Fi Zilal al-Quran — المؤمنون 23:35 – النور 24:37
Contents
- المؤمنون 23:35
- المؤمنون 23:36
- المؤمنون 23:37
- المؤمنون 23:38
- المؤمنون 23:39
- المؤمنون 23:40
- المؤمنون 23:41
- المؤمنون 23:42
- المؤمنون 23:43
- المؤمنون 23:44
- المؤمنون 23:45
- المؤمنون 23:46
- المؤمنون 23:47
- المؤمنون 23:48
- المؤمنون 23:49
- المؤمنون 23:50
- المؤمنون 23:51
- المؤمنون 23:52
- المؤمنون 23:53
- المؤمنون 23:54
- المؤمنون 23:55
- المؤمنون 23:56
- المؤمنون 23:57
- المؤمنون 23:58
- المؤمنون 23:59
- المؤمنون 23:60
- المؤمنون 23:61
- المؤمنون 23:62
- المؤمنون 23:63
- المؤمنون 23:64
- المؤمنون 23:65
- المؤمنون 23:66
- المؤمنون 23:67
- المؤمنون 23:68
- المؤمنون 23:69
- المؤمنون 23:70
- المؤمنون 23:71
- المؤمنون 23:72
- المؤمنون 23:73
- المؤمنون 23:74
- المؤمنون 23:75
- المؤمنون 23:76
- المؤمنون 23:77
- المؤمنون 23:78
- المؤمنون 23:79
- المؤمنون 23:80
- المؤمنون 23:81
- المؤمنون 23:82
- المؤمنون 23:83
- المؤمنون 23:84
- المؤمنون 23:85
- المؤمنون 23:86
- المؤمنون 23:87
- المؤمنون 23:88
- المؤمنون 23:89
- المؤمنون 23:90
- المؤمنون 23:91
- المؤمنون 23:92
- المؤمنون 23:93
- المؤمنون 23:94
- المؤمنون 23:95
- المؤمنون 23:96
- المؤمنون 23:97
- المؤمنون 23:98
- المؤمنون 23:99
- المؤمنون 23:100
- المؤمنون 23:101
- المؤمنون 23:102
- المؤمنون 23:103
- المؤمنون 23:104
- المؤمنون 23:105
- المؤمنون 23:106
- المؤمنون 23:107
- المؤمنون 23:108
- المؤمنون 23:109
- المؤمنون 23:110
- المؤمنون 23:111
- المؤمنون 23:112
- المؤمنون 23:113
- المؤمنون 23:114
- المؤمنون 23:115
- المؤمنون 23:116
- المؤمنون 23:117
- المؤمنون 23:118
- النور 24:1
- النور 24:2
- النور 24:3
- النور 24:4
- النور 24:5
- النور 24:6
- النور 24:7
- النور 24:8
- النور 24:9
- النور 24:10
- النور 24:11
- النور 24:12
- النور 24:13
- النور 24:14
- النور 24:15
- النور 24:16
- النور 24:17
- النور 24:18
- النور 24:19
- النور 24:20
- النور 24:21
- النور 24:22
- النور 24:23
- النور 24:24
- النور 24:25
- النور 24:26
- النور 24:27
- النور 24:28
- النور 24:29
- النور 24:30
- النور 24:31
- النور 24:32
- النور 24:33
- النور 24:34
- النور 24:35
- النور 24:36
- النور 24:37
المؤمنون 23:35
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
المؤمنون 23:36
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
المؤمنون 23:37
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
المؤمنون 23:38
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
المؤمنون 23:39
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
المؤمنون 23:40
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
المؤمنون 23:41
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
المؤمنون 23:42
ثم انشانا لا یو منون (آیت نمبر 42 : 44)
یہاں پر دعوت اسلامی کی پوری تاریخ کا خلاصہ بیان کردیا جاتا ہے اور اس خلاصے میں اللہ کی اس سنت کو بھی بیان کردیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے ۔ اس تاریخ کا اغاز قوم نوح اور قوم ہود ” عاد “ سے ہوا اور اختتام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا۔ درمیان کے قرون کا یہ خلاصہ تھا اور سنت الہیہ یہ ہے :
ما تسبقا یستاخرون (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے اسے جھٹلادیا۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کی تکذیب کی۔
کلما کذبوہ (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے سے جھٹلا یا “۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کو جھٹلادیا اللہ نے ان اقوام کو پکڑا۔ یہی اللہ کی سنت پوری انسانی تاریخ میں جاری رہی ہے۔
فاتبعنا بعضھم بعضا (23 : 33) ” ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے “۔ اور نا کی بلاکتوں کے بعد صرف عبرت ہی باقی رہی اور کچھ بھی نہ رہا۔
وجعلنھم احادیث (23 : 33) ” حتیٰ کہ بس ان کو افسانہ بنا کر رکھ چھوڑا “۔ لوگوں کے اندر ان کی عبرت انگیز کہانیاں ہی رہ گئیں۔ یہ تخلیص بھی ایک توہین آمیز ملک بدری اور پھٹکار پر ختم ہوتی ہے کہ دور ہوجائیں ایسے نالائق۔
فبعد القوم لل یومنون (23 : 33) ” پھٹکاران لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے “۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک تخلیص دی جاتی ہے اور یہ روئیداد بھی اسی ہدف کی طرف اسی انداز میں یوں بڑھتی ہے۔
المؤمنون 23:43
ثم انشانا لا یو منون (آیت نمبر 42 : 44)
یہاں پر دعوت اسلامی کی پوری تاریخ کا خلاصہ بیان کردیا جاتا ہے اور اس خلاصے میں اللہ کی اس سنت کو بھی بیان کردیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے ۔ اس تاریخ کا اغاز قوم نوح اور قوم ہود ” عاد “ سے ہوا اور اختتام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا۔ درمیان کے قرون کا یہ خلاصہ تھا اور سنت الہیہ یہ ہے :
ما تسبقا یستاخرون (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے اسے جھٹلادیا۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کی تکذیب کی۔
کلما کذبوہ (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے سے جھٹلا یا “۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کو جھٹلادیا اللہ نے ان اقوام کو پکڑا۔ یہی اللہ کی سنت پوری انسانی تاریخ میں جاری رہی ہے۔
فاتبعنا بعضھم بعضا (23 : 33) ” ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے “۔ اور نا کی بلاکتوں کے بعد صرف عبرت ہی باقی رہی اور کچھ بھی نہ رہا۔
وجعلنھم احادیث (23 : 33) ” حتیٰ کہ بس ان کو افسانہ بنا کر رکھ چھوڑا “۔ لوگوں کے اندر ان کی عبرت انگیز کہانیاں ہی رہ گئیں۔ یہ تخلیص بھی ایک توہین آمیز ملک بدری اور پھٹکار پر ختم ہوتی ہے کہ دور ہوجائیں ایسے نالائق۔
فبعد القوم لل یومنون (23 : 33) ” پھٹکاران لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے “۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک تخلیص دی جاتی ہے اور یہ روئیداد بھی اسی ہدف کی طرف اسی انداز میں یوں بڑھتی ہے۔
المؤمنون 23:44
ثم انشانا لا یو منون (آیت نمبر 42 : 44)
یہاں پر دعوت اسلامی کی پوری تاریخ کا خلاصہ بیان کردیا جاتا ہے اور اس خلاصے میں اللہ کی اس سنت کو بھی بیان کردیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے ۔ اس تاریخ کا اغاز قوم نوح اور قوم ہود ” عاد “ سے ہوا اور اختتام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا۔ درمیان کے قرون کا یہ خلاصہ تھا اور سنت الہیہ یہ ہے :
ما تسبقا یستاخرون (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے اسے جھٹلادیا۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کی تکذیب کی۔
کلما کذبوہ (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے سے جھٹلا یا “۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کو جھٹلادیا اللہ نے ان اقوام کو پکڑا۔ یہی اللہ کی سنت پوری انسانی تاریخ میں جاری رہی ہے۔
فاتبعنا بعضھم بعضا (23 : 33) ” ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے “۔ اور نا کی بلاکتوں کے بعد صرف عبرت ہی باقی رہی اور کچھ بھی نہ رہا۔
وجعلنھم احادیث (23 : 33) ” حتیٰ کہ بس ان کو افسانہ بنا کر رکھ چھوڑا “۔ لوگوں کے اندر ان کی عبرت انگیز کہانیاں ہی رہ گئیں۔ یہ تخلیص بھی ایک توہین آمیز ملک بدری اور پھٹکار پر ختم ہوتی ہے کہ دور ہوجائیں ایسے نالائق۔
فبعد القوم لل یومنون (23 : 33) ” پھٹکاران لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے “۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک تخلیص دی جاتی ہے اور یہ روئیداد بھی اسی ہدف کی طرف اسی انداز میں یوں بڑھتی ہے۔
المؤمنون 23:45
ثم ارسلنا من المھلکین (آیت نمبر 45 تا 48)
اس خلاصہ میں بھی ان کا یہ اعتراض نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ یہ رسول ہم جیسے انسان اور بشر کیوں ہیں۔
فقالو عبدون (23 : 37) ” کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے لیے یہ بات توہین آمیز تھی کہ وہ اس قوم سے متعلق رکھتے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں پر حضرت موسیٰ اور ہارون کی پیش کردہ آیات اور عظیم معجزات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ اس لے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھیں یہ لوگ اس کرئہ ارض کے حالات اور کروفر میں غرق تھے حالانکہ یہ پوری دنیا اور اس کا کروفر ایک بےحقیقت چیز ہے اور ایمان کے مقابلے میں پرکاہ کی قیمت نہیں رکھتا۔
اب ایک مجمل اشارہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرف بھی آتا ہے ۔ وہ تو بذات خود ایک معجزہ تھے ۔ ان کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی تھی۔
المؤمنون 23:46
ثم ارسلنا من المھلکین (آیت نمبر 45 تا 48)
اس خلاصہ میں بھی ان کا یہ اعتراض نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ یہ رسول ہم جیسے انسان اور بشر کیوں ہیں۔
فقالو عبدون (23 : 37) ” کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے لیے یہ بات توہین آمیز تھی کہ وہ اس قوم سے متعلق رکھتے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں پر حضرت موسیٰ اور ہارون کی پیش کردہ آیات اور عظیم معجزات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ اس لے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھیں یہ لوگ اس کرئہ ارض کے حالات اور کروفر میں غرق تھے حالانکہ یہ پوری دنیا اور اس کا کروفر ایک بےحقیقت چیز ہے اور ایمان کے مقابلے میں پرکاہ کی قیمت نہیں رکھتا۔
اب ایک مجمل اشارہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرف بھی آتا ہے ۔ وہ تو بذات خود ایک معجزہ تھے ۔ ان کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی تھی۔
المؤمنون 23:47
ثم ارسلنا من المھلکین (آیت نمبر 45 تا 48)
اس خلاصہ میں بھی ان کا یہ اعتراض نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ یہ رسول ہم جیسے انسان اور بشر کیوں ہیں۔
فقالو عبدون (23 : 37) ” کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے لیے یہ بات توہین آمیز تھی کہ وہ اس قوم سے متعلق رکھتے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں پر حضرت موسیٰ اور ہارون کی پیش کردہ آیات اور عظیم معجزات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ اس لے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھیں یہ لوگ اس کرئہ ارض کے حالات اور کروفر میں غرق تھے حالانکہ یہ پوری دنیا اور اس کا کروفر ایک بےحقیقت چیز ہے اور ایمان کے مقابلے میں پرکاہ کی قیمت نہیں رکھتا۔
اب ایک مجمل اشارہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرف بھی آتا ہے ۔ وہ تو بذات خود ایک معجزہ تھے ۔ ان کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی تھی۔
المؤمنون 23:48
ثم ارسلنا من المھلکین (آیت نمبر 45 تا 48)
اس خلاصہ میں بھی ان کا یہ اعتراض نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ یہ رسول ہم جیسے انسان اور بشر کیوں ہیں۔
فقالو عبدون (23 : 37) ” کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے لیے یہ بات توہین آمیز تھی کہ وہ اس قوم سے متعلق رکھتے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں پر حضرت موسیٰ اور ہارون کی پیش کردہ آیات اور عظیم معجزات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ اس لے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھیں یہ لوگ اس کرئہ ارض کے حالات اور کروفر میں غرق تھے حالانکہ یہ پوری دنیا اور اس کا کروفر ایک بےحقیقت چیز ہے اور ایمان کے مقابلے میں پرکاہ کی قیمت نہیں رکھتا۔
اب ایک مجمل اشارہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرف بھی آتا ہے ۔ وہ تو بذات خود ایک معجزہ تھے ۔ ان کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی تھی۔
المؤمنون 23:49
ولقد معین (آیت نمبر 49 تا 50)
اس آیات میں جس ربوہ کا ذکر ہے اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں کہ یہ کہاں ہے ۔ آیا یہ مصر میں یا دمشق میں تھا بیت المقدس میں تھا۔ یہ وہ معاملات ہیں جہاں حضرت مریم اپنے بچے کو لے کرگئی تھیں ، حضرت عیسیٰ کے بچپن میں۔ عیسائیوں کی کتابوں میں مفصل تذکرے موجود ہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ ربوہ کہا تھا۔ مقصود یہ تھا کہ مریم اور ابن مریم کو اللہ نے اسے پورے عرصہ میں نہایت ہی پاکیزہ مقام پر رکھا۔ یہ مقام سر سبز تھا ۔ پانی عام تھا اور وہ یہاں بہت ہی خوشی اور آرام سے رہتے تھے۔
بات یہاں تک آپہنچی ہے تو تمام رسولوں کی اس امت اور جماعت سے اللہ یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ گویا وہ پوری جماعت ایک ہی میدان اور ایک مشن اور دعوت کے اعتبار سے وہ ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔
المؤمنون 23:50
ولقد معین (آیت نمبر 49 تا 50)
اس آیات میں جس ربوہ کا ذکر ہے اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں کہ یہ کہاں ہے ۔ آیا یہ مصر میں یا دمشق میں تھا بیت المقدس میں تھا۔ یہ وہ معاملات ہیں جہاں حضرت مریم اپنے بچے کو لے کرگئی تھیں ، حضرت عیسیٰ کے بچپن میں۔ عیسائیوں کی کتابوں میں مفصل تذکرے موجود ہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ ربوہ کہا تھا۔ مقصود یہ تھا کہ مریم اور ابن مریم کو اللہ نے اسے پورے عرصہ میں نہایت ہی پاکیزہ مقام پر رکھا۔ یہ مقام سر سبز تھا ۔ پانی عام تھا اور وہ یہاں بہت ہی خوشی اور آرام سے رہتے تھے۔
بات یہاں تک آپہنچی ہے تو تمام رسولوں کی اس امت اور جماعت سے اللہ یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ گویا وہ پوری جماعت ایک ہی میدان اور ایک مشن اور دعوت کے اعتبار سے وہ ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔
المؤمنون 23:51
یا ایھا الرسل فا تقون (آیت نمبر 51 تا 52)
یہاں رسولوں کے خطاب میں رسولوں کے بشریت کو نمایاں کیا جاتا ہے کیونکہ رسولوں کی قوموں کو اعتراض اس پر تھا کہ رسول بشر کیوں ہیں ؟
کلو من الطیبت (23 : 51) ” پاک چیزیں کھائو “۔ کیونکہ کھانا خاصہ بشریت ہے لیکن یہاں طیبات کی قید لگا کر بتایا کہ رسولوں کی بشریت ارقع ہوتی ہے اور وہ تمام انسانیت کو ارفع بناتے ہیں اور تمام انسانوں کو پاک کرے ہیں اور ان کو عالم بالا سے جوڑتے ہیں۔
پھر اس نداء میں کہا جاتا ہے کہ اچھے اعمال کرو یعنی اس زمین کی اصلاح کرو ، لہذا کام بھی بشریت ہی کا تقاضا ہے لیکن لوگ اچھے کام بھی کرتے ہیں اور برے کام بھی کرتے ہیں جبکہ رسول لوگوں کو اچھے کاموں پر آمادہ کرتے ہیں۔ رسول لوگوں کے اعمال کے لیے ضابطہ متعین کرتے ہیں ، اعمال کے مقاصدمتعین کرتے ہیں اور اپنے اعمال کے ذریعہ وہ عالم بالا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔
رسولوں کا یہ کام نہیں کہ وہ بشریت سے پاک ہوجائیں بلکہ ان کا مقاصد یہ ہوتا ہے کہ وہ بشریت کو سر بلند کردیں۔ اس کے لیے بلند افق اور بلند مقاصد مقرر کردیں۔ اللہ کی یہی خواہش ہے کہ دنیا میں انسان صالح ، پاک اور برگزیدہ ہوں اور رسول ان کے قائد ہوں اور انسانوں کو بلندیوں تک پہنچائیں اور آخرت میں اللہ ہی ہے جو اپنے نہایت ہی باریک پیمانے سے ان کی قدرو قیمت مقرر کرے گا۔
انی بما تعلمون علیم (23 : 51) ” تم جو کچھ بھی کرتے ہو ، میں اسے خوب جانتا ہوں “ ۔ یہاں زمانے کی دوریوں کو مٹادیا جاتا ہے اور مسافت کی دوریاں ختم ہوجاتی ہیں کیونکہ پیغام ایک ہے جسے یہ رسول لے کر آئے۔
ان کا مزاج ایک ہے اور وہ دوسرے لوگوں سے ممتاز ہیں اور تمام رسولوں کا رخ ایک ہی طرف ہے۔
وان فاتقون (23 : 52) ” اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں بس مجھ سے ہی ڈرو “۔
المؤمنون 23:52
یا ایھا الرسل فا تقون (آیت نمبر 51 تا 52)
یہاں رسولوں کے خطاب میں رسولوں کے بشریت کو نمایاں کیا جاتا ہے کیونکہ رسولوں کی قوموں کو اعتراض اس پر تھا کہ رسول بشر کیوں ہیں ؟
کلو من الطیبت (23 : 51) ” پاک چیزیں کھائو “۔ کیونکہ کھانا خاصہ بشریت ہے لیکن یہاں طیبات کی قید لگا کر بتایا کہ رسولوں کی بشریت ارقع ہوتی ہے اور وہ تمام انسانیت کو ارفع بناتے ہیں اور تمام انسانوں کو پاک کرے ہیں اور ان کو عالم بالا سے جوڑتے ہیں۔
پھر اس نداء میں کہا جاتا ہے کہ اچھے اعمال کرو یعنی اس زمین کی اصلاح کرو ، لہذا کام بھی بشریت ہی کا تقاضا ہے لیکن لوگ اچھے کام بھی کرتے ہیں اور برے کام بھی کرتے ہیں جبکہ رسول لوگوں کو اچھے کاموں پر آمادہ کرتے ہیں۔ رسول لوگوں کے اعمال کے لیے ضابطہ متعین کرتے ہیں ، اعمال کے مقاصدمتعین کرتے ہیں اور اپنے اعمال کے ذریعہ وہ عالم بالا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔
رسولوں کا یہ کام نہیں کہ وہ بشریت سے پاک ہوجائیں بلکہ ان کا مقاصد یہ ہوتا ہے کہ وہ بشریت کو سر بلند کردیں۔ اس کے لیے بلند افق اور بلند مقاصد مقرر کردیں۔ اللہ کی یہی خواہش ہے کہ دنیا میں انسان صالح ، پاک اور برگزیدہ ہوں اور رسول ان کے قائد ہوں اور انسانوں کو بلندیوں تک پہنچائیں اور آخرت میں اللہ ہی ہے جو اپنے نہایت ہی باریک پیمانے سے ان کی قدرو قیمت مقرر کرے گا۔
انی بما تعلمون علیم (23 : 51) ” تم جو کچھ بھی کرتے ہو ، میں اسے خوب جانتا ہوں “ ۔ یہاں زمانے کی دوریوں کو مٹادیا جاتا ہے اور مسافت کی دوریاں ختم ہوجاتی ہیں کیونکہ پیغام ایک ہے جسے یہ رسول لے کر آئے۔
ان کا مزاج ایک ہے اور وہ دوسرے لوگوں سے ممتاز ہیں اور تمام رسولوں کا رخ ایک ہی طرف ہے۔
وان فاتقون (23 : 52) ” اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں بس مجھ سے ہی ڈرو “۔
المؤمنون 23:53
درس نمبر 50 ایک نظر میں
یہ اس کا سورة کا تیسرا سبق ہے ۔ رسولوں کے حالات بیان کرنے کے بعد اب اس میں لوگوں کے حالات کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جب رسول آخر تشریف لائے تو لوگوں کے یہ حالات تھے۔ لوگوں کے درمیان شدید مذہبی اختلافات تھے۔ عقیدہ توحید جسے تمام بالا تفاق بیان کرتے آئے تھے اس میں بھی اختلافات تھے۔
رسول خاتم النبین جس حق کو لے آئے ہیں اس کے ساتھ بھی لوگوں نے ایسا غفلت کا سلوک کیا حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس نئی دعوت اور اس کے ماننے والوں پر غور کرتے ۔ اہل ایمان کا کردار ان کے سامنے تھا۔ وہ اللہ کی بندگی کرتے تھے ، نیک کام کرتے تھے ، خوف آخرت رکھتے تھے۔ اس تصور آخرت سے ان کے دل کانپتے تھے کہ ایک دن انہوں نے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ یہ دو کرایہ دار ہیں دو قسم کے ، ان لوگوں کے درمیان مکمل تقابل ہے ۔ اہل ایمان جاگتے ہیں اور ڈرتے ہیں اور اہل کفر غافل اہور مد ہوش ہیں۔ اس سورة کے اس سبق میں ان کے موقف پر تنقید کی گئی ہے۔ ان کے شبہات کا جواب دیا گیا ہے ۔ ان کے وجدان کو جگایا گیا ہے کہ وہ نفس و آفاق میں موجود دلائل ایمان پر غور کریں ۔ پھر ان کے ہاں مسلمہ عقائد کو لیا گیا ہے اور انہی سے ان کے خلاف حجت قائم کی گئی ہے ۔ آخری میں کہہ دیا گیا ہے کہ چھوڑو انہیں ان کے حال پر کہ یہ اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جائیں۔ رسول اللہ ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ اپنی راہ پر گامزن رہیں اور ان کے اس عناد اور ہٹ دھری سے دل گرفتہ پریشان نہ ہوں بلکہ ان کے برے رویے کے مقابلے میں اچھا رویہ اختیار کریں اور شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ طلب کریں جو ان لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔
المؤمنون 23:54
درس نمبر 50 ایک نظر میں
یہ اس کا سورة کا تیسرا سبق ہے ۔ رسولوں کے حالات بیان کرنے کے بعد اب اس میں لوگوں کے حالات کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جب رسول آخر تشریف لائے تو لوگوں کے یہ حالات تھے۔ لوگوں کے درمیان شدید مذہبی اختلافات تھے۔ عقیدہ توحید جسے تمام بالا تفاق بیان کرتے آئے تھے اس میں بھی اختلافات تھے۔
رسول خاتم النبین جس حق کو لے آئے ہیں اس کے ساتھ بھی لوگوں نے ایسا غفلت کا سلوک کیا حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس نئی دعوت اور اس کے ماننے والوں پر غور کرتے ۔ اہل ایمان کا کردار ان کے سامنے تھا۔ وہ اللہ کی بندگی کرتے تھے ، نیک کام کرتے تھے ، خوف آخرت رکھتے تھے۔ اس تصور آخرت سے ان کے دل کانپتے تھے کہ ایک دن انہوں نے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ یہ دو کرایہ دار ہیں دو قسم کے ، ان لوگوں کے درمیان مکمل تقابل ہے ۔ اہل ایمان جاگتے ہیں اور ڈرتے ہیں اور اہل کفر غافل اہور مد ہوش ہیں۔ اس سورة کے اس سبق میں ان کے موقف پر تنقید کی گئی ہے۔ ان کے شبہات کا جواب دیا گیا ہے ۔ ان کے وجدان کو جگایا گیا ہے کہ وہ نفس و آفاق میں موجود دلائل ایمان پر غور کریں ۔ پھر ان کے ہاں مسلمہ عقائد کو لیا گیا ہے اور انہی سے ان کے خلاف حجت قائم کی گئی ہے ۔ آخری میں کہہ دیا گیا ہے کہ چھوڑو انہیں ان کے حال پر کہ یہ اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جائیں۔ رسول اللہ ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ اپنی راہ پر گامزن رہیں اور ان کے اس عناد اور ہٹ دھری سے دل گرفتہ پریشان نہ ہوں بلکہ ان کے برے رویے کے مقابلے میں اچھا رویہ اختیار کریں اور شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ طلب کریں جو ان لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔
المؤمنون 23:55
فتقطعوا امرھم (رح) ٓ لا یشعرون (آیت نمبر 53 تا 56) ”
رسولوں کے بیان میں یہ کہا گیا کہ وہ ایک ہی امت تھے۔ اور ان کا کلمہ بھی ایک تھا اور ان کی دعوت بھی ایک تھی ۔
ان کی بندگی اور عبادت بی ایک اللہ کے لیے تھی ۔ ان کی نظریاتی سمت بھی ایک تھی۔ لیکن رسولوں کے بعد لوگ گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے تھے ، گروہ بن گئے تھے اور وہ کسی ایک منہاج پر متفق نہ رہے۔
لوگوں کے اس افتراق کی تصویر کشی قرآن مجید نہایت عجیب حسی انداز میں کرتا ہے ۔ انہوں نے آپس میں اپنے دین کو پھاڑ پھاڑ کر ٹکرے ٹکرے کردیا تھا۔ ہر ایک ایک ٹکرالے لیا۔ ہر فرقہ اور ہر جماعت کے ہاتھ جو ٹکڑا آیا وہ اس کو لے کر بھاگ گئی ۔ بس وہ خوش تھی کہ اصل ٹکڑا اسی کے ہاتھ میں ہے اور یوں اس پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ ہر گروہ اپنی جگہ اس ٹکڑے کو لے بیٹھ اور دوسرے امور کے بارے میں سوچنا بھی بند کردیا مباد اس طرح ان کے دماغ تک کوئی بات یا کوئی دلیل روشنی پہنچ جائے۔ بس اپنے ہاں جو کچھ تھا اس میں سست ہوگئے اور ہر قسم کی روشنی اور ہدایت سے اپنے آپ کو محروم کرلیا۔ تخہیب اور فرقہ بندی کی یہ کیا خوب تصویر کشی ہے۔
یہ تصویر کھینچ کر رسول اللہ ﷺ کو یوں خطاب کیا جاتا ہے ۔
فذرھم فی غمرتھم حتی حین (23 : 53) ” تو چھوڑو انہیں “ ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت تک “۔ یعنی ان کو چھوڑ دین کہ جن حالات مین وہ مگن ہیں ان میں ڈوبے رہیں اور ان کا جو انجام ہونے والا ہے وہ اچانک ان کو آلے۔ کیونکہ مہلت کے بعد یہ انجام حتمی ہے۔
یہاں قرآن کی غفلت اور جمود بطور مذاق یہ کہتا ہے کہ ان لوگوں کو جو مہلت دی جارہی ہے اور مال و دولت اور آل و اولاد سے جو نوازا جا رہا ہے تو اس کے بارے میں یہ کیا سمجھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے بہت خوش ہے اور انہیں نواز رہا ہے اور مقبول بندے ہیں کہ ان پر عطا کی بارش ہورہی ہے۔
ایحسبون انما نمدھم بہ من مال و بنین (23 : 55) نسارع لھم فی الخیراژت (23 : 56) ” کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال و اولاد سے مدد دیئے جارہے ہیں تو گویا انہیں بھلائیاں دینے میں سر گرم ہیں “۔ بلکہ یہ تو نا کے لیے آزمائش ہیں۔
بل لا یشعرون (23 : 56) ” اصل معاملے کا انہیں شعور نہیں ہے “۔ یعنی وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس مال اور اولاد کے بعد ان پر کیا مصیبت آنے والی ہے اور یہ مصیبت کس قدر عام اور ہمہ گیر ہوگی وہ “۔
ایک طرف یہ لوگ ہیں جو غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور گمراہ ہیں ، ان کے مقابلے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ہر وقت بیدار اور رب کے معاملے میں بہت محتاط ہیں۔
المؤمنون 23:56
فتقطعوا امرھم (رح) ٓ لا یشعرون (آیت نمبر 53 تا 56) ”
رسولوں کے بیان میں یہ کہا گیا کہ وہ ایک ہی امت تھے۔ اور ان کا کلمہ بھی ایک تھا اور ان کی دعوت بھی ایک تھی ۔
ان کی بندگی اور عبادت بی ایک اللہ کے لیے تھی ۔ ان کی نظریاتی سمت بھی ایک تھی۔ لیکن رسولوں کے بعد لوگ گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے تھے ، گروہ بن گئے تھے اور وہ کسی ایک منہاج پر متفق نہ رہے۔
لوگوں کے اس افتراق کی تصویر کشی قرآن مجید نہایت عجیب حسی انداز میں کرتا ہے ۔ انہوں نے آپس میں اپنے دین کو پھاڑ پھاڑ کر ٹکرے ٹکرے کردیا تھا۔ ہر ایک ایک ٹکرالے لیا۔ ہر فرقہ اور ہر جماعت کے ہاتھ جو ٹکڑا آیا وہ اس کو لے کر بھاگ گئی ۔ بس وہ خوش تھی کہ اصل ٹکڑا اسی کے ہاتھ میں ہے اور یوں اس پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ ہر گروہ اپنی جگہ اس ٹکڑے کو لے بیٹھ اور دوسرے امور کے بارے میں سوچنا بھی بند کردیا مباد اس طرح ان کے دماغ تک کوئی بات یا کوئی دلیل روشنی پہنچ جائے۔ بس اپنے ہاں جو کچھ تھا اس میں سست ہوگئے اور ہر قسم کی روشنی اور ہدایت سے اپنے آپ کو محروم کرلیا۔ تخہیب اور فرقہ بندی کی یہ کیا خوب تصویر کشی ہے۔
یہ تصویر کھینچ کر رسول اللہ ﷺ کو یوں خطاب کیا جاتا ہے ۔
فذرھم فی غمرتھم حتی حین (23 : 53) ” تو چھوڑو انہیں “ ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت تک “۔ یعنی ان کو چھوڑ دین کہ جن حالات مین وہ مگن ہیں ان میں ڈوبے رہیں اور ان کا جو انجام ہونے والا ہے وہ اچانک ان کو آلے۔ کیونکہ مہلت کے بعد یہ انجام حتمی ہے۔
یہاں قرآن کی غفلت اور جمود بطور مذاق یہ کہتا ہے کہ ان لوگوں کو جو مہلت دی جارہی ہے اور مال و دولت اور آل و اولاد سے جو نوازا جا رہا ہے تو اس کے بارے میں یہ کیا سمجھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے بہت خوش ہے اور انہیں نواز رہا ہے اور مقبول بندے ہیں کہ ان پر عطا کی بارش ہورہی ہے۔
ایحسبون انما نمدھم بہ من مال و بنین (23 : 55) نسارع لھم فی الخیراژت (23 : 56) ” کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال و اولاد سے مدد دیئے جارہے ہیں تو گویا انہیں بھلائیاں دینے میں سر گرم ہیں “۔ بلکہ یہ تو نا کے لیے آزمائش ہیں۔
بل لا یشعرون (23 : 56) ” اصل معاملے کا انہیں شعور نہیں ہے “۔ یعنی وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس مال اور اولاد کے بعد ان پر کیا مصیبت آنے والی ہے اور یہ مصیبت کس قدر عام اور ہمہ گیر ہوگی وہ “۔
ایک طرف یہ لوگ ہیں جو غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور گمراہ ہیں ، ان کے مقابلے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ہر وقت بیدار اور رب کے معاملے میں بہت محتاط ہیں۔
المؤمنون 23:57
ان الذین سبقون (آیت نمبر 57 تا 61)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دل پر ایمان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ انتہائی خوف اور حد درجہ احتیاط اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس دنیا میں انسان کمال اور بلندیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخرت کی فکر کرتا ہے اگر چہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہوتا ہے یعنی یہاں رجانیت اختیار نہیں کرتا۔
ذرا ملاحظہ کیجئے۔۔ یہ مومن اللہ کے خوف کے مارے میں کانپ رہے ہیں ۔ نہایت احتیاط سے زندگی بسر کررہے ہیں۔
اللہ کی آیات پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کررہے۔ اللہ کی طرف سے عائد شدہ فرائض اور واجبات ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔ دیگر تمام عبادات میں حدد استطاعت تک مشغول ہیں ۔ لیکن ان سب کاموں کے باوجود والذین یو تون رجعون (23 : 60) “۔ جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہیــــ“۔ ان کو احساس ہے کہ اللہ کے معاملے میں ان سے ضرور کوئی نہ کوئی کوتاہی ہوگئی ہوگی ۔ حالانکہ وہ مقدر بھر بندگی کرتے رہے ہیں مگر ان کی نظروں میں ان کا عمل قلیل ہوتا ہے ۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : اے رسول اللہ ﷺ ولذین وجفۃ (23 : 60) ” وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے کانپ رہے ہوتے ہیں “ سے کیا وہ شخص مراد ہے جو چوری کرتا ، زنا کرتا ، اور شراب پیتا ہے لیکن پھر وہ اللہ سے ڈرتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں صدیق کی بیٹی بلکہ مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے ، جو روزے رکھتا ہے ، جو اپنا مال خرچ کرتا ہے اور پھر بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ (ترمذی)
ایک مومن کا دل کا شعور رکھتا ہے کہ اللہ کا ہاتھ اس کے اوپر ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ہر سانس میں اللہ کی رحمتیں اس پر بارش کی طرح برستی رہی ہیں ۔ صرف دل کی حرکت پر ہی غور کرلو کہ کس قدر عظیم رحمت ہے اس لے مومن اپنی بندگی اور اطاعت کو کم سمجھتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کے مقابلے میں اس کی جانب سے بندگی کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے وجود کے ذرے ذرے میں اللہ کے جلال اور عظمت کو پاتا ہے ۔ اس کے شعور میں یہ بات اچھی طرح بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہی اور اسی لیے وہ ہر وقت خائف رہتا ہے ، کانپتا رہتا ہے۔ اسے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ اچانک وہ اللہ کے سامنے پیس ہوا اور اس کی تفصیرات کی گٹھڑی پیش ہو۔ اور اس کے سامنے کھلے اور نتیجہ یہ سامنے آئے کہ اس نے عبادت کا حق ادا نہ کیا ہو اور اللہ کے انعامات و کرامات کا شکر اس نے ادا نہ کیا ہو تو اس کا پھر کیا حال ہوگا اور کیا جواب ہوگا ؟
ایسے لوگ ہی دراصل بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھتے ہیں اور ایسے ہی لوگ بھلائی میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اسلام کے ہر دل دستے کا کام کرتے ہیں ۔ بیدار مغز ، فعال اور آگے بڑھنے والے مطیع فرمان۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ کسی کام کے نہیں ہوتے جو عیش و طرب میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جو سخت غفلت میں ہوتے ہیں ، جو اس میں ہوتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے بالا رادہ مراعات یافتہ ہیں ۔ ان کے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ اس طرح غافل ہیں کہ جس طرح شکار اپنی غفلت میں چر رہا ہوتا ہے لیکن دراصل وہ اپنے پھندے کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کو غذا مل گئی اچانک پھندے میں گرفتار ہوجاتا ہے ۔ لوگوں کے اندر بیشمار لوگ ہیں جو ایسے پھندے میں گرفتار ہیں ، خوشحالی ان کو غافل کردیتی ہے۔ اللہ کی نعمتیں ان کو برے کاموں میں مشغول کردیتی ہیں۔ مالداری ان کو سرکشی پر آمادہ کرتی ہے ، غرور ان کو آپے سے باہر کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
یہ ہے وہ بیداری جو اسلام ہر زندہ دل انسان میں بیدا کرتا ہے اور جب ایمان دلوں میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ دلوں میں بیداری اور تقویٰ کا ابھارتا رہتا ہے ۔ یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جسے حاصل نہ کیا جاسکتا ہو۔ یہ کوئی ایسی حالت نہیں ہے جس میں عام آدمی داخل نہ ہو سکتا ہو ۔ بس صرف یہ احساس و شعور پید اکرنا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ہم اس کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ہمارے ظاہر و باطن سے وہ اچھی طرح خبردار ہے۔ یہ احساس اور شعور پیدا کرنا ، انسان کے حد استطاعت میں ہے بشرطیکہ ایمان کا چراغ قلب میں روشن ہوجائے۔
المؤمنون 23:58
ان الذین سبقون (آیت نمبر 57 تا 61)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دل پر ایمان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ انتہائی خوف اور حد درجہ احتیاط اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس دنیا میں انسان کمال اور بلندیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخرت کی فکر کرتا ہے اگر چہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہوتا ہے یعنی یہاں رجانیت اختیار نہیں کرتا۔
ذرا ملاحظہ کیجئے۔۔ یہ مومن اللہ کے خوف کے مارے میں کانپ رہے ہیں ۔ نہایت احتیاط سے زندگی بسر کررہے ہیں۔
اللہ کی آیات پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کررہے۔ اللہ کی طرف سے عائد شدہ فرائض اور واجبات ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔ دیگر تمام عبادات میں حدد استطاعت تک مشغول ہیں ۔ لیکن ان سب کاموں کے باوجود والذین یو تون رجعون (23 : 60) “۔ جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہیــــ“۔ ان کو احساس ہے کہ اللہ کے معاملے میں ان سے ضرور کوئی نہ کوئی کوتاہی ہوگئی ہوگی ۔ حالانکہ وہ مقدر بھر بندگی کرتے رہے ہیں مگر ان کی نظروں میں ان کا عمل قلیل ہوتا ہے ۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : اے رسول اللہ ﷺ ولذین وجفۃ (23 : 60) ” وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے کانپ رہے ہوتے ہیں “ سے کیا وہ شخص مراد ہے جو چوری کرتا ، زنا کرتا ، اور شراب پیتا ہے لیکن پھر وہ اللہ سے ڈرتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں صدیق کی بیٹی بلکہ مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے ، جو روزے رکھتا ہے ، جو اپنا مال خرچ کرتا ہے اور پھر بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ (ترمذی)
ایک مومن کا دل کا شعور رکھتا ہے کہ اللہ کا ہاتھ اس کے اوپر ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ہر سانس میں اللہ کی رحمتیں اس پر بارش کی طرح برستی رہی ہیں ۔ صرف دل کی حرکت پر ہی غور کرلو کہ کس قدر عظیم رحمت ہے اس لے مومن اپنی بندگی اور اطاعت کو کم سمجھتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کے مقابلے میں اس کی جانب سے بندگی کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے وجود کے ذرے ذرے میں اللہ کے جلال اور عظمت کو پاتا ہے ۔ اس کے شعور میں یہ بات اچھی طرح بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہی اور اسی لیے وہ ہر وقت خائف رہتا ہے ، کانپتا رہتا ہے۔ اسے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ اچانک وہ اللہ کے سامنے پیس ہوا اور اس کی تفصیرات کی گٹھڑی پیش ہو۔ اور اس کے سامنے کھلے اور نتیجہ یہ سامنے آئے کہ اس نے عبادت کا حق ادا نہ کیا ہو اور اللہ کے انعامات و کرامات کا شکر اس نے ادا نہ کیا ہو تو اس کا پھر کیا حال ہوگا اور کیا جواب ہوگا ؟
ایسے لوگ ہی دراصل بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھتے ہیں اور ایسے ہی لوگ بھلائی میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اسلام کے ہر دل دستے کا کام کرتے ہیں ۔ بیدار مغز ، فعال اور آگے بڑھنے والے مطیع فرمان۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ کسی کام کے نہیں ہوتے جو عیش و طرب میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جو سخت غفلت میں ہوتے ہیں ، جو اس میں ہوتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے بالا رادہ مراعات یافتہ ہیں ۔ ان کے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ اس طرح غافل ہیں کہ جس طرح شکار اپنی غفلت میں چر رہا ہوتا ہے لیکن دراصل وہ اپنے پھندے کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کو غذا مل گئی اچانک پھندے میں گرفتار ہوجاتا ہے ۔ لوگوں کے اندر بیشمار لوگ ہیں جو ایسے پھندے میں گرفتار ہیں ، خوشحالی ان کو غافل کردیتی ہے۔ اللہ کی نعمتیں ان کو برے کاموں میں مشغول کردیتی ہیں۔ مالداری ان کو سرکشی پر آمادہ کرتی ہے ، غرور ان کو آپے سے باہر کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
یہ ہے وہ بیداری جو اسلام ہر زندہ دل انسان میں بیدا کرتا ہے اور جب ایمان دلوں میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ دلوں میں بیداری اور تقویٰ کا ابھارتا رہتا ہے ۔ یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جسے حاصل نہ کیا جاسکتا ہو۔ یہ کوئی ایسی حالت نہیں ہے جس میں عام آدمی داخل نہ ہو سکتا ہو ۔ بس صرف یہ احساس و شعور پید اکرنا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ہم اس کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ہمارے ظاہر و باطن سے وہ اچھی طرح خبردار ہے۔ یہ احساس اور شعور پیدا کرنا ، انسان کے حد استطاعت میں ہے بشرطیکہ ایمان کا چراغ قلب میں روشن ہوجائے۔
المؤمنون 23:59
ان الذین سبقون (آیت نمبر 57 تا 61)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دل پر ایمان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ انتہائی خوف اور حد درجہ احتیاط اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس دنیا میں انسان کمال اور بلندیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخرت کی فکر کرتا ہے اگر چہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہوتا ہے یعنی یہاں رجانیت اختیار نہیں کرتا۔
ذرا ملاحظہ کیجئے۔۔ یہ مومن اللہ کے خوف کے مارے میں کانپ رہے ہیں ۔ نہایت احتیاط سے زندگی بسر کررہے ہیں۔
اللہ کی آیات پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کررہے۔ اللہ کی طرف سے عائد شدہ فرائض اور واجبات ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔ دیگر تمام عبادات میں حدد استطاعت تک مشغول ہیں ۔ لیکن ان سب کاموں کے باوجود والذین یو تون رجعون (23 : 60) “۔ جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہیــــ“۔ ان کو احساس ہے کہ اللہ کے معاملے میں ان سے ضرور کوئی نہ کوئی کوتاہی ہوگئی ہوگی ۔ حالانکہ وہ مقدر بھر بندگی کرتے رہے ہیں مگر ان کی نظروں میں ان کا عمل قلیل ہوتا ہے ۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : اے رسول اللہ ﷺ ولذین وجفۃ (23 : 60) ” وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے کانپ رہے ہوتے ہیں “ سے کیا وہ شخص مراد ہے جو چوری کرتا ، زنا کرتا ، اور شراب پیتا ہے لیکن پھر وہ اللہ سے ڈرتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں صدیق کی بیٹی بلکہ مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے ، جو روزے رکھتا ہے ، جو اپنا مال خرچ کرتا ہے اور پھر بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ (ترمذی)
ایک مومن کا دل کا شعور رکھتا ہے کہ اللہ کا ہاتھ اس کے اوپر ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ہر سانس میں اللہ کی رحمتیں اس پر بارش کی طرح برستی رہی ہیں ۔ صرف دل کی حرکت پر ہی غور کرلو کہ کس قدر عظیم رحمت ہے اس لے مومن اپنی بندگی اور اطاعت کو کم سمجھتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کے مقابلے میں اس کی جانب سے بندگی کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے وجود کے ذرے ذرے میں اللہ کے جلال اور عظمت کو پاتا ہے ۔ اس کے شعور میں یہ بات اچھی طرح بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہی اور اسی لیے وہ ہر وقت خائف رہتا ہے ، کانپتا رہتا ہے۔ اسے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ اچانک وہ اللہ کے سامنے پیس ہوا اور اس کی تفصیرات کی گٹھڑی پیش ہو۔ اور اس کے سامنے کھلے اور نتیجہ یہ سامنے آئے کہ اس نے عبادت کا حق ادا نہ کیا ہو اور اللہ کے انعامات و کرامات کا شکر اس نے ادا نہ کیا ہو تو اس کا پھر کیا حال ہوگا اور کیا جواب ہوگا ؟
ایسے لوگ ہی دراصل بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھتے ہیں اور ایسے ہی لوگ بھلائی میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اسلام کے ہر دل دستے کا کام کرتے ہیں ۔ بیدار مغز ، فعال اور آگے بڑھنے والے مطیع فرمان۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ کسی کام کے نہیں ہوتے جو عیش و طرب میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جو سخت غفلت میں ہوتے ہیں ، جو اس میں ہوتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے بالا رادہ مراعات یافتہ ہیں ۔ ان کے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ اس طرح غافل ہیں کہ جس طرح شکار اپنی غفلت میں چر رہا ہوتا ہے لیکن دراصل وہ اپنے پھندے کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کو غذا مل گئی اچانک پھندے میں گرفتار ہوجاتا ہے ۔ لوگوں کے اندر بیشمار لوگ ہیں جو ایسے پھندے میں گرفتار ہیں ، خوشحالی ان کو غافل کردیتی ہے۔ اللہ کی نعمتیں ان کو برے کاموں میں مشغول کردیتی ہیں۔ مالداری ان کو سرکشی پر آمادہ کرتی ہے ، غرور ان کو آپے سے باہر کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
یہ ہے وہ بیداری جو اسلام ہر زندہ دل انسان میں بیدا کرتا ہے اور جب ایمان دلوں میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ دلوں میں بیداری اور تقویٰ کا ابھارتا رہتا ہے ۔ یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جسے حاصل نہ کیا جاسکتا ہو۔ یہ کوئی ایسی حالت نہیں ہے جس میں عام آدمی داخل نہ ہو سکتا ہو ۔ بس صرف یہ احساس و شعور پید اکرنا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ہم اس کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ہمارے ظاہر و باطن سے وہ اچھی طرح خبردار ہے۔ یہ احساس اور شعور پیدا کرنا ، انسان کے حد استطاعت میں ہے بشرطیکہ ایمان کا چراغ قلب میں روشن ہوجائے۔
المؤمنون 23:60
ان الذین سبقون (آیت نمبر 57 تا 61)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دل پر ایمان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ انتہائی خوف اور حد درجہ احتیاط اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس دنیا میں انسان کمال اور بلندیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخرت کی فکر کرتا ہے اگر چہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہوتا ہے یعنی یہاں رجانیت اختیار نہیں کرتا۔
ذرا ملاحظہ کیجئے۔۔ یہ مومن اللہ کے خوف کے مارے میں کانپ رہے ہیں ۔ نہایت احتیاط سے زندگی بسر کررہے ہیں۔
اللہ کی آیات پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کررہے۔ اللہ کی طرف سے عائد شدہ فرائض اور واجبات ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔ دیگر تمام عبادات میں حدد استطاعت تک مشغول ہیں ۔ لیکن ان سب کاموں کے باوجود والذین یو تون رجعون (23 : 60) “۔ جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہیــــ“۔ ان کو احساس ہے کہ اللہ کے معاملے میں ان سے ضرور کوئی نہ کوئی کوتاہی ہوگئی ہوگی ۔ حالانکہ وہ مقدر بھر بندگی کرتے رہے ہیں مگر ان کی نظروں میں ان کا عمل قلیل ہوتا ہے ۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : اے رسول اللہ ﷺ ولذین وجفۃ (23 : 60) ” وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے کانپ رہے ہوتے ہیں “ سے کیا وہ شخص مراد ہے جو چوری کرتا ، زنا کرتا ، اور شراب پیتا ہے لیکن پھر وہ اللہ سے ڈرتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں صدیق کی بیٹی بلکہ مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے ، جو روزے رکھتا ہے ، جو اپنا مال خرچ کرتا ہے اور پھر بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ (ترمذی)
ایک مومن کا دل کا شعور رکھتا ہے کہ اللہ کا ہاتھ اس کے اوپر ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ہر سانس میں اللہ کی رحمتیں اس پر بارش کی طرح برستی رہی ہیں ۔ صرف دل کی حرکت پر ہی غور کرلو کہ کس قدر عظیم رحمت ہے اس لے مومن اپنی بندگی اور اطاعت کو کم سمجھتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کے مقابلے میں اس کی جانب سے بندگی کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے وجود کے ذرے ذرے میں اللہ کے جلال اور عظمت کو پاتا ہے ۔ اس کے شعور میں یہ بات اچھی طرح بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہی اور اسی لیے وہ ہر وقت خائف رہتا ہے ، کانپتا رہتا ہے۔ اسے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ اچانک وہ اللہ کے سامنے پیس ہوا اور اس کی تفصیرات کی گٹھڑی پیش ہو۔ اور اس کے سامنے کھلے اور نتیجہ یہ سامنے آئے کہ اس نے عبادت کا حق ادا نہ کیا ہو اور اللہ کے انعامات و کرامات کا شکر اس نے ادا نہ کیا ہو تو اس کا پھر کیا حال ہوگا اور کیا جواب ہوگا ؟
ایسے لوگ ہی دراصل بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھتے ہیں اور ایسے ہی لوگ بھلائی میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اسلام کے ہر دل دستے کا کام کرتے ہیں ۔ بیدار مغز ، فعال اور آگے بڑھنے والے مطیع فرمان۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ کسی کام کے نہیں ہوتے جو عیش و طرب میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جو سخت غفلت میں ہوتے ہیں ، جو اس میں ہوتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے بالا رادہ مراعات یافتہ ہیں ۔ ان کے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ اس طرح غافل ہیں کہ جس طرح شکار اپنی غفلت میں چر رہا ہوتا ہے لیکن دراصل وہ اپنے پھندے کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کو غذا مل گئی اچانک پھندے میں گرفتار ہوجاتا ہے ۔ لوگوں کے اندر بیشمار لوگ ہیں جو ایسے پھندے میں گرفتار ہیں ، خوشحالی ان کو غافل کردیتی ہے۔ اللہ کی نعمتیں ان کو برے کاموں میں مشغول کردیتی ہیں۔ مالداری ان کو سرکشی پر آمادہ کرتی ہے ، غرور ان کو آپے سے باہر کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
یہ ہے وہ بیداری جو اسلام ہر زندہ دل انسان میں بیدا کرتا ہے اور جب ایمان دلوں میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ دلوں میں بیداری اور تقویٰ کا ابھارتا رہتا ہے ۔ یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جسے حاصل نہ کیا جاسکتا ہو۔ یہ کوئی ایسی حالت نہیں ہے جس میں عام آدمی داخل نہ ہو سکتا ہو ۔ بس صرف یہ احساس و شعور پید اکرنا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ہم اس کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ہمارے ظاہر و باطن سے وہ اچھی طرح خبردار ہے۔ یہ احساس اور شعور پیدا کرنا ، انسان کے حد استطاعت میں ہے بشرطیکہ ایمان کا چراغ قلب میں روشن ہوجائے۔
المؤمنون 23:61
ان الذین سبقون (آیت نمبر 57 تا 61)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دل پر ایمان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ انتہائی خوف اور حد درجہ احتیاط اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس دنیا میں انسان کمال اور بلندیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخرت کی فکر کرتا ہے اگر چہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہوتا ہے یعنی یہاں رجانیت اختیار نہیں کرتا۔
ذرا ملاحظہ کیجئے۔۔ یہ مومن اللہ کے خوف کے مارے میں کانپ رہے ہیں ۔ نہایت احتیاط سے زندگی بسر کررہے ہیں۔
اللہ کی آیات پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کررہے۔ اللہ کی طرف سے عائد شدہ فرائض اور واجبات ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔ دیگر تمام عبادات میں حدد استطاعت تک مشغول ہیں ۔ لیکن ان سب کاموں کے باوجود والذین یو تون رجعون (23 : 60) “۔ جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہیــــ“۔ ان کو احساس ہے کہ اللہ کے معاملے میں ان سے ضرور کوئی نہ کوئی کوتاہی ہوگئی ہوگی ۔ حالانکہ وہ مقدر بھر بندگی کرتے رہے ہیں مگر ان کی نظروں میں ان کا عمل قلیل ہوتا ہے ۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : اے رسول اللہ ﷺ ولذین وجفۃ (23 : 60) ” وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے کانپ رہے ہوتے ہیں “ سے کیا وہ شخص مراد ہے جو چوری کرتا ، زنا کرتا ، اور شراب پیتا ہے لیکن پھر وہ اللہ سے ڈرتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں صدیق کی بیٹی بلکہ مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے ، جو روزے رکھتا ہے ، جو اپنا مال خرچ کرتا ہے اور پھر بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ (ترمذی)
ایک مومن کا دل کا شعور رکھتا ہے کہ اللہ کا ہاتھ اس کے اوپر ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ہر سانس میں اللہ کی رحمتیں اس پر بارش کی طرح برستی رہی ہیں ۔ صرف دل کی حرکت پر ہی غور کرلو کہ کس قدر عظیم رحمت ہے اس لے مومن اپنی بندگی اور اطاعت کو کم سمجھتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کے مقابلے میں اس کی جانب سے بندگی کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے وجود کے ذرے ذرے میں اللہ کے جلال اور عظمت کو پاتا ہے ۔ اس کے شعور میں یہ بات اچھی طرح بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہی اور اسی لیے وہ ہر وقت خائف رہتا ہے ، کانپتا رہتا ہے۔ اسے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ اچانک وہ اللہ کے سامنے پیس ہوا اور اس کی تفصیرات کی گٹھڑی پیش ہو۔ اور اس کے سامنے کھلے اور نتیجہ یہ سامنے آئے کہ اس نے عبادت کا حق ادا نہ کیا ہو اور اللہ کے انعامات و کرامات کا شکر اس نے ادا نہ کیا ہو تو اس کا پھر کیا حال ہوگا اور کیا جواب ہوگا ؟
ایسے لوگ ہی دراصل بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھتے ہیں اور ایسے ہی لوگ بھلائی میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اسلام کے ہر دل دستے کا کام کرتے ہیں ۔ بیدار مغز ، فعال اور آگے بڑھنے والے مطیع فرمان۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ کسی کام کے نہیں ہوتے جو عیش و طرب میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جو سخت غفلت میں ہوتے ہیں ، جو اس میں ہوتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے بالا رادہ مراعات یافتہ ہیں ۔ ان کے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ اس طرح غافل ہیں کہ جس طرح شکار اپنی غفلت میں چر رہا ہوتا ہے لیکن دراصل وہ اپنے پھندے کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کو غذا مل گئی اچانک پھندے میں گرفتار ہوجاتا ہے ۔ لوگوں کے اندر بیشمار لوگ ہیں جو ایسے پھندے میں گرفتار ہیں ، خوشحالی ان کو غافل کردیتی ہے۔ اللہ کی نعمتیں ان کو برے کاموں میں مشغول کردیتی ہیں۔ مالداری ان کو سرکشی پر آمادہ کرتی ہے ، غرور ان کو آپے سے باہر کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
یہ ہے وہ بیداری جو اسلام ہر زندہ دل انسان میں بیدا کرتا ہے اور جب ایمان دلوں میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ دلوں میں بیداری اور تقویٰ کا ابھارتا رہتا ہے ۔ یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جسے حاصل نہ کیا جاسکتا ہو۔ یہ کوئی ایسی حالت نہیں ہے جس میں عام آدمی داخل نہ ہو سکتا ہو ۔ بس صرف یہ احساس و شعور پید اکرنا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ہم اس کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ہمارے ظاہر و باطن سے وہ اچھی طرح خبردار ہے۔ یہ احساس اور شعور پیدا کرنا ، انسان کے حد استطاعت میں ہے بشرطیکہ ایمان کا چراغ قلب میں روشن ہوجائے۔
المؤمنون 23:62
ولا نکلف لا یظلمون (آیت نمبر 26)
اللہ نے انسان کچھ فرائض عائد کیے ہیں ، لیکن اللہ نے یہ فرائض اور تکالیف انسانی استعداد کے مطابق عائد کی ہیں۔ اور یہ بات اللہ خوب جانتا ہے کہ انسان اس کی مخلوق ہے اور حساب بھی اللہ اس عمل کالے گا جو ان کے حد استطاعت میں ہو۔ اللہ انسانوں پر یہ ظلم نہیں کرتا تا کہ ان پر اس قدر بوجھ لاد دے جس کو وہ اٹھا نہیں سکتے۔ نہ اللہ ان کے اعمال میں سے کسی بھی چیز کو چھوڑدے گا یا ساقط کردے گا۔ جو بھی وہ کریں گے اس کا حساب درج ہوگا۔
ینطق بالحق (23 : 62) ” ٹھیک ٹھیک بتا دے گی “۔ ہر چیز کو وہ کھول کر رکھ دے گی ۔ اللہ بہترین حساب کرنے والا ہے۔ پھر لوگ غفلت کیوں کرتے ہیں ؟ ٹھیک ٹھیک بتا دے گی “۔ ہر چیز کو وہ کھول کر رکھ دے گی۔ اللہ بہترین حساب کرنے والا ہے۔ پھر لوگ غفلت کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ ان کے دل حقیقت سے بیخبر ہیں۔ ان میں وہ روشنی داخل ہی نہیں ہوئی جو دلوں کو زندہ کردیتی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اس روشنی کو چھوڑ کر دوسرے کاموں مین مشغول ہوگئے ہیں اور اپنی ان مشغولیات میں بہت ہی آگے جاچکے ہیں جس وقت انہیں ہوش آئے گا تو ان کے سامنے عذاب الیم ہوگا اور اس عذاب کے ساتھ توبیخ اور سرزنش بھی ہوگی اور ان کو ایک حقارت انگیز سلوک کا سا منا کرنا ہوگا۔
المؤمنون 23:63
بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67)
یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔
ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر لیتا ہے ۔
حتی اذا اخذنا متر فیھم بالعذاب اذا ھم یحشرون (23 : 63) ” یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کے عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ذکرانا شروع کردیں گے “۔ مالدار لوگوں کی روش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ بسا اوقات عیا شیوں ، مد ہوشیوں اور خر مستیوں میں بہت زیادہ غرق ہوتے ہیں اور یہ لوگ ان خر مستیوں کے انجام کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اب زرا ان کی حالت دیکھ لو کہ ان کو اچانک خدا کا عذاب آلیتا ہے اور وہ چیختے چلانے لگ جاتے ہیں ۔ اب وہ فریاد کرتے ہیں اور رحم کے طلبگا ہوتے ہیں ۔ ان کی یہ حالت اس لیے ہوتی ہے کہ عیاشی میں بدمت ، غافل ، اور متکبر اور مغرور تھے۔ اب اس شورو فغاں اور فریاد پر کچھ نرمی کرنے اور رحم کرنے کے بجائے ان کی تواضع زجرو توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ سے کی جاتی ہے۔
لا تنصرون (23 : 65) ” اب بند کرو ، اپنی فریاد و فغاں ، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملتی “۔ یہ منظر سامنے ہے ۔ ان مجرموں کو ڈانٹ پلائی جارہی ہے ، ان کو کسی قسم کی امداد اور نرمی سے مایوس کن جواب دیا جارہا ہے اور ساتھ ان کو یاد دلانے جارہا ہے کہ وہ کس طرح غفلت میں غرق تھے اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا ردعمل کیا تھا۔
قد کانت ایتی تتلی علیکم فکنتم علی اعقابکم تنکصون (23 : 66) ” میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پائوں بھاگتے تھے “۔ یعنی الٹے پائوں ہٹ کر تم بھاگ جاتے تھے گویا جو کچھ پڑھ کر تمہیں سنایا جا رہا تھا وہ کوئی خطرناک بات تھی یا نہایت ہی مکروہ امر تھا جس سے علیحدہ ہونا ضروری تھا ۔ حق پر ایمان لانے سے وہ اپنے آپ کو بہت ہی برا سمجھتے تھے۔ نہ صرف یہ کہ وہ الٹنے پائوں پھر کر بھاگ جاتے تھے بلکہ وہ اپنی چو پا لوں میں رات کو جو مجالس منعقد کرتے تھے ان میں دعوت اسلامی کے بارے میں سخت نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے اور یہ ان کے لیے مذاق کا ایک موضوع تھا۔
یہ لوگ اپنی مجالس میں اسلام کے بارے میں نہایت ہی گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے۔ یہ مجالس وہ خانہ کعبہ میں اپنے بتوں کے ارد گر بیٹھ منعقد کیا کرتے تھے۔ قرآن کریم ان کی مشغولیوں کی بہت ہی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے جبکہ اب عذاب آنے کے بعد وہ سخت فریاد کرتے ہیں اور مدد طلب کرتے ہیں۔ قرآن ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذر ان مجالس کو تو یاد کرو۔ یہ تصویر کشی اس انداز میں کی جاتی ہے گویا یہ واقعہ ابھی ہو رہا ہے اور وہ رات دیکھ رہے ہیں اور ان ہی حالات میں زندہ ہیں ۔ قیامت کے مناظر کی ایسی تصویر کشی قرآن کا مخصوص اسلوب ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی فی القرآن) ۔
مشرکین رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر اپنی مجلسوں میں اعتراضات کرتے تھے اور ایام جاہلیت کے اخلاق کے مطابق اپنے اس رویہ پر فخر کرتے تھے ، وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ وہ قرآن کی سچائی کو سمجھتے کیونکہ وہ بصیرت کے اندھے تھے ۔ حق قبول کرنا تو کجاوہ تو قرآن کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر الزامات لگاتے تھے ۔ یہی وجہ بات ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے ۔ ہر جاہلیت میں یہی ہوتا ہے اور یاد رہے کہ عرب جاہلیت بھی دوسری جاہلیت میں سے ایک جاہلیت تھی اور نزول قرآن تک کئی جاہلتیں آتی رہیں اور اس کے بعد بھی آتی رہیں گی۔
قیامت کے اس منظر سے قرآن کریم ان لوگوں کو دنیا کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ یہ از سر نو اب دنیا میں ہیں۔ اس منظر میں خود ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ عجیب و غریب اور غیر معقول موقف کیوں اختیار کیا اور یہ کہ وہ کیا معقول وجہ ہے کہ یہ لوگ رسول امین ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ آخر وہ کیا شبہات ہیں جو ان کے دلوں میں خلجان پیدا کرے ہیں۔ اور ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں وہ کیا دلائل ہیں جن کی وجہ سے وہ امراض کرتے ہیں اور اپنی مجالس میں بکواس کرتے ہیں حالانکہ دین اسلام ایک سیدھا سادھا دین حق صراط مستقیم ہے۔
المؤمنون 23:64
بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67)
یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔
ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر لیتا ہے ۔
حتی اذا اخذنا متر فیھم بالعذاب اذا ھم یحشرون (23 : 63) ” یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کے عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ذکرانا شروع کردیں گے “۔ مالدار لوگوں کی روش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ بسا اوقات عیا شیوں ، مد ہوشیوں اور خر مستیوں میں بہت زیادہ غرق ہوتے ہیں اور یہ لوگ ان خر مستیوں کے انجام کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اب زرا ان کی حالت دیکھ لو کہ ان کو اچانک خدا کا عذاب آلیتا ہے اور وہ چیختے چلانے لگ جاتے ہیں ۔ اب وہ فریاد کرتے ہیں اور رحم کے طلبگا ہوتے ہیں ۔ ان کی یہ حالت اس لیے ہوتی ہے کہ عیاشی میں بدمت ، غافل ، اور متکبر اور مغرور تھے۔ اب اس شورو فغاں اور فریاد پر کچھ نرمی کرنے اور رحم کرنے کے بجائے ان کی تواضع زجرو توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ سے کی جاتی ہے۔
لا تنصرون (23 : 65) ” اب بند کرو ، اپنی فریاد و فغاں ، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملتی “۔ یہ منظر سامنے ہے ۔ ان مجرموں کو ڈانٹ پلائی جارہی ہے ، ان کو کسی قسم کی امداد اور نرمی سے مایوس کن جواب دیا جارہا ہے اور ساتھ ان کو یاد دلانے جارہا ہے کہ وہ کس طرح غفلت میں غرق تھے اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا ردعمل کیا تھا۔
قد کانت ایتی تتلی علیکم فکنتم علی اعقابکم تنکصون (23 : 66) ” میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پائوں بھاگتے تھے “۔ یعنی الٹے پائوں ہٹ کر تم بھاگ جاتے تھے گویا جو کچھ پڑھ کر تمہیں سنایا جا رہا تھا وہ کوئی خطرناک بات تھی یا نہایت ہی مکروہ امر تھا جس سے علیحدہ ہونا ضروری تھا ۔ حق پر ایمان لانے سے وہ اپنے آپ کو بہت ہی برا سمجھتے تھے۔ نہ صرف یہ کہ وہ الٹنے پائوں پھر کر بھاگ جاتے تھے بلکہ وہ اپنی چو پا لوں میں رات کو جو مجالس منعقد کرتے تھے ان میں دعوت اسلامی کے بارے میں سخت نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے اور یہ ان کے لیے مذاق کا ایک موضوع تھا۔
یہ لوگ اپنی مجالس میں اسلام کے بارے میں نہایت ہی گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے۔ یہ مجالس وہ خانہ کعبہ میں اپنے بتوں کے ارد گر بیٹھ منعقد کیا کرتے تھے۔ قرآن کریم ان کی مشغولیوں کی بہت ہی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے جبکہ اب عذاب آنے کے بعد وہ سخت فریاد کرتے ہیں اور مدد طلب کرتے ہیں۔ قرآن ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذر ان مجالس کو تو یاد کرو۔ یہ تصویر کشی اس انداز میں کی جاتی ہے گویا یہ واقعہ ابھی ہو رہا ہے اور وہ رات دیکھ رہے ہیں اور ان ہی حالات میں زندہ ہیں ۔ قیامت کے مناظر کی ایسی تصویر کشی قرآن کا مخصوص اسلوب ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی فی القرآن) ۔
مشرکین رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر اپنی مجلسوں میں اعتراضات کرتے تھے اور ایام جاہلیت کے اخلاق کے مطابق اپنے اس رویہ پر فخر کرتے تھے ، وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ وہ قرآن کی سچائی کو سمجھتے کیونکہ وہ بصیرت کے اندھے تھے ۔ حق قبول کرنا تو کجاوہ تو قرآن کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر الزامات لگاتے تھے ۔ یہی وجہ بات ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے ۔ ہر جاہلیت میں یہی ہوتا ہے اور یاد رہے کہ عرب جاہلیت بھی دوسری جاہلیت میں سے ایک جاہلیت تھی اور نزول قرآن تک کئی جاہلتیں آتی رہیں اور اس کے بعد بھی آتی رہیں گی۔
قیامت کے اس منظر سے قرآن کریم ان لوگوں کو دنیا کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ یہ از سر نو اب دنیا میں ہیں۔ اس منظر میں خود ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ عجیب و غریب اور غیر معقول موقف کیوں اختیار کیا اور یہ کہ وہ کیا معقول وجہ ہے کہ یہ لوگ رسول امین ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ آخر وہ کیا شبہات ہیں جو ان کے دلوں میں خلجان پیدا کرے ہیں۔ اور ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں وہ کیا دلائل ہیں جن کی وجہ سے وہ امراض کرتے ہیں اور اپنی مجالس میں بکواس کرتے ہیں حالانکہ دین اسلام ایک سیدھا سادھا دین حق صراط مستقیم ہے۔
المؤمنون 23:65
بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67)
یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔
ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر لیتا ہے ۔
حتی اذا اخذنا متر فیھم بالعذاب اذا ھم یحشرون (23 : 63) ” یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کے عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ذکرانا شروع کردیں گے “۔ مالدار لوگوں کی روش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ بسا اوقات عیا شیوں ، مد ہوشیوں اور خر مستیوں میں بہت زیادہ غرق ہوتے ہیں اور یہ لوگ ان خر مستیوں کے انجام کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اب زرا ان کی حالت دیکھ لو کہ ان کو اچانک خدا کا عذاب آلیتا ہے اور وہ چیختے چلانے لگ جاتے ہیں ۔ اب وہ فریاد کرتے ہیں اور رحم کے طلبگا ہوتے ہیں ۔ ان کی یہ حالت اس لیے ہوتی ہے کہ عیاشی میں بدمت ، غافل ، اور متکبر اور مغرور تھے۔ اب اس شورو فغاں اور فریاد پر کچھ نرمی کرنے اور رحم کرنے کے بجائے ان کی تواضع زجرو توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ سے کی جاتی ہے۔
لا تنصرون (23 : 65) ” اب بند کرو ، اپنی فریاد و فغاں ، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملتی “۔ یہ منظر سامنے ہے ۔ ان مجرموں کو ڈانٹ پلائی جارہی ہے ، ان کو کسی قسم کی امداد اور نرمی سے مایوس کن جواب دیا جارہا ہے اور ساتھ ان کو یاد دلانے جارہا ہے کہ وہ کس طرح غفلت میں غرق تھے اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا ردعمل کیا تھا۔
قد کانت ایتی تتلی علیکم فکنتم علی اعقابکم تنکصون (23 : 66) ” میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پائوں بھاگتے تھے “۔ یعنی الٹے پائوں ہٹ کر تم بھاگ جاتے تھے گویا جو کچھ پڑھ کر تمہیں سنایا جا رہا تھا وہ کوئی خطرناک بات تھی یا نہایت ہی مکروہ امر تھا جس سے علیحدہ ہونا ضروری تھا ۔ حق پر ایمان لانے سے وہ اپنے آپ کو بہت ہی برا سمجھتے تھے۔ نہ صرف یہ کہ وہ الٹنے پائوں پھر کر بھاگ جاتے تھے بلکہ وہ اپنی چو پا لوں میں رات کو جو مجالس منعقد کرتے تھے ان میں دعوت اسلامی کے بارے میں سخت نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے اور یہ ان کے لیے مذاق کا ایک موضوع تھا۔
یہ لوگ اپنی مجالس میں اسلام کے بارے میں نہایت ہی گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے۔ یہ مجالس وہ خانہ کعبہ میں اپنے بتوں کے ارد گر بیٹھ منعقد کیا کرتے تھے۔ قرآن کریم ان کی مشغولیوں کی بہت ہی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے جبکہ اب عذاب آنے کے بعد وہ سخت فریاد کرتے ہیں اور مدد طلب کرتے ہیں۔ قرآن ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذر ان مجالس کو تو یاد کرو۔ یہ تصویر کشی اس انداز میں کی جاتی ہے گویا یہ واقعہ ابھی ہو رہا ہے اور وہ رات دیکھ رہے ہیں اور ان ہی حالات میں زندہ ہیں ۔ قیامت کے مناظر کی ایسی تصویر کشی قرآن کا مخصوص اسلوب ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی فی القرآن) ۔
مشرکین رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر اپنی مجلسوں میں اعتراضات کرتے تھے اور ایام جاہلیت کے اخلاق کے مطابق اپنے اس رویہ پر فخر کرتے تھے ، وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ وہ قرآن کی سچائی کو سمجھتے کیونکہ وہ بصیرت کے اندھے تھے ۔ حق قبول کرنا تو کجاوہ تو قرآن کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر الزامات لگاتے تھے ۔ یہی وجہ بات ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے ۔ ہر جاہلیت میں یہی ہوتا ہے اور یاد رہے کہ عرب جاہلیت بھی دوسری جاہلیت میں سے ایک جاہلیت تھی اور نزول قرآن تک کئی جاہلتیں آتی رہیں اور اس کے بعد بھی آتی رہیں گی۔
قیامت کے اس منظر سے قرآن کریم ان لوگوں کو دنیا کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ یہ از سر نو اب دنیا میں ہیں۔ اس منظر میں خود ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ عجیب و غریب اور غیر معقول موقف کیوں اختیار کیا اور یہ کہ وہ کیا معقول وجہ ہے کہ یہ لوگ رسول امین ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ آخر وہ کیا شبہات ہیں جو ان کے دلوں میں خلجان پیدا کرے ہیں۔ اور ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں وہ کیا دلائل ہیں جن کی وجہ سے وہ امراض کرتے ہیں اور اپنی مجالس میں بکواس کرتے ہیں حالانکہ دین اسلام ایک سیدھا سادھا دین حق صراط مستقیم ہے۔
المؤمنون 23:66
بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67)
یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔
ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر لیتا ہے ۔
حتی اذا اخذنا متر فیھم بالعذاب اذا ھم یحشرون (23 : 63) ” یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کے عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ذکرانا شروع کردیں گے “۔ مالدار لوگوں کی روش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ بسا اوقات عیا شیوں ، مد ہوشیوں اور خر مستیوں میں بہت زیادہ غرق ہوتے ہیں اور یہ لوگ ان خر مستیوں کے انجام کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اب زرا ان کی حالت دیکھ لو کہ ان کو اچانک خدا کا عذاب آلیتا ہے اور وہ چیختے چلانے لگ جاتے ہیں ۔ اب وہ فریاد کرتے ہیں اور رحم کے طلبگا ہوتے ہیں ۔ ان کی یہ حالت اس لیے ہوتی ہے کہ عیاشی میں بدمت ، غافل ، اور متکبر اور مغرور تھے۔ اب اس شورو فغاں اور فریاد پر کچھ نرمی کرنے اور رحم کرنے کے بجائے ان کی تواضع زجرو توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ سے کی جاتی ہے۔
لا تنصرون (23 : 65) ” اب بند کرو ، اپنی فریاد و فغاں ، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملتی “۔ یہ منظر سامنے ہے ۔ ان مجرموں کو ڈانٹ پلائی جارہی ہے ، ان کو کسی قسم کی امداد اور نرمی سے مایوس کن جواب دیا جارہا ہے اور ساتھ ان کو یاد دلانے جارہا ہے کہ وہ کس طرح غفلت میں غرق تھے اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا ردعمل کیا تھا۔
قد کانت ایتی تتلی علیکم فکنتم علی اعقابکم تنکصون (23 : 66) ” میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پائوں بھاگتے تھے “۔ یعنی الٹے پائوں ہٹ کر تم بھاگ جاتے تھے گویا جو کچھ پڑھ کر تمہیں سنایا جا رہا تھا وہ کوئی خطرناک بات تھی یا نہایت ہی مکروہ امر تھا جس سے علیحدہ ہونا ضروری تھا ۔ حق پر ایمان لانے سے وہ اپنے آپ کو بہت ہی برا سمجھتے تھے۔ نہ صرف یہ کہ وہ الٹنے پائوں پھر کر بھاگ جاتے تھے بلکہ وہ اپنی چو پا لوں میں رات کو جو مجالس منعقد کرتے تھے ان میں دعوت اسلامی کے بارے میں سخت نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے اور یہ ان کے لیے مذاق کا ایک موضوع تھا۔
یہ لوگ اپنی مجالس میں اسلام کے بارے میں نہایت ہی گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے۔ یہ مجالس وہ خانہ کعبہ میں اپنے بتوں کے ارد گر بیٹھ منعقد کیا کرتے تھے۔ قرآن کریم ان کی مشغولیوں کی بہت ہی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے جبکہ اب عذاب آنے کے بعد وہ سخت فریاد کرتے ہیں اور مدد طلب کرتے ہیں۔ قرآن ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذر ان مجالس کو تو یاد کرو۔ یہ تصویر کشی اس انداز میں کی جاتی ہے گویا یہ واقعہ ابھی ہو رہا ہے اور وہ رات دیکھ رہے ہیں اور ان ہی حالات میں زندہ ہیں ۔ قیامت کے مناظر کی ایسی تصویر کشی قرآن کا مخصوص اسلوب ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی فی القرآن) ۔
مشرکین رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر اپنی مجلسوں میں اعتراضات کرتے تھے اور ایام جاہلیت کے اخلاق کے مطابق اپنے اس رویہ پر فخر کرتے تھے ، وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ وہ قرآن کی سچائی کو سمجھتے کیونکہ وہ بصیرت کے اندھے تھے ۔ حق قبول کرنا تو کجاوہ تو قرآن کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر الزامات لگاتے تھے ۔ یہی وجہ بات ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے ۔ ہر جاہلیت میں یہی ہوتا ہے اور یاد رہے کہ عرب جاہلیت بھی دوسری جاہلیت میں سے ایک جاہلیت تھی اور نزول قرآن تک کئی جاہلتیں آتی رہیں اور اس کے بعد بھی آتی رہیں گی۔
قیامت کے اس منظر سے قرآن کریم ان لوگوں کو دنیا کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ یہ از سر نو اب دنیا میں ہیں۔ اس منظر میں خود ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ عجیب و غریب اور غیر معقول موقف کیوں اختیار کیا اور یہ کہ وہ کیا معقول وجہ ہے کہ یہ لوگ رسول امین ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ آخر وہ کیا شبہات ہیں جو ان کے دلوں میں خلجان پیدا کرے ہیں۔ اور ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں وہ کیا دلائل ہیں جن کی وجہ سے وہ امراض کرتے ہیں اور اپنی مجالس میں بکواس کرتے ہیں حالانکہ دین اسلام ایک سیدھا سادھا دین حق صراط مستقیم ہے۔
المؤمنون 23:67
بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67)
یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔
ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر لیتا ہے ۔
حتی اذا اخذنا متر فیھم بالعذاب اذا ھم یحشرون (23 : 63) ” یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کے عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ذکرانا شروع کردیں گے “۔ مالدار لوگوں کی روش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ بسا اوقات عیا شیوں ، مد ہوشیوں اور خر مستیوں میں بہت زیادہ غرق ہوتے ہیں اور یہ لوگ ان خر مستیوں کے انجام کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اب زرا ان کی حالت دیکھ لو کہ ان کو اچانک خدا کا عذاب آلیتا ہے اور وہ چیختے چلانے لگ جاتے ہیں ۔ اب وہ فریاد کرتے ہیں اور رحم کے طلبگا ہوتے ہیں ۔ ان کی یہ حالت اس لیے ہوتی ہے کہ عیاشی میں بدمت ، غافل ، اور متکبر اور مغرور تھے۔ اب اس شورو فغاں اور فریاد پر کچھ نرمی کرنے اور رحم کرنے کے بجائے ان کی تواضع زجرو توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ سے کی جاتی ہے۔
لا تنصرون (23 : 65) ” اب بند کرو ، اپنی فریاد و فغاں ، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملتی “۔ یہ منظر سامنے ہے ۔ ان مجرموں کو ڈانٹ پلائی جارہی ہے ، ان کو کسی قسم کی امداد اور نرمی سے مایوس کن جواب دیا جارہا ہے اور ساتھ ان کو یاد دلانے جارہا ہے کہ وہ کس طرح غفلت میں غرق تھے اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا ردعمل کیا تھا۔
قد کانت ایتی تتلی علیکم فکنتم علی اعقابکم تنکصون (23 : 66) ” میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پائوں بھاگتے تھے “۔ یعنی الٹے پائوں ہٹ کر تم بھاگ جاتے تھے گویا جو کچھ پڑھ کر تمہیں سنایا جا رہا تھا وہ کوئی خطرناک بات تھی یا نہایت ہی مکروہ امر تھا جس سے علیحدہ ہونا ضروری تھا ۔ حق پر ایمان لانے سے وہ اپنے آپ کو بہت ہی برا سمجھتے تھے۔ نہ صرف یہ کہ وہ الٹنے پائوں پھر کر بھاگ جاتے تھے بلکہ وہ اپنی چو پا لوں میں رات کو جو مجالس منعقد کرتے تھے ان میں دعوت اسلامی کے بارے میں سخت نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے اور یہ ان کے لیے مذاق کا ایک موضوع تھا۔
یہ لوگ اپنی مجالس میں اسلام کے بارے میں نہایت ہی گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے۔ یہ مجالس وہ خانہ کعبہ میں اپنے بتوں کے ارد گر بیٹھ منعقد کیا کرتے تھے۔ قرآن کریم ان کی مشغولیوں کی بہت ہی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے جبکہ اب عذاب آنے کے بعد وہ سخت فریاد کرتے ہیں اور مدد طلب کرتے ہیں۔ قرآن ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذر ان مجالس کو تو یاد کرو۔ یہ تصویر کشی اس انداز میں کی جاتی ہے گویا یہ واقعہ ابھی ہو رہا ہے اور وہ رات دیکھ رہے ہیں اور ان ہی حالات میں زندہ ہیں ۔ قیامت کے مناظر کی ایسی تصویر کشی قرآن کا مخصوص اسلوب ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی فی القرآن) ۔
مشرکین رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر اپنی مجلسوں میں اعتراضات کرتے تھے اور ایام جاہلیت کے اخلاق کے مطابق اپنے اس رویہ پر فخر کرتے تھے ، وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ وہ قرآن کی سچائی کو سمجھتے کیونکہ وہ بصیرت کے اندھے تھے ۔ حق قبول کرنا تو کجاوہ تو قرآن کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر الزامات لگاتے تھے ۔ یہی وجہ بات ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے ۔ ہر جاہلیت میں یہی ہوتا ہے اور یاد رہے کہ عرب جاہلیت بھی دوسری جاہلیت میں سے ایک جاہلیت تھی اور نزول قرآن تک کئی جاہلتیں آتی رہیں اور اس کے بعد بھی آتی رہیں گی۔
قیامت کے اس منظر سے قرآن کریم ان لوگوں کو دنیا کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ یہ از سر نو اب دنیا میں ہیں۔ اس منظر میں خود ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ عجیب و غریب اور غیر معقول موقف کیوں اختیار کیا اور یہ کہ وہ کیا معقول وجہ ہے کہ یہ لوگ رسول امین ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ آخر وہ کیا شبہات ہیں جو ان کے دلوں میں خلجان پیدا کرے ہیں۔ اور ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں وہ کیا دلائل ہیں جن کی وجہ سے وہ امراض کرتے ہیں اور اپنی مجالس میں بکواس کرتے ہیں حالانکہ دین اسلام ایک سیدھا سادھا دین حق صراط مستقیم ہے۔
المؤمنون 23:68
افلم یدبرو لنکبون (آیت نمبر 68 تا 74)
حضرت محمد ﷺ نے جو تعلیمات پیش کی ہیں اگر ان پر کوئی ذرا بھی غور کرے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان سے منہ پھیرے کیونکہ اس کلام میں بہت ہی خوبصورتی ، بہت کی کمال ، بہت ہی جازبیت ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت ہی فطری اور انسانی عقل و وجدان کے مطابق ہیں ۔ اس میں دل دماغ کی غذا موجود ہے ، ان کا رحجان بہت ہی تعمیری ہے۔ یہ جو نظام و قانون پیش کرتی ہیں وہ نہایت ہی مستحکم ہے ۔ ان پوری تعلیمات کو دیکھ رکر انسانی فطرت ان کو تسلیم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ منکرین نے اس کلام پر تدبر ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے منہ مورتے ہیں۔
افلم ید بر و القول (23 : 8 6) تو کیا انہوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا۔
ام جاء ھم ھم الاولین (23 : 68) ” یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی “۔ یا یہ بات کہ پغمبر کا بھیجنا ان کے اور ان کے آباء کی روایات میں کوئی مانوس بات نہیں ہے ۔ ان کی رویات میں بات نہیں ہے کہ کوئی رسول آئے یا ان کے سامنے کوئی کلمہ توحید جیسے افکار و نظریات پیش کرے۔ رسولوں کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ رسول پے در پے آتے ہیں اور تمام رسولوں نے یہی تعلیم دی ہے جو نبی آخر الزمان دے رہے ہیں اور ان رسولوں میں سے کئی کے بارے میں وہ معلومات بھی رکھتے ہیں۔
ام لم یعرفوا رسولھم فھم لہ منکرون (23 : 69) ” یا یہ اپنے رسول کبھی واقف نہ تھے اور اب یہ اس سے بد کتے ہیں “۔ یعنی ان کے امراض کا یہ سبب بھی نہیں ہوسکتا کہ جو رسول آیا ہے اس سے ان کی جان پہچان نہیں ہے ۔ وہ تو اس رسول کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کی شخصیت کو جانتے ہیں۔ اس کے نصب کو جانتے ہیں ، وہ اس کی ذات وصفات سے اچھی طرح با خبر ہیں۔ وہ یقین سے جانتے ہیں کہ وہ صادق و امین ہیں اور رسالت سے پہلے ہی خود انہوں نے ان کو صادق وامین کے لقب سے نوازا تھا ۔
ام یقولون بہ جنۃ (23 : 70) ” یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنوں ہے “۔ ان میں سے بعض بیوقوف آپ پر یہ الزام لگاتے تھے لیکن یہ محض الزام تھا ، دل سے تو وہ بھی جانتے تھے کہ وہ عاقل اور کامل سے کیونکہ پوری زندگی میں انہوں نے اس کے حوالے سے کسی لغزش کا نہ سنا تھا۔
مذکورہ بالا شبہات میں سے کسی شبہ کی کوئی گنجائش تو نہ تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ حق کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سچائی کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ جو سچائی آپ لائے تھے وہ ان سے وہ باطل اقدار چھین رہی تھی جن میں وہ زندگی بسر کرتے تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور یہ سچائی ان کی خواہشات نفس اور ان کی زندگیوں میں رچی بسی اور جمی ہوئی عادات کے خلاف تھی۔
بل جاء ھم بالحق و اکثر ھم للحق کرھون (23 : 70) بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہیـــ“۔ سچائی تو سچائی ہوتی ہے۔ وہ ان کی خواہشات کے ساتھ بدل نہیں سکتی۔ سچائی پر تو زمین و آسمان کا قیام ہے ۔ اس کائنات پر نافذ ہونے والا ناموس دراصل حق ہے۔ اسی ناموس اور اسی حق کے مطابق یہ کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والی تما موجود ات چل رہی ہیں۔
ولو اتبع الحق فیھن (23 : 71) ” اور حق اگر ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ حق ایک ہے اور ثابت ہے۔ خواہشات تو ہر انسان کی جدا جدا ہوتی ہے ، بدلتی رہتی ہیں۔ یہ پوری کائنات حق پر چلتی ہے اور اسکی چالایک ہے۔ اس کا اصول اور ناموس نہیں بدلتا ۔ اور نہ کسی عارض خواہشات کے مطابق اس ناموس میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے۔ اگر کائنات کا یہ نظام لوگوں کی تمنائوں اور بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہوجائے اور لوگوں کی عارضی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو دنیا کا یہ پورا نظام فساد پذیر ہوجائے۔ لوگوں کے حالات اور طریقے بگڑ جائیں ۔ اقدامات حیات اور حسن و فتح کے بدل جائیں۔ اگر کوئی خوش ہوتا ہے تو اقدار ہوتے ہن اور کوئی خفا ہوتا تو اقدار و پیمانے اور ہوتے۔ اسی طرح لوگوں کے پیمانے ان کی پسند ناپسند ، رغبت اور خوف ، خوشی اور غم کے مختلف حالات میں بھی بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسانی مزاج ایک حال میں نہیں رہتا۔ اس پر عوارض آتے رہتے ہیں جبکہ حق اپنی جگہ قائم رہتا اور یہ نظام کائنات اور اس کے مقاصد یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے نظام میں ثبات ، یکجہتی اور تسلسل قائم رہے اور نہایت ہی پختہ اور قابل تغیر ضوابط کے مطابق یہ کائنات چلے اور تغیرات اور بےیقینی سے اس کا نظام پاک ہو۔
اس کائنات کا نظام چونکہ حق پر ہے اور اس کو حق کے مطابق ہی چلایا جا رہا ہے ۔ چناچہ انسانی زندگی کو چلانے کے لیے بھی اللہ نے ایک سچائی پر مشتمل ضابطہ مقرر کردیا گیا ہے ۔ یہ ضابطہ بھی اس ذات نے مقرر کیا ہے جو اس پوری کائنات کو چلارہی ہے۔ جس طرح کائنات کا ضابطہ اٹل ہے اسی طرح یہ انسانی ضابطہ بھی اٹل ہے کیونکہ انسان بھی کائنات کا ایک جز ہے تاکہ انسانی طرز عمل اور اس کائنات کی رفتار کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ اس لیے حق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات کا شارع ہی انسانی ضابطہ حیات کا شارع اور مصنف ہو تاکہ انسان کی چلت کائنات کی چلت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر انسانوں کی زندگی کی ضابطہ بندی ان کی خواہشات پر چھوڑدی جائے تو انسانوں کی زندگی کا نظام فسا پذیر ہوجائے گا اور اس میں خلل واقع ہوجائے گا۔
المؤمنون 23:69
افلم یدبرو لنکبون (آیت نمبر 68 تا 74)
حضرت محمد ﷺ نے جو تعلیمات پیش کی ہیں اگر ان پر کوئی ذرا بھی غور کرے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان سے منہ پھیرے کیونکہ اس کلام میں بہت ہی خوبصورتی ، بہت کی کمال ، بہت ہی جازبیت ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت ہی فطری اور انسانی عقل و وجدان کے مطابق ہیں ۔ اس میں دل دماغ کی غذا موجود ہے ، ان کا رحجان بہت ہی تعمیری ہے۔ یہ جو نظام و قانون پیش کرتی ہیں وہ نہایت ہی مستحکم ہے ۔ ان پوری تعلیمات کو دیکھ رکر انسانی فطرت ان کو تسلیم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ منکرین نے اس کلام پر تدبر ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے منہ مورتے ہیں۔
افلم ید بر و القول (23 : 8 6) تو کیا انہوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا۔
ام جاء ھم ھم الاولین (23 : 68) ” یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی “۔ یا یہ بات کہ پغمبر کا بھیجنا ان کے اور ان کے آباء کی روایات میں کوئی مانوس بات نہیں ہے ۔ ان کی رویات میں بات نہیں ہے کہ کوئی رسول آئے یا ان کے سامنے کوئی کلمہ توحید جیسے افکار و نظریات پیش کرے۔ رسولوں کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ رسول پے در پے آتے ہیں اور تمام رسولوں نے یہی تعلیم دی ہے جو نبی آخر الزمان دے رہے ہیں اور ان رسولوں میں سے کئی کے بارے میں وہ معلومات بھی رکھتے ہیں۔
ام لم یعرفوا رسولھم فھم لہ منکرون (23 : 69) ” یا یہ اپنے رسول کبھی واقف نہ تھے اور اب یہ اس سے بد کتے ہیں “۔ یعنی ان کے امراض کا یہ سبب بھی نہیں ہوسکتا کہ جو رسول آیا ہے اس سے ان کی جان پہچان نہیں ہے ۔ وہ تو اس رسول کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کی شخصیت کو جانتے ہیں۔ اس کے نصب کو جانتے ہیں ، وہ اس کی ذات وصفات سے اچھی طرح با خبر ہیں۔ وہ یقین سے جانتے ہیں کہ وہ صادق و امین ہیں اور رسالت سے پہلے ہی خود انہوں نے ان کو صادق وامین کے لقب سے نوازا تھا ۔
ام یقولون بہ جنۃ (23 : 70) ” یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنوں ہے “۔ ان میں سے بعض بیوقوف آپ پر یہ الزام لگاتے تھے لیکن یہ محض الزام تھا ، دل سے تو وہ بھی جانتے تھے کہ وہ عاقل اور کامل سے کیونکہ پوری زندگی میں انہوں نے اس کے حوالے سے کسی لغزش کا نہ سنا تھا۔
مذکورہ بالا شبہات میں سے کسی شبہ کی کوئی گنجائش تو نہ تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ حق کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سچائی کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ جو سچائی آپ لائے تھے وہ ان سے وہ باطل اقدار چھین رہی تھی جن میں وہ زندگی بسر کرتے تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور یہ سچائی ان کی خواہشات نفس اور ان کی زندگیوں میں رچی بسی اور جمی ہوئی عادات کے خلاف تھی۔
بل جاء ھم بالحق و اکثر ھم للحق کرھون (23 : 70) بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہیـــ“۔ سچائی تو سچائی ہوتی ہے۔ وہ ان کی خواہشات کے ساتھ بدل نہیں سکتی۔ سچائی پر تو زمین و آسمان کا قیام ہے ۔ اس کائنات پر نافذ ہونے والا ناموس دراصل حق ہے۔ اسی ناموس اور اسی حق کے مطابق یہ کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والی تما موجود ات چل رہی ہیں۔
ولو اتبع الحق فیھن (23 : 71) ” اور حق اگر ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ حق ایک ہے اور ثابت ہے۔ خواہشات تو ہر انسان کی جدا جدا ہوتی ہے ، بدلتی رہتی ہیں۔ یہ پوری کائنات حق پر چلتی ہے اور اسکی چالایک ہے۔ اس کا اصول اور ناموس نہیں بدلتا ۔ اور نہ کسی عارض خواہشات کے مطابق اس ناموس میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے۔ اگر کائنات کا یہ نظام لوگوں کی تمنائوں اور بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہوجائے اور لوگوں کی عارضی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو دنیا کا یہ پورا نظام فساد پذیر ہوجائے۔ لوگوں کے حالات اور طریقے بگڑ جائیں ۔ اقدامات حیات اور حسن و فتح کے بدل جائیں۔ اگر کوئی خوش ہوتا ہے تو اقدار ہوتے ہن اور کوئی خفا ہوتا تو اقدار و پیمانے اور ہوتے۔ اسی طرح لوگوں کے پیمانے ان کی پسند ناپسند ، رغبت اور خوف ، خوشی اور غم کے مختلف حالات میں بھی بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسانی مزاج ایک حال میں نہیں رہتا۔ اس پر عوارض آتے رہتے ہیں جبکہ حق اپنی جگہ قائم رہتا اور یہ نظام کائنات اور اس کے مقاصد یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے نظام میں ثبات ، یکجہتی اور تسلسل قائم رہے اور نہایت ہی پختہ اور قابل تغیر ضوابط کے مطابق یہ کائنات چلے اور تغیرات اور بےیقینی سے اس کا نظام پاک ہو۔
اس کائنات کا نظام چونکہ حق پر ہے اور اس کو حق کے مطابق ہی چلایا جا رہا ہے ۔ چناچہ انسانی زندگی کو چلانے کے لیے بھی اللہ نے ایک سچائی پر مشتمل ضابطہ مقرر کردیا گیا ہے ۔ یہ ضابطہ بھی اس ذات نے مقرر کیا ہے جو اس پوری کائنات کو چلارہی ہے۔ جس طرح کائنات کا ضابطہ اٹل ہے اسی طرح یہ انسانی ضابطہ بھی اٹل ہے کیونکہ انسان بھی کائنات کا ایک جز ہے تاکہ انسانی طرز عمل اور اس کائنات کی رفتار کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ اس لیے حق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات کا شارع ہی انسانی ضابطہ حیات کا شارع اور مصنف ہو تاکہ انسان کی چلت کائنات کی چلت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر انسانوں کی زندگی کی ضابطہ بندی ان کی خواہشات پر چھوڑدی جائے تو انسانوں کی زندگی کا نظام فسا پذیر ہوجائے گا اور اس میں خلل واقع ہوجائے گا۔
المؤمنون 23:70
افلم یدبرو لنکبون (آیت نمبر 68 تا 74)
حضرت محمد ﷺ نے جو تعلیمات پیش کی ہیں اگر ان پر کوئی ذرا بھی غور کرے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان سے منہ پھیرے کیونکہ اس کلام میں بہت ہی خوبصورتی ، بہت کی کمال ، بہت ہی جازبیت ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت ہی فطری اور انسانی عقل و وجدان کے مطابق ہیں ۔ اس میں دل دماغ کی غذا موجود ہے ، ان کا رحجان بہت ہی تعمیری ہے۔ یہ جو نظام و قانون پیش کرتی ہیں وہ نہایت ہی مستحکم ہے ۔ ان پوری تعلیمات کو دیکھ رکر انسانی فطرت ان کو تسلیم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ منکرین نے اس کلام پر تدبر ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے منہ مورتے ہیں۔
افلم ید بر و القول (23 : 8 6) تو کیا انہوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا۔
ام جاء ھم ھم الاولین (23 : 68) ” یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی “۔ یا یہ بات کہ پغمبر کا بھیجنا ان کے اور ان کے آباء کی روایات میں کوئی مانوس بات نہیں ہے ۔ ان کی رویات میں بات نہیں ہے کہ کوئی رسول آئے یا ان کے سامنے کوئی کلمہ توحید جیسے افکار و نظریات پیش کرے۔ رسولوں کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ رسول پے در پے آتے ہیں اور تمام رسولوں نے یہی تعلیم دی ہے جو نبی آخر الزمان دے رہے ہیں اور ان رسولوں میں سے کئی کے بارے میں وہ معلومات بھی رکھتے ہیں۔
ام لم یعرفوا رسولھم فھم لہ منکرون (23 : 69) ” یا یہ اپنے رسول کبھی واقف نہ تھے اور اب یہ اس سے بد کتے ہیں “۔ یعنی ان کے امراض کا یہ سبب بھی نہیں ہوسکتا کہ جو رسول آیا ہے اس سے ان کی جان پہچان نہیں ہے ۔ وہ تو اس رسول کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کی شخصیت کو جانتے ہیں۔ اس کے نصب کو جانتے ہیں ، وہ اس کی ذات وصفات سے اچھی طرح با خبر ہیں۔ وہ یقین سے جانتے ہیں کہ وہ صادق و امین ہیں اور رسالت سے پہلے ہی خود انہوں نے ان کو صادق وامین کے لقب سے نوازا تھا ۔
ام یقولون بہ جنۃ (23 : 70) ” یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنوں ہے “۔ ان میں سے بعض بیوقوف آپ پر یہ الزام لگاتے تھے لیکن یہ محض الزام تھا ، دل سے تو وہ بھی جانتے تھے کہ وہ عاقل اور کامل سے کیونکہ پوری زندگی میں انہوں نے اس کے حوالے سے کسی لغزش کا نہ سنا تھا۔
مذکورہ بالا شبہات میں سے کسی شبہ کی کوئی گنجائش تو نہ تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ حق کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سچائی کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ جو سچائی آپ لائے تھے وہ ان سے وہ باطل اقدار چھین رہی تھی جن میں وہ زندگی بسر کرتے تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور یہ سچائی ان کی خواہشات نفس اور ان کی زندگیوں میں رچی بسی اور جمی ہوئی عادات کے خلاف تھی۔
بل جاء ھم بالحق و اکثر ھم للحق کرھون (23 : 70) بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہیـــ“۔ سچائی تو سچائی ہوتی ہے۔ وہ ان کی خواہشات کے ساتھ بدل نہیں سکتی۔ سچائی پر تو زمین و آسمان کا قیام ہے ۔ اس کائنات پر نافذ ہونے والا ناموس دراصل حق ہے۔ اسی ناموس اور اسی حق کے مطابق یہ کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والی تما موجود ات چل رہی ہیں۔
ولو اتبع الحق فیھن (23 : 71) ” اور حق اگر ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ حق ایک ہے اور ثابت ہے۔ خواہشات تو ہر انسان کی جدا جدا ہوتی ہے ، بدلتی رہتی ہیں۔ یہ پوری کائنات حق پر چلتی ہے اور اسکی چالایک ہے۔ اس کا اصول اور ناموس نہیں بدلتا ۔ اور نہ کسی عارض خواہشات کے مطابق اس ناموس میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے۔ اگر کائنات کا یہ نظام لوگوں کی تمنائوں اور بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہوجائے اور لوگوں کی عارضی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو دنیا کا یہ پورا نظام فساد پذیر ہوجائے۔ لوگوں کے حالات اور طریقے بگڑ جائیں ۔ اقدامات حیات اور حسن و فتح کے بدل جائیں۔ اگر کوئی خوش ہوتا ہے تو اقدار ہوتے ہن اور کوئی خفا ہوتا تو اقدار و پیمانے اور ہوتے۔ اسی طرح لوگوں کے پیمانے ان کی پسند ناپسند ، رغبت اور خوف ، خوشی اور غم کے مختلف حالات میں بھی بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسانی مزاج ایک حال میں نہیں رہتا۔ اس پر عوارض آتے رہتے ہیں جبکہ حق اپنی جگہ قائم رہتا اور یہ نظام کائنات اور اس کے مقاصد یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے نظام میں ثبات ، یکجہتی اور تسلسل قائم رہے اور نہایت ہی پختہ اور قابل تغیر ضوابط کے مطابق یہ کائنات چلے اور تغیرات اور بےیقینی سے اس کا نظام پاک ہو۔
اس کائنات کا نظام چونکہ حق پر ہے اور اس کو حق کے مطابق ہی چلایا جا رہا ہے ۔ چناچہ انسانی زندگی کو چلانے کے لیے بھی اللہ نے ایک سچائی پر مشتمل ضابطہ مقرر کردیا گیا ہے ۔ یہ ضابطہ بھی اس ذات نے مقرر کیا ہے جو اس پوری کائنات کو چلارہی ہے۔ جس طرح کائنات کا ضابطہ اٹل ہے اسی طرح یہ انسانی ضابطہ بھی اٹل ہے کیونکہ انسان بھی کائنات کا ایک جز ہے تاکہ انسانی طرز عمل اور اس کائنات کی رفتار کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ اس لیے حق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات کا شارع ہی انسانی ضابطہ حیات کا شارع اور مصنف ہو تاکہ انسان کی چلت کائنات کی چلت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر انسانوں کی زندگی کی ضابطہ بندی ان کی خواہشات پر چھوڑدی جائے تو انسانوں کی زندگی کا نظام فسا پذیر ہوجائے گا اور اس میں خلل واقع ہوجائے گا۔
المؤمنون 23:71
ولو اتبع فیھن (23 : 71) ” اور حق کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے تو زمین و آسمان اور ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجا تا “۔ لہذا یہ نظام کلی طور پر حق کے تابع ہے حق کا مطیع فرمان ہے اور مدبر کائنات کی حیثیت کے مطابق چل رہا ہے ۔
یہ امت کے پاس یہ حق آیا ہے ‘ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ وہ اس مطیع ہوجائے۔ ایک تو یہ کہ یہ ایک حق کی بات ہے ، دوسرے یہ کہ اس امت کے لیے یہ بہت بڑی اعزاز بھی ہے پھر یہ سچائی اس امت کی شناخت بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نہ ہوتا تو اقوام عالم میں عربوں کی اور کیا شناخت ہوتی اور اسلام نہ ہوتا تو مسلمان ہوتے کہاں ؟
اسلام سے قبل تاریخ اقوام میں عربوں کا کوئی ذکر نہ تھا اور نہ ہی ان کا کوئی کردار تھا۔ پھر جب تک عرب قرآن کا دامن تھامے رہے ان کی آواز پوری کائنات میں گونج رہی تھی اور جب عربوں نے قرآن کو چھوڑا تو تاریخ میں ان کا کردار بھی گھٹتا گیا اور مٹتا گیا حتی کہ وہ قابل ذکر نہ ہی رہے اور نہ آئندہ کبھی وہ کوئی مقام حاصل کرسکتے ہیں الا یہ کہ وہ اپنے اصل عنوان کو اختیار کرلیں اور اپنی اصل شناخت کو اختیار کرلیں ۔ چونکہ ان لوگوں کو دعوت حق دی گئی اور نہوں نے اس کا انکار کیا اور الٹا داعی حق پر الزام شروع کردیا اور غلط موقف اختیار کیا تو اس مضمون کی منا سبت سے اب روئے سخن ان کے اس غلط موقف کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کے اس غلط رویے کی مذمت کی جاتی ہے اور وہ رسول امین پر جو الزامات لگاتے تھے ان کی تردید کی جاتی ہے۔
المؤمنون 23:72
ام تسئلھم خرجا (23 : 72) ” کیا تو ان سے کچھ مانگ رہا ہے “ کیا اس ہدایت وتعلیم کی کوئی بھاری فیس تم مانگ رہے ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس سے بھاگ رہے ہیں۔ تم تو ان سے کچھ بھی طلب نہیں کرتے ہو کیونکہ تمہارا اجر تو اللہ ہے۔
فخراج ربک خیر وھو خیر الرزقین (23 : 72) ” تیرے لیے تو رب یکا دیا بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے “۔ کوئی نبی لوگوں سے کسی معاوضے کا طلبگار نہیں ہوتا جبکہ انسان بہت ہی ضیعف ، فقیر اور محتاج ہوتے ہیں ۔ نبی تو اللہ سے متصل اور مربوط ہوتا ہے جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ نبی کے معبین بھی اس دنیا کے مفادات میں سے کسی مفاد کے طلبگار نہیں ہوتے کیونکہ ان کی نظریں بھی اس اجر پر ہوتی ہیں جو اللہ کے ہاں ان کے لیے تیار ہے اور دنیا میں تو قلیل ہو یا کثیر ہو ، وہ اس پر راضی ہوتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جب انسان کی روح اللہ سے مل جائے تو اس کے لیے پھر یہ کام پوری کائنات اور پر کہ کے برابر نہیں رہتی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ تو ان لوگوں کی رہنمائی اس نظام کی طرف کررہے ہیں جو نہایت ہی مستخکم ہے۔
المؤمنون 23:73
وانک لتد عو ھم الی صراط مستقیم (23 : 73) ” اور تو ‘ تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا رہا ہے “۔ آپ ان کو اس ناموس فطرت بلا رہے ہیں اور ان کو اس قافلہ کے ساتھ ہم آہنگ کررہے ہیں اور سیدھا خالق کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔
ان لوگوں کی حالت بی ایسی ہے جس طرح ان تمام لوگوں کی ہوتی ہے جو ایمان نہیں لاتے اور راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں۔
المؤمنون 23:74
وان الذین لا یومنون بالا خرۃ عن الصراط لنکبون (23 : 73) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں “۔ اگر یہ ہدایت پر ہوتے تو وہ اپنے دل دماغ اس زندگی پر غور کرتے ، جس کے نتیجے میں انسانی حتمی طور پر آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ ایک ایسے جہان کا وہ ضرور قائل ہوجاتا ہے جس میں یہ زندگی اپنی نہایت ہی مکمل حالت میں ہوگی اور جس کے اندر لوگوں کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا کیونکہ آخرت ناموس کائنات کا ایک آخری حلقہ ہے جس میں اللہ کی تدبیر کائنات اپنے اختتام کو پہنچے گی ۔
یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ، جو رراہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں اگر ان کو بہت دولت دی جائے اور آزمایا جائے تو بھی وہ راہ راست پر نہیں آتے اور اگر ان کو مشکلات سے دو چار کر کے آزمایا جائے تو بھ راہ راست پر نہیں آتے۔ اگر ان کو نعمت سے نوازا جائے تو کہتے ہیں۔
انما نمدھم بہ من مال وبنین (55) نسارع لھم فی الخیرات (23 : 56) ” یہ جو ہم نے انہیں مال اور اولاد دے کر امداد کی ہے وہ اس لیے کہ ہم ان کے لیے بھلائی میں جلدی کرنے والے ہیں “۔ اور اگر ان پر عذاب آجائے تو بھی ان کے دل نرم نہیں ہوتے ، ان کے ضمیر نہیں جاگتے اور اس مصیبت کو دور کرنے کے لیے اللہ کے سامنے عاجزی نہیں کرتے کہ وہ ان کی اس مصیبت کو دور کرے۔ یہ اسی طرح رہیں گے یہاں تک کہ قیامت کے دن ان کو عذاب الہی آلے اور وہاں مایوس اور حیران رہ جائیں ۔
المؤمنون 23:75
ولو رحمنہم مبلسون (آیت نمبر 75 تا 77) ” ۔ ۔ “۔
یہ ہے بعض لوگوں کا مستقبل رویہ۔ یہ سخت دل لوگ ہوتے ہیں ۔ اللہ سے غافل ہوتے ہیں ، آخرت کی تکذیب کرتے ہیں ۔ مشرکین مکہ اسیے ہی لوگوں سے تھے جن سے حضور اکرم ﷺ کو سابقہ تھا۔
اگر کسی پر مصیبت آجائے اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی اور تضرع کرنے لگے تو یہ رجوع الی اللہ کی دلیل ہوتا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے دل میں خدا کا شعور ہے اور یہ تصور بھی ہے کہ آخری سارا اللہ ہے۔ جو دل اس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نرم ہوتا ہے ، بیدار ہوتا ہے اور نصیحت اس کو فائدہ دیتی ہے ۔ یہ احساس انسان کو غفلت اور لغزش سے بچاتا ہے ۔ اسیے ہی لوگ مصائب اور مشکلات سے فائدہ اور نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن جب کو ئی اپنی گمراہی اور سرکشی میں بہت آگے چلا جائے اور اندھا ہوجائے تو اس شخص سے مایوس ہوجا نا چاہیے ۔ اس کی اصلاح کی پھر کوئی امید نہیں رہتی۔ اسے چھوڑ دیا جائے کہ وہ عذاب آخرت کا شکار ہو اور یہ آخرت بہت ہی اچانک ہوگی۔ اچانک ہر کسی کے سامنے آجائے گی اور تمام لوگ اس وقت حیران و پریشان ہوں گے اور اس بات سے مایوس ہوں گے کہ اب ہر کوئی خلاصی ممکن ہے۔
ایک بار پھر ان کے شعور اور وجدان کو جگانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ النفس و آفاق میں دلائل ایمان کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔ ایسے امور کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو پیش یا افتادہ ہیں۔
المؤمنون 23:76
ولو رحمنہم مبلسون (آیت نمبر 75 تا 77) ” ۔ ۔ “۔
یہ ہے بعض لوگوں کا مستقبل رویہ۔ یہ سخت دل لوگ ہوتے ہیں ۔ اللہ سے غافل ہوتے ہیں ، آخرت کی تکذیب کرتے ہیں ۔ مشرکین مکہ اسیے ہی لوگوں سے تھے جن سے حضور اکرم ﷺ کو سابقہ تھا۔
اگر کسی پر مصیبت آجائے اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی اور تضرع کرنے لگے تو یہ رجوع الی اللہ کی دلیل ہوتا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے دل میں خدا کا شعور ہے اور یہ تصور بھی ہے کہ آخری سارا اللہ ہے۔ جو دل اس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نرم ہوتا ہے ، بیدار ہوتا ہے اور نصیحت اس کو فائدہ دیتی ہے ۔ یہ احساس انسان کو غفلت اور لغزش سے بچاتا ہے ۔ اسیے ہی لوگ مصائب اور مشکلات سے فائدہ اور نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن جب کو ئی اپنی گمراہی اور سرکشی میں بہت آگے چلا جائے اور اندھا ہوجائے تو اس شخص سے مایوس ہوجا نا چاہیے ۔ اس کی اصلاح کی پھر کوئی امید نہیں رہتی۔ اسے چھوڑ دیا جائے کہ وہ عذاب آخرت کا شکار ہو اور یہ آخرت بہت ہی اچانک ہوگی۔ اچانک ہر کسی کے سامنے آجائے گی اور تمام لوگ اس وقت حیران و پریشان ہوں گے اور اس بات سے مایوس ہوں گے کہ اب ہر کوئی خلاصی ممکن ہے۔
ایک بار پھر ان کے شعور اور وجدان کو جگانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ النفس و آفاق میں دلائل ایمان کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔ ایسے امور کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو پیش یا افتادہ ہیں۔
المؤمنون 23:77
ولو رحمنہم مبلسون (آیت نمبر 75 تا 77) ” ۔ ۔ “۔
یہ ہے بعض لوگوں کا مستقبل رویہ۔ یہ سخت دل لوگ ہوتے ہیں ۔ اللہ سے غافل ہوتے ہیں ، آخرت کی تکذیب کرتے ہیں ۔ مشرکین مکہ اسیے ہی لوگوں سے تھے جن سے حضور اکرم ﷺ کو سابقہ تھا۔
اگر کسی پر مصیبت آجائے اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی اور تضرع کرنے لگے تو یہ رجوع الی اللہ کی دلیل ہوتا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے دل میں خدا کا شعور ہے اور یہ تصور بھی ہے کہ آخری سارا اللہ ہے۔ جو دل اس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نرم ہوتا ہے ، بیدار ہوتا ہے اور نصیحت اس کو فائدہ دیتی ہے ۔ یہ احساس انسان کو غفلت اور لغزش سے بچاتا ہے ۔ اسیے ہی لوگ مصائب اور مشکلات سے فائدہ اور نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن جب کو ئی اپنی گمراہی اور سرکشی میں بہت آگے چلا جائے اور اندھا ہوجائے تو اس شخص سے مایوس ہوجا نا چاہیے ۔ اس کی اصلاح کی پھر کوئی امید نہیں رہتی۔ اسے چھوڑ دیا جائے کہ وہ عذاب آخرت کا شکار ہو اور یہ آخرت بہت ہی اچانک ہوگی۔ اچانک ہر کسی کے سامنے آجائے گی اور تمام لوگ اس وقت حیران و پریشان ہوں گے اور اس بات سے مایوس ہوں گے کہ اب ہر کوئی خلاصی ممکن ہے۔
ایک بار پھر ان کے شعور اور وجدان کو جگانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ النفس و آفاق میں دلائل ایمان کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔ ایسے امور کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو پیش یا افتادہ ہیں۔
المؤمنون 23:78
و ھو الذی تعقلون (78 تا 80) ”
انسان اگر اپنی تخلیق اور اپنی شکل و صورت ہی غور کرے ، اور اپنے مفاد اعضاء وجوارح پر غور کرے ، اپنے حواس اور اپنی پہچننا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ ان عجیب امور پر غور کرکے وہ خالق کائنات کی معرفت حاصل کرسکتا ہے کیونکہ اللہ کے علاوہ کون ہے جس نے یہ معجزے دکھائے ہیں ۔ اس کائنات میں بیشمار عجوبے ہیں ، چھوٹے بھی ہیں اور بڑے بھی۔
ذرا انسان صرف اپنی قوت سماعت ہی پر غور کرے۔ یہ قوت کس طرح کام کرتی ہے۔ کس طرح یہ آوازوں کو وصول کرتی ہے اور آوازوں سے معانی اخذ کرتی ہے۔ ذرا قوت باصرہ پر غور کرے۔ انسان کس طرح دیکھتا ہے۔ کس طرح آنکھ روشنی کو لیتی ہے اور تصاویر دیکھتی ہے ۔ پھر انسان کا دماغ اور اس کا ادراک ، اشیاء اور شکر کی قدرو قیمت کا تعین کرتا ہے ۔ مفہوم اور پیمانوں کا تعین کرتا ہے۔ غرض تمام مشاعر و مدرکات اور محسوسات پر اگر غور کیا جائے تو ہر ایک اعجوبہ ہے۔
صرف حواس خمسہ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پر ہی اگر غور کیا جائے تو عالم بشریت کے اندر یہ ایک عظیم معجزہ ہے ۔ رہی ان قوتوں کی تخلیق اور پھر موجودہ انداز اور شکل و صورت پر ایمان کی ساخت اور پھر اس پوری کائنات کے ساتھ ان کی ہم اہنگی ، کہ اگر اس کائنات کی قوتوں اور انسانی قوتوں میں جو نسبتیں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک نسبت بھی اگر غائب ہوجائے تو پورا نظام ہی بگڑ جائے ، کان سن نہ سکے ، آنکھ دیکھ نہ سکے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت مدبرہ نے ان کو ایسا بنا یا ہے۔ لیکن انسان ایسا نا شکرا ہے کہ وہ اللہ کے ان انعامات پر غور ہی نہیں کرتے۔
قلیلا ما تشکروں (23 : 78) ” تم میں سے کم لوگ ایسے ہیں جو شکر کرتے ہیں “ ۔ شکر تب ہی ہو سکتا ہے کہ انسان کسی نعمت کے بخشنے والے کے بارے میں جانتا ہو ۔ اس کی ذات وصفات کو جانتا ہو۔ پھر وہ اللہ وحدہ کی عبادت اور بندگی بھی کرتا ہو اور پھر وہ یہ بات بھی جانتا ہو کہ یہ قوتیں انسان کو اسی ذات و الاصفات نے دی ہیں جن کے ذریعے وہ اس کرہ ارض پر عیش و عشرت سے ہمکنار ہے اور ہر چیز استفادہ کررہا ہے۔
المؤمنون 23:79
وھو الذی ذراکم فی الارض (23 : 79) ” وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھلایا اور اس زمین پر اپنی طرف سے خلیفہ اور مختار بنایا۔ اور پھر تمہیں اس نے دیکھنے اور سننے کی قوت دی ، سوچنے کی قوت دی اور تمام دوسری صلاحتیں دیں جو یہاں فریضہ خلافت ارضی کی ادائیگی کے لیے ضروری تھیں ۔
والیہ تحشرون (23 : 79) ” اور اسی کی طرف سمیٹے جائو گے “۔ پھر وہاں وہ تم سے سے حساب و کتاب لے گا تم نے زمین پر فریضہ خلافت اللہ کی ہدایات کے مطابق ادا کیا یا نہیں۔ اچھے کا کیے یا برے کا کیے۔ ہدایت پر رہے یا ضلالت کی راہ اختیار کی ۔ کیونکہ تم کو عبث پیدا نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی اس زمین پر تمہیں شتر ہے مہار پیدا کرکے چھوڑ دیا گیا ہے۔ بلکہ تمہاری تخلیق ایک حکمت اور تدبیر کے تحت ہوئی ہے۔
المؤمنون 23:80
وھو الذی یحی و یمیت (23 : 80) ” وہی ہے جو زندگی دیتا اور موت دیتا ہے “۔ موت اور حیات ایسے واقعات ہیں جو رات اور دن نمو دار ہوتے رہتے ہیں ۔ موت حیات کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان جو زیادہ ترقی یافتہ حیوان ہے اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ زندگی پیدا کرسکے اور انسان کسی زندہ مخلوق سے زندگی چھین بھی سکتا۔ کیونکہ تم کو عبث پیدا نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی اس زمین پر تمہیں شتر بےمہار پیدا کرکے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ بلکہ تمہاری تخلیق ایک حکمت اور تدبیر کے تحت ہوئی ہے۔
وھو الذی یحی و یمیت (23 : 80) ” وہی ہے جو زندگی دیتا اور موت دیتا ہے “۔ موت اور حیات ایسے واقعات ہیں جو رات اور دن نمودار ہوتے رہتے ہیں ۔ موت وحیات کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان جو زیادہ ترقی یافتہ ہیں جو رات اور دن نمودار ہوتے ہیں ۔ موت وحیات کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان جو زیادہ ترقی یافتہ حیوان ہے اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ زندگی کا ایک خلیہ پیدا کرسکے اور انسان کسی زندہ مخلوق سے زندگی چھین بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ جو ذات حیات عطا کرتی ہے وہی اس کی حقیقت کو جانتی ہے ۔ یہ اس ذات کی قدرت میں ہے کہ وہ زندگی بخشنے اور زندگی واپس لے۔ انسان کبھی اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ کسی زندگی چھن جائے لیکن در حقیقت انسان کسی سے اس کی زندگی چھین نہیں سکتا۔ حقیقت میں حیات و ممات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی حیات و ممات کا وا اکدار ـ” مختار “ نہیں ہے۔
ولہ اختلاف الیل والنھار افلا تعقلون (23 : 80) ” گردش لیل و نہار کے قبضہ قدرت میں ہے “۔ وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس میں متصرف ہے ، جس طرح موت وحیات کا مالک وہی ہے۔ گردش لیل و نہار بھی ایک کائناتی سنت الہیہ ہے جس طرح موت وحیات کی کارکردگی اللہ کی سنت کے مطابق ہے ۔ وہ نفس انسانی ، جسم انسانی ، یہ کائنات اور یہ افلاک سب کے سب اسی سنت کے مطابق چل رہے ہیں۔ اگر اللہ کسی کے جسم سے حیات نکال دے تو اس کا جسم ٹھندا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر اللہ زمین سے روشنی واپس لے لے تو یہ تاریک رہ جائے ۔ یہاں اللہ نے زندگی پیدا کی اور روشنی پیدا کی اور ان دونوں سے زندگی کی گاڑی رواں دواں ہے ۔ اور یہ اس وقت تک چلتی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔
افلا تعقلون (23 : 80) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے “۔ کہ تم ان چیزوں کی حقیقت کو سمجھ سکو۔ یہ سب چیزیں تو وجود باری اور صنعت بار کے شواہد ہیں کہ وہ خالق و مدبر ہے اور وہ اس پوری کائنات کا چلا رہا ہے۔
المؤمنون 23:81
اب ان کے ساتھ سلسلہ کلام ختم کرکے اس پر ایک مثبت تبصرہ کیا جاتا ہے کہ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب کے بارے میں ان لوگوں کے جو اقوال ہیں ایسے ہی مقولات سابقہ لوگوں کے بھی رہے ہیں ۔
بل قالو مثل اساطیر الا ولین (آیت نمبر 81 تا 82)
بادی النظر میں یہ بات نہایت مکروہ ہے ، اس لیے کہ ان آیات بینات اور ان دلائل اور دلائل کائنات کے باوجود لوگ جو ایسی باتیں کرتے ہیں وہ مکروہ باتیں ہیں۔ خود انسانی قوتیں ، انسان کی قوت سماعت ، اس کی قوت بینائی اور اس کی قوت غور و فکر اسے اس لیے دی گئی ہیں کہ وہ ایک ذمہ دار اور مسئول ہستی ہے ۔ وہ اپنے اعمال و افکار کے بارے میں ذمہ دار ہے۔ اگر وہ اچھے کام کرے گا تو اس کی جزاء کا مستحق ہوگا اور اگر برے کام کرے گا تو سزا کا مستحق ہوگا۔ دنیا میں صاف نظر آتا ہے کہ بعض اوقات انسان کو وہ جزاء ملتی ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ سزا نہیں ملتی جس کا وہ سزا وار ہوتا ہے لہذا آخرت کا برپا ہونا عقلاً بھی لابدی ہے ۔
اللہ ہر وقت مارتا بھی رہتا ہے اور زندگی بھی عطا کرتا رہتا ہے ۔ اللہ کے لیے کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے کہ وہ دوبارہ کس طرح اٹھائے گا جبکہ اللہ ہر وقت مختلف چیزوں کو حیات دیتا رہتا ہے اور زندگی کا سیل رواں اس زمین پر جاری ہے۔
رہے اہل کفر تو نہ صرف یہ کہ ان کے قوائے مدرکہ بعث بعد الموت کا ادراک نہیں کرسکے اور اس میں پائے جانے والی اللہ کی حکمت کو سمجھ نہیں سکے بلکہ وہ اس عقیدے کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے آباء و اجداد کو بھی قیام سے ڈریا جاتا رہے ہے لیکن ابھی تک تو یہ قیامت آئی نہیں ہے۔
المؤمنون 23:82
اب ان کے ساتھ سلسلہ کلام ختم کرکے اس پر ایک مثبت تبصرہ کیا جاتا ہے کہ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب کے بارے میں ان لوگوں کے جو اقوال ہیں ایسے ہی مقولات سابقہ لوگوں کے بھی رہے ہیں ۔
بل قالو مثل اساطیر الا ولین (آیت نمبر 81 تا 82)
بادی النظر میں یہ بات نہایت مکروہ ہے ، اس لیے کہ ان آیات بینات اور ان دلائل اور دلائل کائنات کے باوجود لوگ جو ایسی باتیں کرتے ہیں وہ مکروہ باتیں ہیں۔ خود انسانی قوتیں ، انسان کی قوت سماعت ، اس کی قوت بینائی اور اس کی قوت غور و فکر اسے اس لیے دی گئی ہیں کہ وہ ایک ذمہ دار اور مسئول ہستی ہے ۔ وہ اپنے اعمال و افکار کے بارے میں ذمہ دار ہے۔ اگر وہ اچھے کام کرے گا تو اس کی جزاء کا مستحق ہوگا اور اگر برے کام کرے گا تو سزا کا مستحق ہوگا۔ دنیا میں صاف نظر آتا ہے کہ بعض اوقات انسان کو وہ جزاء ملتی ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ سزا نہیں ملتی جس کا وہ سزا وار ہوتا ہے لہذا آخرت کا برپا ہونا عقلاً بھی لابدی ہے ۔
اللہ ہر وقت مارتا بھی رہتا ہے اور زندگی بھی عطا کرتا رہتا ہے ۔ اللہ کے لیے کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے کہ وہ دوبارہ کس طرح اٹھائے گا جبکہ اللہ ہر وقت مختلف چیزوں کو حیات دیتا رہتا ہے اور زندگی کا سیل رواں اس زمین پر جاری ہے۔
رہے اہل کفر تو نہ صرف یہ کہ ان کے قوائے مدرکہ بعث بعد الموت کا ادراک نہیں کرسکے اور اس میں پائے جانے والی اللہ کی حکمت کو سمجھ نہیں سکے بلکہ وہ اس عقیدے کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے آباء و اجداد کو بھی قیام سے ڈریا جاتا رہے ہے لیکن ابھی تک تو یہ قیامت آئی نہیں ہے۔
المؤمنون 23:83
لقد الا ولین (23 : 83) ” ہم نے یہ بھی وعدے بہت سنے ہیں اور ہم سے پلے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں ۔ یہ محض افسانہ ہائے پارینہ ہیں ــ“۔ لیکن بعث بعد الموت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ یہ اللہ نے اپنی تدبیر اور اپنی حکمت سے مقرر کیا ہے۔ اس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ یہ گھڑی وقت سے قبل نہیں آسکتی الا یہ کہ اللہ چاہے ، اگر چہ تمام مخلوق اس کا مطالبہ کردے یا غافلین کا کائی گروہ اس نظریہ سے مذاق ہی کرتا رہے۔
مشرکین عرب کے عقائد میں بڑا ہی اضطراب تھا۔ وہ اللہ کے وجود کا انکار نہ کرتے تھے۔ وہ اس بات کا انکار بھی نہ کرتے تھے کہ اللہ مالک سماوات والارض ہے۔ وہ مدبر سماوات ہے اور زمین اور آسمانوں کو تھامنے والا ہی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ دوسرے الہوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ اور ان کا نظریہ یہ تھا کہ دوسرے الہوں کی بندگی وہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ پھر وہ اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے تھے حالانکہ اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ اللہ کی طرف نسبت کرتے تھے۔
یہاں اللہ تعالیٰ ان کے مسلمہ عقائد کا ذکر کے ان پر گرفت کرتے ہیں تاکہ ان کے عقائد کے اندر اضطراب پایا جاتا ہے ، اسے دور کردیا جائے اور انہیں اس عقیدہ توحید کی طرف لایا جائے جس کی طرف ان کے مسلمہ عقائد بھی راہنمائی کرتے ہیں بشرطیکہ وہ اپنی فطرت پر قائم ہوں اور انحراف نہ کریں۔
المؤمنون 23:84
قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔
ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟
سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے کہو۔
قل افلا تذکرون (23 : 85) ” پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے “۔ اس حقیقت کو اپنے طرز عمل میں کیوں نہیں لاتے۔
قل من رب العظیم (23 : 86) ” ان سے پوچھو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے “۔ یہ سوال اس کائنات کی ابوہیت کے بارے میں ہے کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا متصرف کون ہے۔ سات آسمانوں سے مراد سات افلاک بھی ہوسکتے ہیں یا سات ستاروں کے مجموعے بھی ہو سکتے ہیں ۔ یا سات آسمان بھی ہو سکتے ہیں۔ اور سات جہاں بھی ہو سکتے ہیں یا کوئی سات فلکی مخلوق بھی ہو سکتے ہیں۔ غرض دراصل یہ ہے اور کنٹرول اور اقتدار اعلیٰ کے مفہوم کی طرف یعنی کون ہے جو سات آسمانوں اور عرش عظیم کا کنٹرولر ہے ؟
سیقو لون للہ (23 : 80) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ “ لیکن اس اقرار کے باوجود یہ لوگ رب عرش عظیم سے ڈرتے نہیں ۔ نہ رب سماوات سے ڈرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ پھر دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں ۔ ایسے بتوں کو جو زمین پر گرے ہوئے ہیں ۔
قل افلا تتقون (23 : 87) ” تو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں “۔
قل من تعملون (23 : 88) ” ان سے کہو بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے اور کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ ” یہ سوال قبضے ، اقتدار اعلیٰ اور بادشاہت کے بارے میں ہے ، کہ کون ہے مقتدر اعلیٰ ؟ کو ہے جو سب چیزوں کا مالک ہے اور سب پر اس کا قبضہ و اقتدار ہے ۔ کون ہے جو ہر کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہ جس کو پناہ دے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور جس کو وہ پکڑنا چاہے کوئی نہیں ہے جو امت اللہ کو پکڑ سے بچاسکے۔
سیقلون اللہ (23 : 89) ” تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ہی ہے ــ“ اگر تم یہ باتیں تسلیم کرتے ہو تو پھر راہ ہدایت سے کیوں پھرے جارہے ہو۔ کیا جواز ہے پھر اس گمراہی کا ؟
فانی تسحرون (23 : 89) ’ پھر کہاں سے تم دھوکہ لگتا ہے ؟ “ حالانکہ اگر تم ان مذکورہ حقائق کو جانتے ہو تو تمہیں دھوکہ نہیں لگنا چاہیے ۔ حقیقت یہ کہ ان عقائد میں اضطراب اور یہ لوگ خبط میں بتلا ہیں۔
اب مناسب وقت آگیا ہے کہ ان کے شرکیہ عقائد کی تردید کردی جائے اور اللہ کی ذات سے اولاد کی نفی کردی جائے اور یہ فیصلہ سنادیا جائے کہ حقیقی عقائد وہی ہیں جو محمد ﷺ پیش کرتے ہیں۔
المؤمنون 23:85
قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔
ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟
سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے کہو۔
قل افلا تذکرون (23 : 85) ” پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے “۔ اس حقیقت کو اپنے طرز عمل میں کیوں نہیں لاتے۔
قل من رب العظیم (23 : 86) ” ان سے پوچھو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے “۔ یہ سوال اس کائنات کی ابوہیت کے بارے میں ہے کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا متصرف کون ہے۔ سات آسمانوں سے مراد سات افلاک بھی ہوسکتے ہیں یا سات ستاروں کے مجموعے بھی ہو سکتے ہیں ۔ یا سات آسمان بھی ہو سکتے ہیں۔ اور سات جہاں بھی ہو سکتے ہیں یا کوئی سات فلکی مخلوق بھی ہو سکتے ہیں۔ غرض دراصل یہ ہے اور کنٹرول اور اقتدار اعلیٰ کے مفہوم کی طرف یعنی کون ہے جو سات آسمانوں اور عرش عظیم کا کنٹرولر ہے ؟
سیقو لون للہ (23 : 80) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ “ لیکن اس اقرار کے باوجود یہ لوگ رب عرش عظیم سے ڈرتے نہیں ۔ نہ رب سماوات سے ڈرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ پھر دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں ۔ ایسے بتوں کو جو زمین پر گرے ہوئے ہیں ۔
قل افلا تتقون (23 : 87) ” تو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں “۔
قل من تعملون (23 : 88) ” ان سے کہو بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے اور کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ ” یہ سوال قبضے ، اقتدار اعلیٰ اور بادشاہت کے بارے میں ہے ، کہ کون ہے مقتدر اعلیٰ ؟ کو ہے جو سب چیزوں کا مالک ہے اور سب پر اس کا قبضہ و اقتدار ہے ۔ کون ہے جو ہر کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہ جس کو پناہ دے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور جس کو وہ پکڑنا چاہے کوئی نہیں ہے جو امت اللہ کو پکڑ سے بچاسکے۔
سیقلون اللہ (23 : 89) ” تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ہی ہے ــ“ اگر تم یہ باتیں تسلیم کرتے ہو تو پھر راہ ہدایت سے کیوں پھرے جارہے ہو۔ کیا جواز ہے پھر اس گمراہی کا ؟
فانی تسحرون (23 : 89) ’ پھر کہاں سے تم دھوکہ لگتا ہے ؟ “ حالانکہ اگر تم ان مذکورہ حقائق کو جانتے ہو تو تمہیں دھوکہ نہیں لگنا چاہیے ۔ حقیقت یہ کہ ان عقائد میں اضطراب اور یہ لوگ خبط میں بتلا ہیں۔
اب مناسب وقت آگیا ہے کہ ان کے شرکیہ عقائد کی تردید کردی جائے اور اللہ کی ذات سے اولاد کی نفی کردی جائے اور یہ فیصلہ سنادیا جائے کہ حقیقی عقائد وہی ہیں جو محمد ﷺ پیش کرتے ہیں۔
المؤمنون 23:86
قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔
ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟
سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے کہو۔
قل افلا تذکرون (23 : 85) ” پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے “۔ اس حقیقت کو اپنے طرز عمل میں کیوں نہیں لاتے۔
قل من رب العظیم (23 : 86) ” ان سے پوچھو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے “۔ یہ سوال اس کائنات کی ابوہیت کے بارے میں ہے کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا متصرف کون ہے۔ سات آسمانوں سے مراد سات افلاک بھی ہوسکتے ہیں یا سات ستاروں کے مجموعے بھی ہو سکتے ہیں ۔ یا سات آسمان بھی ہو سکتے ہیں۔ اور سات جہاں بھی ہو سکتے ہیں یا کوئی سات فلکی مخلوق بھی ہو سکتے ہیں۔ غرض دراصل یہ ہے اور کنٹرول اور اقتدار اعلیٰ کے مفہوم کی طرف یعنی کون ہے جو سات آسمانوں اور عرش عظیم کا کنٹرولر ہے ؟
سیقو لون للہ (23 : 80) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ “ لیکن اس اقرار کے باوجود یہ لوگ رب عرش عظیم سے ڈرتے نہیں ۔ نہ رب سماوات سے ڈرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ پھر دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں ۔ ایسے بتوں کو جو زمین پر گرے ہوئے ہیں ۔
قل افلا تتقون (23 : 87) ” تو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں “۔
قل من تعملون (23 : 88) ” ان سے کہو بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے اور کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ ” یہ سوال قبضے ، اقتدار اعلیٰ اور بادشاہت کے بارے میں ہے ، کہ کون ہے مقتدر اعلیٰ ؟ کو ہے جو سب چیزوں کا مالک ہے اور سب پر اس کا قبضہ و اقتدار ہے ۔ کون ہے جو ہر کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہ جس کو پناہ دے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور جس کو وہ پکڑنا چاہے کوئی نہیں ہے جو امت اللہ کو پکڑ سے بچاسکے۔
سیقلون اللہ (23 : 89) ” تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ہی ہے ــ“ اگر تم یہ باتیں تسلیم کرتے ہو تو پھر راہ ہدایت سے کیوں پھرے جارہے ہو۔ کیا جواز ہے پھر اس گمراہی کا ؟
فانی تسحرون (23 : 89) ’ پھر کہاں سے تم دھوکہ لگتا ہے ؟ “ حالانکہ اگر تم ان مذکورہ حقائق کو جانتے ہو تو تمہیں دھوکہ نہیں لگنا چاہیے ۔ حقیقت یہ کہ ان عقائد میں اضطراب اور یہ لوگ خبط میں بتلا ہیں۔
اب مناسب وقت آگیا ہے کہ ان کے شرکیہ عقائد کی تردید کردی جائے اور اللہ کی ذات سے اولاد کی نفی کردی جائے اور یہ فیصلہ سنادیا جائے کہ حقیقی عقائد وہی ہیں جو محمد ﷺ پیش کرتے ہیں۔
المؤمنون 23:87
قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔
ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟
سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے کہو۔
قل افلا تذکرون (23 : 85) ” پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے “۔ اس حقیقت کو اپنے طرز عمل میں کیوں نہیں لاتے۔
قل من رب العظیم (23 : 86) ” ان سے پوچھو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے “۔ یہ سوال اس کائنات کی ابوہیت کے بارے میں ہے کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا متصرف کون ہے۔ سات آسمانوں سے مراد سات افلاک بھی ہوسکتے ہیں یا سات ستاروں کے مجموعے بھی ہو سکتے ہیں ۔ یا سات آسمان بھی ہو سکتے ہیں۔ اور سات جہاں بھی ہو سکتے ہیں یا کوئی سات فلکی مخلوق بھی ہو سکتے ہیں۔ غرض دراصل یہ ہے اور کنٹرول اور اقتدار اعلیٰ کے مفہوم کی طرف یعنی کون ہے جو سات آسمانوں اور عرش عظیم کا کنٹرولر ہے ؟
سیقو لون للہ (23 : 80) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ “ لیکن اس اقرار کے باوجود یہ لوگ رب عرش عظیم سے ڈرتے نہیں ۔ نہ رب سماوات سے ڈرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ پھر دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں ۔ ایسے بتوں کو جو زمین پر گرے ہوئے ہیں ۔
قل افلا تتقون (23 : 87) ” تو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں “۔
قل من تعملون (23 : 88) ” ان سے کہو بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے اور کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ ” یہ سوال قبضے ، اقتدار اعلیٰ اور بادشاہت کے بارے میں ہے ، کہ کون ہے مقتدر اعلیٰ ؟ کو ہے جو سب چیزوں کا مالک ہے اور سب پر اس کا قبضہ و اقتدار ہے ۔ کون ہے جو ہر کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہ جس کو پناہ دے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور جس کو وہ پکڑنا چاہے کوئی نہیں ہے جو امت اللہ کو پکڑ سے بچاسکے۔
سیقلون اللہ (23 : 89) ” تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ہی ہے ــ“ اگر تم یہ باتیں تسلیم کرتے ہو تو پھر راہ ہدایت سے کیوں پھرے جارہے ہو۔ کیا جواز ہے پھر اس گمراہی کا ؟
فانی تسحرون (23 : 89) ’ پھر کہاں سے تم دھوکہ لگتا ہے ؟ “ حالانکہ اگر تم ان مذکورہ حقائق کو جانتے ہو تو تمہیں دھوکہ نہیں لگنا چاہیے ۔ حقیقت یہ کہ ان عقائد میں اضطراب اور یہ لوگ خبط میں بتلا ہیں۔
اب مناسب وقت آگیا ہے کہ ان کے شرکیہ عقائد کی تردید کردی جائے اور اللہ کی ذات سے اولاد کی نفی کردی جائے اور یہ فیصلہ سنادیا جائے کہ حقیقی عقائد وہی ہیں جو محمد ﷺ پیش کرتے ہیں۔
المؤمنون 23:88
قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔
ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟
سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے کہو۔
قل افلا تذکرون (23 : 85) ” پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے “۔ اس حقیقت کو اپنے طرز عمل میں کیوں نہیں لاتے۔
قل من رب العظیم (23 : 86) ” ان سے پوچھو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے “۔ یہ سوال اس کائنات کی ابوہیت کے بارے میں ہے کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا متصرف کون ہے۔ سات آسمانوں سے مراد سات افلاک بھی ہوسکتے ہیں یا سات ستاروں کے مجموعے بھی ہو سکتے ہیں ۔ یا سات آسمان بھی ہو سکتے ہیں۔ اور سات جہاں بھی ہو سکتے ہیں یا کوئی سات فلکی مخلوق بھی ہو سکتے ہیں۔ غرض دراصل یہ ہے اور کنٹرول اور اقتدار اعلیٰ کے مفہوم کی طرف یعنی کون ہے جو سات آسمانوں اور عرش عظیم کا کنٹرولر ہے ؟
سیقو لون للہ (23 : 80) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ “ لیکن اس اقرار کے باوجود یہ لوگ رب عرش عظیم سے ڈرتے نہیں ۔ نہ رب سماوات سے ڈرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ پھر دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں ۔ ایسے بتوں کو جو زمین پر گرے ہوئے ہیں ۔
قل افلا تتقون (23 : 87) ” تو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں “۔
قل من تعملون (23 : 88) ” ان سے کہو بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے اور کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ ” یہ سوال قبضے ، اقتدار اعلیٰ اور بادشاہت کے بارے میں ہے ، کہ کون ہے مقتدر اعلیٰ ؟ کو ہے جو سب چیزوں کا مالک ہے اور سب پر اس کا قبضہ و اقتدار ہے ۔ کون ہے جو ہر کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہ جس کو پناہ دے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور جس کو وہ پکڑنا چاہے کوئی نہیں ہے جو امت اللہ کو پکڑ سے بچاسکے۔
سیقلون اللہ (23 : 89) ” تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ہی ہے ــ“ اگر تم یہ باتیں تسلیم کرتے ہو تو پھر راہ ہدایت سے کیوں پھرے جارہے ہو۔ کیا جواز ہے پھر اس گمراہی کا ؟
فانی تسحرون (23 : 89) ’ پھر کہاں سے تم دھوکہ لگتا ہے ؟ “ حالانکہ اگر تم ان مذکورہ حقائق کو جانتے ہو تو تمہیں دھوکہ نہیں لگنا چاہیے ۔ حقیقت یہ کہ ان عقائد میں اضطراب اور یہ لوگ خبط میں بتلا ہیں۔
اب مناسب وقت آگیا ہے کہ ان کے شرکیہ عقائد کی تردید کردی جائے اور اللہ کی ذات سے اولاد کی نفی کردی جائے اور یہ فیصلہ سنادیا جائے کہ حقیقی عقائد وہی ہیں جو محمد ﷺ پیش کرتے ہیں۔
المؤمنون 23:89
قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔
ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟
سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے کہو۔
قل افلا تذکرون (23 : 85) ” پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے “۔ اس حقیقت کو اپنے طرز عمل میں کیوں نہیں لاتے۔
قل من رب العظیم (23 : 86) ” ان سے پوچھو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے “۔ یہ سوال اس کائنات کی ابوہیت کے بارے میں ہے کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا متصرف کون ہے۔ سات آسمانوں سے مراد سات افلاک بھی ہوسکتے ہیں یا سات ستاروں کے مجموعے بھی ہو سکتے ہیں ۔ یا سات آسمان بھی ہو سکتے ہیں۔ اور سات جہاں بھی ہو سکتے ہیں یا کوئی سات فلکی مخلوق بھی ہو سکتے ہیں۔ غرض دراصل یہ ہے اور کنٹرول اور اقتدار اعلیٰ کے مفہوم کی طرف یعنی کون ہے جو سات آسمانوں اور عرش عظیم کا کنٹرولر ہے ؟
سیقو لون للہ (23 : 80) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ “ لیکن اس اقرار کے باوجود یہ لوگ رب عرش عظیم سے ڈرتے نہیں ۔ نہ رب سماوات سے ڈرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ پھر دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں ۔ ایسے بتوں کو جو زمین پر گرے ہوئے ہیں ۔
قل افلا تتقون (23 : 87) ” تو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں “۔
قل من تعملون (23 : 88) ” ان سے کہو بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے اور کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ ” یہ سوال قبضے ، اقتدار اعلیٰ اور بادشاہت کے بارے میں ہے ، کہ کون ہے مقتدر اعلیٰ ؟ کو ہے جو سب چیزوں کا مالک ہے اور سب پر اس کا قبضہ و اقتدار ہے ۔ کون ہے جو ہر کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہ جس کو پناہ دے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور جس کو وہ پکڑنا چاہے کوئی نہیں ہے جو امت اللہ کو پکڑ سے بچاسکے۔
سیقلون اللہ (23 : 89) ” تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ہی ہے ــ“ اگر تم یہ باتیں تسلیم کرتے ہو تو پھر راہ ہدایت سے کیوں پھرے جارہے ہو۔ کیا جواز ہے پھر اس گمراہی کا ؟
فانی تسحرون (23 : 89) ’ پھر کہاں سے تم دھوکہ لگتا ہے ؟ “ حالانکہ اگر تم ان مذکورہ حقائق کو جانتے ہو تو تمہیں دھوکہ نہیں لگنا چاہیے ۔ حقیقت یہ کہ ان عقائد میں اضطراب اور یہ لوگ خبط میں بتلا ہیں۔
اب مناسب وقت آگیا ہے کہ ان کے شرکیہ عقائد کی تردید کردی جائے اور اللہ کی ذات سے اولاد کی نفی کردی جائے اور یہ فیصلہ سنادیا جائے کہ حقیقی عقائد وہی ہیں جو محمد ﷺ پیش کرتے ہیں۔
المؤمنون 23:90
بل اتینھم یشرکون (آیت نمبر 90 تا 92 ۔ ۔ یہ فیصلہ مختلف اسالیب میں آتا ہے ۔ ان کے ساتھ اس مباحثے کو ختم کردیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔
بل اتینھم بالحق اونھم لکذبون (23 : 90) ” جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ اس کے بعد ان کے جھوٹ کی تفصیل دی جاتی ہے
ما تخذ الہ (23 : 90) ” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسراخدا اس کے ساتھ نہیں “۔ اور اس کے بعد پھر ان کے دعوے کے رو میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے عقیدئہ شرک میں کس قدر کمزوری ہے۔
اذ لذھب کل الہ بما خلق (23 : 90) ” تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا ہے “۔ وہ اپنی مخلوقات میں ایک مستقل خدا ہوتا اور وہ اپنی مخلوقات میں اپنے مخصوص قانون قدرت کے مطابق تصرفات کرتا ۔ اس طرح مختلف کائناتوں میں مختلف قوانین نظر آئے اور وہ یہ دوسرے خدا کے قوانین نظر آئے اور وہ دوسرے خدا کے قوانین اور سے علیحدہ نظر آتے۔ پھر تضاد کی صورت میں۔
ولعلا بعضھم علی بعض (23 : 90) ” پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے “ تضاد کی صورت میں بعض خدا بعض پر غالب ہوتے ۔ یوں آخر کا ایک ہی خدا متصرف اور مقتدر اعلیٰ رہتا اور دنیا میں آخر کا ایک ہی نظام چلتا کیونکہ ایک ملک میں دو مقتدر اعلی تو نہیں ہوسکتے۔
چونکہ کائنات میں اس قسم کا تضاد نہیں ہے ، اس کی وحدت ساخت ، اور اس کی حرکت کی یانگت اور اس کے ناموس اور قانون قدرت کی وحدت اس با کی دلیل ہے کہ اس کا مقتدر اعلیٰ ایک ہے کیونکہ اس کا ئنات کے اندر اور اس کے اجزاء کے اندر کوی تصادم نظر نہیں آتا۔ یہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ چل رہی ہے اس لیے اس کا رب اور متصرف بھی ایک ہے ۔
سبحن اللہ عما یصفون (23 : 90) ” وہ بالا تر ہے ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں “۔ وہ عالم الغٰب ہے اور عالم شہادت ہے ۔ اس کے سوا کسی اور کی کوئی مخلوق نہیں ہے اس لیے اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کرتے ہیں۔
اب یہاں سے روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اے محمد ؐ اس بات سے اللہ کی پناہ طلب کریں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ آپ ؐ شامل ہوجائیں اگرچہ الل نے یہ فیصلہ کردیا کہ ان لوگوں کو جو سزا ملنے والی ہے وہ اللہ آپ کو دکھائے گا ۔ بہر حال آپ شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگیں اور یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کریں ۔
المؤمنون 23:91
بل اتینھم یشرکون (آیت نمبر 90 تا 92 ۔ ۔ یہ فیصلہ مختلف اسالیب میں آتا ہے ۔ ان کے ساتھ اس مباحثے کو ختم کردیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔
بل اتینھم بالحق اونھم لکذبون (23 : 90) ” جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ اس کے بعد ان کے جھوٹ کی تفصیل دی جاتی ہے
ما تخذ الہ (23 : 90) ” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسراخدا اس کے ساتھ نہیں “۔ اور اس کے بعد پھر ان کے دعوے کے رو میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے عقیدئہ شرک میں کس قدر کمزوری ہے۔
اذ لذھب کل الہ بما خلق (23 : 90) ” تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا ہے “۔ وہ اپنی مخلوقات میں ایک مستقل خدا ہوتا اور وہ اپنی مخلوقات میں اپنے مخصوص قانون قدرت کے مطابق تصرفات کرتا ۔ اس طرح مختلف کائناتوں میں مختلف قوانین نظر آئے اور وہ یہ دوسرے خدا کے قوانین نظر آئے اور وہ دوسرے خدا کے قوانین اور سے علیحدہ نظر آتے۔ پھر تضاد کی صورت میں۔
ولعلا بعضھم علی بعض (23 : 90) ” پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے “ تضاد کی صورت میں بعض خدا بعض پر غالب ہوتے ۔ یوں آخر کا ایک ہی خدا متصرف اور مقتدر اعلیٰ رہتا اور دنیا میں آخر کا ایک ہی نظام چلتا کیونکہ ایک ملک میں دو مقتدر اعلی تو نہیں ہوسکتے۔
چونکہ کائنات میں اس قسم کا تضاد نہیں ہے ، اس کی وحدت ساخت ، اور اس کی حرکت کی یانگت اور اس کے ناموس اور قانون قدرت کی وحدت اس با کی دلیل ہے کہ اس کا مقتدر اعلیٰ ایک ہے کیونکہ اس کا ئنات کے اندر اور اس کے اجزاء کے اندر کوی تصادم نظر نہیں آتا۔ یہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ چل رہی ہے اس لیے اس کا رب اور متصرف بھی ایک ہے ۔
سبحن اللہ عما یصفون (23 : 90) ” وہ بالا تر ہے ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں “۔ وہ عالم الغٰب ہے اور عالم شہادت ہے ۔ اس کے سوا کسی اور کی کوئی مخلوق نہیں ہے اس لیے اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کرتے ہیں۔
اب یہاں سے روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اے محمد ؐ اس بات سے اللہ کی پناہ طلب کریں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ آپ ؐ شامل ہوجائیں اگرچہ الل نے یہ فیصلہ کردیا کہ ان لوگوں کو جو سزا ملنے والی ہے وہ اللہ آپ کو دکھائے گا ۔ بہر حال آپ شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگیں اور یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کریں ۔
المؤمنون 23:92
بل اتینھم یشرکون (آیت نمبر 90 تا 92 ۔ ۔ یہ فیصلہ مختلف اسالیب میں آتا ہے ۔ ان کے ساتھ اس مباحثے کو ختم کردیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔
بل اتینھم بالحق اونھم لکذبون (23 : 90) ” جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ اس کے بعد ان کے جھوٹ کی تفصیل دی جاتی ہے
ما تخذ الہ (23 : 90) ” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسراخدا اس کے ساتھ نہیں “۔ اور اس کے بعد پھر ان کے دعوے کے رو میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے عقیدئہ شرک میں کس قدر کمزوری ہے۔
اذ لذھب کل الہ بما خلق (23 : 90) ” تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا ہے “۔ وہ اپنی مخلوقات میں ایک مستقل خدا ہوتا اور وہ اپنی مخلوقات میں اپنے مخصوص قانون قدرت کے مطابق تصرفات کرتا ۔ اس طرح مختلف کائناتوں میں مختلف قوانین نظر آئے اور وہ یہ دوسرے خدا کے قوانین نظر آئے اور وہ دوسرے خدا کے قوانین اور سے علیحدہ نظر آتے۔ پھر تضاد کی صورت میں۔
ولعلا بعضھم علی بعض (23 : 90) ” پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے “ تضاد کی صورت میں بعض خدا بعض پر غالب ہوتے ۔ یوں آخر کا ایک ہی خدا متصرف اور مقتدر اعلیٰ رہتا اور دنیا میں آخر کا ایک ہی نظام چلتا کیونکہ ایک ملک میں دو مقتدر اعلی تو نہیں ہوسکتے۔
چونکہ کائنات میں اس قسم کا تضاد نہیں ہے ، اس کی وحدت ساخت ، اور اس کی حرکت کی یانگت اور اس کے ناموس اور قانون قدرت کی وحدت اس با کی دلیل ہے کہ اس کا مقتدر اعلیٰ ایک ہے کیونکہ اس کا ئنات کے اندر اور اس کے اجزاء کے اندر کوی تصادم نظر نہیں آتا۔ یہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ چل رہی ہے اس لیے اس کا رب اور متصرف بھی ایک ہے ۔
سبحن اللہ عما یصفون (23 : 90) ” وہ بالا تر ہے ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں “۔ وہ عالم الغٰب ہے اور عالم شہادت ہے ۔ اس کے سوا کسی اور کی کوئی مخلوق نہیں ہے اس لیے اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کرتے ہیں۔
اب یہاں سے روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اے محمد ؐ اس بات سے اللہ کی پناہ طلب کریں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ آپ ؐ شامل ہوجائیں اگرچہ الل نے یہ فیصلہ کردیا کہ ان لوگوں کو جو سزا ملنے والی ہے وہ اللہ آپ کو دکھائے گا ۔ بہر حال آپ شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگیں اور یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کریں ۔
المؤمنون 23:93
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی دے رہے ہیں “۔ اور غزوہ بدر میں اللہ نی نبی ﷺ کو اس کی ایک جھلکی دکھا بھی دی ۔ اس کے بعد فتح مکہ میں بھی ایک رنگ دکھایا گیا۔
ادفع یصفون (23 : 92) ” اے نبی ؐ ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو ، جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں “۔ اس سورة کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی کے لیے یہ منہاج اختیار کیا گیا تھا کہ برائی کا دفعیہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے ۔ اللہ کا حکم آنے تک صبر کیا جائے اور معالات اللہ کے سپرد کردیئے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ دعا کہ اے رب میں تجھ سے شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ مانگتا ہوں ، جب کہ آپ خدا کی طرف سے حفاظت میں تھے اور معصوم تھے ، یہ بات زیادہ احتیاط اور زیادہ تقویٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ التجا اور امت کو تعلیم دینے کی خاطر ہے کیونکہ حضور ہی اپنی امت کے لیے اسوہ ہیں ۔ یہ دراصل امت کو تعلیم ہے کہ شیطان کو اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ہر وقت مانگتے رہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ؐ شیطان کے قرب سے پناہ طلب کریں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
واعوذبک رب ان یحضرون (23 : 98) ” بلکہ میں تو اے رب ، اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں “۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وفات کے وقت حضور ﷺ اس بات سے پناہ مانگتے ہوں کہ شیطان اس وقت آموجود ہو۔ اس آیت کے بعد اگلی آیت جو اگلے سبق میں ہے اس طرف اشارہ بھی کرتی ہے ۔
حتی اذا جاء احدھم الموت (23 : 99) ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے “۔ یہ قرآن کا انداز کلام ہے کہ ایک مفہوم سے دوسرامفہوم بڑی ہم آہنگی سے نکلتا چلا جاتا ہے۔
دحتی اذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یبعثون (99 : 100) ”(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ” اے میرے رب ‘ مجھ یا سی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ؟ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک “۔
اس آخری سبق میں بھی مشرکین کے برے انجام کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ لوگ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں ہیں۔ اس میں آغاز دنیا میں روح قبض کرنے کے وقت سے ہوتا ہے اور نفعع صور پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں سورة کے اختتام پر اصل مضمون کی طرف آتے ہوئے اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ سورة کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ اللہ کی مغفرت طلب فرمائیں۔
المؤمنون 23:94
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی دے رہے ہیں “۔ اور غزوہ بدر میں اللہ نی نبی ﷺ کو اس کی ایک جھلکی دکھا بھی دی ۔ اس کے بعد فتح مکہ میں بھی ایک رنگ دکھایا گیا۔
ادفع یصفون (23 : 92) ” اے نبی ؐ ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو ، جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں “۔ اس سورة کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی کے لیے یہ منہاج اختیار کیا گیا تھا کہ برائی کا دفعیہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے ۔ اللہ کا حکم آنے تک صبر کیا جائے اور معالات اللہ کے سپرد کردیئے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ دعا کہ اے رب میں تجھ سے شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ مانگتا ہوں ، جب کہ آپ خدا کی طرف سے حفاظت میں تھے اور معصوم تھے ، یہ بات زیادہ احتیاط اور زیادہ تقویٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ التجا اور امت کو تعلیم دینے کی خاطر ہے کیونکہ حضور ہی اپنی امت کے لیے اسوہ ہیں ۔ یہ دراصل امت کو تعلیم ہے کہ شیطان کو اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ہر وقت مانگتے رہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ؐ شیطان کے قرب سے پناہ طلب کریں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
واعوذبک رب ان یحضرون (23 : 98) ” بلکہ میں تو اے رب ، اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں “۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وفات کے وقت حضور ﷺ اس بات سے پناہ مانگتے ہوں کہ شیطان اس وقت آموجود ہو۔ اس آیت کے بعد اگلی آیت جو اگلے سبق میں ہے اس طرف اشارہ بھی کرتی ہے ۔
حتی اذا جاء احدھم الموت (23 : 99) ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے “۔ یہ قرآن کا انداز کلام ہے کہ ایک مفہوم سے دوسرامفہوم بڑی ہم آہنگی سے نکلتا چلا جاتا ہے۔
دحتی اذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یبعثون (99 : 100) ”(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ” اے میرے رب ‘ مجھ یا سی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ؟ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک “۔
اس آخری سبق میں بھی مشرکین کے برے انجام کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ لوگ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں ہیں۔ اس میں آغاز دنیا میں روح قبض کرنے کے وقت سے ہوتا ہے اور نفعع صور پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں سورة کے اختتام پر اصل مضمون کی طرف آتے ہوئے اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ سورة کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ اللہ کی مغفرت طلب فرمائیں۔
المؤمنون 23:95
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی دے رہے ہیں “۔ اور غزوہ بدر میں اللہ نی نبی ﷺ کو اس کی ایک جھلکی دکھا بھی دی ۔ اس کے بعد فتح مکہ میں بھی ایک رنگ دکھایا گیا۔
ادفع یصفون (23 : 92) ” اے نبی ؐ ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو ، جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں “۔ اس سورة کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی کے لیے یہ منہاج اختیار کیا گیا تھا کہ برائی کا دفعیہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے ۔ اللہ کا حکم آنے تک صبر کیا جائے اور معالات اللہ کے سپرد کردیئے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ دعا کہ اے رب میں تجھ سے شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ مانگتا ہوں ، جب کہ آپ خدا کی طرف سے حفاظت میں تھے اور معصوم تھے ، یہ بات زیادہ احتیاط اور زیادہ تقویٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ التجا اور امت کو تعلیم دینے کی خاطر ہے کیونکہ حضور ہی اپنی امت کے لیے اسوہ ہیں ۔ یہ دراصل امت کو تعلیم ہے کہ شیطان کو اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ہر وقت مانگتے رہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ؐ شیطان کے قرب سے پناہ طلب کریں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
واعوذبک رب ان یحضرون (23 : 98) ” بلکہ میں تو اے رب ، اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں “۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وفات کے وقت حضور ﷺ اس بات سے پناہ مانگتے ہوں کہ شیطان اس وقت آموجود ہو۔ اس آیت کے بعد اگلی آیت جو اگلے سبق میں ہے اس طرف اشارہ بھی کرتی ہے ۔
حتی اذا جاء احدھم الموت (23 : 99) ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے “۔ یہ قرآن کا انداز کلام ہے کہ ایک مفہوم سے دوسرامفہوم بڑی ہم آہنگی سے نکلتا چلا جاتا ہے۔
دحتی اذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یبعثون (99 : 100) ”(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ” اے میرے رب ‘ مجھ یا سی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ؟ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک “۔
اس آخری سبق میں بھی مشرکین کے برے انجام کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ لوگ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں ہیں۔ اس میں آغاز دنیا میں روح قبض کرنے کے وقت سے ہوتا ہے اور نفعع صور پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں سورة کے اختتام پر اصل مضمون کی طرف آتے ہوئے اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ سورة کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ اللہ کی مغفرت طلب فرمائیں۔
المؤمنون 23:96
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی دے رہے ہیں “۔ اور غزوہ بدر میں اللہ نی نبی ﷺ کو اس کی ایک جھلکی دکھا بھی دی ۔ اس کے بعد فتح مکہ میں بھی ایک رنگ دکھایا گیا۔
ادفع یصفون (23 : 92) ” اے نبی ؐ ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو ، جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں “۔ اس سورة کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی کے لیے یہ منہاج اختیار کیا گیا تھا کہ برائی کا دفعیہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے ۔ اللہ کا حکم آنے تک صبر کیا جائے اور معالات اللہ کے سپرد کردیئے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ دعا کہ اے رب میں تجھ سے شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ مانگتا ہوں ، جب کہ آپ خدا کی طرف سے حفاظت میں تھے اور معصوم تھے ، یہ بات زیادہ احتیاط اور زیادہ تقویٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ التجا اور امت کو تعلیم دینے کی خاطر ہے کیونکہ حضور ہی اپنی امت کے لیے اسوہ ہیں ۔ یہ دراصل امت کو تعلیم ہے کہ شیطان کو اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ہر وقت مانگتے رہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ؐ شیطان کے قرب سے پناہ طلب کریں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
واعوذبک رب ان یحضرون (23 : 98) ” بلکہ میں تو اے رب ، اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں “۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وفات کے وقت حضور ﷺ اس بات سے پناہ مانگتے ہوں کہ شیطان اس وقت آموجود ہو۔ اس آیت کے بعد اگلی آیت جو اگلے سبق میں ہے اس طرف اشارہ بھی کرتی ہے ۔
حتی اذا جاء احدھم الموت (23 : 99) ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے “۔ یہ قرآن کا انداز کلام ہے کہ ایک مفہوم سے دوسرامفہوم بڑی ہم آہنگی سے نکلتا چلا جاتا ہے۔
دحتی اذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یبعثون (99 : 100) ”(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ” اے میرے رب ‘ مجھ یا سی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ؟ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک “۔
اس آخری سبق میں بھی مشرکین کے برے انجام کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ لوگ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں ہیں۔ اس میں آغاز دنیا میں روح قبض کرنے کے وقت سے ہوتا ہے اور نفعع صور پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں سورة کے اختتام پر اصل مضمون کی طرف آتے ہوئے اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ سورة کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ اللہ کی مغفرت طلب فرمائیں۔
المؤمنون 23:97
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی دے رہے ہیں “۔ اور غزوہ بدر میں اللہ نی نبی ﷺ کو اس کی ایک جھلکی دکھا بھی دی ۔ اس کے بعد فتح مکہ میں بھی ایک رنگ دکھایا گیا۔
ادفع یصفون (23 : 92) ” اے نبی ؐ ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو ، جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں “۔ اس سورة کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی کے لیے یہ منہاج اختیار کیا گیا تھا کہ برائی کا دفعیہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے ۔ اللہ کا حکم آنے تک صبر کیا جائے اور معالات اللہ کے سپرد کردیئے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ دعا کہ اے رب میں تجھ سے شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ مانگتا ہوں ، جب کہ آپ خدا کی طرف سے حفاظت میں تھے اور معصوم تھے ، یہ بات زیادہ احتیاط اور زیادہ تقویٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ التجا اور امت کو تعلیم دینے کی خاطر ہے کیونکہ حضور ہی اپنی امت کے لیے اسوہ ہیں ۔ یہ دراصل امت کو تعلیم ہے کہ شیطان کو اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ہر وقت مانگتے رہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ؐ شیطان کے قرب سے پناہ طلب کریں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
واعوذبک رب ان یحضرون (23 : 98) ” بلکہ میں تو اے رب ، اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں “۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وفات کے وقت حضور ﷺ اس بات سے پناہ مانگتے ہوں کہ شیطان اس وقت آموجود ہو۔ اس آیت کے بعد اگلی آیت جو اگلے سبق میں ہے اس طرف اشارہ بھی کرتی ہے ۔
حتی اذا جاء احدھم الموت (23 : 99) ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے “۔ یہ قرآن کا انداز کلام ہے کہ ایک مفہوم سے دوسرامفہوم بڑی ہم آہنگی سے نکلتا چلا جاتا ہے۔
دحتی اذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یبعثون (99 : 100) ”(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ” اے میرے رب ‘ مجھ یا سی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ؟ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک “۔
اس آخری سبق میں بھی مشرکین کے برے انجام کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ لوگ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں ہیں۔ اس میں آغاز دنیا میں روح قبض کرنے کے وقت سے ہوتا ہے اور نفعع صور پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں سورة کے اختتام پر اصل مضمون کی طرف آتے ہوئے اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ سورة کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ اللہ کی مغفرت طلب فرمائیں۔
المؤمنون 23:98
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی دے رہے ہیں “۔ اور غزوہ بدر میں اللہ نی نبی ﷺ کو اس کی ایک جھلکی دکھا بھی دی ۔ اس کے بعد فتح مکہ میں بھی ایک رنگ دکھایا گیا۔
ادفع یصفون (23 : 92) ” اے نبی ؐ ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو ، جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں “۔ اس سورة کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی کے لیے یہ منہاج اختیار کیا گیا تھا کہ برائی کا دفعیہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے ۔ اللہ کا حکم آنے تک صبر کیا جائے اور معالات اللہ کے سپرد کردیئے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ دعا کہ اے رب میں تجھ سے شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ مانگتا ہوں ، جب کہ آپ خدا کی طرف سے حفاظت میں تھے اور معصوم تھے ، یہ بات زیادہ احتیاط اور زیادہ تقویٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ التجا اور امت کو تعلیم دینے کی خاطر ہے کیونکہ حضور ہی اپنی امت کے لیے اسوہ ہیں ۔ یہ دراصل امت کو تعلیم ہے کہ شیطان کو اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ہر وقت مانگتے رہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ؐ شیطان کے قرب سے پناہ طلب کریں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
واعوذبک رب ان یحضرون (23 : 98) ” بلکہ میں تو اے رب ، اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں “۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وفات کے وقت حضور ﷺ اس بات سے پناہ مانگتے ہوں کہ شیطان اس وقت آموجود ہو۔ اس آیت کے بعد اگلی آیت جو اگلے سبق میں ہے اس طرف اشارہ بھی کرتی ہے ۔
حتی اذا جاء احدھم الموت (23 : 99) ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے “۔ یہ قرآن کا انداز کلام ہے کہ ایک مفہوم سے دوسرامفہوم بڑی ہم آہنگی سے نکلتا چلا جاتا ہے۔
دحتی اذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یبعثون (99 : 100) ”(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ” اے میرے رب ‘ مجھ یا سی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ؟ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک “۔
اس آخری سبق میں بھی مشرکین کے برے انجام کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ لوگ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں ہیں۔ اس میں آغاز دنیا میں روح قبض کرنے کے وقت سے ہوتا ہے اور نفعع صور پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں سورة کے اختتام پر اصل مضمون کی طرف آتے ہوئے اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ سورة کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ اللہ کی مغفرت طلب فرمائیں۔
المؤمنون 23:99
حتی اذا۔۔۔۔۔۔۔ رب ارجعون (23 : 99) لعلی اعمل۔۔۔۔۔ فیماترکت (23 : 100)
یہ منظر حالت نزع کا ہے۔ جب موت آتی ہے تو ہر شخص توبہ کرتا ہے۔ رجوع الی اللہ کرتا ہے ‘ یہ درخواست کرتا ہے کہ اے اللہ ایک موقعہ اور دیجئے ۔ ایک بار اور زندگی دیجئے تاکہ ہم ان کوتاہیوں کی تخصیح کرلیں اور جو اہل و عیال اور مال و دولت ہم نے چھوڑے ہیں ان میں تیری مرضی کا تصرف کریں۔ یہ ایک منظر ہے جسے سب دیکھ رہے ہیں اور مرنے والا یہ درخواست کررہا ہے اور جو اب بھی اعلانیہ آجاتا ہے۔
کلا انھا کلمۃ ھو قائلھا (23 : 100) ” ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے “۔ یہ ایک بات ہے جو وہ کررہا ہے۔ اسکا کوئی مصداق وجود میں آنے والا نہیں ہے۔ یہ لفظ اور اس کا قائل قابل توجہ نہیں ہیں۔ یہ تو حالت خوف کی ایک چیخ ہے جو منہ سے نکل رہی ہے۔ یہ کسی اخصلاص پر مبنی نہیں ہے۔ نہ حقیقی توبہ ہے۔ مشکلات میں ہر کوئی یہ بات کرتا ہے۔ دل میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی نہ ارادہ ہوتا ہے۔
اب حالت نزع کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ یہ بات کہنے والے اور دنیا کے درمیان پر وہ حائل ہوجاتا ہے۔ معاملہ ختم ہوگیا۔ تعلقات ختم ہوگئے۔ دروازے بند ہوگئے اور پردے گر گئے۔
المؤمنون 23:100
ومن ۔۔۔۔ یبعثون (23 : 100) ” “۔ برزخ یعنی پردہ حائل ہے۔ نہ وہ اہل دنیا سے ہوتے ہیں اور نہ اہل آخرت سے ہوتے ہیں۔ یہ اس برزخ کے عالم میں ہیں اور قیام قیامت تک یہ لوگ یہاں رہیں گے۔ اب سیاق کلام قیامت میں داخل ہوجاتا ہے جب کہ صور پھونکا جاتا ہے۔
المؤمنون 23:101
فاذا۔۔۔۔۔ ولایتسآء لون (101) ۔ تمام رابطے کٹ جائیں گے۔ وہ اقدار ختم ہوجائیں گی جن کے مطابق وہ دنیا میں زندگی بسر کرتے تھے۔
فلآ۔۔۔۔۔ یومئذ (23 : 101) ” اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ نہ رہے گا “۔ اس قدر خوف چھا جائے گا کہ سب خاموش ہوں گے۔ چپ کھڑے ہوں گے ‘ کوئی بات ہی نہ کرے گا۔ اب یہاں نہایت سرعت اور اختصار کے ساتھ حساب و کتاب کا میزان پیش کیا جاتا ہے۔
المؤمنون 23:102
فمن ثقلت۔۔۔۔۔۔ کلحون (102 : 104) یہ کہ تمام اعمال کو ترازو میں تولا جائے گا ‘ یہ بھی قرآن مجید کا ایک مخصوص انداز کلام ہے کہ وہ کسی بھی مفہوم کو حسی انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ نہایت ہی مجرد معانی کو ہر شخص سمجھ جائے۔
نیز ان اعمال کے ساتھ ذرادیکھئے کہ ان کے چہروں پر سے آگ گوشت کو چاٹ جائے گی اور وہ اس طرح نظر آرہے ہو نگے جس طرح کسی مردے کے منہ کی ہڈیاں نظر آتی ہیں ‘ دانت نکلے ہوئے۔
یہ لوگ ہیں جن کا میزان اعمال ہلکا ہوگیا ہے۔ یہ ہار گئے ہیں سب کچھ ‘ اپنے نفسوں کو بھی ہار گئے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی جان ہی ہار جائے تو پھر وہ کس چیز کا مالک رہ جاتا ہے۔ اس کی ملکیت میں کیا چیز رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے نفس کو ہار گیا۔ اس کی ذات چلی گئی ہے۔ گویا اس کا وجود ہی باقی نہیں رہا۔
اب حکایتی انداز کلام اچانک بدل جاتا ہے اور خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے۔ جسمانی عذاب اس قدر درد ناک نہیں جس قدر یہ سرزنش اذیت ناک ہے۔ اب گویا ہم پھر ایک منظر میں دیکھ رہے ہیں کہ ان کی سرزنش کی جارہی ہے اور ان کو ملامت کی جارہی ہے۔
المؤمنون 23:103
فمن ثقلت۔۔۔۔۔۔ کلحون (102 : 104) یہ کہ تمام اعمال کو ترازو میں تولا جائے گا ‘ یہ بھی قرآن مجید کا ایک مخصوص انداز کلام ہے کہ وہ کسی بھی مفہوم کو حسی انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ نہایت ہی مجرد معانی کو ہر شخص سمجھ جائے۔
نیز ان اعمال کے ساتھ ذرادیکھئے کہ ان کے چہروں پر سے آگ گوشت کو چاٹ جائے گی اور وہ اس طرح نظر آرہے ہو نگے جس طرح کسی مردے کے منہ کی ہڈیاں نظر آتی ہیں ‘ دانت نکلے ہوئے۔
یہ لوگ ہیں جن کا میزان اعمال ہلکا ہوگیا ہے۔ یہ ہار گئے ہیں سب کچھ ‘ اپنے نفسوں کو بھی ہار گئے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی جان ہی ہار جائے تو پھر وہ کس چیز کا مالک رہ جاتا ہے۔ اس کی ملکیت میں کیا چیز رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے نفس کو ہار گیا۔ اس کی ذات چلی گئی ہے۔ گویا اس کا وجود ہی باقی نہیں رہا۔
اب حکایتی انداز کلام اچانک بدل جاتا ہے اور خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے۔ جسمانی عذاب اس قدر درد ناک نہیں جس قدر یہ سرزنش اذیت ناک ہے۔ اب گویا ہم پھر ایک منظر میں دیکھ رہے ہیں کہ ان کی سرزنش کی جارہی ہے اور ان کو ملامت کی جارہی ہے۔
المؤمنون 23:104
فمن ثقلت۔۔۔۔۔۔ کلحون (102 : 104) یہ کہ تمام اعمال کو ترازو میں تولا جائے گا ‘ یہ بھی قرآن مجید کا ایک مخصوص انداز کلام ہے کہ وہ کسی بھی مفہوم کو حسی انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ نہایت ہی مجرد معانی کو ہر شخص سمجھ جائے۔
نیز ان اعمال کے ساتھ ذرادیکھئے کہ ان کے چہروں پر سے آگ گوشت کو چاٹ جائے گی اور وہ اس طرح نظر آرہے ہو نگے جس طرح کسی مردے کے منہ کی ہڈیاں نظر آتی ہیں ‘ دانت نکلے ہوئے۔
یہ لوگ ہیں جن کا میزان اعمال ہلکا ہوگیا ہے۔ یہ ہار گئے ہیں سب کچھ ‘ اپنے نفسوں کو بھی ہار گئے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی جان ہی ہار جائے تو پھر وہ کس چیز کا مالک رہ جاتا ہے۔ اس کی ملکیت میں کیا چیز رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے نفس کو ہار گیا۔ اس کی ذات چلی گئی ہے۔ گویا اس کا وجود ہی باقی نہیں رہا۔
اب حکایتی انداز کلام اچانک بدل جاتا ہے اور خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے۔ جسمانی عذاب اس قدر درد ناک نہیں جس قدر یہ سرزنش اذیت ناک ہے۔ اب گویا ہم پھر ایک منظر میں دیکھ رہے ہیں کہ ان کی سرزنش کی جارہی ہے اور ان کو ملامت کی جارہی ہے۔
المؤمنون 23:105
الم تکن۔۔۔۔۔۔۔ تکذبون (105) ” جب انہوں نے یہ سوال سنا توانکو یہ خیال آیا کہ شاید ان کو بات کرنے کی اجازت ہے اور وہ جواب دے سکتے ہیں اور شاید اپنے گناہوں کا اعتراف انہیں کوئی فائدہ دے دے۔
المؤمنون 23:106
قالوا ربنا۔۔۔۔۔۔۔ ظلمون (107) ” “ یہ نہایت ہی تلخ اعتراف ہے اور ان کی بدبختی اس میں عیاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے حدود سے تجاوز کیا اور سوئے ادب کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کو صرف سوال کا جواب دینے کی اجازت تھی۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سوال ہی محض ذلیل کرنے کے لیے ہو۔ جواب مطلوب ہی نہ ہو۔ اس لیے ان کی اس درخواست کا جواب سختی سے دیا جاتا ہے کیونکہ درخواست ان سے طلب ہی نہ کی گئی تھی۔
المؤمنون 23:107
قالوا ربنا۔۔۔۔۔۔۔ ظلمون (107) ” “ یہ نہایت ہی تلخ اعتراف ہے اور ان کی بدبختی اس میں عیاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے حدود سے تجاوز کیا اور سوئے ادب کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کو صرف سوال کا جواب دینے کی اجازت تھی۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سوال ہی محض ذلیل کرنے کے لیے ہو۔ جواب مطلوب ہی نہ ہو۔ اس لیے ان کی اس درخواست کا جواب سختی سے دیا جاتا ہے کیونکہ درخواست ان سے طلب ہی نہ کی گئی تھی۔
المؤمنون 23:108
قال۔۔۔۔۔۔ ولاتکلمون ” “۔ خاموش ہو جائو ‘ ایک ذلیل شخص کی طرح خاموشی اختیار کرو۔ جس عذاب میں تم لوگ پڑے ہوئے ‘ تم اس کے پوری طرح مستحق ہو۔ یہی تو ہیں آمیز پوزیشن تمہارے لیے بہتر ہے۔
المؤمنون 23:109
انہ کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تضحکون ” ‘ تمہارا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ تم نے کفر کیا اور خود اپنی ذات کو کفر میں رکھا۔ اگر چہ یہ بھی جرم عظیم تھا مگر تم نے اس سے بھی عظیم تر جرم کیا ہے۔ وہ یہ کہ تم نے ایمان لانے والوں کے ساتھ مزاح کیا۔ جو ایمان لائے تھے اور رحمت رب کے طلبگار تھے تم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور اس طرح اپنے آپ کو ذکر الہی اور نصیحت آموزی سے محروم کرتے تھے حالانکہ اس کائنات میں دلائل ایمان موجود تھے۔ آج دیکھو ‘ تمہارا مقام کیا ہے اور ان لوگوں کا مقام و مرتبہ کیا ہے جن سے تم مذاق کرتے تھے۔
المؤمنون 23:110
انہ کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تضحکون ” ‘ تمہارا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ تم نے کفر کیا اور خود اپنی ذات کو کفر میں رکھا۔ اگر چہ یہ بھی جرم عظیم تھا مگر تم نے اس سے بھی عظیم تر جرم کیا ہے۔ وہ یہ کہ تم نے ایمان لانے والوں کے ساتھ مزاح کیا۔ جو ایمان لائے تھے اور رحمت رب کے طلبگار تھے تم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور اس طرح اپنے آپ کو ذکر الہی اور نصیحت آموزی سے محروم کرتے تھے حالانکہ اس کائنات میں دلائل ایمان موجود تھے۔ آج دیکھو ‘ تمہارا مقام کیا ہے اور ان لوگوں کا مقام و مرتبہ کیا ہے جن سے تم مذاق کرتے تھے۔
المؤمنون 23:111
انی جزیتھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم لفآئزون ” اس سخت اور توہین آمیز جواب کے بعد ایک نئے سوال و جواب کا سلسہ شروع ہوتا ہے جبکہ اس سوال و جواب میں ان کے ساتھ نہایت ہی توہین آمیز سلوک کیا گیا اور ان کو لاجواب کردیا گیا ہے۔ اب نیا سوال یہ آتا ہے۔
المؤمنون 23:112
قل کم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدد سنین۔ اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے کتنا عرصہ دنیا میں گزارا سے لیکن مقصد یہ بتانا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی کس قدر مختصر ہے ‘ کس قدر حقیر ہے اور دنیا کے دن کس قدر چھوٹے ہیں۔ انہوں نے دنیا کی اس مختصر زندگی کے لیے آخرت کی دائمی زندگی کو خراب کیا۔ وہ تو آج محسوس کرتے ہیں کہ یہ دنیا کس قدر مختصر ہے۔ کس قدر معتبر ہے لیکن وہ مایوس ہیں اور ان کے سینے تنگ ہیں۔ اب ان کو کیا پڑی ہے کہ حساب کریں۔
المؤمنون 23:113
قالوا لبثنا۔۔۔۔۔۔ العآدین۔ یہ اس شخص کا جواب ہے جو حد درجہ پریشان ‘ مایوس اور تنگ دل ہو۔
لیکن جواب نہایت ہی حقیقت پسندانہ ہے یہ کہ تم نے بہت ہی کم وقت گزارا ہے بہ نسبت اس کے جواب تم جہنم میں گزارو گے۔ اے کاش کہ دنیا میں تم صحیح اندازہ کرسکتے۔
المؤمنون 23:114
قل ان لبثتم۔۔۔۔ تعلمون۔ اب دوبارہ ان کی سرزنش کی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔
المؤمنون 23:115
افحسبتم۔۔۔۔۔۔۔۔ لاترجعون ” معلوم ہونا چاہیے۔ حکمت تخلیق کا لازمی تقاضا ہے کہ بعث بعد الموت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا قیام مقدر کردیا ہے۔ اس کے مقاصد تدبیر کائنات کا حصہ ہیں۔ قیامت تخلیق کا منطقی نتیجہ ہے۔ بعث کے ساتھ تخلیق کائنات اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے اور مقصد تخلیق پورا ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت سے وہی لوگ غفلت کرسکتے ہیں جن کے دلوں پر پردے آگئے ہوں اور جن کی فطرت مسخ ہوچکی ہو ‘ جو حکمت الہیہ پر کبھی غورو فکر کرنے کی تکلیف ہی نہیں کرتے حالانکہ یہ حکمت اس کائنات کے اندر بکھری پڑی ہے۔
سورة کا خاتمہ عقیدہ توحید کے اعلان پر ہوتا ہے اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے شرک کیا وہ عظیم خسارے میں پڑگئے جبکہ اہل توحید فلاح پائیں گے۔ نبی ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ کی رحمت کے طلبگارہوں۔
المؤمنون 23:116
فتعلی اللہ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین اس سے پہلے قیامت کا منظر گزر چکا ہے۔ اس پر یہ تبصرہ ہوتا ہے ‘ نیز اس سے قبل کے مناظر میں بحث و مباحثہ اور دلائل و بینات کا مفعل ذکر ہوچکا تھا۔ یہ تبصرہ اس پوری سورة کا منطقی نتیجہ ہے کہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ وہ مالک حق ہے اور وہی مقتدر اعلیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے اور وہی بلندی کا مستحق ہے۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔
اب جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور شخصیت کی الوہیت اور حاکمیت کو مانتے ہیں ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نہ اس کائنات میں اس کا کوئی ثبوت ہے ‘ نہ انسانی فطرت اس کو مانتی ہے اور نہ انسانی عقل اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسا دعویٰ کریں گے ان کو اپنے رب کے سامنے حساب دینا ہوگا اور حساب کا نتیجہ یہی ہے کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور یہ اٹل ہے۔ اس کے بالمقابل اہل ایمان فلاح پائیں گے اور یہ تقاضائے فطرت و تقاضے ئے ناموس کائنات ہے۔
اب کافروں کے پاس جو انعامات ہیں ‘ دنیا کا سازو سامان ہے اور دنیا کا اقتدار ہے جو بعض اوقات قائم ہوتا رہتا ہے تو یہ ان کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ ان کے لیے فتنہ اور آزمائش ہے۔ اگر ان میں سے بعض اس دنیا میں بلاحساب چلے جائیں تو آخرت میں حساب ان کے لیے تیار ہے ‘ وہاں ان کو پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ آخرت کا حساب اس تخلیق کا آخری منظر ہوگا۔ اللہ کی تخلیق کے نظام میں آخرت اس دنیا سے علیحدہ اور دور نہیں ہے۔ یہ اس دنیا کا آخری صفحہ ہے اور اس کا حصہ ہے۔
سورة مومنون کی آخری آیت میں نبی ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کی مغفرت اور اللہ کی رحمت کی طلب کرتے رہیں۔
وقل رب ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین (23 : 118) ” اور اے نبی ﷺ کہو ‘ میرے رب درگزر فرما اور رحم کر ‘ تو سب رحیموں سے اچھارحیم ہے “۔ دیکھئے سورة کا آغاز اور انجام ایک ہی مضمون پر ہوتا ہے۔ آغاز بھی اس مضمون سے ہے کہ مومنین کامیاب ہوئے اور کافرین خسارے میں پڑگئے۔ آغاز میں بھی یہ مضمون تھا کہ نماز میں خشوع و خضوع اختیار کیا جائے اور یہاں بھی اللہ کے سامنے دعاء اور طلب رحمت ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام یکساں ہوجاتے ہیں۔
المؤمنون 23:117
فتعلی اللہ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین اس سے پہلے قیامت کا منظر گزر چکا ہے۔ اس پر یہ تبصرہ ہوتا ہے ‘ نیز اس سے قبل کے مناظر میں بحث و مباحثہ اور دلائل و بینات کا مفعل ذکر ہوچکا تھا۔ یہ تبصرہ اس پوری سورة کا منطقی نتیجہ ہے کہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ وہ مالک حق ہے اور وہی مقتدر اعلیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے اور وہی بلندی کا مستحق ہے۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔
اب جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور شخصیت کی الوہیت اور حاکمیت کو مانتے ہیں ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نہ اس کائنات میں اس کا کوئی ثبوت ہے ‘ نہ انسانی فطرت اس کو مانتی ہے اور نہ انسانی عقل اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسا دعویٰ کریں گے ان کو اپنے رب کے سامنے حساب دینا ہوگا اور حساب کا نتیجہ یہی ہے کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور یہ اٹل ہے۔ اس کے بالمقابل اہل ایمان فلاح پائیں گے اور یہ تقاضائے فطرت و تقاضے ئے ناموس کائنات ہے۔
اب کافروں کے پاس جو انعامات ہیں ‘ دنیا کا سازو سامان ہے اور دنیا کا اقتدار ہے جو بعض اوقات قائم ہوتا رہتا ہے تو یہ ان کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ ان کے لیے فتنہ اور آزمائش ہے۔ اگر ان میں سے بعض اس دنیا میں بلاحساب چلے جائیں تو آخرت میں حساب ان کے لیے تیار ہے ‘ وہاں ان کو پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ آخرت کا حساب اس تخلیق کا آخری منظر ہوگا۔ اللہ کی تخلیق کے نظام میں آخرت اس دنیا سے علیحدہ اور دور نہیں ہے۔ یہ اس دنیا کا آخری صفحہ ہے اور اس کا حصہ ہے۔
سورة مومنون کی آخری آیت میں نبی ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کی مغفرت اور اللہ کی رحمت کی طلب کرتے رہیں۔
وقل رب ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین (23 : 118) ” اور اے نبی ﷺ کہو ‘ میرے رب درگزر فرما اور رحم کر ‘ تو سب رحیموں سے اچھارحیم ہے “۔ دیکھئے سورة کا آغاز اور انجام ایک ہی مضمون پر ہوتا ہے۔ آغاز بھی اس مضمون سے ہے کہ مومنین کامیاب ہوئے اور کافرین خسارے میں پڑگئے۔ آغاز میں بھی یہ مضمون تھا کہ نماز میں خشوع و خضوع اختیار کیا جائے اور یہاں بھی اللہ کے سامنے دعاء اور طلب رحمت ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام یکساں ہوجاتے ہیں۔
المؤمنون 23:118
فتعلی اللہ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین اس سے پہلے قیامت کا منظر گزر چکا ہے۔ اس پر یہ تبصرہ ہوتا ہے ‘ نیز اس سے قبل کے مناظر میں بحث و مباحثہ اور دلائل و بینات کا مفعل ذکر ہوچکا تھا۔ یہ تبصرہ اس پوری سورة کا منطقی نتیجہ ہے کہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ وہ مالک حق ہے اور وہی مقتدر اعلیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے اور وہی بلندی کا مستحق ہے۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔
اب جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور شخصیت کی الوہیت اور حاکمیت کو مانتے ہیں ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نہ اس کائنات میں اس کا کوئی ثبوت ہے ‘ نہ انسانی فطرت اس کو مانتی ہے اور نہ انسانی عقل اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسا دعویٰ کریں گے ان کو اپنے رب کے سامنے حساب دینا ہوگا اور حساب کا نتیجہ یہی ہے کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور یہ اٹل ہے۔ اس کے بالمقابل اہل ایمان فلاح پائیں گے اور یہ تقاضائے فطرت و تقاضے ئے ناموس کائنات ہے۔
اب کافروں کے پاس جو انعامات ہیں ‘ دنیا کا سازو سامان ہے اور دنیا کا اقتدار ہے جو بعض اوقات قائم ہوتا رہتا ہے تو یہ ان کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ ان کے لیے فتنہ اور آزمائش ہے۔ اگر ان میں سے بعض اس دنیا میں بلاحساب چلے جائیں تو آخرت میں حساب ان کے لیے تیار ہے ‘ وہاں ان کو پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ آخرت کا حساب اس تخلیق کا آخری منظر ہوگا۔ اللہ کی تخلیق کے نظام میں آخرت اس دنیا سے علیحدہ اور دور نہیں ہے۔ یہ اس دنیا کا آخری صفحہ ہے اور اس کا حصہ ہے۔
سورة مومنون کی آخری آیت میں نبی ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کی مغفرت اور اللہ کی رحمت کی طلب کرتے رہیں۔
وقل رب ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین (23 : 118) ” اور اے نبی ﷺ کہو ‘ میرے رب درگزر فرما اور رحم کر ‘ تو سب رحیموں سے اچھارحیم ہے “۔ دیکھئے سورة کا آغاز اور انجام ایک ہی مضمون پر ہوتا ہے۔ آغاز بھی اس مضمون سے ہے کہ مومنین کامیاب ہوئے اور کافرین خسارے میں پڑگئے۔ آغاز میں بھی یہ مضمون تھا کہ نماز میں خشوع و خضوع اختیار کیا جائے اور یہاں بھی اللہ کے سامنے دعاء اور طلب رحمت ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام یکساں ہوجاتے ہیں۔
النور 24:1
سورة انزلنھا۔۔۔۔۔۔۔ تذکرون
یہ پورے قرآن مجید میں اپنی نوعیت کا واحد مطلع کلام ہے۔ اس میں جو نیا لفظ ہے وہ فرضنھا کا ہے ‘ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سورة میں جو کچھ ہے اس کا اخذ کرنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ یعنی اس کے اندر مذکور آداب پر عمل کرنا بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح حدود پر عمل کرنا لازمی ہے۔ یہ اخلاق و عادات نہایت ہی فطری ہیں۔ ان آداب اور اخلاق کو لوگ بعض ایسے عارضی حالات کی وجہ سے بھول جاتے ہیں جو انسان کو دھوکہ دے کر بدراہ کردیتے ہیں ‘ یہ آیات ایسے لوگوں کو یاد دہانی کرا کے راہ راست دکھاتی ہیں اور پھر ان کو راہ فطرت پر واپس لاتی ہیں جو بالکل واضح ہے۔
اس دو ٹوک تمہید کے بعد قانون حد زنا کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اس فعل کو نہایت ہی قبیح گردانتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ زانی اور اسلامی سوسائٹی کے درمیان کوئی رابطہ نہیں رہتا۔
النور 24:2
(الزانی۔۔۔۔۔۔ علی المئو منین) (3)
اسلام کے ابتدائی ایام میں حد زنا وہ تھی جو جس کا تذکرہ سورة نساء کی آیت میں ہوا۔
(والتی یا تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (4 : 15) ” اور وہ تمہاری عورتیں جنہوں نے فحاشی کا ارتکاب کرلیا تو ان پر چار گواہ گزارو ‘ اگر چار گواہ شہادت دے دیں تو انہیں گھروں میں روک رکھو ‘ یہاں تک کہ انہیں موت آلے یا ان کے لیے اللہ کوئی راستہ نکال دے “۔ عورت کے لیے سزا یہ تھی کہ اسے گھر میں بند کردیا جائے اور ملامت کر کے اذیت دی جائے۔ اور مرد کو بھی لعنت و ملامت کی جاتی تھی۔
اس کے بعد پھر سورة نور میں حکم آگیا اور یہ تھا وہ راستہ جو زنا کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے نکال دیا گیا جس کے بارے میں اللہ نے سورة نساء میں اشارہ فرمایا تھا۔
کوڑوں کی یہ سزا ان مردوں اور عورتوں کے لیے ہے جو شادی شدہ نہ ہوں یعنی شادی کے ذریعے ارتکاب جرم سیمحفوظ نہ کردیئے گئے ہوں۔ اور یہ سزا تب نافذ ہوگی جبمجرم مسلم ‘ بالغ اور آزاد ہو۔ رہا وہ شخص جو محصن ہے یعنی جس نے شادی کرلی ہے اور شادی کے نتیجے میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ مجامعت کرچکا ہو۔ مسلم ہو بالغ ہو اور آزاد اور نکاح بھی شرعاً نکاح صحیح ہو تو اس کی حد ‘ حد رجم ہے۔
حد رجم سنت سے ثابت ہے جبکہ کوڑوں کی حد قرآن کریم سے ثابت ہے۔ قرآن کی یہ آیت عام تھی اور مجمل تھی۔ رسول اللہ ﷺ محصن زانیوں کو رجم کی سزادیتے تھے اس لیے ثابت ہوگیا کہ کوڑوں کی سزاغیرمحصین کے لیے ہے۔
یہاں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا محصن کو رجم سے قبل کوڑوں کی سزا بھی دی جائے گی یا نہیں۔ جمہور علماء اس طرف گئے ہیں کہ دونوں سزائوں کو جمع نہیں کیا جاسکتا ۔ نیز اس میں بھی اختلاف ہے کہ جب غیر محصن زانیکو کوڑوں کی سزادی جائے گی تو پھر اسے بمو جب حدیث جلاوطن بھی کیا جائے گا یا نہیں اسی طرح غلام زانی کی حد میں بھی اختلاف ہے۔ یہ اختلافات بہت طویل مباحث چاہتے ہیں۔ مناسب ہے کہ قارئین انکے بارے میں معلومات کتب فقہ سے حاصل کریں۔ ہم یہاں صرف اس قانون کی تہ میں موجود فلسفہ اور حکمت سے بات کریں گے۔ آپ نے پڑھا کہ کنواروں کی سزا کو ڑوں تک محدود ہے اور شادی شدہ محصنین کی سزا رجم ہے۔ یہ اس لیے کہ جس شخص نے مسلم ‘ بالغ اور حرہوتے ہوئے نکاح صحیح میں عورت کے ساتھ مجاسعت کرلی اس کو تو صحیح پاک اور شریفانہ طریقہ معلوم اور میسر ہوگیا ہے۔ ایسا شخص اگر جنسی بےراہ روی اختیار کرتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر فطری بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ شخص راہ فطرت اور راہ اسلام سے منحرف ہے لٰہذا اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ رہا غیر شادی شدہ غیر محصن تو ان سے غلطی کے وقوع کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ جذبات کی شدت سے مغلوب ہو سکتا ہے جبکہ اس پر ابھی نادانی کا دور ہے۔ پھر یہاں نفس جرم میں بھی فرق ہے محصن چونکہ اس کام میں سابق تجربہ رکھتا ہے اس لیے وہ اس فعل سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے بہ نسبت کنوارے کنواروں کے جو زیادہ تجربہ کار نہیں ہوتے۔
قرآن کریم یہاں صرف غیر محصن یعنی کنواروں کی سزا کا ذکر کرتا ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تصریح کردی ہے اور یہاں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اس معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہ کی جائے۔
(الزانیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المئومنین) (24 : 2) ” زانیہ عورت اور زانی مرد ‘ دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے “۔
حکم یہ ہے کہ اسلامی حدود کا نفاذ سختی سے کیا جائے اور اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت یا نرمی اور رحمد لی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ معاملہ اللہ کے دین کے ساتھ متعلق ہے۔ اور دین کے معاملے میں نرمی ناقابل برداشت ہے۔ نیز نفاذ سزا کے وقت مومنین کی ایک تعداد کو حاضر ہونا چاہیے تاکہ سزا کا اثر مجرم پر زیادہ ہو۔ روحانی لحاظ سے بھی اسے اذیت پہنچے اور دیکھنے والوں کے لیے بھی عبرت انگیز ہو۔
اس کے بعد اس فعل کی کراہت اور ناپسندیدگی کو ظاہر کرنے کے لیے اس فعل کے مرتکبین کو اسلامی معاشرت سے علیحدہ کردیا جاتا ہے یعنی یہ فعل اس قدر شمیع ہے کہ کوئی شخص ایسے مجرموں کے ساتھ نکاح نہ کرے۔
(الزانی۔۔۔۔۔۔ علی المئومنین) (24 : 3) ” زانی نکاح نہ کرنے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک۔ اور یہ حرام کردیا گیا ہے اہل ایمان پر “۔ تو معلوم ہوا کہ اس فعل بد کا ارتکاب جب کوئی کرتا ہے تو وہ اس وقت نہیں کرتا جب وہ مومن ہو۔ اس جرم کا ارتکاب کرنیوالے ایسی نفسیاتی حالت میں ہوتے ہیں کہ اس وقت ان کے شعور اور دل سے ایمان دور ہوجاتا ہے اور اس فعل کے ارتکاب کے بعد کسی نفس مومن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ایسے شخص کے ساتھ نکاح کرے۔ جو اس فعل شنیع کی وجہ سے دائرہ ایمان سے نکل گیا ہے۔ ایک مومن ایسے رابطے سے نفرت کرتا ہے اور اس کا ضمیر اس سے ابا کرتا ہے یہاں تک کہ امام احمد (رح) زانی اور عفیفہ کے درمیان نکاح کو حرام سمجھتے ہیں۔ اسی طرح عفیف اور زانیہ کے درمیان بھی وہ نکاح کو حرام سمجھتے ہیں۔ الا یہ کہ دونوں کے درمیان توبہ کے ذریعے صفائی ہوجائے اور یہ گندگی دورہو جائے۔ بہر حال ایک پاکباز مومنہ ایک زانی سے نکاح کرنے سے ابا کرتی ہے اور اسی طرح ایک پاکباز مومن بھی ایک زانیہ سے نکاح کو قابل نفرت سمجھتا ہے۔ اس قسم کے نکاح کے لیے چونکہ حرام کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس لیے شریعت اور دینی مزاج اس کو بہرحال مسعبد سمجھتا ہے۔
وحرم ذلک علی المئومنین (24 : 3) ” اور اسے مومنین کے لیے حرام کردیا گیا ہے “۔ یوں اسلامی سوسائٹی سے ناپاک اور گندے لوگوں کو علیحدہ کردیا جاتا ہے۔
اس آیت کی شان نزول میں روایت ہے کہ ایک شخص مرتد ابن ابو مرتد مکہ سے ضعیف اسیروں کو اٹھا کر مدینہ لانے کا کام کرتا تھا ” وہ لوگ جن کو اہل مکہ نے مدینہ ہجرت کرکے جانے سے روک دیا تھا “۔ مکہ میں ایک بد کار عورت تھی جس کا نام عناق تھا ‘ جو مرتد کی دوست تھی۔ مرتد نے مکہ کے نظر بندوں میں سے ایک شخص کے ساتھ وقت مقرر کر رکھا تھا کہ وہ اسے رات کو اٹھا کرلے جائے گا کہتے ہیں کہ چاندنی رات تھی اور میں مکہ کے ایک گھر کی دیوار کے سایہ میں تھا۔ عناق آگئی اور اس نے دیوار کے ساتھ لگا ہوا سایہ دیکھ لیا۔ جب وہ میرے پاس آئی تو اس نے مجھے پہچان لیا اور بولی ” مرتد ہو “۔ میں نے کہا ” مرتد ہوں “ تو اس نے کہا مرحبا اہلا وسہلاً ۔ پھر اس نے کہا آئو اور ہمارے ساتھ آج رات رہو۔ تو میں نے اس سے کہا عناق ! اللہ نے توزنا کو حرام قرار دے دیا ہے۔ اس نے علاقے میں شور کردیا کہ دیکھو مرتد تمہارے نظر بندوں کو لے جارہا یہ۔ چناچہ میں باغ میں داخل ہوگیا اور آٹھ افراد مرے پیچھے نکل پڑے۔ میں ایک غار یا کیف میں پہنچ گیا اور اندر داخل ہوگیا۔ وہ لوگ آئے اور انہوں نے میرے سر پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ ان کا پیشاب میرے سر پر گر رہا تھا لیکن اللہ نے ان کو ایسا اندھا کردیا تھا کہ انہوں نے مجھے نہ دیکھا۔ مرتد کہتے ہیں کہ یہ لوگ واپس ہوگئے اور میں نے بھی واپس آکر اپنے آدمی کو لیا۔ یہ بہت عیار شخص تھا ” اذخر “ تک میں پہنچا۔ میں نے اس شخص کی رسیاں کھولیں ۔ میں اس کو اٹھاتا اور وہ بھی میری مدد کرتا۔ یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ ﷺ سے درخواست کی حضور ﷺ میں عناق کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے دو بار حضور ﷺ سے یہ سوال کیا اور حضور ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(الزانی۔۔۔۔۔۔۔ علی المئومنین) (24 : 3) ” زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک۔ اور یہ حرام کردیا گیا ہے اہل ایمان پر “۔
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اے مرتد زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ اس کے ساتھ نکاح نہ کرو “۔ (ابو دائود ‘ نسائی ‘ ترمذی) ۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ زانیہ کے ساتھ مومن کا نکاح اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک توبہ نہ کرے۔ اس طرح کوئی مومنہ بھی زانی سے نکاح نہیں کرسکتی الا یہ کہ وہ توبہ کرے۔ یہ امام احمد کی رائے ہے۔ دوسرے فقہاء نے دوسری آراء کو لیا ہے۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے تفصیلات کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ بہرحال زنا ایک ایسا فعل ہے کہ اس کا مرتکب اسلامی سوسائٹی میں رہنے کا اہل نہیں رہتا۔ اسلامی سوسائٹی سے اسے دور ہونا چاہیے اور دور کردیا جانا چاہیے۔ یہ بھی ایسے مجرموں کے لیے ایک قسم کی سزا ہے جس طرح کوڑوں کی سزا ایک سزا ہے۔
اسلام نے اس مکروہ اور شنیع فعل پر اس قدر سخت اور دو ٹوک سزا تجویز کی ہے ‘ یہ اس لیے نہیں ہے کہ اسلام انسان کے فطری تقاضوں کے خلاف کوئی جنگ لڑنا چاہتا ہے۔ اسلام تو اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان کے لیے اس کے فطری میلانات اور فطری تقاضوں کو پورا کرنے کا انتظام ہونا چاہیے۔ اسلام اس امر میں انسانیت کی بھلائی نہیں دیکھتا کہ انسان کے فطری میلانات کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکاجائے۔ نہ اسلام انسان کے ان فطری دواعی کے خلاف ہے جو خالق کائنات نے انسان کی فطرت کے اندر و دیعت کر رکھے ہیں اور یہ اس کائنات کی عظیم زندگی کے قواعد کا ایک حصہ ہیں۔ انہی فطری میلانات کے نتیجے میں سلسلہ حیات کا تسلسل قائم ہے اور زمین کی تعمیر و ترقی کا راز بھی اسی میں مضمر ہے۔ جو فریضہ خلافت ارضی کا ایک حصہ ہے بلکہ اسلامی نظام حیات کی جنگ دراصل حیوانیت کے خلاف جنگ ہے۔ ایک حیوان کے نزدیک ایک جسم اور دوسرے جسم کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ نہ حیوانات کی کوئی فیملی ہوتی ہے۔ نہ ان کے درمیان مشترکہ جائے رہائش ہوتی ہے اور نہ مشترکہ زندگی ہوتی ہے۔ بس چند لحقوں کا جسمانی ملاپ ہوتا ہے فقط۔ اسلام انسانی زندگی کو اس قدر عارضی میلانات پر استوار کرنا نہیں چاہتا بلکہ اسلام جنسی تعلق کو ترقی یافتہ انسانی شعور کی بنیاد پر استوار کرتا ہے کہ ” پاک اور نفیس جسم ایک دوسرے کے ساتھ ملیں۔ دو دل اور دو رو حیں اکٹھی ہوجائیں۔ دو انسان مل جائیں۔ ان کے درمیان ایک مشترکہ زندگی کی تعمیر ہو۔ ان کے درمیان مشترکہ امیدیں ہوں ‘ ان کا دکھ درد مشترک ہو۔ ان کا مستقبل مشترک ہو۔ اور دونوں کی آنے والی اولاد ہو۔ ان کی خوشیوں اور ان کی ذمہ داریوں میں وہ شریک ہوں اور یہ جدید آنے والی نسل ایک ہی مشترکہ جائے رہائش میں پروان چڑھے اور دونوں والدین اس نرسری کی حفاظت اور نشو و نما کے لیے کھڑے ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زنا کی سزا میں اس قدر شدت اختیار کی ہے کیونکہ جنسی تعلقات میں زنا حیوانیت کی سطح تک گرنے کے مترادف ہے۔ اس سے ان تمام اعلیٰ قدروں کی نفی ہوجاتی ہے جو اسلام کے پیش نظر ہیں اور وہ تمام معاشرتی مقاصد فوت ہوجاتے ہیں جن کو اسلام بروئے کار لانا چاہتا ہے۔ اس سے انسان محض حیوانیت کے مقام تک گرجاتا ہے۔ کیونکہ اگر عورت اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہ ہو اور مرد اور مرد کے درمیان فرق نہ کیا جائے تو یہ حیوانی سطح ہے۔ آزاد شہوات رانی کے نظام میں انسانیت اس قدر مسخ ہوجاتی ہے کہ لوگ گوشت اور خون کی ایک لمحاتی بھوک پر سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ اور اس وقتی اور حیوانی جنسی ملاپ کے نتیجے میں ‘ زندگی کی تعمیر کا جذبہ نہیں ہوتا ‘ اس کرئہ ارض کی تعمیر کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا۔ نہ اس ملاپ سے اولاد کے حصول کا کوئی جذبہ ہوتا ہے بلکہ اس کی پشت پر کوئی حقیقی اور بلند جذبہ ہوتا ہی نہیں۔ کیونکہ محبت اور میلان کے اندر بھی ایک قسم کا دوام ہونا چاہیے جبکہ زنا کے پیچھے جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب کا سب وقتی ہوتا ہے۔ بعض معاشروں میں اگر چہ دوستی اور محبت کے طویل تعلقات ہوتے ہیں لیکن ان کی پشت پر اعلیٰ انسانی اقدار نہیں ہوتیں۔ ان کی پشت پر محض حیوانیت ہی ہوتی ہے۔
جہاں تک اسلام کا تعلق وہ نہ فطری میلانات اور خواہشات کو دباتا ہے اور نہ ان کو کوئی ناپاک چیز سمجھتا ہے۔ اسلام ان کو منظم اور منطبط کر کے پاکیزگی عطا کرتا ہے اور حیوانی مقام سے بلند کر کے اسے ایک ادارہ اور محور بنا دیتا ہے جس کے ارد گرد بیشمار نفسیاتی اور اجتماعی آداب جمع ہوجاتے ہیں۔ رہا زنا اور خصوصاً عصمت فروشی تو اس سے یہ فطری جذبات پاکیزگی اور رواحانیت اور اعلیٰ خواہشات سے عاری ہوجاتے ہیں۔ نیز نسل انسانی کی تاریخ میں اس ادارے سے ہمیشہ جو آداب و اقدار وابستہ رہی ہیں ‘ وہ اس ادارے سے چھن جاتی ہیں اور یہ محض حیوانی لذتیت تک گرجاتا ہے بلکہ حیوان سے بھی زیادہ غلیظ گندا اور گرا ہوا ہوتا ہے اس لیے کہ بیشمار حیوانات اور پرندے ایسے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کی منظم ازدواجی زندگی ہوتی ہے۔ اور اس زندگی میں جنسی تعلق میں طوائف الملوکی نہیں ہوتی۔ جیسا کہ دو انسان زنا کاروں کے درمیان ہوتی ہے خصوصاً جسم فروش عورتوں کے معاملے میں تو فریقین حیوانوں سے بھی نیچے ہوتے ہیں۔
اسلام چونکہ انسانی معاشرے سے اس گراوٹ کو دور کرنا چاہتا ہے اس لیے اس نے زنا کی سزا میں اس قدر سختی برتی ہے۔ زنا کے جرم کے خلاف علماء نے بعض دوسرے اسباب بھی گنوائے ہیں اور ان میں سے ہر ایک سبب بھی ایک پورا جواز فراہم کرتا ہے کہ زنا کے جرم پر اس قسم کی سخت سزادی جائے ‘ مثلاً یہ کہ اس سے نسب میں اختلاط پیدا ہوتا ہے۔ لوگوں کے درمیان بغض اور کینہ اور دشمنی پیدا ہوتی ہے اور یہ کہ مطمئن گھرانوں کے اطمینان کے اندر فرق پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میرے خیال میں اس سزا کا اصل اور جامع سبب یہی ہے کہ انسان کو حیرانی جنسی ملاپ کی کر اوٹ سے بلند کیا جائے اور ان اقدار و آداب کو محفوظ کیا جائے جو جنسی ملاپ کے انسانی ادارے سے ہمیشہ وابستہ رہے ہیں۔ نیز یہ کہ اس ادارے کو دوام بخشا جائے اور زوجین اعلیٰ اقدار اور اعلیٰ مقاصد کے لی ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ زندگی بسر کریں۔ یہ سب سے اہم اور جامع وجہ ہے جو جامع الوجوہ والا سباب ہے۔
پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ اسلام اس جرم کی سزا میں تشدد اس وقت کرتا جب اس جرم کے وقوع کے خلاف تمام احتیاطی اور امتناعی تدابیر اختیار کرلی جائیں۔ اسلام زندگی کا ایک مکمل نظام ہے اور جب قائم ہوتا ہے تو اس میں سوسائٹی ایسے خطوط پر منظم ہوچکی ہوتی ہے کہ پاکیزہ زندگی گزارنے کے مواقع عام ہوتے ہیں اور گندی اور غلیظ زندگی گزارنے کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔ تب اسلام ان لوگوں پر یہ سزا نافذ کرتا ہے جو پاکیزہ طریقوں کو چھوڑ کر گندے طریقے اپناتے ہیں۔ اور اس صورت میں کئی ایسے نمونے اور مثالیں موجود ہیں جن سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوگی۔
نیز اگر یہ جرم واقع بھی ہوجائے تو بھی اسلام نے اس کے ثبوت کے لیے اس قدر مشکل طریق کار رکھا ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں شبہ پیدا ہو ہی جاتا ہے اور اسلام کے قانون جرائم کے سلسل میں یہ اہم اصول وضع کیا گیا ہے کہ شبہات کے ذریعہ الزام جرم ساقط کردیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں پر سے حدود کو ساقط کر دو جہاں تک تم سے ہو سکتا ہے۔ اگر ملزم کے چھوڑے جانے کی کوئی سبیل اور راستہ ہو تو اسے نکلنے دو کیونکہ قاضی اگر معاف کرنے میں غلطی کرجائے تو اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دہی میں غلطی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام چار گواہ طلب کرتا ہے جو عادل بھی ہوں اور جو یہ شہادت دیں کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے فعل ہوتے دیکھا ہے یا یہ کہ ملزم کی طرف سے ایسا اعتراف ہو جس میں کوئی شبہ نہ ہو۔
بعض اوقات یہ شبہ کیا جاتا ہے کہ پھر اسلام نے چار آدمیوں کی شہادت کی جو شرط لگائی ہے تو یہ سزا پھر خیالی سزا ہوگی اور اس سزا کے نفاذ کا کوئی امکان نہیں رہے گا۔ لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا اسلام اسلامی سوسائٹی سے جرم زنا کو صرف سزا کے ذریعے نہیں مٹاتا بلکہ اسلامی نظام دوسرے امتناعی اسباب بھی اختیار کرتا ہے جن کی وجہ سے یہ جرم واقع ہی کم ہوتا ہے۔ اسلام انسان کی تہذیب و تربیت پر زور دیتا ہے۔ انسانوں کے ضمیر کو پاک کرتا ہے۔ اسلام لوگوں کے اندر یہ ڈر پیدا کرتا ہے کہ جو شخص اس جرم کا ارتکاب کرے اگر اس کا یہ جرم افشا ہوگیا تو وہ اس سوسائٹی کا ایک بد کردار شخص مشہور ہوگا ‘ کوئی اسے اپنی بیٹی۔۔۔۔۔۔۔ نہ دے گا یا کوئی اس کی بیٹی کو بیوی نہ بنائیگا۔ اسلامی سوسائٹی سے وہ کٹ جائے گا۔ اسلام سزا صرف ان لوگوں کو دیتا ہے جو اس جرم کا ارتکاب اس قدر دلیری سے کریں کہ انہیں چار افراد دیکھ لیں یا ایسے لوگوں پر یہ سزا نافذ کرتا ہے جو خدا سے ڈرنے والے ہوں اور جو اپنے آپ کو سزا کے ذریعے سے پاک کرنا چاہتے ہوں اور وہ اقرار جرم کرلیں جیسا کہ حضرت ماعز اور غامد یہہ کے ساتھہوا۔ یہ دونوں خود حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ حضور ﷺ ہمیں پاک کردیں انہوں نے اس بات پر اصرار کیا حالانکہ حضور اکرم ﷺ نے اس معاملے میں چار مرتبہ اعراض فرمایا اور چار مرتبہ اقرار و اصرار کرنے کے بعد آپ نے حکم دیا کہ اب حد قائم کردی جائے۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ ” آپس میں حدود کو معاف کردیا کرو ‘ اگر حدود کا کوئی معاملہ مجھ تک پہنچ گیا تو پھر اس کا نفاذ واجب ہوجائے گا “ (ابودائود) ۔
لیکن جب ارتکاب جرم کا یقین ہوگیا اور معاملہ حکام مجاز تک پہنچ گیا تو پھر اس میں کسی نرمی کی اجازت نہیں ہے۔ پھر حدود کا نفاذ واجب ہوجاتا ہے اور پھر یہ دین کا معاملہ بن جاتا ہے اور اس میں رحم کرنا جائز نہیں ہے۔ ثبوت جرم کے بعد رحمدلی کے معنی یہ ہیں کہ مجرم پر رحمدلی کی جائے اور سوسائٹی کے ساتھ سنگدلی کی جائے اور انسانی آداب اور انسانی ضمیر پر ظلم کیا جائے۔ یہ دراصل ایک مصنوعی رحمدلی ہوگی۔ ہمارے مقابلے میں اللہ اپنے بندوں پر زیادہ رحمدل ہے اور اللہ نے یہ سزا تجویز کی ہے اور کسی مومن اور مومنہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کردیں تو انہیں ان کے لیے اس میں کوئی اپنا اختیار ہو۔ اللہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے خوب واقف ہے۔ نیز اللہ بندوں کے مزاجوں سے بھی ہم سے زیادہ واقف ہے اس لیے کسی کنے والے کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی سزا کے بارے میں یہ کہے کہ یہ سخت ہے۔ ہم کہتے ہیں سوسائٹی میں اس گھنائو نے جرم کے پھیلانے کے مقابلی میں یہ بہت ہی نرم سزا ہے۔ کیونکہ اس جرم کے پھیلنے سے سوسائٹی زوال ‘ پسماندگی اور فساد فطرت اور بےغیرتی جیسے مصائب میں مبتلا ہوجاتی ہے۔
صرف زنا کی سزا میں تشدد ہی اسلامی سوسائٹی کو بچانا مقصود نہیں ہے۔ نہ اسلامی نظام اسلامی معاشرے کو پاک و صاف رکھنے میں صرف سزائوں پر اعتماد کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس بات کی وضاحت کردی ہے اسلام سوسائٹی کو اس جرم سے بچانے کے لیے دوسرے اقدامات بھی کرتا ہے۔ اسلام ان تمام کاموں سے منع کرتا ہے جن سے اس جرم کی بو بھی آتی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ زانیوں کو امت مسلمہ کے جسم سے دور کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا قدم یہ اٹھایا جاتا ہے کہ پاک دامن عورتوں پر زنا کے الزام لگانے کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے الا یہ کہ کوئی چار گواہ پیش کر دے۔ یہ اس لیے کہ اس گھنائو نے جرم کا الزام لگانے میں لوگ بےباک نہ ہوں۔
النور 24:3
(الزانی۔۔۔۔۔۔ علی المئو منین) (3)
اسلام کے ابتدائی ایام میں حد زنا وہ تھی جو جس کا تذکرہ سورة نساء کی آیت میں ہوا۔
(والتی یا تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (4 : 15) ” اور وہ تمہاری عورتیں جنہوں نے فحاشی کا ارتکاب کرلیا تو ان پر چار گواہ گزارو ‘ اگر چار گواہ شہادت دے دیں تو انہیں گھروں میں روک رکھو ‘ یہاں تک کہ انہیں موت آلے یا ان کے لیے اللہ کوئی راستہ نکال دے “۔ عورت کے لیے سزا یہ تھی کہ اسے گھر میں بند کردیا جائے اور ملامت کر کے اذیت دی جائے۔ اور مرد کو بھی لعنت و ملامت کی جاتی تھی۔
اس کے بعد پھر سورة نور میں حکم آگیا اور یہ تھا وہ راستہ جو زنا کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے نکال دیا گیا جس کے بارے میں اللہ نے سورة نساء میں اشارہ فرمایا تھا۔
کوڑوں کی یہ سزا ان مردوں اور عورتوں کے لیے ہے جو شادی شدہ نہ ہوں یعنی شادی کے ذریعے ارتکاب جرم سیمحفوظ نہ کردیئے گئے ہوں۔ اور یہ سزا تب نافذ ہوگی جبمجرم مسلم ‘ بالغ اور آزاد ہو۔ رہا وہ شخص جو محصن ہے یعنی جس نے شادی کرلی ہے اور شادی کے نتیجے میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ مجامعت کرچکا ہو۔ مسلم ہو بالغ ہو اور آزاد اور نکاح بھی شرعاً نکاح صحیح ہو تو اس کی حد ‘ حد رجم ہے۔
حد رجم سنت سے ثابت ہے جبکہ کوڑوں کی حد قرآن کریم سے ثابت ہے۔ قرآن کی یہ آیت عام تھی اور مجمل تھی۔ رسول اللہ ﷺ محصن زانیوں کو رجم کی سزادیتے تھے اس لیے ثابت ہوگیا کہ کوڑوں کی سزاغیرمحصین کے لیے ہے۔
یہاں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا محصن کو رجم سے قبل کوڑوں کی سزا بھی دی جائے گی یا نہیں۔ جمہور علماء اس طرف گئے ہیں کہ دونوں سزائوں کو جمع نہیں کیا جاسکتا ۔ نیز اس میں بھی اختلاف ہے کہ جب غیر محصن زانیکو کوڑوں کی سزادی جائے گی تو پھر اسے بمو جب حدیث جلاوطن بھی کیا جائے گا یا نہیں اسی طرح غلام زانی کی حد میں بھی اختلاف ہے۔ یہ اختلافات بہت طویل مباحث چاہتے ہیں۔ مناسب ہے کہ قارئین انکے بارے میں معلومات کتب فقہ سے حاصل کریں۔ ہم یہاں صرف اس قانون کی تہ میں موجود فلسفہ اور حکمت سے بات کریں گے۔ آپ نے پڑھا کہ کنواروں کی سزا کو ڑوں تک محدود ہے اور شادی شدہ محصنین کی سزا رجم ہے۔ یہ اس لیے کہ جس شخص نے مسلم ‘ بالغ اور حرہوتے ہوئے نکاح صحیح میں عورت کے ساتھ مجاسعت کرلی اس کو تو صحیح پاک اور شریفانہ طریقہ معلوم اور میسر ہوگیا ہے۔ ایسا شخص اگر جنسی بےراہ روی اختیار کرتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر فطری بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ شخص راہ فطرت اور راہ اسلام سے منحرف ہے لٰہذا اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ رہا غیر شادی شدہ غیر محصن تو ان سے غلطی کے وقوع کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ جذبات کی شدت سے مغلوب ہو سکتا ہے جبکہ اس پر ابھی نادانی کا دور ہے۔ پھر یہاں نفس جرم میں بھی فرق ہے محصن چونکہ اس کام میں سابق تجربہ رکھتا ہے اس لیے وہ اس فعل سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے بہ نسبت کنوارے کنواروں کے جو زیادہ تجربہ کار نہیں ہوتے۔
قرآن کریم یہاں صرف غیر محصن یعنی کنواروں کی سزا کا ذکر کرتا ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تصریح کردی ہے اور یہاں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اس معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہ کی جائے۔
(الزانیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المئومنین) (24 : 2) ” زانیہ عورت اور زانی مرد ‘ دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے “۔
حکم یہ ہے کہ اسلامی حدود کا نفاذ سختی سے کیا جائے اور اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت یا نرمی اور رحمد لی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ معاملہ اللہ کے دین کے ساتھ متعلق ہے۔ اور دین کے معاملے میں نرمی ناقابل برداشت ہے۔ نیز نفاذ سزا کے وقت مومنین کی ایک تعداد کو حاضر ہونا چاہیے تاکہ سزا کا اثر مجرم پر زیادہ ہو۔ روحانی لحاظ سے بھی اسے اذیت پہنچے اور دیکھنے والوں کے لیے بھی عبرت انگیز ہو۔
اس کے بعد اس فعل کی کراہت اور ناپسندیدگی کو ظاہر کرنے کے لیے اس فعل کے مرتکبین کو اسلامی معاشرت سے علیحدہ کردیا جاتا ہے یعنی یہ فعل اس قدر شمیع ہے کہ کوئی شخص ایسے مجرموں کے ساتھ نکاح نہ کرے۔
(الزانی۔۔۔۔۔۔ علی المئومنین) (24 : 3) ” زانی نکاح نہ کرنے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک۔ اور یہ حرام کردیا گیا ہے اہل ایمان پر “۔ تو معلوم ہوا کہ اس فعل بد کا ارتکاب جب کوئی کرتا ہے تو وہ اس وقت نہیں کرتا جب وہ مومن ہو۔ اس جرم کا ارتکاب کرنیوالے ایسی نفسیاتی حالت میں ہوتے ہیں کہ اس وقت ان کے شعور اور دل سے ایمان دور ہوجاتا ہے اور اس فعل کے ارتکاب کے بعد کسی نفس مومن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ایسے شخص کے ساتھ نکاح کرے۔ جو اس فعل شنیع کی وجہ سے دائرہ ایمان سے نکل گیا ہے۔ ایک مومن ایسے رابطے سے نفرت کرتا ہے اور اس کا ضمیر اس سے ابا کرتا ہے یہاں تک کہ امام احمد (رح) زانی اور عفیفہ کے درمیان نکاح کو حرام سمجھتے ہیں۔ اسی طرح عفیف اور زانیہ کے درمیان بھی وہ نکاح کو حرام سمجھتے ہیں۔ الا یہ کہ دونوں کے درمیان توبہ کے ذریعے صفائی ہوجائے اور یہ گندگی دورہو جائے۔ بہر حال ایک پاکباز مومنہ ایک زانی سے نکاح کرنے سے ابا کرتی ہے اور اسی طرح ایک پاکباز مومن بھی ایک زانیہ سے نکاح کو قابل نفرت سمجھتا ہے۔ اس قسم کے نکاح کے لیے چونکہ حرام کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس لیے شریعت اور دینی مزاج اس کو بہرحال مسعبد سمجھتا ہے۔
وحرم ذلک علی المئومنین (24 : 3) ” اور اسے مومنین کے لیے حرام کردیا گیا ہے “۔ یوں اسلامی سوسائٹی سے ناپاک اور گندے لوگوں کو علیحدہ کردیا جاتا ہے۔
اس آیت کی شان نزول میں روایت ہے کہ ایک شخص مرتد ابن ابو مرتد مکہ سے ضعیف اسیروں کو اٹھا کر مدینہ لانے کا کام کرتا تھا ” وہ لوگ جن کو اہل مکہ نے مدینہ ہجرت کرکے جانے سے روک دیا تھا “۔ مکہ میں ایک بد کار عورت تھی جس کا نام عناق تھا ‘ جو مرتد کی دوست تھی۔ مرتد نے مکہ کے نظر بندوں میں سے ایک شخص کے ساتھ وقت مقرر کر رکھا تھا کہ وہ اسے رات کو اٹھا کرلے جائے گا کہتے ہیں کہ چاندنی رات تھی اور میں مکہ کے ایک گھر کی دیوار کے سایہ میں تھا۔ عناق آگئی اور اس نے دیوار کے ساتھ لگا ہوا سایہ دیکھ لیا۔ جب وہ میرے پاس آئی تو اس نے مجھے پہچان لیا اور بولی ” مرتد ہو “۔ میں نے کہا ” مرتد ہوں “ تو اس نے کہا مرحبا اہلا وسہلاً ۔ پھر اس نے کہا آئو اور ہمارے ساتھ آج رات رہو۔ تو میں نے اس سے کہا عناق ! اللہ نے توزنا کو حرام قرار دے دیا ہے۔ اس نے علاقے میں شور کردیا کہ دیکھو مرتد تمہارے نظر بندوں کو لے جارہا یہ۔ چناچہ میں باغ میں داخل ہوگیا اور آٹھ افراد مرے پیچھے نکل پڑے۔ میں ایک غار یا کیف میں پہنچ گیا اور اندر داخل ہوگیا۔ وہ لوگ آئے اور انہوں نے میرے سر پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ ان کا پیشاب میرے سر پر گر رہا تھا لیکن اللہ نے ان کو ایسا اندھا کردیا تھا کہ انہوں نے مجھے نہ دیکھا۔ مرتد کہتے ہیں کہ یہ لوگ واپس ہوگئے اور میں نے بھی واپس آکر اپنے آدمی کو لیا۔ یہ بہت عیار شخص تھا ” اذخر “ تک میں پہنچا۔ میں نے اس شخص کی رسیاں کھولیں ۔ میں اس کو اٹھاتا اور وہ بھی میری مدد کرتا۔ یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ ﷺ سے درخواست کی حضور ﷺ میں عناق کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے دو بار حضور ﷺ سے یہ سوال کیا اور حضور ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(الزانی۔۔۔۔۔۔۔ علی المئومنین) (24 : 3) ” زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک۔ اور یہ حرام کردیا گیا ہے اہل ایمان پر “۔
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اے مرتد زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ اس کے ساتھ نکاح نہ کرو “۔ (ابو دائود ‘ نسائی ‘ ترمذی) ۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ زانیہ کے ساتھ مومن کا نکاح اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک توبہ نہ کرے۔ اس طرح کوئی مومنہ بھی زانی سے نکاح نہیں کرسکتی الا یہ کہ وہ توبہ کرے۔ یہ امام احمد کی رائے ہے۔ دوسرے فقہاء نے دوسری آراء کو لیا ہے۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے تفصیلات کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ بہرحال زنا ایک ایسا فعل ہے کہ اس کا مرتکب اسلامی سوسائٹی میں رہنے کا اہل نہیں رہتا۔ اسلامی سوسائٹی سے اسے دور ہونا چاہیے اور دور کردیا جانا چاہیے۔ یہ بھی ایسے مجرموں کے لیے ایک قسم کی سزا ہے جس طرح کوڑوں کی سزا ایک سزا ہے۔
اسلام نے اس مکروہ اور شنیع فعل پر اس قدر سخت اور دو ٹوک سزا تجویز کی ہے ‘ یہ اس لیے نہیں ہے کہ اسلام انسان کے فطری تقاضوں کے خلاف کوئی جنگ لڑنا چاہتا ہے۔ اسلام تو اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان کے لیے اس کے فطری میلانات اور فطری تقاضوں کو پورا کرنے کا انتظام ہونا چاہیے۔ اسلام اس امر میں انسانیت کی بھلائی نہیں دیکھتا کہ انسان کے فطری میلانات کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکاجائے۔ نہ اسلام انسان کے ان فطری دواعی کے خلاف ہے جو خالق کائنات نے انسان کی فطرت کے اندر و دیعت کر رکھے ہیں اور یہ اس کائنات کی عظیم زندگی کے قواعد کا ایک حصہ ہیں۔ انہی فطری میلانات کے نتیجے میں سلسلہ حیات کا تسلسل قائم ہے اور زمین کی تعمیر و ترقی کا راز بھی اسی میں مضمر ہے۔ جو فریضہ خلافت ارضی کا ایک حصہ ہے بلکہ اسلامی نظام حیات کی جنگ دراصل حیوانیت کے خلاف جنگ ہے۔ ایک حیوان کے نزدیک ایک جسم اور دوسرے جسم کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ نہ حیوانات کی کوئی فیملی ہوتی ہے۔ نہ ان کے درمیان مشترکہ جائے رہائش ہوتی ہے اور نہ مشترکہ زندگی ہوتی ہے۔ بس چند لحقوں کا جسمانی ملاپ ہوتا ہے فقط۔ اسلام انسانی زندگی کو اس قدر عارضی میلانات پر استوار کرنا نہیں چاہتا بلکہ اسلام جنسی تعلق کو ترقی یافتہ انسانی شعور کی بنیاد پر استوار کرتا ہے کہ ” پاک اور نفیس جسم ایک دوسرے کے ساتھ ملیں۔ دو دل اور دو رو حیں اکٹھی ہوجائیں۔ دو انسان مل جائیں۔ ان کے درمیان ایک مشترکہ زندگی کی تعمیر ہو۔ ان کے درمیان مشترکہ امیدیں ہوں ‘ ان کا دکھ درد مشترک ہو۔ ان کا مستقبل مشترک ہو۔ اور دونوں کی آنے والی اولاد ہو۔ ان کی خوشیوں اور ان کی ذمہ داریوں میں وہ شریک ہوں اور یہ جدید آنے والی نسل ایک ہی مشترکہ جائے رہائش میں پروان چڑھے اور دونوں والدین اس نرسری کی حفاظت اور نشو و نما کے لیے کھڑے ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زنا کی سزا میں اس قدر شدت اختیار کی ہے کیونکہ جنسی تعلقات میں زنا حیوانیت کی سطح تک گرنے کے مترادف ہے۔ اس سے ان تمام اعلیٰ قدروں کی نفی ہوجاتی ہے جو اسلام کے پیش نظر ہیں اور وہ تمام معاشرتی مقاصد فوت ہوجاتے ہیں جن کو اسلام بروئے کار لانا چاہتا ہے۔ اس سے انسان محض حیوانیت کے مقام تک گرجاتا ہے۔ کیونکہ اگر عورت اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہ ہو اور مرد اور مرد کے درمیان فرق نہ کیا جائے تو یہ حیوانی سطح ہے۔ آزاد شہوات رانی کے نظام میں انسانیت اس قدر مسخ ہوجاتی ہے کہ لوگ گوشت اور خون کی ایک لمحاتی بھوک پر سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ اور اس وقتی اور حیوانی جنسی ملاپ کے نتیجے میں ‘ زندگی کی تعمیر کا جذبہ نہیں ہوتا ‘ اس کرئہ ارض کی تعمیر کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا۔ نہ اس ملاپ سے اولاد کے حصول کا کوئی جذبہ ہوتا ہے بلکہ اس کی پشت پر کوئی حقیقی اور بلند جذبہ ہوتا ہی نہیں۔ کیونکہ محبت اور میلان کے اندر بھی ایک قسم کا دوام ہونا چاہیے جبکہ زنا کے پیچھے جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب کا سب وقتی ہوتا ہے۔ بعض معاشروں میں اگر چہ دوستی اور محبت کے طویل تعلقات ہوتے ہیں لیکن ان کی پشت پر اعلیٰ انسانی اقدار نہیں ہوتیں۔ ان کی پشت پر محض حیوانیت ہی ہوتی ہے۔
جہاں تک اسلام کا تعلق وہ نہ فطری میلانات اور خواہشات کو دباتا ہے اور نہ ان کو کوئی ناپاک چیز سمجھتا ہے۔ اسلام ان کو منظم اور منطبط کر کے پاکیزگی عطا کرتا ہے اور حیوانی مقام سے بلند کر کے اسے ایک ادارہ اور محور بنا دیتا ہے جس کے ارد گرد بیشمار نفسیاتی اور اجتماعی آداب جمع ہوجاتے ہیں۔ رہا زنا اور خصوصاً عصمت فروشی تو اس سے یہ فطری جذبات پاکیزگی اور رواحانیت اور اعلیٰ خواہشات سے عاری ہوجاتے ہیں۔ نیز نسل انسانی کی تاریخ میں اس ادارے سے ہمیشہ جو آداب و اقدار وابستہ رہی ہیں ‘ وہ اس ادارے سے چھن جاتی ہیں اور یہ محض حیوانی لذتیت تک گرجاتا ہے بلکہ حیوان سے بھی زیادہ غلیظ گندا اور گرا ہوا ہوتا ہے اس لیے کہ بیشمار حیوانات اور پرندے ایسے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کی منظم ازدواجی زندگی ہوتی ہے۔ اور اس زندگی میں جنسی تعلق میں طوائف الملوکی نہیں ہوتی۔ جیسا کہ دو انسان زنا کاروں کے درمیان ہوتی ہے خصوصاً جسم فروش عورتوں کے معاملے میں تو فریقین حیوانوں سے بھی نیچے ہوتے ہیں۔
اسلام چونکہ انسانی معاشرے سے اس گراوٹ کو دور کرنا چاہتا ہے اس لیے اس نے زنا کی سزا میں اس قدر سختی برتی ہے۔ زنا کے جرم کے خلاف علماء نے بعض دوسرے اسباب بھی گنوائے ہیں اور ان میں سے ہر ایک سبب بھی ایک پورا جواز فراہم کرتا ہے کہ زنا کے جرم پر اس قسم کی سخت سزادی جائے ‘ مثلاً یہ کہ اس سے نسب میں اختلاط پیدا ہوتا ہے۔ لوگوں کے درمیان بغض اور کینہ اور دشمنی پیدا ہوتی ہے اور یہ کہ مطمئن گھرانوں کے اطمینان کے اندر فرق پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میرے خیال میں اس سزا کا اصل اور جامع سبب یہی ہے کہ انسان کو حیرانی جنسی ملاپ کی کر اوٹ سے بلند کیا جائے اور ان اقدار و آداب کو محفوظ کیا جائے جو جنسی ملاپ کے انسانی ادارے سے ہمیشہ وابستہ رہے ہیں۔ نیز یہ کہ اس ادارے کو دوام بخشا جائے اور زوجین اعلیٰ اقدار اور اعلیٰ مقاصد کے لی ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ زندگی بسر کریں۔ یہ سب سے اہم اور جامع وجہ ہے جو جامع الوجوہ والا سباب ہے۔
پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ اسلام اس جرم کی سزا میں تشدد اس وقت کرتا جب اس جرم کے وقوع کے خلاف تمام احتیاطی اور امتناعی تدابیر اختیار کرلی جائیں۔ اسلام زندگی کا ایک مکمل نظام ہے اور جب قائم ہوتا ہے تو اس میں سوسائٹی ایسے خطوط پر منظم ہوچکی ہوتی ہے کہ پاکیزہ زندگی گزارنے کے مواقع عام ہوتے ہیں اور گندی اور غلیظ زندگی گزارنے کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔ تب اسلام ان لوگوں پر یہ سزا نافذ کرتا ہے جو پاکیزہ طریقوں کو چھوڑ کر گندے طریقے اپناتے ہیں۔ اور اس صورت میں کئی ایسے نمونے اور مثالیں موجود ہیں جن سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوگی۔
نیز اگر یہ جرم واقع بھی ہوجائے تو بھی اسلام نے اس کے ثبوت کے لیے اس قدر مشکل طریق کار رکھا ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں شبہ پیدا ہو ہی جاتا ہے اور اسلام کے قانون جرائم کے سلسل میں یہ اہم اصول وضع کیا گیا ہے کہ شبہات کے ذریعہ الزام جرم ساقط کردیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں پر سے حدود کو ساقط کر دو جہاں تک تم سے ہو سکتا ہے۔ اگر ملزم کے چھوڑے جانے کی کوئی سبیل اور راستہ ہو تو اسے نکلنے دو کیونکہ قاضی اگر معاف کرنے میں غلطی کرجائے تو اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دہی میں غلطی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام چار گواہ طلب کرتا ہے جو عادل بھی ہوں اور جو یہ شہادت دیں کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے فعل ہوتے دیکھا ہے یا یہ کہ ملزم کی طرف سے ایسا اعتراف ہو جس میں کوئی شبہ نہ ہو۔
بعض اوقات یہ شبہ کیا جاتا ہے کہ پھر اسلام نے چار آدمیوں کی شہادت کی جو شرط لگائی ہے تو یہ سزا پھر خیالی سزا ہوگی اور اس سزا کے نفاذ کا کوئی امکان نہیں رہے گا۔ لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا اسلام اسلامی سوسائٹی سے جرم زنا کو صرف سزا کے ذریعے نہیں مٹاتا بلکہ اسلامی نظام دوسرے امتناعی اسباب بھی اختیار کرتا ہے جن کی وجہ سے یہ جرم واقع ہی کم ہوتا ہے۔ اسلام انسان کی تہذیب و تربیت پر زور دیتا ہے۔ انسانوں کے ضمیر کو پاک کرتا ہے۔ اسلام لوگوں کے اندر یہ ڈر پیدا کرتا ہے کہ جو شخص اس جرم کا ارتکاب کرے اگر اس کا یہ جرم افشا ہوگیا تو وہ اس سوسائٹی کا ایک بد کردار شخص مشہور ہوگا ‘ کوئی اسے اپنی بیٹی۔۔۔۔۔۔۔ نہ دے گا یا کوئی اس کی بیٹی کو بیوی نہ بنائیگا۔ اسلامی سوسائٹی سے وہ کٹ جائے گا۔ اسلام سزا صرف ان لوگوں کو دیتا ہے جو اس جرم کا ارتکاب اس قدر دلیری سے کریں کہ انہیں چار افراد دیکھ لیں یا ایسے لوگوں پر یہ سزا نافذ کرتا ہے جو خدا سے ڈرنے والے ہوں اور جو اپنے آپ کو سزا کے ذریعے سے پاک کرنا چاہتے ہوں اور وہ اقرار جرم کرلیں جیسا کہ حضرت ماعز اور غامد یہہ کے ساتھہوا۔ یہ دونوں خود حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ حضور ﷺ ہمیں پاک کردیں انہوں نے اس بات پر اصرار کیا حالانکہ حضور اکرم ﷺ نے اس معاملے میں چار مرتبہ اعراض فرمایا اور چار مرتبہ اقرار و اصرار کرنے کے بعد آپ نے حکم دیا کہ اب حد قائم کردی جائے۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ ” آپس میں حدود کو معاف کردیا کرو ‘ اگر حدود کا کوئی معاملہ مجھ تک پہنچ گیا تو پھر اس کا نفاذ واجب ہوجائے گا “ (ابودائود) ۔
لیکن جب ارتکاب جرم کا یقین ہوگیا اور معاملہ حکام مجاز تک پہنچ گیا تو پھر اس میں کسی نرمی کی اجازت نہیں ہے۔ پھر حدود کا نفاذ واجب ہوجاتا ہے اور پھر یہ دین کا معاملہ بن جاتا ہے اور اس میں رحم کرنا جائز نہیں ہے۔ ثبوت جرم کے بعد رحمدلی کے معنی یہ ہیں کہ مجرم پر رحمدلی کی جائے اور سوسائٹی کے ساتھ سنگدلی کی جائے اور انسانی آداب اور انسانی ضمیر پر ظلم کیا جائے۔ یہ دراصل ایک مصنوعی رحمدلی ہوگی۔ ہمارے مقابلے میں اللہ اپنے بندوں پر زیادہ رحمدل ہے اور اللہ نے یہ سزا تجویز کی ہے اور کسی مومن اور مومنہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کردیں تو انہیں ان کے لیے اس میں کوئی اپنا اختیار ہو۔ اللہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے خوب واقف ہے۔ نیز اللہ بندوں کے مزاجوں سے بھی ہم سے زیادہ واقف ہے اس لیے کسی کنے والے کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی سزا کے بارے میں یہ کہے کہ یہ سخت ہے۔ ہم کہتے ہیں سوسائٹی میں اس گھنائو نے جرم کے پھیلانے کے مقابلی میں یہ بہت ہی نرم سزا ہے۔ کیونکہ اس جرم کے پھیلنے سے سوسائٹی زوال ‘ پسماندگی اور فساد فطرت اور بےغیرتی جیسے مصائب میں مبتلا ہوجاتی ہے۔
صرف زنا کی سزا میں تشدد ہی اسلامی سوسائٹی کو بچانا مقصود نہیں ہے۔ نہ اسلامی نظام اسلامی معاشرے کو پاک و صاف رکھنے میں صرف سزائوں پر اعتماد کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس بات کی وضاحت کردی ہے اسلام سوسائٹی کو اس جرم سے بچانے کے لیے دوسرے اقدامات بھی کرتا ہے۔ اسلام ان تمام کاموں سے منع کرتا ہے جن سے اس جرم کی بو بھی آتی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ زانیوں کو امت مسلمہ کے جسم سے دور کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا قدم یہ اٹھایا جاتا ہے کہ پاک دامن عورتوں پر زنا کے الزام لگانے کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے الا یہ کہ کوئی چار گواہ پیش کر دے۔ یہ اس لیے کہ اس گھنائو نے جرم کا الزام لگانے میں لوگ بےباک نہ ہوں۔
النور 24:4
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم الفسقون ) (4
زبانوں کو کھلا چھوڑ دینا کہ وہ پاک و صاف عورتوں (محصنات) پر تہمتیں لگاتے پھریں۔ محسنات وہ کنواری اور شادی شدہ عورتیں ہوتی ہیں جن پر زنا کے جرم کے ارتکاب کا الزام لگایا جائے لیکن اس الزام کی پشت پر کوئی دلیل قاطع نہ ہو۔ اس طرح کہ بغیر کسی ثبوت کے کوئی کسی بےگناہ مرد یا عورت پر اس گھٹائو نے جرم کا الزام لگاتا پھرے اور اس پر اسے کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ یوں صبح و شام معاشرے میں لوگوں کی عزتوں پر حملہ ہوتا رہے ‘ معاشرہ بد نام ہوتا رہے اور ہر شخص پر الزام لگنے کے مواقع عام ہوں۔ یا مرد اپنی بیوی پر شک کرے۔ ہر شخص کو اپنے اصل و نسل کے بارے میں شک ہوجائے۔ ہر خاندان کے ٹوٹ جانے کا خطرہ ہو۔ تہمت ‘ الزام اور شک کے یہ وہ حالات ہوں گے جن میں کسی شخص کو کوئی اطمینان نہ ہوگا۔
پھر اگر زنا کاری کے الزامات اس طرح لگائے جاتے رہیں تو عام لوگوں کو اس جرم کے ارتکاب کی جرأت ہوگی۔ لوگ کہیں گے کہ سوسائٹی میں ہر طرف اس جرم کا چر چاہے۔ اس طرح جو شخص اس سے بچنا بھی چاہتا ہوگا ‘ وہ بھی اس میں ملوث ہوجائے گا۔ کمازکم بار بار کے الزامات کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں اس کا ارتکاب اس قدر گھنائو نا نہ رہے گا۔ ایک عام آدمی کا تاثر بھی یہ ہوگا کہ عام لوگ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
اگر الزام زنا بلاثبوت کو جرم نہ قرار دیا جائے تو پھر زنا کی اس شدید سزا کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا اور پوری سوسائٹی کی فضا اس جرم میں ملوث ہوگی اور فحاشی کے ارتکاب میں اضافہ ہوگا۔
ان وجوہات کی بناء پر ‘ لوگوں کو ناجائز تہمتوں سے بچانے کی خاطر ‘ اور اس الزام کی وجہ سے لوگوں کی عزت کو بچانے کی خاطر قرآن کریم نے حد قذف کی سزا میں سختی کی ہے۔ اس قدر سختی کہ اس کی سزا کو ارتکاب جرم کی سزا کے قریب قریب قرار دیا ہے۔ یعنی 80 کوڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ایسا شخص فاسق قرار پائے گا اور آئندہ کبھی بھی اس کی شہادت قبول نہ ہوگی۔ پہلی سزا یعنی 80 کوڑے تو جسمانی سزا ہے اور دوسری سزا تادینی سزا ہے کہ سوسائٹی کے اندر زنا کا الزام لگانے والے کی بات بےوقعت ہوجائے کہ آئندہ اس کی کسی بات پر کوئی اعتبار نہ ہوگا۔ تیسری سزا دینی سزا بھی ہے کہ وہ اسلام کی سیدھی راہ سے پھر گیا ہے الا یہ کہ وہ چار گواہ لائے یا تین گواہ اپنے ساتھ لائے اگر اس نے خود دیکھاہو۔ اس وقت اس کی بات درست سمجھی جائے گی اور ملزم پر پھر حد زنا نافذ ہوگی۔
جہاں تک اسلامی سوسائٹی کی ترجیحات کا تعلق ہے اگر اس میں ایسے الزام کو دبا دیا جائے جس کی پشت پر کوئی ثبوت نہ ہو ‘ تو اس صورت میں کوئی نقصان نہ ہوگا جس طرح کا نقصان اس صورت میں ہوگا کہ فحاشی کا چرچا ہوجائے اور اس پر کوئی ثبوت نہ ہو۔ کیونکہ اس صورت میں کئی لوگ اس گندے جرم کے ارتکاب پر آمادہ ہو سکتے ہیں ‘ جبکہ عام طور پر وہ اس سے بچتے تھے ‘ اور وہ یہ سمھجتے تھے کہ یہ نہایت ہی ممنوع فعل ہے اور اس کا ارتکاب نادرست ہے رہی یہ بات کہ پاک دامن عورتوں پر اس الزام کی وجہ سے کیا گزرتی ہے اور اس سے معاشرے کے اندر جو بےاطمینانی پھیلتی ہے اور جس طرح گھرانے تباہ ہوتے ہیں یہ ایک عام بات ہے اور اسے ہر شریف آدمی اچھی طرح سمجھتا ہے۔ غرض الزام لگانے والے (قاذف) کے سر پر سڑائوں کی تلوار ہر وقت سونتی رہتی ہے۔ الا یہ کہ :
النور 24:5
(الا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفوررحیم ) (5
فقہاء کے درمیان اس استثناء کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا اس کا تعلق صرف آخرت کی سزا سے ہے یعنی اس شخص سے صفت فسق دور ہوجائے گی اور شہادت کے لیے وہ بد ستور نااہل رہے گا یا یہ کہ اس کی شہادت بھی توبہ کے بعد قبول ہوگی۔ امام امحد ‘ امام شافعی اس طرف گئے ہیں کہ اگر تائب ہوجائے تو اس کی شہادت قبول ہوگی کیونکہ فسق کا حکم اٹھ چکا ہے۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء صرف آخری جملے میں ہے یعنی فسق اٹھ جائے گا لیکن یہ شخص بدستور شہادت کے لیے نااہل ہوگا شعبی اور ضحاک نے بھی یہی رائے اختیار کی ہے کہ اس کی شہادت قبول نہ کی جائے گی اگر چہ توبہ کرے ‘ اس وقت تک جب تک وہ اپنے خلاف یہ اعتراف نہ کرلے کہ اس نے جھوٹ بولا تھا۔ اس کے بعد اس کی شہادت قبول ہوگی۔
میرے خیال میں ضحاک اور شعبی کا مذہب زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس صورت میں جس شخص پر الزام لگایا گیا تھا وہ معاشرتی طور پر اس الزام سے براہ راست بری الذمہ قرار پائے گا۔ اس طرح قذف کے تمام آثار ختم ہوجائیں گے۔ پھر کوئی یہ نہ کہے گا کہ قاذف پر حد اس وجہ سے لگ گئی کہ اس نے شہادت پیش نہ کی اور نہ کسی کے دل میں یہ برا خیال آئے گا کہ ہو سکتا ہے الزام درست ہو لیکن قاذف کو شہادت دستیاب نہ ہوسکی۔ اس طرح مقذوف کی عزت بھی بحال ہوجائے گی اور قاذف کا معاشرتی اعتبار بھی بوجہ توبہ بحال ہوجائے گا۔ یوں اس سابقہ مقدمہ کے تمام آثار ختم ہوجائیں گے۔ اب اس بات کا کوئی جواز باقی نہ رہے گا کہ توبہ کے بعد بھی قاذف کی شہادت مقبول نہ ہو جبکہ اس نے بہتان طرازی کا اعتراف بھی کرلیا ہو اور توبہ کے ذریعہ اصلاح بھی کرلی ہو۔
یہ تو تھا عام الزام زنا کا معاملہ۔ رہا الزام مابین زوجین یعنی کوئی مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگا دے تو یہ الگ صورت ہوگی۔ اس مرد سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ چار گواہ لائے یہ بہت بڑی سختی ہوگی لہٰذا شریعت میں یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ کوئی مرد اپنی بیوی پر جھوٹا الزام نہیں لگا سکتا۔ کیونکہ اس میں خود اس کی اپنی عزت اور اپنی شرافت خطرے میں ہوتی ہے۔ لہذا شریعت میں اس قسم کے الزام کے لیے ایک خاص قانون لعان تجویز کیا گیا ہے۔
النور 24:6
والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم ) (6 تا 10) ” “۔
ان آیات میں حد قذف کے قانون میں میاں بیوی کے لیے قدرے سہولت پیدا کی گئی ہے اور یہ سہولت میاں بیوی کینازک تعلقات کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اگر خاوند کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی بیو نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور اس بات پر گواہ صرف وہ خود ہو تو اس صورت میں طریق کار یہ ہوگا کہ وہ چار بار قسم اٹھا کر یہ کہے گا کہ اس کا دعویٰ درست ہے یعنی الزام زنا اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گا کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔ اور اس شہادت کو شہادات اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ہی گواہ کی زیادہ شہادتیں ہیں۔ اگر خاوند نے ایسا کیا تو وہ مہر ادا کرے گا اور عورت پر طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ اور اس پر حد زنا یعنی رجم جاری ہوگی۔ ہاں اگر عورت اپنے اوپر سے اس سزا کو معاف کرانا چاہتی ہے تو وہ سابقہ شہادت کے بالمقابل چار مرتبہ حلف اٹھا کر کہے کہ الزام لگانے والا کا ۔۔۔ ہے اور پانچویں مرتبہ وہ حلف اٹھا کر کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو ‘ اگر میں جھوٹ بولوں۔ اس طرح اس پر سے حد ساقط ہوجائے گی۔ اور لعان کے ذریعے وہ اپنے خاوند سے جدا ہوجائے گی۔ اس کے بیٹے کا نسب والد کے ساتھ لاحق نہ ہوگا اگر وہ حاملہ ہو بلکہ بیٹے کی نسبت ماں کی طرف ہوگی اور اس قسم کے بیٹے پر دلدالزنا کا الزام موجب حد قذف ہوگا۔
اس پر یہ تعقیب اور تبصرہ آتا ہے۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔۔ تواب حکیم) (24 : 10) ” تم پر اللہ کا فضل اور رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا) ۔ ہیاں اللہ نے بیان نہیں فرمایا کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟ اللہ نے مجمل اس لیے چھوڑ دیا کہ لوگ اس سے ڈرتے رہیں۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑا ہی شرہوتا لیکن اللہ نے اسے دفع کردیا۔
اس سلسلے میں بعض صحیح احادیث میں اس قانون سازی کا شان نزول وارد ہے۔ امام احمد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی “۔
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابدا) (204 : 4) ” اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ‘ پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں ‘ ان کو اسی (80) کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔
تو سعد ابن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار تھے ‘ نے کہا کیا یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے کہا : اے گروہ انصار ‘ تم نہیں سنتے تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا ‘ اے رسول خدا اس شخص کو ملامت نہ کریں۔ یہ نہایت ہی غیور آدمی ہے۔ اس نے کبھی بھی کنواری عورت کے سوا کسی عورت سے نکاح نہیں کیا۔ اور اس نے جب کسی عورت کو طلاق دی تو کسی شخص کو جرأت نہیں ہوئی کہ اس کے ساتھ نکاح کرلے کیونکہ وہ اس کی غیرت سے ڈرتا۔ اس پر سعد ؓ نے کہا اے رسول خدا ﷺ واقعہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے تعجب اس پر ہے کہ میری بیوی کی ران پر ایک شخص ران رکھ دے اور مجھے اجازت نہ ہو کہ میں اسے چھیڑوں اور نہ میں اسے اپنی جگہ سے ہلائوں یہاں تک کہ جب تک کہ میں چار گواہ تلاش کر کے نہ لائوں۔ خدا کی قسم جب تک میں چار گواہ لائوں گا تو وہ اپنا کام کر کے چلا گیا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ٹتھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ ہلال ابن امیہ آگیا۔ یہ اپنی اراضی سے کام کر کے عشاء کے وقت لوٹا۔ اس نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ اپنی آنکھوں سے اس نے دیکھا اور اپنے کانوں سے اس نے سنا تو اس نے اس شخص کو نہ چھیڑا۔ صبح ہوتے ہی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا حضور میں رات کو عشاء کے وقت اپنے گھر آیا۔ میں نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں کے ساتھ سنا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی اس اطلاع کو بہت ہی ناپسند فرمایا۔ آپ ﷺ پر یہ بات بہت ناگوار گزری لیکن انصار اس پر جمع ہوگئے اور انہوں نے کہا : سعد ابن عبادہ نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمارے لیے بڑی آزمائش تھی۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ نبی ﷺ ہلال ابن امیہ کو کوڑے لگائیں اور لوگوں کے اندر ان کی شہادت ہمیشہ کے لیے غیر مقبول ہوجائے۔ اس پر ہلال ابن امیہ نے کہا : خدا کی قسم مجھے امید ہے کہ اللہ اس سے نکلنے کی کوئی راہ ضرور نکالے گا۔ ہلال نے حضور اکرم ﷺ سے کہا کہ رسول خدا میں جانتا ہوں کہ میری اس بات سے آپ ﷺ پر کس قدر ناگواری کی حالت آگئی ہے لیکن اللہ جانتا ہے کہ میں سچاہوں۔ خدا کی قسم رسول خدا ﷺ ارادہ کر ہی رہے تھے کہ ہلال ابن امیہ پر حد قذف نافذ کرنے کا حکم دیں کہ اچانک وحی آگئی۔ اور جب آپ ﷺ پر وحی آتی تھی تو صحابہ کرام فوراً سمجھ لیتے تھے کہ نزول وحی شروع ہے۔ تمام صحابہ ؓ آپ ﷺ سے علیحدہ ہوجاتے تھے یہاں تک کہ نزول وحی کا عمل مکمل ہوجاتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شھدت باللہ) (24 : 7) ” اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام ) میں سچا ہے۔
رسول اللہ ﷺ پر سے حالت وحی دور ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا ہلال ! مبارک ہو۔ اللہ نے تیرے لیے آسانی پیدا کردی ہے اور اس مشکل سے نکلنے کی راہ نکالی ہے۔ تو ہلال نے کہا میں امید کررہا تھا کہ اللہ میرے لیے کوئی راہ نکالے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس عورت کو بلایا جائے۔ وہ آگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات دونوں کو پڑھ کر سنائیں۔ ان کو نصیحت کی اور ان کو بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کی سزا سے بہت ہی تھوڑا ہے تو ہلال نے کہا رسول خدا ﷺ اللہ کی قسم میں نے اس کے بارے میں سچ کہا ہے اور اس عورت نے جواب میں کہا۔ یہ جھوٹ کہتا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ان دونوں کے درمیان لعان کرادو۔ تو ہلال کو کہا گیا تم چار بار شہادت دو کہ تم سچ کہتے ہو۔ جب پانچویں بار شہادت دینے لگا تو اسے کہا گیا : اللہ سے ڈرو ‘ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اور یہ شہادت جو فریق مخالف پر سزا واجب کرنے والی ہے ‘ تیرے لیے موجب عذاب ہوگی۔ تو ہلال نے کہا خدا کی قسم اس کے بارے میں مجھے اللہ ہر گز عذاب نہیں دے گا۔ جس طرح اس نے مجھے کوڑوں کی سز نہیں دی تو پانچویں مرتبہ ہلال نے شہادت دی کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد عورت سے کہا گیا کہ تم چار شہادتیں دو کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ اس سے کہا گیا خدا سے ڈرو اور دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے اور یہ پانچویں بار عذاب کو واجب کرنے والی ہے اور یہ تم پر عذاب کو واجب کردے گی۔ وہ کچھ دیر کے لیے ہچکچائی اور ارادہ کرلیا کہ اعتراف کرلے۔ اس کے بعد اس نے کہا میں اپنی قوم کو شرمندہ نہیں کروں گی۔ چناچہ اس نے پانچویں مرتبہ شہادت دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ اگر وہ سچا ہو۔ رسول اللہ نے دونوں کے درمیان تفریق کردی اور یہ فیصلہ کیا کہ اس کے بچے کو اباپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے گا۔ نہ اس کے بچے پر تہمت لگائی جائے گی۔ جس نے اس کے بچے کو دلد الزنا کہا ‘ اس پر حد جاری ہوگی۔ یہ بھی حکم دیا کہ اس عورت کے لیے خاوند کے ذمہ رہائش کی جگہ فراہم کرنا لازم نہ ہوگا نہ خوراک لازم ہوگی۔ کیونکہ ان دونوں کے درمیان بغیر طلاق کے تفریق کردی گئی ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کا بچو قدرے سرخ بالوں والا ‘ دبلے چوتڑ والا اور پتلی ٹانگوں والا ہوا تو وہ ہلال کا بچہ ہوگا اور اگر گندم گوں رنگ لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا ‘ موٹی پنڈلیوں والا ہوا ‘ بھرے ہوئے چوتڑ والا ہوا تو پھر یہ اس شخص کا بیٹا ہوگا جس کے ساتھ وہ بد نام ہوئی۔ تو جب اس کا بچو پیدا ہوا تو وہ کدرے لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا اور موٹی ٹانگوں والا اور بھرے ہوئے چوتڑ والا تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایمان نہ ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ دیکھ لیتا “۔
یہ قانون لعان تھا اور یہ ایک عملی ضرورت کے تحت نازل ہوا ۔ اس نے مسلمانوں کے لیے درپیش ایک مشکل مسئلے کو حل کردیا۔ یہ مسئلہ اس قدر مشکل تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ کو اس کا کوئی حل نظر نہ آتا تھا۔ جیسا کہ روایت بخاری میں آتا ہے۔ آپ ﷺ نے ہلال ابن امیہ سے کہا کہ یا تو گواہ لائو اور یا تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہوگی۔ اور ہلال یہی کہتے رہے کہ حضور ﷺ ایک شخص دیکھے کہ اس کی بیوی پر ایک شخص چڑھا ہوا ہے کیا وہ جائے گا کہ گواہ تلاش کرے۔
یہاں سوال کرنے والا یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو علم نہ تھا کہ حد قذف کے عام قانون کے بعد اس قسم کا مسئلہ پیدا ہوگا تو یہ استثناء اللہ نے پہلے کیوں نہ نازل کردی اور کیوں اللہ تعالیٰ نے ایسی مشکل پیدا ہونے دی ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے تشریح کے لیے یہ کمت وضع کی تھی کہ قانون اس وقت نازل ہو جب لوگوں کے اندر اس کی ضرورت کا احساس پیدا ہوجائے تاکہ لوگ اسے نہایت ہی بےتابی کے ساتھ قبول کریں۔ اور ان کو اس قانون کے اندر پائے جانے والی حکمت کا اچھی طرح علم ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد یہ تبصرہ آیا۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔ حکیم) (24 : 10) ” اگر اللہ کا فضل و رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بہت ہی التفات کرنے والا اور رحیم ہے تو۔۔۔ “ اب ذرا اس واقعہ پر غور کیجئے ۔ دیکھئے کہ اسلام کس طرح کام کررہا تھا اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی تربیت کس طرح کام کررہی تھی اور کس قدر موثر تھی اور اس قرآن کے ذریعے کس طرح ایک بالکل نئی سوسائٹی کو تعمیر کیا جارہا تھا۔ اسلام نے عربوں جیسی غیور قوم کی کس طرح تربیت کردی تھی۔ کس طرح انکو بدل کر رکھ دیا۔ یہ لوگ اس قدر غیور اور جذباتی تھے کہ قانون حد قذف نازل ہوگیا۔ ان جذباتی لوگوں کے لیے یہنہایت ہی مشکل قانون ہے وہ تو مشتعل ہوتے ہی عظیم سے عظیم کام کر گزرنے والے تھے۔ ان پر یہ نہایت ہی شاق گزرتا ہے۔ اس قدر شاق کہ حضرت سعد ابن عبادہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ آیا فی الواقع یہ قانون اسی طرح نازل ہوا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں لیکن ان کو معلوم ہے کہ قانون تو نازل ہوگیا ہے۔ اس سوال سے دراصل وہ اس مشکل کا احساس کرتے ہیں کہ اگر یہ صورت حالات ان کے اپنے گھر میں پیش آجائے تو وہ اس کس طرح برداشت کریں گے۔ وہ اس تلخ حقیقت کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اگر میں ایک شخص کو دیکھوں کہ اس نے (مکاعض کی ران کے ساتھ ران ملا دی ہے اور مجھے یہ اجازت نہ ہو کہ اسے پریشان کروں یا اسے اپنی جگہ سے ہٹائوں جب تک میں چار گواہ نہ لائوں۔ خدا کی قسم میں چار گواہ لائوں گا مگر اس نے اپنا کام پورا کرلیا ہوگا۔
یہ تو تھا سعد ابن عبادہ کا نظریاتی خیال اور سوچ۔ لیکن ایک متعین شخص اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے کہ اس کی بیوی کے ساتھ یہ بد کاریہورہی ہے اور وہ رک گیا ہے بلکہ قرآن نے اسے روک دیا ہے۔ یہ شخص اپنے جذبات ‘ جذبہ انتقام ‘ سخت عربی غیرت اور خون کے اندر پیدا ہونے والے فوری جوش اور اعصاب کی ناقابل کنٹرول حرکت کو قابو میں لاتا ہے۔ اپنے اوپر ناقابل شکست کنٹرول کرتا ہے جس کا کوئی عربی معاشرے میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ بےبس ہو کر آتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کا انتظار کرتا ہے۔ اگر چہ اس کے لیے یہ مسئلہ نہایت ہی شاق گزر رہا ہے لیکن قرآن کریم نے ان لوگوں کی ایسی تربیت کردی ہے کہ یہ شخص جذبات کے اس طوفان کو پوری طرح کنٹرول کرتا ہے تاکہ حکم وہی ہو جو اللہ کی طرف سے آئے۔ اس کے نفس میں اور اس کی ذات کے تمام معاملات میں۔
یہ تربیت کیسے ممکن ہوئی ؟ یہ اس طرح ہوئی کہ ان کو یہ پورا یقین تھا کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ لوگ اللہ کی نگرانی اور حفاظت میں ہیں۔ اللہ ان کی رعایت کرتا ہے اور ان کو ایسی مصیبت میں نہیں ڈالتا جسے وہ برداشت نہ کرسکیں اور یہ کہ اللہ ان کو ایسی مشکلات میں نہیں چھوڑتا کہ وہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوں۔ اللہ کبھی بھی انسانوں پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ لوگ ہمیشہ اللہ کے زیر سایہ رہتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم کی فضا میں سانس لے رہے تھے۔ وہ ہر وقت اللہ کی طرف اس طرح دیکھ رہے تھے جس طرح ایک بچہ اپنے رحیم و کریم باپ کی طرف دیکھتا ہے۔ ہلال ابن امیہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور کانوں سے سن رہا ہے۔ یہ اکیلا ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے شکایت کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ قانون میں کوئی صورت ماسواء نفاذ حد قذف کے اور نہیں پاتے۔ حضور ﷺ اعلان بھی کردیتے ہیں کہ شہادت یا حد ہے اور تمہاری پیٹھ پر ہے لیکن ہلال ابن امیہ کو یقین ہے کہ اللہ اسے ایسے حالات میں بےسہارا نہیں چھوڑے گا جبکہ وہ ہے بھی سچا۔ چناچہ اللہ کی طرف سے یہ استثناء آجاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ ہلال ابن امیہ کو خوشخبری دیتے ہیں اور وہ اپنے اس اطمینان کو پھر دہراتے ہیں کہ مجے رب عزوجل سے یہی امید تھی۔ ان لوگوں کو پورا پورا اطمینان تھا کہ وہ اللہ کی نگرانی میں ہیں اور اللہ دیکھ رہا ہے اور یہ کہ وہ خود اپنے اختیار میں چھوڑ نہیں دیئے گئے کہ معاملات کو خود طے کریں۔ وہ تو اللہ کے سامنے اس کے دربار میں ہیں۔ یہ ہے حقیقی ایمان ‘ اطاعت اور تسلیم ورضا جو اصحاب محمد ﷺ کی شان تھی۔
اب سیاق کلام حد قذف کے قانون کے درمیان سے آگے بڑھتا ہے اور جرم قذف کے گھنائو نے پن کی ایک اور جھلک دکھائی جاتی ہے۔ اس کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے گھرانے سے ہے۔ خود حضور اکرم ﷺ کی عزت اس میں دائو پر لگی ہوئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ اللہ کے مکرم ترین بندے ہیں۔ پھر اس واقعہ میں حضرت صدیق ؓ کی عزت بھی دائو پر لگی ہوئی ہے جو نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے مکرم ترین انسان ہیں۔ پھر نبی ﷺ کے ایک دوسرے ساتھی صفوان ابن المعطل ؓ کی عزت کا بھی مسئلہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ خود شہادت دیتے ہیں کہ صفوان کے بارے میں آپ ﷺ بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ یہ واقعہ ایسا ہے جس میں مدینہ کے اہل اسلام ایک ماہ تک بےحد پریشانی میں مبتلا رہے۔
النور 24:7
والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم ) (6 تا 10) ” “۔
ان آیات میں حد قذف کے قانون میں میاں بیوی کے لیے قدرے سہولت پیدا کی گئی ہے اور یہ سہولت میاں بیوی کینازک تعلقات کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اگر خاوند کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی بیو نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور اس بات پر گواہ صرف وہ خود ہو تو اس صورت میں طریق کار یہ ہوگا کہ وہ چار بار قسم اٹھا کر یہ کہے گا کہ اس کا دعویٰ درست ہے یعنی الزام زنا اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گا کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔ اور اس شہادت کو شہادات اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ہی گواہ کی زیادہ شہادتیں ہیں۔ اگر خاوند نے ایسا کیا تو وہ مہر ادا کرے گا اور عورت پر طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ اور اس پر حد زنا یعنی رجم جاری ہوگی۔ ہاں اگر عورت اپنے اوپر سے اس سزا کو معاف کرانا چاہتی ہے تو وہ سابقہ شہادت کے بالمقابل چار مرتبہ حلف اٹھا کر کہے کہ الزام لگانے والا کا ۔۔۔ ہے اور پانچویں مرتبہ وہ حلف اٹھا کر کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو ‘ اگر میں جھوٹ بولوں۔ اس طرح اس پر سے حد ساقط ہوجائے گی۔ اور لعان کے ذریعے وہ اپنے خاوند سے جدا ہوجائے گی۔ اس کے بیٹے کا نسب والد کے ساتھ لاحق نہ ہوگا اگر وہ حاملہ ہو بلکہ بیٹے کی نسبت ماں کی طرف ہوگی اور اس قسم کے بیٹے پر دلدالزنا کا الزام موجب حد قذف ہوگا۔
اس پر یہ تعقیب اور تبصرہ آتا ہے۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔۔ تواب حکیم) (24 : 10) ” تم پر اللہ کا فضل اور رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا) ۔ ہیاں اللہ نے بیان نہیں فرمایا کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟ اللہ نے مجمل اس لیے چھوڑ دیا کہ لوگ اس سے ڈرتے رہیں۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑا ہی شرہوتا لیکن اللہ نے اسے دفع کردیا۔
اس سلسلے میں بعض صحیح احادیث میں اس قانون سازی کا شان نزول وارد ہے۔ امام احمد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی “۔
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابدا) (204 : 4) ” اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ‘ پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں ‘ ان کو اسی (80) کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔
تو سعد ابن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار تھے ‘ نے کہا کیا یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے کہا : اے گروہ انصار ‘ تم نہیں سنتے تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا ‘ اے رسول خدا اس شخص کو ملامت نہ کریں۔ یہ نہایت ہی غیور آدمی ہے۔ اس نے کبھی بھی کنواری عورت کے سوا کسی عورت سے نکاح نہیں کیا۔ اور اس نے جب کسی عورت کو طلاق دی تو کسی شخص کو جرأت نہیں ہوئی کہ اس کے ساتھ نکاح کرلے کیونکہ وہ اس کی غیرت سے ڈرتا۔ اس پر سعد ؓ نے کہا اے رسول خدا ﷺ واقعہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے تعجب اس پر ہے کہ میری بیوی کی ران پر ایک شخص ران رکھ دے اور مجھے اجازت نہ ہو کہ میں اسے چھیڑوں اور نہ میں اسے اپنی جگہ سے ہلائوں یہاں تک کہ جب تک کہ میں چار گواہ تلاش کر کے نہ لائوں۔ خدا کی قسم جب تک میں چار گواہ لائوں گا تو وہ اپنا کام کر کے چلا گیا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ٹتھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ ہلال ابن امیہ آگیا۔ یہ اپنی اراضی سے کام کر کے عشاء کے وقت لوٹا۔ اس نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ اپنی آنکھوں سے اس نے دیکھا اور اپنے کانوں سے اس نے سنا تو اس نے اس شخص کو نہ چھیڑا۔ صبح ہوتے ہی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا حضور میں رات کو عشاء کے وقت اپنے گھر آیا۔ میں نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں کے ساتھ سنا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی اس اطلاع کو بہت ہی ناپسند فرمایا۔ آپ ﷺ پر یہ بات بہت ناگوار گزری لیکن انصار اس پر جمع ہوگئے اور انہوں نے کہا : سعد ابن عبادہ نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمارے لیے بڑی آزمائش تھی۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ نبی ﷺ ہلال ابن امیہ کو کوڑے لگائیں اور لوگوں کے اندر ان کی شہادت ہمیشہ کے لیے غیر مقبول ہوجائے۔ اس پر ہلال ابن امیہ نے کہا : خدا کی قسم مجھے امید ہے کہ اللہ اس سے نکلنے کی کوئی راہ ضرور نکالے گا۔ ہلال نے حضور اکرم ﷺ سے کہا کہ رسول خدا میں جانتا ہوں کہ میری اس بات سے آپ ﷺ پر کس قدر ناگواری کی حالت آگئی ہے لیکن اللہ جانتا ہے کہ میں سچاہوں۔ خدا کی قسم رسول خدا ﷺ ارادہ کر ہی رہے تھے کہ ہلال ابن امیہ پر حد قذف نافذ کرنے کا حکم دیں کہ اچانک وحی آگئی۔ اور جب آپ ﷺ پر وحی آتی تھی تو صحابہ کرام فوراً سمجھ لیتے تھے کہ نزول وحی شروع ہے۔ تمام صحابہ ؓ آپ ﷺ سے علیحدہ ہوجاتے تھے یہاں تک کہ نزول وحی کا عمل مکمل ہوجاتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شھدت باللہ) (24 : 7) ” اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام ) میں سچا ہے۔
رسول اللہ ﷺ پر سے حالت وحی دور ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا ہلال ! مبارک ہو۔ اللہ نے تیرے لیے آسانی پیدا کردی ہے اور اس مشکل سے نکلنے کی راہ نکالی ہے۔ تو ہلال نے کہا میں امید کررہا تھا کہ اللہ میرے لیے کوئی راہ نکالے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس عورت کو بلایا جائے۔ وہ آگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات دونوں کو پڑھ کر سنائیں۔ ان کو نصیحت کی اور ان کو بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کی سزا سے بہت ہی تھوڑا ہے تو ہلال نے کہا رسول خدا ﷺ اللہ کی قسم میں نے اس کے بارے میں سچ کہا ہے اور اس عورت نے جواب میں کہا۔ یہ جھوٹ کہتا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ان دونوں کے درمیان لعان کرادو۔ تو ہلال کو کہا گیا تم چار بار شہادت دو کہ تم سچ کہتے ہو۔ جب پانچویں بار شہادت دینے لگا تو اسے کہا گیا : اللہ سے ڈرو ‘ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اور یہ شہادت جو فریق مخالف پر سزا واجب کرنے والی ہے ‘ تیرے لیے موجب عذاب ہوگی۔ تو ہلال نے کہا خدا کی قسم اس کے بارے میں مجھے اللہ ہر گز عذاب نہیں دے گا۔ جس طرح اس نے مجھے کوڑوں کی سز نہیں دی تو پانچویں مرتبہ ہلال نے شہادت دی کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد عورت سے کہا گیا کہ تم چار شہادتیں دو کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ اس سے کہا گیا خدا سے ڈرو اور دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے اور یہ پانچویں بار عذاب کو واجب کرنے والی ہے اور یہ تم پر عذاب کو واجب کردے گی۔ وہ کچھ دیر کے لیے ہچکچائی اور ارادہ کرلیا کہ اعتراف کرلے۔ اس کے بعد اس نے کہا میں اپنی قوم کو شرمندہ نہیں کروں گی۔ چناچہ اس نے پانچویں مرتبہ شہادت دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ اگر وہ سچا ہو۔ رسول اللہ نے دونوں کے درمیان تفریق کردی اور یہ فیصلہ کیا کہ اس کے بچے کو اباپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے گا۔ نہ اس کے بچے پر تہمت لگائی جائے گی۔ جس نے اس کے بچے کو دلد الزنا کہا ‘ اس پر حد جاری ہوگی۔ یہ بھی حکم دیا کہ اس عورت کے لیے خاوند کے ذمہ رہائش کی جگہ فراہم کرنا لازم نہ ہوگا نہ خوراک لازم ہوگی۔ کیونکہ ان دونوں کے درمیان بغیر طلاق کے تفریق کردی گئی ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کا بچو قدرے سرخ بالوں والا ‘ دبلے چوتڑ والا اور پتلی ٹانگوں والا ہوا تو وہ ہلال کا بچہ ہوگا اور اگر گندم گوں رنگ لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا ‘ موٹی پنڈلیوں والا ہوا ‘ بھرے ہوئے چوتڑ والا ہوا تو پھر یہ اس شخص کا بیٹا ہوگا جس کے ساتھ وہ بد نام ہوئی۔ تو جب اس کا بچو پیدا ہوا تو وہ کدرے لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا اور موٹی ٹانگوں والا اور بھرے ہوئے چوتڑ والا تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایمان نہ ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ دیکھ لیتا “۔
یہ قانون لعان تھا اور یہ ایک عملی ضرورت کے تحت نازل ہوا ۔ اس نے مسلمانوں کے لیے درپیش ایک مشکل مسئلے کو حل کردیا۔ یہ مسئلہ اس قدر مشکل تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ کو اس کا کوئی حل نظر نہ آتا تھا۔ جیسا کہ روایت بخاری میں آتا ہے۔ آپ ﷺ نے ہلال ابن امیہ سے کہا کہ یا تو گواہ لائو اور یا تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہوگی۔ اور ہلال یہی کہتے رہے کہ حضور ﷺ ایک شخص دیکھے کہ اس کی بیوی پر ایک شخص چڑھا ہوا ہے کیا وہ جائے گا کہ گواہ تلاش کرے۔
یہاں سوال کرنے والا یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو علم نہ تھا کہ حد قذف کے عام قانون کے بعد اس قسم کا مسئلہ پیدا ہوگا تو یہ استثناء اللہ نے پہلے کیوں نہ نازل کردی اور کیوں اللہ تعالیٰ نے ایسی مشکل پیدا ہونے دی ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے تشریح کے لیے یہ کمت وضع کی تھی کہ قانون اس وقت نازل ہو جب لوگوں کے اندر اس کی ضرورت کا احساس پیدا ہوجائے تاکہ لوگ اسے نہایت ہی بےتابی کے ساتھ قبول کریں۔ اور ان کو اس قانون کے اندر پائے جانے والی حکمت کا اچھی طرح علم ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد یہ تبصرہ آیا۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔ حکیم) (24 : 10) ” اگر اللہ کا فضل و رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بہت ہی التفات کرنے والا اور رحیم ہے تو۔۔۔ “ اب ذرا اس واقعہ پر غور کیجئے ۔ دیکھئے کہ اسلام کس طرح کام کررہا تھا اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی تربیت کس طرح کام کررہی تھی اور کس قدر موثر تھی اور اس قرآن کے ذریعے کس طرح ایک بالکل نئی سوسائٹی کو تعمیر کیا جارہا تھا۔ اسلام نے عربوں جیسی غیور قوم کی کس طرح تربیت کردی تھی۔ کس طرح انکو بدل کر رکھ دیا۔ یہ لوگ اس قدر غیور اور جذباتی تھے کہ قانون حد قذف نازل ہوگیا۔ ان جذباتی لوگوں کے لیے یہنہایت ہی مشکل قانون ہے وہ تو مشتعل ہوتے ہی عظیم سے عظیم کام کر گزرنے والے تھے۔ ان پر یہ نہایت ہی شاق گزرتا ہے۔ اس قدر شاق کہ حضرت سعد ابن عبادہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ آیا فی الواقع یہ قانون اسی طرح نازل ہوا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں لیکن ان کو معلوم ہے کہ قانون تو نازل ہوگیا ہے۔ اس سوال سے دراصل وہ اس مشکل کا احساس کرتے ہیں کہ اگر یہ صورت حالات ان کے اپنے گھر میں پیش آجائے تو وہ اس کس طرح برداشت کریں گے۔ وہ اس تلخ حقیقت کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اگر میں ایک شخص کو دیکھوں کہ اس نے (مکاعض کی ران کے ساتھ ران ملا دی ہے اور مجھے یہ اجازت نہ ہو کہ اسے پریشان کروں یا اسے اپنی جگہ سے ہٹائوں جب تک میں چار گواہ نہ لائوں۔ خدا کی قسم میں چار گواہ لائوں گا مگر اس نے اپنا کام پورا کرلیا ہوگا۔
یہ تو تھا سعد ابن عبادہ کا نظریاتی خیال اور سوچ۔ لیکن ایک متعین شخص اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے کہ اس کی بیوی کے ساتھ یہ بد کاریہورہی ہے اور وہ رک گیا ہے بلکہ قرآن نے اسے روک دیا ہے۔ یہ شخص اپنے جذبات ‘ جذبہ انتقام ‘ سخت عربی غیرت اور خون کے اندر پیدا ہونے والے فوری جوش اور اعصاب کی ناقابل کنٹرول حرکت کو قابو میں لاتا ہے۔ اپنے اوپر ناقابل شکست کنٹرول کرتا ہے جس کا کوئی عربی معاشرے میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ بےبس ہو کر آتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کا انتظار کرتا ہے۔ اگر چہ اس کے لیے یہ مسئلہ نہایت ہی شاق گزر رہا ہے لیکن قرآن کریم نے ان لوگوں کی ایسی تربیت کردی ہے کہ یہ شخص جذبات کے اس طوفان کو پوری طرح کنٹرول کرتا ہے تاکہ حکم وہی ہو جو اللہ کی طرف سے آئے۔ اس کے نفس میں اور اس کی ذات کے تمام معاملات میں۔
یہ تربیت کیسے ممکن ہوئی ؟ یہ اس طرح ہوئی کہ ان کو یہ پورا یقین تھا کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ لوگ اللہ کی نگرانی اور حفاظت میں ہیں۔ اللہ ان کی رعایت کرتا ہے اور ان کو ایسی مصیبت میں نہیں ڈالتا جسے وہ برداشت نہ کرسکیں اور یہ کہ اللہ ان کو ایسی مشکلات میں نہیں چھوڑتا کہ وہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوں۔ اللہ کبھی بھی انسانوں پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ لوگ ہمیشہ اللہ کے زیر سایہ رہتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم کی فضا میں سانس لے رہے تھے۔ وہ ہر وقت اللہ کی طرف اس طرح دیکھ رہے تھے جس طرح ایک بچہ اپنے رحیم و کریم باپ کی طرف دیکھتا ہے۔ ہلال ابن امیہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور کانوں سے سن رہا ہے۔ یہ اکیلا ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے شکایت کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ قانون میں کوئی صورت ماسواء نفاذ حد قذف کے اور نہیں پاتے۔ حضور ﷺ اعلان بھی کردیتے ہیں کہ شہادت یا حد ہے اور تمہاری پیٹھ پر ہے لیکن ہلال ابن امیہ کو یقین ہے کہ اللہ اسے ایسے حالات میں بےسہارا نہیں چھوڑے گا جبکہ وہ ہے بھی سچا۔ چناچہ اللہ کی طرف سے یہ استثناء آجاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ ہلال ابن امیہ کو خوشخبری دیتے ہیں اور وہ اپنے اس اطمینان کو پھر دہراتے ہیں کہ مجے رب عزوجل سے یہی امید تھی۔ ان لوگوں کو پورا پورا اطمینان تھا کہ وہ اللہ کی نگرانی میں ہیں اور اللہ دیکھ رہا ہے اور یہ کہ وہ خود اپنے اختیار میں چھوڑ نہیں دیئے گئے کہ معاملات کو خود طے کریں۔ وہ تو اللہ کے سامنے اس کے دربار میں ہیں۔ یہ ہے حقیقی ایمان ‘ اطاعت اور تسلیم ورضا جو اصحاب محمد ﷺ کی شان تھی۔
اب سیاق کلام حد قذف کے قانون کے درمیان سے آگے بڑھتا ہے اور جرم قذف کے گھنائو نے پن کی ایک اور جھلک دکھائی جاتی ہے۔ اس کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے گھرانے سے ہے۔ خود حضور اکرم ﷺ کی عزت اس میں دائو پر لگی ہوئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ اللہ کے مکرم ترین بندے ہیں۔ پھر اس واقعہ میں حضرت صدیق ؓ کی عزت بھی دائو پر لگی ہوئی ہے جو نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے مکرم ترین انسان ہیں۔ پھر نبی ﷺ کے ایک دوسرے ساتھی صفوان ابن المعطل ؓ کی عزت کا بھی مسئلہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ خود شہادت دیتے ہیں کہ صفوان کے بارے میں آپ ﷺ بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ یہ واقعہ ایسا ہے جس میں مدینہ کے اہل اسلام ایک ماہ تک بےحد پریشانی میں مبتلا رہے۔
النور 24:8
والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم ) (6 تا 10) ” “۔
ان آیات میں حد قذف کے قانون میں میاں بیوی کے لیے قدرے سہولت پیدا کی گئی ہے اور یہ سہولت میاں بیوی کینازک تعلقات کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اگر خاوند کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی بیو نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور اس بات پر گواہ صرف وہ خود ہو تو اس صورت میں طریق کار یہ ہوگا کہ وہ چار بار قسم اٹھا کر یہ کہے گا کہ اس کا دعویٰ درست ہے یعنی الزام زنا اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گا کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔ اور اس شہادت کو شہادات اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ہی گواہ کی زیادہ شہادتیں ہیں۔ اگر خاوند نے ایسا کیا تو وہ مہر ادا کرے گا اور عورت پر طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ اور اس پر حد زنا یعنی رجم جاری ہوگی۔ ہاں اگر عورت اپنے اوپر سے اس سزا کو معاف کرانا چاہتی ہے تو وہ سابقہ شہادت کے بالمقابل چار مرتبہ حلف اٹھا کر کہے کہ الزام لگانے والا کا ۔۔۔ ہے اور پانچویں مرتبہ وہ حلف اٹھا کر کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو ‘ اگر میں جھوٹ بولوں۔ اس طرح اس پر سے حد ساقط ہوجائے گی۔ اور لعان کے ذریعے وہ اپنے خاوند سے جدا ہوجائے گی۔ اس کے بیٹے کا نسب والد کے ساتھ لاحق نہ ہوگا اگر وہ حاملہ ہو بلکہ بیٹے کی نسبت ماں کی طرف ہوگی اور اس قسم کے بیٹے پر دلدالزنا کا الزام موجب حد قذف ہوگا۔
اس پر یہ تعقیب اور تبصرہ آتا ہے۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔۔ تواب حکیم) (24 : 10) ” تم پر اللہ کا فضل اور رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا) ۔ ہیاں اللہ نے بیان نہیں فرمایا کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟ اللہ نے مجمل اس لیے چھوڑ دیا کہ لوگ اس سے ڈرتے رہیں۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑا ہی شرہوتا لیکن اللہ نے اسے دفع کردیا۔
اس سلسلے میں بعض صحیح احادیث میں اس قانون سازی کا شان نزول وارد ہے۔ امام احمد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی “۔
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابدا) (204 : 4) ” اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ‘ پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں ‘ ان کو اسی (80) کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔
تو سعد ابن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار تھے ‘ نے کہا کیا یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے کہا : اے گروہ انصار ‘ تم نہیں سنتے تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا ‘ اے رسول خدا اس شخص کو ملامت نہ کریں۔ یہ نہایت ہی غیور آدمی ہے۔ اس نے کبھی بھی کنواری عورت کے سوا کسی عورت سے نکاح نہیں کیا۔ اور اس نے جب کسی عورت کو طلاق دی تو کسی شخص کو جرأت نہیں ہوئی کہ اس کے ساتھ نکاح کرلے کیونکہ وہ اس کی غیرت سے ڈرتا۔ اس پر سعد ؓ نے کہا اے رسول خدا ﷺ واقعہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے تعجب اس پر ہے کہ میری بیوی کی ران پر ایک شخص ران رکھ دے اور مجھے اجازت نہ ہو کہ میں اسے چھیڑوں اور نہ میں اسے اپنی جگہ سے ہلائوں یہاں تک کہ جب تک کہ میں چار گواہ تلاش کر کے نہ لائوں۔ خدا کی قسم جب تک میں چار گواہ لائوں گا تو وہ اپنا کام کر کے چلا گیا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ٹتھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ ہلال ابن امیہ آگیا۔ یہ اپنی اراضی سے کام کر کے عشاء کے وقت لوٹا۔ اس نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ اپنی آنکھوں سے اس نے دیکھا اور اپنے کانوں سے اس نے سنا تو اس نے اس شخص کو نہ چھیڑا۔ صبح ہوتے ہی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا حضور میں رات کو عشاء کے وقت اپنے گھر آیا۔ میں نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں کے ساتھ سنا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی اس اطلاع کو بہت ہی ناپسند فرمایا۔ آپ ﷺ پر یہ بات بہت ناگوار گزری لیکن انصار اس پر جمع ہوگئے اور انہوں نے کہا : سعد ابن عبادہ نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمارے لیے بڑی آزمائش تھی۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ نبی ﷺ ہلال ابن امیہ کو کوڑے لگائیں اور لوگوں کے اندر ان کی شہادت ہمیشہ کے لیے غیر مقبول ہوجائے۔ اس پر ہلال ابن امیہ نے کہا : خدا کی قسم مجھے امید ہے کہ اللہ اس سے نکلنے کی کوئی راہ ضرور نکالے گا۔ ہلال نے حضور اکرم ﷺ سے کہا کہ رسول خدا میں جانتا ہوں کہ میری اس بات سے آپ ﷺ پر کس قدر ناگواری کی حالت آگئی ہے لیکن اللہ جانتا ہے کہ میں سچاہوں۔ خدا کی قسم رسول خدا ﷺ ارادہ کر ہی رہے تھے کہ ہلال ابن امیہ پر حد قذف نافذ کرنے کا حکم دیں کہ اچانک وحی آگئی۔ اور جب آپ ﷺ پر وحی آتی تھی تو صحابہ کرام فوراً سمجھ لیتے تھے کہ نزول وحی شروع ہے۔ تمام صحابہ ؓ آپ ﷺ سے علیحدہ ہوجاتے تھے یہاں تک کہ نزول وحی کا عمل مکمل ہوجاتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شھدت باللہ) (24 : 7) ” اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام ) میں سچا ہے۔
رسول اللہ ﷺ پر سے حالت وحی دور ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا ہلال ! مبارک ہو۔ اللہ نے تیرے لیے آسانی پیدا کردی ہے اور اس مشکل سے نکلنے کی راہ نکالی ہے۔ تو ہلال نے کہا میں امید کررہا تھا کہ اللہ میرے لیے کوئی راہ نکالے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس عورت کو بلایا جائے۔ وہ آگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات دونوں کو پڑھ کر سنائیں۔ ان کو نصیحت کی اور ان کو بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کی سزا سے بہت ہی تھوڑا ہے تو ہلال نے کہا رسول خدا ﷺ اللہ کی قسم میں نے اس کے بارے میں سچ کہا ہے اور اس عورت نے جواب میں کہا۔ یہ جھوٹ کہتا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ان دونوں کے درمیان لعان کرادو۔ تو ہلال کو کہا گیا تم چار بار شہادت دو کہ تم سچ کہتے ہو۔ جب پانچویں بار شہادت دینے لگا تو اسے کہا گیا : اللہ سے ڈرو ‘ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اور یہ شہادت جو فریق مخالف پر سزا واجب کرنے والی ہے ‘ تیرے لیے موجب عذاب ہوگی۔ تو ہلال نے کہا خدا کی قسم اس کے بارے میں مجھے اللہ ہر گز عذاب نہیں دے گا۔ جس طرح اس نے مجھے کوڑوں کی سز نہیں دی تو پانچویں مرتبہ ہلال نے شہادت دی کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد عورت سے کہا گیا کہ تم چار شہادتیں دو کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ اس سے کہا گیا خدا سے ڈرو اور دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے اور یہ پانچویں بار عذاب کو واجب کرنے والی ہے اور یہ تم پر عذاب کو واجب کردے گی۔ وہ کچھ دیر کے لیے ہچکچائی اور ارادہ کرلیا کہ اعتراف کرلے۔ اس کے بعد اس نے کہا میں اپنی قوم کو شرمندہ نہیں کروں گی۔ چناچہ اس نے پانچویں مرتبہ شہادت دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ اگر وہ سچا ہو۔ رسول اللہ نے دونوں کے درمیان تفریق کردی اور یہ فیصلہ کیا کہ اس کے بچے کو اباپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے گا۔ نہ اس کے بچے پر تہمت لگائی جائے گی۔ جس نے اس کے بچے کو دلد الزنا کہا ‘ اس پر حد جاری ہوگی۔ یہ بھی حکم دیا کہ اس عورت کے لیے خاوند کے ذمہ رہائش کی جگہ فراہم کرنا لازم نہ ہوگا نہ خوراک لازم ہوگی۔ کیونکہ ان دونوں کے درمیان بغیر طلاق کے تفریق کردی گئی ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کا بچو قدرے سرخ بالوں والا ‘ دبلے چوتڑ والا اور پتلی ٹانگوں والا ہوا تو وہ ہلال کا بچہ ہوگا اور اگر گندم گوں رنگ لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا ‘ موٹی پنڈلیوں والا ہوا ‘ بھرے ہوئے چوتڑ والا ہوا تو پھر یہ اس شخص کا بیٹا ہوگا جس کے ساتھ وہ بد نام ہوئی۔ تو جب اس کا بچو پیدا ہوا تو وہ کدرے لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا اور موٹی ٹانگوں والا اور بھرے ہوئے چوتڑ والا تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایمان نہ ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ دیکھ لیتا “۔
یہ قانون لعان تھا اور یہ ایک عملی ضرورت کے تحت نازل ہوا ۔ اس نے مسلمانوں کے لیے درپیش ایک مشکل مسئلے کو حل کردیا۔ یہ مسئلہ اس قدر مشکل تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ کو اس کا کوئی حل نظر نہ آتا تھا۔ جیسا کہ روایت بخاری میں آتا ہے۔ آپ ﷺ نے ہلال ابن امیہ سے کہا کہ یا تو گواہ لائو اور یا تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہوگی۔ اور ہلال یہی کہتے رہے کہ حضور ﷺ ایک شخص دیکھے کہ اس کی بیوی پر ایک شخص چڑھا ہوا ہے کیا وہ جائے گا کہ گواہ تلاش کرے۔
یہاں سوال کرنے والا یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو علم نہ تھا کہ حد قذف کے عام قانون کے بعد اس قسم کا مسئلہ پیدا ہوگا تو یہ استثناء اللہ نے پہلے کیوں نہ نازل کردی اور کیوں اللہ تعالیٰ نے ایسی مشکل پیدا ہونے دی ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے تشریح کے لیے یہ کمت وضع کی تھی کہ قانون اس وقت نازل ہو جب لوگوں کے اندر اس کی ضرورت کا احساس پیدا ہوجائے تاکہ لوگ اسے نہایت ہی بےتابی کے ساتھ قبول کریں۔ اور ان کو اس قانون کے اندر پائے جانے والی حکمت کا اچھی طرح علم ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد یہ تبصرہ آیا۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔ حکیم) (24 : 10) ” اگر اللہ کا فضل و رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بہت ہی التفات کرنے والا اور رحیم ہے تو۔۔۔ “ اب ذرا اس واقعہ پر غور کیجئے ۔ دیکھئے کہ اسلام کس طرح کام کررہا تھا اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی تربیت کس طرح کام کررہی تھی اور کس قدر موثر تھی اور اس قرآن کے ذریعے کس طرح ایک بالکل نئی سوسائٹی کو تعمیر کیا جارہا تھا۔ اسلام نے عربوں جیسی غیور قوم کی کس طرح تربیت کردی تھی۔ کس طرح انکو بدل کر رکھ دیا۔ یہ لوگ اس قدر غیور اور جذباتی تھے کہ قانون حد قذف نازل ہوگیا۔ ان جذباتی لوگوں کے لیے یہنہایت ہی مشکل قانون ہے وہ تو مشتعل ہوتے ہی عظیم سے عظیم کام کر گزرنے والے تھے۔ ان پر یہ نہایت ہی شاق گزرتا ہے۔ اس قدر شاق کہ حضرت سعد ابن عبادہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ آیا فی الواقع یہ قانون اسی طرح نازل ہوا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں لیکن ان کو معلوم ہے کہ قانون تو نازل ہوگیا ہے۔ اس سوال سے دراصل وہ اس مشکل کا احساس کرتے ہیں کہ اگر یہ صورت حالات ان کے اپنے گھر میں پیش آجائے تو وہ اس کس طرح برداشت کریں گے۔ وہ اس تلخ حقیقت کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اگر میں ایک شخص کو دیکھوں کہ اس نے (مکاعض کی ران کے ساتھ ران ملا دی ہے اور مجھے یہ اجازت نہ ہو کہ اسے پریشان کروں یا اسے اپنی جگہ سے ہٹائوں جب تک میں چار گواہ نہ لائوں۔ خدا کی قسم میں چار گواہ لائوں گا مگر اس نے اپنا کام پورا کرلیا ہوگا۔
یہ تو تھا سعد ابن عبادہ کا نظریاتی خیال اور سوچ۔ لیکن ایک متعین شخص اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے کہ اس کی بیوی کے ساتھ یہ بد کاریہورہی ہے اور وہ رک گیا ہے بلکہ قرآن نے اسے روک دیا ہے۔ یہ شخص اپنے جذبات ‘ جذبہ انتقام ‘ سخت عربی غیرت اور خون کے اندر پیدا ہونے والے فوری جوش اور اعصاب کی ناقابل کنٹرول حرکت کو قابو میں لاتا ہے۔ اپنے اوپر ناقابل شکست کنٹرول کرتا ہے جس کا کوئی عربی معاشرے میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ بےبس ہو کر آتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کا انتظار کرتا ہے۔ اگر چہ اس کے لیے یہ مسئلہ نہایت ہی شاق گزر رہا ہے لیکن قرآن کریم نے ان لوگوں کی ایسی تربیت کردی ہے کہ یہ شخص جذبات کے اس طوفان کو پوری طرح کنٹرول کرتا ہے تاکہ حکم وہی ہو جو اللہ کی طرف سے آئے۔ اس کے نفس میں اور اس کی ذات کے تمام معاملات میں۔
یہ تربیت کیسے ممکن ہوئی ؟ یہ اس طرح ہوئی کہ ان کو یہ پورا یقین تھا کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ لوگ اللہ کی نگرانی اور حفاظت میں ہیں۔ اللہ ان کی رعایت کرتا ہے اور ان کو ایسی مصیبت میں نہیں ڈالتا جسے وہ برداشت نہ کرسکیں اور یہ کہ اللہ ان کو ایسی مشکلات میں نہیں چھوڑتا کہ وہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوں۔ اللہ کبھی بھی انسانوں پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ لوگ ہمیشہ اللہ کے زیر سایہ رہتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم کی فضا میں سانس لے رہے تھے۔ وہ ہر وقت اللہ کی طرف اس طرح دیکھ رہے تھے جس طرح ایک بچہ اپنے رحیم و کریم باپ کی طرف دیکھتا ہے۔ ہلال ابن امیہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور کانوں سے سن رہا ہے۔ یہ اکیلا ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے شکایت کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ قانون میں کوئی صورت ماسواء نفاذ حد قذف کے اور نہیں پاتے۔ حضور ﷺ اعلان بھی کردیتے ہیں کہ شہادت یا حد ہے اور تمہاری پیٹھ پر ہے لیکن ہلال ابن امیہ کو یقین ہے کہ اللہ اسے ایسے حالات میں بےسہارا نہیں چھوڑے گا جبکہ وہ ہے بھی سچا۔ چناچہ اللہ کی طرف سے یہ استثناء آجاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ ہلال ابن امیہ کو خوشخبری دیتے ہیں اور وہ اپنے اس اطمینان کو پھر دہراتے ہیں کہ مجے رب عزوجل سے یہی امید تھی۔ ان لوگوں کو پورا پورا اطمینان تھا کہ وہ اللہ کی نگرانی میں ہیں اور اللہ دیکھ رہا ہے اور یہ کہ وہ خود اپنے اختیار میں چھوڑ نہیں دیئے گئے کہ معاملات کو خود طے کریں۔ وہ تو اللہ کے سامنے اس کے دربار میں ہیں۔ یہ ہے حقیقی ایمان ‘ اطاعت اور تسلیم ورضا جو اصحاب محمد ﷺ کی شان تھی۔
اب سیاق کلام حد قذف کے قانون کے درمیان سے آگے بڑھتا ہے اور جرم قذف کے گھنائو نے پن کی ایک اور جھلک دکھائی جاتی ہے۔ اس کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے گھرانے سے ہے۔ خود حضور اکرم ﷺ کی عزت اس میں دائو پر لگی ہوئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ اللہ کے مکرم ترین بندے ہیں۔ پھر اس واقعہ میں حضرت صدیق ؓ کی عزت بھی دائو پر لگی ہوئی ہے جو نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے مکرم ترین انسان ہیں۔ پھر نبی ﷺ کے ایک دوسرے ساتھی صفوان ابن المعطل ؓ کی عزت کا بھی مسئلہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ خود شہادت دیتے ہیں کہ صفوان کے بارے میں آپ ﷺ بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ یہ واقعہ ایسا ہے جس میں مدینہ کے اہل اسلام ایک ماہ تک بےحد پریشانی میں مبتلا رہے۔
النور 24:9
والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم ) (6 تا 10) ” “۔
ان آیات میں حد قذف کے قانون میں میاں بیوی کے لیے قدرے سہولت پیدا کی گئی ہے اور یہ سہولت میاں بیوی کینازک تعلقات کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اگر خاوند کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی بیو نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور اس بات پر گواہ صرف وہ خود ہو تو اس صورت میں طریق کار یہ ہوگا کہ وہ چار بار قسم اٹھا کر یہ کہے گا کہ اس کا دعویٰ درست ہے یعنی الزام زنا اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گا کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔ اور اس شہادت کو شہادات اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ہی گواہ کی زیادہ شہادتیں ہیں۔ اگر خاوند نے ایسا کیا تو وہ مہر ادا کرے گا اور عورت پر طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ اور اس پر حد زنا یعنی رجم جاری ہوگی۔ ہاں اگر عورت اپنے اوپر سے اس سزا کو معاف کرانا چاہتی ہے تو وہ سابقہ شہادت کے بالمقابل چار مرتبہ حلف اٹھا کر کہے کہ الزام لگانے والا کا ۔۔۔ ہے اور پانچویں مرتبہ وہ حلف اٹھا کر کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو ‘ اگر میں جھوٹ بولوں۔ اس طرح اس پر سے حد ساقط ہوجائے گی۔ اور لعان کے ذریعے وہ اپنے خاوند سے جدا ہوجائے گی۔ اس کے بیٹے کا نسب والد کے ساتھ لاحق نہ ہوگا اگر وہ حاملہ ہو بلکہ بیٹے کی نسبت ماں کی طرف ہوگی اور اس قسم کے بیٹے پر دلدالزنا کا الزام موجب حد قذف ہوگا۔
اس پر یہ تعقیب اور تبصرہ آتا ہے۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔۔ تواب حکیم) (24 : 10) ” تم پر اللہ کا فضل اور رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا) ۔ ہیاں اللہ نے بیان نہیں فرمایا کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟ اللہ نے مجمل اس لیے چھوڑ دیا کہ لوگ اس سے ڈرتے رہیں۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑا ہی شرہوتا لیکن اللہ نے اسے دفع کردیا۔
اس سلسلے میں بعض صحیح احادیث میں اس قانون سازی کا شان نزول وارد ہے۔ امام احمد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی “۔
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابدا) (204 : 4) ” اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ‘ پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں ‘ ان کو اسی (80) کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔
تو سعد ابن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار تھے ‘ نے کہا کیا یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے کہا : اے گروہ انصار ‘ تم نہیں سنتے تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا ‘ اے رسول خدا اس شخص کو ملامت نہ کریں۔ یہ نہایت ہی غیور آدمی ہے۔ اس نے کبھی بھی کنواری عورت کے سوا کسی عورت سے نکاح نہیں کیا۔ اور اس نے جب کسی عورت کو طلاق دی تو کسی شخص کو جرأت نہیں ہوئی کہ اس کے ساتھ نکاح کرلے کیونکہ وہ اس کی غیرت سے ڈرتا۔ اس پر سعد ؓ نے کہا اے رسول خدا ﷺ واقعہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے تعجب اس پر ہے کہ میری بیوی کی ران پر ایک شخص ران رکھ دے اور مجھے اجازت نہ ہو کہ میں اسے چھیڑوں اور نہ میں اسے اپنی جگہ سے ہلائوں یہاں تک کہ جب تک کہ میں چار گواہ تلاش کر کے نہ لائوں۔ خدا کی قسم جب تک میں چار گواہ لائوں گا تو وہ اپنا کام کر کے چلا گیا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ٹتھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ ہلال ابن امیہ آگیا۔ یہ اپنی اراضی سے کام کر کے عشاء کے وقت لوٹا۔ اس نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ اپنی آنکھوں سے اس نے دیکھا اور اپنے کانوں سے اس نے سنا تو اس نے اس شخص کو نہ چھیڑا۔ صبح ہوتے ہی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا حضور میں رات کو عشاء کے وقت اپنے گھر آیا۔ میں نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں کے ساتھ سنا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی اس اطلاع کو بہت ہی ناپسند فرمایا۔ آپ ﷺ پر یہ بات بہت ناگوار گزری لیکن انصار اس پر جمع ہوگئے اور انہوں نے کہا : سعد ابن عبادہ نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمارے لیے بڑی آزمائش تھی۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ نبی ﷺ ہلال ابن امیہ کو کوڑے لگائیں اور لوگوں کے اندر ان کی شہادت ہمیشہ کے لیے غیر مقبول ہوجائے۔ اس پر ہلال ابن امیہ نے کہا : خدا کی قسم مجھے امید ہے کہ اللہ اس سے نکلنے کی کوئی راہ ضرور نکالے گا۔ ہلال نے حضور اکرم ﷺ سے کہا کہ رسول خدا میں جانتا ہوں کہ میری اس بات سے آپ ﷺ پر کس قدر ناگواری کی حالت آگئی ہے لیکن اللہ جانتا ہے کہ میں سچاہوں۔ خدا کی قسم رسول خدا ﷺ ارادہ کر ہی رہے تھے کہ ہلال ابن امیہ پر حد قذف نافذ کرنے کا حکم دیں کہ اچانک وحی آگئی۔ اور جب آپ ﷺ پر وحی آتی تھی تو صحابہ کرام فوراً سمجھ لیتے تھے کہ نزول وحی شروع ہے۔ تمام صحابہ ؓ آپ ﷺ سے علیحدہ ہوجاتے تھے یہاں تک کہ نزول وحی کا عمل مکمل ہوجاتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شھدت باللہ) (24 : 7) ” اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام ) میں سچا ہے۔
رسول اللہ ﷺ پر سے حالت وحی دور ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا ہلال ! مبارک ہو۔ اللہ نے تیرے لیے آسانی پیدا کردی ہے اور اس مشکل سے نکلنے کی راہ نکالی ہے۔ تو ہلال نے کہا میں امید کررہا تھا کہ اللہ میرے لیے کوئی راہ نکالے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس عورت کو بلایا جائے۔ وہ آگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات دونوں کو پڑھ کر سنائیں۔ ان کو نصیحت کی اور ان کو بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کی سزا سے بہت ہی تھوڑا ہے تو ہلال نے کہا رسول خدا ﷺ اللہ کی قسم میں نے اس کے بارے میں سچ کہا ہے اور اس عورت نے جواب میں کہا۔ یہ جھوٹ کہتا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ان دونوں کے درمیان لعان کرادو۔ تو ہلال کو کہا گیا تم چار بار شہادت دو کہ تم سچ کہتے ہو۔ جب پانچویں بار شہادت دینے لگا تو اسے کہا گیا : اللہ سے ڈرو ‘ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اور یہ شہادت جو فریق مخالف پر سزا واجب کرنے والی ہے ‘ تیرے لیے موجب عذاب ہوگی۔ تو ہلال نے کہا خدا کی قسم اس کے بارے میں مجھے اللہ ہر گز عذاب نہیں دے گا۔ جس طرح اس نے مجھے کوڑوں کی سز نہیں دی تو پانچویں مرتبہ ہلال نے شہادت دی کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد عورت سے کہا گیا کہ تم چار شہادتیں دو کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ اس سے کہا گیا خدا سے ڈرو اور دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے اور یہ پانچویں بار عذاب کو واجب کرنے والی ہے اور یہ تم پر عذاب کو واجب کردے گی۔ وہ کچھ دیر کے لیے ہچکچائی اور ارادہ کرلیا کہ اعتراف کرلے۔ اس کے بعد اس نے کہا میں اپنی قوم کو شرمندہ نہیں کروں گی۔ چناچہ اس نے پانچویں مرتبہ شہادت دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ اگر وہ سچا ہو۔ رسول اللہ نے دونوں کے درمیان تفریق کردی اور یہ فیصلہ کیا کہ اس کے بچے کو اباپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے گا۔ نہ اس کے بچے پر تہمت لگائی جائے گی۔ جس نے اس کے بچے کو دلد الزنا کہا ‘ اس پر حد جاری ہوگی۔ یہ بھی حکم دیا کہ اس عورت کے لیے خاوند کے ذمہ رہائش کی جگہ فراہم کرنا لازم نہ ہوگا نہ خوراک لازم ہوگی۔ کیونکہ ان دونوں کے درمیان بغیر طلاق کے تفریق کردی گئی ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کا بچو قدرے سرخ بالوں والا ‘ دبلے چوتڑ والا اور پتلی ٹانگوں والا ہوا تو وہ ہلال کا بچہ ہوگا اور اگر گندم گوں رنگ لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا ‘ موٹی پنڈلیوں والا ہوا ‘ بھرے ہوئے چوتڑ والا ہوا تو پھر یہ اس شخص کا بیٹا ہوگا جس کے ساتھ وہ بد نام ہوئی۔ تو جب اس کا بچو پیدا ہوا تو وہ کدرے لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا اور موٹی ٹانگوں والا اور بھرے ہوئے چوتڑ والا تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایمان نہ ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ دیکھ لیتا “۔
یہ قانون لعان تھا اور یہ ایک عملی ضرورت کے تحت نازل ہوا ۔ اس نے مسلمانوں کے لیے درپیش ایک مشکل مسئلے کو حل کردیا۔ یہ مسئلہ اس قدر مشکل تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ کو اس کا کوئی حل نظر نہ آتا تھا۔ جیسا کہ روایت بخاری میں آتا ہے۔ آپ ﷺ نے ہلال ابن امیہ سے کہا کہ یا تو گواہ لائو اور یا تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہوگی۔ اور ہلال یہی کہتے رہے کہ حضور ﷺ ایک شخص دیکھے کہ اس کی بیوی پر ایک شخص چڑھا ہوا ہے کیا وہ جائے گا کہ گواہ تلاش کرے۔
یہاں سوال کرنے والا یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو علم نہ تھا کہ حد قذف کے عام قانون کے بعد اس قسم کا مسئلہ پیدا ہوگا تو یہ استثناء اللہ نے پہلے کیوں نہ نازل کردی اور کیوں اللہ تعالیٰ نے ایسی مشکل پیدا ہونے دی ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے تشریح کے لیے یہ کمت وضع کی تھی کہ قانون اس وقت نازل ہو جب لوگوں کے اندر اس کی ضرورت کا احساس پیدا ہوجائے تاکہ لوگ اسے نہایت ہی بےتابی کے ساتھ قبول کریں۔ اور ان کو اس قانون کے اندر پائے جانے والی حکمت کا اچھی طرح علم ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد یہ تبصرہ آیا۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔ حکیم) (24 : 10) ” اگر اللہ کا فضل و رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بہت ہی التفات کرنے والا اور رحیم ہے تو۔۔۔ “ اب ذرا اس واقعہ پر غور کیجئے ۔ دیکھئے کہ اسلام کس طرح کام کررہا تھا اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی تربیت کس طرح کام کررہی تھی اور کس قدر موثر تھی اور اس قرآن کے ذریعے کس طرح ایک بالکل نئی سوسائٹی کو تعمیر کیا جارہا تھا۔ اسلام نے عربوں جیسی غیور قوم کی کس طرح تربیت کردی تھی۔ کس طرح انکو بدل کر رکھ دیا۔ یہ لوگ اس قدر غیور اور جذباتی تھے کہ قانون حد قذف نازل ہوگیا۔ ان جذباتی لوگوں کے لیے یہنہایت ہی مشکل قانون ہے وہ تو مشتعل ہوتے ہی عظیم سے عظیم کام کر گزرنے والے تھے۔ ان پر یہ نہایت ہی شاق گزرتا ہے۔ اس قدر شاق کہ حضرت سعد ابن عبادہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ آیا فی الواقع یہ قانون اسی طرح نازل ہوا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں لیکن ان کو معلوم ہے کہ قانون تو نازل ہوگیا ہے۔ اس سوال سے دراصل وہ اس مشکل کا احساس کرتے ہیں کہ اگر یہ صورت حالات ان کے اپنے گھر میں پیش آجائے تو وہ اس کس طرح برداشت کریں گے۔ وہ اس تلخ حقیقت کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اگر میں ایک شخص کو دیکھوں کہ اس نے (مکاعض کی ران کے ساتھ ران ملا دی ہے اور مجھے یہ اجازت نہ ہو کہ اسے پریشان کروں یا اسے اپنی جگہ سے ہٹائوں جب تک میں چار گواہ نہ لائوں۔ خدا کی قسم میں چار گواہ لائوں گا مگر اس نے اپنا کام پورا کرلیا ہوگا۔
یہ تو تھا سعد ابن عبادہ کا نظریاتی خیال اور سوچ۔ لیکن ایک متعین شخص اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے کہ اس کی بیوی کے ساتھ یہ بد کاریہورہی ہے اور وہ رک گیا ہے بلکہ قرآن نے اسے روک دیا ہے۔ یہ شخص اپنے جذبات ‘ جذبہ انتقام ‘ سخت عربی غیرت اور خون کے اندر پیدا ہونے والے فوری جوش اور اعصاب کی ناقابل کنٹرول حرکت کو قابو میں لاتا ہے۔ اپنے اوپر ناقابل شکست کنٹرول کرتا ہے جس کا کوئی عربی معاشرے میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ بےبس ہو کر آتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کا انتظار کرتا ہے۔ اگر چہ اس کے لیے یہ مسئلہ نہایت ہی شاق گزر رہا ہے لیکن قرآن کریم نے ان لوگوں کی ایسی تربیت کردی ہے کہ یہ شخص جذبات کے اس طوفان کو پوری طرح کنٹرول کرتا ہے تاکہ حکم وہی ہو جو اللہ کی طرف سے آئے۔ اس کے نفس میں اور اس کی ذات کے تمام معاملات میں۔
یہ تربیت کیسے ممکن ہوئی ؟ یہ اس طرح ہوئی کہ ان کو یہ پورا یقین تھا کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ لوگ اللہ کی نگرانی اور حفاظت میں ہیں۔ اللہ ان کی رعایت کرتا ہے اور ان کو ایسی مصیبت میں نہیں ڈالتا جسے وہ برداشت نہ کرسکیں اور یہ کہ اللہ ان کو ایسی مشکلات میں نہیں چھوڑتا کہ وہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوں۔ اللہ کبھی بھی انسانوں پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ لوگ ہمیشہ اللہ کے زیر سایہ رہتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم کی فضا میں سانس لے رہے تھے۔ وہ ہر وقت اللہ کی طرف اس طرح دیکھ رہے تھے جس طرح ایک بچہ اپنے رحیم و کریم باپ کی طرف دیکھتا ہے۔ ہلال ابن امیہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور کانوں سے سن رہا ہے۔ یہ اکیلا ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے شکایت کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ قانون میں کوئی صورت ماسواء نفاذ حد قذف کے اور نہیں پاتے۔ حضور ﷺ اعلان بھی کردیتے ہیں کہ شہادت یا حد ہے اور تمہاری پیٹھ پر ہے لیکن ہلال ابن امیہ کو یقین ہے کہ اللہ اسے ایسے حالات میں بےسہارا نہیں چھوڑے گا جبکہ وہ ہے بھی سچا۔ چناچہ اللہ کی طرف سے یہ استثناء آجاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ ہلال ابن امیہ کو خوشخبری دیتے ہیں اور وہ اپنے اس اطمینان کو پھر دہراتے ہیں کہ مجے رب عزوجل سے یہی امید تھی۔ ان لوگوں کو پورا پورا اطمینان تھا کہ وہ اللہ کی نگرانی میں ہیں اور اللہ دیکھ رہا ہے اور یہ کہ وہ خود اپنے اختیار میں چھوڑ نہیں دیئے گئے کہ معاملات کو خود طے کریں۔ وہ تو اللہ کے سامنے اس کے دربار میں ہیں۔ یہ ہے حقیقی ایمان ‘ اطاعت اور تسلیم ورضا جو اصحاب محمد ﷺ کی شان تھی۔
اب سیاق کلام حد قذف کے قانون کے درمیان سے آگے بڑھتا ہے اور جرم قذف کے گھنائو نے پن کی ایک اور جھلک دکھائی جاتی ہے۔ اس کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے گھرانے سے ہے۔ خود حضور اکرم ﷺ کی عزت اس میں دائو پر لگی ہوئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ اللہ کے مکرم ترین بندے ہیں۔ پھر اس واقعہ میں حضرت صدیق ؓ کی عزت بھی دائو پر لگی ہوئی ہے جو نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے مکرم ترین انسان ہیں۔ پھر نبی ﷺ کے ایک دوسرے ساتھی صفوان ابن المعطل ؓ کی عزت کا بھی مسئلہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ خود شہادت دیتے ہیں کہ صفوان کے بارے میں آپ ﷺ بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ یہ واقعہ ایسا ہے جس میں مدینہ کے اہل اسلام ایک ماہ تک بےحد پریشانی میں مبتلا رہے۔
النور 24:10
والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم ) (6 تا 10) ” “۔
ان آیات میں حد قذف کے قانون میں میاں بیوی کے لیے قدرے سہولت پیدا کی گئی ہے اور یہ سہولت میاں بیوی کینازک تعلقات کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اگر خاوند کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی بیو نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور اس بات پر گواہ صرف وہ خود ہو تو اس صورت میں طریق کار یہ ہوگا کہ وہ چار بار قسم اٹھا کر یہ کہے گا کہ اس کا دعویٰ درست ہے یعنی الزام زنا اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گا کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔ اور اس شہادت کو شہادات اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ہی گواہ کی زیادہ شہادتیں ہیں۔ اگر خاوند نے ایسا کیا تو وہ مہر ادا کرے گا اور عورت پر طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ اور اس پر حد زنا یعنی رجم جاری ہوگی۔ ہاں اگر عورت اپنے اوپر سے اس سزا کو معاف کرانا چاہتی ہے تو وہ سابقہ شہادت کے بالمقابل چار مرتبہ حلف اٹھا کر کہے کہ الزام لگانے والا کا ۔۔۔ ہے اور پانچویں مرتبہ وہ حلف اٹھا کر کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو ‘ اگر میں جھوٹ بولوں۔ اس طرح اس پر سے حد ساقط ہوجائے گی۔ اور لعان کے ذریعے وہ اپنے خاوند سے جدا ہوجائے گی۔ اس کے بیٹے کا نسب والد کے ساتھ لاحق نہ ہوگا اگر وہ حاملہ ہو بلکہ بیٹے کی نسبت ماں کی طرف ہوگی اور اس قسم کے بیٹے پر دلدالزنا کا الزام موجب حد قذف ہوگا۔
اس پر یہ تعقیب اور تبصرہ آتا ہے۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔۔ تواب حکیم) (24 : 10) ” تم پر اللہ کا فضل اور رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا) ۔ ہیاں اللہ نے بیان نہیں فرمایا کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟ اللہ نے مجمل اس لیے چھوڑ دیا کہ لوگ اس سے ڈرتے رہیں۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑا ہی شرہوتا لیکن اللہ نے اسے دفع کردیا۔
اس سلسلے میں بعض صحیح احادیث میں اس قانون سازی کا شان نزول وارد ہے۔ امام احمد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی “۔
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابدا) (204 : 4) ” اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ‘ پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں ‘ ان کو اسی (80) کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔
تو سعد ابن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار تھے ‘ نے کہا کیا یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے کہا : اے گروہ انصار ‘ تم نہیں سنتے تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا ‘ اے رسول خدا اس شخص کو ملامت نہ کریں۔ یہ نہایت ہی غیور آدمی ہے۔ اس نے کبھی بھی کنواری عورت کے سوا کسی عورت سے نکاح نہیں کیا۔ اور اس نے جب کسی عورت کو طلاق دی تو کسی شخص کو جرأت نہیں ہوئی کہ اس کے ساتھ نکاح کرلے کیونکہ وہ اس کی غیرت سے ڈرتا۔ اس پر سعد ؓ نے کہا اے رسول خدا ﷺ واقعہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے تعجب اس پر ہے کہ میری بیوی کی ران پر ایک شخص ران رکھ دے اور مجھے اجازت نہ ہو کہ میں اسے چھیڑوں اور نہ میں اسے اپنی جگہ سے ہلائوں یہاں تک کہ جب تک کہ میں چار گواہ تلاش کر کے نہ لائوں۔ خدا کی قسم جب تک میں چار گواہ لائوں گا تو وہ اپنا کام کر کے چلا گیا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ٹتھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ ہلال ابن امیہ آگیا۔ یہ اپنی اراضی سے کام کر کے عشاء کے وقت لوٹا۔ اس نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ اپنی آنکھوں سے اس نے دیکھا اور اپنے کانوں سے اس نے سنا تو اس نے اس شخص کو نہ چھیڑا۔ صبح ہوتے ہی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا حضور میں رات کو عشاء کے وقت اپنے گھر آیا۔ میں نے اپنی اہلیہ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں کے ساتھ سنا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی اس اطلاع کو بہت ہی ناپسند فرمایا۔ آپ ﷺ پر یہ بات بہت ناگوار گزری لیکن انصار اس پر جمع ہوگئے اور انہوں نے کہا : سعد ابن عبادہ نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمارے لیے بڑی آزمائش تھی۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ نبی ﷺ ہلال ابن امیہ کو کوڑے لگائیں اور لوگوں کے اندر ان کی شہادت ہمیشہ کے لیے غیر مقبول ہوجائے۔ اس پر ہلال ابن امیہ نے کہا : خدا کی قسم مجھے امید ہے کہ اللہ اس سے نکلنے کی کوئی راہ ضرور نکالے گا۔ ہلال نے حضور اکرم ﷺ سے کہا کہ رسول خدا میں جانتا ہوں کہ میری اس بات سے آپ ﷺ پر کس قدر ناگواری کی حالت آگئی ہے لیکن اللہ جانتا ہے کہ میں سچاہوں۔ خدا کی قسم رسول خدا ﷺ ارادہ کر ہی رہے تھے کہ ہلال ابن امیہ پر حد قذف نافذ کرنے کا حکم دیں کہ اچانک وحی آگئی۔ اور جب آپ ﷺ پر وحی آتی تھی تو صحابہ کرام فوراً سمجھ لیتے تھے کہ نزول وحی شروع ہے۔ تمام صحابہ ؓ آپ ﷺ سے علیحدہ ہوجاتے تھے یہاں تک کہ نزول وحی کا عمل مکمل ہوجاتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شھدت باللہ) (24 : 7) ” اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام ) میں سچا ہے۔
رسول اللہ ﷺ پر سے حالت وحی دور ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا ہلال ! مبارک ہو۔ اللہ نے تیرے لیے آسانی پیدا کردی ہے اور اس مشکل سے نکلنے کی راہ نکالی ہے۔ تو ہلال نے کہا میں امید کررہا تھا کہ اللہ میرے لیے کوئی راہ نکالے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس عورت کو بلایا جائے۔ وہ آگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات دونوں کو پڑھ کر سنائیں۔ ان کو نصیحت کی اور ان کو بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کی سزا سے بہت ہی تھوڑا ہے تو ہلال نے کہا رسول خدا ﷺ اللہ کی قسم میں نے اس کے بارے میں سچ کہا ہے اور اس عورت نے جواب میں کہا۔ یہ جھوٹ کہتا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ان دونوں کے درمیان لعان کرادو۔ تو ہلال کو کہا گیا تم چار بار شہادت دو کہ تم سچ کہتے ہو۔ جب پانچویں بار شہادت دینے لگا تو اسے کہا گیا : اللہ سے ڈرو ‘ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اور یہ شہادت جو فریق مخالف پر سزا واجب کرنے والی ہے ‘ تیرے لیے موجب عذاب ہوگی۔ تو ہلال نے کہا خدا کی قسم اس کے بارے میں مجھے اللہ ہر گز عذاب نہیں دے گا۔ جس طرح اس نے مجھے کوڑوں کی سز نہیں دی تو پانچویں مرتبہ ہلال نے شہادت دی کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد عورت سے کہا گیا کہ تم چار شہادتیں دو کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ اس سے کہا گیا خدا سے ڈرو اور دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے اور یہ پانچویں بار عذاب کو واجب کرنے والی ہے اور یہ تم پر عذاب کو واجب کردے گی۔ وہ کچھ دیر کے لیے ہچکچائی اور ارادہ کرلیا کہ اعتراف کرلے۔ اس کے بعد اس نے کہا میں اپنی قوم کو شرمندہ نہیں کروں گی۔ چناچہ اس نے پانچویں مرتبہ شہادت دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ اگر وہ سچا ہو۔ رسول اللہ نے دونوں کے درمیان تفریق کردی اور یہ فیصلہ کیا کہ اس کے بچے کو اباپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے گا۔ نہ اس کے بچے پر تہمت لگائی جائے گی۔ جس نے اس کے بچے کو دلد الزنا کہا ‘ اس پر حد جاری ہوگی۔ یہ بھی حکم دیا کہ اس عورت کے لیے خاوند کے ذمہ رہائش کی جگہ فراہم کرنا لازم نہ ہوگا نہ خوراک لازم ہوگی۔ کیونکہ ان دونوں کے درمیان بغیر طلاق کے تفریق کردی گئی ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کا بچو قدرے سرخ بالوں والا ‘ دبلے چوتڑ والا اور پتلی ٹانگوں والا ہوا تو وہ ہلال کا بچہ ہوگا اور اگر گندم گوں رنگ لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا ‘ موٹی پنڈلیوں والا ہوا ‘ بھرے ہوئے چوتڑ والا ہوا تو پھر یہ اس شخص کا بیٹا ہوگا جس کے ساتھ وہ بد نام ہوئی۔ تو جب اس کا بچو پیدا ہوا تو وہ کدرے لیچدار بالوں والا ‘ موٹے اعضا والا اور موٹی ٹانگوں والا اور بھرے ہوئے چوتڑ والا تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایمان نہ ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ دیکھ لیتا “۔
یہ قانون لعان تھا اور یہ ایک عملی ضرورت کے تحت نازل ہوا ۔ اس نے مسلمانوں کے لیے درپیش ایک مشکل مسئلے کو حل کردیا۔ یہ مسئلہ اس قدر مشکل تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ کو اس کا کوئی حل نظر نہ آتا تھا۔ جیسا کہ روایت بخاری میں آتا ہے۔ آپ ﷺ نے ہلال ابن امیہ سے کہا کہ یا تو گواہ لائو اور یا تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہوگی۔ اور ہلال یہی کہتے رہے کہ حضور ﷺ ایک شخص دیکھے کہ اس کی بیوی پر ایک شخص چڑھا ہوا ہے کیا وہ جائے گا کہ گواہ تلاش کرے۔
یہاں سوال کرنے والا یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو علم نہ تھا کہ حد قذف کے عام قانون کے بعد اس قسم کا مسئلہ پیدا ہوگا تو یہ استثناء اللہ نے پہلے کیوں نہ نازل کردی اور کیوں اللہ تعالیٰ نے ایسی مشکل پیدا ہونے دی ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے تشریح کے لیے یہ کمت وضع کی تھی کہ قانون اس وقت نازل ہو جب لوگوں کے اندر اس کی ضرورت کا احساس پیدا ہوجائے تاکہ لوگ اسے نہایت ہی بےتابی کے ساتھ قبول کریں۔ اور ان کو اس قانون کے اندر پائے جانے والی حکمت کا اچھی طرح علم ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد یہ تبصرہ آیا۔
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔ حکیم) (24 : 10) ” اگر اللہ کا فضل و رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بہت ہی التفات کرنے والا اور رحیم ہے تو۔۔۔ “ اب ذرا اس واقعہ پر غور کیجئے ۔ دیکھئے کہ اسلام کس طرح کام کررہا تھا اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی تربیت کس طرح کام کررہی تھی اور کس قدر موثر تھی اور اس قرآن کے ذریعے کس طرح ایک بالکل نئی سوسائٹی کو تعمیر کیا جارہا تھا۔ اسلام نے عربوں جیسی غیور قوم کی کس طرح تربیت کردی تھی۔ کس طرح انکو بدل کر رکھ دیا۔ یہ لوگ اس قدر غیور اور جذباتی تھے کہ قانون حد قذف نازل ہوگیا۔ ان جذباتی لوگوں کے لیے یہنہایت ہی مشکل قانون ہے وہ تو مشتعل ہوتے ہی عظیم سے عظیم کام کر گزرنے والے تھے۔ ان پر یہ نہایت ہی شاق گزرتا ہے۔ اس قدر شاق کہ حضرت سعد ابن عبادہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ آیا فی الواقع یہ قانون اسی طرح نازل ہوا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں لیکن ان کو معلوم ہے کہ قانون تو نازل ہوگیا ہے۔ اس سوال سے دراصل وہ اس مشکل کا احساس کرتے ہیں کہ اگر یہ صورت حالات ان کے اپنے گھر میں پیش آجائے تو وہ اس کس طرح برداشت کریں گے۔ وہ اس تلخ حقیقت کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اگر میں ایک شخص کو دیکھوں کہ اس نے (مکاعض کی ران کے ساتھ ران ملا دی ہے اور مجھے یہ اجازت نہ ہو کہ اسے پریشان کروں یا اسے اپنی جگہ سے ہٹائوں جب تک میں چار گواہ نہ لائوں۔ خدا کی قسم میں چار گواہ لائوں گا مگر اس نے اپنا کام پورا کرلیا ہوگا۔
یہ تو تھا سعد ابن عبادہ کا نظریاتی خیال اور سوچ۔ لیکن ایک متعین شخص اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے کہ اس کی بیوی کے ساتھ یہ بد کاریہورہی ہے اور وہ رک گیا ہے بلکہ قرآن نے اسے روک دیا ہے۔ یہ شخص اپنے جذبات ‘ جذبہ انتقام ‘ سخت عربی غیرت اور خون کے اندر پیدا ہونے والے فوری جوش اور اعصاب کی ناقابل کنٹرول حرکت کو قابو میں لاتا ہے۔ اپنے اوپر ناقابل شکست کنٹرول کرتا ہے جس کا کوئی عربی معاشرے میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ بےبس ہو کر آتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کا انتظار کرتا ہے۔ اگر چہ اس کے لیے یہ مسئلہ نہایت ہی شاق گزر رہا ہے لیکن قرآن کریم نے ان لوگوں کی ایسی تربیت کردی ہے کہ یہ شخص جذبات کے اس طوفان کو پوری طرح کنٹرول کرتا ہے تاکہ حکم وہی ہو جو اللہ کی طرف سے آئے۔ اس کے نفس میں اور اس کی ذات کے تمام معاملات میں۔
یہ تربیت کیسے ممکن ہوئی ؟ یہ اس طرح ہوئی کہ ان کو یہ پورا یقین تھا کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ لوگ اللہ کی نگرانی اور حفاظت میں ہیں۔ اللہ ان کی رعایت کرتا ہے اور ان کو ایسی مصیبت میں نہیں ڈالتا جسے وہ برداشت نہ کرسکیں اور یہ کہ اللہ ان کو ایسی مشکلات میں نہیں چھوڑتا کہ وہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوں۔ اللہ کبھی بھی انسانوں پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ لوگ ہمیشہ اللہ کے زیر سایہ رہتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم کی فضا میں سانس لے رہے تھے۔ وہ ہر وقت اللہ کی طرف اس طرح دیکھ رہے تھے جس طرح ایک بچہ اپنے رحیم و کریم باپ کی طرف دیکھتا ہے۔ ہلال ابن امیہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور کانوں سے سن رہا ہے۔ یہ اکیلا ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے شکایت کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ قانون میں کوئی صورت ماسواء نفاذ حد قذف کے اور نہیں پاتے۔ حضور ﷺ اعلان بھی کردیتے ہیں کہ شہادت یا حد ہے اور تمہاری پیٹھ پر ہے لیکن ہلال ابن امیہ کو یقین ہے کہ اللہ اسے ایسے حالات میں بےسہارا نہیں چھوڑے گا جبکہ وہ ہے بھی سچا۔ چناچہ اللہ کی طرف سے یہ استثناء آجاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ ہلال ابن امیہ کو خوشخبری دیتے ہیں اور وہ اپنے اس اطمینان کو پھر دہراتے ہیں کہ مجے رب عزوجل سے یہی امید تھی۔ ان لوگوں کو پورا پورا اطمینان تھا کہ وہ اللہ کی نگرانی میں ہیں اور اللہ دیکھ رہا ہے اور یہ کہ وہ خود اپنے اختیار میں چھوڑ نہیں دیئے گئے کہ معاملات کو خود طے کریں۔ وہ تو اللہ کے سامنے اس کے دربار میں ہیں۔ یہ ہے حقیقی ایمان ‘ اطاعت اور تسلیم ورضا جو اصحاب محمد ﷺ کی شان تھی۔
اب سیاق کلام حد قذف کے قانون کے درمیان سے آگے بڑھتا ہے اور جرم قذف کے گھنائو نے پن کی ایک اور جھلک دکھائی جاتی ہے۔ اس کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے گھرانے سے ہے۔ خود حضور اکرم ﷺ کی عزت اس میں دائو پر لگی ہوئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ اللہ کے مکرم ترین بندے ہیں۔ پھر اس واقعہ میں حضرت صدیق ؓ کی عزت بھی دائو پر لگی ہوئی ہے جو نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے مکرم ترین انسان ہیں۔ پھر نبی ﷺ کے ایک دوسرے ساتھی صفوان ابن المعطل ؓ کی عزت کا بھی مسئلہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ خود شہادت دیتے ہیں کہ صفوان کے بارے میں آپ ﷺ بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ یہ واقعہ ایسا ہے جس میں مدینہ کے اہل اسلام ایک ماہ تک بےحد پریشانی میں مبتلا رہے۔
النور 24:11
یہ افک کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ نے تاریخ انسانی کے پاکیزہ ترین لوگوں کو انتہائی درجہ کی تکلیف دہ اور اذیت دہ صورت حال سے دوچار کیا بلکہ پوری ملت اسلامیہ کو سخت ترین امتحان میں ڈال دیا۔ پورے ایک ماہ تک حضرت نبی ﷺ ‘ آپ کی محبوب ترین اہلیہ حضرت عائشہ ؓ ان کے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ جیسے ایک مومن مخلص کے دلوں کو ہوا میں معلق رکھا۔ یہ پاکیزہ دل ایک مہینے تک درد ورنج میں مبتلا رہے۔
مناسب یہ ہے کہ ہم اس پورے قصے کو خود حضرت عائشہ ؓ یک زبانی سنیں۔ حضرت عروہ ابن زبیر ان سے یوں روایت کرتے ہیں ” رسول اللہ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ جب آپ ﷺ سفر پر جانے لگتے تو قرعہ ڈال کر فیصلہ فرماتے کہ آپ یک بیویوں میں سے کون آپ کے ساتھ جائے۔ غزوہ بنی المصطلق کے موقعہ پر قرعہ میرے نام نکلا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ گئی۔ واپسی پر جب مدینے کے قریب تھے تو ایک نزل پر رات کے وقت رسول اللہ ﷺ نے پڑائو کیا اور ابھی رات کا کچھ حصہ باقی تھا کہ کوچ کی تیاری شروع ہوگئی۔ میں اٹھ کر رفع حاجت کے لیے گئی اور جب پلٹنے لگی تو قیام گاہ کے قریب پہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ میرے گلے کا ہار کہیں ٹوٹ کر گر پڑا ہے۔ میں اسے تلاش کرنے میں لگ گئی اور اتنے میں قافلہ روانہ ہوگیا۔ قاعدہ یہ تھا کہ میں کوچ کے وقت اپنے ہودج میں بیٹھ جاتی تھی اور چار آدمی اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے۔ ہم عورتیں اس وقت غذا کی کمی کے سبب بہت ہلکی پھلکی تھیں۔ میرا ہو وہ اٹھاتے وقت لوگوں کو یہ محسوس ہی نہ ہوا کہ میں اس میں نہیں ہوں۔ وہ بیخبر ی میں خالی ہو وہ اونٹ پر اٹھا کر روانہ ہوگئے۔ میں جب ہار لے کر پلٹی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ آخر اپنی چادر اوڑھ کر وہاں ہی لیٹ گئی اور دل میں سوچ لیا کہ آگے جاکر جب یہ لوگ مجھے نہ پائیں گے تو خود ہی ڈھونڈتے ہوئے آجائیں گے۔ اس حالت میں مجھے نیند آگئی۔ صبح کے وقت صفوان ابن معطل سلمی اس جگہ سے گڑرے جہاں میں سو رہی تھی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے کیونکہ پردے کا حکم آنے سے پہلے وہ مجھے بارہا دیکھ چکے تھے۔ (یہ شخص بدری صحابیوں میں سے تھے اور انہیں صبح دیر تک سونے کی عادت تھی اس لیے یہ بھی لشکر گاہ میں کہیں پڑے سوے رہ گئے اور اٹھ کر مدینے چلے جارہے تھے) مجھے دیکھ کر انہوں نے اونٹ روک لیا اور بےساختہ زبان سے نکلا انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ رسول اللہ کی بیوی یہیں رہ گئیں۔ اس آواز سے میری آنک کھلی۔ میں نے اٹھ کر فوراً اپنے منہ پر چادر ڈال لی۔ انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہ کی۔ لا کر اپنا اونٹ میرے سامنے بٹھا دیا اور ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔ میں اونٹ پر سوار ہوگئی اور وہ نکیل پکڑ کر روانہ ہوگئے۔ دوپہر کے قریب ہم نے لشکر کو جا لیا کہ جب وہ اپنی جگہ پر جا کر ٹھہراہی تھا اور لشکر والوں کو ابھی یہ پتہ نہ چلا تھا کہ میں پچھیے چھوٹ گئی ہوں۔ اس پر بہتان اٹھانے والوں نے بہتان اٹھا دیئے اور ان سب میں پیش پیش عبد اللہ ابن ابی تھا۔ مگر میں اسے بیخبر تھی کہ مجھ پر کیا باتیں بنرہی ہیں۔ مدینہ پہنچ کر میں بیمار ہوگئی اور ایک مہینے کے قریب پلنگ پر پڑی رہی۔ شہر میں اس بہتان کی خبریں اڑ رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے کانوں تک یہ بات پہنچ چکی تھی۔ مجھے کچھ پتہ نہ تھا۔ البتہ جو چیز مجھے کھٹکتی تھی وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی وہ توجہ میری طرف نہ تھی جو بیماری کے زمانے میں ہوا کرتی۔ آپ ﷺ گھر میں آتے تو گھر والوں سے یہ پوچھ کر رہ جاتے کہ کیف تیکم ” کیسی ہیں یہ “ خود مجھ سے کوئی کلام نہ کرتے۔ اس سے مجھے شبہ ہوتا کہ کوئی بات ہے ضرور۔ آخر آپ سے اجازت لے کر میں ماں کے گھر چلی گئی تاکہ وہ میری تیمارداری اچھی طرح کرسکیں۔
ایک روز رات کے وقت حاجت کے لیے میں مدینے سے باہر گئی۔ اس وقت تک ہمار گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہوتے تھے۔ اور ہم لوگ جنگل میں جایا کرتے تھے۔ میرے ساتھ مسطح ابن اثاثہ کی ماں تھیں جو میرے والد کی خالہ زاد بہن تھیں۔ راستے میں اسے ٹھوکر لگی۔ بےساختہ ان کی زبان سے نکلا غارت ہو مسطح۔ میں نے کہا اچھی ماں ہو جو بیٹے کو کو ستی ہو اور بیٹا بھی وہ ‘ جس نے بدر میں حصہ لیا ہو۔ انہوں نے کہا ” بیتی تجھے کیا معلوم کہ وہ کیا باتیں کرتا ہے۔ پھر انہوں نے سارا واقعہ سنایا کہ افتراء پر واز لوگ میرے متعلق کیا باتیں اڑا رہے ہیں۔ میں گھر گئی اور رات بھر رو کر کاٹی۔ میرے پیچھے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی اور اسامہ ابن زید کو بلایا اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ اسامہ نے میرے حق میں کلمہ خیر کہا اور عرض کیا ‘ یا رسول اللہ بھلائی کے سوا آپ ﷺ کی بیوی میں کوئی چیز ہم نے نہیں دیکھی۔ یہ سب کچھ کذب اور باطل ہے جو اڑایا جارہا ہے۔ رہے حضرت علی ؓ تو انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ عورتوں کی کمی نہیں ہے۔ آپ ﷺ اس کی جگہ دوسری بیوی کرسکتے ہیں اور تحقیق کرنا چاہیں تو خدمت گزار لونڈی کو بلا کر حالات دریافت کرلیں۔ چناچہ خدمتگار کو بلایا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی۔ اس نے کہا اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ‘ میں نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی جس پر حرف رکھا جاسکے۔ بس اتنا عیب ہے کہ میں آٹا گوند کر کسی کام کو جاتی ہوں اور کہہ جاتی ہوں کہ بی بی ذرا آٹے کا خیال رکھنا مگر وہ سو جاتی ہیں اور بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے۔ اسی روز رسول اللہ ﷺ نے خطبہ فرمایا ” مسلمانو ! کون ہے جو اس شخص کے حملوں سے میری عزت بچائے جس نے میرے گھر والوں پر الزام لگا کر مجھے اذیت پہنچانے کی حد کردی ہے۔ بخدا نہ تو میں نے اپنی بیوی میں کوئی برائی دیکھی ہے اور نہ اس شخص میں جس کے متعلق تہمت لگائی جارہی ہے۔ وہ تو کبھی میری غیر موجودگی میں میرے گھر آیا بھی نہیں۔ اس پر اسید ابن حضیر (بعض روایات میں سعد ابن معاذض نے اٹھ کر کہا ” یارسول اللہ ﷺ اگر وہ ہمارے قبیلے کا آدمی ہے تو ہم اس کی گردن مار دیں گے اور اگر ہمارے بھائی خزرجیوں میں سے ہے تو بھی آپ حکم دیں ہم تعمیل کے لیے حاضر ہیں “۔ یہ سنتے ہی سعد ابن عبادہرئیس خزرج اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ” جھوٹ کہتے ہو تم ہر گز اسے نہیں مارسکتے۔ تم اس کی گردن مارنے کا نام اس لیے لے رہے ہو کہ وہ خزرج میں سے ہے۔ اگر وہ تمہارے قبیلے کا آدمی ہوتا تو تم کبھی نہ کہتے ” کہ ہم اس کی گردن مار دیں گے “۔ اسید ابن حضیر نے جواب میں کہا ” تم منافق ہو اس لیے منافقوں کی حمایت کرتے ہو “۔ اس پر مسجد نبوی ﷺ میں ہنگامہ برپا ہوگیا حالانکہ رسول اللہ ﷺ ممبر پر تشریف رکھتے تھے۔ قریب تھا کہ اوس اور خزرج مسجد میں ہی لڑ پڑیں مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کو ٹھنڈا کیا اور پھر ممبر سے اتر آئے۔
اس بہتان کی افواہیں کم و بیش ایک مہینے تک شہر میں اڑتی رہیں۔ نبی ﷺ سخت اذیت میں مبتلا تھے۔ میں روتی رہی۔ میرے والدین انتہائی پریشان اور رنج و غم میں مبتلا تھے۔ آخر کار ایک روز حضور ﷺ تشریف لائے اور میرے پاس بیٹھے ۔ اس پوری مدت میں وہ کبھی میرے پاس نہ بیٹھے تھے۔ حضرت ابو کبر اور ام رومان نے محسوس کیا کہ آج کوئی فیصلہ کن بات ہونے والی ہے اس لیے وہ دونوں بھی میرے پاس آکر بیٹھ گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا عائشہ ؓ مجھے تمہارے متعلق یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تم بےگناہ ہو تو امید ہے کہ اللہ تمہاری برات ظاہر کردے گا اور اگر واقعی تم گناہ میں مبتلا ہونی ہو تو اللہ سے توبہ کرو اور معافی مانگو۔ بندہ جب اپنے گناہ کا معترف ہو کر توبہ کرتا ہے تو اللہ معاف کردیتا ہے۔ یہ باتیں سن کر میرے آنسوں خشک ہوگئے۔ میں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کو جواب دیں۔ انہوں نے فرمایا بیٹی میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہوں۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ ہی کچھ کہیں۔ انہوں نے بھی کہا میں حیران ہوں کہ کیا کہوں۔ اس پر میں بولی کہ آپ لوگوں کے کانوں میں ایک بات پڑگئی ہے اور دلوں میں بیٹھ چکی ہے۔ اب اگر میں کہوں کہ میں بےگناہ ہوں اور اللہ گواہ ہے کہ میں بےگناہ ہوں تو آپ لوگ نہ مانیں گے۔ اور اگر خواہ مخواہ ایسی بات کا اعتراف کروں جو میں نے نہیں کی اور اللہ جانتا ہے کہ نہیں کی تو آپ لوگ مان لیں گے۔ میں نے اس وقت حضرت یعقوب کا نام یاد کرنے کی کوشش کی مگر یاد نہ آیا۔ آخر میں نے کہا ‘ اس حالت میں میرے لیے اس کے سوا اور کیا چارہ ہے کہ میں وہی بات کہوں جو حضرت یوسف کے والد نے کہی تھی فصبر جمیل یہ کہہ کر میں لیٹ گئی اور دوسری طرف کروٹ لے لی۔ میں اس وقت اپنے دل میں کہہرہی تھی کہ اللہ میری بےگناہی سے واقف ہے وہ ضرور حقیقت کھول دے گا۔ اگرچہ یہ بات تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ میرے حق میں وحی نازل ہوگی جو قیامت تک پڑھی جائے میں اپنی ہستی کو اس سیکم تر سمجھتی تھی کہ اللہ خود میری طرف سے بولے مگر میرا یہ گمان تھا کہ رسول اللہ ﷺ خواب دیکھیں گے کہ جس میں اللہ میری برات ظاہر کردے گا۔ اتنے میں کی ایک حضور ﷺ پر وہ کیفیت طاری ہوگئی جو وحی نازل ہوتے وقت ہوا کرتی تھی۔ حتی کہ سخت جاڑے کے زمانے میں موتی کی طرح آپ ﷺ کے چہرے سے پسینے کے قطرے ٹپکتے تھے۔ ہم سب خاموش ہوگئے۔ میں تو بالکل بےخوف تھی مگر میرے والدین کا حل یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ وہ ڈر رہے تھے کہ دیکھیں اللہ کیا حقیقت کھولتا ہے۔ جب وہ کیفیت دور ہوئی تو حضور بےحد خوش تھے۔ آپ ﷺ نے ہنستے ہوئے جو پہلی بات فرمائی وہ یہ تھی۔ مبارک ہو عائشہ ؓ ۔ اللہ نے تمہاری برائت نازل فرما دی۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے دس آیتیں سنائیں۔ میری والدہ نے کہا اٹھو اور رسول اللہ ﷺ کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے کہا نہ ان کا شکریہ ادا کروں گی نہ آپ دونوں کا بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں جس نے میری براءت نازل فرمائی۔ آپ لوگوں نے تو بہتان کا انکار تک نہ کیا۔
جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قسم اٹھائی کہ وہ اب کبھی مسطح پر کچھ خرچ نہ کریں گے۔ یہ غریب آدمی تھا اور حضرت صدیق ؓ کا رشتہ دار تھا ‘ آپ ان کی کفالت کرتے تھے۔ اس نے بھی حضرت عائشہ ؓ پر الزام لگانے میں حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں۔
(ولا یاتل۔۔۔۔۔۔ غفوررحیم) (24 : 22) ” تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار ‘ مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے۔
تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا ‘ ہاں میں چاہتا ہوں اور پسند کرتا ہوں کہ اللہ میرے گناہ بخش دے۔ پھر انہوں نے مسطح کا وہ وظیفہ جاری کردیا جو وہ انہیں دیا کرتے تھے اور حضرت ابوبکر ؓ نے کہا میں اس امداد کو کبھی بھی بند نہ کروں گا۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے زینب بن محش سے بھی میرے بارے میں پوچھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” زینب تم کیا جانتی ہو اور تم نے کیا دیکھا ہے ؟ اس نے کہا ‘ یارسول اللہ میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بچاتی ہوں۔ خدا کی قسم ‘ میں نے اس کے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانا۔ یہ زینب بن نجش ہی تھی جو ازواج مطہرات میں سے میرے مد مقابل تھی۔ اللہ نے اس کو اس کی خدا خوفی کی وجہ سے بچایا۔ لیکن اس کی بہن بن نجش اس کے لیے لڑ رہی تھی ‘ تو وہ ہلاک ہوئی ان لوگوں کے ساتھ ‘ جو افک کے معاملے میں ہلاک ہوئے۔
آپ نے دیکھا کہ یہ دن رسول اللہ ﷺ نے کس طرح گزارے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے خاندان نے یہ دن کس طرح گزارے۔ اور حضرت صفوان ابن معطل بیچارے پر کیا گزری ہوگی اور تمام مسلمانوں پر یہ دن ایسے گزرے کہ ان کی سانس گھٹ رہی تھی اور ہر شخص شدید مصیبت میں تھا۔ یہ حالات تھے جن میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ اس پریشان کن صورت حالات کے سامنے انسان نڈھال ہو کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ ایک المناک واقعہ تھا۔ آپ دیکھ رہے تھے کہ آپ کی زوجہ محترمہ کے لیے یہ صورت حالات کاٹ کھانے والی ہے جبکہ وہ نہایت ہی جواں سال اور کم عمر ہے۔ ان کی عمر کا غالباً سو لہواں سال تھا۔ یہ نہایت ہی حساس عمر ہوتی ہے اور زوجین کے درمیان نہایت ہی گہری محبت کا دور ہوتا ہے۔
یہ کم عمر لڑکی بےگناہ ہے۔ اس کا ضمیر صاف ہے۔ اس کے خیالات پاکیزہ ہیں لیکن اس پر یہ الزام نازک ترین اور حساس ترین معاملے میں لگایا جارہا ہے۔ اس کی شرافت دائو پر لگی ہوئی ہے۔ یہ صدیق کی بیٹی ہے اور وہ نہایت ہی پاکیزہ اور ارفع مقام پر زندگی بسر کررہی ہے۔ اس کی امانت کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ وہ حضرت محمد ابن عبداللہ سردار بنی ہاشم کی بیوی ہے اور اس کی وفاداری کو مشکوک بنایا جارہا ہے یہ ایک عظیم پیغمبر کی محبوب ترین بیوی ہے لیکن اس بیچاری کے اس رشتہ محبت کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے بلکہ اس کے ایمان کو خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ اس نے پرورش ہی ایمان کے مرکز میں پائی ہے۔ جب سے اس کی آنکھ کھلی ہے اس نے ایمان ہی ایمان دیکھا ہے اور پھر وہ نبی آخرالزمان ﷺ کی زوجہ ہے۔
اس پر الزام لگایا گیا ہے۔ کس قدر عظیم الزام جس سے وہ بری الذمہ اور بیخبر ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کرے اور کیا شہادت لائے کہ وہ پاک دامن ہے۔ بس صرف اللہ سے امید ہے۔ وہ امید کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ حقیقت کو خواب میں دیکھ لیں گے کہ وہ اس الزام سے بالکل بری الذمہ ہے۔ لیکن خواب ہے کہ نہیں آتا اور وحی ہے کہ بند ہوگئی ہے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت تھی۔ پورا ایک ماہ گزر گیا ہے اور یہ بیچاری اس عذاب عظیم میں غوطے کھارہی ہے۔
اس کی حالت اس وقت دگر گوں ہوجاتی ہے جب وہ ام مسطح سے پورے حالات سن لیتی ہے۔ وہ بیماری میں مبتلا ہے اور اس کی جان خطرے میں ہے ‘ وہ نہایت ہی کرب سے ماں کو کہتی ہے سبحان اللہ ‘ کیا لوگ یہ باتیں کررہے ہیں ؟ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ وہ نہایت ہی کرب سے پوچھتی ہیں کہ میرے باپ کو بھی اس کا علم ہوگیا ہے تو ماں کہتی ہیں ہاں ؟ تو وہ پوچھتی ہیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کا علم ہوگیا ہے ؟ تو ماں کہتی ہیں ’ ہاں۔ اور پھر اس پر وہ وقت آتا ہے کہ اللہ کا نبی جس پر وہ ایمان لائی ہے اور جو آپ کا خاوند ہے ‘ جس کے ساتھ اسے شدید محبت ہے۔ رسول اللہ ﷺ خود اس سے یوں مخاطب ہوتے ہیں۔ اما بعد ‘ مجھ تک تمہارے بارے میں یہ یہ باتیں پہنچی ہیں۔ اگر تم پاک دامن ہو تو خود اللہ جلد تمہاری پاکی بیان کر دے گا۔ اور اگر تم سے کوئی گناہ ہوگیا ہے تو اللہ سے توبہ کرو اور مغفرت طلب کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کرلیتا ہے اور پھر توبہ کرلیتا ہے تو اللہ اسے معاف کردیتا ہے “۔ اس کلام سے وہ اچھی طرح جان لیتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ بھی اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ ان کو یقین نہیں ہے کہ آپ بےگناہ ہیں۔ آپ پر جو الزام لگ چکا ہے اس کے بارے میں آپ فیصلہ بھی نہیں فرماتے۔ رب کریم کی طرف سے بھی وحی بند ہے۔ اللہ کی طرف سے بھی برائت نہیں آرہی ہے جس کا اسے خوب یقین ہے کہ وہ بری الذمہ ہے۔ لیکن بیچاری کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ پیش کرے۔ رات اور دن ایسے ہی گزر رہے ہیں اور اس عظیم قلب میں بھی وہ ملزمہ ہے حالانکہ آپ ﷺ کو ان سے جگری محبت ہے۔
حضرت ابوبکر ؓ آپ ﷺ کے وفاردار ساتھی ‘ نہایت ہی حساس اور پاک نفس ‘ ایسی حالت میں ہیں کہ یہ غم ہر وقت انہیں کاٹ کھا رہا ہے ان کی عزت پر حملہ ہوچکا ہے۔ ان کی محبوب بیٹی اور پھر رسول اللہ ﷺ کی بیوی۔ یاد رہے کہ حضرت محمد ﷺ آپ کے وہ ساتھی ہیں جن پر انہیں پورا یقین و اطمینان ہے۔ دوست کے ساتھ ساتھ وہ اس کے نبی ہیں ‘ جن پر وہ ایمان لائے ہیں۔ وہ آپ کی ہر بات کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ وہ تو آپ کے بارے میں کسی خارجی دلیل کے طلبگار ہی نہیں ہیں۔ ان کی باتوں ہی سے ان کے دل کا درد ظاہر ہے لیکن وہ صبر کرتے ہیں۔ درد پر قابو پاتے ہیں اور اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں خدا کی قسم دور جاہلیت میں بھی ہم پر یہ الزام نہیں لگا۔ کیا اسلام میں ہم اس پر راضی ہوں گے۔ یہ وہ بات ہے جس میں سخت تلخی چھپی ہوئی ہے یہاں تک کہ ان کی بیٹی جو بیمار بھی ہے سخت عذاب میں گرفتار ہے۔ وہ درخواست کرتی ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی بات کا جواب دیں تو صدیق کہتے میں خدا کی قسم میں رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔
ام رومان زوجہ صدیق ؓ وہ اپنی زخم خوردہ بیٹی کو ہر قسم کی تسلی دیتی ہے۔ اس کی بیمار بیٹی اس قدر روتی ہے شاید اس کا کلیجہ نکل آئے۔ وہ کہتی ہے بیٹی ذرا اپنے اوپر رحم کرو۔ خدا کی قسم جب بھی کوئی خوبصورت عورت کسی مرد کو محبوب ہوئی ہے اور اس کی سوکنیں ہوتی ہیں تو انہوں نے اس پر طرح طرح کے الزام لگائے ہیں۔ لیکن ان کی تسلیاں اس وقت کافور ہوجاتی ہیں عائشہ ؓ والدہ سے کہتی ہیں کہ تم میری طرف سے رسول اللہ ﷺ کو جواب دو ۔ تو وہ بھی یہی کہتی ہیں جو اس کے خاوند نے کہا تھا کہ خدا کی قسم میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا بات کرسکتی ہوں۔
اور وہ مسلم ‘ پاکباز اور مجاہد فی سبیل اللہ بھی عجیب پوزیشن میں ہے۔ اس پر اپنے نبی کی بیوی کے ساتھ برائی کا الزام ہے ؟ اسلام کے ہوتے ہوئے یہ عظیم الزام۔ اس کی دیانت و امانت ‘ اس کا شرف اور اس کی حمیت دائو پر لگی ہے۔ بلکہ اس کا اسلام خطرے میں ہے۔ جب وہ اس الزام کے بارے میں سنتا ہے تو بےساختہ کہتا ہے کہ خدا کی قسم میں نے تو کسی عورت کے کاندھے کو بھی ننگا نہیں کیا۔ وہ تو اس گناہ کے تصور سے بھی پاک ہے۔ پھر وہ سنتا ہے کہ حسان ابن ثابت اس کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا سر اڑادے مگر وہ رک جاتا ہے کیونکہ وہ مسلمان اور ایک مومن ہے اور مومن پر تلوار اٹھانا حرام ہے۔ اس پر جو گزر رہی ہے وہ اس کی برداشت سے زیادہ ہے وہ تو بےقابو ہوا چاہتا ہے۔
پھر رسول اللہ ﷺ جو اللہ کے رسول ہیں۔ آپ بنی ہاشم کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ کے گھرانے پر حملہ ہوا ہے۔ گھرانے میں سے بھی عائشہ ؓ پر ؟ آپ کے گھر پر اور آپ کی محبوب ترین بیوی پر۔ کوئی غیور عرب اس بات کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ایک ماہ گزر گیا ہے۔ مدینہ کے لوگ چہ میگوئیاں کررہے ہیں۔ لیکن آپ برداشت کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی سب کچھ دیکھ رہا ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ ایک ماہ گزر جائے۔ محمد ﷺ بھی تو انسان ہیں۔ ان کو بھی ایک انسان کی طرح درد اور دکھ محسوس ہوتا ہے۔ ان کا دل بھی دکھا ہوا ہے۔ آپ بھی وحشت محسوس کرتے ہیں کیونکہ اللہ کا نور جو ہر معاملے میں آپ کے دل کو ہمیشہ روشن کردیتا ہے اور راستہ صاف کردیتا ہے اس میں دیر ہو رہی ہے۔ اگرچہ آپ کی بیوی کی براءت کے قرائن موجود تھے۔ مگر انسان کا دل بہر حال شک کا محل ہوتا ہے۔ صرف قرائن سے مکمل اطمینان نصیب نہیں ہوتا جبکہ مدینہ کی پوری بستی اس آگ میں جل رہی ہے۔ آپ کے دل میں بھی اپنی محبوب بیوی کے بارے میں شک گزرتا ہے۔ آپ اس شک کو دل سے دور نہیں کرسکتے۔ بہر حال آپ بھی انسان اور بشر ہیں۔ انسانوں کی طرح آپ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ آپ خاوند ہیں لیکن بیوی کے پاس نہیں جاسکتے اور جب کسی انسان کے دل میں شک کا بیج بو دیا جاتا ہے اور وہ مستقلاً دل میں بیٹھ جاتا ہے تو یہ شک پھر دلیل قطعی اور فیصلہ کن واقعہ ہی سے نکل سکتا ہے۔
آپ ﷺ کے دل پر یہ بوجھ طاری ہوجاتا ہے۔ آپ ﷺ اپنے محبوب اسامہ ابن زید جو آپ ﷺ کو بہت محبوب اور آپ ﷺ کے دل کے قریب تھے۔ آپ ﷺ اپنے داماد اور چچازاد علی ؓ ابن ابی طالب کو بھی بلاتے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی آپ ﷺ مشورہ کرتے ہیں۔ جہاں تک حضرت علی ؓ کا تعلق ہے آپ تو حضور ﷺ کے عصبات میں سے ہیں۔ اس وجہ سے بھی ان کے جذبات بہت تیز ہیں۔ پھر حضور اکرم ﷺ جس کرب اور رنج اور اذیت کو جھیل رہے ہیں وہ بھی حضرت علی ؓ پر بار گراں ہے۔ کیونکہ آپ چچازاد ہیں۔ آپ مشورہ دیتے ہیں کہ اللہ نے آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہیں کی ہے لیکن حضور ﷺ کے دلی اطمینان کے لیے یہ بھی فرماتے ہیں کہ آپ حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں لڑکی سے پوچھیں ‘ خدمتگار لڑکی ہے۔
جہاں تک اسامہ کا تعلق ہے وہ جاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دل میں ان کی بیوی کی کس قدر محبت ہے اور آپ ایک عرصہ سے اپنی اہلیہ سے جدا ہیں تو وہ صاف صاف کہتے ہیں کہ ام المومنین پاک و صاف ہیں اور جو لوگ الزام لگاتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔
رسول خدا ﷺ اس انسانی پریشانی اور اس انسانی قلق میں حضرت اسامہ اور لڑکی کی باتوں اور شہادت سے حوصلہ پاتے ہیں۔ اور آپ لوگوں کو مسجد میں لا کر ان کے سامنے یہ معاملہ رکھ دیتے ہیں۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا :” کون ہے جو ان لوگوں سے پوچھے جنہوں نے ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ ان کی بیوی پر الزام لگایا ہے اور مسلمین میں سے ایک فاضل اور شریف شخص پر الزام لگایا ہے۔ ایساشخص جس کے بارے میں کوئی بری بات نہیں جانتا “۔ اس موقعہ پر اوس اور خزرج کے درمیان کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے حالانکہ وہ مسجد رسول ﷺ میں تھے اور رسول اللہ ﷺ بذات خود موجود تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عجیب و غریب وقت میں مسلمانوں پر کیسے خوفناک سائے منڈلا رہے تھے اور مدینہ کی فضا کیسی تھی۔ خود قیادت کا تقدس دائو پر لگا ہوا تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ کے دل میں بھی چبھن تھی اور جو روشنی (وحی) ایسے حالات میں راستہ دکھاتی رہتی تھی وہ بھی بند تھی۔ ایسے حالات میں حضور ﷺ عائشہ ؓ کے پاس جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں اور آپ سے بیان لیتے ہیں۔ مفصل بیان۔
جب یہ مصائب اس طرح اپنی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر اور مسلمانوں پر رحم فرماتے ہیں۔ قرآن مجید نازل ہوتا ہے اور عائشہ صدیقہ کی برأت کا اعلان ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کے گھرانے کی صفائی میں کلام الہیٰ آجاتا ہے اور ان منافقین کا پول کھل جاتا ہے جنہوں نے اس فتنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پھر اسلامی سوسائٹی کو ایسے حالات میں مستقلاً ہدایات دے دی دگئیں اور قانون سازی اور اخلاقی ضابطہ بندی کردی گئی ۔
قرآن کریم کی ان آیات کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ میں تو جانتی تھی کہ میں بےگناہ ہوں اور اللہ تعالیٰ میری بےگناہی کی شہادت دے دے گا۔ لیکن میرا خیال یہ نہ تھا کہ میرے اور میرے بےگناہی کے بارے میں قرآن کریم نازل ہوگا اور پھر یہ قرآن قیامت تک پڑھا جائے گا۔ میرے خیال میں ‘ میں اس قابل نہ تھی کہ میرے بارے میں اللہ تعالیٰ کلام کرے گا اور وہ کلام پڑھاجائے گا۔ ہاں یہ بات میں جانتی تھی اور امید کرتی تھی کہ شاید رسول اللہ کوئی خواب دیکھ لیں اور اس میں میری برأت ہوجائے “۔
اس تفصیلی بیان سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ معاملہ صرف عائشہ ؓ کی ذات کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ حضرت نبی ﷺ کے ساتھ بیھ متعلق تھا۔ اس واقعہ نے امت مسلمہ کی قیادت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا بلکہ اس کی زد رسول اللہ ﷺ اور ذات باری کے تعلق پر پڑ رہی تھی۔ یہ صرف حضرت عائشہ ؓ کی ذات پر الزام نہ تھا بلکہ یہ اسلامی نظریہ حیات ‘ اسلام کے نبی اور اسلام کے بانی پر الزام تھا اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں خود اپنا فیصلہ نازل کیا تاکہ اس سازش کے تار و بود بکھیر دیئے جائیں۔ اور اسلام اور رسول اللہ ﷺ اسلام کے خلاف جو سازش منافقین نے تیار کی تھی اسے ختم کردیا جائے اور اس کے پیچھے جو راز اور حکمت تھی ‘ اللہ اسے ظاہر کر دے کیونکہ اس کا علم صرف اللہ کو تھا۔
(ان الذین۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب عظیم) (24 : 11) ” جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں۔ اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا تو عذاب عظیم ہے “۔
یہ چند لوگ نہ تھے بلکہ ایک ٹولہ تھا۔ یہ لوگ آپ میں ملے ہوئے تھے اور ان سب کا ایک ہی ہدف تھا۔ صرف عبدالل ابن ابی ابن السلول واحد شخص نہ تھا جس نے یہ جھوٹ پھیلایا۔ ہاں یہ شخص اس کے بڑے حصہ کا ذمہ دار تھا۔ یہ گروہ کون تھا۔ یہ یہودیوں اور منافقین کا گروہ تھا۔ یہ لوگ میدان جنگ میں اسلام کے مقابلے پر شکست کھا گئے تھے اور اب پس پردہ رہ کر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ افک کا یہ واقعہ ان کی سازشوں میں سے ایک سازش تھی اس معاملہ میں بعض مومنین بھی شامل ہوگئے تھے۔ مثلاحمسنہ بنت جحش ‘ حضرت حسان ابن ثابت ‘ سطح ابن اثاثہ۔ لیکن اصل سازش اس گروہ نے تیار کی تھی۔ اور اس گروہ کا سرغنہ عبدالل ہابن ابی ابن السلول تھا۔ یہ اس قدر مکار تھا کہ وہ اس مہم میں خود ظاہر ہو کر نہ آیا تھا۔ اور اس گروہ کا سرغنہ عبد اللہ ابن ابی ابن السلول تھا۔ یہ اس قدر مکار تھا کہ وہ اس مہم میں خود ظاہر ہو کر نہ آیا تھا۔ بظاہر اس نے کوئی بات نہ کی تھی کہ اسے پکڑا جاسکے اور اس پر حد جاری کی جاسکے۔ یہ ان لوگوں کے ساتھ کانا پوسی کرتا تھا جو اس کے معتمد علیہ تھے اور اس کے خلاف شہادت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ یہ مہم اس قدر مہارت سے چلا رہا تھا کہ پورا مدینہ ایک ماہ تک آتش فشاں اور زلزلہ خیز فضا میں جلتا رہا۔ لوگ اس دنیا کے پاکیزہ ترین گھر کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ یہاں آیات میں آغاز کلام ہی میں اس اصل موضوع کے بارے میں کہا جاتا ہے تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو۔ اور لوگوں کو معلوم ہو کہ اسکی پشت پر ایک گروہ ہے جو اسلام کے خلاف اس قدر گہری سازش تیار کررہا ہے اور یہ ایک عظیم حملہ تھا اسلام اور اہل ایمان اور ذات نبی کے خلاف۔
اس کے بعد جلدی سے مطمئن کردیا جاتا ہے۔
لاتحسبوہ شرالکم بل ھو خیر لکم (24 : 11) ” اس واقعہ کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو ‘ بلکہ یہ تمہارے لیے خیر ہی ہے “۔ یہ تمہارے لیے خیر ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اور آپ کے اہل بیت کے عنوان سے یہ دراصل اسلام کے دشمان ہیں جنہوں نے افک کی سازش کو تیار کیا۔ اس واقعہ سے اس بات کی ضرورت کو بھی تسلیم کرلیا گیا کہ حد قذف اسلامی نقطہ نظر سے کس قدر ضروری ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر زبانوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو اس کے نتیجے میں پاک دامن عورتوں پر کس قدر زبانیں اٹھیں گی اور اسلامی جماعت اور نئی اسلامی سوسائٹی کے لیے کس قدر خطرات پدا ہوجائیں گے۔ یہ الزامات رسول کے گھر تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور اعلیٰ گھرانوں کو بھی تباہ کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں سوسائٹی کے اندر شرم وحیا اور احتیاط اور پاکیزگی اور احترام آدمیت ختم ہو سکتے ہیں۔
نیز اس سے اسلامی سوسائٹی کو یہ سبق بھی سکھایا گیا کہ اس نے اس قسم کے جذباتی اشتعال انگیز امور سے کس طرح نمٹنا ہے اور جذباتی معاملات میں بھی وقار اور سنجیدگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا۔
رہے وہ آلام اور اذیتیں جو رسول اللہ ﷺ ‘ ان کے گھرانے ‘ اور تمام مومنین نے برداشت کیے تو وہ ایسے تجربات کی قیمت ہوتے ہیں جو ان آزمائشوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ آزمائش میں اس قسم کی قربانی دینا پڑتی ہے اور فرائض کی ادائیگی میں ایسے مراحل بھی آتے ہیں۔
وہ لوگ جو اس افک کے معاملے میں سرگرم رہے ان میں سے ہر ایک نے اپے جرم کے مطابق اس میں سے حصہ پایا۔
لکل ۔۔۔۔۔۔۔ منالاثم (24 : 11) ” جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے انتہائی گناہ سمیٹا “۔ اسے اپنے جرم کے مطابق قیامت میں سزا ملے گی۔ انہوں نے جو کچھ کمایا وہ ان کے لیے اچھا نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ایسا جرم ہے جس پر ان کو دنیا کی زندگی میں بھی سزا ملے گی اور آخرت میں بھی سزا ملے گی۔
والذی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب عظیم (24 : 11) ” اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سرلیا اس کے لیے عذاب عظیم ہے “۔ وہ شخص جس نے اس گناہ کے بڑے حصے کو اپنے سرلیا ‘ جسنے اس حملے کی قیادت کی ‘ اس مہم کو چلاتا رہا اور اس نے اس مہم کو گرمایا وہ عبداللہ بن ابی ابن السلول تھا۔ یہ رئیس المنافقین کے لقب سے مشہور ‘ تھا اور ہے۔ اس نے اس سازش کے جھنڈے اٹھارکھے تھے۔ یہ شخص خوب جانتا تھا کہ وہ کس جگہ میدان جنگ گرمائے۔ اگر اللہ تمام امور پر محیط نہ ہوتا۔ اللہ نے اپنے دین کی حفاظت کا ذمہ نہ لیا ہوتا نہ اور اپنے رسول کے لیے بچائو کا انتظام نہ کرتا تو یہ شخص کیا کچھ نہ بنا دیتا۔ روایات میں آتا ہے کہ جب صفوان ابن معطل ام المومنین کے کجا دے کو لے کر کیمپ میں پہنچے تو ابن السلول اپن کچھ لوگوں میں بیٹھا ہوا تھا۔ تو اس نے پوچھا کہ یہ عورت کون ہے تو لوگوں نے کہا یہ عائشہ ؓ ہے تو اس نے کہا خدا کی قسم یہ اس سے نہ بچ سکی ہوگی اور نہ وہ اس سے بچ سکا ہوگا۔ اور پھر کہا دیکھو تمہارے نبی کی بیوی ‘ وہ رات ایک مرد کے ساتھ رہی۔ صبح تک اور وہ ہے کہ اب اسے لے کر آرہا ہے۔
یہ باتیں وہ رات اور دن اپنے اعتمادی لوگوں کے درمیان پھیلاتا رہا اور گہری منافقانہ چالیس چلتا رہا۔ اس کی چالیں اس قدر کا میاب رہیں کہ مدینہ میں یہ ناقابل تصدیق افتراء جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ حالانکہ قرائن سب کے سب اس کے خلاف تھے۔ یہاں تک غیر محتاط دیندار مسلمانوں نے بھی باتیں شروع کردیں اور پورے ایک ماہ تک مدینہ میں یہی بات موضوع سخن رہی حالانکہ یہ اس قدر سطحی قسم کا افتراء تھا کہ اس کو سنتے ہی رد کیا جاسکتا تھا۔
انسان آج بھی اس بات پر یقین نہیں کرسکتا اور حیران رہ جاتا ہے کہ اس قسم کا گھٹیا الزام کس طرح مدینہ کے اندر پھیل گیا اور پھر جماعت مسلمہ کے اندر بھی بعض غیر محتاط لوگوں نے اس میں کلام کرنا شروع کردیا۔ یوں ان بلند ترین پاکیزہ ہستیوں کو اس افراء سے اس قدر اذیت جھیلنا پڑی۔ خصوصاً سرور کونین کو۔
یہ ایک عظیم اعصابی جنگ تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے بڑی بےجگری سے یہ جنگ لڑی۔ جماعت مسلمہ نے یہ جنگ لڑی اور پور اسلام نے یہ جنگ لڑی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام اور کفر کے معرکوں میں سے یہ سخت معرکہ تھا اور حضور اکرم ﷺ اور مسلمان اس معرکے سے سرخرو ہو کر نکلے۔ حضور اکرم ﷺ نے وقار کا دامن تھامے رکھا۔ صبر جمیل کا دامن تھامے رکھا اور یہ ثابت کردیا کہ آپ ﷺ عظیم انسان ہیں۔ اس پورے عرصے میں کوئی ایک روایت بھی ایسی نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ آپ نے کسی بھی مرحلے میں بےصبری کا مظاہرہ کیا ہو۔
جس طرح کا درد اور دکھ اور چبھن آپ ﷺ محسوس کررہے تھے وہ پوری زندگی میں آپ نے کبھی نہ جھیلے تھے۔ لیکن آپ نے سب کچھ چھپائے رکھا۔ اسلام بھی کبھی اس قسم کے فتنے سے دو چار نہ ہوا تھا۔ اس طرح اس اعصابی جنگ اور پرو پیگنڈے کی جنگ کی وجہ سے امت مسلمہ کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔
حالانکہ اگر کوئی اپنے دل میں ذرا بھی غور کرتا تو وہ صحیح نتیجے تک پہنچ سکتا تھا۔ اگر کوئی دل سے فتویٰ پوچھتا تو دل اس کو فتویٰ دے دیتا ۔ اگر فطری انداز کوئی اختیار کرتا تو فطرت کا استدلال اس کی سمجھ میں آجاتا۔ قرآن کریم کی تعلیم تو یہی تھی کہ تم لوگ حالات کا تجزیہ کرو ‘ غور فکر کرو اور قاضی عقل کے سامنے بھی اپنے معاملات کو پیش کرو۔
النور 24:12
(لولآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مبین) (24 : 12) ” جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے ؟ “ ہاں یہ درست ہے کہ اہل ایمان سنتے ہی یہ کہہ دیتے۔ وہ اپنے بھائیوں کے بارے میں حسن ظن سے کام لیتے تو یہ ان کے لیے اچھا ہوتا۔ اور یہ فرض کرلیتے کہ ایک مسلمان اس قدر گندے کام میں ملوث نہیں ہو سکتا۔ پھر اس کے نبی کی پاک بیوی اور ان کے بھائی مسلم۔ یہ تو خود ان میں سے تھے۔ نہ حضرت نبی ﷺ کی حریم اور نہ اس صحابی کے ساتھ یہ بات لائق تھی جو انہوں نے سنی۔ ان کو حسن ظن کا معاملہ رکھنا چاہیے تھا جیسا کہ ابو ایوب خالد ابن زید انصاری اور ان کی بیوی نے ایسا ہی کیا۔ امام ابن اسحاق نے روایت کی ہے۔ ابو ایوب کو اس کی بیوی ام ایوب نے کہا تم سنتے نہیں ہو کہ لوگ حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اس نے کہا ہاں میں بھی سنتا ہوں لیکن یہ جھوٹ ہے۔ ام ایوب کیا تم ایسا کر تیں ہو ؟ تو اس نے کہا نہیں خدا کی قسم میں تو ہر گز ایسا نہ کرتی۔ تو پھر عائشہ تو تم سے بہتر ہیں۔ امام محمود ابن عمر زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں نقل کیا ہے۔ کہ ابو ایوب نے ام ایوب سے یہ کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگ کیا کہتے ہیں تو اس نے کہا اگر تم صفوان کی جگہ ہوتے تو کیا تم رسول اللہ ﷺ کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کے بارے میں سوچ سکتے تھے۔ تو اس نے کہا ہر گز نہیں۔ اگر میں عائشہ کی جگہ ہوتی تو میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیانت نہ کرتی۔ عائشہ ؓ مجھ سے اچھی ہیں اور صفوان تم سے اچھے ہیں۔
یہ دونوں روایات یہ بتاتی ہیں کہ بعض مسلمانوں نے اس مسئلے پر اپنے ہاں غور کیا تھا۔ اپنے دل سے استفثاء کیا تھا اور ان کے عقول نے ان کو یہ باور کرادیا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ اور یہ بات غلط ہے کہ مسلمانوں میں سے کسی کی طرف اس قسم کی گراوٹ کو منسوب کیا جائے اور وہ بھی محض شب ہے کی بناء پر محض بدظنی کی بناء پر۔
یہ تو پہلی راہ ہے جس کی نشاندہی قرآن مجید کرتا ہے کہ کسی بھی معاملے میں ذرا گہرے غور اور قیاس کے بعد کوئی رائے قائم کرو۔ اپنے نفس سے پوچھو ‘ اپنے وجدان سے پوچھو ‘ اور دوسری جگہ قرآن یہ بتاتا ہے کہ کسی بھی معاملے میں تمہارے پاس دلیل ہونا چاہیے۔ بغیر دلیل وبرہان کے ایسے نازک معاملات میں فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔
النور 24:13
(لولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم الکذبون) (24 : 13) ” یہ افتراء جس نے نہایت ہی بلند مقامات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ‘ پاک ترین لوگوں کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اسے تو اس قدر آسان اور سہل نہ سمجھنا چاہیے تھا۔ بغیر ثبوت کے اس کی اشاعت کیوں ہوئی اور کیوں اس قدر چرچا ہوا۔ کیوں یہ نقل درنقل ہوتی رہی بغیر شہادت کے ۔ اس الزام کے حق میں تو کوئی شہادت نہ تھی لہٰذا سمجھ لینا چاہیے تھا کہ یہ جھوٹ بکا جارہا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔ حقیقت واقعہ کے مطابق جھوٹے ہیں اور اللہ کا فیصلہ اور اللہ کا حکم تو بدلتا نہیں۔ اس لیے یہ ان لوگوں کی اب دائمی صفت ہے جنہوں نے افتراء میں حصہ لیا اور یہ کبھی بھی اس کے نتائج سے بچ کر نکل نہیں سکتے۔
یہ ہیں دو طریقے۔ ایک یہ کہ کسی بھی معاملے کو سب سے پہلے عقل و قیاس کے مفتی کے سامنے پیش کردو۔ خود اپنے قلب و ضمیر میں اس کا فیصلہ کرو۔ اور دوسرا طریقہ ہے قانون ثبوت کا ۔ حادثہ افک میں عام لوگوں نے یہ دونوں طریقے استعمال نہ کیے اور منافقین کی چال میں سب لوگ آگئے۔ پھر بعض اہل ایمان بھی رسول اللہ ﷺ کے ، خلاف چلائی ہوئی اس مہم میں شریک ہوگئے۔ جبکہ یہ ایک عظیم معاملہ تھا۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ڈراتے ہیں کہ وہ آئندہ محتاط رہیں۔ دوبارہ یہ حرکت نہ کریں۔
النور 24:14
(ولولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب عظیم) (24 : 14) ” اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحم و کرم نہ ہوتا تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آلیتا “۔ اللہ تعالیٰ نے نئی تشکیل پانے والی جماعت مسلمہ کے لیے یہ واقعہ بطور آزمائش رو نما کرایا تو اللہ نے اس کو اپنے فضل اور رحم و کرم کے ذریعہ یوں خوش اسلوبی سے حل کرا دیا۔ اس عظیم غلطی پر کسی کو سزانہ دی ورنہ یہ فعل تو سخت سزا کا مستحق تھا کیونکہ اس واقعہ کے ذریعہ اہل مدینہ نے محبوب خدا ﷺ کو سخت اذیت دی تھی۔ لہٰذا مناسب تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سخت سزاد یتے۔ نبی ﷺ کے علاوہ اس واقعہ میں آپ کے صدیق ساتھی ‘ آپ کی محبوب اہلیہ اور ایک صادق اور پاکباز مسلمان کو اذیت دی گئی۔ پھر اس عظیم شر کی وجہ سے اسلام کے تمام مقدساتا کو ہلا کر رکھ دیا گیا۔ منافقین نے یہ سازش اس قدر گہرائی سے تیار کی تھی کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کی بنیادوں ہی کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ اگر نبی پر اہل ایمان کا اعتماد ہی نہ رہے اور نبی کے خاندان پر نہ رہے اور پھر وحی الہیٰ پر نہ رہے تو ظاہر ہے کہ اسلام ختم ہی سمجھا جائے گا اور ایسے حالات کا تقاضا یہ تھا کہ اس فتنے کے حاملین کو سخت سزادی جاتی اور ان پر اللہ کا عذاب بھی آتا مگر اللہ نے فضل و کرم کیا کہ اس آزمائش میں مسلمان کا میاب رہے۔
اس پورے مہینے میں مدینہ کی جو صورت حالات تھی اس کا اظہار قرآن کریم کے ان الفاظ سے اچھی طرح ہوجاتا ہے کہ مدینہ میں کس قدر فکری انتشار تھا۔ لوگوں کے معیار کس قدر بدل گئے تھے۔ ان کی اقدار اور پیمانے کس طرح بدل گئے تھے۔ اس وقت وہ کیسی غلطی کررہے تھے۔
النور 24:15
(اذتلقونہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنداللہ عظیم) (24 : 15) ” جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی چلی جارہی تھی “۔ بغیر کسی تدبر ‘ بغیر کسی غور فکر ‘ بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے ایک بات تھی جو لوگ کہتے چلے جاتے تھے۔ گویا یہ بات کانوں کے ذریعے دل و دماغ تک غور کے لیے پہنچ نہ پاتی تھی کہ اسے دوسری زبان اچک لیتی تھی۔
(وتقولون۔۔۔۔۔۔ بہ علم) (24 : 15) ” اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے تھے جس کا تمہیں علم نہ تھا “۔ منہ سے کہتے تھے مگر اس کا تمہیں یقینی علم نہ تھا۔ تمہارے دل و دماغ اسے حقیقت کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ الفاظ تھے جو زبانوں پر جاری ہوگئے۔ کسی علم و اور اک سے یہ باتیں ثابت نہ تھیں۔ پھر وتحسبونہ ھینا وھو عنداللہ (24 : 15) ” تم اسے معمولی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی بات تھی “۔ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کی حریم پر الزام لگا رہے تھے ۔ تم رسول اللہ ﷺ اور ان کی اہلیہ کے لیے وہ درد پیدا کررہے تھے جس سے ان کا خون خشک ہورہا تھا۔ پھر تم حضرت صدیق اکبر ؓ کے گھر پر الزام لگا رہے تھے جن پر جاہلیت کے دور میں بھی کوئی الزام نہ لگا تھا۔ تم رسول اللہ ﷺ کے ایک مجاہد صحابی پر یہ الزام لگا رہے تھے جبکہ وہ پاک تھا۔ پھر ان الزامات سے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی توہین ہورہی تھی۔ یہ تمام باتیں اللہ کے نزدیک اس قدر عظیم تھیں کہ قریب تھا کہ پہاڑ ٹل جائیں اور آسمان تم پر ٹوٹ پڑے اور تمہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا جائے۔
مناسب تو یہ تھا کہ یہ بات سنتے ہی مسلمانوں کے دل اس سے بدک جاتے ۔ اس بات کو زبان پر نہ لایا جاتا اور اس کو موضوع بحث بنانے سے گزیز کیا جاتا۔ اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول پر چھوڑ دیا جاتا اور اس جھوٹی سازش کو مدینہ کی پاک اسلامی فضا سے گند کی طرح دور پھینک دیا جاتا۔
النور 24:16
(ولو لآ۔۔۔۔۔۔۔ عظیم) (24 : 16) ” کیوں نہ اسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا ‘ سبحان اللہ یہ تو بہتان عظیم ہے۔ جب یہ بات مسلمانوں کے دلوں میں اتار دی جاتی ہے کہ لوگوں سے کس قدر عظیم کوتاہی ہونی ہے اور دلوں کو اچھی طرح جھنجھوڑ دیا جاتا ہے۔ لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ ان سے کس قدر عظیم کوتاہی ہوئی ہے تو پھر لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے کہ دیکھو آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا۔ یہ تم نے بہت ہی عظیم جرم کیا ہے ۔
النور 24:17
(یعظیکم اللہ ان تعودو المثلہ) (24 : 17) ” اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسی کر حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو “۔
یعظکم اللہ ” اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے “ موثر تربیتی انداز میں بات ہورہی ہے۔ ایسے حالات میں کہ غلطی کے بعد لوگوں کو احساس ہوگیا کہ تم نے کس قدر عظیم غلطی کی ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ لوگ سمع و اطاعت اور اعتبار کے لیے تیار ہیں۔ ان کو سخت الفاظ میں تنبیہ بھی کردی جاتی ہے کہ اس حرکت کا اعادہ نہ کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارا ایمان خطرے میں ہوگا کیونکہ مومن نصیحت قبول کرتے ہیں اور جب ان کو کھول کر بتا دیا گیا ہے کہ انہوں نے کس قدر برا کام کیا ہے تو اب ان کا فرض ہے کہ اگر وہ مومن ہیں تو اس کا اعادہ نہ کریں۔
النور 24:18
(ویبین اللہ۔۔۔۔۔۔۔ حکیم) (24 : 18) ” اللہ تمہیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے وہ علیم و حکیم ہے “۔ جیسا کہ افک کے معاملے میں اس نے تمہیں ہدایات دیں ‘ اس کی تہ میں پوشیدہ مقاصد کو واضح کیا اور خود اہل اسلام سے جو کو تاہیاں ہوئیں اور اللہ چونکہ علیم ہے اس لیے وہ تمام لوگوں کی نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ ہر شخص نے اس معاملے میں جو حصہ لیا اور اس کے پیش نظر جو مقصد تھا اس کو اللہ جانتا ہے کیونکہ وہ دلوں کے خفیہ بھیدوں کو جانتا ہے اور اس معاملے میں اللہ نے جو جوابی تدابیر اختیار کیں وہ حکمت پر مبنی ہیں۔ نیز وہ جو قانون و ضع کرتا ہے وہ گہری حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں لوگوں کی اصلاح و فلاح ہوتی ہے۔
اس کے بعد اب واقعہ افک پر ایک تبصرہ آتا ہے۔ اس واقعہ کے جو آثار اور اثرات معاشرے کے اندر رہ گئے تھے ان کو بالکلیہ مٹانے اور نفوس مسلمہ کو اس سے پاک کرنے کے لیے مکرر طور پر مسلمانوں کو ڈرایا جاتا ہے کہ ایسا ساننحہ دو بارہ واقع نہ ہونا چاہیے۔ اس بار تو اللہ نے فضل و کرم کردیا لیکن آئندذہ جو لوگ بیخبر پاک دامن عورتوں پر اس قسم کے الزامات عائد کریں گے دنیا و آخرت دونوں میں وہ عذاب الہیٰ سے بچ نہ سکیں گے۔ یہ وعید اس لیے لائی گئی کہ دنیاوی تعلقات اور دنیاوی موجوں سے بلند ہو کر ان کی صفوں میں از سر نو تطہیر اور روشنی آجائے۔ مثلا حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے ایک قریبی رشتہ دار مسطح ابن اثاثہ کے درمیان تعلقات کی تطہیر ہوئی۔ یہ شخص بھی ان دنوں اس بحران میں بہت ہی سرگرم ہوگیا تھا۔
النور 24:19
(ان الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وانتم لا تعلمون) (24 : 19) ” جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا کے مستحق ہیں۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے “۔ وہ لوگ جنہوں نے پاک دامن عورتوں پر الزامات عائد کیے خصوصاً وہ لوگ جنہوں نے حریم نبوی پر بےبنیاد الزام لگانے کی جرأت کی ان لوگوں کی اصل خواہش یہ ہے کہ یہ جماعت مسلمہ کے اندر سے بھلائی اور عفت اور پاکیزگی کے اعتماد کو متزلزل کردیں اور فحاشی کا اس قدر جھوٹا ڈھنڈورا کریں کہ لوگ اس کے بارے میں دلیر ہوجائیں۔ لوگ یہ کہیں کہ یہ بےحیائی تو بڑے لوگوں میں عام ہے۔ اس طرح وہ جھوٹے قصوں سے فحاشی کی مجالس گرم کر کے اس کو عام کردیں۔
یہ ہے ان جھوٹے الزاموں کا اثر۔ قرآن کریم یہ سمجھا نا چاہتا ہے کہ جھوٹے الزامات کی وجہ سے فحاشی پھیلتی ہے اس لیے ایسے لوگوں کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں عذاب الیم تجویز کیا گیا ہے۔
قرآن کے انداز تربیت کا یہ ایک انداز ہے اور بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ قانون اور سزا امتناعی تدابیر میں سے ایک تدبیر ہے اور یہ تدابیر اللہ ہی اختیار کرسکتا ہے جو انسانی نفسیات کا خالق ہے اور وہی اچھی طرح جانتا ہے کہ انسانی شعور کو ان کیفیات میں رنگا جاسکتا ہے اور اس کے رخ کو کس انداز سے اچھی سمت دی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتے ہیں۔
واللہ یعلم وانتم لاتعلمون (24 : 19) ” اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو “۔ انسانی نفسیات کو اس ذات سے زیادہ کون جانتا ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے اور انسانی طرز عمل کو اچھے انداز میں کون چلاسکتا ہے ماسوائے اس کے جس نے اس کو وجود بخشا ہے۔ کون ہے جو ظاہر اور باطن سے واقف ہے اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے وہی تو علیم وخبیر ہے۔
النور 24:20
اللہ تعالیٰ دوبارہ مسلمانوں کو اپنے فضل و کرم کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
(ولولا فضل اللہ۔۔۔۔۔۔۔ رحیم) (24 : 20) ” اور اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ شفیق و رحیم ہے تو ۔۔۔ “ تو یہ حادثہ بڑا ہی عظیم تھا اور جو غلطی تم سے ہوگئی وہ کوئی معمولی غلطی نہ تھی۔ اور اس کے اندر جو شرارت پوشیدہ تھی وہ تمہیں خوب نقصان پہنچا دیتی۔ لیکن یہ اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تھا اور اس کی مہربانی اور اس کی نگرانی تھی کہ اس نے اس امر عظیم کے برے نتائج کو کنٹرول کرلیا۔ یہ بات اللہ بار بار ذکر فرماتا ہے۔ اس واقعہ کو اللہ ذریعہ تربیت بنا رہا ہے کیونکہ اس کے اثرات مسلمانوں کی اجتماعی زندگی پر پڑ رہے تھے۔
جب یہ باور کرادیا گیا کہ یہ عظیم فتنہ قریب تھا کہ تحریک اسلامی کے اجتماعی نظام کو تہس نہس کروئے اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو اب بتایا جاتا ہے کہ ذراسوچو تو سہی کہ تم تو شیطانی نقوش قدم پر چل پڑے تھے جو تمہارا جدی دشمن ہے۔ ” تمہیں شیطان کے قدموں پر نہیں چلنا چاہیے۔ آئندہ کے لیے اس قسم کی شیطانی حرکات سے بازرہو جن کے نتیجے میں پوری سوسائٹی ایسے شرکا شکار ہوجائے جس طرح جنگل میں آگ لگ جاتی ہے۔
النور 24:21
(یا یھا الذین امنوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ سمیع علیم) (24 : 21) ” اے لوگو ‘ جو ایمان لائے ہو ‘ شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہو سکتا۔ مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے “۔
کیا یہ کوئی اچھا منظر ہوگا کہ شیطان قدم رکھتا جائے اور اس کے نقوش قدم پر ایک مومن قدم رکھتا جائے حالانکہ تمام انسانوں کے مقابلے میں مومن اس کا زیادہ مستحق ہے کہ وہ شیطان سے نفرت کرے اور شیطان کی مقرر کردہ راہ سے دور جا کر سیدھی راہ پر چے۔ یہ تو ایک مکروہ صورت ہے جس سے ایک مومن نفرت کرتا ہے۔ اس کا وجدان اور شعور ہی اس منظر سے کانپ اٹھتا ہے۔ اس کا خیال کرتے ہی اس کے رونگٹے کھڑ ہوجاتے ہیں۔ اتباع شیطان کی یہ تصویر کشی ایک مومن کو چو کمنا کردیتی ہے اور وہ شیطان کی راہ پر چلنے سے حساس ہوجاتا ہے۔
(ومن یتبع۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والمنکر) (24 : 21) ” شیطان کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور منکر ہی کا حکم دے گا “ اور واقعہ افک اس کا بہت ہی خوبصورت نمونہ ہے کہ اس میں اس نے پورے اہل مدینہ کو ملوث کردیا۔ شیطان کے کارناموں میں سے یہ ایک مکروہ کار نامہ ہے۔
انسان بہت ہی ضعیف ہے۔ یہ شیطانی اکساہٹ کا شکار ہو سکتا ہے اور پھر گناہ میں ملوث بھی ہو سکتا ہے۔ صرف اللہ کا فضل و کرم ہی اسے بچا سکتا ہے لیکن اللہ کا فضل و کرم بھی اسے تب بچائے گا کہ یہ اللہ کے فضل و کرم کی طرف متوجہ تو ہو اور اللہ کے منہاج پر چلنے کی سعی تو کرے۔
(ولولا فضل اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ یزکی من یشآئ) (24 : 21) ” اگر اللہ کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص بھی پاک نہ ہو سکتا “۔ اس لیے کہ یو نورربی ہی ہوتا ہے جو قلب میں روشنی پیدا کرتا ہے اور اسے پاک و صاف کردیتا ہے۔ اگر اللہ کا فضل و کرم اور یہ نور نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی پاک و صاف نہ رہ سکتا۔ اللہ سمیع وعلیم ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے ‘ پاک کردیتا ہے بشرطیکہ اس کے اندر بھلائی استعداد ہو۔
اس تزکیہ اور طہارت کی تلقین کے بعد اب اہل ایمان کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اس شر کے نتیجے میں جو تلخیاں پیدا ہوگئی ہیں ان کو دور کر دو ‘ جس طرح تم اللہ سے معافی کے امیدوار ہو۔ اسی طرح آپس میں بھی ایک دوسرے کو معاف کردو۔
النور 24:22
(ولا یأتل۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ غفوررحیم) (24 : 22) ” تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار ‘ مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہیے اور در گزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے “۔
یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت عائشہ صدیقہ ؓ کی برأت کا اعلان ہوچکا تھا۔ یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ مسطح ابن اثاثہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے افک کے معاملے میں با تمہیں کیں۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے قریبی رشتہ دار تھے اور فقرائے مہاجرین میں سے تھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان پر خرچ کیا کرتے تھے۔ حضرت نے قسم اٹھا لی کہ وہ آئندہ مسطح کو کوئی فائدہ نہ دیں گے۔
یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابوبکر ؓ اور مومنین کو یاد دہانی کرائی گئی کہ وہ خود جب غلطیاں کرتے ہیں تو یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ انہیں معاف کردیں گے تو خود بھی ان میں بعض اگر بعض لوگوں کے بارے میں غلطی کریں تو ان کو معاف کرنا چاہیے۔ اور وہ جو بھلائی بھی کسی کے ساتھ کرتے تھے اسے نہ روکیں اگرچہ اس معاملے میں اس شخص سے غلطی ہوئی ہو۔
یہاں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ پاک دل لوگ کس قدر اونچی سطح کے لوگ تھے۔ ان کے دلوں کو نور ربانی نے پاک کردیا تھا۔ حضرت صدیق ؓ کا نفس کس قدر بلند اخلاقی کا نمونہ پیش کرتا ہے کہ اس واقعہ کے متاثرین میں سے وہ نہایت ہی گہرائی کے ساتھ متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے اس بہتان کی تلخیوں کو بہت ہی زیادہ جھیلا تھا۔ جب وہ اپنے رب کی نصیحت سنتے ہیں۔ جب یہ سوال ان کے پردہ وجدان کے ساتھ ٹکراتا ہے۔
(الآ تحبون ان یغفر اللہ لکم) (24 : 22) ” کیا تم پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تمہاری مغفرت کرے “ تو ان کی تمام رنجشیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اب قبائلی اور خاندانی سوچ ختم ہوجاتی ہے یہاں تک کہ ان کی روح شفاف اور صاف ہوجاتی ہے۔ ان کے دل کی دنیا روشن ہوجاتی ہے۔ وہ پکار اٹھتے ہیں ہاں میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ میرے گناہوں کو بخش دے۔ وہ مسطح کی امداد بحال کردیتے ہیں اور قسم اٹھاتے ہیں کہ جب تک وہ زندہ ہے اسے یہ امداد ملتی رہے گی۔ یہ فیصلہ اس قسم کے بدلے میں ہے کہ میں کبھی اسے کوئی نفع نہ پہنچائوں گا۔
یوں اللہ تعالیٰ اپنے رحم سے ان رنجیدہ دلوں کو جوڑتے ہیں اور اس معرکے کی وجہ سے ان کے اندر جو کدورتیں پیدا ہوگئی تھیں ان کو دھوڑالتے ہیں تاکہ یہ معاشرہ جس طرح پاک اور روشن تھا دوبارہ اسی طرح پاک اور روشن ہوجائے ۔
یہ مغفرت جس کا ذکر کیا گیا ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے غلطی کی اور پھر توبہ کرلی اور آئندہ کے لیے وہ کسی پر الزام لگانے سے رک گئے۔ فحاشی کے پھلانے کا کام انہوں نے چھوڑ دیا۔ رہے وہ لوگ جو اپنی خباثت کی وجہ سے پاک دامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں۔ پھر اس پر اصرار کرتے ہیں مثلاً عبداللہ بن ابی ابن السلول اور اس جیسے دوسرے منافق تو ان کے ساتھ کوئی نرمی نہ ہوگی اور نہ انہیں معاف کیا جائے گا۔ اگر وہ اس دنیا میں قانون حد قذف سے بچ نکلے ۔۔۔ اس وجہ سے کہ ان کے خلاف اسلامی حکومت کے پاس گواہی نہیں ہے۔ آخرت کا عذاب تو ان کے انتظار میں ہے۔ وہاں تو گواہیوں کی ضرورت نہ ہوگی۔
النور 24:23
(ان الذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔ ھوالحق المبین) (24 : 25) ” جو لوگ پاک دامن ‘ بیخبر ‘ مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پائوں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھرپور دے دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا “۔
اللہ یہاں ان لوگوں کے جرم کو اس طرح پیش کررہا ہے کہ کوئی عورت بیخبر اپنے کسی کام میں مشغول ہو اور اچانک اس پر تیروں کی بارش شروع کردی جائے جس کی اسے توقع نہ ہو اور نہ اس نے اسکا کوئی دفاع سو چاہو۔ اس طرح موجودہ مقدمہ میں ایک مطمئن بےگناہ عورت پر تیروں کی بارش شروع کردی گئی جبکہ اسے اس طرح کی کسی بات کی توقع ہی نہ تھی۔ یہ اس قسم کا جرم ہے جو نہایت ناپسند یدہ ‘ منکر اور ظالمانہ حملہ تھا۔ اس وجہ سے ایسی پلاننگ کرنے والوں کی سزا کا آغاز اللہ کی لعنت سے ہوگا۔ ان پر اللہ کی لعنت ہوگی اور دنیا اور آخرت دونوں میں وہ رحمت خداوندی سے محروم ہوں گے۔ پھر قیامت میں ان کا یہ حال ہوگا۔
النور 24:24
(یوم تشھد علیھم السنتھم وایدیھم وارجلھم) (24 : 24) ” وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور انکے اپنے ہاتھ پائوں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے “۔ ان میں سے بعض بعض پر الزمات عائد کردیں گے کہ تم لوگ پاک دامن ‘ بیخبر مومن عورتوں پر بہتان تراشی کرتے تھے۔ یہ اس منظر میں ایک نہایت ہی موثر تقابل ہے کہ جس طرح وہ جھوٹے الزامات لگاتے ہیں ‘ اسی طرح ان کے خلاف سچے الزام ہوں گے۔
النور 24:25
یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق (24 : 25) ” اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھر پور دے گا جس کے وہ مستحق ہیں “۔ اور اس دن اللہ ان کو شرمندہ کرے گا ‘ اور یہ ان کی مناسب سزا ہوگی کیونکہ انہوں نے بےگناہوں کو شرمندہ کیا تھا۔ ان کا پورا پورا حساب ان کو دیا جائے گا اور اس دن ان کو پھر ان باتوں کا یقین آجائے گا جن کا انہیں یقین نہ آرہا تھا۔
ویعلمون ان اللہ ھو الحق المبین ” اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ حق ہے سچ کو سچ کو کر دکھانے والا “۔ واقعہ افک کے اس سلسلہ کلام کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو اختیار دیا ہے اور جو لوگوں کی عملی زندگی میں موجود ہے اس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ ایک خبیث نفس کا جوڑ خبیث نفس سے ہوتا ہے اور ایک طیب اور پاک نفس کا جوڑ پاک نفس سے ہوتا ہے اس اصول کے مطابق یہی ممکن ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کا جوڑ پاک ترین نفس سے ہوجائے ‘ لہذا ان لوگوں کا یہ الزام اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ قدرت کی تقسیم میں عائشہ صدیقہ ؓ حضرت محمد ﷺ کے حصے میں آئیں اس لیے وہ طیبہ ہیں۔
النور 24:26
(الخبیثت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورزق کریم) (24 : 26) ” خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے۔ پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں لور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ ان کا دامن پاک ہے ان باتوں سے جو بنانے والے بناتے ہیں ‘ انکے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم “۔ حضرت محمد ﷺ کو حضرت عائشہ ؓ سے بےحد محبت تھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے نبی کے لیے کس طرح چن سکتا تھا اگر وہ پاک نہ ہوتیں۔ یہ پاک لوگ اپنی فطرت کے اعتبار سے ان باتوں سے پاک ہیں اور ان کی طرف جن گندی باتوں کی نسبت کی جاتی ہے ‘ وہ ان سے مبراء ہیں۔
ان کے لیے رزق کریم ہے قیامت میں اور گناہوں سے مغفرت ہے یعنی ان کی چھوٹی موٹی کو تاہیاں اللہ کے ہاں معاف ہوجاتی ہیں۔ ان آیات پر افک کے واقعات اب اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ ان واقعات کی وجہ سے امت مسلمہ نہایت ہی مصیبت میں گھر گئی تھی۔ اس واقعہ کے نتیجے میں نبی اکرم ﷺ اور ان کے گھر کی طہارت اور عزت کا مسئلہ در پیش تھا۔ اور بڑی بڑی جنگوں کی آزمائشوں کے ساتھ ساتھ ‘ داخلی محاذ کو مضبوط بنانے کے لیے یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی جس میں سے ابتدائی اسلامی جماعت کو گزارا گیا۔
النور 24:27
درس نمبر 153 ایک نظر میں
جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا ہے کہ اسلام ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینے میں صرف سخت سزائوں پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اسلام سب سے پہلے جرائم کے لیے انسدادی اور امتناعی تدابیر اختیار کرتا ہے۔ نیز اسلام انسان کی فطری خواہشات کو نہ دباتا ہے اور نہ ان کی بیح کئی کرتا ہے بلکہ وہ انسان کی فطری خواہشات کے لیے بھی ایک نہایت ہی پاکیزہ اور نارمل ماحول فراہم کرنا ہے جس میں کوئی جعلی اکساہٹ نہ ہو۔
اس سلسلے میں اسلام کے نظام تربیت کا بنیادی اصول سدباب کا ذریعہ ہے۔ اسلام بدراہ ہونے کے دروازے ہی بند کردیتا ہے اور ان اسباب کو ختم کرتا ہے جو انسان کو بدراہ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں یا فتنے کے اسباب فراہم کرتے ہیں یا جن کی وجہ سے انسان کے جذبات میں اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ دوسری طرف اسلام لوگوں کو فطری تشفی کے اسباب بھی فراہم کرتا ہے ‘ قانون کے دائرے کے اندر اندر۔
اسلام فیملی اور گھروں کی چار دیواری کا بےحد احترام کرتا ہے۔ چناچہ پہلا اصول یہ طے کیا جاتا ہے کہ کسی کے گھر کے اندر اہل خانہ کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہ ہو۔ یہ محض اس لیے کہ آنے والے کی آنکھیں کوئی ایسا منظر نہ دیکھ لیں جس کو اہل خانہ خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اچانک داخل ہوتا ہے اور اہل خانہ غافل ہیں تو وہ اس منظر کو پسند نہ کریں گے۔ نیز اسلام یہ حکم بھی دیتا ہے کہ تمام مرد اور عورتیں نظریں نیچی رکھیں اور زیب وزینت کے ساتھ عورتیں باہر نہ نکلیں۔
اس کے ساتھ اسلام فقراء اور مساکین کو شادی کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے کیونکہ فحاشی کے خلاف بہترین ہتھیار یہ ہے کہ تمام لوگوں کو شادی کے محفوظ قلعے کے اندر داخل کردیا جائے۔ نیز یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ لونڈیوں کو بھی بد کرداری پر مجبور نہ کرو کیونکہ لونڈیوں کے ذریعہ فحاشی کو بڑی آسانی کے ساتھ پھیلایا جاسکتا ہے۔
درس نمبر 153 تشریح آیات
27۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ 34
(یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تکتمون) (27 : 29) ”
گھروں کو اللہ نے انسانوں کے لیے جائے سکون بنایا ‘ لوگ کام کاج کرکے ان کی طرف لوٹتے ہیں۔ ان کی روح کو وہاں سکون ملتا ہے اور ان کے نفوس کو وہاں آرام ملتا ہے۔ یہاں وہ اپنے خفیہ اور پوشیدہ امور کے بارے میں مطمئن ہوتے ہیں ‘ ان کی عزت یہاں محفوظ ہوتی ہے اور یہاں وہ آرام کر کے اپنے اعصاب کو تسکین پہنچاتے ہیں۔
ایک گھر میں اس قسم کا آرام اور سکون تب ہی مل سکتا ہے جب کوئی غیر شخص چار دیواری کی حرمت پر ہاتھ نہ ڈالے اور اہل خانہ نہایت امن و سکون سے رہیں ‘ الا یہ کہ باہر کوئی شخص ان کی اجازت سے گھر کے اندر داخل ہو۔ اور اس وقت داخل ہو جس وقت وہ چاہیں اور ایسے حالات میں داخل ہو جن میں اہل خانہ اجازت دیں۔
اب اگر کسی کو کسی کے گھر میں داخل کی اجازت دے دی جائے اور اس کی نظریں کسی ایسے منظر کو دیکھ لیں جو دونوں کے لیے فتنہ ہو اور اچانک داخلہ اس شخص کے لیے اس فتنہ کا باعث بن جائے تو اس طرح معاشرے میں فحاشی پھیلنے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ بع ضاوقات ایسی نظروں کا تکرار پھر ابتلاء بن جاتا ہے۔ اگر چہ پہلی نظر میں ملاقات بعض اوقات بلاقصد و ارادہ ہوتی ہے لیکن بعد میں فتنہ بن جاتی ہے۔ جب فریقین ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں فساد اور فحاشی اور بےراہ روی پیدا ہوجاتی ہے۔
جاہلیت کے دور میں دوسرے کے گھر لوگ اچانک داخل ہوجاتے تھے۔ پہلے الٓنیوالا آجاتا اور پھر کہتا میں آگیا ہوں ۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ صاحب خانہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ ایسی حالت میں ہوتا کہ ایسے حالات میں باہر سے داخل ہونا معیوب ہوتا لیکن وہ پروانہ کرتے۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ گھر میں عورت ننگی ہے یا اس کے ستر کے مقامات ننگے ہیں۔ یا مرد اس طرح ہے۔ اس سے صاحب خانہ کو اذیت پہنچتی اور دوسرے کے گھر کا امن و سکون تباہ ہوجاتا۔ جبکہ بعض اوقات ایسا بےہنگم واقعہ فتنے کا بعث بن جاتا ہے آنکھ ایسا منظر دیکھ لیتی جس سے فتنہ اٹھ کھڑا ہوتا۔
ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو ان آداب کا پابند کردیا کہ کسی کے گھر کے اندر بغیر اجازت کے داخل ہونا ممنوع ہے۔ مناسب ہے کہ باہر سے سلام کیا جائے تاکہ ان کو پتہ چل جائے کہ فلاں صاحب آنا چاہتے ہیں۔ نیز اس انداز سے ایک قسم کی مانوسیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
(یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیٰ اھلھا) (24 : 27) ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھو والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو “۔ یہاں اذن و اجازت کے لفظ کی تعبیر لفظ ” انس “ سے کی گئی ہے۔ اس انداز تعبیر سے اجازت کے مہذب ترین طریقے کی طرف اشارہ ہے۔ نیز اس طرف اشارہ ہے کہ آنے والے کو نہایت ہی مہذب انداز میں آنا چاہیے۔ لوگوں کے ساتھ وہنہایت انس و محبت سی اور مہذب طریقے سے بات کرے تاکہ وہ اس کے استقبال کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایک نہایت ہی لطیف اور دقیق اخلاقی اصول ہے لوگوں کی سہولت کے لیے اور ان کے گھروں میں ان کی عزت و وقار کو بحال کرنے کے لیے اور اس لیے کہ رات دن اہل خانہ آنے جانے والوں سے تنگ ہی نہ ہوجائیں کہ ایک آرہا ہے اور دوسرا جارہا ہے اور وہ بھی بلااجازت۔
اجازت کے نتیجے میں اب صورت حالات یہ ہوگی کہ یا تو اس میں کوئی گھر میں ہوگا اور اجازت دے دے گا تو یہ شخص گھر کے اندر چلا جائے گا اور اگر کوئی نہیں ہوگا تو پھر اس شخص کے لیے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
(فان لم۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 28) ” اگر وہاں کسی کو نہ پائو تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دی جائے “
اگر اندر اہل خانہ سے کوئی موجود ہو تو صرف اجازت طلب کرنے ہی سے داخلے کی اجازت نہیں ہوجاتی جب تک کوئی صریح اجازت نہ دے۔ اگر اندر والے اجازت نہ دیں تو بغیر کسی جھجک کے واپس ہوجانا چاہیے۔ اور انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
(وان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 28) ” اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہو جائو تو واپس ہو جائو۔ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے “۔ یعنی واپس ہو جائو بغیر کسی تلخی کے ۔ بغیر اس تاثر کے کہ اہل خانہ نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے ‘ یا تم سے کوئی نفرت کی ہے کیونکہ اہل خانہ کے اپنے اسرار اور اعذار ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ حق ان کو دینا ضروری ہے کہ اس وقت وہ مہمان کا استقبال کرسکتے ہیں یا نہیں۔
واللہ بما تعملون علیم (24 : 28) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اللہ خو جانتا ہے “۔ اللہ تو دلوں کے خفیہ بھیدوں کو جاننے والا ہے ‘ یا یہ کہ دلوں میں جو جذبات و خیالات ہیں ان سے بھی وہ باخبر ہے۔
رہے وہ مقامات جو مقامات عامہ ہیں مثلاً ہوٹل ‘ سرائے اور ضافت کے گھر ہاسٹل وغیرہ جو پرائیویٹ رہائش گاہوں سے علیحدہ ہوں تو ان میں بغیر اجازت کی داخل ہونا جائز ہے جب اجازت کا کوئی سبب موجود نہ ہو۔
(لیس علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 29) ” البتہ تمہارے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جائو جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے کی کوئی چیزہو “۔
واللہ یعلم ما تبدون وما تکتمون (24 : 29) ” تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو ‘ سب کی اللہ کو خبر ہے “ ۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تمہارے ظاہرو باطن کو جانتا ہے اور وہ تمہارے انگران ہے۔ تمہارے دلی خیالات سے وہ باخبر ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں تمہارے لیے ایک نہایت ہی مہذب انداز زندگی تجویز کرتا ہے۔ اس کا وہ نگراں بھی ہے اس کا مطالبہ یہ ہے کہ تم قلبی اطاعت کرو۔
واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل نظام حیات ہے اس لیے وہ انسانی زندگی کے ایک نہایت ہی جزئی مسئلے کو اس قدر تفصیل سے لیتا ہے۔ کیونکہ اس نظام کا موضوع انسانی زندگی کا طرز عمل ہے خواہ وہ جزنی ہو یا تفصیلی۔ اس طرح اسلام نظام کے اصول و فروع کے درمیان ا کی توازن قائم کردیا جاتا ہے۔ امسیدذن کا قانون گھروں کو امن و سکون کی جگہ بنانے کی ایک تدبیر ہے۔ یہ تدبیر کرنا مقصود ہے کہ کسی گھر کے باشندے کو اچانک کسی ناپسند یدہ صورت حال سے دو چار ہوھنا نہ پڑے کیونکہ جب اچانک کوئی در آئے تو معلوم نہیں ہوتا کہ اندر کے لوگ کس حال میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کا سرکھلا ہو یا کسی ستر کھلاہو ” عورات “ کے لفظ سے وسیع تر مفہوم مراد ہے۔ اس سے صرف بدنی برہنگی ہی مراد نہیں ہے۔ اس سے کھانے پینے کے انتظامات ‘ لباس ‘ سازوسامان ‘ نشست و برخاست کے مقامات و اثاث الیت بھی مراد ہے جس کے بارے میں اہل بیت یہ نہیں چاہتے کہ جگہ اور حالات کی تیاری کے بغیر کوئی اندر آجائے اور اندر کی کیفیت کو وہ کم تر نفسیاتی حالات میں پائے۔ مثلاً کم لوگ اس بات کو پسند کریں گے کہ کوئی اندر آئے اور اندر کوئی رورہا ہو یا کوئی اندر آئے اور گھر والا غصے میں ہو۔ یا وہ کسی ایسے درد اور دکھ میں مبتلاہو جسے وہ عوام سے خفیہ رکھنا چاہتاہو۔ یہ سب عورات ہیں۔
اس ایک ” ادب “ کے ذریعے قرآن مجید بیشمار فوائد کو سمیٹ لیتا ہے۔ بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو جانتے بھی نہیں ہیں۔ پھر اہم بات یہ کہ اچانک نظر بازی سے بھی انسان بچ سکتا ہے جس کے نتیجے میں ناجائز خواہشات کے ابھرنے کے مواقع ہوتے ہیں اور بعد میں پھر یہ تعلقات برے تعلقات کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ غرض نظروں کے بہکنے اور دلوں کی اچانک کشش کو قابو میں رکھنے کے لیے ادب قرآنی نہایت ہی مفید اور اہم ذریعہ اصلاح ہے۔
اس کی حقیقت اور اہمیت صرف وہ لوگ جانتے ہیں جن کے اندر سب سے پہلے یہ ادب اترا اور اس کا آغاز رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے کیا۔
امام ابو دائود اور نسانی نے ابو عمر اوزاعی کی حدیث نقل کی ہے۔ وہ قیس ابن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری رہائش گاہ پر تشریف لائے اور باہر سے کہا ” السلام علیکم “ تو سعد نے نرمی سے وعلیکم السلام کہا۔ قیس کہتے ہیں : میں نے سعد سے کہا کیا تم رسول اللہ ﷺ کو اجازت دینا نہیں چاہتے ہو۔ تو اس نے کہا چھوڑو ہم پر زیادہ سے زیادہ سلام کہہ دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دوسری بار کہا ” السلام علیکم ورحمتہ اللہ “ تو سعد نے پھر چپکے سے کہا وعلیکم السلام۔ اس کے بعد پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” السلام علیکم ورحمتہ اللہ “ اور پھر آپ لوٹ گئے۔ سعد گھر سے نکلے اور آواز دی حضور ﷺ میں سن رہا تھا اور سلام کا جواب بھی آہستگی سے دے رہا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ آپ کثرت سے ہم پر سلام کہہ دیں ۔ کہتے ہیں حضور اکرم ﷺ آپ کے ساتھ لوٹ آئے۔ سعد نے حکم دیا کہ حضور اکرم ﷺ کے لیے غسل کا پانی تیار کرو۔ آپ ﷺ نے غسل کیا۔ اس کے بعد سعد نے اون کا ایک پھولدار کپڑا حضور ﷺ کو پیش کیا۔ یہ زعفران یا درس گھاس سے رنگا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے اسے اوڑھا۔ پھر حضور ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی۔
الھم اجعل صلاتک ورحمتک علی آل سعد ابن عبادۃ۔۔ ” اے اللہ ‘ اپنا کرم اور رحمت ڈال دے آل سعد ابن عبادہ پر “۔ ابو دائود نے عبد اللہ ابن بشر کی حدیث نقل کی ہے۔ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کسی قوم کے دروازے پر آتے تو دروازے کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے یا اس کے دائیں طرف یا بائیں طرف کھڑے ہوتے اور فرماتے السلام علیکم۔۔۔ السلام علیکم۔ ان دنوں گھروں میں پردے نہ ہوتے تھے۔
ابو دائود نے حضرت ہذیل سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی آیا (عثمان کہتے ہیں سعد تھا) تو وہ نبی ﷺ کے دروازے پر کھڑا ہوگیا اور داخلہ کی اجازت چاہنے لگا۔ تو وہ دروازے کے سامنے منہ کر کے کھڑا ہوگیا۔ (عثمان نے کہا دروازے کے سامنے) ۔ اس پر نبی ﷺ نے اسے طریقہ بتایا اور کہا اس طرح کھڑے ہو جائو۔ کیونکہ اجازت طلب کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ تم اندر کچھ دیکھ نہ سکو۔
صحیحین میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تمہارے گھر کے اندر کوئی شخص بغیر اجازت کے اندر آجائے اور تم ان پر ایک پتھر پھینکتے ہو اور اس سے اس کی آنکھ پھوٹ جاتی ہے تو تم پر کوئی جرم عائد نہ ہوگا۔
ابودائود نے حضرت ربعی سے روایت نقل کی ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ جبکہ حضور ﷺ اپنے گھر میں تھے۔ تو اس نے کہا کیا میں ” گھس جائوں “ تو حضور ﷺ نے اپنے خادم سے کہا نکلو اور اس شخص کو اندر آنے کی اجازت طلب کرنے کا طریقہ سکھائو۔ اس سے کہو کہ تم یوں کہو ” السلام علیکم “ ۔ کیا میں داخل ہو جائوں۔ حضور ﷺ کی اس بات کو اس شخص نے سن لیا تو کہا ” السلام علیکم “ کیا میں داخل ہو جائوں “۔ تو اس کو نبی ﷺ نے اجازت دے دی اور وہ اندر آیا۔
ہیشم نے کہا ہے کہ مغیرہ نے کہا اور مغیرہ نے کہا مجاہد نے کہا ‘ عمر ایک ضرورت سے آئے اور اسے گرمی نے تنگ کر رکھا تھا وہ قریش کی ایک عورت کے خیموں کے سامنے آئے اور کہا ” السلام علیکم “ کیا میں اندر آجائوں “۔ تو اس نے کہا ” سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائو “ ۔ حضرت عمر ؓ نے پھر اجازت چاہی۔ اس نے بھی پھر یہی جواب دیا حالانکہ وہ اس کے قدموں کے پاس کھڑا تھا۔ پھر حضرت عمر ؓ نے کہا تم اس طرح کہو ” ” ادخل “ داخل ہو جائو۔ اس پر اس عورت نے کہا ” داخل ہو جائو “ تو بعد وہ اندر آئے۔
عطا ابن ابی رباح نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ کہتے ہیں میں نے کہا کیا میں اپنی یتیم بہنوں سے بھی اجازت طلب کروں جو میرے ہی گھر میں میری نگرانی میں ہیں۔ تو آپ نے فرمایا ‘ ہاں۔ میں نے پھر اس پر یہ سوال کیا تا کہ مجھے سا میں رخصت دے دی جائے۔ اس پر اس نے کہا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ اسے ننگی حالت میں دیکھو۔ تو میں نے کہا ‘ نہیں۔ تو اس نے کہا پھر اجازت طلب کرو۔ تو میں نے پھر اس سے بحث کی تو انہوں نے کہا کہ کیا تم اللہ کے حکم کی اطاعت چاہتے ہو یا نہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ ” تو پھر اجازت چاہو “ انہوں نے کہا۔
اور حدیث صحیح میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی اپنے گھر بھی رات کے وقت اچانک نہ جائے۔ بعض روایات میں آتا ہے۔ لیلا یتخونھم اور ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ دن کے وقت مدینہ پہنچ گئے تو مدینہ کے سامنے آپ نے اونٹوں کو بٹھا دیا۔ آپ نے فرمایا انتظار کرو عشاء تک یعنی دن کے آخری حصے تک تاکہ ایسی عورت جس کے بال بکھیرے ہوں وہ بال سنوار لے۔ اور ایسی عورت جس کے بال صاف نہ ہوں وہ صاف کرلے۔
اسلام نے نہایت ہی مہذب طریقے مسلمانوں کو سکھائے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر ان سے تجربہ کرایا۔ یہ آداب بلند ان کو دیئے جو نہایت ہی روشن اور نور ربی سے منور تھے۔
آج ہم بھی مسلمان ہیں لیکن ایسے معاملات کے بارے میں ہمارا احساس غلیظ ہے۔ ہم اجڈ ہوگئے ہیں۔ ایک شخص اپنے بھائی کے گھر جاتا ہے اور تیر کی طرح اندر گھس جاتا ہے اور رات اور دن کے کسی بھی وقت اس کا جی چاہے گھس جاتا ہے۔ وہ بار بار گھنیٹاں بجاتا ہے۔ اور تب چھوڑتا ہے کہ کوئی بادل نخواستہ اٹھے اور اس کے لیے دروازے کھولے۔ بعض اوقات گھر میں ٹیلیفون بھی ہوتا ہے۔ یہ بڑی سہولت سے آنے کی اجازت طلب کرسکتا ہے ‘ وقت مقرر کرسکتا ہے۔ لیکن ہم نے اسلام کے نظام استیذان کو ترک کردیا ہے اور وقت بےقوت ہم دوسرے کے ہاں وارد ہوجاتے ہیں اور اب تو ہم نے بغیر ملاقات چلے جانے کو معیوب سمجھ لیا ہے۔ اگر چہ اہل بیت نہ چاہتے ہوں۔ ہمارا رویہ یہ ہوتا ہے کہ جب ہم آگئے تو ہمیں گھس جانا ہی ہے۔ بغیر کسی باک اور انتظار کے۔
ہم مسلمان ہیں لیکن ہم اس وقت اپنے بھائیوں کو ڈسٹرب کردیتے ہیں جب وہ کھانا کھانے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اب اگر وہ بھائی کھانا پیش نہیں کرتا تو ہم خفا ہوجاتے ہیں۔ ہم رات دیر تک ملنے چلے جاتے ہیں۔ اگر وہ اپنے ہاں رات گزار نے کی دعوت نہیں پیش کرتا تو ہم خفا ہوجاتے ہیں اور ہم اس معاملے میں کسی کا کوئی عذر سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ محض اس لیے ہوتا ہے کہ ہم اسلامی آداب کے رنگ میں رنگے ہوئے نہیں ہیں۔ ہم اپنی خواہشات کو اس ضابطے کے تابع کرنا نہیں چاہتے جو رسول اللہ ﷺ لائے ہیں۔ اور ہم دراصل ایک غلط جاہلی رواج کے غلام بن گئے ہیں جس پر اللہ کی جانب سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
پھر زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ وہ بعض ایسے آداب پر عمل پیرا ہیں جو ہمارے دین جیسے ہیں۔ اور وہ ایسے ہی آداب ہیں جو ہمارے دین نے ہمیں سکھائے ہیں۔ ہم ان غیر مسلموں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے دین کے آداب اپنا رکھے ہیں اور ہمیں اپنے دین کا پتہ نہیں ہے۔ الٹے ہم ان سے متاثر ہوجاتے ہیں اور ان کو نادر آداب سمجھتے ہیں۔ اس مقام پر پہنچ کر بھی ہم اپنے دین کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور مطمئن ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
گھروں میں داخل ہونے کی اجازت کے آداب کے بعد جس کے ذریعے امتناعی اور احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں کہ کوئی نظر کے فتنے میں نہ پڑجائے اور اس کے برے نتائج برآمد ہوں۔ اب اہل ایمان کو عمومی تلقین کی جاتی ہے کہ وہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں کیونکہ نظر بازی ہی انسان کو گمراہی اور بےراہ روی تک لے جاتی ہے۔
(قل للمئو منین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بما یصنعون وقل۔۔۔۔۔۔ تفلحون ) (30 : 31) ” اے نبی ﷺ مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ‘ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ‘ جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے ۔ اور اے نبی ﷺ ‘ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں ‘ اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ‘ اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں۔ بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے ‘ اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بنائو سنگھار ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے : شوہر ‘ باپ ‘ شوہروں کے باپ ‘ اپنے بیٹے ‘ شوہروں کے بیٹے ‘ بھائی ‘ بھائیوں کے بیٹے ‘ بہنوں کے بیٹے ‘ اپنے میل جول کی عورتیں ‘ اپنے لونڈی غلام ‘ وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں ‘ اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پائوں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپارکھی ہو ‘ اس کا لوگوں کو علم ہوجائے۔ اے مومنو ‘ تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو ‘ توقع ہے کہ فلاح پائو گے “۔
ان آیات کا نصب العین یہ ہے کہ ایک نہایت ہی پاک و صاف سوسائٹی قائم کی جائے جس کی حالت یہ نہ ہو کہ ہر جگہ اور ہر وقت شہوت ہی کا ہیجان ہو اور ہر وقت گوشت و پوست کی لذت اندوزی کے سامان ہوں ‘ کیونکہ ایسے اقدامات جن سے ہر وقت جنسی ہیجان پیدا کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس قدر جنسی پیاس پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ پھر کبھی بجھتی نہیں۔ ایک نظر بد یا فتنہ انگیز ادا یا زیب وزینت کی نمائش اور عریانی جسم کی نمائش دوسروں کے جذبات میں آگ لگا سکتی ہے اور انسان کی خوابیدہ حیوانیت کو نہ صرف جگا دیا جاتا ہے بلکہ دوسرے کے اندر بےچینی پیدا کردی جاتی ہے۔ دوسرے فریق کو پھر اپنے اوپر قابو نہیں رہتا۔ یا تو پھر انسان بےقید شہوت رانی کا شکار ہوتا ہے اور یا پھر اس کے اعصاب اور نفسیات کے اندر ہیجانی امراض پیدا ہوجاتی ہیں اور اس طرح ایک انسان عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
اسلام جو پاک اور صاف ستھری سوسائٹی تعمیر کرنا چاہتا ہے اس کے قیام کے لیے وہ پہلی تدبیر یہ اختیار کرتا ہے کہ جذبات کو ہیجان سے بچایا جائے۔ وہ فریقین کے اندر پائے جانے والے فطری میلان کو اپنی جگہ باقی رکھتا ہے اور اپنے فطری انداز کے مطابق اس فطری جذبہ کو محفوظ اور تعمیری انداز دیتا ہے۔
انسانیت پر ایک دور ایسا بھی آیا کہ نظریہ اباحیت پھیل گیا۔ حنین کے درمیان آزادانہ گفتگو ‘ آزادانہ اختلاط ‘ گپ شپ کو عام کردیا گیا ‘ یہاں تک کہ بچوں کو جنسی تعلیم دی جانے لگی اور خفیہ ترین باتوں سے پردہ اٹھا دیا گیا۔ یہ باتیں اور اقدامات اسی نظریہ کے تحت کیے گئے کہ یہ امور جنسی میلان اور جنسی جذبات کو دبانے کے نقصانات سے بچاتے ہیں اور لوگوں کو یہ مواقع ملتے ہیں کہ وہ آزادانہ طور پر جو چاہیں جنسی معاہدے کریں۔ یہ اجازت ان نظریات نے اس لیے دی کہ لوگ جنسی میدان میں تشدد اور دوسری غلط کاریاں نہ کریں۔
یہ جنسی آزادی اس وقت رائج ہوئی جب انسان کے بارے میں خالص مادی نظریات رائچ ہوئے اور انسان کو محض حیوان قرار دیا گیا۔ خصوصاً فرائیڈ کے جنجسی خیالات کی ترویج کے بعد۔ لیکن میں نے خود ان نظریات کو ایک ایسے ملک میں دیکھا جس میں مکمل اباحیت تھی اور جس میں مذہبی ‘ اخلاقی اور انسانی قیود میں سے کوئی قید نہ تھی لیکن میں نے مشاہدہ کیا کہ یہ تمام نظریات محض مفروضے ہیں اور ایسے ممالک کے حالات ان کی پوری پوری تکذیب کرتے ہیں۔
ایے ممالک کا ہم نے ملاحظہ کیا ہے جن میں جسمانی ملاپ ‘ عریانی اور جنسی بےراہ روی پر کوئی قید و بند نہیں ہے۔ وہاں اس کی تمام ممکن شکلیں جائز ہیں لیکن ان ممالک میں جنسی تعلقات نہ مہذب ہو سکے ‘ نہ ان کے اندر کوئی باقاعدگی پیدا ہوئی بلکہ جنسی پیاس جنون کی حد تک بڑھ گئی اور اس قدر بڑھی کہ تسکین کا نام و نشان ختم ہوگیا۔ ان ممالک میں جنسی اور نفسیاتی بیماریوں کا طوفان لڈ آیا اور ایسے مسائل دیکھنے میں آئے جو جنسی محرومی سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مسائل ان معاشرو وں میں بکثرت پائے جاتے ہیں جن میں جنسی انار کی پر کوئی قید نہیں ہے۔ یہ مسائل محض اس لیے پیدا ہوئے کہ ایسے ممالک میں کوئی جنسی قید اور ضابطہ نہ تھا۔ جنسی دو ستیاں بغیر کسی رکاوٹ کے آزاد تھیں اور جنسی تعلقات اور ملاپ مویشیوں کی طرح راستوں میں دیکھا جاتا تھا۔ جنسی حرکات اور نظربازیاں تو بالکل معمولی چیز تھیں۔ ان ممالک کے تفصیلی واقعات اور تفصیلی حرکات پر بحث کا یہاں موقع نہیں ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے محمد قطب کی کتاب (الانسان بین المادیہ والاسلام) باب مسائل جنس۔ مزید تفصیلات میری زیر طبع کتاب (امریکا التی رابت) میں دیکھئے۔
مرد اور عورت کے اندر ایک دوسرے کے لیے کشش ایک فطری امر ہے اور یہ انسان کے اندر تخلیقی طور پر ودیعت کی گئی ہے کیونکہ اس کرئہ ارض پر زندگی کے تسلسل کا دار و مدار اسی پر ہے۔ انسان نے اس زمین پر منصب خلافت ارضی کی ذمہ داریوں کو وپرا کرنا ہے۔ اس ذمہ داری کا بڑا اور اہم حصہ یہاں زندگی کے تسلسل کو قائم رکھنا ہے۔ اس لیے یہ کشش ایک دائمی کشش ہے۔ بعض اوقات یہ کشش سو جاتی ہے۔ پھر جاگ اٹھتی ہے۔ جو نہی یہ جاگتی ہے تو یہ فرد تب ہوتی ہے جب جنبن کے درمیان ملاپ ہو کر تسکین ہوجائے۔ اگر یہ جسمانی تسکین نہ ہو تو اس کا اثر انسانی اعصاب پر پڑتا ہے اور ایسے حالات میں انسان پر شدید گھٹن محسوس کرتا ہے۔ پھر انسان کو ایک نظر بھی اکساتی ہے ‘ ایک حرکت بھی اکساتی ہے۔ ایک معمولی سی ہنسی بھی ابھارتی ہے۔ محض گپ شپ کے نتیجے میں انسان بےقابو ہوجاتا ہے اور ایک خوبصورت آواز بھی تڑپا دیتی ہے لہٰذا محفوظ طریقہ یہ ہے کہ سوسائٹی کے اندر انسان کو ایسے مواقع سے محفوظ رکھا جائے تاکہ اس کا جنسی ملان طبعی حدود کے اندر رہے اور جائز اور قدرتی ذرائع سے اس کی تسکین کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اسلام یہی منہاج اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام انسان کی قوتوں کو دوسری تعمیری سمتوں کی طرف بھی موڑ دیتا ہے۔ زندگی کے دوسرے کام ایسے ہوتے ہیں جو جسم و جان اور خون اور پوست کے اس ملاپ سے زیادہ اہم ہوتے ہیں ‘ لہٰذا انسان کے سامنے صرف شہوانی تسکین ہی واحد مقصد نہیں رہتا۔ زیر تفسیر آیات میں اسلام کی ایسی ہی پالیسیوں کو جاری کیا گیا ہے یعنی ایسے مواقع کم کیے جائیں جن میں ہیجان پیدا ہوتا ہو۔ لوگوں کو اعلیٰ مقاصد میں مصروف کیا جائے اور پھر فریقین کے لیے جائز تسکین کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
النور 24:28
درس نمبر 153 ایک نظر میں
جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا ہے کہ اسلام ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینے میں صرف سخت سزائوں پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اسلام سب سے پہلے جرائم کے لیے انسدادی اور امتناعی تدابیر اختیار کرتا ہے۔ نیز اسلام انسان کی فطری خواہشات کو نہ دباتا ہے اور نہ ان کی بیح کئی کرتا ہے بلکہ وہ انسان کی فطری خواہشات کے لیے بھی ایک نہایت ہی پاکیزہ اور نارمل ماحول فراہم کرنا ہے جس میں کوئی جعلی اکساہٹ نہ ہو۔
اس سلسلے میں اسلام کے نظام تربیت کا بنیادی اصول سدباب کا ذریعہ ہے۔ اسلام بدراہ ہونے کے دروازے ہی بند کردیتا ہے اور ان اسباب کو ختم کرتا ہے جو انسان کو بدراہ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں یا فتنے کے اسباب فراہم کرتے ہیں یا جن کی وجہ سے انسان کے جذبات میں اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ دوسری طرف اسلام لوگوں کو فطری تشفی کے اسباب بھی فراہم کرتا ہے ‘ قانون کے دائرے کے اندر اندر۔
اسلام فیملی اور گھروں کی چار دیواری کا بےحد احترام کرتا ہے۔ چناچہ پہلا اصول یہ طے کیا جاتا ہے کہ کسی کے گھر کے اندر اہل خانہ کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہ ہو۔ یہ محض اس لیے کہ آنے والے کی آنکھیں کوئی ایسا منظر نہ دیکھ لیں جس کو اہل خانہ خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اچانک داخل ہوتا ہے اور اہل خانہ غافل ہیں تو وہ اس منظر کو پسند نہ کریں گے۔ نیز اسلام یہ حکم بھی دیتا ہے کہ تمام مرد اور عورتیں نظریں نیچی رکھیں اور زیب وزینت کے ساتھ عورتیں باہر نہ نکلیں۔
اس کے ساتھ اسلام فقراء اور مساکین کو شادی کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے کیونکہ فحاشی کے خلاف بہترین ہتھیار یہ ہے کہ تمام لوگوں کو شادی کے محفوظ قلعے کے اندر داخل کردیا جائے۔ نیز یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ لونڈیوں کو بھی بد کرداری پر مجبور نہ کرو کیونکہ لونڈیوں کے ذریعہ فحاشی کو بڑی آسانی کے ساتھ پھیلایا جاسکتا ہے۔
درس نمبر 153 تشریح آیات
27۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ 34
(یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تکتمون) (27 : 29) ”
گھروں کو اللہ نے انسانوں کے لیے جائے سکون بنایا ‘ لوگ کام کاج کرکے ان کی طرف لوٹتے ہیں۔ ان کی روح کو وہاں سکون ملتا ہے اور ان کے نفوس کو وہاں آرام ملتا ہے۔ یہاں وہ اپنے خفیہ اور پوشیدہ امور کے بارے میں مطمئن ہوتے ہیں ‘ ان کی عزت یہاں محفوظ ہوتی ہے اور یہاں وہ آرام کر کے اپنے اعصاب کو تسکین پہنچاتے ہیں۔
ایک گھر میں اس قسم کا آرام اور سکون تب ہی مل سکتا ہے جب کوئی غیر شخص چار دیواری کی حرمت پر ہاتھ نہ ڈالے اور اہل خانہ نہایت امن و سکون سے رہیں ‘ الا یہ کہ باہر کوئی شخص ان کی اجازت سے گھر کے اندر داخل ہو۔ اور اس وقت داخل ہو جس وقت وہ چاہیں اور ایسے حالات میں داخل ہو جن میں اہل خانہ اجازت دیں۔
اب اگر کسی کو کسی کے گھر میں داخل کی اجازت دے دی جائے اور اس کی نظریں کسی ایسے منظر کو دیکھ لیں جو دونوں کے لیے فتنہ ہو اور اچانک داخلہ اس شخص کے لیے اس فتنہ کا باعث بن جائے تو اس طرح معاشرے میں فحاشی پھیلنے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ بع ضاوقات ایسی نظروں کا تکرار پھر ابتلاء بن جاتا ہے۔ اگر چہ پہلی نظر میں ملاقات بعض اوقات بلاقصد و ارادہ ہوتی ہے لیکن بعد میں فتنہ بن جاتی ہے۔ جب فریقین ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں فساد اور فحاشی اور بےراہ روی پیدا ہوجاتی ہے۔
جاہلیت کے دور میں دوسرے کے گھر لوگ اچانک داخل ہوجاتے تھے۔ پہلے الٓنیوالا آجاتا اور پھر کہتا میں آگیا ہوں ۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ صاحب خانہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ ایسی حالت میں ہوتا کہ ایسے حالات میں باہر سے داخل ہونا معیوب ہوتا لیکن وہ پروانہ کرتے۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ گھر میں عورت ننگی ہے یا اس کے ستر کے مقامات ننگے ہیں۔ یا مرد اس طرح ہے۔ اس سے صاحب خانہ کو اذیت پہنچتی اور دوسرے کے گھر کا امن و سکون تباہ ہوجاتا۔ جبکہ بعض اوقات ایسا بےہنگم واقعہ فتنے کا بعث بن جاتا ہے آنکھ ایسا منظر دیکھ لیتی جس سے فتنہ اٹھ کھڑا ہوتا۔
ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو ان آداب کا پابند کردیا کہ کسی کے گھر کے اندر بغیر اجازت کے داخل ہونا ممنوع ہے۔ مناسب ہے کہ باہر سے سلام کیا جائے تاکہ ان کو پتہ چل جائے کہ فلاں صاحب آنا چاہتے ہیں۔ نیز اس انداز سے ایک قسم کی مانوسیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
(یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیٰ اھلھا) (24 : 27) ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھو والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو “۔ یہاں اذن و اجازت کے لفظ کی تعبیر لفظ ” انس “ سے کی گئی ہے۔ اس انداز تعبیر سے اجازت کے مہذب ترین طریقے کی طرف اشارہ ہے۔ نیز اس طرف اشارہ ہے کہ آنے والے کو نہایت ہی مہذب انداز میں آنا چاہیے۔ لوگوں کے ساتھ وہنہایت انس و محبت سی اور مہذب طریقے سے بات کرے تاکہ وہ اس کے استقبال کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایک نہایت ہی لطیف اور دقیق اخلاقی اصول ہے لوگوں کی سہولت کے لیے اور ان کے گھروں میں ان کی عزت و وقار کو بحال کرنے کے لیے اور اس لیے کہ رات دن اہل خانہ آنے جانے والوں سے تنگ ہی نہ ہوجائیں کہ ایک آرہا ہے اور دوسرا جارہا ہے اور وہ بھی بلااجازت۔
اجازت کے نتیجے میں اب صورت حالات یہ ہوگی کہ یا تو اس میں کوئی گھر میں ہوگا اور اجازت دے دے گا تو یہ شخص گھر کے اندر چلا جائے گا اور اگر کوئی نہیں ہوگا تو پھر اس شخص کے لیے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
(فان لم۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 28) ” اگر وہاں کسی کو نہ پائو تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دی جائے “
اگر اندر اہل خانہ سے کوئی موجود ہو تو صرف اجازت طلب کرنے ہی سے داخلے کی اجازت نہیں ہوجاتی جب تک کوئی صریح اجازت نہ دے۔ اگر اندر والے اجازت نہ دیں تو بغیر کسی جھجک کے واپس ہوجانا چاہیے۔ اور انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
(وان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 28) ” اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہو جائو تو واپس ہو جائو۔ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے “۔ یعنی واپس ہو جائو بغیر کسی تلخی کے ۔ بغیر اس تاثر کے کہ اہل خانہ نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے ‘ یا تم سے کوئی نفرت کی ہے کیونکہ اہل خانہ کے اپنے اسرار اور اعذار ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ حق ان کو دینا ضروری ہے کہ اس وقت وہ مہمان کا استقبال کرسکتے ہیں یا نہیں۔
واللہ بما تعملون علیم (24 : 28) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اللہ خو جانتا ہے “۔ اللہ تو دلوں کے خفیہ بھیدوں کو جاننے والا ہے ‘ یا یہ کہ دلوں میں جو جذبات و خیالات ہیں ان سے بھی وہ باخبر ہے۔
رہے وہ مقامات جو مقامات عامہ ہیں مثلاً ہوٹل ‘ سرائے اور ضافت کے گھر ہاسٹل وغیرہ جو پرائیویٹ رہائش گاہوں سے علیحدہ ہوں تو ان میں بغیر اجازت کی داخل ہونا جائز ہے جب اجازت کا کوئی سبب موجود نہ ہو۔
(لیس علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 29) ” البتہ تمہارے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جائو جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے کی کوئی چیزہو “۔
واللہ یعلم ما تبدون وما تکتمون (24 : 29) ” تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو ‘ سب کی اللہ کو خبر ہے “ ۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تمہارے ظاہرو باطن کو جانتا ہے اور وہ تمہارے انگران ہے۔ تمہارے دلی خیالات سے وہ باخبر ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں تمہارے لیے ایک نہایت ہی مہذب انداز زندگی تجویز کرتا ہے۔ اس کا وہ نگراں بھی ہے اس کا مطالبہ یہ ہے کہ تم قلبی اطاعت کرو۔
واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل نظام حیات ہے اس لیے وہ انسانی زندگی کے ایک نہایت ہی جزئی مسئلے کو اس قدر تفصیل سے لیتا ہے۔ کیونکہ اس نظام کا موضوع انسانی زندگی کا طرز عمل ہے خواہ وہ جزنی ہو یا تفصیلی۔ اس طرح اسلام نظام کے اصول و فروع کے درمیان ا کی توازن قائم کردیا جاتا ہے۔ امسیدذن کا قانون گھروں کو امن و سکون کی جگہ بنانے کی ایک تدبیر ہے۔ یہ تدبیر کرنا مقصود ہے کہ کسی گھر کے باشندے کو اچانک کسی ناپسند یدہ صورت حال سے دو چار ہوھنا نہ پڑے کیونکہ جب اچانک کوئی در آئے تو معلوم نہیں ہوتا کہ اندر کے لوگ کس حال میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کا سرکھلا ہو یا کسی ستر کھلاہو ” عورات “ کے لفظ سے وسیع تر مفہوم مراد ہے۔ اس سے صرف بدنی برہنگی ہی مراد نہیں ہے۔ اس سے کھانے پینے کے انتظامات ‘ لباس ‘ سازوسامان ‘ نشست و برخاست کے مقامات و اثاث الیت بھی مراد ہے جس کے بارے میں اہل بیت یہ نہیں چاہتے کہ جگہ اور حالات کی تیاری کے بغیر کوئی اندر آجائے اور اندر کی کیفیت کو وہ کم تر نفسیاتی حالات میں پائے۔ مثلاً کم لوگ اس بات کو پسند کریں گے کہ کوئی اندر آئے اور اندر کوئی رورہا ہو یا کوئی اندر آئے اور گھر والا غصے میں ہو۔ یا وہ کسی ایسے درد اور دکھ میں مبتلاہو جسے وہ عوام سے خفیہ رکھنا چاہتاہو۔ یہ سب عورات ہیں۔
اس ایک ” ادب “ کے ذریعے قرآن مجید بیشمار فوائد کو سمیٹ لیتا ہے۔ بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو جانتے بھی نہیں ہیں۔ پھر اہم بات یہ کہ اچانک نظر بازی سے بھی انسان بچ سکتا ہے جس کے نتیجے میں ناجائز خواہشات کے ابھرنے کے مواقع ہوتے ہیں اور بعد میں پھر یہ تعلقات برے تعلقات کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ غرض نظروں کے بہکنے اور دلوں کی اچانک کشش کو قابو میں رکھنے کے لیے ادب قرآنی نہایت ہی مفید اور اہم ذریعہ اصلاح ہے۔
اس کی حقیقت اور اہمیت صرف وہ لوگ جانتے ہیں جن کے اندر سب سے پہلے یہ ادب اترا اور اس کا آغاز رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے کیا۔
امام ابو دائود اور نسانی نے ابو عمر اوزاعی کی حدیث نقل کی ہے۔ وہ قیس ابن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری رہائش گاہ پر تشریف لائے اور باہر سے کہا ” السلام علیکم “ تو سعد نے نرمی سے وعلیکم السلام کہا۔ قیس کہتے ہیں : میں نے سعد سے کہا کیا تم رسول اللہ ﷺ کو اجازت دینا نہیں چاہتے ہو۔ تو اس نے کہا چھوڑو ہم پر زیادہ سے زیادہ سلام کہہ دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دوسری بار کہا ” السلام علیکم ورحمتہ اللہ “ تو سعد نے پھر چپکے سے کہا وعلیکم السلام۔ اس کے بعد پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” السلام علیکم ورحمتہ اللہ “ اور پھر آپ لوٹ گئے۔ سعد گھر سے نکلے اور آواز دی حضور ﷺ میں سن رہا تھا اور سلام کا جواب بھی آہستگی سے دے رہا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ آپ کثرت سے ہم پر سلام کہہ دیں ۔ کہتے ہیں حضور اکرم ﷺ آپ کے ساتھ لوٹ آئے۔ سعد نے حکم دیا کہ حضور اکرم ﷺ کے لیے غسل کا پانی تیار کرو۔ آپ ﷺ نے غسل کیا۔ اس کے بعد سعد نے اون کا ایک پھولدار کپڑا حضور ﷺ کو پیش کیا۔ یہ زعفران یا درس گھاس سے رنگا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے اسے اوڑھا۔ پھر حضور ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی۔
الھم اجعل صلاتک ورحمتک علی آل سعد ابن عبادۃ۔۔ ” اے اللہ ‘ اپنا کرم اور رحمت ڈال دے آل سعد ابن عبادہ پر “۔ ابو دائود نے عبد اللہ ابن بشر کی حدیث نقل کی ہے۔ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کسی قوم کے دروازے پر آتے تو دروازے کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے یا اس کے دائیں طرف یا بائیں طرف کھڑے ہوتے اور فرماتے السلام علیکم۔۔۔ السلام علیکم۔ ان دنوں گھروں میں پردے نہ ہوتے تھے۔
ابو دائود نے حضرت ہذیل سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی آیا (عثمان کہتے ہیں سعد تھا) تو وہ نبی ﷺ کے دروازے پر کھڑا ہوگیا اور داخلہ کی اجازت چاہنے لگا۔ تو وہ دروازے کے سامنے منہ کر کے کھڑا ہوگیا۔ (عثمان نے کہا دروازے کے سامنے) ۔ اس پر نبی ﷺ نے اسے طریقہ بتایا اور کہا اس طرح کھڑے ہو جائو۔ کیونکہ اجازت طلب کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ تم اندر کچھ دیکھ نہ سکو۔
صحیحین میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تمہارے گھر کے اندر کوئی شخص بغیر اجازت کے اندر آجائے اور تم ان پر ایک پتھر پھینکتے ہو اور اس سے اس کی آنکھ پھوٹ جاتی ہے تو تم پر کوئی جرم عائد نہ ہوگا۔
ابودائود نے حضرت ربعی سے روایت نقل کی ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ جبکہ حضور ﷺ اپنے گھر میں تھے۔ تو اس نے کہا کیا میں ” گھس جائوں “ تو حضور ﷺ نے اپنے خادم سے کہا نکلو اور اس شخص کو اندر آنے کی اجازت طلب کرنے کا طریقہ سکھائو۔ اس سے کہو کہ تم یوں کہو ” السلام علیکم “ ۔ کیا میں داخل ہو جائوں۔ حضور ﷺ کی اس بات کو اس شخص نے سن لیا تو کہا ” السلام علیکم “ کیا میں داخل ہو جائوں “۔ تو اس کو نبی ﷺ نے اجازت دے دی اور وہ اندر آیا۔
ہیشم نے کہا ہے کہ مغیرہ نے کہا اور مغیرہ نے کہا مجاہد نے کہا ‘ عمر ایک ضرورت سے آئے اور اسے گرمی نے تنگ کر رکھا تھا وہ قریش کی ایک عورت کے خیموں کے سامنے آئے اور کہا ” السلام علیکم “ کیا میں اندر آجائوں “۔ تو اس نے کہا ” سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائو “ ۔ حضرت عمر ؓ نے پھر اجازت چاہی۔ اس نے بھی پھر یہی جواب دیا حالانکہ وہ اس کے قدموں کے پاس کھڑا تھا۔ پھر حضرت عمر ؓ نے کہا تم اس طرح کہو ” ” ادخل “ داخل ہو جائو۔ اس پر اس عورت نے کہا ” داخل ہو جائو “ تو بعد وہ اندر آئے۔
عطا ابن ابی رباح نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ کہتے ہیں میں نے کہا کیا میں اپنی یتیم بہنوں سے بھی اجازت طلب کروں جو میرے ہی گھر میں میری نگرانی میں ہیں۔ تو آپ نے فرمایا ‘ ہاں۔ میں نے پھر اس پر یہ سوال کیا تا کہ مجھے سا میں رخصت دے دی جائے۔ اس پر اس نے کہا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ اسے ننگی حالت میں دیکھو۔ تو میں نے کہا ‘ نہیں۔ تو اس نے کہا پھر اجازت طلب کرو۔ تو میں نے پھر اس سے بحث کی تو انہوں نے کہا کہ کیا تم اللہ کے حکم کی اطاعت چاہتے ہو یا نہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ ” تو پھر اجازت چاہو “ انہوں نے کہا۔
اور حدیث صحیح میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی اپنے گھر بھی رات کے وقت اچانک نہ جائے۔ بعض روایات میں آتا ہے۔ لیلا یتخونھم اور ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ دن کے وقت مدینہ پہنچ گئے تو مدینہ کے سامنے آپ نے اونٹوں کو بٹھا دیا۔ آپ نے فرمایا انتظار کرو عشاء تک یعنی دن کے آخری حصے تک تاکہ ایسی عورت جس کے بال بکھیرے ہوں وہ بال سنوار لے۔ اور ایسی عورت جس کے بال صاف نہ ہوں وہ صاف کرلے۔
اسلام نے نہایت ہی مہذب طریقے مسلمانوں کو سکھائے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر ان سے تجربہ کرایا۔ یہ آداب بلند ان کو دیئے جو نہایت ہی روشن اور نور ربی سے منور تھے۔
آج ہم بھی مسلمان ہیں لیکن ایسے معاملات کے بارے میں ہمارا احساس غلیظ ہے۔ ہم اجڈ ہوگئے ہیں۔ ایک شخص اپنے بھائی کے گھر جاتا ہے اور تیر کی طرح اندر گھس جاتا ہے اور رات اور دن کے کسی بھی وقت اس کا جی چاہے گھس جاتا ہے۔ وہ بار بار گھنیٹاں بجاتا ہے۔ اور تب چھوڑتا ہے کہ کوئی بادل نخواستہ اٹھے اور اس کے لیے دروازے کھولے۔ بعض اوقات گھر میں ٹیلیفون بھی ہوتا ہے۔ یہ بڑی سہولت سے آنے کی اجازت طلب کرسکتا ہے ‘ وقت مقرر کرسکتا ہے۔ لیکن ہم نے اسلام کے نظام استیذان کو ترک کردیا ہے اور وقت بےقوت ہم دوسرے کے ہاں وارد ہوجاتے ہیں اور اب تو ہم نے بغیر ملاقات چلے جانے کو معیوب سمجھ لیا ہے۔ اگر چہ اہل بیت نہ چاہتے ہوں۔ ہمارا رویہ یہ ہوتا ہے کہ جب ہم آگئے تو ہمیں گھس جانا ہی ہے۔ بغیر کسی باک اور انتظار کے۔
ہم مسلمان ہیں لیکن ہم اس وقت اپنے بھائیوں کو ڈسٹرب کردیتے ہیں جب وہ کھانا کھانے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اب اگر وہ بھائی کھانا پیش نہیں کرتا تو ہم خفا ہوجاتے ہیں۔ ہم رات دیر تک ملنے چلے جاتے ہیں۔ اگر وہ اپنے ہاں رات گزار نے کی دعوت نہیں پیش کرتا تو ہم خفا ہوجاتے ہیں اور ہم اس معاملے میں کسی کا کوئی عذر سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ محض اس لیے ہوتا ہے کہ ہم اسلامی آداب کے رنگ میں رنگے ہوئے نہیں ہیں۔ ہم اپنی خواہشات کو اس ضابطے کے تابع کرنا نہیں چاہتے جو رسول اللہ ﷺ لائے ہیں۔ اور ہم دراصل ایک غلط جاہلی رواج کے غلام بن گئے ہیں جس پر اللہ کی جانب سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
پھر زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ وہ بعض ایسے آداب پر عمل پیرا ہیں جو ہمارے دین جیسے ہیں۔ اور وہ ایسے ہی آداب ہیں جو ہمارے دین نے ہمیں سکھائے ہیں۔ ہم ان غیر مسلموں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے دین کے آداب اپنا رکھے ہیں اور ہمیں اپنے دین کا پتہ نہیں ہے۔ الٹے ہم ان سے متاثر ہوجاتے ہیں اور ان کو نادر آداب سمجھتے ہیں۔ اس مقام پر پہنچ کر بھی ہم اپنے دین کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور مطمئن ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
گھروں میں داخل ہونے کی اجازت کے آداب کے بعد جس کے ذریعے امتناعی اور احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں کہ کوئی نظر کے فتنے میں نہ پڑجائے اور اس کے برے نتائج برآمد ہوں۔ اب اہل ایمان کو عمومی تلقین کی جاتی ہے کہ وہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں کیونکہ نظر بازی ہی انسان کو گمراہی اور بےراہ روی تک لے جاتی ہے۔
(قل للمئو منین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بما یصنعون وقل۔۔۔۔۔۔ تفلحون ) (30 : 31) ” اے نبی ﷺ مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ‘ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ‘ جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے ۔ اور اے نبی ﷺ ‘ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں ‘ اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ‘ اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں۔ بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے ‘ اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بنائو سنگھار ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے : شوہر ‘ باپ ‘ شوہروں کے باپ ‘ اپنے بیٹے ‘ شوہروں کے بیٹے ‘ بھائی ‘ بھائیوں کے بیٹے ‘ بہنوں کے بیٹے ‘ اپنے میل جول کی عورتیں ‘ اپنے لونڈی غلام ‘ وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں ‘ اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پائوں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپارکھی ہو ‘ اس کا لوگوں کو علم ہوجائے۔ اے مومنو ‘ تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو ‘ توقع ہے کہ فلاح پائو گے “۔
ان آیات کا نصب العین یہ ہے کہ ایک نہایت ہی پاک و صاف سوسائٹی قائم کی جائے جس کی حالت یہ نہ ہو کہ ہر جگہ اور ہر وقت شہوت ہی کا ہیجان ہو اور ہر وقت گوشت و پوست کی لذت اندوزی کے سامان ہوں ‘ کیونکہ ایسے اقدامات جن سے ہر وقت جنسی ہیجان پیدا کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس قدر جنسی پیاس پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ پھر کبھی بجھتی نہیں۔ ایک نظر بد یا فتنہ انگیز ادا یا زیب وزینت کی نمائش اور عریانی جسم کی نمائش دوسروں کے جذبات میں آگ لگا سکتی ہے اور انسان کی خوابیدہ حیوانیت کو نہ صرف جگا دیا جاتا ہے بلکہ دوسرے کے اندر بےچینی پیدا کردی جاتی ہے۔ دوسرے فریق کو پھر اپنے اوپر قابو نہیں رہتا۔ یا تو پھر انسان بےقید شہوت رانی کا شکار ہوتا ہے اور یا پھر اس کے اعصاب اور نفسیات کے اندر ہیجانی امراض پیدا ہوجاتی ہیں اور اس طرح ایک انسان عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
اسلام جو پاک اور صاف ستھری سوسائٹی تعمیر کرنا چاہتا ہے اس کے قیام کے لیے وہ پہلی تدبیر یہ اختیار کرتا ہے کہ جذبات کو ہیجان سے بچایا جائے۔ وہ فریقین کے اندر پائے جانے والے فطری میلان کو اپنی جگہ باقی رکھتا ہے اور اپنے فطری انداز کے مطابق اس فطری جذبہ کو محفوظ اور تعمیری انداز دیتا ہے۔
انسانیت پر ایک دور ایسا بھی آیا کہ نظریہ اباحیت پھیل گیا۔ حنین کے درمیان آزادانہ گفتگو ‘ آزادانہ اختلاط ‘ گپ شپ کو عام کردیا گیا ‘ یہاں تک کہ بچوں کو جنسی تعلیم دی جانے لگی اور خفیہ ترین باتوں سے پردہ اٹھا دیا گیا۔ یہ باتیں اور اقدامات اسی نظریہ کے تحت کیے گئے کہ یہ امور جنسی میلان اور جنسی جذبات کو دبانے کے نقصانات سے بچاتے ہیں اور لوگوں کو یہ مواقع ملتے ہیں کہ وہ آزادانہ طور پر جو چاہیں جنسی معاہدے کریں۔ یہ اجازت ان نظریات نے اس لیے دی کہ لوگ جنسی میدان میں تشدد اور دوسری غلط کاریاں نہ کریں۔
یہ جنسی آزادی اس وقت رائج ہوئی جب انسان کے بارے میں خالص مادی نظریات رائچ ہوئے اور انسان کو محض حیوان قرار دیا گیا۔ خصوصاً فرائیڈ کے جنجسی خیالات کی ترویج کے بعد۔ لیکن میں نے خود ان نظریات کو ایک ایسے ملک میں دیکھا جس میں مکمل اباحیت تھی اور جس میں مذہبی ‘ اخلاقی اور انسانی قیود میں سے کوئی قید نہ تھی لیکن میں نے مشاہدہ کیا کہ یہ تمام نظریات محض مفروضے ہیں اور ایسے ممالک کے حالات ان کی پوری پوری تکذیب کرتے ہیں۔
ایے ممالک کا ہم نے ملاحظہ کیا ہے جن میں جسمانی ملاپ ‘ عریانی اور جنسی بےراہ روی پر کوئی قید و بند نہیں ہے۔ وہاں اس کی تمام ممکن شکلیں جائز ہیں لیکن ان ممالک میں جنسی تعلقات نہ مہذب ہو سکے ‘ نہ ان کے اندر کوئی باقاعدگی پیدا ہوئی بلکہ جنسی پیاس جنون کی حد تک بڑھ گئی اور اس قدر بڑھی کہ تسکین کا نام و نشان ختم ہوگیا۔ ان ممالک میں جنسی اور نفسیاتی بیماریوں کا طوفان لڈ آیا اور ایسے مسائل دیکھنے میں آئے جو جنسی محرومی سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مسائل ان معاشرو وں میں بکثرت پائے جاتے ہیں جن میں جنسی انار کی پر کوئی قید نہیں ہے۔ یہ مسائل محض اس لیے پیدا ہوئے کہ ایسے ممالک میں کوئی جنسی قید اور ضابطہ نہ تھا۔ جنسی دو ستیاں بغیر کسی رکاوٹ کے آزاد تھیں اور جنسی تعلقات اور ملاپ مویشیوں کی طرح راستوں میں دیکھا جاتا تھا۔ جنسی حرکات اور نظربازیاں تو بالکل معمولی چیز تھیں۔ ان ممالک کے تفصیلی واقعات اور تفصیلی حرکات پر بحث کا یہاں موقع نہیں ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے محمد قطب کی کتاب (الانسان بین المادیہ والاسلام) باب مسائل جنس۔ مزید تفصیلات میری زیر طبع کتاب (امریکا التی رابت) میں دیکھئے۔
مرد اور عورت کے اندر ایک دوسرے کے لیے کشش ایک فطری امر ہے اور یہ انسان کے اندر تخلیقی طور پر ودیعت کی گئی ہے کیونکہ اس کرئہ ارض پر زندگی کے تسلسل کا دار و مدار اسی پر ہے۔ انسان نے اس زمین پر منصب خلافت ارضی کی ذمہ داریوں کو وپرا کرنا ہے۔ اس ذمہ داری کا بڑا اور اہم حصہ یہاں زندگی کے تسلسل کو قائم رکھنا ہے۔ اس لیے یہ کشش ایک دائمی کشش ہے۔ بعض اوقات یہ کشش سو جاتی ہے۔ پھر جاگ اٹھتی ہے۔ جو نہی یہ جاگتی ہے تو یہ فرد تب ہوتی ہے جب جنبن کے درمیان ملاپ ہو کر تسکین ہوجائے۔ اگر یہ جسمانی تسکین نہ ہو تو اس کا اثر انسانی اعصاب پر پڑتا ہے اور ایسے حالات میں انسان پر شدید گھٹن محسوس کرتا ہے۔ پھر انسان کو ایک نظر بھی اکساتی ہے ‘ ایک حرکت بھی اکساتی ہے۔ ایک معمولی سی ہنسی بھی ابھارتی ہے۔ محض گپ شپ کے نتیجے میں انسان بےقابو ہوجاتا ہے اور ایک خوبصورت آواز بھی تڑپا دیتی ہے لہٰذا محفوظ طریقہ یہ ہے کہ سوسائٹی کے اندر انسان کو ایسے مواقع سے محفوظ رکھا جائے تاکہ اس کا جنسی ملان طبعی حدود کے اندر رہے اور جائز اور قدرتی ذرائع سے اس کی تسکین کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اسلام یہی منہاج اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام انسان کی قوتوں کو دوسری تعمیری سمتوں کی طرف بھی موڑ دیتا ہے۔ زندگی کے دوسرے کام ایسے ہوتے ہیں جو جسم و جان اور خون اور پوست کے اس ملاپ سے زیادہ اہم ہوتے ہیں ‘ لہٰذا انسان کے سامنے صرف شہوانی تسکین ہی واحد مقصد نہیں رہتا۔ زیر تفسیر آیات میں اسلام کی ایسی ہی پالیسیوں کو جاری کیا گیا ہے یعنی ایسے مواقع کم کیے جائیں جن میں ہیجان پیدا ہوتا ہو۔ لوگوں کو اعلیٰ مقاصد میں مصروف کیا جائے اور پھر فریقین کے لیے جائز تسکین کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
النور 24:29
درس نمبر 153 ایک نظر میں
جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا ہے کہ اسلام ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینے میں صرف سخت سزائوں پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اسلام سب سے پہلے جرائم کے لیے انسدادی اور امتناعی تدابیر اختیار کرتا ہے۔ نیز اسلام انسان کی فطری خواہشات کو نہ دباتا ہے اور نہ ان کی بیح کئی کرتا ہے بلکہ وہ انسان کی فطری خواہشات کے لیے بھی ایک نہایت ہی پاکیزہ اور نارمل ماحول فراہم کرنا ہے جس میں کوئی جعلی اکساہٹ نہ ہو۔
اس سلسلے میں اسلام کے نظام تربیت کا بنیادی اصول سدباب کا ذریعہ ہے۔ اسلام بدراہ ہونے کے دروازے ہی بند کردیتا ہے اور ان اسباب کو ختم کرتا ہے جو انسان کو بدراہ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں یا فتنے کے اسباب فراہم کرتے ہیں یا جن کی وجہ سے انسان کے جذبات میں اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ دوسری طرف اسلام لوگوں کو فطری تشفی کے اسباب بھی فراہم کرتا ہے ‘ قانون کے دائرے کے اندر اندر۔
اسلام فیملی اور گھروں کی چار دیواری کا بےحد احترام کرتا ہے۔ چناچہ پہلا اصول یہ طے کیا جاتا ہے کہ کسی کے گھر کے اندر اہل خانہ کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہ ہو۔ یہ محض اس لیے کہ آنے والے کی آنکھیں کوئی ایسا منظر نہ دیکھ لیں جس کو اہل خانہ خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اچانک داخل ہوتا ہے اور اہل خانہ غافل ہیں تو وہ اس منظر کو پسند نہ کریں گے۔ نیز اسلام یہ حکم بھی دیتا ہے کہ تمام مرد اور عورتیں نظریں نیچی رکھیں اور زیب وزینت کے ساتھ عورتیں باہر نہ نکلیں۔
اس کے ساتھ اسلام فقراء اور مساکین کو شادی کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے کیونکہ فحاشی کے خلاف بہترین ہتھیار یہ ہے کہ تمام لوگوں کو شادی کے محفوظ قلعے کے اندر داخل کردیا جائے۔ نیز یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ لونڈیوں کو بھی بد کرداری پر مجبور نہ کرو کیونکہ لونڈیوں کے ذریعہ فحاشی کو بڑی آسانی کے ساتھ پھیلایا جاسکتا ہے۔
درس نمبر 153 تشریح آیات
27۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ 34
(یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تکتمون) (27 : 29) ”
گھروں کو اللہ نے انسانوں کے لیے جائے سکون بنایا ‘ لوگ کام کاج کرکے ان کی طرف لوٹتے ہیں۔ ان کی روح کو وہاں سکون ملتا ہے اور ان کے نفوس کو وہاں آرام ملتا ہے۔ یہاں وہ اپنے خفیہ اور پوشیدہ امور کے بارے میں مطمئن ہوتے ہیں ‘ ان کی عزت یہاں محفوظ ہوتی ہے اور یہاں وہ آرام کر کے اپنے اعصاب کو تسکین پہنچاتے ہیں۔
ایک گھر میں اس قسم کا آرام اور سکون تب ہی مل سکتا ہے جب کوئی غیر شخص چار دیواری کی حرمت پر ہاتھ نہ ڈالے اور اہل خانہ نہایت امن و سکون سے رہیں ‘ الا یہ کہ باہر کوئی شخص ان کی اجازت سے گھر کے اندر داخل ہو۔ اور اس وقت داخل ہو جس وقت وہ چاہیں اور ایسے حالات میں داخل ہو جن میں اہل خانہ اجازت دیں۔
اب اگر کسی کو کسی کے گھر میں داخل کی اجازت دے دی جائے اور اس کی نظریں کسی ایسے منظر کو دیکھ لیں جو دونوں کے لیے فتنہ ہو اور اچانک داخلہ اس شخص کے لیے اس فتنہ کا باعث بن جائے تو اس طرح معاشرے میں فحاشی پھیلنے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ بع ضاوقات ایسی نظروں کا تکرار پھر ابتلاء بن جاتا ہے۔ اگر چہ پہلی نظر میں ملاقات بعض اوقات بلاقصد و ارادہ ہوتی ہے لیکن بعد میں فتنہ بن جاتی ہے۔ جب فریقین ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں فساد اور فحاشی اور بےراہ روی پیدا ہوجاتی ہے۔
جاہلیت کے دور میں دوسرے کے گھر لوگ اچانک داخل ہوجاتے تھے۔ پہلے الٓنیوالا آجاتا اور پھر کہتا میں آگیا ہوں ۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ صاحب خانہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ ایسی حالت میں ہوتا کہ ایسے حالات میں باہر سے داخل ہونا معیوب ہوتا لیکن وہ پروانہ کرتے۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ گھر میں عورت ننگی ہے یا اس کے ستر کے مقامات ننگے ہیں۔ یا مرد اس طرح ہے۔ اس سے صاحب خانہ کو اذیت پہنچتی اور دوسرے کے گھر کا امن و سکون تباہ ہوجاتا۔ جبکہ بعض اوقات ایسا بےہنگم واقعہ فتنے کا بعث بن جاتا ہے آنکھ ایسا منظر دیکھ لیتی جس سے فتنہ اٹھ کھڑا ہوتا۔
ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو ان آداب کا پابند کردیا کہ کسی کے گھر کے اندر بغیر اجازت کے داخل ہونا ممنوع ہے۔ مناسب ہے کہ باہر سے سلام کیا جائے تاکہ ان کو پتہ چل جائے کہ فلاں صاحب آنا چاہتے ہیں۔ نیز اس انداز سے ایک قسم کی مانوسیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
(یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیٰ اھلھا) (24 : 27) ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھو والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو “۔ یہاں اذن و اجازت کے لفظ کی تعبیر لفظ ” انس “ سے کی گئی ہے۔ اس انداز تعبیر سے اجازت کے مہذب ترین طریقے کی طرف اشارہ ہے۔ نیز اس طرف اشارہ ہے کہ آنے والے کو نہایت ہی مہذب انداز میں آنا چاہیے۔ لوگوں کے ساتھ وہنہایت انس و محبت سی اور مہذب طریقے سے بات کرے تاکہ وہ اس کے استقبال کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایک نہایت ہی لطیف اور دقیق اخلاقی اصول ہے لوگوں کی سہولت کے لیے اور ان کے گھروں میں ان کی عزت و وقار کو بحال کرنے کے لیے اور اس لیے کہ رات دن اہل خانہ آنے جانے والوں سے تنگ ہی نہ ہوجائیں کہ ایک آرہا ہے اور دوسرا جارہا ہے اور وہ بھی بلااجازت۔
اجازت کے نتیجے میں اب صورت حالات یہ ہوگی کہ یا تو اس میں کوئی گھر میں ہوگا اور اجازت دے دے گا تو یہ شخص گھر کے اندر چلا جائے گا اور اگر کوئی نہیں ہوگا تو پھر اس شخص کے لیے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
(فان لم۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 28) ” اگر وہاں کسی کو نہ پائو تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دی جائے “
اگر اندر اہل خانہ سے کوئی موجود ہو تو صرف اجازت طلب کرنے ہی سے داخلے کی اجازت نہیں ہوجاتی جب تک کوئی صریح اجازت نہ دے۔ اگر اندر والے اجازت نہ دیں تو بغیر کسی جھجک کے واپس ہوجانا چاہیے۔ اور انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
(وان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 28) ” اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہو جائو تو واپس ہو جائو۔ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے “۔ یعنی واپس ہو جائو بغیر کسی تلخی کے ۔ بغیر اس تاثر کے کہ اہل خانہ نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے ‘ یا تم سے کوئی نفرت کی ہے کیونکہ اہل خانہ کے اپنے اسرار اور اعذار ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ حق ان کو دینا ضروری ہے کہ اس وقت وہ مہمان کا استقبال کرسکتے ہیں یا نہیں۔
واللہ بما تعملون علیم (24 : 28) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اللہ خو جانتا ہے “۔ اللہ تو دلوں کے خفیہ بھیدوں کو جاننے والا ہے ‘ یا یہ کہ دلوں میں جو جذبات و خیالات ہیں ان سے بھی وہ باخبر ہے۔
رہے وہ مقامات جو مقامات عامہ ہیں مثلاً ہوٹل ‘ سرائے اور ضافت کے گھر ہاسٹل وغیرہ جو پرائیویٹ رہائش گاہوں سے علیحدہ ہوں تو ان میں بغیر اجازت کی داخل ہونا جائز ہے جب اجازت کا کوئی سبب موجود نہ ہو۔
(لیس علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 29) ” البتہ تمہارے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جائو جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے کی کوئی چیزہو “۔
واللہ یعلم ما تبدون وما تکتمون (24 : 29) ” تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو ‘ سب کی اللہ کو خبر ہے “ ۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تمہارے ظاہرو باطن کو جانتا ہے اور وہ تمہارے انگران ہے۔ تمہارے دلی خیالات سے وہ باخبر ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں تمہارے لیے ایک نہایت ہی مہذب انداز زندگی تجویز کرتا ہے۔ اس کا وہ نگراں بھی ہے اس کا مطالبہ یہ ہے کہ تم قلبی اطاعت کرو۔
واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل نظام حیات ہے اس لیے وہ انسانی زندگی کے ایک نہایت ہی جزئی مسئلے کو اس قدر تفصیل سے لیتا ہے۔ کیونکہ اس نظام کا موضوع انسانی زندگی کا طرز عمل ہے خواہ وہ جزنی ہو یا تفصیلی۔ اس طرح اسلام نظام کے اصول و فروع کے درمیان ا کی توازن قائم کردیا جاتا ہے۔ امسیدذن کا قانون گھروں کو امن و سکون کی جگہ بنانے کی ایک تدبیر ہے۔ یہ تدبیر کرنا مقصود ہے کہ کسی گھر کے باشندے کو اچانک کسی ناپسند یدہ صورت حال سے دو چار ہوھنا نہ پڑے کیونکہ جب اچانک کوئی در آئے تو معلوم نہیں ہوتا کہ اندر کے لوگ کس حال میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کا سرکھلا ہو یا کسی ستر کھلاہو ” عورات “ کے لفظ سے وسیع تر مفہوم مراد ہے۔ اس سے صرف بدنی برہنگی ہی مراد نہیں ہے۔ اس سے کھانے پینے کے انتظامات ‘ لباس ‘ سازوسامان ‘ نشست و برخاست کے مقامات و اثاث الیت بھی مراد ہے جس کے بارے میں اہل بیت یہ نہیں چاہتے کہ جگہ اور حالات کی تیاری کے بغیر کوئی اندر آجائے اور اندر کی کیفیت کو وہ کم تر نفسیاتی حالات میں پائے۔ مثلاً کم لوگ اس بات کو پسند کریں گے کہ کوئی اندر آئے اور اندر کوئی رورہا ہو یا کوئی اندر آئے اور گھر والا غصے میں ہو۔ یا وہ کسی ایسے درد اور دکھ میں مبتلاہو جسے وہ عوام سے خفیہ رکھنا چاہتاہو۔ یہ سب عورات ہیں۔
اس ایک ” ادب “ کے ذریعے قرآن مجید بیشمار فوائد کو سمیٹ لیتا ہے۔ بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو جانتے بھی نہیں ہیں۔ پھر اہم بات یہ کہ اچانک نظر بازی سے بھی انسان بچ سکتا ہے جس کے نتیجے میں ناجائز خواہشات کے ابھرنے کے مواقع ہوتے ہیں اور بعد میں پھر یہ تعلقات برے تعلقات کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ غرض نظروں کے بہکنے اور دلوں کی اچانک کشش کو قابو میں رکھنے کے لیے ادب قرآنی نہایت ہی مفید اور اہم ذریعہ اصلاح ہے۔
اس کی حقیقت اور اہمیت صرف وہ لوگ جانتے ہیں جن کے اندر سب سے پہلے یہ ادب اترا اور اس کا آغاز رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے کیا۔
امام ابو دائود اور نسانی نے ابو عمر اوزاعی کی حدیث نقل کی ہے۔ وہ قیس ابن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری رہائش گاہ پر تشریف لائے اور باہر سے کہا ” السلام علیکم “ تو سعد نے نرمی سے وعلیکم السلام کہا۔ قیس کہتے ہیں : میں نے سعد سے کہا کیا تم رسول اللہ ﷺ کو اجازت دینا نہیں چاہتے ہو۔ تو اس نے کہا چھوڑو ہم پر زیادہ سے زیادہ سلام کہہ دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دوسری بار کہا ” السلام علیکم ورحمتہ اللہ “ تو سعد نے پھر چپکے سے کہا وعلیکم السلام۔ اس کے بعد پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” السلام علیکم ورحمتہ اللہ “ اور پھر آپ لوٹ گئے۔ سعد گھر سے نکلے اور آواز دی حضور ﷺ میں سن رہا تھا اور سلام کا جواب بھی آہستگی سے دے رہا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ آپ کثرت سے ہم پر سلام کہہ دیں ۔ کہتے ہیں حضور اکرم ﷺ آپ کے ساتھ لوٹ آئے۔ سعد نے حکم دیا کہ حضور اکرم ﷺ کے لیے غسل کا پانی تیار کرو۔ آپ ﷺ نے غسل کیا۔ اس کے بعد سعد نے اون کا ایک پھولدار کپڑا حضور ﷺ کو پیش کیا۔ یہ زعفران یا درس گھاس سے رنگا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے اسے اوڑھا۔ پھر حضور ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی۔
الھم اجعل صلاتک ورحمتک علی آل سعد ابن عبادۃ۔۔ ” اے اللہ ‘ اپنا کرم اور رحمت ڈال دے آل سعد ابن عبادہ پر “۔ ابو دائود نے عبد اللہ ابن بشر کی حدیث نقل کی ہے۔ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کسی قوم کے دروازے پر آتے تو دروازے کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے یا اس کے دائیں طرف یا بائیں طرف کھڑے ہوتے اور فرماتے السلام علیکم۔۔۔ السلام علیکم۔ ان دنوں گھروں میں پردے نہ ہوتے تھے۔
ابو دائود نے حضرت ہذیل سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی آیا (عثمان کہتے ہیں سعد تھا) تو وہ نبی ﷺ کے دروازے پر کھڑا ہوگیا اور داخلہ کی اجازت چاہنے لگا۔ تو وہ دروازے کے سامنے منہ کر کے کھڑا ہوگیا۔ (عثمان نے کہا دروازے کے سامنے) ۔ اس پر نبی ﷺ نے اسے طریقہ بتایا اور کہا اس طرح کھڑے ہو جائو۔ کیونکہ اجازت طلب کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ تم اندر کچھ دیکھ نہ سکو۔
صحیحین میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تمہارے گھر کے اندر کوئی شخص بغیر اجازت کے اندر آجائے اور تم ان پر ایک پتھر پھینکتے ہو اور اس سے اس کی آنکھ پھوٹ جاتی ہے تو تم پر کوئی جرم عائد نہ ہوگا۔
ابودائود نے حضرت ربعی سے روایت نقل کی ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ جبکہ حضور ﷺ اپنے گھر میں تھے۔ تو اس نے کہا کیا میں ” گھس جائوں “ تو حضور ﷺ نے اپنے خادم سے کہا نکلو اور اس شخص کو اندر آنے کی اجازت طلب کرنے کا طریقہ سکھائو۔ اس سے کہو کہ تم یوں کہو ” السلام علیکم “ ۔ کیا میں داخل ہو جائوں۔ حضور ﷺ کی اس بات کو اس شخص نے سن لیا تو کہا ” السلام علیکم “ کیا میں داخل ہو جائوں “۔ تو اس کو نبی ﷺ نے اجازت دے دی اور وہ اندر آیا۔
ہیشم نے کہا ہے کہ مغیرہ نے کہا اور مغیرہ نے کہا مجاہد نے کہا ‘ عمر ایک ضرورت سے آئے اور اسے گرمی نے تنگ کر رکھا تھا وہ قریش کی ایک عورت کے خیموں کے سامنے آئے اور کہا ” السلام علیکم “ کیا میں اندر آجائوں “۔ تو اس نے کہا ” سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائو “ ۔ حضرت عمر ؓ نے پھر اجازت چاہی۔ اس نے بھی پھر یہی جواب دیا حالانکہ وہ اس کے قدموں کے پاس کھڑا تھا۔ پھر حضرت عمر ؓ نے کہا تم اس طرح کہو ” ” ادخل “ داخل ہو جائو۔ اس پر اس عورت نے کہا ” داخل ہو جائو “ تو بعد وہ اندر آئے۔
عطا ابن ابی رباح نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ کہتے ہیں میں نے کہا کیا میں اپنی یتیم بہنوں سے بھی اجازت طلب کروں جو میرے ہی گھر میں میری نگرانی میں ہیں۔ تو آپ نے فرمایا ‘ ہاں۔ میں نے پھر اس پر یہ سوال کیا تا کہ مجھے سا میں رخصت دے دی جائے۔ اس پر اس نے کہا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ اسے ننگی حالت میں دیکھو۔ تو میں نے کہا ‘ نہیں۔ تو اس نے کہا پھر اجازت طلب کرو۔ تو میں نے پھر اس سے بحث کی تو انہوں نے کہا کہ کیا تم اللہ کے حکم کی اطاعت چاہتے ہو یا نہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ ” تو پھر اجازت چاہو “ انہوں نے کہا۔
اور حدیث صحیح میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی اپنے گھر بھی رات کے وقت اچانک نہ جائے۔ بعض روایات میں آتا ہے۔ لیلا یتخونھم اور ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ دن کے وقت مدینہ پہنچ گئے تو مدینہ کے سامنے آپ نے اونٹوں کو بٹھا دیا۔ آپ نے فرمایا انتظار کرو عشاء تک یعنی دن کے آخری حصے تک تاکہ ایسی عورت جس کے بال بکھیرے ہوں وہ بال سنوار لے۔ اور ایسی عورت جس کے بال صاف نہ ہوں وہ صاف کرلے۔
اسلام نے نہایت ہی مہذب طریقے مسلمانوں کو سکھائے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر ان سے تجربہ کرایا۔ یہ آداب بلند ان کو دیئے جو نہایت ہی روشن اور نور ربی سے منور تھے۔
آج ہم بھی مسلمان ہیں لیکن ایسے معاملات کے بارے میں ہمارا احساس غلیظ ہے۔ ہم اجڈ ہوگئے ہیں۔ ایک شخص اپنے بھائی کے گھر جاتا ہے اور تیر کی طرح اندر گھس جاتا ہے اور رات اور دن کے کسی بھی وقت اس کا جی چاہے گھس جاتا ہے۔ وہ بار بار گھنیٹاں بجاتا ہے۔ اور تب چھوڑتا ہے کہ کوئی بادل نخواستہ اٹھے اور اس کے لیے دروازے کھولے۔ بعض اوقات گھر میں ٹیلیفون بھی ہوتا ہے۔ یہ بڑی سہولت سے آنے کی اجازت طلب کرسکتا ہے ‘ وقت مقرر کرسکتا ہے۔ لیکن ہم نے اسلام کے نظام استیذان کو ترک کردیا ہے اور وقت بےقوت ہم دوسرے کے ہاں وارد ہوجاتے ہیں اور اب تو ہم نے بغیر ملاقات چلے جانے کو معیوب سمجھ لیا ہے۔ اگر چہ اہل بیت نہ چاہتے ہوں۔ ہمارا رویہ یہ ہوتا ہے کہ جب ہم آگئے تو ہمیں گھس جانا ہی ہے۔ بغیر کسی باک اور انتظار کے۔
ہم مسلمان ہیں لیکن ہم اس وقت اپنے بھائیوں کو ڈسٹرب کردیتے ہیں جب وہ کھانا کھانے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اب اگر وہ بھائی کھانا پیش نہیں کرتا تو ہم خفا ہوجاتے ہیں۔ ہم رات دیر تک ملنے چلے جاتے ہیں۔ اگر وہ اپنے ہاں رات گزار نے کی دعوت نہیں پیش کرتا تو ہم خفا ہوجاتے ہیں اور ہم اس معاملے میں کسی کا کوئی عذر سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ محض اس لیے ہوتا ہے کہ ہم اسلامی آداب کے رنگ میں رنگے ہوئے نہیں ہیں۔ ہم اپنی خواہشات کو اس ضابطے کے تابع کرنا نہیں چاہتے جو رسول اللہ ﷺ لائے ہیں۔ اور ہم دراصل ایک غلط جاہلی رواج کے غلام بن گئے ہیں جس پر اللہ کی جانب سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
پھر زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ وہ بعض ایسے آداب پر عمل پیرا ہیں جو ہمارے دین جیسے ہیں۔ اور وہ ایسے ہی آداب ہیں جو ہمارے دین نے ہمیں سکھائے ہیں۔ ہم ان غیر مسلموں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے دین کے آداب اپنا رکھے ہیں اور ہمیں اپنے دین کا پتہ نہیں ہے۔ الٹے ہم ان سے متاثر ہوجاتے ہیں اور ان کو نادر آداب سمجھتے ہیں۔ اس مقام پر پہنچ کر بھی ہم اپنے دین کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور مطمئن ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
گھروں میں داخل ہونے کی اجازت کے آداب کے بعد جس کے ذریعے امتناعی اور احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں کہ کوئی نظر کے فتنے میں نہ پڑجائے اور اس کے برے نتائج برآمد ہوں۔ اب اہل ایمان کو عمومی تلقین کی جاتی ہے کہ وہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں کیونکہ نظر بازی ہی انسان کو گمراہی اور بےراہ روی تک لے جاتی ہے۔
(قل للمئو منین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بما یصنعون وقل۔۔۔۔۔۔ تفلحون ) (30 : 31) ” اے نبی ﷺ مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ‘ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ‘ جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے ۔ اور اے نبی ﷺ ‘ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں ‘ اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ‘ اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں۔ بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے ‘ اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بنائو سنگھار ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے : شوہر ‘ باپ ‘ شوہروں کے باپ ‘ اپنے بیٹے ‘ شوہروں کے بیٹے ‘ بھائی ‘ بھائیوں کے بیٹے ‘ بہنوں کے بیٹے ‘ اپنے میل جول کی عورتیں ‘ اپنے لونڈی غلام ‘ وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں ‘ اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پائوں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپارکھی ہو ‘ اس کا لوگوں کو علم ہوجائے۔ اے مومنو ‘ تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو ‘ توقع ہے کہ فلاح پائو گے “۔
ان آیات کا نصب العین یہ ہے کہ ایک نہایت ہی پاک و صاف سوسائٹی قائم کی جائے جس کی حالت یہ نہ ہو کہ ہر جگہ اور ہر وقت شہوت ہی کا ہیجان ہو اور ہر وقت گوشت و پوست کی لذت اندوزی کے سامان ہوں ‘ کیونکہ ایسے اقدامات جن سے ہر وقت جنسی ہیجان پیدا کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس قدر جنسی پیاس پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ پھر کبھی بجھتی نہیں۔ ایک نظر بد یا فتنہ انگیز ادا یا زیب وزینت کی نمائش اور عریانی جسم کی نمائش دوسروں کے جذبات میں آگ لگا سکتی ہے اور انسان کی خوابیدہ حیوانیت کو نہ صرف جگا دیا جاتا ہے بلکہ دوسرے کے اندر بےچینی پیدا کردی جاتی ہے۔ دوسرے فریق کو پھر اپنے اوپر قابو نہیں رہتا۔ یا تو پھر انسان بےقید شہوت رانی کا شکار ہوتا ہے اور یا پھر اس کے اعصاب اور نفسیات کے اندر ہیجانی امراض پیدا ہوجاتی ہیں اور اس طرح ایک انسان عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
اسلام جو پاک اور صاف ستھری سوسائٹی تعمیر کرنا چاہتا ہے اس کے قیام کے لیے وہ پہلی تدبیر یہ اختیار کرتا ہے کہ جذبات کو ہیجان سے بچایا جائے۔ وہ فریقین کے اندر پائے جانے والے فطری میلان کو اپنی جگہ باقی رکھتا ہے اور اپنے فطری انداز کے مطابق اس فطری جذبہ کو محفوظ اور تعمیری انداز دیتا ہے۔
انسانیت پر ایک دور ایسا بھی آیا کہ نظریہ اباحیت پھیل گیا۔ حنین کے درمیان آزادانہ گفتگو ‘ آزادانہ اختلاط ‘ گپ شپ کو عام کردیا گیا ‘ یہاں تک کہ بچوں کو جنسی تعلیم دی جانے لگی اور خفیہ ترین باتوں سے پردہ اٹھا دیا گیا۔ یہ باتیں اور اقدامات اسی نظریہ کے تحت کیے گئے کہ یہ امور جنسی میلان اور جنسی جذبات کو دبانے کے نقصانات سے بچاتے ہیں اور لوگوں کو یہ مواقع ملتے ہیں کہ وہ آزادانہ طور پر جو چاہیں جنسی معاہدے کریں۔ یہ اجازت ان نظریات نے اس لیے دی کہ لوگ جنسی میدان میں تشدد اور دوسری غلط کاریاں نہ کریں۔
یہ جنسی آزادی اس وقت رائج ہوئی جب انسان کے بارے میں خالص مادی نظریات رائچ ہوئے اور انسان کو محض حیوان قرار دیا گیا۔ خصوصاً فرائیڈ کے جنجسی خیالات کی ترویج کے بعد۔ لیکن میں نے خود ان نظریات کو ایک ایسے ملک میں دیکھا جس میں مکمل اباحیت تھی اور جس میں مذہبی ‘ اخلاقی اور انسانی قیود میں سے کوئی قید نہ تھی لیکن میں نے مشاہدہ کیا کہ یہ تمام نظریات محض مفروضے ہیں اور ایسے ممالک کے حالات ان کی پوری پوری تکذیب کرتے ہیں۔
ایے ممالک کا ہم نے ملاحظہ کیا ہے جن میں جسمانی ملاپ ‘ عریانی اور جنسی بےراہ روی پر کوئی قید و بند نہیں ہے۔ وہاں اس کی تمام ممکن شکلیں جائز ہیں لیکن ان ممالک میں جنسی تعلقات نہ مہذب ہو سکے ‘ نہ ان کے اندر کوئی باقاعدگی پیدا ہوئی بلکہ جنسی پیاس جنون کی حد تک بڑھ گئی اور اس قدر بڑھی کہ تسکین کا نام و نشان ختم ہوگیا۔ ان ممالک میں جنسی اور نفسیاتی بیماریوں کا طوفان لڈ آیا اور ایسے مسائل دیکھنے میں آئے جو جنسی محرومی سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مسائل ان معاشرو وں میں بکثرت پائے جاتے ہیں جن میں جنسی انار کی پر کوئی قید نہیں ہے۔ یہ مسائل محض اس لیے پیدا ہوئے کہ ایسے ممالک میں کوئی جنسی قید اور ضابطہ نہ تھا۔ جنسی دو ستیاں بغیر کسی رکاوٹ کے آزاد تھیں اور جنسی تعلقات اور ملاپ مویشیوں کی طرح راستوں میں دیکھا جاتا تھا۔ جنسی حرکات اور نظربازیاں تو بالکل معمولی چیز تھیں۔ ان ممالک کے تفصیلی واقعات اور تفصیلی حرکات پر بحث کا یہاں موقع نہیں ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے محمد قطب کی کتاب (الانسان بین المادیہ والاسلام) باب مسائل جنس۔ مزید تفصیلات میری زیر طبع کتاب (امریکا التی رابت) میں دیکھئے۔
مرد اور عورت کے اندر ایک دوسرے کے لیے کشش ایک فطری امر ہے اور یہ انسان کے اندر تخلیقی طور پر ودیعت کی گئی ہے کیونکہ اس کرئہ ارض پر زندگی کے تسلسل کا دار و مدار اسی پر ہے۔ انسان نے اس زمین پر منصب خلافت ارضی کی ذمہ داریوں کو وپرا کرنا ہے۔ اس ذمہ داری کا بڑا اور اہم حصہ یہاں زندگی کے تسلسل کو قائم رکھنا ہے۔ اس لیے یہ کشش ایک دائمی کشش ہے۔ بعض اوقات یہ کشش سو جاتی ہے۔ پھر جاگ اٹھتی ہے۔ جو نہی یہ جاگتی ہے تو یہ فرد تب ہوتی ہے جب جنبن کے درمیان ملاپ ہو کر تسکین ہوجائے۔ اگر یہ جسمانی تسکین نہ ہو تو اس کا اثر انسانی اعصاب پر پڑتا ہے اور ایسے حالات میں انسان پر شدید گھٹن محسوس کرتا ہے۔ پھر انسان کو ایک نظر بھی اکساتی ہے ‘ ایک حرکت بھی اکساتی ہے۔ ایک معمولی سی ہنسی بھی ابھارتی ہے۔ محض گپ شپ کے نتیجے میں انسان بےقابو ہوجاتا ہے اور ایک خوبصورت آواز بھی تڑپا دیتی ہے لہٰذا محفوظ طریقہ یہ ہے کہ سوسائٹی کے اندر انسان کو ایسے مواقع سے محفوظ رکھا جائے تاکہ اس کا جنسی ملان طبعی حدود کے اندر رہے اور جائز اور قدرتی ذرائع سے اس کی تسکین کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اسلام یہی منہاج اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام انسان کی قوتوں کو دوسری تعمیری سمتوں کی طرف بھی موڑ دیتا ہے۔ زندگی کے دوسرے کام ایسے ہوتے ہیں جو جسم و جان اور خون اور پوست کے اس ملاپ سے زیادہ اہم ہوتے ہیں ‘ لہٰذا انسان کے سامنے صرف شہوانی تسکین ہی واحد مقصد نہیں رہتا۔ زیر تفسیر آیات میں اسلام کی ایسی ہی پالیسیوں کو جاری کیا گیا ہے یعنی ایسے مواقع کم کیے جائیں جن میں ہیجان پیدا ہوتا ہو۔ لوگوں کو اعلیٰ مقاصد میں مصروف کیا جائے اور پھر فریقین کے لیے جائز تسکین کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
النور 24:30
(قل للمئو منین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بما یصنعون) (24 : 30) ” “۔ مردوں کی طرف سے غض بصر ایک نفسیاتی ادب اور تہذیب ہے اور دوسرے انسانوں کے اندر فطری محاسن اور جسمانی محاسن اور چہرے کے محاسن کی تلاش ہر انسان کے اندر ایک فطری داعیہ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک مومن اپنے اس داھیہ پر قابو پاتا ہے۔ نیز یہ غلط روی کے پہلے دریچے کی بندش کا اقدام ہے۔ اگر غض بصر سے کام نہ لیا جائے تو انسانی نظر انسان کو فتنے میں ڈال سکتی ہے۔ گویا زہریلے تیر سے بچنے کی یہ پہلی کوشش ہے۔
جب انسان اپنی نظروں پر قابو پالے تو اس کے نتیجے میں اس کی شرمگاہ خود بخود زیر کنٹرول ہوگی۔ غض بعر کے نتیجے میں بےراہ روی کے اس دوسرے مرحلے میں داخل ہونے ہی سے انسان بچ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غض بعر اور حفظ فروج کو ایک ہی آیت میں لایا گیا ہے۔ کیونکہ غض بصر سبب ہے اور حفظ فرج مسبب ہے۔ بلکہ عالم ضمیر اور عالم واقعہ دونوں میں یہ پہلا اور دوسرا قدم ہیں اور ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔
ذلک ازکی لھم ” یہ ان کے لیے پاکیزہ طریقہ ہے “۔ یہ ان کے جذبات کے لیے پاکیزہ طریقہ ہے ‘ اس طریقے سے وہ برائی میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے اور ان کا میلان اپنے جائز راہ تک محدود ہوگا۔ اللہ ہی ہے جو تمہیں یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ فطری اور نفسیاتی تعلیم و تربیت ہے۔ اللہ تمہاری تمام حرکات سے واقف ہے اور وہ علیم وخبیر ہے۔
النور 24:31
(وقل۔۔۔۔۔۔ فروجھن) (24 : 31) ” “۔ وہ اپنی بھوکی نظروں کو آزاد نہ چھوڑیں نہ وہ درد یدہ نگاہوں سے مردوں کو دیکھیں۔ نہ اچانک ان پر نگاہ ڈالیں اس طرح کہ مردوں کے خوابیدہ میلانات کے اندر اشتعال پیدا ہوجائے اور وہ اپنی شرمگاہوں اور غیر قانونی اور غیر جائز مردوں کے لیے مباح نہ کردیں۔ اپنے فطری میلانات کو جائز طریقے سے استعمال کر کے حلال بچے پیدا کریں اور یہ نہ ہو کہ حرام بچے پیدا ہوں اور عاشرے کے لیے وہ شرم کا باعث ہوں اور عاشرہ ان کے لیے شرمشار کنندہ ہو۔
(ولا۔۔۔۔۔ منھا) (24 : 31) ” “۔ زینت اور بنائو اور میک اپ عورتوں کے لیے جائز ہے کیونکہ یہ ان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ ہر عورت کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ بہت ہی خوبصورت نظر آئے۔ ہر زمانے میں زینت کے معیار بھی بدل جاتے ہیں لیکن زینت کا داعیہ فطرت کے اندر موجود ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت بنائے۔
اسلام عورت کی اس فطرت کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکتا۔ وہ اسے تسلیم کرتا ہے لیکن اسلام اس کی تنظیم اور ضابطہ بندی ضرور کرتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ یہ زیب وزینت صرف ایک مرد یعنی اپنے خاوند اور شریک حیات کے لیے مخصوص ہوجائے اور اس زینت کو صرف وہ دیکھے۔ اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ ہاں بعض مجارم بھی اس زینت میں شریک ہو سکتے ہیں جن کا ذکر بعد میں آتا ہے اور جن سے یہ توقع نہیں ہوتی کہ عورت ان کے لیے شہوت انگیز ہوگی۔
رہی وہ زینت جو چہرے پر ہے یا جو ہاتھوں پر ہے تو اس کا ظہور جائز ہے۔ کیونکہ چہرے اور ہاتھوں کا کھولنا عورتوں کے لیے مباح ہے۔ حضور ﷺ نے اسماء بنت ابوبکر سے یہ فرمایا ” اسماء عورت جب حیض کی حد تک پہنچ جائے تو یہ جائز نہیں ہے کہ اس کے ” ان “ مقامات کے سوا کوئی جگہ کھلی ہو۔ آپ نے اس وقت چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ فرمایا۔
ولیضربن بخمر ھن علی جیو بھن (24 : 31) ” “۔ جب اس شگاف کو کہتے ہیں جو قمیض میں سینے پر ہوتا ہے۔ اور ” خمار “ اس چادر کو کہتے ہیں جو سر پر اوڑھی جاتی ہے تاکہ اس سے سینہ چھپ جائے اور وہ بھوکی نظروں سے اوجھل رہے اور اچانک نظر سے بھی یہ مقامات بچ جائیں۔ متقی لوگ تو اس اچئتی نظر کو طول نہیں دیتے نہ دو بارہ نظر ڈالتے ہیں لیکن اس نظر سے بھی بعض اوقات بڑے فتنے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اگر ان مقامات کو کھلا رکھا جائے جن سے جنسی میلان کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ اس معاملے میں کسی انسان کو آزمانا نہیں چاہتا کیونکہ اللہ کو معلوم ہے کہ انسان کے لیے یہ ایک عظیم فتنہ ہے۔
اور وہ مومن عورتیں جو اللہ کی طرف سے یہ ممانعت پار ہی تھیں اور ان کے دل اللہ کے نور سے منور تھے انہوں نے ان احکام کی تعمیل میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا۔ اگر چہ ان کی فطری رغبت اور خواہش یہی تھی کہ وہ ایسے جمال و کمال کا اظہار کریں جس طرح ہر عورت کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے۔ جاہلیت میں یہ رواج تھا جس طرح آج کی جدید جاہلیت کا رواج ہے کہ عورتیں مردوں کے درمیان سینہ تان کر پھرتی تھیں اور ان کے سینہ پر کچھ نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات تو اس کی گردن اور بالوں کی لٹیں بھی کھلی ہوتی تھیں اور کان کی بالیاں بھی کھلی ہوتی تھیں۔ جب اللہ کی طرف سے یہ حکم آیا کہ وہ اپنے سینوں پر اوڑھنیاں لٹکائیں اور اپنی زینت کے صرف ان حصوں کو ظاہر کریں جو ظاہر ہوں تو انہوں نے اس حکم کی تعمیل میں مطلق تامل نہ کیا۔ اس کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ کا قول خوب و ضاحت کرتا ہے کہ اللہ دور اول کی مہاجر عورتوں پر رحم فرمائے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔
ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن (24 : 31) ” “۔ تو جب ان کے مرد عورتوں کے پاس گئے اور انہوں نے ان پر یہ آیت تلاوت کی تو ایک انقلاب آگیا۔ ایک شخص اپنی بیوی ‘ بہن ‘ اور لڑکی کے سامنے یہ تلاوت کرتا یا دوسری قریبی رشتہ دار عورتیں کے سامنے ‘ تو ان عورتوں نے اپنی نقش و نگار والی ریشمی چادروں کو پھاڑا اور سر پر اوڑھ لیا۔ یہ انہوں نے ایمان اور تصدیق کے جذبہ سے کیا۔ (یعنی اللہ کا جو حکم آیا انہوں نے اس پر عمل کیا) ۔ اور وہ عورتیں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صفوں میں یوں کھڑی نظر آتی تھیں کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔
اسلام نے اسلامی معاشرے کا ذوق ہی بدل دیا اور اس معاشرے میں لوگوں کے جمالی احساسات ہی بدل گئے۔ اب جمال اور حسن کی حیوانی ادائیں مطلوب اور مستحسن نہ رہیں بلکہ حسن و جمال کا ایک انسانی اور مہذب رنگ ڈھنگ اور معیار قائم ہوگیا جس میں عریانی معیار حسن نہ رہی۔ جہاں تک عریانی کا تعلق ہے یہ حسن و جمال کا حیوانی معیار ہے۔ انسان اس کی طرف تب مائل ہوتا ہے جب اس کے احساسات حیوانی بن جائیں۔ اگرچہ یہ عریاں جمال بہت ہی اعلیٰ درجے کا حسن پیش کرتا ہو۔ سنجیدگی اور وقار کا جمال تو وہی پاکیزہ جمال ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے۔ اس سے ذوق ترقی پاتا ہے اور وہ انسان کے لائق ہوتا ہے۔ یہ ظاہری بھی ہوتا ہے ‘ اور تصوراتی بھی ہوتا ہے۔
آج بھی اسلام سچی مومنہ عورتوں کی تربیت اسی انداز سے کرتا ہے اگرچہ آج کا ماحول بہت ہی بدل گیا ہے۔ عمومی طور پر لوگوں کا ذوق گر گیا ہے اور اس میں حیوانی رنگ کا غلبہ ہے۔ آج کے جمالیاتی مظاہر میں عریانی اور حیوانی رنگ ڈھنگ اپنے عروج پر ہے لیکن ہماری مومنہ عورتیں آج بھی اپنے مقامات کشش اور مقامات فتنہ کو چھپاتی ہیں۔ وہ یہ جہاد ایسے ماحول میں گر رہی ہیں جہاں عریانی ہی عریانی ہے۔ عورتوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مردوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں اور اس طرح پکار رہی ہیں اور دعوت دے رہی ہیں جس طرح حیوان حیوان کو پکارتا ہے۔ یہ پردہ سنجیدگی اسلامی فرد اور ایک معتدل اسلامی سوسائٹی کے لیے بےحیائی سے بچائو کی واحد تدبیر ہے۔ لیکن جہاں فتنے اور فحاشی اور بےراہ روی کا ڈر نہ ہو وہاں اسلام کشف و ظہور ‘ زینت کی ممانعت نہیں کرتا۔ چناچہ وہ مرد جن کا میلان بالعموم محرم عورتوں کی طرف نہیں ہوتا ‘ ان کے سامنے اظہار زینت کی ممانعت نہیں ہے۔
آبائ ‘ ابنائ ‘ سسر ‘ خاوند کے بیٹے ‘ بھائی بھتیجے ‘ بھانجے اور مومن عورتیں ان احکام سے مستثنیٰ ہیں۔
اونسا ئھن (24 : 31) ” ان کی عورتیں “ یعنی مومن عورتیں۔ رہیں غیر مومن عورتیں تو وہ مستثنیٰ نہیں ہیں۔ یہ اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ غیر مسلم عورتیں اپنے خاوندوں کے سامنے یا بھائیوں کے سامنے یا لڑکوں کے سامنے مسلمان عورتوں کی خفیہ زیب وزینت کی داستانیں سنائیں۔ صحیحین میں ہے۔
لاتباشر المر اۃ المر اۃ تنقھا لزو جھا کا نہ پر اھا ” کوئی عورت دوسری عورت کے سامنے ننگی نہ ہو کہ وہ اس کا بیان اپنے خاوند سے اس طرح کرے کہ گویا وہ اسے ننگا دیکھ رہا ہے “۔ لیکن مسلمان عورتیں اس سے اس لیے مستثنیٰ ہیں کہ وہ امین ہیں۔ ان کا دین اور ان کا اخلاص ان کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ ایک مسلم عورت کی جسمانی ساخت اور زیب وزینت کا بیان اپنے خاوندوں کے سامنے کریں۔ اور اس سے وہ بھی مستثنیٰ ہیں۔
اوما ملکت ایمانھن (24 : 31) ” وہ جو تمہارے مملوک غلام ہیں “۔ ان کے بارے میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد صرف لونڈیاں ہیں دوسرا یہ کہ غلام اور لونڈیاں دونوں اس حکم میں شامل ہیں کیونکہ ایک غلام بالعموم اپنی مالکہ کی طرف شہوانی نظروں سے نہیں دیکھتا۔ لیکن پہلی رائے درست ہے کیونکہ غلام بھی بہر حال انسان ہے اور سیدہ کی زیب وزینت کے مقامات دیکھ کر اس کے اندر بھی شہوانی ہیجان پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر چہ وہ معاشرتی اعتبار سے ایک فردوتر مقام رکھتا ہو اور اس سے وہ زیر دست مرد بھی مستثنیٰ ہیں جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں۔ یعنی
اوالتبعین غیر اولی الاربۃ من الرجال (24 : 31) ” اور وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں “۔ یا وہ کسی سبب سے عورتوں کی خواہش ہی نہ رکھتے ہوں مثلاً وہ نامرد ہوں ‘ یا احمق ہوں یا مجنوں ہوں یا اور کوئی ایسی وجہ ہو جس کی بنا پر وہ عورت کو نہ چاہتے ہوں اور کسی فتنہ اور بےراہ روی کا کوئی خطرہ نہ ہو۔
اوالطفل الذین لم یظھروا علی عورت النسآ ئ (24 : 31) ” اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں “۔ وہ بچے کہ اگر وہ عورت کو ننگا دیکھ لیں تو اس کے اندر جسمانی خواہش پیدانہ ہو۔ اگر انکے اندجنسی شعور پیدا ہوگیا ہو ‘ اگرچہ وہ بالغ نہ ہوئے ہوں تو ان سے پردہ ضروری ہے اور وہ اس استثناء میں داخل نہیں ہیں۔
یہ سب خاوندوں کے علاوہ ہیں۔ ان کے لیے یہ اجازت ہے کہ یہ اگر عورت کے ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر کے حصے ‘ کے ماسوا کسی جگہ کو دیکھ لیں ‘ جب کہ ان لوگوں سے ایسا کوئی ڈر نہ ہو کہ یہ کسی فتنے میں مبتلا ہوں گے۔ رہا خاوند تو تو اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ اپنی بیوی کے جسم کا ہر حصہ دیکھ سکے۔
پردہ کے ان احکام سے مراد اور مقصود یہ تھا کہ کوئی بےراہ روی اور فحاشی میں مبتلا نہ ہو اس لیے اب یہاں ایسی حرکات کی بھی ممانعت کردی گئی ہے جس سے کوئی فتنے میں پڑسکتا ہے ‘ جن کی وجہ سے شہوت کا ہیجان پیداہو سکتا ہے اور جن کی وجہ سے خفیہ جذبات بھڑک سکتے ہیں اگرچہ عملا وہ عورتیں پردے میں ہوں۔
ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن (24 : 31) ” اور وہ اپنے پائوں کو زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اپنی زینت جو انہوں نے چھپار کھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہوجائے “۔ یہ آیت نفس انسانی کی تشکیل ‘ اس کے تاثر اور انفعال اور جنسی معاملات میں اس کے رد عمل کی گہرائی تک اتر جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی سوچ اور تصور بعض اوقات ایک منظر کے دیکھنے سے بھی زیادہ متاثر کردیتی ہے۔ کئی لوگ ایسے حساس ہوتے ہیں کہ عورت کے جسم کو دیکھنے کے مقابلے میں اس کے جوتوں ‘ اس کے کپڑوں اور اس کے زیورات کو دیکھ کر ہی متاثر ہوتے ہیں۔ نیز بعض افراد کو عورت کا خیال زیادہ متاثر کرتا ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ ان کے سامنے ہو۔ امراض نفسی کے علماء کے ہاں ان امور کے بارے میں بڑی ہی معلومات ہیں۔ اس طرح دور سے گھنگرئوں کی آواز اور عطر کی خوشبو بھی انسانی حواس کے اندر ہیجان پیدا کردیتی ہے اور ان کے اعصاب پر اس کے اثرات ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ اثرات اس قدر شدید ہوتے ہیں کہ انسان کا اپنے اوپر قابو نہیں رہتا۔ قرآن کریم ان تمام تاثرات کے راستے بند کرتا ہے کیونکہ قرآن کا نازل کرنے والا وہی ہے جو انسان کا خالق ہے۔ وہی ہے جو اپنی مخلوقات کے بارے میں سب سے اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ نہایت ہی گہرائی کے ساتھ خبر دار ہے۔
اور آخر کار تمام نیکیوں کا سرچشمہ آتا ہے ‘ کہ لوگوں کا تعلق بالل مضبوط ہونا چاہیے اور توبہ و استغفار کا دروازہ بھی ان کے لیے کھلا چھوڑا جاتا ہے۔ یعنی وہ گناہ اللہ معاف کردے گا جو نزول قرآن سے قبل تم لوگوں سے صادر ہوتے رہے ہیں۔
(وتوبوآ۔۔۔۔۔۔۔ تفلحون) (24 : 31) ” اے مومنو ‘ تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو ‘ توقع ہے کہ فلاح پائو گے “۔ چناچہ اس فقرے کے ذریعے اللہ کی نگرانی کا احساس دلایا جاتا ہے اور اللہ کی عظمت ‘ اس کی مہربانی کی اہمیت بتائی جاتی ہے کیونکہ شیطان کی اس کشمکش کے مقابلے میں وہی مدد گا رہے اور اس کا خوف اور اس کی نگرانی کا شعور ہی انسان کو ان خرابیوں سے بچا سکتا ہے۔
یہاں تک اس مسئلے کا انسدادی علاج کیا گیا تھا لیکن انسان کی جنسی خواہش دراصل ایک حقیقی خواہش ہے جو انسان کے اندر رکھی گئی ہے ۔ اس لیے جنسی تشفی کے حقیقی علاج یعنی مثبت علاج کی بھی ضرورت ہے۔ یہ مثبت علاج ویں ہوگا کہ معاشرے میں شادی کو آسان کردیا جائے اور اس معاملے میں معاونت کی جائے اور شادی اور جائز تعلق کے مقابلے میں تمام دوسرے ذرائع اور تعلقات کے معاملے میں سختی کی جائے۔
النور 24:32
(وانکحوا الایامی۔۔۔۔۔۔۔۔ واسع علیم ولیستعفف الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم ) ”
جنسی میلان کی تسکین کا بہترین طریقہ شادی ہے۔ اس گہری خواہش کے اندر فطرت اور قدرت کا یہی راز ہے کہ لوگ نسل انسانی کے تسلسل کے مشکل کام کو خوشی خوشی سرانجام دیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم شادی کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور کردیں تاکہ زندگی فطری انداز کے مطابق سادگی سے چلتی رہے۔ کسی خاندان کی تشکیل کے لیے پہلی رکاوٹ مالی رکاوٹ ہے اس طرح لوگ محفوظ اور قلعہ بند نہیں ہو سکتے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اس لیے وہ عفت اور پاکیزگی کو تب ہی لازم کرتا ہے جب اس کے لیے اسباب بھی فراہم کر دے اور سوسائٹی کے تمام افراد کو فراہم کردے تاکہ جو لوگ معتدل اور فطری راستے سے انحراف کرتے ہیں وہ اس کے لیے مجبور نہ ہوں بلکہ ان کے سامنے جنسی تسکین کا صحیح راستہ موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ ایسے نوجوانوں کے لیے شادی کی راہ ہموار کی جائے جو شادی شدہ نہ ہوں۔
(وانکحوا۔۔۔۔۔۔۔۔ واسع علیم) (24 : 32) ” تم میں سے جو لوگ مجروہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ‘ ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا ‘ اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے “۔ اور ایامیٰ وہ لوگ ہیں جن کا جوڑ نہ ہو یعنی عورت کا خاوند نہ ہو اور مرد کی بیوی نہ ہوائو وہ مجروہوں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو آزاد ہیں۔ اس کے بعد غلاموں کا ذکر خصوصیت سے کردیا گیا ہے۔
(والصلحین۔۔۔۔۔۔ وامآ ئکم) (24 : 32) ” اور تمہارے لونڈی اور غلاموں میں سے جو صالح ہوں “۔ لیکن یہ لوگ ایسے ہیں جن کی مالی حالت اچھی نہیں ہوتی۔
ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ (24 : 32) ” یہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے گا “۔ یہ حکم اسلامی سوسائٹی کے لیے ہے کہ وہ شادی کا انتظام کردے اور جمہور علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ مستحب امر ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کے دور میں ایسے مجرد لوگ تھے جنہوں نے شادی نہ کی تھی۔ اگر یہ حکم فرض ہوتا تو حضور اکرم ﷺ ضرور ان کی شادی کا انتظام فرماتے۔
ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ حکم واجبی ہے ‘ اس معنی میں نہیں کہ کسی مجرد کو شادی پر مجبور کیا جائے بلکہ اس معنی میں کہ اسلامی سوسائٹی کے لیے واجب ہے کہ جو لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی اس معاملے میں اعانت کی جائے تاکہ وہ شادی کے قلبعے میں محفوظ ہو سکیں۔ فحاشی اور بدکاری میں مبتلا ہونے سے یہ عملی بچائو ہے اور صرف اس صورت میں معاشرے کو بعدعملیوں سے بچایا جاسکتا ہے۔ اگر معاشرے کو بد عملی سے بچانا فرض ہے تو اس فرض کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنا بھی فرض ہوگا۔
اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اسلام چونکہ ایک مکمل اور مربوط نظام زندگی ہے اس لیے وہ ایک ایسا اقتصادی نظام زندگی وضع کرتا ہے کہ اس میں ہر شخص کے لیے معاشی جدوجہد کرنے کے مساوی مواقع موجود ہوں تاکہ کسی شخص کو اپنی ضرورت کے لیے بیت المال کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ بعض استثنائی حالات میں بیت المال کو بھی امداد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسلامی اقتصادی نظام میں بیناید اصول تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنے کسب سے کھائے۔ سوسائٹی پر جو فریضہ عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ سب کے لیے کام کے مواقع فراہم کرے۔ رہی یہ بات کہ لوگوں کو بیت المال سے امدادی جائے تو یہ محض استثنائی صورتوں میں ہوتا ہے۔
اگر لوگ اسلامی نظام کے مطابق سعی کرتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں اور پھر بھی ایسے حالات آجائیں کہ اسلامی معاشرے میں محض معاشی مجبوری کی وجہ سے مجرد نوجوان ‘ مرد اور عورتیں پائی جاتی ہوں تو پھر اسلامی سوسائٹی اور اسلامی حکومت پر فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو مالی امداد دے۔ یہی حکم غلام مردوں اور لونڈیوں کا بھی ہے کہ ان کے مالکان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی شادی کا انتظام کریں اگر وہ ایسا کرسکتے ہوں۔
اسلامی سوسائٹی کا یہ بھی فرض ہے کہ دیکھے کہ اگر لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں ‘ مرد ہوں یا عورتیں ہوں لیکن ان کی راہ میں غربت رکاوٹ بنی ہوئی ہے تو سوسائٹی ان رکاوٹوں کو دور کرے کیونکہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ ان کو غنی کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ مفت کا طریقہ اختیار کریں۔
(ان یکونوا۔۔۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 32) ” اگر وہ غریب ہیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا “۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تین افراد ایسے ہیں کہ اللہ پر ان کا حق ہے کہ اللہ ان کی مدد کرے۔ مجاہد فی سبیل اللہ کی اللہ مدد کرتا ہے۔ وہ غلام جو اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لیے مالی ادائیگی کا معاہدہ کرتا ہے اور وہ شادی کرنے والا جو اپنے آپ کو بری راہوں سے بچانے والا ہو “۔ (ترمذی و نسائی)
اور جب تک مجرد لوگوں کے حالات درست نہیں ہوتے اور اسلامی سوسائٹی ان کے لیے کوئی انتظام نہیں کرتی ‘ اللہ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عفت اور پاکیزگی کا دامن تھامے رکھیں۔
(ولیستعفف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 33) ” اور جو لوگ نکاح کا موقعہ نہ پائیں انہیں چاہیے کہ عفت مآبی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے “۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص پر تنگی نہیں کرتا ‘ کیونکہ اللہ تو وسیع علم رکھتا ہے۔
واللہ واسع علیم ” اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے “۔ یوں اسلام اس مسئلے کا نہایت ہی عملی حل تلاش کرتا ہے۔ ہر شخص جو شادی کرسکتا ہے اس کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ شادی کرے۔ اگر چہ وہ مالی لحاظ سے کمزور ہو کیونکہ مالی مسئلہ حل کرنے والا اللہ ہے “۔
اس وقت اسلامی نظام میں مجبوراً غلامی کا ادارہ موجود تھا اور غلاموں کے اندر چونکہ اخلاقی قدریں کمزور ہوتی ہیں اس لیے اسلامی معاشرے کے اندر موجود غلام معاشرے کے اندر اعلیٰ اخلاقی معیار کے قیام میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ غلامی کا ادارہ اسلام نے ابتداء میں اس لیے قائم رکھا ہوا تھا کہ اہل کفر کے ہاں غلام موجود تھے اور جو مسلمان ان کے ہاتھ آجاتے تھے وہ بھی غلام بنا لیے جاتے تھے ۔ موجودہ پوزیشن کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام نے جنسی مسئلہ کو حل کرنے کی سعی کی یعنی یہ کہ غلاموں کی شادیاں کی جائیں۔ خود غلامی کو اپنے طور پر ختم کرنے کے لیے مکاتبت کا طریقہ نکالا یوں کہ اگر کوئی غلام مالی معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش کرے تو مالک پر اسے قبول کرنا لازم ہے۔
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیرا) (24 : 33) ” اور تمہارے مملوکوں میں سے ہر مکاتبت کی درخواست کریں ‘ ان سے مکاتبت کرلو ‘ اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے “۔ اس کے بارے میں فقہاء کی آزاء مختلف ہیں کہ آیا یہ واجب ہے یا نہیں۔ یعنی اگر غلام پیشکش کرے تو مکاتبت کرنا لازم ہے یا مالک کے اختیار میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ واجب ہے کیونکہ وجوب کا قول ہی اسلام کی مجموعی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اسلام انسان کو ایک مکرم مخلوق سمجھتا ہے اور غلام کا وجود شرافت انسانی کے خلاف ہے۔ معاہدہ کرنے کے بعد غلام جو کمائے گا وہ مالک کا ہوگا تاکہ معاوضہ معاہدہ کی رقم کی ادائیگی ہو سکے اور اسی طرح زکوۃ کی مد سے بھی ایسے غلام کی امداد ضروری ہوجاتی ہے تاکہ جلد از جلد یہ غلام آزادی حاصل کرسکے۔
(واتو۔۔۔۔۔ اتکم) (24 : 33) ” اور اس کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے “۔ اس شرط پر کہ مالک یہ سمجھے کہ اس میں بھلائی ہے۔ خیر سب سے پہلے اسلام ہے۔ اس کے بعد خیر یہ ہے کہ غلام کمان ی کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ نہ ہو کہ آزادی کے بعد وہ لوگوں سے بھیگ مانگتا پھرے۔ بعض اوقات وہ اخلاق سے گرے ہوئے ذرائع معیشت بھی اختیار کرسکتا ہے جن سے وہ صرف اس قدر کما سکتا ہو جس سے اس کی زندگی قائم رہ سکے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل اور ہم آہنگ نظام ہے اس لیے وہ حقیقی صورت حال کو بھی پیش نظر رکھتا ہے اس کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ یہ شعور ہوجائے کہ ایک غلام آزاد ہوگیا۔ محض عنوان اور نام اسلام میں اہمیت نہیں رکھتا۔ اسلام حقیقت ۔۔۔۔۔۔ کو دیکھتا ہے کہ آیا فی الواقع یہ غلام آزادی کے بعد معاشرے کے اندر کوئی تعمیری کردار ادا کرسکے گا یا نہیں۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب یہ شخص کچھ کما سکے ۔ لوگوں پر بوجھ نہ بن جائے اور نہ گندے وسائل رزق اختیار کرے۔ وہ ایسی چیزیں فروخت کرنا شروع کردے جو آزادی سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ (مثلاً عصمت فروشی) جبکہ اسے آزاد اس لیے کیا جارہا ہے کہ اس سے معاشرہ پاک ہو نہ یہ کہ اس کے ذریعہ معاشرہ گندہ ہو اور اس کا یہ فعل معاشرے کے لیے زیادہ سخت مصیبت ہو۔ (دور جدید میں بین الاقوامی معاہدات کی وجہ سے چونکہ غلامی ختم ہوگئی ہے اس لیے اب عملاً اسلام میں بھی غلامی نہیں رہے گی) ۔
اسلامی معاشرے میں غلامی سے بھی خطرناک بیماری اس بات کو سمجھا جاتا ہے کہ غلاموں کو عصمت فروشی کے لیے استعمال کیا جائے۔ اہل جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جس کی کوئی لونڈی ہوتی وہ اسے یہ پیشہ کرنے دیتا اور اس پر ٹیکس عائد کردیتا اور یہ پیشہ آج تک دنیا میں ذرائع ہے۔ اسلام نے چونکہ اسلامی سوسائٹی کو ہر قسم کے زنا سے پاک کرنے کا حکم دیا ھتا اس لیے ‘ اس قسم کے زنا کا ذکر قرآن نے خصوصیت کے ساتھ کیا۔
(ولا تکرھوا۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم) (24 : 33) ” اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں۔ اور جو کوئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ ان کے لیے غفور و رحیم ہے “۔ اس آیت کے ذریعے ان لوگوں کو منع کردیا گیا جو اپنی لونڈیوں کو اس پیشہ پر مجبور کرتے تھے اور ان کو تنبیہ کردی گئی کہ وہ اس قسم کے خبیث ذریعوں سے دنیا کی دولت جمع نہ کریں۔ جن لونڈیوں کو اس طرح مجبور کردیا گیا ہو ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ ان کے گناہ بخش دیئے جائیں گے کیونکہ اس صورت میں وہ مجبور تھیں۔ سعدی کہتے ہیں کہ یہ آیت عبد اللہ ابن ابی ابن السلول کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ منافقین کا رئیس تھا۔ اس کی ایک لونڈی تھی جس کا نام ” معاذہ “ تھا۔ اس کا قاعدہ یہ تھا کہ اس کا کوئی مہمان آتا تو یہ اس لونڈی کو اس کے پاس بھیج دیتا ‘ جس میں اس کے دو مطلب ہوتے۔ ایک یہ کہ وہ شخص کوئی انعام دے اور دوسرا یہ کہ اس طرح وہ مہمان کا اکرام کرتا تھا۔ یہ لونڈی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئی اور اس نے اس بات کی شکایت کی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اس لونڈی کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس پر عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے اپنی قوم کو پکارا کہ کون ہے جو ہمیں محمد ﷺ سے چھڑائے۔ اب اس نے ہماری مملوکات پر ہاتھ ڈالنا شروع کردیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
یہ اقدام کہ لونڈیوں کو بدکاری کے لیے استعمال نہ کیا جائے اسلامی نظام کے ان اقدامات میں سے ایک ہے ‘ جن کے ذریعے اسلامی عاشرے کو بدکاری سے پاک کیا گیا تھا اور جنسی تسکین کے تمام غیر فطری اور گندے راستوں کو بند کردیا گیا تھا اس لیے کہ بدکاری کا پیشہ اگر موجود ہو تو کئی لوگ اس کی سوہلت کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوگا تو لوگ پھر شادی کر کے پاک زندگی گزارنا چاہیں گے۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس پیشے کی موجودگی شرفاء کے گھروں میں امن وامان کی ضمانت ہے۔ کیونکہ اگر نکاح مشکل ہوجائے تو پھر انسان اس گندے راہ ہی سے اپنی فطری ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ اگر یہ راستہ جائز نہ رکھا جائے تو پھر بھیڑیئے شریف لوگوں کی عزت سے کھیلنے لگیں گے۔
جو لوگ اس لائن پر سوچتے ہیں وہ دراصل سبب اور مسبب کے تعلق کو الٹ رہے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ لوگوں کے جنسی میلانات کو پاک رکھا جائے اور انہیں اس طرح منظم کیا جائے کہ وہ سلسلہ حیات کے تسلسل کا سبب بنیں۔ یہ فریضہ ہر سوسائٹی اکہو کہ وہ اپنے اندر ایسا معاشی نظام جاری کرے جس کے ذریعہ سے ہر شخص اس قابل ہو کہ وہ شادی کے بندھن میں باندھا جاسکے۔ اگر پھر بھی کسی کے لیے نکاح میں مشکلات ہوں تو ایسے واقعات کا خصوصی علاج کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کوئی بھی اس گندے پیشے پر مجبور نہ ہوگا اور صورت حال یہ نہ ہوگی کہ ہر جگہ گندگی پائی جائے ‘ گلی گندگی کا ایک ڈھیر ہو اور اس پر سے جو کوئی گزرے وہاں گندگی ڈال دے اور سوسائٹی اسے دیکھ رہی ہو۔
کسی ملک کا اقتصادی نظام ہی ایسی گندگیوں کو ختم کرسکتا ہے اس طرح کہ ایسی گندگی کسی جگہ جمع نہ وہ۔ یہ صورت نہ ہو کہ محض اقتصادی وجوہات سے اس گندگی کے لیے جواز فراہم ہو۔ انسانوں کے لیے غلاظت کے ڈھیر فراہم ہوں۔
یہ ہے وہ پالیسی جو اسلام معاشرے کی تطہیر کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے کسی بھی معاشرے میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ زیمن آسمان میں بدل جاتی ہے اور تمام انسانوں کی نظر بلند مقاصد کے لیے بلند افق پر ہوتی ے۔ وہ اللہ کے نور سے دیکھتے ہیں اور اس سے ان کے آفاق روشن ہوتے ہیں۔
النور 24:33
(وانکحوا الایامی۔۔۔۔۔۔۔۔ واسع علیم ولیستعفف الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم ) ”
جنسی میلان کی تسکین کا بہترین طریقہ شادی ہے۔ اس گہری خواہش کے اندر فطرت اور قدرت کا یہی راز ہے کہ لوگ نسل انسانی کے تسلسل کے مشکل کام کو خوشی خوشی سرانجام دیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم شادی کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور کردیں تاکہ زندگی فطری انداز کے مطابق سادگی سے چلتی رہے۔ کسی خاندان کی تشکیل کے لیے پہلی رکاوٹ مالی رکاوٹ ہے اس طرح لوگ محفوظ اور قلعہ بند نہیں ہو سکتے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اس لیے وہ عفت اور پاکیزگی کو تب ہی لازم کرتا ہے جب اس کے لیے اسباب بھی فراہم کر دے اور سوسائٹی کے تمام افراد کو فراہم کردے تاکہ جو لوگ معتدل اور فطری راستے سے انحراف کرتے ہیں وہ اس کے لیے مجبور نہ ہوں بلکہ ان کے سامنے جنسی تسکین کا صحیح راستہ موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ ایسے نوجوانوں کے لیے شادی کی راہ ہموار کی جائے جو شادی شدہ نہ ہوں۔
(وانکحوا۔۔۔۔۔۔۔۔ واسع علیم) (24 : 32) ” تم میں سے جو لوگ مجروہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ‘ ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا ‘ اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے “۔ اور ایامیٰ وہ لوگ ہیں جن کا جوڑ نہ ہو یعنی عورت کا خاوند نہ ہو اور مرد کی بیوی نہ ہوائو وہ مجروہوں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو آزاد ہیں۔ اس کے بعد غلاموں کا ذکر خصوصیت سے کردیا گیا ہے۔
(والصلحین۔۔۔۔۔۔ وامآ ئکم) (24 : 32) ” اور تمہارے لونڈی اور غلاموں میں سے جو صالح ہوں “۔ لیکن یہ لوگ ایسے ہیں جن کی مالی حالت اچھی نہیں ہوتی۔
ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ (24 : 32) ” یہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے گا “۔ یہ حکم اسلامی سوسائٹی کے لیے ہے کہ وہ شادی کا انتظام کردے اور جمہور علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ مستحب امر ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کے دور میں ایسے مجرد لوگ تھے جنہوں نے شادی نہ کی تھی۔ اگر یہ حکم فرض ہوتا تو حضور اکرم ﷺ ضرور ان کی شادی کا انتظام فرماتے۔
ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ حکم واجبی ہے ‘ اس معنی میں نہیں کہ کسی مجرد کو شادی پر مجبور کیا جائے بلکہ اس معنی میں کہ اسلامی سوسائٹی کے لیے واجب ہے کہ جو لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی اس معاملے میں اعانت کی جائے تاکہ وہ شادی کے قلبعے میں محفوظ ہو سکیں۔ فحاشی اور بدکاری میں مبتلا ہونے سے یہ عملی بچائو ہے اور صرف اس صورت میں معاشرے کو بعدعملیوں سے بچایا جاسکتا ہے۔ اگر معاشرے کو بد عملی سے بچانا فرض ہے تو اس فرض کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنا بھی فرض ہوگا۔
اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اسلام چونکہ ایک مکمل اور مربوط نظام زندگی ہے اس لیے وہ ایک ایسا اقتصادی نظام زندگی وضع کرتا ہے کہ اس میں ہر شخص کے لیے معاشی جدوجہد کرنے کے مساوی مواقع موجود ہوں تاکہ کسی شخص کو اپنی ضرورت کے لیے بیت المال کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ بعض استثنائی حالات میں بیت المال کو بھی امداد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسلامی اقتصادی نظام میں بیناید اصول تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنے کسب سے کھائے۔ سوسائٹی پر جو فریضہ عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ سب کے لیے کام کے مواقع فراہم کرے۔ رہی یہ بات کہ لوگوں کو بیت المال سے امدادی جائے تو یہ محض استثنائی صورتوں میں ہوتا ہے۔
اگر لوگ اسلامی نظام کے مطابق سعی کرتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں اور پھر بھی ایسے حالات آجائیں کہ اسلامی معاشرے میں محض معاشی مجبوری کی وجہ سے مجرد نوجوان ‘ مرد اور عورتیں پائی جاتی ہوں تو پھر اسلامی سوسائٹی اور اسلامی حکومت پر فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو مالی امداد دے۔ یہی حکم غلام مردوں اور لونڈیوں کا بھی ہے کہ ان کے مالکان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی شادی کا انتظام کریں اگر وہ ایسا کرسکتے ہوں۔
اسلامی سوسائٹی کا یہ بھی فرض ہے کہ دیکھے کہ اگر لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں ‘ مرد ہوں یا عورتیں ہوں لیکن ان کی راہ میں غربت رکاوٹ بنی ہوئی ہے تو سوسائٹی ان رکاوٹوں کو دور کرے کیونکہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ ان کو غنی کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ مفت کا طریقہ اختیار کریں۔
(ان یکونوا۔۔۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 32) ” اگر وہ غریب ہیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا “۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تین افراد ایسے ہیں کہ اللہ پر ان کا حق ہے کہ اللہ ان کی مدد کرے۔ مجاہد فی سبیل اللہ کی اللہ مدد کرتا ہے۔ وہ غلام جو اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لیے مالی ادائیگی کا معاہدہ کرتا ہے اور وہ شادی کرنے والا جو اپنے آپ کو بری راہوں سے بچانے والا ہو “۔ (ترمذی و نسائی)
اور جب تک مجرد لوگوں کے حالات درست نہیں ہوتے اور اسلامی سوسائٹی ان کے لیے کوئی انتظام نہیں کرتی ‘ اللہ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عفت اور پاکیزگی کا دامن تھامے رکھیں۔
(ولیستعفف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 33) ” اور جو لوگ نکاح کا موقعہ نہ پائیں انہیں چاہیے کہ عفت مآبی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے “۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص پر تنگی نہیں کرتا ‘ کیونکہ اللہ تو وسیع علم رکھتا ہے۔
واللہ واسع علیم ” اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے “۔ یوں اسلام اس مسئلے کا نہایت ہی عملی حل تلاش کرتا ہے۔ ہر شخص جو شادی کرسکتا ہے اس کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ شادی کرے۔ اگر چہ وہ مالی لحاظ سے کمزور ہو کیونکہ مالی مسئلہ حل کرنے والا اللہ ہے “۔
اس وقت اسلامی نظام میں مجبوراً غلامی کا ادارہ موجود تھا اور غلاموں کے اندر چونکہ اخلاقی قدریں کمزور ہوتی ہیں اس لیے اسلامی معاشرے کے اندر موجود غلام معاشرے کے اندر اعلیٰ اخلاقی معیار کے قیام میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ غلامی کا ادارہ اسلام نے ابتداء میں اس لیے قائم رکھا ہوا تھا کہ اہل کفر کے ہاں غلام موجود تھے اور جو مسلمان ان کے ہاتھ آجاتے تھے وہ بھی غلام بنا لیے جاتے تھے ۔ موجودہ پوزیشن کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام نے جنسی مسئلہ کو حل کرنے کی سعی کی یعنی یہ کہ غلاموں کی شادیاں کی جائیں۔ خود غلامی کو اپنے طور پر ختم کرنے کے لیے مکاتبت کا طریقہ نکالا یوں کہ اگر کوئی غلام مالی معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش کرے تو مالک پر اسے قبول کرنا لازم ہے۔
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیرا) (24 : 33) ” اور تمہارے مملوکوں میں سے ہر مکاتبت کی درخواست کریں ‘ ان سے مکاتبت کرلو ‘ اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے “۔ اس کے بارے میں فقہاء کی آزاء مختلف ہیں کہ آیا یہ واجب ہے یا نہیں۔ یعنی اگر غلام پیشکش کرے تو مکاتبت کرنا لازم ہے یا مالک کے اختیار میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ واجب ہے کیونکہ وجوب کا قول ہی اسلام کی مجموعی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اسلام انسان کو ایک مکرم مخلوق سمجھتا ہے اور غلام کا وجود شرافت انسانی کے خلاف ہے۔ معاہدہ کرنے کے بعد غلام جو کمائے گا وہ مالک کا ہوگا تاکہ معاوضہ معاہدہ کی رقم کی ادائیگی ہو سکے اور اسی طرح زکوۃ کی مد سے بھی ایسے غلام کی امداد ضروری ہوجاتی ہے تاکہ جلد از جلد یہ غلام آزادی حاصل کرسکے۔
(واتو۔۔۔۔۔ اتکم) (24 : 33) ” اور اس کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے “۔ اس شرط پر کہ مالک یہ سمجھے کہ اس میں بھلائی ہے۔ خیر سب سے پہلے اسلام ہے۔ اس کے بعد خیر یہ ہے کہ غلام کمان ی کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ نہ ہو کہ آزادی کے بعد وہ لوگوں سے بھیگ مانگتا پھرے۔ بعض اوقات وہ اخلاق سے گرے ہوئے ذرائع معیشت بھی اختیار کرسکتا ہے جن سے وہ صرف اس قدر کما سکتا ہو جس سے اس کی زندگی قائم رہ سکے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل اور ہم آہنگ نظام ہے اس لیے وہ حقیقی صورت حال کو بھی پیش نظر رکھتا ہے اس کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ یہ شعور ہوجائے کہ ایک غلام آزاد ہوگیا۔ محض عنوان اور نام اسلام میں اہمیت نہیں رکھتا۔ اسلام حقیقت ۔۔۔۔۔۔ کو دیکھتا ہے کہ آیا فی الواقع یہ غلام آزادی کے بعد معاشرے کے اندر کوئی تعمیری کردار ادا کرسکے گا یا نہیں۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب یہ شخص کچھ کما سکے ۔ لوگوں پر بوجھ نہ بن جائے اور نہ گندے وسائل رزق اختیار کرے۔ وہ ایسی چیزیں فروخت کرنا شروع کردے جو آزادی سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ (مثلاً عصمت فروشی) جبکہ اسے آزاد اس لیے کیا جارہا ہے کہ اس سے معاشرہ پاک ہو نہ یہ کہ اس کے ذریعہ معاشرہ گندہ ہو اور اس کا یہ فعل معاشرے کے لیے زیادہ سخت مصیبت ہو۔ (دور جدید میں بین الاقوامی معاہدات کی وجہ سے چونکہ غلامی ختم ہوگئی ہے اس لیے اب عملاً اسلام میں بھی غلامی نہیں رہے گی) ۔
اسلامی معاشرے میں غلامی سے بھی خطرناک بیماری اس بات کو سمجھا جاتا ہے کہ غلاموں کو عصمت فروشی کے لیے استعمال کیا جائے۔ اہل جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جس کی کوئی لونڈی ہوتی وہ اسے یہ پیشہ کرنے دیتا اور اس پر ٹیکس عائد کردیتا اور یہ پیشہ آج تک دنیا میں ذرائع ہے۔ اسلام نے چونکہ اسلامی سوسائٹی کو ہر قسم کے زنا سے پاک کرنے کا حکم دیا ھتا اس لیے ‘ اس قسم کے زنا کا ذکر قرآن نے خصوصیت کے ساتھ کیا۔
(ولا تکرھوا۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم) (24 : 33) ” اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں۔ اور جو کوئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ ان کے لیے غفور و رحیم ہے “۔ اس آیت کے ذریعے ان لوگوں کو منع کردیا گیا جو اپنی لونڈیوں کو اس پیشہ پر مجبور کرتے تھے اور ان کو تنبیہ کردی گئی کہ وہ اس قسم کے خبیث ذریعوں سے دنیا کی دولت جمع نہ کریں۔ جن لونڈیوں کو اس طرح مجبور کردیا گیا ہو ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ ان کے گناہ بخش دیئے جائیں گے کیونکہ اس صورت میں وہ مجبور تھیں۔ سعدی کہتے ہیں کہ یہ آیت عبد اللہ ابن ابی ابن السلول کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ منافقین کا رئیس تھا۔ اس کی ایک لونڈی تھی جس کا نام ” معاذہ “ تھا۔ اس کا قاعدہ یہ تھا کہ اس کا کوئی مہمان آتا تو یہ اس لونڈی کو اس کے پاس بھیج دیتا ‘ جس میں اس کے دو مطلب ہوتے۔ ایک یہ کہ وہ شخص کوئی انعام دے اور دوسرا یہ کہ اس طرح وہ مہمان کا اکرام کرتا تھا۔ یہ لونڈی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئی اور اس نے اس بات کی شکایت کی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اس لونڈی کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس پر عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے اپنی قوم کو پکارا کہ کون ہے جو ہمیں محمد ﷺ سے چھڑائے۔ اب اس نے ہماری مملوکات پر ہاتھ ڈالنا شروع کردیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
یہ اقدام کہ لونڈیوں کو بدکاری کے لیے استعمال نہ کیا جائے اسلامی نظام کے ان اقدامات میں سے ایک ہے ‘ جن کے ذریعے اسلامی عاشرے کو بدکاری سے پاک کیا گیا تھا اور جنسی تسکین کے تمام غیر فطری اور گندے راستوں کو بند کردیا گیا تھا اس لیے کہ بدکاری کا پیشہ اگر موجود ہو تو کئی لوگ اس کی سوہلت کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوگا تو لوگ پھر شادی کر کے پاک زندگی گزارنا چاہیں گے۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس پیشے کی موجودگی شرفاء کے گھروں میں امن وامان کی ضمانت ہے۔ کیونکہ اگر نکاح مشکل ہوجائے تو پھر انسان اس گندے راہ ہی سے اپنی فطری ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ اگر یہ راستہ جائز نہ رکھا جائے تو پھر بھیڑیئے شریف لوگوں کی عزت سے کھیلنے لگیں گے۔
جو لوگ اس لائن پر سوچتے ہیں وہ دراصل سبب اور مسبب کے تعلق کو الٹ رہے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ لوگوں کے جنسی میلانات کو پاک رکھا جائے اور انہیں اس طرح منظم کیا جائے کہ وہ سلسلہ حیات کے تسلسل کا سبب بنیں۔ یہ فریضہ ہر سوسائٹی اکہو کہ وہ اپنے اندر ایسا معاشی نظام جاری کرے جس کے ذریعہ سے ہر شخص اس قابل ہو کہ وہ شادی کے بندھن میں باندھا جاسکے۔ اگر پھر بھی کسی کے لیے نکاح میں مشکلات ہوں تو ایسے واقعات کا خصوصی علاج کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کوئی بھی اس گندے پیشے پر مجبور نہ ہوگا اور صورت حال یہ نہ ہوگی کہ ہر جگہ گندگی پائی جائے ‘ گلی گندگی کا ایک ڈھیر ہو اور اس پر سے جو کوئی گزرے وہاں گندگی ڈال دے اور سوسائٹی اسے دیکھ رہی ہو۔
کسی ملک کا اقتصادی نظام ہی ایسی گندگیوں کو ختم کرسکتا ہے اس طرح کہ ایسی گندگی کسی جگہ جمع نہ وہ۔ یہ صورت نہ ہو کہ محض اقتصادی وجوہات سے اس گندگی کے لیے جواز فراہم ہو۔ انسانوں کے لیے غلاظت کے ڈھیر فراہم ہوں۔
یہ ہے وہ پالیسی جو اسلام معاشرے کی تطہیر کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے کسی بھی معاشرے میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ زیمن آسمان میں بدل جاتی ہے اور تمام انسانوں کی نظر بلند مقاصد کے لیے بلند افق پر ہوتی ے۔ وہ اللہ کے نور سے دیکھتے ہیں اور اس سے ان کے آفاق روشن ہوتے ہیں۔
النور 24:34
اس سبق پر اب یہ آخری تبصرہ آتا ہے جو اس کے موضوع کے ساتھ خوب متناسب ہے۔
(ولقد۔۔۔۔۔۔ للمتقین) (34)
یہ آیات ایسی ہیں جو بات کو کھول کھول کر بتاتی ہیں۔ ان کے اندر کوئی پیچیدگی اور مشکل نہیں ہے کہ ان کو سمجھا نہ جاسکے۔ یا ان کے اندر جو مستحکم نظام زندگی تجویز ہوا ہے وہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے۔ یہ نظام ایسا ہے کہ اس کی صحت پر گزری ہوئی اقوام کے تجربات بھی شہادت دیتے ہیں اور قرآن کریم نے ایسی اقوام کی تاریخ بیان بھی کی ہے۔ پھر دنیا میں ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ ایک اعلیٰ ترقی یافتہ اور پاک و صاف سوسائٹی قائم ہو جو خدا خوفی پر مبنی ہو۔ اسلام ایسا ہی نظام زندگی ہے۔
اس پورے سبق میں جو فیصلے اور جو احکام وارد ہوئے ہیں وہ اس لقیب اور تبصرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کے دلوں کے اندر خدا کا خوف اور خدا سے تعلق پیدا کیا جائے۔
النور 24:35
درس نمبر 154 ایک نظر میں
اس سورة کے دونوں سابق اسباق میں انسان کی ان مادی خواہشات کا علاج کیا گیا تھا جو انسانی شخصیت کی طبیعی خواہشات ہیں اور انسانی شخصیت پر ان کی گہری گرفت ہے۔ مقصد یہ تھا کہ ان خواہشات کو پاک و صاف کیا جائے اور ان کو نورانی افق تک بلند کیا جائے۔ گوشت و پوست کی شہوتوں ‘ آنکھوں اور شرمگاہوں کی خواہشتات۔ ان باتوں کی تشیر اور تنقید۔ اس سلسلے میں پیاد ہونے والے غضب ‘ اشتعال اور دشمنی کے مسائل کو حل کیا گیا تھا اور ہدایات دی گئی تھیں۔
یہ حکم دیا گیا تھا کہ اسلامی معاشرے میں فحاشی کے پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔ عملی زندگی اور انسان کے اقوال میں فحاشی کی ممانعت کی گئی۔ ان امور کے انسداد کے سلسلے میں سزاد ہی میں بھی سخت تشدید کی گئی۔ حد زنا اور حد قزف کے سخت قوانین بنائے گئے۔ پھر بےخیر اور پاکدامن شادی شدہ عورتوں پر الزام اور بہتان کا نمونہ پیش کر کے سمجھا یا گیا۔ ان امور کے لیے انسدادی قوانین بھی بنائے گئے اور اخلاقی ہدایات بھی دی گیں۔ غض بصر اور استیذان کے قواعد نافذ کیے گئے۔ تمام ایسے امور سے منع کیا گیا جن سے فتنے میں پڑنے کے امکانات ہو سکتے تھے یا شہوت کے اندر ہیجان پیدا ہونے کا امکان تھا۔ پھر شادی کرنے کی ترغیب ‘ جسم فروشی کی ممانعت ‘ غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب یہ سب امور اس بات سے تعلق رکھتے ہیں کہ گوشت اور خون کے ہیجانات کو فرد کیا جائے اور لوگوں کے اندر پاکیزگی کا شعور ‘ ضبط نفس اور صفائی اور نورانیت اور روحانیت کی طرف بڑھنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔
افک کے واقعہ کے بعد سوسائٹی کے اندر غیظ و غضب ‘ دشمنی اور کدورت کے جو آثار رہ گئے تھے ان سب کو منانے کی کوشش کی گئی اور نفوس مومنین کے اندر جو قلق اور بےچینی پیدا ہوگئی تھی اور جس کی وجہ سے اعلیٰ انسانی پیمانے متزلزل ہوگئے تھے ان کا علاج کیا گیا۔ حضرت محمد ﷺ کو پوری طرح اطمینان ہوگیا اور ان کی بےچینی دور ہوگئی۔ حضرت عائشہ ؓ نہ صرف راضی اور مطمئن ہوگئی بلکہ خوش ہوگئی۔ حضرت ابوبکر ؓ بھی مطمئن اور پر سکون ہوگئے۔ صفوان ابن معطل ایک عظیم بوجھ کے نیچے سے نکل آئے۔ تمام اہل اسلام کے شبہات دور ہوگئے اور جن لوگوں نے اس واقعہ میں غلط باتیں کی تھیں انہوں نے رجوع کر کے توبہ کرلی۔ سب لوگوں کے شبہات دور ہوگئے اور اللہ کے فضل و کرم اور ہدایت و رحمت کی بارش سب پر ہوگئی۔ اس تعلیم و تہذیب اور اس ہدایت و رہنمائی کے ذریعے نفس انسانی کو پاک و صاف کر کے منو کردیا گیا۔ اب اس کی نظریں اس نئی روشنی کی سمت میں بلند افق پر گئیں اور زمین و آسمان میں ہر سو اہل ایمان کو نور ربی نظر آنے لگا۔ اللہ نے اہل اسلام کو یہ استعداد دی کہ وہ آفاق کا ئنات میں سے اس نورانیت کو اخذ کرسکیں۔
درس نمبر 154 ایک نظر میں
اس سورة کے دونوں سابق اسباق میں انسان کی ان مادی خواہشات کا علاج کیا گیا تھا جو انسانی شخصیت کی طبیعی خواہشات ہیں اور انسانی شخصیت پر ان کی گہری گرفت ہے۔ مقصد یہ تھا کہ ان خواہشات کو پاک و صاف کیا جائے اور ان کو نورانی افق تک بلند کیا جائے۔ گوشت و پوست کی شہوتوں ‘ آنکھوں اور شرمگاہوں کی خواہشتات۔ ان باتوں کی تشیر اور تنقید۔ اس سلسلے میں پیاد ہونے والے غضب ‘ اشتعال اور دشمنی کے مسائل کو حل کیا گیا تھا اور ہدایات دی گئی تھیں۔
یہ حکم دیا گیا تھا کہ اسلامی معاشرے میں فحاشی کے پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔ عملی زندگی اور انسان کے اقوال میں فحاشی کی ممانعت کی گئی۔ ان امور کے انسداد کے سلسلے میں سزاد ہی میں بھی سخت تشدید کی گئی۔ حد زنا اور حد قزف کے سخت قوانین بنائے گئے۔ پھر بےخیر اور پاکدامن شادی شدہ عورتوں پر الزام اور بہتان کا نمونہ پیش کر کے سمجھا یا گیا۔ ان امور کے لیے انسدادی قوانین بھی بنائے گئے اور اخلاقی ہدایات بھی دی گیں۔ غض بصر اور استیذان کے قواعد نافذ کیے گئے۔ تمام ایسے امور سے منع کیا گیا جن سے فتنے میں پڑنے کے امکانات ہو سکتے تھے یا شہوت کے اندر ہیجان پیدا ہونے کا امکان تھا۔ پھر شادی کرنے کی ترغیب ‘ جسم فروشی کی ممانعت ‘ غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب یہ سب امور اس بات سے تعلق رکھتے ہیں کہ گوشت اور خون کے ہیجانات کو فرد کیا جائے اور لوگوں کے اندر پاکیزگی کا شعور ‘ ضبط نفس اور صفائی اور نورانیت اور روحانیت کی طرف بڑھنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔
افک کے واقعہ کے بعد سوسائٹی کے اندر غیظ و غضب ‘ دشمنی اور کدورت کے جو آثار رہ گئے تھے ان سب کو منانے کی کوشش کی گئی اور نفوس مومنین کے اندر جو قلق اور بےچینی پیدا ہوگئی تھی اور جس کی وجہ سے اعلیٰ انسانی پیمانے متزلزل ہوگئے تھے ان کا علاج کیا گیا۔ حضرت محمد ﷺ کو پوری طرح اطمینان ہوگیا اور ان کی بےچینی دور ہوگئی۔ حضرت عائشہ ؓ نہ صرف راضی اور مطمئن ہوگئی بلکہ خوش ہوگئی۔ حضرت ابوبکر ؓ بھی مطمئن اور پر سکون ہوگئے۔ صفوان ابن معطل ایک عظیم بوجھ کے نیچے سے نکل آئے۔ تمام اہل اسلام کے شبہات دور ہوگئے اور جن لوگوں نے اس واقعہ میں غلط باتیں کی تھیں انہوں نے رجوع کر کے توبہ کرلی۔ سب لوگوں کے شبہات دور ہوگئے اور اللہ کے فضل و کرم اور ہدایت و رحمت کی بارش سب پر ہوگئی۔ اس تعلیم و تہذیب اور اس ہدایت و رہنمائی کے ذریعے نفس انسانی کو پاک و صاف کر کے منو کردیا گیا۔ اب اس کی نظریں اس نئی روشنی کی سمت میں بلند افق پر گئیں اور زمین و آسمان میں ہر سو اہل ایمان کو نور ربی نظر آنے لگا۔ اللہ نے اہل اسلام کو یہ استعداد دی کہ وہ آفاق کا ئنات میں سے اس نورانیت کو اخذ کرسکیں۔
درس نمبر 154 تشریح آیات
35۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 45
(اللہ نورالسموات والارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نور علی نور) ” اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (کائنات میں) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو ‘ چراغ ایک فانوس میں ہو ‘ فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا ‘ اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی ‘ جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو۔ چاہے آگ ہیں کو نہ لگے ‘(اس طرح) روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہوگئے ہوں) ۔
یہ ایک ایسی مثال ہے جو انسان کے محدود ادراک کے لیے ایک غیر محدود ذلت کے تصور کو قریب کرتی ہے اور ایک نہایت ہی چھوٹے نور کی مثال کو پیش کیا جاتا ہے جس کو انسانی تصور سمجھ سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اصل نور کا ادراک انسانی تصور کے لیے ممکن نہیں۔ نور کی ایک چھوٹی سی مثال پیش کی جاتی ہے جبکہ انسانی ادراک نور کے ان آفاق کا احاطہ نہیں کرسکتا جو اس کی حدود سے وراء ہیں۔
اس پری کائنات کی وسعتوں سے ہم اب ایک طاق کی طرف آتے ہیں ‘ جو ایک دیوار میں ہے جہاں چراغ رکھا جاتا ہے ‘ اس طرح اس کی رشنی پورے کمرے کو روشن کرتی ہے۔ چراغ طاق میں ‘ چراغ ایک فانوس میں ‘ یہ شیشہ اس چراغ کو ہوا سے بچاتا ہے ‘ اس طرح اس کا نور صاف ہوجاتا ہے اور نورانیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ فانوس ایسا ہے جس طرح چمکتا ہوا تارہ ہوتا ہے۔ یہ فانوس بذات خود بھی صاف و شفاف و چمکدار پارے کی طرح ہے۔ یہاں مثال اور حقیقت کے درمیان ربط قائم ہوتا ہے۔ اصل اور نمونے کا فرق معلوم ہوجاتا ہے۔ تصور کو ایک چھوٹے سے فانوس سے ایک بڑے ستارے کی طرف لے جاتا ہے تاکہ انسانی سوچ کہیں اس چھوٹے سے نمونے تک ہی محدود ہو کر نہ رہ جائے۔ اس چھوٹے سے چراغ کی مثال تو اس حقیقت کی طرف اشارے کے لیے اختیار کی گئی ہے ‘ کوکب دری کی طرف اشارہ کر کے اب بیان پھر اسی چھوٹی سی مثال کی تشریح کی طرف آتا ہے۔
یوقد من شجرۃ مبرکۃ زیتونۃ (24 : 35) ” اور یہ چراغ زیتون کے ایک مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے “۔ اس دور تک زیتون کے تیل کی روشنی تمام روشنیوں سے صاف ترین روشن تھی۔ لیکن یہ مثال صرف اس لیے نہیں دی گئی کہ زیتون کے تیل کی روشنی سب سے زیادہ صاف ہوتی ہے۔ بلکہ زیتون کے درخت کو جو اپنا تقدس حاصل ہے اس کی طرف اشارہ مطلوب ہے کہ یہ درخت وادی مقدس طویٰ میں پیدا ہوتا ہے۔ عربوں کے اندر جو زیتون آتا تھا وہ طور کی وادی مقدس سے آتا تھا۔ قرآن مجید میں اس درخت کی طرف اشارہ موجود ہے۔
وشجرۃ تخرج من طور سینا تنبت بالدھن و صبغ للاکلین ” اور وہ درخت جو طور سینا پر پیدا ہوتا ہے ‘ جو تیل پیدا کرتا ہے جو کھانے والوں کے لیے اچھا سالن ہے “۔ یہ نہایت ہی طویل العمر درخت ہوتا ہے اور اس درخت کے تمام حصے انسانوں کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ اس کا تیل ‘ اس کی لکڑیاں ‘ اور اس کے پتے اور اس کے پھل سب کے سب مقید ہیں۔ اب بیان پھر اس چھوٹی سی مثال سے ذرا بلند ہوتا ہے اور اصل کی طرف ذہن کو موڑا جاتا ہے۔ یہ کوئی مخصوص درخت نہیں ہے۔ ” نہ شرقی ہے اور نہ غربی ہے “۔ اور نہ یہ محدود اور مشخص تیل ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا کوئی اور ہی تیل ہے۔
یکاد زیتھا یضی ولو لم تمسسہ نار (24 : 35) ” اس کا تیل خود بخود بھڑک اٹھتا ہے ‘ اگرچہ اس کو آگ نہ لگائی گئی ہو “۔ یعنی اس کے اندر نورانیت کوٹ کوٹ بھری ہوئی ہے۔ نور علی نور ہے۔ لفظ نور علی نور سے ہم ذات باری کے اعلیٰ نورانیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
یہ وہ خدائی نور ہے جس سے اس پوری کائنات کی ظلمتیں دور ہوجاتی ہیں۔ یہ وہ نور ہے جس کی حقیقت تک انسانی دماغ نہیں پہنچ سکتا۔ بس یہ ایک کوشش ہے کہ دل اس کے ساتھ متعلق ہوں اور اس کے ادراک کے لیے سعی کریں اور اس کے دیکھنے کی امید رکھیں۔
(یھدی۔۔۔۔۔۔ علیم) (35) ” “۔
اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لیکن صرف اس شخص کو جو اپنے دل و دماغ کو اس نور کو قبول کرنے کے لیے کھولتا ہے۔ یہ نور تو زمین و آسمان میں عام ہے۔ زیمن و آسمان میں اس کے فیوض و برکات موجود ہیں۔ اور ہر وقت موجودرہتے ہیں۔ یہ نور کبھی ختم نہیں ہوتا ‘ مدھم نہیں پڑتا اور بند نہیں ہوتا۔ انسان جب بھی اس کی طرف متوجہ ہو ‘ اسے دیکھتا ہے اور بےراہ شخص جب بھی اس کی طرف رخ کرے وہ اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ اور جب بھی کوئی اس نور سے رابطہ قائم کرے وہ اسے ہدایت دیتا ہے۔
اللہ کے نور کی اس آیت میں جو مثال دی گئی ہے یہ لوگوں کو سمجھانے کے لیے ہے۔ ” وہ لوگوں کو مثالوں سے سمجھاتا ہے “۔ اس لیے کہ وہ علیم ہے اور انسانی قوت مدرکہ کی حدود کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ان مثالوں میں جو نور سمجھا یا گیا ہے وہ مطلق نور ہے۔ آسمانوں اور زمینوں میں عام ہے۔ آسمانوں اور زمین پر اس کا فیضان ہے اور یہ نور ان گھروں میں روشن اور چمکتا ہوا نظر آتا ہے جن میں لوگوں کے دل اللہ کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ جن میں اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور جن گھروں کے باشندے اللہ والے ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں دنیا کی ہر چیز سے اس نور سماوات کو ترجیح دی جاتی ہے۔
النور 24:36
(فی بیوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والاصال رجال ۔۔۔۔۔۔۔ والابصار لیجز یھم اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بغیر حساب ) (36 تا 83)
یہاں اللہ کے نور کی تمثیل اور ان گھروں کی تمثیل میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ قرآن کریم کے انداز بیان کافی کمال ہے۔ طاق کے اندر چراغ روشن ہے اور گھروں کے اندر دل مومن روشن ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان مشاکلت ہے۔
یہ گھر ایسے ہیں کہ اللہ نے حکم دینا ہے کہ ان کی دیواروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعمیر کی جائے۔ ان کو بلند کرنے کے اذن سے مراد ان کو تعمیر کرنے کا حکم دینا ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کریں۔ چناچہ یہ گھر قائم کردیئے گئے ہیں ‘ بلند ہیں اور پاک اور ستھرے ہیں۔ ان کا منظر اس کائنات کے منظر لے مشابہ ہے جہاں نور ربی پھیلا ہوا ہے۔ ان گھروں کی بلندی اس لیے ہے کہ یہاں اللہ کا نام لیا جائے۔
ویذکر فیھا اسمہ (24 : 36) ” اس میں اللہ کا نام یاد کیا جائے “۔ اور یہ پاک دل اللہ کے ساتھ وابستہ ہوں ‘ اللہ کی تسبیح کرتے ہوں۔ اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ نماز بھی پڑھنے والے ہوں۔ اللہ کی راہ میں دینے والے بھی ہوں۔
(رجال لا تلھیھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وایتآء الزکوۃ) (24 : 37) ” ان میں ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت صلوۃ سے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کردیتی “۔ تجارت اور خریدو فروخت کمانے اور دولت جمع کرنے کے ذرائع ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کاموں میں مشغول رہنے کے باوجود اللہ کے حقوق یعنی نماز اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی یعنی زکوۃ سے غافل نہیں ہوتے۔
(یخافون۔۔۔۔۔ والابصار) (24 : 37) ” وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرانے کی نوبت آجائے گی “۔ دل الٹے ہوں گے یعنی ان کے اندر خوف و ہر اس کی وجہ سے کوئی قرار نہ ہوگا ‘ اور یہ دل چونکہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اس لیے تجارت اور خیرد و فروخت انہیں اللہ کے ذکر سے روک نہیں سکتے۔
لیکن اس خوف کے ساتھ امید بھی وابستہ ہے۔ وہ مایوس نہیں ہوتے۔ وہ اللہ سے امیدیں باندھے ہوئے ہوتے ہیں۔
(لیجز یھم اللہ۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 38) ” تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بہترین اعمال کی جزا ان کو دے اور مزید فضل سے نوازے “۔ ان کی امید ناکام بھی نہیں رہتی ۔ اس لیے کہ واللہ یرزق من یشآء بغیر حساب (24 : 38) ” اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے “ کیونکہ اللہ کے فضل کے کوئی حدود وقیود نہیں ہیں۔
آسمانوں اور زمین کے اندر روشن ہونے والے اس نور کے بالمقابل ‘ اللہ کے ان گھروں میں پائے جانے والے اس نور کے بالمقابل اہل ایمان کے دلوں میں روشن نور کے بالمقابل ‘ یہاں قرآن مجید ظلمات اور تاریکیوں کے ایک جہان کو بھی پیش کرتا ہے۔ اس جہان میں کوئی روشنی نہیں ہے۔ اس جہان میں کوئی امن و سکون نہیں ہے۔ ہر طرف خوف کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ اس میں ہر طرف بر بادی ہی بربادی ہے۔ کوئی خیر نہیں ہے۔ یہ اہل کفر کا جہان ہے اور ایک کافر کی دنیا ہے۔ اس کے خدوخال اور نگ ڈھنگ کچھ یوں ہیں۔
(والذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ سریع الحساب اوکظلمت۔۔۔۔۔۔۔۔ من نور (39 : 40) ”(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بےآب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا ‘ مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا ‘ بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا ‘ جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا ‘ اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ‘ کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے ‘ اس پر ایک اور موج ‘ اور اس کے اوپر بادل ‘ تاریکی پر تاریکی مسلط ہے ‘ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں “۔
یہاں قرآن کریم نے اہل کفر کی زندگی اور ان کے نظریات اور سرگرمیوں کی تصویر کشی دو طرح کی ہے۔ یہ دو مشاہد ہیں جو بطور تمثیل دیئے گئے ہیں۔
پہلی تمثیل ہے ان کے اعمال کی۔ یہ اعمال ایسے نظر آتے ہیں جس طرح چٹیل وسعی ریگستان میں سراب نظر آتا ہے۔ یہ سراب ٹیلے پانی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ پیاسا اس کے پیچھے بھگتا ہے۔ وہ توقع تو یہ کرتا ہے کہ سراب تک پہنچ کر پانی پئے گا لیکن وہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ وہاں تک پہنچ کر وہ وہاں کیا پانے والاہوتا ہے۔ یہاں منظر میں اچانک تبدیلی آجاتی ہے۔ یہ شخص جو سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے پیاسا ہے ‘ پانی کی تلاش میں ہے۔ اور غافل ہے اس معاملے سے جو اسے پیش آنے والا ہے۔ یہ جب منزل تک پہنچتا ہے تو وہاں اسے پانی نہیں ملتا۔ وہاں اسے وہ چیز ملتی ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اب یہ اس نئی حقیقت سے دو چار ہو کر خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ امیدیں کٹ جاتی ہیں۔
وجد اللہ عندہ (24 : 39) ” وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا “۔ وہ اللہ موجود ہے جس کا وہ منکر تھا اور یہ شخص اللہ وحدہ کا دشمن تھا۔ اس سراب میں اس کا منتظر اللہ تھا۔ اگر اس سراب میں یہ شخص اپنے کسی دنیاوی دشمن کو پائے تو پھر یہ سخت خوفزدہ ہوجائے لیکن یہ وہاں خالق کائنات کو پارہا ہے جو جبار ہے۔ بڑی قوت والا ہے اور سخت انتقام لینے والا بھی ہے۔ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پانی کے بجائے اس کا وہاں حساب و کتاب شروع ہوجاتا ہے۔
فوقہ حسابہ واللہ سریع الحساب (24 : 39) ” جس نے اس کا پورا پورا حساب چکادیا اور اللہ کو حساب لینے میں دیر نہیں لگتی “۔ یہ منظر سرعت اور ستابی کے ساتھ اچانک سرپرائز کو پیش کرتا ہے اور سرعت اور سراب کے ساتھ ‘ جلدی سے حساب چکا نا اور اچانک خوف میں مبتلا ہونا ‘ فنی ہم آہنگی ہے۔
دوسرا منظر یہ ہے کہ اس میں جھوٹی روشنی کے بعد اندھیرے چھا جاتے ہیں ‘ یوں کہ ایک انسان سمندری جہاز میں ہے ‘ یہ جہاز سمندر کی ظالم لہروں میں گھرا ہوا ہے ‘ خوفناک موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہے ‘ ان کے اوپر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسا خوفناک اندھیرا ہوگیا ہے کہ کوئی شخص اگر اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ دیکھ نہیں سکتا ‘ شدت خوف اور شدت تاریکی کی وجہ سے ۔
کفر کیا ہے ‘ یہ دراصل امواج زندگی میں ایک گھمبیر اندھیرا ہے۔ یہ اندھیرا اللہ کے نور کو نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔ یہ اس قدر گہری گمراہی ہے کہ اس میں انسان کو ہاتھ کی طرح قریبی دلائل بھی نظر نہیں آتے۔ کفر اس قدر خوفناک صورت حال کا نام ہے کہ اس میں انسان کے لیے سکون وقرار نہیں ہوتا۔
ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور (24 : 40) ” جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے “۔ اللہ کا نور کیا ہے ‘ وہ ہدایت جو اللہ دل مومن میں ڈال دیتا ہے وہ اللہ کا نور ہے۔ یہ ہدایت انسان کے دل کو کھول دیتی ہے اور انسان کی فطرت نو اس میں قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ یوں انسانی قلب میں موجود نور الہی اس کائنات میں موجود نور الہی کے ساتھ یکجا ہوجاتا ہے اور جس شخص کا اتصال اس نور کائنات سے نہ ہوسکا تو وہ اندھیروں میں ہے اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ یہ ہمیشہ خوفناک حالات میں ہوگا جن میں کوئی امن نہ ہوگا۔ یہ شخص ایسی گمراہی میں پڑجائے گا جس سے اس کا نکلنا مشکل ہوگا اور اس کے اعمال کا انجام سراب ہوگا اور سراب کے پیچھے بھاگنے والا ظاہر ہے کہ ہلاک ہوجائے گا۔ کیونکہ کفار کے اعمال کے پیچھے کوئی نظر یہ اور کوئی نور نہیں ہوتا۔ نور ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اس لیے کوئی اصلاحی کام بغیر ایمان کے نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی ہدایت ہی نور ہے اور اللہ کا ڈر ہی نور ہے۔
یہ تھے مناظر کفر و ضلالت اور مناظر تاریکی۔ اس کے بعد پھر اس کائنات میں ایمان اور نور کے مناظر آتے ہیں۔ یہاں پوری کائنات میں نور ہی کا عالم ہے۔ تمام موجودات اس نور میں تسبیح پڑھ رہی ہیں اور عالم نماز میں ہیں۔ انس ہوں ‘ جن ہوں ‘ زمین ہو یا افلاک ہوں۔ زندہ ہوں یا جمادات ہوں ‘ تمام کائنات تسبیح پڑھ رہی ہے اور تمام موجودات اس زمرے میں ہمقدم ہیں ‘ یوں کہ ایک دانا کا وجدان اس سے ارتعاش میں آجاتا ہے اور دل معرفت سے بھر جاتا ہے۔
النور 24:37
(فی بیوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والاصال رجال ۔۔۔۔۔۔۔ والابصار لیجز یھم اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بغیر حساب ) (36 تا 83)
یہاں اللہ کے نور کی تمثیل اور ان گھروں کی تمثیل میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ قرآن کریم کے انداز بیان کافی کمال ہے۔ طاق کے اندر چراغ روشن ہے اور گھروں کے اندر دل مومن روشن ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان مشاکلت ہے۔
یہ گھر ایسے ہیں کہ اللہ نے حکم دینا ہے کہ ان کی دیواروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعمیر کی جائے۔ ان کو بلند کرنے کے اذن سے مراد ان کو تعمیر کرنے کا حکم دینا ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کریں۔ چناچہ یہ گھر قائم کردیئے گئے ہیں ‘ بلند ہیں اور پاک اور ستھرے ہیں۔ ان کا منظر اس کائنات کے منظر لے مشابہ ہے جہاں نور ربی پھیلا ہوا ہے۔ ان گھروں کی بلندی اس لیے ہے کہ یہاں اللہ کا نام لیا جائے۔
ویذکر فیھا اسمہ (24 : 36) ” اس میں اللہ کا نام یاد کیا جائے “۔ اور یہ پاک دل اللہ کے ساتھ وابستہ ہوں ‘ اللہ کی تسبیح کرتے ہوں۔ اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ نماز بھی پڑھنے والے ہوں۔ اللہ کی راہ میں دینے والے بھی ہوں۔
(رجال لا تلھیھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وایتآء الزکوۃ) (24 : 37) ” ان میں ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت صلوۃ سے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کردیتی “۔ تجارت اور خریدو فروخت کمانے اور دولت جمع کرنے کے ذرائع ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کاموں میں مشغول رہنے کے باوجود اللہ کے حقوق یعنی نماز اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی یعنی زکوۃ سے غافل نہیں ہوتے۔
(یخافون۔۔۔۔۔ والابصار) (24 : 37) ” وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرانے کی نوبت آجائے گی “۔ دل الٹے ہوں گے یعنی ان کے اندر خوف و ہر اس کی وجہ سے کوئی قرار نہ ہوگا ‘ اور یہ دل چونکہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اس لیے تجارت اور خیرد و فروخت انہیں اللہ کے ذکر سے روک نہیں سکتے۔
لیکن اس خوف کے ساتھ امید بھی وابستہ ہے۔ وہ مایوس نہیں ہوتے۔ وہ اللہ سے امیدیں باندھے ہوئے ہوتے ہیں۔
(لیجز یھم اللہ۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 38) ” تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بہترین اعمال کی جزا ان کو دے اور مزید فضل سے نوازے “۔ ان کی امید ناکام بھی نہیں رہتی ۔ اس لیے کہ واللہ یرزق من یشآء بغیر حساب (24 : 38) ” اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے “ کیونکہ اللہ کے فضل کے کوئی حدود وقیود نہیں ہیں۔
آسمانوں اور زمین کے اندر روشن ہونے والے اس نور کے بالمقابل ‘ اللہ کے ان گھروں میں پائے جانے والے اس نور کے بالمقابل اہل ایمان کے دلوں میں روشن نور کے بالمقابل ‘ یہاں قرآن مجید ظلمات اور تاریکیوں کے ایک جہان کو بھی پیش کرتا ہے۔ اس جہان میں کوئی روشنی نہیں ہے۔ اس جہان میں کوئی امن و سکون نہیں ہے۔ ہر طرف خوف کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ اس میں ہر طرف بر بادی ہی بربادی ہے۔ کوئی خیر نہیں ہے۔ یہ اہل کفر کا جہان ہے اور ایک کافر کی دنیا ہے۔ اس کے خدوخال اور نگ ڈھنگ کچھ یوں ہیں۔
(والذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ سریع الحساب اوکظلمت۔۔۔۔۔۔۔۔ من نور (39 : 40) ”(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بےآب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا ‘ مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا ‘ بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا ‘ جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا ‘ اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ‘ کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے ‘ اس پر ایک اور موج ‘ اور اس کے اوپر بادل ‘ تاریکی پر تاریکی مسلط ہے ‘ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں “۔
یہاں قرآن کریم نے اہل کفر کی زندگی اور ان کے نظریات اور سرگرمیوں کی تصویر کشی دو طرح کی ہے۔ یہ دو مشاہد ہیں جو بطور تمثیل دیئے گئے ہیں۔
پہلی تمثیل ہے ان کے اعمال کی۔ یہ اعمال ایسے نظر آتے ہیں جس طرح چٹیل وسعی ریگستان میں سراب نظر آتا ہے۔ یہ سراب ٹیلے پانی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ پیاسا اس کے پیچھے بھگتا ہے۔ وہ توقع تو یہ کرتا ہے کہ سراب تک پہنچ کر پانی پئے گا لیکن وہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ وہاں تک پہنچ کر وہ وہاں کیا پانے والاہوتا ہے۔ یہاں منظر میں اچانک تبدیلی آجاتی ہے۔ یہ شخص جو سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے پیاسا ہے ‘ پانی کی تلاش میں ہے۔ اور غافل ہے اس معاملے سے جو اسے پیش آنے والا ہے۔ یہ جب منزل تک پہنچتا ہے تو وہاں اسے پانی نہیں ملتا۔ وہاں اسے وہ چیز ملتی ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اب یہ اس نئی حقیقت سے دو چار ہو کر خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ امیدیں کٹ جاتی ہیں۔
وجد اللہ عندہ (24 : 39) ” وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا “۔ وہ اللہ موجود ہے جس کا وہ منکر تھا اور یہ شخص اللہ وحدہ کا دشمن تھا۔ اس سراب میں اس کا منتظر اللہ تھا۔ اگر اس سراب میں یہ شخص اپنے کسی دنیاوی دشمن کو پائے تو پھر یہ سخت خوفزدہ ہوجائے لیکن یہ وہاں خالق کائنات کو پارہا ہے جو جبار ہے۔ بڑی قوت والا ہے اور سخت انتقام لینے والا بھی ہے۔ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پانی کے بجائے اس کا وہاں حساب و کتاب شروع ہوجاتا ہے۔
فوقہ حسابہ واللہ سریع الحساب (24 : 39) ” جس نے اس کا پورا پورا حساب چکادیا اور اللہ کو حساب لینے میں دیر نہیں لگتی “۔ یہ منظر سرعت اور ستابی کے ساتھ اچانک سرپرائز کو پیش کرتا ہے اور سرعت اور سراب کے ساتھ ‘ جلدی سے حساب چکا نا اور اچانک خوف میں مبتلا ہونا ‘ فنی ہم آہنگی ہے۔
دوسرا منظر یہ ہے کہ اس میں جھوٹی روشنی کے بعد اندھیرے چھا جاتے ہیں ‘ یوں کہ ایک انسان سمندری جہاز میں ہے ‘ یہ جہاز سمندر کی ظالم لہروں میں گھرا ہوا ہے ‘ خوفناک موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہے ‘ ان کے اوپر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسا خوفناک اندھیرا ہوگیا ہے کہ کوئی شخص اگر اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ دیکھ نہیں سکتا ‘ شدت خوف اور شدت تاریکی کی وجہ سے ۔
کفر کیا ہے ‘ یہ دراصل امواج زندگی میں ایک گھمبیر اندھیرا ہے۔ یہ اندھیرا اللہ کے نور کو نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔ یہ اس قدر گہری گمراہی ہے کہ اس میں انسان کو ہاتھ کی طرح قریبی دلائل بھی نظر نہیں آتے۔ کفر اس قدر خوفناک صورت حال کا نام ہے کہ اس میں انسان کے لیے سکون وقرار نہیں ہوتا۔
ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور (24 : 40) ” جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے “۔ اللہ کا نور کیا ہے ‘ وہ ہدایت جو اللہ دل مومن میں ڈال دیتا ہے وہ اللہ کا نور ہے۔ یہ ہدایت انسان کے دل کو کھول دیتی ہے اور انسان کی فطرت نو اس میں قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ یوں انسانی قلب میں موجود نور الہی اس کائنات میں موجود نور الہی کے ساتھ یکجا ہوجاتا ہے اور جس شخص کا اتصال اس نور کائنات سے نہ ہوسکا تو وہ اندھیروں میں ہے اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ یہ ہمیشہ خوفناک حالات میں ہوگا جن میں کوئی امن نہ ہوگا۔ یہ شخص ایسی گمراہی میں پڑجائے گا جس سے اس کا نکلنا مشکل ہوگا اور اس کے اعمال کا انجام سراب ہوگا اور سراب کے پیچھے بھاگنے والا ظاہر ہے کہ ہلاک ہوجائے گا۔ کیونکہ کفار کے اعمال کے پیچھے کوئی نظر یہ اور کوئی نور نہیں ہوتا۔ نور ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اس لیے کوئی اصلاحی کام بغیر ایمان کے نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی ہدایت ہی نور ہے اور اللہ کا ڈر ہی نور ہے۔
یہ تھے مناظر کفر و ضلالت اور مناظر تاریکی۔ اس کے بعد پھر اس کائنات میں ایمان اور نور کے مناظر آتے ہیں۔ یہاں پوری کائنات میں نور ہی کا عالم ہے۔ تمام موجودات اس نور میں تسبیح پڑھ رہی ہیں اور عالم نماز میں ہیں۔ انس ہوں ‘ جن ہوں ‘ زمین ہو یا افلاک ہوں۔ زندہ ہوں یا جمادات ہوں ‘ تمام کائنات تسبیح پڑھ رہی ہے اور تمام موجودات اس زمرے میں ہمقدم ہیں ‘ یوں کہ ایک دانا کا وجدان اس سے ارتعاش میں آجاتا ہے اور دل معرفت سے بھر جاتا ہے۔