Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — لقمان 31:1 – السجدة 32:30

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. لقمان 31:1
  2. لقمان 31:2
  3. لقمان 31:3
  4. لقمان 31:4
  5. لقمان 31:5
  6. لقمان 31:6
  7. لقمان 31:7
  8. لقمان 31:8
  9. لقمان 31:9
  10. لقمان 31:10
  11. لقمان 31:11
  12. لقمان 31:12
  13. لقمان 31:13
  14. لقمان 31:14
  15. لقمان 31:15
  16. لقمان 31:16
  17. لقمان 31:17
  18. لقمان 31:18
  19. لقمان 31:19
  20. لقمان 31:20
  21. لقمان 31:21
  22. لقمان 31:22
  23. لقمان 31:23
  24. لقمان 31:24
  25. لقمان 31:25
  26. لقمان 31:26
  27. لقمان 31:27
  28. لقمان 31:28
  29. لقمان 31:29
  30. لقمان 31:30
  31. لقمان 31:31
  32. لقمان 31:32
  33. لقمان 31:33
  34. لقمان 31:34
  35. السجدة 32:1
  36. السجدة 32:2
  37. السجدة 32:3
  38. السجدة 32:4
  39. السجدة 32:5
  40. السجدة 32:6
  41. السجدة 32:7
  42. السجدة 32:8
  43. السجدة 32:9
  44. السجدة 32:10
  45. السجدة 32:11
  46. السجدة 32:12
  47. السجدة 32:13
  48. السجدة 32:14
  49. السجدة 32:15
  50. السجدة 32:16
  51. السجدة 32:17
  52. السجدة 32:18
  53. السجدة 32:19
  54. السجدة 32:20
  55. السجدة 32:21
  56. السجدة 32:22
  57. السجدة 32:23
  58. السجدة 32:24
  59. السجدة 32:25
  60. السجدة 32:26
  61. السجدة 32:27
  62. السجدة 32:28
  63. السجدة 32:29
  64. السجدة 32:30

لقمان 31:1

درس نمبر 185 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19 الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5) حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔ گویا یہ ایک زندہ شخصیت ہے۔ بہت ہی دانشمند اور اس کی گفتگو میں ایک مقصد ہے۔ اس کا ایک متعیقن ہدف ہے ، اور یہ اس ہدف کی طرف بالارادہ بڑھ رہی ہے۔ اس میں روح ہے ، اس میں زندگی ہے۔ اس میں حرکت ہے ، اور اس کتاب کی ایک ذات اور شخصیت ہے جو متعین ہے۔ یہ محبت کرنے والی ہے اور یہ ہر اس شخص کے ساتھ مکالمہ کرتی ہے جو اس کی صحبت میں بیٹھے۔ جو اس کے سایوں میں زندگی بسر کرے اور وہ اس کی اس کشش کو محسوس کرے جس طرح ایک زندہ دوسرے زندہ کی طرف رکھتا ہے اور جس طرح دوست دوست کی طرف کھینچتا ہے۔ یہ ہے کتاب حکیم ۔ اور اس کی آیات ہدایت اور رحمت ہیں محسنین کے لیے۔ یہ اس کی اصل ماہیت ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور یہ محسنین کے لئے ہمیشہ ہدایت رہتی ہے۔ یہ ان کو ایک متعین منزل مقصود تک پہنچاتی ہے جس طرح ایک زندہ شخص کسی کو راہ دکھاتا ہے مگر کرخت طریقے سے نہیں بالکل الفت اور محبت کے ساتھ نہایت آرام اطمینان کے ساتھ اور اس کی ہدایت یہ ہے کہ پہلے نماز قائم کرو اور اپنے رب سے رابطہ قائم کرو اور پھر زکوٰۃ ادا کرو ، اہل ایمان کے دل اس کے ذریعے بالم جوڑ کر رکھ دو اور پھر تمام اہل ایمان اللہ کی اس کائنات کے لیے ہمکلام اور مربوط ہوجائیں جس میں وہ رہتے ہیں۔ یہ کتاب وہ اقدار اور وہ حالات پیدا کرتی ہے جس میں تمام انسانوں کا مقام متعین ہو اور وہ اپنی اصل پہچان جان سکیں۔ اس کتاب کے ہدایت یافتہ لوگ اس فطرت سے بھی متعارف ہوں جس فطرت پر انہیں پیدا کیا گیا ہے اور سیدھے ہوں اور ان کے اندر کوئی زیغ اور ٹیڑھ نہ ہو۔ یہ کتاب جن محسنین کے لیے ہدایت ہے وہ کون ہیں ؟ الذین یقیمون ۔۔۔۔۔ ھم یوقنون (31: 4) ” جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں “۔ جب کوئی نماز قائم کرتا ہے ۔ اس کے پورے ارکان کے ساتھ اسے ادا کرتا ہے ، بروقت ادا کرتا ہے اور مکمل طور پر ادا کرتا ہے تو اس کی حکمت ، اس کا اثر انسانی شعور اور انسانی طرز عمل میں واضح ہو کر سامنے آتا ہے ، اور اس کے ذریعہ اللہ اور بندے کے درمیان وہ تعلق قائم ہوجاتا ہے ، جو مطلوب ہے۔ اللہ سے انس پیدا ہوتا ہے اور نماز کے اندر مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے اور زکوٰۃ کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کے اندر جو فطری بخل ہے ، اس پر انسان قابو پالیتا ہے۔ وہ امت مسلمہ کے لیے ایک اجتماعی نظام کی بنیاد ہوتی ہے اور امت کے اندر اجتماعی کفالت کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس سوسائٹی میں امیروں اور غریبوں دونوں کے اندر ارتماد ہوتا ہے۔ اطمینان ہوتا ہے اور باہم مودت اور محبت ہوتی ہے۔ اس کے اندر طبقاتی نفرت نہیں ہوتی اور آخرت پر ایمان تو تمام نیکیوں کی اساس ہے۔ اس سے قلب بشری ہر وقت بیدار رہتا ہے۔ اس کی نظریں عالم آخرت پر ہوتی ہیں اور زمین کی گندگیوں اور زمین کے عارضی سازوسامان کے مقابلے میں اس کی نظریں بلند ہوتی ہیں۔ خفیہ طور پر اور اعلانیہ طور پر انسان یہ دیکھتا ہے کہ اسے اللہ دیکھ رہا ہے اور انسان درجہ احسان تک پہنچ جاتا ہے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا ” احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو کہ اسے تم دیکھ رہے ہو ، اگر تم اسے نہ دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے “۔ (بخاری و مسلم ، کتاب الایمان) یہ لوگ جو ایسی نماز پڑھتے ہیں ، جو اس نیت سے زکوۃ دیتے ہیں۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ اولئک علی ۔۔۔۔۔ ھم المفلحون (31: 5) ” یہی لوگ رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “۔ جس نے ہدایت پائی۔ اس نے فلاح پائی۔ وہ ایک روشنی پر چل رہا ہوتا ہے۔ منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ۔ گمراہیوں سے اور فساد سے بچ جاتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس کرہ ارض پر اپنے اس سفر پر وہ مطمئن ہوتا ہے ، پھرتا رہتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ ہم سفر ہوتا ہے اور اس کائنات کے ایک جزء کے طور پر اس کے ساتھ ہم آہنگی سے سفر طے کرتا جاتا ہے ، نہایت انس و محبت کے ساتھ۔ ایسے ہی لوگ اس کتاب کی آیات سے راہنمائی پاتے ہیں۔ محسن ، غازی ، زکوٰۃ دینے والے ، آخرت کا یقین رکھنے والے۔ یہ لوگ دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔ یہ لوگ ایک فریق ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک فریق اور بھی ہے۔ کیا ہیں اس کے خدوخال ؟

لقمان 31:2

درس نمبر 185 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19 الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5) حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔ گویا یہ ایک زندہ شخصیت ہے۔ بہت ہی دانشمند اور اس کی گفتگو میں ایک مقصد ہے۔ اس کا ایک متعیقن ہدف ہے ، اور یہ اس ہدف کی طرف بالارادہ بڑھ رہی ہے۔ اس میں روح ہے ، اس میں زندگی ہے۔ اس میں حرکت ہے ، اور اس کتاب کی ایک ذات اور شخصیت ہے جو متعین ہے۔ یہ محبت کرنے والی ہے اور یہ ہر اس شخص کے ساتھ مکالمہ کرتی ہے جو اس کی صحبت میں بیٹھے۔ جو اس کے سایوں میں زندگی بسر کرے اور وہ اس کی اس کشش کو محسوس کرے جس طرح ایک زندہ دوسرے زندہ کی طرف رکھتا ہے اور جس طرح دوست دوست کی طرف کھینچتا ہے۔ یہ ہے کتاب حکیم ۔ اور اس کی آیات ہدایت اور رحمت ہیں محسنین کے لیے۔ یہ اس کی اصل ماہیت ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور یہ محسنین کے لئے ہمیشہ ہدایت رہتی ہے۔ یہ ان کو ایک متعین منزل مقصود تک پہنچاتی ہے جس طرح ایک زندہ شخص کسی کو راہ دکھاتا ہے مگر کرخت طریقے سے نہیں بالکل الفت اور محبت کے ساتھ نہایت آرام اطمینان کے ساتھ اور اس کی ہدایت یہ ہے کہ پہلے نماز قائم کرو اور اپنے رب سے رابطہ قائم کرو اور پھر زکوٰۃ ادا کرو ، اہل ایمان کے دل اس کے ذریعے بالم جوڑ کر رکھ دو اور پھر تمام اہل ایمان اللہ کی اس کائنات کے لیے ہمکلام اور مربوط ہوجائیں جس میں وہ رہتے ہیں۔ یہ کتاب وہ اقدار اور وہ حالات پیدا کرتی ہے جس میں تمام انسانوں کا مقام متعین ہو اور وہ اپنی اصل پہچان جان سکیں۔ اس کتاب کے ہدایت یافتہ لوگ اس فطرت سے بھی متعارف ہوں جس فطرت پر انہیں پیدا کیا گیا ہے اور سیدھے ہوں اور ان کے اندر کوئی زیغ اور ٹیڑھ نہ ہو۔ یہ کتاب جن محسنین کے لیے ہدایت ہے وہ کون ہیں ؟ الذین یقیمون ۔۔۔۔۔ ھم یوقنون (31: 4) ” جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں “۔ جب کوئی نماز قائم کرتا ہے ۔ اس کے پورے ارکان کے ساتھ اسے ادا کرتا ہے ، بروقت ادا کرتا ہے اور مکمل طور پر ادا کرتا ہے تو اس کی حکمت ، اس کا اثر انسانی شعور اور انسانی طرز عمل میں واضح ہو کر سامنے آتا ہے ، اور اس کے ذریعہ اللہ اور بندے کے درمیان وہ تعلق قائم ہوجاتا ہے ، جو مطلوب ہے۔ اللہ سے انس پیدا ہوتا ہے اور نماز کے اندر مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے اور زکوٰۃ کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کے اندر جو فطری بخل ہے ، اس پر انسان قابو پالیتا ہے۔ وہ امت مسلمہ کے لیے ایک اجتماعی نظام کی بنیاد ہوتی ہے اور امت کے اندر اجتماعی کفالت کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس سوسائٹی میں امیروں اور غریبوں دونوں کے اندر ارتماد ہوتا ہے۔ اطمینان ہوتا ہے اور باہم مودت اور محبت ہوتی ہے۔ اس کے اندر طبقاتی نفرت نہیں ہوتی اور آخرت پر ایمان تو تمام نیکیوں کی اساس ہے۔ اس سے قلب بشری ہر وقت بیدار رہتا ہے۔ اس کی نظریں عالم آخرت پر ہوتی ہیں اور زمین کی گندگیوں اور زمین کے عارضی سازوسامان کے مقابلے میں اس کی نظریں بلند ہوتی ہیں۔ خفیہ طور پر اور اعلانیہ طور پر انسان یہ دیکھتا ہے کہ اسے اللہ دیکھ رہا ہے اور انسان درجہ احسان تک پہنچ جاتا ہے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا ” احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو کہ اسے تم دیکھ رہے ہو ، اگر تم اسے نہ دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے “۔ (بخاری و مسلم ، کتاب الایمان) یہ لوگ جو ایسی نماز پڑھتے ہیں ، جو اس نیت سے زکوۃ دیتے ہیں۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ اولئک علی ۔۔۔۔۔ ھم المفلحون (31: 5) ” یہی لوگ رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “۔ جس نے ہدایت پائی۔ اس نے فلاح پائی۔ وہ ایک روشنی پر چل رہا ہوتا ہے۔ منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ۔ گمراہیوں سے اور فساد سے بچ جاتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس کرہ ارض پر اپنے اس سفر پر وہ مطمئن ہوتا ہے ، پھرتا رہتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ ہم سفر ہوتا ہے اور اس کائنات کے ایک جزء کے طور پر اس کے ساتھ ہم آہنگی سے سفر طے کرتا جاتا ہے ، نہایت انس و محبت کے ساتھ۔ ایسے ہی لوگ اس کتاب کی آیات سے راہنمائی پاتے ہیں۔ محسن ، غازی ، زکوٰۃ دینے والے ، آخرت کا یقین رکھنے والے۔ یہ لوگ دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔ یہ لوگ ایک فریق ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک فریق اور بھی ہے۔ کیا ہیں اس کے خدوخال ؟

لقمان 31:3

درس نمبر 185 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19 الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5) حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔ گویا یہ ایک زندہ شخصیت ہے۔ بہت ہی دانشمند اور اس کی گفتگو میں ایک مقصد ہے۔ اس کا ایک متعیقن ہدف ہے ، اور یہ اس ہدف کی طرف بالارادہ بڑھ رہی ہے۔ اس میں روح ہے ، اس میں زندگی ہے۔ اس میں حرکت ہے ، اور اس کتاب کی ایک ذات اور شخصیت ہے جو متعین ہے۔ یہ محبت کرنے والی ہے اور یہ ہر اس شخص کے ساتھ مکالمہ کرتی ہے جو اس کی صحبت میں بیٹھے۔ جو اس کے سایوں میں زندگی بسر کرے اور وہ اس کی اس کشش کو محسوس کرے جس طرح ایک زندہ دوسرے زندہ کی طرف رکھتا ہے اور جس طرح دوست دوست کی طرف کھینچتا ہے۔ یہ ہے کتاب حکیم ۔ اور اس کی آیات ہدایت اور رحمت ہیں محسنین کے لیے۔ یہ اس کی اصل ماہیت ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور یہ محسنین کے لئے ہمیشہ ہدایت رہتی ہے۔ یہ ان کو ایک متعین منزل مقصود تک پہنچاتی ہے جس طرح ایک زندہ شخص کسی کو راہ دکھاتا ہے مگر کرخت طریقے سے نہیں بالکل الفت اور محبت کے ساتھ نہایت آرام اطمینان کے ساتھ اور اس کی ہدایت یہ ہے کہ پہلے نماز قائم کرو اور اپنے رب سے رابطہ قائم کرو اور پھر زکوٰۃ ادا کرو ، اہل ایمان کے دل اس کے ذریعے بالم جوڑ کر رکھ دو اور پھر تمام اہل ایمان اللہ کی اس کائنات کے لیے ہمکلام اور مربوط ہوجائیں جس میں وہ رہتے ہیں۔ یہ کتاب وہ اقدار اور وہ حالات پیدا کرتی ہے جس میں تمام انسانوں کا مقام متعین ہو اور وہ اپنی اصل پہچان جان سکیں۔ اس کتاب کے ہدایت یافتہ لوگ اس فطرت سے بھی متعارف ہوں جس فطرت پر انہیں پیدا کیا گیا ہے اور سیدھے ہوں اور ان کے اندر کوئی زیغ اور ٹیڑھ نہ ہو۔ یہ کتاب جن محسنین کے لیے ہدایت ہے وہ کون ہیں ؟ الذین یقیمون ۔۔۔۔۔ ھم یوقنون (31: 4) ” جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں “۔ جب کوئی نماز قائم کرتا ہے ۔ اس کے پورے ارکان کے ساتھ اسے ادا کرتا ہے ، بروقت ادا کرتا ہے اور مکمل طور پر ادا کرتا ہے تو اس کی حکمت ، اس کا اثر انسانی شعور اور انسانی طرز عمل میں واضح ہو کر سامنے آتا ہے ، اور اس کے ذریعہ اللہ اور بندے کے درمیان وہ تعلق قائم ہوجاتا ہے ، جو مطلوب ہے۔ اللہ سے انس پیدا ہوتا ہے اور نماز کے اندر مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے اور زکوٰۃ کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کے اندر جو فطری بخل ہے ، اس پر انسان قابو پالیتا ہے۔ وہ امت مسلمہ کے لیے ایک اجتماعی نظام کی بنیاد ہوتی ہے اور امت کے اندر اجتماعی کفالت کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس سوسائٹی میں امیروں اور غریبوں دونوں کے اندر ارتماد ہوتا ہے۔ اطمینان ہوتا ہے اور باہم مودت اور محبت ہوتی ہے۔ اس کے اندر طبقاتی نفرت نہیں ہوتی اور آخرت پر ایمان تو تمام نیکیوں کی اساس ہے۔ اس سے قلب بشری ہر وقت بیدار رہتا ہے۔ اس کی نظریں عالم آخرت پر ہوتی ہیں اور زمین کی گندگیوں اور زمین کے عارضی سازوسامان کے مقابلے میں اس کی نظریں بلند ہوتی ہیں۔ خفیہ طور پر اور اعلانیہ طور پر انسان یہ دیکھتا ہے کہ اسے اللہ دیکھ رہا ہے اور انسان درجہ احسان تک پہنچ جاتا ہے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا ” احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو کہ اسے تم دیکھ رہے ہو ، اگر تم اسے نہ دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے “۔ (بخاری و مسلم ، کتاب الایمان) یہ لوگ جو ایسی نماز پڑھتے ہیں ، جو اس نیت سے زکوۃ دیتے ہیں۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ اولئک علی ۔۔۔۔۔ ھم المفلحون (31: 5) ” یہی لوگ رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “۔ جس نے ہدایت پائی۔ اس نے فلاح پائی۔ وہ ایک روشنی پر چل رہا ہوتا ہے۔ منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ۔ گمراہیوں سے اور فساد سے بچ جاتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس کرہ ارض پر اپنے اس سفر پر وہ مطمئن ہوتا ہے ، پھرتا رہتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ ہم سفر ہوتا ہے اور اس کائنات کے ایک جزء کے طور پر اس کے ساتھ ہم آہنگی سے سفر طے کرتا جاتا ہے ، نہایت انس و محبت کے ساتھ۔ ایسے ہی لوگ اس کتاب کی آیات سے راہنمائی پاتے ہیں۔ محسن ، غازی ، زکوٰۃ دینے والے ، آخرت کا یقین رکھنے والے۔ یہ لوگ دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔ یہ لوگ ایک فریق ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک فریق اور بھی ہے۔ کیا ہیں اس کے خدوخال ؟

لقمان 31:4

درس نمبر 185 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19 الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5) حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔ گویا یہ ایک زندہ شخصیت ہے۔ بہت ہی دانشمند اور اس کی گفتگو میں ایک مقصد ہے۔ اس کا ایک متعیقن ہدف ہے ، اور یہ اس ہدف کی طرف بالارادہ بڑھ رہی ہے۔ اس میں روح ہے ، اس میں زندگی ہے۔ اس میں حرکت ہے ، اور اس کتاب کی ایک ذات اور شخصیت ہے جو متعین ہے۔ یہ محبت کرنے والی ہے اور یہ ہر اس شخص کے ساتھ مکالمہ کرتی ہے جو اس کی صحبت میں بیٹھے۔ جو اس کے سایوں میں زندگی بسر کرے اور وہ اس کی اس کشش کو محسوس کرے جس طرح ایک زندہ دوسرے زندہ کی طرف رکھتا ہے اور جس طرح دوست دوست کی طرف کھینچتا ہے۔ یہ ہے کتاب حکیم ۔ اور اس کی آیات ہدایت اور رحمت ہیں محسنین کے لیے۔ یہ اس کی اصل ماہیت ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور یہ محسنین کے لئے ہمیشہ ہدایت رہتی ہے۔ یہ ان کو ایک متعین منزل مقصود تک پہنچاتی ہے جس طرح ایک زندہ شخص کسی کو راہ دکھاتا ہے مگر کرخت طریقے سے نہیں بالکل الفت اور محبت کے ساتھ نہایت آرام اطمینان کے ساتھ اور اس کی ہدایت یہ ہے کہ پہلے نماز قائم کرو اور اپنے رب سے رابطہ قائم کرو اور پھر زکوٰۃ ادا کرو ، اہل ایمان کے دل اس کے ذریعے بالم جوڑ کر رکھ دو اور پھر تمام اہل ایمان اللہ کی اس کائنات کے لیے ہمکلام اور مربوط ہوجائیں جس میں وہ رہتے ہیں۔ یہ کتاب وہ اقدار اور وہ حالات پیدا کرتی ہے جس میں تمام انسانوں کا مقام متعین ہو اور وہ اپنی اصل پہچان جان سکیں۔ اس کتاب کے ہدایت یافتہ لوگ اس فطرت سے بھی متعارف ہوں جس فطرت پر انہیں پیدا کیا گیا ہے اور سیدھے ہوں اور ان کے اندر کوئی زیغ اور ٹیڑھ نہ ہو۔ یہ کتاب جن محسنین کے لیے ہدایت ہے وہ کون ہیں ؟ الذین یقیمون ۔۔۔۔۔ ھم یوقنون (31: 4) ” جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں “۔ جب کوئی نماز قائم کرتا ہے ۔ اس کے پورے ارکان کے ساتھ اسے ادا کرتا ہے ، بروقت ادا کرتا ہے اور مکمل طور پر ادا کرتا ہے تو اس کی حکمت ، اس کا اثر انسانی شعور اور انسانی طرز عمل میں واضح ہو کر سامنے آتا ہے ، اور اس کے ذریعہ اللہ اور بندے کے درمیان وہ تعلق قائم ہوجاتا ہے ، جو مطلوب ہے۔ اللہ سے انس پیدا ہوتا ہے اور نماز کے اندر مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے اور زکوٰۃ کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کے اندر جو فطری بخل ہے ، اس پر انسان قابو پالیتا ہے۔ وہ امت مسلمہ کے لیے ایک اجتماعی نظام کی بنیاد ہوتی ہے اور امت کے اندر اجتماعی کفالت کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس سوسائٹی میں امیروں اور غریبوں دونوں کے اندر ارتماد ہوتا ہے۔ اطمینان ہوتا ہے اور باہم مودت اور محبت ہوتی ہے۔ اس کے اندر طبقاتی نفرت نہیں ہوتی اور آخرت پر ایمان تو تمام نیکیوں کی اساس ہے۔ اس سے قلب بشری ہر وقت بیدار رہتا ہے۔ اس کی نظریں عالم آخرت پر ہوتی ہیں اور زمین کی گندگیوں اور زمین کے عارضی سازوسامان کے مقابلے میں اس کی نظریں بلند ہوتی ہیں۔ خفیہ طور پر اور اعلانیہ طور پر انسان یہ دیکھتا ہے کہ اسے اللہ دیکھ رہا ہے اور انسان درجہ احسان تک پہنچ جاتا ہے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا ” احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو کہ اسے تم دیکھ رہے ہو ، اگر تم اسے نہ دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے “۔ (بخاری و مسلم ، کتاب الایمان) یہ لوگ جو ایسی نماز پڑھتے ہیں ، جو اس نیت سے زکوۃ دیتے ہیں۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ اولئک علی ۔۔۔۔۔ ھم المفلحون (31: 5) ” یہی لوگ رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “۔ جس نے ہدایت پائی۔ اس نے فلاح پائی۔ وہ ایک روشنی پر چل رہا ہوتا ہے۔ منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ۔ گمراہیوں سے اور فساد سے بچ جاتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس کرہ ارض پر اپنے اس سفر پر وہ مطمئن ہوتا ہے ، پھرتا رہتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ ہم سفر ہوتا ہے اور اس کائنات کے ایک جزء کے طور پر اس کے ساتھ ہم آہنگی سے سفر طے کرتا جاتا ہے ، نہایت انس و محبت کے ساتھ۔ ایسے ہی لوگ اس کتاب کی آیات سے راہنمائی پاتے ہیں۔ محسن ، غازی ، زکوٰۃ دینے والے ، آخرت کا یقین رکھنے والے۔ یہ لوگ دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔ یہ لوگ ایک فریق ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک فریق اور بھی ہے۔ کیا ہیں اس کے خدوخال ؟

لقمان 31:5

درس نمبر 185 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19 الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5) حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔ گویا یہ ایک زندہ شخصیت ہے۔ بہت ہی دانشمند اور اس کی گفتگو میں ایک مقصد ہے۔ اس کا ایک متعیقن ہدف ہے ، اور یہ اس ہدف کی طرف بالارادہ بڑھ رہی ہے۔ اس میں روح ہے ، اس میں زندگی ہے۔ اس میں حرکت ہے ، اور اس کتاب کی ایک ذات اور شخصیت ہے جو متعین ہے۔ یہ محبت کرنے والی ہے اور یہ ہر اس شخص کے ساتھ مکالمہ کرتی ہے جو اس کی صحبت میں بیٹھے۔ جو اس کے سایوں میں زندگی بسر کرے اور وہ اس کی اس کشش کو محسوس کرے جس طرح ایک زندہ دوسرے زندہ کی طرف رکھتا ہے اور جس طرح دوست دوست کی طرف کھینچتا ہے۔ یہ ہے کتاب حکیم ۔ اور اس کی آیات ہدایت اور رحمت ہیں محسنین کے لیے۔ یہ اس کی اصل ماہیت ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور یہ محسنین کے لئے ہمیشہ ہدایت رہتی ہے۔ یہ ان کو ایک متعین منزل مقصود تک پہنچاتی ہے جس طرح ایک زندہ شخص کسی کو راہ دکھاتا ہے مگر کرخت طریقے سے نہیں بالکل الفت اور محبت کے ساتھ نہایت آرام اطمینان کے ساتھ اور اس کی ہدایت یہ ہے کہ پہلے نماز قائم کرو اور اپنے رب سے رابطہ قائم کرو اور پھر زکوٰۃ ادا کرو ، اہل ایمان کے دل اس کے ذریعے بالم جوڑ کر رکھ دو اور پھر تمام اہل ایمان اللہ کی اس کائنات کے لیے ہمکلام اور مربوط ہوجائیں جس میں وہ رہتے ہیں۔ یہ کتاب وہ اقدار اور وہ حالات پیدا کرتی ہے جس میں تمام انسانوں کا مقام متعین ہو اور وہ اپنی اصل پہچان جان سکیں۔ اس کتاب کے ہدایت یافتہ لوگ اس فطرت سے بھی متعارف ہوں جس فطرت پر انہیں پیدا کیا گیا ہے اور سیدھے ہوں اور ان کے اندر کوئی زیغ اور ٹیڑھ نہ ہو۔ یہ کتاب جن محسنین کے لیے ہدایت ہے وہ کون ہیں ؟ الذین یقیمون ۔۔۔۔۔ ھم یوقنون (31: 4) ” جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں “۔ جب کوئی نماز قائم کرتا ہے ۔ اس کے پورے ارکان کے ساتھ اسے ادا کرتا ہے ، بروقت ادا کرتا ہے اور مکمل طور پر ادا کرتا ہے تو اس کی حکمت ، اس کا اثر انسانی شعور اور انسانی طرز عمل میں واضح ہو کر سامنے آتا ہے ، اور اس کے ذریعہ اللہ اور بندے کے درمیان وہ تعلق قائم ہوجاتا ہے ، جو مطلوب ہے۔ اللہ سے انس پیدا ہوتا ہے اور نماز کے اندر مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے اور زکوٰۃ کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کے اندر جو فطری بخل ہے ، اس پر انسان قابو پالیتا ہے۔ وہ امت مسلمہ کے لیے ایک اجتماعی نظام کی بنیاد ہوتی ہے اور امت کے اندر اجتماعی کفالت کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس سوسائٹی میں امیروں اور غریبوں دونوں کے اندر ارتماد ہوتا ہے۔ اطمینان ہوتا ہے اور باہم مودت اور محبت ہوتی ہے۔ اس کے اندر طبقاتی نفرت نہیں ہوتی اور آخرت پر ایمان تو تمام نیکیوں کی اساس ہے۔ اس سے قلب بشری ہر وقت بیدار رہتا ہے۔ اس کی نظریں عالم آخرت پر ہوتی ہیں اور زمین کی گندگیوں اور زمین کے عارضی سازوسامان کے مقابلے میں اس کی نظریں بلند ہوتی ہیں۔ خفیہ طور پر اور اعلانیہ طور پر انسان یہ دیکھتا ہے کہ اسے اللہ دیکھ رہا ہے اور انسان درجہ احسان تک پہنچ جاتا ہے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا ” احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو کہ اسے تم دیکھ رہے ہو ، اگر تم اسے نہ دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے “۔ (بخاری و مسلم ، کتاب الایمان) یہ لوگ جو ایسی نماز پڑھتے ہیں ، جو اس نیت سے زکوۃ دیتے ہیں۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ اولئک علی ۔۔۔۔۔ ھم المفلحون (31: 5) ” یہی لوگ رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “۔ جس نے ہدایت پائی۔ اس نے فلاح پائی۔ وہ ایک روشنی پر چل رہا ہوتا ہے۔ منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ۔ گمراہیوں سے اور فساد سے بچ جاتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس کرہ ارض پر اپنے اس سفر پر وہ مطمئن ہوتا ہے ، پھرتا رہتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ ہم سفر ہوتا ہے اور اس کائنات کے ایک جزء کے طور پر اس کے ساتھ ہم آہنگی سے سفر طے کرتا جاتا ہے ، نہایت انس و محبت کے ساتھ۔ ایسے ہی لوگ اس کتاب کی آیات سے راہنمائی پاتے ہیں۔ محسن ، غازی ، زکوٰۃ دینے والے ، آخرت کا یقین رکھنے والے۔ یہ لوگ دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔ یہ لوگ ایک فریق ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک فریق اور بھی ہے۔ کیا ہیں اس کے خدوخال ؟

لقمان 31:6

ومن الناس من یشتری ۔۔۔۔۔ فبشرہ بعذاب الیم (6 – 7) لہو حدیث سے مراد تفریحی اور دلچسپ کلام ہے جس کسی محض وقت گزارنا مطلوب ہو۔ اس کلام سے کوئی اچھا اور مفید نتیجہ نہ نکلتا ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی تعمیری بات ہو ، جو انسان کے منصب خلافت سے متعلق ہو۔ جو انسان کی ذہنی ، اخلاقی اور معاشی اور دینی اور اخروی کسی غرض سے وابستہ نہ ہو۔ اسلام انسان کے لیے اس دنیا میں کچھ فرائض متعین کرتا ہے۔ ان فرائض کے حدود ، وسائل اور طریقہ کار بھی متعین کرتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ یہ انسانوں کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے جو ہر زمان و مکان میں بالعموم پایا جاتا ہے۔ بعض روایات یہ بتاتی ہیں کہ اسلام کی پہلی جماعت کے دور میں ایک متعین واقعہ بھی ہوا تھا ، اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ مکہ کا ایک ادیب نضر ابن الحارث ایران سے ایسی کتابیں خرید کر لاتا تھا جن میں ایرانیوں اور ان کے بڑے لوگوں کے افسانے اور تاریخی واقعات ہوتے تھے اور ان کی جنگوں کے دلچسپ واقعات ہوتے تھے۔ یہ شخص مکہ کی گلیوں میں بیٹھ کر ان لوگوں کو روکتا جو قرآن سننے کے لیے جاتے تھے اور ان کو یہ افسانے سناتا۔ یہ شخص قصص القرآن کے مقابلے میں قصص ایران سناتا تھا۔ اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ یہ آیت اس واقعہ میں وارد ہے تو بھی یہ آیت عام ہے۔ یہ لوگوں کی اس قسم کے خدوخال واضح طور پر بتاتی ہے۔ اس قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ عہد رسول اللہ ﷺ میں بھی موجود تھے جس دور میں مکہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ومن الناس من یشتری لھو الحدیث (31: 6) ” انسانوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے “۔ یعنی اس کام میں اپنا مال اور اپنا وقت خرچ کرتا ہے اور اپنی زندگی اس میں کھپاتا ہے۔ اس قدر قیمتی چیزیں وہ اس قدر بےوقعت اور بےقیمت چیزوں میں خرچ کرتا ہے۔ اپنی محدود اور قیمتی عمر اس میں کھپاتا ہے۔ یہ عمر جو نہ واپس آتی ہے اور نہ واپس لائی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کام کیوں کرتا ہے۔ لیضل عن ۔۔۔۔ ھزوا (31: 6) ” تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے “۔ ایسا شخص جاہل ہے اور اسکی نظروں سے حقیقت اوجھل ہے۔ وہ کوئی بات علم و یقین کی بنیاد پر نہیں کرتا۔ نہ وہ حکمت کی بنیاد پر کوئی کام کرتا ہے۔ اسکی نیت بھی خراب ہے اور اس کی غرض بھی فاسد ہے۔ وہ لوگوں کو بدراہ کرنا چاہتا ہے۔ خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور اپنی زندگی کو اس میں فضول ضائع کرتا ہے پھر وہ اس قدر گستاخ ہے کہ دعوت اسلامی کے ساتھ مذاق کرتا ہے اور اس اسلامی نظام کے ساتھ مذاق کرتا ہے جو اللہ نے وضع کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کی زندگی کا دستور قانون ہو۔ چناچہ قرآن مجید ایسے لوگوں کی تصویر کشی سے بھی قبل ان کو اہانت آمیز عذاب کی دھمکی دیتا ہے۔ اولئک لھم عذاب مھین (31: 6) ” ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ان کیلئے توہین آمیز عذاب ہوگا ، اس لیے کہ انہوں نے یہاں دعوت اسلامی کی توہین کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ لوگ اسلامی نظام زندگی کے ساتھ مزاح کرتے تھے۔ اب اس دھمکی کے بعد اس گروہ کے خدوخال قلم بند کیے جاتے ہیں۔ واذا تتلی علیہ ۔۔۔۔۔ یسمعھا (31: 7) ” اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس کے اندر اس متکبر شخص کی ہیئت کذائی کو اچھی طرح قلم بند کردیا گیا ہے۔ وہ نہایت غرور سے منہ موڑ کر گزر جاتا ہے ، سنی ان سنی کردیتا ہے۔ چناچہ اگلا رنگ اس تصویر میں نہایت حقارت آمیزی سے بھرا جاتا ہے۔ کان فی اذنیہ وقرا (31: 7) ” گویا اس کے کان بہرے ہیں “۔ گویا اس کے کانوں کا یہ بھاری پن اللہ کی آیات کو اس کے کانوں تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ ورنہ ان آیات کو کوئی انسان بھی اگر سنے تو وہ ان کے ساتھ یہ مذموم برتاؤ نہیں کرسکتا۔ یہ رنگ پھر مزید اہانت آمیز کردیا جایا ہے۔ فبشرہ بعذاب الیم (31: 7) ” مژدہ سنا دو اسے دردناک عذاب کا “۔ یہ موقع کسی بشارت کا موقع نہیں ہے لیکن یہاں ان کی توہین مطلوب ہے اور ایسے متکبرین مسخروں کے لئے یہی انداز مناسب ہے۔ اعراض کرنے والوں ، تکبر کرنے والوں اور کفر کرنے والوں کی اس اہانت آمیز سزا کی مناسب سے یہاں ضروری ہے کہ اچھے عمل کرنے والے اہل ایمان کے انعام اور جزا کا بھی ذکر دیا جائے۔ اس سورة کے آغاز میں ان کا ذکر ہوچکا ہے اور ان کی کامیابی کا ذکر کردیا گیا ہے۔ اگرچہ وہاں اجمالی تھا۔

لقمان 31:7

ومن الناس من یشتری ۔۔۔۔۔ فبشرہ بعذاب الیم (6 – 7) لہو حدیث سے مراد تفریحی اور دلچسپ کلام ہے جس کسی محض وقت گزارنا مطلوب ہو۔ اس کلام سے کوئی اچھا اور مفید نتیجہ نہ نکلتا ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی تعمیری بات ہو ، جو انسان کے منصب خلافت سے متعلق ہو۔ جو انسان کی ذہنی ، اخلاقی اور معاشی اور دینی اور اخروی کسی غرض سے وابستہ نہ ہو۔ اسلام انسان کے لیے اس دنیا میں کچھ فرائض متعین کرتا ہے۔ ان فرائض کے حدود ، وسائل اور طریقہ کار بھی متعین کرتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ یہ انسانوں کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے جو ہر زمان و مکان میں بالعموم پایا جاتا ہے۔ بعض روایات یہ بتاتی ہیں کہ اسلام کی پہلی جماعت کے دور میں ایک متعین واقعہ بھی ہوا تھا ، اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ مکہ کا ایک ادیب نضر ابن الحارث ایران سے ایسی کتابیں خرید کر لاتا تھا جن میں ایرانیوں اور ان کے بڑے لوگوں کے افسانے اور تاریخی واقعات ہوتے تھے اور ان کی جنگوں کے دلچسپ واقعات ہوتے تھے۔ یہ شخص مکہ کی گلیوں میں بیٹھ کر ان لوگوں کو روکتا جو قرآن سننے کے لیے جاتے تھے اور ان کو یہ افسانے سناتا۔ یہ شخص قصص القرآن کے مقابلے میں قصص ایران سناتا تھا۔ اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ یہ آیت اس واقعہ میں وارد ہے تو بھی یہ آیت عام ہے۔ یہ لوگوں کی اس قسم کے خدوخال واضح طور پر بتاتی ہے۔ اس قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ عہد رسول اللہ ﷺ میں بھی موجود تھے جس دور میں مکہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ومن الناس من یشتری لھو الحدیث (31: 6) ” انسانوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے “۔ یعنی اس کام میں اپنا مال اور اپنا وقت خرچ کرتا ہے اور اپنی زندگی اس میں کھپاتا ہے۔ اس قدر قیمتی چیزیں وہ اس قدر بےوقعت اور بےقیمت چیزوں میں خرچ کرتا ہے۔ اپنی محدود اور قیمتی عمر اس میں کھپاتا ہے۔ یہ عمر جو نہ واپس آتی ہے اور نہ واپس لائی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کام کیوں کرتا ہے۔ لیضل عن ۔۔۔۔ ھزوا (31: 6) ” تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے “۔ ایسا شخص جاہل ہے اور اسکی نظروں سے حقیقت اوجھل ہے۔ وہ کوئی بات علم و یقین کی بنیاد پر نہیں کرتا۔ نہ وہ حکمت کی بنیاد پر کوئی کام کرتا ہے۔ اسکی نیت بھی خراب ہے اور اس کی غرض بھی فاسد ہے۔ وہ لوگوں کو بدراہ کرنا چاہتا ہے۔ خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور اپنی زندگی کو اس میں فضول ضائع کرتا ہے پھر وہ اس قدر گستاخ ہے کہ دعوت اسلامی کے ساتھ مذاق کرتا ہے اور اس اسلامی نظام کے ساتھ مذاق کرتا ہے جو اللہ نے وضع کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کی زندگی کا دستور قانون ہو۔ چناچہ قرآن مجید ایسے لوگوں کی تصویر کشی سے بھی قبل ان کو اہانت آمیز عذاب کی دھمکی دیتا ہے۔ اولئک لھم عذاب مھین (31: 6) ” ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ان کیلئے توہین آمیز عذاب ہوگا ، اس لیے کہ انہوں نے یہاں دعوت اسلامی کی توہین کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ لوگ اسلامی نظام زندگی کے ساتھ مزاح کرتے تھے۔ اب اس دھمکی کے بعد اس گروہ کے خدوخال قلم بند کیے جاتے ہیں۔ واذا تتلی علیہ ۔۔۔۔۔ یسمعھا (31: 7) ” اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس کے اندر اس متکبر شخص کی ہیئت کذائی کو اچھی طرح قلم بند کردیا گیا ہے۔ وہ نہایت غرور سے منہ موڑ کر گزر جاتا ہے ، سنی ان سنی کردیتا ہے۔ چناچہ اگلا رنگ اس تصویر میں نہایت حقارت آمیزی سے بھرا جاتا ہے۔ کان فی اذنیہ وقرا (31: 7) ” گویا اس کے کان بہرے ہیں “۔ گویا اس کے کانوں کا یہ بھاری پن اللہ کی آیات کو اس کے کانوں تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ ورنہ ان آیات کو کوئی انسان بھی اگر سنے تو وہ ان کے ساتھ یہ مذموم برتاؤ نہیں کرسکتا۔ یہ رنگ پھر مزید اہانت آمیز کردیا جایا ہے۔ فبشرہ بعذاب الیم (31: 7) ” مژدہ سنا دو اسے دردناک عذاب کا “۔ یہ موقع کسی بشارت کا موقع نہیں ہے لیکن یہاں ان کی توہین مطلوب ہے اور ایسے متکبرین مسخروں کے لئے یہی انداز مناسب ہے۔ اعراض کرنے والوں ، تکبر کرنے والوں اور کفر کرنے والوں کی اس اہانت آمیز سزا کی مناسب سے یہاں ضروری ہے کہ اچھے عمل کرنے والے اہل ایمان کے انعام اور جزا کا بھی ذکر دیا جائے۔ اس سورة کے آغاز میں ان کا ذکر ہوچکا ہے اور ان کی کامیابی کا ذکر کردیا گیا ہے۔ اگرچہ وہاں اجمالی تھا۔

لقمان 31:8

قرآن کریم میں جہاں جہاں اہل ایمان کی جزاء کا ذکر ہے وہاں ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر ضرور کیا گیا ہے اس لیے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج یہ نہیں ہے کہ ایمان محض منجمد ، پوشیدہ ، معطل اور مجرد تصور ہی ہو بلکہ ایمان کو ایک زندہ ، فعال اور متحرک حقیقت ہونا چاہئے۔ جب وہ دل میں پیدا ہو ، قرار پکڑے پورا ہو ، تو متحرک ہو کر عملی شکل اختیار کرے۔ وہ حرکت اور طرز عمل کی شکل اختیار کرے اور عالم واقعہ میں اس کے آثار اپنی ترجمانی کریں۔ اور یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس مومن کے دل میں کیا ہے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو عملی شکل دی۔ لھم جنت النعیم (31: 8) ” ان کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ باغات اور یہ دوام اللہ کے عہد کے مطابق ان کو دیا جا رہا ہے۔ وعد اللہ حقا (31: 9) ” یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے “۔ اللہ کی مہربانی اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ اس نے اپنے اوپر اپنے بندوں کے ساتھ احسان کرنا فرض کرلیا۔ یہ ان کی نیکی اور ان کے نیک اعمال کے بدلے میں حالانکہ اللہ تو غنی ہے۔ اسے کسی کے عمل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وھو العزیز الحکیم (31: 9) ” وہ تو زبردست و حکیم ہے “۔ وہ اپنے عہد کو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مخلوقات کو اس نے بڑی حکمت سے بنایا ہے۔ وعدہ بھی حکمت سے کرتا ہے اور پورا بھی حکمت سے کرتا ہے۔ اس بات کی دلیل کیا ہے کہ اللہ عزیر و حکیم ہے اور اس سے قبل جو کچھ کہا اس کا ثبوت کیا ہے ؟ یہ عظیم کائنات جس کی تخلیق کا دعویٰ کوئی انسان اور کوئی قوت نہیں کرسکتی ماسوائے اللہ کے۔ یہ کائنات بہت ہی عظیم ہے اور اس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اس کا نظام نہایت مستحکم اور دقیق ہے۔ اس کی ساخت نہایت ہی متوازن ہے۔ جوں جوں اس کائنات کے بارے میں زیادہ معلومات ہوتی ہیں اور انسان غور کرتا جاتا ہے ، عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان کا تصور بھی رک جاتا ہے اور یہ عظیم کائنات ایک ایسی دلیل اور ایک ایسی شہادت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جس سے کوئی منہ نہیں موڑ سکتا۔ جو بھی ذرا غور کرے ، ذات باری کے تسلیم کرنے کے سوا اس کے لیے چارہ کار ہی نہیں ہے اور جو لوگ پھر بھی اللہ وحدہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ ھق کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔

لقمان 31:9

قرآن کریم میں جہاں جہاں اہل ایمان کی جزاء کا ذکر ہے وہاں ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر ضرور کیا گیا ہے اس لیے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج یہ نہیں ہے کہ ایمان محض منجمد ، پوشیدہ ، معطل اور مجرد تصور ہی ہو بلکہ ایمان کو ایک زندہ ، فعال اور متحرک حقیقت ہونا چاہئے۔ جب وہ دل میں پیدا ہو ، قرار پکڑے پورا ہو ، تو متحرک ہو کر عملی شکل اختیار کرے۔ وہ حرکت اور طرز عمل کی شکل اختیار کرے اور عالم واقعہ میں اس کے آثار اپنی ترجمانی کریں۔ اور یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس مومن کے دل میں کیا ہے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو عملی شکل دی۔ لھم جنت النعیم (31: 8) ” ان کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ یہ باغات اور یہ دوام اللہ کے عہد کے مطابق ان کو دیا جا رہا ہے۔ وعد اللہ حقا (31: 9) ” یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے “۔ اللہ کی مہربانی اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ اس نے اپنے اوپر اپنے بندوں کے ساتھ احسان کرنا فرض کرلیا۔ یہ ان کی نیکی اور ان کے نیک اعمال کے بدلے میں حالانکہ اللہ تو غنی ہے۔ اسے کسی کے عمل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وھو العزیز الحکیم (31: 9) ” وہ تو زبردست و حکیم ہے “۔ وہ اپنے عہد کو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مخلوقات کو اس نے بڑی حکمت سے بنایا ہے۔ وعدہ بھی حکمت سے کرتا ہے اور پورا بھی حکمت سے کرتا ہے۔ اس بات کی دلیل کیا ہے کہ اللہ عزیر و حکیم ہے اور اس سے قبل جو کچھ کہا اس کا ثبوت کیا ہے ؟ یہ عظیم کائنات جس کی تخلیق کا دعویٰ کوئی انسان اور کوئی قوت نہیں کرسکتی ماسوائے اللہ کے۔ یہ کائنات بہت ہی عظیم ہے اور اس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اس کا نظام نہایت مستحکم اور دقیق ہے۔ اس کی ساخت نہایت ہی متوازن ہے۔ جوں جوں اس کائنات کے بارے میں زیادہ معلومات ہوتی ہیں اور انسان غور کرتا جاتا ہے ، عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان کا تصور بھی رک جاتا ہے اور یہ عظیم کائنات ایک ایسی دلیل اور ایک ایسی شہادت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جس سے کوئی منہ نہیں موڑ سکتا۔ جو بھی ذرا غور کرے ، ذات باری کے تسلیم کرنے کے سوا اس کے لیے چارہ کار ہی نہیں ہے اور جو لوگ پھر بھی اللہ وحدہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ ھق کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔

لقمان 31:10

خلق السموت بغیر ۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (10 – 11) یہ آسمان ، بغیر اس کے کہ ان کے بارے میں ہم جدید پیچیدہ سائنسی معلومات پیش کریں ، اپنی ظاہری حالت میں جب ہمارے حواس کے سامنے آتے ہیں تو یہ بہت ہی عظیم لگتے ہیں۔ یہ آسمان ستارے اور سیارے ہوں ، یا کہکشاں اور سدم ہوں۔ جو بلندیوں میں تیر رہے ہیں اور ان کے ھقیقی راز سے صرف اللہ ہی واقف ہے یا آسمان سے مراد یہ قبہ ہو جسے ہم دیکھتے ہیں اور جس کی حقیقت سے اللہ ہی خبردار ہے۔ غرض آسمان سے مراد جو بھی ہو ، بہرحال یہ عظیم کر ات بغیر سہارے اور ستونوں کے کھڑے ہیں۔ انسان رات اور دن ان سماوات کو دیکھتے ہیں اور جس چھوٹے سے ستارے پر انسان سوار ہیں ، اس تک ہم جس قدر دوریاں قریب کردیں اس عالم کا محض تصور ہی سر کو چکرا دیتا ہے کہ یہ عالم کس قدر عظیم اور ہولناک ہے جس کے حدود وقیود انسان کے ادراک سے ابھی تک باہر ہیں۔ پھر جب ایک انسان سوچتا ہے کہ اس عظیم کائنات کو ایک منظم نظام میں باندھ دیا گیا ہے کہ اس کی حرکت میں ایک سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آتا۔ پھر اس عالم کو کس قدر خوبصورت بنایا گیا ہے کہ انسان دیکھتا ہی رہ جائے۔ دل سوچتا ہی رہے اور نہ تھکے۔ نظریں بھرتی ہی رہیں اور اس کے نظارے سے ملوک نہ ہوں اور جب اسنان یہ سوچے کہ اس گول آسمان میں جو چھوٹے چھوٹے نکتے نظر آتے ہیں ان میں سے ایک ایک ستارہ زمین سے ہزاروں گنا ہڑا ہے (مثلاً مشتری ایک ہزار گنا) لاکھوں گنا بڑا ہے تو کسی بھی عقلمند انسان کے لئے یہی کافی دلیل ہے۔ فضائے کائنات کے اس لا انتہا سفر سے واپس آئیے ، یہ تو قرآن نے ایک سرسری اشارہ ہی کیا ہے۔ خلق السموت بغیر عمد ترونھا (31: 10) ” اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا جو تم کو نظر آئیں “۔ اب اسی زمین کی طرف ، اور ذرا جم کر دیر تک اس کے نظاروں کو غور سے دیکھئے۔ یہ چھوٹی سی زمین ، کائنات کا ایک ذرہ ، اس عظیم کائنات میں تو یہ ایک ذرہ ہی ہے جو فضا میں اڑ رہا ہے۔ ہم اس پر واپس آتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ زمین بہت وسیع اور طویل و عریض ہے۔ انسان اپنی مختصر زندگی میں اس کی سیر بھی نہیں کرسکتا۔ اگرچہ وہ پوری عمر اس چھوٹے سے ڈرے کے سیروسفر میں گزار دے۔ انسان کو کہا جاتا ہے کہ ذرا اسی کا مطالعہ کھلی آنکھوں سے کرو ، اور طویل الضت اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے انسان سے اس کا انوکھا پن گم ہوگیا ہے۔ ذرا اس کے عجائبات کو دیکھو۔ والقی فی ۔۔۔۔ تمید بکم (31: 10) ” اور اس نے زمین میں پہاڑ جما دئیے کہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے “۔ رواسی معنی پہاڑ۔ علمائے طبقات الارض یہ کہتے ہیں کہ پہاڑ دراصل زمین کے چھلکے کی شکئیں ہیں۔ جب زمین کا چھلکا سرد ہوگیا اور اس کے اندر کی گیس سکڑ گئیں تو زمین کا حجم کم ہوتا گیا جس کی وجہ سے زمین کے چھلکے کے اندر شکنیں پیدا ہوگئیں اور اس طرح زمین کے اوپر بلندیاں اور پستیاں اور نشیب و فراز پیدا ہوگئے۔ جس قدر جہاں زیادہ سکیڑ کا عمل ہوا اسی قدر پہاڑ بلند ہوگئے۔ اب چاہے علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ درست ہو یا غلط ہو ، لیکن اللہ کی کتاب یہ کہتی ہے۔ اللہ نے پہاڑ جما دئیے تاکہ زمین کی رفتار کے اندر توازن ہو اور انسان اس کی سطح پر رک سکے اور اس کے اندر ڈولنے کا عمل نہ ہو۔ علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ درست ہو سکتا ہے اور وہ اس بات کو تسلیم بھی کرتے ہیں کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین کی رفتار محوری کے اندر وہ توازن نہ ہوتا جو ہے اور اللہ کا حکم ہر حالت میں بلند ہے اور رہے گا کیونکہ اللہ تمام متکلمین میں سے سچا اور صادق ہے۔ صدق اللہ العظیم۔ وبث فیھا من کل دآبۃ (31: 10) ” اور اس نے ہر طرح کے جانور زمین میں پھیلا دئیے “۔ اس عظیم کائنات کے عجائبات میں سے یہ ایک حیرت انگیز عجوبہ ہے کہ اس زمین کے اوپر اللہ نے رنگا رنگ زندگی کو پھیلایا ہے۔ آج تک کوئی شخص راز حیات ہی کو نہیں پاسکا اس کی یہ بو قلمونی اور رنگا رنگی تو بڑی چیز ہے۔ انسان اس حیات کی سادہ ترین صورت کو بھی نہیں پاسکا چہ جائیکہ وہ زندگی کی اعلیٰ اقسام ، اس کی رنگارنگی اور مختلف ضخامتیں ، اور خوبصورت جانور اور پرندوں کو جان سکے جن کی تعداد کا بھی انسان کو علم نہیں ہے۔ بےحد افسوس ہے کہ بعض لوگ علم کے باوجود ان عجائبات پر آنکھیں بند کرکے گزر جاتے ہیں گویا وہ ایک بالکل معمولی چیز دیکھ رہے ہیں۔ یہی انسان جب انسان کی بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی مشین کو دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے اور بار بار الٹ پلٹ کر اسے دیکھتا چلا جاتا ہے حالانکہ یہ مشین اللہ کے پیدا کردہ ایک سادہ خلیے سے زیادہ پیچیدہ نہیں ہوسکتی اور ان خلیوں کے جو دقیق اور پیچیدہ تصرفات ہیں ، وہ سب اعجوبے ہیں۔ ہم صرف سادہ خلیے کے عجائبات کی بات کرتے ہیں۔ رہے وہ پیچیدہ تخلیق والے بڑے انسان جن کے جسم میں سینکڑوں کیمیاوی تجربہ گاہیں اور لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں جن کے اندر سینکڑوں سٹورز ہیں جہاں مواد جمع ہوتے ہیں اور تقسیم ہوتے ہیں اور جن کے اندر ایک عجیب مواصلاتی نظام ہے جو لاسلکی کے طور پر پیغامات لیتا ہے اور ارسال کرتا ہے اور سینکڑوں دوسرے عوامل ہزار ہا فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ وانزلنا من ۔۔۔۔۔ زوج کریم (31: 10) ” اور آسمانوں سے پانی برسایا اور زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگا دیں “۔ آسمانوں سے پانی برسایا عجائبات تکوینی میں سے ایک اعجوبہ ہے لیکن چونکہ یہ اکثر ہمارے سامنے دہرایا جاتا ہے اس لیے ہم اس پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ یہ پانی جس سے نہریں ہوکر بہتی ہیں جس سے بحیرے بھر جاتے ہیں جس کے ساتھ زمین میں چشمے پھوٹتے ہیں۔ یہ پانی ایک نہایت ہی پیچیدہ نظام کے تحت آسمانوں سے برستا ہے۔ یہ آسمانوں کے نظام کے ساتھ مربوط ہے۔ اس کا مزاج ، اس کی تشکیل اور کر ات کی دوریوں سے یہ مربوط ہے۔ پھر پانی کے نزول کے بعد زمین کے اندر مختلف النوع اور مختلف اور مختلف الشکل نباتات ، ذائقے مختلف ، رنگ مختلف ، حجم مختلف ، خواص مختلف۔ ان کے اندر ایسے ایسے عجائبات کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے نباتات میں زندگی اور نمو ان کا تنوع ، ان کی وراثتی خصوصیات جو چھوٹے سے بیج کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹا سا بیج اپنے آپ کو دہراتا ہے۔ پودا ، پھول اور درخت کی شکل اختیار کرت ا ہے۔ ایک ہی پھول کے اندر رنگوں کی تقسیم کا مطالعہ ہی انسان کو خالق کائنات کی عظیم قوتوں کی طرف کھینچ لیتا ہے اور انسان کا ایمان گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر قرآن تصریح کرتا ہے کہ اللہ نے نباتات میں بھی بوڑے پیدا کیے۔ من کل زوج کریم (31: 10) ” عمدہ قسم کے جوڑے “۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے کہ سائنس کو بہت ہی قریب زمانے میں اس کا علم اور تجربہ ہوسکا ہے۔ ہر پورے میں نر اور مادہ خلیے ہوتے ہیں۔ یہ خلیے ایک ہی پھول میں یا ایک ہی شاخ کے دو پھولوں میں ہوتے ہیں یا یہ خلیے دو درختوں میں علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں اور کوئی پودا اس وقت پھل نہیں دیتا جب تک نر اور مادی خلیے باہم ملتے نہیں ہیں۔ جیسا کہ انسانوں اور حیوانوں کے توالد کا نظام واضح ہے۔ اور زوج کے ساتھ کریم کی صفت ، یہاں اس لفظ کے استعمال کے ذریعے ایک خاص تاثر دینا مطلوب ہے کہ یہ اللہ کریم کی تخلیق ہے اور یہ بہت ہی اہم اعجوبہ ہے جسے دیدہ عبرت سے دیکھا جانا چاہئے اور اس کا احترام کرنا چاہئے۔ یہ اس لیے بھی لایا گیا ہے کہ اللہ نے تو یہ عمدہ کام کیے ہیں اور جن ہستیوں کو تم الٰہ سمجھے ہوئے ، ذرا بتاؤ انہوں نے کیا کام کیے ہیں ۔ یہ تو ہے ھذا خلق ۔۔۔۔۔۔ من دونہ (31: 11) ” یہ تو ہے اللہ کی تخلیق اب ذرا مجھے دکھاؤ ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے “۔ زوج کریم کے بعد یہ چیلنچ اور اب یہ نتیجہ بل الظلمون فی ضلل مبین (31: 11) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور شرک سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے جبکہ اس عظیم کائنات کا یہ معجزہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہاں پہلا سفر ختم ہوتا ہے اور نہایت ہی روداد الفاظ پر۔ اس کے بعد اب دوسرا راؤنڈ شروع ہوتا ہے ۔ یہ بالکل جدید ترتیب سے ہے۔ یہ بالواسطہ ہدایت اور حکایتی انداز تلقین ہے۔ موضوع بحث اللہ وحدہ کا شکر ادا کرنا ہے۔ اور اللہ کو ہر قسم کے شرک سے پاک قرار دینا ہے۔ اس حکایت کے درمیان آخرت اور اعمال اور ان کی جزا کی بات کی گئی ہے۔

لقمان 31:11

خلق السموت بغیر ۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (10 – 11) یہ آسمان ، بغیر اس کے کہ ان کے بارے میں ہم جدید پیچیدہ سائنسی معلومات پیش کریں ، اپنی ظاہری حالت میں جب ہمارے حواس کے سامنے آتے ہیں تو یہ بہت ہی عظیم لگتے ہیں۔ یہ آسمان ستارے اور سیارے ہوں ، یا کہکشاں اور سدم ہوں۔ جو بلندیوں میں تیر رہے ہیں اور ان کے ھقیقی راز سے صرف اللہ ہی واقف ہے یا آسمان سے مراد یہ قبہ ہو جسے ہم دیکھتے ہیں اور جس کی حقیقت سے اللہ ہی خبردار ہے۔ غرض آسمان سے مراد جو بھی ہو ، بہرحال یہ عظیم کر ات بغیر سہارے اور ستونوں کے کھڑے ہیں۔ انسان رات اور دن ان سماوات کو دیکھتے ہیں اور جس چھوٹے سے ستارے پر انسان سوار ہیں ، اس تک ہم جس قدر دوریاں قریب کردیں اس عالم کا محض تصور ہی سر کو چکرا دیتا ہے کہ یہ عالم کس قدر عظیم اور ہولناک ہے جس کے حدود وقیود انسان کے ادراک سے ابھی تک باہر ہیں۔ پھر جب ایک انسان سوچتا ہے کہ اس عظیم کائنات کو ایک منظم نظام میں باندھ دیا گیا ہے کہ اس کی حرکت میں ایک سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آتا۔ پھر اس عالم کو کس قدر خوبصورت بنایا گیا ہے کہ انسان دیکھتا ہی رہ جائے۔ دل سوچتا ہی رہے اور نہ تھکے۔ نظریں بھرتی ہی رہیں اور اس کے نظارے سے ملوک نہ ہوں اور جب اسنان یہ سوچے کہ اس گول آسمان میں جو چھوٹے چھوٹے نکتے نظر آتے ہیں ان میں سے ایک ایک ستارہ زمین سے ہزاروں گنا ہڑا ہے (مثلاً مشتری ایک ہزار گنا) لاکھوں گنا بڑا ہے تو کسی بھی عقلمند انسان کے لئے یہی کافی دلیل ہے۔ فضائے کائنات کے اس لا انتہا سفر سے واپس آئیے ، یہ تو قرآن نے ایک سرسری اشارہ ہی کیا ہے۔ خلق السموت بغیر عمد ترونھا (31: 10) ” اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا جو تم کو نظر آئیں “۔ اب اسی زمین کی طرف ، اور ذرا جم کر دیر تک اس کے نظاروں کو غور سے دیکھئے۔ یہ چھوٹی سی زمین ، کائنات کا ایک ذرہ ، اس عظیم کائنات میں تو یہ ایک ذرہ ہی ہے جو فضا میں اڑ رہا ہے۔ ہم اس پر واپس آتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ زمین بہت وسیع اور طویل و عریض ہے۔ انسان اپنی مختصر زندگی میں اس کی سیر بھی نہیں کرسکتا۔ اگرچہ وہ پوری عمر اس چھوٹے سے ڈرے کے سیروسفر میں گزار دے۔ انسان کو کہا جاتا ہے کہ ذرا اسی کا مطالعہ کھلی آنکھوں سے کرو ، اور طویل الضت اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے انسان سے اس کا انوکھا پن گم ہوگیا ہے۔ ذرا اس کے عجائبات کو دیکھو۔ والقی فی ۔۔۔۔ تمید بکم (31: 10) ” اور اس نے زمین میں پہاڑ جما دئیے کہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے “۔ رواسی معنی پہاڑ۔ علمائے طبقات الارض یہ کہتے ہیں کہ پہاڑ دراصل زمین کے چھلکے کی شکئیں ہیں۔ جب زمین کا چھلکا سرد ہوگیا اور اس کے اندر کی گیس سکڑ گئیں تو زمین کا حجم کم ہوتا گیا جس کی وجہ سے زمین کے چھلکے کے اندر شکنیں پیدا ہوگئیں اور اس طرح زمین کے اوپر بلندیاں اور پستیاں اور نشیب و فراز پیدا ہوگئے۔ جس قدر جہاں زیادہ سکیڑ کا عمل ہوا اسی قدر پہاڑ بلند ہوگئے۔ اب چاہے علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ درست ہو یا غلط ہو ، لیکن اللہ کی کتاب یہ کہتی ہے۔ اللہ نے پہاڑ جما دئیے تاکہ زمین کی رفتار کے اندر توازن ہو اور انسان اس کی سطح پر رک سکے اور اس کے اندر ڈولنے کا عمل نہ ہو۔ علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ درست ہو سکتا ہے اور وہ اس بات کو تسلیم بھی کرتے ہیں کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین کی رفتار محوری کے اندر وہ توازن نہ ہوتا جو ہے اور اللہ کا حکم ہر حالت میں بلند ہے اور رہے گا کیونکہ اللہ تمام متکلمین میں سے سچا اور صادق ہے۔ صدق اللہ العظیم۔ وبث فیھا من کل دآبۃ (31: 10) ” اور اس نے ہر طرح کے جانور زمین میں پھیلا دئیے “۔ اس عظیم کائنات کے عجائبات میں سے یہ ایک حیرت انگیز عجوبہ ہے کہ اس زمین کے اوپر اللہ نے رنگا رنگ زندگی کو پھیلایا ہے۔ آج تک کوئی شخص راز حیات ہی کو نہیں پاسکا اس کی یہ بو قلمونی اور رنگا رنگی تو بڑی چیز ہے۔ انسان اس حیات کی سادہ ترین صورت کو بھی نہیں پاسکا چہ جائیکہ وہ زندگی کی اعلیٰ اقسام ، اس کی رنگارنگی اور مختلف ضخامتیں ، اور خوبصورت جانور اور پرندوں کو جان سکے جن کی تعداد کا بھی انسان کو علم نہیں ہے۔ بےحد افسوس ہے کہ بعض لوگ علم کے باوجود ان عجائبات پر آنکھیں بند کرکے گزر جاتے ہیں گویا وہ ایک بالکل معمولی چیز دیکھ رہے ہیں۔ یہی انسان جب انسان کی بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی مشین کو دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے اور بار بار الٹ پلٹ کر اسے دیکھتا چلا جاتا ہے حالانکہ یہ مشین اللہ کے پیدا کردہ ایک سادہ خلیے سے زیادہ پیچیدہ نہیں ہوسکتی اور ان خلیوں کے جو دقیق اور پیچیدہ تصرفات ہیں ، وہ سب اعجوبے ہیں۔ ہم صرف سادہ خلیے کے عجائبات کی بات کرتے ہیں۔ رہے وہ پیچیدہ تخلیق والے بڑے انسان جن کے جسم میں سینکڑوں کیمیاوی تجربہ گاہیں اور لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں جن کے اندر سینکڑوں سٹورز ہیں جہاں مواد جمع ہوتے ہیں اور تقسیم ہوتے ہیں اور جن کے اندر ایک عجیب مواصلاتی نظام ہے جو لاسلکی کے طور پر پیغامات لیتا ہے اور ارسال کرتا ہے اور سینکڑوں دوسرے عوامل ہزار ہا فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ وانزلنا من ۔۔۔۔۔ زوج کریم (31: 10) ” اور آسمانوں سے پانی برسایا اور زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگا دیں “۔ آسمانوں سے پانی برسایا عجائبات تکوینی میں سے ایک اعجوبہ ہے لیکن چونکہ یہ اکثر ہمارے سامنے دہرایا جاتا ہے اس لیے ہم اس پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ یہ پانی جس سے نہریں ہوکر بہتی ہیں جس سے بحیرے بھر جاتے ہیں جس کے ساتھ زمین میں چشمے پھوٹتے ہیں۔ یہ پانی ایک نہایت ہی پیچیدہ نظام کے تحت آسمانوں سے برستا ہے۔ یہ آسمانوں کے نظام کے ساتھ مربوط ہے۔ اس کا مزاج ، اس کی تشکیل اور کر ات کی دوریوں سے یہ مربوط ہے۔ پھر پانی کے نزول کے بعد زمین کے اندر مختلف النوع اور مختلف اور مختلف الشکل نباتات ، ذائقے مختلف ، رنگ مختلف ، حجم مختلف ، خواص مختلف۔ ان کے اندر ایسے ایسے عجائبات کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے نباتات میں زندگی اور نمو ان کا تنوع ، ان کی وراثتی خصوصیات جو چھوٹے سے بیج کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹا سا بیج اپنے آپ کو دہراتا ہے۔ پودا ، پھول اور درخت کی شکل اختیار کرت ا ہے۔ ایک ہی پھول کے اندر رنگوں کی تقسیم کا مطالعہ ہی انسان کو خالق کائنات کی عظیم قوتوں کی طرف کھینچ لیتا ہے اور انسان کا ایمان گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر قرآن تصریح کرتا ہے کہ اللہ نے نباتات میں بھی بوڑے پیدا کیے۔ من کل زوج کریم (31: 10) ” عمدہ قسم کے جوڑے “۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے کہ سائنس کو بہت ہی قریب زمانے میں اس کا علم اور تجربہ ہوسکا ہے۔ ہر پورے میں نر اور مادہ خلیے ہوتے ہیں۔ یہ خلیے ایک ہی پھول میں یا ایک ہی شاخ کے دو پھولوں میں ہوتے ہیں یا یہ خلیے دو درختوں میں علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں اور کوئی پودا اس وقت پھل نہیں دیتا جب تک نر اور مادی خلیے باہم ملتے نہیں ہیں۔ جیسا کہ انسانوں اور حیوانوں کے توالد کا نظام واضح ہے۔ اور زوج کے ساتھ کریم کی صفت ، یہاں اس لفظ کے استعمال کے ذریعے ایک خاص تاثر دینا مطلوب ہے کہ یہ اللہ کریم کی تخلیق ہے اور یہ بہت ہی اہم اعجوبہ ہے جسے دیدہ عبرت سے دیکھا جانا چاہئے اور اس کا احترام کرنا چاہئے۔ یہ اس لیے بھی لایا گیا ہے کہ اللہ نے تو یہ عمدہ کام کیے ہیں اور جن ہستیوں کو تم الٰہ سمجھے ہوئے ، ذرا بتاؤ انہوں نے کیا کام کیے ہیں ۔ یہ تو ہے ھذا خلق ۔۔۔۔۔۔ من دونہ (31: 11) ” یہ تو ہے اللہ کی تخلیق اب ذرا مجھے دکھاؤ ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے “۔ زوج کریم کے بعد یہ چیلنچ اور اب یہ نتیجہ بل الظلمون فی ضلل مبین (31: 11) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور شرک سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے جبکہ اس عظیم کائنات کا یہ معجزہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہاں پہلا سفر ختم ہوتا ہے اور نہایت ہی روداد الفاظ پر۔ اس کے بعد اب دوسرا راؤنڈ شروع ہوتا ہے ۔ یہ بالکل جدید ترتیب سے ہے۔ یہ بالواسطہ ہدایت اور حکایتی انداز تلقین ہے۔ موضوع بحث اللہ وحدہ کا شکر ادا کرنا ہے۔ اور اللہ کو ہر قسم کے شرک سے پاک قرار دینا ہے۔ اس حکایت کے درمیان آخرت اور اعمال اور ان کی جزا کی بات کی گئی ہے۔

لقمان 31:12

ولقد اتینا لقمن ۔۔۔۔۔ غنی حمید (12) حضرت لقمان حکیم کی زبانی یہاں عقیدہ توحید ، عقیدہ آخرت اور دوسری اخلاقی تعلیمات یہاں دی گئی ہیں۔ ان کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نبی تھے اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ نبوت کے منصب کے بغیر ایک عبد صالح تھے زیادہ تر مفسرین اس دوسری رائے کی طرف گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ ایک حبشی غلام تھے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نوبہ کے رہنے والے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے ججوں میں سے ایک جج تھے۔ وہ جو بھی ہوں قرآن نے ہمیں یہ اطلاع دی ہے کہ وہ ایک ایسا شخص تھا جس کو اللہ نے حکمت عطا کی تھی اور اس حکمت اور فلسفے کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔ ولقد اتینا ۔۔۔۔ اشکر للہ (31: 12) ” ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کے شکر گزار بنو “۔ چناچہ قرآن کریم ہمیں اس قصے کے ضمن میں یہ ہدایت دیتا ہے کہ تم لوگ اللہ کا شکر ادا کرو اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ہدایت اور اطلاع کہ شکر تو شکر کرنے والے کیلئے ایک ذخیرہ ہے۔ اس کے نتیجے میں خود شاکر کو نفع ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تو غنی بادشاہ ہے کوئی شکر کرے یا نہ کرے اس کی بادشاہت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اللہ تو بذات خود محمود اور قابل ستائش ہے ، چاہے کوئی اس کی حمد و ثنا کرے یا نہ کرے ومن یشکر۔۔۔۔۔ غنی حمید (31: 12) ” جو کوئی شکر کرے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے اور جو کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بےنیاز ہے “۔ لہٰذا بہت بڑا احمق ہے وہ جو حکمت کے مخالف ہو اور وہ اپنے لیے یہ سرمایہ جمع نہ کرتا ہو۔ اب مسئلہ توحید ایک تقریر کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کے سامنے کی۔

لقمان 31:13

واذ قال لقمن ۔۔۔۔۔ لظلم عظیم (13) یہ ایک ایسا وعظ ہے جو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہے کیونکہ کوئی والد اپنے بیٹے کے لیے اچھائی کے سوا اور کوئی ارادہ ہی نہیں کرسکتا۔ ایک والد اپنے بیٹے کے لیے ناصح مشفق ہی ہو سکتا ہے۔ یہ ہیں لقمان حکیم جو اپنے بیٹے کو شرک سے منع کرتے ہیں اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ شرک دراصل ایک عظیم ظلم ہے۔ وہ اس بات کو دو بار اپنی تقریر میں دہراتے ہیں ۔ ایک بار تو وہ شرک سے روک کر اس کی علت بتاتے ہیں اور دوسری تاکید لفظ ان اور لام تاکید کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو حضرت محمد ﷺ اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ ہیں کہ ناحق مجادلہ کرتے ہیں اور اس عقیدے پر زور دینے کی وجہ سے حضرت پر الزامات عائد کرتے ہیں کہ شاید ان کی کوئی ذاتی غرض اس سے وابستہ ہے ، مثلاً یہ کہ حضرت محمد ﷺ حکمران بننا چاہتے ہیں اور ان کے مقابلے میں بڑا آدمی بننا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ان کی یہ بات درست نہیں ہے اس لیے کہ حضرت لقمان اپنے بیٹے کے سامنے یہی تقریر کرتے ہیں اور ان کو شرک سے رکنے کا امر کرتے ہیں ظاہر ہے کہ کوئی والد کم از کم اپنے بیٹے سے کوئی غلط بات نہیں کرسکتا۔ لہٰذا یہ نصیحت ہر قسم کے ظن اور گمان سے پاک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسے بھی حکمت دی گئی وہ عقیدہ توحید کا قائل ہوتا ہے۔ عقیدہ توحید سے غرض خیر ہی خیر ہے اور کچھ بھی نہیں اور یہ ایک نفسیاتی استدلال ہے۔ چونکہ یہ والد کی جانب سے اپنے بیٹے کو ایک مشفقانہ وعظ تھا ، اس لیے یہ بھی بتا دیا گیا کہ جب والد اپنی اولاد کے حق میں اس قدر مخلص اور مشفق ہوتا ہے تو تمام انسانوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ والدین کا تم پر حق ہے۔ یہ تقریر بھی نہایت ہی محبت بھرے الفاظ میں ہے۔ یہ باپ اور بیٹے ، والدین اور اولاد کے تعلق کو نہایت ہی شفیقانہ اور اشاراتی انداز میں بیان کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود نظریاتی تعلق اور نظریاتی روابط کو نسب اور خون کے تعلق سے مقدم رکھا جاتا ہے۔

لقمان 31:14

ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔ بما کنتم تعملون (14 – 15) قرآن کریم میں بار بار اولاد کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھیں اور رسول اللہ ﷺ کے نصائح میں بھی اس کی بار بار تاکید آتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں والدین کو اپنے کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت کم ہدایت دی گئی ہے۔ جو نصیت کی گئی ہے وہ زندہ درگور کرنے کی بری رسم کے سلسلے میں ہے جبکہ یہ رسم بہت ہی محدود علاقوں میں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں پر رحم و شفقت ہر انسان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ اللہ نے سلسلہ حیات کو جاری رکھنے کے لیے والدین کے اندر یہ داعیہ رکھ دیا ہے کہ وہ بچوں کی نگہداشت کریں۔ والدین ، اپنے جسم ، اپنے اعصاب اور اپنی عمریں بچوں کے لئے کھپا دیتے ہیں۔ وہ اپنی ہر قیمتی چیز اپنے بچوں پر قربان کردیتے ہیں اور اس راہ میں جو بھی مشکلات آجائیں اف نہیں کرتے اور نہ شکوہ کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات والدین لاشعوری طور پر بچوں کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں بلکہ وہ بچوں پر نہایت ہی خوشی خوشی سے سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ اس طرح گویا یہ سب کچھ والدین اپنے لیے کرتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کے لیے فطرت انسانی خود کفیل ہوتی ہے ، مزید کسی وصیت اور تاکید کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ رہا لڑکا اور اولادتو ان کو بار باد یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس نسل کا خیال رکھیں جس نے تم پر سب کچھ قربان کردیا ہے ، جس نے سب تدبیریں تمہارے لیے کیں اور خواب ٹمٹماتے چراغ ہیں یا چراغ سحری ہیں جنہوں نے اپنی عمر ، اپنے جسم اور اپنی روح کو کشید کرکے تمہاری زندگی کا ساماں تیار کیا ہے اور جہاں تک بچوں اور اولاد کا تعلق ہے وہ والدین کی قربانیوں کا پورا معاوضہ نہیں دے سکتے اگرچہ وہ اپنی عمر ہی والدین کے لئے وقف کردیں۔ ذرا اس پر تاثیر کو دیکھیں۔ حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصلہ فی عامین (31: 14) ” اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے “۔ اس قربانی اور اس نیکی کی تصویر اس سے اچھی نہیں بنائی جاسکتی۔ والدہ اپنے فریضہ طبیعی کی رو سے زیادہ قربانی دیتی ہے اور بچوں کے لیے اس کی محبت ، شفقت اور نرمی باپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی سند میں یہ روایت کی ہے بذریعہ مریدہ اور اس کے والد کا ایک شخص طواف میں تھا اور اپنی ماں کو اٹھا کر طواف کرا رہا تھا تو اس نے نبی ﷺ سے دریافت کہ کیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا نہیں ، ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔ یوں ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔ حمل کے دور میں اور وضع حمل کے دور میں ، جب کہ وہ اسے ضعف جھیل کر اٹھا رہی تھی۔ اس خوشگوار شکر گزاری کے سائے میں متوجہ کیا جاتا ہے کہ منعم اول کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ پہلا شکر اللہ کا ہے اور دوسرا والدین کا ہے۔ ان اشکرلی ولو الدیک (31: 14) ” کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا “۔ اور ان حقائق کے ساتھ یہ اہم حقیقت بھی یاد رکھو۔ الی المصیر (31: 14) ” میری ہی طرف تمہیں پلٹنا ہے “۔ اور وہاں یہی سازو سامان تمہیں فائدہ دے گا۔ لیکن والدین اور اولاد کے اس تاکیدی تعلق کے باوجود اور اولاد کی جانب سے اس حرمت اور ادب کے باوجود یہ تعلق ثانوی ہے۔ اس سے قبل نظریاتی تعلق ہے۔ لہٰذا اولاد کو یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ نظریات کے سلسلے میں والدین کے احکام اور خواہش کو بھی رد کیا جاسکتا ہے۔ وان جاھدک علی ۔۔۔۔۔ فلا تطمعھما (31: 15) ” لیکن اگر رہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان “ ۔ کیونکہ والدین کی اطاعت کی سرحد یہاں ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے آگے رب تعالیٰ کی اطاعت کا حکم ہے اور نظریاتی تعلق باپ بیٹے کے تعلق سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اس لیے والدین کسی کو مشرک بنانے کے جو احکام دیں ، جدوجہد کریں ، دباؤ ڈالیں ، مطالبے کریں ، ناراض ہوں ، تو ان کی یہ بات نہیں مانی جاسکتی کیونکہ اولاد جانتی نہیں ہے کہ اللہ کا کوئی شریک بھی ہے۔ لہٰذا حکم یہ ہے کہ یہاں سے آگے والدین کی اطاعت نہیں ہے۔ خالق کی اطاعت ہے۔ لیکن نظریاتی اختلاف اور نظریات کے بارے میں والدین کی عدم اطاعت کے حکم کے باوجود والدین کی عزت و احترام اور ان کے ساتھ شفقت کا برتاؤ ضروری ہے۔ وصاحبھما فی الدنیا معروفا (31: 15) ” دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ “۔ یہ دنیا کی زندگی تو ایک مختصر سفر ہے۔ اصل سفر یہ ہے۔ واتبع سبیل من اناب الی (31: 15) ” مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے “۔ یعنی اہل ایمان کی پیروی کرو۔ اور اس مختصر سفر کے بعد پھر تم نے اللہ کے سامنے حاضری دینی ہے ۔ ثم الی مر جعکم فانبئکم بما کنتم تعلمیون (31: 15) ” پھر تم سب کو پلٹنا میری طرف ہے ۔ پھر میں تمہیں بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کرکے آئے ہو “۔ اور ہر شخص کے لیے وہاں جزاء ہوگی اس کے اعمال کی چاہے اس نے شکر کیا یا کفر کیا ۔ شرک کی راہ اختیار کی یا توحید کا راستہ اپنایا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت اور سورة عنکبوت کی آیت جو اس کے مثابہ ہے اور سورة احقاف کہ ایک آیت جس کا یہی مضمون ہے ، یہ آیات حضرت سعد ابن ابی وقاص اور اس کی ماں کے حق میں نازل ہوئیں ۔ (میں نے بیسویں پارے میں سورة عنکبوت کی آیت کے ضمن میں تفصیلات دی ہیں ) بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت سعد ابن ملک ؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔ طبرانی نے اسے کتاب العشرۃ میں نقل کیا ہے جو انہوں نے داؤدابن سے بند سے روایت کی ہے ۔ مسلم کی حدیث میں سعد ابن ابی وقاص کا قصہ آیا ہے اور راجح بات یہی ہے لیکن مفہوم اور حکم تمام ایسے حالات پر عام ہوگا ۔ مطلب یہ ہے کہ تعلقات میں بھی درجات میں اور فرائض میں بھیدرجات ہیں ۔ ہر حکم اور ہر تعلق کی اپنی قدرت و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسلام میں اللہ کا رابطہ سب سے پہلا رابطہ ہے اور اللہ کے حقوق سب سے اونچادرجہ رکھتے ہیں قرآن کریم مراتب کر اس ذوق کو بار بار بتاتا ہے کہ اگر فرق مراتب نہ کئی خوندیقی ۔ اور باربار ماکید اس لیے کی جاتی ہے کہ اس معاملے میں کوئی اجمال واشکال نہ رہے ۔ یہ تو تھا جملہ معترضہ حضرت لقمان کی تقریر میں ۔ اس کے بعد ان کی تقریر اور نصیحت پھر شروع ہوتی ہے۔ اور یہ مسئلہ بعث بعد الموت اور حشر و نشر اور جزاء و سزا کے بارے میں ہے کہ وہاں سب کو جزاء و سزا ملے گی اور یہ بہت ہی عادلانہ ہوگی لیکن اس اصول کو محض اصول کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ اسے ایک کائناتی تمثیل اور تصویر کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس قدر موثر انداز میں جس سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے اور اس تصویر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ اس کائنات کے ذرے ذرے کو جانتا ہے اس لیے ہر کسی کے اجزائے جسم کے تمام ذرات کو وہ لا سکتا ہے۔

لقمان 31:15

ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔ بما کنتم تعملون (14 – 15) قرآن کریم میں بار بار اولاد کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھیں اور رسول اللہ ﷺ کے نصائح میں بھی اس کی بار بار تاکید آتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں والدین کو اپنے کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت کم ہدایت دی گئی ہے۔ جو نصیت کی گئی ہے وہ زندہ درگور کرنے کی بری رسم کے سلسلے میں ہے جبکہ یہ رسم بہت ہی محدود علاقوں میں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں پر رحم و شفقت ہر انسان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ اللہ نے سلسلہ حیات کو جاری رکھنے کے لیے والدین کے اندر یہ داعیہ رکھ دیا ہے کہ وہ بچوں کی نگہداشت کریں۔ والدین ، اپنے جسم ، اپنے اعصاب اور اپنی عمریں بچوں کے لئے کھپا دیتے ہیں۔ وہ اپنی ہر قیمتی چیز اپنے بچوں پر قربان کردیتے ہیں اور اس راہ میں جو بھی مشکلات آجائیں اف نہیں کرتے اور نہ شکوہ کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات والدین لاشعوری طور پر بچوں کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں بلکہ وہ بچوں پر نہایت ہی خوشی خوشی سے سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ اس طرح گویا یہ سب کچھ والدین اپنے لیے کرتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کے لیے فطرت انسانی خود کفیل ہوتی ہے ، مزید کسی وصیت اور تاکید کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ رہا لڑکا اور اولادتو ان کو بار باد یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس نسل کا خیال رکھیں جس نے تم پر سب کچھ قربان کردیا ہے ، جس نے سب تدبیریں تمہارے لیے کیں اور خواب ٹمٹماتے چراغ ہیں یا چراغ سحری ہیں جنہوں نے اپنی عمر ، اپنے جسم اور اپنی روح کو کشید کرکے تمہاری زندگی کا ساماں تیار کیا ہے اور جہاں تک بچوں اور اولاد کا تعلق ہے وہ والدین کی قربانیوں کا پورا معاوضہ نہیں دے سکتے اگرچہ وہ اپنی عمر ہی والدین کے لئے وقف کردیں۔ ذرا اس پر تاثیر کو دیکھیں۔ حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصلہ فی عامین (31: 14) ” اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے “۔ اس قربانی اور اس نیکی کی تصویر اس سے اچھی نہیں بنائی جاسکتی۔ والدہ اپنے فریضہ طبیعی کی رو سے زیادہ قربانی دیتی ہے اور بچوں کے لیے اس کی محبت ، شفقت اور نرمی باپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی سند میں یہ روایت کی ہے بذریعہ مریدہ اور اس کے والد کا ایک شخص طواف میں تھا اور اپنی ماں کو اٹھا کر طواف کرا رہا تھا تو اس نے نبی ﷺ سے دریافت کہ کیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا نہیں ، ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔ یوں ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔ حمل کے دور میں اور وضع حمل کے دور میں ، جب کہ وہ اسے ضعف جھیل کر اٹھا رہی تھی۔ اس خوشگوار شکر گزاری کے سائے میں متوجہ کیا جاتا ہے کہ منعم اول کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ پہلا شکر اللہ کا ہے اور دوسرا والدین کا ہے۔ ان اشکرلی ولو الدیک (31: 14) ” کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا “۔ اور ان حقائق کے ساتھ یہ اہم حقیقت بھی یاد رکھو۔ الی المصیر (31: 14) ” میری ہی طرف تمہیں پلٹنا ہے “۔ اور وہاں یہی سازو سامان تمہیں فائدہ دے گا۔ لیکن والدین اور اولاد کے اس تاکیدی تعلق کے باوجود اور اولاد کی جانب سے اس حرمت اور ادب کے باوجود یہ تعلق ثانوی ہے۔ اس سے قبل نظریاتی تعلق ہے۔ لہٰذا اولاد کو یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ نظریات کے سلسلے میں والدین کے احکام اور خواہش کو بھی رد کیا جاسکتا ہے۔ وان جاھدک علی ۔۔۔۔۔ فلا تطمعھما (31: 15) ” لیکن اگر رہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان “ ۔ کیونکہ والدین کی اطاعت کی سرحد یہاں ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے آگے رب تعالیٰ کی اطاعت کا حکم ہے اور نظریاتی تعلق باپ بیٹے کے تعلق سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اس لیے والدین کسی کو مشرک بنانے کے جو احکام دیں ، جدوجہد کریں ، دباؤ ڈالیں ، مطالبے کریں ، ناراض ہوں ، تو ان کی یہ بات نہیں مانی جاسکتی کیونکہ اولاد جانتی نہیں ہے کہ اللہ کا کوئی شریک بھی ہے۔ لہٰذا حکم یہ ہے کہ یہاں سے آگے والدین کی اطاعت نہیں ہے۔ خالق کی اطاعت ہے۔ لیکن نظریاتی اختلاف اور نظریات کے بارے میں والدین کی عدم اطاعت کے حکم کے باوجود والدین کی عزت و احترام اور ان کے ساتھ شفقت کا برتاؤ ضروری ہے۔ وصاحبھما فی الدنیا معروفا (31: 15) ” دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ “۔ یہ دنیا کی زندگی تو ایک مختصر سفر ہے۔ اصل سفر یہ ہے۔ واتبع سبیل من اناب الی (31: 15) ” مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے “۔ یعنی اہل ایمان کی پیروی کرو۔ اور اس مختصر سفر کے بعد پھر تم نے اللہ کے سامنے حاضری دینی ہے ۔ ثم الی مر جعکم فانبئکم بما کنتم تعلمیون (31: 15) ” پھر تم سب کو پلٹنا میری طرف ہے ۔ پھر میں تمہیں بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کرکے آئے ہو “۔ اور ہر شخص کے لیے وہاں جزاء ہوگی اس کے اعمال کی چاہے اس نے شکر کیا یا کفر کیا ۔ شرک کی راہ اختیار کی یا توحید کا راستہ اپنایا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت اور سورة عنکبوت کی آیت جو اس کے مثابہ ہے اور سورة احقاف کہ ایک آیت جس کا یہی مضمون ہے ، یہ آیات حضرت سعد ابن ابی وقاص اور اس کی ماں کے حق میں نازل ہوئیں ۔ (میں نے بیسویں پارے میں سورة عنکبوت کی آیت کے ضمن میں تفصیلات دی ہیں ) بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت سعد ابن ملک ؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔ طبرانی نے اسے کتاب العشرۃ میں نقل کیا ہے جو انہوں نے داؤدابن سے بند سے روایت کی ہے ۔ مسلم کی حدیث میں سعد ابن ابی وقاص کا قصہ آیا ہے اور راجح بات یہی ہے لیکن مفہوم اور حکم تمام ایسے حالات پر عام ہوگا ۔ مطلب یہ ہے کہ تعلقات میں بھی درجات میں اور فرائض میں بھیدرجات ہیں ۔ ہر حکم اور ہر تعلق کی اپنی قدرت و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسلام میں اللہ کا رابطہ سب سے پہلا رابطہ ہے اور اللہ کے حقوق سب سے اونچادرجہ رکھتے ہیں قرآن کریم مراتب کر اس ذوق کو بار بار بتاتا ہے کہ اگر فرق مراتب نہ کئی خوندیقی ۔ اور باربار ماکید اس لیے کی جاتی ہے کہ اس معاملے میں کوئی اجمال واشکال نہ رہے ۔ یہ تو تھا جملہ معترضہ حضرت لقمان کی تقریر میں ۔ اس کے بعد ان کی تقریر اور نصیحت پھر شروع ہوتی ہے۔ اور یہ مسئلہ بعث بعد الموت اور حشر و نشر اور جزاء و سزا کے بارے میں ہے کہ وہاں سب کو جزاء و سزا ملے گی اور یہ بہت ہی عادلانہ ہوگی لیکن اس اصول کو محض اصول کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ اسے ایک کائناتی تمثیل اور تصویر کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس قدر موثر انداز میں جس سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے اور اس تصویر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ اس کائنات کے ذرے ذرے کو جانتا ہے اس لیے ہر کسی کے اجزائے جسم کے تمام ذرات کو وہ لا سکتا ہے۔

لقمان 31:16

یبنی انھا ان ۔۔۔۔۔ ان اللہ لطیف خبیر (16) اگر کوئی اللہ کے علم کی جامعیت اور مانعیت کو محض اصولی الفاظ میں بیان کر دے اور اللہ کو بہت قدرتوں والا کہہ دے اور یہ کہ اسے ذرے ذرے کا حساب لینا والا کہہ دے تو وہ اس قدر موثر نہیں ہوسکتا جس طرح یہ مصور انداز تعبیر موثر اور دلنشین ہے یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز تعبیز ہے کہ نہایت معنوی اور ذہنی امور کو مصور کردیا جاتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر النبی) ۔ رائی کا دانہ بہت ہی چھوٹا ، گم گشتہ ، بےحقیقت اور بےوزن ہوتا ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ پھر یہ دانہ کسی چٹان (مخرہ) میں ہو کہ وہاں تک پہنچنے کی کوئی راہ بھی نہ ہو یا وہ سماوات میں ہو ، جن کی دوریوں کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے ، جن کے اندر بڑے بڑے عظیم الجثہ کر ات کے وزن تیر رہے ہیں یا اس زمین کے اندر وہ رائی کے دانہ کہیں غبار میں پڑا ہوا تو اسے بھی ڈھونڈ لائے گا۔ پس ذرا تصور کرلو اس کے علم وقدرت کے بارے میں۔ وہ بہت ہی باریک بیں ہے۔ یات بھا اللہ ان اللہ لطیف خبیر (31: 16) اس مضمون کے ساتھ لطیف کا لفظ بہت ہی موزوں ہے۔ اور خیال اس ہولناک ، عظیم اور وسیع و عریض کائنات کی وادیوں میں اس رائی کے دانے کے پیچھے سرپٹ دوڑ رہا ہے اور یہ اللہ کے علم اور قدرت کے تصویر پر احاطہ کرنے سے عاجز رہ جاتا ہے ، اس لیے وہ اللہ کی طرف مڑ کر اپنی عاجزی کا اقرار کرتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اللہ ہر خفیہ بات کا جاننے والا ہے اور وہ بات ذہن نشین ہوجاتی ہے جسے پورا قرآن انسان کے ذہن میں بٹھانے کے درپے ہے کہ ” وہ “ دیکھ رہا ہے۔ نہایت ہی بہترین انداز میں اور دلنشیں اسلوب ہیں۔ حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت جاری رکھے ہوتے ہیں۔ اللہ پر پختہ ایمان لانے اور دل سے ہر قسم کے شرک کا شائبہ تک دور کرنے اور عقیدہ آخرت ثابت کرنے اور اسلامی نظریہ حیات دل میں بٹھانے کے بعد اب وہ اسلامی عقیدے کے تقاضے سامنے لاتے ہیں ، وہ تقاضے یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے کے لیے نماز پڑھیں ، یہ معراج المومنین ہے۔ لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کیلئے ان کو اسلام کی دعوت دیں۔ جو بھی دعوت دیتا ہے اسے مشکلات پیش آتی ہیں ، اس لیے مشکلات پر صبر کرو۔

لقمان 31:17

یبنی اقم الصلوۃ ۔۔۔۔۔۔ من عزم الامور (17) یہ اسلامی نظریہ حیات کا راستہ ہے کہ اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھنا ، یہ شعور پیدا کرنا کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ اس بات کا متمنی ہونا کہ اصل اجز اس کے پاس ہے۔ اس پر بھروسہ کرنا کہ وہ عدل کرے گا اور اس کے عذاب سے ہر وقت ڈرنا اور اس کے بعد لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینا ، ان کی اصلاح کرنا اور ان کو معروف کا حکم دینا اور منکر سے روکنا اور ان تمام امور سے قبل اپنے آپ کو کفر کے ساتھ معرکہ آرائی کے لیے تیار کرنا اور اس راہ میں مادی تیاری سے زیادہ اہم تیاری اخلاقی تیاری ہے۔ اور وہ اقامت صلوٰۃ اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات پر صبر ، کیونکہ لوگ دعوت کے مقابلے میں کج روی اختیار کرتے ہیں۔ دعوت کے ساتھ عناد رکھتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں۔ اذیت میں لسانی اذیت اور دست درازی کی دونوں اذیتیں شامل ہیں۔ مال کی آزمائش اور جان کی آزمائش۔ ان ذلک من عزم الامور (31: 17) ” یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے “۔ عزم الامور کا مفہوم ہے راستے میں تردد ہونے کے بعد جب کوئی کسی طرف عزم کرلیتا ہے اور پھر راستہ طے کرتا ہے۔ اب حضرت لقمان اپنی نصیحت کو نطریات و عبادات کے بعد اخلاقیات کی حدود میں داخل کرتے ہیں۔ جو کسی بھی داعی کا بہترین زادراہ ہے کیونکہ دعوت الی اللہ دینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان دوسروں کو حقیر سمجھے اور اپنے آپ کو برتر سمجھے اور پھر دعوت دیتے وقت اگر امیر بن جائے تو وہ لوگوں پر اپنی قیادت مسلط کرے اور اگر ایک آدمی دعوت الی الخیر کا کام بھی نہیں کرتا اور پھر بھی وہ بڑا بنتا ہے اور لوگوں سے اونچا رہتا ہے تو یہ بہت ہی زیادہ قبیح حرکت ہے۔

لقمان 31:18

ولا تصعر خدک ۔۔۔۔۔ لصوت الحمیر (18 – 19) صعر ایک بیماری ہے جب اونٹ کو لگ جاتی ہے تو وہ اپنی گردن ٹیڑھی کرلیتا ہے۔ قرآن کریم مغرور شخص کے فعل کو صعر کے ساتھ تشبیہ دے کر اس سے لوگوں کو متنفر کرنا چاہتا ہے۔ کبر اور سرتابی کے عمل کو صعر کہا گیا یعنی اپنے رخساروں کو لوگوں سے کبر و غرور کی وجہ سے پھیر دینا۔ زمین پر اکڑ کر چلنے کے معنی ہیں غرور اور استکبار کے ساتھ چلنا۔ بھولا ہوا اور لوگوں کو کچھ نہ سمجھنے والا ، یہ ایسی حرکت ہے جسے اللہ بھی مکروہ سمجھتا ہے اور لوگ بھی اسے برا سمجھتے ہیں۔ ایسا شخص اپنے بارے میں اونچا خیال رکھتا ہے اور اپنی رفتار میں اس کا اظہار کرتا ہے۔ ان اللہ لا یحب کل مختال فخور (31: 18) ” اللہ کسی خود پسند اور فخر جتلانے والے کو پسند نہیں کرتا “۔ اکڑ کر چلنے کی ممانعت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا کہ اعتدال کے ساتھ چلو۔ واقصد فی مشیک (31: 19) ” اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو “۔ قصد سے مراد میانہ روی ہے۔ یعنی وہ اقتصادی پالیسی جس میں اسراف نہ ہو ، کیونکہ جو شخص اکڑ کر چلتا ہے ، گردن مروڑ کر چلتا ہے اور اپنے آپ کو اونچا سمجھتا ہے وہ اپنی قوت کو ضائع کرتا ہے۔ گویا اسراف کرتا ہے۔ قصد سے مراد ارادہ بھی ہوسکتا ہے یعنی تمہارے چلنے کی حرکت بامقصد ہو اور تمہاری منزل متعین ہو۔ اور کڑ کو خود پسندی سے چلنے والا شخص ماسوائے دکھاوے کے اور اپنے ذہن میں بڑائی کے کوئی اور مقصد نہیں رکھتا اور یہ کوئی مقصد نہیں ہے ، یعنی اگر چلتے ہو تو کسی مقصد سے سادہ طریقے سے چلو۔ دھیمی آواز میں شائستگی ہوتی ہے۔ اس میں جو شخص بات کرتا ہے وہ اعتماد سے بات کرتا ہے اور اسے اپنی بات کی سچائی کا یقین ہوتا ہے۔ اونچی اور گرجدار آواز سے بات کرنے والا شخص عموماً بےادب ہوتا ہے یا اسے اپنی بات پر یقین نہیں ہوتا۔ یا وہ اپنی شخصیت کی کمزوری کو شور و شغب میں چھپانا چاہتا ہے۔ جھوٹا شخص ہمیشہ جوش و خروش دکھاتا ہے۔ قرآن کریم کا اپنا اسلوب ہے ، یہاں بےمقصد اونچی آواز کی قباحت کو ظاہر کرنے کے لیے ایک نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور احمقانہ صورت پیش کی جاتی ہے۔ ان انکر الاصوات لصوت الحمیر (31: 19) ” سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے “۔ یوں ہر اونچی آواز کو دگدھوں کی آواز سے تشبیہ دے کر ، اسے قابل نفرت بنا دیا گیا اور یوں ہر عقلمند اور مہذب شخص اسے حقیر اور قابل نفرت سمجھنے لگتا ہے۔ یہ حقارت آمیز تصویر جس شخص کی نظروں میں ہو ، وہ کبھی بھی گدھوں کی آواز کی طرح آواز نہیں نکالے گا۔ یوں یہ دوسرا سفر ختم ہوتا ہے جس کے اندر پہلے ہی مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔ یہ بحث نہایت ہی متنوع اور جدید سے جدید اسلوب میں کی گئی ہے ، قرآن کے اپنے انداز تصویر کشی میں۔

لقمان 31:19

ولا تصعر خدک ۔۔۔۔۔ لصوت الحمیر (18 – 19) صعر ایک بیماری ہے جب اونٹ کو لگ جاتی ہے تو وہ اپنی گردن ٹیڑھی کرلیتا ہے۔ قرآن کریم مغرور شخص کے فعل کو صعر کے ساتھ تشبیہ دے کر اس سے لوگوں کو متنفر کرنا چاہتا ہے۔ کبر اور سرتابی کے عمل کو صعر کہا گیا یعنی اپنے رخساروں کو لوگوں سے کبر و غرور کی وجہ سے پھیر دینا۔ زمین پر اکڑ کر چلنے کے معنی ہیں غرور اور استکبار کے ساتھ چلنا۔ بھولا ہوا اور لوگوں کو کچھ نہ سمجھنے والا ، یہ ایسی حرکت ہے جسے اللہ بھی مکروہ سمجھتا ہے اور لوگ بھی اسے برا سمجھتے ہیں۔ ایسا شخص اپنے بارے میں اونچا خیال رکھتا ہے اور اپنی رفتار میں اس کا اظہار کرتا ہے۔ ان اللہ لا یحب کل مختال فخور (31: 18) ” اللہ کسی خود پسند اور فخر جتلانے والے کو پسند نہیں کرتا “۔ اکڑ کر چلنے کی ممانعت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا کہ اعتدال کے ساتھ چلو۔ واقصد فی مشیک (31: 19) ” اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو “۔ قصد سے مراد میانہ روی ہے۔ یعنی وہ اقتصادی پالیسی جس میں اسراف نہ ہو ، کیونکہ جو شخص اکڑ کر چلتا ہے ، گردن مروڑ کر چلتا ہے اور اپنے آپ کو اونچا سمجھتا ہے وہ اپنی قوت کو ضائع کرتا ہے۔ گویا اسراف کرتا ہے۔ قصد سے مراد ارادہ بھی ہوسکتا ہے یعنی تمہارے چلنے کی حرکت بامقصد ہو اور تمہاری منزل متعین ہو۔ اور کڑ کو خود پسندی سے چلنے والا شخص ماسوائے دکھاوے کے اور اپنے ذہن میں بڑائی کے کوئی اور مقصد نہیں رکھتا اور یہ کوئی مقصد نہیں ہے ، یعنی اگر چلتے ہو تو کسی مقصد سے سادہ طریقے سے چلو۔ دھیمی آواز میں شائستگی ہوتی ہے۔ اس میں جو شخص بات کرتا ہے وہ اعتماد سے بات کرتا ہے اور اسے اپنی بات کی سچائی کا یقین ہوتا ہے۔ اونچی اور گرجدار آواز سے بات کرنے والا شخص عموماً بےادب ہوتا ہے یا اسے اپنی بات پر یقین نہیں ہوتا۔ یا وہ اپنی شخصیت کی کمزوری کو شور و شغب میں چھپانا چاہتا ہے۔ جھوٹا شخص ہمیشہ جوش و خروش دکھاتا ہے۔ قرآن کریم کا اپنا اسلوب ہے ، یہاں بےمقصد اونچی آواز کی قباحت کو ظاہر کرنے کے لیے ایک نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور احمقانہ صورت پیش کی جاتی ہے۔ ان انکر الاصوات لصوت الحمیر (31: 19) ” سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے “۔ یوں ہر اونچی آواز کو دگدھوں کی آواز سے تشبیہ دے کر ، اسے قابل نفرت بنا دیا گیا اور یوں ہر عقلمند اور مہذب شخص اسے حقیر اور قابل نفرت سمجھنے لگتا ہے۔ یہ حقارت آمیز تصویر جس شخص کی نظروں میں ہو ، وہ کبھی بھی گدھوں کی آواز کی طرح آواز نہیں نکالے گا۔ یوں یہ دوسرا سفر ختم ہوتا ہے جس کے اندر پہلے ہی مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔ یہ بحث نہایت ہی متنوع اور جدید سے جدید اسلوب میں کی گئی ہے ، قرآن کے اپنے انداز تصویر کشی میں۔

لقمان 31:20

درس نمبر 186 تشریح آیات 20 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 34 یہ اس سورة کا تیسرا راؤنڈ ہے۔ اس کا آغاز تکوینی دلیل کے بیان سے ہوتا ہے جس کا تعلق لوگوں سے اور ان کی زندگی کی سہولیات و مفادات سے ہے کہ اللہ نے ان پر کیا کیا انعامات کیے ، جو ظاہر بھی ہیں اور باطن بھی ہیں ، جن سے وہ رات اور دن فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن ان کے باوجود انہیں شرم نہیں آتی کہ وہ ایسے منعم ، فضل و کرم کرنے والے ، داتا کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور اس کے بعد وہی مسئلہ توحید بیان ہوتا ہے جو اس سے قبل دونوں اسفار میں بیان ہوا۔ الم تروا ان اللہ ۔۔۔۔۔۔ الی عذاب السعیر (20 – 21) ” ۔ یہ وہ نظارہ ہے جسے ہم روز دیکھتے ہیں۔ جسے قرآن کریم بار بار نقل کرتا ہے اور ہر بار منظر کائنات پڑھنے والے کو نیا نظر آتا ہے کیونکہ یہ عظیم کائنات اور اس کے کسی پہلو پر بھی اگر غور کیا جائے ، جب بھی غور کیا جائے اور اس کے اسرار و رموز پر تدبر کیا جائے اور اس کے عجائبات دیکھے جائیں تو یہ نیا نظر آتا ہے۔ اور اس کے اسرار اور عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ انسان اپنی محدود عمر میں وہ پوری معلومات حاصل نہیں کرسکتا۔ جب بھی کوئی دریافت ہوتی ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے اور جب بھی ہم از سر نو غور کرتے ہیں اسے جدید پاتے ہیں۔ یہاں قرآن کریم اس کائنات کے اس پہلو کو پیش کرتا ہے کہ اللہ نے یہ کائنات ہمارے لیے مسخر کردی ہے اور یہ ہر طرف سے انسانی ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔ پھر جب اس کائنات کے اندر پائے جانے والی تمام چیزوں کا تجزیہ کیا جائے تو اس کی ترکیب بڑی عجیب ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی مدبر انجینئر نے بنایا ہے اور یہ یونہی اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوگئی۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ ایک ارادہ اس پوری کائنات کے پیچھے کام کر رہا ہے اور وہ اللہ مدبر ہے ، جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کائنات کی تمام چیزوں کو انسان کی خدمت میں لگا دیا اور پھر اس کرہ ارض کی تو ہر چیز کو خدمت انسان میں لگا دیا۔ جہاں تک اس ہولناک کائنات کا تعلق ہے ، یہ زمین اس کا ایک چھوٹا سا ذرہ ہے اور اس زمین پر پھر انسان ایک چھوٹی سی ضعیف مخلوق ہے بمقابلہ حجم زمین اور بمقابلہ ان قوتوں کے جو اس زمین کے اندر قدرت نے رکھی ہیں جو زندہ بھی ہیں اور مردہ بھی ہیں۔ ان قوتوں کے مقابلے میں انسان اپنے حجم ، طاقت اور وزن کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں۔ لیکن اللہ نے انسان کو فضیلت دی اور اس کے جسم میں اپنی روح پھونکی اور اسے اپنی مخلوقات کے ایک بڑے حصے پر فضیلت دے دی۔ اللہ کا یہ فضل و کرم ہی تاھ جس کا تقاضا یہ ہوا کہ اس مخلوق کی اس کرہ ارض پہ اہمیت ہو۔ اور اس کا سب مخلوق سے بلند مقام ہو۔ اس کے اندر یہ قوت اور صلاحیت ہو کہ وہ اس دنیا کے وسائل کو کام میں لائے اور اس کے اندر یہ قوت اور صلاحیت ہو کہ وہ اس دنیا کے وسائل کو کام میں لائے اور اس کے قدرتی ذخائر کی تلاش کرے۔ اس آیت میں جس تسخیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، وہ یہی ہے کیونکہ تسخیر کائنات ہی میں اللہ کی ظاہری اور پوشیدہ نعمتوں کا شمار ہوتا ہے۔ یہ تسخیر اس کے علاوہ ہے جو اللہ نے سماوات کی قوتوں کو بھی انسان کے لیے مفید بنایا ہے۔ انسان کا وجود ہی اللہ کا فضل ہے اور پھر انسان کو اس قدر قوت و صلاحیت دی جاتی ہے کہ وہ اس کائنات کی سرکش قوتوں کو مسخر کرے۔ یہ اللہ کا دوسرا فضل ہے اور پھر اس کی ہدایت کے لیے رسولوں کو بھیجنا ، اللہ کا مزید فضل ہے۔ ہر وہ سانس جو وہ لیتا ہے ، دل کی ہر دھڑکن جو اس کے جسم میں خون دوڑاتی ہے۔ اس دنیا کا ہر منظر جسے وہ دیکھتا ہے ، ہر وہ آواز جو اس کے کانوں سے ٹکراتی ہے ، ہر وہ خیال جو اس کے ضمیر میں آتا ہے ، ہر نئی فکر جو وہ تخلیق کرتا ہے۔ یہ سب اللہ کے وہ انعامات ہیں جن میں ایک کا شکر بھی انسان اپنی پوری زندگی میں ادا نہیں کرسکتا ۔ یہ سب اللہ کے فضل ہی فضل ہیں۔ اس انسانی مخلوق کے لیے اللہ نے ان تمام قوتوں کو مسخر کیا ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں۔ سورج کی کرنوں کو اس کی خدمت میں لگا دیا۔ چاند کے نور کو اس کے لیے مفید کردیا ، ستاروں سے اس کیلئے سمندروں میں راہنمائی فراہم کی۔ بارش ، ہوا ، پرندے اور چرندے اس کے مفید مطلب بتا دئیے گئے۔ اس کے اندر جو کچھ ہے اس کے لیے مفید اور مسخر ہوگئے۔ یہ تو ہم بڑی سہولت سے دیکھ سکتے ہیں۔ ان پر تو ہمیں رات اور دن تدبر کرنا چاہئے۔ اس طویل و عریض کرہ ارض پر اسے خلیفہ بنایا گیا اور زمین کے تمام خزانوں پر اس کا کنڑول قائم کردیا گیا۔ بعض خزانے ظاہر ہیں اور بعض باطن ہیں۔ بعض ایسے ہیں جن کے آثار و اثرات اس کے ادراک میں ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو ابھی اس کے ادراک سے باہر ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ ان سے وہ استفادہ کرتا رہا لیکن اسے ان کا علم ہی نہ تھا۔ غرض انسان ہے کہ رات اور دن کے ہر لمحے میں اس پر اللہ کے فضل و کرم کی بارش ہو رہی ہے اور وہ اللہ کی رحمتوں میں غرق ہے لیکن اسے معلوم نہیں کہ ان رحمتوں کی انتہا کیا ہے۔ اس کے انواع و اقسام کیا کیا ہیں لیکن ان سب امور کے باوجود لوگوں میں سے ایک فریق ایسا ہے جو اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا ، ان پر غور نہیں کرتا ، اپنے ماحول میں غوروفکر کرکے یقین نہیں رکھتا۔ ومن الناس ۔۔۔۔۔ ولا کتٰب منیر ( 2:31 ) ” اس کے باوجود حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی علم ہو یا کوئی ہدایت یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب “۔ اللہ کے بارے میں یہ مجادلہ عجیب و غریب معلوم ہوتا ہے جبکہ یہ کائنات اور اس کی بوقلمونیاں ہمارے سامنے ہیں اور ان وافر نعمتوں کی تعداد ہی ہمیں معلوم نہیں ۔ ایسے حالات میں یہ انکار اور یہ تکذیب نہایت قبیح ، نہایت مذموم ، قابل نفرت اور فطرت کے خلاف ہے ۔ اور انسان اگر غور کرے تو مارے خوف کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا یہ انکار کرنے والا شخص دراصل فطرتاًمخرف ہے ۔ اس کے اندر فطری بگاڑ پیدا ہوگیا ہے ۔ وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی پکار کو نہیں سن رہا ہے اور وہ اس قدر جری اور بےشرم ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ایسے منعم کے بارے میں گستاخی کرتا ہے ۔ پھر اس شخص کا یہ مجادلہ اور یہ انکار کسی علم سائنس پر بھی مبنی نہیں ہے ۔ محض جہالت پر مبنی ہے۔ پھر ایسے شخص کے پاس نہ کوئی کتابی ثبوت ہے اور نہ دلیل منیر ہے ۔

لقمان 31:21

واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔۔ علیہ اباءنا (31: 21) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا “۔ یہ ہے ان کی واحد دلیل جو وہ اپنے رویے پر پیش کرسکتے ہیں ۔ یہ بھی عجیب دلیل ہے ۔ پتھر جیسی جامد تقلید ، جو نہ علم پر مبنی ہے ، نہ کسی نظریہ پر مبنی ہے ۔ یہی وہ تقلید ہے جس سے اسلام انسانیت کو چھڑانا چاہتا ہے ۔ ان کی عقل کو آزادی دیتا ہے کہ وہ آزادانہ غور دفکر کریں اور انسان کے اندر بیداری ، حرکت اور روشنی پھیلانا چاہتا ہے لیکن انسان ہیں کہ وہ اپنے ماضی کے آثار سے منحرف ہوگئے ہیں اور مویشیوں کی طرح اپنے آپ کو ایک ستون سے باندھا ہوا ہے اور بیڑیاں ازخود پہن رکھی ہیں ۔ اسلام تو دراصل ضمیر کی مزیت اور شعور کی مزیت کا نام ہے ۔ وہ نور کی تلاش میں آگے بڑھتا ہے ۔ وہ زندگی کا ایسا نظام ہے جس میں کوئی تقلید اور کوئی غلامی اور جمود نہیں ہے ۔ لیکن انسوس ہے کہ یہ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور اپنی روح سے اس آزادی کو پرے پھینکتے ہیں اور اللہ کے بارے میں بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی کتاب منیر کے مجادلہ کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے اور ان کے موقف کی ایک خفیہ خطر ناکی بیان کو دی جاتی ہے ۔ اولو کان ۔۔۔۔۔ عذاب السعیر (31: 21) ” کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان انیں بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف کیوں نہ بلاتاہو “۔ انہوں نے جو یہ موقف اختیار کو کررکھا ہے تو وہ شیطان کی دعوت پر اختیارکر رکھا ہے تاکہ وہ انہیں جہنم کی آگ تک پہنچادے ۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر شیطان انہیں جہنم کی طرف لے جارہا ہے تو پھر بھی یہ اس کی تقلید کریں گے ۔ یہ نہایت ہی احساس دلانے والی چٹکی ہے ۔ نہایت ہی بیدار کرنے والی اور ڈرانے والی ۔ خصوصاً اس عظیم کائنات دلیل کے بعد ۔ اس ہٹ دھرمی پر مبنی جدہل اور یہ دلیل جھگڑے کے حوالے سے ۔ اب ان کو بتایا جاتا ہے کہ ان کے لیے مناسب طرز عمل کیا ہے اور اس کائناتی دلیل اور اللہ کے وسیع انعامات کے بعد انہیں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔

لقمان 31:22

ومن یسلم ۔۔۔۔۔ واقبۃ الامور (22) ” “۔ یعنی پوری طرح اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردینا اور اس کے ساتھ حسن عمل اور حسن سلوک کو اپنانا ، یعنی مکمل سپردگی اور اللہ کے فیصلوں پر پوری طرح راضی ہونا ، اللہ کے احکام ، ہدایات اور فرائض میں رنگ جانا ، اس شعور اور یقین کے ساتھ کہ اللہ کی رحمت ہمارے شامل حال ہے اور اللہ ہر وقت نگہبان ہے ۔ اس کا وجد ان اللہ کی رضا مند کو پاتا ہو اور وہ اس سپر دگی میں اپنے ساتھ پوری کا ئنات کو سربسجود سمجھتا ہو ۔ یہ سب اشارات اپنے چہرے کو اللہ کے حوالے کرنے کے لفظ کے اندر موجود ہیں ۔ چہرہ دراصل نہایت ہی مکرم حصہ ہے وجود انسانی کا ۔ ومن یسلم وجھہ ۔۔۔۔۔۔ بالعروۃ الوثقٰی (31: 22) ” جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے اور عملاً وہ نیک ہو ، اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابل سہارا تھام لیا “۔ یعنی وہ رسی جو نہیں کٹتی۔ جو کبھی ڈھیلی نہیں پڑتی۔ جو کچھ اس شخص کو دھوکہ نہیں دیتی جو اسے پکڑتا ہے۔ مراد وہ سہارا ہے جسے اسنان تھام لیتا ہے یعنی جو شخص اللہ کے سپرد ہوجائے وہ سمجھے کہ وہ مشکل ترین حالات میں ، تاریک راتوں میں ، سخت مشکلات میں ، سخت آندھیوں میں ، کبھی بےسہارا نہ ہوگا۔ یہ مضبوط سہارا وہ یقین ہے اور وہ گہرا رابطہ ہے جو بندہ مومن اور اس کے رب کے درمیان ہوا کرتا ہے۔ ایسا شخص ہر حال میں مطمئن ہوتا ہے اور اس پر جو مشکلات بھی آئیں وہ انہیں برداشت کرتا ہے۔ نہایت اطمینان اور نہایت وقار کے ساتھ۔ بڑے بڑے واقعات اور حادثات میں وہ باوقار رہتا ہے اور مشکلات کو برداشت کرتا ہے۔ نیز وہ اگر خوشحال ہوتا ہے تو بھی وہ آپے سے باہر نہیں ہوتا اور اعتدال اور سنجیدگی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ اسی طرح اگر اس پر اچانک کوئی بحران آجائے تو وہ حواس باختہ نہیں ہوتا اور نہ خدا کے راستے میں آنے والی گوناگوں مشکلات میں پریشان ہوتا ہے۔ دعوت اسلامی کا سفر طویل اور خطرات سے پر ہے۔ اس میں محرومیوں اور مشکلات بھی خطرناک ہوتی ہیں لیکن خوشحالی اور مالداری اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ مصیبت بھی آزمائش اور عافیت بھی آزمائش۔ لہٰذا ایسے سہارے کی اس راہ میں ہر وقت ضرورت ہوتی ہے جو کبھی ڈھیلا نہ ہو۔ ایسی رسی کی ضرورت ہوتی ہے جو ٹوٹ نہ جائے اور یہ ضرورت ہر وقت رہتی ہے۔ یعنی مضبوط سہارے کی اور یہ مضبوط سہارا کیا ہے ؟ اسلام لانا ، اللہ پر یقین کرنا ، اس کے سپرد ہوجانا اور راہ احسان اختیار کرنا۔ پھر انجام اللہ کے ہاتھ میں دے دینا۔ والی اللہ عاقبۃ الامور (31: 22) ” اور سہارے معاملات کا آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے “۔ یعنی اسی کی طرف لوٹنا ہے اور آخری مرجع وہی ہے تو مناسب ہے کہ انسان پہلے سے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دے اور اس کی طرف نہایت روشن اعتماد اور قرآن و سنت کی ہدایت کے مطابق راستے طے کرتا رہے۔

لقمان 31:23

ومن کفر فلا ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (23 – 24) ” ۔ “۔ وہ تو تھا انجام ان لوگوں کا جو اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے سپرد کردیں اور یہ ہے انجام ان لوگوں کا جو کفر اختیار ہی نہ دیں گے۔ ومن کفر فلا یحزنک کفرہ (31: 23) ” اور جو کفر کرتا ہے ، اس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے “۔ ان کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جو سرور کونین ہیں ان کیلئے پریشان ہوں ۔ یہ تو بہت ہی حقیر و صغیر ہیں اور آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی زیادہ حقارت آمیز ہونے والا ہے۔ یہ اللہ کے قبضے میں ہیں۔ یہ اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ اللہ ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑے گا ، وہ ہر شخص کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے ، خواہ ظاہر ہو یا خفیہ ہو ، یا اس کے سینے میں ہو یا اس کی نیت میں ہو۔ الینا مرجعھم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (31: 23) ” انہیں پلٹ کر آنا تو ہمارے ہی طرف ہے۔ پھر ہم انہیں بتا دیں گے کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ یقیناً اللہ سینوں میں چھپے ہوئے راز جانتا ہے “۔ زندگی کا سازوسامان جو انسان کو فریب دیتا ہے ایک مختصر عرصے کے لیے ہے اور نہایت ہی کم قیمت ہے۔ نمتعھم قلیلا ۔۔۔۔۔ عذاب غلیظ (31: 24) ” ہم انہیں تھوڑی مدت اس دنیا میں مزے کرنے کا موقعہ دے رہے ہیں ، پھر ان کو بےبس کرکے ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے “۔ تھوڑے دن تو مزے کریں گے ، پھر خوفناک عذاب سے دو چار ہوں گے اور انہیں اس عذاب کی طرف دھکیل کرلے جایا جائے گا۔ عذاب کی تعریف میں غلیظ کا لفظ آیا ہے اور اس کے ذریعے عذاب کو مجسم کردیا گیا ہے۔ اور اضطرار کے معنی میں کفار کی بےبسی کا اظہار کیا گیا یعنی وہ اس عذاب سے اپنے آپ کو بچانہ سکیں گی اور نہ لیت و لعل کرسکیں گے۔ یہ تو تھا کافروں کا حال لیکن جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلے اور اپنے رخ کو اللہ کے سپرد کر دے اور سنجیدہ اور مطمئن ہوکر رب تعالیٰ کی طرف چل پڑے وہ نہایت ہی اعلیٰ مقام پر ہوگا بمقابلہ کافر کے۔ اب ان کو خود ان کی فطرت کی منطقی دلیل سے دو چار کردیا جاتا ہے ، جب ان کے سامنے یہ عظیم کائنات رکھ دی جاتی ہے اور سوال یہ ہے کہ آیا اس کا کوئی خالق ہے یا نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ ہے کیونکہ ذات باری تو انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اس کے سوا اس کائنات کی اور کوئی تعبیر ہی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ لوگ فطرت کی اس سادہ منطق سے بھی کجی اختیار کرتے ہیں اور اسے بھی بھلا دیتے ہیں حالانکہ اس سے اور کوئی قوی اور درست دلیل نہیں ہے۔

لقمان 31:24

ومن کفر فلا ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (23 – 24) ” ۔ “۔ وہ تو تھا انجام ان لوگوں کا جو اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے سپرد کردیں اور یہ ہے انجام ان لوگوں کا جو کفر اختیار ہی نہ دیں گے۔ ومن کفر فلا یحزنک کفرہ (31: 23) ” اور جو کفر کرتا ہے ، اس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے “۔ ان کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جو سرور کونین ہیں ان کیلئے پریشان ہوں ۔ یہ تو بہت ہی حقیر و صغیر ہیں اور آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی زیادہ حقارت آمیز ہونے والا ہے۔ یہ اللہ کے قبضے میں ہیں۔ یہ اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ اللہ ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑے گا ، وہ ہر شخص کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے ، خواہ ظاہر ہو یا خفیہ ہو ، یا اس کے سینے میں ہو یا اس کی نیت میں ہو۔ الینا مرجعھم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (31: 23) ” انہیں پلٹ کر آنا تو ہمارے ہی طرف ہے۔ پھر ہم انہیں بتا دیں گے کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ یقیناً اللہ سینوں میں چھپے ہوئے راز جانتا ہے “۔ زندگی کا سازوسامان جو انسان کو فریب دیتا ہے ایک مختصر عرصے کے لیے ہے اور نہایت ہی کم قیمت ہے۔ نمتعھم قلیلا ۔۔۔۔۔ عذاب غلیظ (31: 24) ” ہم انہیں تھوڑی مدت اس دنیا میں مزے کرنے کا موقعہ دے رہے ہیں ، پھر ان کو بےبس کرکے ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے “۔ تھوڑے دن تو مزے کریں گے ، پھر خوفناک عذاب سے دو چار ہوں گے اور انہیں اس عذاب کی طرف دھکیل کرلے جایا جائے گا۔ عذاب کی تعریف میں غلیظ کا لفظ آیا ہے اور اس کے ذریعے عذاب کو مجسم کردیا گیا ہے۔ اور اضطرار کے معنی میں کفار کی بےبسی کا اظہار کیا گیا یعنی وہ اس عذاب سے اپنے آپ کو بچانہ سکیں گی اور نہ لیت و لعل کرسکیں گے۔ یہ تو تھا کافروں کا حال لیکن جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلے اور اپنے رخ کو اللہ کے سپرد کر دے اور سنجیدہ اور مطمئن ہوکر رب تعالیٰ کی طرف چل پڑے وہ نہایت ہی اعلیٰ مقام پر ہوگا بمقابلہ کافر کے۔ اب ان کو خود ان کی فطرت کی منطقی دلیل سے دو چار کردیا جاتا ہے ، جب ان کے سامنے یہ عظیم کائنات رکھ دی جاتی ہے اور سوال یہ ہے کہ آیا اس کا کوئی خالق ہے یا نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ ہے کیونکہ ذات باری تو انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اس کے سوا اس کائنات کی اور کوئی تعبیر ہی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ لوگ فطرت کی اس سادہ منطق سے بھی کجی اختیار کرتے ہیں اور اسے بھی بھلا دیتے ہیں حالانکہ اس سے اور کوئی قوی اور درست دلیل نہیں ہے۔

لقمان 31:25

ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ ھو الغنی الحمید (25 – 26) ” ۔ ۔ کوئی معقول انسان جب خود اپنے دل سے پوچھے کہ آخر اس کائنات عظیم کا خلاق کون ہے تو وہ یہی جواب پائے گا کہ اللہ۔ یہ جواب ہر شخص اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ یہ زمین اور یہ افلاک ہماری نظروں کے سامنے قائم ہیں ، ان کے حالات ، ان کے حجم ، ان کی حرکات ، ان کی دوریاں ، ان کے خواص اور ان کی صفات سب کے سب اندازہ کیے ہوئے ، صحیح اور متعین اور باہم نظم اور نسق میں پروئے ہوئے۔ پھر یہ مخلوق ہیں اور کوئی مدعی بھی نہیں ہے کہ ان کا وہ خالق ہے۔ نہ یہ کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ان کا اور یہ بھی عقلا ممکن نہیں ہے کہ یہ عظیم کائنات خود بخود یونہی پیدا ہوگئی ہے۔ پھر یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کسی مدبر کا ہونا لازم ہے۔ جو شخص اس کا قائل ہے کہ یہ خود بخود وجود میں آگئی ، خود بخود قائم ہوگئی اور منظم ہوگئی محض اتفاقاً ، تو اس سے بڑا احمق اور کوئی نہیں ہے۔ اس قسم کے قول کو فطرت اپنی گہرائیوں کے ذریعہ مسترد کردیتی ہے۔ وہ لوگ جو اس دور میں عقیدہ توحید کا مقابلہ کر رہے تھے اور نبی ﷺ کی دعوت کا راستہ روکے کھڑے تھے سخت مجادلہ کر رہے تھے ۔ یہ لوگ خود اپنی فطرت کے شعور اور منطق کا مقابلہ نہ کرسکتے تھے ، جب ان کے سامنے یہ کائنات اور اس کی موجودگی کو رکھا جاتا تھا ، جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھی اور صرف دیکھنے کی ضرورت تھی۔ اس لیے وہ اس سوال کے جواب میں کوئی تردد نہ کرتے تھے۔ جب پوچھا جاتا کہ ” زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو وہ فوراً کہہ دیتے “ اللہ نے “۔ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس جواب کے جواب میں بس اللہ کی حمد کریں ” الحمدللہ “۔ الحمدللہ کہ ان پر حق واضح ہوگیا اور انہوں نے فطری منطق کو تسلیم کرلیا۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ اس کائنات کی تخلیق کی حد تک موحد ہوگئے۔ اس کے سوا ہر حال میں حمد و ثنا کرتے رہو۔ اب جدال و مباحثہ کو چھوڑ کر ایک دوسرا تبصرہ۔ بل اکثرھم لا یعلمون (31: 25) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ بحث اور مجادلہ کرتے ہیں۔ دلائل فطرت کو نہیں سمجھتے اور اس عظیم کائنات کے ہوتے ہوئے بھی عقیدہ توحید کے قائل نہیں۔ انہوں نے چونکہ زمین اور آسمان کی تخلیق کی حد تک اللہ کی وحدانیت کو مان لیا ہے اس لئے اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ خالق ہونے کے ناطے اس کائنات کا مالک مطلق بھی ہے۔ اس حصے کا بھی جسے انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے اور اس حصے کا بھی جسے مسخر نہیں کیا گیا۔ لیکن وہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ساری مخلوق سے غنی ہے اور وہ اپنی ذات میں خود محمود ہے اگرچہ لوگ اس کی حمد و ثنا نہ کریں۔ للہ ما فی السموت والارض ان اللہ ھو الغنی الحمید (31: 26) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ بیشک اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ یہ سفر اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ غنا ختم ہونے والی نہیں۔ اللہ کا علم لامحدود ، اس کی قدرت بےانتہا اور اس کی مشیت کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تمام مخلوق پر وہ قادر ہے اور یہ بات ایک کائناتی منظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔

لقمان 31:26

ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ ھو الغنی الحمید (25 – 26) ” ۔ ۔ کوئی معقول انسان جب خود اپنے دل سے پوچھے کہ آخر اس کائنات عظیم کا خلاق کون ہے تو وہ یہی جواب پائے گا کہ اللہ۔ یہ جواب ہر شخص اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ یہ زمین اور یہ افلاک ہماری نظروں کے سامنے قائم ہیں ، ان کے حالات ، ان کے حجم ، ان کی حرکات ، ان کی دوریاں ، ان کے خواص اور ان کی صفات سب کے سب اندازہ کیے ہوئے ، صحیح اور متعین اور باہم نظم اور نسق میں پروئے ہوئے۔ پھر یہ مخلوق ہیں اور کوئی مدعی بھی نہیں ہے کہ ان کا وہ خالق ہے۔ نہ یہ کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ان کا اور یہ بھی عقلا ممکن نہیں ہے کہ یہ عظیم کائنات خود بخود یونہی پیدا ہوگئی ہے۔ پھر یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کسی مدبر کا ہونا لازم ہے۔ جو شخص اس کا قائل ہے کہ یہ خود بخود وجود میں آگئی ، خود بخود قائم ہوگئی اور منظم ہوگئی محض اتفاقاً ، تو اس سے بڑا احمق اور کوئی نہیں ہے۔ اس قسم کے قول کو فطرت اپنی گہرائیوں کے ذریعہ مسترد کردیتی ہے۔ وہ لوگ جو اس دور میں عقیدہ توحید کا مقابلہ کر رہے تھے اور نبی ﷺ کی دعوت کا راستہ روکے کھڑے تھے سخت مجادلہ کر رہے تھے ۔ یہ لوگ خود اپنی فطرت کے شعور اور منطق کا مقابلہ نہ کرسکتے تھے ، جب ان کے سامنے یہ کائنات اور اس کی موجودگی کو رکھا جاتا تھا ، جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھی اور صرف دیکھنے کی ضرورت تھی۔ اس لیے وہ اس سوال کے جواب میں کوئی تردد نہ کرتے تھے۔ جب پوچھا جاتا کہ ” زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو وہ فوراً کہہ دیتے “ اللہ نے “۔ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس جواب کے جواب میں بس اللہ کی حمد کریں ” الحمدللہ “۔ الحمدللہ کہ ان پر حق واضح ہوگیا اور انہوں نے فطری منطق کو تسلیم کرلیا۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ اس کائنات کی تخلیق کی حد تک موحد ہوگئے۔ اس کے سوا ہر حال میں حمد و ثنا کرتے رہو۔ اب جدال و مباحثہ کو چھوڑ کر ایک دوسرا تبصرہ۔ بل اکثرھم لا یعلمون (31: 25) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ بحث اور مجادلہ کرتے ہیں۔ دلائل فطرت کو نہیں سمجھتے اور اس عظیم کائنات کے ہوتے ہوئے بھی عقیدہ توحید کے قائل نہیں۔ انہوں نے چونکہ زمین اور آسمان کی تخلیق کی حد تک اللہ کی وحدانیت کو مان لیا ہے اس لئے اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ خالق ہونے کے ناطے اس کائنات کا مالک مطلق بھی ہے۔ اس حصے کا بھی جسے انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے اور اس حصے کا بھی جسے مسخر نہیں کیا گیا۔ لیکن وہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ساری مخلوق سے غنی ہے اور وہ اپنی ذات میں خود محمود ہے اگرچہ لوگ اس کی حمد و ثنا نہ کریں۔ للہ ما فی السموت والارض ان اللہ ھو الغنی الحمید (31: 26) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ بیشک اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ یہ سفر اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ غنا ختم ہونے والی نہیں۔ اللہ کا علم لامحدود ، اس کی قدرت بےانتہا اور اس کی مشیت کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تمام مخلوق پر وہ قادر ہے اور یہ بات ایک کائناتی منظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔

لقمان 31:27

ولو ان ما فی الارض ۔۔۔۔۔۔۔ ان اللہ سمیع بصیر (27 – 28) یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسانوں کی معلومات اور ان کے محدود مشاہدات سے لیا گیا ہے تاکہ اللہ کی مشیت کے لامحدود کارناموں کو ان کے تصور کے قریب کردیا جائے۔ اس تمثیل اور مجسم انداز کے بغیر انسانی تصور اس کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تھا۔ انسان اپنے علم کو لکھتے ہیں اور اپنے اقوال کا ریکارڈ کرتے ہیں ، اپنے احکام کو نافذ کرتے ہیں اور قلموں کے ذریعے وہ لکھتے ہیں۔ یہ قلمیں جنگلوں اور کلک سے بناتے ہیں اور پھر سیاسی بنا کر اس سے لکھتے ہیں۔ یہ سیاہی ایک شیشی یا ایک دوات میں ہوتی ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ پوری زمین کے درختوں سے قلمیں بنا دی جائیں اور تمام سمندروں کے پانی کو سیاہی میں بدل دیا جائے اور ان جیسے سات اور سمندر بھی لے آئے جائیں اور لکھنے والے بیٹھ جائیں۔ اللہ کے نئے نئے کلمات جو اللہ کے علم پر دلالت کرتے ہوں تو یہ سب سمندروں کی روشنائی ختم ہوجائے اور اللہ کے کلمات علمیہ ختم نہ ہوں اور اللہ کے علم کی انتہا نہ ہو۔ اس لیے کہ ایک محدود قوت لا محدود کو احاطہ میں لانا چاہتی ہے۔ محدود قوت جس قدر بھی آگے جائے ، بہرحال اس کی قوت ایک جگہ جاکر ختم ہوجاتی ہے اور لامحدود و غیر محیط ہی رہتا ہے۔ غرض اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوتے کیونکہ اللہ کا علم لامحدود ہے۔ اللہ کا ارادہ کسی سرحد پر نہیں رکتا۔ اور اللہ کی مشیت کے حدود وقیود نہیں ہیں۔ درخت اور سمندر غائب ہوجاتے ہیں ۔ تمام زندہ چیزیں اور تمام مردہ چیزیں غائب ہو کر ختم ہوجاتی ہیں۔ تمام حالات اور صورتیں پس پردہ چلی جاتی ہیں اور انسانی دل ، اللہ کے جلال اور قدرت کے سامنے سہما ہوا رہ جاتا ہے۔ وہ قدرت جو نہ پھرتی ہے ، نہ بدلتی ہے اور نہ غائب ہوتی ہے۔ اللہ خالق اور قوی اور مدبر اور حکیم کے سامنے انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ان اللہ عزیز حکیم (31: 27) ” بیشک اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ اس سفر میں ہم ہولناک منظر کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں اور اب انسانی فکر و نظر کی تاروں پر آخری مضراب ! بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے تمام لوگوں کا دوبارہ اٹھانا بہت ہی آسان ہے۔ ما خلقکم ولا بعثکم ۔۔۔۔۔ سمیع بصیر (31: 28) ” تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جلا اٹھانا تو بس ایسا ہی ہے جیسے ایک نفس کو پیدا کرنا اور اٹھانا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے “۔ وہ ارادہ جس کے متوجہ ہوتے ہی مخلوق پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے برابر ہے کہ وہ ارادہ ایک چیز کی طرف متوجہ ہو یا بیشمار چیزوں کی طرف متوجہ ہو۔ اللہ کے لیے یہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایک آدمی کو بناتا پھرے اور ایک ایک آدمی پر محنت کرے۔ اس کے لیے ایک آدمی کا پیدا کرنا اور بیشمار ملین لوگوں کا پیدا کرنا اور ہی طرح کا ہے۔ ایک شخص کا زندہ کرکے اٹھانا اور بیشمار بلین لوگوں کو اٹھانا اللہ کے لیے ایک ہی جیسا ہے۔ اللہ نے تو صرف ایک لفظ کن کہنا ہے۔ انما امرہ اذا ۔۔۔۔۔۔ فیکون ” اس کا حکم ، جب وہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے ، تو یہ ہوتا ہے کہ اسے کہہ دے کہ ہوجا ، بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اس قدرت ، اس علم ، اور اس مہارت کے ساتھ تخلیق اور بعث بعد الموت اور حساب و کتاب کا عمل سر انجام دیا جائے گا۔ ان اللہ سمیع بصیر (31: 28) ” اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے “۔ اب اس سورة کا تیسرا سفر یا تیسرا راؤنڈ ہے۔ اور اس میں بھی وہی مسئلہ توحید زیر بحث ہے جو پہلے دو اسفار میں تھا۔ فیصلہ ہوتا ہے کہ اللہ حق ہے۔ لوگ جن شرکاء کو پکارتے ہیں وہ باطل ہیں ، عبادت صرف اللہ وحدہ کی چاہئے۔ قیامت کے دن کے بعد جو حساب و کتاب ہوگا اس میں نہ والد اپنی اولاد کا فدیہ دے سکے گا اور یہ ہی بچہ اپنے والدیں کی طرف سے کوئی بدلہ دے سکے گا۔ ان فیصلوں کے ساتھ کئی دوسرے اور جدید ایشوز نہایت موثر انداز میں لیے گئے ہیں۔ یہ سب مسائل بھی اس کائنات کے فریم و رک میں زیر بحث آتے ہیں۔

لقمان 31:28

ولو ان ما فی الارض ۔۔۔۔۔۔۔ ان اللہ سمیع بصیر (27 – 28) یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسانوں کی معلومات اور ان کے محدود مشاہدات سے لیا گیا ہے تاکہ اللہ کی مشیت کے لامحدود کارناموں کو ان کے تصور کے قریب کردیا جائے۔ اس تمثیل اور مجسم انداز کے بغیر انسانی تصور اس کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تھا۔ انسان اپنے علم کو لکھتے ہیں اور اپنے اقوال کا ریکارڈ کرتے ہیں ، اپنے احکام کو نافذ کرتے ہیں اور قلموں کے ذریعے وہ لکھتے ہیں۔ یہ قلمیں جنگلوں اور کلک سے بناتے ہیں اور پھر سیاسی بنا کر اس سے لکھتے ہیں۔ یہ سیاہی ایک شیشی یا ایک دوات میں ہوتی ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ پوری زمین کے درختوں سے قلمیں بنا دی جائیں اور تمام سمندروں کے پانی کو سیاہی میں بدل دیا جائے اور ان جیسے سات اور سمندر بھی لے آئے جائیں اور لکھنے والے بیٹھ جائیں۔ اللہ کے نئے نئے کلمات جو اللہ کے علم پر دلالت کرتے ہوں تو یہ سب سمندروں کی روشنائی ختم ہوجائے اور اللہ کے کلمات علمیہ ختم نہ ہوں اور اللہ کے علم کی انتہا نہ ہو۔ اس لیے کہ ایک محدود قوت لا محدود کو احاطہ میں لانا چاہتی ہے۔ محدود قوت جس قدر بھی آگے جائے ، بہرحال اس کی قوت ایک جگہ جاکر ختم ہوجاتی ہے اور لامحدود و غیر محیط ہی رہتا ہے۔ غرض اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوتے کیونکہ اللہ کا علم لامحدود ہے۔ اللہ کا ارادہ کسی سرحد پر نہیں رکتا۔ اور اللہ کی مشیت کے حدود وقیود نہیں ہیں۔ درخت اور سمندر غائب ہوجاتے ہیں ۔ تمام زندہ چیزیں اور تمام مردہ چیزیں غائب ہو کر ختم ہوجاتی ہیں۔ تمام حالات اور صورتیں پس پردہ چلی جاتی ہیں اور انسانی دل ، اللہ کے جلال اور قدرت کے سامنے سہما ہوا رہ جاتا ہے۔ وہ قدرت جو نہ پھرتی ہے ، نہ بدلتی ہے اور نہ غائب ہوتی ہے۔ اللہ خالق اور قوی اور مدبر اور حکیم کے سامنے انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ان اللہ عزیز حکیم (31: 27) ” بیشک اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ اس سفر میں ہم ہولناک منظر کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں اور اب انسانی فکر و نظر کی تاروں پر آخری مضراب ! بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے تمام لوگوں کا دوبارہ اٹھانا بہت ہی آسان ہے۔ ما خلقکم ولا بعثکم ۔۔۔۔۔ سمیع بصیر (31: 28) ” تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جلا اٹھانا تو بس ایسا ہی ہے جیسے ایک نفس کو پیدا کرنا اور اٹھانا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے “۔ وہ ارادہ جس کے متوجہ ہوتے ہی مخلوق پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے برابر ہے کہ وہ ارادہ ایک چیز کی طرف متوجہ ہو یا بیشمار چیزوں کی طرف متوجہ ہو۔ اللہ کے لیے یہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایک آدمی کو بناتا پھرے اور ایک ایک آدمی پر محنت کرے۔ اس کے لیے ایک آدمی کا پیدا کرنا اور بیشمار ملین لوگوں کا پیدا کرنا اور ہی طرح کا ہے۔ ایک شخص کا زندہ کرکے اٹھانا اور بیشمار بلین لوگوں کو اٹھانا اللہ کے لیے ایک ہی جیسا ہے۔ اللہ نے تو صرف ایک لفظ کن کہنا ہے۔ انما امرہ اذا ۔۔۔۔۔۔ فیکون ” اس کا حکم ، جب وہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے ، تو یہ ہوتا ہے کہ اسے کہہ دے کہ ہوجا ، بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اس قدرت ، اس علم ، اور اس مہارت کے ساتھ تخلیق اور بعث بعد الموت اور حساب و کتاب کا عمل سر انجام دیا جائے گا۔ ان اللہ سمیع بصیر (31: 28) ” اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے “۔ اب اس سورة کا تیسرا سفر یا تیسرا راؤنڈ ہے۔ اور اس میں بھی وہی مسئلہ توحید زیر بحث ہے جو پہلے دو اسفار میں تھا۔ فیصلہ ہوتا ہے کہ اللہ حق ہے۔ لوگ جن شرکاء کو پکارتے ہیں وہ باطل ہیں ، عبادت صرف اللہ وحدہ کی چاہئے۔ قیامت کے دن کے بعد جو حساب و کتاب ہوگا اس میں نہ والد اپنی اولاد کا فدیہ دے سکے گا اور یہ ہی بچہ اپنے والدیں کی طرف سے کوئی بدلہ دے سکے گا۔ ان فیصلوں کے ساتھ کئی دوسرے اور جدید ایشوز نہایت موثر انداز میں لیے گئے ہیں۔ یہ سب مسائل بھی اس کائنات کے فریم و رک میں زیر بحث آتے ہیں۔

لقمان 31:29

الم تر ان اللہ ۔۔۔۔۔۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر (29 – 30) رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا ، ان کا باہم متضاد ہونا اور مختلف موسموں میں ان کا لمبا اور چھوٹا ہونا ایک عجیب منظر ہے۔ لیکن سالوں سے اسے دیکھتے چلے جانا اور بار بار ایسا ہونا انسانوں کو اس سے مانوس کردیتا ہے اور اکثریت اس اعجوبے کو دیکھتے ہوئے بھی اس کو محسوس نہیں کرتی۔ حالانکہ وہ نہایت ہی باریکی کے ساتھ اور کڑے نظم کے ساتھ واقعہ ہو رہا ہے اور اس میں سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آتا۔ اس میں کوئی خلل نہیں آتا۔ کبھی ایک بار بھی۔ یہ مسلسل دوران زمین اور دوران کر ات ، جس میں کوئی کرہ اپنے مدار سے نہ ادھر ادھر ہوتا ہے اور نہ رکھتا ہے۔ ایک عظیم اعجوبہ ہے۔ صرف اللہ وحدہ کی ذات ہی اس قسم کے نظام کو وجود میں لاسکتی ہے اور چلا سکتی ہے اور حفاظت سے رکھ سکتی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک صرف افلاک سماوی اور کر ات فلکی کے مدارات ہی کے مشاہدے سے ہوجاتا ہے۔ رات اور دن کے اس تغیر کا تعلق شمس و قمر کے دوران سے بھی واضح ہے۔ شمس و قمر کو مسخر کرکے فضا میں رکھتا ، روز و شب کے ظہور سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ ان کے لمبے چھوٹے ہونے سے بھی زیادہ عجیب۔ اس عظیم نظام کو صرف اللہ ہی مسخر کرسکتا ہے جو مدبر وخبیر ہے ، وہی ہے جو ان چیزوں کو وقت معلوم تک صحیح اندازے سے چلا سکتا ہے۔ رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا تو اس پوری کائنات کا ایک معمولی حصہ ہے۔ شمس و قمر کی تسخیر بھی ایک واضح حقیقت ہے ، شمس و قمر کی اہمیت ایک عام آدمی کے لیے یہ ہے کہ یہ دونوں اجرام فلکی انسان کے سامنے اور قریب ہیں ورنہ کائنات میں تو یہ بھی ذرے اور حقیر ذرے ہی ہیں۔ اس عظیم علم اور انتظام کے بعد پھر : ان اللہ بما تعملون خبیر (31: 29) ” جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے “۔ یہ تو ایک معمولی سی بات ہے۔ ان کائناتی حقائق کے بعد یہ غیبی حقیقت بہت ہی چھوٹی ہے اور اللہ کے لیے اس کا کرنا مشکل نہیں۔ یہ دونوں حقائق باہم مربوط ہیں۔ گردش لیل و نہار ، تسخیر و شمس و قمر اور اللہ کے علیم وخبیر ہونا ، ان تین حقائق کے بعد ایک عظیم حقیقت بیان کی جاتی ہے جس کے اوپر ان تینوں حقائق کا دارومدار ہے اور اس عظیم حقیقت کو اس سفر میں بیان کیا گیا ہے اور اس کے لیے یہ دلیل دی گئی ہے۔ ذلک بان اللہ ھو الحق ۔۔۔۔۔۔ العلی الکبیر (31: 30) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اسے چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ سب باطل ہیں ، اور (اس وجہ سے کہ) اللہ ہی بزرگ و برتر ہے “۔ ” یہ “ یعنی یہ نظام کائنات جو بہت ہی پیچیدہ ، باریک دائم ، ثابت اور نہایت ہی ہم آہنگ ہے۔ یہ نظام اس لیے قائم ہے کہ اللہ حق ہے اور اللہ کے سوا تمام دوسرے معبود الٰہ باطل ہیں ۔ یہ نظام کائنات حقیقت کبریٰ کی وجہ سے قائم ہے اور حقیقت کبریٰ اللہ واجب الوجود ہے جس کی وجہ سے یہ پورا وجود قائم ہے۔ چونکہ یہ کائنات قائم ہے ، لہٰذا اللہ حق ہے اور تبھی یہ کائنات قائم ہے۔ وہی اسے قائم کرتا ہے۔ چلاتا ہے ، حفاظت کرتا ہے اور تدبیر کرتا ہے۔ وہی ہے جو اس کائنات کے قائم رہنے کی ضمانت ہے “ وہی اس کے قرار ربط اور نظم کا سبب ہے۔ ذلک بان اللہ ھو الحق (31: 30) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے “۔ اللہ کے سوا ہر چیز متغیر اور متبدل ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز اپنا رخ بدلتی ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز میں زیادتی اور نقصان واقع ہوتا ہے۔ اس کے اوپر ضعف اور قوت ، جوانی اور بڑھاپا ، عروج وزوال ، اقبال و ادبار آتا ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز نہ تھی نہ ہوئی نہ تھی اور نہ ہوگی۔ یہ صرف اللہ ہی ہے جو قائم و دائم ہے۔ اور اس پر کوئی تغیر ، تبدل اور زوال نہیں آتا۔ نفس انسانی کے اندر ایک چیز رہتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ کا یہ قول۔ ذلک بان اللہ ھو الحق (31: 30) کی پوری مراد ہم الفاظ میں منتقل نہیں کرسکے۔ اس کا ایک مفہوم ہے اور اس کو محسوس کیا جاتا ہے لیکن میرے لیے اسے الفاظ میں لانا مشکل ہے۔ اسی طرح یہ تعبیر ان اللہ ھو العلی الکبیر (31: 30) اس کے سوا کوئی علی اور کبیر نہیں ہے۔ ان تعبیرات کے بارے میں ، میں نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے جس کو میرا پورا وجود پاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ انسانی تعبیرات میں وہ الفاظ نہیں ہیں کہ ان کے ذریعے ان دو فقروں میں پائے جانے والے حقائق کا اظہار کیا جاسکے۔ یہ بہت ہی بلند حقائق ہیں۔ اللہ حق ہے ، علی ہے ، کبیر ہے۔ انسانی تعبیرات ان مفاہم کو جو ان فقروں سے محسوس کیے جاسکتے ہیں اور محدود کردیتی ہیں۔ اس لیے صرف قرآن کی تعبیر ہی ان کے لیے کافی ہے۔ اس کائناتی منظر ، عالم بالا کے منظر کے بعد ایک دوسرا منظر جو انسانوں کے تجربے اور مشاہدے میں آتا ہی رہتا رہے ، روز و شب انسان ان کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ یہ ایک کشتی ہے جو سمندر کی وسعتوں میں تیر رہی ہے۔ یہ بھی اللہ کے فضل و کرم سے تیر رہی ہے۔ اللہ لوگوں کو اس منظر میں ایک خطرناک حالت کے ساتھ کھڑا کردیتے ہیں۔ ایسے مناظر سے اکثر مخاطبین خود گزر چکے ہیں۔ یہ ایک فطری سفر ہے ۔ اس میں انسان قدرت اور قدرتی قوتوں کے اندر گھرا ہوتا ہے۔ اس کے پاس کوئی قوت ، کوئی مقابلہ ، کوئی گرفت اور کوئی غرور نہیں ہوتا۔ جب انسان اس کشتی میں سفر کر رہا ہوتا ہے اور سمندر کی گہرائیوں میں ہوتا ہے۔

لقمان 31:30

الم تر ان اللہ ۔۔۔۔۔۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر (29 – 30) رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا ، ان کا باہم متضاد ہونا اور مختلف موسموں میں ان کا لمبا اور چھوٹا ہونا ایک عجیب منظر ہے۔ لیکن سالوں سے اسے دیکھتے چلے جانا اور بار بار ایسا ہونا انسانوں کو اس سے مانوس کردیتا ہے اور اکثریت اس اعجوبے کو دیکھتے ہوئے بھی اس کو محسوس نہیں کرتی۔ حالانکہ وہ نہایت ہی باریکی کے ساتھ اور کڑے نظم کے ساتھ واقعہ ہو رہا ہے اور اس میں سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آتا۔ اس میں کوئی خلل نہیں آتا۔ کبھی ایک بار بھی۔ یہ مسلسل دوران زمین اور دوران کر ات ، جس میں کوئی کرہ اپنے مدار سے نہ ادھر ادھر ہوتا ہے اور نہ رکھتا ہے۔ ایک عظیم اعجوبہ ہے۔ صرف اللہ وحدہ کی ذات ہی اس قسم کے نظام کو وجود میں لاسکتی ہے اور چلا سکتی ہے اور حفاظت سے رکھ سکتی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک صرف افلاک سماوی اور کر ات فلکی کے مدارات ہی کے مشاہدے سے ہوجاتا ہے۔ رات اور دن کے اس تغیر کا تعلق شمس و قمر کے دوران سے بھی واضح ہے۔ شمس و قمر کو مسخر کرکے فضا میں رکھتا ، روز و شب کے ظہور سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ ان کے لمبے چھوٹے ہونے سے بھی زیادہ عجیب۔ اس عظیم نظام کو صرف اللہ ہی مسخر کرسکتا ہے جو مدبر وخبیر ہے ، وہی ہے جو ان چیزوں کو وقت معلوم تک صحیح اندازے سے چلا سکتا ہے۔ رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا تو اس پوری کائنات کا ایک معمولی حصہ ہے۔ شمس و قمر کی تسخیر بھی ایک واضح حقیقت ہے ، شمس و قمر کی اہمیت ایک عام آدمی کے لیے یہ ہے کہ یہ دونوں اجرام فلکی انسان کے سامنے اور قریب ہیں ورنہ کائنات میں تو یہ بھی ذرے اور حقیر ذرے ہی ہیں۔ اس عظیم علم اور انتظام کے بعد پھر : ان اللہ بما تعملون خبیر (31: 29) ” جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے “۔ یہ تو ایک معمولی سی بات ہے۔ ان کائناتی حقائق کے بعد یہ غیبی حقیقت بہت ہی چھوٹی ہے اور اللہ کے لیے اس کا کرنا مشکل نہیں۔ یہ دونوں حقائق باہم مربوط ہیں۔ گردش لیل و نہار ، تسخیر و شمس و قمر اور اللہ کے علیم وخبیر ہونا ، ان تین حقائق کے بعد ایک عظیم حقیقت بیان کی جاتی ہے جس کے اوپر ان تینوں حقائق کا دارومدار ہے اور اس عظیم حقیقت کو اس سفر میں بیان کیا گیا ہے اور اس کے لیے یہ دلیل دی گئی ہے۔ ذلک بان اللہ ھو الحق ۔۔۔۔۔۔ العلی الکبیر (31: 30) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اسے چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ سب باطل ہیں ، اور (اس وجہ سے کہ) اللہ ہی بزرگ و برتر ہے “۔ ” یہ “ یعنی یہ نظام کائنات جو بہت ہی پیچیدہ ، باریک دائم ، ثابت اور نہایت ہی ہم آہنگ ہے۔ یہ نظام اس لیے قائم ہے کہ اللہ حق ہے اور اللہ کے سوا تمام دوسرے معبود الٰہ باطل ہیں ۔ یہ نظام کائنات حقیقت کبریٰ کی وجہ سے قائم ہے اور حقیقت کبریٰ اللہ واجب الوجود ہے جس کی وجہ سے یہ پورا وجود قائم ہے۔ چونکہ یہ کائنات قائم ہے ، لہٰذا اللہ حق ہے اور تبھی یہ کائنات قائم ہے۔ وہی اسے قائم کرتا ہے۔ چلاتا ہے ، حفاظت کرتا ہے اور تدبیر کرتا ہے۔ وہی ہے جو اس کائنات کے قائم رہنے کی ضمانت ہے “ وہی اس کے قرار ربط اور نظم کا سبب ہے۔ ذلک بان اللہ ھو الحق (31: 30) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے “۔ اللہ کے سوا ہر چیز متغیر اور متبدل ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز اپنا رخ بدلتی ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز میں زیادتی اور نقصان واقع ہوتا ہے۔ اس کے اوپر ضعف اور قوت ، جوانی اور بڑھاپا ، عروج وزوال ، اقبال و ادبار آتا ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز نہ تھی نہ ہوئی نہ تھی اور نہ ہوگی۔ یہ صرف اللہ ہی ہے جو قائم و دائم ہے۔ اور اس پر کوئی تغیر ، تبدل اور زوال نہیں آتا۔ نفس انسانی کے اندر ایک چیز رہتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ کا یہ قول۔ ذلک بان اللہ ھو الحق (31: 30) کی پوری مراد ہم الفاظ میں منتقل نہیں کرسکے۔ اس کا ایک مفہوم ہے اور اس کو محسوس کیا جاتا ہے لیکن میرے لیے اسے الفاظ میں لانا مشکل ہے۔ اسی طرح یہ تعبیر ان اللہ ھو العلی الکبیر (31: 30) اس کے سوا کوئی علی اور کبیر نہیں ہے۔ ان تعبیرات کے بارے میں ، میں نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے جس کو میرا پورا وجود پاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ انسانی تعبیرات میں وہ الفاظ نہیں ہیں کہ ان کے ذریعے ان دو فقروں میں پائے جانے والے حقائق کا اظہار کیا جاسکے۔ یہ بہت ہی بلند حقائق ہیں۔ اللہ حق ہے ، علی ہے ، کبیر ہے۔ انسانی تعبیرات ان مفاہم کو جو ان فقروں سے محسوس کیے جاسکتے ہیں اور محدود کردیتی ہیں۔ اس لیے صرف قرآن کی تعبیر ہی ان کے لیے کافی ہے۔ اس کائناتی منظر ، عالم بالا کے منظر کے بعد ایک دوسرا منظر جو انسانوں کے تجربے اور مشاہدے میں آتا ہی رہتا رہے ، روز و شب انسان ان کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ یہ ایک کشتی ہے جو سمندر کی وسعتوں میں تیر رہی ہے۔ یہ بھی اللہ کے فضل و کرم سے تیر رہی ہے۔ اللہ لوگوں کو اس منظر میں ایک خطرناک حالت کے ساتھ کھڑا کردیتے ہیں۔ ایسے مناظر سے اکثر مخاطبین خود گزر چکے ہیں۔ یہ ایک فطری سفر ہے ۔ اس میں انسان قدرت اور قدرتی قوتوں کے اندر گھرا ہوتا ہے۔ اس کے پاس کوئی قوت ، کوئی مقابلہ ، کوئی گرفت اور کوئی غرور نہیں ہوتا۔ جب انسان اس کشتی میں سفر کر رہا ہوتا ہے اور سمندر کی گہرائیوں میں ہوتا ہے۔

لقمان 31:31

الم تران الفلک ۔۔۔۔۔۔ کل ختار کفور (31 – 32) یہ کشتی ان قوانین قدرت کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے شمندر ، کشتی ، ہوا ، زمین اور آسمانوں میں رکھتے ہیں۔ اللہ نے ان چیزوں کو ان خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا کہ کشتی سمندروں میں چلنے لگی ہے ، نہ ڈوبتی ہے ، اور نہ ایک جگہ منجمد رہتی ہے۔ اگر اس خواص میں سے کوئی بھی خاصیت کسی ایک چیز کی ختم ہوجائے تو کشتی سمندر میں نہ چل سکے۔ اگر پانی کی کثافت ختم ہوجائے یا کشتی کے مادے کی کثافت ختم ہوجائے یا اس کی مقدار میں کمی بیشی ہوجائے۔ ہوا کا دباؤ سمندر پر کم ہوجائے ، ہوا کی موجیں یا سمندر کی موجوں میں ظلل ہوجائے اور اگر وہ درجہ حرارت ختم ہوجائے جس کے مطابق پانی پانی رہتا ہے اور جس کی وجہ سے ہوا اور پانی کی موجیں مناسب حدود میں رہتی ہیں۔ اگر موجودہ حالت سے ایک فیصدی تبدیلی بھی ہوجائے تو کشتی سمندر کے پانیوں کے اوپر نہ تیر سکے۔ ان خواص کے علاوہ دوسرے عوامل کے مقابلے میں اللہ پر کشتی کا حامی و مددگار ہوتا ہے کہ امواج کی سرکشی کو روکتا ہے۔ طوفانوں اور موسمی اثرات سے بچاتا ہے۔ سمندر کی دوریوں میں اللہ کے سوا کوئی اور بچانے والا نہیں ہوتا لہٰذا یہ ہر حال میں اللہ کے رحم و کرم اور فضل و مہربانی کے ساتھ چلتی ہے۔ پھر اس کے اندر اللہ کے فضل کی چیزیں لدی ہوتی ہیں۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ فضل کے یہ دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔ لیریکم من ایتہ (31: 31) ” تاکہ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے جو تمہاری نظروں کے سامنے ہیں۔ بشرطیکہ کوئی دیکھنا چاہے۔ ان میں کوئی اجمال اور اخفا نہیں ہے۔ ان فی ذلک ۔۔۔۔ شکور (31: 31) ” اس میں نشانیاں ہیں ہر صبار اور شکور کے لیے “۔ یعنی مشکلات پر صبر کرنے والا اور سہولیات پر شکر کرنے والا ۔ انسان ہر وقت ان دونوں حالات میں سے کسی ایک میں تو ہوتا ہی ہے۔ لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ نہ صبر کرتے ہیں اور نہ شکر کرتے ہیں۔ جب مصیبت آتی ہے تو چیختے لگتے ہیں اور اگر نجات دے دی جاتی ہے تو چند لوگوں کے سوا شکر نہیں کرتے۔ واذا غشیھم ۔۔۔۔۔ لہ الدین (31: 32) ” اور جب ان پر ایک موج سائبان کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو صرف اس کے لیے خالص کرکے “۔ ایسے حالات میں کہ کشتی گہرے سمندروں میں ایک پرکاہ کی طرح ہوتی ہے اور موجیں ایسی اٹھ رہی ہوتی ہیں جیسے سائبان ، اور کشتی کے اوپر آجاتی ہیں تو ایسے خطرناک حالات میں یہ لوگ جھوٹے خداؤں کو چھوڑ کر ، موہومہ خداؤں کو چھوڑ کر صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ امن وامان کے دنوں میں یہ جھوٹے اور موہوم معبود ان کی فطرت کو ڈھانپ لیتے ہیں اور فطرت اور خالق فطرت کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور حالت خطر میں جب یہ پردے گر جاتے ہیں اور ان کی فطرت پردوں اور تہوں کے نیچے کھلی ہو کر سامنے آتی ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے سیدھی کھڑی ہوتی ہے۔ اپنے رب کی طرف رجوع کرلیتی ہے تو زمین اللہ کے لیے خالص کردیتی ہے۔ اب وہ ہر جھوٹے مدعی کا انکار کردیتی ہے ہر اس معبود کو ترک کردیتی ہے جو اجنبی ہے اور دین اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کو پکارتی ہے۔ فلما نجھم الی البر فمنھم مقتصد (31: 32) ” پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے “۔ اسے امن و سلامتی اور خوشحالی و سرکشی اور حد سے گزرنے کی طرف نہیں بھینچ لاتی۔ اور یہ مسلسل اللہ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے۔ اگرچہ یہ ذکرو فکر میں اللہ کا پورا حق ادا نہیں کرتا ، کیونکہ ذاکر و شاکر جن انتہاؤں تک پہنچ سکتا ہے وہ یہی ہو سکتی ہیں کہ وہ ادا میں مقتصد ہو اور باطل سیدھا ہو۔ (لہٰذا مقتصد کا مطلب میانہ روی کا ہے) ۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خطرہ ٹلتے ہی اور حالت امن آتے ہی وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ وما یجحد بایتنا الا کل ختار کفور (31: 32) ” اور ہماری آیتوں کا انکار وہی شخص کرتا ہے جو غدار اور ناشکرا ہو “۔ ختار ، سخت غدار کو کہتے ہیں اور کفور شدید کفر کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ یہ مبالغہ ایسا ہے کہ جو کسی شخص کا وصف بن جاتا ہے اور یہ الفاظ اس شخص کے لیے بہت ہی مناسب ہیں جو کائنات کی ان لاجواب نشانیوں کو دیکھ کر بھی اور فطرت کی واضح منطق پاکر بھی اللہ کی آیات کا انکار کرتا ہے۔ سمندر کی خوفناکیوں کی مناسبت سے ، جہاں لوگوں کا غرور علم ، غرور قوت اور غرور قدرت کا فور ہوجاتا ہے اور فطرت کے اوپر سے باطل کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور انسان فطری دلائل و نشانات کو اپنے سامنے پاتا ہے۔ ان خوفناکیوں کی مناسبت سے یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ اصل ہولناکیوں کا دن تو قیامت دن ہوگا۔ اس کے مقابلے میں سمندر کی ہولناکیاں کبھی بھی نہیں ہیں۔ وہ ایسا ہولناک دن ہوگا کہ باپ بیٹے کا تعلق ، رحم کا تعلق اور خون کا تعلق بھی ختم ہوگا۔ والد اپنی اولاد کو چھوڑ دے گا اور بیٹا والدین سے بھاگ رہا ہوگا وہاں ہر شخص اکیلا کھڑا ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا اور کوئی سہارا نہ ہوگا۔ تمام رشتہ داریاں اور تعلقات ختم ہوں گے۔

لقمان 31:32

الم تران الفلک ۔۔۔۔۔۔ کل ختار کفور (31 – 32) یہ کشتی ان قوانین قدرت کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے شمندر ، کشتی ، ہوا ، زمین اور آسمانوں میں رکھتے ہیں۔ اللہ نے ان چیزوں کو ان خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا کہ کشتی سمندروں میں چلنے لگی ہے ، نہ ڈوبتی ہے ، اور نہ ایک جگہ منجمد رہتی ہے۔ اگر اس خواص میں سے کوئی بھی خاصیت کسی ایک چیز کی ختم ہوجائے تو کشتی سمندر میں نہ چل سکے۔ اگر پانی کی کثافت ختم ہوجائے یا کشتی کے مادے کی کثافت ختم ہوجائے یا اس کی مقدار میں کمی بیشی ہوجائے۔ ہوا کا دباؤ سمندر پر کم ہوجائے ، ہوا کی موجیں یا سمندر کی موجوں میں ظلل ہوجائے اور اگر وہ درجہ حرارت ختم ہوجائے جس کے مطابق پانی پانی رہتا ہے اور جس کی وجہ سے ہوا اور پانی کی موجیں مناسب حدود میں رہتی ہیں۔ اگر موجودہ حالت سے ایک فیصدی تبدیلی بھی ہوجائے تو کشتی سمندر کے پانیوں کے اوپر نہ تیر سکے۔ ان خواص کے علاوہ دوسرے عوامل کے مقابلے میں اللہ پر کشتی کا حامی و مددگار ہوتا ہے کہ امواج کی سرکشی کو روکتا ہے۔ طوفانوں اور موسمی اثرات سے بچاتا ہے۔ سمندر کی دوریوں میں اللہ کے سوا کوئی اور بچانے والا نہیں ہوتا لہٰذا یہ ہر حال میں اللہ کے رحم و کرم اور فضل و مہربانی کے ساتھ چلتی ہے۔ پھر اس کے اندر اللہ کے فضل کی چیزیں لدی ہوتی ہیں۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ فضل کے یہ دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔ لیریکم من ایتہ (31: 31) ” تاکہ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے جو تمہاری نظروں کے سامنے ہیں۔ بشرطیکہ کوئی دیکھنا چاہے۔ ان میں کوئی اجمال اور اخفا نہیں ہے۔ ان فی ذلک ۔۔۔۔ شکور (31: 31) ” اس میں نشانیاں ہیں ہر صبار اور شکور کے لیے “۔ یعنی مشکلات پر صبر کرنے والا اور سہولیات پر شکر کرنے والا ۔ انسان ہر وقت ان دونوں حالات میں سے کسی ایک میں تو ہوتا ہی ہے۔ لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ نہ صبر کرتے ہیں اور نہ شکر کرتے ہیں۔ جب مصیبت آتی ہے تو چیختے لگتے ہیں اور اگر نجات دے دی جاتی ہے تو چند لوگوں کے سوا شکر نہیں کرتے۔ واذا غشیھم ۔۔۔۔۔ لہ الدین (31: 32) ” اور جب ان پر ایک موج سائبان کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو صرف اس کے لیے خالص کرکے “۔ ایسے حالات میں کہ کشتی گہرے سمندروں میں ایک پرکاہ کی طرح ہوتی ہے اور موجیں ایسی اٹھ رہی ہوتی ہیں جیسے سائبان ، اور کشتی کے اوپر آجاتی ہیں تو ایسے خطرناک حالات میں یہ لوگ جھوٹے خداؤں کو چھوڑ کر ، موہومہ خداؤں کو چھوڑ کر صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ امن وامان کے دنوں میں یہ جھوٹے اور موہوم معبود ان کی فطرت کو ڈھانپ لیتے ہیں اور فطرت اور خالق فطرت کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور حالت خطر میں جب یہ پردے گر جاتے ہیں اور ان کی فطرت پردوں اور تہوں کے نیچے کھلی ہو کر سامنے آتی ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے سیدھی کھڑی ہوتی ہے۔ اپنے رب کی طرف رجوع کرلیتی ہے تو زمین اللہ کے لیے خالص کردیتی ہے۔ اب وہ ہر جھوٹے مدعی کا انکار کردیتی ہے ہر اس معبود کو ترک کردیتی ہے جو اجنبی ہے اور دین اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کو پکارتی ہے۔ فلما نجھم الی البر فمنھم مقتصد (31: 32) ” پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے “۔ اسے امن و سلامتی اور خوشحالی و سرکشی اور حد سے گزرنے کی طرف نہیں بھینچ لاتی۔ اور یہ مسلسل اللہ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے۔ اگرچہ یہ ذکرو فکر میں اللہ کا پورا حق ادا نہیں کرتا ، کیونکہ ذاکر و شاکر جن انتہاؤں تک پہنچ سکتا ہے وہ یہی ہو سکتی ہیں کہ وہ ادا میں مقتصد ہو اور باطل سیدھا ہو۔ (لہٰذا مقتصد کا مطلب میانہ روی کا ہے) ۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خطرہ ٹلتے ہی اور حالت امن آتے ہی وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ وما یجحد بایتنا الا کل ختار کفور (31: 32) ” اور ہماری آیتوں کا انکار وہی شخص کرتا ہے جو غدار اور ناشکرا ہو “۔ ختار ، سخت غدار کو کہتے ہیں اور کفور شدید کفر کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ یہ مبالغہ ایسا ہے کہ جو کسی شخص کا وصف بن جاتا ہے اور یہ الفاظ اس شخص کے لیے بہت ہی مناسب ہیں جو کائنات کی ان لاجواب نشانیوں کو دیکھ کر بھی اور فطرت کی واضح منطق پاکر بھی اللہ کی آیات کا انکار کرتا ہے۔ سمندر کی خوفناکیوں کی مناسبت سے ، جہاں لوگوں کا غرور علم ، غرور قوت اور غرور قدرت کا فور ہوجاتا ہے اور فطرت کے اوپر سے باطل کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور انسان فطری دلائل و نشانات کو اپنے سامنے پاتا ہے۔ ان خوفناکیوں کی مناسبت سے یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ اصل ہولناکیوں کا دن تو قیامت دن ہوگا۔ اس کے مقابلے میں سمندر کی ہولناکیاں کبھی بھی نہیں ہیں۔ وہ ایسا ہولناک دن ہوگا کہ باپ بیٹے کا تعلق ، رحم کا تعلق اور خون کا تعلق بھی ختم ہوگا۔ والد اپنی اولاد کو چھوڑ دے گا اور بیٹا والدین سے بھاگ رہا ہوگا وہاں ہر شخص اکیلا کھڑا ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا اور کوئی سہارا نہ ہوگا۔ تمام رشتہ داریاں اور تعلقات ختم ہوں گے۔

لقمان 31:33

یایھا الباس اتقوا ۔۔۔۔۔۔ یغرنکم باللہ الغرور (33) ” “۔ یہ نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ یہاں دنیا میں جو خوف ہوتا ہے دلوں میں اور شعور میں اس کی تو مثال ہوتی ہے۔ لیکن قیامت کا یہ خوف بےمثال ہوگا۔ اس میں تمام رشتہ داری اور خون کے تعلقات ختم ہوں گے۔ والدہ اولاد سے بھاگ رہا ہوگا۔ اور اولاد کو والدین کی پرواہ اور فکر نہ ہوگی۔ ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی ، نفسا نفسی کا عالم ہوگا ، کوئی کسی کی جگہ ضامن نہ ہوگا ، کسی کو بھی خود اس کے اپنے اعمال کے سوا کسی کا عمل فائدہ نہ دے سکے گا۔ ایسے حالات ظاہر ہے کہ ایسے خوف میں ہوں گے جس کی کوئی نظیر اس دنیا میں نہ ہوگی۔ لہٰذا یہاں خدا سے ڈرنے کی دعوت دینا بہت سی برمحل دعوت ہے اور آخرت کا مسئلہ نہایت ہی خوف کے عالم میں پیش ہوا ہے اس لیے و دماغ اس کی طرف متوجہ ہیں۔ ان وعد اللہ حق (31: 33) ” فی الواقعہ اللہ کا وعدہ سچا ہے “۔ نہ اللہ اس کے خلاف کرتا ہے اور نہ اللہ کا کہا ٹل سکتا ہے۔ ہر شخص کو اس بےمثال خوف سے گزرتا ہے اور ہر شخص کو پوری باریکی سے حساب و کتاب دینا ہے۔ ایک عادلانہ فیصلہ سننا ہے جس کے نیتجے میں نہ باپ بیٹے کا بدل ہوگا اور نہ بیٹا باپ کا۔ فلما تغرنکم الحیوۃ الدنیا (31: 33) ” پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے “۔ اس دنیا میں سازو سامان ہے ، لہو و لعب ہے لیکن اس کی مہلت بہت ہی محدود ہے۔ یہاں انسان آزمائش کیلئے بھیجا گیا ہے۔ ولا یغرنکم باللہ الغرور (31: 33) ” اور نہ دھوکہ باز تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے “۔ کوئی سازو سامان تمہیں دھوکا نہ دے۔ کوئی شفل میلہ تمہیں بدراہ نہ کر دے ، کوئی شیطان تمہیں وسوسے میں نہ ڈالے۔ دھوکا باز بہت ہیں ، شیطان بیشمار ہیں اور دنیا کی دلچسپیاں بھی ہر طرف سے دامن کش ہیں۔ مال کا غرور بھی شیطان ہے۔ علم کا غرور بھی شیطان ہے ، قوت کا غرور بھی شیطان ہے اور شیطان پرستی بھی شیطان ہے ، خواہش نفس بھی شیطان ہے۔ شہوت جسمانی بھی شیطان ہے۔ ان تمام شیطانوں سے بچانے والی قوت خوف خدا کی قوت ہے۔ اس سورة کے خاتمے اور اس چوتھے راؤنڈ کے خاتمے پر اور اس خوفناک منظر آخرت کی مناسبت سے فکر و خرد کے تاروں پر یہ آخری اور ذرا شدید مضراب لگتا ہے۔ اس میں اللہ کے علم لامحدود اور انسان کے محدود علم کی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ انسان کا علم جس کی دسترس سے ہر وہ چیز غائب ہے جو نظروں سے اوجھل ہو۔ اب اس مسئلے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے جو اس سورة کا موضوع ہے اور یہ نتیجہ قرآن کی عجیب تصویر کشی سے نکلتا ہے ، اللہ کے علم ازلی اور ابدی کی تصویر۔

لقمان 31:34

ان اللہ عندہ ۔۔۔۔۔ ان اللہ علیم خبیر (34) اللہ تعالیٰ نے قیام قیامت کی گھڑی کو ایک ایسا غیب رکھا ہے جس کا علم کسی کو نہیں ہے تاکہ لوگ ہر وقت چوکنے رہیں۔ ہر وقت قیامت کی توقع کرتے رہیں۔ اور ہر وقت یہ کوشش کرتے رہیں کہ اس کے لیے کچھ کمائیں۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ کب قیامت ہوگی۔ بہرحال یہ اچانک آجائے گی اور اس وقت پھر کسی تیاری کی کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ نہ کوئی توشہ جمع کرنے کی اجازت ہوگی۔ اللہ اپنی حکمت کے مطابق جہاں چاہتا ہے ، بارش برساتا ہے ، جس قدر چاہتا ہے ، برساتا ہے۔ لوگ اپنے تجربوں اور آلات و علامات کے ذریعہ بارش کے قریب ہونے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ لیکن وہ نہ بارش برسانے کے اسباب پیدا کرسکتے ہیں اور نہ وقت کا علم رکھتے ہیں۔ آیت میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ بارش اللہ برساتا ہے کیونکہ اللہ ہی ہے جو بارش کے لیے طبیعی اسباب فراہم کرتا ہے اور ان کو منظم کرتا ہے۔ بارش میں اللہ کا اختصاص یہ ہے کہ اللہ ہی ان کے برسانے پر قادر ہے۔ جیسا کہ آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے بارش کے وقت کو اللہ کے مخصوص غیبی علوم میں داخل کیا ہے ، ان کا خیال درست نہیں ہے ، حالانکہ علم دراصل اللہ ہی کا ہوتا ہے اور وہ ہر معاملے میں مختص ہوتا ہے کیونکہ اللہ کا علم ہی صحیح ، دائمی اور حاوی ہوتا ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ ویعلم ما فی الارحام (31: 34) ” وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے “۔ یہ اس طرح کا مخصوص علم ہے جس طرح قیام قیامت کا علم اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے رحم میں کیا ہے۔ یعنی پیٹ کے اندر ہر لحظہ اور ہر لمحہ کیا پرورش ہو رہی ہے۔ خصوصا اس وقت جبکہ حمل کا کوئی وزن اور حجم نہیں ہوتا۔ پیٹ میں مذکر ہے یا مونث ہے ، ابتدائی وقت سے جب خلیہ انڈے میں داخل ہوتا ہے ، اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خدوخال کیا ہیں۔ خواص کیا ہیں ، حالت کیا اور صلاحیت کیا ہے۔ یہ سب امور اللہ کے علم کے ساتھ مختص ہیں۔ وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا (31: 34) ” کوئی متنفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے “۔ اچھائی کمائے گا یا برائی۔ اسے نفع ہوگا یا نقصان۔ آسانی ہوگی یا مشکلات سے دوچار ہوگا۔ صحت مند رہے گا یا بیمار ہوگا۔ اللہ کی اطاعت کرے گا یا معصیت کرے گا۔ اس لیے کہ کسب محض منافع سے بہت عام ہے۔ کسب کے اندر وہ تمام حالات داخل ہیں جو کسی شخص کو پیش آسکتے ہیں۔ یہ ایک غیبی امر ہے جس کے دروازے بند ہیں۔ یہ پردوں کے پیچھے ہے اور انسان پردوں کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے۔ اور وہ نہیں جانتا کہ آگے کیا ہے ؟ وما تدری ۔۔۔۔۔ تموت (31: 34) ” کسی شخص کو خبر نہیں کہ کس زمین پر اسے موت آئے گی “۔ کیونکہ یہ بھی ایک ایسا معاملہ ہے جو پردہ فردا کے پیچھے ہے اور مستقبل کا دبیز پردہ اس کے اور نفس انسانی کے درمیان حائل ہے۔ نفس انسانی ان پردوں سے ادھر کھڑا ہے۔ وہ بےبس ہے ، اسے کچھ معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انسان کا علم کس قدر محدود ہے۔ اس کی بےبسی واضح ہے۔ اس طرح سوچنے سے اس کے ذہن سے علم و معرفت کا غرور ختم ہوجاتا ہے اور اس طرح ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ انسان کو بہت ہی قلیل علم دیا گیا ہے اور یہ کہ پس پردہ فردا بیشمار ایسے امور ہیں جنہیں انسان نہیں جانتا۔ اگر انسان ان پردوں سے ادھر کی تمام چیزوں کو جانتا تو وہ ان پردوں کے پاس کھڑا ہوجاتا اور معلوم کرنے کی کوشش کرتا کہ کل کیا ہوگا۔ لیکن انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ کل کیا ہوگا بلکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ یوں انسانی نفس اپنی کبرائی سے ذرا نیچے اتر آتا ہے۔ وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اے اللہ اگلے لمحے میں خیر ہو۔ قرآن کریم اللہ کے ان مخصوص علوم کو نہایت وسیع دائرے میں پیش کرتا ہے ۔ ایسے وسیع دائرے میں جس کا انسان پر بہت اثر ہوتا ہے۔ نہایت ہی گہرا اثر۔ یہ میدان زمان و مکان کی وسعت کو بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ حاضر بھی اس کی لپیٹ میں ہے اور آنے والا مستقبل بھی۔ قریب بھی اور بعید بھی۔ دلوں کے خیالات میں بھی اور وسوسوں اور تفکرات میں بھی۔ قیام قیامت کی ساعت بھی اور بارش کے اوقار بھی۔ پھر رحم مادر تک یہ میدان پھیلا ہوا ہے جو نظروں سے اوجھل ہے۔ پھر پردہ مستقبل قریب کے پیچھے کہ کل کیا ہوگا۔ زمانہ اگرچہ قریب ہے لیکن علم جہالت کی دور وادیوں میں ہے۔ موت اور قبر تک یہ دائرہ پھیل جاتا ہے۔ غرض اللہ کے مخصوص علم کا ایک وسیع دائرہ ہے۔ لیکن اس وسیع چادر کے کونوں کو سمیٹ کر قرآن کے انداز بیان نے اسے ایک گٹھڑی کی شکل میں جمع کردیا ہے۔ یہ علم غیب کی وسیع چادر ہے اور اس کے اندر مختلف النوع تمام امور ، کو رکھ کر سمیٹ لیا گیا ہے۔ اب یہ سب امور ، امور فہیہ مخصوصہ ہیں اور یہ گٹھڑی مضبوطی سے بندھی ہوئی ہے۔ اور اس سے سوئی کے ناکے کے برابر کوئی چیز باہر نہیں آسکتی۔ انسان کے سامنے ان علوم کا دروازہ بند ہے کیونکہ یہ دائرہ قدرت انسان سے باہر ہیں۔ انسان کے علم سے وراء ہیں ، اللہ کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا ، ہاں اللہ اپنے حکم سے کسی کو کچھ بتا دے تو الگ بات ہے ، اللہ علیم وخبیر ہے اور اس کے سوا کوئی علم وخبیر نہیں ہے۔ یہاں یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ یہ درحقیقت ایک طویل اور دور دراز کا سفر تھا۔ اب ہم اس دور دراز کے مطالعاتی سفر سے تھک تھکا کر واپس ہوتے ہیں۔ ہم نے اس میں طویل راہوں کو طے کیا ، بوجھ اٹھایا اور غوروفکر کیا۔ اس کائنات کا مشاہد قدرت دنیا اور اس کے بوقلموں پرندے اور چرندے دیکھے۔ یہ سورة 34 آیات پر مشتمل ہے لیکن معانی و افکار کی دنیا طویل و عریض ہے ، بڑی برکت والی ہے ، وہ ذات جس نے دل و دماغ کی تخلیق کی۔ جس نے اس قرآن کو اتارا ، جو دلوں کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے اور مومنین کے لیے ہدایت و رحمت ہے۔

السجدة 32:1

درس نمبر 187 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 30 الم (1) تنزیل الکتب ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (1-3) الف۔ لام۔ میم۔۔۔ یہ وہ حروف ہیں جن سے عرب واقف تھے جن سے یہ کتاب سب سے پہلے مخاطب تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان حروف سے کلام کس طرح بنایا جاتا ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان حروف سے وہ جو کلام بناتے ہیں اس میں اور اس کلام میں کس قدر فرق ہے۔ ہر وہ شخص یہ فرق جانتا تھا جو اسالیب کلام سے واقف تھا۔ اور جو شخص بھی افکار و معانی کو الفاظ کا لباس پہنانے کا کام کرتا تھا ۔ یہ لوگ یہ بھی جانتے تھے اور اسے مانتے تھے کہ نصوص قرآنی کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے اور اس کے اندر کوئی گہرا عنصر ہے ، جو اسے ایک ایسی قوت قاہرہ عطا کرتا ہے جو بات کو دل میں اتار دیتا ہے۔ ایسی تاثیر ان تمام باتوں اور اشعار میں نہیں ہے جو انسان خود بناتا ہے ، یا اس نے بنائے ہیں۔ یہ قرآن مجید کی ایسی خصوصیت تھی جس میں کسی کو کلام نہ تھا ، موافق ہو یا مخالف۔ کیونکہ جو شخص بھی یہ کلام سنتا تھا وہ اسے محسوس کرتا تھا۔ وہ اس کلام کو دوسرے کلاموں سے ممتاز پاتا تھا اور اس پر جھوم جاتا تھا ۔ اگرچہ وہ یہ نہ جانتا تھا کہ یہ کلام الٰہی ہے۔ قرآن کریم کو مکہ میں جب مخالف لوگوں نے بھی سنا ، کلام کا یہ عنصر ان پر اثر انداز ہوا۔ مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف واقعات پیش آئے۔ ادہائے عرب کے کلام اور شعر میں اور قرآن کریم کی سورتوں اور آیات میں وہی فرق ہے جو اللہ کی مصنوعات میں اور انسانوں کی مصنوعات میں ہے۔ اللہ کی مصنوعات واضح اور تمیز اور جدا ہیں۔ کوئی انسانی مصنوعی چیز اللہ کی بنائی ہوئی چیز کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو لے لیں۔ ایک اصلی پھول کو لے لیں اور ایک مصنوعی پھول کو لے لیں۔ اگر دنیا کے تمام تصویر کشوں کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ مل کر ایسی تصویر بنائیں جس میں کسی ایک اصلی پھول میں رنگوں کی تقسیم کا مقابلہ ہو تو وہ ایسا نہ کرسکیں گے۔ ایک پھول کی کلر اسکیم ہی ایک معجزہ ہے۔ یہی حال ہے کلام الٰہی کا اور دوسرے انسانی کلاموں کا جو سب کے سب انہی حروف تہجی سے بنے ہوئے ہیں۔ تنزیل الکتب لا ریب فیہ من رب العلمین (32: 2) ” اس کتاب کی تنزیل بلاشبہ رب العالمین کی طرف سے ہے “۔ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے۔ یہاں آیت کے درمیان لا ریب فیہ یعنی شک کی نفی کو لایا گیا ہے۔ یعنی مبتداء اور خبر کے درمیان کیونکہ یہ حقیقی ” ایشو “ ہے اور اس آیت کا اصل مدعا یہ ہے کہ شک کی تردید کی جائے اور اس فقرے کا آغاز حروف مقطعات سے اس بات کا اظہار ہے کہ اگر کوئی شک کرتا ہے تو یہ رہے وہ حروف ، وہ میٹریل جس سے یہ کلام بنا ہے ، تم بھی بنا لو۔ لہٰذا شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ حروف تمہیں مہیا ہیں ، تم اہل لسان ہو ، اس کتاب کا انداز ایسا ہے جس کو تم بھی معجزانہ کلام تصور کرتے ہو۔ یہ تمہارا تجربہ ہے اور تمہارے تجربہ کار لوگوں کا یہی کہنا ہے۔ اس قرآن کی ہر سورة اور ہر آیت اپنے اندر ایک معجزانہ عنصر رکھتی ہے۔ یہ عنصر اس کلام کے اندر بہت ہی گہرا ہے اور وہ یہ بتاتا ہے کہ اس کلام کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے ۔ جب اس کی تلاوت ہوتی ہے تو انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ وہ جھوم اٹھتا ہے ، وہ متزلزل ہوجاتا ہے اور اسے اپنے اوپر کنڑول نہیں رہتا۔ جب بھی کسی نے اس کے لیے دل کھولا ، احساس نے کان دھرا ، اور انسانی ادراک بلند ہوا اور اس کو سننے اور قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ انسانی ثقافت اور علم و بصیرت جوں جوں وسیع ہوتی جاتی ہے ، قرآن کریم کی یہ خصوصیت بہت ہی نمایاں ہوتی جاتی ہے۔ جوں جوں انسان کا علم بڑھتا ہے ، وہ اس کائنات کے اندر دور تک اپنا مشاہدہ بڑھاتا ہے اور وہ اس کائنات اور اس کے اندر کی مخلوق اور افراد تک اپنا علم بڑھاتا ہے۔ اس کلام کی تاثیر و قتی نہیں ہوتی۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہوتی ہے جب قرآن انسان فطرت سے ہمکلام ہوتا ہے اور یہ تاثیر ایک حقیقت بن کر سامنے آتے ہے جب قرآن ایک تجربہ کار دل و دماغ سے مخاطب ہو۔ جب یہ ایک تعلیم یافتہ عقل سے ہمکلام ہو ، جو ایک بھرے ہوئے ذہن سے بات کر رہا ہو ، جس کے اندر علم و معلومات ہوں۔ جوں جوں انسان کا درجہ علم ، ثقافت اور معلومات بلند ہوتا ہے ، اس قرآن کے معانی ، مفاہیم اور اثرات بڑھتے جاتے ہیں (بشرطیکہ انسانی فطرت سیدھی ہو ، اس میں ٹیڑھ نہ ہو اور اس کے اوپر خواہشات نفسانیہ کے پردے نہ پڑگئے ہوں) اور انسان علی وجہ الیقین یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ ام یقولون افترہ (32: 3) ” تو یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود گھڑ لیا ہے “۔ یہ بات انہوں نے محض ضد اور عناد سے کہی تھی۔ لیکن سیاق کلام میں یہاں اس کو بصورت سوال استکاری اور نہایر ہی ناپسندیدہ بات کے لاتا ہے۔ کیا وہ ایسا کہتے ہیں ؟ ایسی بات تو انہیں نہیں کہنا چاہئے اس لیے کہ محمد ﷺ کا کردار اور سیرت ان کے اندر موجود مثال ہے۔ انہوں نے تو کبھی کسی پر الزام نہیں لگایا۔ کیا وہ اللہ پر الزام لگاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب بذات خود اپنے اوپر شہادت ہے اس میں تو شک کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ بل ھو الحق من ربک (32: 3) ” بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے “۔ سچائی ، یہ فطرت ازلی کے عین مطابق ہے۔ یہ کائنات کے اندر موجود حق اور سچائی کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا اس کے اندر گہری سچائی پائی جاتی ہے۔ اس کی ساخت ، اس کے بیان ، اور اس کے نظام کا ثبات و دوام اور اس کا جامع و مانع ہونا۔ اس کے اجزاء کا باہم ہم آہنگ ہونا اور متصادم نہ ہونا اور اس کے اجزاء کا باہم تعارف اور یگانگت یہ سب اس کے حق پر ہونے پر شاہد ہیں۔ یہ اس لیے حق ہے کہ یہ انسان اور اس کائنات کے اندر ہائے جانے والے قوانین فطرت کے درمیان رابطہ پیدا کرتا ہے۔ انسان اور اس کائنات کے قوانین کلیہ کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور قرآن انسان اور ان کائناتی قوتوں کے درمیان توافق اور سلامتی پیدا کرتا ہے۔ چناچہ انسانی قوت اور کائیاتی قوتیں باہم معاون ، باہم ملاقی ہوجاتی ہیں اور ان کے درمیان پوری پوری مفاہمت ہوتی ہے۔ یوں انسان اپنے اس وسیع ماحول کا دوست بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے کہ جب انسانی فطرت اسے پاتی ہے تو اس پر لبیک کہتی ہے۔ نہایت بسر ، نہایت خوشی اور نہایت شوق سے بغیر کسی تشقت اور دشمنی کے ، کیونکہ دونوں کے اندر ازلی اور قدیم حق رکھ دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کے اندر کوئی تعارض ، کوئی تضاد نہیں ہے اور وہ پوری انسانیت کیلئے ایک مکمل منہاج حیات ہے۔ یہ منہاج انسانوں کی شخصیت ان کی قوت ، ان کے جذبات و میلانات ، ان کی حالت صحت اور حالت مرض اور حالت قوت اور حالت ضعف حالت امن اور حالت فساد کو اچھی طرح مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس میں مکمل عدل ہے۔ یہ نہ دنیا میں بےانصافی کرتا ہے نہ آخرت میں ، انسانوں کے اندر جو قومیں موجود ہیں ان کے ساتھ بھی یہ کوئی بےانصافی نہیں کرتا۔ یہ دینی اور فکری قوتوں کے ساتھ بھی بےانصافی نہیں کرتا۔ یہ انسان کی کسی حرکت کے ساتھ ظلم کرکے اسے کسی معقول سرگرمی سے نہیں روکتا۔ جب تک وہ سرگرمی اس عالم گیر سچائی کے دائرہ کے اندر ہو ، جو اس پوری کائنات کے اندر ودیعت کردی گئی ہے۔ بل ھو الحق من ربک (32: 3) ” بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے “۔ یہ تمہاری طرف سے نہیں ہے۔ یہ رب کی طرف سے ہے۔ یہ رب مسلمانوں کا ہی نہیں ہے ، رب العالمین ہے۔ یہ ہے اس حق میں کرامت انسانی۔ اس میں رسول کی تکریم ہے کہ وہ اپنی طرف سے افتراء نہیں باندھ رہا۔ پھر یہ اللہ اور رسول ﷺ کے درمیان قرب کا ایک رنگ اور پر تو ہے۔ اور یہ درپر وہ جواب ہے ان کے اس الزام کا ، کہ یہ اللہ پر افتراء ہے۔ ربک سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ حضور ﷺ اور قرآن کریم کا مصدر اور سرچشمہ باری تعالیٰ کے درمیان پختہ تعلق ہے۔ ایک باعزت تعلق اور اس کی وجہ سے وہ نہایت ذمہ داری اور امانت داری کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وحی نقل کرتے ہیں۔ لتنذر قوما اتھم ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (32: 3) ” تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں “۔ عرب جن کے لئے حضور اکرم ﷺ کو بھیجا گیا تھا۔ آپ ﷺ سے قبل ان کی طرف کوئی رسول نہ بھیجا گیا تھا۔ تاریخ میں بنی اسماعیل میں سے کسی رسول کے آنے کا ذکر نہیں ہے جو عربوں کے جد اول تھے۔ اللہ نے حضرت محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل کی جو سچائی ہے ، وہ سچائی جو انسان کی فطرت میں بھی موجود ہے۔ انسانوں کے دلوں کے اندر بھی موجود ہے۔ یہ لوگ جن کے ڈرانے کیلئے یہ کتاب نازل کی گئی ہے کہ ان کو ڈرایا جائے ، یہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کرتے تھے۔ چناچہ یہاں سے اللہ کی ان صفات کا بیان شروع ہوتا ہے جن کے ذریعہ وہ معلوم کرلیں کہ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی مخصوص صفات کیا ہیں اور اس طرح انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کے عقائد نہایت پوچ ہیں۔ ان عظیم صفات کا موصوف تو اللہ ہے جو رب العالمین ہے اور اس کے ہم پلہ و ہمسر ہونے کا کوئی مستحق نہیں ہے۔ نہ ان کو چاہئے کہ وہ کسی اور کو اس کا ہم پلہ بنائیں۔

السجدة 32:2

درس نمبر 187 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 30 الم (1) تنزیل الکتب ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (1-3) الف۔ لام۔ میم۔۔۔ یہ وہ حروف ہیں جن سے عرب واقف تھے جن سے یہ کتاب سب سے پہلے مخاطب تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان حروف سے کلام کس طرح بنایا جاتا ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان حروف سے وہ جو کلام بناتے ہیں اس میں اور اس کلام میں کس قدر فرق ہے۔ ہر وہ شخص یہ فرق جانتا تھا جو اسالیب کلام سے واقف تھا۔ اور جو شخص بھی افکار و معانی کو الفاظ کا لباس پہنانے کا کام کرتا تھا ۔ یہ لوگ یہ بھی جانتے تھے اور اسے مانتے تھے کہ نصوص قرآنی کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے اور اس کے اندر کوئی گہرا عنصر ہے ، جو اسے ایک ایسی قوت قاہرہ عطا کرتا ہے جو بات کو دل میں اتار دیتا ہے۔ ایسی تاثیر ان تمام باتوں اور اشعار میں نہیں ہے جو انسان خود بناتا ہے ، یا اس نے بنائے ہیں۔ یہ قرآن مجید کی ایسی خصوصیت تھی جس میں کسی کو کلام نہ تھا ، موافق ہو یا مخالف۔ کیونکہ جو شخص بھی یہ کلام سنتا تھا وہ اسے محسوس کرتا تھا۔ وہ اس کلام کو دوسرے کلاموں سے ممتاز پاتا تھا اور اس پر جھوم جاتا تھا ۔ اگرچہ وہ یہ نہ جانتا تھا کہ یہ کلام الٰہی ہے۔ قرآن کریم کو مکہ میں جب مخالف لوگوں نے بھی سنا ، کلام کا یہ عنصر ان پر اثر انداز ہوا۔ مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف واقعات پیش آئے۔ ادہائے عرب کے کلام اور شعر میں اور قرآن کریم کی سورتوں اور آیات میں وہی فرق ہے جو اللہ کی مصنوعات میں اور انسانوں کی مصنوعات میں ہے۔ اللہ کی مصنوعات واضح اور تمیز اور جدا ہیں۔ کوئی انسانی مصنوعی چیز اللہ کی بنائی ہوئی چیز کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو لے لیں۔ ایک اصلی پھول کو لے لیں اور ایک مصنوعی پھول کو لے لیں۔ اگر دنیا کے تمام تصویر کشوں کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ مل کر ایسی تصویر بنائیں جس میں کسی ایک اصلی پھول میں رنگوں کی تقسیم کا مقابلہ ہو تو وہ ایسا نہ کرسکیں گے۔ ایک پھول کی کلر اسکیم ہی ایک معجزہ ہے۔ یہی حال ہے کلام الٰہی کا اور دوسرے انسانی کلاموں کا جو سب کے سب انہی حروف تہجی سے بنے ہوئے ہیں۔ تنزیل الکتب لا ریب فیہ من رب العلمین (32: 2) ” اس کتاب کی تنزیل بلاشبہ رب العالمین کی طرف سے ہے “۔ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے۔ یہاں آیت کے درمیان لا ریب فیہ یعنی شک کی نفی کو لایا گیا ہے۔ یعنی مبتداء اور خبر کے درمیان کیونکہ یہ حقیقی ” ایشو “ ہے اور اس آیت کا اصل مدعا یہ ہے کہ شک کی تردید کی جائے اور اس فقرے کا آغاز حروف مقطعات سے اس بات کا اظہار ہے کہ اگر کوئی شک کرتا ہے تو یہ رہے وہ حروف ، وہ میٹریل جس سے یہ کلام بنا ہے ، تم بھی بنا لو۔ لہٰذا شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ حروف تمہیں مہیا ہیں ، تم اہل لسان ہو ، اس کتاب کا انداز ایسا ہے جس کو تم بھی معجزانہ کلام تصور کرتے ہو۔ یہ تمہارا تجربہ ہے اور تمہارے تجربہ کار لوگوں کا یہی کہنا ہے۔ اس قرآن کی ہر سورة اور ہر آیت اپنے اندر ایک معجزانہ عنصر رکھتی ہے۔ یہ عنصر اس کلام کے اندر بہت ہی گہرا ہے اور وہ یہ بتاتا ہے کہ اس کلام کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے ۔ جب اس کی تلاوت ہوتی ہے تو انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ وہ جھوم اٹھتا ہے ، وہ متزلزل ہوجاتا ہے اور اسے اپنے اوپر کنڑول نہیں رہتا۔ جب بھی کسی نے اس کے لیے دل کھولا ، احساس نے کان دھرا ، اور انسانی ادراک بلند ہوا اور اس کو سننے اور قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ انسانی ثقافت اور علم و بصیرت جوں جوں وسیع ہوتی جاتی ہے ، قرآن کریم کی یہ خصوصیت بہت ہی نمایاں ہوتی جاتی ہے۔ جوں جوں انسان کا علم بڑھتا ہے ، وہ اس کائنات کے اندر دور تک اپنا مشاہدہ بڑھاتا ہے اور وہ اس کائنات اور اس کے اندر کی مخلوق اور افراد تک اپنا علم بڑھاتا ہے۔ اس کلام کی تاثیر و قتی نہیں ہوتی۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہوتی ہے جب قرآن انسان فطرت سے ہمکلام ہوتا ہے اور یہ تاثیر ایک حقیقت بن کر سامنے آتے ہے جب قرآن ایک تجربہ کار دل و دماغ سے مخاطب ہو۔ جب یہ ایک تعلیم یافتہ عقل سے ہمکلام ہو ، جو ایک بھرے ہوئے ذہن سے بات کر رہا ہو ، جس کے اندر علم و معلومات ہوں۔ جوں جوں انسان کا درجہ علم ، ثقافت اور معلومات بلند ہوتا ہے ، اس قرآن کے معانی ، مفاہیم اور اثرات بڑھتے جاتے ہیں (بشرطیکہ انسانی فطرت سیدھی ہو ، اس میں ٹیڑھ نہ ہو اور اس کے اوپر خواہشات نفسانیہ کے پردے نہ پڑگئے ہوں) اور انسان علی وجہ الیقین یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ ام یقولون افترہ (32: 3) ” تو یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود گھڑ لیا ہے “۔ یہ بات انہوں نے محض ضد اور عناد سے کہی تھی۔ لیکن سیاق کلام میں یہاں اس کو بصورت سوال استکاری اور نہایر ہی ناپسندیدہ بات کے لاتا ہے۔ کیا وہ ایسا کہتے ہیں ؟ ایسی بات تو انہیں نہیں کہنا چاہئے اس لیے کہ محمد ﷺ کا کردار اور سیرت ان کے اندر موجود مثال ہے۔ انہوں نے تو کبھی کسی پر الزام نہیں لگایا۔ کیا وہ اللہ پر الزام لگاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب بذات خود اپنے اوپر شہادت ہے اس میں تو شک کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ بل ھو الحق من ربک (32: 3) ” بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے “۔ سچائی ، یہ فطرت ازلی کے عین مطابق ہے۔ یہ کائنات کے اندر موجود حق اور سچائی کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا اس کے اندر گہری سچائی پائی جاتی ہے۔ اس کی ساخت ، اس کے بیان ، اور اس کے نظام کا ثبات و دوام اور اس کا جامع و مانع ہونا۔ اس کے اجزاء کا باہم ہم آہنگ ہونا اور متصادم نہ ہونا اور اس کے اجزاء کا باہم تعارف اور یگانگت یہ سب اس کے حق پر ہونے پر شاہد ہیں۔ یہ اس لیے حق ہے کہ یہ انسان اور اس کائنات کے اندر ہائے جانے والے قوانین فطرت کے درمیان رابطہ پیدا کرتا ہے۔ انسان اور اس کائنات کے قوانین کلیہ کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور قرآن انسان اور ان کائناتی قوتوں کے درمیان توافق اور سلامتی پیدا کرتا ہے۔ چناچہ انسانی قوت اور کائیاتی قوتیں باہم معاون ، باہم ملاقی ہوجاتی ہیں اور ان کے درمیان پوری پوری مفاہمت ہوتی ہے۔ یوں انسان اپنے اس وسیع ماحول کا دوست بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے کہ جب انسانی فطرت اسے پاتی ہے تو اس پر لبیک کہتی ہے۔ نہایت بسر ، نہایت خوشی اور نہایت شوق سے بغیر کسی تشقت اور دشمنی کے ، کیونکہ دونوں کے اندر ازلی اور قدیم حق رکھ دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کے اندر کوئی تعارض ، کوئی تضاد نہیں ہے اور وہ پوری انسانیت کیلئے ایک مکمل منہاج حیات ہے۔ یہ منہاج انسانوں کی شخصیت ان کی قوت ، ان کے جذبات و میلانات ، ان کی حالت صحت اور حالت مرض اور حالت قوت اور حالت ضعف حالت امن اور حالت فساد کو اچھی طرح مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس میں مکمل عدل ہے۔ یہ نہ دنیا میں بےانصافی کرتا ہے نہ آخرت میں ، انسانوں کے اندر جو قومیں موجود ہیں ان کے ساتھ بھی یہ کوئی بےانصافی نہیں کرتا۔ یہ دینی اور فکری قوتوں کے ساتھ بھی بےانصافی نہیں کرتا۔ یہ انسان کی کسی حرکت کے ساتھ ظلم کرکے اسے کسی معقول سرگرمی سے نہیں روکتا۔ جب تک وہ سرگرمی اس عالم گیر سچائی کے دائرہ کے اندر ہو ، جو اس پوری کائنات کے اندر ودیعت کردی گئی ہے۔ بل ھو الحق من ربک (32: 3) ” بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے “۔ یہ تمہاری طرف سے نہیں ہے۔ یہ رب کی طرف سے ہے۔ یہ رب مسلمانوں کا ہی نہیں ہے ، رب العالمین ہے۔ یہ ہے اس حق میں کرامت انسانی۔ اس میں رسول کی تکریم ہے کہ وہ اپنی طرف سے افتراء نہیں باندھ رہا۔ پھر یہ اللہ اور رسول ﷺ کے درمیان قرب کا ایک رنگ اور پر تو ہے۔ اور یہ درپر وہ جواب ہے ان کے اس الزام کا ، کہ یہ اللہ پر افتراء ہے۔ ربک سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ حضور ﷺ اور قرآن کریم کا مصدر اور سرچشمہ باری تعالیٰ کے درمیان پختہ تعلق ہے۔ ایک باعزت تعلق اور اس کی وجہ سے وہ نہایت ذمہ داری اور امانت داری کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وحی نقل کرتے ہیں۔ لتنذر قوما اتھم ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (32: 3) ” تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں “۔ عرب جن کے لئے حضور اکرم ﷺ کو بھیجا گیا تھا۔ آپ ﷺ سے قبل ان کی طرف کوئی رسول نہ بھیجا گیا تھا۔ تاریخ میں بنی اسماعیل میں سے کسی رسول کے آنے کا ذکر نہیں ہے جو عربوں کے جد اول تھے۔ اللہ نے حضرت محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل کی جو سچائی ہے ، وہ سچائی جو انسان کی فطرت میں بھی موجود ہے۔ انسانوں کے دلوں کے اندر بھی موجود ہے۔ یہ لوگ جن کے ڈرانے کیلئے یہ کتاب نازل کی گئی ہے کہ ان کو ڈرایا جائے ، یہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کرتے تھے۔ چناچہ یہاں سے اللہ کی ان صفات کا بیان شروع ہوتا ہے جن کے ذریعہ وہ معلوم کرلیں کہ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی مخصوص صفات کیا ہیں اور اس طرح انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کے عقائد نہایت پوچ ہیں۔ ان عظیم صفات کا موصوف تو اللہ ہے جو رب العالمین ہے اور اس کے ہم پلہ و ہمسر ہونے کا کوئی مستحق نہیں ہے۔ نہ ان کو چاہئے کہ وہ کسی اور کو اس کا ہم پلہ بنائیں۔

السجدة 32:3

درس نمبر 187 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 30 الم (1) تنزیل الکتب ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (1-3) الف۔ لام۔ میم۔۔۔ یہ وہ حروف ہیں جن سے عرب واقف تھے جن سے یہ کتاب سب سے پہلے مخاطب تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان حروف سے کلام کس طرح بنایا جاتا ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان حروف سے وہ جو کلام بناتے ہیں اس میں اور اس کلام میں کس قدر فرق ہے۔ ہر وہ شخص یہ فرق جانتا تھا جو اسالیب کلام سے واقف تھا۔ اور جو شخص بھی افکار و معانی کو الفاظ کا لباس پہنانے کا کام کرتا تھا ۔ یہ لوگ یہ بھی جانتے تھے اور اسے مانتے تھے کہ نصوص قرآنی کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے اور اس کے اندر کوئی گہرا عنصر ہے ، جو اسے ایک ایسی قوت قاہرہ عطا کرتا ہے جو بات کو دل میں اتار دیتا ہے۔ ایسی تاثیر ان تمام باتوں اور اشعار میں نہیں ہے جو انسان خود بناتا ہے ، یا اس نے بنائے ہیں۔ یہ قرآن مجید کی ایسی خصوصیت تھی جس میں کسی کو کلام نہ تھا ، موافق ہو یا مخالف۔ کیونکہ جو شخص بھی یہ کلام سنتا تھا وہ اسے محسوس کرتا تھا۔ وہ اس کلام کو دوسرے کلاموں سے ممتاز پاتا تھا اور اس پر جھوم جاتا تھا ۔ اگرچہ وہ یہ نہ جانتا تھا کہ یہ کلام الٰہی ہے۔ قرآن کریم کو مکہ میں جب مخالف لوگوں نے بھی سنا ، کلام کا یہ عنصر ان پر اثر انداز ہوا۔ مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف واقعات پیش آئے۔ ادہائے عرب کے کلام اور شعر میں اور قرآن کریم کی سورتوں اور آیات میں وہی فرق ہے جو اللہ کی مصنوعات میں اور انسانوں کی مصنوعات میں ہے۔ اللہ کی مصنوعات واضح اور تمیز اور جدا ہیں۔ کوئی انسانی مصنوعی چیز اللہ کی بنائی ہوئی چیز کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو لے لیں۔ ایک اصلی پھول کو لے لیں اور ایک مصنوعی پھول کو لے لیں۔ اگر دنیا کے تمام تصویر کشوں کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ مل کر ایسی تصویر بنائیں جس میں کسی ایک اصلی پھول میں رنگوں کی تقسیم کا مقابلہ ہو تو وہ ایسا نہ کرسکیں گے۔ ایک پھول کی کلر اسکیم ہی ایک معجزہ ہے۔ یہی حال ہے کلام الٰہی کا اور دوسرے انسانی کلاموں کا جو سب کے سب انہی حروف تہجی سے بنے ہوئے ہیں۔ تنزیل الکتب لا ریب فیہ من رب العلمین (32: 2) ” اس کتاب کی تنزیل بلاشبہ رب العالمین کی طرف سے ہے “۔ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے۔ یہاں آیت کے درمیان لا ریب فیہ یعنی شک کی نفی کو لایا گیا ہے۔ یعنی مبتداء اور خبر کے درمیان کیونکہ یہ حقیقی ” ایشو “ ہے اور اس آیت کا اصل مدعا یہ ہے کہ شک کی تردید کی جائے اور اس فقرے کا آغاز حروف مقطعات سے اس بات کا اظہار ہے کہ اگر کوئی شک کرتا ہے تو یہ رہے وہ حروف ، وہ میٹریل جس سے یہ کلام بنا ہے ، تم بھی بنا لو۔ لہٰذا شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ حروف تمہیں مہیا ہیں ، تم اہل لسان ہو ، اس کتاب کا انداز ایسا ہے جس کو تم بھی معجزانہ کلام تصور کرتے ہو۔ یہ تمہارا تجربہ ہے اور تمہارے تجربہ کار لوگوں کا یہی کہنا ہے۔ اس قرآن کی ہر سورة اور ہر آیت اپنے اندر ایک معجزانہ عنصر رکھتی ہے۔ یہ عنصر اس کلام کے اندر بہت ہی گہرا ہے اور وہ یہ بتاتا ہے کہ اس کلام کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے ۔ جب اس کی تلاوت ہوتی ہے تو انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ وہ جھوم اٹھتا ہے ، وہ متزلزل ہوجاتا ہے اور اسے اپنے اوپر کنڑول نہیں رہتا۔ جب بھی کسی نے اس کے لیے دل کھولا ، احساس نے کان دھرا ، اور انسانی ادراک بلند ہوا اور اس کو سننے اور قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ انسانی ثقافت اور علم و بصیرت جوں جوں وسیع ہوتی جاتی ہے ، قرآن کریم کی یہ خصوصیت بہت ہی نمایاں ہوتی جاتی ہے۔ جوں جوں انسان کا علم بڑھتا ہے ، وہ اس کائنات کے اندر دور تک اپنا مشاہدہ بڑھاتا ہے اور وہ اس کائنات اور اس کے اندر کی مخلوق اور افراد تک اپنا علم بڑھاتا ہے۔ اس کلام کی تاثیر و قتی نہیں ہوتی۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہوتی ہے جب قرآن انسان فطرت سے ہمکلام ہوتا ہے اور یہ تاثیر ایک حقیقت بن کر سامنے آتے ہے جب قرآن ایک تجربہ کار دل و دماغ سے مخاطب ہو۔ جب یہ ایک تعلیم یافتہ عقل سے ہمکلام ہو ، جو ایک بھرے ہوئے ذہن سے بات کر رہا ہو ، جس کے اندر علم و معلومات ہوں۔ جوں جوں انسان کا درجہ علم ، ثقافت اور معلومات بلند ہوتا ہے ، اس قرآن کے معانی ، مفاہیم اور اثرات بڑھتے جاتے ہیں (بشرطیکہ انسانی فطرت سیدھی ہو ، اس میں ٹیڑھ نہ ہو اور اس کے اوپر خواہشات نفسانیہ کے پردے نہ پڑگئے ہوں) اور انسان علی وجہ الیقین یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ ام یقولون افترہ (32: 3) ” تو یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود گھڑ لیا ہے “۔ یہ بات انہوں نے محض ضد اور عناد سے کہی تھی۔ لیکن سیاق کلام میں یہاں اس کو بصورت سوال استکاری اور نہایر ہی ناپسندیدہ بات کے لاتا ہے۔ کیا وہ ایسا کہتے ہیں ؟ ایسی بات تو انہیں نہیں کہنا چاہئے اس لیے کہ محمد ﷺ کا کردار اور سیرت ان کے اندر موجود مثال ہے۔ انہوں نے تو کبھی کسی پر الزام نہیں لگایا۔ کیا وہ اللہ پر الزام لگاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب بذات خود اپنے اوپر شہادت ہے اس میں تو شک کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ بل ھو الحق من ربک (32: 3) ” بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے “۔ سچائی ، یہ فطرت ازلی کے عین مطابق ہے۔ یہ کائنات کے اندر موجود حق اور سچائی کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا اس کے اندر گہری سچائی پائی جاتی ہے۔ اس کی ساخت ، اس کے بیان ، اور اس کے نظام کا ثبات و دوام اور اس کا جامع و مانع ہونا۔ اس کے اجزاء کا باہم ہم آہنگ ہونا اور متصادم نہ ہونا اور اس کے اجزاء کا باہم تعارف اور یگانگت یہ سب اس کے حق پر ہونے پر شاہد ہیں۔ یہ اس لیے حق ہے کہ یہ انسان اور اس کائنات کے اندر ہائے جانے والے قوانین فطرت کے درمیان رابطہ پیدا کرتا ہے۔ انسان اور اس کائنات کے قوانین کلیہ کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور قرآن انسان اور ان کائناتی قوتوں کے درمیان توافق اور سلامتی پیدا کرتا ہے۔ چناچہ انسانی قوت اور کائیاتی قوتیں باہم معاون ، باہم ملاقی ہوجاتی ہیں اور ان کے درمیان پوری پوری مفاہمت ہوتی ہے۔ یوں انسان اپنے اس وسیع ماحول کا دوست بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے کہ جب انسانی فطرت اسے پاتی ہے تو اس پر لبیک کہتی ہے۔ نہایت بسر ، نہایت خوشی اور نہایت شوق سے بغیر کسی تشقت اور دشمنی کے ، کیونکہ دونوں کے اندر ازلی اور قدیم حق رکھ دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کے اندر کوئی تعارض ، کوئی تضاد نہیں ہے اور وہ پوری انسانیت کیلئے ایک مکمل منہاج حیات ہے۔ یہ منہاج انسانوں کی شخصیت ان کی قوت ، ان کے جذبات و میلانات ، ان کی حالت صحت اور حالت مرض اور حالت قوت اور حالت ضعف حالت امن اور حالت فساد کو اچھی طرح مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس میں مکمل عدل ہے۔ یہ نہ دنیا میں بےانصافی کرتا ہے نہ آخرت میں ، انسانوں کے اندر جو قومیں موجود ہیں ان کے ساتھ بھی یہ کوئی بےانصافی نہیں کرتا۔ یہ دینی اور فکری قوتوں کے ساتھ بھی بےانصافی نہیں کرتا۔ یہ انسان کی کسی حرکت کے ساتھ ظلم کرکے اسے کسی معقول سرگرمی سے نہیں روکتا۔ جب تک وہ سرگرمی اس عالم گیر سچائی کے دائرہ کے اندر ہو ، جو اس پوری کائنات کے اندر ودیعت کردی گئی ہے۔ بل ھو الحق من ربک (32: 3) ” بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے “۔ یہ تمہاری طرف سے نہیں ہے۔ یہ رب کی طرف سے ہے۔ یہ رب مسلمانوں کا ہی نہیں ہے ، رب العالمین ہے۔ یہ ہے اس حق میں کرامت انسانی۔ اس میں رسول کی تکریم ہے کہ وہ اپنی طرف سے افتراء نہیں باندھ رہا۔ پھر یہ اللہ اور رسول ﷺ کے درمیان قرب کا ایک رنگ اور پر تو ہے۔ اور یہ درپر وہ جواب ہے ان کے اس الزام کا ، کہ یہ اللہ پر افتراء ہے۔ ربک سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ حضور ﷺ اور قرآن کریم کا مصدر اور سرچشمہ باری تعالیٰ کے درمیان پختہ تعلق ہے۔ ایک باعزت تعلق اور اس کی وجہ سے وہ نہایت ذمہ داری اور امانت داری کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وحی نقل کرتے ہیں۔ لتنذر قوما اتھم ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (32: 3) ” تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں “۔ عرب جن کے لئے حضور اکرم ﷺ کو بھیجا گیا تھا۔ آپ ﷺ سے قبل ان کی طرف کوئی رسول نہ بھیجا گیا تھا۔ تاریخ میں بنی اسماعیل میں سے کسی رسول کے آنے کا ذکر نہیں ہے جو عربوں کے جد اول تھے۔ اللہ نے حضرت محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل کی جو سچائی ہے ، وہ سچائی جو انسان کی فطرت میں بھی موجود ہے۔ انسانوں کے دلوں کے اندر بھی موجود ہے۔ یہ لوگ جن کے ڈرانے کیلئے یہ کتاب نازل کی گئی ہے کہ ان کو ڈرایا جائے ، یہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کرتے تھے۔ چناچہ یہاں سے اللہ کی ان صفات کا بیان شروع ہوتا ہے جن کے ذریعہ وہ معلوم کرلیں کہ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی مخصوص صفات کیا ہیں اور اس طرح انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کے عقائد نہایت پوچ ہیں۔ ان عظیم صفات کا موصوف تو اللہ ہے جو رب العالمین ہے اور اس کے ہم پلہ و ہمسر ہونے کا کوئی مستحق نہیں ہے۔ نہ ان کو چاہئے کہ وہ کسی اور کو اس کا ہم پلہ بنائیں۔

السجدة 32:4

اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9) یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔ اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے سامنے زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دن ایک شب و روز پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ زمین اس کائنات کے اندر بہت ہی مختصر سا ٹکڑا ہے۔ ایک ذرہ ہے جس کی اس عظیم فضا میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ ہمارے روز و شب تو زمین و آسمان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے اور یہ روز و شب زمانہ کی وہ مقدار ہے جس کے مطابق ہم حساب و کتاب کرتے ہیں۔ ان چھ ایام کی حقیقت کیا ہے تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہمارے پاس ان دنوں کے حساب و کتاب کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ایام ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون (32: 5) ” اور تمہارے رب کے نزدیک ایک دن ، تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے “۔ یہ چھ دن وہ چھ حالات بھی ہوسکتے ہیں جن سے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی فضا گزری ، یہاں تک کہ وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی یا یہ تخلیق کے چھ مراحل تھے یا یہ چھ زمانے تھے جن کے درمیان کے وقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ بہرحال جو بھی مراد ہو ، ان سے وہ دن مراد نہیں ہیں جو ہمارے زمانے کے دن ہیں۔ بہر حال وہ ایک غیبی امر ہے اور اس کی مراد ہم متعین نہیں کرسکتے۔ مراد وہ زمانہ ہے جو تخلیق ، تقدیر میں مطابق حکمت الہیہ صرف ہوا اور اس زمانے میں اللہ نے ہر چیز کو اس کی موجودہ شکل تک پہنچایا مختلف مراحل ، ادوار سے گزار کر۔ ثم استوی علی العرش (32: 4) ” اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا “۔ استواء علی العرش اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں تمام کائنات ہے۔ رہا یہ کہ عرش کیا ہے تو ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ انہی الفاظ پر بات کو ختم کرتے ہیں۔ بہرحال استوا علی العرش سے مراد ہے قدرت شاملہ سے۔ پھر لفظ ثم بھی ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ کے حالات بدلتے نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے اللہ کس حال میں تھا پھر کسی دوسرے حال میں ہوگیا۔ یہ معنوی ترتیب ہے کہ اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اور جب سے پیدا کیا وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے یعنی بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ پیدا پلے کیا اور قبضہ قدرت میں بعد میں ہوا اور نہ ایسا کوئی زمانہ نہ تھا کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں نہ ہو۔ اس بےقید قبضہ قدرت کے بیان کے بعد اب لوگوں سے کہا جاتا ہے۔ ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع (32: 4) ” اس کی مانند نہ تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا ہے “۔ کہاں اور کون سفارشی ہوسکتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ عرش پر متمکن ہوں اور زمین و آسمان سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں اور خالق ارض و سما بھی وہی ہو۔ تو اس کے سوا کوئی حامی ہوسکتا ہے اور اس کے سوا سفارش کرنے والا کون ہو سکتا ہے اور کون سفارشی اللہ کی سلطنت سے خارج ہوسکتا ہے۔ افلا تتذکرون (32: 4) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ یہ حقیقت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اللہ کا اقرار کرو ، اور اپنا رخ اسی کی طرف کر دو ۔ تخلیق اسی کی ہے وہی مکمل اختیارات رکھتا ہے ، وہی تدبیر کرتا ہے اور امور طے کرتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کی طرف بلند ہوتے ہیں ، قیامت میں بھی تمام معاملات اس کے سامنے پیش ہوں گے اور دنیا میں بھی تمام رپورٹیں اس کی طرف پہنچتی ہیں اس طویل دن میں جس کی مقدار اس کو معلوم ہے۔ یدبر الامر ۔۔۔۔۔ مما تعدون (32: 5) ” وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے “۔ قرآن کا انداز تعبیر اللہ کے تدبیر کائنات کے وسیع تر میدان کی خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ من السمآء الی الارض (32: 5) ” آسمانوں سے زمین تک “۔ اس سے انسانی ذہن کے اندر بات بٹھانا مقصود ہے یعنی ان الفاظ میں جن کا تصور ذہن انسانی کرسکتا ہے تاکہ دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ ورنہ اللہ کی تدبیر کائنات کا دائرہ زمین اور آسمان سے بہت ہی وسیع ہے۔ لیکن انسانی احساس اور شعور کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس کائنات کے سامنے کھڑا ہے اور اپنے شعور اور مشاہدے کی حد تک اللہ کی وسعت تدبیر کا تصور کر رہا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی وسعت تدبیر ہمارے تصور اور ہمارے ان شماریات سے بھی وسیع ہے جو ہمارے استعمال میں ہیں۔ پھر اللہ کی تمام تدابیر اور اللہ کی تمام تقدیرات کی رپورٹ میں ان کے نتائج اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور یہ روئیدادا سے پورے عواقب و نتائج کے ساتھ ، تمام اعمال ، اموال اور افعال کے ساتھ ، اشیاء اور زندوں اور تمام مواد کائنات کے بارے میں ایک دن اٹھائی جاتی۔ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال ہمارے شماریات کے مطابق ہے۔ غرض اس کائنات کی کوئی چیز یونہی نہیں چھوڑ دی جاتی ہے ، نہ کسی چیز کو ۔۔ پیدا کیا گیا ہے بلکہ ایک مقررہ وقت تک تمام چیزوں کی تدبیر کی گئی ہے۔ ہر شے ، ہر معاملہ ، ہر نتیجہ اور ہر واقعہ اللہ کے تحت ہے اور اس کی روئیداد اللہ کے ہاں پہنچتی ہے جس طرح وہ طلب کرتا ہے۔ ذلک علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم (32: 6) ” وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ، زبردست اور رحیم “۔ یعنی یہ آسمان اور زمین کی تخلیق اور یہ استواء علی العرش اور آسمانوں سے زمین تک تمام امور کا انتظام ۔ یہ ہے اللہ عالم الغیب اور عالم مشاہدہ کا جاننے والا ، وہی خالق ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور زبردست اور رحیم ہے۔ قدرت رکھنے والا ہے ، اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے برتاؤ میں مخلوقات کے ساتھ رحم کرنے والا ہے۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جو چیز بھی اس نے بنائی خوب بنائی “۔ کیا شان ہے اللہ کی ! بیشک یہ حق ہے ، فطرت اسے دیکھ رہی ہے ، آنکھیں دیکھ رہی ہیں ، دل اسے دیکھ رہا ہے اور عقل اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ یہ حق جو اشیاء کی شکل میں بھی ہے۔ ان کے فرائض میں بھی ہے ، ان کی طبیعت اور ان کی ہم آہنگی میں بھی ہے۔ ان کی ہیئت میں بھی ہے اور ان کی شکل میں بھی ہے۔ بہرحال جو چیز بھی حسن اور احسان سے متعلق ہے وہ اس مخلوقات میں موجود ہے۔ سبحان اللہ ! یہ ہے اللہ کی کاریگری تمام اشیائ میں۔ اس کے دست قدرت کے کمالات تمام اشیاء میں موجود ہیں۔ جو چیز بھی اللہ نے بنائی ہے وہ حسین اور مکمل ہے۔ نہ حد سے آگے ہے اور نہ اس میں کوئی قصور ہے۔ حسن سے زیادہ نہ کم۔ نہ افراط ہے نہ تفریط۔ حجم کے اعتبار سے ، شکل کے لحاظ سے اور مقاصد اور مفاد کے زاویہ سے۔ ہر چیز ایک متعین قدر کے ساتھ ہے۔ نہ حد حسن و جمال سے کم یا زیادہ ہے۔ اپنے وقت سے نہ پہلے آتی ہے ، نہ بعد میں۔ نہ اپنی حد سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے رہتی ہے۔ ذرے سے کے کر بڑے سے بڑے اجسام تک میں حسن ملحوظ ہے۔ سادہ خلیے سے لے کر پیچیدہ ترین ذی حیات اشیاء تک ہر چیز حسین اور موزوں ہے۔ اسی طرح ، اعمال ، اطوار ، واقعات اور حرکات سب کے سب مقدر ہیں۔ سب اللہ کی تخلیق ہیں اور ہر واقعہ اور ہر حادثہ اپنے مقرر معیار کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقررہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ، اور یہ اس منصوبے اور نقشے کے مطابق ہوتا ہے جو ازل میں اللہ نے تیار کیا ہے اور ابد تک ایسا ہی تدبیر الٰہی کے مطابق ہوتا رہے گا۔ ہر چیز اور ہر مخلوق اس لیے بنائی گئی ہے کہ وہ اپنا مقرر اور متعین فریضہ ادا کرے اور اس فریضے کا تعین نہایت دقیق وزن کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ اس چیز کے تمام فرائض اس کے اندر رکھ دئیے گئے ہیں اور ان خواص کی وجہ سے وہ اپنا فریضہ منصبی پورا کرتی ہے اور اس کے لیے پوری طرح اہل ہے۔ یہ خلیہ جو متعدد مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ کیڑا رینگ رہا ہے اور جس کے پاؤں اور بال و پر ہیں۔ یہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس زمین پر اپنے لیے راستہ نکالے۔ یہ اپنا کام احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یہ پرندہ ، یہ حیوان ، اور یہ انسان ، یہ کواکب ، یہ ستارے ، یہ سیارے ، یہ افلاک اور جہاں اور یہ جہانوں کے جہاں ، یہ کر ات اور ان کے دورے اور گردشیں ، متعین اور مقرر ، عجیب اور مضبوط اور نہایت ہی وقت کے ساتھ متعین وقت کے حامل۔ دائمی طور پر متحرک۔ غرض اس کائنات کی جس چیز کو دیکھو چھوٹی یا بڑی ہر چیز حسین و جمیل ہے۔ اس کے حسن و جمال میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہر کھلی آنکھ ، ہر حساس انسان ، اور ہر صاحب بصیرت شخص اس حسن اور احسان کو دیکھ سکتا ہے جو اس کائنات کی مجموعی شکل میں بھی ہے اور اس کی ایک ایک چیز میں بھی ہے۔ جب قلب و نظر اور ذہن و خیال متوجہ ہوں تو انسان اس جہان میں حسن و جمال اور صفت و کمال کے بڑے بڑے ذخائر دریافت کرسکتا ہے۔ اس حسن و جمال اور اس تدبر و کمال کے نریجے میں ہر طرف سے انسان کے لیے خیر اور برکات جمع ہوتے ہیں۔ مثلاً نہایت ہی خوشگوار پھل اور وہ روحانی ذوق و شوق جس سے کاسہ دل بھی جاتا ہے اور اس طرح انسان اس ربانی میلے میں اور اس خدائی جشن میں جدھر دیکھے ، حسن و جمال ہی نظر آئے۔ جس چیز کا مطالعہ کرے وہ بدیع الجمال اور انتہائے کمال پر نظر آئے۔ اس طرح اس جہان فانی کے زائل ہونے والے اس حسن و جمال سے آگے بڑھ کر عالم آخرت کے دائمی حسن و جمال اور لازوال کمال تک پہنچ سکتا ہے جو صفت الٰہی میں ہے اور جس کا تصور بھی کسی دل میں نہیں آیا۔ انسان ان انعامات اور حسن و جمال اور وقت و کمال کو اس وقت دیکھ سکتا ہے جب انسان ایک عادی اور معمولی اور روٹین کے مناظر کو ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے۔ یہ اس وقت ہی اسے پا سکتا ہے جب وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی گھنٹیوں کو سنے۔ فطرت کے اشارات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ جب وہ اس جہاں کو نور ربانی کے ساتھ دیکھے۔ جب وہ ان کو ربانی نور کے ساتھ دیکھے گا تو پھر اس کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز کے اندر کیسا حسن و جمال ہے اور ہر چیز کی صنفت میں انوکھا پن کیا ہے اور یہ حسن اسے اس وقت نظر آئے گا جب وہ ہر حسین چیز کو دیکھ کر اللہ کو یاد کرے اور سبحان اللہ کہے۔ یوں اس کا تعلق خالق کائنات سے پیدا ہوگا۔ یوں اس کا شعور جمال تک پہنچ جائے گا کیونکہ مخلوقات کے کمال و جمال سے انسان اللہ کے کمال و جمال تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کائنات جمیل ہے اور اس کا جمال ختم نہیں ہوت اور انسان اس جمال کے ادراک میں روز بروز ترقی کرتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کا یہ فائدہ غیر محدود ہے۔ وہ جس قدر چاہے اس فائدے کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ جہاں تک بدیع السموات انسان کے لیے مقدر کرتا ہے اور موقع دیتا ہے۔ پھر اس مخلوق میں خوبصورتی کا عنصر مقصود بالذات ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو خوبصورت بنایا ہے کیونکہ جب کسی بنائی ہوئی چیز کو خوبصور اور اچھا بتایا جاتا ہے تو وہ اپنا فرض منصبی یا ڈیوٹی بہت اچھی طرح ادا کرتی ہے۔ یوں مصنوعات کی عمدگی کو بڑھا کر کمال تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ اس کائنات کی خوبصورتی اس کے ہر جزء سے ظاہر ہے اور مخلوقات کی ہر قسم سے عیاں ہے۔ ذرا اس کھجور کو دیکھئے ذرا کسی ایک پھول کو دیکھئے ، ذرا ایک چھوٹے سے چھوٹے ستارے کو دیکھئے ، ذرا رات کو دیکھئے اور پھر دن کو دیکھئے ، چھاؤں اور بادلوں کو دیکھئے ، اس پورے وجود کے اندر جاری وساری نغمہ سرائی کو دیکھئے اور غایت درجہ کی ہم آہنگی ، ہمداری اور حرکت کو دیکھئے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ یہ ایک سیاحت ہے اور اس خوبصورت وجود اور نہایت ہی خوبصورت اور انوکھی کائنات میں ایک تفریح ہے اور مخلوقات کا مطالعاتی سفر ہے۔ قرآن کریم ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتا ہے اور ہدایت کرتا ہے کہ اس سے لطف اٹھاؤ۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جس نے ہر چیز کو خوبصورت تخلیق بخشی “۔ اس ہدایت سے انسان اس کائنات میں حسن و جمال کے نکات تلاش کرتا ہے۔ اور لطف اٹھاتا ہے۔ وبدا خلق الانسان من طین (32: 7) ” اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق گارے سے کی۔ انداز تعبیر سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کا آغاز گارے سے تھا۔ یعنی انسان کی ابتدائی شکل مٹی کے گارے کی سی تھے۔ اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ گارے سے انسان تک کتنے مراحل سے انسان گزرا یاکتنا زمانہ اس میں لگا۔ اس معاملے میں قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً جب ہم اس آیت کو سورة المومنون کی آیت سے ملا کر پڑھیں۔ خلق الانسان من سلالۃ من طین ” انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا “۔ لہٰذا یہ کہنا ممکن ہے کہ انسان کی تخلیق ایسے مراحل سے گزری ہے جس کا اصل مٹی تک جا پہنچتا ہے۔ اس سے مراد وہ خلیہ بھی ہو سکتا ہے جو اس زمین میں پیدا کیا گیا اور یہ خلیہ مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ اور نفخ حیات اور نفخ روح سے وہ خالق مٹی تھا اور یہی وہ راز ہے جس تک آج تک انسان نہیں پہنچ سکا۔ نہ انسان یہ معلوم کرسکا ہے کہ یہ زندگی کیا ہے اور نہ یہ معلوم کرسکا ہے کہ اس خلیے میں روح کیسے داخل ہوئی اور اس خلیے سے بھی انسان کیسے پیدا کیا گیا۔ قرآن کریم نے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ یہ پورا عمل کیسے انجام تک پہنچا اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس پر کس قدر وقت لگا۔ اس تحقیق کیلئے اللہ نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جس طرح چاہے فیصلہ کرے اور اس قسم کی تحقیقات نص قرآن کے خلاف نہیں ہیں۔ نص قرآنی میں صرف یہ ہے کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے یا مٹی کے ست سے ہوئی ہے۔ یہ ہے وہ موقف جس میں قرآن مجید جو قاطع ہے اپنی جگہ رہتا ہے۔ اور سائنسی تحقیقات بھی اپنے مقام پر رہتی ہیں۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ صراحت کردی جائے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا کہ تمام حیوانات ایک ہی خلیے سے ارتقاء کرکے مختلف انواع کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور خود انسان بھی بند کی ترقی یافتہ شکل ہے اور یہ کہ انسان اور اعلیٰ قسم کے بندر کے درمیان ارتقائی مراحل کے انواع موجود رہے ہیں۔ یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ نیز ڈارون کو وراثتی خصوصیات (جینز) کا علم ہی نہ تھا۔ لیکن جینز کی دریافت کے بعد تو یہ طے ہوگیا ہے کہ ایک نوع کا دوسرے نوع میں منتقل ہونا محال ہوگیا ہے۔ ہر خلیے یعنی نوع حیوان کے خلیے کے اندر جینز ہیں جو اسے اپنی نوع بدلنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ یہ جینز اپنی صورت نوعیہ کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ۔ لہٰذا بلی جس خلیے سے پیدا کی گئی وہ بلی ہی رہی ہے اور اس کی صورت نوعیہ میں کسی مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کتا ، کتا رہا ہے ، بیل ، بیل رہا ہے ، گھوڑا ہمیشہ گھوڑا رہا ہے ، بندر ہمیشہ بندر رہا ہے اور انسان ہمیشہ انسان رہا ہے۔ جو چیز ممکن ہے وہ یہ ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کے اندر ترقی کرے یا زوال پذیر ہو۔ بہرحال ممکن ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کو کر اس کرکے دوسری نوع میں داخل ہوجائے۔ یہ وہ بات ہے جو ڈارون کے نظریہ کی حقیقت ہی باطل کر رہی ہے۔ بہرحال یہ لوگ سائنس کے نام پر خود اپنے نظریات گھڑتے ہیں ، ان پر یقین کرتے ہیں لیکن یہ نظریات کسی دن جا کر باطل ہوجاتے ہیں۔ ثم جعل نسلہ من سللۃ من مآء مھین (32: 8) ” پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے یعنی نطفے کے پانی سے جو جنین کے ارتقاء کی پہلی شکل ہے کہ وہ ایک نقطے سے ایک لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر وہ گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ مکمل جنین بن جاتا ہے۔ یہ پانی کا ست اور اس کا ارتقاء ہے۔ یہ نقطہ جو اس حقیر پانی میں ہوتا ، جس طرح یہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور جس طرح آج کل ایک وجیب جہان ہے اور اس حقیر پانی کے ست میں ایک دوسرے نقطے کو دیکھو اور پھر اس مکمل انسان کو دیکھو کہاں سے کہاں تک آگیا اور کیا سے کیا کچھ بن گیا۔ قرآن کریم اس عظیم تغیر و ارتقاء کو اس طرح ایک ہی آیت میں بیان کردیتا ہے۔ ثم سوہ ونفخ فیہ ۔۔۔۔۔۔ والابصار والافئدۃ (32: 9) ” پھر اس نے اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور تم کو کون دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ سبحان اللہ یہ کس قدر عظیم ارتقائی سفر ہے انسان کا۔ کن کن مشکل حالات سے یہ انسان گزرا ہے۔ کس قدر عظیم معجزہ ہے خود انسان کی تخلیق لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ انسان کو دیکھو اور اس معتبر نطفے کے پانی کے اندر اس نکتے کو دیکھو۔ اگر دست قدرت اس معجزانہ عمل کو تکمیل تک نہ پہنچائے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس نہایت ہی چھوٹے نکتے کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ان دشوار گزار مراحل اور راستوں سے گزر کر انسان کی شکل اختیار کرلے۔ اس چھوٹے سے نقطے اور اس خلیے کے اندر کس قدر تقسیم ہوتی ہے اور کس قدر کثرت ہوتی ہے۔ یہ بڑھتا بھی جاتا ہے اور تقسیم بھی ہوتا جاتا ہے۔ اس سے مزید مختلف قسم کے خلیے بنتے جاتے ہیں۔ یہ خلیے پھر باہم متضاد ہوتے ہیں ۔ یہ بڑھتے جاتے ہیں۔ پھر اس انسان کے ہر ہر عضو کے اپنے خلیے ہوتے ہیں ، جن کی مخصوص نوعیت ہوتی ہے اور ان کے پھر مزید اجزاء ہوتے ہیں اور ہر جزء کا اپنا وظیفہ ہوتا ہے۔ ایک ہی عضو کے اندر کئی قسم کے خلیے بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہ پہلا خلیہ کس طرح اس قدرو کثرت میں آجاتا ہے ، پھر اس کے اندر نوعیت کے اعتبار سے یہ تقسیم کس طرح ہوجاتی ہے ، پھر اس ایک ہی ابتدائی نکتے اور خلیے سے خلیات کا عظیم مجموعہ کس طرح بن جاتا ہے۔ پھر ان خلیات کے اندر انسان خصوصیات کہاں چھپی تھیں۔ پھر یہ جنین کے اندر مخصوص صلاحیتیں کہاں سے آجاتی ہیں۔ ہر خلیے کے لیے متعین فریضہ کس طرح قائم ہوجاتا ہے۔ اور ہر ایک کی خصوصیات دوسرے سے جدا کس طرح ہوجاتی ہیں۔ کون ہے جو اس قسم کے معجزے کے صادر ہونے کا یقین کرتا اگر عملاً یہ معجزہ روز ہمارے سامنے وجود میں نہ آتا۔ یہ اللہ کا دست قدرت ہی ہے جس نے انسان کو اس طرح برابر کیا اور درست کیا اور پھر یہ اللہ کی جانب سے انسان کے اندر روح پھونکنے کا عمل ہے جو انسان کو انسان بنا دیتا ہے۔ یہی ایک معقول تشریح ہے اس معجزے کی جو ہر سکینڈ میں واقع ہو رہا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ اسے غافل ہیں۔ یہ اللہ کا نفخ روح ہے جس کی وجہ سے انسان انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر سننے اور سیکھنے کی قوت آجاتی ہے اور اس سمع و بصر ہی کی وجہ سے تمام عضویاتی حیوانات سے انسان مختلف اور ممتاز ہوتا ہے۔ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ (32: 9) ” تم کو کان دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ یہ وہ معجزہ ہے جو ہمارے سامنے ہر سیکنڈ میں رونما ہوتا ہے۔ اس کی تشریح اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی جانب سے نفخ روح ہے ورنہ عقل انسانی اس اتھاہ سمندر میں غوطے کھاتی رہتی اور قیامت تک وہ اس کی تشریح نہ کرسکتی ۔ اس کے علاوہ یہ اللہ کے فضل و کرم کا فیضان ہے اور یہ اللہ کا فضل ہی ہے جو اس حقیر پانی کے ایک نکتے سے انسان بنا دیتا ہے۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو اس ایک حقیر خلیے کے اندر ارتقاء اور نمو کی وہ خصوصیات رکھ دیتا ہے کہ وہ ، تبدیلیوں سے ہوتے ہوئے اور اپنے اندر مزید خصوصیات لیتے ہوئے انسان کی شکل میں پہنچ گیا۔ جس کے اندر ایسی خصوصیات پیدا ہوگئیں کہ انسان تمام دوسرے حیوانات میں ممتاز ہوگیا۔ لوگ ہیں کہ اللہ کے اس فضل و کرم کا کوئی شکر ادا نہیں کرتے۔ قلیلا ما تشکرون (32: 9) انسان کی پیدائش ، اس کے مختلف مراحل اور ان سے اس کا عجیب انداز سے گزرنا اور ہر وقت اس عظیم معجزے کا صادر ہونا اور اس معجزے کا ہمارے سامنے بار بار دہرایا جانا ، ان امور کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ انسان جب مر کر پھر مٹی بن گیا اور زمین کی دوسری مٹی میں مل گیا تو حشر و نشر کیسے ہوگا۔ اس بیان کے بعد یہ شک اور یہ اغراض بجائے خود عجیب اور احمقانہ نظر آتے ہیں۔

السجدة 32:5

اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9) یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔ اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے سامنے زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دن ایک شب و روز پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ زمین اس کائنات کے اندر بہت ہی مختصر سا ٹکڑا ہے۔ ایک ذرہ ہے جس کی اس عظیم فضا میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ ہمارے روز و شب تو زمین و آسمان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے اور یہ روز و شب زمانہ کی وہ مقدار ہے جس کے مطابق ہم حساب و کتاب کرتے ہیں۔ ان چھ ایام کی حقیقت کیا ہے تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہمارے پاس ان دنوں کے حساب و کتاب کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ایام ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون (32: 5) ” اور تمہارے رب کے نزدیک ایک دن ، تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے “۔ یہ چھ دن وہ چھ حالات بھی ہوسکتے ہیں جن سے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی فضا گزری ، یہاں تک کہ وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی یا یہ تخلیق کے چھ مراحل تھے یا یہ چھ زمانے تھے جن کے درمیان کے وقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ بہرحال جو بھی مراد ہو ، ان سے وہ دن مراد نہیں ہیں جو ہمارے زمانے کے دن ہیں۔ بہر حال وہ ایک غیبی امر ہے اور اس کی مراد ہم متعین نہیں کرسکتے۔ مراد وہ زمانہ ہے جو تخلیق ، تقدیر میں مطابق حکمت الہیہ صرف ہوا اور اس زمانے میں اللہ نے ہر چیز کو اس کی موجودہ شکل تک پہنچایا مختلف مراحل ، ادوار سے گزار کر۔ ثم استوی علی العرش (32: 4) ” اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا “۔ استواء علی العرش اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں تمام کائنات ہے۔ رہا یہ کہ عرش کیا ہے تو ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ انہی الفاظ پر بات کو ختم کرتے ہیں۔ بہرحال استوا علی العرش سے مراد ہے قدرت شاملہ سے۔ پھر لفظ ثم بھی ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ کے حالات بدلتے نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے اللہ کس حال میں تھا پھر کسی دوسرے حال میں ہوگیا۔ یہ معنوی ترتیب ہے کہ اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اور جب سے پیدا کیا وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے یعنی بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ پیدا پلے کیا اور قبضہ قدرت میں بعد میں ہوا اور نہ ایسا کوئی زمانہ نہ تھا کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں نہ ہو۔ اس بےقید قبضہ قدرت کے بیان کے بعد اب لوگوں سے کہا جاتا ہے۔ ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع (32: 4) ” اس کی مانند نہ تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا ہے “۔ کہاں اور کون سفارشی ہوسکتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ عرش پر متمکن ہوں اور زمین و آسمان سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں اور خالق ارض و سما بھی وہی ہو۔ تو اس کے سوا کوئی حامی ہوسکتا ہے اور اس کے سوا سفارش کرنے والا کون ہو سکتا ہے اور کون سفارشی اللہ کی سلطنت سے خارج ہوسکتا ہے۔ افلا تتذکرون (32: 4) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ یہ حقیقت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اللہ کا اقرار کرو ، اور اپنا رخ اسی کی طرف کر دو ۔ تخلیق اسی کی ہے وہی مکمل اختیارات رکھتا ہے ، وہی تدبیر کرتا ہے اور امور طے کرتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کی طرف بلند ہوتے ہیں ، قیامت میں بھی تمام معاملات اس کے سامنے پیش ہوں گے اور دنیا میں بھی تمام رپورٹیں اس کی طرف پہنچتی ہیں اس طویل دن میں جس کی مقدار اس کو معلوم ہے۔ یدبر الامر ۔۔۔۔۔ مما تعدون (32: 5) ” وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے “۔ قرآن کا انداز تعبیر اللہ کے تدبیر کائنات کے وسیع تر میدان کی خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ من السمآء الی الارض (32: 5) ” آسمانوں سے زمین تک “۔ اس سے انسانی ذہن کے اندر بات بٹھانا مقصود ہے یعنی ان الفاظ میں جن کا تصور ذہن انسانی کرسکتا ہے تاکہ دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ ورنہ اللہ کی تدبیر کائنات کا دائرہ زمین اور آسمان سے بہت ہی وسیع ہے۔ لیکن انسانی احساس اور شعور کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس کائنات کے سامنے کھڑا ہے اور اپنے شعور اور مشاہدے کی حد تک اللہ کی وسعت تدبیر کا تصور کر رہا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی وسعت تدبیر ہمارے تصور اور ہمارے ان شماریات سے بھی وسیع ہے جو ہمارے استعمال میں ہیں۔ پھر اللہ کی تمام تدابیر اور اللہ کی تمام تقدیرات کی رپورٹ میں ان کے نتائج اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور یہ روئیدادا سے پورے عواقب و نتائج کے ساتھ ، تمام اعمال ، اموال اور افعال کے ساتھ ، اشیاء اور زندوں اور تمام مواد کائنات کے بارے میں ایک دن اٹھائی جاتی۔ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال ہمارے شماریات کے مطابق ہے۔ غرض اس کائنات کی کوئی چیز یونہی نہیں چھوڑ دی جاتی ہے ، نہ کسی چیز کو ۔۔ پیدا کیا گیا ہے بلکہ ایک مقررہ وقت تک تمام چیزوں کی تدبیر کی گئی ہے۔ ہر شے ، ہر معاملہ ، ہر نتیجہ اور ہر واقعہ اللہ کے تحت ہے اور اس کی روئیداد اللہ کے ہاں پہنچتی ہے جس طرح وہ طلب کرتا ہے۔ ذلک علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم (32: 6) ” وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ، زبردست اور رحیم “۔ یعنی یہ آسمان اور زمین کی تخلیق اور یہ استواء علی العرش اور آسمانوں سے زمین تک تمام امور کا انتظام ۔ یہ ہے اللہ عالم الغیب اور عالم مشاہدہ کا جاننے والا ، وہی خالق ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور زبردست اور رحیم ہے۔ قدرت رکھنے والا ہے ، اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے برتاؤ میں مخلوقات کے ساتھ رحم کرنے والا ہے۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جو چیز بھی اس نے بنائی خوب بنائی “۔ کیا شان ہے اللہ کی ! بیشک یہ حق ہے ، فطرت اسے دیکھ رہی ہے ، آنکھیں دیکھ رہی ہیں ، دل اسے دیکھ رہا ہے اور عقل اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ یہ حق جو اشیاء کی شکل میں بھی ہے۔ ان کے فرائض میں بھی ہے ، ان کی طبیعت اور ان کی ہم آہنگی میں بھی ہے۔ ان کی ہیئت میں بھی ہے اور ان کی شکل میں بھی ہے۔ بہرحال جو چیز بھی حسن اور احسان سے متعلق ہے وہ اس مخلوقات میں موجود ہے۔ سبحان اللہ ! یہ ہے اللہ کی کاریگری تمام اشیائ میں۔ اس کے دست قدرت کے کمالات تمام اشیاء میں موجود ہیں۔ جو چیز بھی اللہ نے بنائی ہے وہ حسین اور مکمل ہے۔ نہ حد سے آگے ہے اور نہ اس میں کوئی قصور ہے۔ حسن سے زیادہ نہ کم۔ نہ افراط ہے نہ تفریط۔ حجم کے اعتبار سے ، شکل کے لحاظ سے اور مقاصد اور مفاد کے زاویہ سے۔ ہر چیز ایک متعین قدر کے ساتھ ہے۔ نہ حد حسن و جمال سے کم یا زیادہ ہے۔ اپنے وقت سے نہ پہلے آتی ہے ، نہ بعد میں۔ نہ اپنی حد سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے رہتی ہے۔ ذرے سے کے کر بڑے سے بڑے اجسام تک میں حسن ملحوظ ہے۔ سادہ خلیے سے لے کر پیچیدہ ترین ذی حیات اشیاء تک ہر چیز حسین اور موزوں ہے۔ اسی طرح ، اعمال ، اطوار ، واقعات اور حرکات سب کے سب مقدر ہیں۔ سب اللہ کی تخلیق ہیں اور ہر واقعہ اور ہر حادثہ اپنے مقرر معیار کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقررہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ، اور یہ اس منصوبے اور نقشے کے مطابق ہوتا ہے جو ازل میں اللہ نے تیار کیا ہے اور ابد تک ایسا ہی تدبیر الٰہی کے مطابق ہوتا رہے گا۔ ہر چیز اور ہر مخلوق اس لیے بنائی گئی ہے کہ وہ اپنا مقرر اور متعین فریضہ ادا کرے اور اس فریضے کا تعین نہایت دقیق وزن کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ اس چیز کے تمام فرائض اس کے اندر رکھ دئیے گئے ہیں اور ان خواص کی وجہ سے وہ اپنا فریضہ منصبی پورا کرتی ہے اور اس کے لیے پوری طرح اہل ہے۔ یہ خلیہ جو متعدد مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ کیڑا رینگ رہا ہے اور جس کے پاؤں اور بال و پر ہیں۔ یہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس زمین پر اپنے لیے راستہ نکالے۔ یہ اپنا کام احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یہ پرندہ ، یہ حیوان ، اور یہ انسان ، یہ کواکب ، یہ ستارے ، یہ سیارے ، یہ افلاک اور جہاں اور یہ جہانوں کے جہاں ، یہ کر ات اور ان کے دورے اور گردشیں ، متعین اور مقرر ، عجیب اور مضبوط اور نہایت ہی وقت کے ساتھ متعین وقت کے حامل۔ دائمی طور پر متحرک۔ غرض اس کائنات کی جس چیز کو دیکھو چھوٹی یا بڑی ہر چیز حسین و جمیل ہے۔ اس کے حسن و جمال میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہر کھلی آنکھ ، ہر حساس انسان ، اور ہر صاحب بصیرت شخص اس حسن اور احسان کو دیکھ سکتا ہے جو اس کائنات کی مجموعی شکل میں بھی ہے اور اس کی ایک ایک چیز میں بھی ہے۔ جب قلب و نظر اور ذہن و خیال متوجہ ہوں تو انسان اس جہان میں حسن و جمال اور صفت و کمال کے بڑے بڑے ذخائر دریافت کرسکتا ہے۔ اس حسن و جمال اور اس تدبر و کمال کے نریجے میں ہر طرف سے انسان کے لیے خیر اور برکات جمع ہوتے ہیں۔ مثلاً نہایت ہی خوشگوار پھل اور وہ روحانی ذوق و شوق جس سے کاسہ دل بھی جاتا ہے اور اس طرح انسان اس ربانی میلے میں اور اس خدائی جشن میں جدھر دیکھے ، حسن و جمال ہی نظر آئے۔ جس چیز کا مطالعہ کرے وہ بدیع الجمال اور انتہائے کمال پر نظر آئے۔ اس طرح اس جہان فانی کے زائل ہونے والے اس حسن و جمال سے آگے بڑھ کر عالم آخرت کے دائمی حسن و جمال اور لازوال کمال تک پہنچ سکتا ہے جو صفت الٰہی میں ہے اور جس کا تصور بھی کسی دل میں نہیں آیا۔ انسان ان انعامات اور حسن و جمال اور وقت و کمال کو اس وقت دیکھ سکتا ہے جب انسان ایک عادی اور معمولی اور روٹین کے مناظر کو ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے۔ یہ اس وقت ہی اسے پا سکتا ہے جب وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی گھنٹیوں کو سنے۔ فطرت کے اشارات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ جب وہ اس جہاں کو نور ربانی کے ساتھ دیکھے۔ جب وہ ان کو ربانی نور کے ساتھ دیکھے گا تو پھر اس کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز کے اندر کیسا حسن و جمال ہے اور ہر چیز کی صنفت میں انوکھا پن کیا ہے اور یہ حسن اسے اس وقت نظر آئے گا جب وہ ہر حسین چیز کو دیکھ کر اللہ کو یاد کرے اور سبحان اللہ کہے۔ یوں اس کا تعلق خالق کائنات سے پیدا ہوگا۔ یوں اس کا شعور جمال تک پہنچ جائے گا کیونکہ مخلوقات کے کمال و جمال سے انسان اللہ کے کمال و جمال تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کائنات جمیل ہے اور اس کا جمال ختم نہیں ہوت اور انسان اس جمال کے ادراک میں روز بروز ترقی کرتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کا یہ فائدہ غیر محدود ہے۔ وہ جس قدر چاہے اس فائدے کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ جہاں تک بدیع السموات انسان کے لیے مقدر کرتا ہے اور موقع دیتا ہے۔ پھر اس مخلوق میں خوبصورتی کا عنصر مقصود بالذات ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو خوبصورت بنایا ہے کیونکہ جب کسی بنائی ہوئی چیز کو خوبصور اور اچھا بتایا جاتا ہے تو وہ اپنا فرض منصبی یا ڈیوٹی بہت اچھی طرح ادا کرتی ہے۔ یوں مصنوعات کی عمدگی کو بڑھا کر کمال تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ اس کائنات کی خوبصورتی اس کے ہر جزء سے ظاہر ہے اور مخلوقات کی ہر قسم سے عیاں ہے۔ ذرا اس کھجور کو دیکھئے ذرا کسی ایک پھول کو دیکھئے ، ذرا ایک چھوٹے سے چھوٹے ستارے کو دیکھئے ، ذرا رات کو دیکھئے اور پھر دن کو دیکھئے ، چھاؤں اور بادلوں کو دیکھئے ، اس پورے وجود کے اندر جاری وساری نغمہ سرائی کو دیکھئے اور غایت درجہ کی ہم آہنگی ، ہمداری اور حرکت کو دیکھئے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ یہ ایک سیاحت ہے اور اس خوبصورت وجود اور نہایت ہی خوبصورت اور انوکھی کائنات میں ایک تفریح ہے اور مخلوقات کا مطالعاتی سفر ہے۔ قرآن کریم ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتا ہے اور ہدایت کرتا ہے کہ اس سے لطف اٹھاؤ۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جس نے ہر چیز کو خوبصورت تخلیق بخشی “۔ اس ہدایت سے انسان اس کائنات میں حسن و جمال کے نکات تلاش کرتا ہے۔ اور لطف اٹھاتا ہے۔ وبدا خلق الانسان من طین (32: 7) ” اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق گارے سے کی۔ انداز تعبیر سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کا آغاز گارے سے تھا۔ یعنی انسان کی ابتدائی شکل مٹی کے گارے کی سی تھے۔ اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ گارے سے انسان تک کتنے مراحل سے انسان گزرا یاکتنا زمانہ اس میں لگا۔ اس معاملے میں قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً جب ہم اس آیت کو سورة المومنون کی آیت سے ملا کر پڑھیں۔ خلق الانسان من سلالۃ من طین ” انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا “۔ لہٰذا یہ کہنا ممکن ہے کہ انسان کی تخلیق ایسے مراحل سے گزری ہے جس کا اصل مٹی تک جا پہنچتا ہے۔ اس سے مراد وہ خلیہ بھی ہو سکتا ہے جو اس زمین میں پیدا کیا گیا اور یہ خلیہ مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ اور نفخ حیات اور نفخ روح سے وہ خالق مٹی تھا اور یہی وہ راز ہے جس تک آج تک انسان نہیں پہنچ سکا۔ نہ انسان یہ معلوم کرسکا ہے کہ یہ زندگی کیا ہے اور نہ یہ معلوم کرسکا ہے کہ اس خلیے میں روح کیسے داخل ہوئی اور اس خلیے سے بھی انسان کیسے پیدا کیا گیا۔ قرآن کریم نے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ یہ پورا عمل کیسے انجام تک پہنچا اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس پر کس قدر وقت لگا۔ اس تحقیق کیلئے اللہ نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جس طرح چاہے فیصلہ کرے اور اس قسم کی تحقیقات نص قرآن کے خلاف نہیں ہیں۔ نص قرآنی میں صرف یہ ہے کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے یا مٹی کے ست سے ہوئی ہے۔ یہ ہے وہ موقف جس میں قرآن مجید جو قاطع ہے اپنی جگہ رہتا ہے۔ اور سائنسی تحقیقات بھی اپنے مقام پر رہتی ہیں۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ صراحت کردی جائے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا کہ تمام حیوانات ایک ہی خلیے سے ارتقاء کرکے مختلف انواع کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور خود انسان بھی بند کی ترقی یافتہ شکل ہے اور یہ کہ انسان اور اعلیٰ قسم کے بندر کے درمیان ارتقائی مراحل کے انواع موجود رہے ہیں۔ یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ نیز ڈارون کو وراثتی خصوصیات (جینز) کا علم ہی نہ تھا۔ لیکن جینز کی دریافت کے بعد تو یہ طے ہوگیا ہے کہ ایک نوع کا دوسرے نوع میں منتقل ہونا محال ہوگیا ہے۔ ہر خلیے یعنی نوع حیوان کے خلیے کے اندر جینز ہیں جو اسے اپنی نوع بدلنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ یہ جینز اپنی صورت نوعیہ کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ۔ لہٰذا بلی جس خلیے سے پیدا کی گئی وہ بلی ہی رہی ہے اور اس کی صورت نوعیہ میں کسی مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کتا ، کتا رہا ہے ، بیل ، بیل رہا ہے ، گھوڑا ہمیشہ گھوڑا رہا ہے ، بندر ہمیشہ بندر رہا ہے اور انسان ہمیشہ انسان رہا ہے۔ جو چیز ممکن ہے وہ یہ ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کے اندر ترقی کرے یا زوال پذیر ہو۔ بہرحال ممکن ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کو کر اس کرکے دوسری نوع میں داخل ہوجائے۔ یہ وہ بات ہے جو ڈارون کے نظریہ کی حقیقت ہی باطل کر رہی ہے۔ بہرحال یہ لوگ سائنس کے نام پر خود اپنے نظریات گھڑتے ہیں ، ان پر یقین کرتے ہیں لیکن یہ نظریات کسی دن جا کر باطل ہوجاتے ہیں۔ ثم جعل نسلہ من سللۃ من مآء مھین (32: 8) ” پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے یعنی نطفے کے پانی سے جو جنین کے ارتقاء کی پہلی شکل ہے کہ وہ ایک نقطے سے ایک لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر وہ گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ مکمل جنین بن جاتا ہے۔ یہ پانی کا ست اور اس کا ارتقاء ہے۔ یہ نقطہ جو اس حقیر پانی میں ہوتا ، جس طرح یہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور جس طرح آج کل ایک وجیب جہان ہے اور اس حقیر پانی کے ست میں ایک دوسرے نقطے کو دیکھو اور پھر اس مکمل انسان کو دیکھو کہاں سے کہاں تک آگیا اور کیا سے کیا کچھ بن گیا۔ قرآن کریم اس عظیم تغیر و ارتقاء کو اس طرح ایک ہی آیت میں بیان کردیتا ہے۔ ثم سوہ ونفخ فیہ ۔۔۔۔۔۔ والابصار والافئدۃ (32: 9) ” پھر اس نے اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور تم کو کون دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ سبحان اللہ یہ کس قدر عظیم ارتقائی سفر ہے انسان کا۔ کن کن مشکل حالات سے یہ انسان گزرا ہے۔ کس قدر عظیم معجزہ ہے خود انسان کی تخلیق لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ انسان کو دیکھو اور اس معتبر نطفے کے پانی کے اندر اس نکتے کو دیکھو۔ اگر دست قدرت اس معجزانہ عمل کو تکمیل تک نہ پہنچائے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس نہایت ہی چھوٹے نکتے کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ان دشوار گزار مراحل اور راستوں سے گزر کر انسان کی شکل اختیار کرلے۔ اس چھوٹے سے نقطے اور اس خلیے کے اندر کس قدر تقسیم ہوتی ہے اور کس قدر کثرت ہوتی ہے۔ یہ بڑھتا بھی جاتا ہے اور تقسیم بھی ہوتا جاتا ہے۔ اس سے مزید مختلف قسم کے خلیے بنتے جاتے ہیں۔ یہ خلیے پھر باہم متضاد ہوتے ہیں ۔ یہ بڑھتے جاتے ہیں۔ پھر اس انسان کے ہر ہر عضو کے اپنے خلیے ہوتے ہیں ، جن کی مخصوص نوعیت ہوتی ہے اور ان کے پھر مزید اجزاء ہوتے ہیں اور ہر جزء کا اپنا وظیفہ ہوتا ہے۔ ایک ہی عضو کے اندر کئی قسم کے خلیے بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہ پہلا خلیہ کس طرح اس قدرو کثرت میں آجاتا ہے ، پھر اس کے اندر نوعیت کے اعتبار سے یہ تقسیم کس طرح ہوجاتی ہے ، پھر اس ایک ہی ابتدائی نکتے اور خلیے سے خلیات کا عظیم مجموعہ کس طرح بن جاتا ہے۔ پھر ان خلیات کے اندر انسان خصوصیات کہاں چھپی تھیں۔ پھر یہ جنین کے اندر مخصوص صلاحیتیں کہاں سے آجاتی ہیں۔ ہر خلیے کے لیے متعین فریضہ کس طرح قائم ہوجاتا ہے۔ اور ہر ایک کی خصوصیات دوسرے سے جدا کس طرح ہوجاتی ہیں۔ کون ہے جو اس قسم کے معجزے کے صادر ہونے کا یقین کرتا اگر عملاً یہ معجزہ روز ہمارے سامنے وجود میں نہ آتا۔ یہ اللہ کا دست قدرت ہی ہے جس نے انسان کو اس طرح برابر کیا اور درست کیا اور پھر یہ اللہ کی جانب سے انسان کے اندر روح پھونکنے کا عمل ہے جو انسان کو انسان بنا دیتا ہے۔ یہی ایک معقول تشریح ہے اس معجزے کی جو ہر سکینڈ میں واقع ہو رہا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ اسے غافل ہیں۔ یہ اللہ کا نفخ روح ہے جس کی وجہ سے انسان انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر سننے اور سیکھنے کی قوت آجاتی ہے اور اس سمع و بصر ہی کی وجہ سے تمام عضویاتی حیوانات سے انسان مختلف اور ممتاز ہوتا ہے۔ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ (32: 9) ” تم کو کان دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ یہ وہ معجزہ ہے جو ہمارے سامنے ہر سیکنڈ میں رونما ہوتا ہے۔ اس کی تشریح اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی جانب سے نفخ روح ہے ورنہ عقل انسانی اس اتھاہ سمندر میں غوطے کھاتی رہتی اور قیامت تک وہ اس کی تشریح نہ کرسکتی ۔ اس کے علاوہ یہ اللہ کے فضل و کرم کا فیضان ہے اور یہ اللہ کا فضل ہی ہے جو اس حقیر پانی کے ایک نکتے سے انسان بنا دیتا ہے۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو اس ایک حقیر خلیے کے اندر ارتقاء اور نمو کی وہ خصوصیات رکھ دیتا ہے کہ وہ ، تبدیلیوں سے ہوتے ہوئے اور اپنے اندر مزید خصوصیات لیتے ہوئے انسان کی شکل میں پہنچ گیا۔ جس کے اندر ایسی خصوصیات پیدا ہوگئیں کہ انسان تمام دوسرے حیوانات میں ممتاز ہوگیا۔ لوگ ہیں کہ اللہ کے اس فضل و کرم کا کوئی شکر ادا نہیں کرتے۔ قلیلا ما تشکرون (32: 9) انسان کی پیدائش ، اس کے مختلف مراحل اور ان سے اس کا عجیب انداز سے گزرنا اور ہر وقت اس عظیم معجزے کا صادر ہونا اور اس معجزے کا ہمارے سامنے بار بار دہرایا جانا ، ان امور کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ انسان جب مر کر پھر مٹی بن گیا اور زمین کی دوسری مٹی میں مل گیا تو حشر و نشر کیسے ہوگا۔ اس بیان کے بعد یہ شک اور یہ اغراض بجائے خود عجیب اور احمقانہ نظر آتے ہیں۔

السجدة 32:6

اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9) یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔ اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے سامنے زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دن ایک شب و روز پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ زمین اس کائنات کے اندر بہت ہی مختصر سا ٹکڑا ہے۔ ایک ذرہ ہے جس کی اس عظیم فضا میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ ہمارے روز و شب تو زمین و آسمان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے اور یہ روز و شب زمانہ کی وہ مقدار ہے جس کے مطابق ہم حساب و کتاب کرتے ہیں۔ ان چھ ایام کی حقیقت کیا ہے تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہمارے پاس ان دنوں کے حساب و کتاب کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ایام ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون (32: 5) ” اور تمہارے رب کے نزدیک ایک دن ، تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے “۔ یہ چھ دن وہ چھ حالات بھی ہوسکتے ہیں جن سے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی فضا گزری ، یہاں تک کہ وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی یا یہ تخلیق کے چھ مراحل تھے یا یہ چھ زمانے تھے جن کے درمیان کے وقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ بہرحال جو بھی مراد ہو ، ان سے وہ دن مراد نہیں ہیں جو ہمارے زمانے کے دن ہیں۔ بہر حال وہ ایک غیبی امر ہے اور اس کی مراد ہم متعین نہیں کرسکتے۔ مراد وہ زمانہ ہے جو تخلیق ، تقدیر میں مطابق حکمت الہیہ صرف ہوا اور اس زمانے میں اللہ نے ہر چیز کو اس کی موجودہ شکل تک پہنچایا مختلف مراحل ، ادوار سے گزار کر۔ ثم استوی علی العرش (32: 4) ” اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا “۔ استواء علی العرش اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں تمام کائنات ہے۔ رہا یہ کہ عرش کیا ہے تو ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ انہی الفاظ پر بات کو ختم کرتے ہیں۔ بہرحال استوا علی العرش سے مراد ہے قدرت شاملہ سے۔ پھر لفظ ثم بھی ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ کے حالات بدلتے نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے اللہ کس حال میں تھا پھر کسی دوسرے حال میں ہوگیا۔ یہ معنوی ترتیب ہے کہ اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اور جب سے پیدا کیا وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے یعنی بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ پیدا پلے کیا اور قبضہ قدرت میں بعد میں ہوا اور نہ ایسا کوئی زمانہ نہ تھا کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں نہ ہو۔ اس بےقید قبضہ قدرت کے بیان کے بعد اب لوگوں سے کہا جاتا ہے۔ ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع (32: 4) ” اس کی مانند نہ تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا ہے “۔ کہاں اور کون سفارشی ہوسکتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ عرش پر متمکن ہوں اور زمین و آسمان سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں اور خالق ارض و سما بھی وہی ہو۔ تو اس کے سوا کوئی حامی ہوسکتا ہے اور اس کے سوا سفارش کرنے والا کون ہو سکتا ہے اور کون سفارشی اللہ کی سلطنت سے خارج ہوسکتا ہے۔ افلا تتذکرون (32: 4) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ یہ حقیقت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اللہ کا اقرار کرو ، اور اپنا رخ اسی کی طرف کر دو ۔ تخلیق اسی کی ہے وہی مکمل اختیارات رکھتا ہے ، وہی تدبیر کرتا ہے اور امور طے کرتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کی طرف بلند ہوتے ہیں ، قیامت میں بھی تمام معاملات اس کے سامنے پیش ہوں گے اور دنیا میں بھی تمام رپورٹیں اس کی طرف پہنچتی ہیں اس طویل دن میں جس کی مقدار اس کو معلوم ہے۔ یدبر الامر ۔۔۔۔۔ مما تعدون (32: 5) ” وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے “۔ قرآن کا انداز تعبیر اللہ کے تدبیر کائنات کے وسیع تر میدان کی خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ من السمآء الی الارض (32: 5) ” آسمانوں سے زمین تک “۔ اس سے انسانی ذہن کے اندر بات بٹھانا مقصود ہے یعنی ان الفاظ میں جن کا تصور ذہن انسانی کرسکتا ہے تاکہ دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ ورنہ اللہ کی تدبیر کائنات کا دائرہ زمین اور آسمان سے بہت ہی وسیع ہے۔ لیکن انسانی احساس اور شعور کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس کائنات کے سامنے کھڑا ہے اور اپنے شعور اور مشاہدے کی حد تک اللہ کی وسعت تدبیر کا تصور کر رہا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی وسعت تدبیر ہمارے تصور اور ہمارے ان شماریات سے بھی وسیع ہے جو ہمارے استعمال میں ہیں۔ پھر اللہ کی تمام تدابیر اور اللہ کی تمام تقدیرات کی رپورٹ میں ان کے نتائج اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور یہ روئیدادا سے پورے عواقب و نتائج کے ساتھ ، تمام اعمال ، اموال اور افعال کے ساتھ ، اشیاء اور زندوں اور تمام مواد کائنات کے بارے میں ایک دن اٹھائی جاتی۔ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال ہمارے شماریات کے مطابق ہے۔ غرض اس کائنات کی کوئی چیز یونہی نہیں چھوڑ دی جاتی ہے ، نہ کسی چیز کو ۔۔ پیدا کیا گیا ہے بلکہ ایک مقررہ وقت تک تمام چیزوں کی تدبیر کی گئی ہے۔ ہر شے ، ہر معاملہ ، ہر نتیجہ اور ہر واقعہ اللہ کے تحت ہے اور اس کی روئیداد اللہ کے ہاں پہنچتی ہے جس طرح وہ طلب کرتا ہے۔ ذلک علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم (32: 6) ” وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ، زبردست اور رحیم “۔ یعنی یہ آسمان اور زمین کی تخلیق اور یہ استواء علی العرش اور آسمانوں سے زمین تک تمام امور کا انتظام ۔ یہ ہے اللہ عالم الغیب اور عالم مشاہدہ کا جاننے والا ، وہی خالق ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور زبردست اور رحیم ہے۔ قدرت رکھنے والا ہے ، اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے برتاؤ میں مخلوقات کے ساتھ رحم کرنے والا ہے۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جو چیز بھی اس نے بنائی خوب بنائی “۔ کیا شان ہے اللہ کی ! بیشک یہ حق ہے ، فطرت اسے دیکھ رہی ہے ، آنکھیں دیکھ رہی ہیں ، دل اسے دیکھ رہا ہے اور عقل اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ یہ حق جو اشیاء کی شکل میں بھی ہے۔ ان کے فرائض میں بھی ہے ، ان کی طبیعت اور ان کی ہم آہنگی میں بھی ہے۔ ان کی ہیئت میں بھی ہے اور ان کی شکل میں بھی ہے۔ بہرحال جو چیز بھی حسن اور احسان سے متعلق ہے وہ اس مخلوقات میں موجود ہے۔ سبحان اللہ ! یہ ہے اللہ کی کاریگری تمام اشیائ میں۔ اس کے دست قدرت کے کمالات تمام اشیاء میں موجود ہیں۔ جو چیز بھی اللہ نے بنائی ہے وہ حسین اور مکمل ہے۔ نہ حد سے آگے ہے اور نہ اس میں کوئی قصور ہے۔ حسن سے زیادہ نہ کم۔ نہ افراط ہے نہ تفریط۔ حجم کے اعتبار سے ، شکل کے لحاظ سے اور مقاصد اور مفاد کے زاویہ سے۔ ہر چیز ایک متعین قدر کے ساتھ ہے۔ نہ حد حسن و جمال سے کم یا زیادہ ہے۔ اپنے وقت سے نہ پہلے آتی ہے ، نہ بعد میں۔ نہ اپنی حد سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے رہتی ہے۔ ذرے سے کے کر بڑے سے بڑے اجسام تک میں حسن ملحوظ ہے۔ سادہ خلیے سے لے کر پیچیدہ ترین ذی حیات اشیاء تک ہر چیز حسین اور موزوں ہے۔ اسی طرح ، اعمال ، اطوار ، واقعات اور حرکات سب کے سب مقدر ہیں۔ سب اللہ کی تخلیق ہیں اور ہر واقعہ اور ہر حادثہ اپنے مقرر معیار کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقررہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ، اور یہ اس منصوبے اور نقشے کے مطابق ہوتا ہے جو ازل میں اللہ نے تیار کیا ہے اور ابد تک ایسا ہی تدبیر الٰہی کے مطابق ہوتا رہے گا۔ ہر چیز اور ہر مخلوق اس لیے بنائی گئی ہے کہ وہ اپنا مقرر اور متعین فریضہ ادا کرے اور اس فریضے کا تعین نہایت دقیق وزن کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ اس چیز کے تمام فرائض اس کے اندر رکھ دئیے گئے ہیں اور ان خواص کی وجہ سے وہ اپنا فریضہ منصبی پورا کرتی ہے اور اس کے لیے پوری طرح اہل ہے۔ یہ خلیہ جو متعدد مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ کیڑا رینگ رہا ہے اور جس کے پاؤں اور بال و پر ہیں۔ یہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس زمین پر اپنے لیے راستہ نکالے۔ یہ اپنا کام احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یہ پرندہ ، یہ حیوان ، اور یہ انسان ، یہ کواکب ، یہ ستارے ، یہ سیارے ، یہ افلاک اور جہاں اور یہ جہانوں کے جہاں ، یہ کر ات اور ان کے دورے اور گردشیں ، متعین اور مقرر ، عجیب اور مضبوط اور نہایت ہی وقت کے ساتھ متعین وقت کے حامل۔ دائمی طور پر متحرک۔ غرض اس کائنات کی جس چیز کو دیکھو چھوٹی یا بڑی ہر چیز حسین و جمیل ہے۔ اس کے حسن و جمال میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہر کھلی آنکھ ، ہر حساس انسان ، اور ہر صاحب بصیرت شخص اس حسن اور احسان کو دیکھ سکتا ہے جو اس کائنات کی مجموعی شکل میں بھی ہے اور اس کی ایک ایک چیز میں بھی ہے۔ جب قلب و نظر اور ذہن و خیال متوجہ ہوں تو انسان اس جہان میں حسن و جمال اور صفت و کمال کے بڑے بڑے ذخائر دریافت کرسکتا ہے۔ اس حسن و جمال اور اس تدبر و کمال کے نریجے میں ہر طرف سے انسان کے لیے خیر اور برکات جمع ہوتے ہیں۔ مثلاً نہایت ہی خوشگوار پھل اور وہ روحانی ذوق و شوق جس سے کاسہ دل بھی جاتا ہے اور اس طرح انسان اس ربانی میلے میں اور اس خدائی جشن میں جدھر دیکھے ، حسن و جمال ہی نظر آئے۔ جس چیز کا مطالعہ کرے وہ بدیع الجمال اور انتہائے کمال پر نظر آئے۔ اس طرح اس جہان فانی کے زائل ہونے والے اس حسن و جمال سے آگے بڑھ کر عالم آخرت کے دائمی حسن و جمال اور لازوال کمال تک پہنچ سکتا ہے جو صفت الٰہی میں ہے اور جس کا تصور بھی کسی دل میں نہیں آیا۔ انسان ان انعامات اور حسن و جمال اور وقت و کمال کو اس وقت دیکھ سکتا ہے جب انسان ایک عادی اور معمولی اور روٹین کے مناظر کو ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے۔ یہ اس وقت ہی اسے پا سکتا ہے جب وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی گھنٹیوں کو سنے۔ فطرت کے اشارات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ جب وہ اس جہاں کو نور ربانی کے ساتھ دیکھے۔ جب وہ ان کو ربانی نور کے ساتھ دیکھے گا تو پھر اس کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز کے اندر کیسا حسن و جمال ہے اور ہر چیز کی صنفت میں انوکھا پن کیا ہے اور یہ حسن اسے اس وقت نظر آئے گا جب وہ ہر حسین چیز کو دیکھ کر اللہ کو یاد کرے اور سبحان اللہ کہے۔ یوں اس کا تعلق خالق کائنات سے پیدا ہوگا۔ یوں اس کا شعور جمال تک پہنچ جائے گا کیونکہ مخلوقات کے کمال و جمال سے انسان اللہ کے کمال و جمال تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کائنات جمیل ہے اور اس کا جمال ختم نہیں ہوت اور انسان اس جمال کے ادراک میں روز بروز ترقی کرتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کا یہ فائدہ غیر محدود ہے۔ وہ جس قدر چاہے اس فائدے کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ جہاں تک بدیع السموات انسان کے لیے مقدر کرتا ہے اور موقع دیتا ہے۔ پھر اس مخلوق میں خوبصورتی کا عنصر مقصود بالذات ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو خوبصورت بنایا ہے کیونکہ جب کسی بنائی ہوئی چیز کو خوبصور اور اچھا بتایا جاتا ہے تو وہ اپنا فرض منصبی یا ڈیوٹی بہت اچھی طرح ادا کرتی ہے۔ یوں مصنوعات کی عمدگی کو بڑھا کر کمال تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ اس کائنات کی خوبصورتی اس کے ہر جزء سے ظاہر ہے اور مخلوقات کی ہر قسم سے عیاں ہے۔ ذرا اس کھجور کو دیکھئے ذرا کسی ایک پھول کو دیکھئے ، ذرا ایک چھوٹے سے چھوٹے ستارے کو دیکھئے ، ذرا رات کو دیکھئے اور پھر دن کو دیکھئے ، چھاؤں اور بادلوں کو دیکھئے ، اس پورے وجود کے اندر جاری وساری نغمہ سرائی کو دیکھئے اور غایت درجہ کی ہم آہنگی ، ہمداری اور حرکت کو دیکھئے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ یہ ایک سیاحت ہے اور اس خوبصورت وجود اور نہایت ہی خوبصورت اور انوکھی کائنات میں ایک تفریح ہے اور مخلوقات کا مطالعاتی سفر ہے۔ قرآن کریم ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتا ہے اور ہدایت کرتا ہے کہ اس سے لطف اٹھاؤ۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جس نے ہر چیز کو خوبصورت تخلیق بخشی “۔ اس ہدایت سے انسان اس کائنات میں حسن و جمال کے نکات تلاش کرتا ہے۔ اور لطف اٹھاتا ہے۔ وبدا خلق الانسان من طین (32: 7) ” اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق گارے سے کی۔ انداز تعبیر سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کا آغاز گارے سے تھا۔ یعنی انسان کی ابتدائی شکل مٹی کے گارے کی سی تھے۔ اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ گارے سے انسان تک کتنے مراحل سے انسان گزرا یاکتنا زمانہ اس میں لگا۔ اس معاملے میں قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً جب ہم اس آیت کو سورة المومنون کی آیت سے ملا کر پڑھیں۔ خلق الانسان من سلالۃ من طین ” انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا “۔ لہٰذا یہ کہنا ممکن ہے کہ انسان کی تخلیق ایسے مراحل سے گزری ہے جس کا اصل مٹی تک جا پہنچتا ہے۔ اس سے مراد وہ خلیہ بھی ہو سکتا ہے جو اس زمین میں پیدا کیا گیا اور یہ خلیہ مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ اور نفخ حیات اور نفخ روح سے وہ خالق مٹی تھا اور یہی وہ راز ہے جس تک آج تک انسان نہیں پہنچ سکا۔ نہ انسان یہ معلوم کرسکا ہے کہ یہ زندگی کیا ہے اور نہ یہ معلوم کرسکا ہے کہ اس خلیے میں روح کیسے داخل ہوئی اور اس خلیے سے بھی انسان کیسے پیدا کیا گیا۔ قرآن کریم نے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ یہ پورا عمل کیسے انجام تک پہنچا اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس پر کس قدر وقت لگا۔ اس تحقیق کیلئے اللہ نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جس طرح چاہے فیصلہ کرے اور اس قسم کی تحقیقات نص قرآن کے خلاف نہیں ہیں۔ نص قرآنی میں صرف یہ ہے کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے یا مٹی کے ست سے ہوئی ہے۔ یہ ہے وہ موقف جس میں قرآن مجید جو قاطع ہے اپنی جگہ رہتا ہے۔ اور سائنسی تحقیقات بھی اپنے مقام پر رہتی ہیں۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ صراحت کردی جائے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا کہ تمام حیوانات ایک ہی خلیے سے ارتقاء کرکے مختلف انواع کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور خود انسان بھی بند کی ترقی یافتہ شکل ہے اور یہ کہ انسان اور اعلیٰ قسم کے بندر کے درمیان ارتقائی مراحل کے انواع موجود رہے ہیں۔ یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ نیز ڈارون کو وراثتی خصوصیات (جینز) کا علم ہی نہ تھا۔ لیکن جینز کی دریافت کے بعد تو یہ طے ہوگیا ہے کہ ایک نوع کا دوسرے نوع میں منتقل ہونا محال ہوگیا ہے۔ ہر خلیے یعنی نوع حیوان کے خلیے کے اندر جینز ہیں جو اسے اپنی نوع بدلنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ یہ جینز اپنی صورت نوعیہ کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ۔ لہٰذا بلی جس خلیے سے پیدا کی گئی وہ بلی ہی رہی ہے اور اس کی صورت نوعیہ میں کسی مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کتا ، کتا رہا ہے ، بیل ، بیل رہا ہے ، گھوڑا ہمیشہ گھوڑا رہا ہے ، بندر ہمیشہ بندر رہا ہے اور انسان ہمیشہ انسان رہا ہے۔ جو چیز ممکن ہے وہ یہ ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کے اندر ترقی کرے یا زوال پذیر ہو۔ بہرحال ممکن ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کو کر اس کرکے دوسری نوع میں داخل ہوجائے۔ یہ وہ بات ہے جو ڈارون کے نظریہ کی حقیقت ہی باطل کر رہی ہے۔ بہرحال یہ لوگ سائنس کے نام پر خود اپنے نظریات گھڑتے ہیں ، ان پر یقین کرتے ہیں لیکن یہ نظریات کسی دن جا کر باطل ہوجاتے ہیں۔ ثم جعل نسلہ من سللۃ من مآء مھین (32: 8) ” پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے یعنی نطفے کے پانی سے جو جنین کے ارتقاء کی پہلی شکل ہے کہ وہ ایک نقطے سے ایک لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر وہ گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ مکمل جنین بن جاتا ہے۔ یہ پانی کا ست اور اس کا ارتقاء ہے۔ یہ نقطہ جو اس حقیر پانی میں ہوتا ، جس طرح یہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور جس طرح آج کل ایک وجیب جہان ہے اور اس حقیر پانی کے ست میں ایک دوسرے نقطے کو دیکھو اور پھر اس مکمل انسان کو دیکھو کہاں سے کہاں تک آگیا اور کیا سے کیا کچھ بن گیا۔ قرآن کریم اس عظیم تغیر و ارتقاء کو اس طرح ایک ہی آیت میں بیان کردیتا ہے۔ ثم سوہ ونفخ فیہ ۔۔۔۔۔۔ والابصار والافئدۃ (32: 9) ” پھر اس نے اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور تم کو کون دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ سبحان اللہ یہ کس قدر عظیم ارتقائی سفر ہے انسان کا۔ کن کن مشکل حالات سے یہ انسان گزرا ہے۔ کس قدر عظیم معجزہ ہے خود انسان کی تخلیق لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ انسان کو دیکھو اور اس معتبر نطفے کے پانی کے اندر اس نکتے کو دیکھو۔ اگر دست قدرت اس معجزانہ عمل کو تکمیل تک نہ پہنچائے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس نہایت ہی چھوٹے نکتے کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ان دشوار گزار مراحل اور راستوں سے گزر کر انسان کی شکل اختیار کرلے۔ اس چھوٹے سے نقطے اور اس خلیے کے اندر کس قدر تقسیم ہوتی ہے اور کس قدر کثرت ہوتی ہے۔ یہ بڑھتا بھی جاتا ہے اور تقسیم بھی ہوتا جاتا ہے۔ اس سے مزید مختلف قسم کے خلیے بنتے جاتے ہیں۔ یہ خلیے پھر باہم متضاد ہوتے ہیں ۔ یہ بڑھتے جاتے ہیں۔ پھر اس انسان کے ہر ہر عضو کے اپنے خلیے ہوتے ہیں ، جن کی مخصوص نوعیت ہوتی ہے اور ان کے پھر مزید اجزاء ہوتے ہیں اور ہر جزء کا اپنا وظیفہ ہوتا ہے۔ ایک ہی عضو کے اندر کئی قسم کے خلیے بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہ پہلا خلیہ کس طرح اس قدرو کثرت میں آجاتا ہے ، پھر اس کے اندر نوعیت کے اعتبار سے یہ تقسیم کس طرح ہوجاتی ہے ، پھر اس ایک ہی ابتدائی نکتے اور خلیے سے خلیات کا عظیم مجموعہ کس طرح بن جاتا ہے۔ پھر ان خلیات کے اندر انسان خصوصیات کہاں چھپی تھیں۔ پھر یہ جنین کے اندر مخصوص صلاحیتیں کہاں سے آجاتی ہیں۔ ہر خلیے کے لیے متعین فریضہ کس طرح قائم ہوجاتا ہے۔ اور ہر ایک کی خصوصیات دوسرے سے جدا کس طرح ہوجاتی ہیں۔ کون ہے جو اس قسم کے معجزے کے صادر ہونے کا یقین کرتا اگر عملاً یہ معجزہ روز ہمارے سامنے وجود میں نہ آتا۔ یہ اللہ کا دست قدرت ہی ہے جس نے انسان کو اس طرح برابر کیا اور درست کیا اور پھر یہ اللہ کی جانب سے انسان کے اندر روح پھونکنے کا عمل ہے جو انسان کو انسان بنا دیتا ہے۔ یہی ایک معقول تشریح ہے اس معجزے کی جو ہر سکینڈ میں واقع ہو رہا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ اسے غافل ہیں۔ یہ اللہ کا نفخ روح ہے جس کی وجہ سے انسان انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر سننے اور سیکھنے کی قوت آجاتی ہے اور اس سمع و بصر ہی کی وجہ سے تمام عضویاتی حیوانات سے انسان مختلف اور ممتاز ہوتا ہے۔ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ (32: 9) ” تم کو کان دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ یہ وہ معجزہ ہے جو ہمارے سامنے ہر سیکنڈ میں رونما ہوتا ہے۔ اس کی تشریح اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی جانب سے نفخ روح ہے ورنہ عقل انسانی اس اتھاہ سمندر میں غوطے کھاتی رہتی اور قیامت تک وہ اس کی تشریح نہ کرسکتی ۔ اس کے علاوہ یہ اللہ کے فضل و کرم کا فیضان ہے اور یہ اللہ کا فضل ہی ہے جو اس حقیر پانی کے ایک نکتے سے انسان بنا دیتا ہے۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو اس ایک حقیر خلیے کے اندر ارتقاء اور نمو کی وہ خصوصیات رکھ دیتا ہے کہ وہ ، تبدیلیوں سے ہوتے ہوئے اور اپنے اندر مزید خصوصیات لیتے ہوئے انسان کی شکل میں پہنچ گیا۔ جس کے اندر ایسی خصوصیات پیدا ہوگئیں کہ انسان تمام دوسرے حیوانات میں ممتاز ہوگیا۔ لوگ ہیں کہ اللہ کے اس فضل و کرم کا کوئی شکر ادا نہیں کرتے۔ قلیلا ما تشکرون (32: 9) انسان کی پیدائش ، اس کے مختلف مراحل اور ان سے اس کا عجیب انداز سے گزرنا اور ہر وقت اس عظیم معجزے کا صادر ہونا اور اس معجزے کا ہمارے سامنے بار بار دہرایا جانا ، ان امور کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ انسان جب مر کر پھر مٹی بن گیا اور زمین کی دوسری مٹی میں مل گیا تو حشر و نشر کیسے ہوگا۔ اس بیان کے بعد یہ شک اور یہ اغراض بجائے خود عجیب اور احمقانہ نظر آتے ہیں۔

السجدة 32:7

اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9) یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔ اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے سامنے زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دن ایک شب و روز پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ زمین اس کائنات کے اندر بہت ہی مختصر سا ٹکڑا ہے۔ ایک ذرہ ہے جس کی اس عظیم فضا میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ ہمارے روز و شب تو زمین و آسمان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے اور یہ روز و شب زمانہ کی وہ مقدار ہے جس کے مطابق ہم حساب و کتاب کرتے ہیں۔ ان چھ ایام کی حقیقت کیا ہے تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہمارے پاس ان دنوں کے حساب و کتاب کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ایام ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون (32: 5) ” اور تمہارے رب کے نزدیک ایک دن ، تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے “۔ یہ چھ دن وہ چھ حالات بھی ہوسکتے ہیں جن سے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی فضا گزری ، یہاں تک کہ وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی یا یہ تخلیق کے چھ مراحل تھے یا یہ چھ زمانے تھے جن کے درمیان کے وقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ بہرحال جو بھی مراد ہو ، ان سے وہ دن مراد نہیں ہیں جو ہمارے زمانے کے دن ہیں۔ بہر حال وہ ایک غیبی امر ہے اور اس کی مراد ہم متعین نہیں کرسکتے۔ مراد وہ زمانہ ہے جو تخلیق ، تقدیر میں مطابق حکمت الہیہ صرف ہوا اور اس زمانے میں اللہ نے ہر چیز کو اس کی موجودہ شکل تک پہنچایا مختلف مراحل ، ادوار سے گزار کر۔ ثم استوی علی العرش (32: 4) ” اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا “۔ استواء علی العرش اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں تمام کائنات ہے۔ رہا یہ کہ عرش کیا ہے تو ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ انہی الفاظ پر بات کو ختم کرتے ہیں۔ بہرحال استوا علی العرش سے مراد ہے قدرت شاملہ سے۔ پھر لفظ ثم بھی ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ کے حالات بدلتے نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے اللہ کس حال میں تھا پھر کسی دوسرے حال میں ہوگیا۔ یہ معنوی ترتیب ہے کہ اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اور جب سے پیدا کیا وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے یعنی بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ پیدا پلے کیا اور قبضہ قدرت میں بعد میں ہوا اور نہ ایسا کوئی زمانہ نہ تھا کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں نہ ہو۔ اس بےقید قبضہ قدرت کے بیان کے بعد اب لوگوں سے کہا جاتا ہے۔ ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع (32: 4) ” اس کی مانند نہ تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا ہے “۔ کہاں اور کون سفارشی ہوسکتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ عرش پر متمکن ہوں اور زمین و آسمان سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں اور خالق ارض و سما بھی وہی ہو۔ تو اس کے سوا کوئی حامی ہوسکتا ہے اور اس کے سوا سفارش کرنے والا کون ہو سکتا ہے اور کون سفارشی اللہ کی سلطنت سے خارج ہوسکتا ہے۔ افلا تتذکرون (32: 4) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ یہ حقیقت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اللہ کا اقرار کرو ، اور اپنا رخ اسی کی طرف کر دو ۔ تخلیق اسی کی ہے وہی مکمل اختیارات رکھتا ہے ، وہی تدبیر کرتا ہے اور امور طے کرتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کی طرف بلند ہوتے ہیں ، قیامت میں بھی تمام معاملات اس کے سامنے پیش ہوں گے اور دنیا میں بھی تمام رپورٹیں اس کی طرف پہنچتی ہیں اس طویل دن میں جس کی مقدار اس کو معلوم ہے۔ یدبر الامر ۔۔۔۔۔ مما تعدون (32: 5) ” وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے “۔ قرآن کا انداز تعبیر اللہ کے تدبیر کائنات کے وسیع تر میدان کی خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ من السمآء الی الارض (32: 5) ” آسمانوں سے زمین تک “۔ اس سے انسانی ذہن کے اندر بات بٹھانا مقصود ہے یعنی ان الفاظ میں جن کا تصور ذہن انسانی کرسکتا ہے تاکہ دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ ورنہ اللہ کی تدبیر کائنات کا دائرہ زمین اور آسمان سے بہت ہی وسیع ہے۔ لیکن انسانی احساس اور شعور کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس کائنات کے سامنے کھڑا ہے اور اپنے شعور اور مشاہدے کی حد تک اللہ کی وسعت تدبیر کا تصور کر رہا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی وسعت تدبیر ہمارے تصور اور ہمارے ان شماریات سے بھی وسیع ہے جو ہمارے استعمال میں ہیں۔ پھر اللہ کی تمام تدابیر اور اللہ کی تمام تقدیرات کی رپورٹ میں ان کے نتائج اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور یہ روئیدادا سے پورے عواقب و نتائج کے ساتھ ، تمام اعمال ، اموال اور افعال کے ساتھ ، اشیاء اور زندوں اور تمام مواد کائنات کے بارے میں ایک دن اٹھائی جاتی۔ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال ہمارے شماریات کے مطابق ہے۔ غرض اس کائنات کی کوئی چیز یونہی نہیں چھوڑ دی جاتی ہے ، نہ کسی چیز کو ۔۔ پیدا کیا گیا ہے بلکہ ایک مقررہ وقت تک تمام چیزوں کی تدبیر کی گئی ہے۔ ہر شے ، ہر معاملہ ، ہر نتیجہ اور ہر واقعہ اللہ کے تحت ہے اور اس کی روئیداد اللہ کے ہاں پہنچتی ہے جس طرح وہ طلب کرتا ہے۔ ذلک علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم (32: 6) ” وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ، زبردست اور رحیم “۔ یعنی یہ آسمان اور زمین کی تخلیق اور یہ استواء علی العرش اور آسمانوں سے زمین تک تمام امور کا انتظام ۔ یہ ہے اللہ عالم الغیب اور عالم مشاہدہ کا جاننے والا ، وہی خالق ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور زبردست اور رحیم ہے۔ قدرت رکھنے والا ہے ، اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے برتاؤ میں مخلوقات کے ساتھ رحم کرنے والا ہے۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جو چیز بھی اس نے بنائی خوب بنائی “۔ کیا شان ہے اللہ کی ! بیشک یہ حق ہے ، فطرت اسے دیکھ رہی ہے ، آنکھیں دیکھ رہی ہیں ، دل اسے دیکھ رہا ہے اور عقل اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ یہ حق جو اشیاء کی شکل میں بھی ہے۔ ان کے فرائض میں بھی ہے ، ان کی طبیعت اور ان کی ہم آہنگی میں بھی ہے۔ ان کی ہیئت میں بھی ہے اور ان کی شکل میں بھی ہے۔ بہرحال جو چیز بھی حسن اور احسان سے متعلق ہے وہ اس مخلوقات میں موجود ہے۔ سبحان اللہ ! یہ ہے اللہ کی کاریگری تمام اشیائ میں۔ اس کے دست قدرت کے کمالات تمام اشیاء میں موجود ہیں۔ جو چیز بھی اللہ نے بنائی ہے وہ حسین اور مکمل ہے۔ نہ حد سے آگے ہے اور نہ اس میں کوئی قصور ہے۔ حسن سے زیادہ نہ کم۔ نہ افراط ہے نہ تفریط۔ حجم کے اعتبار سے ، شکل کے لحاظ سے اور مقاصد اور مفاد کے زاویہ سے۔ ہر چیز ایک متعین قدر کے ساتھ ہے۔ نہ حد حسن و جمال سے کم یا زیادہ ہے۔ اپنے وقت سے نہ پہلے آتی ہے ، نہ بعد میں۔ نہ اپنی حد سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے رہتی ہے۔ ذرے سے کے کر بڑے سے بڑے اجسام تک میں حسن ملحوظ ہے۔ سادہ خلیے سے لے کر پیچیدہ ترین ذی حیات اشیاء تک ہر چیز حسین اور موزوں ہے۔ اسی طرح ، اعمال ، اطوار ، واقعات اور حرکات سب کے سب مقدر ہیں۔ سب اللہ کی تخلیق ہیں اور ہر واقعہ اور ہر حادثہ اپنے مقرر معیار کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقررہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ، اور یہ اس منصوبے اور نقشے کے مطابق ہوتا ہے جو ازل میں اللہ نے تیار کیا ہے اور ابد تک ایسا ہی تدبیر الٰہی کے مطابق ہوتا رہے گا۔ ہر چیز اور ہر مخلوق اس لیے بنائی گئی ہے کہ وہ اپنا مقرر اور متعین فریضہ ادا کرے اور اس فریضے کا تعین نہایت دقیق وزن کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ اس چیز کے تمام فرائض اس کے اندر رکھ دئیے گئے ہیں اور ان خواص کی وجہ سے وہ اپنا فریضہ منصبی پورا کرتی ہے اور اس کے لیے پوری طرح اہل ہے۔ یہ خلیہ جو متعدد مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ کیڑا رینگ رہا ہے اور جس کے پاؤں اور بال و پر ہیں۔ یہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس زمین پر اپنے لیے راستہ نکالے۔ یہ اپنا کام احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یہ پرندہ ، یہ حیوان ، اور یہ انسان ، یہ کواکب ، یہ ستارے ، یہ سیارے ، یہ افلاک اور جہاں اور یہ جہانوں کے جہاں ، یہ کر ات اور ان کے دورے اور گردشیں ، متعین اور مقرر ، عجیب اور مضبوط اور نہایت ہی وقت کے ساتھ متعین وقت کے حامل۔ دائمی طور پر متحرک۔ غرض اس کائنات کی جس چیز کو دیکھو چھوٹی یا بڑی ہر چیز حسین و جمیل ہے۔ اس کے حسن و جمال میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہر کھلی آنکھ ، ہر حساس انسان ، اور ہر صاحب بصیرت شخص اس حسن اور احسان کو دیکھ سکتا ہے جو اس کائنات کی مجموعی شکل میں بھی ہے اور اس کی ایک ایک چیز میں بھی ہے۔ جب قلب و نظر اور ذہن و خیال متوجہ ہوں تو انسان اس جہان میں حسن و جمال اور صفت و کمال کے بڑے بڑے ذخائر دریافت کرسکتا ہے۔ اس حسن و جمال اور اس تدبر و کمال کے نریجے میں ہر طرف سے انسان کے لیے خیر اور برکات جمع ہوتے ہیں۔ مثلاً نہایت ہی خوشگوار پھل اور وہ روحانی ذوق و شوق جس سے کاسہ دل بھی جاتا ہے اور اس طرح انسان اس ربانی میلے میں اور اس خدائی جشن میں جدھر دیکھے ، حسن و جمال ہی نظر آئے۔ جس چیز کا مطالعہ کرے وہ بدیع الجمال اور انتہائے کمال پر نظر آئے۔ اس طرح اس جہان فانی کے زائل ہونے والے اس حسن و جمال سے آگے بڑھ کر عالم آخرت کے دائمی حسن و جمال اور لازوال کمال تک پہنچ سکتا ہے جو صفت الٰہی میں ہے اور جس کا تصور بھی کسی دل میں نہیں آیا۔ انسان ان انعامات اور حسن و جمال اور وقت و کمال کو اس وقت دیکھ سکتا ہے جب انسان ایک عادی اور معمولی اور روٹین کے مناظر کو ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے۔ یہ اس وقت ہی اسے پا سکتا ہے جب وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی گھنٹیوں کو سنے۔ فطرت کے اشارات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ جب وہ اس جہاں کو نور ربانی کے ساتھ دیکھے۔ جب وہ ان کو ربانی نور کے ساتھ دیکھے گا تو پھر اس کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز کے اندر کیسا حسن و جمال ہے اور ہر چیز کی صنفت میں انوکھا پن کیا ہے اور یہ حسن اسے اس وقت نظر آئے گا جب وہ ہر حسین چیز کو دیکھ کر اللہ کو یاد کرے اور سبحان اللہ کہے۔ یوں اس کا تعلق خالق کائنات سے پیدا ہوگا۔ یوں اس کا شعور جمال تک پہنچ جائے گا کیونکہ مخلوقات کے کمال و جمال سے انسان اللہ کے کمال و جمال تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کائنات جمیل ہے اور اس کا جمال ختم نہیں ہوت اور انسان اس جمال کے ادراک میں روز بروز ترقی کرتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کا یہ فائدہ غیر محدود ہے۔ وہ جس قدر چاہے اس فائدے کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ جہاں تک بدیع السموات انسان کے لیے مقدر کرتا ہے اور موقع دیتا ہے۔ پھر اس مخلوق میں خوبصورتی کا عنصر مقصود بالذات ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو خوبصورت بنایا ہے کیونکہ جب کسی بنائی ہوئی چیز کو خوبصور اور اچھا بتایا جاتا ہے تو وہ اپنا فرض منصبی یا ڈیوٹی بہت اچھی طرح ادا کرتی ہے۔ یوں مصنوعات کی عمدگی کو بڑھا کر کمال تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ اس کائنات کی خوبصورتی اس کے ہر جزء سے ظاہر ہے اور مخلوقات کی ہر قسم سے عیاں ہے۔ ذرا اس کھجور کو دیکھئے ذرا کسی ایک پھول کو دیکھئے ، ذرا ایک چھوٹے سے چھوٹے ستارے کو دیکھئے ، ذرا رات کو دیکھئے اور پھر دن کو دیکھئے ، چھاؤں اور بادلوں کو دیکھئے ، اس پورے وجود کے اندر جاری وساری نغمہ سرائی کو دیکھئے اور غایت درجہ کی ہم آہنگی ، ہمداری اور حرکت کو دیکھئے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ یہ ایک سیاحت ہے اور اس خوبصورت وجود اور نہایت ہی خوبصورت اور انوکھی کائنات میں ایک تفریح ہے اور مخلوقات کا مطالعاتی سفر ہے۔ قرآن کریم ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتا ہے اور ہدایت کرتا ہے کہ اس سے لطف اٹھاؤ۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جس نے ہر چیز کو خوبصورت تخلیق بخشی “۔ اس ہدایت سے انسان اس کائنات میں حسن و جمال کے نکات تلاش کرتا ہے۔ اور لطف اٹھاتا ہے۔ وبدا خلق الانسان من طین (32: 7) ” اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق گارے سے کی۔ انداز تعبیر سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کا آغاز گارے سے تھا۔ یعنی انسان کی ابتدائی شکل مٹی کے گارے کی سی تھے۔ اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ گارے سے انسان تک کتنے مراحل سے انسان گزرا یاکتنا زمانہ اس میں لگا۔ اس معاملے میں قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً جب ہم اس آیت کو سورة المومنون کی آیت سے ملا کر پڑھیں۔ خلق الانسان من سلالۃ من طین ” انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا “۔ لہٰذا یہ کہنا ممکن ہے کہ انسان کی تخلیق ایسے مراحل سے گزری ہے جس کا اصل مٹی تک جا پہنچتا ہے۔ اس سے مراد وہ خلیہ بھی ہو سکتا ہے جو اس زمین میں پیدا کیا گیا اور یہ خلیہ مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ اور نفخ حیات اور نفخ روح سے وہ خالق مٹی تھا اور یہی وہ راز ہے جس تک آج تک انسان نہیں پہنچ سکا۔ نہ انسان یہ معلوم کرسکا ہے کہ یہ زندگی کیا ہے اور نہ یہ معلوم کرسکا ہے کہ اس خلیے میں روح کیسے داخل ہوئی اور اس خلیے سے بھی انسان کیسے پیدا کیا گیا۔ قرآن کریم نے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ یہ پورا عمل کیسے انجام تک پہنچا اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس پر کس قدر وقت لگا۔ اس تحقیق کیلئے اللہ نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جس طرح چاہے فیصلہ کرے اور اس قسم کی تحقیقات نص قرآن کے خلاف نہیں ہیں۔ نص قرآنی میں صرف یہ ہے کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے یا مٹی کے ست سے ہوئی ہے۔ یہ ہے وہ موقف جس میں قرآن مجید جو قاطع ہے اپنی جگہ رہتا ہے۔ اور سائنسی تحقیقات بھی اپنے مقام پر رہتی ہیں۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ صراحت کردی جائے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا کہ تمام حیوانات ایک ہی خلیے سے ارتقاء کرکے مختلف انواع کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور خود انسان بھی بند کی ترقی یافتہ شکل ہے اور یہ کہ انسان اور اعلیٰ قسم کے بندر کے درمیان ارتقائی مراحل کے انواع موجود رہے ہیں۔ یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ نیز ڈارون کو وراثتی خصوصیات (جینز) کا علم ہی نہ تھا۔ لیکن جینز کی دریافت کے بعد تو یہ طے ہوگیا ہے کہ ایک نوع کا دوسرے نوع میں منتقل ہونا محال ہوگیا ہے۔ ہر خلیے یعنی نوع حیوان کے خلیے کے اندر جینز ہیں جو اسے اپنی نوع بدلنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ یہ جینز اپنی صورت نوعیہ کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ۔ لہٰذا بلی جس خلیے سے پیدا کی گئی وہ بلی ہی رہی ہے اور اس کی صورت نوعیہ میں کسی مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کتا ، کتا رہا ہے ، بیل ، بیل رہا ہے ، گھوڑا ہمیشہ گھوڑا رہا ہے ، بندر ہمیشہ بندر رہا ہے اور انسان ہمیشہ انسان رہا ہے۔ جو چیز ممکن ہے وہ یہ ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کے اندر ترقی کرے یا زوال پذیر ہو۔ بہرحال ممکن ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کو کر اس کرکے دوسری نوع میں داخل ہوجائے۔ یہ وہ بات ہے جو ڈارون کے نظریہ کی حقیقت ہی باطل کر رہی ہے۔ بہرحال یہ لوگ سائنس کے نام پر خود اپنے نظریات گھڑتے ہیں ، ان پر یقین کرتے ہیں لیکن یہ نظریات کسی دن جا کر باطل ہوجاتے ہیں۔ ثم جعل نسلہ من سللۃ من مآء مھین (32: 8) ” پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے یعنی نطفے کے پانی سے جو جنین کے ارتقاء کی پہلی شکل ہے کہ وہ ایک نقطے سے ایک لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر وہ گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ مکمل جنین بن جاتا ہے۔ یہ پانی کا ست اور اس کا ارتقاء ہے۔ یہ نقطہ جو اس حقیر پانی میں ہوتا ، جس طرح یہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور جس طرح آج کل ایک وجیب جہان ہے اور اس حقیر پانی کے ست میں ایک دوسرے نقطے کو دیکھو اور پھر اس مکمل انسان کو دیکھو کہاں سے کہاں تک آگیا اور کیا سے کیا کچھ بن گیا۔ قرآن کریم اس عظیم تغیر و ارتقاء کو اس طرح ایک ہی آیت میں بیان کردیتا ہے۔ ثم سوہ ونفخ فیہ ۔۔۔۔۔۔ والابصار والافئدۃ (32: 9) ” پھر اس نے اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور تم کو کون دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ سبحان اللہ یہ کس قدر عظیم ارتقائی سفر ہے انسان کا۔ کن کن مشکل حالات سے یہ انسان گزرا ہے۔ کس قدر عظیم معجزہ ہے خود انسان کی تخلیق لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ انسان کو دیکھو اور اس معتبر نطفے کے پانی کے اندر اس نکتے کو دیکھو۔ اگر دست قدرت اس معجزانہ عمل کو تکمیل تک نہ پہنچائے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس نہایت ہی چھوٹے نکتے کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ان دشوار گزار مراحل اور راستوں سے گزر کر انسان کی شکل اختیار کرلے۔ اس چھوٹے سے نقطے اور اس خلیے کے اندر کس قدر تقسیم ہوتی ہے اور کس قدر کثرت ہوتی ہے۔ یہ بڑھتا بھی جاتا ہے اور تقسیم بھی ہوتا جاتا ہے۔ اس سے مزید مختلف قسم کے خلیے بنتے جاتے ہیں۔ یہ خلیے پھر باہم متضاد ہوتے ہیں ۔ یہ بڑھتے جاتے ہیں۔ پھر اس انسان کے ہر ہر عضو کے اپنے خلیے ہوتے ہیں ، جن کی مخصوص نوعیت ہوتی ہے اور ان کے پھر مزید اجزاء ہوتے ہیں اور ہر جزء کا اپنا وظیفہ ہوتا ہے۔ ایک ہی عضو کے اندر کئی قسم کے خلیے بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہ پہلا خلیہ کس طرح اس قدرو کثرت میں آجاتا ہے ، پھر اس کے اندر نوعیت کے اعتبار سے یہ تقسیم کس طرح ہوجاتی ہے ، پھر اس ایک ہی ابتدائی نکتے اور خلیے سے خلیات کا عظیم مجموعہ کس طرح بن جاتا ہے۔ پھر ان خلیات کے اندر انسان خصوصیات کہاں چھپی تھیں۔ پھر یہ جنین کے اندر مخصوص صلاحیتیں کہاں سے آجاتی ہیں۔ ہر خلیے کے لیے متعین فریضہ کس طرح قائم ہوجاتا ہے۔ اور ہر ایک کی خصوصیات دوسرے سے جدا کس طرح ہوجاتی ہیں۔ کون ہے جو اس قسم کے معجزے کے صادر ہونے کا یقین کرتا اگر عملاً یہ معجزہ روز ہمارے سامنے وجود میں نہ آتا۔ یہ اللہ کا دست قدرت ہی ہے جس نے انسان کو اس طرح برابر کیا اور درست کیا اور پھر یہ اللہ کی جانب سے انسان کے اندر روح پھونکنے کا عمل ہے جو انسان کو انسان بنا دیتا ہے۔ یہی ایک معقول تشریح ہے اس معجزے کی جو ہر سکینڈ میں واقع ہو رہا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ اسے غافل ہیں۔ یہ اللہ کا نفخ روح ہے جس کی وجہ سے انسان انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر سننے اور سیکھنے کی قوت آجاتی ہے اور اس سمع و بصر ہی کی وجہ سے تمام عضویاتی حیوانات سے انسان مختلف اور ممتاز ہوتا ہے۔ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ (32: 9) ” تم کو کان دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ یہ وہ معجزہ ہے جو ہمارے سامنے ہر سیکنڈ میں رونما ہوتا ہے۔ اس کی تشریح اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی جانب سے نفخ روح ہے ورنہ عقل انسانی اس اتھاہ سمندر میں غوطے کھاتی رہتی اور قیامت تک وہ اس کی تشریح نہ کرسکتی ۔ اس کے علاوہ یہ اللہ کے فضل و کرم کا فیضان ہے اور یہ اللہ کا فضل ہی ہے جو اس حقیر پانی کے ایک نکتے سے انسان بنا دیتا ہے۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو اس ایک حقیر خلیے کے اندر ارتقاء اور نمو کی وہ خصوصیات رکھ دیتا ہے کہ وہ ، تبدیلیوں سے ہوتے ہوئے اور اپنے اندر مزید خصوصیات لیتے ہوئے انسان کی شکل میں پہنچ گیا۔ جس کے اندر ایسی خصوصیات پیدا ہوگئیں کہ انسان تمام دوسرے حیوانات میں ممتاز ہوگیا۔ لوگ ہیں کہ اللہ کے اس فضل و کرم کا کوئی شکر ادا نہیں کرتے۔ قلیلا ما تشکرون (32: 9) انسان کی پیدائش ، اس کے مختلف مراحل اور ان سے اس کا عجیب انداز سے گزرنا اور ہر وقت اس عظیم معجزے کا صادر ہونا اور اس معجزے کا ہمارے سامنے بار بار دہرایا جانا ، ان امور کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ انسان جب مر کر پھر مٹی بن گیا اور زمین کی دوسری مٹی میں مل گیا تو حشر و نشر کیسے ہوگا۔ اس بیان کے بعد یہ شک اور یہ اغراض بجائے خود عجیب اور احمقانہ نظر آتے ہیں۔

السجدة 32:8

اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9) یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔ اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے سامنے زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دن ایک شب و روز پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ زمین اس کائنات کے اندر بہت ہی مختصر سا ٹکڑا ہے۔ ایک ذرہ ہے جس کی اس عظیم فضا میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ ہمارے روز و شب تو زمین و آسمان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے اور یہ روز و شب زمانہ کی وہ مقدار ہے جس کے مطابق ہم حساب و کتاب کرتے ہیں۔ ان چھ ایام کی حقیقت کیا ہے تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہمارے پاس ان دنوں کے حساب و کتاب کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ایام ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون (32: 5) ” اور تمہارے رب کے نزدیک ایک دن ، تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے “۔ یہ چھ دن وہ چھ حالات بھی ہوسکتے ہیں جن سے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی فضا گزری ، یہاں تک کہ وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی یا یہ تخلیق کے چھ مراحل تھے یا یہ چھ زمانے تھے جن کے درمیان کے وقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ بہرحال جو بھی مراد ہو ، ان سے وہ دن مراد نہیں ہیں جو ہمارے زمانے کے دن ہیں۔ بہر حال وہ ایک غیبی امر ہے اور اس کی مراد ہم متعین نہیں کرسکتے۔ مراد وہ زمانہ ہے جو تخلیق ، تقدیر میں مطابق حکمت الہیہ صرف ہوا اور اس زمانے میں اللہ نے ہر چیز کو اس کی موجودہ شکل تک پہنچایا مختلف مراحل ، ادوار سے گزار کر۔ ثم استوی علی العرش (32: 4) ” اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا “۔ استواء علی العرش اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں تمام کائنات ہے۔ رہا یہ کہ عرش کیا ہے تو ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ انہی الفاظ پر بات کو ختم کرتے ہیں۔ بہرحال استوا علی العرش سے مراد ہے قدرت شاملہ سے۔ پھر لفظ ثم بھی ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ کے حالات بدلتے نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے اللہ کس حال میں تھا پھر کسی دوسرے حال میں ہوگیا۔ یہ معنوی ترتیب ہے کہ اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اور جب سے پیدا کیا وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے یعنی بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ پیدا پلے کیا اور قبضہ قدرت میں بعد میں ہوا اور نہ ایسا کوئی زمانہ نہ تھا کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں نہ ہو۔ اس بےقید قبضہ قدرت کے بیان کے بعد اب لوگوں سے کہا جاتا ہے۔ ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع (32: 4) ” اس کی مانند نہ تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا ہے “۔ کہاں اور کون سفارشی ہوسکتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ عرش پر متمکن ہوں اور زمین و آسمان سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں اور خالق ارض و سما بھی وہی ہو۔ تو اس کے سوا کوئی حامی ہوسکتا ہے اور اس کے سوا سفارش کرنے والا کون ہو سکتا ہے اور کون سفارشی اللہ کی سلطنت سے خارج ہوسکتا ہے۔ افلا تتذکرون (32: 4) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ یہ حقیقت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اللہ کا اقرار کرو ، اور اپنا رخ اسی کی طرف کر دو ۔ تخلیق اسی کی ہے وہی مکمل اختیارات رکھتا ہے ، وہی تدبیر کرتا ہے اور امور طے کرتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کی طرف بلند ہوتے ہیں ، قیامت میں بھی تمام معاملات اس کے سامنے پیش ہوں گے اور دنیا میں بھی تمام رپورٹیں اس کی طرف پہنچتی ہیں اس طویل دن میں جس کی مقدار اس کو معلوم ہے۔ یدبر الامر ۔۔۔۔۔ مما تعدون (32: 5) ” وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے “۔ قرآن کا انداز تعبیر اللہ کے تدبیر کائنات کے وسیع تر میدان کی خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ من السمآء الی الارض (32: 5) ” آسمانوں سے زمین تک “۔ اس سے انسانی ذہن کے اندر بات بٹھانا مقصود ہے یعنی ان الفاظ میں جن کا تصور ذہن انسانی کرسکتا ہے تاکہ دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ ورنہ اللہ کی تدبیر کائنات کا دائرہ زمین اور آسمان سے بہت ہی وسیع ہے۔ لیکن انسانی احساس اور شعور کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس کائنات کے سامنے کھڑا ہے اور اپنے شعور اور مشاہدے کی حد تک اللہ کی وسعت تدبیر کا تصور کر رہا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی وسعت تدبیر ہمارے تصور اور ہمارے ان شماریات سے بھی وسیع ہے جو ہمارے استعمال میں ہیں۔ پھر اللہ کی تمام تدابیر اور اللہ کی تمام تقدیرات کی رپورٹ میں ان کے نتائج اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور یہ روئیدادا سے پورے عواقب و نتائج کے ساتھ ، تمام اعمال ، اموال اور افعال کے ساتھ ، اشیاء اور زندوں اور تمام مواد کائنات کے بارے میں ایک دن اٹھائی جاتی۔ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال ہمارے شماریات کے مطابق ہے۔ غرض اس کائنات کی کوئی چیز یونہی نہیں چھوڑ دی جاتی ہے ، نہ کسی چیز کو ۔۔ پیدا کیا گیا ہے بلکہ ایک مقررہ وقت تک تمام چیزوں کی تدبیر کی گئی ہے۔ ہر شے ، ہر معاملہ ، ہر نتیجہ اور ہر واقعہ اللہ کے تحت ہے اور اس کی روئیداد اللہ کے ہاں پہنچتی ہے جس طرح وہ طلب کرتا ہے۔ ذلک علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم (32: 6) ” وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ، زبردست اور رحیم “۔ یعنی یہ آسمان اور زمین کی تخلیق اور یہ استواء علی العرش اور آسمانوں سے زمین تک تمام امور کا انتظام ۔ یہ ہے اللہ عالم الغیب اور عالم مشاہدہ کا جاننے والا ، وہی خالق ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور زبردست اور رحیم ہے۔ قدرت رکھنے والا ہے ، اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے برتاؤ میں مخلوقات کے ساتھ رحم کرنے والا ہے۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جو چیز بھی اس نے بنائی خوب بنائی “۔ کیا شان ہے اللہ کی ! بیشک یہ حق ہے ، فطرت اسے دیکھ رہی ہے ، آنکھیں دیکھ رہی ہیں ، دل اسے دیکھ رہا ہے اور عقل اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ یہ حق جو اشیاء کی شکل میں بھی ہے۔ ان کے فرائض میں بھی ہے ، ان کی طبیعت اور ان کی ہم آہنگی میں بھی ہے۔ ان کی ہیئت میں بھی ہے اور ان کی شکل میں بھی ہے۔ بہرحال جو چیز بھی حسن اور احسان سے متعلق ہے وہ اس مخلوقات میں موجود ہے۔ سبحان اللہ ! یہ ہے اللہ کی کاریگری تمام اشیائ میں۔ اس کے دست قدرت کے کمالات تمام اشیاء میں موجود ہیں۔ جو چیز بھی اللہ نے بنائی ہے وہ حسین اور مکمل ہے۔ نہ حد سے آگے ہے اور نہ اس میں کوئی قصور ہے۔ حسن سے زیادہ نہ کم۔ نہ افراط ہے نہ تفریط۔ حجم کے اعتبار سے ، شکل کے لحاظ سے اور مقاصد اور مفاد کے زاویہ سے۔ ہر چیز ایک متعین قدر کے ساتھ ہے۔ نہ حد حسن و جمال سے کم یا زیادہ ہے۔ اپنے وقت سے نہ پہلے آتی ہے ، نہ بعد میں۔ نہ اپنی حد سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے رہتی ہے۔ ذرے سے کے کر بڑے سے بڑے اجسام تک میں حسن ملحوظ ہے۔ سادہ خلیے سے لے کر پیچیدہ ترین ذی حیات اشیاء تک ہر چیز حسین اور موزوں ہے۔ اسی طرح ، اعمال ، اطوار ، واقعات اور حرکات سب کے سب مقدر ہیں۔ سب اللہ کی تخلیق ہیں اور ہر واقعہ اور ہر حادثہ اپنے مقرر معیار کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقررہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ، اور یہ اس منصوبے اور نقشے کے مطابق ہوتا ہے جو ازل میں اللہ نے تیار کیا ہے اور ابد تک ایسا ہی تدبیر الٰہی کے مطابق ہوتا رہے گا۔ ہر چیز اور ہر مخلوق اس لیے بنائی گئی ہے کہ وہ اپنا مقرر اور متعین فریضہ ادا کرے اور اس فریضے کا تعین نہایت دقیق وزن کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ اس چیز کے تمام فرائض اس کے اندر رکھ دئیے گئے ہیں اور ان خواص کی وجہ سے وہ اپنا فریضہ منصبی پورا کرتی ہے اور اس کے لیے پوری طرح اہل ہے۔ یہ خلیہ جو متعدد مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ کیڑا رینگ رہا ہے اور جس کے پاؤں اور بال و پر ہیں۔ یہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس زمین پر اپنے لیے راستہ نکالے۔ یہ اپنا کام احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یہ پرندہ ، یہ حیوان ، اور یہ انسان ، یہ کواکب ، یہ ستارے ، یہ سیارے ، یہ افلاک اور جہاں اور یہ جہانوں کے جہاں ، یہ کر ات اور ان کے دورے اور گردشیں ، متعین اور مقرر ، عجیب اور مضبوط اور نہایت ہی وقت کے ساتھ متعین وقت کے حامل۔ دائمی طور پر متحرک۔ غرض اس کائنات کی جس چیز کو دیکھو چھوٹی یا بڑی ہر چیز حسین و جمیل ہے۔ اس کے حسن و جمال میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہر کھلی آنکھ ، ہر حساس انسان ، اور ہر صاحب بصیرت شخص اس حسن اور احسان کو دیکھ سکتا ہے جو اس کائنات کی مجموعی شکل میں بھی ہے اور اس کی ایک ایک چیز میں بھی ہے۔ جب قلب و نظر اور ذہن و خیال متوجہ ہوں تو انسان اس جہان میں حسن و جمال اور صفت و کمال کے بڑے بڑے ذخائر دریافت کرسکتا ہے۔ اس حسن و جمال اور اس تدبر و کمال کے نریجے میں ہر طرف سے انسان کے لیے خیر اور برکات جمع ہوتے ہیں۔ مثلاً نہایت ہی خوشگوار پھل اور وہ روحانی ذوق و شوق جس سے کاسہ دل بھی جاتا ہے اور اس طرح انسان اس ربانی میلے میں اور اس خدائی جشن میں جدھر دیکھے ، حسن و جمال ہی نظر آئے۔ جس چیز کا مطالعہ کرے وہ بدیع الجمال اور انتہائے کمال پر نظر آئے۔ اس طرح اس جہان فانی کے زائل ہونے والے اس حسن و جمال سے آگے بڑھ کر عالم آخرت کے دائمی حسن و جمال اور لازوال کمال تک پہنچ سکتا ہے جو صفت الٰہی میں ہے اور جس کا تصور بھی کسی دل میں نہیں آیا۔ انسان ان انعامات اور حسن و جمال اور وقت و کمال کو اس وقت دیکھ سکتا ہے جب انسان ایک عادی اور معمولی اور روٹین کے مناظر کو ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے۔ یہ اس وقت ہی اسے پا سکتا ہے جب وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی گھنٹیوں کو سنے۔ فطرت کے اشارات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ جب وہ اس جہاں کو نور ربانی کے ساتھ دیکھے۔ جب وہ ان کو ربانی نور کے ساتھ دیکھے گا تو پھر اس کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز کے اندر کیسا حسن و جمال ہے اور ہر چیز کی صنفت میں انوکھا پن کیا ہے اور یہ حسن اسے اس وقت نظر آئے گا جب وہ ہر حسین چیز کو دیکھ کر اللہ کو یاد کرے اور سبحان اللہ کہے۔ یوں اس کا تعلق خالق کائنات سے پیدا ہوگا۔ یوں اس کا شعور جمال تک پہنچ جائے گا کیونکہ مخلوقات کے کمال و جمال سے انسان اللہ کے کمال و جمال تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کائنات جمیل ہے اور اس کا جمال ختم نہیں ہوت اور انسان اس جمال کے ادراک میں روز بروز ترقی کرتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کا یہ فائدہ غیر محدود ہے۔ وہ جس قدر چاہے اس فائدے کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ جہاں تک بدیع السموات انسان کے لیے مقدر کرتا ہے اور موقع دیتا ہے۔ پھر اس مخلوق میں خوبصورتی کا عنصر مقصود بالذات ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو خوبصورت بنایا ہے کیونکہ جب کسی بنائی ہوئی چیز کو خوبصور اور اچھا بتایا جاتا ہے تو وہ اپنا فرض منصبی یا ڈیوٹی بہت اچھی طرح ادا کرتی ہے۔ یوں مصنوعات کی عمدگی کو بڑھا کر کمال تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ اس کائنات کی خوبصورتی اس کے ہر جزء سے ظاہر ہے اور مخلوقات کی ہر قسم سے عیاں ہے۔ ذرا اس کھجور کو دیکھئے ذرا کسی ایک پھول کو دیکھئے ، ذرا ایک چھوٹے سے چھوٹے ستارے کو دیکھئے ، ذرا رات کو دیکھئے اور پھر دن کو دیکھئے ، چھاؤں اور بادلوں کو دیکھئے ، اس پورے وجود کے اندر جاری وساری نغمہ سرائی کو دیکھئے اور غایت درجہ کی ہم آہنگی ، ہمداری اور حرکت کو دیکھئے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ یہ ایک سیاحت ہے اور اس خوبصورت وجود اور نہایت ہی خوبصورت اور انوکھی کائنات میں ایک تفریح ہے اور مخلوقات کا مطالعاتی سفر ہے۔ قرآن کریم ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتا ہے اور ہدایت کرتا ہے کہ اس سے لطف اٹھاؤ۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جس نے ہر چیز کو خوبصورت تخلیق بخشی “۔ اس ہدایت سے انسان اس کائنات میں حسن و جمال کے نکات تلاش کرتا ہے۔ اور لطف اٹھاتا ہے۔ وبدا خلق الانسان من طین (32: 7) ” اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق گارے سے کی۔ انداز تعبیر سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کا آغاز گارے سے تھا۔ یعنی انسان کی ابتدائی شکل مٹی کے گارے کی سی تھے۔ اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ گارے سے انسان تک کتنے مراحل سے انسان گزرا یاکتنا زمانہ اس میں لگا۔ اس معاملے میں قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً جب ہم اس آیت کو سورة المومنون کی آیت سے ملا کر پڑھیں۔ خلق الانسان من سلالۃ من طین ” انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا “۔ لہٰذا یہ کہنا ممکن ہے کہ انسان کی تخلیق ایسے مراحل سے گزری ہے جس کا اصل مٹی تک جا پہنچتا ہے۔ اس سے مراد وہ خلیہ بھی ہو سکتا ہے جو اس زمین میں پیدا کیا گیا اور یہ خلیہ مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ اور نفخ حیات اور نفخ روح سے وہ خالق مٹی تھا اور یہی وہ راز ہے جس تک آج تک انسان نہیں پہنچ سکا۔ نہ انسان یہ معلوم کرسکا ہے کہ یہ زندگی کیا ہے اور نہ یہ معلوم کرسکا ہے کہ اس خلیے میں روح کیسے داخل ہوئی اور اس خلیے سے بھی انسان کیسے پیدا کیا گیا۔ قرآن کریم نے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ یہ پورا عمل کیسے انجام تک پہنچا اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس پر کس قدر وقت لگا۔ اس تحقیق کیلئے اللہ نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جس طرح چاہے فیصلہ کرے اور اس قسم کی تحقیقات نص قرآن کے خلاف نہیں ہیں۔ نص قرآنی میں صرف یہ ہے کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے یا مٹی کے ست سے ہوئی ہے۔ یہ ہے وہ موقف جس میں قرآن مجید جو قاطع ہے اپنی جگہ رہتا ہے۔ اور سائنسی تحقیقات بھی اپنے مقام پر رہتی ہیں۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ صراحت کردی جائے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا کہ تمام حیوانات ایک ہی خلیے سے ارتقاء کرکے مختلف انواع کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور خود انسان بھی بند کی ترقی یافتہ شکل ہے اور یہ کہ انسان اور اعلیٰ قسم کے بندر کے درمیان ارتقائی مراحل کے انواع موجود رہے ہیں۔ یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ نیز ڈارون کو وراثتی خصوصیات (جینز) کا علم ہی نہ تھا۔ لیکن جینز کی دریافت کے بعد تو یہ طے ہوگیا ہے کہ ایک نوع کا دوسرے نوع میں منتقل ہونا محال ہوگیا ہے۔ ہر خلیے یعنی نوع حیوان کے خلیے کے اندر جینز ہیں جو اسے اپنی نوع بدلنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ یہ جینز اپنی صورت نوعیہ کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ۔ لہٰذا بلی جس خلیے سے پیدا کی گئی وہ بلی ہی رہی ہے اور اس کی صورت نوعیہ میں کسی مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کتا ، کتا رہا ہے ، بیل ، بیل رہا ہے ، گھوڑا ہمیشہ گھوڑا رہا ہے ، بندر ہمیشہ بندر رہا ہے اور انسان ہمیشہ انسان رہا ہے۔ جو چیز ممکن ہے وہ یہ ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کے اندر ترقی کرے یا زوال پذیر ہو۔ بہرحال ممکن ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کو کر اس کرکے دوسری نوع میں داخل ہوجائے۔ یہ وہ بات ہے جو ڈارون کے نظریہ کی حقیقت ہی باطل کر رہی ہے۔ بہرحال یہ لوگ سائنس کے نام پر خود اپنے نظریات گھڑتے ہیں ، ان پر یقین کرتے ہیں لیکن یہ نظریات کسی دن جا کر باطل ہوجاتے ہیں۔ ثم جعل نسلہ من سللۃ من مآء مھین (32: 8) ” پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے یعنی نطفے کے پانی سے جو جنین کے ارتقاء کی پہلی شکل ہے کہ وہ ایک نقطے سے ایک لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر وہ گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ مکمل جنین بن جاتا ہے۔ یہ پانی کا ست اور اس کا ارتقاء ہے۔ یہ نقطہ جو اس حقیر پانی میں ہوتا ، جس طرح یہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور جس طرح آج کل ایک وجیب جہان ہے اور اس حقیر پانی کے ست میں ایک دوسرے نقطے کو دیکھو اور پھر اس مکمل انسان کو دیکھو کہاں سے کہاں تک آگیا اور کیا سے کیا کچھ بن گیا۔ قرآن کریم اس عظیم تغیر و ارتقاء کو اس طرح ایک ہی آیت میں بیان کردیتا ہے۔ ثم سوہ ونفخ فیہ ۔۔۔۔۔۔ والابصار والافئدۃ (32: 9) ” پھر اس نے اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور تم کو کون دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ سبحان اللہ یہ کس قدر عظیم ارتقائی سفر ہے انسان کا۔ کن کن مشکل حالات سے یہ انسان گزرا ہے۔ کس قدر عظیم معجزہ ہے خود انسان کی تخلیق لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ انسان کو دیکھو اور اس معتبر نطفے کے پانی کے اندر اس نکتے کو دیکھو۔ اگر دست قدرت اس معجزانہ عمل کو تکمیل تک نہ پہنچائے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس نہایت ہی چھوٹے نکتے کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ان دشوار گزار مراحل اور راستوں سے گزر کر انسان کی شکل اختیار کرلے۔ اس چھوٹے سے نقطے اور اس خلیے کے اندر کس قدر تقسیم ہوتی ہے اور کس قدر کثرت ہوتی ہے۔ یہ بڑھتا بھی جاتا ہے اور تقسیم بھی ہوتا جاتا ہے۔ اس سے مزید مختلف قسم کے خلیے بنتے جاتے ہیں۔ یہ خلیے پھر باہم متضاد ہوتے ہیں ۔ یہ بڑھتے جاتے ہیں۔ پھر اس انسان کے ہر ہر عضو کے اپنے خلیے ہوتے ہیں ، جن کی مخصوص نوعیت ہوتی ہے اور ان کے پھر مزید اجزاء ہوتے ہیں اور ہر جزء کا اپنا وظیفہ ہوتا ہے۔ ایک ہی عضو کے اندر کئی قسم کے خلیے بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہ پہلا خلیہ کس طرح اس قدرو کثرت میں آجاتا ہے ، پھر اس کے اندر نوعیت کے اعتبار سے یہ تقسیم کس طرح ہوجاتی ہے ، پھر اس ایک ہی ابتدائی نکتے اور خلیے سے خلیات کا عظیم مجموعہ کس طرح بن جاتا ہے۔ پھر ان خلیات کے اندر انسان خصوصیات کہاں چھپی تھیں۔ پھر یہ جنین کے اندر مخصوص صلاحیتیں کہاں سے آجاتی ہیں۔ ہر خلیے کے لیے متعین فریضہ کس طرح قائم ہوجاتا ہے۔ اور ہر ایک کی خصوصیات دوسرے سے جدا کس طرح ہوجاتی ہیں۔ کون ہے جو اس قسم کے معجزے کے صادر ہونے کا یقین کرتا اگر عملاً یہ معجزہ روز ہمارے سامنے وجود میں نہ آتا۔ یہ اللہ کا دست قدرت ہی ہے جس نے انسان کو اس طرح برابر کیا اور درست کیا اور پھر یہ اللہ کی جانب سے انسان کے اندر روح پھونکنے کا عمل ہے جو انسان کو انسان بنا دیتا ہے۔ یہی ایک معقول تشریح ہے اس معجزے کی جو ہر سکینڈ میں واقع ہو رہا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ اسے غافل ہیں۔ یہ اللہ کا نفخ روح ہے جس کی وجہ سے انسان انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر سننے اور سیکھنے کی قوت آجاتی ہے اور اس سمع و بصر ہی کی وجہ سے تمام عضویاتی حیوانات سے انسان مختلف اور ممتاز ہوتا ہے۔ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ (32: 9) ” تم کو کان دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ یہ وہ معجزہ ہے جو ہمارے سامنے ہر سیکنڈ میں رونما ہوتا ہے۔ اس کی تشریح اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی جانب سے نفخ روح ہے ورنہ عقل انسانی اس اتھاہ سمندر میں غوطے کھاتی رہتی اور قیامت تک وہ اس کی تشریح نہ کرسکتی ۔ اس کے علاوہ یہ اللہ کے فضل و کرم کا فیضان ہے اور یہ اللہ کا فضل ہی ہے جو اس حقیر پانی کے ایک نکتے سے انسان بنا دیتا ہے۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو اس ایک حقیر خلیے کے اندر ارتقاء اور نمو کی وہ خصوصیات رکھ دیتا ہے کہ وہ ، تبدیلیوں سے ہوتے ہوئے اور اپنے اندر مزید خصوصیات لیتے ہوئے انسان کی شکل میں پہنچ گیا۔ جس کے اندر ایسی خصوصیات پیدا ہوگئیں کہ انسان تمام دوسرے حیوانات میں ممتاز ہوگیا۔ لوگ ہیں کہ اللہ کے اس فضل و کرم کا کوئی شکر ادا نہیں کرتے۔ قلیلا ما تشکرون (32: 9) انسان کی پیدائش ، اس کے مختلف مراحل اور ان سے اس کا عجیب انداز سے گزرنا اور ہر وقت اس عظیم معجزے کا صادر ہونا اور اس معجزے کا ہمارے سامنے بار بار دہرایا جانا ، ان امور کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ انسان جب مر کر پھر مٹی بن گیا اور زمین کی دوسری مٹی میں مل گیا تو حشر و نشر کیسے ہوگا۔ اس بیان کے بعد یہ شک اور یہ اغراض بجائے خود عجیب اور احمقانہ نظر آتے ہیں۔

السجدة 32:9

اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9) یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔ اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے سامنے زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دن ایک شب و روز پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ زمین اس کائنات کے اندر بہت ہی مختصر سا ٹکڑا ہے۔ ایک ذرہ ہے جس کی اس عظیم فضا میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ ہمارے روز و شب تو زمین و آسمان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے اور یہ روز و شب زمانہ کی وہ مقدار ہے جس کے مطابق ہم حساب و کتاب کرتے ہیں۔ ان چھ ایام کی حقیقت کیا ہے تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہمارے پاس ان دنوں کے حساب و کتاب کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ایام ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون (32: 5) ” اور تمہارے رب کے نزدیک ایک دن ، تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے “۔ یہ چھ دن وہ چھ حالات بھی ہوسکتے ہیں جن سے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی فضا گزری ، یہاں تک کہ وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی یا یہ تخلیق کے چھ مراحل تھے یا یہ چھ زمانے تھے جن کے درمیان کے وقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ بہرحال جو بھی مراد ہو ، ان سے وہ دن مراد نہیں ہیں جو ہمارے زمانے کے دن ہیں۔ بہر حال وہ ایک غیبی امر ہے اور اس کی مراد ہم متعین نہیں کرسکتے۔ مراد وہ زمانہ ہے جو تخلیق ، تقدیر میں مطابق حکمت الہیہ صرف ہوا اور اس زمانے میں اللہ نے ہر چیز کو اس کی موجودہ شکل تک پہنچایا مختلف مراحل ، ادوار سے گزار کر۔ ثم استوی علی العرش (32: 4) ” اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا “۔ استواء علی العرش اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں تمام کائنات ہے۔ رہا یہ کہ عرش کیا ہے تو ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ انہی الفاظ پر بات کو ختم کرتے ہیں۔ بہرحال استوا علی العرش سے مراد ہے قدرت شاملہ سے۔ پھر لفظ ثم بھی ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ کے حالات بدلتے نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے اللہ کس حال میں تھا پھر کسی دوسرے حال میں ہوگیا۔ یہ معنوی ترتیب ہے کہ اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اور جب سے پیدا کیا وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے یعنی بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ پیدا پلے کیا اور قبضہ قدرت میں بعد میں ہوا اور نہ ایسا کوئی زمانہ نہ تھا کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں نہ ہو۔ اس بےقید قبضہ قدرت کے بیان کے بعد اب لوگوں سے کہا جاتا ہے۔ ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع (32: 4) ” اس کی مانند نہ تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا ہے “۔ کہاں اور کون سفارشی ہوسکتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ عرش پر متمکن ہوں اور زمین و آسمان سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں اور خالق ارض و سما بھی وہی ہو۔ تو اس کے سوا کوئی حامی ہوسکتا ہے اور اس کے سوا سفارش کرنے والا کون ہو سکتا ہے اور کون سفارشی اللہ کی سلطنت سے خارج ہوسکتا ہے۔ افلا تتذکرون (32: 4) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ یہ حقیقت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اللہ کا اقرار کرو ، اور اپنا رخ اسی کی طرف کر دو ۔ تخلیق اسی کی ہے وہی مکمل اختیارات رکھتا ہے ، وہی تدبیر کرتا ہے اور امور طے کرتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کی طرف بلند ہوتے ہیں ، قیامت میں بھی تمام معاملات اس کے سامنے پیش ہوں گے اور دنیا میں بھی تمام رپورٹیں اس کی طرف پہنچتی ہیں اس طویل دن میں جس کی مقدار اس کو معلوم ہے۔ یدبر الامر ۔۔۔۔۔ مما تعدون (32: 5) ” وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے “۔ قرآن کا انداز تعبیر اللہ کے تدبیر کائنات کے وسیع تر میدان کی خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ من السمآء الی الارض (32: 5) ” آسمانوں سے زمین تک “۔ اس سے انسانی ذہن کے اندر بات بٹھانا مقصود ہے یعنی ان الفاظ میں جن کا تصور ذہن انسانی کرسکتا ہے تاکہ دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ ورنہ اللہ کی تدبیر کائنات کا دائرہ زمین اور آسمان سے بہت ہی وسیع ہے۔ لیکن انسانی احساس اور شعور کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس کائنات کے سامنے کھڑا ہے اور اپنے شعور اور مشاہدے کی حد تک اللہ کی وسعت تدبیر کا تصور کر رہا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی وسعت تدبیر ہمارے تصور اور ہمارے ان شماریات سے بھی وسیع ہے جو ہمارے استعمال میں ہیں۔ پھر اللہ کی تمام تدابیر اور اللہ کی تمام تقدیرات کی رپورٹ میں ان کے نتائج اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور یہ روئیدادا سے پورے عواقب و نتائج کے ساتھ ، تمام اعمال ، اموال اور افعال کے ساتھ ، اشیاء اور زندوں اور تمام مواد کائنات کے بارے میں ایک دن اٹھائی جاتی۔ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال ہمارے شماریات کے مطابق ہے۔ غرض اس کائنات کی کوئی چیز یونہی نہیں چھوڑ دی جاتی ہے ، نہ کسی چیز کو ۔۔ پیدا کیا گیا ہے بلکہ ایک مقررہ وقت تک تمام چیزوں کی تدبیر کی گئی ہے۔ ہر شے ، ہر معاملہ ، ہر نتیجہ اور ہر واقعہ اللہ کے تحت ہے اور اس کی روئیداد اللہ کے ہاں پہنچتی ہے جس طرح وہ طلب کرتا ہے۔ ذلک علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم (32: 6) ” وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ، زبردست اور رحیم “۔ یعنی یہ آسمان اور زمین کی تخلیق اور یہ استواء علی العرش اور آسمانوں سے زمین تک تمام امور کا انتظام ۔ یہ ہے اللہ عالم الغیب اور عالم مشاہدہ کا جاننے والا ، وہی خالق ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور زبردست اور رحیم ہے۔ قدرت رکھنے والا ہے ، اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے برتاؤ میں مخلوقات کے ساتھ رحم کرنے والا ہے۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جو چیز بھی اس نے بنائی خوب بنائی “۔ کیا شان ہے اللہ کی ! بیشک یہ حق ہے ، فطرت اسے دیکھ رہی ہے ، آنکھیں دیکھ رہی ہیں ، دل اسے دیکھ رہا ہے اور عقل اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ یہ حق جو اشیاء کی شکل میں بھی ہے۔ ان کے فرائض میں بھی ہے ، ان کی طبیعت اور ان کی ہم آہنگی میں بھی ہے۔ ان کی ہیئت میں بھی ہے اور ان کی شکل میں بھی ہے۔ بہرحال جو چیز بھی حسن اور احسان سے متعلق ہے وہ اس مخلوقات میں موجود ہے۔ سبحان اللہ ! یہ ہے اللہ کی کاریگری تمام اشیائ میں۔ اس کے دست قدرت کے کمالات تمام اشیاء میں موجود ہیں۔ جو چیز بھی اللہ نے بنائی ہے وہ حسین اور مکمل ہے۔ نہ حد سے آگے ہے اور نہ اس میں کوئی قصور ہے۔ حسن سے زیادہ نہ کم۔ نہ افراط ہے نہ تفریط۔ حجم کے اعتبار سے ، شکل کے لحاظ سے اور مقاصد اور مفاد کے زاویہ سے۔ ہر چیز ایک متعین قدر کے ساتھ ہے۔ نہ حد حسن و جمال سے کم یا زیادہ ہے۔ اپنے وقت سے نہ پہلے آتی ہے ، نہ بعد میں۔ نہ اپنی حد سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے رہتی ہے۔ ذرے سے کے کر بڑے سے بڑے اجسام تک میں حسن ملحوظ ہے۔ سادہ خلیے سے لے کر پیچیدہ ترین ذی حیات اشیاء تک ہر چیز حسین اور موزوں ہے۔ اسی طرح ، اعمال ، اطوار ، واقعات اور حرکات سب کے سب مقدر ہیں۔ سب اللہ کی تخلیق ہیں اور ہر واقعہ اور ہر حادثہ اپنے مقرر معیار کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقررہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ، اور یہ اس منصوبے اور نقشے کے مطابق ہوتا ہے جو ازل میں اللہ نے تیار کیا ہے اور ابد تک ایسا ہی تدبیر الٰہی کے مطابق ہوتا رہے گا۔ ہر چیز اور ہر مخلوق اس لیے بنائی گئی ہے کہ وہ اپنا مقرر اور متعین فریضہ ادا کرے اور اس فریضے کا تعین نہایت دقیق وزن کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ اس چیز کے تمام فرائض اس کے اندر رکھ دئیے گئے ہیں اور ان خواص کی وجہ سے وہ اپنا فریضہ منصبی پورا کرتی ہے اور اس کے لیے پوری طرح اہل ہے۔ یہ خلیہ جو متعدد مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ کیڑا رینگ رہا ہے اور جس کے پاؤں اور بال و پر ہیں۔ یہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس زمین پر اپنے لیے راستہ نکالے۔ یہ اپنا کام احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یہ پرندہ ، یہ حیوان ، اور یہ انسان ، یہ کواکب ، یہ ستارے ، یہ سیارے ، یہ افلاک اور جہاں اور یہ جہانوں کے جہاں ، یہ کر ات اور ان کے دورے اور گردشیں ، متعین اور مقرر ، عجیب اور مضبوط اور نہایت ہی وقت کے ساتھ متعین وقت کے حامل۔ دائمی طور پر متحرک۔ غرض اس کائنات کی جس چیز کو دیکھو چھوٹی یا بڑی ہر چیز حسین و جمیل ہے۔ اس کے حسن و جمال میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہر کھلی آنکھ ، ہر حساس انسان ، اور ہر صاحب بصیرت شخص اس حسن اور احسان کو دیکھ سکتا ہے جو اس کائنات کی مجموعی شکل میں بھی ہے اور اس کی ایک ایک چیز میں بھی ہے۔ جب قلب و نظر اور ذہن و خیال متوجہ ہوں تو انسان اس جہان میں حسن و جمال اور صفت و کمال کے بڑے بڑے ذخائر دریافت کرسکتا ہے۔ اس حسن و جمال اور اس تدبر و کمال کے نریجے میں ہر طرف سے انسان کے لیے خیر اور برکات جمع ہوتے ہیں۔ مثلاً نہایت ہی خوشگوار پھل اور وہ روحانی ذوق و شوق جس سے کاسہ دل بھی جاتا ہے اور اس طرح انسان اس ربانی میلے میں اور اس خدائی جشن میں جدھر دیکھے ، حسن و جمال ہی نظر آئے۔ جس چیز کا مطالعہ کرے وہ بدیع الجمال اور انتہائے کمال پر نظر آئے۔ اس طرح اس جہان فانی کے زائل ہونے والے اس حسن و جمال سے آگے بڑھ کر عالم آخرت کے دائمی حسن و جمال اور لازوال کمال تک پہنچ سکتا ہے جو صفت الٰہی میں ہے اور جس کا تصور بھی کسی دل میں نہیں آیا۔ انسان ان انعامات اور حسن و جمال اور وقت و کمال کو اس وقت دیکھ سکتا ہے جب انسان ایک عادی اور معمولی اور روٹین کے مناظر کو ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے۔ یہ اس وقت ہی اسے پا سکتا ہے جب وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی گھنٹیوں کو سنے۔ فطرت کے اشارات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ جب وہ اس جہاں کو نور ربانی کے ساتھ دیکھے۔ جب وہ ان کو ربانی نور کے ساتھ دیکھے گا تو پھر اس کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز کے اندر کیسا حسن و جمال ہے اور ہر چیز کی صنفت میں انوکھا پن کیا ہے اور یہ حسن اسے اس وقت نظر آئے گا جب وہ ہر حسین چیز کو دیکھ کر اللہ کو یاد کرے اور سبحان اللہ کہے۔ یوں اس کا تعلق خالق کائنات سے پیدا ہوگا۔ یوں اس کا شعور جمال تک پہنچ جائے گا کیونکہ مخلوقات کے کمال و جمال سے انسان اللہ کے کمال و جمال تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کائنات جمیل ہے اور اس کا جمال ختم نہیں ہوت اور انسان اس جمال کے ادراک میں روز بروز ترقی کرتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کا یہ فائدہ غیر محدود ہے۔ وہ جس قدر چاہے اس فائدے کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ جہاں تک بدیع السموات انسان کے لیے مقدر کرتا ہے اور موقع دیتا ہے۔ پھر اس مخلوق میں خوبصورتی کا عنصر مقصود بالذات ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو خوبصورت بنایا ہے کیونکہ جب کسی بنائی ہوئی چیز کو خوبصور اور اچھا بتایا جاتا ہے تو وہ اپنا فرض منصبی یا ڈیوٹی بہت اچھی طرح ادا کرتی ہے۔ یوں مصنوعات کی عمدگی کو بڑھا کر کمال تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ اس کائنات کی خوبصورتی اس کے ہر جزء سے ظاہر ہے اور مخلوقات کی ہر قسم سے عیاں ہے۔ ذرا اس کھجور کو دیکھئے ذرا کسی ایک پھول کو دیکھئے ، ذرا ایک چھوٹے سے چھوٹے ستارے کو دیکھئے ، ذرا رات کو دیکھئے اور پھر دن کو دیکھئے ، چھاؤں اور بادلوں کو دیکھئے ، اس پورے وجود کے اندر جاری وساری نغمہ سرائی کو دیکھئے اور غایت درجہ کی ہم آہنگی ، ہمداری اور حرکت کو دیکھئے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ یہ ایک سیاحت ہے اور اس خوبصورت وجود اور نہایت ہی خوبصورت اور انوکھی کائنات میں ایک تفریح ہے اور مخلوقات کا مطالعاتی سفر ہے۔ قرآن کریم ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتا ہے اور ہدایت کرتا ہے کہ اس سے لطف اٹھاؤ۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جس نے ہر چیز کو خوبصورت تخلیق بخشی “۔ اس ہدایت سے انسان اس کائنات میں حسن و جمال کے نکات تلاش کرتا ہے۔ اور لطف اٹھاتا ہے۔ وبدا خلق الانسان من طین (32: 7) ” اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق گارے سے کی۔ انداز تعبیر سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کا آغاز گارے سے تھا۔ یعنی انسان کی ابتدائی شکل مٹی کے گارے کی سی تھے۔ اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ گارے سے انسان تک کتنے مراحل سے انسان گزرا یاکتنا زمانہ اس میں لگا۔ اس معاملے میں قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً جب ہم اس آیت کو سورة المومنون کی آیت سے ملا کر پڑھیں۔ خلق الانسان من سلالۃ من طین ” انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا “۔ لہٰذا یہ کہنا ممکن ہے کہ انسان کی تخلیق ایسے مراحل سے گزری ہے جس کا اصل مٹی تک جا پہنچتا ہے۔ اس سے مراد وہ خلیہ بھی ہو سکتا ہے جو اس زمین میں پیدا کیا گیا اور یہ خلیہ مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ اور نفخ حیات اور نفخ روح سے وہ خالق مٹی تھا اور یہی وہ راز ہے جس تک آج تک انسان نہیں پہنچ سکا۔ نہ انسان یہ معلوم کرسکا ہے کہ یہ زندگی کیا ہے اور نہ یہ معلوم کرسکا ہے کہ اس خلیے میں روح کیسے داخل ہوئی اور اس خلیے سے بھی انسان کیسے پیدا کیا گیا۔ قرآن کریم نے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ یہ پورا عمل کیسے انجام تک پہنچا اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس پر کس قدر وقت لگا۔ اس تحقیق کیلئے اللہ نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جس طرح چاہے فیصلہ کرے اور اس قسم کی تحقیقات نص قرآن کے خلاف نہیں ہیں۔ نص قرآنی میں صرف یہ ہے کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے یا مٹی کے ست سے ہوئی ہے۔ یہ ہے وہ موقف جس میں قرآن مجید جو قاطع ہے اپنی جگہ رہتا ہے۔ اور سائنسی تحقیقات بھی اپنے مقام پر رہتی ہیں۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ صراحت کردی جائے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا کہ تمام حیوانات ایک ہی خلیے سے ارتقاء کرکے مختلف انواع کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور خود انسان بھی بند کی ترقی یافتہ شکل ہے اور یہ کہ انسان اور اعلیٰ قسم کے بندر کے درمیان ارتقائی مراحل کے انواع موجود رہے ہیں۔ یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ نیز ڈارون کو وراثتی خصوصیات (جینز) کا علم ہی نہ تھا۔ لیکن جینز کی دریافت کے بعد تو یہ طے ہوگیا ہے کہ ایک نوع کا دوسرے نوع میں منتقل ہونا محال ہوگیا ہے۔ ہر خلیے یعنی نوع حیوان کے خلیے کے اندر جینز ہیں جو اسے اپنی نوع بدلنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ یہ جینز اپنی صورت نوعیہ کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ۔ لہٰذا بلی جس خلیے سے پیدا کی گئی وہ بلی ہی رہی ہے اور اس کی صورت نوعیہ میں کسی مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کتا ، کتا رہا ہے ، بیل ، بیل رہا ہے ، گھوڑا ہمیشہ گھوڑا رہا ہے ، بندر ہمیشہ بندر رہا ہے اور انسان ہمیشہ انسان رہا ہے۔ جو چیز ممکن ہے وہ یہ ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کے اندر ترقی کرے یا زوال پذیر ہو۔ بہرحال ممکن ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کو کر اس کرکے دوسری نوع میں داخل ہوجائے۔ یہ وہ بات ہے جو ڈارون کے نظریہ کی حقیقت ہی باطل کر رہی ہے۔ بہرحال یہ لوگ سائنس کے نام پر خود اپنے نظریات گھڑتے ہیں ، ان پر یقین کرتے ہیں لیکن یہ نظریات کسی دن جا کر باطل ہوجاتے ہیں۔ ثم جعل نسلہ من سللۃ من مآء مھین (32: 8) ” پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے یعنی نطفے کے پانی سے جو جنین کے ارتقاء کی پہلی شکل ہے کہ وہ ایک نقطے سے ایک لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر وہ گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ مکمل جنین بن جاتا ہے۔ یہ پانی کا ست اور اس کا ارتقاء ہے۔ یہ نقطہ جو اس حقیر پانی میں ہوتا ، جس طرح یہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور جس طرح آج کل ایک وجیب جہان ہے اور اس حقیر پانی کے ست میں ایک دوسرے نقطے کو دیکھو اور پھر اس مکمل انسان کو دیکھو کہاں سے کہاں تک آگیا اور کیا سے کیا کچھ بن گیا۔ قرآن کریم اس عظیم تغیر و ارتقاء کو اس طرح ایک ہی آیت میں بیان کردیتا ہے۔ ثم سوہ ونفخ فیہ ۔۔۔۔۔۔ والابصار والافئدۃ (32: 9) ” پھر اس نے اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور تم کو کون دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ سبحان اللہ یہ کس قدر عظیم ارتقائی سفر ہے انسان کا۔ کن کن مشکل حالات سے یہ انسان گزرا ہے۔ کس قدر عظیم معجزہ ہے خود انسان کی تخلیق لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ انسان کو دیکھو اور اس معتبر نطفے کے پانی کے اندر اس نکتے کو دیکھو۔ اگر دست قدرت اس معجزانہ عمل کو تکمیل تک نہ پہنچائے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس نہایت ہی چھوٹے نکتے کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ان دشوار گزار مراحل اور راستوں سے گزر کر انسان کی شکل اختیار کرلے۔ اس چھوٹے سے نقطے اور اس خلیے کے اندر کس قدر تقسیم ہوتی ہے اور کس قدر کثرت ہوتی ہے۔ یہ بڑھتا بھی جاتا ہے اور تقسیم بھی ہوتا جاتا ہے۔ اس سے مزید مختلف قسم کے خلیے بنتے جاتے ہیں۔ یہ خلیے پھر باہم متضاد ہوتے ہیں ۔ یہ بڑھتے جاتے ہیں۔ پھر اس انسان کے ہر ہر عضو کے اپنے خلیے ہوتے ہیں ، جن کی مخصوص نوعیت ہوتی ہے اور ان کے پھر مزید اجزاء ہوتے ہیں اور ہر جزء کا اپنا وظیفہ ہوتا ہے۔ ایک ہی عضو کے اندر کئی قسم کے خلیے بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہ پہلا خلیہ کس طرح اس قدرو کثرت میں آجاتا ہے ، پھر اس کے اندر نوعیت کے اعتبار سے یہ تقسیم کس طرح ہوجاتی ہے ، پھر اس ایک ہی ابتدائی نکتے اور خلیے سے خلیات کا عظیم مجموعہ کس طرح بن جاتا ہے۔ پھر ان خلیات کے اندر انسان خصوصیات کہاں چھپی تھیں۔ پھر یہ جنین کے اندر مخصوص صلاحیتیں کہاں سے آجاتی ہیں۔ ہر خلیے کے لیے متعین فریضہ کس طرح قائم ہوجاتا ہے۔ اور ہر ایک کی خصوصیات دوسرے سے جدا کس طرح ہوجاتی ہیں۔ کون ہے جو اس قسم کے معجزے کے صادر ہونے کا یقین کرتا اگر عملاً یہ معجزہ روز ہمارے سامنے وجود میں نہ آتا۔ یہ اللہ کا دست قدرت ہی ہے جس نے انسان کو اس طرح برابر کیا اور درست کیا اور پھر یہ اللہ کی جانب سے انسان کے اندر روح پھونکنے کا عمل ہے جو انسان کو انسان بنا دیتا ہے۔ یہی ایک معقول تشریح ہے اس معجزے کی جو ہر سکینڈ میں واقع ہو رہا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ اسے غافل ہیں۔ یہ اللہ کا نفخ روح ہے جس کی وجہ سے انسان انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر سننے اور سیکھنے کی قوت آجاتی ہے اور اس سمع و بصر ہی کی وجہ سے تمام عضویاتی حیوانات سے انسان مختلف اور ممتاز ہوتا ہے۔ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ (32: 9) ” تم کو کان دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ یہ وہ معجزہ ہے جو ہمارے سامنے ہر سیکنڈ میں رونما ہوتا ہے۔ اس کی تشریح اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی جانب سے نفخ روح ہے ورنہ عقل انسانی اس اتھاہ سمندر میں غوطے کھاتی رہتی اور قیامت تک وہ اس کی تشریح نہ کرسکتی ۔ اس کے علاوہ یہ اللہ کے فضل و کرم کا فیضان ہے اور یہ اللہ کا فضل ہی ہے جو اس حقیر پانی کے ایک نکتے سے انسان بنا دیتا ہے۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو اس ایک حقیر خلیے کے اندر ارتقاء اور نمو کی وہ خصوصیات رکھ دیتا ہے کہ وہ ، تبدیلیوں سے ہوتے ہوئے اور اپنے اندر مزید خصوصیات لیتے ہوئے انسان کی شکل میں پہنچ گیا۔ جس کے اندر ایسی خصوصیات پیدا ہوگئیں کہ انسان تمام دوسرے حیوانات میں ممتاز ہوگیا۔ لوگ ہیں کہ اللہ کے اس فضل و کرم کا کوئی شکر ادا نہیں کرتے۔ قلیلا ما تشکرون (32: 9) انسان کی پیدائش ، اس کے مختلف مراحل اور ان سے اس کا عجیب انداز سے گزرنا اور ہر وقت اس عظیم معجزے کا صادر ہونا اور اس معجزے کا ہمارے سامنے بار بار دہرایا جانا ، ان امور کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ انسان جب مر کر پھر مٹی بن گیا اور زمین کی دوسری مٹی میں مل گیا تو حشر و نشر کیسے ہوگا۔ اس بیان کے بعد یہ شک اور یہ اغراض بجائے خود عجیب اور احمقانہ نظر آتے ہیں۔

السجدة 32:10

وقالوا ءاذا ضللنا ۔۔۔۔۔ ربھم کفرون (10) یہ لوگ کہتے تھے کہ مرنے اور دفن کرنے کے بعد اور اجسام کے مٹی ہوکر مٹی میں رل مل جانے کے بعد یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہمیں از سر نو پیدا کردیا جائے جبکہ ہمارے ذرات دوسرے ذرات میں مل کر ناپید اور گم ہوجائیں گے۔ جب انسان کی تخلیق اول پر غور کیا جائے تو اللہ کے لیے اس کا دوبارہ تحقق کرنا کوئی عجیب و غریب چیز نہیں ہے۔ آغاز میں اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور یہ مٹی اس زمین سے تھی جس میں وہ اپنی ذات کو گم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری پیدائش بھی تو پہلی پیدائش ہی کی طرح ہے۔ اس میں کوئی عجیب و غریب بات تو نظر نہیں آتی۔ اصل بات یہ ہے۔ بل ھم بلقای ربھم کفرون (32: 10) ” کہ یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں “۔ اس وجہ سے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ کے سامنے حاضری کا یہ انکار ہی ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ اس قسم کے واضح معاملے میں اپنے اوپر شک طاری کرتے ہیں ، یہ معاملہ ایسا ہے جو ایک بار ہوچکا ہے اور اس قسم کے واقعات و معجزات ہر لحظ ہوتے رہتے ہیں۔ تاکید ان کی وفات اور اللہ کی طرف لوٹ آنے کی تاکید کی جاتی ہے اور دلیل وہی ہے جو اس سے پہلے دی گئی ہے۔

السجدة 32:11

قل یتوفکم ۔۔۔۔۔ ربکم ترجعون (11) یہ ایک یقینی اطلاع کی صورت میں بتا دیا جاتا ہے۔ ملک الموت کون ہے اور وہ انسانوں کو پورا پورا اپنے قبضے میں کسی طرح لے لیتا ہے یہ اللہ کے غیبی نوشتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بارے میں اللہ نے ہمیں یہ اطلاع دے دی ہے کہ وہ لوگوں کو پورے کا پورا قبضے میں لے لیتا ہے اور پھر قیامت میں پیش کر دے گا۔ ہمیں اس پر یقین کرنا چاہئے اور زیادہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہئے۔ یقین اسلئے کہ یہ اللہ کے سچے ذریعے سے اطلاع مل گئی ہے۔ موت کے بعد جی اٹھنے کے مسئلے کی مناسبت سے جس میں وہ شک کرتے تھے یا شک کرنا چاہتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے سامنے کھڑا کردیتے ہیں۔ یہ ایک زندہ و تابندہ منظر ہے۔ حرکات اور مکالمات سے بھرپور۔ یوں کہ گویا ابھی یہ واقعہ ہو رہا ہے۔

السجدة 32:12

ولو تری اذ المجرمون ۔۔۔۔۔۔ بما کنتم تعلمون (12 – 14) یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں منکرین قیامت نہایت ہی شرمندگی کے ساتھ اعتراف کر رہے ہیں۔ اب وہ اس سچائی کو مان رہے ہیں جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ وہ یہ درخواست کریں گے کہ ہمیں ایک بار پھر زمین پر لوٹا دیا جائے اور وہ اب کی بار اس کمی کو پورا کردیں گے جو پہلی بار ہوگئی۔ یہاں شرمندگی کی وجہ سے وہ سرنگوں کھڑے ہوں گے۔ اب یہ لوگ اپنے اس رب کے پاس (عند ربھم) ہوں گے جس کے پاس حاضر ہونے کا وہ انکار کرتے تھے۔ لیکن ان کی یہ سب باتیں بعد از وقت ہوں گی اور اب اعتراف اور اعلان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ قبل اس کے کہ ان کی اس شرمندگی پر کوئی تبصرہ کیا جائے ، یہ بتا دیا جاتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں فیصلہ کن قوت کون سی ہے اور وہ کون سی قوت ہے جو لوگوں کے آخری انجام کا فیصلہ کرنے والی ہے۔ ولو شئنا لاتینا ۔۔۔۔۔ والناس اجمعین (32: 13) ” اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا “۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی راہ پر ڈال دیتا۔ اور یہ تھا طریقہ ہدایت ، جس طرح اس مخلوقات کا طریقہ ایک ہے جو الہام فطرت کے مطابق زندگی بسر کرتی ہے اور وہ پوری زندگی ایک ہی طرح سے گزارتی ہے جیسے حشرات الارض پرندے اور زمین پر چلنے والے جانور یا وہ مخلوق جو اطاعت شعار ہے مثلاً فرشتے ، لیکن اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ انسانوں کا ایک خاص مزاج اور ماہیت ہو۔ اس کے اختیار میں ہو کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا ضلالت اختیار کرے اور وہ اپنی اس مخصوص طبیعت کے ساتھ اس جہاں میں ایک مخصوص کردار ادا کرے جس کے لئے اللہ نے اسے اس کرہ ارض پر بھیجا ہے اور ایک منصوبے کے مطابق بھیجا ہے۔ چناچہ اس منصوبے کے تقاضے کے طور پر اللہ نے لکھ دیا کہ جنوں اور انسانوں سے وہ جہنم کو بھر دے گا ان لوگوں سے جو جنوں اور انسانوں میں سے ضلالت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ جس راہ کا انجام جہنم ہے۔ یہ لوگ جو اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش کیے گئے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اختیار اور خوشی سے جہنم کی راہ اختیار کی۔ اب وہ اللہ کے سامنے سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے : فذوقوا بما نسیتم لقآء یومکم ھذا (32: 14) ” اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا “۔ یہ ہے تمہارا دن جو حاضر کیونکہ اس منظر میں ہم اسے حاضر دیکھ رہے ہیں۔ تم نے چونکہ اس دن کو بھلا دیا تھا۔ اب اس کا مزہ چکھو۔ تمہارے پاس کافی وقت تھا مگر تم نے اس کے لئے تیاری نہ کی۔ ان نسینکم (32: 14) ” ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا ہے “۔ اللہ تو کسی کو نہیں بھلاتا۔ لیکن ان کے ساتھ معاملہ اس طرح کرتا ہے کہ گویا وہ نسیا منسیا کر دئیے گئے ہیں۔ یہ ایسا سلوک ہے جس میں انہیں توہین آمیز انداز میں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون (32: 14) ” چکھو ، اب ہمیشگی کے عذاب کا مزہ اپنے کرتوتوں کی پاداش میں “۔ اب اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے۔ فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور مجرموں کو ان کے برے انجام میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ منظر قرآن کے پڑھنے والے کے پردہ فکر پر یوں نقش ہوتا ہے کہ گویا اب یہ لوگ وہاں اسی حال میں چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ تو وہ وہاں ہی کھڑے ہیں جہاں چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ یہ ہے قرآن کی اندر کی تصویر کشی۔ اب اس مشاہدہ و منظر پر پردہ گرتا ہے اور ایک دوسرا منظر سامنے آتا ہے ، اس دوسرے منظر کا ماحول اور فضا مختلف ہے۔ یہ ایک دوسری ہی عطر آمیز اور فرحت بخش فضا ہے جس میں دل اڑا جا رہا ہے ، یہ مومنین کا منظر ہے۔ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرتے ہیں ، نہایت یکسوئی سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، وہ اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اس حال میں کہ ان کے دل کے اندر خدا کا خوف بیٹھا ہے۔ ان کے دل کانپ رہے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے فضل و کرم کی امیدیں لیے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے رب ذوالجلال نے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔

السجدة 32:13

ولو تری اذ المجرمون ۔۔۔۔۔۔ بما کنتم تعلمون (12 – 14) یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں منکرین قیامت نہایت ہی شرمندگی کے ساتھ اعتراف کر رہے ہیں۔ اب وہ اس سچائی کو مان رہے ہیں جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ وہ یہ درخواست کریں گے کہ ہمیں ایک بار پھر زمین پر لوٹا دیا جائے اور وہ اب کی بار اس کمی کو پورا کردیں گے جو پہلی بار ہوگئی۔ یہاں شرمندگی کی وجہ سے وہ سرنگوں کھڑے ہوں گے۔ اب یہ لوگ اپنے اس رب کے پاس (عند ربھم) ہوں گے جس کے پاس حاضر ہونے کا وہ انکار کرتے تھے۔ لیکن ان کی یہ سب باتیں بعد از وقت ہوں گی اور اب اعتراف اور اعلان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ قبل اس کے کہ ان کی اس شرمندگی پر کوئی تبصرہ کیا جائے ، یہ بتا دیا جاتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں فیصلہ کن قوت کون سی ہے اور وہ کون سی قوت ہے جو لوگوں کے آخری انجام کا فیصلہ کرنے والی ہے۔ ولو شئنا لاتینا ۔۔۔۔۔ والناس اجمعین (32: 13) ” اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا “۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی راہ پر ڈال دیتا۔ اور یہ تھا طریقہ ہدایت ، جس طرح اس مخلوقات کا طریقہ ایک ہے جو الہام فطرت کے مطابق زندگی بسر کرتی ہے اور وہ پوری زندگی ایک ہی طرح سے گزارتی ہے جیسے حشرات الارض پرندے اور زمین پر چلنے والے جانور یا وہ مخلوق جو اطاعت شعار ہے مثلاً فرشتے ، لیکن اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ انسانوں کا ایک خاص مزاج اور ماہیت ہو۔ اس کے اختیار میں ہو کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا ضلالت اختیار کرے اور وہ اپنی اس مخصوص طبیعت کے ساتھ اس جہاں میں ایک مخصوص کردار ادا کرے جس کے لئے اللہ نے اسے اس کرہ ارض پر بھیجا ہے اور ایک منصوبے کے مطابق بھیجا ہے۔ چناچہ اس منصوبے کے تقاضے کے طور پر اللہ نے لکھ دیا کہ جنوں اور انسانوں سے وہ جہنم کو بھر دے گا ان لوگوں سے جو جنوں اور انسانوں میں سے ضلالت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ جس راہ کا انجام جہنم ہے۔ یہ لوگ جو اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش کیے گئے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اختیار اور خوشی سے جہنم کی راہ اختیار کی۔ اب وہ اللہ کے سامنے سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے : فذوقوا بما نسیتم لقآء یومکم ھذا (32: 14) ” اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا “۔ یہ ہے تمہارا دن جو حاضر کیونکہ اس منظر میں ہم اسے حاضر دیکھ رہے ہیں۔ تم نے چونکہ اس دن کو بھلا دیا تھا۔ اب اس کا مزہ چکھو۔ تمہارے پاس کافی وقت تھا مگر تم نے اس کے لئے تیاری نہ کی۔ ان نسینکم (32: 14) ” ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا ہے “۔ اللہ تو کسی کو نہیں بھلاتا۔ لیکن ان کے ساتھ معاملہ اس طرح کرتا ہے کہ گویا وہ نسیا منسیا کر دئیے گئے ہیں۔ یہ ایسا سلوک ہے جس میں انہیں توہین آمیز انداز میں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون (32: 14) ” چکھو ، اب ہمیشگی کے عذاب کا مزہ اپنے کرتوتوں کی پاداش میں “۔ اب اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے۔ فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور مجرموں کو ان کے برے انجام میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ منظر قرآن کے پڑھنے والے کے پردہ فکر پر یوں نقش ہوتا ہے کہ گویا اب یہ لوگ وہاں اسی حال میں چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ تو وہ وہاں ہی کھڑے ہیں جہاں چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ یہ ہے قرآن کی اندر کی تصویر کشی۔ اب اس مشاہدہ و منظر پر پردہ گرتا ہے اور ایک دوسرا منظر سامنے آتا ہے ، اس دوسرے منظر کا ماحول اور فضا مختلف ہے۔ یہ ایک دوسری ہی عطر آمیز اور فرحت بخش فضا ہے جس میں دل اڑا جا رہا ہے ، یہ مومنین کا منظر ہے۔ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرتے ہیں ، نہایت یکسوئی سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، وہ اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اس حال میں کہ ان کے دل کے اندر خدا کا خوف بیٹھا ہے۔ ان کے دل کانپ رہے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے فضل و کرم کی امیدیں لیے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے رب ذوالجلال نے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔

السجدة 32:14

ولو تری اذ المجرمون ۔۔۔۔۔۔ بما کنتم تعلمون (12 – 14) یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں منکرین قیامت نہایت ہی شرمندگی کے ساتھ اعتراف کر رہے ہیں۔ اب وہ اس سچائی کو مان رہے ہیں جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ وہ یہ درخواست کریں گے کہ ہمیں ایک بار پھر زمین پر لوٹا دیا جائے اور وہ اب کی بار اس کمی کو پورا کردیں گے جو پہلی بار ہوگئی۔ یہاں شرمندگی کی وجہ سے وہ سرنگوں کھڑے ہوں گے۔ اب یہ لوگ اپنے اس رب کے پاس (عند ربھم) ہوں گے جس کے پاس حاضر ہونے کا وہ انکار کرتے تھے۔ لیکن ان کی یہ سب باتیں بعد از وقت ہوں گی اور اب اعتراف اور اعلان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ قبل اس کے کہ ان کی اس شرمندگی پر کوئی تبصرہ کیا جائے ، یہ بتا دیا جاتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں فیصلہ کن قوت کون سی ہے اور وہ کون سی قوت ہے جو لوگوں کے آخری انجام کا فیصلہ کرنے والی ہے۔ ولو شئنا لاتینا ۔۔۔۔۔ والناس اجمعین (32: 13) ” اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا “۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی راہ پر ڈال دیتا۔ اور یہ تھا طریقہ ہدایت ، جس طرح اس مخلوقات کا طریقہ ایک ہے جو الہام فطرت کے مطابق زندگی بسر کرتی ہے اور وہ پوری زندگی ایک ہی طرح سے گزارتی ہے جیسے حشرات الارض پرندے اور زمین پر چلنے والے جانور یا وہ مخلوق جو اطاعت شعار ہے مثلاً فرشتے ، لیکن اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ انسانوں کا ایک خاص مزاج اور ماہیت ہو۔ اس کے اختیار میں ہو کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا ضلالت اختیار کرے اور وہ اپنی اس مخصوص طبیعت کے ساتھ اس جہاں میں ایک مخصوص کردار ادا کرے جس کے لئے اللہ نے اسے اس کرہ ارض پر بھیجا ہے اور ایک منصوبے کے مطابق بھیجا ہے۔ چناچہ اس منصوبے کے تقاضے کے طور پر اللہ نے لکھ دیا کہ جنوں اور انسانوں سے وہ جہنم کو بھر دے گا ان لوگوں سے جو جنوں اور انسانوں میں سے ضلالت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ جس راہ کا انجام جہنم ہے۔ یہ لوگ جو اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش کیے گئے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اختیار اور خوشی سے جہنم کی راہ اختیار کی۔ اب وہ اللہ کے سامنے سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے : فذوقوا بما نسیتم لقآء یومکم ھذا (32: 14) ” اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا “۔ یہ ہے تمہارا دن جو حاضر کیونکہ اس منظر میں ہم اسے حاضر دیکھ رہے ہیں۔ تم نے چونکہ اس دن کو بھلا دیا تھا۔ اب اس کا مزہ چکھو۔ تمہارے پاس کافی وقت تھا مگر تم نے اس کے لئے تیاری نہ کی۔ ان نسینکم (32: 14) ” ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا ہے “۔ اللہ تو کسی کو نہیں بھلاتا۔ لیکن ان کے ساتھ معاملہ اس طرح کرتا ہے کہ گویا وہ نسیا منسیا کر دئیے گئے ہیں۔ یہ ایسا سلوک ہے جس میں انہیں توہین آمیز انداز میں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون (32: 14) ” چکھو ، اب ہمیشگی کے عذاب کا مزہ اپنے کرتوتوں کی پاداش میں “۔ اب اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے۔ فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور مجرموں کو ان کے برے انجام میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ منظر قرآن کے پڑھنے والے کے پردہ فکر پر یوں نقش ہوتا ہے کہ گویا اب یہ لوگ وہاں اسی حال میں چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ تو وہ وہاں ہی کھڑے ہیں جہاں چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ یہ ہے قرآن کی اندر کی تصویر کشی۔ اب اس مشاہدہ و منظر پر پردہ گرتا ہے اور ایک دوسرا منظر سامنے آتا ہے ، اس دوسرے منظر کا ماحول اور فضا مختلف ہے۔ یہ ایک دوسری ہی عطر آمیز اور فرحت بخش فضا ہے جس میں دل اڑا جا رہا ہے ، یہ مومنین کا منظر ہے۔ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرتے ہیں ، نہایت یکسوئی سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، وہ اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اس حال میں کہ ان کے دل کے اندر خدا کا خوف بیٹھا ہے۔ ان کے دل کانپ رہے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے فضل و کرم کی امیدیں لیے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے رب ذوالجلال نے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔

السجدة 32:15

انما یؤمن بایتنا ۔۔۔۔۔ جزاء بما کانوا یعملون (15 – 17) پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزاء میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے “۔ یہ اہل ایمان کی نہایت ہی خوبصورت اور روشن تصویر ہے۔ یہ نہایت ہی لطیف اور شفاف اور حساس لوگ ہیں۔ ان کے دل خوف خدا سے کانپتے ہیں اور وہ نہایت ہی پر امید انداز سے اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی بندگی کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ نہ وہ اللہ کے مقابلے میں بڑائی اور تکبر کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ہی دراصل اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے ہیں۔ یہ لوگ کی آیات کو تیز احساس ، بیدار دل اور روشن ضمیر کے ساتھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو اللہ کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو یہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ اذا ذکروا بھا خروا سجدا (32: 15) اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات سے بہت ہی متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کی باتیں سن کر اللہ اور اس کی آیات کی تعظیم کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں یہ احساس کرتے ہوئے کہ اللہ اور اس کی آیات کی عظمت کا اظہار صرف سجدہ ریز ہوکر ہی کیا جاسکتا ہے اور اپنی پیشانی کو خاک آلود کرنے ہی سے اس کا اظہار ہو سکتا ہے۔ وسبحوا بحمد ربھم (32: 15) ” اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں “۔ یعنی جسمانی اعتبار سے وہ سجدہ کرتے ہیں اور زبان کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں۔ وھم لا یستکبرون (32: 15) ” اور وہ تکبر نہیں کرتے “۔ کیونکہ وہ مطیع فرمان ہوکر ، اللہ کی طرف رجوع کرکے ، اللہ کی کبریائی کا شعور رکھتے ہوئے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اب ذرا ان کی جسمانی شکل و ہیئت کی تصویر دیکھئے ، انداز تعبیر اس طرح ہے کہ ان کی قلبی ، روحانی اور ذہنی کیفیت مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعا (32: 16) ” ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں۔ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں “۔ یہ لوگ رات کو نماز کے لیے اٹھتے ہیں یعنی عشاء کی آخری نماز کے لیے۔ وتروں کے لیے ، تہجد کے لیے اور رات کو دعاؤں کے لیے۔ لیکن قرآن نے ان امور کو اس انداز سے بیان کیا : ان کی پیٹھیں ان کے بستروں سے الگ رہتی ہیں۔ رات کے وقت بستروں کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے کہ انسان اس راحت ، آرام ، نیند اور دوسری لذتوں کو بڑی مشکل سے چھوڑتا ہے۔ لیکن ان کی پیٹھیں ، نرم بستروں ، آرام اور نیند اور عیش کے مقابلے میں دوسرا کام رکھتی ہیں۔ ان کا اپنے رب کے ساتھ کام ہوتا ہے۔ ان کو خیال ہوتا ہے کہ ان کو ایک دن رب کے ہاں حاضر ہونا ہے اور وہ خوف ورجاء کے درمیان اللہ کی طرف متوجہ ہیں۔ خوف ان کو اللہ کے عذاب کا ہوتا ہے اور امید اللہ کی رحمت کی ہوتی ہے۔ خوف اللہ کے غضب کا ہوتا ہے اور امید اللہ کی رضا مندی کی ہوتی ہے۔ خوف اللہ کی معصیت کا ہوتا ہے اور امید اس کی توفیق اطاعت کی ہوتی ہے۔ ان تمام امور کو قرآن کریم نے نہایت ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ نہایت ہی مجسم انداز میں۔ یدعون ربھم خوفا وطمعا (32: 16) ” اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں “۔ اس حساسیت اور کپکپی ، خضوع و خشوع کے ساتھ نماز اور گڑگڑا کر دعا کرنے کے علاوہ اپنی سوسائٹی کی بھلائی کے لیے بھی فکر مند ہوتے ہیں اور اللہ کو راضی کرتے ہوئے وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ ومما رزقنھم ینفقون (32: 16) ” اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں “۔ ان بلند ، روشن ، حساس اور مشفق صورتوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ بھی بہت مشفقانہ ہے اور نہایت ہی منفرد قسم کی جزاء ان کے لیے تیار ہے۔ وہ جزاء جس کے اندر ان کے لیے خاص مہربانی جھلکتی ہے۔ ان کے لیے ایک خاص اعزاز کا اعلان ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف سے ان پر کرم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بلند نفوس کے لئے خصوصی اور مخفی مہربانیاں اور تعلقات رکھتے ہیں۔

السجدة 32:16

انما یؤمن بایتنا ۔۔۔۔۔ جزاء بما کانوا یعملون (15 – 17) پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزاء میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے “۔ یہ اہل ایمان کی نہایت ہی خوبصورت اور روشن تصویر ہے۔ یہ نہایت ہی لطیف اور شفاف اور حساس لوگ ہیں۔ ان کے دل خوف خدا سے کانپتے ہیں اور وہ نہایت ہی پر امید انداز سے اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی بندگی کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ نہ وہ اللہ کے مقابلے میں بڑائی اور تکبر کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ہی دراصل اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے ہیں۔ یہ لوگ کی آیات کو تیز احساس ، بیدار دل اور روشن ضمیر کے ساتھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو اللہ کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو یہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ اذا ذکروا بھا خروا سجدا (32: 15) اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات سے بہت ہی متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کی باتیں سن کر اللہ اور اس کی آیات کی تعظیم کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں یہ احساس کرتے ہوئے کہ اللہ اور اس کی آیات کی عظمت کا اظہار صرف سجدہ ریز ہوکر ہی کیا جاسکتا ہے اور اپنی پیشانی کو خاک آلود کرنے ہی سے اس کا اظہار ہو سکتا ہے۔ وسبحوا بحمد ربھم (32: 15) ” اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں “۔ یعنی جسمانی اعتبار سے وہ سجدہ کرتے ہیں اور زبان کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں۔ وھم لا یستکبرون (32: 15) ” اور وہ تکبر نہیں کرتے “۔ کیونکہ وہ مطیع فرمان ہوکر ، اللہ کی طرف رجوع کرکے ، اللہ کی کبریائی کا شعور رکھتے ہوئے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اب ذرا ان کی جسمانی شکل و ہیئت کی تصویر دیکھئے ، انداز تعبیر اس طرح ہے کہ ان کی قلبی ، روحانی اور ذہنی کیفیت مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعا (32: 16) ” ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں۔ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں “۔ یہ لوگ رات کو نماز کے لیے اٹھتے ہیں یعنی عشاء کی آخری نماز کے لیے۔ وتروں کے لیے ، تہجد کے لیے اور رات کو دعاؤں کے لیے۔ لیکن قرآن نے ان امور کو اس انداز سے بیان کیا : ان کی پیٹھیں ان کے بستروں سے الگ رہتی ہیں۔ رات کے وقت بستروں کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے کہ انسان اس راحت ، آرام ، نیند اور دوسری لذتوں کو بڑی مشکل سے چھوڑتا ہے۔ لیکن ان کی پیٹھیں ، نرم بستروں ، آرام اور نیند اور عیش کے مقابلے میں دوسرا کام رکھتی ہیں۔ ان کا اپنے رب کے ساتھ کام ہوتا ہے۔ ان کو خیال ہوتا ہے کہ ان کو ایک دن رب کے ہاں حاضر ہونا ہے اور وہ خوف ورجاء کے درمیان اللہ کی طرف متوجہ ہیں۔ خوف ان کو اللہ کے عذاب کا ہوتا ہے اور امید اللہ کی رحمت کی ہوتی ہے۔ خوف اللہ کے غضب کا ہوتا ہے اور امید اللہ کی رضا مندی کی ہوتی ہے۔ خوف اللہ کی معصیت کا ہوتا ہے اور امید اس کی توفیق اطاعت کی ہوتی ہے۔ ان تمام امور کو قرآن کریم نے نہایت ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ نہایت ہی مجسم انداز میں۔ یدعون ربھم خوفا وطمعا (32: 16) ” اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں “۔ اس حساسیت اور کپکپی ، خضوع و خشوع کے ساتھ نماز اور گڑگڑا کر دعا کرنے کے علاوہ اپنی سوسائٹی کی بھلائی کے لیے بھی فکر مند ہوتے ہیں اور اللہ کو راضی کرتے ہوئے وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ ومما رزقنھم ینفقون (32: 16) ” اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں “۔ ان بلند ، روشن ، حساس اور مشفق صورتوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ بھی بہت مشفقانہ ہے اور نہایت ہی منفرد قسم کی جزاء ان کے لیے تیار ہے۔ وہ جزاء جس کے اندر ان کے لیے خاص مہربانی جھلکتی ہے۔ ان کے لیے ایک خاص اعزاز کا اعلان ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف سے ان پر کرم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بلند نفوس کے لئے خصوصی اور مخفی مہربانیاں اور تعلقات رکھتے ہیں۔

السجدة 32:17

فلما تعلم نفس ۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (32: 17) ” “۔ یہ ایک عجیب انداز تعبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ خفیہ تعلق ہوتا ہے اور اللہ نے بذات خود اپنے دوستوں کے لیے تحفے تیار کر رکھے ہیں ، ان کو خفیہ رکھا ہے اور اللہ نے ان کے بارے میں کسی کو کوئی اطلاع بھی نہیں دی تاکہ ان کو قیامت کے دن اچانک ظاہر کیا جائے۔ اب یہ ہونے والی ملاقات کس قدر باعث احترام ہے ، کس قدر اس کا انتظار ہے اور کس قدر شاندار ہے کہ اس میں اللہ اپنے دوستوں میں نادیدہ تحفے تقسیم کریں گے جو تیار ہوچکے ہیں اور اللہ اپنی موجودگی میں یہ تحفے تقسیم کریں گے۔ سبحان اللہ ! اپنے بندوں پر اللہ کے کیا کرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے۔ ان کا عمل جو بھی ہو ، ان کی عبادت جو بھی ہو ، اور ان کی اطاعت جس قدر بھی ہو ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے خود ان کے لیے بعض تحفے تیار کر رکھے ہیں۔ نہایت اہتمام ، رعایت ، کرم اور شفقت کے ساتھ۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے اور وہ بہت ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ پھر دوبارہ اس اجمال کی تفصیل دی جاتی ہے۔ ذلیل شدہ مجرمین کے انجام کے مقابلے میں مومنین کا بہترین انجام ذرا مفصلاً بیان ہوتا ہے کہ اللہ مومنین کو کس قدر منصفانہ جزاء ان کے اعمال کی دے گا۔ وہ مومنین اور مجرمین کے انجام میں دنیا اور آخرت دونوں میں فرق کرے گا یعنی خفیہ تحفوں کے علاوہ ان کے اعمال کا بھی پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

السجدة 32:18

افمن کان مؤمنا ۔۔۔۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون (18 – 22) مومنین اور فاسقین ، مزاج ، شعور اور طرز عمل کسی چیز میں برابر نہیں ہوتے کہ وہ دنیا و آخرت کی جزاء میں برابر ہوجائیں۔ مومن کی فطرت سیدھی ، سلیم ہوتی ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے سیدھے راستے اور سیدھے نظام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور فاسق منحرف ، بےراہ رو ، مفسد فی الارض ، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے والے نہیں ہوتے اور نہ اسلامی نظام قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مومن اور فاسق ایک جیسی زندگی بسر نہ کریں اور ان کی زندگی کا انجام ایک نہ ہو ، دنیا اور آخرت میں۔ اور ان میں سے ہر ایک کو دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے کیے کے مطابق جزاء و سزا ملے گی۔ وما الذین امنوا ۔۔۔۔۔ الماوی (32: 19) ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، ان کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں “۔ یہ ان قیام گاہوں میں فروکش ہوں گے اور یہ قیام گاہیں ان کو اپنے اندر لے لیں گی۔ یہ ان کے لیے اچھی منزلیں ہوں گی اور ان منازل میں وہ رہیں گے اور یہ بطور جزاء ہوں گے ان کے اعمال حسنہ پر۔ واما الذین فسقوا فماوھم النار (32: 20) ” اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ اس کی طرف لوٹیں گے اور وہ وہاں سر چھپائیں گے۔ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ کلما ارادوآ ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا (32: 20) ” جب کبھی نکلنا چاہیں گے اس میں دھکیل دئیے جائیں “ یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں بھرپور دوڑ دھوپ ہے لوگ بھاگ رہے ہیں اور انہیں پکڑ پکڑ کر دوبارہ دوزخ میں ڈالا جا رہا ہے وقیل لھم ۔۔۔۔۔ تکذبون (32: 20) ” اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اسی آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہ ان کی سرزنش ہے۔ ان کو زیادہ ذلیل کرنے اور زیادہ سزا دینے کے لیے۔ یہ ہے آخرت میں انجام فاسق لوگوں کا۔ لیکن ان کو قیامت کے عذاب کے آنے تک مہلت نہیں دے دی گئی۔ ان کو قیامت سے پہلے اس جہاں میں بھی عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ولنذیقنھم من العذاب ۔۔۔۔۔ یرجعون (32: 21) ” اس بڑے عذاب سے پہلے ہم ایسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آجائیں۔ لیکن ان چھوٹے موٹے عذابوں کی تہہ میں بھی دراصل اللہ کی رحمت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ اپنے بندوں کو بہرحال عذاب دیں۔ اگر وہ عذاب کے مستحق نہ ہوں۔ اگر وہ عذاب کے معصیات پر اصرار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا جھوٹا موٹا عذاب جو بندوں پر آتا رہتا ہے وہ بھی انہیں متنبہ کرنے کے لیے آتا ہے کہ شاید وہ لوٹ آئیں۔ ان کی فطرت جاگ اٹھے اور یہ عذاب انہیں راہ راست پر لے آئے۔ اور اگر وہ باز آجائیں تو وہ اس عذاب اکبر سے بچ جائیں جو ابھی ان کے سامنے گزشتہ منظر میں پیش کردیا گیا ہے۔ اگر ان کو رب تعالیٰ کی آیات کی یاد دہانی کی گئی اور انہوں نے ان سے اعراض کیا اور اس کی وجہ سے ان پر معمولی عذاب آگیا اور پھر انہوں نے عبرت حاصل نہ کی اور اپنی روش سے نہ لوٹے تو اب یہ ظالم ہیں۔ ومن اظلم ۔۔۔۔۔ اعرض عنھا (32: 22) ” اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے ہماری آیات سنائی گئیں اور پھر وہ اس دن ان سے منہ پھیرلے “۔ لہٰذا ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سے انتقام لیا جائے۔ انا من المجرمین منتقمون (32: 22) ” ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے “۔ یہ ایک خوفناک تہدید ہے کہ اللہ جبار اور متکبر یہ دھمکی دے رہا ہے اور وہ اعلان کرتا ہے کہ ایسے مجرموں سے میں انتقام لوں گا۔ اللہ کے مقابلے میں یہ بیچارے ضعیف کر بھی کیا سکیں گے۔ واہ رے اللہ کا انتقام !۔ یہ سبق اب مجرمین اور صالحین ، مومنین اور فاسقین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کا انجام مناظر قیامت کی شکل میں ہے۔ جس کے وقوع میں یہ لوگ شک کرتے تھے۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ایک نظر حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کے حالات پر ڈالی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کو کتاب دی گئی تھی کہ بنی اسرائیل کے لیے کتاب ہدایت ہو جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کو قرآن دیا گیا ہے کہ یہ مومنین کے لیے ہدایت ہو۔ صاحب قرآن اور صاحب تورات ایک ہی نظریہ حیات پر متفق ہیں اور جس طرح حضرت موسیٰ کے متبعین نے صبر و ثبات سے کام لیا اور ان کو ائمہ ہدایت بنایا گیا تھا اس طرح اگر حضرت محمد ﷺ کے ساتھی اگر صبر و ثبات سے کام لیں تو وہ بھی امامت کے مستحق ہوں گے امامت کی مستحق امت کی صفات کیا ہوتی ہیں۔

السجدة 32:19

افمن کان مؤمنا ۔۔۔۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون (18 – 22) مومنین اور فاسقین ، مزاج ، شعور اور طرز عمل کسی چیز میں برابر نہیں ہوتے کہ وہ دنیا و آخرت کی جزاء میں برابر ہوجائیں۔ مومن کی فطرت سیدھی ، سلیم ہوتی ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے سیدھے راستے اور سیدھے نظام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور فاسق منحرف ، بےراہ رو ، مفسد فی الارض ، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے والے نہیں ہوتے اور نہ اسلامی نظام قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مومن اور فاسق ایک جیسی زندگی بسر نہ کریں اور ان کی زندگی کا انجام ایک نہ ہو ، دنیا اور آخرت میں۔ اور ان میں سے ہر ایک کو دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے کیے کے مطابق جزاء و سزا ملے گی۔ وما الذین امنوا ۔۔۔۔۔ الماوی (32: 19) ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، ان کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں “۔ یہ ان قیام گاہوں میں فروکش ہوں گے اور یہ قیام گاہیں ان کو اپنے اندر لے لیں گی۔ یہ ان کے لیے اچھی منزلیں ہوں گی اور ان منازل میں وہ رہیں گے اور یہ بطور جزاء ہوں گے ان کے اعمال حسنہ پر۔ واما الذین فسقوا فماوھم النار (32: 20) ” اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ اس کی طرف لوٹیں گے اور وہ وہاں سر چھپائیں گے۔ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ کلما ارادوآ ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا (32: 20) ” جب کبھی نکلنا چاہیں گے اس میں دھکیل دئیے جائیں “ یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں بھرپور دوڑ دھوپ ہے لوگ بھاگ رہے ہیں اور انہیں پکڑ پکڑ کر دوبارہ دوزخ میں ڈالا جا رہا ہے وقیل لھم ۔۔۔۔۔ تکذبون (32: 20) ” اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اسی آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہ ان کی سرزنش ہے۔ ان کو زیادہ ذلیل کرنے اور زیادہ سزا دینے کے لیے۔ یہ ہے آخرت میں انجام فاسق لوگوں کا۔ لیکن ان کو قیامت کے عذاب کے آنے تک مہلت نہیں دے دی گئی۔ ان کو قیامت سے پہلے اس جہاں میں بھی عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ولنذیقنھم من العذاب ۔۔۔۔۔ یرجعون (32: 21) ” اس بڑے عذاب سے پہلے ہم ایسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آجائیں۔ لیکن ان چھوٹے موٹے عذابوں کی تہہ میں بھی دراصل اللہ کی رحمت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ اپنے بندوں کو بہرحال عذاب دیں۔ اگر وہ عذاب کے مستحق نہ ہوں۔ اگر وہ عذاب کے معصیات پر اصرار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا جھوٹا موٹا عذاب جو بندوں پر آتا رہتا ہے وہ بھی انہیں متنبہ کرنے کے لیے آتا ہے کہ شاید وہ لوٹ آئیں۔ ان کی فطرت جاگ اٹھے اور یہ عذاب انہیں راہ راست پر لے آئے۔ اور اگر وہ باز آجائیں تو وہ اس عذاب اکبر سے بچ جائیں جو ابھی ان کے سامنے گزشتہ منظر میں پیش کردیا گیا ہے۔ اگر ان کو رب تعالیٰ کی آیات کی یاد دہانی کی گئی اور انہوں نے ان سے اعراض کیا اور اس کی وجہ سے ان پر معمولی عذاب آگیا اور پھر انہوں نے عبرت حاصل نہ کی اور اپنی روش سے نہ لوٹے تو اب یہ ظالم ہیں۔ ومن اظلم ۔۔۔۔۔ اعرض عنھا (32: 22) ” اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے ہماری آیات سنائی گئیں اور پھر وہ اس دن ان سے منہ پھیرلے “۔ لہٰذا ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سے انتقام لیا جائے۔ انا من المجرمین منتقمون (32: 22) ” ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے “۔ یہ ایک خوفناک تہدید ہے کہ اللہ جبار اور متکبر یہ دھمکی دے رہا ہے اور وہ اعلان کرتا ہے کہ ایسے مجرموں سے میں انتقام لوں گا۔ اللہ کے مقابلے میں یہ بیچارے ضعیف کر بھی کیا سکیں گے۔ واہ رے اللہ کا انتقام !۔ یہ سبق اب مجرمین اور صالحین ، مومنین اور فاسقین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کا انجام مناظر قیامت کی شکل میں ہے۔ جس کے وقوع میں یہ لوگ شک کرتے تھے۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ایک نظر حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کے حالات پر ڈالی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کو کتاب دی گئی تھی کہ بنی اسرائیل کے لیے کتاب ہدایت ہو جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کو قرآن دیا گیا ہے کہ یہ مومنین کے لیے ہدایت ہو۔ صاحب قرآن اور صاحب تورات ایک ہی نظریہ حیات پر متفق ہیں اور جس طرح حضرت موسیٰ کے متبعین نے صبر و ثبات سے کام لیا اور ان کو ائمہ ہدایت بنایا گیا تھا اس طرح اگر حضرت محمد ﷺ کے ساتھی اگر صبر و ثبات سے کام لیں تو وہ بھی امامت کے مستحق ہوں گے امامت کی مستحق امت کی صفات کیا ہوتی ہیں۔

السجدة 32:20

افمن کان مؤمنا ۔۔۔۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون (18 – 22) مومنین اور فاسقین ، مزاج ، شعور اور طرز عمل کسی چیز میں برابر نہیں ہوتے کہ وہ دنیا و آخرت کی جزاء میں برابر ہوجائیں۔ مومن کی فطرت سیدھی ، سلیم ہوتی ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے سیدھے راستے اور سیدھے نظام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور فاسق منحرف ، بےراہ رو ، مفسد فی الارض ، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے والے نہیں ہوتے اور نہ اسلامی نظام قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مومن اور فاسق ایک جیسی زندگی بسر نہ کریں اور ان کی زندگی کا انجام ایک نہ ہو ، دنیا اور آخرت میں۔ اور ان میں سے ہر ایک کو دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے کیے کے مطابق جزاء و سزا ملے گی۔ وما الذین امنوا ۔۔۔۔۔ الماوی (32: 19) ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، ان کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں “۔ یہ ان قیام گاہوں میں فروکش ہوں گے اور یہ قیام گاہیں ان کو اپنے اندر لے لیں گی۔ یہ ان کے لیے اچھی منزلیں ہوں گی اور ان منازل میں وہ رہیں گے اور یہ بطور جزاء ہوں گے ان کے اعمال حسنہ پر۔ واما الذین فسقوا فماوھم النار (32: 20) ” اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ اس کی طرف لوٹیں گے اور وہ وہاں سر چھپائیں گے۔ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ کلما ارادوآ ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا (32: 20) ” جب کبھی نکلنا چاہیں گے اس میں دھکیل دئیے جائیں “ یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں بھرپور دوڑ دھوپ ہے لوگ بھاگ رہے ہیں اور انہیں پکڑ پکڑ کر دوبارہ دوزخ میں ڈالا جا رہا ہے وقیل لھم ۔۔۔۔۔ تکذبون (32: 20) ” اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اسی آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہ ان کی سرزنش ہے۔ ان کو زیادہ ذلیل کرنے اور زیادہ سزا دینے کے لیے۔ یہ ہے آخرت میں انجام فاسق لوگوں کا۔ لیکن ان کو قیامت کے عذاب کے آنے تک مہلت نہیں دے دی گئی۔ ان کو قیامت سے پہلے اس جہاں میں بھی عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ولنذیقنھم من العذاب ۔۔۔۔۔ یرجعون (32: 21) ” اس بڑے عذاب سے پہلے ہم ایسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آجائیں۔ لیکن ان چھوٹے موٹے عذابوں کی تہہ میں بھی دراصل اللہ کی رحمت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ اپنے بندوں کو بہرحال عذاب دیں۔ اگر وہ عذاب کے مستحق نہ ہوں۔ اگر وہ عذاب کے معصیات پر اصرار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا جھوٹا موٹا عذاب جو بندوں پر آتا رہتا ہے وہ بھی انہیں متنبہ کرنے کے لیے آتا ہے کہ شاید وہ لوٹ آئیں۔ ان کی فطرت جاگ اٹھے اور یہ عذاب انہیں راہ راست پر لے آئے۔ اور اگر وہ باز آجائیں تو وہ اس عذاب اکبر سے بچ جائیں جو ابھی ان کے سامنے گزشتہ منظر میں پیش کردیا گیا ہے۔ اگر ان کو رب تعالیٰ کی آیات کی یاد دہانی کی گئی اور انہوں نے ان سے اعراض کیا اور اس کی وجہ سے ان پر معمولی عذاب آگیا اور پھر انہوں نے عبرت حاصل نہ کی اور اپنی روش سے نہ لوٹے تو اب یہ ظالم ہیں۔ ومن اظلم ۔۔۔۔۔ اعرض عنھا (32: 22) ” اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے ہماری آیات سنائی گئیں اور پھر وہ اس دن ان سے منہ پھیرلے “۔ لہٰذا ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سے انتقام لیا جائے۔ انا من المجرمین منتقمون (32: 22) ” ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے “۔ یہ ایک خوفناک تہدید ہے کہ اللہ جبار اور متکبر یہ دھمکی دے رہا ہے اور وہ اعلان کرتا ہے کہ ایسے مجرموں سے میں انتقام لوں گا۔ اللہ کے مقابلے میں یہ بیچارے ضعیف کر بھی کیا سکیں گے۔ واہ رے اللہ کا انتقام !۔ یہ سبق اب مجرمین اور صالحین ، مومنین اور فاسقین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کا انجام مناظر قیامت کی شکل میں ہے۔ جس کے وقوع میں یہ لوگ شک کرتے تھے۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ایک نظر حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کے حالات پر ڈالی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کو کتاب دی گئی تھی کہ بنی اسرائیل کے لیے کتاب ہدایت ہو جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کو قرآن دیا گیا ہے کہ یہ مومنین کے لیے ہدایت ہو۔ صاحب قرآن اور صاحب تورات ایک ہی نظریہ حیات پر متفق ہیں اور جس طرح حضرت موسیٰ کے متبعین نے صبر و ثبات سے کام لیا اور ان کو ائمہ ہدایت بنایا گیا تھا اس طرح اگر حضرت محمد ﷺ کے ساتھی اگر صبر و ثبات سے کام لیں تو وہ بھی امامت کے مستحق ہوں گے امامت کی مستحق امت کی صفات کیا ہوتی ہیں۔

السجدة 32:21

افمن کان مؤمنا ۔۔۔۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون (18 – 22) مومنین اور فاسقین ، مزاج ، شعور اور طرز عمل کسی چیز میں برابر نہیں ہوتے کہ وہ دنیا و آخرت کی جزاء میں برابر ہوجائیں۔ مومن کی فطرت سیدھی ، سلیم ہوتی ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے سیدھے راستے اور سیدھے نظام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور فاسق منحرف ، بےراہ رو ، مفسد فی الارض ، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے والے نہیں ہوتے اور نہ اسلامی نظام قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مومن اور فاسق ایک جیسی زندگی بسر نہ کریں اور ان کی زندگی کا انجام ایک نہ ہو ، دنیا اور آخرت میں۔ اور ان میں سے ہر ایک کو دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے کیے کے مطابق جزاء و سزا ملے گی۔ وما الذین امنوا ۔۔۔۔۔ الماوی (32: 19) ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، ان کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں “۔ یہ ان قیام گاہوں میں فروکش ہوں گے اور یہ قیام گاہیں ان کو اپنے اندر لے لیں گی۔ یہ ان کے لیے اچھی منزلیں ہوں گی اور ان منازل میں وہ رہیں گے اور یہ بطور جزاء ہوں گے ان کے اعمال حسنہ پر۔ واما الذین فسقوا فماوھم النار (32: 20) ” اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ اس کی طرف لوٹیں گے اور وہ وہاں سر چھپائیں گے۔ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ کلما ارادوآ ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا (32: 20) ” جب کبھی نکلنا چاہیں گے اس میں دھکیل دئیے جائیں “ یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں بھرپور دوڑ دھوپ ہے لوگ بھاگ رہے ہیں اور انہیں پکڑ پکڑ کر دوبارہ دوزخ میں ڈالا جا رہا ہے وقیل لھم ۔۔۔۔۔ تکذبون (32: 20) ” اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اسی آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہ ان کی سرزنش ہے۔ ان کو زیادہ ذلیل کرنے اور زیادہ سزا دینے کے لیے۔ یہ ہے آخرت میں انجام فاسق لوگوں کا۔ لیکن ان کو قیامت کے عذاب کے آنے تک مہلت نہیں دے دی گئی۔ ان کو قیامت سے پہلے اس جہاں میں بھی عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ولنذیقنھم من العذاب ۔۔۔۔۔ یرجعون (32: 21) ” اس بڑے عذاب سے پہلے ہم ایسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آجائیں۔ لیکن ان چھوٹے موٹے عذابوں کی تہہ میں بھی دراصل اللہ کی رحمت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ اپنے بندوں کو بہرحال عذاب دیں۔ اگر وہ عذاب کے مستحق نہ ہوں۔ اگر وہ عذاب کے معصیات پر اصرار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا جھوٹا موٹا عذاب جو بندوں پر آتا رہتا ہے وہ بھی انہیں متنبہ کرنے کے لیے آتا ہے کہ شاید وہ لوٹ آئیں۔ ان کی فطرت جاگ اٹھے اور یہ عذاب انہیں راہ راست پر لے آئے۔ اور اگر وہ باز آجائیں تو وہ اس عذاب اکبر سے بچ جائیں جو ابھی ان کے سامنے گزشتہ منظر میں پیش کردیا گیا ہے۔ اگر ان کو رب تعالیٰ کی آیات کی یاد دہانی کی گئی اور انہوں نے ان سے اعراض کیا اور اس کی وجہ سے ان پر معمولی عذاب آگیا اور پھر انہوں نے عبرت حاصل نہ کی اور اپنی روش سے نہ لوٹے تو اب یہ ظالم ہیں۔ ومن اظلم ۔۔۔۔۔ اعرض عنھا (32: 22) ” اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے ہماری آیات سنائی گئیں اور پھر وہ اس دن ان سے منہ پھیرلے “۔ لہٰذا ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سے انتقام لیا جائے۔ انا من المجرمین منتقمون (32: 22) ” ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے “۔ یہ ایک خوفناک تہدید ہے کہ اللہ جبار اور متکبر یہ دھمکی دے رہا ہے اور وہ اعلان کرتا ہے کہ ایسے مجرموں سے میں انتقام لوں گا۔ اللہ کے مقابلے میں یہ بیچارے ضعیف کر بھی کیا سکیں گے۔ واہ رے اللہ کا انتقام !۔ یہ سبق اب مجرمین اور صالحین ، مومنین اور فاسقین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کا انجام مناظر قیامت کی شکل میں ہے۔ جس کے وقوع میں یہ لوگ شک کرتے تھے۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ایک نظر حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کے حالات پر ڈالی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کو کتاب دی گئی تھی کہ بنی اسرائیل کے لیے کتاب ہدایت ہو جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کو قرآن دیا گیا ہے کہ یہ مومنین کے لیے ہدایت ہو۔ صاحب قرآن اور صاحب تورات ایک ہی نظریہ حیات پر متفق ہیں اور جس طرح حضرت موسیٰ کے متبعین نے صبر و ثبات سے کام لیا اور ان کو ائمہ ہدایت بنایا گیا تھا اس طرح اگر حضرت محمد ﷺ کے ساتھی اگر صبر و ثبات سے کام لیں تو وہ بھی امامت کے مستحق ہوں گے امامت کی مستحق امت کی صفات کیا ہوتی ہیں۔

السجدة 32:22

افمن کان مؤمنا ۔۔۔۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون (18 – 22) مومنین اور فاسقین ، مزاج ، شعور اور طرز عمل کسی چیز میں برابر نہیں ہوتے کہ وہ دنیا و آخرت کی جزاء میں برابر ہوجائیں۔ مومن کی فطرت سیدھی ، سلیم ہوتی ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے سیدھے راستے اور سیدھے نظام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور فاسق منحرف ، بےراہ رو ، مفسد فی الارض ، اور اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے والے نہیں ہوتے اور نہ اسلامی نظام قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مومن اور فاسق ایک جیسی زندگی بسر نہ کریں اور ان کی زندگی کا انجام ایک نہ ہو ، دنیا اور آخرت میں۔ اور ان میں سے ہر ایک کو دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے کیے کے مطابق جزاء و سزا ملے گی۔ وما الذین امنوا ۔۔۔۔۔ الماوی (32: 19) ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، ان کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں “۔ یہ ان قیام گاہوں میں فروکش ہوں گے اور یہ قیام گاہیں ان کو اپنے اندر لے لیں گی۔ یہ ان کے لیے اچھی منزلیں ہوں گی اور ان منازل میں وہ رہیں گے اور یہ بطور جزاء ہوں گے ان کے اعمال حسنہ پر۔ واما الذین فسقوا فماوھم النار (32: 20) ” اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ اس کی طرف لوٹیں گے اور وہ وہاں سر چھپائیں گے۔ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ کلما ارادوآ ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا (32: 20) ” جب کبھی نکلنا چاہیں گے اس میں دھکیل دئیے جائیں “ یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں بھرپور دوڑ دھوپ ہے لوگ بھاگ رہے ہیں اور انہیں پکڑ پکڑ کر دوبارہ دوزخ میں ڈالا جا رہا ہے وقیل لھم ۔۔۔۔۔ تکذبون (32: 20) ” اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اسی آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہ ان کی سرزنش ہے۔ ان کو زیادہ ذلیل کرنے اور زیادہ سزا دینے کے لیے۔ یہ ہے آخرت میں انجام فاسق لوگوں کا۔ لیکن ان کو قیامت کے عذاب کے آنے تک مہلت نہیں دے دی گئی۔ ان کو قیامت سے پہلے اس جہاں میں بھی عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ولنذیقنھم من العذاب ۔۔۔۔۔ یرجعون (32: 21) ” اس بڑے عذاب سے پہلے ہم ایسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آجائیں۔ لیکن ان چھوٹے موٹے عذابوں کی تہہ میں بھی دراصل اللہ کی رحمت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ اپنے بندوں کو بہرحال عذاب دیں۔ اگر وہ عذاب کے مستحق نہ ہوں۔ اگر وہ عذاب کے معصیات پر اصرار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا جھوٹا موٹا عذاب جو بندوں پر آتا رہتا ہے وہ بھی انہیں متنبہ کرنے کے لیے آتا ہے کہ شاید وہ لوٹ آئیں۔ ان کی فطرت جاگ اٹھے اور یہ عذاب انہیں راہ راست پر لے آئے۔ اور اگر وہ باز آجائیں تو وہ اس عذاب اکبر سے بچ جائیں جو ابھی ان کے سامنے گزشتہ منظر میں پیش کردیا گیا ہے۔ اگر ان کو رب تعالیٰ کی آیات کی یاد دہانی کی گئی اور انہوں نے ان سے اعراض کیا اور اس کی وجہ سے ان پر معمولی عذاب آگیا اور پھر انہوں نے عبرت حاصل نہ کی اور اپنی روش سے نہ لوٹے تو اب یہ ظالم ہیں۔ ومن اظلم ۔۔۔۔۔ اعرض عنھا (32: 22) ” اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے ہماری آیات سنائی گئیں اور پھر وہ اس دن ان سے منہ پھیرلے “۔ لہٰذا ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سے انتقام لیا جائے۔ انا من المجرمین منتقمون (32: 22) ” ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے “۔ یہ ایک خوفناک تہدید ہے کہ اللہ جبار اور متکبر یہ دھمکی دے رہا ہے اور وہ اعلان کرتا ہے کہ ایسے مجرموں سے میں انتقام لوں گا۔ اللہ کے مقابلے میں یہ بیچارے ضعیف کر بھی کیا سکیں گے۔ واہ رے اللہ کا انتقام !۔ یہ سبق اب مجرمین اور صالحین ، مومنین اور فاسقین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کا انجام مناظر قیامت کی شکل میں ہے۔ جس کے وقوع میں یہ لوگ شک کرتے تھے۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ایک نظر حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کے حالات پر ڈالی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کو کتاب دی گئی تھی کہ بنی اسرائیل کے لیے کتاب ہدایت ہو جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کو قرآن دیا گیا ہے کہ یہ مومنین کے لیے ہدایت ہو۔ صاحب قرآن اور صاحب تورات ایک ہی نظریہ حیات پر متفق ہیں اور جس طرح حضرت موسیٰ کے متبعین نے صبر و ثبات سے کام لیا اور ان کو ائمہ ہدایت بنایا گیا تھا اس طرح اگر حضرت محمد ﷺ کے ساتھی اگر صبر و ثبات سے کام لیں تو وہ بھی امامت کے مستحق ہوں گے امامت کی مستحق امت کی صفات کیا ہوتی ہیں۔

السجدة 32:23

ولقد اتینا موسیٰ الکتب ۔۔۔۔۔۔۔ فیما کانوا فیہ یختلفون (23 – 25) فلا تکن فی مریۃ من لقائہ (32: 23) ” لہٰذا اس چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہئے “۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حق آپ کو دیا گیا ہے آپ اس پر ثابت قدم رہیں۔ یہی کافی ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی اور ان دو رسولوں کی دو کتابوں میں یہی سچائی تھی۔ یہ تفسیر اس تفسیر سے زیادہ اچھی ہے جو بعض مفسرین نے بیان کی ہے کہ اس آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت محمد ﷺ شب معراج میں حضرت موسیٰ سے ملے تھے۔ غرض حضرت موسیٰ سے ملنے کے مقابلے میں اس سچائی کا ملنا زیادہ احسن ہے جو حضرت موسیٰ کو بھی ملی تھی اور دونوں رسول ایک ہی حق اور ایک ہی سچائی پر باہم مل گئے اور اس بات کا ذکر بیان موزوں ہے۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس میں ان مصائب و شدائد کی طرف اشارہ ہے جو رسول اللہ اور مسلمان مخالفین کے ہاتھوں جھیل رہے تھے۔ رسول اللہ کی تکذیب ہو رہی تھی اور کفار اعراض کر رہے تھے ، اس لیے یہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ ثابت قدم رہو اور بعد کی آیات بھی اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ وجعلنا منھم ائمۃ ۔۔۔۔۔ بایتنا یوقنون (32: 24) ” اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر ایمان لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے “۔ یہاں مکہ میں چھوٹی سی مومن جماعت کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ تم اسی طرح صبر کرو جس طرح موسیٰ کے مختار مومنین نے صبر کیا اور جس طرح ان میں سے امام پیدا کیے گئے جو اللہ کی شریعت کے مطابق حکمرانی کرتے تھے ، تم میں سے بھی ایسے نام پیدا ہوں گے جو اسلامی شریعت کے مطابق حکمرانی کریں گے بشرطیکہ صبر کیا اور یقین کیا۔ رہا یہ سوال کہ بنی اسرائیل نے بعد کے ادوار میں اختلاف کیا تو وہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی ان اختلافات کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ ان ربک ھو بفصل ۔۔۔۔۔ یختلفون (32: 25) ” یقینا تیرا رب ہی قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ باہم اختلاف کرتے رہے “۔ اب سیاق کلام مکذبین مکہ کو ذرا پیچھے انسانی تاریخ کے سامنے کھڑا کرتا ہے کہ ذرا دیدہ عبرت سے دیکھو۔

السجدة 32:24

ولقد اتینا موسیٰ الکتب ۔۔۔۔۔۔۔ فیما کانوا فیہ یختلفون (23 – 25) فلا تکن فی مریۃ من لقائہ (32: 23) ” لہٰذا اس چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہئے “۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حق آپ کو دیا گیا ہے آپ اس پر ثابت قدم رہیں۔ یہی کافی ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی اور ان دو رسولوں کی دو کتابوں میں یہی سچائی تھی۔ یہ تفسیر اس تفسیر سے زیادہ اچھی ہے جو بعض مفسرین نے بیان کی ہے کہ اس آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت محمد ﷺ شب معراج میں حضرت موسیٰ سے ملے تھے۔ غرض حضرت موسیٰ سے ملنے کے مقابلے میں اس سچائی کا ملنا زیادہ احسن ہے جو حضرت موسیٰ کو بھی ملی تھی اور دونوں رسول ایک ہی حق اور ایک ہی سچائی پر باہم مل گئے اور اس بات کا ذکر بیان موزوں ہے۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس میں ان مصائب و شدائد کی طرف اشارہ ہے جو رسول اللہ اور مسلمان مخالفین کے ہاتھوں جھیل رہے تھے۔ رسول اللہ کی تکذیب ہو رہی تھی اور کفار اعراض کر رہے تھے ، اس لیے یہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ ثابت قدم رہو اور بعد کی آیات بھی اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ وجعلنا منھم ائمۃ ۔۔۔۔۔ بایتنا یوقنون (32: 24) ” اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر ایمان لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے “۔ یہاں مکہ میں چھوٹی سی مومن جماعت کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ تم اسی طرح صبر کرو جس طرح موسیٰ کے مختار مومنین نے صبر کیا اور جس طرح ان میں سے امام پیدا کیے گئے جو اللہ کی شریعت کے مطابق حکمرانی کرتے تھے ، تم میں سے بھی ایسے نام پیدا ہوں گے جو اسلامی شریعت کے مطابق حکمرانی کریں گے بشرطیکہ صبر کیا اور یقین کیا۔ رہا یہ سوال کہ بنی اسرائیل نے بعد کے ادوار میں اختلاف کیا تو وہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی ان اختلافات کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ ان ربک ھو بفصل ۔۔۔۔۔ یختلفون (32: 25) ” یقینا تیرا رب ہی قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ باہم اختلاف کرتے رہے “۔ اب سیاق کلام مکذبین مکہ کو ذرا پیچھے انسانی تاریخ کے سامنے کھڑا کرتا ہے کہ ذرا دیدہ عبرت سے دیکھو۔

السجدة 32:25

ولقد اتینا موسیٰ الکتب ۔۔۔۔۔۔۔ فیما کانوا فیہ یختلفون (23 – 25) فلا تکن فی مریۃ من لقائہ (32: 23) ” لہٰذا اس چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہئے “۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حق آپ کو دیا گیا ہے آپ اس پر ثابت قدم رہیں۔ یہی کافی ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی اور ان دو رسولوں کی دو کتابوں میں یہی سچائی تھی۔ یہ تفسیر اس تفسیر سے زیادہ اچھی ہے جو بعض مفسرین نے بیان کی ہے کہ اس آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت محمد ﷺ شب معراج میں حضرت موسیٰ سے ملے تھے۔ غرض حضرت موسیٰ سے ملنے کے مقابلے میں اس سچائی کا ملنا زیادہ احسن ہے جو حضرت موسیٰ کو بھی ملی تھی اور دونوں رسول ایک ہی حق اور ایک ہی سچائی پر باہم مل گئے اور اس بات کا ذکر بیان موزوں ہے۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس میں ان مصائب و شدائد کی طرف اشارہ ہے جو رسول اللہ اور مسلمان مخالفین کے ہاتھوں جھیل رہے تھے۔ رسول اللہ کی تکذیب ہو رہی تھی اور کفار اعراض کر رہے تھے ، اس لیے یہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ ثابت قدم رہو اور بعد کی آیات بھی اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ وجعلنا منھم ائمۃ ۔۔۔۔۔ بایتنا یوقنون (32: 24) ” اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر ایمان لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے “۔ یہاں مکہ میں چھوٹی سی مومن جماعت کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ تم اسی طرح صبر کرو جس طرح موسیٰ کے مختار مومنین نے صبر کیا اور جس طرح ان میں سے امام پیدا کیے گئے جو اللہ کی شریعت کے مطابق حکمرانی کرتے تھے ، تم میں سے بھی ایسے نام پیدا ہوں گے جو اسلامی شریعت کے مطابق حکمرانی کریں گے بشرطیکہ صبر کیا اور یقین کیا۔ رہا یہ سوال کہ بنی اسرائیل نے بعد کے ادوار میں اختلاف کیا تو وہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی ان اختلافات کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ ان ربک ھو بفصل ۔۔۔۔۔ یختلفون (32: 25) ” یقینا تیرا رب ہی قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ باہم اختلاف کرتے رہے “۔ اب سیاق کلام مکذبین مکہ کو ذرا پیچھے انسانی تاریخ کے سامنے کھڑا کرتا ہے کہ ذرا دیدہ عبرت سے دیکھو۔

السجدة 32:26

اولم یھد لھم ۔۔۔۔۔ افلا یسمعون (26) تاریخ کی ہلاک شدہ اقوام کے ساتھ جو کچھ ہوا ، وہ تمام بعد کے جھٹلانے والوں کے لیے عبرت ہے۔ اللہ کی سنت تو اس جہان میں جاری وساری ہے اور وہ کسی کی رو رعایت نہیں کرتی۔ یہ انسانیت ترقی اور زوال کے لیے الٰہی قوانین فطرت کے تابع ہے۔ اس کی کمزوری اور اس کی قوت کا راز الٰہی قوانین کے اتباع و انکار میں ہے۔ قرآن کریم بار بار اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اقوام کے عروج وزوال کے لیے اللہ نے خصوصی قوانین جاری کر رکھے ہیں اور یہ قوانین مسلسل جاری ہیں اور ماضی کے واقعات اور اقوام ہلاک شدہ کے آثار میں بڑی عبرت ہے۔ اس موضوع پر آزادانہ مطالعہ ہونا چاہئے تاکہ باقی آثار سے لوگوں کے دل بیدار ہوں ، ان کے اندر احساس پیدا ہو ، اور لوگ اللہ کی پکڑ اور انتقام سے ڈریں کیونکہ اللہ نے بڑے بڑے جباروں کو پکڑا ہے۔ پھر تاریخی مطالعہ ضروری ہے کیونکہ کوئی قوم زمان و مکان کے کسی گوشے میں گوشہ نشین نہیں ہوسکتی۔ نہ وہ اس نظام کو نظر انداز کرسکتی ہے جس کے مطابق انسانیت کی زندگی کا قافلہ آگے بڑھ رہا ہے اور صدیوں سے تسلسل کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ چونکہ اکثر اقوام نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ، اس لیے وہ نیست و نابود ہوئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہلاک شدہ اقوام کے آثار میں بہت ہی گہرا سبق ہوتا ہے اور یہ سبق بہت ہی خوفناک ہوتا ہے۔ بشرطیکہ دل شعور رکھتا ہو ، احساس و بصیرت موجود ہو۔ اگر کوئی اس سبق کو پڑھے تو پڑھنے والے پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ ضمیر کانپ اٹھتا ہے اور دل دہل جاتے ہیں۔ عرب جن کو ان آیات میں پہلی بار خطاب کیا گیا تھا وہ اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی اقوام عاد ، ثمود ، لوط کے آثار دیکھتے رہتے تھے۔ قرآن کریم ان لوگوں کو ملامت کرتا ہے کہ ان اقوام کے آثار تمہارے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ تم رات اور دن ان پر سے گزرتے ہو ، لیکن تمہارے دلوں میں پھر بھی خدا کا خوف پیدا نہیں ہوتا۔ تمہارا شعور بیدار نہیں ہوتا۔ تمہارے احساسات کے اندر روشنی کی چمک پیدا نہیں ہوتی۔ اور تم اس قسم کے انجام سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں کرتے ہو۔ تم ہدایت اخذ نہیں کرتے اور احتیاطی اور انسدادی تدابیر اختیار نہیں کرتے۔ ان فی ذلک لایت افلا یسمعون (32: 26) ” اس میں بڑی نشانیاں ہیں کیا یہ سنتے نہیں “۔ ان کو چاہئے کہ ان لوگوں کے جو قصے قرآن کریم پیش کرتا ہے ان کو سنیں اور پھر ان کے انجام پر غور کریں۔ جبکہ رات اور دن ان لوگوں کے مساکن اور کھنڈرات سے یہ گزرتے ہیں۔ قبل اس کے کہ ڈرانے والے کی بات سچی ہوجائے اور یہ بھی ہلاک ہوجائیں انہیں ہوش میں آجانا چاہیے۔ اس ہلاکت اور تباہی کے منظر کے بعد فکر و احساس کی اس بیداری اور خوف خدا پر ابھارنے اور ڈرانے کے بعد اور ان کے دلوں پر کپکپی طاری کرنے کے بعد ان کو ایک دوسری نشانی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس خوفناک فضا کے بعد بہت ہی خوشگوار منظر بتاتی ہے۔ دیکھو ایک مردہ زمین تمہارے سامنے پڑی ہوتی ہے ، خشک سالی سے سوختہ اور ہم اس کی طرف پانی چلانے ہیں۔ اس کے اندر زندگی حرکت کرنے لگتی ہے۔ جبکہ اقوام سابقہ کے حالات میں ہم نے پڑھا کہ اس طرح کی سرسبز اور شاداب اراضی کو اللہ بنجر بھی کردیتا ہے۔

السجدة 32:27

اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ افلا یبصرون (27) یہ مردہ زمین ، تباہ حال زمین ، یہ دیکھتے ہیں کہ قدرت خداوندی اس کی طرف پانی چلاتی ہے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ یہی مردہ زمین سرسبز و شاداب ہو کر زندگی سے بھرپور ہوگئی ہے اور لہلہاتی ہے۔ فصلیں اگتی ہیں۔ لوگ بھی کھاتے ہیں اور ان کے مویشی بھی کھاتے ہیں۔ مردہ زمین کا منظر جس پر بارش برستی ہے اور وہ زندہ و تابندہ ہوجاتی ہے۔ یہ منظر دراصل دلوں کے بند دروازوں کو کھولنے کے لیے نہایت ہی موثر منظر ہے۔ دیکھو ہر طرف زندگی اور نباتات کا اگاؤ اور لوگوں اور مویشیوں کی خوشیاں اور ان کا استقبال۔ زندگی کی مٹھاس اور تروتازگی کا شعور۔ پھر اس سرسبز زندگی اور خوبصورت اور تروتازہ ماحول کی خوبصورتی۔ قرب اور محبت کی فضا میں زمزمے ، جن میں اللہ کی قدرت کا جمال ہر طرف نظر آتا ہے اور اس کی صنعت کاریوں کے نمونے جابجا بکھرے پڑے ہیں اور جن سے اس کائنات کے صفحات پر ہر طرف زندگی اور خوبصورتی کے مناظر نظر آتے ہیں۔ یوں قرآن مجید دل انسان کو زندگی کے مختلف نشیب و فراز کی سیر کراتا ہے۔ جہاں زندگی بھی ہے اور نشوونما بھی ہے اور سرسبزی و شادابی بھی ہے اور اقوام سابقہ کی ہلاکتوں کے میدان اور آثار بھی ہیں۔ ہر جگہ قرآن کریم کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح قلب انسانی کے اندر حرکت پیدا ہو ، وہ جاگے اور اسے اس جہان کے ساتھ الفت پیدا ہو۔ اس جہاں اور اس کی بوقلمونیوں پر سے محض غافل ہو کر نہ گزرے۔ آنکھوں پر سے پردے دور کر دے۔ ان مشاہد اور مناظر قدرت کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش کرے۔ واقعات سے عبرت حاصل کرے اور تاریخ سے برہان اور دلائل حاصل کرے۔ آخر میں اس طویل سیاحت کے بعد سورة کا مقطع آتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے آجانے میں جلدی کرتے ہیں ، جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے۔ دراصل یہ لوگ اس ڈراوے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت کو مشکوک بات سمجھتے ہیں ان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے ، وہ حق ہے اور حقیقت بننے والی ہے۔ اس دن ان کا ایمان ان کو کوئی نفع نہ دے گا۔ اور اس وقت ان سے جو غلطی ہوچکی ہوگی اس کی تلافی ممکن نہ ہوگی اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ ان کو چھوڑ دیا جائے وہ اپنے حتمی انجام تک پہنچنے والے ہیں۔

السجدة 32:28

ویقولون متی ھذا ۔۔۔۔۔ وانتظ انھم منتظرون (28 – 30) اچھا ” انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو ، یہ بھی منظر ہیں “۔ فتح دراصل فریقین کے درمیان اختلاف کے فیصلے کو کہا جاتا ہے۔ وہ عذاب جس سے حضور اکرم ﷺ ڈرا رہے تھے اس کا آنا بھی فتح ہے۔ یہ لوگ غافل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہرحال کسی حکمت کی وجہ سے اس کے آنے کی میعاد موخر کی ہوتی ہے۔ وہ اگر سو بار بھی مطالبہ کریں اللہ کا کام اپنے وقت پر ہوتا ہے اور جب وہ آئے گا تو یہ لوگ اس کی مدافعت نہ کرسکیں گے اور اس سے بچ کر نہ نکل سکیں گے۔ قل یوم الفتح ۔۔۔۔۔ ولا ھم ینظرون (32: 29) ” ان سے کہو ، فیصلے کے دن ایمان لانا ان لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوگا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر ان کی کوئی مہلت نہ ملے گی “۔ خواہ فیصلے کا دن اس دنیا میں ہو۔ اس وقت ان کو دھر لیا جائے گا جبکہ وہ کافر ہوں گے۔ پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ نہ ان کا ایمان لانا اس وقت نافع ہوگا اور یہ فیصلے کا دن آخرت میں ہوگا۔ اس وقت یہ مہلت طلب کریں گے اور مہلت نہ دی جائے گی۔ یہ جواب اعصاب تمکن ہے اور اس سے دل دہل جاتے ہیں اور آخری ضرب ان پر یہ لگائی جاتی ہے۔

السجدة 32:29

فاعرض ھم وانتظر انھم منتظرون (32: 30) ” “۔ اس فقرے کی تہ میں دراصل بالواسطہ ایک دھمکی چھپی ہوئی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ دامن جھاڑ لیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں تو انجام معلوم ہے۔ اس آخری ضرب پر یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس میں طویل مطالعاتی سفر ہے ، اشارات و ہدایات ہیں اور قسم قسم کے مشاہدات اور دلائل دئیے گئے ہیں اور قلب انسانی کو ہر پہلو سے متاثر کرنے کی سعی کی گئی ہے اور ہر راستے سے اس کو کھینچ کر ہدایت کی طرف لانے کے لیے حملہ کیا گیا ہے۔

السجدة 32:30

فاعرض ھم وانتظر انھم منتظرون (32: 30) ” “۔ اس فقرے کی تہ میں دراصل بالواسطہ ایک دھمکی چھپی ہوئی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ دامن جھاڑ لیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں تو انجام معلوم ہے۔ اس آخری ضرب پر یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس میں طویل مطالعاتی سفر ہے ، اشارات و ہدایات ہیں اور قسم قسم کے مشاہدات اور دلائل دئیے گئے ہیں اور قلب انسانی کو ہر پہلو سے متاثر کرنے کی سعی کی گئی ہے اور ہر راستے سے اس کو کھینچ کر ہدایت کی طرف لانے کے لیے حملہ کیا گیا ہے۔