Fi Zilal al-Quran — القصص 28:1 – القصص 28:64
Contents
- القصص 28:1
- القصص 28:2
- القصص 28:3
- القصص 28:4
- القصص 28:5
- القصص 28:6
- القصص 28:7
- القصص 28:8
- القصص 28:9
- القصص 28:10
- القصص 28:11
- القصص 28:12
- القصص 28:13
- القصص 28:14
- القصص 28:15
- القصص 28:16
- القصص 28:17
- القصص 28:18
- القصص 28:19
- القصص 28:20
- القصص 28:21
- القصص 28:22
- القصص 28:23
- القصص 28:24
- القصص 28:25
- القصص 28:26
- القصص 28:27
- القصص 28:28
- القصص 28:29
- القصص 28:30
- القصص 28:31
- القصص 28:32
- القصص 28:33
- القصص 28:34
- القصص 28:35
- القصص 28:36
- القصص 28:37
- القصص 28:38
- القصص 28:39
- القصص 28:40
- القصص 28:41
- القصص 28:42
- القصص 28:43
- القصص 28:44
- القصص 28:45
- القصص 28:46
- القصص 28:47
- القصص 28:48
- القصص 28:49
- القصص 28:50
- القصص 28:51
- القصص 28:52
- القصص 28:53
- القصص 28:54
- القصص 28:55
- القصص 28:56
- القصص 28:57
- القصص 28:58
- القصص 28:59
- القصص 28:60
- القصص 28:61
- القصص 28:62
- القصص 28:63
- القصص 28:64
القصص 28:1
درس نمبر 176 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 43
طسم (1) تلک ایت الکتٰب المبین (2)
” “۔ سورت کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ۔ حر وف تہجی سے آغاز کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت ایسے ہی حروف سے مر کب ہے ، لیکن عام حروف تہجی سے مر کب یہ کتاب ایک بلند مر تبہ اور معجز انہ کتاب ہے۔ ان ہی حروف سے بننے والی دوسری کتابوں اور اس کتاب میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ یہ کتاب عام لوگوں ہی کی زبان میں ہے ، عام لوگ فانی ہیں لیکن یہ کتاب لازوال ہے ۔ اور یہ تلک ایت الکتب المبین (2:28) ” یہ کتاب مبین کی آیات ہیں “۔ لہٰذایہ کتاب مبین کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے کیونکہ اگر انسان کی بنائی ہوئی ہوتی تو دوسرے انسان بھی ایسی کتاب بنا کرلے آتے جبکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انسان ایسی کتاب نہیں لاسکے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ یہ وحی من جانب اللہ ہے اور اس سے اس کی فصاحت وبلاغت اور معجزانہ شان بالکل واضح
ہے ۔ پھر اس کے اندر جو مضامین ہیں وہ چھوٹے بڑے معاملے میں سچائی کی چھاپ لیے ہوئے ہیں ۔
القصص 28:2
درس نمبر 176 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 43
طسم (1) تلک ایت الکتٰب المبین (2)
” “۔ سورت کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ۔ حر وف تہجی سے آغاز کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت ایسے ہی حروف سے مر کب ہے ، لیکن عام حروف تہجی سے مر کب یہ کتاب ایک بلند مر تبہ اور معجز انہ کتاب ہے۔ ان ہی حروف سے بننے والی دوسری کتابوں اور اس کتاب میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ یہ کتاب عام لوگوں ہی کی زبان میں ہے ، عام لوگ فانی ہیں لیکن یہ کتاب لازوال ہے ۔ اور یہ تلک ایت الکتب المبین (2:28) ” یہ کتاب مبین کی آیات ہیں “۔ لہٰذایہ کتاب مبین کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے کیونکہ اگر انسان کی بنائی ہوئی ہوتی تو دوسرے انسان بھی ایسی کتاب بنا کرلے آتے جبکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انسان ایسی کتاب نہیں لاسکے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ یہ وحی من جانب اللہ ہے اور اس سے اس کی فصاحت وبلاغت اور معجزانہ شان بالکل واضح
ہے ۔ پھر اس کے اندر جو مضامین ہیں وہ چھوٹے بڑے معاملے میں سچائی کی چھاپ لیے ہوئے ہیں ۔
القصص 28:3
نتلوا علیک من نبا موسٰی وفرعون بالحق لقوم یومنون (3)
” “۔ یہ کتاب اب لوگوں کے لیے آرہی جو ایمان لانے والے ہوتے ہیں ، یہ ان کی تربیت کرتی ہے ، ان کو اٹھاتی ہے اور ان کے لیے منہاج حیات وضع کرتی ہے ۔ راستہ بتاتی ہے ۔ یہ قصص بھی ایسے ہی اہل ایمان کے لیے لائے جارہے ہیں اور ایسے ہی لوگ ان سے نفع اٹھاتے ہیں ۔
اس کتاب کی یہ تلاوت براہ راست اللہ کی طرف سے ہے ، یہ اللہ کی عنایات میں سے ایک عنایت ہے ۔ اور اہل ایمان کے لیے اس کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ یہ کتاب اہل ایمان کو بتاتی ہے کہ وہ نمایت ہی بلند مر تبہ اور قیمتی لوگ ہیں اور اللہ کے نزدیک وہ مرتبہ بلند رکھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر یہ کتاب ان کے لیے تلاوت کرتا ہے اور ان کے لیے یہ کتاب ان کی صفت ایمان کی وجہ سے تلاوت کی جارہی ہے ۔
لقوم یومنون (3:28 ) ” ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں “۔
اس کے بعد اصل قصہ شروع ہوتا ہے ، یہاں قصے کا آغاز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے آغاز یعنی آپ کی ولادت سے ہوتا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ کئی سورتوں میں آیا ہے لیکن آپ کی ولادت کے واقعات کا بیان صرف اس سورت میں اس انداز سے ہے کیونکہ آپ کی سیرت کا پہلا دور یعنی آپ کی ولادت اور وہ حالات جن میں ولادت ہوئی بےبسی کا دور تھا ولادت ہوتے ہی آپ بےبس تھے ۔ آپ کی قوم بھی بےبس تھی ۔ فرعون کی غلامی میں یہ لوگ بندھے ہوئے تھے ، ذلیلوخوار تھے اور یہی ذلت ومسکنت یہاں اس سورت کا حقیقی موضوع ہے ۔ ایسے مشکل حالات میں صاف صاف نظر آیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بچانے کے لیے دست قدرت واضح طور پر سرگرم ہے ۔ جو تدابیر اختیار کی گئیں وہ بالکل ظاہر ہیں ۔ ایسے حالات میں جبکہ ظلم زیادتی اور سرکشی کے خلاف تمام انسانی قوتیں عاجزآگئی ہیں۔ دست قدرت اس عظیم قوت پر ایسی ضرب لگاتی ہے جس کی کوئی آواز نہیں ہے۔ اس طرح مستضعفین کی نصرت کا آغاز ایسے حالات میں ہوتا ہے کہ ان کے پاس حالات کو بدلنے کا کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔ قوم بنی وسرائیل کو سخت ترین عذاب اور ظلم اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور ان کے پاس بچاؤ کی کوئی ظاہری سبیل نہیں ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال تھی جس سے مکہ میں مٹھی بھر ایمان والے دوچار تھے۔ مکہ کے اہل ایمان کو بھی اس طرح دست قدرت کی غیبی امداد کی ضرورت تھی اور مکہ میں تشدد کرنے والوں کو ضرورت تھی کہ ان کو متنبہ کیا جائے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے اور یقیناً ہوتا ہے۔
دوسری سورتوں میں اکثر اوقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا آغاز رسالت کے سپرد کیے جانے کے واقعات سے ہوتا ہے۔ کسی جگہ اس قصے کا آغاز ولادت موسیٰ کے واقعات سے نہیں ہوا۔ دوسرے مقامات پر جب ہم دیکھتے ہیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قوی مومن کی طرح ایک سرکش مقتدر اعلیٰ کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں اور یہ قوت ایمان غالب آتی ہے اور ظلم اور سرکشی سرنگوں ہوتی ہے لیکن یہاں یہ مفہوم بتانا مقصود نہیں ہے۔ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ شر جب ننگا ہوکر اپنے عروج تک جا پہنچتا ہے تو اس کے اس عروج کے اندر سے اس کی خرابی کا سامان نمودار ہوتا ہے۔ شر اور ظلم جب کھل کر سامنے آجاتے ہیں تو پھر ان کی شکست و ریخت کا سامان قدرتی طور پر فراہم ہوتا ہے۔ کسی بیرونی دفاع کی ضرورت نہیں رہتی۔ شر کے خاتمے کے قدرتی عوامل شروع ہوجاتے ہیں ، اور دست قدرت خود اس کا دفعیہ کرتا ہے اور مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کو ظلم کی چکی سے نجات دے دی جاتی ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے ، خیر پھلتا اور پھولتا ہے۔ اس کی تربیت ہوتی ہے اور اہل خیروقت کے امام بن جاتے ہیں اور تمام اقتدار ان کے ہاتھ میں آجاتا ہے اور وہ اس کے وارث ہوجاتے ہیں۔
یہی وہ حکمت ہے جس کے لیے سورة قصص میں قصہ موسیٰ کو لایا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں اس قصے کی وہ کڑی لی گئی ہے جو پوری طرح اس مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ قرآن کریم میں قصص جہاں جہاں بھی لائے گئے ہیں ، ہر جگہ ان سے ایک مخصوص غرض سامنے آتی ہے۔ لوگوں کی ، ایک زاویہ سے ، تربیت مقصود ہوتی ہے اور کچھ معانی ، کچھ حکمتیں اور کچھ اصول ان کو بنانے مقصود ہوتے ہیں۔ چناچہ جس مقصد کے لیے قصہ لایا جاتا ہے ، وہ نہایت ہی ہم آہنگی کے ساتھ اور مربوط طریقے سے ذہنوں میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ حقائق پر ودئیے جاتے ہیں اور قلب و نظر کی تعمیر صحیح خطوط پر ہوتی ہے۔
یہاں اس قصے کی جو کڑیاں لائی گئی ہیں ، مثلاً ولادت موسیٰ (علیہ السلام) ، وہ سخت حالات جن میں آپ کی ولادت ہوئی ، ان حالات میں جس معجزانہ انداز میں اللہ نے آپ کو بچانے کی تدابیر کیں ، پھر آپ کی پرورش کا معجزانہ انتظام اور آپ کو جوانی ، علم اور حکمت کا عطا ہونا ، قبطی کا قتل ہونا ، فرعون اور اس کے سرداروں کا آپ کے خلاف مشورت کرنا ، حضرت موسیٰ کا مصر سے مدین کی طرف بھاگنا ، وہاں شادی کرنا ، خدمت گزاری کی مدت پوری کرنا ، پھر طور پر آپ کا ندائے ربی سنتا اور منصب رسالت پانا ، پھر آپ کا فرعون اور اس کے سرداروں کے سامنے فریضہ تبلیغ رسالت پورا کرنا۔ ان کی جانب سے تکذیب ، حضرت ہارون کو بحیثیت معاون نبی متعین کرنا اور آخری انجام کہ فروعون کی غرقابی۔ یہ سب امور نہایت ہی تیزی کے ساتھ سین پر آتے ہیں۔
یہاں قصے کی دو کڑیوں کو قدرے تفصیل سے پیش کیا گیا ہے ۔ اس لیے کہ ان کو قرآن کریم میں پہلی بار لایا گیا ہے۔ اور ان دونوں کے ذریعے یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اللہ کس طرح کھل کر ظلم کے خلاف اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے ، فرعون کی تمام قوتیں اور مکاریاں فیل ہوجاتی ہیں۔ تمام احتیاطی تدابیر بےاثر ہوجاتی ہیں اور اللہ کے فیصلے نافذ ہو کر رہتے ہیں۔
القصص 28:4
ونری فرعون ۔۔۔۔۔ کانوا یحذرون (28: 6) ”“۔ جس طرح پورے قرآن میں قرآن کریم کا انداز بیان قصص ہوتا ہے ۔ قصہ فرعون و کلیم کو بھی یہاں مناظر کی شکل میں لایا گیا ہے۔ ان مناظر کے درمیان ان کڑیوں کو حذف کردیا گیا ہے۔ جن کو انسان کی قوت متحیلہ خود بخود نظروں کے سامنے لے آتی ہے ، لہٰذا دو مناظر کے درمیان جو کڑیاں ترک کردی جاتی ہیں۔ ان کے بارے میں انسان لاعلم نہیں رہتا ، بلکہ انسان کی قوت متحیلہ پر دہ خیال پر ان واقعات کو لے آتی ہے۔ یوں ظاہری اسکرین کے ساتھ ساتھ پردہ خیال پر بھی مناظر آتے اور جاتے رہتے ہیں۔
اس قصے کا پہلا حصہ پانچ مناظر ، دوسرا نو مناظر ، تیسرا حصہ چار مناظر پر مشتمل ہے۔ اور ان مناظر اور ٹکڑوں کے درمیان ایک خلا ہے ، کہیں یہ گیپ بڑا ہے اور کہیں چھوٹا ہے۔ جس طرح پردہ گرتا ہے اور منظر آنکھوں سے غائب ہوجاتا ہے اور خیال کی اسکرین پر مناظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔
قصہ کے آغاز سے بھی پہلے اس فضا کی تصویر کشی کی جاتی ہے جس کے اندر واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ وہ حالات جن میں یہ قصہ واقع ہوا اور وہ مقاصد جن کے لیے دست قدرت نے یہ واقعات رونما کئے اور پھر وہ مقاصد جن کے لئے یہاں اس قصے کو دہرایا جا رہا ہے۔ یہ بھی قرآن کا ایک اسلوب ہے جو وہ قصہ پیش کرتے وقت اختیار کرتا ہے۔
ان فرعون علا فی الارض ۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یحذرون (4 – 6)
واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا ، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔ فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔ اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہیں کو وارث بنائیں اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا “۔
یہ ہے وہ اسٹیج جس پر یہ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اس ماحول کو وہ ذات بیان کر رہی ہے جو ان واقعات کو رونما کرا رہی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیتی ہے کہ ہم نے کیوں ایسا کیا اور یہ بھی صراحت کی کہ یہ ہم ہیں جو ایسا کر رہے ہیں۔ اور اس لیے کر رہے ہیں۔ ” واقعات۔ قصہ “ کے آغاز ہی میں صاف صاف بنا دیا جاتا ہے ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ قصے کا ہدف واضح طور پر ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ چناچہ اس عجیب انداز میں یہاں اس قصے کا آغاز ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انداز اس کتاب کے عجائبات میں سے ہے۔
یہاں فراعنہ مصر میں سے اس فرعون کا نام نہیں لیا جاتا جس کے عہد میں یہ واقعات رونما ہوئے کیونکہ واقعات کا خالص تاریخی پہلو متعین کرنا مقاصد قرآن میں سے نہیں ہے۔ نہ اس سے اس علم و حکمت میں کوئی اضافہ ہوتا ہے جو قرآن کریم اہل ایمان کو سکھانا چاہتا ہے۔ یہ کافی ہے کہ حضرت یوسف کے زمانہ مصر کے بعد یہ واقعات رونما ہوئے کیونکہ حضرت یوسف کے والدین اور بھائیوں کی مصر منتقلی کے ساتھ بنی اسرائیل کی مصر منتقلی شروع ہوئی اور یہاں وہ پھلے پھولے۔ حضرت یوسف کے دور کے بعد سرکش فرعون نے مصر کا اقتدار اعلیٰ حاصل کیا۔ یہ بڑا جبار وقہار تھا۔ اس نے مصر میں طبقاتی نظام جاری کردیا تھا۔ ہر طبقے کے فرائض متعین کر دئیے تھے اور بنی اسرائیل پر اس دور میں بےحد مظالم ہو رہے تھے ۔ کیونکہ بنی اسرائیل کے عقائد و نظریات مصریوں کے عقائد و نظریات سے بالکل جدا تھے۔ بنی اسرائیل اپنے دادا حضرت ابراہیم کے دین پر تھے۔ اگرچہ ان کے عقائد میں تغیر و انحراف واقع ہوگیا تھا لیکن دین کا بنیادی ڈھانچہ وہی تھا۔ وہ عقیدہ توحید کے قائل تھے۔ فرعون کی الوہیت کے منکر تھے۔ اس طرح فراعنہ جن بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ بنی اسرائیل ان کے قائل نہ تھے۔
فرعون کو یہ خوف لاحق تھا کہ بنی اسرائیل مصر میں ، اپنے خیالات کی وجہ سے اس کے تاج و تخت کے لیے خطرہ ہیں۔ وہ مصر سے ان کو یکلخت نکال بھی نہ سکتا تھا۔ کیونکہ وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے نیز اس صورت میں فرعون کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر اس قدر عظیم آبادی کو یکبارگی مصر سے نکال دیا جائے تو وہ دشمن مجاور اقوام سے مل کر مصر پر حملہ آر ہوجائیں گے ۔ اس لیے اس نے اس قوم کو نیست و نابود کرنے کے لیے نہایت ہی وحشیانہ طریقہ نکالا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یہ لوگ نہ فرعون کو مانتے ہیں اور نہ اس کی خدائی کے قائل ہیں ، اس لیے اس نے اس قوم کو سخت ترین مشقت کے سپرد کردیا ، ان کو ہر طرح ذلیل کرکے رکھا ، اور ان پر قسم قسم کے مصائب ڈھانے لگا۔ آخر کار اس نے یہ انتہائی فیصلہ کیا کہ ان کے تمام پیدا ہونے والے لڑکوں کو ذبح کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے تاکہ ان کی آبادی میں اضافہ بالکل ختم ہوجائے۔ مرد زیادہ نہ ہوں اس طرح کی عورتوں کی کثرت اور مردوں کی کمی کی وجہ سے ان کی قوت ٹوٹ جائے گی اور یہ لوگ اس سخت عذاب اور ظلم کی وجہ سے دبا کر بھی رکھے جاسکیں گے۔
روایات میں آتا ہے کہ اس نے تمام حاملہ عورتوں کے لیے دائیاں مقرر کر رکھی تھیں جو ہر پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں فوراً رپورٹ کرتی تھیں اور اور بچے کو فوراً ٹھکانے لگا دیا جاتا تھا۔ اور اس سنگدلانہ منصوبے پر عمل کرنے میں کوئی رو رعایت نہ برتی جاتی تھی۔ فرعون کا یہ اس قدر ظالمانہ منصوبہ تھا کہ بےگناہ بچوں کو یوں ذبح کرنے کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان حالات میں حضرت موسیٰ کا قصہ یوں ان کی ولادت سے شروع ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے :
ان فرعون علا ۔۔۔۔۔۔ من المفسدین (28: 4) ” واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا ۔ اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا۔ فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا “۔
لیکن اللہ کا ارادہ اور منصوبہ فرعون کے منصوبے سے مختلف تھا۔ اللہ کا فیصلہ سرکش فرعون کے فیصلے سے جدا تھا۔ ہمیشہ یوں ہوتا ہے کہ ظالم اور سرکش اپنی قوت اور تدابیر پر مست ہوتے ہیں ، وہ اللہ کے فیصلوں اور قدرتوں کو بھلا دیتے ہیں۔ وہ یوں سوچتے ہیں کہ یہ لوگ جو سوچیں گے نتائج ویسے ہی ہوں گے۔ یہ لوگ اپنے دشمنوں کے لیے ان کا انجام خود متعین کرتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ حالات کے نتائج ان کے اندازوں کے مطابق ہی ہوں گے۔ اللہ یہاں اپنے ارادے کا اعلان کرتا ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں ہماری تقدیر یہ ہے۔ یہاں فرعون ، ہامان اور ان کے لشکروں کو متنبہ کردیا جاتا ہے کہ تم جو تدابیر اختیار کر رہے ہو وہ تمہارے لیے مفید مطلب نہ ہوں گی۔
القصص 28:5
ونرید ان نمن علی الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یحذرون (28: 5 – 6) ”
“۔ یہ کمزور لوگ جن کو اس سرکش نے پوری طرح غلام بنا رکھا تھا ، ان کے حالات میں اپنی مرضی سے تصرف کرتا تھ ، ان کو سخت سے سخت سزائیں دیتا تھا ، ان کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا۔ اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑتا تھا۔ اس تشدد اور ظلم و ستم کے باوجود وہ اپنی ذات اور اپنے اقتدار کے بارے میں ان عوام سے سخت خائف تھا۔ چناچہ اس نے ان کے خلاف خفیہ پولیس قائم کر رکھی تھی اور ان کے ہاں جو بچہ بھی پیدا ہوتا اسے رپورٹ مل جاتی اور وہ اسے مذبح خانے کو بھیج دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قصاب تھا۔ یہ مفلوک الحال مستضعفین تھے جن پر اللہ نے پناہ فضل و کرم کرنے والا تھا۔ ان کو اللہ وقت کا امام بنانا چاہتا تھا۔ دنیا کی قیادت ان کے حوالے کرنے والا تھا۔ ان کو غلامی اور اطاعت کے درجے سے نکال کر قائدانہ رول دینا چاہتا تھا کہ وہ زمین پر اقتدار کے مالک بن جائیں ۔ (بعد میں جب وہ اس کے مستحق بنے تو ایسا ہی ہوا لیکن یہ استحقاق ایمان و صلاح کی بنیاد پر تھا) وہ ثابت قدم اور قوت و شوکت کے مالک بن جائیں اور ان کے ہاتھوں وہ خطرات واقعات بن جائیں جو ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کا لاحق تھے اور جن کے خلاف وہ ممکن حد تک احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے تھے لیکن ان کو یہ شعور نہ تھا کہ دست قدرت سے کیا ظاہر ہونے والا ہے۔
غرض واقعات قصہ کے بیان سے بھی پہلے یہاں مقاصد قصہ بیان کر دئیے جاتے ہیں۔ موجودہ صورت حالات کو بھی قارئین کے سامنے رکھا جاتا ہے اور جو ہونے والا ہے اس کی جھلکی بھی دکھائی جاتی ہے تاکہ دونوں قوتیں باہم بالمقابل ہوں۔ ایک طرف فرعون کا ظاہری کروفر ہے جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ وہ جو کچھ چاہے ، کرسکتا ہے اور دوسری طرف اللہ کی وہ عظیم حقیقی قوت ہے جس کے مقابلے میں انسانی قوتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس کی قوت کے سامنے سب قوتیں ضعیف ، لاغر اور نیست و نابود ہونے والی ہیں۔
اس قصے کے بارے میں یہ اعلان اس سے قبل ہوجاتا ہے کہ اس کے مناظر کا آغاز کیا جائے جبکہ لوگ واقعات قصہ کے منتظر بیٹھے ہیں۔ ان کو انتظار ہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ اور جس طرح اعلان کیا گیا ہے یہ مستضعفین کس طرح اس عظیم قوت کو پاش پاش کرکے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہوجائیں گے ۔
یوں یہ قصہ زندگی سے بھرپور ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ شاید اسے قرآن کریم میں سورة قصص میں پہلی بار لایا گیا اور یوں نظر آتا ہے کہ اس کے مناظر اب پیش ہو رہے ہیں۔ یہ کوئی تاریخی واقعہ نہیں ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ گویا واقعات اب پیش ہو رہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کا منفرد انداز بیان ہے کہ وہ تاریخی نہیں بلکہ تمثیلی انداز میں قصص کو بیان کرتا ہے۔
اس قصے کا آغاز ہوتا ہے ، اس چیلنج کے بعد دست قدرت کے تصریحات کھلے کھلے اسکرین پر نظر آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی ولادت ہوتی ہے اور جن حالات میں ہوتی ہے وہ بیان کر دئیے گئے ہیں۔ ولادت کے ساتھ ہی یہ خطرہ لاحق ہے کہ ان کی ولادت کی رپورٹ ہوجائے اور وہ فوراً موت کے منہ میں چلے جائیں ، ان کی گردن پر چھری چل پڑے اور ان کا سر زمین پر جاگرے۔
ان کی والدہ سخت پریشان ہے۔ اسے ان کی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ہر آن یہ خطرہ ہے کہ ان جلادوں کو اطلاع ہوجائے۔ وہ جب سوچتی ہے کہ اس معصوم کی گردن پر چھری چل رہی ہے تو وہ کانپ اٹھتی ہے ، یہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اس بچے کو اٹھائے ہوئے ہے۔ اس کے پاس اس کے بجانے کی کوئی قوت نہیں ہے۔ وہ اسے چھپا بھی نہیں سکتی۔ وہ اس کی فطری آواز ، رونے کی آواز کو بھی نہیں دبا سکتی۔ کوئی حیلہ اور وسیلہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ وہ اکیلی ہے ، عاجز ہے اور مسکین ہے۔ اس نازک موقعہ پر دست قدرت حرکت میں آتا ہے ۔ اس حیران و پریشان ماں کا رابطہ عظیم قوت کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ اسے اس حالت خوف میں ہدایت مل جاتی ہے کہ وہ کیا کرے۔ اسے یوں حکم دیا جاتا ہے۔
القصص 28:6
ونرید ان نمن علی الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یحذرون (28: 5 – 6) ”
“۔ یہ کمزور لوگ جن کو اس سرکش نے پوری طرح غلام بنا رکھا تھا ، ان کے حالات میں اپنی مرضی سے تصرف کرتا تھ ، ان کو سخت سے سخت سزائیں دیتا تھا ، ان کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا۔ اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑتا تھا۔ اس تشدد اور ظلم و ستم کے باوجود وہ اپنی ذات اور اپنے اقتدار کے بارے میں ان عوام سے سخت خائف تھا۔ چناچہ اس نے ان کے خلاف خفیہ پولیس قائم کر رکھی تھی اور ان کے ہاں جو بچہ بھی پیدا ہوتا اسے رپورٹ مل جاتی اور وہ اسے مذبح خانے کو بھیج دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قصاب تھا۔ یہ مفلوک الحال مستضعفین تھے جن پر اللہ نے پناہ فضل و کرم کرنے والا تھا۔ ان کو اللہ وقت کا امام بنانا چاہتا تھا۔ دنیا کی قیادت ان کے حوالے کرنے والا تھا۔ ان کو غلامی اور اطاعت کے درجے سے نکال کر قائدانہ رول دینا چاہتا تھا کہ وہ زمین پر اقتدار کے مالک بن جائیں ۔ (بعد میں جب وہ اس کے مستحق بنے تو ایسا ہی ہوا لیکن یہ استحقاق ایمان و صلاح کی بنیاد پر تھا) وہ ثابت قدم اور قوت و شوکت کے مالک بن جائیں اور ان کے ہاتھوں وہ خطرات واقعات بن جائیں جو ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کا لاحق تھے اور جن کے خلاف وہ ممکن حد تک احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے تھے لیکن ان کو یہ شعور نہ تھا کہ دست قدرت سے کیا ظاہر ہونے والا ہے۔
غرض واقعات قصہ کے بیان سے بھی پہلے یہاں مقاصد قصہ بیان کر دئیے جاتے ہیں۔ موجودہ صورت حالات کو بھی قارئین کے سامنے رکھا جاتا ہے اور جو ہونے والا ہے اس کی جھلکی بھی دکھائی جاتی ہے تاکہ دونوں قوتیں باہم بالمقابل ہوں۔ ایک طرف فرعون کا ظاہری کروفر ہے جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ وہ جو کچھ چاہے ، کرسکتا ہے اور دوسری طرف اللہ کی وہ عظیم حقیقی قوت ہے جس کے مقابلے میں انسانی قوتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس کی قوت کے سامنے سب قوتیں ضعیف ، لاغر اور نیست و نابود ہونے والی ہیں۔
اس قصے کے بارے میں یہ اعلان اس سے قبل ہوجاتا ہے کہ اس کے مناظر کا آغاز کیا جائے جبکہ لوگ واقعات قصہ کے منتظر بیٹھے ہیں۔ ان کو انتظار ہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ اور جس طرح اعلان کیا گیا ہے یہ مستضعفین کس طرح اس عظیم قوت کو پاش پاش کرکے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہوجائیں گے ۔
یوں یہ قصہ زندگی سے بھرپور ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ شاید اسے قرآن کریم میں سورة قصص میں پہلی بار لایا گیا اور یوں نظر آتا ہے کہ اس کے مناظر اب پیش ہو رہے ہیں۔ یہ کوئی تاریخی واقعہ نہیں ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ گویا واقعات اب پیش ہو رہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کا منفرد انداز بیان ہے کہ وہ تاریخی نہیں بلکہ تمثیلی انداز میں قصص کو بیان کرتا ہے۔
اس قصے کا آغاز ہوتا ہے ، اس چیلنج کے بعد دست قدرت کے تصریحات کھلے کھلے اسکرین پر نظر آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی ولادت ہوتی ہے اور جن حالات میں ہوتی ہے وہ بیان کر دئیے گئے ہیں۔ ولادت کے ساتھ ہی یہ خطرہ لاحق ہے کہ ان کی ولادت کی رپورٹ ہوجائے اور وہ فوراً موت کے منہ میں چلے جائیں ، ان کی گردن پر چھری چل پڑے اور ان کا سر زمین پر جاگرے۔
ان کی والدہ سخت پریشان ہے۔ اسے ان کی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ہر آن یہ خطرہ ہے کہ ان جلادوں کو اطلاع ہوجائے۔ وہ جب سوچتی ہے کہ اس معصوم کی گردن پر چھری چل رہی ہے تو وہ کانپ اٹھتی ہے ، یہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اس بچے کو اٹھائے ہوئے ہے۔ اس کے پاس اس کے بجانے کی کوئی قوت نہیں ہے۔ وہ اسے چھپا بھی نہیں سکتی۔ وہ اس کی فطری آواز ، رونے کی آواز کو بھی نہیں دبا سکتی۔ کوئی حیلہ اور وسیلہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ وہ اکیلی ہے ، عاجز ہے اور مسکین ہے۔ اس نازک موقعہ پر دست قدرت حرکت میں آتا ہے ۔ اس حیران و پریشان ماں کا رابطہ عظیم قوت کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ اسے اس حالت خوف میں ہدایت مل جاتی ہے کہ وہ کیا کرے۔ اسے یوں حکم دیا جاتا ہے۔
القصص 28:7
واوحینا الی ام موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ ولا تحزنی ” ہم نے موسیٰ کی ماں کو اشارہ کیا کہ ” اس کو دودھ پلا “ پھر جب تجھے اس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر “۔
کیا شان کبریائی ہے ، اللہ کی عظیم قدرت قابل دیدے ہے ! حکم ہوتا ہے ، موسیٰ کی ماں اسے دودھ پلاؤ، اسے پالتی رہو ، اپنی حفاظت میں رکھو۔ اور جب بھی تم خطرہ محسوس کرو ، اسے دریا میں ڈال دو ، بےخطر ہوکر اسے موجوں کے سپرد کر دو ، اگرچہ اس وقت وہ دودھ پی رہا ہو اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔
ولا تخافی ولا تحزنی (28: 7) ” کچھ خوف اور غم نہ کر “۔ وہاں دریا میں یہ اللہ کی نگرانی میں ہوگا۔ ایسی قوت کی نگرانی میں کہ امن و سلامتی اسی کے جوار رحمت میں دستیاب ہے۔ اس کی قوت کی نگرانی میں کسی کے لیے کوئی ڈر رہتا ہی نہیں۔ یہ وہی ہاتھ ہے جو آگ کو گلزار بنا دیتا ہے۔ آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیتا ہے۔ جو سمندر کو جائے پناہ بنانے والا ہے جس کو یہ ہاتھ پناہ دے دے اس کو فرعون جیسا جابر بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا بلکہ زمین کا کوئی جبار وقہار بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
انا رآدوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین (7)
” ہم اسے تیرے ہی پاس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے “۔ میں رب ذوالجلال تمہارے ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ وہ تمہارے ہاتھوں میں لوٹا دیا جائے گا ، اس کی زندگی کے لیے کوئی خطرہ نہ رہے گا اور مزید خوشخبری یہ ہے کہ وہ نبیوں میں سے ہوگا اور اللہ سے زیادہ سچا وعدہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔
یہ اس قصے کا پہلا منظر ہے۔ ایک ماں ہے جو حیران و پریشان ہے۔ اسے خوف لاحق ہے کہ اس کے بچے کو قتل کردیا جائے گا۔ اس قتل کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس لیے وہ اس تصور ہی سے بےتاب ہوجاتی ہے کہ اسے عالم بالا سے ہدایات ملتی ہیں ، اسے خوشخبری دے دی جاتی ہے۔ وہ مطمئن ہوجاتی ہے اور اسے سکون ملتا ہے۔ ڈرے اور سہمے ہوئے اس دل پر ایسا اثر ہوتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم کے لیے آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی تھی۔ سیاق کلام میں اس کی تفصیلات نہیں ہیں کہ ام موسیٰ کو یہ ہدایت کس طرح ملیں اور کس طرح انہوں نے ان پر عمل کیا۔ پس پردہ گر جاتا ہے اور جب پر دہ اٹھتا ہے تو ہماری نظروں کے سامنے ایک دوسرا منظر ہے۔
القصص 28:8
فالتقطہ ال فرعون ” آخر کار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا “۔ کیا یہی امن تھا ؟ اور کیا یہی فرعون تک بشارت تھی ؟ کیا ہل فرعون کے علاوہ کسی اور سے اس بیچاری کو کوئی ڈر تھا ؟ ڈر تو یہی تھا کہ اس کے حالات سے ظالم فرعونی خبردار نہ ہوجائیں۔ ڈر تو صرف یہ تھا کہ یہ بچہ فرعون کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ دیکھئے قدرت خداوندی کا کرشمہ کہ یہ بچہ ان کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔
ہاں ، یہی کچھ تھا ، یہ دست قدرت کا کھلا چیلنج ہے اور نہایت ہی کھلا چیلنج ہے۔ فرعون اور ہامان کی عظیم سیاسی اور مالی قوت کا چیلنج ہے۔ یہ عظیم قوت رات دن بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکوں کا پیچھا کر رہی ہے۔ ان کو ڈر ہے کہ ان کا اقتدار ، ان کا تخت ، بلکہ خودان کی ذات کو ان لوگوں سے خطرہ ہے۔ فرعونیوں نے خفیہ سروس اور خفیہ ایجنسیوں کا جال پھیلا رکھا تھا ، وہ ایک ایک گھر پر نظر رکھتے تھے کہ کوئی بچہ بچ کر نہ نکل جائے۔ لیکن خالق حقیقی ان کی ان سرگرمیوں کا دفعیہ بغیر کسی قیل و قال ، بغیر کسی خفیہ سروس کے خود ان کے ہاتھوں سے کر رہا ہے۔ خود ان سے اس بچہ کی پرورش کرا رہا ہے۔ یہ کون سا بچہ ہے ؟ اس بچے کے ہاتھوں ان کی اس عظیم قوت کو پاس پاس ہونا ہے۔ یہ بغیر سہارے ، بغیر کسی ظاہری تدبیر کے ، عاجزی اور ناتوانی کی انتہائی شدید کمزوری کے حالات میں ان کے ہاتھوں میں ہے اور یہ بیچاری ماں اسے ان کے حوالے کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں کہ یہ بچہ اپنے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ یہ خود اس بچے کو فرعوں کے مضبوط قلعوں تک پہنچا دیتی ہے۔ اس ظالم کو اس بچے کی تلاش بھی نہیں کرنا پڑتی۔ جس طرح وہ ہر پیدا ہونے والے بچے کی تلاش رات دن جاری رکھتے تھے۔ جس کے ہاں بھی بچہ پیدا ہوتا ، سرکار وہاں پہنچ جاتی۔ دست قدرت نہایت ہی چیلنج کے انداز میں اپنے منصوبے کا صاف صاف اعلان کردیتا ہے۔
لیکون لھم عدوا وحزنا ” تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سبب رنج بنے “۔ یہ بچہ ان کے لیے ایک ایسا دشمن بن جائے جو ان کی قوت کو چیلنج کرے اور ان کے لیے پریشانی کا باعث بن جائے۔
ان فرعون وھامن وجنودھما کانوا خطئین (8) ” واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر (اپنی تدبیر میں) بڑے غلط کار تھے “۔ وہ کس طرح ان کا دشمن بنے گا اور کس طرح باعث تشویش ہوگا حالانکہ وہ ان کے ہاتھ میں ہے اور بےبس ہے۔ اس کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔ اس کے پاس کوئی ظاہری ذریعہ اور تدبیر بھی نہیں ہے۔ سیاق کلام اس کا جواب خود دیتا ہے
القصص 28:9
وقالت امرات فرعون ۔۔۔۔۔۔ وھم لا یشعرون (9) ” فرعون کی بیوی نے (اس سے) کہا ، ” یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اسے قتل نہ کرو ، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں۔ اور وہ (انجام سے) بیخبر تھے “۔
یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو فرعون کے حصن حصین میں داخل کردیا ، پھر فرعون کی بیوی کے دل میں ان کی محبت ڈال دی اور یوں محبت کے مہین اور شفاف پردے میں حضرت موسیٰ کو محفوظ فرما دیا۔ حضرت موسیٰ کی حفاظت نہ اسلحہ سے کی گئی اور نہ مال و متال کے ذریعے کی گئی۔ اللہ نے فرعون کی بیوی کے دل میں اس کی محبت ڈال دی۔ اس طرح فرعون کی سختی ، اس کی سنگدلی اور اس کی تمام احتیاطی تدابیر دھری کی دھری رہ گئیں۔ اور اللہ کے لئے یہ مشکل نہ تھا کہ وہ اس ضعیف بچے کو محبت کے ان مہین پردوں کے سوا بھی بچا لے ، لیکن یہ اس کی ایک شان ہے۔
قرت عین لی ولک لا تقتلوہ (28: 9) ” یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اسے قتل نہ کرو “۔ اس عورت کے سوا وہ سب کے لیے دشمن اور موجب پریشانی بننے والا ہے اور اسی کے ہاتھوں فرعون اور اس کا لشکر غرق ہونے والا ہے جبکہ ان کی سوچ یہ تھی :
عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا (28: 9) ” عجب ہے کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو ، یا ہم اسے بیٹا بنا لیں “۔
حالانکہ اس بچے کے ساتھ ان کا وہ انجام بندھا ہوا ہے جس سے وہ ایک طویل عرصہ سے ڈر رہے تھے اور جس کے خلاف وہ احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے تھے۔ لیکن انہیں کیا خبر تھی۔
وھم لا یشعرون (28: 9) ” وہ انجام سے بیخبر تھے “۔ قدرت ان کے ساتھ مذاق کر رہی تھی۔ یہاں آکر یہ دوسرا منظر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ گرتا ہے۔
یہ تو تھے حالات حضرت موسیٰ کے۔ ان کی غم زدہ ماں کی حالت کیا تھی اس کی بےتابیوں کا کیا عالم تھا ؟
القصص 28:10
واصبح فؤاد ام موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھم لا یشعرون (10- 11)
اس نے عالم بالا کی طرف سے اشارہ پایا اور اپنے بچے کو دریا کی موجوں کے نذر کردیا۔ لیکن اب وہ کہاں جا رہا ہے اس کا کیا انجام ہونے والا ہے ؟ وہ دل میں سوچتی رہی۔ کس طرح اس کے لئے ممکن ہوا کہ وہ اپنے جگر گوشے کو دریا کی موجوں کے حوالے کر دے۔ کس طرح اس سے یہ ہوسکا جبکہ اس سے قبل کوئی ماں ایسا نہ کرسکی تھی۔ اس حالت خوف میں کیا یہی سلامتی کا راستہ تھا ؟ کیونکہ یہ ممکن ہوا کہ اس نے آواز غیب پر اس طرح لبیک کہہ دیا ؟
قرآن کریم اس بیچاری کی دلی کیفیات کی تصویر کشی عجیب انداز میں کرتا ہے۔ یہ دل خالی اور فارغ ہے ۔ نہ اس میں عقل ہے ، نہ اسے کچھ سمجھ میں آرہا ہے ، نہ کوئی سوچ ہے اور نہ کوئی تدبیر ہے۔
ان کا در لتبدی بہ (28: 10) ” قریب تھا کہ وہ راز فاش کر بیٹھتی “۔ اور وہ مجنونہ کی طرح چیخ اٹھتی کہ میں نے اسے رکھا ہے ، میں نے اسے رکھا ہے ، تمام لوگوں کو خبر ہوجاتی اور قریب تھا کہ وہ پکار اٹھتی کہ میں نے اسے دریا برد کیا ہے اور ایک غیبی آواز پر میں نے ایسا کیا ہے۔
لولا ان ربطنا علی قلبھا (28: 10) ” اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے “۔ اس کے دل کو سخت نہ کردیتے ،
اس کے اندر قوت برداشت نہ پیدا کردیتے۔ اور اسے چیخ و پکار اور آہ و فغان سے روک نہ دیتے تو وہ اس راز کو فاش کردیتی۔
لتکون من المومنین (28: 10) ” تاکہ وہ ایمان لانے والوں میں سے ہو “۔ اسے اللہ کے وعدے کا پورا یقین ہوجائے ، اور اللہ کی راہ میں ابتلا پر صبر کرنے اور اس پر جمے رہنے کا مقام مل جائے ، اور وہ ہدایت پر چلنے والی بن جائے۔
لیکن ام موسیٰ پھر بھی بقاضائے فطرت انسانی تجسس سے نہ رکی۔ اپنی سی کوشش اس نے کی۔
وقالت فاختہ قصیہ (28: 11) ” اس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جاؤ “۔ ذرا دیکھتی جاؤ کہ کیا ہوتا ہے۔ دیکھو کہ یہ زندہ رہتا ہے ؟ اگر رہتا ہے تو کیونکر رہتا ہے۔ اسے مچھلیاں کھا جاتی ہیں یا خشی کے درندے کھا جاتے ہیں۔ کہاں ڈوبتا ہے اور کہاں رکتا ہے ؟
بہن نے نہایت ہی خفیہ انداز میں نہایت ہی احتیاط کے ساتھ اس کا پیچھا کیا۔ راستوں اور بازاروں میں اس کی خبریں تلاش کرتی رہی۔ آخر کار اس کو معلوم ہوگیا کہ دست قدرت نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ اس نے دور سے دیکھ لیا کہ فرعون کے نوکروں نے اسے دریا سے پکڑ لیا ہے۔ بچہ دودھ نہیں پی رہا ہے اور نوکر اس کے لیے دودھ پلانے والی کی تلاش میں ہیں
القصص 28:11
واصبح فؤاد ام موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھم لا یشعرون (10- 11)
اس نے عالم بالا کی طرف سے اشارہ پایا اور اپنے بچے کو دریا کی موجوں کے نذر کردیا۔ لیکن اب وہ کہاں جا رہا ہے اس کا کیا انجام ہونے والا ہے ؟ وہ دل میں سوچتی رہی۔ کس طرح اس کے لئے ممکن ہوا کہ وہ اپنے جگر گوشے کو دریا کی موجوں کے حوالے کر دے۔ کس طرح اس سے یہ ہوسکا جبکہ اس سے قبل کوئی ماں ایسا نہ کرسکی تھی۔ اس حالت خوف میں کیا یہی سلامتی کا راستہ تھا ؟ کیونکہ یہ ممکن ہوا کہ اس نے آواز غیب پر اس طرح لبیک کہہ دیا ؟
قرآن کریم اس بیچاری کی دلی کیفیات کی تصویر کشی عجیب انداز میں کرتا ہے۔ یہ دل خالی اور فارغ ہے ۔ نہ اس میں عقل ہے ، نہ اسے کچھ سمجھ میں آرہا ہے ، نہ کوئی سوچ ہے اور نہ کوئی تدبیر ہے۔
ان کا در لتبدی بہ (28: 10) ” قریب تھا کہ وہ راز فاش کر بیٹھتی “۔ اور وہ مجنونہ کی طرح چیخ اٹھتی کہ میں نے اسے رکھا ہے ، میں نے اسے رکھا ہے ، تمام لوگوں کو خبر ہوجاتی اور قریب تھا کہ وہ پکار اٹھتی کہ میں نے اسے دریا برد کیا ہے اور ایک غیبی آواز پر میں نے ایسا کیا ہے۔
لولا ان ربطنا علی قلبھا (28: 10) ” اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے “۔ اس کے دل کو سخت نہ کردیتے ،
اس کے اندر قوت برداشت نہ پیدا کردیتے۔ اور اسے چیخ و پکار اور آہ و فغان سے روک نہ دیتے تو وہ اس راز کو فاش کردیتی۔
لتکون من المومنین (28: 10) ” تاکہ وہ ایمان لانے والوں میں سے ہو “۔ اسے اللہ کے وعدے کا پورا یقین ہوجائے ، اور اللہ کی راہ میں ابتلا پر صبر کرنے اور اس پر جمے رہنے کا مقام مل جائے ، اور وہ ہدایت پر چلنے والی بن جائے۔
لیکن ام موسیٰ پھر بھی بقاضائے فطرت انسانی تجسس سے نہ رکی۔ اپنی سی کوشش اس نے کی۔
وقالت فاختہ قصیہ (28: 11) ” اس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جاؤ “۔ ذرا دیکھتی جاؤ کہ کیا ہوتا ہے۔ دیکھو کہ یہ زندہ رہتا ہے ؟ اگر رہتا ہے تو کیونکر رہتا ہے۔ اسے مچھلیاں کھا جاتی ہیں یا خشی کے درندے کھا جاتے ہیں۔ کہاں ڈوبتا ہے اور کہاں رکتا ہے ؟
بہن نے نہایت ہی خفیہ انداز میں نہایت ہی احتیاط کے ساتھ اس کا پیچھا کیا۔ راستوں اور بازاروں میں اس کی خبریں تلاش کرتی رہی۔ آخر کار اس کو معلوم ہوگیا کہ دست قدرت نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ اس نے دور سے دیکھ لیا کہ فرعون کے نوکروں نے اسے دریا سے پکڑ لیا ہے۔ بچہ دودھ نہیں پی رہا ہے اور نوکر اس کے لیے دودھ پلانے والی کی تلاش میں ہیں
القصص 28:12
وحرمنا علیہ المراضع ۔۔۔۔۔۔۔ وھم لہ نصحون (12)
” اور ہم نے بچے پر پہلے ہی دودھ پلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں۔ (یہ حالت دیکھ کر) اس لڑکی نے ان سے کہا ” میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں “۔
قدرت الہیہ کے اس عجوبے پر غور کیجئے ، اسے پیدا کیا گیا ہے اور اس کو پالا گیا ہے اس لیے کہ فرعون اور اس کی قوم کے لیے باعث ہلاکت ہو ، لیکن تدبیر یوں ہے کہ وہ خود اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ، اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں ، اس کے لئے دودھ پلانے والی کی تلاش کرتے ہیں۔ دست قدرت اس پر تمام پلانے والیوں کا دودھ حرام کردیتا ہے۔ دودھ پلانے والیاں دودھ پیش کرتی ہیں اور وہ پستان منہ میں نہیں لیتا۔ انہیں یہ خوف لاحق ہوجاتا ہے کہ کہیں وہ مر ہی نہ جائے۔ اس کی بہن دور سے یہ منظر دیکھتی ہے۔ قدرت اس کے لئے بات کرنے کے مواقع پیدا کردیتی ہے۔ وہ آگے بڑھ کر پیشکش کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی عورت کا پتہ دے دوں جو اس کی اچھی طرح تربیت کرے اور وہ اس کے لیے خیر خواہ بھی ہو وہ خوشی خوشی اس پیشکش کو منظور کرلیتے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ اگر یہ بچہ اس عورت کا دودھ لے لے ، اور اس طرح موت سے بچ جائے تو بہت ہی اچھا ہو کیونکہ یہ بہت ہی پیارا بچہ ہے۔
اب یہاں یہ چوتھا منظر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اب ہم اس کڑی کے پانچویں اور آخری منظر کے سامنے ہیں۔ یہ بچہ اب اپنی بےتاب ماں کی گود میں ہے۔ اس کو سکون مل گیا ہے۔ شاہی بچے کو دودھ پلانے کی وجہ سے ایک بلند مقام بھی مل گیا ہے۔ فرعون اور اس کی بیوی دونوں اس بچے کا خیال رکھتے ہیں ، خوف کے سائے اس کے اردگرد منڈلاتے ہیں لیکن وہ نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کر رہا ہے۔ یہ ہیں دست قدرت کی صنعت کاریاں۔ قدرت کے اس عجوبے کی پہلی کڑی یہاں اختتام کو پہنچی ہے۔
القصص 28:13
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے ان مناظر کے بعد اب سیاق کلام کے اندر کئی سالوں کا وقفہ ہے۔ قصے کا اگلا حصہ آپ کے شباب کے زمانے سے متعلق ہے۔ جب حضرت موسیٰ کو دودھ پلانے کے لیے ان کی ماں کے حوالے کردیا گیا تو اس کے بعد کیا حالات پیش آئے ، اس کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ قصر فرعون کے اندر آپ کے شب و روز کیسے رہے اور یہ کہ زمانہ رضاعت کے اختتام کے بعد اپنی ماں کے ساتھ اس کا رابطہ کیسے تھا۔ یہ کہ بلوغ اور شباب کے بعد قصر شاہی میں آپ کا مقام و مرتبہ کیا تھا۔ آپ کا عقیدہ کیا تھا۔ بہرحال وہ فرعون اور اس کے کاہنوں کے درمیان باری تعالیٰ کی نگرانی میں تیار ہو رہے تھے تاکہ وہ اپنا فریضہ ادا کریں۔ اس طویل وقفے کے بعد پھر یہ حالات پیش آئے۔ بہرحال شباب اور بلوغ تک پہنچنے کے ساتھ ہی آپ کی علمی اور روحانی تربیت مکمل ہوئی۔ اللہ نے آپ کو علم و حکمت عطا کیا اور یہ تھی جزا نیک لوگوں کی۔
القصص 28:14
” بلوغ اشد “ کے معنی ہیں جب آپ کی جسمانی قوتیں مکمل ہوگئیں اور استواء کا مفہوم ہے جسمانی اور عقلی اعتبار سے پختگی تک پہنچنا۔ یہ درجہ بالعموم تیس سال کی عمر میں حاصل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عرصے تک حضرت موسیٰ کیا فرعون کے قصر شاہی ہی میں رہے ؟ اور فرعون اور اس کی بیوی کے لے پالک اور محبنی رہے یا یہ ان سے علیحدہ ہوگئے اور انہوں نے قصر شاہی کو چھوڑ دیا۔ اس لیے کہ شاہی محلات کے گندے اور سڑے ہوئے ماحول میں کسی ایسے شخص کا رہنا ممکن ہی نہیں جس کی روح پاک و صاف ہو اور جس سے مستقبل میں نبوت کا کام لیا جانا ہے۔ خصوصاً جبکہ ان کی ماں نے ان کو یہ بات بتا دی ہوگی کہ ان کی شناخت کیا ہے۔ ان کی قوم کیا ہے اور ان کا دین کیا ہے اور اس کے بعد جب وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ ان کی قوم پر کسی قدر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ، ان کو کس قدر ذلیل و خوار کر کے رکھا جا رہا ہے اور معاشرے کے اندر ایک ہمہ گیر فساد برپا ہے اور ہر طرف ظلم و تشدد کا دور دورہ ہے۔
لیکن ہمارے پاس ان کی اس زندگی کے بارے میں کوئی مستند ذریعہ علم نہیں ہے۔ البتہ بعد میں آنے والے واقعات کی بنیاد پر انسان ان کی اس زندگی کے بارے میں قیاس کرسکتا ہے۔ بعد میں اس پر تبصرہ کریں گے۔ یہاں اس پر غور کرنا ہے کہ علم و حکمت عطا کرنے کے بعد اللہ نے اس پر یہ تبصرہ کیا ہے۔
وکذلک نجزی المحسنین (28: 14) ” ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
انہوں نے پاکیزگی اور احسان کی زندگی اپنا لی تھی اور یہ علم و حکمت جزائے احسان تھا۔
القصص 28:15
ودخل المدینہ علی حین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (15- 17)
” وہ شہر میں داخل ہوا “ اور شہر سے مراد دار الخلافہ ہے ، جس طرح کہ اس وقت وہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں سے آئے اور شہر میں داخل ہوئے۔ کیا یہ عین الشمس کے قصر شاہی سے نکل کر آئے یا یہ کہ انہوں نے شاہی محل اور دارالحکومت کو چھوڑ دیا تھا اور کسی اور جگہ رہائش اختیار کرلی تھی اور وہ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے یعنی دوپہر کا وقت تھا یا لوگوں کے آرام کا وقت تھا۔ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں۔
فوجد فیھا رجلین ۔۔۔۔۔۔۔ من عدوہ (28: 15) ” وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا “۔ ان میں سے ایک قطبی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فرعونی کے مصاحین میں سے تھا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ شاہی محل کا باروچی تھا اور دوسرا اسرائیلی تھا۔ یہ دونوں آپس میں لڑ رہے تھے۔ تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدد کے لیے پکارا کیونکہ قبطی دونوں کا دشمن تھا۔ یہ کیسے ہوا ؟ یہ کس طرح ممکن ہوا کہ ایک عام اسرائیلی فرعون کے پروردہ شخص کو خوف فرعون کے ملازم یا اس کی قوم کے آدمی کے خلاف پکار رہا ہے۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو بدستور شاہی محل میں فرض کرلیا جائے تو وہ ممکن نہیں ہے کہ فرعون کے متنبی کو ایک دوسرے فرعونی کے خلاف پکارا جائے۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ فرض کیا جائے کہ انہوں نے شاہی محل کو ترک کردیا ہے اور فرعون سے ان کے رابطے ختم ہیں۔ بنی اسرائیل میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل سے ہیں اور یہ کہ وہ بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشینوں کے خلاف ہیں اور اب وہ اپنی پسی ہوئی قوم کی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) جیسا مقام و مرتبہ رکھنے والے شخص کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ قصر شاہی سے نکل گئے ہوں کیونکہ آپ کا پاک نفس شروفساد کے اس گندے نالے میں کس طرح رہ سکتا تھا۔
فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ (28: 15) ” موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا “۔ وکز اس ضرب کو کہتے ہیں جو انسان پورے ہاتھ کے ساتھ دوسرے کو لگائے۔ انداز بیان سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی گھونسے کے ساتھ قبطی ڈھیر ہوگیا۔ اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کس قدر مضبوط اور قوی جوان تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ منفعل المزاج تھے اور سخت غصے والے تھے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں فرعونیوں اور فرعون کے خلاف سخت نفرت تھی۔
لیکن قرآن کریم کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس قبطی کو قتل کرنا نہ چاہتے تھے۔ یہ نہ چاہتے تھے کہ اسکی جان لے لی جائے ، جو نہی آپ نے دیکھا کہ وہ تو آپ کے سامنے ٹھنڈا پڑا ہے ، آپ پشیمان ہوگئے کہ آپ نے یہ غلط کام کر ڈالا۔ آپ نے اسے شیطانی کام کہا ، کیونکہ یہ غصے کی وجہ سے کام ہوا اور غصہ شیطانی عمل ہوتا ہے یا یہ شیطان کی اکساہٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
قال ھذا ۔۔۔۔۔ مضل مبین (28: 15) ” موسیٰ نے کہا یہ شیطان کی کار فرمائی ہے وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے “۔ حضرت موسیٰ مزید کہتے ہیں کہ غصے کی وجہ سے انہوں نے اس فعل کا ارتکاب کیا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے اس لغزش کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کیا۔ چناچہ آپ رب تعالیٰ سے طلب مغفرت کرتے ہیں۔
قال رب انی ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم ” پھر وہ کہنے لگا اے میرے رب ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا ، میری مغفرت فرما دے۔ چناچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی ، وہ غفور و رحیم ہے “۔ اللہ نے آپ کی عاجزانہ دعا کو قبول کرلیا۔ کیونکہ آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور فوراً استغفار کرلیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کانپتے ہوئے دل اور اپنے تیز احساس اور اپنی توجہ الی اللہ سے محسوس کرلیا کہ ان کے رب نے ان کو بخش دیا ہے۔ قلب مومن کو جب اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے تو وہ محسوس کرلیتا ہے اور جب دعا قبول ہوتی ہے تو بھی اسے احساس ہوجاتا ہے کہ دعا قبول ہوگئی ، انسان اپنے تقویٰ خدا خوفی اور اپنے احساس کی وجہ سے اس مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے تیز شعور ، اپنی طہارت اور اتصال باللہ کے ذریعہ یہ محسوس کرلیتے ہیں کہ رب تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے تو آپ فوراً اپنے اوپر لازم کرتے ہیں کہ رب ، آپ نے مجھ پر جو انعامات کیے ہیں آئندہ ان کا شکر ادا کروں گا کہ مجرموں کے مددگار نہ بنوں گا۔
قال رب بما ۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (28: 17) ” اے میرے رب ، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اس کے بعد میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا “۔
حضرت موسیٰ کی طرف سے یہ عام عہد ہے کہ وہ مجرموں کا معین و مددگار نہ بنیں گے یعنی آپ نے جرم اور مجرمین سے اپنی برات کا اظہار کیا ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ اگرچہ بعض اوقات ان کا طبعی غصہ انہیں اس بات پر مجبور کر دے۔ بعض اوقات ظلم اور تشدد کے نتیجے میں ایک معتدل مزاج میں بھی تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔
آپ یہ عہد اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی۔ پھر اللہ کے ان انعامات کے بدلے بطور شکر انہوں نے یہ عہد کیا کہ اللہ نے ان کو جسمانی قوت اور علم و حکمت سے نوازا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اندر نیکی اور صراط مستقیم پر چلنے کا ایہ ارتعاش اور اس سے قبل اپنی قوم کے حق میں مشتعل ہونے اور انتقام لینے کا ارتعاش یہ بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت میں کس قدر سیمابیت تھی۔ آپ کا وجدان تیز ، انتقام سخت تھا اور دوسرے مقامات پر آپ کی شخصیت کا یہ پہلو بار بار ظہور پذیر رہتا ہے۔ بلکہ اگلے ہی منظر میں دیکھئے کہ آپ پھر اپنی قوم کے شخص پر غصہ ہوتے ہیں۔
القصص 28:16
ودخل المدینہ علی حین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (15- 17)
” وہ شہر میں داخل ہوا “ اور شہر سے مراد دار الخلافہ ہے ، جس طرح کہ اس وقت وہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں سے آئے اور شہر میں داخل ہوئے۔ کیا یہ عین الشمس کے قصر شاہی سے نکل کر آئے یا یہ کہ انہوں نے شاہی محل اور دارالحکومت کو چھوڑ دیا تھا اور کسی اور جگہ رہائش اختیار کرلی تھی اور وہ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے یعنی دوپہر کا وقت تھا یا لوگوں کے آرام کا وقت تھا۔ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں۔
فوجد فیھا رجلین ۔۔۔۔۔۔۔ من عدوہ (28: 15) ” وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا “۔ ان میں سے ایک قطبی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فرعونی کے مصاحین میں سے تھا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ شاہی محل کا باروچی تھا اور دوسرا اسرائیلی تھا۔ یہ دونوں آپس میں لڑ رہے تھے۔ تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدد کے لیے پکارا کیونکہ قبطی دونوں کا دشمن تھا۔ یہ کیسے ہوا ؟ یہ کس طرح ممکن ہوا کہ ایک عام اسرائیلی فرعون کے پروردہ شخص کو خوف فرعون کے ملازم یا اس کی قوم کے آدمی کے خلاف پکار رہا ہے۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو بدستور شاہی محل میں فرض کرلیا جائے تو وہ ممکن نہیں ہے کہ فرعون کے متنبی کو ایک دوسرے فرعونی کے خلاف پکارا جائے۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ فرض کیا جائے کہ انہوں نے شاہی محل کو ترک کردیا ہے اور فرعون سے ان کے رابطے ختم ہیں۔ بنی اسرائیل میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل سے ہیں اور یہ کہ وہ بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشینوں کے خلاف ہیں اور اب وہ اپنی پسی ہوئی قوم کی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) جیسا مقام و مرتبہ رکھنے والے شخص کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ قصر شاہی سے نکل گئے ہوں کیونکہ آپ کا پاک نفس شروفساد کے اس گندے نالے میں کس طرح رہ سکتا تھا۔
فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ (28: 15) ” موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا “۔ وکز اس ضرب کو کہتے ہیں جو انسان پورے ہاتھ کے ساتھ دوسرے کو لگائے۔ انداز بیان سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی گھونسے کے ساتھ قبطی ڈھیر ہوگیا۔ اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کس قدر مضبوط اور قوی جوان تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ منفعل المزاج تھے اور سخت غصے والے تھے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں فرعونیوں اور فرعون کے خلاف سخت نفرت تھی۔
لیکن قرآن کریم کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس قبطی کو قتل کرنا نہ چاہتے تھے۔ یہ نہ چاہتے تھے کہ اسکی جان لے لی جائے ، جو نہی آپ نے دیکھا کہ وہ تو آپ کے سامنے ٹھنڈا پڑا ہے ، آپ پشیمان ہوگئے کہ آپ نے یہ غلط کام کر ڈالا۔ آپ نے اسے شیطانی کام کہا ، کیونکہ یہ غصے کی وجہ سے کام ہوا اور غصہ شیطانی عمل ہوتا ہے یا یہ شیطان کی اکساہٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
قال ھذا ۔۔۔۔۔ مضل مبین (28: 15) ” موسیٰ نے کہا یہ شیطان کی کار فرمائی ہے وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے “۔ حضرت موسیٰ مزید کہتے ہیں کہ غصے کی وجہ سے انہوں نے اس فعل کا ارتکاب کیا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے اس لغزش کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کیا۔ چناچہ آپ رب تعالیٰ سے طلب مغفرت کرتے ہیں۔
قال رب انی ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم ” پھر وہ کہنے لگا اے میرے رب ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا ، میری مغفرت فرما دے۔ چناچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی ، وہ غفور و رحیم ہے “۔ اللہ نے آپ کی عاجزانہ دعا کو قبول کرلیا۔ کیونکہ آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور فوراً استغفار کرلیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کانپتے ہوئے دل اور اپنے تیز احساس اور اپنی توجہ الی اللہ سے محسوس کرلیا کہ ان کے رب نے ان کو بخش دیا ہے۔ قلب مومن کو جب اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے تو وہ محسوس کرلیتا ہے اور جب دعا قبول ہوتی ہے تو بھی اسے احساس ہوجاتا ہے کہ دعا قبول ہوگئی ، انسان اپنے تقویٰ خدا خوفی اور اپنے احساس کی وجہ سے اس مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے تیز شعور ، اپنی طہارت اور اتصال باللہ کے ذریعہ یہ محسوس کرلیتے ہیں کہ رب تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے تو آپ فوراً اپنے اوپر لازم کرتے ہیں کہ رب ، آپ نے مجھ پر جو انعامات کیے ہیں آئندہ ان کا شکر ادا کروں گا کہ مجرموں کے مددگار نہ بنوں گا۔
قال رب بما ۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (28: 17) ” اے میرے رب ، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اس کے بعد میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا “۔
حضرت موسیٰ کی طرف سے یہ عام عہد ہے کہ وہ مجرموں کا معین و مددگار نہ بنیں گے یعنی آپ نے جرم اور مجرمین سے اپنی برات کا اظہار کیا ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ اگرچہ بعض اوقات ان کا طبعی غصہ انہیں اس بات پر مجبور کر دے۔ بعض اوقات ظلم اور تشدد کے نتیجے میں ایک معتدل مزاج میں بھی تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔
آپ یہ عہد اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی۔ پھر اللہ کے ان انعامات کے بدلے بطور شکر انہوں نے یہ عہد کیا کہ اللہ نے ان کو جسمانی قوت اور علم و حکمت سے نوازا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اندر نیکی اور صراط مستقیم پر چلنے کا ایہ ارتعاش اور اس سے قبل اپنی قوم کے حق میں مشتعل ہونے اور انتقام لینے کا ارتعاش یہ بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت میں کس قدر سیمابیت تھی۔ آپ کا وجدان تیز ، انتقام سخت تھا اور دوسرے مقامات پر آپ کی شخصیت کا یہ پہلو بار بار ظہور پذیر رہتا ہے۔ بلکہ اگلے ہی منظر میں دیکھئے کہ آپ پھر اپنی قوم کے شخص پر غصہ ہوتے ہیں۔
القصص 28:17
ودخل المدینہ علی حین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (15- 17)
” وہ شہر میں داخل ہوا “ اور شہر سے مراد دار الخلافہ ہے ، جس طرح کہ اس وقت وہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں سے آئے اور شہر میں داخل ہوئے۔ کیا یہ عین الشمس کے قصر شاہی سے نکل کر آئے یا یہ کہ انہوں نے شاہی محل اور دارالحکومت کو چھوڑ دیا تھا اور کسی اور جگہ رہائش اختیار کرلی تھی اور وہ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے یعنی دوپہر کا وقت تھا یا لوگوں کے آرام کا وقت تھا۔ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں۔
فوجد فیھا رجلین ۔۔۔۔۔۔۔ من عدوہ (28: 15) ” وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا “۔ ان میں سے ایک قطبی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فرعونی کے مصاحین میں سے تھا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ شاہی محل کا باروچی تھا اور دوسرا اسرائیلی تھا۔ یہ دونوں آپس میں لڑ رہے تھے۔ تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدد کے لیے پکارا کیونکہ قبطی دونوں کا دشمن تھا۔ یہ کیسے ہوا ؟ یہ کس طرح ممکن ہوا کہ ایک عام اسرائیلی فرعون کے پروردہ شخص کو خوف فرعون کے ملازم یا اس کی قوم کے آدمی کے خلاف پکار رہا ہے۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو بدستور شاہی محل میں فرض کرلیا جائے تو وہ ممکن نہیں ہے کہ فرعون کے متنبی کو ایک دوسرے فرعونی کے خلاف پکارا جائے۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ فرض کیا جائے کہ انہوں نے شاہی محل کو ترک کردیا ہے اور فرعون سے ان کے رابطے ختم ہیں۔ بنی اسرائیل میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل سے ہیں اور یہ کہ وہ بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشینوں کے خلاف ہیں اور اب وہ اپنی پسی ہوئی قوم کی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) جیسا مقام و مرتبہ رکھنے والے شخص کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ قصر شاہی سے نکل گئے ہوں کیونکہ آپ کا پاک نفس شروفساد کے اس گندے نالے میں کس طرح رہ سکتا تھا۔
فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ (28: 15) ” موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا “۔ وکز اس ضرب کو کہتے ہیں جو انسان پورے ہاتھ کے ساتھ دوسرے کو لگائے۔ انداز بیان سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی گھونسے کے ساتھ قبطی ڈھیر ہوگیا۔ اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کس قدر مضبوط اور قوی جوان تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ منفعل المزاج تھے اور سخت غصے والے تھے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں فرعونیوں اور فرعون کے خلاف سخت نفرت تھی۔
لیکن قرآن کریم کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس قبطی کو قتل کرنا نہ چاہتے تھے۔ یہ نہ چاہتے تھے کہ اسکی جان لے لی جائے ، جو نہی آپ نے دیکھا کہ وہ تو آپ کے سامنے ٹھنڈا پڑا ہے ، آپ پشیمان ہوگئے کہ آپ نے یہ غلط کام کر ڈالا۔ آپ نے اسے شیطانی کام کہا ، کیونکہ یہ غصے کی وجہ سے کام ہوا اور غصہ شیطانی عمل ہوتا ہے یا یہ شیطان کی اکساہٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
قال ھذا ۔۔۔۔۔ مضل مبین (28: 15) ” موسیٰ نے کہا یہ شیطان کی کار فرمائی ہے وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے “۔ حضرت موسیٰ مزید کہتے ہیں کہ غصے کی وجہ سے انہوں نے اس فعل کا ارتکاب کیا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے اس لغزش کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کیا۔ چناچہ آپ رب تعالیٰ سے طلب مغفرت کرتے ہیں۔
قال رب انی ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم ” پھر وہ کہنے لگا اے میرے رب ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا ، میری مغفرت فرما دے۔ چناچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی ، وہ غفور و رحیم ہے “۔ اللہ نے آپ کی عاجزانہ دعا کو قبول کرلیا۔ کیونکہ آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور فوراً استغفار کرلیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کانپتے ہوئے دل اور اپنے تیز احساس اور اپنی توجہ الی اللہ سے محسوس کرلیا کہ ان کے رب نے ان کو بخش دیا ہے۔ قلب مومن کو جب اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے تو وہ محسوس کرلیتا ہے اور جب دعا قبول ہوتی ہے تو بھی اسے احساس ہوجاتا ہے کہ دعا قبول ہوگئی ، انسان اپنے تقویٰ خدا خوفی اور اپنے احساس کی وجہ سے اس مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے تیز شعور ، اپنی طہارت اور اتصال باللہ کے ذریعہ یہ محسوس کرلیتے ہیں کہ رب تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے تو آپ فوراً اپنے اوپر لازم کرتے ہیں کہ رب ، آپ نے مجھ پر جو انعامات کیے ہیں آئندہ ان کا شکر ادا کروں گا کہ مجرموں کے مددگار نہ بنوں گا۔
قال رب بما ۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (28: 17) ” اے میرے رب ، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اس کے بعد میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا “۔
حضرت موسیٰ کی طرف سے یہ عام عہد ہے کہ وہ مجرموں کا معین و مددگار نہ بنیں گے یعنی آپ نے جرم اور مجرمین سے اپنی برات کا اظہار کیا ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ اگرچہ بعض اوقات ان کا طبعی غصہ انہیں اس بات پر مجبور کر دے۔ بعض اوقات ظلم اور تشدد کے نتیجے میں ایک معتدل مزاج میں بھی تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔
آپ یہ عہد اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی۔ پھر اللہ کے ان انعامات کے بدلے بطور شکر انہوں نے یہ عہد کیا کہ اللہ نے ان کو جسمانی قوت اور علم و حکمت سے نوازا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اندر نیکی اور صراط مستقیم پر چلنے کا ایہ ارتعاش اور اس سے قبل اپنی قوم کے حق میں مشتعل ہونے اور انتقام لینے کا ارتعاش یہ بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت میں کس قدر سیمابیت تھی۔ آپ کا وجدان تیز ، انتقام سخت تھا اور دوسرے مقامات پر آپ کی شخصیت کا یہ پہلو بار بار ظہور پذیر رہتا ہے۔ بلکہ اگلے ہی منظر میں دیکھئے کہ آپ پھر اپنی قوم کے شخص پر غصہ ہوتے ہیں۔
القصص 28:18
فاصبح فی المدینۃ ۔۔۔۔۔۔ ان تکون من المصلحین (18- 19)
پہلے معرکے میں تو قبطی کا کام تمام ہوگیا تھا ، اس فعل پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ندامت ہوئی۔ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے اس غلطی پر استغفار کیا اور آپ کو معاف کردیا گیا۔ اور آپ نے اب عہد کرلیا کہ آپ کبھی بھی مجرمین کے معین و مددگار نہ ہوں گے۔
وہ دن تو گزر گیا لیکن آپ اس شہر میں ڈرے سہمے پھر رہے تھے شاید یہ راز کھل نہ گیا ہو۔ آپ ہر وقت راز کے انکشاف اور شرمندگی اور سزا سے خائف تھے۔ لفظ یترقب میں یہ تمام مفہوم موجود ہیں۔ آپ کی ہیئت سے بھی ظاہر تھا کہ آپ کسی پریشان میں گھوم رہے ہیں۔ سہمے ہوئے ، ہر لمحہ اور ہر لحظہ کسی خطرناک صورت حالات کی توقع کرتے ہوئے۔ ایک منفعل مزاج شخص کی حالت ہمیشہ ایسی ہوتی ہے کہ ذرا سا کھٹکا بھی اس کی حرکات و سکنات کو ظاہر کردیتا ہے۔ یترقب سے خوف اور پریشانی کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے۔ یترقب کے بعد فی المدینہ سے اس میں مزید مبالغہ آجاتا ہے کیونکہ شہر تو ہمیشہ امن وامان کی جگہ ہوتی ہے۔ لیکن وہ اس پر امن شہر میں بھی خائف ہیں اور سب سے بڑا خوف وہ ہوتا ہے جو انسان کو اپنے گھر اور جائے امن میں لاحق ہو۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ پریشانی کن حالات قطعی طور پر بتائی ہے کہ آپ اس وقت شاہی محل سے منسلک نہیں ہیں ، کیونکہ شاہی محل کے لوگوں کو کسی ظلم و فساد کے نتیجے میں کوئی ڈر لاحق نہیں ہوتا۔ اگر آپ شاہی محل ہی میں مقیم ہوتے تو قرآن کریم ، آپ کے لیے۔ فی المدینۃ خآئفا یترقب (28: 18) کے الفاظ استعمال نہ کرتا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایسے ہی حالات میں پھر رہے تھے کہ وہ ایک نیا منظر دیکھتے ہیں :
فاذا الذی ۔۔۔۔ یستصرخہ (28: 18) ” یکایک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے “۔ یہ وہی شخص ہے جس کی کل انہوں نے قبطی کے خلاف طرف داری کی تھی۔ یہی شخص اب کسی دوسرے قبطی کے ساتھ الجھ رہا ہے۔ اور حضرت موسیٰ کو پکار رہا ہے کہ بچاؤ مجھے اس سے۔ شاید اس کا خیال یہ تھا کہ حضرت موسیٰ اس دوسرے مشترکہ دشمن پر ایک ضرب کلیم لگائیں اور یہ بھی اسی طرح ڈھیر ہوجائے۔
لیکن حضرت موسیٰ کے ذہن پر توکل کے مقتول کی سوچیں چھائی ہوئی تھیں اور اس پر انہوں نے اللہ سے معافی بھی مانگ
لی تھی اور معافی ملنے کے بعد اللہ سے آپ نے عہد کرلیا تھا کہ آئندہ آپ کسی مجرم کے طرف دار نہ ہوں گے اور سابقہ فعل کے راز کے افشا کا خوف بھی ابھی زندہ تھا۔ اب آپ کو اس شخص پر غصہ آگیا جو مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ آپ نے غصے میں اس شخص سے کہا کہ تم تو بہت بڑے شرپسند ہو۔
قال لہ موسیٰ انک لغوی مبین (28: 18) ” موسیٰ نے کہا تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے “ یعنی تو ایسا آدمی ہے کہ ہر کسی کے ساتھ الجھتا ہے اور تمہارا یہ الجھاؤ ختم نہیں ہوتا ، ہر کسی کے ساتھ تیرا جھگڑا ہے ، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس طرح تو بنی اسرائیل پر کوئی بڑی مصیبت لے آئے گا اور ان کی پوزیشن یہ ہے کہ نہ وہ انقلاب لا سکتے ہیں اور نہ مزید تشدد کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ وہ اس وقت کوئی تعمیری تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ لہٰذا اس قسم کی جزوی جھڑپوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
لیکن اس تنبیہہ کے بعد بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو اس قبطی پر غصہ آگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس پر اسی طرح جھپٹے جس طرح انہوں نے گزشتہ روز کیا تھا اور اس کا کام بھی اسی طرح تمام کردیں جس طرح کل انہوں نے کیا تھا۔ یہاں بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی جلالی طبیعت قبطیوں کے مظالم کو برداشت نہ کرسکتی تھی۔ آپ مشتعل ہوگئے کیونکہ قبطیوں کے مظالم حد سے بڑھ گئے تھے۔ اس لیے ظلم و سرکشی کے خلاف ان کا یہ ردعمل فطری تھا جبکہ یہ مظالم ایک طویل عرصے سے ہو رہے تھے اور بنی اسرائیل کے دلوں میں ان لوگوں کے خلاف نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور بہت گہری ہوچکی تھی۔
فلما ان اراد ان ۔۔۔۔۔ تکون من المصلحین (28: 19) ” پھر جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا “ اے موسیٰ ! کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے ؟ تو اس ملک میں جبارین کر رہنا چاہتا ہے ، اصلاح کرنا نہیں چاہتا “۔ ایسی باتیں اس وقت عام ہوجاتی ہیں جب معاشرہ فساد پذیر ہو ، اس میں مظالم عام ہوجائیں ، معاشرہ سے اعلیٰ قدریں ختم ہوجائیں ، ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہو۔ ظلم کی وجہ سے لوگوں کا دم گھٹنے لگے۔ حالات ، قوانین اور رسم و رواج سب خراب ہوجائیں اور انسانوں کی فطرت اس طرح بدل جائے کہ لوگ ظلم کو دیکھیں اور ان کے اندر کوئی ردعمل پیدا نہ ہو۔ ان پر زیادتی ہو رہی ہو اور ان کے نفوس کے اندر کوئی جوش مدافعت پیدا نہ ہو۔ بلکہ لوگوں کی فطرت میں اس قدر بگاڑ پیدا ہوجائے کہ لوگ ان مظلوموں کو برا کہنے لگیں جو اپنی مظلومی کا دفاع کرتے ہوں اور جو شخص حق کے ساتھ دے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائے ، اسے کہا جائے کہ یہ شرپسند اور دہشت گرد ہے۔ اور یہ زبردستی اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ الفاظ کہ ” تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے اور جبار بن کر رہنے والا ہے “ قبطی نے حضرت موسیٰ سے کہے۔ اس لیے کہ ان قبطیوں نے یہی دیکھا تھا کہ اسرائیلیوں پر ہر طرف سے مظالم ہو رہے تھے اور وہ سر نہ ہلاتے تھے۔ اس طرح ان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ ایک اعلیٰ اخلاقی اصول ہے اور یہ فضائل اخلاق میں سے ہے اور نہایت مہذب زندگی ہے اور اعلیٰ اخلاقی رویہ ہے اور اسی میں معاشرے کی اصلاح و فلاح ہے کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔ جب اس قسم کے لوگ دیکھتے کہ اور مظلوموں کے رویہ کے برعکس ۔۔۔۔۔ شخص مدافعت کرتا ہے اور حکمرانوں نے جو غلامانہ اخلاقی نظام جاری کر رکھا تھا اور جس کے مطابق لوگ زندگی بسر کر رہے تھے اس کے خلاف ایک شخص بغاوت کر رہا ہے تو یہ بات ان کے لیے انوکھی ہوتی تھی۔ اور ان کو خوف لاحق ہوجاتا ہے۔ وہ الٹا مظلوم کو جبار وقہار کہتے تھے اور اس پر دہشت گردی اور بداخلاقی کا الزام لگاتے تھے۔ الٹا مظلوم کو لغت و ملامت کرتے تھے۔ ظالم تک ان کی لعنت و ملامت کا بہت ہی کم حصہ پہنچتا تھا۔ مظلوم کے لیے ان کے ذہنوں میں مدافعت کا کوئی جواز نہ تھا۔ اگرچہ وہ بندگلی تک پہنچ جانے کے بعد کوئی جسورانہ اقدام کرنے پر مجبور ہوگیا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل پر ایک عرصے تک ظلم ہوتا رہا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دیکھتے دیکھتے عاجز آگئے۔ ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے وہ ایک اسرائیل کی مدافعت کرتے ہیں اور نادم ہوجاتے ہیں لیکن حالات کا دباؤ اس قدر شدید ہے کہ وہ دوبارہ وہی فعل کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور قریب ہے کہ وہ یہ کام کر گزریں۔ آپ ارادہ کرلیتے ہیں کہ اس شخص کو پکڑ لیں لیتے ہیں کہ اس شخص کو پکڑلیں جو ان کا ، اور ان کی قوم کا دشمن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کے اس فعل پر ، حضرت موسیٰ کو چھوڑ نہ دیا بلکہ اللہ نے ان کی تربیت کی اور ان کی دعا کو قبول کیا کیونکہ اللہ علیم وخبیر ہے۔ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انسان کس قدر قوت برداشت رکھتا ہے۔ جب ظلم شدید ہوتا ہے اور انصاف کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ تو مظلوم مجبور ہوکر حملہ کرتا ہے اور کسی بھی جسورانہ اقدام پر مجبور ہوجاتا ہے۔ لہٰذا قرآن نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ارتکاب قتل کے فعل کو زیادہ خوفناک انداز میں بیان نہیں کیا ، جس طرح ایسے کام کو وہ سوسائٹیاں بہت ہی خوفناک سمجھتی ہیں جن کی فطرت اور جن کا ضمیر غلامی کے مظالم سہتے سہتے بدل جاتا ہے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ حالات کے دباؤ اور تشدد کے جواب میں لوگ ایسے کام پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جب ان کی قوت برداشت کو اب دے دیتی ہے۔
قرآن کریم ان دونوں واقعات کا جس انداز میں ذکر کرتا ہے اس سے یہی تاثر ملتا ہے ۔ قرآن نہ تو ان اقدامات کے لے وجہ جواز بیان کرتا ہے اور نہ ہی ان کی برائی میں مبالغہ آرائی کرتا ہے۔ البتہ قرآن نے اس کو نفس پر ظلم اس لیے کہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مقام پر قومیت کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ وہ ہونے والے رسول تھے ، اور اللہ تعالیٰ خود اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرما رہا تھا۔ یا اس وجہ سے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے مظالم پر قبل از وقت کشمکش شروع کردی تھی اور اللہ کا ارادہ اور اس کی اسکیم یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو پوری طرح اجتماعی نجات ملے۔ کیونکہ انفرادی جھڑپوں کے نتیجے میں کوئی اجتماعی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی جس طرح مکہ میں مسلمانوں کو یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ وہ ہاتھ روکے رکھیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ شاید پہلے قتل کی بات پورے مصر میں پھیل گئی تھی۔ حضرت موسیٰ کے بارے میں حکومتی حلقوں میں شبہات پھیل گئے تھے کیونکہ اس سے قبل فرعون اور اس کی کارروائیوں پر وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرچکے تھے۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ اسرائیل نے بطور افتخار اور مسرت اس راز کو پھیلا دیا ہوگا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کے اپنے حلقوں کے اندر تو یہ تیزی سے پھیل گیا ہوگا۔ اور باہر والوں کے کان میں بھی بھنک پڑگئی ہوگی۔
ہم اس کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ ایسے حالات میں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے کسی
کو قتل کرنا ہرا سرائیلی کے لیے خوشی اور مسرت کی بات تھی۔ اس طرح ان کے غیظ و غضب کی آگ ٹھنڈی ہو سکتی تھی۔ ایسی باتیں بالعموم ایک سے دوسرے کی طرف بڑی تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ اور بعض اوقات ایک حلقے سے نکل کر دوسرے حلقوں تک جا پہنچتی ہیں جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مشہور بھی تھا کہ وہ اس فرعونی تشدد پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور مظلوموں کی حمایت کرتے رہتے ہیں۔
جب موسیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ دوسرے قبطی کو پکڑ کر گوشمالی کریں تو اس نے پکار کر ان سے پہلے قبطی کے قتل کا الزام لگا دیا وہ دیکھ رہا تھا کہ موسیٰ اسے پکڑنے ہی والے ہیں۔ اور شاید ضرب کلیم اس کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو تو وہ پکاراٹھا۔
اترید ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس (28: 19) رہی باقی عبارت ان ترید الا ۔۔۔۔۔ من المصلحین (28: 19) ” تم مجھے سی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح کل تم ایک شخص کو قتل کرچکے ہو تو اس ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا “ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اصلاح کی کوئی تحریک شروع کر رکھی تھی اور وہ مصلح مشہور تھے ، اس لیے وہ شخص آپ پر الزام لگاتا ہے کہ تم اپنے منشور کے خلاف عمل کر رہے ہو۔ تم ایک جبار شخص کی طرح اس ملک میں رہنا چاہتے ہو۔ اصلاح احوال کے بجائے لوگوں کو قتل کرنا چاہتے ہو۔ جس طرح یہ شخص حضرت موسیٰ پر الزام لگا رہا ہے اور جس انداز میں حضرت موسیٰ کو مخاطب کر رہا ہے ان دونوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں حضرت موسیٰ فرعون کے مقربین اور اہل خانہ میں سے نہ تھے۔ ورنہ کوئی مصری ان پر الزام لگانے کی اس قدر جسارت نہ کرسکتا تھا اور اس کا انداز خطاب بھی ایسا نہ ہو سکتا تھا۔
بعض مفسرین نے کہا کہ یہ فقرے اس اسرائیلی کے ہیں جس کی حمایت میں آپ قبطی کو پکڑنا چاہتے تھے ، اس قبطی کے نہیں ہیں۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے اسرائیلی کو ڈانٹا تھا۔
انک لغوی مبین (28: 18) ” تو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے “۔ اس فقرے کے بعد جب موسیٰ قبطی کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھے تو اس اسرائیلی نے یہ گمان کیا کہ شاید ضرب کلیم مجھ پر پڑنے والی ہے تو وہ خوف کے مارے یہ الزام لگا گیا اور راز فاش کردیا۔ ان مفسرین نے یہ رائے اس لیے اختیار کی ہے کہ یہ راز مصر میں راز ہی تھا کہ اس شخص کا قاتل کون ہے ؟
لیکن زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ بات قبطی نے کہی ہو۔ ہم نے بتا دیا ہے کہ یہ راز چپکے چپکے پورے شہر میں پھیل گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مصری نے اپنی فراست اور دانش مندی سے یہ الزام لگا دیا ہو کہ مقتول مجمول کے قاتل موسیٰ ہی ہو سکتے ہیں۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ پر اس شخص نے قتل کا الزام لگایا تو موسیٰ (علیہ السلام) اس شخص کے پکڑنے سے رک گئے اور یہاں سے چھوٹ کر یہ شخص بھاگتے بھاگتے فرعون کے ہاں پہنچ گیا ہوگا اور کہہ دیا ہوگا کہ قاتل دراصل موسیٰ ہے۔ اب یہاں سابق منظر اور آنے والے منظر کے درمیان ایک وقفہ اور ۔۔۔۔۔ منظر یہ ہے کہ ایک شخص بھاگتا ہوا مدینہ سے باہر یعنی شاہی دربار و رہائشی کے علاقے سے آتا ہے اور حضرت موسیٰ کو خبر دار کرتا ہے کہ تمہارے بارے میں اعلیٰ سطح پر مشورے شروع ہوگئے
ہیں اور تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ جان بچا کر مصر سے نکل جاؤ۔
القصص 28:19
فاصبح فی المدینۃ ۔۔۔۔۔۔ ان تکون من المصلحین (18- 19)
پہلے معرکے میں تو قبطی کا کام تمام ہوگیا تھا ، اس فعل پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ندامت ہوئی۔ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے اس غلطی پر استغفار کیا اور آپ کو معاف کردیا گیا۔ اور آپ نے اب عہد کرلیا کہ آپ کبھی بھی مجرمین کے معین و مددگار نہ ہوں گے۔
وہ دن تو گزر گیا لیکن آپ اس شہر میں ڈرے سہمے پھر رہے تھے شاید یہ راز کھل نہ گیا ہو۔ آپ ہر وقت راز کے انکشاف اور شرمندگی اور سزا سے خائف تھے۔ لفظ یترقب میں یہ تمام مفہوم موجود ہیں۔ آپ کی ہیئت سے بھی ظاہر تھا کہ آپ کسی پریشان میں گھوم رہے ہیں۔ سہمے ہوئے ، ہر لمحہ اور ہر لحظہ کسی خطرناک صورت حالات کی توقع کرتے ہوئے۔ ایک منفعل مزاج شخص کی حالت ہمیشہ ایسی ہوتی ہے کہ ذرا سا کھٹکا بھی اس کی حرکات و سکنات کو ظاہر کردیتا ہے۔ یترقب سے خوف اور پریشانی کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے۔ یترقب کے بعد فی المدینہ سے اس میں مزید مبالغہ آجاتا ہے کیونکہ شہر تو ہمیشہ امن وامان کی جگہ ہوتی ہے۔ لیکن وہ اس پر امن شہر میں بھی خائف ہیں اور سب سے بڑا خوف وہ ہوتا ہے جو انسان کو اپنے گھر اور جائے امن میں لاحق ہو۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ پریشانی کن حالات قطعی طور پر بتائی ہے کہ آپ اس وقت شاہی محل سے منسلک نہیں ہیں ، کیونکہ شاہی محل کے لوگوں کو کسی ظلم و فساد کے نتیجے میں کوئی ڈر لاحق نہیں ہوتا۔ اگر آپ شاہی محل ہی میں مقیم ہوتے تو قرآن کریم ، آپ کے لیے۔ فی المدینۃ خآئفا یترقب (28: 18) کے الفاظ استعمال نہ کرتا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایسے ہی حالات میں پھر رہے تھے کہ وہ ایک نیا منظر دیکھتے ہیں :
فاذا الذی ۔۔۔۔ یستصرخہ (28: 18) ” یکایک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے “۔ یہ وہی شخص ہے جس کی کل انہوں نے قبطی کے خلاف طرف داری کی تھی۔ یہی شخص اب کسی دوسرے قبطی کے ساتھ الجھ رہا ہے۔ اور حضرت موسیٰ کو پکار رہا ہے کہ بچاؤ مجھے اس سے۔ شاید اس کا خیال یہ تھا کہ حضرت موسیٰ اس دوسرے مشترکہ دشمن پر ایک ضرب کلیم لگائیں اور یہ بھی اسی طرح ڈھیر ہوجائے۔
لیکن حضرت موسیٰ کے ذہن پر توکل کے مقتول کی سوچیں چھائی ہوئی تھیں اور اس پر انہوں نے اللہ سے معافی بھی مانگ
لی تھی اور معافی ملنے کے بعد اللہ سے آپ نے عہد کرلیا تھا کہ آئندہ آپ کسی مجرم کے طرف دار نہ ہوں گے اور سابقہ فعل کے راز کے افشا کا خوف بھی ابھی زندہ تھا۔ اب آپ کو اس شخص پر غصہ آگیا جو مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ آپ نے غصے میں اس شخص سے کہا کہ تم تو بہت بڑے شرپسند ہو۔
قال لہ موسیٰ انک لغوی مبین (28: 18) ” موسیٰ نے کہا تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے “ یعنی تو ایسا آدمی ہے کہ ہر کسی کے ساتھ الجھتا ہے اور تمہارا یہ الجھاؤ ختم نہیں ہوتا ، ہر کسی کے ساتھ تیرا جھگڑا ہے ، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس طرح تو بنی اسرائیل پر کوئی بڑی مصیبت لے آئے گا اور ان کی پوزیشن یہ ہے کہ نہ وہ انقلاب لا سکتے ہیں اور نہ مزید تشدد کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ وہ اس وقت کوئی تعمیری تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ لہٰذا اس قسم کی جزوی جھڑپوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
لیکن اس تنبیہہ کے بعد بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو اس قبطی پر غصہ آگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس پر اسی طرح جھپٹے جس طرح انہوں نے گزشتہ روز کیا تھا اور اس کا کام بھی اسی طرح تمام کردیں جس طرح کل انہوں نے کیا تھا۔ یہاں بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی جلالی طبیعت قبطیوں کے مظالم کو برداشت نہ کرسکتی تھی۔ آپ مشتعل ہوگئے کیونکہ قبطیوں کے مظالم حد سے بڑھ گئے تھے۔ اس لیے ظلم و سرکشی کے خلاف ان کا یہ ردعمل فطری تھا جبکہ یہ مظالم ایک طویل عرصے سے ہو رہے تھے اور بنی اسرائیل کے دلوں میں ان لوگوں کے خلاف نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور بہت گہری ہوچکی تھی۔
فلما ان اراد ان ۔۔۔۔۔ تکون من المصلحین (28: 19) ” پھر جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا “ اے موسیٰ ! کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے ؟ تو اس ملک میں جبارین کر رہنا چاہتا ہے ، اصلاح کرنا نہیں چاہتا “۔ ایسی باتیں اس وقت عام ہوجاتی ہیں جب معاشرہ فساد پذیر ہو ، اس میں مظالم عام ہوجائیں ، معاشرہ سے اعلیٰ قدریں ختم ہوجائیں ، ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہو۔ ظلم کی وجہ سے لوگوں کا دم گھٹنے لگے۔ حالات ، قوانین اور رسم و رواج سب خراب ہوجائیں اور انسانوں کی فطرت اس طرح بدل جائے کہ لوگ ظلم کو دیکھیں اور ان کے اندر کوئی ردعمل پیدا نہ ہو۔ ان پر زیادتی ہو رہی ہو اور ان کے نفوس کے اندر کوئی جوش مدافعت پیدا نہ ہو۔ بلکہ لوگوں کی فطرت میں اس قدر بگاڑ پیدا ہوجائے کہ لوگ ان مظلوموں کو برا کہنے لگیں جو اپنی مظلومی کا دفاع کرتے ہوں اور جو شخص حق کے ساتھ دے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائے ، اسے کہا جائے کہ یہ شرپسند اور دہشت گرد ہے۔ اور یہ زبردستی اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ الفاظ کہ ” تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے اور جبار بن کر رہنے والا ہے “ قبطی نے حضرت موسیٰ سے کہے۔ اس لیے کہ ان قبطیوں نے یہی دیکھا تھا کہ اسرائیلیوں پر ہر طرف سے مظالم ہو رہے تھے اور وہ سر نہ ہلاتے تھے۔ اس طرح ان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ ایک اعلیٰ اخلاقی اصول ہے اور یہ فضائل اخلاق میں سے ہے اور نہایت مہذب زندگی ہے اور اعلیٰ اخلاقی رویہ ہے اور اسی میں معاشرے کی اصلاح و فلاح ہے کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔ جب اس قسم کے لوگ دیکھتے کہ اور مظلوموں کے رویہ کے برعکس ۔۔۔۔۔ شخص مدافعت کرتا ہے اور حکمرانوں نے جو غلامانہ اخلاقی نظام جاری کر رکھا تھا اور جس کے مطابق لوگ زندگی بسر کر رہے تھے اس کے خلاف ایک شخص بغاوت کر رہا ہے تو یہ بات ان کے لیے انوکھی ہوتی تھی۔ اور ان کو خوف لاحق ہوجاتا ہے۔ وہ الٹا مظلوم کو جبار وقہار کہتے تھے اور اس پر دہشت گردی اور بداخلاقی کا الزام لگاتے تھے۔ الٹا مظلوم کو لغت و ملامت کرتے تھے۔ ظالم تک ان کی لعنت و ملامت کا بہت ہی کم حصہ پہنچتا تھا۔ مظلوم کے لیے ان کے ذہنوں میں مدافعت کا کوئی جواز نہ تھا۔ اگرچہ وہ بندگلی تک پہنچ جانے کے بعد کوئی جسورانہ اقدام کرنے پر مجبور ہوگیا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل پر ایک عرصے تک ظلم ہوتا رہا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دیکھتے دیکھتے عاجز آگئے۔ ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے وہ ایک اسرائیل کی مدافعت کرتے ہیں اور نادم ہوجاتے ہیں لیکن حالات کا دباؤ اس قدر شدید ہے کہ وہ دوبارہ وہی فعل کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور قریب ہے کہ وہ یہ کام کر گزریں۔ آپ ارادہ کرلیتے ہیں کہ اس شخص کو پکڑ لیں لیتے ہیں کہ اس شخص کو پکڑلیں جو ان کا ، اور ان کی قوم کا دشمن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کے اس فعل پر ، حضرت موسیٰ کو چھوڑ نہ دیا بلکہ اللہ نے ان کی تربیت کی اور ان کی دعا کو قبول کیا کیونکہ اللہ علیم وخبیر ہے۔ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انسان کس قدر قوت برداشت رکھتا ہے۔ جب ظلم شدید ہوتا ہے اور انصاف کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ تو مظلوم مجبور ہوکر حملہ کرتا ہے اور کسی بھی جسورانہ اقدام پر مجبور ہوجاتا ہے۔ لہٰذا قرآن نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ارتکاب قتل کے فعل کو زیادہ خوفناک انداز میں بیان نہیں کیا ، جس طرح ایسے کام کو وہ سوسائٹیاں بہت ہی خوفناک سمجھتی ہیں جن کی فطرت اور جن کا ضمیر غلامی کے مظالم سہتے سہتے بدل جاتا ہے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ حالات کے دباؤ اور تشدد کے جواب میں لوگ ایسے کام پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جب ان کی قوت برداشت کو اب دے دیتی ہے۔
قرآن کریم ان دونوں واقعات کا جس انداز میں ذکر کرتا ہے اس سے یہی تاثر ملتا ہے ۔ قرآن نہ تو ان اقدامات کے لے وجہ جواز بیان کرتا ہے اور نہ ہی ان کی برائی میں مبالغہ آرائی کرتا ہے۔ البتہ قرآن نے اس کو نفس پر ظلم اس لیے کہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مقام پر قومیت کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ وہ ہونے والے رسول تھے ، اور اللہ تعالیٰ خود اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرما رہا تھا۔ یا اس وجہ سے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے مظالم پر قبل از وقت کشمکش شروع کردی تھی اور اللہ کا ارادہ اور اس کی اسکیم یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو پوری طرح اجتماعی نجات ملے۔ کیونکہ انفرادی جھڑپوں کے نتیجے میں کوئی اجتماعی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی جس طرح مکہ میں مسلمانوں کو یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ وہ ہاتھ روکے رکھیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ شاید پہلے قتل کی بات پورے مصر میں پھیل گئی تھی۔ حضرت موسیٰ کے بارے میں حکومتی حلقوں میں شبہات پھیل گئے تھے کیونکہ اس سے قبل فرعون اور اس کی کارروائیوں پر وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرچکے تھے۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ اسرائیل نے بطور افتخار اور مسرت اس راز کو پھیلا دیا ہوگا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کے اپنے حلقوں کے اندر تو یہ تیزی سے پھیل گیا ہوگا۔ اور باہر والوں کے کان میں بھی بھنک پڑگئی ہوگی۔
ہم اس کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ ایسے حالات میں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے کسی
کو قتل کرنا ہرا سرائیلی کے لیے خوشی اور مسرت کی بات تھی۔ اس طرح ان کے غیظ و غضب کی آگ ٹھنڈی ہو سکتی تھی۔ ایسی باتیں بالعموم ایک سے دوسرے کی طرف بڑی تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ اور بعض اوقات ایک حلقے سے نکل کر دوسرے حلقوں تک جا پہنچتی ہیں جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مشہور بھی تھا کہ وہ اس فرعونی تشدد پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور مظلوموں کی حمایت کرتے رہتے ہیں۔
جب موسیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ دوسرے قبطی کو پکڑ کر گوشمالی کریں تو اس نے پکار کر ان سے پہلے قبطی کے قتل کا الزام لگا دیا وہ دیکھ رہا تھا کہ موسیٰ اسے پکڑنے ہی والے ہیں۔ اور شاید ضرب کلیم اس کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو تو وہ پکاراٹھا۔
اترید ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس (28: 19) رہی باقی عبارت ان ترید الا ۔۔۔۔۔ من المصلحین (28: 19) ” تم مجھے سی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح کل تم ایک شخص کو قتل کرچکے ہو تو اس ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا “ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اصلاح کی کوئی تحریک شروع کر رکھی تھی اور وہ مصلح مشہور تھے ، اس لیے وہ شخص آپ پر الزام لگاتا ہے کہ تم اپنے منشور کے خلاف عمل کر رہے ہو۔ تم ایک جبار شخص کی طرح اس ملک میں رہنا چاہتے ہو۔ اصلاح احوال کے بجائے لوگوں کو قتل کرنا چاہتے ہو۔ جس طرح یہ شخص حضرت موسیٰ پر الزام لگا رہا ہے اور جس انداز میں حضرت موسیٰ کو مخاطب کر رہا ہے ان دونوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں حضرت موسیٰ فرعون کے مقربین اور اہل خانہ میں سے نہ تھے۔ ورنہ کوئی مصری ان پر الزام لگانے کی اس قدر جسارت نہ کرسکتا تھا اور اس کا انداز خطاب بھی ایسا نہ ہو سکتا تھا۔
بعض مفسرین نے کہا کہ یہ فقرے اس اسرائیلی کے ہیں جس کی حمایت میں آپ قبطی کو پکڑنا چاہتے تھے ، اس قبطی کے نہیں ہیں۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے اسرائیلی کو ڈانٹا تھا۔
انک لغوی مبین (28: 18) ” تو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے “۔ اس فقرے کے بعد جب موسیٰ قبطی کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھے تو اس اسرائیلی نے یہ گمان کیا کہ شاید ضرب کلیم مجھ پر پڑنے والی ہے تو وہ خوف کے مارے یہ الزام لگا گیا اور راز فاش کردیا۔ ان مفسرین نے یہ رائے اس لیے اختیار کی ہے کہ یہ راز مصر میں راز ہی تھا کہ اس شخص کا قاتل کون ہے ؟
لیکن زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ بات قبطی نے کہی ہو۔ ہم نے بتا دیا ہے کہ یہ راز چپکے چپکے پورے شہر میں پھیل گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مصری نے اپنی فراست اور دانش مندی سے یہ الزام لگا دیا ہو کہ مقتول مجمول کے قاتل موسیٰ ہی ہو سکتے ہیں۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ پر اس شخص نے قتل کا الزام لگایا تو موسیٰ (علیہ السلام) اس شخص کے پکڑنے سے رک گئے اور یہاں سے چھوٹ کر یہ شخص بھاگتے بھاگتے فرعون کے ہاں پہنچ گیا ہوگا اور کہہ دیا ہوگا کہ قاتل دراصل موسیٰ ہے۔ اب یہاں سابق منظر اور آنے والے منظر کے درمیان ایک وقفہ اور ۔۔۔۔۔ منظر یہ ہے کہ ایک شخص بھاگتا ہوا مدینہ سے باہر یعنی شاہی دربار و رہائشی کے علاقے سے آتا ہے اور حضرت موسیٰ کو خبر دار کرتا ہے کہ تمہارے بارے میں اعلیٰ سطح پر مشورے شروع ہوگئے
ہیں اور تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ جان بچا کر مصر سے نکل جاؤ۔
القصص 28:20
وجآء رجل من اقصا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لک من النصحین (20)
” اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” اے موسیٰ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں ، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں “۔
فرعون کے سرداروں ، اس کے حاشیہ نشینوں اور حکومتی افسروں اور اس کے خاص الخاص لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ قتل میں موسیٰ کا ہاتھ ہے۔ اس لیے انہوں نے محسوس کرلیا کہ موسیٰ کی صورت میں خطرہ مجسم ہوکر آلگا ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا کام ہے جس کی نوعیت انقلابی اور خطرناک ہے۔ یہ بغاوت کا آغاز ہے۔ اور اس کے محرکات میں بنی اسرائیل کا جذبہ انتقام ہے۔ لہٰذا یہ ایک نہایت خطرناک رجحان ہے اور اس کے انسداد کے لیے سخت تدابیر کی ضرورت ہئ۔ اگر یہ قتل کوئی معمولی واردات ہوتی تو اس پر انتہائی اعلیٰ سطح پر غور کی کیا ضرورت تھی۔ آئے دن انسانوں میں قتل ہوتے رہے ہیں لیکن اس قتل نے پورے نظام حکومت کو ہال کر رکھ دیا۔ انہوں نے بھی تدابیر کا آغاز کیا اور دست قدرت نے بھی اپنا کام شروع کردیا۔ سرداروں میں سے ایک شخص جو موسیٰ کا ہمدرد تھا ، دست قدرت نے اس سے کام لیا۔ یہ شاید وہی شخص ہے جو اپنے ایمان کو چھپا رہا تھا اور جس کا ذکر سورة غافر کی آیت 28 میں ہوا ہے۔ یہ شخص اٹھا اور اس نے حضرت موسیٰ کو اعلیٰ سطح پر ہونے والے مشوروں سے آگاہ کردیا۔ یہ شخص نہایت سنجیدگی ، اہتمام اور جلدی میں آیا اور اس نے شاہی کارندوں کو کسی کاروائی سے قبل حضرت موسیٰ کو اطلاع کردی۔
ان العلا یاتمرون ۔۔۔۔۔ من النصحین (28: 20) ” موسیٰ سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں ، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں “۔
القصص 28:21
فخرج منھا ۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (21) ” یہ خبر سنتے ہی ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دیا کی کہ ” اے میرے رب ، مجھے ظالموں سے بچا “۔
حضرت موسیٰ سہر سے ڈرے ہوئے اور سہمے ہوئے نکل کھڑے ہوئے ، یکہ و تنہا ، ڈر رہے ہیں اور اللہ پر اعتماد کے سوا ان کے پاس کوئی سازوسامان نہیں ہے۔ ان کی توجہ صرف اللہ کی طرف ہے۔ صرف اللہ کی مدد اور ہدایت کے وہ طلب گار ہیں۔
القصص 28:22
ولما توجہ تلقاء ۔۔۔۔۔۔ سوآء السبیل (22) ”(مصر سے نکل کر ) جب موسیٰ نے مدین کا رخ کیا تو اس نے کہا ” امید ہے کہ میرا رب ، مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا “۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یکہ و تنہا مصر سے نکلنے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں اور وہ ایک بےآب وگیاہ صحرا میں بغیر کسی زاد و عتاد کے جانب مدین رواں ہیں ، مدین کا علاقہ شام کے جنوب اور حجاز کے شمال میں ہے۔ یہ ایک طویل سفر ہے ، دور دراز کا سفر۔ جس کے لیے حضرت موسیٰ نے کوئی تیاری نہیں کی۔ وہ شہر سے نہایت ہی ڈر کی حالت میں سہمے ہوئے نکلے اور فرعون کے سردار ناصح نے انہیں مزید خوفزدہ کردیا تھا۔ اس لئے آپ نے ایک منٹ کی تاخیر کے بغیر وہاں سے نکل جانے میں عافیت سمجھی۔ اس ناصح کی نصیحت میں آپ نے کوئی شک نہ کیا اور نہ نکلنے میں کوئی تردد کیا۔ کسی کو راہنما بنانے کی تاخیر بھی نہ کی اور نہ کوئی رفیق سفر تلاش کیا۔ لکین صاف نظر آتا ہے کہ ان کا رخ اللہ کی طرف ہے ، اللہ کے آگے انہوں نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ صرف اللہ کی رہنمائی کے طالب ہیں۔
عسیٰ ربی ان یھدینی سوآء السبیل (28: 22) ” امید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا “۔
ایک بار پھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ خطرات میں گھر گئے ہیں۔ بچپن کے بعد وہ نہایت امن سے عیش و آرام سے زندگی بسر کر رہے تھے اور شاہی محل میں نہایت ہی آرام سے رہ رہے تھے لیکن وہی شہزادہ اب اکیلا اور تنہا صحرا نوردی کر رہا ہے اور اس کے پاس دنیا کا کوئی سازوسامان نہیں ہے۔ فرعون اور اس کے جاسوس اس کے تعاقب میں ہیں۔ ہر جگہ اس کی تلاش ہو رہی ہے۔ آج وہ اس سے انتقام لینا چاہتے ہیں اور اس سے وہ متاع حیات چھین لینا چاہتے ہیں۔ جو بچپن میں وہ نہ چھین سکے۔ لیکن قدرت کی جن قوتوں نے اسے اس وقت بچایا وہ آج بھی اس کے ساتھ ہیں۔ قدرت اسے اس کے دشمنوں کے سپرد کرنا ہرگز گوارہ نہیں کرتی۔ اس سے تو بہت سا کام لیا جانا ہے ، چناچہ وہ بےآب وگیاہ صحرا میں اکیلے جا رہے ہیں۔ اب وہ ایسے علاقے تک پہنچ گئے جہاں فرعون کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ نہ وہ انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔
القصص 28:23
ولما ورد مآء مدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی من خیر فقیر (23-24)
یہ طویل صحرائی سفر ختم ہوا اور حضرت موسیٰ مدین کے ایک چشمے پر پہنچے۔ آپ تھکے ماندے مسافر ہیں۔ اس چشمے پر وہ ایک ایسا منظر دیکھتے ہیں جسے کوئی شریف اور بامروت آدمی برداشت نہیں کرسکتا اور پھر حضرت موسیٰ کیسے برداشت کرتے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ مرد چرواہے اپنے مویشیوں کو لا لا کر پانی پلا رہے ہیں اور دو عورتیں ہیں جو اپنی بکریوں کو پانی سے دور روک رہی ہیں۔ حالانکہ فطرت سلیمہ اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے عورتوں کو موقعہ دیا جائے کہ وہ اپنی بھیڑوں کو پانی پلائیں اور چلی جائیں اور مرد ان کو موقع دیں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔ ” Ladies First “ ایک فطری اصول ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک غریب الدیار مسافر ہیں ، اپنے علاقے سے نکلے ہوئے ہیں اور ان کا پیچھا بھی ہو رہا ہے۔ تھکے ہارے ہیں اور آرام کرنے کی خاطر اس چشمے پر آئے ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ یہ منظر معروف اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ وہ آگے بڑھتے ہیں اور ان دو عورتوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا معاملہ ہے ؟
قال ما خطبکما (28: 23) ” تمہیں کیا پریشانی ہے “۔
قالتا لا نسقی ۔۔۔۔۔ شیخ کبیر (28: 23) ” انہوں نے کہا ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاسکتیں جب تک چرواہے اپنے جانور نکال نہ لے جائیں اور ہمارے والد ایک سن رسیدہ بوڑھے ہیں “۔ چناچہ انہوں نے بتا دیا کہ وہ کیوں اپنے جانروں کو روک رہی ہیں اور کیوں دوسروں کو پہلے موقعہ دیتی ہیں۔ سبب یہ ہے کہ وہ عورتیں ہیں اور ضعیف ہیں اور دوسرے چرواہے مرد ہیں اور زور آور ہیں۔ اور باپ بوڑھے ہیں وہ نہ مویشی چرا سکتے ہیں اور نہ ان مضبوط چرواہوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبہ ایمانی جوش میں آیا ۔ آپ کی فطرت سلیمہ جاگ اٹھی۔ وہ آگے بڑھے اور اصول کے مطابق کام کیا تاکہ بیچاری عورتیں پہلے پانی پلائیں جیسا کہ شریف اور مہذب لوگوں کا رواج ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ غریب الدیار تھے۔ ان کا کوئی نہ جانتا تھا ، نہ یہاں ان کا کوئی حامی و مددگار تھا ، تھکے ماندے تھے ، ایک طویل سفر کاٹ کر یہاں تک پہنچے تھے۔ ان کا کوئی نہ جانتا تھا ، نہ یہاں ان کا کوئی حامی و مددگار تھا ، تھکے ماندے تھے ، ایک طویل سفر کاٹ کر یہاں تک پہنچے تھے اور ان کے پاس مزید سفر کے لیے کوئی سازوسامان بھی نہ تھا۔ ان کا پیچھا بھی ہو رہا تھا ، دشمن تعاقب میں تھے لیکن یہ تمام امور ان کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکے کہ وہ اس موقعہ پر مروت اور جوانمردی کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور امر بالمعروف پر عمل پیرا نہ ہوں اور لوگوں کو یہ بتا نہ دیں کہ قدرت انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عورتوں کو پہلے موقعہ دیا جائے۔
القصص 28:24
فسقی لھما (28: 24) ” یہ سن کر موسیٰ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا “۔ یہاں سیاق کلام سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی تربیت یافتہ شریف النفس شخصیت کے مالک تھے۔ وہ جسمانی لحاظ سے بھی ایک کڑیل جوان تھے ، جسے دیکھ کر عام آدمی مرعوب ہوجاتا تھا۔ حالانکہ وہ طویل سفر سے تھکے ہوئے آئے تھے۔ چرواہوں پر ان کی جسمانی قوت سے زیادہ ان کی نفسیاتی برتری اور اخلاقی رویہ نے زیادہ اثر کیا۔ کیونکہ جسمانی قوت کے مقابلے میں لوگ اخلاقی رویوں سے زیادہ مرعوب ہوتے ہیں۔
ثم تولیٰ الی الظل (28: 24) ” پھر ایک سائے کہ جگہ جا بیٹھا “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسم سخت گرمی اور لو کا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس قسم کی شدید گرمی میں یہ سفر کرنا پڑا تھا۔
فقال رب ۔۔۔۔۔ خیر فقیر (28: 24) ” اور بولا پروردگار جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے ، میں اس کا محتاج ہوں “۔ اس وقت انہوں نے جسمانی اعتبار سے درختوں کے گھنے سائے میں اپنے جسم کو آرام پہنچانے کے لیے پناہ لے رکھی ہے ، لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت اور رحم و کرم کرنے والے بادشاہ کے سایہ رحمت میں بھی پناہ چاہتے ہیں۔ اپنی روح اور اپنے قلب کو اللہ کی طرف متوجہ کیے ہوئے ہیں۔ اے اللہ میں محتاج ہوں ، شدید لوہے ، میں اکیلا ہوں۔ اے رب میں بےوسائل ہوں ، اے رب میں تیرے فضل و کرم اور تیرے احسان کا بےحد محتاج ہوں۔
انی لما انزلت من خیر فقیر (28: 24) ” جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں ، اس کا محتاج ہوں “۔ ابھی ہم
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مناجات کے اس منظر میں ہیں ، کہ سیاق کلام میں نہایت فرحت بخش بشارت آتی ہے ۔ اس کا آغاز صرف (فاء) تعقیبی سے ہوتا ہے ، گویا عالم بالا نے حضرت موسیٰ کی دعاء کو اس سے قبل قبول کرلیا کہ وہ ہاتھ نیچے کریں۔ کیونکہ وہ نہایت ہی خضوع سے یہ دعا کر رہے تھے۔
القصص 28:25
فجآء تہ احدھما ۔۔۔۔۔ اجر ما سقیت لنا۔
”(کچھ دیر نہ گزری تھی) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی “۔ میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں “۔
اللہ کے فضل وکرم کے کیا کہنے ، حضرت موسیٰ اللہ کے کس قدر قریب ہیں ، ان کی پکار کس قدر تیزی سے سنی جاتی ہے۔ دو عورتوں کے والد سن رسید شیخ عالم بالا کی ہدایت پر حضرت موسیٰ کو دعوت دیتے ہیں ، یہ دعوت عزت و احترام پر مبنی پناہ عطا کرنے اور جزائے احسان دینے کے لیے ہے۔ یہ دعوت لے کر ان دو دوشیزاؤں میں سے ایک آتی ہے اور وہ تمشی علی استحیآء (28: 25) ” شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی ہے “۔ اس کی روش میں وقار ہے ، عامیت نہیں ہے ، وہ مقامات زینت کا اظہار نہیں کرتی بلکہ ان کو چھپا رہی ہے۔ نہ نسوانی غرور ہے اور نہ جاذبیت کا اظہار ہے۔ وہ آتی ہے اور والد کی طرف سے نہایت ہی مختصر ، جامع الفاظ میں یہ دعوت دیتی ہے۔ قرآن کریم نے اس کے الفاظ نقل کیے ہیں۔
ان ربی ۔۔۔۔۔ سقیت لنا (28: 25) ” میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے ، اس کا اجر آپ کو دے دیں “۔ شرم و حیا کے دائرے میں نہایت وضاحت کے ساتھ ، جامع الفاظ میں یہ پیغام دیا جس میں کوئی بناوٹ کوئی جھجک کوئی توقف نہ تھا اور کوئی پیچیدگی یا لکنت نہ تھی۔ یہ اس طرح کیوں ہے ، اس لیے کہ فطرت سلیمہ ، عفیفہ اور سیدھے سادھے کیریکٹر والی خواتین کی روش ایسی ہی ہوتی ہے۔ سیدھی فطرت کی نوجوان عورت جب بھی مردوں سے ملتی ہے ، اسے حیا آتی ہے۔ وہ مردوں سے بات کرتے ہوئے شرماتی ہے لیکن یہ لڑکی چونکہ پر اعتماد اور عفیف اور سلیم الفطرت ہے۔ اس لیے اس کی باتوں میں کوئی اضطراب نہیں ہے۔ ورنہ گری ہوئی فطرت اور کردار کی لڑکیاں ایسے موقع پر ناز ، و انداز اور کشش و ہیجان پیدا کرنے کا رویہ اختیار کرتی ہیں۔ لیکن اس لڑکی نے بس نہایت ہی مختصر الفاظ میں مطلوبہ پیغام پہنچا دیا۔ کوئی ایک لفظ بھی ضرورت سے زیادہ منہ سے نہیں نکالا۔
قرآن کریم بھی اس منظر کی یہی جھلک دکھاتا ہے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کرتا۔ صرف شیخ کبیر کی طرف سے ایک لڑکی انہیں دعوت پیش کرتی ہے۔ موسیٰ قبول کرلیتے ہیں اور پردہ گرتا ہے۔ اگلا منظر دونوں کی ملاقات کا ہے۔ اس شیخ کبیر کا نام قرآن مجید نے نہیں لیا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ مشہور نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور ان کا نام یثرون تھا۔
فلما جآءہ وقص ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من القوم الظلمین (25)
” موسیٰ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سنایا تو اس نے کہا ” کچھ خوف نہ کرو ، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو “
حضرت موسیٰ کو اس وقت سب سے پہلے جائے امن کی ضرورت تھی۔ نیز انہیں ایسی جگہ کی ضرورت تھی جہاں ان کے کھانے پینے کا انتظام ہوجائے۔ لیکن ان کو کھانے پینے کی ضروریات سے زیادہ احتیاج ایک پر امن اور مامون و محفوظ ٹھکانے کا تھا۔ یہی وجہ ہے اس سنجیدہ اور سن رسیدہ بوڑھے نے سب سے پہلے انہیں کہا تخف ” خوف نہ کرو “۔ اس شخص نے ان کو سب سے پہلے جو بات کہی کہ آپ اطمینان رکھیں ، ڈریں نہیں اور اس یقین دہانی کے بعد یہ فرمایا
نجوت من القوم الظلمین (28: 25) ” اب تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو “ مدین پر ان کی حکومت نہیں ہے۔ مدین کے باشندے کو مصری کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
القصص 28:26
اب منظر پر ایک نہایت ہی سلیم الفطرت اور عفیف عورت کی آواز آتی ہے
قالت احدھما ۔۔۔۔۔۔ القوی الامین (26)
ان دونوں بہنوں کو بھیڑ بکریاں چرانا پڑتی تھیں اور پانی پلاتے وقت ان کو مردوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان کو مردوں سے واسطہ پڑتا تھا اور ان سے ٹکرانا پڑتا تھا ، جس طرح ہر اس عورت کو ایسے حالات درپیش ہوتے رہتے ہیں جو مردوں والا کام کرتی ہے۔ ان دونوں بہنوں کو ہر وقت اس کام میں اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ وہ امور خانہ داری تک محدود ہوجائیں اور ایک پاک دامن عفت مآب ” زن خانہ “ کی طرح زندگی بسر کرنے کا موقع ملے اور انہیں چراگاہوں اور گھاٹوں پر غیر مردوں کے ساتھ اختلاط پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ پاک دامن ، پاک فطرت اور سلیم الفطرت عورتوں کی روش یہی ہوتی ہے کہ ان کو مردوں کے ساتھ مقابلہ اور مزاحمت کرنا پسند نہیں آتا اور اس قسم کے اختلاط اور مزاحمت کی وجہ سے عورتوں کے اندر جو ہلکا پن پیدا ہوجاتا اسے کوئی سلیم الفطرت عورت پسند نہیں کرتی۔
حضرت موسیٰ نوجوان ، مسافر اور غریب الوطن ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قوی اور امین بھی ہیں۔ اس عورت نے دیکھ لیا تھا کہ ان کی قوت اور شخصیت کو دیکھ کر تمام چرواہے سہم گئے تھے۔ انہوں نے موسیٰ کو فوراً راستہ دے دیا تھا اور ان دو مستورات کے جانوروں نے پانی پی لیا تھا۔ حالانکہ حضرت موسیٰ غریب الوطن تھے اور غریب الوطن اگرچہ کوئی بڑا آدمی ہو۔ کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اور جب یہ عورت موسیٰ کو دعوت دینے گئی تھی تو اس نے دیکھ لیا تھا کہ پاک نظر اور پاک زبان رکھتے ہیں۔ چناچہ یہ عورت باپ کو مشورہ دیتی ہے کہ ابو آپ اس شخص سے اجارہ کرلیں تاکہ وہ اور اس کی بہن بکریاں چرانے کے عذاب سے نجات پالیں اور اس طرح ان کو وہ کام نہ کرنا پڑے جو مرد کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ مضبوط آدمی ہیں ، امین ہیں۔ اس لیے کہ جو شخص کسی دوشیزہ کی عفت کا امین ثابت ہوجائے ، وہ تمام امور پر امین ثابت ہوجاتا ہے۔ یہ اپنے اس مشورے میں بھی بالکل واضح سوچ رکھتی ہے اور صاف صاف بات کر رہی ہے اسے یہ خطرہ نہیں ہے کہ اس پر کوئی بدظنی کرے گا کیونکہ اس کی دل کی کتاب صاف ہے۔ اس کا احساس و شعور پاک ہے۔ اس لیے اسے کسی محاسبے سے ڈر نہیں ہے۔ چناچہ وہ اپنی اس تجویز میں شف شف نہیں کرتی۔ اور نہایت ہی صاف الفاظ میں واضح تجویز دیتی ہے۔
یہاں ان روایات کو دہرانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے جو مفسرین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت کے بارے میں نقل کی ہیں ، مثلا یہ کہ جس کنویں سے چرواہے پانی پلاتے تھے ، اس پر ایک بڑا پتھر رکھا ہوا ہوتا تھا جسے بیس ، چالیس یا اس سے بھی کم و بیش افراد اٹھا سکتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم کے سباق سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کنویں کے اوپر پتھر ہوتا تھا بلکہ دوسرے چرواہے پانی پلا چکتے تو بعد میں یہ دو عورتیں پانی پلاتیں۔ حضرت موسیٰ نے ان چرواہوں کو ہٹایا اور ان عورتوں کے مویشیوں کو پانی پلا دیا یا دوسرے چرواہوں کے ساتھ ساتھ پانی پلا دیا۔
نیز یہاں ان روایات کے دہرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے جن میں ان کی دیانت و امانت پر یہ دلیل دی گئی ہے۔ جس میں انہوں نے اس دوشیزہ سے کہا کہ تم میرے پیچھے چلو اور پیچھے سے مجھے راستہ بتلاتی چلو ، اس خوف سے کہ کہیں ان کی نظر اس عورت پر نہ پڑجائے۔ یا یہ کہ حضرت موسیٰ نے اس لڑکی کو پیچھے چلنے کا اس وقت کہا جب وہ آگے چل رہی تھی تو ہوا نے اس کے کپڑوں کو ٹخنوں سے اوپر کردیا۔ یہ محض تکلفات ہیں اور ان کے ذریعہ سے ایسے شکوک کو دور کرنے کی سعی کی گئی ہے جن کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ بذات خود عفیف النظر تھے ، پاک احساسات رکھتے تھے اور یہ عورت بھی پاک دامن تھی ، عفت اور امانت جہاں ہو ان کے ثبوت کے لئے تکلفات کی ضرورت نہیں ہے خصوصاً مرد اور عورت کی ملاقات کے وقت کیونکہ عفت وہ پختہ ملکہ ہے جو بغیر کسی تکلف اور بناوٹ کے حصہ کردار ہوتا ہے۔
اس بوڑھے نے اپنی بیٹی کی اس تجویز کو قبول کرلیا۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ لڑکی اور موسیٰ دونوں کے اندر خواہش اور اعتماد پایا جاتا ہے اور فطری میلان موجود ہے۔ اور یہ دونوں مل کر ایک صالح خاندان کی بنیاد ڈال سکتے ہیں۔ جب کسی نوجوان میں قوت اور عفت جمع ہوجائیں تو فطرتاً ہر سلیم الفطرت دوشیزہ ایسے شخص کو زندگی کا ساتھی بنانے پر راضی ہوتی ہے۔ جو خود پاک دامن اور صالح ہو۔ اس لیے اس بوڑھے نے حضرت موسیٰ کو پیش کش کردی کہ وہ اپنی بیٹیوں میں سے ایک تمہارے نکاح میں دے سکتے ہیں۔ اگر تم آٹھ سال تک میری خدمت کرو اور میرے مویشی چراؤ اور اگر بطور احسان تم دس سال تک یہ خدمت کرو تو تمہاری طرف سے احسان ہوگا۔
القصص 28:27
قال انی ارید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاء اللہ من الصلحین (27)
یوں نہایت ہی سادگی اور بےتکلفی سے اس شخص نے اپنی دو بیٹیوں میں ایک حضرت موسیٰ کے عقد میں دینے کے لیے خود پیش کش کردی۔ شاید یہ وہی لڑکی تھی جس نے تجویز دی تھی اور اس کے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قلوب کا میلان ایک دوسرے کی طرف تھا۔ اس شخص نے بےتکلفی سے اور براہ راست پیش کش صراحت کے ساتھ کردی۔ کیونکہ یہ پیش کش عقد کے لیے تھی۔ لہٰذا اس میں حجاب محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ یہ پیش کش اس لیے تھی کہ ایک نیا خاندان وجود میں آجائے۔ اس شخص نے تکلف اور کنایہ و اشارہ میں بات کرنے کا تکلف نہیں کیا۔ ایسے تکلفات اور بناوٹیں ان معاشروں میں ہوتی ہیں جن میں فطرت سے انحراف پیدا ہوجاتا ہے اور ایسے معاشرے نہایت ہی باطل ، گندی رسومات اور تکلفات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان تکلفات کی وجہ سے والد یا سرپرست کسی بچی کو کسی کے عقد میں دینے کے لیے کبھی صاف صاف پیش کش نہیں کرتا ، حالانکہ دل سے وہ کئی لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ فلاں رشتہ اس کی بہن بیٹی اور رشتہ دار کے لیے بہت مفید ہے ، لیکن لوگ انتظار کرتے ہیں کچھ خاوند ، اس کے وکیل یا اس کے سرپرست کی طرف سے کوئی پیش کش ہو ، بالعموم یہ تصور کیا جاتا ہے کہ عورت کی جانب سے پیش کش مناسب نہیں ہے۔
لیکن ایسی غیر فطری اور سڑی ہوئی سوسائٹیوں کے تضادات میں سے ایک تضاد یہ ہے کہ نوجوان لڑکے ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ میل جول رکھتے ہیں۔ آزادانہ گب شپ لگاتے ہیں ، آزادانہ اختلاط اور باہم انکشاف کے روادار ہوتے ہیں لیکن نکاح اور عقد کی پیش کش کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جب نکاح کی پیش کش ہوتی ہے تو اس وقت بھی مصنوعی حجاب اور پردہ داری شروع ہوجاتی ہے اور لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت چھوڑ دیتے ہیں بلکہ پردہ شروع ہوجاتا ہے۔ غرض نکاح کی پیش کش میں فطری بےتکلفی نہیں ہوتی حالانکہ اس میں سادگی اور کھلاپن ہونا چاہئے۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں باپ صاف صاف اپنی لڑکیوں کا رشتہ پیش کرتے تھے بلکہ عورتیں بھی اپنے آپ کو پیش کرتی تھیں۔ عورتیں اپنے آپ کو نبی ﷺ کے نکاح میں آنے کی پیش کش کرتی تھیں یا ان لوگوں کو بےتکلف پیش کش کرتی تھیں جو ان کے ساتھ نکاح میں دلچسپی رکھتے تھے۔ یہ معاملہ نہایت سادگی اور علانیہ اور بےتکلفی اور کھلے پن سے طے ہوجاتا۔ اور اس کے لیے کوئی مخصوص آداب و تکلفات نہ تھے۔ نہ اس طرح پیش کش سے کسی کی عزت اور شرافت میں فرق آتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنی بچی حفصہ کی پیش کش حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کی تو وہ خاموش ہوگئے۔ پھر انہوں نے حضرت عثمان کو کی تو انہوں نے معذرت کی۔ جب انہوں نے حضور ﷺ کو اطلاع دی کہ انہوں نے ایسا کیا ہے تو حضور ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا ہوسکتا ہے کہ اسے ایسا رشتہ مل جائے جو ان دونوں سے بہتر ہو۔ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے خود ان کے ساتھ نکاح کرلیا۔ ایک دوسری عورت نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے لیے پیش کیا تو آپ ﷺ نے معذرت کی۔ پھر اس عورت نے اپنے نکاح کا اختیار حضور ﷺ کو دے دیا۔ حضور ﷺ نے اس کا نکاح ایک ایسے شخص سے کردیا جس کے پاس قرآن کی دو سورتیں تھیں۔ حضور ﷺ نے اس عورت کا نکاح اس کے ساتھ کردیا اور ان دو سورتوں کو اس کا مہر قرار دیا۔
یہ تھی وہ سادگی جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں خاندان بن رہے تھے اور اس طرح ایک اسلامی سوسائٹی وجود میں آرہی تھی۔ اس معاملے میں ان کے ہاں کوئی اشارہ ، کنایہ ، تکلف اور تصنع اور ٹیڑھ نہ تھی۔ مدین کے اس بوڑھے نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس نے خود موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ پیش کش کی اور یہ وعدہ بھی کیا کہ اس عرصے میں وہ ان پر کوئی سختی نہ کرے گا۔ اور ان کی وسعت سے زیادہ کام نہ لے گا۔ اور وہ یہ امید کرتا ہے کہ تم ایک صالح نوجوان کا کردار ادا کرو گے۔ اور ہمارے معاملات و صفائی کے ساتھ چلیں گے۔ یہ نہایت ہی خوبصورت اور سادہ آداب ہیں۔ وہ نہ اپنے آپ کو آسمانوں پر چڑھاتے ہیں اور پاکی داماں کی حکایات کرتے ہیں اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تعریف اور مدح سرائی کرتے ہیں۔ پس صرف خیر کی امید رکھتے ہیں۔ اور تمام معاملات اللہ کی مشیت کے سپرد کرتے ہیں۔
القصص 28:28
حضرت موسیٰ نے بھی اسی سادگی ، صداقت اور بےتکلفی سے اس پیش کش کو قبول کرلیا اور اس پر اللہ ہی کو گواہ ٹھہرا کیونکہ وہاں اللہ کے سوا ان کا گواہ تھا کون ؟
قال ذلک بینی وبینک ۔۔۔۔۔۔ ما نقول وکیل (28)
جب دو افراد باہم معاہدہ کرتے ہیں تو اس میں کوئی باپ پیچیدہ نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی بات کو مجمل چھوڑنا چاہئے۔ نہ اس موقعے پر بات چھپانا چاہئے بلکہ بات کھل کر ہونی چاہئے۔ عقد کے موقعہ پر کسی بات کی وضاحت کرنے میں شرم حسوس نہیں کرنی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ اس پیش کو مان لیتے ہیں اور نکاح کرلیتے ہیں۔ اس بوڑھے نے جو مشروط پیشکش کی اس کے متعلق حضرت موسیٰ یہ وضاحت کرتے ہیں ان دو میعادوں میں سے جو بھی وہ چاہیں پورا کریں۔
ایما الاجلین قضیت فلا عدوان عل (28: 28) ” دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کروں اس کے بعد کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہوگی “۔ چاہے میں آٹھ سال رہوں یا دس سال پورے کردوں۔ لیکن کام کے فرائض میں زیادتی نہ ہوگی۔ یعنی آٹھ کے بعد دو سال کا جو اضافہ ہے وہ اختیاری ہے اور ہمارے اس معاہدے پر اللہ گواہ ہے کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے اور معاہدہ کرنے والے دونوں فریقوں پر اللہ گواہ ہوتا ہے ، اور وہ کافی گواہ ہے۔
حضرت موسیٰ نے یہ بیان اپنی فطرت کے عین مطابق دیا۔ وہ نہایت ہی سیدھی اور کھلی طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے دس سال پورے کرنے کے بارے میں جو صاف صاف اختیاری ہونے کی شرط کی وضاحت کی وہ اس لیے کہ معاہدہ کرنے والے فریقوں کا فرض ہے کہ وہ صاف صاف بات کریں۔ حالانکہ ان کی نیت یہ تھی کہ وہ ان دو میعادوں میں سے لمبی معیاد پر عمل کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لمبی اور زیادہ طویل مدت پوری کی (بخاری) ۔
یوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے سسر کے گھر میں نہایت عزت اور احترام سے رہے۔ وہ فرعون اور اسکی سازشوں سے مومن و محفوظ ہوگئے۔ یہ جو کچھ ہو رہا تھا اللہ کی عین حکمت کے مطابق ہو رہا تھا ۔ اب یہ دس سال کیسے گزرے اسے چھوڑ دیجئے۔ ہمارے قصے میں ان کی اہمیت نہیں ہے۔ قرآن نے ان کے مناظر کو کاٹ دیا ہے اور خاموش ہے۔ پردہ گرتا ہے۔
غرض یہ دس سال گزر گئے جن پر فریقین کے درمیان عقد ہوا تھا۔ اس سورت میں ان کے بارے میں کچھ مذکور نہیں
ہے۔ اب اگلے منظر میں حضرت موسیٰ دس سال کی میعاد پوری کرکے جانب مصر رواں نظر آتے ہیں۔ یہ مدین کو چھوڑ کر ان مصر لوٹ رہے ہیں۔ یہ انہی راہوں پر واپس جا رہے ہیں جن پر وہ اکیلے آئے تھے ، ڈرے اور سہمے ہوئے لیکن اب ان کی واپسی کی فضا ایسی نہیں جس طرح ان کے فرار کی فضا تھی۔ وہ لوٹ رہے تھے لیکن اثنائے راہ وہ جن تجربات سے دو چار ہونے والے تھے ان کا خواب خیال بھی ان کے ذہن میں نہیں ہے ، یہ کہ رب تعالیٰ انہیں پکارے گا۔ اب وہ موسیٰ کلیم اللہ ہوجائیں گے اور اب وہ مشن ان کے سپرد ہوجائے گا جس کے لیے اللہ نے انہیں اپنی نظروں میں بچائے رکھا۔ تربیت اور پرورش کی۔ یہ مشن کیا تھا فرعون جیسے جبار اور اس کے سرداروں کے سامنے کلمہ حق کا بلند کرنا۔ اور کلمہ بھی یہ کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دو کہ وہ جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں اور رب تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اور وہ اس سرزمین کو آزاد کرائیں جس کے بارے میں اللہ نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور یہ کہ حضرت موسیٰ فرعون ہامان اور ان کے حواریوں کے لیے دشمن ہوں اور ان کے لیے باعث پریشانی ہوں۔ تاکہ ان دونوں کا انجام حضرت موسیٰ کے ہاتھوں سے ہو ، کیونکہ یہ اللہ کا سچا وعدہ تھا۔
القصص 28:29
فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین شاہی محل میں پرورش پائیں ، دشمن کے گھر میں پلیں۔ پھر وہ لوگوں کی غفلت کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور ایک آدمی ان کے ہاتھوں مرگیا۔ پھر ان کے پاس فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص کو بھیجا گیا کہ نکلو تمہارے قتل کی تدابیر ہو رہی ہیں ، یہ تائیدی ایزفی مصر اور مدین تک کے صحرائی سفر میں اس کے ساتھ رہی جبکہ ان کے پاس کوئی زادو عتاد نہ تھا۔ اور پھر مدین کے کنویں پر ان کی ملاقات دختران شیخ سے کرادی گئی اور اس بہترین مربی اور بوڑھے کے ساتھ ان کا دس سالہ معاہدہ ہوگیا اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو طور پر ان کو عظیم مشن سپرد کیا گیا۔
مشن سپرد کرنے کی ندا سے قبل ان پر خدا کا طویل فضل و کرم ہوتا رہا ، ان کو تلقین ہوتی رہی اور تمام آسمانی قوتیں ان کی تائید میں بڑھتی رہیں۔ اور ان کو زندگی کے مختلف تجربات سے دوچار کیا جاتا رہا۔ مہربانی ، محبت اور راہنمائی کا تجربہ ، حالات کے دباؤ میں آکر انتہائی اقدام کرنے کا تجربہ ، نادم ہونے ، احتیاط کرنے اور غلطی پر استغفار کرنے کا تجربہ۔ ڈر ، تعاقب اور پریشانی کا تجربہ ، تنہائی ، مسافری اور بھوک و افلاس کا تجربہ اور دوسروں کی خدمت کرنے اور بکریوں تک چرانے کا تجربہ اور ان بڑے بڑے تجربوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے روز مردہ کے تجربات ، ولی احساسات ، مختلف قسم کے تصورات و خلجانات ، نئی نئی دریافتیں اور معلومات۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ نے جوان ہوتے ہی ان کو علم و حکمت سے نوازا لیا تھا۔ (ایک شاہزادنے کی حیثیت سے نکال کر یہ تجربات کرائے گئے) ۔
حقیقت یہ ہے کہ منصب رسالت ایک ایسا فریضہ اور ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہوتی ہے جس کے متعدد پہلو ہوتے ہیں اور گوناگوں ذمہ داریاں نبی اور رسول پر آن پڑتی ہیں۔ لہٰذا نبی کو علم و فضل ، حکمت و دانائی اور زندگی کے مختلف تجربات اور مختلف لوگوں کی عملی زندگی کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ عملی تجربہ اس لغوی علم و حکمت اور وحی الٰہی سے الگ ہوتا ہے جو ہر نبی کو کرایا جاتا ہے تاکہ نبی کا ضمیر پاک و صاف ہوجائے اور ہدایت نبی کے قلب میں بٹھا دی جائے۔
رسولوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو سپرد کئے جانے والے مشنوں میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذمہ داریاں بہت بھاری اور مشکل ذمہ داری تھی۔ ان کو فرعون جیسے سرکش اور جنار وقہار حکمران کے سامنے جانا تھا۔ یہ اپنے دور کے بادشاہوں میں سے بڑا اور مالدار بادشاہ تھا۔ قدیم شاہی سلسلے کا مالک تھا۔ حکومت نہایت مستحکم تھی اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے مصر اس وقت ترقی یافتہ تھا۔ اس نے تمام پسی ہوئی اقوام کو غلام بنا رکھا تھا اور زمین کے اوپر اس کو مقام بلند حاصل تھا۔
پھر حضرت مو سیٰ علیہ اسلام کو ایک ایسی قوم کی آزادی اور ہجرت کے لیے بھیجا گیا تھا جس کے دل و دماغ میں غلا می رچ بس گئی تھی ۔ وہ غلا مانہ زند گی کے عادی ہوگئے تھے اور ان کا ضمیر پو ری طرح بدل گیا تھا ۔ وہ عملا ایک طو یل زما نے تک غلام رہے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی انسانی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے اندر تعفن اور سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور اس قوم کے احساسات سے گندگی اور تعفن اور سڑاند کا احساس ہی جاتا رہتا ہے ۔ بھلا ئی ، خیر اور جمال اور برتری اس کو راس ہی نہیں آتی ۔ اس طرح کی بگڑی ہو ئی قوم کو اٹھانا معنی دارو۔
آپ کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو قویم زمانہ سے اسلامی نظریہ کی حامل تھی لیکن اس کے اندر نظریاتی انحراف پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے دل دماغ میں اس کی اصل حقیقی صورت وہ نہ رہی تھی ۔ نہ یہ قوم پرانے اسلامی عقیدہ اور شریعت پر قائم تھی اور نہ جدید عقیدے کو صحیح طرح قبول کر رہی تھی ۔ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ ان کے اندر پائے جانے والی کجی کو درست کرنا ، ان کے انحراف کو سیدھا کرنا اور ان کے اصل عقائد کے اوپر سے خرافات کی گہری تہوں کو ہٹانا اس مہم کی مشکل ترین باتیں تھیں۔
مختصر اً یہ کہ حضرت موسیٰ نے بالکل ایک نئی امت کی تعمیر کرنا تھی ۔ بالکل ننے سرے سے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کو ایک خاص قوم ، ایک خاص نظام کی حامل قوم اور ایک خاص رسالت کی حامل امت بنانا تھا اور ظاہر ہے کہ کسی قوم اور امت کی تعمیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا بار بار دہرایا ہے ۔ اس لئے کہ ایک نظریہ کی اساس پر کسی نئی امت کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ایک مخصوص نمونہ تھی ۔ ایسے عظیم کام کی راہ میں داخلی اور خارجی مشکلات ہوتی ہیں ۔ ایسی ہمہ گیر دعوتوں میں کجی بھی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ وہ مخصوص شکل بھی اختیار کرلیتی ہے اور اسے بہت سے تجربات سے بھی گزارنا پڑتا ہے ۔ اور راستے میں مشکلات بھی آتی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی بددیانہ زندگی سے کیوں گزارا گیا تو یہ اس لیے تاکہ وہ عوام الناس کی پر مشقت زندگی کے نشیب و فراز بھی جان لیں اور براہ راست تجربہ بھی حاصل کرلیں ۔
شاہی محلات کی زندگی کی ایک مخصوص فضا ہوتی ہے ، مخصوص آداب اور پروٹوکول ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی درجے کا سلیم الفطرت ، پاک طینت اور صاحب علم و فضل کیوں نہ ہو ، محلات کی زندگی کی پرچھائیں اس پر ضرور پڑتی ہے۔ اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور رہ جاتے ہیں جہاں تک رسالت کا تعلق ہے اس میں ایک رسول کا واسطہ غنی سے بھی پڑتا ہے اور فقیر سے بھی۔ امت میں مالدار بھی ہوتے ہیں اور فقراء بھی ہوتے ہیں۔ اس میں صاف ستھرے بھی ہوتے ہیں اور میل کچیل والے بھی ہوتے ہیں ، مہذب بھی ہوتے ہیں اور وحشی بھی ہوتے ہیں۔ پاک فطرت بھی ہوتے ہیں اور خبیث الفطرت بھی ہوتے ہیں۔ اچھئ بھی اور برے بھی ، قوی بھی اور ضعیف بھی۔ صابر بھی اور جزع و فزع کرنے والے بھی۔ غرض امت میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور نبی نے سب کی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔ فقراء لوگوں کے کھانے پینے ، چلنے پھرنے اور لباس کی الگ عادات ہوتی ہیں۔ وہ معاملات کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے زندگی کا ایک مخصوص تصور ہوتا ہے ، ان کی بات چیت ان کی حرکات و سکنات ، ان کا کلام اور ان کے شعور کا اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ یہ عوامی عادات ان لوگوں پر بہت بھاری ہوتی ہیں ، جنہوں نے محلات میں تربیت پائی ہوئی ہوتی ہے۔ اونچے محلات کے لوگ ، ان کے عوامی انداز کو دیکھنے کے روداد بھی نہیں ہوتے ، چہ جائیکہ وہ انہیں برداشت کریں اور ان کا علاج کریں۔ اگرچہ ان عامی لوگوں کے دل بھلائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ اصلاح پذیر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ظاہری ربگ ڈھنگ ان کی ظاہری عادات ، اونچے محلات والے کو نہیں جچتے۔
ایک رسول کو بعض اوقات مشتقوں ، تنہائیوں اور تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو بڑے بڑے محالات میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں ، ان کے اندر قربانی دینے کا بےپناہ جذبہ کیوں نہ ہو ، وہ بہت طویل عرصے تک تنگ دستی ، محرومی اور عملی زندگی میں مشقتوں کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ محلات کے اندر پر تعیش ، فراوانی اور آرام طلبی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں
چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو محلات کے اس اعلیٰ معیار کی زندگی سے ذرا نیچے لا کر عوامی زندگی کی سطح تک اتارا جائے۔ انہیں فرواہوں کی سوسائٹی کے اندر ڈال دیا جائے اور خوف ، تعاقب اور پکڑے جانے کے ڈر سے فرار کے بعد ایک چرواہے کی زندگی گزارنے کا عادی بنایا جائے جہاں انہیں صرف کھانا اور ٹھکانا ملتا ہے تاکہ شہزادوں کے مزاج میں غربت اور غرباء سے جو کچھاؤ ہوتا ہے وہ دور ہوجائے۔ چرواہوں کی عادات ، ان کے اخلاق ، ان کی درشی اور ان کی سادگی کے بارے میں شہزادوں کے اندر جو ناگواری پائی جاتی ہے وہ دور ہوجائے۔ ان کی جہالت ، غربت ، بدحالی اور مجموعی طور طریقوں سے حضرت موسیٰ شہزادہ اپنے آپ کو بلند اور دور نہ سمجھیں ، اور اس لئے کہ ان کو عوامی زندگی کے گہرے سمندروں کے اندر ڈال دیا جائے جبکہ پہلے وہ انسانی زندگی کے ایک محدود دھادے کے اندر تیرتے رہے تھے تاکہ آنے والی داعیانہ زندگی کے لیے وہ اچھی طرح تیار ہوجائیں۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت نے یہ تجربے مکمل کرلیے اور وہ عوامی زندگی کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہوگئے اور یہ تجربات انہیں ایک غریب الدیار اجنبی کی حیثیت سے دوسرے علاقے میں رہ کر ہوئے تو دست قدرت نے انہیں پھر اپنی جائے پیدائش کی طرف روانہ کیا۔ جہاں ان کے اہل و عیال اور ان کی قوم رہتی تھی۔ اور جہاں انہوں نے مشکل ترین فریضہ رسالت ادا کرنا تھا اب وہ اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس سے وہ بھاگے تھے اور بالکل یکہ و تنہا بھاگتے چلے جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ہی راستے پر وہ کیوں آئے اور واپس ہوئے ؟ یہ دراصل ایک جنگی مشق تھی انہیں اس راستے کے نشیب و فراز اور راہ و گھاٹ سے خبردار کرنا مطلوب تھا۔ کیونکہ قدرت نے طے کر رکھا تھا کہ عنقریب اسی راستے سے موسیٰ نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے سینائی میں داخل ہونا ہے۔ یہ دراصل ہر ادل دستے اور رہبر کی مشق تھی تاکہ حضرت موسیٰ کو خود اپنے سوا کسی اور راہنما کی ضرورت نہ پڑے ، راستہ بتلانے والے کی بھی۔ کیونکہ ان کی قوم ایسی حالت میں جاگری تھی کہ انہیں چھوٹے بڑے سب کاموں میں راہنمائی کی ضرورت تھی اس لئے کہ ذلت ، غلامی اور ماتحتی نے انہیں پوری طرح بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے اندر کوئی تدبر اور کوئی سوچ نہ رہی تھی۔
اب معلوم ہوگیا کہ قدرت الٰہیہ کس طرح اپنی نظروں کے نیچے حضرت موسیٰ کی تربیت کر رہی تھی اور ان کا فریضہ رسالت کی ادائیگی کیلئے کس طرح اچھی تربیت دی گئی۔ اب ذرا دیکھئے کہ حضرت موسیٰ نے واپسی کا سفر کس طرح طے کیا
فلما قضی موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ لعلکم تصطلون (28: 29) ” جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ” ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو “۔
یہاں یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کیا سوچ تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر لوٹنے پر آمادہ کیا۔ مدین میں انہوں نے عرصہ کار پورا کردیا۔ اب وہ مصر لوٹ رہے ہیں حالانکہ وہ مصر سے نہایت ہی خوف کی حالت میں نکلے تھے۔ ان کو تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ یوں واپس ہو رہے تھے کہ شاید وہ اس خطرے کو بھول گئے ہیں جو مصر میں اب بھی ان کو درپیش ہے۔ وہاں انہوں نے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا ہے ، فرعون ابھی زندگہ ہے جو اپنے سرداروں کے ساتھ آپ کے قتل کا مشاورت کر رہا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ عالم بالا کی اپنی سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس بار شاید اہل و عیال اور قوم اور وطن کیلئے فطری مبلان انہیں واپسی پر مجبور کر رہا ہے اور ان کے دل سے وہ خطرات اب محو ہوگئے جن کی بنا پر اس نے یکہ و تنہا یہاں سے فرار اختیار کیا تھا۔ اور یہ دست قدرت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ اس مہم اور منصب کیلئے تیار ہوجائیں جس کیلئے اللہ نے ان کو اول روز پیدا کیا ہے
بہرحال وجہ جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ واپس ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی ہیں۔ رات کا وقت ہے ، سخت اندھیرا ہے۔ یہ قافلہ راستے سے بھٹک گیا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے۔ اس لیے کہ آگ دیکھ کر وہ وہاں سے آگ لانے کے لیے جا رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے پاس جو کوئی ہوگا یا تو راستہ بتا دے گا ورنہ وہ ایک انگارہ لے آئیں گے تاکہ تاب سکیں۔ یہ اس حصے کا پہلا منظر ہے۔
دوسرا منظر نہایت غیر متوقع ہے۔
فلما اتھا نودی ۔۔۔۔۔۔ من الشجرۃ (28: 30) ” وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا “۔ حضرت موسیٰ تو دیکھ رہے ہیں کہ آگ ہے اور یہ وادی طور میں ان کے دائیں جانب ہے۔ اور یہ جگہ نہایت ہی متبرک ہے ، اور یہ وادی بھی آج ہی متبرک ہو رہی ہے ، پوری کائنات لمحہ بھی کے لیے خاموش ہے اور اس کے اندر عالم بالا اور رب ذوالجلال کی یہ آواز گونج رہی ہے ، بظاہر کانوں پر وہ ایک درخت مبارک سے آرہی ہے اور شاید یہ اس علاقے میں واحد درخت ہے۔
ان یموسی انی انا اللہ رب العالمین (28: 30) ” اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا مالک “۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو براہ راست سنا۔ اس گہری اور خاموش وادی میں وہ اکیلے کھڑے تھے۔ نہایت ہی تاریک اور خاموش رات میں۔ یہ آواز پوری کائنات بھی ہر طرف سے اس آواز کو سن رہی تھی ، زمین اور آسمانوں کی دوریوں اور بلندیوں میں یہ آواز گونج رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو پایا ، کس ذریعہ سے پایا ، کس طرح سے سنا ، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ البتہ حضرت موسیٰ کی ذات اور ان ماحول اور پوری کائنات اس سے گونج رہی تھی اور بھری ہوئی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کائنات کی آواز کو پایا اور اس کے متحمل ہوگئے ، کیونکہ ان کو اس کے لیے تیار کرلیا گیا تھا۔ اس کائنات کے ۔۔ نے اس آواز کو ریکارڈ کرلیا ، جہاں اس آواز کو حضرت موسیٰ نے پایا ، وہ جگہ بابرکت ہوگئی۔ یہ جگہ اب مکرم ہوگئی اور حضرت موسیٰ اب نہایت ہی بابرکت اور مکرم جگہ میں کھڑے تھے اور یہ آواز ابھی ختم نہیں ہوئی مکاملہ جاری ہے۔
الق عصاک (28: 31) ” پھینک دے اپنی لاٹھی “۔ حضرت موسیٰ نے باری تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے فوراً لاٹھی پھینک دی۔ دیکھتے کیا ہیں ؟ وہ تو اب ان کی وہ لاٹھی نہیں ہے جو ان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہی اور جس کو وہ یقیناً جانتے تھے کہ یہ ایک عصا ہے۔ عصا نہیں اب تو وہ ایک سانپ ہے جو زمین پر رینگ رہا ہے۔ بڑی تیزی سے ادھر ادھر جا رہا ہے اور یہ اس طرح کروٹیں بدل رہا ہے جس طرح چھوٹے چھوٹے سانپ بدلتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی بڑا سانپ نظر آتا ہے۔
فلما راھا ۔۔۔۔۔۔۔ ولم یعقب (28: 31) ” جو موسیٰ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے ، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا “۔ اس لیے کہ یہ نہایت ہی غیر متوقع صورت حال تھی ، اس کے لیے وہ ذہنا تیار نہ تھے ، پھر آپ کا مزاج بھی انفعالی تھا۔ آپ پر ہر صورت حال کا جلد اثر ہوجاتا تھا۔ آپ اس طرح بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ یہ سانپ ان کی طرف بڑھ بھی رہا ہے یا نہیں تاکہ وہ معلوم کرتے کہ یہ عجیب معجزہ ہے اور اس پر کچھ غور کرتے۔ جو لوگ بھی جلد متاثر ہوجاتے ہیں ان کی روش اسی طرح ہوتی ہے۔ ندائے ربانی جاری ہے۔
یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” موسیٰ پلٹ آ اور خوف نہ کر تو بالکل محفوظ ہے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے خوف اور امن کے یہ تجربے کوئی نئے نہ تھے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں خوف اور امن کے چکروں پر مشتمل ہیں۔ خوف اور امن ان کی پوری زندگی کے موسم ہیں۔ آغاز سے انجام تک اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یوں متاثر ہوجانا بھی حکمت خداوندی پر مبنی اور مطلوب و مقصود تھا۔ ان کی زندگی میں اسی طرح مقدر تھا کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں یہ زیر و بم اور یہ اضطراب اور یہ تلاطم بنی اسرائیل کی جامد ، تقلیدی اور رکی ہوئی زندگی کے بالمقابل قصداً پیدا کیا گیا تھا ۔ یہ قدرت کی تقدیر تھی اور قدرت کی گہری حکمت اور تدبیر پر مبنی تھی۔
اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” واپس آجاؤ “ اور ڈرو نہیں تم محفوظ ہو “۔ کس طرح وہ محفوظ نہ ہوگا جسے دست قدرت آگے بڑھا رہا ہو اور جس کی نگرانی اللہ تعالیٰ خود کر رہا ہو۔ ابھی مکالمہ جاری ہے۔
اسلک یدل فی جیبک تخرج بیضآء من غیر سوء (28: 32) ” اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے “۔ حضرت موسیٰ نے حکم کی اطاعت فرمائی اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالا اور نکالا۔ یہ ان کے لئے اسی وقت دوسرا غیر متوقع منظر تھا کہ ہاتھ سفید اور چمکدار ہے اور بغیر کسی بیماری کے ایسا ہے حالانکہ پہلے وہ گندم گوں تھا۔ ہاتھ کے سفید ہونے میں اشارہ اس طرح تھا کہ حق اور سچائی واضح اور صاف اور روشن دن کی طرح ہے۔
اب موسیٰ (علیہ السلام) جذباتی اور متاثر ہونے والی شخصیت نے اپنا کام دکھایا۔ وہ ان مناظر ، غیر متوقع مناظر کو دیکھ کر ڈر گئے
اور کانپنے لگے۔ ایک بار پھر ربانی ہدایت براہ راست آتی ہے۔ حکم ہوتا کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے بازوؤں کو بھینچ لو ، اس طرح تمہارے دل کی دھڑکن کم ہوگی اور تمہیں پورا اطمینان ہوجائے گا۔
واضمم الیک جناحک من الرھب (28: 32) ” اور خوف سے بچنے کیلئے اپنا بازو بھینچ لو “۔ گویا ان کے ہاتھ ان کا پر ہے جسے وہ سینے کے ساتھ ملا رہے ہیں جس طرح پرندہ مطمئن ہوکر پروں کو جسم سے جوڑ لیتا ہے۔ جب پرندہ پروں کے ساتھ پھڑ پھڑاتا ہے تو اس کی کیفیات کے ساتھ مشابہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم یہاں اس مفہوم کی ایسی ہی تصویر کشی کرتا ہے :
اب موسیٰ (علیہ السلام) باری تعالیٰ کی طرف سے ہدایات پاچکے ہیں اور جو مشاہدات ان کو کرائے گئے وہ مشاہدہ دہ کرچکے ہیں۔ یہ دو نشانیاں اور معجزات تو وہ خود دیکھ چکے ہیں۔ پہلے وہ خود بھی خائف ہوگئے اور ان کا دل دھڑکنے لگا۔ پھر ان کو اطمینان دیا گیا۔ اب ان کو وہ اصل مشن سپرد کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کو ابتدا سے آغاز پیدائش سے تربیت دی جا رہی ہے۔
فذلک برھانن ۔۔۔۔۔۔ قوما فسقین (28: 32) ” یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں “۔
یہ پیغام گویا فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے تھا۔ اور یہ اس وعدے کا ایفا ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ” ہم اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے مرسلین میں سے بنانے والے ہیں “۔ اور یہ پختہ وعدہ تھا ، کئی سال گزر گئے کہ یہ طے ہوا تھا۔ لیکن یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمایا کرتا۔ وہ تو سب سے سچی بات کرنے والا ہے۔
اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد آتا ہے کہ انہوں نے تو ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے اور یہ کہ وہ ان سے اس وقت چلے گئے جب گرفتاری کا خطرہ تھا۔ اور اس لیے بھاگ گئے تھے کہ انہوں نے انہیں قتل کرنے کے مشورے شروع کر دئیے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ شروع تھا اور یہ عظیم اعزاز تھا جو انہیں بخشا گیا۔ پھر ان کو دو عظیم معجزات کا اعزاز بھی بخشا گیا۔ اور پھر اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرمائی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مشن کے سلسلے میں ایک عملی دشواری کی طرف سے خدشے کا اظہار کیا۔ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ چھوٹتے ہی انہیں قتل کردیں اور دعوت کا سلسلہ ہی کٹ جائے۔
قال رب ۔۔۔۔۔۔ ان یقتلون (28: 33) ” موسیٰ نے عرض کیا میرے آقا میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں اور ڈرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) منصب نبوت قبول کرنے سے معذرت نہ کر رہے تھے۔ نہ ان کا مقصد یہ تھا کہ پیچھے ہٹ جائیں یا منہ موڑلیں اور نافرمانی کریں بلکہ وہ یقین دہانی چاہئے تھے اور یہ اطمینان چاہتے تھے کہ دعوت کو جاری رہنا چاہئے۔ اور اگر وہ قتل ہوگئے جس طرح خدشہ ہے تو سلسلہ شروع ہی سے ختم ہوجائے گا۔ یہ ان کی جانب سے ایک مناب بات بھی ہے حالانکہ وہ قوی اور امین تھے۔ ڈرنے والے نہ تھے۔
واخی ھرون ۔۔۔۔۔۔ انی اخاف ان یکذبون (28: 34) ” اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہت کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے “۔ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح وبلیغ مقرر ہے اور دعوت کو اچھی طرح پیش کرسکتا ہے ، اسے میرے لیے تائید کنندہ کے طور پر بھیج دے تاکہ وہ میرے دعوائے رسالت کی تائید کرے اور اگر وہ مجھے قتل ہی کردیں تو میرا خلیفہ ہو۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور درخواست قبول کرلی جاتی ہے۔
قال سنشد عضدک ۔۔۔۔۔۔ اتبعکما الغلبون (28: 35) ” فرمایا ! ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سعادت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا “۔ جو واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں ان میں قدرت الہیہ کی معجزانہ قوتیں زیادہ واضح طور پر حضرت موسیٰ کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی اور غلبہ کے پیچھے صرف متعارف اسباب ہی نظر نہ آئیں بلکہ اس پر عالم بالا کی مشیت کا رنگ غالب ہوتا کہ لوگوں کے نظریات کے اندر محض مادی اسباب کے علاوہ آسمانی قوتوں کی مشیت بھی واضح طور پر اہمیت اختیار کرلے۔ لوگوں کو اللہ پر ایمان حاصل ہو اور وہ اللہ پر توکل کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔
یہ خوبصورت اور عظیم منظر ختم ہوجاتا ہے اور زمان و مکان کے فاصلے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اب دربار فرعون میں ہیں۔ اللہ کی واضح آیات لیے ہوئے ہیں۔ اب ہدایت و ضلالت آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان سخت مکالمہ شروع ہے۔ اور اس دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کا فیصلہ یوں ہوتا ہے کہ باطل اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں لازماً وہ لعنت کا مستحق ہوگا۔
القصص 28:30
فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین شاہی محل میں پرورش پائیں ، دشمن کے گھر میں پلیں۔ پھر وہ لوگوں کی غفلت کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور ایک آدمی ان کے ہاتھوں مرگیا۔ پھر ان کے پاس فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص کو بھیجا گیا کہ نکلو تمہارے قتل کی تدابیر ہو رہی ہیں ، یہ تائیدی ایزفی مصر اور مدین تک کے صحرائی سفر میں اس کے ساتھ رہی جبکہ ان کے پاس کوئی زادو عتاد نہ تھا۔ اور پھر مدین کے کنویں پر ان کی ملاقات دختران شیخ سے کرادی گئی اور اس بہترین مربی اور بوڑھے کے ساتھ ان کا دس سالہ معاہدہ ہوگیا اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو طور پر ان کو عظیم مشن سپرد کیا گیا۔
مشن سپرد کرنے کی ندا سے قبل ان پر خدا کا طویل فضل و کرم ہوتا رہا ، ان کو تلقین ہوتی رہی اور تمام آسمانی قوتیں ان کی تائید میں بڑھتی رہیں۔ اور ان کو زندگی کے مختلف تجربات سے دوچار کیا جاتا رہا۔ مہربانی ، محبت اور راہنمائی کا تجربہ ، حالات کے دباؤ میں آکر انتہائی اقدام کرنے کا تجربہ ، نادم ہونے ، احتیاط کرنے اور غلطی پر استغفار کرنے کا تجربہ۔ ڈر ، تعاقب اور پریشانی کا تجربہ ، تنہائی ، مسافری اور بھوک و افلاس کا تجربہ اور دوسروں کی خدمت کرنے اور بکریوں تک چرانے کا تجربہ اور ان بڑے بڑے تجربوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے روز مردہ کے تجربات ، ولی احساسات ، مختلف قسم کے تصورات و خلجانات ، نئی نئی دریافتیں اور معلومات۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ نے جوان ہوتے ہی ان کو علم و حکمت سے نوازا لیا تھا۔ (ایک شاہزادنے کی حیثیت سے نکال کر یہ تجربات کرائے گئے) ۔
حقیقت یہ ہے کہ منصب رسالت ایک ایسا فریضہ اور ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہوتی ہے جس کے متعدد پہلو ہوتے ہیں اور گوناگوں ذمہ داریاں نبی اور رسول پر آن پڑتی ہیں۔ لہٰذا نبی کو علم و فضل ، حکمت و دانائی اور زندگی کے مختلف تجربات اور مختلف لوگوں کی عملی زندگی کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ عملی تجربہ اس لغوی علم و حکمت اور وحی الٰہی سے الگ ہوتا ہے جو ہر نبی کو کرایا جاتا ہے تاکہ نبی کا ضمیر پاک و صاف ہوجائے اور ہدایت نبی کے قلب میں بٹھا دی جائے۔
رسولوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو سپرد کئے جانے والے مشنوں میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذمہ داریاں بہت بھاری اور مشکل ذمہ داری تھی۔ ان کو فرعون جیسے سرکش اور جنار وقہار حکمران کے سامنے جانا تھا۔ یہ اپنے دور کے بادشاہوں میں سے بڑا اور مالدار بادشاہ تھا۔ قدیم شاہی سلسلے کا مالک تھا۔ حکومت نہایت مستحکم تھی اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے مصر اس وقت ترقی یافتہ تھا۔ اس نے تمام پسی ہوئی اقوام کو غلام بنا رکھا تھا اور زمین کے اوپر اس کو مقام بلند حاصل تھا۔
پھر حضرت مو سیٰ علیہ اسلام کو ایک ایسی قوم کی آزادی اور ہجرت کے لیے بھیجا گیا تھا جس کے دل و دماغ میں غلا می رچ بس گئی تھی ۔ وہ غلا مانہ زند گی کے عادی ہوگئے تھے اور ان کا ضمیر پو ری طرح بدل گیا تھا ۔ وہ عملا ایک طو یل زما نے تک غلام رہے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی انسانی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے اندر تعفن اور سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور اس قوم کے احساسات سے گندگی اور تعفن اور سڑاند کا احساس ہی جاتا رہتا ہے ۔ بھلا ئی ، خیر اور جمال اور برتری اس کو راس ہی نہیں آتی ۔ اس طرح کی بگڑی ہو ئی قوم کو اٹھانا معنی دارو۔
آپ کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو قویم زمانہ سے اسلامی نظریہ کی حامل تھی لیکن اس کے اندر نظریاتی انحراف پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے دل دماغ میں اس کی اصل حقیقی صورت وہ نہ رہی تھی ۔ نہ یہ قوم پرانے اسلامی عقیدہ اور شریعت پر قائم تھی اور نہ جدید عقیدے کو صحیح طرح قبول کر رہی تھی ۔ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ ان کے اندر پائے جانے والی کجی کو درست کرنا ، ان کے انحراف کو سیدھا کرنا اور ان کے اصل عقائد کے اوپر سے خرافات کی گہری تہوں کو ہٹانا اس مہم کی مشکل ترین باتیں تھیں۔
مختصر اً یہ کہ حضرت موسیٰ نے بالکل ایک نئی امت کی تعمیر کرنا تھی ۔ بالکل ننے سرے سے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کو ایک خاص قوم ، ایک خاص نظام کی حامل قوم اور ایک خاص رسالت کی حامل امت بنانا تھا اور ظاہر ہے کہ کسی قوم اور امت کی تعمیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا بار بار دہرایا ہے ۔ اس لئے کہ ایک نظریہ کی اساس پر کسی نئی امت کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ایک مخصوص نمونہ تھی ۔ ایسے عظیم کام کی راہ میں داخلی اور خارجی مشکلات ہوتی ہیں ۔ ایسی ہمہ گیر دعوتوں میں کجی بھی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ وہ مخصوص شکل بھی اختیار کرلیتی ہے اور اسے بہت سے تجربات سے بھی گزارنا پڑتا ہے ۔ اور راستے میں مشکلات بھی آتی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی بددیانہ زندگی سے کیوں گزارا گیا تو یہ اس لیے تاکہ وہ عوام الناس کی پر مشقت زندگی کے نشیب و فراز بھی جان لیں اور براہ راست تجربہ بھی حاصل کرلیں ۔
شاہی محلات کی زندگی کی ایک مخصوص فضا ہوتی ہے ، مخصوص آداب اور پروٹوکول ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی درجے کا سلیم الفطرت ، پاک طینت اور صاحب علم و فضل کیوں نہ ہو ، محلات کی زندگی کی پرچھائیں اس پر ضرور پڑتی ہے۔ اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور رہ جاتے ہیں جہاں تک رسالت کا تعلق ہے اس میں ایک رسول کا واسطہ غنی سے بھی پڑتا ہے اور فقیر سے بھی۔ امت میں مالدار بھی ہوتے ہیں اور فقراء بھی ہوتے ہیں۔ اس میں صاف ستھرے بھی ہوتے ہیں اور میل کچیل والے بھی ہوتے ہیں ، مہذب بھی ہوتے ہیں اور وحشی بھی ہوتے ہیں۔ پاک فطرت بھی ہوتے ہیں اور خبیث الفطرت بھی ہوتے ہیں۔ اچھئ بھی اور برے بھی ، قوی بھی اور ضعیف بھی۔ صابر بھی اور جزع و فزع کرنے والے بھی۔ غرض امت میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور نبی نے سب کی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔ فقراء لوگوں کے کھانے پینے ، چلنے پھرنے اور لباس کی الگ عادات ہوتی ہیں۔ وہ معاملات کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے زندگی کا ایک مخصوص تصور ہوتا ہے ، ان کی بات چیت ان کی حرکات و سکنات ، ان کا کلام اور ان کے شعور کا اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ یہ عوامی عادات ان لوگوں پر بہت بھاری ہوتی ہیں ، جنہوں نے محلات میں تربیت پائی ہوئی ہوتی ہے۔ اونچے محلات کے لوگ ، ان کے عوامی انداز کو دیکھنے کے روداد بھی نہیں ہوتے ، چہ جائیکہ وہ انہیں برداشت کریں اور ان کا علاج کریں۔ اگرچہ ان عامی لوگوں کے دل بھلائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ اصلاح پذیر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ظاہری ربگ ڈھنگ ان کی ظاہری عادات ، اونچے محلات والے کو نہیں جچتے۔
ایک رسول کو بعض اوقات مشتقوں ، تنہائیوں اور تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو بڑے بڑے محالات میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں ، ان کے اندر قربانی دینے کا بےپناہ جذبہ کیوں نہ ہو ، وہ بہت طویل عرصے تک تنگ دستی ، محرومی اور عملی زندگی میں مشقتوں کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ محلات کے اندر پر تعیش ، فراوانی اور آرام طلبی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں
چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو محلات کے اس اعلیٰ معیار کی زندگی سے ذرا نیچے لا کر عوامی زندگی کی سطح تک اتارا جائے۔ انہیں فرواہوں کی سوسائٹی کے اندر ڈال دیا جائے اور خوف ، تعاقب اور پکڑے جانے کے ڈر سے فرار کے بعد ایک چرواہے کی زندگی گزارنے کا عادی بنایا جائے جہاں انہیں صرف کھانا اور ٹھکانا ملتا ہے تاکہ شہزادوں کے مزاج میں غربت اور غرباء سے جو کچھاؤ ہوتا ہے وہ دور ہوجائے۔ چرواہوں کی عادات ، ان کے اخلاق ، ان کی درشی اور ان کی سادگی کے بارے میں شہزادوں کے اندر جو ناگواری پائی جاتی ہے وہ دور ہوجائے۔ ان کی جہالت ، غربت ، بدحالی اور مجموعی طور طریقوں سے حضرت موسیٰ شہزادہ اپنے آپ کو بلند اور دور نہ سمجھیں ، اور اس لئے کہ ان کو عوامی زندگی کے گہرے سمندروں کے اندر ڈال دیا جائے جبکہ پہلے وہ انسانی زندگی کے ایک محدود دھادے کے اندر تیرتے رہے تھے تاکہ آنے والی داعیانہ زندگی کے لیے وہ اچھی طرح تیار ہوجائیں۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت نے یہ تجربے مکمل کرلیے اور وہ عوامی زندگی کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہوگئے اور یہ تجربات انہیں ایک غریب الدیار اجنبی کی حیثیت سے دوسرے علاقے میں رہ کر ہوئے تو دست قدرت نے انہیں پھر اپنی جائے پیدائش کی طرف روانہ کیا۔ جہاں ان کے اہل و عیال اور ان کی قوم رہتی تھی۔ اور جہاں انہوں نے مشکل ترین فریضہ رسالت ادا کرنا تھا اب وہ اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس سے وہ بھاگے تھے اور بالکل یکہ و تنہا بھاگتے چلے جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ہی راستے پر وہ کیوں آئے اور واپس ہوئے ؟ یہ دراصل ایک جنگی مشق تھی انہیں اس راستے کے نشیب و فراز اور راہ و گھاٹ سے خبردار کرنا مطلوب تھا۔ کیونکہ قدرت نے طے کر رکھا تھا کہ عنقریب اسی راستے سے موسیٰ نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے سینائی میں داخل ہونا ہے۔ یہ دراصل ہر ادل دستے اور رہبر کی مشق تھی تاکہ حضرت موسیٰ کو خود اپنے سوا کسی اور راہنما کی ضرورت نہ پڑے ، راستہ بتلانے والے کی بھی۔ کیونکہ ان کی قوم ایسی حالت میں جاگری تھی کہ انہیں چھوٹے بڑے سب کاموں میں راہنمائی کی ضرورت تھی اس لئے کہ ذلت ، غلامی اور ماتحتی نے انہیں پوری طرح بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے اندر کوئی تدبر اور کوئی سوچ نہ رہی تھی۔
اب معلوم ہوگیا کہ قدرت الٰہیہ کس طرح اپنی نظروں کے نیچے حضرت موسیٰ کی تربیت کر رہی تھی اور ان کا فریضہ رسالت کی ادائیگی کیلئے کس طرح اچھی تربیت دی گئی۔ اب ذرا دیکھئے کہ حضرت موسیٰ نے واپسی کا سفر کس طرح طے کیا
فلما قضی موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ لعلکم تصطلون (28: 29) ” جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ” ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو “۔
یہاں یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کیا سوچ تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر لوٹنے پر آمادہ کیا۔ مدین میں انہوں نے عرصہ کار پورا کردیا۔ اب وہ مصر لوٹ رہے ہیں حالانکہ وہ مصر سے نہایت ہی خوف کی حالت میں نکلے تھے۔ ان کو تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ یوں واپس ہو رہے تھے کہ شاید وہ اس خطرے کو بھول گئے ہیں جو مصر میں اب بھی ان کو درپیش ہے۔ وہاں انہوں نے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا ہے ، فرعون ابھی زندگہ ہے جو اپنے سرداروں کے ساتھ آپ کے قتل کا مشاورت کر رہا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ عالم بالا کی اپنی سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس بار شاید اہل و عیال اور قوم اور وطن کیلئے فطری مبلان انہیں واپسی پر مجبور کر رہا ہے اور ان کے دل سے وہ خطرات اب محو ہوگئے جن کی بنا پر اس نے یکہ و تنہا یہاں سے فرار اختیار کیا تھا۔ اور یہ دست قدرت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ اس مہم اور منصب کیلئے تیار ہوجائیں جس کیلئے اللہ نے ان کو اول روز پیدا کیا ہے
بہرحال وجہ جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ واپس ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی ہیں۔ رات کا وقت ہے ، سخت اندھیرا ہے۔ یہ قافلہ راستے سے بھٹک گیا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے۔ اس لیے کہ آگ دیکھ کر وہ وہاں سے آگ لانے کے لیے جا رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے پاس جو کوئی ہوگا یا تو راستہ بتا دے گا ورنہ وہ ایک انگارہ لے آئیں گے تاکہ تاب سکیں۔ یہ اس حصے کا پہلا منظر ہے۔
دوسرا منظر نہایت غیر متوقع ہے۔
فلما اتھا نودی ۔۔۔۔۔۔ من الشجرۃ (28: 30) ” وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا “۔ حضرت موسیٰ تو دیکھ رہے ہیں کہ آگ ہے اور یہ وادی طور میں ان کے دائیں جانب ہے۔ اور یہ جگہ نہایت ہی متبرک ہے ، اور یہ وادی بھی آج ہی متبرک ہو رہی ہے ، پوری کائنات لمحہ بھی کے لیے خاموش ہے اور اس کے اندر عالم بالا اور رب ذوالجلال کی یہ آواز گونج رہی ہے ، بظاہر کانوں پر وہ ایک درخت مبارک سے آرہی ہے اور شاید یہ اس علاقے میں واحد درخت ہے۔
ان یموسی انی انا اللہ رب العالمین (28: 30) ” اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا مالک “۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو براہ راست سنا۔ اس گہری اور خاموش وادی میں وہ اکیلے کھڑے تھے۔ نہایت ہی تاریک اور خاموش رات میں۔ یہ آواز پوری کائنات بھی ہر طرف سے اس آواز کو سن رہی تھی ، زمین اور آسمانوں کی دوریوں اور بلندیوں میں یہ آواز گونج رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو پایا ، کس ذریعہ سے پایا ، کس طرح سے سنا ، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ البتہ حضرت موسیٰ کی ذات اور ان ماحول اور پوری کائنات اس سے گونج رہی تھی اور بھری ہوئی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کائنات کی آواز کو پایا اور اس کے متحمل ہوگئے ، کیونکہ ان کو اس کے لیے تیار کرلیا گیا تھا۔ اس کائنات کے ۔۔ نے اس آواز کو ریکارڈ کرلیا ، جہاں اس آواز کو حضرت موسیٰ نے پایا ، وہ جگہ بابرکت ہوگئی۔ یہ جگہ اب مکرم ہوگئی اور حضرت موسیٰ اب نہایت ہی بابرکت اور مکرم جگہ میں کھڑے تھے اور یہ آواز ابھی ختم نہیں ہوئی مکاملہ جاری ہے۔
الق عصاک (28: 31) ” پھینک دے اپنی لاٹھی “۔ حضرت موسیٰ نے باری تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے فوراً لاٹھی پھینک دی۔ دیکھتے کیا ہیں ؟ وہ تو اب ان کی وہ لاٹھی نہیں ہے جو ان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہی اور جس کو وہ یقیناً جانتے تھے کہ یہ ایک عصا ہے۔ عصا نہیں اب تو وہ ایک سانپ ہے جو زمین پر رینگ رہا ہے۔ بڑی تیزی سے ادھر ادھر جا رہا ہے اور یہ اس طرح کروٹیں بدل رہا ہے جس طرح چھوٹے چھوٹے سانپ بدلتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی بڑا سانپ نظر آتا ہے۔
فلما راھا ۔۔۔۔۔۔۔ ولم یعقب (28: 31) ” جو موسیٰ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے ، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا “۔ اس لیے کہ یہ نہایت ہی غیر متوقع صورت حال تھی ، اس کے لیے وہ ذہنا تیار نہ تھے ، پھر آپ کا مزاج بھی انفعالی تھا۔ آپ پر ہر صورت حال کا جلد اثر ہوجاتا تھا۔ آپ اس طرح بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ یہ سانپ ان کی طرف بڑھ بھی رہا ہے یا نہیں تاکہ وہ معلوم کرتے کہ یہ عجیب معجزہ ہے اور اس پر کچھ غور کرتے۔ جو لوگ بھی جلد متاثر ہوجاتے ہیں ان کی روش اسی طرح ہوتی ہے۔ ندائے ربانی جاری ہے۔
یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” موسیٰ پلٹ آ اور خوف نہ کر تو بالکل محفوظ ہے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے خوف اور امن کے یہ تجربے کوئی نئے نہ تھے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں خوف اور امن کے چکروں پر مشتمل ہیں۔ خوف اور امن ان کی پوری زندگی کے موسم ہیں۔ آغاز سے انجام تک اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یوں متاثر ہوجانا بھی حکمت خداوندی پر مبنی اور مطلوب و مقصود تھا۔ ان کی زندگی میں اسی طرح مقدر تھا کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں یہ زیر و بم اور یہ اضطراب اور یہ تلاطم بنی اسرائیل کی جامد ، تقلیدی اور رکی ہوئی زندگی کے بالمقابل قصداً پیدا کیا گیا تھا ۔ یہ قدرت کی تقدیر تھی اور قدرت کی گہری حکمت اور تدبیر پر مبنی تھی۔
اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” واپس آجاؤ “ اور ڈرو نہیں تم محفوظ ہو “۔ کس طرح وہ محفوظ نہ ہوگا جسے دست قدرت آگے بڑھا رہا ہو اور جس کی نگرانی اللہ تعالیٰ خود کر رہا ہو۔ ابھی مکالمہ جاری ہے۔
اسلک یدل فی جیبک تخرج بیضآء من غیر سوء (28: 32) ” اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے “۔ حضرت موسیٰ نے حکم کی اطاعت فرمائی اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالا اور نکالا۔ یہ ان کے لئے اسی وقت دوسرا غیر متوقع منظر تھا کہ ہاتھ سفید اور چمکدار ہے اور بغیر کسی بیماری کے ایسا ہے حالانکہ پہلے وہ گندم گوں تھا۔ ہاتھ کے سفید ہونے میں اشارہ اس طرح تھا کہ حق اور سچائی واضح اور صاف اور روشن دن کی طرح ہے۔
اب موسیٰ (علیہ السلام) جذباتی اور متاثر ہونے والی شخصیت نے اپنا کام دکھایا۔ وہ ان مناظر ، غیر متوقع مناظر کو دیکھ کر ڈر گئے
اور کانپنے لگے۔ ایک بار پھر ربانی ہدایت براہ راست آتی ہے۔ حکم ہوتا کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے بازوؤں کو بھینچ لو ، اس طرح تمہارے دل کی دھڑکن کم ہوگی اور تمہیں پورا اطمینان ہوجائے گا۔
واضمم الیک جناحک من الرھب (28: 32) ” اور خوف سے بچنے کیلئے اپنا بازو بھینچ لو “۔ گویا ان کے ہاتھ ان کا پر ہے جسے وہ سینے کے ساتھ ملا رہے ہیں جس طرح پرندہ مطمئن ہوکر پروں کو جسم سے جوڑ لیتا ہے۔ جب پرندہ پروں کے ساتھ پھڑ پھڑاتا ہے تو اس کی کیفیات کے ساتھ مشابہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم یہاں اس مفہوم کی ایسی ہی تصویر کشی کرتا ہے :
اب موسیٰ (علیہ السلام) باری تعالیٰ کی طرف سے ہدایات پاچکے ہیں اور جو مشاہدات ان کو کرائے گئے وہ مشاہدہ دہ کرچکے ہیں۔ یہ دو نشانیاں اور معجزات تو وہ خود دیکھ چکے ہیں۔ پہلے وہ خود بھی خائف ہوگئے اور ان کا دل دھڑکنے لگا۔ پھر ان کو اطمینان دیا گیا۔ اب ان کو وہ اصل مشن سپرد کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کو ابتدا سے آغاز پیدائش سے تربیت دی جا رہی ہے۔
فذلک برھانن ۔۔۔۔۔۔ قوما فسقین (28: 32) ” یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں “۔
یہ پیغام گویا فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے تھا۔ اور یہ اس وعدے کا ایفا ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ” ہم اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے مرسلین میں سے بنانے والے ہیں “۔ اور یہ پختہ وعدہ تھا ، کئی سال گزر گئے کہ یہ طے ہوا تھا۔ لیکن یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمایا کرتا۔ وہ تو سب سے سچی بات کرنے والا ہے۔
اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد آتا ہے کہ انہوں نے تو ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے اور یہ کہ وہ ان سے اس وقت چلے گئے جب گرفتاری کا خطرہ تھا۔ اور اس لیے بھاگ گئے تھے کہ انہوں نے انہیں قتل کرنے کے مشورے شروع کر دئیے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ شروع تھا اور یہ عظیم اعزاز تھا جو انہیں بخشا گیا۔ پھر ان کو دو عظیم معجزات کا اعزاز بھی بخشا گیا۔ اور پھر اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرمائی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مشن کے سلسلے میں ایک عملی دشواری کی طرف سے خدشے کا اظہار کیا۔ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ چھوٹتے ہی انہیں قتل کردیں اور دعوت کا سلسلہ ہی کٹ جائے۔
قال رب ۔۔۔۔۔۔ ان یقتلون (28: 33) ” موسیٰ نے عرض کیا میرے آقا میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں اور ڈرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) منصب نبوت قبول کرنے سے معذرت نہ کر رہے تھے۔ نہ ان کا مقصد یہ تھا کہ پیچھے ہٹ جائیں یا منہ موڑلیں اور نافرمانی کریں بلکہ وہ یقین دہانی چاہئے تھے اور یہ اطمینان چاہتے تھے کہ دعوت کو جاری رہنا چاہئے۔ اور اگر وہ قتل ہوگئے جس طرح خدشہ ہے تو سلسلہ شروع ہی سے ختم ہوجائے گا۔ یہ ان کی جانب سے ایک مناب بات بھی ہے حالانکہ وہ قوی اور امین تھے۔ ڈرنے والے نہ تھے۔
واخی ھرون ۔۔۔۔۔۔ انی اخاف ان یکذبون (28: 34) ” اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہت کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے “۔ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح وبلیغ مقرر ہے اور دعوت کو اچھی طرح پیش کرسکتا ہے ، اسے میرے لیے تائید کنندہ کے طور پر بھیج دے تاکہ وہ میرے دعوائے رسالت کی تائید کرے اور اگر وہ مجھے قتل ہی کردیں تو میرا خلیفہ ہو۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور درخواست قبول کرلی جاتی ہے۔
قال سنشد عضدک ۔۔۔۔۔۔ اتبعکما الغلبون (28: 35) ” فرمایا ! ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سعادت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا “۔ جو واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں ان میں قدرت الہیہ کی معجزانہ قوتیں زیادہ واضح طور پر حضرت موسیٰ کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی اور غلبہ کے پیچھے صرف متعارف اسباب ہی نظر نہ آئیں بلکہ اس پر عالم بالا کی مشیت کا رنگ غالب ہوتا کہ لوگوں کے نظریات کے اندر محض مادی اسباب کے علاوہ آسمانی قوتوں کی مشیت بھی واضح طور پر اہمیت اختیار کرلے۔ لوگوں کو اللہ پر ایمان حاصل ہو اور وہ اللہ پر توکل کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔
یہ خوبصورت اور عظیم منظر ختم ہوجاتا ہے اور زمان و مکان کے فاصلے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اب دربار فرعون میں ہیں۔ اللہ کی واضح آیات لیے ہوئے ہیں۔ اب ہدایت و ضلالت آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان سخت مکالمہ شروع ہے۔ اور اس دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کا فیصلہ یوں ہوتا ہے کہ باطل اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں لازماً وہ لعنت کا مستحق ہوگا۔
القصص 28:31
فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین شاہی محل میں پرورش پائیں ، دشمن کے گھر میں پلیں۔ پھر وہ لوگوں کی غفلت کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور ایک آدمی ان کے ہاتھوں مرگیا۔ پھر ان کے پاس فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص کو بھیجا گیا کہ نکلو تمہارے قتل کی تدابیر ہو رہی ہیں ، یہ تائیدی ایزفی مصر اور مدین تک کے صحرائی سفر میں اس کے ساتھ رہی جبکہ ان کے پاس کوئی زادو عتاد نہ تھا۔ اور پھر مدین کے کنویں پر ان کی ملاقات دختران شیخ سے کرادی گئی اور اس بہترین مربی اور بوڑھے کے ساتھ ان کا دس سالہ معاہدہ ہوگیا اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو طور پر ان کو عظیم مشن سپرد کیا گیا۔
مشن سپرد کرنے کی ندا سے قبل ان پر خدا کا طویل فضل و کرم ہوتا رہا ، ان کو تلقین ہوتی رہی اور تمام آسمانی قوتیں ان کی تائید میں بڑھتی رہیں۔ اور ان کو زندگی کے مختلف تجربات سے دوچار کیا جاتا رہا۔ مہربانی ، محبت اور راہنمائی کا تجربہ ، حالات کے دباؤ میں آکر انتہائی اقدام کرنے کا تجربہ ، نادم ہونے ، احتیاط کرنے اور غلطی پر استغفار کرنے کا تجربہ۔ ڈر ، تعاقب اور پریشانی کا تجربہ ، تنہائی ، مسافری اور بھوک و افلاس کا تجربہ اور دوسروں کی خدمت کرنے اور بکریوں تک چرانے کا تجربہ اور ان بڑے بڑے تجربوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے روز مردہ کے تجربات ، ولی احساسات ، مختلف قسم کے تصورات و خلجانات ، نئی نئی دریافتیں اور معلومات۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ نے جوان ہوتے ہی ان کو علم و حکمت سے نوازا لیا تھا۔ (ایک شاہزادنے کی حیثیت سے نکال کر یہ تجربات کرائے گئے) ۔
حقیقت یہ ہے کہ منصب رسالت ایک ایسا فریضہ اور ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہوتی ہے جس کے متعدد پہلو ہوتے ہیں اور گوناگوں ذمہ داریاں نبی اور رسول پر آن پڑتی ہیں۔ لہٰذا نبی کو علم و فضل ، حکمت و دانائی اور زندگی کے مختلف تجربات اور مختلف لوگوں کی عملی زندگی کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ عملی تجربہ اس لغوی علم و حکمت اور وحی الٰہی سے الگ ہوتا ہے جو ہر نبی کو کرایا جاتا ہے تاکہ نبی کا ضمیر پاک و صاف ہوجائے اور ہدایت نبی کے قلب میں بٹھا دی جائے۔
رسولوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو سپرد کئے جانے والے مشنوں میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذمہ داریاں بہت بھاری اور مشکل ذمہ داری تھی۔ ان کو فرعون جیسے سرکش اور جنار وقہار حکمران کے سامنے جانا تھا۔ یہ اپنے دور کے بادشاہوں میں سے بڑا اور مالدار بادشاہ تھا۔ قدیم شاہی سلسلے کا مالک تھا۔ حکومت نہایت مستحکم تھی اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے مصر اس وقت ترقی یافتہ تھا۔ اس نے تمام پسی ہوئی اقوام کو غلام بنا رکھا تھا اور زمین کے اوپر اس کو مقام بلند حاصل تھا۔
پھر حضرت مو سیٰ علیہ اسلام کو ایک ایسی قوم کی آزادی اور ہجرت کے لیے بھیجا گیا تھا جس کے دل و دماغ میں غلا می رچ بس گئی تھی ۔ وہ غلا مانہ زند گی کے عادی ہوگئے تھے اور ان کا ضمیر پو ری طرح بدل گیا تھا ۔ وہ عملا ایک طو یل زما نے تک غلام رہے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی انسانی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے اندر تعفن اور سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور اس قوم کے احساسات سے گندگی اور تعفن اور سڑاند کا احساس ہی جاتا رہتا ہے ۔ بھلا ئی ، خیر اور جمال اور برتری اس کو راس ہی نہیں آتی ۔ اس طرح کی بگڑی ہو ئی قوم کو اٹھانا معنی دارو۔
آپ کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو قویم زمانہ سے اسلامی نظریہ کی حامل تھی لیکن اس کے اندر نظریاتی انحراف پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے دل دماغ میں اس کی اصل حقیقی صورت وہ نہ رہی تھی ۔ نہ یہ قوم پرانے اسلامی عقیدہ اور شریعت پر قائم تھی اور نہ جدید عقیدے کو صحیح طرح قبول کر رہی تھی ۔ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ ان کے اندر پائے جانے والی کجی کو درست کرنا ، ان کے انحراف کو سیدھا کرنا اور ان کے اصل عقائد کے اوپر سے خرافات کی گہری تہوں کو ہٹانا اس مہم کی مشکل ترین باتیں تھیں۔
مختصر اً یہ کہ حضرت موسیٰ نے بالکل ایک نئی امت کی تعمیر کرنا تھی ۔ بالکل ننے سرے سے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کو ایک خاص قوم ، ایک خاص نظام کی حامل قوم اور ایک خاص رسالت کی حامل امت بنانا تھا اور ظاہر ہے کہ کسی قوم اور امت کی تعمیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا بار بار دہرایا ہے ۔ اس لئے کہ ایک نظریہ کی اساس پر کسی نئی امت کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ایک مخصوص نمونہ تھی ۔ ایسے عظیم کام کی راہ میں داخلی اور خارجی مشکلات ہوتی ہیں ۔ ایسی ہمہ گیر دعوتوں میں کجی بھی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ وہ مخصوص شکل بھی اختیار کرلیتی ہے اور اسے بہت سے تجربات سے بھی گزارنا پڑتا ہے ۔ اور راستے میں مشکلات بھی آتی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی بددیانہ زندگی سے کیوں گزارا گیا تو یہ اس لیے تاکہ وہ عوام الناس کی پر مشقت زندگی کے نشیب و فراز بھی جان لیں اور براہ راست تجربہ بھی حاصل کرلیں ۔
شاہی محلات کی زندگی کی ایک مخصوص فضا ہوتی ہے ، مخصوص آداب اور پروٹوکول ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی درجے کا سلیم الفطرت ، پاک طینت اور صاحب علم و فضل کیوں نہ ہو ، محلات کی زندگی کی پرچھائیں اس پر ضرور پڑتی ہے۔ اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور رہ جاتے ہیں جہاں تک رسالت کا تعلق ہے اس میں ایک رسول کا واسطہ غنی سے بھی پڑتا ہے اور فقیر سے بھی۔ امت میں مالدار بھی ہوتے ہیں اور فقراء بھی ہوتے ہیں۔ اس میں صاف ستھرے بھی ہوتے ہیں اور میل کچیل والے بھی ہوتے ہیں ، مہذب بھی ہوتے ہیں اور وحشی بھی ہوتے ہیں۔ پاک فطرت بھی ہوتے ہیں اور خبیث الفطرت بھی ہوتے ہیں۔ اچھئ بھی اور برے بھی ، قوی بھی اور ضعیف بھی۔ صابر بھی اور جزع و فزع کرنے والے بھی۔ غرض امت میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور نبی نے سب کی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔ فقراء لوگوں کے کھانے پینے ، چلنے پھرنے اور لباس کی الگ عادات ہوتی ہیں۔ وہ معاملات کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے زندگی کا ایک مخصوص تصور ہوتا ہے ، ان کی بات چیت ان کی حرکات و سکنات ، ان کا کلام اور ان کے شعور کا اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ یہ عوامی عادات ان لوگوں پر بہت بھاری ہوتی ہیں ، جنہوں نے محلات میں تربیت پائی ہوئی ہوتی ہے۔ اونچے محلات کے لوگ ، ان کے عوامی انداز کو دیکھنے کے روداد بھی نہیں ہوتے ، چہ جائیکہ وہ انہیں برداشت کریں اور ان کا علاج کریں۔ اگرچہ ان عامی لوگوں کے دل بھلائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ اصلاح پذیر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ظاہری ربگ ڈھنگ ان کی ظاہری عادات ، اونچے محلات والے کو نہیں جچتے۔
ایک رسول کو بعض اوقات مشتقوں ، تنہائیوں اور تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو بڑے بڑے محالات میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں ، ان کے اندر قربانی دینے کا بےپناہ جذبہ کیوں نہ ہو ، وہ بہت طویل عرصے تک تنگ دستی ، محرومی اور عملی زندگی میں مشقتوں کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ محلات کے اندر پر تعیش ، فراوانی اور آرام طلبی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں
چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو محلات کے اس اعلیٰ معیار کی زندگی سے ذرا نیچے لا کر عوامی زندگی کی سطح تک اتارا جائے۔ انہیں فرواہوں کی سوسائٹی کے اندر ڈال دیا جائے اور خوف ، تعاقب اور پکڑے جانے کے ڈر سے فرار کے بعد ایک چرواہے کی زندگی گزارنے کا عادی بنایا جائے جہاں انہیں صرف کھانا اور ٹھکانا ملتا ہے تاکہ شہزادوں کے مزاج میں غربت اور غرباء سے جو کچھاؤ ہوتا ہے وہ دور ہوجائے۔ چرواہوں کی عادات ، ان کے اخلاق ، ان کی درشی اور ان کی سادگی کے بارے میں شہزادوں کے اندر جو ناگواری پائی جاتی ہے وہ دور ہوجائے۔ ان کی جہالت ، غربت ، بدحالی اور مجموعی طور طریقوں سے حضرت موسیٰ شہزادہ اپنے آپ کو بلند اور دور نہ سمجھیں ، اور اس لئے کہ ان کو عوامی زندگی کے گہرے سمندروں کے اندر ڈال دیا جائے جبکہ پہلے وہ انسانی زندگی کے ایک محدود دھادے کے اندر تیرتے رہے تھے تاکہ آنے والی داعیانہ زندگی کے لیے وہ اچھی طرح تیار ہوجائیں۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت نے یہ تجربے مکمل کرلیے اور وہ عوامی زندگی کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہوگئے اور یہ تجربات انہیں ایک غریب الدیار اجنبی کی حیثیت سے دوسرے علاقے میں رہ کر ہوئے تو دست قدرت نے انہیں پھر اپنی جائے پیدائش کی طرف روانہ کیا۔ جہاں ان کے اہل و عیال اور ان کی قوم رہتی تھی۔ اور جہاں انہوں نے مشکل ترین فریضہ رسالت ادا کرنا تھا اب وہ اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس سے وہ بھاگے تھے اور بالکل یکہ و تنہا بھاگتے چلے جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ہی راستے پر وہ کیوں آئے اور واپس ہوئے ؟ یہ دراصل ایک جنگی مشق تھی انہیں اس راستے کے نشیب و فراز اور راہ و گھاٹ سے خبردار کرنا مطلوب تھا۔ کیونکہ قدرت نے طے کر رکھا تھا کہ عنقریب اسی راستے سے موسیٰ نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے سینائی میں داخل ہونا ہے۔ یہ دراصل ہر ادل دستے اور رہبر کی مشق تھی تاکہ حضرت موسیٰ کو خود اپنے سوا کسی اور راہنما کی ضرورت نہ پڑے ، راستہ بتلانے والے کی بھی۔ کیونکہ ان کی قوم ایسی حالت میں جاگری تھی کہ انہیں چھوٹے بڑے سب کاموں میں راہنمائی کی ضرورت تھی اس لئے کہ ذلت ، غلامی اور ماتحتی نے انہیں پوری طرح بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے اندر کوئی تدبر اور کوئی سوچ نہ رہی تھی۔
اب معلوم ہوگیا کہ قدرت الٰہیہ کس طرح اپنی نظروں کے نیچے حضرت موسیٰ کی تربیت کر رہی تھی اور ان کا فریضہ رسالت کی ادائیگی کیلئے کس طرح اچھی تربیت دی گئی۔ اب ذرا دیکھئے کہ حضرت موسیٰ نے واپسی کا سفر کس طرح طے کیا
فلما قضی موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ لعلکم تصطلون (28: 29) ” جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ” ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو “۔
یہاں یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کیا سوچ تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر لوٹنے پر آمادہ کیا۔ مدین میں انہوں نے عرصہ کار پورا کردیا۔ اب وہ مصر لوٹ رہے ہیں حالانکہ وہ مصر سے نہایت ہی خوف کی حالت میں نکلے تھے۔ ان کو تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ یوں واپس ہو رہے تھے کہ شاید وہ اس خطرے کو بھول گئے ہیں جو مصر میں اب بھی ان کو درپیش ہے۔ وہاں انہوں نے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا ہے ، فرعون ابھی زندگہ ہے جو اپنے سرداروں کے ساتھ آپ کے قتل کا مشاورت کر رہا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ عالم بالا کی اپنی سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس بار شاید اہل و عیال اور قوم اور وطن کیلئے فطری مبلان انہیں واپسی پر مجبور کر رہا ہے اور ان کے دل سے وہ خطرات اب محو ہوگئے جن کی بنا پر اس نے یکہ و تنہا یہاں سے فرار اختیار کیا تھا۔ اور یہ دست قدرت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ اس مہم اور منصب کیلئے تیار ہوجائیں جس کیلئے اللہ نے ان کو اول روز پیدا کیا ہے
بہرحال وجہ جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ واپس ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی ہیں۔ رات کا وقت ہے ، سخت اندھیرا ہے۔ یہ قافلہ راستے سے بھٹک گیا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے۔ اس لیے کہ آگ دیکھ کر وہ وہاں سے آگ لانے کے لیے جا رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے پاس جو کوئی ہوگا یا تو راستہ بتا دے گا ورنہ وہ ایک انگارہ لے آئیں گے تاکہ تاب سکیں۔ یہ اس حصے کا پہلا منظر ہے۔
دوسرا منظر نہایت غیر متوقع ہے۔
فلما اتھا نودی ۔۔۔۔۔۔ من الشجرۃ (28: 30) ” وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا “۔ حضرت موسیٰ تو دیکھ رہے ہیں کہ آگ ہے اور یہ وادی طور میں ان کے دائیں جانب ہے۔ اور یہ جگہ نہایت ہی متبرک ہے ، اور یہ وادی بھی آج ہی متبرک ہو رہی ہے ، پوری کائنات لمحہ بھی کے لیے خاموش ہے اور اس کے اندر عالم بالا اور رب ذوالجلال کی یہ آواز گونج رہی ہے ، بظاہر کانوں پر وہ ایک درخت مبارک سے آرہی ہے اور شاید یہ اس علاقے میں واحد درخت ہے۔
ان یموسی انی انا اللہ رب العالمین (28: 30) ” اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا مالک “۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو براہ راست سنا۔ اس گہری اور خاموش وادی میں وہ اکیلے کھڑے تھے۔ نہایت ہی تاریک اور خاموش رات میں۔ یہ آواز پوری کائنات بھی ہر طرف سے اس آواز کو سن رہی تھی ، زمین اور آسمانوں کی دوریوں اور بلندیوں میں یہ آواز گونج رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو پایا ، کس ذریعہ سے پایا ، کس طرح سے سنا ، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ البتہ حضرت موسیٰ کی ذات اور ان ماحول اور پوری کائنات اس سے گونج رہی تھی اور بھری ہوئی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کائنات کی آواز کو پایا اور اس کے متحمل ہوگئے ، کیونکہ ان کو اس کے لیے تیار کرلیا گیا تھا۔ اس کائنات کے ۔۔ نے اس آواز کو ریکارڈ کرلیا ، جہاں اس آواز کو حضرت موسیٰ نے پایا ، وہ جگہ بابرکت ہوگئی۔ یہ جگہ اب مکرم ہوگئی اور حضرت موسیٰ اب نہایت ہی بابرکت اور مکرم جگہ میں کھڑے تھے اور یہ آواز ابھی ختم نہیں ہوئی مکاملہ جاری ہے۔
الق عصاک (28: 31) ” پھینک دے اپنی لاٹھی “۔ حضرت موسیٰ نے باری تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے فوراً لاٹھی پھینک دی۔ دیکھتے کیا ہیں ؟ وہ تو اب ان کی وہ لاٹھی نہیں ہے جو ان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہی اور جس کو وہ یقیناً جانتے تھے کہ یہ ایک عصا ہے۔ عصا نہیں اب تو وہ ایک سانپ ہے جو زمین پر رینگ رہا ہے۔ بڑی تیزی سے ادھر ادھر جا رہا ہے اور یہ اس طرح کروٹیں بدل رہا ہے جس طرح چھوٹے چھوٹے سانپ بدلتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی بڑا سانپ نظر آتا ہے۔
فلما راھا ۔۔۔۔۔۔۔ ولم یعقب (28: 31) ” جو موسیٰ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے ، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا “۔ اس لیے کہ یہ نہایت ہی غیر متوقع صورت حال تھی ، اس کے لیے وہ ذہنا تیار نہ تھے ، پھر آپ کا مزاج بھی انفعالی تھا۔ آپ پر ہر صورت حال کا جلد اثر ہوجاتا تھا۔ آپ اس طرح بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ یہ سانپ ان کی طرف بڑھ بھی رہا ہے یا نہیں تاکہ وہ معلوم کرتے کہ یہ عجیب معجزہ ہے اور اس پر کچھ غور کرتے۔ جو لوگ بھی جلد متاثر ہوجاتے ہیں ان کی روش اسی طرح ہوتی ہے۔ ندائے ربانی جاری ہے۔
یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” موسیٰ پلٹ آ اور خوف نہ کر تو بالکل محفوظ ہے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے خوف اور امن کے یہ تجربے کوئی نئے نہ تھے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں خوف اور امن کے چکروں پر مشتمل ہیں۔ خوف اور امن ان کی پوری زندگی کے موسم ہیں۔ آغاز سے انجام تک اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یوں متاثر ہوجانا بھی حکمت خداوندی پر مبنی اور مطلوب و مقصود تھا۔ ان کی زندگی میں اسی طرح مقدر تھا کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں یہ زیر و بم اور یہ اضطراب اور یہ تلاطم بنی اسرائیل کی جامد ، تقلیدی اور رکی ہوئی زندگی کے بالمقابل قصداً پیدا کیا گیا تھا ۔ یہ قدرت کی تقدیر تھی اور قدرت کی گہری حکمت اور تدبیر پر مبنی تھی۔
اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” واپس آجاؤ “ اور ڈرو نہیں تم محفوظ ہو “۔ کس طرح وہ محفوظ نہ ہوگا جسے دست قدرت آگے بڑھا رہا ہو اور جس کی نگرانی اللہ تعالیٰ خود کر رہا ہو۔ ابھی مکالمہ جاری ہے۔
اسلک یدل فی جیبک تخرج بیضآء من غیر سوء (28: 32) ” اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے “۔ حضرت موسیٰ نے حکم کی اطاعت فرمائی اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالا اور نکالا۔ یہ ان کے لئے اسی وقت دوسرا غیر متوقع منظر تھا کہ ہاتھ سفید اور چمکدار ہے اور بغیر کسی بیماری کے ایسا ہے حالانکہ پہلے وہ گندم گوں تھا۔ ہاتھ کے سفید ہونے میں اشارہ اس طرح تھا کہ حق اور سچائی واضح اور صاف اور روشن دن کی طرح ہے۔
اب موسیٰ (علیہ السلام) جذباتی اور متاثر ہونے والی شخصیت نے اپنا کام دکھایا۔ وہ ان مناظر ، غیر متوقع مناظر کو دیکھ کر ڈر گئے
اور کانپنے لگے۔ ایک بار پھر ربانی ہدایت براہ راست آتی ہے۔ حکم ہوتا کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے بازوؤں کو بھینچ لو ، اس طرح تمہارے دل کی دھڑکن کم ہوگی اور تمہیں پورا اطمینان ہوجائے گا۔
واضمم الیک جناحک من الرھب (28: 32) ” اور خوف سے بچنے کیلئے اپنا بازو بھینچ لو “۔ گویا ان کے ہاتھ ان کا پر ہے جسے وہ سینے کے ساتھ ملا رہے ہیں جس طرح پرندہ مطمئن ہوکر پروں کو جسم سے جوڑ لیتا ہے۔ جب پرندہ پروں کے ساتھ پھڑ پھڑاتا ہے تو اس کی کیفیات کے ساتھ مشابہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم یہاں اس مفہوم کی ایسی ہی تصویر کشی کرتا ہے :
اب موسیٰ (علیہ السلام) باری تعالیٰ کی طرف سے ہدایات پاچکے ہیں اور جو مشاہدات ان کو کرائے گئے وہ مشاہدہ دہ کرچکے ہیں۔ یہ دو نشانیاں اور معجزات تو وہ خود دیکھ چکے ہیں۔ پہلے وہ خود بھی خائف ہوگئے اور ان کا دل دھڑکنے لگا۔ پھر ان کو اطمینان دیا گیا۔ اب ان کو وہ اصل مشن سپرد کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کو ابتدا سے آغاز پیدائش سے تربیت دی جا رہی ہے۔
فذلک برھانن ۔۔۔۔۔۔ قوما فسقین (28: 32) ” یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں “۔
یہ پیغام گویا فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے تھا۔ اور یہ اس وعدے کا ایفا ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ” ہم اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے مرسلین میں سے بنانے والے ہیں “۔ اور یہ پختہ وعدہ تھا ، کئی سال گزر گئے کہ یہ طے ہوا تھا۔ لیکن یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمایا کرتا۔ وہ تو سب سے سچی بات کرنے والا ہے۔
اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد آتا ہے کہ انہوں نے تو ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے اور یہ کہ وہ ان سے اس وقت چلے گئے جب گرفتاری کا خطرہ تھا۔ اور اس لیے بھاگ گئے تھے کہ انہوں نے انہیں قتل کرنے کے مشورے شروع کر دئیے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ شروع تھا اور یہ عظیم اعزاز تھا جو انہیں بخشا گیا۔ پھر ان کو دو عظیم معجزات کا اعزاز بھی بخشا گیا۔ اور پھر اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرمائی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مشن کے سلسلے میں ایک عملی دشواری کی طرف سے خدشے کا اظہار کیا۔ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ چھوٹتے ہی انہیں قتل کردیں اور دعوت کا سلسلہ ہی کٹ جائے۔
قال رب ۔۔۔۔۔۔ ان یقتلون (28: 33) ” موسیٰ نے عرض کیا میرے آقا میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں اور ڈرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) منصب نبوت قبول کرنے سے معذرت نہ کر رہے تھے۔ نہ ان کا مقصد یہ تھا کہ پیچھے ہٹ جائیں یا منہ موڑلیں اور نافرمانی کریں بلکہ وہ یقین دہانی چاہئے تھے اور یہ اطمینان چاہتے تھے کہ دعوت کو جاری رہنا چاہئے۔ اور اگر وہ قتل ہوگئے جس طرح خدشہ ہے تو سلسلہ شروع ہی سے ختم ہوجائے گا۔ یہ ان کی جانب سے ایک مناب بات بھی ہے حالانکہ وہ قوی اور امین تھے۔ ڈرنے والے نہ تھے۔
واخی ھرون ۔۔۔۔۔۔ انی اخاف ان یکذبون (28: 34) ” اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہت کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے “۔ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح وبلیغ مقرر ہے اور دعوت کو اچھی طرح پیش کرسکتا ہے ، اسے میرے لیے تائید کنندہ کے طور پر بھیج دے تاکہ وہ میرے دعوائے رسالت کی تائید کرے اور اگر وہ مجھے قتل ہی کردیں تو میرا خلیفہ ہو۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور درخواست قبول کرلی جاتی ہے۔
قال سنشد عضدک ۔۔۔۔۔۔ اتبعکما الغلبون (28: 35) ” فرمایا ! ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سعادت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا “۔ جو واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں ان میں قدرت الہیہ کی معجزانہ قوتیں زیادہ واضح طور پر حضرت موسیٰ کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی اور غلبہ کے پیچھے صرف متعارف اسباب ہی نظر نہ آئیں بلکہ اس پر عالم بالا کی مشیت کا رنگ غالب ہوتا کہ لوگوں کے نظریات کے اندر محض مادی اسباب کے علاوہ آسمانی قوتوں کی مشیت بھی واضح طور پر اہمیت اختیار کرلے۔ لوگوں کو اللہ پر ایمان حاصل ہو اور وہ اللہ پر توکل کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔
یہ خوبصورت اور عظیم منظر ختم ہوجاتا ہے اور زمان و مکان کے فاصلے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اب دربار فرعون میں ہیں۔ اللہ کی واضح آیات لیے ہوئے ہیں۔ اب ہدایت و ضلالت آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان سخت مکالمہ شروع ہے۔ اور اس دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کا فیصلہ یوں ہوتا ہے کہ باطل اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں لازماً وہ لعنت کا مستحق ہوگا۔
القصص 28:32
فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین شاہی محل میں پرورش پائیں ، دشمن کے گھر میں پلیں۔ پھر وہ لوگوں کی غفلت کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور ایک آدمی ان کے ہاتھوں مرگیا۔ پھر ان کے پاس فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص کو بھیجا گیا کہ نکلو تمہارے قتل کی تدابیر ہو رہی ہیں ، یہ تائیدی ایزفی مصر اور مدین تک کے صحرائی سفر میں اس کے ساتھ رہی جبکہ ان کے پاس کوئی زادو عتاد نہ تھا۔ اور پھر مدین کے کنویں پر ان کی ملاقات دختران شیخ سے کرادی گئی اور اس بہترین مربی اور بوڑھے کے ساتھ ان کا دس سالہ معاہدہ ہوگیا اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو طور پر ان کو عظیم مشن سپرد کیا گیا۔
مشن سپرد کرنے کی ندا سے قبل ان پر خدا کا طویل فضل و کرم ہوتا رہا ، ان کو تلقین ہوتی رہی اور تمام آسمانی قوتیں ان کی تائید میں بڑھتی رہیں۔ اور ان کو زندگی کے مختلف تجربات سے دوچار کیا جاتا رہا۔ مہربانی ، محبت اور راہنمائی کا تجربہ ، حالات کے دباؤ میں آکر انتہائی اقدام کرنے کا تجربہ ، نادم ہونے ، احتیاط کرنے اور غلطی پر استغفار کرنے کا تجربہ۔ ڈر ، تعاقب اور پریشانی کا تجربہ ، تنہائی ، مسافری اور بھوک و افلاس کا تجربہ اور دوسروں کی خدمت کرنے اور بکریوں تک چرانے کا تجربہ اور ان بڑے بڑے تجربوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے روز مردہ کے تجربات ، ولی احساسات ، مختلف قسم کے تصورات و خلجانات ، نئی نئی دریافتیں اور معلومات۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ نے جوان ہوتے ہی ان کو علم و حکمت سے نوازا لیا تھا۔ (ایک شاہزادنے کی حیثیت سے نکال کر یہ تجربات کرائے گئے) ۔
حقیقت یہ ہے کہ منصب رسالت ایک ایسا فریضہ اور ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہوتی ہے جس کے متعدد پہلو ہوتے ہیں اور گوناگوں ذمہ داریاں نبی اور رسول پر آن پڑتی ہیں۔ لہٰذا نبی کو علم و فضل ، حکمت و دانائی اور زندگی کے مختلف تجربات اور مختلف لوگوں کی عملی زندگی کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ عملی تجربہ اس لغوی علم و حکمت اور وحی الٰہی سے الگ ہوتا ہے جو ہر نبی کو کرایا جاتا ہے تاکہ نبی کا ضمیر پاک و صاف ہوجائے اور ہدایت نبی کے قلب میں بٹھا دی جائے۔
رسولوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو سپرد کئے جانے والے مشنوں میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذمہ داریاں بہت بھاری اور مشکل ذمہ داری تھی۔ ان کو فرعون جیسے سرکش اور جنار وقہار حکمران کے سامنے جانا تھا۔ یہ اپنے دور کے بادشاہوں میں سے بڑا اور مالدار بادشاہ تھا۔ قدیم شاہی سلسلے کا مالک تھا۔ حکومت نہایت مستحکم تھی اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے مصر اس وقت ترقی یافتہ تھا۔ اس نے تمام پسی ہوئی اقوام کو غلام بنا رکھا تھا اور زمین کے اوپر اس کو مقام بلند حاصل تھا۔
پھر حضرت مو سیٰ علیہ اسلام کو ایک ایسی قوم کی آزادی اور ہجرت کے لیے بھیجا گیا تھا جس کے دل و دماغ میں غلا می رچ بس گئی تھی ۔ وہ غلا مانہ زند گی کے عادی ہوگئے تھے اور ان کا ضمیر پو ری طرح بدل گیا تھا ۔ وہ عملا ایک طو یل زما نے تک غلام رہے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی انسانی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے اندر تعفن اور سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور اس قوم کے احساسات سے گندگی اور تعفن اور سڑاند کا احساس ہی جاتا رہتا ہے ۔ بھلا ئی ، خیر اور جمال اور برتری اس کو راس ہی نہیں آتی ۔ اس طرح کی بگڑی ہو ئی قوم کو اٹھانا معنی دارو۔
آپ کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو قویم زمانہ سے اسلامی نظریہ کی حامل تھی لیکن اس کے اندر نظریاتی انحراف پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے دل دماغ میں اس کی اصل حقیقی صورت وہ نہ رہی تھی ۔ نہ یہ قوم پرانے اسلامی عقیدہ اور شریعت پر قائم تھی اور نہ جدید عقیدے کو صحیح طرح قبول کر رہی تھی ۔ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ ان کے اندر پائے جانے والی کجی کو درست کرنا ، ان کے انحراف کو سیدھا کرنا اور ان کے اصل عقائد کے اوپر سے خرافات کی گہری تہوں کو ہٹانا اس مہم کی مشکل ترین باتیں تھیں۔
مختصر اً یہ کہ حضرت موسیٰ نے بالکل ایک نئی امت کی تعمیر کرنا تھی ۔ بالکل ننے سرے سے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کو ایک خاص قوم ، ایک خاص نظام کی حامل قوم اور ایک خاص رسالت کی حامل امت بنانا تھا اور ظاہر ہے کہ کسی قوم اور امت کی تعمیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا بار بار دہرایا ہے ۔ اس لئے کہ ایک نظریہ کی اساس پر کسی نئی امت کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ایک مخصوص نمونہ تھی ۔ ایسے عظیم کام کی راہ میں داخلی اور خارجی مشکلات ہوتی ہیں ۔ ایسی ہمہ گیر دعوتوں میں کجی بھی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ وہ مخصوص شکل بھی اختیار کرلیتی ہے اور اسے بہت سے تجربات سے بھی گزارنا پڑتا ہے ۔ اور راستے میں مشکلات بھی آتی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی بددیانہ زندگی سے کیوں گزارا گیا تو یہ اس لیے تاکہ وہ عوام الناس کی پر مشقت زندگی کے نشیب و فراز بھی جان لیں اور براہ راست تجربہ بھی حاصل کرلیں ۔
شاہی محلات کی زندگی کی ایک مخصوص فضا ہوتی ہے ، مخصوص آداب اور پروٹوکول ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی درجے کا سلیم الفطرت ، پاک طینت اور صاحب علم و فضل کیوں نہ ہو ، محلات کی زندگی کی پرچھائیں اس پر ضرور پڑتی ہے۔ اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور رہ جاتے ہیں جہاں تک رسالت کا تعلق ہے اس میں ایک رسول کا واسطہ غنی سے بھی پڑتا ہے اور فقیر سے بھی۔ امت میں مالدار بھی ہوتے ہیں اور فقراء بھی ہوتے ہیں۔ اس میں صاف ستھرے بھی ہوتے ہیں اور میل کچیل والے بھی ہوتے ہیں ، مہذب بھی ہوتے ہیں اور وحشی بھی ہوتے ہیں۔ پاک فطرت بھی ہوتے ہیں اور خبیث الفطرت بھی ہوتے ہیں۔ اچھئ بھی اور برے بھی ، قوی بھی اور ضعیف بھی۔ صابر بھی اور جزع و فزع کرنے والے بھی۔ غرض امت میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور نبی نے سب کی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔ فقراء لوگوں کے کھانے پینے ، چلنے پھرنے اور لباس کی الگ عادات ہوتی ہیں۔ وہ معاملات کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے زندگی کا ایک مخصوص تصور ہوتا ہے ، ان کی بات چیت ان کی حرکات و سکنات ، ان کا کلام اور ان کے شعور کا اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ یہ عوامی عادات ان لوگوں پر بہت بھاری ہوتی ہیں ، جنہوں نے محلات میں تربیت پائی ہوئی ہوتی ہے۔ اونچے محلات کے لوگ ، ان کے عوامی انداز کو دیکھنے کے روداد بھی نہیں ہوتے ، چہ جائیکہ وہ انہیں برداشت کریں اور ان کا علاج کریں۔ اگرچہ ان عامی لوگوں کے دل بھلائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ اصلاح پذیر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ظاہری ربگ ڈھنگ ان کی ظاہری عادات ، اونچے محلات والے کو نہیں جچتے۔
ایک رسول کو بعض اوقات مشتقوں ، تنہائیوں اور تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو بڑے بڑے محالات میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں ، ان کے اندر قربانی دینے کا بےپناہ جذبہ کیوں نہ ہو ، وہ بہت طویل عرصے تک تنگ دستی ، محرومی اور عملی زندگی میں مشقتوں کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ محلات کے اندر پر تعیش ، فراوانی اور آرام طلبی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں
چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو محلات کے اس اعلیٰ معیار کی زندگی سے ذرا نیچے لا کر عوامی زندگی کی سطح تک اتارا جائے۔ انہیں فرواہوں کی سوسائٹی کے اندر ڈال دیا جائے اور خوف ، تعاقب اور پکڑے جانے کے ڈر سے فرار کے بعد ایک چرواہے کی زندگی گزارنے کا عادی بنایا جائے جہاں انہیں صرف کھانا اور ٹھکانا ملتا ہے تاکہ شہزادوں کے مزاج میں غربت اور غرباء سے جو کچھاؤ ہوتا ہے وہ دور ہوجائے۔ چرواہوں کی عادات ، ان کے اخلاق ، ان کی درشی اور ان کی سادگی کے بارے میں شہزادوں کے اندر جو ناگواری پائی جاتی ہے وہ دور ہوجائے۔ ان کی جہالت ، غربت ، بدحالی اور مجموعی طور طریقوں سے حضرت موسیٰ شہزادہ اپنے آپ کو بلند اور دور نہ سمجھیں ، اور اس لئے کہ ان کو عوامی زندگی کے گہرے سمندروں کے اندر ڈال دیا جائے جبکہ پہلے وہ انسانی زندگی کے ایک محدود دھادے کے اندر تیرتے رہے تھے تاکہ آنے والی داعیانہ زندگی کے لیے وہ اچھی طرح تیار ہوجائیں۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت نے یہ تجربے مکمل کرلیے اور وہ عوامی زندگی کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہوگئے اور یہ تجربات انہیں ایک غریب الدیار اجنبی کی حیثیت سے دوسرے علاقے میں رہ کر ہوئے تو دست قدرت نے انہیں پھر اپنی جائے پیدائش کی طرف روانہ کیا۔ جہاں ان کے اہل و عیال اور ان کی قوم رہتی تھی۔ اور جہاں انہوں نے مشکل ترین فریضہ رسالت ادا کرنا تھا اب وہ اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس سے وہ بھاگے تھے اور بالکل یکہ و تنہا بھاگتے چلے جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ہی راستے پر وہ کیوں آئے اور واپس ہوئے ؟ یہ دراصل ایک جنگی مشق تھی انہیں اس راستے کے نشیب و فراز اور راہ و گھاٹ سے خبردار کرنا مطلوب تھا۔ کیونکہ قدرت نے طے کر رکھا تھا کہ عنقریب اسی راستے سے موسیٰ نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے سینائی میں داخل ہونا ہے۔ یہ دراصل ہر ادل دستے اور رہبر کی مشق تھی تاکہ حضرت موسیٰ کو خود اپنے سوا کسی اور راہنما کی ضرورت نہ پڑے ، راستہ بتلانے والے کی بھی۔ کیونکہ ان کی قوم ایسی حالت میں جاگری تھی کہ انہیں چھوٹے بڑے سب کاموں میں راہنمائی کی ضرورت تھی اس لئے کہ ذلت ، غلامی اور ماتحتی نے انہیں پوری طرح بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے اندر کوئی تدبر اور کوئی سوچ نہ رہی تھی۔
اب معلوم ہوگیا کہ قدرت الٰہیہ کس طرح اپنی نظروں کے نیچے حضرت موسیٰ کی تربیت کر رہی تھی اور ان کا فریضہ رسالت کی ادائیگی کیلئے کس طرح اچھی تربیت دی گئی۔ اب ذرا دیکھئے کہ حضرت موسیٰ نے واپسی کا سفر کس طرح طے کیا
فلما قضی موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ لعلکم تصطلون (28: 29) ” جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ” ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو “۔
یہاں یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کیا سوچ تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر لوٹنے پر آمادہ کیا۔ مدین میں انہوں نے عرصہ کار پورا کردیا۔ اب وہ مصر لوٹ رہے ہیں حالانکہ وہ مصر سے نہایت ہی خوف کی حالت میں نکلے تھے۔ ان کو تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ یوں واپس ہو رہے تھے کہ شاید وہ اس خطرے کو بھول گئے ہیں جو مصر میں اب بھی ان کو درپیش ہے۔ وہاں انہوں نے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا ہے ، فرعون ابھی زندگہ ہے جو اپنے سرداروں کے ساتھ آپ کے قتل کا مشاورت کر رہا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ عالم بالا کی اپنی سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس بار شاید اہل و عیال اور قوم اور وطن کیلئے فطری مبلان انہیں واپسی پر مجبور کر رہا ہے اور ان کے دل سے وہ خطرات اب محو ہوگئے جن کی بنا پر اس نے یکہ و تنہا یہاں سے فرار اختیار کیا تھا۔ اور یہ دست قدرت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ اس مہم اور منصب کیلئے تیار ہوجائیں جس کیلئے اللہ نے ان کو اول روز پیدا کیا ہے
بہرحال وجہ جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ واپس ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی ہیں۔ رات کا وقت ہے ، سخت اندھیرا ہے۔ یہ قافلہ راستے سے بھٹک گیا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے۔ اس لیے کہ آگ دیکھ کر وہ وہاں سے آگ لانے کے لیے جا رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے پاس جو کوئی ہوگا یا تو راستہ بتا دے گا ورنہ وہ ایک انگارہ لے آئیں گے تاکہ تاب سکیں۔ یہ اس حصے کا پہلا منظر ہے۔
دوسرا منظر نہایت غیر متوقع ہے۔
فلما اتھا نودی ۔۔۔۔۔۔ من الشجرۃ (28: 30) ” وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا “۔ حضرت موسیٰ تو دیکھ رہے ہیں کہ آگ ہے اور یہ وادی طور میں ان کے دائیں جانب ہے۔ اور یہ جگہ نہایت ہی متبرک ہے ، اور یہ وادی بھی آج ہی متبرک ہو رہی ہے ، پوری کائنات لمحہ بھی کے لیے خاموش ہے اور اس کے اندر عالم بالا اور رب ذوالجلال کی یہ آواز گونج رہی ہے ، بظاہر کانوں پر وہ ایک درخت مبارک سے آرہی ہے اور شاید یہ اس علاقے میں واحد درخت ہے۔
ان یموسی انی انا اللہ رب العالمین (28: 30) ” اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا مالک “۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو براہ راست سنا۔ اس گہری اور خاموش وادی میں وہ اکیلے کھڑے تھے۔ نہایت ہی تاریک اور خاموش رات میں۔ یہ آواز پوری کائنات بھی ہر طرف سے اس آواز کو سن رہی تھی ، زمین اور آسمانوں کی دوریوں اور بلندیوں میں یہ آواز گونج رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو پایا ، کس ذریعہ سے پایا ، کس طرح سے سنا ، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ البتہ حضرت موسیٰ کی ذات اور ان ماحول اور پوری کائنات اس سے گونج رہی تھی اور بھری ہوئی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کائنات کی آواز کو پایا اور اس کے متحمل ہوگئے ، کیونکہ ان کو اس کے لیے تیار کرلیا گیا تھا۔ اس کائنات کے ۔۔ نے اس آواز کو ریکارڈ کرلیا ، جہاں اس آواز کو حضرت موسیٰ نے پایا ، وہ جگہ بابرکت ہوگئی۔ یہ جگہ اب مکرم ہوگئی اور حضرت موسیٰ اب نہایت ہی بابرکت اور مکرم جگہ میں کھڑے تھے اور یہ آواز ابھی ختم نہیں ہوئی مکاملہ جاری ہے۔
الق عصاک (28: 31) ” پھینک دے اپنی لاٹھی “۔ حضرت موسیٰ نے باری تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے فوراً لاٹھی پھینک دی۔ دیکھتے کیا ہیں ؟ وہ تو اب ان کی وہ لاٹھی نہیں ہے جو ان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہی اور جس کو وہ یقیناً جانتے تھے کہ یہ ایک عصا ہے۔ عصا نہیں اب تو وہ ایک سانپ ہے جو زمین پر رینگ رہا ہے۔ بڑی تیزی سے ادھر ادھر جا رہا ہے اور یہ اس طرح کروٹیں بدل رہا ہے جس طرح چھوٹے چھوٹے سانپ بدلتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی بڑا سانپ نظر آتا ہے۔
فلما راھا ۔۔۔۔۔۔۔ ولم یعقب (28: 31) ” جو موسیٰ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے ، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا “۔ اس لیے کہ یہ نہایت ہی غیر متوقع صورت حال تھی ، اس کے لیے وہ ذہنا تیار نہ تھے ، پھر آپ کا مزاج بھی انفعالی تھا۔ آپ پر ہر صورت حال کا جلد اثر ہوجاتا تھا۔ آپ اس طرح بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ یہ سانپ ان کی طرف بڑھ بھی رہا ہے یا نہیں تاکہ وہ معلوم کرتے کہ یہ عجیب معجزہ ہے اور اس پر کچھ غور کرتے۔ جو لوگ بھی جلد متاثر ہوجاتے ہیں ان کی روش اسی طرح ہوتی ہے۔ ندائے ربانی جاری ہے۔
یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” موسیٰ پلٹ آ اور خوف نہ کر تو بالکل محفوظ ہے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے خوف اور امن کے یہ تجربے کوئی نئے نہ تھے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں خوف اور امن کے چکروں پر مشتمل ہیں۔ خوف اور امن ان کی پوری زندگی کے موسم ہیں۔ آغاز سے انجام تک اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یوں متاثر ہوجانا بھی حکمت خداوندی پر مبنی اور مطلوب و مقصود تھا۔ ان کی زندگی میں اسی طرح مقدر تھا کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں یہ زیر و بم اور یہ اضطراب اور یہ تلاطم بنی اسرائیل کی جامد ، تقلیدی اور رکی ہوئی زندگی کے بالمقابل قصداً پیدا کیا گیا تھا ۔ یہ قدرت کی تقدیر تھی اور قدرت کی گہری حکمت اور تدبیر پر مبنی تھی۔
اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” واپس آجاؤ “ اور ڈرو نہیں تم محفوظ ہو “۔ کس طرح وہ محفوظ نہ ہوگا جسے دست قدرت آگے بڑھا رہا ہو اور جس کی نگرانی اللہ تعالیٰ خود کر رہا ہو۔ ابھی مکالمہ جاری ہے۔
اسلک یدل فی جیبک تخرج بیضآء من غیر سوء (28: 32) ” اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے “۔ حضرت موسیٰ نے حکم کی اطاعت فرمائی اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالا اور نکالا۔ یہ ان کے لئے اسی وقت دوسرا غیر متوقع منظر تھا کہ ہاتھ سفید اور چمکدار ہے اور بغیر کسی بیماری کے ایسا ہے حالانکہ پہلے وہ گندم گوں تھا۔ ہاتھ کے سفید ہونے میں اشارہ اس طرح تھا کہ حق اور سچائی واضح اور صاف اور روشن دن کی طرح ہے۔
اب موسیٰ (علیہ السلام) جذباتی اور متاثر ہونے والی شخصیت نے اپنا کام دکھایا۔ وہ ان مناظر ، غیر متوقع مناظر کو دیکھ کر ڈر گئے
اور کانپنے لگے۔ ایک بار پھر ربانی ہدایت براہ راست آتی ہے۔ حکم ہوتا کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے بازوؤں کو بھینچ لو ، اس طرح تمہارے دل کی دھڑکن کم ہوگی اور تمہیں پورا اطمینان ہوجائے گا۔
واضمم الیک جناحک من الرھب (28: 32) ” اور خوف سے بچنے کیلئے اپنا بازو بھینچ لو “۔ گویا ان کے ہاتھ ان کا پر ہے جسے وہ سینے کے ساتھ ملا رہے ہیں جس طرح پرندہ مطمئن ہوکر پروں کو جسم سے جوڑ لیتا ہے۔ جب پرندہ پروں کے ساتھ پھڑ پھڑاتا ہے تو اس کی کیفیات کے ساتھ مشابہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم یہاں اس مفہوم کی ایسی ہی تصویر کشی کرتا ہے :
اب موسیٰ (علیہ السلام) باری تعالیٰ کی طرف سے ہدایات پاچکے ہیں اور جو مشاہدات ان کو کرائے گئے وہ مشاہدہ دہ کرچکے ہیں۔ یہ دو نشانیاں اور معجزات تو وہ خود دیکھ چکے ہیں۔ پہلے وہ خود بھی خائف ہوگئے اور ان کا دل دھڑکنے لگا۔ پھر ان کو اطمینان دیا گیا۔ اب ان کو وہ اصل مشن سپرد کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کو ابتدا سے آغاز پیدائش سے تربیت دی جا رہی ہے۔
فذلک برھانن ۔۔۔۔۔۔ قوما فسقین (28: 32) ” یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں “۔
یہ پیغام گویا فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے تھا۔ اور یہ اس وعدے کا ایفا ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ” ہم اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے مرسلین میں سے بنانے والے ہیں “۔ اور یہ پختہ وعدہ تھا ، کئی سال گزر گئے کہ یہ طے ہوا تھا۔ لیکن یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمایا کرتا۔ وہ تو سب سے سچی بات کرنے والا ہے۔
اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد آتا ہے کہ انہوں نے تو ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے اور یہ کہ وہ ان سے اس وقت چلے گئے جب گرفتاری کا خطرہ تھا۔ اور اس لیے بھاگ گئے تھے کہ انہوں نے انہیں قتل کرنے کے مشورے شروع کر دئیے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ شروع تھا اور یہ عظیم اعزاز تھا جو انہیں بخشا گیا۔ پھر ان کو دو عظیم معجزات کا اعزاز بھی بخشا گیا۔ اور پھر اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرمائی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مشن کے سلسلے میں ایک عملی دشواری کی طرف سے خدشے کا اظہار کیا۔ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ چھوٹتے ہی انہیں قتل کردیں اور دعوت کا سلسلہ ہی کٹ جائے۔
قال رب ۔۔۔۔۔۔ ان یقتلون (28: 33) ” موسیٰ نے عرض کیا میرے آقا میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں اور ڈرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) منصب نبوت قبول کرنے سے معذرت نہ کر رہے تھے۔ نہ ان کا مقصد یہ تھا کہ پیچھے ہٹ جائیں یا منہ موڑلیں اور نافرمانی کریں بلکہ وہ یقین دہانی چاہئے تھے اور یہ اطمینان چاہتے تھے کہ دعوت کو جاری رہنا چاہئے۔ اور اگر وہ قتل ہوگئے جس طرح خدشہ ہے تو سلسلہ شروع ہی سے ختم ہوجائے گا۔ یہ ان کی جانب سے ایک مناب بات بھی ہے حالانکہ وہ قوی اور امین تھے۔ ڈرنے والے نہ تھے۔
واخی ھرون ۔۔۔۔۔۔ انی اخاف ان یکذبون (28: 34) ” اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہت کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے “۔ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح وبلیغ مقرر ہے اور دعوت کو اچھی طرح پیش کرسکتا ہے ، اسے میرے لیے تائید کنندہ کے طور پر بھیج دے تاکہ وہ میرے دعوائے رسالت کی تائید کرے اور اگر وہ مجھے قتل ہی کردیں تو میرا خلیفہ ہو۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور درخواست قبول کرلی جاتی ہے۔
قال سنشد عضدک ۔۔۔۔۔۔ اتبعکما الغلبون (28: 35) ” فرمایا ! ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سعادت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا “۔ جو واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں ان میں قدرت الہیہ کی معجزانہ قوتیں زیادہ واضح طور پر حضرت موسیٰ کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی اور غلبہ کے پیچھے صرف متعارف اسباب ہی نظر نہ آئیں بلکہ اس پر عالم بالا کی مشیت کا رنگ غالب ہوتا کہ لوگوں کے نظریات کے اندر محض مادی اسباب کے علاوہ آسمانی قوتوں کی مشیت بھی واضح طور پر اہمیت اختیار کرلے۔ لوگوں کو اللہ پر ایمان حاصل ہو اور وہ اللہ پر توکل کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔
یہ خوبصورت اور عظیم منظر ختم ہوجاتا ہے اور زمان و مکان کے فاصلے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اب دربار فرعون میں ہیں۔ اللہ کی واضح آیات لیے ہوئے ہیں۔ اب ہدایت و ضلالت آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان سخت مکالمہ شروع ہے۔ اور اس دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کا فیصلہ یوں ہوتا ہے کہ باطل اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں لازماً وہ لعنت کا مستحق ہوگا۔
القصص 28:33
فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین شاہی محل میں پرورش پائیں ، دشمن کے گھر میں پلیں۔ پھر وہ لوگوں کی غفلت کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور ایک آدمی ان کے ہاتھوں مرگیا۔ پھر ان کے پاس فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص کو بھیجا گیا کہ نکلو تمہارے قتل کی تدابیر ہو رہی ہیں ، یہ تائیدی ایزفی مصر اور مدین تک کے صحرائی سفر میں اس کے ساتھ رہی جبکہ ان کے پاس کوئی زادو عتاد نہ تھا۔ اور پھر مدین کے کنویں پر ان کی ملاقات دختران شیخ سے کرادی گئی اور اس بہترین مربی اور بوڑھے کے ساتھ ان کا دس سالہ معاہدہ ہوگیا اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو طور پر ان کو عظیم مشن سپرد کیا گیا۔
مشن سپرد کرنے کی ندا سے قبل ان پر خدا کا طویل فضل و کرم ہوتا رہا ، ان کو تلقین ہوتی رہی اور تمام آسمانی قوتیں ان کی تائید میں بڑھتی رہیں۔ اور ان کو زندگی کے مختلف تجربات سے دوچار کیا جاتا رہا۔ مہربانی ، محبت اور راہنمائی کا تجربہ ، حالات کے دباؤ میں آکر انتہائی اقدام کرنے کا تجربہ ، نادم ہونے ، احتیاط کرنے اور غلطی پر استغفار کرنے کا تجربہ۔ ڈر ، تعاقب اور پریشانی کا تجربہ ، تنہائی ، مسافری اور بھوک و افلاس کا تجربہ اور دوسروں کی خدمت کرنے اور بکریوں تک چرانے کا تجربہ اور ان بڑے بڑے تجربوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے روز مردہ کے تجربات ، ولی احساسات ، مختلف قسم کے تصورات و خلجانات ، نئی نئی دریافتیں اور معلومات۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ نے جوان ہوتے ہی ان کو علم و حکمت سے نوازا لیا تھا۔ (ایک شاہزادنے کی حیثیت سے نکال کر یہ تجربات کرائے گئے) ۔
حقیقت یہ ہے کہ منصب رسالت ایک ایسا فریضہ اور ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہوتی ہے جس کے متعدد پہلو ہوتے ہیں اور گوناگوں ذمہ داریاں نبی اور رسول پر آن پڑتی ہیں۔ لہٰذا نبی کو علم و فضل ، حکمت و دانائی اور زندگی کے مختلف تجربات اور مختلف لوگوں کی عملی زندگی کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ عملی تجربہ اس لغوی علم و حکمت اور وحی الٰہی سے الگ ہوتا ہے جو ہر نبی کو کرایا جاتا ہے تاکہ نبی کا ضمیر پاک و صاف ہوجائے اور ہدایت نبی کے قلب میں بٹھا دی جائے۔
رسولوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو سپرد کئے جانے والے مشنوں میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذمہ داریاں بہت بھاری اور مشکل ذمہ داری تھی۔ ان کو فرعون جیسے سرکش اور جنار وقہار حکمران کے سامنے جانا تھا۔ یہ اپنے دور کے بادشاہوں میں سے بڑا اور مالدار بادشاہ تھا۔ قدیم شاہی سلسلے کا مالک تھا۔ حکومت نہایت مستحکم تھی اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے مصر اس وقت ترقی یافتہ تھا۔ اس نے تمام پسی ہوئی اقوام کو غلام بنا رکھا تھا اور زمین کے اوپر اس کو مقام بلند حاصل تھا۔
پھر حضرت مو سیٰ علیہ اسلام کو ایک ایسی قوم کی آزادی اور ہجرت کے لیے بھیجا گیا تھا جس کے دل و دماغ میں غلا می رچ بس گئی تھی ۔ وہ غلا مانہ زند گی کے عادی ہوگئے تھے اور ان کا ضمیر پو ری طرح بدل گیا تھا ۔ وہ عملا ایک طو یل زما نے تک غلام رہے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی انسانی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے اندر تعفن اور سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور اس قوم کے احساسات سے گندگی اور تعفن اور سڑاند کا احساس ہی جاتا رہتا ہے ۔ بھلا ئی ، خیر اور جمال اور برتری اس کو راس ہی نہیں آتی ۔ اس طرح کی بگڑی ہو ئی قوم کو اٹھانا معنی دارو۔
آپ کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو قویم زمانہ سے اسلامی نظریہ کی حامل تھی لیکن اس کے اندر نظریاتی انحراف پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے دل دماغ میں اس کی اصل حقیقی صورت وہ نہ رہی تھی ۔ نہ یہ قوم پرانے اسلامی عقیدہ اور شریعت پر قائم تھی اور نہ جدید عقیدے کو صحیح طرح قبول کر رہی تھی ۔ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ ان کے اندر پائے جانے والی کجی کو درست کرنا ، ان کے انحراف کو سیدھا کرنا اور ان کے اصل عقائد کے اوپر سے خرافات کی گہری تہوں کو ہٹانا اس مہم کی مشکل ترین باتیں تھیں۔
مختصر اً یہ کہ حضرت موسیٰ نے بالکل ایک نئی امت کی تعمیر کرنا تھی ۔ بالکل ننے سرے سے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کو ایک خاص قوم ، ایک خاص نظام کی حامل قوم اور ایک خاص رسالت کی حامل امت بنانا تھا اور ظاہر ہے کہ کسی قوم اور امت کی تعمیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا بار بار دہرایا ہے ۔ اس لئے کہ ایک نظریہ کی اساس پر کسی نئی امت کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ایک مخصوص نمونہ تھی ۔ ایسے عظیم کام کی راہ میں داخلی اور خارجی مشکلات ہوتی ہیں ۔ ایسی ہمہ گیر دعوتوں میں کجی بھی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ وہ مخصوص شکل بھی اختیار کرلیتی ہے اور اسے بہت سے تجربات سے بھی گزارنا پڑتا ہے ۔ اور راستے میں مشکلات بھی آتی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی بددیانہ زندگی سے کیوں گزارا گیا تو یہ اس لیے تاکہ وہ عوام الناس کی پر مشقت زندگی کے نشیب و فراز بھی جان لیں اور براہ راست تجربہ بھی حاصل کرلیں ۔
شاہی محلات کی زندگی کی ایک مخصوص فضا ہوتی ہے ، مخصوص آداب اور پروٹوکول ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی درجے کا سلیم الفطرت ، پاک طینت اور صاحب علم و فضل کیوں نہ ہو ، محلات کی زندگی کی پرچھائیں اس پر ضرور پڑتی ہے۔ اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور رہ جاتے ہیں جہاں تک رسالت کا تعلق ہے اس میں ایک رسول کا واسطہ غنی سے بھی پڑتا ہے اور فقیر سے بھی۔ امت میں مالدار بھی ہوتے ہیں اور فقراء بھی ہوتے ہیں۔ اس میں صاف ستھرے بھی ہوتے ہیں اور میل کچیل والے بھی ہوتے ہیں ، مہذب بھی ہوتے ہیں اور وحشی بھی ہوتے ہیں۔ پاک فطرت بھی ہوتے ہیں اور خبیث الفطرت بھی ہوتے ہیں۔ اچھئ بھی اور برے بھی ، قوی بھی اور ضعیف بھی۔ صابر بھی اور جزع و فزع کرنے والے بھی۔ غرض امت میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور نبی نے سب کی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔ فقراء لوگوں کے کھانے پینے ، چلنے پھرنے اور لباس کی الگ عادات ہوتی ہیں۔ وہ معاملات کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے زندگی کا ایک مخصوص تصور ہوتا ہے ، ان کی بات چیت ان کی حرکات و سکنات ، ان کا کلام اور ان کے شعور کا اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ یہ عوامی عادات ان لوگوں پر بہت بھاری ہوتی ہیں ، جنہوں نے محلات میں تربیت پائی ہوئی ہوتی ہے۔ اونچے محلات کے لوگ ، ان کے عوامی انداز کو دیکھنے کے روداد بھی نہیں ہوتے ، چہ جائیکہ وہ انہیں برداشت کریں اور ان کا علاج کریں۔ اگرچہ ان عامی لوگوں کے دل بھلائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ اصلاح پذیر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ظاہری ربگ ڈھنگ ان کی ظاہری عادات ، اونچے محلات والے کو نہیں جچتے۔
ایک رسول کو بعض اوقات مشتقوں ، تنہائیوں اور تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو بڑے بڑے محالات میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں ، ان کے اندر قربانی دینے کا بےپناہ جذبہ کیوں نہ ہو ، وہ بہت طویل عرصے تک تنگ دستی ، محرومی اور عملی زندگی میں مشقتوں کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ محلات کے اندر پر تعیش ، فراوانی اور آرام طلبی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں
چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو محلات کے اس اعلیٰ معیار کی زندگی سے ذرا نیچے لا کر عوامی زندگی کی سطح تک اتارا جائے۔ انہیں فرواہوں کی سوسائٹی کے اندر ڈال دیا جائے اور خوف ، تعاقب اور پکڑے جانے کے ڈر سے فرار کے بعد ایک چرواہے کی زندگی گزارنے کا عادی بنایا جائے جہاں انہیں صرف کھانا اور ٹھکانا ملتا ہے تاکہ شہزادوں کے مزاج میں غربت اور غرباء سے جو کچھاؤ ہوتا ہے وہ دور ہوجائے۔ چرواہوں کی عادات ، ان کے اخلاق ، ان کی درشی اور ان کی سادگی کے بارے میں شہزادوں کے اندر جو ناگواری پائی جاتی ہے وہ دور ہوجائے۔ ان کی جہالت ، غربت ، بدحالی اور مجموعی طور طریقوں سے حضرت موسیٰ شہزادہ اپنے آپ کو بلند اور دور نہ سمجھیں ، اور اس لئے کہ ان کو عوامی زندگی کے گہرے سمندروں کے اندر ڈال دیا جائے جبکہ پہلے وہ انسانی زندگی کے ایک محدود دھادے کے اندر تیرتے رہے تھے تاکہ آنے والی داعیانہ زندگی کے لیے وہ اچھی طرح تیار ہوجائیں۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت نے یہ تجربے مکمل کرلیے اور وہ عوامی زندگی کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہوگئے اور یہ تجربات انہیں ایک غریب الدیار اجنبی کی حیثیت سے دوسرے علاقے میں رہ کر ہوئے تو دست قدرت نے انہیں پھر اپنی جائے پیدائش کی طرف روانہ کیا۔ جہاں ان کے اہل و عیال اور ان کی قوم رہتی تھی۔ اور جہاں انہوں نے مشکل ترین فریضہ رسالت ادا کرنا تھا اب وہ اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس سے وہ بھاگے تھے اور بالکل یکہ و تنہا بھاگتے چلے جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ہی راستے پر وہ کیوں آئے اور واپس ہوئے ؟ یہ دراصل ایک جنگی مشق تھی انہیں اس راستے کے نشیب و فراز اور راہ و گھاٹ سے خبردار کرنا مطلوب تھا۔ کیونکہ قدرت نے طے کر رکھا تھا کہ عنقریب اسی راستے سے موسیٰ نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے سینائی میں داخل ہونا ہے۔ یہ دراصل ہر ادل دستے اور رہبر کی مشق تھی تاکہ حضرت موسیٰ کو خود اپنے سوا کسی اور راہنما کی ضرورت نہ پڑے ، راستہ بتلانے والے کی بھی۔ کیونکہ ان کی قوم ایسی حالت میں جاگری تھی کہ انہیں چھوٹے بڑے سب کاموں میں راہنمائی کی ضرورت تھی اس لئے کہ ذلت ، غلامی اور ماتحتی نے انہیں پوری طرح بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے اندر کوئی تدبر اور کوئی سوچ نہ رہی تھی۔
اب معلوم ہوگیا کہ قدرت الٰہیہ کس طرح اپنی نظروں کے نیچے حضرت موسیٰ کی تربیت کر رہی تھی اور ان کا فریضہ رسالت کی ادائیگی کیلئے کس طرح اچھی تربیت دی گئی۔ اب ذرا دیکھئے کہ حضرت موسیٰ نے واپسی کا سفر کس طرح طے کیا
فلما قضی موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ لعلکم تصطلون (28: 29) ” جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ” ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو “۔
یہاں یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کیا سوچ تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر لوٹنے پر آمادہ کیا۔ مدین میں انہوں نے عرصہ کار پورا کردیا۔ اب وہ مصر لوٹ رہے ہیں حالانکہ وہ مصر سے نہایت ہی خوف کی حالت میں نکلے تھے۔ ان کو تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ یوں واپس ہو رہے تھے کہ شاید وہ اس خطرے کو بھول گئے ہیں جو مصر میں اب بھی ان کو درپیش ہے۔ وہاں انہوں نے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا ہے ، فرعون ابھی زندگہ ہے جو اپنے سرداروں کے ساتھ آپ کے قتل کا مشاورت کر رہا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ عالم بالا کی اپنی سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس بار شاید اہل و عیال اور قوم اور وطن کیلئے فطری مبلان انہیں واپسی پر مجبور کر رہا ہے اور ان کے دل سے وہ خطرات اب محو ہوگئے جن کی بنا پر اس نے یکہ و تنہا یہاں سے فرار اختیار کیا تھا۔ اور یہ دست قدرت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ اس مہم اور منصب کیلئے تیار ہوجائیں جس کیلئے اللہ نے ان کو اول روز پیدا کیا ہے
بہرحال وجہ جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ واپس ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی ہیں۔ رات کا وقت ہے ، سخت اندھیرا ہے۔ یہ قافلہ راستے سے بھٹک گیا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے۔ اس لیے کہ آگ دیکھ کر وہ وہاں سے آگ لانے کے لیے جا رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے پاس جو کوئی ہوگا یا تو راستہ بتا دے گا ورنہ وہ ایک انگارہ لے آئیں گے تاکہ تاب سکیں۔ یہ اس حصے کا پہلا منظر ہے۔
دوسرا منظر نہایت غیر متوقع ہے۔
فلما اتھا نودی ۔۔۔۔۔۔ من الشجرۃ (28: 30) ” وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا “۔ حضرت موسیٰ تو دیکھ رہے ہیں کہ آگ ہے اور یہ وادی طور میں ان کے دائیں جانب ہے۔ اور یہ جگہ نہایت ہی متبرک ہے ، اور یہ وادی بھی آج ہی متبرک ہو رہی ہے ، پوری کائنات لمحہ بھی کے لیے خاموش ہے اور اس کے اندر عالم بالا اور رب ذوالجلال کی یہ آواز گونج رہی ہے ، بظاہر کانوں پر وہ ایک درخت مبارک سے آرہی ہے اور شاید یہ اس علاقے میں واحد درخت ہے۔
ان یموسی انی انا اللہ رب العالمین (28: 30) ” اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا مالک “۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو براہ راست سنا۔ اس گہری اور خاموش وادی میں وہ اکیلے کھڑے تھے۔ نہایت ہی تاریک اور خاموش رات میں۔ یہ آواز پوری کائنات بھی ہر طرف سے اس آواز کو سن رہی تھی ، زمین اور آسمانوں کی دوریوں اور بلندیوں میں یہ آواز گونج رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو پایا ، کس ذریعہ سے پایا ، کس طرح سے سنا ، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ البتہ حضرت موسیٰ کی ذات اور ان ماحول اور پوری کائنات اس سے گونج رہی تھی اور بھری ہوئی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کائنات کی آواز کو پایا اور اس کے متحمل ہوگئے ، کیونکہ ان کو اس کے لیے تیار کرلیا گیا تھا۔ اس کائنات کے ۔۔ نے اس آواز کو ریکارڈ کرلیا ، جہاں اس آواز کو حضرت موسیٰ نے پایا ، وہ جگہ بابرکت ہوگئی۔ یہ جگہ اب مکرم ہوگئی اور حضرت موسیٰ اب نہایت ہی بابرکت اور مکرم جگہ میں کھڑے تھے اور یہ آواز ابھی ختم نہیں ہوئی مکاملہ جاری ہے۔
الق عصاک (28: 31) ” پھینک دے اپنی لاٹھی “۔ حضرت موسیٰ نے باری تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے فوراً لاٹھی پھینک دی۔ دیکھتے کیا ہیں ؟ وہ تو اب ان کی وہ لاٹھی نہیں ہے جو ان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہی اور جس کو وہ یقیناً جانتے تھے کہ یہ ایک عصا ہے۔ عصا نہیں اب تو وہ ایک سانپ ہے جو زمین پر رینگ رہا ہے۔ بڑی تیزی سے ادھر ادھر جا رہا ہے اور یہ اس طرح کروٹیں بدل رہا ہے جس طرح چھوٹے چھوٹے سانپ بدلتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی بڑا سانپ نظر آتا ہے۔
فلما راھا ۔۔۔۔۔۔۔ ولم یعقب (28: 31) ” جو موسیٰ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے ، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا “۔ اس لیے کہ یہ نہایت ہی غیر متوقع صورت حال تھی ، اس کے لیے وہ ذہنا تیار نہ تھے ، پھر آپ کا مزاج بھی انفعالی تھا۔ آپ پر ہر صورت حال کا جلد اثر ہوجاتا تھا۔ آپ اس طرح بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ یہ سانپ ان کی طرف بڑھ بھی رہا ہے یا نہیں تاکہ وہ معلوم کرتے کہ یہ عجیب معجزہ ہے اور اس پر کچھ غور کرتے۔ جو لوگ بھی جلد متاثر ہوجاتے ہیں ان کی روش اسی طرح ہوتی ہے۔ ندائے ربانی جاری ہے۔
یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” موسیٰ پلٹ آ اور خوف نہ کر تو بالکل محفوظ ہے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے خوف اور امن کے یہ تجربے کوئی نئے نہ تھے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں خوف اور امن کے چکروں پر مشتمل ہیں۔ خوف اور امن ان کی پوری زندگی کے موسم ہیں۔ آغاز سے انجام تک اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یوں متاثر ہوجانا بھی حکمت خداوندی پر مبنی اور مطلوب و مقصود تھا۔ ان کی زندگی میں اسی طرح مقدر تھا کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں یہ زیر و بم اور یہ اضطراب اور یہ تلاطم بنی اسرائیل کی جامد ، تقلیدی اور رکی ہوئی زندگی کے بالمقابل قصداً پیدا کیا گیا تھا ۔ یہ قدرت کی تقدیر تھی اور قدرت کی گہری حکمت اور تدبیر پر مبنی تھی۔
اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” واپس آجاؤ “ اور ڈرو نہیں تم محفوظ ہو “۔ کس طرح وہ محفوظ نہ ہوگا جسے دست قدرت آگے بڑھا رہا ہو اور جس کی نگرانی اللہ تعالیٰ خود کر رہا ہو۔ ابھی مکالمہ جاری ہے۔
اسلک یدل فی جیبک تخرج بیضآء من غیر سوء (28: 32) ” اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے “۔ حضرت موسیٰ نے حکم کی اطاعت فرمائی اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالا اور نکالا۔ یہ ان کے لئے اسی وقت دوسرا غیر متوقع منظر تھا کہ ہاتھ سفید اور چمکدار ہے اور بغیر کسی بیماری کے ایسا ہے حالانکہ پہلے وہ گندم گوں تھا۔ ہاتھ کے سفید ہونے میں اشارہ اس طرح تھا کہ حق اور سچائی واضح اور صاف اور روشن دن کی طرح ہے۔
اب موسیٰ (علیہ السلام) جذباتی اور متاثر ہونے والی شخصیت نے اپنا کام دکھایا۔ وہ ان مناظر ، غیر متوقع مناظر کو دیکھ کر ڈر گئے
اور کانپنے لگے۔ ایک بار پھر ربانی ہدایت براہ راست آتی ہے۔ حکم ہوتا کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے بازوؤں کو بھینچ لو ، اس طرح تمہارے دل کی دھڑکن کم ہوگی اور تمہیں پورا اطمینان ہوجائے گا۔
واضمم الیک جناحک من الرھب (28: 32) ” اور خوف سے بچنے کیلئے اپنا بازو بھینچ لو “۔ گویا ان کے ہاتھ ان کا پر ہے جسے وہ سینے کے ساتھ ملا رہے ہیں جس طرح پرندہ مطمئن ہوکر پروں کو جسم سے جوڑ لیتا ہے۔ جب پرندہ پروں کے ساتھ پھڑ پھڑاتا ہے تو اس کی کیفیات کے ساتھ مشابہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم یہاں اس مفہوم کی ایسی ہی تصویر کشی کرتا ہے :
اب موسیٰ (علیہ السلام) باری تعالیٰ کی طرف سے ہدایات پاچکے ہیں اور جو مشاہدات ان کو کرائے گئے وہ مشاہدہ دہ کرچکے ہیں۔ یہ دو نشانیاں اور معجزات تو وہ خود دیکھ چکے ہیں۔ پہلے وہ خود بھی خائف ہوگئے اور ان کا دل دھڑکنے لگا۔ پھر ان کو اطمینان دیا گیا۔ اب ان کو وہ اصل مشن سپرد کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کو ابتدا سے آغاز پیدائش سے تربیت دی جا رہی ہے۔
فذلک برھانن ۔۔۔۔۔۔ قوما فسقین (28: 32) ” یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں “۔
یہ پیغام گویا فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے تھا۔ اور یہ اس وعدے کا ایفا ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ” ہم اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے مرسلین میں سے بنانے والے ہیں “۔ اور یہ پختہ وعدہ تھا ، کئی سال گزر گئے کہ یہ طے ہوا تھا۔ لیکن یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمایا کرتا۔ وہ تو سب سے سچی بات کرنے والا ہے۔
اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد آتا ہے کہ انہوں نے تو ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے اور یہ کہ وہ ان سے اس وقت چلے گئے جب گرفتاری کا خطرہ تھا۔ اور اس لیے بھاگ گئے تھے کہ انہوں نے انہیں قتل کرنے کے مشورے شروع کر دئیے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ شروع تھا اور یہ عظیم اعزاز تھا جو انہیں بخشا گیا۔ پھر ان کو دو عظیم معجزات کا اعزاز بھی بخشا گیا۔ اور پھر اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرمائی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مشن کے سلسلے میں ایک عملی دشواری کی طرف سے خدشے کا اظہار کیا۔ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ چھوٹتے ہی انہیں قتل کردیں اور دعوت کا سلسلہ ہی کٹ جائے۔
قال رب ۔۔۔۔۔۔ ان یقتلون (28: 33) ” موسیٰ نے عرض کیا میرے آقا میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں اور ڈرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) منصب نبوت قبول کرنے سے معذرت نہ کر رہے تھے۔ نہ ان کا مقصد یہ تھا کہ پیچھے ہٹ جائیں یا منہ موڑلیں اور نافرمانی کریں بلکہ وہ یقین دہانی چاہئے تھے اور یہ اطمینان چاہتے تھے کہ دعوت کو جاری رہنا چاہئے۔ اور اگر وہ قتل ہوگئے جس طرح خدشہ ہے تو سلسلہ شروع ہی سے ختم ہوجائے گا۔ یہ ان کی جانب سے ایک مناب بات بھی ہے حالانکہ وہ قوی اور امین تھے۔ ڈرنے والے نہ تھے۔
واخی ھرون ۔۔۔۔۔۔ انی اخاف ان یکذبون (28: 34) ” اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہت کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے “۔ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح وبلیغ مقرر ہے اور دعوت کو اچھی طرح پیش کرسکتا ہے ، اسے میرے لیے تائید کنندہ کے طور پر بھیج دے تاکہ وہ میرے دعوائے رسالت کی تائید کرے اور اگر وہ مجھے قتل ہی کردیں تو میرا خلیفہ ہو۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور درخواست قبول کرلی جاتی ہے۔
قال سنشد عضدک ۔۔۔۔۔۔ اتبعکما الغلبون (28: 35) ” فرمایا ! ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سعادت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا “۔ جو واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں ان میں قدرت الہیہ کی معجزانہ قوتیں زیادہ واضح طور پر حضرت موسیٰ کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی اور غلبہ کے پیچھے صرف متعارف اسباب ہی نظر نہ آئیں بلکہ اس پر عالم بالا کی مشیت کا رنگ غالب ہوتا کہ لوگوں کے نظریات کے اندر محض مادی اسباب کے علاوہ آسمانی قوتوں کی مشیت بھی واضح طور پر اہمیت اختیار کرلے۔ لوگوں کو اللہ پر ایمان حاصل ہو اور وہ اللہ پر توکل کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔
یہ خوبصورت اور عظیم منظر ختم ہوجاتا ہے اور زمان و مکان کے فاصلے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اب دربار فرعون میں ہیں۔ اللہ کی واضح آیات لیے ہوئے ہیں۔ اب ہدایت و ضلالت آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان سخت مکالمہ شروع ہے۔ اور اس دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کا فیصلہ یوں ہوتا ہے کہ باطل اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں لازماً وہ لعنت کا مستحق ہوگا۔
القصص 28:34
فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین شاہی محل میں پرورش پائیں ، دشمن کے گھر میں پلیں۔ پھر وہ لوگوں کی غفلت کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور ایک آدمی ان کے ہاتھوں مرگیا۔ پھر ان کے پاس فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص کو بھیجا گیا کہ نکلو تمہارے قتل کی تدابیر ہو رہی ہیں ، یہ تائیدی ایزفی مصر اور مدین تک کے صحرائی سفر میں اس کے ساتھ رہی جبکہ ان کے پاس کوئی زادو عتاد نہ تھا۔ اور پھر مدین کے کنویں پر ان کی ملاقات دختران شیخ سے کرادی گئی اور اس بہترین مربی اور بوڑھے کے ساتھ ان کا دس سالہ معاہدہ ہوگیا اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو طور پر ان کو عظیم مشن سپرد کیا گیا۔
مشن سپرد کرنے کی ندا سے قبل ان پر خدا کا طویل فضل و کرم ہوتا رہا ، ان کو تلقین ہوتی رہی اور تمام آسمانی قوتیں ان کی تائید میں بڑھتی رہیں۔ اور ان کو زندگی کے مختلف تجربات سے دوچار کیا جاتا رہا۔ مہربانی ، محبت اور راہنمائی کا تجربہ ، حالات کے دباؤ میں آکر انتہائی اقدام کرنے کا تجربہ ، نادم ہونے ، احتیاط کرنے اور غلطی پر استغفار کرنے کا تجربہ۔ ڈر ، تعاقب اور پریشانی کا تجربہ ، تنہائی ، مسافری اور بھوک و افلاس کا تجربہ اور دوسروں کی خدمت کرنے اور بکریوں تک چرانے کا تجربہ اور ان بڑے بڑے تجربوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے روز مردہ کے تجربات ، ولی احساسات ، مختلف قسم کے تصورات و خلجانات ، نئی نئی دریافتیں اور معلومات۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ نے جوان ہوتے ہی ان کو علم و حکمت سے نوازا لیا تھا۔ (ایک شاہزادنے کی حیثیت سے نکال کر یہ تجربات کرائے گئے) ۔
حقیقت یہ ہے کہ منصب رسالت ایک ایسا فریضہ اور ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہوتی ہے جس کے متعدد پہلو ہوتے ہیں اور گوناگوں ذمہ داریاں نبی اور رسول پر آن پڑتی ہیں۔ لہٰذا نبی کو علم و فضل ، حکمت و دانائی اور زندگی کے مختلف تجربات اور مختلف لوگوں کی عملی زندگی کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ عملی تجربہ اس لغوی علم و حکمت اور وحی الٰہی سے الگ ہوتا ہے جو ہر نبی کو کرایا جاتا ہے تاکہ نبی کا ضمیر پاک و صاف ہوجائے اور ہدایت نبی کے قلب میں بٹھا دی جائے۔
رسولوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو سپرد کئے جانے والے مشنوں میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذمہ داریاں بہت بھاری اور مشکل ذمہ داری تھی۔ ان کو فرعون جیسے سرکش اور جنار وقہار حکمران کے سامنے جانا تھا۔ یہ اپنے دور کے بادشاہوں میں سے بڑا اور مالدار بادشاہ تھا۔ قدیم شاہی سلسلے کا مالک تھا۔ حکومت نہایت مستحکم تھی اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے مصر اس وقت ترقی یافتہ تھا۔ اس نے تمام پسی ہوئی اقوام کو غلام بنا رکھا تھا اور زمین کے اوپر اس کو مقام بلند حاصل تھا۔
پھر حضرت مو سیٰ علیہ اسلام کو ایک ایسی قوم کی آزادی اور ہجرت کے لیے بھیجا گیا تھا جس کے دل و دماغ میں غلا می رچ بس گئی تھی ۔ وہ غلا مانہ زند گی کے عادی ہوگئے تھے اور ان کا ضمیر پو ری طرح بدل گیا تھا ۔ وہ عملا ایک طو یل زما نے تک غلام رہے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی انسانی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے اندر تعفن اور سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور اس قوم کے احساسات سے گندگی اور تعفن اور سڑاند کا احساس ہی جاتا رہتا ہے ۔ بھلا ئی ، خیر اور جمال اور برتری اس کو راس ہی نہیں آتی ۔ اس طرح کی بگڑی ہو ئی قوم کو اٹھانا معنی دارو۔
آپ کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو قویم زمانہ سے اسلامی نظریہ کی حامل تھی لیکن اس کے اندر نظریاتی انحراف پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے دل دماغ میں اس کی اصل حقیقی صورت وہ نہ رہی تھی ۔ نہ یہ قوم پرانے اسلامی عقیدہ اور شریعت پر قائم تھی اور نہ جدید عقیدے کو صحیح طرح قبول کر رہی تھی ۔ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ ان کے اندر پائے جانے والی کجی کو درست کرنا ، ان کے انحراف کو سیدھا کرنا اور ان کے اصل عقائد کے اوپر سے خرافات کی گہری تہوں کو ہٹانا اس مہم کی مشکل ترین باتیں تھیں۔
مختصر اً یہ کہ حضرت موسیٰ نے بالکل ایک نئی امت کی تعمیر کرنا تھی ۔ بالکل ننے سرے سے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کو ایک خاص قوم ، ایک خاص نظام کی حامل قوم اور ایک خاص رسالت کی حامل امت بنانا تھا اور ظاہر ہے کہ کسی قوم اور امت کی تعمیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا بار بار دہرایا ہے ۔ اس لئے کہ ایک نظریہ کی اساس پر کسی نئی امت کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ایک مخصوص نمونہ تھی ۔ ایسے عظیم کام کی راہ میں داخلی اور خارجی مشکلات ہوتی ہیں ۔ ایسی ہمہ گیر دعوتوں میں کجی بھی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ وہ مخصوص شکل بھی اختیار کرلیتی ہے اور اسے بہت سے تجربات سے بھی گزارنا پڑتا ہے ۔ اور راستے میں مشکلات بھی آتی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی بددیانہ زندگی سے کیوں گزارا گیا تو یہ اس لیے تاکہ وہ عوام الناس کی پر مشقت زندگی کے نشیب و فراز بھی جان لیں اور براہ راست تجربہ بھی حاصل کرلیں ۔
شاہی محلات کی زندگی کی ایک مخصوص فضا ہوتی ہے ، مخصوص آداب اور پروٹوکول ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی درجے کا سلیم الفطرت ، پاک طینت اور صاحب علم و فضل کیوں نہ ہو ، محلات کی زندگی کی پرچھائیں اس پر ضرور پڑتی ہے۔ اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور رہ جاتے ہیں جہاں تک رسالت کا تعلق ہے اس میں ایک رسول کا واسطہ غنی سے بھی پڑتا ہے اور فقیر سے بھی۔ امت میں مالدار بھی ہوتے ہیں اور فقراء بھی ہوتے ہیں۔ اس میں صاف ستھرے بھی ہوتے ہیں اور میل کچیل والے بھی ہوتے ہیں ، مہذب بھی ہوتے ہیں اور وحشی بھی ہوتے ہیں۔ پاک فطرت بھی ہوتے ہیں اور خبیث الفطرت بھی ہوتے ہیں۔ اچھئ بھی اور برے بھی ، قوی بھی اور ضعیف بھی۔ صابر بھی اور جزع و فزع کرنے والے بھی۔ غرض امت میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور نبی نے سب کی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔ فقراء لوگوں کے کھانے پینے ، چلنے پھرنے اور لباس کی الگ عادات ہوتی ہیں۔ وہ معاملات کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے زندگی کا ایک مخصوص تصور ہوتا ہے ، ان کی بات چیت ان کی حرکات و سکنات ، ان کا کلام اور ان کے شعور کا اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ یہ عوامی عادات ان لوگوں پر بہت بھاری ہوتی ہیں ، جنہوں نے محلات میں تربیت پائی ہوئی ہوتی ہے۔ اونچے محلات کے لوگ ، ان کے عوامی انداز کو دیکھنے کے روداد بھی نہیں ہوتے ، چہ جائیکہ وہ انہیں برداشت کریں اور ان کا علاج کریں۔ اگرچہ ان عامی لوگوں کے دل بھلائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ اصلاح پذیر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ظاہری ربگ ڈھنگ ان کی ظاہری عادات ، اونچے محلات والے کو نہیں جچتے۔
ایک رسول کو بعض اوقات مشتقوں ، تنہائیوں اور تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو بڑے بڑے محالات میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں ، ان کے اندر قربانی دینے کا بےپناہ جذبہ کیوں نہ ہو ، وہ بہت طویل عرصے تک تنگ دستی ، محرومی اور عملی زندگی میں مشقتوں کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ محلات کے اندر پر تعیش ، فراوانی اور آرام طلبی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں
چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو محلات کے اس اعلیٰ معیار کی زندگی سے ذرا نیچے لا کر عوامی زندگی کی سطح تک اتارا جائے۔ انہیں فرواہوں کی سوسائٹی کے اندر ڈال دیا جائے اور خوف ، تعاقب اور پکڑے جانے کے ڈر سے فرار کے بعد ایک چرواہے کی زندگی گزارنے کا عادی بنایا جائے جہاں انہیں صرف کھانا اور ٹھکانا ملتا ہے تاکہ شہزادوں کے مزاج میں غربت اور غرباء سے جو کچھاؤ ہوتا ہے وہ دور ہوجائے۔ چرواہوں کی عادات ، ان کے اخلاق ، ان کی درشی اور ان کی سادگی کے بارے میں شہزادوں کے اندر جو ناگواری پائی جاتی ہے وہ دور ہوجائے۔ ان کی جہالت ، غربت ، بدحالی اور مجموعی طور طریقوں سے حضرت موسیٰ شہزادہ اپنے آپ کو بلند اور دور نہ سمجھیں ، اور اس لئے کہ ان کو عوامی زندگی کے گہرے سمندروں کے اندر ڈال دیا جائے جبکہ پہلے وہ انسانی زندگی کے ایک محدود دھادے کے اندر تیرتے رہے تھے تاکہ آنے والی داعیانہ زندگی کے لیے وہ اچھی طرح تیار ہوجائیں۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت نے یہ تجربے مکمل کرلیے اور وہ عوامی زندگی کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہوگئے اور یہ تجربات انہیں ایک غریب الدیار اجنبی کی حیثیت سے دوسرے علاقے میں رہ کر ہوئے تو دست قدرت نے انہیں پھر اپنی جائے پیدائش کی طرف روانہ کیا۔ جہاں ان کے اہل و عیال اور ان کی قوم رہتی تھی۔ اور جہاں انہوں نے مشکل ترین فریضہ رسالت ادا کرنا تھا اب وہ اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس سے وہ بھاگے تھے اور بالکل یکہ و تنہا بھاگتے چلے جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ہی راستے پر وہ کیوں آئے اور واپس ہوئے ؟ یہ دراصل ایک جنگی مشق تھی انہیں اس راستے کے نشیب و فراز اور راہ و گھاٹ سے خبردار کرنا مطلوب تھا۔ کیونکہ قدرت نے طے کر رکھا تھا کہ عنقریب اسی راستے سے موسیٰ نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے سینائی میں داخل ہونا ہے۔ یہ دراصل ہر ادل دستے اور رہبر کی مشق تھی تاکہ حضرت موسیٰ کو خود اپنے سوا کسی اور راہنما کی ضرورت نہ پڑے ، راستہ بتلانے والے کی بھی۔ کیونکہ ان کی قوم ایسی حالت میں جاگری تھی کہ انہیں چھوٹے بڑے سب کاموں میں راہنمائی کی ضرورت تھی اس لئے کہ ذلت ، غلامی اور ماتحتی نے انہیں پوری طرح بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے اندر کوئی تدبر اور کوئی سوچ نہ رہی تھی۔
اب معلوم ہوگیا کہ قدرت الٰہیہ کس طرح اپنی نظروں کے نیچے حضرت موسیٰ کی تربیت کر رہی تھی اور ان کا فریضہ رسالت کی ادائیگی کیلئے کس طرح اچھی تربیت دی گئی۔ اب ذرا دیکھئے کہ حضرت موسیٰ نے واپسی کا سفر کس طرح طے کیا
فلما قضی موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ لعلکم تصطلون (28: 29) ” جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ” ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو “۔
یہاں یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کیا سوچ تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر لوٹنے پر آمادہ کیا۔ مدین میں انہوں نے عرصہ کار پورا کردیا۔ اب وہ مصر لوٹ رہے ہیں حالانکہ وہ مصر سے نہایت ہی خوف کی حالت میں نکلے تھے۔ ان کو تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ یوں واپس ہو رہے تھے کہ شاید وہ اس خطرے کو بھول گئے ہیں جو مصر میں اب بھی ان کو درپیش ہے۔ وہاں انہوں نے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا ہے ، فرعون ابھی زندگہ ہے جو اپنے سرداروں کے ساتھ آپ کے قتل کا مشاورت کر رہا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ عالم بالا کی اپنی سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس بار شاید اہل و عیال اور قوم اور وطن کیلئے فطری مبلان انہیں واپسی پر مجبور کر رہا ہے اور ان کے دل سے وہ خطرات اب محو ہوگئے جن کی بنا پر اس نے یکہ و تنہا یہاں سے فرار اختیار کیا تھا۔ اور یہ دست قدرت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ اس مہم اور منصب کیلئے تیار ہوجائیں جس کیلئے اللہ نے ان کو اول روز پیدا کیا ہے
بہرحال وجہ جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ واپس ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی ہیں۔ رات کا وقت ہے ، سخت اندھیرا ہے۔ یہ قافلہ راستے سے بھٹک گیا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے۔ اس لیے کہ آگ دیکھ کر وہ وہاں سے آگ لانے کے لیے جا رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے پاس جو کوئی ہوگا یا تو راستہ بتا دے گا ورنہ وہ ایک انگارہ لے آئیں گے تاکہ تاب سکیں۔ یہ اس حصے کا پہلا منظر ہے۔
دوسرا منظر نہایت غیر متوقع ہے۔
فلما اتھا نودی ۔۔۔۔۔۔ من الشجرۃ (28: 30) ” وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا “۔ حضرت موسیٰ تو دیکھ رہے ہیں کہ آگ ہے اور یہ وادی طور میں ان کے دائیں جانب ہے۔ اور یہ جگہ نہایت ہی متبرک ہے ، اور یہ وادی بھی آج ہی متبرک ہو رہی ہے ، پوری کائنات لمحہ بھی کے لیے خاموش ہے اور اس کے اندر عالم بالا اور رب ذوالجلال کی یہ آواز گونج رہی ہے ، بظاہر کانوں پر وہ ایک درخت مبارک سے آرہی ہے اور شاید یہ اس علاقے میں واحد درخت ہے۔
ان یموسی انی انا اللہ رب العالمین (28: 30) ” اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا مالک “۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو براہ راست سنا۔ اس گہری اور خاموش وادی میں وہ اکیلے کھڑے تھے۔ نہایت ہی تاریک اور خاموش رات میں۔ یہ آواز پوری کائنات بھی ہر طرف سے اس آواز کو سن رہی تھی ، زمین اور آسمانوں کی دوریوں اور بلندیوں میں یہ آواز گونج رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو پایا ، کس ذریعہ سے پایا ، کس طرح سے سنا ، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ البتہ حضرت موسیٰ کی ذات اور ان ماحول اور پوری کائنات اس سے گونج رہی تھی اور بھری ہوئی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کائنات کی آواز کو پایا اور اس کے متحمل ہوگئے ، کیونکہ ان کو اس کے لیے تیار کرلیا گیا تھا۔ اس کائنات کے ۔۔ نے اس آواز کو ریکارڈ کرلیا ، جہاں اس آواز کو حضرت موسیٰ نے پایا ، وہ جگہ بابرکت ہوگئی۔ یہ جگہ اب مکرم ہوگئی اور حضرت موسیٰ اب نہایت ہی بابرکت اور مکرم جگہ میں کھڑے تھے اور یہ آواز ابھی ختم نہیں ہوئی مکاملہ جاری ہے۔
الق عصاک (28: 31) ” پھینک دے اپنی لاٹھی “۔ حضرت موسیٰ نے باری تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے فوراً لاٹھی پھینک دی۔ دیکھتے کیا ہیں ؟ وہ تو اب ان کی وہ لاٹھی نہیں ہے جو ان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہی اور جس کو وہ یقیناً جانتے تھے کہ یہ ایک عصا ہے۔ عصا نہیں اب تو وہ ایک سانپ ہے جو زمین پر رینگ رہا ہے۔ بڑی تیزی سے ادھر ادھر جا رہا ہے اور یہ اس طرح کروٹیں بدل رہا ہے جس طرح چھوٹے چھوٹے سانپ بدلتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی بڑا سانپ نظر آتا ہے۔
فلما راھا ۔۔۔۔۔۔۔ ولم یعقب (28: 31) ” جو موسیٰ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے ، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا “۔ اس لیے کہ یہ نہایت ہی غیر متوقع صورت حال تھی ، اس کے لیے وہ ذہنا تیار نہ تھے ، پھر آپ کا مزاج بھی انفعالی تھا۔ آپ پر ہر صورت حال کا جلد اثر ہوجاتا تھا۔ آپ اس طرح بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ یہ سانپ ان کی طرف بڑھ بھی رہا ہے یا نہیں تاکہ وہ معلوم کرتے کہ یہ عجیب معجزہ ہے اور اس پر کچھ غور کرتے۔ جو لوگ بھی جلد متاثر ہوجاتے ہیں ان کی روش اسی طرح ہوتی ہے۔ ندائے ربانی جاری ہے۔
یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” موسیٰ پلٹ آ اور خوف نہ کر تو بالکل محفوظ ہے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے خوف اور امن کے یہ تجربے کوئی نئے نہ تھے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں خوف اور امن کے چکروں پر مشتمل ہیں۔ خوف اور امن ان کی پوری زندگی کے موسم ہیں۔ آغاز سے انجام تک اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یوں متاثر ہوجانا بھی حکمت خداوندی پر مبنی اور مطلوب و مقصود تھا۔ ان کی زندگی میں اسی طرح مقدر تھا کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں یہ زیر و بم اور یہ اضطراب اور یہ تلاطم بنی اسرائیل کی جامد ، تقلیدی اور رکی ہوئی زندگی کے بالمقابل قصداً پیدا کیا گیا تھا ۔ یہ قدرت کی تقدیر تھی اور قدرت کی گہری حکمت اور تدبیر پر مبنی تھی۔
اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” واپس آجاؤ “ اور ڈرو نہیں تم محفوظ ہو “۔ کس طرح وہ محفوظ نہ ہوگا جسے دست قدرت آگے بڑھا رہا ہو اور جس کی نگرانی اللہ تعالیٰ خود کر رہا ہو۔ ابھی مکالمہ جاری ہے۔
اسلک یدل فی جیبک تخرج بیضآء من غیر سوء (28: 32) ” اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے “۔ حضرت موسیٰ نے حکم کی اطاعت فرمائی اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالا اور نکالا۔ یہ ان کے لئے اسی وقت دوسرا غیر متوقع منظر تھا کہ ہاتھ سفید اور چمکدار ہے اور بغیر کسی بیماری کے ایسا ہے حالانکہ پہلے وہ گندم گوں تھا۔ ہاتھ کے سفید ہونے میں اشارہ اس طرح تھا کہ حق اور سچائی واضح اور صاف اور روشن دن کی طرح ہے۔
اب موسیٰ (علیہ السلام) جذباتی اور متاثر ہونے والی شخصیت نے اپنا کام دکھایا۔ وہ ان مناظر ، غیر متوقع مناظر کو دیکھ کر ڈر گئے
اور کانپنے لگے۔ ایک بار پھر ربانی ہدایت براہ راست آتی ہے۔ حکم ہوتا کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے بازوؤں کو بھینچ لو ، اس طرح تمہارے دل کی دھڑکن کم ہوگی اور تمہیں پورا اطمینان ہوجائے گا۔
واضمم الیک جناحک من الرھب (28: 32) ” اور خوف سے بچنے کیلئے اپنا بازو بھینچ لو “۔ گویا ان کے ہاتھ ان کا پر ہے جسے وہ سینے کے ساتھ ملا رہے ہیں جس طرح پرندہ مطمئن ہوکر پروں کو جسم سے جوڑ لیتا ہے۔ جب پرندہ پروں کے ساتھ پھڑ پھڑاتا ہے تو اس کی کیفیات کے ساتھ مشابہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم یہاں اس مفہوم کی ایسی ہی تصویر کشی کرتا ہے :
اب موسیٰ (علیہ السلام) باری تعالیٰ کی طرف سے ہدایات پاچکے ہیں اور جو مشاہدات ان کو کرائے گئے وہ مشاہدہ دہ کرچکے ہیں۔ یہ دو نشانیاں اور معجزات تو وہ خود دیکھ چکے ہیں۔ پہلے وہ خود بھی خائف ہوگئے اور ان کا دل دھڑکنے لگا۔ پھر ان کو اطمینان دیا گیا۔ اب ان کو وہ اصل مشن سپرد کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کو ابتدا سے آغاز پیدائش سے تربیت دی جا رہی ہے۔
فذلک برھانن ۔۔۔۔۔۔ قوما فسقین (28: 32) ” یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں “۔
یہ پیغام گویا فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے تھا۔ اور یہ اس وعدے کا ایفا ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ” ہم اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے مرسلین میں سے بنانے والے ہیں “۔ اور یہ پختہ وعدہ تھا ، کئی سال گزر گئے کہ یہ طے ہوا تھا۔ لیکن یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمایا کرتا۔ وہ تو سب سے سچی بات کرنے والا ہے۔
اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد آتا ہے کہ انہوں نے تو ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے اور یہ کہ وہ ان سے اس وقت چلے گئے جب گرفتاری کا خطرہ تھا۔ اور اس لیے بھاگ گئے تھے کہ انہوں نے انہیں قتل کرنے کے مشورے شروع کر دئیے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ شروع تھا اور یہ عظیم اعزاز تھا جو انہیں بخشا گیا۔ پھر ان کو دو عظیم معجزات کا اعزاز بھی بخشا گیا۔ اور پھر اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرمائی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مشن کے سلسلے میں ایک عملی دشواری کی طرف سے خدشے کا اظہار کیا۔ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ چھوٹتے ہی انہیں قتل کردیں اور دعوت کا سلسلہ ہی کٹ جائے۔
قال رب ۔۔۔۔۔۔ ان یقتلون (28: 33) ” موسیٰ نے عرض کیا میرے آقا میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں اور ڈرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) منصب نبوت قبول کرنے سے معذرت نہ کر رہے تھے۔ نہ ان کا مقصد یہ تھا کہ پیچھے ہٹ جائیں یا منہ موڑلیں اور نافرمانی کریں بلکہ وہ یقین دہانی چاہئے تھے اور یہ اطمینان چاہتے تھے کہ دعوت کو جاری رہنا چاہئے۔ اور اگر وہ قتل ہوگئے جس طرح خدشہ ہے تو سلسلہ شروع ہی سے ختم ہوجائے گا۔ یہ ان کی جانب سے ایک مناب بات بھی ہے حالانکہ وہ قوی اور امین تھے۔ ڈرنے والے نہ تھے۔
واخی ھرون ۔۔۔۔۔۔ انی اخاف ان یکذبون (28: 34) ” اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہت کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے “۔ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح وبلیغ مقرر ہے اور دعوت کو اچھی طرح پیش کرسکتا ہے ، اسے میرے لیے تائید کنندہ کے طور پر بھیج دے تاکہ وہ میرے دعوائے رسالت کی تائید کرے اور اگر وہ مجھے قتل ہی کردیں تو میرا خلیفہ ہو۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور درخواست قبول کرلی جاتی ہے۔
قال سنشد عضدک ۔۔۔۔۔۔ اتبعکما الغلبون (28: 35) ” فرمایا ! ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سعادت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا “۔ جو واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں ان میں قدرت الہیہ کی معجزانہ قوتیں زیادہ واضح طور پر حضرت موسیٰ کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی اور غلبہ کے پیچھے صرف متعارف اسباب ہی نظر نہ آئیں بلکہ اس پر عالم بالا کی مشیت کا رنگ غالب ہوتا کہ لوگوں کے نظریات کے اندر محض مادی اسباب کے علاوہ آسمانی قوتوں کی مشیت بھی واضح طور پر اہمیت اختیار کرلے۔ لوگوں کو اللہ پر ایمان حاصل ہو اور وہ اللہ پر توکل کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔
یہ خوبصورت اور عظیم منظر ختم ہوجاتا ہے اور زمان و مکان کے فاصلے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اب دربار فرعون میں ہیں۔ اللہ کی واضح آیات لیے ہوئے ہیں۔ اب ہدایت و ضلالت آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان سخت مکالمہ شروع ہے۔ اور اس دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کا فیصلہ یوں ہوتا ہے کہ باطل اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں لازماً وہ لعنت کا مستحق ہوگا۔
القصص 28:35
فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین شاہی محل میں پرورش پائیں ، دشمن کے گھر میں پلیں۔ پھر وہ لوگوں کی غفلت کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور ایک آدمی ان کے ہاتھوں مرگیا۔ پھر ان کے پاس فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص کو بھیجا گیا کہ نکلو تمہارے قتل کی تدابیر ہو رہی ہیں ، یہ تائیدی ایزفی مصر اور مدین تک کے صحرائی سفر میں اس کے ساتھ رہی جبکہ ان کے پاس کوئی زادو عتاد نہ تھا۔ اور پھر مدین کے کنویں پر ان کی ملاقات دختران شیخ سے کرادی گئی اور اس بہترین مربی اور بوڑھے کے ساتھ ان کا دس سالہ معاہدہ ہوگیا اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو طور پر ان کو عظیم مشن سپرد کیا گیا۔
مشن سپرد کرنے کی ندا سے قبل ان پر خدا کا طویل فضل و کرم ہوتا رہا ، ان کو تلقین ہوتی رہی اور تمام آسمانی قوتیں ان کی تائید میں بڑھتی رہیں۔ اور ان کو زندگی کے مختلف تجربات سے دوچار کیا جاتا رہا۔ مہربانی ، محبت اور راہنمائی کا تجربہ ، حالات کے دباؤ میں آکر انتہائی اقدام کرنے کا تجربہ ، نادم ہونے ، احتیاط کرنے اور غلطی پر استغفار کرنے کا تجربہ۔ ڈر ، تعاقب اور پریشانی کا تجربہ ، تنہائی ، مسافری اور بھوک و افلاس کا تجربہ اور دوسروں کی خدمت کرنے اور بکریوں تک چرانے کا تجربہ اور ان بڑے بڑے تجربوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے روز مردہ کے تجربات ، ولی احساسات ، مختلف قسم کے تصورات و خلجانات ، نئی نئی دریافتیں اور معلومات۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ نے جوان ہوتے ہی ان کو علم و حکمت سے نوازا لیا تھا۔ (ایک شاہزادنے کی حیثیت سے نکال کر یہ تجربات کرائے گئے) ۔
حقیقت یہ ہے کہ منصب رسالت ایک ایسا فریضہ اور ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہوتی ہے جس کے متعدد پہلو ہوتے ہیں اور گوناگوں ذمہ داریاں نبی اور رسول پر آن پڑتی ہیں۔ لہٰذا نبی کو علم و فضل ، حکمت و دانائی اور زندگی کے مختلف تجربات اور مختلف لوگوں کی عملی زندگی کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ عملی تجربہ اس لغوی علم و حکمت اور وحی الٰہی سے الگ ہوتا ہے جو ہر نبی کو کرایا جاتا ہے تاکہ نبی کا ضمیر پاک و صاف ہوجائے اور ہدایت نبی کے قلب میں بٹھا دی جائے۔
رسولوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو سپرد کئے جانے والے مشنوں میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذمہ داریاں بہت بھاری اور مشکل ذمہ داری تھی۔ ان کو فرعون جیسے سرکش اور جنار وقہار حکمران کے سامنے جانا تھا۔ یہ اپنے دور کے بادشاہوں میں سے بڑا اور مالدار بادشاہ تھا۔ قدیم شاہی سلسلے کا مالک تھا۔ حکومت نہایت مستحکم تھی اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے مصر اس وقت ترقی یافتہ تھا۔ اس نے تمام پسی ہوئی اقوام کو غلام بنا رکھا تھا اور زمین کے اوپر اس کو مقام بلند حاصل تھا۔
پھر حضرت مو سیٰ علیہ اسلام کو ایک ایسی قوم کی آزادی اور ہجرت کے لیے بھیجا گیا تھا جس کے دل و دماغ میں غلا می رچ بس گئی تھی ۔ وہ غلا مانہ زند گی کے عادی ہوگئے تھے اور ان کا ضمیر پو ری طرح بدل گیا تھا ۔ وہ عملا ایک طو یل زما نے تک غلام رہے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی انسانی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے اندر تعفن اور سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور اس قوم کے احساسات سے گندگی اور تعفن اور سڑاند کا احساس ہی جاتا رہتا ہے ۔ بھلا ئی ، خیر اور جمال اور برتری اس کو راس ہی نہیں آتی ۔ اس طرح کی بگڑی ہو ئی قوم کو اٹھانا معنی دارو۔
آپ کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو قویم زمانہ سے اسلامی نظریہ کی حامل تھی لیکن اس کے اندر نظریاتی انحراف پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے دل دماغ میں اس کی اصل حقیقی صورت وہ نہ رہی تھی ۔ نہ یہ قوم پرانے اسلامی عقیدہ اور شریعت پر قائم تھی اور نہ جدید عقیدے کو صحیح طرح قبول کر رہی تھی ۔ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ ان کے اندر پائے جانے والی کجی کو درست کرنا ، ان کے انحراف کو سیدھا کرنا اور ان کے اصل عقائد کے اوپر سے خرافات کی گہری تہوں کو ہٹانا اس مہم کی مشکل ترین باتیں تھیں۔
مختصر اً یہ کہ حضرت موسیٰ نے بالکل ایک نئی امت کی تعمیر کرنا تھی ۔ بالکل ننے سرے سے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کو ایک خاص قوم ، ایک خاص نظام کی حامل قوم اور ایک خاص رسالت کی حامل امت بنانا تھا اور ظاہر ہے کہ کسی قوم اور امت کی تعمیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا بار بار دہرایا ہے ۔ اس لئے کہ ایک نظریہ کی اساس پر کسی نئی امت کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ایک مخصوص نمونہ تھی ۔ ایسے عظیم کام کی راہ میں داخلی اور خارجی مشکلات ہوتی ہیں ۔ ایسی ہمہ گیر دعوتوں میں کجی بھی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ وہ مخصوص شکل بھی اختیار کرلیتی ہے اور اسے بہت سے تجربات سے بھی گزارنا پڑتا ہے ۔ اور راستے میں مشکلات بھی آتی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی بددیانہ زندگی سے کیوں گزارا گیا تو یہ اس لیے تاکہ وہ عوام الناس کی پر مشقت زندگی کے نشیب و فراز بھی جان لیں اور براہ راست تجربہ بھی حاصل کرلیں ۔
شاہی محلات کی زندگی کی ایک مخصوص فضا ہوتی ہے ، مخصوص آداب اور پروٹوکول ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی درجے کا سلیم الفطرت ، پاک طینت اور صاحب علم و فضل کیوں نہ ہو ، محلات کی زندگی کی پرچھائیں اس پر ضرور پڑتی ہے۔ اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور رہ جاتے ہیں جہاں تک رسالت کا تعلق ہے اس میں ایک رسول کا واسطہ غنی سے بھی پڑتا ہے اور فقیر سے بھی۔ امت میں مالدار بھی ہوتے ہیں اور فقراء بھی ہوتے ہیں۔ اس میں صاف ستھرے بھی ہوتے ہیں اور میل کچیل والے بھی ہوتے ہیں ، مہذب بھی ہوتے ہیں اور وحشی بھی ہوتے ہیں۔ پاک فطرت بھی ہوتے ہیں اور خبیث الفطرت بھی ہوتے ہیں۔ اچھئ بھی اور برے بھی ، قوی بھی اور ضعیف بھی۔ صابر بھی اور جزع و فزع کرنے والے بھی۔ غرض امت میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور نبی نے سب کی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔ فقراء لوگوں کے کھانے پینے ، چلنے پھرنے اور لباس کی الگ عادات ہوتی ہیں۔ وہ معاملات کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے زندگی کا ایک مخصوص تصور ہوتا ہے ، ان کی بات چیت ان کی حرکات و سکنات ، ان کا کلام اور ان کے شعور کا اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ یہ عوامی عادات ان لوگوں پر بہت بھاری ہوتی ہیں ، جنہوں نے محلات میں تربیت پائی ہوئی ہوتی ہے۔ اونچے محلات کے لوگ ، ان کے عوامی انداز کو دیکھنے کے روداد بھی نہیں ہوتے ، چہ جائیکہ وہ انہیں برداشت کریں اور ان کا علاج کریں۔ اگرچہ ان عامی لوگوں کے دل بھلائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ اصلاح پذیر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ظاہری ربگ ڈھنگ ان کی ظاہری عادات ، اونچے محلات والے کو نہیں جچتے۔
ایک رسول کو بعض اوقات مشتقوں ، تنہائیوں اور تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو بڑے بڑے محالات میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں ، ان کے اندر قربانی دینے کا بےپناہ جذبہ کیوں نہ ہو ، وہ بہت طویل عرصے تک تنگ دستی ، محرومی اور عملی زندگی میں مشقتوں کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ محلات کے اندر پر تعیش ، فراوانی اور آرام طلبی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں
چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو محلات کے اس اعلیٰ معیار کی زندگی سے ذرا نیچے لا کر عوامی زندگی کی سطح تک اتارا جائے۔ انہیں فرواہوں کی سوسائٹی کے اندر ڈال دیا جائے اور خوف ، تعاقب اور پکڑے جانے کے ڈر سے فرار کے بعد ایک چرواہے کی زندگی گزارنے کا عادی بنایا جائے جہاں انہیں صرف کھانا اور ٹھکانا ملتا ہے تاکہ شہزادوں کے مزاج میں غربت اور غرباء سے جو کچھاؤ ہوتا ہے وہ دور ہوجائے۔ چرواہوں کی عادات ، ان کے اخلاق ، ان کی درشی اور ان کی سادگی کے بارے میں شہزادوں کے اندر جو ناگواری پائی جاتی ہے وہ دور ہوجائے۔ ان کی جہالت ، غربت ، بدحالی اور مجموعی طور طریقوں سے حضرت موسیٰ شہزادہ اپنے آپ کو بلند اور دور نہ سمجھیں ، اور اس لئے کہ ان کو عوامی زندگی کے گہرے سمندروں کے اندر ڈال دیا جائے جبکہ پہلے وہ انسانی زندگی کے ایک محدود دھادے کے اندر تیرتے رہے تھے تاکہ آنے والی داعیانہ زندگی کے لیے وہ اچھی طرح تیار ہوجائیں۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت نے یہ تجربے مکمل کرلیے اور وہ عوامی زندگی کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہوگئے اور یہ تجربات انہیں ایک غریب الدیار اجنبی کی حیثیت سے دوسرے علاقے میں رہ کر ہوئے تو دست قدرت نے انہیں پھر اپنی جائے پیدائش کی طرف روانہ کیا۔ جہاں ان کے اہل و عیال اور ان کی قوم رہتی تھی۔ اور جہاں انہوں نے مشکل ترین فریضہ رسالت ادا کرنا تھا اب وہ اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس سے وہ بھاگے تھے اور بالکل یکہ و تنہا بھاگتے چلے جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ہی راستے پر وہ کیوں آئے اور واپس ہوئے ؟ یہ دراصل ایک جنگی مشق تھی انہیں اس راستے کے نشیب و فراز اور راہ و گھاٹ سے خبردار کرنا مطلوب تھا۔ کیونکہ قدرت نے طے کر رکھا تھا کہ عنقریب اسی راستے سے موسیٰ نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے سینائی میں داخل ہونا ہے۔ یہ دراصل ہر ادل دستے اور رہبر کی مشق تھی تاکہ حضرت موسیٰ کو خود اپنے سوا کسی اور راہنما کی ضرورت نہ پڑے ، راستہ بتلانے والے کی بھی۔ کیونکہ ان کی قوم ایسی حالت میں جاگری تھی کہ انہیں چھوٹے بڑے سب کاموں میں راہنمائی کی ضرورت تھی اس لئے کہ ذلت ، غلامی اور ماتحتی نے انہیں پوری طرح بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے اندر کوئی تدبر اور کوئی سوچ نہ رہی تھی۔
اب معلوم ہوگیا کہ قدرت الٰہیہ کس طرح اپنی نظروں کے نیچے حضرت موسیٰ کی تربیت کر رہی تھی اور ان کا فریضہ رسالت کی ادائیگی کیلئے کس طرح اچھی تربیت دی گئی۔ اب ذرا دیکھئے کہ حضرت موسیٰ نے واپسی کا سفر کس طرح طے کیا
فلما قضی موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ لعلکم تصطلون (28: 29) ” جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ” ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو “۔
یہاں یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کیا سوچ تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر لوٹنے پر آمادہ کیا۔ مدین میں انہوں نے عرصہ کار پورا کردیا۔ اب وہ مصر لوٹ رہے ہیں حالانکہ وہ مصر سے نہایت ہی خوف کی حالت میں نکلے تھے۔ ان کو تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ یوں واپس ہو رہے تھے کہ شاید وہ اس خطرے کو بھول گئے ہیں جو مصر میں اب بھی ان کو درپیش ہے۔ وہاں انہوں نے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا ہے ، فرعون ابھی زندگہ ہے جو اپنے سرداروں کے ساتھ آپ کے قتل کا مشاورت کر رہا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ عالم بالا کی اپنی سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس بار شاید اہل و عیال اور قوم اور وطن کیلئے فطری مبلان انہیں واپسی پر مجبور کر رہا ہے اور ان کے دل سے وہ خطرات اب محو ہوگئے جن کی بنا پر اس نے یکہ و تنہا یہاں سے فرار اختیار کیا تھا۔ اور یہ دست قدرت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ اس مہم اور منصب کیلئے تیار ہوجائیں جس کیلئے اللہ نے ان کو اول روز پیدا کیا ہے
بہرحال وجہ جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ واپس ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی ہیں۔ رات کا وقت ہے ، سخت اندھیرا ہے۔ یہ قافلہ راستے سے بھٹک گیا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے۔ اس لیے کہ آگ دیکھ کر وہ وہاں سے آگ لانے کے لیے جا رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے پاس جو کوئی ہوگا یا تو راستہ بتا دے گا ورنہ وہ ایک انگارہ لے آئیں گے تاکہ تاب سکیں۔ یہ اس حصے کا پہلا منظر ہے۔
دوسرا منظر نہایت غیر متوقع ہے۔
فلما اتھا نودی ۔۔۔۔۔۔ من الشجرۃ (28: 30) ” وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا “۔ حضرت موسیٰ تو دیکھ رہے ہیں کہ آگ ہے اور یہ وادی طور میں ان کے دائیں جانب ہے۔ اور یہ جگہ نہایت ہی متبرک ہے ، اور یہ وادی بھی آج ہی متبرک ہو رہی ہے ، پوری کائنات لمحہ بھی کے لیے خاموش ہے اور اس کے اندر عالم بالا اور رب ذوالجلال کی یہ آواز گونج رہی ہے ، بظاہر کانوں پر وہ ایک درخت مبارک سے آرہی ہے اور شاید یہ اس علاقے میں واحد درخت ہے۔
ان یموسی انی انا اللہ رب العالمین (28: 30) ” اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا مالک “۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو براہ راست سنا۔ اس گہری اور خاموش وادی میں وہ اکیلے کھڑے تھے۔ نہایت ہی تاریک اور خاموش رات میں۔ یہ آواز پوری کائنات بھی ہر طرف سے اس آواز کو سن رہی تھی ، زمین اور آسمانوں کی دوریوں اور بلندیوں میں یہ آواز گونج رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو پایا ، کس ذریعہ سے پایا ، کس طرح سے سنا ، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ البتہ حضرت موسیٰ کی ذات اور ان ماحول اور پوری کائنات اس سے گونج رہی تھی اور بھری ہوئی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کائنات کی آواز کو پایا اور اس کے متحمل ہوگئے ، کیونکہ ان کو اس کے لیے تیار کرلیا گیا تھا۔ اس کائنات کے ۔۔ نے اس آواز کو ریکارڈ کرلیا ، جہاں اس آواز کو حضرت موسیٰ نے پایا ، وہ جگہ بابرکت ہوگئی۔ یہ جگہ اب مکرم ہوگئی اور حضرت موسیٰ اب نہایت ہی بابرکت اور مکرم جگہ میں کھڑے تھے اور یہ آواز ابھی ختم نہیں ہوئی مکاملہ جاری ہے۔
الق عصاک (28: 31) ” پھینک دے اپنی لاٹھی “۔ حضرت موسیٰ نے باری تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے فوراً لاٹھی پھینک دی۔ دیکھتے کیا ہیں ؟ وہ تو اب ان کی وہ لاٹھی نہیں ہے جو ان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہی اور جس کو وہ یقیناً جانتے تھے کہ یہ ایک عصا ہے۔ عصا نہیں اب تو وہ ایک سانپ ہے جو زمین پر رینگ رہا ہے۔ بڑی تیزی سے ادھر ادھر جا رہا ہے اور یہ اس طرح کروٹیں بدل رہا ہے جس طرح چھوٹے چھوٹے سانپ بدلتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی بڑا سانپ نظر آتا ہے۔
فلما راھا ۔۔۔۔۔۔۔ ولم یعقب (28: 31) ” جو موسیٰ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے ، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا “۔ اس لیے کہ یہ نہایت ہی غیر متوقع صورت حال تھی ، اس کے لیے وہ ذہنا تیار نہ تھے ، پھر آپ کا مزاج بھی انفعالی تھا۔ آپ پر ہر صورت حال کا جلد اثر ہوجاتا تھا۔ آپ اس طرح بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ یہ سانپ ان کی طرف بڑھ بھی رہا ہے یا نہیں تاکہ وہ معلوم کرتے کہ یہ عجیب معجزہ ہے اور اس پر کچھ غور کرتے۔ جو لوگ بھی جلد متاثر ہوجاتے ہیں ان کی روش اسی طرح ہوتی ہے۔ ندائے ربانی جاری ہے۔
یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” موسیٰ پلٹ آ اور خوف نہ کر تو بالکل محفوظ ہے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے خوف اور امن کے یہ تجربے کوئی نئے نہ تھے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں خوف اور امن کے چکروں پر مشتمل ہیں۔ خوف اور امن ان کی پوری زندگی کے موسم ہیں۔ آغاز سے انجام تک اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یوں متاثر ہوجانا بھی حکمت خداوندی پر مبنی اور مطلوب و مقصود تھا۔ ان کی زندگی میں اسی طرح مقدر تھا کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں یہ زیر و بم اور یہ اضطراب اور یہ تلاطم بنی اسرائیل کی جامد ، تقلیدی اور رکی ہوئی زندگی کے بالمقابل قصداً پیدا کیا گیا تھا ۔ یہ قدرت کی تقدیر تھی اور قدرت کی گہری حکمت اور تدبیر پر مبنی تھی۔
اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” واپس آجاؤ “ اور ڈرو نہیں تم محفوظ ہو “۔ کس طرح وہ محفوظ نہ ہوگا جسے دست قدرت آگے بڑھا رہا ہو اور جس کی نگرانی اللہ تعالیٰ خود کر رہا ہو۔ ابھی مکالمہ جاری ہے۔
اسلک یدل فی جیبک تخرج بیضآء من غیر سوء (28: 32) ” اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے “۔ حضرت موسیٰ نے حکم کی اطاعت فرمائی اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالا اور نکالا۔ یہ ان کے لئے اسی وقت دوسرا غیر متوقع منظر تھا کہ ہاتھ سفید اور چمکدار ہے اور بغیر کسی بیماری کے ایسا ہے حالانکہ پہلے وہ گندم گوں تھا۔ ہاتھ کے سفید ہونے میں اشارہ اس طرح تھا کہ حق اور سچائی واضح اور صاف اور روشن دن کی طرح ہے۔
اب موسیٰ (علیہ السلام) جذباتی اور متاثر ہونے والی شخصیت نے اپنا کام دکھایا۔ وہ ان مناظر ، غیر متوقع مناظر کو دیکھ کر ڈر گئے
اور کانپنے لگے۔ ایک بار پھر ربانی ہدایت براہ راست آتی ہے۔ حکم ہوتا کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے بازوؤں کو بھینچ لو ، اس طرح تمہارے دل کی دھڑکن کم ہوگی اور تمہیں پورا اطمینان ہوجائے گا۔
واضمم الیک جناحک من الرھب (28: 32) ” اور خوف سے بچنے کیلئے اپنا بازو بھینچ لو “۔ گویا ان کے ہاتھ ان کا پر ہے جسے وہ سینے کے ساتھ ملا رہے ہیں جس طرح پرندہ مطمئن ہوکر پروں کو جسم سے جوڑ لیتا ہے۔ جب پرندہ پروں کے ساتھ پھڑ پھڑاتا ہے تو اس کی کیفیات کے ساتھ مشابہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم یہاں اس مفہوم کی ایسی ہی تصویر کشی کرتا ہے :
اب موسیٰ (علیہ السلام) باری تعالیٰ کی طرف سے ہدایات پاچکے ہیں اور جو مشاہدات ان کو کرائے گئے وہ مشاہدہ دہ کرچکے ہیں۔ یہ دو نشانیاں اور معجزات تو وہ خود دیکھ چکے ہیں۔ پہلے وہ خود بھی خائف ہوگئے اور ان کا دل دھڑکنے لگا۔ پھر ان کو اطمینان دیا گیا۔ اب ان کو وہ اصل مشن سپرد کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کو ابتدا سے آغاز پیدائش سے تربیت دی جا رہی ہے۔
فذلک برھانن ۔۔۔۔۔۔ قوما فسقین (28: 32) ” یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں “۔
یہ پیغام گویا فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے تھا۔ اور یہ اس وعدے کا ایفا ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ” ہم اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے مرسلین میں سے بنانے والے ہیں “۔ اور یہ پختہ وعدہ تھا ، کئی سال گزر گئے کہ یہ طے ہوا تھا۔ لیکن یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمایا کرتا۔ وہ تو سب سے سچی بات کرنے والا ہے۔
اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد آتا ہے کہ انہوں نے تو ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے اور یہ کہ وہ ان سے اس وقت چلے گئے جب گرفتاری کا خطرہ تھا۔ اور اس لیے بھاگ گئے تھے کہ انہوں نے انہیں قتل کرنے کے مشورے شروع کر دئیے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ شروع تھا اور یہ عظیم اعزاز تھا جو انہیں بخشا گیا۔ پھر ان کو دو عظیم معجزات کا اعزاز بھی بخشا گیا۔ اور پھر اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرمائی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مشن کے سلسلے میں ایک عملی دشواری کی طرف سے خدشے کا اظہار کیا۔ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ چھوٹتے ہی انہیں قتل کردیں اور دعوت کا سلسلہ ہی کٹ جائے۔
قال رب ۔۔۔۔۔۔ ان یقتلون (28: 33) ” موسیٰ نے عرض کیا میرے آقا میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں اور ڈرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) منصب نبوت قبول کرنے سے معذرت نہ کر رہے تھے۔ نہ ان کا مقصد یہ تھا کہ پیچھے ہٹ جائیں یا منہ موڑلیں اور نافرمانی کریں بلکہ وہ یقین دہانی چاہئے تھے اور یہ اطمینان چاہتے تھے کہ دعوت کو جاری رہنا چاہئے۔ اور اگر وہ قتل ہوگئے جس طرح خدشہ ہے تو سلسلہ شروع ہی سے ختم ہوجائے گا۔ یہ ان کی جانب سے ایک مناب بات بھی ہے حالانکہ وہ قوی اور امین تھے۔ ڈرنے والے نہ تھے۔
واخی ھرون ۔۔۔۔۔۔ انی اخاف ان یکذبون (28: 34) ” اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہت کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے “۔ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح وبلیغ مقرر ہے اور دعوت کو اچھی طرح پیش کرسکتا ہے ، اسے میرے لیے تائید کنندہ کے طور پر بھیج دے تاکہ وہ میرے دعوائے رسالت کی تائید کرے اور اگر وہ مجھے قتل ہی کردیں تو میرا خلیفہ ہو۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور درخواست قبول کرلی جاتی ہے۔
قال سنشد عضدک ۔۔۔۔۔۔ اتبعکما الغلبون (28: 35) ” فرمایا ! ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سعادت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا “۔ جو واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں ان میں قدرت الہیہ کی معجزانہ قوتیں زیادہ واضح طور پر حضرت موسیٰ کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی اور غلبہ کے پیچھے صرف متعارف اسباب ہی نظر نہ آئیں بلکہ اس پر عالم بالا کی مشیت کا رنگ غالب ہوتا کہ لوگوں کے نظریات کے اندر محض مادی اسباب کے علاوہ آسمانی قوتوں کی مشیت بھی واضح طور پر اہمیت اختیار کرلے۔ لوگوں کو اللہ پر ایمان حاصل ہو اور وہ اللہ پر توکل کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔
یہ خوبصورت اور عظیم منظر ختم ہوجاتا ہے اور زمان و مکان کے فاصلے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اب دربار فرعون میں ہیں۔ اللہ کی واضح آیات لیے ہوئے ہیں۔ اب ہدایت و ضلالت آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان سخت مکالمہ شروع ہے۔ اور اس دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کا فیصلہ یوں ہوتا ہے کہ باطل اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں لازماً وہ لعنت کا مستحق ہوگا۔
القصص 28:36
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس سورت میں دست قدرت نمایاں طور پر متحرک نظر آتا ہے اس لیے یہاں بھی موسیٰ اور فرعون کے آمنے سامنے کے بعد جلد ہی فرعون کا انجام بد دکھا دیا گیا اور دست قدرت نے چشم زدن میں اس عظیم قوت کو ختم کردیا اور تفصیلات بیان کرنے کے بجائے جلدی سے آخری جھلک دکھا دی۔
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ الاولین (28: 36) ” پھر جب موسیٰ ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ” یہ کچھ نہیں ہے مگر بناؤٹی جادو۔ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسی سچائی کا انکار ہے جس کا کوئی جواب ان سے بن نہ پڑتا تھا اور تمام زمانوں میں حاملین حق کے ساتھ مکذبین نے یہی سلوک کیا ہے۔ جب وہ لاجواب ہوگئے تو ایسی باتیں کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ یہ جادو ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ تو نئی بات ہے۔ اس قسم کی بات ہم نے کبھی اپنے آبا سے نہیں سنی۔
یہ لوگ حضرت موسیٰ کے معجزات کے مقابلے میں کوئی حجت اور دلیل نہیں پاتے اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں کوئی برہان پیش کرتے ہیں۔ وہ بس ایک مجمل بات کرتے ہیں جس سے نہ حق ثابت ہوتا ہے اور نہ باطل ۔ نہ کوئی دعویٰ رد ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔ کیا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہم نے یہ بات کبھی نہیں سنی۔ یہ محض شک کا اظہار ہے اور اہل باطل ہمیشہ جب سچائی کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ اسے مشکوک بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر دور میں باطل کا یہی رویہ رہا۔ لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہاں بات مختصر کرتے ہوئے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا۔
وقال موسیٰ ربی ۔۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الظلمون (28: 37) ” موسیٰ نے جواب دیا “ میرا رب اس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ نہایت ہی مہذب اور با ادب جواب ہے۔ یہ جواب بہت ہی واضح اور نصیحت آموز ہے لیکن اس میں کوئی تلمیح اور اشارہ اور اجمال نہیں ہے۔ یہ جواب پر اعتمادی کے ساتھ دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ کو پورا اطمینان ہے کہ حق و باطل کے اس مقابلے میں حق فلاح پائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو خوب معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ سچے ہیں اس لئے کہ وہ اللہ کی براہ راست ہدایت اور مکالمے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ہدایت پر ہیں اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اگرچہ بعض معاملات بظاہر یوں نظر آتے ہیں کہ حق کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسی سنت کے ساتھ حضرت موسیٰ بھی فرعون کے مقابلے میں اترے ہیں اور تمام انبیاء سنن الہیہ کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ اب اس پر اطمینان ، مہذبانہ اور معقول جواب کا جواب الجواب فرعون کیا دیتا ہے محض دعویٰ سرکشی ، کھیل اور مزاح اور غرور لاابالی پن اور سستی۔
وقال فرعون یایھا الملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من الکذبین (28: 38) ” اور فرعون نے کہا ” اے اہل دربار ، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
اے سرداران مصر میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا تمہارا اور بھی کوئی حاکم والٰہ ہے۔ فسق و سرکشی کا ، یہ بلند ترین رویہ ہے اور سردار ظاہر ہے کہ وہ اقرار کریں گے۔ اب وہ یہاں اس نظریہ کا سہرا لیتا ہے جو اس دور میں مصر میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھا کہ بادشاہوں کا نسب عامہ الہوں سے ملتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس جبر کا سہارا بھی لیتا ہے جس کے مقابلے میں کوئی دماغ سوچتا نہیں اور کوئی شخص سر اٹھا کر نہیں چلتا۔ اور کوئی زبان یہ جرات نہیں کرتی کہ کوئی اختلافی بات کرے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بادشاہ انہی جیسا ایک بشر ہے جو پیدا ہوتا ہے اور مرتا ہے لیکن ان اساطیر اور پھر جبر کی بنا پر کہتا تھا اور یہ تسلیم کرتے تھے ، بغیر اعتراض اور تنقید کے۔
اب وہ ایک ایسی حرکت کرتا ہے جس سے بظاہر تو وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فی الواقعہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ موسیٰ کے الہہ کو وہ آسمانوں میں تلاش کرنے نکلا ہے لیکن دراصل وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ایک سنجیدہ مزاح کرتا ہے
فاوقد لی یھا من ۔۔۔۔۔ الہ موسیٰ (28: 38) ” اے ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں “۔
موسیٰ کہتا ہے کہ اس کا الٰہ آسمانوں میں ہے۔ بطور مزاح وہ کہتا ہے کہ مجھے تو اس میں شک ہے لیکن اس شک کے باوجود میں حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔
وانی لاظنہ من الکذبین (28: 38) ” میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
جس طرح دوسرے مقامات پر ہوا ، یہاں حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ بھی ہوا۔ جس کو یہاں حذف کردیا گیا ہے۔
واستکبر ھو ۔۔۔۔۔ لا یرجعون (28: 39) ” اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اس بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے “۔ جب ان کو یہ واہمہ ہوگیا کہ انہوں نے اللہ کی طرف نہیں پلٹنا تو انہوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ شروع کردیا۔ اور معجزات اور پیغمبروں کو جھٹلایا۔ وہ معجزات جن کی تفصیلات اس سے قبل گزر گئی ہیں اور دوسری سورتوں میں ان کا مظاہرہ مفصل دکھایا گیا ہے۔
فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم (28: 40) ” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا “۔ یہ نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیکن فیصلہ کن انداز میں سخت پکڑ اور ، سمندر میں پھینک دیا جانا ہے جس طرح انسان کسی کنکر اور کسی پتھر کو سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ جس طرح موسیٰ کی والدہ نے شیرخوار موسیٰ کو فرعون کے ڈر سے دریا میں پھینک دیا تھا ، اس طرح اسے اور اس کے لشکروں کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ لیکن اس بچے کو اللہ نے بچانا تھا تو بچ گیا اور فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کرنا تھا تو غرق ہوگئے۔ سمندر ان کے لئے باعث ہلاکت ہوگیا۔ لہٰذا امن وامان بھی اللہ کے ہاں ہے اور ڈرنا ہے تو اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ وہ ڈرنے کا مستحق ہے۔
فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین (28: 40) ” دیکھو ، ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟ “ یہ انجام وہ منظر پر نظر آتا ہے۔ تمام دنیا کے سامنے ہے۔ اس میں مکذبین کے لیے بھی عبرت ہے اور نصیحت پانے والوں کے لیے بھی عبرت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکش جباروں کو اللہ ہلاک کرنا چاہے تو چشم زدن میں نیست و نابود کردیتا ہے ، نصف سطر لکھنے سے بھی پہلے۔
اگلے لمحے فرعون اور اس کا لشکر اس دنیا سے اس جہاں میں ہیں اور فرعون اور اس کا لشکر وہاں بھی ایک عجیب منظر میں نظر آتے ہیں۔ ان کو حشر کے فیصلے کے بعد جہنم کی طرف بلایا جاتا ہے۔ فرعون وہاں بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت جہنم کی طرف رواں دواں ہے جس طرح وہ تعاقب میں حضرت موسیٰ کے پیچھے رواں تھا۔
وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار (28: 41) ” ہم نے ان کو جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا “۔ کیا ہی بری دعوت ہے جو یہ لوگ دیتے ہیں۔ اور کیا ہی بری قیادت و امامت ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
ویقوم القیمۃ لاینصرون (28: 41) ” اور قیامت کے روز کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے “۔ دنیا میں بھی ان کو ہزیمت اٹھانی پڑی اور آخرت میں بھی ان کو ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سرکشی اور ظلم کا یہی بدلہ تو ہوتا ہے۔ وہاں صرف ناکامی ہی نہ ہوگی ، بلکہ ہر طرف سے لعنت و ملامت بھی ہوگی۔ اس زمین پر بھی اور آخرت میں حشر کے میدان میں بھی۔
واتبعنھم فی ۔۔۔۔۔ من المقبوحین (28: 42) ” ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے “۔ مقبوحین کا لفظ ہی ایسا ہے کہ اس کی آواز ہی اس کے مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ ” قبح “ شرمندگی ، طعن ، تشنیع ، گندگی اور نفرت کے تمام مفہومات مقبوحین میں شامل ہیں۔ یہ اس لیے کہ زمین میں یہ کبر و غرور کا روپ اختصار کرتے تھے۔ عزت و جاہ اور قوت اور بندوں پر ظلم ان کا وطیرہ تھا۔
یہاں سیاق کلام میں مصر سے بنی اسرائیل کے ثروج کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ اور فرعون کے انجام بد کی ایک جھلک سرعت کے ساتھ دکھانے کے بعد یہ دکھایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو کس قدر مقام بلند عطا ہوا۔
القصص 28:37
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس سورت میں دست قدرت نمایاں طور پر متحرک نظر آتا ہے اس لیے یہاں بھی موسیٰ اور فرعون کے آمنے سامنے کے بعد جلد ہی فرعون کا انجام بد دکھا دیا گیا اور دست قدرت نے چشم زدن میں اس عظیم قوت کو ختم کردیا اور تفصیلات بیان کرنے کے بجائے جلدی سے آخری جھلک دکھا دی۔
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ الاولین (28: 36) ” پھر جب موسیٰ ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ” یہ کچھ نہیں ہے مگر بناؤٹی جادو۔ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسی سچائی کا انکار ہے جس کا کوئی جواب ان سے بن نہ پڑتا تھا اور تمام زمانوں میں حاملین حق کے ساتھ مکذبین نے یہی سلوک کیا ہے۔ جب وہ لاجواب ہوگئے تو ایسی باتیں کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ یہ جادو ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ تو نئی بات ہے۔ اس قسم کی بات ہم نے کبھی اپنے آبا سے نہیں سنی۔
یہ لوگ حضرت موسیٰ کے معجزات کے مقابلے میں کوئی حجت اور دلیل نہیں پاتے اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں کوئی برہان پیش کرتے ہیں۔ وہ بس ایک مجمل بات کرتے ہیں جس سے نہ حق ثابت ہوتا ہے اور نہ باطل ۔ نہ کوئی دعویٰ رد ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔ کیا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہم نے یہ بات کبھی نہیں سنی۔ یہ محض شک کا اظہار ہے اور اہل باطل ہمیشہ جب سچائی کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ اسے مشکوک بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر دور میں باطل کا یہی رویہ رہا۔ لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہاں بات مختصر کرتے ہوئے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا۔
وقال موسیٰ ربی ۔۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الظلمون (28: 37) ” موسیٰ نے جواب دیا “ میرا رب اس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ نہایت ہی مہذب اور با ادب جواب ہے۔ یہ جواب بہت ہی واضح اور نصیحت آموز ہے لیکن اس میں کوئی تلمیح اور اشارہ اور اجمال نہیں ہے۔ یہ جواب پر اعتمادی کے ساتھ دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ کو پورا اطمینان ہے کہ حق و باطل کے اس مقابلے میں حق فلاح پائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو خوب معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ سچے ہیں اس لئے کہ وہ اللہ کی براہ راست ہدایت اور مکالمے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ہدایت پر ہیں اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اگرچہ بعض معاملات بظاہر یوں نظر آتے ہیں کہ حق کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسی سنت کے ساتھ حضرت موسیٰ بھی فرعون کے مقابلے میں اترے ہیں اور تمام انبیاء سنن الہیہ کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ اب اس پر اطمینان ، مہذبانہ اور معقول جواب کا جواب الجواب فرعون کیا دیتا ہے محض دعویٰ سرکشی ، کھیل اور مزاح اور غرور لاابالی پن اور سستی۔
وقال فرعون یایھا الملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من الکذبین (28: 38) ” اور فرعون نے کہا ” اے اہل دربار ، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
اے سرداران مصر میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا تمہارا اور بھی کوئی حاکم والٰہ ہے۔ فسق و سرکشی کا ، یہ بلند ترین رویہ ہے اور سردار ظاہر ہے کہ وہ اقرار کریں گے۔ اب وہ یہاں اس نظریہ کا سہرا لیتا ہے جو اس دور میں مصر میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھا کہ بادشاہوں کا نسب عامہ الہوں سے ملتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس جبر کا سہارا بھی لیتا ہے جس کے مقابلے میں کوئی دماغ سوچتا نہیں اور کوئی شخص سر اٹھا کر نہیں چلتا۔ اور کوئی زبان یہ جرات نہیں کرتی کہ کوئی اختلافی بات کرے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بادشاہ انہی جیسا ایک بشر ہے جو پیدا ہوتا ہے اور مرتا ہے لیکن ان اساطیر اور پھر جبر کی بنا پر کہتا تھا اور یہ تسلیم کرتے تھے ، بغیر اعتراض اور تنقید کے۔
اب وہ ایک ایسی حرکت کرتا ہے جس سے بظاہر تو وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فی الواقعہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ موسیٰ کے الہہ کو وہ آسمانوں میں تلاش کرنے نکلا ہے لیکن دراصل وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ایک سنجیدہ مزاح کرتا ہے
فاوقد لی یھا من ۔۔۔۔۔ الہ موسیٰ (28: 38) ” اے ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں “۔
موسیٰ کہتا ہے کہ اس کا الٰہ آسمانوں میں ہے۔ بطور مزاح وہ کہتا ہے کہ مجھے تو اس میں شک ہے لیکن اس شک کے باوجود میں حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔
وانی لاظنہ من الکذبین (28: 38) ” میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
جس طرح دوسرے مقامات پر ہوا ، یہاں حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ بھی ہوا۔ جس کو یہاں حذف کردیا گیا ہے۔
واستکبر ھو ۔۔۔۔۔ لا یرجعون (28: 39) ” اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اس بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے “۔ جب ان کو یہ واہمہ ہوگیا کہ انہوں نے اللہ کی طرف نہیں پلٹنا تو انہوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ شروع کردیا۔ اور معجزات اور پیغمبروں کو جھٹلایا۔ وہ معجزات جن کی تفصیلات اس سے قبل گزر گئی ہیں اور دوسری سورتوں میں ان کا مظاہرہ مفصل دکھایا گیا ہے۔
فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم (28: 40) ” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا “۔ یہ نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیکن فیصلہ کن انداز میں سخت پکڑ اور ، سمندر میں پھینک دیا جانا ہے جس طرح انسان کسی کنکر اور کسی پتھر کو سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ جس طرح موسیٰ کی والدہ نے شیرخوار موسیٰ کو فرعون کے ڈر سے دریا میں پھینک دیا تھا ، اس طرح اسے اور اس کے لشکروں کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ لیکن اس بچے کو اللہ نے بچانا تھا تو بچ گیا اور فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کرنا تھا تو غرق ہوگئے۔ سمندر ان کے لئے باعث ہلاکت ہوگیا۔ لہٰذا امن وامان بھی اللہ کے ہاں ہے اور ڈرنا ہے تو اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ وہ ڈرنے کا مستحق ہے۔
فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین (28: 40) ” دیکھو ، ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟ “ یہ انجام وہ منظر پر نظر آتا ہے۔ تمام دنیا کے سامنے ہے۔ اس میں مکذبین کے لیے بھی عبرت ہے اور نصیحت پانے والوں کے لیے بھی عبرت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکش جباروں کو اللہ ہلاک کرنا چاہے تو چشم زدن میں نیست و نابود کردیتا ہے ، نصف سطر لکھنے سے بھی پہلے۔
اگلے لمحے فرعون اور اس کا لشکر اس دنیا سے اس جہاں میں ہیں اور فرعون اور اس کا لشکر وہاں بھی ایک عجیب منظر میں نظر آتے ہیں۔ ان کو حشر کے فیصلے کے بعد جہنم کی طرف بلایا جاتا ہے۔ فرعون وہاں بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت جہنم کی طرف رواں دواں ہے جس طرح وہ تعاقب میں حضرت موسیٰ کے پیچھے رواں تھا۔
وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار (28: 41) ” ہم نے ان کو جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا “۔ کیا ہی بری دعوت ہے جو یہ لوگ دیتے ہیں۔ اور کیا ہی بری قیادت و امامت ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
ویقوم القیمۃ لاینصرون (28: 41) ” اور قیامت کے روز کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے “۔ دنیا میں بھی ان کو ہزیمت اٹھانی پڑی اور آخرت میں بھی ان کو ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سرکشی اور ظلم کا یہی بدلہ تو ہوتا ہے۔ وہاں صرف ناکامی ہی نہ ہوگی ، بلکہ ہر طرف سے لعنت و ملامت بھی ہوگی۔ اس زمین پر بھی اور آخرت میں حشر کے میدان میں بھی۔
واتبعنھم فی ۔۔۔۔۔ من المقبوحین (28: 42) ” ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے “۔ مقبوحین کا لفظ ہی ایسا ہے کہ اس کی آواز ہی اس کے مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ ” قبح “ شرمندگی ، طعن ، تشنیع ، گندگی اور نفرت کے تمام مفہومات مقبوحین میں شامل ہیں۔ یہ اس لیے کہ زمین میں یہ کبر و غرور کا روپ اختصار کرتے تھے۔ عزت و جاہ اور قوت اور بندوں پر ظلم ان کا وطیرہ تھا۔
یہاں سیاق کلام میں مصر سے بنی اسرائیل کے ثروج کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ اور فرعون کے انجام بد کی ایک جھلک سرعت کے ساتھ دکھانے کے بعد یہ دکھایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو کس قدر مقام بلند عطا ہوا۔
القصص 28:38
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس سورت میں دست قدرت نمایاں طور پر متحرک نظر آتا ہے اس لیے یہاں بھی موسیٰ اور فرعون کے آمنے سامنے کے بعد جلد ہی فرعون کا انجام بد دکھا دیا گیا اور دست قدرت نے چشم زدن میں اس عظیم قوت کو ختم کردیا اور تفصیلات بیان کرنے کے بجائے جلدی سے آخری جھلک دکھا دی۔
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ الاولین (28: 36) ” پھر جب موسیٰ ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ” یہ کچھ نہیں ہے مگر بناؤٹی جادو۔ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسی سچائی کا انکار ہے جس کا کوئی جواب ان سے بن نہ پڑتا تھا اور تمام زمانوں میں حاملین حق کے ساتھ مکذبین نے یہی سلوک کیا ہے۔ جب وہ لاجواب ہوگئے تو ایسی باتیں کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ یہ جادو ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ تو نئی بات ہے۔ اس قسم کی بات ہم نے کبھی اپنے آبا سے نہیں سنی۔
یہ لوگ حضرت موسیٰ کے معجزات کے مقابلے میں کوئی حجت اور دلیل نہیں پاتے اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں کوئی برہان پیش کرتے ہیں۔ وہ بس ایک مجمل بات کرتے ہیں جس سے نہ حق ثابت ہوتا ہے اور نہ باطل ۔ نہ کوئی دعویٰ رد ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔ کیا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہم نے یہ بات کبھی نہیں سنی۔ یہ محض شک کا اظہار ہے اور اہل باطل ہمیشہ جب سچائی کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ اسے مشکوک بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر دور میں باطل کا یہی رویہ رہا۔ لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہاں بات مختصر کرتے ہوئے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا۔
وقال موسیٰ ربی ۔۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الظلمون (28: 37) ” موسیٰ نے جواب دیا “ میرا رب اس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ نہایت ہی مہذب اور با ادب جواب ہے۔ یہ جواب بہت ہی واضح اور نصیحت آموز ہے لیکن اس میں کوئی تلمیح اور اشارہ اور اجمال نہیں ہے۔ یہ جواب پر اعتمادی کے ساتھ دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ کو پورا اطمینان ہے کہ حق و باطل کے اس مقابلے میں حق فلاح پائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو خوب معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ سچے ہیں اس لئے کہ وہ اللہ کی براہ راست ہدایت اور مکالمے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ہدایت پر ہیں اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اگرچہ بعض معاملات بظاہر یوں نظر آتے ہیں کہ حق کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسی سنت کے ساتھ حضرت موسیٰ بھی فرعون کے مقابلے میں اترے ہیں اور تمام انبیاء سنن الہیہ کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ اب اس پر اطمینان ، مہذبانہ اور معقول جواب کا جواب الجواب فرعون کیا دیتا ہے محض دعویٰ سرکشی ، کھیل اور مزاح اور غرور لاابالی پن اور سستی۔
وقال فرعون یایھا الملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من الکذبین (28: 38) ” اور فرعون نے کہا ” اے اہل دربار ، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
اے سرداران مصر میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا تمہارا اور بھی کوئی حاکم والٰہ ہے۔ فسق و سرکشی کا ، یہ بلند ترین رویہ ہے اور سردار ظاہر ہے کہ وہ اقرار کریں گے۔ اب وہ یہاں اس نظریہ کا سہرا لیتا ہے جو اس دور میں مصر میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھا کہ بادشاہوں کا نسب عامہ الہوں سے ملتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس جبر کا سہارا بھی لیتا ہے جس کے مقابلے میں کوئی دماغ سوچتا نہیں اور کوئی شخص سر اٹھا کر نہیں چلتا۔ اور کوئی زبان یہ جرات نہیں کرتی کہ کوئی اختلافی بات کرے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بادشاہ انہی جیسا ایک بشر ہے جو پیدا ہوتا ہے اور مرتا ہے لیکن ان اساطیر اور پھر جبر کی بنا پر کہتا تھا اور یہ تسلیم کرتے تھے ، بغیر اعتراض اور تنقید کے۔
اب وہ ایک ایسی حرکت کرتا ہے جس سے بظاہر تو وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فی الواقعہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ موسیٰ کے الہہ کو وہ آسمانوں میں تلاش کرنے نکلا ہے لیکن دراصل وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ایک سنجیدہ مزاح کرتا ہے
فاوقد لی یھا من ۔۔۔۔۔ الہ موسیٰ (28: 38) ” اے ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں “۔
موسیٰ کہتا ہے کہ اس کا الٰہ آسمانوں میں ہے۔ بطور مزاح وہ کہتا ہے کہ مجھے تو اس میں شک ہے لیکن اس شک کے باوجود میں حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔
وانی لاظنہ من الکذبین (28: 38) ” میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
جس طرح دوسرے مقامات پر ہوا ، یہاں حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ بھی ہوا۔ جس کو یہاں حذف کردیا گیا ہے۔
واستکبر ھو ۔۔۔۔۔ لا یرجعون (28: 39) ” اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اس بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے “۔ جب ان کو یہ واہمہ ہوگیا کہ انہوں نے اللہ کی طرف نہیں پلٹنا تو انہوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ شروع کردیا۔ اور معجزات اور پیغمبروں کو جھٹلایا۔ وہ معجزات جن کی تفصیلات اس سے قبل گزر گئی ہیں اور دوسری سورتوں میں ان کا مظاہرہ مفصل دکھایا گیا ہے۔
فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم (28: 40) ” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا “۔ یہ نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیکن فیصلہ کن انداز میں سخت پکڑ اور ، سمندر میں پھینک دیا جانا ہے جس طرح انسان کسی کنکر اور کسی پتھر کو سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ جس طرح موسیٰ کی والدہ نے شیرخوار موسیٰ کو فرعون کے ڈر سے دریا میں پھینک دیا تھا ، اس طرح اسے اور اس کے لشکروں کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ لیکن اس بچے کو اللہ نے بچانا تھا تو بچ گیا اور فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کرنا تھا تو غرق ہوگئے۔ سمندر ان کے لئے باعث ہلاکت ہوگیا۔ لہٰذا امن وامان بھی اللہ کے ہاں ہے اور ڈرنا ہے تو اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ وہ ڈرنے کا مستحق ہے۔
فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین (28: 40) ” دیکھو ، ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟ “ یہ انجام وہ منظر پر نظر آتا ہے۔ تمام دنیا کے سامنے ہے۔ اس میں مکذبین کے لیے بھی عبرت ہے اور نصیحت پانے والوں کے لیے بھی عبرت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکش جباروں کو اللہ ہلاک کرنا چاہے تو چشم زدن میں نیست و نابود کردیتا ہے ، نصف سطر لکھنے سے بھی پہلے۔
اگلے لمحے فرعون اور اس کا لشکر اس دنیا سے اس جہاں میں ہیں اور فرعون اور اس کا لشکر وہاں بھی ایک عجیب منظر میں نظر آتے ہیں۔ ان کو حشر کے فیصلے کے بعد جہنم کی طرف بلایا جاتا ہے۔ فرعون وہاں بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت جہنم کی طرف رواں دواں ہے جس طرح وہ تعاقب میں حضرت موسیٰ کے پیچھے رواں تھا۔
وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار (28: 41) ” ہم نے ان کو جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا “۔ کیا ہی بری دعوت ہے جو یہ لوگ دیتے ہیں۔ اور کیا ہی بری قیادت و امامت ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
ویقوم القیمۃ لاینصرون (28: 41) ” اور قیامت کے روز کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے “۔ دنیا میں بھی ان کو ہزیمت اٹھانی پڑی اور آخرت میں بھی ان کو ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سرکشی اور ظلم کا یہی بدلہ تو ہوتا ہے۔ وہاں صرف ناکامی ہی نہ ہوگی ، بلکہ ہر طرف سے لعنت و ملامت بھی ہوگی۔ اس زمین پر بھی اور آخرت میں حشر کے میدان میں بھی۔
واتبعنھم فی ۔۔۔۔۔ من المقبوحین (28: 42) ” ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے “۔ مقبوحین کا لفظ ہی ایسا ہے کہ اس کی آواز ہی اس کے مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ ” قبح “ شرمندگی ، طعن ، تشنیع ، گندگی اور نفرت کے تمام مفہومات مقبوحین میں شامل ہیں۔ یہ اس لیے کہ زمین میں یہ کبر و غرور کا روپ اختصار کرتے تھے۔ عزت و جاہ اور قوت اور بندوں پر ظلم ان کا وطیرہ تھا۔
یہاں سیاق کلام میں مصر سے بنی اسرائیل کے ثروج کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ اور فرعون کے انجام بد کی ایک جھلک سرعت کے ساتھ دکھانے کے بعد یہ دکھایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو کس قدر مقام بلند عطا ہوا۔
القصص 28:39
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس سورت میں دست قدرت نمایاں طور پر متحرک نظر آتا ہے اس لیے یہاں بھی موسیٰ اور فرعون کے آمنے سامنے کے بعد جلد ہی فرعون کا انجام بد دکھا دیا گیا اور دست قدرت نے چشم زدن میں اس عظیم قوت کو ختم کردیا اور تفصیلات بیان کرنے کے بجائے جلدی سے آخری جھلک دکھا دی۔
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ الاولین (28: 36) ” پھر جب موسیٰ ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ” یہ کچھ نہیں ہے مگر بناؤٹی جادو۔ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسی سچائی کا انکار ہے جس کا کوئی جواب ان سے بن نہ پڑتا تھا اور تمام زمانوں میں حاملین حق کے ساتھ مکذبین نے یہی سلوک کیا ہے۔ جب وہ لاجواب ہوگئے تو ایسی باتیں کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ یہ جادو ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ تو نئی بات ہے۔ اس قسم کی بات ہم نے کبھی اپنے آبا سے نہیں سنی۔
یہ لوگ حضرت موسیٰ کے معجزات کے مقابلے میں کوئی حجت اور دلیل نہیں پاتے اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں کوئی برہان پیش کرتے ہیں۔ وہ بس ایک مجمل بات کرتے ہیں جس سے نہ حق ثابت ہوتا ہے اور نہ باطل ۔ نہ کوئی دعویٰ رد ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔ کیا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہم نے یہ بات کبھی نہیں سنی۔ یہ محض شک کا اظہار ہے اور اہل باطل ہمیشہ جب سچائی کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ اسے مشکوک بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر دور میں باطل کا یہی رویہ رہا۔ لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہاں بات مختصر کرتے ہوئے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا۔
وقال موسیٰ ربی ۔۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الظلمون (28: 37) ” موسیٰ نے جواب دیا “ میرا رب اس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ نہایت ہی مہذب اور با ادب جواب ہے۔ یہ جواب بہت ہی واضح اور نصیحت آموز ہے لیکن اس میں کوئی تلمیح اور اشارہ اور اجمال نہیں ہے۔ یہ جواب پر اعتمادی کے ساتھ دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ کو پورا اطمینان ہے کہ حق و باطل کے اس مقابلے میں حق فلاح پائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو خوب معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ سچے ہیں اس لئے کہ وہ اللہ کی براہ راست ہدایت اور مکالمے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ہدایت پر ہیں اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اگرچہ بعض معاملات بظاہر یوں نظر آتے ہیں کہ حق کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسی سنت کے ساتھ حضرت موسیٰ بھی فرعون کے مقابلے میں اترے ہیں اور تمام انبیاء سنن الہیہ کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ اب اس پر اطمینان ، مہذبانہ اور معقول جواب کا جواب الجواب فرعون کیا دیتا ہے محض دعویٰ سرکشی ، کھیل اور مزاح اور غرور لاابالی پن اور سستی۔
وقال فرعون یایھا الملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من الکذبین (28: 38) ” اور فرعون نے کہا ” اے اہل دربار ، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
اے سرداران مصر میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا تمہارا اور بھی کوئی حاکم والٰہ ہے۔ فسق و سرکشی کا ، یہ بلند ترین رویہ ہے اور سردار ظاہر ہے کہ وہ اقرار کریں گے۔ اب وہ یہاں اس نظریہ کا سہرا لیتا ہے جو اس دور میں مصر میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھا کہ بادشاہوں کا نسب عامہ الہوں سے ملتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس جبر کا سہارا بھی لیتا ہے جس کے مقابلے میں کوئی دماغ سوچتا نہیں اور کوئی شخص سر اٹھا کر نہیں چلتا۔ اور کوئی زبان یہ جرات نہیں کرتی کہ کوئی اختلافی بات کرے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بادشاہ انہی جیسا ایک بشر ہے جو پیدا ہوتا ہے اور مرتا ہے لیکن ان اساطیر اور پھر جبر کی بنا پر کہتا تھا اور یہ تسلیم کرتے تھے ، بغیر اعتراض اور تنقید کے۔
اب وہ ایک ایسی حرکت کرتا ہے جس سے بظاہر تو وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فی الواقعہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ موسیٰ کے الہہ کو وہ آسمانوں میں تلاش کرنے نکلا ہے لیکن دراصل وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ایک سنجیدہ مزاح کرتا ہے
فاوقد لی یھا من ۔۔۔۔۔ الہ موسیٰ (28: 38) ” اے ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں “۔
موسیٰ کہتا ہے کہ اس کا الٰہ آسمانوں میں ہے۔ بطور مزاح وہ کہتا ہے کہ مجھے تو اس میں شک ہے لیکن اس شک کے باوجود میں حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔
وانی لاظنہ من الکذبین (28: 38) ” میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
جس طرح دوسرے مقامات پر ہوا ، یہاں حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ بھی ہوا۔ جس کو یہاں حذف کردیا گیا ہے۔
واستکبر ھو ۔۔۔۔۔ لا یرجعون (28: 39) ” اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اس بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے “۔ جب ان کو یہ واہمہ ہوگیا کہ انہوں نے اللہ کی طرف نہیں پلٹنا تو انہوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ شروع کردیا۔ اور معجزات اور پیغمبروں کو جھٹلایا۔ وہ معجزات جن کی تفصیلات اس سے قبل گزر گئی ہیں اور دوسری سورتوں میں ان کا مظاہرہ مفصل دکھایا گیا ہے۔
فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم (28: 40) ” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا “۔ یہ نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیکن فیصلہ کن انداز میں سخت پکڑ اور ، سمندر میں پھینک دیا جانا ہے جس طرح انسان کسی کنکر اور کسی پتھر کو سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ جس طرح موسیٰ کی والدہ نے شیرخوار موسیٰ کو فرعون کے ڈر سے دریا میں پھینک دیا تھا ، اس طرح اسے اور اس کے لشکروں کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ لیکن اس بچے کو اللہ نے بچانا تھا تو بچ گیا اور فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کرنا تھا تو غرق ہوگئے۔ سمندر ان کے لئے باعث ہلاکت ہوگیا۔ لہٰذا امن وامان بھی اللہ کے ہاں ہے اور ڈرنا ہے تو اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ وہ ڈرنے کا مستحق ہے۔
فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین (28: 40) ” دیکھو ، ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟ “ یہ انجام وہ منظر پر نظر آتا ہے۔ تمام دنیا کے سامنے ہے۔ اس میں مکذبین کے لیے بھی عبرت ہے اور نصیحت پانے والوں کے لیے بھی عبرت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکش جباروں کو اللہ ہلاک کرنا چاہے تو چشم زدن میں نیست و نابود کردیتا ہے ، نصف سطر لکھنے سے بھی پہلے۔
اگلے لمحے فرعون اور اس کا لشکر اس دنیا سے اس جہاں میں ہیں اور فرعون اور اس کا لشکر وہاں بھی ایک عجیب منظر میں نظر آتے ہیں۔ ان کو حشر کے فیصلے کے بعد جہنم کی طرف بلایا جاتا ہے۔ فرعون وہاں بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت جہنم کی طرف رواں دواں ہے جس طرح وہ تعاقب میں حضرت موسیٰ کے پیچھے رواں تھا۔
وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار (28: 41) ” ہم نے ان کو جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا “۔ کیا ہی بری دعوت ہے جو یہ لوگ دیتے ہیں۔ اور کیا ہی بری قیادت و امامت ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
ویقوم القیمۃ لاینصرون (28: 41) ” اور قیامت کے روز کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے “۔ دنیا میں بھی ان کو ہزیمت اٹھانی پڑی اور آخرت میں بھی ان کو ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سرکشی اور ظلم کا یہی بدلہ تو ہوتا ہے۔ وہاں صرف ناکامی ہی نہ ہوگی ، بلکہ ہر طرف سے لعنت و ملامت بھی ہوگی۔ اس زمین پر بھی اور آخرت میں حشر کے میدان میں بھی۔
واتبعنھم فی ۔۔۔۔۔ من المقبوحین (28: 42) ” ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے “۔ مقبوحین کا لفظ ہی ایسا ہے کہ اس کی آواز ہی اس کے مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ ” قبح “ شرمندگی ، طعن ، تشنیع ، گندگی اور نفرت کے تمام مفہومات مقبوحین میں شامل ہیں۔ یہ اس لیے کہ زمین میں یہ کبر و غرور کا روپ اختصار کرتے تھے۔ عزت و جاہ اور قوت اور بندوں پر ظلم ان کا وطیرہ تھا۔
یہاں سیاق کلام میں مصر سے بنی اسرائیل کے ثروج کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ اور فرعون کے انجام بد کی ایک جھلک سرعت کے ساتھ دکھانے کے بعد یہ دکھایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو کس قدر مقام بلند عطا ہوا۔
القصص 28:40
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس سورت میں دست قدرت نمایاں طور پر متحرک نظر آتا ہے اس لیے یہاں بھی موسیٰ اور فرعون کے آمنے سامنے کے بعد جلد ہی فرعون کا انجام بد دکھا دیا گیا اور دست قدرت نے چشم زدن میں اس عظیم قوت کو ختم کردیا اور تفصیلات بیان کرنے کے بجائے جلدی سے آخری جھلک دکھا دی۔
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ الاولین (28: 36) ” پھر جب موسیٰ ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ” یہ کچھ نہیں ہے مگر بناؤٹی جادو۔ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسی سچائی کا انکار ہے جس کا کوئی جواب ان سے بن نہ پڑتا تھا اور تمام زمانوں میں حاملین حق کے ساتھ مکذبین نے یہی سلوک کیا ہے۔ جب وہ لاجواب ہوگئے تو ایسی باتیں کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ یہ جادو ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ تو نئی بات ہے۔ اس قسم کی بات ہم نے کبھی اپنے آبا سے نہیں سنی۔
یہ لوگ حضرت موسیٰ کے معجزات کے مقابلے میں کوئی حجت اور دلیل نہیں پاتے اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں کوئی برہان پیش کرتے ہیں۔ وہ بس ایک مجمل بات کرتے ہیں جس سے نہ حق ثابت ہوتا ہے اور نہ باطل ۔ نہ کوئی دعویٰ رد ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔ کیا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہم نے یہ بات کبھی نہیں سنی۔ یہ محض شک کا اظہار ہے اور اہل باطل ہمیشہ جب سچائی کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ اسے مشکوک بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر دور میں باطل کا یہی رویہ رہا۔ لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہاں بات مختصر کرتے ہوئے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا۔
وقال موسیٰ ربی ۔۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الظلمون (28: 37) ” موسیٰ نے جواب دیا “ میرا رب اس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ نہایت ہی مہذب اور با ادب جواب ہے۔ یہ جواب بہت ہی واضح اور نصیحت آموز ہے لیکن اس میں کوئی تلمیح اور اشارہ اور اجمال نہیں ہے۔ یہ جواب پر اعتمادی کے ساتھ دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ کو پورا اطمینان ہے کہ حق و باطل کے اس مقابلے میں حق فلاح پائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو خوب معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ سچے ہیں اس لئے کہ وہ اللہ کی براہ راست ہدایت اور مکالمے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ہدایت پر ہیں اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اگرچہ بعض معاملات بظاہر یوں نظر آتے ہیں کہ حق کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسی سنت کے ساتھ حضرت موسیٰ بھی فرعون کے مقابلے میں اترے ہیں اور تمام انبیاء سنن الہیہ کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ اب اس پر اطمینان ، مہذبانہ اور معقول جواب کا جواب الجواب فرعون کیا دیتا ہے محض دعویٰ سرکشی ، کھیل اور مزاح اور غرور لاابالی پن اور سستی۔
وقال فرعون یایھا الملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من الکذبین (28: 38) ” اور فرعون نے کہا ” اے اہل دربار ، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
اے سرداران مصر میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا تمہارا اور بھی کوئی حاکم والٰہ ہے۔ فسق و سرکشی کا ، یہ بلند ترین رویہ ہے اور سردار ظاہر ہے کہ وہ اقرار کریں گے۔ اب وہ یہاں اس نظریہ کا سہرا لیتا ہے جو اس دور میں مصر میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھا کہ بادشاہوں کا نسب عامہ الہوں سے ملتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس جبر کا سہارا بھی لیتا ہے جس کے مقابلے میں کوئی دماغ سوچتا نہیں اور کوئی شخص سر اٹھا کر نہیں چلتا۔ اور کوئی زبان یہ جرات نہیں کرتی کہ کوئی اختلافی بات کرے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بادشاہ انہی جیسا ایک بشر ہے جو پیدا ہوتا ہے اور مرتا ہے لیکن ان اساطیر اور پھر جبر کی بنا پر کہتا تھا اور یہ تسلیم کرتے تھے ، بغیر اعتراض اور تنقید کے۔
اب وہ ایک ایسی حرکت کرتا ہے جس سے بظاہر تو وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فی الواقعہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ موسیٰ کے الہہ کو وہ آسمانوں میں تلاش کرنے نکلا ہے لیکن دراصل وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ایک سنجیدہ مزاح کرتا ہے
فاوقد لی یھا من ۔۔۔۔۔ الہ موسیٰ (28: 38) ” اے ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں “۔
موسیٰ کہتا ہے کہ اس کا الٰہ آسمانوں میں ہے۔ بطور مزاح وہ کہتا ہے کہ مجھے تو اس میں شک ہے لیکن اس شک کے باوجود میں حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔
وانی لاظنہ من الکذبین (28: 38) ” میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
جس طرح دوسرے مقامات پر ہوا ، یہاں حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ بھی ہوا۔ جس کو یہاں حذف کردیا گیا ہے۔
واستکبر ھو ۔۔۔۔۔ لا یرجعون (28: 39) ” اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اس بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے “۔ جب ان کو یہ واہمہ ہوگیا کہ انہوں نے اللہ کی طرف نہیں پلٹنا تو انہوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ شروع کردیا۔ اور معجزات اور پیغمبروں کو جھٹلایا۔ وہ معجزات جن کی تفصیلات اس سے قبل گزر گئی ہیں اور دوسری سورتوں میں ان کا مظاہرہ مفصل دکھایا گیا ہے۔
فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم (28: 40) ” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا “۔ یہ نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیکن فیصلہ کن انداز میں سخت پکڑ اور ، سمندر میں پھینک دیا جانا ہے جس طرح انسان کسی کنکر اور کسی پتھر کو سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ جس طرح موسیٰ کی والدہ نے شیرخوار موسیٰ کو فرعون کے ڈر سے دریا میں پھینک دیا تھا ، اس طرح اسے اور اس کے لشکروں کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ لیکن اس بچے کو اللہ نے بچانا تھا تو بچ گیا اور فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کرنا تھا تو غرق ہوگئے۔ سمندر ان کے لئے باعث ہلاکت ہوگیا۔ لہٰذا امن وامان بھی اللہ کے ہاں ہے اور ڈرنا ہے تو اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ وہ ڈرنے کا مستحق ہے۔
فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین (28: 40) ” دیکھو ، ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟ “ یہ انجام وہ منظر پر نظر آتا ہے۔ تمام دنیا کے سامنے ہے۔ اس میں مکذبین کے لیے بھی عبرت ہے اور نصیحت پانے والوں کے لیے بھی عبرت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکش جباروں کو اللہ ہلاک کرنا چاہے تو چشم زدن میں نیست و نابود کردیتا ہے ، نصف سطر لکھنے سے بھی پہلے۔
اگلے لمحے فرعون اور اس کا لشکر اس دنیا سے اس جہاں میں ہیں اور فرعون اور اس کا لشکر وہاں بھی ایک عجیب منظر میں نظر آتے ہیں۔ ان کو حشر کے فیصلے کے بعد جہنم کی طرف بلایا جاتا ہے۔ فرعون وہاں بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت جہنم کی طرف رواں دواں ہے جس طرح وہ تعاقب میں حضرت موسیٰ کے پیچھے رواں تھا۔
وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار (28: 41) ” ہم نے ان کو جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا “۔ کیا ہی بری دعوت ہے جو یہ لوگ دیتے ہیں۔ اور کیا ہی بری قیادت و امامت ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
ویقوم القیمۃ لاینصرون (28: 41) ” اور قیامت کے روز کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے “۔ دنیا میں بھی ان کو ہزیمت اٹھانی پڑی اور آخرت میں بھی ان کو ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سرکشی اور ظلم کا یہی بدلہ تو ہوتا ہے۔ وہاں صرف ناکامی ہی نہ ہوگی ، بلکہ ہر طرف سے لعنت و ملامت بھی ہوگی۔ اس زمین پر بھی اور آخرت میں حشر کے میدان میں بھی۔
واتبعنھم فی ۔۔۔۔۔ من المقبوحین (28: 42) ” ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے “۔ مقبوحین کا لفظ ہی ایسا ہے کہ اس کی آواز ہی اس کے مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ ” قبح “ شرمندگی ، طعن ، تشنیع ، گندگی اور نفرت کے تمام مفہومات مقبوحین میں شامل ہیں۔ یہ اس لیے کہ زمین میں یہ کبر و غرور کا روپ اختصار کرتے تھے۔ عزت و جاہ اور قوت اور بندوں پر ظلم ان کا وطیرہ تھا۔
یہاں سیاق کلام میں مصر سے بنی اسرائیل کے ثروج کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ اور فرعون کے انجام بد کی ایک جھلک سرعت کے ساتھ دکھانے کے بعد یہ دکھایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو کس قدر مقام بلند عطا ہوا۔
القصص 28:41
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس سورت میں دست قدرت نمایاں طور پر متحرک نظر آتا ہے اس لیے یہاں بھی موسیٰ اور فرعون کے آمنے سامنے کے بعد جلد ہی فرعون کا انجام بد دکھا دیا گیا اور دست قدرت نے چشم زدن میں اس عظیم قوت کو ختم کردیا اور تفصیلات بیان کرنے کے بجائے جلدی سے آخری جھلک دکھا دی۔
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ الاولین (28: 36) ” پھر جب موسیٰ ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ” یہ کچھ نہیں ہے مگر بناؤٹی جادو۔ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسی سچائی کا انکار ہے جس کا کوئی جواب ان سے بن نہ پڑتا تھا اور تمام زمانوں میں حاملین حق کے ساتھ مکذبین نے یہی سلوک کیا ہے۔ جب وہ لاجواب ہوگئے تو ایسی باتیں کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ یہ جادو ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ تو نئی بات ہے۔ اس قسم کی بات ہم نے کبھی اپنے آبا سے نہیں سنی۔
یہ لوگ حضرت موسیٰ کے معجزات کے مقابلے میں کوئی حجت اور دلیل نہیں پاتے اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں کوئی برہان پیش کرتے ہیں۔ وہ بس ایک مجمل بات کرتے ہیں جس سے نہ حق ثابت ہوتا ہے اور نہ باطل ۔ نہ کوئی دعویٰ رد ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔ کیا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہم نے یہ بات کبھی نہیں سنی۔ یہ محض شک کا اظہار ہے اور اہل باطل ہمیشہ جب سچائی کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ اسے مشکوک بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر دور میں باطل کا یہی رویہ رہا۔ لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہاں بات مختصر کرتے ہوئے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا۔
وقال موسیٰ ربی ۔۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الظلمون (28: 37) ” موسیٰ نے جواب دیا “ میرا رب اس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ نہایت ہی مہذب اور با ادب جواب ہے۔ یہ جواب بہت ہی واضح اور نصیحت آموز ہے لیکن اس میں کوئی تلمیح اور اشارہ اور اجمال نہیں ہے۔ یہ جواب پر اعتمادی کے ساتھ دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ کو پورا اطمینان ہے کہ حق و باطل کے اس مقابلے میں حق فلاح پائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو خوب معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ سچے ہیں اس لئے کہ وہ اللہ کی براہ راست ہدایت اور مکالمے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ہدایت پر ہیں اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اگرچہ بعض معاملات بظاہر یوں نظر آتے ہیں کہ حق کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسی سنت کے ساتھ حضرت موسیٰ بھی فرعون کے مقابلے میں اترے ہیں اور تمام انبیاء سنن الہیہ کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ اب اس پر اطمینان ، مہذبانہ اور معقول جواب کا جواب الجواب فرعون کیا دیتا ہے محض دعویٰ سرکشی ، کھیل اور مزاح اور غرور لاابالی پن اور سستی۔
وقال فرعون یایھا الملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من الکذبین (28: 38) ” اور فرعون نے کہا ” اے اہل دربار ، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
اے سرداران مصر میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا تمہارا اور بھی کوئی حاکم والٰہ ہے۔ فسق و سرکشی کا ، یہ بلند ترین رویہ ہے اور سردار ظاہر ہے کہ وہ اقرار کریں گے۔ اب وہ یہاں اس نظریہ کا سہرا لیتا ہے جو اس دور میں مصر میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھا کہ بادشاہوں کا نسب عامہ الہوں سے ملتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس جبر کا سہارا بھی لیتا ہے جس کے مقابلے میں کوئی دماغ سوچتا نہیں اور کوئی شخص سر اٹھا کر نہیں چلتا۔ اور کوئی زبان یہ جرات نہیں کرتی کہ کوئی اختلافی بات کرے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بادشاہ انہی جیسا ایک بشر ہے جو پیدا ہوتا ہے اور مرتا ہے لیکن ان اساطیر اور پھر جبر کی بنا پر کہتا تھا اور یہ تسلیم کرتے تھے ، بغیر اعتراض اور تنقید کے۔
اب وہ ایک ایسی حرکت کرتا ہے جس سے بظاہر تو وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فی الواقعہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ موسیٰ کے الہہ کو وہ آسمانوں میں تلاش کرنے نکلا ہے لیکن دراصل وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ایک سنجیدہ مزاح کرتا ہے
فاوقد لی یھا من ۔۔۔۔۔ الہ موسیٰ (28: 38) ” اے ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں “۔
موسیٰ کہتا ہے کہ اس کا الٰہ آسمانوں میں ہے۔ بطور مزاح وہ کہتا ہے کہ مجھے تو اس میں شک ہے لیکن اس شک کے باوجود میں حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔
وانی لاظنہ من الکذبین (28: 38) ” میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
جس طرح دوسرے مقامات پر ہوا ، یہاں حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ بھی ہوا۔ جس کو یہاں حذف کردیا گیا ہے۔
واستکبر ھو ۔۔۔۔۔ لا یرجعون (28: 39) ” اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اس بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے “۔ جب ان کو یہ واہمہ ہوگیا کہ انہوں نے اللہ کی طرف نہیں پلٹنا تو انہوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ شروع کردیا۔ اور معجزات اور پیغمبروں کو جھٹلایا۔ وہ معجزات جن کی تفصیلات اس سے قبل گزر گئی ہیں اور دوسری سورتوں میں ان کا مظاہرہ مفصل دکھایا گیا ہے۔
فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم (28: 40) ” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا “۔ یہ نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیکن فیصلہ کن انداز میں سخت پکڑ اور ، سمندر میں پھینک دیا جانا ہے جس طرح انسان کسی کنکر اور کسی پتھر کو سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ جس طرح موسیٰ کی والدہ نے شیرخوار موسیٰ کو فرعون کے ڈر سے دریا میں پھینک دیا تھا ، اس طرح اسے اور اس کے لشکروں کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ لیکن اس بچے کو اللہ نے بچانا تھا تو بچ گیا اور فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کرنا تھا تو غرق ہوگئے۔ سمندر ان کے لئے باعث ہلاکت ہوگیا۔ لہٰذا امن وامان بھی اللہ کے ہاں ہے اور ڈرنا ہے تو اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ وہ ڈرنے کا مستحق ہے۔
فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین (28: 40) ” دیکھو ، ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟ “ یہ انجام وہ منظر پر نظر آتا ہے۔ تمام دنیا کے سامنے ہے۔ اس میں مکذبین کے لیے بھی عبرت ہے اور نصیحت پانے والوں کے لیے بھی عبرت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکش جباروں کو اللہ ہلاک کرنا چاہے تو چشم زدن میں نیست و نابود کردیتا ہے ، نصف سطر لکھنے سے بھی پہلے۔
اگلے لمحے فرعون اور اس کا لشکر اس دنیا سے اس جہاں میں ہیں اور فرعون اور اس کا لشکر وہاں بھی ایک عجیب منظر میں نظر آتے ہیں۔ ان کو حشر کے فیصلے کے بعد جہنم کی طرف بلایا جاتا ہے۔ فرعون وہاں بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت جہنم کی طرف رواں دواں ہے جس طرح وہ تعاقب میں حضرت موسیٰ کے پیچھے رواں تھا۔
وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار (28: 41) ” ہم نے ان کو جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا “۔ کیا ہی بری دعوت ہے جو یہ لوگ دیتے ہیں۔ اور کیا ہی بری قیادت و امامت ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
ویقوم القیمۃ لاینصرون (28: 41) ” اور قیامت کے روز کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے “۔ دنیا میں بھی ان کو ہزیمت اٹھانی پڑی اور آخرت میں بھی ان کو ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سرکشی اور ظلم کا یہی بدلہ تو ہوتا ہے۔ وہاں صرف ناکامی ہی نہ ہوگی ، بلکہ ہر طرف سے لعنت و ملامت بھی ہوگی۔ اس زمین پر بھی اور آخرت میں حشر کے میدان میں بھی۔
واتبعنھم فی ۔۔۔۔۔ من المقبوحین (28: 42) ” ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے “۔ مقبوحین کا لفظ ہی ایسا ہے کہ اس کی آواز ہی اس کے مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ ” قبح “ شرمندگی ، طعن ، تشنیع ، گندگی اور نفرت کے تمام مفہومات مقبوحین میں شامل ہیں۔ یہ اس لیے کہ زمین میں یہ کبر و غرور کا روپ اختصار کرتے تھے۔ عزت و جاہ اور قوت اور بندوں پر ظلم ان کا وطیرہ تھا۔
یہاں سیاق کلام میں مصر سے بنی اسرائیل کے ثروج کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ اور فرعون کے انجام بد کی ایک جھلک سرعت کے ساتھ دکھانے کے بعد یہ دکھایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو کس قدر مقام بلند عطا ہوا۔
القصص 28:42
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس سورت میں دست قدرت نمایاں طور پر متحرک نظر آتا ہے اس لیے یہاں بھی موسیٰ اور فرعون کے آمنے سامنے کے بعد جلد ہی فرعون کا انجام بد دکھا دیا گیا اور دست قدرت نے چشم زدن میں اس عظیم قوت کو ختم کردیا اور تفصیلات بیان کرنے کے بجائے جلدی سے آخری جھلک دکھا دی۔
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ الاولین (28: 36) ” پھر جب موسیٰ ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ” یہ کچھ نہیں ہے مگر بناؤٹی جادو۔ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسی سچائی کا انکار ہے جس کا کوئی جواب ان سے بن نہ پڑتا تھا اور تمام زمانوں میں حاملین حق کے ساتھ مکذبین نے یہی سلوک کیا ہے۔ جب وہ لاجواب ہوگئے تو ایسی باتیں کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ یہ جادو ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ تو نئی بات ہے۔ اس قسم کی بات ہم نے کبھی اپنے آبا سے نہیں سنی۔
یہ لوگ حضرت موسیٰ کے معجزات کے مقابلے میں کوئی حجت اور دلیل نہیں پاتے اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں کوئی برہان پیش کرتے ہیں۔ وہ بس ایک مجمل بات کرتے ہیں جس سے نہ حق ثابت ہوتا ہے اور نہ باطل ۔ نہ کوئی دعویٰ رد ہوتا ہے اور نہ ثابت ہوتا ہے۔ کیا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہم نے یہ بات کبھی نہیں سنی۔ یہ محض شک کا اظہار ہے اور اہل باطل ہمیشہ جب سچائی کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ اسے مشکوک بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر دور میں باطل کا یہی رویہ رہا۔ لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہاں بات مختصر کرتے ہوئے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا۔
وقال موسیٰ ربی ۔۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الظلمون (28: 37) ” موسیٰ نے جواب دیا “ میرا رب اس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے “۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ نہایت ہی مہذب اور با ادب جواب ہے۔ یہ جواب بہت ہی واضح اور نصیحت آموز ہے لیکن اس میں کوئی تلمیح اور اشارہ اور اجمال نہیں ہے۔ یہ جواب پر اعتمادی کے ساتھ دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ کو پورا اطمینان ہے کہ حق و باطل کے اس مقابلے میں حق فلاح پائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو خوب معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ سچے ہیں اس لئے کہ وہ اللہ کی براہ راست ہدایت اور مکالمے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ہدایت پر ہیں اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اگرچہ بعض معاملات بظاہر یوں نظر آتے ہیں کہ حق کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسی سنت کے ساتھ حضرت موسیٰ بھی فرعون کے مقابلے میں اترے ہیں اور تمام انبیاء سنن الہیہ کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ اب اس پر اطمینان ، مہذبانہ اور معقول جواب کا جواب الجواب فرعون کیا دیتا ہے محض دعویٰ سرکشی ، کھیل اور مزاح اور غرور لاابالی پن اور سستی۔
وقال فرعون یایھا الملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من الکذبین (28: 38) ” اور فرعون نے کہا ” اے اہل دربار ، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
اے سرداران مصر میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا تمہارا اور بھی کوئی حاکم والٰہ ہے۔ فسق و سرکشی کا ، یہ بلند ترین رویہ ہے اور سردار ظاہر ہے کہ وہ اقرار کریں گے۔ اب وہ یہاں اس نظریہ کا سہرا لیتا ہے جو اس دور میں مصر میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھا کہ بادشاہوں کا نسب عامہ الہوں سے ملتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس جبر کا سہارا بھی لیتا ہے جس کے مقابلے میں کوئی دماغ سوچتا نہیں اور کوئی شخص سر اٹھا کر نہیں چلتا۔ اور کوئی زبان یہ جرات نہیں کرتی کہ کوئی اختلافی بات کرے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بادشاہ انہی جیسا ایک بشر ہے جو پیدا ہوتا ہے اور مرتا ہے لیکن ان اساطیر اور پھر جبر کی بنا پر کہتا تھا اور یہ تسلیم کرتے تھے ، بغیر اعتراض اور تنقید کے۔
اب وہ ایک ایسی حرکت کرتا ہے جس سے بظاہر تو وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فی الواقعہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ موسیٰ کے الہہ کو وہ آسمانوں میں تلاش کرنے نکلا ہے لیکن دراصل وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ایک سنجیدہ مزاح کرتا ہے
فاوقد لی یھا من ۔۔۔۔۔ الہ موسیٰ (28: 38) ” اے ہامان ، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں “۔
موسیٰ کہتا ہے کہ اس کا الٰہ آسمانوں میں ہے۔ بطور مزاح وہ کہتا ہے کہ مجھے تو اس میں شک ہے لیکن اس شک کے باوجود میں حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔
وانی لاظنہ من الکذبین (28: 38) ” میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں “۔
جس طرح دوسرے مقامات پر ہوا ، یہاں حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ بھی ہوا۔ جس کو یہاں حذف کردیا گیا ہے۔
واستکبر ھو ۔۔۔۔۔ لا یرجعون (28: 39) ” اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اس بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے “۔ جب ان کو یہ واہمہ ہوگیا کہ انہوں نے اللہ کی طرف نہیں پلٹنا تو انہوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ شروع کردیا۔ اور معجزات اور پیغمبروں کو جھٹلایا۔ وہ معجزات جن کی تفصیلات اس سے قبل گزر گئی ہیں اور دوسری سورتوں میں ان کا مظاہرہ مفصل دکھایا گیا ہے۔
فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم (28: 40) ” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا “۔ یہ نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیکن فیصلہ کن انداز میں سخت پکڑ اور ، سمندر میں پھینک دیا جانا ہے جس طرح انسان کسی کنکر اور کسی پتھر کو سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ جس طرح موسیٰ کی والدہ نے شیرخوار موسیٰ کو فرعون کے ڈر سے دریا میں پھینک دیا تھا ، اس طرح اسے اور اس کے لشکروں کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ لیکن اس بچے کو اللہ نے بچانا تھا تو بچ گیا اور فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کرنا تھا تو غرق ہوگئے۔ سمندر ان کے لئے باعث ہلاکت ہوگیا۔ لہٰذا امن وامان بھی اللہ کے ہاں ہے اور ڈرنا ہے تو اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ وہ ڈرنے کا مستحق ہے۔
فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین (28: 40) ” دیکھو ، ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟ “ یہ انجام وہ منظر پر نظر آتا ہے۔ تمام دنیا کے سامنے ہے۔ اس میں مکذبین کے لیے بھی عبرت ہے اور نصیحت پانے والوں کے لیے بھی عبرت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکش جباروں کو اللہ ہلاک کرنا چاہے تو چشم زدن میں نیست و نابود کردیتا ہے ، نصف سطر لکھنے سے بھی پہلے۔
اگلے لمحے فرعون اور اس کا لشکر اس دنیا سے اس جہاں میں ہیں اور فرعون اور اس کا لشکر وہاں بھی ایک عجیب منظر میں نظر آتے ہیں۔ ان کو حشر کے فیصلے کے بعد جہنم کی طرف بلایا جاتا ہے۔ فرعون وہاں بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت جہنم کی طرف رواں دواں ہے جس طرح وہ تعاقب میں حضرت موسیٰ کے پیچھے رواں تھا۔
وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار (28: 41) ” ہم نے ان کو جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا “۔ کیا ہی بری دعوت ہے جو یہ لوگ دیتے ہیں۔ اور کیا ہی بری قیادت و امامت ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
ویقوم القیمۃ لاینصرون (28: 41) ” اور قیامت کے روز کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے “۔ دنیا میں بھی ان کو ہزیمت اٹھانی پڑی اور آخرت میں بھی ان کو ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سرکشی اور ظلم کا یہی بدلہ تو ہوتا ہے۔ وہاں صرف ناکامی ہی نہ ہوگی ، بلکہ ہر طرف سے لعنت و ملامت بھی ہوگی۔ اس زمین پر بھی اور آخرت میں حشر کے میدان میں بھی۔
واتبعنھم فی ۔۔۔۔۔ من المقبوحین (28: 42) ” ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے “۔ مقبوحین کا لفظ ہی ایسا ہے کہ اس کی آواز ہی اس کے مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ ” قبح “ شرمندگی ، طعن ، تشنیع ، گندگی اور نفرت کے تمام مفہومات مقبوحین میں شامل ہیں۔ یہ اس لیے کہ زمین میں یہ کبر و غرور کا روپ اختصار کرتے تھے۔ عزت و جاہ اور قوت اور بندوں پر ظلم ان کا وطیرہ تھا۔
یہاں سیاق کلام میں مصر سے بنی اسرائیل کے ثروج کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ اور فرعون کے انجام بد کی ایک جھلک سرعت کے ساتھ دکھانے کے بعد یہ دکھایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو کس قدر مقام بلند عطا ہوا۔
القصص 28:43
ولقد اتینا موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لعلھم یتذکرون (43) ۔ یہ ہے حضرت موسیٰ کا انجام۔ یہ ایک بہترین انجام ہے ، کس قدر باعزت انجام و مقام ہے یہ۔ جہاں تک وہ پہنچے ، ان کو کتاب دی گئی جو لوگوں کے لئے اس طرح ذریعہ ہدایت تھی جس طرح انسانوں کے لیے آنکھیں ذریعہ ہدایت ہوتی ہیں۔ ہدایت ہے اور رحمت ہے۔ اور اس لیے ہے کہ بنی اسرائیل سبق سیکھیں۔ دیکھیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے نشیب و فراز میں دست قدرت نے کس طرح بار بار مداخلت کی۔ کس طرح اللہ نے کمزوروں کی حمایت کی اور جباروں کو ہلاک کیا۔ اور مظلومین کو بالاخر برتری حاصل ہوئی۔
قصہ موسیٰ و فرعون اس سورت میں یوں بیان ہوا۔ اس سے یہاں یہ ہدایت دی گئی کہ امن و سکون اللہ کی جانب سے ہوا کرتا ہے۔ اور انسانوں سے ڈرتے وہ لوگ ہیں جو اللہ سے نہیں ڈرتے۔ جو اللہ سے دور ہوجاتے ہیں اور یہ کہ جب ظلم اور سرکشی حد سے بڑھ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ مظلوموں کے حق میں براہ راست مداخلت کرتا ہے اور ہمیشہ اللہ ظالم کا ہاتھ پکڑتا ہے۔ لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب جبار وقہار لوگ ظلم کرنا شروع کردیں اور مخلوق خدا اپنے دفاع سے عاجز آجائے۔ یہ وہ ہدایت تھیں جو اس وقت مکہ میں برسر عمل ایک مختصر سی انقلابی جماعت کے لیے بےحد ضروری تھیں۔ نیز مکہ کے مشرکین جو ان بیچاروں کے لیے فرعون کی طرح جبار وقہار تھے ، ان کو بھی بار بار سنایا جاتا ہے کہ تم بھی غور کرو ، اور نبی ﷺ کے بعد بھی جہاں جہاں کوئی انقلابی عمل شروع کرے گا اسے ان ہدایات کی ضرورت ہوگی۔ جہاں بھی دعوت ہو اور اس پر تشدد ہو۔
قرآن کریم میں قصص صرف ایسی ہی انقلابی تعلیمات کیلئے آتے ہیں۔ داعیوں کی تربیت کے لئے۔ اللہ کے سنن کے مناظر دکھانے کیلئے کہ سنن الہیہ کس طرح کام کرتی ہیں ، تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور اپنی جدوجہد میں ان سے بصیرت حاصل کریں۔
القصص 28:44
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے میدان حشر کے بھی بعض مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو تعلیم لے کر آئے وہ سچی ہے۔ اہل کتاب میں سے سلیم الفطرت لوگ اسے قبول کرتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ مدعی دین ابراہیمی ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو یہ ان کیلئے رحمت ثابت ہوگی۔
اس قصے سے جو پہلا نتیجہ یہاں نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کلام نازل ہو رہا ہے وہ سچا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ ان قصص کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس طرح کوئی عینی شاہد کسی واقعہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ حضور اکرم ﷺ ان واقعات کے پیش آنے کے وقت وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ علیم وخبیر اللہ کی طرف سے وحی ہے جو آپ پر آرہی ہے اور یہ وحی رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک میں مبتلا ہیں۔ اور اس فعل کی وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس لیے کہ اگر یہ وحی نہ آتی تو ان لوگوں کو ایک بہانہ ہاتھ آجاتا۔
ربنا لولا ارسلت ۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی نبی بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔
وما کنت بجانب الغربی ۔۔۔۔۔۔۔ لھم القول لعلکم یتذکرون (44 – 51)
غربی سے یہاں طور کا جانب غربی مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمے اور چلہ کشی کے چالیس روز و شب کے لیے متعین فرمایا تھا۔ اصل میعاد تیس راتیں تھیں پھر اس میں دس کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا تذکرہ سورت اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی وہ تختیاں دی گئیں جن میں احکام خداوندی لکھے ہوئے تھے تاکہ ان احکام پر بنی اسرائیل کا قانونی نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے کہ آپ ازخود ان حالات و مشاہدات کی رپورٹ دے رہا ہے کیونکہ حضور ﷺ اور حضرت موسیٰ کے زمانوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔
ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر (28: 45) ” ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر زمانہ گزر چکا ہے “۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو یہ اطلاعات اللہ علیم وخبیر دے رہا ہے اور یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔
قرآن کریم نے حضرت موسیٰ کے قیام مدین کے واقعات کے بارے میں بھی تحدی کی ہے اور چیلنج کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے وہاں قیام کیا۔ حضرت محمد ﷺ وہ واقعات بتا رہے ہیں تو حضور ہدایت خود مدین میں بھی تو موجود نہ تھے کہ اس زمانے کی خبریں حضور اکرم ﷺ نے ان سے لی ہوں اور پھر تفصیلات بیان کردیں۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ
لکنا کنا مرسلین (28: 45) ” مگر یہ خبریں ہم بھیجنے والے ہیں “۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جس کے پاس انبیائے سابقین کی خبریں محفوظ ہیں۔
پھر قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات اور مکالمے کو بھی اپنی جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ نہایت گہرائی کے ساتھ۔
وما کنت بجانب الطور اذنادینا (28: 46) ” اور تم طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے پہلی مرتبہ موسیٰ کو پکارا “۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ پکار تو نہ سنی تھی۔ نہ اس کی تفصیلات انہوں نے قلم بند فرمائی تھیں۔ یہ اللہ کی جانب سے اہل مکہ قوم رسول کیلئے ایک رحمت ہے کہ وہ خبریں تفصیلات کے ساتھ دی جا رہی ہیں لہٰذا یہ خبریں بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ آپ سچے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں اس پر پہلی دلیل خود یہ قرآن ہے تاکہ عرب جیسی قوم کو آپ ڈرائیں جن کے پاس اس سے قبل ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس سے قبل کی رسالتیں بنی اسرائیل کے پاس آتی تھیں جو عربوں کے پڑوس میں بستے تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل عرب میں کوئی رسول نہ آیا تھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
یہ قرآن لوگوں کیلئے رحمت خداوندی بھی ہے اور ان پر حجت بھی ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہمارے لیے تو کوئی رسول بھیجا ہی نہ گیا تھا اور یہ کہ ان کو تو اچانک ہی پکڑ لیا گیا اور یہ کہ اس پکڑ سے قبل ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ یہ لوگ جس جاہلیت اور شرک میں مبتلا تھے وہ تو موجب عذاب تھی تو اللہ نے ان کی حجت بازی اور ان کے عذرات کو ختم کرنے کیلئے رسول بھیج دیا اور آخری رسول بھیج دیا تاکہ ان کے بعد کوئی عذر نہ کرے۔
ولولا ان تصیبھم ۔۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ اگر رسول نہ آتا تو وہ ایسی ہی بات کرتے۔ اگرچہ رسول کے پاس آیات نہ ہوتیں ، لیکن جب رسول آگیا اور اس کے پاس آیات بھی ہیں تو یہ لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں حالانکہ اس کے پاس ناقابل تردید و ناقابل شک دلائل ہیں۔
فلما جآءھم الحق من عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل کفرون (28: 48) ” مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیو یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں “۔ اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “۔ یہی غرض تھی ان کی بہانہ سازی اور ان کے غلط عذرات کی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم نہ کیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے یعنی مادی معجزات یا قرآن کریم تختیوں پر لکھا ہوا کیوں نہیں اتارا گیا جس طرح تورات کو لکھا ہوا اتارا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے جو دلیل بیان کی ہے ، یہ اس میں سچے نہیں ہیں۔ نہ ان کا یہ اعتراض مخلصانہ ہے۔
اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (28: 48) ” کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ جزیرۃ العرب میں یہودی رہتے تھے۔ ان کے پاس تورات بھی تھی تو عربوں نے تورات کو کیوں نہ مانا۔ انہوں نے تو تورات کو بھی تکذیب کی تھی۔ نیز ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی بشارت اور صفات دونوں دی گئی ہیں اور انہوں نے قرآن کے بارے میں بعض اہل کتاب سے فتویٰ بھی پوچھا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ محمد جو تعلیم پیش کرتے ہیں وہ سچی ہے اور یہ تعلیم بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ لیکن انہوں نے ان فتاویٰ کو بھی تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے تورات کو بھی جادو کہا۔ قرآن کو بھی جادو کہا اور چونکہ دونوں جادو ہیں اس لیے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔
قالوا سحرن تظھرا وقالوا انا بکل کفرون (28: 48) ” انہوں نے کہا دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “ وہ حق طلب کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ قرآن کی پشت پر موجود دلائل ضعیف ہیں۔
قرآن مجید ایک قدم آگے بڑھ کر ان کو اچھی طرح لاجواب کردیتا ہے ، ان سے کہا جاتا ہے اگر تم قرآن کو تسلیم نہیں کرتے ، اور تورات کی تعلیمات بھی تمہارے دل کو نہیں لگتیں تو تم کوئی ایسی کتاب لاؤ جو تورات اور قرآن دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اس کتاب کو مان لیں گے۔
یہ آخری بات ہے اور دلیل وبرہان کی آخری حد ہے کہ تم ایسی کوئی کتاب لاؤ، اس کے بعد بھی اگر کوئی حق کے سامنے نہیں جھکتا تو یہ مکابرہ ہوگا اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ اور ہٹ دھرمی کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔۔۔ لا یھدی القوم الظلمین (28: 50) ” اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔
قرآن جن حقائق پر مشتمل ہے وہ نہایت واضح ہیں۔ دین اسلام کے جو دلائل ہیں وہ قطعی اللبوت ہیں۔ ان دلائل کا جو شخص انکار کرتا ہے وہ وہی شخص ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا ہوا ہو۔ کیونکہ معقول انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ تیسرا راستہ ہی نہیں ہے یا تو وہ مخلص اور حق قبول کرنے والا ہوگا تو وہ لازماً دلائل ایمان کو دیکھ کر ایمان لائے گا اور یا وہ شک میں مبتلا ہوگا ، اپنی خواہشات کا پیرو ہوگا وہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والا ہوگا۔ انکار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے کرے گا ، اسلئے نہیں کرے گا کہ اسلامی عقائد میں کوئی پیچیدگی ہے یا حجت میں کوئی ضعف ہے یا دلیل میں کوئی کمی ہے جیسا کہ نفس پرست لوگ کہتے ہیں۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔ اھوآءھم (28: 50) ” اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہے ، آخری ہے ، اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس دین کو قبول نہیں کرتے وہ مفاد پرست ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور عذر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زبردستی ناسمجھ بنا رکھا ہے دراصل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔ حق واضح ہے اور پھر بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں۔
ومن اضل ممن اتبع ۔۔۔۔۔۔۔ القوم لظلمین (28: 50) ” اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ اور یہ اہل مکہ اس معاملے میں بڑے ظالم اور باغی ہیں۔
یہ آیت ان لوگوں کے تمام عذرات ختم کردیتی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو سمجھا نہیں ہے اور ان کو دین کا پورا پورا علم نہ تھا۔ اسلام کا موقف ہے کہ اسلام بالکل واضح ہے۔ صرف لوگوں تک پہنچنا چاہئے ، ان پر حجت تمام ہونا چاہئے کہ اسلام پہنچا دیا گیا۔ بس پھر مجادلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف پہنچا دینے سے لوگوں کے عذرات ختم ہوجائیں گے۔ دین پہنچ جانے کے بعد محض نفس پرست یا مفاد پرست ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور تکذیب وہی شخص کرسکتا ہے جو زبردستی اپنے آپ کو جاہل بنائے اور اپنے اوپر ظلم کرے۔ اس سچائی پر ظلم کرے۔ ایسا شخص مستحق ہدایت ہی نہیں ہوتا۔ ” ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت ہی نہیں بخشتا “۔
حق پہنچتے ہی ان کا عذر ختم ہوا۔ ان پر دعوت پیش کرتے ہی رسول اور امت کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب ایسے لوگوں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔
ولقد وصلنا ۔۔۔۔۔ یتذکرون (28: 51) ” اور نصیحت کی بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں “۔
گذشتہ آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ لوگ منہ موڑتے ہیں ، شک کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اب یہاں بعض ایسے لوگوں اور ایسے کرداروں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو حق کو خلوص نیت سے قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مثال اہل کتاب میں ملتی ہے۔ ذرا دیکھو انہوں نے سچائی پر مشتمل اس کتاب کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔
القصص 28:45
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے میدان حشر کے بھی بعض مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو تعلیم لے کر آئے وہ سچی ہے۔ اہل کتاب میں سے سلیم الفطرت لوگ اسے قبول کرتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ مدعی دین ابراہیمی ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو یہ ان کیلئے رحمت ثابت ہوگی۔
اس قصے سے جو پہلا نتیجہ یہاں نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کلام نازل ہو رہا ہے وہ سچا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ ان قصص کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس طرح کوئی عینی شاہد کسی واقعہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ حضور اکرم ﷺ ان واقعات کے پیش آنے کے وقت وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ علیم وخبیر اللہ کی طرف سے وحی ہے جو آپ پر آرہی ہے اور یہ وحی رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک میں مبتلا ہیں۔ اور اس فعل کی وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس لیے کہ اگر یہ وحی نہ آتی تو ان لوگوں کو ایک بہانہ ہاتھ آجاتا۔
ربنا لولا ارسلت ۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی نبی بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔
وما کنت بجانب الغربی ۔۔۔۔۔۔۔ لھم القول لعلکم یتذکرون (44 – 51)
غربی سے یہاں طور کا جانب غربی مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمے اور چلہ کشی کے چالیس روز و شب کے لیے متعین فرمایا تھا۔ اصل میعاد تیس راتیں تھیں پھر اس میں دس کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا تذکرہ سورت اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی وہ تختیاں دی گئیں جن میں احکام خداوندی لکھے ہوئے تھے تاکہ ان احکام پر بنی اسرائیل کا قانونی نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے کہ آپ ازخود ان حالات و مشاہدات کی رپورٹ دے رہا ہے کیونکہ حضور ﷺ اور حضرت موسیٰ کے زمانوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔
ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر (28: 45) ” ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر زمانہ گزر چکا ہے “۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو یہ اطلاعات اللہ علیم وخبیر دے رہا ہے اور یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔
قرآن کریم نے حضرت موسیٰ کے قیام مدین کے واقعات کے بارے میں بھی تحدی کی ہے اور چیلنج کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے وہاں قیام کیا۔ حضرت محمد ﷺ وہ واقعات بتا رہے ہیں تو حضور ہدایت خود مدین میں بھی تو موجود نہ تھے کہ اس زمانے کی خبریں حضور اکرم ﷺ نے ان سے لی ہوں اور پھر تفصیلات بیان کردیں۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ
لکنا کنا مرسلین (28: 45) ” مگر یہ خبریں ہم بھیجنے والے ہیں “۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جس کے پاس انبیائے سابقین کی خبریں محفوظ ہیں۔
پھر قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات اور مکالمے کو بھی اپنی جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ نہایت گہرائی کے ساتھ۔
وما کنت بجانب الطور اذنادینا (28: 46) ” اور تم طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے پہلی مرتبہ موسیٰ کو پکارا “۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ پکار تو نہ سنی تھی۔ نہ اس کی تفصیلات انہوں نے قلم بند فرمائی تھیں۔ یہ اللہ کی جانب سے اہل مکہ قوم رسول کیلئے ایک رحمت ہے کہ وہ خبریں تفصیلات کے ساتھ دی جا رہی ہیں لہٰذا یہ خبریں بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ آپ سچے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں اس پر پہلی دلیل خود یہ قرآن ہے تاکہ عرب جیسی قوم کو آپ ڈرائیں جن کے پاس اس سے قبل ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس سے قبل کی رسالتیں بنی اسرائیل کے پاس آتی تھیں جو عربوں کے پڑوس میں بستے تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل عرب میں کوئی رسول نہ آیا تھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
یہ قرآن لوگوں کیلئے رحمت خداوندی بھی ہے اور ان پر حجت بھی ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہمارے لیے تو کوئی رسول بھیجا ہی نہ گیا تھا اور یہ کہ ان کو تو اچانک ہی پکڑ لیا گیا اور یہ کہ اس پکڑ سے قبل ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ یہ لوگ جس جاہلیت اور شرک میں مبتلا تھے وہ تو موجب عذاب تھی تو اللہ نے ان کی حجت بازی اور ان کے عذرات کو ختم کرنے کیلئے رسول بھیج دیا اور آخری رسول بھیج دیا تاکہ ان کے بعد کوئی عذر نہ کرے۔
ولولا ان تصیبھم ۔۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ اگر رسول نہ آتا تو وہ ایسی ہی بات کرتے۔ اگرچہ رسول کے پاس آیات نہ ہوتیں ، لیکن جب رسول آگیا اور اس کے پاس آیات بھی ہیں تو یہ لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں حالانکہ اس کے پاس ناقابل تردید و ناقابل شک دلائل ہیں۔
فلما جآءھم الحق من عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل کفرون (28: 48) ” مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیو یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں “۔ اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “۔ یہی غرض تھی ان کی بہانہ سازی اور ان کے غلط عذرات کی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم نہ کیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے یعنی مادی معجزات یا قرآن کریم تختیوں پر لکھا ہوا کیوں نہیں اتارا گیا جس طرح تورات کو لکھا ہوا اتارا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے جو دلیل بیان کی ہے ، یہ اس میں سچے نہیں ہیں۔ نہ ان کا یہ اعتراض مخلصانہ ہے۔
اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (28: 48) ” کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ جزیرۃ العرب میں یہودی رہتے تھے۔ ان کے پاس تورات بھی تھی تو عربوں نے تورات کو کیوں نہ مانا۔ انہوں نے تو تورات کو بھی تکذیب کی تھی۔ نیز ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی بشارت اور صفات دونوں دی گئی ہیں اور انہوں نے قرآن کے بارے میں بعض اہل کتاب سے فتویٰ بھی پوچھا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ محمد جو تعلیم پیش کرتے ہیں وہ سچی ہے اور یہ تعلیم بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ لیکن انہوں نے ان فتاویٰ کو بھی تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے تورات کو بھی جادو کہا۔ قرآن کو بھی جادو کہا اور چونکہ دونوں جادو ہیں اس لیے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔
قالوا سحرن تظھرا وقالوا انا بکل کفرون (28: 48) ” انہوں نے کہا دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “ وہ حق طلب کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ قرآن کی پشت پر موجود دلائل ضعیف ہیں۔
قرآن مجید ایک قدم آگے بڑھ کر ان کو اچھی طرح لاجواب کردیتا ہے ، ان سے کہا جاتا ہے اگر تم قرآن کو تسلیم نہیں کرتے ، اور تورات کی تعلیمات بھی تمہارے دل کو نہیں لگتیں تو تم کوئی ایسی کتاب لاؤ جو تورات اور قرآن دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اس کتاب کو مان لیں گے۔
یہ آخری بات ہے اور دلیل وبرہان کی آخری حد ہے کہ تم ایسی کوئی کتاب لاؤ، اس کے بعد بھی اگر کوئی حق کے سامنے نہیں جھکتا تو یہ مکابرہ ہوگا اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ اور ہٹ دھرمی کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔۔۔ لا یھدی القوم الظلمین (28: 50) ” اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔
قرآن جن حقائق پر مشتمل ہے وہ نہایت واضح ہیں۔ دین اسلام کے جو دلائل ہیں وہ قطعی اللبوت ہیں۔ ان دلائل کا جو شخص انکار کرتا ہے وہ وہی شخص ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا ہوا ہو۔ کیونکہ معقول انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ تیسرا راستہ ہی نہیں ہے یا تو وہ مخلص اور حق قبول کرنے والا ہوگا تو وہ لازماً دلائل ایمان کو دیکھ کر ایمان لائے گا اور یا وہ شک میں مبتلا ہوگا ، اپنی خواہشات کا پیرو ہوگا وہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والا ہوگا۔ انکار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے کرے گا ، اسلئے نہیں کرے گا کہ اسلامی عقائد میں کوئی پیچیدگی ہے یا حجت میں کوئی ضعف ہے یا دلیل میں کوئی کمی ہے جیسا کہ نفس پرست لوگ کہتے ہیں۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔ اھوآءھم (28: 50) ” اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہے ، آخری ہے ، اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس دین کو قبول نہیں کرتے وہ مفاد پرست ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور عذر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زبردستی ناسمجھ بنا رکھا ہے دراصل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔ حق واضح ہے اور پھر بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں۔
ومن اضل ممن اتبع ۔۔۔۔۔۔۔ القوم لظلمین (28: 50) ” اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ اور یہ اہل مکہ اس معاملے میں بڑے ظالم اور باغی ہیں۔
یہ آیت ان لوگوں کے تمام عذرات ختم کردیتی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو سمجھا نہیں ہے اور ان کو دین کا پورا پورا علم نہ تھا۔ اسلام کا موقف ہے کہ اسلام بالکل واضح ہے۔ صرف لوگوں تک پہنچنا چاہئے ، ان پر حجت تمام ہونا چاہئے کہ اسلام پہنچا دیا گیا۔ بس پھر مجادلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف پہنچا دینے سے لوگوں کے عذرات ختم ہوجائیں گے۔ دین پہنچ جانے کے بعد محض نفس پرست یا مفاد پرست ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور تکذیب وہی شخص کرسکتا ہے جو زبردستی اپنے آپ کو جاہل بنائے اور اپنے اوپر ظلم کرے۔ اس سچائی پر ظلم کرے۔ ایسا شخص مستحق ہدایت ہی نہیں ہوتا۔ ” ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت ہی نہیں بخشتا “۔
حق پہنچتے ہی ان کا عذر ختم ہوا۔ ان پر دعوت پیش کرتے ہی رسول اور امت کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب ایسے لوگوں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔
ولقد وصلنا ۔۔۔۔۔ یتذکرون (28: 51) ” اور نصیحت کی بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں “۔
گذشتہ آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ لوگ منہ موڑتے ہیں ، شک کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اب یہاں بعض ایسے لوگوں اور ایسے کرداروں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو حق کو خلوص نیت سے قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مثال اہل کتاب میں ملتی ہے۔ ذرا دیکھو انہوں نے سچائی پر مشتمل اس کتاب کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔
القصص 28:46
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے میدان حشر کے بھی بعض مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو تعلیم لے کر آئے وہ سچی ہے۔ اہل کتاب میں سے سلیم الفطرت لوگ اسے قبول کرتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ مدعی دین ابراہیمی ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو یہ ان کیلئے رحمت ثابت ہوگی۔
اس قصے سے جو پہلا نتیجہ یہاں نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کلام نازل ہو رہا ہے وہ سچا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ ان قصص کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس طرح کوئی عینی شاہد کسی واقعہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ حضور اکرم ﷺ ان واقعات کے پیش آنے کے وقت وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ علیم وخبیر اللہ کی طرف سے وحی ہے جو آپ پر آرہی ہے اور یہ وحی رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک میں مبتلا ہیں۔ اور اس فعل کی وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس لیے کہ اگر یہ وحی نہ آتی تو ان لوگوں کو ایک بہانہ ہاتھ آجاتا۔
ربنا لولا ارسلت ۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی نبی بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔
وما کنت بجانب الغربی ۔۔۔۔۔۔۔ لھم القول لعلکم یتذکرون (44 – 51)
غربی سے یہاں طور کا جانب غربی مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمے اور چلہ کشی کے چالیس روز و شب کے لیے متعین فرمایا تھا۔ اصل میعاد تیس راتیں تھیں پھر اس میں دس کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا تذکرہ سورت اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی وہ تختیاں دی گئیں جن میں احکام خداوندی لکھے ہوئے تھے تاکہ ان احکام پر بنی اسرائیل کا قانونی نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے کہ آپ ازخود ان حالات و مشاہدات کی رپورٹ دے رہا ہے کیونکہ حضور ﷺ اور حضرت موسیٰ کے زمانوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔
ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر (28: 45) ” ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر زمانہ گزر چکا ہے “۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو یہ اطلاعات اللہ علیم وخبیر دے رہا ہے اور یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔
قرآن کریم نے حضرت موسیٰ کے قیام مدین کے واقعات کے بارے میں بھی تحدی کی ہے اور چیلنج کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے وہاں قیام کیا۔ حضرت محمد ﷺ وہ واقعات بتا رہے ہیں تو حضور ہدایت خود مدین میں بھی تو موجود نہ تھے کہ اس زمانے کی خبریں حضور اکرم ﷺ نے ان سے لی ہوں اور پھر تفصیلات بیان کردیں۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ
لکنا کنا مرسلین (28: 45) ” مگر یہ خبریں ہم بھیجنے والے ہیں “۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جس کے پاس انبیائے سابقین کی خبریں محفوظ ہیں۔
پھر قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات اور مکالمے کو بھی اپنی جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ نہایت گہرائی کے ساتھ۔
وما کنت بجانب الطور اذنادینا (28: 46) ” اور تم طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے پہلی مرتبہ موسیٰ کو پکارا “۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ پکار تو نہ سنی تھی۔ نہ اس کی تفصیلات انہوں نے قلم بند فرمائی تھیں۔ یہ اللہ کی جانب سے اہل مکہ قوم رسول کیلئے ایک رحمت ہے کہ وہ خبریں تفصیلات کے ساتھ دی جا رہی ہیں لہٰذا یہ خبریں بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ آپ سچے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں اس پر پہلی دلیل خود یہ قرآن ہے تاکہ عرب جیسی قوم کو آپ ڈرائیں جن کے پاس اس سے قبل ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس سے قبل کی رسالتیں بنی اسرائیل کے پاس آتی تھیں جو عربوں کے پڑوس میں بستے تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل عرب میں کوئی رسول نہ آیا تھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
یہ قرآن لوگوں کیلئے رحمت خداوندی بھی ہے اور ان پر حجت بھی ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہمارے لیے تو کوئی رسول بھیجا ہی نہ گیا تھا اور یہ کہ ان کو تو اچانک ہی پکڑ لیا گیا اور یہ کہ اس پکڑ سے قبل ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ یہ لوگ جس جاہلیت اور شرک میں مبتلا تھے وہ تو موجب عذاب تھی تو اللہ نے ان کی حجت بازی اور ان کے عذرات کو ختم کرنے کیلئے رسول بھیج دیا اور آخری رسول بھیج دیا تاکہ ان کے بعد کوئی عذر نہ کرے۔
ولولا ان تصیبھم ۔۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ اگر رسول نہ آتا تو وہ ایسی ہی بات کرتے۔ اگرچہ رسول کے پاس آیات نہ ہوتیں ، لیکن جب رسول آگیا اور اس کے پاس آیات بھی ہیں تو یہ لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں حالانکہ اس کے پاس ناقابل تردید و ناقابل شک دلائل ہیں۔
فلما جآءھم الحق من عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل کفرون (28: 48) ” مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیو یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں “۔ اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “۔ یہی غرض تھی ان کی بہانہ سازی اور ان کے غلط عذرات کی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم نہ کیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے یعنی مادی معجزات یا قرآن کریم تختیوں پر لکھا ہوا کیوں نہیں اتارا گیا جس طرح تورات کو لکھا ہوا اتارا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے جو دلیل بیان کی ہے ، یہ اس میں سچے نہیں ہیں۔ نہ ان کا یہ اعتراض مخلصانہ ہے۔
اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (28: 48) ” کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ جزیرۃ العرب میں یہودی رہتے تھے۔ ان کے پاس تورات بھی تھی تو عربوں نے تورات کو کیوں نہ مانا۔ انہوں نے تو تورات کو بھی تکذیب کی تھی۔ نیز ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی بشارت اور صفات دونوں دی گئی ہیں اور انہوں نے قرآن کے بارے میں بعض اہل کتاب سے فتویٰ بھی پوچھا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ محمد جو تعلیم پیش کرتے ہیں وہ سچی ہے اور یہ تعلیم بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ لیکن انہوں نے ان فتاویٰ کو بھی تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے تورات کو بھی جادو کہا۔ قرآن کو بھی جادو کہا اور چونکہ دونوں جادو ہیں اس لیے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔
قالوا سحرن تظھرا وقالوا انا بکل کفرون (28: 48) ” انہوں نے کہا دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “ وہ حق طلب کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ قرآن کی پشت پر موجود دلائل ضعیف ہیں۔
قرآن مجید ایک قدم آگے بڑھ کر ان کو اچھی طرح لاجواب کردیتا ہے ، ان سے کہا جاتا ہے اگر تم قرآن کو تسلیم نہیں کرتے ، اور تورات کی تعلیمات بھی تمہارے دل کو نہیں لگتیں تو تم کوئی ایسی کتاب لاؤ جو تورات اور قرآن دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اس کتاب کو مان لیں گے۔
یہ آخری بات ہے اور دلیل وبرہان کی آخری حد ہے کہ تم ایسی کوئی کتاب لاؤ، اس کے بعد بھی اگر کوئی حق کے سامنے نہیں جھکتا تو یہ مکابرہ ہوگا اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ اور ہٹ دھرمی کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔۔۔ لا یھدی القوم الظلمین (28: 50) ” اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔
قرآن جن حقائق پر مشتمل ہے وہ نہایت واضح ہیں۔ دین اسلام کے جو دلائل ہیں وہ قطعی اللبوت ہیں۔ ان دلائل کا جو شخص انکار کرتا ہے وہ وہی شخص ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا ہوا ہو۔ کیونکہ معقول انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ تیسرا راستہ ہی نہیں ہے یا تو وہ مخلص اور حق قبول کرنے والا ہوگا تو وہ لازماً دلائل ایمان کو دیکھ کر ایمان لائے گا اور یا وہ شک میں مبتلا ہوگا ، اپنی خواہشات کا پیرو ہوگا وہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والا ہوگا۔ انکار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے کرے گا ، اسلئے نہیں کرے گا کہ اسلامی عقائد میں کوئی پیچیدگی ہے یا حجت میں کوئی ضعف ہے یا دلیل میں کوئی کمی ہے جیسا کہ نفس پرست لوگ کہتے ہیں۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔ اھوآءھم (28: 50) ” اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہے ، آخری ہے ، اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس دین کو قبول نہیں کرتے وہ مفاد پرست ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور عذر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زبردستی ناسمجھ بنا رکھا ہے دراصل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔ حق واضح ہے اور پھر بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں۔
ومن اضل ممن اتبع ۔۔۔۔۔۔۔ القوم لظلمین (28: 50) ” اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ اور یہ اہل مکہ اس معاملے میں بڑے ظالم اور باغی ہیں۔
یہ آیت ان لوگوں کے تمام عذرات ختم کردیتی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو سمجھا نہیں ہے اور ان کو دین کا پورا پورا علم نہ تھا۔ اسلام کا موقف ہے کہ اسلام بالکل واضح ہے۔ صرف لوگوں تک پہنچنا چاہئے ، ان پر حجت تمام ہونا چاہئے کہ اسلام پہنچا دیا گیا۔ بس پھر مجادلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف پہنچا دینے سے لوگوں کے عذرات ختم ہوجائیں گے۔ دین پہنچ جانے کے بعد محض نفس پرست یا مفاد پرست ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور تکذیب وہی شخص کرسکتا ہے جو زبردستی اپنے آپ کو جاہل بنائے اور اپنے اوپر ظلم کرے۔ اس سچائی پر ظلم کرے۔ ایسا شخص مستحق ہدایت ہی نہیں ہوتا۔ ” ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت ہی نہیں بخشتا “۔
حق پہنچتے ہی ان کا عذر ختم ہوا۔ ان پر دعوت پیش کرتے ہی رسول اور امت کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب ایسے لوگوں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔
ولقد وصلنا ۔۔۔۔۔ یتذکرون (28: 51) ” اور نصیحت کی بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں “۔
گذشتہ آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ لوگ منہ موڑتے ہیں ، شک کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اب یہاں بعض ایسے لوگوں اور ایسے کرداروں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو حق کو خلوص نیت سے قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مثال اہل کتاب میں ملتی ہے۔ ذرا دیکھو انہوں نے سچائی پر مشتمل اس کتاب کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔
القصص 28:47
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے میدان حشر کے بھی بعض مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو تعلیم لے کر آئے وہ سچی ہے۔ اہل کتاب میں سے سلیم الفطرت لوگ اسے قبول کرتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ مدعی دین ابراہیمی ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو یہ ان کیلئے رحمت ثابت ہوگی۔
اس قصے سے جو پہلا نتیجہ یہاں نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کلام نازل ہو رہا ہے وہ سچا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ ان قصص کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس طرح کوئی عینی شاہد کسی واقعہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ حضور اکرم ﷺ ان واقعات کے پیش آنے کے وقت وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ علیم وخبیر اللہ کی طرف سے وحی ہے جو آپ پر آرہی ہے اور یہ وحی رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک میں مبتلا ہیں۔ اور اس فعل کی وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس لیے کہ اگر یہ وحی نہ آتی تو ان لوگوں کو ایک بہانہ ہاتھ آجاتا۔
ربنا لولا ارسلت ۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی نبی بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔
وما کنت بجانب الغربی ۔۔۔۔۔۔۔ لھم القول لعلکم یتذکرون (44 – 51)
غربی سے یہاں طور کا جانب غربی مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمے اور چلہ کشی کے چالیس روز و شب کے لیے متعین فرمایا تھا۔ اصل میعاد تیس راتیں تھیں پھر اس میں دس کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا تذکرہ سورت اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی وہ تختیاں دی گئیں جن میں احکام خداوندی لکھے ہوئے تھے تاکہ ان احکام پر بنی اسرائیل کا قانونی نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے کہ آپ ازخود ان حالات و مشاہدات کی رپورٹ دے رہا ہے کیونکہ حضور ﷺ اور حضرت موسیٰ کے زمانوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔
ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر (28: 45) ” ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر زمانہ گزر چکا ہے “۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو یہ اطلاعات اللہ علیم وخبیر دے رہا ہے اور یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔
قرآن کریم نے حضرت موسیٰ کے قیام مدین کے واقعات کے بارے میں بھی تحدی کی ہے اور چیلنج کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے وہاں قیام کیا۔ حضرت محمد ﷺ وہ واقعات بتا رہے ہیں تو حضور ہدایت خود مدین میں بھی تو موجود نہ تھے کہ اس زمانے کی خبریں حضور اکرم ﷺ نے ان سے لی ہوں اور پھر تفصیلات بیان کردیں۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ
لکنا کنا مرسلین (28: 45) ” مگر یہ خبریں ہم بھیجنے والے ہیں “۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جس کے پاس انبیائے سابقین کی خبریں محفوظ ہیں۔
پھر قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات اور مکالمے کو بھی اپنی جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ نہایت گہرائی کے ساتھ۔
وما کنت بجانب الطور اذنادینا (28: 46) ” اور تم طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے پہلی مرتبہ موسیٰ کو پکارا “۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ پکار تو نہ سنی تھی۔ نہ اس کی تفصیلات انہوں نے قلم بند فرمائی تھیں۔ یہ اللہ کی جانب سے اہل مکہ قوم رسول کیلئے ایک رحمت ہے کہ وہ خبریں تفصیلات کے ساتھ دی جا رہی ہیں لہٰذا یہ خبریں بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ آپ سچے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں اس پر پہلی دلیل خود یہ قرآن ہے تاکہ عرب جیسی قوم کو آپ ڈرائیں جن کے پاس اس سے قبل ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس سے قبل کی رسالتیں بنی اسرائیل کے پاس آتی تھیں جو عربوں کے پڑوس میں بستے تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل عرب میں کوئی رسول نہ آیا تھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
یہ قرآن لوگوں کیلئے رحمت خداوندی بھی ہے اور ان پر حجت بھی ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہمارے لیے تو کوئی رسول بھیجا ہی نہ گیا تھا اور یہ کہ ان کو تو اچانک ہی پکڑ لیا گیا اور یہ کہ اس پکڑ سے قبل ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ یہ لوگ جس جاہلیت اور شرک میں مبتلا تھے وہ تو موجب عذاب تھی تو اللہ نے ان کی حجت بازی اور ان کے عذرات کو ختم کرنے کیلئے رسول بھیج دیا اور آخری رسول بھیج دیا تاکہ ان کے بعد کوئی عذر نہ کرے۔
ولولا ان تصیبھم ۔۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ اگر رسول نہ آتا تو وہ ایسی ہی بات کرتے۔ اگرچہ رسول کے پاس آیات نہ ہوتیں ، لیکن جب رسول آگیا اور اس کے پاس آیات بھی ہیں تو یہ لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں حالانکہ اس کے پاس ناقابل تردید و ناقابل شک دلائل ہیں۔
فلما جآءھم الحق من عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل کفرون (28: 48) ” مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیو یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں “۔ اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “۔ یہی غرض تھی ان کی بہانہ سازی اور ان کے غلط عذرات کی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم نہ کیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے یعنی مادی معجزات یا قرآن کریم تختیوں پر لکھا ہوا کیوں نہیں اتارا گیا جس طرح تورات کو لکھا ہوا اتارا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے جو دلیل بیان کی ہے ، یہ اس میں سچے نہیں ہیں۔ نہ ان کا یہ اعتراض مخلصانہ ہے۔
اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (28: 48) ” کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ جزیرۃ العرب میں یہودی رہتے تھے۔ ان کے پاس تورات بھی تھی تو عربوں نے تورات کو کیوں نہ مانا۔ انہوں نے تو تورات کو بھی تکذیب کی تھی۔ نیز ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی بشارت اور صفات دونوں دی گئی ہیں اور انہوں نے قرآن کے بارے میں بعض اہل کتاب سے فتویٰ بھی پوچھا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ محمد جو تعلیم پیش کرتے ہیں وہ سچی ہے اور یہ تعلیم بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ لیکن انہوں نے ان فتاویٰ کو بھی تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے تورات کو بھی جادو کہا۔ قرآن کو بھی جادو کہا اور چونکہ دونوں جادو ہیں اس لیے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔
قالوا سحرن تظھرا وقالوا انا بکل کفرون (28: 48) ” انہوں نے کہا دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “ وہ حق طلب کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ قرآن کی پشت پر موجود دلائل ضعیف ہیں۔
قرآن مجید ایک قدم آگے بڑھ کر ان کو اچھی طرح لاجواب کردیتا ہے ، ان سے کہا جاتا ہے اگر تم قرآن کو تسلیم نہیں کرتے ، اور تورات کی تعلیمات بھی تمہارے دل کو نہیں لگتیں تو تم کوئی ایسی کتاب لاؤ جو تورات اور قرآن دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اس کتاب کو مان لیں گے۔
یہ آخری بات ہے اور دلیل وبرہان کی آخری حد ہے کہ تم ایسی کوئی کتاب لاؤ، اس کے بعد بھی اگر کوئی حق کے سامنے نہیں جھکتا تو یہ مکابرہ ہوگا اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ اور ہٹ دھرمی کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔۔۔ لا یھدی القوم الظلمین (28: 50) ” اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔
قرآن جن حقائق پر مشتمل ہے وہ نہایت واضح ہیں۔ دین اسلام کے جو دلائل ہیں وہ قطعی اللبوت ہیں۔ ان دلائل کا جو شخص انکار کرتا ہے وہ وہی شخص ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا ہوا ہو۔ کیونکہ معقول انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ تیسرا راستہ ہی نہیں ہے یا تو وہ مخلص اور حق قبول کرنے والا ہوگا تو وہ لازماً دلائل ایمان کو دیکھ کر ایمان لائے گا اور یا وہ شک میں مبتلا ہوگا ، اپنی خواہشات کا پیرو ہوگا وہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والا ہوگا۔ انکار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے کرے گا ، اسلئے نہیں کرے گا کہ اسلامی عقائد میں کوئی پیچیدگی ہے یا حجت میں کوئی ضعف ہے یا دلیل میں کوئی کمی ہے جیسا کہ نفس پرست لوگ کہتے ہیں۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔ اھوآءھم (28: 50) ” اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہے ، آخری ہے ، اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس دین کو قبول نہیں کرتے وہ مفاد پرست ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور عذر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زبردستی ناسمجھ بنا رکھا ہے دراصل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔ حق واضح ہے اور پھر بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں۔
ومن اضل ممن اتبع ۔۔۔۔۔۔۔ القوم لظلمین (28: 50) ” اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ اور یہ اہل مکہ اس معاملے میں بڑے ظالم اور باغی ہیں۔
یہ آیت ان لوگوں کے تمام عذرات ختم کردیتی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو سمجھا نہیں ہے اور ان کو دین کا پورا پورا علم نہ تھا۔ اسلام کا موقف ہے کہ اسلام بالکل واضح ہے۔ صرف لوگوں تک پہنچنا چاہئے ، ان پر حجت تمام ہونا چاہئے کہ اسلام پہنچا دیا گیا۔ بس پھر مجادلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف پہنچا دینے سے لوگوں کے عذرات ختم ہوجائیں گے۔ دین پہنچ جانے کے بعد محض نفس پرست یا مفاد پرست ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور تکذیب وہی شخص کرسکتا ہے جو زبردستی اپنے آپ کو جاہل بنائے اور اپنے اوپر ظلم کرے۔ اس سچائی پر ظلم کرے۔ ایسا شخص مستحق ہدایت ہی نہیں ہوتا۔ ” ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت ہی نہیں بخشتا “۔
حق پہنچتے ہی ان کا عذر ختم ہوا۔ ان پر دعوت پیش کرتے ہی رسول اور امت کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب ایسے لوگوں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔
ولقد وصلنا ۔۔۔۔۔ یتذکرون (28: 51) ” اور نصیحت کی بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں “۔
گذشتہ آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ لوگ منہ موڑتے ہیں ، شک کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اب یہاں بعض ایسے لوگوں اور ایسے کرداروں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو حق کو خلوص نیت سے قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مثال اہل کتاب میں ملتی ہے۔ ذرا دیکھو انہوں نے سچائی پر مشتمل اس کتاب کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔
القصص 28:48
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے میدان حشر کے بھی بعض مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو تعلیم لے کر آئے وہ سچی ہے۔ اہل کتاب میں سے سلیم الفطرت لوگ اسے قبول کرتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ مدعی دین ابراہیمی ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو یہ ان کیلئے رحمت ثابت ہوگی۔
اس قصے سے جو پہلا نتیجہ یہاں نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کلام نازل ہو رہا ہے وہ سچا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ ان قصص کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس طرح کوئی عینی شاہد کسی واقعہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ حضور اکرم ﷺ ان واقعات کے پیش آنے کے وقت وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ علیم وخبیر اللہ کی طرف سے وحی ہے جو آپ پر آرہی ہے اور یہ وحی رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک میں مبتلا ہیں۔ اور اس فعل کی وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس لیے کہ اگر یہ وحی نہ آتی تو ان لوگوں کو ایک بہانہ ہاتھ آجاتا۔
ربنا لولا ارسلت ۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی نبی بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔
وما کنت بجانب الغربی ۔۔۔۔۔۔۔ لھم القول لعلکم یتذکرون (44 – 51)
غربی سے یہاں طور کا جانب غربی مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمے اور چلہ کشی کے چالیس روز و شب کے لیے متعین فرمایا تھا۔ اصل میعاد تیس راتیں تھیں پھر اس میں دس کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا تذکرہ سورت اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی وہ تختیاں دی گئیں جن میں احکام خداوندی لکھے ہوئے تھے تاکہ ان احکام پر بنی اسرائیل کا قانونی نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے کہ آپ ازخود ان حالات و مشاہدات کی رپورٹ دے رہا ہے کیونکہ حضور ﷺ اور حضرت موسیٰ کے زمانوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔
ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر (28: 45) ” ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر زمانہ گزر چکا ہے “۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو یہ اطلاعات اللہ علیم وخبیر دے رہا ہے اور یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔
قرآن کریم نے حضرت موسیٰ کے قیام مدین کے واقعات کے بارے میں بھی تحدی کی ہے اور چیلنج کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے وہاں قیام کیا۔ حضرت محمد ﷺ وہ واقعات بتا رہے ہیں تو حضور ہدایت خود مدین میں بھی تو موجود نہ تھے کہ اس زمانے کی خبریں حضور اکرم ﷺ نے ان سے لی ہوں اور پھر تفصیلات بیان کردیں۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ
لکنا کنا مرسلین (28: 45) ” مگر یہ خبریں ہم بھیجنے والے ہیں “۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جس کے پاس انبیائے سابقین کی خبریں محفوظ ہیں۔
پھر قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات اور مکالمے کو بھی اپنی جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ نہایت گہرائی کے ساتھ۔
وما کنت بجانب الطور اذنادینا (28: 46) ” اور تم طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے پہلی مرتبہ موسیٰ کو پکارا “۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ پکار تو نہ سنی تھی۔ نہ اس کی تفصیلات انہوں نے قلم بند فرمائی تھیں۔ یہ اللہ کی جانب سے اہل مکہ قوم رسول کیلئے ایک رحمت ہے کہ وہ خبریں تفصیلات کے ساتھ دی جا رہی ہیں لہٰذا یہ خبریں بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ آپ سچے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں اس پر پہلی دلیل خود یہ قرآن ہے تاکہ عرب جیسی قوم کو آپ ڈرائیں جن کے پاس اس سے قبل ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس سے قبل کی رسالتیں بنی اسرائیل کے پاس آتی تھیں جو عربوں کے پڑوس میں بستے تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل عرب میں کوئی رسول نہ آیا تھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
یہ قرآن لوگوں کیلئے رحمت خداوندی بھی ہے اور ان پر حجت بھی ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہمارے لیے تو کوئی رسول بھیجا ہی نہ گیا تھا اور یہ کہ ان کو تو اچانک ہی پکڑ لیا گیا اور یہ کہ اس پکڑ سے قبل ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ یہ لوگ جس جاہلیت اور شرک میں مبتلا تھے وہ تو موجب عذاب تھی تو اللہ نے ان کی حجت بازی اور ان کے عذرات کو ختم کرنے کیلئے رسول بھیج دیا اور آخری رسول بھیج دیا تاکہ ان کے بعد کوئی عذر نہ کرے۔
ولولا ان تصیبھم ۔۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ اگر رسول نہ آتا تو وہ ایسی ہی بات کرتے۔ اگرچہ رسول کے پاس آیات نہ ہوتیں ، لیکن جب رسول آگیا اور اس کے پاس آیات بھی ہیں تو یہ لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں حالانکہ اس کے پاس ناقابل تردید و ناقابل شک دلائل ہیں۔
فلما جآءھم الحق من عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل کفرون (28: 48) ” مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیو یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں “۔ اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “۔ یہی غرض تھی ان کی بہانہ سازی اور ان کے غلط عذرات کی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم نہ کیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے یعنی مادی معجزات یا قرآن کریم تختیوں پر لکھا ہوا کیوں نہیں اتارا گیا جس طرح تورات کو لکھا ہوا اتارا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے جو دلیل بیان کی ہے ، یہ اس میں سچے نہیں ہیں۔ نہ ان کا یہ اعتراض مخلصانہ ہے۔
اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (28: 48) ” کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ جزیرۃ العرب میں یہودی رہتے تھے۔ ان کے پاس تورات بھی تھی تو عربوں نے تورات کو کیوں نہ مانا۔ انہوں نے تو تورات کو بھی تکذیب کی تھی۔ نیز ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی بشارت اور صفات دونوں دی گئی ہیں اور انہوں نے قرآن کے بارے میں بعض اہل کتاب سے فتویٰ بھی پوچھا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ محمد جو تعلیم پیش کرتے ہیں وہ سچی ہے اور یہ تعلیم بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ لیکن انہوں نے ان فتاویٰ کو بھی تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے تورات کو بھی جادو کہا۔ قرآن کو بھی جادو کہا اور چونکہ دونوں جادو ہیں اس لیے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔
قالوا سحرن تظھرا وقالوا انا بکل کفرون (28: 48) ” انہوں نے کہا دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “ وہ حق طلب کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ قرآن کی پشت پر موجود دلائل ضعیف ہیں۔
قرآن مجید ایک قدم آگے بڑھ کر ان کو اچھی طرح لاجواب کردیتا ہے ، ان سے کہا جاتا ہے اگر تم قرآن کو تسلیم نہیں کرتے ، اور تورات کی تعلیمات بھی تمہارے دل کو نہیں لگتیں تو تم کوئی ایسی کتاب لاؤ جو تورات اور قرآن دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اس کتاب کو مان لیں گے۔
یہ آخری بات ہے اور دلیل وبرہان کی آخری حد ہے کہ تم ایسی کوئی کتاب لاؤ، اس کے بعد بھی اگر کوئی حق کے سامنے نہیں جھکتا تو یہ مکابرہ ہوگا اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ اور ہٹ دھرمی کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔۔۔ لا یھدی القوم الظلمین (28: 50) ” اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔
قرآن جن حقائق پر مشتمل ہے وہ نہایت واضح ہیں۔ دین اسلام کے جو دلائل ہیں وہ قطعی اللبوت ہیں۔ ان دلائل کا جو شخص انکار کرتا ہے وہ وہی شخص ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا ہوا ہو۔ کیونکہ معقول انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ تیسرا راستہ ہی نہیں ہے یا تو وہ مخلص اور حق قبول کرنے والا ہوگا تو وہ لازماً دلائل ایمان کو دیکھ کر ایمان لائے گا اور یا وہ شک میں مبتلا ہوگا ، اپنی خواہشات کا پیرو ہوگا وہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والا ہوگا۔ انکار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے کرے گا ، اسلئے نہیں کرے گا کہ اسلامی عقائد میں کوئی پیچیدگی ہے یا حجت میں کوئی ضعف ہے یا دلیل میں کوئی کمی ہے جیسا کہ نفس پرست لوگ کہتے ہیں۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔ اھوآءھم (28: 50) ” اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہے ، آخری ہے ، اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس دین کو قبول نہیں کرتے وہ مفاد پرست ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور عذر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زبردستی ناسمجھ بنا رکھا ہے دراصل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔ حق واضح ہے اور پھر بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں۔
ومن اضل ممن اتبع ۔۔۔۔۔۔۔ القوم لظلمین (28: 50) ” اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ اور یہ اہل مکہ اس معاملے میں بڑے ظالم اور باغی ہیں۔
یہ آیت ان لوگوں کے تمام عذرات ختم کردیتی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو سمجھا نہیں ہے اور ان کو دین کا پورا پورا علم نہ تھا۔ اسلام کا موقف ہے کہ اسلام بالکل واضح ہے۔ صرف لوگوں تک پہنچنا چاہئے ، ان پر حجت تمام ہونا چاہئے کہ اسلام پہنچا دیا گیا۔ بس پھر مجادلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف پہنچا دینے سے لوگوں کے عذرات ختم ہوجائیں گے۔ دین پہنچ جانے کے بعد محض نفس پرست یا مفاد پرست ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور تکذیب وہی شخص کرسکتا ہے جو زبردستی اپنے آپ کو جاہل بنائے اور اپنے اوپر ظلم کرے۔ اس سچائی پر ظلم کرے۔ ایسا شخص مستحق ہدایت ہی نہیں ہوتا۔ ” ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت ہی نہیں بخشتا “۔
حق پہنچتے ہی ان کا عذر ختم ہوا۔ ان پر دعوت پیش کرتے ہی رسول اور امت کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب ایسے لوگوں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔
ولقد وصلنا ۔۔۔۔۔ یتذکرون (28: 51) ” اور نصیحت کی بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں “۔
گذشتہ آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ لوگ منہ موڑتے ہیں ، شک کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اب یہاں بعض ایسے لوگوں اور ایسے کرداروں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو حق کو خلوص نیت سے قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مثال اہل کتاب میں ملتی ہے۔ ذرا دیکھو انہوں نے سچائی پر مشتمل اس کتاب کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔
القصص 28:49
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے میدان حشر کے بھی بعض مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو تعلیم لے کر آئے وہ سچی ہے۔ اہل کتاب میں سے سلیم الفطرت لوگ اسے قبول کرتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ مدعی دین ابراہیمی ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو یہ ان کیلئے رحمت ثابت ہوگی۔
اس قصے سے جو پہلا نتیجہ یہاں نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کلام نازل ہو رہا ہے وہ سچا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ ان قصص کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس طرح کوئی عینی شاہد کسی واقعہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ حضور اکرم ﷺ ان واقعات کے پیش آنے کے وقت وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ علیم وخبیر اللہ کی طرف سے وحی ہے جو آپ پر آرہی ہے اور یہ وحی رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک میں مبتلا ہیں۔ اور اس فعل کی وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس لیے کہ اگر یہ وحی نہ آتی تو ان لوگوں کو ایک بہانہ ہاتھ آجاتا۔
ربنا لولا ارسلت ۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی نبی بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔
وما کنت بجانب الغربی ۔۔۔۔۔۔۔ لھم القول لعلکم یتذکرون (44 – 51)
غربی سے یہاں طور کا جانب غربی مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمے اور چلہ کشی کے چالیس روز و شب کے لیے متعین فرمایا تھا۔ اصل میعاد تیس راتیں تھیں پھر اس میں دس کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا تذکرہ سورت اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی وہ تختیاں دی گئیں جن میں احکام خداوندی لکھے ہوئے تھے تاکہ ان احکام پر بنی اسرائیل کا قانونی نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے کہ آپ ازخود ان حالات و مشاہدات کی رپورٹ دے رہا ہے کیونکہ حضور ﷺ اور حضرت موسیٰ کے زمانوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔
ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر (28: 45) ” ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر زمانہ گزر چکا ہے “۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو یہ اطلاعات اللہ علیم وخبیر دے رہا ہے اور یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔
قرآن کریم نے حضرت موسیٰ کے قیام مدین کے واقعات کے بارے میں بھی تحدی کی ہے اور چیلنج کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے وہاں قیام کیا۔ حضرت محمد ﷺ وہ واقعات بتا رہے ہیں تو حضور ہدایت خود مدین میں بھی تو موجود نہ تھے کہ اس زمانے کی خبریں حضور اکرم ﷺ نے ان سے لی ہوں اور پھر تفصیلات بیان کردیں۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ
لکنا کنا مرسلین (28: 45) ” مگر یہ خبریں ہم بھیجنے والے ہیں “۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جس کے پاس انبیائے سابقین کی خبریں محفوظ ہیں۔
پھر قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات اور مکالمے کو بھی اپنی جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ نہایت گہرائی کے ساتھ۔
وما کنت بجانب الطور اذنادینا (28: 46) ” اور تم طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے پہلی مرتبہ موسیٰ کو پکارا “۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ پکار تو نہ سنی تھی۔ نہ اس کی تفصیلات انہوں نے قلم بند فرمائی تھیں۔ یہ اللہ کی جانب سے اہل مکہ قوم رسول کیلئے ایک رحمت ہے کہ وہ خبریں تفصیلات کے ساتھ دی جا رہی ہیں لہٰذا یہ خبریں بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ آپ سچے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں اس پر پہلی دلیل خود یہ قرآن ہے تاکہ عرب جیسی قوم کو آپ ڈرائیں جن کے پاس اس سے قبل ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس سے قبل کی رسالتیں بنی اسرائیل کے پاس آتی تھیں جو عربوں کے پڑوس میں بستے تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل عرب میں کوئی رسول نہ آیا تھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
یہ قرآن لوگوں کیلئے رحمت خداوندی بھی ہے اور ان پر حجت بھی ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہمارے لیے تو کوئی رسول بھیجا ہی نہ گیا تھا اور یہ کہ ان کو تو اچانک ہی پکڑ لیا گیا اور یہ کہ اس پکڑ سے قبل ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ یہ لوگ جس جاہلیت اور شرک میں مبتلا تھے وہ تو موجب عذاب تھی تو اللہ نے ان کی حجت بازی اور ان کے عذرات کو ختم کرنے کیلئے رسول بھیج دیا اور آخری رسول بھیج دیا تاکہ ان کے بعد کوئی عذر نہ کرے۔
ولولا ان تصیبھم ۔۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ اگر رسول نہ آتا تو وہ ایسی ہی بات کرتے۔ اگرچہ رسول کے پاس آیات نہ ہوتیں ، لیکن جب رسول آگیا اور اس کے پاس آیات بھی ہیں تو یہ لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں حالانکہ اس کے پاس ناقابل تردید و ناقابل شک دلائل ہیں۔
فلما جآءھم الحق من عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل کفرون (28: 48) ” مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیو یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں “۔ اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “۔ یہی غرض تھی ان کی بہانہ سازی اور ان کے غلط عذرات کی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم نہ کیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے یعنی مادی معجزات یا قرآن کریم تختیوں پر لکھا ہوا کیوں نہیں اتارا گیا جس طرح تورات کو لکھا ہوا اتارا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے جو دلیل بیان کی ہے ، یہ اس میں سچے نہیں ہیں۔ نہ ان کا یہ اعتراض مخلصانہ ہے۔
اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (28: 48) ” کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ جزیرۃ العرب میں یہودی رہتے تھے۔ ان کے پاس تورات بھی تھی تو عربوں نے تورات کو کیوں نہ مانا۔ انہوں نے تو تورات کو بھی تکذیب کی تھی۔ نیز ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی بشارت اور صفات دونوں دی گئی ہیں اور انہوں نے قرآن کے بارے میں بعض اہل کتاب سے فتویٰ بھی پوچھا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ محمد جو تعلیم پیش کرتے ہیں وہ سچی ہے اور یہ تعلیم بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ لیکن انہوں نے ان فتاویٰ کو بھی تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے تورات کو بھی جادو کہا۔ قرآن کو بھی جادو کہا اور چونکہ دونوں جادو ہیں اس لیے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔
قالوا سحرن تظھرا وقالوا انا بکل کفرون (28: 48) ” انہوں نے کہا دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “ وہ حق طلب کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ قرآن کی پشت پر موجود دلائل ضعیف ہیں۔
قرآن مجید ایک قدم آگے بڑھ کر ان کو اچھی طرح لاجواب کردیتا ہے ، ان سے کہا جاتا ہے اگر تم قرآن کو تسلیم نہیں کرتے ، اور تورات کی تعلیمات بھی تمہارے دل کو نہیں لگتیں تو تم کوئی ایسی کتاب لاؤ جو تورات اور قرآن دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اس کتاب کو مان لیں گے۔
یہ آخری بات ہے اور دلیل وبرہان کی آخری حد ہے کہ تم ایسی کوئی کتاب لاؤ، اس کے بعد بھی اگر کوئی حق کے سامنے نہیں جھکتا تو یہ مکابرہ ہوگا اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ اور ہٹ دھرمی کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔۔۔ لا یھدی القوم الظلمین (28: 50) ” اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔
قرآن جن حقائق پر مشتمل ہے وہ نہایت واضح ہیں۔ دین اسلام کے جو دلائل ہیں وہ قطعی اللبوت ہیں۔ ان دلائل کا جو شخص انکار کرتا ہے وہ وہی شخص ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا ہوا ہو۔ کیونکہ معقول انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ تیسرا راستہ ہی نہیں ہے یا تو وہ مخلص اور حق قبول کرنے والا ہوگا تو وہ لازماً دلائل ایمان کو دیکھ کر ایمان لائے گا اور یا وہ شک میں مبتلا ہوگا ، اپنی خواہشات کا پیرو ہوگا وہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والا ہوگا۔ انکار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے کرے گا ، اسلئے نہیں کرے گا کہ اسلامی عقائد میں کوئی پیچیدگی ہے یا حجت میں کوئی ضعف ہے یا دلیل میں کوئی کمی ہے جیسا کہ نفس پرست لوگ کہتے ہیں۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔ اھوآءھم (28: 50) ” اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہے ، آخری ہے ، اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس دین کو قبول نہیں کرتے وہ مفاد پرست ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور عذر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زبردستی ناسمجھ بنا رکھا ہے دراصل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔ حق واضح ہے اور پھر بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں۔
ومن اضل ممن اتبع ۔۔۔۔۔۔۔ القوم لظلمین (28: 50) ” اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ اور یہ اہل مکہ اس معاملے میں بڑے ظالم اور باغی ہیں۔
یہ آیت ان لوگوں کے تمام عذرات ختم کردیتی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو سمجھا نہیں ہے اور ان کو دین کا پورا پورا علم نہ تھا۔ اسلام کا موقف ہے کہ اسلام بالکل واضح ہے۔ صرف لوگوں تک پہنچنا چاہئے ، ان پر حجت تمام ہونا چاہئے کہ اسلام پہنچا دیا گیا۔ بس پھر مجادلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف پہنچا دینے سے لوگوں کے عذرات ختم ہوجائیں گے۔ دین پہنچ جانے کے بعد محض نفس پرست یا مفاد پرست ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور تکذیب وہی شخص کرسکتا ہے جو زبردستی اپنے آپ کو جاہل بنائے اور اپنے اوپر ظلم کرے۔ اس سچائی پر ظلم کرے۔ ایسا شخص مستحق ہدایت ہی نہیں ہوتا۔ ” ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت ہی نہیں بخشتا “۔
حق پہنچتے ہی ان کا عذر ختم ہوا۔ ان پر دعوت پیش کرتے ہی رسول اور امت کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب ایسے لوگوں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔
ولقد وصلنا ۔۔۔۔۔ یتذکرون (28: 51) ” اور نصیحت کی بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں “۔
گذشتہ آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ لوگ منہ موڑتے ہیں ، شک کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اب یہاں بعض ایسے لوگوں اور ایسے کرداروں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو حق کو خلوص نیت سے قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مثال اہل کتاب میں ملتی ہے۔ ذرا دیکھو انہوں نے سچائی پر مشتمل اس کتاب کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔
القصص 28:50
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے میدان حشر کے بھی بعض مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو تعلیم لے کر آئے وہ سچی ہے۔ اہل کتاب میں سے سلیم الفطرت لوگ اسے قبول کرتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ مدعی دین ابراہیمی ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو یہ ان کیلئے رحمت ثابت ہوگی۔
اس قصے سے جو پہلا نتیجہ یہاں نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کلام نازل ہو رہا ہے وہ سچا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ ان قصص کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس طرح کوئی عینی شاہد کسی واقعہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ حضور اکرم ﷺ ان واقعات کے پیش آنے کے وقت وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ علیم وخبیر اللہ کی طرف سے وحی ہے جو آپ پر آرہی ہے اور یہ وحی رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک میں مبتلا ہیں۔ اور اس فعل کی وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس لیے کہ اگر یہ وحی نہ آتی تو ان لوگوں کو ایک بہانہ ہاتھ آجاتا۔
ربنا لولا ارسلت ۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی نبی بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔
وما کنت بجانب الغربی ۔۔۔۔۔۔۔ لھم القول لعلکم یتذکرون (44 – 51)
غربی سے یہاں طور کا جانب غربی مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمے اور چلہ کشی کے چالیس روز و شب کے لیے متعین فرمایا تھا۔ اصل میعاد تیس راتیں تھیں پھر اس میں دس کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا تذکرہ سورت اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی وہ تختیاں دی گئیں جن میں احکام خداوندی لکھے ہوئے تھے تاکہ ان احکام پر بنی اسرائیل کا قانونی نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے کہ آپ ازخود ان حالات و مشاہدات کی رپورٹ دے رہا ہے کیونکہ حضور ﷺ اور حضرت موسیٰ کے زمانوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔
ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر (28: 45) ” ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر زمانہ گزر چکا ہے “۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو یہ اطلاعات اللہ علیم وخبیر دے رہا ہے اور یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔
قرآن کریم نے حضرت موسیٰ کے قیام مدین کے واقعات کے بارے میں بھی تحدی کی ہے اور چیلنج کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے وہاں قیام کیا۔ حضرت محمد ﷺ وہ واقعات بتا رہے ہیں تو حضور ہدایت خود مدین میں بھی تو موجود نہ تھے کہ اس زمانے کی خبریں حضور اکرم ﷺ نے ان سے لی ہوں اور پھر تفصیلات بیان کردیں۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ
لکنا کنا مرسلین (28: 45) ” مگر یہ خبریں ہم بھیجنے والے ہیں “۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جس کے پاس انبیائے سابقین کی خبریں محفوظ ہیں۔
پھر قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات اور مکالمے کو بھی اپنی جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ نہایت گہرائی کے ساتھ۔
وما کنت بجانب الطور اذنادینا (28: 46) ” اور تم طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے پہلی مرتبہ موسیٰ کو پکارا “۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ پکار تو نہ سنی تھی۔ نہ اس کی تفصیلات انہوں نے قلم بند فرمائی تھیں۔ یہ اللہ کی جانب سے اہل مکہ قوم رسول کیلئے ایک رحمت ہے کہ وہ خبریں تفصیلات کے ساتھ دی جا رہی ہیں لہٰذا یہ خبریں بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ آپ سچے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں اس پر پہلی دلیل خود یہ قرآن ہے تاکہ عرب جیسی قوم کو آپ ڈرائیں جن کے پاس اس سے قبل ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس سے قبل کی رسالتیں بنی اسرائیل کے پاس آتی تھیں جو عربوں کے پڑوس میں بستے تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل عرب میں کوئی رسول نہ آیا تھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
یہ قرآن لوگوں کیلئے رحمت خداوندی بھی ہے اور ان پر حجت بھی ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہمارے لیے تو کوئی رسول بھیجا ہی نہ گیا تھا اور یہ کہ ان کو تو اچانک ہی پکڑ لیا گیا اور یہ کہ اس پکڑ سے قبل ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ یہ لوگ جس جاہلیت اور شرک میں مبتلا تھے وہ تو موجب عذاب تھی تو اللہ نے ان کی حجت بازی اور ان کے عذرات کو ختم کرنے کیلئے رسول بھیج دیا اور آخری رسول بھیج دیا تاکہ ان کے بعد کوئی عذر نہ کرے۔
ولولا ان تصیبھم ۔۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ اگر رسول نہ آتا تو وہ ایسی ہی بات کرتے۔ اگرچہ رسول کے پاس آیات نہ ہوتیں ، لیکن جب رسول آگیا اور اس کے پاس آیات بھی ہیں تو یہ لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں حالانکہ اس کے پاس ناقابل تردید و ناقابل شک دلائل ہیں۔
فلما جآءھم الحق من عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل کفرون (28: 48) ” مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیو یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں “۔ اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “۔ یہی غرض تھی ان کی بہانہ سازی اور ان کے غلط عذرات کی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم نہ کیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے یعنی مادی معجزات یا قرآن کریم تختیوں پر لکھا ہوا کیوں نہیں اتارا گیا جس طرح تورات کو لکھا ہوا اتارا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے جو دلیل بیان کی ہے ، یہ اس میں سچے نہیں ہیں۔ نہ ان کا یہ اعتراض مخلصانہ ہے۔
اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (28: 48) ” کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ جزیرۃ العرب میں یہودی رہتے تھے۔ ان کے پاس تورات بھی تھی تو عربوں نے تورات کو کیوں نہ مانا۔ انہوں نے تو تورات کو بھی تکذیب کی تھی۔ نیز ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی بشارت اور صفات دونوں دی گئی ہیں اور انہوں نے قرآن کے بارے میں بعض اہل کتاب سے فتویٰ بھی پوچھا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ محمد جو تعلیم پیش کرتے ہیں وہ سچی ہے اور یہ تعلیم بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ لیکن انہوں نے ان فتاویٰ کو بھی تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے تورات کو بھی جادو کہا۔ قرآن کو بھی جادو کہا اور چونکہ دونوں جادو ہیں اس لیے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔
قالوا سحرن تظھرا وقالوا انا بکل کفرون (28: 48) ” انہوں نے کہا دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “ وہ حق طلب کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ قرآن کی پشت پر موجود دلائل ضعیف ہیں۔
قرآن مجید ایک قدم آگے بڑھ کر ان کو اچھی طرح لاجواب کردیتا ہے ، ان سے کہا جاتا ہے اگر تم قرآن کو تسلیم نہیں کرتے ، اور تورات کی تعلیمات بھی تمہارے دل کو نہیں لگتیں تو تم کوئی ایسی کتاب لاؤ جو تورات اور قرآن دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اس کتاب کو مان لیں گے۔
یہ آخری بات ہے اور دلیل وبرہان کی آخری حد ہے کہ تم ایسی کوئی کتاب لاؤ، اس کے بعد بھی اگر کوئی حق کے سامنے نہیں جھکتا تو یہ مکابرہ ہوگا اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ اور ہٹ دھرمی کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔۔۔ لا یھدی القوم الظلمین (28: 50) ” اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔
قرآن جن حقائق پر مشتمل ہے وہ نہایت واضح ہیں۔ دین اسلام کے جو دلائل ہیں وہ قطعی اللبوت ہیں۔ ان دلائل کا جو شخص انکار کرتا ہے وہ وہی شخص ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا ہوا ہو۔ کیونکہ معقول انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ تیسرا راستہ ہی نہیں ہے یا تو وہ مخلص اور حق قبول کرنے والا ہوگا تو وہ لازماً دلائل ایمان کو دیکھ کر ایمان لائے گا اور یا وہ شک میں مبتلا ہوگا ، اپنی خواہشات کا پیرو ہوگا وہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والا ہوگا۔ انکار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے کرے گا ، اسلئے نہیں کرے گا کہ اسلامی عقائد میں کوئی پیچیدگی ہے یا حجت میں کوئی ضعف ہے یا دلیل میں کوئی کمی ہے جیسا کہ نفس پرست لوگ کہتے ہیں۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔ اھوآءھم (28: 50) ” اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہے ، آخری ہے ، اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس دین کو قبول نہیں کرتے وہ مفاد پرست ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور عذر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زبردستی ناسمجھ بنا رکھا ہے دراصل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔ حق واضح ہے اور پھر بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں۔
ومن اضل ممن اتبع ۔۔۔۔۔۔۔ القوم لظلمین (28: 50) ” اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ اور یہ اہل مکہ اس معاملے میں بڑے ظالم اور باغی ہیں۔
یہ آیت ان لوگوں کے تمام عذرات ختم کردیتی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو سمجھا نہیں ہے اور ان کو دین کا پورا پورا علم نہ تھا۔ اسلام کا موقف ہے کہ اسلام بالکل واضح ہے۔ صرف لوگوں تک پہنچنا چاہئے ، ان پر حجت تمام ہونا چاہئے کہ اسلام پہنچا دیا گیا۔ بس پھر مجادلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف پہنچا دینے سے لوگوں کے عذرات ختم ہوجائیں گے۔ دین پہنچ جانے کے بعد محض نفس پرست یا مفاد پرست ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور تکذیب وہی شخص کرسکتا ہے جو زبردستی اپنے آپ کو جاہل بنائے اور اپنے اوپر ظلم کرے۔ اس سچائی پر ظلم کرے۔ ایسا شخص مستحق ہدایت ہی نہیں ہوتا۔ ” ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت ہی نہیں بخشتا “۔
حق پہنچتے ہی ان کا عذر ختم ہوا۔ ان پر دعوت پیش کرتے ہی رسول اور امت کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب ایسے لوگوں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔
ولقد وصلنا ۔۔۔۔۔ یتذکرون (28: 51) ” اور نصیحت کی بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں “۔
گذشتہ آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ لوگ منہ موڑتے ہیں ، شک کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اب یہاں بعض ایسے لوگوں اور ایسے کرداروں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو حق کو خلوص نیت سے قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مثال اہل کتاب میں ملتی ہے۔ ذرا دیکھو انہوں نے سچائی پر مشتمل اس کتاب کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔
القصص 28:51
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے میدان حشر کے بھی بعض مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو تعلیم لے کر آئے وہ سچی ہے۔ اہل کتاب میں سے سلیم الفطرت لوگ اسے قبول کرتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ مدعی دین ابراہیمی ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو یہ ان کیلئے رحمت ثابت ہوگی۔
اس قصے سے جو پہلا نتیجہ یہاں نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو کلام نازل ہو رہا ہے وہ سچا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ ان قصص کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس طرح کوئی عینی شاہد کسی واقعہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ حضور اکرم ﷺ ان واقعات کے پیش آنے کے وقت وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ علیم وخبیر اللہ کی طرف سے وحی ہے جو آپ پر آرہی ہے اور یہ وحی رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک میں مبتلا ہیں۔ اور اس فعل کی وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس لیے کہ اگر یہ وحی نہ آتی تو ان لوگوں کو ایک بہانہ ہاتھ آجاتا۔
ربنا لولا ارسلت ۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی نبی بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔
وما کنت بجانب الغربی ۔۔۔۔۔۔۔ لھم القول لعلکم یتذکرون (44 – 51)
غربی سے یہاں طور کا جانب غربی مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمے اور چلہ کشی کے چالیس روز و شب کے لیے متعین فرمایا تھا۔ اصل میعاد تیس راتیں تھیں پھر اس میں دس کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا تذکرہ سورت اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی وہ تختیاں دی گئیں جن میں احکام خداوندی لکھے ہوئے تھے تاکہ ان احکام پر بنی اسرائیل کا قانونی نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے کہ آپ ازخود ان حالات و مشاہدات کی رپورٹ دے رہا ہے کیونکہ حضور ﷺ اور حضرت موسیٰ کے زمانوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔
ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر (28: 45) ” ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر زمانہ گزر چکا ہے “۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو یہ اطلاعات اللہ علیم وخبیر دے رہا ہے اور یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔
قرآن کریم نے حضرت موسیٰ کے قیام مدین کے واقعات کے بارے میں بھی تحدی کی ہے اور چیلنج کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے وہاں قیام کیا۔ حضرت محمد ﷺ وہ واقعات بتا رہے ہیں تو حضور ہدایت خود مدین میں بھی تو موجود نہ تھے کہ اس زمانے کی خبریں حضور اکرم ﷺ نے ان سے لی ہوں اور پھر تفصیلات بیان کردیں۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ
لکنا کنا مرسلین (28: 45) ” مگر یہ خبریں ہم بھیجنے والے ہیں “۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جس کے پاس انبیائے سابقین کی خبریں محفوظ ہیں۔
پھر قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات اور مکالمے کو بھی اپنی جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ نہایت گہرائی کے ساتھ۔
وما کنت بجانب الطور اذنادینا (28: 46) ” اور تم طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے پہلی مرتبہ موسیٰ کو پکارا “۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ پکار تو نہ سنی تھی۔ نہ اس کی تفصیلات انہوں نے قلم بند فرمائی تھیں۔ یہ اللہ کی جانب سے اہل مکہ قوم رسول کیلئے ایک رحمت ہے کہ وہ خبریں تفصیلات کے ساتھ دی جا رہی ہیں لہٰذا یہ خبریں بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ آپ سچے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں اس پر پہلی دلیل خود یہ قرآن ہے تاکہ عرب جیسی قوم کو آپ ڈرائیں جن کے پاس اس سے قبل ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس سے قبل کی رسالتیں بنی اسرائیل کے پاس آتی تھیں جو عربوں کے پڑوس میں بستے تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل عرب میں کوئی رسول نہ آیا تھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
یہ قرآن لوگوں کیلئے رحمت خداوندی بھی ہے اور ان پر حجت بھی ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہمارے لیے تو کوئی رسول بھیجا ہی نہ گیا تھا اور یہ کہ ان کو تو اچانک ہی پکڑ لیا گیا اور یہ کہ اس پکڑ سے قبل ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ یہ لوگ جس جاہلیت اور شرک میں مبتلا تھے وہ تو موجب عذاب تھی تو اللہ نے ان کی حجت بازی اور ان کے عذرات کو ختم کرنے کیلئے رسول بھیج دیا اور آخری رسول بھیج دیا تاکہ ان کے بعد کوئی عذر نہ کرے۔
ولولا ان تصیبھم ۔۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ اگر رسول نہ آتا تو وہ ایسی ہی بات کرتے۔ اگرچہ رسول کے پاس آیات نہ ہوتیں ، لیکن جب رسول آگیا اور اس کے پاس آیات بھی ہیں تو یہ لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں حالانکہ اس کے پاس ناقابل تردید و ناقابل شک دلائل ہیں۔
فلما جآءھم الحق من عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل کفرون (28: 48) ” مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیو یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں “۔ اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “۔ یہی غرض تھی ان کی بہانہ سازی اور ان کے غلط عذرات کی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم نہ کیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے یعنی مادی معجزات یا قرآن کریم تختیوں پر لکھا ہوا کیوں نہیں اتارا گیا جس طرح تورات کو لکھا ہوا اتارا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے جو دلیل بیان کی ہے ، یہ اس میں سچے نہیں ہیں۔ نہ ان کا یہ اعتراض مخلصانہ ہے۔
اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (28: 48) ” کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ جزیرۃ العرب میں یہودی رہتے تھے۔ ان کے پاس تورات بھی تھی تو عربوں نے تورات کو کیوں نہ مانا۔ انہوں نے تو تورات کو بھی تکذیب کی تھی۔ نیز ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی بشارت اور صفات دونوں دی گئی ہیں اور انہوں نے قرآن کے بارے میں بعض اہل کتاب سے فتویٰ بھی پوچھا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ محمد جو تعلیم پیش کرتے ہیں وہ سچی ہے اور یہ تعلیم بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ لیکن انہوں نے ان فتاویٰ کو بھی تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے تورات کو بھی جادو کہا۔ قرآن کو بھی جادو کہا اور چونکہ دونوں جادو ہیں اس لیے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔
قالوا سحرن تظھرا وقالوا انا بکل کفرون (28: 48) ” انہوں نے کہا دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “ وہ حق طلب کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ قرآن کی پشت پر موجود دلائل ضعیف ہیں۔
قرآن مجید ایک قدم آگے بڑھ کر ان کو اچھی طرح لاجواب کردیتا ہے ، ان سے کہا جاتا ہے اگر تم قرآن کو تسلیم نہیں کرتے ، اور تورات کی تعلیمات بھی تمہارے دل کو نہیں لگتیں تو تم کوئی ایسی کتاب لاؤ جو تورات اور قرآن دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اس کتاب کو مان لیں گے۔
یہ آخری بات ہے اور دلیل وبرہان کی آخری حد ہے کہ تم ایسی کوئی کتاب لاؤ، اس کے بعد بھی اگر کوئی حق کے سامنے نہیں جھکتا تو یہ مکابرہ ہوگا اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ اور ہٹ دھرمی کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔۔۔ لا یھدی القوم الظلمین (28: 50) ” اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔
قرآن جن حقائق پر مشتمل ہے وہ نہایت واضح ہیں۔ دین اسلام کے جو دلائل ہیں وہ قطعی اللبوت ہیں۔ ان دلائل کا جو شخص انکار کرتا ہے وہ وہی شخص ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا ہوا ہو۔ کیونکہ معقول انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ تیسرا راستہ ہی نہیں ہے یا تو وہ مخلص اور حق قبول کرنے والا ہوگا تو وہ لازماً دلائل ایمان کو دیکھ کر ایمان لائے گا اور یا وہ شک میں مبتلا ہوگا ، اپنی خواہشات کا پیرو ہوگا وہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والا ہوگا۔ انکار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے کرے گا ، اسلئے نہیں کرے گا کہ اسلامی عقائد میں کوئی پیچیدگی ہے یا حجت میں کوئی ضعف ہے یا دلیل میں کوئی کمی ہے جیسا کہ نفس پرست لوگ کہتے ہیں۔
فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔ اھوآءھم (28: 50) ” اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہے ، آخری ہے ، اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس دین کو قبول نہیں کرتے وہ مفاد پرست ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور عذر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زبردستی ناسمجھ بنا رکھا ہے دراصل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔ حق واضح ہے اور پھر بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں۔
ومن اضل ممن اتبع ۔۔۔۔۔۔۔ القوم لظلمین (28: 50) ” اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ اور یہ اہل مکہ اس معاملے میں بڑے ظالم اور باغی ہیں۔
یہ آیت ان لوگوں کے تمام عذرات ختم کردیتی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو سمجھا نہیں ہے اور ان کو دین کا پورا پورا علم نہ تھا۔ اسلام کا موقف ہے کہ اسلام بالکل واضح ہے۔ صرف لوگوں تک پہنچنا چاہئے ، ان پر حجت تمام ہونا چاہئے کہ اسلام پہنچا دیا گیا۔ بس پھر مجادلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف پہنچا دینے سے لوگوں کے عذرات ختم ہوجائیں گے۔ دین پہنچ جانے کے بعد محض نفس پرست یا مفاد پرست ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور تکذیب وہی شخص کرسکتا ہے جو زبردستی اپنے آپ کو جاہل بنائے اور اپنے اوپر ظلم کرے۔ اس سچائی پر ظلم کرے۔ ایسا شخص مستحق ہدایت ہی نہیں ہوتا۔ ” ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت ہی نہیں بخشتا “۔
حق پہنچتے ہی ان کا عذر ختم ہوا۔ ان پر دعوت پیش کرتے ہی رسول اور امت کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب ایسے لوگوں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔
ولقد وصلنا ۔۔۔۔۔ یتذکرون (28: 51) ” اور نصیحت کی بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں “۔
گذشتہ آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ لوگ منہ موڑتے ہیں ، شک کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اب یہاں بعض ایسے لوگوں اور ایسے کرداروں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو حق کو خلوص نیت سے قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مثال اہل کتاب میں ملتی ہے۔ ذرا دیکھو انہوں نے سچائی پر مشتمل اس کتاب کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔
القصص 28:52
الذین اتینھم الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (52 – 55)
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ ان 70 پادریوں کے بارے میں ہے جنہیں نجاشی نے بھیجا تھا۔ جب یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان پر سورت یسین پڑھی۔ جب سورت ختم ہوگئی تو یہ لوگ رونے لگے اور مسلمان ہوگئے ان کے بارے میں زیر بحث آیات بھی نازل ہوئیں۔
الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے قبل کتاب دی ہے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔
محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے ” اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے پاس قریبا بیس آدمی آئے۔ آپ ﷺ مکہ میں تھے۔ یہ لوگ عیسائی تھے اور انہوں نے آپ کے بارے میں سنا تھا۔ یہ لوگ حبشہ سے آئے تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کو مسجد حرام میں پایا۔ یہ لوگ حضور ﷺ کے پاس بیٹھے اور آپ ﷺ سے بات کرتے رہے۔ قریش کے کچھ لوگ کعبہ کے اردگرد محافل سجائے بیٹھے تھے۔ جب ان لوگوں کا سوال و جواب ختم ہوا تو حضور ﷺ نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا۔ جب انہوں نے قرآن مجید سنا تو ان کے آنسو جاری ہوگئے۔ انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کرلی ، ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں آپ کے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا پایا تھا وہ علامات آپ میں معلوم کرلیں۔ جب یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر جانے لگے تو ابوجہل اور ہشام نے چند دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کی راہ روک لی اور انہوں نے ان لوگوں سے کہا تم کس قدر بدبخت مسافر ہو ، تمہیں تمہارے ملک کے ہم مذہب لوگوں نے بھیجا تھا کہ اس شخص کے بارے میں معلومات لے کر آؤ، تم ابھی اس کے پاس اچھی طرح بیٹھے بھی نہ تھے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا اور اس شخص کی تصدیق کردی۔ ہم سمجھتے ہیں تم جیسا احمق اور کوئی سوار نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، ہم تمہارے ساتھ جہالت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا دین ہمارا ہے اور تمہارا دین تمہیں مبارک ہو۔ ہم اپنے آپ کو خیر سے دور نہیں رکھتے “۔
کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ وفد نجران کے نصاریٰ کا تھا۔ خدا ہی جانتا ہے کہ یہ وفد نجرانیوں کا تھا یا حبشیوں کا ۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی۔
الذین اتینھم الکتن من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) کہتے ہیں میں نے زھری سے پوچھا کہ یہ آیات کس کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے علماء سے یہ سنتا رہا کہ یہ آیات نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور وہ آیات بھی جو سورت مائدہ میں ہیں۔
ذلک بان منھم قسیسین ورھبانا۔۔۔۔۔۔ فاکتبنا من الشھدین تک ۔
بہرحال یہ آیات جس کے بارے میں بھی نازل ہوئی ہوں ، قرآن ایک واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں کفار جانتے تھے اور اس کا انکار نہ کرتے تھے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ دنیا میں ایسے پاک نفس لوگ بھی ہیں جو قرآن کو سن کر اس کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس سچائی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں جو اس میں ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کے پاس جو سابق کتاب تھی۔ قرآن کی تعلیمات اس کے مطابق ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوئی روکنے والا ایمان لانے سے روک بھی نہیں سکتا۔ نہ ان کے اندر کا ان کا نفس امارہ اور نہ بڑائی کا تصور اور گھمنڈ ہے اور ایسے لوگ پھر دوسرا جہلاء کی طرف سے دی جانے والی اذیتوں اور طعنوں کو بھی برداشت کرتے ہیں۔ اور ان ایذاؤں اور اپنی خواہشات نفس کے علی الرغم حق پر جم جاتے ہیں۔
الذین اتینھم ۔۔۔۔۔ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں اس سے قبل کتاب دی گئی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔ اور قرآن کی حقانیت کے دلائل میں سے یہ ایک دلیل ہے ، ورنہ تمام کتابیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ ان کے مضامین باہم ملتے جلتے ہیں جس کو اس کا ابتدائی حصہ دیا گیا وہ اس کے آخری حصہ میں بھی حق پاتا ہے ، مطمئن ہوتا ہے ، ایمان لاتا ہے ، اور جان لیتا ہے کہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
واذا یتلی ۔۔۔۔۔۔ قبلہ مسلمین (28: 53) ” جب ان کو سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ واقعی حق ہے ، ہمارے رب کی طرف سے۔ ہم تو پہلے ہی مسلم ہیں “۔ یعنی یہ کلام اس قدر واضح ہے کہ اسے صرف تلاوت کی ضرورت ہے ، جن لوگوں کو پہلے کتاب دی گئی ہے وہ تو دیکھتے ہی معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ اسی سرچشمے سے ہے۔ اور اس کا سرچشمہ بھی وہی ہے جس سے سچائی نکلتی ہے۔ جھوٹ وہاں سے نہیں آسکتا۔ ” یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے “۔ اور یہ کہہ ” ہم تو اس سے پہلے سے مسلم تھے “۔ اللہ کے مسلم ہونے کا مفہوم ہے کہ ہم پہلے سے اللہ کے مطیع فرمان تھے۔
یہ لوگ جو اللہ کے مطیع فرمان تھے اور پھر انہوں نے محض سنتے ہی قرآن کی بھی تصدیق کردی۔
اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا (28: 54) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا ، اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی “۔ یہ کہ انہوں نے خالص اسلام پر صبر کیا ، انہوں نے اپنے دل و دماغ کو اسلام کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے ذاتی خواہشات اور ہوائے نفس پر غلبہ پایا اور پہلے دین پر بھی جمے رہے اور دوسرے پر بھی جمے رہے۔ اس لیے ان کو دو مرتبہ اجر دیا جائے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے صبر کیا اور قبول حق کرنے کے بعد جم گئے۔ کسی عقیدے کو قبول کرنے کے بعد جم جانا بہت ہی مشکل کام ہے اور پھر خواہشات نفس ، چاہتوں ، بےراہ روی اور سرکشی کے خلاف جم جانا تو بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور ان لوگوں نے یہ سب کام کیے۔ ان لوگوں نے لوگوں کی علامت کی بھی پرواہ نہ کی۔ اور لوگوں کی طرف سے ایذا رسانی کی پرواہ نہ کی۔ جیسا کہ سابقہ روایات میں ذکر ہوا۔
ویدرءون بالحسنۃ السیئۃ (28: 54) ” اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں “۔ یہ بھی ایک قسم کا صبر ہے۔ اور
یہ صبر خالص صبر سے زیادہ پر مشقت ہوتا ہے۔ خالص صبر تو یہ ہے کہ ایذارسانی اور مذاق پر صبر کیا جائے۔ برائی پر صبر بہت مشکل ہے۔ نفسانی غرور کو صرف اسی طرح قابو میں لایا جاسکتا ہے کیونکہ نفس چاہتا ہے کہ مزاح اور ایذا رسانی کا جواب دیا جائے ، غصہ کیا جائے اور انتقام لے کر دل کو ٹھنڈا کیا جائے اور پھر ایذا پر صبر کرنے کے بعد دوسرا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ایذا کے بدلے میں احسان کیا جائے۔ مزاح کے بدلے میں نرمی اور ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کیا جائے اور پھر بدروی کے مقابلے میں اچھا رویہ اختیار کرنا اور برائی کے بدلے احسان کرنا صرف ان لوگوں کا کام ہے جو بھلائی اور احسان کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوں۔ یہ مقام صرف اچھے مومن ہی حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ لوگوں سے اذیت پاتے ہیں اور پھر بھی راضی اور مطمئن رہتے ہیں۔
ومما رزقنھم ینفقون (28: 54) ” اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں یہاں ان لوگوں کی قبولیت حق میں کشادہ دلی کے ساتھ ساتھ اتفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں کشادہ دلی کا ذکر بھی کردیا گیا۔ کیونکہ نیکی اور سخاوت ایک ہی سرچشمے سئ نکلنے والی بھلائیاں ہیں اور یہ تب صادر ہوتی ہیں کہ جب انسان اپنی خواہشات نفس پر قابو پالے اور زمینی اقدار کے مقابلے میں اعلیٰ قدروں کو اہمیت دے۔ ان اقدار میں پہلی قدر کا تعلق نفسیات کی دنیا سے ہے اور دوسری کا معیشت سے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بسا اوقات ایمان اور انفاق کا ذکر ایک جگہ آتا ہے۔
ایمان پر صبر کرنے والوں اور خالص عقیدہ اختیار کرنے والوں کی ایک دوسری صفت :
واذا سمعوا ۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ، تم کو سلام ہے۔ ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے “۔ لغو کا مطلب فضول باتیں کرنا ہے جن میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ ان کے پیچھے کوئی مقصد ہو۔ یعنی وہ لاحاصل گفتگو جس سے دل و دماغ کے اندر کسی مفید علم و حکمت کا اضافہ نہ ہو۔ یعنی وہ گری ہوئی باتیں جن سے احساس و شعور میں اور زبان و کلام میں گندگی اور برائی کا اضافہ ہو۔ چاہے وہ کسی کے ساتھ مکالمے کی صورت میں ہوں یا کسی غائب شخص کے واقعات نقل کرتے ہوئے ہوں۔
مومن دل کبھی بھی اس قسم کی لغو باتوں میں مشغول نہیں ہوتے۔ نہ وہ لغو باتیں سنتے ہیں کیونکہ ان کے پیش نظر بلند وبالا امور ہوتے ہیں ، پاکیزہ اور نورانی باتیں۔
واذا سمعوا اللغو اعرضوا عنہ (28: 55) ” انہوں نے جب بیہودہ بات سنی تو کنارہ کش ہوگئے “۔ لیکن وہ اہل لغو پر نہ غصہ ہوتے ہیں ، نہ ان سے الجھتے ہیں کہ زبردستی منع کردیں اور نہ وہ ان کے ساتھ بحث شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ اہل لغو کے ساتھ الجھنا بھی ایک طرح کا لغوا مر ہے۔ وہ بس ان کو چھوڑ کر علیحدہ ہوجاتے ہیں۔
وقالوا لنا ۔۔۔۔۔ سلم علیکم (28: 55) ” اور کہا ہمارے اعمال ہمارے لئے ، اور تمہارے اعمال تم کو سلام ہے “ نہایت ادب سے ، دعائے خیر کے ساتھ ، اس خواہش کے ساتھ کہ وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں۔ لیکن یہ خواہش رکھتے ہوئے بھی یہ ان کے لغو میں شریک نہیں ہوتے۔
لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرتے “۔ اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ اپنا قیمتی وقت ان کے ساتھ ضائع کریں۔ نہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لغو میں شریک ہوں اور خاموشی سے سنتے رہیں۔ ایسی رواداری کے بھی قائل نہیں۔ یہ ایک روشن نفس کی تصویر ہے جو نفس مومنہ ہے ، اپنے ایمان پر مطمئن ہے۔ لغو سے بالا و برتر ہے۔ لیکن کشادہ دل اور کشادہ دست ہے ۔ یہ نفس مومنہ ان لوگوں کے لیے رسم و راہ مقرر کرتی ہے جو صحیح راستہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا جاہلوں کے ساتھ جاہلیت میں اشتراک بھی نہیں ۔ ان کے ساتھ مخاصمت بھی نہیں ، ان پر غصہ بھی نہیں ، ان کے ساتھ ترش روئی بھی نہیں بلکہ سنجیدگی ، سربلندی ، کشادہ دلی اور برائی کرنے والے کے ساتھ بھی نیکی اور بھلائی۔
یہ اہل کتاب ، جو ایمان لائے ، ان کے ایمان لانے میں رسول اللہ ﷺ کو کوئی بڑا مجاہدہ کرنا نہیں پڑا۔ آپ نے صرف قرآن کی تلاوت فرمائی ، بس چند سوالات کیے اور ایمان قبول کرلیا جبکہ وہ خود اپنی قوم کے ساتھ آپ رات دن سالوں تک مجاہدہ کرتے رہے۔ پھر اپنے محبوب رشتہ داروں کے ساتھ تو بہت ہی محنت کرتے رہے۔ لیکن ان لوگوں کو ایمان نصیب نہ ہوا ۔ یہ بات حضور ﷺ خود جانتے تھے کہ آپ ﷺ کے اختیار میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ اپنے محبوبوں کو ہدایت دے دیں۔ اللہ تعالیٰ تو صرف ان لوگوں کو ہدایت عطا کرتا ہے جن کے نفس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ مستحق ہیں اور ایمان کے لیے تیار ہیں۔
القصص 28:53
الذین اتینھم الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (52 – 55)
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ ان 70 پادریوں کے بارے میں ہے جنہیں نجاشی نے بھیجا تھا۔ جب یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان پر سورت یسین پڑھی۔ جب سورت ختم ہوگئی تو یہ لوگ رونے لگے اور مسلمان ہوگئے ان کے بارے میں زیر بحث آیات بھی نازل ہوئیں۔
الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے قبل کتاب دی ہے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔
محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے ” اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے پاس قریبا بیس آدمی آئے۔ آپ ﷺ مکہ میں تھے۔ یہ لوگ عیسائی تھے اور انہوں نے آپ کے بارے میں سنا تھا۔ یہ لوگ حبشہ سے آئے تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کو مسجد حرام میں پایا۔ یہ لوگ حضور ﷺ کے پاس بیٹھے اور آپ ﷺ سے بات کرتے رہے۔ قریش کے کچھ لوگ کعبہ کے اردگرد محافل سجائے بیٹھے تھے۔ جب ان لوگوں کا سوال و جواب ختم ہوا تو حضور ﷺ نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا۔ جب انہوں نے قرآن مجید سنا تو ان کے آنسو جاری ہوگئے۔ انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کرلی ، ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں آپ کے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا پایا تھا وہ علامات آپ میں معلوم کرلیں۔ جب یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر جانے لگے تو ابوجہل اور ہشام نے چند دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کی راہ روک لی اور انہوں نے ان لوگوں سے کہا تم کس قدر بدبخت مسافر ہو ، تمہیں تمہارے ملک کے ہم مذہب لوگوں نے بھیجا تھا کہ اس شخص کے بارے میں معلومات لے کر آؤ، تم ابھی اس کے پاس اچھی طرح بیٹھے بھی نہ تھے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا اور اس شخص کی تصدیق کردی۔ ہم سمجھتے ہیں تم جیسا احمق اور کوئی سوار نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، ہم تمہارے ساتھ جہالت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا دین ہمارا ہے اور تمہارا دین تمہیں مبارک ہو۔ ہم اپنے آپ کو خیر سے دور نہیں رکھتے “۔
کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ وفد نجران کے نصاریٰ کا تھا۔ خدا ہی جانتا ہے کہ یہ وفد نجرانیوں کا تھا یا حبشیوں کا ۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی۔
الذین اتینھم الکتن من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) کہتے ہیں میں نے زھری سے پوچھا کہ یہ آیات کس کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے علماء سے یہ سنتا رہا کہ یہ آیات نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور وہ آیات بھی جو سورت مائدہ میں ہیں۔
ذلک بان منھم قسیسین ورھبانا۔۔۔۔۔۔ فاکتبنا من الشھدین تک ۔
بہرحال یہ آیات جس کے بارے میں بھی نازل ہوئی ہوں ، قرآن ایک واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں کفار جانتے تھے اور اس کا انکار نہ کرتے تھے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ دنیا میں ایسے پاک نفس لوگ بھی ہیں جو قرآن کو سن کر اس کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس سچائی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں جو اس میں ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کے پاس جو سابق کتاب تھی۔ قرآن کی تعلیمات اس کے مطابق ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوئی روکنے والا ایمان لانے سے روک بھی نہیں سکتا۔ نہ ان کے اندر کا ان کا نفس امارہ اور نہ بڑائی کا تصور اور گھمنڈ ہے اور ایسے لوگ پھر دوسرا جہلاء کی طرف سے دی جانے والی اذیتوں اور طعنوں کو بھی برداشت کرتے ہیں۔ اور ان ایذاؤں اور اپنی خواہشات نفس کے علی الرغم حق پر جم جاتے ہیں۔
الذین اتینھم ۔۔۔۔۔ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں اس سے قبل کتاب دی گئی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔ اور قرآن کی حقانیت کے دلائل میں سے یہ ایک دلیل ہے ، ورنہ تمام کتابیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ ان کے مضامین باہم ملتے جلتے ہیں جس کو اس کا ابتدائی حصہ دیا گیا وہ اس کے آخری حصہ میں بھی حق پاتا ہے ، مطمئن ہوتا ہے ، ایمان لاتا ہے ، اور جان لیتا ہے کہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
واذا یتلی ۔۔۔۔۔۔ قبلہ مسلمین (28: 53) ” جب ان کو سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ واقعی حق ہے ، ہمارے رب کی طرف سے۔ ہم تو پہلے ہی مسلم ہیں “۔ یعنی یہ کلام اس قدر واضح ہے کہ اسے صرف تلاوت کی ضرورت ہے ، جن لوگوں کو پہلے کتاب دی گئی ہے وہ تو دیکھتے ہی معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ اسی سرچشمے سے ہے۔ اور اس کا سرچشمہ بھی وہی ہے جس سے سچائی نکلتی ہے۔ جھوٹ وہاں سے نہیں آسکتا۔ ” یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے “۔ اور یہ کہہ ” ہم تو اس سے پہلے سے مسلم تھے “۔ اللہ کے مسلم ہونے کا مفہوم ہے کہ ہم پہلے سے اللہ کے مطیع فرمان تھے۔
یہ لوگ جو اللہ کے مطیع فرمان تھے اور پھر انہوں نے محض سنتے ہی قرآن کی بھی تصدیق کردی۔
اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا (28: 54) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا ، اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی “۔ یہ کہ انہوں نے خالص اسلام پر صبر کیا ، انہوں نے اپنے دل و دماغ کو اسلام کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے ذاتی خواہشات اور ہوائے نفس پر غلبہ پایا اور پہلے دین پر بھی جمے رہے اور دوسرے پر بھی جمے رہے۔ اس لیے ان کو دو مرتبہ اجر دیا جائے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے صبر کیا اور قبول حق کرنے کے بعد جم گئے۔ کسی عقیدے کو قبول کرنے کے بعد جم جانا بہت ہی مشکل کام ہے اور پھر خواہشات نفس ، چاہتوں ، بےراہ روی اور سرکشی کے خلاف جم جانا تو بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور ان لوگوں نے یہ سب کام کیے۔ ان لوگوں نے لوگوں کی علامت کی بھی پرواہ نہ کی۔ اور لوگوں کی طرف سے ایذا رسانی کی پرواہ نہ کی۔ جیسا کہ سابقہ روایات میں ذکر ہوا۔
ویدرءون بالحسنۃ السیئۃ (28: 54) ” اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں “۔ یہ بھی ایک قسم کا صبر ہے۔ اور
یہ صبر خالص صبر سے زیادہ پر مشقت ہوتا ہے۔ خالص صبر تو یہ ہے کہ ایذارسانی اور مذاق پر صبر کیا جائے۔ برائی پر صبر بہت مشکل ہے۔ نفسانی غرور کو صرف اسی طرح قابو میں لایا جاسکتا ہے کیونکہ نفس چاہتا ہے کہ مزاح اور ایذا رسانی کا جواب دیا جائے ، غصہ کیا جائے اور انتقام لے کر دل کو ٹھنڈا کیا جائے اور پھر ایذا پر صبر کرنے کے بعد دوسرا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ایذا کے بدلے میں احسان کیا جائے۔ مزاح کے بدلے میں نرمی اور ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کیا جائے اور پھر بدروی کے مقابلے میں اچھا رویہ اختیار کرنا اور برائی کے بدلے احسان کرنا صرف ان لوگوں کا کام ہے جو بھلائی اور احسان کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوں۔ یہ مقام صرف اچھے مومن ہی حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ لوگوں سے اذیت پاتے ہیں اور پھر بھی راضی اور مطمئن رہتے ہیں۔
ومما رزقنھم ینفقون (28: 54) ” اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں یہاں ان لوگوں کی قبولیت حق میں کشادہ دلی کے ساتھ ساتھ اتفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں کشادہ دلی کا ذکر بھی کردیا گیا۔ کیونکہ نیکی اور سخاوت ایک ہی سرچشمے سئ نکلنے والی بھلائیاں ہیں اور یہ تب صادر ہوتی ہیں کہ جب انسان اپنی خواہشات نفس پر قابو پالے اور زمینی اقدار کے مقابلے میں اعلیٰ قدروں کو اہمیت دے۔ ان اقدار میں پہلی قدر کا تعلق نفسیات کی دنیا سے ہے اور دوسری کا معیشت سے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بسا اوقات ایمان اور انفاق کا ذکر ایک جگہ آتا ہے۔
ایمان پر صبر کرنے والوں اور خالص عقیدہ اختیار کرنے والوں کی ایک دوسری صفت :
واذا سمعوا ۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ، تم کو سلام ہے۔ ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے “۔ لغو کا مطلب فضول باتیں کرنا ہے جن میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ ان کے پیچھے کوئی مقصد ہو۔ یعنی وہ لاحاصل گفتگو جس سے دل و دماغ کے اندر کسی مفید علم و حکمت کا اضافہ نہ ہو۔ یعنی وہ گری ہوئی باتیں جن سے احساس و شعور میں اور زبان و کلام میں گندگی اور برائی کا اضافہ ہو۔ چاہے وہ کسی کے ساتھ مکالمے کی صورت میں ہوں یا کسی غائب شخص کے واقعات نقل کرتے ہوئے ہوں۔
مومن دل کبھی بھی اس قسم کی لغو باتوں میں مشغول نہیں ہوتے۔ نہ وہ لغو باتیں سنتے ہیں کیونکہ ان کے پیش نظر بلند وبالا امور ہوتے ہیں ، پاکیزہ اور نورانی باتیں۔
واذا سمعوا اللغو اعرضوا عنہ (28: 55) ” انہوں نے جب بیہودہ بات سنی تو کنارہ کش ہوگئے “۔ لیکن وہ اہل لغو پر نہ غصہ ہوتے ہیں ، نہ ان سے الجھتے ہیں کہ زبردستی منع کردیں اور نہ وہ ان کے ساتھ بحث شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ اہل لغو کے ساتھ الجھنا بھی ایک طرح کا لغوا مر ہے۔ وہ بس ان کو چھوڑ کر علیحدہ ہوجاتے ہیں۔
وقالوا لنا ۔۔۔۔۔ سلم علیکم (28: 55) ” اور کہا ہمارے اعمال ہمارے لئے ، اور تمہارے اعمال تم کو سلام ہے “ نہایت ادب سے ، دعائے خیر کے ساتھ ، اس خواہش کے ساتھ کہ وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں۔ لیکن یہ خواہش رکھتے ہوئے بھی یہ ان کے لغو میں شریک نہیں ہوتے۔
لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرتے “۔ اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ اپنا قیمتی وقت ان کے ساتھ ضائع کریں۔ نہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لغو میں شریک ہوں اور خاموشی سے سنتے رہیں۔ ایسی رواداری کے بھی قائل نہیں۔ یہ ایک روشن نفس کی تصویر ہے جو نفس مومنہ ہے ، اپنے ایمان پر مطمئن ہے۔ لغو سے بالا و برتر ہے۔ لیکن کشادہ دل اور کشادہ دست ہے ۔ یہ نفس مومنہ ان لوگوں کے لیے رسم و راہ مقرر کرتی ہے جو صحیح راستہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا جاہلوں کے ساتھ جاہلیت میں اشتراک بھی نہیں ۔ ان کے ساتھ مخاصمت بھی نہیں ، ان پر غصہ بھی نہیں ، ان کے ساتھ ترش روئی بھی نہیں بلکہ سنجیدگی ، سربلندی ، کشادہ دلی اور برائی کرنے والے کے ساتھ بھی نیکی اور بھلائی۔
یہ اہل کتاب ، جو ایمان لائے ، ان کے ایمان لانے میں رسول اللہ ﷺ کو کوئی بڑا مجاہدہ کرنا نہیں پڑا۔ آپ نے صرف قرآن کی تلاوت فرمائی ، بس چند سوالات کیے اور ایمان قبول کرلیا جبکہ وہ خود اپنی قوم کے ساتھ آپ رات دن سالوں تک مجاہدہ کرتے رہے۔ پھر اپنے محبوب رشتہ داروں کے ساتھ تو بہت ہی محنت کرتے رہے۔ لیکن ان لوگوں کو ایمان نصیب نہ ہوا ۔ یہ بات حضور ﷺ خود جانتے تھے کہ آپ ﷺ کے اختیار میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ اپنے محبوبوں کو ہدایت دے دیں۔ اللہ تعالیٰ تو صرف ان لوگوں کو ہدایت عطا کرتا ہے جن کے نفس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ مستحق ہیں اور ایمان کے لیے تیار ہیں۔
القصص 28:54
الذین اتینھم الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (52 – 55)
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ ان 70 پادریوں کے بارے میں ہے جنہیں نجاشی نے بھیجا تھا۔ جب یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان پر سورت یسین پڑھی۔ جب سورت ختم ہوگئی تو یہ لوگ رونے لگے اور مسلمان ہوگئے ان کے بارے میں زیر بحث آیات بھی نازل ہوئیں۔
الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے قبل کتاب دی ہے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔
محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے ” اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے پاس قریبا بیس آدمی آئے۔ آپ ﷺ مکہ میں تھے۔ یہ لوگ عیسائی تھے اور انہوں نے آپ کے بارے میں سنا تھا۔ یہ لوگ حبشہ سے آئے تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کو مسجد حرام میں پایا۔ یہ لوگ حضور ﷺ کے پاس بیٹھے اور آپ ﷺ سے بات کرتے رہے۔ قریش کے کچھ لوگ کعبہ کے اردگرد محافل سجائے بیٹھے تھے۔ جب ان لوگوں کا سوال و جواب ختم ہوا تو حضور ﷺ نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا۔ جب انہوں نے قرآن مجید سنا تو ان کے آنسو جاری ہوگئے۔ انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کرلی ، ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں آپ کے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا پایا تھا وہ علامات آپ میں معلوم کرلیں۔ جب یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر جانے لگے تو ابوجہل اور ہشام نے چند دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کی راہ روک لی اور انہوں نے ان لوگوں سے کہا تم کس قدر بدبخت مسافر ہو ، تمہیں تمہارے ملک کے ہم مذہب لوگوں نے بھیجا تھا کہ اس شخص کے بارے میں معلومات لے کر آؤ، تم ابھی اس کے پاس اچھی طرح بیٹھے بھی نہ تھے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا اور اس شخص کی تصدیق کردی۔ ہم سمجھتے ہیں تم جیسا احمق اور کوئی سوار نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، ہم تمہارے ساتھ جہالت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا دین ہمارا ہے اور تمہارا دین تمہیں مبارک ہو۔ ہم اپنے آپ کو خیر سے دور نہیں رکھتے “۔
کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ وفد نجران کے نصاریٰ کا تھا۔ خدا ہی جانتا ہے کہ یہ وفد نجرانیوں کا تھا یا حبشیوں کا ۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی۔
الذین اتینھم الکتن من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) کہتے ہیں میں نے زھری سے پوچھا کہ یہ آیات کس کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے علماء سے یہ سنتا رہا کہ یہ آیات نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور وہ آیات بھی جو سورت مائدہ میں ہیں۔
ذلک بان منھم قسیسین ورھبانا۔۔۔۔۔۔ فاکتبنا من الشھدین تک ۔
بہرحال یہ آیات جس کے بارے میں بھی نازل ہوئی ہوں ، قرآن ایک واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں کفار جانتے تھے اور اس کا انکار نہ کرتے تھے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ دنیا میں ایسے پاک نفس لوگ بھی ہیں جو قرآن کو سن کر اس کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس سچائی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں جو اس میں ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کے پاس جو سابق کتاب تھی۔ قرآن کی تعلیمات اس کے مطابق ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوئی روکنے والا ایمان لانے سے روک بھی نہیں سکتا۔ نہ ان کے اندر کا ان کا نفس امارہ اور نہ بڑائی کا تصور اور گھمنڈ ہے اور ایسے لوگ پھر دوسرا جہلاء کی طرف سے دی جانے والی اذیتوں اور طعنوں کو بھی برداشت کرتے ہیں۔ اور ان ایذاؤں اور اپنی خواہشات نفس کے علی الرغم حق پر جم جاتے ہیں۔
الذین اتینھم ۔۔۔۔۔ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں اس سے قبل کتاب دی گئی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔ اور قرآن کی حقانیت کے دلائل میں سے یہ ایک دلیل ہے ، ورنہ تمام کتابیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ ان کے مضامین باہم ملتے جلتے ہیں جس کو اس کا ابتدائی حصہ دیا گیا وہ اس کے آخری حصہ میں بھی حق پاتا ہے ، مطمئن ہوتا ہے ، ایمان لاتا ہے ، اور جان لیتا ہے کہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
واذا یتلی ۔۔۔۔۔۔ قبلہ مسلمین (28: 53) ” جب ان کو سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ واقعی حق ہے ، ہمارے رب کی طرف سے۔ ہم تو پہلے ہی مسلم ہیں “۔ یعنی یہ کلام اس قدر واضح ہے کہ اسے صرف تلاوت کی ضرورت ہے ، جن لوگوں کو پہلے کتاب دی گئی ہے وہ تو دیکھتے ہی معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ اسی سرچشمے سے ہے۔ اور اس کا سرچشمہ بھی وہی ہے جس سے سچائی نکلتی ہے۔ جھوٹ وہاں سے نہیں آسکتا۔ ” یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے “۔ اور یہ کہہ ” ہم تو اس سے پہلے سے مسلم تھے “۔ اللہ کے مسلم ہونے کا مفہوم ہے کہ ہم پہلے سے اللہ کے مطیع فرمان تھے۔
یہ لوگ جو اللہ کے مطیع فرمان تھے اور پھر انہوں نے محض سنتے ہی قرآن کی بھی تصدیق کردی۔
اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا (28: 54) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا ، اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی “۔ یہ کہ انہوں نے خالص اسلام پر صبر کیا ، انہوں نے اپنے دل و دماغ کو اسلام کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے ذاتی خواہشات اور ہوائے نفس پر غلبہ پایا اور پہلے دین پر بھی جمے رہے اور دوسرے پر بھی جمے رہے۔ اس لیے ان کو دو مرتبہ اجر دیا جائے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے صبر کیا اور قبول حق کرنے کے بعد جم گئے۔ کسی عقیدے کو قبول کرنے کے بعد جم جانا بہت ہی مشکل کام ہے اور پھر خواہشات نفس ، چاہتوں ، بےراہ روی اور سرکشی کے خلاف جم جانا تو بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور ان لوگوں نے یہ سب کام کیے۔ ان لوگوں نے لوگوں کی علامت کی بھی پرواہ نہ کی۔ اور لوگوں کی طرف سے ایذا رسانی کی پرواہ نہ کی۔ جیسا کہ سابقہ روایات میں ذکر ہوا۔
ویدرءون بالحسنۃ السیئۃ (28: 54) ” اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں “۔ یہ بھی ایک قسم کا صبر ہے۔ اور
یہ صبر خالص صبر سے زیادہ پر مشقت ہوتا ہے۔ خالص صبر تو یہ ہے کہ ایذارسانی اور مذاق پر صبر کیا جائے۔ برائی پر صبر بہت مشکل ہے۔ نفسانی غرور کو صرف اسی طرح قابو میں لایا جاسکتا ہے کیونکہ نفس چاہتا ہے کہ مزاح اور ایذا رسانی کا جواب دیا جائے ، غصہ کیا جائے اور انتقام لے کر دل کو ٹھنڈا کیا جائے اور پھر ایذا پر صبر کرنے کے بعد دوسرا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ایذا کے بدلے میں احسان کیا جائے۔ مزاح کے بدلے میں نرمی اور ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کیا جائے اور پھر بدروی کے مقابلے میں اچھا رویہ اختیار کرنا اور برائی کے بدلے احسان کرنا صرف ان لوگوں کا کام ہے جو بھلائی اور احسان کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوں۔ یہ مقام صرف اچھے مومن ہی حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ لوگوں سے اذیت پاتے ہیں اور پھر بھی راضی اور مطمئن رہتے ہیں۔
ومما رزقنھم ینفقون (28: 54) ” اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں یہاں ان لوگوں کی قبولیت حق میں کشادہ دلی کے ساتھ ساتھ اتفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں کشادہ دلی کا ذکر بھی کردیا گیا۔ کیونکہ نیکی اور سخاوت ایک ہی سرچشمے سئ نکلنے والی بھلائیاں ہیں اور یہ تب صادر ہوتی ہیں کہ جب انسان اپنی خواہشات نفس پر قابو پالے اور زمینی اقدار کے مقابلے میں اعلیٰ قدروں کو اہمیت دے۔ ان اقدار میں پہلی قدر کا تعلق نفسیات کی دنیا سے ہے اور دوسری کا معیشت سے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بسا اوقات ایمان اور انفاق کا ذکر ایک جگہ آتا ہے۔
ایمان پر صبر کرنے والوں اور خالص عقیدہ اختیار کرنے والوں کی ایک دوسری صفت :
واذا سمعوا ۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ، تم کو سلام ہے۔ ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے “۔ لغو کا مطلب فضول باتیں کرنا ہے جن میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ ان کے پیچھے کوئی مقصد ہو۔ یعنی وہ لاحاصل گفتگو جس سے دل و دماغ کے اندر کسی مفید علم و حکمت کا اضافہ نہ ہو۔ یعنی وہ گری ہوئی باتیں جن سے احساس و شعور میں اور زبان و کلام میں گندگی اور برائی کا اضافہ ہو۔ چاہے وہ کسی کے ساتھ مکالمے کی صورت میں ہوں یا کسی غائب شخص کے واقعات نقل کرتے ہوئے ہوں۔
مومن دل کبھی بھی اس قسم کی لغو باتوں میں مشغول نہیں ہوتے۔ نہ وہ لغو باتیں سنتے ہیں کیونکہ ان کے پیش نظر بلند وبالا امور ہوتے ہیں ، پاکیزہ اور نورانی باتیں۔
واذا سمعوا اللغو اعرضوا عنہ (28: 55) ” انہوں نے جب بیہودہ بات سنی تو کنارہ کش ہوگئے “۔ لیکن وہ اہل لغو پر نہ غصہ ہوتے ہیں ، نہ ان سے الجھتے ہیں کہ زبردستی منع کردیں اور نہ وہ ان کے ساتھ بحث شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ اہل لغو کے ساتھ الجھنا بھی ایک طرح کا لغوا مر ہے۔ وہ بس ان کو چھوڑ کر علیحدہ ہوجاتے ہیں۔
وقالوا لنا ۔۔۔۔۔ سلم علیکم (28: 55) ” اور کہا ہمارے اعمال ہمارے لئے ، اور تمہارے اعمال تم کو سلام ہے “ نہایت ادب سے ، دعائے خیر کے ساتھ ، اس خواہش کے ساتھ کہ وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں۔ لیکن یہ خواہش رکھتے ہوئے بھی یہ ان کے لغو میں شریک نہیں ہوتے۔
لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرتے “۔ اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ اپنا قیمتی وقت ان کے ساتھ ضائع کریں۔ نہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لغو میں شریک ہوں اور خاموشی سے سنتے رہیں۔ ایسی رواداری کے بھی قائل نہیں۔ یہ ایک روشن نفس کی تصویر ہے جو نفس مومنہ ہے ، اپنے ایمان پر مطمئن ہے۔ لغو سے بالا و برتر ہے۔ لیکن کشادہ دل اور کشادہ دست ہے ۔ یہ نفس مومنہ ان لوگوں کے لیے رسم و راہ مقرر کرتی ہے جو صحیح راستہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا جاہلوں کے ساتھ جاہلیت میں اشتراک بھی نہیں ۔ ان کے ساتھ مخاصمت بھی نہیں ، ان پر غصہ بھی نہیں ، ان کے ساتھ ترش روئی بھی نہیں بلکہ سنجیدگی ، سربلندی ، کشادہ دلی اور برائی کرنے والے کے ساتھ بھی نیکی اور بھلائی۔
یہ اہل کتاب ، جو ایمان لائے ، ان کے ایمان لانے میں رسول اللہ ﷺ کو کوئی بڑا مجاہدہ کرنا نہیں پڑا۔ آپ نے صرف قرآن کی تلاوت فرمائی ، بس چند سوالات کیے اور ایمان قبول کرلیا جبکہ وہ خود اپنی قوم کے ساتھ آپ رات دن سالوں تک مجاہدہ کرتے رہے۔ پھر اپنے محبوب رشتہ داروں کے ساتھ تو بہت ہی محنت کرتے رہے۔ لیکن ان لوگوں کو ایمان نصیب نہ ہوا ۔ یہ بات حضور ﷺ خود جانتے تھے کہ آپ ﷺ کے اختیار میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ اپنے محبوبوں کو ہدایت دے دیں۔ اللہ تعالیٰ تو صرف ان لوگوں کو ہدایت عطا کرتا ہے جن کے نفس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ مستحق ہیں اور ایمان کے لیے تیار ہیں۔
القصص 28:55
الذین اتینھم الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (52 – 55)
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ ان 70 پادریوں کے بارے میں ہے جنہیں نجاشی نے بھیجا تھا۔ جب یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان پر سورت یسین پڑھی۔ جب سورت ختم ہوگئی تو یہ لوگ رونے لگے اور مسلمان ہوگئے ان کے بارے میں زیر بحث آیات بھی نازل ہوئیں۔
الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے قبل کتاب دی ہے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔
محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے ” اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے پاس قریبا بیس آدمی آئے۔ آپ ﷺ مکہ میں تھے۔ یہ لوگ عیسائی تھے اور انہوں نے آپ کے بارے میں سنا تھا۔ یہ لوگ حبشہ سے آئے تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کو مسجد حرام میں پایا۔ یہ لوگ حضور ﷺ کے پاس بیٹھے اور آپ ﷺ سے بات کرتے رہے۔ قریش کے کچھ لوگ کعبہ کے اردگرد محافل سجائے بیٹھے تھے۔ جب ان لوگوں کا سوال و جواب ختم ہوا تو حضور ﷺ نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا۔ جب انہوں نے قرآن مجید سنا تو ان کے آنسو جاری ہوگئے۔ انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کرلی ، ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں آپ کے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا پایا تھا وہ علامات آپ میں معلوم کرلیں۔ جب یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر جانے لگے تو ابوجہل اور ہشام نے چند دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کی راہ روک لی اور انہوں نے ان لوگوں سے کہا تم کس قدر بدبخت مسافر ہو ، تمہیں تمہارے ملک کے ہم مذہب لوگوں نے بھیجا تھا کہ اس شخص کے بارے میں معلومات لے کر آؤ، تم ابھی اس کے پاس اچھی طرح بیٹھے بھی نہ تھے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا اور اس شخص کی تصدیق کردی۔ ہم سمجھتے ہیں تم جیسا احمق اور کوئی سوار نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، ہم تمہارے ساتھ جہالت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا دین ہمارا ہے اور تمہارا دین تمہیں مبارک ہو۔ ہم اپنے آپ کو خیر سے دور نہیں رکھتے “۔
کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ وفد نجران کے نصاریٰ کا تھا۔ خدا ہی جانتا ہے کہ یہ وفد نجرانیوں کا تھا یا حبشیوں کا ۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی۔
الذین اتینھم الکتن من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) کہتے ہیں میں نے زھری سے پوچھا کہ یہ آیات کس کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے علماء سے یہ سنتا رہا کہ یہ آیات نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور وہ آیات بھی جو سورت مائدہ میں ہیں۔
ذلک بان منھم قسیسین ورھبانا۔۔۔۔۔۔ فاکتبنا من الشھدین تک ۔
بہرحال یہ آیات جس کے بارے میں بھی نازل ہوئی ہوں ، قرآن ایک واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں کفار جانتے تھے اور اس کا انکار نہ کرتے تھے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ دنیا میں ایسے پاک نفس لوگ بھی ہیں جو قرآن کو سن کر اس کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس سچائی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں جو اس میں ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کے پاس جو سابق کتاب تھی۔ قرآن کی تعلیمات اس کے مطابق ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوئی روکنے والا ایمان لانے سے روک بھی نہیں سکتا۔ نہ ان کے اندر کا ان کا نفس امارہ اور نہ بڑائی کا تصور اور گھمنڈ ہے اور ایسے لوگ پھر دوسرا جہلاء کی طرف سے دی جانے والی اذیتوں اور طعنوں کو بھی برداشت کرتے ہیں۔ اور ان ایذاؤں اور اپنی خواہشات نفس کے علی الرغم حق پر جم جاتے ہیں۔
الذین اتینھم ۔۔۔۔۔ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں اس سے قبل کتاب دی گئی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔ اور قرآن کی حقانیت کے دلائل میں سے یہ ایک دلیل ہے ، ورنہ تمام کتابیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ ان کے مضامین باہم ملتے جلتے ہیں جس کو اس کا ابتدائی حصہ دیا گیا وہ اس کے آخری حصہ میں بھی حق پاتا ہے ، مطمئن ہوتا ہے ، ایمان لاتا ہے ، اور جان لیتا ہے کہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
واذا یتلی ۔۔۔۔۔۔ قبلہ مسلمین (28: 53) ” جب ان کو سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ واقعی حق ہے ، ہمارے رب کی طرف سے۔ ہم تو پہلے ہی مسلم ہیں “۔ یعنی یہ کلام اس قدر واضح ہے کہ اسے صرف تلاوت کی ضرورت ہے ، جن لوگوں کو پہلے کتاب دی گئی ہے وہ تو دیکھتے ہی معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ اسی سرچشمے سے ہے۔ اور اس کا سرچشمہ بھی وہی ہے جس سے سچائی نکلتی ہے۔ جھوٹ وہاں سے نہیں آسکتا۔ ” یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے “۔ اور یہ کہہ ” ہم تو اس سے پہلے سے مسلم تھے “۔ اللہ کے مسلم ہونے کا مفہوم ہے کہ ہم پہلے سے اللہ کے مطیع فرمان تھے۔
یہ لوگ جو اللہ کے مطیع فرمان تھے اور پھر انہوں نے محض سنتے ہی قرآن کی بھی تصدیق کردی۔
اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا (28: 54) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا ، اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی “۔ یہ کہ انہوں نے خالص اسلام پر صبر کیا ، انہوں نے اپنے دل و دماغ کو اسلام کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے ذاتی خواہشات اور ہوائے نفس پر غلبہ پایا اور پہلے دین پر بھی جمے رہے اور دوسرے پر بھی جمے رہے۔ اس لیے ان کو دو مرتبہ اجر دیا جائے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے صبر کیا اور قبول حق کرنے کے بعد جم گئے۔ کسی عقیدے کو قبول کرنے کے بعد جم جانا بہت ہی مشکل کام ہے اور پھر خواہشات نفس ، چاہتوں ، بےراہ روی اور سرکشی کے خلاف جم جانا تو بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور ان لوگوں نے یہ سب کام کیے۔ ان لوگوں نے لوگوں کی علامت کی بھی پرواہ نہ کی۔ اور لوگوں کی طرف سے ایذا رسانی کی پرواہ نہ کی۔ جیسا کہ سابقہ روایات میں ذکر ہوا۔
ویدرءون بالحسنۃ السیئۃ (28: 54) ” اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں “۔ یہ بھی ایک قسم کا صبر ہے۔ اور
یہ صبر خالص صبر سے زیادہ پر مشقت ہوتا ہے۔ خالص صبر تو یہ ہے کہ ایذارسانی اور مذاق پر صبر کیا جائے۔ برائی پر صبر بہت مشکل ہے۔ نفسانی غرور کو صرف اسی طرح قابو میں لایا جاسکتا ہے کیونکہ نفس چاہتا ہے کہ مزاح اور ایذا رسانی کا جواب دیا جائے ، غصہ کیا جائے اور انتقام لے کر دل کو ٹھنڈا کیا جائے اور پھر ایذا پر صبر کرنے کے بعد دوسرا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ایذا کے بدلے میں احسان کیا جائے۔ مزاح کے بدلے میں نرمی اور ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کیا جائے اور پھر بدروی کے مقابلے میں اچھا رویہ اختیار کرنا اور برائی کے بدلے احسان کرنا صرف ان لوگوں کا کام ہے جو بھلائی اور احسان کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوں۔ یہ مقام صرف اچھے مومن ہی حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ لوگوں سے اذیت پاتے ہیں اور پھر بھی راضی اور مطمئن رہتے ہیں۔
ومما رزقنھم ینفقون (28: 54) ” اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں یہاں ان لوگوں کی قبولیت حق میں کشادہ دلی کے ساتھ ساتھ اتفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں کشادہ دلی کا ذکر بھی کردیا گیا۔ کیونکہ نیکی اور سخاوت ایک ہی سرچشمے سئ نکلنے والی بھلائیاں ہیں اور یہ تب صادر ہوتی ہیں کہ جب انسان اپنی خواہشات نفس پر قابو پالے اور زمینی اقدار کے مقابلے میں اعلیٰ قدروں کو اہمیت دے۔ ان اقدار میں پہلی قدر کا تعلق نفسیات کی دنیا سے ہے اور دوسری کا معیشت سے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بسا اوقات ایمان اور انفاق کا ذکر ایک جگہ آتا ہے۔
ایمان پر صبر کرنے والوں اور خالص عقیدہ اختیار کرنے والوں کی ایک دوسری صفت :
واذا سمعوا ۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ، تم کو سلام ہے۔ ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے “۔ لغو کا مطلب فضول باتیں کرنا ہے جن میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ ان کے پیچھے کوئی مقصد ہو۔ یعنی وہ لاحاصل گفتگو جس سے دل و دماغ کے اندر کسی مفید علم و حکمت کا اضافہ نہ ہو۔ یعنی وہ گری ہوئی باتیں جن سے احساس و شعور میں اور زبان و کلام میں گندگی اور برائی کا اضافہ ہو۔ چاہے وہ کسی کے ساتھ مکالمے کی صورت میں ہوں یا کسی غائب شخص کے واقعات نقل کرتے ہوئے ہوں۔
مومن دل کبھی بھی اس قسم کی لغو باتوں میں مشغول نہیں ہوتے۔ نہ وہ لغو باتیں سنتے ہیں کیونکہ ان کے پیش نظر بلند وبالا امور ہوتے ہیں ، پاکیزہ اور نورانی باتیں۔
واذا سمعوا اللغو اعرضوا عنہ (28: 55) ” انہوں نے جب بیہودہ بات سنی تو کنارہ کش ہوگئے “۔ لیکن وہ اہل لغو پر نہ غصہ ہوتے ہیں ، نہ ان سے الجھتے ہیں کہ زبردستی منع کردیں اور نہ وہ ان کے ساتھ بحث شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ اہل لغو کے ساتھ الجھنا بھی ایک طرح کا لغوا مر ہے۔ وہ بس ان کو چھوڑ کر علیحدہ ہوجاتے ہیں۔
وقالوا لنا ۔۔۔۔۔ سلم علیکم (28: 55) ” اور کہا ہمارے اعمال ہمارے لئے ، اور تمہارے اعمال تم کو سلام ہے “ نہایت ادب سے ، دعائے خیر کے ساتھ ، اس خواہش کے ساتھ کہ وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں۔ لیکن یہ خواہش رکھتے ہوئے بھی یہ ان کے لغو میں شریک نہیں ہوتے۔
لا نبتغی الجھلین (28: 55) ” ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرتے “۔ اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ اپنا قیمتی وقت ان کے ساتھ ضائع کریں۔ نہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لغو میں شریک ہوں اور خاموشی سے سنتے رہیں۔ ایسی رواداری کے بھی قائل نہیں۔ یہ ایک روشن نفس کی تصویر ہے جو نفس مومنہ ہے ، اپنے ایمان پر مطمئن ہے۔ لغو سے بالا و برتر ہے۔ لیکن کشادہ دل اور کشادہ دست ہے ۔ یہ نفس مومنہ ان لوگوں کے لیے رسم و راہ مقرر کرتی ہے جو صحیح راستہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا جاہلوں کے ساتھ جاہلیت میں اشتراک بھی نہیں ۔ ان کے ساتھ مخاصمت بھی نہیں ، ان پر غصہ بھی نہیں ، ان کے ساتھ ترش روئی بھی نہیں بلکہ سنجیدگی ، سربلندی ، کشادہ دلی اور برائی کرنے والے کے ساتھ بھی نیکی اور بھلائی۔
یہ اہل کتاب ، جو ایمان لائے ، ان کے ایمان لانے میں رسول اللہ ﷺ کو کوئی بڑا مجاہدہ کرنا نہیں پڑا۔ آپ نے صرف قرآن کی تلاوت فرمائی ، بس چند سوالات کیے اور ایمان قبول کرلیا جبکہ وہ خود اپنی قوم کے ساتھ آپ رات دن سالوں تک مجاہدہ کرتے رہے۔ پھر اپنے محبوب رشتہ داروں کے ساتھ تو بہت ہی محنت کرتے رہے۔ لیکن ان لوگوں کو ایمان نصیب نہ ہوا ۔ یہ بات حضور ﷺ خود جانتے تھے کہ آپ ﷺ کے اختیار میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ اپنے محبوبوں کو ہدایت دے دیں۔ اللہ تعالیٰ تو صرف ان لوگوں کو ہدایت عطا کرتا ہے جن کے نفس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ مستحق ہیں اور ایمان کے لیے تیار ہیں۔
القصص 28:56
انک لا تھدی ۔۔۔۔۔ وھو اعلم بلمھتدین (56)
صحیحین میں وارد ہے کہ یہ آیت نبی ﷺ کے چچا ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔ یہ نبی ﷺ کے حامی و مددگار تھے اور قریش کے مقابلے میں آپ کے دفاع کے لیے بنیان مرصوص بنے ہوئے تھے۔ یہ آپ ﷺ کے اس قدر حامی تھے کہ ان کی حمایت کی وجہ سے آپ آزادانہ دعوت دے سکتے تھے۔ اس حمایت کی وجہ سے قریش نے ان کو اور پورے بنی ہاشم کا مقاطعہ کیا تھا ، اور ان کو شعب ابو طالب میں محصور کردیا۔ یہ سب کام وہ اپنے بھیجتے کی محبت میں کرتے تھے اور قوی حمیت اور عزت و آبرو کو بچانے کے لیے کرتے تھے جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو نبی ﷺ نے آپ کو دعوت ایمان دی اور عرض کیا کہ آپ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ لیکن اللہ نے ان کے حق میں ایمان نہ لکھا تھا کیونکہ اس کا حقیقی علم اور اصلی سبب اللہ کو معلوم تھا۔
زھری اور سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے تو ابوجہل ابن ہشام ان کے پاس بیٹھا تھا۔ عبد اللہ ابن امیہ بھی تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے چچا ، صرف لا الٰہ اللہ کہہ دیں۔ میں اللہ کے ساتھ اس پر تمہارے لیے جھگڑلوں گا۔ ابوجہل اور عبد اللہ ابن امیہ نے کہا ابو طالب تم عبد المطلب کی ملت کو چھوڑ رہے ہو ، رسول اللہ بار بار ان پر یہ پیش فرماتے تھے اور یہ دونوں بار بار اسے روکتے تھے۔ اور یہی بات دہراتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آخری الفاظ یہ کہے ” عبد المطلب کے دین پر “۔ اور لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کردیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا واللہ (خدا کی قسم) میں تمہارے لیے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک مجھے منع نہ کردیا جائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ما کان للنبی والذین ۔۔۔۔۔۔ اولی قربی اور ابو طالب ہی کے حق میں نازل ہوئی۔
انک لا تھدی ۔۔۔۔۔ من یشاء (28: 56) (صحیحین) مسلم اور ترمذی نے ، ابو حازم اور ابوہریرہ کی روایت نقل کی کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا۔ تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس پہنچے اور کہا ” اے چچا کہہ دو ” لا الٰہ الا اللہ “۔ میں قیامت میں تمہارے حق میں شہادت دوں گا۔ انہوں نے کہا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قریش مجھے طعنہ دیں کہ سکرات الموت کی تکلیف کی وجہ سے اس نے یہ کہہ دیا تو میں ضرور یہ کلمہ پڑھ دیتا ، تیری آنکھوں کی ٹھنڈک کی وجہ سے۔ میں یہ کلمہ صرف تیری آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پڑھتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
انک لا تھدی۔۔۔۔۔۔۔ اعلم بالمھتدین (28: 56) ” تم ہدایت نہیں دے سکتے جسے تم محبوب سمجھو ، یہ اللہ ہے جسے چاہتا ہے ، ہدایت دیتا ہے۔ وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے “۔
اور حضرت ابن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے اور مجاہد ، شعبی اور قتادہ کی بھی یہی رائے ہے کہ یہ ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ اور انہوں نے جو آخری لفظ کہے وہ تھے علی ملۃ عبد المطلب۔
انسان جب اس حدیث پر غور کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کس قدر پختہ اور سیدھا دین ہے۔ ابو طالب رسول اللہ ﷺ کے حقیقی چچا ، آپ ﷺ کے کفیل ، حامی اور آپ ﷺ کا دفاع کرنے والے تھے۔ لیکن اللہ نے انہیں ایمان نصیب نہ کیا۔ باوجود اس کے کہ رسول اللہ کو ان سے بہت زیادہ محبت تھی اور آپ ﷺ حد سے زیادہ خواہش مند تھے کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ابو طالب نے رشتے اور قومی حمیت کو ایمان سے زیادہ اہمیت دی۔ اللہ کو اس بات کا علم تھا اور اللہ کو اس بات کا خوب علم تھا کہ حضور اکرم ﷺ ان سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ شاید وہ ایمان لے آئیں۔ اس لیے اللہ نے ہدایت نہ دینے کا اختیار حضور ﷺ کے اختیارات ہی سے خارج کردیا۔ ہدایت دینا یا نہ دینا صرف اللہ الٰہ العالمین کے اختیار میں ہے اور رسول کی ڈیوٹی صرف تبلیغ تک محدود ہے۔ لہٰذا داعیوں کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ دعوت دیں۔ دعوت کے بعد پھر لوگوں کے دلوں میں تصرف کرنا اللہ کا کام ہے۔ لوگوں کے دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ اللہ لوگوں کو ہدایت دیتا ہے ، یا گمراہ کرتا ہے۔ یہ فیصلے لوگوں کے دلوں کے حالات کے مطابق ہوتے ہیں اور ان کے شخصی استعداد پر ہوتے ہیں اور اس بارے میں علم صرف اللہ کو ہے۔
اب قرآن مجید ان کے اس خدشے پر تبصرہ کرتا ہے جس کا اظہار وہ کرتے رہتے تھے کہ اگر ہم نے حضرت محمد ﷺ کا اتباع کیا تو قبائل عرب پر اہل قریش کو قیادت و سیادت کا جو منصب حاصل ہے ، وہ جاتا رہے گا۔ یہ لوگ خانہ کعبہ کی تعظیم کرتے ہیں۔ خانہ کعبہ کے مجاوروں یعنی اہل قریش کی اطاعت کرتے ہیں ، خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کی تعظیم کرتے ہیں اس لیے یہ قبائل انہیں اچک لیں گے۔ یا جزیرۃ العرب سے باہر کا کوئی دشمن ان پر فتح پالے گا اور یہ قبائل ایسے دشمن کی تایت کریں گے ، چناچہ کہا جاتا ہے کہ خوف و امن کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ فرعون بھی بظاہر بہت بڑی قوت کا حامل تھا۔ ہلاکت کا حقیقی سبب تو دنیا پرستی ، دولت پرستی ، اللہ کی آیات اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب ہے۔ اور ھق سے منہ موڑنا ہے۔ حق کو قبول کرنا ، ہلاکت کا سبب کبھی نہیں ہوا۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ہلاک وہ اقوام ہوا کرتی ہیں جن کے پیش نظر صرف دنیا کے مفادات ہوتے ہیں ، حالانکہ متاع دنیا ایک حقیر چیز ہے ، انسان کا اصل فائدہ آخرت میں ہے اور وہ اللہ کے پاس ہے۔
القصص 28:57
یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔
وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں صرف دنیا کی قوت ہی تھی۔ ذات باری اور اللہ وحدہ کی قوت کو انہوں نے بھلا دیا تھا۔ حالانکہ حقیقی محافظ تو اللہ ہے۔ حقیقی بچانے والا تو وہی ہے۔ اگر وہ اللہ کی حمایت میں آجاتے ہیں تو پوری کائنات کی قوتیں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ اور اگر اللہ ان کو ذلیل و خوار کرنا چاہے تو دنیا کی پوری قوتیں بھی ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتیں۔ ان کا یہ نقطہ نظر اس لیے تھا کہ ایمان ان کے دلوں کی تہہ تک ابھی نہ اترا تھا۔ اگر اترا ہوتا تو حقیقی قوت کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ نہ ہوتا۔ وہ معاملات کا اندازہ یوں نہ کرتے۔ اور ان کو یہ یقین ہوجاتا کہ امن تو اللہ کے جوار رحمت میں ہے اور خوف اور خطرات تو اللہ سے دوری کی راہ میں ہیں اور یہ کہ تحریک اسلامی میں شامل ہونا دراصل قوت اور عزت سے وابستہ ہونا ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا حقیقی سرچشمہ قوت ہونا محض طفل تسلی نہیں ہے ، نہ کوئی وہم ہے۔ بلکہ ایک سائنٹیفک حقیقت ہے ، اس لیے کہ اللہ کا اتباع کرنا دراصل اس کائنات کے قانون قدرت کا اتباع ہے۔ اس طرح انسان اور کائنات کی قوتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ یوں انسان کی پشت پر پوری تکوینی قوتیں جمع ہوجاتی ہیں۔ اس لیے کہ اس کائنات کا خالق اور مدبر بھی اللہ ہے اور اسلامی دین کا بھیجنے والا بھی وہی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ اللہ کی تمام قوتوں کو کام میں لاتا ہے اور اس کائنات کی قوتیں لا محدود ہیں۔ ایسا شخص گویا ایک عظیم سرچشمہ قوت ہے مربوط ہوجاتا اور اس کا وارث بن جاتا ہے۔ اور یہ ہے ایک تاریخی حقیقت اور پوری زندگی کے تجربوں سے ثابت شدہ حقیقت۔
اللہ کی ہدایات ہی زندگی کا صحیح منہاج ہیں۔ ان کے مطابق زندگی گزارنا ہی اس کرہ ارض کی حقیقی زندگی ہے اور جب دنیا میں اسلامی نظام اور اسلامی منہاج حیات رائج اور قائم ہوجاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اخروی فلاح اور دنیا میں شوکت نصیب ہوتی ہے۔ اور اس نظام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دنیا اور آخرت کے درمیان کوئی دوئی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ فلاح اخری تب ہی حاصل ہو سکتی ہے کہ اس دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے یا اسے پس پردہ ڈال دیا جائے۔ اسلامی منہاج حیات میں دنیا آخرت دونوں باہم مربوط اور باندھے ہوئے ہیں۔ اسلام کیا ہے ، دل مومن کی اصلاح ، انسانی سوسائٹی کی اصلاح اور اس کرہ ارض پر اجتماعی نظام کی اصلاح۔ یہی وجہ ہے کہ اس سوچ کے مطابق دنیا آخرت کے جہاں میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔ یہ دنیا آخرت کے لئے مزرعہ ہے ، کھیت ہے۔ اس دنیا میں جنت کی تعمیر ہی دراصل وسیلہ ہے آخرت میں تعمیر جنت کا ، اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنے کا بشرطیکہ یہ کام اسلامی ہدایت اور اسلامی شریعت کے مطابق کیا جائے اور دنیا کی تمام تعمیر میں رضائے الٰہی مطلوب ہو۔
انسانی تاریخ کا تجزیہ شاہد ہے کہ جب بھی کسی جماعت نے اللہ کی ہدایت کا جھنڈا اٹھایا ہے ، اللہ نے اسے قوت ، شوکت اور دنیا کی قیادت دی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ جماعت اپنے آپ کو اس امانت کے اٹھانے کیلئے تیار کرے ، اس کی اہل ہوجائے اور جان لو کہ یہ امانت ، امانت خلافت ارضی ہے۔ یعنی اس دنیا میں تمام قوتوں پر کنڑول اور زندگی کے نشیب و فراز پر کنڑول۔
اکثر لوگ اتباع شریعت اور اللہ کی ہدایت پر چلنے سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے دشمنوں کی عداوت اور ان کی مکاریوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ کے دشمن ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ یہ لوگ اقتصادی تکالیف اور اقتصادی پابندیوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ یہ اسی قسم کے اوہام ہیں جس طرح قریش کو یہ اوہام لاحق تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا
ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ لیکن جب انہوں نے اس ہدایت کو سینے سے لگا لیا تو وہ مشرق و مغرب پر قابض ہوگئے اور یہ قبضہ صرف 25 سال کے عرصے میں مکمل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عذر لنگ کی اسی وقت تردید کردی تھی کہ وہ کون ہے جس نے ان کو مکہ میں امن عطا کیا ہے۔ وہ کون ہے جس نے ان کے لیے مکہ کو بیت الحرام قرار دیا۔ وہ کون ہے جو تمام دنیا کے لوگوں کے دل مکہ کی طرف مائل کرتا ہے اور وہ دنیا کے تمام ثمرات لے کر وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ تمام دنیا سے جمع ہوکر حرم میں آتے ہیں حالانکہ ان کے ملک مختلف ہیں اور ان کی عیدیں مختلف ہیں۔
اولم نمکن لھم ۔۔۔۔۔۔ من لدنا ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پر امن حرم کو ان کیلئے جائے قیام بنایا جس کی طرف ہر قدم کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر “۔ پھر وہ کیوں ڈرتے ہیں کہ لوگ ان کو اچک لیں گے۔ اگر انہوں نے اللہ کی ہدایت کو قبول کرلیا۔ حالانکہ اس حرم کو جائے امن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے اللہ ہی نے تو بنایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ نافرمان ہونے کے باوجود ان لوگوں کو کس نے یہ پرامن ماحول دیا ہے ؟ اور اگر وہ فرمان بردار ہوجائیں تو اللہ ان کے لوگوں کے حوالے کر دے گا کہ ان کی زمین سے وہ ان کو اچک کرلے جائیں۔ یہ کس طرح معقول ہو سکتا ہے ؟
ولکن اکثرھم لا یعلمون (28: 58) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ مانتے نہیں “۔ وہ نہیں جانتے کہ امن کہاں سے ملتا ہے اور خوف کہاں سے ملتا ہے۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ دراصل تمام امو راللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
اگر وہ بدامنی اور خوف سے بچنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ وہ ہلاکت اور بربادی سے دو چار ہوں تو بربادی کے اسباب یہ ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ ان سے بچیں۔
وکم اھلکنا من قریۃ ۔۔۔۔۔۔ الوارثین (28: 58) ” اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو ، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے ، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ انعامات خداوندی پر اترانا ، اور ان کا شکر ادا نہ کرنا دراصل بستیوں کی ہلاکت کا حقیقی سبب رہا ہے۔ اہل قریش کو بھی شکر ادا کریں ورنہ ان کی ہلاکت بھی یقینی ہوگی جیسا کہ ان بستیوں پر اللہ کی ہلاکت آئی جن کے بارے میں خوب جانتے ہیں۔ اور اہل قریش رات دن ان بستیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ برباد پڑی ہیں اور اس بربادی کے بعد کوئی بھی آکر ان میں بسا تک نہیں۔ ان کے کھنڈرات موجود ہیں۔
لم تسکن من بعدھم الا قلیلا (28: 58) ” جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے “۔ یہ بستیاں صاف صاف نظر آتی ہیں اور اپنے باسیوں کی کہانی سنا رہی ہیں۔ اور یہ کہانی سنا رہی ہیں کہ اللہ کے انعامات پر یعنی محض معاشی ترقی پر اترانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ان کے باشندے اس طرح فنا ہوئے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ کوئی ان کا وارث نہ ہوا۔
وکنا نحن الوارثین (28: 58) ” آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ لیکن ان کے اس اترانے اور سرکشی کے باوجود اللہ نے ان کو تب ہلاک کیا جب ان بستیوں کے مرکزی مقامات پر رسول بھیجے ، کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے اور اس سنت کو اللہ نے انسانوں پر مہربانی کرتے ہوئے اپنے اوپر لازم کردیا ہے۔
وما کان ربک ۔۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (59:28) ” اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات نہ سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے “۔ رسولوں کو بستیوں کے مرکزی مقامات میں اس لیے بھیجا گیا کہ یہ مرکزی مقامات مراکز تبلیغ ہوں اور ان سے پیغام الٰہی اطراف واکناف میں نشر ہو ، تاکہ کوئی یہ کہہ نہ سکے ان تک تو پیغام نہیں پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں بھیجا گیا کیونکہ یہ عربوں کا ام القریٰ تھا۔ اور آپ کا فریضہتھا کہ آپ اردگرد کے تمام لوگوں کو ان اقوام کے انجام سے خبردار کریں جن کے پاس رسول آئے اور انہوں نے نہ مانا اور ظلم کیا ۔
وما کنا مھل کی ۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (58:28) ” ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے تھے “۔ وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے حا لان کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ حق ہیں۔
نیز یہ کہ زندگی کا پوراپورا سامان اور دنیا کی پوری دولت اور متاع ، اور وہ تمام خزانے جو زمین کے اندر ودیعت ہیں اور وہ پیداواریں تو انسانوں کو اس کرئہ ارض پر دی گئیں ۔ اور وہ تمام چیزیں جو تمام انسانوں کے لیے اس جہاں میں پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں اللہ کے ہاں جنتوں میں تیار کردہ سازوسامان کے مقابلے میں ایک حقیر چیز ہیں ۔
وما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ افلا تعلمون (60:28) ” تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ، وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے ۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یہ آخری حساب ہے ۔ صرف اس سا زو سامان کا نہیں جس کے فوت ہونے کا انہیں ڈر لاحق تھا۔ یعنی سامان زیست ، امن اور زمین کا۔ یہ حساب صرف اقتدار ، ہر قسم کی پیداواروں اور امن وامان ہی کا نہیں جس کا احسان اللہ نے ان کو جتوایا ، صرف ان بستیوں کا حساب نہیں جنہیں اللہ نے ہلاک کیا ، محض اس لیے کہ وہ اپنی معیشت پر اترا رہی تھیں ، بلکہ یہ حساب ہے اس تمام سامان زندگی کا جس کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ دنیا کا پورا سازو سامان ، مکمل سازوسامان اور دائمہ سازوسامان جس کے بعد کوئی ہلاکت اور بربادی بھی نہ ہو اور اس سے پوری طرح اور مکمل طور پر استفادہ بھی کیا گیا ہو ، یہ سب سازوسامان اللہ کے ہاں پائے جانے والے اور ہمیشہ باقی رہنے والے متاع کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے وہ خیر ہے یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اور باقی رہنے والا ہے یعنی مدت کے اعتبار سے۔
افلا تعقلون (28: 60) ” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یعنی اس دنیا وہ سازوسامان اور اخروی سازوسامان کے درمیان فرق وہی شخص کرسکتا ہے جو دنیا و آخرت کی حقیقت کو سمجھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آخری تعقیب نہایت ہی ایسے الفاظ میں آتی ہے جن میں عقل سے کام نہ لینے پر سرزنش کی گئی ہے کیونکہ عقل سے کام لینا ہر شخص کے اختیار میں ہے۔ آخر میں دنیا اور آخرت دونوں کا تقابل پیش کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ ان میں سے اپنے لیے جسے چاہیں پسند کرلیں۔
افمن وعدنہ وعدا ۔۔۔۔۔۔ من المحضرین (28: 61) ” بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو ، کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو ؟ “۔
ایک طرف وہ شخص ہے جس کے ساتھ اچھا وعدہ ہے اور وہ اسے قیامت کے دن پانے والا ہے اور دوسرا شخص وہ ہے جسے
دنیا کا سازوسامان دیا گیا ہے اور وہ یہ مختصر زندگی میں اس حقیر سامان کو برت لیتا ہے۔ اور پھر اسے قیامت کے دن زبردستی حساب کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کے لیے ” مضرقین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی گرفتار کرکے حاضر کیا جاتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کی وہاں خواہش یہ ہوگی کہ ان کو حساب کے لیے نہ لایا جائے کیونکہ حساب کے بعد تو ان کے لیے عذاب حاضر ہے۔
وہ کہتے تھے کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں تو ہمیں اپنی زمین سے اچک لیاجائے گا اور اب ان کو اس طرح جواب دیا جاتا ہے کہ اگر تمہیں اچک بھی لیا جائے اور تم دنیا کے تمام سازہ سامان سے محروم بھی کردیئے جاؤ تو بھی یہ گھاٹا نہ ہوگا ، کیونکہ یہ محرومیت اس مصیبت سے ہلکی ہے کہ تمہیں گرفتار کرکے لایا جائے لیکن ایسی صورت بھی نہ ہوگی کیونکہ حضور اکرم ؐ کے متبعین تو دنیا بھی امن اور اقتدار اعلیٰ کے مالک رہیں گے اور آخرت میں تو ان کو بہت بڑی عطا اور بڑا امن وامان ہوگا ۔ لہٰذا اللہ کی ہدایت سے منہ وہی لوگ موڑتے ہیں جو بہت ہی غافل اور احمق ہیں ۔ اور وہ عقل کو کام میں لاکر اس کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کی سعی نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ خوف کا سبب کیا ہے اور امن کا سر چشمہ کیا ہے ۔ اور یہی لوگ بڑے خسارے والے ہیں جو اپنی قوت اختیار کو اچھی طرح استعمال نہیں کرتے اور اپنے آپ کو دائمی ہلاکت سے نہیں بچاتے ۔
القصص 28:58
یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔
وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں صرف دنیا کی قوت ہی تھی۔ ذات باری اور اللہ وحدہ کی قوت کو انہوں نے بھلا دیا تھا۔ حالانکہ حقیقی محافظ تو اللہ ہے۔ حقیقی بچانے والا تو وہی ہے۔ اگر وہ اللہ کی حمایت میں آجاتے ہیں تو پوری کائنات کی قوتیں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ اور اگر اللہ ان کو ذلیل و خوار کرنا چاہے تو دنیا کی پوری قوتیں بھی ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتیں۔ ان کا یہ نقطہ نظر اس لیے تھا کہ ایمان ان کے دلوں کی تہہ تک ابھی نہ اترا تھا۔ اگر اترا ہوتا تو حقیقی قوت کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ نہ ہوتا۔ وہ معاملات کا اندازہ یوں نہ کرتے۔ اور ان کو یہ یقین ہوجاتا کہ امن تو اللہ کے جوار رحمت میں ہے اور خوف اور خطرات تو اللہ سے دوری کی راہ میں ہیں اور یہ کہ تحریک اسلامی میں شامل ہونا دراصل قوت اور عزت سے وابستہ ہونا ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا حقیقی سرچشمہ قوت ہونا محض طفل تسلی نہیں ہے ، نہ کوئی وہم ہے۔ بلکہ ایک سائنٹیفک حقیقت ہے ، اس لیے کہ اللہ کا اتباع کرنا دراصل اس کائنات کے قانون قدرت کا اتباع ہے۔ اس طرح انسان اور کائنات کی قوتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ یوں انسان کی پشت پر پوری تکوینی قوتیں جمع ہوجاتی ہیں۔ اس لیے کہ اس کائنات کا خالق اور مدبر بھی اللہ ہے اور اسلامی دین کا بھیجنے والا بھی وہی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ اللہ کی تمام قوتوں کو کام میں لاتا ہے اور اس کائنات کی قوتیں لا محدود ہیں۔ ایسا شخص گویا ایک عظیم سرچشمہ قوت ہے مربوط ہوجاتا اور اس کا وارث بن جاتا ہے۔ اور یہ ہے ایک تاریخی حقیقت اور پوری زندگی کے تجربوں سے ثابت شدہ حقیقت۔
اللہ کی ہدایات ہی زندگی کا صحیح منہاج ہیں۔ ان کے مطابق زندگی گزارنا ہی اس کرہ ارض کی حقیقی زندگی ہے اور جب دنیا میں اسلامی نظام اور اسلامی منہاج حیات رائج اور قائم ہوجاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اخروی فلاح اور دنیا میں شوکت نصیب ہوتی ہے۔ اور اس نظام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دنیا اور آخرت کے درمیان کوئی دوئی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ فلاح اخری تب ہی حاصل ہو سکتی ہے کہ اس دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے یا اسے پس پردہ ڈال دیا جائے۔ اسلامی منہاج حیات میں دنیا آخرت دونوں باہم مربوط اور باندھے ہوئے ہیں۔ اسلام کیا ہے ، دل مومن کی اصلاح ، انسانی سوسائٹی کی اصلاح اور اس کرہ ارض پر اجتماعی نظام کی اصلاح۔ یہی وجہ ہے کہ اس سوچ کے مطابق دنیا آخرت کے جہاں میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔ یہ دنیا آخرت کے لئے مزرعہ ہے ، کھیت ہے۔ اس دنیا میں جنت کی تعمیر ہی دراصل وسیلہ ہے آخرت میں تعمیر جنت کا ، اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنے کا بشرطیکہ یہ کام اسلامی ہدایت اور اسلامی شریعت کے مطابق کیا جائے اور دنیا کی تمام تعمیر میں رضائے الٰہی مطلوب ہو۔
انسانی تاریخ کا تجزیہ شاہد ہے کہ جب بھی کسی جماعت نے اللہ کی ہدایت کا جھنڈا اٹھایا ہے ، اللہ نے اسے قوت ، شوکت اور دنیا کی قیادت دی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ جماعت اپنے آپ کو اس امانت کے اٹھانے کیلئے تیار کرے ، اس کی اہل ہوجائے اور جان لو کہ یہ امانت ، امانت خلافت ارضی ہے۔ یعنی اس دنیا میں تمام قوتوں پر کنڑول اور زندگی کے نشیب و فراز پر کنڑول۔
اکثر لوگ اتباع شریعت اور اللہ کی ہدایت پر چلنے سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے دشمنوں کی عداوت اور ان کی مکاریوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ کے دشمن ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ یہ لوگ اقتصادی تکالیف اور اقتصادی پابندیوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ یہ اسی قسم کے اوہام ہیں جس طرح قریش کو یہ اوہام لاحق تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا
ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ لیکن جب انہوں نے اس ہدایت کو سینے سے لگا لیا تو وہ مشرق و مغرب پر قابض ہوگئے اور یہ قبضہ صرف 25 سال کے عرصے میں مکمل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عذر لنگ کی اسی وقت تردید کردی تھی کہ وہ کون ہے جس نے ان کو مکہ میں امن عطا کیا ہے۔ وہ کون ہے جس نے ان کے لیے مکہ کو بیت الحرام قرار دیا۔ وہ کون ہے جو تمام دنیا کے لوگوں کے دل مکہ کی طرف مائل کرتا ہے اور وہ دنیا کے تمام ثمرات لے کر وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ تمام دنیا سے جمع ہوکر حرم میں آتے ہیں حالانکہ ان کے ملک مختلف ہیں اور ان کی عیدیں مختلف ہیں۔
اولم نمکن لھم ۔۔۔۔۔۔ من لدنا ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پر امن حرم کو ان کیلئے جائے قیام بنایا جس کی طرف ہر قدم کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر “۔ پھر وہ کیوں ڈرتے ہیں کہ لوگ ان کو اچک لیں گے۔ اگر انہوں نے اللہ کی ہدایت کو قبول کرلیا۔ حالانکہ اس حرم کو جائے امن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے اللہ ہی نے تو بنایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ نافرمان ہونے کے باوجود ان لوگوں کو کس نے یہ پرامن ماحول دیا ہے ؟ اور اگر وہ فرمان بردار ہوجائیں تو اللہ ان کے لوگوں کے حوالے کر دے گا کہ ان کی زمین سے وہ ان کو اچک کرلے جائیں۔ یہ کس طرح معقول ہو سکتا ہے ؟
ولکن اکثرھم لا یعلمون (28: 58) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ مانتے نہیں “۔ وہ نہیں جانتے کہ امن کہاں سے ملتا ہے اور خوف کہاں سے ملتا ہے۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ دراصل تمام امو راللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
اگر وہ بدامنی اور خوف سے بچنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ وہ ہلاکت اور بربادی سے دو چار ہوں تو بربادی کے اسباب یہ ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ ان سے بچیں۔
وکم اھلکنا من قریۃ ۔۔۔۔۔۔ الوارثین (28: 58) ” اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو ، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے ، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ انعامات خداوندی پر اترانا ، اور ان کا شکر ادا نہ کرنا دراصل بستیوں کی ہلاکت کا حقیقی سبب رہا ہے۔ اہل قریش کو بھی شکر ادا کریں ورنہ ان کی ہلاکت بھی یقینی ہوگی جیسا کہ ان بستیوں پر اللہ کی ہلاکت آئی جن کے بارے میں خوب جانتے ہیں۔ اور اہل قریش رات دن ان بستیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ برباد پڑی ہیں اور اس بربادی کے بعد کوئی بھی آکر ان میں بسا تک نہیں۔ ان کے کھنڈرات موجود ہیں۔
لم تسکن من بعدھم الا قلیلا (28: 58) ” جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے “۔ یہ بستیاں صاف صاف نظر آتی ہیں اور اپنے باسیوں کی کہانی سنا رہی ہیں۔ اور یہ کہانی سنا رہی ہیں کہ اللہ کے انعامات پر یعنی محض معاشی ترقی پر اترانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ان کے باشندے اس طرح فنا ہوئے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ کوئی ان کا وارث نہ ہوا۔
وکنا نحن الوارثین (28: 58) ” آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ لیکن ان کے اس اترانے اور سرکشی کے باوجود اللہ نے ان کو تب ہلاک کیا جب ان بستیوں کے مرکزی مقامات پر رسول بھیجے ، کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے اور اس سنت کو اللہ نے انسانوں پر مہربانی کرتے ہوئے اپنے اوپر لازم کردیا ہے۔
وما کان ربک ۔۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (59:28) ” اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات نہ سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے “۔ رسولوں کو بستیوں کے مرکزی مقامات میں اس لیے بھیجا گیا کہ یہ مرکزی مقامات مراکز تبلیغ ہوں اور ان سے پیغام الٰہی اطراف واکناف میں نشر ہو ، تاکہ کوئی یہ کہہ نہ سکے ان تک تو پیغام نہیں پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں بھیجا گیا کیونکہ یہ عربوں کا ام القریٰ تھا۔ اور آپ کا فریضہتھا کہ آپ اردگرد کے تمام لوگوں کو ان اقوام کے انجام سے خبردار کریں جن کے پاس رسول آئے اور انہوں نے نہ مانا اور ظلم کیا ۔
وما کنا مھل کی ۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (58:28) ” ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے تھے “۔ وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے حا لان کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ حق ہیں۔
نیز یہ کہ زندگی کا پوراپورا سامان اور دنیا کی پوری دولت اور متاع ، اور وہ تمام خزانے جو زمین کے اندر ودیعت ہیں اور وہ پیداواریں تو انسانوں کو اس کرئہ ارض پر دی گئیں ۔ اور وہ تمام چیزیں جو تمام انسانوں کے لیے اس جہاں میں پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں اللہ کے ہاں جنتوں میں تیار کردہ سازوسامان کے مقابلے میں ایک حقیر چیز ہیں ۔
وما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ افلا تعلمون (60:28) ” تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ، وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے ۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یہ آخری حساب ہے ۔ صرف اس سا زو سامان کا نہیں جس کے فوت ہونے کا انہیں ڈر لاحق تھا۔ یعنی سامان زیست ، امن اور زمین کا۔ یہ حساب صرف اقتدار ، ہر قسم کی پیداواروں اور امن وامان ہی کا نہیں جس کا احسان اللہ نے ان کو جتوایا ، صرف ان بستیوں کا حساب نہیں جنہیں اللہ نے ہلاک کیا ، محض اس لیے کہ وہ اپنی معیشت پر اترا رہی تھیں ، بلکہ یہ حساب ہے اس تمام سامان زندگی کا جس کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ دنیا کا پورا سازو سامان ، مکمل سازوسامان اور دائمہ سازوسامان جس کے بعد کوئی ہلاکت اور بربادی بھی نہ ہو اور اس سے پوری طرح اور مکمل طور پر استفادہ بھی کیا گیا ہو ، یہ سب سازوسامان اللہ کے ہاں پائے جانے والے اور ہمیشہ باقی رہنے والے متاع کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے وہ خیر ہے یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اور باقی رہنے والا ہے یعنی مدت کے اعتبار سے۔
افلا تعقلون (28: 60) ” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یعنی اس دنیا وہ سازوسامان اور اخروی سازوسامان کے درمیان فرق وہی شخص کرسکتا ہے جو دنیا و آخرت کی حقیقت کو سمجھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آخری تعقیب نہایت ہی ایسے الفاظ میں آتی ہے جن میں عقل سے کام نہ لینے پر سرزنش کی گئی ہے کیونکہ عقل سے کام لینا ہر شخص کے اختیار میں ہے۔ آخر میں دنیا اور آخرت دونوں کا تقابل پیش کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ ان میں سے اپنے لیے جسے چاہیں پسند کرلیں۔
افمن وعدنہ وعدا ۔۔۔۔۔۔ من المحضرین (28: 61) ” بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو ، کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو ؟ “۔
ایک طرف وہ شخص ہے جس کے ساتھ اچھا وعدہ ہے اور وہ اسے قیامت کے دن پانے والا ہے اور دوسرا شخص وہ ہے جسے
دنیا کا سازوسامان دیا گیا ہے اور وہ یہ مختصر زندگی میں اس حقیر سامان کو برت لیتا ہے۔ اور پھر اسے قیامت کے دن زبردستی حساب کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کے لیے ” مضرقین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی گرفتار کرکے حاضر کیا جاتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کی وہاں خواہش یہ ہوگی کہ ان کو حساب کے لیے نہ لایا جائے کیونکہ حساب کے بعد تو ان کے لیے عذاب حاضر ہے۔
وہ کہتے تھے کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں تو ہمیں اپنی زمین سے اچک لیاجائے گا اور اب ان کو اس طرح جواب دیا جاتا ہے کہ اگر تمہیں اچک بھی لیا جائے اور تم دنیا کے تمام سازہ سامان سے محروم بھی کردیئے جاؤ تو بھی یہ گھاٹا نہ ہوگا ، کیونکہ یہ محرومیت اس مصیبت سے ہلکی ہے کہ تمہیں گرفتار کرکے لایا جائے لیکن ایسی صورت بھی نہ ہوگی کیونکہ حضور اکرم ؐ کے متبعین تو دنیا بھی امن اور اقتدار اعلیٰ کے مالک رہیں گے اور آخرت میں تو ان کو بہت بڑی عطا اور بڑا امن وامان ہوگا ۔ لہٰذا اللہ کی ہدایت سے منہ وہی لوگ موڑتے ہیں جو بہت ہی غافل اور احمق ہیں ۔ اور وہ عقل کو کام میں لاکر اس کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کی سعی نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ خوف کا سبب کیا ہے اور امن کا سر چشمہ کیا ہے ۔ اور یہی لوگ بڑے خسارے والے ہیں جو اپنی قوت اختیار کو اچھی طرح استعمال نہیں کرتے اور اپنے آپ کو دائمی ہلاکت سے نہیں بچاتے ۔
القصص 28:59
یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔
وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں صرف دنیا کی قوت ہی تھی۔ ذات باری اور اللہ وحدہ کی قوت کو انہوں نے بھلا دیا تھا۔ حالانکہ حقیقی محافظ تو اللہ ہے۔ حقیقی بچانے والا تو وہی ہے۔ اگر وہ اللہ کی حمایت میں آجاتے ہیں تو پوری کائنات کی قوتیں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ اور اگر اللہ ان کو ذلیل و خوار کرنا چاہے تو دنیا کی پوری قوتیں بھی ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتیں۔ ان کا یہ نقطہ نظر اس لیے تھا کہ ایمان ان کے دلوں کی تہہ تک ابھی نہ اترا تھا۔ اگر اترا ہوتا تو حقیقی قوت کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ نہ ہوتا۔ وہ معاملات کا اندازہ یوں نہ کرتے۔ اور ان کو یہ یقین ہوجاتا کہ امن تو اللہ کے جوار رحمت میں ہے اور خوف اور خطرات تو اللہ سے دوری کی راہ میں ہیں اور یہ کہ تحریک اسلامی میں شامل ہونا دراصل قوت اور عزت سے وابستہ ہونا ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا حقیقی سرچشمہ قوت ہونا محض طفل تسلی نہیں ہے ، نہ کوئی وہم ہے۔ بلکہ ایک سائنٹیفک حقیقت ہے ، اس لیے کہ اللہ کا اتباع کرنا دراصل اس کائنات کے قانون قدرت کا اتباع ہے۔ اس طرح انسان اور کائنات کی قوتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ یوں انسان کی پشت پر پوری تکوینی قوتیں جمع ہوجاتی ہیں۔ اس لیے کہ اس کائنات کا خالق اور مدبر بھی اللہ ہے اور اسلامی دین کا بھیجنے والا بھی وہی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ اللہ کی تمام قوتوں کو کام میں لاتا ہے اور اس کائنات کی قوتیں لا محدود ہیں۔ ایسا شخص گویا ایک عظیم سرچشمہ قوت ہے مربوط ہوجاتا اور اس کا وارث بن جاتا ہے۔ اور یہ ہے ایک تاریخی حقیقت اور پوری زندگی کے تجربوں سے ثابت شدہ حقیقت۔
اللہ کی ہدایات ہی زندگی کا صحیح منہاج ہیں۔ ان کے مطابق زندگی گزارنا ہی اس کرہ ارض کی حقیقی زندگی ہے اور جب دنیا میں اسلامی نظام اور اسلامی منہاج حیات رائج اور قائم ہوجاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اخروی فلاح اور دنیا میں شوکت نصیب ہوتی ہے۔ اور اس نظام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دنیا اور آخرت کے درمیان کوئی دوئی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ فلاح اخری تب ہی حاصل ہو سکتی ہے کہ اس دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے یا اسے پس پردہ ڈال دیا جائے۔ اسلامی منہاج حیات میں دنیا آخرت دونوں باہم مربوط اور باندھے ہوئے ہیں۔ اسلام کیا ہے ، دل مومن کی اصلاح ، انسانی سوسائٹی کی اصلاح اور اس کرہ ارض پر اجتماعی نظام کی اصلاح۔ یہی وجہ ہے کہ اس سوچ کے مطابق دنیا آخرت کے جہاں میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔ یہ دنیا آخرت کے لئے مزرعہ ہے ، کھیت ہے۔ اس دنیا میں جنت کی تعمیر ہی دراصل وسیلہ ہے آخرت میں تعمیر جنت کا ، اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنے کا بشرطیکہ یہ کام اسلامی ہدایت اور اسلامی شریعت کے مطابق کیا جائے اور دنیا کی تمام تعمیر میں رضائے الٰہی مطلوب ہو۔
انسانی تاریخ کا تجزیہ شاہد ہے کہ جب بھی کسی جماعت نے اللہ کی ہدایت کا جھنڈا اٹھایا ہے ، اللہ نے اسے قوت ، شوکت اور دنیا کی قیادت دی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ جماعت اپنے آپ کو اس امانت کے اٹھانے کیلئے تیار کرے ، اس کی اہل ہوجائے اور جان لو کہ یہ امانت ، امانت خلافت ارضی ہے۔ یعنی اس دنیا میں تمام قوتوں پر کنڑول اور زندگی کے نشیب و فراز پر کنڑول۔
اکثر لوگ اتباع شریعت اور اللہ کی ہدایت پر چلنے سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے دشمنوں کی عداوت اور ان کی مکاریوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ کے دشمن ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ یہ لوگ اقتصادی تکالیف اور اقتصادی پابندیوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ یہ اسی قسم کے اوہام ہیں جس طرح قریش کو یہ اوہام لاحق تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا
ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ لیکن جب انہوں نے اس ہدایت کو سینے سے لگا لیا تو وہ مشرق و مغرب پر قابض ہوگئے اور یہ قبضہ صرف 25 سال کے عرصے میں مکمل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عذر لنگ کی اسی وقت تردید کردی تھی کہ وہ کون ہے جس نے ان کو مکہ میں امن عطا کیا ہے۔ وہ کون ہے جس نے ان کے لیے مکہ کو بیت الحرام قرار دیا۔ وہ کون ہے جو تمام دنیا کے لوگوں کے دل مکہ کی طرف مائل کرتا ہے اور وہ دنیا کے تمام ثمرات لے کر وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ تمام دنیا سے جمع ہوکر حرم میں آتے ہیں حالانکہ ان کے ملک مختلف ہیں اور ان کی عیدیں مختلف ہیں۔
اولم نمکن لھم ۔۔۔۔۔۔ من لدنا ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پر امن حرم کو ان کیلئے جائے قیام بنایا جس کی طرف ہر قدم کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر “۔ پھر وہ کیوں ڈرتے ہیں کہ لوگ ان کو اچک لیں گے۔ اگر انہوں نے اللہ کی ہدایت کو قبول کرلیا۔ حالانکہ اس حرم کو جائے امن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے اللہ ہی نے تو بنایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ نافرمان ہونے کے باوجود ان لوگوں کو کس نے یہ پرامن ماحول دیا ہے ؟ اور اگر وہ فرمان بردار ہوجائیں تو اللہ ان کے لوگوں کے حوالے کر دے گا کہ ان کی زمین سے وہ ان کو اچک کرلے جائیں۔ یہ کس طرح معقول ہو سکتا ہے ؟
ولکن اکثرھم لا یعلمون (28: 58) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ مانتے نہیں “۔ وہ نہیں جانتے کہ امن کہاں سے ملتا ہے اور خوف کہاں سے ملتا ہے۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ دراصل تمام امو راللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
اگر وہ بدامنی اور خوف سے بچنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ وہ ہلاکت اور بربادی سے دو چار ہوں تو بربادی کے اسباب یہ ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ ان سے بچیں۔
وکم اھلکنا من قریۃ ۔۔۔۔۔۔ الوارثین (28: 58) ” اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو ، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے ، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ انعامات خداوندی پر اترانا ، اور ان کا شکر ادا نہ کرنا دراصل بستیوں کی ہلاکت کا حقیقی سبب رہا ہے۔ اہل قریش کو بھی شکر ادا کریں ورنہ ان کی ہلاکت بھی یقینی ہوگی جیسا کہ ان بستیوں پر اللہ کی ہلاکت آئی جن کے بارے میں خوب جانتے ہیں۔ اور اہل قریش رات دن ان بستیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ برباد پڑی ہیں اور اس بربادی کے بعد کوئی بھی آکر ان میں بسا تک نہیں۔ ان کے کھنڈرات موجود ہیں۔
لم تسکن من بعدھم الا قلیلا (28: 58) ” جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے “۔ یہ بستیاں صاف صاف نظر آتی ہیں اور اپنے باسیوں کی کہانی سنا رہی ہیں۔ اور یہ کہانی سنا رہی ہیں کہ اللہ کے انعامات پر یعنی محض معاشی ترقی پر اترانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ان کے باشندے اس طرح فنا ہوئے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ کوئی ان کا وارث نہ ہوا۔
وکنا نحن الوارثین (28: 58) ” آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ لیکن ان کے اس اترانے اور سرکشی کے باوجود اللہ نے ان کو تب ہلاک کیا جب ان بستیوں کے مرکزی مقامات پر رسول بھیجے ، کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے اور اس سنت کو اللہ نے انسانوں پر مہربانی کرتے ہوئے اپنے اوپر لازم کردیا ہے۔
وما کان ربک ۔۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (59:28) ” اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات نہ سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے “۔ رسولوں کو بستیوں کے مرکزی مقامات میں اس لیے بھیجا گیا کہ یہ مرکزی مقامات مراکز تبلیغ ہوں اور ان سے پیغام الٰہی اطراف واکناف میں نشر ہو ، تاکہ کوئی یہ کہہ نہ سکے ان تک تو پیغام نہیں پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں بھیجا گیا کیونکہ یہ عربوں کا ام القریٰ تھا۔ اور آپ کا فریضہتھا کہ آپ اردگرد کے تمام لوگوں کو ان اقوام کے انجام سے خبردار کریں جن کے پاس رسول آئے اور انہوں نے نہ مانا اور ظلم کیا ۔
وما کنا مھل کی ۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (58:28) ” ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے تھے “۔ وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے حا لان کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ حق ہیں۔
نیز یہ کہ زندگی کا پوراپورا سامان اور دنیا کی پوری دولت اور متاع ، اور وہ تمام خزانے جو زمین کے اندر ودیعت ہیں اور وہ پیداواریں تو انسانوں کو اس کرئہ ارض پر دی گئیں ۔ اور وہ تمام چیزیں جو تمام انسانوں کے لیے اس جہاں میں پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں اللہ کے ہاں جنتوں میں تیار کردہ سازوسامان کے مقابلے میں ایک حقیر چیز ہیں ۔
وما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ افلا تعلمون (60:28) ” تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ، وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے ۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یہ آخری حساب ہے ۔ صرف اس سا زو سامان کا نہیں جس کے فوت ہونے کا انہیں ڈر لاحق تھا۔ یعنی سامان زیست ، امن اور زمین کا۔ یہ حساب صرف اقتدار ، ہر قسم کی پیداواروں اور امن وامان ہی کا نہیں جس کا احسان اللہ نے ان کو جتوایا ، صرف ان بستیوں کا حساب نہیں جنہیں اللہ نے ہلاک کیا ، محض اس لیے کہ وہ اپنی معیشت پر اترا رہی تھیں ، بلکہ یہ حساب ہے اس تمام سامان زندگی کا جس کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ دنیا کا پورا سازو سامان ، مکمل سازوسامان اور دائمہ سازوسامان جس کے بعد کوئی ہلاکت اور بربادی بھی نہ ہو اور اس سے پوری طرح اور مکمل طور پر استفادہ بھی کیا گیا ہو ، یہ سب سازوسامان اللہ کے ہاں پائے جانے والے اور ہمیشہ باقی رہنے والے متاع کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے وہ خیر ہے یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اور باقی رہنے والا ہے یعنی مدت کے اعتبار سے۔
افلا تعقلون (28: 60) ” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یعنی اس دنیا وہ سازوسامان اور اخروی سازوسامان کے درمیان فرق وہی شخص کرسکتا ہے جو دنیا و آخرت کی حقیقت کو سمجھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آخری تعقیب نہایت ہی ایسے الفاظ میں آتی ہے جن میں عقل سے کام نہ لینے پر سرزنش کی گئی ہے کیونکہ عقل سے کام لینا ہر شخص کے اختیار میں ہے۔ آخر میں دنیا اور آخرت دونوں کا تقابل پیش کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ ان میں سے اپنے لیے جسے چاہیں پسند کرلیں۔
افمن وعدنہ وعدا ۔۔۔۔۔۔ من المحضرین (28: 61) ” بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو ، کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو ؟ “۔
ایک طرف وہ شخص ہے جس کے ساتھ اچھا وعدہ ہے اور وہ اسے قیامت کے دن پانے والا ہے اور دوسرا شخص وہ ہے جسے
دنیا کا سازوسامان دیا گیا ہے اور وہ یہ مختصر زندگی میں اس حقیر سامان کو برت لیتا ہے۔ اور پھر اسے قیامت کے دن زبردستی حساب کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کے لیے ” مضرقین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی گرفتار کرکے حاضر کیا جاتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کی وہاں خواہش یہ ہوگی کہ ان کو حساب کے لیے نہ لایا جائے کیونکہ حساب کے بعد تو ان کے لیے عذاب حاضر ہے۔
وہ کہتے تھے کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں تو ہمیں اپنی زمین سے اچک لیاجائے گا اور اب ان کو اس طرح جواب دیا جاتا ہے کہ اگر تمہیں اچک بھی لیا جائے اور تم دنیا کے تمام سازہ سامان سے محروم بھی کردیئے جاؤ تو بھی یہ گھاٹا نہ ہوگا ، کیونکہ یہ محرومیت اس مصیبت سے ہلکی ہے کہ تمہیں گرفتار کرکے لایا جائے لیکن ایسی صورت بھی نہ ہوگی کیونکہ حضور اکرم ؐ کے متبعین تو دنیا بھی امن اور اقتدار اعلیٰ کے مالک رہیں گے اور آخرت میں تو ان کو بہت بڑی عطا اور بڑا امن وامان ہوگا ۔ لہٰذا اللہ کی ہدایت سے منہ وہی لوگ موڑتے ہیں جو بہت ہی غافل اور احمق ہیں ۔ اور وہ عقل کو کام میں لاکر اس کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کی سعی نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ خوف کا سبب کیا ہے اور امن کا سر چشمہ کیا ہے ۔ اور یہی لوگ بڑے خسارے والے ہیں جو اپنی قوت اختیار کو اچھی طرح استعمال نہیں کرتے اور اپنے آپ کو دائمی ہلاکت سے نہیں بچاتے ۔
القصص 28:60
یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔
وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں صرف دنیا کی قوت ہی تھی۔ ذات باری اور اللہ وحدہ کی قوت کو انہوں نے بھلا دیا تھا۔ حالانکہ حقیقی محافظ تو اللہ ہے۔ حقیقی بچانے والا تو وہی ہے۔ اگر وہ اللہ کی حمایت میں آجاتے ہیں تو پوری کائنات کی قوتیں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ اور اگر اللہ ان کو ذلیل و خوار کرنا چاہے تو دنیا کی پوری قوتیں بھی ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتیں۔ ان کا یہ نقطہ نظر اس لیے تھا کہ ایمان ان کے دلوں کی تہہ تک ابھی نہ اترا تھا۔ اگر اترا ہوتا تو حقیقی قوت کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ نہ ہوتا۔ وہ معاملات کا اندازہ یوں نہ کرتے۔ اور ان کو یہ یقین ہوجاتا کہ امن تو اللہ کے جوار رحمت میں ہے اور خوف اور خطرات تو اللہ سے دوری کی راہ میں ہیں اور یہ کہ تحریک اسلامی میں شامل ہونا دراصل قوت اور عزت سے وابستہ ہونا ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا حقیقی سرچشمہ قوت ہونا محض طفل تسلی نہیں ہے ، نہ کوئی وہم ہے۔ بلکہ ایک سائنٹیفک حقیقت ہے ، اس لیے کہ اللہ کا اتباع کرنا دراصل اس کائنات کے قانون قدرت کا اتباع ہے۔ اس طرح انسان اور کائنات کی قوتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ یوں انسان کی پشت پر پوری تکوینی قوتیں جمع ہوجاتی ہیں۔ اس لیے کہ اس کائنات کا خالق اور مدبر بھی اللہ ہے اور اسلامی دین کا بھیجنے والا بھی وہی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ اللہ کی تمام قوتوں کو کام میں لاتا ہے اور اس کائنات کی قوتیں لا محدود ہیں۔ ایسا شخص گویا ایک عظیم سرچشمہ قوت ہے مربوط ہوجاتا اور اس کا وارث بن جاتا ہے۔ اور یہ ہے ایک تاریخی حقیقت اور پوری زندگی کے تجربوں سے ثابت شدہ حقیقت۔
اللہ کی ہدایات ہی زندگی کا صحیح منہاج ہیں۔ ان کے مطابق زندگی گزارنا ہی اس کرہ ارض کی حقیقی زندگی ہے اور جب دنیا میں اسلامی نظام اور اسلامی منہاج حیات رائج اور قائم ہوجاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اخروی فلاح اور دنیا میں شوکت نصیب ہوتی ہے۔ اور اس نظام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دنیا اور آخرت کے درمیان کوئی دوئی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ فلاح اخری تب ہی حاصل ہو سکتی ہے کہ اس دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے یا اسے پس پردہ ڈال دیا جائے۔ اسلامی منہاج حیات میں دنیا آخرت دونوں باہم مربوط اور باندھے ہوئے ہیں۔ اسلام کیا ہے ، دل مومن کی اصلاح ، انسانی سوسائٹی کی اصلاح اور اس کرہ ارض پر اجتماعی نظام کی اصلاح۔ یہی وجہ ہے کہ اس سوچ کے مطابق دنیا آخرت کے جہاں میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔ یہ دنیا آخرت کے لئے مزرعہ ہے ، کھیت ہے۔ اس دنیا میں جنت کی تعمیر ہی دراصل وسیلہ ہے آخرت میں تعمیر جنت کا ، اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنے کا بشرطیکہ یہ کام اسلامی ہدایت اور اسلامی شریعت کے مطابق کیا جائے اور دنیا کی تمام تعمیر میں رضائے الٰہی مطلوب ہو۔
انسانی تاریخ کا تجزیہ شاہد ہے کہ جب بھی کسی جماعت نے اللہ کی ہدایت کا جھنڈا اٹھایا ہے ، اللہ نے اسے قوت ، شوکت اور دنیا کی قیادت دی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ جماعت اپنے آپ کو اس امانت کے اٹھانے کیلئے تیار کرے ، اس کی اہل ہوجائے اور جان لو کہ یہ امانت ، امانت خلافت ارضی ہے۔ یعنی اس دنیا میں تمام قوتوں پر کنڑول اور زندگی کے نشیب و فراز پر کنڑول۔
اکثر لوگ اتباع شریعت اور اللہ کی ہدایت پر چلنے سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے دشمنوں کی عداوت اور ان کی مکاریوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ کے دشمن ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ یہ لوگ اقتصادی تکالیف اور اقتصادی پابندیوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ یہ اسی قسم کے اوہام ہیں جس طرح قریش کو یہ اوہام لاحق تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا
ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ لیکن جب انہوں نے اس ہدایت کو سینے سے لگا لیا تو وہ مشرق و مغرب پر قابض ہوگئے اور یہ قبضہ صرف 25 سال کے عرصے میں مکمل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عذر لنگ کی اسی وقت تردید کردی تھی کہ وہ کون ہے جس نے ان کو مکہ میں امن عطا کیا ہے۔ وہ کون ہے جس نے ان کے لیے مکہ کو بیت الحرام قرار دیا۔ وہ کون ہے جو تمام دنیا کے لوگوں کے دل مکہ کی طرف مائل کرتا ہے اور وہ دنیا کے تمام ثمرات لے کر وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ تمام دنیا سے جمع ہوکر حرم میں آتے ہیں حالانکہ ان کے ملک مختلف ہیں اور ان کی عیدیں مختلف ہیں۔
اولم نمکن لھم ۔۔۔۔۔۔ من لدنا ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پر امن حرم کو ان کیلئے جائے قیام بنایا جس کی طرف ہر قدم کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر “۔ پھر وہ کیوں ڈرتے ہیں کہ لوگ ان کو اچک لیں گے۔ اگر انہوں نے اللہ کی ہدایت کو قبول کرلیا۔ حالانکہ اس حرم کو جائے امن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے اللہ ہی نے تو بنایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ نافرمان ہونے کے باوجود ان لوگوں کو کس نے یہ پرامن ماحول دیا ہے ؟ اور اگر وہ فرمان بردار ہوجائیں تو اللہ ان کے لوگوں کے حوالے کر دے گا کہ ان کی زمین سے وہ ان کو اچک کرلے جائیں۔ یہ کس طرح معقول ہو سکتا ہے ؟
ولکن اکثرھم لا یعلمون (28: 58) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ مانتے نہیں “۔ وہ نہیں جانتے کہ امن کہاں سے ملتا ہے اور خوف کہاں سے ملتا ہے۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ دراصل تمام امو راللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
اگر وہ بدامنی اور خوف سے بچنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ وہ ہلاکت اور بربادی سے دو چار ہوں تو بربادی کے اسباب یہ ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ ان سے بچیں۔
وکم اھلکنا من قریۃ ۔۔۔۔۔۔ الوارثین (28: 58) ” اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو ، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے ، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ انعامات خداوندی پر اترانا ، اور ان کا شکر ادا نہ کرنا دراصل بستیوں کی ہلاکت کا حقیقی سبب رہا ہے۔ اہل قریش کو بھی شکر ادا کریں ورنہ ان کی ہلاکت بھی یقینی ہوگی جیسا کہ ان بستیوں پر اللہ کی ہلاکت آئی جن کے بارے میں خوب جانتے ہیں۔ اور اہل قریش رات دن ان بستیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ برباد پڑی ہیں اور اس بربادی کے بعد کوئی بھی آکر ان میں بسا تک نہیں۔ ان کے کھنڈرات موجود ہیں۔
لم تسکن من بعدھم الا قلیلا (28: 58) ” جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے “۔ یہ بستیاں صاف صاف نظر آتی ہیں اور اپنے باسیوں کی کہانی سنا رہی ہیں۔ اور یہ کہانی سنا رہی ہیں کہ اللہ کے انعامات پر یعنی محض معاشی ترقی پر اترانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ان کے باشندے اس طرح فنا ہوئے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ کوئی ان کا وارث نہ ہوا۔
وکنا نحن الوارثین (28: 58) ” آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ لیکن ان کے اس اترانے اور سرکشی کے باوجود اللہ نے ان کو تب ہلاک کیا جب ان بستیوں کے مرکزی مقامات پر رسول بھیجے ، کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے اور اس سنت کو اللہ نے انسانوں پر مہربانی کرتے ہوئے اپنے اوپر لازم کردیا ہے۔
وما کان ربک ۔۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (59:28) ” اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات نہ سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے “۔ رسولوں کو بستیوں کے مرکزی مقامات میں اس لیے بھیجا گیا کہ یہ مرکزی مقامات مراکز تبلیغ ہوں اور ان سے پیغام الٰہی اطراف واکناف میں نشر ہو ، تاکہ کوئی یہ کہہ نہ سکے ان تک تو پیغام نہیں پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں بھیجا گیا کیونکہ یہ عربوں کا ام القریٰ تھا۔ اور آپ کا فریضہتھا کہ آپ اردگرد کے تمام لوگوں کو ان اقوام کے انجام سے خبردار کریں جن کے پاس رسول آئے اور انہوں نے نہ مانا اور ظلم کیا ۔
وما کنا مھل کی ۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (58:28) ” ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے تھے “۔ وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے حا لان کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ حق ہیں۔
نیز یہ کہ زندگی کا پوراپورا سامان اور دنیا کی پوری دولت اور متاع ، اور وہ تمام خزانے جو زمین کے اندر ودیعت ہیں اور وہ پیداواریں تو انسانوں کو اس کرئہ ارض پر دی گئیں ۔ اور وہ تمام چیزیں جو تمام انسانوں کے لیے اس جہاں میں پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں اللہ کے ہاں جنتوں میں تیار کردہ سازوسامان کے مقابلے میں ایک حقیر چیز ہیں ۔
وما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ افلا تعلمون (60:28) ” تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ، وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے ۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یہ آخری حساب ہے ۔ صرف اس سا زو سامان کا نہیں جس کے فوت ہونے کا انہیں ڈر لاحق تھا۔ یعنی سامان زیست ، امن اور زمین کا۔ یہ حساب صرف اقتدار ، ہر قسم کی پیداواروں اور امن وامان ہی کا نہیں جس کا احسان اللہ نے ان کو جتوایا ، صرف ان بستیوں کا حساب نہیں جنہیں اللہ نے ہلاک کیا ، محض اس لیے کہ وہ اپنی معیشت پر اترا رہی تھیں ، بلکہ یہ حساب ہے اس تمام سامان زندگی کا جس کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ دنیا کا پورا سازو سامان ، مکمل سازوسامان اور دائمہ سازوسامان جس کے بعد کوئی ہلاکت اور بربادی بھی نہ ہو اور اس سے پوری طرح اور مکمل طور پر استفادہ بھی کیا گیا ہو ، یہ سب سازوسامان اللہ کے ہاں پائے جانے والے اور ہمیشہ باقی رہنے والے متاع کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے وہ خیر ہے یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اور باقی رہنے والا ہے یعنی مدت کے اعتبار سے۔
افلا تعقلون (28: 60) ” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یعنی اس دنیا وہ سازوسامان اور اخروی سازوسامان کے درمیان فرق وہی شخص کرسکتا ہے جو دنیا و آخرت کی حقیقت کو سمجھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آخری تعقیب نہایت ہی ایسے الفاظ میں آتی ہے جن میں عقل سے کام نہ لینے پر سرزنش کی گئی ہے کیونکہ عقل سے کام لینا ہر شخص کے اختیار میں ہے۔ آخر میں دنیا اور آخرت دونوں کا تقابل پیش کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ ان میں سے اپنے لیے جسے چاہیں پسند کرلیں۔
افمن وعدنہ وعدا ۔۔۔۔۔۔ من المحضرین (28: 61) ” بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو ، کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو ؟ “۔
ایک طرف وہ شخص ہے جس کے ساتھ اچھا وعدہ ہے اور وہ اسے قیامت کے دن پانے والا ہے اور دوسرا شخص وہ ہے جسے
دنیا کا سازوسامان دیا گیا ہے اور وہ یہ مختصر زندگی میں اس حقیر سامان کو برت لیتا ہے۔ اور پھر اسے قیامت کے دن زبردستی حساب کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کے لیے ” مضرقین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی گرفتار کرکے حاضر کیا جاتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کی وہاں خواہش یہ ہوگی کہ ان کو حساب کے لیے نہ لایا جائے کیونکہ حساب کے بعد تو ان کے لیے عذاب حاضر ہے۔
وہ کہتے تھے کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں تو ہمیں اپنی زمین سے اچک لیاجائے گا اور اب ان کو اس طرح جواب دیا جاتا ہے کہ اگر تمہیں اچک بھی لیا جائے اور تم دنیا کے تمام سازہ سامان سے محروم بھی کردیئے جاؤ تو بھی یہ گھاٹا نہ ہوگا ، کیونکہ یہ محرومیت اس مصیبت سے ہلکی ہے کہ تمہیں گرفتار کرکے لایا جائے لیکن ایسی صورت بھی نہ ہوگی کیونکہ حضور اکرم ؐ کے متبعین تو دنیا بھی امن اور اقتدار اعلیٰ کے مالک رہیں گے اور آخرت میں تو ان کو بہت بڑی عطا اور بڑا امن وامان ہوگا ۔ لہٰذا اللہ کی ہدایت سے منہ وہی لوگ موڑتے ہیں جو بہت ہی غافل اور احمق ہیں ۔ اور وہ عقل کو کام میں لاکر اس کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کی سعی نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ خوف کا سبب کیا ہے اور امن کا سر چشمہ کیا ہے ۔ اور یہی لوگ بڑے خسارے والے ہیں جو اپنی قوت اختیار کو اچھی طرح استعمال نہیں کرتے اور اپنے آپ کو دائمی ہلاکت سے نہیں بچاتے ۔
القصص 28:61
یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔
وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں صرف دنیا کی قوت ہی تھی۔ ذات باری اور اللہ وحدہ کی قوت کو انہوں نے بھلا دیا تھا۔ حالانکہ حقیقی محافظ تو اللہ ہے۔ حقیقی بچانے والا تو وہی ہے۔ اگر وہ اللہ کی حمایت میں آجاتے ہیں تو پوری کائنات کی قوتیں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ اور اگر اللہ ان کو ذلیل و خوار کرنا چاہے تو دنیا کی پوری قوتیں بھی ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتیں۔ ان کا یہ نقطہ نظر اس لیے تھا کہ ایمان ان کے دلوں کی تہہ تک ابھی نہ اترا تھا۔ اگر اترا ہوتا تو حقیقی قوت کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ نہ ہوتا۔ وہ معاملات کا اندازہ یوں نہ کرتے۔ اور ان کو یہ یقین ہوجاتا کہ امن تو اللہ کے جوار رحمت میں ہے اور خوف اور خطرات تو اللہ سے دوری کی راہ میں ہیں اور یہ کہ تحریک اسلامی میں شامل ہونا دراصل قوت اور عزت سے وابستہ ہونا ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا حقیقی سرچشمہ قوت ہونا محض طفل تسلی نہیں ہے ، نہ کوئی وہم ہے۔ بلکہ ایک سائنٹیفک حقیقت ہے ، اس لیے کہ اللہ کا اتباع کرنا دراصل اس کائنات کے قانون قدرت کا اتباع ہے۔ اس طرح انسان اور کائنات کی قوتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ یوں انسان کی پشت پر پوری تکوینی قوتیں جمع ہوجاتی ہیں۔ اس لیے کہ اس کائنات کا خالق اور مدبر بھی اللہ ہے اور اسلامی دین کا بھیجنے والا بھی وہی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ اللہ کی تمام قوتوں کو کام میں لاتا ہے اور اس کائنات کی قوتیں لا محدود ہیں۔ ایسا شخص گویا ایک عظیم سرچشمہ قوت ہے مربوط ہوجاتا اور اس کا وارث بن جاتا ہے۔ اور یہ ہے ایک تاریخی حقیقت اور پوری زندگی کے تجربوں سے ثابت شدہ حقیقت۔
اللہ کی ہدایات ہی زندگی کا صحیح منہاج ہیں۔ ان کے مطابق زندگی گزارنا ہی اس کرہ ارض کی حقیقی زندگی ہے اور جب دنیا میں اسلامی نظام اور اسلامی منہاج حیات رائج اور قائم ہوجاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اخروی فلاح اور دنیا میں شوکت نصیب ہوتی ہے۔ اور اس نظام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دنیا اور آخرت کے درمیان کوئی دوئی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ فلاح اخری تب ہی حاصل ہو سکتی ہے کہ اس دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے یا اسے پس پردہ ڈال دیا جائے۔ اسلامی منہاج حیات میں دنیا آخرت دونوں باہم مربوط اور باندھے ہوئے ہیں۔ اسلام کیا ہے ، دل مومن کی اصلاح ، انسانی سوسائٹی کی اصلاح اور اس کرہ ارض پر اجتماعی نظام کی اصلاح۔ یہی وجہ ہے کہ اس سوچ کے مطابق دنیا آخرت کے جہاں میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔ یہ دنیا آخرت کے لئے مزرعہ ہے ، کھیت ہے۔ اس دنیا میں جنت کی تعمیر ہی دراصل وسیلہ ہے آخرت میں تعمیر جنت کا ، اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنے کا بشرطیکہ یہ کام اسلامی ہدایت اور اسلامی شریعت کے مطابق کیا جائے اور دنیا کی تمام تعمیر میں رضائے الٰہی مطلوب ہو۔
انسانی تاریخ کا تجزیہ شاہد ہے کہ جب بھی کسی جماعت نے اللہ کی ہدایت کا جھنڈا اٹھایا ہے ، اللہ نے اسے قوت ، شوکت اور دنیا کی قیادت دی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ جماعت اپنے آپ کو اس امانت کے اٹھانے کیلئے تیار کرے ، اس کی اہل ہوجائے اور جان لو کہ یہ امانت ، امانت خلافت ارضی ہے۔ یعنی اس دنیا میں تمام قوتوں پر کنڑول اور زندگی کے نشیب و فراز پر کنڑول۔
اکثر لوگ اتباع شریعت اور اللہ کی ہدایت پر چلنے سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے دشمنوں کی عداوت اور ان کی مکاریوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ کے دشمن ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ یہ لوگ اقتصادی تکالیف اور اقتصادی پابندیوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ یہ اسی قسم کے اوہام ہیں جس طرح قریش کو یہ اوہام لاحق تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا
ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ لیکن جب انہوں نے اس ہدایت کو سینے سے لگا لیا تو وہ مشرق و مغرب پر قابض ہوگئے اور یہ قبضہ صرف 25 سال کے عرصے میں مکمل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عذر لنگ کی اسی وقت تردید کردی تھی کہ وہ کون ہے جس نے ان کو مکہ میں امن عطا کیا ہے۔ وہ کون ہے جس نے ان کے لیے مکہ کو بیت الحرام قرار دیا۔ وہ کون ہے جو تمام دنیا کے لوگوں کے دل مکہ کی طرف مائل کرتا ہے اور وہ دنیا کے تمام ثمرات لے کر وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ تمام دنیا سے جمع ہوکر حرم میں آتے ہیں حالانکہ ان کے ملک مختلف ہیں اور ان کی عیدیں مختلف ہیں۔
اولم نمکن لھم ۔۔۔۔۔۔ من لدنا ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پر امن حرم کو ان کیلئے جائے قیام بنایا جس کی طرف ہر قدم کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر “۔ پھر وہ کیوں ڈرتے ہیں کہ لوگ ان کو اچک لیں گے۔ اگر انہوں نے اللہ کی ہدایت کو قبول کرلیا۔ حالانکہ اس حرم کو جائے امن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے اللہ ہی نے تو بنایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ نافرمان ہونے کے باوجود ان لوگوں کو کس نے یہ پرامن ماحول دیا ہے ؟ اور اگر وہ فرمان بردار ہوجائیں تو اللہ ان کے لوگوں کے حوالے کر دے گا کہ ان کی زمین سے وہ ان کو اچک کرلے جائیں۔ یہ کس طرح معقول ہو سکتا ہے ؟
ولکن اکثرھم لا یعلمون (28: 58) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ مانتے نہیں “۔ وہ نہیں جانتے کہ امن کہاں سے ملتا ہے اور خوف کہاں سے ملتا ہے۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ دراصل تمام امو راللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
اگر وہ بدامنی اور خوف سے بچنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ وہ ہلاکت اور بربادی سے دو چار ہوں تو بربادی کے اسباب یہ ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ ان سے بچیں۔
وکم اھلکنا من قریۃ ۔۔۔۔۔۔ الوارثین (28: 58) ” اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو ، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے ، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ انعامات خداوندی پر اترانا ، اور ان کا شکر ادا نہ کرنا دراصل بستیوں کی ہلاکت کا حقیقی سبب رہا ہے۔ اہل قریش کو بھی شکر ادا کریں ورنہ ان کی ہلاکت بھی یقینی ہوگی جیسا کہ ان بستیوں پر اللہ کی ہلاکت آئی جن کے بارے میں خوب جانتے ہیں۔ اور اہل قریش رات دن ان بستیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ برباد پڑی ہیں اور اس بربادی کے بعد کوئی بھی آکر ان میں بسا تک نہیں۔ ان کے کھنڈرات موجود ہیں۔
لم تسکن من بعدھم الا قلیلا (28: 58) ” جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے “۔ یہ بستیاں صاف صاف نظر آتی ہیں اور اپنے باسیوں کی کہانی سنا رہی ہیں۔ اور یہ کہانی سنا رہی ہیں کہ اللہ کے انعامات پر یعنی محض معاشی ترقی پر اترانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ان کے باشندے اس طرح فنا ہوئے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ کوئی ان کا وارث نہ ہوا۔
وکنا نحن الوارثین (28: 58) ” آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے “۔ لیکن ان کے اس اترانے اور سرکشی کے باوجود اللہ نے ان کو تب ہلاک کیا جب ان بستیوں کے مرکزی مقامات پر رسول بھیجے ، کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے اور اس سنت کو اللہ نے انسانوں پر مہربانی کرتے ہوئے اپنے اوپر لازم کردیا ہے۔
وما کان ربک ۔۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (59:28) ” اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات نہ سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے “۔ رسولوں کو بستیوں کے مرکزی مقامات میں اس لیے بھیجا گیا کہ یہ مرکزی مقامات مراکز تبلیغ ہوں اور ان سے پیغام الٰہی اطراف واکناف میں نشر ہو ، تاکہ کوئی یہ کہہ نہ سکے ان تک تو پیغام نہیں پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں بھیجا گیا کیونکہ یہ عربوں کا ام القریٰ تھا۔ اور آپ کا فریضہتھا کہ آپ اردگرد کے تمام لوگوں کو ان اقوام کے انجام سے خبردار کریں جن کے پاس رسول آئے اور انہوں نے نہ مانا اور ظلم کیا ۔
وما کنا مھل کی ۔۔۔۔ الا واھلھا ظلمون (58:28) ” ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے تھے “۔ وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے حا لان کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ حق ہیں۔
نیز یہ کہ زندگی کا پوراپورا سامان اور دنیا کی پوری دولت اور متاع ، اور وہ تمام خزانے جو زمین کے اندر ودیعت ہیں اور وہ پیداواریں تو انسانوں کو اس کرئہ ارض پر دی گئیں ۔ اور وہ تمام چیزیں جو تمام انسانوں کے لیے اس جہاں میں پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں اللہ کے ہاں جنتوں میں تیار کردہ سازوسامان کے مقابلے میں ایک حقیر چیز ہیں ۔
وما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ افلا تعلمون (60:28) ” تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ، وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے ۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یہ آخری حساب ہے ۔ صرف اس سا زو سامان کا نہیں جس کے فوت ہونے کا انہیں ڈر لاحق تھا۔ یعنی سامان زیست ، امن اور زمین کا۔ یہ حساب صرف اقتدار ، ہر قسم کی پیداواروں اور امن وامان ہی کا نہیں جس کا احسان اللہ نے ان کو جتوایا ، صرف ان بستیوں کا حساب نہیں جنہیں اللہ نے ہلاک کیا ، محض اس لیے کہ وہ اپنی معیشت پر اترا رہی تھیں ، بلکہ یہ حساب ہے اس تمام سامان زندگی کا جس کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ دنیا کا پورا سازو سامان ، مکمل سازوسامان اور دائمہ سازوسامان جس کے بعد کوئی ہلاکت اور بربادی بھی نہ ہو اور اس سے پوری طرح اور مکمل طور پر استفادہ بھی کیا گیا ہو ، یہ سب سازوسامان اللہ کے ہاں پائے جانے والے اور ہمیشہ باقی رہنے والے متاع کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے وہ خیر ہے یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اور باقی رہنے والا ہے یعنی مدت کے اعتبار سے۔
افلا تعقلون (28: 60) ” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یعنی اس دنیا وہ سازوسامان اور اخروی سازوسامان کے درمیان فرق وہی شخص کرسکتا ہے جو دنیا و آخرت کی حقیقت کو سمجھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آخری تعقیب نہایت ہی ایسے الفاظ میں آتی ہے جن میں عقل سے کام نہ لینے پر سرزنش کی گئی ہے کیونکہ عقل سے کام لینا ہر شخص کے اختیار میں ہے۔ آخر میں دنیا اور آخرت دونوں کا تقابل پیش کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ ان میں سے اپنے لیے جسے چاہیں پسند کرلیں۔
افمن وعدنہ وعدا ۔۔۔۔۔۔ من المحضرین (28: 61) ” بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو ، کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو ؟ “۔
ایک طرف وہ شخص ہے جس کے ساتھ اچھا وعدہ ہے اور وہ اسے قیامت کے دن پانے والا ہے اور دوسرا شخص وہ ہے جسے
دنیا کا سازوسامان دیا گیا ہے اور وہ یہ مختصر زندگی میں اس حقیر سامان کو برت لیتا ہے۔ اور پھر اسے قیامت کے دن زبردستی حساب کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کے لیے ” مضرقین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی گرفتار کرکے حاضر کیا جاتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کی وہاں خواہش یہ ہوگی کہ ان کو حساب کے لیے نہ لایا جائے کیونکہ حساب کے بعد تو ان کے لیے عذاب حاضر ہے۔
وہ کہتے تھے کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں تو ہمیں اپنی زمین سے اچک لیاجائے گا اور اب ان کو اس طرح جواب دیا جاتا ہے کہ اگر تمہیں اچک بھی لیا جائے اور تم دنیا کے تمام سازہ سامان سے محروم بھی کردیئے جاؤ تو بھی یہ گھاٹا نہ ہوگا ، کیونکہ یہ محرومیت اس مصیبت سے ہلکی ہے کہ تمہیں گرفتار کرکے لایا جائے لیکن ایسی صورت بھی نہ ہوگی کیونکہ حضور اکرم ؐ کے متبعین تو دنیا بھی امن اور اقتدار اعلیٰ کے مالک رہیں گے اور آخرت میں تو ان کو بہت بڑی عطا اور بڑا امن وامان ہوگا ۔ لہٰذا اللہ کی ہدایت سے منہ وہی لوگ موڑتے ہیں جو بہت ہی غافل اور احمق ہیں ۔ اور وہ عقل کو کام میں لاکر اس کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کی سعی نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ خوف کا سبب کیا ہے اور امن کا سر چشمہ کیا ہے ۔ اور یہی لوگ بڑے خسارے والے ہیں جو اپنی قوت اختیار کو اچھی طرح استعمال نہیں کرتے اور اپنے آپ کو دائمی ہلاکت سے نہیں بچاتے ۔
القصص 28:62
اب قیامت کے مناظر جس میں ان لوگوں سے یوں سوال و جواب ہوگا اور اس سے اندازہ ہوگا کہ وہاں ان کی حالت زار کیسی ہوگی ۔
ویوم ینادھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون من المفلحین (62 – 67)
پہلاسوال تو سرزنش کے لیے ہوگا اور اس سے محض ان کو شر مندہ کرنا مطلوب ہوگا۔
این شرکاءی الذین کنتم تزعمون (28: 62) ” کہاں ہیں وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے “۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس دن اس قسم کے کسی شریک کا وجود نہ ہوگا ۔ اور اس دن ان کے متبعین کو بھی کچھ پتہ نہ ہوگا کہ ان شرکاء کا کوئی وجود ہے یا نہیں ۔ نہ یہ لوگ ان شرکاء تک پہنچ سکیں گے ۔ یہ سوال دراصل ان لوگوں کو مجمع عام میں شرمندہ کرنے اور سرزنش کرنے کے لیے کیا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ جن کے متعلق یہ سوال کیا گیا وہ یہاں جواب نہیں دیتے کیونکہ یہ سوال جواب طلب ہی نہیں ہے بلکہ وہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے جو متبعین گمراہ ہوئے اور ان کی پیروی اختیار کی ان کے اس جرم سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیں ۔ جیسا کہ کبراء قریش لوگوں کو گمراہی پر آمادہ کرتے تھے اور ان کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے ۔ اسلیے ان کا جواب یوں ہوگا
ربنا ھولاء الذین ۔۔۔۔۔۔۔ یعبدون (28: 63) ” اے ہمارے رب ، بیشک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ۔ انہیں ہم نے اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے ۔ ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں ۔ یہ ہماری کوئی بندگی نہ کرتے تھے “۔ ہمارے رب ہم نے ان کو زبر دستی گمراہ نہیں کیا ۔ ان کے دل دماغ پر ہمیں کوئی کنٹر ول حاصل نہ تھا ۔ یہ لوگ اپنی مرضی اور آزادانہ اختیار سے گمراہی میں پڑے جیسا کہ ہم خود بغیر کسی مجبوری کے گمراہی میں پڑے ۔
تبرانا الیک (28: 63) ” ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں “ کہ ہم نے ان کو گمراہ کیا ہے ۔
ما کانوا ایانا یعبدون (28: 63) ” یہ ہماری بندگی تو نہ کرتے تھے “۔ بلکہ یہ بتوں ، آستانوں اور دوسری مخلوقات کی بندگی کرتے تھے۔ ہم نے ان سے یہ نہ کہا تھا کہ ہم تمہارے الٰہ ہیں ، اور نہ وہ وہاں ہماری عبادت کرتے تھے۔
اب ان کو اس مقام شرمندگی کی طرف لایا جا رہا ہے جس کی طرف وہ بات کا رخ کرنا نہیں چاہتے جس سے وہ بات کر پھیر کر دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں یعنی وہ شرکاء جو ان لوگوں کو اللہ کے سوا پکڑے ہوئے تھے۔
وقیل ادعوا شرکآء کم (28: 64) ” پھر کہا جائے گا کہ پکارو ، ان ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو “۔
یعنی ان کو پکارو ، اور ان کی سیرت سے بہ بھاگو ، ان کو پکارو کہ وہ اب تمہیں تمہاری پکار کو پہنچیں۔ تمہیں اس مصیبت سے چھڑائیں ، ان کو پکارو کہ آج دن ہے ان کے کام کرنے کا۔ یہی تو ان کا فائدہ تھا۔ یہ بدبخت لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان شرکاء کو آج پکارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، لیکن بامر مجبوری وہ احکام الہیہ کو بچا لائیں گے۔
فدعوھم فلم یستجیبو الھم (28: 64) ” یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے “۔ ان شرکاء سے یہی توقع تھی کہ وہ کوئی جواب نہ دیں گے۔ البتہ آواز اس لیے دلوائی جائے گی تاکہ یہ پکارنے والے اچھی اطرح ذلیل ہوں۔
ورآوا العذاب (28: 64) ” اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے “۔ یعنی اس بحث و مباحثے کے درمیان ہی عذاب دیکھ لیں گے۔ یہ اس عذاب ہی کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور عذاب ان کو نظر آجائے گا۔ اس ذلیل کرنے والے منظر کے بعد پھر اسی عذاب کا منظر ہوگا۔
یہ شرمسار کنندہ منظر جب اپنی انتہاؤں پر ہوتا ہے تو اچانک ان پر وہ ہدایت پیش کردی جاتی ہے کہ کاش تم اسے قبول کرلیتے۔ اس برے حال میں یہ لوگ یہی آرزو کرتے ہوں گے کہ اے کاش کہ وہ ایسا کرتے ، دنیا میں تو یہ ہدایت ان کے دسترس میں تھی اور اگر وہ لبیک کہہ کر اسے قبول کرلیتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔
لو انھم کانوا یھتدون (28: 64) ” کاش وہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے “۔ اب سیاق کلام انہیں اس کربناک منظر کی طرف لے جاتا ہے۔
ویوم ینادھم فیقول ماذا اجبتم المرسلین (28: 65) ” اور وہ دن جب وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا ؟ “ اور اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ لیکن یہ باز پرس محض ذلیل اور شرمسار کرنے کیلئے ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں وہ خاموش ہوں گے بلکہ مدہوش کھڑے ہوں گے۔ اس لیے کہ وہ سخت کرب میں مبتلا ہوں گے اور ان کو سمجھ میں نہ آ رہا ہوگا کہ وہ کیا جواب دیں۔
فعمیت علیھم ۔۔۔۔۔ لا یتسائلون (28: 66) ” اس وقت کوئی جواب ان کو نہ سوجھے گا اور نہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے “۔ انداز گفتگو اس منظر میں لوگوں کی ایسی تصویر کھینچتا ہے کہ گویا وہ اندھے ہیں۔ گویا ” خبریں “ اندھی ہوگئی ہیں اور وہ ان تک پہنچ نہیں پاتیں۔ جس طرح اندھا آدمی کسی جگہ نہیں پہنچ جاتا۔ وہ کچھ نہیں جانتے۔ نہ پوچھ سکتے ہیں ، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ مدہوشی کی سی حالت میں کھڑے ہیں۔
فاما من تاب ۔۔۔۔۔ من المفلحین (28: 67) ” البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا ؟ “ یہ صفحہ بالمقابل ہے ۔ جب غم اور تکلیف مشرکین کے لیے عروج پر ہوگی ، اس وقت توبہ کرنے والوں ، ایمان لانے والوں اور عمل کرنے والوں کے لئے ایسی فلاح ہوگی۔ اس لیے اے لوگو ! یہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ، ابھی تمہارے سامنے کھلا وقت ہے ، بہتر ہے کہ اسے اختیار کرلو۔
القصص 28:63
اب قیامت کے مناظر جس میں ان لوگوں سے یوں سوال و جواب ہوگا اور اس سے اندازہ ہوگا کہ وہاں ان کی حالت زار کیسی ہوگی ۔
ویوم ینادھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون من المفلحین (62 – 67)
پہلاسوال تو سرزنش کے لیے ہوگا اور اس سے محض ان کو شر مندہ کرنا مطلوب ہوگا۔
این شرکاءی الذین کنتم تزعمون (28: 62) ” کہاں ہیں وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے “۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس دن اس قسم کے کسی شریک کا وجود نہ ہوگا ۔ اور اس دن ان کے متبعین کو بھی کچھ پتہ نہ ہوگا کہ ان شرکاء کا کوئی وجود ہے یا نہیں ۔ نہ یہ لوگ ان شرکاء تک پہنچ سکیں گے ۔ یہ سوال دراصل ان لوگوں کو مجمع عام میں شرمندہ کرنے اور سرزنش کرنے کے لیے کیا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ جن کے متعلق یہ سوال کیا گیا وہ یہاں جواب نہیں دیتے کیونکہ یہ سوال جواب طلب ہی نہیں ہے بلکہ وہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے جو متبعین گمراہ ہوئے اور ان کی پیروی اختیار کی ان کے اس جرم سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیں ۔ جیسا کہ کبراء قریش لوگوں کو گمراہی پر آمادہ کرتے تھے اور ان کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے ۔ اسلیے ان کا جواب یوں ہوگا
ربنا ھولاء الذین ۔۔۔۔۔۔۔ یعبدون (28: 63) ” اے ہمارے رب ، بیشک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ۔ انہیں ہم نے اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے ۔ ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں ۔ یہ ہماری کوئی بندگی نہ کرتے تھے “۔ ہمارے رب ہم نے ان کو زبر دستی گمراہ نہیں کیا ۔ ان کے دل دماغ پر ہمیں کوئی کنٹر ول حاصل نہ تھا ۔ یہ لوگ اپنی مرضی اور آزادانہ اختیار سے گمراہی میں پڑے جیسا کہ ہم خود بغیر کسی مجبوری کے گمراہی میں پڑے ۔
تبرانا الیک (28: 63) ” ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں “ کہ ہم نے ان کو گمراہ کیا ہے ۔
ما کانوا ایانا یعبدون (28: 63) ” یہ ہماری بندگی تو نہ کرتے تھے “۔ بلکہ یہ بتوں ، آستانوں اور دوسری مخلوقات کی بندگی کرتے تھے۔ ہم نے ان سے یہ نہ کہا تھا کہ ہم تمہارے الٰہ ہیں ، اور نہ وہ وہاں ہماری عبادت کرتے تھے۔
اب ان کو اس مقام شرمندگی کی طرف لایا جا رہا ہے جس کی طرف وہ بات کا رخ کرنا نہیں چاہتے جس سے وہ بات کر پھیر کر دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں یعنی وہ شرکاء جو ان لوگوں کو اللہ کے سوا پکڑے ہوئے تھے۔
وقیل ادعوا شرکآء کم (28: 64) ” پھر کہا جائے گا کہ پکارو ، ان ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو “۔
یعنی ان کو پکارو ، اور ان کی سیرت سے بہ بھاگو ، ان کو پکارو کہ وہ اب تمہیں تمہاری پکار کو پہنچیں۔ تمہیں اس مصیبت سے چھڑائیں ، ان کو پکارو کہ آج دن ہے ان کے کام کرنے کا۔ یہی تو ان کا فائدہ تھا۔ یہ بدبخت لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان شرکاء کو آج پکارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، لیکن بامر مجبوری وہ احکام الہیہ کو بچا لائیں گے۔
فدعوھم فلم یستجیبو الھم (28: 64) ” یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے “۔ ان شرکاء سے یہی توقع تھی کہ وہ کوئی جواب نہ دیں گے۔ البتہ آواز اس لیے دلوائی جائے گی تاکہ یہ پکارنے والے اچھی اطرح ذلیل ہوں۔
ورآوا العذاب (28: 64) ” اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے “۔ یعنی اس بحث و مباحثے کے درمیان ہی عذاب دیکھ لیں گے۔ یہ اس عذاب ہی کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور عذاب ان کو نظر آجائے گا۔ اس ذلیل کرنے والے منظر کے بعد پھر اسی عذاب کا منظر ہوگا۔
یہ شرمسار کنندہ منظر جب اپنی انتہاؤں پر ہوتا ہے تو اچانک ان پر وہ ہدایت پیش کردی جاتی ہے کہ کاش تم اسے قبول کرلیتے۔ اس برے حال میں یہ لوگ یہی آرزو کرتے ہوں گے کہ اے کاش کہ وہ ایسا کرتے ، دنیا میں تو یہ ہدایت ان کے دسترس میں تھی اور اگر وہ لبیک کہہ کر اسے قبول کرلیتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔
لو انھم کانوا یھتدون (28: 64) ” کاش وہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے “۔ اب سیاق کلام انہیں اس کربناک منظر کی طرف لے جاتا ہے۔
ویوم ینادھم فیقول ماذا اجبتم المرسلین (28: 65) ” اور وہ دن جب وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا ؟ “ اور اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ لیکن یہ باز پرس محض ذلیل اور شرمسار کرنے کیلئے ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں وہ خاموش ہوں گے بلکہ مدہوش کھڑے ہوں گے۔ اس لیے کہ وہ سخت کرب میں مبتلا ہوں گے اور ان کو سمجھ میں نہ آ رہا ہوگا کہ وہ کیا جواب دیں۔
فعمیت علیھم ۔۔۔۔۔ لا یتسائلون (28: 66) ” اس وقت کوئی جواب ان کو نہ سوجھے گا اور نہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے “۔ انداز گفتگو اس منظر میں لوگوں کی ایسی تصویر کھینچتا ہے کہ گویا وہ اندھے ہیں۔ گویا ” خبریں “ اندھی ہوگئی ہیں اور وہ ان تک پہنچ نہیں پاتیں۔ جس طرح اندھا آدمی کسی جگہ نہیں پہنچ جاتا۔ وہ کچھ نہیں جانتے۔ نہ پوچھ سکتے ہیں ، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ مدہوشی کی سی حالت میں کھڑے ہیں۔
فاما من تاب ۔۔۔۔۔ من المفلحین (28: 67) ” البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا ؟ “ یہ صفحہ بالمقابل ہے ۔ جب غم اور تکلیف مشرکین کے لیے عروج پر ہوگی ، اس وقت توبہ کرنے والوں ، ایمان لانے والوں اور عمل کرنے والوں کے لئے ایسی فلاح ہوگی۔ اس لیے اے لوگو ! یہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ، ابھی تمہارے سامنے کھلا وقت ہے ، بہتر ہے کہ اسے اختیار کرلو۔
القصص 28:64
اب قیامت کے مناظر جس میں ان لوگوں سے یوں سوال و جواب ہوگا اور اس سے اندازہ ہوگا کہ وہاں ان کی حالت زار کیسی ہوگی ۔
ویوم ینادھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون من المفلحین (62 – 67)
پہلاسوال تو سرزنش کے لیے ہوگا اور اس سے محض ان کو شر مندہ کرنا مطلوب ہوگا۔
این شرکاءی الذین کنتم تزعمون (28: 62) ” کہاں ہیں وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے “۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس دن اس قسم کے کسی شریک کا وجود نہ ہوگا ۔ اور اس دن ان کے متبعین کو بھی کچھ پتہ نہ ہوگا کہ ان شرکاء کا کوئی وجود ہے یا نہیں ۔ نہ یہ لوگ ان شرکاء تک پہنچ سکیں گے ۔ یہ سوال دراصل ان لوگوں کو مجمع عام میں شرمندہ کرنے اور سرزنش کرنے کے لیے کیا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ جن کے متعلق یہ سوال کیا گیا وہ یہاں جواب نہیں دیتے کیونکہ یہ سوال جواب طلب ہی نہیں ہے بلکہ وہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے جو متبعین گمراہ ہوئے اور ان کی پیروی اختیار کی ان کے اس جرم سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیں ۔ جیسا کہ کبراء قریش لوگوں کو گمراہی پر آمادہ کرتے تھے اور ان کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے ۔ اسلیے ان کا جواب یوں ہوگا
ربنا ھولاء الذین ۔۔۔۔۔۔۔ یعبدون (28: 63) ” اے ہمارے رب ، بیشک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ۔ انہیں ہم نے اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے ۔ ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں ۔ یہ ہماری کوئی بندگی نہ کرتے تھے “۔ ہمارے رب ہم نے ان کو زبر دستی گمراہ نہیں کیا ۔ ان کے دل دماغ پر ہمیں کوئی کنٹر ول حاصل نہ تھا ۔ یہ لوگ اپنی مرضی اور آزادانہ اختیار سے گمراہی میں پڑے جیسا کہ ہم خود بغیر کسی مجبوری کے گمراہی میں پڑے ۔
تبرانا الیک (28: 63) ” ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں “ کہ ہم نے ان کو گمراہ کیا ہے ۔
ما کانوا ایانا یعبدون (28: 63) ” یہ ہماری بندگی تو نہ کرتے تھے “۔ بلکہ یہ بتوں ، آستانوں اور دوسری مخلوقات کی بندگی کرتے تھے۔ ہم نے ان سے یہ نہ کہا تھا کہ ہم تمہارے الٰہ ہیں ، اور نہ وہ وہاں ہماری عبادت کرتے تھے۔
اب ان کو اس مقام شرمندگی کی طرف لایا جا رہا ہے جس کی طرف وہ بات کا رخ کرنا نہیں چاہتے جس سے وہ بات کر پھیر کر دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں یعنی وہ شرکاء جو ان لوگوں کو اللہ کے سوا پکڑے ہوئے تھے۔
وقیل ادعوا شرکآء کم (28: 64) ” پھر کہا جائے گا کہ پکارو ، ان ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو “۔
یعنی ان کو پکارو ، اور ان کی سیرت سے بہ بھاگو ، ان کو پکارو کہ وہ اب تمہیں تمہاری پکار کو پہنچیں۔ تمہیں اس مصیبت سے چھڑائیں ، ان کو پکارو کہ آج دن ہے ان کے کام کرنے کا۔ یہی تو ان کا فائدہ تھا۔ یہ بدبخت لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان شرکاء کو آج پکارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، لیکن بامر مجبوری وہ احکام الہیہ کو بچا لائیں گے۔
فدعوھم فلم یستجیبو الھم (28: 64) ” یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے “۔ ان شرکاء سے یہی توقع تھی کہ وہ کوئی جواب نہ دیں گے۔ البتہ آواز اس لیے دلوائی جائے گی تاکہ یہ پکارنے والے اچھی اطرح ذلیل ہوں۔
ورآوا العذاب (28: 64) ” اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے “۔ یعنی اس بحث و مباحثے کے درمیان ہی عذاب دیکھ لیں گے۔ یہ اس عذاب ہی کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور عذاب ان کو نظر آجائے گا۔ اس ذلیل کرنے والے منظر کے بعد پھر اسی عذاب کا منظر ہوگا۔
یہ شرمسار کنندہ منظر جب اپنی انتہاؤں پر ہوتا ہے تو اچانک ان پر وہ ہدایت پیش کردی جاتی ہے کہ کاش تم اسے قبول کرلیتے۔ اس برے حال میں یہ لوگ یہی آرزو کرتے ہوں گے کہ اے کاش کہ وہ ایسا کرتے ، دنیا میں تو یہ ہدایت ان کے دسترس میں تھی اور اگر وہ لبیک کہہ کر اسے قبول کرلیتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔
لو انھم کانوا یھتدون (28: 64) ” کاش وہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے “۔ اب سیاق کلام انہیں اس کربناک منظر کی طرف لے جاتا ہے۔
ویوم ینادھم فیقول ماذا اجبتم المرسلین (28: 65) ” اور وہ دن جب وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا ؟ “ اور اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ لیکن یہ باز پرس محض ذلیل اور شرمسار کرنے کیلئے ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں وہ خاموش ہوں گے بلکہ مدہوش کھڑے ہوں گے۔ اس لیے کہ وہ سخت کرب میں مبتلا ہوں گے اور ان کو سمجھ میں نہ آ رہا ہوگا کہ وہ کیا جواب دیں۔
فعمیت علیھم ۔۔۔۔۔ لا یتسائلون (28: 66) ” اس وقت کوئی جواب ان کو نہ سوجھے گا اور نہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے “۔ انداز گفتگو اس منظر میں لوگوں کی ایسی تصویر کھینچتا ہے کہ گویا وہ اندھے ہیں۔ گویا ” خبریں “ اندھی ہوگئی ہیں اور وہ ان تک پہنچ نہیں پاتیں۔ جس طرح اندھا آدمی کسی جگہ نہیں پہنچ جاتا۔ وہ کچھ نہیں جانتے۔ نہ پوچھ سکتے ہیں ، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ مدہوشی کی سی حالت میں کھڑے ہیں۔
فاما من تاب ۔۔۔۔۔ من المفلحین (28: 67) ” البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا ؟ “ یہ صفحہ بالمقابل ہے ۔ جب غم اور تکلیف مشرکین کے لیے عروج پر ہوگی ، اس وقت توبہ کرنے والوں ، ایمان لانے والوں اور عمل کرنے والوں کے لئے ایسی فلاح ہوگی۔ اس لیے اے لوگو ! یہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ، ابھی تمہارے سامنے کھلا وقت ہے ، بہتر ہے کہ اسے اختیار کرلو۔