف مڑجاتا ہے۔ عقائد جاہلیت میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد پید کررکھی ہے۔

الأنبياء 21:26

وقالوا اتخذالرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نجزی الظلمین ” اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا تصور زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگوں کے درمیان مختلف تھا۔ مشرکین عرب خیال کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین یہود کہتے تھے کہ عزیز ابن اللہ ہیں اور مشرکین نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب شرکیہ عقائد ہیں اور دوسری اقوام مشرک کے ہاں اور طرح کے ہیں۔ یہاں اشارہ عربوں کے عقیدہ کی طرف ہے جو ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہاں ان کے عقیدے کی تردید فرشتوں کی نوعیت اور حقیقت کے بیان سے کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں نہیں ‘ جس طرح ان لوگوں کا زعم ہے بلکہ یہ اللہ کے ہاں مکرم بندے ہیں۔ یہ ایسی مخلوق ہے کہ اللہ کے سامنے جذبہ اطاعت ‘ ادب اور خوف خدا کی وجہ سے بات ہی نہیں کرتے۔ پس جو ان کو حکم دیا جاتا ہے ‘ بےچون و چرا اس پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ کا علم پوری طرح ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ لوگ کسی کی سفارش بھی نہیں کرتے الا یہ کہ اللہ کسی کی سفارش پر راضی ہوجائے۔ وہ مزاجا اللہ سیڈرتے ہیں اور اللہ کے خوف سے بھی ڈرتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کے قریب تر ہیں ‘ پاکباز ہیں ‘ پوری طرح مطیع فرمان ہیں اور ان کے اندر کوئی انحراف نہیں ہے۔ پھر ان کا یہ دعویٰ بھی نہیں ہے کہ وہ الہٰ ہیں۔ اور اگر وہ ایسا کوئی دعویٰ کر بھی بیٹھیں ‘ بفرض محال ‘ تو وہ بھی ایسی ہی سزا کے مستحق ہوں گے جس کا اعلان دوسروں کے لیے ہے ‘ یعنی جہنم اور یہ سب ظالم مشرکین کے لیے ہے۔ یہ اس لیے کہ الوہیت کا حق صرف اللہ کا ہے۔۔ اس طرح مشرکین عرب کا یہ دعویٰ غلط ‘ خلاف عقل اور مکروہ ہے ‘ کوئی بھی ایسا دعویٰ نہیں کرتا اور اگر کرے گا تو مقررہ سزا پائے گا۔ جو بھی ہو یہ مدعی۔۔۔۔ یہاں فرشتوں کی اطاعت شعاری کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے خلاف میں ڈوبے رہتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ جسارت کرتے ہیں۔ یہاں تک انسان کے سامنے توحید کے تکوینی دلائل رکھے گئے ‘ نیز تمام شرائع کے نقلی دلائل کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ سب کی تعلیم توحید ہے اور بعض وجدانی دلائل بھی دیئے گئے جو دلوں میں قدرتاً اتر جاتے ہیں۔ اب قرآن مجید انسان کو اس عظیم کائنات کی سیر کراتا ہے ‘ وہ کائنات جسے اللہ کا وست قدرت نہایت ہی حکیمانہ انداز میں چلاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی یہ لوگ اس کائنات میں پھیلے ہوئے آیات و معجزات پر غور نہیں کرتے۔

الأنبياء 21:27

وقالوا اتخذالرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نجزی الظلمین ” اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا تصور زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگوں کے درمیان مختلف تھا۔ مشرکین عرب خیال کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین یہود کہتے تھے کہ عزیز ابن اللہ ہیں اور مشرکین نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب شرکیہ عقائد ہیں اور دوسری اقوام مشرک کے ہاں اور طرح کے ہیں۔ یہاں اشارہ عربوں کے عقیدہ کی طرف ہے جو ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہاں ان کے عقیدے کی تردید فرشتوں کی نوعیت اور حقیقت کے بیان سے کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں نہیں ‘ جس طرح ان لوگوں کا زعم ہے بلکہ یہ اللہ کے ہاں مکرم بندے ہیں۔ یہ ایسی مخلوق ہے کہ اللہ کے سامنے جذبہ اطاعت ‘ ادب اور خوف خدا کی وجہ سے بات ہی نہیں کرتے۔ پس جو ان کو حکم دیا جاتا ہے ‘ بےچون و چرا اس پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ کا علم پوری طرح ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ لوگ کسی کی سفارش بھی نہیں کرتے الا یہ کہ اللہ کسی کی سفارش پر راضی ہوجائے۔ وہ مزاجا اللہ سیڈرتے ہیں اور اللہ کے خوف سے بھی ڈرتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کے قریب تر ہیں ‘ پاکباز ہیں ‘ پوری طرح مطیع فرمان ہیں اور ان کے اندر کوئی انحراف نہیں ہے۔ پھر ان کا یہ دعویٰ بھی نہیں ہے کہ وہ الہٰ ہیں۔ اور اگر وہ ایسا کوئی دعویٰ کر بھی بیٹھیں ‘ بفرض محال ‘ تو وہ بھی ایسی ہی سزا کے مستحق ہوں گے جس کا اعلان دوسروں کے لیے ہے ‘ یعنی جہنم اور یہ سب ظالم مشرکین کے لیے ہے۔ یہ اس لیے کہ الوہیت کا حق صرف اللہ کا ہے۔۔ اس طرح مشرکین عرب کا یہ دعویٰ غلط ‘ خلاف عقل اور مکروہ ہے ‘ کوئی بھی ایسا دعویٰ نہیں کرتا اور اگر کرے گا تو مقررہ سزا پائے گا۔ جو بھی ہو یہ مدعی۔۔۔۔ یہاں فرشتوں کی اطاعت شعاری کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے خلاف میں ڈوبے رہتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ جسارت کرتے ہیں۔ یہاں تک انسان کے سامنے توحید کے تکوینی دلائل رکھے گئے ‘ نیز تمام شرائع کے نقلی دلائل کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ سب کی تعلیم توحید ہے اور بعض وجدانی دلائل بھی دیئے گئے جو دلوں میں قدرتاً اتر جاتے ہیں۔ اب قرآن مجید انسان کو اس عظیم کائنات کی سیر کراتا ہے ‘ وہ کائنات جسے اللہ کا وست قدرت نہایت ہی حکیمانہ انداز میں چلاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی یہ لوگ اس کائنات میں پھیلے ہوئے آیات و معجزات پر غور نہیں کرتے۔

الأنبياء 21:28

وقالوا اتخذالرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نجزی الظلمین ” اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا تصور زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگوں کے درمیان مختلف تھا۔ مشرکین عرب خیال کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین یہود کہتے تھے کہ عزیز ابن اللہ ہیں اور مشرکین نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب شرکیہ عقائد ہیں اور دوسری اقوام مشرک کے ہاں اور طرح کے ہیں۔ یہاں اشارہ عربوں کے عقیدہ کی طرف ہے جو ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہاں ان کے عقیدے کی تردید فرشتوں کی نوعیت اور حقیقت کے بیان سے کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں نہیں ‘ جس طرح ان لوگوں کا زعم ہے بلکہ یہ اللہ کے ہاں مکرم بندے ہیں۔ یہ ایسی مخلوق ہے کہ اللہ کے سامنے جذبہ اطاعت ‘ ادب اور خوف خدا کی وجہ سے بات ہی نہیں کرتے۔ پس جو ان کو حکم دیا جاتا ہے ‘ بےچون و چرا اس پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ کا علم پوری طرح ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ لوگ کسی کی سفارش بھی نہیں کرتے الا یہ کہ اللہ کسی کی سفارش پر راضی ہوجائے۔ وہ مزاجا اللہ سیڈرتے ہیں اور اللہ کے خوف سے بھی ڈرتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کے قریب تر ہیں ‘ پاکباز ہیں ‘ پوری طرح مطیع فرمان ہیں اور ان کے اندر کوئی انحراف نہیں ہے۔ پھر ان کا یہ دعویٰ بھی نہیں ہے کہ وہ الہٰ ہیں۔ اور اگر وہ ایسا کوئی دعویٰ کر بھی بیٹھیں ‘ بفرض محال ‘ تو وہ بھی ایسی ہی سزا کے مستحق ہوں گے جس کا اعلان دوسروں کے لیے ہے ‘ یعنی جہنم اور یہ سب ظالم مشرکین کے لیے ہے۔ یہ اس لیے کہ الوہیت کا حق صرف اللہ کا ہے۔۔ اس طرح مشرکین عرب کا یہ دعویٰ غلط ‘ خلاف عقل اور مکروہ ہے ‘ کوئی بھی ایسا دعویٰ نہیں کرتا اور اگر کرے گا تو مقررہ سزا پائے گا۔ جو بھی ہو یہ مدعی۔۔۔۔ یہاں فرشتوں کی اطاعت شعاری کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے خلاف میں ڈوبے رہتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ جسارت کرتے ہیں۔ یہاں تک انسان کے سامنے توحید کے تکوینی دلائل رکھے گئے ‘ نیز تمام شرائع کے نقلی دلائل کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ سب کی تعلیم توحید ہے اور بعض وجدانی دلائل بھی دیئے گئے جو دلوں میں قدرتاً اتر جاتے ہیں۔ اب قرآن مجید انسان کو اس عظیم کائنات کی سیر کراتا ہے ‘ وہ کائنات جسے اللہ کا وست قدرت نہایت ہی حکیمانہ انداز میں چلاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی یہ لوگ اس کائنات میں پھیلے ہوئے آیات و معجزات پر غور نہیں کرتے۔

الأنبياء 21:29

وقالوا اتخذالرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نجزی الظلمین ” اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا تصور زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگوں کے درمیان مختلف تھا۔ مشرکین عرب خیال کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین یہود کہتے تھے کہ عزیز ابن اللہ ہیں اور مشرکین نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب شرکیہ عقائد ہیں اور دوسری اقوام مشرک کے ہاں اور طرح کے ہیں۔ یہاں اشارہ عربوں کے عقیدہ کی طرف ہے جو ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہاں ان کے عقیدے کی تردید فرشتوں کی نوعیت اور حقیقت کے بیان سے کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں نہیں ‘ جس طرح ان لوگوں کا زعم ہے بلکہ یہ اللہ کے ہاں مکرم بندے ہیں۔ یہ ایسی مخلوق ہے کہ اللہ کے سامنے جذبہ اطاعت ‘ ادب اور خوف خدا کی وجہ سے بات ہی نہیں کرتے۔ پس جو ان کو حکم دیا جاتا ہے ‘ بےچون و چرا اس پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ کا علم پوری طرح ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ لوگ کسی کی سفارش بھی نہیں کرتے الا یہ کہ اللہ کسی کی سفارش پر راضی ہوجائے۔ وہ مزاجا اللہ سیڈرتے ہیں اور اللہ کے خوف سے بھی ڈرتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کے قریب تر ہیں ‘ پاکباز ہیں ‘ پوری طرح مطیع فرمان ہیں اور ان کے اندر کوئی انحراف نہیں ہے۔ پھر ان کا یہ دعویٰ بھی نہیں ہے کہ وہ الہٰ ہیں۔ اور اگر وہ ایسا کوئی دعویٰ کر بھی بیٹھیں ‘ بفرض محال ‘ تو وہ بھی ایسی ہی سزا کے مستحق ہوں گے جس کا اعلان دوسروں کے لیے ہے ‘ یعنی جہنم اور یہ سب ظالم مشرکین کے لیے ہے۔ یہ اس لیے کہ الوہیت کا حق صرف اللہ کا ہے۔۔ اس طرح مشرکین عرب کا یہ دعویٰ غلط ‘ خلاف عقل اور مکروہ ہے ‘ کوئی بھی ایسا دعویٰ نہیں کرتا اور اگر کرے گا تو مقررہ سزا پائے گا۔ جو بھی ہو یہ مدعی۔۔۔۔ یہاں فرشتوں کی اطاعت شعاری کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے خلاف میں ڈوبے رہتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ جسارت کرتے ہیں۔ یہاں تک انسان کے سامنے توحید کے تکوینی دلائل رکھے گئے ‘ نیز تمام شرائع کے نقلی دلائل کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ سب کی تعلیم توحید ہے اور بعض وجدانی دلائل بھی دیئے گئے جو دلوں میں قدرتاً اتر جاتے ہیں۔ اب قرآن مجید انسان کو اس عظیم کائنات کی سیر کراتا ہے ‘ وہ کائنات جسے اللہ کا وست قدرت نہایت ہی حکیمانہ انداز میں چلاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی یہ لوگ اس کائنات میں پھیلے ہوئے آیات و معجزات پر غور نہیں کرتے۔

الأنبياء 21:30

اولم یرالذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل فی فلک یسبحون ” یہ اس نظر آنے والی کائنات کی سیر ہے ‘ جبکہ انسانوں کے دل و دماغ اس میں موجود دلائل و شواہد سے بالکل غافل ہیں۔ اگر کھلے دل و دماغ سے اس پر غور کیا جائے تو اس میں ایسے شواہد ہیں جو عقل و خرو کے دامن گیر ہوجاتے ہیں ‘ صرف چشم بینا چاہیے۔ یہ بات کہ زمین و آسمان پہلے ملے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو بعد میں جدا کردیا ‘ قابل غور ہے۔ فلکیات کے شعبے میں انسانی علم جس قدر آگے بڑھتا ہے وہ قرآن کے اس فرمان کی توثیق کرتا ہے جو قرآن نے آج سے چودہ سو سال پہلے کہی۔ آج تک انسانوں نے جو نظریات قائم کیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سورج کی کہکشاں جس میں سورج ‘ چاند ‘ زمین اور ان کے تابع دوسرے سیارے ہیں وہ پہلے ایک “ سدیم “ تھے بعد میں جدا ہو کر ان اجرام نے موجودہ شکل اختیار کرلی۔ اور یہ کہ زمین سروج ہی کا ایک حصہ تھی جس سے وہ جدا ہوئی اور ٹھنڈی ہوگئی۔ لیکن یہ تو فلکی نظریات میں سے ایک نظریہ ہے۔ آج یہ قائم ہے ‘ کل پھر اڑ جائے گا اور اس کی جگہ ایک دوسرا زیادہ مضبوط نظریہ لے لے گا۔ مسلمانوں کا طریقہ کار یہ نہیں ہے کہ وہ یقینی آیت پر ماہرین فلکیات کا کوئی غیر یقینی نظر یہ تھوپ دیں اور پھر اس کی تفسیر اس کے مطابق کریں۔ آج ہم اسے قبول کریں اور کل مسترد کردیں۔ اس لیے قرآن مجید کی اس تفسیر میں ہم نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کہ ہم قرآن کریم اور جدید سائنسی نظریات کے درمیان تطبیق کریں۔ لیکن سائنسی نظریات اور چیز ہیں اور سائنسی حقائق اور چیز۔ سائنسی حقائق وہ ہوتے ہیں جو تجربے سے ثابت ہوں مثلا۔ یہ سائنسی حقیقت ہے کہ مادہ گرمی سے بڑھ جاتا ہے اور پانی گرم ہونے سے بخارات میں بدل جاتا ہے اور برودت سے پانی جم جاتا ہے۔ اس طرح کے دوسرے تجربات دراصل سائنسی حقائق ہوتے ہیں۔ یہ سائنسی حقائق علمی اور فلکی نظریات سے مختلف چیز ہے۔ قرآن کریم علمی نظریات کی کتاب نہیں ہے۔ نہ قرآن کریم اس لیے نازل ہوا ہے کہ سائنس کی طرح اس کے تجربے کیے جائیں۔ دراصل قرآن زندگی کا ایک پورا نظام ہے ‘ نیز اسلام عقل کے لیے بھی حدود متعین کرتا ہے تاکہ وہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے۔ اسلام معاشرے کے لیے بھی ایک ضابطہ مقرر کرتا ہے تاکہ وہ عقل کو کام کرنے کی آزادی دے۔ لیکن اسلام سائنسی جزئیات میں مداخلت نہیں کرتا۔ نہ جزئیات میں جاتا ہے۔ عقل کی سمت درست کرکے اسلام ان باتوں کو عقل پر چھوڑ دیتا ہے۔ قرآن کریم کبھی کبھار کائناتی حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے مثلا ان السموات والارض کانتا رتقا ۔۔۔ (12 : 03) ” آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان دونوں کو جدا کیا “۔ ہم اس حقیقت پر محض اس لیے یقین کرتے ہیں کہ یہ قرآن میں مذکور ہے ‘ اگرچہ تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے کہ یہ کیونکر ہوا ؟ زمین آسمان سے کیسے جدا ہوئی یا آسمان زمین سے کیسے جدا ہوئے۔ ہم ان سائنسی نظریات کو بھی اس مجھمل حد تک قبول کرتے ہیں جو حقیقت مذکورہ در قرآن کے خلاف نہ ہوں۔ لیکن ہم یہ نہیں کرتے کہ فلکیاتی نظریات کو سامنے رکھ کر آیات قرآنیہ کو ان کے پیچھے دوڑائیں اور قرآن کی صداقت کا سرٹیفکیٹ ان نظریات سے لیں کیونکہ یقینی حقیقت قرآن ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکت ہیں کہ آج کے فلیکاتی نظریات اس آیت کے اس مجمل مضمون کے خلاف نہیں ہیں جو آیت میں آج سے صدیوں پہلے بیان کردیا گیا تھا۔ اب ہم اس آیت کے دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں جس میں کہا گیا ہے۔ وجعلنا من المآء کل شیء حی (12 : 03) ” اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی “۔ یہ آیت بھی نہایت ہی اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سائنس دان اس کے انکشاف اور ثبوت کو ایک عظیم با تخیال کرتے ہیں اور ڈارون کی اس بات پر تعریف کرتے ہیں جس نے کہ یہ دریافت کیا کہ پانی حیات کا بنیادی گہوارہ ہے اور اس حقیقت کو تجربے سے ثابت کیا۔ اس میں شک نہیں کہ سائنس دان جب اس حقیقت تک پہنچے تو یہ بہت بڑا انکشاف تھا لیکن قرآن مجید میں جو بات آئی ہے یہ ہمارے لیے کوئی نیا انکشاف نہیں ہے اور نہ سائنس دانوں کے انکشاف اور تجربے سے قرآن پر ایک مسلمان کے عقیدے میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن پر ہمارے اعتقاد کی بنیاد یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ بنیاد نہیں ہے کہ جدید سائنسی نظریات قرآن کریم میں دیئے گئے حقائق کو ثابت کرتے ہیں۔ ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈارون کا نظہ یہ ارتقاء اور نشوونما اس حد تک درست اور ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کس حدتک وہ زندگی کے لیے پانی کو ضروری خیال کرتا ہے۔ قرآن کریم نے تو آج سے چودہ سو سال قبل کفار کو اس طرف متوجہ کیا تھا کہ ذرا اس کائنات پر غور کرو ‘ اس کے عجائبات کو دیکھو ‘ قرآن نے تو ان کی جانب سے کائنات کا مشاہدہ نہ کرنے پر سخت تنقید کی تھی اور یہ کہا تھا۔ افلا یو منون (12 : 03) ” کیا یہ لوگ ایمان نہیں لاتے “۔ حالانکہ ان کے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات یہ پکاررہی ہے کہ اللہ پر ایمان لائو۔ اور ذرا مزید کائناتی مناظر : وجعلنا فی الارض رواسی ان تمید بھم ” اور زمین پر پہاڑ جمادیئے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے “۔ یہاں جو بات ثابت کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین پر بڑے بڑے پہاڑ جمادیئے تاکہ وہ انسانوں کو لے کر ایک طرف ڈھلک نہ جائے اور اس کے اندر اضطراب نہ ہو۔ توازن مختلف صورتوں میں پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً بعض اوقات داخلی دبائو جو زمین کے اندر ہوتا ہے ‘ توازن پیدا کرتا ہے اور بعض اوقات خارجی دبائو توازن پیدا کرتا ہے اور یہ دبائو مختلف علاقوں میں مختلف ہوتا ہے۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک جگہ پہاڑ بلند ہوں ‘ دوسری جگہ زمین میں گہرے کھدے کے ساتھ متوازن ہوتا ہے۔ جو بھی ہو ‘ بہر حال اس آیت سے اجمالاً یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زمین کے توازن کا پہاڑوں کے ساتھ تعلق ہے اس لیے ہم عقلی علوم اور تجربات کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ قرآن نے ایک حقیقت کے بارے حقیقت ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ آپ اسے ثابت کریں ‘ سائنسی تجربات سے اور یہ ہے عقل انسانی اور سائنسی موضوع کے لیے کام کرنے کا اصل میدان۔ ہمیں قرآن کریم کے اس اعلان پر وجدانی یقین رکھنا چاہیے اور اس کے ثبوت کے لیے اس کائنات میں مزید تحقیقات کرنا چاہئیں۔

الأنبياء 21:31

اولم یرالذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل فی فلک یسبحون ” یہ اس نظر آنے والی کائنات کی سیر ہے ‘ جبکہ انسانوں کے دل و دماغ اس میں موجود دلائل و شواہد سے بالکل غافل ہیں۔ اگر کھلے دل و دماغ سے اس پر غور کیا جائے تو اس میں ایسے شواہد ہیں جو عقل و خرو کے دامن گیر ہوجاتے ہیں ‘ صرف چشم بینا چاہیے۔ یہ بات کہ زمین و آسمان پہلے ملے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو بعد میں جدا کردیا ‘ قابل غور ہے۔ فلکیات کے شعبے میں انسانی علم جس قدر آگے بڑھتا ہے وہ قرآن کے اس فرمان کی توثیق کرتا ہے جو قرآن نے آج سے چودہ سو سال پہلے کہی۔ آج تک انسانوں نے جو نظریات قائم کیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سورج کی کہکشاں جس میں سورج ‘ چاند ‘ زمین اور ان کے تابع دوسرے سیارے ہیں وہ پہلے ایک “ سدیم “ تھے بعد میں جدا ہو کر ان اجرام نے موجودہ شکل اختیار کرلی۔ اور یہ کہ زمین سروج ہی کا ایک حصہ تھی جس سے وہ جدا ہوئی اور ٹھنڈی ہوگئی۔ لیکن یہ تو فلکی نظریات میں سے ایک نظریہ ہے۔ آج یہ قائم ہے ‘ کل پھر اڑ جائے گا اور اس کی جگہ ایک دوسرا زیادہ مضبوط نظریہ لے لے گا۔ مسلمانوں کا طریقہ کار یہ نہیں ہے کہ وہ یقینی آیت پر ماہرین فلکیات کا کوئی غیر یقینی نظر یہ تھوپ دیں اور پھر اس کی تفسیر اس کے مطابق کریں۔ آج ہم اسے قبول کریں اور کل مسترد کردیں۔ اس لیے قرآن مجید کی اس تفسیر میں ہم نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کہ ہم قرآن کریم اور جدید سائنسی نظریات کے درمیان تطبیق کریں۔ لیکن سائنسی نظریات اور چیز ہیں اور سائنسی حقائق اور چیز۔ سائنسی حقائق وہ ہوتے ہیں جو تجربے سے ثابت ہوں مثلا۔ یہ سائنسی حقیقت ہے کہ مادہ گرمی سے بڑھ جاتا ہے اور پانی گرم ہونے سے بخارات میں بدل جاتا ہے اور برودت سے پانی جم جاتا ہے۔ اس طرح کے دوسرے تجربات دراصل سائنسی حقائق ہوتے ہیں۔ یہ سائنسی حقائق علمی اور فلکی نظریات سے مختلف چیز ہے۔ قرآن کریم علمی نظریات کی کتاب نہیں ہے۔ نہ قرآن کریم اس لیے نازل ہوا ہے کہ سائنس کی طرح اس کے تجربے کیے جائیں۔ دراصل قرآن زندگی کا ایک پورا نظام ہے ‘ نیز اسلام عقل کے لیے بھی حدود متعین کرتا ہے تاکہ وہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے۔ اسلام معاشرے کے لیے بھی ایک ضابطہ مقرر کرتا ہے تاکہ وہ عقل کو کام کرنے کی آزادی دے۔ لیکن اسلام سائنسی جزئیات میں مداخلت نہیں کرتا۔ نہ جزئیات میں جاتا ہے۔ عقل کی سمت درست کرکے اسلام ان باتوں کو عقل پر چھوڑ دیتا ہے۔ قرآن کریم کبھی کبھار کائناتی حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے مثلا ان السموات والارض کانتا رتقا ۔۔۔ (12 : 03) ” آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان دونوں کو جدا کیا “۔ ہم اس حقیقت پر محض اس لیے یقین کرتے ہیں کہ یہ قرآن میں مذکور ہے ‘ اگرچہ تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے کہ یہ کیونکر ہوا ؟ زمین آسمان سے کیسے جدا ہوئی یا آسمان زمین سے کیسے جدا ہوئے۔ ہم ان سائنسی نظریات کو بھی اس مجھمل حد تک قبول کرتے ہیں جو حقیقت مذکورہ در قرآن کے خلاف نہ ہوں۔ لیکن ہم یہ نہیں کرتے کہ فلکیاتی نظریات کو سامنے رکھ کر آیات قرآنیہ کو ان کے پیچھے دوڑائیں اور قرآن کی صداقت کا سرٹیفکیٹ ان نظریات سے لیں کیونکہ یقینی حقیقت قرآن ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکت ہیں کہ آج کے فلیکاتی نظریات اس آیت کے اس مجمل مضمون کے خلاف نہیں ہیں جو آیت میں آج سے صدیوں پہلے بیان کردیا گیا تھا۔ اب ہم اس آیت کے دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں جس میں کہا گیا ہے۔ وجعلنا من المآء کل شیء حی (12 : 03) ” اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی “۔ یہ آیت بھی نہایت ہی اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سائنس دان اس کے انکشاف اور ثبوت کو ایک عظیم با تخیال کرتے ہیں اور ڈارون کی اس بات پر تعریف کرتے ہیں جس نے کہ یہ دریافت کیا کہ پانی حیات کا بنیادی گہوارہ ہے اور اس حقیقت کو تجربے سے ثابت کیا۔ اس میں شک نہیں کہ سائنس دان جب اس حقیقت تک پہنچے تو یہ بہت بڑا انکشاف تھا لیکن قرآن مجید میں جو بات آئی ہے یہ ہمارے لیے کوئی نیا انکشاف نہیں ہے اور نہ سائنس دانوں کے انکشاف اور تجربے سے قرآن پر ایک مسلمان کے عقیدے میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن پر ہمارے اعتقاد کی بنیاد یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ بنیاد نہیں ہے کہ جدید سائنسی نظریات قرآن کریم میں دیئے گئے حقائق کو ثابت کرتے ہیں۔ ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈارون کا نظہ یہ ارتقاء اور نشوونما اس حد تک درست اور ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کس حدتک وہ زندگی کے لیے پانی کو ضروری خیال کرتا ہے۔ قرآن کریم نے تو آج سے چودہ سو سال قبل کفار کو اس طرف متوجہ کیا تھا کہ ذرا اس کائنات پر غور کرو ‘ اس کے عجائبات کو دیکھو ‘ قرآن نے تو ان کی جانب سے کائنات کا مشاہدہ نہ کرنے پر سخت تنقید کی تھی اور یہ کہا تھا۔ افلا یو منون (12 : 03) ” کیا یہ لوگ ایمان نہیں لاتے “۔ حالانکہ ان کے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات یہ پکاررہی ہے کہ اللہ پر ایمان لائو۔ اور ذرا مزید کائناتی مناظر : وجعلنا فی الارض رواسی ان تمید بھم ” اور زمین پر پہاڑ جمادیئے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے “۔ یہاں جو بات ثابت کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین پر بڑے بڑے پہاڑ جمادیئے تاکہ وہ انسانوں کو لے کر ایک طرف ڈھلک نہ جائے اور اس کے اندر اضطراب نہ ہو۔ توازن مختلف صورتوں میں پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً بعض اوقات داخلی دبائو جو زمین کے اندر ہوتا ہے ‘ توازن پیدا کرتا ہے اور بعض اوقات خارجی دبائو توازن پیدا کرتا ہے اور یہ دبائو مختلف علاقوں میں مختلف ہوتا ہے۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک جگہ پہاڑ بلند ہوں ‘ دوسری جگہ زمین میں گہرے کھدے کے ساتھ متوازن ہوتا ہے۔ جو بھی ہو ‘ بہر حال اس آیت سے اجمالاً یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زمین کے توازن کا پہاڑوں کے ساتھ تعلق ہے اس لیے ہم عقلی علوم اور تجربات کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ قرآن نے ایک حقیقت کے بارے حقیقت ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ آپ اسے ثابت کریں ‘ سائنسی تجربات سے اور یہ ہے عقل انسانی اور سائنسی موضوع کے لیے کام کرنے کا اصل میدان۔ ہمیں قرآن کریم کے اس اعلان پر وجدانی یقین رکھنا چاہیے اور اس کے ثبوت کے لیے اس کائنات میں مزید تحقیقات کرنا چاہئیں۔

الأنبياء 21:32

وجعلنا فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ یھتدون (12 : 13) ” اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کریں “۔ پہاڑروں کے درمیان کشادہ راہیں اور وادیاں ہیں تاکہ لوگ انمیں اپنے راستے متعین کریں۔ یہاں وادیوں اور شاہراہوں کا پہلا مفہوم تو یہ ہے کہ لوگ اس میں چلنے پھرنے کے راستے معلوم کریں لیکن اس میں ایک خفیہ سا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ ان ظاہری راستوں سے وہ راہ ہدایت بھی معلوم کریں کیونکہ یہ پوری کائنات انسان کے لیے راہ ہدایت فراہم کرتی ہے۔ وجعلنا السمآء سقفا محفوظا (12 : 23) ” اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا “۔ آسمان سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اوپر نظر آئے۔ ہم جب سر کی سمت دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنے اوپر نیلی چھت نظر آتی ہے۔ قرآن کریم اسے سقف محفوظ کہتا ہے۔ یہ سقف اس کائنات کے نہایت ہی حساس نظام کی حفاظت کررہا ہے اور یہ سقف ان ناپاکیوں سے بھی محفوظ ہے اور ان کمزوریوں سے بھی محفوظ ہے جو زمین میں ہیں۔ اوپر کا نظام اس طرح محفوظ ہے کہ آیات قرآنی نہایت ہی حفاظت سے اترتی ہیں۔ وھم عن ایتھا معرضون (12 : 23) ” مگر یہ لوگ کائنات کی نشانیوں کی طرف توجہ نہیں دیتے “۔ حالانکہ عقل کے لیے یہ ایک وسیع میدان ہے کہ کائنات میں آیات الہیہ تلاش کرے۔

الأنبياء 21:33

وھوالذی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسبحون (12 : 33) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ‘ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں “۔ رات اور دن اس کائنات کے دو اہم رنگ ہیں اور شمس و قمر دو بڑے اجرام ہیں۔ ان دونوں کا اس کرئہ ارض پر انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے ‘ بلکہ نفس حیات سے ان کا گہرا تعلق ہے ‘ پھر گردش لیل و نہار اور حرکت شمس و قمر کو اگر غور سے دیکھا جائے تو زمانہ دراز سے یہ نہایت ہی دقیق ٹائم کے مطابق چل رہے ہیں۔ کبھی بھی اس ٹائم ٹیبل میں خلل نہیں پڑا اور مسلسل حرکت ہے بلا کسی معمولی وقفے کے۔ یہ امور اس قابل ہیں کہ انسان ان پر غور کرے اور معلوم کرے کہ اس کائنات کے لیے ایک ہی ضابطہ ‘ ایک مدبر اور ضابطہ نے مقرر کیا ہے اور وہی الہٰ خالق ہے اور وہی مدبر کائنات ہے۔ اب اس سبق کے آخر میں قرآن کریم ان قوانین اور ضوابط کو جو خالق نے اس کائنات میں جاری کر رکھے ہیں اور جن کے مطابق خالق اس کائنات میں تصرفات کرتا ہے ‘ ان اخلاقی اور شرعی اور دینی ضوابط سے مربوط کردیتا جو انسانی زندگی کے اختیاری حصے میں جاری کی جارہے ہیں۔ یہ ضوابط تمہارے لیے آزمائش ہیں جس طرح تمہاری طبعی زندگی کا ایک انجام ہے ‘ اسی طرح تمہاری اخلاقی زندگی کا بھی ا کی انجام ہے۔

الأنبياء 21:34

وما جعلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والینا ترجعون ” کل نفس ذائقۃ الموت (12 : 53) ” ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے “۔ یہ قانون قدرت اس کرئہ ارض پر حیات پر لاگو ہی اور اس قاعدے میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ لہٰذا تمام زندوں کو ‘ تمام عقلمند زندوں کو اس مذاق کا خیال رکھنا چاہیے۔ موت ہر زندہ چیزکا انجام ہے۔ زمین میں انسان کا ایک مختصر سفر ہے۔ سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہاں سفر کے دوران انسان کو جو حالات پیش آتے ہیں یہ تو اس کے لیے آزمائش ہے ‘ ایک امتحان ہے۔ ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ (12 : 53) ” اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں “۔ شر میں مبتلا کر کے آزمائش سمجھ میں آتی ہے کہ معلوم ہوجائے کہ کون کس قدر صبر کرتا ہے ‘ کس قدر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اسے کس قدر رحمت خداوندی پر یقین ہے لیکن بھلائی اور خیر میں آزمائش کیسی ؟ اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بھلائی اور خیر میں آزمائش زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اگرچہ لوگ اسے شر کی آزمائش سے کم تر سمجھتے ہیں۔ اکثر لوگ شر میں آزمائش کا مقابلہ تو کرلیتے ہیں لیکن خیر میں ان سے آزمائش کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ بیماری اور ضعف میں لوگ شر کا مقابلہ کرتے ہیں لیکن صحت اور عافیت میں کم لوگ آزمائش کا مقابلہ کر ست کے ہیں۔ ان کے پاس اختیارات کی اندھی قوت ہوتی ہے یا جسمانی اندھی قوت ہوتی ہے۔ اس کے استعمال میں وہ فیل ہوجاتے ہیں۔ بیشمار لوگ ایسے ہوں گے جو فقرو فاقہ برداشت کریں گے اور ان کے نفوس کبھی بھی ان کو ذلت اور برے طریقوں پر رزق حرام پر آمادہ نہ کرسکیں گے لیکن کم ہیں جو دولتمندی کی آزمائش میں پورے اتریں۔ دولت کا حق ادا کریں ‘ تکبرو غرور نہ کریں اور عیش و عشرت سے بچیں۔ بہت لوگ ہوں گے جو تشدد کو برداشت کریں گے اور ڈراوے اور دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں گے لیکن کم لوگ ہوں جو امن و عافیت کے دور میں مرغوبات ‘ منصب اور سازو سامان کی کشش کا مقابلہ کرسکیں۔ بہت لوگ ایسے ملیں گے جو مارپیٹ اور جسمانی اذیت اور زخموں کا مقابلہ کریں گے لیکن کم ایسے ہوں گے جو عیش و عشرت سے صبر کرسکیں یا طمع و لالچ کے مقابلے میں سیدھے کھڑے ہو سکیں کیونکہ دنیا کا لالچ بڑے بڑوں کی گردنیں جھکا دیتا ہے اور لوگ اس قدر سست پڑجاتے ہیں کہ ان کی ہمتیں ٹوٹ جاتی ہیں اور روحانی طور پر وہ ذلت اختیار کرلیتے ہیں۔ تشدد اور جسمانی تعذیب کے نتیجے میں انسان کی خودی بیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے اعصاب میں قوت برداشت پیدا ہوجاتی ہے اور جسم کی تمام قوتیں تشدد برداشت کرنے کے لیے صف آرا ہوجاتی ہیں۔ لیکن خو شحالی ! یہ بہت ہی خطرناک ابتلاء ہے۔ اس سے اعصاب ڈھیلے ہوجاتے ہیں۔ جسمانی قوت مدافعت پر غنودگی طاری ہوجاتی ہے اور بیداری اور جدوجہد کی قوت ختم ہوجاتی ہے۔ ہم نے بہت سے ایسے تجربے کئے ہیں کہ تشدد اور جسمانی تعذیب میں ایک کارکن بہت ہی کامیاب رہا ‘ مقابلہ کرتارہا لیکن جب خوشحالی آگئی ‘ تو خوشحالی اور فراوانی کی آزمائش میں وہ فیل ہوگیا ۔ یہ ہے انسان یک کہانی۔ الا وہ لوگ جنہیں اللہ بچالے اور جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :” مومن کی شان بھی عجیب ہے کہ اس کا کام ہر حال میں کامیابی ہے۔ اور یہ سہولت صرف اہل ایمان کو حاصل ہے اور کسی کو نہیں۔ اگر اسے خوشحالی مل جئے تو وہ اس پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے ‘ تو وہ اس کے لیے خیر ہوجاتی ہے ‘ اگر اس پر مشکل دن آجاتے ہیں توہ صبر کرتا ہے ‘ تو یہ برے دن بھی اس کے لیے اچھے ہوجاتے ہیں “۔ لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ لہٰذا انسان کو عموماً اور تحریک اسلامی کے کارکن کو خصوصاً برے دنوں کے مقابلے میں اچھے دنوں میں زیادہ چوکنارہنا چاہیے البتہ دونوں حالات میں رب تعالیٰ کے ساتھ حقیقی تعلق ہی کامیابی کی اصل ضمانت ہے۔

الأنبياء 21:35

وما جعلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والینا ترجعون ” کل نفس ذائقۃ الموت (12 : 53) ” ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے “۔ یہ قانون قدرت اس کرئہ ارض پر حیات پر لاگو ہی اور اس قاعدے میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ لہٰذا تمام زندوں کو ‘ تمام عقلمند زندوں کو اس مذاق کا خیال رکھنا چاہیے۔ موت ہر زندہ چیزکا انجام ہے۔ زمین میں انسان کا ایک مختصر سفر ہے۔ سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہاں سفر کے دوران انسان کو جو حالات پیش آتے ہیں یہ تو اس کے لیے آزمائش ہے ‘ ایک امتحان ہے۔ ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ (12 : 53) ” اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں “۔ شر میں مبتلا کر کے آزمائش سمجھ میں آتی ہے کہ معلوم ہوجائے کہ کون کس قدر صبر کرتا ہے ‘ کس قدر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اسے کس قدر رحمت خداوندی پر یقین ہے لیکن بھلائی اور خیر میں آزمائش کیسی ؟ اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بھلائی اور خیر میں آزمائش زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اگرچہ لوگ اسے شر کی آزمائش سے کم تر سمجھتے ہیں۔ اکثر لوگ شر میں آزمائش کا مقابلہ تو کرلیتے ہیں لیکن خیر میں ان سے آزمائش کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ بیماری اور ضعف میں لوگ شر کا مقابلہ کرتے ہیں لیکن صحت اور عافیت میں کم لوگ آزمائش کا مقابلہ کر ست کے ہیں۔ ان کے پاس اختیارات کی اندھی قوت ہوتی ہے یا جسمانی اندھی قوت ہوتی ہے۔ اس کے استعمال میں وہ فیل ہوجاتے ہیں۔ بیشمار لوگ ایسے ہوں گے جو فقرو فاقہ برداشت کریں گے اور ان کے نفوس کبھی بھی ان کو ذلت اور برے طریقوں پر رزق حرام پر آمادہ نہ کرسکیں گے لیکن کم ہیں جو دولتمندی کی آزمائش میں پورے اتریں۔ دولت کا حق ادا کریں ‘ تکبرو غرور نہ کریں اور عیش و عشرت سے بچیں۔ بہت لوگ ہوں گے جو تشدد کو برداشت کریں گے اور ڈراوے اور دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں گے لیکن کم لوگ ہوں جو امن و عافیت کے دور میں مرغوبات ‘ منصب اور سازو سامان کی کشش کا مقابلہ کرسکیں۔ بہت لوگ ایسے ملیں گے جو مارپیٹ اور جسمانی اذیت اور زخموں کا مقابلہ کریں گے لیکن کم ایسے ہوں گے جو عیش و عشرت سے صبر کرسکیں یا طمع و لالچ کے مقابلے میں سیدھے کھڑے ہو سکیں کیونکہ دنیا کا لالچ بڑے بڑوں کی گردنیں جھکا دیتا ہے اور لوگ اس قدر سست پڑجاتے ہیں کہ ان کی ہمتیں ٹوٹ جاتی ہیں اور روحانی طور پر وہ ذلت اختیار کرلیتے ہیں۔ تشدد اور جسمانی تعذیب کے نتیجے میں انسان کی خودی بیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے اعصاب میں قوت برداشت پیدا ہوجاتی ہے اور جسم کی تمام قوتیں تشدد برداشت کرنے کے لیے صف آرا ہوجاتی ہیں۔ لیکن خو شحالی ! یہ بہت ہی خطرناک ابتلاء ہے۔ اس سے اعصاب ڈھیلے ہوجاتے ہیں۔ جسمانی قوت مدافعت پر غنودگی طاری ہوجاتی ہے اور بیداری اور جدوجہد کی قوت ختم ہوجاتی ہے۔ ہم نے بہت سے ایسے تجربے کئے ہیں کہ تشدد اور جسمانی تعذیب میں ایک کارکن بہت ہی کامیاب رہا ‘ مقابلہ کرتارہا لیکن جب خوشحالی آگئی ‘ تو خوشحالی اور فراوانی کی آزمائش میں وہ فیل ہوگیا ۔ یہ ہے انسان یک کہانی۔ الا وہ لوگ جنہیں اللہ بچالے اور جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :” مومن کی شان بھی عجیب ہے کہ اس کا کام ہر حال میں کامیابی ہے۔ اور یہ سہولت صرف اہل ایمان کو حاصل ہے اور کسی کو نہیں۔ اگر اسے خوشحالی مل جئے تو وہ اس پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے ‘ تو وہ اس کے لیے خیر ہوجاتی ہے ‘ اگر اس پر مشکل دن آجاتے ہیں توہ صبر کرتا ہے ‘ تو یہ برے دن بھی اس کے لیے اچھے ہوجاتے ہیں “۔ لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ لہٰذا انسان کو عموماً اور تحریک اسلامی کے کارکن کو خصوصاً برے دنوں کے مقابلے میں اچھے دنوں میں زیادہ چوکنارہنا چاہیے البتہ دونوں حالات میں رب تعالیٰ کے ساتھ حقیقی تعلق ہی کامیابی کی اصل ضمانت ہے۔

الأنبياء 21:36

درس نمبر 141 ایک نظر میں اس سے قبل کے سبق میں ہم نے دور تک اس کائنات کا سفر کیا۔ اس کائنات میں قوانین قدرت کا مطالعہ کیا ‘ انسانیت کا انجام تاریخی واقعات کی روشنی میں دیکھا۔ اس سبق میں روئے سخن اسی مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے جس کا سورة کے آغاز میں ہم نے مطالعہ کرلیا ہے کہ مشرکین نے حضور ﷺ کا اور آپ پر آنے والی وحی کا استقبال مذاق سے کیا اور شرک پر اصرار کرتے رہے۔ اس کے بعد اس سبق میں انسان کی فطرت کی عجلت پسندی اور سیہاہیت کا ذکر ہوا ہے یہاں تک کہ یہ لوگ عذابالہٰی لے آنے میں بھی بہت جلدی کرتے ہیں۔ ان کو ان کی اس حرکت پر متنبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ مذاق کرنے کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ان کو ان کی اس حرکت پر متنبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ مذاق کرنے کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ان کو اس سبق میں یہاں با اثر ‘ غالب اور اقتدار قبضہ کرنے والوں کے سایہ اقتدار کے سکڑنے کا ایک منظر بھی دکھایا جاتا ہے اور عذاب آخرت کا ایک منظر بھی دیکھا یا جاتا ہے۔ سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ یوم آخرت میں مجرمین سے سخت حساب لیاجائے گا۔ چناچہ آخر میں حساب آخرت ‘ قوانین فطرت ‘ انسان کی فطرت اور انسان کی زندگی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور داعیان اسلام کے بارے میں سنت الہیہ کے مضامین کو باہم ملایا جاتا ہے۔ واذا راک الذین۔۔۔۔ کفرون (62) یہ کفار خود تو رحمن کے وجود ہی کا انکار کرتے ہیں ‘ حالانکہ وہ اس کائنات کا خالق اور مدبر ہے اور رسول اللہ ﷺ کی جانب ان کے الہوں اور بتوں پر جو معقول تبصرہ کیا جاتا ہے اسے پسند نہیں کرتے لیکن وہ خود جب رحمن کا انکار کرتے ہیں تو اس میں کوئی ہرج محسوس نہیں کرتے حالانکہ وہ رحمن کے بندے ہیں اور پھر قرآنی تعلیمات کا انکار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی فطرت میں بےحد بگاڑ پیدا ہوچکا ہے اور وہ جس پیمانے سے دیتے ہیں اس سے لیتے نہیں ‘ اور حقائق کا فیصلہ غلط کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ان کو جس عذاب الٰہی سے ڈراتے ہیں ‘ اس کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جلدی کیوں نہیں اتا حالانکہ حضور ﷺ ان کو اس سے ڈراتے ہیں۔ یہ جلدی وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں جلد بازی ہے۔

الأنبياء 21:37

خلق الانسان۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین ” انسان پیدا ہی جلد بازی سے کیا گیا ہے۔ عجلت اس کے مزاج اور اس کی تخلیق میں رکھی گئی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی نظریں اس پر لگائے رکھتا ہے کہ مستقبل کے پردے کے پیچھے سے کیا نمودار ہوتا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مستقبل کے راز بھی یہ ہاتھ میں لے لے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے تمام تاثرات حقیقت کا روپ اختیارکر لیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ جو وعدے ہوتے ہیں وہ اس کے سامنے آجائیں اگرچہ انمیں اس کو تکلیف ہی ملے۔ یہ صورت حال تب بدلتی ہے جب انسان کا رابطہ اللہ کے ساتھ قائم ہوجائے۔ اس صورت میں اس کی زندگی میں ٹھہرائو آجاتا ہے۔ وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیتا ہے ‘ پھر جلد بازی نہیں کرتا۔ ایمان نام ہی یقین ‘ صبر اور اطمینان کا ہے۔ یہ مشرکین جو عذاب کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتی ہیں کہ جلدی کیوں نہیں آتا ‘ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی یعنی عذاب آخرت کب ہوگا اور عذاب دنیا کب آئے گا جس سے تم ڈراتے ہو۔ اس موقع پر صرف عذاب آخرت کا ایک منظر ان کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے اور ڈرایا جاتا ہے کہ تم سے قبل بھی کئی لوگوں نے اس قسم کا مذاق کیا تھا ‘ لیکن جب عذاب آیا تو وہ سامان عبرت بن گئے۔

الأنبياء 21:38

خلق الانسان۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین ” انسان پیدا ہی جلد بازی سے کیا گیا ہے۔ عجلت اس کے مزاج اور اس کی تخلیق میں رکھی گئی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی نظریں اس پر لگائے رکھتا ہے کہ مستقبل کے پردے کے پیچھے سے کیا نمودار ہوتا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مستقبل کے راز بھی یہ ہاتھ میں لے لے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے تمام تاثرات حقیقت کا روپ اختیارکر لیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ جو وعدے ہوتے ہیں وہ اس کے سامنے آجائیں اگرچہ انمیں اس کو تکلیف ہی ملے۔ یہ صورت حال تب بدلتی ہے جب انسان کا رابطہ اللہ کے ساتھ قائم ہوجائے۔ اس صورت میں اس کی زندگی میں ٹھہرائو آجاتا ہے۔ وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیتا ہے ‘ پھر جلد بازی نہیں کرتا۔ ایمان نام ہی یقین ‘ صبر اور اطمینان کا ہے۔ یہ مشرکین جو عذاب کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتی ہیں کہ جلدی کیوں نہیں آتا ‘ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی یعنی عذاب آخرت کب ہوگا اور عذاب دنیا کب آئے گا جس سے تم ڈراتے ہو۔ اس موقع پر صرف عذاب آخرت کا ایک منظر ان کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے اور ڈرایا جاتا ہے کہ تم سے قبل بھی کئی لوگوں نے اس قسم کا مذاق کیا تھا ‘ لیکن جب عذاب آیا تو وہ سامان عبرت بن گئے۔

الأنبياء 21:39

لویعلم الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ ماکانوا بہ یستھزء ون (93 : 14) ” اگر انکو علم ہوجائے کہ ان کی حالت کیا ہوگی ‘ تو ان کا رویہ یہ نہ ہوتا ‘ جواب ہے۔ یہ عذاب میں نہ جلدی کا مطالبہ کرتے اور نہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے۔ ان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس وقت ہوگا کیا۔ وہاں ان کی حالت یہ وہگی کہ ہر طرف سے آگے کے شعلے انہیں نوچ رہے ہوں گے ‘ جھلسا رہے ہوں گے اور یہ اپنے آپ کو بچانے کی نااکم کوششیں کررہے ہوں گے ‘ قرآن اس کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ چہروں پر شعلے حملہ کریں گے ‘ پیٹھوں پر کریں گے اور یہ کسی طرح کا دفاع نہ کرسکیں گے بلک یہ آگ ہمہ جہست ان پر شعلہ بار ہوگی اور یہ کسی شعلے کو رد نہ کرسکیں گے ‘ نہ موخر کرسکیں اور نہ انکو اس عذاب سے ذرا سی مہلت ملے گی۔ یہ آگ اچانک ان پر آئے گی ‘ اس لیے کہ یہ لوگ بہت جلدی کرتے تھے۔ ان لوگوں کا تو تکیہ کلام ہی یہ تھا۔ متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین (12 : 83) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو “۔ اس کا جواب تو یہ ہوا کہ اچانک ان پر ہر طرف سے شعلہ باری ہوگی۔ وہ حیران ہوجائیں گے اور ان کی عقل اب کچھ نہ کرسکے گی۔ نہ سوچ سکیں اور نہ کوئی دفاع کرسکیں گے اور نہ دفاعی منصوبہ بندی کے لیے کوئی مہلت ملے گی۔ یہ تو ہوگا آخرت کا عذاب۔ رہا دنیا کا عذاب تو وہ اس قسم کے مذاق کرنے والوں پر تاریخ میں بار بار آیا ہے۔ مشرکین مکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر چہ اللہ نے ان کے لیے سرے سے مٹانے کا عذاب مقدر نہیں کیا لیکن قتل ‘ قید اور مغلوبیت کا عذاب تو تم پر آسکتا ہے۔ لہٰذا اس کم درجے کے عذاب سے بھی یہ مذاق کرنے والے محفوظ نہیں ہیں۔ ورنہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرنے والوں کا انجام تو تاریخ نے بار ہاریکارڈ کیا ہے۔ جب یہ سنت الہیہ کے مطابق آتا ہے تو پھر ملتا نہیں ہے اور اس کے نظارے ان لوگوں کی تاریخ میں کئی ہیں جو رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے رہے ہیں۔ آیا رحمن کے سوا اور کوئی ہے جو رات اور دن انہیں بیشمار مصیبتوں سے بچاتا ہے۔ کیا دنیا کے عذاب یا آخرت کے عذاب سے ‘ اللہ کے سوا انہیں کوئی اور بچانے والا ہے کہ یہ اس قدر شتابی کرتے ہیں ؟

الأنبياء 21:40

لویعلم الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ ماکانوا بہ یستھزء ون (93 : 14) ” اگر انکو علم ہوجائے کہ ان کی حالت کیا ہوگی ‘ تو ان کا رویہ یہ نہ ہوتا ‘ جواب ہے۔ یہ عذاب میں نہ جلدی کا مطالبہ کرتے اور نہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے۔ ان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس وقت ہوگا کیا۔ وہاں ان کی حالت یہ وہگی کہ ہر طرف سے آگے کے شعلے انہیں نوچ رہے ہوں گے ‘ جھلسا رہے ہوں گے اور یہ اپنے آپ کو بچانے کی نااکم کوششیں کررہے ہوں گے ‘ قرآن اس کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ چہروں پر شعلے حملہ کریں گے ‘ پیٹھوں پر کریں گے اور یہ کسی طرح کا دفاع نہ کرسکیں گے بلک یہ آگ ہمہ جہست ان پر شعلہ بار ہوگی اور یہ کسی شعلے کو رد نہ کرسکیں گے ‘ نہ موخر کرسکیں اور نہ انکو اس عذاب سے ذرا سی مہلت ملے گی۔ یہ آگ اچانک ان پر آئے گی ‘ اس لیے کہ یہ لوگ بہت جلدی کرتے تھے۔ ان لوگوں کا تو تکیہ کلام ہی یہ تھا۔ متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین (12 : 83) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو “۔ اس کا جواب تو یہ ہوا کہ اچانک ان پر ہر طرف سے شعلہ باری ہوگی۔ وہ حیران ہوجائیں گے اور ان کی عقل اب کچھ نہ کرسکے گی۔ نہ سوچ سکیں اور نہ کوئی دفاع کرسکیں گے اور نہ دفاعی منصوبہ بندی کے لیے کوئی مہلت ملے گی۔ یہ تو ہوگا آخرت کا عذاب۔ رہا دنیا کا عذاب تو وہ اس قسم کے مذاق کرنے والوں پر تاریخ میں بار بار آیا ہے۔ مشرکین مکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر چہ اللہ نے ان کے لیے سرے سے مٹانے کا عذاب مقدر نہیں کیا لیکن قتل ‘ قید اور مغلوبیت کا عذاب تو تم پر آسکتا ہے۔ لہٰذا اس کم درجے کے عذاب سے بھی یہ مذاق کرنے والے محفوظ نہیں ہیں۔ ورنہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرنے والوں کا انجام تو تاریخ نے بار ہاریکارڈ کیا ہے۔ جب یہ سنت الہیہ کے مطابق آتا ہے تو پھر ملتا نہیں ہے اور اس کے نظارے ان لوگوں کی تاریخ میں کئی ہیں جو رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے رہے ہیں۔ آیا رحمن کے سوا اور کوئی ہے جو رات اور دن انہیں بیشمار مصیبتوں سے بچاتا ہے۔ کیا دنیا کے عذاب یا آخرت کے عذاب سے ‘ اللہ کے سوا انہیں کوئی اور بچانے والا ہے کہ یہ اس قدر شتابی کرتے ہیں ؟

الأنبياء 21:41

لویعلم الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ ماکانوا بہ یستھزء ون (93 : 14) ” اگر انکو علم ہوجائے کہ ان کی حالت کیا ہوگی ‘ تو ان کا رویہ یہ نہ ہوتا ‘ جواب ہے۔ یہ عذاب میں نہ جلدی کا مطالبہ کرتے اور نہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے۔ ان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس وقت ہوگا کیا۔ وہاں ان کی حالت یہ وہگی کہ ہر طرف سے آگے کے شعلے انہیں نوچ رہے ہوں گے ‘ جھلسا رہے ہوں گے اور یہ اپنے آپ کو بچانے کی نااکم کوششیں کررہے ہوں گے ‘ قرآن اس کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ چہروں پر شعلے حملہ کریں گے ‘ پیٹھوں پر کریں گے اور یہ کسی طرح کا دفاع نہ کرسکیں گے بلک یہ آگ ہمہ جہست ان پر شعلہ بار ہوگی اور یہ کسی شعلے کو رد نہ کرسکیں گے ‘ نہ موخر کرسکیں اور نہ انکو اس عذاب سے ذرا سی مہلت ملے گی۔ یہ آگ اچانک ان پر آئے گی ‘ اس لیے کہ یہ لوگ بہت جلدی کرتے تھے۔ ان لوگوں کا تو تکیہ کلام ہی یہ تھا۔ متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین (12 : 83) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو “۔ اس کا جواب تو یہ ہوا کہ اچانک ان پر ہر طرف سے شعلہ باری ہوگی۔ وہ حیران ہوجائیں گے اور ان کی عقل اب کچھ نہ کرسکے گی۔ نہ سوچ سکیں اور نہ کوئی دفاع کرسکیں گے اور نہ دفاعی منصوبہ بندی کے لیے کوئی مہلت ملے گی۔ یہ تو ہوگا آخرت کا عذاب۔ رہا دنیا کا عذاب تو وہ اس قسم کے مذاق کرنے والوں پر تاریخ میں بار بار آیا ہے۔ مشرکین مکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر چہ اللہ نے ان کے لیے سرے سے مٹانے کا عذاب مقدر نہیں کیا لیکن قتل ‘ قید اور مغلوبیت کا عذاب تو تم پر آسکتا ہے۔ لہٰذا اس کم درجے کے عذاب سے بھی یہ مذاق کرنے والے محفوظ نہیں ہیں۔ ورنہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرنے والوں کا انجام تو تاریخ نے بار ہاریکارڈ کیا ہے۔ جب یہ سنت الہیہ کے مطابق آتا ہے تو پھر ملتا نہیں ہے اور اس کے نظارے ان لوگوں کی تاریخ میں کئی ہیں جو رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے رہے ہیں۔ آیا رحمن کے سوا اور کوئی ہے جو رات اور دن انہیں بیشمار مصیبتوں سے بچاتا ہے۔ کیا دنیا کے عذاب یا آخرت کے عذاب سے ‘ اللہ کے سوا انہیں کوئی اور بچانے والا ہے کہ یہ اس قدر شتابی کرتے ہیں ؟

الأنبياء 21:42

قل من یکلئو کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولاھم منا یصحبون (24 : 34) ’ اللہ رات دن ہر ذی روح کو مختلف مضرتوں سے بچانے والا ہے۔ یہ صفت رحمن ہے یعنی بہت زیادہ مہربان۔ اللہ کے سوا اور کوئی ذات بچانے والی یا مدد گار نہیں ہے۔ اے پیغمبر ‘ ان سے پوچھو کہ اللہ کے سوا ہے کوئی اور تمہارا حامی اور محافظ ؟ یہ سوال دراصل سرزنش اور توبیخ کے لیے کیا گیا ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی کوئی نہیں ہے۔ تم بہت بڑی غفلت میں پڑے ہوئے ہو یہ تو اللہ ہی ہے جو رات اور دن تمہیں بچاتا ہے اور اس کے سوا کوئی بھی بچانے والا یا حفاظت کرنے والا نہیں ہے۔ بل ھم۔۔۔۔ معرضون (12 : 24) ” مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑتے ہیں “۔ اسی سوال کو ایک دوسری صورت میں ان سے پوچھا جاتا ہے۔ ام لھم۔۔۔۔۔۔ من دو ننا (12 : 24) ” کیا یہ کوئی ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں “۔ تاکہ یہی الہٰ دوسرے معاملات میں ان کی حمایت و حفاظت کریں ‘ ہر گز نہیں۔ ان کے جو الہٰ ہیں ان کی حالت یہ ہے۔ لایستطیعون نصر انفسھم (12 : 34) ” وہ تو خود اپنی مدد نہیں کرسکتے “۔ جب وہ اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے تو دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔ ولا ھم منا یصحبون (12 : 34) ” اور نہ ہماری تائید ان کو حاصل ہے اور نہ دوستی کہ ایک صاحب قوت سے کوئی قوت حاصل کرلیں۔ جیسا کہ ہارون اور موسیٰ علیہم اسلام نے اللہ سے تائید حاصل کی جب اللہ نے کہا جائو فرعون کی طرف۔ اننی معکما اسمع واری ” میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں “۔ یہ الہٰ تو بذات خود کسی قسم کی قوت نہیں رکھتے۔ نہ ان کو اللہ کی تائید حاصل ہے لہٰذا وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتے۔ مشرکین کے اعتقادات کی اس کمزوری کی نشاندہی کے بعد اور ان کے ساتھ یہ مذاق کرنے کے بعد اور یہ دیکھنے کے بعد کہ ان کا استدلال دلیل سے خالی ہے سیاق کلام ان کے ساتھ بحث ختم کرکے اس موضوع پر بحث کرتا ہے کہ وہ اس انداز سے کیوں الجھتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ کچھ تو غور کرو ‘ وست قدرت کو دیکھو کہ وہ کس طرح ان کبراء کے اثرو رسوخ کو کم کرکے ان کے پیروں تلے سے زمین نکال رہا ہے۔ انکے اثرو رسوخ اک دائرہ تنگ ہو رہا ہے ‘ حالانکہ وہ وسیع علاقے میں بااثر تھے۔ انکو قوت حاصل تھی اور بڑا اقتدار تھا انکا۔

الأنبياء 21:43

قل من یکلئو کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولاھم منا یصحبون (24 : 34) ’ اللہ رات دن ہر ذی روح کو مختلف مضرتوں سے بچانے والا ہے۔ یہ صفت رحمن ہے یعنی بہت زیادہ مہربان۔ اللہ کے سوا اور کوئی ذات بچانے والی یا مدد گار نہیں ہے۔ اے پیغمبر ‘ ان سے پوچھو کہ اللہ کے سوا ہے کوئی اور تمہارا حامی اور محافظ ؟ یہ سوال دراصل سرزنش اور توبیخ کے لیے کیا گیا ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی کوئی نہیں ہے۔ تم بہت بڑی غفلت میں پڑے ہوئے ہو یہ تو اللہ ہی ہے جو رات اور دن تمہیں بچاتا ہے اور اس کے سوا کوئی بھی بچانے والا یا حفاظت کرنے والا نہیں ہے۔ بل ھم۔۔۔۔ معرضون (12 : 24) ” مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑتے ہیں “۔ اسی سوال کو ایک دوسری صورت میں ان سے پوچھا جاتا ہے۔ ام لھم۔۔۔۔۔۔ من دو ننا (12 : 24) ” کیا یہ کوئی ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں “۔ تاکہ یہی الہٰ دوسرے معاملات میں ان کی حمایت و حفاظت کریں ‘ ہر گز نہیں۔ ان کے جو الہٰ ہیں ان کی حالت یہ ہے۔ لایستطیعون نصر انفسھم (12 : 34) ” وہ تو خود اپنی مدد نہیں کرسکتے “۔ جب وہ اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے تو دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔ ولا ھم منا یصحبون (12 : 34) ” اور نہ ہماری تائید ان کو حاصل ہے اور نہ دوستی کہ ایک صاحب قوت سے کوئی قوت حاصل کرلیں۔ جیسا کہ ہارون اور موسیٰ علیہم اسلام نے اللہ سے تائید حاصل کی جب اللہ نے کہا جائو فرعون کی طرف۔ اننی معکما اسمع واری ” میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں “۔ یہ الہٰ تو بذات خود کسی قسم کی قوت نہیں رکھتے۔ نہ ان کو اللہ کی تائید حاصل ہے لہٰذا وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتے۔ مشرکین کے اعتقادات کی اس کمزوری کی نشاندہی کے بعد اور ان کے ساتھ یہ مذاق کرنے کے بعد اور یہ دیکھنے کے بعد کہ ان کا استدلال دلیل سے خالی ہے سیاق کلام ان کے ساتھ بحث ختم کرکے اس موضوع پر بحث کرتا ہے کہ وہ اس انداز سے کیوں الجھتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ کچھ تو غور کرو ‘ وست قدرت کو دیکھو کہ وہ کس طرح ان کبراء کے اثرو رسوخ کو کم کرکے ان کے پیروں تلے سے زمین نکال رہا ہے۔ انکے اثرو رسوخ اک دائرہ تنگ ہو رہا ہے ‘ حالانکہ وہ وسیع علاقے میں بااثر تھے۔ انکو قوت حاصل تھی اور بڑا اقتدار تھا انکا۔

الأنبياء 21:44

بل متعنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افھم الغلبون (44) ” ۔ درحقیقت ہم نے ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو موروثی طور پر خوشحال بنایا تھا ‘ اسدولتمندی نے ان کی فطرت کو بگاڑ دیا تھا۔ ان کا دماغ خراب ہوگیا تھا۔ اور انکے احساسات اور میلانات بدل گئے تھے۔ خدا کے ساتھ ان کا تعلق کمزور پڑگیا تھا اور اس کائنات میں ذات باری پر دلالت کرنے والے جس قدر دلائل تھے ان پر یہ غور نہ کرتے تھے۔ یہ تھی ان کی آزمائش مگر یہ آزمائش خوشحالی کے ساتھ کی گئی اور خوشحالی میں اگر اللہ کسی کا امتحان لے تو وہ سخت ہوتا ہے حالانکہ دولتمندی میں یاد الہٰی اور اللہ کے ساتھ تعلق کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ قرآن مجید ان لوگوں کے احساس کو ایک دوسرا منظر پیش کرکے جگا نا چاہتا ہے۔ یہ منظر بھی ہر وقت اس کرئہ ارض پر حقیقی واقعات کی شکل میں دہریایا جاتا ہے کہ ایک بڑی مملکت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر سکڑ جاتی ہے ایک عظیم مملکت سے چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن جاتی ہیں۔ ایک بڑی قوت ہونے اور دنیا پر غالب ہونے کے بعد یہ مغلوب ریاستیں بن جاتی ہے۔ اور ایک نہایت ہی بڑی ریاست چھوٹی ریاست بن جاتی ہے۔ بڑی تعدا کم تعداد ہوجاتی ہے اور مالدار مملکت کے بجائے ایک غریب مملکت بن جاتی ہے۔ انداز کلام یوں ہے کہ وست قدرت ان بڑی بڑی مملکتوں کو سیکڑ دیتا ہے۔ جب تخیل اپنا کام کرتا ہے تو نہایت خوں انگیز منظر سامنے آتا ہے۔ اقوام کے مددجزر کی وھیمی حرکت نہایت ہی خوفناک نتائج پیدا کرتی ہے۔ افھم الغلبون (12 : 44) ” کیا یہی غالب ہوں گے “۔ کیا ان کے ساتھ وہی کچھ نہ ہوگا جو دوسری اقوام کے ساتھ رات اور دن ہو رہا ہے۔ اقوام کے مدد جزر کے اس خوفناک منظر کے بعد حضور اکرم ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ ان کو ایک آخری ڈر اوا اور وارننگ دے دیں۔

الأنبياء 21:45

قل انمآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا ماینذرون (54) ” لوگوخیال کرو ‘ کہیں تم بہرے تو نہیں ہو۔ تم کیوں نہیں سنتے۔ ورنہ تمہارے پیروں تلے سے زمین سرک جائے گی اور دست قدرت تمہیں سیکڑ کر رکھ دے گا۔ ان کو دولت کے گھمنڈ اور مالدری کی مستی سے ڈرایا جاتا ہے۔ سیاق کلام اپنی موثر بات مزید بڑھاتا ہے اور عذاب کے وقت خود ان کی تصویری حالت ان کو بتاتا ہے۔

الأنبياء 21:46

ولئن مستھم۔۔۔۔۔۔۔۔ انا کنا ظلمین ” ۔ لفظ نفحہ کا اطلاق خیر اور رحمت کے مفہوم میں ہوتا ہے یعنی جھونکا۔ یہاں مراد ہے عذاب الہٰی یعنی عذاب الہیٰ کا ایک ہلکا جھونکا بھی انہیں چھو جائے تو یہ اعتراف گناہ کرلیں گے لیکن اس وقت پھر اعتراف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اس سے کقبل اس سورة میں بستیوں والوں کی یہ پکار گزر گئی ہے کہ جب ان پر عذاب آیا تو انہوں نے اعتراف کرلیا۔ یویلنآ۔۔۔۔۔۔ خمدین (51) (12 : 41۔ 51) ” ہائے ہماری کم بختی ‘ بیشک ہم خطا وار تھے اور یہی پکار تے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کردیا ‘ زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا “۔ لیکن یہ اعتراف بعد ازوقت تھا۔ لہٰذا ان کے لیے بہتر ہے کہ اس تنبیہ کو قبل ازوقت قبول کرلیں قبل اسکے کہ عذاب الہی کا ایک جھونکا ان پر آجائے۔ یہ سبق قیامت کے حساب و کتاب کے ایک آخری منظر پر ختم ہوتا ہے۔

الأنبياء 21:47

ونضع الموازین۔۔۔۔۔۔ حسبین (74) ” رائی کے دانے سیمراد چھوٹی سے چھوٹی چیز ہے جو ترازو میں بہت ہی ہلکی ہو۔ یوم حساب میں اسے بھی نظر انداز نہ کیا جاسکے گا اور اس قدر حساس میزان ہوگا کہ حبہ خرولی سے بھی ترازو اوپر نیچے ہوگا۔ لہٰذا ہر نپس کو کل کے لیے زیادہ سے زیادہ بچت کرنا چاہیے۔ دلوں کو چاہیے کہ وہ ڈرانے والے کی طرف کان لگا کر سنیں۔ غافلوں ‘ منہ موڑنے والوں اور مذاق کرنے والوں کو چاہیے کہ اس سے پہلے سنبھل جائیں کہ دنیا کے عذاب کا کوئی جھونکا انہیں آلے یا آخرت کے عذاب کا کوئی کوڑا ان کی پشت پر چسپاں ہوچکا ہو۔ اگر دنیا کے عذاب سے وہ بچ بھی جائیں تو عذاب آخرت تو ان کے لیے تیار ہے جسکے میزان میں کوئی ظلم نہ ہوگا ‘ رائی کے دانے کے برابر بھی۔ اس طرح آخرت کی نہایت ہی حساس میزان کو اس کائنات کے نہایت ہی حساس قوانین فطرت کیساتھ ہم آہنگ کردیا گیا ہے اسی طرح دعوت کے احوال اور انسانوں کی فطرت کو باہم مربوط کردیا گیا ہے اور ان سب امور کو دست قدرت کی تصرفات قرار دے کر ان سے ادارہ واحد ثابت کیا جو اس کائنات کی پشت پر کام کرتا ہے اور یہی دلیل ہے عقیدہ توحید پر۔

الأنبياء 21:48

درس نمبر 241 ایک نظر میں اس سورة کا یہ تیسرا سبق تمام رسولوں کے گروہ پر ایک سرسری نظر ہے۔ اس میں تمام رسولوں کا احاطہ تو نہیں کیا گیا لیکن بڑے بڑے رسولوں کا ذکر ہے۔ بعض کی طرف اس میں نہایت ہی مختصر اشارہ ہے اور بعض کے بارے میں ذرا تفصیلی ذکر ہے اور بعض کا مختصر ذکر ہے۔ ان تمام اشارات اور مفصل اور مختصر تذکروں میں یہ بات نظر آتی ہے کہ اللہ نے اپنے رسولوں پر کیا کیا رحمتیں کیں اور جن لوگوں نے تببیہات اور معجزات دیکھ کر بھی ان کی تکذیب کی ان کا انجام کیا ہوا۔ نیز ان میں رسولوں کی آزمائش کے بھی واقعات ہیں۔ بعض اوقات انہیں خیر میں آزمایا گیا اور بعض اوقات شر میں اور یہ کہ وہ ان امتحانوں میں کس طرح کامیاب رہے۔ پھر اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں میں سے رسول بھیجے اور ان کا نظریہ بھی ایک ہی رہا۔ عقیدے کے ساتھ ساتھ فریضہ رسالت کی ادائیگی میں ان کا طریقہ کار بھی ایک رہا اور زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود یوں نظر آتا ہے کہ وہ ایک ہی امت اور گروہ ہیں۔ رسولوں کا ایک نظریہ اور ایک امت ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ایک ہے ‘ اس لیے رسولوں کا عقیدہ ایک عقیدہ دینے والا ایک ‘ اس کائنات کی اندر قوانین فطرت پیدا کرنے والا ایک اور ان تمام رسولوں کو ‘ انسانوں کو ‘ کائنات کو ایک ہی جہت میں ایک ہی خدا کیساتھ مربوط کرنا بھی اس سبق سے معلوم ہوتا ہے۔ انا ربکم فاعبدون ” میں تمہارا رب ہوں لہٰذا میری اطاعت کرو “۔ درس نمبر 241 تشریح آیات 84۔۔ تا۔۔۔۔ 29 ولقد اتینا موسی۔۔۔۔۔۔ افانتم لہ منکرون (84 : 05) ” اس سورة میں یہ بات آئی تھی کہ مشرکین نبی ﷺ کے ساتھ مذاق کرتی تھے کہ آپ رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ آپ ہم جیسے بشر ہیں ‘ پھر وہ قرآن مجید کو وحی ماننے کے بجائے یہ کہتے تھے کہ یہ سحر ہے ‘ یا شعر ہے یا افتراء پر دازی ہے۔ چناچہ اس پوریے سبق میں ان کے اس الزام کا جواب ہے کہ رسول اس سے قبل بھی بھیجے گئے اور یہ سنت الہیہ ہے کہ تمام رسول بشر تھے اور کتاب بھیجنا بھی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی رسولوں کو کتابیں دی گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو کتاب دی گئی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی گئی تھی وہ بھی فرقان تھی۔ فرقان قرآن کی بھی صفت ہے۔ گویا تمام رسولوں کا سلسلہ بھی ایک ہے ‘ کتابیں بھی ایک ہیں ‘ اور ان کی صفات بھی ایک ہیں ‘ کیونکہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتب حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی تھیں ‘ اس لیے ان کو فرقان کہا گیا۔ یہ ہدایت و ضلالت کی درمیان تمیز کرتی تھیں۔ یہ اسلامی نظام حیات اور جاہلی نظام کے درمیان فرق کرتی تھیں۔ یہاسلامی رحجانات اور غیر اسلامی رحجانات میں فرق کرتی تھیں اس لیے ان کو عمومی طور پر فرقان کہا گیا اور تورات اور قرآن کو صراحت کے ساتھ کہا گیا کہ وہ فرقان ہیں۔ تورات کو یہاں روشنی بھی کہا گیا ‘ اس لیے کہ وہ نظریات و افکار کی ظلمتوں کو روشن کرنے والی تھی ‘ باطل کے اندھیروں کو دور کرنے والی تھی ‘ اور یہ ایسے اندھیرے ہوتے ہیں جن میں عقل و خرد ‘ ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرتے ہیں اور انسان کی دلی دنیا پر اس وقت تک سورج طلوع نیں ہوتا جب تک اس کے اندر شعلہ ایمان روشن نہ ہو اور وہ اپنے ماحول کو روشن نہ کرے۔ اس کو زندگی کا منہاج نہ دے دے اور زندگی کے اقدامات کی سمت متعین نہ کردے تاکہ اقدار ‘ منصوبوں اور مطالب کے درمیان اختلاف پیدا نہ ہو۔ تورات بھی قرآن کی طرح متقین کے لیے ذکر اور ہدایت تھی۔ یعنی تورات کے ذریعہ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا ذکر آج تک ہے جبکہ تورات سے قبل بنی اسرائیل کی کیا تاریخی حیثیت تھی ؟ پہلے وہ فرعون کے غلام تھے۔ جو انکے بیٹوں کو ذبح کرتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ اور انکو ذلت کے ساتھ اور تشدد کے تحت رکھتا ۔ یہاں متقین کے ساتھ یہ صفت بھی لگائی گئی کہ وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

الأنبياء 21:49

الذین یخشون ربھم بالغیب (12 : 94) ” جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈریں “۔ اس لیے کہ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور انہوں نے اللہ کو دیکھا ہی نہ ہو اور وھم من الساعۃ مشفقون (12 : 94) ” اور ان کو اس گھڑی کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ اور اس کے لیے تیاری اور عمل کرتے ہوں تو ایسے ہی لوگ اس روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور راہ ہدایت اختیار کرتے ہیں اس لیے ایسے لوگوں کے لیے کتاب نصیحت بن جاتی ۔ یہ ان کو اللہ کی طرف مڑنے کی یاد دہانی کراتی رہتی ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کے اندر ان کا تذکرہ ہوتا ہے گویا وہ ان کی پہچان بن جاتی ہے۔ یہ تھی حضرت موسیٰ اور ہارون کی شان وھذا ذکر مبرک (12 : 05) ” اب یہ بابرکت ذکر ہم نے نازل کیا ہے “۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے ‘ کوئی عجیب چیز نہیں ہے۔ یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے جو پہلے ہوتا رہا ہے۔ یہ اللہ کی معلوم و معروف سنت ہے۔ افانتم لہ منکرون (12 : 05) ” پھر کیا تم اسے قبول کرنے سے انکاری ہو “۔ آخر اس میں تمہیں کیا چیز انوکھی لگ رہی ہے۔ کیا اس سے قبل اللہ کے رسول نہیں آتے رہے۔ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کے قصے پر ایک نہایت ہی سرسری نظر ڈالنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی ایک مکمل کڑی یہاں دی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عربوں کے جداکبر ہیں۔ خانہ کعبہ کے بانی ہیں ‘ جس کو قریش نے بتوں سے بھر رکھا تھا اور رات اور دن ان کی بندگی اور پرستش کرتے تھے حالانکہ حضرت ابراہیم تو مشہور ہی اس لیے تھے کہ انہوں نے بت توڑے تھے۔ یہاں ان کے قصے کو پیش کرنے کا مطلب بھی یہ ہے کہ تم بتوں کی پرستش کرتے ہو ‘ جبکہ وہ بت شکن تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات زندگی کی یہ کڑی بہت ہی مشہور ہے۔ اس کے کئی مناظر یہاں پیش کیے گئے ہیں۔ ان مناظر کے درمیان بیشک چھوٹے چھوٹے گیپ بھی ہیں۔ آغاز اس سے ہوتا ہے کہ ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے رسالت اور ہدایت عطا کردی تھی اور وہ عقیدہ توحید پر قائم تھے۔ ” رشدہ “ سے مراد ہی عقیدہ توحید ہے کیونکہ اس فضا میں سب سے بڑی ہدایت تھی ہی عقیدہ توحید کی طرف ہدایت۔

الأنبياء 21:50

الذین یخشون ربھم بالغیب (12 : 94) ” جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈریں “۔ اس لیے کہ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور انہوں نے اللہ کو دیکھا ہی نہ ہو اور وھم من الساعۃ مشفقون (12 : 94) ” اور ان کو اس گھڑی کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ اور اس کے لیے تیاری اور عمل کرتے ہوں تو ایسے ہی لوگ اس روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور راہ ہدایت اختیار کرتے ہیں اس لیے ایسے لوگوں کے لیے کتاب نصیحت بن جاتی ۔ یہ ان کو اللہ کی طرف مڑنے کی یاد دہانی کراتی رہتی ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کے اندر ان کا تذکرہ ہوتا ہے گویا وہ ان کی پہچان بن جاتی ہے۔ یہ تھی حضرت موسیٰ اور ہارون کی شان وھذا ذکر مبرک (12 : 05) ” اب یہ بابرکت ذکر ہم نے نازل کیا ہے “۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے ‘ کوئی عجیب چیز نہیں ہے۔ یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے جو پہلے ہوتا رہا ہے۔ یہ اللہ کی معلوم و معروف سنت ہے۔ افانتم لہ منکرون (12 : 05) ” پھر کیا تم اسے قبول کرنے سے انکاری ہو “۔ آخر اس میں تمہیں کیا چیز انوکھی لگ رہی ہے۔ کیا اس سے قبل اللہ کے رسول نہیں آتے رہے۔ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کے قصے پر ایک نہایت ہی سرسری نظر ڈالنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی ایک مکمل کڑی یہاں دی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عربوں کے جداکبر ہیں۔ خانہ کعبہ کے بانی ہیں ‘ جس کو قریش نے بتوں سے بھر رکھا تھا اور رات اور دن ان کی بندگی اور پرستش کرتے تھے حالانکہ حضرت ابراہیم تو مشہور ہی اس لیے تھے کہ انہوں نے بت توڑے تھے۔ یہاں ان کے قصے کو پیش کرنے کا مطلب بھی یہ ہے کہ تم بتوں کی پرستش کرتے ہو ‘ جبکہ وہ بت شکن تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات زندگی کی یہ کڑی بہت ہی مشہور ہے۔ اس کے کئی مناظر یہاں پیش کیے گئے ہیں۔ ان مناظر کے درمیان بیشک چھوٹے چھوٹے گیپ بھی ہیں۔ آغاز اس سے ہوتا ہے کہ ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے رسالت اور ہدایت عطا کردی تھی اور وہ عقیدہ توحید پر قائم تھے۔ ” رشدہ “ سے مراد ہی عقیدہ توحید ہے کیونکہ اس فضا میں سب سے بڑی ہدایت تھی ہی عقیدہ توحید کی طرف ہدایت۔

الأنبياء 21:51

ولقد اتینآ۔۔۔۔۔۔۔۔ علمین (15) ” ‘۔ ہم نے ان کو ہوشمندی عطا کی تھی ‘ ان کے حالات سے ہم اچھی طرح واقف تھے اور ان کی وہ صلاحیتیں بھی ہماری نظر میں تھیں جو حاملین رسالت کے لیے ضروری ہیں۔

الأنبياء 21:52

اذ قال۔۔۔۔۔۔۔۔ عکفون (25) ” “ ان کی یہ بات ہی ان کے رشد و ہدایت کی دلیل ہے۔ آپ نے ان پتھروں اور لکڑیوں اور دوسرے مواد کے لیے بڑا صحیح لفظ استعمال کیا یعنی مورتیاں ‘ تماثیل۔ ان کو انہوں نے الہٰ نہ کہا اور اس بات پر سخت گرفت کی کہ تم لوگ بڑی چاہت سے ان کی پرستش کرتے ہو ‘ عاکف کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلسل انکے ساتھ جھکے ہوئے رہتے تھے ‘ حالانکہ وہ دوسرے کام بھی کرتے ہوں گے لیکن ان کے دل ان بتوں ہی کے ساتھ تھے۔ اس لیے مصنوعی طور پر گویا وہ ان کے آگے مسلسل جھکے ہوئے تھے۔ اس لیے تعبیر ان الفاظ میں کی گئی کہ تم رات دن ان کے آگے جھکے ہوئے ہو۔

الأنبياء 21:53

انکا جواب اور دلیل صرف یہ تھی۔ قالوا وجدنآ ابناء نا لھا عبدین (35) ” اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم باپ دادا کی تقلید کرتی ہے تو اس کی سوچ اور اس کی عقل کی قوتیں منجمد ہوجاتی ہیں جبکہ ایمان انسان کو آزادی ‘ فکر و نظر کی وسعت ‘ اور ہر چیز اور ہر صورت حال کا حقیقی جائزہ لینے کی تعلیم دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ ہر بات پر غور کرکے اس کا حقیقی وزن کرو۔ لہٰذا اللہ پر پختہ ایمان کا یہ پہلو بھی بہت اہم ہے۔ یعنی عقیدہ توحید اور شرک کا کہ انسان اوہام ‘ جامد تقلید اور وہی تصورات و عقائد سے چھوٹ جاتا ہے۔ وہ موروثی رواج جن کی پشت پر نہ احادیث ہیں اور نہ دلیل ان کو بسہولت ترک کردیتا ہے۔

الأنبياء 21:54

قال لقد۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (45) ’ ‘۔ محض آبائو اجداد کی جانب سے بتوں کی پوجا ہونا ‘ ان کی اصل حقیقت اور قدر و قیمت کو نہیں بدل سکتا۔ نہ ان کو وہ تقدس دے سکتا ہے جو دراصل ان کو حاصل نہ ہو۔ کیونکہ قدریں محض آبائو اجداد کے عمل سے وجود میں نہیں آتیں ‘ بلکہ سچائی اور افادیت سے بنتی ہیں اور آزادانہ سوچ سے ان کے بارے میں فیصلہ ہوتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت بےباکی سے یہ باتیں کیں اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا اور دو ٹوک بات کی تو ان کے عقائد کی دنیا میں زلزلہ آگیا اور پوچھنے لگے۔

الأنبياء 21:55

قالوا۔۔۔۔۔۔۔ من اللعبین (55) ” ‘۔ یہ سوال ایک ایسے شخص کا سوال نظر آتا ہے جسے خوداپنے فکرو عمل پر پورا اطمینان نہ ہو۔ کیونکہ وہ جو عقدہ رکھتا ہے ‘ جو عمل کرتا ہے اس پر اس نے کبھی سوچا نہیں تحقیق نہیں کی۔ یہ کام وہ محض وہم اور تقلید اور بےسوچے سمجھے کررہا ے۔ وہ نہیں جانتا کہ حق کیا ہے حالانکہ عقائد و عبادات وہ چیز ہے جو مستند دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ جو افراد و اقوام عقیدہ توحید کے صاف ستھرے تصور سے محروم ہوں وہ اسی طرح کے اوہام کا شکار ہوجاتی ہیں اور ان کے افکار بھی صاف ستھرے اور واضح نہیں ہوتے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ذرا دیکھئے کہ وہ کس قدر اعتماد و یقین سے بات کرتے ہیں۔ ان کو رب کی صحیح معرفت حاصل ہے۔ وہ ایک مومن کی طرح ٹھوس بات کرتے ہیں۔

الأنبياء 21:56

قال بل۔۔۔۔۔۔۔ من الشھدین (65) ‘۔ اللہ تو رب واحد ہے۔ وہی آسمانوں اور زمین کا رب ہے ‘ اور وہ اس لیے رب ہے کہ وہ ان کا پیدا کرنے والا ہے یعنی وہ الہٰ واحد ہے۔ دو صفات کی وجہ سے اور ان میں جدائی ممکن نہیں ہے۔ ایک یہ کہ وہ زمین و آسمان کا رب ہے۔ ان کو چلانے والا ہے اور دوسری صفت یہ ہے کہ ان کو پیدا بھی اس نے کیا۔ یہ تو درست عقیدہ ہے لیکن مشرکین عرب کا عقیدہ نہایت ہی معقول ہے کہ وہ اپنے بتوں کو رب تو مانتے تھے لیکن خالق نہ مانتے تھے۔ خالق وہ بھی صرف اللہ کو مانتے تھے۔ لیکن یہ جانتے ہوئے کہ دوسرے الہوں نے کسی چیز کی تخلیق نہیں کی پھر بھی ان کی پوجا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک ایسے گواہ کی طرح گواہی دیتے ہیں جس کوئی شک نہیں ہوتا۔ وانا علی ذلکم من الشھدین (12 : 65) ” اس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں “۔ زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت حضرت ابراہیم موجود نہ تھے۔ نہ وہ اپنے نفس اور اپنی قوم کی تخلیق پر چشم دید گواہ تھے۔ لیکن یہ معاملہ اس قدر واضح ‘ ثابت شدہ ہے کہ ایک مومن اس پر چشم دید گواہ کی طرح گواہی دے سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز وحدت خالق پر ناطق ہے۔ انسانی شخصیت کے جو جو کمالات ہیں ‘ جسمانی و ذہنی وہ سب کے سب برہان ناطق ہیں کہ خالق ایک ہے اور وہی مدبر ہے۔ وہ قانون قدرت بھی ایک ہی ہے جو اس پوری کائنات کو مع انسان کے چلا رہا ہے اور اس میں متصرف ہے ‘ جس طرح چاہیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو شخص یہ گفتگو کررہا تھا ‘ اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ ان کے بتوں کے بارے میں میں نے ایک فیصلہ کرلیا ہے۔ اس پر ضرور عمل ہوگا۔

الأنبياء 21:57

وتا للہ۔۔۔۔۔۔۔ مدبرین (75) ” ‘۔ انہوں نے ان بتوں کے بارے میں کیا فیصلہ کیا۔ اسے انہوں نے مبہم چھوڑدیا ‘ اور اس کا ذکر نہ کیا۔ سیاق کلام میں یہ وضاحت بھی نہیں ہے کہ انہوں نے آپ کو جواب کیا دیا۔ شاید وہ مطمئن ہوں کہ یہ ہمارے بتوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اس لیے انہوں نے اسے نظر انداز کردیا۔

الأنبياء 21:58

فجعلھم۔۔۔۔ یرجعون (85) ” ‘۔ ہوا کیا ؟ تمام بتوں کو ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ وہ چھوٹے چھوٹے پتھروں کا ڈھیر بنا دیئے گئے اور جو لکڑی کے تھے وہ توڑی ہوئی لکڑیوں کی شکل میں رہ گئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے بڑے بت کو رہنے دیا۔ لعلھم الیہ یرجعون (12 : 85) ” شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں “۔ اور اس سے پوچھیں کہ یہ واقعہ کس طرح رونما ہوا اور وہ کیوں ان چھوٹے بتوں کی مدافعت کے لیے نہ اٹھا۔ شاید اس طرح وہ اس پورے مسئلے پر از سرنو غور کرنے کے لیے تیار ہوجائیں اور راہ راست پر آجائیں۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ بتوں کی پرستش ایک لغوا مر ہے۔ جب لوگ آئے ‘ انہوں نے دیکھا کہ ان کے بت ریزہ ریزہ زمین پر پڑے ہیں۔ صرف بڑا بت بت کی طرح کھڑا ہے لیکن انہوں نے اس سے کچھ نہ پوچھا۔ خود بھی انہوں نے غور نہ کیا کہ اگر ہی خدا تھے تو ان کے ساتھ ایسا سلوک کیسے ہوگیا اور یہ جو کھڑا ہے اگر بڑا خدا ہے تو اس نے ان چھوٹے خدائوں کی مدافعت کیوں نہ کی ؟ انہوں نے اپنے ذہنوں میں یہ سوال پیدا وہنے نہ دیا پیدا ہی نہ ہوا کیونکہ جب عقل میں خرافات بیٹھ جائیں تو عقل معطل ہوجاتی ہے اور وہ اپنا اصل کام چھوڑدیتی ہے۔ جب لوگ جامد تقلید کرنے لگیں تو بھی ان کی عقلوں پر تالے پڑجاتے ہیں اور وہ کسی معاملے پر غور و فکر اور تامل و تدبر نہیں کرتے۔

الأنبياء 21:59

قالوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہ لمن الظلمین (95) ” ۔ اب ان لوگوں کو بات یاد آئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کے بارے میں اپنے باپ سے بھی جھگڑا کیا ہے۔ باپ کے سوا دوسرے لوگوں سے بھی انہوں نے کہا ہے کہ ان مورتیوں کی پرستش تم کیوں کرتے ہو اور پھر انہوں نے بتایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ جب لوگ چلے جائیں گے تو میں ان کی خبر لوں گا۔

الأنبياء 21:60

قالوا سمعنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابرھیم (06) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جواں سال تھے۔ ان کو اللہ نے جوانی ہی میں ہدایت دے دی تھی۔ اس لیے انہوں نے ان بتوں کی عبادت کو ایک قبیح فعل سمجھتے ہوئے ان کے بت توڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت ان کو اس بات کا حکم بذریعہ رسالت اور وحی دے دیا گیا تھا یا نہیں ؟ یا یہ کہ یہ ان پر قبل رسالت الہام ہوا تھا۔ اس نے اس الہام کی بنا پر اپنے باپ اور دوسرے لوگوں کو دعوت حق دینا شروع کردی تھی۔ یہ تو راجح بات ہے البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے ان کے لیے سمعنا فتی (12 : 06) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے۔ ایک تو ان کی تحقیر کرنے کے لیے استعمال کیا۔ دوسرے یہ کہ وہ ان کے بارے میں زیادہ معلومات نہ رکھتے تھے۔ یقال لہ ابرھیم (12 : 06) ” جسے ابراہیم کہتے ہیں “۔ اور یہ تصغیر اور مجہول کا صیغہ وہ اس لیے استعمال کررہے تھے کہ یہ کوئی اہم آدمی نہیں ہے نہ اس سے کوئی خطرہ ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں پہلی رائے ہی قابل ترجیح ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جواں سال تھے۔

الأنبياء 21:61

قالوا سمعنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابرھیم (06) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جواں سال تھے۔ ان کو اللہ نے جوانی ہی میں ہدایت دے دی تھی۔ اس لیے انہوں نے ان بتوں کی عبادت کو ایک قبیح فعل سمجھتے ہوئے ان کے بت توڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت ان کو اس بات کا حکم بذریعہ رسالت اور وحی دے دیا گیا تھا یا نہیں ؟ یا یہ کہ یہ ان پر قبل رسالت الہام ہوا تھا۔ اس نے اس الہام کی بنا پر اپنے باپ اور دوسرے لوگوں کو دعوت حق دینا شروع کردی تھی۔ یہ تو راجح بات ہے البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے ان کے لیے سمعنا فتی (12 : 06) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے۔ ایک تو ان کی تحقیر کرنے کے لیے استعمال کیا۔ دوسرے یہ کہ وہ ان کے بارے میں زیادہ معلومات نہ رکھتے تھے۔ یقال لہ ابرھیم (12 : 06) ” جسے ابراہیم کہتے ہیں “۔ اور یہ تصغیر اور مجہول کا صیغہ وہ اس لیے استعمال کررہے تھے کہ یہ کوئی اہم آدمی نہیں ہے نہ اس سے کوئی خطرہ ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں پہلی رائے ہی قابل ترجیح ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جواں سال تھے۔

الأنبياء 21:62

قالوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یابرھیم (26) تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ان کے یہ بت ریزہ ریزہ تھے لیکن پھر بھی ان کو اصرار تھا کہ یہ ہمارے الہٰ ہیں۔ جب ابراہیم ان کے ساتھ یہ مذاق کررہے تھے وہ اکیلے تھے اور یہ لوگ بہت زیادہ تھے ۔ لیکن وہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ معاملات کو دیکھتے تھے۔ اس لیے وہ ان بےعقلوں کے سامنے مذاق ہی کرسکتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان کو ایسا جواب دیا جوان جیسے لوگوں کے مناسب حال تھا۔

الأنبياء 21:63

قال بل۔۔۔۔۔۔۔ ان کانوا ینطقون (36) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس جواب میں چھنا ہوا مذاق تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس سنجیدہ مذاق کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے یہ جھوٹی بات کی۔ مفسرین نے اس فقرے کے اسباب اور توجیہات میں جو طویل کلام کیا ہے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ معاملہ تو بہت ہی سادہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ لوگوں کو بتائیں کہ یہ مورتیاں اتنا بھی نہیں جانتیں کہ ان کو توڑا کس نے ہے ؟ میں نے توڑا ہے یا اس بڑے بت نے توڑا ہے ؟ جو کوئی حرکت نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ تو محض جمادات ہیں اور ان کے اندر تو قوت مدر کہ ہے ہی نہیں۔ تم آدمی ہوتے ہوئے بھی ایسے ہو کہ تمہاری قوائے مدر کہ جامد ہوچکی ہیں۔ تم کسی ممکن الوقوع اور جائز کام میں اور ایک ایسے امر میں فرق نہیں کرسکتے جو ناممکن الوقوع ہے۔ تم یہ انکوائری اس لیے کررہے ہو کہ میں نے ان کو توڑا ہے یا اس بڑے بت نے تو پھر ان سے پوچھو اگر یہ بات کرسکتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس عجیب مذاق نے ان کو ایک لمحے کے لیے تو ہلاکررکھ دیا ہے۔ وہ سوچنے لگے ‘ کچھ غور کرنے لگے۔

الأنبياء 21:64

فرجعوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکم انتم الظلمون (46) ” یہ ان کے اندر ایک اچھی سوچ کا آغاز تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے موقف میں بنیادی کمزوری ہے۔ وہ جو بتوں اور مورتیوں کی پوجا کررہے ہیں یہ دراصل ظلم ہے۔ پہلی مرتبہ یوں لگتا ہے کہ ان کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ جس راہ پر وہ بغیر سوچے سمجھے چل رہے ہیں وہ بہت ہی غلط ہے۔ لیکن یہ ان کے فکر و نظر کی دنیا میں ایک چمک ہی تھی۔ اندھیرا حسب سابق پھر غالب آگیا۔ ان کے مردہ دلوں کے اندر ایک دھڑکن سی پیداہوئی مگر جلد ہی وہ پھر خاموش ہو کر جمود کا شکار ہوگئے۔

الأنبياء 21:65

ثم نکسوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ینطقون (56) ’ واقعی پہلے فقرے میں وہ اپنے دلوں اور دماغوں کی طرف لوٹ آئے تھے اور دوسرے فقرے میں جو ہے کہ وہ اپنے سروں کو چھوڑ کر الٹے پھرے تو گویا الٹے پائوں پھرے اور اپنے سروں سے سوچ کا کام لینا بھی انہوں نے چھوڑدیا۔ پہلی حرکت اپنے ضمیر کی طرف تھی کہ سوچیں اور تدبیر کریں اور دوسری حرکت واپسی کی تھی اور سوچ اور تدبر کو ترک کر کے پھر واپس ہوئے اور ان کے منہ سے جو بےعقلی کی بات نکلی وہی ان کے خلاف حجت تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دلیل ہی یہ تھی کہ دیکھو یہ بات بھی نہیں کرسکتے۔ جب وہ یہاں تک آگئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیساحلیم الطبع شخص بھی ان پر قدرے غصہ کرتا ہے کیونکہ ان کی یہ کم عقلی اس قدر واضح ہے کہ اس پر آدمی کے لیے صبر کرنا مشکل ہے۔

الأنبياء 21:66

قال افتعبدون۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون (66 : 76) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سے ان کی دل تنگی کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ قدرے غصے میں نظر آتے ہیں اور ان کو سخت تعجب ہے کہ یہ لوگ اس قدر پوچ اور غیر معقول فکر و عمل میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب ان لوگوں کا رد عمل بھی سامنے آتا ہے۔ ان کی ہٹ دھرمی اب انہیں سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ ان کا حال اس شخص جیسا ہوگیا جس کے پاس دلیل کچھ نہ ہو ‘ اور دلیل کی کمزوری اور کمی وہ تشدد کے ذریعہ پوری کررہا ہے۔ چناچہ یہ لوگ بھی اب تشدد پر اتر آئے اور یہ فیصلہ کیا۔

الأنبياء 21:67

قال افتعبدون۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون (66 : 76) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سے ان کی دل تنگی کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ قدرے غصے میں نظر آتے ہیں اور ان کو سخت تعجب ہے کہ یہ لوگ اس قدر پوچ اور غیر معقول فکر و عمل میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب ان لوگوں کا رد عمل بھی سامنے آتا ہے۔ ان کی ہٹ دھرمی اب انہیں سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ ان کا حال اس شخص جیسا ہوگیا جس کے پاس دلیل کچھ نہ ہو ‘ اور دلیل کی کمزوری اور کمی وہ تشدد کے ذریعہ پوری کررہا ہے۔ چناچہ یہ لوگ بھی اب تشدد پر اتر آئے اور یہ فیصلہ کیا۔

الأنبياء 21:68

قالوا۔۔۔۔۔۔۔ فعلین (86) ” ‘۔ کیا ہی زبردست خدا ہیں کہ بیچاروں کی نصرت ان کے پجاری کررہے ہیں ‘ وہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہی نہیں۔ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں ‘ نہ اپنے بندوں کی۔ انہوں نے تو یہ حکم دیا کہ اسے جلا دو لیکن دوسری جانب سے بھی ایک حکم صادر ہوا ‘ یہ اصل حاکم مطلق کا حکم تھا ‘ اس نے پہلے حکم کو باطل کردیا۔ قلنا ینار کونی بردا وسلم ا علی ابرھیم (96) ” ہم نے کہا ” اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر “۔ چناچہ ان کا جلایا وہا الائو ابراہیم کے لیے ٹھنڈا بھی ہوگیا اور ان کے لیے سلامتی کا موجب بنا ‘ یہ کیسے ؟ یہ سوال صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) والے الائو کے بارے میں کیوں پیدا ہو رہا ہے ؟ لفظ کن اور کونی سے یہ کائنات وجود میں آگئی ‘ بڑے بڑے جہاں پیداہو گئے۔ انما امرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیکون (63 : 28) ” اس کا حکم یہ ہے کہ اس نے جب کسی چیز کا ارادہ کیا تو صرف یہ کہتا ہے کن تو ہوجاتی ہے “۔ اس لیے ہم یہ سوال کرتے ہی نہیں کی آگ نے کس طرح نہ جلایا ‘ حالانکہ مشہور اور معروف اور زیر مشاہدہ طریقہ تو یہ ہے کہ آگ زندہ جسموں کو جلا دیتی ہے۔ جب ذات باری نے آگ سے کہا کہ جلائو تو وہ جلانے لگی۔ اس ذات نے اسے کہا کہ نہ جلائو اور سرد ہو جائو تو وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی۔ دونوں کلمات کا فرق صرف یہ ہے کہ ایک نتیجے کے ہم عادی ہیں اور دوسرے نتیجے کے ہم عادی نہیں۔ جو لوگ اللہ کے افعال کو انسانی افعال پر قیاس کرتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے سامنے یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ کیسے ہوگیا ؟ اور کیسے ممکن ہوا ؟ لیکن جو لوگ اس فرق کو سمجھتے ہیں کہ اللہ میں اور انسانوں میں فرق ہے ‘ تو ان کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ وہ ایسے واقعات کی علتیں تلاش نہیں کرتے۔ خواہ یہ علت سائنسی ہو یا غیر سائنسی ہو۔ کیونکہ یہ مسئلہ امر الہٰی کا ہے علت اور اسباب کا نہیں ہے ‘ خصوصاً انسانی پیمانوں کے مطابق سبب و مسبب کی تلاش کا نہیں ہے۔ معجزات کے سلسلے میں جو لوگ قرآن مجید کی تفسیر سائنسی پیمانوں یعنی علت و معلول (Cause and Effect) کے زاویہ سے کرتے ہیں وہ غلط لائن پر جاتے ہیں۔ معجزات کی تفسیر یہی ہے کہ ان کو امر الہٰی کے حوالے کرنا چاہیے کیونکہ اللہ کے افعال کو ان پیمانوں سے نہیں ناپا جاسکتا جن سے ہم انسانی پیمانوں کو ناپتے ہیں۔ ہمیں چاہیے اور یہ ہمارا فرض بھی ہے کہ ہم ان واقعات پر ایمان لائیں ‘ کیونکہ اللہ خالق اور صانع ہے اور ایک صانع اپنی مصنوعات کو جس طرح چاہے بنا سکتا ہے۔ یہ کیونکر ہوا کہ آگ سرد ہوگئی اور اس کے اندر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صحیح و سلامت رہ گئے۔ قرآن کریم نے اس کی کوئی تشریح و تعلیل نہیں کی ہے کیونکہ ہم اپنے انسانی قوائے مدرکہ کے ساتھ اس چیز کا ادراک ہی نہیں کرسکتے۔ لہٰذا نص قرآن کے سوا ہمارے لیے نہ کوئی دلیل ہے اور نہ ہمیں مطالبہ کرنا چاہیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ کو ٹھنڈا کردیا گیا اس کی مثالیں اس دنیا میں بھی واقعہ ہوتی رہتی ہیں لیکن ان کا ہم نوٹس نہیں لیتے جس طرح اس اہم واقعہ کا نوٹس تاریخ نے لے لیا۔ تاریخ انسانی میں افراد پر اور جماعتوں پر اس سے بھی بڑے بڑے مظالم ہوتے رہے ہیں۔ اتنے ہولناک اور خوفناک مظالم کہ ان سے زندہ بچنے اور صحیح سلامت باہر آنے کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا لیکن پھر بھی لوگ نکل آتے ہیں۔ مظالم اور تشدد کی بڑے بڑے الائو جلائے جاتے ہیں اور ان میں ان لوگوں کو ڈالا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ زندہ بچ نکلتے ہیں اور مظالم اور تشدد کا یہ الائو ٹھنڈا پڑجاتا ہے۔ یہ الائو بظاہر تو بہت بڑا شر ہوتا ہے لیکن ان مظلوموں کے لیے وہ بہت بڑا خیر بن جاتا ہے۔ یہ معجزہ ہے کہ ” اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے “۔ افراد ‘ جماعتوں اور قوموں کی زندگی میں بار بار دہرای جاتا ہے ‘ خصوصاً افکار ‘ عقائد اور تحریکات کے زاویہ سے جب امرالہٰی آتا ہے تو انسانی اقوال باطل ہوجاتے ہیں۔ تمام سازشیں ختم ہوجاتی ہیں کیونکہ امرا لہٰی برتر حکم ہے۔

الأنبياء 21:69

قالوا۔۔۔۔۔۔۔ فعلین (86) ” ‘۔ کیا ہی زبردست خدا ہیں کہ بیچاروں کی نصرت ان کے پجاری کررہے ہیں ‘ وہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہی نہیں۔ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں ‘ نہ اپنے بندوں کی۔ انہوں نے تو یہ حکم دیا کہ اسے جلا دو لیکن دوسری جانب سے بھی ایک حکم صادر ہوا ‘ یہ اصل حاکم مطلق کا حکم تھا ‘ اس نے پہلے حکم کو باطل کردیا۔ قلنا ینار کونی بردا وسلم ا علی ابرھیم (96) ” ہم نے کہا ” اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر “۔ چناچہ ان کا جلایا وہا الائو ابراہیم کے لیے ٹھنڈا بھی ہوگیا اور ان کے لیے سلامتی کا موجب بنا ‘ یہ کیسے ؟ یہ سوال صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) والے الائو کے بارے میں کیوں پیدا ہو رہا ہے ؟ لفظ کن اور کونی سے یہ کائنات وجود میں آگئی ‘ بڑے بڑے جہاں پیداہو گئے۔ انما امرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیکون (63 : 28) ” اس کا حکم یہ ہے کہ اس نے جب کسی چیز کا ارادہ کیا تو صرف یہ کہتا ہے کن تو ہوجاتی ہے “۔ اس لیے ہم یہ سوال کرتے ہی نہیں کی آگ نے کس طرح نہ جلایا ‘ حالانکہ مشہور اور معروف اور زیر مشاہدہ طریقہ تو یہ ہے کہ آگ زندہ جسموں کو جلا دیتی ہے۔ جب ذات باری نے آگ سے کہا کہ جلائو تو وہ جلانے لگی۔ اس ذات نے اسے کہا کہ نہ جلائو اور سرد ہو جائو تو وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی۔ دونوں کلمات کا فرق صرف یہ ہے کہ ایک نتیجے کے ہم عادی ہیں اور دوسرے نتیجے کے ہم عادی نہیں۔ جو لوگ اللہ کے افعال کو انسانی افعال پر قیاس کرتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے سامنے یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ کیسے ہوگیا ؟ اور کیسے ممکن ہوا ؟ لیکن جو لوگ اس فرق کو سمجھتے ہیں کہ اللہ میں اور انسانوں میں فرق ہے ‘ تو ان کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ وہ ایسے واقعات کی علتیں تلاش نہیں کرتے۔ خواہ یہ علت سائنسی ہو یا غیر سائنسی ہو۔ کیونکہ یہ مسئلہ امر الہٰی کا ہے علت اور اسباب کا نہیں ہے ‘ خصوصاً انسانی پیمانوں کے مطابق سبب و مسبب کی تلاش کا نہیں ہے۔ معجزات کے سلسلے میں جو لوگ قرآن مجید کی تفسیر سائنسی پیمانوں یعنی علت و معلول (Cause and Effect) کے زاویہ سے کرتے ہیں وہ غلط لائن پر جاتے ہیں۔ معجزات کی تفسیر یہی ہے کہ ان کو امر الہٰی کے حوالے کرنا چاہیے کیونکہ اللہ کے افعال کو ان پیمانوں سے نہیں ناپا جاسکتا جن سے ہم انسانی پیمانوں کو ناپتے ہیں۔ ہمیں چاہیے اور یہ ہمارا فرض بھی ہے کہ ہم ان واقعات پر ایمان لائیں ‘ کیونکہ اللہ خالق اور صانع ہے اور ایک صانع اپنی مصنوعات کو جس طرح چاہے بنا سکتا ہے۔ یہ کیونکر ہوا کہ آگ سرد ہوگئی اور اس کے اندر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صحیح و سلامت رہ گئے۔ قرآن کریم نے اس کی کوئی تشریح و تعلیل نہیں کی ہے کیونکہ ہم اپنے انسانی قوائے مدرکہ کے ساتھ اس چیز کا ادراک ہی نہیں کرسکتے۔ لہٰذا نص قرآن کے سوا ہمارے لیے نہ کوئی دلیل ہے اور نہ ہمیں مطالبہ کرنا چاہیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ کو ٹھنڈا کردیا گیا اس کی مثالیں اس دنیا میں بھی واقعہ ہوتی رہتی ہیں لیکن ان کا ہم نوٹس نہیں لیتے جس طرح اس اہم واقعہ کا نوٹس تاریخ نے لے لیا۔ تاریخ انسانی میں افراد پر اور جماعتوں پر اس سے بھی بڑے بڑے مظالم ہوتے رہے ہیں۔ اتنے ہولناک اور خوفناک مظالم کہ ان سے زندہ بچنے اور صحیح سلامت باہر آنے کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا لیکن پھر بھی لوگ نکل آتے ہیں۔ مظالم اور تشدد کی بڑے بڑے الائو جلائے جاتے ہیں اور ان میں ان لوگوں کو ڈالا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ زندہ بچ نکلتے ہیں اور مظالم اور تشدد کا یہ الائو ٹھنڈا پڑجاتا ہے۔ یہ الائو بظاہر تو بہت بڑا شر ہوتا ہے لیکن ان مظلوموں کے لیے وہ بہت بڑا خیر بن جاتا ہے۔ یہ معجزہ ہے کہ ” اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے “۔ افراد ‘ جماعتوں اور قوموں کی زندگی میں بار بار دہرای جاتا ہے ‘ خصوصاً افکار ‘ عقائد اور تحریکات کے زاویہ سے جب امرالہٰی آتا ہے تو انسانی اقوال باطل ہوجاتے ہیں۔ تمام سازشیں ختم ہوجاتی ہیں کیونکہ امرا لہٰی برتر حکم ہے۔

الأنبياء 21:70

وارا دوا بہ کیدا فجعلنہم الاخسرین (07) ” ‘۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معاصر بادشاہ کا نام نمرود تھا۔ وہ عراق کے آرامیوں کا بادشاہ تھا۔ وہ اور اس کے سردار عذاب الہی سے ہلاک کردیئے گئے تھے۔ اس کی تفصیلات میں روایات کا اختلاف ہے اور ہمارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے ہم حقیقت کو پاسکیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس سازش سے بچا لیا جو انہوں نے ان کے خلاف تیار کی تھی اور سازش کرنے والے خسارے میں رہے۔ ان کو کیا خسارہ ہوا اس کا ذکر یہاں نہیں ہے۔

الأنبياء 21:71

ونجینہ۔۔۔۔۔۔۔ فیھا للعلمین (17) ” ‘۔ یہ شام کی سرزمین ہے جس کی طرف آپ اور آپ کے بھتیجے لوط نے ہجرت کی۔ چناچہ یہ سرزمین ایک عرصے تک وحی کے نزول کا علاقہ بنی رہی۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کے کئی رسول اس علاقے میں مبعوث ہوتے رہے۔ اس علاقے میں ارض مقدسہ اور مسلمانوں کا دو سرا حرم ہے۔ اور یہی علاقہ ہے جو سرسبز و شاداب علاقہ ہے اور اس میں بڑی برکات ہیں یعنی اس علاقے میں روحانی اور مادی برکات نسلاً بعد نسل موجودر ہیں۔

الأنبياء 21:72

ووھبنا لہ۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدین (27 : 37) ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وطن ‘ اہل وطن اور قوم کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ارض مبارکہ بطور وطن عنایت فرمائی ‘ جو ان کے وطن سے زیادہ بہتر تھی ‘ اور ان کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا پوتا دیا جو بہترین ہل و عیال ثابت ہوئے۔ اور پھر ان کی اولاد سے ایک نسل کثرت سے بڑھی کہ وہ دنیا میں ایک مستقل امت بن گئی تو یہ قومچھوڑنے کا صلہ تھا اور پھر آپ کی نسل میں بڑے بڑے ائمہ پیدا ہوئے جو اللہ کے حکم سے لوگوں کو ہدایت دیتے تھے اور اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ بھلائی کے مختلف کام کریں۔ نماز قائم کریں ‘ زکوۃ دیں اور اللہ کی اطاعت اور بندگی کریں۔ چناچہ اللہ نے ان کو اس کا بہترین معاوضہ دیا اور اس کے ساتھ بہترین انعام دیا۔ ان کا خاتمہ بھی بہت اچھا ہوا کہ اللہ نے ان کو آزمایا اور انہوں نے صبر کیا اور اللہ نے ان کو صبر جمیل کا اجر دیا۔

الأنبياء 21:73

ووھبنا لہ۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدین (27 : 37) ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وطن ‘ اہل وطن اور قوم کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ارض مبارکہ بطور وطن عنایت فرمائی ‘ جو ان کے وطن سے زیادہ بہتر تھی ‘ اور ان کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا پوتا دیا جو بہترین ہل و عیال ثابت ہوئے۔ اور پھر ان کی اولاد سے ایک نسل کثرت سے بڑھی کہ وہ دنیا میں ایک مستقل امت بن گئی تو یہ قومچھوڑنے کا صلہ تھا اور پھر آپ کی نسل میں بڑے بڑے ائمہ پیدا ہوئے جو اللہ کے حکم سے لوگوں کو ہدایت دیتے تھے اور اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ بھلائی کے مختلف کام کریں۔ نماز قائم کریں ‘ زکوۃ دیں اور اللہ کی اطاعت اور بندگی کریں۔ چناچہ اللہ نے ان کو اس کا بہترین معاوضہ دیا اور اس کے ساتھ بہترین انعام دیا۔ ان کا خاتمہ بھی بہت اچھا ہوا کہ اللہ نے ان کو آزمایا اور انہوں نے صبر کیا اور اللہ نے ان کو صبر جمیل کا اجر دیا۔

الأنبياء 21:74

ولوطا۔۔۔۔۔۔۔۔ انہ من الصلحین (47 : 57) ” ‘۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اس سے پہلے مفصل گزرچکا ہے۔ یہاں اس کی طرف بالکل مجمل اشارہ ہوا ہے۔ عراق سے شام تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) دونوں ایک ساتھ آئے۔ انہوں نے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ اہل سدوم خلاف فطرت فعل کا ارتکاب کرتے تھے ۔ مرد مردوں کے ساتھ اعلانیہ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے اور اس میں کوئی ہرج نہ سمجھتے تھے۔ چناچہ یہ گائوں پوری آبادی سمیت ہلاک کردیا گیا۔ انھم کانوا قوم سوء فسقین (12 : 47) ” درحقیقت یہ بہت ہی بری فاسق قوم تھی “۔ لوط (علیہ السلام) اور آپ کی پوری فیملی ماسوائے ان کی بیوی کے ‘ بچا لئے گئے۔ وادخلنہ فی رحمتنا انہ من الصلحین (12 : 57) ” اور اسے ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا۔ وہ صالح لوگوں میں سے تھا۔ اللہ کی رحمت وہ خوشگوار پناہ گاہ جس میں اللہ اسی شخص کو داخل کرتا ہے جسے وہ خصوصی طور پر چاہتا ہے۔ جو داخل ہوا وہ عیش و عشرت اور رحم وکرم میں داخل ہوا۔

الأنبياء 21:75

ولوطا۔۔۔۔۔۔۔۔ انہ من الصلحین (47 : 57) ” ‘۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اس سے پہلے مفصل گزرچکا ہے۔ یہاں اس کی طرف بالکل مجمل اشارہ ہوا ہے۔ عراق سے شام تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) دونوں ایک ساتھ آئے۔ انہوں نے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ اہل سدوم خلاف فطرت فعل کا ارتکاب کرتے تھے ۔ مرد مردوں کے ساتھ اعلانیہ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے اور اس میں کوئی ہرج نہ سمجھتے تھے۔ چناچہ یہ گائوں پوری آبادی سمیت ہلاک کردیا گیا۔ انھم کانوا قوم سوء فسقین (12 : 47) ” درحقیقت یہ بہت ہی بری فاسق قوم تھی “۔ لوط (علیہ السلام) اور آپ کی پوری فیملی ماسوائے ان کی بیوی کے ‘ بچا لئے گئے۔ وادخلنہ فی رحمتنا انہ من الصلحین (12 : 57) ” اور اسے ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا۔ وہ صالح لوگوں میں سے تھا۔ اللہ کی رحمت وہ خوشگوار پناہ گاہ جس میں اللہ اسی شخص کو داخل کرتا ہے جسے وہ خصوصی طور پر چاہتا ہے۔ جو داخل ہوا وہ عیش و عشرت اور رحم وکرم میں داخل ہوا۔

الأنبياء 21:76

اسی طرح یہاں حضرت نوح کی طرف بھی ایک سرسری اشارہ کردیا جاتا ہے۔ ونوحا اذ نادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجمعین (67 : 77) ” حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف بھی یہ مختصر اشارہ ہے ‘ جس میں کوئی تفصیل نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے رب کو پکارا اور رب نے ان کی دعا کو قبول کیا یہاں ” من قبل “۔ کا لفظ آیا ہے یعنی ” سب سے پہلے “ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہما السلام) سے ان کا دور پہلے گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے ہل و عیال کو بچالیا اور ان کی پوری قوم نذر طوفان ہوگئی کرب عظیم سے مراد وہ مشکلات ہیں جو ان کو پیش آئیں۔ سورة ہود میں تفصیلات موجود ہیں۔

الأنبياء 21:77

اسی طرح یہاں حضرت نوح کی طرف بھی ایک سرسری اشارہ کردیا جاتا ہے۔ ونوحا اذ نادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجمعین (67 : 77) ” حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف بھی یہ مختصر اشارہ ہے ‘ جس میں کوئی تفصیل نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے رب کو پکارا اور رب نے ان کی دعا کو قبول کیا یہاں ” من قبل “۔ کا لفظ آیا ہے یعنی ” سب سے پہلے “ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہما السلام) سے ان کا دور پہلے گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے ہل و عیال کو بچالیا اور ان کی پوری قوم نذر طوفان ہوگئی کرب عظیم سے مراد وہ مشکلات ہیں جو ان کو پیش آئیں۔ سورة ہود میں تفصیلات موجود ہیں۔

الأنبياء 21:78

وداود و سلیمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا لھم حفظین (87 : 28) ” کھیت کا وہ کیا قصہ تھا جس کے بارے میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام نے فیصلہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ دو آدمی حضرت دائود کے پاس آئے۔ ایک کھیت کا مالک تھا یعنی فصل کا اور انگور کے باغ کا اور دوسرا بکریوں کا ۔ کھیت کے مالک نے کہا کہ اس شخص کی بکریاں رات کے وقت میرے کھیت میں پھیل گئیں اور انہوں نے سب کچھ کھالیا اور کھیت میں کچھ نہ رہا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے فیصلہ دیا کہ وہ باغ کے بدلے اس شخص کی بکریاں لے لے۔ بکریوں والے صاحب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئے اور ان کے سامنے قصہ دہرایا اور انہیں بتایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے تو یہ فیصلہ دے دیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) والد کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی فیصلہ وہ نہیں ہے جو آپ نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا آپ یہ بکریاں کھیت یا باغ والے شخص کے حوالے کردیں تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے اور کھیت بکریوں کے مالک کو دے دیں تاکہ وہ کھیت میں کام کرے اور اسی حالت میں لے آئے جس طرح تھا۔ اس کے بعدہر شخص وہ چیز دوسرے کو دے دے جو اسکے پاس ہے۔ کھیت والا کھیت لے لے اور بکریوں والا بکریاں لے لے۔ تو حضرت دائود (علیہ السلام) نے کہا ‘ ٹھیک فیصلہ وہی ہے جو آپ نے کیا۔ انہوں نے سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلے کو نافذ کردیا۔ یاد رہے کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام نے جج کے طور پر اجتہادی فیصلہ کیا تھا۔ اللہ بھی ان کے فیصلے کو دیکھ رہا تھا۔ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زیادہ مناسب اور مضبوط فیصلہ الہام کردیا اور سلیمان اسے جس طرح سمجھے وہ زیادہ اچھا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے نقصان کا محض تاوان ادا کرنے کی طرف خیال کیا۔ یہ تھا فقط انصاف۔ لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عدل کے ساتھ تعمیر و ترقی کا بھی خیال رکھا اور عدل کے نتیجے میں فریقین کو تعمیر و ترقی کے کام پر لگا دیا۔ عدل کی یہ دوسری صورت زیادہ مثبت ‘ مفید اور تعمیری ہے اور یہ اللہ کی توفیق اور الہام ہے کہ وہ جسے چاہے دے دے۔ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام دونوں کو حکم ‘ علم اور فیصلے کے اختیار ات تھے۔ وکلا اتینا حکما وعلما (12 : 97) ” حکم اور علم ہم نے دونوں کو عطا کیا تھا “۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے فیصلے میں کوئی غلطی نہتھی لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ زیادہ اچھا تھا کیونکہ وہ الہام کے نتیجے میں ہوا تھا۔ اس کے بعد قرآن مجید ان مخصوص امور کا ذکر کرتا ہے جو حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام کو علیحدہ علیحدہ دیئے گئے تھے ‘ پہلے حضرت دائود علیہ السلام۔ وسخرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا فعلین (12 : 97) وعلمنہ صنعۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرون (12 : 08) ” اور دائود کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا جو تسبیح کرتے تھے ‘ اس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے اور ہم نے اس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی ‘ تاکہ تم کو ایک دوسرے کی مار سے بچائے ‘ پھر کیا تم شکر گزار ہو ؟ “ حضرت دائود (علیہ السلام) کے مزا میر مشہور ہیں۔ یہ اللہ کی حمد تھی جو وہ نہایت یہ خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔ ان کی آواز کی گونج سے انکا ماحول بھر جاتا تھا اور انکے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی اسے دہراتے تھے۔ جب کسی بندے کا دل اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ وہ اس پوری کائنات کے ساتھ یکجا ہوگیا ہے اور اس پوری کائنات کا دل میرے ساتھ دھڑکتا ہے اور وہ تمام رکاوٹیں اور پردے ہٹ جاتے ہیں جو اللہ کی مخلوقات کے مختلف انواع واجناس کے درمیان اس دوئی کے شعور کی وجہ سے فاصلے پیدا ہوجاتے ہیں۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے تو ان تمام انواع کے ضمیر اس کائنات کے ضمیر کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ بعض لمحات میں ایک ایسی روشنی سامنے آتی ہے کہ روح یہ محسوس کرتی ہے کہ وہ اس کائنات کے ساتھ ایک ہے۔ اس کے اندر سب کچھ آگیا ہے ‘ ایسے لمحات میں روح یہ نہیں محسوس کرتی کہ اس سے باہر بھی کچھ ہے۔ وہ یہ بھی محسوس نہیں کرتی کہ وہ اپنے ماحول سے علحدہ ہے۔ پورا ماحول روح انسانی میں گم اور انسان اپنے ماحول میں گم ہوجاتا ہے۔ نص قرآنی سے ہماری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) خوش الحانی سے حمد پڑھتے تھے تو وہ اپنے ممتزیز ‘ مفصل اور مخصوص مقام میں موجود نفس کو بھول جاتے تھے۔ ان کی روح اس سایہ ربی میں چلی جاتی تھی جو اس کائنات پر سایہ لگن ہے۔ اس پوری کائنات پر خواہ وہ جمامد مخلوق ہو یا زندہ ‘ اس طرح حضرت دائود محسوس کرتے ھتے کہ انکے ساتھ یہ پوری کائنات حمد خواں ہے۔ اور جس طرح وہ ثنا خواں ہیں اس طرح وہ بھی ثنا خواں ہے۔ پھر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک کورس کی شکل میں ‘ ایک گروپ کی طرح اللہ کی حمد و ثنا اور تسبیح و تہلیل گا رہی ہے۔ وان من شیئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسبیحھم ” جو چیز بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے “۔ اور اس تسبیح کو وہی شخص سمجھتا ہے جس کے سامنے سے پردے ہٹ جائیں ‘ فاصلے مٹ جائیں اور وہ روح کا ئنات اور ارواح کون ومکان کے ساتھ چلتا ہو ‘ جو سب کی سب اللہ کی سمت میں رخ کیے ہوئے ہیں۔ وسخرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا فعلین (12 : 97) ” اور ہم نے دائود کے ساتھ پاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا جو تسبیح کرتے تھے اور اس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے “۔ اللہ کے لیے مشکل ہی کیا ہے ؟ یا کیا کوئی چیز اللہ کے حکم سے سرتابی کرسکتی ہے جب اللہ چاہے۔ چاہے وہ لوگوں کے ہاں ہوا کرتی ہے یا نہیں ہوا کرتی۔

الأنبياء 21:79

وداود و سلیمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا لھم حفظین (87 : 28) ” کھیت کا وہ کیا قصہ تھا جس کے بارے میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام نے فیصلہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ دو آدمی حضرت دائود کے پاس آئے۔ ایک کھیت کا مالک تھا یعنی فصل کا اور انگور کے باغ کا اور دوسرا بکریوں کا ۔ کھیت کے مالک نے کہا کہ اس شخص کی بکریاں رات کے وقت میرے کھیت میں پھیل گئیں اور انہوں نے سب کچھ کھالیا اور کھیت میں کچھ نہ رہا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے فیصلہ دیا کہ وہ باغ کے بدلے اس شخص کی بکریاں لے لے۔ بکریوں والے صاحب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئے اور ان کے سامنے قصہ دہرایا اور انہیں بتایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے تو یہ فیصلہ دے دیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) والد کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی فیصلہ وہ نہیں ہے جو آپ نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا آپ یہ بکریاں کھیت یا باغ والے شخص کے حوالے کردیں تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے اور کھیت بکریوں کے مالک کو دے دیں تاکہ وہ کھیت میں کام کرے اور اسی حالت میں لے آئے جس طرح تھا۔ اس کے بعدہر شخص وہ چیز دوسرے کو دے دے جو اسکے پاس ہے۔ کھیت والا کھیت لے لے اور بکریوں والا بکریاں لے لے۔ تو حضرت دائود (علیہ السلام) نے کہا ‘ ٹھیک فیصلہ وہی ہے جو آپ نے کیا۔ انہوں نے سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلے کو نافذ کردیا۔ یاد رہے کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام نے جج کے طور پر اجتہادی فیصلہ کیا تھا۔ اللہ بھی ان کے فیصلے کو دیکھ رہا تھا۔ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زیادہ مناسب اور مضبوط فیصلہ الہام کردیا اور سلیمان اسے جس طرح سمجھے وہ زیادہ اچھا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے نقصان کا محض تاوان ادا کرنے کی طرف خیال کیا۔ یہ تھا فقط انصاف۔ لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عدل کے ساتھ تعمیر و ترقی کا بھی خیال رکھا اور عدل کے نتیجے میں فریقین کو تعمیر و ترقی کے کام پر لگا دیا۔ عدل کی یہ دوسری صورت زیادہ مثبت ‘ مفید اور تعمیری ہے اور یہ اللہ کی توفیق اور الہام ہے کہ وہ جسے چاہے دے دے۔ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام دونوں کو حکم ‘ علم اور فیصلے کے اختیار ات تھے۔ وکلا اتینا حکما وعلما (12 : 97) ” حکم اور علم ہم نے دونوں کو عطا کیا تھا “۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے فیصلے میں کوئی غلطی نہتھی لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ زیادہ اچھا تھا کیونکہ وہ الہام کے نتیجے میں ہوا تھا۔ اس کے بعد قرآن مجید ان مخصوص امور کا ذکر کرتا ہے جو حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام کو علیحدہ علیحدہ دیئے گئے تھے ‘ پہلے حضرت دائود علیہ السلام۔ وسخرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا فعلین (12 : 97) وعلمنہ صنعۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرون (12 : 08) ” اور دائود کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا جو تسبیح کرتے تھے ‘ اس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے اور ہم نے اس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی ‘ تاکہ تم کو ایک دوسرے کی مار سے بچائے ‘ پھر کیا تم شکر گزار ہو ؟ “ حضرت دائود (علیہ السلام) کے مزا میر مشہور ہیں۔ یہ اللہ کی حمد تھی جو وہ نہایت یہ خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔ ان کی آواز کی گونج سے انکا ماحول بھر جاتا تھا اور انکے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی اسے دہراتے تھے۔ جب کسی بندے کا دل اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ وہ اس پوری کائنات کے ساتھ یکجا ہوگیا ہے اور اس پوری کائنات کا دل میرے ساتھ دھڑکتا ہے اور وہ تمام رکاوٹیں اور پردے ہٹ جاتے ہیں جو اللہ کی مخلوقات کے مختلف انواع واجناس کے درمیان اس دوئی کے شعور کی وجہ سے فاصلے پیدا ہوجاتے ہیں۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے تو ان تمام انواع کے ضمیر اس کائنات کے ضمیر کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ بعض لمحات میں ایک ایسی روشنی سامنے آتی ہے کہ روح یہ محسوس کرتی ہے کہ وہ اس کائنات کے ساتھ ایک ہے۔ اس کے اندر سب کچھ آگیا ہے ‘ ایسے لمحات میں روح یہ نہیں محسوس کرتی کہ اس سے باہر بھی کچھ ہے۔ وہ یہ بھی محسوس نہیں کرتی کہ وہ اپنے ماحول سے علحدہ ہے۔ پورا ماحول روح انسانی میں گم اور انسان اپنے ماحول میں گم ہوجاتا ہے۔ نص قرآنی سے ہماری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) خوش الحانی سے حمد پڑھتے تھے تو وہ اپنے ممتزیز ‘ مفصل اور مخصوص مقام میں موجود نفس کو بھول جاتے تھے۔ ان کی روح اس سایہ ربی میں چلی جاتی تھی جو اس کائنات پر سایہ لگن ہے۔ اس پوری کائنات پر خواہ وہ جمامد مخلوق ہو یا زندہ ‘ اس طرح حضرت دائود محسوس کرتے ھتے کہ انکے ساتھ یہ پوری کائنات حمد خواں ہے۔ اور جس طرح وہ ثنا خواں ہیں اس طرح وہ بھی ثنا خواں ہے۔ پھر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک کورس کی شکل میں ‘ ایک گروپ کی طرح اللہ کی حمد و ثنا اور تسبیح و تہلیل گا رہی ہے۔ وان من شیئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسبیحھم ” جو چیز بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے “۔ اور اس تسبیح کو وہی شخص سمجھتا ہے جس کے سامنے سے پردے ہٹ جائیں ‘ فاصلے مٹ جائیں اور وہ روح کا ئنات اور ارواح کون ومکان کے ساتھ چلتا ہو ‘ جو سب کی سب اللہ کی سمت میں رخ کیے ہوئے ہیں۔ وسخرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا فعلین (12 : 97) ” اور ہم نے دائود کے ساتھ پاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا جو تسبیح کرتے تھے اور اس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے “۔ اللہ کے لیے مشکل ہی کیا ہے ؟ یا کیا کوئی چیز اللہ کے حکم سے سرتابی کرسکتی ہے جب اللہ چاہے۔ چاہے وہ لوگوں کے ہاں ہوا کرتی ہے یا نہیں ہوا کرتی۔

الأنبياء 21:80

وعلمنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرون (12 : 08) ” اور ہم نے اس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی ‘ تاکہ تم کو ایک دوسرے کی مار سے بچائے۔ ھپر کیا تم شکر گزار ہو ؟ “ یہ زرہ کی صنعت ہے جس کے حلقے ایک دوسرے سے گزرتے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل وہ ایک جامد چادر کی صورت میں بتائی جاتی تھیں۔ کڑیوں کا ایک دوسرے میں داخل کرکے زرہ بننا زیادہ نرم اور استعمال میں زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ زرہ کی یہ ترقی یافتہ قسم سب سے پہلے اللہ کی تعلیم سے حضرت دائود (علیہ السلام) نے ایجاد کی۔ اللہ فرماتا ہے کہ اس نے دائود (علیہ السلام) کی یہ صفت سکھا کر تم پر بڑا احسان کیا کہ تم جنگ کے دوران ایک دوسرے کی مار سے بچ جاتے ہو۔ لتحصنکم من باسکم (12 : 08) ” تاکہ تمہیں بجائے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کے وقت “۔ یہ احسان جتلا کر اللہ تعالیٰ پھر پوچھتے ہیں کیا تم شکر کرو گے۔ یہ سوال سمجھانے اور شکر پر ابھارنے کے لیے ہے۔ اسلامی تہذیب و تمدن نے ایک ایک قدم کر کے ترقی کی ہے۔ ایک جست میں انسان یکدم مہذب اور ترقی یافتہ نہیں ہوا۔ دنیا کی ترقی کا فریضہ خلافت ارضی سے تعلق رکھتا ہے اور یہ انسان پر عائد کیا گیا ہے۔ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے یہ قوت دکھی تھی کہ وہ ہر دن ایک قدم آگے بڑھتا رہے اور ہر دن کی ترقی کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالتا رہے ۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ انسان کے مزاج کے یہ بات خلاف ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو نظام جدید کے مطابق ڈھال لے کیونکہ اس طرح یکدم تبدیلی سے اس کی عادات اور مروج طریق کار بدل جاتا ہے اور بالکل نیا نظام یکدم دینے سے انسان کو معمول کی زندگی از سر نو شروع کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا ارادہ یہ ہوا کہ زندگی کے نظام میں ہر بڑی تبدیلی کے بعد انسان کو اگلی تبدیلی کے لیے مناسب وقت دیا جائے ‘ بعض اوقات یہ وقت تھوڑا ہوتا ہے اور بعض اوقات زیادہ لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ آج دنیا کے اعصاب پر جو ناقابل برداشت تنائو ہے اور انسان کے اندر جو بےچینی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سائنسی انکشافات اور سوسائٹی کے نظام میں سرعت کے ساتھ بار بار کی تبدیلیوں کی وجہ سے ‘ انسانیت کو سانس لینے ‘ سستا نے کا موقعہ ہی نہیں ملتا کہ وہ ملتا کہ وہ ایک عرصہ تک جدید نظام کی برکات سے متمتع ہو۔ انقلاب پر انقلاب چلا آرہا ہے۔ یہ تو تھا معاملہ دائود (علیہ السلام) کا ‘ رہے سلیمان (علیہ السلام) تو ان کو بھی زیادہ معجزات دیئے گئے تھے۔

الأنبياء 21:81

ولسلمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا لھم حفظین (12 : 28) ” اور سلیمان کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخر کردیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں ‘ ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اس کا تابع بنا دیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام کرتے تھے ‘ ان سب کے نگران ہم ہی تھے “۔ سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں بہت سی باتیں ‘ بہت سی روایات اور بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ ان میں سے اکثر یا تو اسرائیلیات سے لی گئی ہیں یا اوہام و تخیلات کا نتیجہ ہیں۔ لیکن روایات کے اس صحرا میں ہم نے اپنے آپ کو بےراہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حددود قرآنیہ تک اپنے آپ کو محدود کردیں۔ قرآن کریم کے علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ہے۔ قرآن کریم میں صرف اس حد تک بیان ہوا ہے کہ ہوا کو ان کے لیے مسخر کردیا گیا تھا۔ یعنی تیز رفتار ہوا کو۔ یہ ہوا ارض متبرک کر طرف چلتی تھی۔ برکت والی سر زمین سے مراد موجودہ شام کی سر زمین ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے قصے میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے لیے اس ہوا کو کیونکر مسخر کردیا گیا تھا۔ ایک قصہ ہوا کے تخت یا ہو کی چادر کا ہے کہ حضرت سیلمان (علیہ السلام) اور آپ کے حاشیہ نشین اس پر بیٹھتے تھے اور اڑ جاتے تھے اور شام کی طرف چلے جاتے تھے اور چشم زون میں وہ شام میں ہوتے تھے۔ یہ اس قدر سفر تھا کہ اونٹوں پر ایک ماہ میں طے ہوتا تھا اور اسی طرح وہ واپس آجاتے تھے۔ اس روایت کو سورة سبا کی اس آیت سے ثابت کیا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے۔ ولسلیمان الریح۔۔۔۔۔ رواحھا شھر (43ـ: 21) ” اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا تھا ‘ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک “۔ لیکن قرآن کریم نے ہوا کی اس چادرکا ذکر کہیں نہیں کیا۔ اس کا ذکر کسی صحیح حدیث میں بھی نہیں ہوا۔ لہذا اس قسم کی روایات کے بارے میں ہمیں کوئی مستند ثبوت نہیں ملا۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم تسخیرہوا کا مفہوم یہ لیں کہ یہ ہوا اللہ کے حکم کے مطابق یوں چلتی تھی کہ ایک طرف سے ایک ماہ کا مفر وہ صبح و شام طے کرتی تھی۔ یہ سفر کیسے ہوجاتا تھا ؟ تو یہ قدرت الہٰی کے کارنامے ہیں۔ اس کے بارے میں ہم نہیں پوچھ سکتے کہ یہ کیسے چلتی تھی۔ قوانین قدرت کی تخلیق اللہ نے کہ ہے۔ وہ جس طرف چاہے ان قوائے قدرت کا رخ پھیر سکتا ہے۔ اس کائنات میں قدرت کے اصولوں میں سے ابھی انسان کو کم ہی کا پتہ چلا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ کے کچھ خفیہ طبیعی قوانین ایسے ہوں جن کا ابھی تک ہمیں علم نہ ہو اور ان اصولوں کا ظہور اور انکشاف اس وقت ہو جب انسان اس کا برداشت کرنے کے اہل ہوں اور اللہ کا حکم ہو۔ وکنا بکل شیی علمین (12 : 18) ” اور ہم ہر چیز کو جانتے تھے “۔ مطلق اور بےقید علم ہمارے قبضے میں ہے۔ رہا انسان کا علم تو وہ محدود ہے۔ یہی معاملہ تسخیر جنات کا ہے جو بحروبر میں ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور سیلمان (علیہ السلام) کے لیے زمین کے خزانے نکالتے تھے یا وہ ان کے لیے دوسری خدمات سر انجام دیتے تھے۔ جن ہر اس مخلوق کو کہتے ہیں جو مخفی ہو۔ قرآن مجید کی صریح آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک مخلوق ایسی ہے جسے جن کہتے ہیں ‘ جسے ہم دیکھ نہیں سکتے۔ اس مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا گیا تھا جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور دوسرے کام کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے کنٹرول میں دے دیا تھا کہ نہ وہ بھاگ سکتے تھے ‘ نہ فساد کرسکتے تھے۔ وہ نہ ان کی فرماں برادری کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر پوری طرح کنٹرول کرسکتا ہے اور اپنی مخلوق کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ بس فی ظلال میں ہم اس حد تک جاتے ہیں اور یہی وہ حد ہے جس میں غلطی کا احتمال کم ہے۔ اس لیے ہمیں اسرائیلیات میں تیرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کو خوشحالی میں آزمایا تھا۔ انعامات میں آزمایا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو فیصلے میں آزمایا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہما السلام) کو گھوڑوں کے بارے میں آزمایا تھا (تفصیلات سورة ص میں آرہی ہیں لہٰذاہم یہ مباحث یہاں نہیں چھیڑتے) ۔ اپنی جگہ یہ سب بحثیں ہوں گی۔ یہاں نتیجے کا ذکر ضروری ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے بھے صبر کیا ‘ حضرت سلیمان (علیہما السلام) نے بھی صبر کیا اور آزمائشوں کے بعد اللہ سے معافی اور مغفرت طلب کی اور امتحان و آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے۔ چناچہ وہ اللہ کے انعامات پر شکر خداوندی بجالانے والے تھے۔

الأنبياء 21:82

ولسلمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا لھم حفظین (12 : 28) ” اور سلیمان کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخر کردیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں ‘ ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اس کا تابع بنا دیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام کرتے تھے ‘ ان سب کے نگران ہم ہی تھے “۔ سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں بہت سی باتیں ‘ بہت سی روایات اور بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ ان میں سے اکثر یا تو اسرائیلیات سے لی گئی ہیں یا اوہام و تخیلات کا نتیجہ ہیں۔ لیکن روایات کے اس صحرا میں ہم نے اپنے آپ کو بےراہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حددود قرآنیہ تک اپنے آپ کو محدود کردیں۔ قرآن کریم کے علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ہے۔ قرآن کریم میں صرف اس حد تک بیان ہوا ہے کہ ہوا کو ان کے لیے مسخر کردیا گیا تھا۔ یعنی تیز رفتار ہوا کو۔ یہ ہوا ارض متبرک کر طرف چلتی تھی۔ برکت والی سر زمین سے مراد موجودہ شام کی سر زمین ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے قصے میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے لیے اس ہوا کو کیونکر مسخر کردیا گیا تھا۔ ایک قصہ ہوا کے تخت یا ہو کی چادر کا ہے کہ حضرت سیلمان (علیہ السلام) اور آپ کے حاشیہ نشین اس پر بیٹھتے تھے اور اڑ جاتے تھے اور شام کی طرف چلے جاتے تھے اور چشم زون میں وہ شام میں ہوتے تھے۔ یہ اس قدر سفر تھا کہ اونٹوں پر ایک ماہ میں طے ہوتا تھا اور اسی طرح وہ واپس آجاتے تھے۔ اس روایت کو سورة سبا کی اس آیت سے ثابت کیا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے۔ ولسلیمان الریح۔۔۔۔۔ رواحھا شھر (43ـ: 21) ” اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا تھا ‘ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک “۔ لیکن قرآن کریم نے ہوا کی اس چادرکا ذکر کہیں نہیں کیا۔ اس کا ذکر کسی صحیح حدیث میں بھی نہیں ہوا۔ لہذا اس قسم کی روایات کے بارے میں ہمیں کوئی مستند ثبوت نہیں ملا۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم تسخیرہوا کا مفہوم یہ لیں کہ یہ ہوا اللہ کے حکم کے مطابق یوں چلتی تھی کہ ایک طرف سے ایک ماہ کا مفر وہ صبح و شام طے کرتی تھی۔ یہ سفر کیسے ہوجاتا تھا ؟ تو یہ قدرت الہٰی کے کارنامے ہیں۔ اس کے بارے میں ہم نہیں پوچھ سکتے کہ یہ کیسے چلتی تھی۔ قوانین قدرت کی تخلیق اللہ نے کہ ہے۔ وہ جس طرف چاہے ان قوائے قدرت کا رخ پھیر سکتا ہے۔ اس کائنات میں قدرت کے اصولوں میں سے ابھی انسان کو کم ہی کا پتہ چلا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ کے کچھ خفیہ طبیعی قوانین ایسے ہوں جن کا ابھی تک ہمیں علم نہ ہو اور ان اصولوں کا ظہور اور انکشاف اس وقت ہو جب انسان اس کا برداشت کرنے کے اہل ہوں اور اللہ کا حکم ہو۔ وکنا بکل شیی علمین (12 : 18) ” اور ہم ہر چیز کو جانتے تھے “۔ مطلق اور بےقید علم ہمارے قبضے میں ہے۔ رہا انسان کا علم تو وہ محدود ہے۔ یہی معاملہ تسخیر جنات کا ہے جو بحروبر میں ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور سیلمان (علیہ السلام) کے لیے زمین کے خزانے نکالتے تھے یا وہ ان کے لیے دوسری خدمات سر انجام دیتے تھے۔ جن ہر اس مخلوق کو کہتے ہیں جو مخفی ہو۔ قرآن مجید کی صریح آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک مخلوق ایسی ہے جسے جن کہتے ہیں ‘ جسے ہم دیکھ نہیں سکتے۔ اس مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا گیا تھا جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور دوسرے کام کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے کنٹرول میں دے دیا تھا کہ نہ وہ بھاگ سکتے تھے ‘ نہ فساد کرسکتے تھے۔ وہ نہ ان کی فرماں برادری کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر پوری طرح کنٹرول کرسکتا ہے اور اپنی مخلوق کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ بس فی ظلال میں ہم اس حد تک جاتے ہیں اور یہی وہ حد ہے جس میں غلطی کا احتمال کم ہے۔ اس لیے ہمیں اسرائیلیات میں تیرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کو خوشحالی میں آزمایا تھا۔ انعامات میں آزمایا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو فیصلے میں آزمایا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہما السلام) کو گھوڑوں کے بارے میں آزمایا تھا (تفصیلات سورة ص میں آرہی ہیں لہٰذاہم یہ مباحث یہاں نہیں چھیڑتے) ۔ اپنی جگہ یہ سب بحثیں ہوں گی۔ یہاں نتیجے کا ذکر ضروری ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے بھے صبر کیا ‘ حضرت سلیمان (علیہما السلام) نے بھی صبر کیا اور آزمائشوں کے بعد اللہ سے معافی اور مغفرت طلب کی اور امتحان و آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے۔ چناچہ وہ اللہ کے انعامات پر شکر خداوندی بجالانے والے تھے۔

الأنبياء 21:83

اب ذرا مصائب میں مبتلا کر کے آزمانے کا واقعہ آتا ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ۔ وایوب اذ نادی۔۔۔۔۔۔۔ و ذکری للعبدین (48) ” ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ قرآن مجید کے ابتلاء کے قصوں میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت قصہ ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں یہ قصہ آیا ہے۔ یہ مجمل شکل میں آیا ہے۔ تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس جگہ یہاں حضرت ایوب کی دعا اور قبولیت دعا کا ذکر ہے کہون کہ اس سورة میں موضوع اور مضمون یہ اپنے بندوں پر رحمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور آزمائش میں ان کی امداد ہے خواہ یہ آزمائش قوم کی طرف سے تکذیب کی صورت میں ہو ‘ مثلا قصہ ابراہیم ‘ لوط اور نوح (علیہم السلام) میں یا اللہ کی جانب سے انعامات میں آزمائش ہو جس طرح دائود و سلیمان (علیہما السلام) یا مرض وغیرہ کی آزمائش ہو جس طرح حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصے میں ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے یہاں جو دعا کی ہے تو اس میں انہوں نے صرف یہ بتایا ہے کہ اللہ میرا یہ حال ہے اور رب تعالیٰ کی یہ صفت بیان کی ہے : انت ارحم الرحمین (12 : 38) اس کے بعد انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میرے حالات کو بدل دے ‘ یہ اس لیے کہ وہ مصیبتوں پر صبر کرنے والے تھے ‘ وہ اللہ کے سامنے کوئی تجویز یا مطالبہ نہ کرتے تھے۔ یہ ان کی جانب سے بارگاہ رب العزت میں ادب اور احترام کا رویہ تھا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) ایک ایسے صابر و شاکر شخصیت تھے کہ سخت سے سخت حالات میں وہ صبر کرتے تھے۔ کوئی فریادنہ کرتے تھے۔ آپ کا صبر اس قدر مشہور ہوا کہ وہمیشہ ان کی مثال دی جاتی ہے۔ آپ اس قدر صابر اور شاکر تھے کہ آپ نے اس مصیبت کے رفع ہونے کی دعا بھی نہیں فرمائی۔ پورا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو سب کچھ معلوم تھا۔ اس لیے سوال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ جب حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف اس اعتماد کے ساتھ اور اس مودبانہ طریقے سے متوجہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فوراً ان کی دعا کو قبول کیا ‘ آزمائش ختم ہوگئی اور رحمت خدا وندی آن پہنچی۔ نہ صرف یہ کہ ان کی تکلیف دور ہوئی بلکہ ان کے اہل و عیال بھی ان کو دے دیئے اور اسی قدر مزید بھی دیئے۔

الأنبياء 21:84

فاستجبنا لہ۔۔۔۔۔۔ مثلھم معھم (12 : 48) ” ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو تکلیف اسے تھی اس کو دور کردیا اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیئے بلکہ اس کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیئے “۔ ان کے جسم کو جو مرض لا حق تھا ‘ وہ دور ہوگیا اور آپ فوراً تندرست ہوگئے۔ ان کے اہل و عیال جن سے وہ محروم ہوگئے تھے اللہ نے ان کو دے دیئے اور ان جیسے اور دے دیئے۔ کہا گیا ہے کہ بیٹوں کے بدلے بیٹے دے دیئے یا بیٹے اور پوتے دے دیئے۔ رحمتہ من عندنا (12 : 48) ” اللہ کی ہر رحمت اللہ کا احسان ہے۔ صرف احسان ‘ ورنہ ہم تو مستحق نہیں ہیں۔ وذکری للعبدین (12 : 48) ” اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے “۔ آزمائش کے حوالے سے اس کا مطلب بہت اہم ہے ‘ عبادت گزاروں پا آزمائش آتی رہتی ہے۔ مثلاً عبادت کی مشکلات ‘ نظریاتی مشکلات اور ایمان کے تقاضے۔ یہ نہایت ہی سنجیدہ معاملہ ہے ‘ مذاق نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ حیات ایک عظیم امانت ہے اور یہ امانت صرف ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو اس کا بوجھ اٹھا سکیں اور جو اس کے تقاضے اور فرائض پورے کرسکیں۔ محض زبان سے کہتا ہی نہیں ہے یا محض دعویٰ ہی نہیں ہے لہٰذا صبر ضروری ہے تاکہ عبادت گزار آزمائش میں پورے اتریں۔

الأنبياء 21:85

اس کے بعد قرآن مجید حضرت اسماعیل ‘ حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل کی طرف صرف اشارہ کرتا ہے۔ واسمعیل و ادریس۔۔۔۔۔۔ من الصلحین (58۔ 68) ’ ان انبیاء کے حالات زندگی میں صبر کا عنصر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں ذبح کردیا جائے۔ جب ان کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے سر تسلیم خم کردیا۔ یہ صبر کا مثالی نمونہ تھا۔ یا ابت افعل۔۔۔۔۔۔ من الصبرین ” اے باپ ‘ آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اس پر عمل کریں۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے “۔ حضرت ادریس کے بارے میں اس سے قبل یہ بات آگئی ہے کہ ان کا زمان و مکان مجمول ہے۔ ان کے بارے میں بعض لوگوں نے یہ رائے دی ہے کہ وہ اور ادریس ہیں جن کی وفات کے بعد مصریوں نے ان کی پرستش شروع کردی تھی اور ان کے ساتھ کئی قصے اور کہانیاں وابستہ کردی تھیں مثلاً یہ کہ وہ انسانوں کے معلم اول ہیں ‘ جنہوں نے انسانوں کو زراعت سکھائی۔ صنعت کی تعلیم دی لیکن اس بات پر کوئی قطعی دلیل نہیں ہے۔ ہمیں اس کا یقین ہے کہ انہوں نے بھی کسی مشکل میں مثالی صبر کا مظاہرہ کیا جس کا ذکر اللہ کی آخری کتاب میں ضروری سمجھا گیا۔ حضرت ذوالکفل کے زمان و مکان کے بارے میں بھی معلومات نہیں ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ وہ نبی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ صالحین بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے کسی نبی کی کفالت اور خدمت کی اور انہوں نے ان کو اپنی خلافت تین شرائط کی ضمانت دینے پر ‘ ان کے حوالے کی کہ پوری رات عبادت کریں گے ‘ ہر دن روزے سے ہوں گے اور فیصلہ کرتے وقت کسی پر غصہ نہ کریں گے۔ انہوں نے ان ضمانتوں کو پورا کیا اس کیے ان کو ذوالکفل کیا گیا لیکن یہ بھی ایک قول ہے اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن کریم یہاں صرف یہ تصریح کرتا ہے کہ یہ صبر کرنے والے تھے۔

الأنبياء 21:86

واذخلنھم فی ۔۔۔۔ من الصلحین (12 : 68) ” ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کہ وہ صالحوں میں سے تھے “۔

الأنبياء 21:87

اب قصہ یونس علیہ السلام۔ آپ کو ذوالنون بھی کہتے ہیں۔ وذالانون اذ ذھب۔۔۔۔۔۔ کذلک نجی المومنین (78۔ 88) ’ “۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ بھی یہاں ایک سرسری اشارے کی شکل میں ہے ‘ جیسا کہ اس سورة کا انداز ہے اور سورة مضافات میں اس کی تفصیلات ہیں لیکن ضروری ہے کہ یہاں ہم بعض ضروری تفصیلات دے دیں تاکہ یہاں کے اشارات اچھی طرح سمجھ میں آجائیں۔ ان کو مچھلی والے (ذوالنون) اس لیے کہا جاتا ہے کہ جب ان کو کشتی سے پھینکا گیا تو مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ قصہ یہ تھا کہ ان کو ایک گائوں میں دعوت اسلامی پھیلانے کے لیے بھیجا گیا۔ گائوں والوں نے ان کی ایک نہ مانی ‘ ان کو اس پر بہت غصہ آیا۔ اسی غصے کی وجہ سے ناراض ہو کر وہاں سے چلے گئے اور ان میں رہ کر دعوت اسلامی کی مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیا۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ملک خدا تنگ نیست بئے مرالنگ نیست۔ اللہ کی مخلوقات سے اور گائوں بھرے پڑے ہیں ‘ اگر یہ لوگ دعوت کو قبول نہیں کرتے تو اللہ انہیں دوسروں کع طرف متوجہ گر دے گا۔ یہ ہے مفہوم فظن ان لن نقدر علیہ (12 : 78) کا ” اس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے “ یعنی ” لن نقدر “ کا مفہوم ہے ” لم نضیق علیہ “۔ ان کے غصے اور تنگ دلی نے ان کو گائوں سے نکلنے پر آمادہ کردیا۔ وہ سمندر کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں ایک کشتی تیار تھی۔ اس میں سوار ہر گئے۔ کشتی کو امواج بحری نے گھیر لیا۔ ملاح نے کہا کہ اگر اسے ہلکا نہ کیا گیا تو سب لوگ ڈوب جائیں گے۔ اس پر انہوں نے قرعہ اندازی کی۔ قرعہ حضرت یونس کا نکل گیا۔ لوگوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا یا خود کود پڑے۔ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اور وہ مزید تنگ جگہ تک جا پہنچے۔ اس وقت اندھیروں میں تھے۔ ایک اندھیرا مچھلی کے پیٹ کا ‘ دوسرا اندھیرا سمندر کا اور تیسرا اندھیرا رات کا۔ انہوں نے اپنے رب کو یوں پکارا۔ لاالہ الا انت سنحنک انی کنت من الظلمین (12 : 78) ” نہیں ہے کوئی الہٰ مگر تو ‘ پاک ہے ذات تیری ‘ بیشک میں ہی ظالموں میں سے تھا “۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی۔ اس پریشانی سے انہیں نجات دی جس میں وہ تھے۔ مچھلی نے انہیں ساحل پر پھینک دیا۔ اس کے بعد کے ان واقعات سورة اصافات میں مفصل ہیں۔ یہاں اسی قدرضروری تھا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے قصے کے اس حصے میں عبرت اور غور طلب نکات ہیں لہٰذا یہاں قدرے قوقف ضروری ہے۔ یہ کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے دعوت اسلامی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر نہ کیا۔ ان کا دل بھر آیا ‘ انہوں نے دعوت کی ذمہ داریاں چھوڑدیں اور غصے میں اس گائوں سے چل پڑے۔ جب وہ چلے تو سخت پریشانی اور غصے میں تھے۔ اللہ نے ان کو ان مشکلات سے دوچارکر دیا جن کے مقابلے میں تکذیب کرنے والوں کی جانب سے آنے والی مشکلات کم تھیں۔ اگر وہ توبہ نہ کرتے اور اپنے نفس پر ‘ دعوت اسلامی پر اور اپنے فرائض پر ظلم کا اعتراف نہ کرتے تو اللہ ان کو اس مصیبت سے نہ نکالتا لیکن قدرت نے ان کی توبہ قبول کر کے ان کی حفاظت کی اور ان کو اس غم سے نجات دی۔ دعوت اسلامی کے حاملین کے لیے ضروری ہے کہ وہ دعوت کے فرائض اور مشکلات کو برداشت کریں۔ اگر لوگ تکذیب کرتے ہیں تو وہ ان پر صبر کریں۔ اگر ایذادیتے ہیں تو صبر کریں ‘ حقیقت یہ ہے کہ ایک سچے آدمی کو جھوٹا کہنے کا اثر اس کے نفس پر بہت ہی کڑواہوتا ہے۔ لیکن رسالت کی ذمہ داریوں کا یہ قصہ ہے کہ لوگ مانیں یا نہ مانیں دعوت اسلامی کے حاملین کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر برداشت پیدا کریں ‘ صبر کریں اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں۔ ضروری ہے کہ وہ از سر نو دعوت کا کام شروع کریں۔ دعوت کا آغاز از سر نو کریں اور پرو گرام کو پھر سے شروع کریں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ دعوت کے کام سے مایوس نہ ہوں ، دلوں میں از سر نو اصلاح کا جذبہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور لوگوں کی اصلاح کا کام کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ قوم بار بار انکار کر دے اور تکذیب کر دے۔ سرکشی کرے اور دعوت کو رد کر دے۔ اگر سو بار کی دعوت دلوں پر اثر نہ کرے تو ہو سکتا ہے کہ ایک سو بار ایک بار کی دعوت دلوں میں اتر جائے۔ بعض اوقات انسان ایک ہزار ایک بار سعی کرنے پر کامیاب ہوتا ہے۔ اگر داعی صبر کرے ، کوشش کرے اور مایوس نہ ہو تو ہزار ہا کوششوں کے بعد وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ دعوت اسلامی کا کام آسان اور سہل نہیں ہے۔ لوگوں کے دلوں کو کسی دعوت کے لئے برانگیختہ کرنا بہت ہی دشوار کام ہے۔ دلوں کا جیتنا جوئے شیر لانے سے بھی مشکل ہے۔ باطل ، رسم و رواج اور عادات اور رسوم کا ایک تہ بہ تہ نظام ہے جس نے دعوت کے کام کو روک لیا ہوتا ہے۔ پھر ہر سوسائٹی اپنی موجودہ تنظیم اور اداروں کو بچانا چاہتی ہے۔ دلوں کے اوپر موجودہ عادات اور طرز زندگی زنگ کی طرح جما ہوتا ہے لہٰذا دلوں کو از سر نو زندہ کرنے کے لئے سب کچھ کرنا ہوتا ہے تمام حساس مراکز تحریک کو چھونا ہوتا ہے اور بڑی مشکل سے اس رگ کو پکڑا جاتا ہے جس کے ذریعے پیغام پہنچ جاتا ہے ۔ ایک ایک نج کے بڑے صبر ، بڑی برداشت اور بڑی جدوجہد کرنی ہوتی ہے لیکن بعض اوقات صرف ایک سرسری کوشش سے اور جب انسانی سوسائٹی کی دکھتی رگ کو پکڑ لیا جاتا ہے تو پھر بڑی آسانی کے ساتھ انسان منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے اور سوسائٹی میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ اس بات کو ایک عام مثال سے سمجھایا جاسکتا ہے۔ آپ ریڈیو کے ریسیور کی سوئی کو گھماتے رہتے ہیں لیکن مطلوبہ اسٹیشن نہیں لگتا۔ بار بار گھمانے کے بعد اچانک اچانک اسٹیشن لگ جاتا ہے بار بار کوششوں سے بعض اوقات اسٹیشن نہیں لگتا لیکن بعض اوقات سوئی کو محض لاپرواہی سے گھمانے کے نتیجے میں اسٹیشن لگ جاتا ہے اور پروگرام آنے شروع ہوجاتے ہیں۔ انسانی دل ریڈیو کے ریسیور کے مانند ہے اور داعی کو چاہئے کہ وہ مایوس نہ ہو اور ریسیور کو گھماتا رہے۔ دلوں کو ٹٹولتا رہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت لوگوں کے دل اسے قبول کرنے کے لئے اچانک آمادہ ہوجائیں اور لوگ افق ہے ذرا بلند دیکھنے لگ جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ انسان کی ہزار کوششیں ناکام رہیں اور ایک ہزار ایک نمبر پر کی جانے والی کوشش میں ہم منزل مقصود کو پالیں۔ یہ تو بہت آسان ہے کہ ایک داعی غضب میں آجائے برہم ہوجائے کہ لوگ میری بات کو قبول کیوں نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو چھوڑ دے ، آرام سے بیٹھ جائے ، ٹھیک ہے اس کی برہمی دور ہوجائے گی۔ اس کے اعصاب ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ لیکن دعوت اور پھر دعوت اسلامی کا کیا ہوگا ؟ کون واپس آئے گا اور جھٹلانے والی اور چھوڑی ہوئی قوم کو دعوت کون دے گا ؟ اصل بات دعوت ہے۔ داعی کی شخصیت اصل مقصود نہیں ہے۔ اگر داعی برہم ہوتا ہے یا اس کا سینہ دق ہوتا ہے تو اسے صبر کرنا چاہئے اور اپنی راہ کو نہ چھوڑنا چاہئے۔ اس کی ذات کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ صبر کرے اور لوگوں کی باتوں پر دل کو تنگ نہ کے۔ بےصبری کا مظاہرہ نہ کرے اور پھر لوگوں کی تکذیب اور لوگوں کی باتوں کی وجہ سے تو ایسا ہرگز نہ کرے۔ رہی داعی کی ذات تو اس کی حقیقت ہی کیا ہے۔ یہ تو دست قدرت کا ایک ہتھیار ہے۔ دعوت کا اصل کام اللہ خود کرتا ہے۔ وہی دعوت کا محافظ ہے۔ داعی کو چاہئے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں اپنے فریضہ کو پورا کرے۔ ہر فضا میں کام کے لئے راہیں نکالے۔ انجام اللہ پر چھوڑ دے۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت ذوالنون کے قصے میں داعیان حق کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ اس سبق کو غور سے حاصل کریں۔ حضرت ذوالنون (علیہ السلام) نے جب توبہ کی ، اپنے موقف پر نظرثانی کی اور اپنے کام پر لوٹ آئے تو اس میں دعوت اسلامی کے کارکنوں کے لئے بہت بڑی عبرت ہے۔ کیا مناسب نہیں ہے کہ داعیان حق اس پر تدبر کریں۔ پھر حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا ، اندھیروں کے اندر ان کی دعا اور اللہ کی طرف سے اس کی قبولیت میں داعیان حق کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے۔ کیا یہ نہیں کہا گیا۔ کذلک ننحی المومنین (21 : 88) ” اور اسی طرح ہم مومنوں کو بچا لیا کرتے ہیں۔ “ اب حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) کے قصے کی طرف سرسری اشارہ اور حضرت زکریا کی دعا کی قبولیت : وزکریآ…خشعین (90)

الأنبياء 21:88

اب قصہ یونس علیہ السلام۔ آپ کو ذوالنون بھی کہتے ہیں۔ وذالانون اذ ذھب۔۔۔۔۔۔ کذلک نجی المومنین (78۔ 88) ’ “۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ بھی یہاں ایک سرسری اشارے کی شکل میں ہے ‘ جیسا کہ اس سورة کا انداز ہے اور سورة مضافات میں اس کی تفصیلات ہیں لیکن ضروری ہے کہ یہاں ہم بعض ضروری تفصیلات دے دیں تاکہ یہاں کے اشارات اچھی طرح سمجھ میں آجائیں۔ ان کو مچھلی والے (ذوالنون) اس لیے کہا جاتا ہے کہ جب ان کو کشتی سے پھینکا گیا تو مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ قصہ یہ تھا کہ ان کو ایک گائوں میں دعوت اسلامی پھیلانے کے لیے بھیجا گیا۔ گائوں والوں نے ان کی ایک نہ مانی ‘ ان کو اس پر بہت غصہ آیا۔ اسی غصے کی وجہ سے ناراض ہو کر وہاں سے چلے گئے اور ان میں رہ کر دعوت اسلامی کی مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیا۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ملک خدا تنگ نیست بئے مرالنگ نیست۔ اللہ کی مخلوقات سے اور گائوں بھرے پڑے ہیں ‘ اگر یہ لوگ دعوت کو قبول نہیں کرتے تو اللہ انہیں دوسروں کع طرف متوجہ گر دے گا۔ یہ ہے مفہوم فظن ان لن نقدر علیہ (12 : 78) کا ” اس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے “ یعنی ” لن نقدر “ کا مفہوم ہے ” لم نضیق علیہ “۔ ان کے غصے اور تنگ دلی نے ان کو گائوں سے نکلنے پر آمادہ کردیا۔ وہ سمندر کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں ایک کشتی تیار تھی۔ اس میں سوار ہر گئے۔ کشتی کو امواج بحری نے گھیر لیا۔ ملاح نے کہا کہ اگر اسے ہلکا نہ کیا گیا تو سب لوگ ڈوب جائیں گے۔ اس پر انہوں نے قرعہ اندازی کی۔ قرعہ حضرت یونس کا نکل گیا۔ لوگوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا یا خود کود پڑے۔ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اور وہ مزید تنگ جگہ تک جا پہنچے۔ اس وقت اندھیروں میں تھے۔ ایک اندھیرا مچھلی کے پیٹ کا ‘ دوسرا اندھیرا سمندر کا اور تیسرا اندھیرا رات کا۔ انہوں نے اپنے رب کو یوں پکارا۔ لاالہ الا انت سنحنک انی کنت من الظلمین (12 : 78) ” نہیں ہے کوئی الہٰ مگر تو ‘ پاک ہے ذات تیری ‘ بیشک میں ہی ظالموں میں سے تھا “۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی۔ اس پریشانی سے انہیں نجات دی جس میں وہ تھے۔ مچھلی نے انہیں ساحل پر پھینک دیا۔ اس کے بعد کے ان واقعات سورة اصافات میں مفصل ہیں۔ یہاں اسی قدرضروری تھا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے قصے کے اس حصے میں عبرت اور غور طلب نکات ہیں لہٰذا یہاں قدرے قوقف ضروری ہے۔ یہ کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے دعوت اسلامی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر نہ کیا۔ ان کا دل بھر آیا ‘ انہوں نے دعوت کی ذمہ داریاں چھوڑدیں اور غصے میں اس گائوں سے چل پڑے۔ جب وہ چلے تو سخت پریشانی اور غصے میں تھے۔ اللہ نے ان کو ان مشکلات سے دوچارکر دیا جن کے مقابلے میں تکذیب کرنے والوں کی جانب سے آنے والی مشکلات کم تھیں۔ اگر وہ توبہ نہ کرتے اور اپنے نفس پر ‘ دعوت اسلامی پر اور اپنے فرائض پر ظلم کا اعتراف نہ کرتے تو اللہ ان کو اس مصیبت سے نہ نکالتا لیکن قدرت نے ان کی توبہ قبول کر کے ان کی حفاظت کی اور ان کو اس غم سے نجات دی۔ دعوت اسلامی کے حاملین کے لیے ضروری ہے کہ وہ دعوت کے فرائض اور مشکلات کو برداشت کریں۔ اگر لوگ تکذیب کرتے ہیں تو وہ ان پر صبر کریں۔ اگر ایذادیتے ہیں تو صبر کریں ‘ حقیقت یہ ہے کہ ایک سچے آدمی کو جھوٹا کہنے کا اثر اس کے نفس پر بہت ہی کڑواہوتا ہے۔ لیکن رسالت کی ذمہ داریوں کا یہ قصہ ہے کہ لوگ مانیں یا نہ مانیں دعوت اسلامی کے حاملین کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر برداشت پیدا کریں ‘ صبر کریں اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں۔ ضروری ہے کہ وہ از سر نو دعوت کا کام شروع کریں۔ دعوت کا آغاز از سر نو کریں اور پرو گرام کو پھر سے شروع کریں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ دعوت کے کام سے مایوس نہ ہوں ، دلوں میں از سر نو اصلاح کا جذبہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور لوگوں کی اصلاح کا کام کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ قوم بار بار انکار کر دے اور تکذیب کر دے۔ سرکشی کرے اور دعوت کو رد کر دے۔ اگر سو بار کی دعوت دلوں پر اثر نہ کرے تو ہو سکتا ہے کہ ایک سو بار ایک بار کی دعوت دلوں میں اتر جائے۔ بعض اوقات انسان ایک ہزار ایک بار سعی کرنے پر کامیاب ہوتا ہے۔ اگر داعی صبر کرے ، کوشش کرے اور مایوس نہ ہو تو ہزار ہا کوششوں کے بعد وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ دعوت اسلامی کا کام آسان اور سہل نہیں ہے۔ لوگوں کے دلوں کو کسی دعوت کے لئے برانگیختہ کرنا بہت ہی دشوار کام ہے۔ دلوں کا جیتنا جوئے شیر لانے سے بھی مشکل ہے۔ باطل ، رسم و رواج اور عادات اور رسوم کا ایک تہ بہ تہ نظام ہے جس نے دعوت کے کام کو روک لیا ہوتا ہے۔ پھر ہر سوسائٹی اپنی موجودہ تنظیم اور اداروں کو بچانا چاہتی ہے۔ دلوں کے اوپر موجودہ عادات اور طرز زندگی زنگ کی طرح جما ہوتا ہے لہٰذا دلوں کو از سر نو زندہ کرنے کے لئے سب کچھ کرنا ہوتا ہے تمام حساس مراکز تحریک کو چھونا ہوتا ہے اور بڑی مشکل سے اس رگ کو پکڑا جاتا ہے جس کے ذریعے پیغام پہنچ جاتا ہے ۔ ایک ایک نج کے بڑے صبر ، بڑی برداشت اور بڑی جدوجہد کرنی ہوتی ہے لیکن بعض اوقات صرف ایک سرسری کوشش سے اور جب انسانی سوسائٹی کی دکھتی رگ کو پکڑ لیا جاتا ہے تو پھر بڑی آسانی کے ساتھ انسان منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے اور سوسائٹی میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ اس بات کو ایک عام مثال سے سمجھایا جاسکتا ہے۔ آپ ریڈیو کے ریسیور کی سوئی کو گھماتے رہتے ہیں لیکن مطلوبہ اسٹیشن نہیں لگتا۔ بار بار گھمانے کے بعد اچانک اچانک اسٹیشن لگ جاتا ہے بار بار کوششوں سے بعض اوقات اسٹیشن نہیں لگتا لیکن بعض اوقات سوئی کو محض لاپرواہی سے گھمانے کے نتیجے میں اسٹیشن لگ جاتا ہے اور پروگرام آنے شروع ہوجاتے ہیں۔ انسانی دل ریڈیو کے ریسیور کے مانند ہے اور داعی کو چاہئے کہ وہ مایوس نہ ہو اور ریسیور کو گھماتا رہے۔ دلوں کو ٹٹولتا رہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت لوگوں کے دل اسے قبول کرنے کے لئے اچانک آمادہ ہوجائیں اور لوگ افق ہے ذرا بلند دیکھنے لگ جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ انسان کی ہزار کوششیں ناکام رہیں اور ایک ہزار ایک نمبر پر کی جانے والی کوشش میں ہم منزل مقصود کو پالیں۔ یہ تو بہت آسان ہے کہ ایک داعی غضب میں آجائے برہم ہوجائے کہ لوگ میری بات کو قبول کیوں نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو چھوڑ دے ، آرام سے بیٹھ جائے ، ٹھیک ہے اس کی برہمی دور ہوجائے گی۔ اس کے اعصاب ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ لیکن دعوت اور پھر دعوت اسلامی کا کیا ہوگا ؟ کون واپس آئے گا اور جھٹلانے والی اور چھوڑی ہوئی قوم کو دعوت کون دے گا ؟ اصل بات دعوت ہے۔ داعی کی شخصیت اصل مقصود نہیں ہے۔ اگر داعی برہم ہوتا ہے یا اس کا سینہ دق ہوتا ہے تو اسے صبر کرنا چاہئے اور اپنی راہ کو نہ چھوڑنا چاہئے۔ اس کی ذات کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ صبر کرے اور لوگوں کی باتوں پر دل کو تنگ نہ کے۔ بےصبری کا مظاہرہ نہ کرے اور پھر لوگوں کی تکذیب اور لوگوں کی باتوں کی وجہ سے تو ایسا ہرگز نہ کرے۔ رہی داعی کی ذات تو اس کی حقیقت ہی کیا ہے۔ یہ تو دست قدرت کا ایک ہتھیار ہے۔ دعوت کا اصل کام اللہ خود کرتا ہے۔ وہی دعوت کا محافظ ہے۔ داعی کو چاہئے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں اپنے فریضہ کو پورا کرے۔ ہر فضا میں کام کے لئے راہیں نکالے۔ انجام اللہ پر چھوڑ دے۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت ذوالنون کے قصے میں داعیان حق کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ اس سبق کو غور سے حاصل کریں۔ حضرت ذوالنون (علیہ السلام) نے جب توبہ کی ، اپنے موقف پر نظرثانی کی اور اپنے کام پر لوٹ آئے تو اس میں دعوت اسلامی کے کارکنوں کے لئے بہت بڑی عبرت ہے۔ کیا مناسب نہیں ہے کہ داعیان حق اس پر تدبر کریں۔ پھر حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا ، اندھیروں کے اندر ان کی دعا اور اللہ کی طرف سے اس کی قبولیت میں داعیان حق کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے۔ کیا یہ نہیں کہا گیا۔ کذلک ننحی المومنین (21 : 88) ” اور اسی طرح ہم مومنوں کو بچا لیا کرتے ہیں۔ “ اب حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) کے قصے کی طرف سرسری اشارہ اور حضرت زکریا کی دعا کی قبولیت : وزکریآ…خشعین (90)

الأنبياء 21:89

حضرت یحییٰ کی پیدائش کا قصہ سورة مریم اور سورة آل عمران میں گزر چکا ہے ، بڑی تفصیلات کے ساتھ یہاں دوسرے قصص کی طرح فقط اشارات ہی ہیں۔ اس کا آغاز حضرت زکریا کی اس دعا سے ہوتا ہے۔ رب لاتذرنی فرداً (21 : 89) ” پروردگار ، مجھے اکیلا نہ چھوڑ “۔ کہ میرا کوئی وارث نہ ہو ، جو میرے بعد ہیکل کے معاملات کا نگراں ہو۔ حضرت زکریا بنی اسرائیل کے ہیکل (عبادت گاہ) کے نگراں تھے۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے کا واقعہ ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عبادات ، مقامات ، عبادات اور تمام لوگوں کے اموال کا آخری وارث تو اللہ ہی ہے۔ اسی لئے انہوں نے کہہ دیا۔ وانت خیر الورثین (21 : 89) ” اور بہترین وارث تو تو ہی ہے “ لیکن ان کا اصل مدعا یہ تھا کہ ان کے بعد ان کے اہل و عیال کے لئے ، ان کے دین کے لئے اور ان کے مال کے لئے ، ان کو اچھا جانشین ملے کیونکہ خلافت ارضی میں انسان ہی دست قدرت کا کام کرتا ہے۔ قبولیت دعا بھی فوراً ہی ہوتی ہے۔ فاستجبنا لہ و ھبنا لہ یحییٰ و اصلحنا لہ زوجہ (21 : 90) ” پس ہم نے اس کی دعا قبول کرلی۔ اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لئے درست کردیا۔ “ وہ بانجھ تھی ولادت کے قابل ہی نہ تھی لیکن یہاں دوسرے قصص کی طرح سیاق کلام میں اختصار کر کے قاری کو انجام یعنی استجابت دعا تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ انھم کانوا یسرعون فی الخیرت (21 : 90) ” یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے۔ “ تو اللہ نے قبولیت دعا میں جلدی فرمائی۔ ویدعوننا رغباً و رھباً (21 : 90) ” اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے۔ “ رغبت اس لئے کہ اللہ راضی ہوجائے اور ڈر اس کا کہ اللہ ناراض نہ ہوجائے۔ ان کے دل اللہ کے ساتھ پختہ رابطہ رکھتے تھے ۔ اللہ کی رحمت کے وہ ہر وقت امیدوار رہے تھے۔ وکانوالنا خشعین (21 : 90) ” اور وہ ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔ “ نہ تکبر کرتے تھے اور نہ ہمارے مقابلے میں زور آور تھے۔ یہ تھیں وہ صفات جن کی وجہ سے حضرت زکریا ، بیگم زکریا (علیہ السلام) اس بات کے مستحق ہوئے کہا نہیں غیر معمولی طور پر یحییٰ جیسا غیر معمولی لڑکا دیا جائے۔ یوں یہ ایک مبارک خاندان تھا ، اللہ کی رحمت و رضا کی مستحق۔ سب سے آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ان کے والدہ حضرت مریم کا ذکر بھی آتا ہے ، اسی اختصار کے ساتھ۔

الأنبياء 21:90

حضرت یحییٰ کی پیدائش کا قصہ سورة مریم اور سورة آل عمران میں گزر چکا ہے ، بڑی تفصیلات کے ساتھ یہاں دوسرے قصص کی طرح فقط اشارات ہی ہیں۔ اس کا آغاز حضرت زکریا کی اس دعا سے ہوتا ہے۔ رب لاتذرنی فرداً (21 : 89) ” پروردگار ، مجھے اکیلا نہ چھوڑ “۔ کہ میرا کوئی وارث نہ ہو ، جو میرے بعد ہیکل کے معاملات کا نگراں ہو۔ حضرت زکریا بنی اسرائیل کے ہیکل (عبادت گاہ) کے نگراں تھے۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے کا واقعہ ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عبادات ، مقامات ، عبادات اور تمام لوگوں کے اموال کا آخری وارث تو اللہ ہی ہے۔ اسی لئے انہوں نے کہہ دیا۔ وانت خیر الورثین (21 : 89) ” اور بہترین وارث تو تو ہی ہے “ لیکن ان کا اصل مدعا یہ تھا کہ ان کے بعد ان کے اہل و عیال کے لئے ، ان کے دین کے لئے اور ان کے مال کے لئے ، ان کو اچھا جانشین ملے کیونکہ خلافت ارضی میں انسان ہی دست قدرت کا کام کرتا ہے۔ قبولیت دعا بھی فوراً ہی ہوتی ہے۔ فاستجبنا لہ و ھبنا لہ یحییٰ و اصلحنا لہ زوجہ (21 : 90) ” پس ہم نے اس کی دعا قبول کرلی۔ اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لئے درست کردیا۔ “ وہ بانجھ تھی ولادت کے قابل ہی نہ تھی لیکن یہاں دوسرے قصص کی طرح سیاق کلام میں اختصار کر کے قاری کو انجام یعنی استجابت دعا تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ انھم کانوا یسرعون فی الخیرت (21 : 90) ” یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے۔ “ تو اللہ نے قبولیت دعا میں جلدی فرمائی۔ ویدعوننا رغباً و رھباً (21 : 90) ” اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے۔ “ رغبت اس لئے کہ اللہ راضی ہوجائے اور ڈر اس کا کہ اللہ ناراض نہ ہوجائے۔ ان کے دل اللہ کے ساتھ پختہ رابطہ رکھتے تھے ۔ اللہ کی رحمت کے وہ ہر وقت امیدوار رہے تھے۔ وکانوالنا خشعین (21 : 90) ” اور وہ ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔ “ نہ تکبر کرتے تھے اور نہ ہمارے مقابلے میں زور آور تھے۔ یہ تھیں وہ صفات جن کی وجہ سے حضرت زکریا ، بیگم زکریا (علیہ السلام) اس بات کے مستحق ہوئے کہا نہیں غیر معمولی طور پر یحییٰ جیسا غیر معمولی لڑکا دیا جائے۔ یوں یہ ایک مبارک خاندان تھا ، اللہ کی رحمت و رضا کی مستحق۔ سب سے آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ان کے والدہ حضرت مریم کا ذکر بھی آتا ہے ، اسی اختصار کے ساتھ۔

الأنبياء 21:91

والتی …للعلمین (91) یہاں مریم کے نام کو بھی حذف کردیا گیا ہے کیونکہ انبیاء کے تذکرے کے سلسلے میں ان کے بیٹے کا ذکر اصل مقصود تھا۔ آپ کا تذکرہ ان کے حالات کے ذیل میں آگیا اور آپ کی صرف اس صفت کو یہاں دہرایا گیا جس کا تعلق آپ کے بیٹے کے ساتھ ہے۔ والتی احصنت فرجھا (21 : 91) ” جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی۔ “ یعنی اس نے اسے کسی قسم کی مباشرت سے بچایا۔ احصان اپنے قانونی استعمال میں نکاح کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ شادی شدہ ہونا دراصل فحاشی سے بچنے اور پاکدامنی اختیار کرنے کی بہترین صورت ہے۔ یہاں یہ لفظ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو ہر قسم کی مباشرت سے بچانا خواہ قانونی یا غیر قانونی ہو۔ یہ اس لئے کہ یہودیوں نے حضرت مریم پر بدکاری کا الزام لگایا اور انہیں یوسف نجار کے ساتھ مہتمم کیا تھا جو ہیکل کا ایک خدمتگار تھا۔ متد اولہ انجیلس اس بارے میں یہ کہتی ہیں کہ یوسف نجار نے مریم کے ساتھ نکاح کرلیا تھا لیکن ابھی رخصتی نہ ہوئی تھی اور وہ ان کے قریب نہ گیا تھا۔ جب اس نے پاکدامنی اور عفت اختیار کی فنفخنا فیھما من روحنا (21 : 91) ” ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی۔ “ نفخ روح یہاں بھی عام ہے ، اس کا تعلق نہیں ہے۔ جس طرح سورة تحریم میں آ رہا ہے۔ سورة مریم میں ہم اس کی تفصیلات دے چکے ہیں۔ فی ضلال القرآن میں ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم آیات الٰہی تک اپنی بات کو محدود رکھتے ہیں۔ اس لئے یہاں بھی ہم تفصیلات میں نہیں جاتے ۔ آیات کے ساتھ ساتھ ہی ہم آخر تک جاتے ہیں۔ وجعلنھا وابنھا ایۃ للعلمین (21 : 91) ” اور اسے اور اس کے بیٹے کو دنیا بھر کے لئے نشانی بنا دیا۔ “ یہ ایک ایسا معجزہ اور ایسی نشانی تھی کہ نہ اس سے پہلے ایسا واقعہ ہوانہ بعد میں ہوگا۔ پوری انسانی تاریخ میں یہ واحد مثال ہے۔ یہ واقعہ اپنی مثال آپ ، اس لئے بنا دیا گیا کہ پوری انسانیت کے غور و فکر کے لئے یہ ایک واقعہ ہی کافی ہے۔ دست قدرت اپنے بنائے ہوئے قوانین قدرت کے مطابق کام کرتا ہے مگر اللہ اپنے بنائے ہوئے قوانین کا خود پابند نہیں ہے۔ رسولوں کے اس سلسلے کے بیان کے آخر میں ، جس میں رسولوں کی مثالیں ، ان کی آزمائشوں کی مثالیں ، ان پر اللہ کی رحمتوں کی مثالیں دی گئیں ، اب قرآن مجید ایک جامع بات بطور خلاصہ کلام بیان کرتا ہے۔

الأنبياء 21:92

ان……فاعبدون (92) انبیاء کا گروہ ایک ہی امت اور ایک ہی جماعت ہے۔ اس کا نظریہ بھی ایک ہے اور وہ سب ایک ہی نظام زندگی کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں۔ ان سب کا رخ اللہ ہی کی طرف ہے۔ زمین پر وہ ایک امت ہیں اور آسمانوں پر ان سب کا خدا ایک ہے۔ ان سب کا شعار صرف یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ اس طرح اس سورة کے ساتھ سبق کا یہ آخری تبصرہ بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے یہ کہ تمام پیغمبر کلمہ توحید کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں اور اس پوری کائنات کا نظام اس پر شاہد عادل ہے۔

الأنبياء 21:93

درس نمبر 143 ایک نظر میں یہ اس سورة کا آخری سبق ہے ، پہلے اسباق میں اس کائنات کے اندر جاری تکوینی قوانین قدرت کا ذکر تھا ، جو اس بات کے لئے نشانی تھے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے۔ جن قوانین کے مطابق اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجتا ہے ، وہ بھی ایک ہیں اور بتاتے ہیں کہ تمام رسولوں کا عقیدہ ایک ہی تھا۔ اس سبق میں مناظر قیامت اور اس کی علامات کا ذکر ہے۔ اس منظر میں مشرکین اور اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کا انجام بتایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ وحدہ متصرف اور متدبر ہے جو پوری کائنات کو چلا رہا ہے۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر اقتدار اعلیٰ عطا کرنے کے لئے بھی قوانین اور سنن الہیہ جاری کر رکھے ہیں اور خاتم النبین ﷺ کا بھیجا جانا ، اس دنیا پر درحقیقت اللہ کی رحمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان سے دست بردار ہوجائیں تاکہ یہ لوگ اپنے اللہ کے مقرر کردہ قدرتی انجام تک پہنچ جائیں اور پیغمبر ﷺ کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ ان کے کفر ، تکذیب اور استہزاء پر اللہ سے معاونت طلب کریں۔ انہیں چھوڑ دیں کہ یہ کھیل کود میں مصروف رہیں۔ یوم الحساب تو دور نہیں ہے۔ وتقطعوٓا……لایرجعون (95) رسولوں کا ایک گروہ ہے۔ یہ ایک ہی نظریہ پر قائم ہے او ان کی امت بھی ایک ہی امت ہے۔ اس امت کی بنیاد کلمہ طیبہ اور توحید پر ہے۔ اس کی شہادت اس پوری کائنات میں جاری وساری قوانین قدرت بھی دیتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی کلمہ ہے جس کی طرف ابتداء سے لے کر انتہاء تک تمام رسولوں نے لوگوں کو بلایا ہے۔ اسلام کا یہ اصل کبیر ہے۔ ہاں مختلف رسولوں کے ہاں قائم ہونے والا مفصل نظام زندگی اور نظام قانون بہرحال مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے۔ مختلف ادوار میں نظام قانونی اقدام کی استعداد اور ان کے درجہ ترقی کی مناسبت سے تشکیل پایا ہے۔ اس میں ان اقوام کے تجربات اور ان کے ذہنی ترقی اور قوت ادراک کو مدنظر رکھا جاتا رہا ہے۔ حیات ، وسائل زندگی اور لوگوں کے باہم ارتباط کے طور طریقوں ، سب کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ باوجود اس کے کہ رسول ایک تھے ، ان کا نظریہ حیات اور عقیدہ ایک تھا ، بعد میں آنے والے ان کے متبین نے اس ایک ہی دین ، نظریہ اور نظام کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر گوہ دین کا ایک ایک ٹکڑا لے کر علیحدہ ہوگیا او اس کے بعد ان گروہوں کے درمیان اختلافات زیادہ ہوگئے ، عداوت شروع ہوگئی ، دشمنی اس قدر بڑھی کہ جنگ وجدال شروع ہوگئی اور لوگ دینی عقائد کی وجہ سے ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے حالانکہ عقائد ایک تھے ، کیونکہ امت ہی ایک تھی۔ انہوں نے دنیا میں تو اپنے ایک دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے لیکن ان کو یہ خیال نہیں ہے کہ یہ سب کے سب قیامت کی طرف بڑی جلدی سے بڑھ رہے ہیں۔ کل الینا رجعون (21 : 93) ” سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے۔ “ کیونکہ لوٹنے کی جگہ تو اللہ کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں۔ اللہ ہی ان سے حساب و کتاب لینے والا ہے اور اس کو علم ہے کہ ان میں حق پر کون ہے اور باطل پر کون ہے۔

الأنبياء 21:94

فمن یعمل من اصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ وانا لہ کتبون (21 : 93) ” پھر جو نیک عمل کرے گا اس حال میں کہ وہ مومن ہو ، تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہوگی اور اسے ہم لکھ رہے ہیں۔ “ یہ ہے قانون عمل اور جزائے عمل۔ عمل صالح اگر قاعدہ ایمان کے اوپر مبنی ہو تو نہ اس کا انکار ہوگا اور نہ اس کی ناقدری ہوگی۔ وہ اللہ کے ہاں لکھا جا چکا ہوگا اور اس میں سے کوئی چیز لکھنے سے چھوٹ نہیں سکتی۔ اور ایمان پر مبنی ہونا اس لئے ضروری ہے کہ ایمان اور عمل کی قدر و قیمت ہو ، اگر ایمان نہ ہو تو عمل صالح ایمان موجود ہی نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ عمل صالح ایمان کا ثمرہ ہو بلکہ وہ ایمان کا ثبوت ہو۔ ایمان زندگی کی بنیاد ہے کیونکہ ایمان دراصل انسان اور اس کائنات کے درمیان حقیقی رابطہ ہے۔ ایسا رابطہ جو اس کائنات کو اور اس کے اندر تمام موجودات کو خالق واحد کے ساتھ مربوط کردیتا ہے۔ پھر یہ سب کچھ اس ناموس قدرت کی طرف پھرجاتا ہے جس کے مطابق پوری کائنات چل رہی ہے اور جب تک پختہ اساس نہ ہوگی اس وقت تک اس کے اوپر عمارت کھڑی ہی نہیں ہو سکتی۔ عمل صالح کی مثال اونچی بلڈنگ کی ہے۔ اگر یہ اونچی عمارت کسی مضبوط اساس پر نہ اٹھائی جائے تو وہ کسی بھی وقت دھڑام سے گر جاتی ہے۔ پھر عمل صالح ہمیشہ اس ایمان کا ثمر ہوتا ہے جو اگرچہ دلوں میں ہو لیکن زندہ ایمان ہو۔ اسلام کس چیز کا نام ہے ؟ یہ ایک متحرک عقیدہ ہے۔ جس وقت یہ متحرک عقیدہ ضمیر میں اچھی طرح بیٹھ جاتا ہے تو پھر وہ جسم انسانی سے عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتا ہے بلکہ عمل صالح دراصل ایمان کا ایک پختہ پھل ہوتا ہے۔ یہ پھل لگتا ہی تب ہے اور پختہ بھی تب ہی ہوتا ہے جب درخت زمین کے اندر گہرائی میں جانے والی جڑوں پر کھڑا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم جب عمل اور جزاء کا ذکر کرتا ہے تو وہ ایمان اور عمل کو ایک ساتھ لاتا ہے لہٰذا ایسے ایمان پر کوئی جزاء نہیں ہے وہ منجمد ہو ، بالکل بچھا وہا ہو او اس کے ساتھ بالکل کوئی پھل نہ لگتا ہو۔ اسی طرح اس عمل پر جزاء نہیں ہے جو ایمان سے کٹا ہوا ہو۔ بعض اوقات بغیر ایمان کے بھی ایک اچھا عمل دیکھا جاتا ہے ، لیکن یہ ایک عارضی اتفاق ہوتا ہے ، کیونکہ یہ عمل ایک مکمل نقشے کے مطابق نہیں ہوتا نہ کسی قاعدے اور قانون پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ دراصل بعض اوقات ایک عاضری جذبے یا عارضی خواہش کے مطابق ظاہر ہوجاتا ہے اور اس کی پشت پر کوئی حقیقی باعث یا سبب نہیں ہوتا جو اس کائنات کے اندر کوئی حقیقت رکھتا ہو۔ مضبوط حقیقت یہ ہے کہ عمل صالح خدائے ذوالجلال کی رضا مندی کے لئے کیا جائے۔ ایسا ہی عمل دراصل تعمیری عمل ہوتا ہے۔ ایسا ہی عمل اس کمال اور ترقی کا سبب بنتا ہے جو اللہ نے اس دنیا کی زندگی کی ترقی کے لئے طے کیا ہے۔ پس عمل صالح وہ بامقصد تحریک ہے جو اس زندگی کے مقصد کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ محض عارضی جذبہ یا محض اتفاقی اثر اس کا باعث نہیں ہوتا بلکہ وہ با مقصد عمل ہوتا ہے۔ پھر یہ عمل ایسا ہو کہ جس طرح یہ پوری کائنات خالق کائنات کے قانون قدرت کے مطابق چل رہی ہے اسی طرح وہ عمل بھی خالق کائنات کے قانون انسانی اور قانون فطرت کے مطابق ہو۔ دونوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہو۔ عمل کی مکمل جزاء تو آخرت میں ملتی ہے اگرچہ اس کا ایک حصہ اس دنیا میں بھی مل جائے۔ جن بستیوں کو دنیا میں بلاک کیا گیا ان کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا آخرت میں بھی ملے گی۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کو میدان حشر میں نہ اٹھایا جائے۔ لازماً حشر کے میدان میں یہ سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔

الأنبياء 21:95

وحرم علی قریۃ اھلکنھا انھم لایرجعون (21 : 95) ” اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا وہ پلٹ کر نہ آئے گی۔ “ یہاں ہلاک شدہ بستیوں کا ذکر فرمایا جاتا ہے ، خصوصیت کے ساتھ ، اس لئے کہ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ کل الینارجعون (21 : 93) ” سب ہماری طرف پلٹ کر آنے والے ہیں۔ “ بعض اوقات ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ جن بستیوں کو دنیا میں ہلاک کردیا گیا ہے شاید وہ ہمیشہ کے لئے ختم کردی گئیں اور وہ پلٹ کر نہ آئیں گی اور ان کا حساب و کتاب ختم ہوگیا اس لئے یہاں دوبارہ تاکید کی جاتی ہے کہ یہ بستیاں ضرور واپس لوٹ کر قیامت میں آئیں گی اور نہ ان کا آنا حرام ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہلاک شدہ بستیاں نہ آئیں۔ یہ انداز کلام ذرا عجیب و غریب ہے۔ اس لئے بعض مفسرین نے یہ تاویل کی ہے کہ ” لا “ یہاں زائد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب ان بستیوں کو نابود کردیا گیا تو پھر وہ واپس نہیں آسکتیں۔ بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ اس ہلاکت کے بعد ان کا رجوع ہدایت کی طرف نہیں ہوسکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں تاویلوں کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ نص قرآنی کی وہی تفسیر بہتر ہے جو اس کی ظاہری ترکیب کے مطابق ہو اور سیاق کلام میں اس مفہوم کے لئے قرینہ بھی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اس کے بعد مناظر قیامت میں سے ایک منظر کو یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر کا آغاز اس علامت سے کیا جاتا ہے کہ جس کا ظہور قرب قیامت کے زمانے میں ہوگا۔ وہ ہے یا جوج اور ماجوج کا کھل کر ٹوٹ پڑنا۔

الأنبياء 21:96

حتی اذا ……فعلین (104) سورة کہف میں قصہ ذوالقرنین کے بیان میں ہم نے یہ کہا تھا ” یاجوج اور ماجوج کے کھلنے کے ساتھ قرب قیامت کے وقت کا جو ذکر آتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ قرب قیامت تاتاریوں کے نکلنے سے واقع ہوگیا ہو ، تاتاری نکلے اور آناً فاناً شرق و غرب پر چھا گئے اور انہوں نے تمام ممالک اور بادشاہوں کو روند ڈالا اس لئے کہ قرآن نے حضور اکرم ؐ کے زمانے ہی میں کہہ دیا تھا کہ و اقتربت الساعۃ ” قیامت قریب آگئی “ نیز قایمت کے قریب ہونے سے بھی ” قریب “ کا تعین نہیں ہوتا کیونکہ زمانے کا حساب انسانوں کے نزدیک اور اللہ کے نزدیک بالکل مختلف ہے۔ اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ “ یہاں اس دن کے مناظر بتائے جا رہے ہیں جب وہ آجائے گا او اس دن کے آنے سے قبل زمین کے اندر جو واقعات ہوں گے وہ یہ کہ یاجوج اور ماجوج ہر طرف سے پھوٹ پڑیں گے اور پھر بلندی سے وہ ٹوٹ پڑیں گے۔ قرآن کریم کا یہ خاص انداز ہے کہ وہ زمین کے مالوف مناظر کو پیش کر کے انسان کو اخروی مناظر کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں قیامت کا جو منظر پیش کیا جا رہا ہے اس میں سر پر ائز دینے کا ایک عنصر ہے۔ اس منظر کو اچانک دیکھ کر لوگ مبہوت رہ جائیں گے۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ فاذا ھی شاخصۃ ابصار الذین کفروا (21 : 98) ” یکایک ان لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہوں نے کفر کیا تھا۔ “ یہ منظر اس قدر اچانک ہوگا کہ اس کے خوف کی وجہ سے لوگوں کو کچھ نظر ہی نہ آئے گا۔ یہاں قرآن کریم نے ابصار سے پہلے شافعہ کا لفظ رکھا ہے تاہ اس منظر کو اچھی طرح ذہن نشین کر دے۔ اب ان کے حالات اور ان کی حالت کو چھوڑ کر قرآن ان کے مکالمے کو نقلک رتا ہے۔ اس طرح یہ منظر اسکرین پر واضح ہو کر آتا ہے۔ قالوا یویلنا قد کنا فی غفلۃ من ھذا بل کنا ظلمین (21 : 98) ” کہیں گے ہائے ! ہماری کم بختی ، ہم اس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے بلکہ ہم خطاکار تھے۔ “ یہ ہے فریاد اس شخص کی جس پر غیر متوقع طور پر کوئی مصیبت آجائے۔ ایک خطرناک حقیقت اچانک اس پر کھل جائے۔ وہ دہشت زدہ ہوجائے۔ دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں۔ دیکھے مگر نظر نہ آئے۔ آخر کار چیخ اٹھے کہ مارے گئے۔ اعتراف گناہ کرلے۔ نادم ہوجائے مگر بعد از وقت۔ جب اچانک پکڑے جانے ، دہشت زدہ ہونے ، اور حواس بحال ہونے کے بعد اعتراف ہوتا ہے تو حکم الٰہی فی الفور صادر ہوتا ہے۔ انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (21 : 98)

الأنبياء 21:97

حتی اذا ……فعلین (104) سورة کہف میں قصہ ذوالقرنین کے بیان میں ہم نے یہ کہا تھا ” یاجوج اور ماجوج کے کھلنے کے ساتھ قرب قیامت کے وقت کا جو ذکر آتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ قرب قیامت تاتاریوں کے نکلنے سے واقع ہوگیا ہو ، تاتاری نکلے اور آناً فاناً شرق و غرب پر چھا گئے اور انہوں نے تمام ممالک اور بادشاہوں کو روند ڈالا اس لئے کہ قرآن نے حضور اکرم ؐ کے زمانے ہی میں کہہ دیا تھا کہ و اقتربت الساعۃ ” قیامت قریب آگئی “ نیز قایمت کے قریب ہونے سے بھی ” قریب “ کا تعین نہیں ہوتا کیونکہ زمانے کا حساب انسانوں کے نزدیک اور اللہ کے نزدیک بالکل مختلف ہے۔ اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ “ یہاں اس دن کے مناظر بتائے جا رہے ہیں جب وہ آجائے گا او اس دن کے آنے سے قبل زمین کے اندر جو واقعات ہوں گے وہ یہ کہ یاجوج اور ماجوج ہر طرف سے پھوٹ پڑیں گے اور پھر بلندی سے وہ ٹوٹ پڑیں گے۔ قرآن کریم کا یہ خاص انداز ہے کہ وہ زمین کے مالوف مناظر کو پیش کر کے انسان کو اخروی مناظر کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں قیامت کا جو منظر پیش کیا جا رہا ہے اس میں سر پر ائز دینے کا ایک عنصر ہے۔ اس منظر کو اچانک دیکھ کر لوگ مبہوت رہ جائیں گے۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ فاذا ھی شاخصۃ ابصار الذین کفروا (21 : 98) ” یکایک ان لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہوں نے کفر کیا تھا۔ “ یہ منظر اس قدر اچانک ہوگا کہ اس کے خوف کی وجہ سے لوگوں کو کچھ نظر ہی نہ آئے گا۔ یہاں قرآن کریم نے ابصار سے پہلے شافعہ کا لفظ رکھا ہے تاہ اس منظر کو اچھی طرح ذہن نشین کر دے۔ اب ان کے حالات اور ان کی حالت کو چھوڑ کر قرآن ان کے مکالمے کو نقلک رتا ہے۔ اس طرح یہ منظر اسکرین پر واضح ہو کر آتا ہے۔ قالوا یویلنا قد کنا فی غفلۃ من ھذا بل کنا ظلمین (21 : 98) ” کہیں گے ہائے ! ہماری کم بختی ، ہم اس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے بلکہ ہم خطاکار تھے۔ “ یہ ہے فریاد اس شخص کی جس پر غیر متوقع طور پر کوئی مصیبت آجائے۔ ایک خطرناک حقیقت اچانک اس پر کھل جائے۔ وہ دہشت زدہ ہوجائے۔ دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں۔ دیکھے مگر نظر نہ آئے۔ آخر کار چیخ اٹھے کہ مارے گئے۔ اعتراف گناہ کرلے۔ نادم ہوجائے مگر بعد از وقت۔ جب اچانک پکڑے جانے ، دہشت زدہ ہونے ، اور حواس بحال ہونے کے بعد اعتراف ہوتا ہے تو حکم الٰہی فی الفور صادر ہوتا ہے۔ انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (21 : 98)

الأنبياء 21:98

انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (21 : 98) ترجمہ :۔ ” بیشک تم اور تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہو ، وہیں تم کو جانا ہے۔ “ اچانک یہ لوگ اب میدان حشر میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ یہ جہنم کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ بڑی بےدردی کے ساتھ فرشتے ان کو اور ان کے معبودوں کو پکڑتے ہیں اور جہنم میں پھینکتے ہیں۔ وہاں پھینکے جاتے ہیں اور ایندھن کے ساتھ ایندھن ہو کر جلتے جاتے ہیں۔ صرف اس منظر سے ان کے خلاف استدلال ، وجدانی استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر یہ الہ ہوتے تو وہ جہنم کا ایندھن نہ بنتے۔ یہ ہے واقعی وجدانی دلیل۔ لوکان ھولآء الھۃ ماوردوھا (21 : 99) ” اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے۔ “ یہ منظر ان کے سامنے تو قرآن اس دنیا میں پیش کر رہا ہے ، لیکن اس طرح کہ گویا یہ منظر ہو کر گزر گیا ہے۔ وہ عملاً جہنم کے دھانے تک پہنچ گئے اور وہاں ڈال دیئے گئے تو اب جہنم میں ان کا جو حال ہے ، وہ پیش کردیا جاتا ہے ۔ اس طرح کہ جس طرح کوئی عملاً ایسے حالات میں پڑا ہو۔ وکل فیھا خلدون (21 : 99) لھم فیھا زفیر وھم فیھا لا یسمعون (21 : 100) ” اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔ وہاں وہ پھنکارے ماریں گے اور حال یہ ہوگا کہ اس میں کان بڑی آواز نہ سنائی دے گی۔ “ اب ذرا ان کو یہاں ہی چھوڑیئے اور آیئے دیکھیں مومنین کا حال کیسا ہے۔ ان کے حق میں تو فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ کامیابی اور نجات ان کا مقصدر ہوچکی ہے۔

الأنبياء 21:99

انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (21 : 98) ترجمہ :۔ ” بیشک تم اور تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہو ، وہیں تم کو جانا ہے۔ “ اچانک یہ لوگ اب میدان حشر میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ یہ جہنم کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ بڑی بےدردی کے ساتھ فرشتے ان کو اور ان کے معبودوں کو پکڑتے ہیں اور جہنم میں پھینکتے ہیں۔ وہاں پھینکے جاتے ہیں اور ایندھن کے ساتھ ایندھن ہو کر جلتے جاتے ہیں۔ صرف اس منظر سے ان کے خلاف استدلال ، وجدانی استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر یہ الہ ہوتے تو وہ جہنم کا ایندھن نہ بنتے۔ یہ ہے واقعی وجدانی دلیل۔ لوکان ھولآء الھۃ ماوردوھا (21 : 99) ” اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے۔ “ یہ منظر ان کے سامنے تو قرآن اس دنیا میں پیش کر رہا ہے ، لیکن اس طرح کہ گویا یہ منظر ہو کر گزر گیا ہے۔ وہ عملاً جہنم کے دھانے تک پہنچ گئے اور وہاں ڈال دیئے گئے تو اب جہنم میں ان کا جو حال ہے ، وہ پیش کردیا جاتا ہے ۔ اس طرح کہ جس طرح کوئی عملاً ایسے حالات میں پڑا ہو۔ وکل فیھا خلدون (21 : 99) لھم فیھا زفیر وھم فیھا لا یسمعون (21 : 100) ” اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔ وہاں وہ پھنکارے ماریں گے اور حال یہ ہوگا کہ اس میں کان بڑی آواز نہ سنائی دے گی۔ “ اب ذرا ان کو یہاں ہی چھوڑیئے اور آیئے دیکھیں مومنین کا حال کیسا ہے۔ ان کے حق میں تو فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ کامیابی اور نجات ان کا مقصدر ہوچکی ہے۔

الأنبياء 21:100

انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (21 : 98) ترجمہ :۔ ” بیشک تم اور تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہو ، وہیں تم کو جانا ہے۔ “ اچانک یہ لوگ اب میدان حشر میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ یہ جہنم کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ بڑی بےدردی کے ساتھ فرشتے ان کو اور ان کے معبودوں کو پکڑتے ہیں اور جہنم میں پھینکتے ہیں۔ وہاں پھینکے جاتے ہیں اور ایندھن کے ساتھ ایندھن ہو کر جلتے جاتے ہیں۔ صرف اس منظر سے ان کے خلاف استدلال ، وجدانی استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر یہ الہ ہوتے تو وہ جہنم کا ایندھن نہ بنتے۔ یہ ہے واقعی وجدانی دلیل۔ لوکان ھولآء الھۃ ماوردوھا (21 : 99) ” اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے۔ “ یہ منظر ان کے سامنے تو قرآن اس دنیا میں پیش کر رہا ہے ، لیکن اس طرح کہ گویا یہ منظر ہو کر گزر گیا ہے۔ وہ عملاً جہنم کے دھانے تک پہنچ گئے اور وہاں ڈال دیئے گئے تو اب جہنم میں ان کا جو حال ہے ، وہ پیش کردیا جاتا ہے ۔ اس طرح کہ جس طرح کوئی عملاً ایسے حالات میں پڑا ہو۔ وکل فیھا خلدون (21 : 99) لھم فیھا زفیر وھم فیھا لا یسمعون (21 : 100) ” اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔ وہاں وہ پھنکارے ماریں گے اور حال یہ ہوگا کہ اس میں کان بڑی آواز نہ سنائی دے گی۔ “ اب ذرا ان کو یہاں ہی چھوڑیئے اور آیئے دیکھیں مومنین کا حال کیسا ہے۔ ان کے حق میں تو فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ کامیابی اور نجات ان کا مقصدر ہوچکی ہے۔

الأنبياء 21:101

ان الذین سبقت ……خلدون (21 : 102) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے تو وہ یقینا اس سے دور رکھے جائیں گے۔ اس کی سرسراہٹ تک نہ نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ من بھاتی چیزوں میں رہیں گے۔ ‘ لفظ حسبھا ان الفاظ میں سے ہے جو اپنے صوتی ترنم سے اپنے مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ لفظ آگ کی اس آواز کو ظاہر کرتا ہے جو جلتی ہے اور جلاتی ہے اور سر سر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ ایسی آواز ہے کہ اس کے تصور سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس پر اس کے بارے میں سوچتے ہی کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان جن کے بارے میں اچھا فیصلہ صادر ہوچکا ہے اس آواز کو بھی نہ سنیں گے۔ دیکھیں گے بھی نہیں کیونکہ وہ اس دن کے عظیم جزع و فزع سے نجات پا چکے ہیں۔ وہ ایسے باغات میں ہوں گے جن میں ان کو متام مرغوبات فراہم ہوں گی۔ ملائکہ انہیں ہر طرف سے اچھا کہیں گے اور ان کے ساتھ رہیں گے تاکہ یہ لوگ اس دن کے خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں۔

الأنبياء 21:102

ان الذین سبقت ……خلدون (21 : 102) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے تو وہ یقینا اس سے دور رکھے جائیں گے۔ اس کی سرسراہٹ تک نہ نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ من بھاتی چیزوں میں رہیں گے۔ ‘ لفظ حسبھا ان الفاظ میں سے ہے جو اپنے صوتی ترنم سے اپنے مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ لفظ آگ کی اس آواز کو ظاہر کرتا ہے جو جلتی ہے اور جلاتی ہے اور سر سر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ ایسی آواز ہے کہ اس کے تصور سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس پر اس کے بارے میں سوچتے ہی کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان جن کے بارے میں اچھا فیصلہ صادر ہوچکا ہے اس آواز کو بھی نہ سنیں گے۔ دیکھیں گے بھی نہیں کیونکہ وہ اس دن کے عظیم جزع و فزع سے نجات پا چکے ہیں۔ وہ ایسے باغات میں ہوں گے جن میں ان کو متام مرغوبات فراہم ہوں گی۔ ملائکہ انہیں ہر طرف سے اچھا کہیں گے اور ان کے ساتھ رہیں گے تاکہ یہ لوگ اس دن کے خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں۔

الأنبياء 21:103

لایحزنھم الفزع الاکبر و تتلقھم الملئکۃ ھذا یومکم الذی کنتم توعدون (21 : 103) ” وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں میں لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ “ ان منظر کو اس کائنات کے خاتمے کے منظر پر ختم کیا جاتا ہے ، یہ کائنات اس دن کی طرف لوٹتی ہے۔ اس دن کے خوفناک منظر میں جس طرح تمام لوگوں کے دل اس خوف کی گرفت میں ہیں اس طرح پوری کائنات بھی اس خوف و ہراس کی گرفت میں ہے۔

الأنبياء 21:104

یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب (21 : 103) ” وہ دن جب آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ آسمان اس طرح لپیٹ دیا جائے گا جس طرح ریکارڈ کی پر ریکارڈ کو لپیٹ کر رکھ دیتا ہے۔ اب یہ منظر ختم ہوتا ہے اور یہ کائنات اس طرح لپیٹ دی جاتی ہے جس طرح ہمارے کاغذات اب کیا ہے ایک نئی دنیا اور ایک نئی کائنات اور نیا جہاں۔ کما بدانا اول خلق نعیدہ وعدا علینا انا کنا فعلین (21 : 103) ” جس طر ہم نے پہلے تخلیق کی ابتداء کی اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمے اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے۔ “ کائنات کے خاتمہ کے اس خوبصورت منظر کو پیش کرنے کے بعد اور آخرت میں دوبارہ جہاں کو پیدا کرنے کے لئے ، روئے سخن پھر اس زمین کی طرف مڑ جاتا ہے۔ اللہ کی آل سنت بیان کی جاتی ہے کہ اس دنیا کے اقتدار اعلیٰ کی وراثت کا حق میرے صالح بندوں کا ہے اور یہ حق ان کو اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی بندگی کر کے اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کرچکے ہیں ان دونوں مناظر کے درمیان پورا ربط ہے۔ آخرت بھی نیک بندوں کی اور دنیا بھی نیک بندوں کی۔

الأنبياء 21:105

ولقد………الصلحون (105) زبور ایک الہامی کتاب تھی جو دائود (علیہ السلام) کو دی گئی تھی۔ اس سورة میں ذکر سے مراد تو رات ہوگی۔ جو زبور سے پہلے نازل ہوئی۔ یہ کتاب کی صفت ہے یعنی کتاب کا ایک ٹکڑا۔ اصل کتاب کا حصہ بمعنی لوح محفوظ ، جو ایک مکمل نظام ہے ، جو ایک مکمل مرجع ہے او اس کائنات کے ساتھ متعلق تمام قوانین اس کے اندر محفوظ ہیں۔ اس کا حصہ ہیں۔ بہرحال اصل زیر غور مسئلہ یہ ہے کہ اس سے مراد کیا ہے۔ ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصلحون (21 : 105) ” اور زبور میں نصیحت کے بعد ہم نے لکھ دیا کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ “ وراثت کیا ہے ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس زمین کی وراثت اور اقتدار اعلیٰ کے بارے میں سنت الہیہ کیا ہے ؟ یہ کہ یہاں اقتدار میرے صالح بندوں کو ملے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ صالح بندے کون ہیں ؟ اللہ نے زمین پر آدم کو خلیفہ بنایا تاکہ وہ اس زمین کی تعمیر کرے او اس کی اصلاح کرے۔ اس کو ترقی دے اور اس سے تو جو خزانے ودیعت کئے ہوئے ہیں ، ان سے استفادہ کرے ، اس کے اندر جو طبیعی قوتیں ہیں ان کو کام میں لائے او اس ترقی کو اپنی انتہا تک پہنچائے جہاں تک اللہ چاہے۔ اس خلافت فی الارض کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک منہاج بھی انسان کو دے دیا ، جس کے مطابق انسان نے زمین پر کام کرنا ہے۔ یہ منہاج نبی ﷺ نے اپنی آخری رسالت میں مکمل و مفصل کردیا ہے اور اس کے لئے قوانین اور ضوابط مقرر کردیئے ہیں۔ اس کے لئے ان قوانین میں مکمل ضمانت ہے۔ اس نظام کے مقاصد میں صرف یہ بات ہی شامل نہیں ہے کہ انسان زمین کے اندر موجود ذخائر کو کام میں لا کر مادی ترقی پر زور دیتا ہے بلکہ انسانی عقل اور انسانی ضمیر اور اس کی روح کو بھی ترقی دے۔ تاکہ اس دنیا میں انسان نے جس قدر مادی اور روحانی ترقی کرنی ہے وہ اس کے آخر تک پہنچ جائے۔ یہ نہ ہو کہ دنیا میں مادی ترقی کرتے کرتے وہ خود محض حیوان بن کر تنزل کا شکار نہ ہوجائے۔ مادی ترقیات تو آسمانوں کو چھو رہی ہوں اور انسان کی انسانیت پستیوں کی آخری حدوں پر (……) میں ہو۔ جب انسان اسلامی نظام زندگی کے مطابق منصب خلافت کے فرائض ادا کرتے ہوئے راہ ترقی پر گامزن ہو ، تو اس راہ میں مادی ترقی اور روحانی ترقی کا توازن کبھی کبھی بگڑ بھی جاتا ہے۔ کبھی ایک پلڑا بھاری ہوجاتا ہے اور کبھی دوسرا۔ اور توازن باقی نہیں رہتا۔ بعض اوقات اقتدار کے سرچشموں پر ڈکٹیٹر ، ظالم اور سرکش لوگ قابض ہوجاتے ہیں۔ کبھی ان مناصب پر سخت جاہل ، اجڈ اور مہم جو قابض ہوجاتے ہیں ، کبھی ان مناصب پر کفار اور فجار خالص ہوجاتے ہیں جو پوری دنیا کا مادی اور اخلاقی استحصال کرتے ہیں لیکن یہ صرف راستے کے تجربے ہوتے ہیں۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ زمین کے مناصب کی وراثت اللہ کے صالح بندوں کے لئے ہے۔ جن کا ایمان بھی مکمل ہو اور عمل بھی درست ہو۔ ان کی زندگی میں ایمان اور عمل صالح دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوتے ہوں۔ امت میں جب بھی ایمان اور عمل اسلامی معیار کے مطابق جمع ہوئے ہیں ، تاریخ کے کسی بھی موڑ میں ، تو زمین صالح بندوں کی وراثت بنی ہے لیکن جب ایمان و عمل میں جدائی ہوئی ہے یعنی ایمان نہیں رہا یا عمل نہیں رہا ، تو یہ وراثت ان کے ہاتھ سے چلی گئی ہے۔ بعض اوقات ایسے لوگوں کو غلبہ مل جاتا ہے جو محض مادی وسائل پر تکیہ کرتے ہیں۔ جو لوگ محض زبانی کلامی مومن ہوتے ہیں وہ پیچھے رہ جات یہیں۔ نیز بعض اوقات اہل ایمان کے اندر رسمی ایمان تو وہتا مگر وہ صحیح ایمان نہیں ہوتا جو انسان کو صحیح عمل پر آمادہ کرے اور دنیاوی ترقی کرے تو ایسی صورت میں بھی محض مادی ترقی کرنے والے لوگ زمین کے اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں۔ اس لئے کہ اہل ایمان ، ایمان کے ان تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے ہوتے جو خلافت فی الارض کے اونچے مقام کے لئے اسلامی نظام کی شکل میں اللہ نے اہل ایمان کے لئے وضع کئے ہیں۔ تحریک اسلامی کے کارکنوں پر اس وقت ایک ہی فرض ہے ، وہ یہ کہ وہ اپنے دلوں میں ایمان کا حقیقی مفہوم پیدا کریں۔ ایمان کا حقیقی مفہوم عمل صالح ہے۔ پھر خلافت فی الارض کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ اس کے بعد پھر اللہ کی سنت اپنے ظہور میں ایک لمحہ بھی دیر نہیں کرتی۔ ان الارض یرثھا عبادی الصلحون (21 : 105) ” زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ “ اب آخر میں عقل و خرد کی تاروں پر اسی مضراب کی ضربات لگتی ہیں جن کے نغمات سورة کے آغاز میں سنے گئے تھے۔

الأنبياء 21:106

ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین (21 : 106) ” اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لئے۔ “ یعنی قرآن کی تعلیمات میں اس پوری کائنات اور انسانی زندگی کے لئے جو اصول وضع کئے گئے ہیں اور پھر لوگوں کے لئے دنیا (آیت 105) اور آخرت میں جو فطری انجام بتائے گئے ہیں ، جو اصول عمل اور مکافات عمل رکھے گئے ہیں ان سب میں ان لوگوں کے لئے بڑی خوشخبری ہے۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے لفظ ” عابدین “ استعمال کیا ہے کیونکہ عبادت کرنے والا ، بندگی کرنے والا شخص ہر بھلائی کو قبول کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور تدبر کر کے اس سے نفع اٹھا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام انسانیت کے لئے ایک ہادی بنا کر بھیجا ہے تاکہ وہ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر اللہ کی راہ کی طرف لے آئیں۔ لیکن ہدایت تو وہی پاتے ہیں جو ہدایت پانے کے لئے تایر ہوں ، ارادہ کریں ، اگرچہ اللہ کی رحمت مومنین اور غیر مومنین دونوں کیل ئے عام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو نظام اور جو مناج لے کر آئے ہیں وہ اس دنیا میں بھی پوری انسانیت کے لئے سعادت مندی کا باعث ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی رسالت اس دور میں آئی جس دور میں انسانیت سن رشد اور بلوغ کو پہنچ گئی تھی۔ یہ رسالت ایک کھلی کتاب کی صورت میں آئی اور یہ کتاب اور یہ رسالت تمام آنے والی نسلوں کے لئے ایک ایسا نظام زندگی پیش کرتی ہے جس میں کسی تبدیلی کی آئندہ بھی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ نظام انسان کی ان تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے جو قیامت تک اسے پیش آسکتی ہیں۔ یہ نظام اس خالق کا ارسال کردہ ہے ، جو انسانوں کی ضروریات کو خود انسانوں سے زیادہ جانتا ہے ، کیونکہ وہ لطیف وخبیر ہے۔ اللہ نے قرآن مجید کے اندر ایسے اصول وضع کئے ہیں جو قیامت تک آنے والی انسانی زندگی کی نئی نئی ضروریات کو بھی پورا کرتے ہیں۔ فروع اور جزئیات خود انسان پر چھوڑ دی ہیں کہ وہ ان اصولوں کی روشنی میں قیامت تک آنے والی انسان کی ترقی یافتہ زندگی کی ضروریات کے لئے خود قانون وضع کریں۔ ہر دور کی ظروف و احوال کے مطابق جزوی مسائل کو اجتہاد کر کے اس کے لئے قانون بنائیں بشرطیکہ وہ قوانین قرآن کے اصولوں سے متصادم نہ ہوں جو دائمی ہیں۔ قرآن انسان کو عقل اور سوچ کی پوری آزادی دیتا ہے وہ ایک ایسا معاشرہ اٹھاتا ہے جس میں لوگوں کے دماغوں پر تالے نہ پڑے ہوں۔ لیکن آزادی فکر و عمل اس دائرے کے اندر ہے جو اسلامی منہاج نے کھینچ دیا ہے تاکہ انسان اس دنیا کی زندگی میں نشو و نما پائے ، ترقی کے عمل کو جاری رکھے اور اسے دائرہ کمال تک پہنچائے۔ آج تک کے انسانی تجربات یہ بتاتے ہیں کہ اسلام نے جو نظام زندگی وضع کیا ہے وہ تمام انسانیت کے فکر و عمل کے نظاموں سے آگے ہے۔ وہ اس قابل ہے کہ اس کی روشنی میں انسان مسلسل ترقی کرسکے۔ یہ نظام انسان کو ہر لمحہ آگے ہی بڑھاتا ہے ، نہ اسے جامد کرتا ہے اور نہ اسے پیچھے کی طرف لے جاتا ہے ، کیونکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس کا مقصد ہی خلافت فی الارض ہے۔ اس دنیا کو ترقی دیتا ہے ، ہمیشہ آگے ہی بڑھتا ہے اور اس کے قدم آگے ہی جاتے ہیں۔ یہ نظام انسان کے داعیہ ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ، اور اس کے آگے بڑھنے کے شوق کو پورا کرتا ہے۔ کسی انسان کی انفرادی یا اجتماعی صلاحیتوں پر کوئی قدغن نہیں لگاتا۔ نہ یہ نظام انسان کو اس کی جدوجہد کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے سے محروم کرتا ہے اور نہ یہ پابندی لگاتا ہے کہ وہ زندگی کی پاک چیزوں سے استفادہ نہ کرے۔ اس نظام کا مقام یہ ہے کہ یہ تموازن اور ہم آہنگ ہے۔ یہ جسم کو اس لئے نہیں کچلتا کہ روح کو بالیدگی نصیب ہو اور روح کو اس لئے نہیں دباتا کہ جسم موٹا ہو۔ انسان کی صحت مند جسمانی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرتا ہے ، اس طرح کہ وہ انفرادی اور اجتماعی ترجیحات کے مطابق ہوں۔ فرد کو پانی ذاتی خواہشات کو اس قدر آزاد ، اور بےلگام چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا جن سے سوسائٹی کے حقوق متاثر ہوں ، یا کسی فرد یا افراد کے مفاد میں سوسائٹی کے مفادات کو قربان کیا جائے۔ یہ نظام انسان پر جو فرائض اور ذمہ داریاں عائد کرتا ہے ان میں یہ بات پیش نظر ہوتی ہے کہ انسان ان کو برداشت کرسکتا ہے۔ یہ اس کی وسعت اور طاقت کے حدود میں ہیں ، اس کے مفاد میں ہیں اور اس کے اندر ان فرائض کو ادا کرنے کی استعداد موجود ہے۔ پھر یہ فرائض ایسے ہوتے ہیں کہ یہ فرد ان کی ادائیگی پر آمادہ ہو ، بلکہ یہ ایسے فرائض ہیں کہ لوگ نہ صرف یہ کہ دل و جان سے انہیں قبول کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں بلکہ لوگ ان کے لئے جان دینے کو تیار ہوتے ہیں کیونکہ یہ فرائض ان کے خواہشات کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لئے ایک رحمت ہے۔ یہ رسالت جن اصولوں کو لے کر آئی تھی ابتداء میں لوگوں نے اسے عجیب و غریب سمجھا اور یہ اصول لوگوں کے لئے بوجھ سمجھے گئے کیونکہ ابتداء میں اسلامی اصولوں اور لوگوں کی روحانی اور عملی زندگی کے درمیان بہت بعد تھا۔ لیکن اسلام کے آنے کے بعد انسانیت پوری کی پوری روز بروز اسلامی نظام کے قریب آتی گئی۔ انسانیت اسلامی نظام سے مانوس ہوگئی اور پھر ان اصولوں کو انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے ہاں رائج کیا مگر دوسرے عنوانات سے ، اسلامی عنوان سے نہیں۔ اس آخری رسالت نے انسانیت کے راستے میں حائل ، لسانی ، قومی اور جغرافیائی حدود کو مٹا دیتا تاکہ تمام لوگ ایک ہی عقیدے ، ایک ہی نظام میں ، خالص انسانی نظام میں ایک ہوجائیں۔ اس وقت لوگوں کیلئے یہ ایک عجیب و غریب دعوت تھی۔ اس دور میں اشراف اور بڑے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ان کو اس مٹی سے نہیں پیدا کیا گیا جس سے غرباء کو پیدا کیا گیا ہے لیکن آج سے چودہ سو سال قبل اسلام نے جو انسانی اصول وضع کئے تھے ان کی طرف انسانیت آج بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ اس عرصہ میں انسانیت نے بہت بڑی ٹھوکریں کھائیں اس لئے کہ وہ نور اسلام سے محروم تھی ، آج اسے اسلامی اصولوں میں روشنی نظر آتی ہے اور کم از کم زبانی طور پر وہ اسلام کے انسانی اصولوں کی بات بہرحال کرتی ہے اگر چہ یورپ و امریکہ اب بھی قومی ، لسانی اور جغرافیائی لعنتوں میں گرفتار ہیں۔ اسلام جب آیا تو اس نے تمام انسانوں کو قانون اور عدالت کے سامنے مساوی درجہ دیا۔ اس وقت دنیا کی صورت حالات یہ تھی کہ انسانیت کو طبقات میں بانٹ دیا گیا تھا اور ہر طبقے کے لئے جدا قانون تھا۔ بلکہ غلامی ، اور جاگیرداری کے دور میں تو مالک کا ارادہ ہی قانون ہوا کرتا تھا۔ اسلئے اس دور میں لوگوں کو یہ بات عجیب و غریب لگی کہ اسلام میں بندہ و آقا ، امیر و غریب سب ایک ہی قانون اور ایک ہی عدالت کے ماتحت ہیں۔ لیکن اسلام نے قانونی مساوات اور عدالتی چارہ جوئی کی مساوات کا جو اصول آج سے چودہ سو سال پہلے دیا ، انسانیت آج بھی اسی اصول کی طرف بوجھل قدموں کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ ان باتوں کے علاوہ بھی بیشمار اجتماعی اور سماجی امور ایسے ہیں جن میں حضرت محمد ﷺ کی رسالت لوگوں کے لئے ایک عظیم رحمت ثابت ہوئی ہے۔ آپ ﷺ انسانیت کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں چاہے کوئی آپ ﷺ پر ایمان لایا ہو یا نہ لایا ہو کیونکہ جو نظام آپ ﷺ لے کر آئے تھے تمام انسان اس سے متاثر ہوئے چاہے خوشی سے چاہے مجبور ہو کر ، دانستہ طور پر یا نادانستہ طور پر۔ اس رحمت کا سایہ اب بھی پھیلا ہوا ہے ، جو چاہے اس کے نیچے آ کر سستائے۔ اس میں سمادی باد نسیم کے خوشگوار جھونکے ہیں۔ اس کے شجر طیبہ کی گہرئی چھائوں ہے جبکہ اس کے اردگرد کی دنیا اس طرح ہے جس طرح سخت گرمی کے موسم میں کوئی چٹیل میدان میں سرگرداں ہو اور گرمی سے جھلس رہا ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ انسانیت جس طرح آج رحمت اسلام کی محتاج ہے اس طرح کبھی نہ تھی۔ وہ اذیت ناک قلق میں مبتلا ہے۔ وہ مادیت کے بےآب وگیاہ میدان میں سرگرداں و پریشان ہے۔ وہ اسلحہ کے ڈھیروں اور جنگل کے قانون جنگ میں گرفتار ہے اور مادیت نے لوگوں کے دلوں کو خشک کردیا ہے۔ لوگوں کی روح خوفناک حد تک اذیت میں ہے او ان کے دل پریشان ہیں۔ چناچہ یہ بتانے کے بعد کہ حضور ﷺ کی رسالت تمام انسانیت کے لئے رحمت ہے۔ حضور ﷺ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ ؐ مذاق کرنے والوں اور تکذیب کرنے والوں کو بتا دیں کہ آپ ؐ کی رسالت کے رحمت ہونے کا خلاصہ کیا ہے۔

الأنبياء 21:107

ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین (21 : 106) ” اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لئے۔ “ یعنی قرآن کی تعلیمات میں اس پوری کائنات اور انسانی زندگی کے لئے جو اصول وضع کئے گئے ہیں اور پھر لوگوں کے لئے دنیا (آیت 105) اور آخرت میں جو فطری انجام بتائے گئے ہیں ، جو اصول عمل اور مکافات عمل رکھے گئے ہیں ان سب میں ان لوگوں کے لئے بڑی خوشخبری ہے۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے لفظ ” عابدین “ استعمال کیا ہے کیونکہ عبادت کرنے والا ، بندگی کرنے والا شخص ہر بھلائی کو قبول کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور تدبر کر کے اس سے نفع اٹھا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام انسانیت کے لئے ایک ہادی بنا کر بھیجا ہے تاکہ وہ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر اللہ کی راہ کی طرف لے آئیں۔ لیکن ہدایت تو وہی پاتے ہیں جو ہدایت پانے کے لئے تایر ہوں ، ارادہ کریں ، اگرچہ اللہ کی رحمت مومنین اور غیر مومنین دونوں کیل ئے عام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو نظام اور جو مناج لے کر آئے ہیں وہ اس دنیا میں بھی پوری انسانیت کے لئے سعادت مندی کا باعث ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی رسالت اس دور میں آئی جس دور میں انسانیت سن رشد اور بلوغ کو پہنچ گئی تھی۔ یہ رسالت ایک کھلی کتاب کی صورت میں آئی اور یہ کتاب اور یہ رسالت تمام آنے والی نسلوں کے لئے ایک ایسا نظام زندگی پیش کرتی ہے جس میں کسی تبدیلی کی آئندہ بھی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ نظام انسان کی ان تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے جو قیامت تک اسے پیش آسکتی ہیں۔ یہ نظام اس خالق کا ارسال کردہ ہے ، جو انسانوں کی ضروریات کو خود انسانوں سے زیادہ جانتا ہے ، کیونکہ وہ لطیف وخبیر ہے۔ اللہ نے قرآن مجید کے اندر ایسے اصول وضع کئے ہیں جو قیامت تک آنے والی انسانی زندگی کی نئی نئی ضروریات کو بھی پورا کرتے ہیں۔ فروع اور جزئیات خود انسان پر چھوڑ دی ہیں کہ وہ ان اصولوں کی روشنی میں قیامت تک آنے والی انسان کی ترقی یافتہ زندگی کی ضروریات کے لئے خود قانون وضع کریں۔ ہر دور کی ظروف و احوال کے مطابق جزوی مسائل کو اجتہاد کر کے اس کے لئے قانون بنائیں بشرطیکہ وہ قوانین قرآن کے اصولوں سے متصادم نہ ہوں جو دائمی ہیں۔ قرآن انسان کو عقل اور سوچ کی پوری آزادی دیتا ہے وہ ایک ایسا معاشرہ اٹھاتا ہے جس میں لوگوں کے دماغوں پر تالے نہ پڑے ہوں۔ لیکن آزادی فکر و عمل اس دائرے کے اندر ہے جو اسلامی منہاج نے کھینچ دیا ہے تاکہ انسان اس دنیا کی زندگی میں نشو و نما پائے ، ترقی کے عمل کو جاری رکھے اور اسے دائرہ کمال تک پہنچائے۔ آج تک کے انسانی تجربات یہ بتاتے ہیں کہ اسلام نے جو نظام زندگی وضع کیا ہے وہ تمام انسانیت کے فکر و عمل کے نظاموں سے آگے ہے۔ وہ اس قابل ہے کہ اس کی روشنی میں انسان مسلسل ترقی کرسکے۔ یہ نظام انسان کو ہر لمحہ آگے ہی بڑھاتا ہے ، نہ اسے جامد کرتا ہے اور نہ اسے پیچھے کی طرف لے جاتا ہے ، کیونکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس کا مقصد ہی خلافت فی الارض ہے۔ اس دنیا کو ترقی دیتا ہے ، ہمیشہ آگے ہی بڑھتا ہے اور اس کے قدم آگے ہی جاتے ہیں۔ یہ نظام انسان کے داعیہ ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ، اور اس کے آگے بڑھنے کے شوق کو پورا کرتا ہے۔ کسی انسان کی انفرادی یا اجتماعی صلاحیتوں پر کوئی قدغن نہیں لگاتا۔ نہ یہ نظام انسان کو اس کی جدوجہد کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے سے محروم کرتا ہے اور نہ یہ پابندی لگاتا ہے کہ وہ زندگی کی پاک چیزوں سے استفادہ نہ کرے۔ اس نظام کا مقام یہ ہے کہ یہ تموازن اور ہم آہنگ ہے۔ یہ جسم کو اس لئے نہیں کچلتا کہ روح کو بالیدگی نصیب ہو اور روح کو اس لئے نہیں دباتا کہ جسم موٹا ہو۔ انسان کی صحت مند جسمانی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرتا ہے ، اس طرح کہ وہ انفرادی اور اجتماعی ترجیحات کے مطابق ہوں۔ فرد کو پانی ذاتی خواہشات کو اس قدر آزاد ، اور بےلگام چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا جن سے سوسائٹی کے حقوق متاثر ہوں ، یا کسی فرد یا افراد کے مفاد میں سوسائٹی کے مفادات کو قربان کیا جائے۔ یہ نظام انسان پر جو فرائض اور ذمہ داریاں عائد کرتا ہے ان میں یہ بات پیش نظر ہوتی ہے کہ انسان ان کو برداشت کرسکتا ہے۔ یہ اس کی وسعت اور طاقت کے حدود میں ہیں ، اس کے مفاد میں ہیں اور اس کے اندر ان فرائض کو ادا کرنے کی استعداد موجود ہے۔ پھر یہ فرائض ایسے ہوتے ہیں کہ یہ فرد ان کی ادائیگی پر آمادہ ہو ، بلکہ یہ ایسے فرائض ہیں کہ لوگ نہ صرف یہ کہ دل و جان سے انہیں قبول کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں بلکہ لوگ ان کے لئے جان دینے کو تیار ہوتے ہیں کیونکہ یہ فرائض ان کے خواہشات کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لئے ایک رحمت ہے۔ یہ رسالت جن اصولوں کو لے کر آئی تھی ابتداء میں لوگوں نے اسے عجیب و غریب سمجھا اور یہ اصول لوگوں کے لئے بوجھ سمجھے گئے کیونکہ ابتداء میں اسلامی اصولوں اور لوگوں کی روحانی اور عملی زندگی کے درمیان بہت بعد تھا۔ لیکن اسلام کے آنے کے بعد انسانیت پوری کی پوری روز بروز اسلامی نظام کے قریب آتی گئی۔ انسانیت اسلامی نظام سے مانوس ہوگئی اور پھر ان اصولوں کو انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے ہاں رائج کیا مگر دوسرے عنوانات سے ، اسلامی عنوان سے نہیں۔ اس آخری رسالت نے انسانیت کے راستے میں حائل ، لسانی ، قومی اور جغرافیائی حدود کو مٹا دیتا تاکہ تمام لوگ ایک ہی عقیدے ، ایک ہی نظام میں ، خالص انسانی نظام میں ایک ہوجائیں۔ اس وقت لوگوں کیلئے یہ ایک عجیب و غریب دعوت تھی۔ اس دور میں اشراف اور بڑے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ان کو اس مٹی سے نہیں پیدا کیا گیا جس سے غرباء کو پیدا کیا گیا ہے لیکن آج سے چودہ سو سال قبل اسلام نے جو انسانی اصول وضع کئے تھے ان کی طرف انسانیت آج بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ اس عرصہ میں انسانیت نے بہت بڑی ٹھوکریں کھائیں اس لئے کہ وہ نور اسلام سے محروم تھی ، آج اسے اسلامی اصولوں میں روشنی نظر آتی ہے اور کم از کم زبانی طور پر وہ اسلام کے انسانی اصولوں کی بات بہرحال کرتی ہے اگر چہ یورپ و امریکہ اب بھی قومی ، لسانی اور جغرافیائی لعنتوں میں گرفتار ہیں۔ اسلام جب آیا تو اس نے تمام انسانوں کو قانون اور عدالت کے سامنے مساوی درجہ دیا۔ اس وقت دنیا کی صورت حالات یہ تھی کہ انسانیت کو طبقات میں بانٹ دیا گیا تھا اور ہر طبقے کے لئے جدا قانون تھا۔ بلکہ غلامی ، اور جاگیرداری کے دور میں تو مالک کا ارادہ ہی قانون ہوا کرتا تھا۔ اسلئے اس دور میں لوگوں کو یہ بات عجیب و غریب لگی کہ اسلام میں بندہ و آقا ، امیر و غریب سب ایک ہی قانون اور ایک ہی عدالت کے ماتحت ہیں۔ لیکن اسلام نے قانونی مساوات اور عدالتی چارہ جوئی کی مساوات کا جو اصول آج سے چودہ سو سال پہلے دیا ، انسانیت آج بھی اسی اصول کی طرف بوجھل قدموں کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ ان باتوں کے علاوہ بھی بیشمار اجتماعی اور سماجی امور ایسے ہیں جن میں حضرت محمد ﷺ کی رسالت لوگوں کے لئے ایک عظیم رحمت ثابت ہوئی ہے۔ آپ ﷺ انسانیت کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں چاہے کوئی آپ ﷺ پر ایمان لایا ہو یا نہ لایا ہو کیونکہ جو نظام آپ ﷺ لے کر آئے تھے تمام انسان اس سے متاثر ہوئے چاہے خوشی سے چاہے مجبور ہو کر ، دانستہ طور پر یا نادانستہ طور پر۔ اس رحمت کا سایہ اب بھی پھیلا ہوا ہے ، جو چاہے اس کے نیچے آ کر سستائے۔ اس میں سمادی باد نسیم کے خوشگوار جھونکے ہیں۔ اس کے شجر طیبہ کی گہرئی چھائوں ہے جبکہ اس کے اردگرد کی دنیا اس طرح ہے جس طرح سخت گرمی کے موسم میں کوئی چٹیل میدان میں سرگرداں ہو اور گرمی سے جھلس رہا ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ انسانیت جس طرح آج رحمت اسلام کی محتاج ہے اس طرح کبھی نہ تھی۔ وہ اذیت ناک قلق میں مبتلا ہے۔ وہ مادیت کے بےآب وگیاہ میدان میں سرگرداں و پریشان ہے۔ وہ اسلحہ کے ڈھیروں اور جنگل کے قانون جنگ میں گرفتار ہے اور مادیت نے لوگوں کے دلوں کو خشک کردیا ہے۔ لوگوں کی روح خوفناک حد تک اذیت میں ہے او ان کے دل پریشان ہیں۔ چناچہ یہ بتانے کے بعد کہ حضور ﷺ کی رسالت تمام انسانیت کے لئے رحمت ہے۔ حضور ﷺ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ ؐ مذاق کرنے والوں اور تکذیب کرنے والوں کو بتا دیں کہ آپ ؐ کی رسالت کے رحمت ہونے کا خلاصہ کیا ہے۔

الأنبياء 21:108

قل انما یوحی الی انما الھکم الہ واحد فھل انتم مسلمون (21 : 108) ترجمہ :۔ ” ان سے کہو ، میریپ اس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا خدا صرف ایک خدا ہے ، پھر کیا تم سر اطاعت جھکاتے ہو ؟ “ اس رسالت میں رحمت ہونے کا حقیقی عنصر ہی یہ کلمہ ہے۔ عقیدہ توحید جو انسانیتک و جاہلیت کے ادہام ، بت پرستی کے بوجھ اور خرافات اور رسومات کے بوجھ سے نجات دلاتا ہے۔ اس رسالت میں پوری زندگی کو اس مضبوط عقیدے کی بنیاد پر استوار کیا جاتا ہے۔ یوں یہ زندگی اس پوری کائنات سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ انسانیت اپنی زندگی انہی فطری قوانین پر استوار کرتی ہے جو ایک طرف اس کائنات میں جاری وساری ہیں اور دوسری طرف اسلامی نظام اور رسالت رحمت میں جاری ہیں۔ اس نظام کی روشنی میں ہر انسان کے لئے یہ موقع ہے کہ وہ اس کرہ ارض پر سر اٹھا کے چلے۔ اگر اس کا سر جھکے تو صرف خدائے واحد قہار و جبار کے آگے۔ نہ دنیا کے کسی قہار کے آگے۔ یہی ہے صحیح طریق زندگی۔ فھل انتم مسلمون (21 : 108) ” کیا تم سر تسلیم خم کرتے ہو۔ “ یہی ایک سوال ہے جو رسول اللہ ﷺ کو مذاق کرنے والے مکذبین سے کرتا ہے۔

الأنبياء 21:109

فان تولو افقل اذئتکم علی سوآء (21 : 109) ” اگر وہ منہ پھیریں تو پھر کہو کہ میں نے علی الاعلان تم کو خبردار کردیا ہے۔ “ یعنی میں نے اپنا مدعا پورا پورا تمہارے سامنے رکھ دیا ہے۔ اب میں اور تم برابر ہیں۔ ” ایذان “ تو دراصل اس اعلان اور الٹی میٹم کو کہتے ہیں جو امن کا زمانہ ختم ہونے کے وقت کیا جاتا ہے اور فریق دوئم سے کہا جاتا ہے کہ اب دونوں فریقوں کے درمیان جنگ ہے۔ یہ سورة مکی ہے ، اس وقت قتال فرض نہ ہوا تھا ، تو یہاں اعلان کا مطلب یہ ہے کہ میں نے جو کچھ کہنا تھا ، کہہ دیا ہے۔ اب تم جانور اور تمہارا انجام۔ یعنی اب یہ آخری اعلان آگیا ہے اور آئندہ تمہارے لئے عذر و معذرت کا کوئی جواز نہ ہوگا۔ اگر وہ جانتے بوجھتے اپنے راستے پر چلتے رہیں تو اس کا وبال بھی ان پر ہوگا کیونکہ ان کو علم ہے۔ و ان ادری اقریب ام بعیدماتوعدون (21 : 109) ” اب میں نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے قریب ہے یا دور۔ “ میں نے تمہیں اعلانیہ کہہ دیا ہے۔ لیکن میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ جس عذاب کے تم مستحق ہو وہ کب آئے گا۔ کیونکہ یہ تو اللہ کے مخفی علوم میں سے ایک غیبی علم ہے۔ اس کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ تمہیں دنیا میں پکڑتا ہے یا آخرت میں۔ وہ تمہارے راز سے بھی واقف ہے اور کھلی باتوں سے بھی۔ تمہاری کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔

الأنبياء 21:110

انہ یعلم الجھر من القول ویعلم ماتکتمون (21 : 110) ” اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو با آواز بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تم چھپا کر کرتے ہو۔ “ تمہارے سب معاملات اس کے سامنے کھلے ہیں۔ وہ اگر تمہیں سزا دے گا تو اس لئے دے گا کہ تمہارے ظاہری اور خفیہ سب معاملات سے وہ باخبر ہے اور اگر وہ عذاب کو مئوخر کرتا ہے تو پھر بھی کوئی حکمت اس کے پیش نظر ہوگی۔ وان ادری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الی حین (21 : 111) ” میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ تمہارے لئے ایک فتنہ ہے اور تمہیں ایک وقت تک کے لئے مزے کرنے کا موقعہ دیا جا رہا ہے۔ “ یعنی تمہاری سزا میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟ یہ میرے علم کے مطابق تمہارے لئے مزید آزمائش ہے۔ تمہیں مزید مہلت دی جا رہی ہے اور اس کے بعد تمہیں بڑی سختی سے پکڑا جائے گا۔ وقت عذاب کے عدم تعین میں بھی ان کے لئے احساس کرنے کا ایک موقع ہے۔ جب کسی وقت کا تعین نہ ہو تو اس امر کے واقع ہونے کا احتمال ہر وقت رہتا ہے اور ایک عقلمند اس سے ڈر سکتا ہے کہ کہیں اچانک ہی سر پر نہ آجائے۔ یہ بھی امکان ہے کہ ان کے دل غفلت کے پردوں سے باہر نکل آئیں اور یہ سمجھ لیں کہ اس آزمائش اور مہلت کے بعد کہیں مصیبت نہ آجائے۔ اگر کسی مصیبت کو آنا ہو اور وقت معلوم نہ ہو تو ایک سمجھدار انسان کو ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ ابھی پردہ گرتا ہے اور یہ مصیبت سامنے آتی ہے۔ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان ان امور سے غافل ہوتا ہے جو پردہ غیب کے پیچھے سے اس کے انتظار میں ہوتے ہیں اور دنیا کا ساز و سامان و عیش و طرب انسان کو مزید دھوکہ دیتا ہے۔ انسان ان امور کو بھول جاتا ہے جو پردے کے پیچھے ہوتے ہیں ، لہٰذا وہ عدم علم کی وجہ سے غافل ہوجاتا ہے اس لئے اللہ نے لوگوں کو اور ایسے غافلوں کو متنبہ کرنا ضروری سمجھا ہے تاکہ وہ وقت آنے سے پہلے ہی خبردار ہوجائیں اور اپنے لئے کوئی بندوبست کریں۔ حضور نے امانت پہنچا دی ، پیغام لوگوں کو دے دیا اور علی اعلان دے دیا۔ ان کو اچانک عذاب الٰہی سے بھی خبردار کردیا۔ اب آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں اور اللہ سے یہ درخواست کریں کہ وہ سچا فیصلہ کر دے اور ان لوگوں کی سازشوں ، ان کی تکذیب اور ان کے مذاق کا صلہ خود ان کو دیں۔

الأنبياء 21:111

انہ یعلم الجھر من القول ویعلم ماتکتمون (21 : 110) ” اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو با آواز بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تم چھپا کر کرتے ہو۔ “ تمہارے سب معاملات اس کے سامنے کھلے ہیں۔ وہ اگر تمہیں سزا دے گا تو اس لئے دے گا کہ تمہارے ظاہری اور خفیہ سب معاملات سے وہ باخبر ہے اور اگر وہ عذاب کو مئوخر کرتا ہے تو پھر بھی کوئی حکمت اس کے پیش نظر ہوگی۔ وان ادری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الی حین (21 : 111) ” میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ تمہارے لئے ایک فتنہ ہے اور تمہیں ایک وقت تک کے لئے مزے کرنے کا موقعہ دیا جا رہا ہے۔ “ یعنی تمہاری سزا میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟ یہ میرے علم کے مطابق تمہارے لئے مزید آزمائش ہے۔ تمہیں مزید مہلت دی جا رہی ہے اور اس کے بعد تمہیں بڑی سختی سے پکڑا جائے گا۔ وقت عذاب کے عدم تعین میں بھی ان کے لئے احساس کرنے کا ایک موقع ہے۔ جب کسی وقت کا تعین نہ ہو تو اس امر کے واقع ہونے کا احتمال ہر وقت رہتا ہے اور ایک عقلمند اس سے ڈر سکتا ہے کہ کہیں اچانک ہی سر پر نہ آجائے۔ یہ بھی امکان ہے کہ ان کے دل غفلت کے پردوں سے باہر نکل آئیں اور یہ سمجھ لیں کہ اس آزمائش اور مہلت کے بعد کہیں مصیبت نہ آجائے۔ اگر کسی مصیبت کو آنا ہو اور وقت معلوم نہ ہو تو ایک سمجھدار انسان کو ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ ابھی پردہ گرتا ہے اور یہ مصیبت سامنے آتی ہے۔ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان ان امور سے غافل ہوتا ہے جو پردہ غیب کے پیچھے سے اس کے انتظار میں ہوتے ہیں اور دنیا کا ساز و سامان و عیش و طرب انسان کو مزید دھوکہ دیتا ہے۔ انسان ان امور کو بھول جاتا ہے جو پردے کے پیچھے ہوتے ہیں ، لہٰذا وہ عدم علم کی وجہ سے غافل ہوجاتا ہے اس لئے اللہ نے لوگوں کو اور ایسے غافلوں کو متنبہ کرنا ضروری سمجھا ہے تاکہ وہ وقت آنے سے پہلے ہی خبردار ہوجائیں اور اپنے لئے کوئی بندوبست کریں۔ حضور نے امانت پہنچا دی ، پیغام لوگوں کو دے دیا اور علی اعلان دے دیا۔ ان کو اچانک عذاب الٰہی سے بھی خبردار کردیا۔ اب آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں اور اللہ سے یہ درخواست کریں کہ وہ سچا فیصلہ کر دے اور ان لوگوں کی سازشوں ، ان کی تکذیب اور ان کے مذاق کا صلہ خود ان کو دیں۔

الأنبياء 21:112

قال رب احکم بالحق و ربنا الرحمٰن المستعان علی ماتصفون (21 : 112) ترجمہ :۔ ” آخر کار رسول نے کہا کہ اے رب حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور لوگو ! تم جو باتیں بناتے ہو ، ان کے مقابلے میں ہمارا رب رحمٰن ہی ہمارے لئے مدد کا سہارا ہے۔ “ آخر میں صفت رحمت کا ذکر خاص قابل توجہ ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا۔ لیکن لوگوں نے آپ کی تکذیب کی ، مذاق کیا ، اس لئے اللہ ہی رسول پر رحم کرسکتا ہے اور رحم و کرم کا ضامن ہے۔ اس طرح سورة کا آغاز اور انجام دونوں ایک ہی مضمون سے مملو ہوجاتے ہیں ، نہایت ہی موثر انداز میں۔

الحج 22:1

درس نمبر 144 تشریح آیات 1……تا……24 یایھا الناس ……شدید (2) الفاظ کی شوکت کے ساتھ یہ ایک خوفناک آغاز کلام ہے ، انسان اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ دل کا نپنے لگتا ہے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے زور دار آواز میں کہا جاتا ہے۔ ” لوگو “ ! ! یایھا الناس ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو۔ “ اتقوا ربکم ۔ ” کس دن سے تمہیں ہم ڈراتے ہیں۔ “ ان زلزلۃ الساعۃ شی عظیم (22 : 1) ” قیامت کا زلزلہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ “ اس زلزلے اور اس عظیم اور ہولناک چیز کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں ، اس سے اس کی خوفناکی اور بڑھ جاتی ہے۔ زلزلہ ہے ! عظیم ہے ! خوفناک ہے ! اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں جاسکتا۔ بس اس سے ڈرو ” جس طرح ایک شخص پہلے بھاگو بھاگو کہنے کے بعد وجہ بتاتا ہے۔ “ اور بعد میں جو تفصیلات مختصر سی بتائی جاتی ہیں تو ان سے اس زلزلے کی خوفناکی میں شدید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک ایسا منظر جس میں دودھ پلانے والیاں بچوں کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی ہیں اور انہیں نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ سوجھتا ہے ، دوڑ ہی دوڑ ہے۔ اس خوفناکی اور دوڑ میں تمام حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں ، کوئی ادھر پڑی ہے کوئی ادھر اور لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مدہوش نظرآتے ہیں لیکن دراصل وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ ان کی خوابیدہ نظریں اور ڈگمگاتے قدم نشہ بتاتے ہیں لیکن ہیں وہ پریشان۔ یہ منظر حرکت اور افراتفری سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کی موجیں ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہیں لیکن پتہ نہیں کہ کیوں انسانوں کا سیلاب ہے۔ انسانی سوچ قرآنی انداز بیان کے اس منظر سے پیچھے رہ جاتی ہے اور تخلیل کی آنکھ انسانوں کے اس متلاطم سیلاب کے آخری حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ اس قدر ہولناک منظر ہے کہ اس کے حجم اور ضخامت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک عورت آگ میں بھی اپنے بچے کو سینے سے لگائے رکھتی ہے لیکن یہ کیا عظیم ہولناک منظرہو گا کہ عورتیں بچوں کو سینے سے اٹھا کر پرے پھینک دیں گی اور تمام حاملہ عورتیں حمل گرا دیں گی اور لوگ مدہوشی کی حالت میں ہوں گے۔ اصل بات یہ یہ کہ ولکن عذاب اللہ شدید (22 : 2) ” اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ “ اس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ وہ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں … یہ ہے آغاز سورة زلزلہ انگیز اور خوفناک ! ایسے مناظر کے ہوتے ہوئے بھی بعض لوگ ایسے سنگدل ہیں کہ وہ اللہ کے بارے میں بےتکی باتیں کرتے ہیں اور اللہ کا خوف ان کے دل میں نہیں ہے۔ ومن الناس ……السعیر (4) ” بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں ، حالانکہ اس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ اللہ کے بارے میں بحث ! خواہ اللہ کے وجود کے بارے میں ہو ، اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ہو ، اللہ کی قدرت کے بارے میں ہو ، اللہ کے علم کے بارے میں ہو ، اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں ہو ، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان نے کن خوفناک مناظر سے دوچار ہونا ہے اور کن ہولناک مقامات سے گزرنا ہے ، کسی عقلمند آدمی کی جانب سے یہ بحث عجیب اور جسورانہ نظر آتی ہے ، یہ منظر ایک خاطی اور پر تقصیرات بندے کو ہلاک کر رکھ دیتا ہے۔ کاش کہ اللہ کے بارے میں بات کرنے الے علم معرفت اور یقین کی بات کرتے اور علی وجہ البصیرت کرتے ، لیکن وہ تو بغیر علم کے اپنے حدود سے بڑھ رہے ہیں اور یہ بحث وجدال شیطان مردود کی اطاعت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسانوں میں ہر وقت ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں اور وہ اپنی خواہشات نفس کے اتباع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ ویتبع کل شیطن مرید (22 : 3) ” اور وہ ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ “ جو نافرمان ، مخالف حق اور متکبر ہے۔ کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ ویھدیہ الی عذاب السعیر (22 : 3) ” حالانک ہ اس کے تو نصیب میں لکھا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا اسے گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ تو اس کی دوستی کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے دوست کو جہنم رسید کر دے گا۔ آخر کوئی عقلمند شخص دیکھتے اور بوجھتے ہوئے ایسے شخص سے دوستی کیوں کرتا ہے اور اس سے ہدایات کیوں لیتا ہے ؟ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعث بعد الموت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر قیامت کے زلزلے میں بھی انہیں شک ہے۔ اگر ان کو انسان کے دوبارہ زندہ کئے جانے میں شک ہے تو انسان کی موجودہ زندگی اور خود اپنی زندگی کی نشو و نما کے نظام ہی کو دیکھ لیں۔ اور اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں۔ ان کو بیشمار دلائل قیامت ملیں گے۔ لیکن لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ درس نمبر 144 تشریح آیات 1……تا……24 یایھا الناس ……شدید (2) الفاظ کی شوکت کے ساتھ یہ ایک خوفناک آغاز کلام ہے ، انسان اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ دل کا نپنے لگتا ہے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے زور دار آواز میں کہا جاتا ہے۔ ” لوگو “ ! ! یایھا الناس ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو۔ “ اتقوا ربکم ۔ ” کس دن سے تمہیں ہم ڈراتے ہیں۔ “ ان زلزلۃ الساعۃ شی عظیم (22 : 1) ” قیامت کا زلزلہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ “ اس زلزلے اور اس عظیم اور ہولناک چیز کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں ، اس سے اس کی خوفناکی اور بڑھ جاتی ہے۔ زلزلہ ہے ! عظیم ہے ! خوفناک ہے ! اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں جاسکتا۔ بس اس سے ڈرو ” جس طرح ایک شخص پہلے بھاگو بھاگو کہنے کے بعد وجہ بتاتا ہے۔ “ اور بعد میں جو تفصیلات مختصر سی بتائی جاتی ہیں تو ان سے اس زلزلے کی خوفناکی میں شدید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک ایسا منظر جس میں دودھ پلانے والیاں بچوں کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی ہیں اور انہیں نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ سوجھتا ہے ، دوڑ ہی دوڑ ہے۔ اس خوفناکی اور دوڑ میں تمام حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں ، کوئی ادھر پڑی ہے کوئی ادھر اور لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مدہوش نظرآتے ہیں لیکن دراصل وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ ان کی خوابیدہ نظریں اور ڈگمگاتے قدم نشہ بتاتے ہیں لیکن ہیں وہ پریشان۔ یہ منظر حرکت اور افراتفری سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کی موجیں ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہیں لیکن پتہ نہیں کہ کیوں انسانوں کا سیلاب ہے۔ انسانی سوچ قرآنی انداز بیان کے اس منظر سے پیچھے رہ جاتی ہے اور تخلیل کی آنکھ انسانوں کے اس متلاطم سیلاب کے آخری حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ اس قدر ہولناک منظر ہے کہ اس کے حجم اور ضخامت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک عورت آگ میں بھی اپنے بچے کو سینے سے لگائے رکھتی ہے لیکن یہ کیا عظیم ہولناک منظرہو گا کہ عورتیں بچوں کو سینے سے اٹھا کر پرے پھینک دیں گی اور تمام حاملہ عورتیں حمل گرا دیں گی اور لوگ مدہوشی کی حالت میں ہوں گے۔ اصل بات یہ یہ کہ ولکن عذاب اللہ شدید (22 : 2) ” اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ “ اس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ وہ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں … یہ ہے آغاز سورة زلزلہ انگیز اور خوفناک ! ایسے مناظر کے ہوتے ہوئے بھی بعض لوگ ایسے سنگدل ہیں کہ وہ اللہ کے بارے میں بےتکی باتیں کرتے ہیں اور اللہ کا خوف ان کے دل میں نہیں ہے۔

الحج 22:2

درس نمبر 144 تشریح آیات 1……تا……24 یایھا الناس ……شدید (2) الفاظ کی شوکت کے ساتھ یہ ایک خوفناک آغاز کلام ہے ، انسان اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ دل کا نپنے لگتا ہے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے زور دار آواز میں کہا جاتا ہے۔ ” لوگو “ ! ! یایھا الناس ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو۔ “ اتقوا ربکم ۔ ” کس دن سے تمہیں ہم ڈراتے ہیں۔ “ ان زلزلۃ الساعۃ شی عظیم (22 : 1) ” قیامت کا زلزلہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ “ اس زلزلے اور اس عظیم اور ہولناک چیز کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں ، اس سے اس کی خوفناکی اور بڑھ جاتی ہے۔ زلزلہ ہے ! عظیم ہے ! خوفناک ہے ! اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں جاسکتا۔ بس اس سے ڈرو ” جس طرح ایک شخص پہلے بھاگو بھاگو کہنے کے بعد وجہ بتاتا ہے۔ “ اور بعد میں جو تفصیلات مختصر سی بتائی جاتی ہیں تو ان سے اس زلزلے کی خوفناکی میں شدید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک ایسا منظر جس میں دودھ پلانے والیاں بچوں کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی ہیں اور انہیں نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ سوجھتا ہے ، دوڑ ہی دوڑ ہے۔ اس خوفناکی اور دوڑ میں تمام حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں ، کوئی ادھر پڑی ہے کوئی ادھر اور لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مدہوش نظرآتے ہیں لیکن دراصل وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ ان کی خوابیدہ نظریں اور ڈگمگاتے قدم نشہ بتاتے ہیں لیکن ہیں وہ پریشان۔ یہ منظر حرکت اور افراتفری سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کی موجیں ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہیں لیکن پتہ نہیں کہ کیوں انسانوں کا سیلاب ہے۔ انسانی سوچ قرآنی انداز بیان کے اس منظر سے پیچھے رہ جاتی ہے اور تخلیل کی آنکھ انسانوں کے اس متلاطم سیلاب کے آخری حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ اس قدر ہولناک منظر ہے کہ اس کے حجم اور ضخامت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک عورت آگ میں بھی اپنے بچے کو سینے سے لگائے رکھتی ہے لیکن یہ کیا عظیم ہولناک منظرہو گا کہ عورتیں بچوں کو سینے سے اٹھا کر پرے پھینک دیں گی اور تمام حاملہ عورتیں حمل گرا دیں گی اور لوگ مدہوشی کی حالت میں ہوں گے۔ اصل بات یہ یہ کہ ولکن عذاب اللہ شدید (22 : 2) ” اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ “ اس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ وہ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں … یہ ہے آغاز سورة زلزلہ انگیز اور خوفناک ! ایسے مناظر کے ہوتے ہوئے بھی بعض لوگ ایسے سنگدل ہیں کہ وہ اللہ کے بارے میں بےتکی باتیں کرتے ہیں اور اللہ کا خوف ان کے دل میں نہیں ہے۔ ومن الناس ……السعیر (4) ” بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں ، حالانکہ اس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ اللہ کے بارے میں بحث ! خواہ اللہ کے وجود کے بارے میں ہو ، اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ہو ، اللہ کی قدرت کے بارے میں ہو ، اللہ کے علم کے بارے میں ہو ، اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں ہو ، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان نے کن خوفناک مناظر سے دوچار ہونا ہے اور کن ہولناک مقامات سے گزرنا ہے ، کسی عقلمند آدمی کی جانب سے یہ بحث عجیب اور جسورانہ نظر آتی ہے ، یہ منظر ایک خاطی اور پر تقصیرات بندے کو ہلاک کر رکھ دیتا ہے۔ کاش کہ اللہ کے بارے میں بات کرنے الے علم معرفت اور یقین کی بات کرتے اور علی وجہ البصیرت کرتے ، لیکن وہ تو بغیر علم کے اپنے حدود سے بڑھ رہے ہیں اور یہ بحث وجدال شیطان مردود کی اطاعت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسانوں میں ہر وقت ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں اور وہ اپنی خواہشات نفس کے اتباع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ ویتبع کل شیطن مرید (22 : 3) ” اور وہ ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ “ جو نافرمان ، مخالف حق اور متکبر ہے۔ کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ ویھدیہ الی عذاب السعیر (22 : 3) ” حالانک ہ اس کے تو نصیب میں لکھا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا اسے گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ تو اس کی دوستی کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے دوست کو جہنم رسید کر دے گا۔ آخر کوئی عقلمند شخص دیکھتے اور بوجھتے ہوئے ایسے شخص سے دوستی کیوں کرتا ہے اور اس سے ہدایات کیوں لیتا ہے ؟ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعث بعد الموت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر قیامت کے زلزلے میں بھی انہیں شک ہے۔ اگر ان کو انسان کے دوبارہ زندہ کئے جانے میں شک ہے تو انسان کی موجودہ زندگی اور خود اپنی زندگی کی نشو و نما کے نظام ہی کو دیکھ لیں۔ اور اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں۔ ان کو بیشمار دلائل قیامت ملیں گے۔ لیکن لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ درس نمبر 144 تشریح آیات 1……تا……24 یایھا الناس ……شدید (2) الفاظ کی شوکت کے ساتھ یہ ایک خوفناک آغاز کلام ہے ، انسان اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ دل کا نپنے لگتا ہے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے زور دار آواز میں کہا جاتا ہے۔ ” لوگو “ ! ! یایھا الناس ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو۔ “ اتقوا ربکم ۔ ” کس دن سے تمہیں ہم ڈراتے ہیں۔ “ ان زلزلۃ الساعۃ شی عظیم (22 : 1) ” قیامت کا زلزلہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ “ اس زلزلے اور اس عظیم اور ہولناک چیز کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں ، اس سے اس کی خوفناکی اور بڑھ جاتی ہے۔ زلزلہ ہے ! عظیم ہے ! خوفناک ہے ! اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں جاسکتا۔ بس اس سے ڈرو ” جس طرح ایک شخص پہلے بھاگو بھاگو کہنے کے بعد وجہ بتاتا ہے۔ “ اور بعد میں جو تفصیلات مختصر سی بتائی جاتی ہیں تو ان سے اس زلزلے کی خوفناکی میں شدید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک ایسا منظر جس میں دودھ پلانے والیاں بچوں کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی ہیں اور انہیں نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ سوجھتا ہے ، دوڑ ہی دوڑ ہے۔ اس خوفناکی اور دوڑ میں تمام حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں ، کوئی ادھر پڑی ہے کوئی ادھر اور لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مدہوش نظرآتے ہیں لیکن دراصل وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ ان کی خوابیدہ نظریں اور ڈگمگاتے قدم نشہ بتاتے ہیں لیکن ہیں وہ پریشان۔ یہ منظر حرکت اور افراتفری سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کی موجیں ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہیں لیکن پتہ نہیں کہ کیوں انسانوں کا سیلاب ہے۔ انسانی سوچ قرآنی انداز بیان کے اس منظر سے پیچھے رہ جاتی ہے اور تخلیل کی آنکھ انسانوں کے اس متلاطم سیلاب کے آخری حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ اس قدر ہولناک منظر ہے کہ اس کے حجم اور ضخامت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک عورت آگ میں بھی اپنے بچے کو سینے سے لگائے رکھتی ہے لیکن یہ کیا عظیم ہولناک منظرہو گا کہ عورتیں بچوں کو سینے سے اٹھا کر پرے پھینک دیں گی اور تمام حاملہ عورتیں حمل گرا دیں گی اور لوگ مدہوشی کی حالت میں ہوں گے۔ اصل بات یہ یہ کہ ولکن عذاب اللہ شدید (22 : 2) ” اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ “ اس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ وہ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں … یہ ہے آغاز سورة زلزلہ انگیز اور خوفناک ! ایسے مناظر کے ہوتے ہوئے بھی بعض لوگ ایسے سنگدل ہیں کہ وہ اللہ کے بارے میں بےتکی باتیں کرتے ہیں اور اللہ کا خوف ان کے دل میں نہیں ہے۔

الحج 22:3

ومن الناس ……السعیر (4) اللہ کے بارے میں بحث ! خواہ اللہ کے وجود کے بارے میں ہو ، اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ہو ، اللہ کی قدرت کے بارے میں ہو ، اللہ کے علم کے بارے میں ہو ، اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں ہو ، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان نے کن خوفناک مناظر سے دوچار ہونا ہے اور کن ہولناک مقامات سے گزرنا ہے ، کسی عقلمند آدمی کی جانب سے یہ بحث عجیب اور جسورانہ نظر آتی ہے ، یہ منظر ایک خاطی اور پر تقصیرات بندے کو ہلاک کر رکھ دیتا ہے۔ کاش کہ اللہ کے بارے میں بات کرنے الے علم معرفت اور یقین کی بات کرتے اور علی وجہ البصیرت کرتے ، لیکن وہ تو بغیر علم کے اپنے حدود سے بڑھ رہے ہیں اور یہ بحث وجدال شیطان مردود کی اطاعت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسانوں میں ہر وقت ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں اور وہ اپنی خواہشات نفس کے اتباع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ ویتبع کل شیطن مرید (22 : 3) ” اور وہ ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ “ جو نافرمان ، مخالف حق اور متکبر ہے۔ کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ ویھدیہ الی عذاب السعیر (22 : 3) ” حالانک ہ اس کے تو نصیب میں لکھا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا اسے گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ تو اس کی دوستی کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے دوست کو جہنم رسید کر دے گا۔ آخر کوئی عقلمند شخص دیکھتے اور بوجھتے ہوئے ایسے شخص سے دوستی کیوں کرتا ہے اور اس سے ہدایات کیوں لیتا ہے ؟ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعث بعد الموت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر قیامت کے زلزلے میں بھی انہیں شک ہے۔ اگر ان کو انسان کے دوبارہ زندہ کئے جانے میں شک ہے تو انسان کی موجودہ زندگی اور خود اپنی زندگی کی نشو و نما کے نظام ہی کو دیکھ لیں۔ اور اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں۔ ان کو بیشمار دلائل قیامت ملیں گے۔ لیکن لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔

الحج 22:4

ومن الناس ……السعیر (4) اللہ کے بارے میں بحث ! خواہ اللہ کے وجود کے بارے میں ہو ، اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ہو ، اللہ کی قدرت کے بارے میں ہو ، اللہ کے علم کے بارے میں ہو ، اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں ہو ، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان نے کن خوفناک مناظر سے دوچار ہونا ہے اور کن ہولناک مقامات سے گزرنا ہے ، کسی عقلمند آدمی کی جانب سے یہ بحث عجیب اور جسورانہ نظر آتی ہے ، یہ منظر ایک خاطی اور پر تقصیرات بندے کو ہلاک کر رکھ دیتا ہے۔ کاش کہ اللہ کے بارے میں بات کرنے الے علم معرفت اور یقین کی بات کرتے اور علی وجہ البصیرت کرتے ، لیکن وہ تو بغیر علم کے اپنے حدود سے بڑھ رہے ہیں اور یہ بحث وجدال شیطان مردود کی اطاعت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسانوں میں ہر وقت ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں اور وہ اپنی خواہشات نفس کے اتباع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ ویتبع کل شیطن مرید (22 : 3) ” اور وہ ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ “ جو نافرمان ، مخالف حق اور متکبر ہے۔ کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ ویھدیہ الی عذاب السعیر (22 : 3) ” حالانک ہ اس کے تو نصیب میں لکھا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا اسے گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ تو اس کی دوستی کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے دوست کو جہنم رسید کر دے گا۔ آخر کوئی عقلمند شخص دیکھتے اور بوجھتے ہوئے ایسے شخص سے دوستی کیوں کرتا ہے اور اس سے ہدایات کیوں لیتا ہے ؟ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعث بعد الموت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر قیامت کے زلزلے میں بھی انہیں شک ہے۔ اگر ان کو انسان کے دوبارہ زندہ کئے جانے میں شک ہے تو انسان کی موجودہ زندگی اور خود اپنی زندگی کی نشو و نما کے نظام ہی کو دیکھ لیں۔ اور اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں۔ ان کو بیشمار دلائل قیامت ملیں گے۔ لیکن لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔

الحج 22:5

یایھا الناس ……زوج بھیج (5) بعث بعد موت کی حقیقت کیا ہے۔ جسم کے اجزاء میں دوبارہ زندگی ڈالنا اور بس۔ تو انسانی سوچ کے مطابق بھی یہ چیز ابتدائی تخلیق سے آسان ہے ، لیکن اگر انسان اسے مشکل سمجھے تو اللہ کی نسبت سے تو یہ بہت ہی آسان ہے۔ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ دوبارہپیدا کرنے میں بھی اللہ کو ایسا ہی ارادہ کرنا ہوگا کہ (کن) یعنی ہوجا کے تو وہ چیز ہوجائے گی۔ انما امرہ اذا ارادشیئا ان یقول لہ کن فیکون ” اس کا کام یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتی ہے “ ۔ قرآن کریم کا اندازہ کلام یہ ہے کہ وہ انسانوں کی سوچ اور قیاس کے مطابق ہی بات کرتا ہے۔ لوگوں کے طرز استدلال اور ان کی قوت ادراک کے مطابق بات کرتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید ان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے سامنے پھیلی ہوئی اور نظر آنے والی کائنات پر غور کریں۔ یہ ہر وقت ان مشہور اور نظر آنے والے واقعات کو دیکھتے رہیں جو ہر وقت ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتے رہتے ہیں۔ اگر ان نظروں کے سامنے سے روز و شب گزرنے والے واقعات پر گہرا غور و فکر کیا جائے تو وہ سب واقعات انسان کو ایع معجزہ نظرآنے لگیں۔ بشرطیکہ وہ کھلے دل اور چشم بینا کے ساتھ ان کا گہرا مطالعہ کریں لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ ان واقعات اور مناظر پر سے گونگے اور بہرے ہو کر گزرتے ہیں یا یہ واقعات اور مناظر لوگوں کے پاس ہو کر گزر جاتے ہیں اور لوگوں کو کوئی انتباہ نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے اور سب سے بڑا سوال کہ خود انسان کیا ہے ؟ کہاں سے آیا ہے ؟ کس طرح آیا ہے اور وہ کن کن ادوار سے گزرا ہے۔ فانا خلقنکم من تراب (22 : 5) ” ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ “ انسان اس مٹی کا بیٹا ہے۔ اس مٹی سے وہ بنا ہے ، اس کا یہ جسم اسی مٹی سے ڈھالا گیا ہے ، مٹی ہی سے اس کی زنگدی کی نشو و نما ہوتی ہے۔ اس کے جسم میں جس قدر عناصر ہیں وہ زمین کے اندر موجود ہیں۔ صرف وہ ایک عنصر مٹی میں نہیں ہے یعنی ” حیات “ یعنی روح۔ یہ امر ربی سے ہے اور اس کے بارے میں ہمارا علم ابھی تک قلیل ہے۔ اس روح ہی کی وجہ سے یہ مٹی سے جدا ہوگیا ہے لیکن اصلاً ہے تو مٹی ہی ہے۔ اس کس جسمانی ساخت ، اس کی غذا اور تمام اجزائے جسم مٹی ہی سے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مٹی میں اور انسان میں پھر یہ فرق کس طرح ہوگیا۔ مٹی کہاں اور انسان کہاں ؟ مٹی تو سادہ ذرات ہیں لیکن انسان تو تخلیق کے بعد (فسواھا) بھی ہے۔ یہ انسان فاعل بھی ہے اور فعالیت کا اثر بھی لیتا ہے۔ مئوثر بھی ہے اور متاثر بھی ہے۔ اس کے قدم زمین پر ہیں اور اس کی اڑان آسمانوں کی طرف ہے۔ وہ اپنی فکر سے مادہ سے آگے تخلیقات کرتا ہے۔ مادہ کے اندر بھی اس کی تخلیقات ہیں۔ کیا یہ ایک عظیم معجزہ اور عظیم انقلاب نہیں ہے کہ اللہ نے مٹی سے انسان بنا دیا۔ اسی انسانی مادے کو دوبارہ جمع کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ عجیب مخلوق مادہ سے پیدا کردہ۔ ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مضغۃ مخلقۃ لنبین لکم و نقر فی الارحام ما نشاء الی اجل مسمی ثم نخر جکم طفلاً (22 : 5) ’ پھر نطفے سے ، پھر خلیہ سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی (یہ ہم اس لئے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ “ اب ذرا مٹی کے ان سادہ عناصر کو دیکھیے۔ پھر نطفے کو دیکھے جو زندہ مٹی کے خلیوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ کس قدر تبدیلی آگئی۔ اسی کے اندر وہ عظیم راز مضمر ہے یعنی زندگی کا راز۔ وہ راز جس کے بارے میں آج تک انسان کوئی قابل ذکر معلومات حاصل نہیں کرسکا۔ اربوں سال گزر گئے ہیں۔ انسان یہ معلوم کرنے کی سعی میں ہے کہ روج کیا ہے ؟ حیات کیا ہے ؟ ان اربوں سالوں کے دوران ہر نطفے میں اربوں زندہ خلیے بنتے ہیں لیکن ان خلیوں کے ملاحظے سے بھی ہم عاجز ہیں چہ جائیکہ ہم ان کی تخلیق کو سمجھ سکیں اگرچہ انسان نظر کو بلند کرے اور محالات کے دامن کو پکڑ لے۔ پھر یہ نطفہ علقہ کس طرح بن جاتا ہے ، یہ خون کے لوتھڑے کی شکل کس طرح اختیار کرت ا ہے۔ اس کے بعد یہ خون بوٹی کی شکل میں کس طرح آتا ہے اور یہ بوٹی انسان کی شکل کس طرح اختیار کرتی ہے۔ نطفہ کیا ہے ، مرد کا پانی۔ ایک نطفے میں ہزارہا مادہ منویہ کے حیوانات ہوتے ہیں۔ ان ہزاروں لاکھوں حیوانات میں سے صرف ایک حیوان عورت کے انڈے میں داخل ہوتا ہے جو رحم مادر میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ متحد ہوتا ہے اور رحم کید یوار کے ساتھ لٹک جاتا ہے۔ اس بیضہ میں جو نہایت ہی باریک نکتے کے برابر ہوتا ہے اور جو رحم مادر کی دیواروں کے ساتھ پیوست ہوتا ہے۔ مادہ منویہ میں دوڑنیوالا یہ باریک حیوان پیوست ہوجاتا ہے بلکہ اس بیضہ کے اندر داخل ہوجاتا ہے۔ یہ کام ایک خود کار نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ ان دونوں چیزوں میں قبولیت اللہ نے رکھی ہے۔ اس نکتے میں اللہ نے تمام انسانیخصائل اور عادات ودیعت کئے ہوئے ہیں۔ آنے والے انسان کی تمام خصوصیات کہ اس کا وزن کیا ہوگا ، لمباکتنا ہوگا ، جسامت کتنی ہوگی ، موٹاپا کتنا ہوگا ، خوبصورت ہوگا یا بدصورت ، صحت مند ہوگا یا بمیار۔ اسی کے اندر انسان کی اعصابی خصوصیات ، عقلی صلاحیتیں اور نفسیاتی حالات ودیعت کردیئے جاتے ہیں۔ اس کے میلانات ، جذبات ، رجحان ، اچھائی کی طرف یا برائی کی طرف اس چھوٹے سے حیوان کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔ کون یہ تصور کرسکتا ہے کہ رحم مادر کے اندر معلق بیضے اور اس چھوٹے سے حیوان کے ملاپ کے اندر یہ سب کچھ موجود ہے اور یہی نکتہ جو خوردبین سے نظرآتا ہے اس کے اندر پورا انسان موجود ہے جس کے جسم کی ساخت ہی پیچیدہ ہے۔ اس قدر کہ دنیا میں کوئی ایک انسان بھی دوسرے کا مکمل ہم شکل نہیں ہوتا اور آدم سے لے کر آج تک کوئی بھی دو انسان مکمل طور پر ہم شکل نہیں ہوتے۔ اب یہ نکتہ حلقہ سے مضغہ بنجاتا ہے۔ یہ گاڑھے خون کا ایک لوتھڑا ہوتا ہے ، اس کی کوئی شکل و صورت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد یہ مضغہ پھر شکل اختیار کرتا ہے ، اور یہ ہڈیوں کے ہیکل کی شکل میں ہوجاتا ہے جس کے اوپر بھی گوشت چڑھتا ہے۔ اگر اس نے پیدا ہونا ہو ورنہ رحم مادر اسے باہر پھینک دیتا ہے۔ اگر اللہ نے اس کے لئے بحیثیت انسان دنیا میں آیا مقرر نہ کیا ہو۔ لنبین لکم ” تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ “ مضغہ اور طفل کے درمیان قرآن مجید جملہ معترضہ کہتا ہے تاکہ ہم تمہیں بتائیں کہ خون کے اس لوتھڑے کے اندر قدرت الہیہ نے کیا کیا کمالات رکھے ہیں۔ یہ ہے قرآن مجید کا نہایت ہی مئوثرانداز بیان۔ اس کے بعد پھر رحم مادر میں جنین کے حالات۔ ونقر فی الارحام مانشآء الی اجل مسمی (22 : 5) ” ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ایک خاص مدت تک رحموں میں ٹھہراتے ہیں۔ “ جن جنینوں کو اللہ تمام کردینا چاہتے ہیں وہ رحم مادر میں رہتے ہیں اپنے وقت وضع حمل تک ۔ ثم نخرجکم (طفلاً (22 : 5) ” پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ “ ذرا آپ نطفہ معلقہ کو دیکھیں اور طفل مولود کو دیکھیں دونوں کے درمیان کس قدر فرق ہے۔ “ اگر اس زمانے کو دیکھا جائے تو بہت ہی تھوڑا ہے صرف 9 ماہ عموماً اور اگر نطفہ معلقہ کو دیکھا جائے اور طفل مولود کو دیکھا جائے تو دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ نطفہ تو خوردبین کے بغیر نظر ہی نہیں آتا جبکہ بچہ ایک نہایت ہی پیچیدہ مکمل مخلوق کی شکل میں ہے جس کے اعضا وجوارح ہیں۔ جس کے اپنے خدو خال ہیں ، اپنی صفات اور صلاحیتیں ہیں اور جذبات و میلانات ہیں۔ یہ اس قدر بڑا فرق ہے کہ کوئی سمجھ دار ، ذی عقل اور مفکر انسان اس پر بار بار غور کئے بغیر اور قدرت الہیہ کو تسلیم کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس کے بعد قرآن مجید اس طفل مولود کے حالات کے ساتھ ذرا آگے جاتا ہے۔ یہ بچہ روشنی دیکھتا ہے اور اس پوشیدہ مقام کو چھوڑ دیتا ہے جس کے اندر اس نے یہ معجزانہ طفر طے کیا اور جہاں یہ نظروں سے اوجھل رہا ۔ ثم لتبلغوا اشد کم (22 : 5) ” پھر تمہاری پرورش کرتے ہیں تاکہ تم جوانی کو پہنچو۔ “ اور اپنی جسمانی ساخت کو مکمل کرو ، اپنی عقل بلوغت تک جا پہنچو اور نفسیاتی طور پر ترقی یافتہ انسان بنو۔ اس مقام پر یہ بات غور طلب ہے کہ ایک نومولود بچے اور ایک مکمل نوجوان اور مضبوط انسان کے درمیان کس قدر درجات ہیں۔ ان کے درمیان کتنا عظیم فاصلہ ہے۔ زمانوں کے فاصلے سے بہت بعید۔ لیکن دست قدرت نے یہ تمام فاصلے طے کرا دیئے۔ اس بچے کو دست قدرت نے تمام انسانی خواص عطا کردیئے اور رحم مادر کے ساتھ معلق نطفہ جو ایک بےقدر پانی پر مشتمل تھا ، اب ایک مکمل انسان ہے۔ اس کے بعد پھر ومنکم من یتوفی ومنکم من یرنہ الی ار ذل العمر لکیلا یعلم من بعد علم شیئاً (22 : 5) ” اور تم میں سے کوئی پہلے بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ “ جو بلا لیا جاتا ہے یعنی جلدی مر جاتا ہے تو وہ اپنے اس انجام تک جا پہنچتا ہے جو ہر زندہ کا آخری انجام ہے۔ کسی کو نہایت ہی بدترین عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو یہ ہمارے لئے قابل غور فکر ہے کہ علم اور دانش مندی اور فہم و فراست اور کمال کے بعد وہ پھر ایک بچہ بن جاتا ہے۔ اس کے جذبات ، تاثرات اور حافظہ بچوں کی طرح ہوتا ہے ، وہ کوئی چیز ہاتھ میں نہیں پکڑ سکتا۔ حافظہ ختم ہوجاتا ہے ، اسے کوئی چیز یاد ہی نہیں رہتی۔ یوں بھی بچہ ہوتا ہے کہ وہ ہر حادثہ کو ایک اکیلا واقعہ سمجھتا اور دیکھتا ہے۔ دو واقعات کے درمیان کوئی ربط نہیں دیکھ سکتا۔ پھر وہ ہر بات کے بارے میں بار بار پوچھتا رہتا ہے ۔ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ جب آخری واقعہ دیکھتا ہے اس کی ابتدائی کڑیاں وہ بھول چکا ہوتا ہے۔ لکیلا یعلم من بعد علم شیئاً (22 : 5) ” تاکہ اسے جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ “ اس کی گرفت سے وہ علوم بھی نکل جائیں جن کا وہ بہت ہی ماہر فن تھا اور کسی وقت تو وہ اللہ کی ذات وصفات میں بھی بحث کرتا تھا۔ اس کے بعد انسانوں کی تخلیق اور ان کی تربیت سے ذرا آگے بڑھ کر زمین کے اندر حیوانوں اور نباتات کے تخلیقی عمل پر بحث کی جاتی ہے۔ وتری الارض ھامدۃ فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربت و انبتت من کل زوج بھیج (22 : 5) ” اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے ، پھر جہاں ہم نے اس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کردی۔ “ ہمود موت وحیات کے درمیان ایک درجہ ہے۔ زمین بارش یا پانی ملنے سے قبل حالت ہمود میں ہوتی ہے۔ پانی حیوانات اور نباتات میں ایک بڑا عنصر ہے ، جب وہ نازل ہوتا ہے تو یہ زمین اھتزت و ربت (22 : 5) حرکت کرتی ہے۔ یہ عجیب حرکت ہے جسے قرآن نے قلم بند کردیا ہے۔ قبل اس کے کہ سائنسی آلات کے ذریعہ اس کا ملاحظہ کیا جائے ۔ جب خشک زمین کو پانی ملے تو یہ حرکت کرتی ہے ، ہلتی ہے ، پانی پیتی ہے ، پھول جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں سے نباتات پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ من کل زوج بھیج (22 : 5) ” اس نے ہر قسم کے خوش منظر نباتات کے جوڑے اگلنا شروع کئے۔ “ اس سے زیادہ اور کوئی سین خوش منظر نہیں ہوتا کہ زمین جمود اور مردہ حالت سے ایک بار پھر زندگی بھرپور ہوجائے اور لہلہانے لگے۔ قرآن مجید تمام زندہ چیزوں ، انسان ، حیوانات اور نباتات کے درمیان ایک ہی آیت میں ایک ربط پیدا کردیتا ہے۔ وہ لوگوں کے فکر و نظر کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ ان چیزوں کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے اور وہ کیا ہے ؟ یہ قرابت اس بات کی دلیل ہے کہ زندگی کا حقیقی سبب ایک ہے ، وہ ایک ارادہ جو اسے جگہ جگہ نمودار کرتا ہے۔ زمین نباتات اور حیوانات اور انسان سب کے بارے میں یہ آیت :

الحج 22:6

یایھا الناس ……زوج بھیج (5) بعث بعد موت کی حقیقت کیا ہے۔ جسم کے اجزاء میں دوبارہ زندگی ڈالنا اور بس۔ تو انسانی سوچ کے مطابق بھی یہ چیز ابتدائی تخلیق سے آسان ہے ، لیکن اگر انسان اسے مشکل سمجھے تو اللہ کی نسبت سے تو یہ بہت ہی آسان ہے۔ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ دوبارہپیدا کرنے میں بھی اللہ کو ایسا ہی ارادہ کرنا ہوگا کہ (کن) یعنی ہوجا کے تو وہ چیز ہوجائے گی۔ انما امرہ اذا ارادشیئا ان یقول لہ کن فیکون ” اس کا کام یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتی ہے “ ۔ قرآن کریم کا اندازہ کلام یہ ہے کہ وہ انسانوں کی سوچ اور قیاس کے مطابق ہی بات کرتا ہے۔ لوگوں کے طرز استدلال اور ان کی قوت ادراک کے مطابق بات کرتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید ان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے سامنے پھیلی ہوئی اور نظر آنے والی کائنات پر غور کریں۔ یہ ہر وقت ان مشہور اور نظر آنے والے واقعات کو دیکھتے رہیں جو ہر وقت ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتے رہتے ہیں۔ اگر ان نظروں کے سامنے سے روز و شب گزرنے والے واقعات پر گہرا غور و فکر کیا جائے تو وہ سب واقعات انسان کو ایع معجزہ نظرآنے لگیں۔ بشرطیکہ وہ کھلے دل اور چشم بینا کے ساتھ ان کا گہرا مطالعہ کریں لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ ان واقعات اور مناظر پر سے گونگے اور بہرے ہو کر گزرتے ہیں یا یہ واقعات اور مناظر لوگوں کے پاس ہو کر گزر جاتے ہیں اور لوگوں کو کوئی انتباہ نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے اور سب سے بڑا سوال کہ خود انسان کیا ہے ؟ کہاں سے آیا ہے ؟ کس طرح آیا ہے اور وہ کن کن ادوار سے گزرا ہے۔ فانا خلقنکم من تراب (22 : 5) ” ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ “ انسان اس مٹی کا بیٹا ہے۔ اس مٹی سے وہ بنا ہے ، اس کا یہ جسم اسی مٹی سے ڈھالا گیا ہے ، مٹی ہی سے اس کی زنگدی کی نشو و نما ہوتی ہے۔ اس کے جسم میں جس قدر عناصر ہیں وہ زمین کے اندر موجود ہیں۔ صرف وہ ایک عنصر مٹی میں نہیں ہے یعنی ” حیات “ یعنی روح۔ یہ امر ربی سے ہے اور اس کے بارے میں ہمارا علم ابھی تک قلیل ہے۔ اس روح ہی کی وجہ سے یہ مٹی سے جدا ہوگیا ہے لیکن اصلاً ہے تو مٹی ہی ہے۔ اس کس جسمانی ساخت ، اس کی غذا اور تمام اجزائے جسم مٹی ہی سے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مٹی میں اور انسان میں پھر یہ فرق کس طرح ہوگیا۔ مٹی کہاں اور انسان کہاں ؟ مٹی تو سادہ ذرات ہیں لیکن انسان تو تخلیق کے بعد (فسواھا) بھی ہے۔ یہ انسان فاعل بھی ہے اور فعالیت کا اثر بھی لیتا ہے۔ مئوثر بھی ہے اور متاثر بھی ہے۔ اس کے قدم زمین پر ہیں اور اس کی اڑان آسمانوں کی طرف ہے۔ وہ اپنی فکر سے مادہ سے آگے تخلیقات کرتا ہے۔ مادہ کے اندر بھی اس کی تخلیقات ہیں۔ کیا یہ ایک عظیم معجزہ اور عظیم انقلاب نہیں ہے کہ اللہ نے مٹی سے انسان بنا دیا۔ اسی انسانی مادے کو دوبارہ جمع کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ عجیب مخلوق مادہ سے پیدا کردہ۔ ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مضغۃ مخلقۃ لنبین لکم و نقر فی الارحام ما نشاء الی اجل مسمی ثم نخر جکم طفلاً (22 : 5) ’ پھر نطفے سے ، پھر خلیہ سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی (یہ ہم اس لئے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ “ اب ذرا مٹی کے ان سادہ عناصر کو دیکھیے۔ پھر نطفے کو دیکھے جو زندہ مٹی کے خلیوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ کس قدر تبدیلی آگئی۔ اسی کے اندر وہ عظیم راز مضمر ہے یعنی زندگی کا راز۔ وہ راز جس کے بارے میں آج تک انسان کوئی قابل ذکر معلومات حاصل نہیں کرسکا۔ اربوں سال گزر گئے ہیں۔ انسان یہ معلوم کرنے کی سعی میں ہے کہ روج کیا ہے ؟ حیات کیا ہے ؟ ان اربوں سالوں کے دوران ہر نطفے میں اربوں زندہ خلیے بنتے ہیں لیکن ان خلیوں کے ملاحظے سے بھی ہم عاجز ہیں چہ جائیکہ ہم ان کی تخلیق کو سمجھ سکیں اگرچہ انسان نظر کو بلند کرے اور محالات کے دامن کو پکڑ لے۔ پھر یہ نطفہ علقہ کس طرح بن جاتا ہے ، یہ خون کے لوتھڑے کی شکل کس طرح اختیار کرت ا ہے۔ اس کے بعد یہ خون بوٹی کی شکل میں کس طرح آتا ہے اور یہ بوٹی انسان کی شکل کس طرح اختیار کرتی ہے۔ نطفہ کیا ہے ، مرد کا پانی۔ ایک نطفے میں ہزارہا مادہ منویہ کے حیوانات ہوتے ہیں۔ ان ہزاروں لاکھوں حیوانات میں سے صرف ایک حیوان عورت کے انڈے میں داخل ہوتا ہے جو رحم مادر میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ متحد ہوتا ہے اور رحم کید یوار کے ساتھ لٹک جاتا ہے۔ اس بیضہ میں جو نہایت ہی باریک نکتے کے برابر ہوتا ہے اور جو رحم مادر کی دیواروں کے ساتھ پیوست ہوتا ہے۔ مادہ منویہ میں دوڑنیوالا یہ باریک حیوان پیوست ہوجاتا ہے بلکہ اس بیضہ کے اندر داخل ہوجاتا ہے۔ یہ کام ایک خود کار نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ ان دونوں چیزوں میں قبولیت اللہ نے رکھی ہے۔ اس نکتے میں اللہ نے تمام انسانیخصائل اور عادات ودیعت کئے ہوئے ہیں۔ آنے والے انسان کی تمام خصوصیات کہ اس کا وزن کیا ہوگا ، لمباکتنا ہوگا ، جسامت کتنی ہوگی ، موٹاپا کتنا ہوگا ، خوبصورت ہوگا یا بدصورت ، صحت مند ہوگا یا بمیار۔ اسی کے اندر انسان کی اعصابی خصوصیات ، عقلی صلاحیتیں اور نفسیاتی حالات ودیعت کردیئے جاتے ہیں۔ اس کے میلانات ، جذبات ، رجحان ، اچھائی کی طرف یا برائی کی طرف اس چھوٹے سے حیوان کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔ کون یہ تصور کرسکتا ہے کہ رحم مادر کے اندر معلق بیضے اور اس چھوٹے سے حیوان کے ملاپ کے اندر یہ سب کچھ موجود ہے اور یہی نکتہ جو خوردبین سے نظرآتا ہے اس کے اندر پورا انسان موجود ہے جس کے جسم کی ساخت ہی پیچیدہ ہے۔ اس قدر کہ دنیا میں کوئی ایک انسان بھی دوسرے کا مکمل ہم شکل نہیں ہوتا اور آدم سے لے کر آج تک کوئی بھی دو انسان مکمل طور پر ہم شکل نہیں ہوتے۔ اب یہ نکتہ حلقہ سے مضغہ بنجاتا ہے۔ یہ گاڑھے خون کا ایک لوتھڑا ہوتا ہے ، اس کی کوئی شکل و صورت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد یہ مضغہ پھر شکل اختیار کرتا ہے ، اور یہ ہڈیوں کے ہیکل کی شکل میں ہوجاتا ہے جس کے اوپر بھی گوشت چڑھتا ہے۔ اگر اس نے پیدا ہونا ہو ورنہ رحم مادر اسے باہر پھینک دیتا ہے۔ اگر اللہ نے اس کے لئے بحیثیت انسان دنیا میں آیا مقرر نہ کیا ہو۔ لنبین لکم ” تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ “ مضغہ اور طفل کے درمیان قرآن مجید جملہ معترضہ کہتا ہے تاکہ ہم تمہیں بتائیں کہ خون کے اس لوتھڑے کے اندر قدرت الہیہ نے کیا کیا کمالات رکھے ہیں۔ یہ ہے قرآن مجید کا نہایت ہی مئوثرانداز بیان۔ اس کے بعد پھر رحم مادر میں جنین کے حالات۔ ونقر فی الارحام مانشآء الی اجل مسمی (22 : 5) ” ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ایک خاص مدت تک رحموں میں ٹھہراتے ہیں۔ “ جن جنینوں کو اللہ تمام کردینا چاہتے ہیں وہ رحم مادر میں رہتے ہیں اپنے وقت وضع حمل تک ۔ ثم نخرجکم (طفلاً (22 : 5) ” پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ “ ذرا آپ نطفہ معلقہ کو دیکھیں اور طفل مولود کو دیکھیں دونوں کے درمیان کس قدر فرق ہے۔ “ اگر اس زمانے کو دیکھا جائے تو بہت ہی تھوڑا ہے صرف 9 ماہ عموماً اور اگر نطفہ معلقہ کو دیکھا جائے اور طفل مولود کو دیکھا جائے تو دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ نطفہ تو خوردبین کے بغیر نظر ہی نہیں آتا جبکہ بچہ ایک نہایت ہی پیچیدہ مکمل مخلوق کی شکل میں ہے جس کے اعضا وجوارح ہیں۔ جس کے اپنے خدو خال ہیں ، اپنی صفات اور صلاحیتیں ہیں اور جذبات و میلانات ہیں۔ یہ اس قدر بڑا فرق ہے کہ کوئی سمجھ دار ، ذی عقل اور مفکر انسان اس پر بار بار غور کئے بغیر اور قدرت الہیہ کو تسلیم کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس کے بعد قرآن مجید اس طفل مولود کے حالات کے ساتھ ذرا آگے جاتا ہے۔ یہ بچہ روشنی دیکھتا ہے اور اس پوشیدہ مقام کو چھوڑ دیتا ہے جس کے اندر اس نے یہ معجزانہ طفر طے کیا اور جہاں یہ نظروں سے اوجھل رہا ۔ ثم لتبلغوا اشد کم (22 : 5) ” پھر تمہاری پرورش کرتے ہیں تاکہ تم جوانی کو پہنچو۔ “ اور اپنی جسمانی ساخت کو مکمل کرو ، اپنی عقل بلوغت تک جا پہنچو اور نفسیاتی طور پر ترقی یافتہ انسان بنو۔ اس مقام پر یہ بات غور طلب ہے کہ ایک نومولود بچے اور ایک مکمل نوجوان اور مضبوط انسان کے درمیان کس قدر درجات ہیں۔ ان کے درمیان کتنا عظیم فاصلہ ہے۔ زمانوں کے فاصلے سے بہت بعید۔ لیکن دست قدرت نے یہ تمام فاصلے طے کرا دیئے۔ اس بچے کو دست قدرت نے تمام انسانی خواص عطا کردیئے اور رحم مادر کے ساتھ معلق نطفہ جو ایک بےقدر پانی پر مشتمل تھا ، اب ایک مکمل انسان ہے۔ اس کے بعد پھر ومنکم من یتوفی ومنکم من یرنہ الی ار ذل العمر لکیلا یعلم من بعد علم شیئاً (22 : 5) ” اور تم میں سے کوئی پہلے بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ “ جو بلا لیا جاتا ہے یعنی جلدی مر جاتا ہے تو وہ اپنے اس انجام تک جا پہنچتا ہے جو ہر زندہ کا آخری انجام ہے۔ کسی کو نہایت ہی بدترین عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو یہ ہمارے لئے قابل غور فکر ہے کہ علم اور دانش مندی اور فہم و فراست اور کمال کے بعد وہ پھر ایک بچہ بن جاتا ہے۔ اس کے جذبات ، تاثرات اور حافظہ بچوں کی طرح ہوتا ہے ، وہ کوئی چیز ہاتھ میں نہیں پکڑ سکتا۔ حافظہ ختم ہوجاتا ہے ، اسے کوئی چیز یاد ہی نہیں رہتی۔ یوں بھی بچہ ہوتا ہے کہ وہ ہر حادثہ کو ایک اکیلا واقعہ سمجھتا اور دیکھتا ہے۔ دو واقعات کے درمیان کوئی ربط نہیں دیکھ سکتا۔ پھر وہ ہر بات کے بارے میں بار بار پوچھتا رہتا ہے ۔ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ جب آخری واقعہ دیکھتا ہے اس کی ابتدائی کڑیاں وہ بھول چکا ہوتا ہے۔ لکیلا یعلم من بعد علم شیئاً (22 : 5) ” تاکہ اسے جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ “ اس کی گرفت سے وہ علوم بھی نکل جائیں جن کا وہ بہت ہی ماہر فن تھا اور کسی وقت تو وہ اللہ کی ذات وصفات میں بھی بحث کرتا تھا۔ اس کے بعد انسانوں کی تخلیق اور ان کی تربیت سے ذرا آگے بڑھ کر زمین کے اندر حیوانوں اور نباتات کے تخلیقی عمل پر بحث کی جاتی ہے۔ وتری الارض ھامدۃ فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربت و انبتت من کل زوج بھیج (22 : 5) ” اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے ، پھر جہاں ہم نے اس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کردی۔ “ ہمود موت وحیات کے درمیان ایک درجہ ہے۔ زمین بارش یا پانی ملنے سے قبل حالت ہمود میں ہوتی ہے۔ پانی حیوانات اور نباتات میں ایک بڑا عنصر ہے ، جب وہ نازل ہوتا ہے تو یہ زمین اھتزت و ربت (22 : 5) حرکت کرتی ہے۔ یہ عجیب حرکت ہے جسے قرآن نے قلم بند کردیا ہے۔ قبل اس کے کہ سائنسی آلات کے ذریعہ اس کا ملاحظہ کیا جائے ۔ جب خشک زمین کو پانی ملے تو یہ حرکت کرتی ہے ، ہلتی ہے ، پانی پیتی ہے ، پھول جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں سے نباتات پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ من کل زوج بھیج (22 : 5) ” اس نے ہر قسم کے خوش منظر نباتات کے جوڑے اگلنا شروع کئے۔ “ اس سے زیادہ اور کوئی سین خوش منظر نہیں ہوتا کہ زمین جمود اور مردہ حالت سے ایک بار پھر زندگی بھرپور ہوجائے اور لہلہانے لگے۔ قرآن مجید تمام زندہ چیزوں ، انسان ، حیوانات اور نباتات کے درمیان ایک ہی آیت میں ایک ربط پیدا کردیتا ہے۔ وہ لوگوں کے فکر و نظر کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ ان چیزوں کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے اور وہ کیا ہے ؟ یہ قرابت اس بات کی دلیل ہے کہ زندگی کا حقیقی سبب ایک ہے ، وہ ایک ارادہ جو اسے جگہ جگہ نمودار کرتا ہے۔ زمین نباتات اور حیوانات اور انسان سب کے بارے میں یہ آیت :

الحج 22:7

ذلک بان اللہ ھو ……فی القبور (7) یہ بات یعنی انسان کو مٹی سے پیدا کرنا ، پھر جنین کو مذکورہ بالا مختلف مراحل سے گزارنا ، پھر بچے کا مختلف مراحل حیات طے کرنا ، پھر خشک اور مردہ زمین کو بارش کے بعد زندہ کرنا ، ان سب امور سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ حق ہے۔ اس لئے کہ ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ خلاق کائنات نے جو قانون قدرت اس دنیا کے لئے وضع کیا ہے ، وہ حق ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور زندگی کا یوں ترتیب کے ساتھ مرحلہ وار ترقی کرتے چلے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک واحد خالق اور مدبر کا ارادہ اس کائنات میں کام کر رہا ہے۔ یعنی زندگی اور اس پوری کائنات کے اندر جاری وساری قوانین فطرت میں اور اللہ کی سچائی میں گہرا ربط ہے۔ انہ یحی الموتی (22 : 6) ” اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ “ مردوں کو زندہ کرتا ہے یعنی جس طرح پہلے اس نے زمین سے انسان کو پیدا کیا اسی طرح دوبارہ اسی مٹی کو زندگی دینا اس کے لئے مشکل نہیں ہے۔ وان اللہ یبعث من فی القبور (22 : 8) ” اور یہ کہ اللہ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ “ تاکہ وہ اس انجام تک پہنچیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ کیونکہ اس کائنات کی حکمت تدبیر اور حکمت تخلیق کا تقاضا یہ ہے کہ مردوں کو اٹھایا جائے۔ یہ مختلف مراحل جن سے جنین گزرتا ہے ، پھر جن سے ایک بچہ گزرتا ہے ، جب وہ آنکھ کھولتا ہے یہ تمام مراحل یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ جو ارادہ مدبرہ یہ سب کام کرتا ہے وہ اس انسان کو موجودہ حالت سے نکال کر لازماً دارالکمال تک پہنچائے گا۔ حیات ارضی میں انسان کمال تک نہیں پہنچتا کیونکہ وہ ایک مقام تک پہنچ کر کھڑا ہوجاتا ہے اور پھر وہ زوال کی طرف آتا ہے۔ لکیلا یعلم بعد علم شیئاً ” تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ “ اس کی روشنی میں ایک اور جہاں اور ایک جنم انسان کے لئے ضروری ہے جس میں وہ کمال حاصل کرے۔ تخلیق انسان اور حیوانات و نباتات اور ان کے یہ مدارج اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کو پیدا کرنے الا ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ دوسرے یہ کہ عملاً ان کو اٹھا کر دوسرے جہاں تک لے جائے گا تاکہ وہ وہاں درجہ کمال تک پہنچ جائیں۔ اسی طرح تخلیق کا اصول اور بعث بعد الموت کا ضابطہ باہم مل جاتے ہیں اور پھر آخرت میں حساب و کتاب بھی ان کا ایک طبیعی انجام قرار پاتا ہے اور ان تمام امور سے خالق مدبر کا ثبوت بھی ملتا ہے جس کا ہاتھ ان تمام امور میں کام کرتا ہے۔ ان بیشمار دلائل کے باوجود بعض لوگ پھر بھی اللہ کے بارے میں کلام کرتے ہیں۔

الحج 22:8

ومن الناس ……بظلام للحمید (10) ان دلائل کی موجودگی کے بعد بھی اللہ کے بارے میں کلام کرنا عجیب و غریب لگتا ہے اور نہایت ہی برا فعل ہے۔ نیز یہ جھگڑا جو لوگ کرتے ہیں وہ اہل علم ہی نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ نہ اس میدان میں انہیں کوئی خصوصی معرفت ہے۔ نہ وہ ایسی کسی کتاب سے دلیل لائے ہیں جو عقل کو روشن کردیتی ہو۔ حق کی وضاحت کرتی ہو اور یقینی راہ بتلاتی ہو۔ یہاں ایسے لوگوں کی مخصوص تصویر کشی بھی کی جاتی ہے جنہوں نے غرور کی وجہ سے گردن اکڑائی ہوئی ہے۔ ثانی عطفہ (22 : 9) ” گردن اکڑائے ہوئے “۔ اور اس کی بات دلیل کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ وہ اکڑ کر بات کرتا ہے۔ درجہ متکبر ہوتا ہے۔ لیضل عن سبیل اللہ (22 : 9) ” تاکہ لوگوں کو خدا کی راہ سے بھٹکا دے۔ “ ایسے لوگ صرف اس پر اکتفا نہیں کرتے کہ وہ خود گمراہ ہوں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسا غرور اور ایسی کرخت بڑائی اور گردن فرازی کا توڑنا ضروری ہے اس طرح کہ وہ ریزہ ریزہ ہوجائے۔ لہ فی الدنیا خزی (22 : 9) ” ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے۔ “ رسوائی اور شرمنگدی کبر اور غرور کے عین متضاد حالت ہے۔ اللہ کا یہ قانون ہے کہ وہ ان منکرین ، گردن فرازوں اور اکڑ والوں اور گمراہ ہونے والوں اور ایک دوسرے کو گمراہ کرنے والوں کی اس اکڑ کو توڑ کر رکھ دیتا ہے ، اگرچہ ایک زمانے کے بعد۔ ہاں ایسے لوگوں کو اللہ مہلت دیتا ہے تاکہ جب زوال آئے تو وہ بہت زیادہ شرمندہ اور ذلیل ہوں اور اس تذلیل کا ان پر زیادہ اثر ہو۔ رہا آخرت کا عذاب تو وہ بہت ہی سخت اور بہت ہی درد ناک ہے۔ ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب الحریق (22 : 9) ” اور قیامت کے دن ہم اسے جلنے کا عذاب چکھائیں گے۔ “ چند لمحے بھی نہیں گزرتے کہ یہ دھمکی حقیقت کا روپ اختیار کرلیتی ہے یوں کہ دوران کلام انداز کلام کو اچانک حکایتی انداز سے خطاب میں بدل دیا جاتا ہے۔ ذلک بما قدمت یدک و ان اللہ لیس بظلام للعبید (22 : 10) ” یہ ہے تیرا یہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لئے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ “ گویا ایک ہی لمحے میں اس کی سرزنش بھی ہوگئی اور وہ عذاب میں بھی جاگرا۔ …… اب قرآن کریم لوگوں میں سے بعض دوسروں قسم کے لوگوں کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اس قسم کے لوگ اس وقت دعوت اسلامی کے مقابلے پر تھے ، لیکن ایسے نمونے ہر دور میں موجود رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہودی مزاج رکھتے ہیں اور نظریہ کو بھی تاجرانہ انداز میں لیتے ہیں اور شہر مارکیٹ میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

الحج 22:9

ومن الناس ……بظلام للحمید (10) ان دلائل کی موجودگی کے بعد بھی اللہ کے بارے میں کلام کرنا عجیب و غریب لگتا ہے اور نہایت ہی برا فعل ہے۔ نیز یہ جھگڑا جو لوگ کرتے ہیں وہ اہل علم ہی نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ نہ اس میدان میں انہیں کوئی خصوصی معرفت ہے۔ نہ وہ ایسی کسی کتاب سے دلیل لائے ہیں جو عقل کو روشن کردیتی ہو۔ حق کی وضاحت کرتی ہو اور یقینی راہ بتلاتی ہو۔ یہاں ایسے لوگوں کی مخصوص تصویر کشی بھی کی جاتی ہے جنہوں نے غرور کی وجہ سے گردن اکڑائی ہوئی ہے۔ ثانی عطفہ (22 : 9) ” گردن اکڑائے ہوئے “۔ اور اس کی بات دلیل کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ وہ اکڑ کر بات کرتا ہے۔ درجہ متکبر ہوتا ہے۔ لیضل عن سبیل اللہ (22 : 9) ” تاکہ لوگوں کو خدا کی راہ سے بھٹکا دے۔ “ ایسے لوگ صرف اس پر اکتفا نہیں کرتے کہ وہ خود گمراہ ہوں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسا غرور اور ایسی کرخت بڑائی اور گردن فرازی کا توڑنا ضروری ہے اس طرح کہ وہ ریزہ ریزہ ہوجائے۔ لہ فی الدنیا خزی (22 : 9) ” ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے۔ “ رسوائی اور شرمنگدی کبر اور غرور کے عین متضاد حالت ہے۔ اللہ کا یہ قانون ہے کہ وہ ان منکرین ، گردن فرازوں اور اکڑ والوں اور گمراہ ہونے والوں اور ایک دوسرے کو گمراہ کرنے والوں کی اس اکڑ کو توڑ کر رکھ دیتا ہے ، اگرچہ ایک زمانے کے بعد۔ ہاں ایسے لوگوں کو اللہ مہلت دیتا ہے تاکہ جب زوال آئے تو وہ بہت زیادہ شرمندہ اور ذلیل ہوں اور اس تذلیل کا ان پر زیادہ اثر ہو۔ رہا آخرت کا عذاب تو وہ بہت ہی سخت اور بہت ہی درد ناک ہے۔ ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب الحریق (22 : 9) ” اور قیامت کے دن ہم اسے جلنے کا عذاب چکھائیں گے۔ “ چند لمحے بھی نہیں گزرتے کہ یہ دھمکی حقیقت کا روپ اختیار کرلیتی ہے یوں کہ دوران کلام انداز کلام کو اچانک حکایتی انداز سے خطاب میں بدل دیا جاتا ہے۔ ذلک بما قدمت یدک و ان اللہ لیس بظلام للعبید (22 : 10) ” یہ ہے تیرا یہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لئے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ “ گویا ایک ہی لمحے میں اس کی سرزنش بھی ہوگئی اور وہ عذاب میں بھی جاگرا۔ …… اب قرآن کریم لوگوں میں سے بعض دوسروں قسم کے لوگوں کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اس قسم کے لوگ اس وقت دعوت اسلامی کے مقابلے پر تھے ، لیکن ایسے نمونے ہر دور میں موجود رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہودی مزاج رکھتے ہیں اور نظریہ کو بھی تاجرانہ انداز میں لیتے ہیں اور شہر مارکیٹ میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

الحج 22:10

ومن الناس ……بظلام للحمید (10) ان دلائل کی موجودگی کے بعد بھی اللہ کے بارے میں کلام کرنا عجیب و غریب لگتا ہے اور نہایت ہی برا فعل ہے۔ نیز یہ جھگڑا جو لوگ کرتے ہیں وہ اہل علم ہی نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ نہ اس میدان میں انہیں کوئی خصوصی معرفت ہے۔ نہ وہ ایسی کسی کتاب سے دلیل لائے ہیں جو عقل کو روشن کردیتی ہو۔ حق کی وضاحت کرتی ہو اور یقینی راہ بتلاتی ہو۔ یہاں ایسے لوگوں کی مخصوص تصویر کشی بھی کی جاتی ہے جنہوں نے غرور کی وجہ سے گردن اکڑائی ہوئی ہے۔ ثانی عطفہ (22 : 9) ” گردن اکڑائے ہوئے “۔ اور اس کی بات دلیل کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ وہ اکڑ کر بات کرتا ہے۔ درجہ متکبر ہوتا ہے۔ لیضل عن سبیل اللہ (22 : 9) ” تاکہ لوگوں کو خدا کی راہ سے بھٹکا دے۔ “ ایسے لوگ صرف اس پر اکتفا نہیں کرتے کہ وہ خود گمراہ ہوں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسا غرور اور ایسی کرخت بڑائی اور گردن فرازی کا توڑنا ضروری ہے اس طرح کہ وہ ریزہ ریزہ ہوجائے۔ لہ فی الدنیا خزی (22 : 9) ” ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے۔ “ رسوائی اور شرمنگدی کبر اور غرور کے عین متضاد حالت ہے۔ اللہ کا یہ قانون ہے کہ وہ ان منکرین ، گردن فرازوں اور اکڑ والوں اور گمراہ ہونے والوں اور ایک دوسرے کو گمراہ کرنے والوں کی اس اکڑ کو توڑ کر رکھ دیتا ہے ، اگرچہ ایک زمانے کے بعد۔ ہاں ایسے لوگوں کو اللہ مہلت دیتا ہے تاکہ جب زوال آئے تو وہ بہت زیادہ شرمندہ اور ذلیل ہوں اور اس تذلیل کا ان پر زیادہ اثر ہو۔ رہا آخرت کا عذاب تو وہ بہت ہی سخت اور بہت ہی درد ناک ہے۔ ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب الحریق (22 : 9) ” اور قیامت کے دن ہم اسے جلنے کا عذاب چکھائیں گے۔ “ چند لمحے بھی نہیں گزرتے کہ یہ دھمکی حقیقت کا روپ اختیار کرلیتی ہے یوں کہ دوران کلام انداز کلام کو اچانک حکایتی انداز سے خطاب میں بدل دیا جاتا ہے۔ ذلک بما قدمت یدک و ان اللہ لیس بظلام للعبید (22 : 10) ” یہ ہے تیرا یہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لئے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ “ گویا ایک ہی لمحے میں اس کی سرزنش بھی ہوگئی اور وہ عذاب میں بھی جاگرا۔ …… اب قرآن کریم لوگوں میں سے بعض دوسروں قسم کے لوگوں کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اس قسم کے لوگ اس وقت دعوت اسلامی کے مقابلے پر تھے ، لیکن ایسے نمونے ہر دور میں موجود رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہودی مزاج رکھتے ہیں اور نظریہ کو بھی تاجرانہ انداز میں لیتے ہیں اور شہر مارکیٹ میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

الحج 22:11

ومن الناس ………العشیر (13) عقیدہ اور نظریہ ایک مومن کی زندگی کا سرمایہ ہوتا ہے اور اسی پر مومن کی زندگی قائم ہوتی ہے۔ ایک مومن کے ماحول میں زندگی کے سمندر میں اضطرابات اور تلاطم آتے اور جاتے رہتے ہیں اور تیز طوفانی ہوائیں چلتی رہتی ہیں لیکن مومن ہے کہ وہ سمندر کے بیچ میں ایک چٹان کو مضبوطی سے پکڑ کر جم جاتا ہے۔ اس کے ماحول کے اردگرد سے ایک ایک سہارا گرتا جاتا ہے لیکن وہ ہے کہ اس نے ایک مضبوط سہارا پکڑ رکھا ہوتا ہے اور اس کے پائوں کو کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ ایک سچے مومن کی زندگی میں نظریہ کی یہ قدر و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسے اس پر جم جانا چاہئے۔ ضروری ہے کہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لے۔ اسے اس پر یقین ہونا چاہئے کہ یہ عقیدہ سچا عقیدہ ہے۔ اس کے بارے میں اس کے اندر کوئی تذبذب نہ ہو ، اور اس پر وہ کسی عطا اور جزاء کا طلبگار بھی نہ ہو ، کیونکہ مومن کے لئے اس کا نظریہ اس کا حاصل ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ اور نظریہ ہی اس کی پناہ گاہ ہوتا ہے ، یہی اس کا سہارا ہوتا ہے۔ یہ اس کا صلہ ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے اس کے دل کو نور ملا ہے اور وہ راہ ہدایت پر آگیا ہے اور یہ اس پر مطمئن ہوگیا ہے۔ ایک مومن جب اسلامی نظریہ حیات کی پناہ گاہ میں ہوتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کے اردگرد اس کے ماحول میں لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں ، درخت کے گرے ہوئے پتوں کی طرح باد خزاں کبھی انہیں ادھر لے جاتی ہے اور کبھی ادھر۔ طوفانی ہوائوں کے بگولے انہیں اڑاتے پھرتے ہیں اور وہ سخت قلق اور بےچینی کا شکار ہیں جبکہ یہ اپنے نظریہ پر قائم و دائم اور مطمئن ہیں۔ وہ ثابت قدم ہیں ، ان کی حرکات میں سکون اور ٹھہرائو ہے اور وہ رضائے الٰہی کے لئے رات اور دن کام کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے بارے میں یہاں بات ہو رہی ہے ، وہ ایسے لوگ ہیں جو نظریات کی تجارت کرتے ہیں ، ایمان و ضمیر کو لے کر بازار میں پھرتے ہیں۔ فان اصابہ خیر اطمان بہ (22 : 11) ” اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہوگیا۔ “ اور یہ کہا کہ بس ایمان میں تو خیر ہی خیر ہے۔ اب یہ شخص اس نظریہ سے منافع کماتا ہے۔ تھنوں سے دودھ نکالتا ہے۔ فصل بوتا ہے اور کاٹتا ہے اور اس کی تجارت بازار میں ہوتی ہے اور وہ اس کو جاری رکھتا ہے۔ وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجھہ خسر الدنیا و الاخرۃ (22 : 11) ” اور اگر کوئی مصیبت آگئی تو الٹا پھر گیا۔ اس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ “ دنیا تو اس طرح گئی کہ اس پر معمولی مصیبت آئی اور وہ اسے انگیز نہ کرسکا۔ اپنے مقام پر ثابت قدم نہ رہ سکا۔ اس نے برے حالات میں اللہ کی طرف رجوع نہ کیا اور آخرت یوں گئی کہ اس نے پہلے ایمان اور نظریہ کو چھوڑ دیا اور راہ ہدایت کے بجائے راہ ضلالت کو اختیار کرلیا۔ یہاں قرآن مجید ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی بندگی ایک طرف ہو کر کرتے ہیں۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کو مضبوطی سے نہیں پکڑتے ، دعوت کے کاموں میں ثابت قدم نہیں ہوتے ، ان کی پوزیشن کو اس طرح بتایا جاتا ہے کہ وہ نظریاتی موقف میں ایسی جگہ کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک معمولی سے جھٹکے سے گر جائیں۔ بس ذرا سی مشکلات آئیں اور یہ بھاگ نکلے۔ ان کا کنارہ پر کھڑا ہونا ہی اس مقصد کے لئے تھا کہ بھاگنا آسان ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ نفع و نقصان سے چیزوں کا ناپنا تجارتی کاروبار میں ہوا کرتا ہے۔ نظریات میں دنیوی سود و زیاں کا معیار نہیں چلتا۔ نظریات میں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔ حق کا ساتھ دینا چاہئے کہ نظریات میں حق وہ ہے جس پر ایک کارکن اپنی تحریک بصیرت سے مطمئن ہو۔ اس کا نفع یہی ہوتا ہے کہ انسان کو حق مل جائے۔ انسان دل سے اس پر مطمئن ہو اور اس میں اسے قلبی سکون اور راحت مل جائے۔ پس یہی منزل مقصود ہوتی ہے ایک مومن کی۔ اس پر ایک سچا مومن کوئی خارجی جزاء نہیں چاہتا۔ سچا مومن اپنے رب کی عبادت اس لئے کرتا ہے کہ اس نے اسے ہدایت بخشی ہے۔ اس لئے کرتا ہے کہ اس کے لئے ایمان محبوب بنا دیا گیا ہے اور وہ ایمان اور نظریہ کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ اگر اس پر کوئی دنیاوی فائدہ بھی مل جائے تو یہ جزاء خیر ہے۔ یہ مومن کے لئے بندگی اور ایمان پر صلہ ہوگا۔ ایک سچا مومن اپنے خدا کو سود و زیاں کے زاویہ سے نہیں آزماتا۔ وہ تو جب اسلام کو قبول کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ہر آزمائش کو بھی قبول کرتا ہے۔ وہ راضی ہوتا ہے کہ رب اسے جس طرح چاہے آزمائے وہ تیار ہے۔ خواہ اس پر خوشحالی ہو اور رب اسے آزمائے ، چاہے اس پر بدحالی ہو ار رب اسے اس میں آزمائے ، وہ ہر حال میں راضی ہو۔ یہ سودا بازار کے بائع اور مشتری کا سودا نہیں ہوتا کہ اس میں ہر وقت وہ سود زیاں کا حساب کرتا رہے ، بلکہ یہاں تو خالق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ اللہ کا اختیار ہے کہ جو چاہے کرے ، کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے مومن کو بنایا ہے۔ جو شخص اپنے ایمان اور نظریہ سے دست بردار ہو کر الٹا چلا جاتا ہے وہ ایسے خسارے میں پڑجاتا ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ذلک ھو الخسران المبین (22 : 11) ” اور یہ صریح خسارہ ہے۔ “ اس کی زندگی کا اطمینان جاتا رہا ، اعتماد جاتا رہا ، سکون جاتا رہا اور رضائے الٰہی سے بھی محروم ہوگیا۔ صحت ، مال اور اولاد کے خسارے کے ساتھ ساتھ آخرت کا خسارہ تو بہت بڑا خسارہ ہے۔ دنیا کے اس خسارے کے ساتھ ساتھ اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ ان کے اعتماد ، ان کے بھروسے سے ، ان کے صبر ، ان کے اخلاص ، اور ان کے اس حوصلے کو آزماتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی تقدیر کے فیصلے ماننے کے لئے تیار ہیں یا نہیں اور آخرت کا خسارہ تو بہت بڑا خسارہ ہے کہ وہ آخرت کی دائمی نعمتوں سے محروم ہوگیا۔ اللہ کی رضا مندی اور اللہ کے قرب سے محروم ہوگیا ہے۔ یہ ہے خسران مبین لیکن یہ شخص جو اللہ کو ایک طرف ہو کر پوجتا ہے ، یہ جائے گا کہاں ؟ اللہ سے دور ہو کر یہ کہاں جائے گا ؟ یدعوا من دون اللہ مالا یضرہ ومالا ینفعہ (22 : 12) ” پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو اس کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ فائدہ۔ “ یہ بتوں کی پرستش کرے گا ، یا کسی شخصیت کی پرستش کرے گا جیسا کہ جاہلیت اولیٰ میں رواج تھا۔ دور جدید میں یہ کسی پارٹی ایک سی ڈکٹیٹر یا کسی مفاد کے پیچھے دوڑے گا جس طرح جدید جاہلیت کی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ وحدہ کو پکارنا ترک کیا اور اللہ کی رضا اور اس کے نظام جاہلیت کی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ وحدہ کو پکارنا ترک کیا اور اللہ کی رضا اور اس کے نظام زندگی پر چلنا ترک کیا۔ تو ان کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ ایسے لوگ یکسوئی اور یک جہتی سے محروم ہو کر منتشر ہوجاتے ہیں۔ ذلک ھو الضلل البعید (22 : 13) ” وہ ان کو پکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ “ یعنی بت یا شیطان ، یا آستانے۔ ان سب چیزوں کی مضرت زیادہ قریب ہے اور نفع بعید ہے۔ مضرت تو یہ ہے کہ انسانی دل و دماغ میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ وہم ذلت اور پسماندگی اس کے نصیب میں آتی ہے اور آخرت کا نقصان تو بہت ہی عظیم ہے۔ لئس المولی (22 : 13) ” ایسا آقا بہت ہی برا ہوتا ہے۔ “ یعنی ایسا جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ ولبئس العشیر (22 : 13) ” بدترین ہے اس کا رفیق۔ “ یعنی یہ ساتھی جس سے یہ نقصان اٹھایا جا رہا ہے اس میں بت بھی شال ہیں اور انسان بھی شامل ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ انسانوں کو بھی الہ یا شبہ الہ بناتے رہتے ہیں۔ ہر دور میں ایسے انسان الہ ہوا کرتے ہیں اور مومنین کے لئے جو انعامات ہیں وہ بہت ہی عظیم ہیں ، قیمتی ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی مسلمان سب کچھ دائو پر لگا دے تو بھی ان کے لئے جو اجر رکھا گیا ہے وہ پھر بھی زیادہ عظیم اور قیمتی ہے۔

الحج 22:12

ومن الناس ………العشیر (13) عقیدہ اور نظریہ ایک مومن کی زندگی کا سرمایہ ہوتا ہے اور اسی پر مومن کی زندگی قائم ہوتی ہے۔ ایک مومن کے ماحول میں زندگی کے سمندر میں اضطرابات اور تلاطم آتے اور جاتے رہتے ہیں اور تیز طوفانی ہوائیں چلتی رہتی ہیں لیکن مومن ہے کہ وہ سمندر کے بیچ میں ایک چٹان کو مضبوطی سے پکڑ کر جم جاتا ہے۔ اس کے ماحول کے اردگرد سے ایک ایک سہارا گرتا جاتا ہے لیکن وہ ہے کہ اس نے ایک مضبوط سہارا پکڑ رکھا ہوتا ہے اور اس کے پائوں کو کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ ایک سچے مومن کی زندگی میں نظریہ کی یہ قدر و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسے اس پر جم جانا چاہئے۔ ضروری ہے کہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لے۔ اسے اس پر یقین ہونا چاہئے کہ یہ عقیدہ سچا عقیدہ ہے۔ اس کے بارے میں اس کے اندر کوئی تذبذب نہ ہو ، اور اس پر وہ کسی عطا اور جزاء کا طلبگار بھی نہ ہو ، کیونکہ مومن کے لئے اس کا نظریہ اس کا حاصل ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ اور نظریہ ہی اس کی پناہ گاہ ہوتا ہے ، یہی اس کا سہارا ہوتا ہے۔ یہ اس کا صلہ ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے اس کے دل کو نور ملا ہے اور وہ راہ ہدایت پر آگیا ہے اور یہ اس پر مطمئن ہوگیا ہے۔ ایک مومن جب اسلامی نظریہ حیات کی پناہ گاہ میں ہوتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کے اردگرد اس کے ماحول میں لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں ، درخت کے گرے ہوئے پتوں کی طرح باد خزاں کبھی انہیں ادھر لے جاتی ہے اور کبھی ادھر۔ طوفانی ہوائوں کے بگولے انہیں اڑاتے پھرتے ہیں اور وہ سخت قلق اور بےچینی کا شکار ہیں جبکہ یہ اپنے نظریہ پر قائم و دائم اور مطمئن ہیں۔ وہ ثابت قدم ہیں ، ان کی حرکات میں سکون اور ٹھہرائو ہے اور وہ رضائے الٰہی کے لئے رات اور دن کام کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے بارے میں یہاں بات ہو رہی ہے ، وہ ایسے لوگ ہیں جو نظریات کی تجارت کرتے ہیں ، ایمان و ضمیر کو لے کر بازار میں پھرتے ہیں۔ فان اصابہ خیر اطمان بہ (22 : 11) ” اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہوگیا۔ “ اور یہ کہا کہ بس ایمان میں تو خیر ہی خیر ہے۔ اب یہ شخص اس نظریہ سے منافع کماتا ہے۔ تھنوں سے دودھ نکالتا ہے۔ فصل بوتا ہے اور کاٹتا ہے اور اس کی تجارت بازار میں ہوتی ہے اور وہ اس کو جاری رکھتا ہے۔ وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجھہ خسر الدنیا و الاخرۃ (22 : 11) ” اور اگر کوئی مصیبت آگئی تو الٹا پھر گیا۔ اس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ “ دنیا تو اس طرح گئی کہ اس پر معمولی مصیبت آئی اور وہ اسے انگیز نہ کرسکا۔ اپنے مقام پر ثابت قدم نہ رہ سکا۔ اس نے برے حالات میں اللہ کی طرف رجوع نہ کیا اور آخرت یوں گئی کہ اس نے پہلے ایمان اور نظریہ کو چھوڑ دیا اور راہ ہدایت کے بجائے راہ ضلالت کو اختیار کرلیا۔ یہاں قرآن مجید ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی بندگی ایک طرف ہو کر کرتے ہیں۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کو مضبوطی سے نہیں پکڑتے ، دعوت کے کاموں میں ثابت قدم نہیں ہوتے ، ان کی پوزیشن کو اس طرح بتایا جاتا ہے کہ وہ نظریاتی موقف میں ایسی جگہ کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک معمولی سے جھٹکے سے گر جائیں۔ بس ذرا سی مشکلات آئیں اور یہ بھاگ نکلے۔ ان کا کنارہ پر کھڑا ہونا ہی اس مقصد کے لئے تھا کہ بھاگنا آسان ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ نفع و نقصان سے چیزوں کا ناپنا تجارتی کاروبار میں ہوا کرتا ہے۔ نظریات میں دنیوی سود و زیاں کا معیار نہیں چلتا۔ نظریات میں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔ حق کا ساتھ دینا چاہئے کہ نظریات میں حق وہ ہے جس پر ایک کارکن اپنی تحریک بصیرت سے مطمئن ہو۔ اس کا نفع یہی ہوتا ہے کہ انسان کو حق مل جائے۔ انسان دل سے اس پر مطمئن ہو اور اس میں اسے قلبی سکون اور راحت مل جائے۔ پس یہی منزل مقصود ہوتی ہے ایک مومن کی۔ اس پر ایک سچا مومن کوئی خارجی جزاء نہیں چاہتا۔ سچا مومن اپنے رب کی عبادت اس لئے کرتا ہے کہ اس نے اسے ہدایت بخشی ہے۔ اس لئے کرتا ہے کہ اس کے لئے ایمان محبوب بنا دیا گیا ہے اور وہ ایمان اور نظریہ کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ اگر اس پر کوئی دنیاوی فائدہ بھی مل جائے تو یہ جزاء خیر ہے۔ یہ مومن کے لئے بندگی اور ایمان پر صلہ ہوگا۔ ایک سچا مومن اپنے خدا کو سود و زیاں کے زاویہ سے نہیں آزماتا۔ وہ تو جب اسلام کو قبول کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ہر آزمائش کو بھی قبول کرتا ہے۔ وہ راضی ہوتا ہے کہ رب اسے جس طرح چاہے آزمائے وہ تیار ہے۔ خواہ اس پر خوشحالی ہو اور رب اسے آزمائے ، چاہے اس پر بدحالی ہو ار رب اسے اس میں آزمائے ، وہ ہر حال میں راضی ہو۔ یہ سودا بازار کے بائع اور مشتری کا سودا نہیں ہوتا کہ اس میں ہر وقت وہ سود زیاں کا حساب کرتا رہے ، بلکہ یہاں تو خالق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ اللہ کا اختیار ہے کہ جو چاہے کرے ، کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے مومن کو بنایا ہے۔ جو شخص اپنے ایمان اور نظریہ سے دست بردار ہو کر الٹا چلا جاتا ہے وہ ایسے خسارے میں پڑجاتا ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ذلک ھو الخسران المبین (22 : 11) ” اور یہ صریح خسارہ ہے۔ “ اس کی زندگی کا اطمینان جاتا رہا ، اعتماد جاتا رہا ، سکون جاتا رہا اور رضائے الٰہی سے بھی محروم ہوگیا۔ صحت ، مال اور اولاد کے خسارے کے ساتھ ساتھ آخرت کا خسارہ تو بہت بڑا خسارہ ہے۔ دنیا کے اس خسارے کے ساتھ ساتھ اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ ان کے اعتماد ، ان کے بھروسے سے ، ان کے صبر ، ان کے اخلاص ، اور ان کے اس حوصلے کو آزماتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی تقدیر کے فیصلے ماننے کے لئے تیار ہیں یا نہیں اور آخرت کا خسارہ تو بہت بڑا خسارہ ہے کہ وہ آخرت کی دائمی نعمتوں سے محروم ہوگیا۔ اللہ کی رضا مندی اور اللہ کے قرب سے محروم ہوگیا ہے۔ یہ ہے خسران مبین لیکن یہ شخص جو اللہ کو ایک طرف ہو کر پوجتا ہے ، یہ جائے گا کہاں ؟ اللہ سے دور ہو کر یہ کہاں جائے گا ؟ یدعوا من دون اللہ مالا یضرہ ومالا ینفعہ (22 : 12) ” پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو اس کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ فائدہ۔ “ یہ بتوں کی پرستش کرے گا ، یا کسی شخصیت کی پرستش کرے گا جیسا کہ جاہلیت اولیٰ میں رواج تھا۔ دور جدید میں یہ کسی پارٹی ایک سی ڈکٹیٹر یا کسی مفاد کے پیچھے دوڑے گا جس طرح جدید جاہلیت کی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ وحدہ کو پکارنا ترک کیا اور اللہ کی رضا اور اس کے نظام جاہلیت کی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ وحدہ کو پکارنا ترک کیا اور اللہ کی رضا اور اس کے نظام زندگی پر چلنا ترک کیا۔ تو ان کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ ایسے لوگ یکسوئی اور یک جہتی سے محروم ہو کر منتشر ہوجاتے ہیں۔ ذلک ھو الضلل البعید (22 : 13) ” وہ ان کو پکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ “ یعنی بت یا شیطان ، یا آستانے۔ ان سب چیزوں کی مضرت زیادہ قریب ہے اور نفع بعید ہے۔ مضرت تو یہ ہے کہ انسانی دل و دماغ میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ وہم ذلت اور پسماندگی اس کے نصیب میں آتی ہے اور آخرت کا نقصان تو بہت ہی عظیم ہے۔ لئس المولی (22 : 13) ” ایسا آقا بہت ہی برا ہوتا ہے۔ “ یعنی ایسا جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ ولبئس العشیر (22 : 13) ” بدترین ہے اس کا رفیق۔ “ یعنی یہ ساتھی جس سے یہ نقصان اٹھایا جا رہا ہے اس میں بت بھی شال ہیں اور انسان بھی شامل ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ انسانوں کو بھی الہ یا شبہ الہ بناتے رہتے ہیں۔ ہر دور میں ایسے انسان الہ ہوا کرتے ہیں اور مومنین کے لئے جو انعامات ہیں وہ بہت ہی عظیم ہیں ، قیمتی ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی مسلمان سب کچھ دائو پر لگا دے تو بھی ان کے لئے جو اجر رکھا گیا ہے وہ پھر بھی زیادہ عظیم اور قیمتی ہے۔

الحج 22:13

ومن الناس ………العشیر (13) عقیدہ اور نظریہ ایک مومن کی زندگی کا سرمایہ ہوتا ہے اور اسی پر مومن کی زندگی قائم ہوتی ہے۔ ایک مومن کے ماحول میں زندگی کے سمندر میں اضطرابات اور تلاطم آتے اور جاتے رہتے ہیں اور تیز طوفانی ہوائیں چلتی رہتی ہیں لیکن مومن ہے کہ وہ سمندر کے بیچ میں ایک چٹان کو مضبوطی سے پکڑ کر جم جاتا ہے۔ اس کے ماحول کے اردگرد سے ایک ایک سہارا گرتا جاتا ہے لیکن وہ ہے کہ اس نے ایک مضبوط سہارا پکڑ رکھا ہوتا ہے اور اس کے پائوں کو کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ ایک سچے مومن کی زندگی میں نظریہ کی یہ قدر و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسے اس پر جم جانا چاہئے۔ ضروری ہے کہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لے۔ اسے اس پر یقین ہونا چاہئے کہ یہ عقیدہ سچا عقیدہ ہے۔ اس کے بارے میں اس کے اندر کوئی تذبذب نہ ہو ، اور اس پر وہ کسی عطا اور جزاء کا طلبگار بھی نہ ہو ، کیونکہ مومن کے لئے اس کا نظریہ اس کا حاصل ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ اور نظریہ ہی اس کی پناہ گاہ ہوتا ہے ، یہی اس کا سہارا ہوتا ہے۔ یہ اس کا صلہ ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے اس کے دل کو نور ملا ہے اور وہ راہ ہدایت پر آگیا ہے اور یہ اس پر مطمئن ہوگیا ہے۔ ایک مومن جب اسلامی نظریہ حیات کی پناہ گاہ میں ہوتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کے اردگرد اس کے ماحول میں لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں ، درخت کے گرے ہوئے پتوں کی طرح باد خزاں کبھی انہیں ادھر لے جاتی ہے اور کبھی ادھر۔ طوفانی ہوائوں کے بگولے انہیں اڑاتے پھرتے ہیں اور وہ سخت قلق اور بےچینی کا شکار ہیں جبکہ یہ اپنے نظریہ پر قائم و دائم اور مطمئن ہیں۔ وہ ثابت قدم ہیں ، ان کی حرکات میں سکون اور ٹھہرائو ہے اور وہ رضائے الٰہی کے لئے رات اور دن کام کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے بارے میں یہاں بات ہو رہی ہے ، وہ ایسے لوگ ہیں جو نظریات کی تجارت کرتے ہیں ، ایمان و ضمیر کو لے کر بازار میں پھرتے ہیں۔ فان اصابہ خیر اطمان بہ (22 : 11) ” اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہوگیا۔ “ اور یہ کہا کہ بس ایمان میں تو خیر ہی خیر ہے۔ اب یہ شخص اس نظریہ سے منافع کماتا ہے۔ تھنوں سے دودھ نکالتا ہے۔ فصل بوتا ہے اور کاٹتا ہے اور اس کی تجارت بازار میں ہوتی ہے اور وہ اس کو جاری رکھتا ہے۔ وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجھہ خسر الدنیا و الاخرۃ (22 : 11) ” اور اگر کوئی مصیبت آگئی تو الٹا پھر گیا۔ اس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ “ دنیا تو اس طرح گئی کہ اس پر معمولی مصیبت آئی اور وہ اسے انگیز نہ کرسکا۔ اپنے مقام پر ثابت قدم نہ رہ سکا۔ اس نے برے حالات میں اللہ کی طرف رجوع نہ کیا اور آخرت یوں گئی کہ اس نے پہلے ایمان اور نظریہ کو چھوڑ دیا اور راہ ہدایت کے بجائے راہ ضلالت کو اختیار کرلیا۔ یہاں قرآن مجید ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی بندگی ایک طرف ہو کر کرتے ہیں۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کو مضبوطی سے نہیں پکڑتے ، دعوت کے کاموں میں ثابت قدم نہیں ہوتے ، ان کی پوزیشن کو اس طرح بتایا جاتا ہے کہ وہ نظریاتی موقف میں ایسی جگہ کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک معمولی سے جھٹکے سے گر جائیں۔ بس ذرا سی مشکلات آئیں اور یہ بھاگ نکلے۔ ان کا کنارہ پر کھڑا ہونا ہی اس مقصد کے لئے تھا کہ بھاگنا آسان ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ نفع و نقصان سے چیزوں کا ناپنا تجارتی کاروبار میں ہوا کرتا ہے۔ نظریات میں دنیوی سود و زیاں کا معیار نہیں چلتا۔ نظریات میں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔ حق کا ساتھ دینا چاہئے کہ نظریات میں حق وہ ہے جس پر ایک کارکن اپنی تحریک بصیرت سے مطمئن ہو۔ اس کا نفع یہی ہوتا ہے کہ انسان کو حق مل جائے۔ انسان دل سے اس پر مطمئن ہو اور اس میں اسے قلبی سکون اور راحت مل جائے۔ پس یہی منزل مقصود ہوتی ہے ایک مومن کی۔ اس پر ایک سچا مومن کوئی خارجی جزاء نہیں چاہتا۔ سچا مومن اپنے رب کی عبادت اس لئے کرتا ہے کہ اس نے اسے ہدایت بخشی ہے۔ اس لئے کرتا ہے کہ اس کے لئے ایمان محبوب بنا دیا گیا ہے اور وہ ایمان اور نظریہ کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ اگر اس پر کوئی دنیاوی فائدہ بھی مل جائے تو یہ جزاء خیر ہے۔ یہ مومن کے لئے بندگی اور ایمان پر صلہ ہوگا۔ ایک سچا مومن اپنے خدا کو سود و زیاں کے زاویہ سے نہیں آزماتا۔ وہ تو جب اسلام کو قبول کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ہر آزمائش کو بھی قبول کرتا ہے۔ وہ راضی ہوتا ہے کہ رب اسے جس طرح چاہے آزمائے وہ تیار ہے۔ خواہ اس پر خوشحالی ہو اور رب اسے آزمائے ، چاہے اس پر بدحالی ہو ار رب اسے اس میں آزمائے ، وہ ہر حال میں راضی ہو۔ یہ سودا بازار کے بائع اور مشتری کا سودا نہیں ہوتا کہ اس میں ہر وقت وہ سود زیاں کا حساب کرتا رہے ، بلکہ یہاں تو خالق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ اللہ کا اختیار ہے کہ جو چاہے کرے ، کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے مومن کو بنایا ہے۔ جو شخص اپنے ایمان اور نظریہ سے دست بردار ہو کر الٹا چلا جاتا ہے وہ ایسے خسارے میں پڑجاتا ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ذلک ھو الخسران المبین (22 : 11) ” اور یہ صریح خسارہ ہے۔ “ اس کی زندگی کا اطمینان جاتا رہا ، اعتماد جاتا رہا ، سکون جاتا رہا اور رضائے الٰہی سے بھی محروم ہوگیا۔ صحت ، مال اور اولاد کے خسارے کے ساتھ ساتھ آخرت کا خسارہ تو بہت بڑا خسارہ ہے۔ دنیا کے اس خسارے کے ساتھ ساتھ اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ ان کے اعتماد ، ان کے بھروسے سے ، ان کے صبر ، ان کے اخلاص ، اور ان کے اس حوصلے کو آزماتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی تقدیر کے فیصلے ماننے کے لئے تیار ہیں یا نہیں اور آخرت کا خسارہ تو بہت بڑا خسارہ ہے کہ وہ آخرت کی دائمی نعمتوں سے محروم ہوگیا۔ اللہ کی رضا مندی اور اللہ کے قرب سے محروم ہوگیا ہے۔ یہ ہے خسران مبین لیکن یہ شخص جو اللہ کو ایک طرف ہو کر پوجتا ہے ، یہ جائے گا کہاں ؟ اللہ سے دور ہو کر یہ کہاں جائے گا ؟ یدعوا من دون اللہ مالا یضرہ ومالا ینفعہ (22 : 12) ” پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو اس کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ فائدہ۔ “ یہ بتوں کی پرستش کرے گا ، یا کسی شخصیت کی پرستش کرے گا جیسا کہ جاہلیت اولیٰ میں رواج تھا۔ دور جدید میں یہ کسی پارٹی ایک سی ڈکٹیٹر یا کسی مفاد کے پیچھے دوڑے گا جس طرح جدید جاہلیت کی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ وحدہ کو پکارنا ترک کیا اور اللہ کی رضا اور اس کے نظام جاہلیت کی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ وحدہ کو پکارنا ترک کیا اور اللہ کی رضا اور اس کے نظام زندگی پر چلنا ترک کیا۔ تو ان کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ ایسے لوگ یکسوئی اور یک جہتی سے محروم ہو کر منتشر ہوجاتے ہیں۔ ذلک ھو الضلل البعید (22 : 13) ” وہ ان کو پکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ “ یعنی بت یا شیطان ، یا آستانے۔ ان سب چیزوں کی مضرت زیادہ قریب ہے اور نفع بعید ہے۔ مضرت تو یہ ہے کہ انسانی دل و دماغ میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ وہم ذلت اور پسماندگی اس کے نصیب میں آتی ہے اور آخرت کا نقصان تو بہت ہی عظیم ہے۔ لئس المولی (22 : 13) ” ایسا آقا بہت ہی برا ہوتا ہے۔ “ یعنی ایسا جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ ولبئس العشیر (22 : 13) ” بدترین ہے اس کا رفیق۔ “ یعنی یہ ساتھی جس سے یہ نقصان اٹھایا جا رہا ہے اس میں بت بھی شال ہیں اور انسان بھی شامل ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ انسانوں کو بھی الہ یا شبہ الہ بناتے رہتے ہیں۔ ہر دور میں ایسے انسان الہ ہوا کرتے ہیں اور مومنین کے لئے جو انعامات ہیں وہ بہت ہی عظیم ہیں ، قیمتی ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی مسلمان سب کچھ دائو پر لگا دے تو بھی ان کے لئے جو اجر رکھا گیا ہے وہ پھر بھی زیادہ عظیم اور قیمتی ہے۔

الحج 22:14

ان اللہ ……مایرید (14) اس لئے اگر فتنوں میں سے کسی فتنے میں کوئی مومن مبتلا ہوجائے یا آزمائشوں میں سے کوئی آزمائش اس پر آجائے تو اسے چاہئے کہ وہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے اور اس کے اندر کوئی تزلزل پیدا نہ ہو۔ امید رکھے کہ اللہ ضرور اس کی امداد کرے گا اور اللہ اس بات پر قادر ہے کہ اس کی اس مصیبت اور آزمائش کو دور کرے اور اس کو جزائے خیر دے۔ جو شخص یہ بھروسہ نہ رکھتا ہو کہ دنیا و آخرت میں اللہ اس کی مدد کرے گا ، اور وہ مشکلات میں اللہ کی امداد سے مایوس ہوجائے۔ اگرچہ یہ سختیاں حد سے بڑھ جائیں ، تو ایسا شخص اپنے بارے میں جو چاہے ، کرے۔ جس طرف چاہے اپنے نفس کو لے کر نکل جائے وہ جو جتن بھی کرے ، اس کی مشکلات کو اللہ کے سوا کوئی دوسرا دور نہ کرسکے گا۔

الحج 22:15

من کان یظن ……ما یغیظ (15) یہ ایک نہایت ہی متحرک منظر ہے جس میں انسان کے نفسیاتی غیض و غضب کو ظاہر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ایسے حالات میں ہونے والی حرکتوں کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسے حالات کو مجسم کر کے پیش کیا جاتا ہے جن میں انسان کا غصہ اور بےچینی اپنی انتہا پر ہو۔ ایک ایسا شخص جس پر مشکلات آرہی ہوں اور اس کا تعلق رب تعالیٰ سے نہ ہو ، یہ وہ شخص ہے جو مصیبت کے وقت ہر طرف سے مایوس ہوجاتا ہے۔ اسے کسی طرف کوئی امید کی کرن نظر نہیں آتی ، کسی طرف سے باد نسیم کے کسی جھونکے کے لئے کوئی کھڑکی نظر نہیں آتی۔ یہ شخص ضیق نفس اور دلی درد سے ناقابل برداشت حد تک تنگ آجاتا ہے اور مایوسی کی اس حالت میں اسے رنج و الم اور پریشانی اور بےاطمینانی مزید تکلیف دیتی ہے۔ چناچہ ایسے شخص کو قرآن کہتا ہے کہ اگر وہ بہت تنگ ہے تو کسی رسی کے ذریعے آسمانوں تک پہنچے ، اسی رسی کے ساتھ یہ لٹک جائے یا تو یہ خدکشی کرلے گا اور باہر گر جائے گا ، یا اس کے ذریعہ اس کی جان نکل جائے گی۔ پھر وہ دیکھ لے کہ آیا ایسی تدابیر سے وہ اپنے آپ کو اس بری حالت سے نکال سکتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مسلسل مصائب صرف ایک ہی صورت میں برداشت کئے جاسکتے ہیں کہ انسان کو رحمت خداوندی کی امید ہو۔ مصائب و مشکلات صرف اس صورت میں دور ہو سکتی ہے کہ انسان اللہ کی طرف توجہ کرے۔ مصیبتوں اور مشکلات پر قابو پانے اور ان سے نکلنے کی واحد صورت یہی ہے کہ انسان صرف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے ، کسی مایوس شخص کی ہر حرکت زیادہ مایوسی اور زیادہ مصیبتوں کا باعث ہوتی ہے اور مصیبت زدہ شخص جب مایوس ہوتا ہے تو اسے مصیبت زیادہ تنگ کرنے لگتی ہے۔ لہٰذا میں ان تمام لوگوں کو دعوت دیتا ہوں جو مصائب اور تکالیف کی چکی میں پس رہے ہیں کہ وہ اللہ سے امداد طلب کریں۔ صرف یہی راستہ ہے جس سے وہ اطمینان پا سکتے ہیں اور اللہ کی رحمت کی باد نسیم ان پر چل سکتی ہے۔ ………… ہدایت و ضلالت کے حالات اور ہدایت و ضلالت کی مثالوں کے ایسے ہی بیانات کی خاطر اللہ نے یہ قرآن نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس قرآن کے لئے اپنے دل کھول دیں اور اللہ ان کو ہدایت نصیب کرے۔

الحج 22:16

وکذلک ……من یرید (16) اللہ نے ہدایت اور ضلالت کا فیصلہ پہلے ہی کردیا ہے ، جو ہدایت طلب کرے گا ، تو اللہ کا ارادہ اس کی ہدایت کی شکل میں حقیقت کا روپ اختیار کرلے گا۔ یہ اللہ کی سنت کے مطابق ہوگا ، اور جس نے ضلالت طلب کی تو اسے ضلالت ملے گی۔ یہاں اللہ نے صرف ہدایت ہی کا ذکر فرمایا ہے۔ کیونکہ ان آیات میں مضمون ہدایت ہی کا ہے کہ وہ ایک صحتمند دل میں کس طرح داخل ہوتی ہے۔ رہے وہ فرقے اور مذاہب جو ایک دوسرے کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں ، ان میں سے حق پر کون ہے ؟ تو اس کا فیصلہ اس دنیا میں ہونا تو مشکل ہے ، قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے عقائد میں حق کہاں ہے اور باطل کیا ہے ؟

الحج 22:17

ان الذین امنوا ……شی ئٍ شھید (17) ان فرقوں کا تعارف اور تعریف پہلے گزر چکی ہے۔ یہاں ان کا ذکر اس اصول کے حوالے سے ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ، ہدایت دیتا ہے اور اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہدایت پر کون ہیں اور ضلالت پر کون ہیں ؟ آخرت میں اللہ ہی سب کا حساب و کتاب کرنے الا ہے۔ آخری فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے اور ہر چیز پر اللہ گواہ ہے۔ لوگ اگر اپنی فکر ، اپنی خواہشات اور اپنے ذاتی میلانات کے پچیھے دوڑ رہے ہیں تو دوڑتے رہیں۔ یہ پوری کائنات اپنی فطرت کے ساتھ اللہ کے قوانین قدرت کی مطیع ہے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ نافرمان اگر کوئی ہے تو انسان ہے۔

الحج 22:18

الم تر …………ما یشآء (18) جب انسان اس آیت پر غور کرتا ہے تو ایک کثیر التعداد مخلوق خدا ، جو نظر آتی ، جو نظر نہیں آتی ، آسمانوں میں اور اجرام فلکی میں ، وہ چیزیں جو نظر آتی ہیں اور جو نظر نہیں آتی ہیں ، پھر جو نہایت ہی حساس آلات کی مدد سے نظر آتی ہیں ، لاتعداد پہاڑ ، درخت ، زمین پر چنلے والے حیوانات ، اور پرندے چرندے ، غرض مخلوقات الٰہی کا یہ سیلاب اللہ کے سامنے سربسجود ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہے۔ نہایت ہی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہے لیکن اگر اس مخلوق میں کوئی نافرمان ہے تو وہ انسان ہے۔ یہ واحد مخلوق ہے جو جسورانہ انداز میں نافرمانی کرتی ہے۔ وکثیر من الناس وکثیر حق علیہ العذاب (22 : 18) ” بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ “ یعنی اللہ کی طرف جھکنے والی اور سجدہ ریز ہونے والی اس مخلوق میں انسان ہی ایک عجیب چیز نظر آتا ہے۔ چناچہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ جس پر میرا عذاب حق ہوگیا یعنی وہ اس کا مستحق ہوگیا تو وہ ذلیل ہوگیا۔ ومن یھن اللہ فما لہ من مکرم (22 : 18) ” اور اللہ جسے ذلیل و خوار کر دے اسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں ہے “۔ لہٰذا عزت وہی ہے جو اللہ دے۔ طاقت وہی ہے جو اللہ نے دی ہو۔ جو اللہ کے سوا کسی کے سامنے بھی جھکا دو ذلیل و خوار ہوا۔ اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر جس میں اللہ کا اکرام اور اللہ کی تذلیل صاف صاف یوں نظرتی ہے جیسا کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اسکرین پر یہ سب کچھ موجود ہے ، ذرا اسکرین پر دیکھیے۔

الحج 22:19

ھذن خصمن ……فیھا حریر (23) یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے نکلنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں لیکن سختی سے ان کو پھر اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سختی سے ان کو ملامت کی جاتی ہے۔ وذوقوا عذاب الحریق (22 : 22) ” چکھو جلنے کا مزہ “۔ ان تمام مناظر کو خیال بار بار دہراتا ہے۔ یہاں تک کہ بھاگنے کی کوشش اور سختی کے ساتھ وہ لوگوں کا جہنم میں وبال کردیا جانا ، یہی خیال ذہن میں دوڑتا ہے کہ اچانک ایک دوسرا منظر آجاتا ہے ، وہ ہے دو رفیقوں میں سے دوسرے فریق کا منظر۔ ایک فریق کی حالت تو ابھی دیکھ چکے۔ اب اسکرین پر اہل جنت کا نقشہ آتا ہے۔ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان کے لباس آگ سے نہیں بلکہ ریشم سے سئے جا رہے ہیں۔ اس لباس کے ساتھ ساتھ ان کے جسم کو خوبصورت بنانے کے لئے زیورات بھی ہیں۔ سوین کے اور موتیوں کے۔ پھر لباس پر لباس اور وہ شیریں کلام ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم پر ہیں۔ نہ ان کی بات سخت ہے اور نہ ان کی راہ پر مشقت ہے۔ گویا شیریں کلامی اور حق گوئی اور راہ ربست پر ہونا جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ اطمینان ، یسر اور توفیق ربانی کی نعمت ہے۔

الحج 22:20

ھذن خصمن ……فیھا حریر (23) یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے نکلنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں لیکن سختی سے ان کو پھر اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سختی سے ان کو ملامت کی جاتی ہے۔ وذوقوا عذاب الحریق (22 : 22) ” چکھو جلنے کا مزہ “۔ ان تمام مناظر کو خیال بار بار دہراتا ہے۔ یہاں تک کہ بھاگنے کی کوشش اور سختی کے ساتھ وہ لوگوں کا جہنم میں وبال کردیا جانا ، یہی خیال ذہن میں دوڑتا ہے کہ اچانک ایک دوسرا منظر آجاتا ہے ، وہ ہے دو رفیقوں میں سے دوسرے فریق کا منظر۔ ایک فریق کی حالت تو ابھی دیکھ چکے۔ اب اسکرین پر اہل جنت کا نقشہ آتا ہے۔ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان کے لباس آگ سے نہیں بلکہ ریشم سے سئے جا رہے ہیں۔ اس لباس کے ساتھ ساتھ ان کے جسم کو خوبصورت بنانے کے لئے زیورات بھی ہیں۔ سوین کے اور موتیوں کے۔ پھر لباس پر لباس اور وہ شیریں کلام ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم پر ہیں۔ نہ ان کی بات سخت ہے اور نہ ان کی راہ پر مشقت ہے۔ گویا شیریں کلامی اور حق گوئی اور راہ ربست پر ہونا جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ اطمینان ، یسر اور توفیق ربانی کی نعمت ہے۔

الحج 22:21

ھذن خصمن ……فیھا حریر (23) یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے نکلنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں لیکن سختی سے ان کو پھر اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سختی سے ان کو ملامت کی جاتی ہے۔ وذوقوا عذاب الحریق (22 : 22) ” چکھو جلنے کا مزہ “۔ ان تمام مناظر کو خیال بار بار دہراتا ہے۔ یہاں تک کہ بھاگنے کی کوشش اور سختی کے ساتھ وہ لوگوں کا جہنم میں وبال کردیا جانا ، یہی خیال ذہن میں دوڑتا ہے کہ اچانک ایک دوسرا منظر آجاتا ہے ، وہ ہے دو رفیقوں میں سے دوسرے فریق کا منظر۔ ایک فریق کی حالت تو ابھی دیکھ چکے۔ اب اسکرین پر اہل جنت کا نقشہ آتا ہے۔ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان کے لباس آگ سے نہیں بلکہ ریشم سے سئے جا رہے ہیں۔ اس لباس کے ساتھ ساتھ ان کے جسم کو خوبصورت بنانے کے لئے زیورات بھی ہیں۔ سوین کے اور موتیوں کے۔ پھر لباس پر لباس اور وہ شیریں کلام ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم پر ہیں۔ نہ ان کی بات سخت ہے اور نہ ان کی راہ پر مشقت ہے۔ گویا شیریں کلامی اور حق گوئی اور راہ ربست پر ہونا جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ اطمینان ، یسر اور توفیق ربانی کی نعمت ہے۔

الحج 22:22

ھذن خصمن ……فیھا حریر (23) یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے نکلنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں لیکن سختی سے ان کو پھر اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سختی سے ان کو ملامت کی جاتی ہے۔ وذوقوا عذاب الحریق (22 : 22) ” چکھو جلنے کا مزہ “۔ ان تمام مناظر کو خیال بار بار دہراتا ہے۔ یہاں تک کہ بھاگنے کی کوشش اور سختی کے ساتھ وہ لوگوں کا جہنم میں وبال کردیا جانا ، یہی خیال ذہن میں دوڑتا ہے کہ اچانک ایک دوسرا منظر آجاتا ہے ، وہ ہے دو رفیقوں میں سے دوسرے فریق کا منظر۔ ایک فریق کی حالت تو ابھی دیکھ چکے۔ اب اسکرین پر اہل جنت کا نقشہ آتا ہے۔ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان کے لباس آگ سے نہیں بلکہ ریشم سے سئے جا رہے ہیں۔ اس لباس کے ساتھ ساتھ ان کے جسم کو خوبصورت بنانے کے لئے زیورات بھی ہیں۔ سوین کے اور موتیوں کے۔ پھر لباس پر لباس اور وہ شیریں کلام ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم پر ہیں۔ نہ ان کی بات سخت ہے اور نہ ان کی راہ پر مشقت ہے۔ گویا شیریں کلامی اور حق گوئی اور راہ ربست پر ہونا جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ اطمینان ، یسر اور توفیق ربانی کی نعمت ہے۔

الحج 22:23

ھذن خصمن ……فیھا حریر (23) یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے نکلنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں لیکن سختی سے ان کو پھر اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سختی سے ان کو ملامت کی جاتی ہے۔ وذوقوا عذاب الحریق (22 : 22) ” چکھو جلنے کا مزہ “۔ ان تمام مناظر کو خیال بار بار دہراتا ہے۔ یہاں تک کہ بھاگنے کی کوشش اور سختی کے ساتھ وہ لوگوں کا جہنم میں وبال کردیا جانا ، یہی خیال ذہن میں دوڑتا ہے کہ اچانک ایک دوسرا منظر آجاتا ہے ، وہ ہے دو رفیقوں میں سے دوسرے فریق کا منظر۔ ایک فریق کی حالت تو ابھی دیکھ چکے۔ اب اسکرین پر اہل جنت کا نقشہ آتا ہے۔ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان کے لباس آگ سے نہیں بلکہ ریشم سے سئے جا رہے ہیں۔ اس لباس کے ساتھ ساتھ ان کے جسم کو خوبصورت بنانے کے لئے زیورات بھی ہیں۔ سوین کے اور موتیوں کے۔ پھر لباس پر لباس اور وہ شیریں کلام ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم پر ہیں۔ نہ ان کی بات سخت ہے اور نہ ان کی راہ پر مشقت ہے۔ گویا شیریں کلامی اور حق گوئی اور راہ ربست پر ہونا جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ اطمینان ، یسر اور توفیق ربانی کی نعمت ہے۔

الحج 22:24

ھذن خصمن ……فیھا حریر (23) یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے نکلنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں لیکن سختی سے ان کو پھر اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سختی سے ان کو ملامت کی جاتی ہے۔ وذوقوا عذاب الحریق (22 : 22) ” چکھو جلنے کا مزہ “۔ ان تمام مناظر کو خیال بار بار دہراتا ہے۔ یہاں تک کہ بھاگنے کی کوشش اور سختی کے ساتھ وہ لوگوں کا جہنم میں وبال کردیا جانا ، یہی خیال ذہن میں دوڑتا ہے کہ اچانک ایک دوسرا منظر آجاتا ہے ، وہ ہے دو رفیقوں میں سے دوسرے فریق کا منظر۔ ایک فریق کی حالت تو ابھی دیکھ چکے۔ اب اسکرین پر اہل جنت کا نقشہ آتا ہے۔ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان کے لباس آگ سے نہیں بلکہ ریشم سے سئے جا رہے ہیں۔ اس لباس کے ساتھ ساتھ ان کے جسم کو خوبصورت بنانے کے لئے زیورات بھی ہیں۔ سوین کے اور موتیوں کے۔ پھر لباس پر لباس اور وہ شیریں کلام ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم پر ہیں۔ نہ ان کی بات سخت ہے اور نہ ان کی راہ پر مشقت ہے۔ گویا شیریں کلامی اور حق گوئی اور راہ ربست پر ہونا جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ اطمینان ، یسر اور توفیق ربانی کی نعمت ہے۔

الحج 22:25

درس نمبر 145 ایک نظر میں پچھلے سبق کا خاتمہ اس پر ہوا تھا کہ ذات باری کے بارے میں لوگوں کے دو گروہ ہیں۔ کافروں کا انجام قیامت میں کیا ہوگا اور اہل ایمان کے حالات کیسے ہوں گے۔ اسی حوالے سے کفار نے اس طرز عمل پر بحث کی جاتی ہے جو انہوں نے اس دنیا میں اختیار کر رکھا ہے کہ وہ لوگوں کو مسجد حرام کی زیارت سے اب روکنے لگے ہیں۔ مکہ میں تو انہوں نے دعوت اسلامی کی راہ روکنے کی بےحد جدوجہد کی ، مگر جب یہ تحریک مدینہ منتقل ہوگئی تو انہوں نے مسلمانوں کو زیارت حرم سے روک دیا۔ اس حوالے سے بتایاج اتا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اس حرم کو تعمیر کیا تھا تو ان کے پیش نظر کیا مقاصد تھے۔ انہوں نے کن مقاصد کے لئے اس کی تعمیر کے بعد لوگوں میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس حرم کی زیارت کے لئے آزادانہ آئیں۔ اس گھر کی تعمیر ہی عقیدہ توحید پر ہوئی تھی۔ یہ توحید کا گھر تھا۔ اس میں شرک کرنے کا تو جواز ہی نہیں ہے۔ پھر یہ گھر تمام انسانوں کے لئے تھا۔ خواہ اس میں کوئی مقیم ہو یا باہر سے آئے۔ یہ سب کی مشترکہ جگہ ہے۔ کوئی وہاں کسی کو روک نہیں سکتا۔ کوئی اس کا مالک نہیں ہو سکتا۔ یہاں بعض شعائر زیارت و حج بھی بیان کردیئے جاتے ہیں اور یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ ان کے پیچھے خدا خوفی اور خدا کے ساتھ تعلق کا کیا جذبہ ہے۔ آخر میں بتایا جاتا ہے کہ حرم کے اندر کسی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی پر کوئی بھی زیادتی کرے۔ خصوصاً وہ لوگ جو حرم کو ان مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں جن کے لئے وہ بنا نہیں ہے۔ ان کو تو کوئی حق ہی نہیں ہے کہ وہ اس کے متولی ہوں۔ اس حرم کو آزاد کرنے کے لئے جو بھی اٹھے گا اور اس مشن کے تقاضے پورے کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے شامل حال ہوگی۔ یہ جارحیت نہ ہوگی بلکہ مقاصد حرم پر دست درازی کرنے والوں کے مقابلے میں مدافعت ہوگی۔ درس نمبر 145 تشریح آیات 25……تا……41 ان الذین ……… الیم (25) یہ مشرکین قریشی کی کارروائی تھی کہ لوگوں کو وہ اللہ کے دین سے اور مسجد حرام سے روکتے تھے ، حالانکہ مسجد حرام بنی ہی لوگوں کے لئے تھی چاہے وہ اس میں بسنے والے ہوں یا باہر سے زیارت کے لئے آنے والے ہوں۔ دین الٰہی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعہ انسان اللہ تک پہنچ سکتا ہے۔ پھر لوگوں کے لئے یہ ایک نظام زندگی ہے جس کے مطابق انہوں نے زندگی بسر کرنی ہے کیونکہ یہ ان کی زندگی کا منہاج ہے۔ قریش لوگوں کو دین اسلام سے بھی روکتے تھے اور مسجد حرام سے بھی روکتے تھے۔ حج و عمر سے بھی مسلمانوں کو روکتے تھے حالانکہ مسجد حرام کو اللہ نے دار امن وامان قرار دیا تھا جس میں مکہ کے باشندے اور باہر کے لوگ سب مساوی تھے۔ یہاں کسی کو کوئی امتیازی پوزیشن حاصل نہ تھی۔ نہ اس میں کوئی مالک بن سکتا تھا اور نہ امتیازی حقوق حاصل کرسکتا تھا۔ یہ وہ مقام احرام تھا جسے اللہ تعالیٰ نے ایک پرامن خطہ قرار دینے کے لئے سب سے پہلے مکہ مکرمہ کو منتخب کیا۔ اس خطے میں لوگ اسلحہ پھینکتے تھے ، باہم سخت عداوت رکھنے والے دو شخص بھی یہاں امن سے رہتے تھے۔ یہاں ہر قسم کی خونریزی ممنوع تھی۔ یہ کسی کی جانب سے کوئی مہربانی نہ تھی بلکہ تمام انسانوں کا یہ حق تھا اور اس حق میں سب برابر تھے۔ فقہاء کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ مکہ کے وہ گھر جن میں ان کے مالک رہائش نہیں رکھتے ، آیا ان کا کوئی مالک ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اور اگر ملکیت کا جواز بھی ثابت ہو تو آیا ان مکانات کا کرایہ لیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ امام شافعی “ اس طرف گئے ہیں کہ ملکیت بھی جائز ہے ، وراثت بھی جائز ہے ، کرایہ پر دینا بھی جائز ہے۔ وہ حضرت عمر ابن الخطاب کی روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ انہوں نے صفوان ابن امیہ سے ایک مکان مکہ میں چار ہزار درہم کے عوض خریدا تھا اور اس سے انہوں نے جیل خانہ بنایا تھا۔ اسحاق ابن راہویہ اس طرف گئے ہیں کہ نہ ان کا کوئی وارث ہو سکتا ہے اور نہ ہی کرایہ پر دیئے جاسکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فوت ہوئے اس حال میں کہ مکہ کے میدان شاملات کہلاتے تھے ، جس کو ضرورت ہوتی وہ اس میں رہتا اور جس کی ضرورت سے زیادہ ہوتے وہ دوسرے کو اس میں بسا دیتا۔ عبدالرزاق نے مجاہد ، اس کے باپ سے ، عبداللہ ابن عمر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ مکہ کے مکانات کو بچینا جائز نہیں ہے اور نہ ان کا کرایہ لینا جائز ہے۔ انہوں نے ابن جریج سے بھی نقل کیا ہے کہ عطاء حرم میں مکانات کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت عمر ابن الخطاب مکہ کے مکانات کے دروازے لگانے سے منع کرتے تھے تاکہ حجاج ان کے صحنوں میں ٹھہر سکیں۔ سب سے پہلے سہیل ابن عمرو نے دروازہ لگایا۔ حضرت عمر ابن الخطاب نے اس معاملے میں اسے لکھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امیر المومنین میں ایک تاجر آدمی ہوں اس لئے میں نے دو دروازے لگائے ہیں تاکہ میں اپنی سواریاں یہاں بند کروں۔ تو اس پر انہوں نے کہا کہ تمہیں اس کی اجازت ہے۔ مجاہد کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے اہل مکہ سے کہا ، اپنے گھروں کے سامنے گیٹ نہ لگائو تاکہ حج کو آنے والا جہاں چاہے اتر جائے۔ امام احمد بن حنبل نے ایک متوسط مذہب اختیار کیا ہے کہ ملکیت اور وراثت تو ان میں چلے گی مگر کرایہ پر دینا جائز نہ ہوگا۔ یوں انہوں نے دلائل میں تطبیق کردی ہے۔ یوں اسلام نے تمام مذاہب کے مقابلے میں سب سے پہلے ایک خطے کو دار الامن قرار دیا۔ بلکہ اسے تمام انسانوں کا شہر قرار دیا اور اس میں ملکیت اور دوسری حد بندیوں کو ناجائز قرار دیا۔ چناچہ اس صاف ستھرے اور سیدھے طریقے میں جو شخص ٹیڑھ پیدا کرتا ہے اس کو قرآن کریم دھمکی دیتا ہے کہ اسے سخت سزا دی جائے گی۔ ومن یردفیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم (22 : 25) ” اس میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ “ یہ سزا تو اس شخص کے لئے ہے جو ارادہ کرے اور جو ارادہ کر کے ظلم کا ارتکاب بھی کرے تو اس کی سزا پھر بہت زیادہ ہوگی۔ صرف ارادے پر سزا کا اعلان بہت زیادہ تاکید کی خاطر ہے۔ یہ قرآن مجید کی نہایت ہی دقیق تعبیر ہے۔ پھر قرآن مجید کے گہرے تاکیدی انداز کا ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ اس جملہ میں لفظ ان کی خبر کا ذکر نہیں کی اگیا۔ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام (22 : 25) یہاں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ ان کفار کے بارے میں حکم کیا ہے ؟ ان کا کیا انجام ہوگا ؟ ان کو کیا سزا ملے گی ؟ کفر کے ذکر ہی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی جزاء کیا ہے جبکہ وہ یہاں سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور اسلام کی راہ بھی روک رہے ہیں۔ اب روئے سخن اس گھر کی تعمیر اور تاریخ کی طرف ، جس پر مشرکین کا قبضہ ہے۔ اس میں یہ لوگ بتوں کو پوجتے ہیں اور اہل توحید کو حق زیارت سے بھی محروم کر رہے ہیں محض اس لئے کہ وہ شرک سے پاک ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ کی ہدایات اور احکام کے مطابق یہ کعبہ کس طرح وجود میں آیا یہ کہ یہ بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ یہ توحید کی بنیاد ہوگا اور اس کا استعمال یہ ہوگا کہ اس میں اللہ وحدہ کی پرستش کی جائے گی اور یہ کہ وہ یہاں کے مقیم لوگوں اور زائرین دونوں کے لئے مخصوص ہوگا۔

الحج 22:26

واذا بوانا ………بالبیت العتیق (29) پہلے دن سے یہ گھر توحید کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس کی جگہ کی نشاندہی کی اور ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اس بنیاد پر اس کی تعمیر کریں۔ ان لا تشرک بی شیئاً (22 : 25) ” میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ کیونکہ یہ صرف اللہ کا گھر ہے۔ اللہ کے سوا اس میں کسی کا حصہ نہیں اور اسے پاک رکھو حاجیوں اور نماز قائم کرنے والوں کے لئے۔ وطھر بیتی للظائفین و القآئمین والرکع السجود (22 : 25) ” اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع اور سجود کرنے والوں کے پاک رکھو۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بیت اللہ بنایا گیا ہے۔ مشرکین کے لئے نہیں بنایا گیا جو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بانی بیت اللہ کو حکم دیا کہ ان مقاصد کے لئے اس گھر کو تعمیر کرنے کے بعد لوگوں میں اعلان کردیں کہ وہ حج کے لئے آئیں اور اللہ نے وعدہ کیا کہ لوگ اس اعلان کو قبول کریں گے۔ لہٰذا وہ قطار در قطار اونٹوں پر اور پیدل دور دراز مقامات سے آئیں گے۔ اتنی دور سے کہ ان کے اونٹ دوری سفر کی وجہ سے دبلے ہوجائیں گے۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جو وعدہ کیا تھا وہ آج بھی پورا ہو رہا ہے اور کل بھی ہوگا۔ آج تک لوگوں کے دل خانہ کعبہ کے ساتھ اٹکے ہوئے ہیں۔ بیت اللہ کو دیکھنے اور طواف کے لئے لوگوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ جو غنی ہے ، زاد سفر پر قدرت رکھتا ہے سواری کی سہولت رکھتا ہے وہ سواری پر ، جدید ترین سواری پر ، اور جس کے پاس صرف پائوں ہیں وہ اپنے پائوں پر چل کر اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں۔ لاکھوں افراد دور دراز علاقوں سے فج عمیق سے ، بلکہ فضائے بلند سے قطار اندر قطار ہر سال ٹوٹ پڑتے ہیں ، ہزارہا سال گزر گئے ہیں اور حضرت ابراہیم کا اعلان اور اللہ کا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔ یہاں حج کے بعض شعائر اور بعض مقاصد بھی بتا دیئے جاتے ہیں : لیشھدوا منافع ……بالبیت العتیق (29) (22 : 28-29) ” تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں ، خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں ، پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ وہ منافع کیا ہیں جو حجاج دیکھتے ہیں ؟ حج دراصل ایک عالمی اجتماع اور میلہ ہے ، یہ تجارت کا موسم اور عبادت کا موسم ہے۔ یہ ایک ایسا عالمی اجتماع ہے ، جس میں تمام دنیا کے مسلمان ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور ان کے درمیان یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں جمع ہوتی ہیں اور یہ دراصل اسلامی نظریہ حیات کے آثار قدیمہ کی زیارت بھی ہے۔ سامان زیارت اور مصنوعات والے لوگوں کے لئے یہ ایک بہترین منڈی ہے۔ آپ دیکھیں کہ دنیا کے سامان خوردو نوش اور دنیا کے پھل اس گھر کی طرف ، اطراف زمین سے آتے ہیں اور لائے جاتے ہیں۔ تمام علاقوں سے حجاج کھنچے چلے آتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے علاقوں کی بھلائیاں اور حسن اخلاق بھی آتے ہیں اور پھر یہ خوشبو پورے عالم اسلام میں بکھرتی ہے۔ یہ تمام لوگ بیت الحرام میں مختلف موسموں میں جمع ہوتے ہیں اور ایک موسم میں بھی جمع ہوتے ہیں گویا یہ ایک تجارتی منڈی ہے اور تجارتی میلہ بھی۔ پھر حج عبادات کا ایک عالمی اجتماع ہے ، جس میں روحانی صفائی کی جاتی ہے۔ انسان کی روح یہ محسوس کرتی ہے کہ اللہ کے اس محترم گھر میں وہ اللہ کے زیادہ قریب ہوگئی ہے۔ یہ روح خانہ کعبہ کی طرف مشتاق ہوتی ہے اور خانہ کعبہ کے ساتھ جو روحانی یادیں وابستہ ہیں ، جن برگزیدہ ہستیوں کی ذات اس سے وابستہ ہے ان کی روحیں اسے یہاں گھومتی محسوس ہوتی ہیں ، زمانہ قریب کی روحیں اور زمانہ بعید کی روحیں۔ دیکھیے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی روح ہے ، وہ بیت اللہ میں اپنے جگر گوشہ اسماعیل اور ان کی والدہ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ وہ اپنے ڈرنے والے اور دھڑکنے والے دل کے ساتھ رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ربنا انی اسکنت ……لعلھم یشکرن (13 : 38) پروردگار ، میں نے ایک بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار ، یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے ، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔ پھر حضرت ہاجرہ کی تصویر پر دہ خیال پر آتی ہے ، وہ اپنے لیے اور اپنے شیر خوار بچے کے لئے پانی کی تلاش میں جھلسا دینے والی گرمی میں ، بیت اللہ کے گرد گھوم رہی ہیں۔ پھر صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی نظر آتی ہیں ، وہ پیاس سے نڈھال ہیں ، تھک کر چور چور ہوگئی ہیں اور ان کو اپنے بچے کی جان کا خطرہ ہے۔ وہ جب ساتویں بار واپس آتی ہیں تو مایوسی کی وجہ سے ٹوٹ چکی ہیں۔ کیا دیکھتی ہیں کہ اس خوبصورت بچے کے سامنے شفاف پانی کا ایک چشمہ اہل برہا ہے۔ یہ ہے چشمہ زم زم۔ خشکی اور مایوسی کے صحرا میں چشمہ رحمت الٰہی ہے۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تصور پردہ خیال پر نمودار ہوتا ہے۔ آپ خواب دیکھ رہے ہیں کہ آپ حضرت اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ آپ فوراً اپنے لخت جگر کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ لمحہ بھر کے لئے بھی تردد نہیں کرتے اور مومنانہ اطاعت شعاری کا بلند مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ قال یا بنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری ” اس نے کہا ، اے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ “ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بھی بڑی فرمانبرداری سے جواب دیتے ہیں : یا ابت افعل ماتومر ستجدنی انشاء اللہ من الصبرین ” ابا جان ، آپ کو جو حکم دیا گیا ہے ، اسے کر گزریں انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ “ جب وہ دونوں تیار ہوجاتے ہیں تو اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور اس قربانی کے بدلے فدیہ قبول کرلیا جاتا ہے۔ ونادینہ ان یا ابراہیم (103) قد صدقت الرء یا انا کذلک نجزی المحسنین (105) ان ھذا لھو البلوء المبین (106) وقدینہ بذبح عظیم (108) (38 : 103 تا 108) اور ہم نے نداوی کہ ” اے ابراہیم “ تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائی تھی۔ “ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔ اور پھر حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) دونوں خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ نہایت عاجزی اور خضوع و خشوع کے ساتھ دعا کر رہے ہیں۔ ربنا تقبل منا ………الرحیم (128) ” اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے تو سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے الا ہے۔ اے رب ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ یہ خیالی تصویر اور شخصیت پردہ خیال پر آگے پیچھے آرہی ہیں اور یہ یادیں سامنے آتی ہیں اور جاتی ہیں کہ اچانک حضرت عبدالمطلب سامنے آتے ہیں۔ وہ یہ نذر مانتے ہیں کہ اے اللہ اگر تو نے مجھے دس بیٹے عطا کئے تو میں دسویں بیٹے کو تیرے لئے نذر کر دوں گا۔ دسواں بیٹا عبداللہ ہے۔ عبدالمطلب نذر پوری کرنا چاہتے ہیں اور ان کی قوم ان کے اردگرد جمع ہے اور وہ تجویز دے رہے ہیں کہ آپ فدیہ دے دیں۔ وہ خانہ کعبہ کے گرد وہ تیر نکالتے ہیں اور ہر بار تیر عبداللہ کے ذبح کرنے کا نکلتا ہے۔ وہ فدیہ بڑھاتے جاتے ہیں یہاں تک کہ فدیہ کے اونٹ سو تک پہنچ جاتے ہیں حالانکہ فدیہ کا ابتدائی نصاب ، دس اونٹنیاں تھیں۔ آخر کار فدیہ کا تیر نکلا۔ انہوں نے سو اونٹ ذبح کئے اور عبداللہ کی جان بخشی ہوئی۔ یہ اللہ کی منشاء تھی کیونکہ اللہ نے ان کی پشت اور رحم آمنہ سے حضرت محمد ﷺ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو پیدا کرنا تھا۔ گویا یہ فدیہ ، عظیم فدیہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ کی خاطر دلایا۔ اس کے بعد بھی اس گھر کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں اور تخلیل کے پردے پر بار بار نئی شخصیات ابھر رہی ہیں۔ حضرت محمد ﷺ مدارج طفولیت طے کر رہے ہیں ، بیت اللہ کے اردگرد وہ گھوم رہے ہیں۔ دیکھیے ، آپ حجر اسود کو اپنے پاک ہاتھوں سے اٹھا رہے ہیں اور اپنی جگہ پر رکھ رہے ہیں تاکہ اس فتنے کو فرد کردیں جس کی وجہ سے خیال کے اندر جنگ چھڑنے کا خطرہ تھا۔ آپ نماز پڑھتے نظر آتے ہیں ، طواف کرتے نظر آتے ہیں ، خطبہ دیتے نظر آتے ہیں ، اعتکاف کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کے قدم پردہ خیال پر ہیں۔ آپ کی صورت ضمیروں پر زندہ ہے۔ قریب ہے کہ ایک حاجی آپ کو آنکھوں سے دیکھ لے جبکہ وہ ان یادوں کی وسچ میں گم اور مستغرق ہوتا ہے۔ پھر ہمارے سامنے آپ کے صحابہ کرام غول کے غول آتے ہیں اور اس مٹی پر گھومتے ہیں۔ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ یہ نقشے ایسے ہیں کہ قریب ہے کہ کان سنیں اور نظریں دیکھیں۔ اور پھر ان یادوں اور تصورات کے علاوہ حج مسلمانوں کا ایک جامع عالمی اجتماع ہے۔ اس میں ان کو اپنی اصلیت اور جڑ کا پتہ چلتا ہے جو دور تک تاریخ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک چلی گئی ہے۔ ملۃ ابیکم ابراھیم ھو سمکم المسلمین من قبل وفی ھذا ” اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس میں بھی۔ “ یہ مسلمانوں کا محور ہے جس کے اردگرد وہ گھومتے ہیں ، جس نے انہیں متحد کر رکھا ہے۔ یہ ان کے لئے ایک شعار اور ایک جھنڈا یہ۔ اس کے نیچے سب جمع ہوتے ہیں ، یہ ایک ایسا نظریاتی شعار اور نظریاتی جھنڈا ہے جس کے سائے میں تمام اقوام کے افراد ، تمام نسلوں اور تمام رنگوں اور تمام زبانوں کے لوگ آ کر جمع ہوجاتے ہیں۔ تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ یہاں آ کر مسلمان اپنی اس قوت کو ایک محدود وقت کے لئے محسوس کرنے لگتے ہیں۔ عقیدہ توحید کی قوت ، ایک ملت ہونے کی قوت اور اربوں مسلمانوں کے باہم اتحاد و اتفاق کی قوت۔ اس اجتماع میں وہ اپنی بھلائی ہوئی قوت کو ایک محدود وقت کے لئے ہی محسوس کرتے ہیں اور اس طرح محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہ ایک ہوجائیں تو ان کے سامنے دنیا کی کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی بشرطیکہ یہ سب لوگ عقیدہ توحید پر ایک جھنڈ تلے جمع ہوجائیں۔ اللہ جو فرماتے ہیں لیشھدوا منافع لھم (22 : 28) ” تاکہ وہ اپنے ان مفادات کو دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں۔ “ ہر نسل اپنے ظروف و احوال کے مطابق ، اپنی حاجت اور ضرورت کے مطابق ، اپنے تجربے اور اپنے تقاضوں کے مطابق اس اجتماع سے مفادات حاصل کرسکتی ہے۔ یہ بات اس وقت سے اللہ نے اس اجمتاع کے مقاصد میں رکھی ہے جب سے اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ لوگوں کو اس گھر کی زیارت کے لئے بلائو۔ قرآن مجید اس اجتماع کے لئے بعض مناسک اور بعض بنیادی شعائر دیتا ہے اور سب میں سب کا بھلا ہے۔ ویذکروا اسم اللہ فی ایام معلومت علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام (22 : 28) ” اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔ “ اس آیت میں اشارہ ہے قربانی کی طرف جو عید کے دن اور ایام تشریق میں کی جاتی ہے اور قربانی کے مختلف جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ قرآن کریم قربانی کے ذکر میں سب سے پہلے یہ حکم دیتا ہے کہ اس پر اللہ کا نا ملیا جائے کیونکہ مقصد اللہ کی بندگی اور اللہ کی رضا مندی کا حصول ہے۔ یہاں قربانی کے عمل میں سب سے زیادہ امتیاز کے ساتھ جس عمل کا ذکر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ صرف جانور ذبح کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ اصل مقصد اپ پر اللہ کا نام لینا ہے۔ (احناف کا فتویٰ اس پر ہے کہ یوم نحر کے بعد صرف دو دنوں میں قربانی جائز ہے۔ ) یہ قربانی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ذبح عظیم کی یادگار ہے۔ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزے اور اللہ کی اطاعتوں میں سے ایک عظیم تعمیل حکم کی بھی یادگار ہے۔ جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام نے یادگار کے طور پر چھوڑی۔ اس یادگار میں فائدہ یہ ہے کہ فقفراء اور مساکین کے لئے کھانے کا انتظام ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانور اونٹ ، گائے ، بھینس اور بھیڑ بکری ہے۔ (گائے اور بھینس دونوں کے لئے عربی میں بقر کا لفظ آتا ہے) فکلوا منھا وا طعموا البائس الفقیر (22 : 28) ” اس سے خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔ “ قربانی کے گوشت کے استعمال کے لئے جو حکم قربانی کرنے والے کو ہے یہ استحبابی ہے لیکن فقیروں کو دینے کے لئے جو حکم ہے وہ وجوبی ہے۔ خود کھانے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ فقراء محسوس کریں کہ یہ پاک صاف اور طیب گوشت ہے۔ قربانی کرتے ہی حاجی کے لئے وہ باتیں جائز ہوجاتی ہیں جو اس کے لئے دوران حج ممنوع تھیں۔ مثلاً بال منڈوانا ، کاٹنا ، ناخن کاٹنا ، بغلوں کے بال کاٹنا اور غسل وغیرہ جو کام بھی احرام کے دوران منع تھے وہ جائز ہوجاتے ہیں ، اس کے بارے میں کہا گیا۔ ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم (22 : 29) ” پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں۔ “ جو نذریں انہوں نے مانی ہوں یعنی حج کی قربانی کے علاوہ جو نذریں انہوں نے مانی ہوں۔ ولیطوفوا بالبیت العتیق (22 : 29) ” اور قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ اس سے مراد طواف اقامہ یا طواف زیارت (جو نام بھی دیں) ہے۔ طواف اقامہ طواف وراع سے علیحدہ ہے۔ بیت عتیق سے مراد مسجد حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی بھی جبار کی حکمرانی سے بچایا ہے اور اسی طرح اسے گرنے اور نشانات کے مٹ جانے سے بھی بچایا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے آباد کرنے سے یہ ہمیشہ آباد رہا ہے اور رہے گا۔ یہ تھا قصہ بیت الحرام کی تعمیر کا۔ اور یہ ہے وہ بنیادی عقیدہ جس پر اس کی تعمیر ہوئی ، یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے حکم دیا کہ اسے توحید کے گھر کے طور پر تعمیر کریں اور اسے شرک و بت پرستی سے پاک رکھیں اور حکم دیا کہ عامتہ الناس کو حکم دیں کہ وہ اس کی زیارت کو آئیں۔ قربانی کے جانوروں پر اللہ کا نام لیں ، اس کے سوا کسی دوسرے الہ کا نام نہ لیں۔ قربانی کے گوشت کو خود بھی کھائیں اور تنگ دست اور فقیر کو بھی کھلائیں۔ یہ بیت الحرام ہے اور اس میں اللہ کی حرمتیں محفوظ ہیں۔ ان پر عمل ہوگا اور اللہ کی حرمتوں میں سے پہلی چیز اسلامی نظریہ حیات اور عقیدہ توحید ہے۔ اس گھر کے دروازے تمام لوگوں کے لئے کھلے ہوں اور یہاں سب لوگوں کی جان و مال محفوظ ہوں ، یہاں تمام عہد پورے کئے جائیں اور امن و سلامتی کا احترام کیا جائے۔

الحج 22:27

واذا بوانا ………بالبیت العتیق (29) پہلے دن سے یہ گھر توحید کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس کی جگہ کی نشاندہی کی اور ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اس بنیاد پر اس کی تعمیر کریں۔ ان لا تشرک بی شیئاً (22 : 25) ” میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ کیونکہ یہ صرف اللہ کا گھر ہے۔ اللہ کے سوا اس میں کسی کا حصہ نہیں اور اسے پاک رکھو حاجیوں اور نماز قائم کرنے والوں کے لئے۔ وطھر بیتی للظائفین و القآئمین والرکع السجود (22 : 25) ” اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع اور سجود کرنے والوں کے پاک رکھو۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بیت اللہ بنایا گیا ہے۔ مشرکین کے لئے نہیں بنایا گیا جو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بانی بیت اللہ کو حکم دیا کہ ان مقاصد کے لئے اس گھر کو تعمیر کرنے کے بعد لوگوں میں اعلان کردیں کہ وہ حج کے لئے آئیں اور اللہ نے وعدہ کیا کہ لوگ اس اعلان کو قبول کریں گے۔ لہٰذا وہ قطار در قطار اونٹوں پر اور پیدل دور دراز مقامات سے آئیں گے۔ اتنی دور سے کہ ان کے اونٹ دوری سفر کی وجہ سے دبلے ہوجائیں گے۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جو وعدہ کیا تھا وہ آج بھی پورا ہو رہا ہے اور کل بھی ہوگا۔ آج تک لوگوں کے دل خانہ کعبہ کے ساتھ اٹکے ہوئے ہیں۔ بیت اللہ کو دیکھنے اور طواف کے لئے لوگوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ جو غنی ہے ، زاد سفر پر قدرت رکھتا ہے سواری کی سہولت رکھتا ہے وہ سواری پر ، جدید ترین سواری پر ، اور جس کے پاس صرف پائوں ہیں وہ اپنے پائوں پر چل کر اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں۔ لاکھوں افراد دور دراز علاقوں سے فج عمیق سے ، بلکہ فضائے بلند سے قطار اندر قطار ہر سال ٹوٹ پڑتے ہیں ، ہزارہا سال گزر گئے ہیں اور حضرت ابراہیم کا اعلان اور اللہ کا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔ یہاں حج کے بعض شعائر اور بعض مقاصد بھی بتا دیئے جاتے ہیں : لیشھدوا منافع ……بالبیت العتیق (29) (22 : 28-29) ” تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں ، خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں ، پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ وہ منافع کیا ہیں جو حجاج دیکھتے ہیں ؟ حج دراصل ایک عالمی اجتماع اور میلہ ہے ، یہ تجارت کا موسم اور عبادت کا موسم ہے۔ یہ ایک ایسا عالمی اجتماع ہے ، جس میں تمام دنیا کے مسلمان ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور ان کے درمیان یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں جمع ہوتی ہیں اور یہ دراصل اسلامی نظریہ حیات کے آثار قدیمہ کی زیارت بھی ہے۔ سامان زیارت اور مصنوعات والے لوگوں کے لئے یہ ایک بہترین منڈی ہے۔ آپ دیکھیں کہ دنیا کے سامان خوردو نوش اور دنیا کے پھل اس گھر کی طرف ، اطراف زمین سے آتے ہیں اور لائے جاتے ہیں۔ تمام علاقوں سے حجاج کھنچے چلے آتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے علاقوں کی بھلائیاں اور حسن اخلاق بھی آتے ہیں اور پھر یہ خوشبو پورے عالم اسلام میں بکھرتی ہے۔ یہ تمام لوگ بیت الحرام میں مختلف موسموں میں جمع ہوتے ہیں اور ایک موسم میں بھی جمع ہوتے ہیں گویا یہ ایک تجارتی منڈی ہے اور تجارتی میلہ بھی۔ پھر حج عبادات کا ایک عالمی اجتماع ہے ، جس میں روحانی صفائی کی جاتی ہے۔ انسان کی روح یہ محسوس کرتی ہے کہ اللہ کے اس محترم گھر میں وہ اللہ کے زیادہ قریب ہوگئی ہے۔ یہ روح خانہ کعبہ کی طرف مشتاق ہوتی ہے اور خانہ کعبہ کے ساتھ جو روحانی یادیں وابستہ ہیں ، جن برگزیدہ ہستیوں کی ذات اس سے وابستہ ہے ان کی روحیں اسے یہاں گھومتی محسوس ہوتی ہیں ، زمانہ قریب کی روحیں اور زمانہ بعید کی روحیں۔ دیکھیے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی روح ہے ، وہ بیت اللہ میں اپنے جگر گوشہ اسماعیل اور ان کی والدہ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ وہ اپنے ڈرنے والے اور دھڑکنے والے دل کے ساتھ رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ربنا انی اسکنت ……لعلھم یشکرن (13 : 38) پروردگار ، میں نے ایک بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار ، یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے ، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔ پھر حضرت ہاجرہ کی تصویر پر دہ خیال پر آتی ہے ، وہ اپنے لیے اور اپنے شیر خوار بچے کے لئے پانی کی تلاش میں جھلسا دینے والی گرمی میں ، بیت اللہ کے گرد گھوم رہی ہیں۔ پھر صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی نظر آتی ہیں ، وہ پیاس سے نڈھال ہیں ، تھک کر چور چور ہوگئی ہیں اور ان کو اپنے بچے کی جان کا خطرہ ہے۔ وہ جب ساتویں بار واپس آتی ہیں تو مایوسی کی وجہ سے ٹوٹ چکی ہیں۔ کیا دیکھتی ہیں کہ اس خوبصورت بچے کے سامنے شفاف پانی کا ایک چشمہ اہل برہا ہے۔ یہ ہے چشمہ زم زم۔ خشکی اور مایوسی کے صحرا میں چشمہ رحمت الٰہی ہے۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تصور پردہ خیال پر نمودار ہوتا ہے۔ آپ خواب دیکھ رہے ہیں کہ آپ حضرت اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ آپ فوراً اپنے لخت جگر کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ لمحہ بھر کے لئے بھی تردد نہیں کرتے اور مومنانہ اطاعت شعاری کا بلند مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ قال یا بنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری ” اس نے کہا ، اے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ “ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بھی بڑی فرمانبرداری سے جواب دیتے ہیں : یا ابت افعل ماتومر ستجدنی انشاء اللہ من الصبرین ” ابا جان ، آپ کو جو حکم دیا گیا ہے ، اسے کر گزریں انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ “ جب وہ دونوں تیار ہوجاتے ہیں تو اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور اس قربانی کے بدلے فدیہ قبول کرلیا جاتا ہے۔ ونادینہ ان یا ابراہیم (103) قد صدقت الرء یا انا کذلک نجزی المحسنین (105) ان ھذا لھو البلوء المبین (106) وقدینہ بذبح عظیم (108) (38 : 103 تا 108) اور ہم نے نداوی کہ ” اے ابراہیم “ تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائی تھی۔ “ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔ اور پھر حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) دونوں خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ نہایت عاجزی اور خضوع و خشوع کے ساتھ دعا کر رہے ہیں۔ ربنا تقبل منا ………الرحیم (128) ” اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے تو سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے الا ہے۔ اے رب ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ یہ خیالی تصویر اور شخصیت پردہ خیال پر آگے پیچھے آرہی ہیں اور یہ یادیں سامنے آتی ہیں اور جاتی ہیں کہ اچانک حضرت عبدالمطلب سامنے آتے ہیں۔ وہ یہ نذر مانتے ہیں کہ اے اللہ اگر تو نے مجھے دس بیٹے عطا کئے تو میں دسویں بیٹے کو تیرے لئے نذر کر دوں گا۔ دسواں بیٹا عبداللہ ہے۔ عبدالمطلب نذر پوری کرنا چاہتے ہیں اور ان کی قوم ان کے اردگرد جمع ہے اور وہ تجویز دے رہے ہیں کہ آپ فدیہ دے دیں۔ وہ خانہ کعبہ کے گرد وہ تیر نکالتے ہیں اور ہر بار تیر عبداللہ کے ذبح کرنے کا نکلتا ہے۔ وہ فدیہ بڑھاتے جاتے ہیں یہاں تک کہ فدیہ کے اونٹ سو تک پہنچ جاتے ہیں حالانکہ فدیہ کا ابتدائی نصاب ، دس اونٹنیاں تھیں۔ آخر کار فدیہ کا تیر نکلا۔ انہوں نے سو اونٹ ذبح کئے اور عبداللہ کی جان بخشی ہوئی۔ یہ اللہ کی منشاء تھی کیونکہ اللہ نے ان کی پشت اور رحم آمنہ سے حضرت محمد ﷺ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو پیدا کرنا تھا۔ گویا یہ فدیہ ، عظیم فدیہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ کی خاطر دلایا۔ اس کے بعد بھی اس گھر کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں اور تخلیل کے پردے پر بار بار نئی شخصیات ابھر رہی ہیں۔ حضرت محمد ﷺ مدارج طفولیت طے کر رہے ہیں ، بیت اللہ کے اردگرد وہ گھوم رہے ہیں۔ دیکھیے ، آپ حجر اسود کو اپنے پاک ہاتھوں سے اٹھا رہے ہیں اور اپنی جگہ پر رکھ رہے ہیں تاکہ اس فتنے کو فرد کردیں جس کی وجہ سے خیال کے اندر جنگ چھڑنے کا خطرہ تھا۔ آپ نماز پڑھتے نظر آتے ہیں ، طواف کرتے نظر آتے ہیں ، خطبہ دیتے نظر آتے ہیں ، اعتکاف کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کے قدم پردہ خیال پر ہیں۔ آپ کی صورت ضمیروں پر زندہ ہے۔ قریب ہے کہ ایک حاجی آپ کو آنکھوں سے دیکھ لے جبکہ وہ ان یادوں کی وسچ میں گم اور مستغرق ہوتا ہے۔ پھر ہمارے سامنے آپ کے صحابہ کرام غول کے غول آتے ہیں اور اس مٹی پر گھومتے ہیں۔ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ یہ نقشے ایسے ہیں کہ قریب ہے کہ کان سنیں اور نظریں دیکھیں۔ اور پھر ان یادوں اور تصورات کے علاوہ حج مسلمانوں کا ایک جامع عالمی اجتماع ہے۔ اس میں ان کو اپنی اصلیت اور جڑ کا پتہ چلتا ہے جو دور تک تاریخ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک چلی گئی ہے۔ ملۃ ابیکم ابراھیم ھو سمکم المسلمین من قبل وفی ھذا ” اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس میں بھی۔ “ یہ مسلمانوں کا محور ہے جس کے اردگرد وہ گھومتے ہیں ، جس نے انہیں متحد کر رکھا ہے۔ یہ ان کے لئے ایک شعار اور ایک جھنڈا یہ۔ اس کے نیچے سب جمع ہوتے ہیں ، یہ ایک ایسا نظریاتی شعار اور نظریاتی جھنڈا ہے جس کے سائے میں تمام اقوام کے افراد ، تمام نسلوں اور تمام رنگوں اور تمام زبانوں کے لوگ آ کر جمع ہوجاتے ہیں۔ تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ یہاں آ کر مسلمان اپنی اس قوت کو ایک محدود وقت کے لئے محسوس کرنے لگتے ہیں۔ عقیدہ توحید کی قوت ، ایک ملت ہونے کی قوت اور اربوں مسلمانوں کے باہم اتحاد و اتفاق کی قوت۔ اس اجتماع میں وہ اپنی بھلائی ہوئی قوت کو ایک محدود وقت کے لئے ہی محسوس کرتے ہیں اور اس طرح محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہ ایک ہوجائیں تو ان کے سامنے دنیا کی کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی بشرطیکہ یہ سب لوگ عقیدہ توحید پر ایک جھنڈ تلے جمع ہوجائیں۔ اللہ جو فرماتے ہیں لیشھدوا منافع لھم (22 : 28) ” تاکہ وہ اپنے ان مفادات کو دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں۔ “ ہر نسل اپنے ظروف و احوال کے مطابق ، اپنی حاجت اور ضرورت کے مطابق ، اپنے تجربے اور اپنے تقاضوں کے مطابق اس اجتماع سے مفادات حاصل کرسکتی ہے۔ یہ بات اس وقت سے اللہ نے اس اجمتاع کے مقاصد میں رکھی ہے جب سے اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ لوگوں کو اس گھر کی زیارت کے لئے بلائو۔ قرآن مجید اس اجتماع کے لئے بعض مناسک اور بعض بنیادی شعائر دیتا ہے اور سب میں سب کا بھلا ہے۔ ویذکروا اسم اللہ فی ایام معلومت علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام (22 : 28) ” اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔ “ اس آیت میں اشارہ ہے قربانی کی طرف جو عید کے دن اور ایام تشریق میں کی جاتی ہے اور قربانی کے مختلف جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ قرآن کریم قربانی کے ذکر میں سب سے پہلے یہ حکم دیتا ہے کہ اس پر اللہ کا نا ملیا جائے کیونکہ مقصد اللہ کی بندگی اور اللہ کی رضا مندی کا حصول ہے۔ یہاں قربانی کے عمل میں سب سے زیادہ امتیاز کے ساتھ جس عمل کا ذکر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ صرف جانور ذبح کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ اصل مقصد اپ پر اللہ کا نام لینا ہے۔ (احناف کا فتویٰ اس پر ہے کہ یوم نحر کے بعد صرف دو دنوں میں قربانی جائز ہے۔ ) یہ قربانی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ذبح عظیم کی یادگار ہے۔ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزے اور اللہ کی اطاعتوں میں سے ایک عظیم تعمیل حکم کی بھی یادگار ہے۔ جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام نے یادگار کے طور پر چھوڑی۔ اس یادگار میں فائدہ یہ ہے کہ فقفراء اور مساکین کے لئے کھانے کا انتظام ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانور اونٹ ، گائے ، بھینس اور بھیڑ بکری ہے۔ (گائے اور بھینس دونوں کے لئے عربی میں بقر کا لفظ آتا ہے) فکلوا منھا وا طعموا البائس الفقیر (22 : 28) ” اس سے خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔ “ قربانی کے گوشت کے استعمال کے لئے جو حکم قربانی کرنے والے کو ہے یہ استحبابی ہے لیکن فقیروں کو دینے کے لئے جو حکم ہے وہ وجوبی ہے۔ خود کھانے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ فقراء محسوس کریں کہ یہ پاک صاف اور طیب گوشت ہے۔ قربانی کرتے ہی حاجی کے لئے وہ باتیں جائز ہوجاتی ہیں جو اس کے لئے دوران حج ممنوع تھیں۔ مثلاً بال منڈوانا ، کاٹنا ، ناخن کاٹنا ، بغلوں کے بال کاٹنا اور غسل وغیرہ جو کام بھی احرام کے دوران منع تھے وہ جائز ہوجاتے ہیں ، اس کے بارے میں کہا گیا۔ ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم (22 : 29) ” پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں۔ “ جو نذریں انہوں نے مانی ہوں یعنی حج کی قربانی کے علاوہ جو نذریں انہوں نے مانی ہوں۔ ولیطوفوا بالبیت العتیق (22 : 29) ” اور قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ اس سے مراد طواف اقامہ یا طواف زیارت (جو نام بھی دیں) ہے۔ طواف اقامہ طواف وراع سے علیحدہ ہے۔ بیت عتیق سے مراد مسجد حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی بھی جبار کی حکمرانی سے بچایا ہے اور اسی طرح اسے گرنے اور نشانات کے مٹ جانے سے بھی بچایا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے آباد کرنے سے یہ ہمیشہ آباد رہا ہے اور رہے گا۔ یہ تھا قصہ بیت الحرام کی تعمیر کا۔ اور یہ ہے وہ بنیادی عقیدہ جس پر اس کی تعمیر ہوئی ، یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے حکم دیا کہ اسے توحید کے گھر کے طور پر تعمیر کریں اور اسے شرک و بت پرستی سے پاک رکھیں اور حکم دیا کہ عامتہ الناس کو حکم دیں کہ وہ اس کی زیارت کو آئیں۔ قربانی کے جانوروں پر اللہ کا نام لیں ، اس کے سوا کسی دوسرے الہ کا نام نہ لیں۔ قربانی کے گوشت کو خود بھی کھائیں اور تنگ دست اور فقیر کو بھی کھلائیں۔ یہ بیت الحرام ہے اور اس میں اللہ کی حرمتیں محفوظ ہیں۔ ان پر عمل ہوگا اور اللہ کی حرمتوں میں سے پہلی چیز اسلامی نظریہ حیات اور عقیدہ توحید ہے۔ اس گھر کے دروازے تمام لوگوں کے لئے کھلے ہوں اور یہاں سب لوگوں کی جان و مال محفوظ ہوں ، یہاں تمام عہد پورے کئے جائیں اور امن و سلامتی کا احترام کیا جائے۔

الحج 22:28

واذا بوانا ………بالبیت العتیق (29) پہلے دن سے یہ گھر توحید کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس کی جگہ کی نشاندہی کی اور ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اس بنیاد پر اس کی تعمیر کریں۔ ان لا تشرک بی شیئاً (22 : 25) ” میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ کیونکہ یہ صرف اللہ کا گھر ہے۔ اللہ کے سوا اس میں کسی کا حصہ نہیں اور اسے پاک رکھو حاجیوں اور نماز قائم کرنے والوں کے لئے۔ وطھر بیتی للظائفین و القآئمین والرکع السجود (22 : 25) ” اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع اور سجود کرنے والوں کے پاک رکھو۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بیت اللہ بنایا گیا ہے۔ مشرکین کے لئے نہیں بنایا گیا جو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بانی بیت اللہ کو حکم دیا کہ ان مقاصد کے لئے اس گھر کو تعمیر کرنے کے بعد لوگوں میں اعلان کردیں کہ وہ حج کے لئے آئیں اور اللہ نے وعدہ کیا کہ لوگ اس اعلان کو قبول کریں گے۔ لہٰذا وہ قطار در قطار اونٹوں پر اور پیدل دور دراز مقامات سے آئیں گے۔ اتنی دور سے کہ ان کے اونٹ دوری سفر کی وجہ سے دبلے ہوجائیں گے۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جو وعدہ کیا تھا وہ آج بھی پورا ہو رہا ہے اور کل بھی ہوگا۔ آج تک لوگوں کے دل خانہ کعبہ کے ساتھ اٹکے ہوئے ہیں۔ بیت اللہ کو دیکھنے اور طواف کے لئے لوگوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ جو غنی ہے ، زاد سفر پر قدرت رکھتا ہے سواری کی سہولت رکھتا ہے وہ سواری پر ، جدید ترین سواری پر ، اور جس کے پاس صرف پائوں ہیں وہ اپنے پائوں پر چل کر اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں۔ لاکھوں افراد دور دراز علاقوں سے فج عمیق سے ، بلکہ فضائے بلند سے قطار اندر قطار ہر سال ٹوٹ پڑتے ہیں ، ہزارہا سال گزر گئے ہیں اور حضرت ابراہیم کا اعلان اور اللہ کا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔ یہاں حج کے بعض شعائر اور بعض مقاصد بھی بتا دیئے جاتے ہیں : لیشھدوا منافع ……بالبیت العتیق (29) (22 : 28-29) ” تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں ، خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں ، پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ وہ منافع کیا ہیں جو حجاج دیکھتے ہیں ؟ حج دراصل ایک عالمی اجتماع اور میلہ ہے ، یہ تجارت کا موسم اور عبادت کا موسم ہے۔ یہ ایک ایسا عالمی اجتماع ہے ، جس میں تمام دنیا کے مسلمان ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور ان کے درمیان یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں جمع ہوتی ہیں اور یہ دراصل اسلامی نظریہ حیات کے آثار قدیمہ کی زیارت بھی ہے۔ سامان زیارت اور مصنوعات والے لوگوں کے لئے یہ ایک بہترین منڈی ہے۔ آپ دیکھیں کہ دنیا کے سامان خوردو نوش اور دنیا کے پھل اس گھر کی طرف ، اطراف زمین سے آتے ہیں اور لائے جاتے ہیں۔ تمام علاقوں سے حجاج کھنچے چلے آتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے علاقوں کی بھلائیاں اور حسن اخلاق بھی آتے ہیں اور پھر یہ خوشبو پورے عالم اسلام میں بکھرتی ہے۔ یہ تمام لوگ بیت الحرام میں مختلف موسموں میں جمع ہوتے ہیں اور ایک موسم میں بھی جمع ہوتے ہیں گویا یہ ایک تجارتی منڈی ہے اور تجارتی میلہ بھی۔ پھر حج عبادات کا ایک عالمی اجتماع ہے ، جس میں روحانی صفائی کی جاتی ہے۔ انسان کی روح یہ محسوس کرتی ہے کہ اللہ کے اس محترم گھر میں وہ اللہ کے زیادہ قریب ہوگئی ہے۔ یہ روح خانہ کعبہ کی طرف مشتاق ہوتی ہے اور خانہ کعبہ کے ساتھ جو روحانی یادیں وابستہ ہیں ، جن برگزیدہ ہستیوں کی ذات اس سے وابستہ ہے ان کی روحیں اسے یہاں گھومتی محسوس ہوتی ہیں ، زمانہ قریب کی روحیں اور زمانہ بعید کی روحیں۔ دیکھیے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی روح ہے ، وہ بیت اللہ میں اپنے جگر گوشہ اسماعیل اور ان کی والدہ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ وہ اپنے ڈرنے والے اور دھڑکنے والے دل کے ساتھ رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ربنا انی اسکنت ……لعلھم یشکرن (13 : 38) پروردگار ، میں نے ایک بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار ، یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے ، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔ پھر حضرت ہاجرہ کی تصویر پر دہ خیال پر آتی ہے ، وہ اپنے لیے اور اپنے شیر خوار بچے کے لئے پانی کی تلاش میں جھلسا دینے والی گرمی میں ، بیت اللہ کے گرد گھوم رہی ہیں۔ پھر صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی نظر آتی ہیں ، وہ پیاس سے نڈھال ہیں ، تھک کر چور چور ہوگئی ہیں اور ان کو اپنے بچے کی جان کا خطرہ ہے۔ وہ جب ساتویں بار واپس آتی ہیں تو مایوسی کی وجہ سے ٹوٹ چکی ہیں۔ کیا دیکھتی ہیں کہ اس خوبصورت بچے کے سامنے شفاف پانی کا ایک چشمہ اہل برہا ہے۔ یہ ہے چشمہ زم زم۔ خشکی اور مایوسی کے صحرا میں چشمہ رحمت الٰہی ہے۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تصور پردہ خیال پر نمودار ہوتا ہے۔ آپ خواب دیکھ رہے ہیں کہ آپ حضرت اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ آپ فوراً اپنے لخت جگر کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ لمحہ بھر کے لئے بھی تردد نہیں کرتے اور مومنانہ اطاعت شعاری کا بلند مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ قال یا بنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری ” اس نے کہا ، اے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ “ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بھی بڑی فرمانبرداری سے جواب دیتے ہیں : یا ابت افعل ماتومر ستجدنی انشاء اللہ من الصبرین ” ابا جان ، آپ کو جو حکم دیا گیا ہے ، اسے کر گزریں انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ “ جب وہ دونوں تیار ہوجاتے ہیں تو اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور اس قربانی کے بدلے فدیہ قبول کرلیا جاتا ہے۔ ونادینہ ان یا ابراہیم (103) قد صدقت الرء یا انا کذلک نجزی المحسنین (105) ان ھذا لھو البلوء المبین (106) وقدینہ بذبح عظیم (108) (38 : 103 تا 108) اور ہم نے نداوی کہ ” اے ابراہیم “ تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائی تھی۔ “ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔ اور پھر حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) دونوں خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ نہایت عاجزی اور خضوع و خشوع کے ساتھ دعا کر رہے ہیں۔ ربنا تقبل منا ………الرحیم (128) ” اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے تو سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے الا ہے۔ اے رب ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ یہ خیالی تصویر اور شخصیت پردہ خیال پر آگے پیچھے آرہی ہیں اور یہ یادیں سامنے آتی ہیں اور جاتی ہیں کہ اچانک حضرت عبدالمطلب سامنے آتے ہیں۔ وہ یہ نذر مانتے ہیں کہ اے اللہ اگر تو نے مجھے دس بیٹے عطا کئے تو میں دسویں بیٹے کو تیرے لئے نذر کر دوں گا۔ دسواں بیٹا عبداللہ ہے۔ عبدالمطلب نذر پوری کرنا چاہتے ہیں اور ان کی قوم ان کے اردگرد جمع ہے اور وہ تجویز دے رہے ہیں کہ آپ فدیہ دے دیں۔ وہ خانہ کعبہ کے گرد وہ تیر نکالتے ہیں اور ہر بار تیر عبداللہ کے ذبح کرنے کا نکلتا ہے۔ وہ فدیہ بڑھاتے جاتے ہیں یہاں تک کہ فدیہ کے اونٹ سو تک پہنچ جاتے ہیں حالانکہ فدیہ کا ابتدائی نصاب ، دس اونٹنیاں تھیں۔ آخر کار فدیہ کا تیر نکلا۔ انہوں نے سو اونٹ ذبح کئے اور عبداللہ کی جان بخشی ہوئی۔ یہ اللہ کی منشاء تھی کیونکہ اللہ نے ان کی پشت اور رحم آمنہ سے حضرت محمد ﷺ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو پیدا کرنا تھا۔ گویا یہ فدیہ ، عظیم فدیہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ کی خاطر دلایا۔ اس کے بعد بھی اس گھر کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں اور تخلیل کے پردے پر بار بار نئی شخصیات ابھر رہی ہیں۔ حضرت محمد ﷺ مدارج طفولیت طے کر رہے ہیں ، بیت اللہ کے اردگرد وہ گھوم رہے ہیں۔ دیکھیے ، آپ حجر اسود کو اپنے پاک ہاتھوں سے اٹھا رہے ہیں اور اپنی جگہ پر رکھ رہے ہیں تاکہ اس فتنے کو فرد کردیں جس کی وجہ سے خیال کے اندر جنگ چھڑنے کا خطرہ تھا۔ آپ نماز پڑھتے نظر آتے ہیں ، طواف کرتے نظر آتے ہیں ، خطبہ دیتے نظر آتے ہیں ، اعتکاف کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کے قدم پردہ خیال پر ہیں۔ آپ کی صورت ضمیروں پر زندہ ہے۔ قریب ہے کہ ایک حاجی آپ کو آنکھوں سے دیکھ لے جبکہ وہ ان یادوں کی وسچ میں گم اور مستغرق ہوتا ہے۔ پھر ہمارے سامنے آپ کے صحابہ کرام غول کے غول آتے ہیں اور اس مٹی پر گھومتے ہیں۔ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ یہ نقشے ایسے ہیں کہ قریب ہے کہ کان سنیں اور نظریں دیکھیں۔ اور پھر ان یادوں اور تصورات کے علاوہ حج مسلمانوں کا ایک جامع عالمی اجتماع ہے۔ اس میں ان کو اپنی اصلیت اور جڑ کا پتہ چلتا ہے جو دور تک تاریخ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک چلی گئی ہے۔ ملۃ ابیکم ابراھیم ھو سمکم المسلمین من قبل وفی ھذا ” اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس میں بھی۔ “ یہ مسلمانوں کا محور ہے جس کے اردگرد وہ گھومتے ہیں ، جس نے انہیں متحد کر رکھا ہے۔ یہ ان کے لئے ایک شعار اور ایک جھنڈا یہ۔ اس کے نیچے سب جمع ہوتے ہیں ، یہ ایک ایسا نظریاتی شعار اور نظریاتی جھنڈا ہے جس کے سائے میں تمام اقوام کے افراد ، تمام نسلوں اور تمام رنگوں اور تمام زبانوں کے لوگ آ کر جمع ہوجاتے ہیں۔ تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ یہاں آ کر مسلمان اپنی اس قوت کو ایک محدود وقت کے لئے محسوس کرنے لگتے ہیں۔ عقیدہ توحید کی قوت ، ایک ملت ہونے کی قوت اور اربوں مسلمانوں کے باہم اتحاد و اتفاق کی قوت۔ اس اجتماع میں وہ اپنی بھلائی ہوئی قوت کو ایک محدود وقت کے لئے ہی محسوس کرتے ہیں اور اس طرح محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہ ایک ہوجائیں تو ان کے سامنے دنیا کی کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی بشرطیکہ یہ سب لوگ عقیدہ توحید پر ایک جھنڈ تلے جمع ہوجائیں۔ اللہ جو فرماتے ہیں لیشھدوا منافع لھم (22 : 28) ” تاکہ وہ اپنے ان مفادات کو دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں۔ “ ہر نسل اپنے ظروف و احوال کے مطابق ، اپنی حاجت اور ضرورت کے مطابق ، اپنے تجربے اور اپنے تقاضوں کے مطابق اس اجتماع سے مفادات حاصل کرسکتی ہے۔ یہ بات اس وقت سے اللہ نے اس اجمتاع کے مقاصد میں رکھی ہے جب سے اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ لوگوں کو اس گھر کی زیارت کے لئے بلائو۔ قرآن مجید اس اجتماع کے لئے بعض مناسک اور بعض بنیادی شعائر دیتا ہے اور سب میں سب کا بھلا ہے۔ ویذکروا اسم اللہ فی ایام معلومت علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام (22 : 28) ” اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔ “ اس آیت میں اشارہ ہے قربانی کی طرف جو عید کے دن اور ایام تشریق میں کی جاتی ہے اور قربانی کے مختلف جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ قرآن کریم قربانی کے ذکر میں سب سے پہلے یہ حکم دیتا ہے کہ اس پر اللہ کا نا ملیا جائے کیونکہ مقصد اللہ کی بندگی اور اللہ کی رضا مندی کا حصول ہے۔ یہاں قربانی کے عمل میں سب سے زیادہ امتیاز کے ساتھ جس عمل کا ذکر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ صرف جانور ذبح کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ اصل مقصد اپ پر اللہ کا نام لینا ہے۔ (احناف کا فتویٰ اس پر ہے کہ یوم نحر کے بعد صرف دو دنوں میں قربانی جائز ہے۔ ) یہ قربانی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ذبح عظیم کی یادگار ہے۔ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزے اور اللہ کی اطاعتوں میں سے ایک عظیم تعمیل حکم کی بھی یادگار ہے۔ جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام نے یادگار کے طور پر چھوڑی۔ اس یادگار میں فائدہ یہ ہے کہ فقفراء اور مساکین کے لئے کھانے کا انتظام ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانور اونٹ ، گائے ، بھینس اور بھیڑ بکری ہے۔ (گائے اور بھینس دونوں کے لئے عربی میں بقر کا لفظ آتا ہے) فکلوا منھا وا طعموا البائس الفقیر (22 : 28) ” اس سے خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔ “ قربانی کے گوشت کے استعمال کے لئے جو حکم قربانی کرنے والے کو ہے یہ استحبابی ہے لیکن فقیروں کو دینے کے لئے جو حکم ہے وہ وجوبی ہے۔ خود کھانے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ فقراء محسوس کریں کہ یہ پاک صاف اور طیب گوشت ہے۔ قربانی کرتے ہی حاجی کے لئے وہ باتیں جائز ہوجاتی ہیں جو اس کے لئے دوران حج ممنوع تھیں۔ مثلاً بال منڈوانا ، کاٹنا ، ناخن کاٹنا ، بغلوں کے بال کاٹنا اور غسل وغیرہ جو کام بھی احرام کے دوران منع تھے وہ جائز ہوجاتے ہیں ، اس کے بارے میں کہا گیا۔ ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم (22 : 29) ” پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں۔ “ جو نذریں انہوں نے مانی ہوں یعنی حج کی قربانی کے علاوہ جو نذریں انہوں نے مانی ہوں۔ ولیطوفوا بالبیت العتیق (22 : 29) ” اور قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ اس سے مراد طواف اقامہ یا طواف زیارت (جو نام بھی دیں) ہے۔ طواف اقامہ طواف وراع سے علیحدہ ہے۔ بیت عتیق سے مراد مسجد حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی بھی جبار کی حکمرانی سے بچایا ہے اور اسی طرح اسے گرنے اور نشانات کے مٹ جانے سے بھی بچایا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے آباد کرنے سے یہ ہمیشہ آباد رہا ہے اور رہے گا۔ یہ تھا قصہ بیت الحرام کی تعمیر کا۔ اور یہ ہے وہ بنیادی عقیدہ جس پر اس کی تعمیر ہوئی ، یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے حکم دیا کہ اسے توحید کے گھر کے طور پر تعمیر کریں اور اسے شرک و بت پرستی سے پاک رکھیں اور حکم دیا کہ عامتہ الناس کو حکم دیں کہ وہ اس کی زیارت کو آئیں۔ قربانی کے جانوروں پر اللہ کا نام لیں ، اس کے سوا کسی دوسرے الہ کا نام نہ لیں۔ قربانی کے گوشت کو خود بھی کھائیں اور تنگ دست اور فقیر کو بھی کھلائیں۔ یہ بیت الحرام ہے اور اس میں اللہ کی حرمتیں محفوظ ہیں۔ ان پر عمل ہوگا اور اللہ کی حرمتوں میں سے پہلی چیز اسلامی نظریہ حیات اور عقیدہ توحید ہے۔ اس گھر کے دروازے تمام لوگوں کے لئے کھلے ہوں اور یہاں سب لوگوں کی جان و مال محفوظ ہوں ، یہاں تمام عہد پورے کئے جائیں اور امن و سلامتی کا احترام کیا جائے۔

الحج 22:29

واذا بوانا ………بالبیت العتیق (29) پہلے دن سے یہ گھر توحید کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس کی جگہ کی نشاندہی کی اور ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اس بنیاد پر اس کی تعمیر کریں۔ ان لا تشرک بی شیئاً (22 : 25) ” میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ کیونکہ یہ صرف اللہ کا گھر ہے۔ اللہ کے سوا اس میں کسی کا حصہ نہیں اور اسے پاک رکھو حاجیوں اور نماز قائم کرنے والوں کے لئے۔ وطھر بیتی للظائفین و القآئمین والرکع السجود (22 : 25) ” اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع اور سجود کرنے والوں کے پاک رکھو۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بیت اللہ بنایا گیا ہے۔ مشرکین کے لئے نہیں بنایا گیا جو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بانی بیت اللہ کو حکم دیا کہ ان مقاصد کے لئے اس گھر کو تعمیر کرنے کے بعد لوگوں میں اعلان کردیں کہ وہ حج کے لئے آئیں اور اللہ نے وعدہ کیا کہ لوگ اس اعلان کو قبول کریں گے۔ لہٰذا وہ قطار در قطار اونٹوں پر اور پیدل دور دراز مقامات سے آئیں گے۔ اتنی دور سے کہ ان کے اونٹ دوری سفر کی وجہ سے دبلے ہوجائیں گے۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جو وعدہ کیا تھا وہ آج بھی پورا ہو رہا ہے اور کل بھی ہوگا۔ آج تک لوگوں کے دل خانہ کعبہ کے ساتھ اٹکے ہوئے ہیں۔ بیت اللہ کو دیکھنے اور طواف کے لئے لوگوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ جو غنی ہے ، زاد سفر پر قدرت رکھتا ہے سواری کی سہولت رکھتا ہے وہ سواری پر ، جدید ترین سواری پر ، اور جس کے پاس صرف پائوں ہیں وہ اپنے پائوں پر چل کر اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں۔ لاکھوں افراد دور دراز علاقوں سے فج عمیق سے ، بلکہ فضائے بلند سے قطار اندر قطار ہر سال ٹوٹ پڑتے ہیں ، ہزارہا سال گزر گئے ہیں اور حضرت ابراہیم کا اعلان اور اللہ کا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔ یہاں حج کے بعض شعائر اور بعض مقاصد بھی بتا دیئے جاتے ہیں : لیشھدوا منافع ……بالبیت العتیق (29) (22 : 28-29) ” تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں ، خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں ، پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ وہ منافع کیا ہیں جو حجاج دیکھتے ہیں ؟ حج دراصل ایک عالمی اجتماع اور میلہ ہے ، یہ تجارت کا موسم اور عبادت کا موسم ہے۔ یہ ایک ایسا عالمی اجتماع ہے ، جس میں تمام دنیا کے مسلمان ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور ان کے درمیان یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں جمع ہوتی ہیں اور یہ دراصل اسلامی نظریہ حیات کے آثار قدیمہ کی زیارت بھی ہے۔ سامان زیارت اور مصنوعات والے لوگوں کے لئے یہ ایک بہترین منڈی ہے۔ آپ دیکھیں کہ دنیا کے سامان خوردو نوش اور دنیا کے پھل اس گھر کی طرف ، اطراف زمین سے آتے ہیں اور لائے جاتے ہیں۔ تمام علاقوں سے حجاج کھنچے چلے آتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے علاقوں کی بھلائیاں اور حسن اخلاق بھی آتے ہیں اور پھر یہ خوشبو پورے عالم اسلام میں بکھرتی ہے۔ یہ تمام لوگ بیت الحرام میں مختلف موسموں میں جمع ہوتے ہیں اور ایک موسم میں بھی جمع ہوتے ہیں گویا یہ ایک تجارتی منڈی ہے اور تجارتی میلہ بھی۔ پھر حج عبادات کا ایک عالمی اجتماع ہے ، جس میں روحانی صفائی کی جاتی ہے۔ انسان کی روح یہ محسوس کرتی ہے کہ اللہ کے اس محترم گھر میں وہ اللہ کے زیادہ قریب ہوگئی ہے۔ یہ روح خانہ کعبہ کی طرف مشتاق ہوتی ہے اور خانہ کعبہ کے ساتھ جو روحانی یادیں وابستہ ہیں ، جن برگزیدہ ہستیوں کی ذات اس سے وابستہ ہے ان کی روحیں اسے یہاں گھومتی محسوس ہوتی ہیں ، زمانہ قریب کی روحیں اور زمانہ بعید کی روحیں۔ دیکھیے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی روح ہے ، وہ بیت اللہ میں اپنے جگر گوشہ اسماعیل اور ان کی والدہ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ وہ اپنے ڈرنے والے اور دھڑکنے والے دل کے ساتھ رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ربنا انی اسکنت ……لعلھم یشکرن (13 : 38) پروردگار ، میں نے ایک بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار ، یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے ، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔ پھر حضرت ہاجرہ کی تصویر پر دہ خیال پر آتی ہے ، وہ اپنے لیے اور اپنے شیر خوار بچے کے لئے پانی کی تلاش میں جھلسا دینے والی گرمی میں ، بیت اللہ کے گرد گھوم رہی ہیں۔ پھر صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی نظر آتی ہیں ، وہ پیاس سے نڈھال ہیں ، تھک کر چور چور ہوگئی ہیں اور ان کو اپنے بچے کی جان کا خطرہ ہے۔ وہ جب ساتویں بار واپس آتی ہیں تو مایوسی کی وجہ سے ٹوٹ چکی ہیں۔ کیا دیکھتی ہیں کہ اس خوبصورت بچے کے سامنے شفاف پانی کا ایک چشمہ اہل برہا ہے۔ یہ ہے چشمہ زم زم۔ خشکی اور مایوسی کے صحرا میں چشمہ رحمت الٰہی ہے۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تصور پردہ خیال پر نمودار ہوتا ہے۔ آپ خواب دیکھ رہے ہیں کہ آپ حضرت اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ آپ فوراً اپنے لخت جگر کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ لمحہ بھر کے لئے بھی تردد نہیں کرتے اور مومنانہ اطاعت شعاری کا بلند مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ قال یا بنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری ” اس نے کہا ، اے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ “ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بھی بڑی فرمانبرداری سے جواب دیتے ہیں : یا ابت افعل ماتومر ستجدنی انشاء اللہ من الصبرین ” ابا جان ، آپ کو جو حکم دیا گیا ہے ، اسے کر گزریں انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ “ جب وہ دونوں تیار ہوجاتے ہیں تو اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور اس قربانی کے بدلے فدیہ قبول کرلیا جاتا ہے۔ ونادینہ ان یا ابراہیم (103) قد صدقت الرء یا انا کذلک نجزی المحسنین (105) ان ھذا لھو البلوء المبین (106) وقدینہ بذبح عظیم (108) (38 : 103 تا 108) اور ہم نے نداوی کہ ” اے ابراہیم “ تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائی تھی۔ “ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔ اور پھر حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) دونوں خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ نہایت عاجزی اور خضوع و خشوع کے ساتھ دعا کر رہے ہیں۔ ربنا تقبل منا ………الرحیم (128) ” اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے تو سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے الا ہے۔ اے رب ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ یہ خیالی تصویر اور شخصیت پردہ خیال پر آگے پیچھے آرہی ہیں اور یہ یادیں سامنے آتی ہیں اور جاتی ہیں کہ اچانک حضرت عبدالمطلب سامنے آتے ہیں۔ وہ یہ نذر مانتے ہیں کہ اے اللہ اگر تو نے مجھے دس بیٹے عطا کئے تو میں دسویں بیٹے کو تیرے لئے نذر کر دوں گا۔ دسواں بیٹا عبداللہ ہے۔ عبدالمطلب نذر پوری کرنا چاہتے ہیں اور ان کی قوم ان کے اردگرد جمع ہے اور وہ تجویز دے رہے ہیں کہ آپ فدیہ دے دیں۔ وہ خانہ کعبہ کے گرد وہ تیر نکالتے ہیں اور ہر بار تیر عبداللہ کے ذبح کرنے کا نکلتا ہے۔ وہ فدیہ بڑھاتے جاتے ہیں یہاں تک کہ فدیہ کے اونٹ سو تک پہنچ جاتے ہیں حالانکہ فدیہ کا ابتدائی نصاب ، دس اونٹنیاں تھیں۔ آخر کار فدیہ کا تیر نکلا۔ انہوں نے سو اونٹ ذبح کئے اور عبداللہ کی جان بخشی ہوئی۔ یہ اللہ کی منشاء تھی کیونکہ اللہ نے ان کی پشت اور رحم آمنہ سے حضرت محمد ﷺ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو پیدا کرنا تھا۔ گویا یہ فدیہ ، عظیم فدیہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ کی خاطر دلایا۔ اس کے بعد بھی اس گھر کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں اور تخلیل کے پردے پر بار بار نئی شخصیات ابھر رہی ہیں۔ حضرت محمد ﷺ مدارج طفولیت طے کر رہے ہیں ، بیت اللہ کے اردگرد وہ گھوم رہے ہیں۔ دیکھیے ، آپ حجر اسود کو اپنے پاک ہاتھوں سے اٹھا رہے ہیں اور اپنی جگہ پر رکھ رہے ہیں تاکہ اس فتنے کو فرد کردیں جس کی وجہ سے خیال کے اندر جنگ چھڑنے کا خطرہ تھا۔ آپ نماز پڑھتے نظر آتے ہیں ، طواف کرتے نظر آتے ہیں ، خطبہ دیتے نظر آتے ہیں ، اعتکاف کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کے قدم پردہ خیال پر ہیں۔ آپ کی صورت ضمیروں پر زندہ ہے۔ قریب ہے کہ ایک حاجی آپ کو آنکھوں سے دیکھ لے جبکہ وہ ان یادوں کی وسچ میں گم اور مستغرق ہوتا ہے۔ پھر ہمارے سامنے آپ کے صحابہ کرام غول کے غول آتے ہیں اور اس مٹی پر گھومتے ہیں۔ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ یہ نقشے ایسے ہیں کہ قریب ہے کہ کان سنیں اور نظریں دیکھیں۔ اور پھر ان یادوں اور تصورات کے علاوہ حج مسلمانوں کا ایک جامع عالمی اجتماع ہے۔ اس میں ان کو اپنی اصلیت اور جڑ کا پتہ چلتا ہے جو دور تک تاریخ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک چلی گئی ہے۔ ملۃ ابیکم ابراھیم ھو سمکم المسلمین من قبل وفی ھذا ” اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس میں بھی۔ “ یہ مسلمانوں کا محور ہے جس کے اردگرد وہ گھومتے ہیں ، جس نے انہیں متحد کر رکھا ہے۔ یہ ان کے لئے ایک شعار اور ایک جھنڈا یہ۔ اس کے نیچے سب جمع ہوتے ہیں ، یہ ایک ایسا نظریاتی شعار اور نظریاتی جھنڈا ہے جس کے سائے میں تمام اقوام کے افراد ، تمام نسلوں اور تمام رنگوں اور تمام زبانوں کے لوگ آ کر جمع ہوجاتے ہیں۔ تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ یہاں آ کر مسلمان اپنی اس قوت کو ایک محدود وقت کے لئے محسوس کرنے لگتے ہیں۔ عقیدہ توحید کی قوت ، ایک ملت ہونے کی قوت اور اربوں مسلمانوں کے باہم اتحاد و اتفاق کی قوت۔ اس اجتماع میں وہ اپنی بھلائی ہوئی قوت کو ایک محدود وقت کے لئے ہی محسوس کرتے ہیں اور اس طرح محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہ ایک ہوجائیں تو ان کے سامنے دنیا کی کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی بشرطیکہ یہ سب لوگ عقیدہ توحید پر ایک جھنڈ تلے جمع ہوجائیں۔ اللہ جو فرماتے ہیں لیشھدوا منافع لھم (22 : 28) ” تاکہ وہ اپنے ان مفادات کو دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں۔ “ ہر نسل اپنے ظروف و احوال کے مطابق ، اپنی حاجت اور ضرورت کے مطابق ، اپنے تجربے اور اپنے تقاضوں کے مطابق اس اجتماع سے مفادات حاصل کرسکتی ہے۔ یہ بات اس وقت سے اللہ نے اس اجمتاع کے مقاصد میں رکھی ہے جب سے اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ لوگوں کو اس گھر کی زیارت کے لئے بلائو۔ قرآن مجید اس اجتماع کے لئے بعض مناسک اور بعض بنیادی شعائر دیتا ہے اور سب میں سب کا بھلا ہے۔ ویذکروا اسم اللہ فی ایام معلومت علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام (22 : 28) ” اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔ “ اس آیت میں اشارہ ہے قربانی کی طرف جو عید کے دن اور ایام تشریق میں کی جاتی ہے اور قربانی کے مختلف جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ قرآن کریم قربانی کے ذکر میں سب سے پہلے یہ حکم دیتا ہے کہ اس پر اللہ کا نا ملیا جائے کیونکہ مقصد اللہ کی بندگی اور اللہ کی رضا مندی کا حصول ہے۔ یہاں قربانی کے عمل میں سب سے زیادہ امتیاز کے ساتھ جس عمل کا ذکر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ صرف جانور ذبح کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ اصل مقصد اپ پر اللہ کا نام لینا ہے۔ (احناف کا فتویٰ اس پر ہے کہ یوم نحر کے بعد صرف دو دنوں میں قربانی جائز ہے۔ ) یہ قربانی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ذبح عظیم کی یادگار ہے۔ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزے اور اللہ کی اطاعتوں میں سے ایک عظیم تعمیل حکم کی بھی یادگار ہے۔ جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام نے یادگار کے طور پر چھوڑی۔ اس یادگار میں فائدہ یہ ہے کہ فقفراء اور مساکین کے لئے کھانے کا انتظام ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانور اونٹ ، گائے ، بھینس اور بھیڑ بکری ہے۔ (گائے اور بھینس دونوں کے لئے عربی میں بقر کا لفظ آتا ہے) فکلوا منھا وا طعموا البائس الفقیر (22 : 28) ” اس سے خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔ “ قربانی کے گوشت کے استعمال کے لئے جو حکم قربانی کرنے والے کو ہے یہ استحبابی ہے لیکن فقیروں کو دینے کے لئے جو حکم ہے وہ وجوبی ہے۔ خود کھانے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ فقراء محسوس کریں کہ یہ پاک صاف اور طیب گوشت ہے۔ قربانی کرتے ہی حاجی کے لئے وہ باتیں جائز ہوجاتی ہیں جو اس کے لئے دوران حج ممنوع تھیں۔ مثلاً بال منڈوانا ، کاٹنا ، ناخن کاٹنا ، بغلوں کے بال کاٹنا اور غسل وغیرہ جو کام بھی احرام کے دوران منع تھے وہ جائز ہوجاتے ہیں ، اس کے بارے میں کہا گیا۔ ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم (22 : 29) ” پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں۔ “ جو نذریں انہوں نے مانی ہوں یعنی حج کی قربانی کے علاوہ جو نذریں انہوں نے مانی ہوں۔ ولیطوفوا بالبیت العتیق (22 : 29) ” اور قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ اس سے مراد طواف اقامہ یا طواف زیارت (جو نام بھی دیں) ہے۔ طواف اقامہ طواف وراع سے علیحدہ ہے۔ بیت عتیق سے مراد مسجد حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی بھی جبار کی حکمرانی سے بچایا ہے اور اسی طرح اسے گرنے اور نشانات کے مٹ جانے سے بھی بچایا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے آباد کرنے سے یہ ہمیشہ آباد رہا ہے اور رہے گا۔ یہ تھا قصہ بیت الحرام کی تعمیر کا۔ اور یہ ہے وہ بنیادی عقیدہ جس پر اس کی تعمیر ہوئی ، یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے حکم دیا کہ اسے توحید کے گھر کے طور پر تعمیر کریں اور اسے شرک و بت پرستی سے پاک رکھیں اور حکم دیا کہ عامتہ الناس کو حکم دیں کہ وہ اس کی زیارت کو آئیں۔ قربانی کے جانوروں پر اللہ کا نام لیں ، اس کے سوا کسی دوسرے الہ کا نام نہ لیں۔ قربانی کے گوشت کو خود بھی کھائیں اور تنگ دست اور فقیر کو بھی کھلائیں۔ یہ بیت الحرام ہے اور اس میں اللہ کی حرمتیں محفوظ ہیں۔ ان پر عمل ہوگا اور اللہ کی حرمتوں میں سے پہلی چیز اسلامی نظریہ حیات اور عقیدہ توحید ہے۔ اس گھر کے دروازے تمام لوگوں کے لئے کھلے ہوں اور یہاں سب لوگوں کی جان و مال محفوظ ہوں ، یہاں تمام عہد پورے کئے جائیں اور امن و سلامتی کا احترام کیا جائے۔

الحج 22:30

ذلک ومن ……مکان سحیق (31) اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے۔ یہ اللہ کی ہاں بہت بڑی نیکی اور خیر ہے۔ انسانی شعور اور انسانیضمیر کی دنیا میں بھی خیر کثیر ہے۔ واقعی اور عملی زندگی میں بھی یہ خبر ہے ، کیونکہ جو ضمیر حرمتوں کا شعور رکھتے ہوئے بچنے کی کوشش کرے گا وہی پاک ہوگا۔ جس زندگی میں اللہ کی حرمتوں کا احترام ہوگا۔ وہی زندگی امن وامان اور سلامتی کی نعمت سے مالا مال ہو سکتی ہے اور اس میں کسی پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہو سکتی۔ ایسی ہی زندگی میں امن کے مقامات اور اطمینان کے گھر مل سکتے ہیں۔ مشرکین بھی بعض جانوروں کا احترام کرتے تھے۔ مثلاً بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔ ان کے نزدیک یہ جانور محترم تھے اور ان کو ہاتھ لگانا بھی جرم تھا۔ لیکن یہ مشرکین کی خود ساختہ حرمتیں تھیں۔ اللہ کی طرف سے ان کے بارے میں کوئی حکم نہ تھا تو یہاں کہہ دیا کہ اللہ نے کھانے کے جانوروں میں سے جو حرام قرار دیتے ہیں ان کا ذکر ہو چا ہے مثلاً مردار ، خون ، خنزیر اور وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کی نذر ہو۔ واحلت لکم الانعام الا مایتلی علیکم (22 : 30) ” تمہارے لئے مویشی حلال کئے گئے ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جو تمہیں بتائی جا چکی ہیں۔ “ یہ اس لئے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی مقرر کردہ کوئی حرمت نہ ہو۔ اللہ کے سوا کسی کو حلال و حرام قرار دینے کی اجازت نہیں اور اللہ کی شریعت کے سوا کسی اور شریعت کے مطابق احکام جاری نہ ہوں۔ حلت اور حرمت کی بحث ہی کی مناسبت سے بتوں کی گندگی سے بچنے کی بھی تاکید کردی گئی۔ مشرکین بتوں پر جانور ذبح کرتے تھے حالانکہ یہ ناپاکی تھی۔ رجس اس ناپاکی کو کہتے ہیں جس کا تعلق انسان کے نفس ، ضمیر اور دماغ سے ہو ، شرک اسی قسم کی معنوی ناپاکی ہے۔ شرک قلب و ضمیر کو اسی طرح ناپاک کر دیات ہے جس طرح گندگی کپڑے کو ناپاک کردیتی ہے۔ پھر شرک اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اور سفید جھوٹ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اس بڑے جھوٹ کے ساتھ ساتھ تمام جھوٹوں سے بچو۔ فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور (22 : 30) ” بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔ “ قرآن مجید نے جھوٹ کو شرک کے ساتھ جوڑ کر اس کے گناہ کو اور بھیانک بنا دیا ہے۔ امام احمد روایت کرتے ہیں کہ قاتک اسدی نے حضور ت سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نما زپڑھی اور منہ پھیر کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔ عدلت شھادۃ الزور الا شراک باللہ عزوجل ” اور جھوٹی شہادت کو شرک کے برابر کردیا گیا ہے۔ “ اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کی خواہش یہ ہے کہ لوگ ہر قسم کے شرک کو چھوڑ دیں اور ہر قسم کے جھٹ کو چھوڑدیں اور خلاص عقیدہ توحیدہ پر جم جائیں۔ حنفآء اللہ غیر مشرکین بہ (22 : 31) ” یکسو ہو کر اللہ کے بندے ہو جائو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ اس کے بعد آیت میں ایک خوفناک منظر ایک مثال کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ جو شخص توحید کے بلند افق سے گرا تو اس کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ شرک کی پستیوں میں جا گرتا ہے اور وہ اس طرح ختم ہوجاتا ہے کہ اس کا نام و نشان ہی نہیں رہتا۔ گویا وہ تھا ہی نہیں۔ ومن یشرک باللہ فکانما خرمن السمآء فتخطفہ الطیر اوتھوی بہ الریح فی مکان سحیق (22 : 31) ” اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا۔ اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اسے ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔ “ یہ منظر ایسے شخص کا ہے جو بہت ہی بلند جگہ سے گر جائے جیسا کہ آسمان سے گر کر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے اور اسے پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اسے نظروں سے دور پھینک دے۔ یا ہوا اسے ایسی جگہ پھینک دے ایسے گڑھے میں جہاں اسے کوئی قرار نصیب نہ ہو۔ یعنی اس منظر میں تمام مراحل بڑی تیزی سے سرانجام پاتے ہیں۔ سخت تیزی اور پھر اقدامات لگاتار ہیں اور ہر مرحلے کے … کا استعمال ہے۔ جو ترتیب واقعات بغیر فاصلہ وقت پر دلالت کرتی ہے یعنی یہ شخص بڑی تیزی سے منظر سے غائب ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے تصویر کشی کا۔ پھر جس طرح قرآن کریم نے شرک کرنے والے کی تصویر کشی کی ہے فی الواقعہ بھی اس کی حالت کچھ ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ وہ توحید اور ایمان کے بلند مقام سے گر جاتا ہے اور اس کی شخصیت منتشر ہوجاتی ہے کیونکہ اس کیپ اس وہ مضبوط اساس یعنی عقیدہ توحید ہی نہ رہا جس پر وہ کھڑا ہو سکے۔ اب اس کے لئے کوئی جائے قرار ہی باقی نہیں ہے۔ پرندے اس کو اچک لیں گے یعنی خواہشات نفسانیہ اور ادہام و خرافات ہر طرف سے اسے اپنی طرف کھینچیں گے۔ چونکہ اس کے ہاتھ میں مضبوط رسی نہ ہوگی اس لئے وہ ہر طرف کھینچتا چلا جائے گا۔ کبھی ایک طرف گرے گا اور کبھی دوسری طرف کیونکہ اسکے پائوں کے نیچے مضبوط بنیاد نہ ہوگی۔ اب بات آگے بڑھتی ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کی حرمتوں کا احترام کرو اور ان سے تعرض نہ کرو۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے شعائر کی تعظیم کر ، شعائر لالہ کیا ہیں۔ وہ جانور جو حج کے موقع پر ذبح ہوں گے ، ان کی تعظیم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ موٹے تازے ہوں اور قیمتی ہوں۔

الحج 22:31

ذلک ومن ……مکان سحیق (31) اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے۔ یہ اللہ کی ہاں بہت بڑی نیکی اور خیر ہے۔ انسانی شعور اور انسانیضمیر کی دنیا میں بھی خیر کثیر ہے۔ واقعی اور عملی زندگی میں بھی یہ خبر ہے ، کیونکہ جو ضمیر حرمتوں کا شعور رکھتے ہوئے بچنے کی کوشش کرے گا وہی پاک ہوگا۔ جس زندگی میں اللہ کی حرمتوں کا احترام ہوگا۔ وہی زندگی امن وامان اور سلامتی کی نعمت سے مالا مال ہو سکتی ہے اور اس میں کسی پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہو سکتی۔ ایسی ہی زندگی میں امن کے مقامات اور اطمینان کے گھر مل سکتے ہیں۔ مشرکین بھی بعض جانوروں کا احترام کرتے تھے۔ مثلاً بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔ ان کے نزدیک یہ جانور محترم تھے اور ان کو ہاتھ لگانا بھی جرم تھا۔ لیکن یہ مشرکین کی خود ساختہ حرمتیں تھیں۔ اللہ کی طرف سے ان کے بارے میں کوئی حکم نہ تھا تو یہاں کہہ دیا کہ اللہ نے کھانے کے جانوروں میں سے جو حرام قرار دیتے ہیں ان کا ذکر ہو چا ہے مثلاً مردار ، خون ، خنزیر اور وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کی نذر ہو۔ واحلت لکم الانعام الا مایتلی علیکم (22 : 30) ” تمہارے لئے مویشی حلال کئے گئے ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جو تمہیں بتائی جا چکی ہیں۔ “ یہ اس لئے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی مقرر کردہ کوئی حرمت نہ ہو۔ اللہ کے سوا کسی کو حلال و حرام قرار دینے کی اجازت نہیں اور اللہ کی شریعت کے سوا کسی اور شریعت کے مطابق احکام جاری نہ ہوں۔ حلت اور حرمت کی بحث ہی کی مناسبت سے بتوں کی گندگی سے بچنے کی بھی تاکید کردی گئی۔ مشرکین بتوں پر جانور ذبح کرتے تھے حالانکہ یہ ناپاکی تھی۔ رجس اس ناپاکی کو کہتے ہیں جس کا تعلق انسان کے نفس ، ضمیر اور دماغ سے ہو ، شرک اسی قسم کی معنوی ناپاکی ہے۔ شرک قلب و ضمیر کو اسی طرح ناپاک کر دیات ہے جس طرح گندگی کپڑے کو ناپاک کردیتی ہے۔ پھر شرک اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اور سفید جھوٹ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اس بڑے جھوٹ کے ساتھ ساتھ تمام جھوٹوں سے بچو۔ فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور (22 : 30) ” بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔ “ قرآن مجید نے جھوٹ کو شرک کے ساتھ جوڑ کر اس کے گناہ کو اور بھیانک بنا دیا ہے۔ امام احمد روایت کرتے ہیں کہ قاتک اسدی نے حضور ت سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نما زپڑھی اور منہ پھیر کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔ عدلت شھادۃ الزور الا شراک باللہ عزوجل ” اور جھوٹی شہادت کو شرک کے برابر کردیا گیا ہے۔ “ اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کی خواہش یہ ہے کہ لوگ ہر قسم کے شرک کو چھوڑ دیں اور ہر قسم کے جھٹ کو چھوڑدیں اور خلاص عقیدہ توحیدہ پر جم جائیں۔ حنفآء اللہ غیر مشرکین بہ (22 : 31) ” یکسو ہو کر اللہ کے بندے ہو جائو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ اس کے بعد آیت میں ایک خوفناک منظر ایک مثال کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ جو شخص توحید کے بلند افق سے گرا تو اس کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ شرک کی پستیوں میں جا گرتا ہے اور وہ اس طرح ختم ہوجاتا ہے کہ اس کا نام و نشان ہی نہیں رہتا۔ گویا وہ تھا ہی نہیں۔ ومن یشرک باللہ فکانما خرمن السمآء فتخطفہ الطیر اوتھوی بہ الریح فی مکان سحیق (22 : 31) ” اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا۔ اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اسے ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔ “ یہ منظر ایسے شخص کا ہے جو بہت ہی بلند جگہ سے گر جائے جیسا کہ آسمان سے گر کر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے اور اسے پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اسے نظروں سے دور پھینک دے۔ یا ہوا اسے ایسی جگہ پھینک دے ایسے گڑھے میں جہاں اسے کوئی قرار نصیب نہ ہو۔ یعنی اس منظر میں تمام مراحل بڑی تیزی سے سرانجام پاتے ہیں۔ سخت تیزی اور پھر اقدامات لگاتار ہیں اور ہر مرحلے کے … کا استعمال ہے۔ جو ترتیب واقعات بغیر فاصلہ وقت پر دلالت کرتی ہے یعنی یہ شخص بڑی تیزی سے منظر سے غائب ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے تصویر کشی کا۔ پھر جس طرح قرآن کریم نے شرک کرنے والے کی تصویر کشی کی ہے فی الواقعہ بھی اس کی حالت کچھ ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ وہ توحید اور ایمان کے بلند مقام سے گر جاتا ہے اور اس کی شخصیت منتشر ہوجاتی ہے کیونکہ اس کیپ اس وہ مضبوط اساس یعنی عقیدہ توحید ہی نہ رہا جس پر وہ کھڑا ہو سکے۔ اب اس کے لئے کوئی جائے قرار ہی باقی نہیں ہے۔ پرندے اس کو اچک لیں گے یعنی خواہشات نفسانیہ اور ادہام و خرافات ہر طرف سے اسے اپنی طرف کھینچیں گے۔ چونکہ اس کے ہاتھ میں مضبوط رسی نہ ہوگی اس لئے وہ ہر طرف کھینچتا چلا جائے گا۔ کبھی ایک طرف گرے گا اور کبھی دوسری طرف کیونکہ اسکے پائوں کے نیچے مضبوط بنیاد نہ ہوگی۔ اب بات آگے بڑھتی ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کی حرمتوں کا احترام کرو اور ان سے تعرض نہ کرو۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے شعائر کی تعظیم کر ، شعائر لالہ کیا ہیں۔ وہ جانور جو حج کے موقع پر ذبح ہوں گے ، ان کی تعظیم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ موٹے تازے ہوں اور قیمتی ہوں۔

الحج 22:32

ذلک ومن یعظم ……البیت العتیق (33) یہاں حاجیوں کی قربانیوں اور دلوں کے تقویٰ کے درمیان تعلق بتایا گیا ہے کہ حج کے تمام شعائر ، تمام مناسک اور تمام حرکات سے بڑا مقصد دلوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کرنا ہے۔ بذات خود یہ مناسک اور شعائر کوئی چیز نہیں۔ اصل چیز وہ غرض وغایت ہے جو ان سے حاصل کرنا مطلوب ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا کیا جائے۔ ان شعائر اور مناسک کے اندر وہ یادیں ہیں جن کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد کے زمانے سے ہے اور ان کا اصل مقصد اطاعت الٰہی ہے ، توجہ الی اللہ ہے اور جب سے یہ امت پیدا کی گئی اس میں اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے دو ہی راستے ہیں : ایک دعا اور دوسرا نماز۔ یہ مویشی جن کے احترام کی بات ہو رہی ہے ، ان کو ایام احرام کے آخر میں ذبح کیا جاتا ہے ، اس عرصہ میں ان کے مالک کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ ان سے نفع اٹھائے۔ اگر اس کو ضرورت ہو تو وہ ان پر سوار بھی ہو سکتا ہے اور اگر ان کے دودھ کی ضرورت ہو تو دودھ بھی استعمال کرسکتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے محل تک پہنچ جائیں اور ان کا مقام بیت عتیق ہے یعنی خانہ کعبہ۔ یہاں پھر ان کو ذبح کیا جائے گا تاکہ لوگ خود بھی کھائیں اور محتاجوں اور فقیروں کو بھی دیں۔ حضور اکرم ﷺ کے دور میں مسلمان قربانی کے جانور اچھے سے اچھا تلاش کرتے تھے۔ موٹا تازہ اور قیمتی ، اس کو وہ تعظیم شعائر اللہ کا حصہ سمجھتے تھے اور خدا خوفی کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے ایک بہترین اونٹنی کو قربانی کے لئے خریدا اور تین سو درہم قیمت ادا کی۔ اس نے کہا حضور میں نے ہدی کی خاطر ایک اونٹنی تین صد روپے میں خریدی ہے تو کیا مجھے اجازت ہے کہ میں اسے فروخت کر کے اس کی جگہ اور اونٹنیاں خریدوں ؟ حضور نے فرمایا نہیں اسی کو ذبح کرو۔ حضرت عمر زیادہ قیمتی اونٹنی کو فروخت کر کے رقم جیب میں رکھنا نہیں چاہتے تھے بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اسے فروخت کردیں اور اس کی جگہ اس رقم سے زیادہ جانور خرید کر ذبح کردیں اور اس کو فروخت کر کے زیادہ اونٹنیاں یا گائے نہ خریدیں۔ اگرچہ اس صورت میں گوشت زیادہ ہوجاتا لیکن شعوری زاویہ سے اور خدا کی راہ میں اچھا مال دینے کے لحاظ سے یہ زیادہ بھاری تھا اور شعوری قیمت کی زیادہ اہمیت ہے۔ فانھا من تقوی القلوب (22 : 32) ” کیونکہ اس کا تعلق دلوں کے خوف سے ہے۔ “ یہ تھا مفہوم اس بات کا جو حضور نے حضرت عمر سے کیہ کہ اسے تبدیل نہ کرو اور اسی کو ذبح کرو۔ یہ مناسک اور شعائر جن کے احترام کا حکم دیا جاتا ہے ، قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ تمام اقوام کے ہاں رائج ہیں لیکن اسلام جن شعائر کی قدر کرتا ہے ، انہیں بحال رکھتا ہے اور ان کے احترام کا حکم دیتا ہے ان کا رخ اسلام نے خدا کی طرف موڑ دیا ہے۔

الحج 22:33

ذلک ومن یعظم ……البیت العتیق (33) یہاں حاجیوں کی قربانیوں اور دلوں کے تقویٰ کے درمیان تعلق بتایا گیا ہے کہ حج کے تمام شعائر ، تمام مناسک اور تمام حرکات سے بڑا مقصد دلوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کرنا ہے۔ بذات خود یہ مناسک اور شعائر کوئی چیز نہیں۔ اصل چیز وہ غرض وغایت ہے جو ان سے حاصل کرنا مطلوب ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا کیا جائے۔ ان شعائر اور مناسک کے اندر وہ یادیں ہیں جن کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد کے زمانے سے ہے اور ان کا اصل مقصد اطاعت الٰہی ہے ، توجہ الی اللہ ہے اور جب سے یہ امت پیدا کی گئی اس میں اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے دو ہی راستے ہیں : ایک دعا اور دوسرا نماز۔ یہ مویشی جن کے احترام کی بات ہو رہی ہے ، ان کو ایام احرام کے آخر میں ذبح کیا جاتا ہے ، اس عرصہ میں ان کے مالک کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ ان سے نفع اٹھائے۔ اگر اس کو ضرورت ہو تو وہ ان پر سوار بھی ہو سکتا ہے اور اگر ان کے دودھ کی ضرورت ہو تو دودھ بھی استعمال کرسکتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے محل تک پہنچ جائیں اور ان کا مقام بیت عتیق ہے یعنی خانہ کعبہ۔ یہاں پھر ان کو ذبح کیا جائے گا تاکہ لوگ خود بھی کھائیں اور محتاجوں اور فقیروں کو بھی دیں۔ حضور اکرم ﷺ کے دور میں مسلمان قربانی کے جانور اچھے سے اچھا تلاش کرتے تھے۔ موٹا تازہ اور قیمتی ، اس کو وہ تعظیم شعائر اللہ کا حصہ سمجھتے تھے اور خدا خوفی کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے ایک بہترین اونٹنی کو قربانی کے لئے خریدا اور تین سو درہم قیمت ادا کی۔ اس نے کہا حضور میں نے ہدی کی خاطر ایک اونٹنی تین صد روپے میں خریدی ہے تو کیا مجھے اجازت ہے کہ میں اسے فروخت کر کے اس کی جگہ اور اونٹنیاں خریدوں ؟ حضور نے فرمایا نہیں اسی کو ذبح کرو۔ حضرت عمر زیادہ قیمتی اونٹنی کو فروخت کر کے رقم جیب میں رکھنا نہیں چاہتے تھے بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اسے فروخت کردیں اور اس کی جگہ اس رقم سے زیادہ جانور خرید کر ذبح کردیں اور اس کو فروخت کر کے زیادہ اونٹنیاں یا گائے نہ خریدیں۔ اگرچہ اس صورت میں گوشت زیادہ ہوجاتا لیکن شعوری زاویہ سے اور خدا کی راہ میں اچھا مال دینے کے لحاظ سے یہ زیادہ بھاری تھا اور شعوری قیمت کی زیادہ اہمیت ہے۔ فانھا من تقوی القلوب (22 : 32) ” کیونکہ اس کا تعلق دلوں کے خوف سے ہے۔ “ یہ تھا مفہوم اس بات کا جو حضور نے حضرت عمر سے کیہ کہ اسے تبدیل نہ کرو اور اسی کو ذبح کرو۔ یہ مناسک اور شعائر جن کے احترام کا حکم دیا جاتا ہے ، قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ تمام اقوام کے ہاں رائج ہیں لیکن اسلام جن شعائر کی قدر کرتا ہے ، انہیں بحال رکھتا ہے اور ان کے احترام کا حکم دیتا ہے ان کا رخ اسلام نے خدا کی طرف موڑ دیا ہے۔

الحج 22:34

ولکل امۃ ……ینفقون (35) اسلامی نظام زندگی کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انسان کے احساسات اور اس کے رجحانتا کو اللہ کی ذات کے ساتھ وابستہ کرتا ہے۔ چناچہ اس کی اسکیم یہ ہے کہ شعور ، عمل ، سرگرمی ، عبادت ، ہر حرکت اور ہر عادت کو ایک نئی سمت دی جائے اور ہر چیز کو اسلام نظریہ حیات کے رنگ میں رنگ دیا جائے ۔ اس نقطہ نظر سے اسلام نے ان مذبوحہ جانوروں کو حرام قرار دے دیا ہے جن پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور یہ لازم کردیا کہ ذبیحوں پر اللہ کا نام لیا جائے بلکہ عین ذبح کے وقت اونچی آواز سے اللہ اکبر کہا جائے ، گویا جانور ذبح ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس طرح اللہ کا نام لیا جائے۔ ولکل امۃ جعلنا مسکا لیذکروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام (22 : 33) ” ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کردیا ہے تاکہ اس امت کے لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ “ اس کے بعد عقیدہ توحید کی تصریح آتی ہے۔ فالھکم الہ واحد (22 : 33) ”(مقصد صرف یہ ہے) کہ تمہارا ایک ہی خدا ہعے “۔ جب خدا ایک ہے تو ہر معاملہ میں اطاعت بھی اسی ایک کی ہونی چاہئے۔ فلہ اسلموا (22 : 33) ’ دپس اس کے مطیع فرمان بنو۔ “ یہ اطاعت جبر کی اطاعت نہیں ہے اور نہ اسلام میں کوئی جبر ہے ، بلکہ دل کی آمادگی سے سر تسلیم خم کرنا مقصود ہے۔ وبشر المخبتین (22 : 33) الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم (22 : 35) ” اے نبی ﷺ بشارت دے دو عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو ، جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ “ محض اللہ کا نام سنتے ہی ان کے شعور اور ان کے ضمیر میں اللہ کا خوف پیدا ہوجاتا ہے اور وہ کانپ اٹھتے ہیں۔ والصبرین علی ما اصابھم (22 : 35) ” جو مصیبت بھی ان پر آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں۔ “ لہٰذا اللہ ان کے بارے میں جو فیصلہ کرے ان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ والمقیمی الصلوۃ (22 : 35) ” اور نماز قائم کرتے ہیں۔ “ اور اللہ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح عبادت کرنے کا حق ہوتا ہے۔ ومما رزقنھم ینفقون (22 : 35) ” اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ “ وہ اپنے مال میں اللہ کے مقابلے میں بخل نہیں کرتے۔ یوں عقیدے ، نظریات اور دین کے بنیادی شعائر کے اندر ربط پیدا کر کے ذات باری کو ہر چیز کا محور بنا دیا جاتا ہے۔ اور اس طرح اسلامی نظام کا یہ جزء خصوصاً عبادات اس کے عقائد و نظریات کا مظہر اور رمز بن جاتی ہیں۔ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی پوری زندگی میں اس کے عقیدے کا رنگ ہو ، اس طرح ان کی قوت عمل اور ان کی سمت کے درمیان کوئی تضاد نہ ہو اور نفس انسانی شعور انسانی اور عمل انسانی کے درمیان کوئی تضاد اور کوئی کشمکش نہ ہو۔ اب سیاق کلام ذرا مزید آگے جاتا ہے اور اس مفہوم کو مزید تاکیدی انداز میں یوں پیش کیا جاتا ہے کہ محض کھانے پینے کے لئے ذبح کئے جانے والے جانوروں کے اس شعار اور عمل میں بھی اصل روح وہی ہے۔

الحج 22:35

ولکل امۃ ……ینفقون (35) اسلامی نظام زندگی کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انسان کے احساسات اور اس کے رجحانتا کو اللہ کی ذات کے ساتھ وابستہ کرتا ہے۔ چناچہ اس کی اسکیم یہ ہے کہ شعور ، عمل ، سرگرمی ، عبادت ، ہر حرکت اور ہر عادت کو ایک نئی سمت دی جائے اور ہر چیز کو اسلام نظریہ حیات کے رنگ میں رنگ دیا جائے ۔ اس نقطہ نظر سے اسلام نے ان مذبوحہ جانوروں کو حرام قرار دے دیا ہے جن پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور یہ لازم کردیا کہ ذبیحوں پر اللہ کا نام لیا جائے بلکہ عین ذبح کے وقت اونچی آواز سے اللہ اکبر کہا جائے ، گویا جانور ذبح ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس طرح اللہ کا نام لیا جائے۔ ولکل امۃ جعلنا مسکا لیذکروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام (22 : 33) ” ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کردیا ہے تاکہ اس امت کے لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ “ اس کے بعد عقیدہ توحید کی تصریح آتی ہے۔ فالھکم الہ واحد (22 : 33) ”(مقصد صرف یہ ہے) کہ تمہارا ایک ہی خدا ہعے “۔ جب خدا ایک ہے تو ہر معاملہ میں اطاعت بھی اسی ایک کی ہونی چاہئے۔ فلہ اسلموا (22 : 33) ’ دپس اس کے مطیع فرمان بنو۔ “ یہ اطاعت جبر کی اطاعت نہیں ہے اور نہ اسلام میں کوئی جبر ہے ، بلکہ دل کی آمادگی سے سر تسلیم خم کرنا مقصود ہے۔ وبشر المخبتین (22 : 33) الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم (22 : 35) ” اے نبی ﷺ بشارت دے دو عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو ، جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ “ محض اللہ کا نام سنتے ہی ان کے شعور اور ان کے ضمیر میں اللہ کا خوف پیدا ہوجاتا ہے اور وہ کانپ اٹھتے ہیں۔ والصبرین علی ما اصابھم (22 : 35) ” جو مصیبت بھی ان پر آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں۔ “ لہٰذا اللہ ان کے بارے میں جو فیصلہ کرے ان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ والمقیمی الصلوۃ (22 : 35) ” اور نماز قائم کرتے ہیں۔ “ اور اللہ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح عبادت کرنے کا حق ہوتا ہے۔ ومما رزقنھم ینفقون (22 : 35) ” اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ “ وہ اپنے مال میں اللہ کے مقابلے میں بخل نہیں کرتے۔ یوں عقیدے ، نظریات اور دین کے بنیادی شعائر کے اندر ربط پیدا کر کے ذات باری کو ہر چیز کا محور بنا دیا جاتا ہے۔ اور اس طرح اسلامی نظام کا یہ جزء خصوصاً عبادات اس کے عقائد و نظریات کا مظہر اور رمز بن جاتی ہیں۔ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی پوری زندگی میں اس کے عقیدے کا رنگ ہو ، اس طرح ان کی قوت عمل اور ان کی سمت کے درمیان کوئی تضاد نہ ہو اور نفس انسانی شعور انسانی اور عمل انسانی کے درمیان کوئی تضاد اور کوئی کشمکش نہ ہو۔ اب سیاق کلام ذرا مزید آگے جاتا ہے اور اس مفہوم کو مزید تاکیدی انداز میں یوں پیش کیا جاتا ہے کہ محض کھانے پینے کے لئے ذبح کئے جانے والے جانوروں کے اس شعار اور عمل میں بھی اصل روح وہی ہے۔

الحج 22:36

والبدن جعلنھا ……وبشر المحسنین (37) یہاں قربانی کے جانوروں میں سے صرف اونٹ کا ذکر کیا جاتا ہے ، اس لئے کہ یہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اس کا قربانی میں ذبح کیا جانا تمہارے لئے مفید ہے۔ جب زندہ ہو تب بھی مفید ہے کہ تم اس پر سوار ہوتے ہو اور اس کا دودھ دوہتے ہو اور جب ذبح کردیا جائے تو بھی تم گوشت کھاتے ہو ، لہٰذا اس ” خیر “ کو ذبح کرتے وقت تمہارا فرض بنتا ہے کہ اس پر اللہ کا نام لو۔ جب اسے ذبح کے لئے تیار کیا جا رہا ہو تو بھی اس پر اللہ کا نام لو ، جب وہ صف کی شکل میں کھڑے ہوں۔ فاذکروا اسم اللہ علیھما صواف (22 : 36) ” پس ان پر اللہ کا نام لو جب وہ صف میں ہوں۔ “ اونٹوں کو اس طرح ذبح کیا جاتا ہے کہ وہ تین پائوں پر کھڑے ہوں اور ایک پائوں باندھا ہوا ہو اور جب وہ ذبح کے بعد گر جائیں اور ان کی پیٹھ زمین پر ٹک جائے تو پھر تم ان سے کھانا چاہو تو کھائو اور ان کا گوشت اس فقیر کو بھی کھلائو جو سوال نہیں کرتا اور اس کو بھی کھلائو جو سوال کرتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے ان کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ لوگ اس ” خیر “ پر خدا کا شکر ادا کریں جو ان میں لوگوں کے لئے ہے۔ زندگی میں بھی اور ذبح ہونے کے بعد بھی۔ کذلک سخرنھا لکم لعلکم تشکرون (22 : 36) ” ان جانوروں کو ہم نے اس طرح تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو۔ “ تمہیں جو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرو تو اس کا مقصد ہے لن ینال اللہ لحومھا و لادماوھا (22 : 38) ” نہ ان کا گوشت اللہ کو پہنچتا یہع نہ خون “۔ خون اور گوشت تو لالہ تک نہیں پہنچتا ، نہ اللہ کو ضرورت ہے ، اللہ کو مطلوب جذبہ خدا خوفی ہے۔ اس لئے مشرکین مکہ کی یہ حرکت کہ وہ جانوروں کو ذبح کر کے خون لے جا کر بتوں پر ملتے تھے محض ایک سوقیانہ حرکت ہے۔ اللہ اس سے بےنیاز ہے۔ کذلک سخرھا لکم لتکبروا اللہ علی ماھدکم (22 : 38) ” اس نے ان کو تمہارے لئے اس طرح مسخر کیا ہے تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت پر اس کی تکبیر کرو۔ “ اس نے تمہیں عقیدہ توحید کی ہدایت کی ہے۔ اس کی طرف متوجہ ہونے کی ہدایت کی ہے ، اللہ اور بندے کے درمیان حقیقی تعلق کے قیام کی ہدایت کی ہے اور اپنے اعمال کو صحیح سمت دینے کی ہدایت کی ہے۔ وبشر المسنین (22 : 38) ” اور بشارت دے نیکو کاروں کو۔ “ جن کا تصور بھی حسین ہے جن کا شعور بھی حسین ہے ، جن کی عبادت بھی پر احسان ہے اور اللہ کے ساتھ جن کا ربط بھی خدا خوفی کا ہے۔ یوں ایک مسلم کا ہر قدم ، اس کی ہر حرکت اور اس کی ہر سوچ ایسی ہوتی ہے کہ وہ اس میں ذات باری کو پیش نظر رکھتا ہے اس میں اس کا دل خوف خدا سے لبالب ہوتا ہے اور وہ ہر کام میں رضائے الٰہی کا طلبگار ہوتا ہے۔ غرض اس کی پوری زندگی اس مقصد کو پورا کر رہی ہوتی ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اور دنیا میں بھی اس کی زندگی صحت مند اور مفید اور اس کی غایت کی شاخیں آسمانوں پر ہوتی ہیں۔ اسلام کے یہ شعائر اور مناسک مقرر ہیں۔ عبادات اور عبادات کے مقامات متعین کئے گئے ہیں اور ان کا احترام ضروری قرار دیا گیا ہے ، اس لئے ایک ایسی قوت کی ضرورت ہے جو ان شعائر کا احترام قائم کرے۔ آزادی فکر و نظر کے حق کو قائم کرے اور ہر شخص کے لئے ایسے مواقع پیدا کرے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق اللہ کی پرستش کرسکے۔ نیز مقامات عبادات کے تقدس کو بھی قائم رکھ سکے۔ نیز یہ ممکن بنایا جاسکے کہ مومنین ، عابدین اور عمل صالح کرنے الے نیک لوگ اپنے نظریہ حیات کے مطابق نظام زندگی قائم کرسکیں جس کا ایک طرف سے رابطہ اللہ تعالیٰ سے ہو اور دوسری جانب سے وہ نظام اس دنیا کے تمام انسانوں کے لئے موجب خیر و برکت ہو۔ غرض دنیا و آخرت کی بھلائی کا ضامن ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ اب اللہ کی راہ میں ہتھیار اٹھا سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی ملت کی مدافعت کرسکیں ، اپنے نظریہ اور عقیدہ کی مدافعت کرسکیں ، اگر کوئی دشمن ان کے علاقے پر حملہ آور ہو تو اس کا دفاع کرسکیں کیونکہ مسلمانوں پر ظلم و ستم اپنی انتہا کو پنچ گئے ہیں۔ اس قتال کا مقصد وحید صرف یہ ہے کہ لوگوں کے لئے بشمول اہل اسلام عقائد و نظریات کی آزادی قائم ہو سکے۔ اللہ کے دین کے نظام کے اندر ، اللہ کی نصرت کا وعدہ حقیقت کا روپ اختیار کرسکے اور وہ دین اسلام اور نظام اسلام کے وہ فرائض اد اکر سکیں جن کا ذکر ذیل کی آیات میں آیات ہے۔

الحج 22:37

والبدن جعلنھا ……وبشر المحسنین (37) یہاں قربانی کے جانوروں میں سے صرف اونٹ کا ذکر کیا جاتا ہے ، اس لئے کہ یہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اس کا قربانی میں ذبح کیا جانا تمہارے لئے مفید ہے۔ جب زندہ ہو تب بھی مفید ہے کہ تم اس پر سوار ہوتے ہو اور اس کا دودھ دوہتے ہو اور جب ذبح کردیا جائے تو بھی تم گوشت کھاتے ہو ، لہٰذا اس ” خیر “ کو ذبح کرتے وقت تمہارا فرض بنتا ہے کہ اس پر اللہ کا نام لو۔ جب اسے ذبح کے لئے تیار کیا جا رہا ہو تو بھی اس پر اللہ کا نام لو ، جب وہ صف کی شکل میں کھڑے ہوں۔ فاذکروا اسم اللہ علیھما صواف (22 : 36) ” پس ان پر اللہ کا نام لو جب وہ صف میں ہوں۔ “ اونٹوں کو اس طرح ذبح کیا جاتا ہے کہ وہ تین پائوں پر کھڑے ہوں اور ایک پائوں باندھا ہوا ہو اور جب وہ ذبح کے بعد گر جائیں اور ان کی پیٹھ زمین پر ٹک جائے تو پھر تم ان سے کھانا چاہو تو کھائو اور ان کا گوشت اس فقیر کو بھی کھلائو جو سوال نہیں کرتا اور اس کو بھی کھلائو جو سوال کرتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے ان کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ لوگ اس ” خیر “ پر خدا کا شکر ادا کریں جو ان میں لوگوں کے لئے ہے۔ زندگی میں بھی اور ذبح ہونے کے بعد بھی۔ کذلک سخرنھا لکم لعلکم تشکرون (22 : 36) ” ان جانوروں کو ہم نے اس طرح تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو۔ “ تمہیں جو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرو تو اس کا مقصد ہے لن ینال اللہ لحومھا و لادماوھا (22 : 38) ” نہ ان کا گوشت اللہ کو پہنچتا یہع نہ خون “۔ خون اور گوشت تو لالہ تک نہیں پہنچتا ، نہ اللہ کو ضرورت ہے ، اللہ کو مطلوب جذبہ خدا خوفی ہے۔ اس لئے مشرکین مکہ کی یہ حرکت کہ وہ جانوروں کو ذبح کر کے خون لے جا کر بتوں پر ملتے تھے محض ایک سوقیانہ حرکت ہے۔ اللہ اس سے بےنیاز ہے۔ کذلک سخرھا لکم لتکبروا اللہ علی ماھدکم (22 : 38) ” اس نے ان کو تمہارے لئے اس طرح مسخر کیا ہے تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت پر اس کی تکبیر کرو۔ “ اس نے تمہیں عقیدہ توحید کی ہدایت کی ہے۔ اس کی طرف متوجہ ہونے کی ہدایت کی ہے ، اللہ اور بندے کے درمیان حقیقی تعلق کے قیام کی ہدایت کی ہے اور اپنے اعمال کو صحیح سمت دینے کی ہدایت کی ہے۔ وبشر المسنین (22 : 38) ” اور بشارت دے نیکو کاروں کو۔ “ جن کا تصور بھی حسین ہے جن کا شعور بھی حسین ہے ، جن کی عبادت بھی پر احسان ہے اور اللہ کے ساتھ جن کا ربط بھی خدا خوفی کا ہے۔ یوں ایک مسلم کا ہر قدم ، اس کی ہر حرکت اور اس کی ہر سوچ ایسی ہوتی ہے کہ وہ اس میں ذات باری کو پیش نظر رکھتا ہے اس میں اس کا دل خوف خدا سے لبالب ہوتا ہے اور وہ ہر کام میں رضائے الٰہی کا طلبگار ہوتا ہے۔ غرض اس کی پوری زندگی اس مقصد کو پورا کر رہی ہوتی ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اور دنیا میں بھی اس کی زندگی صحت مند اور مفید اور اس کی غایت کی شاخیں آسمانوں پر ہوتی ہیں۔ اسلام کے یہ شعائر اور مناسک مقرر ہیں۔ عبادات اور عبادات کے مقامات متعین کئے گئے ہیں اور ان کا احترام ضروری قرار دیا گیا ہے ، اس لئے ایک ایسی قوت کی ضرورت ہے جو ان شعائر کا احترام قائم کرے۔ آزادی فکر و نظر کے حق کو قائم کرے اور ہر شخص کے لئے ایسے مواقع پیدا کرے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق اللہ کی پرستش کرسکے۔ نیز مقامات عبادات کے تقدس کو بھی قائم رکھ سکے۔ نیز یہ ممکن بنایا جاسکے کہ مومنین ، عابدین اور عمل صالح کرنے الے نیک لوگ اپنے نظریہ حیات کے مطابق نظام زندگی قائم کرسکیں جس کا ایک طرف سے رابطہ اللہ تعالیٰ سے ہو اور دوسری جانب سے وہ نظام اس دنیا کے تمام انسانوں کے لئے موجب خیر و برکت ہو۔ غرض دنیا و آخرت کی بھلائی کا ضامن ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ اب اللہ کی راہ میں ہتھیار اٹھا سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی ملت کی مدافعت کرسکیں ، اپنے نظریہ اور عقیدہ کی مدافعت کرسکیں ، اگر کوئی دشمن ان کے علاقے پر حملہ آور ہو تو اس کا دفاع کرسکیں کیونکہ مسلمانوں پر ظلم و ستم اپنی انتہا کو پنچ گئے ہیں۔ اس قتال کا مقصد وحید صرف یہ ہے کہ لوگوں کے لئے بشمول اہل اسلام عقائد و نظریات کی آزادی قائم ہو سکے۔ اللہ کے دین کے نظام کے اندر ، اللہ کی نصرت کا وعدہ حقیقت کا روپ اختیار کرسکے اور وہ دین اسلام اور نظام اسلام کے وہ فرائض اد اکر سکیں جن کا ذکر ذیل کی آیات میں آیات ہے۔

الحج 22:38

ان اللہ ……عاقبۃ الامور (41) اس کرہ ارض پر شر کی قوتیں ہر وقت کام کرتی ہیں ، خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ ہر وقت برپا رہتا ہے اور یہ معرکہ اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے اس کرہ ارض پر انسان کو پیدا کر کے بھیجا ہے۔ شرہمیشہ سرکش ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ قوت اور اسلحہ سے لیس ہوتا ہے۔ شر کی گرفت بےرحمانہ ہوتی ہے اور اس کی مار بےترسی سے ہوتی یہ۔ اگر اللہ کے کچھ بندوں کو راہ ہدایت معلوم ہوجائے تو وہ ان کی راہ روکتا ہے اور ان کو حق سے دور ہٹاتا ہے ، اگر کسی کا دل حق کے لئے کھل جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایمان ، حق اور بھلائی کی پشت پر بھی قوت ہو ، تاکہ باطل کی پکڑ ، سرکشی ، فتنے اور زیادتی سے اسے روکا جاسکے اور حق کو دشمنوں اور سختیوں سے بچایا جائے۔ اللہ کا منشا یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایمان ، بھلائی اور سچائی کو اس طرح کمزور چھوڑ دیا جائے کہ وہ میدان میں باطل کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اس سلسلہ میں اہل حق کے دلوں میں پائیج انے والی قوت ایمانی پر زیادہ سے زیادہ بھروسہ کیا جاتا ہے اور انسانی فطرت اور انسانی ضمیر میں حق کے ولولہ سے کام لیا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر باطل قوتوں کے مقابلے میں حق کی کوئی قوت نہ ہو تو اہل حق اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے قدم ڈگمگا سکتے ہیں۔ اہل حق کی فطرت کو بھی بگاڑا جاسکتا ہے۔ کیونکہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور مصائب برداشت کرنے کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے اور ایک حد پر جا کر انسانی قوتیں جواب دے دیتی ہیں۔ اللہ لوگوں کے قلوب و نفوس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے یہ نہیں چاہا کہ اہل ایمان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آزمائش میں ڈال دیا جائے۔ ہاں اس حد تک قوت کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے کہ جب وہ مقابلے کی تیاری کر رہے ہوں۔ دفاع کی تیاریاں ہو رہی ہوں اور وسائل جہاد جمع کئے جا رہے ہوں جب وہ یہ کام کر چکیں تو پھر ان کو قتال کی اجازت ہے تاکہ وہ اہل کفر کی دست درازیوں کا رد کرسکیں۔ اذن قتال دینے سے قبل اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ وہ خود اہل ایمان کی طرف سے دفاع کرتے ہیں اور یہ کہ اللہ ان کی نصرت اور تعاون پر قدرت رکھتے ہیں۔ ان اللہ یدفع عن الذین امنوا (22 : 38) ” یقینا اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں۔ “ اللہ اہل ایمان کے دشمنوں کو پسند نہیں کرتا کیونکہ انہوں نے حق کا انکار کیا ہے اور وہ خائن بھی ہیں۔ لہٰذا یقینا ان کو رسوا کر کے رہے گا۔ ان اللہ لایحب کل خوان کفور (22 : 38) ” بیشک اللہ کسی خائن اور کفران نعمت کرنے الے کو پسند نہیں کرتا۔ “ اللہ نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ اہل ایمان کو اپنے دفاع کا پورا پورا حق پہنچتا ہے ، ان کا موقف درست ہے ، آداب جنگ کے اعتبار سے بھی کیونکہ وہ مظلوم ہیں ، وہ جارحیت کے مرتکب ہرگز نہیں ہوئے اور نہ ہی وہ سرکشی کرنے الے ہیں۔ اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا (22 : 39) ” اجازت دے دی گئی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے ، کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ “ ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی اس حمایت پر مطمئن ہوجائیں۔ اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا۔ وان اللہ علی نصر ھم لقدیر (22 : 39) ” اور اللہ یقینا کی مدد پر قادر ہے۔ “ ان کو اس معرکہ آرائی کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ پوری انسانیت کے لئے اس عظیم مہم میں کود رہے ہیں ، اس مہم کے نتائج صرف انہی کے لئے مفید نہ ہوں گے ، بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے مفید ہوں گے کیونکہ اس کے نتیجے میں ایمان اور نظریات کی آزادی کے بنیادی حقوق قائم ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی جواز فراہم کرتی ہے کہ ان کو اپنے گھروں اور اپنے ملک سے بغیر کسی جواز کے نکالا گیا ہے۔ الذین اخرجوا من دیار ھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا لالہ (22 : 30) ” یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے۔ “ حالانکہ یہ بہت ہی سچی بات تھی جو کبھی کہی جاسکتی ہے۔ یہ اس بات کی نہایت ہی مستحق تھی کہ اسے بار بار دہرایا جائے۔ جب اس بات کی وجہ سے ان لوگوں کا اخراج عمل میں آیا تو یہ کھلی سرکشی اور ظلم تھا اور اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ مظلوموں کی جانب سے کوئی ذاتی دشمنی کسی کے ساتھ نہ تھی ، محض ان کا نظریہ ہی تھا جس کی وجہ سے ان کو نکال دیا گیا۔ اس کشمکش میں اس دنیا کے مفادات میں سے بھی کسی مفاد کا دخل نہ تھا کہ کوئی مفادات ، خواہشات یا کسی طمع و لالچ کا بہانہ کرسکے۔ یا ہمدردیں اور کسی اور ذاتی پسند و ناپسند کا بہانہ بنایا جاسکے۔ یہ صرف نظریاتی جنگ تھی۔ پھر یہ بھی ایک عمومی اصول ہے کہ کسی بھی نظریہ کے لئے قوت مدافعت کی بےحد ضرورت ہوتی ہے۔ ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوت و مسجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً (22 : 30) ” اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجے اور معبد اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ، سب مسمار کر ڈالی جائیں۔ “ صومعہ عبادت کی اس جگہ کو کہا جاتا ہے ، جہاں راہب عبادت کرتے ہیں۔ بیع نصاریٰ کی عبادت گاہ ہے۔ یہ صومعہ سے زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ صلوت یہودیوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں۔ مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہیں ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ مقامات اللہ کی عبادت کے لئے مخصوص اور مقدس ہیں لیکن یہ سب مسمار ہو سکتے ہیں اگر ان کی شت پر قوت مدافعت نہ ہو۔ اہل باطل کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان مقامات پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے بلکہ ان مقامات کی حمایت اور ان کا بچائو تب ہی ہو سکتا ہے کہ کسی عقیدے کے حامی اس کی پشت پر ہوں اور ان کے اندر قوت مدافعت بھی ہو اور وہ اپنے عقیدہ کے احترام کو بزور قوت دشمن سے منوا بھی سکتے ہوں۔ باطل تو سرکش ہوتا ہے وہ تب ہی رکتا ہے جب اس جیسی قوت اس کے مقابل کے پاس بھی ہو جس پر باطل حملہ آ ور ہو رہا ہے۔ محض اس لئے کہ حق ، حق ہے۔ باطل حملہ آور ہونے سے نہ رکے گا۔ لہٰذا حق کی پشت پر بھی ایک مساوی بلکہ برتر قوت ہونی چاہئے جو اس کا دفاع کرسکے۔ یہ ایک کلی فائدہ ہے جب تک انسان ہے ایسا ہی ہوگا۔ یہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم ان نصوص قرآنیہ پر غور کریں جن کے الفاظ تو بہت کم ہیں لیکن ان کے معانی بہت ہی وسیع ہیں۔ یہ نصوص انسانی نفس انسانی ، زندگی اور انسانی زندگی کے واقعات کے اہم رازوں پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قتال کی اجازت دے رہے ہی جن کے ساتھ مشرکین نے جنگ کی اور ان پر دست درازیاں کیں۔ یہ اس لئے کہ اللہ اہل ایمان سے مدافعت کی ذمہ داری لیتا ہے اور اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ خیانت گر اہل کفر اہل اسلام پر دست درازیاں کریں۔ ان اللہ یدفع ……کفور (22 : 38) ۔ ” اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لاتے ہیں یقینا اللہ کسی خائن کا فر نعمت کو پسند نہیں کرتا۔ “ اللہ نے مسلمانوں کو یہ یہ ضمانت دے دی کہ وہ ان کی جانب سے مدافعت کرے گا اور جس کی مدافعت اللہ کرے تو یہ بات یقینی ہے کہ دشمن اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔ وہ اپنے دشمن پر غالب ہوگا ، تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ پھر ان کو قتال کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟ پھر جہاد کیوں فرض کیا گیا ہے ؟ پھر وہ کیوں لڑتے ہیں جس میں وہ قتل بھی ہوت یہیں ، زخمی بھی ہوتے ہیں اور ان کو جدوجہد اور مشقیں بھی کرنی ہوتی ہیں اور مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں اور قربانیاں بھی دینی ہوتی ہیں اور نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ غالب ہوتے ہیں حالانکہ اللہ بغیر ان کی جدوجہد کے بھی اور بغیر کسی مشقت اور قربانی کے بھی اور بغیر کسی قتل و قتال کے بھی ان کی جانب سے مدافعت کرسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کی حکمت اس باب میں بہت ہی گہری ار بہت ہی دور رس ہے۔ اللہ کی محبت اصل مقام تک پہنچنے والی ہے اور بہت ہی اونچی ہوتی ہے لیکن ہم جس قدر سمجھ سکے ہیں اور جس قدر ہماری عقلوں میں سمجھنے کی صلاحیت ہے اور جس قدر ہمارے تجربات ہیں ، ان کے مطابق جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ میری دعوت کے حاملین سست اور کاہل رہیں اور وہ نہایت ہی سستی سے بیٹھے رہیں اور ان پر اللہ کی نصرت آجائے اور وہ شہزادوں کی طرح بیٹھے ہوں۔ محض اس لئے کہ وہ قرآن پڑھتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں اور ہر حال میں اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ کام جو سب کے سب ضروری ہیں ان کو اس قابل نہیں بناتے کہ یہ لوگ دعوت اسلامی کی حمایت کریں اور اس کی جانب سے دفاع کریں۔ نماز ، عبادت ، اور دعاء تو ایک سپاہی کے لئے زاد راہ ہیں اور جنگ میں یہ اخلاقی قوت کا کام دیتے ہیں ، اہل ایمان کے پاس یہ مزید اسلحہ ہے جو دشمن کے پاس نہیں ہے۔ دشمن کے پاس جو روایتی اسلحہ ہے وہ مسلمان کے پاس بھی ہے اور تقویٰ ہے اور اتصال باللہ اس پر مزید ہے۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ مسلمانوں اور اہل ایمان کا دفاع وہ خود مسلمانوں اور اہل ایمان کے ذریعہ سے کرے تاکہ معرکہ آرائی کے دوران مسلمان پختہ ہوجائیں۔ اس لئے کہ انسانی شخصیت کے اندر موجود خفیہ قوتیں تب ہی بیدار ہوتی ہیں ، جب انسان کو خطرہ درپیش ہو ، اور انسان اپنی مدافعت کر رہا ہو۔ مقابلے اور جنگ میں انسان اپنی پوری قوت لے کر دشمن کے مقابلے میں نکل آتا ہے۔ ایسے حالات میں انسانی قوت کا ہر ہر خلیہ محترک اور تیار ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ دوسرے خلیوں کے ساتھ تعاون کرے اور مشرکہ کارروئیاں کرے۔ جس قدر قوت کی فراہمی اس سے ممکن ہو ، وہ فراہم کرے۔ غرض وہ اپنی قوت کا آخری ذرہ بھی نکال دے اور انسان اس مقام تک پہنچ جائے جو اس کے لئے مقدر ہوتا ہے۔ جو جماعت دعوت اسلامی کو لے کر اٹھتی ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوت کا ہر خلیہ اپنی قوت کا پورا ذخیرہ ، اپنی صلاحیتوں کا پورا جوہر ، اپنی تمام طاقتوں کو جمع کرتے ہوئے اس راہ پر لگا دے تاکہ خود اس کی تربیت اور ترقی مکمل ہو سکے ، وہ پختہ ہو سکے ار اس طرح وہ اس امانت کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہو سکے جو اس پر ڈالا گیا ہے۔ وہ نصرت اور کامرانی جس میں فتح یاب ہونے والے نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو ، اور جو کامیابی بڑی آسانی اور بغیر کانٹا چبھے حاصل ہوجائے ، اس کے نتیجے میں خود انسانی کارکنوں کی یہ حقیر صلاحیتیں نہیں ابھرتیں کیونکہ ان کے ظہور کے لئے کوئی محرک نہیں ہوتا ، مقابلہ اصل محرک ہوتا ہے۔ نیز جو کامیابی بڑے آرا م سے اور بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہے ، وہ اسی طرح آسانی سے ناکامی میں بدل جاتی ہے اور ضائع ہوجاتی ہے۔ چونکہ یہ مفت میں ہوتی ہے اور کامیاب ہونے والے نے اس کی کوئی قیمت ادا نہیں کی ہوتی ، اس لئے اس کی نظروں میں اس کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ پھر جن لوگوں کو یہ بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہے ان صلاحیتوں کو اس کے دماغ کا تجربہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کی خفیہ قوتیں جب اس کے حصول کے لئے بیدار نہیں ہوتیں تو اس کے دفاع کے لئے کیسے بیدار ہوں گی۔ لہٰذا ان کے لئے دفاع ممکن ہی نہیں رہتا۔ یہ عملی اور یہ وجدانی تربیت انسان کو تب حاصل ہوتی ہے کہ اسے فتح بھی ہوئی ہو اور ہزیمت بھی اٹھانی پڑی ہو۔ اس کا کرو فر بھی دیکھا ہو ، قوت اور ضعف بھی دیکھا ہو ، اقدام اور پسپائی دونوں دیکھی ہوں اور دونوں کی خوشی اور کڑوا پن چکھا ہو۔ امید و بیم ، خوشی اور غم ، اطمینان اور قلق ، ضعف کا احساس اور قوت کا شعور یہ سب کچھ اس نے میدان جنگ میں دیکھا ہو۔ نیز اس نے نظریات کا اتحاد اور نظریاتی انتشار بھی دیکھا ہو۔ مختلف رجحانات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا تجربہ وہ کرتا ہے۔ جاعت کے اندر قوت کے مراکز اور ضعف کے مقامات سے وہ باخبر ہو اور ہر قسم کے حالات میں معاملات کی تدبیر کو وہ جانتا ہو۔ یہ تمام مراحل اس جماعت اور گروہ کے لئے ضروری ہیں جس نے دعوت اسلامی کو لے کر چلنا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کوئی عملاً معرکے میں نہ اترے۔ اس وجہ سے اور اس کے علاوہ مزید خفیہ حکمتوں کی وجہ سے جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے ، اللہ نے یہ طے کیا کہ وہ مسلمانوں کا دفاع خود مسلمانوں کے ذریعے کرے اور ایسا نہیں فرمایا کہ یہ ایک لقمہ تر ہوگا جو ان کے لئے آسمانوں سے پکا پکایا اتر جائے۔ بعض اوقات ایسے مظلوموں پر نصرت کا نزول دیر کردیتا ہے جن کو اپنے گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم محض اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے رب کو ایک سمجھتے ہیں۔ صرف اللہ کو رب سمجھتے ہیں لیکن اس میں اللہ کی گہری حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات نصرت لیٹ ہوجاتی ہے کیونکہ دعوت اسلامی کے حاملین ابھی پختہ نہیں ہوئے ہوتے اور ان میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ ان کی قوتیں مجتمع نہیں ہوتیں۔ اسلامی عناصر نے اپنی قوتوں کے تمام ذخائر کو میدان میں نہیں اتارا ہوا ہوتا ہے۔ اگر ایسی ناپختگی کی حالت میں اللہ کی نصرت آجائے تو وہ جلد ہی اسے کھودیں گی۔ بعض اوقات نصرت اس لئے بھی دیر کردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے کہ مومن اپنی پوری قوت اس راہ میں جھونک دیں۔ اپنا آخری سرمایہ اور قوت نچوڑ کر ختم کردیں اور کوئی چیز ذخیرہ کر کے نہ رکھیں اور اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیں۔ جب تک انہوں نے ایسا نہیں کیا ہوتا ، نصرت نہیں آتی۔ بعض اوقات اس لئے بھی نصرت نہیں آتی کہ اللہ اہل ایمان کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے تمام حربے آزما لیں اور ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ نصرت صرف ان کی قوتوں کی وجہ سے ہی سے نہیں آتی بلکہ اللہ کی نصرت تب آتی ہے جب اہل ایمان اپنی قوت ، اپنی دولت اور اپنی صلاحیتوں کا آخری ذخیرہ بھی ختم کردیں اور ان کے سامنے صرف اللہ کی مدد کا ذخیرہ رہ جائے تب مدد آپہنچتی ہے۔ بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی مئوخر ہوجاتی ہے کہ امت مومنہ کا تعلق باللہ معیار مطلوب تک پہنچ جائے ، اسے مشکلات پیش آئیں اور وہ برداشت کرے ، اسے المناک نتائج سے دوچار ہونا پڑے اور وہ صبر کرے اور اسے اپنی پوری قوتیں صرف کرنے کا موقع ملے اور حالت یہ ہوجائے کہ اللہ کے سوا کوئی اور سہارا نہ رہغے اور اللہ کے سوا توجہات مرکوز کرنے کا اور کوئی نکتہ نہ رہے۔ یہ تعلق باللہ پھر اس بات کی بھی ضمانت ہوتا ہے کہ نصرت آنے اور فتح ملنے کے بعد امت سیدھی راہ پر گامزن رہتی ہے۔ وہ پھر پنی راہ نہیں چھوڑتی ۔ وہ سچائی ، عدل اور بھلائی کا راستہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی جس کی وجہ سے اسے فتح نصیب ہوتی ہے۔ بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی نہیں آتی کہ امت اپنی جدوجہد ، اپنے انفاق اور اپنی قربانیوں میں خالص رضائے الٰہی کے لئے کام نہیں آتی۔ اس کی جنگ مفادات کے لئے ہوتی ہے ، یا وہ ذاتی رنجش کی وجہ سے لڑتی ہے ، یا اس کی جدوجہد میں دکھاوا ہوتا ہے ، حالانکہ اللہ کا منشا یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد صرف ال لہ کے لئے ہو ، صرف اللہ کے راستے میں ہو۔ اس کے ساتھ کوئی اور سوچ وابستہ نہ ہو ، کارکنوں کے شعور اور لاشعور میں رضائے الٰہی کے سوا کوئی اور مقصد نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کسی حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے یا شجاعت کی وجہ سے لڑتا ہے یا شخصیت کے اظہار کے لئے لڑتا ہے تو ان میں سے کون سی جنگ فی سبیل اللہ ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا۔ من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا ” جس نے اس لئے جنگ کی کہ اللہ کا کلما بلند ہو تو صرف یہ فی سبیل اللہ ہے۔ “ بعض اوقات اسلامی عناصر کو اس لئے بھی کامیابی نہیں ہوتی کہ جس شر کے مقابلے میں امت کام کر رہی ہوتی اس میں خیر کا کوئی پہلو ہوتا ہے۔ اللہ اس شر کو مہلت دیئے جاتا ہے تاکہ شرک و اس خبر سے تہی دامن کر دے تاکہ اگر ہلاکت آئے تو خالص شر پر آئے اور اس میں خیر کا کوئی پہلو نہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ شر کے ساتھ خیر کا ایک ذرہ بھی ضائع ہوجائے۔ بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی نہیں آتی کہ جس باطل کے خلاف امت مسلمہ اور جماعت مومنہ برسر پیکار ہوتی ہے اس کا کھوٹ عوام الناس کی نظروں میں آشکار اور پوری طرح واضح نہیں ہوا ہوتا۔ ایسے حالات میں اگر شر کو شکست دے دی جائے تو شر کو بھی معاشرے میں سے بعض ایسے لوگ حامی و مددگار مل جائیں گے جنہوں نے ابھی تک شر کے کھوٹ کو سمجھا نہیں ہوتا اور وہ اس کے فساد ، زوال کو سمجھے ہی نہیں ہوتے اور اس پر مطمئن نہیں ہوتے لہٰذا اس شر کی بعض جڑیں نیک لوگوں کے ذہنوں میں بھی ہوتی ہیں ، جو حقیقت سے بیخبر ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ باطل کو ایک عرصہ تک برسر اقتدار رکھتا ہے تاکہ تمام لوگوں کے ذہن صاف ہوجائیں اور جب وہ نیست و نابود ہوجائے تو اس پر رونے والی ایک آنکھ بھی معاشرے میں موجود نہ ہو۔ بعض اوقات نصرت میں دیر اس لئے بھی ہوتی ہے کہ معاشرہ ابھی تک قبول حق کے لئے ہی تیار نہیں ہوتا اور سچائی کو اٹھانے کے اہل بھی نہیں ہوتا۔ جس کی حامل اور داعی جماعت مومنہ ہوتی ہے۔ اگر ایسے حالات میں حق کو نصرت بھی مل جائے تو بھی اسے قرار نصیب نہیں ہوتا اور خود معاشرہ کے اندر سے ردعمل شروع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی مشیت ہوتی ہے کہ کچھ مزید عرصے کے لئے حق و باطل کی کشمکش جاری رہے تاکہ معاشرہ سچائی کے استقبال کے لئے تیار ہوجائے۔ یہ وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان کے علاوہ اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کو صرف اللہ جانتا ہے ۔ کبھی کبھار ، نصرت الٰہی میں دیر لگ جاتی ہے۔ کارکنوں کو زیادہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، ان پر مصائب بڑھ جاتے ہیں ، لیکن آخر کار فتح و نصرت جماعت مومنہ کے لئے ہوتی ہے اور جدوجہد کے زمانے میں اللہ کی ضمانت دفاع بہرحال اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حصول نصرت کی کچھ شرائط ہیں۔ کچھ تقاضے ہیں جو پورے کرنے پڑتے ہیں۔ اس کی ایک قیمت ہے جو ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس کے کچھ اسباب ہوتے ہیں جو فراہم کرنے پڑتے ہیں اور اس کے لئے ایک مخصوص فضا ہوتی ہے جو پیدا کرنا پڑتی ہے (یاد رہے کہ یہ محض من اور سلویٰ نہیں ہے۔ ) ولینصرن اللہ ………عاقبۃ الامور (22 : 31) ” اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے ، اللہ بڑا طاقتور ہے اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں ، زکوۃ دیں ، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کی کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کا تاکیدی وعدہ ہے ، نہایت ہی باوثوق وعدہ ہے ، اٹل قاعدہ ہے کہ جو اس کی نصرت کرے گا تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا لیکن یہ سوالیہ نشان اپنی جگہ ضرور ہے کہ اللہ کن لوگوں کی نصرت کرتا ہے ، تاکہ ان کو نصرت کا مستحق سمجھا جائے۔ کیونکہ اللہ تو قوی ہے ، عزیز ہے ، اس کے موالے تو کبھی شکست نہیں کھاتے تو وہ کون ہیں ؟ وہ یہ ہیں ؟ الذین ان مکنھم فی الارض (22 : 31) ” یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم اقتدار ” بخشیں “ ۔ نصرت آجائے اور ان کا اقتدار اعلیٰ قائم ہوجائے تو اقاموا الصلوۃ (22 : 31) ” نماز قائم کریں گے۔ “ اللہ کی بندگی کریں گے اور اللہ کی طرف نہایت ہی مطیع فرمان ہو کر ، عاجز ہو کر ، سرتسلیم خم کرتے ہوئے رجوع کریں گے۔ واتوا الزکوۃ (22 : 31) ” زکوۃ دیں گے۔ “ مال کا حق ادا کریں گے۔ نفس کی فطری کنجوسی پر قابو پائیں گے۔ اسے حرص و آز سے پاک کریں گے۔ شیطان کے وسوسوں پر غلبہ پائیں گے ، جماعت اور سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے رخنے دور کریں گے۔ ضعیفوں اور محتاجوں کا حق ادا کریں گے ، ان کو ایک زندہ جسم کے حقوق دیں گے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا ” مومن باہم محبت ، باہم ہمدردی ، بامہ رحم و کرم میں جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں ، اگر جسم کے کسی ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم بےچین ہوتا ہے اور تمام جسم بےخوابی کا شکار ہوتا ہے۔ وامروابالمعروف (22 : 31) ” نیکی کا حکم دیں گے “ وہ نیکی اور اصلاح کے داعی بھی ہوں گے لوگوں کو زبردستی بھی نیکی پر آمادہ کریں گے۔ ونھوا عن المنکر (22 : 31) ” اور وہ برائی سے منع کریں گے۔ “ شر و فساد کا مقابلہ کریں گے۔ وہ امت مسلمہ کا یہ نشان بحال کریں گے کہ وہ منکر کو برداشت نہیں کرتے اور اگر وہ اسے دفع کرسکتی ہو تو دفع کرتی ہے اور اگر وہ معروف قائم کرسکتی ہے تو قائم کرے گی۔ ایسے لوگ اللہ کی نصرت کے مستحق ہوت یہیں جو اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے پوری جدوجہد کریں۔ صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہوں ، کسی اور پر نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کی مدد ہوگی۔ لہٰذا اللہ کی نصرت کا وعدہ قائم ہے اسباب نصرت پر۔ نصرت کے تقاضے پورے کرنے پر اس کے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرنے پر ، اس کے بعد بھی بات اللہ کی مرضی پر ہے۔ وہ اپنی مخلوق کے اندر جس طرح چاہتا ہے ، تصرفات کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ شکست کو فتح میں بدل دیتا ہے اور بعض اوقات فتح کو ہزیمت میں بدل دیتا ہے۔ خصوصاً جب نصرت کے بنیادی عناصر ہیں ، خلل آجائے اور لوگ ذمہ داریاں اور تقاضے پورے نہ کریں۔ وللہ عاقبۃ الامور (22 : 31) ” اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ “ اللہ کی نصرت وہ ہوتی ہے جس کے ذریعہ اسلامی نظام زندگی قائم ہو ، حق ، انصاف ، آزادی اور خیر و اصلاح کا دور دورہ ہو۔ پیش نظر اعلیٰ مقاصد ہوں نہ کہ کچھ افراد ، اشخاص ، شخصیات اور ان کے ذاتی مقاصد کو پس پشت ڈال کر بلند اصولوں کو سامنے رکھنا ہوگا تب نصرت الٰہی حاصل ہوگی۔ بہرحال نصرت الٰہی کے اسباب ہوتے ہیں۔ اس کی قیمت پیشگی ادا کرنا ہوتی ہے۔ اس کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ بعض شرائط لازمی ہوتی ہے۔ یہ نصرت کسی کو مفت میں نہیں ملتی نہ اللہ کو کسی کے ساتھ محبت ہوتی ہے اور نصرت اس شخص کو نہیں ملتی نہ اس جماعت کو ملتی ہے جو اس کے مقاصد اور تقاضے پورے نہ کرتی ہو۔

الحج 22:39

ان اللہ ……عاقبۃ الامور (41) اس کرہ ارض پر شر کی قوتیں ہر وقت کام کرتی ہیں ، خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ ہر وقت برپا رہتا ہے اور یہ معرکہ اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے اس کرہ ارض پر انسان کو پیدا کر کے بھیجا ہے۔ شرہمیشہ سرکش ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ قوت اور اسلحہ سے لیس ہوتا ہے۔ شر کی گرفت بےرحمانہ ہوتی ہے اور اس کی مار بےترسی سے ہوتی یہ۔ اگر اللہ کے کچھ بندوں کو راہ ہدایت معلوم ہوجائے تو وہ ان کی راہ روکتا ہے اور ان کو حق سے دور ہٹاتا ہے ، اگر کسی کا دل حق کے لئے کھل جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایمان ، حق اور بھلائی کی پشت پر بھی قوت ہو ، تاکہ باطل کی پکڑ ، سرکشی ، فتنے اور زیادتی سے اسے روکا جاسکے اور حق کو دشمنوں اور سختیوں سے بچایا جائے۔ اللہ کا منشا یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایمان ، بھلائی اور سچائی کو اس طرح کمزور چھوڑ دیا جائے کہ وہ میدان میں باطل کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اس سلسلہ میں اہل حق کے دلوں میں پائیج انے والی قوت ایمانی پر زیادہ سے زیادہ بھروسہ کیا جاتا ہے اور انسانی فطرت اور انسانی ضمیر میں حق کے ولولہ سے کام لیا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر باطل قوتوں کے مقابلے میں حق کی کوئی قوت نہ ہو تو اہل حق اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے قدم ڈگمگا سکتے ہیں۔ اہل حق کی فطرت کو بھی بگاڑا جاسکتا ہے۔ کیونکہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور مصائب برداشت کرنے کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے اور ایک حد پر جا کر انسانی قوتیں جواب دے دیتی ہیں۔ اللہ لوگوں کے قلوب و نفوس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے یہ نہیں چاہا کہ اہل ایمان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آزمائش میں ڈال دیا جائے۔ ہاں اس حد تک قوت کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے کہ جب وہ مقابلے کی تیاری کر رہے ہوں۔ دفاع کی تیاریاں ہو رہی ہوں اور وسائل جہاد جمع کئے جا رہے ہوں جب وہ یہ کام کر چکیں تو پھر ان کو قتال کی اجازت ہے تاکہ وہ اہل کفر کی دست درازیوں کا رد کرسکیں۔ اذن قتال دینے سے قبل اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ وہ خود اہل ایمان کی طرف سے دفاع کرتے ہیں اور یہ کہ اللہ ان کی نصرت اور تعاون پر قدرت رکھتے ہیں۔ ان اللہ یدفع عن الذین امنوا (22 : 38) ” یقینا اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں۔ “ اللہ اہل ایمان کے دشمنوں کو پسند نہیں کرتا کیونکہ انہوں نے حق کا انکار کیا ہے اور وہ خائن بھی ہیں۔ لہٰذا یقینا ان کو رسوا کر کے رہے گا۔ ان اللہ لایحب کل خوان کفور (22 : 38) ” بیشک اللہ کسی خائن اور کفران نعمت کرنے الے کو پسند نہیں کرتا۔ “ اللہ نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ اہل ایمان کو اپنے دفاع کا پورا پورا حق پہنچتا ہے ، ان کا موقف درست ہے ، آداب جنگ کے اعتبار سے بھی کیونکہ وہ مظلوم ہیں ، وہ جارحیت کے مرتکب ہرگز نہیں ہوئے اور نہ ہی وہ سرکشی کرنے الے ہیں۔ اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا (22 : 39) ” اجازت دے دی گئی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے ، کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ “ ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی اس حمایت پر مطمئن ہوجائیں۔ اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا۔ وان اللہ علی نصر ھم لقدیر (22 : 39) ” اور اللہ یقینا کی مدد پر قادر ہے۔ “ ان کو اس معرکہ آرائی کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ پوری انسانیت کے لئے اس عظیم مہم میں کود رہے ہیں ، اس مہم کے نتائج صرف انہی کے لئے مفید نہ ہوں گے ، بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے مفید ہوں گے کیونکہ اس کے نتیجے میں ایمان اور نظریات کی آزادی کے بنیادی حقوق قائم ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی جواز فراہم کرتی ہے کہ ان کو اپنے گھروں اور اپنے ملک سے بغیر کسی جواز کے نکالا گیا ہے۔ الذین اخرجوا من دیار ھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا لالہ (22 : 30) ” یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے۔ “ حالانکہ یہ بہت ہی سچی بات تھی جو کبھی کہی جاسکتی ہے۔ یہ اس بات کی نہایت ہی مستحق تھی کہ اسے بار بار دہرایا جائے۔ جب اس بات کی وجہ سے ان لوگوں کا اخراج عمل میں آیا تو یہ کھلی سرکشی اور ظلم تھا اور اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ مظلوموں کی جانب سے کوئی ذاتی دشمنی کسی کے ساتھ نہ تھی ، محض ان کا نظریہ ہی تھا جس کی وجہ سے ان کو نکال دیا گیا۔ اس کشمکش میں اس دنیا کے مفادات میں سے بھی کسی مفاد کا دخل نہ تھا کہ کوئی مفادات ، خواہشات یا کسی طمع و لالچ کا بہانہ کرسکے۔ یا ہمدردیں اور کسی اور ذاتی پسند و ناپسند کا بہانہ بنایا جاسکے۔ یہ صرف نظریاتی جنگ تھی۔ پھر یہ بھی ایک عمومی اصول ہے کہ کسی بھی نظریہ کے لئے قوت مدافعت کی بےحد ضرورت ہوتی ہے۔ ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوت و مسجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً (22 : 30) ” اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجے اور معبد اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ، سب مسمار کر ڈالی جائیں۔ “ صومعہ عبادت کی اس جگہ کو کہا جاتا ہے ، جہاں راہب عبادت کرتے ہیں۔ بیع نصاریٰ کی عبادت گاہ ہے۔ یہ صومعہ سے زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ صلوت یہودیوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں۔ مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہیں ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ مقامات اللہ کی عبادت کے لئے مخصوص اور مقدس ہیں لیکن یہ سب مسمار ہو سکتے ہیں اگر ان کی شت پر قوت مدافعت نہ ہو۔ اہل باطل کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان مقامات پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے بلکہ ان مقامات کی حمایت اور ان کا بچائو تب ہی ہو سکتا ہے کہ کسی عقیدے کے حامی اس کی پشت پر ہوں اور ان کے اندر قوت مدافعت بھی ہو اور وہ اپنے عقیدہ کے احترام کو بزور قوت دشمن سے منوا بھی سکتے ہوں۔ باطل تو سرکش ہوتا ہے وہ تب ہی رکتا ہے جب اس جیسی قوت اس کے مقابل کے پاس بھی ہو جس پر باطل حملہ آ ور ہو رہا ہے۔ محض اس لئے کہ حق ، حق ہے۔ باطل حملہ آور ہونے سے نہ رکے گا۔ لہٰذا حق کی پشت پر بھی ایک مساوی بلکہ برتر قوت ہونی چاہئے جو اس کا دفاع کرسکے۔ یہ ایک کلی فائدہ ہے جب تک انسان ہے ایسا ہی ہوگا۔ یہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم ان نصوص قرآنیہ پر غور کریں جن کے الفاظ تو بہت کم ہیں لیکن ان کے معانی بہت ہی وسیع ہیں۔ یہ نصوص انسانی نفس انسانی ، زندگی اور انسانی زندگی کے واقعات کے اہم رازوں پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قتال کی اجازت دے رہے ہی جن کے ساتھ مشرکین نے جنگ کی اور ان پر دست درازیاں کیں۔ یہ اس لئے کہ اللہ اہل ایمان سے مدافعت کی ذمہ داری لیتا ہے اور اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ خیانت گر اہل کفر اہل اسلام پر دست درازیاں کریں۔ ان اللہ یدفع ……کفور (22 : 38) ۔ ” اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لاتے ہیں یقینا اللہ کسی خائن کا فر نعمت کو پسند نہیں کرتا۔ “ اللہ نے مسلمانوں کو یہ یہ ضمانت دے دی کہ وہ ان کی جانب سے مدافعت کرے گا اور جس کی مدافعت اللہ کرے تو یہ بات یقینی ہے کہ دشمن اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔ وہ اپنے دشمن پر غالب ہوگا ، تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ پھر ان کو قتال کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟ پھر جہاد کیوں فرض کیا گیا ہے ؟ پھر وہ کیوں لڑتے ہیں جس میں وہ قتل بھی ہوت یہیں ، زخمی بھی ہوتے ہیں اور ان کو جدوجہد اور مشقیں بھی کرنی ہوتی ہیں اور مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں اور قربانیاں بھی دینی ہوتی ہیں اور نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ غالب ہوتے ہیں حالانکہ اللہ بغیر ان کی جدوجہد کے بھی اور بغیر کسی مشقت اور قربانی کے بھی اور بغیر کسی قتل و قتال کے بھی ان کی جانب سے مدافعت کرسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کی حکمت اس باب میں بہت ہی گہری ار بہت ہی دور رس ہے۔ اللہ کی محبت اصل مقام تک پہنچنے والی ہے اور بہت ہی اونچی ہوتی ہے لیکن ہم جس قدر سمجھ سکے ہیں اور جس قدر ہماری عقلوں میں سمجھنے کی صلاحیت ہے اور جس قدر ہمارے تجربات ہیں ، ان کے مطابق جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ میری دعوت کے حاملین سست اور کاہل رہیں اور وہ نہایت ہی سستی سے بیٹھے رہیں اور ان پر اللہ کی نصرت آجائے اور وہ شہزادوں کی طرح بیٹھے ہوں۔ محض اس لئے کہ وہ قرآن پڑھتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں اور ہر حال میں اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ کام جو سب کے سب ضروری ہیں ان کو اس قابل نہیں بناتے کہ یہ لوگ دعوت اسلامی کی حمایت کریں اور اس کی جانب سے دفاع کریں۔ نماز ، عبادت ، اور دعاء تو ایک سپاہی کے لئے زاد راہ ہیں اور جنگ میں یہ اخلاقی قوت کا کام دیتے ہیں ، اہل ایمان کے پاس یہ مزید اسلحہ ہے جو دشمن کے پاس نہیں ہے۔ دشمن کے پاس جو روایتی اسلحہ ہے وہ مسلمان کے پاس بھی ہے اور تقویٰ ہے اور اتصال باللہ اس پر مزید ہے۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ مسلمانوں اور اہل ایمان کا دفاع وہ خود مسلمانوں اور اہل ایمان کے ذریعہ سے کرے تاکہ معرکہ آرائی کے دوران مسلمان پختہ ہوجائیں۔ اس لئے کہ انسانی شخصیت کے اندر موجود خفیہ قوتیں تب ہی بیدار ہوتی ہیں ، جب انسان کو خطرہ درپیش ہو ، اور انسان اپنی مدافعت کر رہا ہو۔ مقابلے اور جنگ میں انسان اپنی پوری قوت لے کر دشمن کے مقابلے میں نکل آتا ہے۔ ایسے حالات میں انسانی قوت کا ہر ہر خلیہ محترک اور تیار ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ دوسرے خلیوں کے ساتھ تعاون کرے اور مشرکہ کارروئیاں کرے۔ جس قدر قوت کی فراہمی اس سے ممکن ہو ، وہ فراہم کرے۔ غرض وہ اپنی قوت کا آخری ذرہ بھی نکال دے اور انسان اس مقام تک پہنچ جائے جو اس کے لئے مقدر ہوتا ہے۔ جو جماعت دعوت اسلامی کو لے کر اٹھتی ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوت کا ہر خلیہ اپنی قوت کا پورا ذخیرہ ، اپنی صلاحیتوں کا پورا جوہر ، اپنی تمام طاقتوں کو جمع کرتے ہوئے اس راہ پر لگا دے تاکہ خود اس کی تربیت اور ترقی مکمل ہو سکے ، وہ پختہ ہو سکے ار اس طرح وہ اس امانت کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہو سکے جو اس پر ڈالا گیا ہے۔ وہ نصرت اور کامرانی جس میں فتح یاب ہونے والے نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو ، اور جو کامیابی بڑی آسانی اور بغیر کانٹا چبھے حاصل ہوجائے ، اس کے نتیجے میں خود انسانی کارکنوں کی یہ حقیر صلاحیتیں نہیں ابھرتیں کیونکہ ان کے ظہور کے لئے کوئی محرک نہیں ہوتا ، مقابلہ اصل محرک ہوتا ہے۔ نیز جو کامیابی بڑے آرا م سے اور بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہے ، وہ اسی طرح آسانی سے ناکامی میں بدل جاتی ہے اور ضائع ہوجاتی ہے۔ چونکہ یہ مفت میں ہوتی ہے اور کامیاب ہونے والے نے اس کی کوئی قیمت ادا نہیں کی ہوتی ، اس لئے اس کی نظروں میں اس کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ پھر جن لوگوں کو یہ بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہے ان صلاحیتوں کو اس کے دماغ کا تجربہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کی خفیہ قوتیں جب اس کے حصول کے لئے بیدار نہیں ہوتیں تو اس کے دفاع کے لئے کیسے بیدار ہوں گی۔ لہٰذا ان کے لئے دفاع ممکن ہی نہیں رہتا۔ یہ عملی اور یہ وجدانی تربیت انسان کو تب حاصل ہوتی ہے کہ اسے فتح بھی ہوئی ہو اور ہزیمت بھی اٹھانی پڑی ہو۔ اس کا کرو فر بھی دیکھا ہو ، قوت اور ضعف بھی دیکھا ہو ، اقدام اور پسپائی دونوں دیکھی ہوں اور دونوں کی خوشی اور کڑوا پن چکھا ہو۔ امید و بیم ، خوشی اور غم ، اطمینان اور قلق ، ضعف کا احساس اور قوت کا شعور یہ سب کچھ اس نے میدان جنگ میں دیکھا ہو۔ نیز اس نے نظریات کا اتحاد اور نظریاتی انتشار بھی دیکھا ہو۔ مختلف رجحانات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا تجربہ وہ کرتا ہے۔ جاعت کے اندر قوت کے مراکز اور ضعف کے مقامات سے وہ باخبر ہو اور ہر قسم کے حالات میں معاملات کی تدبیر کو وہ جانتا ہو۔ یہ تمام مراحل اس جماعت اور گروہ کے لئے ضروری ہیں جس نے دعوت اسلامی کو لے کر چلنا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کوئی عملاً معرکے میں نہ اترے۔ اس وجہ سے اور اس کے علاوہ مزید خفیہ حکمتوں کی وجہ سے جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے ، اللہ نے یہ طے کیا کہ وہ مسلمانوں کا دفاع خود مسلمانوں کے ذریعے کرے اور ایسا نہیں فرمایا کہ یہ ایک لقمہ تر ہوگا جو ان کے لئے آسمانوں سے پکا پکایا اتر جائے۔ بعض اوقات ایسے مظلوموں پر نصرت کا نزول دیر کردیتا ہے جن کو اپنے گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم محض اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے رب کو ایک سمجھتے ہیں۔ صرف اللہ کو رب سمجھتے ہیں لیکن اس میں اللہ کی گہری حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات نصرت لیٹ ہوجاتی ہے کیونکہ دعوت اسلامی کے حاملین ابھی پختہ نہیں ہوئے ہوتے اور ان میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ ان کی قوتیں مجتمع نہیں ہوتیں۔ اسلامی عناصر نے اپنی قوتوں کے تمام ذخائر کو میدان میں نہیں اتارا ہوا ہوتا ہے۔ اگر ایسی ناپختگی کی حالت میں اللہ کی نصرت آجائے تو وہ جلد ہی اسے کھودیں گی۔ بعض اوقات نصرت اس لئے بھی دیر کردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے کہ مومن اپنی پوری قوت اس راہ میں جھونک دیں۔ اپنا آخری سرمایہ اور قوت نچوڑ کر ختم کردیں اور کوئی چیز ذخیرہ کر کے نہ رکھیں اور اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیں۔ جب تک انہوں نے ایسا نہیں کیا ہوتا ، نصرت نہیں آتی۔ بعض اوقات اس لئے بھی نصرت نہیں آتی کہ اللہ اہل ایمان کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے تمام حربے آزما لیں اور ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ نصرت صرف ان کی قوتوں کی وجہ سے ہی سے نہیں آتی بلکہ اللہ کی نصرت تب آتی ہے جب اہل ایمان اپنی قوت ، اپنی دولت اور اپنی صلاحیتوں کا آخری ذخیرہ بھی ختم کردیں اور ان کے سامنے صرف اللہ کی مدد کا ذخیرہ رہ جائے تب مدد آپہنچتی ہے۔ بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی مئوخر ہوجاتی ہے کہ امت مومنہ کا تعلق باللہ معیار مطلوب تک پہنچ جائے ، اسے مشکلات پیش آئیں اور وہ برداشت کرے ، اسے المناک نتائج سے دوچار ہونا پڑے اور وہ صبر کرے اور اسے اپنی پوری قوتیں صرف کرنے کا موقع ملے اور حالت یہ ہوجائے کہ اللہ کے سوا کوئی اور سہارا نہ رہغے اور اللہ کے سوا توجہات مرکوز کرنے کا اور کوئی نکتہ نہ رہے۔ یہ تعلق باللہ پھر اس بات کی بھی ضمانت ہوتا ہے کہ نصرت آنے اور فتح ملنے کے بعد امت سیدھی راہ پر گامزن رہتی ہے۔ وہ پھر پنی راہ نہیں چھوڑتی ۔ وہ سچائی ، عدل اور بھلائی کا راستہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی جس کی وجہ سے اسے فتح نصیب ہوتی ہے۔ بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی نہیں آتی کہ امت اپنی جدوجہد ، اپنے انفاق اور اپنی قربانیوں میں خالص رضائے الٰہی کے لئے کام نہیں آتی۔ اس کی جنگ مفادات کے لئے ہوتی ہے ، یا وہ ذاتی رنجش کی وجہ سے لڑتی ہے ، یا اس کی جدوجہد میں دکھاوا ہوتا ہے ، حالانکہ اللہ کا منشا یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد صرف ال لہ کے لئے ہو ، صرف اللہ کے راستے میں ہو۔ اس کے ساتھ کوئی اور سوچ وابستہ نہ ہو ، کارکنوں کے شعور اور لاشعور میں رضائے الٰہی کے سوا کوئی اور مقصد نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کسی حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے یا شجاعت کی وجہ سے لڑتا ہے یا شخصیت کے اظہار کے لئے لڑتا ہے تو ان میں سے کون سی جنگ فی سبیل اللہ ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا۔ من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا ” جس نے اس لئے جنگ کی کہ اللہ کا کلما بلند ہو تو صرف یہ فی سبیل اللہ ہے۔ “ بعض اوقات اسلامی عناصر کو اس لئے بھی کامیابی نہیں ہوتی کہ جس شر کے مقابلے میں امت کام کر رہی ہوتی اس میں خیر کا کوئی پہلو ہوتا ہے۔ اللہ اس شر کو مہلت دیئے جاتا ہے تاکہ شرک و اس خبر سے تہی دامن کر دے تاکہ اگر ہلاکت آئے تو خالص شر پر آئے اور اس میں خیر کا کوئی پہلو نہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ شر کے ساتھ خیر کا ایک ذرہ بھی ضائع ہوجائے۔ بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی نہیں آتی کہ جس باطل کے خلاف امت مسلمہ اور جماعت مومنہ برسر پیکار ہوتی ہے اس کا کھوٹ عوام الناس کی نظروں میں آشکار اور پوری طرح واضح نہیں ہوا ہوتا۔ ایسے حالات میں اگر شر کو شکست دے دی جائے تو شر کو بھی معاشرے میں سے بعض ایسے لوگ حامی و مددگار مل جائیں گے جنہوں نے ابھی تک شر کے کھوٹ کو سمجھا نہیں ہوتا اور وہ اس کے فساد ، زوال کو سمجھے ہی نہیں ہوتے اور اس پر مطمئن نہیں ہوتے لہٰذا اس شر کی بعض جڑیں نیک لوگوں کے ذہنوں میں بھی ہوتی ہیں ، جو حقیقت سے بیخبر ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ باطل کو ایک عرصہ تک برسر اقتدار رکھتا ہے تاکہ تمام لوگوں کے ذہن صاف ہوجائیں اور جب وہ نیست و نابود ہوجائے تو اس پر رونے والی ایک آنکھ بھی معاشرے میں موجود نہ ہو۔ بعض اوقات نصرت میں دیر اس لئے بھی ہوتی ہے کہ معاشرہ ابھی تک قبول حق کے لئے ہی تیار نہیں ہوتا اور سچائی کو اٹھانے کے اہل بھی نہیں ہوتا۔ جس کی حامل اور داعی جماعت مومنہ ہوتی ہے۔ اگر ایسے حالات میں حق کو نصرت بھی مل جائے تو بھی اسے قرار نصیب نہیں ہوتا اور خود معاشرہ کے اندر سے ردعمل شروع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی مشیت ہوتی ہے کہ کچھ مزید عرصے کے لئے حق و باطل کی کشمکش جاری رہے تاکہ معاشرہ سچائی کے استقبال کے لئے تیار ہوجائے۔ یہ وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان کے علاوہ اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کو صرف اللہ جانتا ہے ۔ کبھی کبھار ، نصرت الٰہی میں دیر لگ جاتی ہے۔ کارکنوں کو زیادہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، ان پر مصائب بڑھ جاتے ہیں ، لیکن آخر کار فتح و نصرت جماعت مومنہ کے لئے ہوتی ہے اور جدوجہد کے زمانے میں اللہ کی ضمانت دفاع بہرحال اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حصول نصرت کی کچھ شرائط ہیں۔ کچھ تقاضے ہیں جو پورے کرنے پڑتے ہیں۔ اس کی ایک قیمت ہے جو ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس کے کچھ اسباب ہوتے ہیں جو فراہم کرنے پڑتے ہیں اور اس کے لئے ایک مخصوص فضا ہوتی ہے جو پیدا کرنا پڑتی ہے (یاد رہے کہ یہ محض من اور سلویٰ نہیں ہے۔ ) ولینصرن اللہ ………عاقبۃ الامور (22 : 31) ” اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے ، اللہ بڑا طاقتور ہے اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں ، زکوۃ دیں ، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کی کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کا تاکیدی وعدہ ہے ، نہایت ہی باوثوق وعدہ ہے ، اٹل قاعدہ ہے کہ جو اس کی نصرت کرے گا تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا لیکن یہ سوالیہ نشان اپنی جگہ ضرور ہے کہ اللہ کن لوگوں کی نصرت کرتا ہے ، تاکہ ان کو نصرت کا مستحق سمجھا جائے۔ کیونکہ اللہ تو قوی ہے ، عزیز ہے ، اس کے موالے تو کبھی شکست نہیں کھاتے تو وہ کون ہیں ؟ وہ یہ ہیں ؟ الذین ان مکنھم فی الارض (22 : 31) ” یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم اقتدار ” بخشیں “ ۔ نصرت آجائے اور ان کا اقتدار اعلیٰ قائم ہوجائے تو اقاموا الصلوۃ (22 : 31) ” نماز قائم کریں گے۔ “ اللہ کی بندگی کریں گے اور اللہ کی طرف نہایت ہی مطیع فرمان ہو کر ، عاجز ہو کر ، سرتسلیم خم کرتے ہوئے رجوع کریں گے۔ واتوا الزکوۃ (22 : 31) ” زکوۃ دیں گے۔ “ مال کا حق ادا کریں گے۔ نفس کی فطری کنجوسی پر قابو پائیں گے۔ اسے حرص و آز سے پاک کریں گے۔ شیطان کے وسوسوں پر غلبہ پائیں گے ، جماعت اور سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے رخنے دور کریں گے۔ ضعیفوں اور محتاجوں کا حق ادا کریں گے ، ان کو ایک زندہ جسم کے حقوق دیں گے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا ” مومن باہم محبت ، باہم ہمدردی ، بامہ رحم و کرم میں جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں ، اگر جسم کے کسی ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم بےچین ہوتا ہے اور تمام جسم بےخوابی کا شکار ہوتا ہے۔ وامروابالمعروف (22 : 31) ” نیکی کا حکم دیں گے “ وہ نیکی اور اصلاح کے داعی بھی ہوں گے لوگوں کو زبردستی بھی نیکی پر آمادہ کریں گے۔ ونھوا عن المنکر (22 : 31) ” اور وہ برائی سے منع کریں گے۔ “ شر و فساد کا مقابلہ کریں گے۔ وہ امت مسلمہ کا یہ نشان بحال کریں گے کہ وہ منکر کو برداشت نہیں کرتے اور اگر وہ اسے دفع کرسکتی ہو تو دفع کرتی ہے اور اگر وہ معروف قائم کرسکتی ہے تو قائم کرے گی۔ ایسے لوگ اللہ کی نصرت کے مستحق ہوت یہیں جو اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے پوری جدوجہد کریں۔ صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہوں ، کسی اور پر نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کی مدد ہوگی۔ لہٰذا اللہ کی نصرت کا وعدہ قائم ہے اسباب نصرت پر۔ نصرت کے تقاضے پورے کرنے پر اس کے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرنے پر ، اس کے بعد بھی بات اللہ کی مرضی پر ہے۔ وہ اپنی مخلوق کے اندر جس طرح چاہتا ہے ، تصرفات کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ شکست کو فتح میں بدل دیتا ہے اور بعض اوقات فتح کو ہزیمت میں بدل دیتا ہے۔ خصوصاً جب نصرت کے بنیادی عناصر ہیں ، خلل آجائے اور لوگ ذمہ داریاں اور تقاضے پورے نہ کریں۔ وللہ عاقبۃ الامور (22 : 31) ” اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ “ اللہ کی نصرت وہ ہوتی ہے جس کے ذریعہ اسلامی نظام زندگی قائم ہو ، حق ، انصاف ، آزادی اور خیر و اصلاح کا دور دورہ ہو۔ پیش نظر اعلیٰ مقاصد ہوں نہ کہ کچھ افراد ، اشخاص ، شخصیات اور ان کے ذاتی مقاصد کو پس پشت ڈال کر بلند اصولوں کو سامنے رکھنا ہوگا تب نصرت الٰہی حاصل ہوگی۔ بہرحال نصرت الٰہی کے اسباب ہوتے ہیں۔ اس کی قیمت پیشگی ادا کرنا ہوتی ہے۔ اس کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ بعض شرائط لازمی ہوتی ہے۔ یہ نصرت کسی کو مفت میں نہیں ملتی نہ اللہ کو کسی کے ساتھ محبت ہوتی ہے اور نصرت اس شخص کو نہیں ملتی نہ اس جماعت کو ملتی ہے جو اس کے مقاصد اور تقاضے پورے نہ کرتی ہو۔

الحج 22:40

ان اللہ ……عاقبۃ الامور (41) اس کرہ ارض پر شر کی قوتیں ہر وقت کام کرتی ہیں ، خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ ہر وقت برپا رہتا ہے اور یہ معرکہ اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے اس کرہ ارض پر انسان کو پیدا کر کے بھیجا ہے۔ شرہمیشہ سرکش ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ قوت اور اسلحہ سے لیس ہوتا ہے۔ شر کی گرفت بےرحمانہ ہوتی ہے اور اس کی مار بےترسی سے ہوتی یہ۔ اگر اللہ کے کچھ بندوں کو راہ ہدایت معلوم ہوجائے تو وہ ان کی راہ روکتا ہے اور ان کو حق سے دور ہٹاتا ہے ، اگر کسی کا دل حق کے لئے کھل جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایمان ، حق اور بھلائی کی پشت پر بھی قوت ہو ، تاکہ باطل کی پکڑ ، سرکشی ، فتنے اور زیادتی سے اسے روکا جاسکے اور حق کو دشمنوں اور سختیوں سے بچایا جائے۔ اللہ کا منشا یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایمان ، بھلائی اور سچائی کو اس طرح کمزور چھوڑ دیا جائے کہ وہ میدان میں باطل کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اس سلسلہ میں اہل حق کے دلوں میں پائیج انے والی قوت ایمانی پر زیادہ سے زیادہ بھروسہ کیا جاتا ہے اور انسانی فطرت اور انسانی ضمیر میں حق کے ولولہ سے کام لیا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر باطل قوتوں کے مقابلے میں حق کی کوئی قوت نہ ہو تو اہل حق اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے قدم ڈگمگا سکتے ہیں۔ اہل حق کی فطرت کو بھی بگاڑا جاسکتا ہے۔ کیونکہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور مصائب برداشت کرنے کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے اور ایک حد پر جا کر انسانی قوتیں جواب دے دیتی ہیں۔ اللہ لوگوں کے قلوب و نفوس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے یہ نہیں چاہا کہ اہل ایمان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آزمائش میں ڈال دیا جائے۔ ہاں اس حد تک قوت کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے کہ جب وہ مقابلے کی تیاری کر رہے ہوں۔ دفاع کی تیاریاں ہو رہی ہوں اور وسائل جہاد جمع کئے جا رہے ہوں جب وہ یہ کام کر چکیں تو پھر ان کو قتال کی اجازت ہے تاکہ وہ اہل کفر کی دست درازیوں کا رد کرسکیں۔ اذن قتال دینے سے قبل اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ وہ خود اہل ایمان کی طرف سے دفاع کرتے ہیں اور یہ کہ اللہ ان کی نصرت اور تعاون پر قدرت رکھتے ہیں۔ ان اللہ یدفع عن الذین امنوا (22 : 38) ” یقینا اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں۔ “ اللہ اہل ایمان کے دشمنوں کو پسند نہیں کرتا کیونکہ انہوں نے حق کا انکار کیا ہے اور وہ خائن بھی ہیں۔ لہٰذا یقینا ان کو رسوا کر کے رہے گا۔ ان اللہ لایحب کل خوان کفور (22 : 38) ” بیشک اللہ کسی خائن اور کفران نعمت کرنے الے کو پسند نہیں کرتا۔ “ اللہ نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ اہل ایمان کو اپنے دفاع کا پورا پورا حق پہنچتا ہے ، ان کا موقف درست ہے ، آداب جنگ کے اعتبار سے بھی کیونکہ وہ مظلوم ہیں ، وہ جارحیت کے مرتکب ہرگز نہیں ہوئے اور نہ ہی وہ سرکشی کرنے الے ہیں۔ اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا (22 : 39) ” اجازت دے دی گئی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے ، کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ “ ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی اس حمایت پر مطمئن ہوجائیں۔ اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا۔ وان اللہ علی نصر ھم لقدیر (22 : 39) ” اور اللہ یقینا کی مدد پر قادر ہے۔ “ ان کو اس معرکہ آرائی کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ پوری انسانیت کے لئے اس عظیم مہم میں کود رہے ہیں ، اس مہم کے نتائج صرف انہی کے لئے مفید نہ ہوں گے ، بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے مفید ہوں گے کیونکہ اس کے نتیجے میں ایمان اور نظریات کی آزادی کے بنیادی حقوق قائم ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی جواز فراہم کرتی ہے کہ ان کو اپنے گھروں اور اپنے ملک سے بغیر کسی جواز کے نکالا گیا ہے۔ الذین اخرجوا من دیار ھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا لالہ (22 : 30) ” یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے۔ “ حالانکہ یہ بہت ہی سچی بات تھی جو کبھی کہی جاسکتی ہے۔ یہ اس بات کی نہایت ہی مستحق تھی کہ اسے بار بار دہرایا جائے۔ جب اس بات کی وجہ سے ان لوگوں کا اخراج عمل میں آیا تو یہ کھلی سرکشی اور ظلم تھا اور اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ مظلوموں کی جانب سے کوئی ذاتی دشمنی کسی کے ساتھ نہ تھی ، محض ان کا نظریہ ہی تھا جس کی وجہ سے ان کو نکال دیا گیا۔ اس کشمکش میں اس دنیا کے مفادات میں سے بھی کسی مفاد کا دخل نہ تھا کہ کوئی مفادات ، خواہشات یا کسی طمع و لالچ کا بہانہ کرسکے۔ یا ہمدردیں اور کسی اور ذاتی پسند و ناپسند کا بہانہ بنایا جاسکے۔ یہ صرف نظریاتی جنگ تھی۔ پھر یہ بھی ایک عمومی اصول ہے کہ کسی بھی نظریہ کے لئے قوت مدافعت کی بےحد ضرورت ہوتی ہے۔ ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوت و مسجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً (22 : 30) ” اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجے اور معبد اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ، سب مسمار کر ڈالی جائیں۔ “ صومعہ عبادت کی اس جگہ کو کہا جاتا ہے ، جہاں راہب عبادت کرتے ہیں۔ بیع نصاریٰ کی عبادت گاہ ہے۔ یہ صومعہ سے زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ صلوت یہودیوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں۔ مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہیں ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ مقامات اللہ کی عبادت کے لئے مخصوص اور مقدس ہیں لیکن یہ سب مسمار ہو سکتے ہیں اگر ان کی شت پر قوت مدافعت نہ ہو۔ اہل باطل کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان مقامات پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے بلکہ ان مقامات کی حمایت اور ان کا بچائو تب ہی ہو سکتا ہے کہ کسی عقیدے کے حامی اس کی پشت پر ہوں اور ان کے اندر قوت مدافعت بھی ہو اور وہ اپنے عقیدہ کے احترام کو بزور قوت دشمن سے منوا بھی سکتے ہوں۔ باطل تو سرکش ہوتا ہے وہ تب ہی رکتا ہے جب اس جیسی قوت اس کے مقابل کے پاس بھی ہو جس پر باطل حملہ آ ور ہو رہا ہے۔ محض اس لئے کہ حق ، حق ہے۔ باطل حملہ آور ہونے سے نہ رکے گا۔ لہٰذا حق کی پشت پر بھی ایک مساوی بلکہ برتر قوت ہونی چاہئے جو اس کا دفاع کرسکے۔ یہ ایک کلی فائدہ ہے جب تک انسان ہے ایسا ہی ہوگا۔ یہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم ان نصوص قرآنیہ پر غور کریں جن کے الفاظ تو بہت کم ہیں لیکن ان کے معانی بہت ہی وسیع ہیں۔ یہ نصوص انسانی نفس انسانی ، زندگی اور انسانی زندگی کے واقعات کے اہم رازوں پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قتال کی اجازت دے رہے ہی جن کے ساتھ مشرکین نے جنگ کی اور ان پر دست درازیاں کیں۔ یہ اس لئے کہ اللہ اہل ایمان سے مدافعت کی ذمہ داری لیتا ہے اور اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ خیانت گر اہل کفر اہل اسلام پر دست درازیاں کریں۔ ان اللہ یدفع ……کفور (22 : 38) ۔ ” اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لاتے ہیں یقینا اللہ کسی خائن کا فر نعمت کو پسند نہیں کرتا۔ “ اللہ نے مسلمانوں کو یہ یہ ضمانت دے دی کہ وہ ان کی جانب سے مدافعت کرے گا اور جس کی مدافعت اللہ کرے تو یہ بات یقینی ہے کہ دشمن اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔ وہ اپنے دشمن پر غالب ہوگا ، تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ پھر ان کو قتال کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟ پھر جہاد کیوں فرض کیا گیا ہے ؟ پھر وہ کیوں لڑتے ہیں جس میں وہ قتل بھی ہوت یہیں ، زخمی بھی ہوتے ہیں اور ان کو جدوجہد اور مشقیں بھی کرنی ہوتی ہیں اور مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں اور قربانیاں بھی دینی ہوتی ہیں اور نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ غالب ہوتے ہیں حالانکہ اللہ بغیر ان کی جدوجہد کے بھی اور بغیر کسی مشقت اور قربانی کے بھی اور بغیر کسی قتل و قتال کے بھی ان کی جانب سے مدافعت کرسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کی حکمت اس باب میں بہت ہی گہری ار بہت ہی دور رس ہے۔ اللہ کی محبت اصل مقام تک پہنچنے والی ہے اور بہت ہی اونچی ہوتی ہے لیکن ہم جس قدر سمجھ سکے ہیں اور جس قدر ہماری عقلوں میں سمجھنے کی صلاحیت ہے اور جس قدر ہمارے تجربات ہیں ، ان کے مطابق جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ میری دعوت کے حاملین سست اور کاہل رہیں اور وہ نہایت ہی سستی سے بیٹھے رہیں اور ان پر اللہ کی نصرت آجائے اور وہ شہزادوں کی طرح بیٹھے ہوں۔ محض اس لئے کہ وہ قرآن پڑھتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں اور ہر حال میں اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ کام جو سب کے سب ضروری ہیں ان کو اس قابل نہیں بناتے کہ یہ لوگ دعوت اسلامی کی حمایت کریں اور اس کی جانب سے دفاع کریں۔ نماز ، عبادت ، اور دعاء تو ایک سپاہی کے لئے زاد راہ ہیں اور جنگ میں یہ اخلاقی قوت کا کام دیتے ہیں ، اہل ایمان کے پاس یہ مزید اسلحہ ہے جو دشمن کے پاس نہیں ہے۔ دشمن کے پاس جو روایتی اسلحہ ہے وہ مسلمان کے پاس بھی ہے اور تقویٰ ہے اور اتصال باللہ اس پر مزید ہے۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ مسلمانوں اور اہل ایمان کا دفاع وہ خود مسلمانوں اور اہل ایمان کے ذریعہ سے کرے تاکہ معرکہ آرائی کے دوران مسلمان پختہ ہوجائیں۔ اس لئے کہ انسانی شخصیت کے اندر موجود خفیہ قوتیں تب ہی بیدار ہوتی ہیں ، جب انسان کو خطرہ درپیش ہو ، اور انسان اپنی مدافعت کر رہا ہو۔ مقابلے اور جنگ میں انسان اپنی پوری قوت لے کر دشمن کے مقابلے میں نکل آتا ہے۔ ایسے حالات میں انسانی قوت کا ہر ہر خلیہ محترک اور تیار ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ دوسرے خلیوں کے ساتھ تعاون کرے اور مشرکہ کارروئیاں کرے۔ جس قدر قوت کی فراہمی اس سے ممکن ہو ، وہ فراہم کرے۔ غرض وہ اپنی قوت کا آخری ذرہ بھی نکال دے اور انسان اس مقام تک پہنچ جائے جو اس کے لئے مقدر ہوتا ہے۔ جو جماعت دعوت اسلامی کو لے کر اٹھتی ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوت کا ہر خلیہ اپنی قوت کا پورا ذخیرہ ، اپنی صلاحیتوں کا پورا جوہر ، اپنی تمام طاقتوں کو جمع کرتے ہوئے اس راہ پر لگا دے تاکہ خود اس کی تربیت اور ترقی مکمل ہو سکے ، وہ پختہ ہو سکے ار اس طرح وہ اس امانت کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہو سکے جو اس پر ڈالا گیا ہے۔ وہ نصرت اور کامرانی جس میں فتح یاب ہونے والے نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو ، اور جو کامیابی بڑی آسانی اور بغیر کانٹا چبھے حاصل ہوجائے ، اس کے نتیجے میں خود انسانی کارکنوں کی یہ حقیر صلاحیتیں نہیں ابھرتیں کیونکہ ان کے ظہور کے لئے کوئی محرک نہیں ہوتا ، مقابلہ اصل محرک ہوتا ہے۔ نیز جو کامیابی بڑے آرا م سے اور بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہے ، وہ اسی طرح آسانی سے ناکامی میں بدل جاتی ہے اور ضائع ہوجاتی ہے۔ چونکہ یہ مفت میں ہوتی ہے اور کامیاب ہونے والے نے اس کی کوئی قیمت ادا نہیں کی ہوتی ، اس لئے اس کی نظروں میں اس کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ پھر جن لوگوں کو یہ بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہے ان صلاحیتوں کو اس کے دماغ کا تجربہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کی خفیہ قوتیں جب اس کے حصول کے لئے بیدار نہیں ہوتیں تو اس کے دفاع کے لئے کیسے بیدار ہوں گی۔ لہٰذا ان کے لئے دفاع ممکن ہی نہیں رہتا۔ یہ عملی اور یہ وجدانی تربیت انسان کو تب حاصل ہوتی ہے کہ اسے فتح بھی ہوئی ہو اور ہزیمت بھی اٹھانی پڑی ہو۔ اس کا کرو فر بھی دیکھا ہو ، قوت اور ضعف بھی دیکھا ہو ، اقدام اور پسپائی دونوں دیکھی ہوں اور دونوں کی خوشی اور کڑوا پن چکھا ہو۔ امید و بیم ، خوشی اور غم ، اطمینان اور قلق ، ضعف کا احساس اور قوت کا شعور یہ سب کچھ اس نے میدان جنگ میں دیکھا ہو۔ نیز اس نے نظریات کا اتحاد اور نظریاتی انتشار بھی دیکھا ہو۔ مختلف رجحانات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا تجربہ وہ کرتا ہے۔ جاعت کے اندر قوت کے مراکز اور ضعف کے مقامات سے وہ باخبر ہو اور ہر قسم کے حالات میں معاملات کی تدبیر کو وہ جانتا ہو۔ یہ تمام مراحل اس جماعت اور گروہ کے لئے ضروری ہیں جس نے دعوت اسلامی کو لے کر چلنا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کوئی عملاً معرکے میں نہ اترے۔ اس وجہ سے اور اس کے علاوہ مزید خفیہ حکمتوں کی وجہ سے جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے ، اللہ نے یہ طے کیا کہ وہ مسلمانوں کا دفاع خود مسلمانوں کے ذریعے کرے اور ایسا نہیں فرمایا کہ یہ ایک لقمہ تر ہوگا جو ان کے لئے آسمانوں سے پکا پکایا اتر جائے۔ بعض اوقات ایسے مظلوموں پر نصرت کا نزول دیر کردیتا ہے جن کو اپنے گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم محض اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے رب کو ایک سمجھتے ہیں۔ صرف اللہ کو رب سمجھتے ہیں لیکن اس میں اللہ کی گہری حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات نصرت لیٹ ہوجاتی ہے کیونکہ دعوت اسلامی کے حاملین ابھی پختہ نہیں ہوئے ہوتے اور ان میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ ان کی قوتیں مجتمع نہیں ہوتیں۔ اسلامی عناصر نے اپنی قوتوں کے تمام ذخائر کو میدان میں نہیں اتارا ہوا ہوتا ہے۔ اگر ایسی ناپختگی کی حالت میں اللہ کی نصرت آجائے تو وہ جلد ہی اسے کھودیں گی۔ بعض اوقات نصرت اس لئے بھی دیر کردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے کہ مومن اپنی پوری قوت اس راہ میں جھونک دیں۔ اپنا آخری سرمایہ اور قوت نچوڑ کر ختم کردیں اور کوئی چیز ذخیرہ کر کے نہ رکھیں اور اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیں۔ جب تک انہوں نے ایسا نہیں کیا ہوتا ، نصرت نہیں آتی۔ بعض اوقات اس لئے بھی نصرت نہیں آتی کہ اللہ اہل ایمان کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے تمام حربے آزما لیں اور ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ نصرت صرف ان کی قوتوں کی وجہ سے ہی سے نہیں آتی بلکہ اللہ کی نصرت تب آتی ہے جب اہل ایمان اپنی قوت ، اپنی دولت اور اپنی صلاحیتوں کا آخری ذخیرہ بھی ختم کردیں اور ان کے سامنے صرف اللہ کی مدد کا ذخیرہ رہ جائے تب مدد آپہنچتی ہے۔ بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی مئوخر ہوجاتی ہے کہ امت مومنہ کا تعلق باللہ معیار مطلوب تک پہنچ جائے ، اسے مشکلات پیش آئیں اور وہ برداشت کرے ، اسے المناک نتائج سے دوچار ہونا پڑے اور وہ صبر کرے اور اسے اپنی پوری قوتیں صرف کرنے کا موقع ملے اور حالت یہ ہوجائے کہ اللہ کے سوا کوئی اور سہارا نہ رہغے اور اللہ کے سوا توجہات مرکوز کرنے کا اور کوئی نکتہ نہ رہے۔ یہ تعلق باللہ پھر اس بات کی بھی ضمانت ہوتا ہے کہ نصرت آنے اور فتح ملنے کے بعد امت سیدھی راہ پر گامزن رہتی ہے۔ وہ پھر پنی راہ نہیں چھوڑتی ۔ وہ سچائی ، عدل اور بھلائی کا راستہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی جس کی وجہ سے اسے فتح نصیب ہوتی ہے۔ بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی نہیں آتی کہ امت اپنی جدوجہد ، اپنے انفاق اور اپنی قربانیوں میں خالص رضائے الٰہی کے لئے کام نہیں آتی۔ اس کی جنگ مفادات کے لئے ہوتی ہے ، یا وہ ذاتی رنجش کی وجہ سے لڑتی ہے ، یا اس کی جدوجہد میں دکھاوا ہوتا ہے ، حالانکہ اللہ کا منشا یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد صرف ال لہ کے لئے ہو ، صرف اللہ کے راستے میں ہو۔ اس کے ساتھ کوئی اور سوچ وابستہ نہ ہو ، کارکنوں کے شعور اور لاشعور میں رضائے الٰہی کے سوا کوئی اور مقصد نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کسی حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے یا شجاعت کی وجہ سے لڑتا ہے یا شخصیت کے اظہار کے لئے لڑتا ہے تو ان میں سے کون سی جنگ فی سبیل اللہ ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا۔ من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا ” جس نے اس لئے جنگ کی کہ اللہ کا کلما بلند ہو تو صرف یہ فی سبیل اللہ ہے۔ “ بعض اوقات اسلامی عناصر کو اس لئے بھی کامیابی نہیں ہوتی کہ جس شر کے مقابلے میں امت کام کر رہی ہوتی اس میں خیر کا کوئی پہلو ہوتا ہے۔ اللہ اس شر کو مہلت دیئے جاتا ہے تاکہ شرک و اس خبر سے تہی دامن کر دے تاکہ اگر ہلاکت آئے تو خالص شر پر آئے اور اس میں خیر کا کوئی پہلو نہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ شر کے ساتھ خیر کا ایک ذرہ بھی ضائع ہوجائے۔ بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی نہیں آتی کہ جس باطل کے خلاف امت مسلمہ اور جماعت مومنہ برسر پیکار ہوتی ہے اس کا کھوٹ عوام الناس کی نظروں میں آشکار اور پوری طرح واضح نہیں ہوا ہوتا۔ ایسے حالات میں اگر شر کو شکست دے دی جائے تو شر کو بھی معاشرے میں سے بعض ایسے لوگ حامی و مددگار مل جائیں گے جنہوں نے ابھی تک شر کے کھوٹ کو سمجھا نہیں ہوتا اور وہ اس کے فساد ، زوال کو سمجھے ہی نہیں ہوتے اور اس پر مطمئن نہیں ہوتے لہٰذا اس شر کی بعض جڑیں نیک لوگوں کے ذہنوں میں بھی ہوتی ہیں ، جو حقیقت سے بیخبر ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ باطل کو ایک عرصہ تک برسر اقتدار رکھتا ہے تاکہ تمام لوگوں کے ذہن صاف ہوجائیں اور جب وہ نیست و نابود ہوجائے تو اس پر رونے والی ایک آنکھ بھی معاشرے میں موجود نہ ہو۔ بعض اوقات نصرت میں دیر اس لئے بھی ہوتی ہے کہ معاشرہ ابھی تک قبول حق کے لئے ہی تیار نہیں ہوتا اور سچائی کو اٹھانے کے اہل بھی نہیں ہوتا۔ جس کی حامل اور داعی جماعت مومنہ ہوتی ہے۔ اگر ایسے حالات میں حق کو نصرت بھی مل جائے تو بھی اسے قرار نصیب نہیں ہوتا اور خود معاشرہ کے اندر سے ردعمل شروع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی مشیت ہوتی ہے کہ کچھ مزید عرصے کے لئے حق و باطل کی کشمکش جاری رہے تاکہ معاشرہ سچائی کے استقبال کے لئے تیار ہوجائے۔ یہ وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان کے علاوہ اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کو صرف اللہ جانتا ہے ۔ کبھی کبھار ، نصرت الٰہی میں دیر لگ جاتی ہے۔ کارکنوں کو زیادہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، ان پر مصائب بڑھ جاتے ہیں ، لیکن آخر کار فتح و نصرت جماعت مومنہ کے لئے ہوتی ہے اور جدوجہد کے زمانے میں اللہ کی ضمانت دفاع بہرحال اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حصول نصرت کی کچھ شرائط ہیں۔ کچھ تقاضے ہیں جو پورے کرنے پڑتے ہیں۔ اس کی ایک قیمت ہے جو ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس کے کچھ اسباب ہوتے ہیں جو فراہم کرنے پڑتے ہیں اور اس کے لئے ایک مخصوص فضا ہوتی ہے جو پیدا کرنا پڑتی ہے (یاد رہے کہ یہ محض من اور سلویٰ نہیں ہے۔ ) ولینصرن اللہ ………عاقبۃ الامور (22 : 31) ” اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے ، اللہ بڑا طاقتور ہے اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں ، زکوۃ دیں ، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کی کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کا تاکیدی وعدہ ہے ، نہایت ہی باوثوق وعدہ ہے ، اٹل قاعدہ ہے کہ جو اس کی نصرت کرے گا تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا لیکن یہ سوالیہ نشان اپنی جگہ ضرور ہے کہ اللہ کن لوگوں کی نصرت کرتا ہے ، تاکہ ان کو نصرت کا مستحق سمجھا جائے۔ کیونکہ اللہ تو قوی ہے ، عزیز ہے ، اس کے موالے تو کبھی شکست نہیں کھاتے تو وہ کون ہیں ؟ وہ یہ ہیں ؟ الذین ان مکنھم فی الارض (22 : 31) ” یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم اقتدار ” بخشیں “ ۔ نصرت آجائے اور ان کا اقتدار اعلیٰ قائم ہوجائے تو اقاموا الصلوۃ (22 : 31) ” نماز قائم کریں گے۔ “ اللہ کی بندگی کریں گے اور اللہ کی طرف نہایت ہی مطیع فرمان ہو کر ، عاجز ہو کر ، سرتسلیم خم کرتے ہوئے رجوع کریں گے۔ واتوا الزکوۃ (22 : 31) ” زکوۃ دیں گے۔ “ مال کا حق ادا کریں گے۔ نفس کی فطری کنجوسی پر قابو پائیں گے۔ اسے حرص و آز سے پاک کریں گے۔ شیطان کے وسوسوں پر غلبہ پائیں گے ، جماعت اور سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے رخنے دور کریں گے۔ ضعیفوں اور محتاجوں کا حق ادا کریں گے ، ان کو ایک زندہ جسم کے حقوق دیں گے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا ” مومن باہم محبت ، باہم ہمدردی ، بامہ رحم و کرم میں جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں ، اگر جسم کے کسی ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم بےچین ہوتا ہے اور تمام جسم بےخوابی کا شکار ہوتا ہے۔ وامروابالمعروف (22 : 31) ” نیکی کا حکم دیں گے “ وہ نیکی اور اصلاح کے داعی بھی ہوں گے لوگوں کو زبردستی بھی نیکی پر آمادہ کریں گے۔ ونھوا عن المنکر (22 : 31) ” اور وہ برائی سے منع کریں گے۔ “ شر و فساد کا مقابلہ کریں گے۔ وہ امت مسلمہ کا یہ نشان بحال کریں گے کہ وہ منکر کو برداشت نہیں کرتے اور اگر وہ اسے دفع کرسکتی ہو تو دفع کرتی ہے اور اگر وہ معروف قائم کرسکتی ہے تو قائم کرے گی۔ ایسے لوگ اللہ کی نصرت کے مستحق ہوت یہیں جو اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے پوری جدوجہد کریں۔ صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہوں ، کسی اور پر نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کی مدد ہوگی۔ لہٰذا اللہ کی نصرت کا وعدہ قائم ہے اسباب نصرت پر۔ نصرت کے تقاضے پورے کرنے پر اس کے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرنے پر ، اس کے بعد بھی بات اللہ کی مرضی پر ہے۔ وہ اپنی مخلوق کے اندر جس طرح چاہتا ہے ، تصرفات کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ شکست کو فتح میں بدل دیتا ہے اور بعض اوقات فتح کو ہزیمت میں بدل دیتا ہے۔ خصوصاً جب نصرت کے بنیادی عناصر ہیں ، خلل آجائے اور لوگ ذمہ داریاں اور تقاضے پورے نہ کریں۔ وللہ عاقبۃ الامور (22 : 31) ” اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ “ اللہ کی نصرت وہ ہوتی ہے جس کے ذریعہ اسلامی نظام زندگی قائم ہو ، حق ، انصاف ، آزادی اور خیر و اصلاح کا دور دورہ ہو۔ پیش نظر اعلیٰ مقاصد ہوں نہ کہ کچھ افراد ، اشخاص ، شخصیات اور ان کے ذاتی مقاصد کو پس پشت ڈال کر بلند اصولوں کو سامنے رکھنا ہوگا تب نصرت الٰہی حاصل ہوگی۔ بہرحال نصرت الٰہی کے اسباب ہوتے ہیں۔ اس کی قیمت پیشگی ادا کرنا ہوتی ہے۔ اس کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ بعض شرائط لازمی ہوتی ہے۔ یہ نصرت کسی کو مفت میں نہیں ملتی نہ اللہ کو کسی کے ساتھ محبت ہوتی ہے اور نصرت اس شخص کو نہیں ملتی نہ اس جماعت کو ملتی ہے جو اس کے مقاصد اور تقاضے پورے نہ کرتی ہو۔