Fi Zilal al-Quran — الحج 22:41 – المؤمنون 23:34
Contents
- الحج 22:41
- الحج 22:42
- الحج 22:43
- الحج 22:44
- الحج 22:45
- الحج 22:46
- الحج 22:47
- الحج 22:48
- الحج 22:49
- الحج 22:50
- الحج 22:51
- الحج 22:52
- الحج 22:53
- الحج 22:54
- الحج 22:55
- الحج 22:56
- الحج 22:57
- الحج 22:58
- الحج 22:59
- الحج 22:60
- الحج 22:61
- الحج 22:62
- الحج 22:63
- الحج 22:64
- الحج 22:65
- الحج 22:66
- الحج 22:67
- الحج 22:68
- الحج 22:69
- الحج 22:70
- الحج 22:71
- الحج 22:72
- الحج 22:73
- الحج 22:74
- الحج 22:75
- الحج 22:76
- الحج 22:77
- الحج 22:78
- المؤمنون 23:1
- المؤمنون 23:2
- المؤمنون 23:3
- المؤمنون 23:4
- المؤمنون 23:5
- المؤمنون 23:6
- المؤمنون 23:7
- المؤمنون 23:8
- المؤمنون 23:9
- المؤمنون 23:10
- المؤمنون 23:11
- المؤمنون 23:12
- المؤمنون 23:13
- المؤمنون 23:14
- المؤمنون 23:15
- المؤمنون 23:16
- المؤمنون 23:17
- المؤمنون 23:18
- المؤمنون 23:19
- المؤمنون 23:20
- المؤمنون 23:21
- المؤمنون 23:22
- المؤمنون 23:23
- المؤمنون 23:24
- المؤمنون 23:25
- المؤمنون 23:26
- المؤمنون 23:27
- المؤمنون 23:28
- المؤمنون 23:29
- المؤمنون 23:30
- المؤمنون 23:31
- المؤمنون 23:32
- المؤمنون 23:33
- المؤمنون 23:34
الحج 22:41
ان اللہ ……عاقبۃ الامور (41)
اس کرہ ارض پر شر کی قوتیں ہر وقت کام کرتی ہیں ، خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ ہر وقت برپا رہتا ہے اور یہ معرکہ اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے اس کرہ ارض پر انسان کو پیدا کر کے بھیجا ہے۔
شرہمیشہ سرکش ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ قوت اور اسلحہ سے لیس ہوتا ہے۔ شر کی گرفت بےرحمانہ ہوتی ہے اور اس کی مار بےترسی سے ہوتی یہ۔ اگر اللہ کے کچھ بندوں کو راہ ہدایت معلوم ہوجائے تو وہ ان کی راہ روکتا ہے اور ان کو حق سے دور ہٹاتا ہے ، اگر کسی کا دل حق کے لئے کھل جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایمان ، حق اور بھلائی کی پشت پر بھی قوت ہو ، تاکہ باطل کی پکڑ ، سرکشی ، فتنے اور زیادتی سے اسے روکا جاسکے اور حق کو دشمنوں اور سختیوں سے بچایا جائے۔
اللہ کا منشا یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایمان ، بھلائی اور سچائی کو اس طرح کمزور چھوڑ دیا جائے کہ وہ میدان میں باطل کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اس سلسلہ میں اہل حق کے دلوں میں پائیج انے والی قوت ایمانی پر زیادہ سے زیادہ بھروسہ کیا جاتا ہے اور انسانی فطرت اور انسانی ضمیر میں حق کے ولولہ سے کام لیا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر باطل قوتوں کے مقابلے میں حق کی کوئی قوت نہ ہو تو اہل حق اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے قدم ڈگمگا سکتے ہیں۔ اہل حق کی فطرت کو بھی بگاڑا جاسکتا ہے۔ کیونکہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور مصائب برداشت کرنے کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے اور ایک حد پر جا کر انسانی قوتیں جواب دے دیتی ہیں۔ اللہ لوگوں کے قلوب و نفوس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے یہ نہیں چاہا کہ اہل ایمان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آزمائش میں ڈال دیا جائے۔ ہاں اس حد تک قوت کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے کہ جب وہ مقابلے کی تیاری کر رہے ہوں۔ دفاع کی تیاریاں ہو رہی ہوں اور وسائل جہاد جمع کئے جا رہے ہوں جب وہ یہ کام کر چکیں تو پھر ان کو قتال کی اجازت ہے تاکہ وہ اہل کفر کی دست درازیوں کا رد کرسکیں۔
اذن قتال دینے سے قبل اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ وہ خود اہل ایمان کی طرف سے دفاع کرتے ہیں اور یہ کہ اللہ ان کی نصرت اور تعاون پر قدرت رکھتے ہیں۔
ان اللہ یدفع عن الذین امنوا (22 : 38) ” یقینا اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں۔ “ اللہ اہل ایمان کے دشمنوں کو پسند نہیں کرتا کیونکہ انہوں نے حق کا انکار کیا ہے اور وہ خائن بھی ہیں۔ لہٰذا یقینا ان کو رسوا کر کے رہے گا۔
ان اللہ لایحب کل خوان کفور (22 : 38) ” بیشک اللہ کسی خائن اور کفران نعمت کرنے الے کو پسند نہیں کرتا۔ “ اللہ نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ اہل ایمان کو اپنے دفاع کا پورا پورا حق پہنچتا ہے ، ان کا موقف درست ہے ، آداب جنگ کے اعتبار سے بھی کیونکہ وہ مظلوم ہیں ، وہ جارحیت کے مرتکب ہرگز نہیں ہوئے اور نہ ہی وہ سرکشی کرنے الے ہیں۔
اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا (22 : 39) ” اجازت دے دی گئی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے ، کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ “ ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی اس حمایت پر مطمئن ہوجائیں۔ اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا۔
وان اللہ علی نصر ھم لقدیر (22 : 39) ” اور اللہ یقینا کی مدد پر قادر ہے۔ “ ان کو اس معرکہ آرائی کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ پوری انسانیت کے لئے اس عظیم مہم میں کود رہے ہیں ، اس مہم کے نتائج صرف انہی کے لئے مفید نہ ہوں گے ، بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے مفید ہوں گے کیونکہ اس کے نتیجے میں ایمان اور نظریات کی آزادی کے بنیادی حقوق قائم ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی جواز فراہم کرتی ہے کہ ان کو اپنے گھروں اور اپنے ملک سے بغیر کسی جواز کے نکالا گیا ہے۔
الذین اخرجوا من دیار ھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا لالہ (22 : 30) ” یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے۔ “ حالانکہ یہ بہت ہی سچی بات تھی جو کبھی کہی جاسکتی ہے۔ یہ اس بات کی نہایت ہی مستحق تھی کہ اسے بار بار دہرایا جائے۔ جب اس بات کی وجہ سے ان لوگوں کا اخراج عمل میں آیا تو یہ کھلی سرکشی اور ظلم تھا اور اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ مظلوموں کی جانب سے کوئی ذاتی دشمنی کسی کے ساتھ نہ تھی ، محض ان کا نظریہ ہی تھا جس کی وجہ سے ان کو نکال دیا گیا۔ اس کشمکش میں اس دنیا کے مفادات میں سے بھی کسی مفاد کا دخل نہ تھا کہ کوئی مفادات ، خواہشات یا کسی طمع و لالچ کا بہانہ کرسکے۔ یا ہمدردیں اور کسی اور ذاتی پسند و ناپسند کا بہانہ بنایا جاسکے۔ یہ صرف نظریاتی جنگ تھی۔
پھر یہ بھی ایک عمومی اصول ہے کہ کسی بھی نظریہ کے لئے قوت مدافعت کی بےحد ضرورت ہوتی ہے۔
ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوت و مسجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً (22 : 30) ” اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجے اور معبد اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ، سب مسمار کر ڈالی جائیں۔ “ صومعہ عبادت کی اس جگہ کو کہا جاتا ہے ، جہاں راہب عبادت کرتے ہیں۔ بیع نصاریٰ کی عبادت گاہ ہے۔ یہ صومعہ سے زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ صلوت یہودیوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں۔ مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہیں ہوتی ہیں۔
اگرچہ یہ مقامات اللہ کی عبادت کے لئے مخصوص اور مقدس ہیں لیکن یہ سب مسمار ہو سکتے ہیں اگر ان کی شت پر قوت مدافعت نہ ہو۔ اہل باطل کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان مقامات پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے بلکہ ان مقامات کی حمایت اور ان کا بچائو تب ہی ہو سکتا ہے کہ کسی عقیدے کے حامی اس کی پشت پر ہوں اور ان کے اندر قوت مدافعت بھی ہو اور وہ اپنے عقیدہ کے احترام کو بزور قوت دشمن سے منوا بھی سکتے ہوں۔ باطل تو سرکش ہوتا ہے وہ تب ہی رکتا ہے جب اس جیسی قوت اس کے مقابل کے پاس بھی ہو جس پر باطل حملہ آ ور ہو رہا ہے۔ محض اس لئے کہ حق ، حق ہے۔ باطل حملہ آور ہونے سے نہ رکے گا۔ لہٰذا حق کی پشت پر بھی ایک مساوی بلکہ برتر قوت ہونی چاہئے جو اس کا دفاع کرسکے۔ یہ ایک کلی فائدہ ہے جب تک انسان ہے ایسا ہی ہوگا۔
یہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم ان نصوص قرآنیہ پر غور کریں جن کے الفاظ تو بہت کم ہیں لیکن ان کے معانی بہت ہی وسیع ہیں۔ یہ نصوص انسانی نفس انسانی ، زندگی اور انسانی زندگی کے واقعات کے اہم رازوں پر مشتمل ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قتال کی اجازت دے رہے ہی جن کے ساتھ مشرکین نے جنگ کی اور ان پر دست درازیاں کیں۔ یہ اس لئے کہ اللہ اہل ایمان سے مدافعت کی ذمہ داری لیتا ہے اور اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ خیانت گر اہل کفر اہل اسلام پر دست درازیاں کریں۔
ان اللہ یدفع ……کفور (22 : 38) ۔
” اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لاتے ہیں یقینا اللہ کسی خائن کا فر نعمت کو پسند نہیں کرتا۔ “ اللہ نے مسلمانوں کو یہ یہ ضمانت دے دی کہ وہ ان کی جانب سے مدافعت کرے گا اور جس کی مدافعت اللہ کرے تو یہ بات یقینی ہے کہ دشمن اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔ وہ اپنے دشمن پر غالب ہوگا ، تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ پھر ان کو قتال کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟ پھر جہاد کیوں فرض کیا گیا ہے ؟ پھر وہ کیوں لڑتے ہیں جس میں وہ قتل بھی ہوت یہیں ، زخمی بھی ہوتے ہیں اور ان کو جدوجہد اور مشقیں بھی کرنی ہوتی ہیں اور مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں اور قربانیاں بھی دینی ہوتی ہیں اور نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ غالب ہوتے ہیں حالانکہ اللہ بغیر ان کی جدوجہد کے بھی اور بغیر کسی مشقت اور قربانی کے بھی اور بغیر کسی قتل و قتال کے بھی ان کی جانب سے مدافعت کرسکتا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کی حکمت اس باب میں بہت ہی گہری ار بہت ہی دور رس ہے۔ اللہ کی محبت اصل مقام تک پہنچنے والی ہے اور بہت ہی اونچی ہوتی ہے لیکن ہم جس قدر سمجھ سکے ہیں اور جس قدر ہماری عقلوں میں سمجھنے کی صلاحیت ہے اور جس قدر ہمارے تجربات ہیں ، ان کے مطابق جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ میری دعوت کے حاملین سست اور کاہل رہیں اور وہ نہایت ہی سستی سے بیٹھے رہیں اور ان پر اللہ کی نصرت آجائے اور وہ شہزادوں کی طرح بیٹھے ہوں۔ محض اس لئے کہ وہ قرآن پڑھتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں اور ہر حال میں اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ کام جو سب کے سب ضروری ہیں ان کو اس قابل نہیں بناتے کہ یہ لوگ دعوت اسلامی کی حمایت کریں اور اس کی جانب سے دفاع کریں۔ نماز ، عبادت ، اور دعاء تو ایک سپاہی کے لئے زاد راہ ہیں اور جنگ میں یہ اخلاقی قوت کا کام دیتے ہیں ، اہل ایمان کے پاس یہ مزید اسلحہ ہے جو دشمن کے پاس نہیں ہے۔ دشمن کے پاس جو روایتی اسلحہ ہے وہ مسلمان کے پاس بھی ہے اور تقویٰ ہے اور اتصال باللہ اس پر مزید ہے۔
اللہ کی مشیت یہ ہے کہ مسلمانوں اور اہل ایمان کا دفاع وہ خود مسلمانوں اور اہل ایمان کے ذریعہ سے کرے تاکہ معرکہ آرائی کے دوران مسلمان پختہ ہوجائیں۔ اس لئے کہ انسانی شخصیت کے اندر موجود خفیہ قوتیں تب ہی بیدار ہوتی ہیں ، جب انسان کو خطرہ درپیش ہو ، اور انسان اپنی مدافعت کر رہا ہو۔ مقابلے اور جنگ میں انسان اپنی پوری قوت لے کر دشمن کے مقابلے میں نکل آتا ہے۔ ایسے حالات میں انسانی قوت کا ہر ہر خلیہ محترک اور تیار ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ دوسرے خلیوں کے ساتھ تعاون کرے اور مشرکہ کارروئیاں کرے۔ جس قدر قوت کی فراہمی اس سے ممکن ہو ، وہ فراہم کرے۔ غرض وہ اپنی قوت کا آخری ذرہ بھی نکال دے اور انسان اس مقام تک پہنچ جائے جو اس کے لئے مقدر ہوتا ہے۔
جو جماعت دعوت اسلامی کو لے کر اٹھتی ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوت کا ہر خلیہ اپنی قوت کا پورا ذخیرہ ، اپنی صلاحیتوں کا پورا جوہر ، اپنی تمام طاقتوں کو جمع کرتے ہوئے اس راہ پر لگا دے تاکہ خود اس کی تربیت اور ترقی مکمل ہو سکے ، وہ پختہ ہو سکے ار اس طرح وہ اس امانت کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہو سکے جو اس پر ڈالا گیا ہے۔
وہ نصرت اور کامرانی جس میں فتح یاب ہونے والے نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو ، اور جو کامیابی بڑی آسانی اور بغیر کانٹا چبھے حاصل ہوجائے ، اس کے نتیجے میں خود انسانی کارکنوں کی یہ حقیر صلاحیتیں نہیں ابھرتیں کیونکہ ان کے ظہور کے لئے کوئی محرک نہیں ہوتا ، مقابلہ اصل محرک ہوتا ہے۔
نیز جو کامیابی بڑے آرا م سے اور بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہے ، وہ اسی طرح آسانی سے ناکامی میں بدل جاتی ہے اور ضائع ہوجاتی ہے۔ چونکہ یہ مفت میں ہوتی ہے اور کامیاب ہونے والے نے اس کی کوئی قیمت ادا نہیں کی ہوتی ، اس لئے اس کی نظروں میں اس کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ پھر جن لوگوں کو یہ بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہے ان صلاحیتوں کو اس کے دماغ کا تجربہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کی خفیہ قوتیں جب اس کے حصول کے لئے بیدار نہیں ہوتیں تو اس کے دفاع کے لئے کیسے بیدار ہوں گی۔ لہٰذا ان کے لئے دفاع ممکن ہی نہیں رہتا۔
یہ عملی اور یہ وجدانی تربیت انسان کو تب حاصل ہوتی ہے کہ اسے فتح بھی ہوئی ہو اور ہزیمت بھی اٹھانی پڑی ہو۔ اس کا کرو فر بھی دیکھا ہو ، قوت اور ضعف بھی دیکھا ہو ، اقدام اور پسپائی دونوں دیکھی ہوں اور دونوں کی خوشی اور کڑوا پن چکھا ہو۔ امید و بیم ، خوشی اور غم ، اطمینان اور قلق ، ضعف کا احساس اور قوت کا شعور یہ سب کچھ اس نے میدان جنگ میں دیکھا ہو۔
نیز اس نے نظریات کا اتحاد اور نظریاتی انتشار بھی دیکھا ہو۔ مختلف رجحانات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا تجربہ وہ کرتا ہے۔ جاعت کے اندر قوت کے مراکز اور ضعف کے مقامات سے وہ باخبر ہو اور ہر قسم کے حالات میں معاملات کی تدبیر کو وہ جانتا ہو۔ یہ تمام مراحل اس جماعت اور گروہ کے لئے ضروری ہیں جس نے دعوت اسلامی کو لے کر چلنا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کوئی عملاً معرکے میں نہ اترے۔
اس وجہ سے اور اس کے علاوہ مزید خفیہ حکمتوں کی وجہ سے جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے ، اللہ نے یہ طے کیا کہ وہ مسلمانوں کا دفاع خود مسلمانوں کے ذریعے کرے اور ایسا نہیں فرمایا کہ یہ ایک لقمہ تر ہوگا جو ان کے لئے آسمانوں سے پکا پکایا اتر جائے۔
بعض اوقات ایسے مظلوموں پر نصرت کا نزول دیر کردیتا ہے جن کو اپنے گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم محض اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے رب کو ایک سمجھتے ہیں۔ صرف اللہ کو رب سمجھتے ہیں لیکن اس میں اللہ کی گہری حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔
بعض اوقات نصرت لیٹ ہوجاتی ہے کیونکہ دعوت اسلامی کے حاملین ابھی پختہ نہیں ہوئے ہوتے اور ان میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ ان کی قوتیں مجتمع نہیں ہوتیں۔ اسلامی عناصر نے اپنی قوتوں کے تمام ذخائر کو میدان میں نہیں اتارا ہوا ہوتا ہے۔ اگر ایسی ناپختگی کی حالت میں اللہ کی نصرت آجائے تو وہ جلد ہی اسے کھودیں گی۔
بعض اوقات نصرت اس لئے بھی دیر کردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے کہ مومن اپنی پوری قوت اس راہ میں جھونک دیں۔ اپنا آخری سرمایہ اور قوت نچوڑ کر ختم کردیں اور کوئی چیز ذخیرہ کر کے نہ رکھیں اور اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیں۔ جب تک انہوں نے ایسا نہیں کیا ہوتا ، نصرت نہیں آتی۔
بعض اوقات اس لئے بھی نصرت نہیں آتی کہ اللہ اہل ایمان کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے تمام حربے آزما لیں اور ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ نصرت صرف ان کی قوتوں کی وجہ سے ہی سے نہیں آتی بلکہ اللہ کی نصرت تب آتی ہے جب اہل ایمان اپنی قوت ، اپنی دولت اور اپنی صلاحیتوں کا آخری ذخیرہ بھی ختم کردیں اور ان کے سامنے صرف اللہ کی مدد کا ذخیرہ رہ جائے تب مدد آپہنچتی ہے۔
بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی مئوخر ہوجاتی ہے کہ امت مومنہ کا تعلق باللہ معیار مطلوب تک پہنچ جائے ، اسے مشکلات پیش آئیں اور وہ برداشت کرے ، اسے المناک نتائج سے دوچار ہونا پڑے اور وہ صبر کرے اور اسے اپنی پوری قوتیں صرف کرنے کا موقع ملے اور حالت یہ ہوجائے کہ اللہ کے سوا کوئی اور سہارا نہ رہغے اور اللہ کے سوا توجہات مرکوز کرنے کا اور کوئی نکتہ نہ رہے۔ یہ تعلق باللہ پھر اس بات کی بھی ضمانت ہوتا ہے کہ نصرت آنے اور فتح ملنے کے بعد امت سیدھی راہ پر گامزن رہتی ہے۔ وہ پھر پنی راہ نہیں چھوڑتی ۔ وہ سچائی ، عدل اور بھلائی کا راستہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی جس کی وجہ سے اسے فتح نصیب ہوتی ہے۔
بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی نہیں آتی کہ امت اپنی جدوجہد ، اپنے انفاق اور اپنی قربانیوں میں خالص رضائے الٰہی کے لئے کام نہیں آتی۔ اس کی جنگ مفادات کے لئے ہوتی ہے ، یا وہ ذاتی رنجش کی وجہ سے لڑتی ہے ، یا اس کی جدوجہد میں دکھاوا ہوتا ہے ، حالانکہ اللہ کا منشا یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد صرف ال لہ کے لئے ہو ، صرف اللہ کے راستے میں ہو۔ اس کے ساتھ کوئی اور سوچ وابستہ نہ ہو ، کارکنوں کے شعور اور لاشعور میں رضائے الٰہی کے سوا کوئی اور مقصد نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کسی حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے یا شجاعت کی وجہ سے لڑتا ہے یا شخصیت کے اظہار کے لئے لڑتا ہے تو ان میں سے کون سی جنگ فی سبیل اللہ ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا۔
من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا ” جس نے اس لئے جنگ کی کہ اللہ کا کلما بلند ہو تو صرف یہ فی سبیل اللہ ہے۔ “ بعض اوقات اسلامی عناصر کو اس لئے بھی کامیابی نہیں ہوتی کہ جس شر کے مقابلے میں امت کام کر رہی ہوتی اس میں خیر کا کوئی پہلو ہوتا ہے۔ اللہ اس شر کو مہلت دیئے جاتا ہے تاکہ شرک و اس خبر سے تہی دامن کر دے تاکہ اگر ہلاکت آئے تو خالص شر پر آئے اور اس میں خیر کا کوئی پہلو نہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ شر کے ساتھ خیر کا ایک ذرہ بھی ضائع ہوجائے۔
بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی نہیں آتی کہ جس باطل کے خلاف امت مسلمہ اور جماعت مومنہ برسر پیکار ہوتی ہے اس کا کھوٹ عوام الناس کی نظروں میں آشکار اور پوری طرح واضح نہیں ہوا ہوتا۔ ایسے حالات میں اگر شر کو شکست دے دی جائے تو شر کو بھی معاشرے میں سے بعض ایسے لوگ حامی و مددگار مل جائیں گے جنہوں نے ابھی تک شر کے کھوٹ کو سمجھا نہیں ہوتا اور وہ اس کے فساد ، زوال کو سمجھے ہی نہیں ہوتے اور اس پر مطمئن نہیں ہوتے لہٰذا اس شر کی بعض جڑیں نیک لوگوں کے ذہنوں میں بھی ہوتی ہیں ، جو حقیقت سے بیخبر ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ باطل کو ایک عرصہ تک برسر اقتدار رکھتا ہے تاکہ تمام لوگوں کے ذہن صاف ہوجائیں اور جب وہ نیست و نابود ہوجائے تو اس پر رونے والی ایک آنکھ بھی معاشرے میں موجود نہ ہو۔
بعض اوقات نصرت میں دیر اس لئے بھی ہوتی ہے کہ معاشرہ ابھی تک قبول حق کے لئے ہی تیار نہیں ہوتا اور سچائی کو اٹھانے کے اہل بھی نہیں ہوتا۔ جس کی حامل اور داعی جماعت مومنہ ہوتی ہے۔ اگر ایسے حالات میں حق کو نصرت بھی مل جائے تو بھی اسے قرار نصیب نہیں ہوتا اور خود معاشرہ کے اندر سے ردعمل شروع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی مشیت ہوتی ہے کہ کچھ مزید عرصے کے لئے حق و باطل کی کشمکش جاری رہے تاکہ معاشرہ سچائی کے استقبال کے لئے تیار ہوجائے۔
یہ وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان کے علاوہ اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کو صرف اللہ جانتا ہے ۔ کبھی کبھار ، نصرت الٰہی میں دیر لگ جاتی ہے۔ کارکنوں کو زیادہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، ان پر مصائب بڑھ جاتے ہیں ، لیکن آخر کار فتح و نصرت جماعت مومنہ کے لئے ہوتی ہے اور جدوجہد کے زمانے میں اللہ کی ضمانت دفاع بہرحال اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حصول نصرت کی کچھ شرائط ہیں۔ کچھ تقاضے ہیں جو پورے کرنے پڑتے ہیں۔ اس کی ایک قیمت ہے جو ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس کے کچھ اسباب ہوتے ہیں جو فراہم کرنے پڑتے ہیں اور اس کے لئے ایک مخصوص فضا ہوتی ہے جو پیدا کرنا پڑتی ہے (یاد رہے کہ یہ محض من اور سلویٰ نہیں ہے۔ )
ولینصرن اللہ ………عاقبۃ الامور (22 : 31) ” اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے ، اللہ بڑا طاقتور ہے اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں ، زکوۃ دیں ، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کی کے ہاتھ میں ہے۔
اللہ کا تاکیدی وعدہ ہے ، نہایت ہی باوثوق وعدہ ہے ، اٹل قاعدہ ہے کہ جو اس کی نصرت کرے گا تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا لیکن یہ سوالیہ نشان اپنی جگہ ضرور ہے کہ اللہ کن لوگوں کی نصرت کرتا ہے ، تاکہ ان کو نصرت کا مستحق سمجھا جائے۔ کیونکہ اللہ تو قوی ہے ، عزیز ہے ، اس کے موالے تو کبھی شکست نہیں کھاتے تو وہ کون ہیں ؟ وہ یہ ہیں ؟
الذین ان مکنھم فی الارض (22 : 31) ” یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم اقتدار ” بخشیں “ ۔ نصرت آجائے اور ان کا اقتدار اعلیٰ قائم ہوجائے تو اقاموا الصلوۃ (22 : 31) ” نماز قائم کریں گے۔ “ اللہ کی بندگی کریں گے اور اللہ کی طرف نہایت ہی مطیع فرمان ہو کر ، عاجز ہو کر ، سرتسلیم خم کرتے ہوئے رجوع کریں گے۔
واتوا الزکوۃ (22 : 31) ” زکوۃ دیں گے۔ “ مال کا حق ادا کریں گے۔ نفس کی فطری کنجوسی پر قابو پائیں گے۔ اسے حرص و آز سے پاک کریں گے۔ شیطان کے وسوسوں پر غلبہ پائیں گے ، جماعت اور سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے رخنے دور کریں گے۔ ضعیفوں اور محتاجوں کا حق ادا کریں گے ، ان کو ایک زندہ جسم کے حقوق دیں گے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا ” مومن باہم محبت ، باہم ہمدردی ، بامہ رحم و کرم میں جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں ، اگر جسم کے کسی ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم بےچین ہوتا ہے اور تمام جسم بےخوابی کا شکار ہوتا ہے۔
وامروابالمعروف (22 : 31) ” نیکی کا حکم دیں گے “ وہ نیکی اور اصلاح کے داعی بھی ہوں گے لوگوں کو زبردستی بھی نیکی پر آمادہ کریں گے۔
ونھوا عن المنکر (22 : 31) ” اور وہ برائی سے منع کریں گے۔ “ شر و فساد کا مقابلہ کریں گے۔ وہ امت مسلمہ کا یہ نشان بحال کریں گے کہ وہ منکر کو برداشت نہیں کرتے اور اگر وہ اسے دفع کرسکتی ہو تو دفع کرتی ہے اور اگر وہ معروف قائم کرسکتی ہے تو قائم کرے گی۔
ایسے لوگ اللہ کی نصرت کے مستحق ہوت یہیں جو اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے پوری جدوجہد کریں۔ صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہوں ، کسی اور پر نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کی مدد ہوگی۔
لہٰذا اللہ کی نصرت کا وعدہ قائم ہے اسباب نصرت پر۔ نصرت کے تقاضے پورے کرنے پر اس کے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرنے پر ، اس کے بعد بھی بات اللہ کی مرضی پر ہے۔ وہ اپنی مخلوق کے اندر جس طرح چاہتا ہے ، تصرفات کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ شکست کو فتح میں بدل دیتا ہے اور بعض اوقات فتح کو ہزیمت میں بدل دیتا ہے۔ خصوصاً جب نصرت کے بنیادی عناصر ہیں ، خلل آجائے اور لوگ ذمہ داریاں اور تقاضے پورے نہ کریں۔
وللہ عاقبۃ الامور (22 : 31) ” اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ “ اللہ کی نصرت وہ ہوتی ہے جس کے ذریعہ اسلامی نظام زندگی قائم ہو ، حق ، انصاف ، آزادی اور خیر و اصلاح کا دور دورہ ہو۔ پیش نظر اعلیٰ مقاصد ہوں نہ کہ کچھ افراد ، اشخاص ، شخصیات اور ان کے ذاتی مقاصد کو پس پشت ڈال کر بلند اصولوں کو سامنے رکھنا ہوگا تب نصرت الٰہی حاصل ہوگی۔
بہرحال نصرت الٰہی کے اسباب ہوتے ہیں۔ اس کی قیمت پیشگی ادا کرنا ہوتی ہے۔ اس کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ بعض شرائط لازمی ہوتی ہے۔ یہ نصرت کسی کو مفت میں نہیں ملتی نہ اللہ کو کسی کے ساتھ محبت ہوتی ہے اور نصرت اس شخص کو نہیں ملتی نہ اس جماعت کو ملتی ہے جو اس کے مقاصد اور تقاضے پورے نہ کرتی ہو۔
الحج 22:42
درس نمبر 146 ایک نظر میں
اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس پر ہوا تھا کہ نظریات ، عقائد اور ملت کے شعار کی مدافعت کے لئے جنگ کی اجازت ہے۔ جو لوگ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے پورے کریں گے ان کو اللہ کی طرف سے پوری پوری نصرت بھی حاصل ہوگی۔ بشرطیکہ انہوں نے خود اپنی جماعت کے اندر اسلامی نظام حیات قائم کر رکھا ہو۔
جب یہ بتا دیا گیا کہ اللہ کی نصرت کے استحقاق کے لئے شرائط و فرائض کیا ہیں تو اب رسول اللہ ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ دست قدرت نے آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی حمایت میں کام شروع کردیا ہے جس طرح آپ سے قبل آپ کے بھائی رسولوں کے حق میں دست قدرت نے کیا اور ہر دور میں مکذبین کو بڑی سختی سے پکڑا۔ نیز مکذبین اور مشرکین کو بھی اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اگر ان کا دل و دماغ کام کرتا ہے تو وہ غور و فکر کریں کیونکہ آنکھوں کا اندھا دراصل اندھا نہیں ہوتا ، بلکہ حقیقی اندھا وہ ہوتا ہے جس کے سینے میں دھڑکنے والا دل اندھا ہو۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو یہ اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو شیطان کی سازشوں سے بچاتا ہے۔ اس طرح وہ جھٹلانے والوں کی سازشوں سے بھی بچاتا ہے۔ نیز وہ شیطان کی مکاریوں کو باطل کر کے ، اپنی آیات کو سلیم الطبع لوگوں کے ذہن نشین کرا رہا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دل مریض ہیں ، یا جن کے دل کافر ہیں تو وہ اسی طرح شک میں گرفتار رہیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کو دیکھ لیں۔
یہ پورا سبق دست قدرت کے آثار اور کرشموں پر مشتمل ہے۔ اللہ کا ہاتھ دعوت اسلامی کو آگے بڑھانے کے لئے متحرک ہوگیا ہے لیکن نتائج سامنے تب آئیں گے جب وہ اصحاب دعوت اپنے فرائض کو بطرز احسن پورا کریں اور وہ تقاضے پورے کریں جن کے بارے میں پہلے وضاحت کردی گئی ہے یعنی اس سے پہلے سبق میں۔
درس نمبر 146 تشریح آیات
42……تا 57
وان یکذبوک ……کان نکیر (44)
تمام رسولوں کے بارے میں یہ اللہ کی اٹل سنت ہے کہ رسول معجزات لے کر آئے اور ان کی قوموں نے ان کو جھٹلایا۔ اس لئے مشرکین مکہ کی طر سے رسول آخر الزمان ﷺ کی تکذیب کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن تمام جھٹلانے والوں کا انجام بھی تو معلوم ہے۔ انجام کے لئے بھی مشرکین مکہ تیار ہوجائیں۔
فقد کذبت قبلھم قوم نوح و عاد وثمود (32) وقوم ابرہیم و قوم لوط (22 : 33) ” اس سے پہلے قوم نوح ، اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم اور قوم لوط نے جھٹلایا ہے “ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے علیحدہ فقرہ و کذب موسیٰ (اور موسیٰ جھٹلائے جا چکے ہیں) اس لئے کہ اس کی قوم نے انہیں نہیں جھٹلایا تھا بلکہ فرعون اور اس کے سرداروں نے جھٹلایا تھا۔ دوسرے اس لئے کہ جو معجزات حضرت موسیٰ لے کر آئے تھے وہ بہت ہی واضح تھے۔ نیز موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ہی بڑے واقعات پیش آئے۔ ان تمام پیغمبروں کے واقعات میں اللہ نے کافروں کو ایک وقت تک مہلت دی۔ جیسا کہ اب قریشک و مہلت دی جا رہی ہے اور اس کے بعد اللہ نے بڑی سختی سے ان کو پکڑا۔ یہاں سوالیہ انداز مزید ڈرانے اور اظہار تعجب کے لئے ہے۔
فکیف کان نکیر (22 : 33) ” اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی۔ “ نکیر کا مفہوم ہے ایسا سخت انکار جس میں تبدیلی کا شائبہ ہو۔ اس سوال کا جواب معلوم ہے کہ خوفناک عذاب تھا۔ طوفان ، خسف تدمیر ، ہلاکت ، زلزلے ، تباہی طوفان اور کڑک کی وجہ سے خوف میں مبتلا کر کے ہلاک کرنا۔
الحج 22:43
درس نمبر 146 ایک نظر میں
اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس پر ہوا تھا کہ نظریات ، عقائد اور ملت کے شعار کی مدافعت کے لئے جنگ کی اجازت ہے۔ جو لوگ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے پورے کریں گے ان کو اللہ کی طرف سے پوری پوری نصرت بھی حاصل ہوگی۔ بشرطیکہ انہوں نے خود اپنی جماعت کے اندر اسلامی نظام حیات قائم کر رکھا ہو۔
جب یہ بتا دیا گیا کہ اللہ کی نصرت کے استحقاق کے لئے شرائط و فرائض کیا ہیں تو اب رسول اللہ ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ دست قدرت نے آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی حمایت میں کام شروع کردیا ہے جس طرح آپ سے قبل آپ کے بھائی رسولوں کے حق میں دست قدرت نے کیا اور ہر دور میں مکذبین کو بڑی سختی سے پکڑا۔ نیز مکذبین اور مشرکین کو بھی اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اگر ان کا دل و دماغ کام کرتا ہے تو وہ غور و فکر کریں کیونکہ آنکھوں کا اندھا دراصل اندھا نہیں ہوتا ، بلکہ حقیقی اندھا وہ ہوتا ہے جس کے سینے میں دھڑکنے والا دل اندھا ہو۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو یہ اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو شیطان کی سازشوں سے بچاتا ہے۔ اس طرح وہ جھٹلانے والوں کی سازشوں سے بھی بچاتا ہے۔ نیز وہ شیطان کی مکاریوں کو باطل کر کے ، اپنی آیات کو سلیم الطبع لوگوں کے ذہن نشین کرا رہا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دل مریض ہیں ، یا جن کے دل کافر ہیں تو وہ اسی طرح شک میں گرفتار رہیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کو دیکھ لیں۔
یہ پورا سبق دست قدرت کے آثار اور کرشموں پر مشتمل ہے۔ اللہ کا ہاتھ دعوت اسلامی کو آگے بڑھانے کے لئے متحرک ہوگیا ہے لیکن نتائج سامنے تب آئیں گے جب وہ اصحاب دعوت اپنے فرائض کو بطرز احسن پورا کریں اور وہ تقاضے پورے کریں جن کے بارے میں پہلے وضاحت کردی گئی ہے یعنی اس سے پہلے سبق میں۔
درس نمبر 146 تشریح آیات
42……تا 57
وان یکذبوک ……کان نکیر (44)
تمام رسولوں کے بارے میں یہ اللہ کی اٹل سنت ہے کہ رسول معجزات لے کر آئے اور ان کی قوموں نے ان کو جھٹلایا۔ اس لئے مشرکین مکہ کی طر سے رسول آخر الزمان ﷺ کی تکذیب کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن تمام جھٹلانے والوں کا انجام بھی تو معلوم ہے۔ انجام کے لئے بھی مشرکین مکہ تیار ہوجائیں۔
فقد کذبت قبلھم قوم نوح و عاد وثمود (32) وقوم ابرہیم و قوم لوط (22 : 33) ” اس سے پہلے قوم نوح ، اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم اور قوم لوط نے جھٹلایا ہے “ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے علیحدہ فقرہ و کذب موسیٰ (اور موسیٰ جھٹلائے جا چکے ہیں) اس لئے کہ اس کی قوم نے انہیں نہیں جھٹلایا تھا بلکہ فرعون اور اس کے سرداروں نے جھٹلایا تھا۔ دوسرے اس لئے کہ جو معجزات حضرت موسیٰ لے کر آئے تھے وہ بہت ہی واضح تھے۔ نیز موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ہی بڑے واقعات پیش آئے۔ ان تمام پیغمبروں کے واقعات میں اللہ نے کافروں کو ایک وقت تک مہلت دی۔ جیسا کہ اب قریشک و مہلت دی جا رہی ہے اور اس کے بعد اللہ نے بڑی سختی سے ان کو پکڑا۔ یہاں سوالیہ انداز مزید ڈرانے اور اظہار تعجب کے لئے ہے۔
فکیف کان نکیر (22 : 33) ” اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی۔ “ نکیر کا مفہوم ہے ایسا سخت انکار جس میں تبدیلی کا شائبہ ہو۔ اس سوال کا جواب معلوم ہے کہ خوفناک عذاب تھا۔ طوفان ، خسف تدمیر ، ہلاکت ، زلزلے ، تباہی طوفان اور کڑک کی وجہ سے خوف میں مبتلا کر کے ہلاک کرنا۔
الحج 22:44
درس نمبر 146 ایک نظر میں
اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس پر ہوا تھا کہ نظریات ، عقائد اور ملت کے شعار کی مدافعت کے لئے جنگ کی اجازت ہے۔ جو لوگ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے پورے کریں گے ان کو اللہ کی طرف سے پوری پوری نصرت بھی حاصل ہوگی۔ بشرطیکہ انہوں نے خود اپنی جماعت کے اندر اسلامی نظام حیات قائم کر رکھا ہو۔
جب یہ بتا دیا گیا کہ اللہ کی نصرت کے استحقاق کے لئے شرائط و فرائض کیا ہیں تو اب رسول اللہ ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ دست قدرت نے آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی حمایت میں کام شروع کردیا ہے جس طرح آپ سے قبل آپ کے بھائی رسولوں کے حق میں دست قدرت نے کیا اور ہر دور میں مکذبین کو بڑی سختی سے پکڑا۔ نیز مکذبین اور مشرکین کو بھی اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اگر ان کا دل و دماغ کام کرتا ہے تو وہ غور و فکر کریں کیونکہ آنکھوں کا اندھا دراصل اندھا نہیں ہوتا ، بلکہ حقیقی اندھا وہ ہوتا ہے جس کے سینے میں دھڑکنے والا دل اندھا ہو۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو یہ اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو شیطان کی سازشوں سے بچاتا ہے۔ اس طرح وہ جھٹلانے والوں کی سازشوں سے بھی بچاتا ہے۔ نیز وہ شیطان کی مکاریوں کو باطل کر کے ، اپنی آیات کو سلیم الطبع لوگوں کے ذہن نشین کرا رہا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دل مریض ہیں ، یا جن کے دل کافر ہیں تو وہ اسی طرح شک میں گرفتار رہیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کو دیکھ لیں۔
یہ پورا سبق دست قدرت کے آثار اور کرشموں پر مشتمل ہے۔ اللہ کا ہاتھ دعوت اسلامی کو آگے بڑھانے کے لئے متحرک ہوگیا ہے لیکن نتائج سامنے تب آئیں گے جب وہ اصحاب دعوت اپنے فرائض کو بطرز احسن پورا کریں اور وہ تقاضے پورے کریں جن کے بارے میں پہلے وضاحت کردی گئی ہے یعنی اس سے پہلے سبق میں۔
درس نمبر 146 تشریح آیات
42……تا 57
وان یکذبوک ……کان نکیر (44)
تمام رسولوں کے بارے میں یہ اللہ کی اٹل سنت ہے کہ رسول معجزات لے کر آئے اور ان کی قوموں نے ان کو جھٹلایا۔ اس لئے مشرکین مکہ کی طر سے رسول آخر الزمان ﷺ کی تکذیب کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن تمام جھٹلانے والوں کا انجام بھی تو معلوم ہے۔ انجام کے لئے بھی مشرکین مکہ تیار ہوجائیں۔
فقد کذبت قبلھم قوم نوح و عاد وثمود (32) وقوم ابرہیم و قوم لوط (22 : 33) ” اس سے پہلے قوم نوح ، اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم اور قوم لوط نے جھٹلایا ہے “ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے علیحدہ فقرہ و کذب موسیٰ (اور موسیٰ جھٹلائے جا چکے ہیں) اس لئے کہ اس کی قوم نے انہیں نہیں جھٹلایا تھا بلکہ فرعون اور اس کے سرداروں نے جھٹلایا تھا۔ دوسرے اس لئے کہ جو معجزات حضرت موسیٰ لے کر آئے تھے وہ بہت ہی واضح تھے۔ نیز موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ہی بڑے واقعات پیش آئے۔ ان تمام پیغمبروں کے واقعات میں اللہ نے کافروں کو ایک وقت تک مہلت دی۔ جیسا کہ اب قریشک و مہلت دی جا رہی ہے اور اس کے بعد اللہ نے بڑی سختی سے ان کو پکڑا۔ یہاں سوالیہ انداز مزید ڈرانے اور اظہار تعجب کے لئے ہے۔
فکیف کان نکیر (22 : 33) ” اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی۔ “ نکیر کا مفہوم ہے ایسا سخت انکار جس میں تبدیلی کا شائبہ ہو۔ اس سوال کا جواب معلوم ہے کہ خوفناک عذاب تھا۔ طوفان ، خسف تدمیر ، ہلاکت ، زلزلے ، تباہی طوفان اور کڑک کی وجہ سے خوف میں مبتلا کر کے ہلاک کرنا۔
الحج 22:45
گزشتہ ہلاک شدہ اقوام پر ایک نہایت سرسری نظر ڈالنے کے بعد اب گزشتہ ہلاک شدہ اقوام پر جامع تبصرہ۔
فکاین من ……مشید (45)
ایسی ہلاک شدہ بستیاں بیشمار ہیں۔ انداز کلام ان اقوام کی ہلاکتوں کے مناظر کو ایک منظر کی صورت میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ انسان کہتا ہے کہ وہ ہیں ہلاک شدہ بستیوں کے کھنڈرات۔ بڑے بڑے محل چھتوں کے اوپر پڑے ہیں۔ حالانکہ وہ دیواروں پر استوار تھے۔ جب کرے تو چھتیں نیچے اور تمام عمارتی ڈھانچہ ان کے اوپر۔ اس طر یہ منظر نہایت ہی و عشتاک ، دلدوز اور پرتاثیر بن جاتا ہے۔ یہ کہ یہ منظر اس کا مستحق ہے کہ اس کی سابق اور موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے۔ کھنڈرات میں جب انسان پھرتا ہے تو وہ بہت ہی وحشتاک نظر آتے ہیں اور ان سے اگر کوئی عبرت حاصل کرنا چاہے تو عبرت حاصل کرسکتا ہے اور انسان میں خوف خدا پیدا ہو سکتا ہے۔
ان بڑے بڑے گائوں کے آثار ہمارے سامنے ہیں ، ان کی چھتوں پر ان کی بلڈنگیں گری ہوئی ہیں اور ان کے کنوئیں خالی پڑے ہیں نہ ان پر کوئی آنے والا نظر آتا ہے اور نہ جانے والا کسی وقت تو ان پر عوام کا بےحد اژدھام تھا۔ بڑی بڑی عمارات کھڑی ہیں ، لیکن کوئی انسان نہیں ، کوئی زندہ چیز بھی نہیں ہے ، تخلیل کے پردے پر صورتیں ابھرتی ہیں کہ کسی وقت تو یہاں گہما گہمی ہوگی !
ان مناظر کو دکھانے کے بعد قرآن کریم سخت تنبیہ کے ساتھ پوچھتا ہے کہ آیا مشرکین نے کبھی ان کھنڈرات پر غور نہیں کیا ؟
الحج 22:46
افلم یسیروا فی ……فی الصدور (46)
گزشتہ زمانے کی ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈرات کا تصور ہی مفید اور عبرت آموز ہوتا ہے۔ انسان ان کو پھٹی پھٹی نظروں سے حیرانی کے ساتھ دیکھتا ہے اور یہ کھنڈرات انسان کو خاموشی کی زبان سے بہت کچھ بتاتے ہیں۔
افلم یسیروافی الارض (22 : 36) ” کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ “ کہ دیکھیں اور انہیں معلوم ہو کہ کیا کیا لوگ یہاں رہ گئے ہیں۔ یہ کھنڈر ان کو خاموشی کی زبان میں بہت کچھ بتا دیں گے اور کہہ دیں گے کہ دیکھو کہ ہم دیکھنے والوں کے لئے عبرت ہیں
فتکون لھم قلوب یعقلون بھا (22 : 36) ” کہ ان کے دل و دماغ سمجھنے والے ہوتے۔ “ تاکہ وہ سمجھیں کہ ان مٹے ہوئے کھنڈرات کی پشت پر تاریخ کیا ہے۔ یہ اللہ کی کس سنت کا پتہ دے رہے ہیں ، جو کبھی بدلتی نہیں ہے۔
او اذان یسمعون بھا (22 : 36) ” یا ان کے کان سننے والے ہوتے “ تاکہ وہ ان کھنڈرات سے پوچھتے کہ ان کے باسی کہاں گئے ، یہ کنوئیں کیوں خالی پڑے ہیں اور یہ محل کیوں برباد ہوئے۔
کیا ان لوگوں کے پاس عقل نہیں ہے ؟ یہ دیکھتے ہیں لیکن کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ یہ سنتے ہیں لیکن کوئی عبرت نہیں لیتے۔
فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور (22 : 36)
” حققیت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔ “ یہاں دلوں کی جگہ کا بھی تعین کردیا جاتا ہے مزید تاکید کی خاطر کہ وہ سینوں میں ہیں اور ان کے سنیوں میں جو دل ہیں وہ اندھے ہیں ، اگر یہ دل اندھے نہ ہوتے تو وہ نصیحت آموزی میں بڑے پر جوش ہوتے ، وہ عبرت لیتے اور ان لوگوں جیسے انجام سے ڈر کر ایمان کی طرف مائل ہوتے ، کیونکہ اس قسم کے کھنڈرات ان کے اردگرد کئی مقامات پر ہیں۔
لیکن ان لوگوں کا رویہ بالکل الٹا ہے۔ عبرت لینے ، ایمان لانے ، عذاب الٰہی سے ڈرنے کے بجائے یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ عذاب ہم پر جلدی آجائے حالانکہ اللہ نے کسی حکمت کی وجہ سے اسے مئوخر کردیا ہے۔
الحج 22:47
ویستعجلونک …مما تعدون (47)
ہر زمانے میں ظالموں کا یہی انداز ہوتا ہے۔ وہ زمانہ ماضی کے ظالموں کے کھنڈرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ان کی تاریخ پڑھتے ہیں اور ان کے انجام ان کے سامنے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں ، جس کا انجام وہ دیکھتے ہیں۔ جب ان کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ دیکھو تمہارے آبائو اجداد اس انجام سے دوچار ہوئے تھے ، یہی تمہارا بھی ہو سکتا ہے تو یہ لوگ اسے مسجد سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے جو انہیں مہلت کی ایک گھڑی دے رکھی ہے تو یہ کبرو غرور میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ جاتے ہیں۔ جس بات سے انہیں ڈرایا جاتا ہے اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور مذاق میں بھی اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مطالبہ کرتے ہیں کہ لائو وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔
ولن یخلف اللہ وعدہ (22 : 83) ” اللہ ہرگز وعدے کے خلاف نہ کرے گا۔ “ عذاب ضرور اپنے وقت پر آئے گا ، اس کی حکمت اور اس کی تقدیر اور منصوبے کے مطابق۔ لوگوں کی طرف سے تاوانی کا مظاہرہ ہو رہا ہے لیکن اللہ اسے اپنے وقت پر لائے گا۔ لوگوں کا وقت کا حساب اور ہے اور اللہ کا اور ہے۔
و ان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون (22 : 83) ” مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے زہار برس کے برابر ہوا کرتا ہے۔ “ یہ کھنڈرات اور ان میں ہلاک شدہ اقوام کو بھی اللہ نے مہلت دی تھی لیکن ان کے لئے بھی یہ مہلت مفید نہ رہی کیونکہ اللہ کی سنت کے مطابق ان کی بربادی کا فیصلہ ہوچکا تھا۔
تعجب ہے کہ مشرکین مکہ عذاب طلب کرتے ہیں اور اللہ کے ڈراوے کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، محض اس لئے کہ ان کو اللہ نے مہلت دے دی ہے۔
الحج 22:48
وکاین من ……المصیر (84)
یہاں تک تو اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا بیان تھا جو اس نے تکذیب کرنے والوں کے لئے اس کائنات میں جاری کر رکھی ہے اور اسی کے مطابق امم سابقہ کو ہلاک کیا گیا۔ اب خطاب کا رخ رسول اللہ کی طرف جاتا ہے کہ آپ لوگوں کو بہرحال قیامت کے انجام بد سے ڈراتے ہی رہیں اور صاف صاف کہہ دیں کہ میں تو نذیر مبیں ہوں۔
الحج 22:49
قل یایھا ……الجحیم (15)
یہاں قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے فریضے کو صرف خبردار کرنے تک محدود کردیتا ہے۔
انما انا لکم نذیر مبین (22 : 93) ” میں تو صرف وہ شخص ہوں جو وقت سے پہلے خبردار کردینے والا ہو۔ “ کیونکہ حالات ایسے تھے کہ لوگ تکذیب کر رہے تھے۔ مذاق کر رہے تھے اور یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جس عذاب سے آپ ڈراتے ہیں اسے جلدی ہی لے آئیں ! اس لئے بتایا گیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور جو لوگ میری بات کو مان لیں گے اور پھر ایمان کے تقاضے بھی پورے کریں یعنی وعملوا الصلحت (22 : 05) ” نیک عمل کریں “ تو ان کی جزاء یہ ہوگی کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف کر دے گا اور رزق کریم (22 : 05) رزق کریم ” عزت کی روزی۔ “ یعنی ان کے رزق کا ایسا ذریعہ ہوگا جو باعزت ہوگا اور ذریعہ بھی صاف ہوگا۔
رہے وہ لوگ جو اللہ کی آیات کو لوگوں کے دلوں تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور عوام کو ان پر عمل پیرا ہونے سے بھی روکتے ہیں۔ اللہ کی آیات سے مراد سچائی کے دلائل اور اللہ کی شریعت ہے ، تو ایسے لوگوں کو اللہ نے جہنم کا مالک بنا دیا ہے۔ ابھی ملکیت اللہ نے ان کو دی ہے۔ یعنی اہل ایمان کے لئے تو رزق کریم ہے اور ان کے لئے جہنم کے مالکانہ حقوق ہیں۔
اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو جھٹلانے والوں کی تکذیب سے بچاتے ہیں اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو شیطان کی سازشوں سے بھی بچاتے ہیں۔ رسول بہرحال بشر ہوتے ہیں اور انسانوں کی کچھ آرزوئیں ہوتی ہیں۔ شیطان دعوت اسلامی کے حاملین تک ان آرزئوں اور خواہشات کی راہ سے پہنچتا ہے۔ رسول اگرچہ معصوم ہوتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں چونکہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی دعوت جلدی پھیلے ، اس کو کامیابی حاصل ہو ، اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں وہ دور ہوں ، شیطان ایک داعی کی ان معصومانہ خواہشات کی راہ سے حملہ آور ہوتا ہے اور دعوت کو اس کے اصول اور اس کی اقدار و روایات سے ہاٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنے رسولوں کے کام پر نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے اس لئے وہ ان شیطانی چالوں کو باطل کردیتا ہے ، رسولوں کو بتا دیتا ہے کہ دعوت اسلامی کے اصول یہ ہیں ، اس کے پیمانے یہ ہیں۔ اس طرح اللہ دعوت کے دلائل کو محکم کردیتا ہے اور دعوت کے سلسلے میں تمام شبہات کو دور کردیتا ہے اور اس کی قدریں اور ذرائع متعین کردیئے جاتے ہیں۔
الحج 22:50
قل یایھا ……الجحیم (15)
یہاں قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے فریضے کو صرف خبردار کرنے تک محدود کردیتا ہے۔
انما انا لکم نذیر مبین (22 : 93) ” میں تو صرف وہ شخص ہوں جو وقت سے پہلے خبردار کردینے والا ہو۔ “ کیونکہ حالات ایسے تھے کہ لوگ تکذیب کر رہے تھے۔ مذاق کر رہے تھے اور یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جس عذاب سے آپ ڈراتے ہیں اسے جلدی ہی لے آئیں ! اس لئے بتایا گیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور جو لوگ میری بات کو مان لیں گے اور پھر ایمان کے تقاضے بھی پورے کریں یعنی وعملوا الصلحت (22 : 05) ” نیک عمل کریں “ تو ان کی جزاء یہ ہوگی کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف کر دے گا اور رزق کریم (22 : 05) رزق کریم ” عزت کی روزی۔ “ یعنی ان کے رزق کا ایسا ذریعہ ہوگا جو باعزت ہوگا اور ذریعہ بھی صاف ہوگا۔
رہے وہ لوگ جو اللہ کی آیات کو لوگوں کے دلوں تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور عوام کو ان پر عمل پیرا ہونے سے بھی روکتے ہیں۔ اللہ کی آیات سے مراد سچائی کے دلائل اور اللہ کی شریعت ہے ، تو ایسے لوگوں کو اللہ نے جہنم کا مالک بنا دیا ہے۔ ابھی ملکیت اللہ نے ان کو دی ہے۔ یعنی اہل ایمان کے لئے تو رزق کریم ہے اور ان کے لئے جہنم کے مالکانہ حقوق ہیں۔
اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو جھٹلانے والوں کی تکذیب سے بچاتے ہیں اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو شیطان کی سازشوں سے بھی بچاتے ہیں۔ رسول بہرحال بشر ہوتے ہیں اور انسانوں کی کچھ آرزوئیں ہوتی ہیں۔ شیطان دعوت اسلامی کے حاملین تک ان آرزئوں اور خواہشات کی راہ سے پہنچتا ہے۔ رسول اگرچہ معصوم ہوتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں چونکہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی دعوت جلدی پھیلے ، اس کو کامیابی حاصل ہو ، اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں وہ دور ہوں ، شیطان ایک داعی کی ان معصومانہ خواہشات کی راہ سے حملہ آور ہوتا ہے اور دعوت کو اس کے اصول اور اس کی اقدار و روایات سے ہاٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنے رسولوں کے کام پر نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے اس لئے وہ ان شیطانی چالوں کو باطل کردیتا ہے ، رسولوں کو بتا دیتا ہے کہ دعوت اسلامی کے اصول یہ ہیں ، اس کے پیمانے یہ ہیں۔ اس طرح اللہ دعوت کے دلائل کو محکم کردیتا ہے اور دعوت کے سلسلے میں تمام شبہات کو دور کردیتا ہے اور اس کی قدریں اور ذرائع متعین کردیئے جاتے ہیں۔
الحج 22:51
قل یایھا ……الجحیم (15)
یہاں قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے فریضے کو صرف خبردار کرنے تک محدود کردیتا ہے۔
انما انا لکم نذیر مبین (22 : 93) ” میں تو صرف وہ شخص ہوں جو وقت سے پہلے خبردار کردینے والا ہو۔ “ کیونکہ حالات ایسے تھے کہ لوگ تکذیب کر رہے تھے۔ مذاق کر رہے تھے اور یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جس عذاب سے آپ ڈراتے ہیں اسے جلدی ہی لے آئیں ! اس لئے بتایا گیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور جو لوگ میری بات کو مان لیں گے اور پھر ایمان کے تقاضے بھی پورے کریں یعنی وعملوا الصلحت (22 : 05) ” نیک عمل کریں “ تو ان کی جزاء یہ ہوگی کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف کر دے گا اور رزق کریم (22 : 05) رزق کریم ” عزت کی روزی۔ “ یعنی ان کے رزق کا ایسا ذریعہ ہوگا جو باعزت ہوگا اور ذریعہ بھی صاف ہوگا۔
رہے وہ لوگ جو اللہ کی آیات کو لوگوں کے دلوں تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور عوام کو ان پر عمل پیرا ہونے سے بھی روکتے ہیں۔ اللہ کی آیات سے مراد سچائی کے دلائل اور اللہ کی شریعت ہے ، تو ایسے لوگوں کو اللہ نے جہنم کا مالک بنا دیا ہے۔ ابھی ملکیت اللہ نے ان کو دی ہے۔ یعنی اہل ایمان کے لئے تو رزق کریم ہے اور ان کے لئے جہنم کے مالکانہ حقوق ہیں۔
اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو جھٹلانے والوں کی تکذیب سے بچاتے ہیں اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو شیطان کی سازشوں سے بھی بچاتے ہیں۔ رسول بہرحال بشر ہوتے ہیں اور انسانوں کی کچھ آرزوئیں ہوتی ہیں۔ شیطان دعوت اسلامی کے حاملین تک ان آرزئوں اور خواہشات کی راہ سے پہنچتا ہے۔ رسول اگرچہ معصوم ہوتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں چونکہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی دعوت جلدی پھیلے ، اس کو کامیابی حاصل ہو ، اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں وہ دور ہوں ، شیطان ایک داعی کی ان معصومانہ خواہشات کی راہ سے حملہ آور ہوتا ہے اور دعوت کو اس کے اصول اور اس کی اقدار و روایات سے ہاٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنے رسولوں کے کام پر نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے اس لئے وہ ان شیطانی چالوں کو باطل کردیتا ہے ، رسولوں کو بتا دیتا ہے کہ دعوت اسلامی کے اصول یہ ہیں ، اس کے پیمانے یہ ہیں۔ اس طرح اللہ دعوت کے دلائل کو محکم کردیتا ہے اور دعوت کے سلسلے میں تمام شبہات کو دور کردیتا ہے اور اس کی قدریں اور ذرائع متعین کردیئے جاتے ہیں۔
الحج 22:52
وما ارسلنا ……صراط مستقیم (45)
اس آیت کے نزول میں بہت سی روایات وارد ہیں اور ان کو بیشمار مفسرین نے نقل کیا ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ سب روایات مرسل ہیں اور ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم !
ان روایات میں سے جو زیادہ مفصل ہے (ابن ابو حاتم کی ہے اس نے موسیٰ ، ابو موسیٰ ، کوفی ، محمد ابن اسحاق شعبی ، محمد ابن فلج ، موسیٰ ، عقبہ ، ابن شہاب کی سند سے نقل کیا ہعے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ جس زمانے میں سورة نجم نازل ہوئی تو مشرکین کہتے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے الموں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرے تو ہم اس کی باتوں کا اقرار کرلیتے اور اس کے ساتھیوں کو بھی مان لیتے۔ لیکن یہ یہود و نصاریٰ پر اس طرح تنقید نہیں کرتا جس طرح ہمارے الموں کو گالیاں دیتا ہے اور شر سے ذکر کرتا ہے۔ اس زمانے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ بات شاق گزرتی تھی کہ مشرکین مکہ آپ کو جھٹلاتے تھے اور آپ کے پیروکاروں کو اذیتیں دیتے تھے۔ ان لوگوں کی ضلالت پر آپ بہت ہی دل گرفتہ تھے۔ آپ کے دل میں بڑی خواہش تھی کہ یہ لوگ ہدایت قبول کرلیں۔ جب سورة نجم نازل ہوئی تو آپ نے تلاوت کی۔
افرء یتم اللت ……لہ الانثی (12) (35 : 91-12) توعین اس وقت شیطان نے ان بتوں کے ذکر کے ساتھ ہی اپنی طرف سے چند کلمات ادا کئے۔ اس نے کہا :
انھن لھن الغرانیق العلیٰ و ان شفاعتھن لھی التی ترتجی یہ الفاظ شیطان نے اپنی طرف سے بطور فتنہ ملا دیئے۔ یہ الفاظ مکہ کے ہر مشرک کے دل میں بیٹھ گئے۔ چناچہ انہوں نے ان کو نقلک رنا شروع کردیا اور ایک دور سے کو خوشخبریاں دینے لگے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے اور اپنے پہلے دین اور اپنی قوم کے دین پر آگیا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ سورة نجم کی تلاوت کر کے آخر میں پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا اور جو مسلم اس کو سن رہے تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا اور جو مشرک سن رہے تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ ولید ابن مغیرہ ایک بڑا آدمی تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں مٹی لی اور اس پر سجدہ کرلیا۔ دونوں گروہوں کو تعجب ہوا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرلیا۔ مسلمانوں کا تعجب تو اس بات پر تھا کہ مشرکین ان کے ساتھ سجدہ ریز ہوگئے بغیر ایمان لانے اور یقین کرنے کے۔ یہ اس لئے کہ شیطان نے جو الفاظ ادا کئے تھے وہ مسلمانوں نے نہیں سنے تھے۔ صرف مشرکین نے سنے تھے۔ اس لئے مشرکین مطمئن ہوگئے کیونکہ شیطان نے رسول اللہ ﷺ کی امنیہ (قرأت) میں اپنے فقرے ملا دیئے اور مشرکین کو تسلی دی کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ نے سورة میں تلاوت کیے ہیں تو انہوں نے اپنے الموں کی تعظیم میں سجدہ کرلیا۔ یہ بات لوگوں میں پھیل گئی۔ اس بات کو شیطان نے بہت ہی پھیلایا یہاں تک کہ یہ خبر حبشہ میں پہنچ گئی اور وہاں جو مسلمان تھے انہوں نے سنی۔ وہاں مسلمان عثمان ابن مظعون کی قیادت میں ھتے۔ ان کو یہ بات پہنچی کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یکجا نماز پڑھی ہے اور ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ولید ابن مغیرہ نے اپنی ہتھیلی پر مٹی اٹھا کر اس پر سجدہ کیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اب مسلمان مکہ میں امن و چین سے ہیں۔ چناچہ یہ مہاجرین بڑی جلدی سے وہاں سے لوٹے۔ اللہ نے شیطان کے الفاظ کو منسوخ کردیا ، اپنی آیات کو مستحکم کردیا اور اس افتراء سے قرآن کو محفوظ کردیا۔ اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔
وما ارسلنا ……شقاق بعید (22 : 35) ” اور اے نبی ﷺ ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ ) جب اس نے تمنا کی ، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے ، اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے ، اللہ علیم ہے اور حکیم۔ (وہ اس لئے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنا دے ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ “ جب اللہ نے اپنا فیصلہ بتا دیا اور شیطان نے جو شوشہ چھوڑا تھا اس سے برأت کردی تو مشرکین الٹے پائوں پھرگئے اور گمراہی اختیار کر کے مسلمانوں کے ساتھ عداوت شروع کردی بلکہ اور سختی شروع کردی۔
ابن کثیر کہتے ہیں کہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس کے کلام کی پوری روایات جمع کی ہیں اور محمد ابن کعب قرظی نے بھی اس طرح جمع کی ہیں اور پھر یہاں انہوں نے سوال کیا ہے کہ یہ واقعہ اس طرح یکونکر ہو ہے جبکہ اللہ نے اس معاملے میں حضرت محمد ﷺ کو عصمت کی ضمانت دی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف لوگوں کے جوابات نقل کئے ہیں۔ سب سے گہرا جواب یہ ہے کہ شیطان نے مشرکین کے کانوں میں یہ فقرے ڈال دیئے تھے۔ مشرکین نے یہ سمجھا کہ شاید یہ فقرے بھی حضرت محمد ﷺ نے تلاوت کئے ہیں حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ حضرت شیطان نے ادا کے اور رسول اللہ ؐ نے یہ نہیں ادا کئے۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ ابن عباس نے کا ہے۔
فی امنیتہ کا معنی یہ ہے کہ شیطان نے آپ کی باتوں میں یہ فقرے ڈال دیئے۔ اللہ نے ان کو باطل کردیا اور اپنی آیات کو محکم کردیا۔
مجاہد کہتے ہیں اذا تمنی کے معنی ہیں اذا قال لہٰذا کہا جاتا ہے امنیۃ قراتہ یعنی اس کا پڑھنا۔
بغوی کہتا ہے کہ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ تمنی کے معنی میں تلا یعنی تلاوت کی اور اللہ کی کتاب پڑھی۔
القی الشیطن فی امنیتہ کے معنی ہیں ” شیطان نے ان کی ملاوٹ میں ڈال دیا۔ ‘ ابن جریر کہتے ہیں کہ تمنی کے معنی ہیں (تلا) یعنی تلاوت کی اور کلام کے مفہوم کو بیان کرنے کے لئے یہ بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
یہ ہے خلاصہ کلام روایات اور ان احادیث کا جن کو حدیث ” غرانیق “ کہتے ہیں۔ یہ حدیث سند کے اعتبار سے کوئی بنیاد نہیں رکھتی۔ علمائے حدیث کہتے ہیں۔ اہل صحاح نے اس حدیث کو نہیں لیا نہ اس کی کوئی سند صحیح و متصل ہے ثقہ راویوں سے۔ ابوابکر بزار کہتے ہیں۔ یہ حدیث ہمارے علم میں نہیں کہ کسی جگہ نبی ﷺ سے قابل ذکر اسناد متصل سے نقل کی گئی ہو اور موضوع کے اعتبار سے تو یہ اسلام کے بنیادی اصول سے ٹکراتی ہے۔ یعنی نبی ﷺ کے بارے میں عقیدہ عصمت سے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ تبلیغ رسالت کے کام میں شیطان دخیل ہو سکتا ہے۔
مستشرقین اور اسلام پر تنقید کرنے والوں نے اس حدیث میں بڑی دلچسپی لی ہے۔ اس کی انہوں نے بڑی اشاعت کی ہے اور اس کے اردگرد انہوں نے مزید مخالفانہ اقوال جمع کئے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کوئی قابل حجت بات نہیں کی بلکہ اس موضوع پر بات کرنا بھی فضول معلوم ہوتا ہے۔
خود ان آیات کے اندر ایسی شہادتیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسی بات ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ یا ایسا کوئی انفرادی واقعہ ہوا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیش آیا ہو۔ آیات کا خلاصہ تو یہ ہے کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ تمام رسولوں کو پیش آتی رہی ہے۔ ” اے نبی تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے اور نہ نبی کہ جب اس نے تمنا کی تو شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح شیطان جو کچھ خلل اندازیاں کرتا ہعے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے۔ “ لہٰذا اس آیت میں جس بات کا ذکر ہوا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کے درمیان صفت مشترکہ ہے اور اس کا تعلق ان کی صفت بشریت سے ہے اور یہ بات اس عصمت کے خلاف نہیں ہے جو رسولوں کے لئے مقرر ہے۔
یہی وہ بات ہے جس کے بیان کی ہم یہاں کوشش کریں گے انشاء اللہ۔ اصل مراد تو اللہ ہی جانتا ہے ہم جو تفسیر بیان کرتے ہیں اپنے انسانی قوائے مدرکہ کسی حد تک ہی کرتے ہیں۔ جب رسولوں کو یہ ڈیوٹی سپرد کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک ہنچائیں۔ ان کے نزدیک محبوب ترین شے یہ ہوتی ہے کہ لوگ ان کی دعوت پر جمع ہوجائیں اور اس بھلائی کا ادراک کرلیں جو وہ اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور ان کے تابع ہوجائیں۔ لیکن دعوت کے مقابلے میں بہت ہی مشکلات اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ رسول انسان ہوتے ہیں اور انسانوں کی زندگی محدود ہوتی ہے اور اس حقیقت کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو برق رفتاری سے اپنی دعوت کی طرف کھینچ لائیں۔ مثلاً ان کے دلوں میں یہ بات آئی ہے کہ اگر وہ لوگوں کے ساتھ مصالحت کریں اور جو باتیں ان کے لئے چھوڑنا مشکل ہیں ، مثلاً ان کی عادات ، رسومات ، موروثی شعائر ، ان پر وہ خاموش ہوجائیں۔ وقتی طور پر ، اور شاید اس طرح لوگ دعوت کی طرف آجائیں اور جب وہ دعوت کو قبول کرلیں تو ان کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ یہ موروثی عادات چھوڑ دیں ، جو اب ان کے لئے بہت عزیز ہیں۔ مثلاً معمولی معمولی باتوں پر وہ ان کے ساتھ نرمی کریں اور کسی انکل سے ان کو دعوت کے اندر لے آئیں۔ اس امید پر کہ اندر لا کر پھر انکی تربیت کردی جائے گی اور اس طرح ان کی خلاف اسلام عادات چھوٹ جائیں گی۔
غرض رسول اور نبی اس قسم کی بہت سی تمنائیں کرتے رہے ہیں جن کا تعلق ان کی دعوت کی نشر و اشاعت سے ہوتا ہے جبکہ اللہ کی مرضی یہ تھی کہ دعوت کے حاملین دعوت کو اس کے پورے اصولوں پر جم کر چلائیں۔ دعوت اسلامی کے باریک اقدار کے مطابق اور اس پیمانے کے مطابق کہ من شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر ” جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ “ کیونکہ اللہ کی تقدیر میں دعوت اسلامی کی کارکردگی یہ ہے کہ وہ خالص اصول انداز کی ہو اور اس میں انسانوں کی کسی تدبیر اور خواہش کی آمیزش نہ ہو کہ دعوت حقیقی اصول پر انہی پیمانوں کے مطابق اگرچہ اس طریقے کے مطابق آغاز میں تعداد کا خسارہ ہوگا۔ کیونکہ دعوت اگر اپنے اصول پر مبنی پیمانوں کے مطابق کوئی رہے تو اخرکار یہ اشخاص بھی دعوت کو قبول کرلیں گے۔ بلکہ ان اشخاص ہے بھی زیادہ با اثر اور اچھے دعوت کو قبول کریں گے اور دعوت اور دعوت بھی خالص صحیح وسالم رہے گا ، اپنی راہ پر سیدھی ہوگی اور اس کے اندر کوئی کجی کوئی پیدا نہ ہوگی۔ نہ اس میں کسی طرح کوئی جھکائو ہوگا۔
انسان کی ان خواہشات اور ان خواہشات کے اظہار کے لئے رسول جو کلمات استعمال کرتا ہے خواہش کا اظہار کرتا ہے اس میں شیطان کو موقعہ مل جاتا ہے کہ وہ سازش کر کے دعوت کو اپنی اصلی راہ سے ہٹا دے۔ اس طرح شیطان دعوت کے پھیلانے کے اجتہادی معاملات میں شبہات پیدا کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ شیطان کی کار ستانیوں کا دفعیہ کردیتا ہے اور ایسے معاملات میں اللہ کی طرف سے حکم محکم آجاتا ہے اور رسولوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اس محکم فیصلے / عوام تک پہنچا دیا اور رسولوں اور نبیوں کے دلوں میں اجتہادی امور میں جن کا تعلق دعوت کے پھیلانے سے ہوتا تھا جو لغزش ہوگئی تھی اللہ کی طرف سے اس کا بیان آجاتا ہے ، جس طرح رسول اللہ ﷺ کے بعض تصرفات میں بیان آیا ہے۔
یہ شیطان کی سازش ہوتی ہے اور اللہ کو اس کو باطل کر دیات ہے اور حکم محکمہ آجاتا ہے اور شبہ نہیں رہتا ، اجتہادی عمر کی جگہ محکم آیت آجاتی ہے۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔ جن لگوں کے دلوں میں نفاق اور انحراف کی بیماری ہے یا جن کے دل پتھر بن گئے ہیں یعنی کفار اور معاندین ، وہ ایسے معاملات میں بحث وسوال کا موقعہ پا لیتے ہیں۔
ان الظلمین لفی شقاق بعید (22 : 35) ” حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ عناد میں دور نکل گئے ہیں۔ “ رہے وہ لوگ جن کو علم و معرفت دی گئی ہے تو ان کے دل اس بیان اور حکم فیصل پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ کے حکم کی حکمت کو پا لیتے ہیں۔
ان اللہ لھاد الذین امنوآ الی صراط مستقیم (22 : 35) ” یقینا اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ راستہ دکھاتا ہے۔ “ نبی ﷺ کی زندگی میں اور دعوت اسلامی کی تاریخ میں ہم ایسی مثالیں پاتے ہیں۔ ان کی روشنی میں ہمیں اس تاویل کی ضرورت نہیں پڑتی ہے جس طرح ابن جریر نے اشارہ کیا ہے۔
قصہ ابن ام مکتوم یہ بات نظر آتی ہے۔ وہ ایک اندھے اور فقیر تھے۔ رسول اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول مجھے پڑھائیں اور وہ علم سکھائیں جو آپ کو اللہ نے سکھایا ہے۔ وہ بار بار اس بات کو دہراتے رہے۔ اس وقت رسول اللہ ولید ابن مغیرہ کے ساتھ گفتگو فرما رہے تھے اور وہ قریش کے ممتاز اکابرین میں تھے اور آپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔ ابن ام مکتوم کو معلوم نہ تھا کہ حضور ﷺ ایسے ہی اہم معاملے میں مشغول ہیں۔ رسول اللہ نے اس موقعہ پر ان کی بار بار کی مداخلت کو ناپسند کیا اور ان سے منہ موڑ یا۔ چناچہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورة نازل کی جس میں رسول اللہ ﷺ سے ذرا سخت بات کی گئی۔
عبس وتولی ……ذکرہ (21) (08 : 1 تا 21)
ترجمہ :۔
” مسترد ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا۔ تمہیں کیا خبر شاید وہ سندھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لئے نافع ہو ، جو شخص بےپروائی برتتا ہے اس کی طرف تم توجہ کرتے ہو حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور وہ ڈر کر رہا ہوتا ہے۔ اس سے تم بےرخی برتتے ہو۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے قبول کرے۔ “
یوں اللہ تعالیٰ نے دعوت اسلامی کو اپنے صحیح اور نہایت ہی دقیق اقدار اور پیمانوں کی طرف لوٹا دیا اور یوں رسول اللہ کے اس طرز عمل کی تصحیح کردی جو آپ نے اکابرین قریش کی بات محض اس لئے اختیار یہ ہے کہ وہ اسلام لے آئیں اور ان کے ساتھ عام کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کرلے۔ اللہ نے اس پر دعوت کا جو صحیح اوصول اور طریقہ بنایا وہ یہ تھا کہ اکابر قریش کے اسلام قبول کرنے کے مقابلے میں یہ بات اہم ہے کہ دعوت اسلامی اپنے صحیح خطوط پر کام کرے اس طرح شیطان کے اس وسوسے کو باطل کردیا جو اس نے رسول اللہ کی اس خواہش کے راستے سے ڈال دیا تھا کہ اکابر قریش اگر اسلام قبول کرلیں تو دعوت جلدی پھیل جائے گی۔ اللہ نے اپنی آیات محکمہ نازل کر کے اس رویہ کو درست کردیا اور اہل ایمان کے دل پر مطمئن ہوگئے۔
اس کے بعد نبی ﷺ ابن ام مکتوم کی بہت قدر کرتے تھے۔ جب بھی اس کو دیکھتے ، یہ فرماتے ہیں شخص ہے جس کی وجہ سے اللہ نے مجھے جھڑکا ہے۔ آپ سے حضور ﷺ ہمیشہ پوچھتے تمہیں کچھ ضرورت ہے۔ وہ دفعہ آپ نے اپنی عدم موجودگی میں انہیں مدینہ اپنا خلیفہ بنایا۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایات کی ہے۔ بواسطہ ابوبکر ، ابن ابوشیبہ ، محمد ابن عبداللہ اسد ، اسرائیل ، ہندم ابن شروع ۔ اس کے بعد دوالد سعد ابن ابو وقاص سے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، چھ آدمی تھے۔ مشرکین نے کہا ان کو ذرا ہٹا دو یہ ہم سے آگے بڑھتے ہیں کہتے ہیں اس وقت میں تھا ، ابن سعود تھے۔ ہذیل کا ایک شخص تھا۔ بلال تھے اور دو دور سے لوگ تھے جن کا نام میں بھول گیا۔ اس حضور کے دل میں کوئی بات آئی۔ اللہ جانتا ہے کہ کیا بات آئی۔ حضور نے دل میں کوئی بات کی۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔
ولا تطرد الذین یدعون ……وجھہ ” اور ان لوگوں کو نہ بھکائو ، جو اپنے اپنے کو صحبح کو شامل پکارتے ہیں اور صرف اللہ کی رضا منادی چاہتے ہیں۔ “ یہاں بھی اللہ نے دعوت اسلامی کے نہایت ہی باریک ناپ و تول کرنے والے پیمانے واپس کردیئے اور شیطان نے اس نکتے پر جو وسوسہ اندازی کی تھی ، اس کے اظہار سے قبل اللہ نے اس کی تصویر کردی۔ شاید حضور نے یہ سوچا کہ آئندہ اکابرین قریش کے ساتھ یہ غریب لوگ مجلس میں نہ بیٹھیں جب کہ اللہ کے نزدیک دعوت اسلامی اسلامی کی اقدار کی افادیت ان اکابر قریش کے مقابلے میں زیادہ اچھی تھی۔ نیز دعوت کی اقدار اور پیمانوں کی اہمیت ان ہزار لوگوں کے اسلام سے بھی زیادہ تھی جو ان اکابرین قریش کی بیعت میں تحریک کا ساتھ دیتے اور جن کی تمنا رسول اللہ کرتے تھے۔ اللہ تحریک کے لئے حقیقی قوت کے مراکز کو خوب جانتے تھے۔ تحیک کے لئے اصل قوت یہ تھی کہ وہ اپنی راہ پر استقامت کے ساتھ چلے اور کسی شخص یا کسی رسم و رواج کی کوئی پرواہ نہ کیر۔
زینب بنت بخش کے واقعہ میں بھی یہی پیش آیا۔ آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں ، رسول اللہ نے ان کو زید بن حارثہ کی زوجیت میں دے دیا تھا۔ زید حضور کے معنی تھے اور زید ابن محمد کے نام سے مشہور تھے۔ زینب کے ساتھ نکاح بعد ان کی ازدواجی زندگی کی کامیاب نہ ہوئی۔ جاہلیت کا رواج یہ تھا کہ اگر متنبیٰ فوت ہوجائے یا اپنی بیوی / طلاق دے تو اس کے ساتھ اس کا منہ بولا باپ نکاح نہ کرتا تھا۔ اس کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اس رسم کو ختم کردیا جائے۔ جس طرح بیٹے کی نسبت والد کے بغیر کسی دوسرے کی طرف کرنے کی رسم کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا تھا کہ اگر زید اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو آپ اس کے ساتھ نکاح کرلیں تاکہ اس رسم کا ابطال ہوجائے۔ لیکن نبی ﷺ نے اس بات کو اپنے دل میں خفیہ رکھا اور کسی کو نہ بتایا۔ زید جب بھی اپنی بیوی کی شکایت کرتے رسول اللہ : ان کو یہی مشورہ دیتے کہ ” تم اپنی بیوی کو رکھو۔ “ حضور ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اگر زید طلاق دیتے ہیں تو مجھے اس سے نکاح کرنا ہوگا اور اس بات کو مطابق رواج عرب پسند نہیں کرتے۔ حضور اکرم ﷺ نے اس بات کو اس طرح مخفی رکھا یہاں تک کہ زید نے تنگ آ کر زینب کو طلاق دے دی۔ اللہ نے اس کے بارے میں قرآن نازل فرمایا اور اس میں اس بات کی وضاحت کردی جو حضور اکرم ﷺ کے دل میں تھی اور متنبیٰ کے سلسلہ میں اسلامی شریعت کا جو منشا تھا وہ پورا کردیا گیا۔ چناچہ اللہ نے فرمایا :
واذ تقول للذی …… اللہ مفعولا (33 : 83) ” اے نبی آیا کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ ” اپنی بیوی کو نہ چھوڑا اور اللہ سے ڈر “ اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا تم لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو ۔ پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں۔ اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا۔ “
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر حضرت محمد ﷺ اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام میں سے کسی چیز کو چھپاتے تو وہ اس آیت کو چھپاتے۔
وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشہ (33 : 83) ” اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے الہل کھولنا چاہتا تھا ، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ “
اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت اور اس کے احکام کو نافذ کردیا اور اس بات کو بھی کھول کر رکھ دیا جو رسول اللہ ﷺ کے دل میں خلجان برپا کر رہی تھی کہ لوگ متنبی کی بیوی سے نکاح کو برا خیال کرتے ہیں۔ اللہ نے یہاں بھی شیطان کی راہ کو بند کردیا اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری تھی ، یا جن کے دل دعوت اسلامی کے لئے سخت تھے وہ اس واقعہ کو بھی سامان فتنہ بتاتے رہے اور آج تک اسلام کے دشمن اسے سامان فتنہ بنا رہے ہیں۔
یہ ہے وہ بات جس پر اس آیت کی تفسیر میں ہمارا دل مطمئن ہوگیا ہے۔ اللہ ہی صحیح راستہ بتانے الا ہے۔ رسول اللہ کے بعد دعوت اسلامی کی لیڈر شپ بھی بعض اوقات یہ کوشش کرتی ہے کہ انتہائی با اثر لوگوں کو دعوت اسلامی کی طرف مائل کیا جائے اور ابتداء میں دعوت کے تقاضے میں سے بعض امور میں چشم پوشی کی جائے۔ یہ کام وہ اس جذبے کے تحت کرتے ہیں کہ دعوت اسلامی کو فروغ حاصل ہو اور وہ جلدی غلبہ حصال کرے۔ اس لیڈر شپ کا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ امور دعوت کے بنیادی امور نہیں ہوتے۔ یہ لوگ ان با اثر لوگوں کے ساتھ ان امور میں نرمی کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ دعوت سے متنفر نہ ہوجائیں اور اس کی مخاصمت اختیار نہ کریں۔
یہ لوگ بعض ایسے وسائل اور ذرائع بھی اپناتے ہیں جو دعوت اسلامی کے باریک پیمانوں اور اقدار کے ساتھ بےجوڑ ہوتے ہیں نہ یہ امور دعوت اسلامی کے سیدھے سادے طریقے سے لگا کھاتے ہیں یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں کہ دعوت جلدی پھیل جائے اور کامیاب ہوجائے۔ یہ لوگ ان امور کو اپنانے کے لئے دعوت کی مصلحت کے تحت بطور اجتہاد یہ کام کرتے ہیں حلاان کہ دعوت اسلامی کی مصلحت تو اس میں ہے کہ اس کے حقیقی منہاج سے ذرہ برابر انحراف نہ کیا جائے نہ کم اور نہ زیادہ کسی بات میں بھی۔ رہے نتائج تو وہ تو امر غیبی ہیں۔ ان کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ لہٰذا کسی حامل دعوت کو نتائج کا حساب و کتاب اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ حاملین دعوت کا فریضہ صرف یہ ہے کہ وہ دعوت اسلامی کو لے کر سیدھے چل پڑیں۔ دعوت اسلامی کے حقیقی راستے پر چلنے میں ہی کامیاب ہے۔
قرآن کریم صراحت سے کہتا ہے کہ قرآن مجید حاملین دعوت اسلامی پر ان کی آرزئو وں اور تمنائوں کے راستے سے داخل ہوتا ہے تاکہ اس طرح وہ دعوت اسلامی کی صفوں کے اندر داخل ہوجائے۔ جہاں تک انبیاء کا تعلق ہے تو ان کی عصمت کی ضمانت تو اللہ نے دے دی تھی۔ شیطان کے لئے ممکن نہ رہا کہ وہ انبیاء کی فطری تمنائوں کی راہ سے دخل اندازی کرسکے۔ لیکن بعد میں آنے والی لیڈر شپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ بہت زیادہ چوکنی رہے اور بہت احتیاط سے کام لے۔ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے خیال میں کوئی کام اسلام کی بہترین دعوت کے پھیلنے اور کامیاب ہونے کے لئے کر رہے ہوں اور اس میں دعوت کی مصلحت سمجھتے ہوں اور دراصل وہ شیطانی مداخلت ہو۔ داعیان کو چاہئے کہ دعوت کی مصلحت کا لفظ ہی اپنی ڈکشنریوں سے نکال دیں کیونکہ یہ لغزش کا مقام ہے ، اس مقام سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔ جب شیطان افراد کی مصلحتوں کی راہ سے اندر نہیں آسکتا تو پھر وہ دعوت کی مصلحت کی راہ سے حملہ کرتا ہے۔ دعوت کی مصلحت اب ایک بت بن گیا ہے۔ آج کل داعیان حق اس کو بہت پوجتے ہیں لیکن اس لباس میں وہ دعوت کے اصل منہاج سے جی چراتے ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کی لیڈر شپ کو چاہئے کہ وہ دعوت کے اصل منہاج کو نہ بھولیں اور اس منہاج پر خوف غور کریں اور خصوصاً اس بات کی طرف توجہ نہ کریں کہ فلاں فلاں کام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں دعوت کے لئے خطرہ ہے ، یا کارکنان کے لئے خطرہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اصل خطرہ یہی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملیں دعوت کا حقیقی منہاج چھوڑ دیں ، کسی ھی وجہ سے ، اور صحیح راستے سے انحراف کریں خواہ یہ انحراف قلیل ہو یا کثیر ہو۔ اللہ اپنی دعوت کی مصلحت کو ہم سے زیادہ جانتا ہے اور پھر دعوت کے بچانے اور کامیاب کرانے کے ہم ذمہ دار اور مکلف ہیں ہیں ہمارا فریضہ صرف ایک ہے کہ ہم اپنے منہاج سے انحراف نہ کریں اور اپنے صراط مستقیم سے بالکل ادھر ادھر نہ ہوں۔
آخر میں تنبیہ آتی ہے کہ تم دعوت اسلامی کو شیطانی وسوسوں سے بچانے کی سعی کرو۔ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگ مانیں یا دعوت کامیاب ہوجائے۔ اگر کفار اس کو نہیں مانتے وہ دراصل اس کے بارے میں شک میں ہیں اور ان کے انتظار میں درد ناک اور توہین آمیز عذاب ہے۔
الحج 22:53
وما ارسلنا ……صراط مستقیم (45)
اس آیت کے نزول میں بہت سی روایات وارد ہیں اور ان کو بیشمار مفسرین نے نقل کیا ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ سب روایات مرسل ہیں اور ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم !
ان روایات میں سے جو زیادہ مفصل ہے (ابن ابو حاتم کی ہے اس نے موسیٰ ، ابو موسیٰ ، کوفی ، محمد ابن اسحاق شعبی ، محمد ابن فلج ، موسیٰ ، عقبہ ، ابن شہاب کی سند سے نقل کیا ہعے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ جس زمانے میں سورة نجم نازل ہوئی تو مشرکین کہتے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے الموں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرے تو ہم اس کی باتوں کا اقرار کرلیتے اور اس کے ساتھیوں کو بھی مان لیتے۔ لیکن یہ یہود و نصاریٰ پر اس طرح تنقید نہیں کرتا جس طرح ہمارے الموں کو گالیاں دیتا ہے اور شر سے ذکر کرتا ہے۔ اس زمانے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ بات شاق گزرتی تھی کہ مشرکین مکہ آپ کو جھٹلاتے تھے اور آپ کے پیروکاروں کو اذیتیں دیتے تھے۔ ان لوگوں کی ضلالت پر آپ بہت ہی دل گرفتہ تھے۔ آپ کے دل میں بڑی خواہش تھی کہ یہ لوگ ہدایت قبول کرلیں۔ جب سورة نجم نازل ہوئی تو آپ نے تلاوت کی۔
افرء یتم اللت ……لہ الانثی (12) (35 : 91-12) توعین اس وقت شیطان نے ان بتوں کے ذکر کے ساتھ ہی اپنی طرف سے چند کلمات ادا کئے۔ اس نے کہا :
انھن لھن الغرانیق العلیٰ و ان شفاعتھن لھی التی ترتجی یہ الفاظ شیطان نے اپنی طرف سے بطور فتنہ ملا دیئے۔ یہ الفاظ مکہ کے ہر مشرک کے دل میں بیٹھ گئے۔ چناچہ انہوں نے ان کو نقلک رنا شروع کردیا اور ایک دور سے کو خوشخبریاں دینے لگے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے اور اپنے پہلے دین اور اپنی قوم کے دین پر آگیا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ سورة نجم کی تلاوت کر کے آخر میں پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا اور جو مسلم اس کو سن رہے تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا اور جو مشرک سن رہے تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ ولید ابن مغیرہ ایک بڑا آدمی تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں مٹی لی اور اس پر سجدہ کرلیا۔ دونوں گروہوں کو تعجب ہوا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرلیا۔ مسلمانوں کا تعجب تو اس بات پر تھا کہ مشرکین ان کے ساتھ سجدہ ریز ہوگئے بغیر ایمان لانے اور یقین کرنے کے۔ یہ اس لئے کہ شیطان نے جو الفاظ ادا کئے تھے وہ مسلمانوں نے نہیں سنے تھے۔ صرف مشرکین نے سنے تھے۔ اس لئے مشرکین مطمئن ہوگئے کیونکہ شیطان نے رسول اللہ ﷺ کی امنیہ (قرأت) میں اپنے فقرے ملا دیئے اور مشرکین کو تسلی دی کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ نے سورة میں تلاوت کیے ہیں تو انہوں نے اپنے الموں کی تعظیم میں سجدہ کرلیا۔ یہ بات لوگوں میں پھیل گئی۔ اس بات کو شیطان نے بہت ہی پھیلایا یہاں تک کہ یہ خبر حبشہ میں پہنچ گئی اور وہاں جو مسلمان تھے انہوں نے سنی۔ وہاں مسلمان عثمان ابن مظعون کی قیادت میں ھتے۔ ان کو یہ بات پہنچی کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یکجا نماز پڑھی ہے اور ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ولید ابن مغیرہ نے اپنی ہتھیلی پر مٹی اٹھا کر اس پر سجدہ کیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اب مسلمان مکہ میں امن و چین سے ہیں۔ چناچہ یہ مہاجرین بڑی جلدی سے وہاں سے لوٹے۔ اللہ نے شیطان کے الفاظ کو منسوخ کردیا ، اپنی آیات کو مستحکم کردیا اور اس افتراء سے قرآن کو محفوظ کردیا۔ اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔
وما ارسلنا ……شقاق بعید (22 : 35) ” اور اے نبی ﷺ ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ ) جب اس نے تمنا کی ، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے ، اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے ، اللہ علیم ہے اور حکیم۔ (وہ اس لئے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنا دے ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ “ جب اللہ نے اپنا فیصلہ بتا دیا اور شیطان نے جو شوشہ چھوڑا تھا اس سے برأت کردی تو مشرکین الٹے پائوں پھرگئے اور گمراہی اختیار کر کے مسلمانوں کے ساتھ عداوت شروع کردی بلکہ اور سختی شروع کردی۔
ابن کثیر کہتے ہیں کہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس کے کلام کی پوری روایات جمع کی ہیں اور محمد ابن کعب قرظی نے بھی اس طرح جمع کی ہیں اور پھر یہاں انہوں نے سوال کیا ہے کہ یہ واقعہ اس طرح یکونکر ہو ہے جبکہ اللہ نے اس معاملے میں حضرت محمد ﷺ کو عصمت کی ضمانت دی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف لوگوں کے جوابات نقل کئے ہیں۔ سب سے گہرا جواب یہ ہے کہ شیطان نے مشرکین کے کانوں میں یہ فقرے ڈال دیئے تھے۔ مشرکین نے یہ سمجھا کہ شاید یہ فقرے بھی حضرت محمد ﷺ نے تلاوت کئے ہیں حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ حضرت شیطان نے ادا کے اور رسول اللہ ؐ نے یہ نہیں ادا کئے۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ ابن عباس نے کا ہے۔
فی امنیتہ کا معنی یہ ہے کہ شیطان نے آپ کی باتوں میں یہ فقرے ڈال دیئے۔ اللہ نے ان کو باطل کردیا اور اپنی آیات کو محکم کردیا۔
مجاہد کہتے ہیں اذا تمنی کے معنی ہیں اذا قال لہٰذا کہا جاتا ہے امنیۃ قراتہ یعنی اس کا پڑھنا۔
بغوی کہتا ہے کہ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ تمنی کے معنی میں تلا یعنی تلاوت کی اور اللہ کی کتاب پڑھی۔
القی الشیطن فی امنیتہ کے معنی ہیں ” شیطان نے ان کی ملاوٹ میں ڈال دیا۔ ‘ ابن جریر کہتے ہیں کہ تمنی کے معنی ہیں (تلا) یعنی تلاوت کی اور کلام کے مفہوم کو بیان کرنے کے لئے یہ بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
یہ ہے خلاصہ کلام روایات اور ان احادیث کا جن کو حدیث ” غرانیق “ کہتے ہیں۔ یہ حدیث سند کے اعتبار سے کوئی بنیاد نہیں رکھتی۔ علمائے حدیث کہتے ہیں۔ اہل صحاح نے اس حدیث کو نہیں لیا نہ اس کی کوئی سند صحیح و متصل ہے ثقہ راویوں سے۔ ابوابکر بزار کہتے ہیں۔ یہ حدیث ہمارے علم میں نہیں کہ کسی جگہ نبی ﷺ سے قابل ذکر اسناد متصل سے نقل کی گئی ہو اور موضوع کے اعتبار سے تو یہ اسلام کے بنیادی اصول سے ٹکراتی ہے۔ یعنی نبی ﷺ کے بارے میں عقیدہ عصمت سے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ تبلیغ رسالت کے کام میں شیطان دخیل ہو سکتا ہے۔
مستشرقین اور اسلام پر تنقید کرنے والوں نے اس حدیث میں بڑی دلچسپی لی ہے۔ اس کی انہوں نے بڑی اشاعت کی ہے اور اس کے اردگرد انہوں نے مزید مخالفانہ اقوال جمع کئے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کوئی قابل حجت بات نہیں کی بلکہ اس موضوع پر بات کرنا بھی فضول معلوم ہوتا ہے۔
خود ان آیات کے اندر ایسی شہادتیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسی بات ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ یا ایسا کوئی انفرادی واقعہ ہوا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیش آیا ہو۔ آیات کا خلاصہ تو یہ ہے کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ تمام رسولوں کو پیش آتی رہی ہے۔ ” اے نبی تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے اور نہ نبی کہ جب اس نے تمنا کی تو شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح شیطان جو کچھ خلل اندازیاں کرتا ہعے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے۔ “ لہٰذا اس آیت میں جس بات کا ذکر ہوا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کے درمیان صفت مشترکہ ہے اور اس کا تعلق ان کی صفت بشریت سے ہے اور یہ بات اس عصمت کے خلاف نہیں ہے جو رسولوں کے لئے مقرر ہے۔
یہی وہ بات ہے جس کے بیان کی ہم یہاں کوشش کریں گے انشاء اللہ۔ اصل مراد تو اللہ ہی جانتا ہے ہم جو تفسیر بیان کرتے ہیں اپنے انسانی قوائے مدرکہ کسی حد تک ہی کرتے ہیں۔ جب رسولوں کو یہ ڈیوٹی سپرد کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک ہنچائیں۔ ان کے نزدیک محبوب ترین شے یہ ہوتی ہے کہ لوگ ان کی دعوت پر جمع ہوجائیں اور اس بھلائی کا ادراک کرلیں جو وہ اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور ان کے تابع ہوجائیں۔ لیکن دعوت کے مقابلے میں بہت ہی مشکلات اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ رسول انسان ہوتے ہیں اور انسانوں کی زندگی محدود ہوتی ہے اور اس حقیقت کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو برق رفتاری سے اپنی دعوت کی طرف کھینچ لائیں۔ مثلاً ان کے دلوں میں یہ بات آئی ہے کہ اگر وہ لوگوں کے ساتھ مصالحت کریں اور جو باتیں ان کے لئے چھوڑنا مشکل ہیں ، مثلاً ان کی عادات ، رسومات ، موروثی شعائر ، ان پر وہ خاموش ہوجائیں۔ وقتی طور پر ، اور شاید اس طرح لوگ دعوت کی طرف آجائیں اور جب وہ دعوت کو قبول کرلیں تو ان کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ یہ موروثی عادات چھوڑ دیں ، جو اب ان کے لئے بہت عزیز ہیں۔ مثلاً معمولی معمولی باتوں پر وہ ان کے ساتھ نرمی کریں اور کسی انکل سے ان کو دعوت کے اندر لے آئیں۔ اس امید پر کہ اندر لا کر پھر انکی تربیت کردی جائے گی اور اس طرح ان کی خلاف اسلام عادات چھوٹ جائیں گی۔
غرض رسول اور نبی اس قسم کی بہت سی تمنائیں کرتے رہے ہیں جن کا تعلق ان کی دعوت کی نشر و اشاعت سے ہوتا ہے جبکہ اللہ کی مرضی یہ تھی کہ دعوت کے حاملین دعوت کو اس کے پورے اصولوں پر جم کر چلائیں۔ دعوت اسلامی کے باریک اقدار کے مطابق اور اس پیمانے کے مطابق کہ من شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر ” جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ “ کیونکہ اللہ کی تقدیر میں دعوت اسلامی کی کارکردگی یہ ہے کہ وہ خالص اصول انداز کی ہو اور اس میں انسانوں کی کسی تدبیر اور خواہش کی آمیزش نہ ہو کہ دعوت حقیقی اصول پر انہی پیمانوں کے مطابق اگرچہ اس طریقے کے مطابق آغاز میں تعداد کا خسارہ ہوگا۔ کیونکہ دعوت اگر اپنے اصول پر مبنی پیمانوں کے مطابق کوئی رہے تو اخرکار یہ اشخاص بھی دعوت کو قبول کرلیں گے۔ بلکہ ان اشخاص ہے بھی زیادہ با اثر اور اچھے دعوت کو قبول کریں گے اور دعوت اور دعوت بھی خالص صحیح وسالم رہے گا ، اپنی راہ پر سیدھی ہوگی اور اس کے اندر کوئی کجی کوئی پیدا نہ ہوگی۔ نہ اس میں کسی طرح کوئی جھکائو ہوگا۔
انسان کی ان خواہشات اور ان خواہشات کے اظہار کے لئے رسول جو کلمات استعمال کرتا ہے خواہش کا اظہار کرتا ہے اس میں شیطان کو موقعہ مل جاتا ہے کہ وہ سازش کر کے دعوت کو اپنی اصلی راہ سے ہٹا دے۔ اس طرح شیطان دعوت کے پھیلانے کے اجتہادی معاملات میں شبہات پیدا کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ شیطان کی کار ستانیوں کا دفعیہ کردیتا ہے اور ایسے معاملات میں اللہ کی طرف سے حکم محکم آجاتا ہے اور رسولوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اس محکم فیصلے / عوام تک پہنچا دیا اور رسولوں اور نبیوں کے دلوں میں اجتہادی امور میں جن کا تعلق دعوت کے پھیلانے سے ہوتا تھا جو لغزش ہوگئی تھی اللہ کی طرف سے اس کا بیان آجاتا ہے ، جس طرح رسول اللہ ﷺ کے بعض تصرفات میں بیان آیا ہے۔
یہ شیطان کی سازش ہوتی ہے اور اللہ کو اس کو باطل کر دیات ہے اور حکم محکمہ آجاتا ہے اور شبہ نہیں رہتا ، اجتہادی عمر کی جگہ محکم آیت آجاتی ہے۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔ جن لگوں کے دلوں میں نفاق اور انحراف کی بیماری ہے یا جن کے دل پتھر بن گئے ہیں یعنی کفار اور معاندین ، وہ ایسے معاملات میں بحث وسوال کا موقعہ پا لیتے ہیں۔
ان الظلمین لفی شقاق بعید (22 : 35) ” حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ عناد میں دور نکل گئے ہیں۔ “ رہے وہ لوگ جن کو علم و معرفت دی گئی ہے تو ان کے دل اس بیان اور حکم فیصل پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ کے حکم کی حکمت کو پا لیتے ہیں۔
ان اللہ لھاد الذین امنوآ الی صراط مستقیم (22 : 35) ” یقینا اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ راستہ دکھاتا ہے۔ “ نبی ﷺ کی زندگی میں اور دعوت اسلامی کی تاریخ میں ہم ایسی مثالیں پاتے ہیں۔ ان کی روشنی میں ہمیں اس تاویل کی ضرورت نہیں پڑتی ہے جس طرح ابن جریر نے اشارہ کیا ہے۔
قصہ ابن ام مکتوم یہ بات نظر آتی ہے۔ وہ ایک اندھے اور فقیر تھے۔ رسول اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول مجھے پڑھائیں اور وہ علم سکھائیں جو آپ کو اللہ نے سکھایا ہے۔ وہ بار بار اس بات کو دہراتے رہے۔ اس وقت رسول اللہ ولید ابن مغیرہ کے ساتھ گفتگو فرما رہے تھے اور وہ قریش کے ممتاز اکابرین میں تھے اور آپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔ ابن ام مکتوم کو معلوم نہ تھا کہ حضور ﷺ ایسے ہی اہم معاملے میں مشغول ہیں۔ رسول اللہ نے اس موقعہ پر ان کی بار بار کی مداخلت کو ناپسند کیا اور ان سے منہ موڑ یا۔ چناچہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورة نازل کی جس میں رسول اللہ ﷺ سے ذرا سخت بات کی گئی۔
عبس وتولی ……ذکرہ (21) (08 : 1 تا 21)
ترجمہ :۔
” مسترد ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا۔ تمہیں کیا خبر شاید وہ سندھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لئے نافع ہو ، جو شخص بےپروائی برتتا ہے اس کی طرف تم توجہ کرتے ہو حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور وہ ڈر کر رہا ہوتا ہے۔ اس سے تم بےرخی برتتے ہو۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے قبول کرے۔ “
یوں اللہ تعالیٰ نے دعوت اسلامی کو اپنے صحیح اور نہایت ہی دقیق اقدار اور پیمانوں کی طرف لوٹا دیا اور یوں رسول اللہ کے اس طرز عمل کی تصحیح کردی جو آپ نے اکابرین قریش کی بات محض اس لئے اختیار یہ ہے کہ وہ اسلام لے آئیں اور ان کے ساتھ عام کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کرلے۔ اللہ نے اس پر دعوت کا جو صحیح اوصول اور طریقہ بنایا وہ یہ تھا کہ اکابر قریش کے اسلام قبول کرنے کے مقابلے میں یہ بات اہم ہے کہ دعوت اسلامی اپنے صحیح خطوط پر کام کرے اس طرح شیطان کے اس وسوسے کو باطل کردیا جو اس نے رسول اللہ کی اس خواہش کے راستے سے ڈال دیا تھا کہ اکابر قریش اگر اسلام قبول کرلیں تو دعوت جلدی پھیل جائے گی۔ اللہ نے اپنی آیات محکمہ نازل کر کے اس رویہ کو درست کردیا اور اہل ایمان کے دل پر مطمئن ہوگئے۔
اس کے بعد نبی ﷺ ابن ام مکتوم کی بہت قدر کرتے تھے۔ جب بھی اس کو دیکھتے ، یہ فرماتے ہیں شخص ہے جس کی وجہ سے اللہ نے مجھے جھڑکا ہے۔ آپ سے حضور ﷺ ہمیشہ پوچھتے تمہیں کچھ ضرورت ہے۔ وہ دفعہ آپ نے اپنی عدم موجودگی میں انہیں مدینہ اپنا خلیفہ بنایا۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایات کی ہے۔ بواسطہ ابوبکر ، ابن ابوشیبہ ، محمد ابن عبداللہ اسد ، اسرائیل ، ہندم ابن شروع ۔ اس کے بعد دوالد سعد ابن ابو وقاص سے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، چھ آدمی تھے۔ مشرکین نے کہا ان کو ذرا ہٹا دو یہ ہم سے آگے بڑھتے ہیں کہتے ہیں اس وقت میں تھا ، ابن سعود تھے۔ ہذیل کا ایک شخص تھا۔ بلال تھے اور دو دور سے لوگ تھے جن کا نام میں بھول گیا۔ اس حضور کے دل میں کوئی بات آئی۔ اللہ جانتا ہے کہ کیا بات آئی۔ حضور نے دل میں کوئی بات کی۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔
ولا تطرد الذین یدعون ……وجھہ ” اور ان لوگوں کو نہ بھکائو ، جو اپنے اپنے کو صحبح کو شامل پکارتے ہیں اور صرف اللہ کی رضا منادی چاہتے ہیں۔ “ یہاں بھی اللہ نے دعوت اسلامی کے نہایت ہی باریک ناپ و تول کرنے والے پیمانے واپس کردیئے اور شیطان نے اس نکتے پر جو وسوسہ اندازی کی تھی ، اس کے اظہار سے قبل اللہ نے اس کی تصویر کردی۔ شاید حضور نے یہ سوچا کہ آئندہ اکابرین قریش کے ساتھ یہ غریب لوگ مجلس میں نہ بیٹھیں جب کہ اللہ کے نزدیک دعوت اسلامی اسلامی کی اقدار کی افادیت ان اکابر قریش کے مقابلے میں زیادہ اچھی تھی۔ نیز دعوت کی اقدار اور پیمانوں کی اہمیت ان ہزار لوگوں کے اسلام سے بھی زیادہ تھی جو ان اکابرین قریش کی بیعت میں تحریک کا ساتھ دیتے اور جن کی تمنا رسول اللہ کرتے تھے۔ اللہ تحریک کے لئے حقیقی قوت کے مراکز کو خوب جانتے تھے۔ تحیک کے لئے اصل قوت یہ تھی کہ وہ اپنی راہ پر استقامت کے ساتھ چلے اور کسی شخص یا کسی رسم و رواج کی کوئی پرواہ نہ کیر۔
زینب بنت بخش کے واقعہ میں بھی یہی پیش آیا۔ آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں ، رسول اللہ نے ان کو زید بن حارثہ کی زوجیت میں دے دیا تھا۔ زید حضور کے معنی تھے اور زید ابن محمد کے نام سے مشہور تھے۔ زینب کے ساتھ نکاح بعد ان کی ازدواجی زندگی کی کامیاب نہ ہوئی۔ جاہلیت کا رواج یہ تھا کہ اگر متنبیٰ فوت ہوجائے یا اپنی بیوی / طلاق دے تو اس کے ساتھ اس کا منہ بولا باپ نکاح نہ کرتا تھا۔ اس کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اس رسم کو ختم کردیا جائے۔ جس طرح بیٹے کی نسبت والد کے بغیر کسی دوسرے کی طرف کرنے کی رسم کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا تھا کہ اگر زید اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو آپ اس کے ساتھ نکاح کرلیں تاکہ اس رسم کا ابطال ہوجائے۔ لیکن نبی ﷺ نے اس بات کو اپنے دل میں خفیہ رکھا اور کسی کو نہ بتایا۔ زید جب بھی اپنی بیوی کی شکایت کرتے رسول اللہ : ان کو یہی مشورہ دیتے کہ ” تم اپنی بیوی کو رکھو۔ “ حضور ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اگر زید طلاق دیتے ہیں تو مجھے اس سے نکاح کرنا ہوگا اور اس بات کو مطابق رواج عرب پسند نہیں کرتے۔ حضور اکرم ﷺ نے اس بات کو اس طرح مخفی رکھا یہاں تک کہ زید نے تنگ آ کر زینب کو طلاق دے دی۔ اللہ نے اس کے بارے میں قرآن نازل فرمایا اور اس میں اس بات کی وضاحت کردی جو حضور اکرم ﷺ کے دل میں تھی اور متنبیٰ کے سلسلہ میں اسلامی شریعت کا جو منشا تھا وہ پورا کردیا گیا۔ چناچہ اللہ نے فرمایا :
واذ تقول للذی …… اللہ مفعولا (33 : 83) ” اے نبی آیا کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ ” اپنی بیوی کو نہ چھوڑا اور اللہ سے ڈر “ اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا تم لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو ۔ پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں۔ اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا۔ “
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر حضرت محمد ﷺ اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام میں سے کسی چیز کو چھپاتے تو وہ اس آیت کو چھپاتے۔
وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشہ (33 : 83) ” اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے الہل کھولنا چاہتا تھا ، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ “
اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت اور اس کے احکام کو نافذ کردیا اور اس بات کو بھی کھول کر رکھ دیا جو رسول اللہ ﷺ کے دل میں خلجان برپا کر رہی تھی کہ لوگ متنبی کی بیوی سے نکاح کو برا خیال کرتے ہیں۔ اللہ نے یہاں بھی شیطان کی راہ کو بند کردیا اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری تھی ، یا جن کے دل دعوت اسلامی کے لئے سخت تھے وہ اس واقعہ کو بھی سامان فتنہ بتاتے رہے اور آج تک اسلام کے دشمن اسے سامان فتنہ بنا رہے ہیں۔
یہ ہے وہ بات جس پر اس آیت کی تفسیر میں ہمارا دل مطمئن ہوگیا ہے۔ اللہ ہی صحیح راستہ بتانے الا ہے۔ رسول اللہ کے بعد دعوت اسلامی کی لیڈر شپ بھی بعض اوقات یہ کوشش کرتی ہے کہ انتہائی با اثر لوگوں کو دعوت اسلامی کی طرف مائل کیا جائے اور ابتداء میں دعوت کے تقاضے میں سے بعض امور میں چشم پوشی کی جائے۔ یہ کام وہ اس جذبے کے تحت کرتے ہیں کہ دعوت اسلامی کو فروغ حاصل ہو اور وہ جلدی غلبہ حصال کرے۔ اس لیڈر شپ کا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ امور دعوت کے بنیادی امور نہیں ہوتے۔ یہ لوگ ان با اثر لوگوں کے ساتھ ان امور میں نرمی کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ دعوت سے متنفر نہ ہوجائیں اور اس کی مخاصمت اختیار نہ کریں۔
یہ لوگ بعض ایسے وسائل اور ذرائع بھی اپناتے ہیں جو دعوت اسلامی کے باریک پیمانوں اور اقدار کے ساتھ بےجوڑ ہوتے ہیں نہ یہ امور دعوت اسلامی کے سیدھے سادے طریقے سے لگا کھاتے ہیں یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں کہ دعوت جلدی پھیل جائے اور کامیاب ہوجائے۔ یہ لوگ ان امور کو اپنانے کے لئے دعوت کی مصلحت کے تحت بطور اجتہاد یہ کام کرتے ہیں حلاان کہ دعوت اسلامی کی مصلحت تو اس میں ہے کہ اس کے حقیقی منہاج سے ذرہ برابر انحراف نہ کیا جائے نہ کم اور نہ زیادہ کسی بات میں بھی۔ رہے نتائج تو وہ تو امر غیبی ہیں۔ ان کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ لہٰذا کسی حامل دعوت کو نتائج کا حساب و کتاب اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ حاملین دعوت کا فریضہ صرف یہ ہے کہ وہ دعوت اسلامی کو لے کر سیدھے چل پڑیں۔ دعوت اسلامی کے حقیقی راستے پر چلنے میں ہی کامیاب ہے۔
قرآن کریم صراحت سے کہتا ہے کہ قرآن مجید حاملین دعوت اسلامی پر ان کی آرزئو وں اور تمنائوں کے راستے سے داخل ہوتا ہے تاکہ اس طرح وہ دعوت اسلامی کی صفوں کے اندر داخل ہوجائے۔ جہاں تک انبیاء کا تعلق ہے تو ان کی عصمت کی ضمانت تو اللہ نے دے دی تھی۔ شیطان کے لئے ممکن نہ رہا کہ وہ انبیاء کی فطری تمنائوں کی راہ سے دخل اندازی کرسکے۔ لیکن بعد میں آنے والی لیڈر شپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ بہت زیادہ چوکنی رہے اور بہت احتیاط سے کام لے۔ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے خیال میں کوئی کام اسلام کی بہترین دعوت کے پھیلنے اور کامیاب ہونے کے لئے کر رہے ہوں اور اس میں دعوت کی مصلحت سمجھتے ہوں اور دراصل وہ شیطانی مداخلت ہو۔ داعیان کو چاہئے کہ دعوت کی مصلحت کا لفظ ہی اپنی ڈکشنریوں سے نکال دیں کیونکہ یہ لغزش کا مقام ہے ، اس مقام سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔ جب شیطان افراد کی مصلحتوں کی راہ سے اندر نہیں آسکتا تو پھر وہ دعوت کی مصلحت کی راہ سے حملہ کرتا ہے۔ دعوت کی مصلحت اب ایک بت بن گیا ہے۔ آج کل داعیان حق اس کو بہت پوجتے ہیں لیکن اس لباس میں وہ دعوت کے اصل منہاج سے جی چراتے ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کی لیڈر شپ کو چاہئے کہ وہ دعوت کے اصل منہاج کو نہ بھولیں اور اس منہاج پر خوف غور کریں اور خصوصاً اس بات کی طرف توجہ نہ کریں کہ فلاں فلاں کام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں دعوت کے لئے خطرہ ہے ، یا کارکنان کے لئے خطرہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اصل خطرہ یہی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملیں دعوت کا حقیقی منہاج چھوڑ دیں ، کسی ھی وجہ سے ، اور صحیح راستے سے انحراف کریں خواہ یہ انحراف قلیل ہو یا کثیر ہو۔ اللہ اپنی دعوت کی مصلحت کو ہم سے زیادہ جانتا ہے اور پھر دعوت کے بچانے اور کامیاب کرانے کے ہم ذمہ دار اور مکلف ہیں ہیں ہمارا فریضہ صرف ایک ہے کہ ہم اپنے منہاج سے انحراف نہ کریں اور اپنے صراط مستقیم سے بالکل ادھر ادھر نہ ہوں۔
آخر میں تنبیہ آتی ہے کہ تم دعوت اسلامی کو شیطانی وسوسوں سے بچانے کی سعی کرو۔ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگ مانیں یا دعوت کامیاب ہوجائے۔ اگر کفار اس کو نہیں مانتے وہ دراصل اس کے بارے میں شک میں ہیں اور ان کے انتظار میں درد ناک اور توہین آمیز عذاب ہے۔
الحج 22:54
وما ارسلنا ……صراط مستقیم (45)
اس آیت کے نزول میں بہت سی روایات وارد ہیں اور ان کو بیشمار مفسرین نے نقل کیا ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ سب روایات مرسل ہیں اور ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم !
ان روایات میں سے جو زیادہ مفصل ہے (ابن ابو حاتم کی ہے اس نے موسیٰ ، ابو موسیٰ ، کوفی ، محمد ابن اسحاق شعبی ، محمد ابن فلج ، موسیٰ ، عقبہ ، ابن شہاب کی سند سے نقل کیا ہعے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ جس زمانے میں سورة نجم نازل ہوئی تو مشرکین کہتے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے الموں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرے تو ہم اس کی باتوں کا اقرار کرلیتے اور اس کے ساتھیوں کو بھی مان لیتے۔ لیکن یہ یہود و نصاریٰ پر اس طرح تنقید نہیں کرتا جس طرح ہمارے الموں کو گالیاں دیتا ہے اور شر سے ذکر کرتا ہے۔ اس زمانے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ بات شاق گزرتی تھی کہ مشرکین مکہ آپ کو جھٹلاتے تھے اور آپ کے پیروکاروں کو اذیتیں دیتے تھے۔ ان لوگوں کی ضلالت پر آپ بہت ہی دل گرفتہ تھے۔ آپ کے دل میں بڑی خواہش تھی کہ یہ لوگ ہدایت قبول کرلیں۔ جب سورة نجم نازل ہوئی تو آپ نے تلاوت کی۔
افرء یتم اللت ……لہ الانثی (12) (35 : 91-12) توعین اس وقت شیطان نے ان بتوں کے ذکر کے ساتھ ہی اپنی طرف سے چند کلمات ادا کئے۔ اس نے کہا :
انھن لھن الغرانیق العلیٰ و ان شفاعتھن لھی التی ترتجی یہ الفاظ شیطان نے اپنی طرف سے بطور فتنہ ملا دیئے۔ یہ الفاظ مکہ کے ہر مشرک کے دل میں بیٹھ گئے۔ چناچہ انہوں نے ان کو نقلک رنا شروع کردیا اور ایک دور سے کو خوشخبریاں دینے لگے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے اور اپنے پہلے دین اور اپنی قوم کے دین پر آگیا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ سورة نجم کی تلاوت کر کے آخر میں پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا اور جو مسلم اس کو سن رہے تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا اور جو مشرک سن رہے تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ ولید ابن مغیرہ ایک بڑا آدمی تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں مٹی لی اور اس پر سجدہ کرلیا۔ دونوں گروہوں کو تعجب ہوا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرلیا۔ مسلمانوں کا تعجب تو اس بات پر تھا کہ مشرکین ان کے ساتھ سجدہ ریز ہوگئے بغیر ایمان لانے اور یقین کرنے کے۔ یہ اس لئے کہ شیطان نے جو الفاظ ادا کئے تھے وہ مسلمانوں نے نہیں سنے تھے۔ صرف مشرکین نے سنے تھے۔ اس لئے مشرکین مطمئن ہوگئے کیونکہ شیطان نے رسول اللہ ﷺ کی امنیہ (قرأت) میں اپنے فقرے ملا دیئے اور مشرکین کو تسلی دی کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ نے سورة میں تلاوت کیے ہیں تو انہوں نے اپنے الموں کی تعظیم میں سجدہ کرلیا۔ یہ بات لوگوں میں پھیل گئی۔ اس بات کو شیطان نے بہت ہی پھیلایا یہاں تک کہ یہ خبر حبشہ میں پہنچ گئی اور وہاں جو مسلمان تھے انہوں نے سنی۔ وہاں مسلمان عثمان ابن مظعون کی قیادت میں ھتے۔ ان کو یہ بات پہنچی کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یکجا نماز پڑھی ہے اور ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ولید ابن مغیرہ نے اپنی ہتھیلی پر مٹی اٹھا کر اس پر سجدہ کیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اب مسلمان مکہ میں امن و چین سے ہیں۔ چناچہ یہ مہاجرین بڑی جلدی سے وہاں سے لوٹے۔ اللہ نے شیطان کے الفاظ کو منسوخ کردیا ، اپنی آیات کو مستحکم کردیا اور اس افتراء سے قرآن کو محفوظ کردیا۔ اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔
وما ارسلنا ……شقاق بعید (22 : 35) ” اور اے نبی ﷺ ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ ) جب اس نے تمنا کی ، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے ، اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے ، اللہ علیم ہے اور حکیم۔ (وہ اس لئے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنا دے ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ “ جب اللہ نے اپنا فیصلہ بتا دیا اور شیطان نے جو شوشہ چھوڑا تھا اس سے برأت کردی تو مشرکین الٹے پائوں پھرگئے اور گمراہی اختیار کر کے مسلمانوں کے ساتھ عداوت شروع کردی بلکہ اور سختی شروع کردی۔
ابن کثیر کہتے ہیں کہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس کے کلام کی پوری روایات جمع کی ہیں اور محمد ابن کعب قرظی نے بھی اس طرح جمع کی ہیں اور پھر یہاں انہوں نے سوال کیا ہے کہ یہ واقعہ اس طرح یکونکر ہو ہے جبکہ اللہ نے اس معاملے میں حضرت محمد ﷺ کو عصمت کی ضمانت دی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف لوگوں کے جوابات نقل کئے ہیں۔ سب سے گہرا جواب یہ ہے کہ شیطان نے مشرکین کے کانوں میں یہ فقرے ڈال دیئے تھے۔ مشرکین نے یہ سمجھا کہ شاید یہ فقرے بھی حضرت محمد ﷺ نے تلاوت کئے ہیں حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ حضرت شیطان نے ادا کے اور رسول اللہ ؐ نے یہ نہیں ادا کئے۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ ابن عباس نے کا ہے۔
فی امنیتہ کا معنی یہ ہے کہ شیطان نے آپ کی باتوں میں یہ فقرے ڈال دیئے۔ اللہ نے ان کو باطل کردیا اور اپنی آیات کو محکم کردیا۔
مجاہد کہتے ہیں اذا تمنی کے معنی ہیں اذا قال لہٰذا کہا جاتا ہے امنیۃ قراتہ یعنی اس کا پڑھنا۔
بغوی کہتا ہے کہ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ تمنی کے معنی میں تلا یعنی تلاوت کی اور اللہ کی کتاب پڑھی۔
القی الشیطن فی امنیتہ کے معنی ہیں ” شیطان نے ان کی ملاوٹ میں ڈال دیا۔ ‘ ابن جریر کہتے ہیں کہ تمنی کے معنی ہیں (تلا) یعنی تلاوت کی اور کلام کے مفہوم کو بیان کرنے کے لئے یہ بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
یہ ہے خلاصہ کلام روایات اور ان احادیث کا جن کو حدیث ” غرانیق “ کہتے ہیں۔ یہ حدیث سند کے اعتبار سے کوئی بنیاد نہیں رکھتی۔ علمائے حدیث کہتے ہیں۔ اہل صحاح نے اس حدیث کو نہیں لیا نہ اس کی کوئی سند صحیح و متصل ہے ثقہ راویوں سے۔ ابوابکر بزار کہتے ہیں۔ یہ حدیث ہمارے علم میں نہیں کہ کسی جگہ نبی ﷺ سے قابل ذکر اسناد متصل سے نقل کی گئی ہو اور موضوع کے اعتبار سے تو یہ اسلام کے بنیادی اصول سے ٹکراتی ہے۔ یعنی نبی ﷺ کے بارے میں عقیدہ عصمت سے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ تبلیغ رسالت کے کام میں شیطان دخیل ہو سکتا ہے۔
مستشرقین اور اسلام پر تنقید کرنے والوں نے اس حدیث میں بڑی دلچسپی لی ہے۔ اس کی انہوں نے بڑی اشاعت کی ہے اور اس کے اردگرد انہوں نے مزید مخالفانہ اقوال جمع کئے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کوئی قابل حجت بات نہیں کی بلکہ اس موضوع پر بات کرنا بھی فضول معلوم ہوتا ہے۔
خود ان آیات کے اندر ایسی شہادتیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسی بات ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ یا ایسا کوئی انفرادی واقعہ ہوا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیش آیا ہو۔ آیات کا خلاصہ تو یہ ہے کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ تمام رسولوں کو پیش آتی رہی ہے۔ ” اے نبی تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے اور نہ نبی کہ جب اس نے تمنا کی تو شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح شیطان جو کچھ خلل اندازیاں کرتا ہعے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے۔ “ لہٰذا اس آیت میں جس بات کا ذکر ہوا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کے درمیان صفت مشترکہ ہے اور اس کا تعلق ان کی صفت بشریت سے ہے اور یہ بات اس عصمت کے خلاف نہیں ہے جو رسولوں کے لئے مقرر ہے۔
یہی وہ بات ہے جس کے بیان کی ہم یہاں کوشش کریں گے انشاء اللہ۔ اصل مراد تو اللہ ہی جانتا ہے ہم جو تفسیر بیان کرتے ہیں اپنے انسانی قوائے مدرکہ کسی حد تک ہی کرتے ہیں۔ جب رسولوں کو یہ ڈیوٹی سپرد کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک ہنچائیں۔ ان کے نزدیک محبوب ترین شے یہ ہوتی ہے کہ لوگ ان کی دعوت پر جمع ہوجائیں اور اس بھلائی کا ادراک کرلیں جو وہ اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور ان کے تابع ہوجائیں۔ لیکن دعوت کے مقابلے میں بہت ہی مشکلات اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ رسول انسان ہوتے ہیں اور انسانوں کی زندگی محدود ہوتی ہے اور اس حقیقت کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو برق رفتاری سے اپنی دعوت کی طرف کھینچ لائیں۔ مثلاً ان کے دلوں میں یہ بات آئی ہے کہ اگر وہ لوگوں کے ساتھ مصالحت کریں اور جو باتیں ان کے لئے چھوڑنا مشکل ہیں ، مثلاً ان کی عادات ، رسومات ، موروثی شعائر ، ان پر وہ خاموش ہوجائیں۔ وقتی طور پر ، اور شاید اس طرح لوگ دعوت کی طرف آجائیں اور جب وہ دعوت کو قبول کرلیں تو ان کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ یہ موروثی عادات چھوڑ دیں ، جو اب ان کے لئے بہت عزیز ہیں۔ مثلاً معمولی معمولی باتوں پر وہ ان کے ساتھ نرمی کریں اور کسی انکل سے ان کو دعوت کے اندر لے آئیں۔ اس امید پر کہ اندر لا کر پھر انکی تربیت کردی جائے گی اور اس طرح ان کی خلاف اسلام عادات چھوٹ جائیں گی۔
غرض رسول اور نبی اس قسم کی بہت سی تمنائیں کرتے رہے ہیں جن کا تعلق ان کی دعوت کی نشر و اشاعت سے ہوتا ہے جبکہ اللہ کی مرضی یہ تھی کہ دعوت کے حاملین دعوت کو اس کے پورے اصولوں پر جم کر چلائیں۔ دعوت اسلامی کے باریک اقدار کے مطابق اور اس پیمانے کے مطابق کہ من شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر ” جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ “ کیونکہ اللہ کی تقدیر میں دعوت اسلامی کی کارکردگی یہ ہے کہ وہ خالص اصول انداز کی ہو اور اس میں انسانوں کی کسی تدبیر اور خواہش کی آمیزش نہ ہو کہ دعوت حقیقی اصول پر انہی پیمانوں کے مطابق اگرچہ اس طریقے کے مطابق آغاز میں تعداد کا خسارہ ہوگا۔ کیونکہ دعوت اگر اپنے اصول پر مبنی پیمانوں کے مطابق کوئی رہے تو اخرکار یہ اشخاص بھی دعوت کو قبول کرلیں گے۔ بلکہ ان اشخاص ہے بھی زیادہ با اثر اور اچھے دعوت کو قبول کریں گے اور دعوت اور دعوت بھی خالص صحیح وسالم رہے گا ، اپنی راہ پر سیدھی ہوگی اور اس کے اندر کوئی کجی کوئی پیدا نہ ہوگی۔ نہ اس میں کسی طرح کوئی جھکائو ہوگا۔
انسان کی ان خواہشات اور ان خواہشات کے اظہار کے لئے رسول جو کلمات استعمال کرتا ہے خواہش کا اظہار کرتا ہے اس میں شیطان کو موقعہ مل جاتا ہے کہ وہ سازش کر کے دعوت کو اپنی اصلی راہ سے ہٹا دے۔ اس طرح شیطان دعوت کے پھیلانے کے اجتہادی معاملات میں شبہات پیدا کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ شیطان کی کار ستانیوں کا دفعیہ کردیتا ہے اور ایسے معاملات میں اللہ کی طرف سے حکم محکم آجاتا ہے اور رسولوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اس محکم فیصلے / عوام تک پہنچا دیا اور رسولوں اور نبیوں کے دلوں میں اجتہادی امور میں جن کا تعلق دعوت کے پھیلانے سے ہوتا تھا جو لغزش ہوگئی تھی اللہ کی طرف سے اس کا بیان آجاتا ہے ، جس طرح رسول اللہ ﷺ کے بعض تصرفات میں بیان آیا ہے۔
یہ شیطان کی سازش ہوتی ہے اور اللہ کو اس کو باطل کر دیات ہے اور حکم محکمہ آجاتا ہے اور شبہ نہیں رہتا ، اجتہادی عمر کی جگہ محکم آیت آجاتی ہے۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔ جن لگوں کے دلوں میں نفاق اور انحراف کی بیماری ہے یا جن کے دل پتھر بن گئے ہیں یعنی کفار اور معاندین ، وہ ایسے معاملات میں بحث وسوال کا موقعہ پا لیتے ہیں۔
ان الظلمین لفی شقاق بعید (22 : 35) ” حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ عناد میں دور نکل گئے ہیں۔ “ رہے وہ لوگ جن کو علم و معرفت دی گئی ہے تو ان کے دل اس بیان اور حکم فیصل پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ کے حکم کی حکمت کو پا لیتے ہیں۔
ان اللہ لھاد الذین امنوآ الی صراط مستقیم (22 : 35) ” یقینا اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ راستہ دکھاتا ہے۔ “ نبی ﷺ کی زندگی میں اور دعوت اسلامی کی تاریخ میں ہم ایسی مثالیں پاتے ہیں۔ ان کی روشنی میں ہمیں اس تاویل کی ضرورت نہیں پڑتی ہے جس طرح ابن جریر نے اشارہ کیا ہے۔
قصہ ابن ام مکتوم یہ بات نظر آتی ہے۔ وہ ایک اندھے اور فقیر تھے۔ رسول اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول مجھے پڑھائیں اور وہ علم سکھائیں جو آپ کو اللہ نے سکھایا ہے۔ وہ بار بار اس بات کو دہراتے رہے۔ اس وقت رسول اللہ ولید ابن مغیرہ کے ساتھ گفتگو فرما رہے تھے اور وہ قریش کے ممتاز اکابرین میں تھے اور آپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔ ابن ام مکتوم کو معلوم نہ تھا کہ حضور ﷺ ایسے ہی اہم معاملے میں مشغول ہیں۔ رسول اللہ نے اس موقعہ پر ان کی بار بار کی مداخلت کو ناپسند کیا اور ان سے منہ موڑ یا۔ چناچہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورة نازل کی جس میں رسول اللہ ﷺ سے ذرا سخت بات کی گئی۔
عبس وتولی ……ذکرہ (21) (08 : 1 تا 21)
ترجمہ :۔
” مسترد ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا۔ تمہیں کیا خبر شاید وہ سندھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لئے نافع ہو ، جو شخص بےپروائی برتتا ہے اس کی طرف تم توجہ کرتے ہو حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور وہ ڈر کر رہا ہوتا ہے۔ اس سے تم بےرخی برتتے ہو۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے قبول کرے۔ “
یوں اللہ تعالیٰ نے دعوت اسلامی کو اپنے صحیح اور نہایت ہی دقیق اقدار اور پیمانوں کی طرف لوٹا دیا اور یوں رسول اللہ کے اس طرز عمل کی تصحیح کردی جو آپ نے اکابرین قریش کی بات محض اس لئے اختیار یہ ہے کہ وہ اسلام لے آئیں اور ان کے ساتھ عام کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کرلے۔ اللہ نے اس پر دعوت کا جو صحیح اوصول اور طریقہ بنایا وہ یہ تھا کہ اکابر قریش کے اسلام قبول کرنے کے مقابلے میں یہ بات اہم ہے کہ دعوت اسلامی اپنے صحیح خطوط پر کام کرے اس طرح شیطان کے اس وسوسے کو باطل کردیا جو اس نے رسول اللہ کی اس خواہش کے راستے سے ڈال دیا تھا کہ اکابر قریش اگر اسلام قبول کرلیں تو دعوت جلدی پھیل جائے گی۔ اللہ نے اپنی آیات محکمہ نازل کر کے اس رویہ کو درست کردیا اور اہل ایمان کے دل پر مطمئن ہوگئے۔
اس کے بعد نبی ﷺ ابن ام مکتوم کی بہت قدر کرتے تھے۔ جب بھی اس کو دیکھتے ، یہ فرماتے ہیں شخص ہے جس کی وجہ سے اللہ نے مجھے جھڑکا ہے۔ آپ سے حضور ﷺ ہمیشہ پوچھتے تمہیں کچھ ضرورت ہے۔ وہ دفعہ آپ نے اپنی عدم موجودگی میں انہیں مدینہ اپنا خلیفہ بنایا۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایات کی ہے۔ بواسطہ ابوبکر ، ابن ابوشیبہ ، محمد ابن عبداللہ اسد ، اسرائیل ، ہندم ابن شروع ۔ اس کے بعد دوالد سعد ابن ابو وقاص سے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، چھ آدمی تھے۔ مشرکین نے کہا ان کو ذرا ہٹا دو یہ ہم سے آگے بڑھتے ہیں کہتے ہیں اس وقت میں تھا ، ابن سعود تھے۔ ہذیل کا ایک شخص تھا۔ بلال تھے اور دو دور سے لوگ تھے جن کا نام میں بھول گیا۔ اس حضور کے دل میں کوئی بات آئی۔ اللہ جانتا ہے کہ کیا بات آئی۔ حضور نے دل میں کوئی بات کی۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔
ولا تطرد الذین یدعون ……وجھہ ” اور ان لوگوں کو نہ بھکائو ، جو اپنے اپنے کو صحبح کو شامل پکارتے ہیں اور صرف اللہ کی رضا منادی چاہتے ہیں۔ “ یہاں بھی اللہ نے دعوت اسلامی کے نہایت ہی باریک ناپ و تول کرنے والے پیمانے واپس کردیئے اور شیطان نے اس نکتے پر جو وسوسہ اندازی کی تھی ، اس کے اظہار سے قبل اللہ نے اس کی تصویر کردی۔ شاید حضور نے یہ سوچا کہ آئندہ اکابرین قریش کے ساتھ یہ غریب لوگ مجلس میں نہ بیٹھیں جب کہ اللہ کے نزدیک دعوت اسلامی اسلامی کی اقدار کی افادیت ان اکابر قریش کے مقابلے میں زیادہ اچھی تھی۔ نیز دعوت کی اقدار اور پیمانوں کی اہمیت ان ہزار لوگوں کے اسلام سے بھی زیادہ تھی جو ان اکابرین قریش کی بیعت میں تحریک کا ساتھ دیتے اور جن کی تمنا رسول اللہ کرتے تھے۔ اللہ تحریک کے لئے حقیقی قوت کے مراکز کو خوب جانتے تھے۔ تحیک کے لئے اصل قوت یہ تھی کہ وہ اپنی راہ پر استقامت کے ساتھ چلے اور کسی شخص یا کسی رسم و رواج کی کوئی پرواہ نہ کیر۔
زینب بنت بخش کے واقعہ میں بھی یہی پیش آیا۔ آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں ، رسول اللہ نے ان کو زید بن حارثہ کی زوجیت میں دے دیا تھا۔ زید حضور کے معنی تھے اور زید ابن محمد کے نام سے مشہور تھے۔ زینب کے ساتھ نکاح بعد ان کی ازدواجی زندگی کی کامیاب نہ ہوئی۔ جاہلیت کا رواج یہ تھا کہ اگر متنبیٰ فوت ہوجائے یا اپنی بیوی / طلاق دے تو اس کے ساتھ اس کا منہ بولا باپ نکاح نہ کرتا تھا۔ اس کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اس رسم کو ختم کردیا جائے۔ جس طرح بیٹے کی نسبت والد کے بغیر کسی دوسرے کی طرف کرنے کی رسم کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا تھا کہ اگر زید اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو آپ اس کے ساتھ نکاح کرلیں تاکہ اس رسم کا ابطال ہوجائے۔ لیکن نبی ﷺ نے اس بات کو اپنے دل میں خفیہ رکھا اور کسی کو نہ بتایا۔ زید جب بھی اپنی بیوی کی شکایت کرتے رسول اللہ : ان کو یہی مشورہ دیتے کہ ” تم اپنی بیوی کو رکھو۔ “ حضور ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اگر زید طلاق دیتے ہیں تو مجھے اس سے نکاح کرنا ہوگا اور اس بات کو مطابق رواج عرب پسند نہیں کرتے۔ حضور اکرم ﷺ نے اس بات کو اس طرح مخفی رکھا یہاں تک کہ زید نے تنگ آ کر زینب کو طلاق دے دی۔ اللہ نے اس کے بارے میں قرآن نازل فرمایا اور اس میں اس بات کی وضاحت کردی جو حضور اکرم ﷺ کے دل میں تھی اور متنبیٰ کے سلسلہ میں اسلامی شریعت کا جو منشا تھا وہ پورا کردیا گیا۔ چناچہ اللہ نے فرمایا :
واذ تقول للذی …… اللہ مفعولا (33 : 83) ” اے نبی آیا کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ ” اپنی بیوی کو نہ چھوڑا اور اللہ سے ڈر “ اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا تم لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو ۔ پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں۔ اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا۔ “
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر حضرت محمد ﷺ اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام میں سے کسی چیز کو چھپاتے تو وہ اس آیت کو چھپاتے۔
وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشہ (33 : 83) ” اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے الہل کھولنا چاہتا تھا ، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ “
اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت اور اس کے احکام کو نافذ کردیا اور اس بات کو بھی کھول کر رکھ دیا جو رسول اللہ ﷺ کے دل میں خلجان برپا کر رہی تھی کہ لوگ متنبی کی بیوی سے نکاح کو برا خیال کرتے ہیں۔ اللہ نے یہاں بھی شیطان کی راہ کو بند کردیا اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری تھی ، یا جن کے دل دعوت اسلامی کے لئے سخت تھے وہ اس واقعہ کو بھی سامان فتنہ بتاتے رہے اور آج تک اسلام کے دشمن اسے سامان فتنہ بنا رہے ہیں۔
یہ ہے وہ بات جس پر اس آیت کی تفسیر میں ہمارا دل مطمئن ہوگیا ہے۔ اللہ ہی صحیح راستہ بتانے الا ہے۔ رسول اللہ کے بعد دعوت اسلامی کی لیڈر شپ بھی بعض اوقات یہ کوشش کرتی ہے کہ انتہائی با اثر لوگوں کو دعوت اسلامی کی طرف مائل کیا جائے اور ابتداء میں دعوت کے تقاضے میں سے بعض امور میں چشم پوشی کی جائے۔ یہ کام وہ اس جذبے کے تحت کرتے ہیں کہ دعوت اسلامی کو فروغ حاصل ہو اور وہ جلدی غلبہ حصال کرے۔ اس لیڈر شپ کا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ امور دعوت کے بنیادی امور نہیں ہوتے۔ یہ لوگ ان با اثر لوگوں کے ساتھ ان امور میں نرمی کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ دعوت سے متنفر نہ ہوجائیں اور اس کی مخاصمت اختیار نہ کریں۔
یہ لوگ بعض ایسے وسائل اور ذرائع بھی اپناتے ہیں جو دعوت اسلامی کے باریک پیمانوں اور اقدار کے ساتھ بےجوڑ ہوتے ہیں نہ یہ امور دعوت اسلامی کے سیدھے سادے طریقے سے لگا کھاتے ہیں یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں کہ دعوت جلدی پھیل جائے اور کامیاب ہوجائے۔ یہ لوگ ان امور کو اپنانے کے لئے دعوت کی مصلحت کے تحت بطور اجتہاد یہ کام کرتے ہیں حلاان کہ دعوت اسلامی کی مصلحت تو اس میں ہے کہ اس کے حقیقی منہاج سے ذرہ برابر انحراف نہ کیا جائے نہ کم اور نہ زیادہ کسی بات میں بھی۔ رہے نتائج تو وہ تو امر غیبی ہیں۔ ان کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ لہٰذا کسی حامل دعوت کو نتائج کا حساب و کتاب اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ حاملین دعوت کا فریضہ صرف یہ ہے کہ وہ دعوت اسلامی کو لے کر سیدھے چل پڑیں۔ دعوت اسلامی کے حقیقی راستے پر چلنے میں ہی کامیاب ہے۔
قرآن کریم صراحت سے کہتا ہے کہ قرآن مجید حاملین دعوت اسلامی پر ان کی آرزئو وں اور تمنائوں کے راستے سے داخل ہوتا ہے تاکہ اس طرح وہ دعوت اسلامی کی صفوں کے اندر داخل ہوجائے۔ جہاں تک انبیاء کا تعلق ہے تو ان کی عصمت کی ضمانت تو اللہ نے دے دی تھی۔ شیطان کے لئے ممکن نہ رہا کہ وہ انبیاء کی فطری تمنائوں کی راہ سے دخل اندازی کرسکے۔ لیکن بعد میں آنے والی لیڈر شپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ بہت زیادہ چوکنی رہے اور بہت احتیاط سے کام لے۔ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے خیال میں کوئی کام اسلام کی بہترین دعوت کے پھیلنے اور کامیاب ہونے کے لئے کر رہے ہوں اور اس میں دعوت کی مصلحت سمجھتے ہوں اور دراصل وہ شیطانی مداخلت ہو۔ داعیان کو چاہئے کہ دعوت کی مصلحت کا لفظ ہی اپنی ڈکشنریوں سے نکال دیں کیونکہ یہ لغزش کا مقام ہے ، اس مقام سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔ جب شیطان افراد کی مصلحتوں کی راہ سے اندر نہیں آسکتا تو پھر وہ دعوت کی مصلحت کی راہ سے حملہ کرتا ہے۔ دعوت کی مصلحت اب ایک بت بن گیا ہے۔ آج کل داعیان حق اس کو بہت پوجتے ہیں لیکن اس لباس میں وہ دعوت کے اصل منہاج سے جی چراتے ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کی لیڈر شپ کو چاہئے کہ وہ دعوت کے اصل منہاج کو نہ بھولیں اور اس منہاج پر خوف غور کریں اور خصوصاً اس بات کی طرف توجہ نہ کریں کہ فلاں فلاں کام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں دعوت کے لئے خطرہ ہے ، یا کارکنان کے لئے خطرہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اصل خطرہ یہی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملیں دعوت کا حقیقی منہاج چھوڑ دیں ، کسی ھی وجہ سے ، اور صحیح راستے سے انحراف کریں خواہ یہ انحراف قلیل ہو یا کثیر ہو۔ اللہ اپنی دعوت کی مصلحت کو ہم سے زیادہ جانتا ہے اور پھر دعوت کے بچانے اور کامیاب کرانے کے ہم ذمہ دار اور مکلف ہیں ہیں ہمارا فریضہ صرف ایک ہے کہ ہم اپنے منہاج سے انحراف نہ کریں اور اپنے صراط مستقیم سے بالکل ادھر ادھر نہ ہوں۔
آخر میں تنبیہ آتی ہے کہ تم دعوت اسلامی کو شیطانی وسوسوں سے بچانے کی سعی کرو۔ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگ مانیں یا دعوت کامیاب ہوجائے۔ اگر کفار اس کو نہیں مانتے وہ دراصل اس کے بارے میں شک میں ہیں اور ان کے انتظار میں درد ناک اور توہین آمیز عذاب ہے۔
الحج 22:55
ولا یزال ……مھین (65)
یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو اس قرآن کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس مضمون کا ذکر اس تصریح کے بعد کیا ہے کہ انبیاء و رسل دعوت کے سلسلے میں نہایت شوق اور تمنا رکھتے ہیں اور شیطان ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا ہے کیونکہ لوگ جن کے بارے میں انبیاء تمنا کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں شک رہتا ہے اس لئے کہ ان کے دلوں کے اندر دعوت اسلامی اچھی طرح بیٹھ نہیں سکی۔ یہ اسی طرح شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا ان پر کوئی منحوس دن آجائے۔ یعنی قیامت کے بعد کا عذاب قیامت کے دن کے لئے یوم عظیم استعمال ہوا ، کیونکہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہوگا۔
اس دن میں تمام اختیارات اللہ وحدہ کے پاس ہوں گے یہاں کسی کی بادشاہت نہ ہوگی۔ دنیا کی ظاہری بادشاہت بھی کسی کے پاس نہ ہوگی۔ صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ اس دن تمام لوگوں کے فیصلے ان کی مقررہ جزاء عمل کے مطابق اللہ کرے گا۔
فالذین امنوا و عملوا الصلحت فی جنت النعیم (22 : 65) ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ جنات نعیم (نعمتوں والی جنتوں) میں ہوں گے۔ “
والذین کفروا و کذبوا بایتنا فائولئک لھم عذاب مھین (22 : 85) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا ، ان کے لئے رسوا کن عذاب ہوگا۔ “
الحج 22:56
ولا یزال ……مھین (65)
یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو اس قرآن کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس مضمون کا ذکر اس تصریح کے بعد کیا ہے کہ انبیاء و رسل دعوت کے سلسلے میں نہایت شوق اور تمنا رکھتے ہیں اور شیطان ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا ہے کیونکہ لوگ جن کے بارے میں انبیاء تمنا کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں شک رہتا ہے اس لئے کہ ان کے دلوں کے اندر دعوت اسلامی اچھی طرح بیٹھ نہیں سکی۔ یہ اسی طرح شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا ان پر کوئی منحوس دن آجائے۔ یعنی قیامت کے بعد کا عذاب قیامت کے دن کے لئے یوم عظیم استعمال ہوا ، کیونکہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہوگا۔
اس دن میں تمام اختیارات اللہ وحدہ کے پاس ہوں گے یہاں کسی کی بادشاہت نہ ہوگی۔ دنیا کی ظاہری بادشاہت بھی کسی کے پاس نہ ہوگی۔ صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ اس دن تمام لوگوں کے فیصلے ان کی مقررہ جزاء عمل کے مطابق اللہ کرے گا۔
فالذین امنوا و عملوا الصلحت فی جنت النعیم (22 : 65) ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ جنات نعیم (نعمتوں والی جنتوں) میں ہوں گے۔ “
والذین کفروا و کذبوا بایتنا فائولئک لھم عذاب مھین (22 : 85) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا ، ان کے لئے رسوا کن عذاب ہوگا۔ “
الحج 22:57
ولا یزال ……مھین (65)
یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو اس قرآن کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس مضمون کا ذکر اس تصریح کے بعد کیا ہے کہ انبیاء و رسل دعوت کے سلسلے میں نہایت شوق اور تمنا رکھتے ہیں اور شیطان ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا ہے کیونکہ لوگ جن کے بارے میں انبیاء تمنا کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں شک رہتا ہے اس لئے کہ ان کے دلوں کے اندر دعوت اسلامی اچھی طرح بیٹھ نہیں سکی۔ یہ اسی طرح شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا ان پر کوئی منحوس دن آجائے۔ یعنی قیامت کے بعد کا عذاب قیامت کے دن کے لئے یوم عظیم استعمال ہوا ، کیونکہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہوگا۔
اس دن میں تمام اختیارات اللہ وحدہ کے پاس ہوں گے یہاں کسی کی بادشاہت نہ ہوگی۔ دنیا کی ظاہری بادشاہت بھی کسی کے پاس نہ ہوگی۔ صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ اس دن تمام لوگوں کے فیصلے ان کی مقررہ جزاء عمل کے مطابق اللہ کرے گا۔
فالذین امنوا و عملوا الصلحت فی جنت النعیم (22 : 65) ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ جنات نعیم (نعمتوں والی جنتوں) میں ہوں گے۔ “
والذین کفروا و کذبوا بایتنا فائولئک لھم عذاب مھین (22 : 85) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا ، ان کے لئے رسوا کن عذاب ہوگا۔ “
الحج 22:58
درس نمبر 741 ایک نظر میں
اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوا تھا کہ آخرت میں مومنین اور مکذبین کا خاتمہ کیا ہوگا ، جہاں بادشاہت صرف اللہ وحدہ کی ہوگی۔ مضمون یہ چل رہا تھا کہ اللہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی حفاظت کرتا ہے اپنی دعوت کو خود بچاتا ہے اور جو ایمان لاتا اسے اجر دیتا ہے جو کفر کرتا ہے اسے سزا دیتا ہے۔
اس سبق کا آغاز ہجرت سے ہوتا ہے ، ا سے قبل مہاجرین و انصار کو جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کا دفاع بغیر جہاد کے ممکن نہیں۔ جب تک وہ جہاد نہ کریں گے نہ وہ اللہ کی بندگی کرسکتے ہیں ، نہ عبادات ، نہ اپنی جان کی حفاظت کرسکتے ہیں نہ اپنے دین کی ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ انہیں اپنے شہر سے بغیر کسی جرم کے نکال دیا گیا ہے۔ ہاں انہوں نے یہ ” جرم “ ضرور کیا تھا کہ وہ صرف اللہ کو رب مانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تسلی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنا شہر چھوڑا اور مال و جائیداد کو چھوڑا تو اللہ ہی اس کام کا اجر نہیں دے گا۔
اسی حوالے سے ایک عام اصولوں کے طور پر بتا دیا جاتا ہے کہ جس پر کوئی ظلم ہو تو وہ اس کے بدلے اسی قدر ظلم کرسکتا ہے۔ اس صورت میں اگر ظالم مزید ظلم پر اتر آئے اور پھر ظلم کرے تو اللہ مظلوموں کے ساتھ ہوگا۔ اس وعدے پر اللہ تعالیٰ دلائل بھی دیتا ہے کہ اللہ مدد کرسکتا ہے کیونکہ اللہ ہی اس پوری کائنات کو چلا رہا ہے اور جس سنت اور ناموس کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے اس کا ایک حصہ اور تقاضا یہ بھی ہے کہ مظلوم کی امداد کی جائے۔
اس کے بعد خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے کہ ہر امت کا ایک منہاج ہے ، اس کو اس پر چلنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے اس کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ مشرکین کو یہ صاف صاف بتا دیں اور ان کو موقع نہ دیں کہ وہ آپ کے ساتھ کوئی تنازعہ کریں۔ اگر وہ پھر بھی مجادلہ پر اتر آئیں تو معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں۔ وہ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا کیونکہ اصل علم تو اس کے پاس ہے جو آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ لوگ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں ، اس پر ان کے پاس کیا ثبوت ہے ، یہ بغیر ثبوت کے اضنے موقف پر اس لئے ڈٹے ہوئے ہیں کہ ان کو کلمہ حق کے سننے ہی سے نفرت ہے اور یہ نفرت ان پر اس قدر غالب ہے کہ جو لوگ ان کو آیات سناتے ہیں خطرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ان پر حملہ نہ کردیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو تنبیہ کرتے ہیں کہ جلدی نہ کرو ، تمہارے لئے آگ تیار ہے اور وقت جلدی ہی آنے والا ہے۔
اس کے بعد ان الموں کے ضعف کو بیان کیا ہے جو اللہ کے سوا پکارے جاتے ہیں اور یہ تمام انسانوں کے نام ایک پیغام عام کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ ان الموں کی بیچارگی کو بڑے توہین آمیز انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہ الہ مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔ یہ سبق اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کو اپنے فرئاض ادا کرنے چاہئیں۔ فرائض ہیں کیا ؟ یہ کہ وہ پوری انسانیت کی نگران ہے۔ اس کے لئے اخلاقی تیاری رکوع ، سجود اور فعل خیرات ہے اور نماز کا نظام قائم کرنا اور زکوۃ کا نظام قائم کرنا اور اللہ پر بھروسہ کرنا۔ اس کے ساتھ یہ سورة بھی ختم ہوتی ہے۔
درس نمبر 741 تشریح آیات
والذین ھاجروا ……حلیم (95)
اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ان تمام باتوں کو ترک کر دے ، جن کو نفس انسانی چاہتا ہے ، جن کو وہ بےحد عزیز سمجھتا ہے اور جن پر وہ بےحد حریص ہوتا ہے۔ فیملی ، شہر ، وطن ، ماضی کی یادیں ، مال اور زندگی کا ساز و سامان۔ ان سب باتوں کو اپنے نظریہ پر قربان کرنا اور اللہ کی رضامندی حاصل کرنا اور اللہ کے ہاں جو کچھ اجر ہے اس کی طرف دیکھنا ، یہ ایسا کام ہے کہ یہ دنیا و مافیا سے زیادہ قیمتی ہے۔
ہجرت کا حکم فتح مکہ سے قبل تھا اور اس وقت شروع ہوا تھا جب اسلامی حکومت مدینہ میں قائم ہوگئی تھی۔ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی دوسرے علاقوں کو چھوڑ کر مدینہ آتا تو اسے ہجرت نہ سمجھا جاتا تھا۔ البتہ اسے جہاد اور نیک عمل ضرور سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی جہاد کرے تو اسے اچھا عمل سمجھا جائے گا اور ثواب ہوگا۔
والذین ……رزقاً حسناً (22 : 85) ” جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کردیئے گئے یا مر گئے ، اللہ ان کو اچھا رزق دے گا۔ “ خواہ وہ شہید ہوئے یا اپنی موت آپ مر گئے ۔ کیونکہ انہوں نے اپنا ملک اور مال و دولت چھوڑ دیا اور اس انجام کے لئے تیار ہو کر نکل آئے۔ انہوں نے شہادت کو ترجیح دی اور دنیا کے تمام عزیز ترین مال و دولت اور ملک کو قربان کردیا۔ اس لئے اللہ نے بھی ہر حال میں ان کے لئے عظیم اجر کا فیصلہ کردیا۔
وان اللہ لھو خیر الرزقین (22 : 85) ” اللہ ان کو اچھا رزق دے گا بیشک اللہ اچھا رزق دینے والوں میں سے ہے۔ “ اور یہ اللہ نے ان کے لئے جس رزق کا اعلان کیا ہے وہ اس سے بہت زیادہ اچھا ہے جو انہوں نے چھوڑا ہے۔
لید خلنھم مدخنا یرضونہ (22 : 95) ” اور انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے۔ “ وہ اس جگہ کی طرف نکلے جس پر اللہ رضای تھا لہٰذا ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں وہ راضی ہوں گیغ۔ یہ بات ان کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ ان کے لئے ان کی مرضی کی جگہ تیار کرے گا ، حالانکہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور وہ خالق ہے۔
وان اللہ لعیم حلیم (22 : 95) ” بیشک اللہ علیم و حلیم ہے۔ “ اللہ کے علم میں ہیں وہ مظالم جو ان پر ہوتے رہے۔ اللہ کے علم میں یہ بھی ہے جو وہ چاہتے ہیں اور حلیم اس طرح کہ وہ سب کو مہلت دیتا ہے اور پھر وہ ظالم اور مظلوم دونوں کو پوری پوری جزاء دے گا۔
انسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ جن پر مظالم ڈھائے جائیں تو وہ کبھی صبر کرتے ہیں اور کبھی صبر نہیں کرتے۔ جب صبر نہیں کرتے تو وہ ظلم کا جواب دیتے ہیں۔ وہ بھی ان اذیتوں کے مقابلے میں دشمنوں کو دیسی ہی اذیتیں دیتے ہیں۔ اگر ظالم پھر بھی باز نہیں آتے تو اللہ یہ ذمہ داری اپنے اوپر لے لیتا ہے کہ وہ مظلوموں کی نصرت کرے گا۔
الحج 22:59
درس نمبر 741 ایک نظر میں
اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوا تھا کہ آخرت میں مومنین اور مکذبین کا خاتمہ کیا ہوگا ، جہاں بادشاہت صرف اللہ وحدہ کی ہوگی۔ مضمون یہ چل رہا تھا کہ اللہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی حفاظت کرتا ہے اپنی دعوت کو خود بچاتا ہے اور جو ایمان لاتا اسے اجر دیتا ہے جو کفر کرتا ہے اسے سزا دیتا ہے۔
اس سبق کا آغاز ہجرت سے ہوتا ہے ، ا سے قبل مہاجرین و انصار کو جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کا دفاع بغیر جہاد کے ممکن نہیں۔ جب تک وہ جہاد نہ کریں گے نہ وہ اللہ کی بندگی کرسکتے ہیں ، نہ عبادات ، نہ اپنی جان کی حفاظت کرسکتے ہیں نہ اپنے دین کی ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ انہیں اپنے شہر سے بغیر کسی جرم کے نکال دیا گیا ہے۔ ہاں انہوں نے یہ ” جرم “ ضرور کیا تھا کہ وہ صرف اللہ کو رب مانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تسلی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنا شہر چھوڑا اور مال و جائیداد کو چھوڑا تو اللہ ہی اس کام کا اجر نہیں دے گا۔
اسی حوالے سے ایک عام اصولوں کے طور پر بتا دیا جاتا ہے کہ جس پر کوئی ظلم ہو تو وہ اس کے بدلے اسی قدر ظلم کرسکتا ہے۔ اس صورت میں اگر ظالم مزید ظلم پر اتر آئے اور پھر ظلم کرے تو اللہ مظلوموں کے ساتھ ہوگا۔ اس وعدے پر اللہ تعالیٰ دلائل بھی دیتا ہے کہ اللہ مدد کرسکتا ہے کیونکہ اللہ ہی اس پوری کائنات کو چلا رہا ہے اور جس سنت اور ناموس کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے اس کا ایک حصہ اور تقاضا یہ بھی ہے کہ مظلوم کی امداد کی جائے۔
اس کے بعد خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے کہ ہر امت کا ایک منہاج ہے ، اس کو اس پر چلنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے اس کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ مشرکین کو یہ صاف صاف بتا دیں اور ان کو موقع نہ دیں کہ وہ آپ کے ساتھ کوئی تنازعہ کریں۔ اگر وہ پھر بھی مجادلہ پر اتر آئیں تو معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں۔ وہ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا کیونکہ اصل علم تو اس کے پاس ہے جو آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ لوگ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں ، اس پر ان کے پاس کیا ثبوت ہے ، یہ بغیر ثبوت کے اضنے موقف پر اس لئے ڈٹے ہوئے ہیں کہ ان کو کلمہ حق کے سننے ہی سے نفرت ہے اور یہ نفرت ان پر اس قدر غالب ہے کہ جو لوگ ان کو آیات سناتے ہیں خطرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ان پر حملہ نہ کردیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو تنبیہ کرتے ہیں کہ جلدی نہ کرو ، تمہارے لئے آگ تیار ہے اور وقت جلدی ہی آنے والا ہے۔
اس کے بعد ان الموں کے ضعف کو بیان کیا ہے جو اللہ کے سوا پکارے جاتے ہیں اور یہ تمام انسانوں کے نام ایک پیغام عام کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ ان الموں کی بیچارگی کو بڑے توہین آمیز انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہ الہ مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔ یہ سبق اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کو اپنے فرئاض ادا کرنے چاہئیں۔ فرائض ہیں کیا ؟ یہ کہ وہ پوری انسانیت کی نگران ہے۔ اس کے لئے اخلاقی تیاری رکوع ، سجود اور فعل خیرات ہے اور نماز کا نظام قائم کرنا اور زکوۃ کا نظام قائم کرنا اور اللہ پر بھروسہ کرنا۔ اس کے ساتھ یہ سورة بھی ختم ہوتی ہے۔
درس نمبر 741 تشریح آیات
والذین ھاجروا ……حلیم (95)
اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ان تمام باتوں کو ترک کر دے ، جن کو نفس انسانی چاہتا ہے ، جن کو وہ بےحد عزیز سمجھتا ہے اور جن پر وہ بےحد حریص ہوتا ہے۔ فیملی ، شہر ، وطن ، ماضی کی یادیں ، مال اور زندگی کا ساز و سامان۔ ان سب باتوں کو اپنے نظریہ پر قربان کرنا اور اللہ کی رضامندی حاصل کرنا اور اللہ کے ہاں جو کچھ اجر ہے اس کی طرف دیکھنا ، یہ ایسا کام ہے کہ یہ دنیا و مافیا سے زیادہ قیمتی ہے۔
ہجرت کا حکم فتح مکہ سے قبل تھا اور اس وقت شروع ہوا تھا جب اسلامی حکومت مدینہ میں قائم ہوگئی تھی۔ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی دوسرے علاقوں کو چھوڑ کر مدینہ آتا تو اسے ہجرت نہ سمجھا جاتا تھا۔ البتہ اسے جہاد اور نیک عمل ضرور سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی جہاد کرے تو اسے اچھا عمل سمجھا جائے گا اور ثواب ہوگا۔
والذین ……رزقاً حسناً (22 : 85) ” جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کردیئے گئے یا مر گئے ، اللہ ان کو اچھا رزق دے گا۔ “ خواہ وہ شہید ہوئے یا اپنی موت آپ مر گئے ۔ کیونکہ انہوں نے اپنا ملک اور مال و دولت چھوڑ دیا اور اس انجام کے لئے تیار ہو کر نکل آئے۔ انہوں نے شہادت کو ترجیح دی اور دنیا کے تمام عزیز ترین مال و دولت اور ملک کو قربان کردیا۔ اس لئے اللہ نے بھی ہر حال میں ان کے لئے عظیم اجر کا فیصلہ کردیا۔
وان اللہ لھو خیر الرزقین (22 : 85) ” اللہ ان کو اچھا رزق دے گا بیشک اللہ اچھا رزق دینے والوں میں سے ہے۔ “ اور یہ اللہ نے ان کے لئے جس رزق کا اعلان کیا ہے وہ اس سے بہت زیادہ اچھا ہے جو انہوں نے چھوڑا ہے۔
لید خلنھم مدخنا یرضونہ (22 : 95) ” اور انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے۔ “ وہ اس جگہ کی طرف نکلے جس پر اللہ رضای تھا لہٰذا ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں وہ راضی ہوں گیغ۔ یہ بات ان کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ ان کے لئے ان کی مرضی کی جگہ تیار کرے گا ، حالانکہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور وہ خالق ہے۔
وان اللہ لعیم حلیم (22 : 95) ” بیشک اللہ علیم و حلیم ہے۔ “ اللہ کے علم میں ہیں وہ مظالم جو ان پر ہوتے رہے۔ اللہ کے علم میں یہ بھی ہے جو وہ چاہتے ہیں اور حلیم اس طرح کہ وہ سب کو مہلت دیتا ہے اور پھر وہ ظالم اور مظلوم دونوں کو پوری پوری جزاء دے گا۔
انسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ جن پر مظالم ڈھائے جائیں تو وہ کبھی صبر کرتے ہیں اور کبھی صبر نہیں کرتے۔ جب صبر نہیں کرتے تو وہ ظلم کا جواب دیتے ہیں۔ وہ بھی ان اذیتوں کے مقابلے میں دشمنوں کو دیسی ہی اذیتیں دیتے ہیں۔ اگر ظالم پھر بھی باز نہیں آتے تو اللہ یہ ذمہ داری اپنے اوپر لے لیتا ہے کہ وہ مظلوموں کی نصرت کرے گا۔
الحج 22:60
ذلک ……غفور (06)
اس نصرت کی شرط یہ ہے کہ سزا بطور قصاص دی گئی ہو ، اس میں زیادتی نہ ہو اور نہ ہی سرکشی کر کے سزا کو ظلم سے بدل دیا گیا ہو۔ سزا میں غلونہ کیا گیا ہو۔
اس سزا کے جواز کے بعد یہ جملہ آیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ اللہ ہر جرم کو معاف بھی کرسکتا ہے لیکن انسانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعض اوقات کسی قیمت پر جرم کو معاف نہیں کرتے اور قصاص اور سزا کے نفاذ کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اللہ نے ان کو یہ حق دیا ہے۔ معاف نہ کرنا انسان کی بشری کمزوری ہے۔
ایک شخص پر ظلم ہو ، وہ اس کے بدلے متوازن قصاص لے ، لیکن ظالم اگر پھر ظلم پر اتر آئے تو اللہ کی نصرت کا وعدہ اس شخص کے ساتھ ہے جس نے قصاص لیا۔ ظالم اور باغی کے ساتھ نہیں ہے لیکن اس وعدے کو اللہ تعالیٰ اس کائنات کے تکوینی نوامیس قدرت کے ساتھ مربوط کرتے ہیں ، یہ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ کائناتی قوانین قدرت اس بات پر گواہ ہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور وہ نصرت کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح یہ قوانین قدرت اٹل ہیں اور نہایت باریکی سے اپنے فرائض کو پورا کر رہے ہیں اسی طرح اللہ کی نصرت بھی ایک کائناتی حقیقت ہے۔ اس میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ایسا نہ ہو۔
الحج 22:61
ذلک بان اللہ ……بصیر (16)
یہ ایک طبیعی کائناتی منظر ہے اور رات دن ہماری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے۔ گرمیوں اور سردیوں کی صورت میں ہم اس کے آثار دیکھتے ہیں۔ سورج کے غروب کے وقت رات دن میں داخل ہوجاتی ہے اور سورج کے طلوع کے وقت دن رات میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح رتا دن میں داخل ہوتی ہے اور سردیوں میں دن کے حدود کو چھوٹا کردیتی ہے اور دن رات میں داخل ہوتا ہے ، گرمیوں میں اور رات کی حدود کو چھوٹا کردیتا ہے۔ انسان ان مناظر کو رات اور دن دیکھتا رہتا ہے کہ دن رات میں اور رات دن میں داخل ہو رہے ہیں لیکن بہت زیادہ انس کی وجہ سے اور بہت زیادہ تکرار کی وجہ سے یہ عجیب و غریب مناظر ہمارے لئے دلکش نہیں رہے اور ہم اس نظام پر غور نہیں کرتے کہ یہ نظام کس قدر باریکی سے چل رہا ہے۔ اس میں ایک منٹ کے لئے بھی خلل نہیں پڑتا۔ کبھی یہ نظام موقوف نہیں ہوتا۔ یہ امر شہادت ہے قادر مطلق کی قدرت پر جس نے یہ نظام جاری کیا ہے۔
قرآن کریم اس منظر کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ تم ایسے مناظر کو بہت غفلت سے کیوں دیکھ کر گزر جاتے ہو ، تاکہ وہ بتا سکے کہ اللہ کی قدرت کا کیا عالم ہ۔ ایک طرف سے وہ ان کی بساط لپیٹ لیتا ہے ، رات کو بجھا دیتا ہے اور دوسری طرف سے وہ تاریکی کو دور کر کے دن کا اجالا پھیلا دیتا ہے۔ یہ نظام اس قدر باریک ہے کہ اس میں کوئی خلیل نہیں پڑتا ، صدیاں گزر گئیں۔ یہی حال اس نصرت کا ہے جس کا اعلان مظلوموں کی حمایت میں ہوا ہے۔ یہ اس طرح یقینی ہے جس طرح رات اور دن کا یہ نظام یقینی ہے۔ اس طرح اللہ جباروں کی سلطنت کے نظام کو اب لپیٹ رہا ہے اور دنیا میں صالح اور عادل لوگوں کا نظام زندگی نافذ کر رہا ہے۔ یہ سیاسی انقلاب بھی انقلاب روز و شب کی طرح یقینی اور اٹل ہے اور ایک تکوینی سنت ہے۔ یہ سنت بھی رات اور دن جاری وساری ہے لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ جس طرح وہ اس کائنات میں دلائل کونیہ سے غافل ہیں حالانکہ یہ دلائل ایک کھلی کتاب کی شکل میں ہر لمحہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔
الحج 22:62
ذلک بان اللہ ……العلی الکبیر (36)
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ حق ہے اور حق اس نظام کائنات کو کنٹرول کرتا ہے۔ اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ باطل ہے۔ باطل میں خلل پڑتا رہتا ہے اور حق قائم و دائم رہتا ہے لہٰذا یہ اہل حق کی مدد کے لئے کافی دلیل ہے اور یہی بات اس نصرت کی ضمانت ہے۔ یہ باطل اور ظلم کے خلاف اللہ کی نصرت پر دلیل بھی ہے اور یہ اس بات پر بھی دلیل ہے کہ اللہ کے تکوینی فیصلے جس طرح اصل ہوتے ہیں اسی طرح اللہ کی نصرت کا یہ وعدہ بھی اٹل ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ وعدہ پورا نہ ہو کیونکہ اللہ ان سرکشوں سے بڑا بادشاہ ہے او وہ ان جباروں سے بہت بڑا ہے۔
وان اللہ ھوا لعلی الکبیر (22 : 26) ” اور اللہ ہی بالا دست اور بزرگ ہے۔ “ لہٰذا وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ظلم بلند رہے اور طویل عرصے تک عوام پر ظلم ہوتا رہے۔
……
یہ مضمون کہ دلائل کائنات اللہ کی لامحدود وقدرت پر شاہد عادل ہیں ، ذرا آگے بھی جاری رہتا ہے۔
الحج 22:63
الم تر ……خبیر (46)
آسمانوں سے بارش برسنا ، زمین کا سرسبز اور شاداب ہونا ، صبح و شام ایسے منظار کا دہرایا جانا ، یہ ایک ایسا عمل ہے جو ہمارے سامنے بار بار دہرایا جاتا ہے اور ہم اس سے اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ، لیکن اگر ہم اپنے شعور کو ایک شاعر کی طرح بیدار کرلیں تو یہ منظر دلوں اور دماغوں کے اندر بیشمار احساسات پیدا کر یدتا ہے۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا جو زمین کو پھاڑ کر سرباہر نکالتا ہے ، مٹی اور کیچڑ سے باہر آتا ہے ، یہ ایک چھوٹا سا بچہ ہے اور اس دنیا کی طرف نکل کر ہنستا ہے اور اس کے منہ پر فرحت بخش تبسم ہوتا ہے۔ نظر آتا ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا اپنی اس خوشی میں کہیں اڑ نہ جائے۔
جو لوگ ایسا شعور رکھتے ہیں وہی اس آیت کو سمجھ سکتے ہیں۔
ان اللہ لطیف خبیر (22 : 36) ” اللہ لطیف وخبیر ہے۔ “ لطیف کے معنی ہیں کہ نہایت ہی باریکی کو بھی دیکھتا ہے اور اس سے خبردار ہے۔ وہ اس منظر کو نہایت ہی لطف اور گہرائی سے دیکھتا ہے اور ان مناظر کی حقیقت اور مزاج کا خالق ہے اور واقف ہے۔ یہ اللہ کا لطف و کرم ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا زمین سے باہر آتا ہے حالانکہ یہ نہایت ہی ضعیف اور بےطاقت ہوتا ہے لیکن دست قدرت اسے ہوا میں بلند کرتا جاتا ہے اور زمین کی اجاذبیت اور کشش ثقل کے باوجود اس کے اندر اٹھنے اور پھینلے کا شوق ہوتا ہے۔ یہ قدرت الہیہ کا لطف و کرم ہے کہ عین وقت پر بارش ہوتی ہے ، مناسب مقدار میں ہوتی ہے اور یہ پانی نہایت ہی میکان کی طریقے سے مٹی سے ملتا ہے اور نباتاتی عمل شروع ہوتا ہے اور پھر زندہ نباتی خلیے روشنی کی طرف سفر شروع کرتے ہیں۔
یہ پانی اللہ کے آسمان سے اللہ کی زمین پر نازل ہوتا ہے۔ اللہ ہی اس میں زندگی پیدا کرتا ہے۔ اللہ ہی اس میں غذا اور ثروت پیدا کرتا ہے۔ اللہ ہی زمین و آسمان اور مافیہا کا مالک ہے۔ وہ زمین و آسمان اور مافیھا سے غنی ہے۔ یہ زندہ چیزوں کو پانی اور نباتات کا رزق دیتا ہے لیکن وہ خود رزق اور مرزوق دونوں سے غنی ہے۔
الحج 22:64
لہ ما فی ……الحمید (46)
اسے زمین و آسمان کی کسی مخلوق کی حاجت نہیں ہے۔ وہ تو غنی ہے ، حمید ہے ، محمود ہے ، اور تمام مخلوق پر اس کا کرم ہے۔
مزید بات اس مضمون پر آگے بڑھتی ہے کہ لوگوں کے لئے اسی کائنات میں سوچنے کی کی چیزیں ہیں جو ان کی نظروں کے سامنے بڑی ہیں۔
الحج 22:65
الم تر ……رحیم (56)
اس زمین میں کس قدر قوت ہے ، کس قدر ثروت ہے ، اور ان قوتوں اور ذخا ئرکو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخر کردیا ہے لیکن انسان اللہ کے ان انعامات سے غافل ہے۔ یہ ان انعامات میں رات اور دن ڈوبا ہوا ہے ، لیکن غافل پڑا ہے۔
اللہ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو انسان کے لئے مفید بنایا ہے اور مسخر کردیا ہے۔ اس کائنات کے طبیعی قوانین کو انسانی فطرت کے مطابق اور موافق بنایا ہے۔ اگر اللہ نے اس زمین کے طبیعی حالات کو انسان کے طبیعی حالات کے خلاف بنایا ہوتا تو انسان کے لئے یہاں زندہ رہنا مشکل ہوتا چہ جائیکہ وہ یہاں اس کائنات کے ذخیرہ سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر انسان کی جسمانی تربیت اس سے مختلف ہوتی اور اس کرہ ارض پر وہ چل نہ سکتی ہوا نہ کھینچ سکتی غذا نہ لے سکتی ، پانی نہ پی سکتی تو انسان یہاں ایک لمحے کے لئے بھی زندہ نہ رہ سکتا ۔ اگر انسان کا وزن اس طرح موزوں نہ ہوتا جس طرح کہ ہے تو اس کے قدم زمین پر نہ ٹکتے یا ہوا میں اڑ جاتا یا زمین میں دھنس جاتا۔ اگر زمین پر ہوا نہ ہوتی یا اس موجودہ حالت سے ذرا بھی کثیف ہوتی تو اس کا گلا گھٹ جاتا ، اور فوراً مر جاتا۔ لہٰذا یہ امر الٰہی ہی ہے اور اس لطیف وخبیر کا کارنامہ ہی ہے کہ اس نے ان فطری قوتوں کو انسان کے موافق بنایا اور انسان کو ان کے موافق۔
اللہ نے ایک طرف تو ان کو ایسی طاقت دی کہ وہ اس کرہ ارض کو مسخر کرسکے اور دوسری طرف کرہ ارض اور اس کے اندر پوشیدہ قوتوں کو ایسا بنایا کہ وہ انسان کے کنٹرول کرتا چلا گیا۔ جب بھی اسے کسی جدید قوت کی ضرورت پیش آئی ہے اس نے وہ جدید قوت ڈھنڈ نکالی ہے۔ جب اس کو خطرہ ہوا کہ زمین کی قوتوں میں سے کوئی ذخیرہ ختم ہونے والا ہے ، اس نے جدید ذخیرہ تلاش کرلیا۔ ابھی پٹرول کے ذخائر ختم نہ ہوئے تھے کہ اس نے ایٹمی قوت دریافت کرلیا اور ابھی اس پر پورا کنٹرول نہ ہوا تھا کہ ہائیڈروجن قوت دریافت کرلی۔ اگرچہ انسان کی مثال ابھی تک بچے کی سی ہے کہ جس کے ہاتھ میں آگ آجائے تو وہ خود بھی جلتا ہے اور دوسروں کو بھی جلاتا ہے۔ انسان اس وقت معتدل رہ سکتا ہے جب وہ اسلامی نظام زندگی کے سایہ میں زندگی بسر کرے۔ صرف اس صورت میں وہ اپنیقوتوں اور صلاحیتوں کو تعمیری کاموں میں صرف کرسکتا ہے اور منصب خلافت فی الارض کا فریضہ اچھی طرح ادا کرسکتا ہے۔
والفلک تجری فی البحر (22 : 56) ” اور اس نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے۔ “ کیونکہ یہ قوانین قدرت اسی نے بنائے ہیں جن کے مطابق کشتی سمندر میں چلتی ہے اور انسان کو معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ قوانین اس کائنات میں جاری کردیئے ہیں۔ چناچہ انسان نے کشتی کو اپنے مفادات کے مطابق چلانا شروع کردیا۔ اگر سمندر کا کوئی ضابطہ یا کشتی کا مزاج اس کے خلاف ہوتا تو ہم کشتی نہ چلا سکتے یا اگر انسان کی قوائے مدر کہ ایسی نہ ہوتیں جیسی ہیں تو ہمیں پتہ بھی نہ ہوتا کہ سمندروں میں اسط رح بڑے بڑے جہاز چلائے جاسکتے ہیں۔
ویمسک السمآء ان تفع علی الارض الا باذنہ (22 : 56) ” اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے اذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں کرسکتا۔ “ کیونکہ اس نے اس کائنات کو بنایا اس طرح ہے کہ آسمان جس طرح کہ وہ ہے ، قائم رہے اور تمام کر ات سماوی ایک دور سے سے دور اپنی اپنی جگہ قائم رہیں۔ نہ وہ گریں اور نہ ان کے درمیان ٹکرائو ہو۔
علم فلکیات میں جس قدر ترقی ہوئی ہے اس سے صرف اس بات میں اضافہ ہوا ہے کہ یہ پیچیدہ نظام کائنات جس کے مطابق یہ پوری کائنات کھڑی ہے ، خلاق کائنات اللہ جل شانہ کا جاری کردہ ہے۔ اگرچہ بعض نادان انسان یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی تحقیقات کے ذریعے نظام فلکی کی جو تفسیر اور تعبیر کرتے ہیں اس سے دست قدرت کی نفی ہوتی ہے ، یہ بہرحال ان کا وہم اور سوچ کی کمی اور غور و فکر کی کجی ہے۔ پہلے تو یہ بات ہے کہ جس قدر فلکیاتی نظریات آج تک پیش ہوئے ہیں یہ محض مفروضے ہیں لیکن اگر ہم ان کو حقیقت بھی مان لیں تو ان میں سے کوئی مفروضہ بھی یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس قانون کو کسی نے وضع نہیں کیا ہے یا یہ کہ ان قوانین کے جاری وساری رہنی میں کسی مدبر کے دست قدرت کا دخل نہیں ہے۔
ویمسک السمآء ان تفع علی الارض (22 : 56) ” وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ وہ زمین پر نہیں گرتا۔ “ یعنی اس قانون کے عمل میں سے جو اس کائنات میں جاری کردیا گیا ہے یہی اس کی صنعت کاری ہے۔ الا باذنہ ” مگر اس کے حکم کے سوا۔ “ یعنی جب اس کا حکم ہوا کہ جو قانون اللہ نے جاری کیا ہے وہ معطل ہوجائے تو پھر یہ قانون قدرت معطل ہوجائے گا اور یہ نظام درہم برہم ہوجائے گا۔
……
اب قرآن مجید اس کائنات کے دلائل تکوینی بیان کرتے ہوئے ، اس کائنات سے نفس انسانی کی طرف آتا ہے جو اس کائنات کا حصہ ہے۔ اب عالم انسانی کے اندر موت وحیات کے عجیب قوانین قدرت بیان کئے جاتے ہیں۔
الحج 22:66
وھو ……لکفور (66)
انسان کے ڈھانچے میں زندگی ڈالنا یعنی پہلے انسان ڈھانچے میں تو ایک عظیم معجزہ ہے ، اور رات اور دن جن چیزوں میں اللہ تعالیٰ زندگی ڈالتا ہے اس سے اس معجزے کی تجدید ہوتی رہتی ہے۔ یہ ” حیات “ کیا چیز ہے۔ ابھی تک یہ امور غبیبہ سے ہے اور عقل اس کے بارے میں حیراں ہے۔ اس میں بہرحال تامل و تدبر اور سائنسی تحقیق کے لئے بڑی گنجائش ہے۔
پھر موت بھی ایک دوسرا معجزہ ہے کہ انسان اس کی حقیقت سے آج تک عاجز ہے۔ موت نہایت ہی مختصر ٹائم میں واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن زندگی اور موت کے آثار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ انسان کے لئی اس میں غور و فکر کے وسیع امکانات ہیں۔
اب تیسرا مرحلہ کہ موت کے بعد زنگدی کیسے ہوگی۔ یہ بھی اللہ کے پوشیدہ علوم میں سے ایک غیب ہے۔ لیکن اس پر دلیل بہت آسان ہے کہ جب ایک چیز کو پہلے پیدا کردیا گیا ، تو دوسری بار اس کی پیدائش میں کیا مشکلات ہو سکتی ہیں۔ اس میں بھیانسان غو رو فکر کرسکتا ہے۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ وہ غور و فکر ان موضوعات پر نہیں کرتا اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔
ان الانسان لکفور (22 : 66) ” بیشک انسان ناشکرا ہے۔ “ بڑا منکر حق ہے۔ قرآن مجید نے یہ تمام دلائل اس موضوع کے گرد پیش کئے ہیں کہ جن لوگوں پر ظلم ہوگا ، اللہ ان کی مدد رکے گا اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا جواب دیں۔ یہ طرز استدلال قرآن کریم کے اس اسلوب کے مطابق ہے کہ قرآن اس کائنات کے قوانین فطرت اور مظاہر قدرت کو دلوں میں ولولہ پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے کیونکہ نظام اسلامی کے اندر موجود قوانین عدل کو پوری کائنات کے اندر موجود قوانین فطرت کی تائید حاصل ہے۔
……
اس کائنات کے مظاہر فطرت اور قوانین قدرت کے بیان کے اس فیصلہ کن موڑ پر پہنچ کر اب قرآن مجید نبی ﷺ کو ہدایت کرتا ہے کہ آپ مشرکین کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی راہ پر چلیں۔ مشرکین کے نزاع اور جدال کی پرواہ نہ کریں۔ اللہ مشرکین کو یہ طاقت نہیں دیتا کہ وہ آپ کو اپنی راہ سے روک سکیں۔ یہ راہ آپ کے لئے اللہ نے چنی ہے اور اس راہ میں آپ صرف دعوت ہپنچانے تک محدود رہیں۔ اصل فیصلہ تو اللہ خود قیامت میں کرے گا۔
الحج 22:67
لکل امۃ جعلنا ……اللہ یسیر (96)
ہر قوم اور ہر امت کا ایک منہاج فکر ، منہاج عقیدہ اور ایک منہاج عمل اور ایک نظام زندگی ہوتا ہے۔ یہ نظام ان قوانین کے تابع ہوتا ہے جو اللہ نے انسانوں کے اندر جاری کئے ہیں جن کے مطابق انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور بعض چیزوں کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ قوانین تخلیقی قوانین ہیں اور اللہ نے پیدائش کے وقت سے انسان کے اندر ان کا داعیہ رکھا ہے۔ جو امت دل کھول کر ان قوانین فطرت کو سمجھتی ہے اور ان کے مطابق اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر دلائل ہدایت تلاش کرتی ہے ، وہ امت ہدایت یافتہ امت ہے کیونکہ وہ اس کائنات سے وہ قوانین دریافت کرلیتی ہے جس کے مطابق وہ اللہ کی معرفت اور اس کی اطاعت کے مقام تک پہنچ جاتی ہے۔ جو امت ان قوانین فطرت اور قوانین نفس سے آنکھیں بند کرلیتی ہے اور اسے ان میں خدا تک پہنچنے کی راہ نظر نہیں آتی ، وہ امت امت ضلالہ ہے اور اس نے خود اعراض کیا ہے اور سرکشی کی راہ اپنائی ہے۔
اس طرح اللہ نے ہر امت کے لئے کچھ مناسک رکھے ہیں ، جن پر وہ عمل کرتی ہے ، ایک مناج رکھا ہے جس پر وہ چلتی ہے ۔ لہٰذا مشرکین کے ساتھ مجادلہ میں اب وقت ضائع نہ کیا جائے ، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے روک رہے ہیں۔ وہ مناج ضلالت میں دور تک چلے گئے ہیں لہٰذا اللہ بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان لوگوں کو اسلام کے خلاف مجادلے اور مباحثے کا موقع ملے۔ وہ تو چاہتے ہی یہ ہیں ، اے پیغمبر آپ اپنی راہ پر آگے بڑھیں۔ آپ کی راہ سیدھی ہے اور نظام مستقیم ہے۔
وادع الی ربک انک لعلی ھدی مستقیم (22 : 86) ” تم اپنے رب کی طرف دعوت دو ، یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔ “ آپ اپنے منہاج پر مطمئن ہوجائیں اور استقامت کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ اگر کوئی آپ سے مجادلہ کرے تو بات مختصر کریں اور جہاد کا وقت آیات کلامی پر بحثوں میں ضائع نہ کریں۔
وان جدلوک فقل اللہ اعلم بما تعملون (22 ، 86) ” اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اللہ کو خوب معلوم ہے۔ “ بحث و مباحثہ تب فائدہ مند ہوتا ہے کہ مخاطب ماننے کے لئے تیار ہو ، اور وہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہو۔ ایسے افراد کے ساتھ مباحثہ مفید نہیں ہوتا جو اپنی بات پر مصر ہوں اور وہ اس کائنات میں پائے جاین الے تمام دلائل کو جو انفس و آفاق میں موجود ہیں اور قرآن ان کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے ، یکسر رو کر کے مکابرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے حوالے کر دو ، یہ اللہ ہی ہے جو تمام امتوں کے طریقوں کا فیصلہ قیامت میں کرے گا۔
اللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ فیما کنتم فیہ تختلفون (22 : 96) ” اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ “ اللہ وہ جج ہے جس کے فیصلے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ قیامت کے فیصلے کے لخاف تو کوئی اپیل نہ ہوگی۔ یہ تو سپریم فیصلہ ہوگا۔
اللہ علم کامل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اس کی کوئی سبب یا کوئی دلیل جھوٹ نہیں ہو سکتی۔ عمل و شعور میں سے کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ وہ تو آسمانوں و زمین میں سب کچھ جانتا ہے اس میں لوگوں کے اعمال اور نیات سب شامل ہیں۔
الحج 22:68
لکل امۃ جعلنا ……اللہ یسیر (96)
ہر قوم اور ہر امت کا ایک منہاج فکر ، منہاج عقیدہ اور ایک منہاج عمل اور ایک نظام زندگی ہوتا ہے۔ یہ نظام ان قوانین کے تابع ہوتا ہے جو اللہ نے انسانوں کے اندر جاری کئے ہیں جن کے مطابق انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور بعض چیزوں کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ قوانین تخلیقی قوانین ہیں اور اللہ نے پیدائش کے وقت سے انسان کے اندر ان کا داعیہ رکھا ہے۔ جو امت دل کھول کر ان قوانین فطرت کو سمجھتی ہے اور ان کے مطابق اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر دلائل ہدایت تلاش کرتی ہے ، وہ امت ہدایت یافتہ امت ہے کیونکہ وہ اس کائنات سے وہ قوانین دریافت کرلیتی ہے جس کے مطابق وہ اللہ کی معرفت اور اس کی اطاعت کے مقام تک پہنچ جاتی ہے۔ جو امت ان قوانین فطرت اور قوانین نفس سے آنکھیں بند کرلیتی ہے اور اسے ان میں خدا تک پہنچنے کی راہ نظر نہیں آتی ، وہ امت امت ضلالہ ہے اور اس نے خود اعراض کیا ہے اور سرکشی کی راہ اپنائی ہے۔
اس طرح اللہ نے ہر امت کے لئے کچھ مناسک رکھے ہیں ، جن پر وہ عمل کرتی ہے ، ایک مناج رکھا ہے جس پر وہ چلتی ہے ۔ لہٰذا مشرکین کے ساتھ مجادلہ میں اب وقت ضائع نہ کیا جائے ، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے روک رہے ہیں۔ وہ مناج ضلالت میں دور تک چلے گئے ہیں لہٰذا اللہ بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان لوگوں کو اسلام کے خلاف مجادلے اور مباحثے کا موقع ملے۔ وہ تو چاہتے ہی یہ ہیں ، اے پیغمبر آپ اپنی راہ پر آگے بڑھیں۔ آپ کی راہ سیدھی ہے اور نظام مستقیم ہے۔
وادع الی ربک انک لعلی ھدی مستقیم (22 : 86) ” تم اپنے رب کی طرف دعوت دو ، یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔ “ آپ اپنے منہاج پر مطمئن ہوجائیں اور استقامت کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ اگر کوئی آپ سے مجادلہ کرے تو بات مختصر کریں اور جہاد کا وقت آیات کلامی پر بحثوں میں ضائع نہ کریں۔
وان جدلوک فقل اللہ اعلم بما تعملون (22 ، 86) ” اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اللہ کو خوب معلوم ہے۔ “ بحث و مباحثہ تب فائدہ مند ہوتا ہے کہ مخاطب ماننے کے لئے تیار ہو ، اور وہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہو۔ ایسے افراد کے ساتھ مباحثہ مفید نہیں ہوتا جو اپنی بات پر مصر ہوں اور وہ اس کائنات میں پائے جاین الے تمام دلائل کو جو انفس و آفاق میں موجود ہیں اور قرآن ان کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے ، یکسر رو کر کے مکابرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے حوالے کر دو ، یہ اللہ ہی ہے جو تمام امتوں کے طریقوں کا فیصلہ قیامت میں کرے گا۔
اللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ فیما کنتم فیہ تختلفون (22 : 96) ” اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ “ اللہ وہ جج ہے جس کے فیصلے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ قیامت کے فیصلے کے لخاف تو کوئی اپیل نہ ہوگی۔ یہ تو سپریم فیصلہ ہوگا۔
اللہ علم کامل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اس کی کوئی سبب یا کوئی دلیل جھوٹ نہیں ہو سکتی۔ عمل و شعور میں سے کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ وہ تو آسمانوں و زمین میں سب کچھ جانتا ہے اس میں لوگوں کے اعمال اور نیات سب شامل ہیں۔
الحج 22:69
لکل امۃ جعلنا ……اللہ یسیر (96)
ہر قوم اور ہر امت کا ایک منہاج فکر ، منہاج عقیدہ اور ایک منہاج عمل اور ایک نظام زندگی ہوتا ہے۔ یہ نظام ان قوانین کے تابع ہوتا ہے جو اللہ نے انسانوں کے اندر جاری کئے ہیں جن کے مطابق انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور بعض چیزوں کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ قوانین تخلیقی قوانین ہیں اور اللہ نے پیدائش کے وقت سے انسان کے اندر ان کا داعیہ رکھا ہے۔ جو امت دل کھول کر ان قوانین فطرت کو سمجھتی ہے اور ان کے مطابق اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر دلائل ہدایت تلاش کرتی ہے ، وہ امت ہدایت یافتہ امت ہے کیونکہ وہ اس کائنات سے وہ قوانین دریافت کرلیتی ہے جس کے مطابق وہ اللہ کی معرفت اور اس کی اطاعت کے مقام تک پہنچ جاتی ہے۔ جو امت ان قوانین فطرت اور قوانین نفس سے آنکھیں بند کرلیتی ہے اور اسے ان میں خدا تک پہنچنے کی راہ نظر نہیں آتی ، وہ امت امت ضلالہ ہے اور اس نے خود اعراض کیا ہے اور سرکشی کی راہ اپنائی ہے۔
اس طرح اللہ نے ہر امت کے لئے کچھ مناسک رکھے ہیں ، جن پر وہ عمل کرتی ہے ، ایک مناج رکھا ہے جس پر وہ چلتی ہے ۔ لہٰذا مشرکین کے ساتھ مجادلہ میں اب وقت ضائع نہ کیا جائے ، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے روک رہے ہیں۔ وہ مناج ضلالت میں دور تک چلے گئے ہیں لہٰذا اللہ بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان لوگوں کو اسلام کے خلاف مجادلے اور مباحثے کا موقع ملے۔ وہ تو چاہتے ہی یہ ہیں ، اے پیغمبر آپ اپنی راہ پر آگے بڑھیں۔ آپ کی راہ سیدھی ہے اور نظام مستقیم ہے۔
وادع الی ربک انک لعلی ھدی مستقیم (22 : 86) ” تم اپنے رب کی طرف دعوت دو ، یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔ “ آپ اپنے منہاج پر مطمئن ہوجائیں اور استقامت کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ اگر کوئی آپ سے مجادلہ کرے تو بات مختصر کریں اور جہاد کا وقت آیات کلامی پر بحثوں میں ضائع نہ کریں۔
وان جدلوک فقل اللہ اعلم بما تعملون (22 ، 86) ” اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اللہ کو خوب معلوم ہے۔ “ بحث و مباحثہ تب فائدہ مند ہوتا ہے کہ مخاطب ماننے کے لئے تیار ہو ، اور وہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہو۔ ایسے افراد کے ساتھ مباحثہ مفید نہیں ہوتا جو اپنی بات پر مصر ہوں اور وہ اس کائنات میں پائے جاین الے تمام دلائل کو جو انفس و آفاق میں موجود ہیں اور قرآن ان کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے ، یکسر رو کر کے مکابرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے حوالے کر دو ، یہ اللہ ہی ہے جو تمام امتوں کے طریقوں کا فیصلہ قیامت میں کرے گا۔
اللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ فیما کنتم فیہ تختلفون (22 : 96) ” اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ “ اللہ وہ جج ہے جس کے فیصلے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ قیامت کے فیصلے کے لخاف تو کوئی اپیل نہ ہوگی۔ یہ تو سپریم فیصلہ ہوگا۔
اللہ علم کامل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اس کی کوئی سبب یا کوئی دلیل جھوٹ نہیں ہو سکتی۔ عمل و شعور میں سے کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ وہ تو آسمانوں و زمین میں سب کچھ جانتا ہے اس میں لوگوں کے اعمال اور نیات سب شامل ہیں۔
الحج 22:70
الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السمآء والارض ان ذلک فی کتب ان ذلک علی اللہ یسیر (22 : 08) ” کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے ؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ اللہ کے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے “۔ اللہ کا علم نہایت کامل اور نہایت ہی باریک ہے اور اس پر اس کائنات کی کوئی شے مخفی نہیں ہے۔ وہ ایسی چیز سے متاثر نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے کوئی چیز محو ہوجاتی ہے یا بھول جاتی ہے۔ یہ سب کچھ تو ایک کتاب میں قلم بند ہے اور یہ ریکارڈ رکھنا اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔
انسانی عقل تو تھک جاتی ہے۔ خصوصاً اس کلیاتی نظام پر غور کرتے ہوئے بھی عقل تھک جاتی ہے۔ پھر جب ہم اس پوری کائنات کے بارے میں اللہ کے علم کی جامعیت پر غور کرتے ہیں اور اسے حاطہ تصور میں لاتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ بیشمار اشیاء اشخاص ، اعمال ، نیات ، خیالات اور حرکات ، عالم منظور میں اور عالم مخفی میں ہیں تو ہمارے تصور کا دامن تار تار ہوجاتا ہے ، لیکن اللہ کے علم وقدرت کے حوالے سے یہ تو شے یسیر ہے۔
ان ذلک علی اللہ یسیر (22 : 08) ” یہ اللہ کے لئے مشکل نہیں ہے۔ “ رسول اللہ ﷺ کو یہ ہدیات دینے کے بعد کہ آپ مشرکین کو بحثو جدال کا کوئی موقع ہی نہ دیں کہ وہ آپ کی راہ مستقیم پر بحث کریں۔ اب حضور اکرم ﷺ کو سمجھایا جاتا ہے کہ خود ان کی جو راہ ہے اور جو منہاج ہے اس میں تو بحث کی گنجائش ہے اور اس میں تو ٹیڑھ ، ضعف ، جہالت ، ظلم اور دوسرے تمام نقائص موجود ہیں اور یہ کہ یہ لوگ باطل پرست ہونے کی وجہ سے اللہ کی نصرت اور معاونت سے بھی محروم ہیں۔ کوئی مددگار ان کا نہیں ہے۔
الحج 22:71
ویعبدون ……من نصیر (17)
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جس صورتحال یا قانن یا معاشرے کو اللہ کی طرف سے کوئی سند حاصل نہ ہو اس میں کوئی قوت نہیں ہوتی۔ جس چیز کی پشت پر اللہ کی قوت نہ ہو وہ کمزور ہے۔ اس کے اندر قوت کا بنیادی عنصر ہی موجود نہیں ہے جو سلطان الٰہی ہے۔
یہ لوگ بت پرست ، انسان پرست یا شیطان پرست ہیں۔ ان سب چیزوں پر خدائی ہاتھ موجود نہیں ہے اس لئے ایسے لوگ حقیقی قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ لوگ مذکورہ بالا چیزوں کی بندگی کسی دلیل ، کسی علم اور کسی یقین کی اساس پر نہیں کرتے۔ محض وہم اور خرافات کی بنیاد پر ان چیزوں کو مانتے ہیں۔ جبیہ اللہ کی نصرت اور مدد سے محروم ہوگئے تو اب دنیا و آخرت میں ان کا کوئی نصیر و مددگار نہیں ہے۔
تعجب انگیز بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی سند جواز نہیں ہے ، نہ علم ہے ان کو ، پھر یہ دعوت حق بھی سننے کے لئے تیار نہیں ، نہ اسے قبول کرتے ہیں ، بلکہ یہ لوگ ضد میں آ کر گناہ کے کام پر آمادہ ہوئے ہیں اور اس قدر ضد اور عناد میں آگئے ہیں کہ یوں نظر آتا ہے کہ ان کے سامنے الٰہی پیش کرنے والے پر یہ لوگ ٹوٹ پڑیں اور اس کو چبا کر کھا جائیں۔
الحج 22:72
واذا ……ایتنا ط
یہ لوگ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیتے۔ نہ دلیل کو دلیل سے رد کرتے ہیں بلکہ یہ دلیل کے مقابلے میں غصہ کر کے مخالف کو کھا جانا چاہتے ہیں اور یہ دلیل نہ ہونے کی علامت ہے اور سرکشوں کی آخری دلیل یہ ہوتی ہے کہ وہ لڑ پڑتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں۔ وہ حق کا کلمہ سننا ہی نہیں چاہتے۔ ڈنڈے کی دلیل سے بات کرتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس ڈنڈے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ان کو یہ جواب دیتا ہے :
قل افانبئکم ……(27)
” ان سے کہو میں بتائوں تمہیں کہ اس سے بد تر چیز ہے ؟ آگ ، اللہ نے اسی کا وعدہ ان لوگوں کے حق میں رکر رکھا ہے جو قبول حق سے انکار کریں اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ “
یہ کہ تم دلیل کا جواب ڈنڈے سے دیتے ہو تو پھر قوت کے مقابلے میں ایک بڑی قوت ہے۔ اس کا سامنا کرو اور انتظار کرو انجام کا۔ لیکن یاد رکھو کہ وہ بہت ہی برا نجام ہے۔
……
اب اس سورة کا اعلان عام ، تمام لوگوں کے لئے قرار داد ، جبراً بآواز بلند کہ لوگو ذرا اپنے معبودوں پر غور تو کرو۔ اللہ کے سوا جو شخص جس قسم کا الہ پوجتا ہے اس سے مدد طلب کرتا ہے جس شکل و صورت میں ہو وہ پکارے جانے الا۔ اللہ ان کے ضعف اور کمزوری کو ایک واضح مثال سے ظاہر کرتا ہے جسے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔ مثال کیا ہے ایک چلتے پھرتے محترک منظر کی تصویرکشی ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور دل خوش ہوتا ہے۔ ذرا اس منظر میں ان خدائوں کی بیچارگی کا نظارہ کرو۔
الحج 22:73
یایھا الناس ……والمطلوب (27)
یہ عام پکار ہے ، بلند آواز سے اعلان عام ہے۔
یا یھا الناس (22 : 38) اے لوگو ، جب لوگ جمع ہوگئے تو ان کے سامنے ایک مثال ہے۔ ایک عجیب منظر کی شکل میں ۔ یہ کوئی مخصوص مجلس نہیں ہے ، نہ کوئی اتفاقی بات ہے بلکہ لوگوں کو بلایا گیا ہے۔
ضرب مثل فاستمعوا لہ (22 : 8) ” مثال دی جاتی ہے غور سے سنو ، اس کو۔ “ یہ مثال ایک قاچدہ اور اصول مقرر کرتی ہے اور حقیقت بتاتی ہے۔
ان الذین ……اجتمعوالہ (22 : 38)
” جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑکر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ ‘ یعنی اللہ کے سوا تم جن بتوں کو پوجتے ہو ، یا جن اشخاص کی بندگی کرتے ہو ، یا رسومات اور تاقلید کی بندگی کرتے ہو ، جن سے تم نصرت طلب کرتے ہو ، جن سے تم امداد طلب کرتے ہو اور جن سے تم عزت طلب کرتے ہو ، یہ سب کے سب اگر مل جائیں تو ایک مکھی کی تخلیق بھی نہیں کرسکتے۔ مکھی اللہ کی مخلوقات میں سے بہت ہی صغیر و حقیر مخلوق ہے لیکن جن کو یہ الہ اور خدا کہتے ہیں وہ اس پر بھی قادر نہیں۔ اگرچہ وہ سب کے سب ایک دوسرے کی مدد پر جمع ہوجائیں تو اللہ کی مخلوقات میں سے اس نہایت ہی معمولی چیز کو وہ نہیں پیدا کرسکتے۔
جہاں تک مکھی کی تخلیق کا تعلق ہے وہ تو اونٹ اور ہاتھی جیسے بڑے حیوانات کی طرح مشکل اور محال ہے۔ کیونکہ مکھی کے اندر بھی وہی راز حیات ہے جو اونٹ اور ہاتھی کے اندر ہے لہٰذا محض محال ہونے میں تو چھوٹی بڑی مخلوق برابر ہے۔ لیکن قرآن کے معجزانہ انداز بیان نے یہاں مکھی جیسی صغیر و حقیر چیز کو مثال کے لئے منتخب کیا ہے کیونکہ اگر کوئی مکھی کی تخلیق سے عاجز ہے تو اس کی عاجزی بمقابلہ اونٹ یا ہاتھی زیادہ سہولت سے سمجھ میں آتی ہے ، یہ محض تعبیری انداز ہے ورنہ حقیقت تو دونوں کی ایک ہے۔ قرآن کریم کا یہ نہایت انوکھا اسلوب ہے۔
اب ذرا ان معبودوں کی کمزوری کی سمت میں ایک قدم اور آگے جائیے۔
وان یسلبھم الذباب شیئالا یستنقذوہ منہ (22 : 38) ” بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ ‘ ان معبودوں کی حالت تو یہ ہے کہ اگر مکھی ان سے کوء چیز چھین کرلے جائے تو یہ اسے نہیں چھڑا سکتے ۔ چاہے بت ہوں ، چاہے اشخاص اور اولیاء ہوں۔ بلکہ بڑے بڑے فرعونوں سے مکھی انگر کوئی چیز اٹھا کرلے جائے تو وہ اسے پکڑ نہیں سکتے۔ یہاں بھی مکھی کو اختیار کیا گیا تاکہ اس صغیر و حقیر چیز کا سایہ ان بتوں پر پڑے اور ان کی بیچاگری اچھی طرح واضح ہوجائے۔ جبکہ اس کے اندر خطرناک بیماری ہوتی ہے اور وہ ہم سے نفیس چیزیں اڑا کرلے جاتی ہے۔ یہ کبھی ہم سے آنکھیں لے لیتی ہے ، کبھی اس کی وجہ کوئی عضو شل ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھار تو آدمی اس بیمار سے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ یہ سل ٹائیفائیڈ ، ڈائینٹری اور ہیضے کے جراثیم کی حامل ہے ، لیکن ہم سے وہ چیزیں لے جاتی ہے جو ہم اس سے واپس نہیں لے سکتے۔
قرآن کا معجزانہ انداز کلام اس قسم کے ایک لفظ اور مفہوم کا انتخبا کر کے اس طرح کی فضا پیدا کر یدتا ہے۔ اگر قرآن مجید میں کہتا کہ اگر درندے ان سے کوئی چیز لے جائیں تو یہ چھڑا نہیں سکتے تو اس سے ضعف کے مقابلے میں قوت کا تصور آتا ، حالانکہ درندے مکھی سے زیادہ قیمتی شے نہیں چھین سکتے لیکن مکھی کے لفظ سے ان کی بیچارگی اور حقارت کا تصور زیادہ گہرا ہوتا ہے۔
مثال کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوتا ہے۔
ضعف الطالب و المطلوب (22 : 38) ” مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ “ تاکہ مکھی کے لفظ سے جو ضعیفی کی فضا بنی ہے وہ ثابت بھی ہوجائے۔ اب فضا تیار ہے ، انسانی سوچ اور فکر میں ان الموں کی حقارت اور بیچارگی بیٹھ گئی ہے ، ایسی فضا میں قرآن اللہ کی قوت کا اعلان کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ انسان نے اللہ کی اس عظیم قوت کا اندازہ نہیں لگایا۔
الحج 22:74
ما قدروا اللہ حق قدرہ ط ان اللہ لقوی عزیز (47)
٭لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی کہ وہ اللہ کے ساتھ ایسے عاجز ، حقیر اور بیچارہ چیزوں کو شریک کرتے ہیں ، جو اگر سب کے سب بھی جمع ہوں تو مکھی پیدا نہیں کرسکتے۔
٭انہوں نے اللہ کی کوئی قدر نہ پہنچانی۔ حالانکہ وہ اللہ کے آثار قدرت دیکھتے ہیں ، اس کی عجیب و غریب مخلوق کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ ایسے الہوں کو شریک کرتے ہیں جو مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔
٭ انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی کی وہ مدد طلب کرتے ہیں تو ان سے جن میں مدد دینے کی قوت ہی نہیں ہے بلکہ اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے کر بھاگے تو وہ اسے بھی نہیں چھڑا سکتے۔
یہ ایسے حالات میں ایک سخت تنبیہ ہے کہ جہاں سامع خشوع و خضوع کے لئے تیار ہوگیا ہے۔ لوہا گرم ہے اور ضرب لگا دی گئی ہے۔ ایسے حالات میں خدا کے اختیارات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اللہ ملائکہ میں سے پیغام لانے والے مقرر کرتا ہے اور انسانوں سے پیغام دینے والے مقرر کرتا ہے اور یہ انتخاب اپنے علم اور قدرت کی وجہ سے کرتا ہے۔
الحج 22:75
اللہ یصطفی من ……الامور (67)
ملائکہ اور رسولوں کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں وہ صاحب قوت بادشاہ کے دربار سے ملے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ اس عزیز و جابر کے نمائندے ہیں۔ ان کے پاس بادشاہ کے اختیارات ہیں۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو ان بیچارہ بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اللہ توسیع وبصیر ہے ، سنتا ہے اور دیکھتا ہے ۔ جو لوگوں کے سامنے ہو وہ بھی جو ان کے پیچھے ہو ، یا ان سے خفیہ ہو اس کو بھی۔ اس کا علم کامل و شامل ہے۔ اس سے کوئی قریب و بعید کی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔ تمام باتوں اور مقدموں کا رجوع اور آخری فیصلے کا اختیار اللہ ہی کا ہے۔
ہر قوم کے مناسک ہوتے ہیں اور مشرکین کے یہ مناسک ہیں جو مکھی سے بھی فروتر ہیں اور ان کی بندگی کی رسمیں کس قدر پوچ ہیں۔ امت مسلمہ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو ایک اعلیٰ اور برتر پیغام کے حامل ہو ، اس پیغام کو اور اس دعوت کو غالب کرنے کے لئے عبادات کرو اور جہاد کرو۔
الحج 22:76
اللہ یصطفی من ……الامور (67)
ملائکہ اور رسولوں کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں وہ صاحب قوت بادشاہ کے دربار سے ملے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ اس عزیز و جابر کے نمائندے ہیں۔ ان کے پاس بادشاہ کے اختیارات ہیں۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو ان بیچارہ بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اللہ توسیع وبصیر ہے ، سنتا ہے اور دیکھتا ہے ۔ جو لوگوں کے سامنے ہو وہ بھی جو ان کے پیچھے ہو ، یا ان سے خفیہ ہو اس کو بھی۔ اس کا علم کامل و شامل ہے۔ اس سے کوئی قریب و بعید کی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔ تمام باتوں اور مقدموں کا رجوع اور آخری فیصلے کا اختیار اللہ ہی کا ہے۔
ہر قوم کے مناسک ہوتے ہیں اور مشرکین کے یہ مناسک ہیں جو مکھی سے بھی فروتر ہیں اور ان کی بندگی کی رسمیں کس قدر پوچ ہیں۔ امت مسلمہ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو ایک اعلیٰ اور برتر پیغام کے حامل ہو ، اس پیغام کو اور اس دعوت کو غالب کرنے کے لئے عبادات کرو اور جہاد کرو۔
الحج 22:77
یایھا الذین ……النصیر (47)
ان دو آیات میں ایک پورا منہاج امت مسلمہ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ فرئاض اور تقاضے بھی رکھ دیئے جو اس منہاج اور نظام کے ساتھ لازمی شرط کے طور پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کی اہمیت کیا ہے ؟ اور ماضی اور حال میں اس کی جڑیں کہاں تک پھیلتی ہیں ، جب اس منہاج اور نظام کو اللہ کی خاہش کے مطابق قائم کردیا گیا ، یہ منہاج کیا ہے ؟
٭ اہل ایمان کو سب سے پہلے رکوع و سجود کا حکم دیا جاتا ہے۔ رکوع و سجود اسلام کے ممتاز بنیادی ارکان ہیں۔ قرآن کریم نماز کی تعبیر اکثر رکوع و سجود سے کرتا ہے کیونکہ یہ نماز کے اہم اجزاء اور نماز کا منظر پیش کرتے وقت ظاہری افعال ہیں جن کا تعلق منظر کشی سے ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کا اسلوب اظہار مناظر کی شکل میں ہے جو ایک دلنشین انداز ہے۔ شعور پر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔
٭ممتاز ترین عبادت کے ممتاز ترین ارکان کے بعد ایک عام حکم جو پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بندگی جو نماز سے زیادہ جامع ہے۔ کیونکہ عبادت میں فرئاض بھی شامل ہیں اور ہر وہ عمل بھی شامل ہے جس کے بارے میں اللہ کا کوئی حکم ہے اور اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی تعمل ہو۔ اسی طرح انسانی زنگدی کی تمام حرکات کو عبادت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر یہ حرکات اللہ کی رضامندی کی نیت سے کی جائیں یہاں تک کہ زندگی کے وہ امور جن کا تعلق لذت سے ہے وہ بھی عبادت بن سکتے ہیں اگر ان پر اللہ کا ذکر کیا جائے ، اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور یہ نیت کی جائے کہ یہ نعمتیں استعمال کر کے ہم مزید عبادت اور جہاد کریں گے۔ محض نیت سے ہر چیز عبادت بن سکتی ہے اور محض نیت سے خالص عبادت کھیل بن سکتی ہے۔
٭یہ کہ اسلام خیر ہی خیر ہے ، تمام اچھائی کے کام اسلامی نظام زندگی ہے۔ نماز ، بندگی اور خیر خلاصہ ہے اسلامی نظام کا۔
اب اس اسلام کو عملی دنیا میں نافذ کرنا ہے اور اس میں تم کامیاب اس طرح ہو سکتے ہو کہ خیر کے کام کرو۔ اللہ کی بندگی اور عبادت سے تمہارا تعلق باللہ مضبوط ہوگا اور اچھے کام کرنے سے تمہاری عملی زندگی درست ہوگی۔ اس سے تمہاری اجتماعی زندگی کا رخ ایمان کی راہ پر پڑجائے گا۔ جب امت کی تربیت یوں ہوگئی کہ اس کا تعلق باللہ عبادت کے ذریعہ پختہ ہوگیا۔ اس کی عملی زندگی اللہ کی اطاعت اور عمل خیر کے ذریعے استوار ہوگئی تو تب امت یا امت میں سے کوئی جماعت اس ذمہ داری کے سرانجام دینے کیلئے تیار ہوگی جو اسلامی نظام کے قیام کا واحد طریقہ ہے اور وہ کیا ہے ؟
وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ (22 : 88) ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ “ یہ نہایت ہی جامع تعبیر ہے ، جہاد کا حق ادا کرو ، اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ ذمہ داری بہت ہی بڑی ہے۔ اس کے لئے بہت بڑی تیاری کی ضرورت ہے اور اس کے بہت بڑے تقاضے ہیں۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرو جس طرح جہاد کرنے کا حق ہے ، اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرو خود اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرو ، شر و فساد اور ہر برائی کے خلاف جہاد کرو۔ اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو ، تمہیں تو تیار ہی جہاد کے لئے اس عظیم ڈیوٹی کے لئے کیا گیا ہے۔ تمام انسانوں میں سے تمہارا انتخاب ہوا ہے۔
ھو اجتبکم (22 : 88) ” اس نے تمہیں چنا ہے “ پھر اللہ نے جو تمہیں چن لیا ہے تو تمہاری ذمہ داری دوسروں کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ اب استعفی اور فرار کی تو کوئی راہ باقی نہیں رہی۔ یہ تو اس امت اور جماعت کے لئے اللہ کی طرف سے اکرام ہے اور چاہئے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کام کو اچھی طرح انجام دیں۔
پھر اللہ کی رحمت بھی اس کے ساتھ شامل ہے۔ کام بھی آسان ہے۔
وما جعل علیکم فی الدین من حرج (22 : 88) ” دین میں تم پر کوئی تنگئی نہیں رکھی گئی۔ “ یہ دین اور اس کے فرائض اس کی عبادات ، اس کے قوانین اور اس کے اخلاق میں انسانی فطرت کو مدنظر رکھا گیا ہے اور انسان کی فطری قوتوں کو تعمیری کاموں میں لگایا گیا ہے۔ ان کو اس طرح بند نہیں کیا گیا جس طرح گیس کو بند کیا جاتا ہے اور نہ ان قوتوں کو حیوانات کی طرح آزاند چھوڑا گیا ہے۔ پھر یہ دین ایک ایسا منہاج ہے کہ اس کی جڑیں ماضی کی تاریخ میں بیھ دور تک موجود ہیں۔
ملۃ ابیکم ابرھیم (22 : 88) ” قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ “
یہ دین تو توحید کا سرچشمہ ہے اور اس کا سرا حضرت ابراہیم سے ملتا ہے۔ لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ اس کی جڑیں زمین پر نہ ہوں اور اس کی تاریخ کے اندر بھی کوئی بڑا خلا (GAP) نہیں ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کی رسالتوں میں تھا اور نام بھی اس کا تاریخی ہے کہ حضرت ابراہیم نے تمہیں مسلمان کا نام دیا ہے اور اس ملت کا نا ملت اسلامیہ رکھا ہے۔
اسلام کا مفہوم ہی یہ ہے کہ چہرے ، نیت اور اعمال سب کو خدا کی طرف موڑ دو ۔ لہٰذا امت مسلمہ کا روزل اول سے ایک ہی نظریہ ، ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی قبلہ ہے۔ حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی سلسلہ ، ایک ہی نظام اور ایک ہی پیغام ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو سب سے آخر میں یہ امانت دی گئی اور حکم دیا گیا کہ یہ پیغام تمام انسانیت تک پہنچانا ہے۔
لیکون الرسول شھیدا علیکم و تکونوا شھدآء علی الناس (22 : 88) ” تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ “ تو رسول امت پر گواہ ہے یعنی وہ اس کے لئے نظام وضع کرے گا ، صحیح و غلط اور نیک و بد کی تمیز سکھائے گا ، اور یہی فریضہ یہ امت دوسرے لوگوں کے حوالے سے ادا کرے گی۔ یہ امت گویا پوری انسانیت کی نگراں ہے۔ اس امت کی شرعی قدریں اس کا تقاضا کرتی ہیں کہ اس کی تربیت اور اس کی سوچ بھی اس لائن پر ہے۔ یہ امت ، امت مسلمہ نہ ہوگی اگر وہ تمام انسانیت کی نگرانی نہ کرے اور اپنا اصلی فریضہ نہ ادا کرے۔
امت مسلمہ نے جب تک اسلامی نظام زندگی کو اپنے ہاں اپنی زندگی وں میں نافذ کئے رکھا ، وہ پوری دنیا کی نگران رہی۔ جب اس امت نے شریعت کے نظام سے انحرامف کیا اور اپنے فرئاض ادا کرنے ترک کردیئے تو اللہ تعالیٰ نے اسے مقام قیادت سے ہٹا کر دوسروں کا دم چھلا بنا دیا اور اب وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گی جب تک وہ اسلامی نظام کی حامل نہیں ہوتی۔
یہ فریضہ وہ تب تک ادا نہیں کرسکتی جب تک اس کے لئے تیاری نہ کرے اور تیاری کا نسخہ لالہ بتاتے ہیں۔ یہ کہ نماز پڑھو ، یہ کہ زکوۃ دو اور یہ کہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرو۔
فاقیموا الصلوۃ ……النصیر (22 : 88) ” پس نماز قائم کرو ، زکوۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جائو۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ “
٭نماز ایک فانی اور کمزور انسان کا رابطہ اس ذات کے ساتھ استوار کرتی ہے جو قوی ہے اور مقتدر قوت ہے۔
٭ زکوۃ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کے افراد کے درمیان صلہ رحمی کا قیام ہے۔ حاجات اور ضروریات میں افراد جماعت کی کفالت کا انتظام ہے تاکہ فساد پیدا نہ ہو۔
٭ اور اللہ پر بھروسہ وہ مضبوط رسی ہے جس کو کبھی ہاتھ نہ چھوڑنا چاہئے۔
یہ ہیں وہ سامان جنگ جن کے ذریعہ یہ امت وہ فریض شہادت علی الناس ادا کرسکتی ہے۔ جس کے لئے اسے اٹھایا گیا تھا اور ان اخلاقی اسلحہ کے علاوہ امت کے لئے عمومی ہدایت ہے کہ وہ حد استقامت تک روایتی زمینی اسلحہ بھی جمع کرسکتی ہے۔ قرآن اس سے غافل نہیں رہا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ اس قوت ، اس فوجی تربیت اور اس ساز و سامان کے جمع کرنے پر زور دیتا ہے جو امت مسلمہ کا واحد اسلحہ ہے اور کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ رابطہ ، صلاح اور اصلاح اور نظر بلند اور سر بلندی۔
اسلامی نظام کے پیش نظر اصل مقصد یہ ہے کہ انسانیت کو اس کمال تک پہنچایا جائے جو اس زمین میں حاصل کرنا ممکن ہو۔ اسلام یہاں محض جانوروں کی طرح حیوانی ترقی پر زور نہیں دیتا بلکہ روحانی ترقی پر بھی زور دیتا ہے۔
انسانیت کی بلند اقدار انسان کی مادی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھتی ہیں لیکن وہ اپنی سرگرمیوں کو صرف مادی ضروریات تک محدود نہیں رکھتیں اور یہی اسلام کا مطالبہ ہے امت مسلمہ سے کہ دنیا کی قیادت اسلام کے جامع نظام کی روشنی میں کی جائے۔ صدق اللہ العظیم
الحج 22:78
یایھا الذین ……النصیر (47)
ان دو آیات میں ایک پورا منہاج امت مسلمہ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ فرئاض اور تقاضے بھی رکھ دیئے جو اس منہاج اور نظام کے ساتھ لازمی شرط کے طور پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کی اہمیت کیا ہے ؟ اور ماضی اور حال میں اس کی جڑیں کہاں تک پھیلتی ہیں ، جب اس منہاج اور نظام کو اللہ کی خاہش کے مطابق قائم کردیا گیا ، یہ منہاج کیا ہے ؟
٭ اہل ایمان کو سب سے پہلے رکوع و سجود کا حکم دیا جاتا ہے۔ رکوع و سجود اسلام کے ممتاز بنیادی ارکان ہیں۔ قرآن کریم نماز کی تعبیر اکثر رکوع و سجود سے کرتا ہے کیونکہ یہ نماز کے اہم اجزاء اور نماز کا منظر پیش کرتے وقت ظاہری افعال ہیں جن کا تعلق منظر کشی سے ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کا اسلوب اظہار مناظر کی شکل میں ہے جو ایک دلنشین انداز ہے۔ شعور پر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔
٭ممتاز ترین عبادت کے ممتاز ترین ارکان کے بعد ایک عام حکم جو پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بندگی جو نماز سے زیادہ جامع ہے۔ کیونکہ عبادت میں فرئاض بھی شامل ہیں اور ہر وہ عمل بھی شامل ہے جس کے بارے میں اللہ کا کوئی حکم ہے اور اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی تعمل ہو۔ اسی طرح انسانی زنگدی کی تمام حرکات کو عبادت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر یہ حرکات اللہ کی رضامندی کی نیت سے کی جائیں یہاں تک کہ زندگی کے وہ امور جن کا تعلق لذت سے ہے وہ بھی عبادت بن سکتے ہیں اگر ان پر اللہ کا ذکر کیا جائے ، اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور یہ نیت کی جائے کہ یہ نعمتیں استعمال کر کے ہم مزید عبادت اور جہاد کریں گے۔ محض نیت سے ہر چیز عبادت بن سکتی ہے اور محض نیت سے خالص عبادت کھیل بن سکتی ہے۔
٭یہ کہ اسلام خیر ہی خیر ہے ، تمام اچھائی کے کام اسلامی نظام زندگی ہے۔ نماز ، بندگی اور خیر خلاصہ ہے اسلامی نظام کا۔
اب اس اسلام کو عملی دنیا میں نافذ کرنا ہے اور اس میں تم کامیاب اس طرح ہو سکتے ہو کہ خیر کے کام کرو۔ اللہ کی بندگی اور عبادت سے تمہارا تعلق باللہ مضبوط ہوگا اور اچھے کام کرنے سے تمہاری عملی زندگی درست ہوگی۔ اس سے تمہاری اجتماعی زندگی کا رخ ایمان کی راہ پر پڑجائے گا۔ جب امت کی تربیت یوں ہوگئی کہ اس کا تعلق باللہ عبادت کے ذریعہ پختہ ہوگیا۔ اس کی عملی زندگی اللہ کی اطاعت اور عمل خیر کے ذریعے استوار ہوگئی تو تب امت یا امت میں سے کوئی جماعت اس ذمہ داری کے سرانجام دینے کیلئے تیار ہوگی جو اسلامی نظام کے قیام کا واحد طریقہ ہے اور وہ کیا ہے ؟
وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ (22 : 88) ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ “ یہ نہایت ہی جامع تعبیر ہے ، جہاد کا حق ادا کرو ، اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ ذمہ داری بہت ہی بڑی ہے۔ اس کے لئے بہت بڑی تیاری کی ضرورت ہے اور اس کے بہت بڑے تقاضے ہیں۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرو جس طرح جہاد کرنے کا حق ہے ، اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرو خود اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرو ، شر و فساد اور ہر برائی کے خلاف جہاد کرو۔ اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو ، تمہیں تو تیار ہی جہاد کے لئے اس عظیم ڈیوٹی کے لئے کیا گیا ہے۔ تمام انسانوں میں سے تمہارا انتخاب ہوا ہے۔
ھو اجتبکم (22 : 88) ” اس نے تمہیں چنا ہے “ پھر اللہ نے جو تمہیں چن لیا ہے تو تمہاری ذمہ داری دوسروں کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ اب استعفی اور فرار کی تو کوئی راہ باقی نہیں رہی۔ یہ تو اس امت اور جماعت کے لئے اللہ کی طرف سے اکرام ہے اور چاہئے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کام کو اچھی طرح انجام دیں۔
پھر اللہ کی رحمت بھی اس کے ساتھ شامل ہے۔ کام بھی آسان ہے۔
وما جعل علیکم فی الدین من حرج (22 : 88) ” دین میں تم پر کوئی تنگئی نہیں رکھی گئی۔ “ یہ دین اور اس کے فرائض اس کی عبادات ، اس کے قوانین اور اس کے اخلاق میں انسانی فطرت کو مدنظر رکھا گیا ہے اور انسان کی فطری قوتوں کو تعمیری کاموں میں لگایا گیا ہے۔ ان کو اس طرح بند نہیں کیا گیا جس طرح گیس کو بند کیا جاتا ہے اور نہ ان قوتوں کو حیوانات کی طرح آزاند چھوڑا گیا ہے۔ پھر یہ دین ایک ایسا منہاج ہے کہ اس کی جڑیں ماضی کی تاریخ میں بیھ دور تک موجود ہیں۔
ملۃ ابیکم ابرھیم (22 : 88) ” قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ “
یہ دین تو توحید کا سرچشمہ ہے اور اس کا سرا حضرت ابراہیم سے ملتا ہے۔ لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ اس کی جڑیں زمین پر نہ ہوں اور اس کی تاریخ کے اندر بھی کوئی بڑا خلا (GAP) نہیں ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کی رسالتوں میں تھا اور نام بھی اس کا تاریخی ہے کہ حضرت ابراہیم نے تمہیں مسلمان کا نام دیا ہے اور اس ملت کا نا ملت اسلامیہ رکھا ہے۔
اسلام کا مفہوم ہی یہ ہے کہ چہرے ، نیت اور اعمال سب کو خدا کی طرف موڑ دو ۔ لہٰذا امت مسلمہ کا روزل اول سے ایک ہی نظریہ ، ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی قبلہ ہے۔ حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی سلسلہ ، ایک ہی نظام اور ایک ہی پیغام ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو سب سے آخر میں یہ امانت دی گئی اور حکم دیا گیا کہ یہ پیغام تمام انسانیت تک پہنچانا ہے۔
لیکون الرسول شھیدا علیکم و تکونوا شھدآء علی الناس (22 : 88) ” تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ “ تو رسول امت پر گواہ ہے یعنی وہ اس کے لئے نظام وضع کرے گا ، صحیح و غلط اور نیک و بد کی تمیز سکھائے گا ، اور یہی فریضہ یہ امت دوسرے لوگوں کے حوالے سے ادا کرے گی۔ یہ امت گویا پوری انسانیت کی نگراں ہے۔ اس امت کی شرعی قدریں اس کا تقاضا کرتی ہیں کہ اس کی تربیت اور اس کی سوچ بھی اس لائن پر ہے۔ یہ امت ، امت مسلمہ نہ ہوگی اگر وہ تمام انسانیت کی نگرانی نہ کرے اور اپنا اصلی فریضہ نہ ادا کرے۔
امت مسلمہ نے جب تک اسلامی نظام زندگی کو اپنے ہاں اپنی زندگی وں میں نافذ کئے رکھا ، وہ پوری دنیا کی نگران رہی۔ جب اس امت نے شریعت کے نظام سے انحرامف کیا اور اپنے فرئاض ادا کرنے ترک کردیئے تو اللہ تعالیٰ نے اسے مقام قیادت سے ہٹا کر دوسروں کا دم چھلا بنا دیا اور اب وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گی جب تک وہ اسلامی نظام کی حامل نہیں ہوتی۔
یہ فریضہ وہ تب تک ادا نہیں کرسکتی جب تک اس کے لئے تیاری نہ کرے اور تیاری کا نسخہ لالہ بتاتے ہیں۔ یہ کہ نماز پڑھو ، یہ کہ زکوۃ دو اور یہ کہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرو۔
فاقیموا الصلوۃ ……النصیر (22 : 88) ” پس نماز قائم کرو ، زکوۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جائو۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ “
٭نماز ایک فانی اور کمزور انسان کا رابطہ اس ذات کے ساتھ استوار کرتی ہے جو قوی ہے اور مقتدر قوت ہے۔
٭ زکوۃ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کے افراد کے درمیان صلہ رحمی کا قیام ہے۔ حاجات اور ضروریات میں افراد جماعت کی کفالت کا انتظام ہے تاکہ فساد پیدا نہ ہو۔
٭ اور اللہ پر بھروسہ وہ مضبوط رسی ہے جس کو کبھی ہاتھ نہ چھوڑنا چاہئے۔
یہ ہیں وہ سامان جنگ جن کے ذریعہ یہ امت وہ فریض شہادت علی الناس ادا کرسکتی ہے۔ جس کے لئے اسے اٹھایا گیا تھا اور ان اخلاقی اسلحہ کے علاوہ امت کے لئے عمومی ہدایت ہے کہ وہ حد استقامت تک روایتی زمینی اسلحہ بھی جمع کرسکتی ہے۔ قرآن اس سے غافل نہیں رہا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ اس قوت ، اس فوجی تربیت اور اس ساز و سامان کے جمع کرنے پر زور دیتا ہے جو امت مسلمہ کا واحد اسلحہ ہے اور کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ رابطہ ، صلاح اور اصلاح اور نظر بلند اور سر بلندی۔
اسلامی نظام کے پیش نظر اصل مقصد یہ ہے کہ انسانیت کو اس کمال تک پہنچایا جائے جو اس زمین میں حاصل کرنا ممکن ہو۔ اسلام یہاں محض جانوروں کی طرح حیوانی ترقی پر زور نہیں دیتا بلکہ روحانی ترقی پر بھی زور دیتا ہے۔
انسانیت کی بلند اقدار انسان کی مادی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھتی ہیں لیکن وہ اپنی سرگرمیوں کو صرف مادی ضروریات تک محدود نہیں رکھتیں اور یہی اسلام کا مطالبہ ہے امت مسلمہ سے کہ دنیا کی قیادت اسلام کے جامع نظام کی روشنی میں کی جائے۔ صدق اللہ العظیم
المؤمنون 23:1
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:2
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:3
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:4
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:5
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:6
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:7
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:8
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:9
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:10
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:11
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے ہیں جن سے اہل ایمان با خبر بھی نہ ہوں اللہ نے مستقبل مین ان کے لیے اس کا فیصلہ کر رکھا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اس قدر پختہ وعدہ کرلیا ہے اور پیشگی ان کی فلاح اور کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کے لیے بھلائی ، نصرت ، سعادت ، توفیق اور دنیا کا سازو سامان لکھ دیا گیا ہے ، اور جن کے لیے آخرت کا اجر ، کامیابی اور نجات لکھ دی گئی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے رب نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے لیے اللہ نے اس جہان اور اس جہاں کی فلاح لکھ دی ہے اور وہ کچھ لکھ دیا ہے جس کے بارے میں انسانوں کو عہم ہی نہیں ہے۔
یہ کون لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہونے والے ہیں اور جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ لوگ ہو ہیں جن کے بارے میں سیام کلام یہ تفصیلات دیتا ہے۔
O جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
O جو لغویات سے دور رہتے ہیں۔
O جو زکوٰۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔
O جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہوں۔
O جو اپنی امانتوں اور عہد و یمان کا پاس رکھتے ہیں ۔
جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صفات کی قدرو قیمت کیا ہے ؟
یہ صفات ایک مسلمان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسلم انسانیت کے افق پر تمام انسانوں کے مقابلے میں بلند نظر آنا ہے۔ وہ افق کا معیار حضرت محمد ﷺ نے متعین فرمایا ہے ، کیونکہ آپ تمام مخلوقات سے بر تر اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کی تربیت اللہ نے فرمائی تھی اور بہترین تربیت فرمائی تھی اور اس امر کی شہادت اپنی کتاب میں دی۔
وانک لعلی خلق عظیم ــ” اے محمد ؐ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں “ ۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
کان خلقہ القران ” آپ کا اخلاق قرآن تھا “۔ اور اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے سورة المومنون کی یہ آیات (11) تلاوت فرمائیں اور فرمایا ایسے تھے رسول اللہ ﷺ ۔
الذین ھم فی صلاتھم خشعون (23 : 2) ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں “۔
جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ وہ رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں ، نہایت سکون اور نہیات ہی دھیمے پن کے ساتھ ۔ ان کی حرکات ، ان کے انداز قیام ، ان کے انداز سجود سے خوف خدا اور خشوعیاں ہوتا ہے ان کی روح اللہ کی عظمت اور جلال سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ان کے ذہن سے تمام دوسرے مشاغل غائب ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ہاں حضوری کے سوا تمام تصورات اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پر دئہ احساس سے ان کا پورا ماحول اور ان کے تمام دوسرے حالات اور تعلقات ان کے جسم و خیال سے محو ہوجاتے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا احساس رکھتے ہیں اور صرف ذلت باری کی معرفت کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا وجد ان تمام کثافتوں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تمام دنیاوی روابط کو کچھ دیر کے لیے جھٹک دیتے ہیں غرض نماز کے وقت اللہ کے جلال کے سوا ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو حقیر زدہ اپنے حقیقی مصدر سے مل جاتا ہے۔ ایک حیران روح کو طاقت پر وز مل جاتی ہے۔ ایک پریشان دل کو جائے قرار مل جاتی ہے۔ اس مقام پر تمام چیزیں ، تمام دنیاوی قدریں اور تمام افراد اشخاص نظروں سے گر جاتے ہیں اور ان چیزوں کا وہی پہلو نظروں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اللہ سے ہو۔
والذین ھم عن الغو معرضون (23 : 3) ” جو لغویات سے دور رہتے ہیں “۔ ایسی باتون سے ادور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایسے افعال سے دور رہتے ہیں جو لغو ہو ، ایسی ترجیحات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں ، ایسے خیالات سے دور رہتے ہیں جو لغو ہوں۔ ایک مومن کے دل کی وہ چیز ہوتی ہے جو اسے لہو و لعب اور لغو ہوں سے دور رکھتی ہے۔ یعنی وہ ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے ۔ اللہ کی جلالت قدر کے بارے میں سوچنا رہتا ہے ۔ وہ نفس انسانی اور آفاق کائنات میں موجود آیات کے تدبر میں مصروف رہتا ہے۔ اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اس کے دماغ کو مصروف رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہر وقت ان مناظر میں غور کرتی رہتی ہے اور اس کا وجدان ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے قلب و نظر کی تطمیر میں لگا رہتا ہے ، تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے اور ضمیر کو پاک کرتا رہتا ہے۔ نیز ایک مومن نے اپنے طرز عمل میں جو تبدیلی لانی ہوتی ہے وہ رات اور دن اسی میں مصروف رہتا ہے۔ پھر ایمان کی راہ میں اسے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ ان کے دور کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی المنکرکے فرائض کی ادائیگی اسے کرنی ہوتی ہے۔ پھر اس نے اپنی جماعت کی صف بندی بھی کرنی ہوتی ہے اور اسے فتنہ فساد سے بچانا ہوتا ہے ۔ ایک مسلم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی کی نصرت اور حمایت کرنی ہوتی ہے اور اسلامی سو سائٹی کے مخالفین اور معاندین سے اسے بچانا ہوتا ہے ۔ یہ وہ فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے لیے ہر حال میں واجب الاداء ہیں۔ یہ تمام کام فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ہیں یہ وہ فرائض ہیں کہ اگر ان کو صحیح طرح سے انجام دیا جائے تو انسان کی پوری زندگی سعی و جہد کے لیے یہ کام کفایت کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر محدود ہے اور اس کی طاقت بھی محدود ہے۔ اس طاقت کو کوئی شخص یا تو مذکورہ بالا کاموں میں صرف کرکے انسانی نشونما ، ترقی اور اصلاح میں کھپائے گا یا اس محدود قوت کو لہو و لعب من اور فضولیات میں خرچ کے گا۔ یاد رہے کہ یہ تما فرائض اور شریعت کی تمام ہدایات کسی مسلمان کو وقتا فوقتا جائز تفریح سے نہیں روکتے۔ کیونکہ جائز تفریح اور لہو و لعب اور زندگی کو بالکل بےمعنی بنانے کے درمیان بہت فرق ہے۔
والذین ھم للزکوۃ فعلون (23 : 3) ” وہ لوگ جو زکواۃ کے طریقے پر عمل پیرا رہتے ہیں “۔ اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور لہو و لعب اور بےمعنی زندگی سے دور ہونے کے بعد زکواۃ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ زکواۃ انسانی دل اور انسانی دولت دونوں کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا دل کنجوسی سے پاک ہوتا ہے اور انسان ذاتی مفاد کو قربان کردیتا ہے اور شیطان کی اس وسوسہ اندازی کا بھی مقابلہ کرتا ہے کہ تم غریب ہو جائو گے نیز زکواۃ کی وجہ سے سوسائٹی کا یہ روگ بھی دور ہوجاتا ہے کہ اس میں کچھ لوگ تو مالدار ہوں اور کچھ ایسے ہوں جن کے پاس کچھ نہ ہو۔ گویا یہ ایک لحاظ سے سوشل سکیورٹی کا ایک نظام ہے اور غریبوں کے لیے اجتماعی کفالت کا ذریعہ۔ اس کے ذریعہ ۔ اس کے ذریعے تمام لوگوں اور پوری سو سائٹی کے درمیان امن وا طمینان اور اتحاد و اتفاق کا سامان کیا جاسکتا ہے اور طبقاتی کشمکش کو دور کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم لفروجھم حفظون (23 : 5) ” وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ یہ روح کی پاکیزگی ہے ، یہ ایک خاندان کی پاکیزگی ہے ۔ اور پھر پوری سوسائٹی طہارت ہے۔ اس کے ذریعے ایک نفس ، ایک خاندان اور ایک معاشرے کو گندگی سے بچانا مقصود ہے ا۔ انسانی کی شرمگاہ کو غیر حلال اور ناجائز مباشرت سے محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ انسانی دل حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنسی تسکین کے لیے ایک سخت ضابطہ تجویز کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن سو سائیٹیوں میں آزاد شہوت رانی کا رواج ہوتا ہے ان کا نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے اور ایسی سو سائٹیاں فساد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی ایسی سوسائٹی میں خاندانی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے اور خاندان کا کوئی احترام نہیں رہتا۔
جبکہ فیملی کسی بھی سو سائٹی کے لیے پہلی وحدت اور پہلا یونٹ ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ نرسری ہوتی ہے جس میں انسانی پود پروان چرھتی ہے اور درجہ بدرجہ برھتی ہے۔ لہذا خاندان ان کے ماحول میں امن و سکون اور پاکیزگی کا دور دورہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نرسری تدریج کے ساتھ نشو نما پائے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئی انسانی پود کی پرورش کریں۔ خصوصاً نہایت ہی چھوٹے بچوں کی پرورش اور خاندانی نظام کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
پھر جس سوسائٹی کے اندر آزاد شہوت رانی بےحد و حساب اور بےباک روک ٹوک ہو وہ ایک گندی اور غلیظ سوسائٹی ہوتی ہے ۔ اس کے افراد گرے ہوئے اور بےہمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ معیار جس میں انسانی ترقی میں کوئی غلطی نہیں ہوتییہ ہے کہ انسان کی قوت ارادی اس کے تمام امور اور تمام میلانات پر حاوی ہو۔ انسان کے تمام فطری تقاضے اس طرح منظم ہوں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور اس سوسائٹی کے اندر انسانی پود کی جو نرسری تشکیل پائے وہ شرمندہ طریقوں کے مطابق نہ ۔ اور بچے اس دنیا میں ایسے پاک طریقے کے مطابق آئیں کہ ہر بچے کو اپنا باپ معلوم ہو ۔ اور یہ نہ ہو کہ اس میں ایک مادہ حیوان کسی بھی نر حیوان سے نطفہ لے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حیوان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس طرح آیا ہے اور کون اسے لایا ہے۔
یہاں قرآن کریم متعین طور پر بتا دیتا ہے کہ انہوں نے اس نرسری کے لیے بیج کس طرح بونا ہے اور زندگی کی یہ تخم ریزی کہاں کرنی ہے۔
الل علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم غیر ملومین (23 : 2) ” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک یمین میں ہو۔ جہاں تک بیویوں کا تعلق ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے “۔ اور نہ اس میں کوئی قیل و قال ہے ۔ یہ تو ایک معروف اور قانونی نظام ہے لیکن ملک یمین کے مسئلے کی تشریح ضروری ہے ۔ غلامی کے مسئلے پر ہم القران کی جلد دوئم میں منصل بحث کر آئے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب اسلامی نظام آیا تو غلامی ایک عالمی نظام کے طور پر رائج تھی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کو غلام بنانا بھی ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں دشمنان اسلام پوری مادی قوت لے کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس لیے اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس نظام کو یکطرفہ طور پر ختم کردے اور صورت حال یہ ہوجائے کہ مسلمان تو قیدی بن کر کفار کے غلام بن جائیں اور کفار قیدی ہو کر آئیں تو وہ اس قانون کی رو سے آزاد ہوجائیں ۔ اسلام نظام نے بامر مجبوری جنگی قیدیوں کی غلامی کا قانون تو بحال رکھا جبکہ غلامی کے دوسرے سرچشمے بند کردیئے ۔ اور یہ بھی اس وقت تک کہ قانون بین الاقوام مین غلامی کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوتا۔
چناچہ اس قانون کے مطابق اسلامی کیمپ میں بعض قیدی عورتیں آجاتی تھیں جو غلام ہوتی تھیں اور اس غلامی کی وجہ سے ان کا درجہ ایک آزاد منکوحہ عورت کے نہیں ہوتا تھا لیکن اسلام نے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت صرف اس شخص کو دے دی جو ان کا مالک ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو ان طریقوں کے مطابق آزادی مل جائے جو اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے وضع کیے اور یہ طریقے متعدد تھے۔
اسلام نے ملک یمین میں مباشرت کی جو آزادی دی ہے اس میں خود اسیر عورتوں کی فطری ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ قیدی عورتیں اسلامی معاشرے میں آزاد شہوت رانی کرتی پھریں۔ جس طر آج ہمارے دور میں جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ خصوصاً اس دور کے بعد جبکہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوگیا۔ اسلام نے یہ قانون اسلیے جاری رکھا ہے کہ اسلام آزاد شہوت رانی اور جنسی بےراہ روی کے خلاف ہے۔ یہ ایک عارضی نظام تھا اور اس وقت تک کے لیے تھا جب تک اللہ کی طرف سے ان کی آزادی کا انتظام نہیں کردیا جاتا ۔ اور یہ غلام عورتیں آزادی کے مقام تک نہیں پہنچ جائیں۔ اسلام نے ایسے قوانین بنائے کے کوئی غلام عورت بہت سے ذرائع استعمال کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔ مثلا اگر اس سے مالک سے اس کا لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجائے اور یہ مالک فوت ہوجائے تو غلام عورت آزاد ہوجائے گی یا یہ مالک خود اسے آزاد کردیگا یا کسی کفارہ میں وہ آزاد ہوجائے۔ نیز مکاتبت کے ذریعے بھی غلام عورت آزاد ہوسکتی ہے ۔ مکاتبت وہ تحریری معاہدہ وہوتا ہے جس میں ایک غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے میری کتاب شبہات حول الاسلام)
بہر حال غلامی ایک عارضی جنگی ضرورت تھی اور یہ اس طرح تھی کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی قوانین مشل بالمشل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح دشمن قوم جنگی قیدیوں سے سلوک کرے گی ، اسلام بھی ویسا ہی سلوک کرے گا۔ غرض آزاد لوگوں کو غلام بنانا اسلامی نظام کا کوئی مستقل اصول نہ تھا کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی ضرورت تھی۔
فمن ابتغی ورآء ذلک فا ولئک ھم العدون (23 : 7) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں “۔ یعنی جو شخص اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ دوسرے کسی طریقے سے بھی شہوت رانی کرے گا وہ جائز دائرہ سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ وہ حرام میں پڑجائے گا۔ تعدی یوں ہوگی کہ نکاح اور جہاد کے بغیر وہ دوسرے طریقے سے شہوت رانی کر رہاے ہے۔ یو اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چراگاہ میں چر رہا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے مین جو نر سری ہوگی وہ بھی شتر بےمہار ہوگی اور اس کی وجہ سے پوری سوسائٹی فساد کا شکار ہوگی۔ اس سو سائٹی کے بھیڑئے آزاد ہوجائیں گے اور جہاں سے چاہیں گے گوشت نچ لیں گے۔ یہ تمام ایسی صورتیں ہیں جنہیں اسلام ناپسند کرتا ہے۔
وا ؛ ذہم لل منتھم عھد رعون (23 : 8) ” جو اپنی امانتوں اور عہد ویمان کا خیال رکھتے ہیں “۔ یعنی انفرادی طور پر بھی وہ اپنے عہد و یمان کے محافظ ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وہ عہد ویمان کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
امانتوں میں وہ تمام ذمہ داریاں آتی ہیں جو کسی فرد یا جماعت کے ذمہ لازم ہوتی ہیں۔ پہلی امانت تو فطرت انسانی ہے۔ فطرت انسانی کو اللہ نے نہایت ہی سیدھا بنایا ہے اور فطرت انسانی ناموس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اور یہ دونوں پھر اللہ کی وحدانیت اور اس کی تخلیق پر شاہد عادل ہیں کیونکہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون قدرت کام کر رہا ہے جس میں خود ذلت انسانی بھی شامل ہے اور یہ وحدت ناموس فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ہی ارادہ مدبرہ کام کررہا ہے۔ اہل ایمان کا یہ فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ کائنات کی اس فطرت کو تبدیل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ یہ ان کہ پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ذلت باری پر یہ شاہد عادل بھی ہے اور اسکے بعد پھر تمام دوسری امانتوں کا یہی حکم ہے۔
عہد کی رعایت کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے پہلے اس عہد کی رعایت کی جائے جو از روئے فطرت انسان پر عائد ہے۔ انسان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو ازروئے فطرت پہچانے کہ وہ موجود ہے اور واحد ہے پھر اس عہد کے بعد تمام عہدو یمان آتے ہیں۔ ان عقود کی رعایت کرتے ہیں۔ گویا یہ اہل ایمان کی صفت دائمہ اور قائمہ ہے اور کسی بھی سو سائٹی کا نظم و نسق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کے افراد میں استقامت نہ اختیار کریں۔ اپنے عہد ویمان کا خیال نہ رکھیں اور اس مشترکہ نظام زندگی پر اس سوسائٹی کے تمام افراد مطمئن نہ ہوجائیں تاکہ تمام لوگوں کو امن و اطمینان حاصل ہو اور وہ اعتماد سے زندگی بسر کریں۔
والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (23 : 9) ” جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “۔ وہ اپنی نماز ہرگز قضا نہیں کرتے نہ وہ انہیں ضائع کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نمازوں کی کیفیت میں کمی نہیں کرے۔ وہ ان نمازوں کے فرائض سنن اور مستحبات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں ۔ پورے ارکان اور آداب کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کی نمازیں زندہ نمازیں ہوتی ہیں۔ اور پوری توجہ سے وہ ان میں غرق ہوتے ہیں ، ان کی روح اور ان کا وجدان نمازوں سے اچھا اثر لیتا ہے۔ نماز دراصل بندے اور رب کے درمیاں ایک رابطہ ہوتی ہے ۔ جو شخص نماز کی حفاظت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنے اور اپنے رب کے درمیاں اس رابطے کو کاٹ دیتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر دو سرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھی اچھے روابط نہیں رکھتا۔ بیان صفات اہل ایمان کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے ہوا اور اختتام بھی نماز کے ذکر سے ہوا۔ مقصد یہ بتلانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے بعد نماز سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نماز کو اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس میں اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف مبذول کردی جائے کہ اسلام میں اول بھی نماز اور آخر بھی نماز ہے۔
یہ ان اہل ایمان کی صفات ہیں جن کے لیے اللہ نے فلاح لکھ دی ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو یہ طے کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی زندگی کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو کیسی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ یعنی ایسی زندگی جو ایک ایسے انسان کے ساتھ لائق ہے جسے پوری مخلوق پر کرامت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو کہ وہ اپنی زندگی کو مزید ترقی دے اور محض حیوانات کی طرح زندگی بسر کرے۔ نہ زندگی سے اس طرح لطف اندوز ہو جس طرح حیوانات ہوتے ہیں اور نہ اس طرح کھاتا پیتا ہو جس طرح حیوانات کھاتے پیتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس ہم گیر ترقی کے باوجود وہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی اور کمال اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اہل ایمان کے لائق ہے اس لیے اللہ نے انسان کو راہ ترقی پر مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، کمال اور ترقی کے اعلیٰ ترین مدارج تک یعنی جنت الفردوس میں پہنچایا۔ ترقی و کمال کے ان اعلیٰ مدارج پر ، پھر اہل ایمان ہمیشہ فائز رہیں گے۔ یہاں ان کے لیے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا اور وہاں وہ بلا زوہل قرار و سکون رہیں گے۔
اولئک ھم الورثون (10) الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون
” یہی وہ لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ وہ آخری مطلوب ہے جو اہل ایمان کے لیے لکھا گیا ہے ۔ اس کے سوا ایک مومن کا کوئی نصب العین نہیں ہے اور نہ اس کے حصول کے بعد اس کا کوئی اور نصب العین رہتا ہے جس کی وہ آرزو کرے۔
اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خود اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کریں۔ سب سے پہلے وہ ذرا اپنے وجود اور اس کی نشو نما کی حقیقت پر غور کریں کہ اس کی شخصیت کا آغاز کس چھوٹے سے چرثومے سے ہوا اور پھر بعث بعد الموت اور آخرت کی زندگی کا حال کیا ہوگا۔ ان دونوں زندگیوں کی دنیاوی اور اخروی کیفیت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟
المؤمنون 23:12
ولقد تبعثون (12 تا 16)
یہ انداز تخلیق ، یہ منظم انداز نشونما اس کے اندر پایا جانے وا لا تسلسل ۔ سب سے پہلے تو یہ بتاتا ہے کہ اس پورے نظام کا ایک خالق ہے اور پھر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا عمل اس کے ارادہ مدبرہ کے مطابق ہے۔ یہ نہایت ہی پچیدہ عمل محض اتفاق سے یونہی نہیں ہوجاتا اور نہ یہ پورا عمل بغیر کسی ارادے اور تدبیر کے یونہی اتفاقاً ہوتا ہے۔ خصوصاً اس کا یہ پہلو کہ اس پورے نظام واقعات میں کبھی بھی یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔ انسان کا یہ نظام تخلیق عقلاً کئی دوسرے طریقوں سے ممکن ہے لیکن کبھی یہ طریق کار تبدیلی کو قبول نہیں کرتا۔ یہ پہلوخصوصاً ٓاس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ایک مخصوص ارادہ جو اس نظام کی پشت پر ہے۔
حیات انسانی کی یہ تدریجی نشونما اپنے اس تسلسل کے ساتھ بظاہر ایک اعجوبہ ہے اور اسے صرف اس صورت میں حل کیا جاسکتا ہے کہ اس سورة کے مطابق ایک انسان سیدھی طرح اللہ پر ایمان لے آئے۔
بس یہی ایک طریقہ ہے جس سے اس تخلیق اور اس نشو نما کو اپنے کمال تک پہنچانے کا تصور دیا جاسکتا ہے۔ صرف ایمان باللہ ہی کی صورت میں دنیا و آخرت کی زندگی با معنی اور با مقصد ہوسکتی ہے۔ صفات مومنین کے بعد یہاں زندگی کی اس عجیب نشونما کے مدارج کو کیوں لایا گیا ہے ؟
ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین (23 : 12) ” ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ، پھر ایک محفوظ جگہ ٹپی کی ہوئی بوند میں تبدیل کیا “۔ یہ آیت انسانی زندگی کی نشونما کے انداز کو نہایت ہی تعین کے ساتھ بتاتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان موجود انسانی شکل تک کئی مراحل طے کرکے پہنچتا ہے۔ یو وہ پہلے مٹی سے انسان تک پہنچا ، کیچڑ گویا انسان کی تخلیق درجہ اول ہے۔ اور انسان اپنی موجودہ شکل میں اس عمل تخلیق کا فائنل مرحلہ ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی قرآن کریم صراحت کرتا ہے۔ ہم انسان کے اس عمل تخلیق کی تصدیق ان سائنسی مشاہدات سے کرنا نہیں چاہتے جنہوں نے اس عمل کو تخلیقی کا بڑی باریکی سے مشاہدہ کیا ہے کہ انسانی زندگی کس طرح نشونما پاتی ہے۔
قرآن کریم نے تخلیق کس قدر پچیدہ ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کیچڑ سے انسان کی تخلیق تک کس قدر تبدیلی ہے ۔ قرآن کریم نے اس سے زیادہ تفصیلات نہیں دی ہیں کیونکہ قرآن کریم کا مقصد ان موٹے موٹے مدارج تخلیق کے ذکر ہی سے پورا ہوجاتا ہے ۔ رہے موجودہ سائنسی مشاہدات تو ان کے پیش نظر نشونما کے نہایت ہی مفصل مدارج کا بیان ہوتا ہے تاکہ وہ کیچڑ سے مکمل انسان کی تخلیق تک مدارج کو تفصیل سے لیں۔ سائنس دانوں کے مشاہدات درست بھی ہوسکتے ہیں اور بعض اوقات وہ غلط مشاہدات بھی کرتے ہیں۔ آج زیادہ وہ مدارج بتاتے ہیں اور کل ان میں کمی کردیتے ہیں کیونکہ آلات مشاہدہ میں آئے دن تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔
قرآن کریم کبھی تو ان مدارج کو اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہے اور کبھی ان کی تفصیلات دیتا ہے۔ بعض اوقات صرف یہ فقرہ ہوتا ہے۔
و بدا خلق الانسان من طین (32 : 7) ” انسان کی ابتدائی تخلیق مٹی سے کی گئی “۔ اب اس میں مراحل کا ذکر بالکل نہیں ہے اور جس آیت میں تفصیلات دی گئی ہیں اس میں کہا ہے۔
من سللۃ من طین (23 : 12) ” دوسری آیت میں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ انسان مٹی سے کس طرح تسلسل کے ساتھ اپنی موجودہ کامل حالت تک پہنچاتو قرآن کریم نے اس کی تفصیلات نہیں دی ہیں اور جیسا کہ ہم نے دوسری جگہ تفصیلات دے دی ہیں یہ امور قرآن کریم کے مقاصد میں شامل ہی نہیں ہیں۔ قرآن کریم نے جو مدارج حیات بیان کیے ہیں وہ سائنسی مشاہدات کے مطابق بھی ہوسکتے ہیں اور خلاف بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عمل کسی نامعلوم ذریعہ سے ہوا ہو اور ابھی بھی انسان نے اسے دریافت نہ کیا ہو یا کچھ ایسے فیکٹر ہوں جو ابھی انسان کے علم سے باہر ہوں۔ لیکن قرآن انسان کو جس نظر سے دیکھتا ہے اور یہ دوسرے سائنسی نظریات اسے جن مقاصد کے لیے مشاہدہ کرتی ہیں ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قرآن کریم انسان کو ایک نہایت ہی مکرم اور برگزیدہ مخلوق قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس ذات کے اندر اللہ کی روح پھونگی گئی ہے اور اس روح ہی نے اسے مٹی سے انسان بنادیا اور اسے دو خصوصیات عطا کیں جن کی وجہ سے انسان کہلایا اور حیوان سے ممتاز قرار پایا یوں قرآن کا نقطہ نظر انسان کے بارے میں مادہ پرستوں سے بالکل جدا ہے اور اللہ کا قول تمام لوگوں سے زیادہ سچا ہے۔
(دیکھئے الانسان بین المادیۃ والاسلام محمد قطب) یہ ہے جنس انسانی کی اصل تخلیق مٹی کے ست سے۔ رہا بعد کا سلسلہ نسل انسانی تو اس کا طریق کا بالکل کار بالکل جدا ہے اور ایک معروف اور مشاہدہ کیا ہواطریقہ ہے۔
ثم جعلنہ نطفۃ فی قرار مکین (23 : 13) ” پھر ہم نے اسے ایک محفوظ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کردیا ”۔ اللہ نے جنس انسانی (آدم) کو تو مٹی کے ست بنایا۔ رہا سلسلہ تناسل تو اس سلسلے کو اللہ تعالیٰ نے پانی کے ایک قطرے سے چلایا۔ پانی کا یہ قطرہ مرد صنب سے نکلتا ہے۔ یہ قطرہ رحم مادر میں ٹھرتا ہے۔ یہ پانی کا نہایت ہی چھوٹا نکتہ ہوتا ہے بلکہ یہ ہزار ہا خلیوں میں سے ایک خلیہ ہوتا ہے اور پانی کے اس قطرے میں یہ خلیے ہزار ہا کی تعداد میں ہوتے ہیں۔
فی قرار مکین (23 : 13) ” محفوظ جگہ میں “ یہ نقطہ رحم میں جاکر رحم کی ہڈیوں کے درمیان ایسی جگہ محفوظ جگہ میں ہوتا ہے کہا اس پر جسم کی حرکات کا کو ئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ جگہ ایسی ہوتی ہے کہ انسان کی پیٹھ اور پیٹ کو جھٹکے اور چوٹیں اور حرکات اور تاثرات پہنچتے ہیں یہ جگہ ان سے محفوظ ہوتی ہے۔
قرآن کریم اس نقطے کو انسان کی تخلیق کا ایک مرحلہ قرار دیتا ہے اس نقطے سے بڑھ کر انسان ایک مکمل انسان بنتا ہے ۔ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے لیکن یہ عجیب اور قابل غور حقیقت ہے۔ جب اس عظیم الحبثہ انسان کو ہم مختصص کرکے اس نقطے کے اندر وہ تمام انسانی خصائص پائے جاتے ہیں تو پھر ایک کامل انسان اندر سے اس قسم کے اور جینز تخلیق ہوتے رہتے ہیں ۔ سلسلہ تخلیق کا یہ ایک عجیب نظام ہے۔
اس نقطے سے انسان پھر علفہ بن جاتا ہے یعنی خون کا ایک لوتھڑا۔ اس مرحلے میں مرد کا جرثومہ عورت کے انڈے کے ساتھ مکس ہوجاتا ہے اور ابتداء میں رحم مادر کے ساتھ معلق یہ ایک باریک نقطہ ہی ہوتا ہے ۔ یہ نقطہ رحم مادر کے خون سے غذاپاتا ہے۔ علقہ سے پھر المضغۃ ” خون کی بوٹی “ کی شکل میں آجاتا ہے ۔ بوٹی کی شکل میں اب یہ نقطہ قدرے بڑا ہے ۔ اب یہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے ۔ یہ خون کا ایک موٹا ٹکڑا ہوتا ہے ۔
یہ چھوٹی سی مخلوق اپنی اس راہ پر چلتی ہے۔ یہ اپنی ڈگر تبدیل نہیں کرتی۔ نہ اپنی راہ سے ادھر ادھر جاتی ہے ۔ اس کی حرکت معظم اور مرتب ہوتی ہے اور یہ اس ناموس کے مطابق ہوتی ہے جو پہلے سے اللہ نے مقرر کردیا ہے۔۔ یعنی اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ۔ اس کے بعد ہڈیوں مرحلہ آتا ہے۔
فخلقنا المضغۃ عظما (23 : 13) پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں۔ اور اس کے بعد یہ مرحلہ آیا کہ ہڈیوں پر گوشت چڑھ آیا۔
فکسونا العظم لحما (23 : 31) ” پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا “۔ ان مراحل کو پڑھ کر اور پھر دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ قرآن کریم نے کے ان مراحل کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے وہ سائنس دانوں کے مشاہدے میں بہت بعد میں آئی ہے ۔ سائنس دانوں نے بعد میں یہ بات معلوم ہوئی کہ ہڈیوں کے خلیے اور ہیں ۔ اور گوشت کے خلیے اور ہیں۔ اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ جنین کے اندر ہڈیوں کے خلیے پہلے چڑھتے ہیں اور بعد میں ان پر گوشت کے خلیے چڑھتے ہیں اور جب تک ہڈیوں کے خلیے مکمل نہیں ہوتے اس وقت تک گوشت کے خلیے پاپید ہوتے ہیں اور بعد میں جنین کا ڈھانچہ بنتا ہے۔ یہ حیران کن حقیقت ہے جسے جسے قرآن کریم ریکارڈ کرتا ہے۔
فخلقنا المضغۃ عظما فکسونا العظم لحما (23 : 14) ” پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں “ اور پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ۔ ثم انشانہ خلقا اخر (23 : 14) ” پھر اسے ایک دوسری مخلوق بنا کھڑا کیا “۔ اور یہ مخلوق انسان ہے۔ یہ امتیازی خصوصیات کا حامل ہے ۔ ابتداء مین انسان کا جنین اور حیوان کا جنین جسمانی ساخت کے اعتبار سے ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن آخر میں جاکر انسان کا جنین ایک دوسری مخلوق کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ ایک مکرم اور صاحب امتیاز مخلوق ہوتی ہے اور یہ ارتقاء اور ترقی کی بےپناہ استعداد اپنے اندر رکھتی ہے ۔ حیوان کا جنین حیوان کے ہی درجے میں رہ جاتا ہے۔ وہ انسانی خصائص کو اخذ نہیں کرسکتا۔ اور ان کمالات تک نہیں پہنچ پاتا جن تک انسان پہنچتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ انسانی جنین کو متعین اور مخصوص خصوصیات دی گئی ہیں اور یہی خصوصیات ہیں جو بعد کے زمانے مین انسان کو انسانیت کی راہ پر ڈالتی ہیں۔ اس طرح انسان ” ایک دوسری “ مخلوق بن جاتا ہے ۔ اور یہ اس وقت ہی بن جاتا ہے جب یہ جنین اپنے آخری دور میں نشونما میں ہوتا ہے۔ حیوان اپنے آخری دور میں انسان سے پیچھے رہ جاتا ہے اس لیے کہ اس کو انسانی خصوصیات نہیں دی گئیں۔ چناچہ کسی حیوان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے حیوانی مقام سے آگے بڑھ پائے اور اس طرح آگے بڑھتے بڑھتے حیوان سے انسان بن جائے جیسا کہ مادی نطریہ کے قائلین اس پر یقین رکھتے ہیں لیکن انسان اپنی انسانی خصوصیات کے اعتبار سے ایک مقام جا کر رک جاتا ہے اور انسان خلق آخر بن جاتا ہے اور ان ذمہ داریوں کے اٹھانے کے قابل بن جاتا ہے جو اس نے اس کرہ ارض پر ادا کرنی ہیں۔ یہ فرق ان امتیازی خصوصیات کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں ۔ اس معاملے میں یہ نظریہ بالکل غلط ہے کہ حیوانات نے ترقی کرتے کرتے درجہ انسانی تک بلندی حاصل کی ہے۔
نظریہ ارتقاء اسلام کے نظریہ سے متضاد تصور پر قائم ہے۔ یہ نظریہ فرض کرتا ہے کہ موجودہ انسان حیوانی ارتقاء کا ایک درجہ ہے ۔ اور یہ کہ حیوان بھی ترقی کرکے انسان بن سکتا ہے لیکن واقعی صورت حالات یہ ہے کہ واضح طور پر یہ کہ نظریہ محض مفروضہ اور جھوٹ نظر آتا ہے ۔ حیوان کبھی بھی انسانی خصوصیات کا حامل نہیں ہوسکتا ۔ وہ ہمیشہ ہی اپنی حدود میں رہتا ہے ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ یہ ممکن ہے کہ کسی نوع کے اندر شکلی اعتبار سے کوئی نوع حیوان ترقی کرلے جس طرح ڈرائون کہتا ہے۔ لیکن ہر نوع اپنے نوع اپنے نوعی حدود کے اندر رہتی ہے وہ نوعی خصوصیات بدل نہیں سکتی کیونکہ ہر نوع حیوانی کی خصوصیات علیحدہ ہوتی ہیں اور کسی خارجی قوت نے اسے دی ہوتی ہیں جبکہ نوع انسانی بالکل ایک علیحدہ نوعیت اور خصوصیات کی حامل ہے اور یہ خصوصیات اسے بعض مخصوص مقاصد کے لیے اللہ کی قوت نے دی ہیں۔
فتبرک اللہ احسن الخلقین (23 : 14) ” بس بڑا ہی با برکت ہے اللہ ، سب کا کاریگروں سے اچھا کاریگر “۔ جس نے انسان کے جنین کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے وہ اس انداز نشونما کے مطابق ایک خود کار نظام کے مطابق آگے برھتا ہے۔ ایک نہایت ہی پچیدہ سنت الیہ کے مطا بق جس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ اس کے مراحل میں سے مرحلہ حذف ہوتا ہے یہاں تک کہ انسان ترقی و کمال مقررہ درجہ کمال تک پہنچ جاتا ہے ۔
لوگ سائنس کے انکشافات کو معجزہ قرار دیتے ہیں اور ان کو سن سن کر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ خصوصا جب انسان ایک ایسا آلہ یا مشین تیار کرتا ہے جو خود کار طریقے کے مطابق چلتا ہے اور انسان کی مداخلت کے بغیر کام کرتا ہے ۔ کیا یہ لوگ اس جنین کو نہیں دیکھتے کہ یہ نہایت ہی خود کار طریقے کے مطابق اپنے مختلف مراحل طے کرتا چلا جاتا ہے۔ بظاہر ان مراحل سے گزرنے میں اسے گزارنے والا نظر نہیں آتا ۔ جب ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو اس کی ماہیت میں بھی مکمل تبدیلی آجاتی ہے۔ پھر نظر آتا ہے کہ ان دونوں مراحل میں اس کے اندر ایک تبدیلی آگئی ہے۔ لوگ رات دن ان تغیرات اور واقعات کو دیکھتے ہیں لیکن اپنی آنکھیں بند کرکے چلے جاتے ہیں ، ان کے دل و دماغ اس عظیم خود کار نظام پر غور نہیں کرتے۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ہم اس نظام کے عادی ہوگئے ہیں حالانکہ یہ اپنی جگہ حیرت انگیز نظام ہے۔ محض انسان کی اس پچیدہ تخلیق پر غور و فکر ہی انسان کی ہدایت کے لیے کافی ہے جس کی تمام خصوصیات ، تمام خدوخال ، اس چھوٹے نکتے کے اندر موجود ہوتے ہیں جو اس قدر چھو ٹا ہوتا ہے کہ انسان خوردبین کے بغیرا سے دیکھ نہیں سکتا ۔ یہ تمام خصوصیات اور تمام خدو خال آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں اور اپنے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے پھر ہماری نظروں میں آجاتے ہیں ۔ جب انسان بچے کی صورت میں ہوتا ہے تو انسان کے انسانی خصائص نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ پھر ہر بچہ عام انسانی خصائص کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کی مخصوص خصوصیات کو بھی وراثت میں پاتا ہے اور یہ دونوں قسم کی خصوصیات اس چھوٹے سے نکتے کے اندر مرکوز ہوتی ہیں۔ غرض یہ عمل جو رات اور دن ہمارے درمیان اور ہمارے سامنے قدرت دہراتی ہے ، انسان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اور انسانی غورو فکر کے لیے اس میں عظیم مواد موجود ہے۔
اب سیاق کلام ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے تاکہ زندگی کے اس سفر کو انتہا تک پہنچا دے ۔ اب زندگی کے ایک نئے مرحلے کا ذکر ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ زندگی جس کی تخلیق اس متی سے کی گئی ہے اس دنیا ہی میں ختم نہیں ہوجاتی کیونکہ یہ صرف مٹنی نہیں ہے بلکہ اس میں روح کا آمیزہ کیا گیا ہے ، لہذا اس کو اس سے بھی آگے بڑھنا ہے۔ اس زندگی میں چونکہ عالم بالا کی طرف سے روح پھونکی گئی ہے اس لیے اس کا آخری منزل یہی جسمانی منزل نہیں ہے ۔ خون اور گوشت کی اس قریبی منزل سے آگے اور جہان بھی ہیں ۔ چناچہ زندگی کا آخری مرحلہ سامنے آتا ہے۔
المؤمنون 23:13
ولقد تبعثون (12 تا 16)
یہ انداز تخلیق ، یہ منظم انداز نشونما اس کے اندر پایا جانے وا لا تسلسل ۔ سب سے پہلے تو یہ بتاتا ہے کہ اس پورے نظام کا ایک خالق ہے اور پھر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا عمل اس کے ارادہ مدبرہ کے مطابق ہے۔ یہ نہایت ہی پچیدہ عمل محض اتفاق سے یونہی نہیں ہوجاتا اور نہ یہ پورا عمل بغیر کسی ارادے اور تدبیر کے یونہی اتفاقاً ہوتا ہے۔ خصوصاً اس کا یہ پہلو کہ اس پورے نظام واقعات میں کبھی بھی یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔ انسان کا یہ نظام تخلیق عقلاً کئی دوسرے طریقوں سے ممکن ہے لیکن کبھی یہ طریق کار تبدیلی کو قبول نہیں کرتا۔ یہ پہلوخصوصاً ٓاس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ایک مخصوص ارادہ جو اس نظام کی پشت پر ہے۔
حیات انسانی کی یہ تدریجی نشونما اپنے اس تسلسل کے ساتھ بظاہر ایک اعجوبہ ہے اور اسے صرف اس صورت میں حل کیا جاسکتا ہے کہ اس سورة کے مطابق ایک انسان سیدھی طرح اللہ پر ایمان لے آئے۔
بس یہی ایک طریقہ ہے جس سے اس تخلیق اور اس نشو نما کو اپنے کمال تک پہنچانے کا تصور دیا جاسکتا ہے۔ صرف ایمان باللہ ہی کی صورت میں دنیا و آخرت کی زندگی با معنی اور با مقصد ہوسکتی ہے۔ صفات مومنین کے بعد یہاں زندگی کی اس عجیب نشونما کے مدارج کو کیوں لایا گیا ہے ؟
ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین (23 : 12) ” ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ، پھر ایک محفوظ جگہ ٹپی کی ہوئی بوند میں تبدیل کیا “۔ یہ آیت انسانی زندگی کی نشونما کے انداز کو نہایت ہی تعین کے ساتھ بتاتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان موجود انسانی شکل تک کئی مراحل طے کرکے پہنچتا ہے۔ یو وہ پہلے مٹی سے انسان تک پہنچا ، کیچڑ گویا انسان کی تخلیق درجہ اول ہے۔ اور انسان اپنی موجودہ شکل میں اس عمل تخلیق کا فائنل مرحلہ ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی قرآن کریم صراحت کرتا ہے۔ ہم انسان کے اس عمل تخلیق کی تصدیق ان سائنسی مشاہدات سے کرنا نہیں چاہتے جنہوں نے اس عمل کو تخلیقی کا بڑی باریکی سے مشاہدہ کیا ہے کہ انسانی زندگی کس طرح نشونما پاتی ہے۔
قرآن کریم نے تخلیق کس قدر پچیدہ ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کیچڑ سے انسان کی تخلیق تک کس قدر تبدیلی ہے ۔ قرآن کریم نے اس سے زیادہ تفصیلات نہیں دی ہیں کیونکہ قرآن کریم کا مقصد ان موٹے موٹے مدارج تخلیق کے ذکر ہی سے پورا ہوجاتا ہے ۔ رہے موجودہ سائنسی مشاہدات تو ان کے پیش نظر نشونما کے نہایت ہی مفصل مدارج کا بیان ہوتا ہے تاکہ وہ کیچڑ سے مکمل انسان کی تخلیق تک مدارج کو تفصیل سے لیں۔ سائنس دانوں کے مشاہدات درست بھی ہوسکتے ہیں اور بعض اوقات وہ غلط مشاہدات بھی کرتے ہیں۔ آج زیادہ وہ مدارج بتاتے ہیں اور کل ان میں کمی کردیتے ہیں کیونکہ آلات مشاہدہ میں آئے دن تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔
قرآن کریم کبھی تو ان مدارج کو اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہے اور کبھی ان کی تفصیلات دیتا ہے۔ بعض اوقات صرف یہ فقرہ ہوتا ہے۔
و بدا خلق الانسان من طین (32 : 7) ” انسان کی ابتدائی تخلیق مٹی سے کی گئی “۔ اب اس میں مراحل کا ذکر بالکل نہیں ہے اور جس آیت میں تفصیلات دی گئی ہیں اس میں کہا ہے۔
من سللۃ من طین (23 : 12) ” دوسری آیت میں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ انسان مٹی سے کس طرح تسلسل کے ساتھ اپنی موجودہ کامل حالت تک پہنچاتو قرآن کریم نے اس کی تفصیلات نہیں دی ہیں اور جیسا کہ ہم نے دوسری جگہ تفصیلات دے دی ہیں یہ امور قرآن کریم کے مقاصد میں شامل ہی نہیں ہیں۔ قرآن کریم نے جو مدارج حیات بیان کیے ہیں وہ سائنسی مشاہدات کے مطابق بھی ہوسکتے ہیں اور خلاف بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عمل کسی نامعلوم ذریعہ سے ہوا ہو اور ابھی بھی انسان نے اسے دریافت نہ کیا ہو یا کچھ ایسے فیکٹر ہوں جو ابھی انسان کے علم سے باہر ہوں۔ لیکن قرآن انسان کو جس نظر سے دیکھتا ہے اور یہ دوسرے سائنسی نظریات اسے جن مقاصد کے لیے مشاہدہ کرتی ہیں ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قرآن کریم انسان کو ایک نہایت ہی مکرم اور برگزیدہ مخلوق قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس ذات کے اندر اللہ کی روح پھونگی گئی ہے اور اس روح ہی نے اسے مٹی سے انسان بنادیا اور اسے دو خصوصیات عطا کیں جن کی وجہ سے انسان کہلایا اور حیوان سے ممتاز قرار پایا یوں قرآن کا نقطہ نظر انسان کے بارے میں مادہ پرستوں سے بالکل جدا ہے اور اللہ کا قول تمام لوگوں سے زیادہ سچا ہے۔
(دیکھئے الانسان بین المادیۃ والاسلام محمد قطب) یہ ہے جنس انسانی کی اصل تخلیق مٹی کے ست سے۔ رہا بعد کا سلسلہ نسل انسانی تو اس کا طریق کا بالکل کار بالکل جدا ہے اور ایک معروف اور مشاہدہ کیا ہواطریقہ ہے۔
ثم جعلنہ نطفۃ فی قرار مکین (23 : 13) ” پھر ہم نے اسے ایک محفوظ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کردیا ”۔ اللہ نے جنس انسانی (آدم) کو تو مٹی کے ست بنایا۔ رہا سلسلہ تناسل تو اس سلسلے کو اللہ تعالیٰ نے پانی کے ایک قطرے سے چلایا۔ پانی کا یہ قطرہ مرد صنب سے نکلتا ہے۔ یہ قطرہ رحم مادر میں ٹھرتا ہے۔ یہ پانی کا نہایت ہی چھوٹا نکتہ ہوتا ہے بلکہ یہ ہزار ہا خلیوں میں سے ایک خلیہ ہوتا ہے اور پانی کے اس قطرے میں یہ خلیے ہزار ہا کی تعداد میں ہوتے ہیں۔
فی قرار مکین (23 : 13) ” محفوظ جگہ میں “ یہ نقطہ رحم میں جاکر رحم کی ہڈیوں کے درمیان ایسی جگہ محفوظ جگہ میں ہوتا ہے کہا اس پر جسم کی حرکات کا کو ئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ جگہ ایسی ہوتی ہے کہ انسان کی پیٹھ اور پیٹ کو جھٹکے اور چوٹیں اور حرکات اور تاثرات پہنچتے ہیں یہ جگہ ان سے محفوظ ہوتی ہے۔
قرآن کریم اس نقطے کو انسان کی تخلیق کا ایک مرحلہ قرار دیتا ہے اس نقطے سے بڑھ کر انسان ایک مکمل انسان بنتا ہے ۔ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے لیکن یہ عجیب اور قابل غور حقیقت ہے۔ جب اس عظیم الحبثہ انسان کو ہم مختصص کرکے اس نقطے کے اندر وہ تمام انسانی خصائص پائے جاتے ہیں تو پھر ایک کامل انسان اندر سے اس قسم کے اور جینز تخلیق ہوتے رہتے ہیں ۔ سلسلہ تخلیق کا یہ ایک عجیب نظام ہے۔
اس نقطے سے انسان پھر علفہ بن جاتا ہے یعنی خون کا ایک لوتھڑا۔ اس مرحلے میں مرد کا جرثومہ عورت کے انڈے کے ساتھ مکس ہوجاتا ہے اور ابتداء میں رحم مادر کے ساتھ معلق یہ ایک باریک نقطہ ہی ہوتا ہے ۔ یہ نقطہ رحم مادر کے خون سے غذاپاتا ہے۔ علقہ سے پھر المضغۃ ” خون کی بوٹی “ کی شکل میں آجاتا ہے ۔ بوٹی کی شکل میں اب یہ نقطہ قدرے بڑا ہے ۔ اب یہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے ۔ یہ خون کا ایک موٹا ٹکڑا ہوتا ہے ۔
یہ چھوٹی سی مخلوق اپنی اس راہ پر چلتی ہے۔ یہ اپنی ڈگر تبدیل نہیں کرتی۔ نہ اپنی راہ سے ادھر ادھر جاتی ہے ۔ اس کی حرکت معظم اور مرتب ہوتی ہے اور یہ اس ناموس کے مطابق ہوتی ہے جو پہلے سے اللہ نے مقرر کردیا ہے۔۔ یعنی اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ۔ اس کے بعد ہڈیوں مرحلہ آتا ہے۔
فخلقنا المضغۃ عظما (23 : 13) پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں۔ اور اس کے بعد یہ مرحلہ آیا کہ ہڈیوں پر گوشت چڑھ آیا۔
فکسونا العظم لحما (23 : 31) ” پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا “۔ ان مراحل کو پڑھ کر اور پھر دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ قرآن کریم نے کے ان مراحل کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے وہ سائنس دانوں کے مشاہدے میں بہت بعد میں آئی ہے ۔ سائنس دانوں نے بعد میں یہ بات معلوم ہوئی کہ ہڈیوں کے خلیے اور ہیں ۔ اور گوشت کے خلیے اور ہیں۔ اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ جنین کے اندر ہڈیوں کے خلیے پہلے چڑھتے ہیں اور بعد میں ان پر گوشت کے خلیے چڑھتے ہیں اور جب تک ہڈیوں کے خلیے مکمل نہیں ہوتے اس وقت تک گوشت کے خلیے پاپید ہوتے ہیں اور بعد میں جنین کا ڈھانچہ بنتا ہے۔ یہ حیران کن حقیقت ہے جسے جسے قرآن کریم ریکارڈ کرتا ہے۔
فخلقنا المضغۃ عظما فکسونا العظم لحما (23 : 14) ” پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں “ اور پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ۔ ثم انشانہ خلقا اخر (23 : 14) ” پھر اسے ایک دوسری مخلوق بنا کھڑا کیا “۔ اور یہ مخلوق انسان ہے۔ یہ امتیازی خصوصیات کا حامل ہے ۔ ابتداء مین انسان کا جنین اور حیوان کا جنین جسمانی ساخت کے اعتبار سے ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن آخر میں جاکر انسان کا جنین ایک دوسری مخلوق کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ ایک مکرم اور صاحب امتیاز مخلوق ہوتی ہے اور یہ ارتقاء اور ترقی کی بےپناہ استعداد اپنے اندر رکھتی ہے ۔ حیوان کا جنین حیوان کے ہی درجے میں رہ جاتا ہے۔ وہ انسانی خصائص کو اخذ نہیں کرسکتا۔ اور ان کمالات تک نہیں پہنچ پاتا جن تک انسان پہنچتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ انسانی جنین کو متعین اور مخصوص خصوصیات دی گئی ہیں اور یہی خصوصیات ہیں جو بعد کے زمانے مین انسان کو انسانیت کی راہ پر ڈالتی ہیں۔ اس طرح انسان ” ایک دوسری “ مخلوق بن جاتا ہے ۔ اور یہ اس وقت ہی بن جاتا ہے جب یہ جنین اپنے آخری دور میں نشونما میں ہوتا ہے۔ حیوان اپنے آخری دور میں انسان سے پیچھے رہ جاتا ہے اس لیے کہ اس کو انسانی خصوصیات نہیں دی گئیں۔ چناچہ کسی حیوان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے حیوانی مقام سے آگے بڑھ پائے اور اس طرح آگے بڑھتے بڑھتے حیوان سے انسان بن جائے جیسا کہ مادی نطریہ کے قائلین اس پر یقین رکھتے ہیں لیکن انسان اپنی انسانی خصوصیات کے اعتبار سے ایک مقام جا کر رک جاتا ہے اور انسان خلق آخر بن جاتا ہے اور ان ذمہ داریوں کے اٹھانے کے قابل بن جاتا ہے جو اس نے اس کرہ ارض پر ادا کرنی ہیں۔ یہ فرق ان امتیازی خصوصیات کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں ۔ اس معاملے میں یہ نظریہ بالکل غلط ہے کہ حیوانات نے ترقی کرتے کرتے درجہ انسانی تک بلندی حاصل کی ہے۔
نظریہ ارتقاء اسلام کے نظریہ سے متضاد تصور پر قائم ہے۔ یہ نظریہ فرض کرتا ہے کہ موجودہ انسان حیوانی ارتقاء کا ایک درجہ ہے ۔ اور یہ کہ حیوان بھی ترقی کرکے انسان بن سکتا ہے لیکن واقعی صورت حالات یہ ہے کہ واضح طور پر یہ کہ نظریہ محض مفروضہ اور جھوٹ نظر آتا ہے ۔ حیوان کبھی بھی انسانی خصوصیات کا حامل نہیں ہوسکتا ۔ وہ ہمیشہ ہی اپنی حدود میں رہتا ہے ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ یہ ممکن ہے کہ کسی نوع کے اندر شکلی اعتبار سے کوئی نوع حیوان ترقی کرلے جس طرح ڈرائون کہتا ہے۔ لیکن ہر نوع اپنے نوع اپنے نوعی حدود کے اندر رہتی ہے وہ نوعی خصوصیات بدل نہیں سکتی کیونکہ ہر نوع حیوانی کی خصوصیات علیحدہ ہوتی ہیں اور کسی خارجی قوت نے اسے دی ہوتی ہیں جبکہ نوع انسانی بالکل ایک علیحدہ نوعیت اور خصوصیات کی حامل ہے اور یہ خصوصیات اسے بعض مخصوص مقاصد کے لیے اللہ کی قوت نے دی ہیں۔
فتبرک اللہ احسن الخلقین (23 : 14) ” بس بڑا ہی با برکت ہے اللہ ، سب کا کاریگروں سے اچھا کاریگر “۔ جس نے انسان کے جنین کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے وہ اس انداز نشونما کے مطابق ایک خود کار نظام کے مطابق آگے برھتا ہے۔ ایک نہایت ہی پچیدہ سنت الیہ کے مطا بق جس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ اس کے مراحل میں سے مرحلہ حذف ہوتا ہے یہاں تک کہ انسان ترقی و کمال مقررہ درجہ کمال تک پہنچ جاتا ہے ۔
لوگ سائنس کے انکشافات کو معجزہ قرار دیتے ہیں اور ان کو سن سن کر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ خصوصا جب انسان ایک ایسا آلہ یا مشین تیار کرتا ہے جو خود کار طریقے کے مطابق چلتا ہے اور انسان کی مداخلت کے بغیر کام کرتا ہے ۔ کیا یہ لوگ اس جنین کو نہیں دیکھتے کہ یہ نہایت ہی خود کار طریقے کے مطابق اپنے مختلف مراحل طے کرتا چلا جاتا ہے۔ بظاہر ان مراحل سے گزرنے میں اسے گزارنے والا نظر نہیں آتا ۔ جب ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو اس کی ماہیت میں بھی مکمل تبدیلی آجاتی ہے۔ پھر نظر آتا ہے کہ ان دونوں مراحل میں اس کے اندر ایک تبدیلی آگئی ہے۔ لوگ رات دن ان تغیرات اور واقعات کو دیکھتے ہیں لیکن اپنی آنکھیں بند کرکے چلے جاتے ہیں ، ان کے دل و دماغ اس عظیم خود کار نظام پر غور نہیں کرتے۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ہم اس نظام کے عادی ہوگئے ہیں حالانکہ یہ اپنی جگہ حیرت انگیز نظام ہے۔ محض انسان کی اس پچیدہ تخلیق پر غور و فکر ہی انسان کی ہدایت کے لیے کافی ہے جس کی تمام خصوصیات ، تمام خدوخال ، اس چھوٹے نکتے کے اندر موجود ہوتے ہیں جو اس قدر چھو ٹا ہوتا ہے کہ انسان خوردبین کے بغیرا سے دیکھ نہیں سکتا ۔ یہ تمام خصوصیات اور تمام خدو خال آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں اور اپنے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے پھر ہماری نظروں میں آجاتے ہیں ۔ جب انسان بچے کی صورت میں ہوتا ہے تو انسان کے انسانی خصائص نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ پھر ہر بچہ عام انسانی خصائص کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کی مخصوص خصوصیات کو بھی وراثت میں پاتا ہے اور یہ دونوں قسم کی خصوصیات اس چھوٹے سے نکتے کے اندر مرکوز ہوتی ہیں۔ غرض یہ عمل جو رات اور دن ہمارے درمیان اور ہمارے سامنے قدرت دہراتی ہے ، انسان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اور انسانی غورو فکر کے لیے اس میں عظیم مواد موجود ہے۔
اب سیاق کلام ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے تاکہ زندگی کے اس سفر کو انتہا تک پہنچا دے ۔ اب زندگی کے ایک نئے مرحلے کا ذکر ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ زندگی جس کی تخلیق اس متی سے کی گئی ہے اس دنیا ہی میں ختم نہیں ہوجاتی کیونکہ یہ صرف مٹنی نہیں ہے بلکہ اس میں روح کا آمیزہ کیا گیا ہے ، لہذا اس کو اس سے بھی آگے بڑھنا ہے۔ اس زندگی میں چونکہ عالم بالا کی طرف سے روح پھونکی گئی ہے اس لیے اس کا آخری منزل یہی جسمانی منزل نہیں ہے ۔ خون اور گوشت کی اس قریبی منزل سے آگے اور جہان بھی ہیں ۔ چناچہ زندگی کا آخری مرحلہ سامنے آتا ہے۔
المؤمنون 23:14
ولقد تبعثون (12 تا 16)
یہ انداز تخلیق ، یہ منظم انداز نشونما اس کے اندر پایا جانے وا لا تسلسل ۔ سب سے پہلے تو یہ بتاتا ہے کہ اس پورے نظام کا ایک خالق ہے اور پھر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا عمل اس کے ارادہ مدبرہ کے مطابق ہے۔ یہ نہایت ہی پچیدہ عمل محض اتفاق سے یونہی نہیں ہوجاتا اور نہ یہ پورا عمل بغیر کسی ارادے اور تدبیر کے یونہی اتفاقاً ہوتا ہے۔ خصوصاً اس کا یہ پہلو کہ اس پورے نظام واقعات میں کبھی بھی یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔ انسان کا یہ نظام تخلیق عقلاً کئی دوسرے طریقوں سے ممکن ہے لیکن کبھی یہ طریق کار تبدیلی کو قبول نہیں کرتا۔ یہ پہلوخصوصاً ٓاس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ایک مخصوص ارادہ جو اس نظام کی پشت پر ہے۔
حیات انسانی کی یہ تدریجی نشونما اپنے اس تسلسل کے ساتھ بظاہر ایک اعجوبہ ہے اور اسے صرف اس صورت میں حل کیا جاسکتا ہے کہ اس سورة کے مطابق ایک انسان سیدھی طرح اللہ پر ایمان لے آئے۔
بس یہی ایک طریقہ ہے جس سے اس تخلیق اور اس نشو نما کو اپنے کمال تک پہنچانے کا تصور دیا جاسکتا ہے۔ صرف ایمان باللہ ہی کی صورت میں دنیا و آخرت کی زندگی با معنی اور با مقصد ہوسکتی ہے۔ صفات مومنین کے بعد یہاں زندگی کی اس عجیب نشونما کے مدارج کو کیوں لایا گیا ہے ؟
ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین (23 : 12) ” ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ، پھر ایک محفوظ جگہ ٹپی کی ہوئی بوند میں تبدیل کیا “۔ یہ آیت انسانی زندگی کی نشونما کے انداز کو نہایت ہی تعین کے ساتھ بتاتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان موجود انسانی شکل تک کئی مراحل طے کرکے پہنچتا ہے۔ یو وہ پہلے مٹی سے انسان تک پہنچا ، کیچڑ گویا انسان کی تخلیق درجہ اول ہے۔ اور انسان اپنی موجودہ شکل میں اس عمل تخلیق کا فائنل مرحلہ ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی قرآن کریم صراحت کرتا ہے۔ ہم انسان کے اس عمل تخلیق کی تصدیق ان سائنسی مشاہدات سے کرنا نہیں چاہتے جنہوں نے اس عمل کو تخلیقی کا بڑی باریکی سے مشاہدہ کیا ہے کہ انسانی زندگی کس طرح نشونما پاتی ہے۔
قرآن کریم نے تخلیق کس قدر پچیدہ ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کیچڑ سے انسان کی تخلیق تک کس قدر تبدیلی ہے ۔ قرآن کریم نے اس سے زیادہ تفصیلات نہیں دی ہیں کیونکہ قرآن کریم کا مقصد ان موٹے موٹے مدارج تخلیق کے ذکر ہی سے پورا ہوجاتا ہے ۔ رہے موجودہ سائنسی مشاہدات تو ان کے پیش نظر نشونما کے نہایت ہی مفصل مدارج کا بیان ہوتا ہے تاکہ وہ کیچڑ سے مکمل انسان کی تخلیق تک مدارج کو تفصیل سے لیں۔ سائنس دانوں کے مشاہدات درست بھی ہوسکتے ہیں اور بعض اوقات وہ غلط مشاہدات بھی کرتے ہیں۔ آج زیادہ وہ مدارج بتاتے ہیں اور کل ان میں کمی کردیتے ہیں کیونکہ آلات مشاہدہ میں آئے دن تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔
قرآن کریم کبھی تو ان مدارج کو اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہے اور کبھی ان کی تفصیلات دیتا ہے۔ بعض اوقات صرف یہ فقرہ ہوتا ہے۔
و بدا خلق الانسان من طین (32 : 7) ” انسان کی ابتدائی تخلیق مٹی سے کی گئی “۔ اب اس میں مراحل کا ذکر بالکل نہیں ہے اور جس آیت میں تفصیلات دی گئی ہیں اس میں کہا ہے۔
من سللۃ من طین (23 : 12) ” دوسری آیت میں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ انسان مٹی سے کس طرح تسلسل کے ساتھ اپنی موجودہ کامل حالت تک پہنچاتو قرآن کریم نے اس کی تفصیلات نہیں دی ہیں اور جیسا کہ ہم نے دوسری جگہ تفصیلات دے دی ہیں یہ امور قرآن کریم کے مقاصد میں شامل ہی نہیں ہیں۔ قرآن کریم نے جو مدارج حیات بیان کیے ہیں وہ سائنسی مشاہدات کے مطابق بھی ہوسکتے ہیں اور خلاف بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عمل کسی نامعلوم ذریعہ سے ہوا ہو اور ابھی بھی انسان نے اسے دریافت نہ کیا ہو یا کچھ ایسے فیکٹر ہوں جو ابھی انسان کے علم سے باہر ہوں۔ لیکن قرآن انسان کو جس نظر سے دیکھتا ہے اور یہ دوسرے سائنسی نظریات اسے جن مقاصد کے لیے مشاہدہ کرتی ہیں ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قرآن کریم انسان کو ایک نہایت ہی مکرم اور برگزیدہ مخلوق قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس ذات کے اندر اللہ کی روح پھونگی گئی ہے اور اس روح ہی نے اسے مٹی سے انسان بنادیا اور اسے دو خصوصیات عطا کیں جن کی وجہ سے انسان کہلایا اور حیوان سے ممتاز قرار پایا یوں قرآن کا نقطہ نظر انسان کے بارے میں مادہ پرستوں سے بالکل جدا ہے اور اللہ کا قول تمام لوگوں سے زیادہ سچا ہے۔
(دیکھئے الانسان بین المادیۃ والاسلام محمد قطب) یہ ہے جنس انسانی کی اصل تخلیق مٹی کے ست سے۔ رہا بعد کا سلسلہ نسل انسانی تو اس کا طریق کا بالکل کار بالکل جدا ہے اور ایک معروف اور مشاہدہ کیا ہواطریقہ ہے۔
ثم جعلنہ نطفۃ فی قرار مکین (23 : 13) ” پھر ہم نے اسے ایک محفوظ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کردیا ”۔ اللہ نے جنس انسانی (آدم) کو تو مٹی کے ست بنایا۔ رہا سلسلہ تناسل تو اس سلسلے کو اللہ تعالیٰ نے پانی کے ایک قطرے سے چلایا۔ پانی کا یہ قطرہ مرد صنب سے نکلتا ہے۔ یہ قطرہ رحم مادر میں ٹھرتا ہے۔ یہ پانی کا نہایت ہی چھوٹا نکتہ ہوتا ہے بلکہ یہ ہزار ہا خلیوں میں سے ایک خلیہ ہوتا ہے اور پانی کے اس قطرے میں یہ خلیے ہزار ہا کی تعداد میں ہوتے ہیں۔
فی قرار مکین (23 : 13) ” محفوظ جگہ میں “ یہ نقطہ رحم میں جاکر رحم کی ہڈیوں کے درمیان ایسی جگہ محفوظ جگہ میں ہوتا ہے کہا اس پر جسم کی حرکات کا کو ئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ جگہ ایسی ہوتی ہے کہ انسان کی پیٹھ اور پیٹ کو جھٹکے اور چوٹیں اور حرکات اور تاثرات پہنچتے ہیں یہ جگہ ان سے محفوظ ہوتی ہے۔
قرآن کریم اس نقطے کو انسان کی تخلیق کا ایک مرحلہ قرار دیتا ہے اس نقطے سے بڑھ کر انسان ایک مکمل انسان بنتا ہے ۔ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے لیکن یہ عجیب اور قابل غور حقیقت ہے۔ جب اس عظیم الحبثہ انسان کو ہم مختصص کرکے اس نقطے کے اندر وہ تمام انسانی خصائص پائے جاتے ہیں تو پھر ایک کامل انسان اندر سے اس قسم کے اور جینز تخلیق ہوتے رہتے ہیں ۔ سلسلہ تخلیق کا یہ ایک عجیب نظام ہے۔
اس نقطے سے انسان پھر علفہ بن جاتا ہے یعنی خون کا ایک لوتھڑا۔ اس مرحلے میں مرد کا جرثومہ عورت کے انڈے کے ساتھ مکس ہوجاتا ہے اور ابتداء میں رحم مادر کے ساتھ معلق یہ ایک باریک نقطہ ہی ہوتا ہے ۔ یہ نقطہ رحم مادر کے خون سے غذاپاتا ہے۔ علقہ سے پھر المضغۃ ” خون کی بوٹی “ کی شکل میں آجاتا ہے ۔ بوٹی کی شکل میں اب یہ نقطہ قدرے بڑا ہے ۔ اب یہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے ۔ یہ خون کا ایک موٹا ٹکڑا ہوتا ہے ۔
یہ چھوٹی سی مخلوق اپنی اس راہ پر چلتی ہے۔ یہ اپنی ڈگر تبدیل نہیں کرتی۔ نہ اپنی راہ سے ادھر ادھر جاتی ہے ۔ اس کی حرکت معظم اور مرتب ہوتی ہے اور یہ اس ناموس کے مطابق ہوتی ہے جو پہلے سے اللہ نے مقرر کردیا ہے۔۔ یعنی اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ۔ اس کے بعد ہڈیوں مرحلہ آتا ہے۔
فخلقنا المضغۃ عظما (23 : 13) پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں۔ اور اس کے بعد یہ مرحلہ آیا کہ ہڈیوں پر گوشت چڑھ آیا۔
فکسونا العظم لحما (23 : 31) ” پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا “۔ ان مراحل کو پڑھ کر اور پھر دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ قرآن کریم نے کے ان مراحل کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے وہ سائنس دانوں کے مشاہدے میں بہت بعد میں آئی ہے ۔ سائنس دانوں نے بعد میں یہ بات معلوم ہوئی کہ ہڈیوں کے خلیے اور ہیں ۔ اور گوشت کے خلیے اور ہیں۔ اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ جنین کے اندر ہڈیوں کے خلیے پہلے چڑھتے ہیں اور بعد میں ان پر گوشت کے خلیے چڑھتے ہیں اور جب تک ہڈیوں کے خلیے مکمل نہیں ہوتے اس وقت تک گوشت کے خلیے پاپید ہوتے ہیں اور بعد میں جنین کا ڈھانچہ بنتا ہے۔ یہ حیران کن حقیقت ہے جسے جسے قرآن کریم ریکارڈ کرتا ہے۔
فخلقنا المضغۃ عظما فکسونا العظم لحما (23 : 14) ” پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں “ اور پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ۔ ثم انشانہ خلقا اخر (23 : 14) ” پھر اسے ایک دوسری مخلوق بنا کھڑا کیا “۔ اور یہ مخلوق انسان ہے۔ یہ امتیازی خصوصیات کا حامل ہے ۔ ابتداء مین انسان کا جنین اور حیوان کا جنین جسمانی ساخت کے اعتبار سے ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن آخر میں جاکر انسان کا جنین ایک دوسری مخلوق کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ ایک مکرم اور صاحب امتیاز مخلوق ہوتی ہے اور یہ ارتقاء اور ترقی کی بےپناہ استعداد اپنے اندر رکھتی ہے ۔ حیوان کا جنین حیوان کے ہی درجے میں رہ جاتا ہے۔ وہ انسانی خصائص کو اخذ نہیں کرسکتا۔ اور ان کمالات تک نہیں پہنچ پاتا جن تک انسان پہنچتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ انسانی جنین کو متعین اور مخصوص خصوصیات دی گئی ہیں اور یہی خصوصیات ہیں جو بعد کے زمانے مین انسان کو انسانیت کی راہ پر ڈالتی ہیں۔ اس طرح انسان ” ایک دوسری “ مخلوق بن جاتا ہے ۔ اور یہ اس وقت ہی بن جاتا ہے جب یہ جنین اپنے آخری دور میں نشونما میں ہوتا ہے۔ حیوان اپنے آخری دور میں انسان سے پیچھے رہ جاتا ہے اس لیے کہ اس کو انسانی خصوصیات نہیں دی گئیں۔ چناچہ کسی حیوان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے حیوانی مقام سے آگے بڑھ پائے اور اس طرح آگے بڑھتے بڑھتے حیوان سے انسان بن جائے جیسا کہ مادی نطریہ کے قائلین اس پر یقین رکھتے ہیں لیکن انسان اپنی انسانی خصوصیات کے اعتبار سے ایک مقام جا کر رک جاتا ہے اور انسان خلق آخر بن جاتا ہے اور ان ذمہ داریوں کے اٹھانے کے قابل بن جاتا ہے جو اس نے اس کرہ ارض پر ادا کرنی ہیں۔ یہ فرق ان امتیازی خصوصیات کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں ۔ اس معاملے میں یہ نظریہ بالکل غلط ہے کہ حیوانات نے ترقی کرتے کرتے درجہ انسانی تک بلندی حاصل کی ہے۔
نظریہ ارتقاء اسلام کے نظریہ سے متضاد تصور پر قائم ہے۔ یہ نظریہ فرض کرتا ہے کہ موجودہ انسان حیوانی ارتقاء کا ایک درجہ ہے ۔ اور یہ کہ حیوان بھی ترقی کرکے انسان بن سکتا ہے لیکن واقعی صورت حالات یہ ہے کہ واضح طور پر یہ کہ نظریہ محض مفروضہ اور جھوٹ نظر آتا ہے ۔ حیوان کبھی بھی انسانی خصوصیات کا حامل نہیں ہوسکتا ۔ وہ ہمیشہ ہی اپنی حدود میں رہتا ہے ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ یہ ممکن ہے کہ کسی نوع کے اندر شکلی اعتبار سے کوئی نوع حیوان ترقی کرلے جس طرح ڈرائون کہتا ہے۔ لیکن ہر نوع اپنے نوع اپنے نوعی حدود کے اندر رہتی ہے وہ نوعی خصوصیات بدل نہیں سکتی کیونکہ ہر نوع حیوانی کی خصوصیات علیحدہ ہوتی ہیں اور کسی خارجی قوت نے اسے دی ہوتی ہیں جبکہ نوع انسانی بالکل ایک علیحدہ نوعیت اور خصوصیات کی حامل ہے اور یہ خصوصیات اسے بعض مخصوص مقاصد کے لیے اللہ کی قوت نے دی ہیں۔
فتبرک اللہ احسن الخلقین (23 : 14) ” بس بڑا ہی با برکت ہے اللہ ، سب کا کاریگروں سے اچھا کاریگر “۔ جس نے انسان کے جنین کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے وہ اس انداز نشونما کے مطابق ایک خود کار نظام کے مطابق آگے برھتا ہے۔ ایک نہایت ہی پچیدہ سنت الیہ کے مطا بق جس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ اس کے مراحل میں سے مرحلہ حذف ہوتا ہے یہاں تک کہ انسان ترقی و کمال مقررہ درجہ کمال تک پہنچ جاتا ہے ۔
لوگ سائنس کے انکشافات کو معجزہ قرار دیتے ہیں اور ان کو سن سن کر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ خصوصا جب انسان ایک ایسا آلہ یا مشین تیار کرتا ہے جو خود کار طریقے کے مطابق چلتا ہے اور انسان کی مداخلت کے بغیر کام کرتا ہے ۔ کیا یہ لوگ اس جنین کو نہیں دیکھتے کہ یہ نہایت ہی خود کار طریقے کے مطابق اپنے مختلف مراحل طے کرتا چلا جاتا ہے۔ بظاہر ان مراحل سے گزرنے میں اسے گزارنے والا نظر نہیں آتا ۔ جب ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو اس کی ماہیت میں بھی مکمل تبدیلی آجاتی ہے۔ پھر نظر آتا ہے کہ ان دونوں مراحل میں اس کے اندر ایک تبدیلی آگئی ہے۔ لوگ رات دن ان تغیرات اور واقعات کو دیکھتے ہیں لیکن اپنی آنکھیں بند کرکے چلے جاتے ہیں ، ان کے دل و دماغ اس عظیم خود کار نظام پر غور نہیں کرتے۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ہم اس نظام کے عادی ہوگئے ہیں حالانکہ یہ اپنی جگہ حیرت انگیز نظام ہے۔ محض انسان کی اس پچیدہ تخلیق پر غور و فکر ہی انسان کی ہدایت کے لیے کافی ہے جس کی تمام خصوصیات ، تمام خدوخال ، اس چھوٹے نکتے کے اندر موجود ہوتے ہیں جو اس قدر چھو ٹا ہوتا ہے کہ انسان خوردبین کے بغیرا سے دیکھ نہیں سکتا ۔ یہ تمام خصوصیات اور تمام خدو خال آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں اور اپنے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے پھر ہماری نظروں میں آجاتے ہیں ۔ جب انسان بچے کی صورت میں ہوتا ہے تو انسان کے انسانی خصائص نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ پھر ہر بچہ عام انسانی خصائص کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کی مخصوص خصوصیات کو بھی وراثت میں پاتا ہے اور یہ دونوں قسم کی خصوصیات اس چھوٹے سے نکتے کے اندر مرکوز ہوتی ہیں۔ غرض یہ عمل جو رات اور دن ہمارے درمیان اور ہمارے سامنے قدرت دہراتی ہے ، انسان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اور انسانی غورو فکر کے لیے اس میں عظیم مواد موجود ہے۔
اب سیاق کلام ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے تاکہ زندگی کے اس سفر کو انتہا تک پہنچا دے ۔ اب زندگی کے ایک نئے مرحلے کا ذکر ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ زندگی جس کی تخلیق اس متی سے کی گئی ہے اس دنیا ہی میں ختم نہیں ہوجاتی کیونکہ یہ صرف مٹنی نہیں ہے بلکہ اس میں روح کا آمیزہ کیا گیا ہے ، لہذا اس کو اس سے بھی آگے بڑھنا ہے۔ اس زندگی میں چونکہ عالم بالا کی طرف سے روح پھونکی گئی ہے اس لیے اس کا آخری منزل یہی جسمانی منزل نہیں ہے ۔ خون اور گوشت کی اس قریبی منزل سے آگے اور جہان بھی ہیں ۔ چناچہ زندگی کا آخری مرحلہ سامنے آتا ہے۔
المؤمنون 23:15
ثم انکم بعدذلک لمیتون (23 : 15) ثم انکم یوم القیمۃ تبعثون (23 : 16) ” پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے ، “۔ یہ موت دنیا کی زندگی کا اختتام ہے اور دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان بھی ایک مرحلہ ہے۔ لہذا برزخ کی زندگی بھی حیات انسانی کی ترقی کا ایک مرحلہ ہے۔ اور برزخ انسانی زندگی کا اختتام نہیں ہے۔
اس کے بعد انسان نے حکم الہی کے مطابق دوبارہ اٹھنا ہے۔ یہ بھی زندگی کا ایک دور ہوگا ، ایک مرحلہ ہوگا لیکن یہ ایک کامل زندگی ہوگی۔ اس زندگی میں کوئی نقص نہ ہوگا ، اس میں خون اور گوشت کی زندگی کی ضروریات درکار نہ ہوں گی۔ نہ اس میں خوف اور بےچینی ہوگی ، نہ اس میں کوئی تبدیلی ہوگی اور نہ نشیب و فراز ہوں گے بلکہ یہ انسان کے لیے ایک آخری آرام گاہ ہوگی لیکن یہ کامل زندگی اس شخص کے لیے ہوگی جو ترقی و کمال کی راہوں پر چلنے والاہو۔ وہ زندگی کے اس سورة کی ابتدا ئی آیات جس کے خدوخال طے کردیئے گئے ہیں یعنی ایمان والوں کی زندگی ، ۔ لیکن جس نے اپنی زندگی کے بنیادی مرحلے کو ترقی نہ دی بلکہ اسے تنزل سے دوچارکرکے اسے حیوانی زندگی جیسا بنا دیا وہ آخرت میں بھی اسی طرح معکوس کرے گا۔ وہاں اس کی انسانیت جمادات کا کام کرے گی۔ وہ جہنم کا ایندھن ہوگا۔ جبکہ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھرہوگے تو اس قسم کے لوگ نباتات سے بھی نیچے پتھر ہوجائیں گے۔
اب سیاق کلام نفس انسانی کے اندرونی دلائل ایمان سے آفاق کائنات میں موجود دلائل ایمان کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔ لوگ ان آفاقی دلائل کو رات اور دن دیکھتے رہتے ہیں۔ ان کو اچھی طرح سمجھتے بھی ہیں لیکن پھر بھی غافل ہو کر گزر جاتے ہیں ۔
المؤمنون 23:16
ثم انکم بعدذلک لمیتون (23 : 15) ثم انکم یوم القیمۃ تبعثون (23 : 16) ” پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے ، “۔ یہ موت دنیا کی زندگی کا اختتام ہے اور دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان بھی ایک مرحلہ ہے۔ لہذا برزخ کی زندگی بھی حیات انسانی کی ترقی کا ایک مرحلہ ہے۔ اور برزخ انسانی زندگی کا اختتام نہیں ہے۔
اس کے بعد انسان نے حکم الہی کے مطابق دوبارہ اٹھنا ہے۔ یہ بھی زندگی کا ایک دور ہوگا ، ایک مرحلہ ہوگا لیکن یہ ایک کامل زندگی ہوگی۔ اس زندگی میں کوئی نقص نہ ہوگا ، اس میں خون اور گوشت کی زندگی کی ضروریات درکار نہ ہوں گی۔ نہ اس میں خوف اور بےچینی ہوگی ، نہ اس میں کوئی تبدیلی ہوگی اور نہ نشیب و فراز ہوں گے بلکہ یہ انسان کے لیے ایک آخری آرام گاہ ہوگی لیکن یہ کامل زندگی اس شخص کے لیے ہوگی جو ترقی و کمال کی راہوں پر چلنے والاہو۔ وہ زندگی کے اس سورة کی ابتدا ئی آیات جس کے خدوخال طے کردیئے گئے ہیں یعنی ایمان والوں کی زندگی ، ۔ لیکن جس نے اپنی زندگی کے بنیادی مرحلے کو ترقی نہ دی بلکہ اسے تنزل سے دوچارکرکے اسے حیوانی زندگی جیسا بنا دیا وہ آخرت میں بھی اسی طرح معکوس کرے گا۔ وہاں اس کی انسانیت جمادات کا کام کرے گی۔ وہ جہنم کا ایندھن ہوگا۔ جبکہ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھرہوگے تو اس قسم کے لوگ نباتات سے بھی نیچے پتھر ہوجائیں گے۔
اب سیاق کلام نفس انسانی کے اندرونی دلائل ایمان سے آفاق کائنات میں موجود دلائل ایمان کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔ لوگ ان آفاقی دلائل کو رات اور دن دیکھتے رہتے ہیں۔ ان کو اچھی طرح سمجھتے بھی ہیں لیکن پھر بھی غافل ہو کر گزر جاتے ہیں ۔
المؤمنون 23:17
ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22)
سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق انسان اور دوسرے مظاہر فطرت کو یکجا کیا گیا ہے۔
ولقد خلقنا فو قکم سبع طرائق وما کنا عن الخلق غفلین (23 : 17) ” اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے ، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نا بلد نہ تھے “۔ یہ سات راستے طرائق کیا ہیں ، یہ دراصل طبقات ہیں ، بعض ، بعض کے اوپر ہیں یا بعض دوسرے کی نسبت بہت دور ہیں ۔ سیع طرائق سے اہم فلکی مدار بھی ہوسکتے ہیں ۔ اور اسی طرح ان سے مرادوہ سات ، کہکشاں بھی ہو سکتے ہیں جس طرح ہم سورج کی کہکشاں میں بستے ہیں ، یا ان سے سات سدم بھی مراد ہوسکتے اور سدم سے مراد فلکیات والوں کے نزدیک ستاروں کے مجموعے (Nebula) ہیں۔ غرض مراد جو بھی ہو ، یہ سات فلکی مخلوق ہے اور یہ انسانوں کے اوپر ہے ، بہر حال یہ سبع طرائق زمین سے بلندی پر ہیں اور اسی فضائے کائنات میں ہیں ۔ اللہ نے اپنی سان حکیمانہ سے ان کو پیدا کیا ہے اور وہ اللہ وہ اللہ اپنی تخلیق سے غافل نہیں ہے۔
وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ فی الارض وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھرادیا ، ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یہاں یہ سات راستے زمین کے ساتھ جمع ہوجاتے ہیں ۔ پانی آسمان سے اترتا ہے۔ ان سات افلاک کے ساتھ پانی کا تعلق ہے۔ کیونکہ اس کائنات کا اس انداز پر پیدا کیا جانا ہی اس بات کا ضامن ہے کہ وہ آسمانوں سے پانی اتارتا ہے ، پھر یہ پانی کے اوپر ٹھرتا ہے ۔
یہ نظریہ کہ زمین کے اندر جو پانی ہے وہ بارشوں ہی کا پانی ہے ۔ یہ پانی مختلف راہوں سے زمین کے اندر جذب ہوجاتا ہے۔ یہ نظریہ بالکل ایک جدید نظریہ ہے۔ ماضی قریب تک لوگ یہ سوچتے تھے کہ بارش کے پانی اور زمین کے اندر کے پانی کا باہم کوئی تعلق نہیں ہے لیکن قرآن نے آج سے تقریباً تیرہ سو سال پہلے اس حقیقت کو بیان کردیا تھا۔
پھر اللہ نے اس پانی کو ٹھیک ٹھیک حساب کے مطابق اتارا ، نہ زیادہ اتارا کہ طوفان کی شکل میں سب کچھ غرق کردے اور نہ ضرورت سے کم اتارا کہ ملکوں کے اندر خشک سالی ہوجائے اور تروتازہ گی اور شادابی ختم ہوجائے۔ نہ بےموسم اتارا کہ پانی ضائع چلا جائے۔
فا سکنہ فی الارض (23 : 61) ” اور اس کو زمین میں ٹھرادیا “۔ تو یہ پانی بھی زمین میں ٹہرا ہوا ہے اور انسان کا نطف بھی قرار مکیں میں ٹھرا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بہترین مشابہت اور تقابل ہے۔ دونوں اللہ کی تدبیر سے ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ ایک زمین میں اور ایک رحم میں۔
وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یو کہ وہ زمین کے اندر دور تک گہرائیوں میں چلا جائے ، اور جن محفوظ مقامات کے اندر یہ بانی محفوظ رہتا ہے ، ان میں شکاف پر جائیں اور پانی گہرائیوں میں سے نکل کر غائب ہوجائے یا کسی اور طریقے سے ناپید ہوجائے۔ کیونکہ جس خدا نے اپنی قدرت سے پای کو زمین میں ٹھہرایا ہے وہ اپنی قدرت سے اسے غائب بھی کرسکتا ہے ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اسے روک رکھا ہے۔
اور یہ زندگی کی بو قلمو نیاں تو قائم ہی پانی سے ہیں۔
فانشا نا لکم بہ جنت من نخیل و اعناب لکم فیھا فواکہ کثیرۃ ومنھا تاکلون (23 : 19) ” پھر اس پانی کے ذریعے سے ہم نے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کردیئے “۔ تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو “۔ کھجور اور انگور دوہ نمونے ہیں ان نباتاتی اشیاء کے جو پانی سے پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ انسان اور حیوان نطفے کے پانی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں نمونے ایسے ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسی دور میں رچے بسے تھے جبکہ دوسرے تمام قسم کے فواکہ اور حیوانات بھی پانی ہی سے پیدا ہوئے ہیں ۔
دوسری تمام پیداوار مین زیتون کے درخت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
و شجرۃ تخرج من طور سیناء تنبت بالدھن وصبغ لااکلین (23 : 20) ” اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے ، تیل بھی لیے ہوئے نکلتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی “۔
یہ اکثر درختوں سے زیادہ مفید ہے اس کا تیل ، اس کا پھل اور اس کی ٹکڑی سب ہی مفید ہیں ۔ اور عربستاں کے قریب ترین مقامات جہاں یہ اگتا ہے ، طور سینا ہے۔ یہ اس وادی مقدس کے قریب ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی۔ لہذا اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔ یہ درخت بھی وہاں اس پانی کی وجہ پیدہوتا ہے جو زمین کے اندر کے اندر محفوظ ہے۔
اب نبا تات سے آگے عالم حیوانات پر ایک نظر
وان منھا تاکلون (21) وعلیھا وعلی الفلک تحملون (23 : 22) ” اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز (یعنی دودھ) ہم تمہیں پلاتے ہیں ، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں ۔ ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو “۔ یہ تمام مخلوقات انسان کے لیے اللہ کی قدرت نے مسخر کردی ہے اور اس کائنات میں یہ مخلوق مختلف قسم کے مقاصد پورے کررہی ہے۔ ان چیزوں میں عبرت ہے ، اس شخص کے لیے جو چشم بصیرت کے ساتھ ان کو دیکھے اور پھر عقل کے ساتھ ان چیزون کے دیکھے اور ان پر غور کرے۔ انسان دیکھتا ہے کہ وہ جو خوشگوار دودھ پیتا ہے۔ وہ ان جانوروں کے پیٹ سے نکلتا ہے ۔ یہ ہے خلاصہ اس غذا کا جو یہ جانور ہضم کرتے ہیں۔ اور پھر دودھ کے غدود سے اسے اس پاک و صاف سفید سیال مادے کی شکل دیتے ہیں جو نہایت ہی خوشگوار اور لطیف غذا بھی ہے۔
ولکم فیھا منافع کثیرۃّ (23 : 21) ” ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو “۔ اللہ نے انسانوں کے لیے مویشیوں کا کھان حلال قرار دیا ۔ مثلاً اونٹ ، گائے ، اور بھیڑ بکری۔ لیکن اللہ نے ان کو عذاب دینا اور مثلہ بنانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ کھانے سے تو ایک ضرورت پوری ہوتی ہے لیکن ان کو عذاب دینا تکلیف پہنچانا اور مثلہ بنانا بےفائدہ تعذیب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے قلب و نظر میں فساد ہے اور اس کی فطرط سلیمہ نہیں رہی ہے جبکہ اس فعل سے زندگی کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا۔
یہاں مویشیوں پر سواری کی منا سبت سے کشتیوں کی سواری کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ۔ کشتی بھی ایک کائناتی نظام کے تحت انسان کے لیے مسخر بنا دی گئی ہے اور اس نظام بحری سفر کے نظام میں بھی انسانوں کا مفاد ہے۔ پانی کو بھی انسان کے لیے مفید بنایا۔ پھر کشتی کو اس قابل بنایا کہ وہ پانی کے اوپر تیر رہی ہے اور ہوائوں کو اس طرح چلایا کہ وہ کشتیوں کو منزل مقصود مقصود تل لے جارہی ہیں۔ اگر ان امور میں سے کوئی امر بھی نہ ہو یعنی پانی ، کشتی ، اور ہوا تو بحری سفر مشکل ہوجائے ۔ آج بھی بحری سفر انہی سہولیات پر مبنی ہے۔
یہ تمام امور دلائل ایمان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ، بشرطیکہ کوئی فہم اور ادراک اور تفکر و تدبر کر رے ان پر غور کرے اور ان سب امور کا تعلق اس سورة کے پہلے اور دوسرے پیرا گراف کے ساتھ ہے۔ ان امور سے تمام پیرا گرف مربوط اور ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔
المؤمنون 23:18
ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22)
سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق انسان اور دوسرے مظاہر فطرت کو یکجا کیا گیا ہے۔
ولقد خلقنا فو قکم سبع طرائق وما کنا عن الخلق غفلین (23 : 17) ” اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے ، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نا بلد نہ تھے “۔ یہ سات راستے طرائق کیا ہیں ، یہ دراصل طبقات ہیں ، بعض ، بعض کے اوپر ہیں یا بعض دوسرے کی نسبت بہت دور ہیں ۔ سیع طرائق سے اہم فلکی مدار بھی ہوسکتے ہیں ۔ اور اسی طرح ان سے مرادوہ سات ، کہکشاں بھی ہو سکتے ہیں جس طرح ہم سورج کی کہکشاں میں بستے ہیں ، یا ان سے سات سدم بھی مراد ہوسکتے اور سدم سے مراد فلکیات والوں کے نزدیک ستاروں کے مجموعے (Nebula) ہیں۔ غرض مراد جو بھی ہو ، یہ سات فلکی مخلوق ہے اور یہ انسانوں کے اوپر ہے ، بہر حال یہ سبع طرائق زمین سے بلندی پر ہیں اور اسی فضائے کائنات میں ہیں ۔ اللہ نے اپنی سان حکیمانہ سے ان کو پیدا کیا ہے اور وہ اللہ وہ اللہ اپنی تخلیق سے غافل نہیں ہے۔
وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ فی الارض وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھرادیا ، ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یہاں یہ سات راستے زمین کے ساتھ جمع ہوجاتے ہیں ۔ پانی آسمان سے اترتا ہے۔ ان سات افلاک کے ساتھ پانی کا تعلق ہے۔ کیونکہ اس کائنات کا اس انداز پر پیدا کیا جانا ہی اس بات کا ضامن ہے کہ وہ آسمانوں سے پانی اتارتا ہے ، پھر یہ پانی کے اوپر ٹھرتا ہے ۔
یہ نظریہ کہ زمین کے اندر جو پانی ہے وہ بارشوں ہی کا پانی ہے ۔ یہ پانی مختلف راہوں سے زمین کے اندر جذب ہوجاتا ہے۔ یہ نظریہ بالکل ایک جدید نظریہ ہے۔ ماضی قریب تک لوگ یہ سوچتے تھے کہ بارش کے پانی اور زمین کے اندر کے پانی کا باہم کوئی تعلق نہیں ہے لیکن قرآن نے آج سے تقریباً تیرہ سو سال پہلے اس حقیقت کو بیان کردیا تھا۔
پھر اللہ نے اس پانی کو ٹھیک ٹھیک حساب کے مطابق اتارا ، نہ زیادہ اتارا کہ طوفان کی شکل میں سب کچھ غرق کردے اور نہ ضرورت سے کم اتارا کہ ملکوں کے اندر خشک سالی ہوجائے اور تروتازہ گی اور شادابی ختم ہوجائے۔ نہ بےموسم اتارا کہ پانی ضائع چلا جائے۔
فا سکنہ فی الارض (23 : 61) ” اور اس کو زمین میں ٹھرادیا “۔ تو یہ پانی بھی زمین میں ٹہرا ہوا ہے اور انسان کا نطف بھی قرار مکیں میں ٹھرا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بہترین مشابہت اور تقابل ہے۔ دونوں اللہ کی تدبیر سے ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ ایک زمین میں اور ایک رحم میں۔
وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یو کہ وہ زمین کے اندر دور تک گہرائیوں میں چلا جائے ، اور جن محفوظ مقامات کے اندر یہ بانی محفوظ رہتا ہے ، ان میں شکاف پر جائیں اور پانی گہرائیوں میں سے نکل کر غائب ہوجائے یا کسی اور طریقے سے ناپید ہوجائے۔ کیونکہ جس خدا نے اپنی قدرت سے پای کو زمین میں ٹھہرایا ہے وہ اپنی قدرت سے اسے غائب بھی کرسکتا ہے ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اسے روک رکھا ہے۔
اور یہ زندگی کی بو قلمو نیاں تو قائم ہی پانی سے ہیں۔
فانشا نا لکم بہ جنت من نخیل و اعناب لکم فیھا فواکہ کثیرۃ ومنھا تاکلون (23 : 19) ” پھر اس پانی کے ذریعے سے ہم نے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کردیئے “۔ تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو “۔ کھجور اور انگور دوہ نمونے ہیں ان نباتاتی اشیاء کے جو پانی سے پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ انسان اور حیوان نطفے کے پانی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں نمونے ایسے ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسی دور میں رچے بسے تھے جبکہ دوسرے تمام قسم کے فواکہ اور حیوانات بھی پانی ہی سے پیدا ہوئے ہیں ۔
دوسری تمام پیداوار مین زیتون کے درخت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
و شجرۃ تخرج من طور سیناء تنبت بالدھن وصبغ لااکلین (23 : 20) ” اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے ، تیل بھی لیے ہوئے نکلتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی “۔
یہ اکثر درختوں سے زیادہ مفید ہے اس کا تیل ، اس کا پھل اور اس کی ٹکڑی سب ہی مفید ہیں ۔ اور عربستاں کے قریب ترین مقامات جہاں یہ اگتا ہے ، طور سینا ہے۔ یہ اس وادی مقدس کے قریب ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی۔ لہذا اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔ یہ درخت بھی وہاں اس پانی کی وجہ پیدہوتا ہے جو زمین کے اندر کے اندر محفوظ ہے۔
اب نبا تات سے آگے عالم حیوانات پر ایک نظر
وان منھا تاکلون (21) وعلیھا وعلی الفلک تحملون (23 : 22) ” اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز (یعنی دودھ) ہم تمہیں پلاتے ہیں ، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں ۔ ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو “۔ یہ تمام مخلوقات انسان کے لیے اللہ کی قدرت نے مسخر کردی ہے اور اس کائنات میں یہ مخلوق مختلف قسم کے مقاصد پورے کررہی ہے۔ ان چیزوں میں عبرت ہے ، اس شخص کے لیے جو چشم بصیرت کے ساتھ ان کو دیکھے اور پھر عقل کے ساتھ ان چیزون کے دیکھے اور ان پر غور کرے۔ انسان دیکھتا ہے کہ وہ جو خوشگوار دودھ پیتا ہے۔ وہ ان جانوروں کے پیٹ سے نکلتا ہے ۔ یہ ہے خلاصہ اس غذا کا جو یہ جانور ہضم کرتے ہیں۔ اور پھر دودھ کے غدود سے اسے اس پاک و صاف سفید سیال مادے کی شکل دیتے ہیں جو نہایت ہی خوشگوار اور لطیف غذا بھی ہے۔
ولکم فیھا منافع کثیرۃّ (23 : 21) ” ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو “۔ اللہ نے انسانوں کے لیے مویشیوں کا کھان حلال قرار دیا ۔ مثلاً اونٹ ، گائے ، اور بھیڑ بکری۔ لیکن اللہ نے ان کو عذاب دینا اور مثلہ بنانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ کھانے سے تو ایک ضرورت پوری ہوتی ہے لیکن ان کو عذاب دینا تکلیف پہنچانا اور مثلہ بنانا بےفائدہ تعذیب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے قلب و نظر میں فساد ہے اور اس کی فطرط سلیمہ نہیں رہی ہے جبکہ اس فعل سے زندگی کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا۔
یہاں مویشیوں پر سواری کی منا سبت سے کشتیوں کی سواری کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ۔ کشتی بھی ایک کائناتی نظام کے تحت انسان کے لیے مسخر بنا دی گئی ہے اور اس نظام بحری سفر کے نظام میں بھی انسانوں کا مفاد ہے۔ پانی کو بھی انسان کے لیے مفید بنایا۔ پھر کشتی کو اس قابل بنایا کہ وہ پانی کے اوپر تیر رہی ہے اور ہوائوں کو اس طرح چلایا کہ وہ کشتیوں کو منزل مقصود مقصود تل لے جارہی ہیں۔ اگر ان امور میں سے کوئی امر بھی نہ ہو یعنی پانی ، کشتی ، اور ہوا تو بحری سفر مشکل ہوجائے ۔ آج بھی بحری سفر انہی سہولیات پر مبنی ہے۔
یہ تمام امور دلائل ایمان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ، بشرطیکہ کوئی فہم اور ادراک اور تفکر و تدبر کر رے ان پر غور کرے اور ان سب امور کا تعلق اس سورة کے پہلے اور دوسرے پیرا گراف کے ساتھ ہے۔ ان امور سے تمام پیرا گرف مربوط اور ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔
المؤمنون 23:19
ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22)
سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق انسان اور دوسرے مظاہر فطرت کو یکجا کیا گیا ہے۔
ولقد خلقنا فو قکم سبع طرائق وما کنا عن الخلق غفلین (23 : 17) ” اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے ، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نا بلد نہ تھے “۔ یہ سات راستے طرائق کیا ہیں ، یہ دراصل طبقات ہیں ، بعض ، بعض کے اوپر ہیں یا بعض دوسرے کی نسبت بہت دور ہیں ۔ سیع طرائق سے اہم فلکی مدار بھی ہوسکتے ہیں ۔ اور اسی طرح ان سے مرادوہ سات ، کہکشاں بھی ہو سکتے ہیں جس طرح ہم سورج کی کہکشاں میں بستے ہیں ، یا ان سے سات سدم بھی مراد ہوسکتے اور سدم سے مراد فلکیات والوں کے نزدیک ستاروں کے مجموعے (Nebula) ہیں۔ غرض مراد جو بھی ہو ، یہ سات فلکی مخلوق ہے اور یہ انسانوں کے اوپر ہے ، بہر حال یہ سبع طرائق زمین سے بلندی پر ہیں اور اسی فضائے کائنات میں ہیں ۔ اللہ نے اپنی سان حکیمانہ سے ان کو پیدا کیا ہے اور وہ اللہ وہ اللہ اپنی تخلیق سے غافل نہیں ہے۔
وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ فی الارض وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھرادیا ، ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یہاں یہ سات راستے زمین کے ساتھ جمع ہوجاتے ہیں ۔ پانی آسمان سے اترتا ہے۔ ان سات افلاک کے ساتھ پانی کا تعلق ہے۔ کیونکہ اس کائنات کا اس انداز پر پیدا کیا جانا ہی اس بات کا ضامن ہے کہ وہ آسمانوں سے پانی اتارتا ہے ، پھر یہ پانی کے اوپر ٹھرتا ہے ۔
یہ نظریہ کہ زمین کے اندر جو پانی ہے وہ بارشوں ہی کا پانی ہے ۔ یہ پانی مختلف راہوں سے زمین کے اندر جذب ہوجاتا ہے۔ یہ نظریہ بالکل ایک جدید نظریہ ہے۔ ماضی قریب تک لوگ یہ سوچتے تھے کہ بارش کے پانی اور زمین کے اندر کے پانی کا باہم کوئی تعلق نہیں ہے لیکن قرآن نے آج سے تقریباً تیرہ سو سال پہلے اس حقیقت کو بیان کردیا تھا۔
پھر اللہ نے اس پانی کو ٹھیک ٹھیک حساب کے مطابق اتارا ، نہ زیادہ اتارا کہ طوفان کی شکل میں سب کچھ غرق کردے اور نہ ضرورت سے کم اتارا کہ ملکوں کے اندر خشک سالی ہوجائے اور تروتازہ گی اور شادابی ختم ہوجائے۔ نہ بےموسم اتارا کہ پانی ضائع چلا جائے۔
فا سکنہ فی الارض (23 : 61) ” اور اس کو زمین میں ٹھرادیا “۔ تو یہ پانی بھی زمین میں ٹہرا ہوا ہے اور انسان کا نطف بھی قرار مکیں میں ٹھرا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بہترین مشابہت اور تقابل ہے۔ دونوں اللہ کی تدبیر سے ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ ایک زمین میں اور ایک رحم میں۔
وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یو کہ وہ زمین کے اندر دور تک گہرائیوں میں چلا جائے ، اور جن محفوظ مقامات کے اندر یہ بانی محفوظ رہتا ہے ، ان میں شکاف پر جائیں اور پانی گہرائیوں میں سے نکل کر غائب ہوجائے یا کسی اور طریقے سے ناپید ہوجائے۔ کیونکہ جس خدا نے اپنی قدرت سے پای کو زمین میں ٹھہرایا ہے وہ اپنی قدرت سے اسے غائب بھی کرسکتا ہے ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اسے روک رکھا ہے۔
اور یہ زندگی کی بو قلمو نیاں تو قائم ہی پانی سے ہیں۔
فانشا نا لکم بہ جنت من نخیل و اعناب لکم فیھا فواکہ کثیرۃ ومنھا تاکلون (23 : 19) ” پھر اس پانی کے ذریعے سے ہم نے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کردیئے “۔ تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو “۔ کھجور اور انگور دوہ نمونے ہیں ان نباتاتی اشیاء کے جو پانی سے پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ انسان اور حیوان نطفے کے پانی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں نمونے ایسے ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسی دور میں رچے بسے تھے جبکہ دوسرے تمام قسم کے فواکہ اور حیوانات بھی پانی ہی سے پیدا ہوئے ہیں ۔
دوسری تمام پیداوار مین زیتون کے درخت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
و شجرۃ تخرج من طور سیناء تنبت بالدھن وصبغ لااکلین (23 : 20) ” اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے ، تیل بھی لیے ہوئے نکلتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی “۔
یہ اکثر درختوں سے زیادہ مفید ہے اس کا تیل ، اس کا پھل اور اس کی ٹکڑی سب ہی مفید ہیں ۔ اور عربستاں کے قریب ترین مقامات جہاں یہ اگتا ہے ، طور سینا ہے۔ یہ اس وادی مقدس کے قریب ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی۔ لہذا اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔ یہ درخت بھی وہاں اس پانی کی وجہ پیدہوتا ہے جو زمین کے اندر کے اندر محفوظ ہے۔
اب نبا تات سے آگے عالم حیوانات پر ایک نظر
وان منھا تاکلون (21) وعلیھا وعلی الفلک تحملون (23 : 22) ” اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز (یعنی دودھ) ہم تمہیں پلاتے ہیں ، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں ۔ ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو “۔ یہ تمام مخلوقات انسان کے لیے اللہ کی قدرت نے مسخر کردی ہے اور اس کائنات میں یہ مخلوق مختلف قسم کے مقاصد پورے کررہی ہے۔ ان چیزوں میں عبرت ہے ، اس شخص کے لیے جو چشم بصیرت کے ساتھ ان کو دیکھے اور پھر عقل کے ساتھ ان چیزون کے دیکھے اور ان پر غور کرے۔ انسان دیکھتا ہے کہ وہ جو خوشگوار دودھ پیتا ہے۔ وہ ان جانوروں کے پیٹ سے نکلتا ہے ۔ یہ ہے خلاصہ اس غذا کا جو یہ جانور ہضم کرتے ہیں۔ اور پھر دودھ کے غدود سے اسے اس پاک و صاف سفید سیال مادے کی شکل دیتے ہیں جو نہایت ہی خوشگوار اور لطیف غذا بھی ہے۔
ولکم فیھا منافع کثیرۃّ (23 : 21) ” ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو “۔ اللہ نے انسانوں کے لیے مویشیوں کا کھان حلال قرار دیا ۔ مثلاً اونٹ ، گائے ، اور بھیڑ بکری۔ لیکن اللہ نے ان کو عذاب دینا اور مثلہ بنانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ کھانے سے تو ایک ضرورت پوری ہوتی ہے لیکن ان کو عذاب دینا تکلیف پہنچانا اور مثلہ بنانا بےفائدہ تعذیب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے قلب و نظر میں فساد ہے اور اس کی فطرط سلیمہ نہیں رہی ہے جبکہ اس فعل سے زندگی کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا۔
یہاں مویشیوں پر سواری کی منا سبت سے کشتیوں کی سواری کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ۔ کشتی بھی ایک کائناتی نظام کے تحت انسان کے لیے مسخر بنا دی گئی ہے اور اس نظام بحری سفر کے نظام میں بھی انسانوں کا مفاد ہے۔ پانی کو بھی انسان کے لیے مفید بنایا۔ پھر کشتی کو اس قابل بنایا کہ وہ پانی کے اوپر تیر رہی ہے اور ہوائوں کو اس طرح چلایا کہ وہ کشتیوں کو منزل مقصود مقصود تل لے جارہی ہیں۔ اگر ان امور میں سے کوئی امر بھی نہ ہو یعنی پانی ، کشتی ، اور ہوا تو بحری سفر مشکل ہوجائے ۔ آج بھی بحری سفر انہی سہولیات پر مبنی ہے۔
یہ تمام امور دلائل ایمان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ، بشرطیکہ کوئی فہم اور ادراک اور تفکر و تدبر کر رے ان پر غور کرے اور ان سب امور کا تعلق اس سورة کے پہلے اور دوسرے پیرا گراف کے ساتھ ہے۔ ان امور سے تمام پیرا گرف مربوط اور ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔
المؤمنون 23:20
ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22)
سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق انسان اور دوسرے مظاہر فطرت کو یکجا کیا گیا ہے۔
ولقد خلقنا فو قکم سبع طرائق وما کنا عن الخلق غفلین (23 : 17) ” اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے ، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نا بلد نہ تھے “۔ یہ سات راستے طرائق کیا ہیں ، یہ دراصل طبقات ہیں ، بعض ، بعض کے اوپر ہیں یا بعض دوسرے کی نسبت بہت دور ہیں ۔ سیع طرائق سے اہم فلکی مدار بھی ہوسکتے ہیں ۔ اور اسی طرح ان سے مرادوہ سات ، کہکشاں بھی ہو سکتے ہیں جس طرح ہم سورج کی کہکشاں میں بستے ہیں ، یا ان سے سات سدم بھی مراد ہوسکتے اور سدم سے مراد فلکیات والوں کے نزدیک ستاروں کے مجموعے (Nebula) ہیں۔ غرض مراد جو بھی ہو ، یہ سات فلکی مخلوق ہے اور یہ انسانوں کے اوپر ہے ، بہر حال یہ سبع طرائق زمین سے بلندی پر ہیں اور اسی فضائے کائنات میں ہیں ۔ اللہ نے اپنی سان حکیمانہ سے ان کو پیدا کیا ہے اور وہ اللہ وہ اللہ اپنی تخلیق سے غافل نہیں ہے۔
وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ فی الارض وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھرادیا ، ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یہاں یہ سات راستے زمین کے ساتھ جمع ہوجاتے ہیں ۔ پانی آسمان سے اترتا ہے۔ ان سات افلاک کے ساتھ پانی کا تعلق ہے۔ کیونکہ اس کائنات کا اس انداز پر پیدا کیا جانا ہی اس بات کا ضامن ہے کہ وہ آسمانوں سے پانی اتارتا ہے ، پھر یہ پانی کے اوپر ٹھرتا ہے ۔
یہ نظریہ کہ زمین کے اندر جو پانی ہے وہ بارشوں ہی کا پانی ہے ۔ یہ پانی مختلف راہوں سے زمین کے اندر جذب ہوجاتا ہے۔ یہ نظریہ بالکل ایک جدید نظریہ ہے۔ ماضی قریب تک لوگ یہ سوچتے تھے کہ بارش کے پانی اور زمین کے اندر کے پانی کا باہم کوئی تعلق نہیں ہے لیکن قرآن نے آج سے تقریباً تیرہ سو سال پہلے اس حقیقت کو بیان کردیا تھا۔
پھر اللہ نے اس پانی کو ٹھیک ٹھیک حساب کے مطابق اتارا ، نہ زیادہ اتارا کہ طوفان کی شکل میں سب کچھ غرق کردے اور نہ ضرورت سے کم اتارا کہ ملکوں کے اندر خشک سالی ہوجائے اور تروتازہ گی اور شادابی ختم ہوجائے۔ نہ بےموسم اتارا کہ پانی ضائع چلا جائے۔
فا سکنہ فی الارض (23 : 61) ” اور اس کو زمین میں ٹھرادیا “۔ تو یہ پانی بھی زمین میں ٹہرا ہوا ہے اور انسان کا نطف بھی قرار مکیں میں ٹھرا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بہترین مشابہت اور تقابل ہے۔ دونوں اللہ کی تدبیر سے ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ ایک زمین میں اور ایک رحم میں۔
وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یو کہ وہ زمین کے اندر دور تک گہرائیوں میں چلا جائے ، اور جن محفوظ مقامات کے اندر یہ بانی محفوظ رہتا ہے ، ان میں شکاف پر جائیں اور پانی گہرائیوں میں سے نکل کر غائب ہوجائے یا کسی اور طریقے سے ناپید ہوجائے۔ کیونکہ جس خدا نے اپنی قدرت سے پای کو زمین میں ٹھہرایا ہے وہ اپنی قدرت سے اسے غائب بھی کرسکتا ہے ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اسے روک رکھا ہے۔
اور یہ زندگی کی بو قلمو نیاں تو قائم ہی پانی سے ہیں۔
فانشا نا لکم بہ جنت من نخیل و اعناب لکم فیھا فواکہ کثیرۃ ومنھا تاکلون (23 : 19) ” پھر اس پانی کے ذریعے سے ہم نے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کردیئے “۔ تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو “۔ کھجور اور انگور دوہ نمونے ہیں ان نباتاتی اشیاء کے جو پانی سے پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ انسان اور حیوان نطفے کے پانی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں نمونے ایسے ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسی دور میں رچے بسے تھے جبکہ دوسرے تمام قسم کے فواکہ اور حیوانات بھی پانی ہی سے پیدا ہوئے ہیں ۔
دوسری تمام پیداوار مین زیتون کے درخت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
و شجرۃ تخرج من طور سیناء تنبت بالدھن وصبغ لااکلین (23 : 20) ” اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے ، تیل بھی لیے ہوئے نکلتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی “۔
یہ اکثر درختوں سے زیادہ مفید ہے اس کا تیل ، اس کا پھل اور اس کی ٹکڑی سب ہی مفید ہیں ۔ اور عربستاں کے قریب ترین مقامات جہاں یہ اگتا ہے ، طور سینا ہے۔ یہ اس وادی مقدس کے قریب ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی۔ لہذا اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔ یہ درخت بھی وہاں اس پانی کی وجہ پیدہوتا ہے جو زمین کے اندر کے اندر محفوظ ہے۔
اب نبا تات سے آگے عالم حیوانات پر ایک نظر
وان منھا تاکلون (21) وعلیھا وعلی الفلک تحملون (23 : 22) ” اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز (یعنی دودھ) ہم تمہیں پلاتے ہیں ، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں ۔ ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو “۔ یہ تمام مخلوقات انسان کے لیے اللہ کی قدرت نے مسخر کردی ہے اور اس کائنات میں یہ مخلوق مختلف قسم کے مقاصد پورے کررہی ہے۔ ان چیزوں میں عبرت ہے ، اس شخص کے لیے جو چشم بصیرت کے ساتھ ان کو دیکھے اور پھر عقل کے ساتھ ان چیزون کے دیکھے اور ان پر غور کرے۔ انسان دیکھتا ہے کہ وہ جو خوشگوار دودھ پیتا ہے۔ وہ ان جانوروں کے پیٹ سے نکلتا ہے ۔ یہ ہے خلاصہ اس غذا کا جو یہ جانور ہضم کرتے ہیں۔ اور پھر دودھ کے غدود سے اسے اس پاک و صاف سفید سیال مادے کی شکل دیتے ہیں جو نہایت ہی خوشگوار اور لطیف غذا بھی ہے۔
ولکم فیھا منافع کثیرۃّ (23 : 21) ” ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو “۔ اللہ نے انسانوں کے لیے مویشیوں کا کھان حلال قرار دیا ۔ مثلاً اونٹ ، گائے ، اور بھیڑ بکری۔ لیکن اللہ نے ان کو عذاب دینا اور مثلہ بنانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ کھانے سے تو ایک ضرورت پوری ہوتی ہے لیکن ان کو عذاب دینا تکلیف پہنچانا اور مثلہ بنانا بےفائدہ تعذیب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے قلب و نظر میں فساد ہے اور اس کی فطرط سلیمہ نہیں رہی ہے جبکہ اس فعل سے زندگی کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا۔
یہاں مویشیوں پر سواری کی منا سبت سے کشتیوں کی سواری کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ۔ کشتی بھی ایک کائناتی نظام کے تحت انسان کے لیے مسخر بنا دی گئی ہے اور اس نظام بحری سفر کے نظام میں بھی انسانوں کا مفاد ہے۔ پانی کو بھی انسان کے لیے مفید بنایا۔ پھر کشتی کو اس قابل بنایا کہ وہ پانی کے اوپر تیر رہی ہے اور ہوائوں کو اس طرح چلایا کہ وہ کشتیوں کو منزل مقصود مقصود تل لے جارہی ہیں۔ اگر ان امور میں سے کوئی امر بھی نہ ہو یعنی پانی ، کشتی ، اور ہوا تو بحری سفر مشکل ہوجائے ۔ آج بھی بحری سفر انہی سہولیات پر مبنی ہے۔
یہ تمام امور دلائل ایمان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ، بشرطیکہ کوئی فہم اور ادراک اور تفکر و تدبر کر رے ان پر غور کرے اور ان سب امور کا تعلق اس سورة کے پہلے اور دوسرے پیرا گراف کے ساتھ ہے۔ ان امور سے تمام پیرا گرف مربوط اور ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔
المؤمنون 23:21
ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22)
سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق انسان اور دوسرے مظاہر فطرت کو یکجا کیا گیا ہے۔
ولقد خلقنا فو قکم سبع طرائق وما کنا عن الخلق غفلین (23 : 17) ” اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے ، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نا بلد نہ تھے “۔ یہ سات راستے طرائق کیا ہیں ، یہ دراصل طبقات ہیں ، بعض ، بعض کے اوپر ہیں یا بعض دوسرے کی نسبت بہت دور ہیں ۔ سیع طرائق سے اہم فلکی مدار بھی ہوسکتے ہیں ۔ اور اسی طرح ان سے مرادوہ سات ، کہکشاں بھی ہو سکتے ہیں جس طرح ہم سورج کی کہکشاں میں بستے ہیں ، یا ان سے سات سدم بھی مراد ہوسکتے اور سدم سے مراد فلکیات والوں کے نزدیک ستاروں کے مجموعے (Nebula) ہیں۔ غرض مراد جو بھی ہو ، یہ سات فلکی مخلوق ہے اور یہ انسانوں کے اوپر ہے ، بہر حال یہ سبع طرائق زمین سے بلندی پر ہیں اور اسی فضائے کائنات میں ہیں ۔ اللہ نے اپنی سان حکیمانہ سے ان کو پیدا کیا ہے اور وہ اللہ وہ اللہ اپنی تخلیق سے غافل نہیں ہے۔
وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ فی الارض وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھرادیا ، ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یہاں یہ سات راستے زمین کے ساتھ جمع ہوجاتے ہیں ۔ پانی آسمان سے اترتا ہے۔ ان سات افلاک کے ساتھ پانی کا تعلق ہے۔ کیونکہ اس کائنات کا اس انداز پر پیدا کیا جانا ہی اس بات کا ضامن ہے کہ وہ آسمانوں سے پانی اتارتا ہے ، پھر یہ پانی کے اوپر ٹھرتا ہے ۔
یہ نظریہ کہ زمین کے اندر جو پانی ہے وہ بارشوں ہی کا پانی ہے ۔ یہ پانی مختلف راہوں سے زمین کے اندر جذب ہوجاتا ہے۔ یہ نظریہ بالکل ایک جدید نظریہ ہے۔ ماضی قریب تک لوگ یہ سوچتے تھے کہ بارش کے پانی اور زمین کے اندر کے پانی کا باہم کوئی تعلق نہیں ہے لیکن قرآن نے آج سے تقریباً تیرہ سو سال پہلے اس حقیقت کو بیان کردیا تھا۔
پھر اللہ نے اس پانی کو ٹھیک ٹھیک حساب کے مطابق اتارا ، نہ زیادہ اتارا کہ طوفان کی شکل میں سب کچھ غرق کردے اور نہ ضرورت سے کم اتارا کہ ملکوں کے اندر خشک سالی ہوجائے اور تروتازہ گی اور شادابی ختم ہوجائے۔ نہ بےموسم اتارا کہ پانی ضائع چلا جائے۔
فا سکنہ فی الارض (23 : 61) ” اور اس کو زمین میں ٹھرادیا “۔ تو یہ پانی بھی زمین میں ٹہرا ہوا ہے اور انسان کا نطف بھی قرار مکیں میں ٹھرا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بہترین مشابہت اور تقابل ہے۔ دونوں اللہ کی تدبیر سے ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ ایک زمین میں اور ایک رحم میں۔
وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یو کہ وہ زمین کے اندر دور تک گہرائیوں میں چلا جائے ، اور جن محفوظ مقامات کے اندر یہ بانی محفوظ رہتا ہے ، ان میں شکاف پر جائیں اور پانی گہرائیوں میں سے نکل کر غائب ہوجائے یا کسی اور طریقے سے ناپید ہوجائے۔ کیونکہ جس خدا نے اپنی قدرت سے پای کو زمین میں ٹھہرایا ہے وہ اپنی قدرت سے اسے غائب بھی کرسکتا ہے ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اسے روک رکھا ہے۔
اور یہ زندگی کی بو قلمو نیاں تو قائم ہی پانی سے ہیں۔
فانشا نا لکم بہ جنت من نخیل و اعناب لکم فیھا فواکہ کثیرۃ ومنھا تاکلون (23 : 19) ” پھر اس پانی کے ذریعے سے ہم نے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کردیئے “۔ تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو “۔ کھجور اور انگور دوہ نمونے ہیں ان نباتاتی اشیاء کے جو پانی سے پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ انسان اور حیوان نطفے کے پانی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں نمونے ایسے ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسی دور میں رچے بسے تھے جبکہ دوسرے تمام قسم کے فواکہ اور حیوانات بھی پانی ہی سے پیدا ہوئے ہیں ۔
دوسری تمام پیداوار مین زیتون کے درخت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
و شجرۃ تخرج من طور سیناء تنبت بالدھن وصبغ لااکلین (23 : 20) ” اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے ، تیل بھی لیے ہوئے نکلتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی “۔
یہ اکثر درختوں سے زیادہ مفید ہے اس کا تیل ، اس کا پھل اور اس کی ٹکڑی سب ہی مفید ہیں ۔ اور عربستاں کے قریب ترین مقامات جہاں یہ اگتا ہے ، طور سینا ہے۔ یہ اس وادی مقدس کے قریب ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی۔ لہذا اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔ یہ درخت بھی وہاں اس پانی کی وجہ پیدہوتا ہے جو زمین کے اندر کے اندر محفوظ ہے۔
اب نبا تات سے آگے عالم حیوانات پر ایک نظر
وان منھا تاکلون (21) وعلیھا وعلی الفلک تحملون (23 : 22) ” اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز (یعنی دودھ) ہم تمہیں پلاتے ہیں ، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں ۔ ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو “۔ یہ تمام مخلوقات انسان کے لیے اللہ کی قدرت نے مسخر کردی ہے اور اس کائنات میں یہ مخلوق مختلف قسم کے مقاصد پورے کررہی ہے۔ ان چیزوں میں عبرت ہے ، اس شخص کے لیے جو چشم بصیرت کے ساتھ ان کو دیکھے اور پھر عقل کے ساتھ ان چیزون کے دیکھے اور ان پر غور کرے۔ انسان دیکھتا ہے کہ وہ جو خوشگوار دودھ پیتا ہے۔ وہ ان جانوروں کے پیٹ سے نکلتا ہے ۔ یہ ہے خلاصہ اس غذا کا جو یہ جانور ہضم کرتے ہیں۔ اور پھر دودھ کے غدود سے اسے اس پاک و صاف سفید سیال مادے کی شکل دیتے ہیں جو نہایت ہی خوشگوار اور لطیف غذا بھی ہے۔
ولکم فیھا منافع کثیرۃّ (23 : 21) ” ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو “۔ اللہ نے انسانوں کے لیے مویشیوں کا کھان حلال قرار دیا ۔ مثلاً اونٹ ، گائے ، اور بھیڑ بکری۔ لیکن اللہ نے ان کو عذاب دینا اور مثلہ بنانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ کھانے سے تو ایک ضرورت پوری ہوتی ہے لیکن ان کو عذاب دینا تکلیف پہنچانا اور مثلہ بنانا بےفائدہ تعذیب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے قلب و نظر میں فساد ہے اور اس کی فطرط سلیمہ نہیں رہی ہے جبکہ اس فعل سے زندگی کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا۔
یہاں مویشیوں پر سواری کی منا سبت سے کشتیوں کی سواری کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ۔ کشتی بھی ایک کائناتی نظام کے تحت انسان کے لیے مسخر بنا دی گئی ہے اور اس نظام بحری سفر کے نظام میں بھی انسانوں کا مفاد ہے۔ پانی کو بھی انسان کے لیے مفید بنایا۔ پھر کشتی کو اس قابل بنایا کہ وہ پانی کے اوپر تیر رہی ہے اور ہوائوں کو اس طرح چلایا کہ وہ کشتیوں کو منزل مقصود مقصود تل لے جارہی ہیں۔ اگر ان امور میں سے کوئی امر بھی نہ ہو یعنی پانی ، کشتی ، اور ہوا تو بحری سفر مشکل ہوجائے ۔ آج بھی بحری سفر انہی سہولیات پر مبنی ہے۔
یہ تمام امور دلائل ایمان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ، بشرطیکہ کوئی فہم اور ادراک اور تفکر و تدبر کر رے ان پر غور کرے اور ان سب امور کا تعلق اس سورة کے پہلے اور دوسرے پیرا گراف کے ساتھ ہے۔ ان امور سے تمام پیرا گرف مربوط اور ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔
المؤمنون 23:22
ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22)
سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق انسان اور دوسرے مظاہر فطرت کو یکجا کیا گیا ہے۔
ولقد خلقنا فو قکم سبع طرائق وما کنا عن الخلق غفلین (23 : 17) ” اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے ، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نا بلد نہ تھے “۔ یہ سات راستے طرائق کیا ہیں ، یہ دراصل طبقات ہیں ، بعض ، بعض کے اوپر ہیں یا بعض دوسرے کی نسبت بہت دور ہیں ۔ سیع طرائق سے اہم فلکی مدار بھی ہوسکتے ہیں ۔ اور اسی طرح ان سے مرادوہ سات ، کہکشاں بھی ہو سکتے ہیں جس طرح ہم سورج کی کہکشاں میں بستے ہیں ، یا ان سے سات سدم بھی مراد ہوسکتے اور سدم سے مراد فلکیات والوں کے نزدیک ستاروں کے مجموعے (Nebula) ہیں۔ غرض مراد جو بھی ہو ، یہ سات فلکی مخلوق ہے اور یہ انسانوں کے اوپر ہے ، بہر حال یہ سبع طرائق زمین سے بلندی پر ہیں اور اسی فضائے کائنات میں ہیں ۔ اللہ نے اپنی سان حکیمانہ سے ان کو پیدا کیا ہے اور وہ اللہ وہ اللہ اپنی تخلیق سے غافل نہیں ہے۔
وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ فی الارض وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھرادیا ، ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یہاں یہ سات راستے زمین کے ساتھ جمع ہوجاتے ہیں ۔ پانی آسمان سے اترتا ہے۔ ان سات افلاک کے ساتھ پانی کا تعلق ہے۔ کیونکہ اس کائنات کا اس انداز پر پیدا کیا جانا ہی اس بات کا ضامن ہے کہ وہ آسمانوں سے پانی اتارتا ہے ، پھر یہ پانی کے اوپر ٹھرتا ہے ۔
یہ نظریہ کہ زمین کے اندر جو پانی ہے وہ بارشوں ہی کا پانی ہے ۔ یہ پانی مختلف راہوں سے زمین کے اندر جذب ہوجاتا ہے۔ یہ نظریہ بالکل ایک جدید نظریہ ہے۔ ماضی قریب تک لوگ یہ سوچتے تھے کہ بارش کے پانی اور زمین کے اندر کے پانی کا باہم کوئی تعلق نہیں ہے لیکن قرآن نے آج سے تقریباً تیرہ سو سال پہلے اس حقیقت کو بیان کردیا تھا۔
پھر اللہ نے اس پانی کو ٹھیک ٹھیک حساب کے مطابق اتارا ، نہ زیادہ اتارا کہ طوفان کی شکل میں سب کچھ غرق کردے اور نہ ضرورت سے کم اتارا کہ ملکوں کے اندر خشک سالی ہوجائے اور تروتازہ گی اور شادابی ختم ہوجائے۔ نہ بےموسم اتارا کہ پانی ضائع چلا جائے۔
فا سکنہ فی الارض (23 : 61) ” اور اس کو زمین میں ٹھرادیا “۔ تو یہ پانی بھی زمین میں ٹہرا ہوا ہے اور انسان کا نطف بھی قرار مکیں میں ٹھرا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بہترین مشابہت اور تقابل ہے۔ دونوں اللہ کی تدبیر سے ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ ایک زمین میں اور ایک رحم میں۔
وانا علی ذھاب بہ لقدرون (23 : 18) ” اور ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں “۔ یو کہ وہ زمین کے اندر دور تک گہرائیوں میں چلا جائے ، اور جن محفوظ مقامات کے اندر یہ بانی محفوظ رہتا ہے ، ان میں شکاف پر جائیں اور پانی گہرائیوں میں سے نکل کر غائب ہوجائے یا کسی اور طریقے سے ناپید ہوجائے۔ کیونکہ جس خدا نے اپنی قدرت سے پای کو زمین میں ٹھہرایا ہے وہ اپنی قدرت سے اسے غائب بھی کرسکتا ہے ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اسے روک رکھا ہے۔
اور یہ زندگی کی بو قلمو نیاں تو قائم ہی پانی سے ہیں۔
فانشا نا لکم بہ جنت من نخیل و اعناب لکم فیھا فواکہ کثیرۃ ومنھا تاکلون (23 : 19) ” پھر اس پانی کے ذریعے سے ہم نے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کردیئے “۔ تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو “۔ کھجور اور انگور دوہ نمونے ہیں ان نباتاتی اشیاء کے جو پانی سے پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ انسان اور حیوان نطفے کے پانی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں نمونے ایسے ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسی دور میں رچے بسے تھے جبکہ دوسرے تمام قسم کے فواکہ اور حیوانات بھی پانی ہی سے پیدا ہوئے ہیں ۔
دوسری تمام پیداوار مین زیتون کے درخت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
و شجرۃ تخرج من طور سیناء تنبت بالدھن وصبغ لااکلین (23 : 20) ” اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے ، تیل بھی لیے ہوئے نکلتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی “۔
یہ اکثر درختوں سے زیادہ مفید ہے اس کا تیل ، اس کا پھل اور اس کی ٹکڑی سب ہی مفید ہیں ۔ اور عربستاں کے قریب ترین مقامات جہاں یہ اگتا ہے ، طور سینا ہے۔ یہ اس وادی مقدس کے قریب ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی۔ لہذا اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔ یہ درخت بھی وہاں اس پانی کی وجہ پیدہوتا ہے جو زمین کے اندر کے اندر محفوظ ہے۔
اب نبا تات سے آگے عالم حیوانات پر ایک نظر
وان منھا تاکلون (21) وعلیھا وعلی الفلک تحملون (23 : 22) ” اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز (یعنی دودھ) ہم تمہیں پلاتے ہیں ، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں ۔ ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو “۔ یہ تمام مخلوقات انسان کے لیے اللہ کی قدرت نے مسخر کردی ہے اور اس کائنات میں یہ مخلوق مختلف قسم کے مقاصد پورے کررہی ہے۔ ان چیزوں میں عبرت ہے ، اس شخص کے لیے جو چشم بصیرت کے ساتھ ان کو دیکھے اور پھر عقل کے ساتھ ان چیزون کے دیکھے اور ان پر غور کرے۔ انسان دیکھتا ہے کہ وہ جو خوشگوار دودھ پیتا ہے۔ وہ ان جانوروں کے پیٹ سے نکلتا ہے ۔ یہ ہے خلاصہ اس غذا کا جو یہ جانور ہضم کرتے ہیں۔ اور پھر دودھ کے غدود سے اسے اس پاک و صاف سفید سیال مادے کی شکل دیتے ہیں جو نہایت ہی خوشگوار اور لطیف غذا بھی ہے۔
ولکم فیھا منافع کثیرۃّ (23 : 21) ” ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو “۔ اللہ نے انسانوں کے لیے مویشیوں کا کھان حلال قرار دیا ۔ مثلاً اونٹ ، گائے ، اور بھیڑ بکری۔ لیکن اللہ نے ان کو عذاب دینا اور مثلہ بنانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ کھانے سے تو ایک ضرورت پوری ہوتی ہے لیکن ان کو عذاب دینا تکلیف پہنچانا اور مثلہ بنانا بےفائدہ تعذیب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے قلب و نظر میں فساد ہے اور اس کی فطرط سلیمہ نہیں رہی ہے جبکہ اس فعل سے زندگی کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا۔
یہاں مویشیوں پر سواری کی منا سبت سے کشتیوں کی سواری کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ۔ کشتی بھی ایک کائناتی نظام کے تحت انسان کے لیے مسخر بنا دی گئی ہے اور اس نظام بحری سفر کے نظام میں بھی انسانوں کا مفاد ہے۔ پانی کو بھی انسان کے لیے مفید بنایا۔ پھر کشتی کو اس قابل بنایا کہ وہ پانی کے اوپر تیر رہی ہے اور ہوائوں کو اس طرح چلایا کہ وہ کشتیوں کو منزل مقصود مقصود تل لے جارہی ہیں۔ اگر ان امور میں سے کوئی امر بھی نہ ہو یعنی پانی ، کشتی ، اور ہوا تو بحری سفر مشکل ہوجائے ۔ آج بھی بحری سفر انہی سہولیات پر مبنی ہے۔
یہ تمام امور دلائل ایمان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ، بشرطیکہ کوئی فہم اور ادراک اور تفکر و تدبر کر رے ان پر غور کرے اور ان سب امور کا تعلق اس سورة کے پہلے اور دوسرے پیرا گراف کے ساتھ ہے۔ ان امور سے تمام پیرا گرف مربوط اور ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔
المؤمنون 23:23
درس نمبر 149 تشریح آیات 23 تا 52
اس سبق کا مضمون اب دلائل النفس و آفاق سے براہ راست عقیدہ توحید کی طرف آجاتا ہے جو تمام انبیاء کا مدار دعوت رہے ہے اور تمام رسول اس کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام رسولوں نے تمام زمانوں میں لوگوں کو اسی عقیدے کے طرف بلایا اور تمام رسولوں کا استقبال ان کی امتوں نے کس طرح کیا۔ اس دعوت کے مقابلے میں ان کا رد عمل کیسا رہا۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آج تک تمام رسولوں نے کلمہ توحید کی طرف دعوت دی جس کا مفہوم عربی زبان میں یوں رہا کہ تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے کیونکہ تمام رسول دعوت اپنی قوم کی زبان ہی میں دیتے تھے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی وہی بات کی جو آپ کے بعد دوسرے رسولوں نے اپنی اپنی اقوام کے سامنے کی اور تمام امتوں نے ایک ہی جواب دیا ۔ حالانکہ ان امم کے درمیان زمان و مکان کے طویل فاصلے تھے۔
ولقد حین (آیت نمبر 25 تا 22)
بقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ (23 : 23) ” اے میری قوم کے لوگوں ، اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں ہے “۔ یہ وہ کلمہ ہے جو تمام رسولوں کی دعوت ہے ، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ پوری کائنات اس کلمے پر قائم ہے۔ یہ پوری کائنات اس کے لیے شاید بھی
افا تتقون (32 : 32) کیا تم ڈرتے نہیں ہو ۔ یعنی تم اس انکار کے انجام بد نہیں درتے جو تم اس عظیم حقیقت کے حوالے سے کرتے ہو۔ حالانکہ تمام دوسرے حقائق اس حقیقت کا نتیجہ ہیں اور تمہارا انکار اس عظیم حقیقت پر دست درازی ہے اور جو قوم اس حقیقت کا انکار کرے ، وہ لازماً عظیم عذاب کے مستحق بن جاتی ہے۔
لیکن حضرت نوح کے حوالے سے کرتے ہو ۔ حالانکہ تمام دوسرے حقائق اس کا نتیجہ ہیں اور تمہارا نکار اس عظیم حقیقت پر دست درازی ہے اور جو قوم اس حقیقت کا انکار کرے ، وہ لازماً عظیم عذاب کا مستحکم بن جاتی ہے۔
لیکن حضرت نوح کی قوم کے یہ کبراء اور بااثر لوگ اس کلمے کے سچ ہونے میں شک و شبے کا اظہار نہیں کرتے نہ وہ اس کلمے کے بارے میں کسی ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں ، نہ اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔ وہ دراصل اپنی شخصیات کی تنگ نظری میں گرفتار ہیں اور اس سے وہ اپنے آپ کو نہیں چھڑا سکتے۔ ان کی سوچ داعی کی شخصیت تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ ان کو یہ توفیق نہیں ہے کہ ذرا اس محدود سوچ سے بلند ہو کر اس عظیم حقیقت پر غور کریں جسے حضرت نوح (علیہ السلام) پیش فرماتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے حضرت نوح کی اصولی اور عظیم دعوت کے بارے میں کچھ کی بجائے حضرت نوح کی شخصیت پر اظہار خیال شروع کردیا حالانکہ یہ پوری کائنات حضرت نوح کے نظریہ اور دعوت پر شاید عادل ہے اور دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص کہتا کہا ہے۔ یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ کہتا کون ہے۔
فقال الملئو الذین کفرو من قومہ ھذآ انا بشر مثلکم یرید ان تتفضل علیکم (32 : 24) ” اس قوم کے سرداروں نے ماننے سے انکار کیا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر اس ایک بشر تیم ہی جیسا ، اس کی غرض یہ ہے کہ تم پر تری حاصل کرے “۔ حضرت نوح کی قوم نے ان کے معاملے کو اور اس عظیم دعوت کو نہایت ہی تنگ نظری اور کوتاہ بینی سے دیکھا چناچہ اپنی اس تنگ نظری اور کو تا بینی کی وجہ سے وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ اس دعوت کی حقیقت کو سمجھ سکتے یا اس کے نتائج کا ادراک کرسکتے۔ ان کی معتبر اور جھوٹی شخصیات نے اس کی دعوت کی حقیقت اور اس کے جوہر کو ان کی نظروں سے اوجھل رکھا۔ وہ اندھے بنے رہے اور ان کے اور اس دعوت کے درمیاں ان کے اس اندھے پن کی وجہ سے پردے حائل ہوگئے۔ ان کا نقطہ نظر داعی کی شخصیت کے دائرے سے نہ نکل سکا۔ بس وہ یہ سمجھ سکے کہ اگر ہم اس دعوت کو قبول کریں تو نوح جیسا عام شخص ایک عظیم شخص بن جائے گا۔ ظاہر ہے کہ ہامرے ایمان لاتئے ہی وہ ہمارا پیشوا اور بڑا آدمی بن جائے گا۔
ان لوگوں نے اپنی تنگ نظری کی وجہ سے یہ سمجھا کہ حضرت نوح صرف اپنی شخصیت کے لیے کام کررہے ہیں اور انہوں نے اسی لیے نبوت کا دعویٰ بھی کیا ہے لیکن اپنی اس کوتاہ بینی کی وجہ سے وہ صرف حضرت نوح کی فضیلت ہی کا انکار نہیں کردیتے بلکہ دراصل لوگ انسانیت کے ملنے والی ایک عظیم فضیلت کا بھی انکار کردیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو جنس بشر کو یہ عزت اس لیے دی تھی کہ وہ اس نے ایک سوچنے والی مخلوق پیدا کی تھی۔ ان لوگوں کی سوچ یہ تھی کہ اگر اللہ کسی کو نبی بنا کر بھیجتا تو لازماً اس شخص کو ملائکہ میں سے ہونا چاہیے تھا۔ گویا یہ لوگ انسانیت کو اس شرف سے محروم رکھنا چاہتے تھے۔
ولو شاء اللہ لا نزل ملئکۃ (23 : 24) ” اللہ کو اگر رسول بھیجنا ہوتا تو فرشتے بھیجتا “۔ یہ بات وہ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی روح می نووہ قوت نہیں ہے جو انہیں عالم بالا سے مربوط کرے تاکہ وہ اس بات پر یقین کرسکیں کہ انسانوں میں سے مختار لوگ عالم بالا سے فیض حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنے دوسرے بھائیوں کو ہدایت دے سکتے ہیں اور انہیں اللہ سے جوڑ سکتے ہیں۔
یہ لوگ اس اہم معاملے کو اب اپنے آبائو اجداد سے مالوف افکار کی روشنی میں سوچتے ہیں۔
ما سمعنا بھذا فی ابآء ن الاولین (23 : 24) ” یہ بات تو کبھی ہم نے اپنے باپ دادا کے وقتوں میں نہیں سنی “۔ جب تقلید انسان کے قلب و نظر کو بھجادیتی ہے جس طرح آگ بجھ جاتی ہے اور جب انسانی سوچ اپنا کام چھوڑ دیتی ہے تو لوگ انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں سوچنا بند کردیتے ہیں۔ اگر ان کو اپنی جاہلی روایات میں کوئی بات نہ ملے تو وہ اس بات کو ماننے سے ہی انکار کردیتے ہیں۔ بس یہ لوگ پیچھے ہی کی طرف دیکھتے ہیں۔
ان جامد اور بجھی ہوئی سوسائٹیوں کا طرزعمل یہ ہوتا ہے اور ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ جو بات ایک بار ہوجائے وہ دوبارہ ہوسکتی ہے اور جو بات کبھی وقوع پذیر نہیں ہوئی اس کا وقوع ممکن نہیں ہے۔ یوں ان کی زندگی میں جمود آجاتا ہے۔ زندگی متحرک نہیں رہتی اور لوگ صرف ابن اقدامات کے تنگ دائرے تک محدود ہوجاتے ہیں جو ان کے آباء و اجداد میں کبھی ہوئے تھے۔
اے کاش کہ اس قسم کے لوگ یہ سوچ سکتے کہ وہ جامد اور مقلد ہیں اور وہ الٹے ان لوگوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں جو حریت فکر اور سوچ کی دعوت دیتے ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ وجود کائنات میں پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور و فکر کریں۔ لیکن یہ لوگ حریت فکر کی اس دعوت کا جواب نہایت ہی مذاق اور الزام تراشیوں سے دیتے ہیں۔
ان ھو الا رجل جنۃ فتربصو ابہ حتی حین (23 : 25) ” کچھ نہیں بس اس آدمی کو ذرا جنوں لاحق ہوگیا “۔ کچھ مدت دیکھو تو یعنی ذرا انتظار کرلو یہ مر جائے تمہاری جان چھوٹ جائے گی۔ اس سے بھی اور اس کی دعوت سے بھی۔ اور تمہیں اس کی دعوت کا جواب دینے کی بھی ضرورت نہ رہے گی۔
ان لوگوں کا انکار اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے دلوں تک دعوت اسلامی گو پہنچانے کے لیے کوئی راہ نہیں پاتے اور ان کی جانب سے مذاق اور ایذا رسانی سے بھی ان کو کوئی جائے پناہ نہیں مل رہی ہے۔ اب وہ اپنے رب کی طرف ہی متوجہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے رب سے اپنی مشکلات پر نصرت کے طلبگار ہیں۔
المؤمنون 23:24
درس نمبر 149 تشریح آیات 23 تا 52
اس سبق کا مضمون اب دلائل النفس و آفاق سے براہ راست عقیدہ توحید کی طرف آجاتا ہے جو تمام انبیاء کا مدار دعوت رہے ہے اور تمام رسول اس کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام رسولوں نے تمام زمانوں میں لوگوں کو اسی عقیدے کے طرف بلایا اور تمام رسولوں کا استقبال ان کی امتوں نے کس طرح کیا۔ اس دعوت کے مقابلے میں ان کا رد عمل کیسا رہا۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آج تک تمام رسولوں نے کلمہ توحید کی طرف دعوت دی جس کا مفہوم عربی زبان میں یوں رہا کہ تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے کیونکہ تمام رسول دعوت اپنی قوم کی زبان ہی میں دیتے تھے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی وہی بات کی جو آپ کے بعد دوسرے رسولوں نے اپنی اپنی اقوام کے سامنے کی اور تمام امتوں نے ایک ہی جواب دیا ۔ حالانکہ ان امم کے درمیان زمان و مکان کے طویل فاصلے تھے۔
ولقد حین (آیت نمبر 25 تا 22)
بقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ (23 : 23) ” اے میری قوم کے لوگوں ، اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں ہے “۔ یہ وہ کلمہ ہے جو تمام رسولوں کی دعوت ہے ، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ پوری کائنات اس کلمے پر قائم ہے۔ یہ پوری کائنات اس کے لیے شاید بھی
افا تتقون (32 : 32) کیا تم ڈرتے نہیں ہو ۔ یعنی تم اس انکار کے انجام بد نہیں درتے جو تم اس عظیم حقیقت کے حوالے سے کرتے ہو۔ حالانکہ تمام دوسرے حقائق اس حقیقت کا نتیجہ ہیں اور تمہارا انکار اس عظیم حقیقت پر دست درازی ہے اور جو قوم اس حقیقت کا انکار کرے ، وہ لازماً عظیم عذاب کے مستحق بن جاتی ہے۔
لیکن حضرت نوح کے حوالے سے کرتے ہو ۔ حالانکہ تمام دوسرے حقائق اس کا نتیجہ ہیں اور تمہارا نکار اس عظیم حقیقت پر دست درازی ہے اور جو قوم اس حقیقت کا انکار کرے ، وہ لازماً عظیم عذاب کا مستحکم بن جاتی ہے۔
لیکن حضرت نوح کی قوم کے یہ کبراء اور بااثر لوگ اس کلمے کے سچ ہونے میں شک و شبے کا اظہار نہیں کرتے نہ وہ اس کلمے کے بارے میں کسی ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں ، نہ اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔ وہ دراصل اپنی شخصیات کی تنگ نظری میں گرفتار ہیں اور اس سے وہ اپنے آپ کو نہیں چھڑا سکتے۔ ان کی سوچ داعی کی شخصیت تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ ان کو یہ توفیق نہیں ہے کہ ذرا اس محدود سوچ سے بلند ہو کر اس عظیم حقیقت پر غور کریں جسے حضرت نوح (علیہ السلام) پیش فرماتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے حضرت نوح کی اصولی اور عظیم دعوت کے بارے میں کچھ کی بجائے حضرت نوح کی شخصیت پر اظہار خیال شروع کردیا حالانکہ یہ پوری کائنات حضرت نوح کے نظریہ اور دعوت پر شاید عادل ہے اور دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص کہتا کہا ہے۔ یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ کہتا کون ہے۔
فقال الملئو الذین کفرو من قومہ ھذآ انا بشر مثلکم یرید ان تتفضل علیکم (32 : 24) ” اس قوم کے سرداروں نے ماننے سے انکار کیا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر اس ایک بشر تیم ہی جیسا ، اس کی غرض یہ ہے کہ تم پر تری حاصل کرے “۔ حضرت نوح کی قوم نے ان کے معاملے کو اور اس عظیم دعوت کو نہایت ہی تنگ نظری اور کوتاہ بینی سے دیکھا چناچہ اپنی اس تنگ نظری اور کو تا بینی کی وجہ سے وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ اس دعوت کی حقیقت کو سمجھ سکتے یا اس کے نتائج کا ادراک کرسکتے۔ ان کی معتبر اور جھوٹی شخصیات نے اس کی دعوت کی حقیقت اور اس کے جوہر کو ان کی نظروں سے اوجھل رکھا۔ وہ اندھے بنے رہے اور ان کے اور اس دعوت کے درمیاں ان کے اس اندھے پن کی وجہ سے پردے حائل ہوگئے۔ ان کا نقطہ نظر داعی کی شخصیت کے دائرے سے نہ نکل سکا۔ بس وہ یہ سمجھ سکے کہ اگر ہم اس دعوت کو قبول کریں تو نوح جیسا عام شخص ایک عظیم شخص بن جائے گا۔ ظاہر ہے کہ ہامرے ایمان لاتئے ہی وہ ہمارا پیشوا اور بڑا آدمی بن جائے گا۔
ان لوگوں نے اپنی تنگ نظری کی وجہ سے یہ سمجھا کہ حضرت نوح صرف اپنی شخصیت کے لیے کام کررہے ہیں اور انہوں نے اسی لیے نبوت کا دعویٰ بھی کیا ہے لیکن اپنی اس کوتاہ بینی کی وجہ سے وہ صرف حضرت نوح کی فضیلت ہی کا انکار نہیں کردیتے بلکہ دراصل لوگ انسانیت کے ملنے والی ایک عظیم فضیلت کا بھی انکار کردیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو جنس بشر کو یہ عزت اس لیے دی تھی کہ وہ اس نے ایک سوچنے والی مخلوق پیدا کی تھی۔ ان لوگوں کی سوچ یہ تھی کہ اگر اللہ کسی کو نبی بنا کر بھیجتا تو لازماً اس شخص کو ملائکہ میں سے ہونا چاہیے تھا۔ گویا یہ لوگ انسانیت کو اس شرف سے محروم رکھنا چاہتے تھے۔
ولو شاء اللہ لا نزل ملئکۃ (23 : 24) ” اللہ کو اگر رسول بھیجنا ہوتا تو فرشتے بھیجتا “۔ یہ بات وہ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی روح می نووہ قوت نہیں ہے جو انہیں عالم بالا سے مربوط کرے تاکہ وہ اس بات پر یقین کرسکیں کہ انسانوں میں سے مختار لوگ عالم بالا سے فیض حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنے دوسرے بھائیوں کو ہدایت دے سکتے ہیں اور انہیں اللہ سے جوڑ سکتے ہیں۔
یہ لوگ اس اہم معاملے کو اب اپنے آبائو اجداد سے مالوف افکار کی روشنی میں سوچتے ہیں۔
ما سمعنا بھذا فی ابآء ن الاولین (23 : 24) ” یہ بات تو کبھی ہم نے اپنے باپ دادا کے وقتوں میں نہیں سنی “۔ جب تقلید انسان کے قلب و نظر کو بھجادیتی ہے جس طرح آگ بجھ جاتی ہے اور جب انسانی سوچ اپنا کام چھوڑ دیتی ہے تو لوگ انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں سوچنا بند کردیتے ہیں۔ اگر ان کو اپنی جاہلی روایات میں کوئی بات نہ ملے تو وہ اس بات کو ماننے سے ہی انکار کردیتے ہیں۔ بس یہ لوگ پیچھے ہی کی طرف دیکھتے ہیں۔
ان جامد اور بجھی ہوئی سوسائٹیوں کا طرزعمل یہ ہوتا ہے اور ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ جو بات ایک بار ہوجائے وہ دوبارہ ہوسکتی ہے اور جو بات کبھی وقوع پذیر نہیں ہوئی اس کا وقوع ممکن نہیں ہے۔ یوں ان کی زندگی میں جمود آجاتا ہے۔ زندگی متحرک نہیں رہتی اور لوگ صرف ابن اقدامات کے تنگ دائرے تک محدود ہوجاتے ہیں جو ان کے آباء و اجداد میں کبھی ہوئے تھے۔
اے کاش کہ اس قسم کے لوگ یہ سوچ سکتے کہ وہ جامد اور مقلد ہیں اور وہ الٹے ان لوگوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں جو حریت فکر اور سوچ کی دعوت دیتے ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ وجود کائنات میں پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور و فکر کریں۔ لیکن یہ لوگ حریت فکر کی اس دعوت کا جواب نہایت ہی مذاق اور الزام تراشیوں سے دیتے ہیں۔
ان ھو الا رجل جنۃ فتربصو ابہ حتی حین (23 : 25) ” کچھ نہیں بس اس آدمی کو ذرا جنوں لاحق ہوگیا “۔ کچھ مدت دیکھو تو یعنی ذرا انتظار کرلو یہ مر جائے تمہاری جان چھوٹ جائے گی۔ اس سے بھی اور اس کی دعوت سے بھی۔ اور تمہیں اس کی دعوت کا جواب دینے کی بھی ضرورت نہ رہے گی۔
ان لوگوں کا انکار اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے دلوں تک دعوت اسلامی گو پہنچانے کے لیے کوئی راہ نہیں پاتے اور ان کی جانب سے مذاق اور ایذا رسانی سے بھی ان کو کوئی جائے پناہ نہیں مل رہی ہے۔ اب وہ اپنے رب کی طرف ہی متوجہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے رب سے اپنی مشکلات پر نصرت کے طلبگار ہیں۔
المؤمنون 23:25
درس نمبر 149 تشریح آیات 23 تا 52
اس سبق کا مضمون اب دلائل النفس و آفاق سے براہ راست عقیدہ توحید کی طرف آجاتا ہے جو تمام انبیاء کا مدار دعوت رہے ہے اور تمام رسول اس کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام رسولوں نے تمام زمانوں میں لوگوں کو اسی عقیدے کے طرف بلایا اور تمام رسولوں کا استقبال ان کی امتوں نے کس طرح کیا۔ اس دعوت کے مقابلے میں ان کا رد عمل کیسا رہا۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آج تک تمام رسولوں نے کلمہ توحید کی طرف دعوت دی جس کا مفہوم عربی زبان میں یوں رہا کہ تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے کیونکہ تمام رسول دعوت اپنی قوم کی زبان ہی میں دیتے تھے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی وہی بات کی جو آپ کے بعد دوسرے رسولوں نے اپنی اپنی اقوام کے سامنے کی اور تمام امتوں نے ایک ہی جواب دیا ۔ حالانکہ ان امم کے درمیان زمان و مکان کے طویل فاصلے تھے۔
ولقد حین (آیت نمبر 25 تا 22)
بقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ (23 : 23) ” اے میری قوم کے لوگوں ، اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں ہے “۔ یہ وہ کلمہ ہے جو تمام رسولوں کی دعوت ہے ، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ پوری کائنات اس کلمے پر قائم ہے۔ یہ پوری کائنات اس کے لیے شاید بھی
افا تتقون (32 : 32) کیا تم ڈرتے نہیں ہو ۔ یعنی تم اس انکار کے انجام بد نہیں درتے جو تم اس عظیم حقیقت کے حوالے سے کرتے ہو۔ حالانکہ تمام دوسرے حقائق اس حقیقت کا نتیجہ ہیں اور تمہارا انکار اس عظیم حقیقت پر دست درازی ہے اور جو قوم اس حقیقت کا انکار کرے ، وہ لازماً عظیم عذاب کے مستحق بن جاتی ہے۔
لیکن حضرت نوح کے حوالے سے کرتے ہو ۔ حالانکہ تمام دوسرے حقائق اس کا نتیجہ ہیں اور تمہارا نکار اس عظیم حقیقت پر دست درازی ہے اور جو قوم اس حقیقت کا انکار کرے ، وہ لازماً عظیم عذاب کا مستحکم بن جاتی ہے۔
لیکن حضرت نوح کی قوم کے یہ کبراء اور بااثر لوگ اس کلمے کے سچ ہونے میں شک و شبے کا اظہار نہیں کرتے نہ وہ اس کلمے کے بارے میں کسی ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں ، نہ اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔ وہ دراصل اپنی شخصیات کی تنگ نظری میں گرفتار ہیں اور اس سے وہ اپنے آپ کو نہیں چھڑا سکتے۔ ان کی سوچ داعی کی شخصیت تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ ان کو یہ توفیق نہیں ہے کہ ذرا اس محدود سوچ سے بلند ہو کر اس عظیم حقیقت پر غور کریں جسے حضرت نوح (علیہ السلام) پیش فرماتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے حضرت نوح کی اصولی اور عظیم دعوت کے بارے میں کچھ کی بجائے حضرت نوح کی شخصیت پر اظہار خیال شروع کردیا حالانکہ یہ پوری کائنات حضرت نوح کے نظریہ اور دعوت پر شاید عادل ہے اور دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص کہتا کہا ہے۔ یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ کہتا کون ہے۔
فقال الملئو الذین کفرو من قومہ ھذآ انا بشر مثلکم یرید ان تتفضل علیکم (32 : 24) ” اس قوم کے سرداروں نے ماننے سے انکار کیا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر اس ایک بشر تیم ہی جیسا ، اس کی غرض یہ ہے کہ تم پر تری حاصل کرے “۔ حضرت نوح کی قوم نے ان کے معاملے کو اور اس عظیم دعوت کو نہایت ہی تنگ نظری اور کوتاہ بینی سے دیکھا چناچہ اپنی اس تنگ نظری اور کو تا بینی کی وجہ سے وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ اس دعوت کی حقیقت کو سمجھ سکتے یا اس کے نتائج کا ادراک کرسکتے۔ ان کی معتبر اور جھوٹی شخصیات نے اس کی دعوت کی حقیقت اور اس کے جوہر کو ان کی نظروں سے اوجھل رکھا۔ وہ اندھے بنے رہے اور ان کے اور اس دعوت کے درمیاں ان کے اس اندھے پن کی وجہ سے پردے حائل ہوگئے۔ ان کا نقطہ نظر داعی کی شخصیت کے دائرے سے نہ نکل سکا۔ بس وہ یہ سمجھ سکے کہ اگر ہم اس دعوت کو قبول کریں تو نوح جیسا عام شخص ایک عظیم شخص بن جائے گا۔ ظاہر ہے کہ ہامرے ایمان لاتئے ہی وہ ہمارا پیشوا اور بڑا آدمی بن جائے گا۔
ان لوگوں نے اپنی تنگ نظری کی وجہ سے یہ سمجھا کہ حضرت نوح صرف اپنی شخصیت کے لیے کام کررہے ہیں اور انہوں نے اسی لیے نبوت کا دعویٰ بھی کیا ہے لیکن اپنی اس کوتاہ بینی کی وجہ سے وہ صرف حضرت نوح کی فضیلت ہی کا انکار نہیں کردیتے بلکہ دراصل لوگ انسانیت کے ملنے والی ایک عظیم فضیلت کا بھی انکار کردیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو جنس بشر کو یہ عزت اس لیے دی تھی کہ وہ اس نے ایک سوچنے والی مخلوق پیدا کی تھی۔ ان لوگوں کی سوچ یہ تھی کہ اگر اللہ کسی کو نبی بنا کر بھیجتا تو لازماً اس شخص کو ملائکہ میں سے ہونا چاہیے تھا۔ گویا یہ لوگ انسانیت کو اس شرف سے محروم رکھنا چاہتے تھے۔
ولو شاء اللہ لا نزل ملئکۃ (23 : 24) ” اللہ کو اگر رسول بھیجنا ہوتا تو فرشتے بھیجتا “۔ یہ بات وہ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی روح می نووہ قوت نہیں ہے جو انہیں عالم بالا سے مربوط کرے تاکہ وہ اس بات پر یقین کرسکیں کہ انسانوں میں سے مختار لوگ عالم بالا سے فیض حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنے دوسرے بھائیوں کو ہدایت دے سکتے ہیں اور انہیں اللہ سے جوڑ سکتے ہیں۔
یہ لوگ اس اہم معاملے کو اب اپنے آبائو اجداد سے مالوف افکار کی روشنی میں سوچتے ہیں۔
ما سمعنا بھذا فی ابآء ن الاولین (23 : 24) ” یہ بات تو کبھی ہم نے اپنے باپ دادا کے وقتوں میں نہیں سنی “۔ جب تقلید انسان کے قلب و نظر کو بھجادیتی ہے جس طرح آگ بجھ جاتی ہے اور جب انسانی سوچ اپنا کام چھوڑ دیتی ہے تو لوگ انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں سوچنا بند کردیتے ہیں۔ اگر ان کو اپنی جاہلی روایات میں کوئی بات نہ ملے تو وہ اس بات کو ماننے سے ہی انکار کردیتے ہیں۔ بس یہ لوگ پیچھے ہی کی طرف دیکھتے ہیں۔
ان جامد اور بجھی ہوئی سوسائٹیوں کا طرزعمل یہ ہوتا ہے اور ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ جو بات ایک بار ہوجائے وہ دوبارہ ہوسکتی ہے اور جو بات کبھی وقوع پذیر نہیں ہوئی اس کا وقوع ممکن نہیں ہے۔ یوں ان کی زندگی میں جمود آجاتا ہے۔ زندگی متحرک نہیں رہتی اور لوگ صرف ابن اقدامات کے تنگ دائرے تک محدود ہوجاتے ہیں جو ان کے آباء و اجداد میں کبھی ہوئے تھے۔
اے کاش کہ اس قسم کے لوگ یہ سوچ سکتے کہ وہ جامد اور مقلد ہیں اور وہ الٹے ان لوگوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں جو حریت فکر اور سوچ کی دعوت دیتے ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ وجود کائنات میں پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور و فکر کریں۔ لیکن یہ لوگ حریت فکر کی اس دعوت کا جواب نہایت ہی مذاق اور الزام تراشیوں سے دیتے ہیں۔
ان ھو الا رجل جنۃ فتربصو ابہ حتی حین (23 : 25) ” کچھ نہیں بس اس آدمی کو ذرا جنوں لاحق ہوگیا “۔ کچھ مدت دیکھو تو یعنی ذرا انتظار کرلو یہ مر جائے تمہاری جان چھوٹ جائے گی۔ اس سے بھی اور اس کی دعوت سے بھی۔ اور تمہیں اس کی دعوت کا جواب دینے کی بھی ضرورت نہ رہے گی۔
ان لوگوں کا انکار اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے دلوں تک دعوت اسلامی گو پہنچانے کے لیے کوئی راہ نہیں پاتے اور ان کی جانب سے مذاق اور ایذا رسانی سے بھی ان کو کوئی جائے پناہ نہیں مل رہی ہے۔ اب وہ اپنے رب کی طرف ہی متوجہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے رب سے اپنی مشکلات پر نصرت کے طلبگار ہیں۔
المؤمنون 23:26
قال کذبون (26)
جب زندہ انسان اس طرح پتھروں کی طرح جمود اختیار کرلیں۔ زندگی آگے بڑھنا رک جائے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے ترقی و کمال کے جو مدارج مقرر کر رکھے ہیں۔ انسان اس کی طرف برھنا چھوڑ دیں تو ایسے انسان انسانی ترقی کی راہ میں روڑہ بن جاتے ہیں۔ اب دو ہی صورتیں ہوتی ہیں یا تو زندگی کو اس جگہ پر جامد چھوڑ دیا جائے اور یا پھر انکو پاش پاش کردیا جائے جس نے زندگی کی گا ڑی کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں یہی فیصلہ ہوا کہ اسے انسانیت کی راہ سے برطرف کردیا جائے۔ کیونکہ حضرت نوح السلام کا دور آغاز انسانیت کا دور ہے ۔ اس لیے اللہ نے انسانیت کی راہ میں اس بھاری پتھر کو ایک طرف پھینک دیا۔
المؤمنون 23:27
فاوحینا مغرقون آیت نمبر (27) ”
یوں سنت الہیہ نے زندگی کی ترقی اور نشونما کی راہ سے یہ روڑا ، قوم نوح کا روڑا دور کیا۔ تاکہ اسانی زندگی شاہراہ ترقی پر آگے بڑھے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں انسانیت کی نشو نما کا آغاز ہوا تھا ، اور آغاز کے ساتھ ہی اس میں ٹھہرائو اور جمود پیدا کیا جس طرح کسی نازک پودے کو زمین سے نکلتے ہی آفات سماوی یا اور کوئی مشکلات درپیش ہوجائیں اور وہ مرجھاجائے اور خشک ہوجائے جبکہ وہ ناتواں ہو۔ ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے طوفان ایک بہترین علاج تھا۔ یاد رہے کہ طوفان زمین کو دھوا ڈالتا ہے اور طوفان زمین کو دھو ڈلتا ہے اور طوفان کے بعد اس زمین فصل اگتی ہے ۔ اسی طرح زمین کو قوم نوح کی گندگی سے پاک کردیا گیا تاکہ اس کہ اس کرئہ ارض پر درست زندگی کا آغاز از سر نو کیا جائے اور انسانی زندگی بحسن و خوبی شاہراہ ترقی پر گامزن ہو سکے۔
فا و حینا الیہ ان اصنع الفلک با عیننا (23 : 27) ”“ ہم نے اس پر وحی کی کہ ہماری نگرانی اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر “۔ یہ کشتی طوفان سے نجات کا ذریعہ تھی اور پھر ان لوگوں کے بچنے کی تدبیر بھی تھی جو ایمان لاچکے تھے تاکہ آئندہ کے لیے نسل کی بقا کا سامان ہو جس طرح چیزکا بیچ محفوظ کرکے بویا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی مثیت یہ تھی کہ حضرت نوح یہ کشتی اپنے ہاتھ سے تیار کریں۔ اس میں یہ سبق تھا کہ انسان نے اس زمین پر زندگی اسباب و وسائل کے مطابق گزارنی ہے اور زندگی بسر کرنے کے لیے ہر انسان نے پوری پوری جدو جہد کرنی ہے تا کہ وہ اپنے رب کی طرف سے امداد کا مستحق ہوجائے کیونکہ اللہ کی امداد صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو ان تھک جدو جہد کرتے ہیں ، ان کو نہیں ملتی جو ہر وقت عیش و عشرتم میں مگن رہتے ہیں اور آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ وہ لوگ جو صرف دوسروں کا انتظار کرتے اور اس کے سوا کسی اور چیز کے لیے جدو جہد نہیں کرتے۔ حضرت نوح کے بارے میں اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ وہ انسانوں کے آدم ثانی ہوں۔ اس لیے آپ کو یہ سبق دیا گیا کہ آپ اپنی زندگی کے لیے اسباب و وسائل خود اختیار کریں۔ اللہ کی نگرانی تمہارے شامل حال رہے گی۔ اللہ آپ کو وسائل اختیار کرنے کی تعلیم بہر حال دے رہا ہے۔ یہ کشتی تیار کریں تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کی مثیت پوری ہو۔ اس کرئہ ارض کی صفائی کے اس عمل کے آغاز کے لیے اللہ نے نوح کے لیے ایک علامت مقرر فرمادی تھی۔
وو حینا فاز جاء امرنا و فار التنور (23 : 27) ” پھر جب ہمارا حکم آجائے اور وہ تنور ابل پڑے “۔ یعنی تنور سے پانی ابل پڑے تو یہ ہوگی طوفان آنے کی علامت اور تب حضرت نوح کا فرض ہوگا کہ وہ جلدی سے کشتی پر سوار ہوں اور اپنے ساتھ کشتی میں زندگی کا تخم بھی سوار کرلیں۔
فاسلک فیھا من کل زوجین ائنین (23 : 27) ” تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے اس میں سوار ہو جائوـ“۔ یعنی تمام حیوانات ، تمام پرندے نباتات وغیرہ سے جو اس وقت انسان کو معلوم تھے اور جن سے بنی نوع انسان استفادہ کرتا تھا۔
واھلک الا من سبق علیہ القول منھم (23 : 27) ” اور اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے سوائے ان کے جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکاہیـ“۔ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جنہوں نے کفر کیا تھا اور حضرت نوح کی تکذیب کی تھی۔ اور ان کے بارے میں فیصلہ ہوچکا تھا کہ ان کو ہلاک کردیا جائے کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی تھی اور مکذبین کے بارے میں یہ اللہ کی سنت ہے کہ انہیں ہلاک کردیا جاتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کو آخری حکم دیا گیا کہ وہ اب ان لوگوں کے ساتھ کوئی مباحثہ اور مجادلہ نہ کریں اور نہ کسی کو بچانے کی کوشش کریں اگر چہ ان میں سے کوئی قریبی رشتہ دار ہو کیونکہ اللہ نے سب کافروں کی ہلاکت کا فیصلہ کرلیا ہے۔
والا تخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون (23 : 27) ” اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے نہ کہنا ، یہ اب غرق ہونے والے ہیں “۔ کیونکہ اللہ کی سنت کسی دوست یا رشتہ دار کی رد رعایت نہیں کرتی۔ اس کی راہ بالکل سیدھی ہے ۔ اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں کیونکہ یہ کہہ دیا گیا کہ یہ سب کے سب غرق ہونے ہونے والے ہیں ۔ اب حضرت نوح کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اللہ کے انعامات پر شکر کس طرح ادا کریں گے کس طرح اللہ کی حمد پڑھیں گے اور کس طرح اللہ سے ہدایت کے طلبار گار ہوں گے۔
المؤمنون 23:28
فاذ المننزلین 28) تا (29
اس طرح آپ اللہ کی حمد کریں ، اللہ کی طرف متوجہ ہوں ، اللہ کی صفات بیان کریں اور نشانات اہلیہ کا اعتراف سیکھیں اور سکھائیں ۔ یہ ہے اللہ کی تعلیم اپنے بندوں کے لیے۔ اللہ پہلے نبیوں کو سکھاتا ہے اور عوام الناس کو تعلیم دیتے ہیں اور یہ نبی ہمیشہ عوام کے لیے نمونہ بن جاتے ہیں۔
اب اس پورے قصے ، پر ایک تبصرہ کیا جاتا ہے تاکہ اس قصے کے مختلف مراحل میں جو سبق ہے اور جو حکمتیں ہیں انسان ان پر غور کریں۔
المؤمنون 23:29
فاذ المننزلین 28) تا (29
اس طرح آپ اللہ کی حمد کریں ، اللہ کی طرف متوجہ ہوں ، اللہ کی صفات بیان کریں اور نشانات اہلیہ کا اعتراف سیکھیں اور سکھائیں ۔ یہ ہے اللہ کی تعلیم اپنے بندوں کے لیے۔ اللہ پہلے نبیوں کو سکھاتا ہے اور عوام الناس کو تعلیم دیتے ہیں اور یہ نبی ہمیشہ عوام کے لیے نمونہ بن جاتے ہیں۔
اب اس پورے قصے ، پر ایک تبصرہ کیا جاتا ہے تاکہ اس قصے کے مختلف مراحل میں جو سبق ہے اور جو حکمتیں ہیں انسان ان پر غور کریں۔
المؤمنون 23:30
ان …. لمبتلین (آیت نمبر) ابتداء بہت سی قسمیں ہیں ، بعض آزمائشیں صبر کے لیے ہیں بعض آزمائشیں شکر کے لیے ہوتی ہیں۔ بعض آزمائشیں اجر کے لیے ہوتی ہے ۔ قصہ نوح میں آنے والوں کے لیے ہر قسم کی آزمائش اور نصیحت ہے۔
اب ایک دوسری رسالت کا منظر اور تکذیب کے نتائج جبکہ دعوت بھی ایک ہے اور رسالت بھی دی ہے۔
المؤمنون 23:31
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
المؤمنون 23:32
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
المؤمنون 23:33
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
المؤمنون 23:34
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔