Fi Zilal al-Quran — الروم 30:1 – الروم 30:60
Contents
- الروم 30:1
- الروم 30:2
- الروم 30:3
- الروم 30:4
- الروم 30:5
- الروم 30:6
- الروم 30:7
- الروم 30:8
- الروم 30:9
- الروم 30:10
- الروم 30:11
- الروم 30:12
- الروم 30:13
- الروم 30:14
- الروم 30:15
- الروم 30:16
- الروم 30:17
- الروم 30:18
- الروم 30:19
- الروم 30:20
- الروم 30:21
- الروم 30:22
- الروم 30:23
- الروم 30:24
- الروم 30:25
- الروم 30:26
- الروم 30:27
- الروم 30:28
- الروم 30:29
- الروم 30:30
- الروم 30:31
- الروم 30:32
- الروم 30:33
- الروم 30:34
- الروم 30:35
- الروم 30:36
- الروم 30:37
- الروم 30:38
- الروم 30:39
- الروم 30:40
- الروم 30:41
- الروم 30:42
- الروم 30:43
- الروم 30:44
- الروم 30:45
- الروم 30:46
- الروم 30:47
- الروم 30:48
- الروم 30:49
- الروم 30:50
- الروم 30:51
- الروم 30:52
- الروم 30:53
- الروم 30:54
- الروم 30:55
- الروم 30:56
- الروم 30:57
- الروم 30:58
- الروم 30:59
- الروم 30:60
الروم 30:1
الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7)
سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔
اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور مسلمانوں کی خواہش نہ تھی کہ ایرانی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے اور وہ مسلمانوں کے ذہن کے قریب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی :
الم ۔۔۔۔۔ فی بجع سنین (30: 1 – 4) ” ا۔ ل۔ م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے “۔ تو مشرکین مکہ نہ کہا ابوبکر ! تمہارے دوست کہتے ہیں کہ رومی چند سالوں کی میعاد پر چار اونٹنیوں کی شرط لگائی۔ یہ سات سال گزر گئے اور کچھ نہ ہوا۔ مشرکین اس پر بہت ہی خوش ہوئے۔ یہ بات مسلمانوں پر ناگوار گزری۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری زبان میں بضع سنین کا مفہوم کیا ہے تو انہوں نے فرمایا دس سے کم۔ تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ جائیں اور میعاد میں دو سال کا اضافہ کردیں۔ کہتے ہیں دو سال ابھی نہ گزرے تھے کہ سواروں نے آکر اطلاع دی کی رومی فارس پر غالب آگئے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔
اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم نے امام ابن جریر کی روایت اختیار کی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس واقعہ سے آگے بڑھیں ، اس واقعہ میں جو ہدایات ہیں ان پر غور ضروری ہے۔
اس واقعہ میں ہمارے لیے پہلی نصیحت یہ ہے کہ شرک اور کفر ہر زمان و مکان میں ایک ملت ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایمان اور عقیدہ توحید کے خلاف رہے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں دنیا کی حکومتوں کے باہم روابط ہمارے دور کی طرف گہرے نہ تھے اس کے باوجود مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ پوری دنیا میں مشرکین کا غلبہ ان کا غلبہ ہے ، اور اہل کتاب پر مشرکین کی فتح ان کی فتح ہے۔ مکہ کے مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور اہل کتاب کے درمیان رابطے کی اساس موجود ہے اور وہ بھی اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ اہل کتاب پر مشرکین کو کسی بھی جگہ غلبہ حاصل ہو۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی دعوت اور تحریک اس جہان میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ اور کفر و ایمان کی اس کشمکش پر بیرونی واقعات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
یہ وہ کھلی حقیقت ہے جس سے ہمارے دور کے اکثر لوگ غافل ہیں اور وہ اس حقیقت کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے ، جس طرح اس کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مسلمانوں نے سمجھا تھا۔ حالانکہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ آج کے مسلمان صرف جغرافیائی حدود یا قومیت کی اصلاح میں سوچتے ہیں حالانکہ مسئلہ دراصل کفر و ایمان کا ہے اور اصل معرکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اس کشمکش کی اصل حقیقت کو سمجھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ اگر مسلمانوں نے اصل مسئلے کو سمجھ لیا تو پھر کفر و شرک کی علم بردار جماعتوں نے جو مختلف رنگوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ، وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ ، محض اسلامی نطریہ حیات کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ذہبی طور پر معرکے کے اسباب و عامل جو بھی ہوں ، اصل جنگ نظریات کی ہے۔
دوسرا سبق اس واقعہ میں یہ ہے کہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرو ، جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فوراً کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے سچ کہا ، جبکہ مشرکین کے نزدیک حضور ﷺ کا یہ کلام تعجب انگیز تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے صاف صاف کہہ دیا ” انہوں نے سچ کہا “۔ انہوں نے شرط باندھی اور ابوبکر ؓ نے قبول کرلی اور اللہ نے جو کہا تھا کہ چند سالوں میں یہ واقعہ ہوجائے گا تو ہوگیا۔ یہ پختہ اعتماد ، یقین اور بھروسہ ہی تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں کو یقین اور ثابت قدمی سے بھر دیا تھا اور وہ تمام مصائب اور مشکلات کو خوشی خوشی جھیل رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ مکمل ہوگیا اور اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا اور یہی بات جہاد کے طویل راستے میں ایک نظریاتی کارکن کا بہترین ہتھیار ہوا کرتا ہے۔
تیسرا سبق اس واقعہ کے بیان کے درمیان ایک نہایت ہی مختصر جملہ معترضہ کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں للہ الامر من قبل ومن بعد (30: 4) ” اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی “۔ نہایت ہی شتابی سے بنا دیا گیا کہ معاملات سب کے سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس واقعہ میں بھی اور اس کے سوا دوسرے واقعات میں بھی۔ یہ ایک اہل کلیہ ہے ، اسلامی موقف کا یہ میزان ہے۔ فتح و ہزیمت ، دنیا میں حکومتوں کا اٹھنا اور بیٹھنا ، قوت پکڑنا اور ضعیف ہونا ، اسی طرح ہے جس طرح اس کائنات میں دوسرے طبیعی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سب کے لیے ایک سنت مقرر ہے۔ یہ سنت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اللہ چاہتا ہے واقعات کا رخ پھیر دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے ارادے اور اس کی حکمت پذیری سے واقع ہوتا ہے۔ تمام واقعات اور حادثات دراصل اللہ کے ارادہ مطلقہ کے آثار ہیں اور ان کا رخ متعین کرنے میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ نہ کسی کے پاس قوت ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو حکمت کا فرما ہے اس کا بھی اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں ہے۔ نہ کسی کو ان واقعات کے مصدر اور ابتداء کا پتہ ہے اور نہ انجام کا۔ لہٰذا ایک انسان کے لیے یہی محفوظ راستہ ہے کہ وہ تمام واقعات پر اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور یہ کہہ دے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر ہے۔
الم ۔۔۔۔۔ بنصر اللہ ۔۔۔ (30: 1 – 5) ” رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے “۔ اور اللہ کا وعدہ سچا اور مومنین نے اللہ کی دی ہوئی نصرت پر خوشیاں منائیں۔
ینصر من ۔۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ غرض اختیارات سب اللہ کے ہیں ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا کرتا ہے۔ اس کی مشیت پر کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مشیت جو نتیجہ چاہتی ہے ویسے ہی اسباب بھی مہیا کردیتی ہے۔ وجود اسباب اور فتح و کامرانی کو اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کرنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس عالم اسباب کو جو قوانین قدرت کنڑول کرتے ہیں وہ سب کے سب مشیت مطلقہ کے فراہم کردہ ہیں۔ مشیت الہیہ ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے اسباب اور ایسے سنن اہل جہاں میں جاری وساری ہوں جو اٹل ہوں اور اس کائنات کے اندر ایک نظم اور ایک قرار و ثبات ہو۔ لہٰذا فتح و ہزیمت بھی قدرتی اسباب اور موثرات کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں ، اللہ کے جاری کردہ قوانین قدرت کے مطابق۔
اس موضوع پر اسلامی نظریہ حیات نہایت ہی واضح ، معقول اور منطقی ہے۔ وہ تمام امور کو اللہ کے حوالے کرتا ہے لیکن اسلام عالم اسباب کی نفی بھی نہیں کرتا اور انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عالم اسباب کے اندر اپنی جدوجہد جاری رکھے ، تاکہ اللہ کے مقرر کردہ نتائج عالم ظہور میں آتے رہیں۔ انسانی جدوجہد کے مطابق عملاً نتائج نمودار ہوں یا نہ ہوں اس کا انسان ذمہ دار نہیں ہے۔ اس پر جدوجہد فرض ہے۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی کو مسجد نبوی ﷺ کے دروازے پر کھلا چھوڑ دیا اور نماز پڑھنے کے لیے اندر آگیا اور کہا
توکلت علی اللہ ” میں نے اللہ پر توکل کیا “۔ اسے رسول ﷺ اللہ نے فرمایا اعقلھا و توکل ” اسے باندھ دو اور پھر توکل کرو “۔ اسلامی نظریہ حیات میں توکل عالم اسباب میں ، مطابق اسباب جدوجہد کرنے کے بعد ہے۔ جدوجہد کرو اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔
ینصر من ۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ نصرت قدرت الہیہ کے سایوں میں ملغوف ہے اور یہ قدرت الہیہ ہی ہے جو اس تصرف کو عالم واقعہ میں لاتی ہے۔ اس نصرت پر رحمت الہیہ کے سائے بھی چھائے ہوئے ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کے مفادات حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔ مغلوب اور پسے ہوئے طبقات کے لیے اس میں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔
ولولا دفع اللہ ۔۔۔۔۔ الارض ” اگر اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع کرنے کا کام نہ ہوتا رہتا تو پوری زمین میں فساد واقعہ ہوجاتا “۔ زمین میں اصلاح اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کی حمایت کی جائے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کیا جائے۔
وعد اللہ لا یخلف اللہ ۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 6 – 7) ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں “۔ یہ امداد اللہ کا وعدہ ہے لہٰذا وہ لازماً واقع ہو کر رہے گا۔
لایخلف اللہ وعدہ (30: 6) ” اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ اس کے بےقید ارادے کے تحت ہوتا ہے اور پھر اس کے اندر گہری حکمت مضمر ہوتی ہے اور وہ اپنے وعدہ کو حقیقت کا روپ دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس کی مشیت کو رد کرنے والی کوئی قوت نہیں ہے اور اس کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا۔ اس پوری کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس وعدے کا پورا کرنا دراصل اللہ کے وسیع قانون قدرت کا ایک حصہ ہے اور اللہ کے ناموس اکبر اور اس کے قانون قدرت اور عظیم منصوبہ کائنات کے اندر کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (30: 6) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے جبہ و دستار رکھتے ہیں اور ان کے پاس علم کی ایک بڑی مقدار ہے۔ لیکن ان کا علم سطحی ہے اور زندگی کے ظاہری امور سے متعلق ہے۔ اللہ کے اٹل قوانین قدرت ، اور اس کائنات کے حقیقی ضوابط اور اس کے عظیم ناموس ، اور اس کے نہایت ہی پختہ اور گہرے روابط کا انہیں علم نہیں ہے۔
یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں “۔ اس ظاہر کے پیچھے وہ جھانکنے کی سعی نہیں کرتے اور اپنی بصیرت سے اس کے پس منظر کو دیکھنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہ ظاہری دنیا تو صغیر و حقیر ہے۔ اگرچہ لوگوں کو یہ بہت ہی وسیع نظر آتی ہے لیکن دراصل یہ بہت ہی حقیر ہے۔ انسان اس دنیا میں بہت جدوجہد کرتا ہے لیکن انسان کی محدود زندگی میں یہاں بہت ہی کم کچھ کیا جاسکتا ہے اور انسان کی یہ محدود زندگی اس عظیم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ان کا ایک مختصر حصہ ہے۔ اور اس زندگی پر بھی انہی قوانین کا کنڑول ہے جن کا کنڑول اس پوری کائنات پر ہے۔
وہ شخص جس کا ضمیر و قلب کائنات کے ساتھ مربوط نہیں ہے اور اسے یہ احساس نہیں ہے کہ اس کائنات کو کچھ اٹل قوانین قدرت کنڑول کر رہے ہیں ، ایسا شخص اس کائنات کو بظاہر دیکھ تو رہا ہوتا ہے لیکن وہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ وہ ظاہری اشکال کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، وہ دیکھ رہا ہوتا ہے یہاں ہر چیز دائرے کی شکل میں سرگردان ہے لیکن وہ اس حرکت کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ اس جہاں میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ حقیقی مومن تو وہ ہوتا ہے جو اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے زندگی کے اسرار و رموز سے واقف ہو۔ ایسا مومن ہی دراصل علم اور سائنس کو ایسی روح عطا کرتا ہے جو حقائق کا ادراک کرتی ہے۔ اس قسم کا ایمان رکھنے والے لوگ اس جہاں میں قلیل ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت حقیقی معرفت سے محجوب ہوتی ہے۔
وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 7) ” اور آخرت سے وہ غافل ہوتے ہیں ، اس لیے کہ آخرت اس کائنات کے سلسلہ میں وجود ہی کی ایک کڑی ہے۔ آخرت کتاب کائنات کا ایک صفحہ ہے ، جو لوگ تخلیق کی حقیقت کو نہیں سمجھتے جو لوگ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس فطرت کو نہیں سمجھتے ، وہ آخرت کو بھی نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ آخرت کو اہمیت نہیں دیتے ، اس کے لیے تیاری نہیں کرتے ، اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ حرکت کائنات کی لائن پر آخرت بھی ایک نکتہ ہے۔ دنیا اور اس کائنات نے اس نکتے پر پہنچنا ہے اور اس کے بعد پھر نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
لیکن آخرت سے غفلت کے نتیجے میں ایسے غافل لوگوں کی اقدار مضطرب ہوتی ہیں ، ان کی اقدار حیات میں کوئی ثبات اور پختگی نہیں ہوتی۔ ان کا تصور حیات ، تعبیر واقعات اور ان کی قدروقیمت کے پیمانے ناپختہ ہوتے ہیں۔ ان کا علم سطحی ، ناقص اور ظاہری ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک انسان اس پوری زندگی کے اختتام پر آخرت کے قیام کو تسلیم کرتا ہے تو اس جہان کے تمام واقعات کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس جہان میں اس کی زندگی ایک مختصر سا مرحلہ ہے اور اس جہاں میں اس کا جو حصہ ہے اور ہونا چاہئے وہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی اور حقیر ہے اور اس جہاں کی پوری زندگی دراصل طویل ترین ڈرامے کا ایک نہایت ہی مختصر شو یا جھلکی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس طویل ترین ڈرامے کی صرف مختصر ترین جھلکی کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کر دے۔ اگر کوئی نہایت ہی حقیر جھلکی کو دیکھ کر پوری زندگی ، پوری کائنات اور آخرت اور اس کی طویل زندگی کے بارے میں فیصلہ کرے گا تو یہ سطحی فیصلہ ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا انسان جو قیامت کا قائل ہے ، اور جو قیامت کے لیے تیاری کر رہا ہے ، اس انسان کے ساتھ اکٹھا ہوکر نہیں رہ سکتا جس کا سطح نظر صرف یہ دنیا ہے اور اس دنیا سے آگے اسکا کوئی ہدف نہیں ہے۔ اس قسم کے دو انسان نہ اس دنیا کے کسی پروگرام پر متفق ہوسکتے ہیں اور نہ ان کا یہاں کسی قدر پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ دونوں کے پیمانے بالکل جدا ہوں گے۔ غرض ہر واقعہ ، ہر حالت ، اور زندگی کے حالات میں سے ہر حالت کے بارے میں دونوں کا فیصلہ جدا ہوگا کیونکہ دونوں کے میزان الگ ہوں گے۔ ہر ایک کا زاویہ نظر مختلف ہوگا۔ ہر ایک کی روشنی بھی مختلف ہوگی۔ لہٰذا ہر ایک کو ایک ہی چیز مختلف نظر آئے گی۔ واقعات ، اقدار اور حالات کے بارے میں دونوں کا تصور جدا ہوگا۔ ایک دنیا کی ظاہری نظر سے دیکھنے والا ہے اور دوسرا گہری نظر سے واقعات کے پس منظر کو بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ ظاہری اسباب اور واقعات کو بھی دیکھتا ہے اور باطن پر بھی اس کی نظر ہے۔ وہ ظاہر اور غائب دونوں کا علم رکھتا ہے۔ دنیا و آخرت دونوں کو جانتا ہے ، حیات اور موت دونوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل سب کا تصور رکھتا ہے۔ وہ انسانوں کے جہان سے بھی باخبر ہے اور اس کائنات کے دوسرے جہانوں اور زندوں اور مردوں سب سے واقف ہے۔ یہ ہے وہ وسیع افق جس پر اسلام انسان کی نظریں فوکس کر اتا ہے اور انسان کو ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے جو انسان کے لائق ہے جو انسان کے لیے بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض ضروری ہے اور انسان کی شخصیت میں اللہ نے جو روحانیت ودیعت کی ہے ، اس کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس غرض کے لیے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ اسی طرح یہ حق ہے جس طرح یہ منظم کائنات ایک عظیم حق پر قائم ہے ، اور یہ کہ آخرت کا قیام اس عظیم سچائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اب سیاق کلام ہمیں دوبارہ اس کائنات کے ضمیر کی سیر کراتا ہے۔ آسمانوں میں ، زمین میں اور ان کے درمیان جو جہان موجود ہیں ان میں۔ اس کے بعد پھر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی سیر کرائی جاتی ہے تاکہ وہ تدبر کریں ، شاید کہ وہ اس حقیقت کبریٰ تک پہنچ جائیں جس سے وہ اس وقت غافل ہوجاتے ہیں وہ آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ کسی سطحی نقطہ نظر کی وجہ سے وہ دعوت اسلامی کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ دعوت اس عظیم سچائی اور اس کے گہرے تدبر پر مبنی ہے۔
الروم 30:2
الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7)
سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔
اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور مسلمانوں کی خواہش نہ تھی کہ ایرانی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے اور وہ مسلمانوں کے ذہن کے قریب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی :
الم ۔۔۔۔۔ فی بجع سنین (30: 1 – 4) ” ا۔ ل۔ م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے “۔ تو مشرکین مکہ نہ کہا ابوبکر ! تمہارے دوست کہتے ہیں کہ رومی چند سالوں کی میعاد پر چار اونٹنیوں کی شرط لگائی۔ یہ سات سال گزر گئے اور کچھ نہ ہوا۔ مشرکین اس پر بہت ہی خوش ہوئے۔ یہ بات مسلمانوں پر ناگوار گزری۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری زبان میں بضع سنین کا مفہوم کیا ہے تو انہوں نے فرمایا دس سے کم۔ تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ جائیں اور میعاد میں دو سال کا اضافہ کردیں۔ کہتے ہیں دو سال ابھی نہ گزرے تھے کہ سواروں نے آکر اطلاع دی کی رومی فارس پر غالب آگئے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔
اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم نے امام ابن جریر کی روایت اختیار کی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس واقعہ سے آگے بڑھیں ، اس واقعہ میں جو ہدایات ہیں ان پر غور ضروری ہے۔
اس واقعہ میں ہمارے لیے پہلی نصیحت یہ ہے کہ شرک اور کفر ہر زمان و مکان میں ایک ملت ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایمان اور عقیدہ توحید کے خلاف رہے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں دنیا کی حکومتوں کے باہم روابط ہمارے دور کی طرف گہرے نہ تھے اس کے باوجود مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ پوری دنیا میں مشرکین کا غلبہ ان کا غلبہ ہے ، اور اہل کتاب پر مشرکین کی فتح ان کی فتح ہے۔ مکہ کے مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور اہل کتاب کے درمیان رابطے کی اساس موجود ہے اور وہ بھی اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ اہل کتاب پر مشرکین کو کسی بھی جگہ غلبہ حاصل ہو۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی دعوت اور تحریک اس جہان میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ اور کفر و ایمان کی اس کشمکش پر بیرونی واقعات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
یہ وہ کھلی حقیقت ہے جس سے ہمارے دور کے اکثر لوگ غافل ہیں اور وہ اس حقیقت کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے ، جس طرح اس کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مسلمانوں نے سمجھا تھا۔ حالانکہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ آج کے مسلمان صرف جغرافیائی حدود یا قومیت کی اصلاح میں سوچتے ہیں حالانکہ مسئلہ دراصل کفر و ایمان کا ہے اور اصل معرکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اس کشمکش کی اصل حقیقت کو سمجھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ اگر مسلمانوں نے اصل مسئلے کو سمجھ لیا تو پھر کفر و شرک کی علم بردار جماعتوں نے جو مختلف رنگوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ، وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ ، محض اسلامی نطریہ حیات کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ذہبی طور پر معرکے کے اسباب و عامل جو بھی ہوں ، اصل جنگ نظریات کی ہے۔
دوسرا سبق اس واقعہ میں یہ ہے کہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرو ، جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فوراً کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے سچ کہا ، جبکہ مشرکین کے نزدیک حضور ﷺ کا یہ کلام تعجب انگیز تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے صاف صاف کہہ دیا ” انہوں نے سچ کہا “۔ انہوں نے شرط باندھی اور ابوبکر ؓ نے قبول کرلی اور اللہ نے جو کہا تھا کہ چند سالوں میں یہ واقعہ ہوجائے گا تو ہوگیا۔ یہ پختہ اعتماد ، یقین اور بھروسہ ہی تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں کو یقین اور ثابت قدمی سے بھر دیا تھا اور وہ تمام مصائب اور مشکلات کو خوشی خوشی جھیل رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ مکمل ہوگیا اور اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا اور یہی بات جہاد کے طویل راستے میں ایک نظریاتی کارکن کا بہترین ہتھیار ہوا کرتا ہے۔
تیسرا سبق اس واقعہ کے بیان کے درمیان ایک نہایت ہی مختصر جملہ معترضہ کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں للہ الامر من قبل ومن بعد (30: 4) ” اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی “۔ نہایت ہی شتابی سے بنا دیا گیا کہ معاملات سب کے سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس واقعہ میں بھی اور اس کے سوا دوسرے واقعات میں بھی۔ یہ ایک اہل کلیہ ہے ، اسلامی موقف کا یہ میزان ہے۔ فتح و ہزیمت ، دنیا میں حکومتوں کا اٹھنا اور بیٹھنا ، قوت پکڑنا اور ضعیف ہونا ، اسی طرح ہے جس طرح اس کائنات میں دوسرے طبیعی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سب کے لیے ایک سنت مقرر ہے۔ یہ سنت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اللہ چاہتا ہے واقعات کا رخ پھیر دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے ارادے اور اس کی حکمت پذیری سے واقع ہوتا ہے۔ تمام واقعات اور حادثات دراصل اللہ کے ارادہ مطلقہ کے آثار ہیں اور ان کا رخ متعین کرنے میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ نہ کسی کے پاس قوت ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو حکمت کا فرما ہے اس کا بھی اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں ہے۔ نہ کسی کو ان واقعات کے مصدر اور ابتداء کا پتہ ہے اور نہ انجام کا۔ لہٰذا ایک انسان کے لیے یہی محفوظ راستہ ہے کہ وہ تمام واقعات پر اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور یہ کہہ دے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر ہے۔
الم ۔۔۔۔۔ بنصر اللہ ۔۔۔ (30: 1 – 5) ” رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے “۔ اور اللہ کا وعدہ سچا اور مومنین نے اللہ کی دی ہوئی نصرت پر خوشیاں منائیں۔
ینصر من ۔۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ غرض اختیارات سب اللہ کے ہیں ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا کرتا ہے۔ اس کی مشیت پر کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مشیت جو نتیجہ چاہتی ہے ویسے ہی اسباب بھی مہیا کردیتی ہے۔ وجود اسباب اور فتح و کامرانی کو اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کرنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس عالم اسباب کو جو قوانین قدرت کنڑول کرتے ہیں وہ سب کے سب مشیت مطلقہ کے فراہم کردہ ہیں۔ مشیت الہیہ ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے اسباب اور ایسے سنن اہل جہاں میں جاری وساری ہوں جو اٹل ہوں اور اس کائنات کے اندر ایک نظم اور ایک قرار و ثبات ہو۔ لہٰذا فتح و ہزیمت بھی قدرتی اسباب اور موثرات کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں ، اللہ کے جاری کردہ قوانین قدرت کے مطابق۔
اس موضوع پر اسلامی نظریہ حیات نہایت ہی واضح ، معقول اور منطقی ہے۔ وہ تمام امور کو اللہ کے حوالے کرتا ہے لیکن اسلام عالم اسباب کی نفی بھی نہیں کرتا اور انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عالم اسباب کے اندر اپنی جدوجہد جاری رکھے ، تاکہ اللہ کے مقرر کردہ نتائج عالم ظہور میں آتے رہیں۔ انسانی جدوجہد کے مطابق عملاً نتائج نمودار ہوں یا نہ ہوں اس کا انسان ذمہ دار نہیں ہے۔ اس پر جدوجہد فرض ہے۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی کو مسجد نبوی ﷺ کے دروازے پر کھلا چھوڑ دیا اور نماز پڑھنے کے لیے اندر آگیا اور کہا
توکلت علی اللہ ” میں نے اللہ پر توکل کیا “۔ اسے رسول ﷺ اللہ نے فرمایا اعقلھا و توکل ” اسے باندھ دو اور پھر توکل کرو “۔ اسلامی نظریہ حیات میں توکل عالم اسباب میں ، مطابق اسباب جدوجہد کرنے کے بعد ہے۔ جدوجہد کرو اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔
ینصر من ۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ نصرت قدرت الہیہ کے سایوں میں ملغوف ہے اور یہ قدرت الہیہ ہی ہے جو اس تصرف کو عالم واقعہ میں لاتی ہے۔ اس نصرت پر رحمت الہیہ کے سائے بھی چھائے ہوئے ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کے مفادات حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔ مغلوب اور پسے ہوئے طبقات کے لیے اس میں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔
ولولا دفع اللہ ۔۔۔۔۔ الارض ” اگر اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع کرنے کا کام نہ ہوتا رہتا تو پوری زمین میں فساد واقعہ ہوجاتا “۔ زمین میں اصلاح اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کی حمایت کی جائے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کیا جائے۔
وعد اللہ لا یخلف اللہ ۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 6 – 7) ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں “۔ یہ امداد اللہ کا وعدہ ہے لہٰذا وہ لازماً واقع ہو کر رہے گا۔
لایخلف اللہ وعدہ (30: 6) ” اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ اس کے بےقید ارادے کے تحت ہوتا ہے اور پھر اس کے اندر گہری حکمت مضمر ہوتی ہے اور وہ اپنے وعدہ کو حقیقت کا روپ دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس کی مشیت کو رد کرنے والی کوئی قوت نہیں ہے اور اس کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا۔ اس پوری کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس وعدے کا پورا کرنا دراصل اللہ کے وسیع قانون قدرت کا ایک حصہ ہے اور اللہ کے ناموس اکبر اور اس کے قانون قدرت اور عظیم منصوبہ کائنات کے اندر کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (30: 6) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے جبہ و دستار رکھتے ہیں اور ان کے پاس علم کی ایک بڑی مقدار ہے۔ لیکن ان کا علم سطحی ہے اور زندگی کے ظاہری امور سے متعلق ہے۔ اللہ کے اٹل قوانین قدرت ، اور اس کائنات کے حقیقی ضوابط اور اس کے عظیم ناموس ، اور اس کے نہایت ہی پختہ اور گہرے روابط کا انہیں علم نہیں ہے۔
یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں “۔ اس ظاہر کے پیچھے وہ جھانکنے کی سعی نہیں کرتے اور اپنی بصیرت سے اس کے پس منظر کو دیکھنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہ ظاہری دنیا تو صغیر و حقیر ہے۔ اگرچہ لوگوں کو یہ بہت ہی وسیع نظر آتی ہے لیکن دراصل یہ بہت ہی حقیر ہے۔ انسان اس دنیا میں بہت جدوجہد کرتا ہے لیکن انسان کی محدود زندگی میں یہاں بہت ہی کم کچھ کیا جاسکتا ہے اور انسان کی یہ محدود زندگی اس عظیم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ان کا ایک مختصر حصہ ہے۔ اور اس زندگی پر بھی انہی قوانین کا کنڑول ہے جن کا کنڑول اس پوری کائنات پر ہے۔
وہ شخص جس کا ضمیر و قلب کائنات کے ساتھ مربوط نہیں ہے اور اسے یہ احساس نہیں ہے کہ اس کائنات کو کچھ اٹل قوانین قدرت کنڑول کر رہے ہیں ، ایسا شخص اس کائنات کو بظاہر دیکھ تو رہا ہوتا ہے لیکن وہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ وہ ظاہری اشکال کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، وہ دیکھ رہا ہوتا ہے یہاں ہر چیز دائرے کی شکل میں سرگردان ہے لیکن وہ اس حرکت کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ اس جہاں میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ حقیقی مومن تو وہ ہوتا ہے جو اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے زندگی کے اسرار و رموز سے واقف ہو۔ ایسا مومن ہی دراصل علم اور سائنس کو ایسی روح عطا کرتا ہے جو حقائق کا ادراک کرتی ہے۔ اس قسم کا ایمان رکھنے والے لوگ اس جہاں میں قلیل ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت حقیقی معرفت سے محجوب ہوتی ہے۔
وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 7) ” اور آخرت سے وہ غافل ہوتے ہیں ، اس لیے کہ آخرت اس کائنات کے سلسلہ میں وجود ہی کی ایک کڑی ہے۔ آخرت کتاب کائنات کا ایک صفحہ ہے ، جو لوگ تخلیق کی حقیقت کو نہیں سمجھتے جو لوگ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس فطرت کو نہیں سمجھتے ، وہ آخرت کو بھی نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ آخرت کو اہمیت نہیں دیتے ، اس کے لیے تیاری نہیں کرتے ، اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ حرکت کائنات کی لائن پر آخرت بھی ایک نکتہ ہے۔ دنیا اور اس کائنات نے اس نکتے پر پہنچنا ہے اور اس کے بعد پھر نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
لیکن آخرت سے غفلت کے نتیجے میں ایسے غافل لوگوں کی اقدار مضطرب ہوتی ہیں ، ان کی اقدار حیات میں کوئی ثبات اور پختگی نہیں ہوتی۔ ان کا تصور حیات ، تعبیر واقعات اور ان کی قدروقیمت کے پیمانے ناپختہ ہوتے ہیں۔ ان کا علم سطحی ، ناقص اور ظاہری ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک انسان اس پوری زندگی کے اختتام پر آخرت کے قیام کو تسلیم کرتا ہے تو اس جہان کے تمام واقعات کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس جہان میں اس کی زندگی ایک مختصر سا مرحلہ ہے اور اس جہاں میں اس کا جو حصہ ہے اور ہونا چاہئے وہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی اور حقیر ہے اور اس جہاں کی پوری زندگی دراصل طویل ترین ڈرامے کا ایک نہایت ہی مختصر شو یا جھلکی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس طویل ترین ڈرامے کی صرف مختصر ترین جھلکی کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کر دے۔ اگر کوئی نہایت ہی حقیر جھلکی کو دیکھ کر پوری زندگی ، پوری کائنات اور آخرت اور اس کی طویل زندگی کے بارے میں فیصلہ کرے گا تو یہ سطحی فیصلہ ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا انسان جو قیامت کا قائل ہے ، اور جو قیامت کے لیے تیاری کر رہا ہے ، اس انسان کے ساتھ اکٹھا ہوکر نہیں رہ سکتا جس کا سطح نظر صرف یہ دنیا ہے اور اس دنیا سے آگے اسکا کوئی ہدف نہیں ہے۔ اس قسم کے دو انسان نہ اس دنیا کے کسی پروگرام پر متفق ہوسکتے ہیں اور نہ ان کا یہاں کسی قدر پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ دونوں کے پیمانے بالکل جدا ہوں گے۔ غرض ہر واقعہ ، ہر حالت ، اور زندگی کے حالات میں سے ہر حالت کے بارے میں دونوں کا فیصلہ جدا ہوگا کیونکہ دونوں کے میزان الگ ہوں گے۔ ہر ایک کا زاویہ نظر مختلف ہوگا۔ ہر ایک کی روشنی بھی مختلف ہوگی۔ لہٰذا ہر ایک کو ایک ہی چیز مختلف نظر آئے گی۔ واقعات ، اقدار اور حالات کے بارے میں دونوں کا تصور جدا ہوگا۔ ایک دنیا کی ظاہری نظر سے دیکھنے والا ہے اور دوسرا گہری نظر سے واقعات کے پس منظر کو بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ ظاہری اسباب اور واقعات کو بھی دیکھتا ہے اور باطن پر بھی اس کی نظر ہے۔ وہ ظاہر اور غائب دونوں کا علم رکھتا ہے۔ دنیا و آخرت دونوں کو جانتا ہے ، حیات اور موت دونوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل سب کا تصور رکھتا ہے۔ وہ انسانوں کے جہان سے بھی باخبر ہے اور اس کائنات کے دوسرے جہانوں اور زندوں اور مردوں سب سے واقف ہے۔ یہ ہے وہ وسیع افق جس پر اسلام انسان کی نظریں فوکس کر اتا ہے اور انسان کو ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے جو انسان کے لائق ہے جو انسان کے لیے بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض ضروری ہے اور انسان کی شخصیت میں اللہ نے جو روحانیت ودیعت کی ہے ، اس کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس غرض کے لیے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ اسی طرح یہ حق ہے جس طرح یہ منظم کائنات ایک عظیم حق پر قائم ہے ، اور یہ کہ آخرت کا قیام اس عظیم سچائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اب سیاق کلام ہمیں دوبارہ اس کائنات کے ضمیر کی سیر کراتا ہے۔ آسمانوں میں ، زمین میں اور ان کے درمیان جو جہان موجود ہیں ان میں۔ اس کے بعد پھر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی سیر کرائی جاتی ہے تاکہ وہ تدبر کریں ، شاید کہ وہ اس حقیقت کبریٰ تک پہنچ جائیں جس سے وہ اس وقت غافل ہوجاتے ہیں وہ آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ کسی سطحی نقطہ نظر کی وجہ سے وہ دعوت اسلامی کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ دعوت اس عظیم سچائی اور اس کے گہرے تدبر پر مبنی ہے۔
الروم 30:3
الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7)
سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔
اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور مسلمانوں کی خواہش نہ تھی کہ ایرانی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے اور وہ مسلمانوں کے ذہن کے قریب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی :
الم ۔۔۔۔۔ فی بجع سنین (30: 1 – 4) ” ا۔ ل۔ م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے “۔ تو مشرکین مکہ نہ کہا ابوبکر ! تمہارے دوست کہتے ہیں کہ رومی چند سالوں کی میعاد پر چار اونٹنیوں کی شرط لگائی۔ یہ سات سال گزر گئے اور کچھ نہ ہوا۔ مشرکین اس پر بہت ہی خوش ہوئے۔ یہ بات مسلمانوں پر ناگوار گزری۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری زبان میں بضع سنین کا مفہوم کیا ہے تو انہوں نے فرمایا دس سے کم۔ تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ جائیں اور میعاد میں دو سال کا اضافہ کردیں۔ کہتے ہیں دو سال ابھی نہ گزرے تھے کہ سواروں نے آکر اطلاع دی کی رومی فارس پر غالب آگئے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔
اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم نے امام ابن جریر کی روایت اختیار کی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس واقعہ سے آگے بڑھیں ، اس واقعہ میں جو ہدایات ہیں ان پر غور ضروری ہے۔
اس واقعہ میں ہمارے لیے پہلی نصیحت یہ ہے کہ شرک اور کفر ہر زمان و مکان میں ایک ملت ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایمان اور عقیدہ توحید کے خلاف رہے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں دنیا کی حکومتوں کے باہم روابط ہمارے دور کی طرف گہرے نہ تھے اس کے باوجود مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ پوری دنیا میں مشرکین کا غلبہ ان کا غلبہ ہے ، اور اہل کتاب پر مشرکین کی فتح ان کی فتح ہے۔ مکہ کے مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور اہل کتاب کے درمیان رابطے کی اساس موجود ہے اور وہ بھی اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ اہل کتاب پر مشرکین کو کسی بھی جگہ غلبہ حاصل ہو۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی دعوت اور تحریک اس جہان میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ اور کفر و ایمان کی اس کشمکش پر بیرونی واقعات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
یہ وہ کھلی حقیقت ہے جس سے ہمارے دور کے اکثر لوگ غافل ہیں اور وہ اس حقیقت کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے ، جس طرح اس کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مسلمانوں نے سمجھا تھا۔ حالانکہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ آج کے مسلمان صرف جغرافیائی حدود یا قومیت کی اصلاح میں سوچتے ہیں حالانکہ مسئلہ دراصل کفر و ایمان کا ہے اور اصل معرکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اس کشمکش کی اصل حقیقت کو سمجھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ اگر مسلمانوں نے اصل مسئلے کو سمجھ لیا تو پھر کفر و شرک کی علم بردار جماعتوں نے جو مختلف رنگوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ، وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ ، محض اسلامی نطریہ حیات کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ذہبی طور پر معرکے کے اسباب و عامل جو بھی ہوں ، اصل جنگ نظریات کی ہے۔
دوسرا سبق اس واقعہ میں یہ ہے کہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرو ، جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فوراً کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے سچ کہا ، جبکہ مشرکین کے نزدیک حضور ﷺ کا یہ کلام تعجب انگیز تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے صاف صاف کہہ دیا ” انہوں نے سچ کہا “۔ انہوں نے شرط باندھی اور ابوبکر ؓ نے قبول کرلی اور اللہ نے جو کہا تھا کہ چند سالوں میں یہ واقعہ ہوجائے گا تو ہوگیا۔ یہ پختہ اعتماد ، یقین اور بھروسہ ہی تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں کو یقین اور ثابت قدمی سے بھر دیا تھا اور وہ تمام مصائب اور مشکلات کو خوشی خوشی جھیل رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ مکمل ہوگیا اور اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا اور یہی بات جہاد کے طویل راستے میں ایک نظریاتی کارکن کا بہترین ہتھیار ہوا کرتا ہے۔
تیسرا سبق اس واقعہ کے بیان کے درمیان ایک نہایت ہی مختصر جملہ معترضہ کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں للہ الامر من قبل ومن بعد (30: 4) ” اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی “۔ نہایت ہی شتابی سے بنا دیا گیا کہ معاملات سب کے سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس واقعہ میں بھی اور اس کے سوا دوسرے واقعات میں بھی۔ یہ ایک اہل کلیہ ہے ، اسلامی موقف کا یہ میزان ہے۔ فتح و ہزیمت ، دنیا میں حکومتوں کا اٹھنا اور بیٹھنا ، قوت پکڑنا اور ضعیف ہونا ، اسی طرح ہے جس طرح اس کائنات میں دوسرے طبیعی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سب کے لیے ایک سنت مقرر ہے۔ یہ سنت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اللہ چاہتا ہے واقعات کا رخ پھیر دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے ارادے اور اس کی حکمت پذیری سے واقع ہوتا ہے۔ تمام واقعات اور حادثات دراصل اللہ کے ارادہ مطلقہ کے آثار ہیں اور ان کا رخ متعین کرنے میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ نہ کسی کے پاس قوت ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو حکمت کا فرما ہے اس کا بھی اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں ہے۔ نہ کسی کو ان واقعات کے مصدر اور ابتداء کا پتہ ہے اور نہ انجام کا۔ لہٰذا ایک انسان کے لیے یہی محفوظ راستہ ہے کہ وہ تمام واقعات پر اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور یہ کہہ دے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر ہے۔
الم ۔۔۔۔۔ بنصر اللہ ۔۔۔ (30: 1 – 5) ” رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے “۔ اور اللہ کا وعدہ سچا اور مومنین نے اللہ کی دی ہوئی نصرت پر خوشیاں منائیں۔
ینصر من ۔۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ غرض اختیارات سب اللہ کے ہیں ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا کرتا ہے۔ اس کی مشیت پر کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مشیت جو نتیجہ چاہتی ہے ویسے ہی اسباب بھی مہیا کردیتی ہے۔ وجود اسباب اور فتح و کامرانی کو اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کرنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس عالم اسباب کو جو قوانین قدرت کنڑول کرتے ہیں وہ سب کے سب مشیت مطلقہ کے فراہم کردہ ہیں۔ مشیت الہیہ ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے اسباب اور ایسے سنن اہل جہاں میں جاری وساری ہوں جو اٹل ہوں اور اس کائنات کے اندر ایک نظم اور ایک قرار و ثبات ہو۔ لہٰذا فتح و ہزیمت بھی قدرتی اسباب اور موثرات کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں ، اللہ کے جاری کردہ قوانین قدرت کے مطابق۔
اس موضوع پر اسلامی نظریہ حیات نہایت ہی واضح ، معقول اور منطقی ہے۔ وہ تمام امور کو اللہ کے حوالے کرتا ہے لیکن اسلام عالم اسباب کی نفی بھی نہیں کرتا اور انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عالم اسباب کے اندر اپنی جدوجہد جاری رکھے ، تاکہ اللہ کے مقرر کردہ نتائج عالم ظہور میں آتے رہیں۔ انسانی جدوجہد کے مطابق عملاً نتائج نمودار ہوں یا نہ ہوں اس کا انسان ذمہ دار نہیں ہے۔ اس پر جدوجہد فرض ہے۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی کو مسجد نبوی ﷺ کے دروازے پر کھلا چھوڑ دیا اور نماز پڑھنے کے لیے اندر آگیا اور کہا
توکلت علی اللہ ” میں نے اللہ پر توکل کیا “۔ اسے رسول ﷺ اللہ نے فرمایا اعقلھا و توکل ” اسے باندھ دو اور پھر توکل کرو “۔ اسلامی نظریہ حیات میں توکل عالم اسباب میں ، مطابق اسباب جدوجہد کرنے کے بعد ہے۔ جدوجہد کرو اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔
ینصر من ۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ نصرت قدرت الہیہ کے سایوں میں ملغوف ہے اور یہ قدرت الہیہ ہی ہے جو اس تصرف کو عالم واقعہ میں لاتی ہے۔ اس نصرت پر رحمت الہیہ کے سائے بھی چھائے ہوئے ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کے مفادات حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔ مغلوب اور پسے ہوئے طبقات کے لیے اس میں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔
ولولا دفع اللہ ۔۔۔۔۔ الارض ” اگر اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع کرنے کا کام نہ ہوتا رہتا تو پوری زمین میں فساد واقعہ ہوجاتا “۔ زمین میں اصلاح اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کی حمایت کی جائے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کیا جائے۔
وعد اللہ لا یخلف اللہ ۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 6 – 7) ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں “۔ یہ امداد اللہ کا وعدہ ہے لہٰذا وہ لازماً واقع ہو کر رہے گا۔
لایخلف اللہ وعدہ (30: 6) ” اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ اس کے بےقید ارادے کے تحت ہوتا ہے اور پھر اس کے اندر گہری حکمت مضمر ہوتی ہے اور وہ اپنے وعدہ کو حقیقت کا روپ دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس کی مشیت کو رد کرنے والی کوئی قوت نہیں ہے اور اس کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا۔ اس پوری کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس وعدے کا پورا کرنا دراصل اللہ کے وسیع قانون قدرت کا ایک حصہ ہے اور اللہ کے ناموس اکبر اور اس کے قانون قدرت اور عظیم منصوبہ کائنات کے اندر کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (30: 6) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے جبہ و دستار رکھتے ہیں اور ان کے پاس علم کی ایک بڑی مقدار ہے۔ لیکن ان کا علم سطحی ہے اور زندگی کے ظاہری امور سے متعلق ہے۔ اللہ کے اٹل قوانین قدرت ، اور اس کائنات کے حقیقی ضوابط اور اس کے عظیم ناموس ، اور اس کے نہایت ہی پختہ اور گہرے روابط کا انہیں علم نہیں ہے۔
یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں “۔ اس ظاہر کے پیچھے وہ جھانکنے کی سعی نہیں کرتے اور اپنی بصیرت سے اس کے پس منظر کو دیکھنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہ ظاہری دنیا تو صغیر و حقیر ہے۔ اگرچہ لوگوں کو یہ بہت ہی وسیع نظر آتی ہے لیکن دراصل یہ بہت ہی حقیر ہے۔ انسان اس دنیا میں بہت جدوجہد کرتا ہے لیکن انسان کی محدود زندگی میں یہاں بہت ہی کم کچھ کیا جاسکتا ہے اور انسان کی یہ محدود زندگی اس عظیم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ان کا ایک مختصر حصہ ہے۔ اور اس زندگی پر بھی انہی قوانین کا کنڑول ہے جن کا کنڑول اس پوری کائنات پر ہے۔
وہ شخص جس کا ضمیر و قلب کائنات کے ساتھ مربوط نہیں ہے اور اسے یہ احساس نہیں ہے کہ اس کائنات کو کچھ اٹل قوانین قدرت کنڑول کر رہے ہیں ، ایسا شخص اس کائنات کو بظاہر دیکھ تو رہا ہوتا ہے لیکن وہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ وہ ظاہری اشکال کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، وہ دیکھ رہا ہوتا ہے یہاں ہر چیز دائرے کی شکل میں سرگردان ہے لیکن وہ اس حرکت کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ اس جہاں میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ حقیقی مومن تو وہ ہوتا ہے جو اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے زندگی کے اسرار و رموز سے واقف ہو۔ ایسا مومن ہی دراصل علم اور سائنس کو ایسی روح عطا کرتا ہے جو حقائق کا ادراک کرتی ہے۔ اس قسم کا ایمان رکھنے والے لوگ اس جہاں میں قلیل ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت حقیقی معرفت سے محجوب ہوتی ہے۔
وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 7) ” اور آخرت سے وہ غافل ہوتے ہیں ، اس لیے کہ آخرت اس کائنات کے سلسلہ میں وجود ہی کی ایک کڑی ہے۔ آخرت کتاب کائنات کا ایک صفحہ ہے ، جو لوگ تخلیق کی حقیقت کو نہیں سمجھتے جو لوگ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس فطرت کو نہیں سمجھتے ، وہ آخرت کو بھی نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ آخرت کو اہمیت نہیں دیتے ، اس کے لیے تیاری نہیں کرتے ، اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ حرکت کائنات کی لائن پر آخرت بھی ایک نکتہ ہے۔ دنیا اور اس کائنات نے اس نکتے پر پہنچنا ہے اور اس کے بعد پھر نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
لیکن آخرت سے غفلت کے نتیجے میں ایسے غافل لوگوں کی اقدار مضطرب ہوتی ہیں ، ان کی اقدار حیات میں کوئی ثبات اور پختگی نہیں ہوتی۔ ان کا تصور حیات ، تعبیر واقعات اور ان کی قدروقیمت کے پیمانے ناپختہ ہوتے ہیں۔ ان کا علم سطحی ، ناقص اور ظاہری ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک انسان اس پوری زندگی کے اختتام پر آخرت کے قیام کو تسلیم کرتا ہے تو اس جہان کے تمام واقعات کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس جہان میں اس کی زندگی ایک مختصر سا مرحلہ ہے اور اس جہاں میں اس کا جو حصہ ہے اور ہونا چاہئے وہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی اور حقیر ہے اور اس جہاں کی پوری زندگی دراصل طویل ترین ڈرامے کا ایک نہایت ہی مختصر شو یا جھلکی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس طویل ترین ڈرامے کی صرف مختصر ترین جھلکی کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کر دے۔ اگر کوئی نہایت ہی حقیر جھلکی کو دیکھ کر پوری زندگی ، پوری کائنات اور آخرت اور اس کی طویل زندگی کے بارے میں فیصلہ کرے گا تو یہ سطحی فیصلہ ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا انسان جو قیامت کا قائل ہے ، اور جو قیامت کے لیے تیاری کر رہا ہے ، اس انسان کے ساتھ اکٹھا ہوکر نہیں رہ سکتا جس کا سطح نظر صرف یہ دنیا ہے اور اس دنیا سے آگے اسکا کوئی ہدف نہیں ہے۔ اس قسم کے دو انسان نہ اس دنیا کے کسی پروگرام پر متفق ہوسکتے ہیں اور نہ ان کا یہاں کسی قدر پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ دونوں کے پیمانے بالکل جدا ہوں گے۔ غرض ہر واقعہ ، ہر حالت ، اور زندگی کے حالات میں سے ہر حالت کے بارے میں دونوں کا فیصلہ جدا ہوگا کیونکہ دونوں کے میزان الگ ہوں گے۔ ہر ایک کا زاویہ نظر مختلف ہوگا۔ ہر ایک کی روشنی بھی مختلف ہوگی۔ لہٰذا ہر ایک کو ایک ہی چیز مختلف نظر آئے گی۔ واقعات ، اقدار اور حالات کے بارے میں دونوں کا تصور جدا ہوگا۔ ایک دنیا کی ظاہری نظر سے دیکھنے والا ہے اور دوسرا گہری نظر سے واقعات کے پس منظر کو بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ ظاہری اسباب اور واقعات کو بھی دیکھتا ہے اور باطن پر بھی اس کی نظر ہے۔ وہ ظاہر اور غائب دونوں کا علم رکھتا ہے۔ دنیا و آخرت دونوں کو جانتا ہے ، حیات اور موت دونوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل سب کا تصور رکھتا ہے۔ وہ انسانوں کے جہان سے بھی باخبر ہے اور اس کائنات کے دوسرے جہانوں اور زندوں اور مردوں سب سے واقف ہے۔ یہ ہے وہ وسیع افق جس پر اسلام انسان کی نظریں فوکس کر اتا ہے اور انسان کو ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے جو انسان کے لائق ہے جو انسان کے لیے بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض ضروری ہے اور انسان کی شخصیت میں اللہ نے جو روحانیت ودیعت کی ہے ، اس کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس غرض کے لیے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ اسی طرح یہ حق ہے جس طرح یہ منظم کائنات ایک عظیم حق پر قائم ہے ، اور یہ کہ آخرت کا قیام اس عظیم سچائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اب سیاق کلام ہمیں دوبارہ اس کائنات کے ضمیر کی سیر کراتا ہے۔ آسمانوں میں ، زمین میں اور ان کے درمیان جو جہان موجود ہیں ان میں۔ اس کے بعد پھر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی سیر کرائی جاتی ہے تاکہ وہ تدبر کریں ، شاید کہ وہ اس حقیقت کبریٰ تک پہنچ جائیں جس سے وہ اس وقت غافل ہوجاتے ہیں وہ آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ کسی سطحی نقطہ نظر کی وجہ سے وہ دعوت اسلامی کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ دعوت اس عظیم سچائی اور اس کے گہرے تدبر پر مبنی ہے۔
الروم 30:4
الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7)
سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔
اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور مسلمانوں کی خواہش نہ تھی کہ ایرانی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے اور وہ مسلمانوں کے ذہن کے قریب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی :
الم ۔۔۔۔۔ فی بجع سنین (30: 1 – 4) ” ا۔ ل۔ م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے “۔ تو مشرکین مکہ نہ کہا ابوبکر ! تمہارے دوست کہتے ہیں کہ رومی چند سالوں کی میعاد پر چار اونٹنیوں کی شرط لگائی۔ یہ سات سال گزر گئے اور کچھ نہ ہوا۔ مشرکین اس پر بہت ہی خوش ہوئے۔ یہ بات مسلمانوں پر ناگوار گزری۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری زبان میں بضع سنین کا مفہوم کیا ہے تو انہوں نے فرمایا دس سے کم۔ تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ جائیں اور میعاد میں دو سال کا اضافہ کردیں۔ کہتے ہیں دو سال ابھی نہ گزرے تھے کہ سواروں نے آکر اطلاع دی کی رومی فارس پر غالب آگئے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔
اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم نے امام ابن جریر کی روایت اختیار کی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس واقعہ سے آگے بڑھیں ، اس واقعہ میں جو ہدایات ہیں ان پر غور ضروری ہے۔
اس واقعہ میں ہمارے لیے پہلی نصیحت یہ ہے کہ شرک اور کفر ہر زمان و مکان میں ایک ملت ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایمان اور عقیدہ توحید کے خلاف رہے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں دنیا کی حکومتوں کے باہم روابط ہمارے دور کی طرف گہرے نہ تھے اس کے باوجود مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ پوری دنیا میں مشرکین کا غلبہ ان کا غلبہ ہے ، اور اہل کتاب پر مشرکین کی فتح ان کی فتح ہے۔ مکہ کے مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور اہل کتاب کے درمیان رابطے کی اساس موجود ہے اور وہ بھی اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ اہل کتاب پر مشرکین کو کسی بھی جگہ غلبہ حاصل ہو۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی دعوت اور تحریک اس جہان میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ اور کفر و ایمان کی اس کشمکش پر بیرونی واقعات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
یہ وہ کھلی حقیقت ہے جس سے ہمارے دور کے اکثر لوگ غافل ہیں اور وہ اس حقیقت کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے ، جس طرح اس کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مسلمانوں نے سمجھا تھا۔ حالانکہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ آج کے مسلمان صرف جغرافیائی حدود یا قومیت کی اصلاح میں سوچتے ہیں حالانکہ مسئلہ دراصل کفر و ایمان کا ہے اور اصل معرکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اس کشمکش کی اصل حقیقت کو سمجھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ اگر مسلمانوں نے اصل مسئلے کو سمجھ لیا تو پھر کفر و شرک کی علم بردار جماعتوں نے جو مختلف رنگوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ، وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ ، محض اسلامی نطریہ حیات کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ذہبی طور پر معرکے کے اسباب و عامل جو بھی ہوں ، اصل جنگ نظریات کی ہے۔
دوسرا سبق اس واقعہ میں یہ ہے کہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرو ، جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فوراً کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے سچ کہا ، جبکہ مشرکین کے نزدیک حضور ﷺ کا یہ کلام تعجب انگیز تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے صاف صاف کہہ دیا ” انہوں نے سچ کہا “۔ انہوں نے شرط باندھی اور ابوبکر ؓ نے قبول کرلی اور اللہ نے جو کہا تھا کہ چند سالوں میں یہ واقعہ ہوجائے گا تو ہوگیا۔ یہ پختہ اعتماد ، یقین اور بھروسہ ہی تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں کو یقین اور ثابت قدمی سے بھر دیا تھا اور وہ تمام مصائب اور مشکلات کو خوشی خوشی جھیل رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ مکمل ہوگیا اور اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا اور یہی بات جہاد کے طویل راستے میں ایک نظریاتی کارکن کا بہترین ہتھیار ہوا کرتا ہے۔
تیسرا سبق اس واقعہ کے بیان کے درمیان ایک نہایت ہی مختصر جملہ معترضہ کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں للہ الامر من قبل ومن بعد (30: 4) ” اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی “۔ نہایت ہی شتابی سے بنا دیا گیا کہ معاملات سب کے سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس واقعہ میں بھی اور اس کے سوا دوسرے واقعات میں بھی۔ یہ ایک اہل کلیہ ہے ، اسلامی موقف کا یہ میزان ہے۔ فتح و ہزیمت ، دنیا میں حکومتوں کا اٹھنا اور بیٹھنا ، قوت پکڑنا اور ضعیف ہونا ، اسی طرح ہے جس طرح اس کائنات میں دوسرے طبیعی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سب کے لیے ایک سنت مقرر ہے۔ یہ سنت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اللہ چاہتا ہے واقعات کا رخ پھیر دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے ارادے اور اس کی حکمت پذیری سے واقع ہوتا ہے۔ تمام واقعات اور حادثات دراصل اللہ کے ارادہ مطلقہ کے آثار ہیں اور ان کا رخ متعین کرنے میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ نہ کسی کے پاس قوت ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو حکمت کا فرما ہے اس کا بھی اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں ہے۔ نہ کسی کو ان واقعات کے مصدر اور ابتداء کا پتہ ہے اور نہ انجام کا۔ لہٰذا ایک انسان کے لیے یہی محفوظ راستہ ہے کہ وہ تمام واقعات پر اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور یہ کہہ دے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر ہے۔
الم ۔۔۔۔۔ بنصر اللہ ۔۔۔ (30: 1 – 5) ” رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے “۔ اور اللہ کا وعدہ سچا اور مومنین نے اللہ کی دی ہوئی نصرت پر خوشیاں منائیں۔
ینصر من ۔۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ غرض اختیارات سب اللہ کے ہیں ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا کرتا ہے۔ اس کی مشیت پر کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مشیت جو نتیجہ چاہتی ہے ویسے ہی اسباب بھی مہیا کردیتی ہے۔ وجود اسباب اور فتح و کامرانی کو اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کرنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس عالم اسباب کو جو قوانین قدرت کنڑول کرتے ہیں وہ سب کے سب مشیت مطلقہ کے فراہم کردہ ہیں۔ مشیت الہیہ ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے اسباب اور ایسے سنن اہل جہاں میں جاری وساری ہوں جو اٹل ہوں اور اس کائنات کے اندر ایک نظم اور ایک قرار و ثبات ہو۔ لہٰذا فتح و ہزیمت بھی قدرتی اسباب اور موثرات کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں ، اللہ کے جاری کردہ قوانین قدرت کے مطابق۔
اس موضوع پر اسلامی نظریہ حیات نہایت ہی واضح ، معقول اور منطقی ہے۔ وہ تمام امور کو اللہ کے حوالے کرتا ہے لیکن اسلام عالم اسباب کی نفی بھی نہیں کرتا اور انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عالم اسباب کے اندر اپنی جدوجہد جاری رکھے ، تاکہ اللہ کے مقرر کردہ نتائج عالم ظہور میں آتے رہیں۔ انسانی جدوجہد کے مطابق عملاً نتائج نمودار ہوں یا نہ ہوں اس کا انسان ذمہ دار نہیں ہے۔ اس پر جدوجہد فرض ہے۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی کو مسجد نبوی ﷺ کے دروازے پر کھلا چھوڑ دیا اور نماز پڑھنے کے لیے اندر آگیا اور کہا
توکلت علی اللہ ” میں نے اللہ پر توکل کیا “۔ اسے رسول ﷺ اللہ نے فرمایا اعقلھا و توکل ” اسے باندھ دو اور پھر توکل کرو “۔ اسلامی نظریہ حیات میں توکل عالم اسباب میں ، مطابق اسباب جدوجہد کرنے کے بعد ہے۔ جدوجہد کرو اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔
ینصر من ۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ نصرت قدرت الہیہ کے سایوں میں ملغوف ہے اور یہ قدرت الہیہ ہی ہے جو اس تصرف کو عالم واقعہ میں لاتی ہے۔ اس نصرت پر رحمت الہیہ کے سائے بھی چھائے ہوئے ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کے مفادات حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔ مغلوب اور پسے ہوئے طبقات کے لیے اس میں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔
ولولا دفع اللہ ۔۔۔۔۔ الارض ” اگر اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع کرنے کا کام نہ ہوتا رہتا تو پوری زمین میں فساد واقعہ ہوجاتا “۔ زمین میں اصلاح اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کی حمایت کی جائے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کیا جائے۔
وعد اللہ لا یخلف اللہ ۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 6 – 7) ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں “۔ یہ امداد اللہ کا وعدہ ہے لہٰذا وہ لازماً واقع ہو کر رہے گا۔
لایخلف اللہ وعدہ (30: 6) ” اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ اس کے بےقید ارادے کے تحت ہوتا ہے اور پھر اس کے اندر گہری حکمت مضمر ہوتی ہے اور وہ اپنے وعدہ کو حقیقت کا روپ دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس کی مشیت کو رد کرنے والی کوئی قوت نہیں ہے اور اس کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا۔ اس پوری کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس وعدے کا پورا کرنا دراصل اللہ کے وسیع قانون قدرت کا ایک حصہ ہے اور اللہ کے ناموس اکبر اور اس کے قانون قدرت اور عظیم منصوبہ کائنات کے اندر کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (30: 6) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے جبہ و دستار رکھتے ہیں اور ان کے پاس علم کی ایک بڑی مقدار ہے۔ لیکن ان کا علم سطحی ہے اور زندگی کے ظاہری امور سے متعلق ہے۔ اللہ کے اٹل قوانین قدرت ، اور اس کائنات کے حقیقی ضوابط اور اس کے عظیم ناموس ، اور اس کے نہایت ہی پختہ اور گہرے روابط کا انہیں علم نہیں ہے۔
یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں “۔ اس ظاہر کے پیچھے وہ جھانکنے کی سعی نہیں کرتے اور اپنی بصیرت سے اس کے پس منظر کو دیکھنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہ ظاہری دنیا تو صغیر و حقیر ہے۔ اگرچہ لوگوں کو یہ بہت ہی وسیع نظر آتی ہے لیکن دراصل یہ بہت ہی حقیر ہے۔ انسان اس دنیا میں بہت جدوجہد کرتا ہے لیکن انسان کی محدود زندگی میں یہاں بہت ہی کم کچھ کیا جاسکتا ہے اور انسان کی یہ محدود زندگی اس عظیم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ان کا ایک مختصر حصہ ہے۔ اور اس زندگی پر بھی انہی قوانین کا کنڑول ہے جن کا کنڑول اس پوری کائنات پر ہے۔
وہ شخص جس کا ضمیر و قلب کائنات کے ساتھ مربوط نہیں ہے اور اسے یہ احساس نہیں ہے کہ اس کائنات کو کچھ اٹل قوانین قدرت کنڑول کر رہے ہیں ، ایسا شخص اس کائنات کو بظاہر دیکھ تو رہا ہوتا ہے لیکن وہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ وہ ظاہری اشکال کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، وہ دیکھ رہا ہوتا ہے یہاں ہر چیز دائرے کی شکل میں سرگردان ہے لیکن وہ اس حرکت کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ اس جہاں میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ حقیقی مومن تو وہ ہوتا ہے جو اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے زندگی کے اسرار و رموز سے واقف ہو۔ ایسا مومن ہی دراصل علم اور سائنس کو ایسی روح عطا کرتا ہے جو حقائق کا ادراک کرتی ہے۔ اس قسم کا ایمان رکھنے والے لوگ اس جہاں میں قلیل ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت حقیقی معرفت سے محجوب ہوتی ہے۔
وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 7) ” اور آخرت سے وہ غافل ہوتے ہیں ، اس لیے کہ آخرت اس کائنات کے سلسلہ میں وجود ہی کی ایک کڑی ہے۔ آخرت کتاب کائنات کا ایک صفحہ ہے ، جو لوگ تخلیق کی حقیقت کو نہیں سمجھتے جو لوگ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس فطرت کو نہیں سمجھتے ، وہ آخرت کو بھی نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ آخرت کو اہمیت نہیں دیتے ، اس کے لیے تیاری نہیں کرتے ، اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ حرکت کائنات کی لائن پر آخرت بھی ایک نکتہ ہے۔ دنیا اور اس کائنات نے اس نکتے پر پہنچنا ہے اور اس کے بعد پھر نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
لیکن آخرت سے غفلت کے نتیجے میں ایسے غافل لوگوں کی اقدار مضطرب ہوتی ہیں ، ان کی اقدار حیات میں کوئی ثبات اور پختگی نہیں ہوتی۔ ان کا تصور حیات ، تعبیر واقعات اور ان کی قدروقیمت کے پیمانے ناپختہ ہوتے ہیں۔ ان کا علم سطحی ، ناقص اور ظاہری ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک انسان اس پوری زندگی کے اختتام پر آخرت کے قیام کو تسلیم کرتا ہے تو اس جہان کے تمام واقعات کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس جہان میں اس کی زندگی ایک مختصر سا مرحلہ ہے اور اس جہاں میں اس کا جو حصہ ہے اور ہونا چاہئے وہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی اور حقیر ہے اور اس جہاں کی پوری زندگی دراصل طویل ترین ڈرامے کا ایک نہایت ہی مختصر شو یا جھلکی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس طویل ترین ڈرامے کی صرف مختصر ترین جھلکی کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کر دے۔ اگر کوئی نہایت ہی حقیر جھلکی کو دیکھ کر پوری زندگی ، پوری کائنات اور آخرت اور اس کی طویل زندگی کے بارے میں فیصلہ کرے گا تو یہ سطحی فیصلہ ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا انسان جو قیامت کا قائل ہے ، اور جو قیامت کے لیے تیاری کر رہا ہے ، اس انسان کے ساتھ اکٹھا ہوکر نہیں رہ سکتا جس کا سطح نظر صرف یہ دنیا ہے اور اس دنیا سے آگے اسکا کوئی ہدف نہیں ہے۔ اس قسم کے دو انسان نہ اس دنیا کے کسی پروگرام پر متفق ہوسکتے ہیں اور نہ ان کا یہاں کسی قدر پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ دونوں کے پیمانے بالکل جدا ہوں گے۔ غرض ہر واقعہ ، ہر حالت ، اور زندگی کے حالات میں سے ہر حالت کے بارے میں دونوں کا فیصلہ جدا ہوگا کیونکہ دونوں کے میزان الگ ہوں گے۔ ہر ایک کا زاویہ نظر مختلف ہوگا۔ ہر ایک کی روشنی بھی مختلف ہوگی۔ لہٰذا ہر ایک کو ایک ہی چیز مختلف نظر آئے گی۔ واقعات ، اقدار اور حالات کے بارے میں دونوں کا تصور جدا ہوگا۔ ایک دنیا کی ظاہری نظر سے دیکھنے والا ہے اور دوسرا گہری نظر سے واقعات کے پس منظر کو بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ ظاہری اسباب اور واقعات کو بھی دیکھتا ہے اور باطن پر بھی اس کی نظر ہے۔ وہ ظاہر اور غائب دونوں کا علم رکھتا ہے۔ دنیا و آخرت دونوں کو جانتا ہے ، حیات اور موت دونوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل سب کا تصور رکھتا ہے۔ وہ انسانوں کے جہان سے بھی باخبر ہے اور اس کائنات کے دوسرے جہانوں اور زندوں اور مردوں سب سے واقف ہے۔ یہ ہے وہ وسیع افق جس پر اسلام انسان کی نظریں فوکس کر اتا ہے اور انسان کو ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے جو انسان کے لائق ہے جو انسان کے لیے بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض ضروری ہے اور انسان کی شخصیت میں اللہ نے جو روحانیت ودیعت کی ہے ، اس کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس غرض کے لیے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ اسی طرح یہ حق ہے جس طرح یہ منظم کائنات ایک عظیم حق پر قائم ہے ، اور یہ کہ آخرت کا قیام اس عظیم سچائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اب سیاق کلام ہمیں دوبارہ اس کائنات کے ضمیر کی سیر کراتا ہے۔ آسمانوں میں ، زمین میں اور ان کے درمیان جو جہان موجود ہیں ان میں۔ اس کے بعد پھر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی سیر کرائی جاتی ہے تاکہ وہ تدبر کریں ، شاید کہ وہ اس حقیقت کبریٰ تک پہنچ جائیں جس سے وہ اس وقت غافل ہوجاتے ہیں وہ آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ کسی سطحی نقطہ نظر کی وجہ سے وہ دعوت اسلامی کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ دعوت اس عظیم سچائی اور اس کے گہرے تدبر پر مبنی ہے۔
الروم 30:5
الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7)
سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔
اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور مسلمانوں کی خواہش نہ تھی کہ ایرانی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے اور وہ مسلمانوں کے ذہن کے قریب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی :
الم ۔۔۔۔۔ فی بجع سنین (30: 1 – 4) ” ا۔ ل۔ م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے “۔ تو مشرکین مکہ نہ کہا ابوبکر ! تمہارے دوست کہتے ہیں کہ رومی چند سالوں کی میعاد پر چار اونٹنیوں کی شرط لگائی۔ یہ سات سال گزر گئے اور کچھ نہ ہوا۔ مشرکین اس پر بہت ہی خوش ہوئے۔ یہ بات مسلمانوں پر ناگوار گزری۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری زبان میں بضع سنین کا مفہوم کیا ہے تو انہوں نے فرمایا دس سے کم۔ تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ جائیں اور میعاد میں دو سال کا اضافہ کردیں۔ کہتے ہیں دو سال ابھی نہ گزرے تھے کہ سواروں نے آکر اطلاع دی کی رومی فارس پر غالب آگئے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔
اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم نے امام ابن جریر کی روایت اختیار کی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس واقعہ سے آگے بڑھیں ، اس واقعہ میں جو ہدایات ہیں ان پر غور ضروری ہے۔
اس واقعہ میں ہمارے لیے پہلی نصیحت یہ ہے کہ شرک اور کفر ہر زمان و مکان میں ایک ملت ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایمان اور عقیدہ توحید کے خلاف رہے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں دنیا کی حکومتوں کے باہم روابط ہمارے دور کی طرف گہرے نہ تھے اس کے باوجود مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ پوری دنیا میں مشرکین کا غلبہ ان کا غلبہ ہے ، اور اہل کتاب پر مشرکین کی فتح ان کی فتح ہے۔ مکہ کے مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور اہل کتاب کے درمیان رابطے کی اساس موجود ہے اور وہ بھی اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ اہل کتاب پر مشرکین کو کسی بھی جگہ غلبہ حاصل ہو۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی دعوت اور تحریک اس جہان میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ اور کفر و ایمان کی اس کشمکش پر بیرونی واقعات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
یہ وہ کھلی حقیقت ہے جس سے ہمارے دور کے اکثر لوگ غافل ہیں اور وہ اس حقیقت کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے ، جس طرح اس کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مسلمانوں نے سمجھا تھا۔ حالانکہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ آج کے مسلمان صرف جغرافیائی حدود یا قومیت کی اصلاح میں سوچتے ہیں حالانکہ مسئلہ دراصل کفر و ایمان کا ہے اور اصل معرکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اس کشمکش کی اصل حقیقت کو سمجھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ اگر مسلمانوں نے اصل مسئلے کو سمجھ لیا تو پھر کفر و شرک کی علم بردار جماعتوں نے جو مختلف رنگوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ، وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ ، محض اسلامی نطریہ حیات کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ذہبی طور پر معرکے کے اسباب و عامل جو بھی ہوں ، اصل جنگ نظریات کی ہے۔
دوسرا سبق اس واقعہ میں یہ ہے کہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرو ، جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فوراً کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے سچ کہا ، جبکہ مشرکین کے نزدیک حضور ﷺ کا یہ کلام تعجب انگیز تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے صاف صاف کہہ دیا ” انہوں نے سچ کہا “۔ انہوں نے شرط باندھی اور ابوبکر ؓ نے قبول کرلی اور اللہ نے جو کہا تھا کہ چند سالوں میں یہ واقعہ ہوجائے گا تو ہوگیا۔ یہ پختہ اعتماد ، یقین اور بھروسہ ہی تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں کو یقین اور ثابت قدمی سے بھر دیا تھا اور وہ تمام مصائب اور مشکلات کو خوشی خوشی جھیل رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ مکمل ہوگیا اور اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا اور یہی بات جہاد کے طویل راستے میں ایک نظریاتی کارکن کا بہترین ہتھیار ہوا کرتا ہے۔
تیسرا سبق اس واقعہ کے بیان کے درمیان ایک نہایت ہی مختصر جملہ معترضہ کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں للہ الامر من قبل ومن بعد (30: 4) ” اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی “۔ نہایت ہی شتابی سے بنا دیا گیا کہ معاملات سب کے سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس واقعہ میں بھی اور اس کے سوا دوسرے واقعات میں بھی۔ یہ ایک اہل کلیہ ہے ، اسلامی موقف کا یہ میزان ہے۔ فتح و ہزیمت ، دنیا میں حکومتوں کا اٹھنا اور بیٹھنا ، قوت پکڑنا اور ضعیف ہونا ، اسی طرح ہے جس طرح اس کائنات میں دوسرے طبیعی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سب کے لیے ایک سنت مقرر ہے۔ یہ سنت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اللہ چاہتا ہے واقعات کا رخ پھیر دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے ارادے اور اس کی حکمت پذیری سے واقع ہوتا ہے۔ تمام واقعات اور حادثات دراصل اللہ کے ارادہ مطلقہ کے آثار ہیں اور ان کا رخ متعین کرنے میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ نہ کسی کے پاس قوت ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو حکمت کا فرما ہے اس کا بھی اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں ہے۔ نہ کسی کو ان واقعات کے مصدر اور ابتداء کا پتہ ہے اور نہ انجام کا۔ لہٰذا ایک انسان کے لیے یہی محفوظ راستہ ہے کہ وہ تمام واقعات پر اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور یہ کہہ دے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر ہے۔
الم ۔۔۔۔۔ بنصر اللہ ۔۔۔ (30: 1 – 5) ” رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے “۔ اور اللہ کا وعدہ سچا اور مومنین نے اللہ کی دی ہوئی نصرت پر خوشیاں منائیں۔
ینصر من ۔۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ غرض اختیارات سب اللہ کے ہیں ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا کرتا ہے۔ اس کی مشیت پر کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مشیت جو نتیجہ چاہتی ہے ویسے ہی اسباب بھی مہیا کردیتی ہے۔ وجود اسباب اور فتح و کامرانی کو اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کرنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس عالم اسباب کو جو قوانین قدرت کنڑول کرتے ہیں وہ سب کے سب مشیت مطلقہ کے فراہم کردہ ہیں۔ مشیت الہیہ ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے اسباب اور ایسے سنن اہل جہاں میں جاری وساری ہوں جو اٹل ہوں اور اس کائنات کے اندر ایک نظم اور ایک قرار و ثبات ہو۔ لہٰذا فتح و ہزیمت بھی قدرتی اسباب اور موثرات کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں ، اللہ کے جاری کردہ قوانین قدرت کے مطابق۔
اس موضوع پر اسلامی نظریہ حیات نہایت ہی واضح ، معقول اور منطقی ہے۔ وہ تمام امور کو اللہ کے حوالے کرتا ہے لیکن اسلام عالم اسباب کی نفی بھی نہیں کرتا اور انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عالم اسباب کے اندر اپنی جدوجہد جاری رکھے ، تاکہ اللہ کے مقرر کردہ نتائج عالم ظہور میں آتے رہیں۔ انسانی جدوجہد کے مطابق عملاً نتائج نمودار ہوں یا نہ ہوں اس کا انسان ذمہ دار نہیں ہے۔ اس پر جدوجہد فرض ہے۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی کو مسجد نبوی ﷺ کے دروازے پر کھلا چھوڑ دیا اور نماز پڑھنے کے لیے اندر آگیا اور کہا
توکلت علی اللہ ” میں نے اللہ پر توکل کیا “۔ اسے رسول ﷺ اللہ نے فرمایا اعقلھا و توکل ” اسے باندھ دو اور پھر توکل کرو “۔ اسلامی نظریہ حیات میں توکل عالم اسباب میں ، مطابق اسباب جدوجہد کرنے کے بعد ہے۔ جدوجہد کرو اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔
ینصر من ۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ نصرت قدرت الہیہ کے سایوں میں ملغوف ہے اور یہ قدرت الہیہ ہی ہے جو اس تصرف کو عالم واقعہ میں لاتی ہے۔ اس نصرت پر رحمت الہیہ کے سائے بھی چھائے ہوئے ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کے مفادات حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔ مغلوب اور پسے ہوئے طبقات کے لیے اس میں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔
ولولا دفع اللہ ۔۔۔۔۔ الارض ” اگر اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع کرنے کا کام نہ ہوتا رہتا تو پوری زمین میں فساد واقعہ ہوجاتا “۔ زمین میں اصلاح اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کی حمایت کی جائے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کیا جائے۔
وعد اللہ لا یخلف اللہ ۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 6 – 7) ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں “۔ یہ امداد اللہ کا وعدہ ہے لہٰذا وہ لازماً واقع ہو کر رہے گا۔
لایخلف اللہ وعدہ (30: 6) ” اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ اس کے بےقید ارادے کے تحت ہوتا ہے اور پھر اس کے اندر گہری حکمت مضمر ہوتی ہے اور وہ اپنے وعدہ کو حقیقت کا روپ دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس کی مشیت کو رد کرنے والی کوئی قوت نہیں ہے اور اس کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا۔ اس پوری کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس وعدے کا پورا کرنا دراصل اللہ کے وسیع قانون قدرت کا ایک حصہ ہے اور اللہ کے ناموس اکبر اور اس کے قانون قدرت اور عظیم منصوبہ کائنات کے اندر کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (30: 6) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے جبہ و دستار رکھتے ہیں اور ان کے پاس علم کی ایک بڑی مقدار ہے۔ لیکن ان کا علم سطحی ہے اور زندگی کے ظاہری امور سے متعلق ہے۔ اللہ کے اٹل قوانین قدرت ، اور اس کائنات کے حقیقی ضوابط اور اس کے عظیم ناموس ، اور اس کے نہایت ہی پختہ اور گہرے روابط کا انہیں علم نہیں ہے۔
یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں “۔ اس ظاہر کے پیچھے وہ جھانکنے کی سعی نہیں کرتے اور اپنی بصیرت سے اس کے پس منظر کو دیکھنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہ ظاہری دنیا تو صغیر و حقیر ہے۔ اگرچہ لوگوں کو یہ بہت ہی وسیع نظر آتی ہے لیکن دراصل یہ بہت ہی حقیر ہے۔ انسان اس دنیا میں بہت جدوجہد کرتا ہے لیکن انسان کی محدود زندگی میں یہاں بہت ہی کم کچھ کیا جاسکتا ہے اور انسان کی یہ محدود زندگی اس عظیم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ان کا ایک مختصر حصہ ہے۔ اور اس زندگی پر بھی انہی قوانین کا کنڑول ہے جن کا کنڑول اس پوری کائنات پر ہے۔
وہ شخص جس کا ضمیر و قلب کائنات کے ساتھ مربوط نہیں ہے اور اسے یہ احساس نہیں ہے کہ اس کائنات کو کچھ اٹل قوانین قدرت کنڑول کر رہے ہیں ، ایسا شخص اس کائنات کو بظاہر دیکھ تو رہا ہوتا ہے لیکن وہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ وہ ظاہری اشکال کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، وہ دیکھ رہا ہوتا ہے یہاں ہر چیز دائرے کی شکل میں سرگردان ہے لیکن وہ اس حرکت کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ اس جہاں میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ حقیقی مومن تو وہ ہوتا ہے جو اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے زندگی کے اسرار و رموز سے واقف ہو۔ ایسا مومن ہی دراصل علم اور سائنس کو ایسی روح عطا کرتا ہے جو حقائق کا ادراک کرتی ہے۔ اس قسم کا ایمان رکھنے والے لوگ اس جہاں میں قلیل ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت حقیقی معرفت سے محجوب ہوتی ہے۔
وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 7) ” اور آخرت سے وہ غافل ہوتے ہیں ، اس لیے کہ آخرت اس کائنات کے سلسلہ میں وجود ہی کی ایک کڑی ہے۔ آخرت کتاب کائنات کا ایک صفحہ ہے ، جو لوگ تخلیق کی حقیقت کو نہیں سمجھتے جو لوگ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس فطرت کو نہیں سمجھتے ، وہ آخرت کو بھی نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ آخرت کو اہمیت نہیں دیتے ، اس کے لیے تیاری نہیں کرتے ، اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ حرکت کائنات کی لائن پر آخرت بھی ایک نکتہ ہے۔ دنیا اور اس کائنات نے اس نکتے پر پہنچنا ہے اور اس کے بعد پھر نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
لیکن آخرت سے غفلت کے نتیجے میں ایسے غافل لوگوں کی اقدار مضطرب ہوتی ہیں ، ان کی اقدار حیات میں کوئی ثبات اور پختگی نہیں ہوتی۔ ان کا تصور حیات ، تعبیر واقعات اور ان کی قدروقیمت کے پیمانے ناپختہ ہوتے ہیں۔ ان کا علم سطحی ، ناقص اور ظاہری ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک انسان اس پوری زندگی کے اختتام پر آخرت کے قیام کو تسلیم کرتا ہے تو اس جہان کے تمام واقعات کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس جہان میں اس کی زندگی ایک مختصر سا مرحلہ ہے اور اس جہاں میں اس کا جو حصہ ہے اور ہونا چاہئے وہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی اور حقیر ہے اور اس جہاں کی پوری زندگی دراصل طویل ترین ڈرامے کا ایک نہایت ہی مختصر شو یا جھلکی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس طویل ترین ڈرامے کی صرف مختصر ترین جھلکی کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کر دے۔ اگر کوئی نہایت ہی حقیر جھلکی کو دیکھ کر پوری زندگی ، پوری کائنات اور آخرت اور اس کی طویل زندگی کے بارے میں فیصلہ کرے گا تو یہ سطحی فیصلہ ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا انسان جو قیامت کا قائل ہے ، اور جو قیامت کے لیے تیاری کر رہا ہے ، اس انسان کے ساتھ اکٹھا ہوکر نہیں رہ سکتا جس کا سطح نظر صرف یہ دنیا ہے اور اس دنیا سے آگے اسکا کوئی ہدف نہیں ہے۔ اس قسم کے دو انسان نہ اس دنیا کے کسی پروگرام پر متفق ہوسکتے ہیں اور نہ ان کا یہاں کسی قدر پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ دونوں کے پیمانے بالکل جدا ہوں گے۔ غرض ہر واقعہ ، ہر حالت ، اور زندگی کے حالات میں سے ہر حالت کے بارے میں دونوں کا فیصلہ جدا ہوگا کیونکہ دونوں کے میزان الگ ہوں گے۔ ہر ایک کا زاویہ نظر مختلف ہوگا۔ ہر ایک کی روشنی بھی مختلف ہوگی۔ لہٰذا ہر ایک کو ایک ہی چیز مختلف نظر آئے گی۔ واقعات ، اقدار اور حالات کے بارے میں دونوں کا تصور جدا ہوگا۔ ایک دنیا کی ظاہری نظر سے دیکھنے والا ہے اور دوسرا گہری نظر سے واقعات کے پس منظر کو بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ ظاہری اسباب اور واقعات کو بھی دیکھتا ہے اور باطن پر بھی اس کی نظر ہے۔ وہ ظاہر اور غائب دونوں کا علم رکھتا ہے۔ دنیا و آخرت دونوں کو جانتا ہے ، حیات اور موت دونوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل سب کا تصور رکھتا ہے۔ وہ انسانوں کے جہان سے بھی باخبر ہے اور اس کائنات کے دوسرے جہانوں اور زندوں اور مردوں سب سے واقف ہے۔ یہ ہے وہ وسیع افق جس پر اسلام انسان کی نظریں فوکس کر اتا ہے اور انسان کو ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے جو انسان کے لائق ہے جو انسان کے لیے بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض ضروری ہے اور انسان کی شخصیت میں اللہ نے جو روحانیت ودیعت کی ہے ، اس کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس غرض کے لیے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ اسی طرح یہ حق ہے جس طرح یہ منظم کائنات ایک عظیم حق پر قائم ہے ، اور یہ کہ آخرت کا قیام اس عظیم سچائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اب سیاق کلام ہمیں دوبارہ اس کائنات کے ضمیر کی سیر کراتا ہے۔ آسمانوں میں ، زمین میں اور ان کے درمیان جو جہان موجود ہیں ان میں۔ اس کے بعد پھر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی سیر کرائی جاتی ہے تاکہ وہ تدبر کریں ، شاید کہ وہ اس حقیقت کبریٰ تک پہنچ جائیں جس سے وہ اس وقت غافل ہوجاتے ہیں وہ آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ کسی سطحی نقطہ نظر کی وجہ سے وہ دعوت اسلامی کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ دعوت اس عظیم سچائی اور اس کے گہرے تدبر پر مبنی ہے۔
الروم 30:6
الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7)
سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔
اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور مسلمانوں کی خواہش نہ تھی کہ ایرانی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے اور وہ مسلمانوں کے ذہن کے قریب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی :
الم ۔۔۔۔۔ فی بجع سنین (30: 1 – 4) ” ا۔ ل۔ م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے “۔ تو مشرکین مکہ نہ کہا ابوبکر ! تمہارے دوست کہتے ہیں کہ رومی چند سالوں کی میعاد پر چار اونٹنیوں کی شرط لگائی۔ یہ سات سال گزر گئے اور کچھ نہ ہوا۔ مشرکین اس پر بہت ہی خوش ہوئے۔ یہ بات مسلمانوں پر ناگوار گزری۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری زبان میں بضع سنین کا مفہوم کیا ہے تو انہوں نے فرمایا دس سے کم۔ تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ جائیں اور میعاد میں دو سال کا اضافہ کردیں۔ کہتے ہیں دو سال ابھی نہ گزرے تھے کہ سواروں نے آکر اطلاع دی کی رومی فارس پر غالب آگئے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔
اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم نے امام ابن جریر کی روایت اختیار کی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس واقعہ سے آگے بڑھیں ، اس واقعہ میں جو ہدایات ہیں ان پر غور ضروری ہے۔
اس واقعہ میں ہمارے لیے پہلی نصیحت یہ ہے کہ شرک اور کفر ہر زمان و مکان میں ایک ملت ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایمان اور عقیدہ توحید کے خلاف رہے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں دنیا کی حکومتوں کے باہم روابط ہمارے دور کی طرف گہرے نہ تھے اس کے باوجود مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ پوری دنیا میں مشرکین کا غلبہ ان کا غلبہ ہے ، اور اہل کتاب پر مشرکین کی فتح ان کی فتح ہے۔ مکہ کے مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور اہل کتاب کے درمیان رابطے کی اساس موجود ہے اور وہ بھی اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ اہل کتاب پر مشرکین کو کسی بھی جگہ غلبہ حاصل ہو۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی دعوت اور تحریک اس جہان میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ اور کفر و ایمان کی اس کشمکش پر بیرونی واقعات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
یہ وہ کھلی حقیقت ہے جس سے ہمارے دور کے اکثر لوگ غافل ہیں اور وہ اس حقیقت کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے ، جس طرح اس کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مسلمانوں نے سمجھا تھا۔ حالانکہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ آج کے مسلمان صرف جغرافیائی حدود یا قومیت کی اصلاح میں سوچتے ہیں حالانکہ مسئلہ دراصل کفر و ایمان کا ہے اور اصل معرکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اس کشمکش کی اصل حقیقت کو سمجھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ اگر مسلمانوں نے اصل مسئلے کو سمجھ لیا تو پھر کفر و شرک کی علم بردار جماعتوں نے جو مختلف رنگوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ، وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ ، محض اسلامی نطریہ حیات کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ذہبی طور پر معرکے کے اسباب و عامل جو بھی ہوں ، اصل جنگ نظریات کی ہے۔
دوسرا سبق اس واقعہ میں یہ ہے کہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرو ، جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فوراً کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے سچ کہا ، جبکہ مشرکین کے نزدیک حضور ﷺ کا یہ کلام تعجب انگیز تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے صاف صاف کہہ دیا ” انہوں نے سچ کہا “۔ انہوں نے شرط باندھی اور ابوبکر ؓ نے قبول کرلی اور اللہ نے جو کہا تھا کہ چند سالوں میں یہ واقعہ ہوجائے گا تو ہوگیا۔ یہ پختہ اعتماد ، یقین اور بھروسہ ہی تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں کو یقین اور ثابت قدمی سے بھر دیا تھا اور وہ تمام مصائب اور مشکلات کو خوشی خوشی جھیل رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ مکمل ہوگیا اور اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا اور یہی بات جہاد کے طویل راستے میں ایک نظریاتی کارکن کا بہترین ہتھیار ہوا کرتا ہے۔
تیسرا سبق اس واقعہ کے بیان کے درمیان ایک نہایت ہی مختصر جملہ معترضہ کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں للہ الامر من قبل ومن بعد (30: 4) ” اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی “۔ نہایت ہی شتابی سے بنا دیا گیا کہ معاملات سب کے سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس واقعہ میں بھی اور اس کے سوا دوسرے واقعات میں بھی۔ یہ ایک اہل کلیہ ہے ، اسلامی موقف کا یہ میزان ہے۔ فتح و ہزیمت ، دنیا میں حکومتوں کا اٹھنا اور بیٹھنا ، قوت پکڑنا اور ضعیف ہونا ، اسی طرح ہے جس طرح اس کائنات میں دوسرے طبیعی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سب کے لیے ایک سنت مقرر ہے۔ یہ سنت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اللہ چاہتا ہے واقعات کا رخ پھیر دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے ارادے اور اس کی حکمت پذیری سے واقع ہوتا ہے۔ تمام واقعات اور حادثات دراصل اللہ کے ارادہ مطلقہ کے آثار ہیں اور ان کا رخ متعین کرنے میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ نہ کسی کے پاس قوت ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو حکمت کا فرما ہے اس کا بھی اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں ہے۔ نہ کسی کو ان واقعات کے مصدر اور ابتداء کا پتہ ہے اور نہ انجام کا۔ لہٰذا ایک انسان کے لیے یہی محفوظ راستہ ہے کہ وہ تمام واقعات پر اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور یہ کہہ دے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر ہے۔
الم ۔۔۔۔۔ بنصر اللہ ۔۔۔ (30: 1 – 5) ” رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے “۔ اور اللہ کا وعدہ سچا اور مومنین نے اللہ کی دی ہوئی نصرت پر خوشیاں منائیں۔
ینصر من ۔۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ غرض اختیارات سب اللہ کے ہیں ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا کرتا ہے۔ اس کی مشیت پر کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مشیت جو نتیجہ چاہتی ہے ویسے ہی اسباب بھی مہیا کردیتی ہے۔ وجود اسباب اور فتح و کامرانی کو اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کرنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس عالم اسباب کو جو قوانین قدرت کنڑول کرتے ہیں وہ سب کے سب مشیت مطلقہ کے فراہم کردہ ہیں۔ مشیت الہیہ ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے اسباب اور ایسے سنن اہل جہاں میں جاری وساری ہوں جو اٹل ہوں اور اس کائنات کے اندر ایک نظم اور ایک قرار و ثبات ہو۔ لہٰذا فتح و ہزیمت بھی قدرتی اسباب اور موثرات کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں ، اللہ کے جاری کردہ قوانین قدرت کے مطابق۔
اس موضوع پر اسلامی نظریہ حیات نہایت ہی واضح ، معقول اور منطقی ہے۔ وہ تمام امور کو اللہ کے حوالے کرتا ہے لیکن اسلام عالم اسباب کی نفی بھی نہیں کرتا اور انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عالم اسباب کے اندر اپنی جدوجہد جاری رکھے ، تاکہ اللہ کے مقرر کردہ نتائج عالم ظہور میں آتے رہیں۔ انسانی جدوجہد کے مطابق عملاً نتائج نمودار ہوں یا نہ ہوں اس کا انسان ذمہ دار نہیں ہے۔ اس پر جدوجہد فرض ہے۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی کو مسجد نبوی ﷺ کے دروازے پر کھلا چھوڑ دیا اور نماز پڑھنے کے لیے اندر آگیا اور کہا
توکلت علی اللہ ” میں نے اللہ پر توکل کیا “۔ اسے رسول ﷺ اللہ نے فرمایا اعقلھا و توکل ” اسے باندھ دو اور پھر توکل کرو “۔ اسلامی نظریہ حیات میں توکل عالم اسباب میں ، مطابق اسباب جدوجہد کرنے کے بعد ہے۔ جدوجہد کرو اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔
ینصر من ۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ نصرت قدرت الہیہ کے سایوں میں ملغوف ہے اور یہ قدرت الہیہ ہی ہے جو اس تصرف کو عالم واقعہ میں لاتی ہے۔ اس نصرت پر رحمت الہیہ کے سائے بھی چھائے ہوئے ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کے مفادات حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔ مغلوب اور پسے ہوئے طبقات کے لیے اس میں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔
ولولا دفع اللہ ۔۔۔۔۔ الارض ” اگر اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع کرنے کا کام نہ ہوتا رہتا تو پوری زمین میں فساد واقعہ ہوجاتا “۔ زمین میں اصلاح اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کی حمایت کی جائے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کیا جائے۔
وعد اللہ لا یخلف اللہ ۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 6 – 7) ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں “۔ یہ امداد اللہ کا وعدہ ہے لہٰذا وہ لازماً واقع ہو کر رہے گا۔
لایخلف اللہ وعدہ (30: 6) ” اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ اس کے بےقید ارادے کے تحت ہوتا ہے اور پھر اس کے اندر گہری حکمت مضمر ہوتی ہے اور وہ اپنے وعدہ کو حقیقت کا روپ دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس کی مشیت کو رد کرنے والی کوئی قوت نہیں ہے اور اس کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا۔ اس پوری کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس وعدے کا پورا کرنا دراصل اللہ کے وسیع قانون قدرت کا ایک حصہ ہے اور اللہ کے ناموس اکبر اور اس کے قانون قدرت اور عظیم منصوبہ کائنات کے اندر کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (30: 6) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے جبہ و دستار رکھتے ہیں اور ان کے پاس علم کی ایک بڑی مقدار ہے۔ لیکن ان کا علم سطحی ہے اور زندگی کے ظاہری امور سے متعلق ہے۔ اللہ کے اٹل قوانین قدرت ، اور اس کائنات کے حقیقی ضوابط اور اس کے عظیم ناموس ، اور اس کے نہایت ہی پختہ اور گہرے روابط کا انہیں علم نہیں ہے۔
یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں “۔ اس ظاہر کے پیچھے وہ جھانکنے کی سعی نہیں کرتے اور اپنی بصیرت سے اس کے پس منظر کو دیکھنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہ ظاہری دنیا تو صغیر و حقیر ہے۔ اگرچہ لوگوں کو یہ بہت ہی وسیع نظر آتی ہے لیکن دراصل یہ بہت ہی حقیر ہے۔ انسان اس دنیا میں بہت جدوجہد کرتا ہے لیکن انسان کی محدود زندگی میں یہاں بہت ہی کم کچھ کیا جاسکتا ہے اور انسان کی یہ محدود زندگی اس عظیم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ان کا ایک مختصر حصہ ہے۔ اور اس زندگی پر بھی انہی قوانین کا کنڑول ہے جن کا کنڑول اس پوری کائنات پر ہے۔
وہ شخص جس کا ضمیر و قلب کائنات کے ساتھ مربوط نہیں ہے اور اسے یہ احساس نہیں ہے کہ اس کائنات کو کچھ اٹل قوانین قدرت کنڑول کر رہے ہیں ، ایسا شخص اس کائنات کو بظاہر دیکھ تو رہا ہوتا ہے لیکن وہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ وہ ظاہری اشکال کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، وہ دیکھ رہا ہوتا ہے یہاں ہر چیز دائرے کی شکل میں سرگردان ہے لیکن وہ اس حرکت کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ اس جہاں میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ حقیقی مومن تو وہ ہوتا ہے جو اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے زندگی کے اسرار و رموز سے واقف ہو۔ ایسا مومن ہی دراصل علم اور سائنس کو ایسی روح عطا کرتا ہے جو حقائق کا ادراک کرتی ہے۔ اس قسم کا ایمان رکھنے والے لوگ اس جہاں میں قلیل ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت حقیقی معرفت سے محجوب ہوتی ہے۔
وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 7) ” اور آخرت سے وہ غافل ہوتے ہیں ، اس لیے کہ آخرت اس کائنات کے سلسلہ میں وجود ہی کی ایک کڑی ہے۔ آخرت کتاب کائنات کا ایک صفحہ ہے ، جو لوگ تخلیق کی حقیقت کو نہیں سمجھتے جو لوگ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس فطرت کو نہیں سمجھتے ، وہ آخرت کو بھی نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ آخرت کو اہمیت نہیں دیتے ، اس کے لیے تیاری نہیں کرتے ، اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ حرکت کائنات کی لائن پر آخرت بھی ایک نکتہ ہے۔ دنیا اور اس کائنات نے اس نکتے پر پہنچنا ہے اور اس کے بعد پھر نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
لیکن آخرت سے غفلت کے نتیجے میں ایسے غافل لوگوں کی اقدار مضطرب ہوتی ہیں ، ان کی اقدار حیات میں کوئی ثبات اور پختگی نہیں ہوتی۔ ان کا تصور حیات ، تعبیر واقعات اور ان کی قدروقیمت کے پیمانے ناپختہ ہوتے ہیں۔ ان کا علم سطحی ، ناقص اور ظاہری ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک انسان اس پوری زندگی کے اختتام پر آخرت کے قیام کو تسلیم کرتا ہے تو اس جہان کے تمام واقعات کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس جہان میں اس کی زندگی ایک مختصر سا مرحلہ ہے اور اس جہاں میں اس کا جو حصہ ہے اور ہونا چاہئے وہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی اور حقیر ہے اور اس جہاں کی پوری زندگی دراصل طویل ترین ڈرامے کا ایک نہایت ہی مختصر شو یا جھلکی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس طویل ترین ڈرامے کی صرف مختصر ترین جھلکی کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کر دے۔ اگر کوئی نہایت ہی حقیر جھلکی کو دیکھ کر پوری زندگی ، پوری کائنات اور آخرت اور اس کی طویل زندگی کے بارے میں فیصلہ کرے گا تو یہ سطحی فیصلہ ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا انسان جو قیامت کا قائل ہے ، اور جو قیامت کے لیے تیاری کر رہا ہے ، اس انسان کے ساتھ اکٹھا ہوکر نہیں رہ سکتا جس کا سطح نظر صرف یہ دنیا ہے اور اس دنیا سے آگے اسکا کوئی ہدف نہیں ہے۔ اس قسم کے دو انسان نہ اس دنیا کے کسی پروگرام پر متفق ہوسکتے ہیں اور نہ ان کا یہاں کسی قدر پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ دونوں کے پیمانے بالکل جدا ہوں گے۔ غرض ہر واقعہ ، ہر حالت ، اور زندگی کے حالات میں سے ہر حالت کے بارے میں دونوں کا فیصلہ جدا ہوگا کیونکہ دونوں کے میزان الگ ہوں گے۔ ہر ایک کا زاویہ نظر مختلف ہوگا۔ ہر ایک کی روشنی بھی مختلف ہوگی۔ لہٰذا ہر ایک کو ایک ہی چیز مختلف نظر آئے گی۔ واقعات ، اقدار اور حالات کے بارے میں دونوں کا تصور جدا ہوگا۔ ایک دنیا کی ظاہری نظر سے دیکھنے والا ہے اور دوسرا گہری نظر سے واقعات کے پس منظر کو بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ ظاہری اسباب اور واقعات کو بھی دیکھتا ہے اور باطن پر بھی اس کی نظر ہے۔ وہ ظاہر اور غائب دونوں کا علم رکھتا ہے۔ دنیا و آخرت دونوں کو جانتا ہے ، حیات اور موت دونوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل سب کا تصور رکھتا ہے۔ وہ انسانوں کے جہان سے بھی باخبر ہے اور اس کائنات کے دوسرے جہانوں اور زندوں اور مردوں سب سے واقف ہے۔ یہ ہے وہ وسیع افق جس پر اسلام انسان کی نظریں فوکس کر اتا ہے اور انسان کو ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے جو انسان کے لائق ہے جو انسان کے لیے بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض ضروری ہے اور انسان کی شخصیت میں اللہ نے جو روحانیت ودیعت کی ہے ، اس کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس غرض کے لیے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ اسی طرح یہ حق ہے جس طرح یہ منظم کائنات ایک عظیم حق پر قائم ہے ، اور یہ کہ آخرت کا قیام اس عظیم سچائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اب سیاق کلام ہمیں دوبارہ اس کائنات کے ضمیر کی سیر کراتا ہے۔ آسمانوں میں ، زمین میں اور ان کے درمیان جو جہان موجود ہیں ان میں۔ اس کے بعد پھر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی سیر کرائی جاتی ہے تاکہ وہ تدبر کریں ، شاید کہ وہ اس حقیقت کبریٰ تک پہنچ جائیں جس سے وہ اس وقت غافل ہوجاتے ہیں وہ آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ کسی سطحی نقطہ نظر کی وجہ سے وہ دعوت اسلامی کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ دعوت اس عظیم سچائی اور اس کے گہرے تدبر پر مبنی ہے۔
الروم 30:7
الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7)
سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔
اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور مسلمانوں کی خواہش نہ تھی کہ ایرانی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے اور وہ مسلمانوں کے ذہن کے قریب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی :
الم ۔۔۔۔۔ فی بجع سنین (30: 1 – 4) ” ا۔ ل۔ م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے “۔ تو مشرکین مکہ نہ کہا ابوبکر ! تمہارے دوست کہتے ہیں کہ رومی چند سالوں کی میعاد پر چار اونٹنیوں کی شرط لگائی۔ یہ سات سال گزر گئے اور کچھ نہ ہوا۔ مشرکین اس پر بہت ہی خوش ہوئے۔ یہ بات مسلمانوں پر ناگوار گزری۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری زبان میں بضع سنین کا مفہوم کیا ہے تو انہوں نے فرمایا دس سے کم۔ تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ جائیں اور میعاد میں دو سال کا اضافہ کردیں۔ کہتے ہیں دو سال ابھی نہ گزرے تھے کہ سواروں نے آکر اطلاع دی کی رومی فارس پر غالب آگئے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔
اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم نے امام ابن جریر کی روایت اختیار کی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس واقعہ سے آگے بڑھیں ، اس واقعہ میں جو ہدایات ہیں ان پر غور ضروری ہے۔
اس واقعہ میں ہمارے لیے پہلی نصیحت یہ ہے کہ شرک اور کفر ہر زمان و مکان میں ایک ملت ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایمان اور عقیدہ توحید کے خلاف رہے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں دنیا کی حکومتوں کے باہم روابط ہمارے دور کی طرف گہرے نہ تھے اس کے باوجود مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ پوری دنیا میں مشرکین کا غلبہ ان کا غلبہ ہے ، اور اہل کتاب پر مشرکین کی فتح ان کی فتح ہے۔ مکہ کے مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور اہل کتاب کے درمیان رابطے کی اساس موجود ہے اور وہ بھی اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ اہل کتاب پر مشرکین کو کسی بھی جگہ غلبہ حاصل ہو۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی دعوت اور تحریک اس جہان میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ اور کفر و ایمان کی اس کشمکش پر بیرونی واقعات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
یہ وہ کھلی حقیقت ہے جس سے ہمارے دور کے اکثر لوگ غافل ہیں اور وہ اس حقیقت کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے ، جس طرح اس کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مسلمانوں نے سمجھا تھا۔ حالانکہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ آج کے مسلمان صرف جغرافیائی حدود یا قومیت کی اصلاح میں سوچتے ہیں حالانکہ مسئلہ دراصل کفر و ایمان کا ہے اور اصل معرکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اس کشمکش کی اصل حقیقت کو سمجھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ اگر مسلمانوں نے اصل مسئلے کو سمجھ لیا تو پھر کفر و شرک کی علم بردار جماعتوں نے جو مختلف رنگوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ، وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ ، محض اسلامی نطریہ حیات کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ذہبی طور پر معرکے کے اسباب و عامل جو بھی ہوں ، اصل جنگ نظریات کی ہے۔
دوسرا سبق اس واقعہ میں یہ ہے کہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرو ، جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فوراً کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے سچ کہا ، جبکہ مشرکین کے نزدیک حضور ﷺ کا یہ کلام تعجب انگیز تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے صاف صاف کہہ دیا ” انہوں نے سچ کہا “۔ انہوں نے شرط باندھی اور ابوبکر ؓ نے قبول کرلی اور اللہ نے جو کہا تھا کہ چند سالوں میں یہ واقعہ ہوجائے گا تو ہوگیا۔ یہ پختہ اعتماد ، یقین اور بھروسہ ہی تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں کو یقین اور ثابت قدمی سے بھر دیا تھا اور وہ تمام مصائب اور مشکلات کو خوشی خوشی جھیل رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ مکمل ہوگیا اور اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا اور یہی بات جہاد کے طویل راستے میں ایک نظریاتی کارکن کا بہترین ہتھیار ہوا کرتا ہے۔
تیسرا سبق اس واقعہ کے بیان کے درمیان ایک نہایت ہی مختصر جملہ معترضہ کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں للہ الامر من قبل ومن بعد (30: 4) ” اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی “۔ نہایت ہی شتابی سے بنا دیا گیا کہ معاملات سب کے سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس واقعہ میں بھی اور اس کے سوا دوسرے واقعات میں بھی۔ یہ ایک اہل کلیہ ہے ، اسلامی موقف کا یہ میزان ہے۔ فتح و ہزیمت ، دنیا میں حکومتوں کا اٹھنا اور بیٹھنا ، قوت پکڑنا اور ضعیف ہونا ، اسی طرح ہے جس طرح اس کائنات میں دوسرے طبیعی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سب کے لیے ایک سنت مقرر ہے۔ یہ سنت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اللہ چاہتا ہے واقعات کا رخ پھیر دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے ارادے اور اس کی حکمت پذیری سے واقع ہوتا ہے۔ تمام واقعات اور حادثات دراصل اللہ کے ارادہ مطلقہ کے آثار ہیں اور ان کا رخ متعین کرنے میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ نہ کسی کے پاس قوت ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو حکمت کا فرما ہے اس کا بھی اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں ہے۔ نہ کسی کو ان واقعات کے مصدر اور ابتداء کا پتہ ہے اور نہ انجام کا۔ لہٰذا ایک انسان کے لیے یہی محفوظ راستہ ہے کہ وہ تمام واقعات پر اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور یہ کہہ دے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر ہے۔
الم ۔۔۔۔۔ بنصر اللہ ۔۔۔ (30: 1 – 5) ” رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے “۔ اور اللہ کا وعدہ سچا اور مومنین نے اللہ کی دی ہوئی نصرت پر خوشیاں منائیں۔
ینصر من ۔۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ غرض اختیارات سب اللہ کے ہیں ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا کرتا ہے۔ اس کی مشیت پر کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مشیت جو نتیجہ چاہتی ہے ویسے ہی اسباب بھی مہیا کردیتی ہے۔ وجود اسباب اور فتح و کامرانی کو اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کرنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس عالم اسباب کو جو قوانین قدرت کنڑول کرتے ہیں وہ سب کے سب مشیت مطلقہ کے فراہم کردہ ہیں۔ مشیت الہیہ ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے اسباب اور ایسے سنن اہل جہاں میں جاری وساری ہوں جو اٹل ہوں اور اس کائنات کے اندر ایک نظم اور ایک قرار و ثبات ہو۔ لہٰذا فتح و ہزیمت بھی قدرتی اسباب اور موثرات کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں ، اللہ کے جاری کردہ قوانین قدرت کے مطابق۔
اس موضوع پر اسلامی نظریہ حیات نہایت ہی واضح ، معقول اور منطقی ہے۔ وہ تمام امور کو اللہ کے حوالے کرتا ہے لیکن اسلام عالم اسباب کی نفی بھی نہیں کرتا اور انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عالم اسباب کے اندر اپنی جدوجہد جاری رکھے ، تاکہ اللہ کے مقرر کردہ نتائج عالم ظہور میں آتے رہیں۔ انسانی جدوجہد کے مطابق عملاً نتائج نمودار ہوں یا نہ ہوں اس کا انسان ذمہ دار نہیں ہے۔ اس پر جدوجہد فرض ہے۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی کو مسجد نبوی ﷺ کے دروازے پر کھلا چھوڑ دیا اور نماز پڑھنے کے لیے اندر آگیا اور کہا
توکلت علی اللہ ” میں نے اللہ پر توکل کیا “۔ اسے رسول ﷺ اللہ نے فرمایا اعقلھا و توکل ” اسے باندھ دو اور پھر توکل کرو “۔ اسلامی نظریہ حیات میں توکل عالم اسباب میں ، مطابق اسباب جدوجہد کرنے کے بعد ہے۔ جدوجہد کرو اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔
ینصر من ۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ نصرت قدرت الہیہ کے سایوں میں ملغوف ہے اور یہ قدرت الہیہ ہی ہے جو اس تصرف کو عالم واقعہ میں لاتی ہے۔ اس نصرت پر رحمت الہیہ کے سائے بھی چھائے ہوئے ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کے مفادات حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔ مغلوب اور پسے ہوئے طبقات کے لیے اس میں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔
ولولا دفع اللہ ۔۔۔۔۔ الارض ” اگر اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع کرنے کا کام نہ ہوتا رہتا تو پوری زمین میں فساد واقعہ ہوجاتا “۔ زمین میں اصلاح اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کی حمایت کی جائے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کیا جائے۔
وعد اللہ لا یخلف اللہ ۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 6 – 7) ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں “۔ یہ امداد اللہ کا وعدہ ہے لہٰذا وہ لازماً واقع ہو کر رہے گا۔
لایخلف اللہ وعدہ (30: 6) ” اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ اس کے بےقید ارادے کے تحت ہوتا ہے اور پھر اس کے اندر گہری حکمت مضمر ہوتی ہے اور وہ اپنے وعدہ کو حقیقت کا روپ دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس کی مشیت کو رد کرنے والی کوئی قوت نہیں ہے اور اس کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا۔ اس پوری کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس وعدے کا پورا کرنا دراصل اللہ کے وسیع قانون قدرت کا ایک حصہ ہے اور اللہ کے ناموس اکبر اور اس کے قانون قدرت اور عظیم منصوبہ کائنات کے اندر کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (30: 6) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے جبہ و دستار رکھتے ہیں اور ان کے پاس علم کی ایک بڑی مقدار ہے۔ لیکن ان کا علم سطحی ہے اور زندگی کے ظاہری امور سے متعلق ہے۔ اللہ کے اٹل قوانین قدرت ، اور اس کائنات کے حقیقی ضوابط اور اس کے عظیم ناموس ، اور اس کے نہایت ہی پختہ اور گہرے روابط کا انہیں علم نہیں ہے۔
یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں “۔ اس ظاہر کے پیچھے وہ جھانکنے کی سعی نہیں کرتے اور اپنی بصیرت سے اس کے پس منظر کو دیکھنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہ ظاہری دنیا تو صغیر و حقیر ہے۔ اگرچہ لوگوں کو یہ بہت ہی وسیع نظر آتی ہے لیکن دراصل یہ بہت ہی حقیر ہے۔ انسان اس دنیا میں بہت جدوجہد کرتا ہے لیکن انسان کی محدود زندگی میں یہاں بہت ہی کم کچھ کیا جاسکتا ہے اور انسان کی یہ محدود زندگی اس عظیم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ان کا ایک مختصر حصہ ہے۔ اور اس زندگی پر بھی انہی قوانین کا کنڑول ہے جن کا کنڑول اس پوری کائنات پر ہے۔
وہ شخص جس کا ضمیر و قلب کائنات کے ساتھ مربوط نہیں ہے اور اسے یہ احساس نہیں ہے کہ اس کائنات کو کچھ اٹل قوانین قدرت کنڑول کر رہے ہیں ، ایسا شخص اس کائنات کو بظاہر دیکھ تو رہا ہوتا ہے لیکن وہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ وہ ظاہری اشکال کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، وہ دیکھ رہا ہوتا ہے یہاں ہر چیز دائرے کی شکل میں سرگردان ہے لیکن وہ اس حرکت کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ اس جہاں میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ حقیقی مومن تو وہ ہوتا ہے جو اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے زندگی کے اسرار و رموز سے واقف ہو۔ ایسا مومن ہی دراصل علم اور سائنس کو ایسی روح عطا کرتا ہے جو حقائق کا ادراک کرتی ہے۔ اس قسم کا ایمان رکھنے والے لوگ اس جہاں میں قلیل ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت حقیقی معرفت سے محجوب ہوتی ہے۔
وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 7) ” اور آخرت سے وہ غافل ہوتے ہیں ، اس لیے کہ آخرت اس کائنات کے سلسلہ میں وجود ہی کی ایک کڑی ہے۔ آخرت کتاب کائنات کا ایک صفحہ ہے ، جو لوگ تخلیق کی حقیقت کو نہیں سمجھتے جو لوگ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس فطرت کو نہیں سمجھتے ، وہ آخرت کو بھی نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ آخرت کو اہمیت نہیں دیتے ، اس کے لیے تیاری نہیں کرتے ، اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ حرکت کائنات کی لائن پر آخرت بھی ایک نکتہ ہے۔ دنیا اور اس کائنات نے اس نکتے پر پہنچنا ہے اور اس کے بعد پھر نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
لیکن آخرت سے غفلت کے نتیجے میں ایسے غافل لوگوں کی اقدار مضطرب ہوتی ہیں ، ان کی اقدار حیات میں کوئی ثبات اور پختگی نہیں ہوتی۔ ان کا تصور حیات ، تعبیر واقعات اور ان کی قدروقیمت کے پیمانے ناپختہ ہوتے ہیں۔ ان کا علم سطحی ، ناقص اور ظاہری ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک انسان اس پوری زندگی کے اختتام پر آخرت کے قیام کو تسلیم کرتا ہے تو اس جہان کے تمام واقعات کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس جہان میں اس کی زندگی ایک مختصر سا مرحلہ ہے اور اس جہاں میں اس کا جو حصہ ہے اور ہونا چاہئے وہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی اور حقیر ہے اور اس جہاں کی پوری زندگی دراصل طویل ترین ڈرامے کا ایک نہایت ہی مختصر شو یا جھلکی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس طویل ترین ڈرامے کی صرف مختصر ترین جھلکی کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کر دے۔ اگر کوئی نہایت ہی حقیر جھلکی کو دیکھ کر پوری زندگی ، پوری کائنات اور آخرت اور اس کی طویل زندگی کے بارے میں فیصلہ کرے گا تو یہ سطحی فیصلہ ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا انسان جو قیامت کا قائل ہے ، اور جو قیامت کے لیے تیاری کر رہا ہے ، اس انسان کے ساتھ اکٹھا ہوکر نہیں رہ سکتا جس کا سطح نظر صرف یہ دنیا ہے اور اس دنیا سے آگے اسکا کوئی ہدف نہیں ہے۔ اس قسم کے دو انسان نہ اس دنیا کے کسی پروگرام پر متفق ہوسکتے ہیں اور نہ ان کا یہاں کسی قدر پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ دونوں کے پیمانے بالکل جدا ہوں گے۔ غرض ہر واقعہ ، ہر حالت ، اور زندگی کے حالات میں سے ہر حالت کے بارے میں دونوں کا فیصلہ جدا ہوگا کیونکہ دونوں کے میزان الگ ہوں گے۔ ہر ایک کا زاویہ نظر مختلف ہوگا۔ ہر ایک کی روشنی بھی مختلف ہوگی۔ لہٰذا ہر ایک کو ایک ہی چیز مختلف نظر آئے گی۔ واقعات ، اقدار اور حالات کے بارے میں دونوں کا تصور جدا ہوگا۔ ایک دنیا کی ظاہری نظر سے دیکھنے والا ہے اور دوسرا گہری نظر سے واقعات کے پس منظر کو بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ ظاہری اسباب اور واقعات کو بھی دیکھتا ہے اور باطن پر بھی اس کی نظر ہے۔ وہ ظاہر اور غائب دونوں کا علم رکھتا ہے۔ دنیا و آخرت دونوں کو جانتا ہے ، حیات اور موت دونوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل سب کا تصور رکھتا ہے۔ وہ انسانوں کے جہان سے بھی باخبر ہے اور اس کائنات کے دوسرے جہانوں اور زندوں اور مردوں سب سے واقف ہے۔ یہ ہے وہ وسیع افق جس پر اسلام انسان کی نظریں فوکس کر اتا ہے اور انسان کو ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے جو انسان کے لائق ہے جو انسان کے لیے بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض ضروری ہے اور انسان کی شخصیت میں اللہ نے جو روحانیت ودیعت کی ہے ، اس کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس غرض کے لیے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ اسی طرح یہ حق ہے جس طرح یہ منظم کائنات ایک عظیم حق پر قائم ہے ، اور یہ کہ آخرت کا قیام اس عظیم سچائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اب سیاق کلام ہمیں دوبارہ اس کائنات کے ضمیر کی سیر کراتا ہے۔ آسمانوں میں ، زمین میں اور ان کے درمیان جو جہان موجود ہیں ان میں۔ اس کے بعد پھر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی سیر کرائی جاتی ہے تاکہ وہ تدبر کریں ، شاید کہ وہ اس حقیقت کبریٰ تک پہنچ جائیں جس سے وہ اس وقت غافل ہوجاتے ہیں وہ آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ کسی سطحی نقطہ نظر کی وجہ سے وہ دعوت اسلامی کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ دعوت اس عظیم سچائی اور اس کے گہرے تدبر پر مبنی ہے۔
الروم 30:8
اولم یتفکروا ۔۔۔۔۔ ربھم لکفرون (8) ” “۔ کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ خود ان کی ساخت اور ان کی تخلیق اور ان کے اردگرد موجود یہ وسیع کائنات اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ وجود ایک سچائی پر قائم ہے۔ ایک ایسے اٹل ناموس فطرت کے مطابق رواں دواں ہے جس کے اندر کوئی اضطراب نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ کائنات کبھی ادھر ڈھلک گئی اور کبھی ادھر۔ نہ اس کی گردش میں فرق آتا ہے ، نہ اجرام فلکی میں تصادم ہوتا ہے اور نہ اس کی حرکت کوئی غیر مرتب اندھی حرکت ہے۔ نہ یہ حرکت بدلتی ہوئی خواہشات کے مطابق بدلتی ہے۔ بلکہ یہ حرکت نہایت ہی گہری ، دقیق اور حکیمانہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔ یہ سچائی جس کے مطابق انسانی زندگی اور یہ وسیع کائنات چل رہی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس جہان کا کوئی انجام ہو ، جہاں جزاء و سزا پوری ہو سکے۔ جہاں خیر اور شر دونوں کو ان کا بدلہ مل سکے۔ یہ سچائی نظر آتی ہے کہ یہاں ہر چیز ایک مقررہ انجام تک پہنچتی ہے یہ حکمت مدبرہ کے مطابق ہے اور اس کائنات کا ہر واقعہ اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس میں کوئی تقدیم پایا خیر نہیں ہوتی۔ اگر انسان یہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ آخرت کب وقوع پذیر ہوگی تو اس کے معنی یہ نہیں کہ آخرت نہیں آئے گی۔ آخرت کا عدم علم یا اس کی تاخیر سے صرف وہ لوگ غلط نتائج اخذ کرتے ہیں جو معاملات کا صرف ظاہری پہلو دیکھ سکتے ہیں اس طرح ان کو دھوکہ لگ جاتا ہے اس وجہ سے
ان کثیر من الناس ۔۔۔۔ لکفرون (30: 8) ” بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں “۔
ضمیر کائنات اور زمین و آسمان کے درمیان پائے جانے والی مخلوقات کی سیر جو نہایت ہی وسیع سیر ہے جس کے آفاق بہت ہی طویل و عریض ہیں اور ناقابل تصور وسعتیں رکھتے ہیں اور ان آفاق کے اندر متنوع مخلوق ہے۔ جو زندہ اور غیر زندہ ، قسم قسم کی اشیاء پر مشتمل ہے جس میں اجرام سماوی ، افلاک ، نجوم و کواکب ، بڑے اور چھوٹے تارے اور سیارے ، ظاہر اور چھپے ہوئے ، قریب و بعید اور معلوم و نامعلوم ہیں۔ اس وسیع سیر کے بعد اب قرآن کریم ہمیں خود اپنی تاریخ کی سیر کی دعوت دیتا ہے کہ آغاز انسانیت کے بعد ذرا خود انسانی تاریخ کا بھی مطالعہ کرو ، خود اس تاریخ میں بھی یہ عظیم سچائی سنت جاریہ کی صورت میں اپنا کام کرتی ہے اور انسانی تاریخ کے واقعات بھی ایسے ہی اٹل اسباب کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں جس طرح اس کائنات کے حوادث۔
الروم 30:9
اولم یسیروا ۔۔۔۔۔ وکانوا بھا یستھزءون (9- 10)
ان آیات میں ہمیں دعوت دی جاتی ہے کہ گزرنے والوں کا جو انجام ہوا ، ذرا اس پر بھی غور کرو ، یہ بھی تو تمہاری ہی کی طرح کے انسان تھے۔ اسی طرح اللہ کی مخلوق تھے جس طرح تم ہو۔ ان کا انجام تمہارے لیے ایک نمونہ ہے۔ کیونکہ اللہ کی سنت تمام انسانوں کیلئے یکساں ہے۔ اللہ کی سنت انسانی تاریخ کے بارے میں بھی اسی طرح اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے بارے میں اٹل ہے۔ اللہ کا انسانوں کی کسی نسل کے ساتھ کوئی مخصوص تعلق نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ممتاز سلوک کرے۔ نہ اللہ کی کچھ خواہشات ہیں جو زمان و مکان کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ معاذ اللہ رب العالمین
یہ اس بات کی دعوت ہے کہ اس زندگی کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھا جائے اور اس پر غور کیا جائے کہ انسانی زندگی کے اس جہاں میں جو روابط تعلقات ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اور گذشتہ تاریخ میں اس انسانیت کی تخلیق اور اس کا انجام کیا رہا ہے تاکہ انسانوں کا کوئی گروہ اور نسل صرف اپنی زندگی ، اپنے تصورات اور اپنی اقدار تک محدود نہ ہوجائے۔ تمام نسلوں کے درمیان جو مضبوط رشتہ ہے اس سے غافل نہ ہوجائے اور اس سنت کو بھی نہ بھول جائے جو تمام نسلوں پر حکمران ہے۔ اور ان قدروں کو بھی نہ بھول جائے جو ہر زمان و مکان میں ایک ہوتی ہیں۔
تاریخ ماضی میں جو اقوام ہو گزری ہیں اور جو اہل مکہ سے پہلے ہوگزری ہیں۔ وہ اہل مکہ سے۔
کانوا اشد منھم قوۃ (30: 9) ” وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے “۔
واثاروا الارض (30: 9) ” انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا “۔ انہوں نے اس میں کھیتی باڑی کا کام بھی کیا اور اس کے باطن کو پھاڑا اور اس کے ذخائر کو نکالا۔
وعمرواھا اکثر مما عمروھا (30: 9) ” اور انہوں نے اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا “۔ وہ لوگ عربوں سے زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ تھے اور عربوں سے زیادہ زمین کے اندر تعمیرات کرنے والے تھے۔ یہ لوگ اس دنیا کی ظاہری ترقی اور خوبصورتی پر ہی اکتفاء کر گئے اور آخرت کی طرف نگاہ نہ ڈالی۔
وجاءتھم رسلھم بالبینت (30: 9) ” ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن ان روشن
نشانیوں کو دیکھ کر بھی ان کی آنکھیں نہ کھلیں اور یہ لوگ اس نور پر ایمان نہ لائے جو ان کو صحیح راستہ دکھا رہا تھا۔ چناچہ ان پر اللہ کی اس سنت کا اطلاق ہوگیا جو ہمیشہ مکذبین پر نافذ ہوتی ہے ۔ عذاب الٰہی کے مقابلے میں ان کی قوت ان کے کچھ کام نہ آئی۔ ان کا علم اور ان کی ترقی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ اور ان کو ان کی وہ سزا و جزاء ملی جس کے وہ مستحق تھے۔
فما کا اللہ ۔۔۔۔ یظلمون (30: 9) ” پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا مگر وہ خود ہی اپنے اپور ظلم کر رہے تھے “۔
ثم کان ۔۔۔۔ السواء (30: 10) ” آخر کار جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت ہی برا ہوا “۔ یعنی وہ لوگ جو برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے ، ان برائیوں کے مطابق پوری پوری سزا اور جزاء ان کو دے دی گئی اور ان کی برائی کیا تھی ؟ یہ کہ ، ان کذبوا بایت اللہ وکانوا بھا یستھزءون (30: 10) ” اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے تھے “۔
قرآن کریم تکذیب کرنے والوں اور مزاح اڑانے والوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ذرا خدا کی اسی زمین پر چلیں پھریں اور گھونگھے کی طرح اپنے خول ہی میں بند نہ رہیں۔ انسانی تاریخ کو بھی ذرا پڑھیں کہ آپ جیسے مکذبین اور مزاح کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا رہا ہے۔ کہیں ایس انہ ہو کہ تمہارا انجام بھی ان جیسا ہو۔ اللہ کی سنت اٹل ہے اور وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتی۔ وہ ذرا اپنی سوچ اور فکر کو وسعت دیں۔ پوری انسانیت کو ایک وحدت سمجھیں انبیاء کی دعوت کو ایک سمجھیں۔ اور یہ یقین کرلیں کہ اللہ کے قوانین قدرت کے مطابق تمام لوگوں کا انجام ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ تصور جس میں اسلام تمام مومنین کے فکر و نظر کو رنگنا چاہتا ہے اور اس پر بار بار زور دیتا ہے۔
اس پوری کائنات کی گہرائیوں کے مطابق اور انسانی تاریخ کے گہرے مطالعے کے بعد اب قرآن کریم انسان کو اس میدان میں لے جاتا ہے جس سے انسان ہمیشہ غافل رہتا ہے۔ یعنی بعث بعد الموت کے میدان میں۔ یہ اس عظیم سچائی کا ایک اہم عنصر ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔
الروم 30:10
اولم یسیروا ۔۔۔۔۔ وکانوا بھا یستھزءون (9- 10)
ان آیات میں ہمیں دعوت دی جاتی ہے کہ گزرنے والوں کا جو انجام ہوا ، ذرا اس پر بھی غور کرو ، یہ بھی تو تمہاری ہی کی طرح کے انسان تھے۔ اسی طرح اللہ کی مخلوق تھے جس طرح تم ہو۔ ان کا انجام تمہارے لیے ایک نمونہ ہے۔ کیونکہ اللہ کی سنت تمام انسانوں کیلئے یکساں ہے۔ اللہ کی سنت انسانی تاریخ کے بارے میں بھی اسی طرح اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے بارے میں اٹل ہے۔ اللہ کا انسانوں کی کسی نسل کے ساتھ کوئی مخصوص تعلق نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ممتاز سلوک کرے۔ نہ اللہ کی کچھ خواہشات ہیں جو زمان و مکان کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ معاذ اللہ رب العالمین
یہ اس بات کی دعوت ہے کہ اس زندگی کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھا جائے اور اس پر غور کیا جائے کہ انسانی زندگی کے اس جہاں میں جو روابط تعلقات ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اور گذشتہ تاریخ میں اس انسانیت کی تخلیق اور اس کا انجام کیا رہا ہے تاکہ انسانوں کا کوئی گروہ اور نسل صرف اپنی زندگی ، اپنے تصورات اور اپنی اقدار تک محدود نہ ہوجائے۔ تمام نسلوں کے درمیان جو مضبوط رشتہ ہے اس سے غافل نہ ہوجائے اور اس سنت کو بھی نہ بھول جائے جو تمام نسلوں پر حکمران ہے۔ اور ان قدروں کو بھی نہ بھول جائے جو ہر زمان و مکان میں ایک ہوتی ہیں۔
تاریخ ماضی میں جو اقوام ہو گزری ہیں اور جو اہل مکہ سے پہلے ہوگزری ہیں۔ وہ اہل مکہ سے۔
کانوا اشد منھم قوۃ (30: 9) ” وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے “۔
واثاروا الارض (30: 9) ” انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا “۔ انہوں نے اس میں کھیتی باڑی کا کام بھی کیا اور اس کے باطن کو پھاڑا اور اس کے ذخائر کو نکالا۔
وعمرواھا اکثر مما عمروھا (30: 9) ” اور انہوں نے اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا “۔ وہ لوگ عربوں سے زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ تھے اور عربوں سے زیادہ زمین کے اندر تعمیرات کرنے والے تھے۔ یہ لوگ اس دنیا کی ظاہری ترقی اور خوبصورتی پر ہی اکتفاء کر گئے اور آخرت کی طرف نگاہ نہ ڈالی۔
وجاءتھم رسلھم بالبینت (30: 9) ” ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن ان روشن
نشانیوں کو دیکھ کر بھی ان کی آنکھیں نہ کھلیں اور یہ لوگ اس نور پر ایمان نہ لائے جو ان کو صحیح راستہ دکھا رہا تھا۔ چناچہ ان پر اللہ کی اس سنت کا اطلاق ہوگیا جو ہمیشہ مکذبین پر نافذ ہوتی ہے ۔ عذاب الٰہی کے مقابلے میں ان کی قوت ان کے کچھ کام نہ آئی۔ ان کا علم اور ان کی ترقی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ اور ان کو ان کی وہ سزا و جزاء ملی جس کے وہ مستحق تھے۔
فما کا اللہ ۔۔۔۔ یظلمون (30: 9) ” پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا مگر وہ خود ہی اپنے اپور ظلم کر رہے تھے “۔
ثم کان ۔۔۔۔ السواء (30: 10) ” آخر کار جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت ہی برا ہوا “۔ یعنی وہ لوگ جو برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے ، ان برائیوں کے مطابق پوری پوری سزا اور جزاء ان کو دے دی گئی اور ان کی برائی کیا تھی ؟ یہ کہ ، ان کذبوا بایت اللہ وکانوا بھا یستھزءون (30: 10) ” اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے تھے “۔
قرآن کریم تکذیب کرنے والوں اور مزاح اڑانے والوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ذرا خدا کی اسی زمین پر چلیں پھریں اور گھونگھے کی طرح اپنے خول ہی میں بند نہ رہیں۔ انسانی تاریخ کو بھی ذرا پڑھیں کہ آپ جیسے مکذبین اور مزاح کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا رہا ہے۔ کہیں ایس انہ ہو کہ تمہارا انجام بھی ان جیسا ہو۔ اللہ کی سنت اٹل ہے اور وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتی۔ وہ ذرا اپنی سوچ اور فکر کو وسعت دیں۔ پوری انسانیت کو ایک وحدت سمجھیں انبیاء کی دعوت کو ایک سمجھیں۔ اور یہ یقین کرلیں کہ اللہ کے قوانین قدرت کے مطابق تمام لوگوں کا انجام ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ تصور جس میں اسلام تمام مومنین کے فکر و نظر کو رنگنا چاہتا ہے اور اس پر بار بار زور دیتا ہے۔
اس پوری کائنات کی گہرائیوں کے مطابق اور انسانی تاریخ کے گہرے مطالعے کے بعد اب قرآن کریم انسان کو اس میدان میں لے جاتا ہے جس سے انسان ہمیشہ غافل رہتا ہے۔ یعنی بعث بعد الموت کے میدان میں۔ یہ اس عظیم سچائی کا ایک اہم عنصر ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔
الروم 30:11
اللہ یبدوا الخلق ۔۔۔۔ ترجعون (11)
یہ بہت ہی واضح اور سادہ حقیقت ہے اور اس کے دونوں اجزاء اور دونوں کڑیوں کے درمیان ربط مکمل واضح ہے کیونکہ کسی چیز کا پہلی بار بنانا اور اس کا دوبارہ بناناقابل فہم بات ہے ۔ اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تخلیق میں یہی دو حلقے ہوتے ہیں ، ان کے درمیان یہی تعلق ہوتا ہے اور انسان کی تخلیق کے بعد اس کے خالق کے سامنے دوبارہ پیش ہونا ایک لازمی اور معقول امر ہے۔ وہی پہلی بار تخلیق کرنے والا ہے اور وہی دوسری بار تخلیق کرنے والا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ اچھا اور برا کام کرنے والوں کو وہ پوری پوری جزاء اور سزا دے۔
بعث بعد الموت پر یہ دلیل دینے کے بعد اب یہاں بعث بعد الموت کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں اہل ایمان اور
اہل کفر کے انجام کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ، جسکے اندر شریکوں اور عقیدہ شرک کے بودے پن کو اچھی طرح ظاہر کیا گیا ہے۔
الروم 30:12
ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16)
یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان احمقوں نے ہمیں اللہ رب العالمین کے ساتھ شریک کیا ہے۔ چناچہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان یوں تفریق کردی جاتی ہے اور دونوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں۔
فاما الذین ۔۔۔۔۔ روضۃ یحبرون (30: 15) ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ایک باغ میں شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے “۔ وہاں ان کو وہی صورت حال درپیش ہوگی جس سے وہ خوش ہوں گے۔ ان کے ضمیر میں فرحت پیدا ہوگی اور ان کے دل کو مسرت حاصل ہوگی۔
واما الذین کفروا ۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (30: 16) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں حاضر رہیں گے “۔ یہ ہے آخری انجام نیکوکاروں اور بدکاروں کا۔
اب عالم آخرت کی سیر اور منظر سے ہم پھر واپس اس دنیا میں آجاتے ہیں۔ اس کائنات اور اس کے اندر زندگی اور اس کے اسرار و رموز اور عجائبات و کرامات کی سیر شروع ہوتی ہے۔ فی الواقعہ یہ کائنات ایک دلچسپ تفریح گاہ ہے۔ آغاز سفر صبح و شام اللہ کی حمد سے ہوتا ہے کہ صبح و شام کے مناظر کو ذرا دیکھو کس قدر دلفریب مناظر ہوتے ہیں۔
فسبحن اللہ حین ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (17 – 27)
” پس تسبیح کرو اللہ کی جب کہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے سپہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔ وہ زندہ کو مردے میں سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ میں سے نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے۔
اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان حجت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائش ، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کیلئے۔ اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جوں ہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ وہی اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے۔ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔
یہ اس کائنات کا نہایت ہی گہرا اور عظیم مطالعاتی سفر ہے۔ اس کائنات کی دوریوں اور گہرائیوں تک۔ انسانی توائے مشاہدہ کو صبح و شام کے مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ زمین کے مناظر اور آسمانوں کے مناظر ، صبح و شام کے علاوہ پھر دوپہر کی دنیا۔ ان آفاق و مناظر میں حیات و ممات اور بہاروخزاں کی کا رستانیاں دکھائی جاتی ہیں ، ان خوشگوار فضاؤں میں انسان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ذرا اپنی تخلیق پر غور کرے ، اپنی فطرت کے رجحانات اور میلانات کا مشاہدہ کرے۔ اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں اور ان کی کشاکش کو ذرا دیکھے۔ اس دنیا میں ہر چیز جوڑے جوڑے ہیں۔ ان جوڑوں کی باہمی محبت کو دیکھے ، اور زوجین کے رجحانات و میلانات اور ان کے قوائے فطرت کو ڈرا دیکھے اور اس کائنات کے زمین و آسمان ، باغ و راغ اور رنگ ڈھنگ اور پھر انسانوں کی شکلیں ، ان کے رنگ اور ان کی ہزار ہا زبانیں اور پھر انسان کی بیداری ، اس کی ہشیاری اور اس کی نیند اور اس کی جدوجہد اور اس کا آرام ، پھر اس طبیقی کائنات میں طوفان باد باران اور برق و بادل اور پھر لوگوں کا ان کو چاہنا اور ان سے ڈرنا ، اور پھر زمین کی مردنی اور روئیدگی اور پھر زندگی اور بہار اور پھر بحیثیت مجموعی اس کائنات کا قیام اور گردش اور نظام و انتظام ، یہ سب کام اللہ کے سوا اور کون کرسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی تو ہے جس کی یہ تجلیات ہیں۔ اس کے لئے یہ سب کام بہت ہی آسان ہیں۔ وہی ہے جس نے ان اشیاء کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو ان کو دوبارہ پیدا کرے گا اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں ذات باری کے اعلیٰ مشاہد موجود ہیں جو بےمثال ہیں۔
الروم 30:13
ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16)
یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان احمقوں نے ہمیں اللہ رب العالمین کے ساتھ شریک کیا ہے۔ چناچہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان یوں تفریق کردی جاتی ہے اور دونوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں۔
فاما الذین ۔۔۔۔۔ روضۃ یحبرون (30: 15) ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ایک باغ میں شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے “۔ وہاں ان کو وہی صورت حال درپیش ہوگی جس سے وہ خوش ہوں گے۔ ان کے ضمیر میں فرحت پیدا ہوگی اور ان کے دل کو مسرت حاصل ہوگی۔
واما الذین کفروا ۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (30: 16) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں حاضر رہیں گے “۔ یہ ہے آخری انجام نیکوکاروں اور بدکاروں کا۔
اب عالم آخرت کی سیر اور منظر سے ہم پھر واپس اس دنیا میں آجاتے ہیں۔ اس کائنات اور اس کے اندر زندگی اور اس کے اسرار و رموز اور عجائبات و کرامات کی سیر شروع ہوتی ہے۔ فی الواقعہ یہ کائنات ایک دلچسپ تفریح گاہ ہے۔ آغاز سفر صبح و شام اللہ کی حمد سے ہوتا ہے کہ صبح و شام کے مناظر کو ذرا دیکھو کس قدر دلفریب مناظر ہوتے ہیں۔
فسبحن اللہ حین ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (17 – 27)
” پس تسبیح کرو اللہ کی جب کہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے سپہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔ وہ زندہ کو مردے میں سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ میں سے نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے۔
اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان حجت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائش ، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کیلئے۔ اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جوں ہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ وہی اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے۔ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔
یہ اس کائنات کا نہایت ہی گہرا اور عظیم مطالعاتی سفر ہے۔ اس کائنات کی دوریوں اور گہرائیوں تک۔ انسانی توائے مشاہدہ کو صبح و شام کے مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ زمین کے مناظر اور آسمانوں کے مناظر ، صبح و شام کے علاوہ پھر دوپہر کی دنیا۔ ان آفاق و مناظر میں حیات و ممات اور بہاروخزاں کی کا رستانیاں دکھائی جاتی ہیں ، ان خوشگوار فضاؤں میں انسان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ذرا اپنی تخلیق پر غور کرے ، اپنی فطرت کے رجحانات اور میلانات کا مشاہدہ کرے۔ اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں اور ان کی کشاکش کو ذرا دیکھے۔ اس دنیا میں ہر چیز جوڑے جوڑے ہیں۔ ان جوڑوں کی باہمی محبت کو دیکھے ، اور زوجین کے رجحانات و میلانات اور ان کے قوائے فطرت کو ڈرا دیکھے اور اس کائنات کے زمین و آسمان ، باغ و راغ اور رنگ ڈھنگ اور پھر انسانوں کی شکلیں ، ان کے رنگ اور ان کی ہزار ہا زبانیں اور پھر انسان کی بیداری ، اس کی ہشیاری اور اس کی نیند اور اس کی جدوجہد اور اس کا آرام ، پھر اس طبیقی کائنات میں طوفان باد باران اور برق و بادل اور پھر لوگوں کا ان کو چاہنا اور ان سے ڈرنا ، اور پھر زمین کی مردنی اور روئیدگی اور پھر زندگی اور بہار اور پھر بحیثیت مجموعی اس کائنات کا قیام اور گردش اور نظام و انتظام ، یہ سب کام اللہ کے سوا اور کون کرسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی تو ہے جس کی یہ تجلیات ہیں۔ اس کے لئے یہ سب کام بہت ہی آسان ہیں۔ وہی ہے جس نے ان اشیاء کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو ان کو دوبارہ پیدا کرے گا اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں ذات باری کے اعلیٰ مشاہد موجود ہیں جو بےمثال ہیں۔
الروم 30:14
ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16)
یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان احمقوں نے ہمیں اللہ رب العالمین کے ساتھ شریک کیا ہے۔ چناچہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان یوں تفریق کردی جاتی ہے اور دونوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں۔
فاما الذین ۔۔۔۔۔ روضۃ یحبرون (30: 15) ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ایک باغ میں شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے “۔ وہاں ان کو وہی صورت حال درپیش ہوگی جس سے وہ خوش ہوں گے۔ ان کے ضمیر میں فرحت پیدا ہوگی اور ان کے دل کو مسرت حاصل ہوگی۔
واما الذین کفروا ۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (30: 16) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں حاضر رہیں گے “۔ یہ ہے آخری انجام نیکوکاروں اور بدکاروں کا۔
اب عالم آخرت کی سیر اور منظر سے ہم پھر واپس اس دنیا میں آجاتے ہیں۔ اس کائنات اور اس کے اندر زندگی اور اس کے اسرار و رموز اور عجائبات و کرامات کی سیر شروع ہوتی ہے۔ فی الواقعہ یہ کائنات ایک دلچسپ تفریح گاہ ہے۔ آغاز سفر صبح و شام اللہ کی حمد سے ہوتا ہے کہ صبح و شام کے مناظر کو ذرا دیکھو کس قدر دلفریب مناظر ہوتے ہیں۔
فسبحن اللہ حین ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (17 – 27)
” پس تسبیح کرو اللہ کی جب کہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے سپہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔ وہ زندہ کو مردے میں سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ میں سے نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے۔
اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان حجت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائش ، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کیلئے۔ اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جوں ہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ وہی اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے۔ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔
یہ اس کائنات کا نہایت ہی گہرا اور عظیم مطالعاتی سفر ہے۔ اس کائنات کی دوریوں اور گہرائیوں تک۔ انسانی توائے مشاہدہ کو صبح و شام کے مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ زمین کے مناظر اور آسمانوں کے مناظر ، صبح و شام کے علاوہ پھر دوپہر کی دنیا۔ ان آفاق و مناظر میں حیات و ممات اور بہاروخزاں کی کا رستانیاں دکھائی جاتی ہیں ، ان خوشگوار فضاؤں میں انسان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ذرا اپنی تخلیق پر غور کرے ، اپنی فطرت کے رجحانات اور میلانات کا مشاہدہ کرے۔ اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں اور ان کی کشاکش کو ذرا دیکھے۔ اس دنیا میں ہر چیز جوڑے جوڑے ہیں۔ ان جوڑوں کی باہمی محبت کو دیکھے ، اور زوجین کے رجحانات و میلانات اور ان کے قوائے فطرت کو ڈرا دیکھے اور اس کائنات کے زمین و آسمان ، باغ و راغ اور رنگ ڈھنگ اور پھر انسانوں کی شکلیں ، ان کے رنگ اور ان کی ہزار ہا زبانیں اور پھر انسان کی بیداری ، اس کی ہشیاری اور اس کی نیند اور اس کی جدوجہد اور اس کا آرام ، پھر اس طبیقی کائنات میں طوفان باد باران اور برق و بادل اور پھر لوگوں کا ان کو چاہنا اور ان سے ڈرنا ، اور پھر زمین کی مردنی اور روئیدگی اور پھر زندگی اور بہار اور پھر بحیثیت مجموعی اس کائنات کا قیام اور گردش اور نظام و انتظام ، یہ سب کام اللہ کے سوا اور کون کرسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی تو ہے جس کی یہ تجلیات ہیں۔ اس کے لئے یہ سب کام بہت ہی آسان ہیں۔ وہی ہے جس نے ان اشیاء کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو ان کو دوبارہ پیدا کرے گا اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں ذات باری کے اعلیٰ مشاہد موجود ہیں جو بےمثال ہیں۔
الروم 30:15
ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16)
یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان احمقوں نے ہمیں اللہ رب العالمین کے ساتھ شریک کیا ہے۔ چناچہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان یوں تفریق کردی جاتی ہے اور دونوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں۔
فاما الذین ۔۔۔۔۔ روضۃ یحبرون (30: 15) ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ایک باغ میں شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے “۔ وہاں ان کو وہی صورت حال درپیش ہوگی جس سے وہ خوش ہوں گے۔ ان کے ضمیر میں فرحت پیدا ہوگی اور ان کے دل کو مسرت حاصل ہوگی۔
واما الذین کفروا ۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (30: 16) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں حاضر رہیں گے “۔ یہ ہے آخری انجام نیکوکاروں اور بدکاروں کا۔
اب عالم آخرت کی سیر اور منظر سے ہم پھر واپس اس دنیا میں آجاتے ہیں۔ اس کائنات اور اس کے اندر زندگی اور اس کے اسرار و رموز اور عجائبات و کرامات کی سیر شروع ہوتی ہے۔ فی الواقعہ یہ کائنات ایک دلچسپ تفریح گاہ ہے۔ آغاز سفر صبح و شام اللہ کی حمد سے ہوتا ہے کہ صبح و شام کے مناظر کو ذرا دیکھو کس قدر دلفریب مناظر ہوتے ہیں۔
فسبحن اللہ حین ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (17 – 27)
” پس تسبیح کرو اللہ کی جب کہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے سپہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔ وہ زندہ کو مردے میں سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ میں سے نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے۔
اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان حجت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائش ، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کیلئے۔ اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جوں ہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ وہی اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے۔ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔
یہ اس کائنات کا نہایت ہی گہرا اور عظیم مطالعاتی سفر ہے۔ اس کائنات کی دوریوں اور گہرائیوں تک۔ انسانی توائے مشاہدہ کو صبح و شام کے مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ زمین کے مناظر اور آسمانوں کے مناظر ، صبح و شام کے علاوہ پھر دوپہر کی دنیا۔ ان آفاق و مناظر میں حیات و ممات اور بہاروخزاں کی کا رستانیاں دکھائی جاتی ہیں ، ان خوشگوار فضاؤں میں انسان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ذرا اپنی تخلیق پر غور کرے ، اپنی فطرت کے رجحانات اور میلانات کا مشاہدہ کرے۔ اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں اور ان کی کشاکش کو ذرا دیکھے۔ اس دنیا میں ہر چیز جوڑے جوڑے ہیں۔ ان جوڑوں کی باہمی محبت کو دیکھے ، اور زوجین کے رجحانات و میلانات اور ان کے قوائے فطرت کو ڈرا دیکھے اور اس کائنات کے زمین و آسمان ، باغ و راغ اور رنگ ڈھنگ اور پھر انسانوں کی شکلیں ، ان کے رنگ اور ان کی ہزار ہا زبانیں اور پھر انسان کی بیداری ، اس کی ہشیاری اور اس کی نیند اور اس کی جدوجہد اور اس کا آرام ، پھر اس طبیقی کائنات میں طوفان باد باران اور برق و بادل اور پھر لوگوں کا ان کو چاہنا اور ان سے ڈرنا ، اور پھر زمین کی مردنی اور روئیدگی اور پھر زندگی اور بہار اور پھر بحیثیت مجموعی اس کائنات کا قیام اور گردش اور نظام و انتظام ، یہ سب کام اللہ کے سوا اور کون کرسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی تو ہے جس کی یہ تجلیات ہیں۔ اس کے لئے یہ سب کام بہت ہی آسان ہیں۔ وہی ہے جس نے ان اشیاء کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو ان کو دوبارہ پیدا کرے گا اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں ذات باری کے اعلیٰ مشاہد موجود ہیں جو بےمثال ہیں۔
الروم 30:16
ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16)
یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان احمقوں نے ہمیں اللہ رب العالمین کے ساتھ شریک کیا ہے۔ چناچہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان یوں تفریق کردی جاتی ہے اور دونوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں۔
فاما الذین ۔۔۔۔۔ روضۃ یحبرون (30: 15) ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ایک باغ میں شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے “۔ وہاں ان کو وہی صورت حال درپیش ہوگی جس سے وہ خوش ہوں گے۔ ان کے ضمیر میں فرحت پیدا ہوگی اور ان کے دل کو مسرت حاصل ہوگی۔
واما الذین کفروا ۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (30: 16) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں حاضر رہیں گے “۔ یہ ہے آخری انجام نیکوکاروں اور بدکاروں کا۔
اب عالم آخرت کی سیر اور منظر سے ہم پھر واپس اس دنیا میں آجاتے ہیں۔ اس کائنات اور اس کے اندر زندگی اور اس کے اسرار و رموز اور عجائبات و کرامات کی سیر شروع ہوتی ہے۔ فی الواقعہ یہ کائنات ایک دلچسپ تفریح گاہ ہے۔ آغاز سفر صبح و شام اللہ کی حمد سے ہوتا ہے کہ صبح و شام کے مناظر کو ذرا دیکھو کس قدر دلفریب مناظر ہوتے ہیں۔
فسبحن اللہ حین ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (17 – 27)
” پس تسبیح کرو اللہ کی جب کہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے سپہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔ وہ زندہ کو مردے میں سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ میں سے نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے۔
اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان حجت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائش ، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کیلئے۔ اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جوں ہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ وہی اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے۔ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔
یہ اس کائنات کا نہایت ہی گہرا اور عظیم مطالعاتی سفر ہے۔ اس کائنات کی دوریوں اور گہرائیوں تک۔ انسانی توائے مشاہدہ کو صبح و شام کے مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ زمین کے مناظر اور آسمانوں کے مناظر ، صبح و شام کے علاوہ پھر دوپہر کی دنیا۔ ان آفاق و مناظر میں حیات و ممات اور بہاروخزاں کی کا رستانیاں دکھائی جاتی ہیں ، ان خوشگوار فضاؤں میں انسان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ذرا اپنی تخلیق پر غور کرے ، اپنی فطرت کے رجحانات اور میلانات کا مشاہدہ کرے۔ اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں اور ان کی کشاکش کو ذرا دیکھے۔ اس دنیا میں ہر چیز جوڑے جوڑے ہیں۔ ان جوڑوں کی باہمی محبت کو دیکھے ، اور زوجین کے رجحانات و میلانات اور ان کے قوائے فطرت کو ڈرا دیکھے اور اس کائنات کے زمین و آسمان ، باغ و راغ اور رنگ ڈھنگ اور پھر انسانوں کی شکلیں ، ان کے رنگ اور ان کی ہزار ہا زبانیں اور پھر انسان کی بیداری ، اس کی ہشیاری اور اس کی نیند اور اس کی جدوجہد اور اس کا آرام ، پھر اس طبیقی کائنات میں طوفان باد باران اور برق و بادل اور پھر لوگوں کا ان کو چاہنا اور ان سے ڈرنا ، اور پھر زمین کی مردنی اور روئیدگی اور پھر زندگی اور بہار اور پھر بحیثیت مجموعی اس کائنات کا قیام اور گردش اور نظام و انتظام ، یہ سب کام اللہ کے سوا اور کون کرسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی تو ہے جس کی یہ تجلیات ہیں۔ اس کے لئے یہ سب کام بہت ہی آسان ہیں۔ وہی ہے جس نے ان اشیاء کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو ان کو دوبارہ پیدا کرے گا اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں ذات باری کے اعلیٰ مشاہد موجود ہیں جو بےمثال ہیں۔
الروم 30:17
تسبیح کا یہ حکم اور حمد سابق فقرات و آیات میں بیان کردہ مشاہد قیامت کے بعد آتا ہے جس میں بتایا گیا کہ اہل ایمان جنت کے ایک مخصوص باغ میں خوش و خرم ہوں گے۔ اور کافر اور جھٹلانے والے ، عذاب اور سزا کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ تو یہ تسبیح دراصل بطور نتیجہ یہاں لائی گئی ہے اور سابقہ مناظر قیامت دراصل اس مطالعہ کائنات کے لئے تمہید تھے کہ یہ وسیع کائنات اور اس کے نشیب و فرار ، نفس انسانی اور اس کی نفسیات و عجائبات اور اللہ کی یہ تخلیق اور اس کے اسرار و رموز یہ سب لایعنی نہیں ہیں۔ ان پر قیامت کے نتائج مرتب ہوں گے۔ پس سابقہ مناظر قیامت اور موجودہ مطالعہ کائنات کے اندر مکمل ربط و مناسبت ہے
یہاں تسبیح اور حمد کے لیے کچھ اوقات بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ شام کے اوقات میں اور صبح کے مناظر میں ، پچھلے پہر اور پہلی پہر میں۔ پھر اس حمد و تسبیح کو آفاق سماوات کے ساتھ بھی جوڑا گیا تاکہ زمان و مکان کے فاصلے مٹا کر اس حمد و تسبیح کو ہمہ گیر بنا دیا جائے اور انسان کا دل ہر وقت اور ہر جگہ اللہ کے ساتھ جڑا رہے۔ وہ اس کائنات کے ڈھانچے ، کر ات سماوی کی گردش اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مظاہر صبح و مساء کے مظاہر کو دیکھ کر انسان ہر لمحہ اللہ کو یاد کرے۔ اس کا دل کھلا رہے ، حساس رہے ، اور اپنے ماحول کے حوالے سے بیدار رہے۔ اپنے بدلتے ہوئے حالات میں ماحول کا مشاہدہ کرتا رہے اور اللہ کی حمد و تسبیح کے ساتھ یہ غور و فکر جاری رہے۔ اور ان تمام امور کو اللہ اور خالق کائنات کی آیات و معجزات سمجھے۔ یہ تمام حالات ، تمام مظاہر ، اور تمام اوقات دراصل ایک معجزہ پروردگار ہیں۔
الروم 30:18
تسبیح کا یہ حکم اور حمد سابق فقرات و آیات میں بیان کردہ مشاہد قیامت کے بعد آتا ہے جس میں بتایا گیا کہ اہل ایمان جنت کے ایک مخصوص باغ میں خوش و خرم ہوں گے۔ اور کافر اور جھٹلانے والے ، عذاب اور سزا کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ تو یہ تسبیح دراصل بطور نتیجہ یہاں لائی گئی ہے اور سابقہ مناظر قیامت دراصل اس مطالعہ کائنات کے لئے تمہید تھے کہ یہ وسیع کائنات اور اس کے نشیب و فرار ، نفس انسانی اور اس کی نفسیات و عجائبات اور اللہ کی یہ تخلیق اور اس کے اسرار و رموز یہ سب لایعنی نہیں ہیں۔ ان پر قیامت کے نتائج مرتب ہوں گے۔ پس سابقہ مناظر قیامت اور موجودہ مطالعہ کائنات کے اندر مکمل ربط و مناسبت ہے
یہاں تسبیح اور حمد کے لیے کچھ اوقات بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ شام کے اوقات میں اور صبح کے مناظر میں ، پچھلے پہر اور پہلی پہر میں۔ پھر اس حمد و تسبیح کو آفاق سماوات کے ساتھ بھی جوڑا گیا تاکہ زمان و مکان کے فاصلے مٹا کر اس حمد و تسبیح کو ہمہ گیر بنا دیا جائے اور انسان کا دل ہر وقت اور ہر جگہ اللہ کے ساتھ جڑا رہے۔ وہ اس کائنات کے ڈھانچے ، کر ات سماوی کی گردش اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مظاہر صبح و مساء کے مظاہر کو دیکھ کر انسان ہر لمحہ اللہ کو یاد کرے۔ اس کا دل کھلا رہے ، حساس رہے ، اور اپنے ماحول کے حوالے سے بیدار رہے۔ اپنے بدلتے ہوئے حالات میں ماحول کا مشاہدہ کرتا رہے اور اللہ کی حمد و تسبیح کے ساتھ یہ غور و فکر جاری رہے۔ اور ان تمام امور کو اللہ اور خالق کائنات کی آیات و معجزات سمجھے۔ یہ تمام حالات ، تمام مظاہر ، اور تمام اوقات دراصل ایک معجزہ پروردگار ہیں۔
الروم 30:19
یخرج الحی ۔۔۔۔۔ وکذلک تخرجون (30: 19)
” ہاں وہ زندہ چیزوں سے مردوں کو نکالتا ہے اور مردہ چیزوں سے زندہ کو نکالتا ہے “۔ اور یہ ایک دائمی عمل ہے۔ نہ رکنے والا عمل ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس میں توقف نہیں ہوتا۔ رات اور دن ہر وقت یہ عمل جاری ہے ، ہر زمان و مکان میں جاری ہے۔ زمین کی سطح میں سے چپے چپے پر جاری ہے۔ فضائے کائنات میں جاری ہے ، سمندر کی تہوں میں جاری ہے ، ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ، یہ عمل کوئی غیر معمولی عمل نہیں ہے ، یہ تو ایک معجزہ ہے ، لیکن رات اور دن اسے دیکھتے دیکھتے ہم اس کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ اس کا معجزانہ پہلو نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے حالانکہ ہر لحظہ نئ آن اور شان کے ساتھ مردے سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکل رہا ہے۔ ایک مردہ اور خشک بین زمین میں ڈالا جاتا ہے اور اس سے خوشنما پودے اور پھول پیدا ہوتے ہیں ، فصلیں اگتی ہیں اور جب یہی پھل پھول خوشے اور پودے خشک ہوکر بھوسہ بن جاتے ہیں تو اس خشک بھوسے کے اندر ہزار ہا مردہ بیج تیار ہوچکے ہوتے ہیں جن کے اندر پوری حیات موجود ہوتی ہے۔ یہ مردہ پھر فضائے کائنات سے گری ، گیس ، پانی اور تپش حاصل کرکے پھر زندہ ہوتا رہتا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں کے جنین اور پرندوں کے جنین اور انڈے مختلف اشکال اور مختلف اندازوں سے زندگی کی شکل اختیار کرتے ہیں ، غرض انسان ، حیوانات ، کیڑے اور مکوڑے اور حشرات اور بیج اور انڈے ہر وقت زندگی اختیار کرتے رہتے ہیں اور پھر مردہ بیج پیدا کرتے رہتے ہیں۔
یہ ایک مسلسل سرکل ہے اور زندہ مردہ اور مردہ زندہ ہوتا رہتا ہے۔ کیا کسی زندہ اور جاگنے والے دل کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اللہ دوبارہ تخلیق کرسکتا ہے۔ قرآن کی روشنی میں اس بات کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ قرآن کی روشنی اللہ کے نور سے نکلی ہوئی ہے۔
وکذلک تخرجون (30: 19) ” بعینہ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے “۔ یہ ایک تہمل الفہم مسئلہ ہے۔ ایک عام اور معمولی بات ہے ، یہ تو تمہارا مشاہدہ ہے۔ کائنات میں رات اور دن دیکھا جا رہا ہے۔ رات اور دن اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔
الروم 30:20
ومن ایتہ ان خلقکم ۔۔۔۔۔ تنتشرون (30: 20) ۔ مٹی مردہ اور ساکن ہے۔ اس مٹی ہی سے انسان کو پیدا کیا گیا ۔ قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ آیا ہے :
لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین ” ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا “۔ (المومنون :12) مٹی دراصل انسان کا اصل الاصول ہے لیکن یہاں انسانی شخصیت کے اس اصل مادے کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ انسان مکمل شکل میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ بتلانا یہ مقصود ہے کہ ذرا تخلیق انسان کے اصل مادے کو دیکھو اور پھر تخلیق شدہ مکمل انسان کو دیکھو ، دونوں کے اندر کس قدر فرق ہے۔ خصوصاً یہ اصول بیان کرنے کے بعد کہ
یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی (30: 19) ” وہ زندہ سے مردہ چیزوں کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردے کا نکال لاتا ہے “۔ قرآن کریم کے اندراز کے مطابق یہ معنوی ربط ہے۔
یہ معجزہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی ہے۔ اور اس کی تشریح کرکے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اس زمین پر رہنے والے انسان اور اس زمین کا آپس میں رشتہ کیا ہے اور وہ کیا نکتہ ہے جس میں وہ باہم ملتے ہیں یعنی اپنی اصل تخلیق اور ان قوانین قدرت کے زاویہ سے جو خود انسان پر بھی نافذ ہیں اور اس کائنات پر بھی نافذ ہیں۔
اس مردہ مٹی کے اندر یہ عظیم انقلاب بذات خود ایک معجزہ ہے کہ وہ ایک مردہ اور پیش پا افتادہ شکل سے ایک انسانی ذی اقتدار اور ذی قدر کی شکل میں تبدیلی ہوگئی۔ یہ ایک ایسی تبدیلی اور صنعت کاری ہے جس سے اللہ جل شانہ کی عظیم صنعت کاری کا علم ہوجاتا ہے۔ انسان کا قلب و ضمیر بےساختہ اللہ کی تسبیح و تمجید پر آمادہ ہوجاتا ہے اور انسان اللہ جل شانہ کی اس عظیم صنعت کاری پر رطب اللسان ہوجاتا ہے۔ پھر خود انسان کی زندگی کی تقسیم مرد اور عورت کی شکل میں اور ان اوصاف کا باہم تعلق اور مشترکہ زندگی کا موضوع سامنے آتا ہے۔ کیا یہ کسی خارق العادت معجزے سے کم معجزہ ہے۔
الروم 30:21
ومن ایتہ ان خلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لقوم یتفکرون (30: 21)
لوگوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے جذبات جنس مخالف کے ساتھ کیا ہوتے ہیں۔ دونوں اجناس کے شعور اور اعصاب ایک دوسرے کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور اپنے جذبات اور میلانات کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے لیے بےپناہ کشش رکھتے ہیں۔ یہ جذبات اور میلانات ان کو بیشمار کاموں اور مشقتوں پر آمادہ کرتے ہیں۔ لیکن جس ذات حکیم نے یہ سب کچھ کیا ہے اس کے دست قدرت کی طرف میاں بیوی کے رجحانات جاتے ہی نہیں۔ جس خالق نے ان نفوس کے اندر یہ کشش اور یہ میلان رکھا ہے اسے کوئی یاد بھی نہیں کرتا۔ حالانکہ میاں بیوی کے اس تعلق کی وجہ سے انسان کے جسم ، اس کی روح ، اس کے اعصاب بلکہ اس کی پوری زندگی کے اندر کوئی سکون اور ٹھہراؤ اور سنجیدگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس تعلق سے انسان جسمانی اور روحانی لذت بھی حاصل کرتا ہے اور یہ لذت مرد اور عورت دونوں کے لیے برابر ہوتی ہے۔
یہاں قرآن نے نہایت ہی لطیف اور نازک انداز بیان اختیار کیا ہے اور نہایت ہی اشاراتی پیرایہ میں میاں بیوی کے تعلق کو ظاہر کیا ہے۔ گویا قرآن دل کی گہرائیوں اور احساس و شعور کی تہوں میں تصویر کھینچ رہا ہے۔
لتسکنوا الیھا (30: 21) ” تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو “۔
وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ (30: 21) ” تمہارے درمیان الفت اور باہم نرمی کے جذبات پیدا کر دئیے “۔
ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (30: 21) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں “۔ اور جب وہ فکر کریں گے تو ان کو معلوم ہوگا کہ مرد اور عورت کی اصناف کی تخلیق کے اندر خالق نے کیا کیا حکمتیں رکھی ہوئی ہیں۔ طبیعی لحاظ سے دونوں کو کس طرح ایک دوسرے کے مواق اور تکمیلی بنایا ہے۔ کس طرح دونوں ایک دوسرے کی فطری ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے لیے نفسیاتی ، عقلی اور جسمانی لحاظ سے تکمیل کا درجہ رکھتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے اطمینان ، استقرار اور سکون کی جگہ ہیں۔ دونوں کے اجتماع سے تکمیل ہوجاتی ہے اور ایک خود مختار یونٹ وجود میں آجاتا ہے۔ اس یونٹ کے اندر محبت اور رحمت ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کی جسمانی ، نفسیاتی ، اعصابی اور طبیعی تشکیل ہی ایسی ہے کہ ایک دوسرے کے سوا ادھوری ہے۔ مرد عورت کی خواہشات کی تسکین کا محل ہے اور عورت مرد کی خواہشات کی تسکین کی جگہ ہے۔ اس طرح دونوں کا اتحاد یکجہتی اور ملاپ اس کرہ ارض پر صدور حیات کا ذریعہ ہے۔ اس سے زندگی کی فصل کی تجدید ہوتی رہتی ہے۔
الروم 30:22
ومن ایتہ خلق ۔۔۔۔۔۔ ذلک لایت للعلمین (30: 22) زمین و آسمان کی تخلیق وہ نشانی ہے جس کی جانب قرآن کریم نے بار بار مبذول کرائی ہے لیکن ہم رات اور دن اس زمین کے اوپر رہتے ہیں اور اس آسمان کے نیچے رہتے ہیں لیکن ہم اللہ کی اس تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ حالانکہ زمین و آسمان اس قابل ہیں کہ ان پر طویل عرصہ تک غور کیا جائے اور بار بار غور کیا جائے اور گہرا غور و فکر کیا جائے۔
خلق السموات کا مفہوم کیا ہے کہ اللہ نے یہ عظیم ، پیچیدہ اور نہایت ہی وسیع کائنات تخلیق کی ہے۔ اس عظیم اور وسیع کائنات کے ایک نہایت ہی معمولی حصے کا علم ہم ابھی تک حاصل کرسکے ہیں۔ افلاک اور فلکی کر ات کا یہ عظیم اور لاتعداد اژدھام ، ستارے ، سیارے ، ان کے مدار ، کہکشاں اور پھر بلیک ہول۔ اس پوری کائنات کے اندر ہماری یہ زمین اس طرح ہے جس طرح ایک حقیر ذرہ جو ہماری اس زمین کی فضا میں اڑ رہا ہے جس کا نہ کوئی وزن ہے اور نہ کوئی سایہ ہے۔ اس ہولناک کائنات کی ناقابل تصور وسعت کے ساتھ یہ کائنات نہایت دقیق اور ناقابل تغیر نظم کے ساتھ جاری وساری ہے۔ اس کی حرکات اور اس کے کر ات کے مدارات میں بےانتہا نظم و ضبط ہے حالانکہ ان کے درمیان طویل فاصلے ہیں۔ ان حرکات میں کوئی اضطراب کوئی بےقاعدگی نہیں ہے اور ہر چیز حکم ربی کے مطابق چل رہی ہے۔
یہ مشاہدہ تو عمو۔۔ نجم اور ان کر ات کی حرکت کے نظم کے اعتبار سے ہے۔ رہے اس کائنات کے اسرار تو اس کے اندر پائی جانے والی متنوع مخلوقات ، ان کے مزاج اور وہ حالات جن میں وہ مخلوق رہتی ہے اور وہ حالات جو اس پر طاری ہوتے ہیں تو ان کی انتہا نہیں ہے۔ پھر وہ قوانین جو اس تمام مخلوق کو محفوظ رکھتے ہیں ، اس مخلوق کو چلاتے ہیں ، اور اس کے اندر تصرف کرتے ہیں تو ان کی انتہا تک پہنچنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ان تمام امور اور موضوعات پر انسان کا علم بہت ہی محدود ہے۔ سمندر میں سے قطرے کے برابر بھی نہیں ہے۔
زمین و آسمان کی تخلیق پر یہ ایک سرسری نظر ہے ، بہت ہی اختصار کے ساتھ۔ سائنس دان اور علمائے انسانیات نے اس سلسلے میں جو مختصر سا علم حاصل کرلیا ہے اس پر ہم طول بحث کرسکتے ہیں۔ اب تک جو معلومات فراہم ہوسکی ہیں ان کے مطابق یہ کائنات بہت ہی عظیم ہے اور اس کے مختلف اجزاء باہم مربوط ہیں۔ یہ تمام اجزاء بغیر اس کے کہ باہم متصادم ہوں ، روز تخلیق سے حرکت میں ہیں ، ایک سیکنڈ کے لیے بھی ان میں ٹھہراؤ نہیں ہے لیکن اس عجیب نظام میں جو بہت ہی پیچیدہ ہے ، کبھی بھی یہ اجزاء اور اجرام باہم متصادم نہیں ہوتے۔ اس نظام کے بارے میں موجودہ فراہم شدہ معلومات کے باوجود بعض ہلکے لوگ یہ کہنے کی جرات کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے۔ اور پھر اس کا کوئی مدبر نہیں ہے جو اسے یوں چلا رہا ہے۔ ان نام نہاد سائنس دانوں کی یہ بکواس آج بھی سنی جاتی ہے۔
پھر آسمانوں اور زمین کے ساتھ ساتھ اس میں پائے جانے والوں یعنی مختلف انسانوں کے مختلف رنگ اور مختلف شکلیں اور مختلف زبانیں۔ یہ اختلاف بھی تخلیق سماوات سے مربوط ہے۔ زمین پر مختلف قسم کے رنگوں اور زبانوں کا تعلق بھی تخلیق سماوات سے ہے۔ مختلف علاقوں اور موسموں سے رنگ اور زبانیں بدل جاتی ہیں۔ انسان کے رنگ و زبان اور شکل و صورت کا موسمیات کے ساتھ گہرا ربط ہے۔
ہمارے دور کے علماء اور سائنس دان لوگوں کے رنگ اور زبانوں کے اختلاف کو دیکھتے ہیں اور کبھی انہوں نے اس پر غور نہیں کیا اور نہ وہ اس حقیقت کی طرف جاتے ہیں کہ اللہ کی تخلیقات کے یہ نمونے ہیں اور یہ کہ یہ باتیں بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ زبانوں کے اختلاف پر بہت ہی گہرا مطالعہ کرتے ہیں لیکن وہ اسے اللہ کی نشانی سمجھ کر اللہ تک پہنچنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ باجود اس کے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سائنس دان ہیں مگر دراصل وہ سائنس دان نہیں ہیں
یعلمون۔۔۔ الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” یہ لوگ اس زندگی کے بھی بس ظاہری پہلو کو جانتے ہیں “۔ اور انسان اور علوم انسانی کا یہ پہلو کہ لوگوں کے رنگ مختلف ہیں اور زبانیں مختلف ہیں اسے صرف حقیقی علماء اور مومن سائنس دان ہی دیکھ سکتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت للعلمین (30: 22) ” بیشک اس میں نشانیاں ہیں صرف دانش مندوں کیلئے “۔
الروم 30:23
ومن ایتہ منامکم ۔۔۔۔۔۔ لقوم یسمعون (30: 23) ” “۔ اس آیت میں بھی کائناتی مظاہر اور ان کے ساتھ انسانی احوال میں تبدیلی کی بات کی گئی ہے اور دونوں کے درمیان تعلق دکھایا گیا ہے۔ جس کے ذریعے اس عظیم الجثہ موجودات کے اندر ربط ظاہر ہوتا ہے اور ان کے درمیان ہم آہنگی بتائی جاتی ہے۔ شب و روز کے اختلاف کے ساتھ انسان کا سونا اور جاگنا اور اس دنیا میں رزق حلال کے لئے جدوجہد کرنا مربوط ہے۔ رزق حلال کو یہاں فضل الٰہی سے تعبیر کیا گیا ہے بشرطیکہ وہ آرام کے بعد رزق حلال کے لیے جدوجہد کریں اللہ نے اس کائنات کو یوں بنایا ہے کہ وہ انسان کے لیے اس کی جدوجہد آسان کر دے اور وہ اس کرہ ارض پر خوشگواری سے رہ سکے۔ اس جدوجہد کے لیے دن کی روشنی کو موزوں بنایا ہے۔ آرام اور راحت کے لیے رات کی تاریکی کو آسان بنایا ہے۔ یہ منظر اس کرہ ارض پر رہنے والی بیشتر مخلوقات کے لیے ہے۔ ہر کسی کے لئے درجہ بدرجہ سہولت کا انتظام کیا گیا ہے۔ گرض نظام کائنات میں موجودات میں سے ہر موجود اپنے لیے سہولت پاتا ہے اور یہ سہولیات اس کے لیے نہایت فطری ہیں۔ اس کی فطرت اور اس کی زندگی سے ہم آہنگ اور خوشگوار۔
ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون (30: 23) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو سنتے ہیں “۔ نیند سکون ہے اور سعی حرکت ہے۔ دونوں کا ادراک سننے سے ہوتا ہے۔ لہٰذا یسمعون کا لفظ قرآن کریم کے اسلوب بیان کے مطابق نہایت ہی موزوں ہے۔
الروم 30:24
ومن ایتہ یریکم ۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یعقلون (30: 24) ” “۔
بجلی کی چمک اس کائناتی نظام اور اس کی تخلیق کا ایک منظر ہے۔ بعض سائنس دانوں نے اس کی تشریح یوں کی ہے کہ بادلوں کے اندر بجلی موجود ہوتی ہے ۔ جب ان کے دو ٹکڑے باہم ملتے ہیں تو اس ٹکراؤ سے بجلی کا ایک شرارہ بادلوں کے اندر پائے جانے والی بجلی کو مشتعل کردیتا ہے یا یوں ہوتا ہے کہ یہ بادل کسی پہاڑ کی چوٹی سے ٹکراتے ہیں اور ان سے یہ اشتعال پیدا ہوجاتا ہے اور اس سے یہ بجلی چمک اٹھتی ہے۔ بالعموم اس چمک اور تصادم کے بعد بارش ہوجاتی ہے۔ بہرحال اس کی حقیقت جو بھی ہو ، لیکن یہ اس کائنات میں دست قدرت کا ایک مظاہرہ ہے ، ایک خوفناک مظاہرہ ۔ یہ اللہ کی ان قوتوں اور قدرتوں کا ظہور ہے جو اس نے اس کائنات میں ودیعت کی ہوئی ہیں۔ کا اسلوب بیشتر اوقات میں یہی ہے کہ وہ ان قدرتی مظاہر کی حقیقت اور ان کے سائنسی اسباب پر بات نہیں کرتا بلکہ ان مظاہروں سے صرف یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ انسان کا دل و دماغ ان مظاہر کو دیکھ کر خالق تک رسائی حاصل کرلے۔ اس لیے قرآن مجید ان مظاہر سے یہی سبق عطا کرتا ہے کہ یہ قدرت الہیہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
ومن ایتہ یریکم البرق خوفا وطمعا (30: 24) ” اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے۔ خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی “۔ یہ وہ احساسات ہیں جو بجلی کی چمک کے ساتھ انسان میں عموماً پیدا ہوتے ہیں۔ انسان ڈرتا بھی ہے کیونکہ یہ انسانوں ، حیوانوں اور فصلوں کو جلا دیتی ہے۔ اور پھر اس عظیم قوت اور چمک اور کڑک کو دیکھ کر انسان کے اندر اس عظیم الکل کائنات کی قوتوں سے خوف پیدا ہوجاتا ہے اور طمع یوں پیدا ہوتا ہے کہ اکثر اوقات بجلی کے ساتھ بارش ہوتی ہے جو انسان کے لیے بہت ہی مفید ہوتی ہے ۔ اسی لیے قرآن کریم نے چمک اور کڑک کے ساتھ بارش کا ذکر کردیا ہے۔ وینزل من ۔۔۔۔۔ بعد موتھا (30: 24) ” اور آسمان سے پانی برساتا ہے اور پھر اس کے ساتھ مردہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے “۔
زمین کی طرف مرنے کی نسبت اور پھر مرنے کے بعد اس کی طرف زندگی کی نسبت کرکے یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ یہ زمین دراصل زندہ ہے۔ یہ بھی زندہ ہوتی ہے اور مرتی ہے۔ اور حقیقت میں بھی یہ ایسی ہی ہے جس طرح قرآن کریم اس کی تصویر کشی کر رہا ہے ۔ یہ زمین بھی دراصل ایک زندہ مخلوق ہے۔ یہ اللہ کے حکم کو امتثال ہوتی ہے۔ اپنے رب کی مطیع اور فرمانی بردار ہے۔ ہر وقت رب کے احکام پر لبیک کہتی ہے۔ یہ اللہ کی بندگی میں ہے اور یہ انسان جو اس کرہ ارض پر رینگ رہا ہے ، یہ بھی اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے۔ یہ بھی اس زمین کے ساتھ اللہ رب العالمین کے احکام کے ساتھ چلا جا رہا ہے۔
مزید یہ کہ جب زمین پر بارش ہوتی ہے تو اس کے اندر سرسبزی اور شادابی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے بڑھنے والی فصلیں اگتی ہیں اور اس زمین کی سطح پر وہ لہلہاتی ہیں۔ یوں یہ زمین زندہ نظر آتی ہے۔ اس طرح جس طرح انسان اور حیوان زندہ ہوتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (30: 24) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں
الروم 30:25
“۔ ومن ایتہ ان ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل لہ قنتون (30: 25 – 26)
آسمانوں اور زمین کا انتظام و قیام نہایت ہی سلیم و متین انتظام ہے جس کی حرکات متعین ہیں اور ان میں ایک سیکنڈ کی تقدیم و
تاخیر نہیں ہوتی۔ یہ اللہ جل شانہ کی تدبیر سے ہے۔ کوئی مخلوق یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ یا اس کے سوا کوئی اور یہ انتظام کر رہا ہے اور کوئی عقلمند شخص اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ یہ سب کچھ بغیر کسی کرنے والے مدبر کے ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزہ نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ یہ زمین و آسمان اللہ کے کھڑے کرنے سے کھڑے ہیں۔ اللہ کے احکام کی تعمیل کر رہے ہیں ، اس کے مطیع فرمان ہیں۔ ان میں کوئی سرتابی ، انحراف اور اضطراب نہیں ہے۔
ثم اذا دعا کم ۔۔۔۔۔ تخرجون (30: 25) ” پھر جونہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا پس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے “۔ جو سائنس دان بھی اللہ کے اس نظام اور ان اندازوں اور ان قدرتوں پر غور کرے وہ اللہ کی اس دعوت کے جواب میں لبیک ہی کہہ سکتا ہے کہ جب اللہ پکارے گا تو لوگ خود کار طریقوں سے نکل آئیں گے۔ اب یہاں اس باین اور مضمون کا خاتمہ آتا ہے اور اس میں بتایا جاتا ہے کہ انسان ، حیوان ، نباتات و جمادات سب کے سب اللہ کے مطیع فرمان ہیں۔
ولہ من فی السموت والارض کل لہ قنتون (30: 26) ” اور آسمان و زمین میں جو ہیں اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اس کے تابع فرمان ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان میں جو مخلوق بھی ہے وہ اللہ کے بندے ہیں ، طوعاً و کرہا مطیع فرمان ہیں اور یہ سب کچھ اللہ کی سنت کے مطابق چلتے ہیں اور ان میں نہ مختلف ہو سکتا ہے اور نہ انحراف ہو سکتا ہے۔ سب چیزیں اللہ کی سنت اور مشیت کی محکوم ہیں۔ دینی اعتبار سے وہ مومن ہوں یا کافر ہوں۔ اگرچہ ان کا دل اور دماغ کافر ہوتا ہے لیکن ان کا پورا جسم اور ان کے گرد پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع ہے۔ جس طرح کائنات کی دوسری اشیاء سنت الہیہ کے لیے قانت اور مطیع ہیں اسی طرح انسان بھی ہے۔ رب کائنات کا یہ گہرا ، طویل اور عظیم سفر آخری اور اہم بات پر ختم ہوتا ہے کہ ایک دن تم نے اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے لیکن تم اس دن سے غافل ہو۔
الروم 30:26
“۔ ومن ایتہ ان ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل لہ قنتون (30: 25 – 26)
آسمانوں اور زمین کا انتظام و قیام نہایت ہی سلیم و متین انتظام ہے جس کی حرکات متعین ہیں اور ان میں ایک سیکنڈ کی تقدیم و
تاخیر نہیں ہوتی۔ یہ اللہ جل شانہ کی تدبیر سے ہے۔ کوئی مخلوق یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ یا اس کے سوا کوئی اور یہ انتظام کر رہا ہے اور کوئی عقلمند شخص اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ یہ سب کچھ بغیر کسی کرنے والے مدبر کے ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزہ نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ یہ زمین و آسمان اللہ کے کھڑے کرنے سے کھڑے ہیں۔ اللہ کے احکام کی تعمیل کر رہے ہیں ، اس کے مطیع فرمان ہیں۔ ان میں کوئی سرتابی ، انحراف اور اضطراب نہیں ہے۔
ثم اذا دعا کم ۔۔۔۔۔ تخرجون (30: 25) ” پھر جونہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا پس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے “۔ جو سائنس دان بھی اللہ کے اس نظام اور ان اندازوں اور ان قدرتوں پر غور کرے وہ اللہ کی اس دعوت کے جواب میں لبیک ہی کہہ سکتا ہے کہ جب اللہ پکارے گا تو لوگ خود کار طریقوں سے نکل آئیں گے۔ اب یہاں اس باین اور مضمون کا خاتمہ آتا ہے اور اس میں بتایا جاتا ہے کہ انسان ، حیوان ، نباتات و جمادات سب کے سب اللہ کے مطیع فرمان ہیں۔
ولہ من فی السموت والارض کل لہ قنتون (30: 26) ” اور آسمان و زمین میں جو ہیں اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اس کے تابع فرمان ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان میں جو مخلوق بھی ہے وہ اللہ کے بندے ہیں ، طوعاً و کرہا مطیع فرمان ہیں اور یہ سب کچھ اللہ کی سنت کے مطابق چلتے ہیں اور ان میں نہ مختلف ہو سکتا ہے اور نہ انحراف ہو سکتا ہے۔ سب چیزیں اللہ کی سنت اور مشیت کی محکوم ہیں۔ دینی اعتبار سے وہ مومن ہوں یا کافر ہوں۔ اگرچہ ان کا دل اور دماغ کافر ہوتا ہے لیکن ان کا پورا جسم اور ان کے گرد پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع ہے۔ جس طرح کائنات کی دوسری اشیاء سنت الہیہ کے لیے قانت اور مطیع ہیں اسی طرح انسان بھی ہے۔ رب کائنات کا یہ گہرا ، طویل اور عظیم سفر آخری اور اہم بات پر ختم ہوتا ہے کہ ایک دن تم نے اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے لیکن تم اس دن سے غافل ہو۔
الروم 30:27
وھو الذی یبدء وا ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (30: 27) ” “۔ اس سورة میں آغاز تخلیق اور اعادہ تخلیق کا ذکر پہلے بھی ہوا ہے۔ اس طویل سفر اور کائنات کی سیر کے بعد ازسر نو اس کا ذکر اس اضافے سے کیا جاتا ہے۔
وھو اھون علیہ (30: 27) ” اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے “۔ حالانکہ اللہ کے لیے کوئی چیز نہ آسان ہے اور نہ مشکل ہے اس کا معاملہ تو یہ ہے۔ انما امرہ ۔۔۔۔۔ کن فیکون ” اس کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا ، پس وہ ہوجاتی ہے “۔ لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس انداز میں سمجھاتے ہیں جس طرح ، اللہ جانتا ہے کہ وہ سمجھ سکتے ہیں۔ لوگوں کے ہاں پہلی تخلیق سے اعادہ آسان ہوتا ہے لیکن وہ خود اپنے تجربات کے خلاف جاتے ہیں کہ ابتدائی تخلیق سے اعادہ مشکل ہے۔ حالانکہ اعادہ آسان ہونا چاہئے۔
ولہ المثل ۔۔۔۔ والارض (30: 27) ” آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے “۔ وہ آسمانوں اور زمین میں منفرد ہے۔ اس کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ وہ اکیلا اور حمید ہے۔
وھو العزیز الحکیم (30: 27) ” وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ زبردست ہے اور قاہر ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے اور حکیم ہے جو بھی کرتا ہے حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس کا کیا نہایت ہی پختہ اور پورا پورا ہوتا ہے۔ کامل مکمل۔ اس عظیم مطالعاتی سفر کے اختتام پر ، جس میں ہم نے اس کائنات کے آفاق ، طول و عرض ، اس کے ظاہری احوال اور اس کی گہرائیوں کا سفر کیا ، جس میں ہم نے مناظر بھی دیکھے اور حقائق بھی اخذ کیے ، اب سیاق کلام میں عقل و خرد کی تاروں پر آخری ضرب لگائی جاتی ہے
الروم 30:28
ضرب لکم مثلا ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (28)
یہ مثال ان لوگوں کے لیے دی گئی ہے جو اللہ کی مخلوق میں سے کسی مخلوق کو اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ چاہے جن ہوں ، چاہے ملائکہ ہوں ، پتھر ہوں یا درخت ہوں ، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے مالوں میں ، اپنے نوکروں اور غلاموں کو شریک نہیں کرتے ۔ اپنے غلام کو شریک کیا ، اپنے برابر انسان کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ لہٰذا ان کا یہ رویہ بہت ہی عجیب ہے کہ وہ اللہ کا شریک ان لوگوں کو بتاتے ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں جبکہ اپنے زیردستوں کو اپنے مالوں میں شریک نہیں کرتے۔ یہ ان کا مال خود ان کا تخلیق کردہ بھی نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کا تخلیق کردہ ہے۔ لہٰذا ان کے موقف میں یہ واضح تضاد ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس تمثیل کو نہایت ہی تدریج کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔
ضرب لکم مثلا من انفسکم (30: 28) ” وہ تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے مثال دیتا ہے “۔ یہ مثال تمہاری عملی زندگی سے دور نہیں ہے کہ تم اسے سمجھ نہ سکو۔ اس کے ملاحظے کے لیے کسی دور دراز علاقے کا سفر ضروی نہیں ہے۔
ھل لکم ما ۔۔۔۔۔ فیہ سوآء (30: 28) ” کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں ، کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دئیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں “۔ ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ تو یہ بھی نہ چاہتے تھے کہ ان کے غلام ان کی دولت میں شریک ہوں چہ جائیکہ کہ ان کے حقوق ان کے ساتھ مساویانہ ہوں۔
تخافونھم کخیفتکم انفسکم (30: 28) ” اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے آپ سے ڈرتے ہو “۔ یعنی ان کو وہی مرتبہ ومقام دیتے ہو جو تم آپس میں اپنے آزاد شرکاء کو دیتے ہو۔ اور تم ڈرتے ہو کہ وہ تم پر ظلم کریں گے اور تم ان کے ساتھ ظلم کرنے سے احتیاط کرتے ہو کیونکہ ان کو تمہارے ساتھ برابر کا مقام و مرتبہ حاصل ہے کیا تمہارے ماحول میں اور خود تمہارے معاشرے میں ایسا ہوتا ہے ؟ اگر خود تم اپنے غلاموں کے ساتھ مساویانہ سلوک نہیں رتے ہو اور نہ اس پر راضی ہوتے ہو تو بتاؤ کہ ملاء اعلیٰ کے بارے میں کیونکر ایسی بات سوچتے ہو۔ یہ ایک واضح ، سادہ اور فیصلہ کن مثال ہے۔ اس کے بعد اس موضوع پر کوئی جدل وجدال نہیں رہتا۔ یہ مثال ایک نہایت ہی سادہ استدلال اور عقل سلیم پر مبنی ہے۔
کذلک نفصل الایت لقوم یعقلون (30: 28) ” اسی طرح ہم آیات کھول کر پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ ان کے عقائد کے اس پوچ تضاد کو یہاں تک کھول کر بیان کردینے کے بعد اب یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے عقائد کے اندر یہ تضاد پیدا کیوں ہوا۔ اس کا اصل سبب کیا ہے۔ صرف یہ کہ ان کا نفس یہی چاہتا ہے اور جب کوئی شخص خواہشات نفسانیہ کا غلام ہوجائے تو پھر عقل و بصیرت سے محروم ہوجاتا ہے۔
الروم 30:29
بل اتبع الذین ۔۔۔۔۔ لھم من نصرین (29)
ہوائے نفس کا پھر نہ کوئی معیار ہوتا ہے اور نہ کوئی ضابطہ ہوتا ہے۔ بس نفس انسانی کی بدلتی ہوئی خواہشات آگے آگے ہوتی ہیں اور انسان ان کے پیچھے ہوتا ہے۔ جس طرف میلان ہوا ، اسی طرف ڈھل گیا۔ جہاں کوئی ڈر ہوا ، رک گیا ، جہاں ذرا بھی امید اور لالچ پیدا ہوا دوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ نہ ایسا شخص کسی حد پر رکتا ہے ، نہ حق و باطل کا محافظ رکھتا ہے اور نہ حلال و حرام کی تمیز کرتا ہے اور نہ اپنے تصورات و اعمال کو کسی ترازو میں تولتا ہے ۔ جب کوئی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کی ہدایت کی کوئی امید نہیں رہتی ، ایسا شخص گمراہی کی راہوں پر اس قدر دور چلا جاتا ہے کہ واپسی کی کوئی امید نہیں رہتی۔
فمن یھدی من اضل اللہ (30: 29) ” اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو “۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ شخص ہوائے نفس کا مطیع فرمان ہوگیا ہے۔
وما لھم من نصرین (30: 29) ” ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہ ہوگا “۔ جو ان کو اس برے انجام سے بچا سکتا ہے۔
اب ان لوگوں کی بات ختم ہوجاتی ہے جو اس دنیا میں بدلتی ہوئی خواہشات کی بندگی کرتے ہیں اور جن میں ہر وقت اضطراب رہتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اپنے دین حق پر قائم رہیں جو دین فطرت ہے۔ جو مضبوط دین ہے اور اس دین اور لوگوں کی فطرت کے درمیان مکمل موافقت ہے ، کیونکہ فطرت کا خالق اور لوگوں کا خالق اور اس دین کا شارع ایک ہے۔ یہ وہ واحد اور نظریہ اور طرز عمل ہے جو صراط مستقیم پر لے جاتا ہے۔ اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ جس طرح کفار کی راہیں ہر وقت بدلتی رہتی ہیں۔ ہر روز کی خواہشات کے لیے ایک نیا دین ہوتا ہے۔
الروم 30:30
فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ کل حزب بما لدیھم فرحون (30 – 32)
” ۔ “۔ یہ ہدایت نہایت بروقت آتی ہے کہ اپنی توجہات اس دین کی طرف کر دو ۔ یہ ہدایت اس وقت آتی ہے جب قرآن نے انسانی فکر کو اس کائنات کی ماہیت ، اس کائنات کے مناظر ، نفس انسانی کی گہرائیوں اور اس کی فطرت کے نشیب و فراز میں خوب گھمایا اور دوڑایا۔ اس سیر اور مطالعہ کے بعد سلیم الفطرت ذہن تسلیم کرنے اور استقبال حق کے لیے تیار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ ہدایت کہ تم لوگ اپنے چہرے کو دین ضعیف کی طرف پھیر دو ، بہت بروقت ہدایت ہے۔ اس کے مقابلے میں منحرفین اور مکذبین کی حالت یہ ہے کہ ان کے سامنے عقل و خرد اور دلیل وبرہان کے تمام ہتھیار کند ہوگئے اور انہوں نے مان کردینے سے صاف صاف انکار کردیا۔ باوجود اس کے کہ یہ ان کے پاس کوئی دلیل اور حجت نہیں ہے۔ یہ ہے وہ دلیل اور برہان اور لاجواب انداز گفتگو جس کے ذریعہ قرآن کریم حق کو پیش کرتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں کوئی عقل ٹھہر نہیں سکتی اور نہ فطرت سلیمہ انکار کرسکتی ہے۔
فاقم وجھک للذین حنیفا (30: 30) ” پس یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو “۔ اور سیدھے سیدھے اس دین کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ کیونکہ یہی دین ایسا ہے جو انسان کو متفرق خواہشات سے بچا سکتا ہے ان خواہشات کی پشت پر حق بالعموم نہیں ہوتا۔ یہ علم اور تحقیق پر مبنی نہیں ہوتیں۔ یہ محض طبیعی شہوت اور مادی میلانات پر مبنی ہوتی ہیں اور ان کی پشت پر کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا تمام سمتوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی سمت اختیار کرلو۔ سیدھے سیدھے۔ اس کے سوا تمام سمتوں کو پس پشت ڈال دو ۔
فطرت اللہ ۔۔۔۔۔ لخلق اللہ (30: 30) ” اس فطرت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی “۔ یوں یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ فطرت انسانی اور اس دین کے اندر گہرا ربط ہے۔ یعنی دونوں اللہ کی مصنوعات و تخلیقات ہیں۔ دونوں اس ناموس کے مطابق ہیں جو اس کائنات کی روح ہے اور دونوں ایک دوسرے کے موافق اور ہم رخ اور ہم سمت ہیں۔ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا اسی نے یہ دین نازل کیا کہ یہ انسانوں کی زندگیوں میں نافذ ہو اور انسانوں کی پوری زندی اس کے مطابق چلے۔ یہ دین ہی فطرت انسانی کا علاج ہے ، اسے روحانی بیماریوں سے بچاتا ہے اور صحیح راہ سے منحرف ہونے نہیں دیتا۔ کیونکہ اللہ اپنی مخلوق کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے۔ وہ تو نہایت باریک بین اور بہت بڑا خبردار ہے۔ جس طرح فطرت ثابت ہے اسی طرح دین بھی ثابت اور مستحکم ہے۔
لا تبدیل لخلق اللہ (30: 30) ” اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدل نہیں سکتی “۔ جب نفس انسانی فطری راہ سے منحرف ہوجائے تو صرف یہی دین اسے فطرت کی راہ پر ڈال سکتا ہے کیونکہ فطرت کائنات ، فطرت انسانی اور فطرت دین ایک ہی ہیں۔
ذلک الدین ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (30: 30) ” یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ چناچہ وہ بغیر علم کے اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ اور یوں راہ راست سے بھٹک کر بہت دور چلے جاتے ہیں “۔ یہ حکم کہ اپنے چہرے کو دین قیم کی طرف کو لو اگرچہ لفظا حضور اکرم ﷺ کو ہے لیکن اس کے اندر تمام اہل ایمان بھی آتے ہیں لہٰذا
آگے کی تفصیلات میں ان کو بھی شامل کردیا گیا۔
منیبین الیہ واتقوہ ۔۔۔۔۔ بما لدیھم فرحون (30: 31 – 32) ” اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ، اور ڈرو اس سے ، اور نماز قائم کرو ، اور نہ ہوجاؤ ان مشرکین میں سے جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے “۔ انابت سے مراد اللہ کی طرف رجوع ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں۔ جب انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور وہ حساس ہوجاتا ہے تو وہ خفیہ اور کھلے بندوں ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے خدا کا شعور ہوتا ہے۔ پھر وہ اس شعور اور حساسیت کے اعلیٰ مقام صلوٰۃ کی طرف دوڑتا ہے۔ اس شعور سے تمام ماسوا اللہ مٹ جاتا ہے لہٰذا وہ موحد ہوجاتا ہے اور مشرکین سے جدا ہوجاتا ہے اور مشرکین کون ہوتے ہیں۔
الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا (30: 32) ” جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا اور گروہوں میں بٹ گئے “۔ شرک کے بھی کئی رنگ اور اقسام ہیں۔ بعض لوگ جنوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملائکہ کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آباؤ اجداد کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملوک و سلاطین کو ، بعض کاہنوں اور مولویوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پتھروں اور درختوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض سیاروں اور ستاروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں اور بعض خواہشات اور اغراض کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پیروں اور فقیروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ غرض شرک کی بیشمار قسمیں ہیں اور
کل حزب بما لدیھم فرحون (30: 32) جبکہ دین قیم ایک ہے ، اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ دین حق کے پیروکار صرف ایک اللہ ، ایک قبلہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس اللہ کی طرف جس نے ان آسمانوں کو تھام رکھا ہے۔ وہ آسمانوں کا بھی بادشاہ ہے اور زمین کا بھی اور سب اس کے مطیع فرمان ہیں۔
الروم 30:31
فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ کل حزب بما لدیھم فرحون (30 – 32)
” ۔ “۔ یہ ہدایت نہایت بروقت آتی ہے کہ اپنی توجہات اس دین کی طرف کر دو ۔ یہ ہدایت اس وقت آتی ہے جب قرآن نے انسانی فکر کو اس کائنات کی ماہیت ، اس کائنات کے مناظر ، نفس انسانی کی گہرائیوں اور اس کی فطرت کے نشیب و فراز میں خوب گھمایا اور دوڑایا۔ اس سیر اور مطالعہ کے بعد سلیم الفطرت ذہن تسلیم کرنے اور استقبال حق کے لیے تیار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ ہدایت کہ تم لوگ اپنے چہرے کو دین ضعیف کی طرف پھیر دو ، بہت بروقت ہدایت ہے۔ اس کے مقابلے میں منحرفین اور مکذبین کی حالت یہ ہے کہ ان کے سامنے عقل و خرد اور دلیل وبرہان کے تمام ہتھیار کند ہوگئے اور انہوں نے مان کردینے سے صاف صاف انکار کردیا۔ باوجود اس کے کہ یہ ان کے پاس کوئی دلیل اور حجت نہیں ہے۔ یہ ہے وہ دلیل اور برہان اور لاجواب انداز گفتگو جس کے ذریعہ قرآن کریم حق کو پیش کرتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں کوئی عقل ٹھہر نہیں سکتی اور نہ فطرت سلیمہ انکار کرسکتی ہے۔
فاقم وجھک للذین حنیفا (30: 30) ” پس یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو “۔ اور سیدھے سیدھے اس دین کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ کیونکہ یہی دین ایسا ہے جو انسان کو متفرق خواہشات سے بچا سکتا ہے ان خواہشات کی پشت پر حق بالعموم نہیں ہوتا۔ یہ علم اور تحقیق پر مبنی نہیں ہوتیں۔ یہ محض طبیعی شہوت اور مادی میلانات پر مبنی ہوتی ہیں اور ان کی پشت پر کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا تمام سمتوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی سمت اختیار کرلو۔ سیدھے سیدھے۔ اس کے سوا تمام سمتوں کو پس پشت ڈال دو ۔
فطرت اللہ ۔۔۔۔۔ لخلق اللہ (30: 30) ” اس فطرت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی “۔ یوں یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ فطرت انسانی اور اس دین کے اندر گہرا ربط ہے۔ یعنی دونوں اللہ کی مصنوعات و تخلیقات ہیں۔ دونوں اس ناموس کے مطابق ہیں جو اس کائنات کی روح ہے اور دونوں ایک دوسرے کے موافق اور ہم رخ اور ہم سمت ہیں۔ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا اسی نے یہ دین نازل کیا کہ یہ انسانوں کی زندگیوں میں نافذ ہو اور انسانوں کی پوری زندی اس کے مطابق چلے۔ یہ دین ہی فطرت انسانی کا علاج ہے ، اسے روحانی بیماریوں سے بچاتا ہے اور صحیح راہ سے منحرف ہونے نہیں دیتا۔ کیونکہ اللہ اپنی مخلوق کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے۔ وہ تو نہایت باریک بین اور بہت بڑا خبردار ہے۔ جس طرح فطرت ثابت ہے اسی طرح دین بھی ثابت اور مستحکم ہے۔
لا تبدیل لخلق اللہ (30: 30) ” اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدل نہیں سکتی “۔ جب نفس انسانی فطری راہ سے منحرف ہوجائے تو صرف یہی دین اسے فطرت کی راہ پر ڈال سکتا ہے کیونکہ فطرت کائنات ، فطرت انسانی اور فطرت دین ایک ہی ہیں۔
ذلک الدین ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (30: 30) ” یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ چناچہ وہ بغیر علم کے اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ اور یوں راہ راست سے بھٹک کر بہت دور چلے جاتے ہیں “۔ یہ حکم کہ اپنے چہرے کو دین قیم کی طرف کو لو اگرچہ لفظا حضور اکرم ﷺ کو ہے لیکن اس کے اندر تمام اہل ایمان بھی آتے ہیں لہٰذا
آگے کی تفصیلات میں ان کو بھی شامل کردیا گیا۔
منیبین الیہ واتقوہ ۔۔۔۔۔ بما لدیھم فرحون (30: 31 – 32) ” اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ، اور ڈرو اس سے ، اور نماز قائم کرو ، اور نہ ہوجاؤ ان مشرکین میں سے جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے “۔ انابت سے مراد اللہ کی طرف رجوع ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں۔ جب انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور وہ حساس ہوجاتا ہے تو وہ خفیہ اور کھلے بندوں ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے خدا کا شعور ہوتا ہے۔ پھر وہ اس شعور اور حساسیت کے اعلیٰ مقام صلوٰۃ کی طرف دوڑتا ہے۔ اس شعور سے تمام ماسوا اللہ مٹ جاتا ہے لہٰذا وہ موحد ہوجاتا ہے اور مشرکین سے جدا ہوجاتا ہے اور مشرکین کون ہوتے ہیں۔
الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا (30: 32) ” جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا اور گروہوں میں بٹ گئے “۔ شرک کے بھی کئی رنگ اور اقسام ہیں۔ بعض لوگ جنوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملائکہ کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آباؤ اجداد کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملوک و سلاطین کو ، بعض کاہنوں اور مولویوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پتھروں اور درختوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض سیاروں اور ستاروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں اور بعض خواہشات اور اغراض کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پیروں اور فقیروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ غرض شرک کی بیشمار قسمیں ہیں اور
کل حزب بما لدیھم فرحون (30: 32) جبکہ دین قیم ایک ہے ، اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ دین حق کے پیروکار صرف ایک اللہ ، ایک قبلہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس اللہ کی طرف جس نے ان آسمانوں کو تھام رکھا ہے۔ وہ آسمانوں کا بھی بادشاہ ہے اور زمین کا بھی اور سب اس کے مطیع فرمان ہیں۔
الروم 30:32
فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ کل حزب بما لدیھم فرحون (30 – 32)
” ۔ “۔ یہ ہدایت نہایت بروقت آتی ہے کہ اپنی توجہات اس دین کی طرف کر دو ۔ یہ ہدایت اس وقت آتی ہے جب قرآن نے انسانی فکر کو اس کائنات کی ماہیت ، اس کائنات کے مناظر ، نفس انسانی کی گہرائیوں اور اس کی فطرت کے نشیب و فراز میں خوب گھمایا اور دوڑایا۔ اس سیر اور مطالعہ کے بعد سلیم الفطرت ذہن تسلیم کرنے اور استقبال حق کے لیے تیار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ ہدایت کہ تم لوگ اپنے چہرے کو دین ضعیف کی طرف پھیر دو ، بہت بروقت ہدایت ہے۔ اس کے مقابلے میں منحرفین اور مکذبین کی حالت یہ ہے کہ ان کے سامنے عقل و خرد اور دلیل وبرہان کے تمام ہتھیار کند ہوگئے اور انہوں نے مان کردینے سے صاف صاف انکار کردیا۔ باوجود اس کے کہ یہ ان کے پاس کوئی دلیل اور حجت نہیں ہے۔ یہ ہے وہ دلیل اور برہان اور لاجواب انداز گفتگو جس کے ذریعہ قرآن کریم حق کو پیش کرتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں کوئی عقل ٹھہر نہیں سکتی اور نہ فطرت سلیمہ انکار کرسکتی ہے۔
فاقم وجھک للذین حنیفا (30: 30) ” پس یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو “۔ اور سیدھے سیدھے اس دین کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ کیونکہ یہی دین ایسا ہے جو انسان کو متفرق خواہشات سے بچا سکتا ہے ان خواہشات کی پشت پر حق بالعموم نہیں ہوتا۔ یہ علم اور تحقیق پر مبنی نہیں ہوتیں۔ یہ محض طبیعی شہوت اور مادی میلانات پر مبنی ہوتی ہیں اور ان کی پشت پر کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا تمام سمتوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی سمت اختیار کرلو۔ سیدھے سیدھے۔ اس کے سوا تمام سمتوں کو پس پشت ڈال دو ۔
فطرت اللہ ۔۔۔۔۔ لخلق اللہ (30: 30) ” اس فطرت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی “۔ یوں یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ فطرت انسانی اور اس دین کے اندر گہرا ربط ہے۔ یعنی دونوں اللہ کی مصنوعات و تخلیقات ہیں۔ دونوں اس ناموس کے مطابق ہیں جو اس کائنات کی روح ہے اور دونوں ایک دوسرے کے موافق اور ہم رخ اور ہم سمت ہیں۔ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا اسی نے یہ دین نازل کیا کہ یہ انسانوں کی زندگیوں میں نافذ ہو اور انسانوں کی پوری زندی اس کے مطابق چلے۔ یہ دین ہی فطرت انسانی کا علاج ہے ، اسے روحانی بیماریوں سے بچاتا ہے اور صحیح راہ سے منحرف ہونے نہیں دیتا۔ کیونکہ اللہ اپنی مخلوق کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے۔ وہ تو نہایت باریک بین اور بہت بڑا خبردار ہے۔ جس طرح فطرت ثابت ہے اسی طرح دین بھی ثابت اور مستحکم ہے۔
لا تبدیل لخلق اللہ (30: 30) ” اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدل نہیں سکتی “۔ جب نفس انسانی فطری راہ سے منحرف ہوجائے تو صرف یہی دین اسے فطرت کی راہ پر ڈال سکتا ہے کیونکہ فطرت کائنات ، فطرت انسانی اور فطرت دین ایک ہی ہیں۔
ذلک الدین ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (30: 30) ” یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ چناچہ وہ بغیر علم کے اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ اور یوں راہ راست سے بھٹک کر بہت دور چلے جاتے ہیں “۔ یہ حکم کہ اپنے چہرے کو دین قیم کی طرف کو لو اگرچہ لفظا حضور اکرم ﷺ کو ہے لیکن اس کے اندر تمام اہل ایمان بھی آتے ہیں لہٰذا
آگے کی تفصیلات میں ان کو بھی شامل کردیا گیا۔
منیبین الیہ واتقوہ ۔۔۔۔۔ بما لدیھم فرحون (30: 31 – 32) ” اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ، اور ڈرو اس سے ، اور نماز قائم کرو ، اور نہ ہوجاؤ ان مشرکین میں سے جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے “۔ انابت سے مراد اللہ کی طرف رجوع ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں۔ جب انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور وہ حساس ہوجاتا ہے تو وہ خفیہ اور کھلے بندوں ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے خدا کا شعور ہوتا ہے۔ پھر وہ اس شعور اور حساسیت کے اعلیٰ مقام صلوٰۃ کی طرف دوڑتا ہے۔ اس شعور سے تمام ماسوا اللہ مٹ جاتا ہے لہٰذا وہ موحد ہوجاتا ہے اور مشرکین سے جدا ہوجاتا ہے اور مشرکین کون ہوتے ہیں۔
الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا (30: 32) ” جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا اور گروہوں میں بٹ گئے “۔ شرک کے بھی کئی رنگ اور اقسام ہیں۔ بعض لوگ جنوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملائکہ کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آباؤ اجداد کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملوک و سلاطین کو ، بعض کاہنوں اور مولویوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پتھروں اور درختوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض سیاروں اور ستاروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں اور بعض خواہشات اور اغراض کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پیروں اور فقیروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ غرض شرک کی بیشمار قسمیں ہیں اور
کل حزب بما لدیھم فرحون (30: 32) جبکہ دین قیم ایک ہے ، اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ دین حق کے پیروکار صرف ایک اللہ ، ایک قبلہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس اللہ کی طرف جس نے ان آسمانوں کو تھام رکھا ہے۔ وہ آسمانوں کا بھی بادشاہ ہے اور زمین کا بھی اور سب اس کے مطیع فرمان ہیں۔
الروم 30:33
درس نمبر 184 نظر میں
اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔
اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ میں کیا ہوتی ہے۔ روح کی قبض کی حالت میں وہ کیسا ہوتا ہے اور بسط کی حالت میں کیا کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب تک انسان اللہ کے پیمانوں کے مطابق اپنی اقدار اور تصورات کا ناپ و تول نہ کرے اس وقت تک انسانی قدروں اور اس کی روح میں ٹھہراؤ اور سکون نہیں آسکتا۔ ہاں جب انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق کشادہ کرتا ہے اور کسی کا تنگ کرتا ہے۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں رزق اور مال کو بڑھانے کا بھی ایک مستحکم طریقہ ہے۔ کسی طریقے سے مال بڑھتا ہے اور کس سے گھٹتا ہے۔ کس سے پاک ہوتا ہے اور کس سے ناپاک ہوتا ہے اور مالیات کا قانون بھی وہی درست اور قیم ہوگا جو دین قیم کے مطابق ہو اور اس سے ماخوذ ہو۔ اس کے بعد سامعین کو لوٹا کر اس ذات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو خالق اور رازق اور زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم شریک ٹھہراتے ہو ، وہ تو یہ کام نہیں کرسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر زمان و مکان میں شرک موجب فساد ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو دوبارہ یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس راست اور درست دین پر جم جائیں۔ اور جو کچھ کمانا ہے اس دن کے آنے سے قبل ہی کما لیں جہاں کوئی عمل اور کوئی کمائ نہ ہوگی۔ وہاں تو اعمال کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے کیا کیا سہولیات دنیا میں پیدا کی ہیں۔ بعض چیزیں ان کی حیات مادی کے لیے ہیں ، مثلا پانی آسمانوں سے برستا ہے اور زمین زندہ اور تروتازہ ہوکر تمہارے لیے سب کچھ پیدا کرتی ہے۔ پھر سمندروں میں تمہارے لیے کشتی رانی کا سامان اور تمہاری روحانی زندگی کے لیے یہ آیات بینات ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر اتر رہی ہیں۔ جن سے دل و دماغ زندہ اور سرسبز ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ لوگ نہ ہدایت لیتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہیں اس دنیا میں زندہ رہ کر اللہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اس دن پھر کسی سے کوئی معذرت قبول نہ ہوگی اور نہ معافی کی درخواستیں طلب ہوں گی اور آخر میں رسول اللہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ ثابت قدمی سے اپنا کام جاری رکھیں ، صبر کریں یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ۔۔۔۔ بن کر سامنے آجائے۔ اللہ کا وعدہ حق الیقین ہے اور اٹل ہے۔
درس نمبر 184 تشریح آیات
33 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 60
واذا مس الناس ضر دعوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون (33 – 37)
یہ ایک ایسے انسان کی نفسیاتی تصویر ہے جس کو پختہ رنگوں سے نہیں بنایا گیا ۔ جو مستقل اقدار حیات نہیں رکھتا اور جس کے سامنے واضح منہاج حیات نہیں ہے۔ اس شخص کا نفس وقتی انفعال اور وقتی تاثرات کے درمیان ڈول رہا ہے جو تصور ذہن میں آیا اس کی طرف لپکا۔ حادثات اور وقتی واقعات کی وجہ سے وہ بدلتا رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ، رب کو یاد کرتے ہیں اور اس حقیقی قوت کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ اور اس کے دربار میں گڑگڑانے کے سوا کوئی نجات نہیں ہوتی۔ اور جب مشکلات کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور سختی دور ہوجاتی ہے اور اللہ کی رحمت آجاتی ہے۔
اذا فریق منھم بربھم یشرکون (30: 33) ” تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں “۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو صحیح عقیدے کا سہارا نہیں لیتے۔ جن کی قدریں مستقل نہیں ہوتیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمتیں اور دنیا کی سہولیات ان کو ان مجبوریوں سے نکال دیتی ہیں جن کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ کی طرف متوجہ تھے۔ وہ اچانک اپنے وہ مشکل کے دن بھول جاتے ہیں جن میں وہ خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔ چناچہ وہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی ناشکری کر کے اور اللہ کی رحمتوں کو چھوڑ کر کفر کی طرف چلے جاتے ہیں حالانکہ حالت رحمت میں خصوصاً مصیبت کے بعد رحمت میں ان کو تو شکر اور انابت الی اللہ پر جم جانا چاہئے تھا۔
ایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود تھے ، اللہ بھی نہایت مختصر الفاظ میں جلد سے ان کو دھمکی دیتے ہیں اور ان کو یوں خطاب ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے دور میں متعین افراد پش نظر ہیں۔ اس لیے خطاب کا صیغہ استعمال کیا گیا۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا ، مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ سخت خوفناک تہدید ہے۔ اگرچہ براہ راست نہیں ہے۔ انسان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ ایک معمولی حاکم اور رئیس کی دھمکی سے بھی ڈرتا ہے۔ اللہ جل شانہ کی دھمکی تو بہت ہی خوفناک ہے کیونکہ اللہ کے سامنے کوئی بات مشکل نہیں ہے۔ ہر بات لفظ کن سے وجود میں آجاتی ہے۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ جلدی اور اختصار کے ساتھ یہ دھمکی دینے کے بعد اب ان کے اس موقف پر سخت برہمی کے ساتھ گرفت کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے باوجود شرک کرتے ہیں اور کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ آخر اس پر ان کے پاس کیا دلیل ہے ؟
ام انزلنا ۔۔۔۔۔ بہ یشرکون (30: 35) ” کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو ، اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں “۔ اس لیے کہ کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے عقائد و نظریات اللہ کے سوا کسی اور ماخذ سے لے۔ کیا ہم نے کوئی دلیل شرک پر نازل کی ہے ؟ نہیں۔ یہ سخت سرزنش اور استنکاری سوال ہے۔ نیز اس میں مزاح اور حقارت کا رنگ بھی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کا یہ رویہ نہایت ہی احمقانہ ہے۔ اس پر کوئی حجت اور دلیل اور سلطان نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایک تقریری سوال بھی ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ کوئی عقیدہ اللہ کی نازل کردہ وحی کے بغیر ثابت نہیں ہوتا جب اللہ نے شرک پر کوئی دلیل نہیں اتاری تو گویا عقیدہ شرک باطل ہے۔ بےاصل ہے ، ضعیف ہے۔
اب انسان کی ایک دوسری نفسیاتی تصویر۔ جب وہ خوش حال اور خوش وخرم ہوتا ہے تو وہ ہلکا اور مغرور ہوجاتا ہے۔
واذا اذقنا الناس ۔۔۔۔۔ ھم یقنطون (30: 36) ” جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں “۔
یہ بھی ایک ایسے شخص کی نفسیاتی تصویر ہے ، جو اپنے معاملات کی ماہیت کو ایک مستقل پیمانے کے مطابق سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ان کا رویہ ایسا نہیں ہوتا کہ ہر حال میں ایک معیار اور پیمانہ ان کے سامنے رہے۔ ایسا مستقل پیمانہ کہ وہ کبھی بدلتا نہیں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جن کی قدریں اور پیمانے مستقل اور دائمی نہیں ہوتے۔ جب اچھے دن آتے ہیں تو آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور یہ اچھے دن عطا کرنے والے کو بھول جاتے ہیں اور ہوا میں ہوتے ہیں ۔ عیش و عشرت میں غرق ہوجاتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے جو منعم حقیقی ہے اور وہ یہ بات پیش نظر نہیں رکھتے کہ اللہ کی رحمت اور خوشحالی بھی ایک امتحان ہوتا ہے لیکن جب اللہ کی مشیت ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مصیبت لاتی ہے تو پھر وہ اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ یقین نہیں کرتے کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے اور یہ بدحالی کی آزمائش ہے۔ لہٰذا اللہ کو یاد کریں اور صبر کریں کہ وہ مشکلات دور کر دے۔ اس کے بجائے وہ مایوس ہوجاتے ہیں اور واہی تواہی بکتے ہیں۔ یہ تصویر ان دلوں کی ہے ، جو اللہ سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو وہ سنن الہیہ کو جانتے ہیں نہ حکمت الہیہ ان کے سمجھ میں آتی ہے۔ یہ لوگ دراصل نہیں جانتے۔ بےعلم ہوتے ہیں ۔ یہ زندگی کے ظاہری حالات کو دیکھ کر ہی فیصلے کرتے ہیں۔
اس نفسیاتی تصویر کشی کے بعد ایک سخت تہدیدی سوال کیا جاتا ہے جس میں ان کے معاملے پر سخت تعجب کا اظہار بھی ہے۔ ان کے اندھے پن اور بےبصیرتی پر ماتم بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خوشحالی اور بدحالی دونوں اللہ کے ایک مستقل قانون قدرت کے مطابق آتی ہیں۔ ان کا تعلق سنن الہیہ اور اللہ کی مشیت سے ہے کیونکہ رحمت بھی وہی کرتا ہے اور مصیبت بھی وہی لاتا ہے۔ وہی رزق میں کشادگی کرتا ہے اور وہی تنگی کرتا ہے۔ سب کچھ اس کی حکمتوں کے تقاضے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس جہان میں ہر وقت اس اصول کے مطابق واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن لوگ اندھے بن جاتے ہیں ، دیکھتے ہی نہیں۔
اولم یروا اللہ ۔۔۔۔۔ ویقدر (30: 37) ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے ، جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے “۔ لہٰذا جب رزق کشادہ ہوجائے تو تکبر اور غرور نہ کرنا چاہئے۔ پھولنا مناسب نہیں ہے اور جب رزق تنگ ہوجائے تو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ یہ تو عارضی حالات ہوتے ہیں ، حکمت الہیہ کے مطابق آتے رہتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے قلب مومن تو یقین کرلیتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ سنت الہیہ اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ اللہ کا نظام مستقل ہے۔ اس کی حکمت کے مطابق روزوشب بدلتے رہتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (30: 37) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں “۔ چونکہ رزق کی کشادگی اور رزق کی تنگی صرف اللہ کے اختیار میں ہے ، وہی ہے جو دیتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے اپنی مشیت کے مطابق لہٰذا وہ تمہیں بتا دیتا ہے کہ تمہاری معیشت کی ترقی کی راہ کون سی ہے اور وہ کون سے معیشت ہے جو ترقی نہیں کرتی۔ حالانکہ لوگ اسے ترقی پذیر معیشت سمجھتے ہیں ، ہدایت ہوتی ہے۔
الروم 30:34
درس نمبر 184 نظر میں
اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔
اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ میں کیا ہوتی ہے۔ روح کی قبض کی حالت میں وہ کیسا ہوتا ہے اور بسط کی حالت میں کیا کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب تک انسان اللہ کے پیمانوں کے مطابق اپنی اقدار اور تصورات کا ناپ و تول نہ کرے اس وقت تک انسانی قدروں اور اس کی روح میں ٹھہراؤ اور سکون نہیں آسکتا۔ ہاں جب انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق کشادہ کرتا ہے اور کسی کا تنگ کرتا ہے۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں رزق اور مال کو بڑھانے کا بھی ایک مستحکم طریقہ ہے۔ کسی طریقے سے مال بڑھتا ہے اور کس سے گھٹتا ہے۔ کس سے پاک ہوتا ہے اور کس سے ناپاک ہوتا ہے اور مالیات کا قانون بھی وہی درست اور قیم ہوگا جو دین قیم کے مطابق ہو اور اس سے ماخوذ ہو۔ اس کے بعد سامعین کو لوٹا کر اس ذات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو خالق اور رازق اور زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم شریک ٹھہراتے ہو ، وہ تو یہ کام نہیں کرسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر زمان و مکان میں شرک موجب فساد ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو دوبارہ یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس راست اور درست دین پر جم جائیں۔ اور جو کچھ کمانا ہے اس دن کے آنے سے قبل ہی کما لیں جہاں کوئی عمل اور کوئی کمائ نہ ہوگی۔ وہاں تو اعمال کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے کیا کیا سہولیات دنیا میں پیدا کی ہیں۔ بعض چیزیں ان کی حیات مادی کے لیے ہیں ، مثلا پانی آسمانوں سے برستا ہے اور زمین زندہ اور تروتازہ ہوکر تمہارے لیے سب کچھ پیدا کرتی ہے۔ پھر سمندروں میں تمہارے لیے کشتی رانی کا سامان اور تمہاری روحانی زندگی کے لیے یہ آیات بینات ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر اتر رہی ہیں۔ جن سے دل و دماغ زندہ اور سرسبز ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ لوگ نہ ہدایت لیتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہیں اس دنیا میں زندہ رہ کر اللہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اس دن پھر کسی سے کوئی معذرت قبول نہ ہوگی اور نہ معافی کی درخواستیں طلب ہوں گی اور آخر میں رسول اللہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ ثابت قدمی سے اپنا کام جاری رکھیں ، صبر کریں یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ۔۔۔۔ بن کر سامنے آجائے۔ اللہ کا وعدہ حق الیقین ہے اور اٹل ہے۔
درس نمبر 184 تشریح آیات
33 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 60
واذا مس الناس ضر دعوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون (33 – 37)
یہ ایک ایسے انسان کی نفسیاتی تصویر ہے جس کو پختہ رنگوں سے نہیں بنایا گیا ۔ جو مستقل اقدار حیات نہیں رکھتا اور جس کے سامنے واضح منہاج حیات نہیں ہے۔ اس شخص کا نفس وقتی انفعال اور وقتی تاثرات کے درمیان ڈول رہا ہے جو تصور ذہن میں آیا اس کی طرف لپکا۔ حادثات اور وقتی واقعات کی وجہ سے وہ بدلتا رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ، رب کو یاد کرتے ہیں اور اس حقیقی قوت کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ اور اس کے دربار میں گڑگڑانے کے سوا کوئی نجات نہیں ہوتی۔ اور جب مشکلات کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور سختی دور ہوجاتی ہے اور اللہ کی رحمت آجاتی ہے۔
اذا فریق منھم بربھم یشرکون (30: 33) ” تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں “۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو صحیح عقیدے کا سہارا نہیں لیتے۔ جن کی قدریں مستقل نہیں ہوتیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمتیں اور دنیا کی سہولیات ان کو ان مجبوریوں سے نکال دیتی ہیں جن کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ کی طرف متوجہ تھے۔ وہ اچانک اپنے وہ مشکل کے دن بھول جاتے ہیں جن میں وہ خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔ چناچہ وہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی ناشکری کر کے اور اللہ کی رحمتوں کو چھوڑ کر کفر کی طرف چلے جاتے ہیں حالانکہ حالت رحمت میں خصوصاً مصیبت کے بعد رحمت میں ان کو تو شکر اور انابت الی اللہ پر جم جانا چاہئے تھا۔
ایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود تھے ، اللہ بھی نہایت مختصر الفاظ میں جلد سے ان کو دھمکی دیتے ہیں اور ان کو یوں خطاب ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے دور میں متعین افراد پش نظر ہیں۔ اس لیے خطاب کا صیغہ استعمال کیا گیا۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا ، مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ سخت خوفناک تہدید ہے۔ اگرچہ براہ راست نہیں ہے۔ انسان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ ایک معمولی حاکم اور رئیس کی دھمکی سے بھی ڈرتا ہے۔ اللہ جل شانہ کی دھمکی تو بہت ہی خوفناک ہے کیونکہ اللہ کے سامنے کوئی بات مشکل نہیں ہے۔ ہر بات لفظ کن سے وجود میں آجاتی ہے۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ جلدی اور اختصار کے ساتھ یہ دھمکی دینے کے بعد اب ان کے اس موقف پر سخت برہمی کے ساتھ گرفت کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے باوجود شرک کرتے ہیں اور کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ آخر اس پر ان کے پاس کیا دلیل ہے ؟
ام انزلنا ۔۔۔۔۔ بہ یشرکون (30: 35) ” کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو ، اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں “۔ اس لیے کہ کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے عقائد و نظریات اللہ کے سوا کسی اور ماخذ سے لے۔ کیا ہم نے کوئی دلیل شرک پر نازل کی ہے ؟ نہیں۔ یہ سخت سرزنش اور استنکاری سوال ہے۔ نیز اس میں مزاح اور حقارت کا رنگ بھی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کا یہ رویہ نہایت ہی احمقانہ ہے۔ اس پر کوئی حجت اور دلیل اور سلطان نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایک تقریری سوال بھی ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ کوئی عقیدہ اللہ کی نازل کردہ وحی کے بغیر ثابت نہیں ہوتا جب اللہ نے شرک پر کوئی دلیل نہیں اتاری تو گویا عقیدہ شرک باطل ہے۔ بےاصل ہے ، ضعیف ہے۔
اب انسان کی ایک دوسری نفسیاتی تصویر۔ جب وہ خوش حال اور خوش وخرم ہوتا ہے تو وہ ہلکا اور مغرور ہوجاتا ہے۔
واذا اذقنا الناس ۔۔۔۔۔ ھم یقنطون (30: 36) ” جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں “۔
یہ بھی ایک ایسے شخص کی نفسیاتی تصویر ہے ، جو اپنے معاملات کی ماہیت کو ایک مستقل پیمانے کے مطابق سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ان کا رویہ ایسا نہیں ہوتا کہ ہر حال میں ایک معیار اور پیمانہ ان کے سامنے رہے۔ ایسا مستقل پیمانہ کہ وہ کبھی بدلتا نہیں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جن کی قدریں اور پیمانے مستقل اور دائمی نہیں ہوتے۔ جب اچھے دن آتے ہیں تو آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور یہ اچھے دن عطا کرنے والے کو بھول جاتے ہیں اور ہوا میں ہوتے ہیں ۔ عیش و عشرت میں غرق ہوجاتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے جو منعم حقیقی ہے اور وہ یہ بات پیش نظر نہیں رکھتے کہ اللہ کی رحمت اور خوشحالی بھی ایک امتحان ہوتا ہے لیکن جب اللہ کی مشیت ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مصیبت لاتی ہے تو پھر وہ اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ یقین نہیں کرتے کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے اور یہ بدحالی کی آزمائش ہے۔ لہٰذا اللہ کو یاد کریں اور صبر کریں کہ وہ مشکلات دور کر دے۔ اس کے بجائے وہ مایوس ہوجاتے ہیں اور واہی تواہی بکتے ہیں۔ یہ تصویر ان دلوں کی ہے ، جو اللہ سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو وہ سنن الہیہ کو جانتے ہیں نہ حکمت الہیہ ان کے سمجھ میں آتی ہے۔ یہ لوگ دراصل نہیں جانتے۔ بےعلم ہوتے ہیں ۔ یہ زندگی کے ظاہری حالات کو دیکھ کر ہی فیصلے کرتے ہیں۔
اس نفسیاتی تصویر کشی کے بعد ایک سخت تہدیدی سوال کیا جاتا ہے جس میں ان کے معاملے پر سخت تعجب کا اظہار بھی ہے۔ ان کے اندھے پن اور بےبصیرتی پر ماتم بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خوشحالی اور بدحالی دونوں اللہ کے ایک مستقل قانون قدرت کے مطابق آتی ہیں۔ ان کا تعلق سنن الہیہ اور اللہ کی مشیت سے ہے کیونکہ رحمت بھی وہی کرتا ہے اور مصیبت بھی وہی لاتا ہے۔ وہی رزق میں کشادگی کرتا ہے اور وہی تنگی کرتا ہے۔ سب کچھ اس کی حکمتوں کے تقاضے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس جہان میں ہر وقت اس اصول کے مطابق واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن لوگ اندھے بن جاتے ہیں ، دیکھتے ہی نہیں۔
اولم یروا اللہ ۔۔۔۔۔ ویقدر (30: 37) ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے ، جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے “۔ لہٰذا جب رزق کشادہ ہوجائے تو تکبر اور غرور نہ کرنا چاہئے۔ پھولنا مناسب نہیں ہے اور جب رزق تنگ ہوجائے تو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ یہ تو عارضی حالات ہوتے ہیں ، حکمت الہیہ کے مطابق آتے رہتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے قلب مومن تو یقین کرلیتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ سنت الہیہ اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ اللہ کا نظام مستقل ہے۔ اس کی حکمت کے مطابق روزوشب بدلتے رہتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (30: 37) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں “۔ چونکہ رزق کی کشادگی اور رزق کی تنگی صرف اللہ کے اختیار میں ہے ، وہی ہے جو دیتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے اپنی مشیت کے مطابق لہٰذا وہ تمہیں بتا دیتا ہے کہ تمہاری معیشت کی ترقی کی راہ کون سی ہے اور وہ کون سے معیشت ہے جو ترقی نہیں کرتی۔ حالانکہ لوگ اسے ترقی پذیر معیشت سمجھتے ہیں ، ہدایت ہوتی ہے۔
الروم 30:35
درس نمبر 184 نظر میں
اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔
اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ میں کیا ہوتی ہے۔ روح کی قبض کی حالت میں وہ کیسا ہوتا ہے اور بسط کی حالت میں کیا کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب تک انسان اللہ کے پیمانوں کے مطابق اپنی اقدار اور تصورات کا ناپ و تول نہ کرے اس وقت تک انسانی قدروں اور اس کی روح میں ٹھہراؤ اور سکون نہیں آسکتا۔ ہاں جب انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق کشادہ کرتا ہے اور کسی کا تنگ کرتا ہے۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں رزق اور مال کو بڑھانے کا بھی ایک مستحکم طریقہ ہے۔ کسی طریقے سے مال بڑھتا ہے اور کس سے گھٹتا ہے۔ کس سے پاک ہوتا ہے اور کس سے ناپاک ہوتا ہے اور مالیات کا قانون بھی وہی درست اور قیم ہوگا جو دین قیم کے مطابق ہو اور اس سے ماخوذ ہو۔ اس کے بعد سامعین کو لوٹا کر اس ذات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو خالق اور رازق اور زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم شریک ٹھہراتے ہو ، وہ تو یہ کام نہیں کرسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر زمان و مکان میں شرک موجب فساد ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو دوبارہ یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس راست اور درست دین پر جم جائیں۔ اور جو کچھ کمانا ہے اس دن کے آنے سے قبل ہی کما لیں جہاں کوئی عمل اور کوئی کمائ نہ ہوگی۔ وہاں تو اعمال کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے کیا کیا سہولیات دنیا میں پیدا کی ہیں۔ بعض چیزیں ان کی حیات مادی کے لیے ہیں ، مثلا پانی آسمانوں سے برستا ہے اور زمین زندہ اور تروتازہ ہوکر تمہارے لیے سب کچھ پیدا کرتی ہے۔ پھر سمندروں میں تمہارے لیے کشتی رانی کا سامان اور تمہاری روحانی زندگی کے لیے یہ آیات بینات ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر اتر رہی ہیں۔ جن سے دل و دماغ زندہ اور سرسبز ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ لوگ نہ ہدایت لیتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہیں اس دنیا میں زندہ رہ کر اللہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اس دن پھر کسی سے کوئی معذرت قبول نہ ہوگی اور نہ معافی کی درخواستیں طلب ہوں گی اور آخر میں رسول اللہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ ثابت قدمی سے اپنا کام جاری رکھیں ، صبر کریں یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ۔۔۔۔ بن کر سامنے آجائے۔ اللہ کا وعدہ حق الیقین ہے اور اٹل ہے۔
درس نمبر 184 تشریح آیات
33 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 60
واذا مس الناس ضر دعوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون (33 – 37)
یہ ایک ایسے انسان کی نفسیاتی تصویر ہے جس کو پختہ رنگوں سے نہیں بنایا گیا ۔ جو مستقل اقدار حیات نہیں رکھتا اور جس کے سامنے واضح منہاج حیات نہیں ہے۔ اس شخص کا نفس وقتی انفعال اور وقتی تاثرات کے درمیان ڈول رہا ہے جو تصور ذہن میں آیا اس کی طرف لپکا۔ حادثات اور وقتی واقعات کی وجہ سے وہ بدلتا رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ، رب کو یاد کرتے ہیں اور اس حقیقی قوت کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ اور اس کے دربار میں گڑگڑانے کے سوا کوئی نجات نہیں ہوتی۔ اور جب مشکلات کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور سختی دور ہوجاتی ہے اور اللہ کی رحمت آجاتی ہے۔
اذا فریق منھم بربھم یشرکون (30: 33) ” تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں “۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو صحیح عقیدے کا سہارا نہیں لیتے۔ جن کی قدریں مستقل نہیں ہوتیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمتیں اور دنیا کی سہولیات ان کو ان مجبوریوں سے نکال دیتی ہیں جن کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ کی طرف متوجہ تھے۔ وہ اچانک اپنے وہ مشکل کے دن بھول جاتے ہیں جن میں وہ خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔ چناچہ وہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی ناشکری کر کے اور اللہ کی رحمتوں کو چھوڑ کر کفر کی طرف چلے جاتے ہیں حالانکہ حالت رحمت میں خصوصاً مصیبت کے بعد رحمت میں ان کو تو شکر اور انابت الی اللہ پر جم جانا چاہئے تھا۔
ایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود تھے ، اللہ بھی نہایت مختصر الفاظ میں جلد سے ان کو دھمکی دیتے ہیں اور ان کو یوں خطاب ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے دور میں متعین افراد پش نظر ہیں۔ اس لیے خطاب کا صیغہ استعمال کیا گیا۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا ، مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ سخت خوفناک تہدید ہے۔ اگرچہ براہ راست نہیں ہے۔ انسان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ ایک معمولی حاکم اور رئیس کی دھمکی سے بھی ڈرتا ہے۔ اللہ جل شانہ کی دھمکی تو بہت ہی خوفناک ہے کیونکہ اللہ کے سامنے کوئی بات مشکل نہیں ہے۔ ہر بات لفظ کن سے وجود میں آجاتی ہے۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ جلدی اور اختصار کے ساتھ یہ دھمکی دینے کے بعد اب ان کے اس موقف پر سخت برہمی کے ساتھ گرفت کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے باوجود شرک کرتے ہیں اور کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ آخر اس پر ان کے پاس کیا دلیل ہے ؟
ام انزلنا ۔۔۔۔۔ بہ یشرکون (30: 35) ” کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو ، اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں “۔ اس لیے کہ کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے عقائد و نظریات اللہ کے سوا کسی اور ماخذ سے لے۔ کیا ہم نے کوئی دلیل شرک پر نازل کی ہے ؟ نہیں۔ یہ سخت سرزنش اور استنکاری سوال ہے۔ نیز اس میں مزاح اور حقارت کا رنگ بھی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کا یہ رویہ نہایت ہی احمقانہ ہے۔ اس پر کوئی حجت اور دلیل اور سلطان نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایک تقریری سوال بھی ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ کوئی عقیدہ اللہ کی نازل کردہ وحی کے بغیر ثابت نہیں ہوتا جب اللہ نے شرک پر کوئی دلیل نہیں اتاری تو گویا عقیدہ شرک باطل ہے۔ بےاصل ہے ، ضعیف ہے۔
اب انسان کی ایک دوسری نفسیاتی تصویر۔ جب وہ خوش حال اور خوش وخرم ہوتا ہے تو وہ ہلکا اور مغرور ہوجاتا ہے۔
واذا اذقنا الناس ۔۔۔۔۔ ھم یقنطون (30: 36) ” جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں “۔
یہ بھی ایک ایسے شخص کی نفسیاتی تصویر ہے ، جو اپنے معاملات کی ماہیت کو ایک مستقل پیمانے کے مطابق سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ان کا رویہ ایسا نہیں ہوتا کہ ہر حال میں ایک معیار اور پیمانہ ان کے سامنے رہے۔ ایسا مستقل پیمانہ کہ وہ کبھی بدلتا نہیں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جن کی قدریں اور پیمانے مستقل اور دائمی نہیں ہوتے۔ جب اچھے دن آتے ہیں تو آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور یہ اچھے دن عطا کرنے والے کو بھول جاتے ہیں اور ہوا میں ہوتے ہیں ۔ عیش و عشرت میں غرق ہوجاتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے جو منعم حقیقی ہے اور وہ یہ بات پیش نظر نہیں رکھتے کہ اللہ کی رحمت اور خوشحالی بھی ایک امتحان ہوتا ہے لیکن جب اللہ کی مشیت ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مصیبت لاتی ہے تو پھر وہ اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ یقین نہیں کرتے کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے اور یہ بدحالی کی آزمائش ہے۔ لہٰذا اللہ کو یاد کریں اور صبر کریں کہ وہ مشکلات دور کر دے۔ اس کے بجائے وہ مایوس ہوجاتے ہیں اور واہی تواہی بکتے ہیں۔ یہ تصویر ان دلوں کی ہے ، جو اللہ سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو وہ سنن الہیہ کو جانتے ہیں نہ حکمت الہیہ ان کے سمجھ میں آتی ہے۔ یہ لوگ دراصل نہیں جانتے۔ بےعلم ہوتے ہیں ۔ یہ زندگی کے ظاہری حالات کو دیکھ کر ہی فیصلے کرتے ہیں۔
اس نفسیاتی تصویر کشی کے بعد ایک سخت تہدیدی سوال کیا جاتا ہے جس میں ان کے معاملے پر سخت تعجب کا اظہار بھی ہے۔ ان کے اندھے پن اور بےبصیرتی پر ماتم بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خوشحالی اور بدحالی دونوں اللہ کے ایک مستقل قانون قدرت کے مطابق آتی ہیں۔ ان کا تعلق سنن الہیہ اور اللہ کی مشیت سے ہے کیونکہ رحمت بھی وہی کرتا ہے اور مصیبت بھی وہی لاتا ہے۔ وہی رزق میں کشادگی کرتا ہے اور وہی تنگی کرتا ہے۔ سب کچھ اس کی حکمتوں کے تقاضے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس جہان میں ہر وقت اس اصول کے مطابق واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن لوگ اندھے بن جاتے ہیں ، دیکھتے ہی نہیں۔
اولم یروا اللہ ۔۔۔۔۔ ویقدر (30: 37) ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے ، جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے “۔ لہٰذا جب رزق کشادہ ہوجائے تو تکبر اور غرور نہ کرنا چاہئے۔ پھولنا مناسب نہیں ہے اور جب رزق تنگ ہوجائے تو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ یہ تو عارضی حالات ہوتے ہیں ، حکمت الہیہ کے مطابق آتے رہتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے قلب مومن تو یقین کرلیتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ سنت الہیہ اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ اللہ کا نظام مستقل ہے۔ اس کی حکمت کے مطابق روزوشب بدلتے رہتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (30: 37) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں “۔ چونکہ رزق کی کشادگی اور رزق کی تنگی صرف اللہ کے اختیار میں ہے ، وہی ہے جو دیتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے اپنی مشیت کے مطابق لہٰذا وہ تمہیں بتا دیتا ہے کہ تمہاری معیشت کی ترقی کی راہ کون سی ہے اور وہ کون سے معیشت ہے جو ترقی نہیں کرتی۔ حالانکہ لوگ اسے ترقی پذیر معیشت سمجھتے ہیں ، ہدایت ہوتی ہے۔
الروم 30:36
درس نمبر 184 نظر میں
اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔
اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ میں کیا ہوتی ہے۔ روح کی قبض کی حالت میں وہ کیسا ہوتا ہے اور بسط کی حالت میں کیا کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب تک انسان اللہ کے پیمانوں کے مطابق اپنی اقدار اور تصورات کا ناپ و تول نہ کرے اس وقت تک انسانی قدروں اور اس کی روح میں ٹھہراؤ اور سکون نہیں آسکتا۔ ہاں جب انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق کشادہ کرتا ہے اور کسی کا تنگ کرتا ہے۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں رزق اور مال کو بڑھانے کا بھی ایک مستحکم طریقہ ہے۔ کسی طریقے سے مال بڑھتا ہے اور کس سے گھٹتا ہے۔ کس سے پاک ہوتا ہے اور کس سے ناپاک ہوتا ہے اور مالیات کا قانون بھی وہی درست اور قیم ہوگا جو دین قیم کے مطابق ہو اور اس سے ماخوذ ہو۔ اس کے بعد سامعین کو لوٹا کر اس ذات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو خالق اور رازق اور زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم شریک ٹھہراتے ہو ، وہ تو یہ کام نہیں کرسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر زمان و مکان میں شرک موجب فساد ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو دوبارہ یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس راست اور درست دین پر جم جائیں۔ اور جو کچھ کمانا ہے اس دن کے آنے سے قبل ہی کما لیں جہاں کوئی عمل اور کوئی کمائ نہ ہوگی۔ وہاں تو اعمال کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے کیا کیا سہولیات دنیا میں پیدا کی ہیں۔ بعض چیزیں ان کی حیات مادی کے لیے ہیں ، مثلا پانی آسمانوں سے برستا ہے اور زمین زندہ اور تروتازہ ہوکر تمہارے لیے سب کچھ پیدا کرتی ہے۔ پھر سمندروں میں تمہارے لیے کشتی رانی کا سامان اور تمہاری روحانی زندگی کے لیے یہ آیات بینات ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر اتر رہی ہیں۔ جن سے دل و دماغ زندہ اور سرسبز ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ لوگ نہ ہدایت لیتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہیں اس دنیا میں زندہ رہ کر اللہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اس دن پھر کسی سے کوئی معذرت قبول نہ ہوگی اور نہ معافی کی درخواستیں طلب ہوں گی اور آخر میں رسول اللہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ ثابت قدمی سے اپنا کام جاری رکھیں ، صبر کریں یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ۔۔۔۔ بن کر سامنے آجائے۔ اللہ کا وعدہ حق الیقین ہے اور اٹل ہے۔
درس نمبر 184 تشریح آیات
33 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 60
واذا مس الناس ضر دعوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون (33 – 37)
یہ ایک ایسے انسان کی نفسیاتی تصویر ہے جس کو پختہ رنگوں سے نہیں بنایا گیا ۔ جو مستقل اقدار حیات نہیں رکھتا اور جس کے سامنے واضح منہاج حیات نہیں ہے۔ اس شخص کا نفس وقتی انفعال اور وقتی تاثرات کے درمیان ڈول رہا ہے جو تصور ذہن میں آیا اس کی طرف لپکا۔ حادثات اور وقتی واقعات کی وجہ سے وہ بدلتا رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ، رب کو یاد کرتے ہیں اور اس حقیقی قوت کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ اور اس کے دربار میں گڑگڑانے کے سوا کوئی نجات نہیں ہوتی۔ اور جب مشکلات کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور سختی دور ہوجاتی ہے اور اللہ کی رحمت آجاتی ہے۔
اذا فریق منھم بربھم یشرکون (30: 33) ” تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں “۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو صحیح عقیدے کا سہارا نہیں لیتے۔ جن کی قدریں مستقل نہیں ہوتیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمتیں اور دنیا کی سہولیات ان کو ان مجبوریوں سے نکال دیتی ہیں جن کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ کی طرف متوجہ تھے۔ وہ اچانک اپنے وہ مشکل کے دن بھول جاتے ہیں جن میں وہ خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔ چناچہ وہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی ناشکری کر کے اور اللہ کی رحمتوں کو چھوڑ کر کفر کی طرف چلے جاتے ہیں حالانکہ حالت رحمت میں خصوصاً مصیبت کے بعد رحمت میں ان کو تو شکر اور انابت الی اللہ پر جم جانا چاہئے تھا۔
ایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود تھے ، اللہ بھی نہایت مختصر الفاظ میں جلد سے ان کو دھمکی دیتے ہیں اور ان کو یوں خطاب ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے دور میں متعین افراد پش نظر ہیں۔ اس لیے خطاب کا صیغہ استعمال کیا گیا۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا ، مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ سخت خوفناک تہدید ہے۔ اگرچہ براہ راست نہیں ہے۔ انسان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ ایک معمولی حاکم اور رئیس کی دھمکی سے بھی ڈرتا ہے۔ اللہ جل شانہ کی دھمکی تو بہت ہی خوفناک ہے کیونکہ اللہ کے سامنے کوئی بات مشکل نہیں ہے۔ ہر بات لفظ کن سے وجود میں آجاتی ہے۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ جلدی اور اختصار کے ساتھ یہ دھمکی دینے کے بعد اب ان کے اس موقف پر سخت برہمی کے ساتھ گرفت کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے باوجود شرک کرتے ہیں اور کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ آخر اس پر ان کے پاس کیا دلیل ہے ؟
ام انزلنا ۔۔۔۔۔ بہ یشرکون (30: 35) ” کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو ، اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں “۔ اس لیے کہ کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے عقائد و نظریات اللہ کے سوا کسی اور ماخذ سے لے۔ کیا ہم نے کوئی دلیل شرک پر نازل کی ہے ؟ نہیں۔ یہ سخت سرزنش اور استنکاری سوال ہے۔ نیز اس میں مزاح اور حقارت کا رنگ بھی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کا یہ رویہ نہایت ہی احمقانہ ہے۔ اس پر کوئی حجت اور دلیل اور سلطان نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایک تقریری سوال بھی ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ کوئی عقیدہ اللہ کی نازل کردہ وحی کے بغیر ثابت نہیں ہوتا جب اللہ نے شرک پر کوئی دلیل نہیں اتاری تو گویا عقیدہ شرک باطل ہے۔ بےاصل ہے ، ضعیف ہے۔
اب انسان کی ایک دوسری نفسیاتی تصویر۔ جب وہ خوش حال اور خوش وخرم ہوتا ہے تو وہ ہلکا اور مغرور ہوجاتا ہے۔
واذا اذقنا الناس ۔۔۔۔۔ ھم یقنطون (30: 36) ” جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں “۔
یہ بھی ایک ایسے شخص کی نفسیاتی تصویر ہے ، جو اپنے معاملات کی ماہیت کو ایک مستقل پیمانے کے مطابق سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ان کا رویہ ایسا نہیں ہوتا کہ ہر حال میں ایک معیار اور پیمانہ ان کے سامنے رہے۔ ایسا مستقل پیمانہ کہ وہ کبھی بدلتا نہیں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جن کی قدریں اور پیمانے مستقل اور دائمی نہیں ہوتے۔ جب اچھے دن آتے ہیں تو آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور یہ اچھے دن عطا کرنے والے کو بھول جاتے ہیں اور ہوا میں ہوتے ہیں ۔ عیش و عشرت میں غرق ہوجاتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے جو منعم حقیقی ہے اور وہ یہ بات پیش نظر نہیں رکھتے کہ اللہ کی رحمت اور خوشحالی بھی ایک امتحان ہوتا ہے لیکن جب اللہ کی مشیت ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مصیبت لاتی ہے تو پھر وہ اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ یقین نہیں کرتے کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے اور یہ بدحالی کی آزمائش ہے۔ لہٰذا اللہ کو یاد کریں اور صبر کریں کہ وہ مشکلات دور کر دے۔ اس کے بجائے وہ مایوس ہوجاتے ہیں اور واہی تواہی بکتے ہیں۔ یہ تصویر ان دلوں کی ہے ، جو اللہ سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو وہ سنن الہیہ کو جانتے ہیں نہ حکمت الہیہ ان کے سمجھ میں آتی ہے۔ یہ لوگ دراصل نہیں جانتے۔ بےعلم ہوتے ہیں ۔ یہ زندگی کے ظاہری حالات کو دیکھ کر ہی فیصلے کرتے ہیں۔
اس نفسیاتی تصویر کشی کے بعد ایک سخت تہدیدی سوال کیا جاتا ہے جس میں ان کے معاملے پر سخت تعجب کا اظہار بھی ہے۔ ان کے اندھے پن اور بےبصیرتی پر ماتم بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خوشحالی اور بدحالی دونوں اللہ کے ایک مستقل قانون قدرت کے مطابق آتی ہیں۔ ان کا تعلق سنن الہیہ اور اللہ کی مشیت سے ہے کیونکہ رحمت بھی وہی کرتا ہے اور مصیبت بھی وہی لاتا ہے۔ وہی رزق میں کشادگی کرتا ہے اور وہی تنگی کرتا ہے۔ سب کچھ اس کی حکمتوں کے تقاضے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس جہان میں ہر وقت اس اصول کے مطابق واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن لوگ اندھے بن جاتے ہیں ، دیکھتے ہی نہیں۔
اولم یروا اللہ ۔۔۔۔۔ ویقدر (30: 37) ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے ، جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے “۔ لہٰذا جب رزق کشادہ ہوجائے تو تکبر اور غرور نہ کرنا چاہئے۔ پھولنا مناسب نہیں ہے اور جب رزق تنگ ہوجائے تو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ یہ تو عارضی حالات ہوتے ہیں ، حکمت الہیہ کے مطابق آتے رہتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے قلب مومن تو یقین کرلیتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ سنت الہیہ اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ اللہ کا نظام مستقل ہے۔ اس کی حکمت کے مطابق روزوشب بدلتے رہتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (30: 37) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں “۔ چونکہ رزق کی کشادگی اور رزق کی تنگی صرف اللہ کے اختیار میں ہے ، وہی ہے جو دیتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے اپنی مشیت کے مطابق لہٰذا وہ تمہیں بتا دیتا ہے کہ تمہاری معیشت کی ترقی کی راہ کون سی ہے اور وہ کون سے معیشت ہے جو ترقی نہیں کرتی۔ حالانکہ لوگ اسے ترقی پذیر معیشت سمجھتے ہیں ، ہدایت ہوتی ہے۔
الروم 30:37
درس نمبر 184 نظر میں
اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔
اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ میں کیا ہوتی ہے۔ روح کی قبض کی حالت میں وہ کیسا ہوتا ہے اور بسط کی حالت میں کیا کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب تک انسان اللہ کے پیمانوں کے مطابق اپنی اقدار اور تصورات کا ناپ و تول نہ کرے اس وقت تک انسانی قدروں اور اس کی روح میں ٹھہراؤ اور سکون نہیں آسکتا۔ ہاں جب انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق کشادہ کرتا ہے اور کسی کا تنگ کرتا ہے۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں رزق اور مال کو بڑھانے کا بھی ایک مستحکم طریقہ ہے۔ کسی طریقے سے مال بڑھتا ہے اور کس سے گھٹتا ہے۔ کس سے پاک ہوتا ہے اور کس سے ناپاک ہوتا ہے اور مالیات کا قانون بھی وہی درست اور قیم ہوگا جو دین قیم کے مطابق ہو اور اس سے ماخوذ ہو۔ اس کے بعد سامعین کو لوٹا کر اس ذات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو خالق اور رازق اور زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم شریک ٹھہراتے ہو ، وہ تو یہ کام نہیں کرسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر زمان و مکان میں شرک موجب فساد ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو دوبارہ یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس راست اور درست دین پر جم جائیں۔ اور جو کچھ کمانا ہے اس دن کے آنے سے قبل ہی کما لیں جہاں کوئی عمل اور کوئی کمائ نہ ہوگی۔ وہاں تو اعمال کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے کیا کیا سہولیات دنیا میں پیدا کی ہیں۔ بعض چیزیں ان کی حیات مادی کے لیے ہیں ، مثلا پانی آسمانوں سے برستا ہے اور زمین زندہ اور تروتازہ ہوکر تمہارے لیے سب کچھ پیدا کرتی ہے۔ پھر سمندروں میں تمہارے لیے کشتی رانی کا سامان اور تمہاری روحانی زندگی کے لیے یہ آیات بینات ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر اتر رہی ہیں۔ جن سے دل و دماغ زندہ اور سرسبز ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ لوگ نہ ہدایت لیتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہیں اس دنیا میں زندہ رہ کر اللہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اس دن پھر کسی سے کوئی معذرت قبول نہ ہوگی اور نہ معافی کی درخواستیں طلب ہوں گی اور آخر میں رسول اللہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ ثابت قدمی سے اپنا کام جاری رکھیں ، صبر کریں یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ۔۔۔۔ بن کر سامنے آجائے۔ اللہ کا وعدہ حق الیقین ہے اور اٹل ہے۔
درس نمبر 184 تشریح آیات
33 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 60
واذا مس الناس ضر دعوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون (33 – 37)
یہ ایک ایسے انسان کی نفسیاتی تصویر ہے جس کو پختہ رنگوں سے نہیں بنایا گیا ۔ جو مستقل اقدار حیات نہیں رکھتا اور جس کے سامنے واضح منہاج حیات نہیں ہے۔ اس شخص کا نفس وقتی انفعال اور وقتی تاثرات کے درمیان ڈول رہا ہے جو تصور ذہن میں آیا اس کی طرف لپکا۔ حادثات اور وقتی واقعات کی وجہ سے وہ بدلتا رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ، رب کو یاد کرتے ہیں اور اس حقیقی قوت کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ اور اس کے دربار میں گڑگڑانے کے سوا کوئی نجات نہیں ہوتی۔ اور جب مشکلات کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور سختی دور ہوجاتی ہے اور اللہ کی رحمت آجاتی ہے۔
اذا فریق منھم بربھم یشرکون (30: 33) ” تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں “۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو صحیح عقیدے کا سہارا نہیں لیتے۔ جن کی قدریں مستقل نہیں ہوتیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمتیں اور دنیا کی سہولیات ان کو ان مجبوریوں سے نکال دیتی ہیں جن کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ کی طرف متوجہ تھے۔ وہ اچانک اپنے وہ مشکل کے دن بھول جاتے ہیں جن میں وہ خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔ چناچہ وہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی ناشکری کر کے اور اللہ کی رحمتوں کو چھوڑ کر کفر کی طرف چلے جاتے ہیں حالانکہ حالت رحمت میں خصوصاً مصیبت کے بعد رحمت میں ان کو تو شکر اور انابت الی اللہ پر جم جانا چاہئے تھا۔
ایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود تھے ، اللہ بھی نہایت مختصر الفاظ میں جلد سے ان کو دھمکی دیتے ہیں اور ان کو یوں خطاب ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے دور میں متعین افراد پش نظر ہیں۔ اس لیے خطاب کا صیغہ استعمال کیا گیا۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا ، مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ سخت خوفناک تہدید ہے۔ اگرچہ براہ راست نہیں ہے۔ انسان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ ایک معمولی حاکم اور رئیس کی دھمکی سے بھی ڈرتا ہے۔ اللہ جل شانہ کی دھمکی تو بہت ہی خوفناک ہے کیونکہ اللہ کے سامنے کوئی بات مشکل نہیں ہے۔ ہر بات لفظ کن سے وجود میں آجاتی ہے۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ جلدی اور اختصار کے ساتھ یہ دھمکی دینے کے بعد اب ان کے اس موقف پر سخت برہمی کے ساتھ گرفت کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے باوجود شرک کرتے ہیں اور کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ آخر اس پر ان کے پاس کیا دلیل ہے ؟
ام انزلنا ۔۔۔۔۔ بہ یشرکون (30: 35) ” کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو ، اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں “۔ اس لیے کہ کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے عقائد و نظریات اللہ کے سوا کسی اور ماخذ سے لے۔ کیا ہم نے کوئی دلیل شرک پر نازل کی ہے ؟ نہیں۔ یہ سخت سرزنش اور استنکاری سوال ہے۔ نیز اس میں مزاح اور حقارت کا رنگ بھی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کا یہ رویہ نہایت ہی احمقانہ ہے۔ اس پر کوئی حجت اور دلیل اور سلطان نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایک تقریری سوال بھی ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ کوئی عقیدہ اللہ کی نازل کردہ وحی کے بغیر ثابت نہیں ہوتا جب اللہ نے شرک پر کوئی دلیل نہیں اتاری تو گویا عقیدہ شرک باطل ہے۔ بےاصل ہے ، ضعیف ہے۔
اب انسان کی ایک دوسری نفسیاتی تصویر۔ جب وہ خوش حال اور خوش وخرم ہوتا ہے تو وہ ہلکا اور مغرور ہوجاتا ہے۔
واذا اذقنا الناس ۔۔۔۔۔ ھم یقنطون (30: 36) ” جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں “۔
یہ بھی ایک ایسے شخص کی نفسیاتی تصویر ہے ، جو اپنے معاملات کی ماہیت کو ایک مستقل پیمانے کے مطابق سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ان کا رویہ ایسا نہیں ہوتا کہ ہر حال میں ایک معیار اور پیمانہ ان کے سامنے رہے۔ ایسا مستقل پیمانہ کہ وہ کبھی بدلتا نہیں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جن کی قدریں اور پیمانے مستقل اور دائمی نہیں ہوتے۔ جب اچھے دن آتے ہیں تو آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور یہ اچھے دن عطا کرنے والے کو بھول جاتے ہیں اور ہوا میں ہوتے ہیں ۔ عیش و عشرت میں غرق ہوجاتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے جو منعم حقیقی ہے اور وہ یہ بات پیش نظر نہیں رکھتے کہ اللہ کی رحمت اور خوشحالی بھی ایک امتحان ہوتا ہے لیکن جب اللہ کی مشیت ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مصیبت لاتی ہے تو پھر وہ اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ یقین نہیں کرتے کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے اور یہ بدحالی کی آزمائش ہے۔ لہٰذا اللہ کو یاد کریں اور صبر کریں کہ وہ مشکلات دور کر دے۔ اس کے بجائے وہ مایوس ہوجاتے ہیں اور واہی تواہی بکتے ہیں۔ یہ تصویر ان دلوں کی ہے ، جو اللہ سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو وہ سنن الہیہ کو جانتے ہیں نہ حکمت الہیہ ان کے سمجھ میں آتی ہے۔ یہ لوگ دراصل نہیں جانتے۔ بےعلم ہوتے ہیں ۔ یہ زندگی کے ظاہری حالات کو دیکھ کر ہی فیصلے کرتے ہیں۔
اس نفسیاتی تصویر کشی کے بعد ایک سخت تہدیدی سوال کیا جاتا ہے جس میں ان کے معاملے پر سخت تعجب کا اظہار بھی ہے۔ ان کے اندھے پن اور بےبصیرتی پر ماتم بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خوشحالی اور بدحالی دونوں اللہ کے ایک مستقل قانون قدرت کے مطابق آتی ہیں۔ ان کا تعلق سنن الہیہ اور اللہ کی مشیت سے ہے کیونکہ رحمت بھی وہی کرتا ہے اور مصیبت بھی وہی لاتا ہے۔ وہی رزق میں کشادگی کرتا ہے اور وہی تنگی کرتا ہے۔ سب کچھ اس کی حکمتوں کے تقاضے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس جہان میں ہر وقت اس اصول کے مطابق واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن لوگ اندھے بن جاتے ہیں ، دیکھتے ہی نہیں۔
اولم یروا اللہ ۔۔۔۔۔ ویقدر (30: 37) ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے ، جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے “۔ لہٰذا جب رزق کشادہ ہوجائے تو تکبر اور غرور نہ کرنا چاہئے۔ پھولنا مناسب نہیں ہے اور جب رزق تنگ ہوجائے تو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ یہ تو عارضی حالات ہوتے ہیں ، حکمت الہیہ کے مطابق آتے رہتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے قلب مومن تو یقین کرلیتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ سنت الہیہ اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ اللہ کا نظام مستقل ہے۔ اس کی حکمت کے مطابق روزوشب بدلتے رہتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (30: 37) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں “۔ چونکہ رزق کی کشادگی اور رزق کی تنگی صرف اللہ کے اختیار میں ہے ، وہی ہے جو دیتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے اپنی مشیت کے مطابق لہٰذا وہ تمہیں بتا دیتا ہے کہ تمہاری معیشت کی ترقی کی راہ کون سی ہے اور وہ کون سے معیشت ہے جو ترقی نہیں کرتی۔ حالانکہ لوگ اسے ترقی پذیر معیشت سمجھتے ہیں ، ہدایت ہوتی ہے۔
الروم 30:38
فات ذا القربی ۔۔۔۔۔ ھم المضعفون (38 – 39)
جب تصور یہ ہے کہ تمام دولت اللہ کی ہے اور اللہ نے اپنے بندوں میں سے بعض کو زیادہ اور بعض کو کم دے رکھی ہے۔ اس تصور کے مطابق اللہ تعالیٰ تمام اموال کا مالک اول ہے۔ تو وہ حکم دیتا ہے کہ جو لوگ نادار ہیں ان کی طرف دولت کو منتقل کیا جاتا رہنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اسے ناداروں کا حق کہا ہے۔ یہاں ان ناداروں میں بعض لوگوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
والمسکین وابن السبیل (30: 38) ” رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافر کو “۔ جس دور میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس میں زکوٰۃ کا تعین نہ ہوا تھا۔ نہ اس کے مستحقین کے مدات کا تعین ہوا تھا ۔ اصولاً یہ بات متعین کردی گئی تھی کہ تمام مال دراصل اللہ کی ملکیت میں ہے ، کیونکہ رازق اللہ ہے۔ محتاج لوگوں کا اس مال میں ایک حق متعین ہے اور یہ حق مال کے اصل مالک نے دیا ہے۔ یہ حق ان تک اس شخص کے واسطہ سے پہنچتا ہے جس کے ہاتھ میں مال جمع ہے۔ مال کے بارے میں اسلام کا یہ بنیادی نظریہ ہے۔ اسلام کے اقتصادی اور معاشی نظریات کی اساس یہی تصور ہے کہ اصل مالک اللہ ہے۔ جب مال اللہ کا ہے تو اللہ کی جانب سے عائد شدہ واجبات سب سے پہلے ادا ہوں گے۔ مال کے بارے میں اللہ کے احکام ملکیت ہوں۔ یا احکام ترقی اور تنبیہ ہوں یا احکام انفاق ہوں ، یہ سب لازمی احکام ہیں اور مال کا قابض آزاد نہیں ہے کہ اپنے مال میں جس طرح چاہے تصرف کرے۔
اب یہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جن کو اس نے بطور امانت یہ مال دیا ہے ، کہ تم لوگ کس طریق کار کے مطابق اس مال کو بڑھاؤ گے اور ترقی دو گے۔ بڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے رشتہ داروں ، مسافروں اور مسکینوں پر خرچ کیا جائے۔ یہ سب اللہ کے راستے میں خرچ ہوگا۔
ذلک خیر للذین ۔۔۔۔۔ ہم المفلحون (30: 38) ” یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں “۔ بعض لوگ اپنا مال بطور ہدیہ مالدار لوگوں کو دیتے تھے تاکہ وہ ہدیہ کے جواب میں زیادہ لوٹا دیں۔ دوگنا ، تین گنا ، تو اللہ نے بتایا یہ مال بڑھانے کا طریقہ نہیں ہے۔
وما اتیتم من ۔۔۔۔۔ عند اللہ (30: 39) ” اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہوکر وہ بڑھ جائے تو اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا “۔ روایات میں اس آیت کا یہی مفہوم بتایا گیا ہے لیکن قرآن کی نص عام ہے اور وہ تمام سودی معاملات اس کی زد میں آتے ہیں جن کے ذریعے سے لوگ مال بڑھاتے ہیں چاہے اس کی شکل و صورت جو بھی ہو۔ رہا کے طریق
کے مطابق مال بڑھانے کے بجائے یہ بتایا گیا کہ حقیقی ترقی کی صورت کیا ہے۔
وما اتیتم من زکوۃ ۔۔۔۔ ھم المضعفون (30: 39) ” اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی کے لیے دیتے ہو ، اس کے دینے والے درحقیقت اپنا مال بڑھاتے ہیں “۔ یہ ہے وہ ذریعہ اور طریقہ جو مال کے بڑھانے کا یقینی طریقہ ہے۔ یعنی مال مفت عطا کرو ، کسی جوابی انعام کا انتظار نہ کرو ، کوئی معاوضہ نہ ہو۔ خالص فی سبیل اللہ اور لوجہ اللہ خرچ کرو اس لیے کہ وہی اللہ ہے جو رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور وہی رزق کو تنگ کرنے والا بھی ہے۔ دینے والا اور روکنے والا وہی ہے۔ جو لوگ اللہ کے لیے خرچ کرتے ہیں وہ ان کو کئی گنا زیادہ دیتا ہے اور جو لوگ لوگوں کی خوشنودی کے لیے خرچ کرتے ہیں ، ان کے اموال میں وہ کمی کرتا ہے۔ یہ سودی کاروبار دنیا کا انتظام ہے اور وہ حساب آخرت ہے اور اس میں کئی گنا مال ملتا ہے۔ یہی نفع بخش تجارت ہے ، یہاں بھی اور وہاں بھی۔ اب رزق اور کسب کے زاویہ سے شرک کے مسئلہ کو لیا جاتا ہے ۔ موجودہ لوگوں میں شرک کے آثار اور امم سابقہ میں شرک کے آثار بتائے جاتے ہیں۔
الروم 30:39
فات ذا القربی ۔۔۔۔۔ ھم المضعفون (38 – 39)
جب تصور یہ ہے کہ تمام دولت اللہ کی ہے اور اللہ نے اپنے بندوں میں سے بعض کو زیادہ اور بعض کو کم دے رکھی ہے۔ اس تصور کے مطابق اللہ تعالیٰ تمام اموال کا مالک اول ہے۔ تو وہ حکم دیتا ہے کہ جو لوگ نادار ہیں ان کی طرف دولت کو منتقل کیا جاتا رہنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اسے ناداروں کا حق کہا ہے۔ یہاں ان ناداروں میں بعض لوگوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
والمسکین وابن السبیل (30: 38) ” رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافر کو “۔ جس دور میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس میں زکوٰۃ کا تعین نہ ہوا تھا۔ نہ اس کے مستحقین کے مدات کا تعین ہوا تھا ۔ اصولاً یہ بات متعین کردی گئی تھی کہ تمام مال دراصل اللہ کی ملکیت میں ہے ، کیونکہ رازق اللہ ہے۔ محتاج لوگوں کا اس مال میں ایک حق متعین ہے اور یہ حق مال کے اصل مالک نے دیا ہے۔ یہ حق ان تک اس شخص کے واسطہ سے پہنچتا ہے جس کے ہاتھ میں مال جمع ہے۔ مال کے بارے میں اسلام کا یہ بنیادی نظریہ ہے۔ اسلام کے اقتصادی اور معاشی نظریات کی اساس یہی تصور ہے کہ اصل مالک اللہ ہے۔ جب مال اللہ کا ہے تو اللہ کی جانب سے عائد شدہ واجبات سب سے پہلے ادا ہوں گے۔ مال کے بارے میں اللہ کے احکام ملکیت ہوں۔ یا احکام ترقی اور تنبیہ ہوں یا احکام انفاق ہوں ، یہ سب لازمی احکام ہیں اور مال کا قابض آزاد نہیں ہے کہ اپنے مال میں جس طرح چاہے تصرف کرے۔
اب یہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جن کو اس نے بطور امانت یہ مال دیا ہے ، کہ تم لوگ کس طریق کار کے مطابق اس مال کو بڑھاؤ گے اور ترقی دو گے۔ بڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے رشتہ داروں ، مسافروں اور مسکینوں پر خرچ کیا جائے۔ یہ سب اللہ کے راستے میں خرچ ہوگا۔
ذلک خیر للذین ۔۔۔۔۔ ہم المفلحون (30: 38) ” یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں “۔ بعض لوگ اپنا مال بطور ہدیہ مالدار لوگوں کو دیتے تھے تاکہ وہ ہدیہ کے جواب میں زیادہ لوٹا دیں۔ دوگنا ، تین گنا ، تو اللہ نے بتایا یہ مال بڑھانے کا طریقہ نہیں ہے۔
وما اتیتم من ۔۔۔۔۔ عند اللہ (30: 39) ” اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہوکر وہ بڑھ جائے تو اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا “۔ روایات میں اس آیت کا یہی مفہوم بتایا گیا ہے لیکن قرآن کی نص عام ہے اور وہ تمام سودی معاملات اس کی زد میں آتے ہیں جن کے ذریعے سے لوگ مال بڑھاتے ہیں چاہے اس کی شکل و صورت جو بھی ہو۔ رہا کے طریق
کے مطابق مال بڑھانے کے بجائے یہ بتایا گیا کہ حقیقی ترقی کی صورت کیا ہے۔
وما اتیتم من زکوۃ ۔۔۔۔ ھم المضعفون (30: 39) ” اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی کے لیے دیتے ہو ، اس کے دینے والے درحقیقت اپنا مال بڑھاتے ہیں “۔ یہ ہے وہ ذریعہ اور طریقہ جو مال کے بڑھانے کا یقینی طریقہ ہے۔ یعنی مال مفت عطا کرو ، کسی جوابی انعام کا انتظار نہ کرو ، کوئی معاوضہ نہ ہو۔ خالص فی سبیل اللہ اور لوجہ اللہ خرچ کرو اس لیے کہ وہی اللہ ہے جو رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور وہی رزق کو تنگ کرنے والا بھی ہے۔ دینے والا اور روکنے والا وہی ہے۔ جو لوگ اللہ کے لیے خرچ کرتے ہیں وہ ان کو کئی گنا زیادہ دیتا ہے اور جو لوگ لوگوں کی خوشنودی کے لیے خرچ کرتے ہیں ، ان کے اموال میں وہ کمی کرتا ہے۔ یہ سودی کاروبار دنیا کا انتظام ہے اور وہ حساب آخرت ہے اور اس میں کئی گنا مال ملتا ہے۔ یہی نفع بخش تجارت ہے ، یہاں بھی اور وہاں بھی۔ اب رزق اور کسب کے زاویہ سے شرک کے مسئلہ کو لیا جاتا ہے ۔ موجودہ لوگوں میں شرک کے آثار اور امم سابقہ میں شرک کے آثار بتائے جاتے ہیں۔
الروم 30:40
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (40 – 42)
اللہ ان کی زندگی کی حقیقی صورت حال ان کے سامنے رکھتے ہیں اور ان کے ایسے حالات ان کے سامنے پیش فرماتے ہیں جن کے بارے میں انہیں شک نہیں ہے کہ ان حالات کا موجد اللہ ہے ، یا ایسے حالات جن کے بارے میں وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان کے مزعومہ خدا اور الٰہ ان حالات کے موجد ہیں ، یا شریک ہیں ، یہ کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ وہی ہے جو تمہارا رزاق ہے ، وہی تمہیں مارتا ہے ، وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ جہاں تک تخلیق کا تعلق ہے ، اس کا وہ اقرار کرتے تھے ، جہاں تک رزق کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں بھی وہ یہ دعویٰ نہ کرسکتے تھے کہ ان کے مزعومہ الٰہ ان کو رزق دیتے ہیں۔ رہا مارنا تو وہ اس بات کے سوا اور کوئی دعویٰ نہیں کرسکتے تھے کہ اللہ ہی مارنے والا ہے۔ رہا مسئلہ بعث بعد الموت کا تو اس میں وہ شک کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مسلمات کے ساتھ بعث بعد الموت کو بھی فہرست مسلمات میں پیش فرماتے ہیں تاکہ ان کا شعور جاگ اٹھے۔ اور اس طرح وہ اس کے قائل ہوجائیں۔ یہ براہ راست ان کی فطرت اور وجدان سے ہمکلامی ہے۔ اگرچہ ان کی فطری سوچ کے اندر انحراف آگیا تھا لیکن اگر فطرت کو اصل حالات پر چھوڑا جائے اور انسان فطری انداز میں سوچے تو بعث بعد الموت کے عقیدے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان سے پوچھتے ہیں۔
ھل من شرکاء کم ۔۔۔۔۔ من شئ (30: 40) ” کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے ، جو
ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو “۔ اس سوال کے جواب کا انتظار نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ ایک ایسا سوال ہے جو تردید کے لیے ہے اور ساتھ ساتھ سرزنش بھی جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ بس اس کے بعد یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اللہ اس قسم کے شریکوں سے پاک ہے۔
سبحنہ وتعلیٰ عما یشرکون (30: 40) ” اللہ پاک ہے ، بہت بالا و برتر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانی زندگی کی اصلاح و فساد کا تعلق لوگوں کے اعمال سے ہے۔ جب لوگوں کے دل بگڑ جائیں ، ان کے اعمال خراب ہوں اور ان کے عقائد خراب ہوں تو اس سے نظام ارضی میں خلل پڑجاتا ہے اور خشکی اور تری دونوں اس فساد کی لپیٹ میں آجاتی ہیں۔ لوگوں کی اقدار حیات پر یہ فساد غالب آجاتا ہے۔
ظھر الفساد ۔۔۔۔۔ ایدی الناس (30: 41) ” خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے “۔ دنیا کے نظام میں فساد کا ظہور اور اس کا پھیل جانا بےمقصد نہیں ہوتا۔ اور نہ اچانک بطور اتفاق ہوجاتا ہے۔ یہ اللہ کی تدبیر اور اس کے قوانین فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔
لیذیقھم بعض الذی عملوا (30: 41) ” تاکہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال گا “۔ یعنی جب وہ ایسے اعمال کر رہے ہوں جو شر و فساد کا باعث ہوں اور جب اس عمومی فساد کی لپیٹ میں وہ آجاتے ہیں اور اس کی جلن اور تپش محسوس کرتے ہیں تو امکان پیدا ہوجاتا ہے۔
لعلھم یرجعون (30: 41) ” شاید کہ وہ باز آجائیں “۔ اور عزم کرلیں کہ ہم اس فساد کا مقابلہ کریں گے اور اللہ کی طرف رجوع کرکے عمل صالح شروع کردیں گے اور زندگی کے راست اور درست نظام کو اپنا لیں گے۔ اس سبق کے آخر میں ان کو اس انجام سے ڈرایا جاتا ہے جو زمانہ ما قبل کے مشرکین کو نصیب ہوا۔ اہل مکہ ان میں سے اکثر کے انجام سے واقف بھی تھے کیونکہ وہ اپنے سفروں میں ان کے آثار دیکھا کرتے تھے۔ یہ آثار امام مبین پر تھے۔
الروم 30:41
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (40 – 42)
اللہ ان کی زندگی کی حقیقی صورت حال ان کے سامنے رکھتے ہیں اور ان کے ایسے حالات ان کے سامنے پیش فرماتے ہیں جن کے بارے میں انہیں شک نہیں ہے کہ ان حالات کا موجد اللہ ہے ، یا ایسے حالات جن کے بارے میں وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان کے مزعومہ خدا اور الٰہ ان حالات کے موجد ہیں ، یا شریک ہیں ، یہ کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ وہی ہے جو تمہارا رزاق ہے ، وہی تمہیں مارتا ہے ، وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ جہاں تک تخلیق کا تعلق ہے ، اس کا وہ اقرار کرتے تھے ، جہاں تک رزق کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں بھی وہ یہ دعویٰ نہ کرسکتے تھے کہ ان کے مزعومہ الٰہ ان کو رزق دیتے ہیں۔ رہا مارنا تو وہ اس بات کے سوا اور کوئی دعویٰ نہیں کرسکتے تھے کہ اللہ ہی مارنے والا ہے۔ رہا مسئلہ بعث بعد الموت کا تو اس میں وہ شک کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مسلمات کے ساتھ بعث بعد الموت کو بھی فہرست مسلمات میں پیش فرماتے ہیں تاکہ ان کا شعور جاگ اٹھے۔ اور اس طرح وہ اس کے قائل ہوجائیں۔ یہ براہ راست ان کی فطرت اور وجدان سے ہمکلامی ہے۔ اگرچہ ان کی فطری سوچ کے اندر انحراف آگیا تھا لیکن اگر فطرت کو اصل حالات پر چھوڑا جائے اور انسان فطری انداز میں سوچے تو بعث بعد الموت کے عقیدے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان سے پوچھتے ہیں۔
ھل من شرکاء کم ۔۔۔۔۔ من شئ (30: 40) ” کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے ، جو
ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو “۔ اس سوال کے جواب کا انتظار نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ ایک ایسا سوال ہے جو تردید کے لیے ہے اور ساتھ ساتھ سرزنش بھی جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ بس اس کے بعد یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اللہ اس قسم کے شریکوں سے پاک ہے۔
سبحنہ وتعلیٰ عما یشرکون (30: 40) ” اللہ پاک ہے ، بہت بالا و برتر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانی زندگی کی اصلاح و فساد کا تعلق لوگوں کے اعمال سے ہے۔ جب لوگوں کے دل بگڑ جائیں ، ان کے اعمال خراب ہوں اور ان کے عقائد خراب ہوں تو اس سے نظام ارضی میں خلل پڑجاتا ہے اور خشکی اور تری دونوں اس فساد کی لپیٹ میں آجاتی ہیں۔ لوگوں کی اقدار حیات پر یہ فساد غالب آجاتا ہے۔
ظھر الفساد ۔۔۔۔۔ ایدی الناس (30: 41) ” خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے “۔ دنیا کے نظام میں فساد کا ظہور اور اس کا پھیل جانا بےمقصد نہیں ہوتا۔ اور نہ اچانک بطور اتفاق ہوجاتا ہے۔ یہ اللہ کی تدبیر اور اس کے قوانین فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔
لیذیقھم بعض الذی عملوا (30: 41) ” تاکہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال گا “۔ یعنی جب وہ ایسے اعمال کر رہے ہوں جو شر و فساد کا باعث ہوں اور جب اس عمومی فساد کی لپیٹ میں وہ آجاتے ہیں اور اس کی جلن اور تپش محسوس کرتے ہیں تو امکان پیدا ہوجاتا ہے۔
لعلھم یرجعون (30: 41) ” شاید کہ وہ باز آجائیں “۔ اور عزم کرلیں کہ ہم اس فساد کا مقابلہ کریں گے اور اللہ کی طرف رجوع کرکے عمل صالح شروع کردیں گے اور زندگی کے راست اور درست نظام کو اپنا لیں گے۔ اس سبق کے آخر میں ان کو اس انجام سے ڈرایا جاتا ہے جو زمانہ ما قبل کے مشرکین کو نصیب ہوا۔ اہل مکہ ان میں سے اکثر کے انجام سے واقف بھی تھے کیونکہ وہ اپنے سفروں میں ان کے آثار دیکھا کرتے تھے۔ یہ آثار امام مبین پر تھے۔
الروم 30:42
قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (30: 42) ”(اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ زمین میں چل کر پھر کر دیکھو۔ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوچکا ہے ، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے “۔ ان کا انجام وہ بار بار دیکھتے تھے جب وہ زمین میں پھرتے تھے۔ یہ انجام ایسا تھا جو کسی کو اس رویے پر آمادہ نہ کرتا تھا جو ان لوگوں نے اختیار کیا ہوا تھا۔ یہاں آکر اب دوسرا راستہ بھی بتا دیا جاتا ہے جس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ اور ایک دوسرے بلند افق کی طرف ان کی نظریں مبذول کرائی جاتی ہیں جس کی طرف جانے والے کبھی نامراد نہیں ہوتے۔
الروم 30:43
فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ انہ لا یحب الکفرین (43 – 45)
دین قیم کی طرف متوجہ ہونے والے کے لیے قرآن جو شکل تجویز کرتا ہے وہ نہایت ہی اثر انگیز ہے اور یہ بتاتی ہے کہ متوجہ ہونے والا شخص اپنی پوری توجہ سے اس طرف مڑ گیا ہے۔ وہ سنجیدہ اور سیدھا ہے۔
فاقم وجھک للدین القیم (30: 43) ” اپنا رخ مضبوطی کے ساتھ جما دو دین راست کی سمت میں “۔ نہایت اہتما ، نہایت توجہ ، صددر حکم کے انتظار کی طرح ، نہایت پختگی کے ساتھ اپنا رخ عالم بالا کی طرف کر دو جس طرح ایک فوجی (اٹن شن) کی حالت میں ہوتا ہے۔ دین قیم کی طرف رخ جما دینے کا حکم پہلی مرتبہ اس سورة میں اس وقت آیا تھا جب بات لوگوں کی خواہشات نفسانیہ کے پیچھے وڑنے کے موضوع پر ہو رہی تھی اور مختلف احزاب مختلف سمتوں میں دوڑ رہی تھیں۔ یہاں شرکاء کے مقابلے میں یہ حکم آیا ہے۔ رزق کے اضافے کے مضمون کے موقعہ پر ہے۔ شرک کی وجہ سے فساد پیدا ہونے اور لوگوں کی بدعملی کی وجہ سے پوری دنیا میں فساد پھیلنے کے مضمون کے موقعہ پر یہ حکم آیا ہے۔ اس کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ جس نے اچھے عمل کیے تو وہ اچھا پھل پائیں گے اور جس نے برے کام کیے تو اس کا برا نجام ہوگا۔ یہ دن ایسا ہوگا کہ جہاں لوگوں کے دو فریق ہوں گے ، اہل ایمان اور اہل کفر اور ہر ایک کا اپنا انجام ہوگا اور یہ دن اٹل ہوگا۔
من کفر فعلیہ ۔۔۔۔۔ یمھدون (30: 44) ” جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اس پر اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے ، وہ اپنے ہی لیے (فلاح کا راستہ) صاف کر رہے ہیں “۔ یمھد کا مفہوم ہے تیار کرنا ، کنڑول میں لانا ، پنگھوڑا تیار کرنا جس میں بچہ آرام سے رہتا ہے ، راستہ تیار کرنا ، بستر تیار کرنا ، جس پر آرام کیا جاتا ہے۔ تمام مفاہیم کا مطلب یہ ہے کہ اپنے لیے کسی چیز کو ہموار کرتے ہیں۔ یمھدون سے عمل صالح کے مزاج ، نوعیت اور اس کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کرتے ہیں وہ دراصل خود اپنے لیے آرام ، خوشگواری اور مسرت کا ماحول تیار کرتے ہیں ، یعنی حالت عمل میں بھی ان کو یہ نتائج مل جاتے ہیں ، بعد کی بات تو اور ہے۔ قرآن کے انداز تعبیر یمھدون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔
لیجزی الذین ۔۔۔۔۔ من فضلہ (30: 45) ” تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے “۔ فضل سے جزاء دینے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان جنت کا مستحق صرف اپنے اعمال ہی پر نہیں ہوسکتا۔ انسان جس قدر اعمال بھی کرے ان سے وہ اللہ کے ایک معمولی فضل کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا۔ جنت صرف فضل ربی سے مل سکتی ہے۔ اللہ سبحانہ کافروں کو بہت ہی ناپسند کرتے ہیں۔
انہ لا یحب الکفرین (30: 45) اب یہاں اللہ کی بعض نشانیوں کی سیر کرائی جاتی ہے۔ اللہ کی نشانیاں ہونے کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے وہ فضل و رحمت بھی ہیں۔ ان نشانیوں کی وجہ سے انسان کو رزق فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ان کے لیے ہدایت ہے لیکن وہ اللہ کی ان نشانیوں میں سے بعض کو پہچانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔
الروم 30:44
فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ انہ لا یحب الکفرین (43 – 45)
دین قیم کی طرف متوجہ ہونے والے کے لیے قرآن جو شکل تجویز کرتا ہے وہ نہایت ہی اثر انگیز ہے اور یہ بتاتی ہے کہ متوجہ ہونے والا شخص اپنی پوری توجہ سے اس طرف مڑ گیا ہے۔ وہ سنجیدہ اور سیدھا ہے۔
فاقم وجھک للدین القیم (30: 43) ” اپنا رخ مضبوطی کے ساتھ جما دو دین راست کی سمت میں “۔ نہایت اہتما ، نہایت توجہ ، صددر حکم کے انتظار کی طرح ، نہایت پختگی کے ساتھ اپنا رخ عالم بالا کی طرف کر دو جس طرح ایک فوجی (اٹن شن) کی حالت میں ہوتا ہے۔ دین قیم کی طرف رخ جما دینے کا حکم پہلی مرتبہ اس سورة میں اس وقت آیا تھا جب بات لوگوں کی خواہشات نفسانیہ کے پیچھے وڑنے کے موضوع پر ہو رہی تھی اور مختلف احزاب مختلف سمتوں میں دوڑ رہی تھیں۔ یہاں شرکاء کے مقابلے میں یہ حکم آیا ہے۔ رزق کے اضافے کے مضمون کے موقعہ پر ہے۔ شرک کی وجہ سے فساد پیدا ہونے اور لوگوں کی بدعملی کی وجہ سے پوری دنیا میں فساد پھیلنے کے مضمون کے موقعہ پر یہ حکم آیا ہے۔ اس کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ جس نے اچھے عمل کیے تو وہ اچھا پھل پائیں گے اور جس نے برے کام کیے تو اس کا برا نجام ہوگا۔ یہ دن ایسا ہوگا کہ جہاں لوگوں کے دو فریق ہوں گے ، اہل ایمان اور اہل کفر اور ہر ایک کا اپنا انجام ہوگا اور یہ دن اٹل ہوگا۔
من کفر فعلیہ ۔۔۔۔۔ یمھدون (30: 44) ” جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اس پر اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے ، وہ اپنے ہی لیے (فلاح کا راستہ) صاف کر رہے ہیں “۔ یمھد کا مفہوم ہے تیار کرنا ، کنڑول میں لانا ، پنگھوڑا تیار کرنا جس میں بچہ آرام سے رہتا ہے ، راستہ تیار کرنا ، بستر تیار کرنا ، جس پر آرام کیا جاتا ہے۔ تمام مفاہیم کا مطلب یہ ہے کہ اپنے لیے کسی چیز کو ہموار کرتے ہیں۔ یمھدون سے عمل صالح کے مزاج ، نوعیت اور اس کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کرتے ہیں وہ دراصل خود اپنے لیے آرام ، خوشگواری اور مسرت کا ماحول تیار کرتے ہیں ، یعنی حالت عمل میں بھی ان کو یہ نتائج مل جاتے ہیں ، بعد کی بات تو اور ہے۔ قرآن کے انداز تعبیر یمھدون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔
لیجزی الذین ۔۔۔۔۔ من فضلہ (30: 45) ” تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے “۔ فضل سے جزاء دینے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان جنت کا مستحق صرف اپنے اعمال ہی پر نہیں ہوسکتا۔ انسان جس قدر اعمال بھی کرے ان سے وہ اللہ کے ایک معمولی فضل کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا۔ جنت صرف فضل ربی سے مل سکتی ہے۔ اللہ سبحانہ کافروں کو بہت ہی ناپسند کرتے ہیں۔
انہ لا یحب الکفرین (30: 45) اب یہاں اللہ کی بعض نشانیوں کی سیر کرائی جاتی ہے۔ اللہ کی نشانیاں ہونے کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے وہ فضل و رحمت بھی ہیں۔ ان نشانیوں کی وجہ سے انسان کو رزق فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ان کے لیے ہدایت ہے لیکن وہ اللہ کی ان نشانیوں میں سے بعض کو پہچانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔
الروم 30:45
فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ انہ لا یحب الکفرین (43 – 45)
دین قیم کی طرف متوجہ ہونے والے کے لیے قرآن جو شکل تجویز کرتا ہے وہ نہایت ہی اثر انگیز ہے اور یہ بتاتی ہے کہ متوجہ ہونے والا شخص اپنی پوری توجہ سے اس طرف مڑ گیا ہے۔ وہ سنجیدہ اور سیدھا ہے۔
فاقم وجھک للدین القیم (30: 43) ” اپنا رخ مضبوطی کے ساتھ جما دو دین راست کی سمت میں “۔ نہایت اہتما ، نہایت توجہ ، صددر حکم کے انتظار کی طرح ، نہایت پختگی کے ساتھ اپنا رخ عالم بالا کی طرف کر دو جس طرح ایک فوجی (اٹن شن) کی حالت میں ہوتا ہے۔ دین قیم کی طرف رخ جما دینے کا حکم پہلی مرتبہ اس سورة میں اس وقت آیا تھا جب بات لوگوں کی خواہشات نفسانیہ کے پیچھے وڑنے کے موضوع پر ہو رہی تھی اور مختلف احزاب مختلف سمتوں میں دوڑ رہی تھیں۔ یہاں شرکاء کے مقابلے میں یہ حکم آیا ہے۔ رزق کے اضافے کے مضمون کے موقعہ پر ہے۔ شرک کی وجہ سے فساد پیدا ہونے اور لوگوں کی بدعملی کی وجہ سے پوری دنیا میں فساد پھیلنے کے مضمون کے موقعہ پر یہ حکم آیا ہے۔ اس کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ جس نے اچھے عمل کیے تو وہ اچھا پھل پائیں گے اور جس نے برے کام کیے تو اس کا برا نجام ہوگا۔ یہ دن ایسا ہوگا کہ جہاں لوگوں کے دو فریق ہوں گے ، اہل ایمان اور اہل کفر اور ہر ایک کا اپنا انجام ہوگا اور یہ دن اٹل ہوگا۔
من کفر فعلیہ ۔۔۔۔۔ یمھدون (30: 44) ” جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اس پر اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے ، وہ اپنے ہی لیے (فلاح کا راستہ) صاف کر رہے ہیں “۔ یمھد کا مفہوم ہے تیار کرنا ، کنڑول میں لانا ، پنگھوڑا تیار کرنا جس میں بچہ آرام سے رہتا ہے ، راستہ تیار کرنا ، بستر تیار کرنا ، جس پر آرام کیا جاتا ہے۔ تمام مفاہیم کا مطلب یہ ہے کہ اپنے لیے کسی چیز کو ہموار کرتے ہیں۔ یمھدون سے عمل صالح کے مزاج ، نوعیت اور اس کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کرتے ہیں وہ دراصل خود اپنے لیے آرام ، خوشگواری اور مسرت کا ماحول تیار کرتے ہیں ، یعنی حالت عمل میں بھی ان کو یہ نتائج مل جاتے ہیں ، بعد کی بات تو اور ہے۔ قرآن کے انداز تعبیر یمھدون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔
لیجزی الذین ۔۔۔۔۔ من فضلہ (30: 45) ” تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے “۔ فضل سے جزاء دینے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان جنت کا مستحق صرف اپنے اعمال ہی پر نہیں ہوسکتا۔ انسان جس قدر اعمال بھی کرے ان سے وہ اللہ کے ایک معمولی فضل کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا۔ جنت صرف فضل ربی سے مل سکتی ہے۔ اللہ سبحانہ کافروں کو بہت ہی ناپسند کرتے ہیں۔
انہ لا یحب الکفرین (30: 45) اب یہاں اللہ کی بعض نشانیوں کی سیر کرائی جاتی ہے۔ اللہ کی نشانیاں ہونے کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے وہ فضل و رحمت بھی ہیں۔ ان نشانیوں کی وجہ سے انسان کو رزق فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ان کے لیے ہدایت ہے لیکن وہ اللہ کی ان نشانیوں میں سے بعض کو پہچانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔
الروم 30:46
ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں کی زندگی ان سب امور پر موقوف ہے اور یہ سب امور نظام کائنات کے ساتھ متعلق ہیں۔
ومن ایتہ یرسل الریاح مبشرت (30: 46) ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے “۔ یہ ہوائیں بارشیں برساتی اور پھیلاتی ہیں۔ یہ لوگ بارش برسانے والی ہواؤں کو خوب جانتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کو مہارت اور تجربہ حاصل تھا۔ جب ایسی ہوائیں چلتیں تو یہ لوگ خوش ہوتے۔
ولیذیقکم من رحمتہ (30: 46) ” تاکہ وہ انہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے “۔ اس رحمت کے نتیجے میں سرسبزی اور شادابی اور روئیدگی ہوتی ہے۔
ولتجری الفلک بامرہ (30: 46) ” تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں “۔ یہ کشتیاں اس طرح بھی چلتی ہیں کہ یہ ہوائیں انہیں چلاتی ہیں اور یوں بھی کہ ہواؤں سے بارش برستی ہے ، دریا بہتے ہیں اور ان میں کشتیاں چلتی ہیں۔ یہ ان ظاہری اسباب کے باوجود امر الٰہی سے چلتی ہیں۔ اس سنت الہیہ کے مطابق جس کے مطابق اللہ نے اس کائنات کو بنایا ہے۔ اللہ کے اس نظام تقدیر کے مطابق کہ اللہ نے ہر چیز کے اندر ایک خاصیت مقدر کردی ہے۔ مثلاً یوں کہ پانی کی سطح پر کشتی کو ہلکا بنایا اور وہ چلنے لگی۔ اور یوں کہ یہ کشتی ہوا اور موجوں کے رخ پر اور ہوا اور موجوں کے رخ کے تصاد میں چلے۔ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق بنایا ہے۔
ولتبتغوا من فضلہ (30: 46) ” تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو “۔ یعنی تجارتی سفروں میں اور فصل کاٹنے میں ، لین اور دین میں یہ سب امور اللہ کے فضل سے ہیں اور اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق پیدا کیا ہے۔ ۔۔۔ پورا پورا۔
ولعلکم تشکرون (30: 46) ” تاکہ تم شکر کرو “۔ یہ سب امور فضل الٰہی ہیں اور ان پر تم شکر کرو۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جن کے مقابلے میں بندگان خدا کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی ان نعمتوں کے مناسب رویہ اختیار کریں۔ ہواؤں کے بھیجنے کی طرح رسولوں کا بھیجنا بھی انسانوں پر اللہ کا فضل و کرم ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔ بالبینت (30: 47) ” اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن لوگوں نے اللہ کی اس رحمت کا انتظار نہ کیا حالانکہ اللہ کی یہ رحمت ایسی تھی کہ ان کو اس کا استقبال تو ہواؤں سے زیادہ کرنا چاہئے تھا۔ ان لوگوں نے رسولوں سے کوئی استفادہ نہ کیا حالانکہ یہ نفع زیادہ اور دائمی نفع تھا بمقابلہ بارش اور پانی کے منافع کے اور رسولوں کے مقابلے میں یہ لوگ بٹ گئے۔ ایک گروہ ان ، مجرمین کا تھا جو ایمان نہ لاتے تھے۔ اللہ کی آیات پر تدبر نہ کرتے تھے۔ رسولوں کو اذیت دینے سے بھی نہ چوکتے تھے ، اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے باز رکھنے کے جرم سے بھی باز نہ آتے تھے۔ دوسرا گروہ ان مومنین کا تھا جو اللہ کی آیات کو سمجھ جاتے تھے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ، اللہ کے وعدوں پر اعتماد کرتے تھے اور وہ ان مجرمین کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کرتے۔ بہت زیادہ اذیتیں۔ چناچہ انجام وہی ہوتا تھا جو اللہ کے عدل کے مطابق تھا اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پختہ ہوتا ہے۔
فانتقمنا من الذین ۔۔۔۔۔ نصر المومنین (30: 47) ” پھر جنہوں نے جرم کیا ان سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں “۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے اوپر مومنین کی امداد فرض کرلی۔ اور اسے مومنین پر محض فضل و کرم کے بجائے ان کا حق قرار دیا۔ اسے اس انداز میں موکد قرار دیا اور لازمی قرار دیا کہ اس امداد میں کوئی شک و شبہ نہ رہا اور شک و شبہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب وعدہ کرنے والا اللہ ہو ، جو قوی ، عزیر اور جبار ہے۔ وہ بلند اور اپنے بندوں پر کنٹرول کرنے والا اور حکیم وخبیر ہے۔ یہ اللہ فرماتے ہیں جس کا ارادہ کبھی رد نہیں ہوتا اور اس کی سنت کبھی بھی ٹلنے والی نہیں ہوتی کیونکہ اس کا ناموس فطرت اس پوری کائنات میں جاری ہے۔
بعض اوقات یہ نصرت بظاہر دیر میں آتی ہے لیکن یہ دیر انسانوں کے اپنے اندازوں کے مطابق ہوتی ہے کیونکہ لوگ معاملات کا حساب اپنے پیمانوں سے کرتے ہیں ، اللہ کے پیمانوں سے نہیں کرتے۔ معاملات کا اندازہ اللہ کے اندازوں کے ساتھ نہیں کرتے اور اللہ حکیم اور خبیر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ امداد کا صحیح وقت کون سا ہے۔ اس کا وعدہ اس وقت سچ ہوتا ہے جس وقت اللہ کی مشیت ہو۔ اس کی حکمت کا تقاضا ہو ، اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے اس کی حکمت بعض اوقات انسانوں کو معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات معلوم نہیں ہوتی لیکن اللہ جو چاہتا ہے ، وہی بہتر ہوتا ہے اور اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے وہی صحیح ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کا وعدہ قطعی ہے اور عین الیقین ہے اور صبر کرنے والے ، اس پر بھروسہ کرنے والے بڑے اطمینان سے اس کا انتظار کرتے ہیں۔
اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے ، جو بارشیں برساتی ہیں۔ جن سے زمین زندہ ہوتی ہے حالانکہ وہ مر چکی تھی۔ بس یہی انداز ہوگا حشر میں لوگوں کے اٹھائے جانے کا ۔ یہی انداز ہوگا۔ فصل کی طرف لوگ زمین سے اگ آئیں گے۔ یہ دونوں اس کائنات کے طبیعی سنن ہیں۔
اللہ الذی یرسل الریع (30: 48) ” اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے “۔ یہ ہوائیں اس کے قانون قدرت کے مطابق چلتی ہیں اور یہ قانون اس کائنات میں اچھی طرح متصرف ہے۔
فتثیر سحابا (30: 48) ” وہ بادل اٹھاتی ہیں “۔ اور یہ ہوائیں پانی کے بخارات اٹھاتی ہیں۔ ان بخارات کو وہ آسمانوں میں پھیلاتی ہیں۔ فیبسطہ فی السمآء کیف یشآء (30: 48) ” پھر ان کو آسمانوں میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے “۔
ویجعلہ کسفا (30: 48) ” پھر انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے “۔ یعنی جمع کرتا ہے۔ وہ کثیف اور بوجھل بن جاتے ہیں۔ وہ پھر ایک دوسرے کے اوپر اور نیچے تہوں میں جم جاتے ہیں۔ بعض ٹکڑیوں کا بعض کے ساتھ تصادم ہوتا ہے۔ پھر بجلیاں چمکتی ہیں ۔ فتری الودق یخرج من خللہ (30: 48) ” پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکتے چلے آتے ہیں “۔ ودق کے معنی بارش کے ہیں جو بادلوں سے نکلتی ہے۔
فاذزا اصاب ۔۔۔۔۔ یستبشرون (30: 48) ” یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے ، برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہوجاتے ہیں “۔ اسی خوشی کو اچھی طرح وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی زندگی بارش پر موقوف ہوتی ہے۔ عرب اس منظر سے اچھی طرح واقف تھے جن کی پوری معیشت آسمانوں کے پانیوں پر موقوف تھی اور ہے اس کا تذکرہ وہ اپنے اشعار اور اپنی روایات و محاورات میں بڑی محبت سے کرتے ہیں اور بڑے فخر و مباہات کے ساتھ کرتے ہیں۔
وان کانوا من۔۔۔۔۔ قبلہ لمبلسین (30: 49) ” حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے “۔ یہ تو ہے ان کی حالت اس وقت جب بارش نہ برسی ہوئی تھی۔ وہ مایوس ہوتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ گویا وہ مرنے ہی والے ہیں۔ لیکن جب بارش آجاتی ہے تو وہ خوش و خرم ہوتے ہیں۔
فانظر الی اثر رحمت اللہ (30: 50) ” دیکھو ، اللہ کی رحمت کے اثرات کو “۔ ذرا ان خوش و خرم چہروں کو دیکھو جو بالکل مایوس ہوگئے تھے اور اس زمین پر ان آثار کو دیکھو جو تباہ شدہ تھی اور مردہ تھی۔ اور ذرا اس زندگی میں دیکھو جو زمین پر چلتی پھرتی ہے اور اسے ذرا لوگوں کے دلوں میں دیکھو کہ خوشی کی وجہ سے ان میں کیا کیا امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔
یحی الارض بعد موتھا (30: 50) ” کہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو کس طرح جلا اٹھاتا ہے “۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ اسکے دیکھنے کیے ” کسی زیادہ عقل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی بات دلیل روشن ہے اس پر کہ حشر کے دن اس زمین سے انسان اسی طرح اگ آئیں گے۔ یہ قرآن کریم کا وجدانی طرز استدلال ہے کہ وہ اس کائنات کے قابل مشاہدہ مناظر سے عقائد اور مستقبل کے واقعات اور امکانیات ثابت کرتا ہے۔ قرآن انہی پیش پا افتاد مناظر سے اپنا مدعا ثابت کرتا ہے۔
ان ذلک ۔۔۔۔۔ شئ قدیر (30: 50) ” یقیناً وہ مردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اس زمین پر اللہ کی رحمت کے یہ آثار بتاتے ہیں کہ اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے کہ وہ لوگوں کو اٹھائے گا اور ان کا اچھا یا برا انجام ہوگا ، حسب وعدہ الٰہی
اس حقیقت کی تصویر کشی کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ پانی سے لدے ہوئے بادل لانے والی ہواؤں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور جب وہ اللہ رحمت کے آثار بادلوں اور بارش کی صورت میں دیکھتے ہیں تو خوش و خرم ہوتے ہیں۔ یہی لوگ اگر دیکھیں کہ یہ ہوا اور یہ بادل زرد ہیں ، ان ہواؤں میں پانی کے بجائے گرم ریت اور مٹی بھری ہوئی ہے۔ پانی کا قطرہ بھی نہیں ہے ، اور یہ ہوا ایسی ہے کہ فصلوں کو زرد کرکے رکھ دیتی ہے اور دودھ پلانے والے جانوروں کو خشک کردیتی ہے اور جس سے فصل زرد ہو کر قبل از وقت خشک ہوکر بھوسہ بن جاتی ہے تو ان کی حالت یہ ہوتی ہے :
ولئن ارسلنا ۔۔۔۔۔ بعدہ یکفرون (30: 51) ” اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثرات سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو وہ کفر کرتے رہ جائیں “۔ اس عذاب کو پاکر اور مایوس ہوکر بھی وہ کفر کریں۔ اور اللہ کی قدرت کا اقرار نہ کریں اور اللہ کے سامنے نہ گڑ گڑائیں کہ وہ اس مصیبت کو دور کرے بلکہ کفر کے رویہ ہی پر جم جائیں ، ایمان نہ لائیں اور یہ ہرگز نہ سمجھ سکیں کہ اللہ کی حکمت اور تدبیر کیا کیا کرتی ہیں۔ ان کو ان مصیبتوں کے پیچھے دست قدرت نظر نہ آئے۔ وہ ان واقعات اور حادثات کی تفسیر و تعبیر اس طرح نہ کریں کہ یہ سب کچھ اللہ کے قانون قدرت اور ناموس فطرت کے مطابق ہو رہا ہے ۔ بلکہ ابدی کافرانہ تاویلات ہیں۔ جب لوگ اس حد تک پہنچ جائیں کہ وہ اس دنیا کے واقعات اور حادثات کی تعبیر بھی اپنی خواہشات کے مطابق کرنے لگیں اور ان واقعات کے اندر جو اللہ کے نشانات و اشارات پنہاں تھے ، ان کو سمجھنے کی سعی ہی نہ کریں۔ اپنے ماحول کے اندر غور ہی نہ کریں۔ ان مشاہدات میں ان کو اللہ کی قدرت اور حکمت نظر ہی نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ بس ایسے لوگوں کو ہدایت دینے سے آپ ﷺ معذور ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کے مزاج کے حوالے کردیں کیونکہ ان کی بصیرت اور بصارت دونوں ختم ہوچکی ہیں۔
الروم 30:47
ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں کی زندگی ان سب امور پر موقوف ہے اور یہ سب امور نظام کائنات کے ساتھ متعلق ہیں۔
ومن ایتہ یرسل الریاح مبشرت (30: 46) ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے “۔ یہ ہوائیں بارشیں برساتی اور پھیلاتی ہیں۔ یہ لوگ بارش برسانے والی ہواؤں کو خوب جانتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کو مہارت اور تجربہ حاصل تھا۔ جب ایسی ہوائیں چلتیں تو یہ لوگ خوش ہوتے۔
ولیذیقکم من رحمتہ (30: 46) ” تاکہ وہ انہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے “۔ اس رحمت کے نتیجے میں سرسبزی اور شادابی اور روئیدگی ہوتی ہے۔
ولتجری الفلک بامرہ (30: 46) ” تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں “۔ یہ کشتیاں اس طرح بھی چلتی ہیں کہ یہ ہوائیں انہیں چلاتی ہیں اور یوں بھی کہ ہواؤں سے بارش برستی ہے ، دریا بہتے ہیں اور ان میں کشتیاں چلتی ہیں۔ یہ ان ظاہری اسباب کے باوجود امر الٰہی سے چلتی ہیں۔ اس سنت الہیہ کے مطابق جس کے مطابق اللہ نے اس کائنات کو بنایا ہے۔ اللہ کے اس نظام تقدیر کے مطابق کہ اللہ نے ہر چیز کے اندر ایک خاصیت مقدر کردی ہے۔ مثلاً یوں کہ پانی کی سطح پر کشتی کو ہلکا بنایا اور وہ چلنے لگی۔ اور یوں کہ یہ کشتی ہوا اور موجوں کے رخ پر اور ہوا اور موجوں کے رخ کے تصاد میں چلے۔ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق بنایا ہے۔
ولتبتغوا من فضلہ (30: 46) ” تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو “۔ یعنی تجارتی سفروں میں اور فصل کاٹنے میں ، لین اور دین میں یہ سب امور اللہ کے فضل سے ہیں اور اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق پیدا کیا ہے۔ ۔۔۔ پورا پورا۔
ولعلکم تشکرون (30: 46) ” تاکہ تم شکر کرو “۔ یہ سب امور فضل الٰہی ہیں اور ان پر تم شکر کرو۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جن کے مقابلے میں بندگان خدا کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی ان نعمتوں کے مناسب رویہ اختیار کریں۔ ہواؤں کے بھیجنے کی طرح رسولوں کا بھیجنا بھی انسانوں پر اللہ کا فضل و کرم ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔ بالبینت (30: 47) ” اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن لوگوں نے اللہ کی اس رحمت کا انتظار نہ کیا حالانکہ اللہ کی یہ رحمت ایسی تھی کہ ان کو اس کا استقبال تو ہواؤں سے زیادہ کرنا چاہئے تھا۔ ان لوگوں نے رسولوں سے کوئی استفادہ نہ کیا حالانکہ یہ نفع زیادہ اور دائمی نفع تھا بمقابلہ بارش اور پانی کے منافع کے اور رسولوں کے مقابلے میں یہ لوگ بٹ گئے۔ ایک گروہ ان ، مجرمین کا تھا جو ایمان نہ لاتے تھے۔ اللہ کی آیات پر تدبر نہ کرتے تھے۔ رسولوں کو اذیت دینے سے بھی نہ چوکتے تھے ، اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے باز رکھنے کے جرم سے بھی باز نہ آتے تھے۔ دوسرا گروہ ان مومنین کا تھا جو اللہ کی آیات کو سمجھ جاتے تھے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ، اللہ کے وعدوں پر اعتماد کرتے تھے اور وہ ان مجرمین کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کرتے۔ بہت زیادہ اذیتیں۔ چناچہ انجام وہی ہوتا تھا جو اللہ کے عدل کے مطابق تھا اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پختہ ہوتا ہے۔
فانتقمنا من الذین ۔۔۔۔۔ نصر المومنین (30: 47) ” پھر جنہوں نے جرم کیا ان سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں “۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے اوپر مومنین کی امداد فرض کرلی۔ اور اسے مومنین پر محض فضل و کرم کے بجائے ان کا حق قرار دیا۔ اسے اس انداز میں موکد قرار دیا اور لازمی قرار دیا کہ اس امداد میں کوئی شک و شبہ نہ رہا اور شک و شبہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب وعدہ کرنے والا اللہ ہو ، جو قوی ، عزیر اور جبار ہے۔ وہ بلند اور اپنے بندوں پر کنٹرول کرنے والا اور حکیم وخبیر ہے۔ یہ اللہ فرماتے ہیں جس کا ارادہ کبھی رد نہیں ہوتا اور اس کی سنت کبھی بھی ٹلنے والی نہیں ہوتی کیونکہ اس کا ناموس فطرت اس پوری کائنات میں جاری ہے۔
بعض اوقات یہ نصرت بظاہر دیر میں آتی ہے لیکن یہ دیر انسانوں کے اپنے اندازوں کے مطابق ہوتی ہے کیونکہ لوگ معاملات کا حساب اپنے پیمانوں سے کرتے ہیں ، اللہ کے پیمانوں سے نہیں کرتے۔ معاملات کا اندازہ اللہ کے اندازوں کے ساتھ نہیں کرتے اور اللہ حکیم اور خبیر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ امداد کا صحیح وقت کون سا ہے۔ اس کا وعدہ اس وقت سچ ہوتا ہے جس وقت اللہ کی مشیت ہو۔ اس کی حکمت کا تقاضا ہو ، اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے اس کی حکمت بعض اوقات انسانوں کو معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات معلوم نہیں ہوتی لیکن اللہ جو چاہتا ہے ، وہی بہتر ہوتا ہے اور اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے وہی صحیح ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کا وعدہ قطعی ہے اور عین الیقین ہے اور صبر کرنے والے ، اس پر بھروسہ کرنے والے بڑے اطمینان سے اس کا انتظار کرتے ہیں۔
اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے ، جو بارشیں برساتی ہیں۔ جن سے زمین زندہ ہوتی ہے حالانکہ وہ مر چکی تھی۔ بس یہی انداز ہوگا حشر میں لوگوں کے اٹھائے جانے کا ۔ یہی انداز ہوگا۔ فصل کی طرف لوگ زمین سے اگ آئیں گے۔ یہ دونوں اس کائنات کے طبیعی سنن ہیں۔
اللہ الذی یرسل الریع (30: 48) ” اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے “۔ یہ ہوائیں اس کے قانون قدرت کے مطابق چلتی ہیں اور یہ قانون اس کائنات میں اچھی طرح متصرف ہے۔
فتثیر سحابا (30: 48) ” وہ بادل اٹھاتی ہیں “۔ اور یہ ہوائیں پانی کے بخارات اٹھاتی ہیں۔ ان بخارات کو وہ آسمانوں میں پھیلاتی ہیں۔ فیبسطہ فی السمآء کیف یشآء (30: 48) ” پھر ان کو آسمانوں میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے “۔
ویجعلہ کسفا (30: 48) ” پھر انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے “۔ یعنی جمع کرتا ہے۔ وہ کثیف اور بوجھل بن جاتے ہیں۔ وہ پھر ایک دوسرے کے اوپر اور نیچے تہوں میں جم جاتے ہیں۔ بعض ٹکڑیوں کا بعض کے ساتھ تصادم ہوتا ہے۔ پھر بجلیاں چمکتی ہیں ۔ فتری الودق یخرج من خللہ (30: 48) ” پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکتے چلے آتے ہیں “۔ ودق کے معنی بارش کے ہیں جو بادلوں سے نکلتی ہے۔
فاذزا اصاب ۔۔۔۔۔ یستبشرون (30: 48) ” یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے ، برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہوجاتے ہیں “۔ اسی خوشی کو اچھی طرح وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی زندگی بارش پر موقوف ہوتی ہے۔ عرب اس منظر سے اچھی طرح واقف تھے جن کی پوری معیشت آسمانوں کے پانیوں پر موقوف تھی اور ہے اس کا تذکرہ وہ اپنے اشعار اور اپنی روایات و محاورات میں بڑی محبت سے کرتے ہیں اور بڑے فخر و مباہات کے ساتھ کرتے ہیں۔
وان کانوا من۔۔۔۔۔ قبلہ لمبلسین (30: 49) ” حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے “۔ یہ تو ہے ان کی حالت اس وقت جب بارش نہ برسی ہوئی تھی۔ وہ مایوس ہوتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ گویا وہ مرنے ہی والے ہیں۔ لیکن جب بارش آجاتی ہے تو وہ خوش و خرم ہوتے ہیں۔
فانظر الی اثر رحمت اللہ (30: 50) ” دیکھو ، اللہ کی رحمت کے اثرات کو “۔ ذرا ان خوش و خرم چہروں کو دیکھو جو بالکل مایوس ہوگئے تھے اور اس زمین پر ان آثار کو دیکھو جو تباہ شدہ تھی اور مردہ تھی۔ اور ذرا اس زندگی میں دیکھو جو زمین پر چلتی پھرتی ہے اور اسے ذرا لوگوں کے دلوں میں دیکھو کہ خوشی کی وجہ سے ان میں کیا کیا امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔
یحی الارض بعد موتھا (30: 50) ” کہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو کس طرح جلا اٹھاتا ہے “۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ اسکے دیکھنے کیے ” کسی زیادہ عقل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی بات دلیل روشن ہے اس پر کہ حشر کے دن اس زمین سے انسان اسی طرح اگ آئیں گے۔ یہ قرآن کریم کا وجدانی طرز استدلال ہے کہ وہ اس کائنات کے قابل مشاہدہ مناظر سے عقائد اور مستقبل کے واقعات اور امکانیات ثابت کرتا ہے۔ قرآن انہی پیش پا افتاد مناظر سے اپنا مدعا ثابت کرتا ہے۔
ان ذلک ۔۔۔۔۔ شئ قدیر (30: 50) ” یقیناً وہ مردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اس زمین پر اللہ کی رحمت کے یہ آثار بتاتے ہیں کہ اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے کہ وہ لوگوں کو اٹھائے گا اور ان کا اچھا یا برا انجام ہوگا ، حسب وعدہ الٰہی
اس حقیقت کی تصویر کشی کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ پانی سے لدے ہوئے بادل لانے والی ہواؤں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور جب وہ اللہ رحمت کے آثار بادلوں اور بارش کی صورت میں دیکھتے ہیں تو خوش و خرم ہوتے ہیں۔ یہی لوگ اگر دیکھیں کہ یہ ہوا اور یہ بادل زرد ہیں ، ان ہواؤں میں پانی کے بجائے گرم ریت اور مٹی بھری ہوئی ہے۔ پانی کا قطرہ بھی نہیں ہے ، اور یہ ہوا ایسی ہے کہ فصلوں کو زرد کرکے رکھ دیتی ہے اور دودھ پلانے والے جانوروں کو خشک کردیتی ہے اور جس سے فصل زرد ہو کر قبل از وقت خشک ہوکر بھوسہ بن جاتی ہے تو ان کی حالت یہ ہوتی ہے :
ولئن ارسلنا ۔۔۔۔۔ بعدہ یکفرون (30: 51) ” اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثرات سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو وہ کفر کرتے رہ جائیں “۔ اس عذاب کو پاکر اور مایوس ہوکر بھی وہ کفر کریں۔ اور اللہ کی قدرت کا اقرار نہ کریں اور اللہ کے سامنے نہ گڑ گڑائیں کہ وہ اس مصیبت کو دور کرے بلکہ کفر کے رویہ ہی پر جم جائیں ، ایمان نہ لائیں اور یہ ہرگز نہ سمجھ سکیں کہ اللہ کی حکمت اور تدبیر کیا کیا کرتی ہیں۔ ان کو ان مصیبتوں کے پیچھے دست قدرت نظر نہ آئے۔ وہ ان واقعات اور حادثات کی تفسیر و تعبیر اس طرح نہ کریں کہ یہ سب کچھ اللہ کے قانون قدرت اور ناموس فطرت کے مطابق ہو رہا ہے ۔ بلکہ ابدی کافرانہ تاویلات ہیں۔ جب لوگ اس حد تک پہنچ جائیں کہ وہ اس دنیا کے واقعات اور حادثات کی تعبیر بھی اپنی خواہشات کے مطابق کرنے لگیں اور ان واقعات کے اندر جو اللہ کے نشانات و اشارات پنہاں تھے ، ان کو سمجھنے کی سعی ہی نہ کریں۔ اپنے ماحول کے اندر غور ہی نہ کریں۔ ان مشاہدات میں ان کو اللہ کی قدرت اور حکمت نظر ہی نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ بس ایسے لوگوں کو ہدایت دینے سے آپ ﷺ معذور ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کے مزاج کے حوالے کردیں کیونکہ ان کی بصیرت اور بصارت دونوں ختم ہوچکی ہیں۔
الروم 30:48
ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں کی زندگی ان سب امور پر موقوف ہے اور یہ سب امور نظام کائنات کے ساتھ متعلق ہیں۔
ومن ایتہ یرسل الریاح مبشرت (30: 46) ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے “۔ یہ ہوائیں بارشیں برساتی اور پھیلاتی ہیں۔ یہ لوگ بارش برسانے والی ہواؤں کو خوب جانتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کو مہارت اور تجربہ حاصل تھا۔ جب ایسی ہوائیں چلتیں تو یہ لوگ خوش ہوتے۔
ولیذیقکم من رحمتہ (30: 46) ” تاکہ وہ انہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے “۔ اس رحمت کے نتیجے میں سرسبزی اور شادابی اور روئیدگی ہوتی ہے۔
ولتجری الفلک بامرہ (30: 46) ” تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں “۔ یہ کشتیاں اس طرح بھی چلتی ہیں کہ یہ ہوائیں انہیں چلاتی ہیں اور یوں بھی کہ ہواؤں سے بارش برستی ہے ، دریا بہتے ہیں اور ان میں کشتیاں چلتی ہیں۔ یہ ان ظاہری اسباب کے باوجود امر الٰہی سے چلتی ہیں۔ اس سنت الہیہ کے مطابق جس کے مطابق اللہ نے اس کائنات کو بنایا ہے۔ اللہ کے اس نظام تقدیر کے مطابق کہ اللہ نے ہر چیز کے اندر ایک خاصیت مقدر کردی ہے۔ مثلاً یوں کہ پانی کی سطح پر کشتی کو ہلکا بنایا اور وہ چلنے لگی۔ اور یوں کہ یہ کشتی ہوا اور موجوں کے رخ پر اور ہوا اور موجوں کے رخ کے تصاد میں چلے۔ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق بنایا ہے۔
ولتبتغوا من فضلہ (30: 46) ” تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو “۔ یعنی تجارتی سفروں میں اور فصل کاٹنے میں ، لین اور دین میں یہ سب امور اللہ کے فضل سے ہیں اور اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق پیدا کیا ہے۔ ۔۔۔ پورا پورا۔
ولعلکم تشکرون (30: 46) ” تاکہ تم شکر کرو “۔ یہ سب امور فضل الٰہی ہیں اور ان پر تم شکر کرو۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جن کے مقابلے میں بندگان خدا کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی ان نعمتوں کے مناسب رویہ اختیار کریں۔ ہواؤں کے بھیجنے کی طرح رسولوں کا بھیجنا بھی انسانوں پر اللہ کا فضل و کرم ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔ بالبینت (30: 47) ” اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن لوگوں نے اللہ کی اس رحمت کا انتظار نہ کیا حالانکہ اللہ کی یہ رحمت ایسی تھی کہ ان کو اس کا استقبال تو ہواؤں سے زیادہ کرنا چاہئے تھا۔ ان لوگوں نے رسولوں سے کوئی استفادہ نہ کیا حالانکہ یہ نفع زیادہ اور دائمی نفع تھا بمقابلہ بارش اور پانی کے منافع کے اور رسولوں کے مقابلے میں یہ لوگ بٹ گئے۔ ایک گروہ ان ، مجرمین کا تھا جو ایمان نہ لاتے تھے۔ اللہ کی آیات پر تدبر نہ کرتے تھے۔ رسولوں کو اذیت دینے سے بھی نہ چوکتے تھے ، اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے باز رکھنے کے جرم سے بھی باز نہ آتے تھے۔ دوسرا گروہ ان مومنین کا تھا جو اللہ کی آیات کو سمجھ جاتے تھے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ، اللہ کے وعدوں پر اعتماد کرتے تھے اور وہ ان مجرمین کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کرتے۔ بہت زیادہ اذیتیں۔ چناچہ انجام وہی ہوتا تھا جو اللہ کے عدل کے مطابق تھا اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پختہ ہوتا ہے۔
فانتقمنا من الذین ۔۔۔۔۔ نصر المومنین (30: 47) ” پھر جنہوں نے جرم کیا ان سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں “۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے اوپر مومنین کی امداد فرض کرلی۔ اور اسے مومنین پر محض فضل و کرم کے بجائے ان کا حق قرار دیا۔ اسے اس انداز میں موکد قرار دیا اور لازمی قرار دیا کہ اس امداد میں کوئی شک و شبہ نہ رہا اور شک و شبہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب وعدہ کرنے والا اللہ ہو ، جو قوی ، عزیر اور جبار ہے۔ وہ بلند اور اپنے بندوں پر کنٹرول کرنے والا اور حکیم وخبیر ہے۔ یہ اللہ فرماتے ہیں جس کا ارادہ کبھی رد نہیں ہوتا اور اس کی سنت کبھی بھی ٹلنے والی نہیں ہوتی کیونکہ اس کا ناموس فطرت اس پوری کائنات میں جاری ہے۔
بعض اوقات یہ نصرت بظاہر دیر میں آتی ہے لیکن یہ دیر انسانوں کے اپنے اندازوں کے مطابق ہوتی ہے کیونکہ لوگ معاملات کا حساب اپنے پیمانوں سے کرتے ہیں ، اللہ کے پیمانوں سے نہیں کرتے۔ معاملات کا اندازہ اللہ کے اندازوں کے ساتھ نہیں کرتے اور اللہ حکیم اور خبیر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ امداد کا صحیح وقت کون سا ہے۔ اس کا وعدہ اس وقت سچ ہوتا ہے جس وقت اللہ کی مشیت ہو۔ اس کی حکمت کا تقاضا ہو ، اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے اس کی حکمت بعض اوقات انسانوں کو معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات معلوم نہیں ہوتی لیکن اللہ جو چاہتا ہے ، وہی بہتر ہوتا ہے اور اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے وہی صحیح ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کا وعدہ قطعی ہے اور عین الیقین ہے اور صبر کرنے والے ، اس پر بھروسہ کرنے والے بڑے اطمینان سے اس کا انتظار کرتے ہیں۔
اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے ، جو بارشیں برساتی ہیں۔ جن سے زمین زندہ ہوتی ہے حالانکہ وہ مر چکی تھی۔ بس یہی انداز ہوگا حشر میں لوگوں کے اٹھائے جانے کا ۔ یہی انداز ہوگا۔ فصل کی طرف لوگ زمین سے اگ آئیں گے۔ یہ دونوں اس کائنات کے طبیعی سنن ہیں۔
اللہ الذی یرسل الریع (30: 48) ” اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے “۔ یہ ہوائیں اس کے قانون قدرت کے مطابق چلتی ہیں اور یہ قانون اس کائنات میں اچھی طرح متصرف ہے۔
فتثیر سحابا (30: 48) ” وہ بادل اٹھاتی ہیں “۔ اور یہ ہوائیں پانی کے بخارات اٹھاتی ہیں۔ ان بخارات کو وہ آسمانوں میں پھیلاتی ہیں۔ فیبسطہ فی السمآء کیف یشآء (30: 48) ” پھر ان کو آسمانوں میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے “۔
ویجعلہ کسفا (30: 48) ” پھر انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے “۔ یعنی جمع کرتا ہے۔ وہ کثیف اور بوجھل بن جاتے ہیں۔ وہ پھر ایک دوسرے کے اوپر اور نیچے تہوں میں جم جاتے ہیں۔ بعض ٹکڑیوں کا بعض کے ساتھ تصادم ہوتا ہے۔ پھر بجلیاں چمکتی ہیں ۔ فتری الودق یخرج من خللہ (30: 48) ” پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکتے چلے آتے ہیں “۔ ودق کے معنی بارش کے ہیں جو بادلوں سے نکلتی ہے۔
فاذزا اصاب ۔۔۔۔۔ یستبشرون (30: 48) ” یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے ، برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہوجاتے ہیں “۔ اسی خوشی کو اچھی طرح وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی زندگی بارش پر موقوف ہوتی ہے۔ عرب اس منظر سے اچھی طرح واقف تھے جن کی پوری معیشت آسمانوں کے پانیوں پر موقوف تھی اور ہے اس کا تذکرہ وہ اپنے اشعار اور اپنی روایات و محاورات میں بڑی محبت سے کرتے ہیں اور بڑے فخر و مباہات کے ساتھ کرتے ہیں۔
وان کانوا من۔۔۔۔۔ قبلہ لمبلسین (30: 49) ” حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے “۔ یہ تو ہے ان کی حالت اس وقت جب بارش نہ برسی ہوئی تھی۔ وہ مایوس ہوتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ گویا وہ مرنے ہی والے ہیں۔ لیکن جب بارش آجاتی ہے تو وہ خوش و خرم ہوتے ہیں۔
فانظر الی اثر رحمت اللہ (30: 50) ” دیکھو ، اللہ کی رحمت کے اثرات کو “۔ ذرا ان خوش و خرم چہروں کو دیکھو جو بالکل مایوس ہوگئے تھے اور اس زمین پر ان آثار کو دیکھو جو تباہ شدہ تھی اور مردہ تھی۔ اور ذرا اس زندگی میں دیکھو جو زمین پر چلتی پھرتی ہے اور اسے ذرا لوگوں کے دلوں میں دیکھو کہ خوشی کی وجہ سے ان میں کیا کیا امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔
یحی الارض بعد موتھا (30: 50) ” کہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو کس طرح جلا اٹھاتا ہے “۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ اسکے دیکھنے کیے ” کسی زیادہ عقل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی بات دلیل روشن ہے اس پر کہ حشر کے دن اس زمین سے انسان اسی طرح اگ آئیں گے۔ یہ قرآن کریم کا وجدانی طرز استدلال ہے کہ وہ اس کائنات کے قابل مشاہدہ مناظر سے عقائد اور مستقبل کے واقعات اور امکانیات ثابت کرتا ہے۔ قرآن انہی پیش پا افتاد مناظر سے اپنا مدعا ثابت کرتا ہے۔
ان ذلک ۔۔۔۔۔ شئ قدیر (30: 50) ” یقیناً وہ مردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اس زمین پر اللہ کی رحمت کے یہ آثار بتاتے ہیں کہ اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے کہ وہ لوگوں کو اٹھائے گا اور ان کا اچھا یا برا انجام ہوگا ، حسب وعدہ الٰہی
اس حقیقت کی تصویر کشی کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ پانی سے لدے ہوئے بادل لانے والی ہواؤں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور جب وہ اللہ رحمت کے آثار بادلوں اور بارش کی صورت میں دیکھتے ہیں تو خوش و خرم ہوتے ہیں۔ یہی لوگ اگر دیکھیں کہ یہ ہوا اور یہ بادل زرد ہیں ، ان ہواؤں میں پانی کے بجائے گرم ریت اور مٹی بھری ہوئی ہے۔ پانی کا قطرہ بھی نہیں ہے ، اور یہ ہوا ایسی ہے کہ فصلوں کو زرد کرکے رکھ دیتی ہے اور دودھ پلانے والے جانوروں کو خشک کردیتی ہے اور جس سے فصل زرد ہو کر قبل از وقت خشک ہوکر بھوسہ بن جاتی ہے تو ان کی حالت یہ ہوتی ہے :
ولئن ارسلنا ۔۔۔۔۔ بعدہ یکفرون (30: 51) ” اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثرات سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو وہ کفر کرتے رہ جائیں “۔ اس عذاب کو پاکر اور مایوس ہوکر بھی وہ کفر کریں۔ اور اللہ کی قدرت کا اقرار نہ کریں اور اللہ کے سامنے نہ گڑ گڑائیں کہ وہ اس مصیبت کو دور کرے بلکہ کفر کے رویہ ہی پر جم جائیں ، ایمان نہ لائیں اور یہ ہرگز نہ سمجھ سکیں کہ اللہ کی حکمت اور تدبیر کیا کیا کرتی ہیں۔ ان کو ان مصیبتوں کے پیچھے دست قدرت نظر نہ آئے۔ وہ ان واقعات اور حادثات کی تفسیر و تعبیر اس طرح نہ کریں کہ یہ سب کچھ اللہ کے قانون قدرت اور ناموس فطرت کے مطابق ہو رہا ہے ۔ بلکہ ابدی کافرانہ تاویلات ہیں۔ جب لوگ اس حد تک پہنچ جائیں کہ وہ اس دنیا کے واقعات اور حادثات کی تعبیر بھی اپنی خواہشات کے مطابق کرنے لگیں اور ان واقعات کے اندر جو اللہ کے نشانات و اشارات پنہاں تھے ، ان کو سمجھنے کی سعی ہی نہ کریں۔ اپنے ماحول کے اندر غور ہی نہ کریں۔ ان مشاہدات میں ان کو اللہ کی قدرت اور حکمت نظر ہی نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ بس ایسے لوگوں کو ہدایت دینے سے آپ ﷺ معذور ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کے مزاج کے حوالے کردیں کیونکہ ان کی بصیرت اور بصارت دونوں ختم ہوچکی ہیں۔
الروم 30:49
ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں کی زندگی ان سب امور پر موقوف ہے اور یہ سب امور نظام کائنات کے ساتھ متعلق ہیں۔
ومن ایتہ یرسل الریاح مبشرت (30: 46) ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے “۔ یہ ہوائیں بارشیں برساتی اور پھیلاتی ہیں۔ یہ لوگ بارش برسانے والی ہواؤں کو خوب جانتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کو مہارت اور تجربہ حاصل تھا۔ جب ایسی ہوائیں چلتیں تو یہ لوگ خوش ہوتے۔
ولیذیقکم من رحمتہ (30: 46) ” تاکہ وہ انہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے “۔ اس رحمت کے نتیجے میں سرسبزی اور شادابی اور روئیدگی ہوتی ہے۔
ولتجری الفلک بامرہ (30: 46) ” تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں “۔ یہ کشتیاں اس طرح بھی چلتی ہیں کہ یہ ہوائیں انہیں چلاتی ہیں اور یوں بھی کہ ہواؤں سے بارش برستی ہے ، دریا بہتے ہیں اور ان میں کشتیاں چلتی ہیں۔ یہ ان ظاہری اسباب کے باوجود امر الٰہی سے چلتی ہیں۔ اس سنت الہیہ کے مطابق جس کے مطابق اللہ نے اس کائنات کو بنایا ہے۔ اللہ کے اس نظام تقدیر کے مطابق کہ اللہ نے ہر چیز کے اندر ایک خاصیت مقدر کردی ہے۔ مثلاً یوں کہ پانی کی سطح پر کشتی کو ہلکا بنایا اور وہ چلنے لگی۔ اور یوں کہ یہ کشتی ہوا اور موجوں کے رخ پر اور ہوا اور موجوں کے رخ کے تصاد میں چلے۔ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق بنایا ہے۔
ولتبتغوا من فضلہ (30: 46) ” تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو “۔ یعنی تجارتی سفروں میں اور فصل کاٹنے میں ، لین اور دین میں یہ سب امور اللہ کے فضل سے ہیں اور اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق پیدا کیا ہے۔ ۔۔۔ پورا پورا۔
ولعلکم تشکرون (30: 46) ” تاکہ تم شکر کرو “۔ یہ سب امور فضل الٰہی ہیں اور ان پر تم شکر کرو۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جن کے مقابلے میں بندگان خدا کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی ان نعمتوں کے مناسب رویہ اختیار کریں۔ ہواؤں کے بھیجنے کی طرح رسولوں کا بھیجنا بھی انسانوں پر اللہ کا فضل و کرم ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔ بالبینت (30: 47) ” اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن لوگوں نے اللہ کی اس رحمت کا انتظار نہ کیا حالانکہ اللہ کی یہ رحمت ایسی تھی کہ ان کو اس کا استقبال تو ہواؤں سے زیادہ کرنا چاہئے تھا۔ ان لوگوں نے رسولوں سے کوئی استفادہ نہ کیا حالانکہ یہ نفع زیادہ اور دائمی نفع تھا بمقابلہ بارش اور پانی کے منافع کے اور رسولوں کے مقابلے میں یہ لوگ بٹ گئے۔ ایک گروہ ان ، مجرمین کا تھا جو ایمان نہ لاتے تھے۔ اللہ کی آیات پر تدبر نہ کرتے تھے۔ رسولوں کو اذیت دینے سے بھی نہ چوکتے تھے ، اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے باز رکھنے کے جرم سے بھی باز نہ آتے تھے۔ دوسرا گروہ ان مومنین کا تھا جو اللہ کی آیات کو سمجھ جاتے تھے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ، اللہ کے وعدوں پر اعتماد کرتے تھے اور وہ ان مجرمین کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کرتے۔ بہت زیادہ اذیتیں۔ چناچہ انجام وہی ہوتا تھا جو اللہ کے عدل کے مطابق تھا اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پختہ ہوتا ہے۔
فانتقمنا من الذین ۔۔۔۔۔ نصر المومنین (30: 47) ” پھر جنہوں نے جرم کیا ان سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں “۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے اوپر مومنین کی امداد فرض کرلی۔ اور اسے مومنین پر محض فضل و کرم کے بجائے ان کا حق قرار دیا۔ اسے اس انداز میں موکد قرار دیا اور لازمی قرار دیا کہ اس امداد میں کوئی شک و شبہ نہ رہا اور شک و شبہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب وعدہ کرنے والا اللہ ہو ، جو قوی ، عزیر اور جبار ہے۔ وہ بلند اور اپنے بندوں پر کنٹرول کرنے والا اور حکیم وخبیر ہے۔ یہ اللہ فرماتے ہیں جس کا ارادہ کبھی رد نہیں ہوتا اور اس کی سنت کبھی بھی ٹلنے والی نہیں ہوتی کیونکہ اس کا ناموس فطرت اس پوری کائنات میں جاری ہے۔
بعض اوقات یہ نصرت بظاہر دیر میں آتی ہے لیکن یہ دیر انسانوں کے اپنے اندازوں کے مطابق ہوتی ہے کیونکہ لوگ معاملات کا حساب اپنے پیمانوں سے کرتے ہیں ، اللہ کے پیمانوں سے نہیں کرتے۔ معاملات کا اندازہ اللہ کے اندازوں کے ساتھ نہیں کرتے اور اللہ حکیم اور خبیر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ امداد کا صحیح وقت کون سا ہے۔ اس کا وعدہ اس وقت سچ ہوتا ہے جس وقت اللہ کی مشیت ہو۔ اس کی حکمت کا تقاضا ہو ، اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے اس کی حکمت بعض اوقات انسانوں کو معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات معلوم نہیں ہوتی لیکن اللہ جو چاہتا ہے ، وہی بہتر ہوتا ہے اور اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے وہی صحیح ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کا وعدہ قطعی ہے اور عین الیقین ہے اور صبر کرنے والے ، اس پر بھروسہ کرنے والے بڑے اطمینان سے اس کا انتظار کرتے ہیں۔
اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے ، جو بارشیں برساتی ہیں۔ جن سے زمین زندہ ہوتی ہے حالانکہ وہ مر چکی تھی۔ بس یہی انداز ہوگا حشر میں لوگوں کے اٹھائے جانے کا ۔ یہی انداز ہوگا۔ فصل کی طرف لوگ زمین سے اگ آئیں گے۔ یہ دونوں اس کائنات کے طبیعی سنن ہیں۔
اللہ الذی یرسل الریع (30: 48) ” اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے “۔ یہ ہوائیں اس کے قانون قدرت کے مطابق چلتی ہیں اور یہ قانون اس کائنات میں اچھی طرح متصرف ہے۔
فتثیر سحابا (30: 48) ” وہ بادل اٹھاتی ہیں “۔ اور یہ ہوائیں پانی کے بخارات اٹھاتی ہیں۔ ان بخارات کو وہ آسمانوں میں پھیلاتی ہیں۔ فیبسطہ فی السمآء کیف یشآء (30: 48) ” پھر ان کو آسمانوں میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے “۔
ویجعلہ کسفا (30: 48) ” پھر انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے “۔ یعنی جمع کرتا ہے۔ وہ کثیف اور بوجھل بن جاتے ہیں۔ وہ پھر ایک دوسرے کے اوپر اور نیچے تہوں میں جم جاتے ہیں۔ بعض ٹکڑیوں کا بعض کے ساتھ تصادم ہوتا ہے۔ پھر بجلیاں چمکتی ہیں ۔ فتری الودق یخرج من خللہ (30: 48) ” پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکتے چلے آتے ہیں “۔ ودق کے معنی بارش کے ہیں جو بادلوں سے نکلتی ہے۔
فاذزا اصاب ۔۔۔۔۔ یستبشرون (30: 48) ” یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے ، برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہوجاتے ہیں “۔ اسی خوشی کو اچھی طرح وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی زندگی بارش پر موقوف ہوتی ہے۔ عرب اس منظر سے اچھی طرح واقف تھے جن کی پوری معیشت آسمانوں کے پانیوں پر موقوف تھی اور ہے اس کا تذکرہ وہ اپنے اشعار اور اپنی روایات و محاورات میں بڑی محبت سے کرتے ہیں اور بڑے فخر و مباہات کے ساتھ کرتے ہیں۔
وان کانوا من۔۔۔۔۔ قبلہ لمبلسین (30: 49) ” حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے “۔ یہ تو ہے ان کی حالت اس وقت جب بارش نہ برسی ہوئی تھی۔ وہ مایوس ہوتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ گویا وہ مرنے ہی والے ہیں۔ لیکن جب بارش آجاتی ہے تو وہ خوش و خرم ہوتے ہیں۔
فانظر الی اثر رحمت اللہ (30: 50) ” دیکھو ، اللہ کی رحمت کے اثرات کو “۔ ذرا ان خوش و خرم چہروں کو دیکھو جو بالکل مایوس ہوگئے تھے اور اس زمین پر ان آثار کو دیکھو جو تباہ شدہ تھی اور مردہ تھی۔ اور ذرا اس زندگی میں دیکھو جو زمین پر چلتی پھرتی ہے اور اسے ذرا لوگوں کے دلوں میں دیکھو کہ خوشی کی وجہ سے ان میں کیا کیا امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔
یحی الارض بعد موتھا (30: 50) ” کہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو کس طرح جلا اٹھاتا ہے “۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ اسکے دیکھنے کیے ” کسی زیادہ عقل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی بات دلیل روشن ہے اس پر کہ حشر کے دن اس زمین سے انسان اسی طرح اگ آئیں گے۔ یہ قرآن کریم کا وجدانی طرز استدلال ہے کہ وہ اس کائنات کے قابل مشاہدہ مناظر سے عقائد اور مستقبل کے واقعات اور امکانیات ثابت کرتا ہے۔ قرآن انہی پیش پا افتاد مناظر سے اپنا مدعا ثابت کرتا ہے۔
ان ذلک ۔۔۔۔۔ شئ قدیر (30: 50) ” یقیناً وہ مردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اس زمین پر اللہ کی رحمت کے یہ آثار بتاتے ہیں کہ اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے کہ وہ لوگوں کو اٹھائے گا اور ان کا اچھا یا برا انجام ہوگا ، حسب وعدہ الٰہی
اس حقیقت کی تصویر کشی کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ پانی سے لدے ہوئے بادل لانے والی ہواؤں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور جب وہ اللہ رحمت کے آثار بادلوں اور بارش کی صورت میں دیکھتے ہیں تو خوش و خرم ہوتے ہیں۔ یہی لوگ اگر دیکھیں کہ یہ ہوا اور یہ بادل زرد ہیں ، ان ہواؤں میں پانی کے بجائے گرم ریت اور مٹی بھری ہوئی ہے۔ پانی کا قطرہ بھی نہیں ہے ، اور یہ ہوا ایسی ہے کہ فصلوں کو زرد کرکے رکھ دیتی ہے اور دودھ پلانے والے جانوروں کو خشک کردیتی ہے اور جس سے فصل زرد ہو کر قبل از وقت خشک ہوکر بھوسہ بن جاتی ہے تو ان کی حالت یہ ہوتی ہے :
ولئن ارسلنا ۔۔۔۔۔ بعدہ یکفرون (30: 51) ” اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثرات سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو وہ کفر کرتے رہ جائیں “۔ اس عذاب کو پاکر اور مایوس ہوکر بھی وہ کفر کریں۔ اور اللہ کی قدرت کا اقرار نہ کریں اور اللہ کے سامنے نہ گڑ گڑائیں کہ وہ اس مصیبت کو دور کرے بلکہ کفر کے رویہ ہی پر جم جائیں ، ایمان نہ لائیں اور یہ ہرگز نہ سمجھ سکیں کہ اللہ کی حکمت اور تدبیر کیا کیا کرتی ہیں۔ ان کو ان مصیبتوں کے پیچھے دست قدرت نظر نہ آئے۔ وہ ان واقعات اور حادثات کی تفسیر و تعبیر اس طرح نہ کریں کہ یہ سب کچھ اللہ کے قانون قدرت اور ناموس فطرت کے مطابق ہو رہا ہے ۔ بلکہ ابدی کافرانہ تاویلات ہیں۔ جب لوگ اس حد تک پہنچ جائیں کہ وہ اس دنیا کے واقعات اور حادثات کی تعبیر بھی اپنی خواہشات کے مطابق کرنے لگیں اور ان واقعات کے اندر جو اللہ کے نشانات و اشارات پنہاں تھے ، ان کو سمجھنے کی سعی ہی نہ کریں۔ اپنے ماحول کے اندر غور ہی نہ کریں۔ ان مشاہدات میں ان کو اللہ کی قدرت اور حکمت نظر ہی نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ بس ایسے لوگوں کو ہدایت دینے سے آپ ﷺ معذور ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کے مزاج کے حوالے کردیں کیونکہ ان کی بصیرت اور بصارت دونوں ختم ہوچکی ہیں۔
الروم 30:50
ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں کی زندگی ان سب امور پر موقوف ہے اور یہ سب امور نظام کائنات کے ساتھ متعلق ہیں۔
ومن ایتہ یرسل الریاح مبشرت (30: 46) ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے “۔ یہ ہوائیں بارشیں برساتی اور پھیلاتی ہیں۔ یہ لوگ بارش برسانے والی ہواؤں کو خوب جانتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کو مہارت اور تجربہ حاصل تھا۔ جب ایسی ہوائیں چلتیں تو یہ لوگ خوش ہوتے۔
ولیذیقکم من رحمتہ (30: 46) ” تاکہ وہ انہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے “۔ اس رحمت کے نتیجے میں سرسبزی اور شادابی اور روئیدگی ہوتی ہے۔
ولتجری الفلک بامرہ (30: 46) ” تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں “۔ یہ کشتیاں اس طرح بھی چلتی ہیں کہ یہ ہوائیں انہیں چلاتی ہیں اور یوں بھی کہ ہواؤں سے بارش برستی ہے ، دریا بہتے ہیں اور ان میں کشتیاں چلتی ہیں۔ یہ ان ظاہری اسباب کے باوجود امر الٰہی سے چلتی ہیں۔ اس سنت الہیہ کے مطابق جس کے مطابق اللہ نے اس کائنات کو بنایا ہے۔ اللہ کے اس نظام تقدیر کے مطابق کہ اللہ نے ہر چیز کے اندر ایک خاصیت مقدر کردی ہے۔ مثلاً یوں کہ پانی کی سطح پر کشتی کو ہلکا بنایا اور وہ چلنے لگی۔ اور یوں کہ یہ کشتی ہوا اور موجوں کے رخ پر اور ہوا اور موجوں کے رخ کے تصاد میں چلے۔ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق بنایا ہے۔
ولتبتغوا من فضلہ (30: 46) ” تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو “۔ یعنی تجارتی سفروں میں اور فصل کاٹنے میں ، لین اور دین میں یہ سب امور اللہ کے فضل سے ہیں اور اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق پیدا کیا ہے۔ ۔۔۔ پورا پورا۔
ولعلکم تشکرون (30: 46) ” تاکہ تم شکر کرو “۔ یہ سب امور فضل الٰہی ہیں اور ان پر تم شکر کرو۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جن کے مقابلے میں بندگان خدا کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی ان نعمتوں کے مناسب رویہ اختیار کریں۔ ہواؤں کے بھیجنے کی طرح رسولوں کا بھیجنا بھی انسانوں پر اللہ کا فضل و کرم ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔ بالبینت (30: 47) ” اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن لوگوں نے اللہ کی اس رحمت کا انتظار نہ کیا حالانکہ اللہ کی یہ رحمت ایسی تھی کہ ان کو اس کا استقبال تو ہواؤں سے زیادہ کرنا چاہئے تھا۔ ان لوگوں نے رسولوں سے کوئی استفادہ نہ کیا حالانکہ یہ نفع زیادہ اور دائمی نفع تھا بمقابلہ بارش اور پانی کے منافع کے اور رسولوں کے مقابلے میں یہ لوگ بٹ گئے۔ ایک گروہ ان ، مجرمین کا تھا جو ایمان نہ لاتے تھے۔ اللہ کی آیات پر تدبر نہ کرتے تھے۔ رسولوں کو اذیت دینے سے بھی نہ چوکتے تھے ، اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے باز رکھنے کے جرم سے بھی باز نہ آتے تھے۔ دوسرا گروہ ان مومنین کا تھا جو اللہ کی آیات کو سمجھ جاتے تھے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ، اللہ کے وعدوں پر اعتماد کرتے تھے اور وہ ان مجرمین کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کرتے۔ بہت زیادہ اذیتیں۔ چناچہ انجام وہی ہوتا تھا جو اللہ کے عدل کے مطابق تھا اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پختہ ہوتا ہے۔
فانتقمنا من الذین ۔۔۔۔۔ نصر المومنین (30: 47) ” پھر جنہوں نے جرم کیا ان سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں “۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے اوپر مومنین کی امداد فرض کرلی۔ اور اسے مومنین پر محض فضل و کرم کے بجائے ان کا حق قرار دیا۔ اسے اس انداز میں موکد قرار دیا اور لازمی قرار دیا کہ اس امداد میں کوئی شک و شبہ نہ رہا اور شک و شبہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب وعدہ کرنے والا اللہ ہو ، جو قوی ، عزیر اور جبار ہے۔ وہ بلند اور اپنے بندوں پر کنٹرول کرنے والا اور حکیم وخبیر ہے۔ یہ اللہ فرماتے ہیں جس کا ارادہ کبھی رد نہیں ہوتا اور اس کی سنت کبھی بھی ٹلنے والی نہیں ہوتی کیونکہ اس کا ناموس فطرت اس پوری کائنات میں جاری ہے۔
بعض اوقات یہ نصرت بظاہر دیر میں آتی ہے لیکن یہ دیر انسانوں کے اپنے اندازوں کے مطابق ہوتی ہے کیونکہ لوگ معاملات کا حساب اپنے پیمانوں سے کرتے ہیں ، اللہ کے پیمانوں سے نہیں کرتے۔ معاملات کا اندازہ اللہ کے اندازوں کے ساتھ نہیں کرتے اور اللہ حکیم اور خبیر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ امداد کا صحیح وقت کون سا ہے۔ اس کا وعدہ اس وقت سچ ہوتا ہے جس وقت اللہ کی مشیت ہو۔ اس کی حکمت کا تقاضا ہو ، اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے اس کی حکمت بعض اوقات انسانوں کو معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات معلوم نہیں ہوتی لیکن اللہ جو چاہتا ہے ، وہی بہتر ہوتا ہے اور اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے وہی صحیح ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کا وعدہ قطعی ہے اور عین الیقین ہے اور صبر کرنے والے ، اس پر بھروسہ کرنے والے بڑے اطمینان سے اس کا انتظار کرتے ہیں۔
اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے ، جو بارشیں برساتی ہیں۔ جن سے زمین زندہ ہوتی ہے حالانکہ وہ مر چکی تھی۔ بس یہی انداز ہوگا حشر میں لوگوں کے اٹھائے جانے کا ۔ یہی انداز ہوگا۔ فصل کی طرف لوگ زمین سے اگ آئیں گے۔ یہ دونوں اس کائنات کے طبیعی سنن ہیں۔
اللہ الذی یرسل الریع (30: 48) ” اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے “۔ یہ ہوائیں اس کے قانون قدرت کے مطابق چلتی ہیں اور یہ قانون اس کائنات میں اچھی طرح متصرف ہے۔
فتثیر سحابا (30: 48) ” وہ بادل اٹھاتی ہیں “۔ اور یہ ہوائیں پانی کے بخارات اٹھاتی ہیں۔ ان بخارات کو وہ آسمانوں میں پھیلاتی ہیں۔ فیبسطہ فی السمآء کیف یشآء (30: 48) ” پھر ان کو آسمانوں میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے “۔
ویجعلہ کسفا (30: 48) ” پھر انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے “۔ یعنی جمع کرتا ہے۔ وہ کثیف اور بوجھل بن جاتے ہیں۔ وہ پھر ایک دوسرے کے اوپر اور نیچے تہوں میں جم جاتے ہیں۔ بعض ٹکڑیوں کا بعض کے ساتھ تصادم ہوتا ہے۔ پھر بجلیاں چمکتی ہیں ۔ فتری الودق یخرج من خللہ (30: 48) ” پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکتے چلے آتے ہیں “۔ ودق کے معنی بارش کے ہیں جو بادلوں سے نکلتی ہے۔
فاذزا اصاب ۔۔۔۔۔ یستبشرون (30: 48) ” یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے ، برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہوجاتے ہیں “۔ اسی خوشی کو اچھی طرح وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی زندگی بارش پر موقوف ہوتی ہے۔ عرب اس منظر سے اچھی طرح واقف تھے جن کی پوری معیشت آسمانوں کے پانیوں پر موقوف تھی اور ہے اس کا تذکرہ وہ اپنے اشعار اور اپنی روایات و محاورات میں بڑی محبت سے کرتے ہیں اور بڑے فخر و مباہات کے ساتھ کرتے ہیں۔
وان کانوا من۔۔۔۔۔ قبلہ لمبلسین (30: 49) ” حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے “۔ یہ تو ہے ان کی حالت اس وقت جب بارش نہ برسی ہوئی تھی۔ وہ مایوس ہوتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ گویا وہ مرنے ہی والے ہیں۔ لیکن جب بارش آجاتی ہے تو وہ خوش و خرم ہوتے ہیں۔
فانظر الی اثر رحمت اللہ (30: 50) ” دیکھو ، اللہ کی رحمت کے اثرات کو “۔ ذرا ان خوش و خرم چہروں کو دیکھو جو بالکل مایوس ہوگئے تھے اور اس زمین پر ان آثار کو دیکھو جو تباہ شدہ تھی اور مردہ تھی۔ اور ذرا اس زندگی میں دیکھو جو زمین پر چلتی پھرتی ہے اور اسے ذرا لوگوں کے دلوں میں دیکھو کہ خوشی کی وجہ سے ان میں کیا کیا امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔
یحی الارض بعد موتھا (30: 50) ” کہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو کس طرح جلا اٹھاتا ہے “۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ اسکے دیکھنے کیے ” کسی زیادہ عقل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی بات دلیل روشن ہے اس پر کہ حشر کے دن اس زمین سے انسان اسی طرح اگ آئیں گے۔ یہ قرآن کریم کا وجدانی طرز استدلال ہے کہ وہ اس کائنات کے قابل مشاہدہ مناظر سے عقائد اور مستقبل کے واقعات اور امکانیات ثابت کرتا ہے۔ قرآن انہی پیش پا افتاد مناظر سے اپنا مدعا ثابت کرتا ہے۔
ان ذلک ۔۔۔۔۔ شئ قدیر (30: 50) ” یقیناً وہ مردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اس زمین پر اللہ کی رحمت کے یہ آثار بتاتے ہیں کہ اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے کہ وہ لوگوں کو اٹھائے گا اور ان کا اچھا یا برا انجام ہوگا ، حسب وعدہ الٰہی
اس حقیقت کی تصویر کشی کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ پانی سے لدے ہوئے بادل لانے والی ہواؤں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور جب وہ اللہ رحمت کے آثار بادلوں اور بارش کی صورت میں دیکھتے ہیں تو خوش و خرم ہوتے ہیں۔ یہی لوگ اگر دیکھیں کہ یہ ہوا اور یہ بادل زرد ہیں ، ان ہواؤں میں پانی کے بجائے گرم ریت اور مٹی بھری ہوئی ہے۔ پانی کا قطرہ بھی نہیں ہے ، اور یہ ہوا ایسی ہے کہ فصلوں کو زرد کرکے رکھ دیتی ہے اور دودھ پلانے والے جانوروں کو خشک کردیتی ہے اور جس سے فصل زرد ہو کر قبل از وقت خشک ہوکر بھوسہ بن جاتی ہے تو ان کی حالت یہ ہوتی ہے :
ولئن ارسلنا ۔۔۔۔۔ بعدہ یکفرون (30: 51) ” اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثرات سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو وہ کفر کرتے رہ جائیں “۔ اس عذاب کو پاکر اور مایوس ہوکر بھی وہ کفر کریں۔ اور اللہ کی قدرت کا اقرار نہ کریں اور اللہ کے سامنے نہ گڑ گڑائیں کہ وہ اس مصیبت کو دور کرے بلکہ کفر کے رویہ ہی پر جم جائیں ، ایمان نہ لائیں اور یہ ہرگز نہ سمجھ سکیں کہ اللہ کی حکمت اور تدبیر کیا کیا کرتی ہیں۔ ان کو ان مصیبتوں کے پیچھے دست قدرت نظر نہ آئے۔ وہ ان واقعات اور حادثات کی تفسیر و تعبیر اس طرح نہ کریں کہ یہ سب کچھ اللہ کے قانون قدرت اور ناموس فطرت کے مطابق ہو رہا ہے ۔ بلکہ ابدی کافرانہ تاویلات ہیں۔ جب لوگ اس حد تک پہنچ جائیں کہ وہ اس دنیا کے واقعات اور حادثات کی تعبیر بھی اپنی خواہشات کے مطابق کرنے لگیں اور ان واقعات کے اندر جو اللہ کے نشانات و اشارات پنہاں تھے ، ان کو سمجھنے کی سعی ہی نہ کریں۔ اپنے ماحول کے اندر غور ہی نہ کریں۔ ان مشاہدات میں ان کو اللہ کی قدرت اور حکمت نظر ہی نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ بس ایسے لوگوں کو ہدایت دینے سے آپ ﷺ معذور ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کے مزاج کے حوالے کردیں کیونکہ ان کی بصیرت اور بصارت دونوں ختم ہوچکی ہیں۔
الروم 30:51
ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں کی زندگی ان سب امور پر موقوف ہے اور یہ سب امور نظام کائنات کے ساتھ متعلق ہیں۔
ومن ایتہ یرسل الریاح مبشرت (30: 46) ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے “۔ یہ ہوائیں بارشیں برساتی اور پھیلاتی ہیں۔ یہ لوگ بارش برسانے والی ہواؤں کو خوب جانتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کو مہارت اور تجربہ حاصل تھا۔ جب ایسی ہوائیں چلتیں تو یہ لوگ خوش ہوتے۔
ولیذیقکم من رحمتہ (30: 46) ” تاکہ وہ انہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے “۔ اس رحمت کے نتیجے میں سرسبزی اور شادابی اور روئیدگی ہوتی ہے۔
ولتجری الفلک بامرہ (30: 46) ” تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں “۔ یہ کشتیاں اس طرح بھی چلتی ہیں کہ یہ ہوائیں انہیں چلاتی ہیں اور یوں بھی کہ ہواؤں سے بارش برستی ہے ، دریا بہتے ہیں اور ان میں کشتیاں چلتی ہیں۔ یہ ان ظاہری اسباب کے باوجود امر الٰہی سے چلتی ہیں۔ اس سنت الہیہ کے مطابق جس کے مطابق اللہ نے اس کائنات کو بنایا ہے۔ اللہ کے اس نظام تقدیر کے مطابق کہ اللہ نے ہر چیز کے اندر ایک خاصیت مقدر کردی ہے۔ مثلاً یوں کہ پانی کی سطح پر کشتی کو ہلکا بنایا اور وہ چلنے لگی۔ اور یوں کہ یہ کشتی ہوا اور موجوں کے رخ پر اور ہوا اور موجوں کے رخ کے تصاد میں چلے۔ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق بنایا ہے۔
ولتبتغوا من فضلہ (30: 46) ” تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو “۔ یعنی تجارتی سفروں میں اور فصل کاٹنے میں ، لین اور دین میں یہ سب امور اللہ کے فضل سے ہیں اور اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدار کے مطابق پیدا کیا ہے۔ ۔۔۔ پورا پورا۔
ولعلکم تشکرون (30: 46) ” تاکہ تم شکر کرو “۔ یہ سب امور فضل الٰہی ہیں اور ان پر تم شکر کرو۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جن کے مقابلے میں بندگان خدا کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی ان نعمتوں کے مناسب رویہ اختیار کریں۔ ہواؤں کے بھیجنے کی طرح رسولوں کا بھیجنا بھی انسانوں پر اللہ کا فضل و کرم ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔ بالبینت (30: 47) ” اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے “۔ لیکن لوگوں نے اللہ کی اس رحمت کا انتظار نہ کیا حالانکہ اللہ کی یہ رحمت ایسی تھی کہ ان کو اس کا استقبال تو ہواؤں سے زیادہ کرنا چاہئے تھا۔ ان لوگوں نے رسولوں سے کوئی استفادہ نہ کیا حالانکہ یہ نفع زیادہ اور دائمی نفع تھا بمقابلہ بارش اور پانی کے منافع کے اور رسولوں کے مقابلے میں یہ لوگ بٹ گئے۔ ایک گروہ ان ، مجرمین کا تھا جو ایمان نہ لاتے تھے۔ اللہ کی آیات پر تدبر نہ کرتے تھے۔ رسولوں کو اذیت دینے سے بھی نہ چوکتے تھے ، اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے باز رکھنے کے جرم سے بھی باز نہ آتے تھے۔ دوسرا گروہ ان مومنین کا تھا جو اللہ کی آیات کو سمجھ جاتے تھے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ، اللہ کے وعدوں پر اعتماد کرتے تھے اور وہ ان مجرمین کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کرتے۔ بہت زیادہ اذیتیں۔ چناچہ انجام وہی ہوتا تھا جو اللہ کے عدل کے مطابق تھا اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پختہ ہوتا ہے۔
فانتقمنا من الذین ۔۔۔۔۔ نصر المومنین (30: 47) ” پھر جنہوں نے جرم کیا ان سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں “۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے اوپر مومنین کی امداد فرض کرلی۔ اور اسے مومنین پر محض فضل و کرم کے بجائے ان کا حق قرار دیا۔ اسے اس انداز میں موکد قرار دیا اور لازمی قرار دیا کہ اس امداد میں کوئی شک و شبہ نہ رہا اور شک و شبہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب وعدہ کرنے والا اللہ ہو ، جو قوی ، عزیر اور جبار ہے۔ وہ بلند اور اپنے بندوں پر کنٹرول کرنے والا اور حکیم وخبیر ہے۔ یہ اللہ فرماتے ہیں جس کا ارادہ کبھی رد نہیں ہوتا اور اس کی سنت کبھی بھی ٹلنے والی نہیں ہوتی کیونکہ اس کا ناموس فطرت اس پوری کائنات میں جاری ہے۔
بعض اوقات یہ نصرت بظاہر دیر میں آتی ہے لیکن یہ دیر انسانوں کے اپنے اندازوں کے مطابق ہوتی ہے کیونکہ لوگ معاملات کا حساب اپنے پیمانوں سے کرتے ہیں ، اللہ کے پیمانوں سے نہیں کرتے۔ معاملات کا اندازہ اللہ کے اندازوں کے ساتھ نہیں کرتے اور اللہ حکیم اور خبیر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ امداد کا صحیح وقت کون سا ہے۔ اس کا وعدہ اس وقت سچ ہوتا ہے جس وقت اللہ کی مشیت ہو۔ اس کی حکمت کا تقاضا ہو ، اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے اس کی حکمت بعض اوقات انسانوں کو معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات معلوم نہیں ہوتی لیکن اللہ جو چاہتا ہے ، وہی بہتر ہوتا ہے اور اللہ جو وقت مقرر کرتا ہے وہی صحیح ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کا وعدہ قطعی ہے اور عین الیقین ہے اور صبر کرنے والے ، اس پر بھروسہ کرنے والے بڑے اطمینان سے اس کا انتظار کرتے ہیں۔
اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے ، جو بارشیں برساتی ہیں۔ جن سے زمین زندہ ہوتی ہے حالانکہ وہ مر چکی تھی۔ بس یہی انداز ہوگا حشر میں لوگوں کے اٹھائے جانے کا ۔ یہی انداز ہوگا۔ فصل کی طرف لوگ زمین سے اگ آئیں گے۔ یہ دونوں اس کائنات کے طبیعی سنن ہیں۔
اللہ الذی یرسل الریع (30: 48) ” اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے “۔ یہ ہوائیں اس کے قانون قدرت کے مطابق چلتی ہیں اور یہ قانون اس کائنات میں اچھی طرح متصرف ہے۔
فتثیر سحابا (30: 48) ” وہ بادل اٹھاتی ہیں “۔ اور یہ ہوائیں پانی کے بخارات اٹھاتی ہیں۔ ان بخارات کو وہ آسمانوں میں پھیلاتی ہیں۔ فیبسطہ فی السمآء کیف یشآء (30: 48) ” پھر ان کو آسمانوں میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے “۔
ویجعلہ کسفا (30: 48) ” پھر انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے “۔ یعنی جمع کرتا ہے۔ وہ کثیف اور بوجھل بن جاتے ہیں۔ وہ پھر ایک دوسرے کے اوپر اور نیچے تہوں میں جم جاتے ہیں۔ بعض ٹکڑیوں کا بعض کے ساتھ تصادم ہوتا ہے۔ پھر بجلیاں چمکتی ہیں ۔ فتری الودق یخرج من خللہ (30: 48) ” پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکتے چلے آتے ہیں “۔ ودق کے معنی بارش کے ہیں جو بادلوں سے نکلتی ہے۔
فاذزا اصاب ۔۔۔۔۔ یستبشرون (30: 48) ” یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے ، برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہوجاتے ہیں “۔ اسی خوشی کو اچھی طرح وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی زندگی بارش پر موقوف ہوتی ہے۔ عرب اس منظر سے اچھی طرح واقف تھے جن کی پوری معیشت آسمانوں کے پانیوں پر موقوف تھی اور ہے اس کا تذکرہ وہ اپنے اشعار اور اپنی روایات و محاورات میں بڑی محبت سے کرتے ہیں اور بڑے فخر و مباہات کے ساتھ کرتے ہیں۔
وان کانوا من۔۔۔۔۔ قبلہ لمبلسین (30: 49) ” حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے “۔ یہ تو ہے ان کی حالت اس وقت جب بارش نہ برسی ہوئی تھی۔ وہ مایوس ہوتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ گویا وہ مرنے ہی والے ہیں۔ لیکن جب بارش آجاتی ہے تو وہ خوش و خرم ہوتے ہیں۔
فانظر الی اثر رحمت اللہ (30: 50) ” دیکھو ، اللہ کی رحمت کے اثرات کو “۔ ذرا ان خوش و خرم چہروں کو دیکھو جو بالکل مایوس ہوگئے تھے اور اس زمین پر ان آثار کو دیکھو جو تباہ شدہ تھی اور مردہ تھی۔ اور ذرا اس زندگی میں دیکھو جو زمین پر چلتی پھرتی ہے اور اسے ذرا لوگوں کے دلوں میں دیکھو کہ خوشی کی وجہ سے ان میں کیا کیا امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔
یحی الارض بعد موتھا (30: 50) ” کہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو کس طرح جلا اٹھاتا ہے “۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ اسکے دیکھنے کیے ” کسی زیادہ عقل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی بات دلیل روشن ہے اس پر کہ حشر کے دن اس زمین سے انسان اسی طرح اگ آئیں گے۔ یہ قرآن کریم کا وجدانی طرز استدلال ہے کہ وہ اس کائنات کے قابل مشاہدہ مناظر سے عقائد اور مستقبل کے واقعات اور امکانیات ثابت کرتا ہے۔ قرآن انہی پیش پا افتاد مناظر سے اپنا مدعا ثابت کرتا ہے۔
ان ذلک ۔۔۔۔۔ شئ قدیر (30: 50) ” یقیناً وہ مردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اس زمین پر اللہ کی رحمت کے یہ آثار بتاتے ہیں کہ اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے کہ وہ لوگوں کو اٹھائے گا اور ان کا اچھا یا برا انجام ہوگا ، حسب وعدہ الٰہی
اس حقیقت کی تصویر کشی کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ پانی سے لدے ہوئے بادل لانے والی ہواؤں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور جب وہ اللہ رحمت کے آثار بادلوں اور بارش کی صورت میں دیکھتے ہیں تو خوش و خرم ہوتے ہیں۔ یہی لوگ اگر دیکھیں کہ یہ ہوا اور یہ بادل زرد ہیں ، ان ہواؤں میں پانی کے بجائے گرم ریت اور مٹی بھری ہوئی ہے۔ پانی کا قطرہ بھی نہیں ہے ، اور یہ ہوا ایسی ہے کہ فصلوں کو زرد کرکے رکھ دیتی ہے اور دودھ پلانے والے جانوروں کو خشک کردیتی ہے اور جس سے فصل زرد ہو کر قبل از وقت خشک ہوکر بھوسہ بن جاتی ہے تو ان کی حالت یہ ہوتی ہے :
ولئن ارسلنا ۔۔۔۔۔ بعدہ یکفرون (30: 51) ” اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثرات سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو وہ کفر کرتے رہ جائیں “۔ اس عذاب کو پاکر اور مایوس ہوکر بھی وہ کفر کریں۔ اور اللہ کی قدرت کا اقرار نہ کریں اور اللہ کے سامنے نہ گڑ گڑائیں کہ وہ اس مصیبت کو دور کرے بلکہ کفر کے رویہ ہی پر جم جائیں ، ایمان نہ لائیں اور یہ ہرگز نہ سمجھ سکیں کہ اللہ کی حکمت اور تدبیر کیا کیا کرتی ہیں۔ ان کو ان مصیبتوں کے پیچھے دست قدرت نظر نہ آئے۔ وہ ان واقعات اور حادثات کی تفسیر و تعبیر اس طرح نہ کریں کہ یہ سب کچھ اللہ کے قانون قدرت اور ناموس فطرت کے مطابق ہو رہا ہے ۔ بلکہ ابدی کافرانہ تاویلات ہیں۔ جب لوگ اس حد تک پہنچ جائیں کہ وہ اس دنیا کے واقعات اور حادثات کی تعبیر بھی اپنی خواہشات کے مطابق کرنے لگیں اور ان واقعات کے اندر جو اللہ کے نشانات و اشارات پنہاں تھے ، ان کو سمجھنے کی سعی ہی نہ کریں۔ اپنے ماحول کے اندر غور ہی نہ کریں۔ ان مشاہدات میں ان کو اللہ کی قدرت اور حکمت نظر ہی نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ بس ایسے لوگوں کو ہدایت دینے سے آپ ﷺ معذور ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کے مزاج کے حوالے کردیں کیونکہ ان کی بصیرت اور بصارت دونوں ختم ہوچکی ہیں۔
الروم 30:52
فانک لا تسمع الموتی ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (52 – 53) ، “۔
یہ لوگ مردے ہیں ، ان میں زندگی کی رمق نہیں ، یہ بہرے ہیں ، کوئی آواز نہیں سن سکتے۔ یہ اندھے ہیں ان کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ جو شخص اپنے احساس کے دروازے اس کائنات ثوامیس فطرت کے لیے بند کردیتا ہے اور اسے فطرت کے یہ نشانات نظر نہیں آتے وہ مر چکا ہے۔ اس میں حیات نہیں ہے۔ اگر کوئی زندگی ہے تو پھر یہ حیوانی زندگی ہے بلکہ وہ حیوانوں سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ حیوانوں میں ایک فطری شعور ہوتا ہے اور وہ شعور کبھی بھی غلطی نہیں کرتا۔ جو شخص اللہ کی ان نشانیوں کی پکار نہیں سنتا وہ بالکل بہرہ ہے۔ اگرچہ اس کے کان ہوں اور ان کے ساتھ آواز ٹکراتی ہو۔ جو شخص اس کائنات میں بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا ، وہ اندھا ہے اگرچہ حیوان کی طرح اس کے بڑے بڑے موٹے موٹے دیدے ہوں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (30: 53) ” تم صرف انہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں “۔ ایسے ہی لوگ دعوت کو سنتے ہیں کیونکہ ان کے دل زندہ ہوتے ہیں اور زندہ دراصل دل کی زندگی ہوتی ہے۔ ان کی آنکھیں بینا ہوتی ہیں۔ ان کی قوائے مدر کہ صحیح و سلامت ہوتی ہیں ، لہٰذا وہ سنتے ہیں۔ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ دعوت کی پکار ان کی فطرت سے ٹکراتے ہی ان کے اندر انابت پیدا کرتی ہے۔ اب ذرا انسان کو خود اس کی ذات اور اس کے جسم کی دنیا میں گھمایا جاتا ہے ۔ اپنے ماحول سے لاکر خود اپنے نفس کی وادیوں میں پھرایا جاتا ہے کہ تم پیدا کیسے ہوئے ؟ اس زمین پر تمہاری پیدائش کیسی ہے ؟ زندگی کیسی ہے اور تم مر کس طرح جاتے ہو ؟ اور پھر قیامت کا منظر کیا ہوگا ؟
الروم 30:53
فانک لا تسمع الموتی ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (52 – 53) ، “۔
یہ لوگ مردے ہیں ، ان میں زندگی کی رمق نہیں ، یہ بہرے ہیں ، کوئی آواز نہیں سن سکتے۔ یہ اندھے ہیں ان کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ جو شخص اپنے احساس کے دروازے اس کائنات ثوامیس فطرت کے لیے بند کردیتا ہے اور اسے فطرت کے یہ نشانات نظر نہیں آتے وہ مر چکا ہے۔ اس میں حیات نہیں ہے۔ اگر کوئی زندگی ہے تو پھر یہ حیوانی زندگی ہے بلکہ وہ حیوانوں سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ حیوانوں میں ایک فطری شعور ہوتا ہے اور وہ شعور کبھی بھی غلطی نہیں کرتا۔ جو شخص اللہ کی ان نشانیوں کی پکار نہیں سنتا وہ بالکل بہرہ ہے۔ اگرچہ اس کے کان ہوں اور ان کے ساتھ آواز ٹکراتی ہو۔ جو شخص اس کائنات میں بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا ، وہ اندھا ہے اگرچہ حیوان کی طرح اس کے بڑے بڑے موٹے موٹے دیدے ہوں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (30: 53) ” تم صرف انہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں “۔ ایسے ہی لوگ دعوت کو سنتے ہیں کیونکہ ان کے دل زندہ ہوتے ہیں اور زندہ دراصل دل کی زندگی ہوتی ہے۔ ان کی آنکھیں بینا ہوتی ہیں۔ ان کی قوائے مدر کہ صحیح و سلامت ہوتی ہیں ، لہٰذا وہ سنتے ہیں۔ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ دعوت کی پکار ان کی فطرت سے ٹکراتے ہی ان کے اندر انابت پیدا کرتی ہے۔ اب ذرا انسان کو خود اس کی ذات اور اس کے جسم کی دنیا میں گھمایا جاتا ہے ۔ اپنے ماحول سے لاکر خود اپنے نفس کی وادیوں میں پھرایا جاتا ہے کہ تم پیدا کیسے ہوئے ؟ اس زمین پر تمہاری پیدائش کیسی ہے ؟ زندگی کیسی ہے اور تم مر کس طرح جاتے ہو ؟ اور پھر قیامت کا منظر کیا ہوگا ؟
الروم 30:54
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرتھم ولا ھم یستعتبون (54 – 57 یہ ایک بہت ہی طویل مطالعاتی سفر ہے۔ اس کا آغاز تو انسانی زندگی کے آغاز سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے سامنے ہے اور آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ اس کا آخری حصہ نہایت ہی اگرچہ مشہور نہیں ہے لیکن قرآن کی تصویر کشی ایسے الفاظ میں کرتا ہے کہ گویا وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ ایک ایسا مطالعاتی سفر ہے کہ چشم بینا رکھنے والوں کے لیے اور کھلے کان رکھنے والوں کے لئے اور کان لگا کر سننے والوں کے لیے اس میں سامان عبرت ہے۔
اللہ الذی خلقکم من ضعف (30: 54) ” اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی “۔ یہ کہا کہ تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ یہ نہ کہا کہ تمہیں ضعیف پیدا کیا۔ گویا ان کی حیات کے آغاز کا عنصر ہی ضعیفی ہے اور یہاں جس ضعف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے کئی مفہوم اور مظاہر ہیں اور یہ مظاہر انسان کے اندر قابل مشاہدہ ہیں اور مزید مشاہدات ہوتے جاتے ہیں۔ وہ چھوٹا سا خلیہ جس سے جنین بنتا ہے جو بہت ہی خوردبینی اور چھوٹا سا ہے اور ضعیف ہے۔ پھر جنین اور اس کے تمام مدارج حالت ضعف ہیں۔ پھر زمانہ طفولیت سب کا سب حالت ضعف ہے ، اس وقت تک جب انسان مکمل نوجوان ہوجاتا ہے۔ پھر وہ مادہ جس سے انسان بنتا ہے ، ضعیف ہے مٹی۔ اگر اس میں نفخ زبانی نہ ہوتی تو یہ مٹی ہی ہوتی یا نباتات ہوتے یا حیوانات ہوتے۔ جو انسان کے مقابلے میں سب حالات ضعف ہیں۔ پھر انسان اپنی خواہشات کے سامنے کمزور ہے۔ امتحانات ، میلانات سے اسے مجبور کردیتے ہیں ، اگر اللہ کی جانب سے نفخ روح نہ ہوتا تو انسان اس احسن تقدیم میں نہ ہوتا۔ اس کے اندر یہ صلاحیتیں نہ ہوتیں اور یہ بھی دوسرے حیوانات کی طرح ایک ضعیف اور لاچار حیوان ہوتا۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ (30: 54) ” پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی “۔ ایسی قوت اور ان معنوں میں قوت جن معنوں میں ضعف بیان ہوا۔ جسمانی قوت ، انسانی ساخت میں قوت ، انسان کی نفسیاتی اور روحانی قوت اور انسان کی فکری اور عقلی قوت۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ضعفا وشیبۃ (30: 54) ” پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا “۔ انسانی جسم ڈھیلا پڑگیا ، بڑھاپا دراصل انسان کی تمام قوتوں کے اندر طفولیت کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے اندر نفسیاتی گراوٹ بھی آجاتی ہے اور انسان ضعیف الارادہ ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ایک بوڑھا اس طرح لایعنی باتیں کرتا ہے جس طرح ایک بچہ ہوتا ہے۔ اس کے ارادے کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی۔ بڑھاپے کے ساتھ بالوں کی سفیدی دراصل بڑھاپے کو مجسم کردیتی ہے اور بالوں کی سفیدی کے ساتھ قوائے انسانی کا ضعف سامنے نظر آتا ہے۔ یہ ادوار ، جس سے کوئی فانی چیز نہیں بچ سکتی اور جس شخص کو طویل عمر نصیب ہو ، ان کے اندر کبھی کوئی دور غائب نہیں ہوتا ، کبھی یوں نہیں ہوتا کہ ان میں سے کوئی دور اپنے وقت پر نہ آئے۔ ان ادوار کا اسی ترتیب کے ساتھ ہر شخص پر آنا اس بات کا مظہر ہے کہ یہ انسان کسی مدبر ہستی کے کنڑول میں ہے۔ وہ ہستی جو چاہتی ہے ، تخلیق کرتی ہے ، جو چاہتی ہے ، مقدر بناتی ہے اور جس طرح چاہتی ہے ، ہر مخلوق کے لیے اس کے حالات اور طور طریقوں کا منصوبہ بناتی ہے۔ یہ سب کام اللہ کے پختہ علم ، اس کی تقدیر اور گہری ٹیکنالوجی کے مطابق انجام پاتے ہیں۔
یخلق ما یشآء وھو العلیم القدیر (30: 54) ” وہ جو کچھ چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ، جو سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا اس محکم اور ٹیکنیکل اور نقشے کے مطابق بنی ہوئی اس مخلوق کا کچھ با معنی انجام بھی ہے۔ ہاں اس کا ایک نہایت ہی با معنی انجام اور فلسفہ ہے اور دیکھو اسے ایک منظر میں جو قیامت کے مناظر میں سے ایک پر تاثیر منظر ہے اور حرکت اور مکالموں سے ہر منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔
ویوم تقوم الساعۃ ۔۔۔۔۔ غیر ساعۃ (30: 55) ” اور جب وہ ساعت برپا ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں “۔ ان کے احساس میں دنیا میں گزرا ہوا پورا زمانہ سکڑ جائے گا۔ اس لیے وہ اپنے احساس کے مطابق قسم کھائیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قبروں میں گزرے ہوئے زمانہ کے بارے میں یہ کہہ رہے ہوں کہ
یہ زمانہ اس قدر مختصر تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد پورا زمانہ ہو۔ یعنی زمین کی زندگی کا اور پھر قبروں میں رہنے کا۔
کذلک ۔۔۔۔ یوفکون (30: 55) ” اسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکہ کھایا کرتے تھے “۔ اور حق سے منہ پھیرتے تھے اور دنیا میں بھی انہوں نے واقعات کا صحیح اندازہ نہ لگایا تھا۔ چناچہ اہل علم اور اہل ایمان ان کے اس خیال کی تصحیح کردیں گے۔
وقال الذین ۔۔۔۔۔ کنتم لا تعلمون (30: 56) ” مگر جو اہل علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے ، وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روز حشر تک پڑے رہے ہو ، سو یہ وہی روز حشر ہے ، لیکن تم جانتے نہ تھے “۔ یہ صاحبان علم و بصیرت وہی تھے جو اہل ایمان تھے۔ جنہوں نے حشر پہ یقین کیا ہوا تھا۔ اور انہوں نے وہ حقائق بھی جان لیے تھے جو اس ظاہری دنیا کے پیچھے تھے۔ یہ لوگ بھی معاملے کو اللہ کے علم کے سپرد کردیتے ہیں۔
لقد لبثتم ۔۔۔۔۔ یوم البعث (30: 56) ” درحقیقت اللہ کی کتاب میں تم یوم حشر تک رہے ہو “۔ یہ ہے وہ میعاد مقرر۔ اور اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ حشر تک پہنچتے پہنچتے تمہیں کتنی دیر لگی۔ یہ تھا مقررہ دن اور یہ آگیا دیکھ لو۔
اب یہ منظر ایک اجمالی کلیہ کی شکل میں ختم ہوتا ہے اور اس میں بتایا جاتا ہے کہ اب ظالموں کو کیا حالات پیش آنے والے ہیں جو حشر اور قیامت کی تکذیب کرتے تھے۔
فیومئذ لا ینفع ۔۔۔۔۔ یستعتبون (30: 57) ” پس یہ وہ دن ہوگا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا “۔ نہ ان کی کوئی معذرت قبول ہوگی اور نہ کوئی ان پر عتاب کرے گا کہ تم نے ایسا ایسا کیوں کیا ہے۔ مانگو معافی ، توبہ کرو ، کیونکہ آج تو سزا ہوگی ، یہاں کسی کو کوئی سرزنش نہ ہوگی ، یہ یوم عقاب ہوگا ، یوم عتاب نہ ہوگا۔ اب اس برے اور مایوس کن منظر سے واپس لاکر انہیں ان کے اس حال میں لایا جاتا ہے جس میں وہ اپنے عناد اور تکذیب میں ڈرے ہوئے تھے۔ یہ تھا عناد کا انجام اور یہ تھا تکذیب کا خاتمہ۔
الروم 30:55
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرتھم ولا ھم یستعتبون (54 – 57 یہ ایک بہت ہی طویل مطالعاتی سفر ہے۔ اس کا آغاز تو انسانی زندگی کے آغاز سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے سامنے ہے اور آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ اس کا آخری حصہ نہایت ہی اگرچہ مشہور نہیں ہے لیکن قرآن کی تصویر کشی ایسے الفاظ میں کرتا ہے کہ گویا وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ ایک ایسا مطالعاتی سفر ہے کہ چشم بینا رکھنے والوں کے لیے اور کھلے کان رکھنے والوں کے لئے اور کان لگا کر سننے والوں کے لیے اس میں سامان عبرت ہے۔
اللہ الذی خلقکم من ضعف (30: 54) ” اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی “۔ یہ کہا کہ تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ یہ نہ کہا کہ تمہیں ضعیف پیدا کیا۔ گویا ان کی حیات کے آغاز کا عنصر ہی ضعیفی ہے اور یہاں جس ضعف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے کئی مفہوم اور مظاہر ہیں اور یہ مظاہر انسان کے اندر قابل مشاہدہ ہیں اور مزید مشاہدات ہوتے جاتے ہیں۔ وہ چھوٹا سا خلیہ جس سے جنین بنتا ہے جو بہت ہی خوردبینی اور چھوٹا سا ہے اور ضعیف ہے۔ پھر جنین اور اس کے تمام مدارج حالت ضعف ہیں۔ پھر زمانہ طفولیت سب کا سب حالت ضعف ہے ، اس وقت تک جب انسان مکمل نوجوان ہوجاتا ہے۔ پھر وہ مادہ جس سے انسان بنتا ہے ، ضعیف ہے مٹی۔ اگر اس میں نفخ زبانی نہ ہوتی تو یہ مٹی ہی ہوتی یا نباتات ہوتے یا حیوانات ہوتے۔ جو انسان کے مقابلے میں سب حالات ضعف ہیں۔ پھر انسان اپنی خواہشات کے سامنے کمزور ہے۔ امتحانات ، میلانات سے اسے مجبور کردیتے ہیں ، اگر اللہ کی جانب سے نفخ روح نہ ہوتا تو انسان اس احسن تقدیم میں نہ ہوتا۔ اس کے اندر یہ صلاحیتیں نہ ہوتیں اور یہ بھی دوسرے حیوانات کی طرح ایک ضعیف اور لاچار حیوان ہوتا۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ (30: 54) ” پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی “۔ ایسی قوت اور ان معنوں میں قوت جن معنوں میں ضعف بیان ہوا۔ جسمانی قوت ، انسانی ساخت میں قوت ، انسان کی نفسیاتی اور روحانی قوت اور انسان کی فکری اور عقلی قوت۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ضعفا وشیبۃ (30: 54) ” پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا “۔ انسانی جسم ڈھیلا پڑگیا ، بڑھاپا دراصل انسان کی تمام قوتوں کے اندر طفولیت کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے اندر نفسیاتی گراوٹ بھی آجاتی ہے اور انسان ضعیف الارادہ ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ایک بوڑھا اس طرح لایعنی باتیں کرتا ہے جس طرح ایک بچہ ہوتا ہے۔ اس کے ارادے کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی۔ بڑھاپے کے ساتھ بالوں کی سفیدی دراصل بڑھاپے کو مجسم کردیتی ہے اور بالوں کی سفیدی کے ساتھ قوائے انسانی کا ضعف سامنے نظر آتا ہے۔ یہ ادوار ، جس سے کوئی فانی چیز نہیں بچ سکتی اور جس شخص کو طویل عمر نصیب ہو ، ان کے اندر کبھی کوئی دور غائب نہیں ہوتا ، کبھی یوں نہیں ہوتا کہ ان میں سے کوئی دور اپنے وقت پر نہ آئے۔ ان ادوار کا اسی ترتیب کے ساتھ ہر شخص پر آنا اس بات کا مظہر ہے کہ یہ انسان کسی مدبر ہستی کے کنڑول میں ہے۔ وہ ہستی جو چاہتی ہے ، تخلیق کرتی ہے ، جو چاہتی ہے ، مقدر بناتی ہے اور جس طرح چاہتی ہے ، ہر مخلوق کے لیے اس کے حالات اور طور طریقوں کا منصوبہ بناتی ہے۔ یہ سب کام اللہ کے پختہ علم ، اس کی تقدیر اور گہری ٹیکنالوجی کے مطابق انجام پاتے ہیں۔
یخلق ما یشآء وھو العلیم القدیر (30: 54) ” وہ جو کچھ چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ، جو سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا اس محکم اور ٹیکنیکل اور نقشے کے مطابق بنی ہوئی اس مخلوق کا کچھ با معنی انجام بھی ہے۔ ہاں اس کا ایک نہایت ہی با معنی انجام اور فلسفہ ہے اور دیکھو اسے ایک منظر میں جو قیامت کے مناظر میں سے ایک پر تاثیر منظر ہے اور حرکت اور مکالموں سے ہر منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔
ویوم تقوم الساعۃ ۔۔۔۔۔ غیر ساعۃ (30: 55) ” اور جب وہ ساعت برپا ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں “۔ ان کے احساس میں دنیا میں گزرا ہوا پورا زمانہ سکڑ جائے گا۔ اس لیے وہ اپنے احساس کے مطابق قسم کھائیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قبروں میں گزرے ہوئے زمانہ کے بارے میں یہ کہہ رہے ہوں کہ
یہ زمانہ اس قدر مختصر تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد پورا زمانہ ہو۔ یعنی زمین کی زندگی کا اور پھر قبروں میں رہنے کا۔
کذلک ۔۔۔۔ یوفکون (30: 55) ” اسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکہ کھایا کرتے تھے “۔ اور حق سے منہ پھیرتے تھے اور دنیا میں بھی انہوں نے واقعات کا صحیح اندازہ نہ لگایا تھا۔ چناچہ اہل علم اور اہل ایمان ان کے اس خیال کی تصحیح کردیں گے۔
وقال الذین ۔۔۔۔۔ کنتم لا تعلمون (30: 56) ” مگر جو اہل علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے ، وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روز حشر تک پڑے رہے ہو ، سو یہ وہی روز حشر ہے ، لیکن تم جانتے نہ تھے “۔ یہ صاحبان علم و بصیرت وہی تھے جو اہل ایمان تھے۔ جنہوں نے حشر پہ یقین کیا ہوا تھا۔ اور انہوں نے وہ حقائق بھی جان لیے تھے جو اس ظاہری دنیا کے پیچھے تھے۔ یہ لوگ بھی معاملے کو اللہ کے علم کے سپرد کردیتے ہیں۔
لقد لبثتم ۔۔۔۔۔ یوم البعث (30: 56) ” درحقیقت اللہ کی کتاب میں تم یوم حشر تک رہے ہو “۔ یہ ہے وہ میعاد مقرر۔ اور اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ حشر تک پہنچتے پہنچتے تمہیں کتنی دیر لگی۔ یہ تھا مقررہ دن اور یہ آگیا دیکھ لو۔
اب یہ منظر ایک اجمالی کلیہ کی شکل میں ختم ہوتا ہے اور اس میں بتایا جاتا ہے کہ اب ظالموں کو کیا حالات پیش آنے والے ہیں جو حشر اور قیامت کی تکذیب کرتے تھے۔
فیومئذ لا ینفع ۔۔۔۔۔ یستعتبون (30: 57) ” پس یہ وہ دن ہوگا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا “۔ نہ ان کی کوئی معذرت قبول ہوگی اور نہ کوئی ان پر عتاب کرے گا کہ تم نے ایسا ایسا کیوں کیا ہے۔ مانگو معافی ، توبہ کرو ، کیونکہ آج تو سزا ہوگی ، یہاں کسی کو کوئی سرزنش نہ ہوگی ، یہ یوم عقاب ہوگا ، یوم عتاب نہ ہوگا۔ اب اس برے اور مایوس کن منظر سے واپس لاکر انہیں ان کے اس حال میں لایا جاتا ہے جس میں وہ اپنے عناد اور تکذیب میں ڈرے ہوئے تھے۔ یہ تھا عناد کا انجام اور یہ تھا تکذیب کا خاتمہ۔
الروم 30:56
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرتھم ولا ھم یستعتبون (54 – 57 یہ ایک بہت ہی طویل مطالعاتی سفر ہے۔ اس کا آغاز تو انسانی زندگی کے آغاز سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے سامنے ہے اور آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ اس کا آخری حصہ نہایت ہی اگرچہ مشہور نہیں ہے لیکن قرآن کی تصویر کشی ایسے الفاظ میں کرتا ہے کہ گویا وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ ایک ایسا مطالعاتی سفر ہے کہ چشم بینا رکھنے والوں کے لیے اور کھلے کان رکھنے والوں کے لئے اور کان لگا کر سننے والوں کے لیے اس میں سامان عبرت ہے۔
اللہ الذی خلقکم من ضعف (30: 54) ” اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی “۔ یہ کہا کہ تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ یہ نہ کہا کہ تمہیں ضعیف پیدا کیا۔ گویا ان کی حیات کے آغاز کا عنصر ہی ضعیفی ہے اور یہاں جس ضعف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے کئی مفہوم اور مظاہر ہیں اور یہ مظاہر انسان کے اندر قابل مشاہدہ ہیں اور مزید مشاہدات ہوتے جاتے ہیں۔ وہ چھوٹا سا خلیہ جس سے جنین بنتا ہے جو بہت ہی خوردبینی اور چھوٹا سا ہے اور ضعیف ہے۔ پھر جنین اور اس کے تمام مدارج حالت ضعف ہیں۔ پھر زمانہ طفولیت سب کا سب حالت ضعف ہے ، اس وقت تک جب انسان مکمل نوجوان ہوجاتا ہے۔ پھر وہ مادہ جس سے انسان بنتا ہے ، ضعیف ہے مٹی۔ اگر اس میں نفخ زبانی نہ ہوتی تو یہ مٹی ہی ہوتی یا نباتات ہوتے یا حیوانات ہوتے۔ جو انسان کے مقابلے میں سب حالات ضعف ہیں۔ پھر انسان اپنی خواہشات کے سامنے کمزور ہے۔ امتحانات ، میلانات سے اسے مجبور کردیتے ہیں ، اگر اللہ کی جانب سے نفخ روح نہ ہوتا تو انسان اس احسن تقدیم میں نہ ہوتا۔ اس کے اندر یہ صلاحیتیں نہ ہوتیں اور یہ بھی دوسرے حیوانات کی طرح ایک ضعیف اور لاچار حیوان ہوتا۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ (30: 54) ” پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی “۔ ایسی قوت اور ان معنوں میں قوت جن معنوں میں ضعف بیان ہوا۔ جسمانی قوت ، انسانی ساخت میں قوت ، انسان کی نفسیاتی اور روحانی قوت اور انسان کی فکری اور عقلی قوت۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ضعفا وشیبۃ (30: 54) ” پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا “۔ انسانی جسم ڈھیلا پڑگیا ، بڑھاپا دراصل انسان کی تمام قوتوں کے اندر طفولیت کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے اندر نفسیاتی گراوٹ بھی آجاتی ہے اور انسان ضعیف الارادہ ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ایک بوڑھا اس طرح لایعنی باتیں کرتا ہے جس طرح ایک بچہ ہوتا ہے۔ اس کے ارادے کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی۔ بڑھاپے کے ساتھ بالوں کی سفیدی دراصل بڑھاپے کو مجسم کردیتی ہے اور بالوں کی سفیدی کے ساتھ قوائے انسانی کا ضعف سامنے نظر آتا ہے۔ یہ ادوار ، جس سے کوئی فانی چیز نہیں بچ سکتی اور جس شخص کو طویل عمر نصیب ہو ، ان کے اندر کبھی کوئی دور غائب نہیں ہوتا ، کبھی یوں نہیں ہوتا کہ ان میں سے کوئی دور اپنے وقت پر نہ آئے۔ ان ادوار کا اسی ترتیب کے ساتھ ہر شخص پر آنا اس بات کا مظہر ہے کہ یہ انسان کسی مدبر ہستی کے کنڑول میں ہے۔ وہ ہستی جو چاہتی ہے ، تخلیق کرتی ہے ، جو چاہتی ہے ، مقدر بناتی ہے اور جس طرح چاہتی ہے ، ہر مخلوق کے لیے اس کے حالات اور طور طریقوں کا منصوبہ بناتی ہے۔ یہ سب کام اللہ کے پختہ علم ، اس کی تقدیر اور گہری ٹیکنالوجی کے مطابق انجام پاتے ہیں۔
یخلق ما یشآء وھو العلیم القدیر (30: 54) ” وہ جو کچھ چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ، جو سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا اس محکم اور ٹیکنیکل اور نقشے کے مطابق بنی ہوئی اس مخلوق کا کچھ با معنی انجام بھی ہے۔ ہاں اس کا ایک نہایت ہی با معنی انجام اور فلسفہ ہے اور دیکھو اسے ایک منظر میں جو قیامت کے مناظر میں سے ایک پر تاثیر منظر ہے اور حرکت اور مکالموں سے ہر منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔
ویوم تقوم الساعۃ ۔۔۔۔۔ غیر ساعۃ (30: 55) ” اور جب وہ ساعت برپا ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں “۔ ان کے احساس میں دنیا میں گزرا ہوا پورا زمانہ سکڑ جائے گا۔ اس لیے وہ اپنے احساس کے مطابق قسم کھائیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قبروں میں گزرے ہوئے زمانہ کے بارے میں یہ کہہ رہے ہوں کہ
یہ زمانہ اس قدر مختصر تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد پورا زمانہ ہو۔ یعنی زمین کی زندگی کا اور پھر قبروں میں رہنے کا۔
کذلک ۔۔۔۔ یوفکون (30: 55) ” اسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکہ کھایا کرتے تھے “۔ اور حق سے منہ پھیرتے تھے اور دنیا میں بھی انہوں نے واقعات کا صحیح اندازہ نہ لگایا تھا۔ چناچہ اہل علم اور اہل ایمان ان کے اس خیال کی تصحیح کردیں گے۔
وقال الذین ۔۔۔۔۔ کنتم لا تعلمون (30: 56) ” مگر جو اہل علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے ، وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روز حشر تک پڑے رہے ہو ، سو یہ وہی روز حشر ہے ، لیکن تم جانتے نہ تھے “۔ یہ صاحبان علم و بصیرت وہی تھے جو اہل ایمان تھے۔ جنہوں نے حشر پہ یقین کیا ہوا تھا۔ اور انہوں نے وہ حقائق بھی جان لیے تھے جو اس ظاہری دنیا کے پیچھے تھے۔ یہ لوگ بھی معاملے کو اللہ کے علم کے سپرد کردیتے ہیں۔
لقد لبثتم ۔۔۔۔۔ یوم البعث (30: 56) ” درحقیقت اللہ کی کتاب میں تم یوم حشر تک رہے ہو “۔ یہ ہے وہ میعاد مقرر۔ اور اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ حشر تک پہنچتے پہنچتے تمہیں کتنی دیر لگی۔ یہ تھا مقررہ دن اور یہ آگیا دیکھ لو۔
اب یہ منظر ایک اجمالی کلیہ کی شکل میں ختم ہوتا ہے اور اس میں بتایا جاتا ہے کہ اب ظالموں کو کیا حالات پیش آنے والے ہیں جو حشر اور قیامت کی تکذیب کرتے تھے۔
فیومئذ لا ینفع ۔۔۔۔۔ یستعتبون (30: 57) ” پس یہ وہ دن ہوگا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا “۔ نہ ان کی کوئی معذرت قبول ہوگی اور نہ کوئی ان پر عتاب کرے گا کہ تم نے ایسا ایسا کیوں کیا ہے۔ مانگو معافی ، توبہ کرو ، کیونکہ آج تو سزا ہوگی ، یہاں کسی کو کوئی سرزنش نہ ہوگی ، یہ یوم عقاب ہوگا ، یوم عتاب نہ ہوگا۔ اب اس برے اور مایوس کن منظر سے واپس لاکر انہیں ان کے اس حال میں لایا جاتا ہے جس میں وہ اپنے عناد اور تکذیب میں ڈرے ہوئے تھے۔ یہ تھا عناد کا انجام اور یہ تھا تکذیب کا خاتمہ۔
الروم 30:57
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرتھم ولا ھم یستعتبون (54 – 57 یہ ایک بہت ہی طویل مطالعاتی سفر ہے۔ اس کا آغاز تو انسانی زندگی کے آغاز سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے سامنے ہے اور آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ اس کا آخری حصہ نہایت ہی اگرچہ مشہور نہیں ہے لیکن قرآن کی تصویر کشی ایسے الفاظ میں کرتا ہے کہ گویا وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ ایک ایسا مطالعاتی سفر ہے کہ چشم بینا رکھنے والوں کے لیے اور کھلے کان رکھنے والوں کے لئے اور کان لگا کر سننے والوں کے لیے اس میں سامان عبرت ہے۔
اللہ الذی خلقکم من ضعف (30: 54) ” اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی “۔ یہ کہا کہ تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ یہ نہ کہا کہ تمہیں ضعیف پیدا کیا۔ گویا ان کی حیات کے آغاز کا عنصر ہی ضعیفی ہے اور یہاں جس ضعف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے کئی مفہوم اور مظاہر ہیں اور یہ مظاہر انسان کے اندر قابل مشاہدہ ہیں اور مزید مشاہدات ہوتے جاتے ہیں۔ وہ چھوٹا سا خلیہ جس سے جنین بنتا ہے جو بہت ہی خوردبینی اور چھوٹا سا ہے اور ضعیف ہے۔ پھر جنین اور اس کے تمام مدارج حالت ضعف ہیں۔ پھر زمانہ طفولیت سب کا سب حالت ضعف ہے ، اس وقت تک جب انسان مکمل نوجوان ہوجاتا ہے۔ پھر وہ مادہ جس سے انسان بنتا ہے ، ضعیف ہے مٹی۔ اگر اس میں نفخ زبانی نہ ہوتی تو یہ مٹی ہی ہوتی یا نباتات ہوتے یا حیوانات ہوتے۔ جو انسان کے مقابلے میں سب حالات ضعف ہیں۔ پھر انسان اپنی خواہشات کے سامنے کمزور ہے۔ امتحانات ، میلانات سے اسے مجبور کردیتے ہیں ، اگر اللہ کی جانب سے نفخ روح نہ ہوتا تو انسان اس احسن تقدیم میں نہ ہوتا۔ اس کے اندر یہ صلاحیتیں نہ ہوتیں اور یہ بھی دوسرے حیوانات کی طرح ایک ضعیف اور لاچار حیوان ہوتا۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ (30: 54) ” پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی “۔ ایسی قوت اور ان معنوں میں قوت جن معنوں میں ضعف بیان ہوا۔ جسمانی قوت ، انسانی ساخت میں قوت ، انسان کی نفسیاتی اور روحانی قوت اور انسان کی فکری اور عقلی قوت۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ضعفا وشیبۃ (30: 54) ” پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا “۔ انسانی جسم ڈھیلا پڑگیا ، بڑھاپا دراصل انسان کی تمام قوتوں کے اندر طفولیت کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے اندر نفسیاتی گراوٹ بھی آجاتی ہے اور انسان ضعیف الارادہ ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ایک بوڑھا اس طرح لایعنی باتیں کرتا ہے جس طرح ایک بچہ ہوتا ہے۔ اس کے ارادے کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی۔ بڑھاپے کے ساتھ بالوں کی سفیدی دراصل بڑھاپے کو مجسم کردیتی ہے اور بالوں کی سفیدی کے ساتھ قوائے انسانی کا ضعف سامنے نظر آتا ہے۔ یہ ادوار ، جس سے کوئی فانی چیز نہیں بچ سکتی اور جس شخص کو طویل عمر نصیب ہو ، ان کے اندر کبھی کوئی دور غائب نہیں ہوتا ، کبھی یوں نہیں ہوتا کہ ان میں سے کوئی دور اپنے وقت پر نہ آئے۔ ان ادوار کا اسی ترتیب کے ساتھ ہر شخص پر آنا اس بات کا مظہر ہے کہ یہ انسان کسی مدبر ہستی کے کنڑول میں ہے۔ وہ ہستی جو چاہتی ہے ، تخلیق کرتی ہے ، جو چاہتی ہے ، مقدر بناتی ہے اور جس طرح چاہتی ہے ، ہر مخلوق کے لیے اس کے حالات اور طور طریقوں کا منصوبہ بناتی ہے۔ یہ سب کام اللہ کے پختہ علم ، اس کی تقدیر اور گہری ٹیکنالوجی کے مطابق انجام پاتے ہیں۔
یخلق ما یشآء وھو العلیم القدیر (30: 54) ” وہ جو کچھ چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ، جو سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا اس محکم اور ٹیکنیکل اور نقشے کے مطابق بنی ہوئی اس مخلوق کا کچھ با معنی انجام بھی ہے۔ ہاں اس کا ایک نہایت ہی با معنی انجام اور فلسفہ ہے اور دیکھو اسے ایک منظر میں جو قیامت کے مناظر میں سے ایک پر تاثیر منظر ہے اور حرکت اور مکالموں سے ہر منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔
ویوم تقوم الساعۃ ۔۔۔۔۔ غیر ساعۃ (30: 55) ” اور جب وہ ساعت برپا ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں “۔ ان کے احساس میں دنیا میں گزرا ہوا پورا زمانہ سکڑ جائے گا۔ اس لیے وہ اپنے احساس کے مطابق قسم کھائیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قبروں میں گزرے ہوئے زمانہ کے بارے میں یہ کہہ رہے ہوں کہ
یہ زمانہ اس قدر مختصر تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد پورا زمانہ ہو۔ یعنی زمین کی زندگی کا اور پھر قبروں میں رہنے کا۔
کذلک ۔۔۔۔ یوفکون (30: 55) ” اسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکہ کھایا کرتے تھے “۔ اور حق سے منہ پھیرتے تھے اور دنیا میں بھی انہوں نے واقعات کا صحیح اندازہ نہ لگایا تھا۔ چناچہ اہل علم اور اہل ایمان ان کے اس خیال کی تصحیح کردیں گے۔
وقال الذین ۔۔۔۔۔ کنتم لا تعلمون (30: 56) ” مگر جو اہل علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے ، وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روز حشر تک پڑے رہے ہو ، سو یہ وہی روز حشر ہے ، لیکن تم جانتے نہ تھے “۔ یہ صاحبان علم و بصیرت وہی تھے جو اہل ایمان تھے۔ جنہوں نے حشر پہ یقین کیا ہوا تھا۔ اور انہوں نے وہ حقائق بھی جان لیے تھے جو اس ظاہری دنیا کے پیچھے تھے۔ یہ لوگ بھی معاملے کو اللہ کے علم کے سپرد کردیتے ہیں۔
لقد لبثتم ۔۔۔۔۔ یوم البعث (30: 56) ” درحقیقت اللہ کی کتاب میں تم یوم حشر تک رہے ہو “۔ یہ ہے وہ میعاد مقرر۔ اور اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ حشر تک پہنچتے پہنچتے تمہیں کتنی دیر لگی۔ یہ تھا مقررہ دن اور یہ آگیا دیکھ لو۔
اب یہ منظر ایک اجمالی کلیہ کی شکل میں ختم ہوتا ہے اور اس میں بتایا جاتا ہے کہ اب ظالموں کو کیا حالات پیش آنے والے ہیں جو حشر اور قیامت کی تکذیب کرتے تھے۔
فیومئذ لا ینفع ۔۔۔۔۔ یستعتبون (30: 57) ” پس یہ وہ دن ہوگا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا “۔ نہ ان کی کوئی معذرت قبول ہوگی اور نہ کوئی ان پر عتاب کرے گا کہ تم نے ایسا ایسا کیوں کیا ہے۔ مانگو معافی ، توبہ کرو ، کیونکہ آج تو سزا ہوگی ، یہاں کسی کو کوئی سرزنش نہ ہوگی ، یہ یوم عقاب ہوگا ، یوم عتاب نہ ہوگا۔ اب اس برے اور مایوس کن منظر سے واپس لاکر انہیں ان کے اس حال میں لایا جاتا ہے جس میں وہ اپنے عناد اور تکذیب میں ڈرے ہوئے تھے۔ یہ تھا عناد کا انجام اور یہ تھا تکذیب کا خاتمہ۔
الروم 30:58
ولقد ضربنا للناس ۔۔۔۔۔۔ لا یعلمون (58 – 59)
سیاق کلام میں اور مخاطبین کے زمان و مکان میں یکایک تبدیلی آگئی۔ یہ بہت ہی دور رس تبدیلی ہے لیکن یہاں دوریوں کے فاصلے سمیٹ لیے جاتے ہیں اور جس مقام پر اب ہم کھڑے ہیں وہ بہت ہی قریب نظر آتا ہے۔ دوبارہ ہم قرآن کے سامنے ہیں اور اس کی اعلیٰ مثالیں سن رہے ہیں۔ قرآن کے مختلف اور متنوع اسالیب کلام ہمارے سامنے ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر اسلوب اور ہر طریقے سے دلوں میں بات اتارنے کی سعی کی گئی ہے اور جس کے اندر بیشمار ایسے لمحات آتے ہیں جو انسان پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ قرآن ہر دل سے ہم کلام ہے ، ہر درجے کی عقل سے مخاطب ہے۔ ہر معاشرے اور ہر تہذیب سے اس کے مکالمات بقدر الناس ہیں۔ وہ نفس انسانی کو اس کے مختلف حالات میں خطاب کرتا ہے۔ انسان کے حالات واطوار میں سے ہر حال اور ہر طور کو زیر بحث لاتا ہے۔ لیکن ان ہمہ گیر اور ہمہ جہت مساعی کے بعد بھی لوگ تکذیب پر تلے ہوئے ہیں۔ اور یہ اللہ کی نشانیوں اور آیات کی تکذیب پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ صحیح علم رکھنے والوں پر دست درازیاں بھی کرتے ہیں اور الٹا ان پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ لوگ باطل پرست ہیں۔
لئن جئتھم بایۃ ۔۔۔۔۔ الا مبطلون (30: 58) ” تم خواہ کوئی نشانی لے کر آجاؤ ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے ، وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو “۔ پھر زبانوں پر یہ تبصرہ آتا ہے :
کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون (30: 58) ” اس طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو بےعلم ہیں “۔ یوں ، یعنی اس طریقے کے مطابق اور ان وجوہات سے۔ یہ لوگ جو نہیں جانتے ان کے دلوں پر مہریں لگ گئی ہیں۔ ان کی چشم بصیرت اللہ کی آیات اور اس کے نشانات کو دیکھنے کے لیے کھلتی ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ اہل علم اور اہل ہدایت پر دست درازی کرتے ہیں۔ یہی وہ ہے کہ وہ اس بات کے مستحق بن گئے ہیں کہ اللہ ان کی بصیرت کو مسخ کر دے۔ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دے کیونکہ اللہ سبحانہ ان دلوں کے بارے میں خون جانتا ہے اور ان کی بصیرتوں کو بھی وہ اچھی طرح دیکھتا ہے۔ اس سورة میں مشرکین کے ساتھ مکالمے ، اس کائنات کی سیر ، انسانی تاریخ کے مطالعے ، اور انسانی شخصیت ، انسانی زندگی اور اس کی نشوونما کی سیر کے بعد اور تمام شواہد اور نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی بعض ایسے لوگوں کے مشاہدے کے بعد جو بالکل نہیں مانتے ، اب یہ آخری ضرب ہے عقل و خرد کے تاروں پر۔ اس کے ذریعہ اہل ایمان اور رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ
فاصبر ان وعد ۔۔۔۔۔ لا یوقنون (60)
” پس (اے نبی ﷺ صبر کرو ، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے ، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین ، نہیں لاتے “۔ اس طویل جدوجہد اور اسلامی انقلاب کے دشوا گزار سفر میں صبر وسیلہ مومنین ہے۔ یہ سفر اس قدر طویل ہے ، اس قدر مشکل ہے کہ بعض اوقات انسان کو لا انتہا نظر آتا ہے۔ لیکن اللہ کے وعدے پر یقین کرنا چاہئے۔ بغیر کسی بےچینی ، کسی تزلزل ، بغیر کسی حیرانی و پریشانی کے اپنے مقصد پر جم جانا ہی اس راہ کا توشہ ہے۔ اس وقت صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ جبکہ دوسرے لوگ ڈگمگا جائیں ، جبکہ بعض لوگ تکذیب کردیں اور اللہ کے وعدے میں شک کرنے لگیں۔ اس لیے کہ شک کرنے والے اسباب یقین سے محروم ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اللہ تک پہنچ چکے ہیں جنہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے ، ان کا منہاج صبر و ثبات کا منہاج ہے۔ اگرچہ راہ طویل ہوجائے۔ اگرچہ اس کا انجام نظرون سے اوجھل ہو۔ اگرچہ وہ غبار اور بادلوں کے پیچھی محجوب ہو۔
یہ سورة یوں ختم ہوتی ہے جبکہ اس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ شکست یافتہ رومیوں کو اللہ کے وعدے کے مطابق چند سالوں کے بعد فتح نصیب ہوگی اور اسی وقت مومنین کو بھی فتح نصیب ہوگی اور اس کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اگر تم صبر و ثبات سے کام لو تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا کہ اللہ اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ نیز جب لوگ اس تحریک کو بےوقار کرنے کی سعی کر رہے ہوں اور ان کی صفوف کے اندر وسوسہ اندازی کر رہے ہوں اور یہ لوگ وہی ہوتے جو تحریک اسلامی کے دشمن ہوتے ہیں اور ان کا اس جدید دعوت پر ایمان نہیں ہوتا تو ایسے حالات میں صبر ہی اہل ایمان کا ہتھیار ہوتا ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام ہم آہنگ ہوجاتے ہیں ۔ یوں یہ سورة ختم ہوتی ہے اور ایک سچے قاری کے ذہن میں ایک قوی امید چھوڑ جاتی ہے کہ اگر صبر وثبات سے کام لیا جائے تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور وہ اہل یقین سے بےوفائی نہیں کرتا۔
الروم 30:59
ولقد ضربنا للناس ۔۔۔۔۔۔ لا یعلمون (58 – 59)
سیاق کلام میں اور مخاطبین کے زمان و مکان میں یکایک تبدیلی آگئی۔ یہ بہت ہی دور رس تبدیلی ہے لیکن یہاں دوریوں کے فاصلے سمیٹ لیے جاتے ہیں اور جس مقام پر اب ہم کھڑے ہیں وہ بہت ہی قریب نظر آتا ہے۔ دوبارہ ہم قرآن کے سامنے ہیں اور اس کی اعلیٰ مثالیں سن رہے ہیں۔ قرآن کے مختلف اور متنوع اسالیب کلام ہمارے سامنے ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر اسلوب اور ہر طریقے سے دلوں میں بات اتارنے کی سعی کی گئی ہے اور جس کے اندر بیشمار ایسے لمحات آتے ہیں جو انسان پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ قرآن ہر دل سے ہم کلام ہے ، ہر درجے کی عقل سے مخاطب ہے۔ ہر معاشرے اور ہر تہذیب سے اس کے مکالمات بقدر الناس ہیں۔ وہ نفس انسانی کو اس کے مختلف حالات میں خطاب کرتا ہے۔ انسان کے حالات واطوار میں سے ہر حال اور ہر طور کو زیر بحث لاتا ہے۔ لیکن ان ہمہ گیر اور ہمہ جہت مساعی کے بعد بھی لوگ تکذیب پر تلے ہوئے ہیں۔ اور یہ اللہ کی نشانیوں اور آیات کی تکذیب پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ صحیح علم رکھنے والوں پر دست درازیاں بھی کرتے ہیں اور الٹا ان پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ لوگ باطل پرست ہیں۔
لئن جئتھم بایۃ ۔۔۔۔۔ الا مبطلون (30: 58) ” تم خواہ کوئی نشانی لے کر آجاؤ ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے ، وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو “۔ پھر زبانوں پر یہ تبصرہ آتا ہے :
کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون (30: 58) ” اس طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو بےعلم ہیں “۔ یوں ، یعنی اس طریقے کے مطابق اور ان وجوہات سے۔ یہ لوگ جو نہیں جانتے ان کے دلوں پر مہریں لگ گئی ہیں۔ ان کی چشم بصیرت اللہ کی آیات اور اس کے نشانات کو دیکھنے کے لیے کھلتی ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ اہل علم اور اہل ہدایت پر دست درازی کرتے ہیں۔ یہی وہ ہے کہ وہ اس بات کے مستحق بن گئے ہیں کہ اللہ ان کی بصیرت کو مسخ کر دے۔ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دے کیونکہ اللہ سبحانہ ان دلوں کے بارے میں خون جانتا ہے اور ان کی بصیرتوں کو بھی وہ اچھی طرح دیکھتا ہے۔ اس سورة میں مشرکین کے ساتھ مکالمے ، اس کائنات کی سیر ، انسانی تاریخ کے مطالعے ، اور انسانی شخصیت ، انسانی زندگی اور اس کی نشوونما کی سیر کے بعد اور تمام شواہد اور نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی بعض ایسے لوگوں کے مشاہدے کے بعد جو بالکل نہیں مانتے ، اب یہ آخری ضرب ہے عقل و خرد کے تاروں پر۔ اس کے ذریعہ اہل ایمان اور رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ
فاصبر ان وعد ۔۔۔۔۔ لا یوقنون (60)
” پس (اے نبی ﷺ صبر کرو ، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے ، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین ، نہیں لاتے “۔ اس طویل جدوجہد اور اسلامی انقلاب کے دشوا گزار سفر میں صبر وسیلہ مومنین ہے۔ یہ سفر اس قدر طویل ہے ، اس قدر مشکل ہے کہ بعض اوقات انسان کو لا انتہا نظر آتا ہے۔ لیکن اللہ کے وعدے پر یقین کرنا چاہئے۔ بغیر کسی بےچینی ، کسی تزلزل ، بغیر کسی حیرانی و پریشانی کے اپنے مقصد پر جم جانا ہی اس راہ کا توشہ ہے۔ اس وقت صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ جبکہ دوسرے لوگ ڈگمگا جائیں ، جبکہ بعض لوگ تکذیب کردیں اور اللہ کے وعدے میں شک کرنے لگیں۔ اس لیے کہ شک کرنے والے اسباب یقین سے محروم ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اللہ تک پہنچ چکے ہیں جنہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے ، ان کا منہاج صبر و ثبات کا منہاج ہے۔ اگرچہ راہ طویل ہوجائے۔ اگرچہ اس کا انجام نظرون سے اوجھل ہو۔ اگرچہ وہ غبار اور بادلوں کے پیچھی محجوب ہو۔
یہ سورة یوں ختم ہوتی ہے جبکہ اس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ شکست یافتہ رومیوں کو اللہ کے وعدے کے مطابق چند سالوں کے بعد فتح نصیب ہوگی اور اسی وقت مومنین کو بھی فتح نصیب ہوگی اور اس کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اگر تم صبر و ثبات سے کام لو تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا کہ اللہ اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ نیز جب لوگ اس تحریک کو بےوقار کرنے کی سعی کر رہے ہوں اور ان کی صفوف کے اندر وسوسہ اندازی کر رہے ہوں اور یہ لوگ وہی ہوتے جو تحریک اسلامی کے دشمن ہوتے ہیں اور ان کا اس جدید دعوت پر ایمان نہیں ہوتا تو ایسے حالات میں صبر ہی اہل ایمان کا ہتھیار ہوتا ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام ہم آہنگ ہوجاتے ہیں ۔ یوں یہ سورة ختم ہوتی ہے اور ایک سچے قاری کے ذہن میں ایک قوی امید چھوڑ جاتی ہے کہ اگر صبر وثبات سے کام لیا جائے تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور وہ اہل یقین سے بےوفائی نہیں کرتا۔
الروم 30:60
ولقد ضربنا للناس ۔۔۔۔۔۔ لا یعلمون (58 – 59)
سیاق کلام میں اور مخاطبین کے زمان و مکان میں یکایک تبدیلی آگئی۔ یہ بہت ہی دور رس تبدیلی ہے لیکن یہاں دوریوں کے فاصلے سمیٹ لیے جاتے ہیں اور جس مقام پر اب ہم کھڑے ہیں وہ بہت ہی قریب نظر آتا ہے۔ دوبارہ ہم قرآن کے سامنے ہیں اور اس کی اعلیٰ مثالیں سن رہے ہیں۔ قرآن کے مختلف اور متنوع اسالیب کلام ہمارے سامنے ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر اسلوب اور ہر طریقے سے دلوں میں بات اتارنے کی سعی کی گئی ہے اور جس کے اندر بیشمار ایسے لمحات آتے ہیں جو انسان پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ قرآن ہر دل سے ہم کلام ہے ، ہر درجے کی عقل سے مخاطب ہے۔ ہر معاشرے اور ہر تہذیب سے اس کے مکالمات بقدر الناس ہیں۔ وہ نفس انسانی کو اس کے مختلف حالات میں خطاب کرتا ہے۔ انسان کے حالات واطوار میں سے ہر حال اور ہر طور کو زیر بحث لاتا ہے۔ لیکن ان ہمہ گیر اور ہمہ جہت مساعی کے بعد بھی لوگ تکذیب پر تلے ہوئے ہیں۔ اور یہ اللہ کی نشانیوں اور آیات کی تکذیب پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ صحیح علم رکھنے والوں پر دست درازیاں بھی کرتے ہیں اور الٹا ان پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ لوگ باطل پرست ہیں۔
لئن جئتھم بایۃ ۔۔۔۔۔ الا مبطلون (30: 58) ” تم خواہ کوئی نشانی لے کر آجاؤ ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے ، وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو “۔ پھر زبانوں پر یہ تبصرہ آتا ہے :
کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون (30: 58) ” اس طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو بےعلم ہیں “۔ یوں ، یعنی اس طریقے کے مطابق اور ان وجوہات سے۔ یہ لوگ جو نہیں جانتے ان کے دلوں پر مہریں لگ گئی ہیں۔ ان کی چشم بصیرت اللہ کی آیات اور اس کے نشانات کو دیکھنے کے لیے کھلتی ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ اہل علم اور اہل ہدایت پر دست درازی کرتے ہیں۔ یہی وہ ہے کہ وہ اس بات کے مستحق بن گئے ہیں کہ اللہ ان کی بصیرت کو مسخ کر دے۔ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دے کیونکہ اللہ سبحانہ ان دلوں کے بارے میں خون جانتا ہے اور ان کی بصیرتوں کو بھی وہ اچھی طرح دیکھتا ہے۔ اس سورة میں مشرکین کے ساتھ مکالمے ، اس کائنات کی سیر ، انسانی تاریخ کے مطالعے ، اور انسانی شخصیت ، انسانی زندگی اور اس کی نشوونما کی سیر کے بعد اور تمام شواہد اور نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی بعض ایسے لوگوں کے مشاہدے کے بعد جو بالکل نہیں مانتے ، اب یہ آخری ضرب ہے عقل و خرد کے تاروں پر۔ اس کے ذریعہ اہل ایمان اور رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ
فاصبر ان وعد ۔۔۔۔۔ لا یوقنون (60)
” پس (اے نبی ﷺ صبر کرو ، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے ، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین ، نہیں لاتے “۔ اس طویل جدوجہد اور اسلامی انقلاب کے دشوا گزار سفر میں صبر وسیلہ مومنین ہے۔ یہ سفر اس قدر طویل ہے ، اس قدر مشکل ہے کہ بعض اوقات انسان کو لا انتہا نظر آتا ہے۔ لیکن اللہ کے وعدے پر یقین کرنا چاہئے۔ بغیر کسی بےچینی ، کسی تزلزل ، بغیر کسی حیرانی و پریشانی کے اپنے مقصد پر جم جانا ہی اس راہ کا توشہ ہے۔ اس وقت صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ جبکہ دوسرے لوگ ڈگمگا جائیں ، جبکہ بعض لوگ تکذیب کردیں اور اللہ کے وعدے میں شک کرنے لگیں۔ اس لیے کہ شک کرنے والے اسباب یقین سے محروم ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اللہ تک پہنچ چکے ہیں جنہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے ، ان کا منہاج صبر و ثبات کا منہاج ہے۔ اگرچہ راہ طویل ہوجائے۔ اگرچہ اس کا انجام نظرون سے اوجھل ہو۔ اگرچہ وہ غبار اور بادلوں کے پیچھی محجوب ہو۔
یہ سورة یوں ختم ہوتی ہے جبکہ اس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ شکست یافتہ رومیوں کو اللہ کے وعدے کے مطابق چند سالوں کے بعد فتح نصیب ہوگی اور اسی وقت مومنین کو بھی فتح نصیب ہوگی اور اس کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اگر تم صبر و ثبات سے کام لو تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا کہ اللہ اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ نیز جب لوگ اس تحریک کو بےوقار کرنے کی سعی کر رہے ہوں اور ان کی صفوف کے اندر وسوسہ اندازی کر رہے ہوں اور یہ لوگ وہی ہوتے جو تحریک اسلامی کے دشمن ہوتے ہیں اور ان کا اس جدید دعوت پر ایمان نہیں ہوتا تو ایسے حالات میں صبر ہی اہل ایمان کا ہتھیار ہوتا ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام ہم آہنگ ہوجاتے ہیں ۔ یوں یہ سورة ختم ہوتی ہے اور ایک سچے قاری کے ذہن میں ایک قوی امید چھوڑ جاتی ہے کہ اگر صبر وثبات سے کام لیا جائے تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور وہ اہل یقین سے بےوفائی نہیں کرتا۔