Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — القصص 28:65 – العنكبوت 29:69

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. القصص 28:65
  2. القصص 28:66
  3. القصص 28:67
  4. القصص 28:68
  5. القصص 28:69
  6. القصص 28:70
  7. القصص 28:71
  8. القصص 28:72
  9. القصص 28:73
  10. القصص 28:74
  11. القصص 28:75
  12. القصص 28:76
  13. القصص 28:77
  14. القصص 28:78
  15. القصص 28:79
  16. القصص 28:80
  17. القصص 28:81
  18. القصص 28:82
  19. القصص 28:83
  20. القصص 28:84
  21. القصص 28:85
  22. القصص 28:86
  23. القصص 28:87
  24. القصص 28:88
  25. العنكبوت 29:1
  26. العنكبوت 29:2
  27. العنكبوت 29:3
  28. العنكبوت 29:4
  29. العنكبوت 29:5
  30. العنكبوت 29:6
  31. العنكبوت 29:7
  32. العنكبوت 29:8
  33. العنكبوت 29:9
  34. العنكبوت 29:10
  35. العنكبوت 29:11
  36. العنكبوت 29:12
  37. العنكبوت 29:13
  38. العنكبوت 29:14
  39. العنكبوت 29:15
  40. العنكبوت 29:16
  41. العنكبوت 29:17
  42. العنكبوت 29:18
  43. العنكبوت 29:19
  44. العنكبوت 29:20
  45. العنكبوت 29:21
  46. العنكبوت 29:22
  47. العنكبوت 29:23
  48. العنكبوت 29:24
  49. العنكبوت 29:25
  50. العنكبوت 29:26
  51. العنكبوت 29:27
  52. العنكبوت 29:28
  53. العنكبوت 29:29
  54. العنكبوت 29:30
  55. العنكبوت 29:31
  56. العنكبوت 29:32
  57. العنكبوت 29:33
  58. العنكبوت 29:34
  59. العنكبوت 29:35
  60. العنكبوت 29:36
  61. العنكبوت 29:37
  62. العنكبوت 29:38
  63. العنكبوت 29:39
  64. العنكبوت 29:40
  65. العنكبوت 29:41
  66. العنكبوت 29:42
  67. العنكبوت 29:43
  68. العنكبوت 29:44
  69. العنكبوت 29:45
  70. العنكبوت 29:46
  71. العنكبوت 29:47
  72. العنكبوت 29:48
  73. العنكبوت 29:49
  74. العنكبوت 29:50
  75. العنكبوت 29:51
  76. العنكبوت 29:52
  77. العنكبوت 29:53
  78. العنكبوت 29:54
  79. العنكبوت 29:55
  80. العنكبوت 29:56
  81. العنكبوت 29:57
  82. العنكبوت 29:58
  83. العنكبوت 29:59
  84. العنكبوت 29:60
  85. العنكبوت 29:61
  86. العنكبوت 29:62
  87. العنكبوت 29:63
  88. العنكبوت 29:64
  89. العنكبوت 29:65
  90. العنكبوت 29:66
  91. العنكبوت 29:67
  92. العنكبوت 29:68
  93. العنكبوت 29:69

القصص 28:65

اب قیامت کے مناظر جس میں ان لوگوں سے یوں سوال و جواب ہوگا اور اس سے اندازہ ہوگا کہ وہاں ان کی حالت زار کیسی ہوگی ۔ ویوم ینادھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون من المفلحین (62 – 67) پہلاسوال تو سرزنش کے لیے ہوگا اور اس سے محض ان کو شر مندہ کرنا مطلوب ہوگا۔ این شرکاءی الذین کنتم تزعمون (28: 62) ” کہاں ہیں وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے “۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس دن اس قسم کے کسی شریک کا وجود نہ ہوگا ۔ اور اس دن ان کے متبعین کو بھی کچھ پتہ نہ ہوگا کہ ان شرکاء کا کوئی وجود ہے یا نہیں ۔ نہ یہ لوگ ان شرکاء تک پہنچ سکیں گے ۔ یہ سوال دراصل ان لوگوں کو مجمع عام میں شرمندہ کرنے اور سرزنش کرنے کے لیے کیا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ جن کے متعلق یہ سوال کیا گیا وہ یہاں جواب نہیں دیتے کیونکہ یہ سوال جواب طلب ہی نہیں ہے بلکہ وہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے جو متبعین گمراہ ہوئے اور ان کی پیروی اختیار کی ان کے اس جرم سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیں ۔ جیسا کہ کبراء قریش لوگوں کو گمراہی پر آمادہ کرتے تھے اور ان کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے ۔ اسلیے ان کا جواب یوں ہوگا ربنا ھولاء الذین ۔۔۔۔۔۔۔ یعبدون (28: 63) ” اے ہمارے رب ، بیشک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ۔ انہیں ہم نے اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے ۔ ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں ۔ یہ ہماری کوئی بندگی نہ کرتے تھے “۔ ہمارے رب ہم نے ان کو زبر دستی گمراہ نہیں کیا ۔ ان کے دل دماغ پر ہمیں کوئی کنٹر ول حاصل نہ تھا ۔ یہ لوگ اپنی مرضی اور آزادانہ اختیار سے گمراہی میں پڑے جیسا کہ ہم خود بغیر کسی مجبوری کے گمراہی میں پڑے ۔ تبرانا الیک (28: 63) ” ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں “ کہ ہم نے ان کو گمراہ کیا ہے ۔ ما کانوا ایانا یعبدون (28: 63) ” یہ ہماری بندگی تو نہ کرتے تھے “۔ بلکہ یہ بتوں ، آستانوں اور دوسری مخلوقات کی بندگی کرتے تھے۔ ہم نے ان سے یہ نہ کہا تھا کہ ہم تمہارے الٰہ ہیں ، اور نہ وہ وہاں ہماری عبادت کرتے تھے۔ اب ان کو اس مقام شرمندگی کی طرف لایا جا رہا ہے جس کی طرف وہ بات کا رخ کرنا نہیں چاہتے جس سے وہ بات کر پھیر کر دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں یعنی وہ شرکاء جو ان لوگوں کو اللہ کے سوا پکڑے ہوئے تھے۔ وقیل ادعوا شرکآء کم (28: 64) ” پھر کہا جائے گا کہ پکارو ، ان ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو “۔ یعنی ان کو پکارو ، اور ان کی سیرت سے بہ بھاگو ، ان کو پکارو کہ وہ اب تمہیں تمہاری پکار کو پہنچیں۔ تمہیں اس مصیبت سے چھڑائیں ، ان کو پکارو کہ آج دن ہے ان کے کام کرنے کا۔ یہی تو ان کا فائدہ تھا۔ یہ بدبخت لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان شرکاء کو آج پکارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، لیکن بامر مجبوری وہ احکام الہیہ کو بچا لائیں گے۔ فدعوھم فلم یستجیبو الھم (28: 64) ” یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے “۔ ان شرکاء سے یہی توقع تھی کہ وہ کوئی جواب نہ دیں گے۔ البتہ آواز اس لیے دلوائی جائے گی تاکہ یہ پکارنے والے اچھی اطرح ذلیل ہوں۔ ورآوا العذاب (28: 64) ” اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے “۔ یعنی اس بحث و مباحثے کے درمیان ہی عذاب دیکھ لیں گے۔ یہ اس عذاب ہی کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور عذاب ان کو نظر آجائے گا۔ اس ذلیل کرنے والے منظر کے بعد پھر اسی عذاب کا منظر ہوگا۔ یہ شرمسار کنندہ منظر جب اپنی انتہاؤں پر ہوتا ہے تو اچانک ان پر وہ ہدایت پیش کردی جاتی ہے کہ کاش تم اسے قبول کرلیتے۔ اس برے حال میں یہ لوگ یہی آرزو کرتے ہوں گے کہ اے کاش کہ وہ ایسا کرتے ، دنیا میں تو یہ ہدایت ان کے دسترس میں تھی اور اگر وہ لبیک کہہ کر اسے قبول کرلیتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔ لو انھم کانوا یھتدون (28: 64) ” کاش وہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے “۔ اب سیاق کلام انہیں اس کربناک منظر کی طرف لے جاتا ہے۔ ویوم ینادھم فیقول ماذا اجبتم المرسلین (28: 65) ” اور وہ دن جب وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا ؟ “ اور اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ لیکن یہ باز پرس محض ذلیل اور شرمسار کرنے کیلئے ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں وہ خاموش ہوں گے بلکہ مدہوش کھڑے ہوں گے۔ اس لیے کہ وہ سخت کرب میں مبتلا ہوں گے اور ان کو سمجھ میں نہ آ رہا ہوگا کہ وہ کیا جواب دیں۔ فعمیت علیھم ۔۔۔۔۔ لا یتسائلون (28: 66) ” اس وقت کوئی جواب ان کو نہ سوجھے گا اور نہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے “۔ انداز گفتگو اس منظر میں لوگوں کی ایسی تصویر کھینچتا ہے کہ گویا وہ اندھے ہیں۔ گویا ” خبریں “ اندھی ہوگئی ہیں اور وہ ان تک پہنچ نہیں پاتیں۔ جس طرح اندھا آدمی کسی جگہ نہیں پہنچ جاتا۔ وہ کچھ نہیں جانتے۔ نہ پوچھ سکتے ہیں ، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ مدہوشی کی سی حالت میں کھڑے ہیں۔ فاما من تاب ۔۔۔۔۔ من المفلحین (28: 67) ” البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا ؟ “ یہ صفحہ بالمقابل ہے ۔ جب غم اور تکلیف مشرکین کے لیے عروج پر ہوگی ، اس وقت توبہ کرنے والوں ، ایمان لانے والوں اور عمل کرنے والوں کے لئے ایسی فلاح ہوگی۔ اس لیے اے لوگو ! یہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ، ابھی تمہارے سامنے کھلا وقت ہے ، بہتر ہے کہ اسے اختیار کرلو۔

القصص 28:66

اب قیامت کے مناظر جس میں ان لوگوں سے یوں سوال و جواب ہوگا اور اس سے اندازہ ہوگا کہ وہاں ان کی حالت زار کیسی ہوگی ۔ ویوم ینادھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون من المفلحین (62 – 67) پہلاسوال تو سرزنش کے لیے ہوگا اور اس سے محض ان کو شر مندہ کرنا مطلوب ہوگا۔ این شرکاءی الذین کنتم تزعمون (28: 62) ” کہاں ہیں وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے “۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس دن اس قسم کے کسی شریک کا وجود نہ ہوگا ۔ اور اس دن ان کے متبعین کو بھی کچھ پتہ نہ ہوگا کہ ان شرکاء کا کوئی وجود ہے یا نہیں ۔ نہ یہ لوگ ان شرکاء تک پہنچ سکیں گے ۔ یہ سوال دراصل ان لوگوں کو مجمع عام میں شرمندہ کرنے اور سرزنش کرنے کے لیے کیا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ جن کے متعلق یہ سوال کیا گیا وہ یہاں جواب نہیں دیتے کیونکہ یہ سوال جواب طلب ہی نہیں ہے بلکہ وہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے جو متبعین گمراہ ہوئے اور ان کی پیروی اختیار کی ان کے اس جرم سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیں ۔ جیسا کہ کبراء قریش لوگوں کو گمراہی پر آمادہ کرتے تھے اور ان کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے ۔ اسلیے ان کا جواب یوں ہوگا ربنا ھولاء الذین ۔۔۔۔۔۔۔ یعبدون (28: 63) ” اے ہمارے رب ، بیشک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ۔ انہیں ہم نے اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے ۔ ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں ۔ یہ ہماری کوئی بندگی نہ کرتے تھے “۔ ہمارے رب ہم نے ان کو زبر دستی گمراہ نہیں کیا ۔ ان کے دل دماغ پر ہمیں کوئی کنٹر ول حاصل نہ تھا ۔ یہ لوگ اپنی مرضی اور آزادانہ اختیار سے گمراہی میں پڑے جیسا کہ ہم خود بغیر کسی مجبوری کے گمراہی میں پڑے ۔ تبرانا الیک (28: 63) ” ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں “ کہ ہم نے ان کو گمراہ کیا ہے ۔ ما کانوا ایانا یعبدون (28: 63) ” یہ ہماری بندگی تو نہ کرتے تھے “۔ بلکہ یہ بتوں ، آستانوں اور دوسری مخلوقات کی بندگی کرتے تھے۔ ہم نے ان سے یہ نہ کہا تھا کہ ہم تمہارے الٰہ ہیں ، اور نہ وہ وہاں ہماری عبادت کرتے تھے۔ اب ان کو اس مقام شرمندگی کی طرف لایا جا رہا ہے جس کی طرف وہ بات کا رخ کرنا نہیں چاہتے جس سے وہ بات کر پھیر کر دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں یعنی وہ شرکاء جو ان لوگوں کو اللہ کے سوا پکڑے ہوئے تھے۔ وقیل ادعوا شرکآء کم (28: 64) ” پھر کہا جائے گا کہ پکارو ، ان ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو “۔ یعنی ان کو پکارو ، اور ان کی سیرت سے بہ بھاگو ، ان کو پکارو کہ وہ اب تمہیں تمہاری پکار کو پہنچیں۔ تمہیں اس مصیبت سے چھڑائیں ، ان کو پکارو کہ آج دن ہے ان کے کام کرنے کا۔ یہی تو ان کا فائدہ تھا۔ یہ بدبخت لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان شرکاء کو آج پکارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، لیکن بامر مجبوری وہ احکام الہیہ کو بچا لائیں گے۔ فدعوھم فلم یستجیبو الھم (28: 64) ” یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے “۔ ان شرکاء سے یہی توقع تھی کہ وہ کوئی جواب نہ دیں گے۔ البتہ آواز اس لیے دلوائی جائے گی تاکہ یہ پکارنے والے اچھی اطرح ذلیل ہوں۔ ورآوا العذاب (28: 64) ” اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے “۔ یعنی اس بحث و مباحثے کے درمیان ہی عذاب دیکھ لیں گے۔ یہ اس عذاب ہی کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور عذاب ان کو نظر آجائے گا۔ اس ذلیل کرنے والے منظر کے بعد پھر اسی عذاب کا منظر ہوگا۔ یہ شرمسار کنندہ منظر جب اپنی انتہاؤں پر ہوتا ہے تو اچانک ان پر وہ ہدایت پیش کردی جاتی ہے کہ کاش تم اسے قبول کرلیتے۔ اس برے حال میں یہ لوگ یہی آرزو کرتے ہوں گے کہ اے کاش کہ وہ ایسا کرتے ، دنیا میں تو یہ ہدایت ان کے دسترس میں تھی اور اگر وہ لبیک کہہ کر اسے قبول کرلیتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔ لو انھم کانوا یھتدون (28: 64) ” کاش وہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے “۔ اب سیاق کلام انہیں اس کربناک منظر کی طرف لے جاتا ہے۔ ویوم ینادھم فیقول ماذا اجبتم المرسلین (28: 65) ” اور وہ دن جب وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا ؟ “ اور اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ لیکن یہ باز پرس محض ذلیل اور شرمسار کرنے کیلئے ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں وہ خاموش ہوں گے بلکہ مدہوش کھڑے ہوں گے۔ اس لیے کہ وہ سخت کرب میں مبتلا ہوں گے اور ان کو سمجھ میں نہ آ رہا ہوگا کہ وہ کیا جواب دیں۔ فعمیت علیھم ۔۔۔۔۔ لا یتسائلون (28: 66) ” اس وقت کوئی جواب ان کو نہ سوجھے گا اور نہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے “۔ انداز گفتگو اس منظر میں لوگوں کی ایسی تصویر کھینچتا ہے کہ گویا وہ اندھے ہیں۔ گویا ” خبریں “ اندھی ہوگئی ہیں اور وہ ان تک پہنچ نہیں پاتیں۔ جس طرح اندھا آدمی کسی جگہ نہیں پہنچ جاتا۔ وہ کچھ نہیں جانتے۔ نہ پوچھ سکتے ہیں ، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ مدہوشی کی سی حالت میں کھڑے ہیں۔ فاما من تاب ۔۔۔۔۔ من المفلحین (28: 67) ” البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا ؟ “ یہ صفحہ بالمقابل ہے ۔ جب غم اور تکلیف مشرکین کے لیے عروج پر ہوگی ، اس وقت توبہ کرنے والوں ، ایمان لانے والوں اور عمل کرنے والوں کے لئے ایسی فلاح ہوگی۔ اس لیے اے لوگو ! یہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ، ابھی تمہارے سامنے کھلا وقت ہے ، بہتر ہے کہ اسے اختیار کرلو۔

القصص 28:67

اب قیامت کے مناظر جس میں ان لوگوں سے یوں سوال و جواب ہوگا اور اس سے اندازہ ہوگا کہ وہاں ان کی حالت زار کیسی ہوگی ۔ ویوم ینادھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون من المفلحین (62 – 67) پہلاسوال تو سرزنش کے لیے ہوگا اور اس سے محض ان کو شر مندہ کرنا مطلوب ہوگا۔ این شرکاءی الذین کنتم تزعمون (28: 62) ” کہاں ہیں وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے “۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس دن اس قسم کے کسی شریک کا وجود نہ ہوگا ۔ اور اس دن ان کے متبعین کو بھی کچھ پتہ نہ ہوگا کہ ان شرکاء کا کوئی وجود ہے یا نہیں ۔ نہ یہ لوگ ان شرکاء تک پہنچ سکیں گے ۔ یہ سوال دراصل ان لوگوں کو مجمع عام میں شرمندہ کرنے اور سرزنش کرنے کے لیے کیا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ جن کے متعلق یہ سوال کیا گیا وہ یہاں جواب نہیں دیتے کیونکہ یہ سوال جواب طلب ہی نہیں ہے بلکہ وہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے جو متبعین گمراہ ہوئے اور ان کی پیروی اختیار کی ان کے اس جرم سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیں ۔ جیسا کہ کبراء قریش لوگوں کو گمراہی پر آمادہ کرتے تھے اور ان کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے ۔ اسلیے ان کا جواب یوں ہوگا ربنا ھولاء الذین ۔۔۔۔۔۔۔ یعبدون (28: 63) ” اے ہمارے رب ، بیشک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ۔ انہیں ہم نے اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے ۔ ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں ۔ یہ ہماری کوئی بندگی نہ کرتے تھے “۔ ہمارے رب ہم نے ان کو زبر دستی گمراہ نہیں کیا ۔ ان کے دل دماغ پر ہمیں کوئی کنٹر ول حاصل نہ تھا ۔ یہ لوگ اپنی مرضی اور آزادانہ اختیار سے گمراہی میں پڑے جیسا کہ ہم خود بغیر کسی مجبوری کے گمراہی میں پڑے ۔ تبرانا الیک (28: 63) ” ہم آپ کے سامنے برات اظہار کرتے ہیں “ کہ ہم نے ان کو گمراہ کیا ہے ۔ ما کانوا ایانا یعبدون (28: 63) ” یہ ہماری بندگی تو نہ کرتے تھے “۔ بلکہ یہ بتوں ، آستانوں اور دوسری مخلوقات کی بندگی کرتے تھے۔ ہم نے ان سے یہ نہ کہا تھا کہ ہم تمہارے الٰہ ہیں ، اور نہ وہ وہاں ہماری عبادت کرتے تھے۔ اب ان کو اس مقام شرمندگی کی طرف لایا جا رہا ہے جس کی طرف وہ بات کا رخ کرنا نہیں چاہتے جس سے وہ بات کر پھیر کر دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں یعنی وہ شرکاء جو ان لوگوں کو اللہ کے سوا پکڑے ہوئے تھے۔ وقیل ادعوا شرکآء کم (28: 64) ” پھر کہا جائے گا کہ پکارو ، ان ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو “۔ یعنی ان کو پکارو ، اور ان کی سیرت سے بہ بھاگو ، ان کو پکارو کہ وہ اب تمہیں تمہاری پکار کو پہنچیں۔ تمہیں اس مصیبت سے چھڑائیں ، ان کو پکارو کہ آج دن ہے ان کے کام کرنے کا۔ یہی تو ان کا فائدہ تھا۔ یہ بدبخت لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان شرکاء کو آج پکارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، لیکن بامر مجبوری وہ احکام الہیہ کو بچا لائیں گے۔ فدعوھم فلم یستجیبو الھم (28: 64) ” یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے “۔ ان شرکاء سے یہی توقع تھی کہ وہ کوئی جواب نہ دیں گے۔ البتہ آواز اس لیے دلوائی جائے گی تاکہ یہ پکارنے والے اچھی اطرح ذلیل ہوں۔ ورآوا العذاب (28: 64) ” اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے “۔ یعنی اس بحث و مباحثے کے درمیان ہی عذاب دیکھ لیں گے۔ یہ اس عذاب ہی کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور عذاب ان کو نظر آجائے گا۔ اس ذلیل کرنے والے منظر کے بعد پھر اسی عذاب کا منظر ہوگا۔ یہ شرمسار کنندہ منظر جب اپنی انتہاؤں پر ہوتا ہے تو اچانک ان پر وہ ہدایت پیش کردی جاتی ہے کہ کاش تم اسے قبول کرلیتے۔ اس برے حال میں یہ لوگ یہی آرزو کرتے ہوں گے کہ اے کاش کہ وہ ایسا کرتے ، دنیا میں تو یہ ہدایت ان کے دسترس میں تھی اور اگر وہ لبیک کہہ کر اسے قبول کرلیتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔ لو انھم کانوا یھتدون (28: 64) ” کاش وہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے “۔ اب سیاق کلام انہیں اس کربناک منظر کی طرف لے جاتا ہے۔ ویوم ینادھم فیقول ماذا اجبتم المرسلین (28: 65) ” اور وہ دن جب وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا ؟ “ اور اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ لیکن یہ باز پرس محض ذلیل اور شرمسار کرنے کیلئے ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں وہ خاموش ہوں گے بلکہ مدہوش کھڑے ہوں گے۔ اس لیے کہ وہ سخت کرب میں مبتلا ہوں گے اور ان کو سمجھ میں نہ آ رہا ہوگا کہ وہ کیا جواب دیں۔ فعمیت علیھم ۔۔۔۔۔ لا یتسائلون (28: 66) ” اس وقت کوئی جواب ان کو نہ سوجھے گا اور نہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے “۔ انداز گفتگو اس منظر میں لوگوں کی ایسی تصویر کھینچتا ہے کہ گویا وہ اندھے ہیں۔ گویا ” خبریں “ اندھی ہوگئی ہیں اور وہ ان تک پہنچ نہیں پاتیں۔ جس طرح اندھا آدمی کسی جگہ نہیں پہنچ جاتا۔ وہ کچھ نہیں جانتے۔ نہ پوچھ سکتے ہیں ، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ مدہوشی کی سی حالت میں کھڑے ہیں۔ فاما من تاب ۔۔۔۔۔ من المفلحین (28: 67) ” البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا ؟ “ یہ صفحہ بالمقابل ہے ۔ جب غم اور تکلیف مشرکین کے لیے عروج پر ہوگی ، اس وقت توبہ کرنے والوں ، ایمان لانے والوں اور عمل کرنے والوں کے لئے ایسی فلاح ہوگی۔ اس لیے اے لوگو ! یہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ، ابھی تمہارے سامنے کھلا وقت ہے ، بہتر ہے کہ اسے اختیار کرلو۔

القصص 28:68

اب ہر امر اور ہر چیز کو نتیجہ ارادہ الٰہی قرار دیا جاتا ہے ، کیونکہ وہی ذات ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اول میں بھی آخر میں بھی۔ دنیا میں بھی وہی قابل تعریف ہے اور آخرت میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔ دنیا میں بھی اس کا حکم چلتا ہے اور آخرت بھی اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ لوگوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خود کوئی فیصلہ کرسکیں نہ دوسروں کے بارے میں یہاں کوئی انسان کوئی فیصلہ کرسکتا ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، اختیار کرلیتا ہے۔ وربک یخلق ۔۔۔۔۔۔ والیہ ترجعون (68: 70) ” ۔ ۔ “۔ یہ تبصرہ ان لوگوں کے اس ریمارکس کے بعد آیا ہے کہ اگر ہم نے ہدایت کو قبول کرلیا تو ہم اپنی زمین سے اچک لے جائیں گے۔ اسی قول کے بعد یوم الحساب کا ایک منظر پیش کیا گیا اور اس میں مشرکین کے موقف کو پیش کیا گیا۔ اب اس دوسرے تبصرے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کا اختیار تو خود ان کے نفوس کے بارے میں بھی نہیں ہے کہ وہ ازخود امن اور خوف کا کوئی راستہ اپنے لیے اختیار کریں۔ اس لیے اللہ کی وحدانیت کے اختیارات کی وجہ سے آخر کار تمام امور میں اللہ ہی موثر ہے۔ وربک یخلق ما یشآء ویختار ما کان لھم الخیرۃ (28: 68) ” اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور منتخب کرلیتا ہے اور یہ انتخاب ان لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے “۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جسے بسا اوقات لوگ بھال دیتے ہیں یا اس کے بعض پہلوؤں کو لوگ بھلا دیتے ہیں کہ اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کے کاموں کے سلسلے میں کچھ تجاویز دے یا اللہ کی تخلیق میں ۔۔۔۔ اضافہ کرے یا اس کی تخلیق میں تغیر و تبدل کرے۔ وہ اپنی مخلوق میں سے مختلف چیزوں کو مختلف فرائض کے لیے اختیار کرلیتا ہے۔ مختلف مقامات میں مختلف چیزیں اپنا فریضہ ادا کرتی ہیں۔ اس لیے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اللہ کے سامنے کسی شخص کو تجویز کرے ، کسی حادثہ کی تجویز کرے ، کسی حرکت ، کسی بات اور کسی فعل کی تجویز کرے۔ اور نہ ایسا کام اختیار کرنے کا اللہ نے کسی کو اختیار دیا ہے۔ نہ اپنے نفسوں کے بارے میں اور نہ دوسروں کے بارے میں۔ غرض تمام امور کے فیصلے اللہ کرتا ہے ، چھوٹے ہوں یا بڑے۔ اگر لوگوں کے دل و دماغ میں صرف یہ ایک حقیقت بیٹھ جائے تو لوگوں پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کی وجہ سے ہرگز پریشان نہ ہوں ، یا ان کی اپنی وجہ سے ان کو جو تکلیف پہنچتی ہے اس کی وجہ سے بھی وہ پریشان نہ ہوں ، نہ وہ اس چیز کی وجہ سے پریشان ہوں جو ان کے ہاتھوں سے نکل گئی یا وہ محروم ہوگئے کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ ہی ہے جو واقعات کا انتخاب کرتا ہے اور اس کو اختیارات ہیں۔ لیکن اس کا مفہوم یہ بھی نہیں ہے کہ لوگ اپنی عقل کو معطل کردیں ، اداروں کو موقوف کردیں اور سرگرمیاں چھوڑ کر ٹھنڈے ہوکر بیٹھ جائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان غوروفکر کرکے ، اچھی سوچ کے بعد پوری جدوجہد کرے اور اپنی پوری قوت استعمال کرتے ہوئے ایک کام کرے اور اس کے بعد جو نتائج ہوں ، ان کو اللہ پر چھوڑ دے۔ نتائج کو تسلیم ورضا سے قبول کرے۔ کیونکہ اس کے دائرہ قوت میں جو کچھ تھا ، اس نے کرلیا۔ اس کے بعد کے امور اللہ کے لیے ہیں۔ مشرکین اللہ کے ساتھ خود ساختہ الہوں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اور ان کو بھی پکارتے تھے۔ حالانکہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور وہی اختیار و انتخاب کرتا ہے۔ اس تخلیق میں کوئی شریک نہیں اور نہ اس کے اختیارات میں کوئی شریک ہے۔ سبحن اللہ و تعلی عما یشرکون (28: 68) ” اللہ پاک ہے ، اور بہت بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔ وربک یعلم ۔۔۔۔۔۔ وما یعلنون (28: 69) ” اور تیرا رب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں “۔ اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں “۔ اس لیے وہ ان کی جن باتوں کو جانتا ہے ، ان پر ان کو سزا دیتا ہے۔ ان کے لیے نتائج وہ منتخب کرتے ہیں ان کے لیے ہدایت و ضلالت کا فیصلہ بھی وہی کرتا ہے۔ وھو اللہ لا الہ الا ھو (28: 70) “ وہ ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ لہٰذا خلق میں یا اختیارات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ (28: 70) ” اس کے لیے حمد ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی “۔ اس بات پر کہ وہ کسی کے لیے کیا انجام اختیار کرتا ہے ، کسی کے لئے کیا انعامات تجویز کرتا ہے ، کسی کے لیے کیا حکمت و تدبیر اختیار کرتا ہے ، کسی کے ساتھ کیا انصاف کرتا ہے اور کسی پر کیا رحمت کرتا ہے ۔ حمد و ثنا صرف اسی کے لیے ہے۔ ولہ الحکم (28: 70) ” حکم اس کا ہے “۔ اس لیے وہ اپنے بندوں کے درمان جو فیصلے چاہتا ہے ، کرتا ہے اس کے کسی امر کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے۔ اور نہ اس کے فیصلوں کو کوئی بدل سکتا ہے۔ والیہ ترجعون (28: 70) ” اور اس کی طرف تم سب پلٹ کر جانے والے ہو “۔ اور آخری فیصلہ بھی وہاں اللہ ہی اپنے پورے اختیارات کے ساتھ کرے گا۔ یوں اللہ تعالیٰ یہ شعور اہل ایمان کے گلے میں تعویذ کی طرح باندھ دیتا ہے کہ اس کائنات میں صرف اللہ کا ارادہ چلتا ہے۔ اور یہ بھی سمجھا دیتا ہے کہ اللہ رازوں کو بھی جانتا ہے ، اس سے کوئی چیز خفیہ نہیں ہے۔ سب نے اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس سے کوئی شخص بچ کر نہیں نکل سکتا۔ کس طرح یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کی جرات کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ اس کے قبضے میں ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ اس کے بعد ایک سفر اس پوری کائنات کا بھی کرایا جاتا ہے جس میں یہ لوگ رہتے ہیں لیکن اس کے اندر اللہ کی جو گہری تدبیر و حکمت کام کر رہی ہے اس سے غافل ہیں۔ حالانکہ ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے تمام فیصلے اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس طرح اللہ ان کے شعور کو اس کائنات کے دو بہت اہم مظاہر کی طرف متوجہ کرتا ہے یعنی گردش لیل و نہار کی طرف۔ اور اس امر کی طرف کہ گردش لیل و نہار کے اس نظام کے اندر اللہ وحدہ کی وحدانیت اور اس کے اختیار مطلق کے کیسے شواہد ہیں۔

القصص 28:69

اب ہر امر اور ہر چیز کو نتیجہ ارادہ الٰہی قرار دیا جاتا ہے ، کیونکہ وہی ذات ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اول میں بھی آخر میں بھی۔ دنیا میں بھی وہی قابل تعریف ہے اور آخرت میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔ دنیا میں بھی اس کا حکم چلتا ہے اور آخرت بھی اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ لوگوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خود کوئی فیصلہ کرسکیں نہ دوسروں کے بارے میں یہاں کوئی انسان کوئی فیصلہ کرسکتا ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، اختیار کرلیتا ہے۔ وربک یخلق ۔۔۔۔۔۔ والیہ ترجعون (68: 70) ” ۔ ۔ “۔ یہ تبصرہ ان لوگوں کے اس ریمارکس کے بعد آیا ہے کہ اگر ہم نے ہدایت کو قبول کرلیا تو ہم اپنی زمین سے اچک لے جائیں گے۔ اسی قول کے بعد یوم الحساب کا ایک منظر پیش کیا گیا اور اس میں مشرکین کے موقف کو پیش کیا گیا۔ اب اس دوسرے تبصرے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کا اختیار تو خود ان کے نفوس کے بارے میں بھی نہیں ہے کہ وہ ازخود امن اور خوف کا کوئی راستہ اپنے لیے اختیار کریں۔ اس لیے اللہ کی وحدانیت کے اختیارات کی وجہ سے آخر کار تمام امور میں اللہ ہی موثر ہے۔ وربک یخلق ما یشآء ویختار ما کان لھم الخیرۃ (28: 68) ” اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور منتخب کرلیتا ہے اور یہ انتخاب ان لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے “۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جسے بسا اوقات لوگ بھال دیتے ہیں یا اس کے بعض پہلوؤں کو لوگ بھلا دیتے ہیں کہ اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کے کاموں کے سلسلے میں کچھ تجاویز دے یا اللہ کی تخلیق میں ۔۔۔۔ اضافہ کرے یا اس کی تخلیق میں تغیر و تبدل کرے۔ وہ اپنی مخلوق میں سے مختلف چیزوں کو مختلف فرائض کے لیے اختیار کرلیتا ہے۔ مختلف مقامات میں مختلف چیزیں اپنا فریضہ ادا کرتی ہیں۔ اس لیے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اللہ کے سامنے کسی شخص کو تجویز کرے ، کسی حادثہ کی تجویز کرے ، کسی حرکت ، کسی بات اور کسی فعل کی تجویز کرے۔ اور نہ ایسا کام اختیار کرنے کا اللہ نے کسی کو اختیار دیا ہے۔ نہ اپنے نفسوں کے بارے میں اور نہ دوسروں کے بارے میں۔ غرض تمام امور کے فیصلے اللہ کرتا ہے ، چھوٹے ہوں یا بڑے۔ اگر لوگوں کے دل و دماغ میں صرف یہ ایک حقیقت بیٹھ جائے تو لوگوں پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کی وجہ سے ہرگز پریشان نہ ہوں ، یا ان کی اپنی وجہ سے ان کو جو تکلیف پہنچتی ہے اس کی وجہ سے بھی وہ پریشان نہ ہوں ، نہ وہ اس چیز کی وجہ سے پریشان ہوں جو ان کے ہاتھوں سے نکل گئی یا وہ محروم ہوگئے کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ ہی ہے جو واقعات کا انتخاب کرتا ہے اور اس کو اختیارات ہیں۔ لیکن اس کا مفہوم یہ بھی نہیں ہے کہ لوگ اپنی عقل کو معطل کردیں ، اداروں کو موقوف کردیں اور سرگرمیاں چھوڑ کر ٹھنڈے ہوکر بیٹھ جائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان غوروفکر کرکے ، اچھی سوچ کے بعد پوری جدوجہد کرے اور اپنی پوری قوت استعمال کرتے ہوئے ایک کام کرے اور اس کے بعد جو نتائج ہوں ، ان کو اللہ پر چھوڑ دے۔ نتائج کو تسلیم ورضا سے قبول کرے۔ کیونکہ اس کے دائرہ قوت میں جو کچھ تھا ، اس نے کرلیا۔ اس کے بعد کے امور اللہ کے لیے ہیں۔ مشرکین اللہ کے ساتھ خود ساختہ الہوں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اور ان کو بھی پکارتے تھے۔ حالانکہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور وہی اختیار و انتخاب کرتا ہے۔ اس تخلیق میں کوئی شریک نہیں اور نہ اس کے اختیارات میں کوئی شریک ہے۔ سبحن اللہ و تعلی عما یشرکون (28: 68) ” اللہ پاک ہے ، اور بہت بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔ وربک یعلم ۔۔۔۔۔۔ وما یعلنون (28: 69) ” اور تیرا رب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں “۔ اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں “۔ اس لیے وہ ان کی جن باتوں کو جانتا ہے ، ان پر ان کو سزا دیتا ہے۔ ان کے لیے نتائج وہ منتخب کرتے ہیں ان کے لیے ہدایت و ضلالت کا فیصلہ بھی وہی کرتا ہے۔ وھو اللہ لا الہ الا ھو (28: 70) “ وہ ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ لہٰذا خلق میں یا اختیارات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ (28: 70) ” اس کے لیے حمد ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی “۔ اس بات پر کہ وہ کسی کے لیے کیا انجام اختیار کرتا ہے ، کسی کے لئے کیا انعامات تجویز کرتا ہے ، کسی کے لیے کیا حکمت و تدبیر اختیار کرتا ہے ، کسی کے ساتھ کیا انصاف کرتا ہے اور کسی پر کیا رحمت کرتا ہے ۔ حمد و ثنا صرف اسی کے لیے ہے۔ ولہ الحکم (28: 70) ” حکم اس کا ہے “۔ اس لیے وہ اپنے بندوں کے درمان جو فیصلے چاہتا ہے ، کرتا ہے اس کے کسی امر کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے۔ اور نہ اس کے فیصلوں کو کوئی بدل سکتا ہے۔ والیہ ترجعون (28: 70) ” اور اس کی طرف تم سب پلٹ کر جانے والے ہو “۔ اور آخری فیصلہ بھی وہاں اللہ ہی اپنے پورے اختیارات کے ساتھ کرے گا۔ یوں اللہ تعالیٰ یہ شعور اہل ایمان کے گلے میں تعویذ کی طرح باندھ دیتا ہے کہ اس کائنات میں صرف اللہ کا ارادہ چلتا ہے۔ اور یہ بھی سمجھا دیتا ہے کہ اللہ رازوں کو بھی جانتا ہے ، اس سے کوئی چیز خفیہ نہیں ہے۔ سب نے اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس سے کوئی شخص بچ کر نہیں نکل سکتا۔ کس طرح یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کی جرات کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ اس کے قبضے میں ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ اس کے بعد ایک سفر اس پوری کائنات کا بھی کرایا جاتا ہے جس میں یہ لوگ رہتے ہیں لیکن اس کے اندر اللہ کی جو گہری تدبیر و حکمت کام کر رہی ہے اس سے غافل ہیں۔ حالانکہ ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے تمام فیصلے اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس طرح اللہ ان کے شعور کو اس کائنات کے دو بہت اہم مظاہر کی طرف متوجہ کرتا ہے یعنی گردش لیل و نہار کی طرف۔ اور اس امر کی طرف کہ گردش لیل و نہار کے اس نظام کے اندر اللہ وحدہ کی وحدانیت اور اس کے اختیار مطلق کے کیسے شواہد ہیں۔

القصص 28:70

اب ہر امر اور ہر چیز کو نتیجہ ارادہ الٰہی قرار دیا جاتا ہے ، کیونکہ وہی ذات ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اول میں بھی آخر میں بھی۔ دنیا میں بھی وہی قابل تعریف ہے اور آخرت میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔ دنیا میں بھی اس کا حکم چلتا ہے اور آخرت بھی اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ لوگوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خود کوئی فیصلہ کرسکیں نہ دوسروں کے بارے میں یہاں کوئی انسان کوئی فیصلہ کرسکتا ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، اختیار کرلیتا ہے۔ وربک یخلق ۔۔۔۔۔۔ والیہ ترجعون (68: 70) ” ۔ ۔ “۔ یہ تبصرہ ان لوگوں کے اس ریمارکس کے بعد آیا ہے کہ اگر ہم نے ہدایت کو قبول کرلیا تو ہم اپنی زمین سے اچک لے جائیں گے۔ اسی قول کے بعد یوم الحساب کا ایک منظر پیش کیا گیا اور اس میں مشرکین کے موقف کو پیش کیا گیا۔ اب اس دوسرے تبصرے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کا اختیار تو خود ان کے نفوس کے بارے میں بھی نہیں ہے کہ وہ ازخود امن اور خوف کا کوئی راستہ اپنے لیے اختیار کریں۔ اس لیے اللہ کی وحدانیت کے اختیارات کی وجہ سے آخر کار تمام امور میں اللہ ہی موثر ہے۔ وربک یخلق ما یشآء ویختار ما کان لھم الخیرۃ (28: 68) ” اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور منتخب کرلیتا ہے اور یہ انتخاب ان لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے “۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جسے بسا اوقات لوگ بھال دیتے ہیں یا اس کے بعض پہلوؤں کو لوگ بھلا دیتے ہیں کہ اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کے کاموں کے سلسلے میں کچھ تجاویز دے یا اللہ کی تخلیق میں ۔۔۔۔ اضافہ کرے یا اس کی تخلیق میں تغیر و تبدل کرے۔ وہ اپنی مخلوق میں سے مختلف چیزوں کو مختلف فرائض کے لیے اختیار کرلیتا ہے۔ مختلف مقامات میں مختلف چیزیں اپنا فریضہ ادا کرتی ہیں۔ اس لیے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اللہ کے سامنے کسی شخص کو تجویز کرے ، کسی حادثہ کی تجویز کرے ، کسی حرکت ، کسی بات اور کسی فعل کی تجویز کرے۔ اور نہ ایسا کام اختیار کرنے کا اللہ نے کسی کو اختیار دیا ہے۔ نہ اپنے نفسوں کے بارے میں اور نہ دوسروں کے بارے میں۔ غرض تمام امور کے فیصلے اللہ کرتا ہے ، چھوٹے ہوں یا بڑے۔ اگر لوگوں کے دل و دماغ میں صرف یہ ایک حقیقت بیٹھ جائے تو لوگوں پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کی وجہ سے ہرگز پریشان نہ ہوں ، یا ان کی اپنی وجہ سے ان کو جو تکلیف پہنچتی ہے اس کی وجہ سے بھی وہ پریشان نہ ہوں ، نہ وہ اس چیز کی وجہ سے پریشان ہوں جو ان کے ہاتھوں سے نکل گئی یا وہ محروم ہوگئے کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ ہی ہے جو واقعات کا انتخاب کرتا ہے اور اس کو اختیارات ہیں۔ لیکن اس کا مفہوم یہ بھی نہیں ہے کہ لوگ اپنی عقل کو معطل کردیں ، اداروں کو موقوف کردیں اور سرگرمیاں چھوڑ کر ٹھنڈے ہوکر بیٹھ جائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان غوروفکر کرکے ، اچھی سوچ کے بعد پوری جدوجہد کرے اور اپنی پوری قوت استعمال کرتے ہوئے ایک کام کرے اور اس کے بعد جو نتائج ہوں ، ان کو اللہ پر چھوڑ دے۔ نتائج کو تسلیم ورضا سے قبول کرے۔ کیونکہ اس کے دائرہ قوت میں جو کچھ تھا ، اس نے کرلیا۔ اس کے بعد کے امور اللہ کے لیے ہیں۔ مشرکین اللہ کے ساتھ خود ساختہ الہوں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اور ان کو بھی پکارتے تھے۔ حالانکہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور وہی اختیار و انتخاب کرتا ہے۔ اس تخلیق میں کوئی شریک نہیں اور نہ اس کے اختیارات میں کوئی شریک ہے۔ سبحن اللہ و تعلی عما یشرکون (28: 68) ” اللہ پاک ہے ، اور بہت بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔ وربک یعلم ۔۔۔۔۔۔ وما یعلنون (28: 69) ” اور تیرا رب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں “۔ اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں “۔ اس لیے وہ ان کی جن باتوں کو جانتا ہے ، ان پر ان کو سزا دیتا ہے۔ ان کے لیے نتائج وہ منتخب کرتے ہیں ان کے لیے ہدایت و ضلالت کا فیصلہ بھی وہی کرتا ہے۔ وھو اللہ لا الہ الا ھو (28: 70) “ وہ ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ لہٰذا خلق میں یا اختیارات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ (28: 70) ” اس کے لیے حمد ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی “۔ اس بات پر کہ وہ کسی کے لیے کیا انجام اختیار کرتا ہے ، کسی کے لئے کیا انعامات تجویز کرتا ہے ، کسی کے لیے کیا حکمت و تدبیر اختیار کرتا ہے ، کسی کے ساتھ کیا انصاف کرتا ہے اور کسی پر کیا رحمت کرتا ہے ۔ حمد و ثنا صرف اسی کے لیے ہے۔ ولہ الحکم (28: 70) ” حکم اس کا ہے “۔ اس لیے وہ اپنے بندوں کے درمان جو فیصلے چاہتا ہے ، کرتا ہے اس کے کسی امر کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے۔ اور نہ اس کے فیصلوں کو کوئی بدل سکتا ہے۔ والیہ ترجعون (28: 70) ” اور اس کی طرف تم سب پلٹ کر جانے والے ہو “۔ اور آخری فیصلہ بھی وہاں اللہ ہی اپنے پورے اختیارات کے ساتھ کرے گا۔ یوں اللہ تعالیٰ یہ شعور اہل ایمان کے گلے میں تعویذ کی طرح باندھ دیتا ہے کہ اس کائنات میں صرف اللہ کا ارادہ چلتا ہے۔ اور یہ بھی سمجھا دیتا ہے کہ اللہ رازوں کو بھی جانتا ہے ، اس سے کوئی چیز خفیہ نہیں ہے۔ سب نے اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس سے کوئی شخص بچ کر نہیں نکل سکتا۔ کس طرح یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کی جرات کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ اس کے قبضے میں ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ اس کے بعد ایک سفر اس پوری کائنات کا بھی کرایا جاتا ہے جس میں یہ لوگ رہتے ہیں لیکن اس کے اندر اللہ کی جو گہری تدبیر و حکمت کام کر رہی ہے اس سے غافل ہیں۔ حالانکہ ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے تمام فیصلے اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس طرح اللہ ان کے شعور کو اس کائنات کے دو بہت اہم مظاہر کی طرف متوجہ کرتا ہے یعنی گردش لیل و نہار کی طرف۔ اور اس امر کی طرف کہ گردش لیل و نہار کے اس نظام کے اندر اللہ وحدہ کی وحدانیت اور اس کے اختیار مطلق کے کیسے شواہد ہیں۔

القصص 28:71

قل ارءیتم ان جعل اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (71 – 74) وگوں کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے رات اور دن کی گردش دیکھ دیکھ کر ان سے اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ اس گردش کے اندر ان کو کوئی بات نئی نہیں لگتی۔ وہ سورج کے طلوع اور غروب سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ اسی طرح دن کا نمودار ہونا اور رات کا چھا جانا بھی ان کو کچھ زیادہ نہیں کرتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ گردش لیل و نہار کے اندر انسانوں کے لیے جو فائدے ہیں اور جو رحمتیں ہیں اور جس طرح یہ گردش ان کو تباہی و ہلاکت سے بچاتی ہے ، اکتانے اور تھکانے سے بچاتی ہے۔ یہ باتیں ان کے شعور میں مسحضر نہیں رہتیں۔ قرآن کریم ان کو غفلت کی نیند سے جگاتا ہے ان کو ذرا اس عادی رویہ اور عادی منظر سے دور لے جاتا ہے۔ ان کو متوجہ کرتا ہے کہ تمہارے اردگرد گردش لیل و نہار کی وجہ سے کس قدر عظیم واقعات رونما ہوتے ہیں تو تم توجہ نہیں کرتے ۔ ذرا اتنا سوچو کہ رات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رک گئی یا دن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہوگیا۔ تو کس قدر خوفناک نتائج کا سامنا تمہیں کرنا ہوگا۔ انسانوں کو کسی چیز کی قدروقیمت کا پتہ تب چلتا ہے جب وہ نہیں ہوتی۔ قل ارءیتم ان جعل ۔۔۔۔۔ افلا تسمعون (28: 71) ” اے نبی ﷺ ، ان سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو اس میں روشنی لا دے۔ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ “۔ جب سردیوں میں رات قدرے طویل ہوجاتی ہے تو لوگ سپیدہ صبح کے لیے بےتاب ہوجاتے ہیں اور جب سورج تھوڑی دیر کے لیے بادلوں میں چھپ جائے تو یہ آرزوئیں کرنے لگتے ہیں کہ سورج نکل آئے۔ اور اگر روشنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی جائے تو ان کی حالت کیا ہوجائے گی جب رات ہمیشہ کے لیے قیامت تک ان پر مسلط ہوجائے۔ یہ تو اس صورت میں ہے کہ یہ پھر زندہ بھی کسی صورت میں رہ سکیں۔ حالانکہ ایسی صورت میں تو خطرہ یہ ہوگا کہ دنیا سے زندگی کے آثار ہی مٹا دئیے جائیں اور کبھی بھی دن نمودار ہو یا زندگی برقرار ہو۔ قل ارءیتم ان جعل اللہ ۔۔۔۔۔ افلا تبصرون (28: 72) ” ان سے پوچھو ، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں رات لا دے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو کیا تم کو سوجھتا نہیں “۔ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اگر دن ذرا طویل ہوجائے تو وہ سایوں کے تعاقب میں دوڑتے ہیں۔ اور گرمیوں میں دن طویل ہو تو رات کے مشتاق ہوتے ہیں اور رات کی تاریکی میں سکون وقرار تلاش کرتے ہیں۔ جبکہ زندگی رات کس سکون بھی چاہتی ہے جبکہ دوسرے دن ، دن کی سرگرمی دکھائی جاسکے۔ لیکن اگر دن قیامت تک کے لئے جاری کردیا گیا تو لوگوں کی حالت کیا ہوجائے گی۔ پہلے تو وہ ختم ہی ہوجائیں گے اور اگر کسی طرح زندہ رہ گئے تو زندگی کس قدر مشکل ہوجائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہر چیز ایک مقدر کے مطابق بنائی ہے۔ اور اس جہاں کی چھوٹی اور بڑی ہر چیز کے پیچھے ایک تدبیر ہے اور ہر چیز اللہ نے ایک اندازے کے مطابق بنائی ہے۔ ومن رحمتہ جعل ۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (28: 73) ” یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے یہ رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اور دن کو اپنے رب کا فضل تلاش کرو ، شاید کہ تم شکر گزار بنو “۔ پس رات سکون وقرار کے لیے ہے۔ دن سرگرمیوں اور جہدوجہد کے لیے ہے۔ اور دن کے اندر نکتہ توجہ یہ ہے کہ انسان کاروبار کرے اور رحمت الٰہی کی تلاش کرے۔ کیونکہ انسان کما کر ہی اللہ کے فضل سے کوئی چیز بطور شکر دوسروں کو دے سکتا ہے۔ اللہ نے تمہیں گردش لیل و نہار کی جو سہولت دی اس کی نعمت و رحمت ہے۔ پھر رات و دن کا ایک نظام کے ساتھ بدلتے رہنا بھی نعمت ہے اس کائنات کے دوسرے سنن اور قوانین طیبیہ اللہ نے پیدا کیے ہیں ، تم نے نہیں جاری کیے۔ اللہ نے ان قوانین کو اپنے علم و حکمت سے جاری کیا اور تم ان سے غافل ہو۔ یہ سبق قیامت سے ایک ایسے منظر پر ختم ہوتا ہے جو بڑی تیزی سے نظروں کے سامنے سے گزر جاتا ہے۔ اس منظر میں سرزنش کے طور پر مشرکین سے پوچھا گیا کہ کہاں ہیں وہ شریک جن کو تم شریک سمجھتے تھے۔ وہاں ان کو ان کے باطل موقف سے دوچار کیا جاتا ہے۔ سوال و جواب کے اس شرمسار کنندہ موقف میں یہ لوگ پگھل کر رہ جاتے ہیں اور ٹوٹ کر زمین پر گرتے ہیں۔

القصص 28:72

قل ارءیتم ان جعل اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (71 – 74) وگوں کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے رات اور دن کی گردش دیکھ دیکھ کر ان سے اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ اس گردش کے اندر ان کو کوئی بات نئی نہیں لگتی۔ وہ سورج کے طلوع اور غروب سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ اسی طرح دن کا نمودار ہونا اور رات کا چھا جانا بھی ان کو کچھ زیادہ نہیں کرتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ گردش لیل و نہار کے اندر انسانوں کے لیے جو فائدے ہیں اور جو رحمتیں ہیں اور جس طرح یہ گردش ان کو تباہی و ہلاکت سے بچاتی ہے ، اکتانے اور تھکانے سے بچاتی ہے۔ یہ باتیں ان کے شعور میں مسحضر نہیں رہتیں۔ قرآن کریم ان کو غفلت کی نیند سے جگاتا ہے ان کو ذرا اس عادی رویہ اور عادی منظر سے دور لے جاتا ہے۔ ان کو متوجہ کرتا ہے کہ تمہارے اردگرد گردش لیل و نہار کی وجہ سے کس قدر عظیم واقعات رونما ہوتے ہیں تو تم توجہ نہیں کرتے ۔ ذرا اتنا سوچو کہ رات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رک گئی یا دن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہوگیا۔ تو کس قدر خوفناک نتائج کا سامنا تمہیں کرنا ہوگا۔ انسانوں کو کسی چیز کی قدروقیمت کا پتہ تب چلتا ہے جب وہ نہیں ہوتی۔ قل ارءیتم ان جعل ۔۔۔۔۔ افلا تسمعون (28: 71) ” اے نبی ﷺ ، ان سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو اس میں روشنی لا دے۔ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ “۔ جب سردیوں میں رات قدرے طویل ہوجاتی ہے تو لوگ سپیدہ صبح کے لیے بےتاب ہوجاتے ہیں اور جب سورج تھوڑی دیر کے لیے بادلوں میں چھپ جائے تو یہ آرزوئیں کرنے لگتے ہیں کہ سورج نکل آئے۔ اور اگر روشنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی جائے تو ان کی حالت کیا ہوجائے گی جب رات ہمیشہ کے لیے قیامت تک ان پر مسلط ہوجائے۔ یہ تو اس صورت میں ہے کہ یہ پھر زندہ بھی کسی صورت میں رہ سکیں۔ حالانکہ ایسی صورت میں تو خطرہ یہ ہوگا کہ دنیا سے زندگی کے آثار ہی مٹا دئیے جائیں اور کبھی بھی دن نمودار ہو یا زندگی برقرار ہو۔ قل ارءیتم ان جعل اللہ ۔۔۔۔۔ افلا تبصرون (28: 72) ” ان سے پوچھو ، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں رات لا دے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو کیا تم کو سوجھتا نہیں “۔ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اگر دن ذرا طویل ہوجائے تو وہ سایوں کے تعاقب میں دوڑتے ہیں۔ اور گرمیوں میں دن طویل ہو تو رات کے مشتاق ہوتے ہیں اور رات کی تاریکی میں سکون وقرار تلاش کرتے ہیں۔ جبکہ زندگی رات کس سکون بھی چاہتی ہے جبکہ دوسرے دن ، دن کی سرگرمی دکھائی جاسکے۔ لیکن اگر دن قیامت تک کے لئے جاری کردیا گیا تو لوگوں کی حالت کیا ہوجائے گی۔ پہلے تو وہ ختم ہی ہوجائیں گے اور اگر کسی طرح زندہ رہ گئے تو زندگی کس قدر مشکل ہوجائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہر چیز ایک مقدر کے مطابق بنائی ہے۔ اور اس جہاں کی چھوٹی اور بڑی ہر چیز کے پیچھے ایک تدبیر ہے اور ہر چیز اللہ نے ایک اندازے کے مطابق بنائی ہے۔ ومن رحمتہ جعل ۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (28: 73) ” یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے یہ رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اور دن کو اپنے رب کا فضل تلاش کرو ، شاید کہ تم شکر گزار بنو “۔ پس رات سکون وقرار کے لیے ہے۔ دن سرگرمیوں اور جہدوجہد کے لیے ہے۔ اور دن کے اندر نکتہ توجہ یہ ہے کہ انسان کاروبار کرے اور رحمت الٰہی کی تلاش کرے۔ کیونکہ انسان کما کر ہی اللہ کے فضل سے کوئی چیز بطور شکر دوسروں کو دے سکتا ہے۔ اللہ نے تمہیں گردش لیل و نہار کی جو سہولت دی اس کی نعمت و رحمت ہے۔ پھر رات و دن کا ایک نظام کے ساتھ بدلتے رہنا بھی نعمت ہے اس کائنات کے دوسرے سنن اور قوانین طیبیہ اللہ نے پیدا کیے ہیں ، تم نے نہیں جاری کیے۔ اللہ نے ان قوانین کو اپنے علم و حکمت سے جاری کیا اور تم ان سے غافل ہو۔ یہ سبق قیامت سے ایک ایسے منظر پر ختم ہوتا ہے جو بڑی تیزی سے نظروں کے سامنے سے گزر جاتا ہے۔ اس منظر میں سرزنش کے طور پر مشرکین سے پوچھا گیا کہ کہاں ہیں وہ شریک جن کو تم شریک سمجھتے تھے۔ وہاں ان کو ان کے باطل موقف سے دوچار کیا جاتا ہے۔ سوال و جواب کے اس شرمسار کنندہ موقف میں یہ لوگ پگھل کر رہ جاتے ہیں اور ٹوٹ کر زمین پر گرتے ہیں۔

القصص 28:73

قل ارءیتم ان جعل اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (71 – 74) وگوں کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے رات اور دن کی گردش دیکھ دیکھ کر ان سے اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ اس گردش کے اندر ان کو کوئی بات نئی نہیں لگتی۔ وہ سورج کے طلوع اور غروب سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ اسی طرح دن کا نمودار ہونا اور رات کا چھا جانا بھی ان کو کچھ زیادہ نہیں کرتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ گردش لیل و نہار کے اندر انسانوں کے لیے جو فائدے ہیں اور جو رحمتیں ہیں اور جس طرح یہ گردش ان کو تباہی و ہلاکت سے بچاتی ہے ، اکتانے اور تھکانے سے بچاتی ہے۔ یہ باتیں ان کے شعور میں مسحضر نہیں رہتیں۔ قرآن کریم ان کو غفلت کی نیند سے جگاتا ہے ان کو ذرا اس عادی رویہ اور عادی منظر سے دور لے جاتا ہے۔ ان کو متوجہ کرتا ہے کہ تمہارے اردگرد گردش لیل و نہار کی وجہ سے کس قدر عظیم واقعات رونما ہوتے ہیں تو تم توجہ نہیں کرتے ۔ ذرا اتنا سوچو کہ رات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رک گئی یا دن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہوگیا۔ تو کس قدر خوفناک نتائج کا سامنا تمہیں کرنا ہوگا۔ انسانوں کو کسی چیز کی قدروقیمت کا پتہ تب چلتا ہے جب وہ نہیں ہوتی۔ قل ارءیتم ان جعل ۔۔۔۔۔ افلا تسمعون (28: 71) ” اے نبی ﷺ ، ان سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو اس میں روشنی لا دے۔ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ “۔ جب سردیوں میں رات قدرے طویل ہوجاتی ہے تو لوگ سپیدہ صبح کے لیے بےتاب ہوجاتے ہیں اور جب سورج تھوڑی دیر کے لیے بادلوں میں چھپ جائے تو یہ آرزوئیں کرنے لگتے ہیں کہ سورج نکل آئے۔ اور اگر روشنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی جائے تو ان کی حالت کیا ہوجائے گی جب رات ہمیشہ کے لیے قیامت تک ان پر مسلط ہوجائے۔ یہ تو اس صورت میں ہے کہ یہ پھر زندہ بھی کسی صورت میں رہ سکیں۔ حالانکہ ایسی صورت میں تو خطرہ یہ ہوگا کہ دنیا سے زندگی کے آثار ہی مٹا دئیے جائیں اور کبھی بھی دن نمودار ہو یا زندگی برقرار ہو۔ قل ارءیتم ان جعل اللہ ۔۔۔۔۔ افلا تبصرون (28: 72) ” ان سے پوچھو ، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں رات لا دے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو کیا تم کو سوجھتا نہیں “۔ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اگر دن ذرا طویل ہوجائے تو وہ سایوں کے تعاقب میں دوڑتے ہیں۔ اور گرمیوں میں دن طویل ہو تو رات کے مشتاق ہوتے ہیں اور رات کی تاریکی میں سکون وقرار تلاش کرتے ہیں۔ جبکہ زندگی رات کس سکون بھی چاہتی ہے جبکہ دوسرے دن ، دن کی سرگرمی دکھائی جاسکے۔ لیکن اگر دن قیامت تک کے لئے جاری کردیا گیا تو لوگوں کی حالت کیا ہوجائے گی۔ پہلے تو وہ ختم ہی ہوجائیں گے اور اگر کسی طرح زندہ رہ گئے تو زندگی کس قدر مشکل ہوجائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہر چیز ایک مقدر کے مطابق بنائی ہے۔ اور اس جہاں کی چھوٹی اور بڑی ہر چیز کے پیچھے ایک تدبیر ہے اور ہر چیز اللہ نے ایک اندازے کے مطابق بنائی ہے۔ ومن رحمتہ جعل ۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (28: 73) ” یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے یہ رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اور دن کو اپنے رب کا فضل تلاش کرو ، شاید کہ تم شکر گزار بنو “۔ پس رات سکون وقرار کے لیے ہے۔ دن سرگرمیوں اور جہدوجہد کے لیے ہے۔ اور دن کے اندر نکتہ توجہ یہ ہے کہ انسان کاروبار کرے اور رحمت الٰہی کی تلاش کرے۔ کیونکہ انسان کما کر ہی اللہ کے فضل سے کوئی چیز بطور شکر دوسروں کو دے سکتا ہے۔ اللہ نے تمہیں گردش لیل و نہار کی جو سہولت دی اس کی نعمت و رحمت ہے۔ پھر رات و دن کا ایک نظام کے ساتھ بدلتے رہنا بھی نعمت ہے اس کائنات کے دوسرے سنن اور قوانین طیبیہ اللہ نے پیدا کیے ہیں ، تم نے نہیں جاری کیے۔ اللہ نے ان قوانین کو اپنے علم و حکمت سے جاری کیا اور تم ان سے غافل ہو۔ یہ سبق قیامت سے ایک ایسے منظر پر ختم ہوتا ہے جو بڑی تیزی سے نظروں کے سامنے سے گزر جاتا ہے۔ اس منظر میں سرزنش کے طور پر مشرکین سے پوچھا گیا کہ کہاں ہیں وہ شریک جن کو تم شریک سمجھتے تھے۔ وہاں ان کو ان کے باطل موقف سے دوچار کیا جاتا ہے۔ سوال و جواب کے اس شرمسار کنندہ موقف میں یہ لوگ پگھل کر رہ جاتے ہیں اور ٹوٹ کر زمین پر گرتے ہیں۔

القصص 28:74

ویوم ینادیھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یفترون (74 – 75) قیامت کے دن پکارنے کا منظر اور شرکاء کی بابت پوچھنے کا وقفہ گزشتہ سبق میں بھی گزرا ہے لیکن یہاں اسے بطور تاکید دوبارہ ایک نئے منظر میں لایا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ سوال و جواب ایک گواہ کے سامنے ہوگا۔ یہ ہر امت کا نبی ہوگا اور یہ شہادت دے گا کہ کس نے دعوت اسلامی کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا۔ اس منظر میں اصل مقصد یہ ہے کہ نبی کے سامنے لایا جائے گا تاکہ اس کی امت بھی اسے سب کی سب دیکھے اور وہ بھی ان کو سب کے سب کو دیکھے۔ اور اس عظیم گواہ کے سامنے مشرکین کو مزید شرمسار کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے کہ وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم ایسا سمجھتے تھے ۔ اس وقت ان کا نہ کوئی شریک ہوگا اور نہ اس شرک پر کوئی دلیل ہوگی۔ اور نہ وہ دنیا کی طرف ہٹ دھرمی کرسکیں گے۔ اور نہ کوئی مکالمہ اور دلیل پیش کرسکیں گے۔ فعلموا ان الحق للہ (28: 75) ” ان کو معلوم ہوگا کہ حق اللہ کی طرف ہے “۔ اور ایسا حق اور سچائی اللہ کی طرف ہوگی جس میں کوئی شبہ نہ ہوگا۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون (28: 75) ” اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے “۔ یعنی ارتکاب شرک ، شرکاء۔ نہ شرکاء ان کو دیکھیں گے اور نہ یہ شرکاء کو پا سکیں گے۔ حالانکہ اس مکالمے اور مناظرے کے وقت برہان کی ضرورت تھی۔ یہاں آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے پر تبصرہ ختم ہوتا ہے۔ اس تبصرے میں انسانوں کے دل و دماغ کو ایک وسیع بنیاد کی سیرکرائی گئی۔ دنیا کی بھی ، آخرت کی بھی ، انفس انسانی کے نشیب و فراز میں بھی اسے پھرایا گیا ، اور اس کائنات کی وسعتوں میں بھی ، سابقہ مکذبین کے کھنڈرات میں بھی اور اس کائنات کے سنن الہیہ میں بھی۔ اور یہ تمام سورت کے اصل مقاصد اور اس کے قصوں کے مضمون کے ساتھ ہم آہنگ اور مربوط رہی۔ اب ہم سورت کے دوسرے قصے کی طرف آتے ہیں۔

القصص 28:75

ویوم ینادیھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یفترون (74 – 75) قیامت کے دن پکارنے کا منظر اور شرکاء کی بابت پوچھنے کا وقفہ گزشتہ سبق میں بھی گزرا ہے لیکن یہاں اسے بطور تاکید دوبارہ ایک نئے منظر میں لایا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ سوال و جواب ایک گواہ کے سامنے ہوگا۔ یہ ہر امت کا نبی ہوگا اور یہ شہادت دے گا کہ کس نے دعوت اسلامی کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا۔ اس منظر میں اصل مقصد یہ ہے کہ نبی کے سامنے لایا جائے گا تاکہ اس کی امت بھی اسے سب کی سب دیکھے اور وہ بھی ان کو سب کے سب کو دیکھے۔ اور اس عظیم گواہ کے سامنے مشرکین کو مزید شرمسار کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے کہ وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم ایسا سمجھتے تھے ۔ اس وقت ان کا نہ کوئی شریک ہوگا اور نہ اس شرک پر کوئی دلیل ہوگی۔ اور نہ وہ دنیا کی طرف ہٹ دھرمی کرسکیں گے۔ اور نہ کوئی مکالمہ اور دلیل پیش کرسکیں گے۔ فعلموا ان الحق للہ (28: 75) ” ان کو معلوم ہوگا کہ حق اللہ کی طرف ہے “۔ اور ایسا حق اور سچائی اللہ کی طرف ہوگی جس میں کوئی شبہ نہ ہوگا۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون (28: 75) ” اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے “۔ یعنی ارتکاب شرک ، شرکاء۔ نہ شرکاء ان کو دیکھیں گے اور نہ یہ شرکاء کو پا سکیں گے۔ حالانکہ اس مکالمے اور مناظرے کے وقت برہان کی ضرورت تھی۔ یہاں آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے پر تبصرہ ختم ہوتا ہے۔ اس تبصرے میں انسانوں کے دل و دماغ کو ایک وسیع بنیاد کی سیرکرائی گئی۔ دنیا کی بھی ، آخرت کی بھی ، انفس انسانی کے نشیب و فراز میں بھی اسے پھرایا گیا ، اور اس کائنات کی وسعتوں میں بھی ، سابقہ مکذبین کے کھنڈرات میں بھی اور اس کائنات کے سنن الہیہ میں بھی۔ اور یہ تمام سورت کے اصل مقاصد اور اس کے قصوں کے مضمون کے ساتھ ہم آہنگ اور مربوط رہی۔ اب ہم سورت کے دوسرے قصے کی طرف آتے ہیں۔

القصص 28:76

درس نمبر 178 ایک نظر میں اس سورت کا ابتدائی حصہ قصہ فرعون و کلیم پر مشتمل تھا۔ اس قصے میں بتا یا گیا تھا کہ قوت اور اقتدار کے نتیجے میں کسی طرح نافرمانی اور سرکشی آتی ہے ۔ اور حکمران کس طرح اللہ کی ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتے ہیں اور پھر ان سب باتوں کے نتیجے میں وہ زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ اب یہاں قارون کا قصہ لایا جاتا ہے کہ مال اور علم و ہنر جب سرکشی اختیار کرلیں ، مالدار اترانے لگیں ، عوام پر برتری جتلائیں ، اللہ کی نعمتوں کا انکار کریں تو ان پر کس طرح ہلاکت آتی ہے۔ اس کے بعد درست تصورات اور نظریات کے مطابق مال اور علم دنیا کی زیب وزینت ہیں اور ایمان اور نیک عمل کے مقابلے میں علم و ہنر اور مال و دولت کی کوئی قدر نہیں ہے۔ نیز درست طرف فکر و عمل یہ ہے کہ علم و ہنر اور مال و دولت کو اعتدال کے ساتھ ضروریات زندگی کے لیے استعمال کیا جائے۔ علو فی الارض اور فساد فی الارض کے لیے نہیں۔ قرآن کریم نے اس قصے کا زمان و مکان بیان نہیں کیا۔ بس اس قدر معلومات کافی ہیں کہ یہ محض قوم موسیٰ میں سے تھا اور یہ موسیٰ (علیہ السلام) سے باغی ہوگیا تھا۔ کیا یہ واقعہ اس وقت ہوا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل خروج سے قبل مصر ہی میں تھے ؟ یا موسیٰ (علیہ السلام) کے خروج کے بعد ؟ یا بنی اسرائیل میں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا۔ اور خود موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں یہ واقعہ ہوا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ قارون نے حضرت موسیٰ کو اذیت بھی دی تھی اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف رشوت دے کر ان کو ایک عورت کے ساتھ سکینڈل میں الجھانے کی کوشش کی تھی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ کو ۔۔۔ لیا اور قارون زمین میں دھنسا دیا گیا۔ ہمیں ان روایات کی ضرورت نہیں ہے ، نہ اس قصے کے زمان و مکان کے تعین کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم میں جس طرح یہ قصہ آیا ہے اس سے اس کے لانے کے مقاصد اچھی طرح واضح ہوتے ہیں اور وہ اقدار وہ اصول واضح طور پر ہمارے سامنے آجاتے ہیں جن کی وجہ سے یہ قصہ لایا گیا۔ اگر اس کے زمان و مکان اور اس کے ماحول کے دوسرے واقعات و حالات کی یہاں ضرورت ہوئی اور ان سے کسی مزید حقیقت ، قدر یا اصول کی وضاحت ہوتی تو اللہ ضرور وہ دوسری تفصیلات بھی دے دیتا۔ لہٰذا ہم اس کی تشریح صرف قرآنی اسلوب ہی میں کرتے ہیں اور ان روایات سے ہٹ کر اس کی وضاحت کرتے ہیں کیونکہ ان تک اس کی تشریح کے سلسلے میں کوئی ضرورت باقی نہیں ہے۔ درس نمبر 178 تشریح آیات 76 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ 84 ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ علی علم عندی (76 – 77) ” ۔ “۔ تو اس نے کہا ” یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے “۔ یوں اس قصے کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کے ہیرو کا نام قارون ہے۔ اس کی قوم ، قوم موسیٰ ہے اور اس نے اپنی قوم کے عقائد سے بغاوت کرلی۔ یہ اپنی قوم کے خلاف ظلم کا ارتکاب بھی کرتا اور یہ بغاوت اور ظلم وہ محض اپنی دولت مندی کی وجہ سے کرتا۔ واتینہ من الکنوز۔۔۔۔۔۔ اولی القوۃ (28: 76) ” اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ اور اس کے بعد پھر واقعات ، اقوال اور وہ تاثرات بیان کیے جاتے ہیں جو اس قصے کے ساتھ ساتھ ذہن میں آتے ہیں ۔۔۔ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم قوم تھا۔ اللہ نے اسے بہت بڑی دولت دی۔ اس کی کثرت کی وجہ سے اسے خزانوں سے تعبیر کیا گیا۔ کنز (خزانہ) اس مال کو کہا جاتا ہے جو استعمال اور گردش سے زیادہ اور جسے محفوظ جگہ میں رکھا گیا ہو۔ نظروں سے اوجھل۔ اور یہ دولت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی تجوریوں کی چابیاں بھی بہت زیادہ تھیں۔ اور ان کو طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت ہی اٹھا سکتی تھی۔ اس دولت کی وجہ سے قارون اپنی قوم سے باغی ہوگیا۔ یہاں اس کا ذکر نہیں ہے کہ اس نے کسی قسم کی بغاوت کی۔ یہاں بغاوت مجمل ہے اس لیے اس سے ہر قسم کی بغاوت اور نافرمانی مراد ہو سکتی ہے۔ یہ بغاوت بنی اسرائیل پر ظلم کے ذریعہ بھی ہوسکتی ہے۔ ان کی اراضی غصب کرنے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ ان کی دوسری چیزیں چھین لینے سے بھی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ مال پر دست درازی کرنے والے اکثر لوگ کرتے ہیں۔ غریبوں کا ستحصال کرتے ہیں۔ یہ بھی بغاوت ہے کہ قارون کے مال میں غریبوں کا حق تھا اور وہ ادا نہ کرتا تھا۔ کیونکہ اغنیاء کے اموال میں فقراء کا حق ہوتا ہے۔ تاکہ یہ مال اغنیاء کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ محتاجوں تک بھی جائے۔ اس طرح طبقاتی نفرت پیدا ہوتی ہے اور سوسائٹی کا امن وامان تباہ ہوتا ہے۔ یہ بغاوتیں بھی ہو سکتی ہیں اور اس کے سوا اور بھی نافرمانیاں ہو سکتی ہیں۔ بہرحال قارون کی قوم میں ایسے لوگ تھے جو چاہتے تھے کہ یہ اس بغاوت سے باز آجائے اور اسلام کے عادلانہ نظام معیشت کی طرف آجائے ، جو اللہ نے دولت میں تصرف کیلئے مقرر فرمایا ہے۔ اور یہ ایسا نظام ہے کہ جس کے ذریعہ دولت مند اپنی دولت سے محروم نہیں ہوتا۔ اور وہ اعتدال کے ساتھ اپنی دولت سے استفادہ کرسکتا ہے ، جو اللہ نے اسے بخشا ہے لیکن یہ نظام میانہ روی اور اعتدال کو اہل ثروت کے لئے لازم قرار دیتا ہے ، اور یہ کہ وہ اس ذات کو ہر وقت دل میں رکھیں جس نے انہیں یہ مال دیا ہے اور دولت کو اس طرح کام میں لائیں کہ قیامت میں اپنے کیے کا حساب دے سکیں۔ اذ قال لہ قومہ لا تفرح ۔۔۔۔۔۔ لا یحب المفسدین (28: 76 – 77) ” ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ” پھول نہ جا ، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے ابھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر ، جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے ، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر ، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اس آیت میں ان سب اقدار اور خصوصیات کو جمع کردیا گیا ہے جو تمام دوسرے نظامہائے زندگی کے مقابلے میں اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات ہیں۔ اور وہ صرف اسلام میں پائی جاتی ہیں۔ لا تفرح (28: 76) ” پھول نہ جاؤ “۔ مال اور دولت پر مست ہوکر حد سے زیادہ خوشی محسوس نہ کرو۔ دولت کے ساتھ ضرورت سے زیادہ دلچسپی نہ لو ، اور دل کو خزانوں کے ساتھ باندھ نہ دو ۔ مملوکات اور مقبوضات کو دیکھ کر زیادہ مسرت کا اظہار نہ کرو ، اور دولت پر اس طرح نہ پھول جاؤ کہ دولت عطا کرنے والے ہی کو بھول جاؤ۔ اللہ کی نعمتوں کو بھلا دو اور اس کا حمد و شکر چھوڑ دو ۔ بعض لوگ مال و دولت ہی کی وجہ سے ہلکے ہوکر ہوا میں اڑنے لگتے ہیں ، ان کا دماغ بھی اڑنے لگتا ہے اور محض دولت کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں اور لوگوں پر دست درازی کرتے ہیں۔ ان اللہ لا یحب الفرحین (28: 76) ” اللہ بھول جانے والے لوگوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اس طرح قارون کی قوم نے کوشش کی کہ قارون کو اللہ کی طرف لوٹا دے ، کیونکہ اللہ مال اور دولت کی اساس پر غرور اور تکبر کو پسند نہیں کرتا اور نہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو دولت کی وجہ سے دوسرے کے ساتھ ظلم کرتے ہیں اور ان کا استحصال کرتے ہیں۔ وابتغ فیما ۔۔۔۔۔ من الدنیا (28: 77) ” جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے ، اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے ابھی اپنا حصہ فراموش نہ کر “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا نظام زندگی کس قدر معتدل اور سیدھا ہے جو ایسے دل کو جس کے پاس دولت ہے آخرت کے ساتھ بھی باندھ دیتا ہے اور اسے دنیا کے حصہ سے بھی محروم نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اسے حکم دیتا ہے کہ دنیا میں مال سے استفادہ کو بھول نہ جاؤ، اس طرح نہ ہو کہ تم تارک الدنیا ہوکر اس دنیا کی زندگی کو معطل کر دو ۔ اللہ نے دنیا کے اندر یہ پاکیزہ چیزیں اس لیے تو پیدا کی ہیں کہ لوگ ان سے استفادہ کریں اور زمین میں ان پاکیزہ چیزوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے ہر وقت کوشاں رہیں اور زندگی میں ترقی اور تنوع ہوتا رہے۔ اور اس طرح انسان اس کرہ ارض پر منصب خلافت ادا کرتا رہے۔ لیکن یہ پیداوار اور یہ ترقی عالم آخرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہو۔ آخرت کی راہ سے لوگ منحرف نہ ہوں اور آخرت کی تکالیف اور فرائض کو بھول نہ جائیں۔ اس انداز سے دنیا کے سازوسامان سے لطف اندوز ہونا بھی ایک طرح کا شکر نعمت ہے اور اللہ کے دین کو قبول کرنا ہے اور ان سے لطف اندوز ہونا ہے اور یہ بھی اللہ کی عبادت میں سے ایک عبادت اور اطاعت ہے۔ یوں اسلامی نظام زندگی ، انسانی زندگی کے اندر اعتدال اور ہم آہنگی پیدا کردیتا ہے اور اس معتدل زندگی ہی کے ذریعہ اس کو روحانی ترقی کے مدارج بھی طے کراتا ہے جس میں کسی قسم کی محرومیت نہیں ہوتی اور نہ اسی میں انسان کی فطری زندگی کے کسی بھی حصے کا تعطل لازم آتا ہے۔ واحسن کما احسن اللہ الیک (28: 77) ” احسان کرو ، جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا “۔ یہ مال اللہ کی طرف سے بخشش اور انعام ہے۔ اور اللہ کا احسان ہے۔ لہٰذا احسان کا بدلہ احسان ہونا چاہئے۔ اس احسان کو قبول کرو ، احسان کے ساتھ اس میں تصرف کرو ، اور لوگوں کے اوپر احسان کرو اور اپنے ذہن میں اللہ کے اس احسان کا شعور تازہ رکھو اور شکر ادا کرتے رہو۔ گہرے شعور کے ساتھ صرف زبان سے شکر گایا نہ کرو۔ ولا تبغ الفساد فی الارض (28: 77) ” اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو “۔ یعنی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے فساد نہ کرو ، اور دنیا کا سازو سامان اگر خدا خوفی اور آخرت کے حساب سے مبرا ہو کر استعمال کیا جائے تو اس سے زمین میں فساد برپا ہوتا ہے ، یوں کہ مالداروں کے خلاف لوگوں کے دل میں حسد ، بغض اور کینہ کی آگ جلنا شروع ہوجاتی ہے اور اگر مال کو بےجا طریقے سے خرچ کیا جائے تو بھی ظلم اور فساد کا باعث۔ اگر جائز طریقوں میں خرچ سے روکا جائے تو بھی ظلم کا باعث ہے۔ ان اللہ لا یحب المفسدین (28: 77) ” اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا “۔ جس طرح اللہ تعالیٰ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح مفسدوں کو بھی پسند نہیں کرتا۔ یہ تو تھیہ نصیحت قوم قارون کی ، قارون کو ، اس پوری اصلاحی تقریر کے جواب میں وہ بس ایک ہی جملہ کہتا ہے لیکن یہ جملہ جامع شروفساد ہے۔ قال انما اوتیتہ علی علم عندی (28: 78) ” تو اس نے کہا ، یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے “۔۔۔ یعنی میرے علم و ہنر نے اس مال کو جمع کیا ہے ، لہٰذا یہ مرا حق ہے۔ تم کون ہوتے ہو مجھے اس کے تصرف کے لیے خاص ہدایات دینے والے ؟ اور میری مخصوص ذاتی ملکیت کے بارے میں ازخود فیصلے کرنے والے۔ یہ مال تو میں نے بڑی جدوجہد کے بعد بنایا ہے اور اپنی مہارت اور دانش مندی کی وجہ سے اس دن کا اہل ہوا ہوں۔ یہ اس مغرور اور برخود غلط شخص کی بات ہے جو نعمت اور حکمت کے اصل مصدر کو فراموش کردیتا ہے اور جسے مال فتنے میں ڈال دیتا ہے اور دولت اندھا کردیتی ہے۔ اس قسم کے لوگ انسانوں میں ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ان کے مالدار ہونے کا حقیقی سبب ہے۔ اس لیے اپنے حاصل کیے ہوئے مال کے بارے میں انہیں مسئول نہ ہونا شاہئے۔ اس مال کو وہ اصلاح کے کاموں میں لگائے یا فساد کے کاموں میں ، اس کے اوپر کوئی محاسبہ نہ ہونا چاہئے۔ اور اس کی خوشی اور غمی اور مرضی اور انکار کے اوپر اور کوئی نگرانی نہ ہونا چاہئے۔ اسلام انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے اور حلال طریقوں سے دولت جمع کرنے کی اسلام حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسلام انفرادی جدوجہد کو نظر انداز نہیں کرتا اور نہ اسے فضول سمجھتا ہے۔ لیکن اسلام اس آزادی کے ساتھ ساتھ انفرادی ، دولت اور مملوکات کے استعمال کے لیے ضابطہ بھی متعین کرتا ہے جیسا کہ دولت کے کمانے اور ترقی دینے کے لیے اسلام ایک منہاج مقرر کرتا ہے۔ اسلام کا طریقہ کار اور اس کی معاشی پالیسی نہایت معتدل اور متوازن ہے۔ اس میں فرد اپنی جدوجہد کے ثمرات سے محروم نہیں ہوتا اور وہ اس جمع کردہ دولت کو اس طرح صرف بھی نہیں کرسکتا کہ وہ اسراف اور تبذیر کی حدود میں داخل ہوجائے اور نہ اس کو یوں جمع اور خزانہ کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کنجوسی اور مکھی چوسی کی حدود میں داخل ہوجائے۔ اسلام انفرادی ملکیت میں سوسائٹی کو بھی حصہ دار کرتا ہے اور انفرادی دولت کمانے کی بھی نگرانی کرتا ہے۔ دولت کو ترقی دینے کے طریقے بھی منصفانہ طور پر متعین کرتا ہے اور ان سے استفادہ کرنے اور خرچہ کرنے پر بھی کنڑول کرتا ہے۔ اسلام کی معاشی ہدایات واضح ہیں اور ممتاز خصوصیات کی مالک ہیں۔ بہرحال قارون نے اپنی قوم کی آواز پر لبیک نہ کہا۔ اس نے اللہ کے انعامات کا شعور قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور اسلام کی معاشی پالیسی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور نہایت ہی گھٹیا انداز میں قوم کی اس نصیحت سے اس نے منہ موڑا۔ چناچہ آیت کے خاتمہ سے بھی پہلے اسے تنبیہہ کردی گئی اور اس کے اس فقرے کو رد کردیا گیا۔ اولم یعلم ان اللہ ۔۔۔۔۔ ذنوبھم المجرمون (78) ” “۔ اگر تم صاحب مال دولت ہو اور کچھ قوت رکھتے ہو ، تو تم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ایسی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو تم سے مال میں بھی زیادہ تھیں اور قوت اور گرفت میں بھی۔ یہ تاریخی حقیقت تمہیں معلوم ہونا چاہئے کیونکہ اس علم سے تمہیں نجات ملے گی۔ اس سے نہیں جس کے بل بوتے پر تم نے دولت جمع کی ہے۔ تم جیسے نو دولتے تو اس قابل ہی نہیں کہ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ اگر انہیں ہلاک کرے تو اس سے پوچھے یا نوٹس دے۔ کیونکہ نہ تم فیصلہ کرنے والے ہو اور نہ گواہ ہو۔ ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون (28: 78) ” مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے “۔ اس قصے کے مناظر میں سے یہ پہلا منظر تھا اس منظر میں نظر آتا ہے کہ سرمایہ دار ہمیشہ سرکش اور ظلم کرتے ہیں۔ وہ نصیحت پر کام نہیں دھرتے ، نصیحت سے اپنے آپ کو بالا سمجھتے ہیں کہ ان کا نفس کبھی ان کو شکر نعمت بجا لانے پر بھی آمادہ نہیں کرتا۔ دوسرے منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ قارون کسی موقع پر اپنی دولت کی نمائش کرتا ہے۔ اس کی اس نمائش کو دیکھ کر بعض اہل ایمان کے دل بھی اڑنے لگے۔ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہونے لگے اور رہ تمنائیں کرنے لگے کہ ہمیں بھی ایسا ہی دیا جائے جس طرح قارون کو دیا جاتا ہے اور وہ لوگ جن کو دولت سے محروم رکھا گیا تھا انہوں نے یہ تبصرہ کیا کہ قارون کو تو دولت کا حظ و افر دیا گیا ہے ۔ اس موقع پر صحیح علماء اور مومنی سامنے آتے ہیں اور وہ دکھاتے ہیں کہ وہ قارون کی اس نمائش سے بلند ہیں اور جو لوگ اس مظاہرہ سے متاثر ہوگئے تھے ان کو وہ نہایت ہی اعتماد ، یقین اور زوردار انداز سے منع کرتے ہیں “۔

القصص 28:77

درس نمبر 178 ایک نظر میں اس سورت کا ابتدائی حصہ قصہ فرعون و کلیم پر مشتمل تھا۔ اس قصے میں بتا یا گیا تھا کہ قوت اور اقتدار کے نتیجے میں کسی طرح نافرمانی اور سرکشی آتی ہے ۔ اور حکمران کس طرح اللہ کی ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتے ہیں اور پھر ان سب باتوں کے نتیجے میں وہ زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ اب یہاں قارون کا قصہ لایا جاتا ہے کہ مال اور علم و ہنر جب سرکشی اختیار کرلیں ، مالدار اترانے لگیں ، عوام پر برتری جتلائیں ، اللہ کی نعمتوں کا انکار کریں تو ان پر کس طرح ہلاکت آتی ہے۔ اس کے بعد درست تصورات اور نظریات کے مطابق مال اور علم دنیا کی زیب وزینت ہیں اور ایمان اور نیک عمل کے مقابلے میں علم و ہنر اور مال و دولت کی کوئی قدر نہیں ہے۔ نیز درست طرف فکر و عمل یہ ہے کہ علم و ہنر اور مال و دولت کو اعتدال کے ساتھ ضروریات زندگی کے لیے استعمال کیا جائے۔ علو فی الارض اور فساد فی الارض کے لیے نہیں۔ قرآن کریم نے اس قصے کا زمان و مکان بیان نہیں کیا۔ بس اس قدر معلومات کافی ہیں کہ یہ محض قوم موسیٰ میں سے تھا اور یہ موسیٰ (علیہ السلام) سے باغی ہوگیا تھا۔ کیا یہ واقعہ اس وقت ہوا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل خروج سے قبل مصر ہی میں تھے ؟ یا موسیٰ (علیہ السلام) کے خروج کے بعد ؟ یا بنی اسرائیل میں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا۔ اور خود موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں یہ واقعہ ہوا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ قارون نے حضرت موسیٰ کو اذیت بھی دی تھی اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف رشوت دے کر ان کو ایک عورت کے ساتھ سکینڈل میں الجھانے کی کوشش کی تھی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ کو ۔۔۔ لیا اور قارون زمین میں دھنسا دیا گیا۔ ہمیں ان روایات کی ضرورت نہیں ہے ، نہ اس قصے کے زمان و مکان کے تعین کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم میں جس طرح یہ قصہ آیا ہے اس سے اس کے لانے کے مقاصد اچھی طرح واضح ہوتے ہیں اور وہ اقدار وہ اصول واضح طور پر ہمارے سامنے آجاتے ہیں جن کی وجہ سے یہ قصہ لایا گیا۔ اگر اس کے زمان و مکان اور اس کے ماحول کے دوسرے واقعات و حالات کی یہاں ضرورت ہوئی اور ان سے کسی مزید حقیقت ، قدر یا اصول کی وضاحت ہوتی تو اللہ ضرور وہ دوسری تفصیلات بھی دے دیتا۔ لہٰذا ہم اس کی تشریح صرف قرآنی اسلوب ہی میں کرتے ہیں اور ان روایات سے ہٹ کر اس کی وضاحت کرتے ہیں کیونکہ ان تک اس کی تشریح کے سلسلے میں کوئی ضرورت باقی نہیں ہے۔ درس نمبر 178 تشریح آیات 76 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ 84 ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ علی علم عندی (76 – 77) ” ۔ “۔ تو اس نے کہا ” یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے “۔ یوں اس قصے کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کے ہیرو کا نام قارون ہے۔ اس کی قوم ، قوم موسیٰ ہے اور اس نے اپنی قوم کے عقائد سے بغاوت کرلی۔ یہ اپنی قوم کے خلاف ظلم کا ارتکاب بھی کرتا اور یہ بغاوت اور ظلم وہ محض اپنی دولت مندی کی وجہ سے کرتا۔ واتینہ من الکنوز۔۔۔۔۔۔ اولی القوۃ (28: 76) ” اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ اور اس کے بعد پھر واقعات ، اقوال اور وہ تاثرات بیان کیے جاتے ہیں جو اس قصے کے ساتھ ساتھ ذہن میں آتے ہیں ۔۔۔ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم قوم تھا۔ اللہ نے اسے بہت بڑی دولت دی۔ اس کی کثرت کی وجہ سے اسے خزانوں سے تعبیر کیا گیا۔ کنز (خزانہ) اس مال کو کہا جاتا ہے جو استعمال اور گردش سے زیادہ اور جسے محفوظ جگہ میں رکھا گیا ہو۔ نظروں سے اوجھل۔ اور یہ دولت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی تجوریوں کی چابیاں بھی بہت زیادہ تھیں۔ اور ان کو طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت ہی اٹھا سکتی تھی۔ اس دولت کی وجہ سے قارون اپنی قوم سے باغی ہوگیا۔ یہاں اس کا ذکر نہیں ہے کہ اس نے کسی قسم کی بغاوت کی۔ یہاں بغاوت مجمل ہے اس لیے اس سے ہر قسم کی بغاوت اور نافرمانی مراد ہو سکتی ہے۔ یہ بغاوت بنی اسرائیل پر ظلم کے ذریعہ بھی ہوسکتی ہے۔ ان کی اراضی غصب کرنے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ ان کی دوسری چیزیں چھین لینے سے بھی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ مال پر دست درازی کرنے والے اکثر لوگ کرتے ہیں۔ غریبوں کا ستحصال کرتے ہیں۔ یہ بھی بغاوت ہے کہ قارون کے مال میں غریبوں کا حق تھا اور وہ ادا نہ کرتا تھا۔ کیونکہ اغنیاء کے اموال میں فقراء کا حق ہوتا ہے۔ تاکہ یہ مال اغنیاء کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ محتاجوں تک بھی جائے۔ اس طرح طبقاتی نفرت پیدا ہوتی ہے اور سوسائٹی کا امن وامان تباہ ہوتا ہے۔ یہ بغاوتیں بھی ہو سکتی ہیں اور اس کے سوا اور بھی نافرمانیاں ہو سکتی ہیں۔ بہرحال قارون کی قوم میں ایسے لوگ تھے جو چاہتے تھے کہ یہ اس بغاوت سے باز آجائے اور اسلام کے عادلانہ نظام معیشت کی طرف آجائے ، جو اللہ نے دولت میں تصرف کیلئے مقرر فرمایا ہے۔ اور یہ ایسا نظام ہے کہ جس کے ذریعہ دولت مند اپنی دولت سے محروم نہیں ہوتا۔ اور وہ اعتدال کے ساتھ اپنی دولت سے استفادہ کرسکتا ہے ، جو اللہ نے اسے بخشا ہے لیکن یہ نظام میانہ روی اور اعتدال کو اہل ثروت کے لئے لازم قرار دیتا ہے ، اور یہ کہ وہ اس ذات کو ہر وقت دل میں رکھیں جس نے انہیں یہ مال دیا ہے اور دولت کو اس طرح کام میں لائیں کہ قیامت میں اپنے کیے کا حساب دے سکیں۔ اذ قال لہ قومہ لا تفرح ۔۔۔۔۔۔ لا یحب المفسدین (28: 76 – 77) ” ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ” پھول نہ جا ، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے ابھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر ، جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے ، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر ، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اس آیت میں ان سب اقدار اور خصوصیات کو جمع کردیا گیا ہے جو تمام دوسرے نظامہائے زندگی کے مقابلے میں اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات ہیں۔ اور وہ صرف اسلام میں پائی جاتی ہیں۔ لا تفرح (28: 76) ” پھول نہ جاؤ “۔ مال اور دولت پر مست ہوکر حد سے زیادہ خوشی محسوس نہ کرو۔ دولت کے ساتھ ضرورت سے زیادہ دلچسپی نہ لو ، اور دل کو خزانوں کے ساتھ باندھ نہ دو ۔ مملوکات اور مقبوضات کو دیکھ کر زیادہ مسرت کا اظہار نہ کرو ، اور دولت پر اس طرح نہ پھول جاؤ کہ دولت عطا کرنے والے ہی کو بھول جاؤ۔ اللہ کی نعمتوں کو بھلا دو اور اس کا حمد و شکر چھوڑ دو ۔ بعض لوگ مال و دولت ہی کی وجہ سے ہلکے ہوکر ہوا میں اڑنے لگتے ہیں ، ان کا دماغ بھی اڑنے لگتا ہے اور محض دولت کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں اور لوگوں پر دست درازی کرتے ہیں۔ ان اللہ لا یحب الفرحین (28: 76) ” اللہ بھول جانے والے لوگوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اس طرح قارون کی قوم نے کوشش کی کہ قارون کو اللہ کی طرف لوٹا دے ، کیونکہ اللہ مال اور دولت کی اساس پر غرور اور تکبر کو پسند نہیں کرتا اور نہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو دولت کی وجہ سے دوسرے کے ساتھ ظلم کرتے ہیں اور ان کا استحصال کرتے ہیں۔ وابتغ فیما ۔۔۔۔۔ من الدنیا (28: 77) ” جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے ، اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے ابھی اپنا حصہ فراموش نہ کر “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا نظام زندگی کس قدر معتدل اور سیدھا ہے جو ایسے دل کو جس کے پاس دولت ہے آخرت کے ساتھ بھی باندھ دیتا ہے اور اسے دنیا کے حصہ سے بھی محروم نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اسے حکم دیتا ہے کہ دنیا میں مال سے استفادہ کو بھول نہ جاؤ، اس طرح نہ ہو کہ تم تارک الدنیا ہوکر اس دنیا کی زندگی کو معطل کر دو ۔ اللہ نے دنیا کے اندر یہ پاکیزہ چیزیں اس لیے تو پیدا کی ہیں کہ لوگ ان سے استفادہ کریں اور زمین میں ان پاکیزہ چیزوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے ہر وقت کوشاں رہیں اور زندگی میں ترقی اور تنوع ہوتا رہے۔ اور اس طرح انسان اس کرہ ارض پر منصب خلافت ادا کرتا رہے۔ لیکن یہ پیداوار اور یہ ترقی عالم آخرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہو۔ آخرت کی راہ سے لوگ منحرف نہ ہوں اور آخرت کی تکالیف اور فرائض کو بھول نہ جائیں۔ اس انداز سے دنیا کے سازوسامان سے لطف اندوز ہونا بھی ایک طرح کا شکر نعمت ہے اور اللہ کے دین کو قبول کرنا ہے اور ان سے لطف اندوز ہونا ہے اور یہ بھی اللہ کی عبادت میں سے ایک عبادت اور اطاعت ہے۔ یوں اسلامی نظام زندگی ، انسانی زندگی کے اندر اعتدال اور ہم آہنگی پیدا کردیتا ہے اور اس معتدل زندگی ہی کے ذریعہ اس کو روحانی ترقی کے مدارج بھی طے کراتا ہے جس میں کسی قسم کی محرومیت نہیں ہوتی اور نہ اسی میں انسان کی فطری زندگی کے کسی بھی حصے کا تعطل لازم آتا ہے۔ واحسن کما احسن اللہ الیک (28: 77) ” احسان کرو ، جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا “۔ یہ مال اللہ کی طرف سے بخشش اور انعام ہے۔ اور اللہ کا احسان ہے۔ لہٰذا احسان کا بدلہ احسان ہونا چاہئے۔ اس احسان کو قبول کرو ، احسان کے ساتھ اس میں تصرف کرو ، اور لوگوں کے اوپر احسان کرو اور اپنے ذہن میں اللہ کے اس احسان کا شعور تازہ رکھو اور شکر ادا کرتے رہو۔ گہرے شعور کے ساتھ صرف زبان سے شکر گایا نہ کرو۔ ولا تبغ الفساد فی الارض (28: 77) ” اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو “۔ یعنی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے فساد نہ کرو ، اور دنیا کا سازو سامان اگر خدا خوفی اور آخرت کے حساب سے مبرا ہو کر استعمال کیا جائے تو اس سے زمین میں فساد برپا ہوتا ہے ، یوں کہ مالداروں کے خلاف لوگوں کے دل میں حسد ، بغض اور کینہ کی آگ جلنا شروع ہوجاتی ہے اور اگر مال کو بےجا طریقے سے خرچ کیا جائے تو بھی ظلم اور فساد کا باعث۔ اگر جائز طریقوں میں خرچ سے روکا جائے تو بھی ظلم کا باعث ہے۔ ان اللہ لا یحب المفسدین (28: 77) ” اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا “۔ جس طرح اللہ تعالیٰ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح مفسدوں کو بھی پسند نہیں کرتا۔ یہ تو تھیہ نصیحت قوم قارون کی ، قارون کو ، اس پوری اصلاحی تقریر کے جواب میں وہ بس ایک ہی جملہ کہتا ہے لیکن یہ جملہ جامع شروفساد ہے۔ قال انما اوتیتہ علی علم عندی (28: 78) ” تو اس نے کہا ، یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے “۔۔۔ یعنی میرے علم و ہنر نے اس مال کو جمع کیا ہے ، لہٰذا یہ مرا حق ہے۔ تم کون ہوتے ہو مجھے اس کے تصرف کے لیے خاص ہدایات دینے والے ؟ اور میری مخصوص ذاتی ملکیت کے بارے میں ازخود فیصلے کرنے والے۔ یہ مال تو میں نے بڑی جدوجہد کے بعد بنایا ہے اور اپنی مہارت اور دانش مندی کی وجہ سے اس دن کا اہل ہوا ہوں۔ یہ اس مغرور اور برخود غلط شخص کی بات ہے جو نعمت اور حکمت کے اصل مصدر کو فراموش کردیتا ہے اور جسے مال فتنے میں ڈال دیتا ہے اور دولت اندھا کردیتی ہے۔ اس قسم کے لوگ انسانوں میں ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ان کے مالدار ہونے کا حقیقی سبب ہے۔ اس لیے اپنے حاصل کیے ہوئے مال کے بارے میں انہیں مسئول نہ ہونا شاہئے۔ اس مال کو وہ اصلاح کے کاموں میں لگائے یا فساد کے کاموں میں ، اس کے اوپر کوئی محاسبہ نہ ہونا چاہئے۔ اور اس کی خوشی اور غمی اور مرضی اور انکار کے اوپر اور کوئی نگرانی نہ ہونا چاہئے۔ اسلام انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے اور حلال طریقوں سے دولت جمع کرنے کی اسلام حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسلام انفرادی جدوجہد کو نظر انداز نہیں کرتا اور نہ اسے فضول سمجھتا ہے۔ لیکن اسلام اس آزادی کے ساتھ ساتھ انفرادی ، دولت اور مملوکات کے استعمال کے لیے ضابطہ بھی متعین کرتا ہے جیسا کہ دولت کے کمانے اور ترقی دینے کے لیے اسلام ایک منہاج مقرر کرتا ہے۔ اسلام کا طریقہ کار اور اس کی معاشی پالیسی نہایت معتدل اور متوازن ہے۔ اس میں فرد اپنی جدوجہد کے ثمرات سے محروم نہیں ہوتا اور وہ اس جمع کردہ دولت کو اس طرح صرف بھی نہیں کرسکتا کہ وہ اسراف اور تبذیر کی حدود میں داخل ہوجائے اور نہ اس کو یوں جمع اور خزانہ کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کنجوسی اور مکھی چوسی کی حدود میں داخل ہوجائے۔ اسلام انفرادی ملکیت میں سوسائٹی کو بھی حصہ دار کرتا ہے اور انفرادی دولت کمانے کی بھی نگرانی کرتا ہے۔ دولت کو ترقی دینے کے طریقے بھی منصفانہ طور پر متعین کرتا ہے اور ان سے استفادہ کرنے اور خرچہ کرنے پر بھی کنڑول کرتا ہے۔ اسلام کی معاشی ہدایات واضح ہیں اور ممتاز خصوصیات کی مالک ہیں۔ بہرحال قارون نے اپنی قوم کی آواز پر لبیک نہ کہا۔ اس نے اللہ کے انعامات کا شعور قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور اسلام کی معاشی پالیسی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور نہایت ہی گھٹیا انداز میں قوم کی اس نصیحت سے اس نے منہ موڑا۔ چناچہ آیت کے خاتمہ سے بھی پہلے اسے تنبیہہ کردی گئی اور اس کے اس فقرے کو رد کردیا گیا۔ اولم یعلم ان اللہ ۔۔۔۔۔ ذنوبھم المجرمون (78) ” “۔ اگر تم صاحب مال دولت ہو اور کچھ قوت رکھتے ہو ، تو تم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ایسی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو تم سے مال میں بھی زیادہ تھیں اور قوت اور گرفت میں بھی۔ یہ تاریخی حقیقت تمہیں معلوم ہونا چاہئے کیونکہ اس علم سے تمہیں نجات ملے گی۔ اس سے نہیں جس کے بل بوتے پر تم نے دولت جمع کی ہے۔ تم جیسے نو دولتے تو اس قابل ہی نہیں کہ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ اگر انہیں ہلاک کرے تو اس سے پوچھے یا نوٹس دے۔ کیونکہ نہ تم فیصلہ کرنے والے ہو اور نہ گواہ ہو۔ ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون (28: 78) ” مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے “۔ اس قصے کے مناظر میں سے یہ پہلا منظر تھا اس منظر میں نظر آتا ہے کہ سرمایہ دار ہمیشہ سرکش اور ظلم کرتے ہیں۔ وہ نصیحت پر کام نہیں دھرتے ، نصیحت سے اپنے آپ کو بالا سمجھتے ہیں کہ ان کا نفس کبھی ان کو شکر نعمت بجا لانے پر بھی آمادہ نہیں کرتا۔ دوسرے منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ قارون کسی موقع پر اپنی دولت کی نمائش کرتا ہے۔ اس کی اس نمائش کو دیکھ کر بعض اہل ایمان کے دل بھی اڑنے لگے۔ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہونے لگے اور رہ تمنائیں کرنے لگے کہ ہمیں بھی ایسا ہی دیا جائے جس طرح قارون کو دیا جاتا ہے اور وہ لوگ جن کو دولت سے محروم رکھا گیا تھا انہوں نے یہ تبصرہ کیا کہ قارون کو تو دولت کا حظ و افر دیا گیا ہے ۔ اس موقع پر صحیح علماء اور مومنی سامنے آتے ہیں اور وہ دکھاتے ہیں کہ وہ قارون کی اس نمائش سے بلند ہیں اور جو لوگ اس مظاہرہ سے متاثر ہوگئے تھے ان کو وہ نہایت ہی اعتماد ، یقین اور زوردار انداز سے منع کرتے ہیں “۔

القصص 28:78

درس نمبر 178 ایک نظر میں اس سورت کا ابتدائی حصہ قصہ فرعون و کلیم پر مشتمل تھا۔ اس قصے میں بتا یا گیا تھا کہ قوت اور اقتدار کے نتیجے میں کسی طرح نافرمانی اور سرکشی آتی ہے ۔ اور حکمران کس طرح اللہ کی ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتے ہیں اور پھر ان سب باتوں کے نتیجے میں وہ زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ اب یہاں قارون کا قصہ لایا جاتا ہے کہ مال اور علم و ہنر جب سرکشی اختیار کرلیں ، مالدار اترانے لگیں ، عوام پر برتری جتلائیں ، اللہ کی نعمتوں کا انکار کریں تو ان پر کس طرح ہلاکت آتی ہے۔ اس کے بعد درست تصورات اور نظریات کے مطابق مال اور علم دنیا کی زیب وزینت ہیں اور ایمان اور نیک عمل کے مقابلے میں علم و ہنر اور مال و دولت کی کوئی قدر نہیں ہے۔ نیز درست طرف فکر و عمل یہ ہے کہ علم و ہنر اور مال و دولت کو اعتدال کے ساتھ ضروریات زندگی کے لیے استعمال کیا جائے۔ علو فی الارض اور فساد فی الارض کے لیے نہیں۔ قرآن کریم نے اس قصے کا زمان و مکان بیان نہیں کیا۔ بس اس قدر معلومات کافی ہیں کہ یہ محض قوم موسیٰ میں سے تھا اور یہ موسیٰ (علیہ السلام) سے باغی ہوگیا تھا۔ کیا یہ واقعہ اس وقت ہوا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل خروج سے قبل مصر ہی میں تھے ؟ یا موسیٰ (علیہ السلام) کے خروج کے بعد ؟ یا بنی اسرائیل میں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا۔ اور خود موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں یہ واقعہ ہوا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ قارون نے حضرت موسیٰ کو اذیت بھی دی تھی اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف رشوت دے کر ان کو ایک عورت کے ساتھ سکینڈل میں الجھانے کی کوشش کی تھی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ کو ۔۔۔ لیا اور قارون زمین میں دھنسا دیا گیا۔ ہمیں ان روایات کی ضرورت نہیں ہے ، نہ اس قصے کے زمان و مکان کے تعین کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم میں جس طرح یہ قصہ آیا ہے اس سے اس کے لانے کے مقاصد اچھی طرح واضح ہوتے ہیں اور وہ اقدار وہ اصول واضح طور پر ہمارے سامنے آجاتے ہیں جن کی وجہ سے یہ قصہ لایا گیا۔ اگر اس کے زمان و مکان اور اس کے ماحول کے دوسرے واقعات و حالات کی یہاں ضرورت ہوئی اور ان سے کسی مزید حقیقت ، قدر یا اصول کی وضاحت ہوتی تو اللہ ضرور وہ دوسری تفصیلات بھی دے دیتا۔ لہٰذا ہم اس کی تشریح صرف قرآنی اسلوب ہی میں کرتے ہیں اور ان روایات سے ہٹ کر اس کی وضاحت کرتے ہیں کیونکہ ان تک اس کی تشریح کے سلسلے میں کوئی ضرورت باقی نہیں ہے۔ درس نمبر 178 تشریح آیات 76 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ 84 ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ علی علم عندی (76 – 77) ” ۔ “۔ تو اس نے کہا ” یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے “۔ یوں اس قصے کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کے ہیرو کا نام قارون ہے۔ اس کی قوم ، قوم موسیٰ ہے اور اس نے اپنی قوم کے عقائد سے بغاوت کرلی۔ یہ اپنی قوم کے خلاف ظلم کا ارتکاب بھی کرتا اور یہ بغاوت اور ظلم وہ محض اپنی دولت مندی کی وجہ سے کرتا۔ واتینہ من الکنوز۔۔۔۔۔۔ اولی القوۃ (28: 76) ” اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ اور اس کے بعد پھر واقعات ، اقوال اور وہ تاثرات بیان کیے جاتے ہیں جو اس قصے کے ساتھ ساتھ ذہن میں آتے ہیں ۔۔۔ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم قوم تھا۔ اللہ نے اسے بہت بڑی دولت دی۔ اس کی کثرت کی وجہ سے اسے خزانوں سے تعبیر کیا گیا۔ کنز (خزانہ) اس مال کو کہا جاتا ہے جو استعمال اور گردش سے زیادہ اور جسے محفوظ جگہ میں رکھا گیا ہو۔ نظروں سے اوجھل۔ اور یہ دولت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی تجوریوں کی چابیاں بھی بہت زیادہ تھیں۔ اور ان کو طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت ہی اٹھا سکتی تھی۔ اس دولت کی وجہ سے قارون اپنی قوم سے باغی ہوگیا۔ یہاں اس کا ذکر نہیں ہے کہ اس نے کسی قسم کی بغاوت کی۔ یہاں بغاوت مجمل ہے اس لیے اس سے ہر قسم کی بغاوت اور نافرمانی مراد ہو سکتی ہے۔ یہ بغاوت بنی اسرائیل پر ظلم کے ذریعہ بھی ہوسکتی ہے۔ ان کی اراضی غصب کرنے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ ان کی دوسری چیزیں چھین لینے سے بھی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ مال پر دست درازی کرنے والے اکثر لوگ کرتے ہیں۔ غریبوں کا ستحصال کرتے ہیں۔ یہ بھی بغاوت ہے کہ قارون کے مال میں غریبوں کا حق تھا اور وہ ادا نہ کرتا تھا۔ کیونکہ اغنیاء کے اموال میں فقراء کا حق ہوتا ہے۔ تاکہ یہ مال اغنیاء کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ محتاجوں تک بھی جائے۔ اس طرح طبقاتی نفرت پیدا ہوتی ہے اور سوسائٹی کا امن وامان تباہ ہوتا ہے۔ یہ بغاوتیں بھی ہو سکتی ہیں اور اس کے سوا اور بھی نافرمانیاں ہو سکتی ہیں۔ بہرحال قارون کی قوم میں ایسے لوگ تھے جو چاہتے تھے کہ یہ اس بغاوت سے باز آجائے اور اسلام کے عادلانہ نظام معیشت کی طرف آجائے ، جو اللہ نے دولت میں تصرف کیلئے مقرر فرمایا ہے۔ اور یہ ایسا نظام ہے کہ جس کے ذریعہ دولت مند اپنی دولت سے محروم نہیں ہوتا۔ اور وہ اعتدال کے ساتھ اپنی دولت سے استفادہ کرسکتا ہے ، جو اللہ نے اسے بخشا ہے لیکن یہ نظام میانہ روی اور اعتدال کو اہل ثروت کے لئے لازم قرار دیتا ہے ، اور یہ کہ وہ اس ذات کو ہر وقت دل میں رکھیں جس نے انہیں یہ مال دیا ہے اور دولت کو اس طرح کام میں لائیں کہ قیامت میں اپنے کیے کا حساب دے سکیں۔ اذ قال لہ قومہ لا تفرح ۔۔۔۔۔۔ لا یحب المفسدین (28: 76 – 77) ” ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ” پھول نہ جا ، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے ابھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر ، جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے ، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر ، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اس آیت میں ان سب اقدار اور خصوصیات کو جمع کردیا گیا ہے جو تمام دوسرے نظامہائے زندگی کے مقابلے میں اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات ہیں۔ اور وہ صرف اسلام میں پائی جاتی ہیں۔ لا تفرح (28: 76) ” پھول نہ جاؤ “۔ مال اور دولت پر مست ہوکر حد سے زیادہ خوشی محسوس نہ کرو۔ دولت کے ساتھ ضرورت سے زیادہ دلچسپی نہ لو ، اور دل کو خزانوں کے ساتھ باندھ نہ دو ۔ مملوکات اور مقبوضات کو دیکھ کر زیادہ مسرت کا اظہار نہ کرو ، اور دولت پر اس طرح نہ پھول جاؤ کہ دولت عطا کرنے والے ہی کو بھول جاؤ۔ اللہ کی نعمتوں کو بھلا دو اور اس کا حمد و شکر چھوڑ دو ۔ بعض لوگ مال و دولت ہی کی وجہ سے ہلکے ہوکر ہوا میں اڑنے لگتے ہیں ، ان کا دماغ بھی اڑنے لگتا ہے اور محض دولت کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں اور لوگوں پر دست درازی کرتے ہیں۔ ان اللہ لا یحب الفرحین (28: 76) ” اللہ بھول جانے والے لوگوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اس طرح قارون کی قوم نے کوشش کی کہ قارون کو اللہ کی طرف لوٹا دے ، کیونکہ اللہ مال اور دولت کی اساس پر غرور اور تکبر کو پسند نہیں کرتا اور نہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو دولت کی وجہ سے دوسرے کے ساتھ ظلم کرتے ہیں اور ان کا استحصال کرتے ہیں۔ وابتغ فیما ۔۔۔۔۔ من الدنیا (28: 77) ” جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے ، اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے ابھی اپنا حصہ فراموش نہ کر “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا نظام زندگی کس قدر معتدل اور سیدھا ہے جو ایسے دل کو جس کے پاس دولت ہے آخرت کے ساتھ بھی باندھ دیتا ہے اور اسے دنیا کے حصہ سے بھی محروم نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اسے حکم دیتا ہے کہ دنیا میں مال سے استفادہ کو بھول نہ جاؤ، اس طرح نہ ہو کہ تم تارک الدنیا ہوکر اس دنیا کی زندگی کو معطل کر دو ۔ اللہ نے دنیا کے اندر یہ پاکیزہ چیزیں اس لیے تو پیدا کی ہیں کہ لوگ ان سے استفادہ کریں اور زمین میں ان پاکیزہ چیزوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے ہر وقت کوشاں رہیں اور زندگی میں ترقی اور تنوع ہوتا رہے۔ اور اس طرح انسان اس کرہ ارض پر منصب خلافت ادا کرتا رہے۔ لیکن یہ پیداوار اور یہ ترقی عالم آخرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہو۔ آخرت کی راہ سے لوگ منحرف نہ ہوں اور آخرت کی تکالیف اور فرائض کو بھول نہ جائیں۔ اس انداز سے دنیا کے سازوسامان سے لطف اندوز ہونا بھی ایک طرح کا شکر نعمت ہے اور اللہ کے دین کو قبول کرنا ہے اور ان سے لطف اندوز ہونا ہے اور یہ بھی اللہ کی عبادت میں سے ایک عبادت اور اطاعت ہے۔ یوں اسلامی نظام زندگی ، انسانی زندگی کے اندر اعتدال اور ہم آہنگی پیدا کردیتا ہے اور اس معتدل زندگی ہی کے ذریعہ اس کو روحانی ترقی کے مدارج بھی طے کراتا ہے جس میں کسی قسم کی محرومیت نہیں ہوتی اور نہ اسی میں انسان کی فطری زندگی کے کسی بھی حصے کا تعطل لازم آتا ہے۔ واحسن کما احسن اللہ الیک (28: 77) ” احسان کرو ، جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا “۔ یہ مال اللہ کی طرف سے بخشش اور انعام ہے۔ اور اللہ کا احسان ہے۔ لہٰذا احسان کا بدلہ احسان ہونا چاہئے۔ اس احسان کو قبول کرو ، احسان کے ساتھ اس میں تصرف کرو ، اور لوگوں کے اوپر احسان کرو اور اپنے ذہن میں اللہ کے اس احسان کا شعور تازہ رکھو اور شکر ادا کرتے رہو۔ گہرے شعور کے ساتھ صرف زبان سے شکر گایا نہ کرو۔ ولا تبغ الفساد فی الارض (28: 77) ” اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو “۔ یعنی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے فساد نہ کرو ، اور دنیا کا سازو سامان اگر خدا خوفی اور آخرت کے حساب سے مبرا ہو کر استعمال کیا جائے تو اس سے زمین میں فساد برپا ہوتا ہے ، یوں کہ مالداروں کے خلاف لوگوں کے دل میں حسد ، بغض اور کینہ کی آگ جلنا شروع ہوجاتی ہے اور اگر مال کو بےجا طریقے سے خرچ کیا جائے تو بھی ظلم اور فساد کا باعث۔ اگر جائز طریقوں میں خرچ سے روکا جائے تو بھی ظلم کا باعث ہے۔ ان اللہ لا یحب المفسدین (28: 77) ” اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا “۔ جس طرح اللہ تعالیٰ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح مفسدوں کو بھی پسند نہیں کرتا۔ یہ تو تھیہ نصیحت قوم قارون کی ، قارون کو ، اس پوری اصلاحی تقریر کے جواب میں وہ بس ایک ہی جملہ کہتا ہے لیکن یہ جملہ جامع شروفساد ہے۔ قال انما اوتیتہ علی علم عندی (28: 78) ” تو اس نے کہا ، یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے “۔۔۔ یعنی میرے علم و ہنر نے اس مال کو جمع کیا ہے ، لہٰذا یہ مرا حق ہے۔ تم کون ہوتے ہو مجھے اس کے تصرف کے لیے خاص ہدایات دینے والے ؟ اور میری مخصوص ذاتی ملکیت کے بارے میں ازخود فیصلے کرنے والے۔ یہ مال تو میں نے بڑی جدوجہد کے بعد بنایا ہے اور اپنی مہارت اور دانش مندی کی وجہ سے اس دن کا اہل ہوا ہوں۔ یہ اس مغرور اور برخود غلط شخص کی بات ہے جو نعمت اور حکمت کے اصل مصدر کو فراموش کردیتا ہے اور جسے مال فتنے میں ڈال دیتا ہے اور دولت اندھا کردیتی ہے۔ اس قسم کے لوگ انسانوں میں ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ان کے مالدار ہونے کا حقیقی سبب ہے۔ اس لیے اپنے حاصل کیے ہوئے مال کے بارے میں انہیں مسئول نہ ہونا شاہئے۔ اس مال کو وہ اصلاح کے کاموں میں لگائے یا فساد کے کاموں میں ، اس کے اوپر کوئی محاسبہ نہ ہونا چاہئے۔ اور اس کی خوشی اور غمی اور مرضی اور انکار کے اوپر اور کوئی نگرانی نہ ہونا چاہئے۔ اسلام انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے اور حلال طریقوں سے دولت جمع کرنے کی اسلام حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسلام انفرادی جدوجہد کو نظر انداز نہیں کرتا اور نہ اسے فضول سمجھتا ہے۔ لیکن اسلام اس آزادی کے ساتھ ساتھ انفرادی ، دولت اور مملوکات کے استعمال کے لیے ضابطہ بھی متعین کرتا ہے جیسا کہ دولت کے کمانے اور ترقی دینے کے لیے اسلام ایک منہاج مقرر کرتا ہے۔ اسلام کا طریقہ کار اور اس کی معاشی پالیسی نہایت معتدل اور متوازن ہے۔ اس میں فرد اپنی جدوجہد کے ثمرات سے محروم نہیں ہوتا اور وہ اس جمع کردہ دولت کو اس طرح صرف بھی نہیں کرسکتا کہ وہ اسراف اور تبذیر کی حدود میں داخل ہوجائے اور نہ اس کو یوں جمع اور خزانہ کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کنجوسی اور مکھی چوسی کی حدود میں داخل ہوجائے۔ اسلام انفرادی ملکیت میں سوسائٹی کو بھی حصہ دار کرتا ہے اور انفرادی دولت کمانے کی بھی نگرانی کرتا ہے۔ دولت کو ترقی دینے کے طریقے بھی منصفانہ طور پر متعین کرتا ہے اور ان سے استفادہ کرنے اور خرچہ کرنے پر بھی کنڑول کرتا ہے۔ اسلام کی معاشی ہدایات واضح ہیں اور ممتاز خصوصیات کی مالک ہیں۔ بہرحال قارون نے اپنی قوم کی آواز پر لبیک نہ کہا۔ اس نے اللہ کے انعامات کا شعور قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور اسلام کی معاشی پالیسی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور نہایت ہی گھٹیا انداز میں قوم کی اس نصیحت سے اس نے منہ موڑا۔ چناچہ آیت کے خاتمہ سے بھی پہلے اسے تنبیہہ کردی گئی اور اس کے اس فقرے کو رد کردیا گیا۔ اولم یعلم ان اللہ ۔۔۔۔۔ ذنوبھم المجرمون (78) ” “۔ اگر تم صاحب مال دولت ہو اور کچھ قوت رکھتے ہو ، تو تم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ایسی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو تم سے مال میں بھی زیادہ تھیں اور قوت اور گرفت میں بھی۔ یہ تاریخی حقیقت تمہیں معلوم ہونا چاہئے کیونکہ اس علم سے تمہیں نجات ملے گی۔ اس سے نہیں جس کے بل بوتے پر تم نے دولت جمع کی ہے۔ تم جیسے نو دولتے تو اس قابل ہی نہیں کہ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ اگر انہیں ہلاک کرے تو اس سے پوچھے یا نوٹس دے۔ کیونکہ نہ تم فیصلہ کرنے والے ہو اور نہ گواہ ہو۔ ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون (28: 78) ” مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے “۔ اس قصے کے مناظر میں سے یہ پہلا منظر تھا اس منظر میں نظر آتا ہے کہ سرمایہ دار ہمیشہ سرکش اور ظلم کرتے ہیں۔ وہ نصیحت پر کام نہیں دھرتے ، نصیحت سے اپنے آپ کو بالا سمجھتے ہیں کہ ان کا نفس کبھی ان کو شکر نعمت بجا لانے پر بھی آمادہ نہیں کرتا۔ دوسرے منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ قارون کسی موقع پر اپنی دولت کی نمائش کرتا ہے۔ اس کی اس نمائش کو دیکھ کر بعض اہل ایمان کے دل بھی اڑنے لگے۔ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہونے لگے اور رہ تمنائیں کرنے لگے کہ ہمیں بھی ایسا ہی دیا جائے جس طرح قارون کو دیا جاتا ہے اور وہ لوگ جن کو دولت سے محروم رکھا گیا تھا انہوں نے یہ تبصرہ کیا کہ قارون کو تو دولت کا حظ و افر دیا گیا ہے ۔ اس موقع پر صحیح علماء اور مومنی سامنے آتے ہیں اور وہ دکھاتے ہیں کہ وہ قارون کی اس نمائش سے بلند ہیں اور جو لوگ اس مظاہرہ سے متاثر ہوگئے تھے ان کو وہ نہایت ہی اعتماد ، یقین اور زوردار انداز سے منع کرتے ہیں “۔

القصص 28:79

فخرج علی قومہ فی زینتہ ۔۔۔۔۔ ولا یلقھا الا الصبرون (79 – 80) ” “۔ “۔ دنیا کی اس زندگی کے اس فتنے کے سلسلے میں دو قسم کے ردعمل سامنے آئے۔ ایک گروہ اس کی گرفت میں آگیا ، مبہوت ہوگیا۔ اس منظر کے سامنے بچھ گیا اور اس پر ٹوٹ پڑا اور دوسرے گروہ کا ردعمل یہ تھا کہ وہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا ، نظر بلند رکھی ، امیدیں اس ثواب کے ساتھ وابستہ کرلیں جو اللہ کے ہاں محفوظ ہے یوں اس کے نزدیک مال کی قوت کے مقابلے میں ایمان کا ترازو بھاری رہا۔ قال الذین یریدون ۔۔۔۔۔ لذو حظ عظیم (28: 79) ” وہ لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا۔ یہ تو بڑا نصیب والا ہے “۔ ہر دور میں دنیا کی زیب وزینت بعض لوگوں کو مقصد بن جاتی ہے اور جو لوگ دنیا کے طالب ہوتے ہیں ان کی آنکھیں اسے دیکھ کرچکا چوند ہوجاتی ہے۔ اور اس قسم کے لوگ اس چیز کی طرف بلند نظریں نہیں رکھتے جو اس دنیا سے اعلیٰ اور زیادہ قیمتی ہے۔ ایسے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ اس زیب وزینت کو خریدنے والے نے کس قدر زیادہ قیمت ادا کرکے خریدا ہے۔ اور یہ دنیا کا سازوسامان اس شخص نے کیا کیا ذرائع کام میں لاکر حاصل کیا ہے۔ اس کے لیے مال ، مصب اور عزت کی کیا کیا قربانیاں دی گئی ہیں ۔ چناچہ سطحی نگاہ رکھنے والے ایسے مظاہر پر ٹوٹ پڑتے ہیں جس طرح مکھیاں ہر میٹھی چیز پر جمع ہوجاتی ہیں۔ اور اس پر گرتی ہیں اور ایسے لوگ جب اہل ثروت کو دیکھتے ہیں تو ان کے منہ میں پانی آجاتا ہے لیکن ان کی نظر اس بات پر نہیں ہوتی کہ یہ دولت اور زیب وزینت جمع کرنے والے نے بہت مہنگی قیمت ادا کی ، کن کن گندگیوں سے ہو کر گزرا ہے اور کیا کیا خبس ذرائع استعمال کیے ہیں۔ اور جن لوگوں کا رابطہ اللہ سے ہوتا ہے اور وہ اعلیٰ اقدار کو اہمیت دیتے ہیں اور دولت اور دنیا کی زیب وزینت سے بڑھ کر ان کی نظروں میں مزید اعلیٰ قدریں بھی ہوتی ہیں۔ اپنی شخصیت کے اعتبار سے بند ہوتے ہیں اور ان کا دماغ اس قدر اونچا ہوتا ہے کہ وہ زمین کی قدروں کے سامنے کسی مالدار کے سامنے نہیں جھکتے۔ یہ لوگ ہیں جن کو حقیقی علم دیا گیا ہے۔ یہی وہ علم ہے جو انسانی زندگی کو سیدھا رکھتا ہے۔ وقال الذین اوتو ۔۔۔۔۔۔ الا الصبرون (28: 80) ” مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے افسوس تمہارے حال پر ، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو “۔ اللہ کے ہاں جو درجہ ہے وہ اس زینت سے بہتر ہے ، اللہ کے خزانے قارون کے خزانوں سے زیادہ ہیں اور یہ شعور اعلیٰ قدروں کی بابت صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں ، جو دوسروں کے اعلیٰ معیار حیات کو دیکھ کر متاثر نہیں ہوتے۔ اور زندگی کے تمام فتنوں اور رعنائیوں کے مقابلے میں اپنے مقام پر جمے رہتے ہیں۔ جب ایسے لوگوں کا شعور یہ ہوتا ہے کہ آخرت کا اجر ، اللہ کی رضا مندی بہت قیمتی سامان ہے تو ان کا درجہ اور بلند ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا کے سازوسامان سے بلند ہوجاتے ہیں اور ان کی نظریں ثواب آخرت کے اعلیٰ افق پر ہوتی ہیں۔ جب زیب وزینت کا یہ فتنہ انتہا کو پہنچ جاتا ہے ، اور لوگ اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتے بلکہ اس سے شکست کھا کر اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو اب دست قدرت کی طرف سے براہ راست مداخلت کا وقت آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ضعیف الارادہ لوگوں کو اس کے جال میں شکار ہونے سے بچانے کے لیے اس فتنے کو پاش پاش کرکے رکھ دیتا ہے۔ زیب وزینت کا یہ غرور ختم کردیا جاتا ہے۔ اور عبرتناک منظر میں ایک فیصلہ کن گرفت کی جھلک پیش کرتا ہے :

القصص 28:80

فخرج علی قومہ فی زینتہ ۔۔۔۔۔ ولا یلقھا الا الصبرون (79 – 80) ” “۔ “۔ دنیا کی اس زندگی کے اس فتنے کے سلسلے میں دو قسم کے ردعمل سامنے آئے۔ ایک گروہ اس کی گرفت میں آگیا ، مبہوت ہوگیا۔ اس منظر کے سامنے بچھ گیا اور اس پر ٹوٹ پڑا اور دوسرے گروہ کا ردعمل یہ تھا کہ وہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا ، نظر بلند رکھی ، امیدیں اس ثواب کے ساتھ وابستہ کرلیں جو اللہ کے ہاں محفوظ ہے یوں اس کے نزدیک مال کی قوت کے مقابلے میں ایمان کا ترازو بھاری رہا۔ قال الذین یریدون ۔۔۔۔۔ لذو حظ عظیم (28: 79) ” وہ لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا۔ یہ تو بڑا نصیب والا ہے “۔ ہر دور میں دنیا کی زیب وزینت بعض لوگوں کو مقصد بن جاتی ہے اور جو لوگ دنیا کے طالب ہوتے ہیں ان کی آنکھیں اسے دیکھ کرچکا چوند ہوجاتی ہے۔ اور اس قسم کے لوگ اس چیز کی طرف بلند نظریں نہیں رکھتے جو اس دنیا سے اعلیٰ اور زیادہ قیمتی ہے۔ ایسے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ اس زیب وزینت کو خریدنے والے نے کس قدر زیادہ قیمت ادا کرکے خریدا ہے۔ اور یہ دنیا کا سازوسامان اس شخص نے کیا کیا ذرائع کام میں لاکر حاصل کیا ہے۔ اس کے لیے مال ، مصب اور عزت کی کیا کیا قربانیاں دی گئی ہیں ۔ چناچہ سطحی نگاہ رکھنے والے ایسے مظاہر پر ٹوٹ پڑتے ہیں جس طرح مکھیاں ہر میٹھی چیز پر جمع ہوجاتی ہیں۔ اور اس پر گرتی ہیں اور ایسے لوگ جب اہل ثروت کو دیکھتے ہیں تو ان کے منہ میں پانی آجاتا ہے لیکن ان کی نظر اس بات پر نہیں ہوتی کہ یہ دولت اور زیب وزینت جمع کرنے والے نے بہت مہنگی قیمت ادا کی ، کن کن گندگیوں سے ہو کر گزرا ہے اور کیا کیا خبس ذرائع استعمال کیے ہیں۔ اور جن لوگوں کا رابطہ اللہ سے ہوتا ہے اور وہ اعلیٰ اقدار کو اہمیت دیتے ہیں اور دولت اور دنیا کی زیب وزینت سے بڑھ کر ان کی نظروں میں مزید اعلیٰ قدریں بھی ہوتی ہیں۔ اپنی شخصیت کے اعتبار سے بند ہوتے ہیں اور ان کا دماغ اس قدر اونچا ہوتا ہے کہ وہ زمین کی قدروں کے سامنے کسی مالدار کے سامنے نہیں جھکتے۔ یہ لوگ ہیں جن کو حقیقی علم دیا گیا ہے۔ یہی وہ علم ہے جو انسانی زندگی کو سیدھا رکھتا ہے۔ وقال الذین اوتو ۔۔۔۔۔۔ الا الصبرون (28: 80) ” مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے افسوس تمہارے حال پر ، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو “۔ اللہ کے ہاں جو درجہ ہے وہ اس زینت سے بہتر ہے ، اللہ کے خزانے قارون کے خزانوں سے زیادہ ہیں اور یہ شعور اعلیٰ قدروں کی بابت صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں ، جو دوسروں کے اعلیٰ معیار حیات کو دیکھ کر متاثر نہیں ہوتے۔ اور زندگی کے تمام فتنوں اور رعنائیوں کے مقابلے میں اپنے مقام پر جمے رہتے ہیں۔ جب ایسے لوگوں کا شعور یہ ہوتا ہے کہ آخرت کا اجر ، اللہ کی رضا مندی بہت قیمتی سامان ہے تو ان کا درجہ اور بلند ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا کے سازوسامان سے بلند ہوجاتے ہیں اور ان کی نظریں ثواب آخرت کے اعلیٰ افق پر ہوتی ہیں۔ جب زیب وزینت کا یہ فتنہ انتہا کو پہنچ جاتا ہے ، اور لوگ اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتے بلکہ اس سے شکست کھا کر اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو اب دست قدرت کی طرف سے براہ راست مداخلت کا وقت آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ضعیف الارادہ لوگوں کو اس کے جال میں شکار ہونے سے بچانے کے لیے اس فتنے کو پاش پاش کرکے رکھ دیتا ہے۔ زیب وزینت کا یہ غرور ختم کردیا جاتا ہے۔ اور عبرتناک منظر میں ایک فیصلہ کن گرفت کی جھلک پیش کرتا ہے :

القصص 28:81

فخسفنا بہ وبدارہ ۔۔۔۔۔۔۔ وما کان من المنتصرین (81) ” “۔ نہایت ہی مختصر جملے میں ایک مختصر جھلکی کی صورت میں یہ انجام دکھایا گیا۔ فخسفنا بہ وبدارہ الارض (28: 81) ” آخر ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا “۔ زمین اسے بھی نگل گئی اور اس کے محل کو بھی نگل گئی۔ جس زمین پر وہ اپنے آپ کو سربلند سمجھتا تھا۔ جس کے اوپر وہ لوگوں پر ظلم کرتا تھا ۔ اللہ نے اسے اسی کے اندر داخل کردیا۔ اور وہ ضعیف و ناتواں ہوگیا۔ نہ اس کی مدد کوئی دوسرا کرسکا اور نہ وہ اپنی جاہ و مال کے ساتھ اپنی کوئی مدد کرسکا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فتنہ بھی دفن ہوا جس کے اوپر بعض لوگ فریفتہ ہو رہے تھے۔ غرض فیصلہ کن ذدنے ان کو اللہ کی قدرت کی طرف پھیر دیا اور غضب اور گمراہی کے پردے دور ہوگئے اور یہ آخری منظریوں رہا۔

القصص 28:82

واصبح الذین تمترا مکانہ ۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الکفرون (82) اب یہ لوگ اس بات پر اللہ کی حمد و ثنا کر رہے ہیں کہ اللہ نے ان کی دعا قبول نہ کی۔ اور ان کو وہ دولت نہ دی جس کی وہ تمنا کرتے تھے اور جو دولت قارون کو دی گئی وہ ان کو نہ دی گئی۔ ورنہ ان کی حالت بھی وہ ہوجاتی جو چوبیس گھنٹوں میں قارون کی ہوگئی۔ ان کو اب ہوش آیا کہ دولت اس بات کی علامت اور دلیل نہیں ہے کہ دولت مند پر اللہ کا فضل ہے اور اللہ اس سے راضی ہے بلکہ اللہ اپنے بندوں میں سے کسی کو کم رزق دیتا ہے اور کسی کو زیادہ دیتا ہے یہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے یا ناراض ہے۔ رزق کی فراہمی کے اسباب اور ہیں۔ اگر وافر رزق اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہوتا تو قارون اللہ کی اس شدید گرفت اور پکڑ میں نہ آتا ایسے ضعیف الاعتقاد لوگوں کو اب معلوم ہوا کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ قارون کے بارے میں قرآن نے کلمہ کفر نقل نہیں کیا گیا۔ البتہ مال و دولت پر غرور کرنا اور یہ سوچ رکھنا کہ یہ دولت اس نے خود اپنے علم و حکمت کے زور سے کمائی ہے ، یہ بھی ایک قسم کا کفر ہے اور اس کا انجام ایس اہوا جو کافرون کا ہوتا ہے یعنی مکمل تباہی اور ہلاکت۔

القصص 28:83

اب اس منظر پر بھی پر ودہ گر جاتا ہے۔ دست قدرت کی مداخلت سے اہل ایمان کے دلوں کو قوت ملی۔ اور اللہ کے پیمانوں میں ایمان کی قوت کو ترجیح ملی۔ اور اب ان مناظر پر بہترین تبصرہ : تلک الدار الاخرۃ ۔۔۔۔۔۔ والعاقبۃ للمتقین (83) یہ دار آخرت جس کی بات اہل علم کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جن کے پاس سچا علم ہے جو اشیاء کی صحیح قدروقیمت متعین کرتا ہے یہ جہاں نہایت ہی بلند مرتبت ہے۔ بہت ہی وسیع ہے یہ جہاں کس کے لیے ہے ؟ نجعلھا للذین ۔۔۔۔۔ ولا فسادا (28: 83) ” یہ ہم نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں “۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال ہی نہیں آتا کہ وہ زمین میں برتری اپنی ذاتی سربلندی کے لیے حاصل کریں۔ وہ تو اپنی ذات اور اپنی شخصیت پر بھی فخر نہیں کرتے۔ ان کی ذات بھی اللہ کے تصور ، اللہ کی یاد اور اللہ کے شعور میں گم ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے نظام حیات کے لیے ساعی ہوتے ہیں ، ان لوگوں کے پیمانوں میں ، اس زمین ، اس کی اشیاء ، اس کے سامان ، اور اس کی اقدار کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ وہ اقتدار فساد فی الارض کے لیے نہیں حاصل کرتے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ نے دار آخرت تیار کیا ہے جو عالی شان ہے۔ والعاقبۃ للمتقین (28: 83) ” اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے “۔ جو اللہ سے ڈرتے ہیں ، جو اس کے غضب سے خائف ہوتے ہیں اور اس کی رضا مندی کے طلبگار ہوتے ہیں “۔ اس جہاں آخرت میں سب لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا ملے گی اور یہ بات اللہ نے اپنے اوپر لکھ دی ہے کہ نیکیوں کا اجر کئی گنا ملے گا اور برائیوں کی سزا ان کے برابر ہوگی۔ زیادہ نہ ہوگی۔ یہ ہے اللہ کی رحیمانہ شان۔

القصص 28:84

اب اس منظر پر بھی پر ودہ گر جاتا ہے۔ دست قدرت کی مداخلت سے اہل ایمان کے دلوں کو قوت ملی۔ اور اللہ کے پیمانوں میں ایمان کی قوت کو ترجیح ملی۔ اور اب ان مناظر پر بہترین تبصرہ : تلک الدار الاخرۃ ۔۔۔۔۔۔ والعاقبۃ للمتقین (83) یہ دار آخرت جس کی بات اہل علم کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جن کے پاس سچا علم ہے جو اشیاء کی صحیح قدروقیمت متعین کرتا ہے یہ جہاں نہایت ہی بلند مرتبت ہے۔ بہت ہی وسیع ہے یہ جہاں کس کے لیے ہے ؟ نجعلھا للذین ۔۔۔۔۔ ولا فسادا (28: 83) ” یہ ہم نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں “۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال ہی نہیں آتا کہ وہ زمین میں برتری اپنی ذاتی سربلندی کے لیے حاصل کریں۔ وہ تو اپنی ذات اور اپنی شخصیت پر بھی فخر نہیں کرتے۔ ان کی ذات بھی اللہ کے تصور ، اللہ کی یاد اور اللہ کے شعور میں گم ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے نظام حیات کے لیے ساعی ہوتے ہیں ، ان لوگوں کے پیمانوں میں ، اس زمین ، اس کی اشیاء ، اس کے سامان ، اور اس کی اقدار کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ وہ اقتدار فساد فی الارض کے لیے نہیں حاصل کرتے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ نے دار آخرت تیار کیا ہے جو عالی شان ہے۔ والعاقبۃ للمتقین (28: 83) ” اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے “۔ جو اللہ سے ڈرتے ہیں ، جو اس کے غضب سے خائف ہوتے ہیں اور اس کی رضا مندی کے طلبگار ہوتے ہیں “۔ اس جہاں آخرت میں سب لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا ملے گی اور یہ بات اللہ نے اپنے اوپر لکھ دی ہے کہ نیکیوں کا اجر کئی گنا ملے گا اور برائیوں کی سزا ان کے برابر ہوگی۔ زیادہ نہ ہوگی۔ یہ ہے اللہ کی رحیمانہ شان۔

القصص 28:85

درس نمبر 179 تشریح آیات 85 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 88 اب قصص ختم ہیں۔ ان قصص پر جو تبصرے تھے وہ بھی ختم ہوگئے۔ اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں اس وقت مٹھی بھر اہل ایمان آپ کے ساتھ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ خطاب ایسے حالات میں ہے کہ مکہ سے لوگ آپ کو نکالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ آپ مدینہ کی طرف جانے والے ہیں اور اس میں بھی قوم آپ کا پیچھا کر رہی ہے۔ ابھی آپ مدینہ نہیں پہنچے۔ راستہ ہی میں ہیں۔ یہ آیات جحفہ میں اتریں جو مکہ کے قریب ہے۔ اس وقت ہجرت کرتے ہوئے آپ کی نظریں اور آپ کا دل اپنے محبوب شہر مکہ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ آپ ﷺ پر مکہ چھوڑنا نہایت ہی دشوار گزر رہا ہے۔ اگر دعوت اسلامی کا عظیم مقصد آپ کے پیش نظر نہ ہوتا تو آپ اپنے بچپن کے اس شہر کو ہرگز نہ چھوڑتے ، جس کے ساتھ آپ کی یادیں وابستہ ہیں۔ جہاں آپ کے آباؤ اجداد خوابیدہ ہیں اور جہاں آپ کے رشتہ دار رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہوتا ہے ان الذی فرض علیک القران لدآدک الی معاد۔ ” اللہ آپ کو مشرکین کے حوالے کرنے والا نہیں ہے۔ جبکہ اللہ نے آپ ﷺ پر قرآن کی تبلیغ اور دعوت فرض کردی ہے۔ اللہ مشرکین مکہ کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ ﷺ کو مکہ سے نکال دیں۔ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی دعوت کے حاملین پر تشدد اور ظلم کرتے رہیں ۔ اللہ نے جو آپ ﷺ کو قرآن کی دعوت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ وہ ایک مقرر وقت پر آپ کو نصرت بھی کرنے والا ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ ٹھیک ہے آج ان لوگوں نے آپ کو نکال دیا ہے لیکن بہت جلدی آپ پھر واپس آنے والے ہیں۔ جن حالات میں حضور اکرم ﷺ ہجرت پر مجبور ہوئے تھے وہ بہت زیادہ کربناک تھے لیکن اللہ نے چاہا کہ ایسے حالات ہی میں آپ ﷺ کے ساتھ یہ پختہ عہد کردیا جائے کہ آپ ظفر مندی کے ساتھ پھر اس شہر کو لوٹیں گے تاکہ رسول اللہ ﷺ ہجرت کی مشکلات کو امن اور یقین کے ساتھ برداشت کریں۔ مطمئن ہوجائیں کہ جلدی آپ فاتح کی حیثیت سے لوٹنے والے ہیں۔ اور آپ ﷺ کو اچھی طرح یقین ہوگیا کہ جلد ہی یہ تحریک مکہ میں فاتحانہ داخل ہوگی۔ اللہ کا یہ وعدہ ان تمام لوگوں کے لیے قائم ہے جو بھی اس راہ پر چلنا چاہیں۔ جو شخص بھی اللہ کے لیے تشدد کا شکار ہو اور وہ اس پر صبر کرے اور یقین رکھے کہ اس ظلم اور تشدد کے بعد آخرکار اللہ کی مدد آئے گی تو اللہ نے آخر کار ایسے شخص کی مدد کی ہے۔ ایسا شخص آخر کار کامیاب ہوتا ہے اس معرکے سے سرخرو ہوکر نکلتا ہے۔ اس کا کاندھوں سے بوجھ اتر جاتا ہے اور وہ اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرلیتا ہے۔ ان الذی فرض ۔۔۔۔ الی معاد (28: 84) ” یقین کرو جس نے تم پر قرآن فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین جگہ (مکہ) واپس پہنچانے والا ہے “۔ اور اس سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکال دئیے گئے تھے اور ان کا تعاقب بھی ہوا تھا لیکن اللہ نے ان کو پھر مصر کی طرف لوٹا دیا۔ وہ واپس ہوئے اور انہوں نے اپنی قوم کے کمزور لوگوں کو فرعون کی غلامی سے نکالا اور فرعون اور اس کی فوج ہلاک ہوئی اور اچھا انجام ان لوگوں کا ہوا جنہوں نے ہدایت قبول کی تھی۔ لہٰذا آپ بھی جس راہ پر نکل پڑے ہیں ، چلتے رہیں اور آپ کی قوم اور آپ کے درمیان فیصلہ وہ کرے گا جس نے آپ کو اس ڈیوٹی پر مامور کیا ہے۔ قل ربی اعلم من جآء ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (85) یعنی ہدایت و ضلالت کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ وہ اہل ہدایت کو جزاء دے گا اور اہل ضلالت کو سزا دے گا۔ آپ ﷺ پر جو قرآن فرض کیا گیا ہے وہ آپ ﷺ پر اللہ کی طرف سے ایک رحمت اور مہربانی ہے۔ آپ کے تو خواب و خیال میں یہ بات نہ تھی کہ یہ امانت آپ ﷺ کے حوالے کی جائے گی۔ یہ ایک عظیم منصب ہے جو آپ کو دیا گیا اور اس منصب کے دئیے جانے سے قبل آپ ﷺ کے تصور میں بھی ایسی کوئی بات نہ تھی۔

القصص 28:86

وما کنت ترجوا ۔۔۔۔۔ من ربک یہ اس مسئلہ پر ایک فیصلہ کن بات ہے کہ رسالت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو کوئی امید نہ تھی کہ آپ رسول ﷺ بھی ہوسکتے ہیں۔ پس یہ اللہ کا اچانک انتخاب تھا۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، منتخب کرتا ہے۔ یہ اس قدر بلند منصب ہے کہ اس کے لیے کوئی انسان قبل از وقت توقع بھی نہیں کرسکتا ، سوچ بھی نہیں سکتا کہ اللہ اسے اس منصب کے لیے چن لے گا یا اللہ اسے اس کے اہل بنا دے گا۔ یہ اللہ کا محض رحم و کرم ہوتا ہے۔ کسی شخص پر یا کسی قوم پر کہ ان میں سے کسی کو اللہ چن لیتا ہے اور یہ انتخاب ان کا ہوتا ہے جو اللہ کے اونچے بندے ہوں ، ان کا انتخاب نہیں ہوتا جو اس منصب کے امیدوار ہوتے ہیں۔ مکہ کے ماحول میں عربوں میں اور اسرائیل میں بہت سے لوگ تھے۔ اس انتظار میں تھے کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے ، لیکن وہ کون ہوگا ، یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ منصب رسالت کہاں لے جا کر رکھ دے۔ اللہ نے اس قوم اور اس شخص کو اس منصب کے لیے چن لیا جو اس کے لیے نہ امیدوار تھا اور نہ اس کو اس کا خیال تھا کیونکہ اللہ جہاں منصب نبوت دیتا ہے اس کے لیے پہلے اس کو قبولیت کے لیے فیض عظیم اور استعدادوافر عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے چونکہ آپ کو یہ کتاب دی گئی جس کے مطابق آپ ﷺ نے حق پر فیصلے کرنے ہیں ، لہٰذا کافروں کے مددگار بنیں ، کیونکہ وہ تو آپ کو اللہ کی ان روشن نشانیوں سے روک دیں گے۔ بلکہ آپ مشرکین کے مقابلے میں صاف صاف عقیدہ توحید پر مبنی دعوت لے کر اٹھیں۔ فلا تکونن ظھیرا للکفرین ۔۔۔۔۔۔۔ لہ الحکم والیہ ترجعون (86 – 88) اس سورت کے آخر میں یہ انسانی عقل و خرد کے تاروں پر آخری ضرب ہے۔ اس فیصلہ کن ضرب میں بتا دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے راستے اور مشرکین اور مشرکین کے طریقے کے درمیان بڑے فاصلے ہیں۔ آپ کو متبعین قیامت تک آپ ﷺ کی راہ اور اس کی نشانات پر رہیں۔ یہ فیصلہ کن بات آپ ﷺ کی ہجرت کے موقعہ آئی ہے جس کے ذریعے حضور اور مشرکین مکہ کے راستے ہمیشہ کے لیے جدا ہو رہے تھے اور آنے والے عہد میں مختلف تاریخیں تیار ہونے والی تھیں۔ فلا تکونن ظھیرا للکفرین (28: 84) ” پس آپ کافروں کے مددگار نہ بنیں “۔ کیونکہ مومن اور کافر کے درمیان کوئی تعاون اور باہم نصرت کا تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ دونوں کے راستے جدا ہیں ، دونوں کے نظام زندگی متضاد ہیں۔ مومن حزب اللہ ہیں اور کافر حزب الشیطان ہیں۔ اس لیے دونوں کے باہم تعاون کے لیے کوئی مشترکہ اساس ہی نہیں ہے۔ دونوں کے تعاون کے لئے وئی مشترکہ میدان نہیں ہے۔ ولا یصدنک عن ۔۔۔۔۔ انزلت الیک (28: 85) ” اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کفار تمہیں ان سے باز رکھیں “۔ کفار کا ہمیشہ یہ مقصد رہا ہے کہ اہل دعوت کو کسی نہ کسی طریقے سے دعوت سے باز رکھیں اور مسلمانوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی دعوت کے راستے پر چلتے رہیں۔ اگرچہ رکاوٹیں ڈالنے والے رکاوٹیں ڈالیں۔ اور اس طرح چلتے رہیں کہ کوئی ان کو راہ دعوت سے روک نہ سکے۔ وہ قرآن اور سنت کی آیات کو لے کر اور ان پر بھروسہ کرکے اپنی راہ پر چل نکلیں۔ وادع الی ربک (28: 85) ” اپنے رب کی طرف دعوت دو “۔ یہ دعوت خالص اسلامی دعوت ہو ، بالکل واضح ہو اور اس کے اندر کوئی پیچیدگی اور کوئی التباس نہ ہو۔ یہ صرف اللہ کی طرف ہو ، کسی قومیت اور کسی عصبیت کی طرف نہ ہو۔ کسی زمین اور کسی جھنڈے کے لیے نہ ہو ، کسی مصلحت اور کسی مفاد کے لیے نہ ہو۔ کسی ذاتی خواہش اور کسی دنیاوی عیاشی کے لیے نہ ہو۔ اس دعوت کو کوئی قبول کرتا ہے یا نہیں کرتا ، اس کی کوئی پرواہ نہ کی جائے۔ اور کوئی اس کو قبول نہیں کرتا تو وہ اپنے لیے کوئی اور راہ لے ، ہمارا طریقہ اور راستہ تو یہی ہے۔ ولا تکونن من المشرکین (28: 85) ولا تدع مع اللہ الھا اخر (28: 88) ” اور ہرگز مشرکین میں شامل نہ ہو اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ پکارو “۔ ایک ہی اصول کو تاکیداً دو مرتبہ بیان کیا گیا یعنی شرک نہ کرو ، اور اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو ، اس طریقہ سے اسلامی نظریہ حیات نکھر کر سامنے آتا ہے۔ توحید اور شرک اسلامی عقیدہ کا بنیادی مسئلہ ہے۔ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات بنیادی کلمہ ہے۔ اسی پر اسلامی نظریہ حیات قائم ہے۔ اسلام کے آداب ، اس کے فرائض ، اس کے اخلاقی ضابطے اور اس کے قانونی ضابطے سب اسی نظریہ پر قائم ہیں۔ ہر ہدایت اور ہر قانون نظریہ توحید پر قائم ہے۔ اس لیے ہر ہدایت اور ہر ضابطہ بندی سے قبل عقیدہ توحید کا ذکر ہوتا ہے۔ مزید تاکید ملاحظہ ہو۔ لا الہ الا ھو کل شئ ھالک الا وجھہ (28: 88) ” اس کے سوا کوئی معبود الٰہ نہیں ہے ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے “۔ لہٰذا اسی کے آگے جھکنا ہے۔ اسی کی بندگی کرنا ہے ، اس کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔ اس کے سوا کسی کے پاس جائے پناہ اور جائے تحفظ نہیں ہے۔ کل شئ ھالک الا وجھہ (28: 88) ” ہر چیز ہلاک ہونے والئ ہے سوائے اس کی ذات کے “۔ ہر شے زائل ہونے والی ہے ، ہلاک ہونے والی ہے ، مال ہو یا جاہ ، اقتدار ہو یا قوت ، زندگی ہو یا سامان زندگی ، زمین ہو یا زمین کے باشندے۔ آسمان ہوں یا ان میں رہنے والی ہر چیز۔ اور یہ پوری کائنات جسے ہم جانتے ہوں یا جو ہمارے علم سے باہر ہو ، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ماسوائے ذات باری تعالیٰ کے۔ صرف ذات باری تعالیٰ اکیلی ہی باقی رہے گی۔ لہ الحکم (28: 88) ” فرمانروائی اسی کی ہے “۔ وہ جو فیصلے چاہتا ہے ، کرتا ہے ، جو احکام چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اس کے احکام اور بادشاہت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔ اس کے حکم کے بالمقابل کوئی حکم نہیں۔ اور وہ چاہے وہ ہوتا ہے اور اسکے سوا کوئی ایسی ذات نہیں ہے جس کی مشیت چلتی ہو۔ والیہ ترجعون (28: 88) ” اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے “۔ لہٰذا اس کے حکم سے کوئی جائے خلاصی و جائے پناہ نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں فرار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی ملجا و ماویٰ نہیں ہے۔ یوں اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ قدرت الہیہ اس میں برملا کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ذات باری دعوت اور داعیوں کی محافظہ نظر آتی ہے۔ اور دعوت اسلامی کے مقابلے میں تمام قوتوں کو پاش پاش کرنے کے مناظر صاف نظر آتے ہیں۔ اور سورت کا اختتام دعوت اسلامی کی بنیاد یعنی عقیدہ توحید پر ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہیہ و حاکم نہیں ہے۔ حکم اور فیصلہ اسی کا چلے گا اور اس دعوت کو لے کر اہل دعوت کو چاہئے کہ وہ یقین ، اعتماد اور یکسوئی کے ساتھ اپنی راہ پر گامزن رہیں۔

القصص 28:87

وما کنت ترجوا ۔۔۔۔۔ من ربک یہ اس مسئلہ پر ایک فیصلہ کن بات ہے کہ رسالت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو کوئی امید نہ تھی کہ آپ رسول ﷺ بھی ہوسکتے ہیں۔ پس یہ اللہ کا اچانک انتخاب تھا۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، منتخب کرتا ہے۔ یہ اس قدر بلند منصب ہے کہ اس کے لیے کوئی انسان قبل از وقت توقع بھی نہیں کرسکتا ، سوچ بھی نہیں سکتا کہ اللہ اسے اس منصب کے لیے چن لے گا یا اللہ اسے اس کے اہل بنا دے گا۔ یہ اللہ کا محض رحم و کرم ہوتا ہے۔ کسی شخص پر یا کسی قوم پر کہ ان میں سے کسی کو اللہ چن لیتا ہے اور یہ انتخاب ان کا ہوتا ہے جو اللہ کے اونچے بندے ہوں ، ان کا انتخاب نہیں ہوتا جو اس منصب کے امیدوار ہوتے ہیں۔ مکہ کے ماحول میں عربوں میں اور اسرائیل میں بہت سے لوگ تھے۔ اس انتظار میں تھے کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے ، لیکن وہ کون ہوگا ، یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ منصب رسالت کہاں لے جا کر رکھ دے۔ اللہ نے اس قوم اور اس شخص کو اس منصب کے لیے چن لیا جو اس کے لیے نہ امیدوار تھا اور نہ اس کو اس کا خیال تھا کیونکہ اللہ جہاں منصب نبوت دیتا ہے اس کے لیے پہلے اس کو قبولیت کے لیے فیض عظیم اور استعدادوافر عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے چونکہ آپ کو یہ کتاب دی گئی جس کے مطابق آپ ﷺ نے حق پر فیصلے کرنے ہیں ، لہٰذا کافروں کے مددگار بنیں ، کیونکہ وہ تو آپ کو اللہ کی ان روشن نشانیوں سے روک دیں گے۔ بلکہ آپ مشرکین کے مقابلے میں صاف صاف عقیدہ توحید پر مبنی دعوت لے کر اٹھیں۔ فلا تکونن ظھیرا للکفرین ۔۔۔۔۔۔۔ لہ الحکم والیہ ترجعون (86 – 88) اس سورت کے آخر میں یہ انسانی عقل و خرد کے تاروں پر آخری ضرب ہے۔ اس فیصلہ کن ضرب میں بتا دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے راستے اور مشرکین اور مشرکین کے طریقے کے درمیان بڑے فاصلے ہیں۔ آپ کو متبعین قیامت تک آپ ﷺ کی راہ اور اس کی نشانات پر رہیں۔ یہ فیصلہ کن بات آپ ﷺ کی ہجرت کے موقعہ آئی ہے جس کے ذریعے حضور اور مشرکین مکہ کے راستے ہمیشہ کے لیے جدا ہو رہے تھے اور آنے والے عہد میں مختلف تاریخیں تیار ہونے والی تھیں۔ فلا تکونن ظھیرا للکفرین (28: 84) ” پس آپ کافروں کے مددگار نہ بنیں “۔ کیونکہ مومن اور کافر کے درمیان کوئی تعاون اور باہم نصرت کا تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ دونوں کے راستے جدا ہیں ، دونوں کے نظام زندگی متضاد ہیں۔ مومن حزب اللہ ہیں اور کافر حزب الشیطان ہیں۔ اس لیے دونوں کے باہم تعاون کے لیے کوئی مشترکہ اساس ہی نہیں ہے۔ دونوں کے تعاون کے لئے وئی مشترکہ میدان نہیں ہے۔ ولا یصدنک عن ۔۔۔۔۔ انزلت الیک (28: 85) ” اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کفار تمہیں ان سے باز رکھیں “۔ کفار کا ہمیشہ یہ مقصد رہا ہے کہ اہل دعوت کو کسی نہ کسی طریقے سے دعوت سے باز رکھیں اور مسلمانوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی دعوت کے راستے پر چلتے رہیں۔ اگرچہ رکاوٹیں ڈالنے والے رکاوٹیں ڈالیں۔ اور اس طرح چلتے رہیں کہ کوئی ان کو راہ دعوت سے روک نہ سکے۔ وہ قرآن اور سنت کی آیات کو لے کر اور ان پر بھروسہ کرکے اپنی راہ پر چل نکلیں۔ وادع الی ربک (28: 85) ” اپنے رب کی طرف دعوت دو “۔ یہ دعوت خالص اسلامی دعوت ہو ، بالکل واضح ہو اور اس کے اندر کوئی پیچیدگی اور کوئی التباس نہ ہو۔ یہ صرف اللہ کی طرف ہو ، کسی قومیت اور کسی عصبیت کی طرف نہ ہو۔ کسی زمین اور کسی جھنڈے کے لیے نہ ہو ، کسی مصلحت اور کسی مفاد کے لیے نہ ہو۔ کسی ذاتی خواہش اور کسی دنیاوی عیاشی کے لیے نہ ہو۔ اس دعوت کو کوئی قبول کرتا ہے یا نہیں کرتا ، اس کی کوئی پرواہ نہ کی جائے۔ اور کوئی اس کو قبول نہیں کرتا تو وہ اپنے لیے کوئی اور راہ لے ، ہمارا طریقہ اور راستہ تو یہی ہے۔ ولا تکونن من المشرکین (28: 85) ولا تدع مع اللہ الھا اخر (28: 88) ” اور ہرگز مشرکین میں شامل نہ ہو اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ پکارو “۔ ایک ہی اصول کو تاکیداً دو مرتبہ بیان کیا گیا یعنی شرک نہ کرو ، اور اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو ، اس طریقہ سے اسلامی نظریہ حیات نکھر کر سامنے آتا ہے۔ توحید اور شرک اسلامی عقیدہ کا بنیادی مسئلہ ہے۔ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات بنیادی کلمہ ہے۔ اسی پر اسلامی نظریہ حیات قائم ہے۔ اسلام کے آداب ، اس کے فرائض ، اس کے اخلاقی ضابطے اور اس کے قانونی ضابطے سب اسی نظریہ پر قائم ہیں۔ ہر ہدایت اور ہر قانون نظریہ توحید پر قائم ہے۔ اس لیے ہر ہدایت اور ہر ضابطہ بندی سے قبل عقیدہ توحید کا ذکر ہوتا ہے۔ مزید تاکید ملاحظہ ہو۔ لا الہ الا ھو کل شئ ھالک الا وجھہ (28: 88) ” اس کے سوا کوئی معبود الٰہ نہیں ہے ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے “۔ لہٰذا اسی کے آگے جھکنا ہے۔ اسی کی بندگی کرنا ہے ، اس کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔ اس کے سوا کسی کے پاس جائے پناہ اور جائے تحفظ نہیں ہے۔ کل شئ ھالک الا وجھہ (28: 88) ” ہر چیز ہلاک ہونے والئ ہے سوائے اس کی ذات کے “۔ ہر شے زائل ہونے والی ہے ، ہلاک ہونے والی ہے ، مال ہو یا جاہ ، اقتدار ہو یا قوت ، زندگی ہو یا سامان زندگی ، زمین ہو یا زمین کے باشندے۔ آسمان ہوں یا ان میں رہنے والی ہر چیز۔ اور یہ پوری کائنات جسے ہم جانتے ہوں یا جو ہمارے علم سے باہر ہو ، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ماسوائے ذات باری تعالیٰ کے۔ صرف ذات باری تعالیٰ اکیلی ہی باقی رہے گی۔ لہ الحکم (28: 88) ” فرمانروائی اسی کی ہے “۔ وہ جو فیصلے چاہتا ہے ، کرتا ہے ، جو احکام چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اس کے احکام اور بادشاہت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔ اس کے حکم کے بالمقابل کوئی حکم نہیں۔ اور وہ چاہے وہ ہوتا ہے اور اسکے سوا کوئی ایسی ذات نہیں ہے جس کی مشیت چلتی ہو۔ والیہ ترجعون (28: 88) ” اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے “۔ لہٰذا اس کے حکم سے کوئی جائے خلاصی و جائے پناہ نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں فرار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی ملجا و ماویٰ نہیں ہے۔ یوں اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ قدرت الہیہ اس میں برملا کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ذات باری دعوت اور داعیوں کی محافظہ نظر آتی ہے۔ اور دعوت اسلامی کے مقابلے میں تمام قوتوں کو پاش پاش کرنے کے مناظر صاف نظر آتے ہیں۔ اور سورت کا اختتام دعوت اسلامی کی بنیاد یعنی عقیدہ توحید پر ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہیہ و حاکم نہیں ہے۔ حکم اور فیصلہ اسی کا چلے گا اور اس دعوت کو لے کر اہل دعوت کو چاہئے کہ وہ یقین ، اعتماد اور یکسوئی کے ساتھ اپنی راہ پر گامزن رہیں۔

القصص 28:88

وما کنت ترجوا ۔۔۔۔۔ من ربک یہ اس مسئلہ پر ایک فیصلہ کن بات ہے کہ رسالت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو کوئی امید نہ تھی کہ آپ رسول ﷺ بھی ہوسکتے ہیں۔ پس یہ اللہ کا اچانک انتخاب تھا۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، منتخب کرتا ہے۔ یہ اس قدر بلند منصب ہے کہ اس کے لیے کوئی انسان قبل از وقت توقع بھی نہیں کرسکتا ، سوچ بھی نہیں سکتا کہ اللہ اسے اس منصب کے لیے چن لے گا یا اللہ اسے اس کے اہل بنا دے گا۔ یہ اللہ کا محض رحم و کرم ہوتا ہے۔ کسی شخص پر یا کسی قوم پر کہ ان میں سے کسی کو اللہ چن لیتا ہے اور یہ انتخاب ان کا ہوتا ہے جو اللہ کے اونچے بندے ہوں ، ان کا انتخاب نہیں ہوتا جو اس منصب کے امیدوار ہوتے ہیں۔ مکہ کے ماحول میں عربوں میں اور اسرائیل میں بہت سے لوگ تھے۔ اس انتظار میں تھے کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے ، لیکن وہ کون ہوگا ، یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ منصب رسالت کہاں لے جا کر رکھ دے۔ اللہ نے اس قوم اور اس شخص کو اس منصب کے لیے چن لیا جو اس کے لیے نہ امیدوار تھا اور نہ اس کو اس کا خیال تھا کیونکہ اللہ جہاں منصب نبوت دیتا ہے اس کے لیے پہلے اس کو قبولیت کے لیے فیض عظیم اور استعدادوافر عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے چونکہ آپ کو یہ کتاب دی گئی جس کے مطابق آپ ﷺ نے حق پر فیصلے کرنے ہیں ، لہٰذا کافروں کے مددگار بنیں ، کیونکہ وہ تو آپ کو اللہ کی ان روشن نشانیوں سے روک دیں گے۔ بلکہ آپ مشرکین کے مقابلے میں صاف صاف عقیدہ توحید پر مبنی دعوت لے کر اٹھیں۔ فلا تکونن ظھیرا للکفرین ۔۔۔۔۔۔۔ لہ الحکم والیہ ترجعون (86 – 88) اس سورت کے آخر میں یہ انسانی عقل و خرد کے تاروں پر آخری ضرب ہے۔ اس فیصلہ کن ضرب میں بتا دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے راستے اور مشرکین اور مشرکین کے طریقے کے درمیان بڑے فاصلے ہیں۔ آپ کو متبعین قیامت تک آپ ﷺ کی راہ اور اس کی نشانات پر رہیں۔ یہ فیصلہ کن بات آپ ﷺ کی ہجرت کے موقعہ آئی ہے جس کے ذریعے حضور اور مشرکین مکہ کے راستے ہمیشہ کے لیے جدا ہو رہے تھے اور آنے والے عہد میں مختلف تاریخیں تیار ہونے والی تھیں۔ فلا تکونن ظھیرا للکفرین (28: 84) ” پس آپ کافروں کے مددگار نہ بنیں “۔ کیونکہ مومن اور کافر کے درمیان کوئی تعاون اور باہم نصرت کا تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ دونوں کے راستے جدا ہیں ، دونوں کے نظام زندگی متضاد ہیں۔ مومن حزب اللہ ہیں اور کافر حزب الشیطان ہیں۔ اس لیے دونوں کے باہم تعاون کے لیے کوئی مشترکہ اساس ہی نہیں ہے۔ دونوں کے تعاون کے لئے وئی مشترکہ میدان نہیں ہے۔ ولا یصدنک عن ۔۔۔۔۔ انزلت الیک (28: 85) ” اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کفار تمہیں ان سے باز رکھیں “۔ کفار کا ہمیشہ یہ مقصد رہا ہے کہ اہل دعوت کو کسی نہ کسی طریقے سے دعوت سے باز رکھیں اور مسلمانوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی دعوت کے راستے پر چلتے رہیں۔ اگرچہ رکاوٹیں ڈالنے والے رکاوٹیں ڈالیں۔ اور اس طرح چلتے رہیں کہ کوئی ان کو راہ دعوت سے روک نہ سکے۔ وہ قرآن اور سنت کی آیات کو لے کر اور ان پر بھروسہ کرکے اپنی راہ پر چل نکلیں۔ وادع الی ربک (28: 85) ” اپنے رب کی طرف دعوت دو “۔ یہ دعوت خالص اسلامی دعوت ہو ، بالکل واضح ہو اور اس کے اندر کوئی پیچیدگی اور کوئی التباس نہ ہو۔ یہ صرف اللہ کی طرف ہو ، کسی قومیت اور کسی عصبیت کی طرف نہ ہو۔ کسی زمین اور کسی جھنڈے کے لیے نہ ہو ، کسی مصلحت اور کسی مفاد کے لیے نہ ہو۔ کسی ذاتی خواہش اور کسی دنیاوی عیاشی کے لیے نہ ہو۔ اس دعوت کو کوئی قبول کرتا ہے یا نہیں کرتا ، اس کی کوئی پرواہ نہ کی جائے۔ اور کوئی اس کو قبول نہیں کرتا تو وہ اپنے لیے کوئی اور راہ لے ، ہمارا طریقہ اور راستہ تو یہی ہے۔ ولا تکونن من المشرکین (28: 85) ولا تدع مع اللہ الھا اخر (28: 88) ” اور ہرگز مشرکین میں شامل نہ ہو اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ پکارو “۔ ایک ہی اصول کو تاکیداً دو مرتبہ بیان کیا گیا یعنی شرک نہ کرو ، اور اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو ، اس طریقہ سے اسلامی نظریہ حیات نکھر کر سامنے آتا ہے۔ توحید اور شرک اسلامی عقیدہ کا بنیادی مسئلہ ہے۔ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات بنیادی کلمہ ہے۔ اسی پر اسلامی نظریہ حیات قائم ہے۔ اسلام کے آداب ، اس کے فرائض ، اس کے اخلاقی ضابطے اور اس کے قانونی ضابطے سب اسی نظریہ پر قائم ہیں۔ ہر ہدایت اور ہر قانون نظریہ توحید پر قائم ہے۔ اس لیے ہر ہدایت اور ہر ضابطہ بندی سے قبل عقیدہ توحید کا ذکر ہوتا ہے۔ مزید تاکید ملاحظہ ہو۔ لا الہ الا ھو کل شئ ھالک الا وجھہ (28: 88) ” اس کے سوا کوئی معبود الٰہ نہیں ہے ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے “۔ لہٰذا اسی کے آگے جھکنا ہے۔ اسی کی بندگی کرنا ہے ، اس کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔ اس کے سوا کسی کے پاس جائے پناہ اور جائے تحفظ نہیں ہے۔ کل شئ ھالک الا وجھہ (28: 88) ” ہر چیز ہلاک ہونے والئ ہے سوائے اس کی ذات کے “۔ ہر شے زائل ہونے والی ہے ، ہلاک ہونے والی ہے ، مال ہو یا جاہ ، اقتدار ہو یا قوت ، زندگی ہو یا سامان زندگی ، زمین ہو یا زمین کے باشندے۔ آسمان ہوں یا ان میں رہنے والی ہر چیز۔ اور یہ پوری کائنات جسے ہم جانتے ہوں یا جو ہمارے علم سے باہر ہو ، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ماسوائے ذات باری تعالیٰ کے۔ صرف ذات باری تعالیٰ اکیلی ہی باقی رہے گی۔ لہ الحکم (28: 88) ” فرمانروائی اسی کی ہے “۔ وہ جو فیصلے چاہتا ہے ، کرتا ہے ، جو احکام چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اس کے احکام اور بادشاہت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔ اس کے حکم کے بالمقابل کوئی حکم نہیں۔ اور وہ چاہے وہ ہوتا ہے اور اسکے سوا کوئی ایسی ذات نہیں ہے جس کی مشیت چلتی ہو۔ والیہ ترجعون (28: 88) ” اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے “۔ لہٰذا اس کے حکم سے کوئی جائے خلاصی و جائے پناہ نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں فرار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی ملجا و ماویٰ نہیں ہے۔ یوں اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ قدرت الہیہ اس میں برملا کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ذات باری دعوت اور داعیوں کی محافظہ نظر آتی ہے۔ اور دعوت اسلامی کے مقابلے میں تمام قوتوں کو پاش پاش کرنے کے مناظر صاف نظر آتے ہیں۔ اور سورت کا اختتام دعوت اسلامی کی بنیاد یعنی عقیدہ توحید پر ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہیہ و حاکم نہیں ہے۔ حکم اور فیصلہ اسی کا چلے گا اور اس دعوت کو لے کر اہل دعوت کو چاہئے کہ وہ یقین ، اعتماد اور یکسوئی کے ساتھ اپنی راہ پر گامزن رہیں۔

العنكبوت 29:1

سورة العنکبوت ایک نظر میں سورة عنکبوت مکی ہے ، بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس کی پہلی گیارہ آیات مدنی ہیں۔ محض اس لیے کہ ان میں جہاد اور منافقین کا ذکر ہے۔ لیکن ہم اس قول کو ترجیح دیتے ہیں یہ پوری سورت مکی ہے اور اس کی آٹھویں آیت کے بارے میں یہ روایت آتی ہے کہ یہ سعد ابن ابی وقاص کے اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا ذکر ہوگا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص مکہ میں مسلمان ہوئے۔ ظاہر ہے کہ جن آیات کو مدنی کہا گیا ہے یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ ان سب آیات کو مکی کہا جائے۔ رہی یہ بات کہ ان میں جہاد کا ذکر آیا ہے تو اس کی تاویل آسان ہے کیونکہ مضمون کلام سے یہاں آزمائشوں کے خلاف جہاد معلوم ہوتا ہے ۔ نفس کے خلاف جہاد اور نفاق کا ذکر بھی اسی کا مفہوم ہے یعنی اسی منافقت کہ ایک آدمی بات کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا۔ ان آیات میں لوگوں کے ایک مخصوص نمونے کا ذکر ہے۔ یہ پوری سورت آغاز سے اختتام تک ایک ہی لائن اور ایک ہی موضوع پر جاری ہے۔ اس کا آغاز حروف مقطعات اور ایمان اور ایمان والوں کی آزمائش سے ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب ایمان کسی شخص کے دل میں جاگزیں ہوجاتا ہے تو اس شخص سے ایمان بھاری تقاضے کرتا ہے کیونکہ ایمان صرف چند کلمات کا نام نہیں ہے جو کہہ دئیے جائیں بلکہ ایمان کے نتیجے میں جو مشکلات آتی ہے انکو برداشت کرنا ، اس کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے فرائض و مشکلات پر صبر کرنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کا محور اور موضوع ہی ” ایمان اور اس کے تقاضے “ ہے کیونکہ ایمان اور مشکلات راہ کے ذکر کے بعد حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت لوط ، حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قصص آتے ہیں۔ پھر عاد ، ثمود ، قارون ، فرعون اور ہامان کا ذکر ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر تمام زمانوں اور اقوام میں یہی صورت حال اہل ایمان کو پیش آتی رہی ہے یعنی ایمان کے ساتھ فتنے اور آزمائش لازم ہوتی ہیں۔ اس کے بعد یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس دنیا میں شر کی قوتیں ہمیشہ ایمان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں اور مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ شر کی قوتیں اہل ایمان کو معاشرے میں حقیر قوت ظاہر کرتی ہیں۔ ان کو نظر انداز کرتی ہیں لیکن اللہ ان کو خوب پکڑتا ہے۔ فکلا اخذنا ۔۔۔۔۔۔ من اغرقنا (29: 40) ” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی ، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ، اور کسی کو غرق کردیا “۔ پھر ان تمام قوتوں کی ایک مجسم مثال دی جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں یہ کس قدر کمزور ہیں اللہ کی قوتیں جب اٹھتی ہیں تو یہ بےبس ہوتی ہیں۔ مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ لو کانو یعلمون (29: 41) ” جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے “۔ اس کے بعد یہ سورت اس سچائی کو جو تمام انبیاء کی دعوتوں میں پائی جاتی ہے ، اس سچائی کے ساتھ جوڑ دیتی ہے ، جو زمین اور آسمان کی تخلیق میں ہے اور اس کے بعد ان تمام دعوتوں کو حضرت محمد ﷺ کی دعوت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ سب اللہ کی جانب سے ہیں۔ سب دعوتیں اللہ وحدہ کی طرف پکارتی ہیں۔ اس کے بعد حضرت محمد ﷺ کی دعوت کی کتاب قرآن کریم پر بات ہوتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ مشرکین کا ردعمل اس کتاب کے حوالے سے کیا تھا۔ وہ اس کتاب کے ہوتے ہوئے خارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں حالانکہ اس کے اندر جو دعوت ہے وہ اللہ کی رحمت اور نہایت ہی بہترین راہنمائی اور یاد دہانی پر مشتمل ہے۔ اور پھر تعجب انگیز انداز میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس بارے میں جلدی کرتے ہیں کہ عذاب جلد کیوں نازل نہیں ہوتا حالانکہ جہنم تو بہت جلد ان کو اپنے گھیرے میں لینے والی ہے۔ پھر خود ان کی سوچ اور اپنے عقائد میں تضاد ہے۔ ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ لیقولن اللہ ” اگر ان سے پوچھو کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ، تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ نے “۔ ولئن سالتھم من نزول ۔۔۔۔۔۔۔ لیقولن اللہ ” اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے پانی کس نے نازل کیا ، پھر زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کے ساتھ اسے زندہ کردیا تو وہ کہیں گے کہ اللہ نے “۔ فاذا رکبوا ۔۔۔۔ لہ الدین (29: 56) ” جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں ، پورا دین اس لیے خالص کرتے ہوئے “۔ لیکن یہ عقائد رکھنے کے باوجود یہ لوگ شرک کرتے ہیں اور اہل ایمان کو آزمائشوں میں ڈالتے ہیں۔ اس بحث و مباحثے کے درمیان مومنین کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان آزمائشوں سے بچنے کیلئے ہجرت کریں ، موت سے نہ ڈریں ، کیونکہ کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون ” ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے ، پھر وہ سب ہماری طرف لوٹ کر آئیں گے “۔ نیز ہجرت کرتے ہوئے اس بات کی بھی پرواہ نہ کرو کہ ہم کھائیں گے کیا ، کیونکہ وکاین من دابۃ ۔۔۔۔۔ وایاکم (29: 60) ” کتنے ہی زمین پر چلنے والے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے ہوئے نہیں ہوتے ، اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی دیتا ہے “۔ سورت کے آخر میں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ان کی تعریف اور تمجید کی گئی ہے اور ان کو ہدایت پر مطمئن ہونے اور ثابت قدم رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ والذین جاھدوا ۔۔۔۔۔۔ لمع المحسنین (29: 69) ” وہ لوگ جنہوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ، ہم ضرور ان کی راہنمائی اپنے راستوں کی طرف کریں گے ، بیشک اللہ محسن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے “۔ یوں سورت کا خاتمہ اس کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ہے اور اس طرح پوری سورت کے پیش نظر جو حکمت ہے ، وہ واضح ہوجاتی ہے۔ اور اسکے تمام حلقے مربوط ہوجاتے ہیں اور سب اس سورت کے محور کے اردگرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ چناچہ اس سورت کی بات ، اپنے اس موضوع پر تین راونڈز میں چلتی ہے۔ پہلے راؤنڈ میں ایمان کی حقیقت ، اللہ کی یہ سنت کہ وہ کارکنوں کو آزماتا ہے اور مشکلات میں مبتلا کرتا ہے اور پھر یہ کہ ایمان لانے والوں کا انجام کیا ہوگا اور کافروں کا انجام کیا ہوگا۔ اور یہ کہ ذمہ داری انفرادی ہے۔ لہٰذا قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون (29: 13) ” قیامت کے دن ضرور ان سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیا افترا پردازیاں کرتے رہے تھے۔ دوسرے راؤنڈ میں وہ قصص ہیں جن کی طرف ہم نے ابھی اشارہ کیا۔ ان قصص میں بھی وہ مشکلات اور رکاوٹیں بیان کی گئی ہیں جو ہمیشہ دعوت اور داعی کی راہ میں آتی ہیں۔ لیکن آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی قوتوں کے سامنے ان مشکلات اور رکاوٹوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ بتایا جاتا ہے کہ رسولوں کی دعوت حق پر مبنی ہوتی ہے اور اس کائنات کی تخلیق بھی اس حق کے اصول پر ہے۔ جس حق پر کائنات استوار ہے اور جس پر دین و شریعت استوار ہے ، دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ تیسرے راؤنڈ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ نہ کرو مگر نہایت اچھے انداز میں۔ ہاں ان میں سے ایسے لوگوں کے خلاف سخت بات کی جاسکتی ہے جو ان میں سے ظالم ہوں۔ اہل کتاب سے یہ بات کی جاسکتی ہے کہ تمام ادیان ایک ہیں ، اور کافر جس دین اسلام کا انکار کر رہے ہیں ، یہ بھی تمام ادیان سماوی کا ہم مشرب دین ہے۔ سب کا سرچشمہ ایک ہے۔ اس راؤنڈ میں مشرکین کے ساتھ مباحثہ ہے۔ اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں کہ وہ مطمئن ہوجائیں ، ان کے لیے خوشخبریاں ہیں اور ثابت قدمی سے اپنی راہ پر چلیں ۔ کیونکہ وان اللہ لمع المحسنین (29: 69) ” بیشک اللہ محسنین کے ساتھ ہے “۔ آغاز سے اختتام تک دوران کلام جا بجا تبصرے آتے ہیں ، جن میں ایمان کی حقیت کو دلوں میں بٹھایا جاتا ہے۔ ان تبصروں کے ذریعے دلوں کو خوب جھنجھوڑا جاتا ہے۔ اور داعیان حق کے دلوں کو راہ ایمان کی مشکلات کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے کہ یا تو ان مشکلات کو برداشت کردیا اس راہ کو چھوڑدو۔ اگر تم ایمان کے تقاضے پورے نہ کروگے تو یہ نفاق ہوگا۔ غرض یہ ایسے اور ایسی ضربات ہیں جن پر ان نصوص کے ضمن ہی میں بحث کی جاسکتی ہے ، جن میں یہ ضربات آتی ہیں۔ لہٰذا مفصل بات ہم نصوص کی تشریح تک موخر کرتے ہیں اور یہاں اسی اشارے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ درس نمبر 180 تشریح آیات 1 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 13 ا۔ ل۔ م۔ ان حروف میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کتاب انہی حروف تہجی سے بنی ہے جو تمہیں معلوم ہیں اور تمہاری دسترس میں ہیں لیکن ان سے تم ایسی کتاب نہیں بنا سکتے جیسے قرآن ہے۔ اس لیے کہ یہ کتاب اللہ کا کلام ہے ، انسان کا کلام نہیں ہے۔ دوسرے مفسرین نے ان کے اور معانی بھی بیان کیے ہیں لیکن میں اس معنی کو ترجیح دیتا ہوں۔ اتل ما اوحی الیک من الکتب (29: 45) ” تمہاری طرف جو کتاب نازل کی جا رہی ہے اسے پڑھئے “۔ وکذلک انزلنا الیک الکتب (29: 47) ” اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی کتاب نازل کی ہے “۔ وما کنت۔۔۔۔۔ تخطہ بیمینک (29: 48) ” اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اولم یکفھم ۔۔۔۔۔۔ علیھم (29: 51) ” کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر کتاب نازل کی ہے جو ان پر پڑھی جا رہی ہے “۔ یہ تذکرہ اسی قاعدے کے مطابق ہے اور اسی لیے ہم نے حروف مقطعات کی تفسیر میں یہ رائے اختیار کی ہے۔ ان کے بعد ایمان کی بات شروع ہوتی ہے اور ان آزمائشوں کی بات آتی ہے جو اس ایمان کی حقیقت سمجھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں ، تاکہ معلوم ہو کہ مدعیان ایمان صادق ہیں یا کاذب ، اس لئے کہ سچے اور جھوٹے کی آزمائش ، آزمائش ہی سے ہوتی ہے۔ الم ۔۔۔۔۔ ولیعلمن الکذبین (1 – 3) ؟ اس سورت کے پہلے پر زور قطعہ کا یہ دھماکہ خیز اعلان ہے ، سرزنش آمیز سوالیہ کے ذریعے لوگوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ تم ایمان کو کیا سمجھتے ہو ؟ کیا ایمان صرف چند الفاظ کا نام ہے جو زبانی ادا کر دئیے جائیں ؟ احسب الناس ۔۔۔۔۔۔ لا یفترون (29: 2) ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ وہ کہہ دیں کہ ” ہم ایمان لائے “ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا “۔ ایمان چند کلمات کا نام نہیں ہے جو زبان سے کہہ دئیے جائیں بلکہ وہ ایک حقیقت ہے جس کے اپنے تقاضے ہیں۔ وہ ایک امانت ہے جس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ یہ دراصل ایک جہاد ہے جس میں بڑے صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ بات کافی ہے کہ کوئی زبان سے کہہ دے ” ہم ایمان لائے “۔ اگر وہ ایمان کا دعویٰ کریں گے تو خود ان کی آزمائش شروع ہوجائے گی اور ان کی آزمائشوں میں ان کو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان آزمائشوں سے وہ صاف ہو کر نکلیں گے اور ان کے دلوں کو خالص ہونا ہوگا۔ فتنہ کے معنی ہیں سونے کو گرم کرکے اس سے کھوٹ جدا کرنا۔ اس لفظ کے یہ لغوی معنی بھی یہاں مراد ہیں کہ آزمائشوں کے نتیجے میں ہی خالص لوگ سامنے آتے ہیں۔ آزمائشوں سے نکل کر کارکنوں کے دل صاف و شفاف ہوجاتے ہیں لہٰذا ایمان کے اعلان کے بعد آزمائش کا آنا ایک اصولی بات ہے۔ ایک جاری سنت سے اور اللہ کا معیار ہے۔ جس پر اہل ایمان پرکھے جاتے ہیں۔ ولقد فتنا۔۔۔۔۔ الکذبین (29: 3) ” حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کو چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ہیں “۔ اللہ کو تو ہر دل کی حقیقت معلوم ہے۔ ابتلا سے پہلے ہی معلوم ہے ، لیکن مقصد یہ ہے کہ ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور لوگوں سے پوشیدہ ہے وہ کھل کر سامنے آجائے تاکہ لوگوں کے ساتھ حساب و کتاب ان کے اعمال کے مطابق کیا جاسکے۔ اور صرف اسی بات پر ان کا محاسبہ نہ ہو کہ اللہ کو علم تھا کہ وہ ایسا کریں گے۔ اور یہ ایک پہلو سے اللہ کا کرم ہے اور اللہ کا عدل ہے اور لوگوں کی تربیت ہے کہ کسی شخص کو صرف ان اعمال پر پکڑا جاسکتا ہے جو کھلے ہوں ، اور جو ایک عملی حقیقت ہوں۔ کسی کو اس کی نیت پر نہیں پکڑا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا کا کوئی حاکم اللہ سے زیادہ نبات کا جاننے والا نہیں ہے اب ہم اس مضمون کی طرف آتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کو ، اپنی سنت کے مطابق ہمیشہ آزماتا ہے اور انہیں بعض مشکلات سے دوچار کرتا ہے تاہ یہ معلوم ہو کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور نظریہ اس کائنات میں اللہ کی امانت ہے۔ اس امانت کے حامل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اس کی اہلیت رکھتے ہوں اور جن کے اندر اس کے اٹھانے کی قدرت ہو ، اور وہ ایمان اور نظریہ کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتے ہوں ، جو اپنا آرام اور امن اور سکون و سلامتی ، سازو سامان اور عیش و عشرت اس پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایمان اور اسلامی نظریہ حیات اس زمین پر منصب خلافت الہیہ کا دوسرا نام ہے۔ بایں معنی کہ اس زمین پر مومن عوام الناس کا قائد ہو اور اللہ کے احکام کو اس دنیا کی زندگی میں حقیقت کا روپ دے۔ یہ ہے نہایت اہم اور قیمتی ذمہ داری اور یہ ایک ایسا کام ہے جو بہت ہی مشکل ہے اور اس کے لیے لوگوں کی ضرورت ہے جو مشکلات کو انگیز کرسکتے ہوں۔ اہل ایمان کی آزمائشوں میں سے ایک آزمائش یہ ہوتی کہ وہ ان مشکلات اور اذیتوں پر صبر کریں جو ان کو اہل باطل کی طرف سے پہنچیں۔ خصوصاً ایسے حالات میں کہ ان کے لیے کوئی مددگار اور سہارانہ ہو۔ مومن نہ اپنا دفاع کرسکتا ہو اور نہ اسے کسی طرح سے کوئی مدد ملتی ہو۔ نہ اس کے پاس کوئی ایسی قوت ہو جس کے ساتھ وہ زیادتی کرنے والوں کا مقابلہ کرسکے۔ یہ آزمائش کی سخت ترین صورت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں جب آزمائش کا ذکر ہوتا ہے تو ایسی ہی صورت حالات مراد ہوتی ہے۔ لیکن فتنے اور آزمائش کی اس سے بھی زیادہ سخت اور شدید صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً بعض اوقات یہ خطرہ ہوتا ہے کہ ایک مومن کی وجہ سے اس کے دوستوں ، احباب اور رشتہ داروں کو بھی اذیت دی جائے گی۔ اور یہ مومن ان کے بارے میں بےبس ہوتا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ احباب دہائیاں دیتے ہیں کہ مومن ان کی خاطر نرمی کرلے یا باطل کے ساتھ مصالحت کرے تاکہ اقرباء اور رشتہ داروں پر تشدد نہ ہو اور دوسرے لوگ تباہ و برباد نہ ہوں۔ اس سورت میں اس قسم کی آزمائشوں کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جہاں مومن کے ساتھ بچے بھی مارے جاتے ہیں۔ آزمائش کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ بعض اوقات باطل پرستوں پر دولت کی بارش ہوتی ہے ۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اہل باطل خوشحال اور کامیاب ہیں۔ دنیا ان کے نعرے بلند کرتی ہے۔ عوام الناس تالیاں بجا کر ان کا استقبال کرتے ہیں۔ اس کے راستے سے رکاوٹیں دور ہوتی چلی جاتی ہیں اور لوگ ان پر قربان ہوتے ہیں اور ان کی زندگی نہایت ہی خوشگواری سے گزرتی ہے اور یہ مومن بیچارہ نظروں سے گرا ہوا ، غیر اہم جس کا کوئی حامی نہ ہو ، اور وہ جس عظیم سچائی کا حامل ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ہاں چند اس جیسے لوگ اور اس کے حامی ہوتے ہیں لیکن وہ خود معاشرے کے بےاثر لوگ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مومن اپنے آپ کو بالکل تنہا محسوس کرتا ہے ، وہ دیکھتا ہے کہ وہ خود اپنی سوسائٹی میں غریب الدیار ہے۔ اس کا پورا ماحول گمراہی میں مبتلا ہے۔ اور اس ماحول میں وہ انوکھا لگ رہا ہے۔ اور آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مومن عجیب اذیت کے ساتھ آزمایا جاتا ہے ۔ ایک مومن دیکھتا ہے کہ اس کرہ ارض پر بعض اقوام گمراہی اور رذالت میں کانوں تک ڈوبی ہوئی ہیں لیکن یہ اقوام نہایت ترقی یافتہ ہیں اور نہایت خوشحال اور مہذب ہیں اور ایسی اقوام میں ایک فرد ، جو بھی ہو ، وہ ایک انسان کے لائق عزت اور دیکھ بھال پاتا ہے۔ یہ اقوام مالدار اور خوشحال ہیں حالانکہ یہ اللہ کی نافرمان اقوام ہیں۔ اور اس سے بھی ایک عظیم آزمائش ایک مومن کے لیے اور ہے۔ یہ بہت ہی شدید ہے۔ نفس ، نفسانیت اور شہوات کا فتنہ ، دنیا کی کشش ، جسمانی لذت ، دولت اور اقتدار کی پیاس ، خوشحالی اور مرفہ الخالی کی دوڑ ، اور صراط مستقیم اور راہ ایمان پر چلنے کی دشواری۔ پھر اخلاق و کردار اور نفس کے مخالف میلانات کی دشواری ، جدید دور کی زندگی کے حالات ، جدید لوگوں کی سوچ ، اور اہل زمانہ کے تصورات کے حملے اور آزمائش۔ اور جب ایک مومن کی جدوجہد طویل تر ہوجائے ، اور اللہ کی طرف سے نصرت آنے میں تاخیر اور آزمائش شدید اور ناقابل برداشت ہوجائے اور ان کا مقابلہ وہی شخص کرسکتا ہو جسے اللہ ہی لغزشوں سے بچا رہا ہو ، تو ایسے مومن ہی دراصل وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس امانت کا حق ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں پر اس عظیم امانت کے سپرد کیے جانے کا اعتماد کیا جاتا ہے۔ یعنی زمین کے بارے میں عالم بالا کی امانت اور انسانی ضمیر میں ایمان باللہ کی امانت۔ خدا کی قسم ، یہ بات نہیں ہے کہ اللہ آزمائشوں کے ذریعہ اہل ایمان کو محض سزا دینا چاہتا ہو ، یا ان کو مصائب میں مبتلا کرکے ان کو اذیت دینا چاہتا ہو ، بلکہ اللہ ان کو اس امانت کے اٹھانے کے لیے حقیقتاً تیار کرنا چاہتا ہے اور یہ تیاری اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اہل ایمان کو عملا مشتقوں میں مبتلا نہ کیا جائے ، جب تک وہ صبر کرکے ہر قسم کی خواہشات اور شہوات پر برتری حاصل نہیں کرلیتے ، جب تک وہ اذیتوں پر صبر کرنا سیکھ نہیں لیتے ، اور جب تک انہیں اللہ کی نصرت پر حقیقی بھروسہ نہیں ہوجاتا۔ اگرچہ نصرت الہیہ بہت دیر کر دے اور اگرچہ ابتلاؤں کا دور طول کھینچ لے اور بہت شدید ہوجائے۔ نفس انسانی کو جب مصیبتوں کی بھٹی میں گرمایا جاتا ہے تو اس کا کھوٹ دور ہوجاتا ہے۔ اس کی خفیہ قوتیں جوش میں آتی ہیں ، اس کی مدافعانہ قوتیں جمع ہوتی ہیں۔ مصائب کے یہ پہاڑ جب کسی پر ٹوٹتے ہیں تو اس کا باطل عیقل ہوجاتا ہے ، اس کا جسم مضبوط ہوتا ہے اور یہ مومن ان مصائب و شدائد کا خوگر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی جماعت پر یہ مشکلات آئیں تو وہ جماعت بھی اسی طرح صاف ہوجاتی ہے۔ اس کی صفوں سے کمزور لوگ نکل جاتے ہیں۔ مضبوط لوگ ہی رہ جاتے ہیں اور اولوالعزم اور قوی الارادہ اور اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق والے ہی جماعت میں رہتے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں کسی ایک نہ ایک اچھے نتیجے والے کی امید ہوتی ہے یا فتح کی یا اجراخروی کی اور یہی لوگ ہوتے ہیں ، جن کو آخر میں جھنڈے تھمائے جاتے ہیں اور اچھی تیاری اور ٹریننگ کے بعد پھر ان پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جب اس امانت کو اٹھاتے ہیں تو یہ پھر انہیں دل و جان سے عزیز ہوتی ہے اس لیے کہ انہوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہوتی ہیں اور اس کی بھاری قیمت ادا کی ہوتی ہے۔ اس کی خاطر انہوں نے صبر کیا ہوتا ہے اور مشقتیں جھیلی ہوتی ہیں اور جو کارکن اپنا خون اور اپنے اعصاب قربان کرتا ہے ، آرام اور اطمینان تج دیتا ہے۔ لذائذ اور مرغوبات کی قربانی دیتا ہے۔ اور پھر اذیتوں اور محرومیوں پر صبر کرتا ہے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی کارکن کو اس امانت اور نظریہ کا شعور ہوتا ہے کہ اس کی قدرو قیمت کیا ہے۔ اس لیے وہ اسے ارزاں فروخت نہیں کرتا ، کیونکہ اس نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہوئی ہوتی ہے۔ رہی یہ بات کہ آخر کار یہ ایمان ، امانت اور اسلامی نظریہ حیات غالب ہو کر رہے گا تو یہ وہ وعدہ ہے جو اللہ نے کیا ہے اور اس کی ضمانت دی ہے۔ اور کوئی سچا مومن اللہ کے وعدے کے بارے میں شک نہیں کرسکتا ، اگر یہ وعدہ دیر سے حقیقت بنتا ہے تو اس کی بھی کوئی حکمت ہوگی۔ اس میں اہل ایمان کے لیے بھلائی ہوگی۔ جان لو کہ اللہ جس قدر حق پر غیرت کرتا ہے ، جس قدر ان کی حمایت کرتا ہے ، اس سے زیادہ حق کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ مومن کے لیے آزمائش اور مشقت ہی بہتر ہے تاکہ اس طرح وہ بندگان مختار میں شامل ہوجائے۔ حق کا امین بن جائے ، اور اللہ اس پر گواہ ہوجائے کہ اس کا دین مضبوط ہے اور وہ حمل امانت کا اہل ہے اس لیے اسے آزمائش کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ” ابتلاؤں میں شدید اور مضبوط لوگ انبیاء ہوتے ہیں۔ پھر صالحین ہوتے ہیں ، اور ان کے بعد درجہ بدرجہ ، ہر آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر اس کا دین مضبوط ہو تو اسے زیادہ آزمایا جاتا ہے “۔

العنكبوت 29:2

سورة العنکبوت ایک نظر میں سورة عنکبوت مکی ہے ، بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس کی پہلی گیارہ آیات مدنی ہیں۔ محض اس لیے کہ ان میں جہاد اور منافقین کا ذکر ہے۔ لیکن ہم اس قول کو ترجیح دیتے ہیں یہ پوری سورت مکی ہے اور اس کی آٹھویں آیت کے بارے میں یہ روایت آتی ہے کہ یہ سعد ابن ابی وقاص کے اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا ذکر ہوگا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص مکہ میں مسلمان ہوئے۔ ظاہر ہے کہ جن آیات کو مدنی کہا گیا ہے یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ ان سب آیات کو مکی کہا جائے۔ رہی یہ بات کہ ان میں جہاد کا ذکر آیا ہے تو اس کی تاویل آسان ہے کیونکہ مضمون کلام سے یہاں آزمائشوں کے خلاف جہاد معلوم ہوتا ہے ۔ نفس کے خلاف جہاد اور نفاق کا ذکر بھی اسی کا مفہوم ہے یعنی اسی منافقت کہ ایک آدمی بات کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا۔ ان آیات میں لوگوں کے ایک مخصوص نمونے کا ذکر ہے۔ یہ پوری سورت آغاز سے اختتام تک ایک ہی لائن اور ایک ہی موضوع پر جاری ہے۔ اس کا آغاز حروف مقطعات اور ایمان اور ایمان والوں کی آزمائش سے ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب ایمان کسی شخص کے دل میں جاگزیں ہوجاتا ہے تو اس شخص سے ایمان بھاری تقاضے کرتا ہے کیونکہ ایمان صرف چند کلمات کا نام نہیں ہے جو کہہ دئیے جائیں بلکہ ایمان کے نتیجے میں جو مشکلات آتی ہے انکو برداشت کرنا ، اس کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے فرائض و مشکلات پر صبر کرنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کا محور اور موضوع ہی ” ایمان اور اس کے تقاضے “ ہے کیونکہ ایمان اور مشکلات راہ کے ذکر کے بعد حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت لوط ، حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قصص آتے ہیں۔ پھر عاد ، ثمود ، قارون ، فرعون اور ہامان کا ذکر ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر تمام زمانوں اور اقوام میں یہی صورت حال اہل ایمان کو پیش آتی رہی ہے یعنی ایمان کے ساتھ فتنے اور آزمائش لازم ہوتی ہیں۔ اس کے بعد یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس دنیا میں شر کی قوتیں ہمیشہ ایمان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں اور مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ شر کی قوتیں اہل ایمان کو معاشرے میں حقیر قوت ظاہر کرتی ہیں۔ ان کو نظر انداز کرتی ہیں لیکن اللہ ان کو خوب پکڑتا ہے۔ فکلا اخذنا ۔۔۔۔۔۔ من اغرقنا (29: 40) ” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی ، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ، اور کسی کو غرق کردیا “۔ پھر ان تمام قوتوں کی ایک مجسم مثال دی جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں یہ کس قدر کمزور ہیں اللہ کی قوتیں جب اٹھتی ہیں تو یہ بےبس ہوتی ہیں۔ مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ لو کانو یعلمون (29: 41) ” جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے “۔ اس کے بعد یہ سورت اس سچائی کو جو تمام انبیاء کی دعوتوں میں پائی جاتی ہے ، اس سچائی کے ساتھ جوڑ دیتی ہے ، جو زمین اور آسمان کی تخلیق میں ہے اور اس کے بعد ان تمام دعوتوں کو حضرت محمد ﷺ کی دعوت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ سب اللہ کی جانب سے ہیں۔ سب دعوتیں اللہ وحدہ کی طرف پکارتی ہیں۔ اس کے بعد حضرت محمد ﷺ کی دعوت کی کتاب قرآن کریم پر بات ہوتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ مشرکین کا ردعمل اس کتاب کے حوالے سے کیا تھا۔ وہ اس کتاب کے ہوتے ہوئے خارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں حالانکہ اس کے اندر جو دعوت ہے وہ اللہ کی رحمت اور نہایت ہی بہترین راہنمائی اور یاد دہانی پر مشتمل ہے۔ اور پھر تعجب انگیز انداز میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس بارے میں جلدی کرتے ہیں کہ عذاب جلد کیوں نازل نہیں ہوتا حالانکہ جہنم تو بہت جلد ان کو اپنے گھیرے میں لینے والی ہے۔ پھر خود ان کی سوچ اور اپنے عقائد میں تضاد ہے۔ ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ لیقولن اللہ ” اگر ان سے پوچھو کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ، تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ نے “۔ ولئن سالتھم من نزول ۔۔۔۔۔۔۔ لیقولن اللہ ” اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے پانی کس نے نازل کیا ، پھر زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کے ساتھ اسے زندہ کردیا تو وہ کہیں گے کہ اللہ نے “۔ فاذا رکبوا ۔۔۔۔ لہ الدین (29: 56) ” جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں ، پورا دین اس لیے خالص کرتے ہوئے “۔ لیکن یہ عقائد رکھنے کے باوجود یہ لوگ شرک کرتے ہیں اور اہل ایمان کو آزمائشوں میں ڈالتے ہیں۔ اس بحث و مباحثے کے درمیان مومنین کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان آزمائشوں سے بچنے کیلئے ہجرت کریں ، موت سے نہ ڈریں ، کیونکہ کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون ” ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے ، پھر وہ سب ہماری طرف لوٹ کر آئیں گے “۔ نیز ہجرت کرتے ہوئے اس بات کی بھی پرواہ نہ کرو کہ ہم کھائیں گے کیا ، کیونکہ وکاین من دابۃ ۔۔۔۔۔ وایاکم (29: 60) ” کتنے ہی زمین پر چلنے والے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے ہوئے نہیں ہوتے ، اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی دیتا ہے “۔ سورت کے آخر میں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ان کی تعریف اور تمجید کی گئی ہے اور ان کو ہدایت پر مطمئن ہونے اور ثابت قدم رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ والذین جاھدوا ۔۔۔۔۔۔ لمع المحسنین (29: 69) ” وہ لوگ جنہوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ، ہم ضرور ان کی راہنمائی اپنے راستوں کی طرف کریں گے ، بیشک اللہ محسن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے “۔ یوں سورت کا خاتمہ اس کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ہے اور اس طرح پوری سورت کے پیش نظر جو حکمت ہے ، وہ واضح ہوجاتی ہے۔ اور اسکے تمام حلقے مربوط ہوجاتے ہیں اور سب اس سورت کے محور کے اردگرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ چناچہ اس سورت کی بات ، اپنے اس موضوع پر تین راونڈز میں چلتی ہے۔ پہلے راؤنڈ میں ایمان کی حقیقت ، اللہ کی یہ سنت کہ وہ کارکنوں کو آزماتا ہے اور مشکلات میں مبتلا کرتا ہے اور پھر یہ کہ ایمان لانے والوں کا انجام کیا ہوگا اور کافروں کا انجام کیا ہوگا۔ اور یہ کہ ذمہ داری انفرادی ہے۔ لہٰذا قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون (29: 13) ” قیامت کے دن ضرور ان سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیا افترا پردازیاں کرتے رہے تھے۔ دوسرے راؤنڈ میں وہ قصص ہیں جن کی طرف ہم نے ابھی اشارہ کیا۔ ان قصص میں بھی وہ مشکلات اور رکاوٹیں بیان کی گئی ہیں جو ہمیشہ دعوت اور داعی کی راہ میں آتی ہیں۔ لیکن آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی قوتوں کے سامنے ان مشکلات اور رکاوٹوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ بتایا جاتا ہے کہ رسولوں کی دعوت حق پر مبنی ہوتی ہے اور اس کائنات کی تخلیق بھی اس حق کے اصول پر ہے۔ جس حق پر کائنات استوار ہے اور جس پر دین و شریعت استوار ہے ، دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ تیسرے راؤنڈ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ نہ کرو مگر نہایت اچھے انداز میں۔ ہاں ان میں سے ایسے لوگوں کے خلاف سخت بات کی جاسکتی ہے جو ان میں سے ظالم ہوں۔ اہل کتاب سے یہ بات کی جاسکتی ہے کہ تمام ادیان ایک ہیں ، اور کافر جس دین اسلام کا انکار کر رہے ہیں ، یہ بھی تمام ادیان سماوی کا ہم مشرب دین ہے۔ سب کا سرچشمہ ایک ہے۔ اس راؤنڈ میں مشرکین کے ساتھ مباحثہ ہے۔ اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں کہ وہ مطمئن ہوجائیں ، ان کے لیے خوشخبریاں ہیں اور ثابت قدمی سے اپنی راہ پر چلیں ۔ کیونکہ وان اللہ لمع المحسنین (29: 69) ” بیشک اللہ محسنین کے ساتھ ہے “۔ آغاز سے اختتام تک دوران کلام جا بجا تبصرے آتے ہیں ، جن میں ایمان کی حقیت کو دلوں میں بٹھایا جاتا ہے۔ ان تبصروں کے ذریعے دلوں کو خوب جھنجھوڑا جاتا ہے۔ اور داعیان حق کے دلوں کو راہ ایمان کی مشکلات کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے کہ یا تو ان مشکلات کو برداشت کردیا اس راہ کو چھوڑدو۔ اگر تم ایمان کے تقاضے پورے نہ کروگے تو یہ نفاق ہوگا۔ غرض یہ ایسے اور ایسی ضربات ہیں جن پر ان نصوص کے ضمن ہی میں بحث کی جاسکتی ہے ، جن میں یہ ضربات آتی ہیں۔ لہٰذا مفصل بات ہم نصوص کی تشریح تک موخر کرتے ہیں اور یہاں اسی اشارے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ درس نمبر 180 تشریح آیات 1 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 13 ا۔ ل۔ م۔ ان حروف میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کتاب انہی حروف تہجی سے بنی ہے جو تمہیں معلوم ہیں اور تمہاری دسترس میں ہیں لیکن ان سے تم ایسی کتاب نہیں بنا سکتے جیسے قرآن ہے۔ اس لیے کہ یہ کتاب اللہ کا کلام ہے ، انسان کا کلام نہیں ہے۔ دوسرے مفسرین نے ان کے اور معانی بھی بیان کیے ہیں لیکن میں اس معنی کو ترجیح دیتا ہوں۔ اتل ما اوحی الیک من الکتب (29: 45) ” تمہاری طرف جو کتاب نازل کی جا رہی ہے اسے پڑھئے “۔ وکذلک انزلنا الیک الکتب (29: 47) ” اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی کتاب نازل کی ہے “۔ وما کنت۔۔۔۔۔ تخطہ بیمینک (29: 48) ” اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اولم یکفھم ۔۔۔۔۔۔ علیھم (29: 51) ” کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر کتاب نازل کی ہے جو ان پر پڑھی جا رہی ہے “۔ یہ تذکرہ اسی قاعدے کے مطابق ہے اور اسی لیے ہم نے حروف مقطعات کی تفسیر میں یہ رائے اختیار کی ہے۔ ان کے بعد ایمان کی بات شروع ہوتی ہے اور ان آزمائشوں کی بات آتی ہے جو اس ایمان کی حقیقت سمجھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں ، تاکہ معلوم ہو کہ مدعیان ایمان صادق ہیں یا کاذب ، اس لئے کہ سچے اور جھوٹے کی آزمائش ، آزمائش ہی سے ہوتی ہے۔ الم ۔۔۔۔۔ ولیعلمن الکذبین (1 – 3) ؟ اس سورت کے پہلے پر زور قطعہ کا یہ دھماکہ خیز اعلان ہے ، سرزنش آمیز سوالیہ کے ذریعے لوگوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ تم ایمان کو کیا سمجھتے ہو ؟ کیا ایمان صرف چند الفاظ کا نام ہے جو زبانی ادا کر دئیے جائیں ؟ احسب الناس ۔۔۔۔۔۔ لا یفترون (29: 2) ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ وہ کہہ دیں کہ ” ہم ایمان لائے “ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا “۔ ایمان چند کلمات کا نام نہیں ہے جو زبان سے کہہ دئیے جائیں بلکہ وہ ایک حقیقت ہے جس کے اپنے تقاضے ہیں۔ وہ ایک امانت ہے جس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ یہ دراصل ایک جہاد ہے جس میں بڑے صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ بات کافی ہے کہ کوئی زبان سے کہہ دے ” ہم ایمان لائے “۔ اگر وہ ایمان کا دعویٰ کریں گے تو خود ان کی آزمائش شروع ہوجائے گی اور ان کی آزمائشوں میں ان کو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان آزمائشوں سے وہ صاف ہو کر نکلیں گے اور ان کے دلوں کو خالص ہونا ہوگا۔ فتنہ کے معنی ہیں سونے کو گرم کرکے اس سے کھوٹ جدا کرنا۔ اس لفظ کے یہ لغوی معنی بھی یہاں مراد ہیں کہ آزمائشوں کے نتیجے میں ہی خالص لوگ سامنے آتے ہیں۔ آزمائشوں سے نکل کر کارکنوں کے دل صاف و شفاف ہوجاتے ہیں لہٰذا ایمان کے اعلان کے بعد آزمائش کا آنا ایک اصولی بات ہے۔ ایک جاری سنت سے اور اللہ کا معیار ہے۔ جس پر اہل ایمان پرکھے جاتے ہیں۔ ولقد فتنا۔۔۔۔۔ الکذبین (29: 3) ” حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کو چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ہیں “۔ اللہ کو تو ہر دل کی حقیقت معلوم ہے۔ ابتلا سے پہلے ہی معلوم ہے ، لیکن مقصد یہ ہے کہ ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور لوگوں سے پوشیدہ ہے وہ کھل کر سامنے آجائے تاکہ لوگوں کے ساتھ حساب و کتاب ان کے اعمال کے مطابق کیا جاسکے۔ اور صرف اسی بات پر ان کا محاسبہ نہ ہو کہ اللہ کو علم تھا کہ وہ ایسا کریں گے۔ اور یہ ایک پہلو سے اللہ کا کرم ہے اور اللہ کا عدل ہے اور لوگوں کی تربیت ہے کہ کسی شخص کو صرف ان اعمال پر پکڑا جاسکتا ہے جو کھلے ہوں ، اور جو ایک عملی حقیقت ہوں۔ کسی کو اس کی نیت پر نہیں پکڑا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا کا کوئی حاکم اللہ سے زیادہ نبات کا جاننے والا نہیں ہے اب ہم اس مضمون کی طرف آتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کو ، اپنی سنت کے مطابق ہمیشہ آزماتا ہے اور انہیں بعض مشکلات سے دوچار کرتا ہے تاہ یہ معلوم ہو کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور نظریہ اس کائنات میں اللہ کی امانت ہے۔ اس امانت کے حامل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اس کی اہلیت رکھتے ہوں اور جن کے اندر اس کے اٹھانے کی قدرت ہو ، اور وہ ایمان اور نظریہ کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتے ہوں ، جو اپنا آرام اور امن اور سکون و سلامتی ، سازو سامان اور عیش و عشرت اس پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایمان اور اسلامی نظریہ حیات اس زمین پر منصب خلافت الہیہ کا دوسرا نام ہے۔ بایں معنی کہ اس زمین پر مومن عوام الناس کا قائد ہو اور اللہ کے احکام کو اس دنیا کی زندگی میں حقیقت کا روپ دے۔ یہ ہے نہایت اہم اور قیمتی ذمہ داری اور یہ ایک ایسا کام ہے جو بہت ہی مشکل ہے اور اس کے لیے لوگوں کی ضرورت ہے جو مشکلات کو انگیز کرسکتے ہوں۔ اہل ایمان کی آزمائشوں میں سے ایک آزمائش یہ ہوتی کہ وہ ان مشکلات اور اذیتوں پر صبر کریں جو ان کو اہل باطل کی طرف سے پہنچیں۔ خصوصاً ایسے حالات میں کہ ان کے لیے کوئی مددگار اور سہارانہ ہو۔ مومن نہ اپنا دفاع کرسکتا ہو اور نہ اسے کسی طرح سے کوئی مدد ملتی ہو۔ نہ اس کے پاس کوئی ایسی قوت ہو جس کے ساتھ وہ زیادتی کرنے والوں کا مقابلہ کرسکے۔ یہ آزمائش کی سخت ترین صورت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں جب آزمائش کا ذکر ہوتا ہے تو ایسی ہی صورت حالات مراد ہوتی ہے۔ لیکن فتنے اور آزمائش کی اس سے بھی زیادہ سخت اور شدید صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً بعض اوقات یہ خطرہ ہوتا ہے کہ ایک مومن کی وجہ سے اس کے دوستوں ، احباب اور رشتہ داروں کو بھی اذیت دی جائے گی۔ اور یہ مومن ان کے بارے میں بےبس ہوتا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ احباب دہائیاں دیتے ہیں کہ مومن ان کی خاطر نرمی کرلے یا باطل کے ساتھ مصالحت کرے تاکہ اقرباء اور رشتہ داروں پر تشدد نہ ہو اور دوسرے لوگ تباہ و برباد نہ ہوں۔ اس سورت میں اس قسم کی آزمائشوں کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جہاں مومن کے ساتھ بچے بھی مارے جاتے ہیں۔ آزمائش کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ بعض اوقات باطل پرستوں پر دولت کی بارش ہوتی ہے ۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اہل باطل خوشحال اور کامیاب ہیں۔ دنیا ان کے نعرے بلند کرتی ہے۔ عوام الناس تالیاں بجا کر ان کا استقبال کرتے ہیں۔ اس کے راستے سے رکاوٹیں دور ہوتی چلی جاتی ہیں اور لوگ ان پر قربان ہوتے ہیں اور ان کی زندگی نہایت ہی خوشگواری سے گزرتی ہے اور یہ مومن بیچارہ نظروں سے گرا ہوا ، غیر اہم جس کا کوئی حامی نہ ہو ، اور وہ جس عظیم سچائی کا حامل ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ہاں چند اس جیسے لوگ اور اس کے حامی ہوتے ہیں لیکن وہ خود معاشرے کے بےاثر لوگ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مومن اپنے آپ کو بالکل تنہا محسوس کرتا ہے ، وہ دیکھتا ہے کہ وہ خود اپنی سوسائٹی میں غریب الدیار ہے۔ اس کا پورا ماحول گمراہی میں مبتلا ہے۔ اور اس ماحول میں وہ انوکھا لگ رہا ہے۔ اور آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مومن عجیب اذیت کے ساتھ آزمایا جاتا ہے ۔ ایک مومن دیکھتا ہے کہ اس کرہ ارض پر بعض اقوام گمراہی اور رذالت میں کانوں تک ڈوبی ہوئی ہیں لیکن یہ اقوام نہایت ترقی یافتہ ہیں اور نہایت خوشحال اور مہذب ہیں اور ایسی اقوام میں ایک فرد ، جو بھی ہو ، وہ ایک انسان کے لائق عزت اور دیکھ بھال پاتا ہے۔ یہ اقوام مالدار اور خوشحال ہیں حالانکہ یہ اللہ کی نافرمان اقوام ہیں۔ اور اس سے بھی ایک عظیم آزمائش ایک مومن کے لیے اور ہے۔ یہ بہت ہی شدید ہے۔ نفس ، نفسانیت اور شہوات کا فتنہ ، دنیا کی کشش ، جسمانی لذت ، دولت اور اقتدار کی پیاس ، خوشحالی اور مرفہ الخالی کی دوڑ ، اور صراط مستقیم اور راہ ایمان پر چلنے کی دشواری۔ پھر اخلاق و کردار اور نفس کے مخالف میلانات کی دشواری ، جدید دور کی زندگی کے حالات ، جدید لوگوں کی سوچ ، اور اہل زمانہ کے تصورات کے حملے اور آزمائش۔ اور جب ایک مومن کی جدوجہد طویل تر ہوجائے ، اور اللہ کی طرف سے نصرت آنے میں تاخیر اور آزمائش شدید اور ناقابل برداشت ہوجائے اور ان کا مقابلہ وہی شخص کرسکتا ہو جسے اللہ ہی لغزشوں سے بچا رہا ہو ، تو ایسے مومن ہی دراصل وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس امانت کا حق ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں پر اس عظیم امانت کے سپرد کیے جانے کا اعتماد کیا جاتا ہے۔ یعنی زمین کے بارے میں عالم بالا کی امانت اور انسانی ضمیر میں ایمان باللہ کی امانت۔ خدا کی قسم ، یہ بات نہیں ہے کہ اللہ آزمائشوں کے ذریعہ اہل ایمان کو محض سزا دینا چاہتا ہو ، یا ان کو مصائب میں مبتلا کرکے ان کو اذیت دینا چاہتا ہو ، بلکہ اللہ ان کو اس امانت کے اٹھانے کے لیے حقیقتاً تیار کرنا چاہتا ہے اور یہ تیاری اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اہل ایمان کو عملا مشتقوں میں مبتلا نہ کیا جائے ، جب تک وہ صبر کرکے ہر قسم کی خواہشات اور شہوات پر برتری حاصل نہیں کرلیتے ، جب تک وہ اذیتوں پر صبر کرنا سیکھ نہیں لیتے ، اور جب تک انہیں اللہ کی نصرت پر حقیقی بھروسہ نہیں ہوجاتا۔ اگرچہ نصرت الہیہ بہت دیر کر دے اور اگرچہ ابتلاؤں کا دور طول کھینچ لے اور بہت شدید ہوجائے۔ نفس انسانی کو جب مصیبتوں کی بھٹی میں گرمایا جاتا ہے تو اس کا کھوٹ دور ہوجاتا ہے۔ اس کی خفیہ قوتیں جوش میں آتی ہیں ، اس کی مدافعانہ قوتیں جمع ہوتی ہیں۔ مصائب کے یہ پہاڑ جب کسی پر ٹوٹتے ہیں تو اس کا باطل عیقل ہوجاتا ہے ، اس کا جسم مضبوط ہوتا ہے اور یہ مومن ان مصائب و شدائد کا خوگر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی جماعت پر یہ مشکلات آئیں تو وہ جماعت بھی اسی طرح صاف ہوجاتی ہے۔ اس کی صفوں سے کمزور لوگ نکل جاتے ہیں۔ مضبوط لوگ ہی رہ جاتے ہیں اور اولوالعزم اور قوی الارادہ اور اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق والے ہی جماعت میں رہتے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں کسی ایک نہ ایک اچھے نتیجے والے کی امید ہوتی ہے یا فتح کی یا اجراخروی کی اور یہی لوگ ہوتے ہیں ، جن کو آخر میں جھنڈے تھمائے جاتے ہیں اور اچھی تیاری اور ٹریننگ کے بعد پھر ان پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جب اس امانت کو اٹھاتے ہیں تو یہ پھر انہیں دل و جان سے عزیز ہوتی ہے اس لیے کہ انہوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہوتی ہیں اور اس کی بھاری قیمت ادا کی ہوتی ہے۔ اس کی خاطر انہوں نے صبر کیا ہوتا ہے اور مشقتیں جھیلی ہوتی ہیں اور جو کارکن اپنا خون اور اپنے اعصاب قربان کرتا ہے ، آرام اور اطمینان تج دیتا ہے۔ لذائذ اور مرغوبات کی قربانی دیتا ہے۔ اور پھر اذیتوں اور محرومیوں پر صبر کرتا ہے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی کارکن کو اس امانت اور نظریہ کا شعور ہوتا ہے کہ اس کی قدرو قیمت کیا ہے۔ اس لیے وہ اسے ارزاں فروخت نہیں کرتا ، کیونکہ اس نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہوئی ہوتی ہے۔ رہی یہ بات کہ آخر کار یہ ایمان ، امانت اور اسلامی نظریہ حیات غالب ہو کر رہے گا تو یہ وہ وعدہ ہے جو اللہ نے کیا ہے اور اس کی ضمانت دی ہے۔ اور کوئی سچا مومن اللہ کے وعدے کے بارے میں شک نہیں کرسکتا ، اگر یہ وعدہ دیر سے حقیقت بنتا ہے تو اس کی بھی کوئی حکمت ہوگی۔ اس میں اہل ایمان کے لیے بھلائی ہوگی۔ جان لو کہ اللہ جس قدر حق پر غیرت کرتا ہے ، جس قدر ان کی حمایت کرتا ہے ، اس سے زیادہ حق کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ مومن کے لیے آزمائش اور مشقت ہی بہتر ہے تاکہ اس طرح وہ بندگان مختار میں شامل ہوجائے۔ حق کا امین بن جائے ، اور اللہ اس پر گواہ ہوجائے کہ اس کا دین مضبوط ہے اور وہ حمل امانت کا اہل ہے اس لیے اسے آزمائش کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ” ابتلاؤں میں شدید اور مضبوط لوگ انبیاء ہوتے ہیں۔ پھر صالحین ہوتے ہیں ، اور ان کے بعد درجہ بدرجہ ، ہر آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر اس کا دین مضبوط ہو تو اسے زیادہ آزمایا جاتا ہے “۔

العنكبوت 29:3

سورة العنکبوت ایک نظر میں سورة عنکبوت مکی ہے ، بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس کی پہلی گیارہ آیات مدنی ہیں۔ محض اس لیے کہ ان میں جہاد اور منافقین کا ذکر ہے۔ لیکن ہم اس قول کو ترجیح دیتے ہیں یہ پوری سورت مکی ہے اور اس کی آٹھویں آیت کے بارے میں یہ روایت آتی ہے کہ یہ سعد ابن ابی وقاص کے اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا ذکر ہوگا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص مکہ میں مسلمان ہوئے۔ ظاہر ہے کہ جن آیات کو مدنی کہا گیا ہے یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ ان سب آیات کو مکی کہا جائے۔ رہی یہ بات کہ ان میں جہاد کا ذکر آیا ہے تو اس کی تاویل آسان ہے کیونکہ مضمون کلام سے یہاں آزمائشوں کے خلاف جہاد معلوم ہوتا ہے ۔ نفس کے خلاف جہاد اور نفاق کا ذکر بھی اسی کا مفہوم ہے یعنی اسی منافقت کہ ایک آدمی بات کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا۔ ان آیات میں لوگوں کے ایک مخصوص نمونے کا ذکر ہے۔ یہ پوری سورت آغاز سے اختتام تک ایک ہی لائن اور ایک ہی موضوع پر جاری ہے۔ اس کا آغاز حروف مقطعات اور ایمان اور ایمان والوں کی آزمائش سے ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب ایمان کسی شخص کے دل میں جاگزیں ہوجاتا ہے تو اس شخص سے ایمان بھاری تقاضے کرتا ہے کیونکہ ایمان صرف چند کلمات کا نام نہیں ہے جو کہہ دئیے جائیں بلکہ ایمان کے نتیجے میں جو مشکلات آتی ہے انکو برداشت کرنا ، اس کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے فرائض و مشکلات پر صبر کرنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کا محور اور موضوع ہی ” ایمان اور اس کے تقاضے “ ہے کیونکہ ایمان اور مشکلات راہ کے ذکر کے بعد حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت لوط ، حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قصص آتے ہیں۔ پھر عاد ، ثمود ، قارون ، فرعون اور ہامان کا ذکر ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر تمام زمانوں اور اقوام میں یہی صورت حال اہل ایمان کو پیش آتی رہی ہے یعنی ایمان کے ساتھ فتنے اور آزمائش لازم ہوتی ہیں۔ اس کے بعد یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس دنیا میں شر کی قوتیں ہمیشہ ایمان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں اور مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ شر کی قوتیں اہل ایمان کو معاشرے میں حقیر قوت ظاہر کرتی ہیں۔ ان کو نظر انداز کرتی ہیں لیکن اللہ ان کو خوب پکڑتا ہے۔ فکلا اخذنا ۔۔۔۔۔۔ من اغرقنا (29: 40) ” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی ، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ، اور کسی کو غرق کردیا “۔ پھر ان تمام قوتوں کی ایک مجسم مثال دی جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں یہ کس قدر کمزور ہیں اللہ کی قوتیں جب اٹھتی ہیں تو یہ بےبس ہوتی ہیں۔ مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ لو کانو یعلمون (29: 41) ” جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے “۔ اس کے بعد یہ سورت اس سچائی کو جو تمام انبیاء کی دعوتوں میں پائی جاتی ہے ، اس سچائی کے ساتھ جوڑ دیتی ہے ، جو زمین اور آسمان کی تخلیق میں ہے اور اس کے بعد ان تمام دعوتوں کو حضرت محمد ﷺ کی دعوت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ سب اللہ کی جانب سے ہیں۔ سب دعوتیں اللہ وحدہ کی طرف پکارتی ہیں۔ اس کے بعد حضرت محمد ﷺ کی دعوت کی کتاب قرآن کریم پر بات ہوتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ مشرکین کا ردعمل اس کتاب کے حوالے سے کیا تھا۔ وہ اس کتاب کے ہوتے ہوئے خارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں حالانکہ اس کے اندر جو دعوت ہے وہ اللہ کی رحمت اور نہایت ہی بہترین راہنمائی اور یاد دہانی پر مشتمل ہے۔ اور پھر تعجب انگیز انداز میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس بارے میں جلدی کرتے ہیں کہ عذاب جلد کیوں نازل نہیں ہوتا حالانکہ جہنم تو بہت جلد ان کو اپنے گھیرے میں لینے والی ہے۔ پھر خود ان کی سوچ اور اپنے عقائد میں تضاد ہے۔ ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ لیقولن اللہ ” اگر ان سے پوچھو کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ، تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ نے “۔ ولئن سالتھم من نزول ۔۔۔۔۔۔۔ لیقولن اللہ ” اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے پانی کس نے نازل کیا ، پھر زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کے ساتھ اسے زندہ کردیا تو وہ کہیں گے کہ اللہ نے “۔ فاذا رکبوا ۔۔۔۔ لہ الدین (29: 56) ” جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں ، پورا دین اس لیے خالص کرتے ہوئے “۔ لیکن یہ عقائد رکھنے کے باوجود یہ لوگ شرک کرتے ہیں اور اہل ایمان کو آزمائشوں میں ڈالتے ہیں۔ اس بحث و مباحثے کے درمیان مومنین کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان آزمائشوں سے بچنے کیلئے ہجرت کریں ، موت سے نہ ڈریں ، کیونکہ کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون ” ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے ، پھر وہ سب ہماری طرف لوٹ کر آئیں گے “۔ نیز ہجرت کرتے ہوئے اس بات کی بھی پرواہ نہ کرو کہ ہم کھائیں گے کیا ، کیونکہ وکاین من دابۃ ۔۔۔۔۔ وایاکم (29: 60) ” کتنے ہی زمین پر چلنے والے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے ہوئے نہیں ہوتے ، اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی دیتا ہے “۔ سورت کے آخر میں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ان کی تعریف اور تمجید کی گئی ہے اور ان کو ہدایت پر مطمئن ہونے اور ثابت قدم رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ والذین جاھدوا ۔۔۔۔۔۔ لمع المحسنین (29: 69) ” وہ لوگ جنہوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ، ہم ضرور ان کی راہنمائی اپنے راستوں کی طرف کریں گے ، بیشک اللہ محسن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے “۔ یوں سورت کا خاتمہ اس کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ہے اور اس طرح پوری سورت کے پیش نظر جو حکمت ہے ، وہ واضح ہوجاتی ہے۔ اور اسکے تمام حلقے مربوط ہوجاتے ہیں اور سب اس سورت کے محور کے اردگرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ چناچہ اس سورت کی بات ، اپنے اس موضوع پر تین راونڈز میں چلتی ہے۔ پہلے راؤنڈ میں ایمان کی حقیقت ، اللہ کی یہ سنت کہ وہ کارکنوں کو آزماتا ہے اور مشکلات میں مبتلا کرتا ہے اور پھر یہ کہ ایمان لانے والوں کا انجام کیا ہوگا اور کافروں کا انجام کیا ہوگا۔ اور یہ کہ ذمہ داری انفرادی ہے۔ لہٰذا قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون (29: 13) ” قیامت کے دن ضرور ان سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیا افترا پردازیاں کرتے رہے تھے۔ دوسرے راؤنڈ میں وہ قصص ہیں جن کی طرف ہم نے ابھی اشارہ کیا۔ ان قصص میں بھی وہ مشکلات اور رکاوٹیں بیان کی گئی ہیں جو ہمیشہ دعوت اور داعی کی راہ میں آتی ہیں۔ لیکن آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی قوتوں کے سامنے ان مشکلات اور رکاوٹوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ بتایا جاتا ہے کہ رسولوں کی دعوت حق پر مبنی ہوتی ہے اور اس کائنات کی تخلیق بھی اس حق کے اصول پر ہے۔ جس حق پر کائنات استوار ہے اور جس پر دین و شریعت استوار ہے ، دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ تیسرے راؤنڈ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ نہ کرو مگر نہایت اچھے انداز میں۔ ہاں ان میں سے ایسے لوگوں کے خلاف سخت بات کی جاسکتی ہے جو ان میں سے ظالم ہوں۔ اہل کتاب سے یہ بات کی جاسکتی ہے کہ تمام ادیان ایک ہیں ، اور کافر جس دین اسلام کا انکار کر رہے ہیں ، یہ بھی تمام ادیان سماوی کا ہم مشرب دین ہے۔ سب کا سرچشمہ ایک ہے۔ اس راؤنڈ میں مشرکین کے ساتھ مباحثہ ہے۔ اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں کہ وہ مطمئن ہوجائیں ، ان کے لیے خوشخبریاں ہیں اور ثابت قدمی سے اپنی راہ پر چلیں ۔ کیونکہ وان اللہ لمع المحسنین (29: 69) ” بیشک اللہ محسنین کے ساتھ ہے “۔ آغاز سے اختتام تک دوران کلام جا بجا تبصرے آتے ہیں ، جن میں ایمان کی حقیت کو دلوں میں بٹھایا جاتا ہے۔ ان تبصروں کے ذریعے دلوں کو خوب جھنجھوڑا جاتا ہے۔ اور داعیان حق کے دلوں کو راہ ایمان کی مشکلات کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے کہ یا تو ان مشکلات کو برداشت کردیا اس راہ کو چھوڑدو۔ اگر تم ایمان کے تقاضے پورے نہ کروگے تو یہ نفاق ہوگا۔ غرض یہ ایسے اور ایسی ضربات ہیں جن پر ان نصوص کے ضمن ہی میں بحث کی جاسکتی ہے ، جن میں یہ ضربات آتی ہیں۔ لہٰذا مفصل بات ہم نصوص کی تشریح تک موخر کرتے ہیں اور یہاں اسی اشارے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ درس نمبر 180 تشریح آیات 1 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 13 ا۔ ل۔ م۔ ان حروف میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کتاب انہی حروف تہجی سے بنی ہے جو تمہیں معلوم ہیں اور تمہاری دسترس میں ہیں لیکن ان سے تم ایسی کتاب نہیں بنا سکتے جیسے قرآن ہے۔ اس لیے کہ یہ کتاب اللہ کا کلام ہے ، انسان کا کلام نہیں ہے۔ دوسرے مفسرین نے ان کے اور معانی بھی بیان کیے ہیں لیکن میں اس معنی کو ترجیح دیتا ہوں۔ اتل ما اوحی الیک من الکتب (29: 45) ” تمہاری طرف جو کتاب نازل کی جا رہی ہے اسے پڑھئے “۔ وکذلک انزلنا الیک الکتب (29: 47) ” اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی کتاب نازل کی ہے “۔ وما کنت۔۔۔۔۔ تخطہ بیمینک (29: 48) ” اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اولم یکفھم ۔۔۔۔۔۔ علیھم (29: 51) ” کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر کتاب نازل کی ہے جو ان پر پڑھی جا رہی ہے “۔ یہ تذکرہ اسی قاعدے کے مطابق ہے اور اسی لیے ہم نے حروف مقطعات کی تفسیر میں یہ رائے اختیار کی ہے۔ ان کے بعد ایمان کی بات شروع ہوتی ہے اور ان آزمائشوں کی بات آتی ہے جو اس ایمان کی حقیقت سمجھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں ، تاکہ معلوم ہو کہ مدعیان ایمان صادق ہیں یا کاذب ، اس لئے کہ سچے اور جھوٹے کی آزمائش ، آزمائش ہی سے ہوتی ہے۔ الم ۔۔۔۔۔ ولیعلمن الکذبین (1 – 3) ؟ اس سورت کے پہلے پر زور قطعہ کا یہ دھماکہ خیز اعلان ہے ، سرزنش آمیز سوالیہ کے ذریعے لوگوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ تم ایمان کو کیا سمجھتے ہو ؟ کیا ایمان صرف چند الفاظ کا نام ہے جو زبانی ادا کر دئیے جائیں ؟ احسب الناس ۔۔۔۔۔۔ لا یفترون (29: 2) ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ وہ کہہ دیں کہ ” ہم ایمان لائے “ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا “۔ ایمان چند کلمات کا نام نہیں ہے جو زبان سے کہہ دئیے جائیں بلکہ وہ ایک حقیقت ہے جس کے اپنے تقاضے ہیں۔ وہ ایک امانت ہے جس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ یہ دراصل ایک جہاد ہے جس میں بڑے صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ بات کافی ہے کہ کوئی زبان سے کہہ دے ” ہم ایمان لائے “۔ اگر وہ ایمان کا دعویٰ کریں گے تو خود ان کی آزمائش شروع ہوجائے گی اور ان کی آزمائشوں میں ان کو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان آزمائشوں سے وہ صاف ہو کر نکلیں گے اور ان کے دلوں کو خالص ہونا ہوگا۔ فتنہ کے معنی ہیں سونے کو گرم کرکے اس سے کھوٹ جدا کرنا۔ اس لفظ کے یہ لغوی معنی بھی یہاں مراد ہیں کہ آزمائشوں کے نتیجے میں ہی خالص لوگ سامنے آتے ہیں۔ آزمائشوں سے نکل کر کارکنوں کے دل صاف و شفاف ہوجاتے ہیں لہٰذا ایمان کے اعلان کے بعد آزمائش کا آنا ایک اصولی بات ہے۔ ایک جاری سنت سے اور اللہ کا معیار ہے۔ جس پر اہل ایمان پرکھے جاتے ہیں۔ ولقد فتنا۔۔۔۔۔ الکذبین (29: 3) ” حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کو چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ہیں “۔ اللہ کو تو ہر دل کی حقیقت معلوم ہے۔ ابتلا سے پہلے ہی معلوم ہے ، لیکن مقصد یہ ہے کہ ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور لوگوں سے پوشیدہ ہے وہ کھل کر سامنے آجائے تاکہ لوگوں کے ساتھ حساب و کتاب ان کے اعمال کے مطابق کیا جاسکے۔ اور صرف اسی بات پر ان کا محاسبہ نہ ہو کہ اللہ کو علم تھا کہ وہ ایسا کریں گے۔ اور یہ ایک پہلو سے اللہ کا کرم ہے اور اللہ کا عدل ہے اور لوگوں کی تربیت ہے کہ کسی شخص کو صرف ان اعمال پر پکڑا جاسکتا ہے جو کھلے ہوں ، اور جو ایک عملی حقیقت ہوں۔ کسی کو اس کی نیت پر نہیں پکڑا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا کا کوئی حاکم اللہ سے زیادہ نبات کا جاننے والا نہیں ہے اب ہم اس مضمون کی طرف آتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کو ، اپنی سنت کے مطابق ہمیشہ آزماتا ہے اور انہیں بعض مشکلات سے دوچار کرتا ہے تاہ یہ معلوم ہو کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور نظریہ اس کائنات میں اللہ کی امانت ہے۔ اس امانت کے حامل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اس کی اہلیت رکھتے ہوں اور جن کے اندر اس کے اٹھانے کی قدرت ہو ، اور وہ ایمان اور نظریہ کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتے ہوں ، جو اپنا آرام اور امن اور سکون و سلامتی ، سازو سامان اور عیش و عشرت اس پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایمان اور اسلامی نظریہ حیات اس زمین پر منصب خلافت الہیہ کا دوسرا نام ہے۔ بایں معنی کہ اس زمین پر مومن عوام الناس کا قائد ہو اور اللہ کے احکام کو اس دنیا کی زندگی میں حقیقت کا روپ دے۔ یہ ہے نہایت اہم اور قیمتی ذمہ داری اور یہ ایک ایسا کام ہے جو بہت ہی مشکل ہے اور اس کے لیے لوگوں کی ضرورت ہے جو مشکلات کو انگیز کرسکتے ہوں۔ اہل ایمان کی آزمائشوں میں سے ایک آزمائش یہ ہوتی کہ وہ ان مشکلات اور اذیتوں پر صبر کریں جو ان کو اہل باطل کی طرف سے پہنچیں۔ خصوصاً ایسے حالات میں کہ ان کے لیے کوئی مددگار اور سہارانہ ہو۔ مومن نہ اپنا دفاع کرسکتا ہو اور نہ اسے کسی طرح سے کوئی مدد ملتی ہو۔ نہ اس کے پاس کوئی ایسی قوت ہو جس کے ساتھ وہ زیادتی کرنے والوں کا مقابلہ کرسکے۔ یہ آزمائش کی سخت ترین صورت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں جب آزمائش کا ذکر ہوتا ہے تو ایسی ہی صورت حالات مراد ہوتی ہے۔ لیکن فتنے اور آزمائش کی اس سے بھی زیادہ سخت اور شدید صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً بعض اوقات یہ خطرہ ہوتا ہے کہ ایک مومن کی وجہ سے اس کے دوستوں ، احباب اور رشتہ داروں کو بھی اذیت دی جائے گی۔ اور یہ مومن ان کے بارے میں بےبس ہوتا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ احباب دہائیاں دیتے ہیں کہ مومن ان کی خاطر نرمی کرلے یا باطل کے ساتھ مصالحت کرے تاکہ اقرباء اور رشتہ داروں پر تشدد نہ ہو اور دوسرے لوگ تباہ و برباد نہ ہوں۔ اس سورت میں اس قسم کی آزمائشوں کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جہاں مومن کے ساتھ بچے بھی مارے جاتے ہیں۔ آزمائش کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ بعض اوقات باطل پرستوں پر دولت کی بارش ہوتی ہے ۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اہل باطل خوشحال اور کامیاب ہیں۔ دنیا ان کے نعرے بلند کرتی ہے۔ عوام الناس تالیاں بجا کر ان کا استقبال کرتے ہیں۔ اس کے راستے سے رکاوٹیں دور ہوتی چلی جاتی ہیں اور لوگ ان پر قربان ہوتے ہیں اور ان کی زندگی نہایت ہی خوشگواری سے گزرتی ہے اور یہ مومن بیچارہ نظروں سے گرا ہوا ، غیر اہم جس کا کوئی حامی نہ ہو ، اور وہ جس عظیم سچائی کا حامل ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ہاں چند اس جیسے لوگ اور اس کے حامی ہوتے ہیں لیکن وہ خود معاشرے کے بےاثر لوگ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مومن اپنے آپ کو بالکل تنہا محسوس کرتا ہے ، وہ دیکھتا ہے کہ وہ خود اپنی سوسائٹی میں غریب الدیار ہے۔ اس کا پورا ماحول گمراہی میں مبتلا ہے۔ اور اس ماحول میں وہ انوکھا لگ رہا ہے۔ اور آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مومن عجیب اذیت کے ساتھ آزمایا جاتا ہے ۔ ایک مومن دیکھتا ہے کہ اس کرہ ارض پر بعض اقوام گمراہی اور رذالت میں کانوں تک ڈوبی ہوئی ہیں لیکن یہ اقوام نہایت ترقی یافتہ ہیں اور نہایت خوشحال اور مہذب ہیں اور ایسی اقوام میں ایک فرد ، جو بھی ہو ، وہ ایک انسان کے لائق عزت اور دیکھ بھال پاتا ہے۔ یہ اقوام مالدار اور خوشحال ہیں حالانکہ یہ اللہ کی نافرمان اقوام ہیں۔ اور اس سے بھی ایک عظیم آزمائش ایک مومن کے لیے اور ہے۔ یہ بہت ہی شدید ہے۔ نفس ، نفسانیت اور شہوات کا فتنہ ، دنیا کی کشش ، جسمانی لذت ، دولت اور اقتدار کی پیاس ، خوشحالی اور مرفہ الخالی کی دوڑ ، اور صراط مستقیم اور راہ ایمان پر چلنے کی دشواری۔ پھر اخلاق و کردار اور نفس کے مخالف میلانات کی دشواری ، جدید دور کی زندگی کے حالات ، جدید لوگوں کی سوچ ، اور اہل زمانہ کے تصورات کے حملے اور آزمائش۔ اور جب ایک مومن کی جدوجہد طویل تر ہوجائے ، اور اللہ کی طرف سے نصرت آنے میں تاخیر اور آزمائش شدید اور ناقابل برداشت ہوجائے اور ان کا مقابلہ وہی شخص کرسکتا ہو جسے اللہ ہی لغزشوں سے بچا رہا ہو ، تو ایسے مومن ہی دراصل وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس امانت کا حق ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں پر اس عظیم امانت کے سپرد کیے جانے کا اعتماد کیا جاتا ہے۔ یعنی زمین کے بارے میں عالم بالا کی امانت اور انسانی ضمیر میں ایمان باللہ کی امانت۔ خدا کی قسم ، یہ بات نہیں ہے کہ اللہ آزمائشوں کے ذریعہ اہل ایمان کو محض سزا دینا چاہتا ہو ، یا ان کو مصائب میں مبتلا کرکے ان کو اذیت دینا چاہتا ہو ، بلکہ اللہ ان کو اس امانت کے اٹھانے کے لیے حقیقتاً تیار کرنا چاہتا ہے اور یہ تیاری اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اہل ایمان کو عملا مشتقوں میں مبتلا نہ کیا جائے ، جب تک وہ صبر کرکے ہر قسم کی خواہشات اور شہوات پر برتری حاصل نہیں کرلیتے ، جب تک وہ اذیتوں پر صبر کرنا سیکھ نہیں لیتے ، اور جب تک انہیں اللہ کی نصرت پر حقیقی بھروسہ نہیں ہوجاتا۔ اگرچہ نصرت الہیہ بہت دیر کر دے اور اگرچہ ابتلاؤں کا دور طول کھینچ لے اور بہت شدید ہوجائے۔ نفس انسانی کو جب مصیبتوں کی بھٹی میں گرمایا جاتا ہے تو اس کا کھوٹ دور ہوجاتا ہے۔ اس کی خفیہ قوتیں جوش میں آتی ہیں ، اس کی مدافعانہ قوتیں جمع ہوتی ہیں۔ مصائب کے یہ پہاڑ جب کسی پر ٹوٹتے ہیں تو اس کا باطل عیقل ہوجاتا ہے ، اس کا جسم مضبوط ہوتا ہے اور یہ مومن ان مصائب و شدائد کا خوگر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی جماعت پر یہ مشکلات آئیں تو وہ جماعت بھی اسی طرح صاف ہوجاتی ہے۔ اس کی صفوں سے کمزور لوگ نکل جاتے ہیں۔ مضبوط لوگ ہی رہ جاتے ہیں اور اولوالعزم اور قوی الارادہ اور اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق والے ہی جماعت میں رہتے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں کسی ایک نہ ایک اچھے نتیجے والے کی امید ہوتی ہے یا فتح کی یا اجراخروی کی اور یہی لوگ ہوتے ہیں ، جن کو آخر میں جھنڈے تھمائے جاتے ہیں اور اچھی تیاری اور ٹریننگ کے بعد پھر ان پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جب اس امانت کو اٹھاتے ہیں تو یہ پھر انہیں دل و جان سے عزیز ہوتی ہے اس لیے کہ انہوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہوتی ہیں اور اس کی بھاری قیمت ادا کی ہوتی ہے۔ اس کی خاطر انہوں نے صبر کیا ہوتا ہے اور مشقتیں جھیلی ہوتی ہیں اور جو کارکن اپنا خون اور اپنے اعصاب قربان کرتا ہے ، آرام اور اطمینان تج دیتا ہے۔ لذائذ اور مرغوبات کی قربانی دیتا ہے۔ اور پھر اذیتوں اور محرومیوں پر صبر کرتا ہے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی کارکن کو اس امانت اور نظریہ کا شعور ہوتا ہے کہ اس کی قدرو قیمت کیا ہے۔ اس لیے وہ اسے ارزاں فروخت نہیں کرتا ، کیونکہ اس نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہوئی ہوتی ہے۔ رہی یہ بات کہ آخر کار یہ ایمان ، امانت اور اسلامی نظریہ حیات غالب ہو کر رہے گا تو یہ وہ وعدہ ہے جو اللہ نے کیا ہے اور اس کی ضمانت دی ہے۔ اور کوئی سچا مومن اللہ کے وعدے کے بارے میں شک نہیں کرسکتا ، اگر یہ وعدہ دیر سے حقیقت بنتا ہے تو اس کی بھی کوئی حکمت ہوگی۔ اس میں اہل ایمان کے لیے بھلائی ہوگی۔ جان لو کہ اللہ جس قدر حق پر غیرت کرتا ہے ، جس قدر ان کی حمایت کرتا ہے ، اس سے زیادہ حق کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ مومن کے لیے آزمائش اور مشقت ہی بہتر ہے تاکہ اس طرح وہ بندگان مختار میں شامل ہوجائے۔ حق کا امین بن جائے ، اور اللہ اس پر گواہ ہوجائے کہ اس کا دین مضبوط ہے اور وہ حمل امانت کا اہل ہے اس لیے اسے آزمائش کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ” ابتلاؤں میں شدید اور مضبوط لوگ انبیاء ہوتے ہیں۔ پھر صالحین ہوتے ہیں ، اور ان کے بعد درجہ بدرجہ ، ہر آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر اس کا دین مضبوط ہو تو اسے زیادہ آزمایا جاتا ہے “۔

العنكبوت 29:4

رہے وہ لوگ جو اہل ایمان پر ظلم کرکے ان کو آزماتے ہیں اور برے کام کرتے ہیں تو وہ تو عذاب الٰہی سے بچ ہی نہیں سکتے۔ اگرچہ ان کی باطل قوتیں بہت پھلی پھولی ہوں۔ اگرچہ بظاہر وہ کامیاب و فاتح ہوں۔ اللہ کا وعدہ یہ ہے اور آخر کار اس کی سنت یہ ہے ام حسب الذین ۔۔۔۔۔۔ ما یحکمون (4) ” اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کر رہے ہیں ، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے ؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں “۔ کسی مفسد کو یہ خیال نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ بچ نکلے گا یا بھاگ جائے گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے تو اس کا یہ فیصلہ غلط ہے۔ اس نے غلط اندازہ کیا ہے ، اس کی سوچ پوچ ہے۔ کیونکہ اللہ نے اہل ایمان کی آزمائش کو ایک سنت بنایا ہے لیکن یہ اس لیے کہ سچے اور جھوٹے معلوم ہوجائیں ، اس کی سنت کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ وہ بدکاروں کو پکڑتا ہے اور اس کی سنت کبھی بدلتی نہیں ہے۔ یہ اس سورت کے آغاز ہی میں ایک دوسری ضرب ہے ، کہ آنکھیں کھول لو ، اگر اہل ایمان کو آزمائش کی بھٹی سے گزارنا اور کھوٹے اور کھرے کے درمیان تمیز کرنا خدا کی سنت ہے تو بدکاروں اور مفسدوں کو پکڑنا بھی تو اللہ کی سنت ہے اس کے لیے بھی تیاریاں کو لو۔ اور تیسری ضرب ، اس سورت کے آغاز میں یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ سے ملنے کا یقین ہے وہ اطمینان رکھیں اور یقین کرلیں جس طرح ان کے دل یقین کے درجے تک پہلے ہی پہنچ چکے ہیں کہ وقت آنے والا ہے۔

العنكبوت 29:5

من کان یرجوا ۔۔۔۔۔۔۔ السمیع العلیم (5) جو دل اللہ کی ملاقات کی امیدیں لیے ہوئے ہیں وہ مطمئن ہوجائیں اور انتظار کریں ان چیزوں کا جن کا اللہ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے۔ یہ انتظار اس انداز کا ہونا چاہئے جس طرح کسی کو کسی چیز کے ملنے کا پختہ یقین ہو اور وہ اس کا منظر ہو۔ بس دن کے آنے کا انتظار ہو ، اور شوق ملاقات بڑھتا ہی جائے۔ یہاں ایسے پاکیزہ قلوب کی تصویر بڑی اشاراتی ہے۔ ایک ایسے شخص کی تصویر جو ملاقات کا امیدوار بھی ہے ، مشتاق بھی ہے ، مربوط بھی ہے اور ایسے شخص کے شوق کے جواب میں اسے نہایت ہی فرحت بخش اشارے ملتے ہیں کہ دیکھو ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں اور ہمیں پورا پورا علم ہے۔ وھو السمیع العلیم (29: 5) ” اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ چوتھی ضرب کا رخ ان لوگوں کی طرف ہے جو ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی سعی میں لگے ہوئے ہیں ، جہاد فی سبیل اللہ کی تکالیف اٹھاتے ہیں کہ یہ جہاد اور مشقتیں وہ اپنے لیے برداشت کر رہے ہیں۔ اپنے جمال و و کمال اور اپنی خیر اور بھلائی کے لیے ، اللہ کو تو ان چیزوں کی چنداں ضرورت نہیں ہے وہ تو جہانوں اور کائنات سے غنی ہے۔

العنكبوت 29:6

ومن جاھد ۔۔۔۔۔ عن العلمین (6) ” “۔ جب اللہ مومنین کے لیے آزمائشیں مقرر کرتا ہے اور ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ یہ مشتقیں برداشت کریں تاکہ ان کے نفوس جنگاہ حیات میں مشکلات برداشت کرنے کے اہل بن جائیں ، تو یہ احکام بھی خود اہل ایمان کی اصلاح کے لیے ہیں۔ یہ ان کو مکمل بناتے ہیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں اہل ایمان کے لیے خیر کا باعث بنتے ہیں۔ جہاد کی وجہ سے خود ایک مومن کا نفس اور اس کا قلب پاک ہوتا ہے۔ ان کے تصورات میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور اس کے پیش نظر دنیا کے آفاق وسیع ہوتے ہیں۔ یہ حسب مال اور حب نفس سے بھی بلند ہوجاتا ہے ، اب اس کی شخصیت کے اعلیٰ جو ہر کھلتے ہیں اور اس کی صلاحیت سامنے آتی ہے۔ اس کے بعد پھر وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر ایک سوسائٹی کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ اس سوسائٹی کی اصلاح ہوتی ہے ، اسے فائدہ ملتا ہے۔ اس میں حق کے جھنڈے بلند ہوتے ہیں ، بھلائی پھیلتی ہے اور غالب ہوتی ہے اور شر مغلوب ہوتا ہے۔ اصلاح کو ترقی ملتی ہے اور فساد سکڑتا ہے۔ ومن جاھد فانما ۔۔۔۔ لنفسہ (29: 6) ” جو شخص بھی جہاد کرے گا تو وہ اپنے بھلے کے لیے کرے گا “۔ کوئی شخص جہاد شروع کرکے ، آدھی راہ میں کھڑا نہ ہوجائے کہ لائیے جی معاوضہ اب تک کے جہاد کا۔ یا اللہ پر احسان جتلائے یا تحریک اسلامی پر احسان جتلائے یا یہ کہے کہ جی اس قدر جدوجہد سے ہمیں کیا ملا کیونکہ اس کے جہاد سے اللہ کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ اللہ کو انسانوں کی طرف سے جہاد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کیا ہے اور اس کا جہاد کیا ہے ؟ اللہ تو دو جہانوں سے بےنیاز ہے۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ اس نے اس ضعیف انسان کو اس عظیم کام کے لیے منتخب کیا۔ اسے زمین کا خلیفہ بنایا اور وہ اس زمین میں کام تو اپنے لیے کرتا ہے پھر بھی اللہ اسے اجر وثواب دیتا ہے۔

العنكبوت 29:7

والذین امنوا اعملوا ۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (7) لہٰذا اللہ کی راہ میں کام کرنے والے مزدور اس بات پر مطمئن ہوجائیں کہ انہیں بہت کچھ ملنے والا ہے ، ان کی تقصیرات بھی معاف ہوں گی ، ان کو اچھی جزاء ملے گی ، لہٰذا ان کو جہاد کی تکلیفوں پر صبر کرنا چاہئے۔ مشکلات اور مصائب کو برداشت کرنا چاہئے کیونکہ ان کی امید روشن ہے اور جزاء پاکیزہ ہے۔ اللہ کے ہاں ان کا انتظار ہو رہا ہے۔ یہ اس قدر عظیم اجر ہے کہ اگر انہیں اس دنیا کی پوری زندگی میں انصاف نہ ملے تو بھی وہ کافی ہے۔ سورت کے آغاز میں ہم نے جن آزمائشوں کا ذکر کیا اس کا ایک رنگ اور پہلو اہل و عیال ، محبوبوں اور دوستوں کا فتنہ ہے۔ ان آزمائشوں میں اللہ ایک مومن کو نہایت ہی معتدل موقف اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔

العنكبوت 29:8

ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فی الصلحین (8 – 9) والدین ، تمام اقرباء میں سے قریب تر اور زیادہ قابل احترام ہوتے ہیں ، ان کے حوالے سے اولاد کو مجسم شفقت بن جانا چاہئے اور ازروئے شریعت ان پر رحم اور ان کا احترام فرض کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ محبت کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا احترام کیا جائے ، اور ان کی اچھی طرح کفالت اور دیکھ بھال کی جائے ، لیکن ان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ اللہ کے حقوق مار کر ان کو دئیے جائیں اور ان کی اطاعت اس طرح کی جائے کہ اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو یہ ہے صحیح راستہ۔ ووصینا الانسان ۔۔۔۔۔۔ فلا تطعھما (29: 8) ” ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھہرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر “۔ کیونکہ مومن کا پہلا تعلق اللہ سے ہے اور یہی تعلق اور رابطہ ناقابل شکست ہے اگر والدین مشرک و کافر ہوں تو ان کے ساتھ صرف حسن سلوک کیا جائے گا۔ احترام و رعایت ہوگی ، اتباع ان کا نہ ہوگا ، دنیا کی اس مختصر زندگی میں یہی ہوگا ، اصل تو آخرت ہے جہاں دونوں اللہ کے سامنے ہوں گے۔ الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون (29: 8) ” میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے ، پھر تم کو بتا دوں گا کہ کہ تم کیا کرتے رہے ہو “۔ قیامت میں پھر تعلق والدین و اولاد کا نہ ہوگا۔ وہاں تو مومن باہم تعلق دار ہوں گے۔ نسب اور رشتے یہیں رہ جائیں گے۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ فی الصلحین (25: 9) ” جو لوگ ایمان لائے ہوں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے ان کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے “۔ یوں اللہ والے ایک جماعت ہوں گے ، جیسا کہ حقیقتاً وہ ایک جماعت ہیں۔ اور نسب ، خون اور رشتے وہاں ختم ہوں گے۔ یہ چیزیں یہاں دنیا ہی میں رہ جائیں گی۔ یہ اس دنیا کے عارضی رشتے ہیں اور جو رشتے اس اصلی رشتے سے کٹ گئے یعنی رشتہ ایمان سے تو آخرت میں وہ نابود ہوں گے۔ امام ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت سعد ابن ابی وقاص ؓ اور ان کی ماں حمنہ بنت ابی سفیان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ اپنی ماں کے ساتھ بہت زیادہ حسن سلوک کرتے تھے۔ اس نے ان سے کہا ” یہ کیا دین ہے جو تو نے اپنایا ہے ؟ خدا کی قسم میں اس وقت تک کچھ کھاؤں گی نہ پیئوں گی جب تک تم اس دین سے ٹوٹ نہیں جاتے یا یہاں تک کہ میں مرجاؤں۔ اسی طرح لوگ پوری زندگی تمہیں طعنہ دیتے رہیں گے اور لوگ کہیں گے ” اے ماں کے قاتل “ اس نے چوبیس گھنٹے تک یہ بھول ہڑتال کی تو حضرت سعد ان کے پاس آئے اور عرض کی ” اے ماں ، اگر تمہاری سو جانیں ہوں اور تم ایک کے بعد ایک جان دیتی چلی جاؤ تو بھی میں اپنا دین چھوڑنے والا نہیں ہوں۔ اگر چاہو تو کھا پی لو اگر نہ چاہو تو بھوک ہڑتال جارہی رکھو “۔ جب وہ مایوس ہوگئی کہ یہ تو ماننے والا نہیں ہے تو اس نے کھانا پینا شروع کردیا۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ، لیکن شرک کرنے میں والدین کی اطاعت نہ کرو “۔ یوں اس واقعہ میں نسب کے قریب ترین رشتے پر ایمان غالب آگیا لیکن قرآن نے رشتہ داروں اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک جاری رکھا۔ اہل ایمان کو ہر دور میں ایسی مشکلات پیش آتی رہتی ہیں۔ لہٰذا یہ آیت اور حضرت سعد کی یہ حدیث ہمارے لیے نشانات راہ ہیں۔ یہی امن و نجات کی راہ ہے۔

العنكبوت 29:9

ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فی الصلحین (8 – 9) والدین ، تمام اقرباء میں سے قریب تر اور زیادہ قابل احترام ہوتے ہیں ، ان کے حوالے سے اولاد کو مجسم شفقت بن جانا چاہئے اور ازروئے شریعت ان پر رحم اور ان کا احترام فرض کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ محبت کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا احترام کیا جائے ، اور ان کی اچھی طرح کفالت اور دیکھ بھال کی جائے ، لیکن ان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ اللہ کے حقوق مار کر ان کو دئیے جائیں اور ان کی اطاعت اس طرح کی جائے کہ اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو یہ ہے صحیح راستہ۔ ووصینا الانسان ۔۔۔۔۔۔ فلا تطعھما (29: 8) ” ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھہرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر “۔ کیونکہ مومن کا پہلا تعلق اللہ سے ہے اور یہی تعلق اور رابطہ ناقابل شکست ہے اگر والدین مشرک و کافر ہوں تو ان کے ساتھ صرف حسن سلوک کیا جائے گا۔ احترام و رعایت ہوگی ، اتباع ان کا نہ ہوگا ، دنیا کی اس مختصر زندگی میں یہی ہوگا ، اصل تو آخرت ہے جہاں دونوں اللہ کے سامنے ہوں گے۔ الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون (29: 8) ” میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے ، پھر تم کو بتا دوں گا کہ کہ تم کیا کرتے رہے ہو “۔ قیامت میں پھر تعلق والدین و اولاد کا نہ ہوگا۔ وہاں تو مومن باہم تعلق دار ہوں گے۔ نسب اور رشتے یہیں رہ جائیں گے۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ فی الصلحین (25: 9) ” جو لوگ ایمان لائے ہوں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے ان کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے “۔ یوں اللہ والے ایک جماعت ہوں گے ، جیسا کہ حقیقتاً وہ ایک جماعت ہیں۔ اور نسب ، خون اور رشتے وہاں ختم ہوں گے۔ یہ چیزیں یہاں دنیا ہی میں رہ جائیں گی۔ یہ اس دنیا کے عارضی رشتے ہیں اور جو رشتے اس اصلی رشتے سے کٹ گئے یعنی رشتہ ایمان سے تو آخرت میں وہ نابود ہوں گے۔ امام ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت سعد ابن ابی وقاص ؓ اور ان کی ماں حمنہ بنت ابی سفیان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ اپنی ماں کے ساتھ بہت زیادہ حسن سلوک کرتے تھے۔ اس نے ان سے کہا ” یہ کیا دین ہے جو تو نے اپنایا ہے ؟ خدا کی قسم میں اس وقت تک کچھ کھاؤں گی نہ پیئوں گی جب تک تم اس دین سے ٹوٹ نہیں جاتے یا یہاں تک کہ میں مرجاؤں۔ اسی طرح لوگ پوری زندگی تمہیں طعنہ دیتے رہیں گے اور لوگ کہیں گے ” اے ماں کے قاتل “ اس نے چوبیس گھنٹے تک یہ بھول ہڑتال کی تو حضرت سعد ان کے پاس آئے اور عرض کی ” اے ماں ، اگر تمہاری سو جانیں ہوں اور تم ایک کے بعد ایک جان دیتی چلی جاؤ تو بھی میں اپنا دین چھوڑنے والا نہیں ہوں۔ اگر چاہو تو کھا پی لو اگر نہ چاہو تو بھوک ہڑتال جارہی رکھو “۔ جب وہ مایوس ہوگئی کہ یہ تو ماننے والا نہیں ہے تو اس نے کھانا پینا شروع کردیا۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ، لیکن شرک کرنے میں والدین کی اطاعت نہ کرو “۔ یوں اس واقعہ میں نسب کے قریب ترین رشتے پر ایمان غالب آگیا لیکن قرآن نے رشتہ داروں اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک جاری رکھا۔ اہل ایمان کو ہر دور میں ایسی مشکلات پیش آتی رہتی ہیں۔ لہٰذا یہ آیت اور حضرت سعد کی یہ حدیث ہمارے لیے نشانات راہ ہیں۔ یہی امن و نجات کی راہ ہے۔

العنكبوت 29:10

اب ، مشکلات راہ ایمان ہی کے حوالے سے ایک دوسرا کردار ، کہ جب مشکلات آتی ہیں تو چیختا چلاتا ہے ، لیکن جب اللہ کی طرف سے کامیابی اور فتوحات آتی ہیں تو پھر لمبے جوڑے دعوے کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ چند کلمات میں اس کردار کو بھی نمایاں فرماتا ہے ، یوں کہ ایک واضح تصویر سامنے آجاتی ہے۔ ومن الناس من یقول ۔۔۔۔۔۔ ولیعلمن المنفقین (10 – 11) لوگوں میں ایسے کردار عام ہیں ، ایسے لوگ لفظ ایمان کو ایک معمولی بات سمجھ کر اقرار کرتے ہیں ۔ سمجھتے ہیں کہ اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ صرف زبان سے کلمہ پڑھنا ہے ۔ اس کے کچھ تقاضے نہیں۔ لیکن جب اللہ کی راہ میں تکالیف آتی ہیں ، اور یہ آزمائش اس کلمے کی وجہ سے آتی ہیں تو جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ (29: 10) ” اس آزمائش کو اللہ کا عذاب سمجھتا ہے “۔ اور جزع و فزع اور فرمادیں شروع کردیتا ہے۔ اب اس کی دینی قدریں مختلف ہوجاتی ہیں۔ اس کا عقیدہ متزلزل ہوجاتا ہے۔ کہتا ہے کہ یہی تو جہنم کا عذاب ہے ، جہنم میں ہیں ہم۔ سوچتا ہے کہ یہی تو عذاب الیم ہے۔ لہٰذا ایمان پر جمنے کی کیا ضرورت ہے۔ آخر جس مصیبت میں ہم ہیں جہنم اس سے کیا زیادہ ہوگی۔ یہ ہوتی ہے اس کی سوچ۔ وہ دنیا کی اس معمولی تکلیف کو عذاب الٰہی سمجھتا ہے۔ حالانکہ جہنم میں وہ عذاب ہوگا جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ، نہ اس کی حدود ہوں گی۔۔ یہ تو تھا اس کا کردار آزمائش میں۔ لیکن اگر خوشیاں ہوں تو۔ ولئن جآء نصر ۔۔۔۔۔ کنا معکم (29: 10) ” اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے “۔ ہم تمہارے ساتھ تھے۔۔ اور مشکلات میں وہ کس قدر ہلکا ، ذلیل اور اس کی سوچ اور اس کے تخمینے کس قدر غلط تھے ۔۔۔ اب تو وہ لمبے چوڑے دعوے کر رہا ہے ، پھولا نہیں سماتا ، اب کہتا ہے۔ انا کنا معکم (29: 10) ” ہم تو تمہارے ساتھ تھے “۔ اور جواب خوب آتا ہے۔ اولیس اللہ باعلم بما فی صدور العلمین (29: 10) ” کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ؟ “ تمہارے دل کی فلم اللہ کے ہاں موجود ہے۔ اللہ کو تو معلوم ہے کہ کون صابر رہا اور کون جزع و فزع کرتا رہا۔ مومن کون ہے اور منافق کون ہے۔ کیا یہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ ولیعلمن اللہ ۔۔۔۔۔ المنفقین (29: 11) ” اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون ہیں “۔ اللہ تو ان کو ظاہر کرنا چاہتا ہے اور یہ ضرور ظاہر ہوتے رہیں گے۔ یہ آزمائشیں تو آتی ہی اس لیے ہیں کہ کھرے اور کھوٹے جدا ہوں۔ اس منافق کردار کے بارے میں یہاں قرآن کریم نے جو الفاظ استعمال کیے وہ قابل غور ہیں۔ ان الفاظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کردار کو غلطی کہاں سے لگی ہے۔ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ (29: 10) ” تو لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرف سمجھ لیا “۔ ان کی غلطی یہ نہیں ہے کہ ان پر جو سختی آئی اس کے برداشت کرنے میں ان کا صبر تمام ہوگیا ، کیونکہ بعض اوقات ایک سچا مومن بھی برداشت نہیں کرسکتا ، کیونکہ انسانی طاقت کے بہرحال حدود ہوتے ہیں۔ لیکن ایک سچا مومن انسانوں کی طرف سے آنے والی اذیتوں اور اللہ کے عذاب کے درمیان بہرحال تمیز کرتا ہے۔ وہ اس قدر غلطی نہیں کرسکتا کہ اس فانی دنیا کی کوئی چیز اور اللہ کے ہاں دائمی رہنے والے عالم آخرت کی کوئی چیز برابر ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کا ناقابل برداشت عذاب بھی آخرت کے عذاب الٰہی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ مومن کے احساس میں اللہ اور اس کے بےمثال کام میں کوئی چیز اس کے برابر نہیں ہوسکتی یہ ہے فرق مومن اور منافق کے درمیان۔

العنكبوت 29:11

اب ، مشکلات راہ ایمان ہی کے حوالے سے ایک دوسرا کردار ، کہ جب مشکلات آتی ہیں تو چیختا چلاتا ہے ، لیکن جب اللہ کی طرف سے کامیابی اور فتوحات آتی ہیں تو پھر لمبے جوڑے دعوے کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ چند کلمات میں اس کردار کو بھی نمایاں فرماتا ہے ، یوں کہ ایک واضح تصویر سامنے آجاتی ہے۔ ومن الناس من یقول ۔۔۔۔۔۔ ولیعلمن المنفقین (10 – 11) لوگوں میں ایسے کردار عام ہیں ، ایسے لوگ لفظ ایمان کو ایک معمولی بات سمجھ کر اقرار کرتے ہیں ۔ سمجھتے ہیں کہ اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ صرف زبان سے کلمہ پڑھنا ہے ۔ اس کے کچھ تقاضے نہیں۔ لیکن جب اللہ کی راہ میں تکالیف آتی ہیں ، اور یہ آزمائش اس کلمے کی وجہ سے آتی ہیں تو جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ (29: 10) ” اس آزمائش کو اللہ کا عذاب سمجھتا ہے “۔ اور جزع و فزع اور فرمادیں شروع کردیتا ہے۔ اب اس کی دینی قدریں مختلف ہوجاتی ہیں۔ اس کا عقیدہ متزلزل ہوجاتا ہے۔ کہتا ہے کہ یہی تو جہنم کا عذاب ہے ، جہنم میں ہیں ہم۔ سوچتا ہے کہ یہی تو عذاب الیم ہے۔ لہٰذا ایمان پر جمنے کی کیا ضرورت ہے۔ آخر جس مصیبت میں ہم ہیں جہنم اس سے کیا زیادہ ہوگی۔ یہ ہوتی ہے اس کی سوچ۔ وہ دنیا کی اس معمولی تکلیف کو عذاب الٰہی سمجھتا ہے۔ حالانکہ جہنم میں وہ عذاب ہوگا جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ، نہ اس کی حدود ہوں گی۔۔ یہ تو تھا اس کا کردار آزمائش میں۔ لیکن اگر خوشیاں ہوں تو۔ ولئن جآء نصر ۔۔۔۔۔ کنا معکم (29: 10) ” اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے “۔ ہم تمہارے ساتھ تھے۔۔ اور مشکلات میں وہ کس قدر ہلکا ، ذلیل اور اس کی سوچ اور اس کے تخمینے کس قدر غلط تھے ۔۔۔ اب تو وہ لمبے چوڑے دعوے کر رہا ہے ، پھولا نہیں سماتا ، اب کہتا ہے۔ انا کنا معکم (29: 10) ” ہم تو تمہارے ساتھ تھے “۔ اور جواب خوب آتا ہے۔ اولیس اللہ باعلم بما فی صدور العلمین (29: 10) ” کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ؟ “ تمہارے دل کی فلم اللہ کے ہاں موجود ہے۔ اللہ کو تو معلوم ہے کہ کون صابر رہا اور کون جزع و فزع کرتا رہا۔ مومن کون ہے اور منافق کون ہے۔ کیا یہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ ولیعلمن اللہ ۔۔۔۔۔ المنفقین (29: 11) ” اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون ہیں “۔ اللہ تو ان کو ظاہر کرنا چاہتا ہے اور یہ ضرور ظاہر ہوتے رہیں گے۔ یہ آزمائشیں تو آتی ہی اس لیے ہیں کہ کھرے اور کھوٹے جدا ہوں۔ اس منافق کردار کے بارے میں یہاں قرآن کریم نے جو الفاظ استعمال کیے وہ قابل غور ہیں۔ ان الفاظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کردار کو غلطی کہاں سے لگی ہے۔ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ (29: 10) ” تو لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرف سمجھ لیا “۔ ان کی غلطی یہ نہیں ہے کہ ان پر جو سختی آئی اس کے برداشت کرنے میں ان کا صبر تمام ہوگیا ، کیونکہ بعض اوقات ایک سچا مومن بھی برداشت نہیں کرسکتا ، کیونکہ انسانی طاقت کے بہرحال حدود ہوتے ہیں۔ لیکن ایک سچا مومن انسانوں کی طرف سے آنے والی اذیتوں اور اللہ کے عذاب کے درمیان بہرحال تمیز کرتا ہے۔ وہ اس قدر غلطی نہیں کرسکتا کہ اس فانی دنیا کی کوئی چیز اور اللہ کے ہاں دائمی رہنے والے عالم آخرت کی کوئی چیز برابر ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کا ناقابل برداشت عذاب بھی آخرت کے عذاب الٰہی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ مومن کے احساس میں اللہ اور اس کے بےمثال کام میں کوئی چیز اس کے برابر نہیں ہوسکتی یہ ہے فرق مومن اور منافق کے درمیان۔

العنكبوت 29:12

آخر میں لوگوں کو گمراہ اور بدراہ کرنے کی آزمائش کا نمونہ آتا ہے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ جزاء و سزا کے بارے میں اہل کفر کا تصور کسی قدر پوچ ہے کہ ایک شخص دوسرے کو گمراہ کرکے اخروی ذمہ داری خود لیتا ہے حالانکہ اللہ کے ہاں یہ اصل الاصول ہے کہ ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے۔ یہ اعلیٰ درجے کا انصاف ہے جو اسلام نے واضح طور پر قائم کیا۔ یہ عدل کا زریں اصول ہے۔ وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ کانوا یفترون (12 – 13) یہ بات ، یہ لوگ اس بددیانہ اصول کے مطابق کہتے تھے جس میں جرائم کے سلسلہ میں ذمہ داری اجتماعی ہوا کرتی تھی۔ کسی جرم کا ذمہ دار اور پورا قبیلہ ہوتا تھا۔ اس غلط رواج کے تحت وہ یہ بھی زعم رکھتے تھے کہ آخرت میں شرک کی ذمہ داری بھی وہ اپنے سر لے سکتے ہیں اور اس طرح وہ ان کو جرم کی سزا سے بچالیں گے۔ یہ دراصل آخرت کی جزاء و سزا کے ساتھ مزاح کر رہے تھے۔ اتبعوا سبیلنا ولنحمل خطیکم (29: 12) ” تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اوپر لے لیں گے “۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اٹل جواب آج ہے کہ ہر شخص اللہ کے سامنے ضرور حاضر ہوگا۔ ہر شخص سے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ اور کوئی شخص کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ وما ھم بحملین من خطیھم من شئ (29: 12) ” حالانکہ ان کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں “۔ اور بتایا جاتا ہے کہ یہ جو لاف زنی کرتے ہیں اس میں جھوٹے ہیں۔ انھم لکذبون (29: 12) ” وہ قطعا جھوٹ کہتے ہیں “۔ ہاں یہ لوگ اپنی گمراہی کا بوجھ بھی اٹھائیں گے ، شرک کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اس افترا پردازی کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ جب دوسرے گمراہ ہونے والے بھی معاف نہ ہوں گے۔ ولیحملن اثقالھم ۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (29: 13) ” ہاں وہ ضرور اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے ، اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت بوجھ بھی ، اور قیامت کے روز یقیناً ان سے ان افترا پردازویوں کی باز پرس پوگی جو وہ کرتے رہے ہیں “۔ چناچہ اس آزمائش اور فتنے کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا جاتا ہے اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ لوگوں کا حساب و کتاب جماعتی صورت میں نہ ہوگا ، فرداً فرداً ہوگا اور ہر شخص اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ کل امری بما کسب رھین ” ہر شخص اس کمائی کا رہن ہوگا جو اس نے کمائی “۔

العنكبوت 29:13

آخر میں لوگوں کو گمراہ اور بدراہ کرنے کی آزمائش کا نمونہ آتا ہے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ جزاء و سزا کے بارے میں اہل کفر کا تصور کسی قدر پوچ ہے کہ ایک شخص دوسرے کو گمراہ کرکے اخروی ذمہ داری خود لیتا ہے حالانکہ اللہ کے ہاں یہ اصل الاصول ہے کہ ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے۔ یہ اعلیٰ درجے کا انصاف ہے جو اسلام نے واضح طور پر قائم کیا۔ یہ عدل کا زریں اصول ہے۔ وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ کانوا یفترون (12 – 13) یہ بات ، یہ لوگ اس بددیانہ اصول کے مطابق کہتے تھے جس میں جرائم کے سلسلہ میں ذمہ داری اجتماعی ہوا کرتی تھی۔ کسی جرم کا ذمہ دار اور پورا قبیلہ ہوتا تھا۔ اس غلط رواج کے تحت وہ یہ بھی زعم رکھتے تھے کہ آخرت میں شرک کی ذمہ داری بھی وہ اپنے سر لے سکتے ہیں اور اس طرح وہ ان کو جرم کی سزا سے بچالیں گے۔ یہ دراصل آخرت کی جزاء و سزا کے ساتھ مزاح کر رہے تھے۔ اتبعوا سبیلنا ولنحمل خطیکم (29: 12) ” تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اوپر لے لیں گے “۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اٹل جواب آج ہے کہ ہر شخص اللہ کے سامنے ضرور حاضر ہوگا۔ ہر شخص سے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ اور کوئی شخص کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ وما ھم بحملین من خطیھم من شئ (29: 12) ” حالانکہ ان کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں “۔ اور بتایا جاتا ہے کہ یہ جو لاف زنی کرتے ہیں اس میں جھوٹے ہیں۔ انھم لکذبون (29: 12) ” وہ قطعا جھوٹ کہتے ہیں “۔ ہاں یہ لوگ اپنی گمراہی کا بوجھ بھی اٹھائیں گے ، شرک کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اس افترا پردازی کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ جب دوسرے گمراہ ہونے والے بھی معاف نہ ہوں گے۔ ولیحملن اثقالھم ۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (29: 13) ” ہاں وہ ضرور اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے ، اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت بوجھ بھی ، اور قیامت کے روز یقیناً ان سے ان افترا پردازویوں کی باز پرس پوگی جو وہ کرتے رہے ہیں “۔ چناچہ اس آزمائش اور فتنے کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا جاتا ہے اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ لوگوں کا حساب و کتاب جماعتی صورت میں نہ ہوگا ، فرداً فرداً ہوگا اور ہر شخص اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ کل امری بما کسب رھین ” ہر شخص اس کمائی کا رہن ہوگا جو اس نے کمائی “۔

العنكبوت 29:14

درس نمبر 181 ایک نظر میں سابقہ راؤنڈ میں یہ بتایا گیا تھا کہ جو لوگ کلمہ ایمان کا اقرار کرتے ہیں ، اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ضرور آزمایا جائے گا اور مشکلات سے دوچار کیا جائے گا تاکہ سچوں اور جھوٹوں کے درمیان امتیاز ہوجائے۔ آزمائشوں میں اذیت کی آزمائش ، رشتہ داروں کی آزمائش اور سازشوں اور لالچوں کی آزمائش شامل ہے۔ اس سبق میں ان آزمائشوں کا ذکر ہے جو نوح (علیہ السلام) سے ادھر ہر اسلامی دعوت کے قائدین کو پیش آتی رہی چاہے وہ نبی ہیں یا ان کے متبعین اور ساتھی ہیں۔ دعوت و عزیمت کی اس تاریخ میں حضرت ابراہیم اور حضرت لوط (علیہما السلام) کے حالات کو ذرا تفصیل سے لیا گیا ہے اور دوسرے انبیاء کے حالات مجملا بیان ہوئے ہیں۔ ان قصص میں بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ میں قسما قسم کی مشکلات اور رکاوٹیں آتی رہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے طویل جدوجہد کی اور حاصل نہایت معمولی رہا۔ نو سو پچاس سال کی جدوجہد کے نتیجے میں بہت کم لوگ مسلمان ہوئے۔ فاخذھم الطوفان وھم ظلمون (29: 14) ” آخر کار ان لوگوں کو طوفان نے آگھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں سرکش حکمران نے یہ صلہ دیا کہ وہ تشدد پر اتر آیا ، حالانکہ آپ نے حتی المقدور ان کی ہدایت کے لیے سعی کی۔ معقول دلائل سے بات کی تو اس قوم کا ردعمل بھی یہ تھا : فما کان جواب ۔۔۔۔۔ حرقوہ (29: 24) ” پھر ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا ” قتل کر دو اسے یا چلا ڈالو اس کو “۔ حضرت لوط کے قصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رذیل لوگ کس قدر خود سر ہوگئے ہیں اور کس قدر بےحیا اور طوطا چشم بن گئے تھے۔ نبی کا بھی کوئی لحاظ اور احترام نہیں کرتے تھے اور انہوں نے انسانیت کو حیوانات کے درجے سے بھی گرا دیا تھا اور وہ گندگی اور رذائل میں مبتلا ہوگئے تھے اور وہ اپنے ڈرانے والے ہمدرد کے مقابلے میں یہ جرات کرتے ہیں۔ فما کان جواب ۔۔۔۔۔ من الصدقین (29: 29) ” اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب ہم پر لے آؤ “۔ حضرت شعیب کے قصے میں بھی اہل مدین کی طرف سے فساد و سرکشی سامنے آتی ہے ، اور وہ سچائی اور حق سے منہ موڑتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔ فاخذتھم الرجفۃ ۔۔۔۔۔ جثمین (29: 37) ” آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ قوم عاد اور قوم ثمود کی طرف غرور ، قوت اور سرکشی کے مظاہرے کا اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح فرعون ، قارون اور ہامان کی طرف یہ اشارہ کیا گیا کہ انہوں نے حق کے مقابلے میں مال و دولت ، حکومت ، سازش اور سرکشی کو سرچشمہ قوت سمجھا ان تمام تاریخی قوتوں پر قرآن یہ تبصرہ کرتا ہے کہ یہ قوتیں ، چاہے وہ جس قدر زور دار کیوں نہ ہوں جب سچائی کے مقابلے میں آتی ہیں تو ان کی حیثیت مکڑی کے جالے کے برابر ہوجاتی ہے۔ کمثل العنکبوت ۔۔۔۔۔ لا کانوا یعلمون (29: 41) ” ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے ، اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے “۔ درس نمبر 181 تشریح آیات 14 ۔۔۔ تا۔۔۔ 44 ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجعلنٰھا ایۃ للعٰلمین (24 – 25) حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک دعوت دی۔ نبوت عطا ہونے سے پہلے بھی ان کی کچھ زندگی گزری ہوگی جس کا تعین یہاں نہیں ہے اور طوفان کے بعد بھی وہ زندہ رہے تھے ، وہ عرصہ بھی متعین نہیں ہے۔ اس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر بظاہر موجودہ عمر طبیعی سے بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے لیکن یہ عمر قرآن نے بتائی ہے جو اس کائنات میں سب سے سچا ذریعہ علم ہے اور اس کی صداقت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ قرآن کی تصریح ہے۔ اس کی توضیح اس طرح ہو سکتی ہے کہ اس وقت دست قدرت نے طویل عمریں اس لیے رکھیں کہ زمین آباد ہو اور نسل پھیلے۔ جب لوگوں کی کثرت ہوئی تو پھر لمبی عمر کی ضرورت نہ رہی۔ کئی زندہ چیزوں میں یہ اصول مروج نظر آتا ہے ، اگر کسی زندہ کی تعداد کم ہو تو عمر زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً شکاری پرندے شاہین وغیرہ اور کچھوے جن کی عمریں اب بھی سینکڑوں سال ہوتی ہیں جبکہ مکھی زیادہ سے زیادہ دو ہفتے زندہ رہتی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ بعاث الطیر اکثرھا فراخا وام الصقر مقلاۃ نزور ” کمزور پرندوں کے بچے زیادہ ہوتے ہیں لیکن شاہین کی ماں بہت ہی کم بچے دینے والی ہوتی ہے “۔ یہی وجہ ہے کہ شاہین کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور چھوٹے اور زیادہ بچے دینے والے پرندے کم عمر ہوتے ہیں۔ اللہ کے کام حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز مقدار کے مطابق ہے۔ بہرحال حضرت نوح کے ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے نتیجے میں ایک قلیل مقدار ہی اسلام میں آئی اور اکثریت کو ان کے ظلم کی وجہ سے طوفان بہا کرلے گیا۔ چونکہ انہوں نے اس قدر طویل ہٹ دھرمی اور سرکشی کی اس لئے اللہ نے ان کو تباہ کیا اور عدو قلیل کو نجات دی جو مومن تھے۔ یہ اصحاب سفینہ تھے۔ انہی سے بعد میں انسانی نسل چلی۔ اور طوفان تمام جہاں والوں کے لیے معجزہ بن گیا اور ایک عرصہ تک ظلم ، شرک اور کفر کا انجام قصہ نوح کے حوالے سے یاد ہوتا رہا۔ نوح (علیہ السلام) کے بعد صدیوں کی تاریخ کو لپیٹ کر قرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کو لیتا ہے۔

العنكبوت 29:15

درس نمبر 181 ایک نظر میں سابقہ راؤنڈ میں یہ بتایا گیا تھا کہ جو لوگ کلمہ ایمان کا اقرار کرتے ہیں ، اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ضرور آزمایا جائے گا اور مشکلات سے دوچار کیا جائے گا تاکہ سچوں اور جھوٹوں کے درمیان امتیاز ہوجائے۔ آزمائشوں میں اذیت کی آزمائش ، رشتہ داروں کی آزمائش اور سازشوں اور لالچوں کی آزمائش شامل ہے۔ اس سبق میں ان آزمائشوں کا ذکر ہے جو نوح (علیہ السلام) سے ادھر ہر اسلامی دعوت کے قائدین کو پیش آتی رہی چاہے وہ نبی ہیں یا ان کے متبعین اور ساتھی ہیں۔ دعوت و عزیمت کی اس تاریخ میں حضرت ابراہیم اور حضرت لوط (علیہما السلام) کے حالات کو ذرا تفصیل سے لیا گیا ہے اور دوسرے انبیاء کے حالات مجملا بیان ہوئے ہیں۔ ان قصص میں بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ میں قسما قسم کی مشکلات اور رکاوٹیں آتی رہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے طویل جدوجہد کی اور حاصل نہایت معمولی رہا۔ نو سو پچاس سال کی جدوجہد کے نتیجے میں بہت کم لوگ مسلمان ہوئے۔ فاخذھم الطوفان وھم ظلمون (29: 14) ” آخر کار ان لوگوں کو طوفان نے آگھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں سرکش حکمران نے یہ صلہ دیا کہ وہ تشدد پر اتر آیا ، حالانکہ آپ نے حتی المقدور ان کی ہدایت کے لیے سعی کی۔ معقول دلائل سے بات کی تو اس قوم کا ردعمل بھی یہ تھا : فما کان جواب ۔۔۔۔۔ حرقوہ (29: 24) ” پھر ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا ” قتل کر دو اسے یا چلا ڈالو اس کو “۔ حضرت لوط کے قصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رذیل لوگ کس قدر خود سر ہوگئے ہیں اور کس قدر بےحیا اور طوطا چشم بن گئے تھے۔ نبی کا بھی کوئی لحاظ اور احترام نہیں کرتے تھے اور انہوں نے انسانیت کو حیوانات کے درجے سے بھی گرا دیا تھا اور وہ گندگی اور رذائل میں مبتلا ہوگئے تھے اور وہ اپنے ڈرانے والے ہمدرد کے مقابلے میں یہ جرات کرتے ہیں۔ فما کان جواب ۔۔۔۔۔ من الصدقین (29: 29) ” اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب ہم پر لے آؤ “۔ حضرت شعیب کے قصے میں بھی اہل مدین کی طرف سے فساد و سرکشی سامنے آتی ہے ، اور وہ سچائی اور حق سے منہ موڑتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔ فاخذتھم الرجفۃ ۔۔۔۔۔ جثمین (29: 37) ” آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ قوم عاد اور قوم ثمود کی طرف غرور ، قوت اور سرکشی کے مظاہرے کا اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح فرعون ، قارون اور ہامان کی طرف یہ اشارہ کیا گیا کہ انہوں نے حق کے مقابلے میں مال و دولت ، حکومت ، سازش اور سرکشی کو سرچشمہ قوت سمجھا ان تمام تاریخی قوتوں پر قرآن یہ تبصرہ کرتا ہے کہ یہ قوتیں ، چاہے وہ جس قدر زور دار کیوں نہ ہوں جب سچائی کے مقابلے میں آتی ہیں تو ان کی حیثیت مکڑی کے جالے کے برابر ہوجاتی ہے۔ کمثل العنکبوت ۔۔۔۔۔ لا کانوا یعلمون (29: 41) ” ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے ، اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے “۔ درس نمبر 181 تشریح آیات 14 ۔۔۔ تا۔۔۔ 44 ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجعلنٰھا ایۃ للعٰلمین (24 – 25) حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک دعوت دی۔ نبوت عطا ہونے سے پہلے بھی ان کی کچھ زندگی گزری ہوگی جس کا تعین یہاں نہیں ہے اور طوفان کے بعد بھی وہ زندہ رہے تھے ، وہ عرصہ بھی متعین نہیں ہے۔ اس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر بظاہر موجودہ عمر طبیعی سے بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے لیکن یہ عمر قرآن نے بتائی ہے جو اس کائنات میں سب سے سچا ذریعہ علم ہے اور اس کی صداقت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ قرآن کی تصریح ہے۔ اس کی توضیح اس طرح ہو سکتی ہے کہ اس وقت دست قدرت نے طویل عمریں اس لیے رکھیں کہ زمین آباد ہو اور نسل پھیلے۔ جب لوگوں کی کثرت ہوئی تو پھر لمبی عمر کی ضرورت نہ رہی۔ کئی زندہ چیزوں میں یہ اصول مروج نظر آتا ہے ، اگر کسی زندہ کی تعداد کم ہو تو عمر زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً شکاری پرندے شاہین وغیرہ اور کچھوے جن کی عمریں اب بھی سینکڑوں سال ہوتی ہیں جبکہ مکھی زیادہ سے زیادہ دو ہفتے زندہ رہتی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ بعاث الطیر اکثرھا فراخا وام الصقر مقلاۃ نزور ” کمزور پرندوں کے بچے زیادہ ہوتے ہیں لیکن شاہین کی ماں بہت ہی کم بچے دینے والی ہوتی ہے “۔ یہی وجہ ہے کہ شاہین کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور چھوٹے اور زیادہ بچے دینے والے پرندے کم عمر ہوتے ہیں۔ اللہ کے کام حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز مقدار کے مطابق ہے۔ بہرحال حضرت نوح کے ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے نتیجے میں ایک قلیل مقدار ہی اسلام میں آئی اور اکثریت کو ان کے ظلم کی وجہ سے طوفان بہا کرلے گیا۔ چونکہ انہوں نے اس قدر طویل ہٹ دھرمی اور سرکشی کی اس لئے اللہ نے ان کو تباہ کیا اور عدو قلیل کو نجات دی جو مومن تھے۔ یہ اصحاب سفینہ تھے۔ انہی سے بعد میں انسانی نسل چلی۔ اور طوفان تمام جہاں والوں کے لیے معجزہ بن گیا اور ایک عرصہ تک ظلم ، شرک اور کفر کا انجام قصہ نوح کے حوالے سے یاد ہوتا رہا۔ نوح (علیہ السلام) کے بعد صدیوں کی تاریخ کو لپیٹ کر قرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کو لیتا ہے۔

العنكبوت 29:16

و ابراہیم اذ قال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔ علی الرسول الا البلغ المبین (16 – 18) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو نہایت واضح اور سادہ دعوت دی جس میں کوئی پیچیدگی اور اجمال نہ تھا۔ اس دعوت کو انہوں نے نہایت مرتب انداز میں پیش کیا۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ دعوت کی اس ترتیب اور انداز پر غور کریں۔ پہلے تو انہوں نے اپنی دعوت کی حقیقت ان کے سامنے رکھی۔ اعبدوا اللہ واتقوہ (29: 16) ” اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو “۔ اور اس کے بعد انہوں نے ان کے دلوں میں اس دعوت کے لیے دلچسپی پیدا کی کہ اس میں تمہارے لیے بہت خیر ہے ، بشرطیکہ وہ اچھائی اور برائی کو سمجھیں۔ خیر اور مقامات خیر کو جانیں۔ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون (29: 16) ” یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو “۔ اس شرطیہ تعقیب میں ان کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ جہالت کو ترک کرکے اور اپنی ذات کے حوالے سے جہالت کی نفی کرکے اپنے لیے بھلائی کی راہ اختیار کریں۔ یہ ایک حقیقت بھی ہے محض ایک خطابت اور جوش خطابت کی ہٹ دھرمی نہیں ہے اور نہ محض لفاظی ہے۔ تیسرے مرحلے میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ جو عقائد و نظریات رکھتے ہیں وہ متعدد پہلوؤں سے غلط ہیں۔ وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور یہ بت پتھر یالکڑی سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ بندگی اور پوجا نہایت غلط اور کھوٹا عمل ہے۔ جبکہ یہ انہیں اللہ وحدہ کی بندگی سے بھی روک رہا ہے۔ پھر وہ جو پوجا کرتے ہیں اس پر کوئی معقول برہان و دلیل بھی نہیں ہے بلکہ کچھ جھوٹی باتیں ہیں جو انہوں نے ازخود گھڑ رکھی ہیں۔ ان کا نہ کوئی سابقہ اور نہ کوئی لاحقہ ہے بلکہ جھوٹی خود ساختہ باتیں ہیں۔ اور کسی مسلمہ اصول و قاعدے پر مبنی نہیں ہیں۔ پھر یہ بت ان کو کوئی نفع یا نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ نہ ان کو کچھ دے سکتے ہیں۔ ان الذین تعبدون ۔۔۔۔۔ لکم رزقا (29: 17) ” در حقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو ، وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے “۔ اور چوتھے مرحلے میں قرآن پھر ان کو متوجہ کرتا ہے کہ اللہ سے رزق طلب کرو کہ وہ وحدہ رزاق ہے۔ یہ بات ان کے لئے بہت اہم ہے اور ان کی حاجات اور ضروریات اللہ کے دربار ہی سے پوری ہو سکتی ہیں۔ فابتغوا عند اللہ الرزق (29: 17) ” اللہ سے رزق مانگو “۔ رزق دراصل مشغلہ نفوس ہے ، خصوصا نفوس مومنہ کا۔ اور رزق کو صرف اللہ کے ہاں طلب کرنا ایک حقیقت بھی ہے۔ یہ محض نفسیاتی ہیجان انگیزی نہیں ہے ، نہ نفسیاتی میلان ہے جسے ابھارا جا رہا ہو ، بلکہ ایک حقیقت ہے۔ آخر میں انکو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ انعامات اور ارزاق کے حقیقی مسبب اور حقیقی منعم کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ واعبدوہ واشکروا لہ (29: 17) ” اور اس کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو “۔ آخر میں ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس سے بھاگ نہیں سکتے ، نہ اس اللہ سے تم کہیں پناہ پاسکتے ہو۔ لہٰذا مناسب یہی ہے اور اسی میں تمہاری بھلائی ہے کہ تم اس کی طرف لوٹ آؤ اور ایمان لاکر اس کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو ، الیہ ترجعون (29: 17) ” اسی کی طرف تم پلٹ کر جانے والے ہو “۔ اور اگر اس دعوت کے بعد وہ تمہاری تکذیب کریں تو اس تکذیب کی کیا حیثیت ہے ! اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی نقص یا کمی واقع نہیں ہوتی۔ نہ رسول اللہ ﷺ کے مقام و مرتبے میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کئی لوگوں نے تکذیب کی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ آپ ﷺ بس تبلیغ کردیں۔ وان تکذبوا فقد ۔۔۔۔۔۔ البلغ المبین (29: 18) ” اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ یوں قرآن کریم قدم بقدم ان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ اور ان کے دلوں پر ہر طرف سے اثر انداز ہوتا ہے اور ان کے دل کے تاروں کو ہر طرف سے چھیڑتا ہے۔ یہ تدریجی اقدامات دعوت پیش کرنے کا ایک بہترین نمونہ ہیں اور دعوت اسلامی کے کارکنوں کو اس انداز پر اچھی طرح غور کرنا چاہئے۔ اور اس انداز سے انسانی نفوس پر اثر انداز ہونا چاہئے۔ قبل اس کے کہ اس کہانی کو اختتام تک پہنچایا جائے۔ ایک وقفہ کیا جاتا ہے اور یہ ایک لمحہ فکر یہ ہے۔ اسمیں ہر اس شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے جو دعوت ایمان کا منکر ہے۔ جو اللہ کی طرف رجوع سے انکار کرتا ہے اور بعث بعد الموت کا منکر ہے۔

العنكبوت 29:17

و ابراہیم اذ قال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔ علی الرسول الا البلغ المبین (16 – 18) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو نہایت واضح اور سادہ دعوت دی جس میں کوئی پیچیدگی اور اجمال نہ تھا۔ اس دعوت کو انہوں نے نہایت مرتب انداز میں پیش کیا۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ دعوت کی اس ترتیب اور انداز پر غور کریں۔ پہلے تو انہوں نے اپنی دعوت کی حقیقت ان کے سامنے رکھی۔ اعبدوا اللہ واتقوہ (29: 16) ” اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو “۔ اور اس کے بعد انہوں نے ان کے دلوں میں اس دعوت کے لیے دلچسپی پیدا کی کہ اس میں تمہارے لیے بہت خیر ہے ، بشرطیکہ وہ اچھائی اور برائی کو سمجھیں۔ خیر اور مقامات خیر کو جانیں۔ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون (29: 16) ” یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو “۔ اس شرطیہ تعقیب میں ان کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ جہالت کو ترک کرکے اور اپنی ذات کے حوالے سے جہالت کی نفی کرکے اپنے لیے بھلائی کی راہ اختیار کریں۔ یہ ایک حقیقت بھی ہے محض ایک خطابت اور جوش خطابت کی ہٹ دھرمی نہیں ہے اور نہ محض لفاظی ہے۔ تیسرے مرحلے میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ جو عقائد و نظریات رکھتے ہیں وہ متعدد پہلوؤں سے غلط ہیں۔ وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور یہ بت پتھر یالکڑی سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ بندگی اور پوجا نہایت غلط اور کھوٹا عمل ہے۔ جبکہ یہ انہیں اللہ وحدہ کی بندگی سے بھی روک رہا ہے۔ پھر وہ جو پوجا کرتے ہیں اس پر کوئی معقول برہان و دلیل بھی نہیں ہے بلکہ کچھ جھوٹی باتیں ہیں جو انہوں نے ازخود گھڑ رکھی ہیں۔ ان کا نہ کوئی سابقہ اور نہ کوئی لاحقہ ہے بلکہ جھوٹی خود ساختہ باتیں ہیں۔ اور کسی مسلمہ اصول و قاعدے پر مبنی نہیں ہیں۔ پھر یہ بت ان کو کوئی نفع یا نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ نہ ان کو کچھ دے سکتے ہیں۔ ان الذین تعبدون ۔۔۔۔۔ لکم رزقا (29: 17) ” در حقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو ، وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے “۔ اور چوتھے مرحلے میں قرآن پھر ان کو متوجہ کرتا ہے کہ اللہ سے رزق طلب کرو کہ وہ وحدہ رزاق ہے۔ یہ بات ان کے لئے بہت اہم ہے اور ان کی حاجات اور ضروریات اللہ کے دربار ہی سے پوری ہو سکتی ہیں۔ فابتغوا عند اللہ الرزق (29: 17) ” اللہ سے رزق مانگو “۔ رزق دراصل مشغلہ نفوس ہے ، خصوصا نفوس مومنہ کا۔ اور رزق کو صرف اللہ کے ہاں طلب کرنا ایک حقیقت بھی ہے۔ یہ محض نفسیاتی ہیجان انگیزی نہیں ہے ، نہ نفسیاتی میلان ہے جسے ابھارا جا رہا ہو ، بلکہ ایک حقیقت ہے۔ آخر میں انکو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ انعامات اور ارزاق کے حقیقی مسبب اور حقیقی منعم کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ واعبدوہ واشکروا لہ (29: 17) ” اور اس کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو “۔ آخر میں ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس سے بھاگ نہیں سکتے ، نہ اس اللہ سے تم کہیں پناہ پاسکتے ہو۔ لہٰذا مناسب یہی ہے اور اسی میں تمہاری بھلائی ہے کہ تم اس کی طرف لوٹ آؤ اور ایمان لاکر اس کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو ، الیہ ترجعون (29: 17) ” اسی کی طرف تم پلٹ کر جانے والے ہو “۔ اور اگر اس دعوت کے بعد وہ تمہاری تکذیب کریں تو اس تکذیب کی کیا حیثیت ہے ! اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی نقص یا کمی واقع نہیں ہوتی۔ نہ رسول اللہ ﷺ کے مقام و مرتبے میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کئی لوگوں نے تکذیب کی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ آپ ﷺ بس تبلیغ کردیں۔ وان تکذبوا فقد ۔۔۔۔۔۔ البلغ المبین (29: 18) ” اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ یوں قرآن کریم قدم بقدم ان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ اور ان کے دلوں پر ہر طرف سے اثر انداز ہوتا ہے اور ان کے دل کے تاروں کو ہر طرف سے چھیڑتا ہے۔ یہ تدریجی اقدامات دعوت پیش کرنے کا ایک بہترین نمونہ ہیں اور دعوت اسلامی کے کارکنوں کو اس انداز پر اچھی طرح غور کرنا چاہئے۔ اور اس انداز سے انسانی نفوس پر اثر انداز ہونا چاہئے۔ قبل اس کے کہ اس کہانی کو اختتام تک پہنچایا جائے۔ ایک وقفہ کیا جاتا ہے اور یہ ایک لمحہ فکر یہ ہے۔ اسمیں ہر اس شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے جو دعوت ایمان کا منکر ہے۔ جو اللہ کی طرف رجوع سے انکار کرتا ہے اور بعث بعد الموت کا منکر ہے۔

العنكبوت 29:18

و ابراہیم اذ قال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔ علی الرسول الا البلغ المبین (16 – 18) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو نہایت واضح اور سادہ دعوت دی جس میں کوئی پیچیدگی اور اجمال نہ تھا۔ اس دعوت کو انہوں نے نہایت مرتب انداز میں پیش کیا۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ دعوت کی اس ترتیب اور انداز پر غور کریں۔ پہلے تو انہوں نے اپنی دعوت کی حقیقت ان کے سامنے رکھی۔ اعبدوا اللہ واتقوہ (29: 16) ” اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو “۔ اور اس کے بعد انہوں نے ان کے دلوں میں اس دعوت کے لیے دلچسپی پیدا کی کہ اس میں تمہارے لیے بہت خیر ہے ، بشرطیکہ وہ اچھائی اور برائی کو سمجھیں۔ خیر اور مقامات خیر کو جانیں۔ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون (29: 16) ” یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو “۔ اس شرطیہ تعقیب میں ان کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ جہالت کو ترک کرکے اور اپنی ذات کے حوالے سے جہالت کی نفی کرکے اپنے لیے بھلائی کی راہ اختیار کریں۔ یہ ایک حقیقت بھی ہے محض ایک خطابت اور جوش خطابت کی ہٹ دھرمی نہیں ہے اور نہ محض لفاظی ہے۔ تیسرے مرحلے میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ جو عقائد و نظریات رکھتے ہیں وہ متعدد پہلوؤں سے غلط ہیں۔ وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور یہ بت پتھر یالکڑی سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ بندگی اور پوجا نہایت غلط اور کھوٹا عمل ہے۔ جبکہ یہ انہیں اللہ وحدہ کی بندگی سے بھی روک رہا ہے۔ پھر وہ جو پوجا کرتے ہیں اس پر کوئی معقول برہان و دلیل بھی نہیں ہے بلکہ کچھ جھوٹی باتیں ہیں جو انہوں نے ازخود گھڑ رکھی ہیں۔ ان کا نہ کوئی سابقہ اور نہ کوئی لاحقہ ہے بلکہ جھوٹی خود ساختہ باتیں ہیں۔ اور کسی مسلمہ اصول و قاعدے پر مبنی نہیں ہیں۔ پھر یہ بت ان کو کوئی نفع یا نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ نہ ان کو کچھ دے سکتے ہیں۔ ان الذین تعبدون ۔۔۔۔۔ لکم رزقا (29: 17) ” در حقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو ، وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے “۔ اور چوتھے مرحلے میں قرآن پھر ان کو متوجہ کرتا ہے کہ اللہ سے رزق طلب کرو کہ وہ وحدہ رزاق ہے۔ یہ بات ان کے لئے بہت اہم ہے اور ان کی حاجات اور ضروریات اللہ کے دربار ہی سے پوری ہو سکتی ہیں۔ فابتغوا عند اللہ الرزق (29: 17) ” اللہ سے رزق مانگو “۔ رزق دراصل مشغلہ نفوس ہے ، خصوصا نفوس مومنہ کا۔ اور رزق کو صرف اللہ کے ہاں طلب کرنا ایک حقیقت بھی ہے۔ یہ محض نفسیاتی ہیجان انگیزی نہیں ہے ، نہ نفسیاتی میلان ہے جسے ابھارا جا رہا ہو ، بلکہ ایک حقیقت ہے۔ آخر میں انکو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ انعامات اور ارزاق کے حقیقی مسبب اور حقیقی منعم کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ واعبدوہ واشکروا لہ (29: 17) ” اور اس کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو “۔ آخر میں ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس سے بھاگ نہیں سکتے ، نہ اس اللہ سے تم کہیں پناہ پاسکتے ہو۔ لہٰذا مناسب یہی ہے اور اسی میں تمہاری بھلائی ہے کہ تم اس کی طرف لوٹ آؤ اور ایمان لاکر اس کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو ، الیہ ترجعون (29: 17) ” اسی کی طرف تم پلٹ کر جانے والے ہو “۔ اور اگر اس دعوت کے بعد وہ تمہاری تکذیب کریں تو اس تکذیب کی کیا حیثیت ہے ! اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی نقص یا کمی واقع نہیں ہوتی۔ نہ رسول اللہ ﷺ کے مقام و مرتبے میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کئی لوگوں نے تکذیب کی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ آپ ﷺ بس تبلیغ کردیں۔ وان تکذبوا فقد ۔۔۔۔۔۔ البلغ المبین (29: 18) ” اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ یوں قرآن کریم قدم بقدم ان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ اور ان کے دلوں پر ہر طرف سے اثر انداز ہوتا ہے اور ان کے دل کے تاروں کو ہر طرف سے چھیڑتا ہے۔ یہ تدریجی اقدامات دعوت پیش کرنے کا ایک بہترین نمونہ ہیں اور دعوت اسلامی کے کارکنوں کو اس انداز پر اچھی طرح غور کرنا چاہئے۔ اور اس انداز سے انسانی نفوس پر اثر انداز ہونا چاہئے۔ قبل اس کے کہ اس کہانی کو اختتام تک پہنچایا جائے۔ ایک وقفہ کیا جاتا ہے اور یہ ایک لمحہ فکر یہ ہے۔ اسمیں ہر اس شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے جو دعوت ایمان کا منکر ہے۔ جو اللہ کی طرف رجوع سے انکار کرتا ہے اور بعث بعد الموت کا منکر ہے۔

العنكبوت 29:19

اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23) یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر ہیں۔ پیش پا افتادہ ہیں لیکن انسان چونکہ انہیں ہر وقت دیکھتا رہتا ہے ، اس وجہ سے ان کا عادی ہوجاتا ہے اور ان کے اعجاز کا پہلو نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور یہ معجزات چونکہ بار بار دہرائے جاتے ہیں اس لیے انسانی قلب و نظر پر ان کا زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ ان پیش پا افتادہ مناظر اور دلائل اعجاز کو ازسر نو زندہ کرکے اور حسین بنا کر پیش کرتا ہے اور یہ اس قدر خوبصورت ، حسین اور پر تاثیر بن جاتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ گویا یہ مشاہد و مناظر اس کے سامنے پہلی بار پیش ہوئے ہیں۔ یہ مناظرہ زندہ شکل میں سامنے آتے ہیں اور انسانی قلب و نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان ان کے آثار و نتائج کو اخذ کرتا ہے اور یہی مناظر انسانی وجدان کے لیے دلائل اور براہین بن جاتے ہیں اور ان سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے۔ یہ طرز استدلال خشک منطقی استدلال کی طرح نہیں ہوتا جس میں محض ظاہری جدل وجدال ہوتا ہے اور ایک مردہ انداز گفتگو ہوتا ہے۔ یہ فلسفیانہ اور منطقی انداز استدلال اسلامی منطق اور شعور کے لیے ہمیشہ نا آشنا رہا ہے۔ اس لیے اسلامی شعور اس سے کبھی گہرے طور پر متاثر نہیں ہوا۔ اسلامی انداز استدلال یہ ہے : اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔ اللہ یسیر (29: 19) ” کیا ان لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتداء کرتا ہے ، پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ، یقیناً یہ تو اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ بیشک یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ کس طرح تخلیق کرتا ہے ، ایک چھوٹے سے پودے میں بھی یہ تخلیق نظر آتی ہے ، ایک انڈے اور جنین میں بھی نظر آتی ہے۔ اور ہر اس چیز میں نظر آتی ہے جو نہ تھی اور پھر موجود ہوگئی اور ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ انسان انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر بھی کوشش کریں تو اس جیسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے اور نہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اس کے خالق ہیں۔ اللہ کی تخلیقات تو بہت ہیں ، صرف معجزہ حیات ہی ایک مسلسل معجزہ ہے۔ یہ حیات کس طرح وجود میں آئی ؟ یہ بھی ایک معجزہ ہے ، کسی کی جانب سے ایجاد حیات کا دعویٰ کرنا تو ایک بڑی بات ہے۔ حیات کے بارے میں تو انسان صرف یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کردہ ہے۔ اللہ ہر لمحہ میں اسے دہراتا ہے اور لوگ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں اور اسکا انکار بھی نہیں کرسکتے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ لوگوں کو پیدا فرما رہا ہے تو ان اشیاء کا دوبارہ پیدا کرنا اللہ کے لئے نہایت ہی آسان ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر (29: 19) ” اور یہ (اعادہ) اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے تو کوئی چیز اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انسانی معیار کے مطابق ان سے بات کرتا ہے۔ کیونکہ انسانوں کی مصنوعات میں پہلی صنعت کے مقابلے میں اس کا اعادہ آسان ہوتا ہے ورنہ اللہ کے لیے آغاز و اعادہ یکساں ہیں۔ اللہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے تو ارادہ متوجہ کرکے کن کہتا ہے اور وہ ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ ذرا کھوکھلی آنکھوں کے ساتھ زمین میں پھرو ، اور اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھو۔ زندہ اور مردہ چیزوں میں عجائبات تخلیق الٰہی پر غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کی تخلیق بھی کسی مشقت کے بغیر خود کار طریقے سے ہو رہی ہے۔ اور اعادہ بھی اسی طرح ہوگا۔ قل سیرو فی الارض ۔۔۔۔۔ کل شئ قدیر (29: 20) ” ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی ہے۔ پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ زمین میں سرو سیاحت سے انسان کی بصیرت اور بصارت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسان ایسے مناظر دیکھتا ہے جو کبھی آنکھ نے نہیں دیکھے ہوتے اور قلب نے کبھی ان پر غور نہیں کیا ہوتا ، اس آیت میں اللہ نے ایک گہری حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔ انسان کسی خطے میں بستا ہے اور اس کے مناظر اور عجائبات اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں لیکن جب وہ سیاحت کرتا ہے تو اس کے احساسات اور قوائے مدرکہ ہر نئے منظر کو غور سے دیکھتے ہیں۔ جدید دنیا اور علاقے میں اسے نئے مناظر و مشاہد متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ اس جیسے مناظر و مشاہد ان سے اچھے مناظر خود اس کے علاقے میں موجود ہوتے ہیں لیکن وہ کبھی ان کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے۔ جب وہ اپنے علاقے کو واپس آتا ہے تو پھر وہ خود اپنے مسکن کو بھی ایک جدید احساس اور جدید غور و فکر کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس سے قبل وہ جن چیزوں کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا ، اب وہ چند یوم غائب رہنے کے سبب ان کو رحہمی نظر سے دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ اب یہ مناظر و عجائبات اس سے از سر نو ہمکلام ہوتے ہیں جبکہ اس سے قبل یہ عجائبات اس کے لیے نہ عجیب تھے اور نہ اس کے ساتھ ہمکلام ہوتے تھے۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے یہ قرآن نازل کیا۔ جو دلوں کی ان راہوں کو جانتا ہے جن کے ذریعے دل کی دنیا پر اثر ڈالا جاسکتا ہے ، عالم نفس کی راہ و رسم سے بھی وہ واقف ہے۔ قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ الخلق (29: 20) ” ان سے کہو ، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی “۔ یہاں ماضی کے صیغے کے ذریعہ آغاز تخلیق کو بیان کیا گیا ہے۔ کیف بدا الخلق (29: 20) ” اس نے تخلیق کا آغاز کیسے کیا تھا ؟ “ اور اس بات کو تم زمین میں چل پھر کر ، سیروسیاحت کرکے معلوم کرو ، اس سے ایک یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تم زمین میں چل پھر کر آغاز تخلیق الٰہی کو معلوم کرو ، ان چیزوں پر غور کرو جن سے ” حیات “ کی ابتدائی حالت کا پتہ چلے کہ اس دنیا میں آغاز حیات کیسے ہوا آج کل آثار قدیمہ کے بعض علماء زمین کو کھود کر ابتدائی تخلیق کی کیفیت معلوم کرتے ہیں کہ حیات کا آغاز کیسے ہوا اور اس نے کس طرح ترقی کی۔ اور وہ کس طرح پھیلی۔ ان تخلیقات کے باوجود ابھی تک یہ علماء ” حیات “ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکے کہ یہ حیات ہے کیا ؟ یہ کہاں سے آتی ہے ؟ اور اس دنیا پر پہلا زندہ انسان یا مخلوق کیسے آیا۔ یہ سب تحقیقات اور یہ سب آثار دراصل دوبارہ تخلیق پر دلائل ہوں گے۔ اور اس خیال کے ساتھ ایک دوسرا خیال ! کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات معلوم کرنے کے تو وہ لوگ قابل ہی نہ تھے جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔ جس طرح آج کل کے لوگ اس کے قابل ہوگئے ہیں کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات کا مشاہدہ کریں۔ لہٰذا اس آیت کا اگر مفہوم یہی ہے تو وہ لوگ تو اس قابل ہی نہ تھے لہٰذا قرآن کریم اپنے پہلے مخاطین سے کوئی اور چیز معلوم کرنے کے لیے کہہ رہا تھا جیسے وہ معلوم کرسکتے تھے۔ اور جس کے معلوم کرنے سے وہ یہ نتیجہ نکال سکتے تھے کہ اس سے وہ نشاۃ ثانیہ کا امکان اخذ کریں۔ لہٰذا ان سے مطلوب یہ ہوگا کہ وہ ہر جگہ نباتات ، حیوانات اور انسان کے آغاز تخلیق کا مشاہدہ کریں اور زمین میں پھریں اور ان کی یہ سیر اور مشاہدہ ان کی قوت مشاہدہ کو تیز کرنے کا باعث بنے جیسا کہ ہم نے پہلے پیرے میں وضاحت کی کہ وہ آثار قدرت الہیہ کا مشاہدہ کریں اور رات اور دن اللہ کی قدرت جن معجزات و نشانات کو ظاہر کر رہی ہے اس پر غور کریں۔ ایک احتمال یہ بھی ہے جو قرآن کریم کے طریقہ کار کے مطابق ہے کہ قرآن ہر دور کے لوگوں کو ان کے حالات کے مطابق ، اور علم و ثقافت کے لحاظ سے ان کے مرتبہ و مقام کے مطابق اور ان کے حالات زندگی کے مطابق اور ان کے موجودہ وسائل اکتشاف کے مطابق ، متوجہ کرتا ہے وہ اپنے ظروف و احوال کے مطابق اس کائنات میں پائے جانے والے دلائل قدرت الہیہ پر غور کریں۔ اس طرح زندگی کے حالات کی ترقی کے مطابق قرآن کریم کے مفہوم کے فہم و ادراک میں بھی ترقی ہوگی اور دونوں خیالات میں کوئی تعارض بھی نہ ہوگا اور یہ مفہوم قرآن کے طریق کار کے زیادہ قریب ہے۔ ان اللہ علی کل شئ قدیر (29: 20) ” یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اللہ اس زندگی کا آغاز بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی کرے گا اور یہ اس کی قدرت قاہرہ کے ذریعہ ہوگا۔ اور اللہ کی قدرتیں انسان کی محدود سوچ کے دائرے کے اندر محدود نہیں ہیں۔ نہ اللہ کی قدرتوں کو ان کی سوچ کی محدود و امکانیات کے اندر محدود کیا جاسکتا ہے کیونکہ انسان کی سوچ انسان کے محدود تجربات تک محدود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جسے چاہے عذاب دے دے اور جسے چاہے اپنی رحمت کے دائرے کے اندر لے آئے۔ سب لوگوں نے آخر کار اس کی طرف لوٹنا ہے اور اللہ کو اس عمل کے کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی نہ کوئی اس کی ممانعت کرسکتا ہے۔ یعذب من یشآء ۔۔۔۔۔۔ ولی ولا نصیر (29: 21 – 22) ” جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں ، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “۔ رحمت اور عذاب دونوں اللہ کی رحمت کے تابع ہیں ، اس طرح کہ اللہ نے ہدایت اور ضلالت کا راستہ بیان کردیا۔ اور انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردی کہ وہ ہدایت و ضلالت کے راستے میں سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ اور اس نے دونوں راستے انسان کے لیے میسر کر دئیے۔ اب اس انسان کی مرضی ہے کہ وہ کون سا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ البتہ اگر وہ اللہ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ ایسے شخص کی معاونت کرے اور اگر وہ اللہ کی دلائل سے منہ موڑے اور اللہ کے راستے سے رک جائے تو وہ اللہ سے رابطہ منقطع کردیتا ہے اور اسی اصول کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور اللہ کا عذاب لوگوں کو ملتا ہے۔ والیہ تقلبون (29: 21) ” اور اس کی طرف سے تم پھیرے جانے والے ہو “۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں “۔ تمہارے پاس ایسی کوئی قوت نہیں ہے کہ تمام مخلوق کو اللہ کی طرف پھرنے سے روک سکو۔ نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔ جنات اور فرشتے بھی تمہاری قوت نہیں ہیں۔ وما لکم ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (29: 22) ” اور اللہ سے بچنے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار ہے کون ؟ اور کہاں ہے ؟ کوئی ملائکہ ہے یا کوئی جن ہے ؟ یہ تو سب خود اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ یہ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ دوسروں کے لیے کیا کچھ کر کیں گے۔ والذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (29: 23) ” جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک سزا ہے “۔ یہ اس لیے کہ انسان اللہ کی رحمت سے تب مایوس ہوتا ہے جب اس کا دل کافر ہو ، اس حالات میں پھر اس کے اور رب کی درمیانرابطہ کٹ جاتا ہے۔ جو بھی کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اس کے اور رب تعالیٰ کے درمیان رابطہ کٹ چکا ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں تروتازگی نہیں ہوتی۔ اس لیے اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے لیے وہ کوئی راہ نہیں پاتا۔ اور پھر انجام بھی متعین ہوتا ہے۔ اولئک لھم عذاب الیم (29: 23) ” ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا ہوتی ہے “۔ اس لمحہ فکریہ کے بعد اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کی طرف سے جواب آتا ہے۔ یہ ضمنی خطاب ہر اس شخص کے غور و فکر کے لیے تھے جو دعوت ایمان کا انکار کرتا ہے ، یہ جواب نہایت ہی مایوس کن اور عجیب ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر و سرکشی کے حاملین کس طرح بر خودغلط ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس اقتدار کی قوت ہوتی ہے۔

العنكبوت 29:20

اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23) یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر ہیں۔ پیش پا افتادہ ہیں لیکن انسان چونکہ انہیں ہر وقت دیکھتا رہتا ہے ، اس وجہ سے ان کا عادی ہوجاتا ہے اور ان کے اعجاز کا پہلو نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور یہ معجزات چونکہ بار بار دہرائے جاتے ہیں اس لیے انسانی قلب و نظر پر ان کا زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ ان پیش پا افتادہ مناظر اور دلائل اعجاز کو ازسر نو زندہ کرکے اور حسین بنا کر پیش کرتا ہے اور یہ اس قدر خوبصورت ، حسین اور پر تاثیر بن جاتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ گویا یہ مشاہد و مناظر اس کے سامنے پہلی بار پیش ہوئے ہیں۔ یہ مناظرہ زندہ شکل میں سامنے آتے ہیں اور انسانی قلب و نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان ان کے آثار و نتائج کو اخذ کرتا ہے اور یہی مناظر انسانی وجدان کے لیے دلائل اور براہین بن جاتے ہیں اور ان سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے۔ یہ طرز استدلال خشک منطقی استدلال کی طرح نہیں ہوتا جس میں محض ظاہری جدل وجدال ہوتا ہے اور ایک مردہ انداز گفتگو ہوتا ہے۔ یہ فلسفیانہ اور منطقی انداز استدلال اسلامی منطق اور شعور کے لیے ہمیشہ نا آشنا رہا ہے۔ اس لیے اسلامی شعور اس سے کبھی گہرے طور پر متاثر نہیں ہوا۔ اسلامی انداز استدلال یہ ہے : اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔ اللہ یسیر (29: 19) ” کیا ان لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتداء کرتا ہے ، پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ، یقیناً یہ تو اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ بیشک یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ کس طرح تخلیق کرتا ہے ، ایک چھوٹے سے پودے میں بھی یہ تخلیق نظر آتی ہے ، ایک انڈے اور جنین میں بھی نظر آتی ہے۔ اور ہر اس چیز میں نظر آتی ہے جو نہ تھی اور پھر موجود ہوگئی اور ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ انسان انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر بھی کوشش کریں تو اس جیسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے اور نہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اس کے خالق ہیں۔ اللہ کی تخلیقات تو بہت ہیں ، صرف معجزہ حیات ہی ایک مسلسل معجزہ ہے۔ یہ حیات کس طرح وجود میں آئی ؟ یہ بھی ایک معجزہ ہے ، کسی کی جانب سے ایجاد حیات کا دعویٰ کرنا تو ایک بڑی بات ہے۔ حیات کے بارے میں تو انسان صرف یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کردہ ہے۔ اللہ ہر لمحہ میں اسے دہراتا ہے اور لوگ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں اور اسکا انکار بھی نہیں کرسکتے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ لوگوں کو پیدا فرما رہا ہے تو ان اشیاء کا دوبارہ پیدا کرنا اللہ کے لئے نہایت ہی آسان ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر (29: 19) ” اور یہ (اعادہ) اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے تو کوئی چیز اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انسانی معیار کے مطابق ان سے بات کرتا ہے۔ کیونکہ انسانوں کی مصنوعات میں پہلی صنعت کے مقابلے میں اس کا اعادہ آسان ہوتا ہے ورنہ اللہ کے لیے آغاز و اعادہ یکساں ہیں۔ اللہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے تو ارادہ متوجہ کرکے کن کہتا ہے اور وہ ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ ذرا کھوکھلی آنکھوں کے ساتھ زمین میں پھرو ، اور اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھو۔ زندہ اور مردہ چیزوں میں عجائبات تخلیق الٰہی پر غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کی تخلیق بھی کسی مشقت کے بغیر خود کار طریقے سے ہو رہی ہے۔ اور اعادہ بھی اسی طرح ہوگا۔ قل سیرو فی الارض ۔۔۔۔۔ کل شئ قدیر (29: 20) ” ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی ہے۔ پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ زمین میں سرو سیاحت سے انسان کی بصیرت اور بصارت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسان ایسے مناظر دیکھتا ہے جو کبھی آنکھ نے نہیں دیکھے ہوتے اور قلب نے کبھی ان پر غور نہیں کیا ہوتا ، اس آیت میں اللہ نے ایک گہری حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔ انسان کسی خطے میں بستا ہے اور اس کے مناظر اور عجائبات اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں لیکن جب وہ سیاحت کرتا ہے تو اس کے احساسات اور قوائے مدرکہ ہر نئے منظر کو غور سے دیکھتے ہیں۔ جدید دنیا اور علاقے میں اسے نئے مناظر و مشاہد متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ اس جیسے مناظر و مشاہد ان سے اچھے مناظر خود اس کے علاقے میں موجود ہوتے ہیں لیکن وہ کبھی ان کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے۔ جب وہ اپنے علاقے کو واپس آتا ہے تو پھر وہ خود اپنے مسکن کو بھی ایک جدید احساس اور جدید غور و فکر کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس سے قبل وہ جن چیزوں کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا ، اب وہ چند یوم غائب رہنے کے سبب ان کو رحہمی نظر سے دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ اب یہ مناظر و عجائبات اس سے از سر نو ہمکلام ہوتے ہیں جبکہ اس سے قبل یہ عجائبات اس کے لیے نہ عجیب تھے اور نہ اس کے ساتھ ہمکلام ہوتے تھے۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے یہ قرآن نازل کیا۔ جو دلوں کی ان راہوں کو جانتا ہے جن کے ذریعے دل کی دنیا پر اثر ڈالا جاسکتا ہے ، عالم نفس کی راہ و رسم سے بھی وہ واقف ہے۔ قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ الخلق (29: 20) ” ان سے کہو ، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی “۔ یہاں ماضی کے صیغے کے ذریعہ آغاز تخلیق کو بیان کیا گیا ہے۔ کیف بدا الخلق (29: 20) ” اس نے تخلیق کا آغاز کیسے کیا تھا ؟ “ اور اس بات کو تم زمین میں چل پھر کر ، سیروسیاحت کرکے معلوم کرو ، اس سے ایک یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تم زمین میں چل پھر کر آغاز تخلیق الٰہی کو معلوم کرو ، ان چیزوں پر غور کرو جن سے ” حیات “ کی ابتدائی حالت کا پتہ چلے کہ اس دنیا میں آغاز حیات کیسے ہوا آج کل آثار قدیمہ کے بعض علماء زمین کو کھود کر ابتدائی تخلیق کی کیفیت معلوم کرتے ہیں کہ حیات کا آغاز کیسے ہوا اور اس نے کس طرح ترقی کی۔ اور وہ کس طرح پھیلی۔ ان تخلیقات کے باوجود ابھی تک یہ علماء ” حیات “ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکے کہ یہ حیات ہے کیا ؟ یہ کہاں سے آتی ہے ؟ اور اس دنیا پر پہلا زندہ انسان یا مخلوق کیسے آیا۔ یہ سب تحقیقات اور یہ سب آثار دراصل دوبارہ تخلیق پر دلائل ہوں گے۔ اور اس خیال کے ساتھ ایک دوسرا خیال ! کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات معلوم کرنے کے تو وہ لوگ قابل ہی نہ تھے جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔ جس طرح آج کل کے لوگ اس کے قابل ہوگئے ہیں کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات کا مشاہدہ کریں۔ لہٰذا اس آیت کا اگر مفہوم یہی ہے تو وہ لوگ تو اس قابل ہی نہ تھے لہٰذا قرآن کریم اپنے پہلے مخاطین سے کوئی اور چیز معلوم کرنے کے لیے کہہ رہا تھا جیسے وہ معلوم کرسکتے تھے۔ اور جس کے معلوم کرنے سے وہ یہ نتیجہ نکال سکتے تھے کہ اس سے وہ نشاۃ ثانیہ کا امکان اخذ کریں۔ لہٰذا ان سے مطلوب یہ ہوگا کہ وہ ہر جگہ نباتات ، حیوانات اور انسان کے آغاز تخلیق کا مشاہدہ کریں اور زمین میں پھریں اور ان کی یہ سیر اور مشاہدہ ان کی قوت مشاہدہ کو تیز کرنے کا باعث بنے جیسا کہ ہم نے پہلے پیرے میں وضاحت کی کہ وہ آثار قدرت الہیہ کا مشاہدہ کریں اور رات اور دن اللہ کی قدرت جن معجزات و نشانات کو ظاہر کر رہی ہے اس پر غور کریں۔ ایک احتمال یہ بھی ہے جو قرآن کریم کے طریقہ کار کے مطابق ہے کہ قرآن ہر دور کے لوگوں کو ان کے حالات کے مطابق ، اور علم و ثقافت کے لحاظ سے ان کے مرتبہ و مقام کے مطابق اور ان کے حالات زندگی کے مطابق اور ان کے موجودہ وسائل اکتشاف کے مطابق ، متوجہ کرتا ہے وہ اپنے ظروف و احوال کے مطابق اس کائنات میں پائے جانے والے دلائل قدرت الہیہ پر غور کریں۔ اس طرح زندگی کے حالات کی ترقی کے مطابق قرآن کریم کے مفہوم کے فہم و ادراک میں بھی ترقی ہوگی اور دونوں خیالات میں کوئی تعارض بھی نہ ہوگا اور یہ مفہوم قرآن کے طریق کار کے زیادہ قریب ہے۔ ان اللہ علی کل شئ قدیر (29: 20) ” یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اللہ اس زندگی کا آغاز بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی کرے گا اور یہ اس کی قدرت قاہرہ کے ذریعہ ہوگا۔ اور اللہ کی قدرتیں انسان کی محدود سوچ کے دائرے کے اندر محدود نہیں ہیں۔ نہ اللہ کی قدرتوں کو ان کی سوچ کی محدود و امکانیات کے اندر محدود کیا جاسکتا ہے کیونکہ انسان کی سوچ انسان کے محدود تجربات تک محدود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جسے چاہے عذاب دے دے اور جسے چاہے اپنی رحمت کے دائرے کے اندر لے آئے۔ سب لوگوں نے آخر کار اس کی طرف لوٹنا ہے اور اللہ کو اس عمل کے کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی نہ کوئی اس کی ممانعت کرسکتا ہے۔ یعذب من یشآء ۔۔۔۔۔۔ ولی ولا نصیر (29: 21 – 22) ” جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں ، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “۔ رحمت اور عذاب دونوں اللہ کی رحمت کے تابع ہیں ، اس طرح کہ اللہ نے ہدایت اور ضلالت کا راستہ بیان کردیا۔ اور انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردی کہ وہ ہدایت و ضلالت کے راستے میں سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ اور اس نے دونوں راستے انسان کے لیے میسر کر دئیے۔ اب اس انسان کی مرضی ہے کہ وہ کون سا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ البتہ اگر وہ اللہ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ ایسے شخص کی معاونت کرے اور اگر وہ اللہ کی دلائل سے منہ موڑے اور اللہ کے راستے سے رک جائے تو وہ اللہ سے رابطہ منقطع کردیتا ہے اور اسی اصول کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور اللہ کا عذاب لوگوں کو ملتا ہے۔ والیہ تقلبون (29: 21) ” اور اس کی طرف سے تم پھیرے جانے والے ہو “۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں “۔ تمہارے پاس ایسی کوئی قوت نہیں ہے کہ تمام مخلوق کو اللہ کی طرف پھرنے سے روک سکو۔ نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔ جنات اور فرشتے بھی تمہاری قوت نہیں ہیں۔ وما لکم ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (29: 22) ” اور اللہ سے بچنے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار ہے کون ؟ اور کہاں ہے ؟ کوئی ملائکہ ہے یا کوئی جن ہے ؟ یہ تو سب خود اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ یہ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ دوسروں کے لیے کیا کچھ کر کیں گے۔ والذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (29: 23) ” جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک سزا ہے “۔ یہ اس لیے کہ انسان اللہ کی رحمت سے تب مایوس ہوتا ہے جب اس کا دل کافر ہو ، اس حالات میں پھر اس کے اور رب کی درمیانرابطہ کٹ جاتا ہے۔ جو بھی کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اس کے اور رب تعالیٰ کے درمیان رابطہ کٹ چکا ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں تروتازگی نہیں ہوتی۔ اس لیے اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے لیے وہ کوئی راہ نہیں پاتا۔ اور پھر انجام بھی متعین ہوتا ہے۔ اولئک لھم عذاب الیم (29: 23) ” ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا ہوتی ہے “۔ اس لمحہ فکریہ کے بعد اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کی طرف سے جواب آتا ہے۔ یہ ضمنی خطاب ہر اس شخص کے غور و فکر کے لیے تھے جو دعوت ایمان کا انکار کرتا ہے ، یہ جواب نہایت ہی مایوس کن اور عجیب ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر و سرکشی کے حاملین کس طرح بر خودغلط ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس اقتدار کی قوت ہوتی ہے۔

العنكبوت 29:21

اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23) یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر ہیں۔ پیش پا افتادہ ہیں لیکن انسان چونکہ انہیں ہر وقت دیکھتا رہتا ہے ، اس وجہ سے ان کا عادی ہوجاتا ہے اور ان کے اعجاز کا پہلو نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور یہ معجزات چونکہ بار بار دہرائے جاتے ہیں اس لیے انسانی قلب و نظر پر ان کا زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ ان پیش پا افتادہ مناظر اور دلائل اعجاز کو ازسر نو زندہ کرکے اور حسین بنا کر پیش کرتا ہے اور یہ اس قدر خوبصورت ، حسین اور پر تاثیر بن جاتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ گویا یہ مشاہد و مناظر اس کے سامنے پہلی بار پیش ہوئے ہیں۔ یہ مناظرہ زندہ شکل میں سامنے آتے ہیں اور انسانی قلب و نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان ان کے آثار و نتائج کو اخذ کرتا ہے اور یہی مناظر انسانی وجدان کے لیے دلائل اور براہین بن جاتے ہیں اور ان سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے۔ یہ طرز استدلال خشک منطقی استدلال کی طرح نہیں ہوتا جس میں محض ظاہری جدل وجدال ہوتا ہے اور ایک مردہ انداز گفتگو ہوتا ہے۔ یہ فلسفیانہ اور منطقی انداز استدلال اسلامی منطق اور شعور کے لیے ہمیشہ نا آشنا رہا ہے۔ اس لیے اسلامی شعور اس سے کبھی گہرے طور پر متاثر نہیں ہوا۔ اسلامی انداز استدلال یہ ہے : اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔ اللہ یسیر (29: 19) ” کیا ان لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتداء کرتا ہے ، پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ، یقیناً یہ تو اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ بیشک یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ کس طرح تخلیق کرتا ہے ، ایک چھوٹے سے پودے میں بھی یہ تخلیق نظر آتی ہے ، ایک انڈے اور جنین میں بھی نظر آتی ہے۔ اور ہر اس چیز میں نظر آتی ہے جو نہ تھی اور پھر موجود ہوگئی اور ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ انسان انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر بھی کوشش کریں تو اس جیسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے اور نہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اس کے خالق ہیں۔ اللہ کی تخلیقات تو بہت ہیں ، صرف معجزہ حیات ہی ایک مسلسل معجزہ ہے۔ یہ حیات کس طرح وجود میں آئی ؟ یہ بھی ایک معجزہ ہے ، کسی کی جانب سے ایجاد حیات کا دعویٰ کرنا تو ایک بڑی بات ہے۔ حیات کے بارے میں تو انسان صرف یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کردہ ہے۔ اللہ ہر لمحہ میں اسے دہراتا ہے اور لوگ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں اور اسکا انکار بھی نہیں کرسکتے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ لوگوں کو پیدا فرما رہا ہے تو ان اشیاء کا دوبارہ پیدا کرنا اللہ کے لئے نہایت ہی آسان ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر (29: 19) ” اور یہ (اعادہ) اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے تو کوئی چیز اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انسانی معیار کے مطابق ان سے بات کرتا ہے۔ کیونکہ انسانوں کی مصنوعات میں پہلی صنعت کے مقابلے میں اس کا اعادہ آسان ہوتا ہے ورنہ اللہ کے لیے آغاز و اعادہ یکساں ہیں۔ اللہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے تو ارادہ متوجہ کرکے کن کہتا ہے اور وہ ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ ذرا کھوکھلی آنکھوں کے ساتھ زمین میں پھرو ، اور اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھو۔ زندہ اور مردہ چیزوں میں عجائبات تخلیق الٰہی پر غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کی تخلیق بھی کسی مشقت کے بغیر خود کار طریقے سے ہو رہی ہے۔ اور اعادہ بھی اسی طرح ہوگا۔ قل سیرو فی الارض ۔۔۔۔۔ کل شئ قدیر (29: 20) ” ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی ہے۔ پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ زمین میں سرو سیاحت سے انسان کی بصیرت اور بصارت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسان ایسے مناظر دیکھتا ہے جو کبھی آنکھ نے نہیں دیکھے ہوتے اور قلب نے کبھی ان پر غور نہیں کیا ہوتا ، اس آیت میں اللہ نے ایک گہری حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔ انسان کسی خطے میں بستا ہے اور اس کے مناظر اور عجائبات اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں لیکن جب وہ سیاحت کرتا ہے تو اس کے احساسات اور قوائے مدرکہ ہر نئے منظر کو غور سے دیکھتے ہیں۔ جدید دنیا اور علاقے میں اسے نئے مناظر و مشاہد متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ اس جیسے مناظر و مشاہد ان سے اچھے مناظر خود اس کے علاقے میں موجود ہوتے ہیں لیکن وہ کبھی ان کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے۔ جب وہ اپنے علاقے کو واپس آتا ہے تو پھر وہ خود اپنے مسکن کو بھی ایک جدید احساس اور جدید غور و فکر کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس سے قبل وہ جن چیزوں کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا ، اب وہ چند یوم غائب رہنے کے سبب ان کو رحہمی نظر سے دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ اب یہ مناظر و عجائبات اس سے از سر نو ہمکلام ہوتے ہیں جبکہ اس سے قبل یہ عجائبات اس کے لیے نہ عجیب تھے اور نہ اس کے ساتھ ہمکلام ہوتے تھے۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے یہ قرآن نازل کیا۔ جو دلوں کی ان راہوں کو جانتا ہے جن کے ذریعے دل کی دنیا پر اثر ڈالا جاسکتا ہے ، عالم نفس کی راہ و رسم سے بھی وہ واقف ہے۔ قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ الخلق (29: 20) ” ان سے کہو ، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی “۔ یہاں ماضی کے صیغے کے ذریعہ آغاز تخلیق کو بیان کیا گیا ہے۔ کیف بدا الخلق (29: 20) ” اس نے تخلیق کا آغاز کیسے کیا تھا ؟ “ اور اس بات کو تم زمین میں چل پھر کر ، سیروسیاحت کرکے معلوم کرو ، اس سے ایک یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تم زمین میں چل پھر کر آغاز تخلیق الٰہی کو معلوم کرو ، ان چیزوں پر غور کرو جن سے ” حیات “ کی ابتدائی حالت کا پتہ چلے کہ اس دنیا میں آغاز حیات کیسے ہوا آج کل آثار قدیمہ کے بعض علماء زمین کو کھود کر ابتدائی تخلیق کی کیفیت معلوم کرتے ہیں کہ حیات کا آغاز کیسے ہوا اور اس نے کس طرح ترقی کی۔ اور وہ کس طرح پھیلی۔ ان تخلیقات کے باوجود ابھی تک یہ علماء ” حیات “ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکے کہ یہ حیات ہے کیا ؟ یہ کہاں سے آتی ہے ؟ اور اس دنیا پر پہلا زندہ انسان یا مخلوق کیسے آیا۔ یہ سب تحقیقات اور یہ سب آثار دراصل دوبارہ تخلیق پر دلائل ہوں گے۔ اور اس خیال کے ساتھ ایک دوسرا خیال ! کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات معلوم کرنے کے تو وہ لوگ قابل ہی نہ تھے جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔ جس طرح آج کل کے لوگ اس کے قابل ہوگئے ہیں کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات کا مشاہدہ کریں۔ لہٰذا اس آیت کا اگر مفہوم یہی ہے تو وہ لوگ تو اس قابل ہی نہ تھے لہٰذا قرآن کریم اپنے پہلے مخاطین سے کوئی اور چیز معلوم کرنے کے لیے کہہ رہا تھا جیسے وہ معلوم کرسکتے تھے۔ اور جس کے معلوم کرنے سے وہ یہ نتیجہ نکال سکتے تھے کہ اس سے وہ نشاۃ ثانیہ کا امکان اخذ کریں۔ لہٰذا ان سے مطلوب یہ ہوگا کہ وہ ہر جگہ نباتات ، حیوانات اور انسان کے آغاز تخلیق کا مشاہدہ کریں اور زمین میں پھریں اور ان کی یہ سیر اور مشاہدہ ان کی قوت مشاہدہ کو تیز کرنے کا باعث بنے جیسا کہ ہم نے پہلے پیرے میں وضاحت کی کہ وہ آثار قدرت الہیہ کا مشاہدہ کریں اور رات اور دن اللہ کی قدرت جن معجزات و نشانات کو ظاہر کر رہی ہے اس پر غور کریں۔ ایک احتمال یہ بھی ہے جو قرآن کریم کے طریقہ کار کے مطابق ہے کہ قرآن ہر دور کے لوگوں کو ان کے حالات کے مطابق ، اور علم و ثقافت کے لحاظ سے ان کے مرتبہ و مقام کے مطابق اور ان کے حالات زندگی کے مطابق اور ان کے موجودہ وسائل اکتشاف کے مطابق ، متوجہ کرتا ہے وہ اپنے ظروف و احوال کے مطابق اس کائنات میں پائے جانے والے دلائل قدرت الہیہ پر غور کریں۔ اس طرح زندگی کے حالات کی ترقی کے مطابق قرآن کریم کے مفہوم کے فہم و ادراک میں بھی ترقی ہوگی اور دونوں خیالات میں کوئی تعارض بھی نہ ہوگا اور یہ مفہوم قرآن کے طریق کار کے زیادہ قریب ہے۔ ان اللہ علی کل شئ قدیر (29: 20) ” یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اللہ اس زندگی کا آغاز بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی کرے گا اور یہ اس کی قدرت قاہرہ کے ذریعہ ہوگا۔ اور اللہ کی قدرتیں انسان کی محدود سوچ کے دائرے کے اندر محدود نہیں ہیں۔ نہ اللہ کی قدرتوں کو ان کی سوچ کی محدود و امکانیات کے اندر محدود کیا جاسکتا ہے کیونکہ انسان کی سوچ انسان کے محدود تجربات تک محدود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جسے چاہے عذاب دے دے اور جسے چاہے اپنی رحمت کے دائرے کے اندر لے آئے۔ سب لوگوں نے آخر کار اس کی طرف لوٹنا ہے اور اللہ کو اس عمل کے کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی نہ کوئی اس کی ممانعت کرسکتا ہے۔ یعذب من یشآء ۔۔۔۔۔۔ ولی ولا نصیر (29: 21 – 22) ” جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں ، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “۔ رحمت اور عذاب دونوں اللہ کی رحمت کے تابع ہیں ، اس طرح کہ اللہ نے ہدایت اور ضلالت کا راستہ بیان کردیا۔ اور انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردی کہ وہ ہدایت و ضلالت کے راستے میں سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ اور اس نے دونوں راستے انسان کے لیے میسر کر دئیے۔ اب اس انسان کی مرضی ہے کہ وہ کون سا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ البتہ اگر وہ اللہ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ ایسے شخص کی معاونت کرے اور اگر وہ اللہ کی دلائل سے منہ موڑے اور اللہ کے راستے سے رک جائے تو وہ اللہ سے رابطہ منقطع کردیتا ہے اور اسی اصول کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور اللہ کا عذاب لوگوں کو ملتا ہے۔ والیہ تقلبون (29: 21) ” اور اس کی طرف سے تم پھیرے جانے والے ہو “۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں “۔ تمہارے پاس ایسی کوئی قوت نہیں ہے کہ تمام مخلوق کو اللہ کی طرف پھرنے سے روک سکو۔ نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔ جنات اور فرشتے بھی تمہاری قوت نہیں ہیں۔ وما لکم ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (29: 22) ” اور اللہ سے بچنے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار ہے کون ؟ اور کہاں ہے ؟ کوئی ملائکہ ہے یا کوئی جن ہے ؟ یہ تو سب خود اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ یہ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ دوسروں کے لیے کیا کچھ کر کیں گے۔ والذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (29: 23) ” جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک سزا ہے “۔ یہ اس لیے کہ انسان اللہ کی رحمت سے تب مایوس ہوتا ہے جب اس کا دل کافر ہو ، اس حالات میں پھر اس کے اور رب کی درمیانرابطہ کٹ جاتا ہے۔ جو بھی کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اس کے اور رب تعالیٰ کے درمیان رابطہ کٹ چکا ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں تروتازگی نہیں ہوتی۔ اس لیے اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے لیے وہ کوئی راہ نہیں پاتا۔ اور پھر انجام بھی متعین ہوتا ہے۔ اولئک لھم عذاب الیم (29: 23) ” ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا ہوتی ہے “۔ اس لمحہ فکریہ کے بعد اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کی طرف سے جواب آتا ہے۔ یہ ضمنی خطاب ہر اس شخص کے غور و فکر کے لیے تھے جو دعوت ایمان کا انکار کرتا ہے ، یہ جواب نہایت ہی مایوس کن اور عجیب ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر و سرکشی کے حاملین کس طرح بر خودغلط ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس اقتدار کی قوت ہوتی ہے۔

العنكبوت 29:22

اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23) یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر ہیں۔ پیش پا افتادہ ہیں لیکن انسان چونکہ انہیں ہر وقت دیکھتا رہتا ہے ، اس وجہ سے ان کا عادی ہوجاتا ہے اور ان کے اعجاز کا پہلو نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور یہ معجزات چونکہ بار بار دہرائے جاتے ہیں اس لیے انسانی قلب و نظر پر ان کا زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ ان پیش پا افتادہ مناظر اور دلائل اعجاز کو ازسر نو زندہ کرکے اور حسین بنا کر پیش کرتا ہے اور یہ اس قدر خوبصورت ، حسین اور پر تاثیر بن جاتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ گویا یہ مشاہد و مناظر اس کے سامنے پہلی بار پیش ہوئے ہیں۔ یہ مناظرہ زندہ شکل میں سامنے آتے ہیں اور انسانی قلب و نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان ان کے آثار و نتائج کو اخذ کرتا ہے اور یہی مناظر انسانی وجدان کے لیے دلائل اور براہین بن جاتے ہیں اور ان سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے۔ یہ طرز استدلال خشک منطقی استدلال کی طرح نہیں ہوتا جس میں محض ظاہری جدل وجدال ہوتا ہے اور ایک مردہ انداز گفتگو ہوتا ہے۔ یہ فلسفیانہ اور منطقی انداز استدلال اسلامی منطق اور شعور کے لیے ہمیشہ نا آشنا رہا ہے۔ اس لیے اسلامی شعور اس سے کبھی گہرے طور پر متاثر نہیں ہوا۔ اسلامی انداز استدلال یہ ہے : اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔ اللہ یسیر (29: 19) ” کیا ان لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتداء کرتا ہے ، پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ، یقیناً یہ تو اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ بیشک یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ کس طرح تخلیق کرتا ہے ، ایک چھوٹے سے پودے میں بھی یہ تخلیق نظر آتی ہے ، ایک انڈے اور جنین میں بھی نظر آتی ہے۔ اور ہر اس چیز میں نظر آتی ہے جو نہ تھی اور پھر موجود ہوگئی اور ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ انسان انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر بھی کوشش کریں تو اس جیسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے اور نہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اس کے خالق ہیں۔ اللہ کی تخلیقات تو بہت ہیں ، صرف معجزہ حیات ہی ایک مسلسل معجزہ ہے۔ یہ حیات کس طرح وجود میں آئی ؟ یہ بھی ایک معجزہ ہے ، کسی کی جانب سے ایجاد حیات کا دعویٰ کرنا تو ایک بڑی بات ہے۔ حیات کے بارے میں تو انسان صرف یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کردہ ہے۔ اللہ ہر لمحہ میں اسے دہراتا ہے اور لوگ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں اور اسکا انکار بھی نہیں کرسکتے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ لوگوں کو پیدا فرما رہا ہے تو ان اشیاء کا دوبارہ پیدا کرنا اللہ کے لئے نہایت ہی آسان ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر (29: 19) ” اور یہ (اعادہ) اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے تو کوئی چیز اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انسانی معیار کے مطابق ان سے بات کرتا ہے۔ کیونکہ انسانوں کی مصنوعات میں پہلی صنعت کے مقابلے میں اس کا اعادہ آسان ہوتا ہے ورنہ اللہ کے لیے آغاز و اعادہ یکساں ہیں۔ اللہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے تو ارادہ متوجہ کرکے کن کہتا ہے اور وہ ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ ذرا کھوکھلی آنکھوں کے ساتھ زمین میں پھرو ، اور اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھو۔ زندہ اور مردہ چیزوں میں عجائبات تخلیق الٰہی پر غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کی تخلیق بھی کسی مشقت کے بغیر خود کار طریقے سے ہو رہی ہے۔ اور اعادہ بھی اسی طرح ہوگا۔ قل سیرو فی الارض ۔۔۔۔۔ کل شئ قدیر (29: 20) ” ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی ہے۔ پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ زمین میں سرو سیاحت سے انسان کی بصیرت اور بصارت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسان ایسے مناظر دیکھتا ہے جو کبھی آنکھ نے نہیں دیکھے ہوتے اور قلب نے کبھی ان پر غور نہیں کیا ہوتا ، اس آیت میں اللہ نے ایک گہری حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔ انسان کسی خطے میں بستا ہے اور اس کے مناظر اور عجائبات اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں لیکن جب وہ سیاحت کرتا ہے تو اس کے احساسات اور قوائے مدرکہ ہر نئے منظر کو غور سے دیکھتے ہیں۔ جدید دنیا اور علاقے میں اسے نئے مناظر و مشاہد متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ اس جیسے مناظر و مشاہد ان سے اچھے مناظر خود اس کے علاقے میں موجود ہوتے ہیں لیکن وہ کبھی ان کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے۔ جب وہ اپنے علاقے کو واپس آتا ہے تو پھر وہ خود اپنے مسکن کو بھی ایک جدید احساس اور جدید غور و فکر کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس سے قبل وہ جن چیزوں کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا ، اب وہ چند یوم غائب رہنے کے سبب ان کو رحہمی نظر سے دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ اب یہ مناظر و عجائبات اس سے از سر نو ہمکلام ہوتے ہیں جبکہ اس سے قبل یہ عجائبات اس کے لیے نہ عجیب تھے اور نہ اس کے ساتھ ہمکلام ہوتے تھے۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے یہ قرآن نازل کیا۔ جو دلوں کی ان راہوں کو جانتا ہے جن کے ذریعے دل کی دنیا پر اثر ڈالا جاسکتا ہے ، عالم نفس کی راہ و رسم سے بھی وہ واقف ہے۔ قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ الخلق (29: 20) ” ان سے کہو ، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی “۔ یہاں ماضی کے صیغے کے ذریعہ آغاز تخلیق کو بیان کیا گیا ہے۔ کیف بدا الخلق (29: 20) ” اس نے تخلیق کا آغاز کیسے کیا تھا ؟ “ اور اس بات کو تم زمین میں چل پھر کر ، سیروسیاحت کرکے معلوم کرو ، اس سے ایک یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تم زمین میں چل پھر کر آغاز تخلیق الٰہی کو معلوم کرو ، ان چیزوں پر غور کرو جن سے ” حیات “ کی ابتدائی حالت کا پتہ چلے کہ اس دنیا میں آغاز حیات کیسے ہوا آج کل آثار قدیمہ کے بعض علماء زمین کو کھود کر ابتدائی تخلیق کی کیفیت معلوم کرتے ہیں کہ حیات کا آغاز کیسے ہوا اور اس نے کس طرح ترقی کی۔ اور وہ کس طرح پھیلی۔ ان تخلیقات کے باوجود ابھی تک یہ علماء ” حیات “ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکے کہ یہ حیات ہے کیا ؟ یہ کہاں سے آتی ہے ؟ اور اس دنیا پر پہلا زندہ انسان یا مخلوق کیسے آیا۔ یہ سب تحقیقات اور یہ سب آثار دراصل دوبارہ تخلیق پر دلائل ہوں گے۔ اور اس خیال کے ساتھ ایک دوسرا خیال ! کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات معلوم کرنے کے تو وہ لوگ قابل ہی نہ تھے جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔ جس طرح آج کل کے لوگ اس کے قابل ہوگئے ہیں کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات کا مشاہدہ کریں۔ لہٰذا اس آیت کا اگر مفہوم یہی ہے تو وہ لوگ تو اس قابل ہی نہ تھے لہٰذا قرآن کریم اپنے پہلے مخاطین سے کوئی اور چیز معلوم کرنے کے لیے کہہ رہا تھا جیسے وہ معلوم کرسکتے تھے۔ اور جس کے معلوم کرنے سے وہ یہ نتیجہ نکال سکتے تھے کہ اس سے وہ نشاۃ ثانیہ کا امکان اخذ کریں۔ لہٰذا ان سے مطلوب یہ ہوگا کہ وہ ہر جگہ نباتات ، حیوانات اور انسان کے آغاز تخلیق کا مشاہدہ کریں اور زمین میں پھریں اور ان کی یہ سیر اور مشاہدہ ان کی قوت مشاہدہ کو تیز کرنے کا باعث بنے جیسا کہ ہم نے پہلے پیرے میں وضاحت کی کہ وہ آثار قدرت الہیہ کا مشاہدہ کریں اور رات اور دن اللہ کی قدرت جن معجزات و نشانات کو ظاہر کر رہی ہے اس پر غور کریں۔ ایک احتمال یہ بھی ہے جو قرآن کریم کے طریقہ کار کے مطابق ہے کہ قرآن ہر دور کے لوگوں کو ان کے حالات کے مطابق ، اور علم و ثقافت کے لحاظ سے ان کے مرتبہ و مقام کے مطابق اور ان کے حالات زندگی کے مطابق اور ان کے موجودہ وسائل اکتشاف کے مطابق ، متوجہ کرتا ہے وہ اپنے ظروف و احوال کے مطابق اس کائنات میں پائے جانے والے دلائل قدرت الہیہ پر غور کریں۔ اس طرح زندگی کے حالات کی ترقی کے مطابق قرآن کریم کے مفہوم کے فہم و ادراک میں بھی ترقی ہوگی اور دونوں خیالات میں کوئی تعارض بھی نہ ہوگا اور یہ مفہوم قرآن کے طریق کار کے زیادہ قریب ہے۔ ان اللہ علی کل شئ قدیر (29: 20) ” یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اللہ اس زندگی کا آغاز بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی کرے گا اور یہ اس کی قدرت قاہرہ کے ذریعہ ہوگا۔ اور اللہ کی قدرتیں انسان کی محدود سوچ کے دائرے کے اندر محدود نہیں ہیں۔ نہ اللہ کی قدرتوں کو ان کی سوچ کی محدود و امکانیات کے اندر محدود کیا جاسکتا ہے کیونکہ انسان کی سوچ انسان کے محدود تجربات تک محدود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جسے چاہے عذاب دے دے اور جسے چاہے اپنی رحمت کے دائرے کے اندر لے آئے۔ سب لوگوں نے آخر کار اس کی طرف لوٹنا ہے اور اللہ کو اس عمل کے کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی نہ کوئی اس کی ممانعت کرسکتا ہے۔ یعذب من یشآء ۔۔۔۔۔۔ ولی ولا نصیر (29: 21 – 22) ” جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں ، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “۔ رحمت اور عذاب دونوں اللہ کی رحمت کے تابع ہیں ، اس طرح کہ اللہ نے ہدایت اور ضلالت کا راستہ بیان کردیا۔ اور انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردی کہ وہ ہدایت و ضلالت کے راستے میں سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ اور اس نے دونوں راستے انسان کے لیے میسر کر دئیے۔ اب اس انسان کی مرضی ہے کہ وہ کون سا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ البتہ اگر وہ اللہ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ ایسے شخص کی معاونت کرے اور اگر وہ اللہ کی دلائل سے منہ موڑے اور اللہ کے راستے سے رک جائے تو وہ اللہ سے رابطہ منقطع کردیتا ہے اور اسی اصول کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور اللہ کا عذاب لوگوں کو ملتا ہے۔ والیہ تقلبون (29: 21) ” اور اس کی طرف سے تم پھیرے جانے والے ہو “۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں “۔ تمہارے پاس ایسی کوئی قوت نہیں ہے کہ تمام مخلوق کو اللہ کی طرف پھرنے سے روک سکو۔ نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔ جنات اور فرشتے بھی تمہاری قوت نہیں ہیں۔ وما لکم ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (29: 22) ” اور اللہ سے بچنے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار ہے کون ؟ اور کہاں ہے ؟ کوئی ملائکہ ہے یا کوئی جن ہے ؟ یہ تو سب خود اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ یہ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ دوسروں کے لیے کیا کچھ کر کیں گے۔ والذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (29: 23) ” جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک سزا ہے “۔ یہ اس لیے کہ انسان اللہ کی رحمت سے تب مایوس ہوتا ہے جب اس کا دل کافر ہو ، اس حالات میں پھر اس کے اور رب کی درمیانرابطہ کٹ جاتا ہے۔ جو بھی کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اس کے اور رب تعالیٰ کے درمیان رابطہ کٹ چکا ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں تروتازگی نہیں ہوتی۔ اس لیے اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے لیے وہ کوئی راہ نہیں پاتا۔ اور پھر انجام بھی متعین ہوتا ہے۔ اولئک لھم عذاب الیم (29: 23) ” ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا ہوتی ہے “۔ اس لمحہ فکریہ کے بعد اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کی طرف سے جواب آتا ہے۔ یہ ضمنی خطاب ہر اس شخص کے غور و فکر کے لیے تھے جو دعوت ایمان کا انکار کرتا ہے ، یہ جواب نہایت ہی مایوس کن اور عجیب ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر و سرکشی کے حاملین کس طرح بر خودغلط ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس اقتدار کی قوت ہوتی ہے۔

العنكبوت 29:23

اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23) یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر ہیں۔ پیش پا افتادہ ہیں لیکن انسان چونکہ انہیں ہر وقت دیکھتا رہتا ہے ، اس وجہ سے ان کا عادی ہوجاتا ہے اور ان کے اعجاز کا پہلو نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور یہ معجزات چونکہ بار بار دہرائے جاتے ہیں اس لیے انسانی قلب و نظر پر ان کا زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ ان پیش پا افتادہ مناظر اور دلائل اعجاز کو ازسر نو زندہ کرکے اور حسین بنا کر پیش کرتا ہے اور یہ اس قدر خوبصورت ، حسین اور پر تاثیر بن جاتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ گویا یہ مشاہد و مناظر اس کے سامنے پہلی بار پیش ہوئے ہیں۔ یہ مناظرہ زندہ شکل میں سامنے آتے ہیں اور انسانی قلب و نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان ان کے آثار و نتائج کو اخذ کرتا ہے اور یہی مناظر انسانی وجدان کے لیے دلائل اور براہین بن جاتے ہیں اور ان سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے۔ یہ طرز استدلال خشک منطقی استدلال کی طرح نہیں ہوتا جس میں محض ظاہری جدل وجدال ہوتا ہے اور ایک مردہ انداز گفتگو ہوتا ہے۔ یہ فلسفیانہ اور منطقی انداز استدلال اسلامی منطق اور شعور کے لیے ہمیشہ نا آشنا رہا ہے۔ اس لیے اسلامی شعور اس سے کبھی گہرے طور پر متاثر نہیں ہوا۔ اسلامی انداز استدلال یہ ہے : اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔ اللہ یسیر (29: 19) ” کیا ان لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتداء کرتا ہے ، پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ، یقیناً یہ تو اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ بیشک یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ کس طرح تخلیق کرتا ہے ، ایک چھوٹے سے پودے میں بھی یہ تخلیق نظر آتی ہے ، ایک انڈے اور جنین میں بھی نظر آتی ہے۔ اور ہر اس چیز میں نظر آتی ہے جو نہ تھی اور پھر موجود ہوگئی اور ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ انسان انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر بھی کوشش کریں تو اس جیسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے اور نہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اس کے خالق ہیں۔ اللہ کی تخلیقات تو بہت ہیں ، صرف معجزہ حیات ہی ایک مسلسل معجزہ ہے۔ یہ حیات کس طرح وجود میں آئی ؟ یہ بھی ایک معجزہ ہے ، کسی کی جانب سے ایجاد حیات کا دعویٰ کرنا تو ایک بڑی بات ہے۔ حیات کے بارے میں تو انسان صرف یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کردہ ہے۔ اللہ ہر لمحہ میں اسے دہراتا ہے اور لوگ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں اور اسکا انکار بھی نہیں کرسکتے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ لوگوں کو پیدا فرما رہا ہے تو ان اشیاء کا دوبارہ پیدا کرنا اللہ کے لئے نہایت ہی آسان ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر (29: 19) ” اور یہ (اعادہ) اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے تو کوئی چیز اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انسانی معیار کے مطابق ان سے بات کرتا ہے۔ کیونکہ انسانوں کی مصنوعات میں پہلی صنعت کے مقابلے میں اس کا اعادہ آسان ہوتا ہے ورنہ اللہ کے لیے آغاز و اعادہ یکساں ہیں۔ اللہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے تو ارادہ متوجہ کرکے کن کہتا ہے اور وہ ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ ذرا کھوکھلی آنکھوں کے ساتھ زمین میں پھرو ، اور اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھو۔ زندہ اور مردہ چیزوں میں عجائبات تخلیق الٰہی پر غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کی تخلیق بھی کسی مشقت کے بغیر خود کار طریقے سے ہو رہی ہے۔ اور اعادہ بھی اسی طرح ہوگا۔ قل سیرو فی الارض ۔۔۔۔۔ کل شئ قدیر (29: 20) ” ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی ہے۔ پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ زمین میں سرو سیاحت سے انسان کی بصیرت اور بصارت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسان ایسے مناظر دیکھتا ہے جو کبھی آنکھ نے نہیں دیکھے ہوتے اور قلب نے کبھی ان پر غور نہیں کیا ہوتا ، اس آیت میں اللہ نے ایک گہری حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔ انسان کسی خطے میں بستا ہے اور اس کے مناظر اور عجائبات اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں لیکن جب وہ سیاحت کرتا ہے تو اس کے احساسات اور قوائے مدرکہ ہر نئے منظر کو غور سے دیکھتے ہیں۔ جدید دنیا اور علاقے میں اسے نئے مناظر و مشاہد متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ اس جیسے مناظر و مشاہد ان سے اچھے مناظر خود اس کے علاقے میں موجود ہوتے ہیں لیکن وہ کبھی ان کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے۔ جب وہ اپنے علاقے کو واپس آتا ہے تو پھر وہ خود اپنے مسکن کو بھی ایک جدید احساس اور جدید غور و فکر کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس سے قبل وہ جن چیزوں کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا ، اب وہ چند یوم غائب رہنے کے سبب ان کو رحہمی نظر سے دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ اب یہ مناظر و عجائبات اس سے از سر نو ہمکلام ہوتے ہیں جبکہ اس سے قبل یہ عجائبات اس کے لیے نہ عجیب تھے اور نہ اس کے ساتھ ہمکلام ہوتے تھے۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے یہ قرآن نازل کیا۔ جو دلوں کی ان راہوں کو جانتا ہے جن کے ذریعے دل کی دنیا پر اثر ڈالا جاسکتا ہے ، عالم نفس کی راہ و رسم سے بھی وہ واقف ہے۔ قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ الخلق (29: 20) ” ان سے کہو ، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی “۔ یہاں ماضی کے صیغے کے ذریعہ آغاز تخلیق کو بیان کیا گیا ہے۔ کیف بدا الخلق (29: 20) ” اس نے تخلیق کا آغاز کیسے کیا تھا ؟ “ اور اس بات کو تم زمین میں چل پھر کر ، سیروسیاحت کرکے معلوم کرو ، اس سے ایک یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تم زمین میں چل پھر کر آغاز تخلیق الٰہی کو معلوم کرو ، ان چیزوں پر غور کرو جن سے ” حیات “ کی ابتدائی حالت کا پتہ چلے کہ اس دنیا میں آغاز حیات کیسے ہوا آج کل آثار قدیمہ کے بعض علماء زمین کو کھود کر ابتدائی تخلیق کی کیفیت معلوم کرتے ہیں کہ حیات کا آغاز کیسے ہوا اور اس نے کس طرح ترقی کی۔ اور وہ کس طرح پھیلی۔ ان تخلیقات کے باوجود ابھی تک یہ علماء ” حیات “ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکے کہ یہ حیات ہے کیا ؟ یہ کہاں سے آتی ہے ؟ اور اس دنیا پر پہلا زندہ انسان یا مخلوق کیسے آیا۔ یہ سب تحقیقات اور یہ سب آثار دراصل دوبارہ تخلیق پر دلائل ہوں گے۔ اور اس خیال کے ساتھ ایک دوسرا خیال ! کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات معلوم کرنے کے تو وہ لوگ قابل ہی نہ تھے جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔ جس طرح آج کل کے لوگ اس کے قابل ہوگئے ہیں کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات کا مشاہدہ کریں۔ لہٰذا اس آیت کا اگر مفہوم یہی ہے تو وہ لوگ تو اس قابل ہی نہ تھے لہٰذا قرآن کریم اپنے پہلے مخاطین سے کوئی اور چیز معلوم کرنے کے لیے کہہ رہا تھا جیسے وہ معلوم کرسکتے تھے۔ اور جس کے معلوم کرنے سے وہ یہ نتیجہ نکال سکتے تھے کہ اس سے وہ نشاۃ ثانیہ کا امکان اخذ کریں۔ لہٰذا ان سے مطلوب یہ ہوگا کہ وہ ہر جگہ نباتات ، حیوانات اور انسان کے آغاز تخلیق کا مشاہدہ کریں اور زمین میں پھریں اور ان کی یہ سیر اور مشاہدہ ان کی قوت مشاہدہ کو تیز کرنے کا باعث بنے جیسا کہ ہم نے پہلے پیرے میں وضاحت کی کہ وہ آثار قدرت الہیہ کا مشاہدہ کریں اور رات اور دن اللہ کی قدرت جن معجزات و نشانات کو ظاہر کر رہی ہے اس پر غور کریں۔ ایک احتمال یہ بھی ہے جو قرآن کریم کے طریقہ کار کے مطابق ہے کہ قرآن ہر دور کے لوگوں کو ان کے حالات کے مطابق ، اور علم و ثقافت کے لحاظ سے ان کے مرتبہ و مقام کے مطابق اور ان کے حالات زندگی کے مطابق اور ان کے موجودہ وسائل اکتشاف کے مطابق ، متوجہ کرتا ہے وہ اپنے ظروف و احوال کے مطابق اس کائنات میں پائے جانے والے دلائل قدرت الہیہ پر غور کریں۔ اس طرح زندگی کے حالات کی ترقی کے مطابق قرآن کریم کے مفہوم کے فہم و ادراک میں بھی ترقی ہوگی اور دونوں خیالات میں کوئی تعارض بھی نہ ہوگا اور یہ مفہوم قرآن کے طریق کار کے زیادہ قریب ہے۔ ان اللہ علی کل شئ قدیر (29: 20) ” یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اللہ اس زندگی کا آغاز بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی کرے گا اور یہ اس کی قدرت قاہرہ کے ذریعہ ہوگا۔ اور اللہ کی قدرتیں انسان کی محدود سوچ کے دائرے کے اندر محدود نہیں ہیں۔ نہ اللہ کی قدرتوں کو ان کی سوچ کی محدود و امکانیات کے اندر محدود کیا جاسکتا ہے کیونکہ انسان کی سوچ انسان کے محدود تجربات تک محدود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جسے چاہے عذاب دے دے اور جسے چاہے اپنی رحمت کے دائرے کے اندر لے آئے۔ سب لوگوں نے آخر کار اس کی طرف لوٹنا ہے اور اللہ کو اس عمل کے کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی نہ کوئی اس کی ممانعت کرسکتا ہے۔ یعذب من یشآء ۔۔۔۔۔۔ ولی ولا نصیر (29: 21 – 22) ” جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں ، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “۔ رحمت اور عذاب دونوں اللہ کی رحمت کے تابع ہیں ، اس طرح کہ اللہ نے ہدایت اور ضلالت کا راستہ بیان کردیا۔ اور انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردی کہ وہ ہدایت و ضلالت کے راستے میں سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ اور اس نے دونوں راستے انسان کے لیے میسر کر دئیے۔ اب اس انسان کی مرضی ہے کہ وہ کون سا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ البتہ اگر وہ اللہ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ ایسے شخص کی معاونت کرے اور اگر وہ اللہ کی دلائل سے منہ موڑے اور اللہ کے راستے سے رک جائے تو وہ اللہ سے رابطہ منقطع کردیتا ہے اور اسی اصول کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور اللہ کا عذاب لوگوں کو ملتا ہے۔ والیہ تقلبون (29: 21) ” اور اس کی طرف سے تم پھیرے جانے والے ہو “۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں “۔ تمہارے پاس ایسی کوئی قوت نہیں ہے کہ تمام مخلوق کو اللہ کی طرف پھرنے سے روک سکو۔ نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔ جنات اور فرشتے بھی تمہاری قوت نہیں ہیں۔ وما لکم ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (29: 22) ” اور اللہ سے بچنے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار ہے کون ؟ اور کہاں ہے ؟ کوئی ملائکہ ہے یا کوئی جن ہے ؟ یہ تو سب خود اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ یہ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ دوسروں کے لیے کیا کچھ کر کیں گے۔ والذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (29: 23) ” جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک سزا ہے “۔ یہ اس لیے کہ انسان اللہ کی رحمت سے تب مایوس ہوتا ہے جب اس کا دل کافر ہو ، اس حالات میں پھر اس کے اور رب کی درمیانرابطہ کٹ جاتا ہے۔ جو بھی کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اس کے اور رب تعالیٰ کے درمیان رابطہ کٹ چکا ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں تروتازگی نہیں ہوتی۔ اس لیے اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے لیے وہ کوئی راہ نہیں پاتا۔ اور پھر انجام بھی متعین ہوتا ہے۔ اولئک لھم عذاب الیم (29: 23) ” ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا ہوتی ہے “۔ اس لمحہ فکریہ کے بعد اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کی طرف سے جواب آتا ہے۔ یہ ضمنی خطاب ہر اس شخص کے غور و فکر کے لیے تھے جو دعوت ایمان کا انکار کرتا ہے ، یہ جواب نہایت ہی مایوس کن اور عجیب ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر و سرکشی کے حاملین کس طرح بر خودغلط ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس اقتدار کی قوت ہوتی ہے۔

العنكبوت 29:24

فما کان جواب ۔۔۔۔۔ لقوم یؤمنون (24) ” اسے قتل کر دو یا جلا ڈالو “ یہ اس سادہ اور قابل فہم دعوت کا جواب ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش فرمائی۔ جو انہوں نے ان کی عقلوں کے سامنے نہایت ہی قابل فہم انداز میں پیش کی ہے جس طرح کوئی پیش کرتا ہے۔ جب کفر اور سرکشی کھل کر سامنے آگئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پوزیشن یہ تھی کہ آپ اس ظلم اور سرکشی کا دفعیہ نہ کرسکتے تھے ، وہ ایک فرد تھے اور ان کا کوئی والی اور مددگار نہ تھا۔ ایک طرف عظیم قوت ہے ، دوسری جانب وہ اکیلے کھڑے ہیں۔ اس لیے ایسے حالات میں دست قدرت بھی کھل کر ان کا ساتھ دیتا ہے۔ ایک خارق عادت معجزہ نمودار ہوتا ہے۔ ایک ایسا معجزہ جو انسانوں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ فانجہ اللہ من النار (29: 24) ” آخر کار اللہ نے اسے آگ سے بچا لیا “۔ جس انداز میں خارق عادت کے طور پر اللہ نے ان کو بچایا تھا۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک معجزہ تھا جو ایمان لانے والے تھے مگر اس کے باوجود اس قوم نے ایمان قبول نہ کیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ طے کردیں کہ انہوں نے مان کر نہیں دینا ہے تو معجزات بھی ان کے لیے مفید نہیں رہتے۔ ہدایت اسے نصیب ہوتی ہے جو ایمان لانے کے لئے تیار ہو ، اسی لیے کہا جاتا ہے : ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (29: 24) ” یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں “۔ پہلی نشانی تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیم آگ سے نجات پاگئے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ کفر اور سرکشی اور حکومتی قوت ایک فرد واحد کو اذیت نہ دے سکی۔ تیسرا معجزہ یہ ہے کہ اگر اللہ کسی کو ہدایت نہ دینا چاہے تو معجزات بھی مفید نہیں رہتے۔ اور یہ نشانیاں ان لوگوں کے لیے ہیں جو دعوت اسلامی کی تاریخ پر غور و فکر کرتے ہیں اور یہ معلوم کرتے ہیں کہ دلوں کو پھیرنے والا کون ہے اور ہدایت و ضلالت کے اسباب کیا ہوتے ہیں۔

العنكبوت 29:25

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نجات کے بعد بھی یہ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ حضرت ابراہیم اب اس قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے ہیں جو اس قدر واضح اور بین معجزے کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتی تو قبل اس کے کہ حضرت ان کو الوداع کہیں ان کو آخری حجت کے طور پر ایک حقیقت کے سامنے کھڑا کرتے ہیں : وقال انما اتخذتم ۔۔۔۔۔۔ من نصرین (25) ” اور اس نے کہا ، تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور آگ تمہارا ٹھکانا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا “۔ ہم نے بتوں کی بندگی اس لیے اختیار نہیں کی کہ تم عقیدتاً ان کو الٰہ سمجھتے ہو اور تم ان کی بندگی پر مطمئن ہو بلکہ تم اس برائی پر ایک دوسرے کا لحاظ ملاحظہ کرتے ہوئے متفق ہوگئے ہو۔ محض ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے ، یہ بندگی کرتے ہو۔ تم میں سے ایک دوست یہ نہیں چاہتا کہ دوسروں کے الہوں کو چھوڑ دے۔ اگرچہ حق واضح ہوگیا ہو۔ اگر کوئی نئی سچائی کو قبول کرلے تو اس صورت میں دو ستیاں ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ دوستیاں تم سچائی کی حق تلفی کرکے قائم رکھتے ہو۔ تم سچائی کو نظر انداز کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں دوستیوں کو زیادہ قائم رکھتے ہو۔ تم سچائی کو نظر انداز کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں دوستیوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہو ، حالانکہ دعوت اسلامی ایک سنجیدہ امر ہے۔ یہ کوئی نری ، کوئی ڈھیل اور کوئی دوستی قبول نہیں کرتی۔ اس کے بعد ان کے اخروی انجام کے صفحات کھولے جاتے ہیں۔ جن دوستوں کا لحاظ کرتے ہوئے وہ حق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور بتوں کی بندگی پر قائم ہیں۔ قیامت کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے اور ایک دوسرے کو ملامت کریں گے اور یہ دو ستیاں ٹوٹ جائیں گی۔ ثم یوم القیمۃ یکفر۔۔۔۔۔ بعضکم بعضا (29: 25) ” مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کروگے “۔ لیکن یہ لعن و طعن کوئی فائدہ نہ دے گا۔ اس سے تمہارے عذاب میں کوئی کمی نہ آئے گی۔ وماوکم النار وما لکم من نصرین (29: 25) ” آگ تمہارا ٹھکانا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا “۔ اسی آگ میں یہ لوگ رہیں گے جس کے ساتھ وہ حضرت ابراہیم کو جلانا چاہتے تھے لیکن اللہ نے ان کی مدد کی اور ان کو نجات دے دی رہے وہ تو ان کیلئے نہ نصرت ہے اور نہ نجات۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت دینا چھوڑ دیا۔ یہ معجزہ جو ناقابل شک تھا ، وہ بھی ان کے سامنے آگیا ۔ اس دعوت اور اس ناقابل تردید معجزے کے نتیجے میں صرف ایک شخص مسلمان ہوئے ، حضرت لوط ، ان کی بیوی نے بھی اسلام قبول نہ کیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت لوط آپ کے بھتیجے تھے۔ یہی ایک مسلمان حضرت ابراہیم کے ساتھ ایرانیوں کے شہر ار سے ہجرت کرکے اردن سے آگے کے علاقے میں جاکر آباد ہوئے۔

العنكبوت 29:26

فامن لہ لوط ۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (26 – 30) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول قابل غور ہے ، وہ کہتے ہیں۔ انی مھاجر الی ربی (29: 26) ” میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں “۔ انہوں نے کیوں ہجرت کی۔ انہوں نے نجات کے لیے ہجرت نہیں کی۔ نہ زمین کے حصول کے لیے ، نہ کسی تجارت اور کمائی کے لئے ہجرت کی تھی۔ انہوں نے رب کی طرف ہجرت کی ، اللہ کے قریب ہونے اور اس کی پناہ میں آنے کے لئے ہجرت کی۔ اپنا دل اور اپنا نظریہ لے کر ہجرت کی۔ ان کے جسم اور خون سے پہلے ان کے دل و دماغ نے ہجرت کی۔ انہوں نے اللہ کی طرف ہجرت کی تاکہ خالص اللہ کی عبادت اور بندگی کریں ، اپنا جسم اور اپنی سوچ اس کے لیے خاص کردیں اور کفر اور ضلالت کے علاقے کو چھوڑ دیں اس لیے کہ اس علاقے کے لوگوں کی ہدایت کا اب کوئی امکان نہ رہا تھا۔ یہ علاقے چھوڑنے کا اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس دنیا میں بھی انعام دیا۔ اللہ نے ان کو ایسی صالح اولاد دی کہ رہتی دنیا تک ان کی وراثت اور نظریات کی وارث بنی۔ اس کے بعد نبوت ان کی اولاد ہی میں رہی۔ دنیا اور آخرت میں اس سے بڑا انعام نہیں ہے۔

العنكبوت 29:27

ووھبنا لہ اسحاق ۔۔۔۔۔ لمن الصلحین (29: 27) ” “۔ یہ اللہ کا ایسا انعام ہے جس میں سے فیوض و برکات کے سوتے پھوٹ رہے ہیں ، جس میں اللہ کی رضا مندی عیاں ہے۔ اس ذات بابرکات کی شخصیت میں یہ فیض عیاں ہے جس کے جلا ڈالنے پر تمام باغی اور سرکش قوتیں جمع ہوگئی تھیں لیکن اللہ نے عظیم معجزانہ انداز میں ان کے ماحول کو ٹھنڈا اور سلامتی سے بھرا ہوا بنا دیا۔ یہ تھی اللہ کی مہربانی ، اس کا کرم اور اہل توحید کے لیے جزائے مناسب۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مختصر قصے کے بعد اب حضرت لوط کا قصہ آتا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ رب کی طرف مہاجر ہوئے۔ دونوں وادی اردن میں اترے۔ حضرت لوط بحر مردار کے کنارے کسی قوم کو دعوت دینے لگے۔ اس کے بعد اس بحیرے کا نام بحیرہ لوط پڑگیا۔ آپ شہر سدوم میں مقرر ہوئے۔ حضرت لوط نے ان لوگوں میں رشتہ داری بھی کی اور معاشی سرگرمی بھی ان لوگوں میں اختیار کی۔ اس قوم میں ایک عجیب اخلاقی بیماری پھیل گئی۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ قبیح بیماری اس سے قبل کسی قوم میں نہ پھیلی تھی۔ یہ کہ ان لوگوں نے عورتوں کے مقابلے میں اور ان کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنا شروع کر دئیے۔ حالانکہ اللہ نے اس مقصد کے لیے عورتوں کو پیدا کیا تھا تاکہ ایک مرد اور عورت سے ایک خاندان وجود میں آئے۔ اور اس طرح فطری طور پر انسانی زندگی کا تسلسل قائم رہے۔ جس طرح تمام دوسرے حیوانات میں یہ نظام قائم ہے کہ تمام حیوانات اور نباتات کو اللہ نے جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے۔ مرد اور عورتیں ، مذکر اور مونث غرض یہ بیماری قوم لوط سے قبل کسی اور قوم میں پیدا نہ ہوئی تھی

العنكبوت 29:28

ولوطا اذقال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (28: 29 – 30) ” ۔ “۔ “۔ حضرت لوط کی اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس برائی میں کانوں تک ڈوب گئے تھے۔ یہ لوگ ایک ایسی برائی میں مبتلا ہوگئے تھے جس کا ارتکاب ان سے قبل کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ یہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔ یہ ایک انوکھا اور گندہ فعل تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی فطرت ہی بدل گئی تھی۔ جب بھی کوئی قوم اعتدالا کو چھوڑتی ہے اس کی فطرت بدل جاتی ہے کیونکہ پاکیزہ جنسی تعلق ایک عورت ہی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے نہایت ہی گھناؤنا جرم قرار دیا گیا۔ عورت کے ساتھ جنسی تعلق بھی بعض اوقات حدود وقیود سے نکل جاتا ہے لیکن وہ ہوتا بہرحال ایک فطری عمل ہے۔ رہی ہم جنس پرستی تو یہ حیوانات سے بھی گری ہوئی حرکت ہے۔ اس میں انسان کی فطری عضویاتی ترکیب کے لحاظ سے بھی فساد ہے۔ اور نفسیاتی لحاظ سے بھی فساد ہے۔ زوجین کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے اس میں جو لذت ہوتی ہے وہ امتداو حیات کے عظیم مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں انسانی حیات کا تسلسل قائم ہوتا ہے اور فریقین جسمانی اور روحانی اعتبار سے اس تعلق سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کے تعلق اور ملاپ کے اندر جسمانی اور عضویاتی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ رہا یہ تعلق جو قوم لوط قائم کرتی تھی۔ یہ غیر فطری ، غہیر فرحت بخش اور بےمقصد تھا۔ اگر اس تعلق میں کسی کو مزہ آتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی فطرت بگڑ گئی ہے۔ اور مسخ ہوگئی ہے اور وہ حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔ یہ لوگ اس برائی کے ساتھ ڈاکے بھی ڈالتے تھے ، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے مالی مفا دات وصول کرتے تھے ۔ پھر وہ اس فعل کا ار تکاب بھی مردوں کو مجبور کر کے کرتے تھے یہ پھر اس فعل بد کی ایک گھناؤنی شکل تھی کہ لوٹ مار کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ اس بدفعلی کا ارتکاب کرتے تھے پھر یہ اس منکر فعل کا ارتکاب اپنی مجلسوں میں کرتے تھے ۔ کھلے طور پر اور اجتماعی شکل میں ۔ ایک دوسرے سے ، کتوں کی طرح ، شرم بھی محسوس نہ کرتے تھے۔ فحاشی کا یہ بدترین درجہ ہے۔ فساد فطرت کی یہ انتہا ہے اور یہ رذائل پر اس قدر فخر ہے کہ اس کے بعد کسی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی۔ یہاں اس قصے کا اختصار کے ساتھ لایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ پہلے پہل حضرت لوط نے ان کو نہایت ہی اچھے انداز میں اس سے منع کیا ہوگا۔ انہوں نے اصرار کیا ہوگا۔ حضرت لوط نے ان کو عذاب الٰہی سے ڈرایا ہوگا اور یہ بتایا ہوگا کہ یہ بہت ہی قبیح فعل ہے اور اس کا انجام بھی خوفناک اور عبرتناک ہوگا۔ فما کان جواب ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (29: 29) ” پھر کوئی جواب اس کی قوم کے اس اس کے سوا نہ تھا کہ لے آؤ اللہ کا عذاب ، اگر تم سچے ہو “۔ یہ ہے خود سری اور سرکشی ایک ڈرانے والے نبی کے مقابلے میں ، ایک چیلنچ کے انداز میں تکذیب اور یہ ایک ایسا بگاڑ ہے جس سے کسی خیر کی توقع نہیں رہتی اور نہ اصلاح کی امید رہتی ہے۔ رسول خدا نے ان پر حجت تمام کردی اور اس کے سوا کوئی راہ نہ رہی کہ وہ اللہ سے نصرت طلب کریں جو آخری سہارا ہے۔ قال رب انصرنی علی القوم المفسدین (29: 30) ” لوط نے کہا اے میرے رب ، ان مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما “۔ اب یہاں پردہ گرتا ہے۔ منظر پر صرف لوط (علیہ السلام) دعا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب ہمارے سامنے اس دعا کی قبولیت کا منظر آتا ہے۔ جن کا ملائکہ کو حکم دیا گیا ہے کہ سدوم کو اوپر نیچے کردو ، انہوں نے اس عمل سے پہلے حضرت ابراہیم کو خوشخبری بھی دی ہے ۔ ایک ایسی بیوی سے صالح بیٹے کی خوشخبری جو بانجھ تھی۔

العنكبوت 29:29

ولوطا اذقال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (28: 29 – 30) ” ۔ “۔ “۔ حضرت لوط کی اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس برائی میں کانوں تک ڈوب گئے تھے۔ یہ لوگ ایک ایسی برائی میں مبتلا ہوگئے تھے جس کا ارتکاب ان سے قبل کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ یہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔ یہ ایک انوکھا اور گندہ فعل تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی فطرت ہی بدل گئی تھی۔ جب بھی کوئی قوم اعتدالا کو چھوڑتی ہے اس کی فطرت بدل جاتی ہے کیونکہ پاکیزہ جنسی تعلق ایک عورت ہی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے نہایت ہی گھناؤنا جرم قرار دیا گیا۔ عورت کے ساتھ جنسی تعلق بھی بعض اوقات حدود وقیود سے نکل جاتا ہے لیکن وہ ہوتا بہرحال ایک فطری عمل ہے۔ رہی ہم جنس پرستی تو یہ حیوانات سے بھی گری ہوئی حرکت ہے۔ اس میں انسان کی فطری عضویاتی ترکیب کے لحاظ سے بھی فساد ہے۔ اور نفسیاتی لحاظ سے بھی فساد ہے۔ زوجین کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے اس میں جو لذت ہوتی ہے وہ امتداو حیات کے عظیم مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں انسانی حیات کا تسلسل قائم ہوتا ہے اور فریقین جسمانی اور روحانی اعتبار سے اس تعلق سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کے تعلق اور ملاپ کے اندر جسمانی اور عضویاتی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ رہا یہ تعلق جو قوم لوط قائم کرتی تھی۔ یہ غیر فطری ، غہیر فرحت بخش اور بےمقصد تھا۔ اگر اس تعلق میں کسی کو مزہ آتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی فطرت بگڑ گئی ہے۔ اور مسخ ہوگئی ہے اور وہ حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔ یہ لوگ اس برائی کے ساتھ ڈاکے بھی ڈالتے تھے ، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے مالی مفا دات وصول کرتے تھے ۔ پھر وہ اس فعل کا ار تکاب بھی مردوں کو مجبور کر کے کرتے تھے یہ پھر اس فعل بد کی ایک گھناؤنی شکل تھی کہ لوٹ مار کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ اس بدفعلی کا ارتکاب کرتے تھے پھر یہ اس منکر فعل کا ارتکاب اپنی مجلسوں میں کرتے تھے ۔ کھلے طور پر اور اجتماعی شکل میں ۔ ایک دوسرے سے ، کتوں کی طرح ، شرم بھی محسوس نہ کرتے تھے۔ فحاشی کا یہ بدترین درجہ ہے۔ فساد فطرت کی یہ انتہا ہے اور یہ رذائل پر اس قدر فخر ہے کہ اس کے بعد کسی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی۔ یہاں اس قصے کا اختصار کے ساتھ لایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ پہلے پہل حضرت لوط نے ان کو نہایت ہی اچھے انداز میں اس سے منع کیا ہوگا۔ انہوں نے اصرار کیا ہوگا۔ حضرت لوط نے ان کو عذاب الٰہی سے ڈرایا ہوگا اور یہ بتایا ہوگا کہ یہ بہت ہی قبیح فعل ہے اور اس کا انجام بھی خوفناک اور عبرتناک ہوگا۔ فما کان جواب ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (29: 29) ” پھر کوئی جواب اس کی قوم کے اس اس کے سوا نہ تھا کہ لے آؤ اللہ کا عذاب ، اگر تم سچے ہو “۔ یہ ہے خود سری اور سرکشی ایک ڈرانے والے نبی کے مقابلے میں ، ایک چیلنچ کے انداز میں تکذیب اور یہ ایک ایسا بگاڑ ہے جس سے کسی خیر کی توقع نہیں رہتی اور نہ اصلاح کی امید رہتی ہے۔ رسول خدا نے ان پر حجت تمام کردی اور اس کے سوا کوئی راہ نہ رہی کہ وہ اللہ سے نصرت طلب کریں جو آخری سہارا ہے۔ قال رب انصرنی علی القوم المفسدین (29: 30) ” لوط نے کہا اے میرے رب ، ان مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما “۔ اب یہاں پردہ گرتا ہے۔ منظر پر صرف لوط (علیہ السلام) دعا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب ہمارے سامنے اس دعا کی قبولیت کا منظر آتا ہے۔ جن کا ملائکہ کو حکم دیا گیا ہے کہ سدوم کو اوپر نیچے کردو ، انہوں نے اس عمل سے پہلے حضرت ابراہیم کو خوشخبری بھی دی ہے ۔ ایک ایسی بیوی سے صالح بیٹے کی خوشخبری جو بانجھ تھی۔

العنكبوت 29:30

ولوطا اذقال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (28: 29 – 30) ” ۔ “۔ “۔ حضرت لوط کی اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس برائی میں کانوں تک ڈوب گئے تھے۔ یہ لوگ ایک ایسی برائی میں مبتلا ہوگئے تھے جس کا ارتکاب ان سے قبل کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ یہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔ یہ ایک انوکھا اور گندہ فعل تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی فطرت ہی بدل گئی تھی۔ جب بھی کوئی قوم اعتدالا کو چھوڑتی ہے اس کی فطرت بدل جاتی ہے کیونکہ پاکیزہ جنسی تعلق ایک عورت ہی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے نہایت ہی گھناؤنا جرم قرار دیا گیا۔ عورت کے ساتھ جنسی تعلق بھی بعض اوقات حدود وقیود سے نکل جاتا ہے لیکن وہ ہوتا بہرحال ایک فطری عمل ہے۔ رہی ہم جنس پرستی تو یہ حیوانات سے بھی گری ہوئی حرکت ہے۔ اس میں انسان کی فطری عضویاتی ترکیب کے لحاظ سے بھی فساد ہے۔ اور نفسیاتی لحاظ سے بھی فساد ہے۔ زوجین کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے اس میں جو لذت ہوتی ہے وہ امتداو حیات کے عظیم مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں انسانی حیات کا تسلسل قائم ہوتا ہے اور فریقین جسمانی اور روحانی اعتبار سے اس تعلق سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کے تعلق اور ملاپ کے اندر جسمانی اور عضویاتی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ رہا یہ تعلق جو قوم لوط قائم کرتی تھی۔ یہ غیر فطری ، غہیر فرحت بخش اور بےمقصد تھا۔ اگر اس تعلق میں کسی کو مزہ آتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی فطرت بگڑ گئی ہے۔ اور مسخ ہوگئی ہے اور وہ حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔ یہ لوگ اس برائی کے ساتھ ڈاکے بھی ڈالتے تھے ، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے مالی مفا دات وصول کرتے تھے ۔ پھر وہ اس فعل کا ار تکاب بھی مردوں کو مجبور کر کے کرتے تھے یہ پھر اس فعل بد کی ایک گھناؤنی شکل تھی کہ لوٹ مار کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ اس بدفعلی کا ارتکاب کرتے تھے پھر یہ اس منکر فعل کا ارتکاب اپنی مجلسوں میں کرتے تھے ۔ کھلے طور پر اور اجتماعی شکل میں ۔ ایک دوسرے سے ، کتوں کی طرح ، شرم بھی محسوس نہ کرتے تھے۔ فحاشی کا یہ بدترین درجہ ہے۔ فساد فطرت کی یہ انتہا ہے اور یہ رذائل پر اس قدر فخر ہے کہ اس کے بعد کسی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی۔ یہاں اس قصے کا اختصار کے ساتھ لایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ پہلے پہل حضرت لوط نے ان کو نہایت ہی اچھے انداز میں اس سے منع کیا ہوگا۔ انہوں نے اصرار کیا ہوگا۔ حضرت لوط نے ان کو عذاب الٰہی سے ڈرایا ہوگا اور یہ بتایا ہوگا کہ یہ بہت ہی قبیح فعل ہے اور اس کا انجام بھی خوفناک اور عبرتناک ہوگا۔ فما کان جواب ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (29: 29) ” پھر کوئی جواب اس کی قوم کے اس اس کے سوا نہ تھا کہ لے آؤ اللہ کا عذاب ، اگر تم سچے ہو “۔ یہ ہے خود سری اور سرکشی ایک ڈرانے والے نبی کے مقابلے میں ، ایک چیلنچ کے انداز میں تکذیب اور یہ ایک ایسا بگاڑ ہے جس سے کسی خیر کی توقع نہیں رہتی اور نہ اصلاح کی امید رہتی ہے۔ رسول خدا نے ان پر حجت تمام کردی اور اس کے سوا کوئی راہ نہ رہی کہ وہ اللہ سے نصرت طلب کریں جو آخری سہارا ہے۔ قال رب انصرنی علی القوم المفسدین (29: 30) ” لوط نے کہا اے میرے رب ، ان مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما “۔ اب یہاں پردہ گرتا ہے۔ منظر پر صرف لوط (علیہ السلام) دعا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب ہمارے سامنے اس دعا کی قبولیت کا منظر آتا ہے۔ جن کا ملائکہ کو حکم دیا گیا ہے کہ سدوم کو اوپر نیچے کردو ، انہوں نے اس عمل سے پہلے حضرت ابراہیم کو خوشخبری بھی دی ہے ۔ ایک ایسی بیوی سے صالح بیٹے کی خوشخبری جو بانجھ تھی۔

العنكبوت 29:31

ولام جآءت رسلنا ابراھیم ۔۔۔۔۔ کانت من الغبرین (31 – 32) یہ منظر ، ابراہیم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا منظر ، یہ منظر یہاں چونک مقصود بالذات نہ تھا ، اس لیے اسے نہایت اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے میں دوسری جگہ یہ بات آگئی ہے کہ انہیں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی بشارت دی گئی۔ اور حضرت اسحاق کی ولادت تو خوشخبری کا موضوع تھا۔ اس لیے ان باتوں کو ہاں مفصل نہیں دیا گیا کیونکہ مقصود اتمام قصہ لوط تھا۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فرشتے اس لیے ہو کر آئے کہ انہیں خوشخبری دے دیں اور یہ بتا دیں کہ وہ کس مہم پر آئے ہیں۔ انا مھلکوآ اھل ۔۔۔۔۔۔۔ ظلمین (29: 31) ” ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ، اس کے لوگ سخت ظالم ہیں “۔ اب حضرت ابراہیم کا جذبہ رحم اور محبت امنڈ آیا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ وہاں تو ان کے بھتیجے حضرت لوط بھی رہتے ہیں اور وہ تو ظالم نہیں ، صالح ہیں۔ اللہ کے فرشتوں اور فرستادوں نے جواب دیا کہ ان کو اس مہم کے بارے میں پوری معلومات دی گئی ہیں اور وہ سب باتوں کو جانتے ہیں۔ قالوا نحن اعلم ۔۔۔۔۔۔ من الغبرین (29: 32) ” انہوں نے کہا ، ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہیں۔ ہم اسے ، اور اس کی بیوی کے سوا ، اس کے باقی سب گھر والوں کو بچالیں گے “۔ اس کی بیوی پیچھے وہ جانے والوں میں سے ہے “۔ یہ بیوی قوم کے ساتھ تھی۔ یہ بھی ان کے جرائم اور بد اعمالیوں کی تصدیق کرتی تھی اور یہ عجیب بات تھی کہ عورت کے حقوق پر ایک عورت ڈاکہ ڈالے۔ اب یہ قصہ ایک تیسرے منظر میں داخل ہوتا ہے۔ یہ منظر بھی عجیب ہے۔ یہ فرشتے نہایت خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں حضرت لوط کے پاس آتے ہیں۔ حضرت لوط بھی جانتے ہیں کہ یہ خطرناک مہمان ہیں ، خوبصورت نوجوان اور قوم جس گندی حالت میں۔ لازم ہے کہ یہ لوگ ان مہمانوں کے ساتھ بدسلوکی کریں گے۔ اور وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے مہمانوں کا دفاع کرسکیں اس لیے اس پریشانی سے ان کا دل بھر آیا ، اور ان پر پریشانی اور وحشت طاری ہوگئی۔

العنكبوت 29:32

ولام جآءت رسلنا ابراھیم ۔۔۔۔۔ کانت من الغبرین (31 – 32) یہ منظر ، ابراہیم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا منظر ، یہ منظر یہاں چونک مقصود بالذات نہ تھا ، اس لیے اسے نہایت اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے میں دوسری جگہ یہ بات آگئی ہے کہ انہیں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی بشارت دی گئی۔ اور حضرت اسحاق کی ولادت تو خوشخبری کا موضوع تھا۔ اس لیے ان باتوں کو ہاں مفصل نہیں دیا گیا کیونکہ مقصود اتمام قصہ لوط تھا۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فرشتے اس لیے ہو کر آئے کہ انہیں خوشخبری دے دیں اور یہ بتا دیں کہ وہ کس مہم پر آئے ہیں۔ انا مھلکوآ اھل ۔۔۔۔۔۔۔ ظلمین (29: 31) ” ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ، اس کے لوگ سخت ظالم ہیں “۔ اب حضرت ابراہیم کا جذبہ رحم اور محبت امنڈ آیا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ وہاں تو ان کے بھتیجے حضرت لوط بھی رہتے ہیں اور وہ تو ظالم نہیں ، صالح ہیں۔ اللہ کے فرشتوں اور فرستادوں نے جواب دیا کہ ان کو اس مہم کے بارے میں پوری معلومات دی گئی ہیں اور وہ سب باتوں کو جانتے ہیں۔ قالوا نحن اعلم ۔۔۔۔۔۔ من الغبرین (29: 32) ” انہوں نے کہا ، ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہیں۔ ہم اسے ، اور اس کی بیوی کے سوا ، اس کے باقی سب گھر والوں کو بچالیں گے “۔ اس کی بیوی پیچھے وہ جانے والوں میں سے ہے “۔ یہ بیوی قوم کے ساتھ تھی۔ یہ بھی ان کے جرائم اور بد اعمالیوں کی تصدیق کرتی تھی اور یہ عجیب بات تھی کہ عورت کے حقوق پر ایک عورت ڈاکہ ڈالے۔ اب یہ قصہ ایک تیسرے منظر میں داخل ہوتا ہے۔ یہ منظر بھی عجیب ہے۔ یہ فرشتے نہایت خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں حضرت لوط کے پاس آتے ہیں۔ حضرت لوط بھی جانتے ہیں کہ یہ خطرناک مہمان ہیں ، خوبصورت نوجوان اور قوم جس گندی حالت میں۔ لازم ہے کہ یہ لوگ ان مہمانوں کے ساتھ بدسلوکی کریں گے۔ اور وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے مہمانوں کا دفاع کرسکیں اس لیے اس پریشانی سے ان کا دل بھر آیا ، اور ان پر پریشانی اور وحشت طاری ہوگئی۔

العنكبوت 29:33

ولما ان جآءت ۔۔۔۔۔ بھم ذرعا ” پھر جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور تنگ دل ہوا “۔ یہاں ان اوباشوں کی طرف سے مہمانوں پر ہجوم کے واقعہ کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط کے ساتھ ان کا جو مکالمہ ہوا ، اسے بھی کاٹ دیا گیا ہے ، جبکہ وہ اس وقت اس بیماری کے جوش میں تھے۔ یہاں بات کو انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے اور آخری انجام کو ذکر ہوتا ہے اس لیے کہ یہ خدائی فرستادے خود بات کو کھول دیتے ہیں اور حضرت لوط کو اپنا تعارف کرا دیتے ہیں کیونکہ وہ شدید اعصابی دباؤ میں تھے اور سخت دل تنگ تھے۔ وقالوا لا تخف ۔۔۔۔۔ کانوا یفسقون (33 – 34) ” انہوں نے کہا ، نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔ ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچالیں گے ، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں “۔ اس گاؤں کے لوگوں پر جو عذاب الٰہی ہو ، اس کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے کہ حضرت لوط ، ان کے اہل و عیال اور اہل ایمان کے سوا تمام لوگوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ان پر خاک آلود پتھروں کی بارش کردی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ کے فرشتوں نے آتش فشانی کا عمل برپا کردیا جس کے نتیجے میں خاک آلود پتھروں کی بارش ہوا کرتی ہے۔ اور اس عذاب کے آثار کو باقی رکھا گیا تاکہ آنے والی اقوام کے اہل عقل و دانش اس سے عبرت لیں اور صدیاں گزرنے کے بعد بھی یہ آثار باقی ہیں۔ ولقد ترکنا ۔۔۔۔۔ یعقلون (35) ” اور ہم نے اس بستی کی ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ہے ، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ اور یہ انجام اس قوم کا طبیعی انجام تھا۔ کیونکہ اس کی مثال ایک خبیث درخت اور پودے کی تھی جسے زمین سے زمیندار ہمیشہ اکھاڑ پھینکتا ہے کیونکہ یہ درخت نہ پیداوار دیتا ہے اور نہ زندگی کے لیے مفید ہوتا ہے اس کے ساتھ یہی سلوک ہوسکتا ہے کہ اسے اکھاڑ کر بھوسہ بنا دیا جائے۔ اب قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) :

العنكبوت 29:34

ولما ان جآءت ۔۔۔۔۔ بھم ذرعا ” پھر جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور تنگ دل ہوا “۔ یہاں ان اوباشوں کی طرف سے مہمانوں پر ہجوم کے واقعہ کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط کے ساتھ ان کا جو مکالمہ ہوا ، اسے بھی کاٹ دیا گیا ہے ، جبکہ وہ اس وقت اس بیماری کے جوش میں تھے۔ یہاں بات کو انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے اور آخری انجام کو ذکر ہوتا ہے اس لیے کہ یہ خدائی فرستادے خود بات کو کھول دیتے ہیں اور حضرت لوط کو اپنا تعارف کرا دیتے ہیں کیونکہ وہ شدید اعصابی دباؤ میں تھے اور سخت دل تنگ تھے۔ وقالوا لا تخف ۔۔۔۔۔ کانوا یفسقون (33 – 34) ” انہوں نے کہا ، نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔ ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچالیں گے ، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں “۔ اس گاؤں کے لوگوں پر جو عذاب الٰہی ہو ، اس کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے کہ حضرت لوط ، ان کے اہل و عیال اور اہل ایمان کے سوا تمام لوگوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ان پر خاک آلود پتھروں کی بارش کردی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ کے فرشتوں نے آتش فشانی کا عمل برپا کردیا جس کے نتیجے میں خاک آلود پتھروں کی بارش ہوا کرتی ہے۔ اور اس عذاب کے آثار کو باقی رکھا گیا تاکہ آنے والی اقوام کے اہل عقل و دانش اس سے عبرت لیں اور صدیاں گزرنے کے بعد بھی یہ آثار باقی ہیں۔ ولقد ترکنا ۔۔۔۔۔ یعقلون (35) ” اور ہم نے اس بستی کی ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ہے ، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ اور یہ انجام اس قوم کا طبیعی انجام تھا۔ کیونکہ اس کی مثال ایک خبیث درخت اور پودے کی تھی جسے زمین سے زمیندار ہمیشہ اکھاڑ پھینکتا ہے کیونکہ یہ درخت نہ پیداوار دیتا ہے اور نہ زندگی کے لیے مفید ہوتا ہے اس کے ساتھ یہی سلوک ہوسکتا ہے کہ اسے اکھاڑ کر بھوسہ بنا دیا جائے۔ اب قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) :

العنكبوت 29:35

ولما ان جآءت ۔۔۔۔۔ بھم ذرعا ” پھر جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور تنگ دل ہوا “۔ یہاں ان اوباشوں کی طرف سے مہمانوں پر ہجوم کے واقعہ کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط کے ساتھ ان کا جو مکالمہ ہوا ، اسے بھی کاٹ دیا گیا ہے ، جبکہ وہ اس وقت اس بیماری کے جوش میں تھے۔ یہاں بات کو انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے اور آخری انجام کو ذکر ہوتا ہے اس لیے کہ یہ خدائی فرستادے خود بات کو کھول دیتے ہیں اور حضرت لوط کو اپنا تعارف کرا دیتے ہیں کیونکہ وہ شدید اعصابی دباؤ میں تھے اور سخت دل تنگ تھے۔ وقالوا لا تخف ۔۔۔۔۔ کانوا یفسقون (33 – 34) ” انہوں نے کہا ، نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔ ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچالیں گے ، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں “۔ اس گاؤں کے لوگوں پر جو عذاب الٰہی ہو ، اس کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے کہ حضرت لوط ، ان کے اہل و عیال اور اہل ایمان کے سوا تمام لوگوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ان پر خاک آلود پتھروں کی بارش کردی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ کے فرشتوں نے آتش فشانی کا عمل برپا کردیا جس کے نتیجے میں خاک آلود پتھروں کی بارش ہوا کرتی ہے۔ اور اس عذاب کے آثار کو باقی رکھا گیا تاکہ آنے والی اقوام کے اہل عقل و دانش اس سے عبرت لیں اور صدیاں گزرنے کے بعد بھی یہ آثار باقی ہیں۔ ولقد ترکنا ۔۔۔۔۔ یعقلون (35) ” اور ہم نے اس بستی کی ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ہے ، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ اور یہ انجام اس قوم کا طبیعی انجام تھا۔ کیونکہ اس کی مثال ایک خبیث درخت اور پودے کی تھی جسے زمین سے زمیندار ہمیشہ اکھاڑ پھینکتا ہے کیونکہ یہ درخت نہ پیداوار دیتا ہے اور نہ زندگی کے لیے مفید ہوتا ہے اس کے ساتھ یہی سلوک ہوسکتا ہے کہ اسے اکھاڑ کر بھوسہ بنا دیا جائے۔ اب قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) :

العنكبوت 29:36

والی مدین اخاھم شعیبا ۔۔۔۔۔۔ دارھم جثمین (36 – 37) ” اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، اللہ کی بندگی کرو اور روز آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسدبن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو “۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ دعوت اسلامی تمام ادوار میں ایک رہی ہے اور دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ بھی ایک رہا ہے۔ اعبدوا اللہ وارجوا الیوم الاخر (29: 36) ” اللہ کی بندگی کرو اور روز آخرت کے امیدوار رہو “۔ اللہ واحد کی بندگی کرنا اسلامی نظریہ حیات کی نبی اد ہے اور آخرت کی امیدواری کے ذریعہ یہ ممکن ہو سکتا تھا کہ وہ اس دنیا میں جو حلال و حرام سمیٹے چلے جا رہے تھے اور ناپ اور تول کے پیمانوں میں خیانت کر رہے تھے ، اس سے باز آجائیں۔ نیز وہ لوگوں کے حقوق مارتے تھے اور راہ زنی کرتے تھے۔ شاید خوف آخرت کی وجہ سے وہ ان جرائم سے باز آجائیں۔ اس کے علاوہ بھی وہ لوگوں پر کئی قسم کی دست درازیاں کرتے تھے اور زمین میں فساد پر با کرتے تھے خوف آخرت سے ان کی اصلاح ہو سکتی تھی۔ غرض آخر کار انہوں نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور ان پر خدا کا عذاب ہوا اور اللہ نے مکذبین کے بارے میں اپنی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ہلاک کردیا اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین (29: 37) ” آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس سے قبل اس سخت زلزلے کی تفصیلات دے دی گئی ہیں ، جس نے ان کی زمین کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور یہ زلزلہ ایک سخت چیخ کے بعد آیا تھا۔ جس نے ان کو بےہوش کردیا تھا اور لوگ اسی جگہ پڑے کے پڑے رہ گئے جہاں تھے۔ اور یہ سزا ان کے ان جرائم کی وجہ سے دی گئی جن میں وہ چیخ چلا کر لوگوں پر ڈاکے ڈالتے اور ان کو لوٹتے۔

العنكبوت 29:37

والی مدین اخاھم شعیبا ۔۔۔۔۔۔ دارھم جثمین (36 – 37) ” اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، اللہ کی بندگی کرو اور روز آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسدبن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو “۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ دعوت اسلامی تمام ادوار میں ایک رہی ہے اور دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ بھی ایک رہا ہے۔ اعبدوا اللہ وارجوا الیوم الاخر (29: 36) ” اللہ کی بندگی کرو اور روز آخرت کے امیدوار رہو “۔ اللہ واحد کی بندگی کرنا اسلامی نظریہ حیات کی نبی اد ہے اور آخرت کی امیدواری کے ذریعہ یہ ممکن ہو سکتا تھا کہ وہ اس دنیا میں جو حلال و حرام سمیٹے چلے جا رہے تھے اور ناپ اور تول کے پیمانوں میں خیانت کر رہے تھے ، اس سے باز آجائیں۔ نیز وہ لوگوں کے حقوق مارتے تھے اور راہ زنی کرتے تھے۔ شاید خوف آخرت کی وجہ سے وہ ان جرائم سے باز آجائیں۔ اس کے علاوہ بھی وہ لوگوں پر کئی قسم کی دست درازیاں کرتے تھے اور زمین میں فساد پر با کرتے تھے خوف آخرت سے ان کی اصلاح ہو سکتی تھی۔ غرض آخر کار انہوں نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور ان پر خدا کا عذاب ہوا اور اللہ نے مکذبین کے بارے میں اپنی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ہلاک کردیا اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین (29: 37) ” آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس سے قبل اس سخت زلزلے کی تفصیلات دے دی گئی ہیں ، جس نے ان کی زمین کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور یہ زلزلہ ایک سخت چیخ کے بعد آیا تھا۔ جس نے ان کو بےہوش کردیا تھا اور لوگ اسی جگہ پڑے کے پڑے رہ گئے جہاں تھے۔ اور یہ سزا ان کے ان جرائم کی وجہ سے دی گئی جن میں وہ چیخ چلا کر لوگوں پر ڈاکے ڈالتے اور ان کو لوٹتے۔

العنكبوت 29:38

اس کے بعد قوم عاد وثمود کی ہلاکت کی طرف اشارہ : وعادا و ثمودا ۔۔۔۔۔ وکانوا مستبصرین (38) ” اور عاد وثمود کو ہم نے ہلاک کیا ، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے۔ ان کے اعمال کو شیطان نے ان کیلئے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہ راست سے برگشتہ کردیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے “۔ عاد کے لوگ جزیرۃ العرب کے جنوب میں علاقہ احقاف میں رہتے تھے۔ یہ علاقہ حضر موت کے قریب ہے۔ اور ثمود علاقہ حجر شمالی جزیرۃ العرب میں رہتے تھے۔ اور یہ وادی القری کے قریب علاقہ ہے ، قوم عاد کو تیز رفتار ہوائی طوفان کے ذریعہ ہلاک کیا گیا جو ناقابل کنٹرول تھا اور قوم ثمود کو ایک ہلاکت خیز چیخ کے ذریعہ جس کے بعد زلزلہ آیا۔ ان کے گھر عربوں کو معلوم تھے اور یہ لوگ اپنے گرمیوں اور سردیوں کے اسفار میں ان علاقوں سے گزرتے تھے اور ان کے آثار کو دیکھتے تھے کہ عزت اور اقتدار کے بعد یہ اقوام کس طرح ملیا میٹ ہوئیں۔ یہاں اس مختصر اشارے میں بتا دیا گیا ہے کہ ان کی گمراہی کا راز کیا تھا۔ یہی راز ہے دوسری تمام اقوام کی ضلالت کا۔ وزین لھم ۔۔۔۔۔ وکانوا مستبصرین (98: 37) ” ان کے اعمال کو شیطان نے ان کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہ راست سے برگشتہ کردیا اور وہ ہوش و گوش رکھتے تھے “۔ یہ عقلمند تھے۔ ہدایت کے دلائل بھی ان کے سامنے تھے لیکن شیطان نے ان کو خواہشات نفسانیہ کے تابع کرکے ان کے ان اعمال کو ان کے لیے مزین بنا دیا تھا۔ اور ان پر وہ اس راستے سے حملہ آور ہوا جو کھلا تھا۔ یہ کہ وہ سخت مغرور تھے اور اپنے برے اعمال پر فخر کرتے تھے اور ان اعمال کے ذریعہ انہوں نے جو قوت اور مال و متاع جمع کرلیا تھا ، اس کی وجہ سے وہ اعمال انہیں اچھے لگتے تھے۔ فصدھم عن السبیل (98: 38) ” انہیں راہ راست سے برگشتہ کردیا تھا “۔ اور ایمان کا تو یہ واحد راستہ تھا۔ لہٰذا انہوں نے اس راہ پر چلنے کے مواقع گنوا دئیے۔ وکانوا مستبصرین (98: 38) ” اور بڑے دانش مند تھے “۔ صاحب فکر و نظر تھے اور عقل و ادراک کی قوتوں کے مالک تھے۔ اب قارون ، فرعون اور ہامان کی طرف اشارہ۔

العنكبوت 29:39

وقارون وفرعون ۔۔۔۔۔ وما کانوا سبقین (39) ” اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا اور موسیٰ ان کے پاس بینات لے کر آیا ، مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا ، حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے “۔ قارون قوم موسیٰ کا فرد تھا مگر اس نے اپنی دولت مندی کی وجہ سے ان سے بغاوت کی۔ اور اس نے نصیحت کرنے والوں کی یہ نصیحت نہ سنی کہ اعتدال اور تواضع کا راستہ اختیار کرو ، لوگوں پر احسان کرو اور سرکشی اور بغاوت نہ کرو۔ اور فرعون ایک جبار اور سرکش حکمران تھا۔ اور قوم کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرتا تھا۔ اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا اور پوری طرح کنڑول میں لے رکھا تھا۔ وہ بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ اور یہ محض ظلم کی وجہ سے ۔ ہامان فرعون کا وزیر تھا اور اس کی ان قاہرانہ اور ظالمانہ ریاستی پالیسیوں کی تنفیذ وہ کرتا تھا۔ فرعون کے تمام جرائم میں یہ اس کیلئے معین و مددگار تھا۔ یہ لوگ جو قوت ، مال اور اسباب حیات کے مالک تھے اور زمین پر پوری طرح غالب تھے ان سب کو اللہ نے پکڑا ، کیونکہ انہوں نے لوگوں کو فتنے میں ڈال دیا تھا اور ان کو اذیت دیتے تھے۔ اور وہ طویل عرصہ تک ایسا کرتے رہے تھے۔

العنكبوت 29:40

فکلا اخذنا بذنبہ ۔۔۔۔۔ انفسہم یظلمون (40) ” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی ، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ، اور کسی کو غرق کردیا۔ اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے “۔ قوم عاد پر اللہ نے ایسی تیز ہوا بھیجی جو پتھر اڑا کر پھینک رہی تھی۔ اسی طرح جو جہاں تھا ، مارا گیا۔ قوم عود پر سخت دھماکہ دار چیخ آئی اور سب ڈھیر ہوگئے۔ اور قارون معہ اپنی دولت اور کوٹھیوں کے زمین میں دھنس گیا۔ اور فرعون اور ہامان بحراحمر میں غرق ہوئے۔ یہ سب لوگ اپنے اپنے ظلم میں پکڑے گئے۔ وما کان اللہ ۔۔۔۔۔ انفسھم یظلمون (29: 41) ” اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے “۔ پوری انسانی تاریخ کے باغیوں ، سرکشوں اور ظالموں کی تباہی اور بربادی کا عبرت آموز جائزہ لینے کے بعد اور آغاز سورت میں آزمائش اور گمراہی کے فتنوں کے ذکر کے بعد اب آخر میں ، اسلام اور کفر اور ایمان اور ضلالت کی قوتوں کی کشمکش کو ایک تمثیل سے سمجھایا جاتا ہے کہ حقیقی قوت ایک ہی ہے اور وہ اللہ کی قوت ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر قوتیں ہیں وہ نہایت ہی ناتواں اور کجی ہیں۔ ان کی مثال تار عنکبوت کی طرح ہے جو شخص تار عنکبوت کا سہارا لے گا وہ گویا ایک نہایت کچی چیز کا سہارا لیتا ہے۔ اللہ کے سوا تمام قوتوں کی یہی مثال ہے۔

العنكبوت 29:41

مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ وما یعقلھا الا العلمون (41 – 43) یہ ایک عجیب اور سچی تصویر ہے ، ان تمام قوتوں کی جو اس کائنات میں موجود ہیں۔ اس میں ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے جس سے لوگ بالعموم غافل رہتے ہیں اور اس غفلت کی وجہ سے پھر ان کے پیمانے اور اقدار بدل جاتی ہیں۔ پھر وہ غلط رابطے قائم کرلیتے ہیں ۔ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ وہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کیا لیں اور کیا چھوڑیں۔ اس غلط سوچ کی وجہ سے وہ پھر ریاستی قوت سے بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ریاستی قوت ہی اصل قوت ہے اور سب کچھ ہے۔ اور ہر جگہ موثر ہے۔ اس لیے وہ اس قوت سے ڈرتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے کوشاں رہے ہیں وہ اس ریاستی قوت کی اذیتوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں اور اس کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کو دولت کی قوت سے بھی دھوکہ ہوتا ہے ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی قوت ہے ، جس کے نتیجے میں زندگی کی قدریں حاصل ہوتی ہیں۔ اور تمام اقدار حیات دولت کے تابع ہوتی ہیں۔ چناچہ ایسے لوگ حصول دولت کا شوق رکھتے ہیں اور زوال دولت کا انہیں ہر وقت خوف رہتا ہے۔ اور وہ حصول دولت کے لیے ہر وقت جدوجہد کرتے ہیں تاکہ اس دولت کے ذریعہ وہ لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوں اپنے زعم کے مطابق۔ یہ لوگ سائنس کی قوت کو بھی ایک بڑی قوت سمجھتے ہیں۔ اس کو بھی یہ مالی قوت اور تمام قوتوں کی بنیاد تصور کرتے ہیں ، جن کے ذریعہ کوئی شخص گرفت کرتا ہے یا چلتا پھرتا ہے۔ سائنسی قوت کے سامنے بھی لوگ اس طرح جھکتے ہیں جس طرح سائنس کوئی معبود ہے اور لوگ اس کے بندے ہیں۔ غرض انسان کو یہ سب ظاہری قوتیں دھوکہ دیتی ہیں۔ جن افراد کے پاس یہ قوتیں ہیں جن سوسائٹیوں کے پاس یہ وسائل ہیں یا جن حکومتوں کے پاس یہ قوتیں ہیں ان سے دوسرے لوگ ڈرتے ہیں اور ان کا طواف کرتے ہیں اور ان پر لوگ اس طرح فدا ہوتے ہیں جس طرح پروانہ چراغ پر گرتا ہے۔ یا جس طرح وہ آگ میں گرتا ہے۔ ان ظاہری قوتوں سے دھوکہ کھا کر انسان اس اصلی قوت کو بھول جاتا ہے جو ان حقیر قوتوں کو پیدا کرنے والی عظیم قوت ہے۔ جو ان قوتوں کی پیدا کرنے والی ہے ، جو ان سب قوتوں کی مالک ہے ، جو کسی کو یہ قوتیں عطا کرتی ہے ، جو ان قوتوں کی تسخیر کرتی ہے اور ان کا رخ جس طرف چاہتی ہے ، پھیر دیتی ہے۔ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ دنیا کی ان حقیر اور ظاہری قوتوں کے پاس پناہ لینا ، خواہ قوتیں افراد کے ہاتھ میں ہوں ، چاہے کسی سوسائٹی میں ہوں ، چاہے کسی حکومت کے پاس ہوں ، اسی طرح ہے جس طرح کوئی تار عنکبوت کا سہارا لے ، یا بیت عنکبوت میں پناہ لے۔ یہ عنکبوت تو ایک کمزور ، حقیر ، اور نہایت نرم کپڑا ہے اس کی ساخت ہی کمزور ہے۔ اور اس کا گھر بھی کمزور گھر ہے۔ وہ کسی کو کیا پناہ دے سکتا ہے۔ یاد رکھو ! کہ حمایت صرف اللہ کی حمایت ہے ، پناہ صرف اللہ کی پناہ ہے جو ایک قوی پناہ دینے والا ہے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے جو قرآن کریم مومن لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ اور ایک بار جب قرآن نے اہل ایمان کے دلوں میں یہ حقیقت بٹھا دی تھی تو وہ گروہ دنیا کا ایک طاقت ور گروہ بن گیا تھا۔ اور اس نے ان تمام ظاہری قوتوں کو روند ڈالا تھا جو اس کی راہ میں کھڑی ہوگئی تھیں۔ زمین کے تمام جباروں اور قہاروں کی گردنیں مروڑ کر جھکا دی تھیں اور بڑے بڑے قلعے مسمار کرکے رکھ دئیے تھے۔ یہ حقیقت قرآن نے اس گروہ میں کس طرح بٹھا دی تھی ؟ یہ حقیقت ہر نفس میں بیٹھ گئی تھی۔ اس سے ہر دل بھر گیا تھا۔ یہ حقیقت ان کے خون میں مل گئی تھی اور یہ ان کو رگوں میں دوڑ رہی تھی۔ یہ حقیقت صرف الفاظ کی ادائیگی تک محدود نہ تھی۔ نہ یہ ایک موضوع بحث تھی جس پر سیمینار ہوتے تھے بلکہ یہ ان نفوس میں واضح طور پر نظر آتی تھی۔ اور ان کے حس و خیال میں اس کے سوا کوئی اور بات نہ تھی۔ یہ کہ اللہ کی قوت ہی واحد قوت ہے اور اللہ کی دوستی ہی واحد دوستی ہے اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ کمزور و ناتواں ہے۔ اگرچہ بظاہر دوسری قوتیں جس قدر بھی ظلم و استبداد کریں۔ اگرچہ انہوں نے ظلم و سرکشی کی حد کردی ہو ، اگرچہ ان کے پاس گرفت اور دست درازی کے تمام وسائل ہوں اور وہ پکڑ دھکڑ کر رہے ہوں۔ یہ سب کچھ بیت عنکبوت ہے۔ یہ تمام قوتیں اور وسائل تار عنکبوت ہیں۔ وان اوھن ۔۔۔ یعلمون (29: 41) ” اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ جانتے “ وہ داعی جو فتنوں اور آزمائشوں سے دوچار ہوجاتے ہیں ، جنہیں قید و بند اور تشدد و اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے ، ان کو چاہئے کہ اس حقیقت پر غور کریں اور ایک لمحے بھر کے لیے بھی اسے نظروں سے اوجھل ہونے نہ دیں ، ان کو تو اس میدان میں مختلف مزاحم قوتوں سے دوچار ہونا ہے۔ یہ قوتیں ان پر وار کرتی ہیں اور ان کو نیست و نابود کرنا چاہتی ہیں۔ بعض ایسی قوتیں ہوتی ہیں جو انہیں خریدنا چاہتی ہیں۔ یہ سب قوتیں تار عنکبوت کی طرح ہوتی ہیں بشرطیکہ کسی کا ایمان و نظریہ مضبوط ہو ، اور کوئی جانتا ہو کہ اصل اور حقیقی قوت ہے کیا ۔ ان اللہ یعلم ۔۔۔۔ من شئ (29: 42) ” یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو پکارتے ہیں ، اللہ اسے خوب جانتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے سوا بعض دوسری چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ یہ سہارے کے قابل چیزیں نہیں ہیں۔ ان کی حقیقت وہی ہے جو تمثیل سابق میں بیان کی گئی یعنی مکڑی کا جالا۔ وھو العزیز الحکیم (29: 42) ” وہی زبردست اور حکیم ہے “۔ وہی غالب ہے ، وہی قاہر ہے ، وہی حکیم ہے اور وہی اس پوری کائنات کا مدبر ہے۔ وتلک الامثال ۔۔۔۔ الا العلمون (29: 43) ” یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں “۔ مشرکین کے بعض لوگ ایسے تھے جن کے دلوں پر تالے لگے ہوئے تھے اور ان کی عقل ماری گئی تھی ، وہ لوگ اس تمثیل کے ساتھ یہ مزاح کرتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد کے رب مکھیوں اور مچھروں کی بات بھی کرتے ہیں اور اس تمثیل میں جو حقیقت بیان کی گئی تھی ، اس کو وہ سمجھ ہی نہ سکے تھے۔ نہ اس کا ان پر اثر ہوا۔ اس لیے اللہ نے فرمایا کہ وما یعقلھا الا العلمون (29: 43) ” مگر ان چیزوں کو وہی لوگ سمجھے ہیں جو عقلمند ہیں “۔ اب آخر میں ان تمام حقائق کو اس عظیم حقیقت کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے جو اس کائنات کے نقشے میں ودیعت کردی گئی ہے ، جس طرح قرآن کریم کا خاص اسلوب ہے۔

العنكبوت 29:42

مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ وما یعقلھا الا العلمون (41 – 43) یہ ایک عجیب اور سچی تصویر ہے ، ان تمام قوتوں کی جو اس کائنات میں موجود ہیں۔ اس میں ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے جس سے لوگ بالعموم غافل رہتے ہیں اور اس غفلت کی وجہ سے پھر ان کے پیمانے اور اقدار بدل جاتی ہیں۔ پھر وہ غلط رابطے قائم کرلیتے ہیں ۔ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ وہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کیا لیں اور کیا چھوڑیں۔ اس غلط سوچ کی وجہ سے وہ پھر ریاستی قوت سے بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ریاستی قوت ہی اصل قوت ہے اور سب کچھ ہے۔ اور ہر جگہ موثر ہے۔ اس لیے وہ اس قوت سے ڈرتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے کوشاں رہے ہیں وہ اس ریاستی قوت کی اذیتوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں اور اس کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کو دولت کی قوت سے بھی دھوکہ ہوتا ہے ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی قوت ہے ، جس کے نتیجے میں زندگی کی قدریں حاصل ہوتی ہیں۔ اور تمام اقدار حیات دولت کے تابع ہوتی ہیں۔ چناچہ ایسے لوگ حصول دولت کا شوق رکھتے ہیں اور زوال دولت کا انہیں ہر وقت خوف رہتا ہے۔ اور وہ حصول دولت کے لیے ہر وقت جدوجہد کرتے ہیں تاکہ اس دولت کے ذریعہ وہ لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوں اپنے زعم کے مطابق۔ یہ لوگ سائنس کی قوت کو بھی ایک بڑی قوت سمجھتے ہیں۔ اس کو بھی یہ مالی قوت اور تمام قوتوں کی بنیاد تصور کرتے ہیں ، جن کے ذریعہ کوئی شخص گرفت کرتا ہے یا چلتا پھرتا ہے۔ سائنسی قوت کے سامنے بھی لوگ اس طرح جھکتے ہیں جس طرح سائنس کوئی معبود ہے اور لوگ اس کے بندے ہیں۔ غرض انسان کو یہ سب ظاہری قوتیں دھوکہ دیتی ہیں۔ جن افراد کے پاس یہ قوتیں ہیں جن سوسائٹیوں کے پاس یہ وسائل ہیں یا جن حکومتوں کے پاس یہ قوتیں ہیں ان سے دوسرے لوگ ڈرتے ہیں اور ان کا طواف کرتے ہیں اور ان پر لوگ اس طرح فدا ہوتے ہیں جس طرح پروانہ چراغ پر گرتا ہے۔ یا جس طرح وہ آگ میں گرتا ہے۔ ان ظاہری قوتوں سے دھوکہ کھا کر انسان اس اصلی قوت کو بھول جاتا ہے جو ان حقیر قوتوں کو پیدا کرنے والی عظیم قوت ہے۔ جو ان قوتوں کی پیدا کرنے والی ہے ، جو ان سب قوتوں کی مالک ہے ، جو کسی کو یہ قوتیں عطا کرتی ہے ، جو ان قوتوں کی تسخیر کرتی ہے اور ان کا رخ جس طرف چاہتی ہے ، پھیر دیتی ہے۔ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ دنیا کی ان حقیر اور ظاہری قوتوں کے پاس پناہ لینا ، خواہ قوتیں افراد کے ہاتھ میں ہوں ، چاہے کسی سوسائٹی میں ہوں ، چاہے کسی حکومت کے پاس ہوں ، اسی طرح ہے جس طرح کوئی تار عنکبوت کا سہارا لے ، یا بیت عنکبوت میں پناہ لے۔ یہ عنکبوت تو ایک کمزور ، حقیر ، اور نہایت نرم کپڑا ہے اس کی ساخت ہی کمزور ہے۔ اور اس کا گھر بھی کمزور گھر ہے۔ وہ کسی کو کیا پناہ دے سکتا ہے۔ یاد رکھو ! کہ حمایت صرف اللہ کی حمایت ہے ، پناہ صرف اللہ کی پناہ ہے جو ایک قوی پناہ دینے والا ہے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے جو قرآن کریم مومن لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ اور ایک بار جب قرآن نے اہل ایمان کے دلوں میں یہ حقیقت بٹھا دی تھی تو وہ گروہ دنیا کا ایک طاقت ور گروہ بن گیا تھا۔ اور اس نے ان تمام ظاہری قوتوں کو روند ڈالا تھا جو اس کی راہ میں کھڑی ہوگئی تھیں۔ زمین کے تمام جباروں اور قہاروں کی گردنیں مروڑ کر جھکا دی تھیں اور بڑے بڑے قلعے مسمار کرکے رکھ دئیے تھے۔ یہ حقیقت قرآن نے اس گروہ میں کس طرح بٹھا دی تھی ؟ یہ حقیقت ہر نفس میں بیٹھ گئی تھی۔ اس سے ہر دل بھر گیا تھا۔ یہ حقیقت ان کے خون میں مل گئی تھی اور یہ ان کو رگوں میں دوڑ رہی تھی۔ یہ حقیقت صرف الفاظ کی ادائیگی تک محدود نہ تھی۔ نہ یہ ایک موضوع بحث تھی جس پر سیمینار ہوتے تھے بلکہ یہ ان نفوس میں واضح طور پر نظر آتی تھی۔ اور ان کے حس و خیال میں اس کے سوا کوئی اور بات نہ تھی۔ یہ کہ اللہ کی قوت ہی واحد قوت ہے اور اللہ کی دوستی ہی واحد دوستی ہے اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ کمزور و ناتواں ہے۔ اگرچہ بظاہر دوسری قوتیں جس قدر بھی ظلم و استبداد کریں۔ اگرچہ انہوں نے ظلم و سرکشی کی حد کردی ہو ، اگرچہ ان کے پاس گرفت اور دست درازی کے تمام وسائل ہوں اور وہ پکڑ دھکڑ کر رہے ہوں۔ یہ سب کچھ بیت عنکبوت ہے۔ یہ تمام قوتیں اور وسائل تار عنکبوت ہیں۔ وان اوھن ۔۔۔ یعلمون (29: 41) ” اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ جانتے “ وہ داعی جو فتنوں اور آزمائشوں سے دوچار ہوجاتے ہیں ، جنہیں قید و بند اور تشدد و اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے ، ان کو چاہئے کہ اس حقیقت پر غور کریں اور ایک لمحے بھر کے لیے بھی اسے نظروں سے اوجھل ہونے نہ دیں ، ان کو تو اس میدان میں مختلف مزاحم قوتوں سے دوچار ہونا ہے۔ یہ قوتیں ان پر وار کرتی ہیں اور ان کو نیست و نابود کرنا چاہتی ہیں۔ بعض ایسی قوتیں ہوتی ہیں جو انہیں خریدنا چاہتی ہیں۔ یہ سب قوتیں تار عنکبوت کی طرح ہوتی ہیں بشرطیکہ کسی کا ایمان و نظریہ مضبوط ہو ، اور کوئی جانتا ہو کہ اصل اور حقیقی قوت ہے کیا ۔ ان اللہ یعلم ۔۔۔۔ من شئ (29: 42) ” یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو پکارتے ہیں ، اللہ اسے خوب جانتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے سوا بعض دوسری چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ یہ سہارے کے قابل چیزیں نہیں ہیں۔ ان کی حقیقت وہی ہے جو تمثیل سابق میں بیان کی گئی یعنی مکڑی کا جالا۔ وھو العزیز الحکیم (29: 42) ” وہی زبردست اور حکیم ہے “۔ وہی غالب ہے ، وہی قاہر ہے ، وہی حکیم ہے اور وہی اس پوری کائنات کا مدبر ہے۔ وتلک الامثال ۔۔۔۔ الا العلمون (29: 43) ” یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں “۔ مشرکین کے بعض لوگ ایسے تھے جن کے دلوں پر تالے لگے ہوئے تھے اور ان کی عقل ماری گئی تھی ، وہ لوگ اس تمثیل کے ساتھ یہ مزاح کرتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد کے رب مکھیوں اور مچھروں کی بات بھی کرتے ہیں اور اس تمثیل میں جو حقیقت بیان کی گئی تھی ، اس کو وہ سمجھ ہی نہ سکے تھے۔ نہ اس کا ان پر اثر ہوا۔ اس لیے اللہ نے فرمایا کہ وما یعقلھا الا العلمون (29: 43) ” مگر ان چیزوں کو وہی لوگ سمجھے ہیں جو عقلمند ہیں “۔ اب آخر میں ان تمام حقائق کو اس عظیم حقیقت کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے جو اس کائنات کے نقشے میں ودیعت کردی گئی ہے ، جس طرح قرآن کریم کا خاص اسلوب ہے۔

العنكبوت 29:43

مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ وما یعقلھا الا العلمون (41 – 43) یہ ایک عجیب اور سچی تصویر ہے ، ان تمام قوتوں کی جو اس کائنات میں موجود ہیں۔ اس میں ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے جس سے لوگ بالعموم غافل رہتے ہیں اور اس غفلت کی وجہ سے پھر ان کے پیمانے اور اقدار بدل جاتی ہیں۔ پھر وہ غلط رابطے قائم کرلیتے ہیں ۔ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ وہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کیا لیں اور کیا چھوڑیں۔ اس غلط سوچ کی وجہ سے وہ پھر ریاستی قوت سے بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ریاستی قوت ہی اصل قوت ہے اور سب کچھ ہے۔ اور ہر جگہ موثر ہے۔ اس لیے وہ اس قوت سے ڈرتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے کوشاں رہے ہیں وہ اس ریاستی قوت کی اذیتوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں اور اس کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کو دولت کی قوت سے بھی دھوکہ ہوتا ہے ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی قوت ہے ، جس کے نتیجے میں زندگی کی قدریں حاصل ہوتی ہیں۔ اور تمام اقدار حیات دولت کے تابع ہوتی ہیں۔ چناچہ ایسے لوگ حصول دولت کا شوق رکھتے ہیں اور زوال دولت کا انہیں ہر وقت خوف رہتا ہے۔ اور وہ حصول دولت کے لیے ہر وقت جدوجہد کرتے ہیں تاکہ اس دولت کے ذریعہ وہ لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوں اپنے زعم کے مطابق۔ یہ لوگ سائنس کی قوت کو بھی ایک بڑی قوت سمجھتے ہیں۔ اس کو بھی یہ مالی قوت اور تمام قوتوں کی بنیاد تصور کرتے ہیں ، جن کے ذریعہ کوئی شخص گرفت کرتا ہے یا چلتا پھرتا ہے۔ سائنسی قوت کے سامنے بھی لوگ اس طرح جھکتے ہیں جس طرح سائنس کوئی معبود ہے اور لوگ اس کے بندے ہیں۔ غرض انسان کو یہ سب ظاہری قوتیں دھوکہ دیتی ہیں۔ جن افراد کے پاس یہ قوتیں ہیں جن سوسائٹیوں کے پاس یہ وسائل ہیں یا جن حکومتوں کے پاس یہ قوتیں ہیں ان سے دوسرے لوگ ڈرتے ہیں اور ان کا طواف کرتے ہیں اور ان پر لوگ اس طرح فدا ہوتے ہیں جس طرح پروانہ چراغ پر گرتا ہے۔ یا جس طرح وہ آگ میں گرتا ہے۔ ان ظاہری قوتوں سے دھوکہ کھا کر انسان اس اصلی قوت کو بھول جاتا ہے جو ان حقیر قوتوں کو پیدا کرنے والی عظیم قوت ہے۔ جو ان قوتوں کی پیدا کرنے والی ہے ، جو ان سب قوتوں کی مالک ہے ، جو کسی کو یہ قوتیں عطا کرتی ہے ، جو ان قوتوں کی تسخیر کرتی ہے اور ان کا رخ جس طرف چاہتی ہے ، پھیر دیتی ہے۔ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ دنیا کی ان حقیر اور ظاہری قوتوں کے پاس پناہ لینا ، خواہ قوتیں افراد کے ہاتھ میں ہوں ، چاہے کسی سوسائٹی میں ہوں ، چاہے کسی حکومت کے پاس ہوں ، اسی طرح ہے جس طرح کوئی تار عنکبوت کا سہارا لے ، یا بیت عنکبوت میں پناہ لے۔ یہ عنکبوت تو ایک کمزور ، حقیر ، اور نہایت نرم کپڑا ہے اس کی ساخت ہی کمزور ہے۔ اور اس کا گھر بھی کمزور گھر ہے۔ وہ کسی کو کیا پناہ دے سکتا ہے۔ یاد رکھو ! کہ حمایت صرف اللہ کی حمایت ہے ، پناہ صرف اللہ کی پناہ ہے جو ایک قوی پناہ دینے والا ہے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے جو قرآن کریم مومن لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ اور ایک بار جب قرآن نے اہل ایمان کے دلوں میں یہ حقیقت بٹھا دی تھی تو وہ گروہ دنیا کا ایک طاقت ور گروہ بن گیا تھا۔ اور اس نے ان تمام ظاہری قوتوں کو روند ڈالا تھا جو اس کی راہ میں کھڑی ہوگئی تھیں۔ زمین کے تمام جباروں اور قہاروں کی گردنیں مروڑ کر جھکا دی تھیں اور بڑے بڑے قلعے مسمار کرکے رکھ دئیے تھے۔ یہ حقیقت قرآن نے اس گروہ میں کس طرح بٹھا دی تھی ؟ یہ حقیقت ہر نفس میں بیٹھ گئی تھی۔ اس سے ہر دل بھر گیا تھا۔ یہ حقیقت ان کے خون میں مل گئی تھی اور یہ ان کو رگوں میں دوڑ رہی تھی۔ یہ حقیقت صرف الفاظ کی ادائیگی تک محدود نہ تھی۔ نہ یہ ایک موضوع بحث تھی جس پر سیمینار ہوتے تھے بلکہ یہ ان نفوس میں واضح طور پر نظر آتی تھی۔ اور ان کے حس و خیال میں اس کے سوا کوئی اور بات نہ تھی۔ یہ کہ اللہ کی قوت ہی واحد قوت ہے اور اللہ کی دوستی ہی واحد دوستی ہے اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ کمزور و ناتواں ہے۔ اگرچہ بظاہر دوسری قوتیں جس قدر بھی ظلم و استبداد کریں۔ اگرچہ انہوں نے ظلم و سرکشی کی حد کردی ہو ، اگرچہ ان کے پاس گرفت اور دست درازی کے تمام وسائل ہوں اور وہ پکڑ دھکڑ کر رہے ہوں۔ یہ سب کچھ بیت عنکبوت ہے۔ یہ تمام قوتیں اور وسائل تار عنکبوت ہیں۔ وان اوھن ۔۔۔ یعلمون (29: 41) ” اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ جانتے “ وہ داعی جو فتنوں اور آزمائشوں سے دوچار ہوجاتے ہیں ، جنہیں قید و بند اور تشدد و اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے ، ان کو چاہئے کہ اس حقیقت پر غور کریں اور ایک لمحے بھر کے لیے بھی اسے نظروں سے اوجھل ہونے نہ دیں ، ان کو تو اس میدان میں مختلف مزاحم قوتوں سے دوچار ہونا ہے۔ یہ قوتیں ان پر وار کرتی ہیں اور ان کو نیست و نابود کرنا چاہتی ہیں۔ بعض ایسی قوتیں ہوتی ہیں جو انہیں خریدنا چاہتی ہیں۔ یہ سب قوتیں تار عنکبوت کی طرح ہوتی ہیں بشرطیکہ کسی کا ایمان و نظریہ مضبوط ہو ، اور کوئی جانتا ہو کہ اصل اور حقیقی قوت ہے کیا ۔ ان اللہ یعلم ۔۔۔۔ من شئ (29: 42) ” یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو پکارتے ہیں ، اللہ اسے خوب جانتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے سوا بعض دوسری چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ یہ سہارے کے قابل چیزیں نہیں ہیں۔ ان کی حقیقت وہی ہے جو تمثیل سابق میں بیان کی گئی یعنی مکڑی کا جالا۔ وھو العزیز الحکیم (29: 42) ” وہی زبردست اور حکیم ہے “۔ وہی غالب ہے ، وہی قاہر ہے ، وہی حکیم ہے اور وہی اس پوری کائنات کا مدبر ہے۔ وتلک الامثال ۔۔۔۔ الا العلمون (29: 43) ” یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں “۔ مشرکین کے بعض لوگ ایسے تھے جن کے دلوں پر تالے لگے ہوئے تھے اور ان کی عقل ماری گئی تھی ، وہ لوگ اس تمثیل کے ساتھ یہ مزاح کرتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد کے رب مکھیوں اور مچھروں کی بات بھی کرتے ہیں اور اس تمثیل میں جو حقیقت بیان کی گئی تھی ، اس کو وہ سمجھ ہی نہ سکے تھے۔ نہ اس کا ان پر اثر ہوا۔ اس لیے اللہ نے فرمایا کہ وما یعقلھا الا العلمون (29: 43) ” مگر ان چیزوں کو وہی لوگ سمجھے ہیں جو عقلمند ہیں “۔ اب آخر میں ان تمام حقائق کو اس عظیم حقیقت کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے جو اس کائنات کے نقشے میں ودیعت کردی گئی ہے ، جس طرح قرآن کریم کا خاص اسلوب ہے۔

العنكبوت 29:44

خلق اللہ ۔۔۔۔۔ لایۃ للمؤمنین (44) ” اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے ، در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے اہل ایمان کے لیے “۔ تمام انبیاء کے قصص کے بعد یہ آیت آتی ہے اور اس تمثیل کے بعد آتی ہے جس میں اللہ کی قوت کے مقابلے میں دوسری قوتوں کو تار عنکبوت کی طرف نزار و نحیف بتایا گیا ہے۔ یہ آیت ان سب قصص و تمثیلات کے ساتھ مربوط اور ہم آہنگ ہے۔ اور ان کے درمیان ایک گہرا رابطہ ہے کہ زمین و آسمان میں وہی حقیقت بکھری ہوئی ہے اور ہر سو نظر آتی ہے۔ یہ کائنات جس ٹھوس نظام پر قائم ہے ، اس کے اندر وہی حقیقت ہے وہی قوت ہے جو اس قرآن کے اندر پوشیدہ ہے۔ ان فی ذلک لایۃ للمومنین (29: 44) ” درحقیقت اس میں نشانی ہے اہل ایمان کے لیے “۔ کہ یہ ایک عظیم نظام ہے ، ناپیدا کفار کائنات ہے اور پھر بھی باہم متصادم نہیں ہے۔ اور اہل ایمان ہی ہیں جن کے دل اس کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں کے لیے کھلے ہوتے ہیں ، جن کا نظم و نسق یہ شہادت دیتا ہے ، جس قدر بھی دور تک ہمارا مشاہدہ جائے کہ یہ کائنات ایک عظیم سچائی پر پیدا کی گئی ہے صرف اہل ایمان ہی اس سے حقیقت کو پاسکتے ہیں اس لیے کہ ان کو مومنانہ بصیرت اور بصارت حاصل ہوتی ہے اور ان کا شعور اور قوت مدرکہ تیز ہوتی ہے۔ آخر میں اس کتاب کو جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے ، ذکر و صلوٰۃ سے مربوط کردیا جاتا ہے۔ اور اس حق کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے جو اس پوری کائنات میں پوشیدہ ہے اور اس ذکر و فکر سے مربوط کیا جاتا ہے جو نوح (علیہ السلام) سے ادھر تمام انبیاء کو نکتہ دعوت رہا ہے ۔

العنكبوت 29:45

اتل ما اوحی ۔۔۔۔۔ یعلم ما تصنعون (29: 45) ” جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کیجئے بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے۔ بیشک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کام تم کرتے ہو “۔ ان کے سامنے کتاب پڑھیں کہ یہی ذریعہ دعوت اسلامی ہے ، اور ایک ربانی معجزہ ہے اور اس کتاب کے اندر بیان کردہ سچائی وہی ہے جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ سچائی ہے۔ اور نماز قائم کرو ، جب نماز قائم کی جاتی ہے تو یہ فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے ، یہ اللہ کے ساتھ ایسا رابطہ ہے کہ جب کوئی یہ رابط قائم کرتا ہے تو پھر وہ فحاشی اور منکرات کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ ظاہری اور روحانی تطہیر کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ کوئی گندگی ، ناپاکی اور میل کچیل لگا ہی نہیں کھاتی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” جو شخص ایسی نماز پڑھے جو اسے فحاشی اور منکرات سے نہ روکے تو وہ ایسی نماز سے ماسوائے اس کے کہ اللہ سے دور ہوجائے۔ اور کوئی مفاد نہ پائے گا “۔ (ابن جریر) ۔ اگر کوئی ایسی نماز پڑھتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے نماز ادا کردی لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے نماز قائم کردی۔ اور نماز ادا کرنے میں اور قائم کرنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ اگر نماز قائم کی جائے تو یہ ذکر اللہ ہوتی ہے اور ولذکر اللہ اکبر (29: 45) ” اللہ کا ذکر بہت بڑا ہوتا ہے “۔ مطلقاً وہ بڑی چیز ہوتی ہے۔ ہر تصور اور ہر جذبہ سے بڑا ہوتا ہے۔ ہر عبادت اور ہر عاجزی سے ذکر اللہ بڑا ہوتا ہے۔ واللہ یعلم ما تصنعون (29: 45) ” اور اللہ جانتا ہے جو تم بناتے ہو “۔ اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اس پر کسی امر میں التباس نہیں ہوتا۔ تم نے آخر کار اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ تمہاری تمام مصنوعات کا بدلہ تمہیں دینے والا ہے۔ درس نمبر 182 ایک نظر میں یہ سورة عنکبوت کا آخری سبق ہے۔ پہلے دو سبق پارہ 20 میں گزر چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا اس سورة کا محور آزمائش و ابتلاء ہے۔ جو لوگ بھی کلمہ حق بلند کرتے ہیں ان کی راہ میں رکاوٹیں آتی ہیں۔ فتنوں اور آزمائشوں کی بھٹی میں سے گزار کر اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان فرق واضح فرما دیتے ہیں۔ جو جس قدر گرم و سرد چشیدہ ہوگا اسی قدر وہ درجات بلند کا مالک ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں یہ بھی ذہن نشین کرایا گیا ہے کہ زمین پر موجود شیطانی قوتیں اہل ایمان کا راستہ روکنے کے لیے چاہے جس قدر زور لگائیں ، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اہل ایمان اگر ذرا صبر کریں اور مصابرت سے کام لیں تو اللہ آخر کار بدکاروں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اہل ایمان کو کامیاب کرتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسلامی دعوت کے ساتھ اللہ کی سنت کا ہمیشہ یہی معاملہ رہا ہے۔ نوح (علیہ السلام) سے لے کر آج تک یہ سنت اٹل رہی ہے۔ اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوتی اور یہ سنت اس بڑی سچائی کے ساتھ بھی مربوط ہے جو اس کائنات میں کام کر رہی ہے جس طرح اللہ کی دعوت ایک ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں اسی طرح اللہ کی سنت بھی ناقابل تغیر ہے۔ درس سابق کا خاتمہ اس بات پر ہوا تھا کہ اے رسول اور اے اہل ایمان تمہاری طرف جو آیات الٰہی نازل ہو رہی ہیں بس تم ان کی تلاوت کرتے جاؤ، ان کو سمجھو اور مطالعہ کرو اور نماز قائم کرکے ان پر عمل کرو ، اور اس بات کو ذہن میں حاضر رکھو کہ اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ بھی تم کرتے ہو۔ اس سبق میں بھی کتاب اللہ کے بارے میں بات چلتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کتاب اور کتب سابقہ کے درمیان کیا تعلق اور نسبت ہے۔ مسلمانوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ ظالموں کو چھوڑ کر دوسرے عام اہل کتاب کے ساتھ رویہ اچھا رکھو ، ان کے ساتھ اچھے انداز سے مکالمہ کرو۔ ظالم لوگ وہ ہیں جنہوں نے کتاب اللہ میں تحریف کردی اور جنہوں نے عقیدہ توحید کو بدل کر شرک کا عقیدہ اپنا لیا اور شرک ہی بہت بڑا ظلم ہے۔ اہل ایمان کی راہ اور عقیدہ یہ ہے کہ اللہ ایک ہے۔ اس کی تمام رسالتیں ایک ہیں ، کتب ایک ہیں ، یہ کہ تمام کتابیں اللہ کے نزدیک عظیم سچائی پر مشتمل ہیں اور اہل ایمان ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس کے بعد بعض ایسے اہل کتاب کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو اس آخری کتاب پر ایمان لے آئے ہیں۔ حالانکہ مکہ کے مشرکین جن کے اندر سے نبی آخر الزمان کا انتخاب ہوا ، اس پر ایمان نہیں لاتے۔ وہ اس عظیم اعزاز اور عظیم رحمت کی قدر نہیں کرتے جو اللہ نے ان کو بخشی۔ وہ اس کتاب کے اعجاز اور اس کی تعلیمات کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھیجے ہوئے رسول کو اپنے لیے غنیمت نہیں سمجھتے کہ وہ ان سے ہمکلام بھی ہے اور اللہ کا کلام بھی ان کو سنا رہا ہے جبکہ اس سے قبل مشرکین کے سامنے نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی اور نہ وہ کوئی قلم کار تھے۔ اگر حضور ﷺ مطالعہ کتب کرتے رہتے اور کتابیں لکھتے رہتے تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ انہوں نے یہ کتاب خود تصنیف کر ڈالی ہو۔ مشرکین مکہ بات بات پر یہ مطالبہ کردیتے تھے کہ اگر تم سچے ہو تو لاؤ عذاب الٰہی جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عذاب بہت ہی قریب ہے ، اور یہ جہنم کی شکل میں تمہیں گھیرے گا۔ یہ قیامت کے دن اوپر سے بھی ہوگا اور پاؤں کے نیچے سے بھی ہوگا۔ ہر طرف سے گھیر لے گا۔ اس کے بعد روئے سخن ان اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے جو مکہ میں اہل کنز کے تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر مکہ میں ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے تو وہ ہجرت کر جائیں تاکہ وہ رب واحد کی بندگی کرسکیں۔ یہ ہدایت ان کو ایک عجیب انداز میں دی جاتی ہے۔ ہجرت کے مشورہ سے ان کے دلوں میں جو پریشانیاں اور خدشات پیدا ہوتے ہیں انہیں دور کردیا جاتا ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کو دور کردیا جاتا ہے جو ان کی راہ میں حائل ہو سکتی ہیں۔ چند چنکیوں کے ساتھ ان کی قلبی حالت بدل دی جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قرآن کو نازل کرنے والا وہی خالق ہے جو اس کائنات کو پیدا کرنے والا ہے کیوں کہ انسانی دلوں کی گہرائیوں تک اثر اور ان کے اندر اس قسم کے احساسات وہی ذات پیدا کرسکتی ہے ، جس نے ان دلوں کو پیدا کیا ہے کیونکہ وہی لطیف وخبیر ہے۔ اس کے بعد روئے سخن ان مشرکین کی طرف مڑ جاتا ہے جو نظریاتی انتشار میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ وحدہ ہی خالق کائنات ، خالق ارض و سما ، مسخر شمس و قمر ہے اور وہی ہے جو آسمانوں سے پانی اتارتا ہے جس سے یہ زمین مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوجاتی ہے۔ جب وہ بحری سفر میں ہوتے ہیں تو وہ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد وہ پھر شرک کرنے لگتے ہیں۔ اللہ کی کتاب کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں ، رسول اللہ کو ناجائز اذیتیں دیتے ہیں۔ اہل ایمان کو فتنوں اور مصیبتوں میں ڈالتے ہیں۔ اہل شرک کو یہ بھی یاد دلایا جاتا ہے کہ دیکھو تمہارے لیے اس حرم کو جائے امن بنایا گیا ہے جس میں تم چین سے رہتے ہو۔ تمہارے اردگرد تمام قبائل ہر وقت خوف و ہراس میں رہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ مشرکین اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ کے ساتھ خود ساختہ الہوں کو شریک کرتے ہیں۔ اس لیے ان کو دھمکی دی جاتی ہے کہ تم جہنم رسید ہوگے اور وہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ سورة کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو کامیابی کی راہیں دکھائے گا لیکن ان اہل ایمان کو جو مومنین خالص ہوں ، جنہوں نے رکاوٹوں کو پار کرلیا ہو ، آزمائشوں سے گزر گئے ہوں اور مشکلات راہ پر قابو پالیا ہو۔ اگرچہ اس راہ کی رکاوٹیں بہت ہیں لیکن انہوں نے یہ مشکل کام کرلیا ہو۔ درس نمبر 182 تشریح آیات 45 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 69 اتل ما اوحی الیک ۔۔۔۔۔۔ ونحن لہ مسلمون (45 – 46) (اے نبی ﷺ تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو ، یقیناً نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں اور ان سے کہو کہ ” ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی ، ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کو مسلم (فرمانبردار ) ہیں “۔ وہ دعوت جس کا آغاز حضرت نوح (علیہ السلام) سے ہوا اور جس کا خاتمہ نبی ﷺ پر ہوا۔ یہ ایک ہی دعوت ہے ، ایک ہی الٰہ کی طرف سے ہے اور اس دعوت کا مقصد اور مطلوب بھی ایک ہی ہے۔ یہ کہ گمراہ انسانیت کو واپس لاکر رب العالمین کی راہ پر ڈال دیا جائے ، اللہ کی ہدایت اور منہاج کے مطابق وہ زندگی بسر کرے۔ جو لوگ سابقہ رسولوں کی دعوت پر ایمان لاتے رہے ہیں وہ اہل ایمان کے بھائی ہیں۔ سب ایک ہی امت ہیں ، ایک ہی الٰہ کی بندگی کرتے ہیں۔ انسانیت اپنے ہر دور اور ہر زمان و مکان میں دو گروہوں میں بٹی رہی ہے۔ ایک گروہ مومنین کا ہے جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے اور دوسرا گروہ اللہ کے دشمنوں کا ہے اور یہ حزب الشیاطین کے نام سے موسوم ہیں۔ اس سلسلے میں کسی زمان و مکان میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ لہٰذا زمانہ قدیم سے لے کر آج تک مومنین ایک پارٹی ہیں اور اہل کفر ایک پارٹی ہیں۔ یہ ایک عظیم اور بلند حقیقت ہے جس کے اوپر اسلام قائم ہے اور جسے اس آیت میں منضبط کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان میں پائے جانے والے تعلقات اور روابط کو محض خون ، نسب ، قومیت ، وطن ، تجارت اور مفادات سے بلند کرکے انہیں الٰہ واحد کی اساس پر قائم کرتی ہے۔ تمام انسانوں کا ایمان ایک ایسے نظریہ حیات پر ہو جس میں تمام رنگوں اور تمام نسلوں کے لوگ پگھل جائیں۔ تمام قومتیں ختم ہوں خواہ نسلی ہوں یا وطنی ہوں اور جس میں زمان و مکان کی دوریاں غائب ہوں اور تمام انسانوں نے ایک ہی مضبوط رسی کو پکڑ رکھا ہو۔ خالق کائنات اور شارع کائنات کی رسی کو۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کو اہل کتاب کے ساتھ مکالمے اور مجادلے سے منع کیا جاتا ہے ماسوائے اس کے کہ یہ مجادلہ نہایت ہی مستحسن طریقے سے ہو۔ مسلمانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے اور سابقہ رسل کی تعلیم اور رسالت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو اس تاریخی اسلامی دعوت کی آخری شکل یعنی دین اسلام پر اکتفاء کرنا چاہئے ، جو تمام سابقہ دعوتوں کے مطابق ہے۔ جو تمام سابقہ دعوتوں اور رسالتوں کی تکمیل ہے۔ یہ آخری صورت اس کو اللہ کے علم و حکمت نے دی ہے جو انسانوں کی مصلحت خود انسانوں سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ الا الذین ظلموا منھم (29: 46) ” سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں “۔ جنہوں نے توحید سے انحراف کیا ، جو اسلامی نظریہ حیات کا سنگ اساس ہے ، جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کی اور جنہوں نے اسلام کو بحیثیت منہاج حیات چھوڑ دیا ، کیونکہ ایسے لوگوں کے ساتھ نہ نرمی ہے اور نہ ایسے لوگوں کے ساتھ مکالمے کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی ظالم لوگوں کے ساتھ اسلام نے اس وقت جنگ کی ، جب مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی۔ بعض لوگوں نے نبی ﷺ پر یہ الزام لگایا کہ مکہ میں جب اہل شرک نبی ﷺ کے ساتھ سخت برتاؤ کر رہے تھے تو آپ نے یہ باتیں کہیں کہ اہل کتاب کے ساتھ نرمی اور احسان کا طریقہ اختیار کیا جائے مگر جب مدینہ میں آپ کی حکومت قائم ہوگئی تو آپ نے اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ شروع کردیا اور جنگیں لڑیں اور مکی اقوال کے خلاف طرز عمل اختیار کیا۔ یہ بہت بڑا بہتان ہے اور خود یہ مکی آیت اس کا انکار کر رہی ہے ۔ اسلام صرف ان اہل کتاب کے ساتھ نرم برتاؤ کرنے کی اجازت دیتا ہے ، جو ظالم اور مشرک نہ ہوں ، اپنے اصل دین پر ہوں اور سابقہ رسولوں کی ہدایات کے مطابق صحیح توحید پہ قائم ہوں۔ وقولوا امنا بالذی ۔۔۔۔۔۔ لہ مسلمون (29: 46) ” اور ان سے کہو کہ ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی اور ہمارا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے مسلم ہیں “۔ لہٰذا بحث و اختلاف کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے اور جدل وجدال بےمحل ہے۔ ہم سب اللہ واحد کو خدا مانتے ہیں۔ اہل ایمان تو قرآن پر بھی ایمان لاتے ہیں اور انبیائے سابقہ کی کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ اسلام کی ایک ہی زنجیر ہے اور تمام نبوتیں اس کی کڑیاں ہیں۔

العنكبوت 29:46

اتل ما اوحی ۔۔۔۔۔ یعلم ما تصنعون (29: 45) ” جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کیجئے بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے۔ بیشک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کام تم کرتے ہو “۔ ان کے سامنے کتاب پڑھیں کہ یہی ذریعہ دعوت اسلامی ہے ، اور ایک ربانی معجزہ ہے اور اس کتاب کے اندر بیان کردہ سچائی وہی ہے جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ سچائی ہے۔ اور نماز قائم کرو ، جب نماز قائم کی جاتی ہے تو یہ فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے ، یہ اللہ کے ساتھ ایسا رابطہ ہے کہ جب کوئی یہ رابط قائم کرتا ہے تو پھر وہ فحاشی اور منکرات کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ ظاہری اور روحانی تطہیر کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ کوئی گندگی ، ناپاکی اور میل کچیل لگا ہی نہیں کھاتی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” جو شخص ایسی نماز پڑھے جو اسے فحاشی اور منکرات سے نہ روکے تو وہ ایسی نماز سے ماسوائے اس کے کہ اللہ سے دور ہوجائے۔ اور کوئی مفاد نہ پائے گا “۔ (ابن جریر) ۔ اگر کوئی ایسی نماز پڑھتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے نماز ادا کردی لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے نماز قائم کردی۔ اور نماز ادا کرنے میں اور قائم کرنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ اگر نماز قائم کی جائے تو یہ ذکر اللہ ہوتی ہے اور ولذکر اللہ اکبر (29: 45) ” اللہ کا ذکر بہت بڑا ہوتا ہے “۔ مطلقاً وہ بڑی چیز ہوتی ہے۔ ہر تصور اور ہر جذبہ سے بڑا ہوتا ہے۔ ہر عبادت اور ہر عاجزی سے ذکر اللہ بڑا ہوتا ہے۔ واللہ یعلم ما تصنعون (29: 45) ” اور اللہ جانتا ہے جو تم بناتے ہو “۔ اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اس پر کسی امر میں التباس نہیں ہوتا۔ تم نے آخر کار اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ تمہاری تمام مصنوعات کا بدلہ تمہیں دینے والا ہے۔ درس نمبر 182 ایک نظر میں یہ سورة عنکبوت کا آخری سبق ہے۔ پہلے دو سبق پارہ 20 میں گزر چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا اس سورة کا محور آزمائش و ابتلاء ہے۔ جو لوگ بھی کلمہ حق بلند کرتے ہیں ان کی راہ میں رکاوٹیں آتی ہیں۔ فتنوں اور آزمائشوں کی بھٹی میں سے گزار کر اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان فرق واضح فرما دیتے ہیں۔ جو جس قدر گرم و سرد چشیدہ ہوگا اسی قدر وہ درجات بلند کا مالک ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں یہ بھی ذہن نشین کرایا گیا ہے کہ زمین پر موجود شیطانی قوتیں اہل ایمان کا راستہ روکنے کے لیے چاہے جس قدر زور لگائیں ، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اہل ایمان اگر ذرا صبر کریں اور مصابرت سے کام لیں تو اللہ آخر کار بدکاروں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اہل ایمان کو کامیاب کرتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اسلامی دعوت کے ساتھ اللہ کی سنت کا ہمیشہ یہی معاملہ رہا ہے۔ نوح (علیہ السلام) سے لے کر آج تک یہ سنت اٹل رہی ہے۔ اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوتی اور یہ سنت اس بڑی سچائی کے ساتھ بھی مربوط ہے جو اس کائنات میں کام کر رہی ہے جس طرح اللہ کی دعوت ایک ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں اسی طرح اللہ کی سنت بھی ناقابل تغیر ہے۔ درس سابق کا خاتمہ اس بات پر ہوا تھا کہ اے رسول اور اے اہل ایمان تمہاری طرف جو آیات الٰہی نازل ہو رہی ہیں بس تم ان کی تلاوت کرتے جاؤ، ان کو سمجھو اور مطالعہ کرو اور نماز قائم کرکے ان پر عمل کرو ، اور اس بات کو ذہن میں حاضر رکھو کہ اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ بھی تم کرتے ہو۔ اس سبق میں بھی کتاب اللہ کے بارے میں بات چلتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کتاب اور کتب سابقہ کے درمیان کیا تعلق اور نسبت ہے۔ مسلمانوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ ظالموں کو چھوڑ کر دوسرے عام اہل کتاب کے ساتھ رویہ اچھا رکھو ، ان کے ساتھ اچھے انداز سے مکالمہ کرو۔ ظالم لوگ وہ ہیں جنہوں نے کتاب اللہ میں تحریف کردی اور جنہوں نے عقیدہ توحید کو بدل کر شرک کا عقیدہ اپنا لیا اور شرک ہی بہت بڑا ظلم ہے۔ اہل ایمان کی راہ اور عقیدہ یہ ہے کہ اللہ ایک ہے۔ اس کی تمام رسالتیں ایک ہیں ، کتب ایک ہیں ، یہ کہ تمام کتابیں اللہ کے نزدیک عظیم سچائی پر مشتمل ہیں اور اہل ایمان ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس کے بعد بعض ایسے اہل کتاب کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو اس آخری کتاب پر ایمان لے آئے ہیں۔ حالانکہ مکہ کے مشرکین جن کے اندر سے نبی آخر الزمان کا انتخاب ہوا ، اس پر ایمان نہیں لاتے۔ وہ اس عظیم اعزاز اور عظیم رحمت کی قدر نہیں کرتے جو اللہ نے ان کو بخشی۔ وہ اس کتاب کے اعجاز اور اس کی تعلیمات کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھیجے ہوئے رسول کو اپنے لیے غنیمت نہیں سمجھتے کہ وہ ان سے ہمکلام بھی ہے اور اللہ کا کلام بھی ان کو سنا رہا ہے جبکہ اس سے قبل مشرکین کے سامنے نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی اور نہ وہ کوئی قلم کار تھے۔ اگر حضور ﷺ مطالعہ کتب کرتے رہتے اور کتابیں لکھتے رہتے تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ انہوں نے یہ کتاب خود تصنیف کر ڈالی ہو۔ مشرکین مکہ بات بات پر یہ مطالبہ کردیتے تھے کہ اگر تم سچے ہو تو لاؤ عذاب الٰہی جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عذاب بہت ہی قریب ہے ، اور یہ جہنم کی شکل میں تمہیں گھیرے گا۔ یہ قیامت کے دن اوپر سے بھی ہوگا اور پاؤں کے نیچے سے بھی ہوگا۔ ہر طرف سے گھیر لے گا۔ اس کے بعد روئے سخن ان اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے جو مکہ میں اہل کنز کے تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر مکہ میں ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے تو وہ ہجرت کر جائیں تاکہ وہ رب واحد کی بندگی کرسکیں۔ یہ ہدایت ان کو ایک عجیب انداز میں دی جاتی ہے۔ ہجرت کے مشورہ سے ان کے دلوں میں جو پریشانیاں اور خدشات پیدا ہوتے ہیں انہیں دور کردیا جاتا ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کو دور کردیا جاتا ہے جو ان کی راہ میں حائل ہو سکتی ہیں۔ چند چنکیوں کے ساتھ ان کی قلبی حالت بدل دی جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قرآن کو نازل کرنے والا وہی خالق ہے جو اس کائنات کو پیدا کرنے والا ہے کیوں کہ انسانی دلوں کی گہرائیوں تک اثر اور ان کے اندر اس قسم کے احساسات وہی ذات پیدا کرسکتی ہے ، جس نے ان دلوں کو پیدا کیا ہے کیونکہ وہی لطیف وخبیر ہے۔ اس کے بعد روئے سخن ان مشرکین کی طرف مڑ جاتا ہے جو نظریاتی انتشار میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ وحدہ ہی خالق کائنات ، خالق ارض و سما ، مسخر شمس و قمر ہے اور وہی ہے جو آسمانوں سے پانی اتارتا ہے جس سے یہ زمین مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوجاتی ہے۔ جب وہ بحری سفر میں ہوتے ہیں تو وہ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد وہ پھر شرک کرنے لگتے ہیں۔ اللہ کی کتاب کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں ، رسول اللہ کو ناجائز اذیتیں دیتے ہیں۔ اہل ایمان کو فتنوں اور مصیبتوں میں ڈالتے ہیں۔ اہل شرک کو یہ بھی یاد دلایا جاتا ہے کہ دیکھو تمہارے لیے اس حرم کو جائے امن بنایا گیا ہے جس میں تم چین سے رہتے ہو۔ تمہارے اردگرد تمام قبائل ہر وقت خوف و ہراس میں رہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ مشرکین اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ کے ساتھ خود ساختہ الہوں کو شریک کرتے ہیں۔ اس لیے ان کو دھمکی دی جاتی ہے کہ تم جہنم رسید ہوگے اور وہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ سورة کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو کامیابی کی راہیں دکھائے گا لیکن ان اہل ایمان کو جو مومنین خالص ہوں ، جنہوں نے رکاوٹوں کو پار کرلیا ہو ، آزمائشوں سے گزر گئے ہوں اور مشکلات راہ پر قابو پالیا ہو۔ اگرچہ اس راہ کی رکاوٹیں بہت ہیں لیکن انہوں نے یہ مشکل کام کرلیا ہو۔ درس نمبر 182 تشریح آیات 45 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 69 اتل ما اوحی الیک ۔۔۔۔۔۔ ونحن لہ مسلمون (45 – 46) (اے نبی ﷺ تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو ، یقیناً نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں اور ان سے کہو کہ ” ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی ، ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کو مسلم (فرمانبردار ) ہیں “۔ وہ دعوت جس کا آغاز حضرت نوح (علیہ السلام) سے ہوا اور جس کا خاتمہ نبی ﷺ پر ہوا۔ یہ ایک ہی دعوت ہے ، ایک ہی الٰہ کی طرف سے ہے اور اس دعوت کا مقصد اور مطلوب بھی ایک ہی ہے۔ یہ کہ گمراہ انسانیت کو واپس لاکر رب العالمین کی راہ پر ڈال دیا جائے ، اللہ کی ہدایت اور منہاج کے مطابق وہ زندگی بسر کرے۔ جو لوگ سابقہ رسولوں کی دعوت پر ایمان لاتے رہے ہیں وہ اہل ایمان کے بھائی ہیں۔ سب ایک ہی امت ہیں ، ایک ہی الٰہ کی بندگی کرتے ہیں۔ انسانیت اپنے ہر دور اور ہر زمان و مکان میں دو گروہوں میں بٹی رہی ہے۔ ایک گروہ مومنین کا ہے جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے اور دوسرا گروہ اللہ کے دشمنوں کا ہے اور یہ حزب الشیاطین کے نام سے موسوم ہیں۔ اس سلسلے میں کسی زمان و مکان میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ لہٰذا زمانہ قدیم سے لے کر آج تک مومنین ایک پارٹی ہیں اور اہل کفر ایک پارٹی ہیں۔ یہ ایک عظیم اور بلند حقیقت ہے جس کے اوپر اسلام قائم ہے اور جسے اس آیت میں منضبط کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان میں پائے جانے والے تعلقات اور روابط کو محض خون ، نسب ، قومیت ، وطن ، تجارت اور مفادات سے بلند کرکے انہیں الٰہ واحد کی اساس پر قائم کرتی ہے۔ تمام انسانوں کا ایمان ایک ایسے نظریہ حیات پر ہو جس میں تمام رنگوں اور تمام نسلوں کے لوگ پگھل جائیں۔ تمام قومتیں ختم ہوں خواہ نسلی ہوں یا وطنی ہوں اور جس میں زمان و مکان کی دوریاں غائب ہوں اور تمام انسانوں نے ایک ہی مضبوط رسی کو پکڑ رکھا ہو۔ خالق کائنات اور شارع کائنات کی رسی کو۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کو اہل کتاب کے ساتھ مکالمے اور مجادلے سے منع کیا جاتا ہے ماسوائے اس کے کہ یہ مجادلہ نہایت ہی مستحسن طریقے سے ہو۔ مسلمانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے اور سابقہ رسل کی تعلیم اور رسالت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو اس تاریخی اسلامی دعوت کی آخری شکل یعنی دین اسلام پر اکتفاء کرنا چاہئے ، جو تمام سابقہ دعوتوں کے مطابق ہے۔ جو تمام سابقہ دعوتوں اور رسالتوں کی تکمیل ہے۔ یہ آخری صورت اس کو اللہ کے علم و حکمت نے دی ہے جو انسانوں کی مصلحت خود انسانوں سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ الا الذین ظلموا منھم (29: 46) ” سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں “۔ جنہوں نے توحید سے انحراف کیا ، جو اسلامی نظریہ حیات کا سنگ اساس ہے ، جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کی اور جنہوں نے اسلام کو بحیثیت منہاج حیات چھوڑ دیا ، کیونکہ ایسے لوگوں کے ساتھ نہ نرمی ہے اور نہ ایسے لوگوں کے ساتھ مکالمے کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی ظالم لوگوں کے ساتھ اسلام نے اس وقت جنگ کی ، جب مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی۔ بعض لوگوں نے نبی ﷺ پر یہ الزام لگایا کہ مکہ میں جب اہل شرک نبی ﷺ کے ساتھ سخت برتاؤ کر رہے تھے تو آپ نے یہ باتیں کہیں کہ اہل کتاب کے ساتھ نرمی اور احسان کا طریقہ اختیار کیا جائے مگر جب مدینہ میں آپ کی حکومت قائم ہوگئی تو آپ نے اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ شروع کردیا اور جنگیں لڑیں اور مکی اقوال کے خلاف طرز عمل اختیار کیا۔ یہ بہت بڑا بہتان ہے اور خود یہ مکی آیت اس کا انکار کر رہی ہے ۔ اسلام صرف ان اہل کتاب کے ساتھ نرم برتاؤ کرنے کی اجازت دیتا ہے ، جو ظالم اور مشرک نہ ہوں ، اپنے اصل دین پر ہوں اور سابقہ رسولوں کی ہدایات کے مطابق صحیح توحید پہ قائم ہوں۔ وقولوا امنا بالذی ۔۔۔۔۔۔ لہ مسلمون (29: 46) ” اور ان سے کہو کہ ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی اور ہمارا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے مسلم ہیں “۔ لہٰذا بحث و اختلاف کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے اور جدل وجدال بےمحل ہے۔ ہم سب اللہ واحد کو خدا مانتے ہیں۔ اہل ایمان تو قرآن پر بھی ایمان لاتے ہیں اور انبیائے سابقہ کی کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ اسلام کی ایک ہی زنجیر ہے اور تمام نبوتیں اس کی کڑیاں ہیں۔

العنكبوت 29:47

وکذلک انزلنا الیک ۔۔۔۔۔۔ بایتنا الا الکفرون (47) ” اسی طرح “ یعنی ایک ہی مسلسل اور تاریخی منہاج کے مطابق ، ایک ہی سنت الہیہ کے مطابق جو اٹل ہے اور اسی طریقے کے مطابق جس کے ذریعے اللہ ہمیشہ رسولوں کو ہدایت دیتا رہا ہے۔ وکذلک انزلنا الیک الکتب (29: 47) ” اے نبی ﷺ ، ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے “۔ اور جب کتاب نازل کی تو لوگ اس کے مقابلے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو اہل کتاب میں سے بھی تھے اور قریش میں سے بھی تھے وہ تو ایمان لے آئے اور دوسرا گروہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب کے ایمان اور شہادت کے بعد بھی اس کو تسلیم نہیں کرتے حالانکہ وہ اس کی سچائی کی تصدیق کرچکے ہیں۔ وما یجحد بایتنا الا الکفرون (29: 47) ” اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں “۔ یعنی یہ آیات اس قدر واضح ہیں ، اس قدر سیدھی ہیں کہ ان کا انکار وہی شخص کرسکتا ہے جس کی عقل پر پردے پڑگئے ہوں ، جس کی روح مستور ہو ، اور وہ اس قابل ہی نہ رہی ہو کہ سچائی کو دیکھ سکے۔ کفر کے حقیقی معنی ہی چھپانے اور پردوں میں ڈالنے کے ہیں۔ یہاں قرآن نے جو انداز بیان اختیار کیا ہے اس میں کفر کے اصطلاحی معنوں کے ساتھ لغوی معنی بھی ملحوظ رکھے گئے ہیں۔

العنكبوت 29:48

وما کنت تتلوا ۔۔۔۔۔ لارتاب المبطلون (48) قرآن کریم کفار کے شبہات کا پیچھا کرتا ہے ، یہاں تک کہ ان کے بچگانہ اعتراضات اور شبہات کا بھی دفعیہ کردیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے زندگی کا طویل ترین حصہ کفار مکہ کے درمیان بسر کیا تھا۔ آپ نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ لکھ سکتے تھے۔ اچانک انہوں نے ایسی عجیب کتاب پیش کی جس نے تمام پڑھے لکھے لوگوں اور لکھنے والوں کو عاجز کردیا۔ اگر حضور اکرم ﷺ نزول قرآن سے قبل پڑھے لکھے ہوتے تو کفار مکہ جائز طور پر اعتراض کرتے کہ حضور ﷺ خود تصنیف کر رہے ہیں لہٰذا اب وہ جو اعتراضات کرتے ہیں وہ بےبنیاد ہے۔ میں کہتا ہوں قرآن کریم ان کے لغو اور بچگانہ سوالات کا بھی جواب دیتا ہے۔ ورنہ اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ پڑھے لکھے تھے تو پھر بھی قرآن کریم پر ان کے لیے شبہ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ کیونکہ اگر قرآن کریم پر بذات خود غور کیا جائے تو یہ ایک معجز کتاب ہے اور انسانوں کی تصنیف کردہ کتاب نہیں ہے۔ یہ انسانی قوت اور معرفت کے حدود سے باہر ہے۔ انسانی علم و معرفت کی حدود سے اس کے مضامین وراء ہیں۔ قرآن کریم میں جو سچائی درج ہے وہ بےقید سچائی ہے جس طرح اس کائنات کے اندر موجود سچائی بےقید ہے۔ انسان جب بھی نصوص قرآنی پر غور کرتا ہے ، اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن کی پشت پر بےپناہ قوت ہے۔ قرآن کریم کی عبادت میں بھی ایک عظیم شوکت ہے اور یہ قوت اور یہ شوکت کلام انسانی طاقت سے وراء ہے

العنكبوت 29:49

بل ھو ایت بینت ۔۔۔۔۔ بایتنا الا الظلمون (49) ” دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے ، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں “۔ یہ قرآن اہل علم کے لیے واضح دلائل پر مشتمل ہے جن میں کوئی التباس اور پیچیدگی نہیں ہے نہ کوئی شبہ اور شک ہے۔ یہ ایسے دلائل ہیں جو لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں ، لوگوں کے دل ان دلائل پر مطمئن ہیں اس لیے اہل علم قرآن آیات پر کوئی مزید دلیل طلب نہیں کرتے۔ وہ علم جس پر لفظ علم کا اطلاق کیا جاسکتا ہے وہ ان لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ وہ بصورت ملکہ منتقلاً وہاں بیٹھا ہے۔ وہ دلوں سے پھوٹتا ہے ، وہ دلوں کی راہنمائی کرتا ہے اور سیدھا منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ وما یجحد بایتنا الا الظلمون (29: 49) ” اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ لوگ جو ظالم ہیں “۔ جو حقیقت اور معاملات کا صحیح اندازہ نہیں کرتے اور جو صراط مستقیم کو چھوڑ کر ٹیڑھی راہوں پر چلتے ہیں۔

العنكبوت 29:50

وقالوا لو لا ۔۔۔۔۔ انا نذیر مبین (50) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” کیوں نہ اتاری گئیں اس شخص پر نشانیاں اس کے رب کی طرف سے ؟ “ کہو ” نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر “۔ ان معجزات اور نشانیوں سے ان کو مراد وہ معجزات اور نشانیاں ہیں جو آغاز انسانیت بھی انسانیت کے دور طفولیت میں ان کے سامنے پیغمبروں نے پیش کیں ، یعنی مادی معجزات۔ اور یہ معجزات صرف ان لوگوں کے لیے حجت ہوتے تھے جو ان کو دیکھتے تھے۔ جبکہ نبی ﷺ کی رسالت وہ آخری اور دائمی رسالت ہے جو ان تمام لوگوں کے لیے حجت ہے جن تک اس کی دعوت پہنچ جائے اور یہ رسالت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انسانیت موجود ہے اور یہ دنیا قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس رسالت کو ایک ایسی معجز کتاب دی ہے جو ہمیشہ پڑھی جاتی ہے اور جس کا اعجاز ختم نہیں ہوتا۔ اور جس کے کمالات و عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اللہ کے لیے قرآن کے خزانوں کا علیحدہ ذخیرہ ظاہر ہوتا رہتا ہے اور اس کے یہ معجزات اور دلائل ہر دور کے اہل علم کے سینوں میں موجود رہتے ہیں۔ جب بھی اہل علم اس پر غور کرتے ہیں وہ اس کتاب کے اعجاز اور معجزات کو پاتے ہیں اور وہ اچھی طرح محسوس کرلیتے ہیں کہ قرآن کریم کو یہ عظمت اور شوکت کس سرچشمے سے ملی ہے۔ قل انما الایت عنداللہ (29: 50) ” کہو ، نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں “۔ اور اللہ اپنی نشانیاں اس وقت ظاہر کرتا ہے جب ان کی حاجت اور ضرورت ہو۔ اور یہ سب کام ، اللہ کے نظام تدبیر اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے اس لیے میں اس سلسلے میں نہ کوئی تجویز دے سکتا ہوں اور نہ مطالبہ کرسکتا ہوں ۔ یہ میرے لائق نہیں ہے اور نہ ہی یہ میری عادت ہے۔ وانما انا نذیر مبین (29: 50) ” میں صرف خبردار کرنے والا ہوں ، کھول کھول کر “۔ میں ڈراتا ہوں اور خبردار کرتا ہوں اور لوگوں کے سامنے حقائق کھول کھول کر بیان کرتا ہوں اور یہی میرا فریضہ ہے جس میں ادا کرتا ہوں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ اللہ کی تقدیر و تدبیر کے مطابق ہوگا۔ اس طرح اللہ اسلامی نظریہ حیات کو ہر شک اور شبہ سے پاک کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے منصب اور مقام کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی صفات اور الٰہ واحد وقہار کی صفات کے درمیان امتیاز کردیا جاتا ہے۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کے ارد گرد سے شبہات کے وہ بادل چھٹ جاتے ہیں جو ان رسولوں کی شخصیات کے ساتھ وابستہ ہوگئے تھے جن کو مادی معجزات دئیے گئے کیونکہ سابقہ رسولوں کی صفات کو خدائی صفات کے ساتھ ملا دیا گیا تھا اور لوگوں نے ان رسولوں کی شخصیات کو اوہام و خرافات سے گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے ان کے عقائد کے اندر بہت بڑا انحراف واقعہ ہوگیا۔ یہ لوگ جو مادی معجزات طلب کر رہے ہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکے اور نہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکے ہیں کہ اللہ نے تو قرآن نازل کرکے ان پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔

العنكبوت 29:51

اولم یکفھم ۔۔۔۔۔ لقوم یؤمنون (51) یہ ان کی جانب سے اللہ کی نعمتوں اور مہربانیوں کی ناشکری ہے ، حالانکہ اللہ کے انعامات شکر اور قدردانی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ یہ لوگ اس قرآن کے ساتھ آسمانوں میں پہنچ جائیں اور دیکھیں کہ یہ آسمانوں سے نازل ہو رہا ہے اور آسمانوں سے آکر وہ ان کے دلوں کے تاروں کو چھیڑ رہا ہے۔ ان کے دلوں کی بات کرتا ہے۔ ان کے ماحول کی باتیں کرتا ہے۔ ان کو یہ شعور دلاتا ہے کہ اللہ کی ان پر ہر وقت نظر ہے۔ اللہ کے ہاں تمہاری بہت اہمیت ہے کہ وہ تمہارے امور سے بحث کرتا ہے۔ تمہیں قصص سناتا ہے جبکہ اے انسان تو تو اللہ کی اس وسیع کائنات میں ایک مچھر سے بھی زیادہ کمزور اور چھوٹا ہے۔ بلکہ اے انسان تو ، تمہاری یہ زمین اور تمہارا یہ شمس و قمر تو اللہ کی اس کائنات میں اس طرح ہیں جس طرح پرکاہ اس زمین کے مقابلے میں اور یہ پرکاہ بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے ، لیکن اس کے باوجود اللہ نے تمہیں مکرم بنایا ہے اور وہ رم پر بلندیوں سے یہ قرآن نازل کرتا ہے لیکن تم پھر بھی اس کی قدر نہیں کرتے ہو ؟ ان فی ذلک ۔۔۔۔۔ یومنون (29: 51) ” بیشک اس میں رحمت ہے اور نصیحت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں “۔ اس لیے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہی لوگ اس رحمت و شفقت کا احساس کرسکتے ہیں۔ اور وہی لوگ اس بات کا شعور حاصل کرسکتے ہیں کہ قرآن کو نازل کرکے اللہ نے اپنے بندوں پر کس قدر رحمت و شفقت فرمائی۔ یہی لوگ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ جو بہت ہی بلند مرتبہ ہے ، جو بہت ہی عظمتوں والا ہے وہ اس ناچیز انسان کو اپنے اس دستر خوان پر بلاتا ہے۔ ایسے ہی لوگ اس قرآن سے نفع حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ یہ تو مطالعہ کرنے والے کے لیے آب حیات ہے اور اس کے ذریعہ مومن اور متدبر پر بےپناہ خزانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں ، اور ان کی روحوں کے اندر یہ قرآن ایک روشنی اور اشتراق پیدا کردیتا ہے۔ جن لوگوں کو ان امور کا شعور نہیں دیا گیا ، وہ حقیر مادی معجزات طلب کرتے ہیں اور حقیر معجزات کے ذریعے وہ اس عظیم اور ابدی معجزے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی شخصیت مسخ ہوچکی ہے اس لیے ان کے دل اس نور کے لئے نہیں کھلتے لہٰذا ایسے لوگوں پر اپنا وقت نہ ضائع کرو۔ ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ ان کا فیصلہ وہی کرے گا۔

العنكبوت 29:52

قل کفی باللہ بینی ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (52) وہ ذات جو جہانوں کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے اس کی شہادت سے بڑی شہادت کس کی ہوسکتی ہے اور اللہ اپنے علم سے شہادت دے رہا ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (29: 52) ” جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ مطلقاًخسارے میں ہیں ۔ ہر چیز سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ دنیاو آخرت دونوں ہار چکے ہیں ۔ اپنی ذلمت ، شخصیت ، ہدایت ، استقا مت ، اطمینان ، سچائی اور نور سب چیزوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اللہ کی ذات پر ایمان لا نا بھی ایک عمل اور کمائی ہے ۔ یہ بذات خود اچھی کمائی ہے ۔ اس پر اللہ اپنے فضل وکرم سے اجر دیتا ہے ۔ اجردیتا ہے ۔ اجر یہ کہ ایمان سے قلبی اطمینان اور زندگی کی راہوں کا تعین ہوجاتا ہے ۔ جو داقعات بھی اس زندگی میں پیش آئیں ، بندئہ مومن ان کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے ، وہ اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ اللہ کی حمایت کا طلبگار اور امیدوار ہوتا ہے اور اسے اچھے انجام کا یقین ہوتا ہے یہ بذات خود ایک کسب ہے ، ایک کمائی ہے جس سے کافر محروم ہوتے ہیں ۔ اولئک ھم الخسرون (29: 52) ” وہی لوگ خسارے میں ہوتے ہیں “۔ اب مشرکین کی بحث ذرا آگے بڑھتی ہے کہ یہ لوگ عذاب کے آنے میں عجلت کرتے ہیں حالانکہ جہنم تو ان کے بہت ہی قریب ہے ۔ ویستعجلونک بالعذاب ۔۔۔۔۔ ویقول ذوقوا ما کنتم تعملون (53 – 55) مشرکین نبی ﷺ کی جانب سے ڈراوے اور تخویف کی آیات سنتے تھے ، لیکن ان کی سمجھ میں یہ حکمت نہ آتی تھی کہ پھر ان کے کفر کی وجہ سے ان پر یہ عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اس مہلت کی وجہ سے بےباک ہو کر نبی ﷺ سے بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ حالانکہ بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرمین کو حد سے گزرنے کی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ سرکشی اور فساد کی آخری حدوں کو چھو لیں۔ پھر عذاب آجاتا ہے یا یہ مہلت اس لیے طویل ہوجاتی ہے کہ اللہ اہل ایمان کا امتحان لیان چاہتا ہے تاکہ وہ بہت زیادہ ثابت قدم اور پختہ مومن بن جائیں اور ان کی صفوں سے وہ شخص نکل جائے جو صبر و ثبات نہیں رکھتا۔ یا یہ مہلت اس لیے ہوتی ہے۔ اللہ علیم وخبیر ہے اور اسے معلوم ہے کہ اہل کفر کی صفوں میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حق کی راہیں تلاش کرکے ہدایت پر آجائیں گے یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہوتے ہیں جو راہ ہدایت پالینے والے ہوں گے۔ وہ اللہ کی پارٹی میں شامل ہوں گے اگرچہ ان کے والدین مشرک ہوں۔ ان کے علاوہ بھی اللہ کی مصلحتیں ہوسکتی ہیں جو وہ خود جانتا ہے اور جو ہم سے مستور ہیں۔ ان مشرکین کو ایسا فہم و ادراک حاصل نہ تھا کہ وہ اللہ کی ان حکمتوں اور تدبیروں کو سمجھ سکیں ۔ اس لیے وہ علی سبیل التحدی اور بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے لیکن ولولا اجل مسمی لجآءھم العذاب (29: 53) ” اگر ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا “۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس حکمت کے بیان کے درمیان میں بھی ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ جس عذاب کے بارے میں تمہیں جلدی ہے وہ اچانک ہی تم پر آجائے گا لیکن اس وقت تمہیں اس کا انتظار اور توقع نہ ہوگی اور جب یہ اچانک آجائے گا تو یہ لوگ مبہوث ہو کر رہ جائیں گے۔ ولیاتینھم ۔۔۔۔ لایشعرون (29: 53) ” اور یقیناً وہ آکر رہے گا اچانک اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی “۔ اور بعد میں بدر کے میدان میں ان پر یہ عذاب آیا۔ اللہ کا کہنا سچ ہوکر رہا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ کا وعدہ کس قدر سچا ہوتا ہے۔ اللہ نے ان پر ایسا جامع اور ہمہ گیر عذاب نازل نہ کیا جس طرح پہلی اقوام پر آیا اور اللہ نے مادی معجزات کے اظہار کا مطالبہ بھی قبول نہ کیا جس طرح پہلی اقوام کی معجزات دکھائے گئے۔ انہوں نے انکار کیا اور ان پر ہمہ گیر عذاب آیا۔ وہ نیست و نابود ہوئے کیونکہ ان میں ایسے لوگ موجود تھے جو علم الٰہی کے مطابق زمانہ مابعد میں ایمان لانے والے تھی۔ جو اسلامی لشکر کے بہترین لوگ بننے والے تھے اور ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے ازمنہ مابعد میں طویل عرصہ تک اسلام کے جھنڈے اٹھائے رکھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ہونا تھا اور ہوا۔ یستعجلونک ۔۔۔۔۔ بالکفرین (29: 54) ” یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے “۔ یہ قرآن کا مخصوص اور عجیب موثر اسلوب کلام ہے کہ وہ مستقبل موعود کا عالم شہود کی شکل دے دیتا ہے۔ ایسی تصور کشی یہاں کردی گئی ہے کہ گویا جہنم کفار کو گھیرے میں لے چکی ہے جبکہ ابھی وہ مستقبل کے پردوں میں مستور ہے۔ لیکن ان کے کرتوتوں کے اعتبار سے وہ واقعہ ہے جو مشاہدہ میں آچکا ہے اور انسانی احساس کے پردوں پر نظر آتا ہے۔ ان لوگوں کو ایسا خطرناک چیلنچ دینے سے باز رہنا چاہئے۔ کیا وہ لوگ جلدی مچاتے ہیں جن کو جہنم گھیرے میں لے چکی ہے اور کسی بھی وقت گھیرا تنگ کرکے وہ ان کو گرفت میں لے سکتی ہے۔ اب وہاں ان کی صورت حالات کیا ہوگی جس کیلئے یہ بہت سی شتابی کر رہے ہیں۔ یوم یغشھم العذاب ۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (29: 55) ” اس روز جبکہ عذاب انہیں اوپر سے بھی ڈھانپ لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی۔ اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کو توتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا۔ نہایت ہی خوفناک حالت میں ان کو یوں طنزیہ سرزنش کی جائے گی۔ ذوقوا ما کنتم تعملون (29: 55) ” اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ ہے انجام اس جلد بازی اور عجلت کا جو تم کرتے تھے اور ڈرانے والوں کو تم اہمیت نہ دیتے تھے۔ یہاں سیاق کلام منکرین اور مکذبین اور حد سے گزرنے والوں کو ایک دردناک عذاب کے منظر میں چھوڑ دیتا ہے ، یہ عذاب انہیں اوپر نیچے سے گھیرے ہوئے ہے۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے جن پر یہ مکذبین محض عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ڈھاتے ہیں اور ان کو ان کے رب کی عبادت سے روکتے ہیں ، ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے اپنے دین ، اپنے عقائد کو لے کر کہیں اور جابسو۔ یہ نصیحت نہایت ہی پر محبت اور تروتازہ اور نہایت ہی موثر اسلوب میں کی جاتی ہے۔ اس طرح کا یہ نغمہ دل کی تمام تاروں کو چھیڑ دیتا ہے اور ان میں ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔

العنكبوت 29:53

قل کفی باللہ بینی ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (52) وہ ذات جو جہانوں کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے اس کی شہادت سے بڑی شہادت کس کی ہوسکتی ہے اور اللہ اپنے علم سے شہادت دے رہا ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (29: 52) ” جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ مطلقاًخسارے میں ہیں ۔ ہر چیز سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ دنیاو آخرت دونوں ہار چکے ہیں ۔ اپنی ذلمت ، شخصیت ، ہدایت ، استقا مت ، اطمینان ، سچائی اور نور سب چیزوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اللہ کی ذات پر ایمان لا نا بھی ایک عمل اور کمائی ہے ۔ یہ بذات خود اچھی کمائی ہے ۔ اس پر اللہ اپنے فضل وکرم سے اجر دیتا ہے ۔ اجردیتا ہے ۔ اجر یہ کہ ایمان سے قلبی اطمینان اور زندگی کی راہوں کا تعین ہوجاتا ہے ۔ جو داقعات بھی اس زندگی میں پیش آئیں ، بندئہ مومن ان کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے ، وہ اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ اللہ کی حمایت کا طلبگار اور امیدوار ہوتا ہے اور اسے اچھے انجام کا یقین ہوتا ہے یہ بذات خود ایک کسب ہے ، ایک کمائی ہے جس سے کافر محروم ہوتے ہیں ۔ اولئک ھم الخسرون (29: 52) ” وہی لوگ خسارے میں ہوتے ہیں “۔ اب مشرکین کی بحث ذرا آگے بڑھتی ہے کہ یہ لوگ عذاب کے آنے میں عجلت کرتے ہیں حالانکہ جہنم تو ان کے بہت ہی قریب ہے ۔ ویستعجلونک بالعذاب ۔۔۔۔۔ ویقول ذوقوا ما کنتم تعملون (53 – 55) مشرکین نبی ﷺ کی جانب سے ڈراوے اور تخویف کی آیات سنتے تھے ، لیکن ان کی سمجھ میں یہ حکمت نہ آتی تھی کہ پھر ان کے کفر کی وجہ سے ان پر یہ عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اس مہلت کی وجہ سے بےباک ہو کر نبی ﷺ سے بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ حالانکہ بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرمین کو حد سے گزرنے کی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ سرکشی اور فساد کی آخری حدوں کو چھو لیں۔ پھر عذاب آجاتا ہے یا یہ مہلت اس لیے طویل ہوجاتی ہے کہ اللہ اہل ایمان کا امتحان لیان چاہتا ہے تاکہ وہ بہت زیادہ ثابت قدم اور پختہ مومن بن جائیں اور ان کی صفوں سے وہ شخص نکل جائے جو صبر و ثبات نہیں رکھتا۔ یا یہ مہلت اس لیے ہوتی ہے۔ اللہ علیم وخبیر ہے اور اسے معلوم ہے کہ اہل کفر کی صفوں میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حق کی راہیں تلاش کرکے ہدایت پر آجائیں گے یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہوتے ہیں جو راہ ہدایت پالینے والے ہوں گے۔ وہ اللہ کی پارٹی میں شامل ہوں گے اگرچہ ان کے والدین مشرک ہوں۔ ان کے علاوہ بھی اللہ کی مصلحتیں ہوسکتی ہیں جو وہ خود جانتا ہے اور جو ہم سے مستور ہیں۔ ان مشرکین کو ایسا فہم و ادراک حاصل نہ تھا کہ وہ اللہ کی ان حکمتوں اور تدبیروں کو سمجھ سکیں ۔ اس لیے وہ علی سبیل التحدی اور بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے لیکن ولولا اجل مسمی لجآءھم العذاب (29: 53) ” اگر ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا “۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس حکمت کے بیان کے درمیان میں بھی ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ جس عذاب کے بارے میں تمہیں جلدی ہے وہ اچانک ہی تم پر آجائے گا لیکن اس وقت تمہیں اس کا انتظار اور توقع نہ ہوگی اور جب یہ اچانک آجائے گا تو یہ لوگ مبہوث ہو کر رہ جائیں گے۔ ولیاتینھم ۔۔۔۔ لایشعرون (29: 53) ” اور یقیناً وہ آکر رہے گا اچانک اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی “۔ اور بعد میں بدر کے میدان میں ان پر یہ عذاب آیا۔ اللہ کا کہنا سچ ہوکر رہا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ کا وعدہ کس قدر سچا ہوتا ہے۔ اللہ نے ان پر ایسا جامع اور ہمہ گیر عذاب نازل نہ کیا جس طرح پہلی اقوام پر آیا اور اللہ نے مادی معجزات کے اظہار کا مطالبہ بھی قبول نہ کیا جس طرح پہلی اقوام کی معجزات دکھائے گئے۔ انہوں نے انکار کیا اور ان پر ہمہ گیر عذاب آیا۔ وہ نیست و نابود ہوئے کیونکہ ان میں ایسے لوگ موجود تھے جو علم الٰہی کے مطابق زمانہ مابعد میں ایمان لانے والے تھی۔ جو اسلامی لشکر کے بہترین لوگ بننے والے تھے اور ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے ازمنہ مابعد میں طویل عرصہ تک اسلام کے جھنڈے اٹھائے رکھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ہونا تھا اور ہوا۔ یستعجلونک ۔۔۔۔۔ بالکفرین (29: 54) ” یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے “۔ یہ قرآن کا مخصوص اور عجیب موثر اسلوب کلام ہے کہ وہ مستقبل موعود کا عالم شہود کی شکل دے دیتا ہے۔ ایسی تصور کشی یہاں کردی گئی ہے کہ گویا جہنم کفار کو گھیرے میں لے چکی ہے جبکہ ابھی وہ مستقبل کے پردوں میں مستور ہے۔ لیکن ان کے کرتوتوں کے اعتبار سے وہ واقعہ ہے جو مشاہدہ میں آچکا ہے اور انسانی احساس کے پردوں پر نظر آتا ہے۔ ان لوگوں کو ایسا خطرناک چیلنچ دینے سے باز رہنا چاہئے۔ کیا وہ لوگ جلدی مچاتے ہیں جن کو جہنم گھیرے میں لے چکی ہے اور کسی بھی وقت گھیرا تنگ کرکے وہ ان کو گرفت میں لے سکتی ہے۔ اب وہاں ان کی صورت حالات کیا ہوگی جس کیلئے یہ بہت سی شتابی کر رہے ہیں۔ یوم یغشھم العذاب ۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (29: 55) ” اس روز جبکہ عذاب انہیں اوپر سے بھی ڈھانپ لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی۔ اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کو توتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا۔ نہایت ہی خوفناک حالت میں ان کو یوں طنزیہ سرزنش کی جائے گی۔ ذوقوا ما کنتم تعملون (29: 55) ” اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ ہے انجام اس جلد بازی اور عجلت کا جو تم کرتے تھے اور ڈرانے والوں کو تم اہمیت نہ دیتے تھے۔ یہاں سیاق کلام منکرین اور مکذبین اور حد سے گزرنے والوں کو ایک دردناک عذاب کے منظر میں چھوڑ دیتا ہے ، یہ عذاب انہیں اوپر نیچے سے گھیرے ہوئے ہے۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے جن پر یہ مکذبین محض عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ڈھاتے ہیں اور ان کو ان کے رب کی عبادت سے روکتے ہیں ، ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے اپنے دین ، اپنے عقائد کو لے کر کہیں اور جابسو۔ یہ نصیحت نہایت ہی پر محبت اور تروتازہ اور نہایت ہی موثر اسلوب میں کی جاتی ہے۔ اس طرح کا یہ نغمہ دل کی تمام تاروں کو چھیڑ دیتا ہے اور ان میں ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔

العنكبوت 29:54

قل کفی باللہ بینی ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (52) وہ ذات جو جہانوں کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے اس کی شہادت سے بڑی شہادت کس کی ہوسکتی ہے اور اللہ اپنے علم سے شہادت دے رہا ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (29: 52) ” جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ مطلقاًخسارے میں ہیں ۔ ہر چیز سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ دنیاو آخرت دونوں ہار چکے ہیں ۔ اپنی ذلمت ، شخصیت ، ہدایت ، استقا مت ، اطمینان ، سچائی اور نور سب چیزوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اللہ کی ذات پر ایمان لا نا بھی ایک عمل اور کمائی ہے ۔ یہ بذات خود اچھی کمائی ہے ۔ اس پر اللہ اپنے فضل وکرم سے اجر دیتا ہے ۔ اجردیتا ہے ۔ اجر یہ کہ ایمان سے قلبی اطمینان اور زندگی کی راہوں کا تعین ہوجاتا ہے ۔ جو داقعات بھی اس زندگی میں پیش آئیں ، بندئہ مومن ان کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے ، وہ اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ اللہ کی حمایت کا طلبگار اور امیدوار ہوتا ہے اور اسے اچھے انجام کا یقین ہوتا ہے یہ بذات خود ایک کسب ہے ، ایک کمائی ہے جس سے کافر محروم ہوتے ہیں ۔ اولئک ھم الخسرون (29: 52) ” وہی لوگ خسارے میں ہوتے ہیں “۔ اب مشرکین کی بحث ذرا آگے بڑھتی ہے کہ یہ لوگ عذاب کے آنے میں عجلت کرتے ہیں حالانکہ جہنم تو ان کے بہت ہی قریب ہے ۔ ویستعجلونک بالعذاب ۔۔۔۔۔ ویقول ذوقوا ما کنتم تعملون (53 – 55) مشرکین نبی ﷺ کی جانب سے ڈراوے اور تخویف کی آیات سنتے تھے ، لیکن ان کی سمجھ میں یہ حکمت نہ آتی تھی کہ پھر ان کے کفر کی وجہ سے ان پر یہ عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اس مہلت کی وجہ سے بےباک ہو کر نبی ﷺ سے بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ حالانکہ بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرمین کو حد سے گزرنے کی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ سرکشی اور فساد کی آخری حدوں کو چھو لیں۔ پھر عذاب آجاتا ہے یا یہ مہلت اس لیے طویل ہوجاتی ہے کہ اللہ اہل ایمان کا امتحان لیان چاہتا ہے تاکہ وہ بہت زیادہ ثابت قدم اور پختہ مومن بن جائیں اور ان کی صفوں سے وہ شخص نکل جائے جو صبر و ثبات نہیں رکھتا۔ یا یہ مہلت اس لیے ہوتی ہے۔ اللہ علیم وخبیر ہے اور اسے معلوم ہے کہ اہل کفر کی صفوں میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حق کی راہیں تلاش کرکے ہدایت پر آجائیں گے یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہوتے ہیں جو راہ ہدایت پالینے والے ہوں گے۔ وہ اللہ کی پارٹی میں شامل ہوں گے اگرچہ ان کے والدین مشرک ہوں۔ ان کے علاوہ بھی اللہ کی مصلحتیں ہوسکتی ہیں جو وہ خود جانتا ہے اور جو ہم سے مستور ہیں۔ ان مشرکین کو ایسا فہم و ادراک حاصل نہ تھا کہ وہ اللہ کی ان حکمتوں اور تدبیروں کو سمجھ سکیں ۔ اس لیے وہ علی سبیل التحدی اور بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے لیکن ولولا اجل مسمی لجآءھم العذاب (29: 53) ” اگر ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا “۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس حکمت کے بیان کے درمیان میں بھی ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ جس عذاب کے بارے میں تمہیں جلدی ہے وہ اچانک ہی تم پر آجائے گا لیکن اس وقت تمہیں اس کا انتظار اور توقع نہ ہوگی اور جب یہ اچانک آجائے گا تو یہ لوگ مبہوث ہو کر رہ جائیں گے۔ ولیاتینھم ۔۔۔۔ لایشعرون (29: 53) ” اور یقیناً وہ آکر رہے گا اچانک اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی “۔ اور بعد میں بدر کے میدان میں ان پر یہ عذاب آیا۔ اللہ کا کہنا سچ ہوکر رہا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ کا وعدہ کس قدر سچا ہوتا ہے۔ اللہ نے ان پر ایسا جامع اور ہمہ گیر عذاب نازل نہ کیا جس طرح پہلی اقوام پر آیا اور اللہ نے مادی معجزات کے اظہار کا مطالبہ بھی قبول نہ کیا جس طرح پہلی اقوام کی معجزات دکھائے گئے۔ انہوں نے انکار کیا اور ان پر ہمہ گیر عذاب آیا۔ وہ نیست و نابود ہوئے کیونکہ ان میں ایسے لوگ موجود تھے جو علم الٰہی کے مطابق زمانہ مابعد میں ایمان لانے والے تھی۔ جو اسلامی لشکر کے بہترین لوگ بننے والے تھے اور ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے ازمنہ مابعد میں طویل عرصہ تک اسلام کے جھنڈے اٹھائے رکھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ہونا تھا اور ہوا۔ یستعجلونک ۔۔۔۔۔ بالکفرین (29: 54) ” یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے “۔ یہ قرآن کا مخصوص اور عجیب موثر اسلوب کلام ہے کہ وہ مستقبل موعود کا عالم شہود کی شکل دے دیتا ہے۔ ایسی تصور کشی یہاں کردی گئی ہے کہ گویا جہنم کفار کو گھیرے میں لے چکی ہے جبکہ ابھی وہ مستقبل کے پردوں میں مستور ہے۔ لیکن ان کے کرتوتوں کے اعتبار سے وہ واقعہ ہے جو مشاہدہ میں آچکا ہے اور انسانی احساس کے پردوں پر نظر آتا ہے۔ ان لوگوں کو ایسا خطرناک چیلنچ دینے سے باز رہنا چاہئے۔ کیا وہ لوگ جلدی مچاتے ہیں جن کو جہنم گھیرے میں لے چکی ہے اور کسی بھی وقت گھیرا تنگ کرکے وہ ان کو گرفت میں لے سکتی ہے۔ اب وہاں ان کی صورت حالات کیا ہوگی جس کیلئے یہ بہت سی شتابی کر رہے ہیں۔ یوم یغشھم العذاب ۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (29: 55) ” اس روز جبکہ عذاب انہیں اوپر سے بھی ڈھانپ لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی۔ اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کو توتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا۔ نہایت ہی خوفناک حالت میں ان کو یوں طنزیہ سرزنش کی جائے گی۔ ذوقوا ما کنتم تعملون (29: 55) ” اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ ہے انجام اس جلد بازی اور عجلت کا جو تم کرتے تھے اور ڈرانے والوں کو تم اہمیت نہ دیتے تھے۔ یہاں سیاق کلام منکرین اور مکذبین اور حد سے گزرنے والوں کو ایک دردناک عذاب کے منظر میں چھوڑ دیتا ہے ، یہ عذاب انہیں اوپر نیچے سے گھیرے ہوئے ہے۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے جن پر یہ مکذبین محض عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ڈھاتے ہیں اور ان کو ان کے رب کی عبادت سے روکتے ہیں ، ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے اپنے دین ، اپنے عقائد کو لے کر کہیں اور جابسو۔ یہ نصیحت نہایت ہی پر محبت اور تروتازہ اور نہایت ہی موثر اسلوب میں کی جاتی ہے۔ اس طرح کا یہ نغمہ دل کی تمام تاروں کو چھیڑ دیتا ہے اور ان میں ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔

العنكبوت 29:55

قل کفی باللہ بینی ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (52) وہ ذات جو جہانوں کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے اس کی شہادت سے بڑی شہادت کس کی ہوسکتی ہے اور اللہ اپنے علم سے شہادت دے رہا ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (29: 52) ” جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ مطلقاًخسارے میں ہیں ۔ ہر چیز سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ دنیاو آخرت دونوں ہار چکے ہیں ۔ اپنی ذلمت ، شخصیت ، ہدایت ، استقا مت ، اطمینان ، سچائی اور نور سب چیزوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اللہ کی ذات پر ایمان لا نا بھی ایک عمل اور کمائی ہے ۔ یہ بذات خود اچھی کمائی ہے ۔ اس پر اللہ اپنے فضل وکرم سے اجر دیتا ہے ۔ اجردیتا ہے ۔ اجر یہ کہ ایمان سے قلبی اطمینان اور زندگی کی راہوں کا تعین ہوجاتا ہے ۔ جو داقعات بھی اس زندگی میں پیش آئیں ، بندئہ مومن ان کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے ، وہ اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ اللہ کی حمایت کا طلبگار اور امیدوار ہوتا ہے اور اسے اچھے انجام کا یقین ہوتا ہے یہ بذات خود ایک کسب ہے ، ایک کمائی ہے جس سے کافر محروم ہوتے ہیں ۔ اولئک ھم الخسرون (29: 52) ” وہی لوگ خسارے میں ہوتے ہیں “۔ اب مشرکین کی بحث ذرا آگے بڑھتی ہے کہ یہ لوگ عذاب کے آنے میں عجلت کرتے ہیں حالانکہ جہنم تو ان کے بہت ہی قریب ہے ۔ ویستعجلونک بالعذاب ۔۔۔۔۔ ویقول ذوقوا ما کنتم تعملون (53 – 55) مشرکین نبی ﷺ کی جانب سے ڈراوے اور تخویف کی آیات سنتے تھے ، لیکن ان کی سمجھ میں یہ حکمت نہ آتی تھی کہ پھر ان کے کفر کی وجہ سے ان پر یہ عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اس مہلت کی وجہ سے بےباک ہو کر نبی ﷺ سے بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ حالانکہ بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرمین کو حد سے گزرنے کی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ سرکشی اور فساد کی آخری حدوں کو چھو لیں۔ پھر عذاب آجاتا ہے یا یہ مہلت اس لیے طویل ہوجاتی ہے کہ اللہ اہل ایمان کا امتحان لیان چاہتا ہے تاکہ وہ بہت زیادہ ثابت قدم اور پختہ مومن بن جائیں اور ان کی صفوں سے وہ شخص نکل جائے جو صبر و ثبات نہیں رکھتا۔ یا یہ مہلت اس لیے ہوتی ہے۔ اللہ علیم وخبیر ہے اور اسے معلوم ہے کہ اہل کفر کی صفوں میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حق کی راہیں تلاش کرکے ہدایت پر آجائیں گے یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہوتے ہیں جو راہ ہدایت پالینے والے ہوں گے۔ وہ اللہ کی پارٹی میں شامل ہوں گے اگرچہ ان کے والدین مشرک ہوں۔ ان کے علاوہ بھی اللہ کی مصلحتیں ہوسکتی ہیں جو وہ خود جانتا ہے اور جو ہم سے مستور ہیں۔ ان مشرکین کو ایسا فہم و ادراک حاصل نہ تھا کہ وہ اللہ کی ان حکمتوں اور تدبیروں کو سمجھ سکیں ۔ اس لیے وہ علی سبیل التحدی اور بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے لیکن ولولا اجل مسمی لجآءھم العذاب (29: 53) ” اگر ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا “۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس حکمت کے بیان کے درمیان میں بھی ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ جس عذاب کے بارے میں تمہیں جلدی ہے وہ اچانک ہی تم پر آجائے گا لیکن اس وقت تمہیں اس کا انتظار اور توقع نہ ہوگی اور جب یہ اچانک آجائے گا تو یہ لوگ مبہوث ہو کر رہ جائیں گے۔ ولیاتینھم ۔۔۔۔ لایشعرون (29: 53) ” اور یقیناً وہ آکر رہے گا اچانک اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی “۔ اور بعد میں بدر کے میدان میں ان پر یہ عذاب آیا۔ اللہ کا کہنا سچ ہوکر رہا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ کا وعدہ کس قدر سچا ہوتا ہے۔ اللہ نے ان پر ایسا جامع اور ہمہ گیر عذاب نازل نہ کیا جس طرح پہلی اقوام پر آیا اور اللہ نے مادی معجزات کے اظہار کا مطالبہ بھی قبول نہ کیا جس طرح پہلی اقوام کی معجزات دکھائے گئے۔ انہوں نے انکار کیا اور ان پر ہمہ گیر عذاب آیا۔ وہ نیست و نابود ہوئے کیونکہ ان میں ایسے لوگ موجود تھے جو علم الٰہی کے مطابق زمانہ مابعد میں ایمان لانے والے تھی۔ جو اسلامی لشکر کے بہترین لوگ بننے والے تھے اور ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے ازمنہ مابعد میں طویل عرصہ تک اسلام کے جھنڈے اٹھائے رکھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ہونا تھا اور ہوا۔ یستعجلونک ۔۔۔۔۔ بالکفرین (29: 54) ” یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے “۔ یہ قرآن کا مخصوص اور عجیب موثر اسلوب کلام ہے کہ وہ مستقبل موعود کا عالم شہود کی شکل دے دیتا ہے۔ ایسی تصور کشی یہاں کردی گئی ہے کہ گویا جہنم کفار کو گھیرے میں لے چکی ہے جبکہ ابھی وہ مستقبل کے پردوں میں مستور ہے۔ لیکن ان کے کرتوتوں کے اعتبار سے وہ واقعہ ہے جو مشاہدہ میں آچکا ہے اور انسانی احساس کے پردوں پر نظر آتا ہے۔ ان لوگوں کو ایسا خطرناک چیلنچ دینے سے باز رہنا چاہئے۔ کیا وہ لوگ جلدی مچاتے ہیں جن کو جہنم گھیرے میں لے چکی ہے اور کسی بھی وقت گھیرا تنگ کرکے وہ ان کو گرفت میں لے سکتی ہے۔ اب وہاں ان کی صورت حالات کیا ہوگی جس کیلئے یہ بہت سی شتابی کر رہے ہیں۔ یوم یغشھم العذاب ۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (29: 55) ” اس روز جبکہ عذاب انہیں اوپر سے بھی ڈھانپ لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی۔ اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کو توتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا۔ نہایت ہی خوفناک حالت میں ان کو یوں طنزیہ سرزنش کی جائے گی۔ ذوقوا ما کنتم تعملون (29: 55) ” اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ ہے انجام اس جلد بازی اور عجلت کا جو تم کرتے تھے اور ڈرانے والوں کو تم اہمیت نہ دیتے تھے۔ یہاں سیاق کلام منکرین اور مکذبین اور حد سے گزرنے والوں کو ایک دردناک عذاب کے منظر میں چھوڑ دیتا ہے ، یہ عذاب انہیں اوپر نیچے سے گھیرے ہوئے ہے۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے جن پر یہ مکذبین محض عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ڈھاتے ہیں اور ان کو ان کے رب کی عبادت سے روکتے ہیں ، ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے اپنے دین ، اپنے عقائد کو لے کر کہیں اور جابسو۔ یہ نصیحت نہایت ہی پر محبت اور تروتازہ اور نہایت ہی موثر اسلوب میں کی جاتی ہے۔ اس طرح کا یہ نغمہ دل کی تمام تاروں کو چھیڑ دیتا ہے اور ان میں ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔

العنكبوت 29:56

یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60) دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو یہ دلایا جاتا ہے۔ ان ارضی واسعۃ (29: 56) ” میری زمین وسیع ہے “۔ تم میرے بندے ہو اور یہ میری زمین ہے اور بہت ہی وسیع ہے۔ اس قدر وسیع ہے کہ یہ تمہیں جگہ دے سکتی ہے اس لیے کیوں تم مکہ کی تنگنائیوں میں ڈٹے ہوئے ہو ، جہاں تم پر محض تمہارے دین اور عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ہو رہے ہیں۔ یہاں تمہیں اس کی اجازت بھی نہیں ہے کہ تم اپنے رب اور مولائے کریم کی بندگی کرسکو۔ ان تنگیزوں کو خیرباد کہو اور اللہ کی وسیع دنیا کی طرف نکل جاؤ۔ اپنے دین کو لے کر اس ظلم سے نجات پاؤ تاکہ آزادی سے اپنے رب کی بندگی کو سکو۔ فایای فاعبدون (29: 56) ” پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ “۔ جب کسی کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کیا جاتا ہے تو دل میں پہلا دکھ ملک چھوڑنے کا کروٹیں لیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس قدر میٹھا انداز اختیار کیا ، میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، الا یہ کہ میری زمین وسیع ہے ، مکہ بھی میرا اور مدینہ بھی میرا ہے۔ تمام زمین میری ہے۔ لہٰذا محبت صرف اسی زمین سے رکھو جس میں تم میری عبادت کرسکو اور جس میں تمہارے لیے وسعت ہو۔ دوسرا خیال ایسے مواقع پر ہجرت کے عمل کے خطرات اور خدشات کا آتا ہے یعنی یہ کہ اپنے گھروں سے نکلیں گے تو راستوں میں موت ہی نہ آجائے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ کفار نے مسلمانوں کو مکہ میں قید کر رکھا تھا۔ ان کو وہاں سے نکلنے کی اجازت ہی نہ دیتے تھے اس لیے مہاجرین کے لیے ہجرت کی راہ میں نکلنا بھی پر خطر تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کے اس خدشے کو بھی دور فرماتے ہیں کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون (29: 57) ” ہر متنفس کو موت کو مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری طرف پلٹا کر لائے جاؤ گے “۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے تو وہ ہر جگہ آنے والی ہے ، لہٰذا موت کی پرواہ مت کرو ، جبکہ موت کا وقت اور سبب کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ تو ہجرت کرنے والے ہیں اور اگر نہ بھی کریں تو پھر بھی اللہ کی طرف سب کو پلٹایا جانا ہے اور تم تو اللہ کے غلام ہو ، تم کو تو دنیا و آخرت دونوں میں اللہ ہی کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ لہٰذا اس بارے میں ڈرنا کیا یا دلوں میں خوف و خطر کو لانے کا کیا مقام ہے۔ پھر اللہ کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ تمہیں دنیا میں زمین کی وسعتیں دے گا اور تم محفوظ ہوگے بلکہ قیامت میں تمہارے لیے جو آرام گاہ تیار ہے وہ تو بہت ہی عظیم ہے۔ اب تم وطن چھوڑ رہے ہو تو دنیا میں بھی وسعت ملے گی اور گھر تم چھوڑ رہے ہو تو جنت میں تمہارے لیے محلات تیار ہیں اور وہ محلات تمہارے ان چھوٹے چھوٹے گھر وندوں سے بہت ہی بڑے اور عظیم ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ خلدین فیھا (29: 58) ” جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور وہاں ان کو خوش آمدید ان الفاظ میں کہا جائے گا اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ ہوگا۔ نعم اجر العملین ۔۔۔۔۔ یتوکلون (29: 59) ” کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ، ان لوگوں کیلئے جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ چناچہ یوم اہل ایمان کو ہجرت پر آمادہ کیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ وعدے کیے جا رہے ہیں اور اس پر پریشانی ، خدشات اور خوف کے ماحول سے ان کو ثابت قدمی اور جرات مندی اور حوصلہ سکھایا جا رہا ہے۔ قدرتی طور پر ہجرت کے وقت یہ فکر بھی لاحق ہوجاتی ہے کہ انسان کے ساتھ پیٹ تو لگا ہوا ہے۔ آخر صبح و شام کی ضروریات کا بندوبست کیا ہوگا۔ وطن چھوڑ دیں گے ، مال چھوڑ دیں گے ، روزگار ترک کرکے چلے جائیں گے۔ یہاں تو مکہ میں بہرحال ضروریات زندگی کی فراہمی کا بندوبست تو یقینی ہے۔ ہر شخص روزگار پر لگا ہے۔ چناچہ ان خدشات کا جواب بھی دے دیا جاتا ہے۔ وکاین من دآبۃ لا تحمل رزقھا اللہ یرزقھا وایاکم (29: 60) ” اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ، اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے “۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسان کی آنکھیں کھول دیتا ہے اور یہ واقعی صورت حالات ہم رات اور دن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے جانور ہیں جو نہ رزق اٹھائے پھرتے ہیں ، نہ جمع کرتے ہیں ، نہ اس کا کوئی اہتمام کرتے ہیں۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس رزق کو پیدا کرنے کی کیا تدبیر کریں گے۔ نہ ذخیرہ کرنا انہیں آتا ہے۔ اس کے باوجود اللہ سب کو رزق دیتا ہے۔ کوئی جانور کبھی بھوک سے نہیں مرا۔ اسی طرح اللہ لوگوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کو یہ زعم لاحق ہوجاتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وسائل رزق اللہ ہی فراہم کرتا ہے اور یہ وسائل ہی دراصل رزق ہیں۔ اگر اللہ کے یہ پیدا کردہ وسائل نہ ہوں تو انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہجرت کی وجہ سے تم بھوک سے نہ مرو گے۔ اس کی فکر نہ کرو ، تم اللہ کے بندے ہو اور اللہ اپنے بندوں کا بندوبست کرتا ہے جہاں بھی وہ ہوں جس طرح اللہ اپنی دوسری مخلوق کا بندوبست کرتا ہے اور کسی کو بھی بھوکا مرنے نہیں دیتا۔ یہ محبت آمیز نغمے اس شعور پر آخر ختم ہوتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ وہ ہر وقت ان پر نظر کرم رکھتا ہے ، وہ ان کی سب باتیں سنتا ہے۔ ان کے حالات کو جانتا ہے اور کبھی بھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ وھو السمیع العلیم (29: 60) ” وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ یہ دور یہاں اگر ختم ہوتا ہے ، اس حال میں اللہ نے مہاجرین کے دلوں میں پائے جانے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اللہ کی راہ میں نکلتے وقت دل میں کھٹکنے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اہل ایمان کے دلوں میں جو خدشات اور اندیشے پائے جاتے تھے اب ان کی جگہ اطمینان نے لے لی۔ قلق و پریشانیوں کی جگہ اب وہ مطمئن ہیں اور اب اہل ایمان کے دل اس قدر سکون اور ٹھہراؤ اور ثبات پا چکے ہیں کہ وہ اللہ کا قرب ، اللہ کی نگرانی اور اللہ کی پناہ میں اپنے آپ کو اب محفوظ تصور کرتے ہیں۔ کون ہے جو انسان کے خدشات کو اس انداز میں محسوس کرسکتا ہے اور ان کو اس طرح دور کرسکتا ہے ماسوائے خالق کائنات کے۔ جو ان تمام باتوں سے واقف ہوتا ہے ، جو دلوں میں گزرتی ہیں۔ مومنین کے ساتھ اس مختصر مکالمہ کے بعد روئے سخن پھر مشرکین کے باہم متضاد افکار کی طرف پھرجاتا ہے۔ ان کے تصورات اس قدر غیر معقول ہیں کہ وہ ایک طرف تو یہ اقرار کرتے ہیں کہ صرف اللہ ہی ہے جو زمینوں اور آسمانوں کا خالق ہے۔ وہی ہے جس نے شمس و قمر کر مسخر کر رکھا ہے۔ وہی ہے جو آسمانوں سے بارشیں برساتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہی ہے جو رزق کو کھلا بھی کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے۔ جب یہ لوگ انتہائی خوف کی حالت میں ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔ جو لوگ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اس کی بندگی کرتے ہیں ، یہ ان کو اذیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کو یہ بھی تسلیم کرتے ہیں اور بلاوجہ یہ لوگ ایسے لوگوں پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر جو احسانات کیے ، ان کو یہ لوگ بھلاتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو بیت اللہ میں خوفزدہ کرتے ہیں۔

العنكبوت 29:57

یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60) دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو یہ دلایا جاتا ہے۔ ان ارضی واسعۃ (29: 56) ” میری زمین وسیع ہے “۔ تم میرے بندے ہو اور یہ میری زمین ہے اور بہت ہی وسیع ہے۔ اس قدر وسیع ہے کہ یہ تمہیں جگہ دے سکتی ہے اس لیے کیوں تم مکہ کی تنگنائیوں میں ڈٹے ہوئے ہو ، جہاں تم پر محض تمہارے دین اور عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ہو رہے ہیں۔ یہاں تمہیں اس کی اجازت بھی نہیں ہے کہ تم اپنے رب اور مولائے کریم کی بندگی کرسکو۔ ان تنگیزوں کو خیرباد کہو اور اللہ کی وسیع دنیا کی طرف نکل جاؤ۔ اپنے دین کو لے کر اس ظلم سے نجات پاؤ تاکہ آزادی سے اپنے رب کی بندگی کو سکو۔ فایای فاعبدون (29: 56) ” پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ “۔ جب کسی کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کیا جاتا ہے تو دل میں پہلا دکھ ملک چھوڑنے کا کروٹیں لیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس قدر میٹھا انداز اختیار کیا ، میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، الا یہ کہ میری زمین وسیع ہے ، مکہ بھی میرا اور مدینہ بھی میرا ہے۔ تمام زمین میری ہے۔ لہٰذا محبت صرف اسی زمین سے رکھو جس میں تم میری عبادت کرسکو اور جس میں تمہارے لیے وسعت ہو۔ دوسرا خیال ایسے مواقع پر ہجرت کے عمل کے خطرات اور خدشات کا آتا ہے یعنی یہ کہ اپنے گھروں سے نکلیں گے تو راستوں میں موت ہی نہ آجائے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ کفار نے مسلمانوں کو مکہ میں قید کر رکھا تھا۔ ان کو وہاں سے نکلنے کی اجازت ہی نہ دیتے تھے اس لیے مہاجرین کے لیے ہجرت کی راہ میں نکلنا بھی پر خطر تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کے اس خدشے کو بھی دور فرماتے ہیں کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون (29: 57) ” ہر متنفس کو موت کو مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری طرف پلٹا کر لائے جاؤ گے “۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے تو وہ ہر جگہ آنے والی ہے ، لہٰذا موت کی پرواہ مت کرو ، جبکہ موت کا وقت اور سبب کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ تو ہجرت کرنے والے ہیں اور اگر نہ بھی کریں تو پھر بھی اللہ کی طرف سب کو پلٹایا جانا ہے اور تم تو اللہ کے غلام ہو ، تم کو تو دنیا و آخرت دونوں میں اللہ ہی کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ لہٰذا اس بارے میں ڈرنا کیا یا دلوں میں خوف و خطر کو لانے کا کیا مقام ہے۔ پھر اللہ کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ تمہیں دنیا میں زمین کی وسعتیں دے گا اور تم محفوظ ہوگے بلکہ قیامت میں تمہارے لیے جو آرام گاہ تیار ہے وہ تو بہت ہی عظیم ہے۔ اب تم وطن چھوڑ رہے ہو تو دنیا میں بھی وسعت ملے گی اور گھر تم چھوڑ رہے ہو تو جنت میں تمہارے لیے محلات تیار ہیں اور وہ محلات تمہارے ان چھوٹے چھوٹے گھر وندوں سے بہت ہی بڑے اور عظیم ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ خلدین فیھا (29: 58) ” جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور وہاں ان کو خوش آمدید ان الفاظ میں کہا جائے گا اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ ہوگا۔ نعم اجر العملین ۔۔۔۔۔ یتوکلون (29: 59) ” کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ، ان لوگوں کیلئے جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ چناچہ یوم اہل ایمان کو ہجرت پر آمادہ کیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ وعدے کیے جا رہے ہیں اور اس پر پریشانی ، خدشات اور خوف کے ماحول سے ان کو ثابت قدمی اور جرات مندی اور حوصلہ سکھایا جا رہا ہے۔ قدرتی طور پر ہجرت کے وقت یہ فکر بھی لاحق ہوجاتی ہے کہ انسان کے ساتھ پیٹ تو لگا ہوا ہے۔ آخر صبح و شام کی ضروریات کا بندوبست کیا ہوگا۔ وطن چھوڑ دیں گے ، مال چھوڑ دیں گے ، روزگار ترک کرکے چلے جائیں گے۔ یہاں تو مکہ میں بہرحال ضروریات زندگی کی فراہمی کا بندوبست تو یقینی ہے۔ ہر شخص روزگار پر لگا ہے۔ چناچہ ان خدشات کا جواب بھی دے دیا جاتا ہے۔ وکاین من دآبۃ لا تحمل رزقھا اللہ یرزقھا وایاکم (29: 60) ” اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ، اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے “۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسان کی آنکھیں کھول دیتا ہے اور یہ واقعی صورت حالات ہم رات اور دن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے جانور ہیں جو نہ رزق اٹھائے پھرتے ہیں ، نہ جمع کرتے ہیں ، نہ اس کا کوئی اہتمام کرتے ہیں۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس رزق کو پیدا کرنے کی کیا تدبیر کریں گے۔ نہ ذخیرہ کرنا انہیں آتا ہے۔ اس کے باوجود اللہ سب کو رزق دیتا ہے۔ کوئی جانور کبھی بھوک سے نہیں مرا۔ اسی طرح اللہ لوگوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کو یہ زعم لاحق ہوجاتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وسائل رزق اللہ ہی فراہم کرتا ہے اور یہ وسائل ہی دراصل رزق ہیں۔ اگر اللہ کے یہ پیدا کردہ وسائل نہ ہوں تو انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہجرت کی وجہ سے تم بھوک سے نہ مرو گے۔ اس کی فکر نہ کرو ، تم اللہ کے بندے ہو اور اللہ اپنے بندوں کا بندوبست کرتا ہے جہاں بھی وہ ہوں جس طرح اللہ اپنی دوسری مخلوق کا بندوبست کرتا ہے اور کسی کو بھی بھوکا مرنے نہیں دیتا۔ یہ محبت آمیز نغمے اس شعور پر آخر ختم ہوتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ وہ ہر وقت ان پر نظر کرم رکھتا ہے ، وہ ان کی سب باتیں سنتا ہے۔ ان کے حالات کو جانتا ہے اور کبھی بھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ وھو السمیع العلیم (29: 60) ” وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ یہ دور یہاں اگر ختم ہوتا ہے ، اس حال میں اللہ نے مہاجرین کے دلوں میں پائے جانے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اللہ کی راہ میں نکلتے وقت دل میں کھٹکنے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اہل ایمان کے دلوں میں جو خدشات اور اندیشے پائے جاتے تھے اب ان کی جگہ اطمینان نے لے لی۔ قلق و پریشانیوں کی جگہ اب وہ مطمئن ہیں اور اب اہل ایمان کے دل اس قدر سکون اور ٹھہراؤ اور ثبات پا چکے ہیں کہ وہ اللہ کا قرب ، اللہ کی نگرانی اور اللہ کی پناہ میں اپنے آپ کو اب محفوظ تصور کرتے ہیں۔ کون ہے جو انسان کے خدشات کو اس انداز میں محسوس کرسکتا ہے اور ان کو اس طرح دور کرسکتا ہے ماسوائے خالق کائنات کے۔ جو ان تمام باتوں سے واقف ہوتا ہے ، جو دلوں میں گزرتی ہیں۔ مومنین کے ساتھ اس مختصر مکالمہ کے بعد روئے سخن پھر مشرکین کے باہم متضاد افکار کی طرف پھرجاتا ہے۔ ان کے تصورات اس قدر غیر معقول ہیں کہ وہ ایک طرف تو یہ اقرار کرتے ہیں کہ صرف اللہ ہی ہے جو زمینوں اور آسمانوں کا خالق ہے۔ وہی ہے جس نے شمس و قمر کر مسخر کر رکھا ہے۔ وہی ہے جو آسمانوں سے بارشیں برساتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہی ہے جو رزق کو کھلا بھی کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے۔ جب یہ لوگ انتہائی خوف کی حالت میں ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔ جو لوگ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اس کی بندگی کرتے ہیں ، یہ ان کو اذیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کو یہ بھی تسلیم کرتے ہیں اور بلاوجہ یہ لوگ ایسے لوگوں پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر جو احسانات کیے ، ان کو یہ لوگ بھلاتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو بیت اللہ میں خوفزدہ کرتے ہیں۔

العنكبوت 29:58

یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60) دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو یہ دلایا جاتا ہے۔ ان ارضی واسعۃ (29: 56) ” میری زمین وسیع ہے “۔ تم میرے بندے ہو اور یہ میری زمین ہے اور بہت ہی وسیع ہے۔ اس قدر وسیع ہے کہ یہ تمہیں جگہ دے سکتی ہے اس لیے کیوں تم مکہ کی تنگنائیوں میں ڈٹے ہوئے ہو ، جہاں تم پر محض تمہارے دین اور عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ہو رہے ہیں۔ یہاں تمہیں اس کی اجازت بھی نہیں ہے کہ تم اپنے رب اور مولائے کریم کی بندگی کرسکو۔ ان تنگیزوں کو خیرباد کہو اور اللہ کی وسیع دنیا کی طرف نکل جاؤ۔ اپنے دین کو لے کر اس ظلم سے نجات پاؤ تاکہ آزادی سے اپنے رب کی بندگی کو سکو۔ فایای فاعبدون (29: 56) ” پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ “۔ جب کسی کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کیا جاتا ہے تو دل میں پہلا دکھ ملک چھوڑنے کا کروٹیں لیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس قدر میٹھا انداز اختیار کیا ، میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، الا یہ کہ میری زمین وسیع ہے ، مکہ بھی میرا اور مدینہ بھی میرا ہے۔ تمام زمین میری ہے۔ لہٰذا محبت صرف اسی زمین سے رکھو جس میں تم میری عبادت کرسکو اور جس میں تمہارے لیے وسعت ہو۔ دوسرا خیال ایسے مواقع پر ہجرت کے عمل کے خطرات اور خدشات کا آتا ہے یعنی یہ کہ اپنے گھروں سے نکلیں گے تو راستوں میں موت ہی نہ آجائے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ کفار نے مسلمانوں کو مکہ میں قید کر رکھا تھا۔ ان کو وہاں سے نکلنے کی اجازت ہی نہ دیتے تھے اس لیے مہاجرین کے لیے ہجرت کی راہ میں نکلنا بھی پر خطر تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کے اس خدشے کو بھی دور فرماتے ہیں کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون (29: 57) ” ہر متنفس کو موت کو مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری طرف پلٹا کر لائے جاؤ گے “۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے تو وہ ہر جگہ آنے والی ہے ، لہٰذا موت کی پرواہ مت کرو ، جبکہ موت کا وقت اور سبب کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ تو ہجرت کرنے والے ہیں اور اگر نہ بھی کریں تو پھر بھی اللہ کی طرف سب کو پلٹایا جانا ہے اور تم تو اللہ کے غلام ہو ، تم کو تو دنیا و آخرت دونوں میں اللہ ہی کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ لہٰذا اس بارے میں ڈرنا کیا یا دلوں میں خوف و خطر کو لانے کا کیا مقام ہے۔ پھر اللہ کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ تمہیں دنیا میں زمین کی وسعتیں دے گا اور تم محفوظ ہوگے بلکہ قیامت میں تمہارے لیے جو آرام گاہ تیار ہے وہ تو بہت ہی عظیم ہے۔ اب تم وطن چھوڑ رہے ہو تو دنیا میں بھی وسعت ملے گی اور گھر تم چھوڑ رہے ہو تو جنت میں تمہارے لیے محلات تیار ہیں اور وہ محلات تمہارے ان چھوٹے چھوٹے گھر وندوں سے بہت ہی بڑے اور عظیم ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ خلدین فیھا (29: 58) ” جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور وہاں ان کو خوش آمدید ان الفاظ میں کہا جائے گا اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ ہوگا۔ نعم اجر العملین ۔۔۔۔۔ یتوکلون (29: 59) ” کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ، ان لوگوں کیلئے جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ چناچہ یوم اہل ایمان کو ہجرت پر آمادہ کیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ وعدے کیے جا رہے ہیں اور اس پر پریشانی ، خدشات اور خوف کے ماحول سے ان کو ثابت قدمی اور جرات مندی اور حوصلہ سکھایا جا رہا ہے۔ قدرتی طور پر ہجرت کے وقت یہ فکر بھی لاحق ہوجاتی ہے کہ انسان کے ساتھ پیٹ تو لگا ہوا ہے۔ آخر صبح و شام کی ضروریات کا بندوبست کیا ہوگا۔ وطن چھوڑ دیں گے ، مال چھوڑ دیں گے ، روزگار ترک کرکے چلے جائیں گے۔ یہاں تو مکہ میں بہرحال ضروریات زندگی کی فراہمی کا بندوبست تو یقینی ہے۔ ہر شخص روزگار پر لگا ہے۔ چناچہ ان خدشات کا جواب بھی دے دیا جاتا ہے۔ وکاین من دآبۃ لا تحمل رزقھا اللہ یرزقھا وایاکم (29: 60) ” اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ، اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے “۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسان کی آنکھیں کھول دیتا ہے اور یہ واقعی صورت حالات ہم رات اور دن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے جانور ہیں جو نہ رزق اٹھائے پھرتے ہیں ، نہ جمع کرتے ہیں ، نہ اس کا کوئی اہتمام کرتے ہیں۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس رزق کو پیدا کرنے کی کیا تدبیر کریں گے۔ نہ ذخیرہ کرنا انہیں آتا ہے۔ اس کے باوجود اللہ سب کو رزق دیتا ہے۔ کوئی جانور کبھی بھوک سے نہیں مرا۔ اسی طرح اللہ لوگوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کو یہ زعم لاحق ہوجاتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وسائل رزق اللہ ہی فراہم کرتا ہے اور یہ وسائل ہی دراصل رزق ہیں۔ اگر اللہ کے یہ پیدا کردہ وسائل نہ ہوں تو انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہجرت کی وجہ سے تم بھوک سے نہ مرو گے۔ اس کی فکر نہ کرو ، تم اللہ کے بندے ہو اور اللہ اپنے بندوں کا بندوبست کرتا ہے جہاں بھی وہ ہوں جس طرح اللہ اپنی دوسری مخلوق کا بندوبست کرتا ہے اور کسی کو بھی بھوکا مرنے نہیں دیتا۔ یہ محبت آمیز نغمے اس شعور پر آخر ختم ہوتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ وہ ہر وقت ان پر نظر کرم رکھتا ہے ، وہ ان کی سب باتیں سنتا ہے۔ ان کے حالات کو جانتا ہے اور کبھی بھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ وھو السمیع العلیم (29: 60) ” وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ یہ دور یہاں اگر ختم ہوتا ہے ، اس حال میں اللہ نے مہاجرین کے دلوں میں پائے جانے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اللہ کی راہ میں نکلتے وقت دل میں کھٹکنے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اہل ایمان کے دلوں میں جو خدشات اور اندیشے پائے جاتے تھے اب ان کی جگہ اطمینان نے لے لی۔ قلق و پریشانیوں کی جگہ اب وہ مطمئن ہیں اور اب اہل ایمان کے دل اس قدر سکون اور ٹھہراؤ اور ثبات پا چکے ہیں کہ وہ اللہ کا قرب ، اللہ کی نگرانی اور اللہ کی پناہ میں اپنے آپ کو اب محفوظ تصور کرتے ہیں۔ کون ہے جو انسان کے خدشات کو اس انداز میں محسوس کرسکتا ہے اور ان کو اس طرح دور کرسکتا ہے ماسوائے خالق کائنات کے۔ جو ان تمام باتوں سے واقف ہوتا ہے ، جو دلوں میں گزرتی ہیں۔ مومنین کے ساتھ اس مختصر مکالمہ کے بعد روئے سخن پھر مشرکین کے باہم متضاد افکار کی طرف پھرجاتا ہے۔ ان کے تصورات اس قدر غیر معقول ہیں کہ وہ ایک طرف تو یہ اقرار کرتے ہیں کہ صرف اللہ ہی ہے جو زمینوں اور آسمانوں کا خالق ہے۔ وہی ہے جس نے شمس و قمر کر مسخر کر رکھا ہے۔ وہی ہے جو آسمانوں سے بارشیں برساتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہی ہے جو رزق کو کھلا بھی کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے۔ جب یہ لوگ انتہائی خوف کی حالت میں ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔ جو لوگ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اس کی بندگی کرتے ہیں ، یہ ان کو اذیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کو یہ بھی تسلیم کرتے ہیں اور بلاوجہ یہ لوگ ایسے لوگوں پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر جو احسانات کیے ، ان کو یہ لوگ بھلاتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو بیت اللہ میں خوفزدہ کرتے ہیں۔

العنكبوت 29:59

یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60) دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو یہ دلایا جاتا ہے۔ ان ارضی واسعۃ (29: 56) ” میری زمین وسیع ہے “۔ تم میرے بندے ہو اور یہ میری زمین ہے اور بہت ہی وسیع ہے۔ اس قدر وسیع ہے کہ یہ تمہیں جگہ دے سکتی ہے اس لیے کیوں تم مکہ کی تنگنائیوں میں ڈٹے ہوئے ہو ، جہاں تم پر محض تمہارے دین اور عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ہو رہے ہیں۔ یہاں تمہیں اس کی اجازت بھی نہیں ہے کہ تم اپنے رب اور مولائے کریم کی بندگی کرسکو۔ ان تنگیزوں کو خیرباد کہو اور اللہ کی وسیع دنیا کی طرف نکل جاؤ۔ اپنے دین کو لے کر اس ظلم سے نجات پاؤ تاکہ آزادی سے اپنے رب کی بندگی کو سکو۔ فایای فاعبدون (29: 56) ” پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ “۔ جب کسی کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کیا جاتا ہے تو دل میں پہلا دکھ ملک چھوڑنے کا کروٹیں لیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس قدر میٹھا انداز اختیار کیا ، میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، الا یہ کہ میری زمین وسیع ہے ، مکہ بھی میرا اور مدینہ بھی میرا ہے۔ تمام زمین میری ہے۔ لہٰذا محبت صرف اسی زمین سے رکھو جس میں تم میری عبادت کرسکو اور جس میں تمہارے لیے وسعت ہو۔ دوسرا خیال ایسے مواقع پر ہجرت کے عمل کے خطرات اور خدشات کا آتا ہے یعنی یہ کہ اپنے گھروں سے نکلیں گے تو راستوں میں موت ہی نہ آجائے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ کفار نے مسلمانوں کو مکہ میں قید کر رکھا تھا۔ ان کو وہاں سے نکلنے کی اجازت ہی نہ دیتے تھے اس لیے مہاجرین کے لیے ہجرت کی راہ میں نکلنا بھی پر خطر تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کے اس خدشے کو بھی دور فرماتے ہیں کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون (29: 57) ” ہر متنفس کو موت کو مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری طرف پلٹا کر لائے جاؤ گے “۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے تو وہ ہر جگہ آنے والی ہے ، لہٰذا موت کی پرواہ مت کرو ، جبکہ موت کا وقت اور سبب کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ تو ہجرت کرنے والے ہیں اور اگر نہ بھی کریں تو پھر بھی اللہ کی طرف سب کو پلٹایا جانا ہے اور تم تو اللہ کے غلام ہو ، تم کو تو دنیا و آخرت دونوں میں اللہ ہی کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ لہٰذا اس بارے میں ڈرنا کیا یا دلوں میں خوف و خطر کو لانے کا کیا مقام ہے۔ پھر اللہ کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ تمہیں دنیا میں زمین کی وسعتیں دے گا اور تم محفوظ ہوگے بلکہ قیامت میں تمہارے لیے جو آرام گاہ تیار ہے وہ تو بہت ہی عظیم ہے۔ اب تم وطن چھوڑ رہے ہو تو دنیا میں بھی وسعت ملے گی اور گھر تم چھوڑ رہے ہو تو جنت میں تمہارے لیے محلات تیار ہیں اور وہ محلات تمہارے ان چھوٹے چھوٹے گھر وندوں سے بہت ہی بڑے اور عظیم ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ خلدین فیھا (29: 58) ” جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور وہاں ان کو خوش آمدید ان الفاظ میں کہا جائے گا اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ ہوگا۔ نعم اجر العملین ۔۔۔۔۔ یتوکلون (29: 59) ” کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ، ان لوگوں کیلئے جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ چناچہ یوم اہل ایمان کو ہجرت پر آمادہ کیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ وعدے کیے جا رہے ہیں اور اس پر پریشانی ، خدشات اور خوف کے ماحول سے ان کو ثابت قدمی اور جرات مندی اور حوصلہ سکھایا جا رہا ہے۔ قدرتی طور پر ہجرت کے وقت یہ فکر بھی لاحق ہوجاتی ہے کہ انسان کے ساتھ پیٹ تو لگا ہوا ہے۔ آخر صبح و شام کی ضروریات کا بندوبست کیا ہوگا۔ وطن چھوڑ دیں گے ، مال چھوڑ دیں گے ، روزگار ترک کرکے چلے جائیں گے۔ یہاں تو مکہ میں بہرحال ضروریات زندگی کی فراہمی کا بندوبست تو یقینی ہے۔ ہر شخص روزگار پر لگا ہے۔ چناچہ ان خدشات کا جواب بھی دے دیا جاتا ہے۔ وکاین من دآبۃ لا تحمل رزقھا اللہ یرزقھا وایاکم (29: 60) ” اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ، اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے “۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسان کی آنکھیں کھول دیتا ہے اور یہ واقعی صورت حالات ہم رات اور دن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے جانور ہیں جو نہ رزق اٹھائے پھرتے ہیں ، نہ جمع کرتے ہیں ، نہ اس کا کوئی اہتمام کرتے ہیں۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس رزق کو پیدا کرنے کی کیا تدبیر کریں گے۔ نہ ذخیرہ کرنا انہیں آتا ہے۔ اس کے باوجود اللہ سب کو رزق دیتا ہے۔ کوئی جانور کبھی بھوک سے نہیں مرا۔ اسی طرح اللہ لوگوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کو یہ زعم لاحق ہوجاتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وسائل رزق اللہ ہی فراہم کرتا ہے اور یہ وسائل ہی دراصل رزق ہیں۔ اگر اللہ کے یہ پیدا کردہ وسائل نہ ہوں تو انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہجرت کی وجہ سے تم بھوک سے نہ مرو گے۔ اس کی فکر نہ کرو ، تم اللہ کے بندے ہو اور اللہ اپنے بندوں کا بندوبست کرتا ہے جہاں بھی وہ ہوں جس طرح اللہ اپنی دوسری مخلوق کا بندوبست کرتا ہے اور کسی کو بھی بھوکا مرنے نہیں دیتا۔ یہ محبت آمیز نغمے اس شعور پر آخر ختم ہوتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ وہ ہر وقت ان پر نظر کرم رکھتا ہے ، وہ ان کی سب باتیں سنتا ہے۔ ان کے حالات کو جانتا ہے اور کبھی بھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ وھو السمیع العلیم (29: 60) ” وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ یہ دور یہاں اگر ختم ہوتا ہے ، اس حال میں اللہ نے مہاجرین کے دلوں میں پائے جانے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اللہ کی راہ میں نکلتے وقت دل میں کھٹکنے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اہل ایمان کے دلوں میں جو خدشات اور اندیشے پائے جاتے تھے اب ان کی جگہ اطمینان نے لے لی۔ قلق و پریشانیوں کی جگہ اب وہ مطمئن ہیں اور اب اہل ایمان کے دل اس قدر سکون اور ٹھہراؤ اور ثبات پا چکے ہیں کہ وہ اللہ کا قرب ، اللہ کی نگرانی اور اللہ کی پناہ میں اپنے آپ کو اب محفوظ تصور کرتے ہیں۔ کون ہے جو انسان کے خدشات کو اس انداز میں محسوس کرسکتا ہے اور ان کو اس طرح دور کرسکتا ہے ماسوائے خالق کائنات کے۔ جو ان تمام باتوں سے واقف ہوتا ہے ، جو دلوں میں گزرتی ہیں۔ مومنین کے ساتھ اس مختصر مکالمہ کے بعد روئے سخن پھر مشرکین کے باہم متضاد افکار کی طرف پھرجاتا ہے۔ ان کے تصورات اس قدر غیر معقول ہیں کہ وہ ایک طرف تو یہ اقرار کرتے ہیں کہ صرف اللہ ہی ہے جو زمینوں اور آسمانوں کا خالق ہے۔ وہی ہے جس نے شمس و قمر کر مسخر کر رکھا ہے۔ وہی ہے جو آسمانوں سے بارشیں برساتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہی ہے جو رزق کو کھلا بھی کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے۔ جب یہ لوگ انتہائی خوف کی حالت میں ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔ جو لوگ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اس کی بندگی کرتے ہیں ، یہ ان کو اذیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کو یہ بھی تسلیم کرتے ہیں اور بلاوجہ یہ لوگ ایسے لوگوں پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر جو احسانات کیے ، ان کو یہ لوگ بھلاتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو بیت اللہ میں خوفزدہ کرتے ہیں۔

العنكبوت 29:60

یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60) دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو یہ دلایا جاتا ہے۔ ان ارضی واسعۃ (29: 56) ” میری زمین وسیع ہے “۔ تم میرے بندے ہو اور یہ میری زمین ہے اور بہت ہی وسیع ہے۔ اس قدر وسیع ہے کہ یہ تمہیں جگہ دے سکتی ہے اس لیے کیوں تم مکہ کی تنگنائیوں میں ڈٹے ہوئے ہو ، جہاں تم پر محض تمہارے دین اور عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ہو رہے ہیں۔ یہاں تمہیں اس کی اجازت بھی نہیں ہے کہ تم اپنے رب اور مولائے کریم کی بندگی کرسکو۔ ان تنگیزوں کو خیرباد کہو اور اللہ کی وسیع دنیا کی طرف نکل جاؤ۔ اپنے دین کو لے کر اس ظلم سے نجات پاؤ تاکہ آزادی سے اپنے رب کی بندگی کو سکو۔ فایای فاعبدون (29: 56) ” پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ “۔ جب کسی کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کیا جاتا ہے تو دل میں پہلا دکھ ملک چھوڑنے کا کروٹیں لیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس قدر میٹھا انداز اختیار کیا ، میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، الا یہ کہ میری زمین وسیع ہے ، مکہ بھی میرا اور مدینہ بھی میرا ہے۔ تمام زمین میری ہے۔ لہٰذا محبت صرف اسی زمین سے رکھو جس میں تم میری عبادت کرسکو اور جس میں تمہارے لیے وسعت ہو۔ دوسرا خیال ایسے مواقع پر ہجرت کے عمل کے خطرات اور خدشات کا آتا ہے یعنی یہ کہ اپنے گھروں سے نکلیں گے تو راستوں میں موت ہی نہ آجائے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ کفار نے مسلمانوں کو مکہ میں قید کر رکھا تھا۔ ان کو وہاں سے نکلنے کی اجازت ہی نہ دیتے تھے اس لیے مہاجرین کے لیے ہجرت کی راہ میں نکلنا بھی پر خطر تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کے اس خدشے کو بھی دور فرماتے ہیں کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون (29: 57) ” ہر متنفس کو موت کو مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری طرف پلٹا کر لائے جاؤ گے “۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے تو وہ ہر جگہ آنے والی ہے ، لہٰذا موت کی پرواہ مت کرو ، جبکہ موت کا وقت اور سبب کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ تو ہجرت کرنے والے ہیں اور اگر نہ بھی کریں تو پھر بھی اللہ کی طرف سب کو پلٹایا جانا ہے اور تم تو اللہ کے غلام ہو ، تم کو تو دنیا و آخرت دونوں میں اللہ ہی کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ لہٰذا اس بارے میں ڈرنا کیا یا دلوں میں خوف و خطر کو لانے کا کیا مقام ہے۔ پھر اللہ کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ تمہیں دنیا میں زمین کی وسعتیں دے گا اور تم محفوظ ہوگے بلکہ قیامت میں تمہارے لیے جو آرام گاہ تیار ہے وہ تو بہت ہی عظیم ہے۔ اب تم وطن چھوڑ رہے ہو تو دنیا میں بھی وسعت ملے گی اور گھر تم چھوڑ رہے ہو تو جنت میں تمہارے لیے محلات تیار ہیں اور وہ محلات تمہارے ان چھوٹے چھوٹے گھر وندوں سے بہت ہی بڑے اور عظیم ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ خلدین فیھا (29: 58) ” جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور وہاں ان کو خوش آمدید ان الفاظ میں کہا جائے گا اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ ہوگا۔ نعم اجر العملین ۔۔۔۔۔ یتوکلون (29: 59) ” کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ، ان لوگوں کیلئے جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ چناچہ یوم اہل ایمان کو ہجرت پر آمادہ کیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ وعدے کیے جا رہے ہیں اور اس پر پریشانی ، خدشات اور خوف کے ماحول سے ان کو ثابت قدمی اور جرات مندی اور حوصلہ سکھایا جا رہا ہے۔ قدرتی طور پر ہجرت کے وقت یہ فکر بھی لاحق ہوجاتی ہے کہ انسان کے ساتھ پیٹ تو لگا ہوا ہے۔ آخر صبح و شام کی ضروریات کا بندوبست کیا ہوگا۔ وطن چھوڑ دیں گے ، مال چھوڑ دیں گے ، روزگار ترک کرکے چلے جائیں گے۔ یہاں تو مکہ میں بہرحال ضروریات زندگی کی فراہمی کا بندوبست تو یقینی ہے۔ ہر شخص روزگار پر لگا ہے۔ چناچہ ان خدشات کا جواب بھی دے دیا جاتا ہے۔ وکاین من دآبۃ لا تحمل رزقھا اللہ یرزقھا وایاکم (29: 60) ” اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ، اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے “۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسان کی آنکھیں کھول دیتا ہے اور یہ واقعی صورت حالات ہم رات اور دن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے جانور ہیں جو نہ رزق اٹھائے پھرتے ہیں ، نہ جمع کرتے ہیں ، نہ اس کا کوئی اہتمام کرتے ہیں۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس رزق کو پیدا کرنے کی کیا تدبیر کریں گے۔ نہ ذخیرہ کرنا انہیں آتا ہے۔ اس کے باوجود اللہ سب کو رزق دیتا ہے۔ کوئی جانور کبھی بھوک سے نہیں مرا۔ اسی طرح اللہ لوگوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کو یہ زعم لاحق ہوجاتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وسائل رزق اللہ ہی فراہم کرتا ہے اور یہ وسائل ہی دراصل رزق ہیں۔ اگر اللہ کے یہ پیدا کردہ وسائل نہ ہوں تو انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہجرت کی وجہ سے تم بھوک سے نہ مرو گے۔ اس کی فکر نہ کرو ، تم اللہ کے بندے ہو اور اللہ اپنے بندوں کا بندوبست کرتا ہے جہاں بھی وہ ہوں جس طرح اللہ اپنی دوسری مخلوق کا بندوبست کرتا ہے اور کسی کو بھی بھوکا مرنے نہیں دیتا۔ یہ محبت آمیز نغمے اس شعور پر آخر ختم ہوتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ وہ ہر وقت ان پر نظر کرم رکھتا ہے ، وہ ان کی سب باتیں سنتا ہے۔ ان کے حالات کو جانتا ہے اور کبھی بھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ وھو السمیع العلیم (29: 60) ” وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ یہ دور یہاں اگر ختم ہوتا ہے ، اس حال میں اللہ نے مہاجرین کے دلوں میں پائے جانے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اللہ کی راہ میں نکلتے وقت دل میں کھٹکنے والے تمام خدشات دور کر دئیے اور اہل ایمان کے دلوں میں جو خدشات اور اندیشے پائے جاتے تھے اب ان کی جگہ اطمینان نے لے لی۔ قلق و پریشانیوں کی جگہ اب وہ مطمئن ہیں اور اب اہل ایمان کے دل اس قدر سکون اور ٹھہراؤ اور ثبات پا چکے ہیں کہ وہ اللہ کا قرب ، اللہ کی نگرانی اور اللہ کی پناہ میں اپنے آپ کو اب محفوظ تصور کرتے ہیں۔ کون ہے جو انسان کے خدشات کو اس انداز میں محسوس کرسکتا ہے اور ان کو اس طرح دور کرسکتا ہے ماسوائے خالق کائنات کے۔ جو ان تمام باتوں سے واقف ہوتا ہے ، جو دلوں میں گزرتی ہیں۔ مومنین کے ساتھ اس مختصر مکالمہ کے بعد روئے سخن پھر مشرکین کے باہم متضاد افکار کی طرف پھرجاتا ہے۔ ان کے تصورات اس قدر غیر معقول ہیں کہ وہ ایک طرف تو یہ اقرار کرتے ہیں کہ صرف اللہ ہی ہے جو زمینوں اور آسمانوں کا خالق ہے۔ وہی ہے جس نے شمس و قمر کر مسخر کر رکھا ہے۔ وہی ہے جو آسمانوں سے بارشیں برساتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہی ہے جو رزق کو کھلا بھی کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے۔ جب یہ لوگ انتہائی خوف کی حالت میں ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔ جو لوگ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اس کی بندگی کرتے ہیں ، یہ ان کو اذیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کو یہ بھی تسلیم کرتے ہیں اور بلاوجہ یہ لوگ ایسے لوگوں پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر جو احسانات کیے ، ان کو یہ لوگ بھلاتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو بیت اللہ میں خوفزدہ کرتے ہیں۔

العنكبوت 29:61

ولئن سالتھم من خلق السموت والارض ۔۔۔۔۔۔۔۔ جھنم مثوی للکفرین (61 – 67) اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے ، کاش یہ لوگ جانتے۔ جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس سے دعا مانگتے ہیں ، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر ان کا کفران نعمت کریں۔ اور (حیات دنیا کے) مزے لوٹیں ۔ اچھا ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ ان کے گردو پیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں ؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں ؟ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو ؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم ہی نہیں ہے ؟ “ ان آیات میں نزول اسلام سے قبل عرب عقائد کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے اصل عقائد توحید پر مبنی تھے۔ بعد کے ادوار میں ان کے عقائد اور نظریات کے اندر انحراف پیدا ہوگیا۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کیونکہ یہ اولاد اسماعیل تھے۔ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں اس لیے وہ پنے عقائد کو حضرت اسماعیل و ابراہیم (علیہم السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے دین کو کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ یہ دین جزیرۃ العرب کے آس پاس موجود تھے کیونکہ یہ لوگ دین ابراہیم کو برتر سمجھتے ہوئے ، اس پر فخر کرتے تھے۔ لیکن وہ اس بات کو سمجھ نہ سکتے تھے کہ ان کے عقائد کے اندر اصل دین کے مقابلے میں کس قدر انحراف آگیا ہے اور عملاً وہ مشرک ہوگئے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کا خالق کون ہے ؟ اور شمس و قمر کو کس نے مسخر کیا ہے ؟ آسمانوں سے پانی کون برساتا ہے ؟ مرونی کے بعد زمین میں روئیدگی کون لاتا ہے ؟ تو یہ لوگ صاف صاف اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب کام اللہ ہی کرنے والا ہے۔ لیکن ان کے باوجود وہ اپنے بتوں کو بھی پوجتے ہیں۔ جنوں کی عبادت بھی کرتے ہیں ، ملائکہ کی پرستش بھی کرتے ہیں ، اور ان سب کو عبادت میں اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔ جبکہ تخلیق میں ان کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں کرتے۔ یہ عجیب تناقص تھا۔ اس تضاد کی وجہ سے ان آیات میں اللہ ان کے اس طرز فکر پر تعجب کا اظہار فرماتے ہیں : فانی یوفکون (29: 61) ” پھر یہ کدھر سے دھوکہ کھا رہے ہو “۔ یعنی کس طرح تم حق سے پھر کر ان مغلوبہ عقائد میں پھنس گئے ہو۔ بل اکثرھم لا یعقلون (29: 63) ” ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں “۔ کیونکہ جس کی عقل سلیم ہو وہ ایسے عقائد اختیار نہیں کرتا۔ خالق سماوات وارض کے بارے میں سوال ، شمس و قمر کے مسخر کرنے والے کے بارے میں دریافت اور آسمانوں سے پانی نازل کرنے والے کے بارے میں سوال اور مدہ زمین کو سرسبز کرنے والے کے بارے میں سوال کے درمیان یہ بھی قرار دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے اور کسی کا کشادہ کردیتا ہے۔ یوں تمام آثار قدرت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ رازق بھی وہی ہے اور اللہ تمام مخلوقات کو جانتا ہے۔ اور سب کو رزق پہنچاتا ہے۔ ان اللہ بکل شیئ علیم (29: 62) ” یقینا اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے “۔ آسمانوں کی گردش کے ساتھ رزق واضح طور پر مربوط ہے۔ پانی ، زندگی اور روئیدگی بھی گردش افلاک سے مربوط ہے۔ اسی طرح رزق کی کشادگی اور تنگی بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ تمام مظاہر ان آیات میں واضح طور پر دکھائے گئے ہیں۔ رزق پانی سے وجود میں آتا ہے۔ نہریں اور دریا بارش سے بہتے ہیں اور ان کی وجہ سے حیات و نبات قائم ہیں۔ یہ پانی زمین کے اندر بھی ذخیرہ ہوتا ہے اور اوپر بھی بہتا ہے اور اس کی وجہ سے بحروبر کا شکار پیدا ہوتا ہے۔ غرض تمام ارزاق پانیوں سے وابستہ ہیں۔ اس کائنات کے نوامیس فطرت کے مطابق پانی پیدا ہوتے ہیں اور شمس و قمر کے سب مظاہر شمس و قمر کی تسخیر کے نتیجے میں ، اور اگر یہ نوامیس فطرت ذدہ بھر بدل جائیں تو سطح زمین کا یہ منظر ہی یکلخت بدل جائے۔ پھر زمین کے اندر کے تمام ذخائر اور قدرت وسائل بھی اللہ کے جاری کردہ نوامیس زمان و مکان کے مطابق ہیں۔ زمین کی یہ تمام بوقلمونیاں شمس و قمر کی گردش کے نتیجے میں ہیں (فی ظلال پارہ 19 میں ہم نے تفصیلات دی ہیں) ۔ قرآن کریم اس عظیم کائنات اور اس کے مشاہدہ مناظر کو بطور حجت اور برہان پیش کرتا ہے۔ جو سچائی قرآن لے کر آیا ہے اس کا نکتہ تدبر یہ عظیم کائنات ہے۔ ایک متفکر اور سوچ رکھنے والا دل اس عظیم کائنات پر ضرور غور کرتا ہے۔ وہ اس کائنات کے عجائبات کو دیکھ کر زندہ و بیدار رہتا ہے ، دست قدرت کی صنعت کاریوں کو سمجھتا ہے۔ اس وسیع کائنات کے لیے جو نہایت ہی اٹل ناموس قدرت وضع کیا گیا ہے وہ اس کا شعور رکھتا ہے۔ وہ نہایت ہی ٹھنڈے دل اور نہایت ہی سنجیدگی سے اور نہایت ہی سہولت سے اس شعور کو پالیتا ہے۔ اسے بہت گہرے غور و فکر کی ضرورت بھی نہیں پڑتی اور جب بھی یہ زندہ اور بیدار دل اس کائنات کی عظیم آیات میں سے کوئی نشانی پالیتا ہے تو وہ اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہوجاتا ہے۔ قل الحمدللہ ۔۔۔۔۔ لایعقلون (29: 63) ” کہو الحمدللہ ، مگر ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں “۔ زمین کے اوپر آثار حیات اور رزق کی تنگی اور کشادگی کے حوالے سے انسانوں کے سامنے اقدار حیات کا حساس ترازو رکھ دیا جاتا ہے کہ دیکھو دنیا کی یہ زندگی اپنی تمام بوقلمونیوں اور لہو ولعب کے باوجود ایک تحصیل تماشا ہے۔ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔

العنكبوت 29:62

ولئن سالتھم من خلق السموت والارض ۔۔۔۔۔۔۔۔ جھنم مثوی للکفرین (61 – 67) اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے ، کاش یہ لوگ جانتے۔ جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس سے دعا مانگتے ہیں ، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر ان کا کفران نعمت کریں۔ اور (حیات دنیا کے) مزے لوٹیں ۔ اچھا ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ ان کے گردو پیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں ؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں ؟ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو ؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم ہی نہیں ہے ؟ “ ان آیات میں نزول اسلام سے قبل عرب عقائد کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے اصل عقائد توحید پر مبنی تھے۔ بعد کے ادوار میں ان کے عقائد اور نظریات کے اندر انحراف پیدا ہوگیا۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کیونکہ یہ اولاد اسماعیل تھے۔ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں اس لیے وہ پنے عقائد کو حضرت اسماعیل و ابراہیم (علیہم السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے دین کو کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ یہ دین جزیرۃ العرب کے آس پاس موجود تھے کیونکہ یہ لوگ دین ابراہیم کو برتر سمجھتے ہوئے ، اس پر فخر کرتے تھے۔ لیکن وہ اس بات کو سمجھ نہ سکتے تھے کہ ان کے عقائد کے اندر اصل دین کے مقابلے میں کس قدر انحراف آگیا ہے اور عملاً وہ مشرک ہوگئے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کا خالق کون ہے ؟ اور شمس و قمر کو کس نے مسخر کیا ہے ؟ آسمانوں سے پانی کون برساتا ہے ؟ مرونی کے بعد زمین میں روئیدگی کون لاتا ہے ؟ تو یہ لوگ صاف صاف اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب کام اللہ ہی کرنے والا ہے۔ لیکن ان کے باوجود وہ اپنے بتوں کو بھی پوجتے ہیں۔ جنوں کی عبادت بھی کرتے ہیں ، ملائکہ کی پرستش بھی کرتے ہیں ، اور ان سب کو عبادت میں اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔ جبکہ تخلیق میں ان کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں کرتے۔ یہ عجیب تناقص تھا۔ اس تضاد کی وجہ سے ان آیات میں اللہ ان کے اس طرز فکر پر تعجب کا اظہار فرماتے ہیں : فانی یوفکون (29: 61) ” پھر یہ کدھر سے دھوکہ کھا رہے ہو “۔ یعنی کس طرح تم حق سے پھر کر ان مغلوبہ عقائد میں پھنس گئے ہو۔ بل اکثرھم لا یعقلون (29: 63) ” ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں “۔ کیونکہ جس کی عقل سلیم ہو وہ ایسے عقائد اختیار نہیں کرتا۔ خالق سماوات وارض کے بارے میں سوال ، شمس و قمر کے مسخر کرنے والے کے بارے میں دریافت اور آسمانوں سے پانی نازل کرنے والے کے بارے میں سوال اور مدہ زمین کو سرسبز کرنے والے کے بارے میں سوال کے درمیان یہ بھی قرار دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے اور کسی کا کشادہ کردیتا ہے۔ یوں تمام آثار قدرت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ رازق بھی وہی ہے اور اللہ تمام مخلوقات کو جانتا ہے۔ اور سب کو رزق پہنچاتا ہے۔ ان اللہ بکل شیئ علیم (29: 62) ” یقینا اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے “۔ آسمانوں کی گردش کے ساتھ رزق واضح طور پر مربوط ہے۔ پانی ، زندگی اور روئیدگی بھی گردش افلاک سے مربوط ہے۔ اسی طرح رزق کی کشادگی اور تنگی بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ تمام مظاہر ان آیات میں واضح طور پر دکھائے گئے ہیں۔ رزق پانی سے وجود میں آتا ہے۔ نہریں اور دریا بارش سے بہتے ہیں اور ان کی وجہ سے حیات و نبات قائم ہیں۔ یہ پانی زمین کے اندر بھی ذخیرہ ہوتا ہے اور اوپر بھی بہتا ہے اور اس کی وجہ سے بحروبر کا شکار پیدا ہوتا ہے۔ غرض تمام ارزاق پانیوں سے وابستہ ہیں۔ اس کائنات کے نوامیس فطرت کے مطابق پانی پیدا ہوتے ہیں اور شمس و قمر کے سب مظاہر شمس و قمر کی تسخیر کے نتیجے میں ، اور اگر یہ نوامیس فطرت ذدہ بھر بدل جائیں تو سطح زمین کا یہ منظر ہی یکلخت بدل جائے۔ پھر زمین کے اندر کے تمام ذخائر اور قدرت وسائل بھی اللہ کے جاری کردہ نوامیس زمان و مکان کے مطابق ہیں۔ زمین کی یہ تمام بوقلمونیاں شمس و قمر کی گردش کے نتیجے میں ہیں (فی ظلال پارہ 19 میں ہم نے تفصیلات دی ہیں) ۔ قرآن کریم اس عظیم کائنات اور اس کے مشاہدہ مناظر کو بطور حجت اور برہان پیش کرتا ہے۔ جو سچائی قرآن لے کر آیا ہے اس کا نکتہ تدبر یہ عظیم کائنات ہے۔ ایک متفکر اور سوچ رکھنے والا دل اس عظیم کائنات پر ضرور غور کرتا ہے۔ وہ اس کائنات کے عجائبات کو دیکھ کر زندہ و بیدار رہتا ہے ، دست قدرت کی صنعت کاریوں کو سمجھتا ہے۔ اس وسیع کائنات کے لیے جو نہایت ہی اٹل ناموس قدرت وضع کیا گیا ہے وہ اس کا شعور رکھتا ہے۔ وہ نہایت ہی ٹھنڈے دل اور نہایت ہی سنجیدگی سے اور نہایت ہی سہولت سے اس شعور کو پالیتا ہے۔ اسے بہت گہرے غور و فکر کی ضرورت بھی نہیں پڑتی اور جب بھی یہ زندہ اور بیدار دل اس کائنات کی عظیم آیات میں سے کوئی نشانی پالیتا ہے تو وہ اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہوجاتا ہے۔ قل الحمدللہ ۔۔۔۔۔ لایعقلون (29: 63) ” کہو الحمدللہ ، مگر ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں “۔ زمین کے اوپر آثار حیات اور رزق کی تنگی اور کشادگی کے حوالے سے انسانوں کے سامنے اقدار حیات کا حساس ترازو رکھ دیا جاتا ہے کہ دیکھو دنیا کی یہ زندگی اپنی تمام بوقلمونیوں اور لہو ولعب کے باوجود ایک تحصیل تماشا ہے۔ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔

العنكبوت 29:63

ولئن سالتھم من خلق السموت والارض ۔۔۔۔۔۔۔۔ جھنم مثوی للکفرین (61 – 67) اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے ، کاش یہ لوگ جانتے۔ جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس سے دعا مانگتے ہیں ، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر ان کا کفران نعمت کریں۔ اور (حیات دنیا کے) مزے لوٹیں ۔ اچھا ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ ان کے گردو پیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں ؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں ؟ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو ؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم ہی نہیں ہے ؟ “ ان آیات میں نزول اسلام سے قبل عرب عقائد کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے اصل عقائد توحید پر مبنی تھے۔ بعد کے ادوار میں ان کے عقائد اور نظریات کے اندر انحراف پیدا ہوگیا۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کیونکہ یہ اولاد اسماعیل تھے۔ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں اس لیے وہ پنے عقائد کو حضرت اسماعیل و ابراہیم (علیہم السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے دین کو کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ یہ دین جزیرۃ العرب کے آس پاس موجود تھے کیونکہ یہ لوگ دین ابراہیم کو برتر سمجھتے ہوئے ، اس پر فخر کرتے تھے۔ لیکن وہ اس بات کو سمجھ نہ سکتے تھے کہ ان کے عقائد کے اندر اصل دین کے مقابلے میں کس قدر انحراف آگیا ہے اور عملاً وہ مشرک ہوگئے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کا خالق کون ہے ؟ اور شمس و قمر کو کس نے مسخر کیا ہے ؟ آسمانوں سے پانی کون برساتا ہے ؟ مرونی کے بعد زمین میں روئیدگی کون لاتا ہے ؟ تو یہ لوگ صاف صاف اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب کام اللہ ہی کرنے والا ہے۔ لیکن ان کے باوجود وہ اپنے بتوں کو بھی پوجتے ہیں۔ جنوں کی عبادت بھی کرتے ہیں ، ملائکہ کی پرستش بھی کرتے ہیں ، اور ان سب کو عبادت میں اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔ جبکہ تخلیق میں ان کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں کرتے۔ یہ عجیب تناقص تھا۔ اس تضاد کی وجہ سے ان آیات میں اللہ ان کے اس طرز فکر پر تعجب کا اظہار فرماتے ہیں : فانی یوفکون (29: 61) ” پھر یہ کدھر سے دھوکہ کھا رہے ہو “۔ یعنی کس طرح تم حق سے پھر کر ان مغلوبہ عقائد میں پھنس گئے ہو۔ بل اکثرھم لا یعقلون (29: 63) ” ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں “۔ کیونکہ جس کی عقل سلیم ہو وہ ایسے عقائد اختیار نہیں کرتا۔ خالق سماوات وارض کے بارے میں سوال ، شمس و قمر کے مسخر کرنے والے کے بارے میں دریافت اور آسمانوں سے پانی نازل کرنے والے کے بارے میں سوال اور مدہ زمین کو سرسبز کرنے والے کے بارے میں سوال کے درمیان یہ بھی قرار دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے اور کسی کا کشادہ کردیتا ہے۔ یوں تمام آثار قدرت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ رازق بھی وہی ہے اور اللہ تمام مخلوقات کو جانتا ہے۔ اور سب کو رزق پہنچاتا ہے۔ ان اللہ بکل شیئ علیم (29: 62) ” یقینا اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے “۔ آسمانوں کی گردش کے ساتھ رزق واضح طور پر مربوط ہے۔ پانی ، زندگی اور روئیدگی بھی گردش افلاک سے مربوط ہے۔ اسی طرح رزق کی کشادگی اور تنگی بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ تمام مظاہر ان آیات میں واضح طور پر دکھائے گئے ہیں۔ رزق پانی سے وجود میں آتا ہے۔ نہریں اور دریا بارش سے بہتے ہیں اور ان کی وجہ سے حیات و نبات قائم ہیں۔ یہ پانی زمین کے اندر بھی ذخیرہ ہوتا ہے اور اوپر بھی بہتا ہے اور اس کی وجہ سے بحروبر کا شکار پیدا ہوتا ہے۔ غرض تمام ارزاق پانیوں سے وابستہ ہیں۔ اس کائنات کے نوامیس فطرت کے مطابق پانی پیدا ہوتے ہیں اور شمس و قمر کے سب مظاہر شمس و قمر کی تسخیر کے نتیجے میں ، اور اگر یہ نوامیس فطرت ذدہ بھر بدل جائیں تو سطح زمین کا یہ منظر ہی یکلخت بدل جائے۔ پھر زمین کے اندر کے تمام ذخائر اور قدرت وسائل بھی اللہ کے جاری کردہ نوامیس زمان و مکان کے مطابق ہیں۔ زمین کی یہ تمام بوقلمونیاں شمس و قمر کی گردش کے نتیجے میں ہیں (فی ظلال پارہ 19 میں ہم نے تفصیلات دی ہیں) ۔ قرآن کریم اس عظیم کائنات اور اس کے مشاہدہ مناظر کو بطور حجت اور برہان پیش کرتا ہے۔ جو سچائی قرآن لے کر آیا ہے اس کا نکتہ تدبر یہ عظیم کائنات ہے۔ ایک متفکر اور سوچ رکھنے والا دل اس عظیم کائنات پر ضرور غور کرتا ہے۔ وہ اس کائنات کے عجائبات کو دیکھ کر زندہ و بیدار رہتا ہے ، دست قدرت کی صنعت کاریوں کو سمجھتا ہے۔ اس وسیع کائنات کے لیے جو نہایت ہی اٹل ناموس قدرت وضع کیا گیا ہے وہ اس کا شعور رکھتا ہے۔ وہ نہایت ہی ٹھنڈے دل اور نہایت ہی سنجیدگی سے اور نہایت ہی سہولت سے اس شعور کو پالیتا ہے۔ اسے بہت گہرے غور و فکر کی ضرورت بھی نہیں پڑتی اور جب بھی یہ زندہ اور بیدار دل اس کائنات کی عظیم آیات میں سے کوئی نشانی پالیتا ہے تو وہ اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہوجاتا ہے۔ قل الحمدللہ ۔۔۔۔۔ لایعقلون (29: 63) ” کہو الحمدللہ ، مگر ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں “۔ زمین کے اوپر آثار حیات اور رزق کی تنگی اور کشادگی کے حوالے سے انسانوں کے سامنے اقدار حیات کا حساس ترازو رکھ دیا جاتا ہے کہ دیکھو دنیا کی یہ زندگی اپنی تمام بوقلمونیوں اور لہو ولعب کے باوجود ایک تحصیل تماشا ہے۔ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔

العنكبوت 29:64

وما ھذہ الحیوۃ ۔۔۔۔۔ لو کانوا یعلمون (29: 64) ” ۔ یہ زندگی عمومی لحاظ سے تو ایک کھیل تماشا ہی ہے۔ خصوصاً اس وقت جب یہ اس طرح گزر رہی ہے کہ آخرت کی کوئی فکر نہ ہو اور یہی دنیا لوگوں کا مقصد اعلیٰ ہو اور اس دنیا کا سازوسامان ہی غایت زندگی ہو۔ رہی آخرت کی زندگی تو وہ حقیقی زندگی ہے اور اس میں نہایت ہی اعلیٰ معیار ہوگا۔ وہی حقیقی زندگی ہے۔ وہ بھرپور ہے اور اس میں حقیقی حیات اور نشاط ہے۔ یہ کہہ کر قرآن یہ تعلیم بھی نہیں دیتا کہ دنیا کو ترک کردیا جائے یا اس کے متاع کو دور پھینک دیا جائے یا زندگی کی سرگرمیوں سے فرار اختیار کرکے رہبانیت اختیار کی جائے۔ یہ نہ اسلام کی روح ہے اور نہ اسلام زندگی کا یہ رخ اختیار کرتا ہے بلکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اصل ہدف آخرت ہو اور حدود اللہ کا لحاظ رکھا جائے۔ اس زندگی پر سربلندی حاصل کر کے اسے اپنے قبضہ قدرت میں رکھا جائے اور انسان اس دنیا کے متاع کا اسیر نہ بن جائے۔ انسان زندگی کے فرائض پورے کرے اور اس سے فرار اخٹیار نہ کرے۔ غرض اصل مسئلہ صحیح سوچ اور صحیح قدر کا ہے۔ انسان کو اس دنیا کی بھی صحیح قدروقیمت معلوم ہونا چاہئے اور آخرت کی بھی صحیح قدروقیمت معلوم ہونی چاہئے۔ مومنین کو ان اقدار کا صحیح شعور ہونا ضروری ہے۔ اس طرح جب ایک باشعور مومن دنیا سے معاملہ کرے گا تو اس کا نقطہ نظر معتدل ہوگا کہ دنیا تو کھیل تماشا ہے مختصر وقت کے لیے ہے اور آخرت اس طرح سنجیدگی کے لائق ہے جس طرح کھیل تماشے اور میلے ٹھلے کے بعد انسان سنجیدگی سے اس دنیا کے کاموں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ فکر و نظر کی اس درستگی کے بعد اب بتایا جاتا ہے کہ کفار کے فکر و نظر میں کیا کیا تضادات ہیں۔

العنكبوت 29:65

فاذا رکبوا فی ۔۔۔۔ اذاھم یشرکون (29: 66) . یہ بھی ان کے عقائد کا بہت بڑا تضاد ہے۔ ان کے عقائد اس قدر ڈانواں ڈول ہوتے ہیں کہ جب کشتی پر وہ گہرے سمندر میں ہوتے ہیں اور یہ جہاز بحری امواج کے تلاطم میں ایک کھلونا بن جاتا ہے اور ان پر خوف طاری ہوتا ہے تو وہ اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتے۔ اس وقت ان کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ اصل قوت تو صرف اللہ ہی کی قوت ہے۔ پھر ان کی سوچ میں بھی اللہ وحدہ ہوتا ہے اور اس کی زبان پر بھی اللہ وحدہ کا نام ہوتا ہے۔ اب وہ اپنی اس فطرت کے تابع ہوتے ہیں جو وحدانیت کا شعور رکھتی ہے ۔ لیکن جب اللہ ان کو بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو یہ لوگ اچانک پھر شرک کرنے لگتے ہیں اور وہ فطری شعور پھر دب جاتا ہے۔ اب اچانک وہ اس حالت کو بھول جاتے ہیں جس میں وہ اللہ وحدہ کو پکارتے تھے اور اقرار اور تسلیم کے بعد دوبارہ یہ لوگ شرک کی راہ پر پڑجاتے ہیں۔ اس بےراہ روی اور گمراہی کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ یہ کہ یہ لوگ ان انعامات کی ناشکری اور کفر کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو دئیے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس فطری راہ سے منحرف ہوجاتے ہیں جو اللہ نے ان کی شخصیت کے اندر ودیعت کردی ہوئی ہے۔ ان فطری براہین کو نظر انداز کردیتے ہیں جن کو وہ مھسوس کرتے ہیں اور وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ حیات دنیا تو ایک محدود وقت تک کے لیے ایک سازو سامان ہے لیکن ان کو بہت جلد اپنے حقیقی انجام کا پتہ چل جائے گا۔ وہ بہت ہی برا انجام ہوگا۔

العنكبوت 29:66

لیکفروا بما ۔۔۔۔۔ یعلمون (29: 66) ۔ یہ نہایت ہی شدید ڈراوا ہے یعنی نامعلوم مصیبت کا۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو بتاتے ہیں کہ دیکھو اللہ نے تم کو یہ ” حرم امن “ دیا ہے جس کے اندر تم نہایت ہی امن و سکون سے زندگی بسر کرتے ہو۔ کیا اللہ کی اس عظیم نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ یوں کہ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اسی کو پکاریں بلکہ اس کے برعکس اس حرم امن میں اہل ایمان کو تم ڈراتے اور پریشان کرتے ہیں۔

العنكبوت 29:67

اولم یروا انا جعلنا ۔۔۔۔۔۔ یکفرون (29: 67) اہل مکہ کی حالت یہ تھی کہ وہ حرم مکی کی وجہ سے نہایت ہی امن و سکون سے زندگی بسر کرتے تھے۔ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے ان کی تعظیم کرتے تھے۔ ان کے اردگرد جو عرب قبائل تھے وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کے دل میں دوسرے کا خوف ہوتا تھا۔ ان کو اگر امان نصیب ہوتا تھا تو بیت اللہ کے سائے میں ہوتا تھا۔ اور یہ امان اللہ نے دیا تھا لیکن یہ بہت بڑی ناشکری کی بات تھی کہ یہ لوگ بیت اللہ کو بتوں کا اڈہ بنا دیں اور بیت اللہ میں غیر اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔ افبالباطل ۔۔۔۔۔۔ یکفرون (29: 67) ” کیا پھر بھی یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں “۔

العنكبوت 29:68

ومن اظلم ۔۔۔۔۔ مثوی للکفرین (29: 68) اور اہل مکہ اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ہے کہ اللہ نے خود اپنے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کس مقام کے مستحق ہیں۔ اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کسی مقام کے مستحق ہیں۔ یقیناً ایسے لوگ جہنم کے مستحق ہیں۔ سورة کا خاتمہ کفار کے فریق مقابل کی تصویر کشی پر ہوتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہوں میں جدوجہد کی تاکہ وہ اللہ تک پہنچ جائیں۔ ان کا رابطہ اللہ سے ہوجائے۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ناقابل برداشت مصائب جھیلنے کے باوجود نہ اپنا عہد توڑا اور نہ مایوس ہوئے۔ جنہوں نے نفس کی خواہشات پر قابو پایا اور لوگوں کے تشدد کو بھی برداشت کیا۔ جنہوں نے اپنے بوجھ اپنائے اور ان بھارتی بوجھوں کے ساتھ اس طویل سفر پر چل پڑے ، جو طویل بھی تھا اور پر مشقت بھی۔ ایسے لوگوں کو اللہ اس سفر میں تنہا نہیں چھوڑتا اور نہ ان کے ایمان کو ضائع کرتا ہے اور نہ ان کی اس جہدوجہد کو بھولتا ہے۔ اللہ اپنے عرش بریں سے ان کو دیکھ رہا ہے اور ان سے بہت ہی راضی ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے اور قدم قدم پر ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ وہ ان کی کوششوں کو دیکھے گا اور ان کے ہاتھ پکڑ کر ان کو صحیح راہ پر ڈال دے گا۔ ان کو صبر اور ان کی پاکیزگی کو دیکھا جا رہا ہے وہ بہت ہی اچھی جزاء دینے والا ہے۔

العنكبوت 29:69

ومن اظلم ۔۔۔۔۔ مثوی للکفرین (29: 68) اور اہل مکہ اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ہے کہ اللہ نے خود اپنے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کس مقام کے مستحق ہیں۔ اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کسی مقام کے مستحق ہیں۔ یقیناً ایسے لوگ جہنم کے مستحق ہیں۔ سورة کا خاتمہ کفار کے فریق مقابل کی تصویر کشی پر ہوتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہوں میں جدوجہد کی تاکہ وہ اللہ تک پہنچ جائیں۔ ان کا رابطہ اللہ سے ہوجائے۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ناقابل برداشت مصائب جھیلنے کے باوجود نہ اپنا عہد توڑا اور نہ مایوس ہوئے۔ جنہوں نے نفس کی خواہشات پر قابو پایا اور لوگوں کے تشدد کو بھی برداشت کیا۔ جنہوں نے اپنے بوجھ اپنائے اور ان بھارتی بوجھوں کے ساتھ اس طویل سفر پر چل پڑے ، جو طویل بھی تھا اور پر مشقت بھی۔ ایسے لوگوں کو اللہ اس سفر میں تنہا نہیں چھوڑتا اور نہ ان کے ایمان کو ضائع کرتا ہے اور نہ ان کی اس جہدوجہد کو بھولتا ہے۔ اللہ اپنے عرش بریں سے ان کو دیکھ رہا ہے اور ان سے بہت ہی راضی ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے اور قدم قدم پر ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ وہ ان کی کوششوں کو دیکھے گا اور ان کے ہاتھ پکڑ کر ان کو صحیح راہ پر ڈال دے گا۔ ان کو صبر اور ان کی پاکیزگی کو دیکھا جا رہا ہے وہ بہت ہی اچھی جزاء دینے والا ہے۔