Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الأحزاب 33:1 – الأحزاب 33:73

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الأحزاب 33:1
  2. الأحزاب 33:2
  3. الأحزاب 33:3
  4. الأحزاب 33:4
  5. الأحزاب 33:5
  6. الأحزاب 33:6
  7. الأحزاب 33:7
  8. الأحزاب 33:8
  9. الأحزاب 33:9
  10. الأحزاب 33:10
  11. الأحزاب 33:11
  12. الأحزاب 33:12
  13. الأحزاب 33:13
  14. الأحزاب 33:14
  15. الأحزاب 33:15
  16. الأحزاب 33:16
  17. الأحزاب 33:17
  18. الأحزاب 33:18
  19. الأحزاب 33:19
  20. الأحزاب 33:20
  21. الأحزاب 33:21
  22. الأحزاب 33:22
  23. الأحزاب 33:23
  24. الأحزاب 33:24
  25. الأحزاب 33:25
  26. الأحزاب 33:26
  27. الأحزاب 33:27
  28. الأحزاب 33:28
  29. الأحزاب 33:29
  30. الأحزاب 33:30
  31. الأحزاب 33:31
  32. الأحزاب 33:32
  33. الأحزاب 33:33
  34. الأحزاب 33:34
  35. الأحزاب 33:35
  36. الأحزاب 33:36
  37. الأحزاب 33:37
  38. الأحزاب 33:38
  39. الأحزاب 33:39
  40. الأحزاب 33:40
  41. الأحزاب 33:41
  42. الأحزاب 33:42
  43. الأحزاب 33:43
  44. الأحزاب 33:44
  45. الأحزاب 33:45
  46. الأحزاب 33:46
  47. الأحزاب 33:47
  48. الأحزاب 33:48
  49. الأحزاب 33:49
  50. الأحزاب 33:50
  51. الأحزاب 33:51
  52. الأحزاب 33:52
  53. الأحزاب 33:53
  54. الأحزاب 33:54
  55. الأحزاب 33:55
  56. الأحزاب 33:56
  57. الأحزاب 33:57
  58. الأحزاب 33:58
  59. الأحزاب 33:59
  60. الأحزاب 33:60
  61. الأحزاب 33:61
  62. الأحزاب 33:62
  63. الأحزاب 33:63
  64. الأحزاب 33:64
  65. الأحزاب 33:65
  66. الأحزاب 33:66
  67. الأحزاب 33:67
  68. الأحزاب 33:68
  69. الأحزاب 33:69
  70. الأحزاب 33:70
  71. الأحزاب 33:71
  72. الأحزاب 33:72
  73. الأحزاب 33:73

الأحزاب 33:1

یایھا النبی اتق اللہ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (1 – 3) یہ اس سورة کا آغار ہے جس میں اس نئے اسلامی معاشرے کی اخلاقی اور اجتماعی زندگی کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ یہ آغاز ہی بتاتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا مزاج کیا ہے اور وہ قواعد اور اصول کیا ہیں جن پر اسلامی نظام عملا قائم ہے۔ وہ تصورات کیا ہیں جن کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ضمیر و اخلاق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسلام محض ہدایات اور وعظ نہیں ہے۔ نہ اسلام محض چند اخلاقی تعلیمات کا نام ہے ، نہ اسلام صرف قوانین کا مجوعہ ہے۔ نہ وہ محض رسم و رواج کا نام ہے۔ اسلام دراصل مذکورہ بالا تمام چیزوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن یہ سب چیزیں بھی اسلام نہیں ہیں ۔ اسلام دراصل سرتسلیم خم کردینے کا نام ہے۔ اللہ کی مشیت اور اللہ کی خواہش کے سامنے سرتسلیم خم کردینا۔ اللہ کی تقدیر کے سامنے جھکنا اور سب سے اول بات یہ کہ اللہ کے احکام اوامرو نواہی کے ماننے کے لیے تیار ہوجانا۔ اللہ انسانوں کے لیے جو نظام تجویز کرتا ہے اس کے مطابق زندگی بسر کرے ، بغیر ادھر ادھر توجہ کرنے کے ، اور اس کے سوا کسی اور طرف رخ کرنے کے۔ بغیر اس کے کہ اللہ کے سوا کسی اور قوت پر بھروسہ کیا جائے ۔ اسلام کا بنیادی شعور یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ وہ ایک ایسے قانون قدرت کا تابع ہے جو خود انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کو کنڑول کرتا ہے۔ یہ نظام افلاک و کواکب کو بھی کنڑول کرتا ہے اور تمام وجود کو بھی کنٹرول کرتا ہے خواہ خفیہ ہو یا ظاہر ہو۔ غائب ہو یا حاضر ہو۔ انسان اسے سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہو۔ اس یقین کے ساتھ کہ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے صرف اللہ کے احکام کا اتباع کرنا ہے اور ان کاموں سے روکنا ہے جن سے رکنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ ان اسباب اور ذرائع کو استعمال کرنا ہے جو اللہ نے ان کیلئے فراہم کیے ہیں اور پھر ان نتائج کا انتظار کرنا ہے جو اللہ نے نکالنے ہیں۔ یہ وہ قاعدہ ہے جس کے اوپر تمام شریعتیں اور تمام قوانین قائم ہوتے ہیں ، رسم و رواج قائم ہوتے ہیں ، آداب و اخلاق قائم ہوتے ہیں یعنی وہ عقیدہ جو ضمیر و شعور میں ہوتا ہے وہ انسانی زندگی میں عملاً ظہور پذیر ہو اور انسان کی زندگی میں اس کے عملی آثار موجود ہوں کہ انسان کا نفس اللہ کے سامنے جھک گیا ہے اور وہ اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے شریعت پھوٹتی ہے۔ اس شریعت پر بھی ایک پورا نظام زندگی استوار ہوتا ہے اور یہ تینوں امور باہم مربوط اور ہم جسم ہوتے ہیں۔ یہ ہے اسلام۔ چناچہ اس سورة کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے لیے جدید قانون سازی کی جائے یعنی اللہ سے ڈرنا۔ خطاب نبی ﷺ کی طرف ہے کیونکہ حضور اکرم ﷺ ہی اس جدید معاشرے کے منظم اعلیٰ تھے۔ یایھا النبی اتق اللہ (33: 1) ” اے نبی ، اللہ سے ڈرو “۔ اللہ سے ڈرنا اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ اللہ ہمارے اوپر نگران ہے اور وہ بہت جلیل القدر ہے۔ یہ اسلام کا بنیادی شعور اور بنیادی قاعدہ ہے۔ تقویٰ ہی انسان کے اندر ایک پاسبان ہوتا ہے جو انسان کو اللہ کے احکام کی پیروی پر مائل کرتا ہے۔ چناچہ تقویٰ ہی کی وجہ سے اسلامی نظام زندگی عملاً قائم ہوتا ہے۔ دوسرا حکم آیا ہے کہ کافروں اور منافقوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کرو۔ ان کی تجاویز اور ان کی ہدایات کو نظر انداز کرو ، نہ ان سے رائے لو اور نہ ان کے اصرار کو تسلیم کرو۔ ولا تطع الکفرین والمنفقین (33: 1) ” کفار اور منافقین کی اطاعت نہ کرو “۔ اللہ کے احکام کی اطاعت کرنے کا حکم یہاں بعد میں آتا ہے۔ اس سے بھی پہلے کہا گیا کہ کفار اور منافقین کی اطاعت نہ کرو ، اس لیے کہ اس دور میں کفار اور منافقین کی طرف مسلمانوں اور حضور اکرم ﷺ پر بہت ہی دباؤ تھا۔ اس لیے یہاں حکیم دیا گیا کہ آئندہ اسلامی معاشرے کی عملی تنظیم میں بھی ان کی کوئی بات نہ سنو اور ان کے دباؤ کے آگے نہ جھکو۔ حضور ﷺ کو تو اس وقت کے حالات کے مطابق حکم دیا گیا لیکن تحریک اسلامی کو ہر زمان و مکان میں یہی کرنا چاہئے کہ جہاں اپنی حکومت قائم ہو تو وہاں غیروں کی آراء و تجاویز کو قبول نہ کرو تاکہ اسلامی نظام حیات خالص اپنی پالیسی پر آگے بڑھے اور وہ کسی غیر کی پالیسی کے دباؤ میں نہ ہو۔ کسی مسلمان کو یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ ان کفار اور منافقین کے پاس مہارت ہے اور وہ علم و تجربہ رکھتے ہیں جس طرح آج کل اپنے لیے اپنی کمزوری کے دور میں یہ وجہ جواز تلاش کرتے ہیں اس لیے کہ اللہ ہی علیم و حکیم ہے۔ اس نے مسلمانوں کو جو نظام زندگی دیا ہے وہ اس نے علم و حکمت کی اساس پر دیا ہے۔ اس میں کوئی فتور اور قصور نہیں ہے اور لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی علم و حکمت نہیں ہے۔ اور اس کے بعد متصلا یہ حکم دیا جاتا ہے۔ واتبع ما یوحی الیک من ربک (33: 2) ” اور پیروی کرو اس بات کی جس کا اشارہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں کیا جارہا ہے “۔ کیونکہ مسلمانوں کے لیے ہدایات اللہ سے آیا کرتی ہیں۔ کفار اور منافقین کی طرف سے نہیں۔ مسلمان خدا کا اتباع کرتے ہیں کسی اور کا نہیں۔ اس آیت کی طرز تعبیر ہی میں بعض گہرے اشارات پائے جاتے ہیں یعنی اتباع کرو اس بات کی جو تمہارے طرف وحی (اشارہ) کی جا رہی ہے ، خصوصیت کے ساتھ۔ پھر یہ اشارہ رب کی طرف سے ہے۔ گویا یہاں یہ خاص اشارات کئے جا رہے ہیں ، ان کو سمجھو۔ اور یہ اشارات اللہ مطاع کی طرف سے ہیں۔ ان اللہ کان بما تعملون خبیرا (33: 2) ” اللہ ہر اس بات سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ اللہ جو ہدایات دیتا ہے وہ اعلیٰ درجے کے علم اور مہارت پر مبنی ہیں۔ وہ تمہارے اعمال کی حقیقت سے باخبر ہے۔ تمہارے رجحانات اور تمہاری خواہشات سے باخبر ہے۔ اور آخری ہدایت یہ ہے کہ و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (33: 3) ” اللہ پر توکل کرو ، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے “ یہ بات اہم نہیں ہے کہ کفار و منافقین تمہارے ساتھ ہیں یا تمہارے خلاف ہیں۔ نہ ان کی مکاریوں اور سازشوں کو کوئی حیثیت ہے۔ اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ، اللہ تمہارے معاملات کے اندر اپنے علم ، اپنی خبرداری اور مہارت سے تصرف کرے گا۔ معاملات کو اللہ پر چھوڑ دینا ہی وہ چیز ہے جس پر آخر کار انسان کا دل مطمئن ہوکر شرح صدر حاصل کرلیتا ہے اور وہ اپنے حدود وقیود سے باخبر ہوجاتا ہے۔ اپنے حدود سے باہر کے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ اپنی حدود پر رک جاتا ہے اور آگے کی بات ، بات والے پر چھوڑ دیتا ہے۔ نہایت اطمینان ، پورے بھروسے اور پورے یقین کے ساتھ اپنے حصے کا کام کرتا ہے۔ یہ تین عناصر ، خدا کا خوف ، وحی الٰہی کا پورا اتباع اور اللہ وحدہ پر بھروسہ یہ کسی بھی داعی کے اصل زاد راہ ہیں۔ بشرطیکہ وہ کفار اور منافقین سے کٹ جائے۔ یہ عناصر دعوت اسلامی کو اپنے منہاج پر قائم رکھتے ہیں یعنی اللہ سے (خوف) اللہ کی طرف سے آنے والے حکم کا اتباع اور اللہ پر بھروسہ۔ یہ ہدایات ایک زبردست ، گہرے تبصرے پر رقم ہوتی ہیں اور یہ تبصرہ ایک حسی مشاہدے پر مبنی ہے۔

الأحزاب 33:2

یایھا النبی اتق اللہ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (1 – 3) یہ اس سورة کا آغار ہے جس میں اس نئے اسلامی معاشرے کی اخلاقی اور اجتماعی زندگی کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ یہ آغاز ہی بتاتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا مزاج کیا ہے اور وہ قواعد اور اصول کیا ہیں جن پر اسلامی نظام عملا قائم ہے۔ وہ تصورات کیا ہیں جن کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ضمیر و اخلاق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسلام محض ہدایات اور وعظ نہیں ہے۔ نہ اسلام محض چند اخلاقی تعلیمات کا نام ہے ، نہ اسلام صرف قوانین کا مجوعہ ہے۔ نہ وہ محض رسم و رواج کا نام ہے۔ اسلام دراصل مذکورہ بالا تمام چیزوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن یہ سب چیزیں بھی اسلام نہیں ہیں ۔ اسلام دراصل سرتسلیم خم کردینے کا نام ہے۔ اللہ کی مشیت اور اللہ کی خواہش کے سامنے سرتسلیم خم کردینا۔ اللہ کی تقدیر کے سامنے جھکنا اور سب سے اول بات یہ کہ اللہ کے احکام اوامرو نواہی کے ماننے کے لیے تیار ہوجانا۔ اللہ انسانوں کے لیے جو نظام تجویز کرتا ہے اس کے مطابق زندگی بسر کرے ، بغیر ادھر ادھر توجہ کرنے کے ، اور اس کے سوا کسی اور طرف رخ کرنے کے۔ بغیر اس کے کہ اللہ کے سوا کسی اور قوت پر بھروسہ کیا جائے ۔ اسلام کا بنیادی شعور یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ وہ ایک ایسے قانون قدرت کا تابع ہے جو خود انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کو کنڑول کرتا ہے۔ یہ نظام افلاک و کواکب کو بھی کنڑول کرتا ہے اور تمام وجود کو بھی کنٹرول کرتا ہے خواہ خفیہ ہو یا ظاہر ہو۔ غائب ہو یا حاضر ہو۔ انسان اسے سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہو۔ اس یقین کے ساتھ کہ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے صرف اللہ کے احکام کا اتباع کرنا ہے اور ان کاموں سے روکنا ہے جن سے رکنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ ان اسباب اور ذرائع کو استعمال کرنا ہے جو اللہ نے ان کیلئے فراہم کیے ہیں اور پھر ان نتائج کا انتظار کرنا ہے جو اللہ نے نکالنے ہیں۔ یہ وہ قاعدہ ہے جس کے اوپر تمام شریعتیں اور تمام قوانین قائم ہوتے ہیں ، رسم و رواج قائم ہوتے ہیں ، آداب و اخلاق قائم ہوتے ہیں یعنی وہ عقیدہ جو ضمیر و شعور میں ہوتا ہے وہ انسانی زندگی میں عملاً ظہور پذیر ہو اور انسان کی زندگی میں اس کے عملی آثار موجود ہوں کہ انسان کا نفس اللہ کے سامنے جھک گیا ہے اور وہ اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے شریعت پھوٹتی ہے۔ اس شریعت پر بھی ایک پورا نظام زندگی استوار ہوتا ہے اور یہ تینوں امور باہم مربوط اور ہم جسم ہوتے ہیں۔ یہ ہے اسلام۔ چناچہ اس سورة کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے لیے جدید قانون سازی کی جائے یعنی اللہ سے ڈرنا۔ خطاب نبی ﷺ کی طرف ہے کیونکہ حضور اکرم ﷺ ہی اس جدید معاشرے کے منظم اعلیٰ تھے۔ یایھا النبی اتق اللہ (33: 1) ” اے نبی ، اللہ سے ڈرو “۔ اللہ سے ڈرنا اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ اللہ ہمارے اوپر نگران ہے اور وہ بہت جلیل القدر ہے۔ یہ اسلام کا بنیادی شعور اور بنیادی قاعدہ ہے۔ تقویٰ ہی انسان کے اندر ایک پاسبان ہوتا ہے جو انسان کو اللہ کے احکام کی پیروی پر مائل کرتا ہے۔ چناچہ تقویٰ ہی کی وجہ سے اسلامی نظام زندگی عملاً قائم ہوتا ہے۔ دوسرا حکم آیا ہے کہ کافروں اور منافقوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کرو۔ ان کی تجاویز اور ان کی ہدایات کو نظر انداز کرو ، نہ ان سے رائے لو اور نہ ان کے اصرار کو تسلیم کرو۔ ولا تطع الکفرین والمنفقین (33: 1) ” کفار اور منافقین کی اطاعت نہ کرو “۔ اللہ کے احکام کی اطاعت کرنے کا حکم یہاں بعد میں آتا ہے۔ اس سے بھی پہلے کہا گیا کہ کفار اور منافقین کی اطاعت نہ کرو ، اس لیے کہ اس دور میں کفار اور منافقین کی طرف مسلمانوں اور حضور اکرم ﷺ پر بہت ہی دباؤ تھا۔ اس لیے یہاں حکیم دیا گیا کہ آئندہ اسلامی معاشرے کی عملی تنظیم میں بھی ان کی کوئی بات نہ سنو اور ان کے دباؤ کے آگے نہ جھکو۔ حضور ﷺ کو تو اس وقت کے حالات کے مطابق حکم دیا گیا لیکن تحریک اسلامی کو ہر زمان و مکان میں یہی کرنا چاہئے کہ جہاں اپنی حکومت قائم ہو تو وہاں غیروں کی آراء و تجاویز کو قبول نہ کرو تاکہ اسلامی نظام حیات خالص اپنی پالیسی پر آگے بڑھے اور وہ کسی غیر کی پالیسی کے دباؤ میں نہ ہو۔ کسی مسلمان کو یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ ان کفار اور منافقین کے پاس مہارت ہے اور وہ علم و تجربہ رکھتے ہیں جس طرح آج کل اپنے لیے اپنی کمزوری کے دور میں یہ وجہ جواز تلاش کرتے ہیں اس لیے کہ اللہ ہی علیم و حکیم ہے۔ اس نے مسلمانوں کو جو نظام زندگی دیا ہے وہ اس نے علم و حکمت کی اساس پر دیا ہے۔ اس میں کوئی فتور اور قصور نہیں ہے اور لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی علم و حکمت نہیں ہے۔ اور اس کے بعد متصلا یہ حکم دیا جاتا ہے۔ واتبع ما یوحی الیک من ربک (33: 2) ” اور پیروی کرو اس بات کی جس کا اشارہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں کیا جارہا ہے “۔ کیونکہ مسلمانوں کے لیے ہدایات اللہ سے آیا کرتی ہیں۔ کفار اور منافقین کی طرف سے نہیں۔ مسلمان خدا کا اتباع کرتے ہیں کسی اور کا نہیں۔ اس آیت کی طرز تعبیر ہی میں بعض گہرے اشارات پائے جاتے ہیں یعنی اتباع کرو اس بات کی جو تمہارے طرف وحی (اشارہ) کی جا رہی ہے ، خصوصیت کے ساتھ۔ پھر یہ اشارہ رب کی طرف سے ہے۔ گویا یہاں یہ خاص اشارات کئے جا رہے ہیں ، ان کو سمجھو۔ اور یہ اشارات اللہ مطاع کی طرف سے ہیں۔ ان اللہ کان بما تعملون خبیرا (33: 2) ” اللہ ہر اس بات سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ اللہ جو ہدایات دیتا ہے وہ اعلیٰ درجے کے علم اور مہارت پر مبنی ہیں۔ وہ تمہارے اعمال کی حقیقت سے باخبر ہے۔ تمہارے رجحانات اور تمہاری خواہشات سے باخبر ہے۔ اور آخری ہدایت یہ ہے کہ و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (33: 3) ” اللہ پر توکل کرو ، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے “ یہ بات اہم نہیں ہے کہ کفار و منافقین تمہارے ساتھ ہیں یا تمہارے خلاف ہیں۔ نہ ان کی مکاریوں اور سازشوں کو کوئی حیثیت ہے۔ اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ، اللہ تمہارے معاملات کے اندر اپنے علم ، اپنی خبرداری اور مہارت سے تصرف کرے گا۔ معاملات کو اللہ پر چھوڑ دینا ہی وہ چیز ہے جس پر آخر کار انسان کا دل مطمئن ہوکر شرح صدر حاصل کرلیتا ہے اور وہ اپنے حدود وقیود سے باخبر ہوجاتا ہے۔ اپنے حدود سے باہر کے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ اپنی حدود پر رک جاتا ہے اور آگے کی بات ، بات والے پر چھوڑ دیتا ہے۔ نہایت اطمینان ، پورے بھروسے اور پورے یقین کے ساتھ اپنے حصے کا کام کرتا ہے۔ یہ تین عناصر ، خدا کا خوف ، وحی الٰہی کا پورا اتباع اور اللہ وحدہ پر بھروسہ یہ کسی بھی داعی کے اصل زاد راہ ہیں۔ بشرطیکہ وہ کفار اور منافقین سے کٹ جائے۔ یہ عناصر دعوت اسلامی کو اپنے منہاج پر قائم رکھتے ہیں یعنی اللہ سے (خوف) اللہ کی طرف سے آنے والے حکم کا اتباع اور اللہ پر بھروسہ۔ یہ ہدایات ایک زبردست ، گہرے تبصرے پر رقم ہوتی ہیں اور یہ تبصرہ ایک حسی مشاہدے پر مبنی ہے۔

الأحزاب 33:3

یایھا النبی اتق اللہ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (1 – 3) یہ اس سورة کا آغار ہے جس میں اس نئے اسلامی معاشرے کی اخلاقی اور اجتماعی زندگی کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ یہ آغاز ہی بتاتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا مزاج کیا ہے اور وہ قواعد اور اصول کیا ہیں جن پر اسلامی نظام عملا قائم ہے۔ وہ تصورات کیا ہیں جن کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ضمیر و اخلاق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسلام محض ہدایات اور وعظ نہیں ہے۔ نہ اسلام محض چند اخلاقی تعلیمات کا نام ہے ، نہ اسلام صرف قوانین کا مجوعہ ہے۔ نہ وہ محض رسم و رواج کا نام ہے۔ اسلام دراصل مذکورہ بالا تمام چیزوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن یہ سب چیزیں بھی اسلام نہیں ہیں ۔ اسلام دراصل سرتسلیم خم کردینے کا نام ہے۔ اللہ کی مشیت اور اللہ کی خواہش کے سامنے سرتسلیم خم کردینا۔ اللہ کی تقدیر کے سامنے جھکنا اور سب سے اول بات یہ کہ اللہ کے احکام اوامرو نواہی کے ماننے کے لیے تیار ہوجانا۔ اللہ انسانوں کے لیے جو نظام تجویز کرتا ہے اس کے مطابق زندگی بسر کرے ، بغیر ادھر ادھر توجہ کرنے کے ، اور اس کے سوا کسی اور طرف رخ کرنے کے۔ بغیر اس کے کہ اللہ کے سوا کسی اور قوت پر بھروسہ کیا جائے ۔ اسلام کا بنیادی شعور یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ وہ ایک ایسے قانون قدرت کا تابع ہے جو خود انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کو کنڑول کرتا ہے۔ یہ نظام افلاک و کواکب کو بھی کنڑول کرتا ہے اور تمام وجود کو بھی کنٹرول کرتا ہے خواہ خفیہ ہو یا ظاہر ہو۔ غائب ہو یا حاضر ہو۔ انسان اسے سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہو۔ اس یقین کے ساتھ کہ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے صرف اللہ کے احکام کا اتباع کرنا ہے اور ان کاموں سے روکنا ہے جن سے رکنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ ان اسباب اور ذرائع کو استعمال کرنا ہے جو اللہ نے ان کیلئے فراہم کیے ہیں اور پھر ان نتائج کا انتظار کرنا ہے جو اللہ نے نکالنے ہیں۔ یہ وہ قاعدہ ہے جس کے اوپر تمام شریعتیں اور تمام قوانین قائم ہوتے ہیں ، رسم و رواج قائم ہوتے ہیں ، آداب و اخلاق قائم ہوتے ہیں یعنی وہ عقیدہ جو ضمیر و شعور میں ہوتا ہے وہ انسانی زندگی میں عملاً ظہور پذیر ہو اور انسان کی زندگی میں اس کے عملی آثار موجود ہوں کہ انسان کا نفس اللہ کے سامنے جھک گیا ہے اور وہ اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے شریعت پھوٹتی ہے۔ اس شریعت پر بھی ایک پورا نظام زندگی استوار ہوتا ہے اور یہ تینوں امور باہم مربوط اور ہم جسم ہوتے ہیں۔ یہ ہے اسلام۔ چناچہ اس سورة کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے لیے جدید قانون سازی کی جائے یعنی اللہ سے ڈرنا۔ خطاب نبی ﷺ کی طرف ہے کیونکہ حضور اکرم ﷺ ہی اس جدید معاشرے کے منظم اعلیٰ تھے۔ یایھا النبی اتق اللہ (33: 1) ” اے نبی ، اللہ سے ڈرو “۔ اللہ سے ڈرنا اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ اللہ ہمارے اوپر نگران ہے اور وہ بہت جلیل القدر ہے۔ یہ اسلام کا بنیادی شعور اور بنیادی قاعدہ ہے۔ تقویٰ ہی انسان کے اندر ایک پاسبان ہوتا ہے جو انسان کو اللہ کے احکام کی پیروی پر مائل کرتا ہے۔ چناچہ تقویٰ ہی کی وجہ سے اسلامی نظام زندگی عملاً قائم ہوتا ہے۔ دوسرا حکم آیا ہے کہ کافروں اور منافقوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کرو۔ ان کی تجاویز اور ان کی ہدایات کو نظر انداز کرو ، نہ ان سے رائے لو اور نہ ان کے اصرار کو تسلیم کرو۔ ولا تطع الکفرین والمنفقین (33: 1) ” کفار اور منافقین کی اطاعت نہ کرو “۔ اللہ کے احکام کی اطاعت کرنے کا حکم یہاں بعد میں آتا ہے۔ اس سے بھی پہلے کہا گیا کہ کفار اور منافقین کی اطاعت نہ کرو ، اس لیے کہ اس دور میں کفار اور منافقین کی طرف مسلمانوں اور حضور اکرم ﷺ پر بہت ہی دباؤ تھا۔ اس لیے یہاں حکیم دیا گیا کہ آئندہ اسلامی معاشرے کی عملی تنظیم میں بھی ان کی کوئی بات نہ سنو اور ان کے دباؤ کے آگے نہ جھکو۔ حضور ﷺ کو تو اس وقت کے حالات کے مطابق حکم دیا گیا لیکن تحریک اسلامی کو ہر زمان و مکان میں یہی کرنا چاہئے کہ جہاں اپنی حکومت قائم ہو تو وہاں غیروں کی آراء و تجاویز کو قبول نہ کرو تاکہ اسلامی نظام حیات خالص اپنی پالیسی پر آگے بڑھے اور وہ کسی غیر کی پالیسی کے دباؤ میں نہ ہو۔ کسی مسلمان کو یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ ان کفار اور منافقین کے پاس مہارت ہے اور وہ علم و تجربہ رکھتے ہیں جس طرح آج کل اپنے لیے اپنی کمزوری کے دور میں یہ وجہ جواز تلاش کرتے ہیں اس لیے کہ اللہ ہی علیم و حکیم ہے۔ اس نے مسلمانوں کو جو نظام زندگی دیا ہے وہ اس نے علم و حکمت کی اساس پر دیا ہے۔ اس میں کوئی فتور اور قصور نہیں ہے اور لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی علم و حکمت نہیں ہے۔ اور اس کے بعد متصلا یہ حکم دیا جاتا ہے۔ واتبع ما یوحی الیک من ربک (33: 2) ” اور پیروی کرو اس بات کی جس کا اشارہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں کیا جارہا ہے “۔ کیونکہ مسلمانوں کے لیے ہدایات اللہ سے آیا کرتی ہیں۔ کفار اور منافقین کی طرف سے نہیں۔ مسلمان خدا کا اتباع کرتے ہیں کسی اور کا نہیں۔ اس آیت کی طرز تعبیر ہی میں بعض گہرے اشارات پائے جاتے ہیں یعنی اتباع کرو اس بات کی جو تمہارے طرف وحی (اشارہ) کی جا رہی ہے ، خصوصیت کے ساتھ۔ پھر یہ اشارہ رب کی طرف سے ہے۔ گویا یہاں یہ خاص اشارات کئے جا رہے ہیں ، ان کو سمجھو۔ اور یہ اشارات اللہ مطاع کی طرف سے ہیں۔ ان اللہ کان بما تعملون خبیرا (33: 2) ” اللہ ہر اس بات سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ اللہ جو ہدایات دیتا ہے وہ اعلیٰ درجے کے علم اور مہارت پر مبنی ہیں۔ وہ تمہارے اعمال کی حقیقت سے باخبر ہے۔ تمہارے رجحانات اور تمہاری خواہشات سے باخبر ہے۔ اور آخری ہدایت یہ ہے کہ و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (33: 3) ” اللہ پر توکل کرو ، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے “ یہ بات اہم نہیں ہے کہ کفار و منافقین تمہارے ساتھ ہیں یا تمہارے خلاف ہیں۔ نہ ان کی مکاریوں اور سازشوں کو کوئی حیثیت ہے۔ اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ، اللہ تمہارے معاملات کے اندر اپنے علم ، اپنی خبرداری اور مہارت سے تصرف کرے گا۔ معاملات کو اللہ پر چھوڑ دینا ہی وہ چیز ہے جس پر آخر کار انسان کا دل مطمئن ہوکر شرح صدر حاصل کرلیتا ہے اور وہ اپنے حدود وقیود سے باخبر ہوجاتا ہے۔ اپنے حدود سے باہر کے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ اپنی حدود پر رک جاتا ہے اور آگے کی بات ، بات والے پر چھوڑ دیتا ہے۔ نہایت اطمینان ، پورے بھروسے اور پورے یقین کے ساتھ اپنے حصے کا کام کرتا ہے۔ یہ تین عناصر ، خدا کا خوف ، وحی الٰہی کا پورا اتباع اور اللہ وحدہ پر بھروسہ یہ کسی بھی داعی کے اصل زاد راہ ہیں۔ بشرطیکہ وہ کفار اور منافقین سے کٹ جائے۔ یہ عناصر دعوت اسلامی کو اپنے منہاج پر قائم رکھتے ہیں یعنی اللہ سے (خوف) اللہ کی طرف سے آنے والے حکم کا اتباع اور اللہ پر بھروسہ۔ یہ ہدایات ایک زبردست ، گہرے تبصرے پر رقم ہوتی ہیں اور یہ تبصرہ ایک حسی مشاہدے پر مبنی ہے۔

الأحزاب 33:4

ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ ” اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے “۔ ہر انسان کے اندر ایک ہی دل اور ایک ہی دماغ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا تصور بھی ایک ہوگا اور اس کا نظام بھی ایک ہوگا۔ وہ ایک ہی صراط مستقیم پر چل سکتا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی پیمانہ ہوگا جس سے وہ حسن وقبح کو ناپے گا۔ اور ایک ہی پیمانے سے وہ واقعات اور اقدار کو ناپے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کی زندگی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی۔ وہ منافق ہوگا۔ اس کی زندگی میں نشیب و فراز ہوں گے اور وہ صراط مستقیم پر نہ ہوگا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک انسان اپنے اخلاق و آداب ایک سرچشمے سے لے اور اپنا دستور و قانون کسی دوسرے سرچشمے سے لے اور اپنا اجتماعی اور معاشی نظام کسی تیسرے سر چشمے سے لے اور اپنے فنون اور فلسفے کسی چوتھے سرچشمے سے لے۔ اس قسم کے مخلوط خیالات کسی ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ ایسا شخص اور اس کی شخصیت ٹکڑے ٹکڑے ہوگی اور اس کا وجود قائم نہ رہ سکے گا۔ ایک نظریاتی شخص ، جس کا فی الواقعہ کوئی نظریہ اور عقیدہ ہو ، یہ نہیں کرسکتا کہ وہ زندگی کے چھوٹے یا بڑے معاملے میں کوئی نظریاتی موقف نہ رکھتا ہو۔ وہ ہر وقت اپنے نظریات کے تقاضوں کے مطابق قدریں اپناتا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ کوئی بات کرے یا کوئی حرکت کرے ، یا کوئی نیت و ارادہ کرے یا کوئی سوچ کرے اور وہ اس کے نظریات سے متاثر نہ ہو یا اس کے عقیدے سے مبرا ہو۔ کیونکہ اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔ ایک دل ہوتا ہے ، ایک عقیدہ ہوتا ہے ، ایک عمل ہوتا ہے ، ایک سمت ہوتی ہے اور ایک ہی پیمانہ اور قدر ہوتی ہے۔ کوئی نظریاتی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں کیا ہے اور یہ میں نے ایک مسلمان کی حیثیت میں کیا ہے۔ جیسا کہ آج کل کے سیاست دان ایسا کرتے ہیں ، یا جیسا کہ اجتماعی جمعیتیں کرتی ہیں یا علمی سوسائٹیاں کرتی ہیں۔ غرض انسان ایک ہوتا ہے ، اس کا دل ایک ہوتا ہے ، نظریہ ایک ہوتا ہے ، قبلہ ایک ہوتا ہے ، اس کا تصور ایک ہوتا ہے ، اقدار اور حسن و قبح کے پیمانے ایک ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اس کے عقائد میں ہوتا ہے۔ غرض اسی ایک دل کے ساتھ انسان تنہا بھی زندہ رہتا ہے ، خاندان میں بھی رہتا ہے ، جماعت میں بھی رہتا ہے ، حکومت میں بھی رہتا ہے ، دنیا میں بھی رہتا ہے ، چھپے بھی رہتا ہے اور برملا بھی رہتا ہے۔ مزدور و آقا بھی رہتا ہے ، حاکم و محکوم بھی رہتا ہے۔ مشکلات اور سہولیات میں بھی رہتا ہے۔ غرض یہ اس کا رنگ ہوتا ہے۔ یہ تبدیل نہیں ہوتا۔ نہ اس کا معیار بدلتا ہے اور نہ قیمت بدلتی ہے۔ نہ اس کی سوچ بدلتی ہے۔ ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ (33: 4) لہٰذا کسی بھی نظریاتی اسلام کا منہاج ایک ہوتا ہے ، راستہ ایک ہوتا ہے ، رخ ایک ہوتا ہے۔ صرف اللہ کے حکم کے سامنے جھکتا ہے۔ دل ایک ہے تو الٰہ بھی ایک ہے ، آقا بھی ایک ہے ، منہاج حیات بھی ایک ہے اور اگر کوئی ایسا نہ ہوگا تو اس کی زندگی منتشر ہوگی اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہ جائے گا۔ اس فیصلہ کن تبصرے کے بعد اور منہاج حیات کے تعین کے بعد اب سیاق کلام قانونی اصلاحات شروع کرتا ہے۔ پہلے ظہار اور متنبی کا قانون منسوخ کیا جاتا ہے تاکہ خاندان کو بیرونی عناصر سے پاک کرکے خالص رشتہ داری اور قدرتی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے۔ وما جعل ازواجکم الئ۔۔۔۔۔۔ وکان اللہ غفورا رحیما (4 – 5) ” ۔ “۔ جاہلیت میں رواج یہ تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا تھا تم مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہو۔ یعنی تم مجھ پر اس طرح حرام ہو جس طرح ماں حرام ہے۔ اسی وقت سے اس پر اس کے ساتھ مجامعت حرام ہوجاتی۔ اب یہ معلقہ ہوجاتی نہ یہ مطلقہ ہوتی کہ دوسرا کوئی اس سے نکاح کرتا ، نہ اس کی بیوی بن سکتی۔ اور یہ عورتوں پر ہونے والے مظالم میں سے سب سے بڑا ظلم تھا۔ اور جاہلیت کے دور کی بدسلوکیوں میں سے ایک بدسلوکی تھی۔ اسلام نے اصلاحات کا کام سب سے پہلے خاندانی نظام سے شروع کیا۔ خاندان کے اندر ہونے والے اس ظلم کو ختم کیا ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ خاندان انسانی اجتماعیت کا پہلا دائرہ ہے۔ اس لیے اسلام نے خاندانی نظام کی طرف بہت توجہ دی تاکہ جس تربیت گاہ میں بچے پرورش پاتے ہیں ، اس کی فضا خوشگوار ہو ، اور پر امن ہو ، چناچہ عورت کو اس عظیم بوجھ سے نکالا گیا اور اسے اس حالت قید سے رہائی دلا دی گئی۔ اور میاں بیوی کے تعلقات کو ازسرنو عدل و انصاف پر استوار کیا۔ چناچہ یہ قانون وضع کیا گیا۔ وما جعل ازواجکم ۔۔۔۔۔ امھتکم (33: 4) ” اس نے تم لوگوں کی ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو ، تمہاری ماں نہیں بنا دیا ہے “۔ کیونکہ صرف زبان سے ماں کہنے سے بیوی ماں نہیں بن جاتی۔ حقیقت واقعہ کے مطابق ماں ، ماں ہے اور بیوی ، بیوی ہے۔ محض ایک لفظ کہنے سے تعلقات و روابط کی نوعیت نہیں بدل جاتی ۔ یہی وجہ ہے کہ ظہار کی وجہ سے ابدی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ جس طرح ماں حرام ہوتی ہے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ سورة مجادلہ میں ظہار کے ظالمانہ قانون کو باطل کیا گیا اور واقعہ یوں ہوں کہ اوس ابن الصامت نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ کے ساتھ ظہار کرلیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اس نے یہ دعویٰ کیا رسول خدا ﷺ یہ میرا مال کھا گیا ، اس نے میری جوانی کو ختم کردیا ، اور میرا پیٹ پھول گیا۔ اور میری عمر بڑھ گئی اور میری اولاد ختم ہوگئی تو اسنے میرے ساتھ ظہار کرلیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ تم اس پر حرام ہوگئی ہو “۔ اس نے شکایت بار بار پیش کی۔ اس پر سورة مجادلہ کی یہ آیات نازل ہوئیں : قد سمع اللہ قول التی ۔۔۔۔۔۔۔ وللکفرین عذاب الیم (58: 1 – 4) ” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کر رہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے ۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے ، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کا جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور حقیقت یہ کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور درگزر فرمانے والا ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ایک غلام آزاد کرنا ہوگا ، اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے ، قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک سزا ہے “۔ اس قانون کی رو سے ظہار کی وجہ سے میاں بیوی کو وقتی طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ کردیا گیا اور سابق قانون میں جو ابدی حرمت تھی ، اسے ختم کردیا گیا۔ اور اگر میاں بیوی باہم دوبارہ ازدواجی زندگی اختیار کرنا چاہیں تو اسے سے قبل وہ ایک غلام آزاد کریں یا مسلسل دو ماہ روزے رکھیں یا 60 مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ یوں دوبارہ بیوی خاوند کے لیے حلال ہوجائے گی اور دونوں کی ازدواجی زندگی حسب سابق شروع ہوجائے گی۔ اور یہ نیا قانون واقعیت پسندانہ ہے اور واقعی صورت حالات پر مبنی ہے۔ وما جعل ازواجکم الئی تظھرون منھن امھتکم (33: 4) ” اللہ نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو ، تمہاری مائیں نہیں بنایا “۔ اس جاہلی عادت کی وجہ سے خاندان ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا تھا اور دوسری جانب عورت پر ایک دائمی ظلم تھا اور وہ زندہ درگور ہوجاتی تھی۔ یوں خاندانی روابط کے اندر اضطراب ، طوائف الملوکی اور پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی تھیں اور یہ سب کچھ مرد کی ذاتی خواہشات اور جاہلی سوسائٹی میں ان کی برتری اور تشدد کی وجہ سے تھا۔ یہ تو تھا مسئلہ ظہار رہا قانون متنبی اور لوگوں کو اپنے باپوں کے سوا دوسروں کے نام سے پکارنا “ یہ بھی خاندانی نظام کے لیے باعث پریشانی تھا اور اسکی وجہ سے ایک خاندان کی ہم آہنگی میں خلل پڑتا تھا۔ اس کے باوجود کہ عربی معاشرے میں عفت اور نسب کا بہت بڑا خیال رکھا جاتا تھا اور نسب پر فخر کیا جاتا تھا لیکن اس فخر و مباہات کے ساتھ ساتھ بعض کمزور پہلو بھی عرب معاشرے میں پائے جاتے تھے۔ معدودے چند خاندانوں کے سوا یہ کمزوریاں عموماً تھیں۔ بعض لوگوں کے ہاں ایسے بیٹے بھی تھے جن کے سرے سے باپ معلوم ہی نہ تھے۔ بعض لوگوں کو اس قسم کے نوجوان پسند آئے تو وہ انہیں اپنا بیٹا بنا لیتے ہیں اس کو اپنے نسب میں شمار کرلیتے اور دونوں ایک دوسرے کی میراث کے حقدار ہوجاتے۔ بعض بیٹے ایسے تھے کہ ان کے باپ معلوم تھے لیکن بعض اوقات ایک شخص کو کوئی ایسا لڑکا پسند آجاتا ، وہ اسے اپنا بیٹا بنا لیتا۔ اور اسے اپنے نسب میں شریک کرلیتا ۔ لوگوں کے اندر وہ ابن فلاں مشہور ہوتا۔ وہ اس کے خاندان کا فرد بن جاتا۔ یہ معاملہ خصوصاً جنگی قیدیوں اور اغوا شدہ لوگوں کے ساتھ ہوتا۔ جنگ اور ڈاکوں میں بچے اور نوجوان لڑکے قید ہوجاتے۔ بعض لوگ ایسے لوگوں کو اپنا بیٹا بنا لیتے۔ اسے اپنا نام دے دیتے اور وہ اس کے ساتھ مشہور ہوجاتا اور وہ بیٹے کے حقوق و فرائض ادا کرتا۔ انہی میں سے زیاد ابن حارثہ کلبی بھی تھا۔ یہ ایک عربی قبیلہ ہے ، ایام جاہلیت کے دور میں ڈکیتیوں میں سے کسی ڈکیتی میں یہ قید ہوکر آگیا۔ اسے حکم ابن حزام نے اپنی پھوپھی خدیجہ کے لیے خرید لیا۔ جب حضور ﷺ نے خدیجہ کو اپنے نکاح میں لے لیا تو اس نے یہ حضور ﷺ کو بخش دیا۔ اس کے بعد اس کے باپ اور بیٹے نے اسے آزاد کرنے کا مطالبہ کیا تو حضور اکرم ﷺ نے اسے اختیار دے دیا تو زید نے حضور ﷺ کو اختیار کرلیا۔ حضور اکرم ﷺ نے اسے آزاد کرکے معبنی بنا دیا اور لوگ اسے زید ابن محمد کہنے لگے۔ غلاموں میں سے حضور ﷺ پر وہ سب سے پہلے ایمان لائے۔ جب اسلام نے خاندانی تعلقات کو اپنی طبیعی اور فطری بنیادوں پر استوار کرنا شروع کیا ، خاندانی روابط کو مستحکم بنانے کی سعی کی اور خاندان کو خالص خاندانی حد تک محدود کیا تو جاہلی قانون متنبی کو ختم کردیا اور خاندانی روابط کو نسب کی بنیاد پر قائم کردیا۔ یعنی خونی رشتے باپ بیٹے کی اساس پر ۔ اور یہ حکم دیا۔ وما جعل ادعیاء کم ابناء کم (33: 4) ” اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنایا “۔ ذلکم قولکم بافواھکم (33: 4) ” یہ وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکالتے ہو “۔ صرف باتوں سے واقعات اور حقائق نہیں بدلتے۔ اور صرف باتوں سے خونی رشتے بھی قائم نہیں ہوتے اور وراثت کے حقوق بھی پیدا نہیں ہوجاتے۔ اور محض زبان سے یہ رشتے ایسے نہیں ہوتے جو اس وقت ہوتے ہیں جب ایک زندہ بچہ زندہ ماں سے پیدا ہوتا ہے یا حقیقی باپ سے پیدا ہوجاتا ہے۔ واللہ یقول الحق وھو یھدی ۔۔۔۔ (33: 4) ” مگر اللہ جو بات کہتا ہے وہی حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے “۔ وہ مطلق حق کہتا ہے جس کے اندر کوئی باطل نہیں ہوتا اور ان سچائیوں میں سے ایک سچائی یہ ہے کہ خاندانی قوانین اور رشتے حقیقت پر مبنی ہوں۔ یعنی خون اور نسب کے روابط ہوں۔ نہ محض زبانی باتوں پر۔ وہ قانون سازی میں سیدھا راستی اختیار کرتا ہے اور اسی کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ یہ فطری قانون ہوتا ہے اور انسان کے بنائے ہوئے قوانین ان فطری قوانین کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ خصوصاً جبکہ وہ حقائق نہ ہوں۔ محض خالی خولی باتیں ہوں۔ ایسے الفاظ ہوں جن کا کوئی مفہوم نہ ہو ، لہٰذا ایسے قوانین و روابط پر حقیقی قوانین و روابط غالب ہوجاتے ہیں جو سیدھے راستے پر مبنی ہوں۔ ادعوھم لابآئھم اقسط عند اللہ (33: 5) ” منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے “۔ منصفانہ بات یہ ہے کہ بیٹے کو باپ کے نام سے پکارا جائے۔ یہی اس والد کے ساتھ انصاف ہے جس کے جسم سے یہ ٹکڑا علیحدہ ہو کر شخص بنا۔ بیٹے کے ساتھ بھی انصاف ہے اور انہی دونوں کے درمیان وراثت بھی انصاف ہے۔ باپ اور بیٹے ہی ایک دوسرے کے حقیقی معاون ہو سکتے ہیں۔ بیٹا باپ کی خفیہ خصوصیات کا بھی امین ہو سکتا ہے اور آباؤاجداد کے خصائص کا بھی امین ہے۔ یہ اسطرح بھی عدل ہے کہ ہر حق کو اس کی جگہ رکھ دیا گیا اور روابط کو فطری اصولوں پر قائم کردیا گیا۔ نہ والد کی حق تلفی ہو اور نہ بیٹے کی حق تلفی ہو۔ غیر حقیقی والد کو معبنیٰ ہونے کے ذمہ داریاں نہ اٹھانی پڑیں گی اور نہ اسے وہ مفادات ملیں گے جن کا وہ مستحق نہ تھا۔ نہ معبنی غیر ضروری ذمہ داریاں اٹھائے گا اور نہ وہ مفادات لے سکے گا جس کا وہ مستحق نہ تھا۔ یہ وہ عائلی نظام ہے جس کی وجہ سے خاندان کی ذمہ داریوں میں توازن پیدا ہوتا ہے اور خاندان نہایت ہی مستحکم اور گہری اور واقعیت پسندانہ بنیادوں پر قائم ہوتا ہے ۔ اس کی اساس میں سچائی ، حق پسندی اور فطرت سے ہم آہنگی ہے۔ ہر وہ نظام جو خاندانی نظام کو نظر انداز کرتا ہے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ وہ ضعیف کمزور اور جعلی بنیادوں پر اٹھا ہوا ہوتا ہے اور کوئی ایسا نظام زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ دور جاہلیت میں خاندان کے روابط میں بہت انتشار تھا۔ اسی طرح جنسی تعلقات میں بھی انتشار تھا ، اس کے نتیجے میں انساب کے اندر بہت ہی اختلاط پیدا ہوگیا تھا اور بعض اوقات لوگوں کے باپوں کا بھی پتہ نہ لگتا تھا۔ اسلام نے اس معاملے کے اندر سہولت پیدا کردی کیونکہ اسلام کا منشا یہ تھا کہ خاندانی نظام کو ازسرنو منظم کیا جائے۔ اور اسلام خاندان کی اساس پر اجتماعی نظام کی تشکیل کے درپے تھا۔ اس لیے جن لوگوں کے آباء و اجداد کا پتہ نہ تھا ، ان کو اسلامی جماعت میں ایک مقام دے دیا۔ یہ اخوت اسلامی کا مقام تھا۔ فان لم تعلموا ابآءھم فاخوانکم فی الدین (33: 5) ” اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور رفیق ہیں “۔ اخوت فی الدین کا تعلق ایک اخلاقی اور روحانی تعلق ہے اور اس پر کوئی قانونی حقوق و فرائض مرتب نہیں کیے گئے ۔ مثلاً وراثت کی کفالت اور ادائیگی دے کر ، جبکہ معبنی بنانے پر یہ قانونی حقوق و فرائض مرتب ہوتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان لوگوں کا بھی اسلامی جماعت میں کوئی نہ کوئی مقام اور رابطہ ہونا چاہئے۔ فان لم تعلموا ابآءھم (33: 5) ” اگر تمہیں ان کے آباؤ و اجداد معلوم نہ ہوں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دور جاہلیت کے معاشرے میں نسب کے اعتبار سے بہت بڑا انتشار تھا۔ اس کے نتیجے میں جنسی تعلقات کے معاملے میں بھی انتشار تھا۔ اس انتشار سے بچنے کے لیے اسلام نے خاندانی نظام کو ازسر نو مرتب کیا۔ یوں خاندانی نظام مستحکم بنیادوں پر استوار ہوگیا۔ انساب کو اپنی حقیقت کی طرف واپس کردینے کے بعد اب یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کو اپنا نسب صحیح معلوم نہ ہو اور وہ نسب کے سلسلے میں کوئی غلب بات کہہ دے تو اس کا کوئی قصور نہ ہوگا۔ ولیس علیکم جناح فیما اخطاتم بہ ولکن ما تعمدت قلوبکم (33: 5) ” نادانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے کہ تم دل سے ارادہ کرو۔ یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ اللہ کسی پر کوئی ایسا حکم عائد نہیں کرتا جس کے بجا لانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔ وکان اللہ غفورا رحیما (33: 5) ” اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے “۔ نبی ﷺ نے نسب کے سلسلے میں بہت ہی تاکید اور تشدید فرمائی ہے کیونکہ اسلام کا مقصد یہ تھا کہ جدید معاشرے کو ایسے خطوط پر منظم کیا جائے جس میں کوئی انتشار نہ ہو جس طرح جاہلی معاشروں میں کسی کے بارے میں کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ کون کس کی اولاد سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اپنا نسب چھپاتے ہیں ان کو سخت وعید کی گئی اور ان پر کفر کا اطلاق کیا گیا۔ ابن جریر نے ، یعقوب ابن ابراہیم سے ، ابن علیہ سے ، عینیہ ابن عبد الرحمن نے ان کے باپ سے ، ابوبکر ؓ سے فرماتے ہیں ، اللہ نے فرمایا۔ ادعوھم لابآءھم ۔۔۔۔۔ الدین وموالیکم (33: 5) ” منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو ، یہ اللہ کے نزدیک بہت ہی منصفانہ بات ہے۔ اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں “۔ میرے باپ نے کہا ” عینیہ ابن عبد الرحمن کہتے ہیں “۔ خدا کی قسم میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر کسی کو یقین ہوتا کہ میرا باپ گدھا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتا “۔ اور حدیث میں آیا ہے۔ من اوعی الی غیر ابیہ وھو یعلم الا کفر ” جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا اور کسی طرف منسوب کیا اور وہ جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہے تو اس نے کفر کا ارتکاب کیا “۔ یہ تہدید اس پالیسی کے مطابق ہے جس کے ذریعے اسلام خاندان اور خاندانی روابط کو ہر شک و شبہ سے پاک رکھنا چاہتا ہے اور اسلام سلسلہ نسب کو صحیح ، سلامت ، مسلم الثبوت رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس پر اسلامی معاشرے کی تعمیر کی جائے اور یہ معاشرہ صحیح اور پاک معاشرہ ہو۔ اس کے بعد ایک دوسرے عبوری قانون کے اندر ترمیم کردی جاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ جب وارد مدینہ ہوئے تو وہاں آپ ﷺ نے انصار اور مہاجرین کے درمیان مواخات قائم کی۔ اسلام سے قبل جاہلیت میں اس قسم کا کوئی نظام نہ تھا۔ یہ نظام ہجرت کے بعد اسلام نے ایجاد کیا تھا کیونکہ مہاجرین اپنی دولت مکہ میں چھوڑ آئے تھے۔ یہاں تہی دست وارد ہوئے۔ اسی طرح مدینہ میں بھی ایسے لوگ تھے جن کو ان کے خاندان والوں نے گھروں سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ مسلمان ہوگئے تھے۔ مواخات کو ختم کرکے نبی ﷺ کو دلایت عامہ دے دی گئی اور یہ ولایت تمام دوسری ولایتوں پر مقدم قرار دے دی گئی۔ نبی ﷺ کے ولی عام بننے کے ساتھ ساتھ آپ کی ازدواج کو بھی روحانی مائیں قرار دے دیا گیا۔

الأحزاب 33:5

ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ ” اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے “۔ ہر انسان کے اندر ایک ہی دل اور ایک ہی دماغ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا تصور بھی ایک ہوگا اور اس کا نظام بھی ایک ہوگا۔ وہ ایک ہی صراط مستقیم پر چل سکتا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی پیمانہ ہوگا جس سے وہ حسن وقبح کو ناپے گا۔ اور ایک ہی پیمانے سے وہ واقعات اور اقدار کو ناپے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کی زندگی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی۔ وہ منافق ہوگا۔ اس کی زندگی میں نشیب و فراز ہوں گے اور وہ صراط مستقیم پر نہ ہوگا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک انسان اپنے اخلاق و آداب ایک سرچشمے سے لے اور اپنا دستور و قانون کسی دوسرے سرچشمے سے لے اور اپنا اجتماعی اور معاشی نظام کسی تیسرے سر چشمے سے لے اور اپنے فنون اور فلسفے کسی چوتھے سرچشمے سے لے۔ اس قسم کے مخلوط خیالات کسی ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ ایسا شخص اور اس کی شخصیت ٹکڑے ٹکڑے ہوگی اور اس کا وجود قائم نہ رہ سکے گا۔ ایک نظریاتی شخص ، جس کا فی الواقعہ کوئی نظریہ اور عقیدہ ہو ، یہ نہیں کرسکتا کہ وہ زندگی کے چھوٹے یا بڑے معاملے میں کوئی نظریاتی موقف نہ رکھتا ہو۔ وہ ہر وقت اپنے نظریات کے تقاضوں کے مطابق قدریں اپناتا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ کوئی بات کرے یا کوئی حرکت کرے ، یا کوئی نیت و ارادہ کرے یا کوئی سوچ کرے اور وہ اس کے نظریات سے متاثر نہ ہو یا اس کے عقیدے سے مبرا ہو۔ کیونکہ اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔ ایک دل ہوتا ہے ، ایک عقیدہ ہوتا ہے ، ایک عمل ہوتا ہے ، ایک سمت ہوتی ہے اور ایک ہی پیمانہ اور قدر ہوتی ہے۔ کوئی نظریاتی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں کیا ہے اور یہ میں نے ایک مسلمان کی حیثیت میں کیا ہے۔ جیسا کہ آج کل کے سیاست دان ایسا کرتے ہیں ، یا جیسا کہ اجتماعی جمعیتیں کرتی ہیں یا علمی سوسائٹیاں کرتی ہیں۔ غرض انسان ایک ہوتا ہے ، اس کا دل ایک ہوتا ہے ، نظریہ ایک ہوتا ہے ، قبلہ ایک ہوتا ہے ، اس کا تصور ایک ہوتا ہے ، اقدار اور حسن و قبح کے پیمانے ایک ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اس کے عقائد میں ہوتا ہے۔ غرض اسی ایک دل کے ساتھ انسان تنہا بھی زندہ رہتا ہے ، خاندان میں بھی رہتا ہے ، جماعت میں بھی رہتا ہے ، حکومت میں بھی رہتا ہے ، دنیا میں بھی رہتا ہے ، چھپے بھی رہتا ہے اور برملا بھی رہتا ہے۔ مزدور و آقا بھی رہتا ہے ، حاکم و محکوم بھی رہتا ہے۔ مشکلات اور سہولیات میں بھی رہتا ہے۔ غرض یہ اس کا رنگ ہوتا ہے۔ یہ تبدیل نہیں ہوتا۔ نہ اس کا معیار بدلتا ہے اور نہ قیمت بدلتی ہے۔ نہ اس کی سوچ بدلتی ہے۔ ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ (33: 4) لہٰذا کسی بھی نظریاتی اسلام کا منہاج ایک ہوتا ہے ، راستہ ایک ہوتا ہے ، رخ ایک ہوتا ہے۔ صرف اللہ کے حکم کے سامنے جھکتا ہے۔ دل ایک ہے تو الٰہ بھی ایک ہے ، آقا بھی ایک ہے ، منہاج حیات بھی ایک ہے اور اگر کوئی ایسا نہ ہوگا تو اس کی زندگی منتشر ہوگی اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہ جائے گا۔ اس فیصلہ کن تبصرے کے بعد اور منہاج حیات کے تعین کے بعد اب سیاق کلام قانونی اصلاحات شروع کرتا ہے۔ پہلے ظہار اور متنبی کا قانون منسوخ کیا جاتا ہے تاکہ خاندان کو بیرونی عناصر سے پاک کرکے خالص رشتہ داری اور قدرتی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے۔ وما جعل ازواجکم الئ۔۔۔۔۔۔ وکان اللہ غفورا رحیما (4 – 5) ” ۔ “۔ جاہلیت میں رواج یہ تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا تھا تم مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہو۔ یعنی تم مجھ پر اس طرح حرام ہو جس طرح ماں حرام ہے۔ اسی وقت سے اس پر اس کے ساتھ مجامعت حرام ہوجاتی۔ اب یہ معلقہ ہوجاتی نہ یہ مطلقہ ہوتی کہ دوسرا کوئی اس سے نکاح کرتا ، نہ اس کی بیوی بن سکتی۔ اور یہ عورتوں پر ہونے والے مظالم میں سے سب سے بڑا ظلم تھا۔ اور جاہلیت کے دور کی بدسلوکیوں میں سے ایک بدسلوکی تھی۔ اسلام نے اصلاحات کا کام سب سے پہلے خاندانی نظام سے شروع کیا۔ خاندان کے اندر ہونے والے اس ظلم کو ختم کیا ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ خاندان انسانی اجتماعیت کا پہلا دائرہ ہے۔ اس لیے اسلام نے خاندانی نظام کی طرف بہت توجہ دی تاکہ جس تربیت گاہ میں بچے پرورش پاتے ہیں ، اس کی فضا خوشگوار ہو ، اور پر امن ہو ، چناچہ عورت کو اس عظیم بوجھ سے نکالا گیا اور اسے اس حالت قید سے رہائی دلا دی گئی۔ اور میاں بیوی کے تعلقات کو ازسرنو عدل و انصاف پر استوار کیا۔ چناچہ یہ قانون وضع کیا گیا۔ وما جعل ازواجکم ۔۔۔۔۔ امھتکم (33: 4) ” اس نے تم لوگوں کی ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو ، تمہاری ماں نہیں بنا دیا ہے “۔ کیونکہ صرف زبان سے ماں کہنے سے بیوی ماں نہیں بن جاتی۔ حقیقت واقعہ کے مطابق ماں ، ماں ہے اور بیوی ، بیوی ہے۔ محض ایک لفظ کہنے سے تعلقات و روابط کی نوعیت نہیں بدل جاتی ۔ یہی وجہ ہے کہ ظہار کی وجہ سے ابدی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ جس طرح ماں حرام ہوتی ہے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ سورة مجادلہ میں ظہار کے ظالمانہ قانون کو باطل کیا گیا اور واقعہ یوں ہوں کہ اوس ابن الصامت نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ کے ساتھ ظہار کرلیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اس نے یہ دعویٰ کیا رسول خدا ﷺ یہ میرا مال کھا گیا ، اس نے میری جوانی کو ختم کردیا ، اور میرا پیٹ پھول گیا۔ اور میری عمر بڑھ گئی اور میری اولاد ختم ہوگئی تو اسنے میرے ساتھ ظہار کرلیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ تم اس پر حرام ہوگئی ہو “۔ اس نے شکایت بار بار پیش کی۔ اس پر سورة مجادلہ کی یہ آیات نازل ہوئیں : قد سمع اللہ قول التی ۔۔۔۔۔۔۔ وللکفرین عذاب الیم (58: 1 – 4) ” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کر رہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے ۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے ، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کا جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور حقیقت یہ کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور درگزر فرمانے والا ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ایک غلام آزاد کرنا ہوگا ، اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے ، قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک سزا ہے “۔ اس قانون کی رو سے ظہار کی وجہ سے میاں بیوی کو وقتی طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ کردیا گیا اور سابق قانون میں جو ابدی حرمت تھی ، اسے ختم کردیا گیا۔ اور اگر میاں بیوی باہم دوبارہ ازدواجی زندگی اختیار کرنا چاہیں تو اسے سے قبل وہ ایک غلام آزاد کریں یا مسلسل دو ماہ روزے رکھیں یا 60 مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ یوں دوبارہ بیوی خاوند کے لیے حلال ہوجائے گی اور دونوں کی ازدواجی زندگی حسب سابق شروع ہوجائے گی۔ اور یہ نیا قانون واقعیت پسندانہ ہے اور واقعی صورت حالات پر مبنی ہے۔ وما جعل ازواجکم الئی تظھرون منھن امھتکم (33: 4) ” اللہ نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو ، تمہاری مائیں نہیں بنایا “۔ اس جاہلی عادت کی وجہ سے خاندان ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا تھا اور دوسری جانب عورت پر ایک دائمی ظلم تھا اور وہ زندہ درگور ہوجاتی تھی۔ یوں خاندانی روابط کے اندر اضطراب ، طوائف الملوکی اور پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی تھیں اور یہ سب کچھ مرد کی ذاتی خواہشات اور جاہلی سوسائٹی میں ان کی برتری اور تشدد کی وجہ سے تھا۔ یہ تو تھا مسئلہ ظہار رہا قانون متنبی اور لوگوں کو اپنے باپوں کے سوا دوسروں کے نام سے پکارنا “ یہ بھی خاندانی نظام کے لیے باعث پریشانی تھا اور اسکی وجہ سے ایک خاندان کی ہم آہنگی میں خلل پڑتا تھا۔ اس کے باوجود کہ عربی معاشرے میں عفت اور نسب کا بہت بڑا خیال رکھا جاتا تھا اور نسب پر فخر کیا جاتا تھا لیکن اس فخر و مباہات کے ساتھ ساتھ بعض کمزور پہلو بھی عرب معاشرے میں پائے جاتے تھے۔ معدودے چند خاندانوں کے سوا یہ کمزوریاں عموماً تھیں۔ بعض لوگوں کے ہاں ایسے بیٹے بھی تھے جن کے سرے سے باپ معلوم ہی نہ تھے۔ بعض لوگوں کو اس قسم کے نوجوان پسند آئے تو وہ انہیں اپنا بیٹا بنا لیتے ہیں اس کو اپنے نسب میں شمار کرلیتے اور دونوں ایک دوسرے کی میراث کے حقدار ہوجاتے۔ بعض بیٹے ایسے تھے کہ ان کے باپ معلوم تھے لیکن بعض اوقات ایک شخص کو کوئی ایسا لڑکا پسند آجاتا ، وہ اسے اپنا بیٹا بنا لیتا۔ اور اسے اپنے نسب میں شریک کرلیتا ۔ لوگوں کے اندر وہ ابن فلاں مشہور ہوتا۔ وہ اس کے خاندان کا فرد بن جاتا۔ یہ معاملہ خصوصاً جنگی قیدیوں اور اغوا شدہ لوگوں کے ساتھ ہوتا۔ جنگ اور ڈاکوں میں بچے اور نوجوان لڑکے قید ہوجاتے۔ بعض لوگ ایسے لوگوں کو اپنا بیٹا بنا لیتے۔ اسے اپنا نام دے دیتے اور وہ اس کے ساتھ مشہور ہوجاتا اور وہ بیٹے کے حقوق و فرائض ادا کرتا۔ انہی میں سے زیاد ابن حارثہ کلبی بھی تھا۔ یہ ایک عربی قبیلہ ہے ، ایام جاہلیت کے دور میں ڈکیتیوں میں سے کسی ڈکیتی میں یہ قید ہوکر آگیا۔ اسے حکم ابن حزام نے اپنی پھوپھی خدیجہ کے لیے خرید لیا۔ جب حضور ﷺ نے خدیجہ کو اپنے نکاح میں لے لیا تو اس نے یہ حضور ﷺ کو بخش دیا۔ اس کے بعد اس کے باپ اور بیٹے نے اسے آزاد کرنے کا مطالبہ کیا تو حضور اکرم ﷺ نے اسے اختیار دے دیا تو زید نے حضور ﷺ کو اختیار کرلیا۔ حضور اکرم ﷺ نے اسے آزاد کرکے معبنی بنا دیا اور لوگ اسے زید ابن محمد کہنے لگے۔ غلاموں میں سے حضور ﷺ پر وہ سب سے پہلے ایمان لائے۔ جب اسلام نے خاندانی تعلقات کو اپنی طبیعی اور فطری بنیادوں پر استوار کرنا شروع کیا ، خاندانی روابط کو مستحکم بنانے کی سعی کی اور خاندان کو خالص خاندانی حد تک محدود کیا تو جاہلی قانون متنبی کو ختم کردیا اور خاندانی روابط کو نسب کی بنیاد پر قائم کردیا۔ یعنی خونی رشتے باپ بیٹے کی اساس پر ۔ اور یہ حکم دیا۔ وما جعل ادعیاء کم ابناء کم (33: 4) ” اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنایا “۔ ذلکم قولکم بافواھکم (33: 4) ” یہ وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکالتے ہو “۔ صرف باتوں سے واقعات اور حقائق نہیں بدلتے۔ اور صرف باتوں سے خونی رشتے بھی قائم نہیں ہوتے اور وراثت کے حقوق بھی پیدا نہیں ہوجاتے۔ اور محض زبان سے یہ رشتے ایسے نہیں ہوتے جو اس وقت ہوتے ہیں جب ایک زندہ بچہ زندہ ماں سے پیدا ہوتا ہے یا حقیقی باپ سے پیدا ہوجاتا ہے۔ واللہ یقول الحق وھو یھدی ۔۔۔۔ (33: 4) ” مگر اللہ جو بات کہتا ہے وہی حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے “۔ وہ مطلق حق کہتا ہے جس کے اندر کوئی باطل نہیں ہوتا اور ان سچائیوں میں سے ایک سچائی یہ ہے کہ خاندانی قوانین اور رشتے حقیقت پر مبنی ہوں۔ یعنی خون اور نسب کے روابط ہوں۔ نہ محض زبانی باتوں پر۔ وہ قانون سازی میں سیدھا راستی اختیار کرتا ہے اور اسی کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ یہ فطری قانون ہوتا ہے اور انسان کے بنائے ہوئے قوانین ان فطری قوانین کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ خصوصاً جبکہ وہ حقائق نہ ہوں۔ محض خالی خولی باتیں ہوں۔ ایسے الفاظ ہوں جن کا کوئی مفہوم نہ ہو ، لہٰذا ایسے قوانین و روابط پر حقیقی قوانین و روابط غالب ہوجاتے ہیں جو سیدھے راستے پر مبنی ہوں۔ ادعوھم لابآئھم اقسط عند اللہ (33: 5) ” منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے “۔ منصفانہ بات یہ ہے کہ بیٹے کو باپ کے نام سے پکارا جائے۔ یہی اس والد کے ساتھ انصاف ہے جس کے جسم سے یہ ٹکڑا علیحدہ ہو کر شخص بنا۔ بیٹے کے ساتھ بھی انصاف ہے اور انہی دونوں کے درمیان وراثت بھی انصاف ہے۔ باپ اور بیٹے ہی ایک دوسرے کے حقیقی معاون ہو سکتے ہیں۔ بیٹا باپ کی خفیہ خصوصیات کا بھی امین ہو سکتا ہے اور آباؤاجداد کے خصائص کا بھی امین ہے۔ یہ اسطرح بھی عدل ہے کہ ہر حق کو اس کی جگہ رکھ دیا گیا اور روابط کو فطری اصولوں پر قائم کردیا گیا۔ نہ والد کی حق تلفی ہو اور نہ بیٹے کی حق تلفی ہو۔ غیر حقیقی والد کو معبنیٰ ہونے کے ذمہ داریاں نہ اٹھانی پڑیں گی اور نہ اسے وہ مفادات ملیں گے جن کا وہ مستحق نہ تھا۔ نہ معبنی غیر ضروری ذمہ داریاں اٹھائے گا اور نہ وہ مفادات لے سکے گا جس کا وہ مستحق نہ تھا۔ یہ وہ عائلی نظام ہے جس کی وجہ سے خاندان کی ذمہ داریوں میں توازن پیدا ہوتا ہے اور خاندان نہایت ہی مستحکم اور گہری اور واقعیت پسندانہ بنیادوں پر قائم ہوتا ہے ۔ اس کی اساس میں سچائی ، حق پسندی اور فطرت سے ہم آہنگی ہے۔ ہر وہ نظام جو خاندانی نظام کو نظر انداز کرتا ہے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ وہ ضعیف کمزور اور جعلی بنیادوں پر اٹھا ہوا ہوتا ہے اور کوئی ایسا نظام زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ دور جاہلیت میں خاندان کے روابط میں بہت انتشار تھا۔ اسی طرح جنسی تعلقات میں بھی انتشار تھا ، اس کے نتیجے میں انساب کے اندر بہت ہی اختلاط پیدا ہوگیا تھا اور بعض اوقات لوگوں کے باپوں کا بھی پتہ نہ لگتا تھا۔ اسلام نے اس معاملے کے اندر سہولت پیدا کردی کیونکہ اسلام کا منشا یہ تھا کہ خاندانی نظام کو ازسرنو منظم کیا جائے۔ اور اسلام خاندان کی اساس پر اجتماعی نظام کی تشکیل کے درپے تھا۔ اس لیے جن لوگوں کے آباء و اجداد کا پتہ نہ تھا ، ان کو اسلامی جماعت میں ایک مقام دے دیا۔ یہ اخوت اسلامی کا مقام تھا۔ فان لم تعلموا ابآءھم فاخوانکم فی الدین (33: 5) ” اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور رفیق ہیں “۔ اخوت فی الدین کا تعلق ایک اخلاقی اور روحانی تعلق ہے اور اس پر کوئی قانونی حقوق و فرائض مرتب نہیں کیے گئے ۔ مثلاً وراثت کی کفالت اور ادائیگی دے کر ، جبکہ معبنی بنانے پر یہ قانونی حقوق و فرائض مرتب ہوتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان لوگوں کا بھی اسلامی جماعت میں کوئی نہ کوئی مقام اور رابطہ ہونا چاہئے۔ فان لم تعلموا ابآءھم (33: 5) ” اگر تمہیں ان کے آباؤ و اجداد معلوم نہ ہوں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دور جاہلیت کے معاشرے میں نسب کے اعتبار سے بہت بڑا انتشار تھا۔ اس کے نتیجے میں جنسی تعلقات کے معاملے میں بھی انتشار تھا۔ اس انتشار سے بچنے کے لیے اسلام نے خاندانی نظام کو ازسر نو مرتب کیا۔ یوں خاندانی نظام مستحکم بنیادوں پر استوار ہوگیا۔ انساب کو اپنی حقیقت کی طرف واپس کردینے کے بعد اب یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کو اپنا نسب صحیح معلوم نہ ہو اور وہ نسب کے سلسلے میں کوئی غلب بات کہہ دے تو اس کا کوئی قصور نہ ہوگا۔ ولیس علیکم جناح فیما اخطاتم بہ ولکن ما تعمدت قلوبکم (33: 5) ” نادانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے کہ تم دل سے ارادہ کرو۔ یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ اللہ کسی پر کوئی ایسا حکم عائد نہیں کرتا جس کے بجا لانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔ وکان اللہ غفورا رحیما (33: 5) ” اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے “۔ نبی ﷺ نے نسب کے سلسلے میں بہت ہی تاکید اور تشدید فرمائی ہے کیونکہ اسلام کا مقصد یہ تھا کہ جدید معاشرے کو ایسے خطوط پر منظم کیا جائے جس میں کوئی انتشار نہ ہو جس طرح جاہلی معاشروں میں کسی کے بارے میں کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ کون کس کی اولاد سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اپنا نسب چھپاتے ہیں ان کو سخت وعید کی گئی اور ان پر کفر کا اطلاق کیا گیا۔ ابن جریر نے ، یعقوب ابن ابراہیم سے ، ابن علیہ سے ، عینیہ ابن عبد الرحمن نے ان کے باپ سے ، ابوبکر ؓ سے فرماتے ہیں ، اللہ نے فرمایا۔ ادعوھم لابآءھم ۔۔۔۔۔ الدین وموالیکم (33: 5) ” منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو ، یہ اللہ کے نزدیک بہت ہی منصفانہ بات ہے۔ اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں “۔ میرے باپ نے کہا ” عینیہ ابن عبد الرحمن کہتے ہیں “۔ خدا کی قسم میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر کسی کو یقین ہوتا کہ میرا باپ گدھا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتا “۔ اور حدیث میں آیا ہے۔ من اوعی الی غیر ابیہ وھو یعلم الا کفر ” جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا اور کسی طرف منسوب کیا اور وہ جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہے تو اس نے کفر کا ارتکاب کیا “۔ یہ تہدید اس پالیسی کے مطابق ہے جس کے ذریعے اسلام خاندان اور خاندانی روابط کو ہر شک و شبہ سے پاک رکھنا چاہتا ہے اور اسلام سلسلہ نسب کو صحیح ، سلامت ، مسلم الثبوت رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس پر اسلامی معاشرے کی تعمیر کی جائے اور یہ معاشرہ صحیح اور پاک معاشرہ ہو۔ اس کے بعد ایک دوسرے عبوری قانون کے اندر ترمیم کردی جاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ جب وارد مدینہ ہوئے تو وہاں آپ ﷺ نے انصار اور مہاجرین کے درمیان مواخات قائم کی۔ اسلام سے قبل جاہلیت میں اس قسم کا کوئی نظام نہ تھا۔ یہ نظام ہجرت کے بعد اسلام نے ایجاد کیا تھا کیونکہ مہاجرین اپنی دولت مکہ میں چھوڑ آئے تھے۔ یہاں تہی دست وارد ہوئے۔ اسی طرح مدینہ میں بھی ایسے لوگ تھے جن کو ان کے خاندان والوں نے گھروں سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ مسلمان ہوگئے تھے۔ مواخات کو ختم کرکے نبی ﷺ کو دلایت عامہ دے دی گئی اور یہ ولایت تمام دوسری ولایتوں پر مقدم قرار دے دی گئی۔ نبی ﷺ کے ولی عام بننے کے ساتھ ساتھ آپ کی ازدواج کو بھی روحانی مائیں قرار دے دیا گیا۔

الأحزاب 33:6

النبی اولیٰ بالمومنین ۔۔۔۔۔ فی الکتب مسطورا (6) ” “۔ مہاجرین نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر مدینہ چلے آئے ، اللہ کی طرف بھاگ نکلے ، صرف دین لے کر بھاگ گئے۔ انہوں نے اپنے عقیدہ کو اپنی برادری کے تعلقات ، اپنے مال کے ذخائر ، اپنے اسباب حیات ، بچپن کی یادوں ، یاروں اور دوستوں کی محفلوں پر ترجیح دے دی۔ یہ لوگ صرف اپنا عقیدہ بچا کر نکل آئے اور اس کے سوا سب کچھ چھوڑ چھاڑ دیا۔ اس انداز پر ہجرت کرکے انہوں نے وہ تمام چیزیں چھوڑ دیں جو ہر انسان کے لیے عزیز ہوتی ہیں۔ اہل و عیال ، بیٹے بیٹیاں اور دوسرے رشتہ دار۔ یہ ایک زندہ مثال تھی اور یہ اس کرہ ارض پر واقع ہوئی کہ لوگوں نے صرف عقائد کی خاطر سب کو چھوڑ دیا۔ ان کے دلوں پر عقیدہ چھایا ہوا تھا۔ چناچہ ان کے دل میں اس عقیدے اور نظریہ کے سوا کوئی چیز باقی ہی نہ رہی۔ ان کی شخصیت مجتمع ہوگئی۔ ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ (33: 4) ” اللہ نے کسی انسان کے دھڑ میں دو دل نہیں بنائے “۔ اسی طرح مدینہ میں بھی ایک نئی صورت حال پیدا ہوگئی۔ بعض خاندانوں کے افراد اسلام میں داخل ہوگئے اور دوسرے لوگ شرک کرتے رہے۔ دونوں کے درمیان تعلقات کٹ گئے۔ غرض خاندانی روابط کے اندر ایک بھونچال سا آگیا اور اجتماعی نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔ یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ اسلامی معاشرہ نوزائیدہ تھا۔ اور اسلامی مملکت ابھی مستحکم نہ تھی۔ یہ دراصل ابھی تک ایک مجوزہ نظام ہی تھا جس کا زیادہ حصہ تصورات ہی میں تھا۔ ابھی تک اس کے مستحکم ادارے تشکیل نہ پائے تھے۔ غرض مدینہ میں ایک نظریاتی طوفان اٹھا۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کا طوفان تھا۔ اس نے تمام جذبات ، تمام رسم و رواج اور تمام روابط اور تعلقات کو ختم کردیا اور اس نئی سوسائٹی کے اندر صرف اسلامی رابطہ باقی رہ گیا۔ تمام دل عقیدہ اسلامی پر جمع تھے ، خاندان ، نسب ، قبیلہ ، دوستی اور قومی تعلقات نظریاتی لہروں کے نیچے دب گئے اور یہ نئی اکائیاں جو اسلامی سوسائٹی میں جم وہو چکی تھیں باہم مل گئیں۔ ایک نئی سوسائٹی وجود میں آگئی اور اسلامی اخوت پر لوگ جمع ہوگئے۔ یہ لوگ اسلامی اخوت پر کسی قانون یا حکم کے ذریعہ جمو نہ ہوگئے تھے بلکہ اسلامی نظریہ حیات نے ان کے اندر ایک زبردست اتحادی شعور پیدا کردیا تھا۔ یہ شعور اس قدر پختہ تھا کہ انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہ تھی۔ غرض اس طرح ایک بہت بڑا خاندان وجود میں آگیا۔ ایک جماعت وجود میں آگئی۔ اس قسم کا خاندان نہ حکومت کی اساس پر قائم ہو سکتا تھا ، نہ معاشرتی حالات اسے پیدا کرسکتے تھے۔ بہرحال یہ اخوت اسلامی تھی ، ایک اندرونی شعور تھا۔ مہاجرین انصار بھائیوں کے ہاں آکر اترے۔ جنہوں نے ان کے لیے مدینہ کو خوب سنبھالا۔ استقبال کیا۔ ان کو اپنے دلوں اور گھروں میں اتارا اور آنکھوں پر بٹھایا۔ انہوں نے ان کو اپنے مالوں میں شریک کیا اور ایک دوسرے سے بڑھ کر ان کو پناہ دی۔ اس قدر مقابلہ ہوا کہ کوئی مہاجر کسی انصاری کے ہاں صرف قرعہ اندازی کے ذریعے جاسکتا تھا۔ کیونکہ مہاجرین کم تھے اور انصار زیادہ تھے جو پناہ دینا چاہتے تھے۔ یہ پناہ نہایت اعتماد اور شوق سے دی گئی ۔ حقیقی خوشی اور دلی مسرت کے ساتھ دی گئی ۔ یہ پناہ ہر قسم کے فطری بخل اور تکبر اور نمائش سے پاک تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات قائم کی۔ یہ نظام نظریاتی سو سائٹیوں کی تاریخ میں ایک بےمثال نظا ، تھا۔ یہ برادری باقاعدہ خون کی برداری کے قائم مقام ہوگئی۔ چناچہ اس نظام کے تحت لوگ ایک دوسرے کے وارث بھی ہوئے اور اجتماعی تکافل کے دوسرے فرائض و واجبات بھی ادا کرتے رہے۔ مثلاً دیت وغیرہ۔ یہ شعوری اتحاد نہایت بلند مقام تک جا پہنچا اور مسلمانوں نے بڑی سنجیدگی سے ان تعلقات کو مستحکم کیا۔ اسی طرح وہ بھائی بن گئے جس طرح اسلام کے دوسرے احکام انہوں نے قبول کیے۔ چناچہ یہ سوسائٹی ایک مستحکم حکومت کی شکل اختیار کرگئی ہے اور مواخات کے اصول باقاعدہ حکومتی ادارہ ، ایک قانونی نظام اور ایک مستقل صورت حال اختیار کر گئے۔ بلکہ اس کی جڑیں بہت گہری ہوگئیں۔ اس نئی جماعت اور سوسائٹی کو کسی دھچکے سے بچانا بھی ضروری تھا۔ یہ نظام جو مستقل شکل اختیار کر رہا تھا اللہ کے منشاء کے مطابق ایک عارضی انتظام تھا۔ جس جماعت کو بھی ایسے حالات کا سامنا ہو جیسا کہ مدینہ کی اسلامی جماعت کو تھا ، اس کے لیے اس قسم کا شعور پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ اس شعور کے تحت ایک مستقل سوسائٹی اور حکومت وجود میں آجائے۔ ایک قانونی نظام ہو ، اور مسلم ادارے ہوں تکہ غیر معمولی حالات میں ایسے جماعت کو درپیش مسائل حل کیے جاسکیں اور اس طرح جماعتی زندگی کو ترقی دی جاسکی۔ یہ کام اس وقت تک ہوتا رہے جب تک حالات معمول پر نہیں آجاتے۔ اسلام اگرچہ اس قسم کے شعور کو ہر وقت زندگی رکھنا چاہتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اس قسم کی اخوت اور ایثار کے فوارے اسلامی سوسائٹی کے اندر پھوٹتے ہی رہیں۔ ان سے حجت اور قوت کے چشمے جاری رہیں لیکن اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ سوسائٹی کا ارتقاء طبیعی حالات کے مطابق ہو اور اجتماعیت کا نظام محض وقتی جذبات اور وقتی طوفان پر نہ ہو ، جن سے غیر معمولی حالات میں کام لیا جاتا ہے بلکہ سوسائٹی کو طبیعی اور نارمل حالات پر استوار کیا جاتا رہے۔ اور معمول کے مطابق نظام چلتا رہے۔ حتی کہ غیر ضروری اور استثنائی حالات ختم ہوں۔ جب غزوہ بدر کے بعد مدینہ میں حالات قدرے معمول پر آگئے ، اسلامی حکومت مستحکم ہوگئی ، اجتماعی حالات معمول کے مطابق مستحکم ہوگئے اور لوگوں کے لیے روزگار کا انتظام ہوگیا۔ اسلامی لشکروں نے جو چھوٹی موٹی لشکر کشیاں شروع کردی تھیں ، بدر کی جنگ کے بعد ان کی وجہ سے لوگوں کے مالی حالات درست ہوگئے ، خصوصاً بنی قینقاع کی جلاوطنی کی وجہ سے مسلمانوں کے پاس کافی اموال جمع ہوگئے۔ جو نہی سوسائٹی کے اندر دوسرے ذرائع سے سوشل سیکورٹی کا انتظام ہوگیا قرآن کریم نے مواخات کے اس غیر معمولی نظام کو ازوائے قانون ختم کرنے میں ایک منٹ کی دیر نہیں لگائی اور اجتماعی کفالیت کا نظام خاندانی اور نسب کے نظام کے ساتھ منسلک کردیا گیا ۔ البتہ اسلام نے اسلامی اخوت اور مواخات کے پیچھے جو شعوری جذبہ تھا ، اسے بہرحال بحال رکھا کہ اگر پھر اس قسم کے غیر معمولی حالات پیدا ہوجائیں تو دوبارہ یہ نظام قائم ہوسکے۔ اس طرح جماعت مسلمہ کے اندر اجتماعی کفالت کا نظام اپنی حقیقی حالت کی طرف لوٹا دیا گیا ، غرض وراثت ، دیات میں تکافل خون اور نسب کی طرف لوٹا دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ کی کتاب میں پہلے ہی یہ درج تھا۔ واولوا الارحام بعضھم ۔۔۔۔۔ فی الکتب مسطورا (33: 6) ” مگر کتاب اللہ کی رو سے عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی (کرنا چاہو تو) کرسکتے ہیں۔ یہ حکیم کتاب الٰہی میں لکھا ہوا ہے “۔ فیصلہ کردیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ ولی عام ہیں اور یہ وہ ولایت ہے جو رشتہ داری بلکہ اپنے نفوس پر بھی مقدم ہے۔ النبی اولی بالمومنین من انفسھم (33: 6) ” نبی مومنین کے لیے ان کے نفسوں سے بھی مقدم ہے “۔ اور یہ بھی فیصلہ کردیا گیا کہ ازواج مطہرات روحانی مائیں ہیں۔ وازواجہ امھتھم (33: 6) ” آپ ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں “۔ نبی ﷺ کی ولایت عام ولایت ہے ، آپ کو اختیارات حاصل تھے کہ آپ امت مسلمہ کو زندگی کا پورا نظام دے دیں۔ اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ رسول اللہ پر درود وسلام بھیجیں اور ان کے لیے کوئی راہ اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ ان امور کو اپنالیں جو ان کے لیے نبی ﷺ نے اختیار کرلیے۔ لایومن احدکم ۔۔۔۔۔ جئت بہ ” تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہشات ان احکام کے تابع نہ ہوجائیں جو میں لے کر آیا ہوں “۔ اس میں مسلمانوں کا شعور بھی شامل ہے ، لہٰذا ان کے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہونی چاہئے۔ اپنی جان سے بھی وہ بمقابلہ رسول زیادہ محبت نہیں کرسکتے۔ ان کے دلوں میں کوئی ذات یا کوئی چیز ذات رسول سے مقدم نہ ہونی چاہئے۔ حدیث صحیح میں ہے۔ والذی نفسی بیدہ ۔۔۔۔۔ والناس اجمعین ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا ، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے نفس اس کے مال ، اور اس کی اولاد بلکہ تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ صحیح حدیث میں ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں ۔ میں نے کہا حضور ، آپ میرے نفس کے سوا مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے عزیز ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں اے عمر ، یہاں تک کہ میں آپ کے لئے تمہاری جان سے بھی محبوب نہ ہوجاؤں “۔ اس پر اس نے کہا رسول خدا ، خدا کی قسم بیشک آپ مجھے تمام چیزوں سے محبوب ہیں یہاں تک میرے نفس سے بھی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا ” اب اے عمر “۔ یہ صرف باتیں ہی نہ تھیں۔ یہ ایک بلند معیار تھا جس تک اسلامی سوسائٹی پہنچی ہوئی تھی اور اس تک کوئی دل تب ہی پہنچ سکتا ہے جب تک کسی دل کو عالم بالا کی جانب سے مساس حاصل نہ ہوجائے اور وہ اپنی نظریں افق بلند تک اونچی نہ کردے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ذات کی کشش اور اس کی گہری محبت بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے ہوجاتی ہے۔ انسان اپنی ذات اور اپنی ذات کے متعلقات سے ناقابل تصور محبت کرتا ہے۔ بعض اوقات اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اپنے جذبات اور احساسات پر قابو پالیا ہے۔ اپنے نفس کر رام کو لیا ہے اور حب ذات کی بلندیوں سے وہ اتر آیا ہے لیکن جب اس کی ذات اور اس کے مفادات پر زد پڑتی ہے تو وہ یوں اچھل پڑتا ہے جیسا کہ اسے سانپ نے ڈس لیا ہے۔ وہ اس چبھن کو اس طرح محسوس کرتا ہے کہ اسے برداشت ہی نہیں کرسکتا۔ اگر برداشت کر بھی لے تو یہ درد اس کے شعور میں بیٹھ جاتا ہے اور اس کی گہرائیوں میں گھر کرلیتا ہے۔ بعض اوقات انسان اپنی پوری زندگی بھی قربان کردینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے لیکن اپنی ذاتی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔ نہ وہ کوئی ایسا عیب برداشت کرسکتا ہے جو اس کی ذات وصفات کی طرف منسوب کیا جائے اگرچہ کوئی بظاہر یہ ظاہر کرے کہ وہ ان باتوں پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ، یا ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ غرض اپنی ذات پر قابو پانا اور اپنی ذات سے بھی حضور اکرم ﷺ اور اپنے نظریہ کو زیادہ اہمیت دینا ، محض زبانی بات نہیں ہے کہ کوئی آسانی سے کہہ دے۔ یہ ایک ایسا مقام بلند ہے جس تک عالم بالا کے مساس کے بغیر کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے لیے طویل جدوجہد ، طویل مشق اور دائمی بیداری اور مخلصانہ خواہش کی ضرورت ہے جس کے ساتھ اللہ کی خاص مدد شامل حال رہے۔ یہ ہے عظیم جہاد۔ جیسا کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے جہاد اکبر کہا اور یہ وہ مقام ہے کہ حضرت عمر ؓ جیسی شخصیت کو بھی نبی ﷺ کی جانب سے تنبیہ اور تصحیح کی ضرورت پڑگئی۔ یہ ان کے قلب صافی کی ایک چن کی تھی جس کے نتیجے میں حضرت عمر ؓ اس مقام بلند تک پہنچ گئے اور ایک سیکنڈ میں۔ ولایت عامہ میں بھی نبی ﷺ کے حوالے سے امت کے افراد پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں۔ حدیث صحیح میں ہے ” جو بھی مومن ہیں میں ان کے لئے تمام لوگوں سے محبوب ہوں ، دنیا اور آخرت دونوں میں ، اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ النبی اولی بالمومنین من انفسھم (33: 6) ” نبی مومنین کے لیے ان کے نفسوں سے بھی مقدم ہے “۔ اس لیے جس مومن نے مال چھوڑا تو یہ اس کے عصبات کو ملے گا جو بھی ہوں اور اگر اس پر قرض ہو یا کوئی نادان ہو تو وہ میرے پاس آئے ، میں اس کا والی ہوں “۔ معنی یہ ہے کہ اگر مومن مر جائے اور اس کی میراث میں مال نہ ہو جس سے اس کا قرضہ ادا کردیا جائے تو میں اس کا قرض ادا کروں گا اور اگر اس کے عیال ہوں تو میں ان کی پرورش کروں گا ، اگر چھوٹے ہوں ۔ اس کے علاوہ عام حالات میں ، عام لوگوں کی زندگی طبعی حالات کے مطابق اپنی جدوجہد کے مطابق گزرے گی ، اس کے لیے اس قوم کے غیر معمولی جوش و خروش پیدا کرنے کی ضرورت نہیں جو غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے۔ اگرچہ نظام مواخات قانونی اعتبار سے تو ختم کردیا گیا مگر اخلاقی دائرے میں موجود رہا۔ لہٰذا اگر کوئی دوست اپنے دوست کے لیے کوئی وصیت کرتا ہے تو اسے ثلث مال تک وصیت کی اجازت ہے۔ الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروفا (33: 6) ” الا یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی احسان کرنا چاہو “۔ ان تمام اقدامات کو مضبوطی سے اس کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ اللہ کا ارادہ اور مشیت ہے اور کان ذلک فی الکتب مسطورا (33: 6) ” یہ قانون کتاب میں لکھا ہوا تھا “۔ لہٰذا دل مطمئن رہیں اور اس اصل کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں جس کی طرف تمام قوانین لوٹتے ہیں۔ یوں اب لوگوں کی معاشی زندگی اپنے قدرتی اصولوں پر استوار ہوجاتی ہے اور نہایت ہی سنجیدگی اور اطمینان سے چلتی ہے۔ اور اس کو ایسے معیار پر نہیں رکھا گیا جو غیر معمولی حالات میں قائم کیے جاسکتے ہیں۔ محدود جماعتوں اور محدود افراد کے اندر۔ لیکن اسلام اس فیاض سرچشمے کو بند بھی نہیں کرتا تاکہ اگر مستقبل میں اسلامی جماعت کو کسی استثنائی حالت میں ضرورت پڑے تو وہ اس جذبہ کو کام میں لائے یعنی ہنگامی حالات میں۔ اس بات کی مناسبت سے کہ یہ سب کچھ پہلے ہی کتاب میں لکھا ہوا تھا اور اللہ کی مشیت نے طے کردیا تھا کہ وہ باقی رہنے والا دائمی قانون بن جائے اور مسلسل طریقہ کار ہو۔ اس حوالے سے نبیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے۔ خصوصاً اولو العزم نبیوں سے کہ وہ اسلامی نظام کے قیام کی ذمہ داری قبول کریں اور اس تحریک پر جمے رہیں لوگوں کے اندر تبلیغ و تحریک کا کام جاری رکھیں اور ان اقوام میں اس دعوت کو جاری رکھیں جن کی طرف ان کو بھیجا گیا ہے تاکہ یہ بات لوگوں کے خلاف حجت ہو کہ ان تک پیغام پہنچا تھا اور وہ اپنی ضلالت و ہدایات کے ذمہ دار ہیں کفر اور ایمان کے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ پیغمبروں کی تبلیغ کے بعد تو حجت تمام ہوجاتی ہے۔

الأحزاب 33:7

واذ اخذنا من النبین ۔۔۔۔۔۔ للکفرین عذابا الیما (6 – 7) ” “۔ یہ وعدہ انوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک مسلسل لیا گیا۔ یہ واحد میثاق والا نظام ہے اور یہ واحد امانت ہے۔ ہر نبی اپنے ماقبل سے لیتا رہا اور آنے والے کو دیتا رہا۔ ابتدا میں تمام نبیوں کے بارے میں کہا گیا کہ ہم نے ان سے میثاق لیا اور اس کے بعد قرآن اور نبی ﷺ سے خصوصی طور پر تھا (ومنک) کیونکہ آپ خاتم النبین ہیں اور آپ کی دعوت عالمی ہے۔ اس کے بعد اولوالعزم رسولوں کے نام گنوائے ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کا ذکر ہوا۔ اصحاب میثاق کے ذکر کے بعد اب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عہد تھا کیا اور کیسا تھا تو وہ بہت پختہ عہد تھا ، بہت بھاری عہد تھا۔ میثاقا غلظیا (33: 7) پختہ عہد۔ اس میں لفظ میثاق کے لغوی معنے کی طرف اشارہ ہے۔ لغت میں میثاق بٹی ہوئی رسی کو کہتے ہیں۔ استعارہ کے طور پر عہد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس لفظ کے استعمال سے ایک معنوی مفہوم کو مجسم کرکے دکھانا مطلوب ہے تاکہ انسانی شعور اچھی طرح سمجھ لے کہ یہ کوئی پختہ اور اہم عہد تھا جو اس قدر بڑے بڑے پیغمبروں سے لیا گیا کہ وہ وحی وصول کریں ، اسکی تبلیغ کریں اور اس کے مطابق اسلامی نظام قائم کریں اور نہایت امانت اور استقامت کے ساتھ ، اس کی ذمہ داریاں برداشت کریں۔ لیسئل الصدقین عن صدقھم (33: 8) ” تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے “۔ اور صادق اہل ایمان ہیں کیونکہ انہوں نے سچ کہا اور سچے عقیدے کو قبول کیا۔ ان کے سوا تمام دوسرے لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کے عقائد باطل ہیں اور ان کی باتیں باطل ہیں۔ لہٰذا تعبیر کا خاص مفہوم ہے۔ سچوں سے سوال ایسا ہی ہوگا جس طرح ایک لائق شاگرد سے استاد لوگوں کے سامنے مجلس یا تقریب میں یہ پوچھتا ہے کہ تم نے کتنے نمبر لیے اور کیسے جوابات دئیے اور یوں کامیابی حاصل کی۔ یہ سوال ان کی عزت افزائی کے لیے اعلانیہ تمام لوگوں کے سامنے ہوگا تاکہ تمام سننے والے بھی ان کی تعریف کریں۔ اسی طرح یوم الحشر میں اللہ صادقین سے سوال ان کی تکریم کے لیے کرے گا۔ اب دوسرے لوگ جنہوں نے باطل نظریات اپنائے اور جنہوں نے جھوٹے بول بولے حالانکہ ان کے سامنے اس کائنات کا بہت بڑا مسئلہ پیش کیا گیا تھا ، جس میں یا انہوں نے سچا کلمہ کہنا تھا یا جھوٹا ، ان سے سوال ہوگا اور ان کے لیے سزا بھی حاضر ہوگی اور وہ تیار کھڑی ہوگی۔ واعد للکفرین عذابا الیما (33: 8) ” اور کافروں کے لیے اس نے دردناک وذاب تیار کر رکھا ہے “۔

الأحزاب 33:8

واذ اخذنا من النبین ۔۔۔۔۔۔ للکفرین عذابا الیما (6 – 7) ” “۔ یہ وعدہ انوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک مسلسل لیا گیا۔ یہ واحد میثاق والا نظام ہے اور یہ واحد امانت ہے۔ ہر نبی اپنے ماقبل سے لیتا رہا اور آنے والے کو دیتا رہا۔ ابتدا میں تمام نبیوں کے بارے میں کہا گیا کہ ہم نے ان سے میثاق لیا اور اس کے بعد قرآن اور نبی ﷺ سے خصوصی طور پر تھا (ومنک) کیونکہ آپ خاتم النبین ہیں اور آپ کی دعوت عالمی ہے۔ اس کے بعد اولوالعزم رسولوں کے نام گنوائے ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کا ذکر ہوا۔ اصحاب میثاق کے ذکر کے بعد اب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عہد تھا کیا اور کیسا تھا تو وہ بہت پختہ عہد تھا ، بہت بھاری عہد تھا۔ میثاقا غلظیا (33: 7) پختہ عہد۔ اس میں لفظ میثاق کے لغوی معنے کی طرف اشارہ ہے۔ لغت میں میثاق بٹی ہوئی رسی کو کہتے ہیں۔ استعارہ کے طور پر عہد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس لفظ کے استعمال سے ایک معنوی مفہوم کو مجسم کرکے دکھانا مطلوب ہے تاکہ انسانی شعور اچھی طرح سمجھ لے کہ یہ کوئی پختہ اور اہم عہد تھا جو اس قدر بڑے بڑے پیغمبروں سے لیا گیا کہ وہ وحی وصول کریں ، اسکی تبلیغ کریں اور اس کے مطابق اسلامی نظام قائم کریں اور نہایت امانت اور استقامت کے ساتھ ، اس کی ذمہ داریاں برداشت کریں۔ لیسئل الصدقین عن صدقھم (33: 8) ” تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے “۔ اور صادق اہل ایمان ہیں کیونکہ انہوں نے سچ کہا اور سچے عقیدے کو قبول کیا۔ ان کے سوا تمام دوسرے لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کے عقائد باطل ہیں اور ان کی باتیں باطل ہیں۔ لہٰذا تعبیر کا خاص مفہوم ہے۔ سچوں سے سوال ایسا ہی ہوگا جس طرح ایک لائق شاگرد سے استاد لوگوں کے سامنے مجلس یا تقریب میں یہ پوچھتا ہے کہ تم نے کتنے نمبر لیے اور کیسے جوابات دئیے اور یوں کامیابی حاصل کی۔ یہ سوال ان کی عزت افزائی کے لیے اعلانیہ تمام لوگوں کے سامنے ہوگا تاکہ تمام سننے والے بھی ان کی تعریف کریں۔ اسی طرح یوم الحشر میں اللہ صادقین سے سوال ان کی تکریم کے لیے کرے گا۔ اب دوسرے لوگ جنہوں نے باطل نظریات اپنائے اور جنہوں نے جھوٹے بول بولے حالانکہ ان کے سامنے اس کائنات کا بہت بڑا مسئلہ پیش کیا گیا تھا ، جس میں یا انہوں نے سچا کلمہ کہنا تھا یا جھوٹا ، ان سے سوال ہوگا اور ان کے لیے سزا بھی حاضر ہوگی اور وہ تیار کھڑی ہوگی۔ واعد للکفرین عذابا الیما (33: 8) ” اور کافروں کے لیے اس نے دردناک وذاب تیار کر رکھا ہے “۔

الأحزاب 33:9

درس نمبر 189 ایک نظر میں جنگلی حیات اور حادثات کے میدان کارزار میں اسلامی شخصیت کی تشکیل ہو رہی تھی۔ ہر نئے دن کے طلوع ہوتے کے بعد اور ہر نئے حادثے کے بعد یہ شخصیت واضح ہوتی جاتی تھی۔ اس کے خدوکال نکھر کر سامنے آتے تھے۔ جماعت مسلمہ ان شخصیات سے تشکیل پا رہی تھی جن کی خاص صلاحیتیں تھیں۔ ان کی خاص اقدار حیات تھیں اور تمام دوسری سوسائیٹوں سے اس کا رنگ ڈھنگ بالکل مختلف تھا۔ اس جماعت کے خلاف دور کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا اور یہ واقعات جماعت کے لیے بڑا فتنہ بن جاتے اور یہ فتنہ اس طرح ہوتا تھا جس طرح سونے کا ” فتنہ “ ہوتا ہے۔ اس فتنے سے اصلی جوہر اور کھوٹ علیحدہ ہوجاتے تھے۔ انسانوں کی حقیقت اور ان کا اصل جوہر سامنے آجاتا تھا۔ جھاگ دور ہوجاتی تھی اور خالص سونا جدا ہوجاتا تھا۔ یوں اسلامی سوسائٹی سے ایسی قدریں ختم ہوجاتی تھیں جن میں ملاوٹ ہوتی تھی۔ ان ابتلاؤں میں قرآن کریم نازل ہوتا تھا یا واقعات و حادثات کے بعد ان پر تبصرہ ہوتا تھا۔ اس تبصرے میں واقعات بتائے جاتے ، ان پر روشنی ڈالی جاتی اور ان کے نشیب و فراز بتائے جاتے۔ یوں ہر ایک کا موقف سامنے آتا۔ ضمیر و شعور اور نیت و ارادے کی اصلاح ہوتی اور ان واقعات کی روشنی میں لوگوں کو ہدایت دی جائیں اور وہ ہدایات اچھی طرح ان کی سمجھ میں آجائیں لوگ ان ہدایات سے اچھی طرح متاثر ہوتے اور اپنی اصلاح کرتے۔ یوں اسلامی جماعت کی تربیت ہر دن کے بعد ہوتی رہتی اور ہر حادثے کے بعد اسے ہدایات ملتی رہتیں۔ اسلامی نظام حیات کے اہداف کے مطابق اس جماعت مسلمہ کی شخصیت بنتی اور وہ ان تبصروں سے تاثرات ملتے۔ یوں نہیں ہوا کہ تمام احکام اور ہدایات ایک ہی باز نازل کرکے مسلمانوں کے سامنے رکھ دئیے گئے ہوں اور پھر یہ کہا گیا ہو کہ جاؤ ان پر عمل کرو۔ بلکہ یہ ہدایات اور یہ قوانین واقعات کے بعد نازل ہوتے رہے ، آزمائش آتیں ، فتنے آتے اور واقعات پیش آتے ، ادھر سے وحی آجاتی کیونکہ اللہ خالق کریم کو یہ علم تھا کہ انسان اخلاق کو صرف تدرئج ہی کے ساتھ اچھی طرح نئے سانچے میں ڈھالا اور اچھی طرح پختہ کیا جاسکتا ہے۔ انسانی اخلاق کی نوک پلک صرف آزمائشوں اور واقعات و حادثات کی شکل میں درست کی جاسکتی ہے۔ یعنی واقعاتی تجربات کی صورت میں۔ کیونکہ عملی تجربات کے نتیجے میں بات دلوں کی تہ تک اتر جاتی ہے اور اعصاب بھی اس کے مطابق حرکت کرنے لگتے ہیں۔ یہ اعصاب پھر اس طرح جدید ردعمل ظاہر کرتے ہیں جس طرح معرکہ کا رزار میں یا واقعات اور حادثات میں انسان کا فطری ردعمل ہوتا ہے۔ ایسے واقعات میں جب قرآن نازل ہوتا تو وہ بتا دیتا کہ یہ واقعہ کیا ہے۔ اس کے پیچھے کیا عوامل ہیں اور اس میں ایک مسلمان کا اسلامی ردعمل کیا ہونا چاہئے۔ اس طرح اسلامی شخصیت آزمائشوں کی بھٹی سے صاف و ستھری ہوکر نکل آتی ، نکھر آتی ، آزمائش کی تپش اس کے اخلاقی جسم سے ہر قسم کا کھوٹ نکال کر رکھ دیتی اور اب اسلام جس سانچے میں چاہتا ، ان شخصیات کو ڈھال لیتا۔ یہ ایک عجیب دور تھا جو مسلمانوں نے نبی ﷺ کی قیادت میں گزارا۔ اس میں آسمانوں و زمین کے قلابے ملے ہوئے تھے۔ آسمان سے اہل زمین کا براہ راست رابطہ تھا۔ تمام واقعات اور تمام مکالمات میں آسمان سے ہدایت آجاتی۔ ہر مسلمان رات اور دن یوں زندگی بسر کر رہا تھا کہ اللہ دیکھ رہا ہے سن رہا ہے۔ ابھی کوئی ہدایت یا تبصرہ نہ آجائے۔ اس کا کوئی کلمہ ، اس کی کوئی حرکت بلکہ اس کا کوئی ارادہ نزول وحی کا سبب نہ بن جائے۔ لوگوں کے سامنے ظاہر نہ ہوجائے ، رسول اللہ کے پاس سے اس کے بارے میں کوئی تبصرہ نہ آجائے۔ گویا ہر مسلمان محسوس کرتا تھا کہ وہ رب تعالیٰ کے ساتھ براہ راست منسلک ہے۔ اگر اسے کوئی معاملہ درپیش ہوتا یا کوئی مشکل درپیش ہوتی تو وہ انتظار کرتا کہ اس کے بارے میں کوئی فتویٰ ، کوئی ہدایت ، کوئی فیصلہ آسمان سے آجائے اور اللہ بتا دے بذات خود ، اے فلاں تم نے یہ کہا ، تم نے یوں کہا ، تم نے یوں سوچا۔ یہ ظاہر کیا اور چھپایا ، یوں کرو ، یوں نہ کرو ، اور ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو۔ یہ ایک عجیب دور تھا کہ اللہ کا ایک متعین حکم کسی متعین شخص کے بارے میں آپہنچتا۔ اور یہ حکم پھر اس کے لیے بھی ہوتا اور تمام اہل زمین کے لیے بھی ہوتا۔ زمین کے ذرے ذرے کے لیے ہوتا۔ پوری زمین کے لیے ہی ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عجیب دور تھا ۔ آج جب انسان اس کے بارے میں سوچتا ہے اس کے واقعات اور حادثات کو دہراتا ہے ، پڑھتا ہے ، پڑھاتا ہے تو وہ اچھی طرح ایک نقشہ ذہن میں لاسکتا ہے ، ایک منظر دیکھ سکتا ہے کہ کس قدر عجیب دور تھا یہ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تربیت صرف اس شعور کے ذریعہ ہی نہیں کی کہ ان کی شخصیت کو پختہ کردیا جائے بلکہ ان کو عملی تجربوں سے گزارا گیا۔ ان کو آزمائشوں میں مبتلا کیا گیا جس میں ان کا نقصان بھی ہوا لیکن فائدے بہت ہوئے اور یہ سب امور اللہ کی گہری حکمتوں کے مطابق سر انجام پاتے ، کیونکہ اللہ علیم وخبیر ہے اور وہ اپنی مخلوق کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ حکمت کیا تھی ؟ ہمیں اس پر ذرا طویل غوروفکر کرنا چاہئے تاکہ ہم اسے معلوم کرلیں ، پھر اس پر تدبر کریں۔ اور پھر ہم زندگی کے واقعات ، آزمائشوں پر اس کی روشنی میں غور کریں۔ اس سبق میں تحریک اسلامی کو پیش آنے والے ایک بڑے واقعہ کی تشریح کی گئی ہے۔ اور اسلامی تاریخ کے اس واقعہ میں جماعت مسلمہ کے لیے ایک بڑی آزمائش تھی اور یہ وقت امت مسلمہ پر بہت برا وقت تھا۔ بڑی مشکل دور سے تحریک گزر رہی تھی۔ یعنی غزوہ احزاب کا دور۔ یہ جنگ ہجرت کے پانچویں یا چوتھے سال میں پیش آئی۔ یہ اس نئی اٹھنے والی تحریک کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔ تحریک اسلامی کی تمام اقدار اور تمام نظریات داؤ پر تھے۔ ان آیات پر غور کرنے سے غزوہ احزاب کے واقعہ کے پیش کرنے سے ، اس کے اسلوب بیان سے ، بعض واقعات پر تبصرے سے ، بعض لوگوں کی حرکتوں سے ، بعض افراد کی سوچ سے ، اور بعض لوگوں کے خدشات سے اور پھر اس جنگ میں سامنے آنے والی اقدار سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے ذریعہ امت مسلمہ کی تربیت کس خوش اسلوبی سے فرما رہے تھے۔ جنگ احزاب جیسے اہم واقعہ پر قرآن کریم کس انداز سے تبصرے کرتا ہے اور امت کو کس انداز سے ہدایات دیتا ہے۔ قرآنی نصوص کی تشریح سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ اس واقعہ کی پوری تفصیل ذرا اختصار سے کتب سیرۃ سے نقل کردی جائے۔ اس سے ہم تقابلی مطالعہ کرسکیں گے کہ انسان واقعات کو کس طرح بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے تبصرہ کیسے ہوتا ہے۔ محمد ابن اسحاق نے اپنی سند کے ساتھ ایک جماعت سے نقل کیا ہے ۔۔۔ جنگ خندق کے واقعات میں یہ ہے کہ کچھ یہودی جن میں سے سلام ابن ابو الحقیق نضری ، یحی ابن اخطب نضری ، کنانہ ابن ابو الحقیق نضری ، ہودہ ابن قیس وائلی اور ابو عماد وائلی تھے اور ان کے ساتھ کچھ لوگ بنو نضیر ، کچھ لوگ بنی وائل کے بھی تھے۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ کے خلاف لشکر جمع کیے۔ یہ سب سے پہلے گھروں سے نکلے ، قریش سے ملے اور ان کو دعوت دی کہ رسول خدا کے خلاف جنگ کریں اور انہوں نے کہا کہ ہم تمہارا ساتھ اس وقت تک دیں گے جب تک اس کو بنیاد سے نہ اکھاڑ دیں۔ قریش نے کہا ، اے ملت یہود ، تم لوگ پہلی کتاب کے حاملین ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان کیا اختلاف ہے ، تم لوگ بتاؤ کہ اس کا دین اچھا ہے یا ہمارا۔ تو انہوں نے کہا اس کے دین سے تمہارا دین سچا ہے اور اس کے مقابلے میں تم زیادہ برحق ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں یہ آیات اتریں : الم تر الی الذین ۔۔۔۔۔۔ امنوا سبیلا (4: 51) ” کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں “۔ یہاں سے لے کر آیات ام یحسدون الناس علی ما اتھم ۔۔۔۔۔۔۔ وکفی بجھنم سعیرا (4: 54 – 55) ” پھر کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا اگر یہ بات ہے تو انہیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا۔ مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لائے اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا اور منہ موڑنے والوں کے لیے تو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے “۔ جب انہوں نے قریش کو یہ فتویٰ دیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور جوش میں آگئے اور رسول اللہ کے خلاف لڑنے کی حامی بھرلی۔ یہ لوگ اب قریش کو چھوڑ کر غطفان کے پاس گئے ، جو قیس غیلان کی نسل سے ہیں۔ انہوں نے ان کو بھی دعوت دی کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے خلاف لڑیں انہوں نے ان کو بتایا کہ وہ خود بھی ساتھ دیں گے اور قریش بھی ساتھ دیں گے۔ لہٰذا تم لوگ قریش کے ساتھ میٹنگ کرو۔ چناچہ قریش کا یہ لشکر ابو سفیان ابن حرب کی سر براہی میں ، غطفان اپنے سردار عبینہ ابن حنن بن فزاری کے ساتھ ، اور حارث ابن عوف بنی مروہ کے ساتھ اور مسعر ابن امیہ اپنے متعین بنی اشجع کے ساتھ نکلے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس لشکر کشی کی اطلاعات ملیں تو آپ ﷺ نے مدینہ کے اردگرد خندق کھودنا شروع کردی۔ خندق کھودنے میں رسول اللہ ﷺ نے بھی کام کیا اور مسلمانوں نے بھی کام کیا۔ آپ نے بھی جانفشانی سے کام کیا اور مسلمانوں نے بھی سخت جانفشانی سے کام کیا۔ اس کام میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے مقابلے میں بعض منافقین نے نہایت سست روی سے کام لیا۔ وہ بہت چھوٹے موٹے کاموں میں لگ جاتے اور بغیر اذن رسول ﷺ کے کھسک جاتے۔ وہ گھروں کو چلے جاتے اور رسول اللہ کو علم بھی نہ ہوتا۔ اور مسلمانوں کی روش یہ ہوتی کہ اگر کسی کا کوئی ضروری کام پیش آتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر چلا جاتا اور کام کرکے جلدی سے واپس آجاتا۔ اور نہایت ہی ذوق و شوق سے کام کرتا۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : انما المومنون باللہ ۔۔۔۔۔ ان اللہ غفور رحیم (24: 62) ” مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقعہ پر رسول کے ساتھ ہوں تو اس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں۔ اے نبی جو لوگ تجھ سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں۔ پس وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے چاہو ، اجازت دے دیا کرو۔ اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو۔ اللہ غفور و رحیم ہے “۔ اس کے بعد اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں کہا جو بغیر اجازت کے کھسک جاتے تھے اور کام چوری کرتے تھے۔ لاتجعلوا دعآء الرسول ۔۔۔۔۔۔ او یصیبھم عذاب الیم (24: 63) ” مسلمانوں ! اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلا نا نہ سمجھ بیٹھو۔ اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لے کر چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آجائے “۔ جب رسول اللہ ﷺ خندق سے فارغ ہوئے تو قریش حبشیوں ، کنانہ اور تہامہ کا ایک بڑا لشکر حراپرلے کر پہنچ گئے۔ یہ مقام درمہ کے مجمع اسیال پر اترے اور عطفان اور ان کے تابع دوسرے کچھ قبائل احد کے پاس ذنب نقمی پر اترے۔ اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمان تین ہزار کی تعداد میں تھے۔ اسلامی لشکر کی پشت کوہ سلع کی طرف تھی ۔ یہ لشکر یہاں اترا اور احزاب اور مسلمانوں کے لشکر کے درمیان خندو تھی۔ بچوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ قلعہ بند ہوجائیں۔ اللہ کا دشمن حیی ابن اخطب نضری ، کعب ابن اسد قرظی سے ملا۔ یہ صاحب تھے جنہوں نے بنی قریظہ کی طرف سے عہد کیا تھا اس نے اپنی قوم کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو یقین دہانی کرائی تھی اور ان پر رسول اللہ ﷺ سے عہد و سمان کیا تھا۔ حبی کعب ابن اسد سے چپکا رہا اور اسے رسول اللہ ﷺ کے خلاف آمادہ کرتا رہا۔ اسے دھوکہ دینے کے لیے بار بار چکر لگاتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے اس سے بھی وعدہ لے لیا کہ اگر قریش اور عطفان واپس ہوگئے اور محمد پر حملہ آور نہ ہوئے تو میں تمہارے ساتھ تمہارے قلعہ میں رہوں گا تاکہ مجھے بھی وہ بات نہ پہنچ جائے جو تجھے پہنچے۔ ان یقین دہانیوں پر کعب ابن اسد نے حضور اکرم ﷺ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ دیا اور اس کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان جو عہد تھا ، اس سے براءت کا اظہار کردیا۔ اس پر مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ اب اوپر سے بھی دشمن حملہ آور ہوگیا اور نیچے سے بھی۔ مسلمانوں نے ہر قسم کے خیالات دل میں دوڑانے شروع کر دئیے۔ بعض منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہونا شروع ہوگیا ۔ ایک شخص مصعب ابن قیصر ، بنی عمر ابن عوف قبیلے کے فرد سے یہ کہتے سنا گیا ” محمد ﷺ تو ہم سے یہ وعدے کرتے تھے کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے کھائیں گے اور آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ، میں سے کوئی بےخوف ہو کر قضائے حاجت کے لیے نہیں جاسکتا “۔ اور قبیلہ بنی حارثہ کے ایک شخص اوس ابن قیظی کہنے لگا ” حضور ہمارے گھرغیر محفوظ ہیں اور یہ بات انہوں نے اپنی قوم کے سامنے کہی تو آپ ہمیں اجازت دے دیں کہ ہم لوگ اپنے گھروں کو چلے جائیں کیونکہ ہمارے گھر مدینہ سے باہر ہیں “۔ رسول اللہ ﷺ بھی ڈٹے رہے اور مشرکین بھی تقریباً ایک ماہ تک پڑے رہے۔ جنگ صرف تیروں اور محاصرے تک محدود رہی۔ جب لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا تو حضور ﷺ نے ایک وفد عبینہ ابن حصن اور حارث ابن عوف کی طرف بھیجا۔ یہ دونوں غطفان کے لیڈر تھے۔ ان کو یہ پیش کش کی کہ ہم مدینہ کی کھجوروں کا 3/1 حصہ ادا کریں گے اس شرط پر کہ تم لوگ اپنے آدمیوں کو لے کر واپس ہوجاؤ۔ صلح کے مذاکرات ہوئے ، ایک معاہدے کا مسودہ بھی تیار ہوگیا۔ شہادت اور دستخط ابھی نہ ہوئے تھے جب حضور ﷺ نے دستخط کرنا چاہئے تو آپ نے سعد ابن معاذ رئیس اوس اور سعد ابن عبادہ رئیس خزرج کو بلایا اور ان کے سامنے اس معاہدے کا تذکرہ کیا اور مشورہ طلب کیا۔ انہوں نے کہا حضور اکرم ﷺ اگر آپ اس معاہدے کو پسند کرتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے ، دستخط کردیں۔ یا اگر اللہ کا حکم ہے تو سر آنکھوں پر۔ اور اگر یہ بات آپ ہمارے مفاد میں کرنا چاہتے ہیں تو بتائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا میں یہ صرف تمہاری خاطر کرنا چاہتا ہوں۔ میں تو یہ اس لئے کر رہا ہوں کہ تمام عرب ایک ہی کمان سے تمہارے خلاف تیراندازی کر رہے ہیں اور ہر طرف سے تمہارے اوپر ٹوٹ پڑے ہیں۔ تو میں نے سوچا کہ ان کی قوت میں کچھ کمی کر دوں “۔ اس پر سعد ابن معاذ نے فرمایا ہم اور یہ لوگ سب شرک پر تھے۔ اور بتوں کی بندگی کرتے تھے۔ نہ اللہ کی بندگی کرتے تھے اور نہ اللہ کو پہچانتے تھے۔ یہ لوگ ہم سے کھجور کا ایک دانہ بھی نہ لے سکتے تھے الایہ کہ بیعہ خریدتے یا بطور مہمان نوازی کے ہم ان کو کھلاتے۔ اب جبکہ اللہ نے ہمیں اسلام کے ذریعہ عزت بخشی ہے اور ہمیں ہدایت دی ہے اور آپ کے ذریعہ ہمیں اعزاز دیا ہے تو کیا اب ہم ان کو اپنا دل دے دیں۔ ہمیں اس رعایت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ تلوار کرے گی۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا جو آپ کی مرضی ہو۔ سعد ابن معاذ نے وہ مسودہ لیا اور اس کے اندر جو کچھ لکھا تھا ، مٹا دیا۔ اس نے کہا وہ ہمارے خلاف جو کچھ کرنا چاہیں کریں۔ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان نہایت خوف اور شدت کی حالت میں رہے۔ کیونکہ دشمن نے ہر طرف سے گھیر رکھا تھا اور اس کی قوت زیادہ تھی۔ یہودیوں نے ان کے ساتھ معاہدہ کرلیا تھا کہ وہ خیبر کی کھجوریں دیں گے ۔ اگر وہ اس موقعہ پر ان کی امداد کریں (تبریزی) ۔ حضرت ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ کئی شدت اور سرخف کے مقامات پر رہی ہوں۔ غزوہ مریسع ، خیبر ، حدیبیہ ، فتح مکہ ، حنین۔ ان میں سے کسی جگہ حضور ﷺ نے تھکاوٹ محسوس نہیں کی۔ نہ زیادہ خائف ہوئے ، جس قدر تھکاوٹ اور خوف خندق میں تھا۔ بنی قریظہ عورتوں اور بچوں کے قریب تھے۔ مدینہ میں ساری رات پہرہ ہوتا تھا ۔ ہم مسلمانوں کا نعرہ تکبیر صبح تک سنتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے خود بخود ان کو واپس کردیا۔ ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ ایک شخص نعیم ابن مسعود ابن عامر غطفانی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے کہا رسول خدا ﷺ میں مسلمان ہوشکا ہوں لیکن میری قوم کو میرے اسلام کا پتہ نہیں۔ آپ جو خدمت میرے سپرد کریں ، اس وقت کرسکتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” ہم میں آپ واحد آدمی ہیں تو جس طرح ہوسکے ، لوگوں کو ہمارے خلاف جنگ کرنے سے روک لیں کیونکہ جنگ ایک قسم کی چال ہوتی ہے۔ اس نے ایک ایسی کاروائی کی جس کی وجہ سے ان احزاب اور بنو قریظہ کے درمیان اعتماد ختم ہوگیا۔ اس کی تفصیلات کتب سیرت میں مفصلاً موجود ہیں ۔ اللہ نے احزاب کے اندر بھی بددلی پیدا کردی اور ایک ایسا طوفان بادوباراں بھیجا کہ سردیوں کی شدید ٹھنڈی رات میں ان کے خیمے اکھڑ گئے ، ان کی ہانڈیاں الٹ گئیں اور چولہے بجھ گئے۔ ۔ جب رسول اللہ ﷺ تک ان کے اختلافات پہنچے ، اور ان کی اجتماعیت ختم ہوگئی تو اس آخری رات کے حالات معلوم کرنے کے لئے حضور ﷺ نے حضرت حذیفہ ابن الیمان کو بھیجا۔ محمد ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ میرے سامنے زید ابن زیاد ابن محمد ابن کعب قرظی نے روایت کی ہے ” ایک کوفی باشندے نے حضرت حذیفہ ابن الیمان سے کہا : ابو عبد اللہ ! تم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے اور آپ کے ساتھ صحبت کی ہے۔ تو اس نے کہا ہاں بھتیجے ، میں نے دیکھا اور صحبت کی۔ تو پھر تم کیا کرتے تھے ؟ خد ا کی قسم ہم بہت جدوجہد کرتے تھے تو اس شخص نے کہا خدا کی قسم اگر ہم رسول اللہ ﷺ کو پاتے تو اسے ہرگز زمین پر چلنے نہ دیتے۔ اور اپنی گردنوں پر انہیں اٹھائے رکھتے۔ اس پر حضرت حذیفہ نے فرمایا : بھتیجے ہم نے حضور ﷺ کے ساتھ جنگ خندق میں حصہ لیا۔ یوں ہوا کہ حضور ﷺ نے رات کے ایک حصے میں نماز پڑھی اور پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے۔ کون ہے جو اٹھے اور جاکر معلوم کرے کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ پھر وہ واپس آجائے۔ اس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے واپسی کی شرط لگائی۔ میں اللہ سے سوال کروں گا کہ وہ جنت میں میرا ساتھی ہو “۔ اس قدر شدید خوف تھا کہ کوئی نہ اٹھا۔ اس قدر بھوک تھی کہ کسی میں تاب نہ تھی اور سردی بھی شدید تھی۔ جب کوئی نہ اٹھا تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے پکارا۔ جب حضور ﷺ نے میرا نام لیا تو میرے لیے اب کوئی چارہ کار نہ تھا۔ فرمایا ” حذیفہ جاؤ، ان لوگوں میں داخل ہوجاؤ، دیکھو وہ کیا کرتے ہیں اور کوئی بات نہ کرو جب تک ہمارے پاس نہ آجاؤ “۔ حذیفہ کہتے ہیں میں گیا۔ لشکر کے اندر داخل ہوگیا۔ طوفان اور اللہ کے لشکر ان کے ساتھ وہ کچھ کر رہے تھے جو کر رہے تھے۔ ہانڈیاں اپنی جگہ ٹھہر نہ سکتی تھیں۔ آگ سلک نہ سکتی تھی۔ ابوسفیان کھڑا ہوا ، حکم دیا کہ ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کے بارے میں تسلی کرے۔ میں نے پہلے ہی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے پوچھ لیا کون ہو ؟ تو اس نے بتایا فلاں ابن فلاں۔ اس کے بعد ابو سفیان نے کہا اہل قریش اب یہاں مزید نہیں رہ سکتے۔ گھوڑے اور اونٹ ہلاک ہوگئے۔ بنو قریظہ نے ہمارے ساتھ وعدہ خلافی کردی اور ان کی جانب سے ہمیں وہ جواب ملا جسے ہم ناپسند کرتے ہیں ، طوفان اس قدر ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔ ہنڈیا اپنی جگہ قرار نہیں پکڑتی ، آگ نہیں جلتی ، خیمے اکھڑ گئے۔ لہٰذا کون کرو میں تو یہ گیا۔ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ اپنے اونٹ کو اٹھایا۔ وہ تین ٹانگوں پر کھڑا ہوگیا اور اس کا عقال اس نے کھڑے کھڑے کھولا۔ اگر مجھے رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم نہ دیا ہوتا کہ کوئی بات نہ کرو جب تک میرے پاس نہ آجاؤ تو میں ایک ہی تیر مار کر ابو سفیان کا کام تمام کردینا۔ حذیفہ کہتے ہیں کہ میں جب واپس پہنچا تو دیکھا کہ حضور ﷺ کھڑے ہیں اور ایک ایسی چادر میں نماز پڑھ رہے ہیں جو لمبی تھی اور منقش تھی۔ یہ آپ ﷺ کی ازواج میں سے کسی کی تھی۔ جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو مجھے اپنے پاؤں کے نیچے چادر میں داخل کرلیا اور چادر کا ایک حصہ مجھ پر ڈال دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے رکوع کیا اور سجدہ کیا اور میں چادر ہی میں لپٹا رہا۔ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو میں نے آپ ﷺ کو پوری اطلاع دی۔ اب غطفان نے جب سنا کہ قریش نے یہ کام کیا ہے تو وہ بھی اپنے علاقوں کی طرف واپس ہوگئے۔ قرآن کے ان نصوص میں اشخاص کے نام نہیں لیے گئے۔ بلکہ لوگوں کے نمونے دئیے گئے ہیں اور واقعات کی تفصیلات اور جزئیات بھی قرآن نے چھوڑ دی ہیں۔ قرآن نے وہ اقدار ، وہ کردار اور وہ طرز عمل یہاں ریکارڈ کیے ہیں جو نمونہ ہیں اور ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ وہ کردار جو کسی واقعہ کے ساتھ مخصوص نہیں ، جو کسی شخص کے ساتھ مخصوص نہیں۔ جو حالات کے مٹ جانے سے مٹتے نہیں۔ وہ کردار اور وہ قدریں یہاں درج کردی ہیں جو آیندہ کی نسلوں کے لیے نمونہ عبرت ہیں اور ہر گروہ کیلئے معیار مطلوب ہیں۔ قرآن کریم تمام واقعات اور حادثات کو اللہ کی تدبیر اور تقدیر کے ساتھ منسلک کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ دست قدرت کس کس مرحلے پر مسلمانوں کا معاون رہا اس معرکے کے ہر مرحلے میں تدبیر الٰہی نے اپنا کام کیا اور قرآن نے ہر مرحلے کا تبصرہ پیش کیا قرآن کریم نے یہ قصہ ان لوگوں کے سامنے دہرایا۔ جو اس کے اندر موجود تھے جو اس کے کردار تھے۔ لیکن قرآن کریم وہ اسباب بھی ان کے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے جن کا انہیں علم نہ تھا۔ ان واقعات و حادثات کے وہ پہلو جو نظروں سے اوجھل تھے حالانکہ وہ اس کہانی کے کردار تھے۔ قرآن کریم نفس انسانی کے نشیب و فراز کو بھی کھول کر ان کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ وہ لوگوں کے ضمیر کے میلانات بتاتا ہے اور بتاتا ہے کہ لوگوں کے دلوں کے اندر کیا کیا خلجانات پیدا ہوگئے تھے۔ ان باتوں کے علاوہ انداز بیان کی خوبصورتی ، اس کا رعب اور شوکت کلام ، بات کی قوت اور حرارت اور منافقین کے بارے میں مزاحیہ انداز ، اور ان کے نفاق کے پیچ و تاب اور مسلمانوں کی شجاعت اور ایمان ، صبر اور اللہ پر پورا بھروسہ ، غرض یہ سب باتیں قرآن نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کرتا ہے۔ یہ نصوص قرآنی دراصل ہر پڑھنے والے کو عمل پر آمادہ کرتی ہیں۔ یہ صرف ان لوگوں کو آمادہ نہیں کرتیں جن لوگوں نے یہ معرکے لڑے اور ان میں ان کا بنیادی کردار رہا اور انہوں نے سب کچھ دیکھا بلکہ زمانہ مابعد کے تمام ادوار اور معاشروں میں بھی یہ نصوص ابھارنے والی ہیں ، جب بھی تحریک اسلامی کو ایسے ہی حالات سے واسطہ پڑتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کو پڑا اگرچہ بہت زمانہ گزر چکا ہو۔ اگر جدید ترین متنوع معاشروں میں بھی ایسے حالات پیش ہوں تو بعینہ اسی طرح یہ نصوص ایک مومن کو متحرک رکھتی ہیں جس طرح قرون اول میں انہوں نے مسلمانوں کو متحرک رکھا۔ ان نصوص کو صحیح طرح وہی شخص سمجھ سکتا جس کے لیے ویسے ہی حالات درپیش ہوں جس طرح جنگ احزاب میں اس وقت کے مسلمانوں کو درپیش تھے۔ جب ایسے حالات ہوں پھر ان آیات سے ہدایات کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسلام کے لیے کام کرنے والوں کے دل ان کے معانی کے لیے کھل جاتے ہیں۔ اب قرآن کے کلمات اور سطریں قوت اور اسلحہ بن جاتی ہیں اور کارکن ایسے ہی معرکوں میں کود جاتا ہے۔ پھر یہ آیات زندہ ، بیدار ، آگے بڑھنے والے لوگ پیدا کرتی ہیں اور یہ لوگ ایک حقیقی تحریک لے کر آٹھتے ہیں ۔ قرآن کریم کی یہ نصوص عالم واقعہ میں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔ یاد رہے کہ قرآن کریم محض تلاوت اور علمی مباحث کی کتاب نہیں ہے۔ یہ کام تو بہت ہوچکا ، یہ تو ایک زندگی ہے ، اچھلتی آگے بڑھتی زندگی۔ یہ تو نئے نئے واقعات کے لیے نئی نئی ہدایات ہیں۔ جب بھی کوئی دل ان نصوص کو سمجھے ان کے ہمقدم ہو کر چلے ، ان پر لبیک کہے تو ان نصوص کے اندر پوشیدہ قوت کے سرچشمے پھوٹ پڑتے ہیں ۔ یہ ہے اس کتاب کا راز کہ اس کے اندر انفجار و قوت کے ذخائر ہیں۔ ایک انسان ایک آیت کو ہزار بار پڑھتا ہے ، پھر وہ ایسے موقف اور ایسے حادثے کا شکار ہوتا ہے اور جب وہ اسی آیت کو پڑھتا ہے تو یہ وہ آیت نہیں ہوتی۔ یہ بالکل ایک نئی آیت ہوتی ہے۔ یہ اسے وہ کچھ بتلاتی ہے جو پہلے نہ بتلاتی تھی۔ یا اس کی سمجھ میں نہ آتی تھی۔ یہ حیران کن سوالات کا جواب دینے لگتی ہے۔ یہ پیچیدہ مشکلات حل کردیتی ہے۔ صاف صاف راستہ بتلاتی ہے۔ ایک سمت متعین کردیتی ہے اور وہ اس دل کو اس معاملے میں عزم بالجزم میں تبدیل کرکے رکھ دیتی ہے اور پڑھنے والے کو پورا پورا اطمینان ہوجاتا ہے۔ درس نمبر 189 تشریح آیات 9 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 27 قرآن کریم اس سورة کا آغاز یوں کرتا ہے کہ اے اہل ایمان اس بات کو ذرا یاد کرو کہ یہ لشکر تمہارے خلاف جمع ہوئے اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ تمہیں بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیں اللہ نے محض اپنے کرم سے اور اپنی خاص فوجوں کی مدد سے ان کو نامراد واپس کردیا۔ چناچہ پہلی ہی آیت میں واقعہ کا مزاج ، اس کا آغاز اور اس کا انجام بتا دیا کریں ، اور ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ کا منشاء یہ ہے کہ تم اللہ ، رسول ﷺ اور وحی کی اتباع کرو ، اس پر توکل کرو ، اور کافرین اور منافقین کی اطاعت نہ کرو ، اور یہ کہ اللہ کی دعوت اور اس کے نظام پر جو لوگ عمل کرتے ہیں ، اللہ ان کا حامی و مددگار ہوتا ہے بمقابلہ کافرین اور منافقین کے۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ بما تعملون بصیرا (9) ” “۔ یوں اس اجمالی آغاز ہی میں معرکہ کا آغاز اور انجام قلم بند کردیا گیا۔ اور وہ عناصر بھی بتا دئیے گئے جو اس معرکے میں فیصلہ کن رہے۔ یعنی احزاب کا جمع ہو کر ٹوٹ پڑتا ، اور طوفان باد باراں اور دوسری خدائی افواج کا آنا جو نظر نہ آتی تھیں ، اور اللہ کی نصرت جو اللہ کے علم و تدبیر پر مبنی تھیں اور وہ مسلسل نگرانی کر رہا تھا۔ اب اس کے بعد تفصیلات :

الأحزاب 33:10

اذ جاء وکم من فوقکم ۔۔۔۔۔۔ یریدون الا فرارا (10 – 13) یہ وہ ہولناک صورت حال ہے جس نے مدینہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہر شخص خوف اور کرب میں مبتلا تھا۔ اس صورت حال سے کوئی ایک شخص بھی غیر متاثر نہ تھا۔ قریش اور اس کے حوالی و موالی ، بنی غطفان اور ان کے زیر اثر قبائل ، اور یہودیاں بنی قریظہ ہر طرف سے اٹھ آئے تھے ، اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ ایسے حالات تھے کہ ان کا خوف ایک دل اور دوسرے دل میں جدا نہ تھا۔ اختلاف جو تھا وہ ردعمل میں تھا۔ اللہ کے بارے میں یقین میں اختلاف تھا۔ طرزعمل ، اقدار ، اسباب کے تصور اور نتائج کے ظہور میں اختلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر آزمائش تھی اور اس نے مومنین اور منافقین میں بالکل جدائی کردی۔ آج ہم جب اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم اسی موقف میں کھڑے ہیں۔ وہی حالات ہیں ، وہی تاثرات ہیں ، وہی خلجانات ہیں ، وہی حرکات ہیں اور ان نصوص کے شیشے کے اندر ہمیں اپنے چہرے صاف صاف نظر آتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں اور یہ منظر ہمیں صاف صاف نظر آتا ہے۔ اذجآء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم (33: 10) ” جب دشمن اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے “۔ اور اس کے بعد لوگوں پر اس موقف کے اثرات۔ واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر (33: 10) ” جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے “۔ یہ ایک نہایت ہی مکمل تصویر ہے اس شخص کی جو انتہائی تنگی ، خوف اور کرب میں مبتلا ہو۔ اس تصویر میں چہرے کی حالت اور دلوں کی حرکت دونوں کو دکھایا گیا ہے۔ وتظنون باللہ الظنونا (33: 10) ” اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے “۔ ان گمانوں کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ ان کو مجمل چھوڑ کر تمام حالات اضطراب ، تمام خلجانات اور تمام برے احساسات کو اس میں شامل کردیا گیا ہے۔ مختلف دلوں میں ظنون کی تفصیل مختلف ہوگی۔ اب ذرا اس خوفناک صورت حالات کو مزید کھولا جاتا ہے۔ اور اس کے خدوخال اور اس کی حرکات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ ھنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (33: 11) ” اس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بری طرح ہلا مارے گئے “۔ وہ خوف جو اہل ایمان کو ہلا مارتا ہے ، لازم ہے کہ وہ بہت ہی شدید اور ہولناک ہوگا۔ محمد ابن مسلمہ وغیرہ نے روایت کی کہ خندق میں ہماری رات بھی دن ہوتا تھا جبکہ مشرکین نے اپنے لیے باری مقرر کر رکھی تھی ۔ ایک دن ابوسفیان ابن حرب اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کے لیے آتا ، ایک دن خالد ابن ولید اپنے ساتھیوں سے میت آتا ، اور ایک دن عمروابن عاص آتا ، ایک دن ہبیرہ ابن ابو وھب آتا اور ایک دن عکرمہ ابن ابو جہل آتا اور ایک دن ضرار ابن الخطاب۔ یہاں تک کہ یہ مصیبت بہت بڑھ گئی اور لوگوں کے اندر شدید خوف پھیل گیا۔ مقریزی نے اپنی کتاب امتاع الاسماع میں مسلمانوں کے حال کی تصویر کشی یوں کی ہے : ” مشرکین نے صبح کے تڑکے اچانک حملہ کیا اور حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو تیار کیا۔ اس دن رات کے ایک حصے تک لڑائی رہی اور رسول اللہ ﷺ اور مومنین میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔ حضور ﷺ ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نماز نہ پڑھ سکے۔ آپ ﷺ کے ساتھی یہ کہنے لگے رسول ﷺ خدا ہم نے نماز نہیں پرھی۔ اس پر رسول ﷺ اللہ نے فرمایا ، خدا کی قسم میں نے بھی نماز نہیں پڑھی۔ یہاں تک کہ اللہ نے مشرکین کو ہٹا دیا۔ دونوں فریق اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلے گئے۔ اسید ابن حضیر خندق کے کنارے پر دو سو آدمیوں کو لے کر کھڑے ہوئے ، خالد بن ولید کی سرکردگی میں مشرکین نے حملہ کردیا ، یہ اچانک حملہ کرنا چاہتے تھے ۔ تھوڑی دیر انہوں نے مقابلہ کیا۔ وحشی نے طفیل ابن نعمان ، ابن جنا انصاری سلمی کو ایک نیزے کے ساتھ مارا۔ اسے اسی طرح قتل کردیا جس طرح احد میں حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا۔ اس دن حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” مشرکوں نے ہمیں درمیانی نماز ، نماز عصر سے مشغول رکھا اللہ ان کے دلوں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے “۔ یوں ہوا کہ مسلمانوں کے دو دستے رات کو نکلے۔ وہ آپس میں الجھ پڑے کسی کو علم نہ تھا کہ وہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہر ایک کا خیال تھا کہ ہم دشمن سے لڑ رہے ہیں۔ ان کے درمیان بھی قتل ہوئے اور بعض لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے اسلامی شعار سے پکارا۔ کو ڈورڈ تھا۔ (حم لا ینصرون) چناچہ وہ رکئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تمہارا زخمی ہونا اللہ کے لیے ہے اور جو قتل ہوگیا وہ شہید ہے “۔ مسلمانوں پر شدید مشکلات اس وقت آئیں جب وہ خندق کے دہانے پر مصروف جنگ تھے۔ ادھر بنو قریظہ کی طرف سے خبریں آرہی تھیں کہ وہ وعدہ خلافی پر مائل ہوگئے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو ہر وقت یہ ڈر رہتا تھا کہ کسی وقت بھی مشرکین کا لشکر خندق کی جانب سے حملہ آور ہو سکتا ہے اور پیچھے سے یہودی حملہ کرسکتے ہیں اور وہ ان عظیم لشکروں کے درمیان ایک قلیل تعداد میں ہیں۔ یہ لشکر آتے اس لیے ہیں کہ مسلمانوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اور یہ معرکہ فیصلہ کن اور آخری معرکہ ہو۔ یہ حالات اس کے علاوہ تھے۔ مدینہ میں منافقین سازشیں کر رہے تھے اور افواہیں پھیلا رہے تھے خود اسلامی صفوں میں بددلی پھیلائی جا رہی تھی۔ واذ یقول المنفقون ۔۔۔۔۔ الا غرورا (33: 12) ” یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا ، صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے “۔ ان شدید حالات میں ان لوگوں کو بھی موقع مل گیا کہ وہ اپنے خبث باطن کا اظہار کردیں جبکہ مسلمان شدید کرب میں مبتلا تھے اور کلیجے منہ کو آرہے تھے۔ ایسے حالات میں کوئی نہ تھا جو ان کو ملامت کرتا۔ ان لوگوں کو مسلمانوں کی توہین اور تذلیل اور شکوک پھیلانے کا موقع مل گیا۔ اور انہوں نے برملا کہنا شروع کردیا کہ اللہ اور رسول کے وعدے جھوٹے تھے حالانکہ اللہ اور رسول ﷺ کے وعدے تو پورے والے تھے۔ یہ منافقین یہ باتیں اس لیے کرتے تھے کہ ان حالات میں ان پر گرفت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ بظاہر حالات ایسے تھے کہ ان کی بات درست معلوم ہوتی تھی۔ وہ اپنے خیال میں درست مو قف پر تھے ۔ مسلمان جن ہولناک حالات سے دوچار تھے ان کی وجہ سے ان منافقین کے چہروں پر ایک جو مہین پردہ تھا ، جس کی وجہ سے وہ رکھ رکھاؤ کرتے تھے وہ بھی اتر گیا۔ اور ان کے نفوس نے ان کو اس پر آمادہ کردیا کہ وہ اس ظاہری رواداری کو بھی ختم کردیں۔ چناچہ انہوں نے اپنے حقیقی شعور کا اظہار کردیا اور رکھ رکھاؤ کا پردہ چاک کردیا۔ اس قسم کے منافقین اور افواہیں پھیلانے والے ہر جماعت میں ہوتے ہیں اور مشکل حالات میں ان کا موقف بھی ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ان کے بھائیوں کا موقف ہوتا ہے۔ لہٰذا اس قسم کے لوگ تمام نسلوں میں ایک مکرر نمونہ ہوتے ہیں۔ زمان و مکان کی قید کے بغیر اس قسم کے لوگ ہر جماعت میں ہوتے ہیں۔ واذ قالت طائفۃ ۔۔۔۔۔ لکم فارجعوا (33: 13) ” جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا : اے اہل یثرب ، تمہارے لیے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، پلٹ چلو “۔ اس کی کوشش یہ تھی کہ لوگ صف بندی کو ترک کرکے گھروں میں بیٹھ جائیں اور یہ کہہ دیں کہ خندق کے سامنے اس طرح صف بندی کر کے کھڑے رہنے کا کیا موقع و محل ہے۔ پیچھے سے گھروں کو خطرہ ہے۔ یہ ایک ایسی دعوت تھی جہاں سے لوگ متاثر ہو سکتے تھے کیونکہ عورتیں اور بچے خطرے میں تھے۔ خطرہ حقیقی تھا۔ خوف ہر طرف سے لاحق تھا اور حالات بہت ہی مخدوش تھے۔ کسی کا دل قرار نہ پکڑتا تھا۔ ویستاذن فریق ۔۔۔۔۔ عورۃ (33: 13) ” جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبی ﷺ سے اجازت مانگے کہ ہمارے گھر خطرے میں ہیں “۔ یعنی ہمارے گھر دشمن کے سامنے کھلے ہیں اور ان کا کوئی دفاع نہیں ہے۔ لیکن قرآن یہاں اصل حقیقت بھی کھول دیتا ہے : وما ھی بعورۃ (33: 13) ” حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے “۔ چناچہ یہاں صاف صاف کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بزدل ہیں۔ بھاگنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے یہ جھوٹے حیلے گھڑتے ہیں۔ ان یریدون الا فرارا (33: 13) ” دراصل وہ بھاگنا چاہتے ہیں “۔ روایات میں آتا ہے کہ نبی حارث نے اوس ابن قیطی کو رسول اللہ ؐ کے پاس بھیجا اور یہ کہا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور انصاریوں میں سے کسی کا گھر ہمارے گھروں کی طرف نہیں ہے۔ ہمارے اور خطفان کے درمیان کوئی نہیں ہے جو ان کو روک سکے۔ تو آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم گھروں کی طرف لوٹ جائیں تاکہ گھروں اور عورتوں کی حفاظت کرسکیں۔ حضور ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ یہ بات سعد ابن معاذ تک پہنچی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ حضور ﷺ ان کو اجازت نہ دیں کیونکہ ہمیں اور ان کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے ، انہوں نے ایسا ہی کیا ہے خدا کی قسم ! چناچہ حضور ﷺ نے ان کو واپس کردیا۔ غرض قرآن ان کو ملامت کرتا ہے کہ یہ محض فرار چاہتے ہیں ، وہ تھے ہی ایسے۔ یہاں سیاق کلام قدرے رک جاتا ہے۔ ایک بہترین تصویر پر غور کرنے کے لیے جس میں اس وقت کے خوفناک اور پریشان کن حالات اور باہم حیلہ بازی کے موقف کی تصویر کشی کی گئی ہے تاکہ ان بیمار دلوں والے منافقین کی نفسیاتی تصویر بھی دکھا دی جائے۔ یہ ان کی داخلی تصویر ہے اور یہ حالت ان کی اس لیے ہے کہ ان کا عقیدہ اور نظریہ کمزور ہے۔ یہ بزدل ہیں اور اسلامی صفوں سے یہ لوگ ایک معمولی بہانہ اور عذر کی وجہ سے بھی بھاگنے کے لئے تیار ہوئے ہیں۔ یہ کسی موقف پر جمنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ اس سلسلے میں کوئی رکھ رکھاؤ کرنے والے ہیں۔

الأحزاب 33:11

اذ جاء وکم من فوقکم ۔۔۔۔۔۔ یریدون الا فرارا (10 – 13) یہ وہ ہولناک صورت حال ہے جس نے مدینہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہر شخص خوف اور کرب میں مبتلا تھا۔ اس صورت حال سے کوئی ایک شخص بھی غیر متاثر نہ تھا۔ قریش اور اس کے حوالی و موالی ، بنی غطفان اور ان کے زیر اثر قبائل ، اور یہودیاں بنی قریظہ ہر طرف سے اٹھ آئے تھے ، اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ ایسے حالات تھے کہ ان کا خوف ایک دل اور دوسرے دل میں جدا نہ تھا۔ اختلاف جو تھا وہ ردعمل میں تھا۔ اللہ کے بارے میں یقین میں اختلاف تھا۔ طرزعمل ، اقدار ، اسباب کے تصور اور نتائج کے ظہور میں اختلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر آزمائش تھی اور اس نے مومنین اور منافقین میں بالکل جدائی کردی۔ آج ہم جب اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم اسی موقف میں کھڑے ہیں۔ وہی حالات ہیں ، وہی تاثرات ہیں ، وہی خلجانات ہیں ، وہی حرکات ہیں اور ان نصوص کے شیشے کے اندر ہمیں اپنے چہرے صاف صاف نظر آتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں اور یہ منظر ہمیں صاف صاف نظر آتا ہے۔ اذجآء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم (33: 10) ” جب دشمن اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے “۔ اور اس کے بعد لوگوں پر اس موقف کے اثرات۔ واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر (33: 10) ” جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے “۔ یہ ایک نہایت ہی مکمل تصویر ہے اس شخص کی جو انتہائی تنگی ، خوف اور کرب میں مبتلا ہو۔ اس تصویر میں چہرے کی حالت اور دلوں کی حرکت دونوں کو دکھایا گیا ہے۔ وتظنون باللہ الظنونا (33: 10) ” اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے “۔ ان گمانوں کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ ان کو مجمل چھوڑ کر تمام حالات اضطراب ، تمام خلجانات اور تمام برے احساسات کو اس میں شامل کردیا گیا ہے۔ مختلف دلوں میں ظنون کی تفصیل مختلف ہوگی۔ اب ذرا اس خوفناک صورت حالات کو مزید کھولا جاتا ہے۔ اور اس کے خدوخال اور اس کی حرکات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ ھنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (33: 11) ” اس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بری طرح ہلا مارے گئے “۔ وہ خوف جو اہل ایمان کو ہلا مارتا ہے ، لازم ہے کہ وہ بہت ہی شدید اور ہولناک ہوگا۔ محمد ابن مسلمہ وغیرہ نے روایت کی کہ خندق میں ہماری رات بھی دن ہوتا تھا جبکہ مشرکین نے اپنے لیے باری مقرر کر رکھی تھی ۔ ایک دن ابوسفیان ابن حرب اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کے لیے آتا ، ایک دن خالد ابن ولید اپنے ساتھیوں سے میت آتا ، اور ایک دن عمروابن عاص آتا ، ایک دن ہبیرہ ابن ابو وھب آتا اور ایک دن عکرمہ ابن ابو جہل آتا اور ایک دن ضرار ابن الخطاب۔ یہاں تک کہ یہ مصیبت بہت بڑھ گئی اور لوگوں کے اندر شدید خوف پھیل گیا۔ مقریزی نے اپنی کتاب امتاع الاسماع میں مسلمانوں کے حال کی تصویر کشی یوں کی ہے : ” مشرکین نے صبح کے تڑکے اچانک حملہ کیا اور حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو تیار کیا۔ اس دن رات کے ایک حصے تک لڑائی رہی اور رسول اللہ ﷺ اور مومنین میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔ حضور ﷺ ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نماز نہ پڑھ سکے۔ آپ ﷺ کے ساتھی یہ کہنے لگے رسول ﷺ خدا ہم نے نماز نہیں پرھی۔ اس پر رسول ﷺ اللہ نے فرمایا ، خدا کی قسم میں نے بھی نماز نہیں پڑھی۔ یہاں تک کہ اللہ نے مشرکین کو ہٹا دیا۔ دونوں فریق اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلے گئے۔ اسید ابن حضیر خندق کے کنارے پر دو سو آدمیوں کو لے کر کھڑے ہوئے ، خالد بن ولید کی سرکردگی میں مشرکین نے حملہ کردیا ، یہ اچانک حملہ کرنا چاہتے تھے ۔ تھوڑی دیر انہوں نے مقابلہ کیا۔ وحشی نے طفیل ابن نعمان ، ابن جنا انصاری سلمی کو ایک نیزے کے ساتھ مارا۔ اسے اسی طرح قتل کردیا جس طرح احد میں حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا۔ اس دن حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” مشرکوں نے ہمیں درمیانی نماز ، نماز عصر سے مشغول رکھا اللہ ان کے دلوں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے “۔ یوں ہوا کہ مسلمانوں کے دو دستے رات کو نکلے۔ وہ آپس میں الجھ پڑے کسی کو علم نہ تھا کہ وہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہر ایک کا خیال تھا کہ ہم دشمن سے لڑ رہے ہیں۔ ان کے درمیان بھی قتل ہوئے اور بعض لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے اسلامی شعار سے پکارا۔ کو ڈورڈ تھا۔ (حم لا ینصرون) چناچہ وہ رکئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تمہارا زخمی ہونا اللہ کے لیے ہے اور جو قتل ہوگیا وہ شہید ہے “۔ مسلمانوں پر شدید مشکلات اس وقت آئیں جب وہ خندق کے دہانے پر مصروف جنگ تھے۔ ادھر بنو قریظہ کی طرف سے خبریں آرہی تھیں کہ وہ وعدہ خلافی پر مائل ہوگئے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو ہر وقت یہ ڈر رہتا تھا کہ کسی وقت بھی مشرکین کا لشکر خندق کی جانب سے حملہ آور ہو سکتا ہے اور پیچھے سے یہودی حملہ کرسکتے ہیں اور وہ ان عظیم لشکروں کے درمیان ایک قلیل تعداد میں ہیں۔ یہ لشکر آتے اس لیے ہیں کہ مسلمانوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اور یہ معرکہ فیصلہ کن اور آخری معرکہ ہو۔ یہ حالات اس کے علاوہ تھے۔ مدینہ میں منافقین سازشیں کر رہے تھے اور افواہیں پھیلا رہے تھے خود اسلامی صفوں میں بددلی پھیلائی جا رہی تھی۔ واذ یقول المنفقون ۔۔۔۔۔ الا غرورا (33: 12) ” یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا ، صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے “۔ ان شدید حالات میں ان لوگوں کو بھی موقع مل گیا کہ وہ اپنے خبث باطن کا اظہار کردیں جبکہ مسلمان شدید کرب میں مبتلا تھے اور کلیجے منہ کو آرہے تھے۔ ایسے حالات میں کوئی نہ تھا جو ان کو ملامت کرتا۔ ان لوگوں کو مسلمانوں کی توہین اور تذلیل اور شکوک پھیلانے کا موقع مل گیا۔ اور انہوں نے برملا کہنا شروع کردیا کہ اللہ اور رسول کے وعدے جھوٹے تھے حالانکہ اللہ اور رسول ﷺ کے وعدے تو پورے والے تھے۔ یہ منافقین یہ باتیں اس لیے کرتے تھے کہ ان حالات میں ان پر گرفت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ بظاہر حالات ایسے تھے کہ ان کی بات درست معلوم ہوتی تھی۔ وہ اپنے خیال میں درست مو قف پر تھے ۔ مسلمان جن ہولناک حالات سے دوچار تھے ان کی وجہ سے ان منافقین کے چہروں پر ایک جو مہین پردہ تھا ، جس کی وجہ سے وہ رکھ رکھاؤ کرتے تھے وہ بھی اتر گیا۔ اور ان کے نفوس نے ان کو اس پر آمادہ کردیا کہ وہ اس ظاہری رواداری کو بھی ختم کردیں۔ چناچہ انہوں نے اپنے حقیقی شعور کا اظہار کردیا اور رکھ رکھاؤ کا پردہ چاک کردیا۔ اس قسم کے منافقین اور افواہیں پھیلانے والے ہر جماعت میں ہوتے ہیں اور مشکل حالات میں ان کا موقف بھی ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ان کے بھائیوں کا موقف ہوتا ہے۔ لہٰذا اس قسم کے لوگ تمام نسلوں میں ایک مکرر نمونہ ہوتے ہیں۔ زمان و مکان کی قید کے بغیر اس قسم کے لوگ ہر جماعت میں ہوتے ہیں۔ واذ قالت طائفۃ ۔۔۔۔۔ لکم فارجعوا (33: 13) ” جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا : اے اہل یثرب ، تمہارے لیے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، پلٹ چلو “۔ اس کی کوشش یہ تھی کہ لوگ صف بندی کو ترک کرکے گھروں میں بیٹھ جائیں اور یہ کہہ دیں کہ خندق کے سامنے اس طرح صف بندی کر کے کھڑے رہنے کا کیا موقع و محل ہے۔ پیچھے سے گھروں کو خطرہ ہے۔ یہ ایک ایسی دعوت تھی جہاں سے لوگ متاثر ہو سکتے تھے کیونکہ عورتیں اور بچے خطرے میں تھے۔ خطرہ حقیقی تھا۔ خوف ہر طرف سے لاحق تھا اور حالات بہت ہی مخدوش تھے۔ کسی کا دل قرار نہ پکڑتا تھا۔ ویستاذن فریق ۔۔۔۔۔ عورۃ (33: 13) ” جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبی ﷺ سے اجازت مانگے کہ ہمارے گھر خطرے میں ہیں “۔ یعنی ہمارے گھر دشمن کے سامنے کھلے ہیں اور ان کا کوئی دفاع نہیں ہے۔ لیکن قرآن یہاں اصل حقیقت بھی کھول دیتا ہے : وما ھی بعورۃ (33: 13) ” حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے “۔ چناچہ یہاں صاف صاف کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بزدل ہیں۔ بھاگنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے یہ جھوٹے حیلے گھڑتے ہیں۔ ان یریدون الا فرارا (33: 13) ” دراصل وہ بھاگنا چاہتے ہیں “۔ روایات میں آتا ہے کہ نبی حارث نے اوس ابن قیطی کو رسول اللہ ؐ کے پاس بھیجا اور یہ کہا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور انصاریوں میں سے کسی کا گھر ہمارے گھروں کی طرف نہیں ہے۔ ہمارے اور خطفان کے درمیان کوئی نہیں ہے جو ان کو روک سکے۔ تو آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم گھروں کی طرف لوٹ جائیں تاکہ گھروں اور عورتوں کی حفاظت کرسکیں۔ حضور ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ یہ بات سعد ابن معاذ تک پہنچی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ حضور ﷺ ان کو اجازت نہ دیں کیونکہ ہمیں اور ان کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے ، انہوں نے ایسا ہی کیا ہے خدا کی قسم ! چناچہ حضور ﷺ نے ان کو واپس کردیا۔ غرض قرآن ان کو ملامت کرتا ہے کہ یہ محض فرار چاہتے ہیں ، وہ تھے ہی ایسے۔ یہاں سیاق کلام قدرے رک جاتا ہے۔ ایک بہترین تصویر پر غور کرنے کے لیے جس میں اس وقت کے خوفناک اور پریشان کن حالات اور باہم حیلہ بازی کے موقف کی تصویر کشی کی گئی ہے تاکہ ان بیمار دلوں والے منافقین کی نفسیاتی تصویر بھی دکھا دی جائے۔ یہ ان کی داخلی تصویر ہے اور یہ حالت ان کی اس لیے ہے کہ ان کا عقیدہ اور نظریہ کمزور ہے۔ یہ بزدل ہیں اور اسلامی صفوں سے یہ لوگ ایک معمولی بہانہ اور عذر کی وجہ سے بھی بھاگنے کے لئے تیار ہوئے ہیں۔ یہ کسی موقف پر جمنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ اس سلسلے میں کوئی رکھ رکھاؤ کرنے والے ہیں۔

الأحزاب 33:12

اذ جاء وکم من فوقکم ۔۔۔۔۔۔ یریدون الا فرارا (10 – 13) یہ وہ ہولناک صورت حال ہے جس نے مدینہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہر شخص خوف اور کرب میں مبتلا تھا۔ اس صورت حال سے کوئی ایک شخص بھی غیر متاثر نہ تھا۔ قریش اور اس کے حوالی و موالی ، بنی غطفان اور ان کے زیر اثر قبائل ، اور یہودیاں بنی قریظہ ہر طرف سے اٹھ آئے تھے ، اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ ایسے حالات تھے کہ ان کا خوف ایک دل اور دوسرے دل میں جدا نہ تھا۔ اختلاف جو تھا وہ ردعمل میں تھا۔ اللہ کے بارے میں یقین میں اختلاف تھا۔ طرزعمل ، اقدار ، اسباب کے تصور اور نتائج کے ظہور میں اختلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر آزمائش تھی اور اس نے مومنین اور منافقین میں بالکل جدائی کردی۔ آج ہم جب اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم اسی موقف میں کھڑے ہیں۔ وہی حالات ہیں ، وہی تاثرات ہیں ، وہی خلجانات ہیں ، وہی حرکات ہیں اور ان نصوص کے شیشے کے اندر ہمیں اپنے چہرے صاف صاف نظر آتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں اور یہ منظر ہمیں صاف صاف نظر آتا ہے۔ اذجآء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم (33: 10) ” جب دشمن اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے “۔ اور اس کے بعد لوگوں پر اس موقف کے اثرات۔ واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر (33: 10) ” جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے “۔ یہ ایک نہایت ہی مکمل تصویر ہے اس شخص کی جو انتہائی تنگی ، خوف اور کرب میں مبتلا ہو۔ اس تصویر میں چہرے کی حالت اور دلوں کی حرکت دونوں کو دکھایا گیا ہے۔ وتظنون باللہ الظنونا (33: 10) ” اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے “۔ ان گمانوں کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ ان کو مجمل چھوڑ کر تمام حالات اضطراب ، تمام خلجانات اور تمام برے احساسات کو اس میں شامل کردیا گیا ہے۔ مختلف دلوں میں ظنون کی تفصیل مختلف ہوگی۔ اب ذرا اس خوفناک صورت حالات کو مزید کھولا جاتا ہے۔ اور اس کے خدوخال اور اس کی حرکات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ ھنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (33: 11) ” اس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بری طرح ہلا مارے گئے “۔ وہ خوف جو اہل ایمان کو ہلا مارتا ہے ، لازم ہے کہ وہ بہت ہی شدید اور ہولناک ہوگا۔ محمد ابن مسلمہ وغیرہ نے روایت کی کہ خندق میں ہماری رات بھی دن ہوتا تھا جبکہ مشرکین نے اپنے لیے باری مقرر کر رکھی تھی ۔ ایک دن ابوسفیان ابن حرب اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کے لیے آتا ، ایک دن خالد ابن ولید اپنے ساتھیوں سے میت آتا ، اور ایک دن عمروابن عاص آتا ، ایک دن ہبیرہ ابن ابو وھب آتا اور ایک دن عکرمہ ابن ابو جہل آتا اور ایک دن ضرار ابن الخطاب۔ یہاں تک کہ یہ مصیبت بہت بڑھ گئی اور لوگوں کے اندر شدید خوف پھیل گیا۔ مقریزی نے اپنی کتاب امتاع الاسماع میں مسلمانوں کے حال کی تصویر کشی یوں کی ہے : ” مشرکین نے صبح کے تڑکے اچانک حملہ کیا اور حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو تیار کیا۔ اس دن رات کے ایک حصے تک لڑائی رہی اور رسول اللہ ﷺ اور مومنین میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔ حضور ﷺ ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نماز نہ پڑھ سکے۔ آپ ﷺ کے ساتھی یہ کہنے لگے رسول ﷺ خدا ہم نے نماز نہیں پرھی۔ اس پر رسول ﷺ اللہ نے فرمایا ، خدا کی قسم میں نے بھی نماز نہیں پڑھی۔ یہاں تک کہ اللہ نے مشرکین کو ہٹا دیا۔ دونوں فریق اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلے گئے۔ اسید ابن حضیر خندق کے کنارے پر دو سو آدمیوں کو لے کر کھڑے ہوئے ، خالد بن ولید کی سرکردگی میں مشرکین نے حملہ کردیا ، یہ اچانک حملہ کرنا چاہتے تھے ۔ تھوڑی دیر انہوں نے مقابلہ کیا۔ وحشی نے طفیل ابن نعمان ، ابن جنا انصاری سلمی کو ایک نیزے کے ساتھ مارا۔ اسے اسی طرح قتل کردیا جس طرح احد میں حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا۔ اس دن حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” مشرکوں نے ہمیں درمیانی نماز ، نماز عصر سے مشغول رکھا اللہ ان کے دلوں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے “۔ یوں ہوا کہ مسلمانوں کے دو دستے رات کو نکلے۔ وہ آپس میں الجھ پڑے کسی کو علم نہ تھا کہ وہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہر ایک کا خیال تھا کہ ہم دشمن سے لڑ رہے ہیں۔ ان کے درمیان بھی قتل ہوئے اور بعض لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے اسلامی شعار سے پکارا۔ کو ڈورڈ تھا۔ (حم لا ینصرون) چناچہ وہ رکئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تمہارا زخمی ہونا اللہ کے لیے ہے اور جو قتل ہوگیا وہ شہید ہے “۔ مسلمانوں پر شدید مشکلات اس وقت آئیں جب وہ خندق کے دہانے پر مصروف جنگ تھے۔ ادھر بنو قریظہ کی طرف سے خبریں آرہی تھیں کہ وہ وعدہ خلافی پر مائل ہوگئے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو ہر وقت یہ ڈر رہتا تھا کہ کسی وقت بھی مشرکین کا لشکر خندق کی جانب سے حملہ آور ہو سکتا ہے اور پیچھے سے یہودی حملہ کرسکتے ہیں اور وہ ان عظیم لشکروں کے درمیان ایک قلیل تعداد میں ہیں۔ یہ لشکر آتے اس لیے ہیں کہ مسلمانوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اور یہ معرکہ فیصلہ کن اور آخری معرکہ ہو۔ یہ حالات اس کے علاوہ تھے۔ مدینہ میں منافقین سازشیں کر رہے تھے اور افواہیں پھیلا رہے تھے خود اسلامی صفوں میں بددلی پھیلائی جا رہی تھی۔ واذ یقول المنفقون ۔۔۔۔۔ الا غرورا (33: 12) ” یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا ، صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے “۔ ان شدید حالات میں ان لوگوں کو بھی موقع مل گیا کہ وہ اپنے خبث باطن کا اظہار کردیں جبکہ مسلمان شدید کرب میں مبتلا تھے اور کلیجے منہ کو آرہے تھے۔ ایسے حالات میں کوئی نہ تھا جو ان کو ملامت کرتا۔ ان لوگوں کو مسلمانوں کی توہین اور تذلیل اور شکوک پھیلانے کا موقع مل گیا۔ اور انہوں نے برملا کہنا شروع کردیا کہ اللہ اور رسول کے وعدے جھوٹے تھے حالانکہ اللہ اور رسول ﷺ کے وعدے تو پورے والے تھے۔ یہ منافقین یہ باتیں اس لیے کرتے تھے کہ ان حالات میں ان پر گرفت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ بظاہر حالات ایسے تھے کہ ان کی بات درست معلوم ہوتی تھی۔ وہ اپنے خیال میں درست مو قف پر تھے ۔ مسلمان جن ہولناک حالات سے دوچار تھے ان کی وجہ سے ان منافقین کے چہروں پر ایک جو مہین پردہ تھا ، جس کی وجہ سے وہ رکھ رکھاؤ کرتے تھے وہ بھی اتر گیا۔ اور ان کے نفوس نے ان کو اس پر آمادہ کردیا کہ وہ اس ظاہری رواداری کو بھی ختم کردیں۔ چناچہ انہوں نے اپنے حقیقی شعور کا اظہار کردیا اور رکھ رکھاؤ کا پردہ چاک کردیا۔ اس قسم کے منافقین اور افواہیں پھیلانے والے ہر جماعت میں ہوتے ہیں اور مشکل حالات میں ان کا موقف بھی ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ان کے بھائیوں کا موقف ہوتا ہے۔ لہٰذا اس قسم کے لوگ تمام نسلوں میں ایک مکرر نمونہ ہوتے ہیں۔ زمان و مکان کی قید کے بغیر اس قسم کے لوگ ہر جماعت میں ہوتے ہیں۔ واذ قالت طائفۃ ۔۔۔۔۔ لکم فارجعوا (33: 13) ” جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا : اے اہل یثرب ، تمہارے لیے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، پلٹ چلو “۔ اس کی کوشش یہ تھی کہ لوگ صف بندی کو ترک کرکے گھروں میں بیٹھ جائیں اور یہ کہہ دیں کہ خندق کے سامنے اس طرح صف بندی کر کے کھڑے رہنے کا کیا موقع و محل ہے۔ پیچھے سے گھروں کو خطرہ ہے۔ یہ ایک ایسی دعوت تھی جہاں سے لوگ متاثر ہو سکتے تھے کیونکہ عورتیں اور بچے خطرے میں تھے۔ خطرہ حقیقی تھا۔ خوف ہر طرف سے لاحق تھا اور حالات بہت ہی مخدوش تھے۔ کسی کا دل قرار نہ پکڑتا تھا۔ ویستاذن فریق ۔۔۔۔۔ عورۃ (33: 13) ” جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبی ﷺ سے اجازت مانگے کہ ہمارے گھر خطرے میں ہیں “۔ یعنی ہمارے گھر دشمن کے سامنے کھلے ہیں اور ان کا کوئی دفاع نہیں ہے۔ لیکن قرآن یہاں اصل حقیقت بھی کھول دیتا ہے : وما ھی بعورۃ (33: 13) ” حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے “۔ چناچہ یہاں صاف صاف کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بزدل ہیں۔ بھاگنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے یہ جھوٹے حیلے گھڑتے ہیں۔ ان یریدون الا فرارا (33: 13) ” دراصل وہ بھاگنا چاہتے ہیں “۔ روایات میں آتا ہے کہ نبی حارث نے اوس ابن قیطی کو رسول اللہ ؐ کے پاس بھیجا اور یہ کہا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور انصاریوں میں سے کسی کا گھر ہمارے گھروں کی طرف نہیں ہے۔ ہمارے اور خطفان کے درمیان کوئی نہیں ہے جو ان کو روک سکے۔ تو آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم گھروں کی طرف لوٹ جائیں تاکہ گھروں اور عورتوں کی حفاظت کرسکیں۔ حضور ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ یہ بات سعد ابن معاذ تک پہنچی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ حضور ﷺ ان کو اجازت نہ دیں کیونکہ ہمیں اور ان کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے ، انہوں نے ایسا ہی کیا ہے خدا کی قسم ! چناچہ حضور ﷺ نے ان کو واپس کردیا۔ غرض قرآن ان کو ملامت کرتا ہے کہ یہ محض فرار چاہتے ہیں ، وہ تھے ہی ایسے۔ یہاں سیاق کلام قدرے رک جاتا ہے۔ ایک بہترین تصویر پر غور کرنے کے لیے جس میں اس وقت کے خوفناک اور پریشان کن حالات اور باہم حیلہ بازی کے موقف کی تصویر کشی کی گئی ہے تاکہ ان بیمار دلوں والے منافقین کی نفسیاتی تصویر بھی دکھا دی جائے۔ یہ ان کی داخلی تصویر ہے اور یہ حالت ان کی اس لیے ہے کہ ان کا عقیدہ اور نظریہ کمزور ہے۔ یہ بزدل ہیں اور اسلامی صفوں سے یہ لوگ ایک معمولی بہانہ اور عذر کی وجہ سے بھی بھاگنے کے لئے تیار ہوئے ہیں۔ یہ کسی موقف پر جمنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ اس سلسلے میں کوئی رکھ رکھاؤ کرنے والے ہیں۔

الأحزاب 33:13

اذ جاء وکم من فوقکم ۔۔۔۔۔۔ یریدون الا فرارا (10 – 13) یہ وہ ہولناک صورت حال ہے جس نے مدینہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہر شخص خوف اور کرب میں مبتلا تھا۔ اس صورت حال سے کوئی ایک شخص بھی غیر متاثر نہ تھا۔ قریش اور اس کے حوالی و موالی ، بنی غطفان اور ان کے زیر اثر قبائل ، اور یہودیاں بنی قریظہ ہر طرف سے اٹھ آئے تھے ، اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ ایسے حالات تھے کہ ان کا خوف ایک دل اور دوسرے دل میں جدا نہ تھا۔ اختلاف جو تھا وہ ردعمل میں تھا۔ اللہ کے بارے میں یقین میں اختلاف تھا۔ طرزعمل ، اقدار ، اسباب کے تصور اور نتائج کے ظہور میں اختلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر آزمائش تھی اور اس نے مومنین اور منافقین میں بالکل جدائی کردی۔ آج ہم جب اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم اسی موقف میں کھڑے ہیں۔ وہی حالات ہیں ، وہی تاثرات ہیں ، وہی خلجانات ہیں ، وہی حرکات ہیں اور ان نصوص کے شیشے کے اندر ہمیں اپنے چہرے صاف صاف نظر آتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں اور یہ منظر ہمیں صاف صاف نظر آتا ہے۔ اذجآء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم (33: 10) ” جب دشمن اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے “۔ اور اس کے بعد لوگوں پر اس موقف کے اثرات۔ واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر (33: 10) ” جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے “۔ یہ ایک نہایت ہی مکمل تصویر ہے اس شخص کی جو انتہائی تنگی ، خوف اور کرب میں مبتلا ہو۔ اس تصویر میں چہرے کی حالت اور دلوں کی حرکت دونوں کو دکھایا گیا ہے۔ وتظنون باللہ الظنونا (33: 10) ” اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے “۔ ان گمانوں کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ ان کو مجمل چھوڑ کر تمام حالات اضطراب ، تمام خلجانات اور تمام برے احساسات کو اس میں شامل کردیا گیا ہے۔ مختلف دلوں میں ظنون کی تفصیل مختلف ہوگی۔ اب ذرا اس خوفناک صورت حالات کو مزید کھولا جاتا ہے۔ اور اس کے خدوخال اور اس کی حرکات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ ھنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (33: 11) ” اس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بری طرح ہلا مارے گئے “۔ وہ خوف جو اہل ایمان کو ہلا مارتا ہے ، لازم ہے کہ وہ بہت ہی شدید اور ہولناک ہوگا۔ محمد ابن مسلمہ وغیرہ نے روایت کی کہ خندق میں ہماری رات بھی دن ہوتا تھا جبکہ مشرکین نے اپنے لیے باری مقرر کر رکھی تھی ۔ ایک دن ابوسفیان ابن حرب اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کے لیے آتا ، ایک دن خالد ابن ولید اپنے ساتھیوں سے میت آتا ، اور ایک دن عمروابن عاص آتا ، ایک دن ہبیرہ ابن ابو وھب آتا اور ایک دن عکرمہ ابن ابو جہل آتا اور ایک دن ضرار ابن الخطاب۔ یہاں تک کہ یہ مصیبت بہت بڑھ گئی اور لوگوں کے اندر شدید خوف پھیل گیا۔ مقریزی نے اپنی کتاب امتاع الاسماع میں مسلمانوں کے حال کی تصویر کشی یوں کی ہے : ” مشرکین نے صبح کے تڑکے اچانک حملہ کیا اور حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو تیار کیا۔ اس دن رات کے ایک حصے تک لڑائی رہی اور رسول اللہ ﷺ اور مومنین میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔ حضور ﷺ ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نماز نہ پڑھ سکے۔ آپ ﷺ کے ساتھی یہ کہنے لگے رسول ﷺ خدا ہم نے نماز نہیں پرھی۔ اس پر رسول ﷺ اللہ نے فرمایا ، خدا کی قسم میں نے بھی نماز نہیں پڑھی۔ یہاں تک کہ اللہ نے مشرکین کو ہٹا دیا۔ دونوں فریق اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلے گئے۔ اسید ابن حضیر خندق کے کنارے پر دو سو آدمیوں کو لے کر کھڑے ہوئے ، خالد بن ولید کی سرکردگی میں مشرکین نے حملہ کردیا ، یہ اچانک حملہ کرنا چاہتے تھے ۔ تھوڑی دیر انہوں نے مقابلہ کیا۔ وحشی نے طفیل ابن نعمان ، ابن جنا انصاری سلمی کو ایک نیزے کے ساتھ مارا۔ اسے اسی طرح قتل کردیا جس طرح احد میں حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا۔ اس دن حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” مشرکوں نے ہمیں درمیانی نماز ، نماز عصر سے مشغول رکھا اللہ ان کے دلوں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے “۔ یوں ہوا کہ مسلمانوں کے دو دستے رات کو نکلے۔ وہ آپس میں الجھ پڑے کسی کو علم نہ تھا کہ وہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہر ایک کا خیال تھا کہ ہم دشمن سے لڑ رہے ہیں۔ ان کے درمیان بھی قتل ہوئے اور بعض لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے اسلامی شعار سے پکارا۔ کو ڈورڈ تھا۔ (حم لا ینصرون) چناچہ وہ رکئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تمہارا زخمی ہونا اللہ کے لیے ہے اور جو قتل ہوگیا وہ شہید ہے “۔ مسلمانوں پر شدید مشکلات اس وقت آئیں جب وہ خندق کے دہانے پر مصروف جنگ تھے۔ ادھر بنو قریظہ کی طرف سے خبریں آرہی تھیں کہ وہ وعدہ خلافی پر مائل ہوگئے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو ہر وقت یہ ڈر رہتا تھا کہ کسی وقت بھی مشرکین کا لشکر خندق کی جانب سے حملہ آور ہو سکتا ہے اور پیچھے سے یہودی حملہ کرسکتے ہیں اور وہ ان عظیم لشکروں کے درمیان ایک قلیل تعداد میں ہیں۔ یہ لشکر آتے اس لیے ہیں کہ مسلمانوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اور یہ معرکہ فیصلہ کن اور آخری معرکہ ہو۔ یہ حالات اس کے علاوہ تھے۔ مدینہ میں منافقین سازشیں کر رہے تھے اور افواہیں پھیلا رہے تھے خود اسلامی صفوں میں بددلی پھیلائی جا رہی تھی۔ واذ یقول المنفقون ۔۔۔۔۔ الا غرورا (33: 12) ” یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا ، صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے “۔ ان شدید حالات میں ان لوگوں کو بھی موقع مل گیا کہ وہ اپنے خبث باطن کا اظہار کردیں جبکہ مسلمان شدید کرب میں مبتلا تھے اور کلیجے منہ کو آرہے تھے۔ ایسے حالات میں کوئی نہ تھا جو ان کو ملامت کرتا۔ ان لوگوں کو مسلمانوں کی توہین اور تذلیل اور شکوک پھیلانے کا موقع مل گیا۔ اور انہوں نے برملا کہنا شروع کردیا کہ اللہ اور رسول کے وعدے جھوٹے تھے حالانکہ اللہ اور رسول ﷺ کے وعدے تو پورے والے تھے۔ یہ منافقین یہ باتیں اس لیے کرتے تھے کہ ان حالات میں ان پر گرفت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ بظاہر حالات ایسے تھے کہ ان کی بات درست معلوم ہوتی تھی۔ وہ اپنے خیال میں درست مو قف پر تھے ۔ مسلمان جن ہولناک حالات سے دوچار تھے ان کی وجہ سے ان منافقین کے چہروں پر ایک جو مہین پردہ تھا ، جس کی وجہ سے وہ رکھ رکھاؤ کرتے تھے وہ بھی اتر گیا۔ اور ان کے نفوس نے ان کو اس پر آمادہ کردیا کہ وہ اس ظاہری رواداری کو بھی ختم کردیں۔ چناچہ انہوں نے اپنے حقیقی شعور کا اظہار کردیا اور رکھ رکھاؤ کا پردہ چاک کردیا۔ اس قسم کے منافقین اور افواہیں پھیلانے والے ہر جماعت میں ہوتے ہیں اور مشکل حالات میں ان کا موقف بھی ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ان کے بھائیوں کا موقف ہوتا ہے۔ لہٰذا اس قسم کے لوگ تمام نسلوں میں ایک مکرر نمونہ ہوتے ہیں۔ زمان و مکان کی قید کے بغیر اس قسم کے لوگ ہر جماعت میں ہوتے ہیں۔ واذ قالت طائفۃ ۔۔۔۔۔ لکم فارجعوا (33: 13) ” جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا : اے اہل یثرب ، تمہارے لیے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، پلٹ چلو “۔ اس کی کوشش یہ تھی کہ لوگ صف بندی کو ترک کرکے گھروں میں بیٹھ جائیں اور یہ کہہ دیں کہ خندق کے سامنے اس طرح صف بندی کر کے کھڑے رہنے کا کیا موقع و محل ہے۔ پیچھے سے گھروں کو خطرہ ہے۔ یہ ایک ایسی دعوت تھی جہاں سے لوگ متاثر ہو سکتے تھے کیونکہ عورتیں اور بچے خطرے میں تھے۔ خطرہ حقیقی تھا۔ خوف ہر طرف سے لاحق تھا اور حالات بہت ہی مخدوش تھے۔ کسی کا دل قرار نہ پکڑتا تھا۔ ویستاذن فریق ۔۔۔۔۔ عورۃ (33: 13) ” جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبی ﷺ سے اجازت مانگے کہ ہمارے گھر خطرے میں ہیں “۔ یعنی ہمارے گھر دشمن کے سامنے کھلے ہیں اور ان کا کوئی دفاع نہیں ہے۔ لیکن قرآن یہاں اصل حقیقت بھی کھول دیتا ہے : وما ھی بعورۃ (33: 13) ” حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے “۔ چناچہ یہاں صاف صاف کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بزدل ہیں۔ بھاگنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے یہ جھوٹے حیلے گھڑتے ہیں۔ ان یریدون الا فرارا (33: 13) ” دراصل وہ بھاگنا چاہتے ہیں “۔ روایات میں آتا ہے کہ نبی حارث نے اوس ابن قیطی کو رسول اللہ ؐ کے پاس بھیجا اور یہ کہا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور انصاریوں میں سے کسی کا گھر ہمارے گھروں کی طرف نہیں ہے۔ ہمارے اور خطفان کے درمیان کوئی نہیں ہے جو ان کو روک سکے۔ تو آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم گھروں کی طرف لوٹ جائیں تاکہ گھروں اور عورتوں کی حفاظت کرسکیں۔ حضور ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ یہ بات سعد ابن معاذ تک پہنچی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ حضور ﷺ ان کو اجازت نہ دیں کیونکہ ہمیں اور ان کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے ، انہوں نے ایسا ہی کیا ہے خدا کی قسم ! چناچہ حضور ﷺ نے ان کو واپس کردیا۔ غرض قرآن ان کو ملامت کرتا ہے کہ یہ محض فرار چاہتے ہیں ، وہ تھے ہی ایسے۔ یہاں سیاق کلام قدرے رک جاتا ہے۔ ایک بہترین تصویر پر غور کرنے کے لیے جس میں اس وقت کے خوفناک اور پریشان کن حالات اور باہم حیلہ بازی کے موقف کی تصویر کشی کی گئی ہے تاکہ ان بیمار دلوں والے منافقین کی نفسیاتی تصویر بھی دکھا دی جائے۔ یہ ان کی داخلی تصویر ہے اور یہ حالت ان کی اس لیے ہے کہ ان کا عقیدہ اور نظریہ کمزور ہے۔ یہ بزدل ہیں اور اسلامی صفوں سے یہ لوگ ایک معمولی بہانہ اور عذر کی وجہ سے بھی بھاگنے کے لئے تیار ہوئے ہیں۔ یہ کسی موقف پر جمنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ اس سلسلے میں کوئی رکھ رکھاؤ کرنے والے ہیں۔

الأحزاب 33:14

ولو دخلت علیھم ۔۔۔۔۔۔ الا یسیرا (14) یہ ہے ان منافقین کی اندرونی تصویر۔ دشمن ابھی تو مدینہ سے باہر ہے۔ ابھی تو وہ شہر کے اندر گھسنے نہیں پایا۔ اگرچہ حالات بہت ہی خوفناک تھے لیکن ابھی تو حملہ آور باہر ہی پڑے تھے۔ کوئی خطرہ ابھی واقع نہ ہوا تھا ۔ اگر لشکر مدینہ کے اطراف سے حمہ آور ہوجاتا اور پھر سئلوا الفتنۃ (33: 14) ” پھر ان کو فتنے کی دعوت دی جاتی یعنی ان سے مطالبہ کیا جاتا کہ تم مرتد ہوجاؤ تو یہ لوگ فوراً مرتد ہوجاتے اور کچھ دیر نہ کرتے اور نہ ہی کوئی تردد کرتا۔ الا قلیلا یعنی اگر دیر کرتے تو تھوڑی ہی دیر کرتے یا ان میں سے قلیل لوگ تردد کرتے۔ یعنی مرتد ہونے سے قبل کچھ دیر کے لیے سوچتے ۔ یہ ہے نقشہ ڈھیلے عقیدے اور نظریہ کا ہے۔ یہ گہری کمزوری ہے اس کے ساتھ یہ مقابلہ نہیں کرسکتے۔ یوں قرآن مجید ان کی حقیقت کا اظہار کرتا ہے اور ان کی اندرونی کیفیت سے پردہ اٹھا دیتا ہے اور اس کے بعد ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے عہد توڑ دیا اور وعدے کے خلاف ورزی کردی۔ یہ عہد کس کے ساتھ تھا ؟ یہ عہد انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا تھا کہ بھاگیں گے نہیں۔ ان کے ساتھ یہ پہلے بھی ہوچکا ہے۔

الأحزاب 33:15

ولقد کانوا عاھدوا ۔۔۔۔۔۔ عھد اللہ مسئولا (15) ابن ہشام نے ابن اسحاق کی روایت اپنی سیرۃ میں نقل کی ہے کہ یہ لوگ بنو حارثہ تھے۔ یہی لوگ تھے جو احد کے دن بھی بھاگنا چاہتے تھے اور بنو مسلمہ اور ان دونوں نے واپسی کا فیصلہ کرلیا تھا ۔ لیکن بعد میں انہوں نے اللہ کے ساتھ عہد کرلیا تھا کہ وہ ایسا ہرگز نہ کریں گے۔ یہاں یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ تم نے خود یہ عہد اللہ کے ساتھ کیا تھا کہ آئندہ ایسا نہ کریں گے۔ احد کے دن تو اللہ کے فضل و کرم سے وہ بچ گئے تھے۔ اللہ نے ان کو ثابت قدمی دے دی تھی۔ اور ان کو فرار کے نتائج سے بچا لیا تھا۔ ابتدائی زمانے میں جہاد کے اسباق میں سے یہ ایک سبق تھا لیکن آج تو تحریک اسلامی پر طویل دورگزر گیا ہے۔ کافی تجربات ہوگئے ہیں۔ اس لیے قرآن کریم ان پر سخت تبصرہ کرتا ہے۔ آج جب انہوں نے عہد توڑ دیا۔ آج وہ خطرے سے بچنے کیلئے اور خوف کی حالت سے بھاگنے کے لیے عہد توڑ چکے ، تو قرآن کریم ان کو بتاتا ہے اور ہر وقت بتاتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں اعلیٰ قدر کیا ہے اور اسلامی تصور حیات میں موت اور زیست کا تصور کیا ہے۔ کیا فرار اور نقص عہد زندگی کا ضمان ہے ؟

الأحزاب 33:16

قل لن ینفعکم ۔۔۔۔۔۔ ولیا ولا نصیرا (16 – 17) حقیقت یہ ہے کہ تمام واقعات اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ نظام قضا و قدر ان واقعات و نتائج کو آگے بڑھاتا جاتا ہے اور ہر معاملہ اس نظام کے مطابق انجام کو پہنچتا ہے۔ موت اور قتل ایک تقدیر ہے ، اس سے تو کوئی قرار ممکن نہیں ہے ۔ یہ وقت پر آتی ہے۔ ایک لحظہ پہلے اور بعد میں نہیں آتی۔ فرار کی وجہ سے موت موخر نہیں ہوتی۔ اگر کوئی جنگ سے بھاگ گیا تو اپنی موت مرجائے گا جس کا وقت بہت قریب ہے۔ دنیا کا تو ہر عرصہ قریب ہی ہے۔ نیز دنیا کا ہر سازوسامان بھی قلیل ہوتا ہے۔ بچانے والا کوئی نہیں ہے صرف یہ کہ اللہ کی مشیت کسی کی موت کی راہ میں حائل ہوجائے۔ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کے بارے میں برائی کا فیصلہ کرتا ہے اور کسی کے بارے میں اچھائی کا فیصلہ کرتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی والی اور مددگار نہیں ہے۔ کوئی ایسا نہیں ہے جو کسی کو تقدیر الٰہی سے بچالے۔ لہٰذا سپردگی ، سپردگی ہے ، اطاعت ، اطاعت ہے ، وفا ، وفا ہے ، خواہ وہ سہولیات کے دور میں ہو یا مشکلات کے دور میں۔ تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ پر توکل کرنا چاہئے۔ وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے۔ اب بات کا رخ ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے جو جنگ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں جو جہاد سے لاپرواہ ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں۔ لا مقام لکم فارجعوا (33: 13) ” تمہارے ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے ، لوٹ جاؤ “۔ اور ان کی عجیب تصویر یہاں کھینچی جاتی ہے۔ یہ تصویر سچی تصویر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کارٹون ہے اور اس قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں ، بزدل ، پیچھے ہٹنے والے ، بہت چیخنے اور چلانے والے ، شدید حالات میں جزع و گزع کرنے والے اور پر امن حالات میں تیز و طرار بات کرنے والے ، ہر بھلائی کے معاملے میں کنجوس ، جدوجہد سے فراری۔ اگر ذرا بھی ڈر کا خطرہ ہو ، اگرچہ دور ہو تو ایک دم مضطرب ہونے والے۔ قرآن کا انداز تعبیر ایسا دلکش ہے کہ اس تصویر کے کسی رنگ کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ذرا خود قرآنی رنگ میں پڑھئے :

الأحزاب 33:17

قل لن ینفعکم ۔۔۔۔۔۔ ولیا ولا نصیرا (16 – 17) حقیقت یہ ہے کہ تمام واقعات اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ نظام قضا و قدر ان واقعات و نتائج کو آگے بڑھاتا جاتا ہے اور ہر معاملہ اس نظام کے مطابق انجام کو پہنچتا ہے۔ موت اور قتل ایک تقدیر ہے ، اس سے تو کوئی قرار ممکن نہیں ہے ۔ یہ وقت پر آتی ہے۔ ایک لحظہ پہلے اور بعد میں نہیں آتی۔ فرار کی وجہ سے موت موخر نہیں ہوتی۔ اگر کوئی جنگ سے بھاگ گیا تو اپنی موت مرجائے گا جس کا وقت بہت قریب ہے۔ دنیا کا تو ہر عرصہ قریب ہی ہے۔ نیز دنیا کا ہر سازوسامان بھی قلیل ہوتا ہے۔ بچانے والا کوئی نہیں ہے صرف یہ کہ اللہ کی مشیت کسی کی موت کی راہ میں حائل ہوجائے۔ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کے بارے میں برائی کا فیصلہ کرتا ہے اور کسی کے بارے میں اچھائی کا فیصلہ کرتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی والی اور مددگار نہیں ہے۔ کوئی ایسا نہیں ہے جو کسی کو تقدیر الٰہی سے بچالے۔ لہٰذا سپردگی ، سپردگی ہے ، اطاعت ، اطاعت ہے ، وفا ، وفا ہے ، خواہ وہ سہولیات کے دور میں ہو یا مشکلات کے دور میں۔ تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ پر توکل کرنا چاہئے۔ وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے۔ اب بات کا رخ ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے جو جنگ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں جو جہاد سے لاپرواہ ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں۔ لا مقام لکم فارجعوا (33: 13) ” تمہارے ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے ، لوٹ جاؤ “۔ اور ان کی عجیب تصویر یہاں کھینچی جاتی ہے۔ یہ تصویر سچی تصویر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کارٹون ہے اور اس قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں ، بزدل ، پیچھے ہٹنے والے ، بہت چیخنے اور چلانے والے ، شدید حالات میں جزع و گزع کرنے والے اور پر امن حالات میں تیز و طرار بات کرنے والے ، ہر بھلائی کے معاملے میں کنجوس ، جدوجہد سے فراری۔ اگر ذرا بھی ڈر کا خطرہ ہو ، اگرچہ دور ہو تو ایک دم مضطرب ہونے والے۔ قرآن کا انداز تعبیر ایسا دلکش ہے کہ اس تصویر کے کسی رنگ کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ذرا خود قرآنی رنگ میں پڑھئے :

الأحزاب 33:18

قد یعلم اللہ المعوقین ۔۔۔۔۔۔ ما قتلوا الا قلیلا (18 – 20) ” “۔ جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنا نے کو ، جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں۔ خطرے کا وقت آجائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہے ، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آجاتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے ، اس لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کر دئیے۔ اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ پھر حملہ آور ہوجائیں تو ان کا جی چاہتا ہے کہ اس موقع پر کہیں صحرا میں بدوؤں کے درمیان جا بیٹھیں اور وہیں سے تمہارے حالات پوچھتے رہیں۔ تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے “۔ آغاز یوں ہوتا ہے کہ اللہ ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جو لوگوں کو جنگ سے روکتے ہیں اور اس کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ جو اپنے بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ جنگ میں شرکت نہ کریں ، گھروں میں بیٹھے رہیں۔ ولا یاتون الباس الا قلیلا (33: 18) ” “۔ یہ جہاد میں محض دکھا دے اور نام داخل کرنے کے لیے شریک ہوتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ معلوم لوگ ہیں اور ان کی مکاریاں بھی معلوم ہیں۔ اب اللہ اپنے معجزانہ قلم ان کے اور ان جیسے لوگوں کے خدوخال سے بڑی خوبصورتی سے رقم فرماتے ہیں :

الأحزاب 33:19

اشحۃ علیکم (33: 19) ” “۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض اور دشمنی بھری ہوئی ہے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں بھی بخیل ہیں ، مالی امداد میں بھی بخیل ہیں اور اچھی نیت اور اچھی خواہشات میں بھی بخیل ہیں۔ فاذا جآء الخوف ۔۔۔۔۔ علیہ من لموت (33: 19) ” “۔ یہ ایک واضح تصویر ہے جس کے خدوخال واضح ہیں ، جس کے اعضاء متحرک ہیں ، لیکن ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ تصویر مضحکہ انگیز ہے۔ اس سے ان کی بزدلی ٹپکتی پڑتی ہے۔ اس قدر بزدل کہ مارے خوف کے ان کے اعضاء کانپ رہے ہیں اور ان کے پورے جسم پر رعشہ طاری ہے۔ لیکن جب خوف چلا جاتا ہے تو ان کی تصویر زیادہ مضحکہ انگیز ہوجاتی ہے۔ فاذا ذھب الخوف سلقوکم بالسنۃ حداد (33: 19) ” “۔ یہ سوراخوں سے نکل آتے ہیں ، ان کے آوازیں بلند ہوجاتی ہیں حالانکہ پہلے ان پر رعشہ طاری تھا۔ ان کی گردن کی رگیں پھول جاتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں۔ پہلے تو سکڑ گئے تھے ، اب پھول گئے اور بغیر شرم و حیاء کے لمبے لمبے دعوے کرنے لگے کہ ہم نے یہ یہ مشقتیں برداشت کیں۔ یہ یہ جنگیں کیں اور یہ یہ فضائل اعمال کیے اور اس قدر شجاعت اور بہادری دکھائی۔ ۔۔ اور پھر یہ لوگ۔ اشحۃ علی الخیر (33: 19) ” “۔ یہ کسی بھلائی کے کام میں کچھ خرچ نہیں کرتے۔ نہ اپنی قوت ، نہ اپنا عمل ، نہ اپنی دولت اور نہ اپنی جان ۔۔۔ حالانکہ وہ بہت بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں ۔ ان کی زبان تیز ہے اور اپنے آپ کو بہت ہی بڑا سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ کسی ایک قوم قبیلے تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ہمیشہ ہر معاشرے میں رہتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ بڑے بہادر ، فصیح اللسان اور چیلنج کرنے والے ہوتے ہیں بشرطیکہ وہاں امن ہو۔ اور اگر خوف اور شدید خطرہ ہو تو یہ بخیل ، بزدل ، خاموش اور پیچھے پیچھے رہنے والے۔ یہ لوگ ہر بھلائی اور ہر خیر کے معاملے میں بہت ہی بخیل ہوتے ہیں بس زبانی کلامی یہ ہر کام میں حصہ لیتے ہیں۔ اولئک لم یومنوا فاحبط اللہ اعمالھم (33: 19) ” “۔ ان کی منافقت کا پہلا سبب یہ ہے کہ ایمان ان کے دلوں ہی میں نہیں اترا اور ایمان کی روشنی میں انہوں نے اپنا راستہ تلاش کیا۔ نہ یہ لوگ ایمان کے طریقوں پر چلنے والے ہیں ۔ اس لیے اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ہیں اور یہ کامیاب نہیں کیونکہ کامیابی کا اصلی مواد ہی ان کے پاس نہیں ہے۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا (33: 19) ” “۔ اللہ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ، بس سمجھ لو کہ ان کے اعمال ضائع ہوگئے۔ رہا یہ کہ یوم الاحزاب میں ان کی حالت کیا تھی اور ان کی سوچ کیا تھی۔

الأحزاب 33:20

یحسبون الاحزاب لم یذھبوا (33: 20) ” “۔ گویا یہ لوگ ابھی تک کانپ رہے ہیں ، ابھی تک جنگ سے چھپ رہے ہیں ، لوگوں کو روک رہے ہیں ، ان کو یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ احزاب تو بھاگ گئے ہیں اور خوف ختم ہوگیا ہے اور امن وامان لوٹ آیا ہے۔ وان یات الاحزاب ۔۔۔۔۔ عن انبآئکم (33: 20) ” “۔ کیا سنجیدہ مزاح ہے ان کے ساتھ اور کس قدر بھونڈی تصویر ہے ان لوگوں کی۔ یوں جس طرح کارٹون ۔ اگر دوبارہ احزاب حملہ آور ہوں تو یہ لوگ چاہیں گے کہ یہ اہل مدینہ ہی نہ ہوں اور دور کہیں بدو باشندے ہوجائیں اور مدینہ والوں کی زندگی اور ذمہ داریوں میں شریک ہی نہ ہوں۔ ان کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں ان کو پتہ ہی نہ ہو اور دوسروں سے اہل مدینہ کے حالات اس طرح پوچھیں جس طرح اجنبی ، اجنبی کے بارے میں پوچھتا ہے اور ان کو اہل مدینہ سے کوئی ذاتی تعلق نہیں ہے اور یہ بزدل جان بچا کر نکل آتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی مضحکہ خیز تمنائیں کرتے ہیں ، یہ معرکے سے دور ہیں اور اس معرکے میں ذاتی طور پر شریک نہیں ہیں نہ براہ راست یہ لوگ اس معاملے کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ یہ دور سے بھی ڈرتے ہیں اور اس قدر بعید ہوکر بھی جزع و فزع کرتے ہیں۔ ولو کانوا فیکم ما قتلوا الا قلیلا (33: 20) ” “۔ یہ آخری لائن ہے جس کے کھینچنے سے یہ تصویر مکمل ہوجاتی ہے۔ یہ ہے تصویر ان منافقین کی جو مدینہ طیبہ میں اٹھنے والی اس نئی اسلامی جماعت کے اندر رہتے تھے۔ ایسے ہی لوگ قیامت تک اٹھنے والی ہر تحریک میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہی ہر دور کے منافقین کے خدوخال ہوتے ہیں۔ یہ تصویر یہاں ختم ہوتی ہے اور اہل ایمان کے دل میں ان کی تحقیر ، ان سے نفرت اور ان سے دوری اچھی طرح بٹھا دی جاتی ہے اور یہ لوگ اللہ کے ہاں بھی ہلکے ہوجاتے ہیں اور لوگوں کی نظروں میں بھی گر جاتے ہیں۔ یہ تو تھا حال ان لوگوں کا جو منافق تھے۔ جن کے دلوں میں روگ تھا ، جو اسلامی صفوں میں بددلی پھیلاتے تھے۔ یہ تھی ان کی مکروہ تصویر ، لیکن جنگ احزاب کے شدید اور ہلا مارنے والے خوف اور بدتر حالات نے تمام لوگوں کو اس طرح مکروہ الصورت نہ بنا دیا تھا۔ ان تاریک اور کربناک حالات میں کچھ روشن چہرے بھی موجود تھے۔ ان ہلا مارنے والے حالات میں ایسے لوگ بھی تھے جو چٹان کی طرح مضبوط کھڑے تھے۔ جن کا اپنے اللہ پر پورا بھروسہ تھا۔ اللہ کے فیصلوں پر راضی تھے۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ کی نصرت آئے گی باوجود اس کے کہ بظاہر حالات بہت ہی مایوس کن تھے اور ہر طرف خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔

الأحزاب 33:21

اب قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو بطور نمونہ پیش کرکے ان روشن چہروں کے البم کا آغاز کرتا ہے اور دیکھئے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو۔ لقد کان لکم ۔۔۔۔۔۔ وذکر اللہ کثیرا (31) ” “۔ اس خوفناک ڈر ، اور جان لیوا حالات کے باوجود رسول اللہ ﷺ لوگوں کے لیے امن و اطمینان کا سرچشمہ تھے اور آپ ﷺ کی ذات و ثوق ، اطمینان اور امیدوں کا سرچشمہ تھی۔ اس مشکل وقت میں رسول اللہ ﷺ نے جو کردار ادا کیا وہ دراصل تمام تحریکات اسلامی کے قائدین کے لیے مثال اور نمونہ ہے۔ ان تمام لوگوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے جو صاف رضائے الٰہی اور یوم آخرت کے لیے کام کرتے ہیں اور جو اپنے آپ کو بہترین قائد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جو ہر وقت اللہ کو یاد رکھتے ہیں اور کبھی بھی اللہ کو نہیں بھولتے۔ ہمیں چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ نے اس جنگ میں جو موقف فرمایا اس کی کچھ جھلکیاں یہاں سے دیں۔ پوری تفصیلات تو یہاں دینا ممکن ہی نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور عام مسلمانوں کے ساتھ خندق کھودنے لگے۔ آپ کدال سے زمین کھودتے اور بیلچے سے مٹی جمع فرماتے اور پھر ٹوکری میں بھر کر کناروں پر ڈالتے۔ کام کرنے والے جو رجز پڑھتے آپ بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے۔ یہ لوگ اونچی آواز سے رجز پڑھتے ، رجز کے آخری لفظ کو دہراتے۔ وہ لوگ سادہ قسم کے ترانے گاتے تھے جن کا تعلق اس وقت کے واقعات سے ہوتا تھا۔ ایک شخص تھا جس کا نام جعیل تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو یہ نام اچھا نہ لگا تو آپ ﷺ نے اس کا نام بدل کر عمرو رکھ دیا۔ اب مسلمانوں نے اس کے ساتھ رجز بنایا ، بہت ہی سادہ : سماہ من بعد جعیل عمرا وکان للبائس یوما ظھرا جب مسلمان یہ رجز پڑھتے اور ” عمرا “ کہتے تو رسول اللہ ﷺ بھی جواب میں ” عمرا “ فرماتے اور جب وہ دوسرے فقرے میں لفظ ” ظہرا “ پڑھتے تو آپ ﷺ بھی ان کے جواب میں ظہرا دہراتے۔ اب ذرا اس فضا کے بارے میں سوچئے اور اس جوش و خروش کا تصور کیجئے کہ حضور اکرم ﷺ رجز کے ساتھ مقطع دہراتے ہیں۔ ” عمرا “ اور ” ظہرا “۔ اور ساتھ ساتھ کدال بھی مار رہے ہیں۔ بیلچے سے مٹی بھی جمع کر رہے ہیں اور پھر ٹوکری میں مٹی اٹھا کر بھی لے جا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ رجز کا جواب بھی دے رہے ہیں۔ یہ طرز عمل ان لوگوں کے جسم کے رونگٹے رونگٹے کو قوت سے بھر رہا ہوگا۔ ان کی ارواح کا پیمانہ کس قوت و شجاعت سے لبریز ہوگا اور کس قدر جرأت ، شجاعت اور اعتماد اور اعزار ان کو حاصل ہو رہا ہوگا۔ زید ابن ثابت مٹی لے جا رہے تھے تو حضور ﷺ نے فرمایا یہ ایک بہترین نوجوان ہے۔ اسے نیند آگئی اور خندق ہی میں سوگیا۔ بہت سردی ۔۔۔۔ حضرت عمارہ ابن جزم نے ان کا اسلحہ چپکے سے لے لیا ، اسے پتہ بھی نہ چلا۔ آنکھ کھلی تو اسلحہ ندارد۔ یہ پریشان ہوگئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اے ابو اماد (زیادہ سونے والے کے باپ) تم اس قدر سو گئے کہ اسلحہ ہی چلا گیا “ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اسے دے دو اور اس کے بعد حکم دیا کہ مسلمان کی کوئی چیز بطور مزاح بھی نہ چھپاؤ۔ یہ واقعہ بھی بتاتا ہے کہ اسلامی صفوں میں جو لوگ تھے وہ بیدار مغز اور بیدار چشم تھے اور حضور ﷺ کی نظر ہر کسی پر تھی ، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سنجیدہ مزاح اور خوش مزاجی ان مشکل حالات میں بھی قائد انقلاب کے ساتھ تھے۔ ” اے سونے والے کے باپ ، تم سو گئے اور اسلحہ چلا گیا “۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کن حالات میں تھے اور وہ نبی ﷺ کے کس قدر قریب تھے۔ آپ ﷺ کی روح دور دور تک اسلامی انقلاب کے نقوش دیکھ رہی تھی ۔ پتھروں کی چمک میں بھی اللہ آپ ﷺ کو اسلامی انقلاب کی وسعتوں کو دکھاتے تھے۔ پہلے دن سے آپ ﷺ نے خوشخبری سنائی تھی کہ قیصروکسریٰ کے خزانے تمہارے ہاتھ آئیں گے۔ لیکن جنگ احزاب جیسے مایوس کن حالات میں بھی جب کدال کی ضرب سے پتھر سے چمک نکلتی تو اس سے بھی حضور ﷺ کو مستقبل کا نقشہ بتا دیا جاتا اور آپ ﷺ فورا مسلمانوں کو بتا دیتے اور اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں یقین اور امید کے چشمے پھوٹ نکلتے۔ ابن اسحاق لکھتے ہیں۔ سلمان فارسی کی یہ روایت مجھ تک پہنچی ہے کہ میں خندق کا ایک کونا کھود رہا تھا کہ ایک پتھر میرے لیے مشکل ہوگیا ۔ رسول اللہ اس وقت میرے قریب تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ میں مسلسل وار کر رہا ہوں اور جگہ میرے لئے مشکل ہوگئی ہے۔ حضور ﷺ اترے اور میرے ہاتھ سے کدال لیا اور پتھر پر وار کیا۔ کدال کے نیچے سے ایک چمک اٹھی۔ پھر آپ ﷺ نے دوسری ضرب لگائی اور پھر پتھر سے ایک چمک اٹھی۔ پھر آپ ﷺ نے تیسری ضرب لگائی اور پتھر سے پھر چمک اٹھی۔ کہتے ہیں میں نے پوچھا رسول خدا ﷺ یہ چمک کیسی تھی جو میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ جب مارتے ہیں تو کدال چمک اٹھتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (سلمان تو نے یہ دیکھ لیا ہے) میں نے کہا ہاں۔ پہلی چمک میں یہ بات دکھائی گئی کہ میرے لیے یمن فتح ہوگیا ہے۔ دوسری چمک میں یہ دکھایا گیا کہ اللہ نے میرے لیے شام اور مغرب کا علاقہ فتح کردیا اور تیسری چمک میں یہ بات تھی کہ اللہ نے میرے لیے مشرق کو فتح کرلیا ہے۔ مقریزی نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عمر ؓ کو پیش آیا اور اس وقت سلمان فارسی بھی موجود تھے۔ ہمارے لیے سبق اس بات میں یہ ہے کہ اس قسم کے خوفناک ماحول میں بھی مسلمانوں کے دل و دماغ اعتماد سے بھرپور تھے۔ ذرا وہ وقت بھی یاد کیجئے کہ حذیفہ ؓ شدید سردی میں دشمن کے کیمپ سے نکل آئے ہیں۔ ان کے پاس اطلاعات ہیں۔ وہ سردی سے کانپ رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں سے ایک کی لمبی شال میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضور ﷺ نماز میں ہیں۔ اپنے رب کے ساتھ مناجات میں ہیں۔ آپ حضرت حذیفہ کو چھوڑ نہیں دیتے کہ وہ اس وقت تک کانپتے رہیں جب تک حضور ﷺ نماز سے فارغ نہیں ہوجاتے بلکہ آپ حذیفہ ؓ کو اپنے پاؤں ٹانگوں کے اندر دبا لیتے ہیں اور اپنی شال کا ایک کونہ ان پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ گرم ہوجائیں اور آپ ﷺ نماز جاری رکھتے ہیں۔ نماز ختم ہوتی ہے۔ حذیفہ آپ ﷺ کو اطلاعات فراہم کرتے ہیں اور آپ ﷺ کو خوشخبری سناتے ہیں کیونکہ ۔۔۔۔۔ مبارک کہہ رہا تھا کہ آج کچھ ہونے والا ہے۔ حذیفہ اسے دیکھ کر آگئے۔ جہاں تک آپ ﷺ کی شجاعت ، ثابت قدمی اور اللہ پر بھروسے کا تعلق ہے تو وہ آپ کی سیرت سے عیاں ہیں اور اس پورے قصے سے بالکل عیاں ہیں۔ اور مشہور ہیں ، لہٰذا ہم یہاں تفصیلات نہیں دے سکتے۔ اللہ نے سچ کہا ” درحقیقت تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں ایک بہترین نمونہ تھا ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے “ رسول اللہ ﷺ کے بعد اب ایک سچے مومن کی تصویر ملاحظہ ہو۔ جو اللہ پر پورا پورا بھروسہ رکھتا ہے اور پوری طرح مبمئن ہے۔ یہ تصویر روشن ، چمکدار اور خوبصورت ہے۔ دیکھے ہر قسم کے ہولناک حالات کے مقابلے میں یہ مومن ڈٹا ہوا ہے۔ خطرات میں کود پڑتا ہے۔ ایسے خطرناک حالات میں چٹان کی طرح ڈٹا ہے جن میں عام لوگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور خطرہ جس قدر شدید ہوتا ہے اسے اسی قدر زیادہ اطمینان ، اللہ پر زیادہ بھروسہ اور خوشخبری کا یقین ہوتا ہے۔

الأحزاب 33:22

ولما را المؤمنون ۔۔۔۔۔ ایمانا وتسلیما (23) ” “۔ اس جنگ میں مسلمان جس خوف سے دوچار ہوئے وہ اس قدر عظیم تھا ، اور اس غزوہ میں جو دکھ ان کو پہنچا اس قدر شدید تھا ، اور اس واقعہ میں وہ جس بےچینی کا شکار ہوئے ، وہ اس قدر سخت تھی کہ وہ ہلا مارے گئے اور قرآن نے اس کے لیے زلزالا شدیدا (33: 11) کا لفظ استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ھنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (33: 11) ” یہاں مومنین کو آزمایا گیا اور وہ ہلا مارے گئے “۔ یہ لوگ بہرحال انسان تھے اور انسان کی قوت برداشت بہرحال محدود ہوتی ہے ۔ اللہ بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔ اگرچہ ان کو پورا پورا یقین تھا کہ آخری فتح ہماری ہی ہوگی۔ اور رسول اللہ نے ان کو بشارت بھی دے دی تھی اور یہ بشارت نہ صرف عرب بلکہ یمن ، شام اور مشرق و مغرب کی فتح کی تھی۔ لیکن ان حقائق کے باوجود موجودہ ہولناک حالات نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا اور وہ مسلسل کرب اور خوف محسوس کرتے تھے۔ سلمان کن حالات میں تھے اور کس قدر سہمے ہوئے تھے ، اس کی تصویر حضرت حذیفہ ابن ایمان کی روایت سے بہت وضاحت سے معلوم ہوتی ہے ۔ اصحاب رسول ﷺ کی حالت کیا تھی اور ان کی اندرونی حالت کیا تھی۔ ” حضور ﷺ صحابہ ؓ سے کہتے ہیں کون ہے وہ شخص جو کھڑا ہو اور جائے اور دشمن کے لشکر کے اندر جاکر معلوم کرے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ اس کے لیے شرط ہے کہ وہ واپس آئے گا۔ میں اللہ سے دعا کروں گا کہ اللہ اسے میرے ساتھ جنت میں رکھے “۔ باوجود اس کے کہ اس شخص کی واپسی کی بھی ضمانت ہے اور اس کے لیے جنت کی دعاء کی بھی ضمانت ہے ، لیکن کوئی بھی خود اٹھ کر نہیں آتا۔ اور حضور ﷺ تین بار دہراتے ہیں۔ آخر میں حضور ﷺ حضرت حذیفہ ؓ کا نام لے کر پکارتے ہیں اور حذیفہ ؓ بھی فرماتے ہیں کہ جب میرا نام لے لیا گیا تو اب میرے لیے جانے کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ رسول ﷺ یہ موقف انتہائی خوف کی حالت ہی میں اختیار کرسکتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات ان کی طاقت سے زیادہ تھی۔ لیکن اس زلزال شدید کے باوجود ، اور آنکھیں پتھرانے کے باوجود جان کی بےچینی کے باوجود ، ان لوگوں کا اللہ کے ساتھ ایک غیر منقطع تعلق تھا۔ وہ سنن الہیہ کو اس حد تک جانتے تھے کہ وہ کسی وقت بھی ان نظروں سے اوجھل نہ ہوتی تھیں اور ان کو سنن الہیہ پر غیر متزلزل بھروسہ تھا کہ اللہ کے یہ سنن ناقابل تغیر ہیں اور جب ان کے مطابق اسباب فراہم ہوں تو نتائج ضرور ان کے مطابق نکلیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنین نے یہ سمجھ لیا کہ اس شدید خوف اور ہلا مارنے کے بعد اب نصرت قریب آگئی ہے کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ اللہ نے فرمایا ہے۔ ام حسبتم ان تدخلوا ۔۔۔۔۔ نصر اللہ قریب (حوالہ) ” کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور تم پر دہ حالات نہ آئیں گے جو تم سے پہلے لوگوں پر آئے۔ ان پر سختیاں آئیں ، مصیبتیں آئیں اور وہ ہلا مارے گئے حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے “۔ اور اب چونکہ وہ ہلا مارے گئے ہیں لہٰذا نصر الٰہی قریب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کہا : ” یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول کی بات سچی تھی “۔ (اس واقعہ نے ان کے ایمان اور ۔۔۔ کو اور زیادہ کردیا) ۔ ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ (33: 22) ” یہ وہی چیز ہے جس کو اللہ اور رسول ﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا “۔ یہ خوف ، یہ بےچینی ، اور یہ کپکپی ، یہ تنگی وہ چیزیں ہیں جن پر ہم سے نصرت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا نصرت آنے ہی والی ہے۔ وصدق اللہ ورسولہ (33: 22) ” اور اللہ اور رسول کی بات بالکل سچی تھی “۔ یعنی اللہ اور رسول نے نصرت الٰہی کی آمد کے لیے جو علامات رکھی تھیں ، وہ سچ تھیں اور اب وہ علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو بھی سچی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دل اللہ کی نصرت کے آنے پر مطمئن ہوگئے۔ وما زادھم الا ایمانا وتسلیما (33: 22) ” اس واقعہ نے ان کے ایمان اور سپردگی کو اور زیادہ کردیا “۔ بہرحال وہ انسان اور بشر تھے اور بشری جذبات سے وہ بھی پا نہ ہوسکتے تھے۔ بشری کمزوریاں ان کے ساتھ بھی لگی ہوئی تھیں۔ ان سے شریعت کا مطالبہ یہ نہ تھا کہ وہ بشر سے زیادہ بوجھ اٹھائیں۔ دائرہ بشریت کے اندر ہی ان کو رہنا تھا۔ اور شریعت کی خصوصیات اور علامات کا ان کے اندر پایا جانا حکمت خداوندی تھا۔ اس لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا تاکہ وہ بشر ہوتے ہوئے کام کریں اور بشریت کے علاوہ کوئی اور جنس نہ ہوں۔ نہ ملائکہ ہوں اور نہ شیاطین ہوں۔ نہ جانور ہوں اور نہ پتھر ہوں۔ وہ بشر تھے۔ اس لیے ان پر خوف بھی طاری ہوتا تھا اور انہیں پریشانی بھی لاحق ہوتی تھی اور تنگی بھی محسوس کرتے تھے۔ اگر خطرہ حد برداشت سے زیادہ ہوجاتا تو ان پر پکپ کی بھی طاری ہوتی تھی ۔ لیکن ان کمزوریوں کے باوجود مضبوط رسی سے ان کا ربط تھا۔ وہ اللہ سے باندھے ہوئے تھے اور اللہ ان کو گرنے سے بچا رہا تھا۔ ازسرنو امیدیں ان کے اندر پیدا فرماتا ہے اور نا امیدی سے ان کو بچاتا تھا۔ اس لیے وہ انسانیت کی تاریخ میں ایک منفرد مثال تھے۔ ایسی مثال جس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ جس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس حقیقت کا ادراک کریں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ پوری انسانی تاریخ کے انسانوں میں ایک ایسا نمونہ بھی تھا اور کبھی بشریت اس معیار تک بھی پہنچی تھی۔ یہ بشر تھے ، فرشتے نہیں تھے ، ان میں کمزوریاں بھی تھیں اور قوت بھی تھی اور ان کا اعزاز اور معیار یہ ہے کہ انہوں نے بشریت کو اس قدر اونچے معیار تک پہنچا دیا یوں کہ دائرہ بشریت کے اندر رہتے ہوئے وہ اس قدر بلند معیار تک پہنچ گئے۔ جن ہم دیکھیں کہ ہمارے اندر کمزوری آگئی ہے یا ہمارے قدم متزلزل ہوگئے ہیں ، یا ہم ڈرگئے ہیں ، یا ہم پر تنگی کا وقت آگیا ہے۔ ہولناک اور خطرناک حالات سے دوچار ہوگئے ہیں تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے اور ہمیں چیخ و پکار نہ شروع کردینا چاہئے کہ ہائے مارے گئے۔ لیکن ہمیں یہ موقف بھی نہ اختیار کرنا چاہئے کہ یہ کمزوریاں تو خیر القرون میں بھی تھیں اور یہ ہماری فطرت کا حصہ ہیں اور ہم بلکہ تمام انسانوں سے اچھے لوگوں میں بھی تھیں ، اس لیے کہ ایک مضبوط رسی بھی ہے ، یہ مضبوط رسی آسمان سے تعلق کی رسی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ پر بھروسہ کریں۔ اس کی رسی کو تھا میں اور اعتماد اور اطمینان کو واپس لوٹائیں اور ہمارے جب قدم متزلزل ہوجائیں تو ہم سمجھ لیں کہ اب اللہ کی نصرت آنے والی ہے تاکہ ہم ثابت قدم رہیں۔ ہمیں استقرار حاصل ہو اور نہایت ہی قوت سے ازسرنو راہ حق پر چل پڑیں۔ آغاز اسلام میں اللہ نے صحابہ کرام کی جو ٹیم تشکیل دی تھی اسے یہی توازن عطا کردیا گیا تھا۔ یہ ایک منفرد ٹیم تھی۔ اس ٹیم کی تعریف خود قرآن بار بار کرتا ہے کہ اس ٹیم نے کیا کیا کارنامے سر انجام دئیے ۔ کس طرح ثابت قدم رہے۔ ان میں سے بعض تو اللہ کے ہاں پہنچ گئے اور بعض انتظار میں ہیں۔

الأحزاب 33:23

من المؤمنین رجال ۔۔۔۔۔ وما بدلوا تبدیلا (24) ” “۔ یہ نمونہ اس مکروہ نمونے کے بالمقابل ہے۔ یہ مکروہ نمونہ وہ ہے جس میں لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے مگر بعد میں انہوں نے اپنا عہد و فا نہ کیا۔ وکان عھد اللہ مسؤلا ” اور اللہ کے عہد کے بارے میں تو پوچھا جاتا ہے “۔ امام احمد نے حضرت ثابت سے نقل کیا ہے کہ ” میرے چچا انس ابن نضر ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں حاضر نہ ہوسکے تھے۔ ان پر یہ بات بہت شاق تھی۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول خدا ﷺ شریک ہوئے اور میں غائب رہا۔ اگر اللہ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے ستاھ کسی معرکے میں شریک کیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ ان کے سوا اور کوئی یہ بات نہ کہہ سکا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احد کے دن حاضر ہوئے۔ یہ سعد ابن معاذ ؓ کے سامنے آگئے۔ انس نے ان سے کہا ابو عمر ! واہ ! واہ ! جنت کی ہوا کیا خوب ہے۔ مجھے تو احد سے جنت کی ہوا آرہی ہے۔ کہتے ہیں اس نے ان کے ساتھ جنگ کی اور وہ قتل ہوگئے۔ ان کے جسم پر 80 سے اوپر زخم تھے۔ تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے۔ ان کی بہن میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے کہا میں نے اپنے بھائی کو اس کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ کہتی ہیں ان پر یہ آیت نازل ہوئی : من المومنین رجال صدقوا (33: 23) صحابہ کرام ؓ کا خیال تھا کہ یہ آیت انس ابن نضر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ بےمثال مومنین کی یہ نہایت ہی روشن تصویر ہے۔ یہاں ہم اس کا تذکرہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ ایمان کی حقیقت کیا ہوتی ہے۔ اور نفاق کیا ہوتا ہے۔ وفائے عہد کیا ہوتا ہے اور نقص عہد کیا ہوتا ہے۔ یہ میداں تربیت گاہ کے درمیان تقابلی مطالعہ تھا۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو ایسی آزمائشوں میں کیوں ڈالتا ہے اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیتے ہیں ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔

الأحزاب 33:24

لیجزی اللہ الصدقین ۔۔۔۔۔۔ کان غفورا رحیما (22) “۔ قرآن کریم میں واقعات و حادثات پر ایسا تبصرہ آتا رہتا ہے۔ مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ تمام معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ ان واقعات کی حکمت بھی بتا دی جاتی ہے کہ کوئی واقعہ عبث یا یونہی پیش نہیں آجاتا۔ ہر واقعہ حکمت الہیہ کا حصہ ہوتا ہے اور مقررہ وقت پر آتا ہے۔ اس کے پیچھے بامقصد تدبیر ہوتی ہے اور اس کے مقررہ نتائج نکلتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے لئے رحمت اور فضل اس میں عیاں ہوتا ہے اور یہ جان لینا چاہئے کہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ہمیشہ عیاں ہوتا ہے۔ ان اللہ کان غفورا رحیما (33: 24) ” بیشک اللہ غفور و رحیم ہے “۔ اور یہ عظیم واقعہ اس پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین کا اپنے رب کے بارے میں جو یقین تھا وہ درست ثابت ہوا اور منافقین اور افواہیں پھیلانے والے غلط خیالات لیے ہوئے تھے۔ غرض ایمانی اقدار آخر کار کامیاب رہیں۔

الأحزاب 33:25

ورد اللہ الذین ۔۔۔۔۔۔ وکان اللہ قویا عزیزا (25) ” “۔ اس معرکے کا آغاز ہوا۔ یہ آگے بڑھا۔ اپنے انجام تک پہنچا لیکن پورے دور میں اس کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں تھیں۔ جس طرح اللہ چاہتا تھا ، واقعات کا رخ موڑ دیتا تھا۔ قرآن کریم اپنے انداز تعبیر کے ذریعہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ جو بھی واقعات ہوئے ، وہ اللہ نے کرائے اور یہ بات اچھی طرح اہل ایمان کے دلوں میں بٹھا دی گئی۔ یوں اسلامی تصور حیات کو واضح کردیا گیا۔ اب اس لشکر کشی کا وبال صرف مشرکین قریش ، اور غطفان پر ہی نہ پڑا بلکہ مشرکین کے حلفاء بنی قریظہ بھی اس کی زد میں آگئے۔

الأحزاب 33:26

وانزل الذین ظاھروھم ۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (26 – 27) بنی قریظہ کا کیا قصہ تھا ؟ اس کا تعلق مسلمانوں اور یہودیوں کے باہم تعلقات سے ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں اس کی وضاحت کردی جائے۔ یہودیوں نے اسلام کے ساتھ بہت ہی مختصر عرصہ کے لیے رواداری کا رویہ اپنایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آتے ہی ان کے ساتھ باہمی امن کا معاہدہ کرلیا تھا اور ذمہ داری قبول فرمائی تھی کہ مسلمان ان کی نصرت اور حمایت کریں گے بشرطیکہ وہ غداری نہ کریں ، فسق و فجور نہ کریں ، جاسوسی نہ کریں دشمن کی حمایت نہ کریں ، اور کسی مسلمان کو اذیت نہ دیں۔ بہت ہی تھوڑے دن گزرے تھے کہ یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ دین جدید ان کے لئے بھی خطرہ بن گیا ہے اور ان کی موروثی امتیازی حیثیت کہ وہ اہل کتاب ہیں ، اب ختم ہو رہی ہے۔ یہ لوگ اہل یثرب کے درمیان اپنی اس امتیازی حیثیت کی وجہ سے ایک اہم مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں مسلمانوں کی جدید صف بندی سے بھی خطرات محسوس کرلیے۔ اس سے قبل وہ اوس اور خزرج کے درمیان پائے جانے والے طویل اختلافات اور جنگوں سے خوب فائدہ اٹھاتے تھے۔ اس طرح مدینہ میں انہی کی بات ہوتی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ کی قیادت میں اسلام نے ان روایتی دشمنوں کو باہم شیر و شکر کردیا تو یہودیوں کے وہ مفادات ختم ہوگئے جو وہ ان دونوں فریقوں سے حاصل کرتے تھے۔ جس بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا وہ یہ تھی کہ ان کے عالم اور مذہبی راہنما عبد اللہ ابن سلام مسلمان ہوگئے۔ ان کا دل اسلام کے لیے کھل گیا۔ یہ مسلمان ہوگیا۔ اس نے اپنے خاندان سے بھی کہا تو وہ بھی مسلمان ہوگئے لیکن اس نے کہا کہ اگر وہ ایسے ہی اپنے اسلام کا اعلان کر دے تو یہودی الزام لگائیں گے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ میرے بارے میں پہلے آپ ان سے پوچھ لیں۔ پہلے اس کے کہ میرے اسلام کا اعلان ہو ، تو انہوں نے کہا یہ ہمارے سردار ہیں ، سردار کے بیٹے ہیں۔ ہمارے حبر اور عالم ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن سلام نکلے اور ان سے کہا کہ ایمان لاؤ چناچہ انہوں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کردیا اور تمام یہودی قبائل کو ان کے بارے میں آگاہ کردیا۔ اب انہوں نے محسوس کرلیا کہ ہمارے دین کو حقیقی خطرہ ہے۔ چناچہ انہوں نے اسلام اور نبی کریم ﷺ کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ ایسی سازشیں جو کبھی رکتی نہ تھیں۔ اس دن سے یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان جو جنگ شروع ہوئی وہ آج تک جاری ہے اور یہ میدان کا رزار آج تک ٹھنڈا نہیں ہوا۔ پہلے یہ سرد جنگ تھی اور جوں جوں ہمارے مسلمانوں کے حالات خراب ہوتے رہے ، یہ جنگ حضرت محمد ﷺ کی ذات اور اسلام کے خلاف جاری رہی۔ اس جنگ نے مختلف رنگ اور اسلوب اختیار کیے۔ پہلے انہوں نے جدید رسالت کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے۔ پھر جدید عقیدے پر الزامات لگائے۔ پھر انہوں نے مسلمانوں کے درمیان عداوتیں ڈالنا شروع کردیں۔ اوس اور خزرج کو بار ہا لڑانا چاہا۔ انصار اور مہاجرین کے درمیان انہوں نے دشمنی ڈالی۔ یہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کے لیے جاسوسی بھی کرتے رہے۔ یہ پھر منافقین کے دوست بن گئے۔ ان منافقین کے ذریعے اسلامی صفوں میں فتنے ڈالتے۔ آخر کار یہ کھل کر سامنے آگئے اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف لشکر کشیاں کیں اور احزاب کو جمع کرنا شروع کردیا۔ مثلاً غزوہ احزاب کی شکل میں۔ ان کے اہم قبیلے بنی قینقاع اور بنی النضیر اور بنی قریظہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک کا رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ تھا۔ بنو قینقاع یہودیوں میں سے بہت ہی دلیر تھے۔ ان کے دل تو اس وقت جل اٹھے جب مسلمانوں کو بدر میں کامیابی ہوئی۔ انہوں نے عہد کی خلاف ورزی شروع کردی بلکہ عہد سے انکار ہی کردیا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ تو کفار قریش کے ساتھ پہلے ہی معرکے میں کامیاب رہے ہیں لہٰذا اگر حالت یونہی رہی تو یہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے۔ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ابن اسحاق کے ذریعہ سے ان کہ حا لات درج کیے ہیں ۔ نبی قینقاع کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ نے ان کو قینقاع کے با زار میں جمع کیا اور کہا : اے اہل یہود ، اللہ سے ڈرو ، جس طرح اللہ نے قریش پر وبال نازل کیا ہے ، ویسا ہی حال تمہارا نہ ہوجائے۔ اسلام قبول کرلو ، تمہیں تو معلوم ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ یہ بات تمہاری کتاب کے اندر موجود ہے “۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ ، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم قریش کی طرح ہیں۔ تم اس بات پر مغرور نہ ہوجاؤ کہ تم ایک ایسی قوم پر غالب آگئے جنہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور تم نے انہیں مار لیا۔ اگر ہم نے تمہارے ساتھ جنگ کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ابن ہشام نے بواسطہ عبد اللہ ابن جعفر نقل کیا ہے بنی قینقاع کا قصہ یوں ہوا کہ ایک عرب عورت دودھ لے کر آئی اور بنی قینقاع کے بازار میں اسے فروخت کیا ، اس کے بعد وہ ایک سنار کے ہاں زیور بنانے کے لیے بیٹھ گئی۔ انہوں نے یہ کوشش کی کہ اس عورت کے چہرے کو کھول دیں۔ اس نے انکار کیا۔ سنار نے جھٹ اس کے کپڑے کو اس کی پیٹھ کے ساتھ باندھ دیا۔ جب وہ اٹھی تو اس کی شرم گاہ ننگی ہوگئی۔ اس پر وہ خوب ین سے۔ اس نے چلا کر مدد کے لیے پکارا۔ ایک مسلمان سنار پر ٹوٹ پڑا اور اسے قتل کردیا۔ یہ یہودی تھا۔ تمام یہودی مسلمان پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے اسے قتل کردیا۔ آوازیں ہوئیں۔ تمام مسلمان قینقاع کے خلاف جمع کیے اور یوں ان کے درمیان شر شروع ہوا۔ ابن اسحاق نے بات یوں مکمل کی۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کا محاصرہ کیا۔ ان لوگوں نے حضور ﷺ کے حکم پر ہتھیار ڈال دئیے۔ اس پر عبد اللہ ابی ابن السلول نے کہا : ” محمد ﷺ یہ لوگ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرو ، یہ خزرج کے دوست تھے۔ حضور ﷺ خاموش رہے۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ یہ مطالبہ کیا کہ یہ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرو “۔ اس پر حضور ﷺ نے پھر اعراض فرمایا۔ اب اس نے حضور ﷺ کے ذرہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا مجھے چھوڑ دو ۔ آپ ﷺ نے سخت غصہ میں فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوگئے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا بدبخت چھوڑ دو مجھے۔ اس پر اس نے کہا۔ خدا کی قسم میں آپ ﷺ کو اس وقت نہ چھوڑوں گا جب تک آپ ﷺ میرے دوستوں کے ساتھ احسان نہ کریں۔ یہ چار سو شہ سوار اور تین سو زرہ پوش ہیں۔ انہوں نے سرخ و سیاہ اقوام کے خلاف میری مدد کی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم ان کو صبح کے تڑکے فصل کی طرح کاٹ دو ۔ میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مشکلات سے ڈرتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جو چاہتے ہو وہی ہوگا عبد اللہ ابن ابی ابھی تک اپنی قوم میں ذی حیثیت تھا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی سفارش قبول کرلی اور فیصلہ یہ ہوا کہ بنی قینقاع مدینہ سے نکل جائیں۔ وہ اپنے ساتھ اپنے مال کے جائیں ماسوائے اسلحہ کے۔ یوں مدینہ یہودیوں کی ایک ٹکڑی سے خالی ہوا۔ یہ رجمنٹ بڑی قوت والی تھی۔ رہے بنی نضیر تو حضور ﷺ غزوہ ٔ بدر کے بعد سن چار ہجری میں ان کے پاس گئے۔ آپ نے ان سے دو مقتولین کی دیت میں شرکت کا مطالبہ کیا۔ حسب عہد انہوں نے یہ ادائیگی کرنی تھی۔ جب حضور ﷺ آئے تو انہوں نے کہا ہاں ابو القاسم ہم آپ کی امداد حسب خواہش کریں گے۔ اس کے بعد یہ لوگ علیحدہ ہوکر مشورہ کرنے لگے کہ تم اس شخص کو کبھی ایسی حالت میں نہ پاؤ گے۔ اس وقت رسول ان کی ایک دیوار کے نیچے بیٹھے تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ کون ہے جو جاکر ایک پتھر گرائے تاکہ اس شخص سے ہماری جان چھوٹے۔ چناچہ یہ لوگ اس سازش کو عملی جامہ پہنانے میں لگ گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دے دی گئی۔ حضور ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کے ساتھ جنگ کی تیاری کرو ، یہ لوگ قلعہ بند ہوگئے۔ عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے ان کو پیغام بھیجا کہ ڈٹ جاؤ۔ ہم تمہیں ان کے سپرد نہ کریں گے۔ اگر جنگ ہوئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر جنگ کریں گے۔ اگر تمہیں نکالا گیا ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ لیکن منافقین نے اپنا یہ عہد پورا نہ کیا۔ بنی نضیر کو اللہ نے مرعوب کردیا۔ بلا حرب و قتال انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کو جلا وطن کردیں اور قتل نہ کریں۔ اونٹوں پر وہ اسلحہ کے سوا جو کچھ لے جاسکتے ہیں ، لے جائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ لوگ خیبر کو چلے گئے۔ بعض لوگ شام کو چلے گئے۔ حضور ﷺ نے یہ درخواست منظور کرلی۔ ان کے اشراف میں سے جو لوگ خیبر کو گئے ، یہ لوگ تھے۔ سلام ابن ابو الحقیق ، کہنانہ ابن ابرہہ ، حیی ابن اخطب۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے غطفان اور قریش کو جمع کیا مسلمانوں کے خلاف اور غزوہ احزاب برپا کیا۔ اب رہا بنی قریظہ کا قصہ۔ غزوہ احزاب میں انہوں نے جو کردار ادا کیا وہ معلوم ہوچکا ہے۔ یہ بھی مشرکین کے ساتھ جمع ہوگئے تھے۔ بنی نضیر کے زعماء کی تحریص اور آمادہ کرنے پر اور حیی ابن اخطب اس کام کا ذمہ دار تھا۔ بنی قریظہ کی عہد شکنی دوسرے احزاب کے مقابلے میں مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری۔ ان لوگوں کا رویہ کس قدر خطرناک تھا۔ اس کا اندازہ تم اس سے کرسکتے ہو کہ جب رسول اللہ ﷺ کو ان کی عہد شکنی کی اطلاعات ملیں تو آپ نے سعد ابن معاذ رئیس اوس کو ان کے پاس بھیجا۔ اور سعد ابن عبادہ رئیس حزوج بھی ساتھ ہوئے۔ ان کے ساتھ عبد اللہ ابن رواحہ اور خوات ابن جبیر بھی گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ذرا جا کر دیکھو کہ ہم تک جو اطلاعات پہنچ رہی ہیں وہ درست ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ اطلاعات درست ہوں تو میرے سامنے ایسے الفاظ میں رپورٹ دو کہ میں ہی سمجھوں اور مسلمانوں پر اس کا برا اثر نہ ہو اور اگر وہ وفا پر قائم ہوں تو پھر اعلانیہ کہہ دیتا۔ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کس طرح سمجھتے تھے کہ لوگوں پر اس خبر کا اثر کیا ہوگا) ۔ یہ وفد گیا تو دیکھا کہ یہ لوگ اطلاع سے بھی زیادہ خراب پوزیشن میں تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہا۔ اور کہا کون رسول ، کس کی بات کرتے ہو۔ ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان کوئی عہد و معاہدہ نہیں ہے ، وفد آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔ اشاروں کے ساتھ۔ رسول اللہ نے فرمایا اللہ اکبر ! مسلمانوں تمہیں خوشخبری دی ہے (حضور ﷺ نے یہ الفاظ مسلمانوں کو ثابت قدم بنانے کے لیے کہے) ۔ ابن اسحاق کہتے ہیں اب مصیبت دگنی ہوگئی۔ خوب پھیل گیا۔ اوپر اور نیچے سے دشمن آگئے اور اب مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔ بعض منافقین کھل کر سامنے آگئے۔ معرکہ احد سے پہلے تو یہ صورت حالات تھی ۔ لیکن جب اللہ کے نبی کو جنگ احزاب میں اللہ کی نصرت ملی اور دشمنان مسلمانون خائب و خاسر ہوئے ، انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔ اللہ نے خود ہی مومنین کی طرف سے جنگ کی۔ حضور ﷺ مدینہ کی طرف کامیاب لوٹے۔ لوگوں نے اسلحہ رکھنا شروع کردیا۔ رسول اللہ ﷺ مسلسل جنگی حالت کی وجہ سے غسل کرنے لگے۔ آپ ام سلمہ کے گھر تھے تو جبریل (علیہ السلام) آگئے۔ ” حضور ﷺ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے “۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ ” لیکن ملائکہ نے تو اسلحہ نہیں رکھا اور میں ابھی اس قوم کو پیچھا کرکے آرہا ہوں “۔ اس کے بعد حضرت جبریل نے فرمایا ” اللہ کا حکم ہے بنی قریظہ کی طرف پہنچو “۔ بنی قریظہ مدینہ سے کئی میل دور تھے۔ یہ واقعہ نماز ظہر کے بعد کا ہے۔ حضور ﷺ نے حکم دیا ” کوئی شخص نماز نہ پڑھے مگر دیار بنی قریظہ میں “ لوگ نکل پڑے۔ راستے میں نماز عصر کا وقت آگیا۔ بعض لوگوں نے راستہ ہی میں نماز پڑھ لی اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارادہ صرف یہ تھا کہ جلدی پہنچو لیکن دوسروں نے کہا کہ ہم بنی قریظہ کی بستیوں سے ادھر نماز نہ پڑھیں گے لیکن اس پر کسی نے ایک دوسرے کو ملامت نہ کی۔ حضور ﷺ ان کے بعد پہنچے۔ مدینہ میں ابن ام مکتوم صاحب۔ عبس وتولی ان جآء الاعمی کو والی مقرر کردیا۔ جھنڈا حضرت علی ؓ ابن ابو طالب کو دیا گیا۔ حضور ﷺ نے ان کا پچیس دنوں تک محاصرہ کیا اور ان کو کہا کہ ہتھیار ڈال دو ۔ جب ان پر معاملہ طویل ہوگیا تو انہوں نے سعد ابن معاذ رئیس اوس کے حکم پر ہتھیار ڈال دئیے۔ جاہلیت میں یہ ان کے خلفاء میں سے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کے ساتھ احسان کریں گے۔ جس طرح عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے اپنے دوستوں کے ساتھ کیا تھا اور ان کو رسول اللہ سے چھڑا لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ سعد ابن معاذ بھی وہی کرے گا جو عبد اللہ ابن ابی نے کیا۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ سعد کو ایک تیر بازو کی بڑی رگ میں لگا ہوا تھا۔ اور اگر یہ رگ کٹ جائے تو وہ زخمی ہرگز تندرست نہ ہوتا تھا ۔ یہ خندق کے ابتدائی دنوں ہی میں لگ گیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے داغ دھوئے تھے اور مسجد کے اندر ہی ایک خیمے میں انہیں رکھا ہوا تھا تاکہ حضور ﷺ سہولت کے ساتھ ان کی تیمارداری کرسکیں اور سعدیہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! اگر آپ نے ہمارے اور قریش کے درمیان ابھی مزید جنگیں لکھی ہوئی ہیں تو مجھے زندہ رکھ اور اگر ہمارے ان کے درمیان جنگ ختم ہوچکی ہے تو پھر یہ زخم بہتا رہے اور پھر میری صرف یہ تمنا ہے کہ میری آنکھیں بنی قریظہ کے معاملے میں ٹھنڈی ہوجائیں۔ اللہ نے اس کی دعا قبول کی اور یہ مقدر کردیا کہ وہ انہیں کے فیصلے پر ہتھار ڈال دیں اور یہ درخواست خود انہوں نے اپنی خوشی سے کی۔ اب رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد کو مدینہ سے بلایا کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ کریں۔ جب وہ آیا اور وہ ایک گدھے پر سوار تھا جو انہوں نے اس کے لیے خوب تیار کیا تھا تو اوس اس کے پاؤں پر پڑنے لگے۔ کہتے اے سعد ہم تیرے دوست ہیں۔ ان کے ساتھ احسان کرو ، وہ تو منتیں کر رہے تھے کہ اس کے دل کو ان کے لیے نرم کردیں۔ سعد ابن معاذ خاموش ہیں اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ۔ جب انہوں نے اصرار کرلیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سعد اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈرے۔ تو انہوں نے جان لیا ہے کہ سعد درست فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں۔ جب سعد اس خیمے کے پاس گئے جو رسول اللہ کا خیمہ تھا ، تو حضور ﷺ نے فرمایا ” اٹھو اپنے سردار کے احترام و استقبال میں۔ مسلمان اٹھے اور اسے اتارا۔ بہت ہی اعزازو احترام اور اکرام کے ساتھ۔ تاکہ ان کا فیصلہ اچھی طرح نافذ ہو۔ جب سعد بیٹھے تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ان لوگوں نے اشارہ بنی قریظہ کی طرف تمہارے فیصلے پر ہتھیار ڈالے ہیں۔ لہٰذا آپ جو چاہیں ان کے بارے میں حکم دیں۔ تو اس پر اس نے کہا ” کیا میرا حکم ان پر نافذ ہوگا ؟ “ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ ” اور ان تمام لوگوں پر نافذ ہوگا جو اس خیمے میں ہیں ؟ “ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ پھر انہوں نے کہا اور وہاں جو لوگ ہیں ان پر بھی (اس وقت سعد نے حضور اکرم ﷺ کی جگہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ وہ خود اپنا منہ بوجہ حیاء اور احترام و اکرام پھیرے ہوئے تھے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ اس پر سعد ابن معاذ ؓ نے فرمایا : ” میں فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگی لوگوں کو قتل کردیا جائے اور ان کے اموال اور اولاد کو مال غنیمت بنا دیا جائے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ” تم نے بیشک اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ سبع سموات کے اوپر کردیا تھا “۔ پھر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ زمین میں گڑھے کھودے جائیں اور یہ لوگ باندھے ہوئے لائے گئے۔ ان کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ یہ لوگ سات آٹھ سو کے قریب تھے اور جو مرد عورتیں بالغ نہ تھے ان کو غلام بنا لیا گیا۔ مقتولین میں حبی ابن اخطب بھی تھا۔ یہ حسب معاہدہ ان کے ساتھ قلعہ بند ہوگیا تھا۔ اس وقت سے یہودی ذلیل ہوئے اور آج کے بعد مدینہ میں نفاق کی تحریک کمزور پڑگئی۔ منافقین کے سر نیچے ہوگئے اور اس سے قبل وہ جو کچھ کرتے تھے اب اس سے ڈر گئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس دن کے بعد کفار نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کی۔ بلکہ اب حملے مسلمانوں کی طرف سے ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ مکہ اور طائف فتح ہوئے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہودیوں ، مشرکین مکہ اور منافقین کی تحریکات کا تانا بانا ملا ہوا تھا اور جب یہودی مدینہ سے جلا وطن ہوئے تو یہ ریشہ دانیاں ختم ہوگئیں اور آج کے بعد اسلامی مملکت کی بنیاد مستحکم ہوگئی ۔ یہ ہے پس منظر اس قول ربانی کا۔ وانزل الذین ظاھر۔۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (33: 26 – 27) ” پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور ان کے دلوں میں اس نے اب رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو ؟ اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ صیاصی سے مراد قلعے ہیں اور وہ زمین جو مسلمانوں نے پامال نہ کی تھی وہ ارض بنو قریظہ تھی جو ان کی مملوکہ تھی۔ ان کے محلے کے اردگرد اور یہ زمین بھی ان کے اموال کے ساتھ مسلمانوں کے ہاتھ آگئی۔ اور یہ اس طرح بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ بنی قریظہ نے بغیر قتال کے زمین دے دی اور پامال کرنے سے مراد جنگ ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وکان اللہ علی کل شئ قدیرا (33: 27) ان تمام واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی تمام امور اللہ کے اختیارات میں ہیں۔ اس پورے قصے میں تمام امور کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور تمام واقعات کو دست قدرت کا نتیجہ بناتا گیا ہے تاکہ باقی مسلمانوں کے دلوں میں اللہ واقعات کے ذریعے بٹھانا چاہتے ہیں اور واقعات کے بعد پھر قرآن کو نازل کرکے بٹھانا چاہتے ہیں کہ اسلامی تصور حیات صاف اور ستھرا دلوں میں بیٹھ جائے۔ یوں یہ عظیم حادثہ یہاں اختتام کو پہنچا۔ اس کے اندر بیشمار سنن الہیہ ، بیشمار اعلیٰ قدریں ، بیشمار ہدایات اور بیشمار اصول بیان کیے گئے تاکہ یہ چیزیں صاف صاف ہوکر جماعت مسلمہ کی زندگی کا حصہ بن جائیں۔ یوں یہ واقعات تربیت کے لیے ایک اچھا مواد ہیں اور قرآن میں ان کو جگہ دے کر اسلامی نمونہ حیات کے لئے معیار اور راہنما بنا دیا گیا ۔ ان آیات کو اسلامی جماعت کا رخ قرار دیا اور ان کے تصورات کو اچھی طرح ان کی زندگی کے اندر بٹھا دیا گیا۔ اسلامی جماعت کے لیے اعلیٰ قدریں واضح کردی گئیں اور ان ابتلاؤں اور آزمائشوں میں اسلامی کردار لکھ کر سامنے آگیا۔

الأحزاب 33:27

وانزل الذین ظاھروھم ۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (26 – 27) بنی قریظہ کا کیا قصہ تھا ؟ اس کا تعلق مسلمانوں اور یہودیوں کے باہم تعلقات سے ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں اس کی وضاحت کردی جائے۔ یہودیوں نے اسلام کے ساتھ بہت ہی مختصر عرصہ کے لیے رواداری کا رویہ اپنایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آتے ہی ان کے ساتھ باہمی امن کا معاہدہ کرلیا تھا اور ذمہ داری قبول فرمائی تھی کہ مسلمان ان کی نصرت اور حمایت کریں گے بشرطیکہ وہ غداری نہ کریں ، فسق و فجور نہ کریں ، جاسوسی نہ کریں دشمن کی حمایت نہ کریں ، اور کسی مسلمان کو اذیت نہ دیں۔ بہت ہی تھوڑے دن گزرے تھے کہ یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ دین جدید ان کے لئے بھی خطرہ بن گیا ہے اور ان کی موروثی امتیازی حیثیت کہ وہ اہل کتاب ہیں ، اب ختم ہو رہی ہے۔ یہ لوگ اہل یثرب کے درمیان اپنی اس امتیازی حیثیت کی وجہ سے ایک اہم مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں مسلمانوں کی جدید صف بندی سے بھی خطرات محسوس کرلیے۔ اس سے قبل وہ اوس اور خزرج کے درمیان پائے جانے والے طویل اختلافات اور جنگوں سے خوب فائدہ اٹھاتے تھے۔ اس طرح مدینہ میں انہی کی بات ہوتی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ کی قیادت میں اسلام نے ان روایتی دشمنوں کو باہم شیر و شکر کردیا تو یہودیوں کے وہ مفادات ختم ہوگئے جو وہ ان دونوں فریقوں سے حاصل کرتے تھے۔ جس بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا وہ یہ تھی کہ ان کے عالم اور مذہبی راہنما عبد اللہ ابن سلام مسلمان ہوگئے۔ ان کا دل اسلام کے لیے کھل گیا۔ یہ مسلمان ہوگیا۔ اس نے اپنے خاندان سے بھی کہا تو وہ بھی مسلمان ہوگئے لیکن اس نے کہا کہ اگر وہ ایسے ہی اپنے اسلام کا اعلان کر دے تو یہودی الزام لگائیں گے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ میرے بارے میں پہلے آپ ان سے پوچھ لیں۔ پہلے اس کے کہ میرے اسلام کا اعلان ہو ، تو انہوں نے کہا یہ ہمارے سردار ہیں ، سردار کے بیٹے ہیں۔ ہمارے حبر اور عالم ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن سلام نکلے اور ان سے کہا کہ ایمان لاؤ چناچہ انہوں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کردیا اور تمام یہودی قبائل کو ان کے بارے میں آگاہ کردیا۔ اب انہوں نے محسوس کرلیا کہ ہمارے دین کو حقیقی خطرہ ہے۔ چناچہ انہوں نے اسلام اور نبی کریم ﷺ کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ ایسی سازشیں جو کبھی رکتی نہ تھیں۔ اس دن سے یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان جو جنگ شروع ہوئی وہ آج تک جاری ہے اور یہ میدان کا رزار آج تک ٹھنڈا نہیں ہوا۔ پہلے یہ سرد جنگ تھی اور جوں جوں ہمارے مسلمانوں کے حالات خراب ہوتے رہے ، یہ جنگ حضرت محمد ﷺ کی ذات اور اسلام کے خلاف جاری رہی۔ اس جنگ نے مختلف رنگ اور اسلوب اختیار کیے۔ پہلے انہوں نے جدید رسالت کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے۔ پھر جدید عقیدے پر الزامات لگائے۔ پھر انہوں نے مسلمانوں کے درمیان عداوتیں ڈالنا شروع کردیں۔ اوس اور خزرج کو بار ہا لڑانا چاہا۔ انصار اور مہاجرین کے درمیان انہوں نے دشمنی ڈالی۔ یہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کے لیے جاسوسی بھی کرتے رہے۔ یہ پھر منافقین کے دوست بن گئے۔ ان منافقین کے ذریعے اسلامی صفوں میں فتنے ڈالتے۔ آخر کار یہ کھل کر سامنے آگئے اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف لشکر کشیاں کیں اور احزاب کو جمع کرنا شروع کردیا۔ مثلاً غزوہ احزاب کی شکل میں۔ ان کے اہم قبیلے بنی قینقاع اور بنی النضیر اور بنی قریظہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک کا رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ تھا۔ بنو قینقاع یہودیوں میں سے بہت ہی دلیر تھے۔ ان کے دل تو اس وقت جل اٹھے جب مسلمانوں کو بدر میں کامیابی ہوئی۔ انہوں نے عہد کی خلاف ورزی شروع کردی بلکہ عہد سے انکار ہی کردیا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ تو کفار قریش کے ساتھ پہلے ہی معرکے میں کامیاب رہے ہیں لہٰذا اگر حالت یونہی رہی تو یہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے۔ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ابن اسحاق کے ذریعہ سے ان کہ حا لات درج کیے ہیں ۔ نبی قینقاع کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ نے ان کو قینقاع کے با زار میں جمع کیا اور کہا : اے اہل یہود ، اللہ سے ڈرو ، جس طرح اللہ نے قریش پر وبال نازل کیا ہے ، ویسا ہی حال تمہارا نہ ہوجائے۔ اسلام قبول کرلو ، تمہیں تو معلوم ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ یہ بات تمہاری کتاب کے اندر موجود ہے “۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ ، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم قریش کی طرح ہیں۔ تم اس بات پر مغرور نہ ہوجاؤ کہ تم ایک ایسی قوم پر غالب آگئے جنہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور تم نے انہیں مار لیا۔ اگر ہم نے تمہارے ساتھ جنگ کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ابن ہشام نے بواسطہ عبد اللہ ابن جعفر نقل کیا ہے بنی قینقاع کا قصہ یوں ہوا کہ ایک عرب عورت دودھ لے کر آئی اور بنی قینقاع کے بازار میں اسے فروخت کیا ، اس کے بعد وہ ایک سنار کے ہاں زیور بنانے کے لیے بیٹھ گئی۔ انہوں نے یہ کوشش کی کہ اس عورت کے چہرے کو کھول دیں۔ اس نے انکار کیا۔ سنار نے جھٹ اس کے کپڑے کو اس کی پیٹھ کے ساتھ باندھ دیا۔ جب وہ اٹھی تو اس کی شرم گاہ ننگی ہوگئی۔ اس پر وہ خوب ین سے۔ اس نے چلا کر مدد کے لیے پکارا۔ ایک مسلمان سنار پر ٹوٹ پڑا اور اسے قتل کردیا۔ یہ یہودی تھا۔ تمام یہودی مسلمان پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے اسے قتل کردیا۔ آوازیں ہوئیں۔ تمام مسلمان قینقاع کے خلاف جمع کیے اور یوں ان کے درمیان شر شروع ہوا۔ ابن اسحاق نے بات یوں مکمل کی۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کا محاصرہ کیا۔ ان لوگوں نے حضور ﷺ کے حکم پر ہتھیار ڈال دئیے۔ اس پر عبد اللہ ابی ابن السلول نے کہا : ” محمد ﷺ یہ لوگ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرو ، یہ خزرج کے دوست تھے۔ حضور ﷺ خاموش رہے۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ یہ مطالبہ کیا کہ یہ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرو “۔ اس پر حضور ﷺ نے پھر اعراض فرمایا۔ اب اس نے حضور ﷺ کے ذرہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا مجھے چھوڑ دو ۔ آپ ﷺ نے سخت غصہ میں فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوگئے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا بدبخت چھوڑ دو مجھے۔ اس پر اس نے کہا۔ خدا کی قسم میں آپ ﷺ کو اس وقت نہ چھوڑوں گا جب تک آپ ﷺ میرے دوستوں کے ساتھ احسان نہ کریں۔ یہ چار سو شہ سوار اور تین سو زرہ پوش ہیں۔ انہوں نے سرخ و سیاہ اقوام کے خلاف میری مدد کی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم ان کو صبح کے تڑکے فصل کی طرح کاٹ دو ۔ میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مشکلات سے ڈرتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جو چاہتے ہو وہی ہوگا عبد اللہ ابن ابی ابھی تک اپنی قوم میں ذی حیثیت تھا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی سفارش قبول کرلی اور فیصلہ یہ ہوا کہ بنی قینقاع مدینہ سے نکل جائیں۔ وہ اپنے ساتھ اپنے مال کے جائیں ماسوائے اسلحہ کے۔ یوں مدینہ یہودیوں کی ایک ٹکڑی سے خالی ہوا۔ یہ رجمنٹ بڑی قوت والی تھی۔ رہے بنی نضیر تو حضور ﷺ غزوہ ٔ بدر کے بعد سن چار ہجری میں ان کے پاس گئے۔ آپ نے ان سے دو مقتولین کی دیت میں شرکت کا مطالبہ کیا۔ حسب عہد انہوں نے یہ ادائیگی کرنی تھی۔ جب حضور ﷺ آئے تو انہوں نے کہا ہاں ابو القاسم ہم آپ کی امداد حسب خواہش کریں گے۔ اس کے بعد یہ لوگ علیحدہ ہوکر مشورہ کرنے لگے کہ تم اس شخص کو کبھی ایسی حالت میں نہ پاؤ گے۔ اس وقت رسول ان کی ایک دیوار کے نیچے بیٹھے تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ کون ہے جو جاکر ایک پتھر گرائے تاکہ اس شخص سے ہماری جان چھوٹے۔ چناچہ یہ لوگ اس سازش کو عملی جامہ پہنانے میں لگ گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دے دی گئی۔ حضور ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کے ساتھ جنگ کی تیاری کرو ، یہ لوگ قلعہ بند ہوگئے۔ عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے ان کو پیغام بھیجا کہ ڈٹ جاؤ۔ ہم تمہیں ان کے سپرد نہ کریں گے۔ اگر جنگ ہوئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر جنگ کریں گے۔ اگر تمہیں نکالا گیا ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ لیکن منافقین نے اپنا یہ عہد پورا نہ کیا۔ بنی نضیر کو اللہ نے مرعوب کردیا۔ بلا حرب و قتال انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کو جلا وطن کردیں اور قتل نہ کریں۔ اونٹوں پر وہ اسلحہ کے سوا جو کچھ لے جاسکتے ہیں ، لے جائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ لوگ خیبر کو چلے گئے۔ بعض لوگ شام کو چلے گئے۔ حضور ﷺ نے یہ درخواست منظور کرلی۔ ان کے اشراف میں سے جو لوگ خیبر کو گئے ، یہ لوگ تھے۔ سلام ابن ابو الحقیق ، کہنانہ ابن ابرہہ ، حیی ابن اخطب۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے غطفان اور قریش کو جمع کیا مسلمانوں کے خلاف اور غزوہ احزاب برپا کیا۔ اب رہا بنی قریظہ کا قصہ۔ غزوہ احزاب میں انہوں نے جو کردار ادا کیا وہ معلوم ہوچکا ہے۔ یہ بھی مشرکین کے ساتھ جمع ہوگئے تھے۔ بنی نضیر کے زعماء کی تحریص اور آمادہ کرنے پر اور حیی ابن اخطب اس کام کا ذمہ دار تھا۔ بنی قریظہ کی عہد شکنی دوسرے احزاب کے مقابلے میں مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری۔ ان لوگوں کا رویہ کس قدر خطرناک تھا۔ اس کا اندازہ تم اس سے کرسکتے ہو کہ جب رسول اللہ ﷺ کو ان کی عہد شکنی کی اطلاعات ملیں تو آپ نے سعد ابن معاذ رئیس اوس کو ان کے پاس بھیجا۔ اور سعد ابن عبادہ رئیس حزوج بھی ساتھ ہوئے۔ ان کے ساتھ عبد اللہ ابن رواحہ اور خوات ابن جبیر بھی گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ذرا جا کر دیکھو کہ ہم تک جو اطلاعات پہنچ رہی ہیں وہ درست ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ اطلاعات درست ہوں تو میرے سامنے ایسے الفاظ میں رپورٹ دو کہ میں ہی سمجھوں اور مسلمانوں پر اس کا برا اثر نہ ہو اور اگر وہ وفا پر قائم ہوں تو پھر اعلانیہ کہہ دیتا۔ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کس طرح سمجھتے تھے کہ لوگوں پر اس خبر کا اثر کیا ہوگا) ۔ یہ وفد گیا تو دیکھا کہ یہ لوگ اطلاع سے بھی زیادہ خراب پوزیشن میں تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہا۔ اور کہا کون رسول ، کس کی بات کرتے ہو۔ ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان کوئی عہد و معاہدہ نہیں ہے ، وفد آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔ اشاروں کے ساتھ۔ رسول اللہ نے فرمایا اللہ اکبر ! مسلمانوں تمہیں خوشخبری دی ہے (حضور ﷺ نے یہ الفاظ مسلمانوں کو ثابت قدم بنانے کے لیے کہے) ۔ ابن اسحاق کہتے ہیں اب مصیبت دگنی ہوگئی۔ خوب پھیل گیا۔ اوپر اور نیچے سے دشمن آگئے اور اب مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔ بعض منافقین کھل کر سامنے آگئے۔ معرکہ احد سے پہلے تو یہ صورت حالات تھی ۔ لیکن جب اللہ کے نبی کو جنگ احزاب میں اللہ کی نصرت ملی اور دشمنان مسلمانون خائب و خاسر ہوئے ، انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔ اللہ نے خود ہی مومنین کی طرف سے جنگ کی۔ حضور ﷺ مدینہ کی طرف کامیاب لوٹے۔ لوگوں نے اسلحہ رکھنا شروع کردیا۔ رسول اللہ ﷺ مسلسل جنگی حالت کی وجہ سے غسل کرنے لگے۔ آپ ام سلمہ کے گھر تھے تو جبریل (علیہ السلام) آگئے۔ ” حضور ﷺ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے “۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ ” لیکن ملائکہ نے تو اسلحہ نہیں رکھا اور میں ابھی اس قوم کو پیچھا کرکے آرہا ہوں “۔ اس کے بعد حضرت جبریل نے فرمایا ” اللہ کا حکم ہے بنی قریظہ کی طرف پہنچو “۔ بنی قریظہ مدینہ سے کئی میل دور تھے۔ یہ واقعہ نماز ظہر کے بعد کا ہے۔ حضور ﷺ نے حکم دیا ” کوئی شخص نماز نہ پڑھے مگر دیار بنی قریظہ میں “ لوگ نکل پڑے۔ راستے میں نماز عصر کا وقت آگیا۔ بعض لوگوں نے راستہ ہی میں نماز پڑھ لی اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارادہ صرف یہ تھا کہ جلدی پہنچو لیکن دوسروں نے کہا کہ ہم بنی قریظہ کی بستیوں سے ادھر نماز نہ پڑھیں گے لیکن اس پر کسی نے ایک دوسرے کو ملامت نہ کی۔ حضور ﷺ ان کے بعد پہنچے۔ مدینہ میں ابن ام مکتوم صاحب۔ عبس وتولی ان جآء الاعمی کو والی مقرر کردیا۔ جھنڈا حضرت علی ؓ ابن ابو طالب کو دیا گیا۔ حضور ﷺ نے ان کا پچیس دنوں تک محاصرہ کیا اور ان کو کہا کہ ہتھیار ڈال دو ۔ جب ان پر معاملہ طویل ہوگیا تو انہوں نے سعد ابن معاذ رئیس اوس کے حکم پر ہتھیار ڈال دئیے۔ جاہلیت میں یہ ان کے خلفاء میں سے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کے ساتھ احسان کریں گے۔ جس طرح عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے اپنے دوستوں کے ساتھ کیا تھا اور ان کو رسول اللہ سے چھڑا لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ سعد ابن معاذ بھی وہی کرے گا جو عبد اللہ ابن ابی نے کیا۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ سعد کو ایک تیر بازو کی بڑی رگ میں لگا ہوا تھا۔ اور اگر یہ رگ کٹ جائے تو وہ زخمی ہرگز تندرست نہ ہوتا تھا ۔ یہ خندق کے ابتدائی دنوں ہی میں لگ گیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے داغ دھوئے تھے اور مسجد کے اندر ہی ایک خیمے میں انہیں رکھا ہوا تھا تاکہ حضور ﷺ سہولت کے ساتھ ان کی تیمارداری کرسکیں اور سعدیہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! اگر آپ نے ہمارے اور قریش کے درمیان ابھی مزید جنگیں لکھی ہوئی ہیں تو مجھے زندہ رکھ اور اگر ہمارے ان کے درمیان جنگ ختم ہوچکی ہے تو پھر یہ زخم بہتا رہے اور پھر میری صرف یہ تمنا ہے کہ میری آنکھیں بنی قریظہ کے معاملے میں ٹھنڈی ہوجائیں۔ اللہ نے اس کی دعا قبول کی اور یہ مقدر کردیا کہ وہ انہیں کے فیصلے پر ہتھار ڈال دیں اور یہ درخواست خود انہوں نے اپنی خوشی سے کی۔ اب رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد کو مدینہ سے بلایا کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ کریں۔ جب وہ آیا اور وہ ایک گدھے پر سوار تھا جو انہوں نے اس کے لیے خوب تیار کیا تھا تو اوس اس کے پاؤں پر پڑنے لگے۔ کہتے اے سعد ہم تیرے دوست ہیں۔ ان کے ساتھ احسان کرو ، وہ تو منتیں کر رہے تھے کہ اس کے دل کو ان کے لیے نرم کردیں۔ سعد ابن معاذ خاموش ہیں اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ۔ جب انہوں نے اصرار کرلیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سعد اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈرے۔ تو انہوں نے جان لیا ہے کہ سعد درست فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں۔ جب سعد اس خیمے کے پاس گئے جو رسول اللہ کا خیمہ تھا ، تو حضور ﷺ نے فرمایا ” اٹھو اپنے سردار کے احترام و استقبال میں۔ مسلمان اٹھے اور اسے اتارا۔ بہت ہی اعزازو احترام اور اکرام کے ساتھ۔ تاکہ ان کا فیصلہ اچھی طرح نافذ ہو۔ جب سعد بیٹھے تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ان لوگوں نے اشارہ بنی قریظہ کی طرف تمہارے فیصلے پر ہتھیار ڈالے ہیں۔ لہٰذا آپ جو چاہیں ان کے بارے میں حکم دیں۔ تو اس پر اس نے کہا ” کیا میرا حکم ان پر نافذ ہوگا ؟ “ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ ” اور ان تمام لوگوں پر نافذ ہوگا جو اس خیمے میں ہیں ؟ “ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ پھر انہوں نے کہا اور وہاں جو لوگ ہیں ان پر بھی (اس وقت سعد نے حضور اکرم ﷺ کی جگہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ وہ خود اپنا منہ بوجہ حیاء اور احترام و اکرام پھیرے ہوئے تھے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ اس پر سعد ابن معاذ ؓ نے فرمایا : ” میں فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگی لوگوں کو قتل کردیا جائے اور ان کے اموال اور اولاد کو مال غنیمت بنا دیا جائے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ” تم نے بیشک اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ سبع سموات کے اوپر کردیا تھا “۔ پھر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ زمین میں گڑھے کھودے جائیں اور یہ لوگ باندھے ہوئے لائے گئے۔ ان کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ یہ لوگ سات آٹھ سو کے قریب تھے اور جو مرد عورتیں بالغ نہ تھے ان کو غلام بنا لیا گیا۔ مقتولین میں حبی ابن اخطب بھی تھا۔ یہ حسب معاہدہ ان کے ساتھ قلعہ بند ہوگیا تھا۔ اس وقت سے یہودی ذلیل ہوئے اور آج کے بعد مدینہ میں نفاق کی تحریک کمزور پڑگئی۔ منافقین کے سر نیچے ہوگئے اور اس سے قبل وہ جو کچھ کرتے تھے اب اس سے ڈر گئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس دن کے بعد کفار نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کی۔ بلکہ اب حملے مسلمانوں کی طرف سے ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ مکہ اور طائف فتح ہوئے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہودیوں ، مشرکین مکہ اور منافقین کی تحریکات کا تانا بانا ملا ہوا تھا اور جب یہودی مدینہ سے جلا وطن ہوئے تو یہ ریشہ دانیاں ختم ہوگئیں اور آج کے بعد اسلامی مملکت کی بنیاد مستحکم ہوگئی ۔ یہ ہے پس منظر اس قول ربانی کا۔ وانزل الذین ظاھر۔۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (33: 26 – 27) ” پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور ان کے دلوں میں اس نے اب رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو ؟ اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ صیاصی سے مراد قلعے ہیں اور وہ زمین جو مسلمانوں نے پامال نہ کی تھی وہ ارض بنو قریظہ تھی جو ان کی مملوکہ تھی۔ ان کے محلے کے اردگرد اور یہ زمین بھی ان کے اموال کے ساتھ مسلمانوں کے ہاتھ آگئی۔ اور یہ اس طرح بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ بنی قریظہ نے بغیر قتال کے زمین دے دی اور پامال کرنے سے مراد جنگ ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وکان اللہ علی کل شئ قدیرا (33: 27) ان تمام واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی تمام امور اللہ کے اختیارات میں ہیں۔ اس پورے قصے میں تمام امور کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور تمام واقعات کو دست قدرت کا نتیجہ بناتا گیا ہے تاکہ باقی مسلمانوں کے دلوں میں اللہ واقعات کے ذریعے بٹھانا چاہتے ہیں اور واقعات کے بعد پھر قرآن کو نازل کرکے بٹھانا چاہتے ہیں کہ اسلامی تصور حیات صاف اور ستھرا دلوں میں بیٹھ جائے۔ یوں یہ عظیم حادثہ یہاں اختتام کو پہنچا۔ اس کے اندر بیشمار سنن الہیہ ، بیشمار اعلیٰ قدریں ، بیشمار ہدایات اور بیشمار اصول بیان کیے گئے تاکہ یہ چیزیں صاف صاف ہوکر جماعت مسلمہ کی زندگی کا حصہ بن جائیں۔ یوں یہ واقعات تربیت کے لیے ایک اچھا مواد ہیں اور قرآن میں ان کو جگہ دے کر اسلامی نمونہ حیات کے لئے معیار اور راہنما بنا دیا گیا ۔ ان آیات کو اسلامی جماعت کا رخ قرار دیا اور ان کے تصورات کو اچھی طرح ان کی زندگی کے اندر بٹھا دیا گیا۔ اسلامی جماعت کے لیے اعلیٰ قدریں واضح کردی گئیں اور ان ابتلاؤں اور آزمائشوں میں اسلامی کردار لکھ کر سامنے آگیا۔

الأحزاب 33:28

وانزل الذین ظاھروھم ۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (26 – 27) بنی قریظہ کا کیا قصہ تھا ؟ اس کا تعلق مسلمانوں اور یہودیوں کے باہم تعلقات سے ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں اس کی وضاحت کردی جائے۔ یہودیوں نے اسلام کے ساتھ بہت ہی مختصر عرصہ کے لیے رواداری کا رویہ اپنایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آتے ہی ان کے ساتھ باہمی امن کا معاہدہ کرلیا تھا اور ذمہ داری قبول فرمائی تھی کہ مسلمان ان کی نصرت اور حمایت کریں گے بشرطیکہ وہ غداری نہ کریں ، فسق و فجور نہ کریں ، جاسوسی نہ کریں دشمن کی حمایت نہ کریں ، اور کسی مسلمان کو اذیت نہ دیں۔ بہت ہی تھوڑے دن گزرے تھے کہ یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ دین جدید ان کے لئے بھی خطرہ بن گیا ہے اور ان کی موروثی امتیازی حیثیت کہ وہ اہل کتاب ہیں ، اب ختم ہو رہی ہے۔ یہ لوگ اہل یثرب کے درمیان اپنی اس امتیازی حیثیت کی وجہ سے ایک اہم مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں مسلمانوں کی جدید صف بندی سے بھی خطرات محسوس کرلیے۔ اس سے قبل وہ اوس اور خزرج کے درمیان پائے جانے والے طویل اختلافات اور جنگوں سے خوب فائدہ اٹھاتے تھے۔ اس طرح مدینہ میں انہی کی بات ہوتی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ کی قیادت میں اسلام نے ان روایتی دشمنوں کو باہم شیر و شکر کردیا تو یہودیوں کے وہ مفادات ختم ہوگئے جو وہ ان دونوں فریقوں سے حاصل کرتے تھے۔ جس بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا وہ یہ تھی کہ ان کے عالم اور مذہبی راہنما عبد اللہ ابن سلام مسلمان ہوگئے۔ ان کا دل اسلام کے لیے کھل گیا۔ یہ مسلمان ہوگیا۔ اس نے اپنے خاندان سے بھی کہا تو وہ بھی مسلمان ہوگئے لیکن اس نے کہا کہ اگر وہ ایسے ہی اپنے اسلام کا اعلان کر دے تو یہودی الزام لگائیں گے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ میرے بارے میں پہلے آپ ان سے پوچھ لیں۔ پہلے اس کے کہ میرے اسلام کا اعلان ہو ، تو انہوں نے کہا یہ ہمارے سردار ہیں ، سردار کے بیٹے ہیں۔ ہمارے حبر اور عالم ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن سلام نکلے اور ان سے کہا کہ ایمان لاؤ چناچہ انہوں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کردیا اور تمام یہودی قبائل کو ان کے بارے میں آگاہ کردیا۔ اب انہوں نے محسوس کرلیا کہ ہمارے دین کو حقیقی خطرہ ہے۔ چناچہ انہوں نے اسلام اور نبی کریم ﷺ کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ ایسی سازشیں جو کبھی رکتی نہ تھیں۔ اس دن سے یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان جو جنگ شروع ہوئی وہ آج تک جاری ہے اور یہ میدان کا رزار آج تک ٹھنڈا نہیں ہوا۔ پہلے یہ سرد جنگ تھی اور جوں جوں ہمارے مسلمانوں کے حالات خراب ہوتے رہے ، یہ جنگ حضرت محمد ﷺ کی ذات اور اسلام کے خلاف جاری رہی۔ اس جنگ نے مختلف رنگ اور اسلوب اختیار کیے۔ پہلے انہوں نے جدید رسالت کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے۔ پھر جدید عقیدے پر الزامات لگائے۔ پھر انہوں نے مسلمانوں کے درمیان عداوتیں ڈالنا شروع کردیں۔ اوس اور خزرج کو بار ہا لڑانا چاہا۔ انصار اور مہاجرین کے درمیان انہوں نے دشمنی ڈالی۔ یہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کے لیے جاسوسی بھی کرتے رہے۔ یہ پھر منافقین کے دوست بن گئے۔ ان منافقین کے ذریعے اسلامی صفوں میں فتنے ڈالتے۔ آخر کار یہ کھل کر سامنے آگئے اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف لشکر کشیاں کیں اور احزاب کو جمع کرنا شروع کردیا۔ مثلاً غزوہ احزاب کی شکل میں۔ ان کے اہم قبیلے بنی قینقاع اور بنی النضیر اور بنی قریظہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک کا رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ تھا۔ بنو قینقاع یہودیوں میں سے بہت ہی دلیر تھے۔ ان کے دل تو اس وقت جل اٹھے جب مسلمانوں کو بدر میں کامیابی ہوئی۔ انہوں نے عہد کی خلاف ورزی شروع کردی بلکہ عہد سے انکار ہی کردیا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ تو کفار قریش کے ساتھ پہلے ہی معرکے میں کامیاب رہے ہیں لہٰذا اگر حالت یونہی رہی تو یہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے۔ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ابن اسحاق کے ذریعہ سے ان کہ حا لات درج کیے ہیں ۔ نبی قینقاع کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ نے ان کو قینقاع کے با زار میں جمع کیا اور کہا : اے اہل یہود ، اللہ سے ڈرو ، جس طرح اللہ نے قریش پر وبال نازل کیا ہے ، ویسا ہی حال تمہارا نہ ہوجائے۔ اسلام قبول کرلو ، تمہیں تو معلوم ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ یہ بات تمہاری کتاب کے اندر موجود ہے “۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ ، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم قریش کی طرح ہیں۔ تم اس بات پر مغرور نہ ہوجاؤ کہ تم ایک ایسی قوم پر غالب آگئے جنہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور تم نے انہیں مار لیا۔ اگر ہم نے تمہارے ساتھ جنگ کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ابن ہشام نے بواسطہ عبد اللہ ابن جعفر نقل کیا ہے بنی قینقاع کا قصہ یوں ہوا کہ ایک عرب عورت دودھ لے کر آئی اور بنی قینقاع کے بازار میں اسے فروخت کیا ، اس کے بعد وہ ایک سنار کے ہاں زیور بنانے کے لیے بیٹھ گئی۔ انہوں نے یہ کوشش کی کہ اس عورت کے چہرے کو کھول دیں۔ اس نے انکار کیا۔ سنار نے جھٹ اس کے کپڑے کو اس کی پیٹھ کے ساتھ باندھ دیا۔ جب وہ اٹھی تو اس کی شرم گاہ ننگی ہوگئی۔ اس پر وہ خوب ین سے۔ اس نے چلا کر مدد کے لیے پکارا۔ ایک مسلمان سنار پر ٹوٹ پڑا اور اسے قتل کردیا۔ یہ یہودی تھا۔ تمام یہودی مسلمان پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے اسے قتل کردیا۔ آوازیں ہوئیں۔ تمام مسلمان قینقاع کے خلاف جمع کیے اور یوں ان کے درمیان شر شروع ہوا۔ ابن اسحاق نے بات یوں مکمل کی۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کا محاصرہ کیا۔ ان لوگوں نے حضور ﷺ کے حکم پر ہتھیار ڈال دئیے۔ اس پر عبد اللہ ابی ابن السلول نے کہا : ” محمد ﷺ یہ لوگ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرو ، یہ خزرج کے دوست تھے۔ حضور ﷺ خاموش رہے۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ یہ مطالبہ کیا کہ یہ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرو “۔ اس پر حضور ﷺ نے پھر اعراض فرمایا۔ اب اس نے حضور ﷺ کے ذرہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا مجھے چھوڑ دو ۔ آپ ﷺ نے سخت غصہ میں فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوگئے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا بدبخت چھوڑ دو مجھے۔ اس پر اس نے کہا۔ خدا کی قسم میں آپ ﷺ کو اس وقت نہ چھوڑوں گا جب تک آپ ﷺ میرے دوستوں کے ساتھ احسان نہ کریں۔ یہ چار سو شہ سوار اور تین سو زرہ پوش ہیں۔ انہوں نے سرخ و سیاہ اقوام کے خلاف میری مدد کی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم ان کو صبح کے تڑکے فصل کی طرح کاٹ دو ۔ میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مشکلات سے ڈرتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جو چاہتے ہو وہی ہوگا عبد اللہ ابن ابی ابھی تک اپنی قوم میں ذی حیثیت تھا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی سفارش قبول کرلی اور فیصلہ یہ ہوا کہ بنی قینقاع مدینہ سے نکل جائیں۔ وہ اپنے ساتھ اپنے مال کے جائیں ماسوائے اسلحہ کے۔ یوں مدینہ یہودیوں کی ایک ٹکڑی سے خالی ہوا۔ یہ رجمنٹ بڑی قوت والی تھی۔ رہے بنی نضیر تو حضور ﷺ غزوہ ٔ بدر کے بعد سن چار ہجری میں ان کے پاس گئے۔ آپ نے ان سے دو مقتولین کی دیت میں شرکت کا مطالبہ کیا۔ حسب عہد انہوں نے یہ ادائیگی کرنی تھی۔ جب حضور ﷺ آئے تو انہوں نے کہا ہاں ابو القاسم ہم آپ کی امداد حسب خواہش کریں گے۔ اس کے بعد یہ لوگ علیحدہ ہوکر مشورہ کرنے لگے کہ تم اس شخص کو کبھی ایسی حالت میں نہ پاؤ گے۔ اس وقت رسول ان کی ایک دیوار کے نیچے بیٹھے تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ کون ہے جو جاکر ایک پتھر گرائے تاکہ اس شخص سے ہماری جان چھوٹے۔ چناچہ یہ لوگ اس سازش کو عملی جامہ پہنانے میں لگ گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دے دی گئی۔ حضور ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کے ساتھ جنگ کی تیاری کرو ، یہ لوگ قلعہ بند ہوگئے۔ عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے ان کو پیغام بھیجا کہ ڈٹ جاؤ۔ ہم تمہیں ان کے سپرد نہ کریں گے۔ اگر جنگ ہوئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر جنگ کریں گے۔ اگر تمہیں نکالا گیا ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ لیکن منافقین نے اپنا یہ عہد پورا نہ کیا۔ بنی نضیر کو اللہ نے مرعوب کردیا۔ بلا حرب و قتال انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کو جلا وطن کردیں اور قتل نہ کریں۔ اونٹوں پر وہ اسلحہ کے سوا جو کچھ لے جاسکتے ہیں ، لے جائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ لوگ خیبر کو چلے گئے۔ بعض لوگ شام کو چلے گئے۔ حضور ﷺ نے یہ درخواست منظور کرلی۔ ان کے اشراف میں سے جو لوگ خیبر کو گئے ، یہ لوگ تھے۔ سلام ابن ابو الحقیق ، کہنانہ ابن ابرہہ ، حیی ابن اخطب۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے غطفان اور قریش کو جمع کیا مسلمانوں کے خلاف اور غزوہ احزاب برپا کیا۔ اب رہا بنی قریظہ کا قصہ۔ غزوہ احزاب میں انہوں نے جو کردار ادا کیا وہ معلوم ہوچکا ہے۔ یہ بھی مشرکین کے ساتھ جمع ہوگئے تھے۔ بنی نضیر کے زعماء کی تحریص اور آمادہ کرنے پر اور حیی ابن اخطب اس کام کا ذمہ دار تھا۔ بنی قریظہ کی عہد شکنی دوسرے احزاب کے مقابلے میں مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری۔ ان لوگوں کا رویہ کس قدر خطرناک تھا۔ اس کا اندازہ تم اس سے کرسکتے ہو کہ جب رسول اللہ ﷺ کو ان کی عہد شکنی کی اطلاعات ملیں تو آپ نے سعد ابن معاذ رئیس اوس کو ان کے پاس بھیجا۔ اور سعد ابن عبادہ رئیس حزوج بھی ساتھ ہوئے۔ ان کے ساتھ عبد اللہ ابن رواحہ اور خوات ابن جبیر بھی گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ذرا جا کر دیکھو کہ ہم تک جو اطلاعات پہنچ رہی ہیں وہ درست ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ اطلاعات درست ہوں تو میرے سامنے ایسے الفاظ میں رپورٹ دو کہ میں ہی سمجھوں اور مسلمانوں پر اس کا برا اثر نہ ہو اور اگر وہ وفا پر قائم ہوں تو پھر اعلانیہ کہہ دیتا۔ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کس طرح سمجھتے تھے کہ لوگوں پر اس خبر کا اثر کیا ہوگا) ۔ یہ وفد گیا تو دیکھا کہ یہ لوگ اطلاع سے بھی زیادہ خراب پوزیشن میں تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہا۔ اور کہا کون رسول ، کس کی بات کرتے ہو۔ ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان کوئی عہد و معاہدہ نہیں ہے ، وفد آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔ اشاروں کے ساتھ۔ رسول اللہ نے فرمایا اللہ اکبر ! مسلمانوں تمہیں خوشخبری دی ہے (حضور ﷺ نے یہ الفاظ مسلمانوں کو ثابت قدم بنانے کے لیے کہے) ۔ ابن اسحاق کہتے ہیں اب مصیبت دگنی ہوگئی۔ خوب پھیل گیا۔ اوپر اور نیچے سے دشمن آگئے اور اب مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔ بعض منافقین کھل کر سامنے آگئے۔ معرکہ احد سے پہلے تو یہ صورت حالات تھی ۔ لیکن جب اللہ کے نبی کو جنگ احزاب میں اللہ کی نصرت ملی اور دشمنان مسلمانون خائب و خاسر ہوئے ، انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔ اللہ نے خود ہی مومنین کی طرف سے جنگ کی۔ حضور ﷺ مدینہ کی طرف کامیاب لوٹے۔ لوگوں نے اسلحہ رکھنا شروع کردیا۔ رسول اللہ ﷺ مسلسل جنگی حالت کی وجہ سے غسل کرنے لگے۔ آپ ام سلمہ کے گھر تھے تو جبریل (علیہ السلام) آگئے۔ ” حضور ﷺ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے “۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ ” لیکن ملائکہ نے تو اسلحہ نہیں رکھا اور میں ابھی اس قوم کو پیچھا کرکے آرہا ہوں “۔ اس کے بعد حضرت جبریل نے فرمایا ” اللہ کا حکم ہے بنی قریظہ کی طرف پہنچو “۔ بنی قریظہ مدینہ سے کئی میل دور تھے۔ یہ واقعہ نماز ظہر کے بعد کا ہے۔ حضور ﷺ نے حکم دیا ” کوئی شخص نماز نہ پڑھے مگر دیار بنی قریظہ میں “ لوگ نکل پڑے۔ راستے میں نماز عصر کا وقت آگیا۔ بعض لوگوں نے راستہ ہی میں نماز پڑھ لی اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارادہ صرف یہ تھا کہ جلدی پہنچو لیکن دوسروں نے کہا کہ ہم بنی قریظہ کی بستیوں سے ادھر نماز نہ پڑھیں گے لیکن اس پر کسی نے ایک دوسرے کو ملامت نہ کی۔ حضور ﷺ ان کے بعد پہنچے۔ مدینہ میں ابن ام مکتوم صاحب۔ عبس وتولی ان جآء الاعمی کو والی مقرر کردیا۔ جھنڈا حضرت علی ؓ ابن ابو طالب کو دیا گیا۔ حضور ﷺ نے ان کا پچیس دنوں تک محاصرہ کیا اور ان کو کہا کہ ہتھیار ڈال دو ۔ جب ان پر معاملہ طویل ہوگیا تو انہوں نے سعد ابن معاذ رئیس اوس کے حکم پر ہتھیار ڈال دئیے۔ جاہلیت میں یہ ان کے خلفاء میں سے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کے ساتھ احسان کریں گے۔ جس طرح عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے اپنے دوستوں کے ساتھ کیا تھا اور ان کو رسول اللہ سے چھڑا لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ سعد ابن معاذ بھی وہی کرے گا جو عبد اللہ ابن ابی نے کیا۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ سعد کو ایک تیر بازو کی بڑی رگ میں لگا ہوا تھا۔ اور اگر یہ رگ کٹ جائے تو وہ زخمی ہرگز تندرست نہ ہوتا تھا ۔ یہ خندق کے ابتدائی دنوں ہی میں لگ گیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے داغ دھوئے تھے اور مسجد کے اندر ہی ایک خیمے میں انہیں رکھا ہوا تھا تاکہ حضور ﷺ سہولت کے ساتھ ان کی تیمارداری کرسکیں اور سعدیہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! اگر آپ نے ہمارے اور قریش کے درمیان ابھی مزید جنگیں لکھی ہوئی ہیں تو مجھے زندہ رکھ اور اگر ہمارے ان کے درمیان جنگ ختم ہوچکی ہے تو پھر یہ زخم بہتا رہے اور پھر میری صرف یہ تمنا ہے کہ میری آنکھیں بنی قریظہ کے معاملے میں ٹھنڈی ہوجائیں۔ اللہ نے اس کی دعا قبول کی اور یہ مقدر کردیا کہ وہ انہیں کے فیصلے پر ہتھار ڈال دیں اور یہ درخواست خود انہوں نے اپنی خوشی سے کی۔ اب رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد کو مدینہ سے بلایا کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ کریں۔ جب وہ آیا اور وہ ایک گدھے پر سوار تھا جو انہوں نے اس کے لیے خوب تیار کیا تھا تو اوس اس کے پاؤں پر پڑنے لگے۔ کہتے اے سعد ہم تیرے دوست ہیں۔ ان کے ساتھ احسان کرو ، وہ تو منتیں کر رہے تھے کہ اس کے دل کو ان کے لیے نرم کردیں۔ سعد ابن معاذ خاموش ہیں اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ۔ جب انہوں نے اصرار کرلیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سعد اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈرے۔ تو انہوں نے جان لیا ہے کہ سعد درست فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں۔ جب سعد اس خیمے کے پاس گئے جو رسول اللہ کا خیمہ تھا ، تو حضور ﷺ نے فرمایا ” اٹھو اپنے سردار کے احترام و استقبال میں۔ مسلمان اٹھے اور اسے اتارا۔ بہت ہی اعزازو احترام اور اکرام کے ساتھ۔ تاکہ ان کا فیصلہ اچھی طرح نافذ ہو۔ جب سعد بیٹھے تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ان لوگوں نے اشارہ بنی قریظہ کی طرف تمہارے فیصلے پر ہتھیار ڈالے ہیں۔ لہٰذا آپ جو چاہیں ان کے بارے میں حکم دیں۔ تو اس پر اس نے کہا ” کیا میرا حکم ان پر نافذ ہوگا ؟ “ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ ” اور ان تمام لوگوں پر نافذ ہوگا جو اس خیمے میں ہیں ؟ “ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ پھر انہوں نے کہا اور وہاں جو لوگ ہیں ان پر بھی (اس وقت سعد نے حضور اکرم ﷺ کی جگہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ وہ خود اپنا منہ بوجہ حیاء اور احترام و اکرام پھیرے ہوئے تھے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ اس پر سعد ابن معاذ ؓ نے فرمایا : ” میں فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگی لوگوں کو قتل کردیا جائے اور ان کے اموال اور اولاد کو مال غنیمت بنا دیا جائے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ” تم نے بیشک اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ سبع سموات کے اوپر کردیا تھا “۔ پھر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ زمین میں گڑھے کھودے جائیں اور یہ لوگ باندھے ہوئے لائے گئے۔ ان کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ یہ لوگ سات آٹھ سو کے قریب تھے اور جو مرد عورتیں بالغ نہ تھے ان کو غلام بنا لیا گیا۔ مقتولین میں حبی ابن اخطب بھی تھا۔ یہ حسب معاہدہ ان کے ساتھ قلعہ بند ہوگیا تھا۔ اس وقت سے یہودی ذلیل ہوئے اور آج کے بعد مدینہ میں نفاق کی تحریک کمزور پڑگئی۔ منافقین کے سر نیچے ہوگئے اور اس سے قبل وہ جو کچھ کرتے تھے اب اس سے ڈر گئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس دن کے بعد کفار نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کی۔ بلکہ اب حملے مسلمانوں کی طرف سے ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ مکہ اور طائف فتح ہوئے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہودیوں ، مشرکین مکہ اور منافقین کی تحریکات کا تانا بانا ملا ہوا تھا اور جب یہودی مدینہ سے جلا وطن ہوئے تو یہ ریشہ دانیاں ختم ہوگئیں اور آج کے بعد اسلامی مملکت کی بنیاد مستحکم ہوگئی ۔ یہ ہے پس منظر اس قول ربانی کا۔ وانزل الذین ظاھر۔۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (33: 26 – 27) ” پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور ان کے دلوں میں اس نے اب رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو ؟ اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ صیاصی سے مراد قلعے ہیں اور وہ زمین جو مسلمانوں نے پامال نہ کی تھی وہ ارض بنو قریظہ تھی جو ان کی مملوکہ تھی۔ ان کے محلے کے اردگرد اور یہ زمین بھی ان کے اموال کے ساتھ مسلمانوں کے ہاتھ آگئی۔ اور یہ اس طرح بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ بنی قریظہ نے بغیر قتال کے زمین دے دی اور پامال کرنے سے مراد جنگ ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وکان اللہ علی کل شئ قدیرا (33: 27) ان تمام واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی تمام امور اللہ کے اختیارات میں ہیں۔ اس پورے قصے میں تمام امور کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور تمام واقعات کو دست قدرت کا نتیجہ بناتا گیا ہے تاکہ باقی مسلمانوں کے دلوں میں اللہ واقعات کے ذریعے بٹھانا چاہتے ہیں اور واقعات کے بعد پھر قرآن کو نازل کرکے بٹھانا چاہتے ہیں کہ اسلامی تصور حیات صاف اور ستھرا دلوں میں بیٹھ جائے۔ یوں یہ عظیم حادثہ یہاں اختتام کو پہنچا۔ اس کے اندر بیشمار سنن الہیہ ، بیشمار اعلیٰ قدریں ، بیشمار ہدایات اور بیشمار اصول بیان کیے گئے تاکہ یہ چیزیں صاف صاف ہوکر جماعت مسلمہ کی زندگی کا حصہ بن جائیں۔ یوں یہ واقعات تربیت کے لیے ایک اچھا مواد ہیں اور قرآن میں ان کو جگہ دے کر اسلامی نمونہ حیات کے لئے معیار اور راہنما بنا دیا گیا ۔ ان آیات کو اسلامی جماعت کا رخ قرار دیا اور ان کے تصورات کو اچھی طرح ان کی زندگی کے اندر بٹھا دیا گیا۔ اسلامی جماعت کے لیے اعلیٰ قدریں واضح کردی گئیں اور ان ابتلاؤں اور آزمائشوں میں اسلامی کردار لکھ کر سامنے آگیا۔

الأحزاب 33:29

وانزل الذین ظاھروھم ۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (26 – 27) بنی قریظہ کا کیا قصہ تھا ؟ اس کا تعلق مسلمانوں اور یہودیوں کے باہم تعلقات سے ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں اس کی وضاحت کردی جائے۔ یہودیوں نے اسلام کے ساتھ بہت ہی مختصر عرصہ کے لیے رواداری کا رویہ اپنایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آتے ہی ان کے ساتھ باہمی امن کا معاہدہ کرلیا تھا اور ذمہ داری قبول فرمائی تھی کہ مسلمان ان کی نصرت اور حمایت کریں گے بشرطیکہ وہ غداری نہ کریں ، فسق و فجور نہ کریں ، جاسوسی نہ کریں دشمن کی حمایت نہ کریں ، اور کسی مسلمان کو اذیت نہ دیں۔ بہت ہی تھوڑے دن گزرے تھے کہ یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ دین جدید ان کے لئے بھی خطرہ بن گیا ہے اور ان کی موروثی امتیازی حیثیت کہ وہ اہل کتاب ہیں ، اب ختم ہو رہی ہے۔ یہ لوگ اہل یثرب کے درمیان اپنی اس امتیازی حیثیت کی وجہ سے ایک اہم مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں مسلمانوں کی جدید صف بندی سے بھی خطرات محسوس کرلیے۔ اس سے قبل وہ اوس اور خزرج کے درمیان پائے جانے والے طویل اختلافات اور جنگوں سے خوب فائدہ اٹھاتے تھے۔ اس طرح مدینہ میں انہی کی بات ہوتی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ کی قیادت میں اسلام نے ان روایتی دشمنوں کو باہم شیر و شکر کردیا تو یہودیوں کے وہ مفادات ختم ہوگئے جو وہ ان دونوں فریقوں سے حاصل کرتے تھے۔ جس بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا وہ یہ تھی کہ ان کے عالم اور مذہبی راہنما عبد اللہ ابن سلام مسلمان ہوگئے۔ ان کا دل اسلام کے لیے کھل گیا۔ یہ مسلمان ہوگیا۔ اس نے اپنے خاندان سے بھی کہا تو وہ بھی مسلمان ہوگئے لیکن اس نے کہا کہ اگر وہ ایسے ہی اپنے اسلام کا اعلان کر دے تو یہودی الزام لگائیں گے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ میرے بارے میں پہلے آپ ان سے پوچھ لیں۔ پہلے اس کے کہ میرے اسلام کا اعلان ہو ، تو انہوں نے کہا یہ ہمارے سردار ہیں ، سردار کے بیٹے ہیں۔ ہمارے حبر اور عالم ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن سلام نکلے اور ان سے کہا کہ ایمان لاؤ چناچہ انہوں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کردیا اور تمام یہودی قبائل کو ان کے بارے میں آگاہ کردیا۔ اب انہوں نے محسوس کرلیا کہ ہمارے دین کو حقیقی خطرہ ہے۔ چناچہ انہوں نے اسلام اور نبی کریم ﷺ کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ ایسی سازشیں جو کبھی رکتی نہ تھیں۔ اس دن سے یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان جو جنگ شروع ہوئی وہ آج تک جاری ہے اور یہ میدان کا رزار آج تک ٹھنڈا نہیں ہوا۔ پہلے یہ سرد جنگ تھی اور جوں جوں ہمارے مسلمانوں کے حالات خراب ہوتے رہے ، یہ جنگ حضرت محمد ﷺ کی ذات اور اسلام کے خلاف جاری رہی۔ اس جنگ نے مختلف رنگ اور اسلوب اختیار کیے۔ پہلے انہوں نے جدید رسالت کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے۔ پھر جدید عقیدے پر الزامات لگائے۔ پھر انہوں نے مسلمانوں کے درمیان عداوتیں ڈالنا شروع کردیں۔ اوس اور خزرج کو بار ہا لڑانا چاہا۔ انصار اور مہاجرین کے درمیان انہوں نے دشمنی ڈالی۔ یہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کے لیے جاسوسی بھی کرتے رہے۔ یہ پھر منافقین کے دوست بن گئے۔ ان منافقین کے ذریعے اسلامی صفوں میں فتنے ڈالتے۔ آخر کار یہ کھل کر سامنے آگئے اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف لشکر کشیاں کیں اور احزاب کو جمع کرنا شروع کردیا۔ مثلاً غزوہ احزاب کی شکل میں۔ ان کے اہم قبیلے بنی قینقاع اور بنی النضیر اور بنی قریظہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک کا رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ تھا۔ بنو قینقاع یہودیوں میں سے بہت ہی دلیر تھے۔ ان کے دل تو اس وقت جل اٹھے جب مسلمانوں کو بدر میں کامیابی ہوئی۔ انہوں نے عہد کی خلاف ورزی شروع کردی بلکہ عہد سے انکار ہی کردیا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ تو کفار قریش کے ساتھ پہلے ہی معرکے میں کامیاب رہے ہیں لہٰذا اگر حالت یونہی رہی تو یہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے۔ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ابن اسحاق کے ذریعہ سے ان کہ حا لات درج کیے ہیں ۔ نبی قینقاع کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ نے ان کو قینقاع کے با زار میں جمع کیا اور کہا : اے اہل یہود ، اللہ سے ڈرو ، جس طرح اللہ نے قریش پر وبال نازل کیا ہے ، ویسا ہی حال تمہارا نہ ہوجائے۔ اسلام قبول کرلو ، تمہیں تو معلوم ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ یہ بات تمہاری کتاب کے اندر موجود ہے “۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ ، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم قریش کی طرح ہیں۔ تم اس بات پر مغرور نہ ہوجاؤ کہ تم ایک ایسی قوم پر غالب آگئے جنہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور تم نے انہیں مار لیا۔ اگر ہم نے تمہارے ساتھ جنگ کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ابن ہشام نے بواسطہ عبد اللہ ابن جعفر نقل کیا ہے بنی قینقاع کا قصہ یوں ہوا کہ ایک عرب عورت دودھ لے کر آئی اور بنی قینقاع کے بازار میں اسے فروخت کیا ، اس کے بعد وہ ایک سنار کے ہاں زیور بنانے کے لیے بیٹھ گئی۔ انہوں نے یہ کوشش کی کہ اس عورت کے چہرے کو کھول دیں۔ اس نے انکار کیا۔ سنار نے جھٹ اس کے کپڑے کو اس کی پیٹھ کے ساتھ باندھ دیا۔ جب وہ اٹھی تو اس کی شرم گاہ ننگی ہوگئی۔ اس پر وہ خوب ین سے۔ اس نے چلا کر مدد کے لیے پکارا۔ ایک مسلمان سنار پر ٹوٹ پڑا اور اسے قتل کردیا۔ یہ یہودی تھا۔ تمام یہودی مسلمان پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے اسے قتل کردیا۔ آوازیں ہوئیں۔ تمام مسلمان قینقاع کے خلاف جمع کیے اور یوں ان کے درمیان شر شروع ہوا۔ ابن اسحاق نے بات یوں مکمل کی۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کا محاصرہ کیا۔ ان لوگوں نے حضور ﷺ کے حکم پر ہتھیار ڈال دئیے۔ اس پر عبد اللہ ابی ابن السلول نے کہا : ” محمد ﷺ یہ لوگ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرو ، یہ خزرج کے دوست تھے۔ حضور ﷺ خاموش رہے۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ یہ مطالبہ کیا کہ یہ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرو “۔ اس پر حضور ﷺ نے پھر اعراض فرمایا۔ اب اس نے حضور ﷺ کے ذرہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا مجھے چھوڑ دو ۔ آپ ﷺ نے سخت غصہ میں فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوگئے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا بدبخت چھوڑ دو مجھے۔ اس پر اس نے کہا۔ خدا کی قسم میں آپ ﷺ کو اس وقت نہ چھوڑوں گا جب تک آپ ﷺ میرے دوستوں کے ساتھ احسان نہ کریں۔ یہ چار سو شہ سوار اور تین سو زرہ پوش ہیں۔ انہوں نے سرخ و سیاہ اقوام کے خلاف میری مدد کی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم ان کو صبح کے تڑکے فصل کی طرح کاٹ دو ۔ میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مشکلات سے ڈرتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جو چاہتے ہو وہی ہوگا عبد اللہ ابن ابی ابھی تک اپنی قوم میں ذی حیثیت تھا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی سفارش قبول کرلی اور فیصلہ یہ ہوا کہ بنی قینقاع مدینہ سے نکل جائیں۔ وہ اپنے ساتھ اپنے مال کے جائیں ماسوائے اسلحہ کے۔ یوں مدینہ یہودیوں کی ایک ٹکڑی سے خالی ہوا۔ یہ رجمنٹ بڑی قوت والی تھی۔ رہے بنی نضیر تو حضور ﷺ غزوہ ٔ بدر کے بعد سن چار ہجری میں ان کے پاس گئے۔ آپ نے ان سے دو مقتولین کی دیت میں شرکت کا مطالبہ کیا۔ حسب عہد انہوں نے یہ ادائیگی کرنی تھی۔ جب حضور ﷺ آئے تو انہوں نے کہا ہاں ابو القاسم ہم آپ کی امداد حسب خواہش کریں گے۔ اس کے بعد یہ لوگ علیحدہ ہوکر مشورہ کرنے لگے کہ تم اس شخص کو کبھی ایسی حالت میں نہ پاؤ گے۔ اس وقت رسول ان کی ایک دیوار کے نیچے بیٹھے تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ کون ہے جو جاکر ایک پتھر گرائے تاکہ اس شخص سے ہماری جان چھوٹے۔ چناچہ یہ لوگ اس سازش کو عملی جامہ پہنانے میں لگ گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دے دی گئی۔ حضور ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کے ساتھ جنگ کی تیاری کرو ، یہ لوگ قلعہ بند ہوگئے۔ عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے ان کو پیغام بھیجا کہ ڈٹ جاؤ۔ ہم تمہیں ان کے سپرد نہ کریں گے۔ اگر جنگ ہوئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر جنگ کریں گے۔ اگر تمہیں نکالا گیا ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ لیکن منافقین نے اپنا یہ عہد پورا نہ کیا۔ بنی نضیر کو اللہ نے مرعوب کردیا۔ بلا حرب و قتال انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کو جلا وطن کردیں اور قتل نہ کریں۔ اونٹوں پر وہ اسلحہ کے سوا جو کچھ لے جاسکتے ہیں ، لے جائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ لوگ خیبر کو چلے گئے۔ بعض لوگ شام کو چلے گئے۔ حضور ﷺ نے یہ درخواست منظور کرلی۔ ان کے اشراف میں سے جو لوگ خیبر کو گئے ، یہ لوگ تھے۔ سلام ابن ابو الحقیق ، کہنانہ ابن ابرہہ ، حیی ابن اخطب۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے غطفان اور قریش کو جمع کیا مسلمانوں کے خلاف اور غزوہ احزاب برپا کیا۔ اب رہا بنی قریظہ کا قصہ۔ غزوہ احزاب میں انہوں نے جو کردار ادا کیا وہ معلوم ہوچکا ہے۔ یہ بھی مشرکین کے ساتھ جمع ہوگئے تھے۔ بنی نضیر کے زعماء کی تحریص اور آمادہ کرنے پر اور حیی ابن اخطب اس کام کا ذمہ دار تھا۔ بنی قریظہ کی عہد شکنی دوسرے احزاب کے مقابلے میں مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری۔ ان لوگوں کا رویہ کس قدر خطرناک تھا۔ اس کا اندازہ تم اس سے کرسکتے ہو کہ جب رسول اللہ ﷺ کو ان کی عہد شکنی کی اطلاعات ملیں تو آپ نے سعد ابن معاذ رئیس اوس کو ان کے پاس بھیجا۔ اور سعد ابن عبادہ رئیس حزوج بھی ساتھ ہوئے۔ ان کے ساتھ عبد اللہ ابن رواحہ اور خوات ابن جبیر بھی گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ذرا جا کر دیکھو کہ ہم تک جو اطلاعات پہنچ رہی ہیں وہ درست ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ اطلاعات درست ہوں تو میرے سامنے ایسے الفاظ میں رپورٹ دو کہ میں ہی سمجھوں اور مسلمانوں پر اس کا برا اثر نہ ہو اور اگر وہ وفا پر قائم ہوں تو پھر اعلانیہ کہہ دیتا۔ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کس طرح سمجھتے تھے کہ لوگوں پر اس خبر کا اثر کیا ہوگا) ۔ یہ وفد گیا تو دیکھا کہ یہ لوگ اطلاع سے بھی زیادہ خراب پوزیشن میں تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہا۔ اور کہا کون رسول ، کس کی بات کرتے ہو۔ ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان کوئی عہد و معاہدہ نہیں ہے ، وفد آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔ اشاروں کے ساتھ۔ رسول اللہ نے فرمایا اللہ اکبر ! مسلمانوں تمہیں خوشخبری دی ہے (حضور ﷺ نے یہ الفاظ مسلمانوں کو ثابت قدم بنانے کے لیے کہے) ۔ ابن اسحاق کہتے ہیں اب مصیبت دگنی ہوگئی۔ خوب پھیل گیا۔ اوپر اور نیچے سے دشمن آگئے اور اب مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔ بعض منافقین کھل کر سامنے آگئے۔ معرکہ احد سے پہلے تو یہ صورت حالات تھی ۔ لیکن جب اللہ کے نبی کو جنگ احزاب میں اللہ کی نصرت ملی اور دشمنان مسلمانون خائب و خاسر ہوئے ، انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔ اللہ نے خود ہی مومنین کی طرف سے جنگ کی۔ حضور ﷺ مدینہ کی طرف کامیاب لوٹے۔ لوگوں نے اسلحہ رکھنا شروع کردیا۔ رسول اللہ ﷺ مسلسل جنگی حالت کی وجہ سے غسل کرنے لگے۔ آپ ام سلمہ کے گھر تھے تو جبریل (علیہ السلام) آگئے۔ ” حضور ﷺ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے “۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ ” لیکن ملائکہ نے تو اسلحہ نہیں رکھا اور میں ابھی اس قوم کو پیچھا کرکے آرہا ہوں “۔ اس کے بعد حضرت جبریل نے فرمایا ” اللہ کا حکم ہے بنی قریظہ کی طرف پہنچو “۔ بنی قریظہ مدینہ سے کئی میل دور تھے۔ یہ واقعہ نماز ظہر کے بعد کا ہے۔ حضور ﷺ نے حکم دیا ” کوئی شخص نماز نہ پڑھے مگر دیار بنی قریظہ میں “ لوگ نکل پڑے۔ راستے میں نماز عصر کا وقت آگیا۔ بعض لوگوں نے راستہ ہی میں نماز پڑھ لی اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارادہ صرف یہ تھا کہ جلدی پہنچو لیکن دوسروں نے کہا کہ ہم بنی قریظہ کی بستیوں سے ادھر نماز نہ پڑھیں گے لیکن اس پر کسی نے ایک دوسرے کو ملامت نہ کی۔ حضور ﷺ ان کے بعد پہنچے۔ مدینہ میں ابن ام مکتوم صاحب۔ عبس وتولی ان جآء الاعمی کو والی مقرر کردیا۔ جھنڈا حضرت علی ؓ ابن ابو طالب کو دیا گیا۔ حضور ﷺ نے ان کا پچیس دنوں تک محاصرہ کیا اور ان کو کہا کہ ہتھیار ڈال دو ۔ جب ان پر معاملہ طویل ہوگیا تو انہوں نے سعد ابن معاذ رئیس اوس کے حکم پر ہتھیار ڈال دئیے۔ جاہلیت میں یہ ان کے خلفاء میں سے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کے ساتھ احسان کریں گے۔ جس طرح عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے اپنے دوستوں کے ساتھ کیا تھا اور ان کو رسول اللہ سے چھڑا لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ سعد ابن معاذ بھی وہی کرے گا جو عبد اللہ ابن ابی نے کیا۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ سعد کو ایک تیر بازو کی بڑی رگ میں لگا ہوا تھا۔ اور اگر یہ رگ کٹ جائے تو وہ زخمی ہرگز تندرست نہ ہوتا تھا ۔ یہ خندق کے ابتدائی دنوں ہی میں لگ گیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے داغ دھوئے تھے اور مسجد کے اندر ہی ایک خیمے میں انہیں رکھا ہوا تھا تاکہ حضور ﷺ سہولت کے ساتھ ان کی تیمارداری کرسکیں اور سعدیہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! اگر آپ نے ہمارے اور قریش کے درمیان ابھی مزید جنگیں لکھی ہوئی ہیں تو مجھے زندہ رکھ اور اگر ہمارے ان کے درمیان جنگ ختم ہوچکی ہے تو پھر یہ زخم بہتا رہے اور پھر میری صرف یہ تمنا ہے کہ میری آنکھیں بنی قریظہ کے معاملے میں ٹھنڈی ہوجائیں۔ اللہ نے اس کی دعا قبول کی اور یہ مقدر کردیا کہ وہ انہیں کے فیصلے پر ہتھار ڈال دیں اور یہ درخواست خود انہوں نے اپنی خوشی سے کی۔ اب رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد کو مدینہ سے بلایا کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ کریں۔ جب وہ آیا اور وہ ایک گدھے پر سوار تھا جو انہوں نے اس کے لیے خوب تیار کیا تھا تو اوس اس کے پاؤں پر پڑنے لگے۔ کہتے اے سعد ہم تیرے دوست ہیں۔ ان کے ساتھ احسان کرو ، وہ تو منتیں کر رہے تھے کہ اس کے دل کو ان کے لیے نرم کردیں۔ سعد ابن معاذ خاموش ہیں اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ۔ جب انہوں نے اصرار کرلیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سعد اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈرے۔ تو انہوں نے جان لیا ہے کہ سعد درست فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں۔ جب سعد اس خیمے کے پاس گئے جو رسول اللہ کا خیمہ تھا ، تو حضور ﷺ نے فرمایا ” اٹھو اپنے سردار کے احترام و استقبال میں۔ مسلمان اٹھے اور اسے اتارا۔ بہت ہی اعزازو احترام اور اکرام کے ساتھ۔ تاکہ ان کا فیصلہ اچھی طرح نافذ ہو۔ جب سعد بیٹھے تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ان لوگوں نے اشارہ بنی قریظہ کی طرف تمہارے فیصلے پر ہتھیار ڈالے ہیں۔ لہٰذا آپ جو چاہیں ان کے بارے میں حکم دیں۔ تو اس پر اس نے کہا ” کیا میرا حکم ان پر نافذ ہوگا ؟ “ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ ” اور ان تمام لوگوں پر نافذ ہوگا جو اس خیمے میں ہیں ؟ “ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ پھر انہوں نے کہا اور وہاں جو لوگ ہیں ان پر بھی (اس وقت سعد نے حضور اکرم ﷺ کی جگہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ وہ خود اپنا منہ بوجہ حیاء اور احترام و اکرام پھیرے ہوئے تھے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ اس پر سعد ابن معاذ ؓ نے فرمایا : ” میں فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگی لوگوں کو قتل کردیا جائے اور ان کے اموال اور اولاد کو مال غنیمت بنا دیا جائے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ” تم نے بیشک اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ سبع سموات کے اوپر کردیا تھا “۔ پھر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ زمین میں گڑھے کھودے جائیں اور یہ لوگ باندھے ہوئے لائے گئے۔ ان کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ یہ لوگ سات آٹھ سو کے قریب تھے اور جو مرد عورتیں بالغ نہ تھے ان کو غلام بنا لیا گیا۔ مقتولین میں حبی ابن اخطب بھی تھا۔ یہ حسب معاہدہ ان کے ساتھ قلعہ بند ہوگیا تھا۔ اس وقت سے یہودی ذلیل ہوئے اور آج کے بعد مدینہ میں نفاق کی تحریک کمزور پڑگئی۔ منافقین کے سر نیچے ہوگئے اور اس سے قبل وہ جو کچھ کرتے تھے اب اس سے ڈر گئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس دن کے بعد کفار نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کی۔ بلکہ اب حملے مسلمانوں کی طرف سے ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ مکہ اور طائف فتح ہوئے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہودیوں ، مشرکین مکہ اور منافقین کی تحریکات کا تانا بانا ملا ہوا تھا اور جب یہودی مدینہ سے جلا وطن ہوئے تو یہ ریشہ دانیاں ختم ہوگئیں اور آج کے بعد اسلامی مملکت کی بنیاد مستحکم ہوگئی ۔ یہ ہے پس منظر اس قول ربانی کا۔ وانزل الذین ظاھر۔۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (33: 26 – 27) ” پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور ان کے دلوں میں اس نے اب رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو ؟ اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ صیاصی سے مراد قلعے ہیں اور وہ زمین جو مسلمانوں نے پامال نہ کی تھی وہ ارض بنو قریظہ تھی جو ان کی مملوکہ تھی۔ ان کے محلے کے اردگرد اور یہ زمین بھی ان کے اموال کے ساتھ مسلمانوں کے ہاتھ آگئی۔ اور یہ اس طرح بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ بنی قریظہ نے بغیر قتال کے زمین دے دی اور پامال کرنے سے مراد جنگ ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وکان اللہ علی کل شئ قدیرا (33: 27) ان تمام واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی تمام امور اللہ کے اختیارات میں ہیں۔ اس پورے قصے میں تمام امور کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور تمام واقعات کو دست قدرت کا نتیجہ بناتا گیا ہے تاکہ باقی مسلمانوں کے دلوں میں اللہ واقعات کے ذریعے بٹھانا چاہتے ہیں اور واقعات کے بعد پھر قرآن کو نازل کرکے بٹھانا چاہتے ہیں کہ اسلامی تصور حیات صاف اور ستھرا دلوں میں بیٹھ جائے۔ یوں یہ عظیم حادثہ یہاں اختتام کو پہنچا۔ اس کے اندر بیشمار سنن الہیہ ، بیشمار اعلیٰ قدریں ، بیشمار ہدایات اور بیشمار اصول بیان کیے گئے تاکہ یہ چیزیں صاف صاف ہوکر جماعت مسلمہ کی زندگی کا حصہ بن جائیں۔ یوں یہ واقعات تربیت کے لیے ایک اچھا مواد ہیں اور قرآن میں ان کو جگہ دے کر اسلامی نمونہ حیات کے لئے معیار اور راہنما بنا دیا گیا ۔ ان آیات کو اسلامی جماعت کا رخ قرار دیا اور ان کے تصورات کو اچھی طرح ان کی زندگی کے اندر بٹھا دیا گیا۔ اسلامی جماعت کے لیے اعلیٰ قدریں واضح کردی گئیں اور ان ابتلاؤں اور آزمائشوں میں اسلامی کردار لکھ کر سامنے آگیا۔

الأحزاب 33:30

ینسآء النبی من یات ۔۔۔۔۔۔ لھا رزقا کریما (30 – 31) ” “۔ یہ اس بلند مقام کا تقاضا ہے جس پر وہ فائز ہیں۔ وہ سرور دو عالم کی بیویاں ہیں۔ ان کو امہات المومنین کا مرتبہ دیا گیا ہے اور یہ دونوں اعزاز ان پر بہت ہی بھاری ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ ان کا پہلا تقاضا ہے کہ تم تمام فاحشات سے مکمل اجتناب کرو ، اگر بغرض محال ان میں سے کسی نے بھی فحاشی کا ارتکاب کیا تو اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا اور اس فرضی دھمکی کے ذریعے دراصل بتانا یہ مقصود ہے کہ وہ کس قدر بلند مقام پر فائز ہیں اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا (33: 30) ” اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے “۔ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ہونے کے باوجود بھی اللہ کو کوئی نہیں روک سکتا کہ تمہیں سزا نہ دے۔ ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ رسول مختار ﷺ کی بیویوں کو سزا دینے میں شاید کوئی رکاوٹ ہو ، اس لیے تردید کردی گئی۔ ومن یقنت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالحا (33: 31) ” اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گی اور نیک کام کرے گی “۔ قنوت کے معنی طاعت اور خضوع و خشوع ہیں اور عمل صالح قنوت کا صحیح ترجمہ ہے۔ نو تھا اجرھا مرتین (33: 31) ” تو اس کو ہم دہرا اجر دیں گے “۔ جس طرح ان میں سے اگر کوئی فحاشی کا ارتکاب کرے تو سزا دگنی ہوگی۔ واعتدنا لھا رزقا کریما (33: 31) ” اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے “۔ وہ حاضر ہے ، تیار ہے ، دوگنے اجر کے بعد رزق کریم مزید ہے ، یہ اللہ کا فضل و کرم ہوگا۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ نبی کی ازواج مطہرات عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں لہٰذا لوگوں کے حوالے سے بھی ان کے کچھ فرائض ہیں اور اللہ کی بندگی کرنے میں بھی ان کے کچھ فرائض ہیں۔ گھروں میں بھی ان کے فرائض ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس عظیم گھرا نے کا نگہبان اللہ خود ہے۔ اللہ اس گھرانے کی زندگی کو پاک و صاف کرنا چاہتا ہے۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے گھروں کے اندر جس حکمت اور آیات الہیہ کا نزول ہو رہا ہے اس کے حوالے سے تم پر خاص ذمہ داریاں ہیں اور یہ گھریلو ماحول تمہیں تمام جہان کی ازواج اور عورتوں سے ممتاز کرتا ہے۔

الأحزاب 33:31

ینسآء النبی من یات ۔۔۔۔۔۔ لھا رزقا کریما (30 – 31) ” “۔ یہ اس بلند مقام کا تقاضا ہے جس پر وہ فائز ہیں۔ وہ سرور دو عالم کی بیویاں ہیں۔ ان کو امہات المومنین کا مرتبہ دیا گیا ہے اور یہ دونوں اعزاز ان پر بہت ہی بھاری ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ ان کا پہلا تقاضا ہے کہ تم تمام فاحشات سے مکمل اجتناب کرو ، اگر بغرض محال ان میں سے کسی نے بھی فحاشی کا ارتکاب کیا تو اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا اور اس فرضی دھمکی کے ذریعے دراصل بتانا یہ مقصود ہے کہ وہ کس قدر بلند مقام پر فائز ہیں اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا (33: 30) ” اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے “۔ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ہونے کے باوجود بھی اللہ کو کوئی نہیں روک سکتا کہ تمہیں سزا نہ دے۔ ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ رسول مختار ﷺ کی بیویوں کو سزا دینے میں شاید کوئی رکاوٹ ہو ، اس لیے تردید کردی گئی۔ ومن یقنت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالحا (33: 31) ” اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گی اور نیک کام کرے گی “۔ قنوت کے معنی طاعت اور خضوع و خشوع ہیں اور عمل صالح قنوت کا صحیح ترجمہ ہے۔ نو تھا اجرھا مرتین (33: 31) ” تو اس کو ہم دہرا اجر دیں گے “۔ جس طرح ان میں سے اگر کوئی فحاشی کا ارتکاب کرے تو سزا دگنی ہوگی۔ واعتدنا لھا رزقا کریما (33: 31) ” اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے “۔ وہ حاضر ہے ، تیار ہے ، دوگنے اجر کے بعد رزق کریم مزید ہے ، یہ اللہ کا فضل و کرم ہوگا۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ نبی کی ازواج مطہرات عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں لہٰذا لوگوں کے حوالے سے بھی ان کے کچھ فرائض ہیں اور اللہ کی بندگی کرنے میں بھی ان کے کچھ فرائض ہیں۔ گھروں میں بھی ان کے فرائض ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس عظیم گھرا نے کا نگہبان اللہ خود ہے۔ اللہ اس گھرانے کی زندگی کو پاک و صاف کرنا چاہتا ہے۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے گھروں کے اندر جس حکمت اور آیات الہیہ کا نزول ہو رہا ہے اس کے حوالے سے تم پر خاص ذمہ داریاں ہیں اور یہ گھریلو ماحول تمہیں تمام جہان کی ازواج اور عورتوں سے ممتاز کرتا ہے۔

الأحزاب 33:32

ینساء النبی لستن ۔۔۔۔۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا (32 – 34) ۔ جب اسلام آیا تو اس وقت عربی معاشرے میں ، تمام دوسرے جاہلی معاشروں کی طرح حالت یہ تھی کہ عورت کو سامان تعیش سمجھا جاتا تھا اور فقط شہوات وانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی نقطہ نظر سے اسے ایک گری ہوئی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ نیز عربی معاشرے میں جنسی اعتبار سے بھی بڑی بےقاعدگی اور افراتفری پائی جاتی تھی اور نظام خاندانی میں ثبات نہ تھا جس طرح اس سورة میں ہم نے تفصیلات دی ہیں۔ پھر جاہلیت کے زمانے میں عورت کی صنف کی طرف نہایت گری ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور ذوق جمال بھی نہایت گرا ہوا تھا۔ ننگے اجسام کی طرف زیادہ توجہ تھی اور اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق جمال مفقود تھا۔ زمانہ جاہلیت کے اشعار کے اندر یہ خصوصیات اچھی طرح نظر آتی ہیں جو عورت کے جسم خصوصا عورتوں کے اندامہائے نہانی کے بارے میں تھیں اور پھر نہایت ہی عریاں افعال اور معانی سے متعلق اشعار سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ جب اسلام آیا تو اس نے عورت کو معاشرے میں ایک باعزت مقام دیا اور مرد اور عورت کے درمیان تعلق کے معاملے میں انسانی پہلو کو زیادہ اہمیت دی۔ کیونکہ مرد اور عورت کا تعلق محض جسمانی بھوک کو فرو کرنے ہی کا تعلق نہیں ہوتا اور نہ خون اور گوشت کے جوش کو ٹھنڈا کرنا مطلوب ہوتا ہے بلکہ مرد اور عورت کا تعلق دراصل دو انسانی شخصیات کا اتصال ہے جن کو نفس واحد سے پیدا کیا گیا ہے اور ان کے درمیان محبت اور شفقت پیدا کی گئی ہے۔ ان کے ملاپ کی وجہ سے دونوں کو راحت اور سکون ملتا ہے اور دونوں کے ملاپ کا ایک ہدف مقرر ہے اور اس وقت سے مقرر ہے جب سے اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ پھر اس کا مقصد زمین کی آبادی ہے۔ اس میں انسان نے سنن الہیہ کے مطابق جو فرائض ادا کرنے ہیں ، ان کا ادا کرنا ہے۔ اسلام نے خاندانی تعلقات کو لیا اور خاندانی تعلقات کو اس طرح منظم کیا کہ اسلام کی اجتماعی تنظیم کے لیے اسے اساس بنایا اور پھر خاندان کو ایک ایسی نرسری قرار دیا جس کے اندر آیندہ نسلوں کے لیے پودے تیار ہوتے ہیں اور اس نرسری کی نشوونما اور ارتقا اور تربیت کے لیے تمام ضروریات فراہم کیں اور اسے بچانے ، پاک و صاف رکھنے کے انتطامات کیے ، خصوصاً نئی نسل کے شعور اور خیالات کو پاک و صاف رکھنے کے لیے۔ اسلام کے نظام قانون میں خاندانی نظام کی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ قانون سازی کی گئی ہے اور قرآن کریم کی کئی آیات اس کے لیے مخصوص ہیں۔ قانونی اقدامات کے علاوہ بھی اسلام کے نظام اجتماعی کے اس ابتدائی یونٹ کو محفوظ کرنے کے لئے اسلام نے مسلسل ہدایات دی ہیں ، خصوصاً اس یونٹ کی روحانی تطہیر کے لیے اور اس میں دو اصناف کے جنسی تعلق کے زوایہ سے ، اس تعلق کو عریانی ، بےراہ روی سے پاک کیا گیا اور محض جسمانی ملاپ کے لیے بھی سخت ہدایات دی گئیں۔ اس سورة میں بھی اجتماعی تنظیم اور خاندانی نظام کی پختگی کے لیے آیات کا ایک بڑا حصہ وقف ہے۔ آیات زیر بحث میں نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کو خطاب ہے۔ ان کا نبی ﷺ کے ساتھ تعلق ، ان کا لوگوں کے ساتھ تعلق ، ان کا اللہ کے ساتھ تعلق ، اور ان کے بارے میں اللہ کے ارادے کا ذکر کیا گیا ہے۔ انما یرید اللہ لذھب ۔۔۔۔۔ ویطھرکم تطھیرا (33: 33) (اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے “۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہی کہ وہ کون سے وسائل ہیں جن کے ذریعہ اللہ نبی ﷺ کے اہل بیت کو پاک کرنا چاہتے ہیں اور اہل بیت کیلئے ان کو لازمی قرار دیتے ہیں جبکہ ازواج مطہرات نبی ﷺ کی بیویاں ہیں اور وہ اس زمین کی تمام عورتوں سے زیادہ پاک ہیں۔ ظاہر ہے کہ تمام دوسری عورتیں ان وسائل اور ان اقدامات کی بہت زیادہ محتاج ہیں۔ کیونکہ اگر ازواج مطہرات کو ان وسائل کی ضرورت تھی جو نبی ﷺ کے گھر میں رہتی تھیں تو دوسری بیویوں کو ان کے بدرجہ اتم ضرورت ہے۔ پہلا وسیلہ یہ ہے کہ ازواج مطہرات کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ تم نہایت ہی اونچے مرتبہ اور منصب اور مقام پر فائز ہوچکی ہو۔ تم تمام نساء عالم سے بلند مرتبہ ہو ، لہٰذا سب سے پہلے تم اپنے اس مقام بلند کا خیال رکھو اور اس کے تقاضے پورے کرو۔ ینسآء النبی لستن کا حد من النکآء ان اتقیتن (33: 32) ” نبی ﷺ کی بیویو ، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو “۔ اگر تم خدا کا خوف کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہ رہو گی۔ تم تو ایسے مقام پر بیٹھی ہو جو قابل رشک ہے اس میں تمہارے ساتھ عام عورتیں شریک نہیں ہیں ، اور نہ تم اس میں کسی کو شریک کرتی ہو۔ لیکن یہ امتیاز تمہیں تقویٰ سے حاصل ہوگا کیونکہ محض نبی ﷺ کے ساتھ قرابت داری کچھ چیز بھی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کے ساتھ اس قرابت داری کے تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے خود اپنے نفوس کے اندر۔ یہ وہ دو ٹوک سچائی ہے جس کے اوپر یہ دین قائم ہے۔ اس کا اعلان رسول اللہ ﷺ نے اپنے رشتہ داروں کے سامنے کردیا کہ لوگو ، تمہیں رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری کہیں دھوکہ میں نہ ڈالے۔ کیونکہ رسول خدا ﷺ تمہارے معاملے میں کچھ اختیارات نہیں رکھتے۔ ” اے فاطمہ بنت محمد ! اے صفیہ بنت عبد المطلب ! اے اولاد عبد المطلب ! میں تمہارے حق میں اللہ کے ہاں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ جہاں تک میرے مال کا تعلق ہے ، اس کے بارے میں تم جو چاہتے ہو ، مجھ سے مانگ لو “۔ (مسلم) دوسری روایت میں ہے ” اے اہل قریش ، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے اولاد بنی کعب اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے فاطمہ بنت محمد ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ! خدا کی قسم میں اللہ کے ہاں تمہارے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ ہاں میرے ساتھ تمہاری قرابت ہے اور اس کا حق میں ادا کرتا رہوں گا “۔ (مسلم ترمذی) جب ان کو ان کی منزلت اور مقام سے آگاہ کردیا گیا کہ اس مقام تک وہ صرف تقویٰ سے پہنچ سکتی ہیں تو اب اللہ تعالیٰ وہ ذرائع بیان فرماتے ہیں جن کے ذریعہ اللہ اہل بیت نبی کو مکمل طور پر پاک و صاف کرنا چاہتے ہیں اور ان کی مکمل تطہیر پیش نظر ہے۔ فلا تحضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض (33: 32) “ تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ دل کی خرابی میں مبتلا کوئی شخص لالچ میں نہ پڑجائے “۔ اللہ ازواج مطہرات کو پہلا حکم یہ دیتے ہیں کہ جب ان کو غیر محرم لوگوں سے بات کرنا پڑے تو ان کی زبان میں وہ لچک نہیں ہونا چاہئے کہ جو نرم اور دبی زبان میں بات کریں تو سننے والے کے لیے شہوت انگیزی کا باعث ہو۔ کیونکہ بالعموم نرم باتوں سے مردوں کو اشتہا پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کے اندر تحریک ہوتی ہے اور بیمار دل اور کمزور اخلاق کے لوگ برے خیالات دلوں میں لاسکتے ہیں۔ ذرا یہاں غور کریں کہ وہ کون خواتین ہیں جن کو اللہ یہاں ڈرا رہا ہے۔ یہ ازواج مطہرات ہیں۔ امہات المومنین ہیں جن کے بارے میں کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طمع کرسکتا ہے اور نہ کسی بیمار کی بیماری کا اثر ان پر پڑ سکتا ہے۔ بظاہر انسان یہی سوچ سکتا ہے۔ پھر یہ تنبیہ کس دور میں ہے ؟ نبی ﷺ کے دور میں ، ان ممتاز اور برگزیدہ صحابہ کرم کے دور میں جن کے معیار کے لوگ نہ پہلے گزرے اور نہ بعد میں ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس خدا نے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا وہ تو جانتا تھا کہ عورت اگر دبی اور نرم زبان میں نازو انداز سے بات کرے تو لوگوں کے دلوں میں غلط خیالات پیدا کرسکتی ہے اور دلوں میں فتنہ پیدا ہوسکتا ہے۔ خصوصاً وہ دل جو پہلے سے مریض ہوں وہ تو فوراً اشتعال میں آسکتے ہیں اور یہ مریض دل ہر دور اور عہد میں موجود ہوتے ہیں۔ ہر معاشرے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اور ایسے مریض ہر عورت کی طرف مائل ہو سکتے ہیں چاہے وہ نبی آخر الزمان کی زوجہ محترمہ ہو امہات المومنین میں سے ہو۔ کوئی ماحول اس وقت تک پاک اور صاف نہیں ہوسکتا جب تک گندگی کے اسباب کا سدباب نہ کیا جائے۔ اور ہم آج جس معاشرے میں رہتے ہیں ، اس کا حال کیا ہے ؟ یہ معاشرہ پہلے سے مریض ، ناپاک اور گرا ہوا ہے جس میں قدم قدم پر فتنے ہیں۔ ہر طرف شہوت انگیزیاں ہیں ، خواہشات پھڑ پھڑاتی پھرتی ہیں۔ اس ماحول میں ہمیں کیا کرنا چاہئے جس میں ہر طرف سے شہوت کو اٹھایا جاتا ہے ، جگایا جاتا ہے ، اور جنس کو گرم سے گرم تر کیا جاتا ہے۔ اس معاشرے اور اس زمانے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ہمارا دور جس میں عورتوں کا لہجہ نہایت لوچ دار ، جن کی آواز نہایت ہی مائع ، نسوانیت کے تمام فتنے مجتمع کیے ہوئے ، جنسی کشش کے تمام فتنے پیدا کیے ہوئے ، نہایت ہی خوش الحافی اور فتنہ سامانی کے ساتھ ہر جگہ حاضر۔ ایسی عورتیں کہاں پاک ہیں اور پاکی کی فضا کہاں ہے۔ یہ تو اپنی حرکات ، اپنی آواز اور اپنی عریانی کے ذریعہ ان تمام گندگیوں میں ملوث ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ازواج مطہرات کو پاک کرنا چاہتے ہیں اور جس سے اللہ اپنے مختار بندوں کو پاک کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں عریانی اور اختلاط کس قدر خطرناک ہے ! وقلن قولا معروفا (33: 32) ” بلکہ صاف سیدھی بات کرو “۔ پہلے ان کو نرم اور لوچدار آواز سے منع کیا گیا اور اب یہاں کہا گیا کہ وہ سیدھی سادی بات کریں معروف طریقے کے مطابق۔ جس طرح عام طور پر ایک اجنبی مرد اور اجنبی عورت ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ ان باتوں میں کوئی منکر بات نہ ہو۔ بعض اوقات نرم لہجے سے زیادہ موضوع گفتگو بھی بےراہ روی پر آمادہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا کسی اجنبی مرد اور عورت کے درمیان لب و لہجے کا اشارہ بھی نہ ہو۔ نہ ان کے درمیان گپ شپ ہو ، نہ مزاح اور غیر سنجیدہ گفتگو ہو ، تاکہ اس کے نتیجے میں کچھ دوسرے امور کی طرف میلان نہ ہو ، اور قریباً یا بعید ! لوگ غلط راستوں پر نہ پڑجائیں۔ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور اپنی مخلوق کے مزاج اور طبیعت کے بارے میں بہت ہی اچھا جانتا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو امہات المومنین کو یوں مخاطب کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے دور کے اجنبی لوگوں کے ساتھ اس انداز میں گفتگو کریں جبکہ وہ خیر القرون تھا۔ وقرن فی بیوتکن (33: 33) ” اور اپنے گھروں میں وقار سے رہو “۔ قرن ، وقریقر سے ہے معنی ہیں بھاری ہوا ، اپنی جگہ پر ٹھہر گیا۔ اس کے لغوی معنی یہ نہیں کہ گھروں کے اندر بندر ہیں اور گھروں سے باہر ہی نہ نکلیں۔ یہ ایک لطیف اشارہ ہے اس طرح کی عورت کی اصل جگہ اسکا گھر ہے۔ یہ ان کا مقر ہے اور اس کے سوا وہ اگر کہیں پائی جائیں تو وہ عارضی حالت ہوگی اور استثنائی صورت ہوگی۔ اس پر وہ قائم و دائم نہیں رہیں گی۔ باہر محض ضرورت سے نکلنا ہوگا۔ بیت اور گھر عورت کا وہ مستقر اور جائے آرام ہے جو اللہ نے اس کے لیے ازروئے تخلیق و فطرت پسند فرمایا ہے۔ جس میں وہ اپنی فطرت سے منحرف نہیں رہتی ، غلط کاریوں میں ملوث نہیں ہوتی اور جہاں وہ ان مشقت آمیز فرائض میں نہیں جتی ہوتی ازروئے فطرت اس کے لیے تیار نہیں کیے۔ جہاں وہ اس کام میں لگی ہوتی ہے جس کے لیے دراصل اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ ” اس لیے کہ اسلام گھر کے لیے ایک مخصوص فضا مہیا کر دے اور تاکہ بچوں کی پرورش اس فضا میں خوب سے خوب تر ہو سکے۔ اللہ نے مرد پر بیوی کا نفقہ لازم کیا ، اور اسے لازمی قرار دیا تاکہ ماں کو معاشی جدوجہد نہ کرنا پڑے اور اسے محنت و مزدوری میں وقت نہ لگانا پڑے ، وہ پوری طرح مطمئن ہو کر بچوں کی تربیت کرسکے اور گھر کے نظام اور سخاوت اور خوشی کو دوبالا کرسکے۔ وہ عورت جو محنت کرکے تھکی ہاری ہوئی ہوتی ہے ، جسے اپنی ملازمت کے فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں اور جس کے اوقات اور مصروفیات بیرون خا نہ ہوں اور اس کی قوتیں وہاں خرچ ہوتی ہوں ، اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ گھر کو خوشیاں دے سکے۔ اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ ناتواں بچوں کی پوری تربیت کرسکے۔ جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں ، ان کے گھر ، ہوٹل اور بیکریوں سے زیادہ کوئی مقام نہیں رکھتے۔ ان کے اندر وہ کشش نہیں ہوتی جو گھر میں ہوتی ہے۔ حقیقی گھر تو وہ ہوتا ہے جس کی تخلیق ایک گھریلو عورت کرتی ہے اور گھر کی کشش بھی وہی ہوتی ہے جس کا منبع ایک اچھی بیوی ہو۔ گھر کی محبت کا سرچشمہ ماں ہوتی ہے۔ وہ بیوی ، وہ ماں یا وہ عورت جو اپنا وقت ملازمت میں گزارتی ہے وہ گھر کو تنگی اور حزن و ملال کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتی “۔ (اسلام اور عالمی سلامتی) ” عورت کا گھر سے نکلنا کسی گھرانے کے لئے بہت ہی بڑا حادثہ ہوتا ہے اور کبھی کبھار اس کی حقیقی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن اگر کسی کو ضرورت نہ ہو تو اس صورت میں یہ عقل و خرد کے لیے ایک لعنت ہے اور اس کا رواج ان زمانوں میں ہوا جن میں شروفساد اور بےراہ روی اور گمراہی بڑھ گئی اور انسانیت نے ہزیمت اختیار کرلی “۔ (ایضا) رہا عورت کا بغیر کسی ضرورت کے یا بغیر کسی ملازمت کے گھر سے نکلتا اور مرد و زن کا بازاروں اور گلیوں میں اختلاط اختیار کرنا تو یہ وہ ہزیمت ہے جس کے بعد انسانیت گندگی کے دلدل میں گر جاتی ہے اور انسان حیوان کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں عو رتیں نماز کے لیے نکلتی تھیں اور اب بھی شرعا اس کی ممانعت نہیں ہے۔ لیکن وہ ایک ایسا دور تھا جس میں لوگ عفت اور پاکیزگی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔ لوگوں کے اند خدا خوفی تھی اور عورت نماز کے لیے پوری طرح لپٹ کر نکلتی تھی ۔ یوں کہ لوگ اسے پہچان نہ سکیں اور اس وقت خواتین اپنے مقامات فتنہ ہر گزنہ ظاہر کو تی تھیں اس کے باوجود حضرت عائشہ ؓ نے اس دور میں ان کا نکلنا ناپسند فرمایا۔ صحیحین میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا مومنین کی بیویاں حضور ﷺ کے ساتھ نماز صبح میں شریک ہوتی تھیں ۔ پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی واپس ہوتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں ۔ اور صحیحین ہی میں ان کی روایت ہے کہ اگر حضور ﷺ وہ دور پاتے جس میں عورتوں نے نئی نئی باتیں ایجاد کرلی ہیں تو ان کو اسی طرح منع فرماتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے دور میں عورتوں نے کیا نیا فیشن اختیار کرلیا تھا ؟ اور وہ کیا تبدیلیاں تھیں کہ اگر حضور ﷺ دیکھتے تو عورتوں کو نماز سے منع کردیتے ۔ ذرا قیاس کرو کہ یہ خیر القرون تھا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ولا تبرجن تبرجن الجاھلیۃ الاولی (33: 33) ” اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو “۔ یعنی جب کوئی تم میں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو۔ اس سے قبل گھروں میں ٹک کر رہنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ جاہلیت کے دور میں عورتیں زیب وزینت کی نمائش کرتی تھیں لیکن روایات میں اس سج دھج کی جو صورتیں مروی ہیں وہ سب کی سب بہت سادہ اور سنجیدہ ہیں۔ آج کے دور میں عورتوں نے جو عریانی اختیار کر رکھی اس کا دور جاہلیت سے بھی کوئی موازنہ نہیں ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ” جاہلیت میں عورتیں نکلتی تھیں اور مردوں کے اندر پھرتی تھیں یہ تھا تبرج جاہلیہ “۔ قتادہ کہتے ہیں ” یہ ناز و انداز سے چلتی تھیں ، اس سے منع کیا گیا “۔ مقاتل ابن حیان کہتے ہیں ” عورتیں سروں پر دوپٹہ ڈالتی تھیں ، اور اسے یوں نہ لپیٹتی تھیں کہ وہ گردن کے زیورات کو ڈھانپ لے یا کانوں کے زیورات چھپالے اس وقت گردن کا زیور اور کان کا زیور ظاہر ہوتے تھے “ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” عورت مردوں میں اس طرح نکلتی کہ اس کا سینہ کھلا ہوتا ، اور اس کے اوپر کچھ نہ ہوتا ، بعض اوقات اس کی گردن اور بالوں کی مینڈھیاں ننگی ہوتیں اور کان کے بندے بھی ظاہر ہوتے۔ اللہ نے مومنات کو حکم دیا کہ وہ ان چیزوں کو ظاہر نہ کریں۔ یہ تھی جاہلیت کی سج دھج اور قرآن اس وقت کے برے آثار سے اسلامی معاشرے کو پاک کرنا چاہتا تھا تاکہ فتنے کے تمام عوامل اسلامی معاشرے سے ناپید ہوجائیں اور اسلامی معاشرے کے آداب ، تصورات اور اس کا اجتماعی شعور اور ذوق بلند اور پاکیزہ ہو۔ ہم نے اسلامی معاشرے کی تطہیر میں ” ذوق “ کی تطہیر کو بھی شامل کیا ہے کیونکہ جسم انسانی کو ننگا دیکھنا ایک ایسا ذوق ہے ، جو نہایت ہی غلیظ اور پسماندہ ذوق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ذوق سنجیدہ اور مستقل اور منظم ذوق جمال کے مقابلے میں بددیانہ ہے۔ اس بددیانہ ذوق میں روح ، عفت اور شعور کا ذوق مفقود ہوتا ہے۔ یہ کہ اسلامی معیار انسانی سطح کو بلند کرتا ہے اور انسان کو ترقی یافتہ بناتا ہے۔ سنجیدگی اور وقار اپنی جگہ ایک خوبصورتی ہے۔ یہ حقیقی حسن ہوتا ہے لیکن اس حقیقی حسن کے ادراک و شعور سے سطحی اور جاہلی ذوق محروم ہوتا ہے۔ کیونکہ گرے ہوئے جاہلی ذوق کے مطابق حسن صرف گوشت و پوست میں ہوتا ہے اور جاہلی ذوق کا داعیہ یہی ذوق ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی یہ آیات یہاں جاہلی سج دھج کی طرف اشارہ کرکے یہ بتاتی ہیں کہ یہ گری ہوئی جاہلیت کی باقیات ہیں اور جو لوگ جاہلیت کے دور کو لے کرکے آگے بڑھ گئے ہیں وہ اس معیار سے بلند ہوجاتے ہیں اور ان کا شعور اور ان کا ذوق جمال بھی جاہلیت کی سطح سے بلند ہوتا ہے۔ جاہلیت کسی متعین زمانے کا نام نہیں ہے۔ زمانہ جاہل نہیں ہوتا ، لوگ جاہل ہوتے ہیں ۔ جاہلیت ایک حالت کا نام ہے۔ اس میں لوگوں کے خاص تصورات ہوتے ہیں اور یہ حالت ، یہ تصورات اور یہ رسم و رواج ہر زمان و مکان میں ہو سکتے ہیں۔ اس معیار کے مطابق ہم آج دور جاہلیت میں ہیں۔ بالکل اندھی جاہلیت میں۔ جس کا احساس غلیظ ہے ، شعور غلیظ ہے جس کے تصورات حیوانی ہیں اور مقام انسانی سے فروتر گندگی میں لت پت مقام کو یہ شعور پسند کرتا ہے۔ جس کے اندر کوئی طہارت ، پاکیزگی اور برکت نہیں ہوتی۔ انسانیت اس میں ڈولی ہوئی ہے اور وہ اس معیار کے مطابق تطہیر نہیں چاہتی جس کے مطابق اسلام انسانی معاشرے کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ اسے جاہلیت اولیٰ کے باقیات کو زائل کرنا چاہتا ہے اور یہ کام قرآن اور اسلام نے اہل بیت نبوی ﷺ سے شروع کیا ہے تاکہ وہ عام مسلمانوں کے لیے طہارت ، لطافت اور روشنی کا مینار ہو۔ قرآن کریم نبی ﷺ کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ یہ اقدامات کریں۔ ازواج مطہرات کے دلوں کو اللہ سے جوڑ دیں ، اور ان کا نصب العین بلند افق پر متعین کردیں۔ نہایت روشن ، نہایت پاکیزہ اور یوں وہ اس روشن مینار تک بتدریج بلند ہوجائیں۔ واقمن الصلوۃ واتین الزکوۃ واطعن اللہ ورسولہ (33: 33) ” نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو “۔ اللہ کی بندگی اجتماعی طرز اور اجتماعی اخلاق کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اللہ کی بندگی وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ انسان اعلیٰ اور بلند اخلاقی اور اجتماعی سطح تک بلند ہو سکتا ہے۔ اللہ کی بندگی ہی سالک کے لیے زاد راہ ہے۔ سالک کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی بندگی کے لیے مدد لے۔ لہٰذا اللہ سے تعلق کی ضرورت ہے جہاں سے انسان کو مدد ملے اور اللہ کے ساتھ ایسے تعلق کی ضرورت ہے جس سے دل صاف اور پاک ہوتا رہے۔ اللہ کے ساتھ ایسے مضبوط رابطے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے متعارف طرز عمل سے اور موجودہ معاشرے کے رسم و رواج سے بالا ہوجائے۔ اس کے اندر یہ سوچ اور یہ شعور ہو کہ اللہ سے رابطہ لوگوں اور پورے معاشرے اور اپنے خاندان سے اعلیٰ وارفع ہے۔ اس تعلق کی وجہ سے انسان میں یہ جذبہ پیدا ہو کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی تعلق باللہ کی طرف دعوت دے۔ یہ نہ ہو کہ ایک شخص اسلام کی روشنی سے خبردار ہوتے ہوئے بھی دوسرے لوگوں کا پیرو کار بن جائے اور وہ اس کی قیادت ظلمت اور تاریکی کی طرف کریں جو عموماً اللہ سے تعلق کٹ جانے کی وجہ سے ہر طرف چھا جاتی ہے۔ اسلام ہی ہر قسم کے مراسم عبودیت ، ہر قسم کے اخلاق و آداب ، ہر قسم کے قوانین اور ہر قسم کے دستوری انتظامات کا حامل دین ہے۔ یہ تمام امور ایک نظریہ حیات کے فریم ورک کے اندر ہیں اور یہ تمام امور اس فریم ورک میں رہتے ہوئے اسلامی نظریہ حیات کے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ یہ سب شعبے باہم توافق کے ساتھ ایک ہدف کی طرف بڑھتے ہیں اور اسی ہم آہنگی اور توافق سے دین اسلام کا مجموعی ڈھانچہ تیار ہوتا ہے۔ ان تمام عناصر کی موجودگی اور توافق کے بغیر یہ دین ہرگز قائم نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکم دیا گیا کہ تم نماز کو قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے اندر تمام شعوری سمت ، تمام اخلاقی ہدایات ، ہر قسم کا طرز عمل ، خاندان اور اجتماعی معاملات میں رویہ سب کے سب سمٹ آتے ہیں۔ کیونکہ اسلام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک کوئی ان کو قائم نہ کرے اور یہ مجموعی اطاعت شعاری ایک خاص مقصد کے لیے ہے۔ انما یرید اللہ لیذھب ۔۔۔۔۔ تطھیرا (33:33) ” اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی ﷺ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے “۔ اس تعبیر میں کئی اشارات ، سب کے سب محبت ، شفقت ، وارفتگی اور نرمی سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ ” تم اہل بیت نبی “ ہو۔ اہل بیت میں تصریح تو نہیں لیکن نبی کے گھر کی طرف اشارہ ہے۔ گویا دنیا میں یہی ایک عظیم گھرانا ہے اور یہ گھرانا اس صفت کا مستحق ہے۔ جب ” البیت “ کہہ دیا تو گویا مراد بیت النبی ہے۔ یہی اشارات خانہ کعبہ کے بارے میں قرآن میں ہوتے ہیں۔ اسے بھی ” البیت “ ” البیت الحرام “ کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں بیت نبی کو بھی البیت کہا گیا۔ گویا یہ عظیم گھرانا ہے ، یہی گھرانا ہے۔ اور پھر یہ تعبیر کہ اے اہل بیت تم سے اللہ گندگی کو پوری طرح دور کرکے صاف کرنا چاہتا ہے یعنی نبی کے گھرانے کو پاک کرنے کا کام خود اللہ نے سنبھال لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور کسی گھر کی تطہیر کے کام کی ذمہ داری خود لیتا ! گویا یہ اہل بیت نبی کا نہایت ہی بلند مرتبہ ہے۔ یہ وہ ذات کہہ رہی ہے جس نے پوری کائنات کو کن فیکون سے بنا دیا۔ اور وہ عزیز و جبار اور علی کل شئ قدیر ہے اور وہ اس کام کو کرنا چاہتا ہے تو یہ اہل بیت کے لیے بڑا اعزاز بھی ہے۔ یہ بات اللہ اپنی اس کتاب میں کہہ رہے ہیں جو آسمانوں پر پڑھی جاتی ہے۔ زمین پر پڑھی جاتی ہے۔ ہر دور اور ہر جگہ پڑھی جاتی ہے اور جس کی پیروی ہر دور میں کئی ملین لوگ کرتے چلے آئے ہیں اور جس کی تلاوت ہر وقت کئی ملین لوگ کرتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ یہ اوامر اور یہ ہدایات یہاں تطہیر اور پاکی کا وسیلہ بنائے جا رہے ہیں اور ان کے ذریعہ اس گھرانے کو پاک کرنا مقصود ہے۔ تطہیر تطہر سے ہے ، گندگی تب دور ہوتی ہے جب کوئی ایسے وسائل اختیار کرے جس سے وہ دور ہو اور یہ کام لوگ خود کریں اور اپنی عملی زندگی کی تطہیر کریں۔ لوگوں کے اندر پاکیزگی کا شعور ہو اور وہ متقی ہوں ، ان کا طرز عمل پاکیزہ ہو۔ وہ پوری طرح اسلام میں داخل ہو کر اپنی زندگی کا رخ اسلام کی طرف کردیں اور اس کے اہداف اسلامی ہوں۔ اور یہ بحث نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کو مزید ہدایات پر ختم ہوتی ہے کہ ازواج مطہرات کو پھر یاد دلایا جاتا ہے کہ تمہارا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ دوسری عورتوں سے تم ممتاز ہو۔ اس لیے کہ تم سرورکونین ﷺ کے گھرانے کی فرد ہو۔ تمہارے گھروں کے اندر قرآن نازل ہو رہا ہے۔ جو حکمت و دانائی پر مشتمل ہے۔ گویا تمہارے گھر حکمت و دانائی کے مقامات نزول ہیں۔ نور ہدایت اور ایمان کی بارشیں وہاں ہو رہی ہیں۔ واذکرن ما یتلی فی ۔۔۔۔۔ کان لطیفا خبیرا (33: 34) ” یاد رکھو ، اللہ کی آیات اور حکمت کی ان باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بیشک اللہ لطیف اور باخبر ہے “۔ یہ وہ بلند مرتبہ ہے جس کا ان کو یاد دلانا ہی کافی ہے۔ ہر کوئی اس مرتبہ بلند کو محسوس کرتا ہے۔ یہ اللہ کا دیا ہوا بہت بڑا مقام ہے اور وہ انعام ہے جس کے برابر کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ نصیحت اس خطاب اور تقریر کے آخر میں دہرائی جاتی ہے جو ازواج مطہرات کے سامنے اس وقت کی گئی جب ان کو اختیار دیا جاتا تھا کہ تمہیں اختیار ہے کہ تم دنیا اور اس کی زوال پذیر آرائشوں کو پسند کرتی ہو یا اللہ اور رسول اللہ اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہو۔ دکھایا جاتا ہے کہ غور کرلو ، اللہ نے تمہیں بہت ہی بڑی نعمت دی ہے اور یہ پوری زندگی اس کے مقابلے میں کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ نبی کے گھرانے کے بعد اب اسلامی سوسائٹی کے اندر تطہیر کے اسباب بھی نہایت تفصیل اور باریکی کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں مرد اور عورتیں دونوں برابر ہیں۔

الأحزاب 33:33

ینساء النبی لستن ۔۔۔۔۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا (32 – 34) ۔ جب اسلام آیا تو اس وقت عربی معاشرے میں ، تمام دوسرے جاہلی معاشروں کی طرح حالت یہ تھی کہ عورت کو سامان تعیش سمجھا جاتا تھا اور فقط شہوات وانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی نقطہ نظر سے اسے ایک گری ہوئی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ نیز عربی معاشرے میں جنسی اعتبار سے بھی بڑی بےقاعدگی اور افراتفری پائی جاتی تھی اور نظام خاندانی میں ثبات نہ تھا جس طرح اس سورة میں ہم نے تفصیلات دی ہیں۔ پھر جاہلیت کے زمانے میں عورت کی صنف کی طرف نہایت گری ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور ذوق جمال بھی نہایت گرا ہوا تھا۔ ننگے اجسام کی طرف زیادہ توجہ تھی اور اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق جمال مفقود تھا۔ زمانہ جاہلیت کے اشعار کے اندر یہ خصوصیات اچھی طرح نظر آتی ہیں جو عورت کے جسم خصوصا عورتوں کے اندامہائے نہانی کے بارے میں تھیں اور پھر نہایت ہی عریاں افعال اور معانی سے متعلق اشعار سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ جب اسلام آیا تو اس نے عورت کو معاشرے میں ایک باعزت مقام دیا اور مرد اور عورت کے درمیان تعلق کے معاملے میں انسانی پہلو کو زیادہ اہمیت دی۔ کیونکہ مرد اور عورت کا تعلق محض جسمانی بھوک کو فرو کرنے ہی کا تعلق نہیں ہوتا اور نہ خون اور گوشت کے جوش کو ٹھنڈا کرنا مطلوب ہوتا ہے بلکہ مرد اور عورت کا تعلق دراصل دو انسانی شخصیات کا اتصال ہے جن کو نفس واحد سے پیدا کیا گیا ہے اور ان کے درمیان محبت اور شفقت پیدا کی گئی ہے۔ ان کے ملاپ کی وجہ سے دونوں کو راحت اور سکون ملتا ہے اور دونوں کے ملاپ کا ایک ہدف مقرر ہے اور اس وقت سے مقرر ہے جب سے اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ پھر اس کا مقصد زمین کی آبادی ہے۔ اس میں انسان نے سنن الہیہ کے مطابق جو فرائض ادا کرنے ہیں ، ان کا ادا کرنا ہے۔ اسلام نے خاندانی تعلقات کو لیا اور خاندانی تعلقات کو اس طرح منظم کیا کہ اسلام کی اجتماعی تنظیم کے لیے اسے اساس بنایا اور پھر خاندان کو ایک ایسی نرسری قرار دیا جس کے اندر آیندہ نسلوں کے لیے پودے تیار ہوتے ہیں اور اس نرسری کی نشوونما اور ارتقا اور تربیت کے لیے تمام ضروریات فراہم کیں اور اسے بچانے ، پاک و صاف رکھنے کے انتطامات کیے ، خصوصاً نئی نسل کے شعور اور خیالات کو پاک و صاف رکھنے کے لیے۔ اسلام کے نظام قانون میں خاندانی نظام کی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ قانون سازی کی گئی ہے اور قرآن کریم کی کئی آیات اس کے لیے مخصوص ہیں۔ قانونی اقدامات کے علاوہ بھی اسلام کے نظام اجتماعی کے اس ابتدائی یونٹ کو محفوظ کرنے کے لئے اسلام نے مسلسل ہدایات دی ہیں ، خصوصاً اس یونٹ کی روحانی تطہیر کے لیے اور اس میں دو اصناف کے جنسی تعلق کے زوایہ سے ، اس تعلق کو عریانی ، بےراہ روی سے پاک کیا گیا اور محض جسمانی ملاپ کے لیے بھی سخت ہدایات دی گئیں۔ اس سورة میں بھی اجتماعی تنظیم اور خاندانی نظام کی پختگی کے لیے آیات کا ایک بڑا حصہ وقف ہے۔ آیات زیر بحث میں نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کو خطاب ہے۔ ان کا نبی ﷺ کے ساتھ تعلق ، ان کا لوگوں کے ساتھ تعلق ، ان کا اللہ کے ساتھ تعلق ، اور ان کے بارے میں اللہ کے ارادے کا ذکر کیا گیا ہے۔ انما یرید اللہ لذھب ۔۔۔۔۔ ویطھرکم تطھیرا (33: 33) (اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے “۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہی کہ وہ کون سے وسائل ہیں جن کے ذریعہ اللہ نبی ﷺ کے اہل بیت کو پاک کرنا چاہتے ہیں اور اہل بیت کیلئے ان کو لازمی قرار دیتے ہیں جبکہ ازواج مطہرات نبی ﷺ کی بیویاں ہیں اور وہ اس زمین کی تمام عورتوں سے زیادہ پاک ہیں۔ ظاہر ہے کہ تمام دوسری عورتیں ان وسائل اور ان اقدامات کی بہت زیادہ محتاج ہیں۔ کیونکہ اگر ازواج مطہرات کو ان وسائل کی ضرورت تھی جو نبی ﷺ کے گھر میں رہتی تھیں تو دوسری بیویوں کو ان کے بدرجہ اتم ضرورت ہے۔ پہلا وسیلہ یہ ہے کہ ازواج مطہرات کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ تم نہایت ہی اونچے مرتبہ اور منصب اور مقام پر فائز ہوچکی ہو۔ تم تمام نساء عالم سے بلند مرتبہ ہو ، لہٰذا سب سے پہلے تم اپنے اس مقام بلند کا خیال رکھو اور اس کے تقاضے پورے کرو۔ ینسآء النبی لستن کا حد من النکآء ان اتقیتن (33: 32) ” نبی ﷺ کی بیویو ، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو “۔ اگر تم خدا کا خوف کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہ رہو گی۔ تم تو ایسے مقام پر بیٹھی ہو جو قابل رشک ہے اس میں تمہارے ساتھ عام عورتیں شریک نہیں ہیں ، اور نہ تم اس میں کسی کو شریک کرتی ہو۔ لیکن یہ امتیاز تمہیں تقویٰ سے حاصل ہوگا کیونکہ محض نبی ﷺ کے ساتھ قرابت داری کچھ چیز بھی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کے ساتھ اس قرابت داری کے تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے خود اپنے نفوس کے اندر۔ یہ وہ دو ٹوک سچائی ہے جس کے اوپر یہ دین قائم ہے۔ اس کا اعلان رسول اللہ ﷺ نے اپنے رشتہ داروں کے سامنے کردیا کہ لوگو ، تمہیں رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری کہیں دھوکہ میں نہ ڈالے۔ کیونکہ رسول خدا ﷺ تمہارے معاملے میں کچھ اختیارات نہیں رکھتے۔ ” اے فاطمہ بنت محمد ! اے صفیہ بنت عبد المطلب ! اے اولاد عبد المطلب ! میں تمہارے حق میں اللہ کے ہاں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ جہاں تک میرے مال کا تعلق ہے ، اس کے بارے میں تم جو چاہتے ہو ، مجھ سے مانگ لو “۔ (مسلم) دوسری روایت میں ہے ” اے اہل قریش ، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے اولاد بنی کعب اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے فاطمہ بنت محمد ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ! خدا کی قسم میں اللہ کے ہاں تمہارے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ ہاں میرے ساتھ تمہاری قرابت ہے اور اس کا حق میں ادا کرتا رہوں گا “۔ (مسلم ترمذی) جب ان کو ان کی منزلت اور مقام سے آگاہ کردیا گیا کہ اس مقام تک وہ صرف تقویٰ سے پہنچ سکتی ہیں تو اب اللہ تعالیٰ وہ ذرائع بیان فرماتے ہیں جن کے ذریعہ اللہ اہل بیت نبی کو مکمل طور پر پاک و صاف کرنا چاہتے ہیں اور ان کی مکمل تطہیر پیش نظر ہے۔ فلا تحضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض (33: 32) “ تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ دل کی خرابی میں مبتلا کوئی شخص لالچ میں نہ پڑجائے “۔ اللہ ازواج مطہرات کو پہلا حکم یہ دیتے ہیں کہ جب ان کو غیر محرم لوگوں سے بات کرنا پڑے تو ان کی زبان میں وہ لچک نہیں ہونا چاہئے کہ جو نرم اور دبی زبان میں بات کریں تو سننے والے کے لیے شہوت انگیزی کا باعث ہو۔ کیونکہ بالعموم نرم باتوں سے مردوں کو اشتہا پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کے اندر تحریک ہوتی ہے اور بیمار دل اور کمزور اخلاق کے لوگ برے خیالات دلوں میں لاسکتے ہیں۔ ذرا یہاں غور کریں کہ وہ کون خواتین ہیں جن کو اللہ یہاں ڈرا رہا ہے۔ یہ ازواج مطہرات ہیں۔ امہات المومنین ہیں جن کے بارے میں کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طمع کرسکتا ہے اور نہ کسی بیمار کی بیماری کا اثر ان پر پڑ سکتا ہے۔ بظاہر انسان یہی سوچ سکتا ہے۔ پھر یہ تنبیہ کس دور میں ہے ؟ نبی ﷺ کے دور میں ، ان ممتاز اور برگزیدہ صحابہ کرم کے دور میں جن کے معیار کے لوگ نہ پہلے گزرے اور نہ بعد میں ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس خدا نے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا وہ تو جانتا تھا کہ عورت اگر دبی اور نرم زبان میں نازو انداز سے بات کرے تو لوگوں کے دلوں میں غلط خیالات پیدا کرسکتی ہے اور دلوں میں فتنہ پیدا ہوسکتا ہے۔ خصوصاً وہ دل جو پہلے سے مریض ہوں وہ تو فوراً اشتعال میں آسکتے ہیں اور یہ مریض دل ہر دور اور عہد میں موجود ہوتے ہیں۔ ہر معاشرے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اور ایسے مریض ہر عورت کی طرف مائل ہو سکتے ہیں چاہے وہ نبی آخر الزمان کی زوجہ محترمہ ہو امہات المومنین میں سے ہو۔ کوئی ماحول اس وقت تک پاک اور صاف نہیں ہوسکتا جب تک گندگی کے اسباب کا سدباب نہ کیا جائے۔ اور ہم آج جس معاشرے میں رہتے ہیں ، اس کا حال کیا ہے ؟ یہ معاشرہ پہلے سے مریض ، ناپاک اور گرا ہوا ہے جس میں قدم قدم پر فتنے ہیں۔ ہر طرف شہوت انگیزیاں ہیں ، خواہشات پھڑ پھڑاتی پھرتی ہیں۔ اس ماحول میں ہمیں کیا کرنا چاہئے جس میں ہر طرف سے شہوت کو اٹھایا جاتا ہے ، جگایا جاتا ہے ، اور جنس کو گرم سے گرم تر کیا جاتا ہے۔ اس معاشرے اور اس زمانے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ہمارا دور جس میں عورتوں کا لہجہ نہایت لوچ دار ، جن کی آواز نہایت ہی مائع ، نسوانیت کے تمام فتنے مجتمع کیے ہوئے ، جنسی کشش کے تمام فتنے پیدا کیے ہوئے ، نہایت ہی خوش الحافی اور فتنہ سامانی کے ساتھ ہر جگہ حاضر۔ ایسی عورتیں کہاں پاک ہیں اور پاکی کی فضا کہاں ہے۔ یہ تو اپنی حرکات ، اپنی آواز اور اپنی عریانی کے ذریعہ ان تمام گندگیوں میں ملوث ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ازواج مطہرات کو پاک کرنا چاہتے ہیں اور جس سے اللہ اپنے مختار بندوں کو پاک کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں عریانی اور اختلاط کس قدر خطرناک ہے ! وقلن قولا معروفا (33: 32) ” بلکہ صاف سیدھی بات کرو “۔ پہلے ان کو نرم اور لوچدار آواز سے منع کیا گیا اور اب یہاں کہا گیا کہ وہ سیدھی سادی بات کریں معروف طریقے کے مطابق۔ جس طرح عام طور پر ایک اجنبی مرد اور اجنبی عورت ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ ان باتوں میں کوئی منکر بات نہ ہو۔ بعض اوقات نرم لہجے سے زیادہ موضوع گفتگو بھی بےراہ روی پر آمادہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا کسی اجنبی مرد اور عورت کے درمیان لب و لہجے کا اشارہ بھی نہ ہو۔ نہ ان کے درمیان گپ شپ ہو ، نہ مزاح اور غیر سنجیدہ گفتگو ہو ، تاکہ اس کے نتیجے میں کچھ دوسرے امور کی طرف میلان نہ ہو ، اور قریباً یا بعید ! لوگ غلط راستوں پر نہ پڑجائیں۔ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور اپنی مخلوق کے مزاج اور طبیعت کے بارے میں بہت ہی اچھا جانتا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو امہات المومنین کو یوں مخاطب کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے دور کے اجنبی لوگوں کے ساتھ اس انداز میں گفتگو کریں جبکہ وہ خیر القرون تھا۔ وقرن فی بیوتکن (33: 33) ” اور اپنے گھروں میں وقار سے رہو “۔ قرن ، وقریقر سے ہے معنی ہیں بھاری ہوا ، اپنی جگہ پر ٹھہر گیا۔ اس کے لغوی معنی یہ نہیں کہ گھروں کے اندر بندر ہیں اور گھروں سے باہر ہی نہ نکلیں۔ یہ ایک لطیف اشارہ ہے اس طرح کی عورت کی اصل جگہ اسکا گھر ہے۔ یہ ان کا مقر ہے اور اس کے سوا وہ اگر کہیں پائی جائیں تو وہ عارضی حالت ہوگی اور استثنائی صورت ہوگی۔ اس پر وہ قائم و دائم نہیں رہیں گی۔ باہر محض ضرورت سے نکلنا ہوگا۔ بیت اور گھر عورت کا وہ مستقر اور جائے آرام ہے جو اللہ نے اس کے لیے ازروئے تخلیق و فطرت پسند فرمایا ہے۔ جس میں وہ اپنی فطرت سے منحرف نہیں رہتی ، غلط کاریوں میں ملوث نہیں ہوتی اور جہاں وہ ان مشقت آمیز فرائض میں نہیں جتی ہوتی ازروئے فطرت اس کے لیے تیار نہیں کیے۔ جہاں وہ اس کام میں لگی ہوتی ہے جس کے لیے دراصل اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ ” اس لیے کہ اسلام گھر کے لیے ایک مخصوص فضا مہیا کر دے اور تاکہ بچوں کی پرورش اس فضا میں خوب سے خوب تر ہو سکے۔ اللہ نے مرد پر بیوی کا نفقہ لازم کیا ، اور اسے لازمی قرار دیا تاکہ ماں کو معاشی جدوجہد نہ کرنا پڑے اور اسے محنت و مزدوری میں وقت نہ لگانا پڑے ، وہ پوری طرح مطمئن ہو کر بچوں کی تربیت کرسکے اور گھر کے نظام اور سخاوت اور خوشی کو دوبالا کرسکے۔ وہ عورت جو محنت کرکے تھکی ہاری ہوئی ہوتی ہے ، جسے اپنی ملازمت کے فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں اور جس کے اوقات اور مصروفیات بیرون خا نہ ہوں اور اس کی قوتیں وہاں خرچ ہوتی ہوں ، اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ گھر کو خوشیاں دے سکے۔ اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ ناتواں بچوں کی پوری تربیت کرسکے۔ جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں ، ان کے گھر ، ہوٹل اور بیکریوں سے زیادہ کوئی مقام نہیں رکھتے۔ ان کے اندر وہ کشش نہیں ہوتی جو گھر میں ہوتی ہے۔ حقیقی گھر تو وہ ہوتا ہے جس کی تخلیق ایک گھریلو عورت کرتی ہے اور گھر کی کشش بھی وہی ہوتی ہے جس کا منبع ایک اچھی بیوی ہو۔ گھر کی محبت کا سرچشمہ ماں ہوتی ہے۔ وہ بیوی ، وہ ماں یا وہ عورت جو اپنا وقت ملازمت میں گزارتی ہے وہ گھر کو تنگی اور حزن و ملال کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتی “۔ (اسلام اور عالمی سلامتی) ” عورت کا گھر سے نکلنا کسی گھرانے کے لئے بہت ہی بڑا حادثہ ہوتا ہے اور کبھی کبھار اس کی حقیقی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن اگر کسی کو ضرورت نہ ہو تو اس صورت میں یہ عقل و خرد کے لیے ایک لعنت ہے اور اس کا رواج ان زمانوں میں ہوا جن میں شروفساد اور بےراہ روی اور گمراہی بڑھ گئی اور انسانیت نے ہزیمت اختیار کرلی “۔ (ایضا) رہا عورت کا بغیر کسی ضرورت کے یا بغیر کسی ملازمت کے گھر سے نکلتا اور مرد و زن کا بازاروں اور گلیوں میں اختلاط اختیار کرنا تو یہ وہ ہزیمت ہے جس کے بعد انسانیت گندگی کے دلدل میں گر جاتی ہے اور انسان حیوان کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں عو رتیں نماز کے لیے نکلتی تھیں اور اب بھی شرعا اس کی ممانعت نہیں ہے۔ لیکن وہ ایک ایسا دور تھا جس میں لوگ عفت اور پاکیزگی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔ لوگوں کے اند خدا خوفی تھی اور عورت نماز کے لیے پوری طرح لپٹ کر نکلتی تھی ۔ یوں کہ لوگ اسے پہچان نہ سکیں اور اس وقت خواتین اپنے مقامات فتنہ ہر گزنہ ظاہر کو تی تھیں اس کے باوجود حضرت عائشہ ؓ نے اس دور میں ان کا نکلنا ناپسند فرمایا۔ صحیحین میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا مومنین کی بیویاں حضور ﷺ کے ساتھ نماز صبح میں شریک ہوتی تھیں ۔ پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی واپس ہوتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں ۔ اور صحیحین ہی میں ان کی روایت ہے کہ اگر حضور ﷺ وہ دور پاتے جس میں عورتوں نے نئی نئی باتیں ایجاد کرلی ہیں تو ان کو اسی طرح منع فرماتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے دور میں عورتوں نے کیا نیا فیشن اختیار کرلیا تھا ؟ اور وہ کیا تبدیلیاں تھیں کہ اگر حضور ﷺ دیکھتے تو عورتوں کو نماز سے منع کردیتے ۔ ذرا قیاس کرو کہ یہ خیر القرون تھا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ولا تبرجن تبرجن الجاھلیۃ الاولی (33: 33) ” اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو “۔ یعنی جب کوئی تم میں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو۔ اس سے قبل گھروں میں ٹک کر رہنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ جاہلیت کے دور میں عورتیں زیب وزینت کی نمائش کرتی تھیں لیکن روایات میں اس سج دھج کی جو صورتیں مروی ہیں وہ سب کی سب بہت سادہ اور سنجیدہ ہیں۔ آج کے دور میں عورتوں نے جو عریانی اختیار کر رکھی اس کا دور جاہلیت سے بھی کوئی موازنہ نہیں ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ” جاہلیت میں عورتیں نکلتی تھیں اور مردوں کے اندر پھرتی تھیں یہ تھا تبرج جاہلیہ “۔ قتادہ کہتے ہیں ” یہ ناز و انداز سے چلتی تھیں ، اس سے منع کیا گیا “۔ مقاتل ابن حیان کہتے ہیں ” عورتیں سروں پر دوپٹہ ڈالتی تھیں ، اور اسے یوں نہ لپیٹتی تھیں کہ وہ گردن کے زیورات کو ڈھانپ لے یا کانوں کے زیورات چھپالے اس وقت گردن کا زیور اور کان کا زیور ظاہر ہوتے تھے “ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” عورت مردوں میں اس طرح نکلتی کہ اس کا سینہ کھلا ہوتا ، اور اس کے اوپر کچھ نہ ہوتا ، بعض اوقات اس کی گردن اور بالوں کی مینڈھیاں ننگی ہوتیں اور کان کے بندے بھی ظاہر ہوتے۔ اللہ نے مومنات کو حکم دیا کہ وہ ان چیزوں کو ظاہر نہ کریں۔ یہ تھی جاہلیت کی سج دھج اور قرآن اس وقت کے برے آثار سے اسلامی معاشرے کو پاک کرنا چاہتا تھا تاکہ فتنے کے تمام عوامل اسلامی معاشرے سے ناپید ہوجائیں اور اسلامی معاشرے کے آداب ، تصورات اور اس کا اجتماعی شعور اور ذوق بلند اور پاکیزہ ہو۔ ہم نے اسلامی معاشرے کی تطہیر میں ” ذوق “ کی تطہیر کو بھی شامل کیا ہے کیونکہ جسم انسانی کو ننگا دیکھنا ایک ایسا ذوق ہے ، جو نہایت ہی غلیظ اور پسماندہ ذوق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ذوق سنجیدہ اور مستقل اور منظم ذوق جمال کے مقابلے میں بددیانہ ہے۔ اس بددیانہ ذوق میں روح ، عفت اور شعور کا ذوق مفقود ہوتا ہے۔ یہ کہ اسلامی معیار انسانی سطح کو بلند کرتا ہے اور انسان کو ترقی یافتہ بناتا ہے۔ سنجیدگی اور وقار اپنی جگہ ایک خوبصورتی ہے۔ یہ حقیقی حسن ہوتا ہے لیکن اس حقیقی حسن کے ادراک و شعور سے سطحی اور جاہلی ذوق محروم ہوتا ہے۔ کیونکہ گرے ہوئے جاہلی ذوق کے مطابق حسن صرف گوشت و پوست میں ہوتا ہے اور جاہلی ذوق کا داعیہ یہی ذوق ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی یہ آیات یہاں جاہلی سج دھج کی طرف اشارہ کرکے یہ بتاتی ہیں کہ یہ گری ہوئی جاہلیت کی باقیات ہیں اور جو لوگ جاہلیت کے دور کو لے کرکے آگے بڑھ گئے ہیں وہ اس معیار سے بلند ہوجاتے ہیں اور ان کا شعور اور ان کا ذوق جمال بھی جاہلیت کی سطح سے بلند ہوتا ہے۔ جاہلیت کسی متعین زمانے کا نام نہیں ہے۔ زمانہ جاہل نہیں ہوتا ، لوگ جاہل ہوتے ہیں ۔ جاہلیت ایک حالت کا نام ہے۔ اس میں لوگوں کے خاص تصورات ہوتے ہیں اور یہ حالت ، یہ تصورات اور یہ رسم و رواج ہر زمان و مکان میں ہو سکتے ہیں۔ اس معیار کے مطابق ہم آج دور جاہلیت میں ہیں۔ بالکل اندھی جاہلیت میں۔ جس کا احساس غلیظ ہے ، شعور غلیظ ہے جس کے تصورات حیوانی ہیں اور مقام انسانی سے فروتر گندگی میں لت پت مقام کو یہ شعور پسند کرتا ہے۔ جس کے اندر کوئی طہارت ، پاکیزگی اور برکت نہیں ہوتی۔ انسانیت اس میں ڈولی ہوئی ہے اور وہ اس معیار کے مطابق تطہیر نہیں چاہتی جس کے مطابق اسلام انسانی معاشرے کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ اسے جاہلیت اولیٰ کے باقیات کو زائل کرنا چاہتا ہے اور یہ کام قرآن اور اسلام نے اہل بیت نبوی ﷺ سے شروع کیا ہے تاکہ وہ عام مسلمانوں کے لیے طہارت ، لطافت اور روشنی کا مینار ہو۔ قرآن کریم نبی ﷺ کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ یہ اقدامات کریں۔ ازواج مطہرات کے دلوں کو اللہ سے جوڑ دیں ، اور ان کا نصب العین بلند افق پر متعین کردیں۔ نہایت روشن ، نہایت پاکیزہ اور یوں وہ اس روشن مینار تک بتدریج بلند ہوجائیں۔ واقمن الصلوۃ واتین الزکوۃ واطعن اللہ ورسولہ (33: 33) ” نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو “۔ اللہ کی بندگی اجتماعی طرز اور اجتماعی اخلاق کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اللہ کی بندگی وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ انسان اعلیٰ اور بلند اخلاقی اور اجتماعی سطح تک بلند ہو سکتا ہے۔ اللہ کی بندگی ہی سالک کے لیے زاد راہ ہے۔ سالک کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی بندگی کے لیے مدد لے۔ لہٰذا اللہ سے تعلق کی ضرورت ہے جہاں سے انسان کو مدد ملے اور اللہ کے ساتھ ایسے تعلق کی ضرورت ہے جس سے دل صاف اور پاک ہوتا رہے۔ اللہ کے ساتھ ایسے مضبوط رابطے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے متعارف طرز عمل سے اور موجودہ معاشرے کے رسم و رواج سے بالا ہوجائے۔ اس کے اندر یہ سوچ اور یہ شعور ہو کہ اللہ سے رابطہ لوگوں اور پورے معاشرے اور اپنے خاندان سے اعلیٰ وارفع ہے۔ اس تعلق کی وجہ سے انسان میں یہ جذبہ پیدا ہو کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی تعلق باللہ کی طرف دعوت دے۔ یہ نہ ہو کہ ایک شخص اسلام کی روشنی سے خبردار ہوتے ہوئے بھی دوسرے لوگوں کا پیرو کار بن جائے اور وہ اس کی قیادت ظلمت اور تاریکی کی طرف کریں جو عموماً اللہ سے تعلق کٹ جانے کی وجہ سے ہر طرف چھا جاتی ہے۔ اسلام ہی ہر قسم کے مراسم عبودیت ، ہر قسم کے اخلاق و آداب ، ہر قسم کے قوانین اور ہر قسم کے دستوری انتظامات کا حامل دین ہے۔ یہ تمام امور ایک نظریہ حیات کے فریم ورک کے اندر ہیں اور یہ تمام امور اس فریم ورک میں رہتے ہوئے اسلامی نظریہ حیات کے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ یہ سب شعبے باہم توافق کے ساتھ ایک ہدف کی طرف بڑھتے ہیں اور اسی ہم آہنگی اور توافق سے دین اسلام کا مجموعی ڈھانچہ تیار ہوتا ہے۔ ان تمام عناصر کی موجودگی اور توافق کے بغیر یہ دین ہرگز قائم نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکم دیا گیا کہ تم نماز کو قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے اندر تمام شعوری سمت ، تمام اخلاقی ہدایات ، ہر قسم کا طرز عمل ، خاندان اور اجتماعی معاملات میں رویہ سب کے سب سمٹ آتے ہیں۔ کیونکہ اسلام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک کوئی ان کو قائم نہ کرے اور یہ مجموعی اطاعت شعاری ایک خاص مقصد کے لیے ہے۔ انما یرید اللہ لیذھب ۔۔۔۔۔ تطھیرا (33:33) ” اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی ﷺ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے “۔ اس تعبیر میں کئی اشارات ، سب کے سب محبت ، شفقت ، وارفتگی اور نرمی سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ ” تم اہل بیت نبی “ ہو۔ اہل بیت میں تصریح تو نہیں لیکن نبی کے گھر کی طرف اشارہ ہے۔ گویا دنیا میں یہی ایک عظیم گھرانا ہے اور یہ گھرانا اس صفت کا مستحق ہے۔ جب ” البیت “ کہہ دیا تو گویا مراد بیت النبی ہے۔ یہی اشارات خانہ کعبہ کے بارے میں قرآن میں ہوتے ہیں۔ اسے بھی ” البیت “ ” البیت الحرام “ کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں بیت نبی کو بھی البیت کہا گیا۔ گویا یہ عظیم گھرانا ہے ، یہی گھرانا ہے۔ اور پھر یہ تعبیر کہ اے اہل بیت تم سے اللہ گندگی کو پوری طرح دور کرکے صاف کرنا چاہتا ہے یعنی نبی کے گھرانے کو پاک کرنے کا کام خود اللہ نے سنبھال لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور کسی گھر کی تطہیر کے کام کی ذمہ داری خود لیتا ! گویا یہ اہل بیت نبی کا نہایت ہی بلند مرتبہ ہے۔ یہ وہ ذات کہہ رہی ہے جس نے پوری کائنات کو کن فیکون سے بنا دیا۔ اور وہ عزیز و جبار اور علی کل شئ قدیر ہے اور وہ اس کام کو کرنا چاہتا ہے تو یہ اہل بیت کے لیے بڑا اعزاز بھی ہے۔ یہ بات اللہ اپنی اس کتاب میں کہہ رہے ہیں جو آسمانوں پر پڑھی جاتی ہے۔ زمین پر پڑھی جاتی ہے۔ ہر دور اور ہر جگہ پڑھی جاتی ہے اور جس کی پیروی ہر دور میں کئی ملین لوگ کرتے چلے آئے ہیں اور جس کی تلاوت ہر وقت کئی ملین لوگ کرتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ یہ اوامر اور یہ ہدایات یہاں تطہیر اور پاکی کا وسیلہ بنائے جا رہے ہیں اور ان کے ذریعہ اس گھرانے کو پاک کرنا مقصود ہے۔ تطہیر تطہر سے ہے ، گندگی تب دور ہوتی ہے جب کوئی ایسے وسائل اختیار کرے جس سے وہ دور ہو اور یہ کام لوگ خود کریں اور اپنی عملی زندگی کی تطہیر کریں۔ لوگوں کے اندر پاکیزگی کا شعور ہو اور وہ متقی ہوں ، ان کا طرز عمل پاکیزہ ہو۔ وہ پوری طرح اسلام میں داخل ہو کر اپنی زندگی کا رخ اسلام کی طرف کردیں اور اس کے اہداف اسلامی ہوں۔ اور یہ بحث نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کو مزید ہدایات پر ختم ہوتی ہے کہ ازواج مطہرات کو پھر یاد دلایا جاتا ہے کہ تمہارا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ دوسری عورتوں سے تم ممتاز ہو۔ اس لیے کہ تم سرورکونین ﷺ کے گھرانے کی فرد ہو۔ تمہارے گھروں کے اندر قرآن نازل ہو رہا ہے۔ جو حکمت و دانائی پر مشتمل ہے۔ گویا تمہارے گھر حکمت و دانائی کے مقامات نزول ہیں۔ نور ہدایت اور ایمان کی بارشیں وہاں ہو رہی ہیں۔ واذکرن ما یتلی فی ۔۔۔۔۔ کان لطیفا خبیرا (33: 34) ” یاد رکھو ، اللہ کی آیات اور حکمت کی ان باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بیشک اللہ لطیف اور باخبر ہے “۔ یہ وہ بلند مرتبہ ہے جس کا ان کو یاد دلانا ہی کافی ہے۔ ہر کوئی اس مرتبہ بلند کو محسوس کرتا ہے۔ یہ اللہ کا دیا ہوا بہت بڑا مقام ہے اور وہ انعام ہے جس کے برابر کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ نصیحت اس خطاب اور تقریر کے آخر میں دہرائی جاتی ہے جو ازواج مطہرات کے سامنے اس وقت کی گئی جب ان کو اختیار دیا جاتا تھا کہ تمہیں اختیار ہے کہ تم دنیا اور اس کی زوال پذیر آرائشوں کو پسند کرتی ہو یا اللہ اور رسول اللہ اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہو۔ دکھایا جاتا ہے کہ غور کرلو ، اللہ نے تمہیں بہت ہی بڑی نعمت دی ہے اور یہ پوری زندگی اس کے مقابلے میں کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ نبی کے گھرانے کے بعد اب اسلامی سوسائٹی کے اندر تطہیر کے اسباب بھی نہایت تفصیل اور باریکی کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں مرد اور عورتیں دونوں برابر ہیں۔

الأحزاب 33:34

ینساء النبی لستن ۔۔۔۔۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا (32 – 34) ۔ جب اسلام آیا تو اس وقت عربی معاشرے میں ، تمام دوسرے جاہلی معاشروں کی طرح حالت یہ تھی کہ عورت کو سامان تعیش سمجھا جاتا تھا اور فقط شہوات وانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی نقطہ نظر سے اسے ایک گری ہوئی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ نیز عربی معاشرے میں جنسی اعتبار سے بھی بڑی بےقاعدگی اور افراتفری پائی جاتی تھی اور نظام خاندانی میں ثبات نہ تھا جس طرح اس سورة میں ہم نے تفصیلات دی ہیں۔ پھر جاہلیت کے زمانے میں عورت کی صنف کی طرف نہایت گری ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور ذوق جمال بھی نہایت گرا ہوا تھا۔ ننگے اجسام کی طرف زیادہ توجہ تھی اور اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق جمال مفقود تھا۔ زمانہ جاہلیت کے اشعار کے اندر یہ خصوصیات اچھی طرح نظر آتی ہیں جو عورت کے جسم خصوصا عورتوں کے اندامہائے نہانی کے بارے میں تھیں اور پھر نہایت ہی عریاں افعال اور معانی سے متعلق اشعار سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ جب اسلام آیا تو اس نے عورت کو معاشرے میں ایک باعزت مقام دیا اور مرد اور عورت کے درمیان تعلق کے معاملے میں انسانی پہلو کو زیادہ اہمیت دی۔ کیونکہ مرد اور عورت کا تعلق محض جسمانی بھوک کو فرو کرنے ہی کا تعلق نہیں ہوتا اور نہ خون اور گوشت کے جوش کو ٹھنڈا کرنا مطلوب ہوتا ہے بلکہ مرد اور عورت کا تعلق دراصل دو انسانی شخصیات کا اتصال ہے جن کو نفس واحد سے پیدا کیا گیا ہے اور ان کے درمیان محبت اور شفقت پیدا کی گئی ہے۔ ان کے ملاپ کی وجہ سے دونوں کو راحت اور سکون ملتا ہے اور دونوں کے ملاپ کا ایک ہدف مقرر ہے اور اس وقت سے مقرر ہے جب سے اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ پھر اس کا مقصد زمین کی آبادی ہے۔ اس میں انسان نے سنن الہیہ کے مطابق جو فرائض ادا کرنے ہیں ، ان کا ادا کرنا ہے۔ اسلام نے خاندانی تعلقات کو لیا اور خاندانی تعلقات کو اس طرح منظم کیا کہ اسلام کی اجتماعی تنظیم کے لیے اسے اساس بنایا اور پھر خاندان کو ایک ایسی نرسری قرار دیا جس کے اندر آیندہ نسلوں کے لیے پودے تیار ہوتے ہیں اور اس نرسری کی نشوونما اور ارتقا اور تربیت کے لیے تمام ضروریات فراہم کیں اور اسے بچانے ، پاک و صاف رکھنے کے انتطامات کیے ، خصوصاً نئی نسل کے شعور اور خیالات کو پاک و صاف رکھنے کے لیے۔ اسلام کے نظام قانون میں خاندانی نظام کی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ قانون سازی کی گئی ہے اور قرآن کریم کی کئی آیات اس کے لیے مخصوص ہیں۔ قانونی اقدامات کے علاوہ بھی اسلام کے نظام اجتماعی کے اس ابتدائی یونٹ کو محفوظ کرنے کے لئے اسلام نے مسلسل ہدایات دی ہیں ، خصوصاً اس یونٹ کی روحانی تطہیر کے لیے اور اس میں دو اصناف کے جنسی تعلق کے زوایہ سے ، اس تعلق کو عریانی ، بےراہ روی سے پاک کیا گیا اور محض جسمانی ملاپ کے لیے بھی سخت ہدایات دی گئیں۔ اس سورة میں بھی اجتماعی تنظیم اور خاندانی نظام کی پختگی کے لیے آیات کا ایک بڑا حصہ وقف ہے۔ آیات زیر بحث میں نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کو خطاب ہے۔ ان کا نبی ﷺ کے ساتھ تعلق ، ان کا لوگوں کے ساتھ تعلق ، ان کا اللہ کے ساتھ تعلق ، اور ان کے بارے میں اللہ کے ارادے کا ذکر کیا گیا ہے۔ انما یرید اللہ لذھب ۔۔۔۔۔ ویطھرکم تطھیرا (33: 33) (اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے “۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہی کہ وہ کون سے وسائل ہیں جن کے ذریعہ اللہ نبی ﷺ کے اہل بیت کو پاک کرنا چاہتے ہیں اور اہل بیت کیلئے ان کو لازمی قرار دیتے ہیں جبکہ ازواج مطہرات نبی ﷺ کی بیویاں ہیں اور وہ اس زمین کی تمام عورتوں سے زیادہ پاک ہیں۔ ظاہر ہے کہ تمام دوسری عورتیں ان وسائل اور ان اقدامات کی بہت زیادہ محتاج ہیں۔ کیونکہ اگر ازواج مطہرات کو ان وسائل کی ضرورت تھی جو نبی ﷺ کے گھر میں رہتی تھیں تو دوسری بیویوں کو ان کے بدرجہ اتم ضرورت ہے۔ پہلا وسیلہ یہ ہے کہ ازواج مطہرات کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ تم نہایت ہی اونچے مرتبہ اور منصب اور مقام پر فائز ہوچکی ہو۔ تم تمام نساء عالم سے بلند مرتبہ ہو ، لہٰذا سب سے پہلے تم اپنے اس مقام بلند کا خیال رکھو اور اس کے تقاضے پورے کرو۔ ینسآء النبی لستن کا حد من النکآء ان اتقیتن (33: 32) ” نبی ﷺ کی بیویو ، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو “۔ اگر تم خدا کا خوف کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہ رہو گی۔ تم تو ایسے مقام پر بیٹھی ہو جو قابل رشک ہے اس میں تمہارے ساتھ عام عورتیں شریک نہیں ہیں ، اور نہ تم اس میں کسی کو شریک کرتی ہو۔ لیکن یہ امتیاز تمہیں تقویٰ سے حاصل ہوگا کیونکہ محض نبی ﷺ کے ساتھ قرابت داری کچھ چیز بھی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کے ساتھ اس قرابت داری کے تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے خود اپنے نفوس کے اندر۔ یہ وہ دو ٹوک سچائی ہے جس کے اوپر یہ دین قائم ہے۔ اس کا اعلان رسول اللہ ﷺ نے اپنے رشتہ داروں کے سامنے کردیا کہ لوگو ، تمہیں رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری کہیں دھوکہ میں نہ ڈالے۔ کیونکہ رسول خدا ﷺ تمہارے معاملے میں کچھ اختیارات نہیں رکھتے۔ ” اے فاطمہ بنت محمد ! اے صفیہ بنت عبد المطلب ! اے اولاد عبد المطلب ! میں تمہارے حق میں اللہ کے ہاں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ جہاں تک میرے مال کا تعلق ہے ، اس کے بارے میں تم جو چاہتے ہو ، مجھ سے مانگ لو “۔ (مسلم) دوسری روایت میں ہے ” اے اہل قریش ، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے اولاد بنی کعب اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے فاطمہ بنت محمد ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ! خدا کی قسم میں اللہ کے ہاں تمہارے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ ہاں میرے ساتھ تمہاری قرابت ہے اور اس کا حق میں ادا کرتا رہوں گا “۔ (مسلم ترمذی) جب ان کو ان کی منزلت اور مقام سے آگاہ کردیا گیا کہ اس مقام تک وہ صرف تقویٰ سے پہنچ سکتی ہیں تو اب اللہ تعالیٰ وہ ذرائع بیان فرماتے ہیں جن کے ذریعہ اللہ اہل بیت نبی کو مکمل طور پر پاک و صاف کرنا چاہتے ہیں اور ان کی مکمل تطہیر پیش نظر ہے۔ فلا تحضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض (33: 32) “ تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ دل کی خرابی میں مبتلا کوئی شخص لالچ میں نہ پڑجائے “۔ اللہ ازواج مطہرات کو پہلا حکم یہ دیتے ہیں کہ جب ان کو غیر محرم لوگوں سے بات کرنا پڑے تو ان کی زبان میں وہ لچک نہیں ہونا چاہئے کہ جو نرم اور دبی زبان میں بات کریں تو سننے والے کے لیے شہوت انگیزی کا باعث ہو۔ کیونکہ بالعموم نرم باتوں سے مردوں کو اشتہا پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کے اندر تحریک ہوتی ہے اور بیمار دل اور کمزور اخلاق کے لوگ برے خیالات دلوں میں لاسکتے ہیں۔ ذرا یہاں غور کریں کہ وہ کون خواتین ہیں جن کو اللہ یہاں ڈرا رہا ہے۔ یہ ازواج مطہرات ہیں۔ امہات المومنین ہیں جن کے بارے میں کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طمع کرسکتا ہے اور نہ کسی بیمار کی بیماری کا اثر ان پر پڑ سکتا ہے۔ بظاہر انسان یہی سوچ سکتا ہے۔ پھر یہ تنبیہ کس دور میں ہے ؟ نبی ﷺ کے دور میں ، ان ممتاز اور برگزیدہ صحابہ کرم کے دور میں جن کے معیار کے لوگ نہ پہلے گزرے اور نہ بعد میں ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس خدا نے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا وہ تو جانتا تھا کہ عورت اگر دبی اور نرم زبان میں نازو انداز سے بات کرے تو لوگوں کے دلوں میں غلط خیالات پیدا کرسکتی ہے اور دلوں میں فتنہ پیدا ہوسکتا ہے۔ خصوصاً وہ دل جو پہلے سے مریض ہوں وہ تو فوراً اشتعال میں آسکتے ہیں اور یہ مریض دل ہر دور اور عہد میں موجود ہوتے ہیں۔ ہر معاشرے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اور ایسے مریض ہر عورت کی طرف مائل ہو سکتے ہیں چاہے وہ نبی آخر الزمان کی زوجہ محترمہ ہو امہات المومنین میں سے ہو۔ کوئی ماحول اس وقت تک پاک اور صاف نہیں ہوسکتا جب تک گندگی کے اسباب کا سدباب نہ کیا جائے۔ اور ہم آج جس معاشرے میں رہتے ہیں ، اس کا حال کیا ہے ؟ یہ معاشرہ پہلے سے مریض ، ناپاک اور گرا ہوا ہے جس میں قدم قدم پر فتنے ہیں۔ ہر طرف شہوت انگیزیاں ہیں ، خواہشات پھڑ پھڑاتی پھرتی ہیں۔ اس ماحول میں ہمیں کیا کرنا چاہئے جس میں ہر طرف سے شہوت کو اٹھایا جاتا ہے ، جگایا جاتا ہے ، اور جنس کو گرم سے گرم تر کیا جاتا ہے۔ اس معاشرے اور اس زمانے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ہمارا دور جس میں عورتوں کا لہجہ نہایت لوچ دار ، جن کی آواز نہایت ہی مائع ، نسوانیت کے تمام فتنے مجتمع کیے ہوئے ، جنسی کشش کے تمام فتنے پیدا کیے ہوئے ، نہایت ہی خوش الحافی اور فتنہ سامانی کے ساتھ ہر جگہ حاضر۔ ایسی عورتیں کہاں پاک ہیں اور پاکی کی فضا کہاں ہے۔ یہ تو اپنی حرکات ، اپنی آواز اور اپنی عریانی کے ذریعہ ان تمام گندگیوں میں ملوث ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ازواج مطہرات کو پاک کرنا چاہتے ہیں اور جس سے اللہ اپنے مختار بندوں کو پاک کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں عریانی اور اختلاط کس قدر خطرناک ہے ! وقلن قولا معروفا (33: 32) ” بلکہ صاف سیدھی بات کرو “۔ پہلے ان کو نرم اور لوچدار آواز سے منع کیا گیا اور اب یہاں کہا گیا کہ وہ سیدھی سادی بات کریں معروف طریقے کے مطابق۔ جس طرح عام طور پر ایک اجنبی مرد اور اجنبی عورت ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ ان باتوں میں کوئی منکر بات نہ ہو۔ بعض اوقات نرم لہجے سے زیادہ موضوع گفتگو بھی بےراہ روی پر آمادہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا کسی اجنبی مرد اور عورت کے درمیان لب و لہجے کا اشارہ بھی نہ ہو۔ نہ ان کے درمیان گپ شپ ہو ، نہ مزاح اور غیر سنجیدہ گفتگو ہو ، تاکہ اس کے نتیجے میں کچھ دوسرے امور کی طرف میلان نہ ہو ، اور قریباً یا بعید ! لوگ غلط راستوں پر نہ پڑجائیں۔ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور اپنی مخلوق کے مزاج اور طبیعت کے بارے میں بہت ہی اچھا جانتا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو امہات المومنین کو یوں مخاطب کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے دور کے اجنبی لوگوں کے ساتھ اس انداز میں گفتگو کریں جبکہ وہ خیر القرون تھا۔ وقرن فی بیوتکن (33: 33) ” اور اپنے گھروں میں وقار سے رہو “۔ قرن ، وقریقر سے ہے معنی ہیں بھاری ہوا ، اپنی جگہ پر ٹھہر گیا۔ اس کے لغوی معنی یہ نہیں کہ گھروں کے اندر بندر ہیں اور گھروں سے باہر ہی نہ نکلیں۔ یہ ایک لطیف اشارہ ہے اس طرح کی عورت کی اصل جگہ اسکا گھر ہے۔ یہ ان کا مقر ہے اور اس کے سوا وہ اگر کہیں پائی جائیں تو وہ عارضی حالت ہوگی اور استثنائی صورت ہوگی۔ اس پر وہ قائم و دائم نہیں رہیں گی۔ باہر محض ضرورت سے نکلنا ہوگا۔ بیت اور گھر عورت کا وہ مستقر اور جائے آرام ہے جو اللہ نے اس کے لیے ازروئے تخلیق و فطرت پسند فرمایا ہے۔ جس میں وہ اپنی فطرت سے منحرف نہیں رہتی ، غلط کاریوں میں ملوث نہیں ہوتی اور جہاں وہ ان مشقت آمیز فرائض میں نہیں جتی ہوتی ازروئے فطرت اس کے لیے تیار نہیں کیے۔ جہاں وہ اس کام میں لگی ہوتی ہے جس کے لیے دراصل اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ ” اس لیے کہ اسلام گھر کے لیے ایک مخصوص فضا مہیا کر دے اور تاکہ بچوں کی پرورش اس فضا میں خوب سے خوب تر ہو سکے۔ اللہ نے مرد پر بیوی کا نفقہ لازم کیا ، اور اسے لازمی قرار دیا تاکہ ماں کو معاشی جدوجہد نہ کرنا پڑے اور اسے محنت و مزدوری میں وقت نہ لگانا پڑے ، وہ پوری طرح مطمئن ہو کر بچوں کی تربیت کرسکے اور گھر کے نظام اور سخاوت اور خوشی کو دوبالا کرسکے۔ وہ عورت جو محنت کرکے تھکی ہاری ہوئی ہوتی ہے ، جسے اپنی ملازمت کے فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں اور جس کے اوقات اور مصروفیات بیرون خا نہ ہوں اور اس کی قوتیں وہاں خرچ ہوتی ہوں ، اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ گھر کو خوشیاں دے سکے۔ اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ ناتواں بچوں کی پوری تربیت کرسکے۔ جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں ، ان کے گھر ، ہوٹل اور بیکریوں سے زیادہ کوئی مقام نہیں رکھتے۔ ان کے اندر وہ کشش نہیں ہوتی جو گھر میں ہوتی ہے۔ حقیقی گھر تو وہ ہوتا ہے جس کی تخلیق ایک گھریلو عورت کرتی ہے اور گھر کی کشش بھی وہی ہوتی ہے جس کا منبع ایک اچھی بیوی ہو۔ گھر کی محبت کا سرچشمہ ماں ہوتی ہے۔ وہ بیوی ، وہ ماں یا وہ عورت جو اپنا وقت ملازمت میں گزارتی ہے وہ گھر کو تنگی اور حزن و ملال کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتی “۔ (اسلام اور عالمی سلامتی) ” عورت کا گھر سے نکلنا کسی گھرانے کے لئے بہت ہی بڑا حادثہ ہوتا ہے اور کبھی کبھار اس کی حقیقی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن اگر کسی کو ضرورت نہ ہو تو اس صورت میں یہ عقل و خرد کے لیے ایک لعنت ہے اور اس کا رواج ان زمانوں میں ہوا جن میں شروفساد اور بےراہ روی اور گمراہی بڑھ گئی اور انسانیت نے ہزیمت اختیار کرلی “۔ (ایضا) رہا عورت کا بغیر کسی ضرورت کے یا بغیر کسی ملازمت کے گھر سے نکلتا اور مرد و زن کا بازاروں اور گلیوں میں اختلاط اختیار کرنا تو یہ وہ ہزیمت ہے جس کے بعد انسانیت گندگی کے دلدل میں گر جاتی ہے اور انسان حیوان کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں عو رتیں نماز کے لیے نکلتی تھیں اور اب بھی شرعا اس کی ممانعت نہیں ہے۔ لیکن وہ ایک ایسا دور تھا جس میں لوگ عفت اور پاکیزگی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔ لوگوں کے اند خدا خوفی تھی اور عورت نماز کے لیے پوری طرح لپٹ کر نکلتی تھی ۔ یوں کہ لوگ اسے پہچان نہ سکیں اور اس وقت خواتین اپنے مقامات فتنہ ہر گزنہ ظاہر کو تی تھیں اس کے باوجود حضرت عائشہ ؓ نے اس دور میں ان کا نکلنا ناپسند فرمایا۔ صحیحین میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا مومنین کی بیویاں حضور ﷺ کے ساتھ نماز صبح میں شریک ہوتی تھیں ۔ پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی واپس ہوتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں ۔ اور صحیحین ہی میں ان کی روایت ہے کہ اگر حضور ﷺ وہ دور پاتے جس میں عورتوں نے نئی نئی باتیں ایجاد کرلی ہیں تو ان کو اسی طرح منع فرماتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے دور میں عورتوں نے کیا نیا فیشن اختیار کرلیا تھا ؟ اور وہ کیا تبدیلیاں تھیں کہ اگر حضور ﷺ دیکھتے تو عورتوں کو نماز سے منع کردیتے ۔ ذرا قیاس کرو کہ یہ خیر القرون تھا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ولا تبرجن تبرجن الجاھلیۃ الاولی (33: 33) ” اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو “۔ یعنی جب کوئی تم میں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو۔ اس سے قبل گھروں میں ٹک کر رہنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ جاہلیت کے دور میں عورتیں زیب وزینت کی نمائش کرتی تھیں لیکن روایات میں اس سج دھج کی جو صورتیں مروی ہیں وہ سب کی سب بہت سادہ اور سنجیدہ ہیں۔ آج کے دور میں عورتوں نے جو عریانی اختیار کر رکھی اس کا دور جاہلیت سے بھی کوئی موازنہ نہیں ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ” جاہلیت میں عورتیں نکلتی تھیں اور مردوں کے اندر پھرتی تھیں یہ تھا تبرج جاہلیہ “۔ قتادہ کہتے ہیں ” یہ ناز و انداز سے چلتی تھیں ، اس سے منع کیا گیا “۔ مقاتل ابن حیان کہتے ہیں ” عورتیں سروں پر دوپٹہ ڈالتی تھیں ، اور اسے یوں نہ لپیٹتی تھیں کہ وہ گردن کے زیورات کو ڈھانپ لے یا کانوں کے زیورات چھپالے اس وقت گردن کا زیور اور کان کا زیور ظاہر ہوتے تھے “ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” عورت مردوں میں اس طرح نکلتی کہ اس کا سینہ کھلا ہوتا ، اور اس کے اوپر کچھ نہ ہوتا ، بعض اوقات اس کی گردن اور بالوں کی مینڈھیاں ننگی ہوتیں اور کان کے بندے بھی ظاہر ہوتے۔ اللہ نے مومنات کو حکم دیا کہ وہ ان چیزوں کو ظاہر نہ کریں۔ یہ تھی جاہلیت کی سج دھج اور قرآن اس وقت کے برے آثار سے اسلامی معاشرے کو پاک کرنا چاہتا تھا تاکہ فتنے کے تمام عوامل اسلامی معاشرے سے ناپید ہوجائیں اور اسلامی معاشرے کے آداب ، تصورات اور اس کا اجتماعی شعور اور ذوق بلند اور پاکیزہ ہو۔ ہم نے اسلامی معاشرے کی تطہیر میں ” ذوق “ کی تطہیر کو بھی شامل کیا ہے کیونکہ جسم انسانی کو ننگا دیکھنا ایک ایسا ذوق ہے ، جو نہایت ہی غلیظ اور پسماندہ ذوق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ذوق سنجیدہ اور مستقل اور منظم ذوق جمال کے مقابلے میں بددیانہ ہے۔ اس بددیانہ ذوق میں روح ، عفت اور شعور کا ذوق مفقود ہوتا ہے۔ یہ کہ اسلامی معیار انسانی سطح کو بلند کرتا ہے اور انسان کو ترقی یافتہ بناتا ہے۔ سنجیدگی اور وقار اپنی جگہ ایک خوبصورتی ہے۔ یہ حقیقی حسن ہوتا ہے لیکن اس حقیقی حسن کے ادراک و شعور سے سطحی اور جاہلی ذوق محروم ہوتا ہے۔ کیونکہ گرے ہوئے جاہلی ذوق کے مطابق حسن صرف گوشت و پوست میں ہوتا ہے اور جاہلی ذوق کا داعیہ یہی ذوق ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی یہ آیات یہاں جاہلی سج دھج کی طرف اشارہ کرکے یہ بتاتی ہیں کہ یہ گری ہوئی جاہلیت کی باقیات ہیں اور جو لوگ جاہلیت کے دور کو لے کرکے آگے بڑھ گئے ہیں وہ اس معیار سے بلند ہوجاتے ہیں اور ان کا شعور اور ان کا ذوق جمال بھی جاہلیت کی سطح سے بلند ہوتا ہے۔ جاہلیت کسی متعین زمانے کا نام نہیں ہے۔ زمانہ جاہل نہیں ہوتا ، لوگ جاہل ہوتے ہیں ۔ جاہلیت ایک حالت کا نام ہے۔ اس میں لوگوں کے خاص تصورات ہوتے ہیں اور یہ حالت ، یہ تصورات اور یہ رسم و رواج ہر زمان و مکان میں ہو سکتے ہیں۔ اس معیار کے مطابق ہم آج دور جاہلیت میں ہیں۔ بالکل اندھی جاہلیت میں۔ جس کا احساس غلیظ ہے ، شعور غلیظ ہے جس کے تصورات حیوانی ہیں اور مقام انسانی سے فروتر گندگی میں لت پت مقام کو یہ شعور پسند کرتا ہے۔ جس کے اندر کوئی طہارت ، پاکیزگی اور برکت نہیں ہوتی۔ انسانیت اس میں ڈولی ہوئی ہے اور وہ اس معیار کے مطابق تطہیر نہیں چاہتی جس کے مطابق اسلام انسانی معاشرے کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ اسے جاہلیت اولیٰ کے باقیات کو زائل کرنا چاہتا ہے اور یہ کام قرآن اور اسلام نے اہل بیت نبوی ﷺ سے شروع کیا ہے تاکہ وہ عام مسلمانوں کے لیے طہارت ، لطافت اور روشنی کا مینار ہو۔ قرآن کریم نبی ﷺ کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ یہ اقدامات کریں۔ ازواج مطہرات کے دلوں کو اللہ سے جوڑ دیں ، اور ان کا نصب العین بلند افق پر متعین کردیں۔ نہایت روشن ، نہایت پاکیزہ اور یوں وہ اس روشن مینار تک بتدریج بلند ہوجائیں۔ واقمن الصلوۃ واتین الزکوۃ واطعن اللہ ورسولہ (33: 33) ” نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو “۔ اللہ کی بندگی اجتماعی طرز اور اجتماعی اخلاق کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اللہ کی بندگی وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ انسان اعلیٰ اور بلند اخلاقی اور اجتماعی سطح تک بلند ہو سکتا ہے۔ اللہ کی بندگی ہی سالک کے لیے زاد راہ ہے۔ سالک کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی بندگی کے لیے مدد لے۔ لہٰذا اللہ سے تعلق کی ضرورت ہے جہاں سے انسان کو مدد ملے اور اللہ کے ساتھ ایسے تعلق کی ضرورت ہے جس سے دل صاف اور پاک ہوتا رہے۔ اللہ کے ساتھ ایسے مضبوط رابطے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے متعارف طرز عمل سے اور موجودہ معاشرے کے رسم و رواج سے بالا ہوجائے۔ اس کے اندر یہ سوچ اور یہ شعور ہو کہ اللہ سے رابطہ لوگوں اور پورے معاشرے اور اپنے خاندان سے اعلیٰ وارفع ہے۔ اس تعلق کی وجہ سے انسان میں یہ جذبہ پیدا ہو کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی تعلق باللہ کی طرف دعوت دے۔ یہ نہ ہو کہ ایک شخص اسلام کی روشنی سے خبردار ہوتے ہوئے بھی دوسرے لوگوں کا پیرو کار بن جائے اور وہ اس کی قیادت ظلمت اور تاریکی کی طرف کریں جو عموماً اللہ سے تعلق کٹ جانے کی وجہ سے ہر طرف چھا جاتی ہے۔ اسلام ہی ہر قسم کے مراسم عبودیت ، ہر قسم کے اخلاق و آداب ، ہر قسم کے قوانین اور ہر قسم کے دستوری انتظامات کا حامل دین ہے۔ یہ تمام امور ایک نظریہ حیات کے فریم ورک کے اندر ہیں اور یہ تمام امور اس فریم ورک میں رہتے ہوئے اسلامی نظریہ حیات کے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ یہ سب شعبے باہم توافق کے ساتھ ایک ہدف کی طرف بڑھتے ہیں اور اسی ہم آہنگی اور توافق سے دین اسلام کا مجموعی ڈھانچہ تیار ہوتا ہے۔ ان تمام عناصر کی موجودگی اور توافق کے بغیر یہ دین ہرگز قائم نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکم دیا گیا کہ تم نماز کو قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے اندر تمام شعوری سمت ، تمام اخلاقی ہدایات ، ہر قسم کا طرز عمل ، خاندان اور اجتماعی معاملات میں رویہ سب کے سب سمٹ آتے ہیں۔ کیونکہ اسلام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک کوئی ان کو قائم نہ کرے اور یہ مجموعی اطاعت شعاری ایک خاص مقصد کے لیے ہے۔ انما یرید اللہ لیذھب ۔۔۔۔۔ تطھیرا (33:33) ” اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی ﷺ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے “۔ اس تعبیر میں کئی اشارات ، سب کے سب محبت ، شفقت ، وارفتگی اور نرمی سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ ” تم اہل بیت نبی “ ہو۔ اہل بیت میں تصریح تو نہیں لیکن نبی کے گھر کی طرف اشارہ ہے۔ گویا دنیا میں یہی ایک عظیم گھرانا ہے اور یہ گھرانا اس صفت کا مستحق ہے۔ جب ” البیت “ کہہ دیا تو گویا مراد بیت النبی ہے۔ یہی اشارات خانہ کعبہ کے بارے میں قرآن میں ہوتے ہیں۔ اسے بھی ” البیت “ ” البیت الحرام “ کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں بیت نبی کو بھی البیت کہا گیا۔ گویا یہ عظیم گھرانا ہے ، یہی گھرانا ہے۔ اور پھر یہ تعبیر کہ اے اہل بیت تم سے اللہ گندگی کو پوری طرح دور کرکے صاف کرنا چاہتا ہے یعنی نبی کے گھرانے کو پاک کرنے کا کام خود اللہ نے سنبھال لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور کسی گھر کی تطہیر کے کام کی ذمہ داری خود لیتا ! گویا یہ اہل بیت نبی کا نہایت ہی بلند مرتبہ ہے۔ یہ وہ ذات کہہ رہی ہے جس نے پوری کائنات کو کن فیکون سے بنا دیا۔ اور وہ عزیز و جبار اور علی کل شئ قدیر ہے اور وہ اس کام کو کرنا چاہتا ہے تو یہ اہل بیت کے لیے بڑا اعزاز بھی ہے۔ یہ بات اللہ اپنی اس کتاب میں کہہ رہے ہیں جو آسمانوں پر پڑھی جاتی ہے۔ زمین پر پڑھی جاتی ہے۔ ہر دور اور ہر جگہ پڑھی جاتی ہے اور جس کی پیروی ہر دور میں کئی ملین لوگ کرتے چلے آئے ہیں اور جس کی تلاوت ہر وقت کئی ملین لوگ کرتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ یہ اوامر اور یہ ہدایات یہاں تطہیر اور پاکی کا وسیلہ بنائے جا رہے ہیں اور ان کے ذریعہ اس گھرانے کو پاک کرنا مقصود ہے۔ تطہیر تطہر سے ہے ، گندگی تب دور ہوتی ہے جب کوئی ایسے وسائل اختیار کرے جس سے وہ دور ہو اور یہ کام لوگ خود کریں اور اپنی عملی زندگی کی تطہیر کریں۔ لوگوں کے اندر پاکیزگی کا شعور ہو اور وہ متقی ہوں ، ان کا طرز عمل پاکیزہ ہو۔ وہ پوری طرح اسلام میں داخل ہو کر اپنی زندگی کا رخ اسلام کی طرف کردیں اور اس کے اہداف اسلامی ہوں۔ اور یہ بحث نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کو مزید ہدایات پر ختم ہوتی ہے کہ ازواج مطہرات کو پھر یاد دلایا جاتا ہے کہ تمہارا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ دوسری عورتوں سے تم ممتاز ہو۔ اس لیے کہ تم سرورکونین ﷺ کے گھرانے کی فرد ہو۔ تمہارے گھروں کے اندر قرآن نازل ہو رہا ہے۔ جو حکمت و دانائی پر مشتمل ہے۔ گویا تمہارے گھر حکمت و دانائی کے مقامات نزول ہیں۔ نور ہدایت اور ایمان کی بارشیں وہاں ہو رہی ہیں۔ واذکرن ما یتلی فی ۔۔۔۔۔ کان لطیفا خبیرا (33: 34) ” یاد رکھو ، اللہ کی آیات اور حکمت کی ان باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بیشک اللہ لطیف اور باخبر ہے “۔ یہ وہ بلند مرتبہ ہے جس کا ان کو یاد دلانا ہی کافی ہے۔ ہر کوئی اس مرتبہ بلند کو محسوس کرتا ہے۔ یہ اللہ کا دیا ہوا بہت بڑا مقام ہے اور وہ انعام ہے جس کے برابر کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ نصیحت اس خطاب اور تقریر کے آخر میں دہرائی جاتی ہے جو ازواج مطہرات کے سامنے اس وقت کی گئی جب ان کو اختیار دیا جاتا تھا کہ تمہیں اختیار ہے کہ تم دنیا اور اس کی زوال پذیر آرائشوں کو پسند کرتی ہو یا اللہ اور رسول اللہ اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہو۔ دکھایا جاتا ہے کہ غور کرلو ، اللہ نے تمہیں بہت ہی بڑی نعمت دی ہے اور یہ پوری زندگی اس کے مقابلے میں کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ نبی کے گھرانے کے بعد اب اسلامی سوسائٹی کے اندر تطہیر کے اسباب بھی نہایت تفصیل اور باریکی کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں مرد اور عورتیں دونوں برابر ہیں۔

الأحزاب 33:35

ان المسلمین والمسلمت ۔۔۔۔۔۔ مغفرۃ واجرا عظیما (35) یہ تمام صفات جو اس آیت میں جمع کردی گئی ہیں یہ نفس انسانی کی تربیت اور تشکیل میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ صفات کیا ہیں ، اسلام ، ایمان ، اطاعت امر ، راست بازی ، صبر ، اللہ کے آگے جھکنا ، صدقہ دینا ، روزے رکھنا ، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنا اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنا۔ یہ تمام صفات ایسی ہیں کہ انسان کی شخصیت کی تعمیر اور کردار کی تشکیل میں بہت اہم ہیں اسلام سر تسلیم ختم کردینے کا نام ہے ، ایمان کے معنی یقین اور تصدیق کے ہیں اور ان کے درمیان بہت گہرا تعلق ہے۔ ہر ایک دوسرے کے لیے ایک شکل ہے۔ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردینے کا مطلب انتہائی اور گہری تصدیق ہے۔ اور جہاں سچی تصدیق ہو وہاں سر تسلیم خم کرنا کود بخود پایا جاتا ہے۔ قنوت کے معنی اطاعت امر کے ہیں لیکن اس اطاعت کے پیچھے ایمان اور اسلام موجود ہو۔ یہ اطاعت اور اس کا داعیہ اندر سے ہو ، محض جبر یہ نہ ہو۔ خوشی سے ہو ، اکراہ سے نہ ہو۔ صدق ایک مسلمان کی عمومی صفت ہے اور ایک عمومی لباس ہے۔ اور جو سچا نہ ہو وہ امت مسلمہ سے خارج تصور ہوتا ہے۔ دوسری جگہ ہے۔ انما یفتری الکذب الذین لا یومنون بآیات اللہ ” جھوٹ وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے “۔ جھوٹا اسلامی صفوں سے نکال دیا جاتا ہے کیونکہ امت کی صف سچوں کی صف ہے۔ صبر وہ صفت ہے جس کے سوا ایک مسلم اور مومن اپنے فرائض سرانجام دے ہی نہیں سکتا۔ مومن ہر وقت صبر کا محتاج ہے ، قدم قدم پر۔ نفسانی خواہشات پر صبر ، دعوت اسلامی کی راہ میں مشکلات پیش آنے پر صبر۔ لوگوں کے اذیت دینے پر صبر۔ دلوں کی کمزوریوں ، دلوں کی تلون اور کجی پر صبر ، ابتلاء ، امتحان اور مشکلات پر صبر ، خوشی اور غم پر صبر۔ غرض ہر صورت میں صبر اور سنجیدگی ایک مشکل اور ضروری کام ہے۔ خشوع اور خشیت دلی اور ظاہری اعضاء دونوں کی صفت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قلب اور اعضاء دونوں اللہ کی کبریائی ، اللہ کی ہیبت اور عظمت کو محسوس کر رہے ہوں اور اللہ سے ڈرتے ہوں۔ روزہ کو بھی مومن کی صفت قرار دیا گیا ہے ۔ اشارہ اس طرح ہے کہ روزہ رکھنا اور اس کا انتظام اور استقبال کرنا مومنین کی صفات میں سے ہے۔ روزہ کے ذریعہ خواہشات ، ضروریات کی چاہت کو ایک محدود وقت کے لیے روکنا مطلوب ہوتا ہے اس میں صبر بھی شامل ہے۔ قوت ارادی کی پختگی بھی مطلوب ہے اور انسانی صفات کا حیوانی صفات پر غلبہ مطلوب ہے۔ حفظ فروج ، شرم گاہوں کی حفاظت کرنا ، اور اس طرح پاکیزگی اختیار کرنا اور گہرے فطری میلانات پر قابو پائے رکھنا جو انسانی ذات کا حصہ ہوتے ہیں اور اس کے اندر گہرائی تک موجود ہوتے ہیں ۔ یہ میلانات اس قدر قوی ہوتے ہیں کہ ان پر قابو وہی لوگ پاسکتے ہیں جن کو اللہ کی نصرت اور معاونت حاصل ہو۔ پھر اس کے ذریعہ سوسائٹی میں مردوزن کے باہم تعلق کی تنظیم بھی مطلوب ہے۔ اور انسان کو اعلیٰ اور ارفع مقاصد کی طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے۔ مرد اور عورتوں کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنے جنسی میلانات اور خواہشات کو شریعت کے تابع بنائیں۔ اس میں بہت بلند حکمت کار فرما ہے اور انسان اس ضابطہ کی پابندی سے اس زمین پر اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرسکتا ہے۔ اللہ کا ذکر کثیر۔ یہ وہ صفت ہے جس سے انسان کی پوری زندگی مربوط ہوجاتی ہے۔ زندگی کے اعمال نظریہ حیات سے مربوط ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک انسان کا دل بر وقت اس بات کا شعور رکھتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اس نے اللہ کی رسی اور رابطہ مضبوطی سے پکڑا ہوتا ہے۔ اس کا کوئی خیال ، کوئی تصور اور عمل اس رابطے سے باہر نہیں ہوتا۔ پھر اللہ کی یاد سے اس کا دل نور ربانی سے منور ، پاک اور صاف ہوتا ہے۔ ایسے انسان کی پوری زندگی صاف ستھری اور روشن ہوتی ہے۔ جن لوگوں میں یہ صفات جمع ہوجائیں وہ مل کر ایک ایسی شخصیت بناتی ہیں جو ایک کامل شخصیت ہوتی ہے ۔ اس دنیا میں بھی ممتاز اور آخرت میں۔ اعد اللہ لھم مغفرۃ واجرا عظیما (33: 35) ” اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے “۔ یوں ان آیات نے ایک مسلم اور مسلمہ کی شخصیت کے بنیادی عناصر یہاں گنوائے ہیں۔ یہ آیت ان ہدایت کے بعد آئی ہے جو اس سبق کے آغاز میں نبی ﷺ کو دی گئیں۔ یہاں مردوں کے ساتھ ساتھ خصوصاً عورتوں کا بھی ذکر کیا گیا تاکہ یہ بتایا جائے کہ بحیثیت مسلمان اور انسان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور معاشرے میں جو اسلامی حیثیت مرد کی ہے وہ عورت کی بھی ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات ، ایمان ، عبادت ، اخلاق اور زندگی کے ہر طرز عمل میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے۔

الأحزاب 33:36

درس نمبر 191 ایک نظر میں یہ سبق بھی اسلامی سوسائٹی اور اسلامی جماعت کے درمیان باہم روابط کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔ یہ سبق دراصل اسلامی سوسائٹی سے رسم تنبیت کو ختم کرنے اور نئے اسلامی معاشرے میں روابط کو اپنے حقیقی اصولوں پر قائم کرنے کیلئے ہے۔ اللہ نے اس رسم کو ختم کرنے کے لئے ، اس کا عملی آغاز خود نبی ﷺ سے کرایا۔ اہل عرب کے اندر یہ رواج تھا کہ جس طرح بیٹے کی مطلقہ حرام ہوتی ہے اسی طرح معبنی (منہ بولے بیٹے) کی مطلقہ بھی اس شخص پر حرام سمجھی جاتی تھی۔ اسلامی معاشرے میں معبنی کی مطلقہ عورت کو حلال قرار دینے کے لیے کسی مثال اور نظیر کا پایا جانا ضروری تھا۔ کسی مثال کے بغیر محض قانون بنانے سے یہ تبدیلی ممکن نہ تھی۔ چناچہ اللہ نے اس غرض کیلئے رسول اللہ ﷺ کا انتخاب کیا اور یہ اس قدر عظیم بوجھ تھا جس طرض رسالت کا بوجھ ہوتا ہے۔ اس واقعہ کا جو رد عمل ہوا اس نے ثابت کردیا کہ رسول اللہ کے سوا کوئی اور شخص اس رسم کو نہیں توڑ سکتا تھا۔ یہ رسم معاشرے میں بہت سی گہری جڑیں رکھتی تھی اور آپ ﷺ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ ایسا انوکھا اور نامانوس کام کرسکے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد جو طویل تبصرہ آیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا تعلق خدا سے کیسا ہونا چاہئے۔ آپس میں کس طرح ہونا چاہئے اور ان کے درمیان نبی کے فرائض کے حوالے سے ان کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ یہ سب اقدامات لوگوں کی آسانی کے لیے کیے گئے اور اس لیے کیے گئے کہ لوگ تسلیم و رضا سے اللہ کے احکام کو دل کی خوشی کے ساتھ قبول کریں۔ اس واقعہ کے بیان سے قبل یہ اصول بیان کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم ماننا لازمی ہے۔ اگر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کوئی فیصلہ کردیں تو پھر مسلمانوں کو کسی بھی ایسے معاملے میں چوں چرا کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسم عربوں کے اندر گہری جڑیں رکھتی تھی اور اسے آسانی سے ختم کرنا ممکن نہ تھا ۔ یہ ایک سخت رسم تھی۔ درس نمبر 191 تشریح آیات 36 ۔۔۔ تا۔۔۔ 48 وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ ۔۔۔۔۔۔۔ فقد ضل ضللا مبینا (36) روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت زینب بنت جحش ؓ کے بارے میں اتری ہے۔ حضور ﷺ نے چاہا جماعت مسلمہ کے اندر جو طبقاتی فرق پایا جاتا ہے اسے پاش پاس کردیا جائے اور لوگ اسی طرح برابر ہوجائیں جس طرح ایک کنگھی کے دندانے ہوتے ہیں۔ تقویٰ کے سوا کسی کو دوسروں پر فضیلت حاصل نہ ہو۔ اس دور میں آزاد کردہ غلاموں کو ” موالی “ کہتے ہیں۔ اور یہ لوگ عام لوگوں سے ذرا کم تر سمجھے جاتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام زید ابن حادثہ ان میں سے ایک تھے۔ ان کو رسول اللہ نے معبنی بنا دیا تھا۔ حضور ﷺ نے یہ مثال قائم کرنا چاہی کہ بنو ہاشم کی ایک شریف زادی کے ساتھ اس کا نکاح کردیا جائے جو حضور ﷺ کی قریبی بھی تھی یعنی زینب بنت جحش ؓ کا نکاح زید سے کردیا جائے ، تاکہ یہ طبقاتی فرق ختم ہوجائے اور یہ کام وہ خود اپنے خاندان میں کردیں۔ یہ بات یہاں نوٹ کرنا چاہئے کہ جس طرح معبنی کی رسم پختہ اور شدید تھی اسی طرح معاشرے میں آزاد شدہ غلاموں کو بھی کم درجے کے لوگ سمجھا جاتا تھا۔ اس فرق کو بھی خود حضور اکرم ﷺ کے عملی قدم ہی سے ختم کیا جاسکتا تھا تاکہ جماعت اس کی تقلید کرے اور پوری انسانیت ایک ہی راہ پر گامزن ہوجائے۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے عوفی کی ایک روایت نقل کی ہے کہ زیر تفسیر آیت ما کان ۔۔۔۔۔ کی شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زید ابن حارثہ کے لیے ایک دوشیزہ کے لیے پیغام دینا چاہا تو آپ زینب بنت جحش اسدیہ کے پاس گئے۔ آپ نے ان کو پیغام دیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے ساتھ نکاح نہیں کرنا چاہتی۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم اس کے ساتھ نکاح کرلو۔ اس پر اس نے کہا کہ میں اس پر غور کروں گی۔ یہ بات ہو رہی تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ وما کان لمؤمن ۔۔۔۔۔۔ ورسولہ امرا (33: 36) تو اس پر زینب نے کہا رسول خدا ﷺ کیا آپ اس کو پسند کرتے ہیں کہ میرا نکاح اس کے ساتھ ہو تو حضور ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے تو یہ فیصلہ کردیا ہے۔ تو اس پر اس نے کہا اچھا مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔ میں رسول ﷺ خدا کی نافرمانی نہیں کروں گی۔ میں نے اپنے آپ کو اس کے نکاح میں دے دیا۔ ابن صیعہ نے ابو عمرہ سے ، عکرمہ سے ، ابن عباس ؓ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحش کا رشتہ زید ابن حارثہ کے لیے طلب کیا۔ اس نے اسے پسند نہ کیا اور کہا میں اس سے حسب و نسب میں برتر ہوں ، یہ ایک سخت مزاج عورت تھی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وما کان لمؤمن ولا مومنۃ (33: 36) یہی تفسیر مجاہد ، قتادہ ، مقاتل ابن حیان نے کی ہے کہ یہ آیت زینب بنت جحش کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس وقت نازل ہوئی جب حضور ﷺ نے ان کا رشتہ زید ابن حارثہ کے لیے طلب فرمایا۔ پہلے اس نے انکار کیا اور پھر قبول کرلیا۔ ابن کثیر نے تفسیر میں ایک دوسری روایت بھی نقل کی ہے کہ عبد الرحمن ابن زیاد ابن اسلم کا کہنا یہ ہے کہ یہ آیت ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابو معیط کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ صلح حدیبیہ کے بعد پہلی عورت تھی جو ہجرت کرکے آگئی تھی۔ اس نے اپنا نفس نبی ﷺ کو بخش دیا تھا۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا اچھا میں نے قبول کرلیا۔ حضور ﷺ نے اسے زید ابن حارثہ کے نکاح میں دے دیا (شاید زینب کے فراق کے بعد) اس پر یہ عورت اور اس کا بھائی ناراض ہوگئے۔ انہوں نے کہا ہم نے تو حضور اکرم ﷺ کو بخشا تھا ، انہوں نے اپنے غلام کو بخش دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وما کان لمؤمن ۔۔۔۔۔ ورسولہ امرا (33: 36) وہ کہتے ہیں ، قرآن میں اس سے بھی زیادہ جامع حکم آیا ہے النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسھم (33: 6) ” نبی تمام مومنین کے لیے ان کی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں “ انہوں نے کہا کہ پہلی آیت خاص ہے اور یہ جامع ہے۔ امام احمد نے ایک تیسری روایت بھی نقل کی ہے۔ عبد الرزاق سے ” معمر سے “ ثابت نباتی سے ، حضرت انس ؓ سے حضور ﷺ نے انصاریوں کی ایک عورت کے بارے میں جلیبیب کے لیے اس عورت کے والد کو پیغام بھیجا تو اس شخص نے کہا کہ میں اس کی ماں سے مشورہ کرتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، اچھا مشورہ کرلیں۔ یہ شخص بیوی کے پاس گیا اور اس نے اس کا تذکرہ کیا تو عورت نے کہا خدا کی قسم حضور اکرم ﷺ کو جلبیب کے علاوہ کوئی نہیں ملا۔ اور ہم نے تو فلاں فلاں کا پیغام رد کیا ہے۔ یہ لڑکی پردے میں سن رہی تھی۔ یہ شخص حضور ﷺ کی طرف نکلنے لگا کہ حضور ﷺ کے سامنے انکار کر دے۔ تو اس لڑکی نے کہا کیا تم لوگ رسول اللہ ﷺ کے حکم کو رد کر رہے ہو۔ اگر حضور ﷺ تمہارے لیے اس بات کو پسند کرتے ہیں تو منظور کرلو۔ گویا اس نے اپنے والدین سے برتر رویہ اختیار کیا۔ دونوں نے کہا یہ ٹھیک کہتی ہے تو یہ شخص حضور ﷺ کے پاس گیا کہ اگر آپ راضی ہیں تو ہم راضی ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا میں تو راضی ہوں۔ کہتے ہیں اس نے لڑکی جلیبیب کو نکاح کر کے دے یہ ایک آزاد کردہ غلام تھا۔ ہم نے یہاں تیسری روایت کو بھی نقل کردیا ہے جس کا تعلق جلیبیب سے تھا۔ کیونکہ اس کا تعلق ایک ایسی مہم سے ہے جس کے ذریعے حضور اکرم ﷺ خاندانی روایات کی ذہنیت کو توڑنا چاہتے تھے کیونکہ اسلام معاشرتی مساوات قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس مہم کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی سوسائٹی کو جدید تصورات پر استوار کیا جائے۔ اس کرہ ارض کی زندگی کے لیے اسلام نے جو قدریں وضع کیں ان کے مطابق اسلام نے لوگوں کے فضول روایاتی بندھنوں سے آزاد کرنے کا جو بیڑا اٹھایا تھا اس مہم کا تعلق اس روح سے تھا۔ بہرحال آیت کی عبارت کسی مخصوص واقعہ سے عام ہے۔ اس کا تعلق رسم تبنی کے منانے سے بھی ہوسکتا ہے۔ اس سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ معبنی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح جائز ہے اور اس واقعہ سے بھی ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ نے زینب سے نکاح کرلیا جبکہ زید نے اسے طلاق دے دی۔ اس پر مدینہ میں ایک غلغلہ بلند ہوگیا اور آج بھی بعض دشمنان اسلام اس کو بنیاد بنا کر حضور اکرم ﷺ پر تنقید کرتے ہیں۔ اسی واقعہ کے اوپر انسانوں کی تہیں چڑھاتے ہیں۔ چاہے سبب نزول وہ ہو جو ان روایات میں ایا ہے یا زینب بنت جحش کے ساتھ آپ کا نکاح ہو۔ لیکن یہ اصول بہت عام ہے کہ اللہ و رسول جو فیصلہ کردیں اس کے بعد مسلمانوں کو اس موضوع پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔ غرض اسلامی نظریہ حیات کے بنیادی عناصر میں سے یہ عنصر ایسا تھا جو پہلی جماعت مسلمہ کے دلوں میں پوری طرح بیٹھ گیا تھا۔ ان کے دلوں میں اس کا یقین آگیا تھا ، اور ان کا شعور اس میں ڈوب گیا تھا۔ یہ عنصر کیا تھا ، یہ کہ ان کے اختیار میں ، اسلام لانے کے بعد ، اب کچھ بھی نہیں رہا۔ وہ بذات خود ، ان کی تمام مملوکات ، اور ان کے جذبات سب کے سب اللہ کے اختیار میں ہیں ، وہ جس طرح چاہے ، ان کو بھر دے اور یہ کہ ان کی حیثیت وہی ہے جس طرح اس کائنات کی ہے۔ وہ اس کا حصہ ہیں۔ اور اللہ اسے جس طرح چاہتا ہے ، چلاتا ہے۔ جس طرح اللہ اس کائنات کی دوسری چیزوں کو چلاتا ہے اور اس عظیم وجود کے چلانے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو فرائض مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے مطیع ہیں۔ ان کے لیے اس عظیم اسٹیج پر جو کردار متعین کردیا گیا ہے وہ اسے پورا پورا ادا کریں گے۔ ان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خود کوئی کردار متعین کریں۔ کیونکہ جو قصہ انہوں نے پیش کرنا ہے وہ خود اس سے زیادہ خبردار نہیں ہیں۔ نیز وہ اپنے لئے کوئی حرکت یا کردار خود پسند نہیں کرتے ۔ اس طرح کسی بھی کھیل کا پورا کھیل بگڑ جاتا ہے ۔ وہ اس کھیل کے ڈائریکٹر نہیں ہیں۔ یہ تو کردار ہیں اور ڈائریکٹر کے مطیع فرمان ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے کردار کا معاوضہ طے شدہ ہے۔ یہ اپنا کردار ادا کریں اور معاوضہ باقی ان کو کوئی چوں و چرا کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ اسلامی نظام کے تمام اجزاء کو قبول کرلیا ہے۔ اس لیے معاہدے کے بعد اب ان کے پاس ان کے اختیار میں کوئی چیز باقی نہیں ہے اور جس طرح یہ کائنات حکم الٰہی سے چل رہی ہے یہ شریعت الہیہ کے مطابق چلیں۔ اپنی تمام حرکات میں اپنا متعین کردار ادا کریں اور اپنے مدار میں اس طرح چلیں جس طرح کر ات اپنے اپنے مدارات میں چلتے ہیں نہ ادھر نہ ادھر نہ آگے نہ پیچھے۔ تمام دوسرے کر ات کے توازن کے ساتھ۔ ان لوگوں نے سر تسلیم خم کردیا ، ان سب حادثات کے لیے جو تقدیر الٰہی نے ان کے لیے مقدر کر دئیے ہیں۔ ان کا اندرونی شعور اس بات کو تسلیم کرچکا ہے کہ جو کچھ پیش آتا ہے اللہ کے حکم سے پیش آتا ہے ایک شخص کے لیے ہر حادثہ ، ہر مالت اللہ کی آواردہ ہے اور وہ مانتے ہوئے خوشی خوشی سے ، نہایت اطمینان سے اللہ کی تقدیر کو قبول کرتا رہے۔ آہستہ آہستہ ان کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اللہ کے فیصلوں کو نہ سمجھتے تھے۔ جب ان پر نازل ہوجاتے۔ نہ وہ ظاہر داری کرتے ہوئے جزع و گزع سے اپنے آپ کو بچاتے تھے یا وہ کوئی تکلیف محسوس کرتے تھے مگر صبر و مصابرت سے کام لے کر خاموش ہوجاتے تھے بلکہ ان کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ فیصلوں کا استقبال کرتے تھے جیسے وہ پہلے سے خبردار ہوں اور ان کے انتظار میں ہوں۔ جو فیصلہ آرہا ہے وہ ان کے حس و شعور میں ہے۔ ان کو معلوم ہے اور ان کے ضمیر کی آواز ہے۔ کوئی اچنبھا کوئی انوکھا پن اور کوئی بدک ان کے اندر نہ پید ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یہ نہ چاہتے کہ آسمانوں کی رفتار ذرا تیز ہوجائے اور وہ کام جلدی سے ہوجائیں جو وہ چاہتے تھے۔ اور وہ یہ نہ چاہتے تھے کہ کچھ واقعات جلدی وقوع پذیر ہوں تاکہ ان کی بعض ضروریات پوری ہوجائیں۔ وہ اپنے طریقے کے مطابق تقدیر الٰہی کے ساتھ ساتھ چلتے تھے ۔ اور یہ تقدیر الٰہی جہاں ان کو پہنچا دیتی تھی وہ اس پر راضی ہوجاتے تھے ، خوش ہوتے تھے ۔ ان کے پاس جو کچھ تھا ، وہ اس راہ میں خرچ کر رہے تھے۔ جان تک قربان کردیتے تھے ، مال خرچ کردیتے تھے ، نہ جلدی کرتے ، نہ تنگی محسوس کرتے ، نہ غرور کرتے اور نہ حسرت کرتے۔ ان کو پوری طرح یقین تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے ، یہ اللہ کا فیصلہ ہے ، جو اللہ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور ہر کام کے لیے ایک وقت متعین ہے اور ریکارڈ شدہ معیاد ہے۔ ان کے قدم پوری طرح اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اٹھتے تھے۔ ان کی حرکات اللہ کی ڈائریکشن کے مطابق تھیں۔ وہ امن ، بھروسے اور یقین کا پورا شعور رکھتے تھے۔ وہ نہایت سادگی ، نرمی اور آسانی سے تقدیر کے ساتھ چلتے تھے۔ اس تسلیم و رضا کا یہ اثر نہ تھا کہ وہ عمل نہ کریں یا ان کے پاس جو کچھ تھا ، اسے سب کا سب لٹا دیں ، یا وقت اور جدوجہد میں عقیدہ تقدیر میں کوئی کمی کریں۔ وہ اسباب سے قطع نظرنہ کرتے تھے۔ وہ ایسی باتیں اپنے اوپر نہ لیتے تھے جس کی ان کے اندر قدرت نہ ہو۔ مالا یطاق ہوں۔ وہ بشریت اور اس کے حدود وقیود سے بھی نہ نکلتے تھے۔ ضعیف بھی تھے ، قوی بھی تھے۔ وہ ان باتوں کا دعویٰ نہ کرتے تھے جو ان میں نہ تھیں ، وہ اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ ایک کام انہوں نے نہ کیا ہو اور اس پر ان کی تعریف کی جائے ، نہ وہ ایسی باتوں کا دعویٰ کرتے تھے جو انہوں نے کی نہ ہوں۔ اللہ کی تقدیر کے سامنے مطلقاً سر تسلیم خم کردیتے اور پھر عملاً جدوجہد کرتے جہاں ان کی طاقت ہو۔ ہر کام کے درمیان انہوں نے ایک حسین توازن قائم کردیا تھا اور جو بات ان کی استطاعت میں تھی ، وہ کرتے تھے۔ جماعت اول کے کردار میں یہ توازن نہایت مکمل تھا۔ اور یہ توازن ان کا خصوصی امتیاز تھا۔ یہی توازن تھا جس کی وجہ سے وہ اس عظیم امانت کے اٹھانے کے اہل ہوئے ، جس کے اٹھانے سے پہاڑوں نے بھی انکار کردیا تھا۔ اسلام کی جماعت اول نے اپنی زندگی میں ان معجزات کو دکھایا اور حقیقت بنا دیا۔ یہ اس توازن کے مرہون منت تھے۔ اس وقت کے انسانی معاشرے ہی میں یہ معجزات رونما ہوئے۔ یہ معجزات کہ اس جماعت کی حرکات اور اعمال کسی طرح متوازن تھے کہ یہ جماعت افلاک کی طرح منظم تھی اور مربوطی کے ساتھ حرکت پذیر تھی۔ ان کے اقدامات اور اعمال اسی طرح تھے جس طرح زمانے کی گردش مربوط ہے۔ یہ لوگ فطرت کے ساتھ متصادم نہ تھے اور نہ الجھتے تھے کہ گردش زمانہ ان کو الجھادے بلکہ وہ نظام قضا و قدر جس کا ایک حصہ گردش زمانی ہے ، اس کے ساتھ چلتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک نہایت ہی مختصر عرصے میں وہ نتائج پیدا کر دئیے جو تاریخ پیدا نہ کرسکی۔ یہ انقلاب یوں برپا ہوا کہ وہ اپنے عمل میں اس پوری کائنات کی حرکت کے ساتھ چلتے تھے۔ اللہ کی تقدیر کے مطابق قدم اٹھاتے تھے۔ یہی انقلاب تھا جس نے معجزات صادر کیے۔ یہ معجزات اس ذات نے پیدا کیے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ جس نے کواکب و افلاک کو پیدا کیا اور جس نے پہلی جماعت کو اس طرح راضی برضائے تقدیر الٰہی کیا جس طرح افلاک تقدیر العزیز العلیم سے سر مو انحراف نہیں کرسکتے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی طرف قرآن کریم کی بیشتر آیات اشارہ کر رہی ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء ” تم ہدایت نہیں دے سکتے جن کو محبوب سمجھو بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ، ہدایت دیتا ہے “۔ اور دوسری جگہ ہے : لیس علیک ھداھم ولکن یھدی من یشآء ” تم پر ان کی ہدایت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ، ہدایت دیتا ہے “۔ دوسری جگہ ان الھدی ھدی اللہ ” ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے “۔ یہ ہے ہدایت اپنی عظیم حقیقت کے حوالے سے اور اپنے وسیع مفہوم میں۔ یعنی یہ راہنمائی کہ اس عظیم کائنات میں انسان کا مقام کیا ہے اور یہ کہ اس کی حرکت ، حرکت کائنات سے ہم آہنگ ہوجائے۔ انسانی جدوجہد اس وقت تک بار آور نہیں ہوسکتی جب تک انسان کا دل اس مفہوم میں ہدایت یافتہ نہ ہو۔ ایک فرد کی جدوجہد اس کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو۔ اور جب تک انسانی شعور و ضمیر تقدیر الٰہی پر راضی نہ ہو ، بایں مفہوم کہ یہاں جو واقعہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی یہ آیت وما کان لمومن ولامومنۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ من امرھم (33: 36) ” کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو پھر اسے اپنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے “۔ کسی مخصوص واقعہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ یہ زیادہ عام ، شامل اور کامل اصول ہے اور دور رس نتائج کا حامل ہے۔ یہ اسلامی نظام کا ایک بنیادی دستوری اصول ہے۔ اس کے بعد زینت بنت جحش کے ساتھ نبی ﷺ کا معاملہ آتا ہے۔

الأحزاب 33:37

واذ تقول للذی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کان اللہ بکل شیء علیما (37 – 40) اس سورة کے آغاز ہی میں معبنی بنانے کی رسم کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ایسے لوگوں کو اب ان کے حقیقی آباء کی طرف منسوب کردیا جائے اور عائلی تعلقات حقیقی نسب پر قائم ہوں گے ، کہا گیا تھا۔ وما جعل ادعیآء کم ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (33: 4 – 5) ” نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو۔ مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو نبی پر حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہاں کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ نادانستہ جو بات تم کہو ، اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا دل سے ارادہ کرو۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے “۔ عربی سوسائٹی میں منہ بولے بیٹوں کے پختہ رسم و رواج تھے اور گہرے آثار تھے۔ ان آثار کو منانا اس قدر آسان نہ تھا جس قدر نفس معبنی کو مٹانا آسان تھا۔ اس لیے کہ اجتماعی رسم و رواج دلوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اس لیے اس قسم کی رسومات کو مٹانے کے لیے ان کے بالمقابل سخت اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالعموم پہلے پہل جو اقدامات کیے جاتے ہیں ان کے خلاف شوروغل بھی ہوتا ہے اور ابتدا میں اس کے اثرات بھی نفوس پر پڑتے ہیں۔ اس سے قبل یہ بات آگئی ہے کہ حضرت نبی ﷺ نے زید ابن حادثہ کی شادی کرائی تھی۔ یہ آپ کے معبنی تھے اور ان کو زید ابن محمد کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد زید ابن حارثہ کہلانے لگا۔ یہ شادی زینب بنت جحش سے کرائی گئی تھی جو آپ کی پھوپھی زاد تھیں ، مقصد یہ تھا کہ غلاموں کو عرب سوسائٹی میں جو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا تھا ، اسے دور کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے شرافت و کرامت کا جو اصول مقرر فرمایا ہے اسے بروئے کار لایا جائے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقالکم ” تمہارے اندر زیادہ شریف وہی ہے ، جو زیادہ متقی ہے “۔ اور یہ مثال عملاً قائم کی جائے جو فی الواقعہ مثال ہو۔ اس کے بعد مشیت الہیہ کا تقاضا یوں ہوا کہ رسالت کی ذمہ داریوں میں اس ذمہ داری کا اضافہ کردیا جائے کہ معبنی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح کی مثال بھی حضور ﷺ خود قائم کریں تاکہ معبنی کی رسم کے جو گہرے آثار تھے ، وہ بھی مٹ جائیں اور حضور ﷺ یہ نمونہ معاشرے کے سامنے پیش کریں۔ ان حالات میں کہ کسی اور کی ہمت اس کام کے لیے نہ ہوسکتی تھی اگرچہ رسم معبنی قانوناً اور شرعاً اس سے قبل ختم ہوگئی تھی۔ اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو بذریعہ وحی بتا دیا کہ زید عنقریب اپنی بیوی کو طلاق دے دیں گے اور آپ کو یہ نکاح کرنا ہوگا۔ یہ تقاضائے حکمت الہیہ ہے۔ اس دوران زید اور زینب کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور آثار بتا رہے تھے کہ یہ نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ حضرت زید بار بار رسول اللہ ﷺ سے یہ شکایت کر رہے تھے کہ ان کی زندگی زینب کے ساتھ بہت مضطرب ہے اور یہ کہ وہ مزید ان کے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ بڑی بےباکی سے اسلامی نظریہ حیات کی تبلیغ فرماتے تھے اور اس سلسلے میں کسی کی پرواہ نہ فرماتے تھے لیکن زینب کے ساتھ نکاح کرنے کے معاملے میں آپ بھی متامل تھے۔ اس سلسلے میں آپ بھی عوام کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے اور آپ ہمیشہ زید سے کہتے ، جن پر اللہ کا انعام ہوا تھا کہ وہ مسلمان ہوئے اور پھر رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوئے اور رسول اللہ ﷺ آپ سے محبت فرماتے تھے اور یہ محبت ایسی تھی کہ بلا استثناء سب سے زیادہ تھی۔ پھر رسول اللہ نے ان پر یہ مہربانی کی کہ انہیں آزاد کردیا۔ ان کی تربیت کی اور ان سے بہت پیار کرتے۔ حضرت زید سے رسول اللہ ﷺ یہی کہتے۔ امسک علیک زوجک واتق اللہ (33: 37) ” کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو “۔ اور دراصل حضور اکرم ﷺ اس طرح اس عظیم معاملے کو موخر کرنا چاہتے تھے جس کے وقوع کے بعد آپ کو عوام کا سامنا کرنے میں تردد تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی۔ وتخفی فی نفسک ۔۔۔۔۔۔ ان تخشہ (33: 37) ” اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا۔ تم لوگوں سے ڈر رہے تھے جس کا اللہ نے آپ کو یہ سبب بتا دیا تھا کہ اگر حضرت زید ان کو طلاق دیں گے تو آپ ﷺ کو نکاح کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ صریح حکم نہ تھا ، ورنہ حضور ﷺ اس میں تردد نہ فرماتے ، نہ موخر کرتے اور نہ یہ کوشش کرتے کہ کسی طرح ٹل جائے اور حضور ﷺ اس وقت اس کا اعلان کردیتے۔ نتائض جو بھی ہوتے ، البتہ حضور ﷺ کے دل میں بطور الہام یہ بات ڈال دی گئی تھی اور حضور ﷺ اس وقت پریشان تھے کہ لوگ غوغا آرائی کریں گے یہاں تک کہ خدا کے حکم سے زید نے طلاق دے دی اور یہ تصور نہ زید کا تھا اور نہ زینب کا کہ اس کے بعد حضور ﷺ سے نکاح ہوگا کیونکہ عربوں میں یہ قانونی رواج تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ کے ساتھ نکاح جائز نہ تھا۔ یہاں تک کہ معبنی بنانے کے قانون اور رواج کو ختم کردینے کے بعد بھی لوگ مطلقہ معبنی کو حرام سمجھتے تھے اور ابھی ان کے حلال ہونے کا حکم بھی نہ آیا تھا۔ صرف اس واقعہ سے یہ رسم ختم ہوئی لیکن یہ واقعہ بہرحال اس سوسائٹی میں ایک دھماکہ اور ایک انوکھی اور نئی بات تھی۔ اس تفسیر سے وہ تمام روایات ختم ہوجاتی ہیں جن پر اعتماد کرکے دشمنان اسلام نے قدیم دور میں بھی اور جدید دور میں بھی افسانے تصنیف کیے ہیں اور حاشیہ آرائیاں کی ہیں۔ معاملہ بس اس قدر تھا۔ فلما قضی زید۔۔۔۔۔ منھن وطرا (33: 37) ” پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اس کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی رہے جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں “۔ اور یہ واقعہ رسالت کی ان بھاری ذمہ داریوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ ﷺ نے خود اٹھایا۔ یوں آپ نے ایک ایسے معاملے میں جاہلی معاشرے کی ایک رسم متانے میں نمونہ پیش کیا جسے ایام جاہلیت میں ایک مکروہ فعل سمجھا جاتا تھا۔ یہ فعل اس قدر مکروہ سمجھا جاتا تھا کہ حضور اکرم ﷺ نے اسلامی نظریہ حیات کے حوالے سے بڑی بڑی باتوں میں تامل نہ فرمایا تھا مگر اس میں مترو و تھے۔ مثلاً عربوں کے خود ساختہ الٰہوں کی مذمت آپ نے بےدھڑک فرمائی اور یہ آپ نے بر ملا اعلان فرمایا کہ ہمارے آباء و اجداد غلطی پر تھے۔ وکان امر اللہ مفعولا (33: 37) ” اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا “۔ حضرت زینب سے حضور اکرم کا نکاح عدت پوری ہونے کے بعد طے ہوا تھا “۔ یعنی اسے ردنہ کیا جاسکتا تھا اور نہ اس سے کوئی مفر تھا۔ یہ ایک حقیقت تھی اور اٹل حقیقت تھی اور اس سے کوئی پہلو تہی نہ کرسکتا تھا۔ آپ کا نکاح زینب سے عدت گزر جانے کے بعد ہوا اور حضور ﷺ نے ان کو انہیں حضرت زید کے ذریعہ پیغام بھیجا تھا۔ یہ زید حضور ﷺ کو بہت ہی محبوب تھے۔ یہ گئے اور انہوں نے حضور ﷺ کا پیغام ان کو دیا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ جب زینب کی عدت ختم ہوگئی تو حضور ﷺ نے زید ابن حارثہ سے کہا ” آپ جائیں اور زینب کو میرے لیے پیغام دیں “۔ زید گئے ، اس وقت وہ آٹے میں خمیر ڈال رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ جب میں نے اسے دیکھا تو میرا انکے ساتھ سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔ میں ان کو دیکھ نہ سکا اور نہ کہہ سکا کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کا تذکرہ کیا ہے میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ پھیرلی اور واپس جاتے ہوئے یہ کہا ” اے زینب تمہارے لیے خوشخبری ہے ، حضور ﷺ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں ان کا پیغام آپ تک پہنچا دوں “۔ اس نے کہا ” میں کوئی بات اس وقت تک کرنے والی نہیں ہوں جب تک میں اپنے رب کے ساتھ اس معاملے میں مشورہ نہ کرلوں۔ وہ اٹھی اور اپنی جائے نماز پر نماز پڑھنے لگی “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اس کے بعد اس سے اجازت لینے کے بغیر اس کے پاس آگئے۔ (روایت احمد ، مسلم اور نسائی بطریقہ سلیمان ابن مغیرہ) ۔ بخاری شریف میں حضرت انس کی روایت ہے کہ حضرت زینب دوسری ازواج مطہرات پر یہ فخر کرتی تھی کہ تمہارا نکاح تمارے رشتہ داروں نے کیا ہے اور میرا نکاح اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔ یہ معاملہ اسی طرح آسانی سے طے نہ پا گیا بلکہ اسلامی سوسائٹی میں اس کی وجہ سے ایک بھونچال آگیا اور منافقین کو ایک مسئلہ مل گیا کہ حضور ﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ چونکہ یہ معاملہ اسلامی معاشرے میں قانون اصلاحات سے متعلق تھا اور اسلامی معاشرے کے لیے ایک نیا اصول طے کرنا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس کی تاکید مزید کردی اور پھر اس میں لوگوں کے نزدیک جو انوکھا پن تھا اسے یوں زائل کیا اور معاملات کو اپنی اصل حقیقت کی طرف لوٹا دیا۔ ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ (33: 38) ” نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا ہو “۔ اللہ نے نبی پر فرض کردیا تھا کہ زینب کے ساتھ اس کا نکاح ہوتا کہ یہ جاہلی رسم ٹوٹے کہ کسی کا نکاح ان کے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نہیں ہوسکتا جبکہ اس نے اسے طلاق دے دی ہو یا مر گیا ہو ، اور یہ کہ نبی ﷺ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل (33: 38) ” یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملے میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں “۔ تو یہ معاملہ سنت الہیہ کے مطابق جا رہا ہے اور اس میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ان رسوم اور رواجات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکتا رہا ہے جو معاشرے میں رائج رہی ہیں اور جن کی کوئی حقیقت و افادیت نہ تھی۔ وکان امر اللہ قدرا مقدورا (33: 38) ” اور اللہ کا حکم قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے “۔ اللہ کا حکم نافذ ہوتا ہے اور اسے نافذ کیا جانا ہی چاہئے۔ اس کے سامنے کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی اور نہ بننا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ تمام امور کو نہایت مہارت سے طے کرتا ہے ، نہایت حکمت سے طے کرتا ہے اور اس کی تہہ میں وہ مقاصد ہوتے ہیں جو اللہ کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ اللہ ہی ان احکام کی ضرورت اور کسی زمان و مکان میں ان کی اہمیت کو جانتا ہے اور اللہ نے رسول اللہ کو حکم دے دیا ہے کہ وہ اس عادت کو محو کردیں ، اس کے عملی آثار کا بھی قلع قمع کردیں اور یہ کام وہ بنفس خود کریں۔ اللہ کے حکم کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی اور اللہ کے رسولوں کی یہ سنت رہی ہے۔ تمام گزرے ہوئے رسولوں کی : الذین یبلغون رسلت۔۔۔۔۔۔۔ الا اللہ (33: 39) ” جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے “۔ ایسے لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے نظام کو عملاً قائم کرتے ہیں اور لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتے۔ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ وہ اللہ کے احکام پہنچاتے ہیں اور نافذ کرتے ہیں۔ وکفی باللہ حسیبا (33: 39) ” اور محاسبہ کے لیے اللہ ہی کافی ہے “۔ حساب و کتاب نیک و بد کا اللہ ہی لے گا اور لوگوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے نبی کا محاسبہ کریں۔ ما کان محمد ابآ احد من رجالکم (33: 40) ” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں “۔ لہٰذا زینب محمد کے کسی بیٹے کی مطلقہ نہیں ہے۔ زید ابن محمد دراصل زید ابن حارثہ ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اگر حقیقت پسند انہ نظروں سے دیکھا جائے حضرت محمد ﷺ اور تمام لوگوں کا آپس میں تعلق نبی اور قوم کا تعلق ہے وہ ان میں سے کسی کا باپ نہیں ہے۔ ولکن رسول اللہ وخاتم النبین (33: 40) ” وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں “۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ قانون بناتے ہیں۔ اور یہ دائمی اور آخری شریعت ہے اور یہ قیامت تک رہنی ہے۔ اس کے بعد ان قوانین میں کوئی تغیر و تبدل ہونے والا نہیں۔ وکان اللہ بکل شئ علیما (33: 40) ” اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے “۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ انسانیت کیلئے کون سا قانون مفید ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے نبی پر یہ کام کرنا فرض کیا اور اس کیلئے یہ آسائش مقرر کی تاکہ لوگوں کے لیے منہ بولے بیٹوں کے معاملہ میں پابندی ختم ہو۔ جبکہ وہ کسی بیوی کو طلاق دت چکے ہوں اور ان سے اپنی ضرورت پوری کرچکے ہوں اور ان کو آزاد کرچکے ہوں۔ اللہ نے اپنے علم کے مطابق فیصلہ فرمایا ہے اور اللہ ہی ہے جو اپنی حکمت اور علم کے مطابق قانون بنانے والا ہے۔ اب سیاق کلام میں اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کو یاد کرو ، صبح و شام ، اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے رہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مہربانی اور رحمت سے تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کیا۔ وہ مومنین پر کس قدر رحیم ہے۔ جب یہ مومنین قیامت میں حاضر ہوں گے تو ہر طرف سے مبارک سلامت ہوگی۔

الأحزاب 33:38

واذ تقول للذی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کان اللہ بکل شیء علیما (37 – 40) اس سورة کے آغاز ہی میں معبنی بنانے کی رسم کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ایسے لوگوں کو اب ان کے حقیقی آباء کی طرف منسوب کردیا جائے اور عائلی تعلقات حقیقی نسب پر قائم ہوں گے ، کہا گیا تھا۔ وما جعل ادعیآء کم ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (33: 4 – 5) ” نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو۔ مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو نبی پر حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہاں کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ نادانستہ جو بات تم کہو ، اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا دل سے ارادہ کرو۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے “۔ عربی سوسائٹی میں منہ بولے بیٹوں کے پختہ رسم و رواج تھے اور گہرے آثار تھے۔ ان آثار کو منانا اس قدر آسان نہ تھا جس قدر نفس معبنی کو مٹانا آسان تھا۔ اس لیے کہ اجتماعی رسم و رواج دلوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اس لیے اس قسم کی رسومات کو مٹانے کے لیے ان کے بالمقابل سخت اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالعموم پہلے پہل جو اقدامات کیے جاتے ہیں ان کے خلاف شوروغل بھی ہوتا ہے اور ابتدا میں اس کے اثرات بھی نفوس پر پڑتے ہیں۔ اس سے قبل یہ بات آگئی ہے کہ حضرت نبی ﷺ نے زید ابن حادثہ کی شادی کرائی تھی۔ یہ آپ کے معبنی تھے اور ان کو زید ابن محمد کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد زید ابن حارثہ کہلانے لگا۔ یہ شادی زینب بنت جحش سے کرائی گئی تھی جو آپ کی پھوپھی زاد تھیں ، مقصد یہ تھا کہ غلاموں کو عرب سوسائٹی میں جو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا تھا ، اسے دور کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے شرافت و کرامت کا جو اصول مقرر فرمایا ہے اسے بروئے کار لایا جائے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقالکم ” تمہارے اندر زیادہ شریف وہی ہے ، جو زیادہ متقی ہے “۔ اور یہ مثال عملاً قائم کی جائے جو فی الواقعہ مثال ہو۔ اس کے بعد مشیت الہیہ کا تقاضا یوں ہوا کہ رسالت کی ذمہ داریوں میں اس ذمہ داری کا اضافہ کردیا جائے کہ معبنی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح کی مثال بھی حضور ﷺ خود قائم کریں تاکہ معبنی کی رسم کے جو گہرے آثار تھے ، وہ بھی مٹ جائیں اور حضور ﷺ یہ نمونہ معاشرے کے سامنے پیش کریں۔ ان حالات میں کہ کسی اور کی ہمت اس کام کے لیے نہ ہوسکتی تھی اگرچہ رسم معبنی قانوناً اور شرعاً اس سے قبل ختم ہوگئی تھی۔ اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو بذریعہ وحی بتا دیا کہ زید عنقریب اپنی بیوی کو طلاق دے دیں گے اور آپ کو یہ نکاح کرنا ہوگا۔ یہ تقاضائے حکمت الہیہ ہے۔ اس دوران زید اور زینب کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور آثار بتا رہے تھے کہ یہ نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ حضرت زید بار بار رسول اللہ ﷺ سے یہ شکایت کر رہے تھے کہ ان کی زندگی زینب کے ساتھ بہت مضطرب ہے اور یہ کہ وہ مزید ان کے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ بڑی بےباکی سے اسلامی نظریہ حیات کی تبلیغ فرماتے تھے اور اس سلسلے میں کسی کی پرواہ نہ فرماتے تھے لیکن زینب کے ساتھ نکاح کرنے کے معاملے میں آپ بھی متامل تھے۔ اس سلسلے میں آپ بھی عوام کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے اور آپ ہمیشہ زید سے کہتے ، جن پر اللہ کا انعام ہوا تھا کہ وہ مسلمان ہوئے اور پھر رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوئے اور رسول اللہ ﷺ آپ سے محبت فرماتے تھے اور یہ محبت ایسی تھی کہ بلا استثناء سب سے زیادہ تھی۔ پھر رسول اللہ نے ان پر یہ مہربانی کی کہ انہیں آزاد کردیا۔ ان کی تربیت کی اور ان سے بہت پیار کرتے۔ حضرت زید سے رسول اللہ ﷺ یہی کہتے۔ امسک علیک زوجک واتق اللہ (33: 37) ” کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو “۔ اور دراصل حضور اکرم ﷺ اس طرح اس عظیم معاملے کو موخر کرنا چاہتے تھے جس کے وقوع کے بعد آپ کو عوام کا سامنا کرنے میں تردد تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی۔ وتخفی فی نفسک ۔۔۔۔۔۔ ان تخشہ (33: 37) ” اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا۔ تم لوگوں سے ڈر رہے تھے جس کا اللہ نے آپ کو یہ سبب بتا دیا تھا کہ اگر حضرت زید ان کو طلاق دیں گے تو آپ ﷺ کو نکاح کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ صریح حکم نہ تھا ، ورنہ حضور ﷺ اس میں تردد نہ فرماتے ، نہ موخر کرتے اور نہ یہ کوشش کرتے کہ کسی طرح ٹل جائے اور حضور ﷺ اس وقت اس کا اعلان کردیتے۔ نتائض جو بھی ہوتے ، البتہ حضور ﷺ کے دل میں بطور الہام یہ بات ڈال دی گئی تھی اور حضور ﷺ اس وقت پریشان تھے کہ لوگ غوغا آرائی کریں گے یہاں تک کہ خدا کے حکم سے زید نے طلاق دے دی اور یہ تصور نہ زید کا تھا اور نہ زینب کا کہ اس کے بعد حضور ﷺ سے نکاح ہوگا کیونکہ عربوں میں یہ قانونی رواج تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ کے ساتھ نکاح جائز نہ تھا۔ یہاں تک کہ معبنی بنانے کے قانون اور رواج کو ختم کردینے کے بعد بھی لوگ مطلقہ معبنی کو حرام سمجھتے تھے اور ابھی ان کے حلال ہونے کا حکم بھی نہ آیا تھا۔ صرف اس واقعہ سے یہ رسم ختم ہوئی لیکن یہ واقعہ بہرحال اس سوسائٹی میں ایک دھماکہ اور ایک انوکھی اور نئی بات تھی۔ اس تفسیر سے وہ تمام روایات ختم ہوجاتی ہیں جن پر اعتماد کرکے دشمنان اسلام نے قدیم دور میں بھی اور جدید دور میں بھی افسانے تصنیف کیے ہیں اور حاشیہ آرائیاں کی ہیں۔ معاملہ بس اس قدر تھا۔ فلما قضی زید۔۔۔۔۔ منھن وطرا (33: 37) ” پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اس کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی رہے جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں “۔ اور یہ واقعہ رسالت کی ان بھاری ذمہ داریوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ ﷺ نے خود اٹھایا۔ یوں آپ نے ایک ایسے معاملے میں جاہلی معاشرے کی ایک رسم متانے میں نمونہ پیش کیا جسے ایام جاہلیت میں ایک مکروہ فعل سمجھا جاتا تھا۔ یہ فعل اس قدر مکروہ سمجھا جاتا تھا کہ حضور اکرم ﷺ نے اسلامی نظریہ حیات کے حوالے سے بڑی بڑی باتوں میں تامل نہ فرمایا تھا مگر اس میں مترو و تھے۔ مثلاً عربوں کے خود ساختہ الٰہوں کی مذمت آپ نے بےدھڑک فرمائی اور یہ آپ نے بر ملا اعلان فرمایا کہ ہمارے آباء و اجداد غلطی پر تھے۔ وکان امر اللہ مفعولا (33: 37) ” اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا “۔ حضرت زینب سے حضور اکرم کا نکاح عدت پوری ہونے کے بعد طے ہوا تھا “۔ یعنی اسے ردنہ کیا جاسکتا تھا اور نہ اس سے کوئی مفر تھا۔ یہ ایک حقیقت تھی اور اٹل حقیقت تھی اور اس سے کوئی پہلو تہی نہ کرسکتا تھا۔ آپ کا نکاح زینب سے عدت گزر جانے کے بعد ہوا اور حضور ﷺ نے ان کو انہیں حضرت زید کے ذریعہ پیغام بھیجا تھا۔ یہ زید حضور ﷺ کو بہت ہی محبوب تھے۔ یہ گئے اور انہوں نے حضور ﷺ کا پیغام ان کو دیا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ جب زینب کی عدت ختم ہوگئی تو حضور ﷺ نے زید ابن حارثہ سے کہا ” آپ جائیں اور زینب کو میرے لیے پیغام دیں “۔ زید گئے ، اس وقت وہ آٹے میں خمیر ڈال رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ جب میں نے اسے دیکھا تو میرا انکے ساتھ سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔ میں ان کو دیکھ نہ سکا اور نہ کہہ سکا کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کا تذکرہ کیا ہے میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ پھیرلی اور واپس جاتے ہوئے یہ کہا ” اے زینب تمہارے لیے خوشخبری ہے ، حضور ﷺ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں ان کا پیغام آپ تک پہنچا دوں “۔ اس نے کہا ” میں کوئی بات اس وقت تک کرنے والی نہیں ہوں جب تک میں اپنے رب کے ساتھ اس معاملے میں مشورہ نہ کرلوں۔ وہ اٹھی اور اپنی جائے نماز پر نماز پڑھنے لگی “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اس کے بعد اس سے اجازت لینے کے بغیر اس کے پاس آگئے۔ (روایت احمد ، مسلم اور نسائی بطریقہ سلیمان ابن مغیرہ) ۔ بخاری شریف میں حضرت انس کی روایت ہے کہ حضرت زینب دوسری ازواج مطہرات پر یہ فخر کرتی تھی کہ تمہارا نکاح تمارے رشتہ داروں نے کیا ہے اور میرا نکاح اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔ یہ معاملہ اسی طرح آسانی سے طے نہ پا گیا بلکہ اسلامی سوسائٹی میں اس کی وجہ سے ایک بھونچال آگیا اور منافقین کو ایک مسئلہ مل گیا کہ حضور ﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ چونکہ یہ معاملہ اسلامی معاشرے میں قانون اصلاحات سے متعلق تھا اور اسلامی معاشرے کے لیے ایک نیا اصول طے کرنا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس کی تاکید مزید کردی اور پھر اس میں لوگوں کے نزدیک جو انوکھا پن تھا اسے یوں زائل کیا اور معاملات کو اپنی اصل حقیقت کی طرف لوٹا دیا۔ ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ (33: 38) ” نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا ہو “۔ اللہ نے نبی پر فرض کردیا تھا کہ زینب کے ساتھ اس کا نکاح ہوتا کہ یہ جاہلی رسم ٹوٹے کہ کسی کا نکاح ان کے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نہیں ہوسکتا جبکہ اس نے اسے طلاق دے دی ہو یا مر گیا ہو ، اور یہ کہ نبی ﷺ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل (33: 38) ” یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملے میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں “۔ تو یہ معاملہ سنت الہیہ کے مطابق جا رہا ہے اور اس میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ان رسوم اور رواجات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکتا رہا ہے جو معاشرے میں رائج رہی ہیں اور جن کی کوئی حقیقت و افادیت نہ تھی۔ وکان امر اللہ قدرا مقدورا (33: 38) ” اور اللہ کا حکم قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے “۔ اللہ کا حکم نافذ ہوتا ہے اور اسے نافذ کیا جانا ہی چاہئے۔ اس کے سامنے کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی اور نہ بننا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ تمام امور کو نہایت مہارت سے طے کرتا ہے ، نہایت حکمت سے طے کرتا ہے اور اس کی تہہ میں وہ مقاصد ہوتے ہیں جو اللہ کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ اللہ ہی ان احکام کی ضرورت اور کسی زمان و مکان میں ان کی اہمیت کو جانتا ہے اور اللہ نے رسول اللہ کو حکم دے دیا ہے کہ وہ اس عادت کو محو کردیں ، اس کے عملی آثار کا بھی قلع قمع کردیں اور یہ کام وہ بنفس خود کریں۔ اللہ کے حکم کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی اور اللہ کے رسولوں کی یہ سنت رہی ہے۔ تمام گزرے ہوئے رسولوں کی : الذین یبلغون رسلت۔۔۔۔۔۔۔ الا اللہ (33: 39) ” جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے “۔ ایسے لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے نظام کو عملاً قائم کرتے ہیں اور لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتے۔ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ وہ اللہ کے احکام پہنچاتے ہیں اور نافذ کرتے ہیں۔ وکفی باللہ حسیبا (33: 39) ” اور محاسبہ کے لیے اللہ ہی کافی ہے “۔ حساب و کتاب نیک و بد کا اللہ ہی لے گا اور لوگوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے نبی کا محاسبہ کریں۔ ما کان محمد ابآ احد من رجالکم (33: 40) ” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں “۔ لہٰذا زینب محمد کے کسی بیٹے کی مطلقہ نہیں ہے۔ زید ابن محمد دراصل زید ابن حارثہ ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اگر حقیقت پسند انہ نظروں سے دیکھا جائے حضرت محمد ﷺ اور تمام لوگوں کا آپس میں تعلق نبی اور قوم کا تعلق ہے وہ ان میں سے کسی کا باپ نہیں ہے۔ ولکن رسول اللہ وخاتم النبین (33: 40) ” وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں “۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ قانون بناتے ہیں۔ اور یہ دائمی اور آخری شریعت ہے اور یہ قیامت تک رہنی ہے۔ اس کے بعد ان قوانین میں کوئی تغیر و تبدل ہونے والا نہیں۔ وکان اللہ بکل شئ علیما (33: 40) ” اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے “۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ انسانیت کیلئے کون سا قانون مفید ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے نبی پر یہ کام کرنا فرض کیا اور اس کیلئے یہ آسائش مقرر کی تاکہ لوگوں کے لیے منہ بولے بیٹوں کے معاملہ میں پابندی ختم ہو۔ جبکہ وہ کسی بیوی کو طلاق دت چکے ہوں اور ان سے اپنی ضرورت پوری کرچکے ہوں اور ان کو آزاد کرچکے ہوں۔ اللہ نے اپنے علم کے مطابق فیصلہ فرمایا ہے اور اللہ ہی ہے جو اپنی حکمت اور علم کے مطابق قانون بنانے والا ہے۔ اب سیاق کلام میں اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کو یاد کرو ، صبح و شام ، اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے رہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مہربانی اور رحمت سے تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کیا۔ وہ مومنین پر کس قدر رحیم ہے۔ جب یہ مومنین قیامت میں حاضر ہوں گے تو ہر طرف سے مبارک سلامت ہوگی۔

الأحزاب 33:39

واذ تقول للذی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کان اللہ بکل شیء علیما (37 – 40) اس سورة کے آغاز ہی میں معبنی بنانے کی رسم کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ایسے لوگوں کو اب ان کے حقیقی آباء کی طرف منسوب کردیا جائے اور عائلی تعلقات حقیقی نسب پر قائم ہوں گے ، کہا گیا تھا۔ وما جعل ادعیآء کم ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (33: 4 – 5) ” نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو۔ مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو نبی پر حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہاں کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ نادانستہ جو بات تم کہو ، اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا دل سے ارادہ کرو۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے “۔ عربی سوسائٹی میں منہ بولے بیٹوں کے پختہ رسم و رواج تھے اور گہرے آثار تھے۔ ان آثار کو منانا اس قدر آسان نہ تھا جس قدر نفس معبنی کو مٹانا آسان تھا۔ اس لیے کہ اجتماعی رسم و رواج دلوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اس لیے اس قسم کی رسومات کو مٹانے کے لیے ان کے بالمقابل سخت اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالعموم پہلے پہل جو اقدامات کیے جاتے ہیں ان کے خلاف شوروغل بھی ہوتا ہے اور ابتدا میں اس کے اثرات بھی نفوس پر پڑتے ہیں۔ اس سے قبل یہ بات آگئی ہے کہ حضرت نبی ﷺ نے زید ابن حادثہ کی شادی کرائی تھی۔ یہ آپ کے معبنی تھے اور ان کو زید ابن محمد کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد زید ابن حارثہ کہلانے لگا۔ یہ شادی زینب بنت جحش سے کرائی گئی تھی جو آپ کی پھوپھی زاد تھیں ، مقصد یہ تھا کہ غلاموں کو عرب سوسائٹی میں جو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا تھا ، اسے دور کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے شرافت و کرامت کا جو اصول مقرر فرمایا ہے اسے بروئے کار لایا جائے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقالکم ” تمہارے اندر زیادہ شریف وہی ہے ، جو زیادہ متقی ہے “۔ اور یہ مثال عملاً قائم کی جائے جو فی الواقعہ مثال ہو۔ اس کے بعد مشیت الہیہ کا تقاضا یوں ہوا کہ رسالت کی ذمہ داریوں میں اس ذمہ داری کا اضافہ کردیا جائے کہ معبنی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح کی مثال بھی حضور ﷺ خود قائم کریں تاکہ معبنی کی رسم کے جو گہرے آثار تھے ، وہ بھی مٹ جائیں اور حضور ﷺ یہ نمونہ معاشرے کے سامنے پیش کریں۔ ان حالات میں کہ کسی اور کی ہمت اس کام کے لیے نہ ہوسکتی تھی اگرچہ رسم معبنی قانوناً اور شرعاً اس سے قبل ختم ہوگئی تھی۔ اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو بذریعہ وحی بتا دیا کہ زید عنقریب اپنی بیوی کو طلاق دے دیں گے اور آپ کو یہ نکاح کرنا ہوگا۔ یہ تقاضائے حکمت الہیہ ہے۔ اس دوران زید اور زینب کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور آثار بتا رہے تھے کہ یہ نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ حضرت زید بار بار رسول اللہ ﷺ سے یہ شکایت کر رہے تھے کہ ان کی زندگی زینب کے ساتھ بہت مضطرب ہے اور یہ کہ وہ مزید ان کے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ بڑی بےباکی سے اسلامی نظریہ حیات کی تبلیغ فرماتے تھے اور اس سلسلے میں کسی کی پرواہ نہ فرماتے تھے لیکن زینب کے ساتھ نکاح کرنے کے معاملے میں آپ بھی متامل تھے۔ اس سلسلے میں آپ بھی عوام کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے اور آپ ہمیشہ زید سے کہتے ، جن پر اللہ کا انعام ہوا تھا کہ وہ مسلمان ہوئے اور پھر رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوئے اور رسول اللہ ﷺ آپ سے محبت فرماتے تھے اور یہ محبت ایسی تھی کہ بلا استثناء سب سے زیادہ تھی۔ پھر رسول اللہ نے ان پر یہ مہربانی کی کہ انہیں آزاد کردیا۔ ان کی تربیت کی اور ان سے بہت پیار کرتے۔ حضرت زید سے رسول اللہ ﷺ یہی کہتے۔ امسک علیک زوجک واتق اللہ (33: 37) ” کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو “۔ اور دراصل حضور اکرم ﷺ اس طرح اس عظیم معاملے کو موخر کرنا چاہتے تھے جس کے وقوع کے بعد آپ کو عوام کا سامنا کرنے میں تردد تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی۔ وتخفی فی نفسک ۔۔۔۔۔۔ ان تخشہ (33: 37) ” اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا۔ تم لوگوں سے ڈر رہے تھے جس کا اللہ نے آپ کو یہ سبب بتا دیا تھا کہ اگر حضرت زید ان کو طلاق دیں گے تو آپ ﷺ کو نکاح کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ صریح حکم نہ تھا ، ورنہ حضور ﷺ اس میں تردد نہ فرماتے ، نہ موخر کرتے اور نہ یہ کوشش کرتے کہ کسی طرح ٹل جائے اور حضور ﷺ اس وقت اس کا اعلان کردیتے۔ نتائض جو بھی ہوتے ، البتہ حضور ﷺ کے دل میں بطور الہام یہ بات ڈال دی گئی تھی اور حضور ﷺ اس وقت پریشان تھے کہ لوگ غوغا آرائی کریں گے یہاں تک کہ خدا کے حکم سے زید نے طلاق دے دی اور یہ تصور نہ زید کا تھا اور نہ زینب کا کہ اس کے بعد حضور ﷺ سے نکاح ہوگا کیونکہ عربوں میں یہ قانونی رواج تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ کے ساتھ نکاح جائز نہ تھا۔ یہاں تک کہ معبنی بنانے کے قانون اور رواج کو ختم کردینے کے بعد بھی لوگ مطلقہ معبنی کو حرام سمجھتے تھے اور ابھی ان کے حلال ہونے کا حکم بھی نہ آیا تھا۔ صرف اس واقعہ سے یہ رسم ختم ہوئی لیکن یہ واقعہ بہرحال اس سوسائٹی میں ایک دھماکہ اور ایک انوکھی اور نئی بات تھی۔ اس تفسیر سے وہ تمام روایات ختم ہوجاتی ہیں جن پر اعتماد کرکے دشمنان اسلام نے قدیم دور میں بھی اور جدید دور میں بھی افسانے تصنیف کیے ہیں اور حاشیہ آرائیاں کی ہیں۔ معاملہ بس اس قدر تھا۔ فلما قضی زید۔۔۔۔۔ منھن وطرا (33: 37) ” پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اس کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی رہے جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں “۔ اور یہ واقعہ رسالت کی ان بھاری ذمہ داریوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ ﷺ نے خود اٹھایا۔ یوں آپ نے ایک ایسے معاملے میں جاہلی معاشرے کی ایک رسم متانے میں نمونہ پیش کیا جسے ایام جاہلیت میں ایک مکروہ فعل سمجھا جاتا تھا۔ یہ فعل اس قدر مکروہ سمجھا جاتا تھا کہ حضور اکرم ﷺ نے اسلامی نظریہ حیات کے حوالے سے بڑی بڑی باتوں میں تامل نہ فرمایا تھا مگر اس میں مترو و تھے۔ مثلاً عربوں کے خود ساختہ الٰہوں کی مذمت آپ نے بےدھڑک فرمائی اور یہ آپ نے بر ملا اعلان فرمایا کہ ہمارے آباء و اجداد غلطی پر تھے۔ وکان امر اللہ مفعولا (33: 37) ” اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا “۔ حضرت زینب سے حضور اکرم کا نکاح عدت پوری ہونے کے بعد طے ہوا تھا “۔ یعنی اسے ردنہ کیا جاسکتا تھا اور نہ اس سے کوئی مفر تھا۔ یہ ایک حقیقت تھی اور اٹل حقیقت تھی اور اس سے کوئی پہلو تہی نہ کرسکتا تھا۔ آپ کا نکاح زینب سے عدت گزر جانے کے بعد ہوا اور حضور ﷺ نے ان کو انہیں حضرت زید کے ذریعہ پیغام بھیجا تھا۔ یہ زید حضور ﷺ کو بہت ہی محبوب تھے۔ یہ گئے اور انہوں نے حضور ﷺ کا پیغام ان کو دیا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ جب زینب کی عدت ختم ہوگئی تو حضور ﷺ نے زید ابن حارثہ سے کہا ” آپ جائیں اور زینب کو میرے لیے پیغام دیں “۔ زید گئے ، اس وقت وہ آٹے میں خمیر ڈال رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ جب میں نے اسے دیکھا تو میرا انکے ساتھ سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔ میں ان کو دیکھ نہ سکا اور نہ کہہ سکا کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کا تذکرہ کیا ہے میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ پھیرلی اور واپس جاتے ہوئے یہ کہا ” اے زینب تمہارے لیے خوشخبری ہے ، حضور ﷺ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں ان کا پیغام آپ تک پہنچا دوں “۔ اس نے کہا ” میں کوئی بات اس وقت تک کرنے والی نہیں ہوں جب تک میں اپنے رب کے ساتھ اس معاملے میں مشورہ نہ کرلوں۔ وہ اٹھی اور اپنی جائے نماز پر نماز پڑھنے لگی “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اس کے بعد اس سے اجازت لینے کے بغیر اس کے پاس آگئے۔ (روایت احمد ، مسلم اور نسائی بطریقہ سلیمان ابن مغیرہ) ۔ بخاری شریف میں حضرت انس کی روایت ہے کہ حضرت زینب دوسری ازواج مطہرات پر یہ فخر کرتی تھی کہ تمہارا نکاح تمارے رشتہ داروں نے کیا ہے اور میرا نکاح اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔ یہ معاملہ اسی طرح آسانی سے طے نہ پا گیا بلکہ اسلامی سوسائٹی میں اس کی وجہ سے ایک بھونچال آگیا اور منافقین کو ایک مسئلہ مل گیا کہ حضور ﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ چونکہ یہ معاملہ اسلامی معاشرے میں قانون اصلاحات سے متعلق تھا اور اسلامی معاشرے کے لیے ایک نیا اصول طے کرنا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس کی تاکید مزید کردی اور پھر اس میں لوگوں کے نزدیک جو انوکھا پن تھا اسے یوں زائل کیا اور معاملات کو اپنی اصل حقیقت کی طرف لوٹا دیا۔ ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ (33: 38) ” نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا ہو “۔ اللہ نے نبی پر فرض کردیا تھا کہ زینب کے ساتھ اس کا نکاح ہوتا کہ یہ جاہلی رسم ٹوٹے کہ کسی کا نکاح ان کے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نہیں ہوسکتا جبکہ اس نے اسے طلاق دے دی ہو یا مر گیا ہو ، اور یہ کہ نبی ﷺ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل (33: 38) ” یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملے میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں “۔ تو یہ معاملہ سنت الہیہ کے مطابق جا رہا ہے اور اس میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ان رسوم اور رواجات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکتا رہا ہے جو معاشرے میں رائج رہی ہیں اور جن کی کوئی حقیقت و افادیت نہ تھی۔ وکان امر اللہ قدرا مقدورا (33: 38) ” اور اللہ کا حکم قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے “۔ اللہ کا حکم نافذ ہوتا ہے اور اسے نافذ کیا جانا ہی چاہئے۔ اس کے سامنے کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی اور نہ بننا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ تمام امور کو نہایت مہارت سے طے کرتا ہے ، نہایت حکمت سے طے کرتا ہے اور اس کی تہہ میں وہ مقاصد ہوتے ہیں جو اللہ کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ اللہ ہی ان احکام کی ضرورت اور کسی زمان و مکان میں ان کی اہمیت کو جانتا ہے اور اللہ نے رسول اللہ کو حکم دے دیا ہے کہ وہ اس عادت کو محو کردیں ، اس کے عملی آثار کا بھی قلع قمع کردیں اور یہ کام وہ بنفس خود کریں۔ اللہ کے حکم کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی اور اللہ کے رسولوں کی یہ سنت رہی ہے۔ تمام گزرے ہوئے رسولوں کی : الذین یبلغون رسلت۔۔۔۔۔۔۔ الا اللہ (33: 39) ” جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے “۔ ایسے لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے نظام کو عملاً قائم کرتے ہیں اور لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتے۔ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ وہ اللہ کے احکام پہنچاتے ہیں اور نافذ کرتے ہیں۔ وکفی باللہ حسیبا (33: 39) ” اور محاسبہ کے لیے اللہ ہی کافی ہے “۔ حساب و کتاب نیک و بد کا اللہ ہی لے گا اور لوگوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے نبی کا محاسبہ کریں۔ ما کان محمد ابآ احد من رجالکم (33: 40) ” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں “۔ لہٰذا زینب محمد کے کسی بیٹے کی مطلقہ نہیں ہے۔ زید ابن محمد دراصل زید ابن حارثہ ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اگر حقیقت پسند انہ نظروں سے دیکھا جائے حضرت محمد ﷺ اور تمام لوگوں کا آپس میں تعلق نبی اور قوم کا تعلق ہے وہ ان میں سے کسی کا باپ نہیں ہے۔ ولکن رسول اللہ وخاتم النبین (33: 40) ” وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں “۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ قانون بناتے ہیں۔ اور یہ دائمی اور آخری شریعت ہے اور یہ قیامت تک رہنی ہے۔ اس کے بعد ان قوانین میں کوئی تغیر و تبدل ہونے والا نہیں۔ وکان اللہ بکل شئ علیما (33: 40) ” اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے “۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ انسانیت کیلئے کون سا قانون مفید ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے نبی پر یہ کام کرنا فرض کیا اور اس کیلئے یہ آسائش مقرر کی تاکہ لوگوں کے لیے منہ بولے بیٹوں کے معاملہ میں پابندی ختم ہو۔ جبکہ وہ کسی بیوی کو طلاق دت چکے ہوں اور ان سے اپنی ضرورت پوری کرچکے ہوں اور ان کو آزاد کرچکے ہوں۔ اللہ نے اپنے علم کے مطابق فیصلہ فرمایا ہے اور اللہ ہی ہے جو اپنی حکمت اور علم کے مطابق قانون بنانے والا ہے۔ اب سیاق کلام میں اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کو یاد کرو ، صبح و شام ، اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے رہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مہربانی اور رحمت سے تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کیا۔ وہ مومنین پر کس قدر رحیم ہے۔ جب یہ مومنین قیامت میں حاضر ہوں گے تو ہر طرف سے مبارک سلامت ہوگی۔

الأحزاب 33:40

واذ تقول للذی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کان اللہ بکل شیء علیما (37 – 40) اس سورة کے آغاز ہی میں معبنی بنانے کی رسم کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ایسے لوگوں کو اب ان کے حقیقی آباء کی طرف منسوب کردیا جائے اور عائلی تعلقات حقیقی نسب پر قائم ہوں گے ، کہا گیا تھا۔ وما جعل ادعیآء کم ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (33: 4 – 5) ” نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو۔ مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو نبی پر حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہاں کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ نادانستہ جو بات تم کہو ، اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا دل سے ارادہ کرو۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے “۔ عربی سوسائٹی میں منہ بولے بیٹوں کے پختہ رسم و رواج تھے اور گہرے آثار تھے۔ ان آثار کو منانا اس قدر آسان نہ تھا جس قدر نفس معبنی کو مٹانا آسان تھا۔ اس لیے کہ اجتماعی رسم و رواج دلوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اس لیے اس قسم کی رسومات کو مٹانے کے لیے ان کے بالمقابل سخت اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالعموم پہلے پہل جو اقدامات کیے جاتے ہیں ان کے خلاف شوروغل بھی ہوتا ہے اور ابتدا میں اس کے اثرات بھی نفوس پر پڑتے ہیں۔ اس سے قبل یہ بات آگئی ہے کہ حضرت نبی ﷺ نے زید ابن حادثہ کی شادی کرائی تھی۔ یہ آپ کے معبنی تھے اور ان کو زید ابن محمد کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد زید ابن حارثہ کہلانے لگا۔ یہ شادی زینب بنت جحش سے کرائی گئی تھی جو آپ کی پھوپھی زاد تھیں ، مقصد یہ تھا کہ غلاموں کو عرب سوسائٹی میں جو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا تھا ، اسے دور کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے شرافت و کرامت کا جو اصول مقرر فرمایا ہے اسے بروئے کار لایا جائے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقالکم ” تمہارے اندر زیادہ شریف وہی ہے ، جو زیادہ متقی ہے “۔ اور یہ مثال عملاً قائم کی جائے جو فی الواقعہ مثال ہو۔ اس کے بعد مشیت الہیہ کا تقاضا یوں ہوا کہ رسالت کی ذمہ داریوں میں اس ذمہ داری کا اضافہ کردیا جائے کہ معبنی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح کی مثال بھی حضور ﷺ خود قائم کریں تاکہ معبنی کی رسم کے جو گہرے آثار تھے ، وہ بھی مٹ جائیں اور حضور ﷺ یہ نمونہ معاشرے کے سامنے پیش کریں۔ ان حالات میں کہ کسی اور کی ہمت اس کام کے لیے نہ ہوسکتی تھی اگرچہ رسم معبنی قانوناً اور شرعاً اس سے قبل ختم ہوگئی تھی۔ اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو بذریعہ وحی بتا دیا کہ زید عنقریب اپنی بیوی کو طلاق دے دیں گے اور آپ کو یہ نکاح کرنا ہوگا۔ یہ تقاضائے حکمت الہیہ ہے۔ اس دوران زید اور زینب کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور آثار بتا رہے تھے کہ یہ نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ حضرت زید بار بار رسول اللہ ﷺ سے یہ شکایت کر رہے تھے کہ ان کی زندگی زینب کے ساتھ بہت مضطرب ہے اور یہ کہ وہ مزید ان کے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ بڑی بےباکی سے اسلامی نظریہ حیات کی تبلیغ فرماتے تھے اور اس سلسلے میں کسی کی پرواہ نہ فرماتے تھے لیکن زینب کے ساتھ نکاح کرنے کے معاملے میں آپ بھی متامل تھے۔ اس سلسلے میں آپ بھی عوام کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے اور آپ ہمیشہ زید سے کہتے ، جن پر اللہ کا انعام ہوا تھا کہ وہ مسلمان ہوئے اور پھر رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوئے اور رسول اللہ ﷺ آپ سے محبت فرماتے تھے اور یہ محبت ایسی تھی کہ بلا استثناء سب سے زیادہ تھی۔ پھر رسول اللہ نے ان پر یہ مہربانی کی کہ انہیں آزاد کردیا۔ ان کی تربیت کی اور ان سے بہت پیار کرتے۔ حضرت زید سے رسول اللہ ﷺ یہی کہتے۔ امسک علیک زوجک واتق اللہ (33: 37) ” کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو “۔ اور دراصل حضور اکرم ﷺ اس طرح اس عظیم معاملے کو موخر کرنا چاہتے تھے جس کے وقوع کے بعد آپ کو عوام کا سامنا کرنے میں تردد تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی۔ وتخفی فی نفسک ۔۔۔۔۔۔ ان تخشہ (33: 37) ” اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا۔ تم لوگوں سے ڈر رہے تھے جس کا اللہ نے آپ کو یہ سبب بتا دیا تھا کہ اگر حضرت زید ان کو طلاق دیں گے تو آپ ﷺ کو نکاح کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ صریح حکم نہ تھا ، ورنہ حضور ﷺ اس میں تردد نہ فرماتے ، نہ موخر کرتے اور نہ یہ کوشش کرتے کہ کسی طرح ٹل جائے اور حضور ﷺ اس وقت اس کا اعلان کردیتے۔ نتائض جو بھی ہوتے ، البتہ حضور ﷺ کے دل میں بطور الہام یہ بات ڈال دی گئی تھی اور حضور ﷺ اس وقت پریشان تھے کہ لوگ غوغا آرائی کریں گے یہاں تک کہ خدا کے حکم سے زید نے طلاق دے دی اور یہ تصور نہ زید کا تھا اور نہ زینب کا کہ اس کے بعد حضور ﷺ سے نکاح ہوگا کیونکہ عربوں میں یہ قانونی رواج تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ کے ساتھ نکاح جائز نہ تھا۔ یہاں تک کہ معبنی بنانے کے قانون اور رواج کو ختم کردینے کے بعد بھی لوگ مطلقہ معبنی کو حرام سمجھتے تھے اور ابھی ان کے حلال ہونے کا حکم بھی نہ آیا تھا۔ صرف اس واقعہ سے یہ رسم ختم ہوئی لیکن یہ واقعہ بہرحال اس سوسائٹی میں ایک دھماکہ اور ایک انوکھی اور نئی بات تھی۔ اس تفسیر سے وہ تمام روایات ختم ہوجاتی ہیں جن پر اعتماد کرکے دشمنان اسلام نے قدیم دور میں بھی اور جدید دور میں بھی افسانے تصنیف کیے ہیں اور حاشیہ آرائیاں کی ہیں۔ معاملہ بس اس قدر تھا۔ فلما قضی زید۔۔۔۔۔ منھن وطرا (33: 37) ” پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اس کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی رہے جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں “۔ اور یہ واقعہ رسالت کی ان بھاری ذمہ داریوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ ﷺ نے خود اٹھایا۔ یوں آپ نے ایک ایسے معاملے میں جاہلی معاشرے کی ایک رسم متانے میں نمونہ پیش کیا جسے ایام جاہلیت میں ایک مکروہ فعل سمجھا جاتا تھا۔ یہ فعل اس قدر مکروہ سمجھا جاتا تھا کہ حضور اکرم ﷺ نے اسلامی نظریہ حیات کے حوالے سے بڑی بڑی باتوں میں تامل نہ فرمایا تھا مگر اس میں مترو و تھے۔ مثلاً عربوں کے خود ساختہ الٰہوں کی مذمت آپ نے بےدھڑک فرمائی اور یہ آپ نے بر ملا اعلان فرمایا کہ ہمارے آباء و اجداد غلطی پر تھے۔ وکان امر اللہ مفعولا (33: 37) ” اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا “۔ حضرت زینب سے حضور اکرم کا نکاح عدت پوری ہونے کے بعد طے ہوا تھا “۔ یعنی اسے ردنہ کیا جاسکتا تھا اور نہ اس سے کوئی مفر تھا۔ یہ ایک حقیقت تھی اور اٹل حقیقت تھی اور اس سے کوئی پہلو تہی نہ کرسکتا تھا۔ آپ کا نکاح زینب سے عدت گزر جانے کے بعد ہوا اور حضور ﷺ نے ان کو انہیں حضرت زید کے ذریعہ پیغام بھیجا تھا۔ یہ زید حضور ﷺ کو بہت ہی محبوب تھے۔ یہ گئے اور انہوں نے حضور ﷺ کا پیغام ان کو دیا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ جب زینب کی عدت ختم ہوگئی تو حضور ﷺ نے زید ابن حارثہ سے کہا ” آپ جائیں اور زینب کو میرے لیے پیغام دیں “۔ زید گئے ، اس وقت وہ آٹے میں خمیر ڈال رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ جب میں نے اسے دیکھا تو میرا انکے ساتھ سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔ میں ان کو دیکھ نہ سکا اور نہ کہہ سکا کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کا تذکرہ کیا ہے میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ پھیرلی اور واپس جاتے ہوئے یہ کہا ” اے زینب تمہارے لیے خوشخبری ہے ، حضور ﷺ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں ان کا پیغام آپ تک پہنچا دوں “۔ اس نے کہا ” میں کوئی بات اس وقت تک کرنے والی نہیں ہوں جب تک میں اپنے رب کے ساتھ اس معاملے میں مشورہ نہ کرلوں۔ وہ اٹھی اور اپنی جائے نماز پر نماز پڑھنے لگی “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اس کے بعد اس سے اجازت لینے کے بغیر اس کے پاس آگئے۔ (روایت احمد ، مسلم اور نسائی بطریقہ سلیمان ابن مغیرہ) ۔ بخاری شریف میں حضرت انس کی روایت ہے کہ حضرت زینب دوسری ازواج مطہرات پر یہ فخر کرتی تھی کہ تمہارا نکاح تمارے رشتہ داروں نے کیا ہے اور میرا نکاح اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔ یہ معاملہ اسی طرح آسانی سے طے نہ پا گیا بلکہ اسلامی سوسائٹی میں اس کی وجہ سے ایک بھونچال آگیا اور منافقین کو ایک مسئلہ مل گیا کہ حضور ﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ چونکہ یہ معاملہ اسلامی معاشرے میں قانون اصلاحات سے متعلق تھا اور اسلامی معاشرے کے لیے ایک نیا اصول طے کرنا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس کی تاکید مزید کردی اور پھر اس میں لوگوں کے نزدیک جو انوکھا پن تھا اسے یوں زائل کیا اور معاملات کو اپنی اصل حقیقت کی طرف لوٹا دیا۔ ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ (33: 38) ” نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا ہو “۔ اللہ نے نبی پر فرض کردیا تھا کہ زینب کے ساتھ اس کا نکاح ہوتا کہ یہ جاہلی رسم ٹوٹے کہ کسی کا نکاح ان کے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نہیں ہوسکتا جبکہ اس نے اسے طلاق دے دی ہو یا مر گیا ہو ، اور یہ کہ نبی ﷺ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل (33: 38) ” یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملے میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں “۔ تو یہ معاملہ سنت الہیہ کے مطابق جا رہا ہے اور اس میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ان رسوم اور رواجات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکتا رہا ہے جو معاشرے میں رائج رہی ہیں اور جن کی کوئی حقیقت و افادیت نہ تھی۔ وکان امر اللہ قدرا مقدورا (33: 38) ” اور اللہ کا حکم قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے “۔ اللہ کا حکم نافذ ہوتا ہے اور اسے نافذ کیا جانا ہی چاہئے۔ اس کے سامنے کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی اور نہ بننا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ تمام امور کو نہایت مہارت سے طے کرتا ہے ، نہایت حکمت سے طے کرتا ہے اور اس کی تہہ میں وہ مقاصد ہوتے ہیں جو اللہ کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ اللہ ہی ان احکام کی ضرورت اور کسی زمان و مکان میں ان کی اہمیت کو جانتا ہے اور اللہ نے رسول اللہ کو حکم دے دیا ہے کہ وہ اس عادت کو محو کردیں ، اس کے عملی آثار کا بھی قلع قمع کردیں اور یہ کام وہ بنفس خود کریں۔ اللہ کے حکم کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی اور اللہ کے رسولوں کی یہ سنت رہی ہے۔ تمام گزرے ہوئے رسولوں کی : الذین یبلغون رسلت۔۔۔۔۔۔۔ الا اللہ (33: 39) ” جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے “۔ ایسے لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے نظام کو عملاً قائم کرتے ہیں اور لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتے۔ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ وہ اللہ کے احکام پہنچاتے ہیں اور نافذ کرتے ہیں۔ وکفی باللہ حسیبا (33: 39) ” اور محاسبہ کے لیے اللہ ہی کافی ہے “۔ حساب و کتاب نیک و بد کا اللہ ہی لے گا اور لوگوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے نبی کا محاسبہ کریں۔ ما کان محمد ابآ احد من رجالکم (33: 40) ” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں “۔ لہٰذا زینب محمد کے کسی بیٹے کی مطلقہ نہیں ہے۔ زید ابن محمد دراصل زید ابن حارثہ ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اگر حقیقت پسند انہ نظروں سے دیکھا جائے حضرت محمد ﷺ اور تمام لوگوں کا آپس میں تعلق نبی اور قوم کا تعلق ہے وہ ان میں سے کسی کا باپ نہیں ہے۔ ولکن رسول اللہ وخاتم النبین (33: 40) ” وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں “۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ قانون بناتے ہیں۔ اور یہ دائمی اور آخری شریعت ہے اور یہ قیامت تک رہنی ہے۔ اس کے بعد ان قوانین میں کوئی تغیر و تبدل ہونے والا نہیں۔ وکان اللہ بکل شئ علیما (33: 40) ” اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے “۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ انسانیت کیلئے کون سا قانون مفید ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے نبی پر یہ کام کرنا فرض کیا اور اس کیلئے یہ آسائش مقرر کی تاکہ لوگوں کے لیے منہ بولے بیٹوں کے معاملہ میں پابندی ختم ہو۔ جبکہ وہ کسی بیوی کو طلاق دت چکے ہوں اور ان سے اپنی ضرورت پوری کرچکے ہوں اور ان کو آزاد کرچکے ہوں۔ اللہ نے اپنے علم کے مطابق فیصلہ فرمایا ہے اور اللہ ہی ہے جو اپنی حکمت اور علم کے مطابق قانون بنانے والا ہے۔ اب سیاق کلام میں اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کو یاد کرو ، صبح و شام ، اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے رہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مہربانی اور رحمت سے تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کیا۔ وہ مومنین پر کس قدر رحیم ہے۔ جب یہ مومنین قیامت میں حاضر ہوں گے تو ہر طرف سے مبارک سلامت ہوگی۔

الأحزاب 33:41

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ لھم اجرا کریما (41 – 44) اللہ کا ذکر انسان کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ کی فکر اور سوچ میں رہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی سب کچھ کرنے والی ہے۔ صرف زبان ہی سے اللہ اللہ کرنا ذکر نہیں ہے۔ نماز قائم کرنا بھی ذکر الٰہی کی ایک شکل ہے بلکہ خصوصی قرآن و سنت میں ذکر کا مطلب قریب قریب نماز ہی ہے۔ امام ابو داؤد اور ابن ماجہ نے اعمش کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اغر ، ابو سعید اور ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو رات کے وقت جگایا اور دونوں نے دو رکعت نماز پڑھی تو دونوں اس پوری رات میں ذاکرین اور ذاکرات میں شمار ہوں گے “۔ اگرچہ ذکر الٰہی نماز سے عام ہے لیکن ہر وہ صورت جس میں بندہ خدا کو یاد کرے ، وہ ذکر الٰہی ہے۔ جس میں بندے کا دل رب سے مربوط ہو ، چاہے زبان سے وہ ادا کرے یا نہ کرے۔ اصل بات یہ ہے کہ قلبی اور روحانی لحاظ سے انسان اللہ سے مربوط ہوجائے۔ جب انسان اللہ سے غافل ہو ، تو اس کا دل خالی ہوتا ہے ، وہ لاپرواہ ہوتا ہے اور وہ حیران و پریشان ہوتا ہے۔ جب وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ مانوس اور پرسکون ہوجاتا ہے۔ اب اس کا قلب بھرا ہوا ہوتا ہے۔ وہ سنجیدہ بن جاتا ہے۔ اسے قرار و سکون مل جاتا ہے۔ اسے زندگی کی راہ معلوم ہوجاتی ہے ، وہ اپنے منہاج سے باخبر ہوتا ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے ، اسے کہاں جانا ہے اور اس کی راہ کون سی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ذکر الٰہی پر بہت زور دیتا ہے۔ بہت ہی تاکید کی جاتی ہے کہ اللہ کو یاد کرو ، چناچہ قرآن مجید ذکر الٰہی کو انسان کے مصروف ترین اوقات اور حالات سے مربوط کرتا ہے تاکہ کسی بھی مصروفیت میں انسان ذکر الٰہی سے غافل نہ ہوجائے ۔ اس کے وہ اوقات اور حالات بھی وسیلہ یاد الٰہی بن جائیں اور یوں انسان حالات اور اوقات کے حوالے سے بھی اللہ سے مربوط ہوجائے۔ وسبحوہ بکرۃ واصیلا (33: 42) ” صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ صبح و شام کے اوقات میں ایک خاصیت ہے۔ وہ یہ کہ ان اوقات میں انسانی قلب اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان اوقات میں انسان کے حالات اور دن اور رات کے اصول بدلتے ہیں جبکہ اللہ لازوال ہے اور اس کے سوا ہر چیز تغیر پذیر اور زوال پذیر ہے۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ جس ذات کو تم یاد کرتے ہو ، اور جس کی تسبیح کرتے ہو ، وہ لازوال ہونے کے ساتھ تم پر بہت ہی رحیم و کریم ہے اور وہی ہے جو تمہاری تخلیق کرتا ہے۔ تمہاری بہتری چاہتا ہے ، حالانکہ وہ غنی بادشاہ ہے اور تم محتاج ہو۔ اس کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو محض اس کا فضل و کرم ہے۔ ھو الذی یصلی ۔۔۔۔۔ بالمومنین رحیما (33: 43) ” وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے اور وہ مومنین پر بہت مہربان ہے “۔ اللہ بہت بلند ہے ، اس کی رحمتیں بہت زیادہ ہیں۔ اس کا فضل و کرم بہت ہی عظیم ہے۔ اللہ اپنے ان ضعیف اور محتاج بندوں پر رحمت فرماتا ہے جو کمزور اور بےقرار ہوتے ہیں ، ان کو نصیحت کرتا ہے ، ان پر رحم و کرم کرت ا ہے۔ اس کے فرشتے انسانوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور ان کو بھلائی سے یاد کرتے ہیں۔ یوں پھر پوری کائنات بھی بندوں کر یاد کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ فرماتے ہیں جس نے مجھے یاد کیا اپنے دل میں ، میں اسے دل میں یاد کرتا ہوں۔ جس نے مجھے لوگوں میں یاد کیا میں اسے ان سے اچھے لوگوں میں یاد کرتا ہوں “۔ یہ ایک عظیم قسمت ہے جس کا تصور انسان کے لئے ممکن نہیں کہ انسان اور یہ زمین اس کائنات کا ایک حقیر ذرہ ہیں اور یہ افلاک اور یہ پوری کائنات اللہ کی لاتعداد مخلوقات و املاک کا حقیر حصہ ہیں جو کن فیکون سے پیدا ہوئے۔ ھو الذی یصلی ۔۔۔۔۔ الی النور (33: 43) ” وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئیں۔ اللہ کا نور ایک ہے ، وہ ہر کسی کے شامل حال ہے اور عام ہے۔ اللہ کے نور کے سوا جس قدر افکار و خیالات بھی ہیں ، وہ ظلمات ہیں۔ جب بھی لوگ اللہ کے نور سے نکلیں گے وہ تاریکیوں میں ہوں گے۔ جزوی تاریکی ہوگی یا کلی تاریکی ہوگی۔ اور یہ تاریکی صرف ایک ہی ذریعہ سے دور ہو سکتی ہے کہ کسی کے دل میں نور آفتاب طلوع ہوجائے۔ اس کی روح بدل جائے ، وہ فطرت کی طرف لوٹ آئیں۔ یہی کائنات کی فطرت ہے اور یہی رحمت الٰہی ، دعائے ملائکہ اور یہی وہ راہ ہے جس کے ذریعے انسان ظلمات سے نکل آتا ہے لیکن جب اس کا دل کھل جائے۔ وکان بالمومنین رحیما (33: 43) ” اللہ مومنوں پر بہت مہربان ہے “۔ یہ تو ہے دنیا میں اہل ایمان کا معاملہ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دنیا دار العمل ہے۔ رہی آخرت جو دار الجزاء ہے تو وہاں بھی اللہ کا فضل و کرم ان کے شامل حال رہے گا اور اللہ کی رحمت وہاں بھی ان کو ڈھانپے ہوئے ہوگی۔ وہ ان کے لیے بہت ہی اعزاز ہوگا ، بہت ہی خصوصی کرم ہوگا اور اجر عظیم ان کے لیے وہاں تیار ہے۔ تحیتھم یوم یلقونہ سلم واعدلھم اجرا کریما (33: 44) ” جس روز وہ اس سے ملیں گے ، ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور ان کے لیے اللہ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے “۔ ان کے لئے ہر خوف و خطر سے سلامتی ہوگی۔ ہر تھکاوٹ سے وہ دور ہوں گے۔ ان کے لئے کوئی مشکل نہ ہوگی۔ اللہ کی طرف سے مبارک و سلامت کے پیغامات فرشتوں نے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ فرشتے ان کے پاس ہر طرف سے آتے ہوں گے اور اللہ کی جانب سے سلام پہنچا رہے ہوں گے۔ یہ سلام ان باعزت اجر و معاوضات کے علاوہ ہوگا جو ابھی سے تیار ہیں۔ یہ ہے وہ رب کریم جو لوگوں کے لیے قانون بناتا ہے جو ان کے لیے راہ پسند کرتا ہے۔ لہٰذا کون بدبخت ہوگا جو ایسے رب کے اختیار کردہ نظام سے منہ موڑے گا۔ رہے نبی ﷺ جو ان لوگوں تک اللہ کے پسند کردہ قوانین اور ضوابط پہنچاتے ہیں اور کود اپنی سنت اور اپنے اسوہ اور نمونہ کے ذریعے وہ راستے متعین فرماتے ہیں تو یہاں ان کے بارے میں بھی بتا دیا جاتا ہے کہ ان کے فرائض کیا ہیں۔ آپ کس مشن پر مامور ہیں اور ان کے ذریعے اس دنیا میں اللہ مومنین پر کس قدر فضل کر رہے ہیں۔

الأحزاب 33:42

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ لھم اجرا کریما (41 – 44) اللہ کا ذکر انسان کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ کی فکر اور سوچ میں رہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی سب کچھ کرنے والی ہے۔ صرف زبان ہی سے اللہ اللہ کرنا ذکر نہیں ہے۔ نماز قائم کرنا بھی ذکر الٰہی کی ایک شکل ہے بلکہ خصوصی قرآن و سنت میں ذکر کا مطلب قریب قریب نماز ہی ہے۔ امام ابو داؤد اور ابن ماجہ نے اعمش کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اغر ، ابو سعید اور ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو رات کے وقت جگایا اور دونوں نے دو رکعت نماز پڑھی تو دونوں اس پوری رات میں ذاکرین اور ذاکرات میں شمار ہوں گے “۔ اگرچہ ذکر الٰہی نماز سے عام ہے لیکن ہر وہ صورت جس میں بندہ خدا کو یاد کرے ، وہ ذکر الٰہی ہے۔ جس میں بندے کا دل رب سے مربوط ہو ، چاہے زبان سے وہ ادا کرے یا نہ کرے۔ اصل بات یہ ہے کہ قلبی اور روحانی لحاظ سے انسان اللہ سے مربوط ہوجائے۔ جب انسان اللہ سے غافل ہو ، تو اس کا دل خالی ہوتا ہے ، وہ لاپرواہ ہوتا ہے اور وہ حیران و پریشان ہوتا ہے۔ جب وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ مانوس اور پرسکون ہوجاتا ہے۔ اب اس کا قلب بھرا ہوا ہوتا ہے۔ وہ سنجیدہ بن جاتا ہے۔ اسے قرار و سکون مل جاتا ہے۔ اسے زندگی کی راہ معلوم ہوجاتی ہے ، وہ اپنے منہاج سے باخبر ہوتا ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے ، اسے کہاں جانا ہے اور اس کی راہ کون سی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ذکر الٰہی پر بہت زور دیتا ہے۔ بہت ہی تاکید کی جاتی ہے کہ اللہ کو یاد کرو ، چناچہ قرآن مجید ذکر الٰہی کو انسان کے مصروف ترین اوقات اور حالات سے مربوط کرتا ہے تاکہ کسی بھی مصروفیت میں انسان ذکر الٰہی سے غافل نہ ہوجائے ۔ اس کے وہ اوقات اور حالات بھی وسیلہ یاد الٰہی بن جائیں اور یوں انسان حالات اور اوقات کے حوالے سے بھی اللہ سے مربوط ہوجائے۔ وسبحوہ بکرۃ واصیلا (33: 42) ” صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ صبح و شام کے اوقات میں ایک خاصیت ہے۔ وہ یہ کہ ان اوقات میں انسانی قلب اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان اوقات میں انسان کے حالات اور دن اور رات کے اصول بدلتے ہیں جبکہ اللہ لازوال ہے اور اس کے سوا ہر چیز تغیر پذیر اور زوال پذیر ہے۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ جس ذات کو تم یاد کرتے ہو ، اور جس کی تسبیح کرتے ہو ، وہ لازوال ہونے کے ساتھ تم پر بہت ہی رحیم و کریم ہے اور وہی ہے جو تمہاری تخلیق کرتا ہے۔ تمہاری بہتری چاہتا ہے ، حالانکہ وہ غنی بادشاہ ہے اور تم محتاج ہو۔ اس کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو محض اس کا فضل و کرم ہے۔ ھو الذی یصلی ۔۔۔۔۔ بالمومنین رحیما (33: 43) ” وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے اور وہ مومنین پر بہت مہربان ہے “۔ اللہ بہت بلند ہے ، اس کی رحمتیں بہت زیادہ ہیں۔ اس کا فضل و کرم بہت ہی عظیم ہے۔ اللہ اپنے ان ضعیف اور محتاج بندوں پر رحمت فرماتا ہے جو کمزور اور بےقرار ہوتے ہیں ، ان کو نصیحت کرتا ہے ، ان پر رحم و کرم کرت ا ہے۔ اس کے فرشتے انسانوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور ان کو بھلائی سے یاد کرتے ہیں۔ یوں پھر پوری کائنات بھی بندوں کر یاد کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ فرماتے ہیں جس نے مجھے یاد کیا اپنے دل میں ، میں اسے دل میں یاد کرتا ہوں۔ جس نے مجھے لوگوں میں یاد کیا میں اسے ان سے اچھے لوگوں میں یاد کرتا ہوں “۔ یہ ایک عظیم قسمت ہے جس کا تصور انسان کے لئے ممکن نہیں کہ انسان اور یہ زمین اس کائنات کا ایک حقیر ذرہ ہیں اور یہ افلاک اور یہ پوری کائنات اللہ کی لاتعداد مخلوقات و املاک کا حقیر حصہ ہیں جو کن فیکون سے پیدا ہوئے۔ ھو الذی یصلی ۔۔۔۔۔ الی النور (33: 43) ” وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئیں۔ اللہ کا نور ایک ہے ، وہ ہر کسی کے شامل حال ہے اور عام ہے۔ اللہ کے نور کے سوا جس قدر افکار و خیالات بھی ہیں ، وہ ظلمات ہیں۔ جب بھی لوگ اللہ کے نور سے نکلیں گے وہ تاریکیوں میں ہوں گے۔ جزوی تاریکی ہوگی یا کلی تاریکی ہوگی۔ اور یہ تاریکی صرف ایک ہی ذریعہ سے دور ہو سکتی ہے کہ کسی کے دل میں نور آفتاب طلوع ہوجائے۔ اس کی روح بدل جائے ، وہ فطرت کی طرف لوٹ آئیں۔ یہی کائنات کی فطرت ہے اور یہی رحمت الٰہی ، دعائے ملائکہ اور یہی وہ راہ ہے جس کے ذریعے انسان ظلمات سے نکل آتا ہے لیکن جب اس کا دل کھل جائے۔ وکان بالمومنین رحیما (33: 43) ” اللہ مومنوں پر بہت مہربان ہے “۔ یہ تو ہے دنیا میں اہل ایمان کا معاملہ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دنیا دار العمل ہے۔ رہی آخرت جو دار الجزاء ہے تو وہاں بھی اللہ کا فضل و کرم ان کے شامل حال رہے گا اور اللہ کی رحمت وہاں بھی ان کو ڈھانپے ہوئے ہوگی۔ وہ ان کے لیے بہت ہی اعزاز ہوگا ، بہت ہی خصوصی کرم ہوگا اور اجر عظیم ان کے لیے وہاں تیار ہے۔ تحیتھم یوم یلقونہ سلم واعدلھم اجرا کریما (33: 44) ” جس روز وہ اس سے ملیں گے ، ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور ان کے لیے اللہ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے “۔ ان کے لئے ہر خوف و خطر سے سلامتی ہوگی۔ ہر تھکاوٹ سے وہ دور ہوں گے۔ ان کے لئے کوئی مشکل نہ ہوگی۔ اللہ کی طرف سے مبارک و سلامت کے پیغامات فرشتوں نے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ فرشتے ان کے پاس ہر طرف سے آتے ہوں گے اور اللہ کی جانب سے سلام پہنچا رہے ہوں گے۔ یہ سلام ان باعزت اجر و معاوضات کے علاوہ ہوگا جو ابھی سے تیار ہیں۔ یہ ہے وہ رب کریم جو لوگوں کے لیے قانون بناتا ہے جو ان کے لیے راہ پسند کرتا ہے۔ لہٰذا کون بدبخت ہوگا جو ایسے رب کے اختیار کردہ نظام سے منہ موڑے گا۔ رہے نبی ﷺ جو ان لوگوں تک اللہ کے پسند کردہ قوانین اور ضوابط پہنچاتے ہیں اور کود اپنی سنت اور اپنے اسوہ اور نمونہ کے ذریعے وہ راستے متعین فرماتے ہیں تو یہاں ان کے بارے میں بھی بتا دیا جاتا ہے کہ ان کے فرائض کیا ہیں۔ آپ کس مشن پر مامور ہیں اور ان کے ذریعے اس دنیا میں اللہ مومنین پر کس قدر فضل کر رہے ہیں۔

الأحزاب 33:43

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ لھم اجرا کریما (41 – 44) اللہ کا ذکر انسان کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ کی فکر اور سوچ میں رہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی سب کچھ کرنے والی ہے۔ صرف زبان ہی سے اللہ اللہ کرنا ذکر نہیں ہے۔ نماز قائم کرنا بھی ذکر الٰہی کی ایک شکل ہے بلکہ خصوصی قرآن و سنت میں ذکر کا مطلب قریب قریب نماز ہی ہے۔ امام ابو داؤد اور ابن ماجہ نے اعمش کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اغر ، ابو سعید اور ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو رات کے وقت جگایا اور دونوں نے دو رکعت نماز پڑھی تو دونوں اس پوری رات میں ذاکرین اور ذاکرات میں شمار ہوں گے “۔ اگرچہ ذکر الٰہی نماز سے عام ہے لیکن ہر وہ صورت جس میں بندہ خدا کو یاد کرے ، وہ ذکر الٰہی ہے۔ جس میں بندے کا دل رب سے مربوط ہو ، چاہے زبان سے وہ ادا کرے یا نہ کرے۔ اصل بات یہ ہے کہ قلبی اور روحانی لحاظ سے انسان اللہ سے مربوط ہوجائے۔ جب انسان اللہ سے غافل ہو ، تو اس کا دل خالی ہوتا ہے ، وہ لاپرواہ ہوتا ہے اور وہ حیران و پریشان ہوتا ہے۔ جب وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ مانوس اور پرسکون ہوجاتا ہے۔ اب اس کا قلب بھرا ہوا ہوتا ہے۔ وہ سنجیدہ بن جاتا ہے۔ اسے قرار و سکون مل جاتا ہے۔ اسے زندگی کی راہ معلوم ہوجاتی ہے ، وہ اپنے منہاج سے باخبر ہوتا ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے ، اسے کہاں جانا ہے اور اس کی راہ کون سی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ذکر الٰہی پر بہت زور دیتا ہے۔ بہت ہی تاکید کی جاتی ہے کہ اللہ کو یاد کرو ، چناچہ قرآن مجید ذکر الٰہی کو انسان کے مصروف ترین اوقات اور حالات سے مربوط کرتا ہے تاکہ کسی بھی مصروفیت میں انسان ذکر الٰہی سے غافل نہ ہوجائے ۔ اس کے وہ اوقات اور حالات بھی وسیلہ یاد الٰہی بن جائیں اور یوں انسان حالات اور اوقات کے حوالے سے بھی اللہ سے مربوط ہوجائے۔ وسبحوہ بکرۃ واصیلا (33: 42) ” صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ صبح و شام کے اوقات میں ایک خاصیت ہے۔ وہ یہ کہ ان اوقات میں انسانی قلب اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان اوقات میں انسان کے حالات اور دن اور رات کے اصول بدلتے ہیں جبکہ اللہ لازوال ہے اور اس کے سوا ہر چیز تغیر پذیر اور زوال پذیر ہے۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ جس ذات کو تم یاد کرتے ہو ، اور جس کی تسبیح کرتے ہو ، وہ لازوال ہونے کے ساتھ تم پر بہت ہی رحیم و کریم ہے اور وہی ہے جو تمہاری تخلیق کرتا ہے۔ تمہاری بہتری چاہتا ہے ، حالانکہ وہ غنی بادشاہ ہے اور تم محتاج ہو۔ اس کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو محض اس کا فضل و کرم ہے۔ ھو الذی یصلی ۔۔۔۔۔ بالمومنین رحیما (33: 43) ” وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے اور وہ مومنین پر بہت مہربان ہے “۔ اللہ بہت بلند ہے ، اس کی رحمتیں بہت زیادہ ہیں۔ اس کا فضل و کرم بہت ہی عظیم ہے۔ اللہ اپنے ان ضعیف اور محتاج بندوں پر رحمت فرماتا ہے جو کمزور اور بےقرار ہوتے ہیں ، ان کو نصیحت کرتا ہے ، ان پر رحم و کرم کرت ا ہے۔ اس کے فرشتے انسانوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور ان کو بھلائی سے یاد کرتے ہیں۔ یوں پھر پوری کائنات بھی بندوں کر یاد کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ فرماتے ہیں جس نے مجھے یاد کیا اپنے دل میں ، میں اسے دل میں یاد کرتا ہوں۔ جس نے مجھے لوگوں میں یاد کیا میں اسے ان سے اچھے لوگوں میں یاد کرتا ہوں “۔ یہ ایک عظیم قسمت ہے جس کا تصور انسان کے لئے ممکن نہیں کہ انسان اور یہ زمین اس کائنات کا ایک حقیر ذرہ ہیں اور یہ افلاک اور یہ پوری کائنات اللہ کی لاتعداد مخلوقات و املاک کا حقیر حصہ ہیں جو کن فیکون سے پیدا ہوئے۔ ھو الذی یصلی ۔۔۔۔۔ الی النور (33: 43) ” وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئیں۔ اللہ کا نور ایک ہے ، وہ ہر کسی کے شامل حال ہے اور عام ہے۔ اللہ کے نور کے سوا جس قدر افکار و خیالات بھی ہیں ، وہ ظلمات ہیں۔ جب بھی لوگ اللہ کے نور سے نکلیں گے وہ تاریکیوں میں ہوں گے۔ جزوی تاریکی ہوگی یا کلی تاریکی ہوگی۔ اور یہ تاریکی صرف ایک ہی ذریعہ سے دور ہو سکتی ہے کہ کسی کے دل میں نور آفتاب طلوع ہوجائے۔ اس کی روح بدل جائے ، وہ فطرت کی طرف لوٹ آئیں۔ یہی کائنات کی فطرت ہے اور یہی رحمت الٰہی ، دعائے ملائکہ اور یہی وہ راہ ہے جس کے ذریعے انسان ظلمات سے نکل آتا ہے لیکن جب اس کا دل کھل جائے۔ وکان بالمومنین رحیما (33: 43) ” اللہ مومنوں پر بہت مہربان ہے “۔ یہ تو ہے دنیا میں اہل ایمان کا معاملہ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دنیا دار العمل ہے۔ رہی آخرت جو دار الجزاء ہے تو وہاں بھی اللہ کا فضل و کرم ان کے شامل حال رہے گا اور اللہ کی رحمت وہاں بھی ان کو ڈھانپے ہوئے ہوگی۔ وہ ان کے لیے بہت ہی اعزاز ہوگا ، بہت ہی خصوصی کرم ہوگا اور اجر عظیم ان کے لیے وہاں تیار ہے۔ تحیتھم یوم یلقونہ سلم واعدلھم اجرا کریما (33: 44) ” جس روز وہ اس سے ملیں گے ، ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور ان کے لیے اللہ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے “۔ ان کے لئے ہر خوف و خطر سے سلامتی ہوگی۔ ہر تھکاوٹ سے وہ دور ہوں گے۔ ان کے لئے کوئی مشکل نہ ہوگی۔ اللہ کی طرف سے مبارک و سلامت کے پیغامات فرشتوں نے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ فرشتے ان کے پاس ہر طرف سے آتے ہوں گے اور اللہ کی جانب سے سلام پہنچا رہے ہوں گے۔ یہ سلام ان باعزت اجر و معاوضات کے علاوہ ہوگا جو ابھی سے تیار ہیں۔ یہ ہے وہ رب کریم جو لوگوں کے لیے قانون بناتا ہے جو ان کے لیے راہ پسند کرتا ہے۔ لہٰذا کون بدبخت ہوگا جو ایسے رب کے اختیار کردہ نظام سے منہ موڑے گا۔ رہے نبی ﷺ جو ان لوگوں تک اللہ کے پسند کردہ قوانین اور ضوابط پہنچاتے ہیں اور کود اپنی سنت اور اپنے اسوہ اور نمونہ کے ذریعے وہ راستے متعین فرماتے ہیں تو یہاں ان کے بارے میں بھی بتا دیا جاتا ہے کہ ان کے فرائض کیا ہیں۔ آپ کس مشن پر مامور ہیں اور ان کے ذریعے اس دنیا میں اللہ مومنین پر کس قدر فضل کر رہے ہیں۔

الأحزاب 33:44

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ لھم اجرا کریما (41 – 44) اللہ کا ذکر انسان کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ کی فکر اور سوچ میں رہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی سب کچھ کرنے والی ہے۔ صرف زبان ہی سے اللہ اللہ کرنا ذکر نہیں ہے۔ نماز قائم کرنا بھی ذکر الٰہی کی ایک شکل ہے بلکہ خصوصی قرآن و سنت میں ذکر کا مطلب قریب قریب نماز ہی ہے۔ امام ابو داؤد اور ابن ماجہ نے اعمش کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اغر ، ابو سعید اور ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو رات کے وقت جگایا اور دونوں نے دو رکعت نماز پڑھی تو دونوں اس پوری رات میں ذاکرین اور ذاکرات میں شمار ہوں گے “۔ اگرچہ ذکر الٰہی نماز سے عام ہے لیکن ہر وہ صورت جس میں بندہ خدا کو یاد کرے ، وہ ذکر الٰہی ہے۔ جس میں بندے کا دل رب سے مربوط ہو ، چاہے زبان سے وہ ادا کرے یا نہ کرے۔ اصل بات یہ ہے کہ قلبی اور روحانی لحاظ سے انسان اللہ سے مربوط ہوجائے۔ جب انسان اللہ سے غافل ہو ، تو اس کا دل خالی ہوتا ہے ، وہ لاپرواہ ہوتا ہے اور وہ حیران و پریشان ہوتا ہے۔ جب وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ مانوس اور پرسکون ہوجاتا ہے۔ اب اس کا قلب بھرا ہوا ہوتا ہے۔ وہ سنجیدہ بن جاتا ہے۔ اسے قرار و سکون مل جاتا ہے۔ اسے زندگی کی راہ معلوم ہوجاتی ہے ، وہ اپنے منہاج سے باخبر ہوتا ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے ، اسے کہاں جانا ہے اور اس کی راہ کون سی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ذکر الٰہی پر بہت زور دیتا ہے۔ بہت ہی تاکید کی جاتی ہے کہ اللہ کو یاد کرو ، چناچہ قرآن مجید ذکر الٰہی کو انسان کے مصروف ترین اوقات اور حالات سے مربوط کرتا ہے تاکہ کسی بھی مصروفیت میں انسان ذکر الٰہی سے غافل نہ ہوجائے ۔ اس کے وہ اوقات اور حالات بھی وسیلہ یاد الٰہی بن جائیں اور یوں انسان حالات اور اوقات کے حوالے سے بھی اللہ سے مربوط ہوجائے۔ وسبحوہ بکرۃ واصیلا (33: 42) ” صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ صبح و شام کے اوقات میں ایک خاصیت ہے۔ وہ یہ کہ ان اوقات میں انسانی قلب اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان اوقات میں انسان کے حالات اور دن اور رات کے اصول بدلتے ہیں جبکہ اللہ لازوال ہے اور اس کے سوا ہر چیز تغیر پذیر اور زوال پذیر ہے۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ جس ذات کو تم یاد کرتے ہو ، اور جس کی تسبیح کرتے ہو ، وہ لازوال ہونے کے ساتھ تم پر بہت ہی رحیم و کریم ہے اور وہی ہے جو تمہاری تخلیق کرتا ہے۔ تمہاری بہتری چاہتا ہے ، حالانکہ وہ غنی بادشاہ ہے اور تم محتاج ہو۔ اس کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو محض اس کا فضل و کرم ہے۔ ھو الذی یصلی ۔۔۔۔۔ بالمومنین رحیما (33: 43) ” وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے اور وہ مومنین پر بہت مہربان ہے “۔ اللہ بہت بلند ہے ، اس کی رحمتیں بہت زیادہ ہیں۔ اس کا فضل و کرم بہت ہی عظیم ہے۔ اللہ اپنے ان ضعیف اور محتاج بندوں پر رحمت فرماتا ہے جو کمزور اور بےقرار ہوتے ہیں ، ان کو نصیحت کرتا ہے ، ان پر رحم و کرم کرت ا ہے۔ اس کے فرشتے انسانوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور ان کو بھلائی سے یاد کرتے ہیں۔ یوں پھر پوری کائنات بھی بندوں کر یاد کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ فرماتے ہیں جس نے مجھے یاد کیا اپنے دل میں ، میں اسے دل میں یاد کرتا ہوں۔ جس نے مجھے لوگوں میں یاد کیا میں اسے ان سے اچھے لوگوں میں یاد کرتا ہوں “۔ یہ ایک عظیم قسمت ہے جس کا تصور انسان کے لئے ممکن نہیں کہ انسان اور یہ زمین اس کائنات کا ایک حقیر ذرہ ہیں اور یہ افلاک اور یہ پوری کائنات اللہ کی لاتعداد مخلوقات و املاک کا حقیر حصہ ہیں جو کن فیکون سے پیدا ہوئے۔ ھو الذی یصلی ۔۔۔۔۔ الی النور (33: 43) ” وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئیں۔ اللہ کا نور ایک ہے ، وہ ہر کسی کے شامل حال ہے اور عام ہے۔ اللہ کے نور کے سوا جس قدر افکار و خیالات بھی ہیں ، وہ ظلمات ہیں۔ جب بھی لوگ اللہ کے نور سے نکلیں گے وہ تاریکیوں میں ہوں گے۔ جزوی تاریکی ہوگی یا کلی تاریکی ہوگی۔ اور یہ تاریکی صرف ایک ہی ذریعہ سے دور ہو سکتی ہے کہ کسی کے دل میں نور آفتاب طلوع ہوجائے۔ اس کی روح بدل جائے ، وہ فطرت کی طرف لوٹ آئیں۔ یہی کائنات کی فطرت ہے اور یہی رحمت الٰہی ، دعائے ملائکہ اور یہی وہ راہ ہے جس کے ذریعے انسان ظلمات سے نکل آتا ہے لیکن جب اس کا دل کھل جائے۔ وکان بالمومنین رحیما (33: 43) ” اللہ مومنوں پر بہت مہربان ہے “۔ یہ تو ہے دنیا میں اہل ایمان کا معاملہ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دنیا دار العمل ہے۔ رہی آخرت جو دار الجزاء ہے تو وہاں بھی اللہ کا فضل و کرم ان کے شامل حال رہے گا اور اللہ کی رحمت وہاں بھی ان کو ڈھانپے ہوئے ہوگی۔ وہ ان کے لیے بہت ہی اعزاز ہوگا ، بہت ہی خصوصی کرم ہوگا اور اجر عظیم ان کے لیے وہاں تیار ہے۔ تحیتھم یوم یلقونہ سلم واعدلھم اجرا کریما (33: 44) ” جس روز وہ اس سے ملیں گے ، ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور ان کے لیے اللہ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے “۔ ان کے لئے ہر خوف و خطر سے سلامتی ہوگی۔ ہر تھکاوٹ سے وہ دور ہوں گے۔ ان کے لئے کوئی مشکل نہ ہوگی۔ اللہ کی طرف سے مبارک و سلامت کے پیغامات فرشتوں نے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ فرشتے ان کے پاس ہر طرف سے آتے ہوں گے اور اللہ کی جانب سے سلام پہنچا رہے ہوں گے۔ یہ سلام ان باعزت اجر و معاوضات کے علاوہ ہوگا جو ابھی سے تیار ہیں۔ یہ ہے وہ رب کریم جو لوگوں کے لیے قانون بناتا ہے جو ان کے لیے راہ پسند کرتا ہے۔ لہٰذا کون بدبخت ہوگا جو ایسے رب کے اختیار کردہ نظام سے منہ موڑے گا۔ رہے نبی ﷺ جو ان لوگوں تک اللہ کے پسند کردہ قوانین اور ضوابط پہنچاتے ہیں اور کود اپنی سنت اور اپنے اسوہ اور نمونہ کے ذریعے وہ راستے متعین فرماتے ہیں تو یہاں ان کے بارے میں بھی بتا دیا جاتا ہے کہ ان کے فرائض کیا ہیں۔ آپ کس مشن پر مامور ہیں اور ان کے ذریعے اس دنیا میں اللہ مومنین پر کس قدر فضل کر رہے ہیں۔

الأحزاب 33:45

یایھا النبی انا ارسنک ۔۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (45 – 48) نبی کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ آپ لوگوں پر گواہ ہوں لہٰذا لوگوں کو ایسا عمل کرنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ اچھی شہادت دینے کے قابل ہوں کیونکہ آپ نے سچی شہادت دینی ہے۔ اصل واقعہ سے کوئی تغیر و تبدیلی آپ نے نہیں کرنی ہے۔ رسول تو خوشخبری دینے والے ہیں ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت انتظار میں ہے اور غافل اور بےراہ رو لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ ان کیلئے سخت عذاب ہے تاکہ وہ بیچارے غفلت میں نہ مارے جائیں اور اگر سزا دی جائے تو وارننگ کے بعد۔ وداعیا الی اللہ (33: 46) ” اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے “۔ اس لیے نہیں بھیجا کہ صرف تمہاری دنیا اچھی ہے۔ تم دنیا میں برتر ہوجاؤ اور قومی وقار تمہارا بلند ہو۔ نہ جاہلی عصبیات کے لئے اسے داعی بنایا ہے۔ نہ مال غنیمت کے حصول کے لئے اٹھایا ہے۔ نہ نظام مملکت کا قیام مطلوب ہے۔ صرف دعوت الی اللہ ان کا منشور و مطلوب ہے اور یہ کام اللہ کے حکم سے انہوں نے شروع کیا ہے۔ نہ یہ اپنی طرف سے ہے اور نہ رضا کارانہ ہے۔ نہ آپ اپنی طرف سے یہ کام بطور رضا کار کرتے ہیں۔ یہ سب کام اللہ کے حکم سے ہے۔ وسراجا منیرا (33: 46) ” آپ روشن چراغ ہیں “۔ آپ ظلمتوں کو دور کرنے والے ہیں۔ شہادت کو قائم کرتے ہیں۔ راستہ متعین کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے ایسے رہنما ہیں جس طرح سراج منیر ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ اسی طرح روشنی لے کر آئے ۔ یہ روشنی ایک واضح تصور تھا ، ایک واضح نظریہ اور عقیدہ تھا ، جس نے پوری کائنات کو منور کردیا۔ اس کائنات اور انسان کا ربط واضح کردیا اور اس کائنات میں انسان کے مقام و مرتبہ کو متعین کیا۔ ان اقدار کی وضاحت کی جن پر یہ کائنات قائم ہے۔ انسان کا مقصد ، اس کی غرض ، اور اس کے حصول کا طریقہ متعین کیا۔ نہایت ہی واضح اسلوب میں اور نہایت ہی فطری انداز میں۔ اس طرح کہ بات انسان کے دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے۔ مشکل سے مشکل مسائل اور زندگی کے نشیب و فراز میں پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو آسان ترین طریقوں سے حل کردیا گیا ہے۔ مکرر اس بات کی تفصیل دی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داریوں میں اس بات کا اضافہ کیا جاتا ہے کہ آپ مومنین کے لیے مبشر ہیں۔ وبشر المومنین بان لھم من اللہ فضلا کبرا (33: 47) ” بشارت دے دو ان لوگوں کو جو تم پر ایمان لائے کہ ان کے لیے اللہ کا بہت بڑا فضل ہے “۔ اس سے قبل آیت یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا (33: 45) ” اے نبی ﷺ ، ہم نے آپ ﷺ کو گواہ ، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے) میں مجملاً آپ ﷺ کو مبشر کہا گیا تھا اور یہ تفصیل اس لیے دی ہے کہ مومنین یقین کرلیں کہ ان پر اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم ہوگا اور یہ جو ان کے لیے قوانین اور ضوابط تیار ہو رہے ہیں اور نبی اپنے عمل سے ان کے لیے جو راہ و رسم وضع کر رہے ہیں یہ آخر کار ان کے لیے خوشخبری اور عظیم فضل و کرم کی بشارت ہوں گے۔ اس خطاب میں نبی ﷺ کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ آپ کافروں اور منافقوں کی کسی معاملے میں اطاعت کریں اور مومنین اور آپ ﷺ کو یہ لوگ جو اذیت دیتے ہیں اس کی بھی کوئی پرواہ نہ کریں۔ صرف اللہ وحدہ پر توکل کریں۔ وہی تمہارے لیے کافی مددگار ہے۔ ولا تطع الکفرین ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اور ہرگز نہ دبو کافروں اور منافقین سے ، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی۔ اور بھروسہ کرلو اللہ پر ، اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کردے “۔ یہ وہی خطاب ہے جو سورة کے آغاز میں بھی تھا ۔ اس سے قبل کہ وہاں قانون سازی کا آغاز کیا جاتا اور جدید انتظامی ہدایات دی جاتیں ۔ یہاں البتہ یہ بات زیادہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کافروں اور منافقوں کی اذیت رسانی کی کوئی پرواہ نہ کریں اور نہ ان کی پیروی کسی معاملے میں کریں اور نہ کسی معاملے میں ان پر اعتماد کریں۔ کیونکہ اللہ وحدہ قابل اعتماد ہے۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے “۔ یوں زید اور زینب ؓ کے واقعہ اور منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ نکاح کے جواز کے مسئلہ کی تمہید اور تبصرہ دونوں طویل ہیں اور یہ عملی مثال جسے پیش کرنے کے فریضے کو حضور ﷺ بھی بہت بھاری محسوس سمجھ رہے تھے۔ اس لیے اس میں اللہ کی طرف سے تشریح اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔ ان معاملات میں تعلق باللہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی تاکہ بندہ اللہ کے احسان اور رحمت کا گہرا شعور حاصل کرلے اور ان احکام کو خوشدلی سے وصول کرے ، قبول کرے اور تسلیم و رضا کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو۔

الأحزاب 33:46

یایھا النبی انا ارسنک ۔۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (45 – 48) نبی کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ آپ لوگوں پر گواہ ہوں لہٰذا لوگوں کو ایسا عمل کرنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ اچھی شہادت دینے کے قابل ہوں کیونکہ آپ نے سچی شہادت دینی ہے۔ اصل واقعہ سے کوئی تغیر و تبدیلی آپ نے نہیں کرنی ہے۔ رسول تو خوشخبری دینے والے ہیں ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت انتظار میں ہے اور غافل اور بےراہ رو لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ ان کیلئے سخت عذاب ہے تاکہ وہ بیچارے غفلت میں نہ مارے جائیں اور اگر سزا دی جائے تو وارننگ کے بعد۔ وداعیا الی اللہ (33: 46) ” اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے “۔ اس لیے نہیں بھیجا کہ صرف تمہاری دنیا اچھی ہے۔ تم دنیا میں برتر ہوجاؤ اور قومی وقار تمہارا بلند ہو۔ نہ جاہلی عصبیات کے لئے اسے داعی بنایا ہے۔ نہ مال غنیمت کے حصول کے لئے اٹھایا ہے۔ نہ نظام مملکت کا قیام مطلوب ہے۔ صرف دعوت الی اللہ ان کا منشور و مطلوب ہے اور یہ کام اللہ کے حکم سے انہوں نے شروع کیا ہے۔ نہ یہ اپنی طرف سے ہے اور نہ رضا کارانہ ہے۔ نہ آپ اپنی طرف سے یہ کام بطور رضا کار کرتے ہیں۔ یہ سب کام اللہ کے حکم سے ہے۔ وسراجا منیرا (33: 46) ” آپ روشن چراغ ہیں “۔ آپ ظلمتوں کو دور کرنے والے ہیں۔ شہادت کو قائم کرتے ہیں۔ راستہ متعین کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے ایسے رہنما ہیں جس طرح سراج منیر ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ اسی طرح روشنی لے کر آئے ۔ یہ روشنی ایک واضح تصور تھا ، ایک واضح نظریہ اور عقیدہ تھا ، جس نے پوری کائنات کو منور کردیا۔ اس کائنات اور انسان کا ربط واضح کردیا اور اس کائنات میں انسان کے مقام و مرتبہ کو متعین کیا۔ ان اقدار کی وضاحت کی جن پر یہ کائنات قائم ہے۔ انسان کا مقصد ، اس کی غرض ، اور اس کے حصول کا طریقہ متعین کیا۔ نہایت ہی واضح اسلوب میں اور نہایت ہی فطری انداز میں۔ اس طرح کہ بات انسان کے دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے۔ مشکل سے مشکل مسائل اور زندگی کے نشیب و فراز میں پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو آسان ترین طریقوں سے حل کردیا گیا ہے۔ مکرر اس بات کی تفصیل دی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داریوں میں اس بات کا اضافہ کیا جاتا ہے کہ آپ مومنین کے لیے مبشر ہیں۔ وبشر المومنین بان لھم من اللہ فضلا کبرا (33: 47) ” بشارت دے دو ان لوگوں کو جو تم پر ایمان لائے کہ ان کے لیے اللہ کا بہت بڑا فضل ہے “۔ اس سے قبل آیت یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا (33: 45) ” اے نبی ﷺ ، ہم نے آپ ﷺ کو گواہ ، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے) میں مجملاً آپ ﷺ کو مبشر کہا گیا تھا اور یہ تفصیل اس لیے دی ہے کہ مومنین یقین کرلیں کہ ان پر اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم ہوگا اور یہ جو ان کے لیے قوانین اور ضوابط تیار ہو رہے ہیں اور نبی اپنے عمل سے ان کے لیے جو راہ و رسم وضع کر رہے ہیں یہ آخر کار ان کے لیے خوشخبری اور عظیم فضل و کرم کی بشارت ہوں گے۔ اس خطاب میں نبی ﷺ کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ آپ کافروں اور منافقوں کی کسی معاملے میں اطاعت کریں اور مومنین اور آپ ﷺ کو یہ لوگ جو اذیت دیتے ہیں اس کی بھی کوئی پرواہ نہ کریں۔ صرف اللہ وحدہ پر توکل کریں۔ وہی تمہارے لیے کافی مددگار ہے۔ ولا تطع الکفرین ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اور ہرگز نہ دبو کافروں اور منافقین سے ، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی۔ اور بھروسہ کرلو اللہ پر ، اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کردے “۔ یہ وہی خطاب ہے جو سورة کے آغاز میں بھی تھا ۔ اس سے قبل کہ وہاں قانون سازی کا آغاز کیا جاتا اور جدید انتظامی ہدایات دی جاتیں ۔ یہاں البتہ یہ بات زیادہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کافروں اور منافقوں کی اذیت رسانی کی کوئی پرواہ نہ کریں اور نہ ان کی پیروی کسی معاملے میں کریں اور نہ کسی معاملے میں ان پر اعتماد کریں۔ کیونکہ اللہ وحدہ قابل اعتماد ہے۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے “۔ یوں زید اور زینب ؓ کے واقعہ اور منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ نکاح کے جواز کے مسئلہ کی تمہید اور تبصرہ دونوں طویل ہیں اور یہ عملی مثال جسے پیش کرنے کے فریضے کو حضور ﷺ بھی بہت بھاری محسوس سمجھ رہے تھے۔ اس لیے اس میں اللہ کی طرف سے تشریح اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔ ان معاملات میں تعلق باللہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی تاکہ بندہ اللہ کے احسان اور رحمت کا گہرا شعور حاصل کرلے اور ان احکام کو خوشدلی سے وصول کرے ، قبول کرے اور تسلیم و رضا کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو۔

الأحزاب 33:47

یایھا النبی انا ارسنک ۔۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (45 – 48) نبی کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ آپ لوگوں پر گواہ ہوں لہٰذا لوگوں کو ایسا عمل کرنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ اچھی شہادت دینے کے قابل ہوں کیونکہ آپ نے سچی شہادت دینی ہے۔ اصل واقعہ سے کوئی تغیر و تبدیلی آپ نے نہیں کرنی ہے۔ رسول تو خوشخبری دینے والے ہیں ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت انتظار میں ہے اور غافل اور بےراہ رو لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ ان کیلئے سخت عذاب ہے تاکہ وہ بیچارے غفلت میں نہ مارے جائیں اور اگر سزا دی جائے تو وارننگ کے بعد۔ وداعیا الی اللہ (33: 46) ” اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے “۔ اس لیے نہیں بھیجا کہ صرف تمہاری دنیا اچھی ہے۔ تم دنیا میں برتر ہوجاؤ اور قومی وقار تمہارا بلند ہو۔ نہ جاہلی عصبیات کے لئے اسے داعی بنایا ہے۔ نہ مال غنیمت کے حصول کے لئے اٹھایا ہے۔ نہ نظام مملکت کا قیام مطلوب ہے۔ صرف دعوت الی اللہ ان کا منشور و مطلوب ہے اور یہ کام اللہ کے حکم سے انہوں نے شروع کیا ہے۔ نہ یہ اپنی طرف سے ہے اور نہ رضا کارانہ ہے۔ نہ آپ اپنی طرف سے یہ کام بطور رضا کار کرتے ہیں۔ یہ سب کام اللہ کے حکم سے ہے۔ وسراجا منیرا (33: 46) ” آپ روشن چراغ ہیں “۔ آپ ظلمتوں کو دور کرنے والے ہیں۔ شہادت کو قائم کرتے ہیں۔ راستہ متعین کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے ایسے رہنما ہیں جس طرح سراج منیر ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ اسی طرح روشنی لے کر آئے ۔ یہ روشنی ایک واضح تصور تھا ، ایک واضح نظریہ اور عقیدہ تھا ، جس نے پوری کائنات کو منور کردیا۔ اس کائنات اور انسان کا ربط واضح کردیا اور اس کائنات میں انسان کے مقام و مرتبہ کو متعین کیا۔ ان اقدار کی وضاحت کی جن پر یہ کائنات قائم ہے۔ انسان کا مقصد ، اس کی غرض ، اور اس کے حصول کا طریقہ متعین کیا۔ نہایت ہی واضح اسلوب میں اور نہایت ہی فطری انداز میں۔ اس طرح کہ بات انسان کے دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے۔ مشکل سے مشکل مسائل اور زندگی کے نشیب و فراز میں پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو آسان ترین طریقوں سے حل کردیا گیا ہے۔ مکرر اس بات کی تفصیل دی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داریوں میں اس بات کا اضافہ کیا جاتا ہے کہ آپ مومنین کے لیے مبشر ہیں۔ وبشر المومنین بان لھم من اللہ فضلا کبرا (33: 47) ” بشارت دے دو ان لوگوں کو جو تم پر ایمان لائے کہ ان کے لیے اللہ کا بہت بڑا فضل ہے “۔ اس سے قبل آیت یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا (33: 45) ” اے نبی ﷺ ، ہم نے آپ ﷺ کو گواہ ، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے) میں مجملاً آپ ﷺ کو مبشر کہا گیا تھا اور یہ تفصیل اس لیے دی ہے کہ مومنین یقین کرلیں کہ ان پر اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم ہوگا اور یہ جو ان کے لیے قوانین اور ضوابط تیار ہو رہے ہیں اور نبی اپنے عمل سے ان کے لیے جو راہ و رسم وضع کر رہے ہیں یہ آخر کار ان کے لیے خوشخبری اور عظیم فضل و کرم کی بشارت ہوں گے۔ اس خطاب میں نبی ﷺ کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ آپ کافروں اور منافقوں کی کسی معاملے میں اطاعت کریں اور مومنین اور آپ ﷺ کو یہ لوگ جو اذیت دیتے ہیں اس کی بھی کوئی پرواہ نہ کریں۔ صرف اللہ وحدہ پر توکل کریں۔ وہی تمہارے لیے کافی مددگار ہے۔ ولا تطع الکفرین ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اور ہرگز نہ دبو کافروں اور منافقین سے ، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی۔ اور بھروسہ کرلو اللہ پر ، اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کردے “۔ یہ وہی خطاب ہے جو سورة کے آغاز میں بھی تھا ۔ اس سے قبل کہ وہاں قانون سازی کا آغاز کیا جاتا اور جدید انتظامی ہدایات دی جاتیں ۔ یہاں البتہ یہ بات زیادہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کافروں اور منافقوں کی اذیت رسانی کی کوئی پرواہ نہ کریں اور نہ ان کی پیروی کسی معاملے میں کریں اور نہ کسی معاملے میں ان پر اعتماد کریں۔ کیونکہ اللہ وحدہ قابل اعتماد ہے۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے “۔ یوں زید اور زینب ؓ کے واقعہ اور منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ نکاح کے جواز کے مسئلہ کی تمہید اور تبصرہ دونوں طویل ہیں اور یہ عملی مثال جسے پیش کرنے کے فریضے کو حضور ﷺ بھی بہت بھاری محسوس سمجھ رہے تھے۔ اس لیے اس میں اللہ کی طرف سے تشریح اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔ ان معاملات میں تعلق باللہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی تاکہ بندہ اللہ کے احسان اور رحمت کا گہرا شعور حاصل کرلے اور ان احکام کو خوشدلی سے وصول کرے ، قبول کرے اور تسلیم و رضا کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو۔

الأحزاب 33:48

یایھا النبی انا ارسنک ۔۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (45 – 48) نبی کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ آپ لوگوں پر گواہ ہوں لہٰذا لوگوں کو ایسا عمل کرنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ اچھی شہادت دینے کے قابل ہوں کیونکہ آپ نے سچی شہادت دینی ہے۔ اصل واقعہ سے کوئی تغیر و تبدیلی آپ نے نہیں کرنی ہے۔ رسول تو خوشخبری دینے والے ہیں ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت انتظار میں ہے اور غافل اور بےراہ رو لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ ان کیلئے سخت عذاب ہے تاکہ وہ بیچارے غفلت میں نہ مارے جائیں اور اگر سزا دی جائے تو وارننگ کے بعد۔ وداعیا الی اللہ (33: 46) ” اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے “۔ اس لیے نہیں بھیجا کہ صرف تمہاری دنیا اچھی ہے۔ تم دنیا میں برتر ہوجاؤ اور قومی وقار تمہارا بلند ہو۔ نہ جاہلی عصبیات کے لئے اسے داعی بنایا ہے۔ نہ مال غنیمت کے حصول کے لئے اٹھایا ہے۔ نہ نظام مملکت کا قیام مطلوب ہے۔ صرف دعوت الی اللہ ان کا منشور و مطلوب ہے اور یہ کام اللہ کے حکم سے انہوں نے شروع کیا ہے۔ نہ یہ اپنی طرف سے ہے اور نہ رضا کارانہ ہے۔ نہ آپ اپنی طرف سے یہ کام بطور رضا کار کرتے ہیں۔ یہ سب کام اللہ کے حکم سے ہے۔ وسراجا منیرا (33: 46) ” آپ روشن چراغ ہیں “۔ آپ ظلمتوں کو دور کرنے والے ہیں۔ شہادت کو قائم کرتے ہیں۔ راستہ متعین کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے ایسے رہنما ہیں جس طرح سراج منیر ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ اسی طرح روشنی لے کر آئے ۔ یہ روشنی ایک واضح تصور تھا ، ایک واضح نظریہ اور عقیدہ تھا ، جس نے پوری کائنات کو منور کردیا۔ اس کائنات اور انسان کا ربط واضح کردیا اور اس کائنات میں انسان کے مقام و مرتبہ کو متعین کیا۔ ان اقدار کی وضاحت کی جن پر یہ کائنات قائم ہے۔ انسان کا مقصد ، اس کی غرض ، اور اس کے حصول کا طریقہ متعین کیا۔ نہایت ہی واضح اسلوب میں اور نہایت ہی فطری انداز میں۔ اس طرح کہ بات انسان کے دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے۔ مشکل سے مشکل مسائل اور زندگی کے نشیب و فراز میں پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو آسان ترین طریقوں سے حل کردیا گیا ہے۔ مکرر اس بات کی تفصیل دی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داریوں میں اس بات کا اضافہ کیا جاتا ہے کہ آپ مومنین کے لیے مبشر ہیں۔ وبشر المومنین بان لھم من اللہ فضلا کبرا (33: 47) ” بشارت دے دو ان لوگوں کو جو تم پر ایمان لائے کہ ان کے لیے اللہ کا بہت بڑا فضل ہے “۔ اس سے قبل آیت یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا (33: 45) ” اے نبی ﷺ ، ہم نے آپ ﷺ کو گواہ ، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے) میں مجملاً آپ ﷺ کو مبشر کہا گیا تھا اور یہ تفصیل اس لیے دی ہے کہ مومنین یقین کرلیں کہ ان پر اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم ہوگا اور یہ جو ان کے لیے قوانین اور ضوابط تیار ہو رہے ہیں اور نبی اپنے عمل سے ان کے لیے جو راہ و رسم وضع کر رہے ہیں یہ آخر کار ان کے لیے خوشخبری اور عظیم فضل و کرم کی بشارت ہوں گے۔ اس خطاب میں نبی ﷺ کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ آپ کافروں اور منافقوں کی کسی معاملے میں اطاعت کریں اور مومنین اور آپ ﷺ کو یہ لوگ جو اذیت دیتے ہیں اس کی بھی کوئی پرواہ نہ کریں۔ صرف اللہ وحدہ پر توکل کریں۔ وہی تمہارے لیے کافی مددگار ہے۔ ولا تطع الکفرین ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اور ہرگز نہ دبو کافروں اور منافقین سے ، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی۔ اور بھروسہ کرلو اللہ پر ، اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کردے “۔ یہ وہی خطاب ہے جو سورة کے آغاز میں بھی تھا ۔ اس سے قبل کہ وہاں قانون سازی کا آغاز کیا جاتا اور جدید انتظامی ہدایات دی جاتیں ۔ یہاں البتہ یہ بات زیادہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کافروں اور منافقوں کی اذیت رسانی کی کوئی پرواہ نہ کریں اور نہ ان کی پیروی کسی معاملے میں کریں اور نہ کسی معاملے میں ان پر اعتماد کریں۔ کیونکہ اللہ وحدہ قابل اعتماد ہے۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے “۔ یوں زید اور زینب ؓ کے واقعہ اور منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ نکاح کے جواز کے مسئلہ کی تمہید اور تبصرہ دونوں طویل ہیں اور یہ عملی مثال جسے پیش کرنے کے فریضے کو حضور ﷺ بھی بہت بھاری محسوس سمجھ رہے تھے۔ اس لیے اس میں اللہ کی طرف سے تشریح اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔ ان معاملات میں تعلق باللہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی تاکہ بندہ اللہ کے احسان اور رحمت کا گہرا شعور حاصل کرلے اور ان احکام کو خوشدلی سے وصول کرے ، قبول کرے اور تسلیم و رضا کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو۔

الأحزاب 33:49

درس نمبر 192 ایک نظر میں اس سبق کے ابتدائی حصہ میں عام خاندانی اور عائلی قانون سازی ہے۔ مطلقہ جسے رخصتی سے قبل طلاق ہوچکی ہو ، اس کا حکم عدت وغیرہ۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی خاندانی زندگی کے لیے ہدایات ، ازواج کے ساتھ آپ کے تعلقات ، اور رواج کے دوسرے لوگوں سے رابطے کی ضابطہ بندی اور مسلمانوں کا رسول کے گھرانے سے تعلق ، اور پھر اس گھرانے پر درود وسلام۔ پھر پردے کا عام حکم جس میں رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں ، بیویاں اور مومنین کی تمام عورتیں شامل ہیں یہ کہ جب وہ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں سینوں پر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ اس لباس کے ساتھ پہچانی جاسکیں اور ان کے ساتھ تعرض نہ کیا جاسکے۔ کیونکہ منافقین ، فساق و فجار اور مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے اوباش عورتوں سے چھیڑ خانی کرتے تھے۔ آخر میں ایسے لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی ان کاروائیوں سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ تمام قانونی ، معاشرتی اور امن وامان کے اقدامات اس لئے تھے کہ مدینہ کی سوسائٹی کو مکمل اسلامی خطوط پر منظم کیا جائے۔ جو ہدایات نبی ﷺ کے گھر کے بارے میں ہیں ، وہ اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس گھرانے کو قیامت تک کے لئے آنے والی نسلوں کے لیے کھلی کتاب کے طور پر باقی رکھنا چاہتے تھے کیونکہ یہ کتاب تو قیامت تک پڑھی جانے والی تھی اور پھر یہ ہدایت اور کتاب الٰہی میں ان کا ثبت کیا جانا اس گھر کے لیے ایک اعزاز بھی تھا کہ خود اللہ اس کی تربیت کر رہے ہیں اور قیامت تک کے لیے نمونہ بنا رہے ہیں۔ درس نمبر 192 تشریح آیات 49 ۔۔۔ تا۔۔۔ 62 یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ سراجا جمیلا (49) ” “۔ سورة بقرہ میں یہ احکام اس عورت کے بارے میں گزر گئے تھے جس کو قبل از رضصتی طلاق دے دی گئی ہو۔ لا جناح علیکم ان طلقتم ۔۔۔۔۔ ان اللہ بما تعملون بصیر (2: 237 – 238) ” تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں انہیں کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہئے۔ خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور ۔۔۔ اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو مگر مہر مقرر کیا جاچکا ہو تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے۔ یا وہ مرد جس کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے نرمی سے کام لے اور تم نرمی سے کام لو ، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو ، تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے “۔ ایسی مطلقہ جس کی رخصتی نہ ہوئی ہو اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر ادا کرنا ہوگا اور گر مہر مقرر نہ ہو تو اس کے لئے کچھ نہ کچھ سامان دینا لازمی ہے۔ مالدار پر اس کی حیثیت کے مطابق اور غریب پر اس کی حالت کے مطابق۔ اس آیت میں عدت کے مسئلے کا اضافہ کردیا گیا جو وہاں نہ تھا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ چونکہ رخصتی نہیں ہوئی ہے اس لیے عدت نہ ہوگی۔ کیونکہ ان لوگوں کے درمیان چونکہ ہم بستری نہیں ہوئی اس لیے عدت کے ذریعے رحم کو پاک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ سابقہ نکاح کے آثار ہی موجود نہیں تاکہ نسب کا اختلاط نہ ہو اور کسی آدمی کی طرف دو بچہ منسوب نہ ہو جو دراصل اس کا نہ ہو۔ یا ایک شخص کا بچہ ہو اور وہ اس سے محروم ہوجائے لیکن رخصتی نہ ہونے کی صورت میں تو رحم پاک ہے۔ لہٰذا نہ عدت ہے اور نہ انتظار ہے۔ فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا (33: 49) ” تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کرو “۔ فمتعوھن ” انہیں کچھ مال دو “۔ اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر ہے۔ اور اگر نہ ہو تو بھی کچھ دو ، اپنی مالی حالت کے مطابق۔ وسرحوھن سراحا جمیلا (33: 49) ” اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو “۔ نہ روکے رکھو ، نہ اذیت دو ، نہ بغض رکھو اور نہ ان کو جدید ازدواجی زندگی گزارنے سے روکو۔ اس سورة میں یہ عام حکم ہے اور پوری اسلامی سوسائٹی کیلئے ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کیلئے کون سے عورتیں حلال کی گئی ہیں اور وہ خصوصیات جو آپ کی ذات اور آپ کے اہل بیت کے لیے ہیں۔ یہ احکام سورة نساء کی آیت (مثنی و ثلاث و رباع) کے بعد آئے۔ وہاں مسلمانوں کے لیے چار عورتوں سے زیادہ کرنا حرام کردیا گیا تھا۔ نبی ﷺ کے حرم میں 9 بیویاں تھیں۔ ہر ایک کے ساتھ نکاح ایک خاص ضرورت کے تحت ہوا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کی بیٹیاں تھیں۔ یہ آپ کے قریبی ساتھی تھے۔ ام حبیبہ ابو سفیان کی بیٹی تھی۔ ام سلمہ ، سودہ بنت زمعہ ، زینب بنت خزیمہ ان لوگوں میں سے تھیں جو خاوندوں سے محروم ہوگئی تھیں اور حضو ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی فرمائی۔ زینب بنت جحش ؓ کا قصہ تو ابھی گزرا ہے۔ چونکہ آپ ﷺ نے اصرار پر ان کو زید ابن حارثہ غلام کے ساتھ بیاہ دیا تھا اور یہ شادی کامیاب نہ ہوسکی تو اللہ نے حضور ﷺ سے ان کا نکاح کردیا۔ ان کی دل جوئی کیلئے اور متنبی بنانے کی رسم کے آثار کو ختم کرنے کے لئے تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جویریہ بنت الحارث بنی المصطلق اور صفیہ بنت حیی ابن اخلب ، دونوں غلام ہوکر آئیں اور حضور ﷺ نے ان کو آزاد کرکے نکاح میں لے لیا تاکہ ان قبائل سے تعلقات قائم ہوں اور ان دونوں دختران سردار ان کی عزت ہو۔ یہ دونوں اسلام لاچکی تھیں اگرچہ ان کی اقوام کے ساتھ سخت سلوک ہوا۔ یہ سب عورتیں وہ تھیں جنہوں نے امہات المومنین کا مقام پایا اور جب آیت تخییر نازل ہوئی تو ان سب نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اختیار کیا اور دنیا پر آخرت کو اختیار کرلیا۔ نیز جب عورتوں کی تعداد کو چار کے اندر محدود کردیا گیا تو ان ازواج نبی کے لیے حضور اکرم ﷺ ۔۔ ہونا شاق گزرا۔ اللہ نے ان پر نظر کرم فرمائی اور بقرہ کی آیت سے حضور ﷺ کو مستثنیٰ کردیا اور ان تمام عورتوں کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے دی۔ ان سب کو آپ کے لیے حلال کردیا لیکن اس کے بعد یہ حکم بھی دے دیا کہ آپ ان پر اضافہ نہیں کرسکتے۔ نہ ان میں سے کسی ایک کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں۔ یہ اجازت صرف موجودہ ازواج تک محدود ہے تاکہ وہ شرف زوجیت رسول ﷺ سے محروم نہ ہوجائیں جبکہ اس سے قبل وہ اللہ کے رسول اور دار آخرت کو ترجیح دے چکی تھیں۔ یہی موضوعات ہیں ان آیات کے۔

الأحزاب 33:50

یایھا النبی انا احللنا ۔۔۔۔۔۔ علی کل شیء رقیبا (50 – 52) نبی ﷺ کے لیے اس آیت میں مذکورہ عورتوں کو حلال قرار دیا گیا۔ اگرچہ وہ چار کی تعداد سے زیادہ ہوں جبکہ دوسرے مسلمانوں پر چار سے زیادہ تعداد حرام ہے۔ یہ اقسام یہ ہیں : وہ ازواج جن کو مہر دے کر آپ نے نکاح فرمایا۔ وہ عورتیں جو غلام بن کر آجائیں۔ چچا زاد اور خالہ زاد عورتیں ۔ پھوپھی زاد اور ماموں زاد عورتیں ۔ ان میں سے صرف وہ جو آپ کے ساتھ ہجرت کرکے آئیں۔ یہ ان مہاجرات کی عزت افزائی کے لیے ہے۔ نیز وہ عورت بھی جو اپنے نفس کو نبی ﷺ کے لیے بخش دے ، بغیر مہر کے اگر نبی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ (روایات میں اضطراب ہے کہ آیا اس قسم کی عورتوں میں سے کسی کے ساتھ حضور ﷺ نے نکاح فرمایا یا نہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ جب عورتوں نے اپنے آپ کو حضور ﷺ کے لیے پیش کیا آپ ﷺ نے ان کے ساتھ نکاح کیا) ۔ یہ اقسام حضور ﷺ کے لیے بطور خصوصیت جائز کی گئیں کیونکہ حضور ﷺ مومنین اور مومنات کے ولی بھی تھے۔ رہے دوسرے لوگ تو وہ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے معاملے میں اللہ کے جاری کردہ قوانین کے پابند تھے۔ یہ استثناء اس لیے کی گئی کہ حضور ﷺ اپنے شخصی اور اجتماعی حالات کی وجہ سے مشکلات میں مبتلا نہ ہوں۔ اس کے بعد یہ اختیار بھی حضور اکرم ﷺ کو دے دیا کہ اگر کوئی اپنی ذات کے بارے میں حضور ﷺ کو پیش کش کرے تو حضور اسے اپنے حرم میں لے لیں یا موخر کردیں۔ اور جن کے معاملے کو آپ نے موخر کردیا تو بعد میں اسے حرم میں داخل کردیں۔ یہ بھی اختیار سے دیا کہ جن عورتوں کو الگ کردیں انہیں دوبارہ ساتھ بلالیں۔ ذلک ادنی ان ۔۔۔۔۔ بما اتیتھن کلھن (33: 51) ” اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں۔ اور جو کچھ بھی تم ان کو دو گے اس پر وہ سب راضی ہوں گی “۔ گویا یہ حضور اکرم ﷺ کے خاص حالات کے تحت اجازت دی گئی۔ کیونکہ سب عورتیں آپ کی طرف راغب تھیں اور آپ کے ساتھ رابطہ چاہتی تھیں۔ اللہ کو ان حالات کا سب سے زیادہ علم تھا۔ واللہ یعلم ۔۔۔۔۔ علیما حلیما (33: 51) ” اللہ جانتا ہے جو تم لوگوں کے دلوں میں ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے “۔ اس کے بعد یہ حکم ہے کہ آپ کے حرم میں جو عورتیں ہیں ، وہ ذاتی طور پر آپ کے لئے جائز ہیں۔ تعداد مطلوب نہیں ہے۔ اس لیے آپ ان میں سے کسی کے بدلے کسی دوسری عورت کو نہیں لاسکتے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا حضور ﷺ نے اس آیت کے نزول سے قبل کسی عورت کا اضافہ کیا تھا۔ لا یحل لک النسآء ۔۔۔۔۔۔ اعجبک حسنھن (33: 52) ” اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ، خواہ ان کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو۔ اس میں کوئی استثناء نہیں الا ما ملکت یمینک (33: 52) ” البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے “۔ لونڈیاں جس قدر چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ وکان اللہ علی کل شئ رقیبا (33: 52) ” اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے “۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ یہ حرمت بھی حضور اکرم ﷺ کی وفات سے قبل اٹھالی گئی تھی لیکن اجازت کے باوجود حضور اکرم ﷺ نے ان کے سوا کسی عورت کے ساتھ نکاح نہ کیا اس لیے وہی امہات المومنین رہیں۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے گھرانے اور عام مسلمانوں کے تعلقات و روابط کی ضابطہ بندی کی گئی ہے کہ آپ کی زندگی میں لوگوں کا ربط آپ کی ازواج کے ساتھ کیسا ہوگا اور آپ کی وفات کے بعد کیا تعلق ہوگا۔ یہ احکام اس وقت کے واقعی حالات کے مطابق آئے۔ کیونکہ بعض منافقین اور بعض مریض اخلاق والے لوگ نبی ﷺ کو آپ کی ازواج کے بارے میں اذیت دیتے تھے۔ اس لیے ان آیات میں ان کو سخت دھمکی دی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ان کی حرکات بہت ہی گھناؤنی ہیں یہ لوگوں سے تو چھپ سکتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے۔ اللہ ان کی شرارتوں کو بھی جانتا ہے اور نیتوں کو بھی۔

الأحزاب 33:51

یایھا النبی انا احللنا ۔۔۔۔۔۔ علی کل شیء رقیبا (50 – 52) نبی ﷺ کے لیے اس آیت میں مذکورہ عورتوں کو حلال قرار دیا گیا۔ اگرچہ وہ چار کی تعداد سے زیادہ ہوں جبکہ دوسرے مسلمانوں پر چار سے زیادہ تعداد حرام ہے۔ یہ اقسام یہ ہیں : وہ ازواج جن کو مہر دے کر آپ نے نکاح فرمایا۔ وہ عورتیں جو غلام بن کر آجائیں۔ چچا زاد اور خالہ زاد عورتیں ۔ پھوپھی زاد اور ماموں زاد عورتیں ۔ ان میں سے صرف وہ جو آپ کے ساتھ ہجرت کرکے آئیں۔ یہ ان مہاجرات کی عزت افزائی کے لیے ہے۔ نیز وہ عورت بھی جو اپنے نفس کو نبی ﷺ کے لیے بخش دے ، بغیر مہر کے اگر نبی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ (روایات میں اضطراب ہے کہ آیا اس قسم کی عورتوں میں سے کسی کے ساتھ حضور ﷺ نے نکاح فرمایا یا نہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ جب عورتوں نے اپنے آپ کو حضور ﷺ کے لیے پیش کیا آپ ﷺ نے ان کے ساتھ نکاح کیا) ۔ یہ اقسام حضور ﷺ کے لیے بطور خصوصیت جائز کی گئیں کیونکہ حضور ﷺ مومنین اور مومنات کے ولی بھی تھے۔ رہے دوسرے لوگ تو وہ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے معاملے میں اللہ کے جاری کردہ قوانین کے پابند تھے۔ یہ استثناء اس لیے کی گئی کہ حضور ﷺ اپنے شخصی اور اجتماعی حالات کی وجہ سے مشکلات میں مبتلا نہ ہوں۔ اس کے بعد یہ اختیار بھی حضور اکرم ﷺ کو دے دیا کہ اگر کوئی اپنی ذات کے بارے میں حضور ﷺ کو پیش کش کرے تو حضور اسے اپنے حرم میں لے لیں یا موخر کردیں۔ اور جن کے معاملے کو آپ نے موخر کردیا تو بعد میں اسے حرم میں داخل کردیں۔ یہ بھی اختیار سے دیا کہ جن عورتوں کو الگ کردیں انہیں دوبارہ ساتھ بلالیں۔ ذلک ادنی ان ۔۔۔۔۔ بما اتیتھن کلھن (33: 51) ” اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں۔ اور جو کچھ بھی تم ان کو دو گے اس پر وہ سب راضی ہوں گی “۔ گویا یہ حضور اکرم ﷺ کے خاص حالات کے تحت اجازت دی گئی۔ کیونکہ سب عورتیں آپ کی طرف راغب تھیں اور آپ کے ساتھ رابطہ چاہتی تھیں۔ اللہ کو ان حالات کا سب سے زیادہ علم تھا۔ واللہ یعلم ۔۔۔۔۔ علیما حلیما (33: 51) ” اللہ جانتا ہے جو تم لوگوں کے دلوں میں ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے “۔ اس کے بعد یہ حکم ہے کہ آپ کے حرم میں جو عورتیں ہیں ، وہ ذاتی طور پر آپ کے لئے جائز ہیں۔ تعداد مطلوب نہیں ہے۔ اس لیے آپ ان میں سے کسی کے بدلے کسی دوسری عورت کو نہیں لاسکتے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا حضور ﷺ نے اس آیت کے نزول سے قبل کسی عورت کا اضافہ کیا تھا۔ لا یحل لک النسآء ۔۔۔۔۔۔ اعجبک حسنھن (33: 52) ” اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ، خواہ ان کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو۔ اس میں کوئی استثناء نہیں الا ما ملکت یمینک (33: 52) ” البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے “۔ لونڈیاں جس قدر چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ وکان اللہ علی کل شئ رقیبا (33: 52) ” اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے “۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ یہ حرمت بھی حضور اکرم ﷺ کی وفات سے قبل اٹھالی گئی تھی لیکن اجازت کے باوجود حضور اکرم ﷺ نے ان کے سوا کسی عورت کے ساتھ نکاح نہ کیا اس لیے وہی امہات المومنین رہیں۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے گھرانے اور عام مسلمانوں کے تعلقات و روابط کی ضابطہ بندی کی گئی ہے کہ آپ کی زندگی میں لوگوں کا ربط آپ کی ازواج کے ساتھ کیسا ہوگا اور آپ کی وفات کے بعد کیا تعلق ہوگا۔ یہ احکام اس وقت کے واقعی حالات کے مطابق آئے۔ کیونکہ بعض منافقین اور بعض مریض اخلاق والے لوگ نبی ﷺ کو آپ کی ازواج کے بارے میں اذیت دیتے تھے۔ اس لیے ان آیات میں ان کو سخت دھمکی دی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ان کی حرکات بہت ہی گھناؤنی ہیں یہ لوگوں سے تو چھپ سکتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے۔ اللہ ان کی شرارتوں کو بھی جانتا ہے اور نیتوں کو بھی۔

الأحزاب 33:52

یایھا النبی انا احللنا ۔۔۔۔۔۔ علی کل شیء رقیبا (50 – 52) نبی ﷺ کے لیے اس آیت میں مذکورہ عورتوں کو حلال قرار دیا گیا۔ اگرچہ وہ چار کی تعداد سے زیادہ ہوں جبکہ دوسرے مسلمانوں پر چار سے زیادہ تعداد حرام ہے۔ یہ اقسام یہ ہیں : وہ ازواج جن کو مہر دے کر آپ نے نکاح فرمایا۔ وہ عورتیں جو غلام بن کر آجائیں۔ چچا زاد اور خالہ زاد عورتیں ۔ پھوپھی زاد اور ماموں زاد عورتیں ۔ ان میں سے صرف وہ جو آپ کے ساتھ ہجرت کرکے آئیں۔ یہ ان مہاجرات کی عزت افزائی کے لیے ہے۔ نیز وہ عورت بھی جو اپنے نفس کو نبی ﷺ کے لیے بخش دے ، بغیر مہر کے اگر نبی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ (روایات میں اضطراب ہے کہ آیا اس قسم کی عورتوں میں سے کسی کے ساتھ حضور ﷺ نے نکاح فرمایا یا نہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ جب عورتوں نے اپنے آپ کو حضور ﷺ کے لیے پیش کیا آپ ﷺ نے ان کے ساتھ نکاح کیا) ۔ یہ اقسام حضور ﷺ کے لیے بطور خصوصیت جائز کی گئیں کیونکہ حضور ﷺ مومنین اور مومنات کے ولی بھی تھے۔ رہے دوسرے لوگ تو وہ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے معاملے میں اللہ کے جاری کردہ قوانین کے پابند تھے۔ یہ استثناء اس لیے کی گئی کہ حضور ﷺ اپنے شخصی اور اجتماعی حالات کی وجہ سے مشکلات میں مبتلا نہ ہوں۔ اس کے بعد یہ اختیار بھی حضور اکرم ﷺ کو دے دیا کہ اگر کوئی اپنی ذات کے بارے میں حضور ﷺ کو پیش کش کرے تو حضور اسے اپنے حرم میں لے لیں یا موخر کردیں۔ اور جن کے معاملے کو آپ نے موخر کردیا تو بعد میں اسے حرم میں داخل کردیں۔ یہ بھی اختیار سے دیا کہ جن عورتوں کو الگ کردیں انہیں دوبارہ ساتھ بلالیں۔ ذلک ادنی ان ۔۔۔۔۔ بما اتیتھن کلھن (33: 51) ” اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں۔ اور جو کچھ بھی تم ان کو دو گے اس پر وہ سب راضی ہوں گی “۔ گویا یہ حضور اکرم ﷺ کے خاص حالات کے تحت اجازت دی گئی۔ کیونکہ سب عورتیں آپ کی طرف راغب تھیں اور آپ کے ساتھ رابطہ چاہتی تھیں۔ اللہ کو ان حالات کا سب سے زیادہ علم تھا۔ واللہ یعلم ۔۔۔۔۔ علیما حلیما (33: 51) ” اللہ جانتا ہے جو تم لوگوں کے دلوں میں ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے “۔ اس کے بعد یہ حکم ہے کہ آپ کے حرم میں جو عورتیں ہیں ، وہ ذاتی طور پر آپ کے لئے جائز ہیں۔ تعداد مطلوب نہیں ہے۔ اس لیے آپ ان میں سے کسی کے بدلے کسی دوسری عورت کو نہیں لاسکتے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا حضور ﷺ نے اس آیت کے نزول سے قبل کسی عورت کا اضافہ کیا تھا۔ لا یحل لک النسآء ۔۔۔۔۔۔ اعجبک حسنھن (33: 52) ” اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ، خواہ ان کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو۔ اس میں کوئی استثناء نہیں الا ما ملکت یمینک (33: 52) ” البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے “۔ لونڈیاں جس قدر چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ وکان اللہ علی کل شئ رقیبا (33: 52) ” اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے “۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ یہ حرمت بھی حضور اکرم ﷺ کی وفات سے قبل اٹھالی گئی تھی لیکن اجازت کے باوجود حضور اکرم ﷺ نے ان کے سوا کسی عورت کے ساتھ نکاح نہ کیا اس لیے وہی امہات المومنین رہیں۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے گھرانے اور عام مسلمانوں کے تعلقات و روابط کی ضابطہ بندی کی گئی ہے کہ آپ کی زندگی میں لوگوں کا ربط آپ کی ازواج کے ساتھ کیسا ہوگا اور آپ کی وفات کے بعد کیا تعلق ہوگا۔ یہ احکام اس وقت کے واقعی حالات کے مطابق آئے۔ کیونکہ بعض منافقین اور بعض مریض اخلاق والے لوگ نبی ﷺ کو آپ کی ازواج کے بارے میں اذیت دیتے تھے۔ اس لیے ان آیات میں ان کو سخت دھمکی دی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ان کی حرکات بہت ہی گھناؤنی ہیں یہ لوگوں سے تو چھپ سکتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے۔ اللہ ان کی شرارتوں کو بھی جانتا ہے اور نیتوں کو بھی۔

الأحزاب 33:53

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ اللہ کان بکل شئ علیما (53 – 54) امام بخاری نے حضرت انس ابن مالک کی روایت نقل فرمائی ہے کہ حضور ﷺ نے جب زینب بنت جحش سے شادی کی تو روٹی اور گوشت کی دعوت دی اور مجھے بلانے کے لیے بھیجا گیا۔ لوگ آتے اور کھانا کھا کر چلے جاتے۔ میں نے سب کو بلایا یہاں تک کہ کوئی نہ رہا۔ تو میں نے کہا حضور اکرم ﷺ کوئی رہ نہیں گیا۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا اب دسترخوان اٹھالو۔ کمرے میں تین آدمی بیٹھ گئے جو باتیں کر رہے تھے۔ حضور اکرم ﷺ نکلے اور حضرت عائشہ ؓ کے کمرے میں گئے۔ اور فرمایا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ نے فرمایا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ اے رسول خدا ﷺ آپ کی نئی بیوی کیسی ہیں۔ اللہ آپ کے لیے اسے مبارک کرے۔ آپ ﷺ اپنی ازواج کے ہاں گئے اور ایسا ہی مکالمہ کہا جس طرح عائشہ ؓ سے ہوا اور سب نے ایسا ہی جواب دیا۔ جب حضور ﷺ واپس ہوئے تو یہ تین افراد اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ حضور ﷺ نہایت ہی حیا دار تھے۔ تو حضور ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے کمرے میں چلے گئے۔ معلوم نہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے حضور ﷺ کو اطلاع دی کہ لوگ چلے گئے یا کسی اور نے اطلاع دی۔ جب حضور ﷺ واپس ہوئے اور اپنا پاؤں دروازے کو چوکھٹ سے اندر رکھا اور دوسرا باہر تھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ گرا دیا اور اس وقت حجاب کی آیت نازل ہوئی۔ اس آیت میں وہ آداب مذکور ہیں جو دور جاہلیت میں ناپید تھے۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ کے گھر میں بھی یہ ناپید تھے۔ لوگ گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہوجاتے تھے جیسا کہ سورة نور کی آیت استیذان کی تشریح میں تفصیلات گزر گئیں اور حضور اکرم ﷺ کے گھر میں میں تو ان آداب کا بالکل خیال نہ رکھا جاتا تھا اس لئے کہ آپ کا گھر ایک مقام اجتماع تھا اور وہاں لوگ ہر وقت علم و حکمت کے حصول کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ بعض لوگ آتے اور دیکھتے کہ کچھ پک رہا ہے تو وہ بیٹھ جاتے تاکہ بغیر دعوت کی کھالیں۔ بعض لوگ کھاپی لینے کے بعد بھی بیٹھے رہتے۔ چاہے دعوت دی گئی یا خود گھس آئے ہوں۔ پھر باتوں میں لگ جاتے اور نہ سمجھتے کہ اس سے حضور اکرم ﷺ کو کس قدر تکلیف ہو رہی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ تین افراد جب باتیں کر رہے تھے تو اس وقت حضور ﷺ کی دلہن اسی کمرے میں منہ دیوار کی طرف کرکے بیٹھی تھی اور حضور ﷺ اس بات سے حیا کرتے تھے کہ وہ ان لوگوں کو بتا دیں کہ وہ آپ کے لیے کس قدر بوجھ ہیں۔ محض اس لیے کہ وہ شرمندہ نہ ہوں۔ چناچہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ اعلان فرمایا۔ واللہ لا یستحی من الحق (33: 53) ” اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا “۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ اپنی غیرت کی بنیاد پر اور حساس ہونے کی وجہ سے حضور ﷺ کے سامنے یہ تجویز رکھا کرتے تھے کہ حجاب نافذ ہوجائے اور یہ تمنا بھی کرتے تھے یہاں تک کہ آیت حجاب نازل ہوگئی۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ” حضور ﷺ آپ کے پاس تو نیک و بد سب آتے ہیں۔ اے کاش کہ آپ ﷺ امہات مومنین کو پردے کا حکم دیتے “۔ اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی کہ لوگ نبی کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں۔ جب کسی دعوت طعام کے لیے بلایا جائے تو داخل ہوں۔ اگر بلائے نہ گئے ہوں تو جلدی میں نہ آئیں اور کھانے کے پکنے کا انتظار جائے دعوت میں جا کر نہ کریں۔ پھر جب ان کو کھانا کھلا دیا جائے تو چلے جائیں اور کھانا کھانے کے بعد محض گپ شپ کے لیے بیٹھ نہ جائیں۔ نبی ﷺ کے زمانے کے مقابلے میں آج مسلمان آداب کے زیادہ محتاج ہیں کیونکہ اس ترقی کے دور میں بھی ہم ان آداب سے دور ہیں کیونکہ جن لوگوں کو دعوت پر بلایا جاتا ہے وہ کھانے کے بعد بھی جم جاتے ہیں بلکہ کھانا کھاتے وقت ہی وہ طویل باتیں کرتے ہیں اور گھر والے جو اسلام کے احکام حجاب سے بعض احکام ہی کی پیروی کرتے ہیں وہ قید ہوتے ہیں اور مہمان اپنی باتوں میں غرق ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی آداب ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے مفید ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اور خدائی آداب اختیار کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے اہل بیت اور عام لوگوں کے درمیان حجاب کی بات سامنے آتی ہے۔ واذا سالتموھن ۔۔۔۔۔ حجاب (33: 53) ” نبی کی بیویوں سے اگر تم نے کچھ مانگنا ہے تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو “۔ اور یہ حجاب تمہارے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔ ذلکم اطھر لقلوبکم وقلوبھن (33: 53) ” یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے مناسب طریقہ ہے “۔ لہٰذا کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اس بات کے سوا کوئی اور بات کہے۔ اس لیے کسی کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اختلاط ، بےپردگی ، بےباک باتیں ، بےقید ملاقاتیں ، ہم نشینی اور جنیں کے درمیان اشتراک دلوں کو پاک کرتا ہے اور اس طریقے سے ضمیر زیادہ عفیف ہوتے ہیں۔ اس طرح میلانات اور خواہشات دب جاتی ہیں۔ انسانی سلوک اور شعور شفاف ہوجاتے ہیں۔ یہ ہیں بعض وہ خرافات جو اللہ کی مخلوق میں سے گرے ہوئے لوگ کہتے ہیں۔ میں مشورہ دوں گا کہ کسی کو یوں نہیں کہنا چاہئے جبکہ اللہ فرماتے ہیں۔ واذا سالتموھن متاعا ۔۔۔۔۔۔ لقلوبکم و قلوبھن (33: 53) ” نبی کی بیویوں سے اگر تم نے کچھ مانگنا ہے تو پردے کے پیچھے سے مانگو ، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے نہایت مناسب طریقہ ہے “۔ یہ حضور اکرم ﷺ کی بیویوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے جو امہات المومنین ہیں اور ان لوگوں سے کہا جا رہا ہے جو زمین کا نمک ہیں۔ رسول کے ساتھی ہیں جن کی ہمسری کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ جب اللہ بات کرتا ہے اور دوسری جانب سے اللہ کی مخلوق ایک بات کرتی ہے تو بات اللہ کی ہوتی ہے اور دوسروں کی باتیں خرافات ہوتی ہیں۔ اللہ کے مقابلے میں انسانوں کی باتوں کو اہمیت وہی شخص دے سکتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ ایک انسان اللہ سے زیادہ جانتا ہے۔ سالوں کے تجربات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اللہ نے جو کچھ کہا ، وہ زیادہ سچا تھا اور یہ چھوٹے اور بونے لوگ جو کچھ کہتے ہیں ، انکے سالوں اور صدیوں کے تجربات نے غلط ثابت کردیا ہے۔ آج مغرب میں جہاں عورت و مرد کا اختلاط اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے کیا تمام لوگوں کے دل پاک و صاف ہوگئے ہیں۔ امریکہ اس میدان میں سب سے عروج پر ہے۔ ذرا اسی کے حالات کا مطالعہ کرلو۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ بلانے سے بھی پہلے آجانا اور کھانے کے پکنے کا انتظار کرنا اور پھر کھانے سے فارغ ہونے کے بعد دور دراز کی باتیں کرنا حضرت نبی ﷺ کے لیے تکلیف دہ تھا اور آپ ازروئے حیا چشمی خاموش تھے۔ حالانکہ مسلمانوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حضرت بنی ﷺ کو اذیت دیں یا آپ کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح کریں۔ جبکہ وہ ان کی ماؤں جیسی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے مقام و مرتبے کا یہ تقاضا ہے کہ آپ کے بعد کوئی ان کے ساتھ نکاح نہ کرے ، اس گھرانے کی حرمت اور عزت کو قائم کرنے کے لئے۔ وما کان لکم ۔۔۔۔۔ بعدہ ابدا (33: 53) ” تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں ہے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو “۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ بعض منافقین یہ کہتے تھے کہ وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حضور ﷺ کی وفات ہو اور وہ عائشہ ؓ سے نکاح کریں۔ ان ذلکم کان عند اللہ عظیما (33: 53) ” یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے “۔ اور جو گناہ اللہ کے ہاں عظیم ہو وہ کس قدر ہولناک ہوگا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعد مزید دھمکی دی جاتی ہے جو بہت شید ہے۔

الأحزاب 33:54

ان تبدوا شیئا ۔۔۔۔۔۔ شئ علیما (33: 54) ” “۔ لہٰذا یہ سب معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ ہر ظاہر اور چھپے کا جاننے والا ہے۔ ہر تدبیر اور ہر سوچ کو جانتا ہے اور یہ معاملہ اس کے ہاں ہے بھی گناہ کبیر۔ اگر کوئی پھر بھی اس کے ساتھ الجھتا ہے تو وہ اللہ کے ساتھ جنگ کرتا ہے اور جس نے اللہ سے جنگ کی وہ مٹ گیا۔ اس عام حجاب کے بعد ازواج مطہرات کے لیے بعض محرمات سے پر وہ نہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ ان کے سامنے آسکتی ہیں۔

الأحزاب 33:55

لاجناح علیھن ۔۔۔۔۔ کل شئ شھیدا (55) ” “۔ یہ وہی محرم ہیں جن کے سامنے تمام مسلمان عورتوں کو حجاب نہ کرنے کی اجازت ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ ان دو آیات میں سے کون سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ یعنی یہ آیت جو ازواج نبی کے ساتھ مخصوص ہے یا سورة نور کی وہ عام آیت جو تمام مسلم عورتوں کے لیے ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ پہلے حکم ازواج مطہرات کے لیے آیا اور پھر عام مسلم عورتوں کے لیے اور یہ اللہ کی طرف سے فرائض عائد کیے جانے کے مزاج کے مطابق ہے۔ اس اجازت کو بھی خدا کے خوف کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔ تقویٰ اور اللہ کی نگرانی کو ذہن میں رکھنا ایسے مقامات پر بالعموم زکوہ ہوتا ہے کیونکہ تقویٰ ہر برائی سے بچنے کی آخری ضمانت ہے۔ یہ وہ نگران ہے جو ہر وقت دل و دماغ کی نگرانی کرتا ہے۔ سیاق کلام لوگوں کو اس بات سے ڈرانے میں ذرا مزید آگے بڑھتا ہے کہ وہ رسول اللہ کو اذیت نہ دیں ۔ نہ آپ کی ذات کے معاملے میں اور نہ آپ کے خاندان کے معاملے میں۔ اس کام کے گھناؤ نے پن کو مزید وضاحت سے بیان کیا جاتا ہے اور یہ بات دو طریقوں سے بیان کی جاتی ہے۔ پہلے طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعریف کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ حضور ﷺ اکرم اللہ کے ہاں کس قدر بلند مرتبہ ہیں اور دوسرا طریقہ یہ کہ براہ راست یہ کہا گیا کہ حضور اکرم کو ایذا دینے والے دراصل اللہ کو ایذا دیتے ہیں اور اس کی سزا اللہ کے ہاں یہ ہے کہ ان کو اللہ کی رحمت سے دور کردیا جاتا ہے اور وہ دنیا اور خرت میں محروم ہوں گے اور ان کو یہ عذاب دیا جائے گا۔

الأحزاب 33:56

ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واعد لھم عذاب مھینا (56 – 57) اللہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا میں نبی کی تعریف کی جاتی ہے اور فرشتوں کی طرف سے درود کے معنی یہ ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے لیے دعا کرتے ہیں۔ کیا ہی عظیم مرتبہ ہے حضور ﷺ کا اللہ کے ہاں کہ یہ پوری کائنات آپ کے لیے دعا گو ہے۔ اس کے ذریعہ پوری کائنات منور ہوجاتی ہے اور اللہ کی جانب سے یہ ثنا اور تعریف ہوتی ہے اور جو باقی ہے اور ازلی اور ابدی ہے اور پوری کائنات اس کی ہمقدم ہے۔ اس نعمت اور تکریم سے بڑی اور نعمت کیا ہوسکتی ہے۔ ہم انسانوں کے درودوسلام کا اللہ اور پوری کائنات کے درود وسلام سے کیا مقابلہ۔ انسانوں سے صلوۃ وسلام کا مطالبہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ان کی یہ حقیر آواز بھی کائنات کی گونج سے مل کر اس عظیم ثنا میں شریک ہوجائے اور اس طرح انسان بھی اس بڑی تقریب میں شرکت کے مدعی بن جائیں جبکہ اللہ کی جانب سے صلوٰۃ وسلام تو ازلی اور ابدی ہوگا۔ اس عظیم حمد و ثنا کو دیکھتے ہوئے جس میں رب تعالیٰ ، فرشتے ، کائنات اور انسان بھی شریک ہیں۔ اگر کوئی بدبخت نبی ﷺ جیسے ممدوح کائنات اور رب کائنات کو اذیت دیتا ہے تو اسکا یہ فعل کس قدر گھناؤنا ، کسی قدر قبیح اور قابل ملامت ہوجاتا ہے ان الذین یوذون اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ واعدلھم عذابا مھینا (33: 57) ” جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کردیا ہے۔ یہ فعل اور بھی قبیح ہوجاتا ہے کہ ایک مخلوق اپنے خالق کو اذیت دیتی ہے۔ حالانکہ لوگ اللہ کو اذیت دے ہی نہیں سکتے۔ بلکہ انداز کلام یہ بتاتا ہے کہ وہ رسول اللہ کو اس قدر سخت اذیت دیتے ہیں جس سے گویا اللہ جل و شانہ کو اذیت پہنچتی ہے۔ لہٰذا ان کی یہ حرکت بہت بری ، بہت قبیح اور نہایت گھناؤنی ہے۔ اس کے بعد مومنین و مومنات کی ایذا کا ذکر آتا ہے ان کو اذیت دینا ، ان پر بہتان باندھنا ، کہ ان میں کوئی عیب نہیں جیسے یہ منافقین ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

الأحزاب 33:57

ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واعد لھم عذاب مھینا (56 – 57) اللہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا میں نبی کی تعریف کی جاتی ہے اور فرشتوں کی طرف سے درود کے معنی یہ ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے لیے دعا کرتے ہیں۔ کیا ہی عظیم مرتبہ ہے حضور ﷺ کا اللہ کے ہاں کہ یہ پوری کائنات آپ کے لیے دعا گو ہے۔ اس کے ذریعہ پوری کائنات منور ہوجاتی ہے اور اللہ کی جانب سے یہ ثنا اور تعریف ہوتی ہے اور جو باقی ہے اور ازلی اور ابدی ہے اور پوری کائنات اس کی ہمقدم ہے۔ اس نعمت اور تکریم سے بڑی اور نعمت کیا ہوسکتی ہے۔ ہم انسانوں کے درودوسلام کا اللہ اور پوری کائنات کے درود وسلام سے کیا مقابلہ۔ انسانوں سے صلوۃ وسلام کا مطالبہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ان کی یہ حقیر آواز بھی کائنات کی گونج سے مل کر اس عظیم ثنا میں شریک ہوجائے اور اس طرح انسان بھی اس بڑی تقریب میں شرکت کے مدعی بن جائیں جبکہ اللہ کی جانب سے صلوٰۃ وسلام تو ازلی اور ابدی ہوگا۔ اس عظیم حمد و ثنا کو دیکھتے ہوئے جس میں رب تعالیٰ ، فرشتے ، کائنات اور انسان بھی شریک ہیں۔ اگر کوئی بدبخت نبی ﷺ جیسے ممدوح کائنات اور رب کائنات کو اذیت دیتا ہے تو اسکا یہ فعل کس قدر گھناؤنا ، کسی قدر قبیح اور قابل ملامت ہوجاتا ہے ان الذین یوذون اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ واعدلھم عذابا مھینا (33: 57) ” جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کردیا ہے۔ یہ فعل اور بھی قبیح ہوجاتا ہے کہ ایک مخلوق اپنے خالق کو اذیت دیتی ہے۔ حالانکہ لوگ اللہ کو اذیت دے ہی نہیں سکتے۔ بلکہ انداز کلام یہ بتاتا ہے کہ وہ رسول اللہ کو اس قدر سخت اذیت دیتے ہیں جس سے گویا اللہ جل و شانہ کو اذیت پہنچتی ہے۔ لہٰذا ان کی یہ حرکت بہت بری ، بہت قبیح اور نہایت گھناؤنی ہے۔ اس کے بعد مومنین و مومنات کی ایذا کا ذکر آتا ہے ان کو اذیت دینا ، ان پر بہتان باندھنا ، کہ ان میں کوئی عیب نہیں جیسے یہ منافقین ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

الأحزاب 33:58

والذین یؤذون ۔۔۔۔۔۔ واثما مبینا (58) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مدینہ میں ایک ایسا طبقہ موجود تھا جو اس طرح مومنین اور مومنات کو اذیت رسانی کے مشغلے میں مصروف تھا۔ مومنین کے بارے میں بری باتیں رات اور دن منسوب کی جاتی تھیں۔ ان کے خلاف سازشیں کرتے ، تہمتیں لگاتے ، جس طرح ہر زمان و مکان میں اسلامی تحریکات کے خلاف ہوا کرتا ہے۔ بدکار اور اشرار کے ہر معاشرے میں مومنین اور مومنات کے ساتھ ہمیشہ یہی سلوک ہوا ہے۔ مریض دل لوگ اور منافقین کا کسب ہمیشہ یہی ہوتا ہے ۔ اللہ نے مومنات کا دفاع یہاں اپنے ذمہ لیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ ان کے دشمن جھوٹے اور جہنمی ہیں اور اللہ سے سچا اور کون ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد حکم دیا جاتا ہے کہ اے نبی اپنی بیویوں ، لڑکیوں اور مومنین کی عورتوں کو یہ ہدایت کرو کہ وہ جب باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں تاکہ وہ پہچان لی جائیں کہ وہ شریف زادیاں ہیں۔ اس طرح کہ ان کے سر ، چہرے اور سینے پوشیدہ ہوں۔ جیوب ۔۔۔ جیب ہے اور یہ قمیص کا کھلا شگاف ہوتا ہے جو سینے پر ہوتا ہے۔ اس دور میں لوگ عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔ اس لیے اس طرح کے لباس سے اس قسم کے شرپسند ذرا سہم جائیں گے اور سمجھ جائیں گے کہ یہ خواتین شرم و حیا والی ہیں لہٰذا وہ دست درازی کی جرأت نہ کرسکیں گے۔

الأحزاب 33:59

یایھا النبی قل ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (59) ” “۔ سدی کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایسے فساق موجود تھے جو اس دور میں رات کو نکلتے تھے ، اس وقت جب اندھیرا گہرا ہوجاتا تھا اور مدینہ کی تنگ گلیوں میں عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔ کیونکہ لوگوں کے گھر تنگ تھے اور قضائے حاجت کے لیے عورتوں کو باہر نکلنا پڑتا تھا۔ یہ فساق ان عورتوں کے پیچھے پڑتے تھے۔ جب وہ دیکھتے کہ کسی عورت نے حجاب کیا ہوا ہے تو وہ یہ کہتے کہ یہ آزاد عورت ہے اس لیے۔ اس سے رک جاتے۔ اور جب وہ دیکھتے کہ پردہ نہیں ہے تو یہ اس پر ٹوٹ پڑتے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ اپنے اوپر جلباب ڈال لیں تاکہ معلوم ہو کہ یہ آزاد عورتیں ہیں تاکہ کوئی فاسق ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے یا شک نہ کرے اور یہ کہ۔ کان اللہ غفورا رحیما (33: 59) ” اور اللہ غفور ورحیم ہے “۔ یعنی بام جاہلیت میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ اس سے درگزر فرمائے گا کیونکہ اس وقت ان کو یہ حکم تھا اور نہ علم تھا۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ عرب کے گندے معاشرے کو اسلام آہستہ آہستہ پاک کر رہا تھا اور فتنہ و فساد اور جنسی بےراہ روی کی ایک ایک راہ کو بند کرتا چلا جاتا اور بدی کا دائرہ تنگ کیا جا رہا تھا تاکہ اسلام کی پاک رسم و راہ آہستہ آہستہ اسلامی معاشرے میں جڑ پکڑتی چلی جائے۔ آخر میں مدینہ کے ان ناپسندیدہ عناصر کو تحت دھمکی دی جاتی ہے کہ منافقین ، بیمار اخلاق کے لوگ اور ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے اگر باز نہ آئے اور جن کاروائیوں میں وہ مصروف ہیں ان کو ترک نہ کیا تو ان کے خلاف رسول اللہ کو سخت کاروائی کرنے کا حکم دے دیا جائے گا۔ نبی اور مومنین اور مومنات ان پر مسلط کر دئیے جائیں گے جس طرح یہودیوں پر نبی اور مسلمانوں نے مکمل اقتدار حاصل کرلیا ہے۔ پھر ان کے لیے مدینہ میں رہنا مشکل ہوجائے گا اور ان کو بھی ملک بدر کردیا جائے گا۔ ان کے خلاف کاروائی یہ ہوگی کہ مومنین و مومنات و اذیت دینے والے مباح الدم ہیں جہاں ملیں ان کا سر قلم کردیا جائے جس طرح یہودیوں کا حشر انہوں نے دیکھ دیا ہے اور جس طرح ازمنہ ماضیہ میں غیر یہودی فساق و فجار کا یہی حشر انبیائ کے ہاتھوں ہوتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:60

لئن لم ینتہ المنفقون ۔۔۔۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (60 – 62) ” اس تہدید سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی قریظہ کے قلع قمع کے بعد مدینہ میں مسلمان چیلنچ پاور بن گئے تھے اور اسلامی مملکت قوت سے اخلاقی تعلیمات نافذ کر رہی تھی اور منافقین کار۔۔ ہوگئے تھے۔ صرف خفیہ سازشیں کرتے تھے ، کھلے بندوں مسلمانوں کے خلاف ظاہر نہ ہوسکتے تھے بلکہ بظاہر وہ خائف اور سہمے ہوئے تھے۔

الأحزاب 33:61

لئن لم ینتہ المنفقون ۔۔۔۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (60 – 62) ” اس تہدید سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی قریظہ کے قلع قمع کے بعد مدینہ میں مسلمان چیلنچ پاور بن گئے تھے اور اسلامی مملکت قوت سے اخلاقی تعلیمات نافذ کر رہی تھی اور منافقین کار۔۔ ہوگئے تھے۔ صرف خفیہ سازشیں کرتے تھے ، کھلے بندوں مسلمانوں کے خلاف ظاہر نہ ہوسکتے تھے بلکہ بظاہر وہ خائف اور سہمے ہوئے تھے۔

الأحزاب 33:62

لئن لم ینتہ المنفقون ۔۔۔۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (60 – 62) ” اس تہدید سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی قریظہ کے قلع قمع کے بعد مدینہ میں مسلمان چیلنچ پاور بن گئے تھے اور اسلامی مملکت قوت سے اخلاقی تعلیمات نافذ کر رہی تھی اور منافقین کار۔۔ ہوگئے تھے۔ صرف خفیہ سازشیں کرتے تھے ، کھلے بندوں مسلمانوں کے خلاف ظاہر نہ ہوسکتے تھے بلکہ بظاہر وہ خائف اور سہمے ہوئے تھے۔

الأحزاب 33:63

درس نمبر 193 ایک نظر میں یہ اس سورة کا آخری سبق ہے ، اس میں لوگوں کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے جو وہ قیامت کے بارے میں کرتے تھے اور قیام قیامت کے لیے مطالبے کرتے تھے بلکہ دراصل ان کو وقوع قیامت کے بارے میں شک تھا۔ جواب یہ دیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ البتہ اس کا وقت بہت دور بھی ہے اور ممکن ہے کہ وہ اچانک ہی تمہیں آلے اور تم غفلت میں ڈوبے رہو۔ اس کے بعد مناظر قیامت میں سے ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جو وقوع قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے ہرگز مسرت بخش نہیں ہے۔ جب ان کے چہرے جہنم میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے اور اس وقت وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی معصیت پر سخت نادم ہوں گے ، جب وہ اپنے لیڈروں اور پیشواؤں کے لیے دگنا عذاب طلب کریں گے۔ یہ اس قدر شرمسار کنندہ منظر ہے کہ کوئی شتابی کرنے والا ہرگز اسے پسند نہ کرے گا۔ اب اس منظر سے ان کو واپس لاکر پھر اس دنیا میں قوم موسیٰ کی مثال ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے کہ اس قوم نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دی تھی اور پھر اللہ نے حضرت موسیٰ کو ان کے لگائے ہوئے الزام سے بری کردیا تھا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عملی واقعہ تھا۔ اشارہ اس طرح ہے کہ مدینہ میں جو لوگ حضور ﷺ کے خلاف باتیں کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے رینب کے ساتھ نکاح کرکے عربوں کے رواج کے خلاف کیا ہے۔ ایسا ہی کوئی الزام حضرت موسیٰ پر بھی تھا اور مومنین سے کہا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں سیدھی بات کیا کریں اور اشارہ و کنایہ میں الزمات عائد نہ کیا کریں تاکہ اللہ تمہارے اعمال و اخلاق کو درست کر دے۔ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے اور جو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا ، اللہ ان کو بہت بڑی کامیابنی عطا کرے گا۔ سورة کا خاتمہ ایک عظیم تبصرے پر ہوتا ہے یہ کہ زمین و آسمان نے دعوت قرآنی کی امانت کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا لیکن انسان نے اس عظیم ذمہ داری کو قبول کرلیا تاکہ اللہ کی اسکیم پایہ تکمیل تک پہنچے۔ لوگوں کے اعمال پر جزاء و سزا مرتب ہو اور انسان اپنے لیے جو راہ اختیار کرتا ہے اس پر اس کا محاسبہ اور جزاء و سزا ہو۔ لیعذب اللہ المنفقین ۔۔۔۔۔ وکان اللہ غفوراً رحمیا (33: 73) ” تاکہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے اور اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے “ درس نمبر 193 تشریح آیات 63 ۔۔۔ تا۔۔۔ 73 یسئلک الناس عن ۔۔۔۔۔۔ تکون قریبا (63) اہل مکہ مسلسل قیامت کے دن کے بارے میں رسول خدا سے پوچھتے رہتے تھے ، کیونکہ حضور ﷺ نے ان سے قیامت کے حالات بڑی تفصیل سے بیان کیے تھے اور ان کو قیامت سے بہت زیادہ ڈرایا تھا۔ اور قرآن کریم نے قیامت کے مناظر اس قدر طوالت سے ذکر کیے کہ یوں نظر آنے لگا کہ شاید یہ مناظر آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اے پیغمبر ، آپ سے یہ لوگ قیامت کے وقت وقوع کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ان کی خواہش یہ ہے کہ یہ جلدی واقع ہوجائے اور یہ لوگ جلدی اس لیے کر رہے تھے کہ ان کو دراصل اس کے وقوع میں شک تھا۔ یا جلدی کا مطالبہ کرکے دراصل وہ تکذیب کرنا چاہتے تھے یا قیامت کے ساتھ مزاح کرنا چاہتے تھے۔ ہر سائل کا سوال اس کی نفسیات کے اعتبار سے تھا ، جس کے جو خیالات تھے اور جس کے جو واعتقادات تھے وہ اپنے اعتقاد کے مطابق سوال کرتا۔ قیام قیامت کا علم ایک ایسا غیب ہے جو خاصہ خدا ہے اور اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے کسی کو بھی اسکی اطلاع نہیں دی ، نہ رسولوں کو نہ ملائکہ مقربین کو۔ عبد اللہ ابن عمر سے جو حدیث حقیقت ایمان اور حقیقت اسلام کے بارے میں وارد ہے ، اس میں ہے کہ ہم لوگ حضور ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوا ، بالکل سفید لباس میں۔ بالکل اس پر سفر کے آثار میں سے کوئی علالت نہ تھی ہم میں سے کوئی اسے نہ پہچانتا تھا۔ وہ رسول اللہ کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنے زانو حضور ﷺ کے زانوؤں کے ساتھ ملا دئیے۔ اپنے ہاتھ آپ کو رانوں پر رکھ دئیے اور کہا اے محمد ! بتائیے اسلام کیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ نماز پڑھے ، زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور حج کرے اگر راستے کی طاقت ہو تو اس نے کہا : ” آپ نے سچ کہا “۔ ہم نے تعجب کیا کہ عجیب شخص ہے خود پوچھتا ہے اور خود ہی تصدیق کرتا ہے۔ پھر اس نے پوچھا ایمان کیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تو اللہ پر ایمان لائے ، اس کے ملائکہ ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، قیامت کے دن ، اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے “۔ تو اس نے کہا : آپ نے درست کیا۔ اس کے بعد اس نے پوچھا ، پھر احسان کے معنی کیا ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا یہ کہ تو اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے ، اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے ہی دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے سوال کیا مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے ؟ تو آپ نے فرمایا پوچھے جانے والا پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے اور یہ تمہارے پاس آئے تمہیں تمہارا دین سکھا رہے تھے۔ مسئول عنہا رسول اللہ ﷺ تھے اور سائل جبرئیل تھے۔ دونوں کا علم برابر تھا یعنی قیامت کے بارے میں دونوں نہ جانتے تھے۔ قل انما علمھا عند اللہ (33: 63) ” کہو اس کا علم اللہ ہی کو ہے “۔ اور یہ اللہ کی خصوصیت ہے اور اللہ اس کے بارے میں منفرد ہیں اور اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا علم نہیں۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے اس کا علم کسی کو نہیں دیا۔ ہماری سمجھ میں اسی قدر حکمت آتی ہے کہ لوگ اس سے ہر وقت ڈرتے رہیں اور ہر وقت اس کی توقع کرتے رہیں اور اس کے اچانک آجانے کی تیاری میں لگے رہیں۔ یہ تو ان لوگوں کے لیے ہے جن کو اللہ نے اس کے ذریعے بھلائی کی راہ کی طرف پھیر دیا اور اس کے دل میں قیامت کا ڈر پیدا کردیا۔ رہے وہ لوگ جو اس سے غافل ہیں اور ہر وقت اس کی تیاری میں لگے نہیں رہتے تو وہ لوگ اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ سے نہیں بچاتے۔ ایسے لوگوں کے سامنے اللہ نے اس کے مناظر رکھے ، اس سے ڈرایا اور اسے غیب قرار دیا جو رات اور دن کے کسی وقت بھی آسکتی ہے۔ وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریبا (33: 63) ” شاید کہ وہ قریب ہی آلگی ہو “۔

الأحزاب 33:64

ان اللہ لعن الکفرین ۔۔۔۔۔۔ من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (64 – 68) ” ۔ یہ لوگ قیامت کے قیام کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ذرا ان کو قیام قیامت کا ایک منظر ہی بتا دو ۔ ان اللہ لعن الکفرین واعدلھم سعیرا (33: 64) ” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے “۔ اللہ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ وہ ان کے لیے تیار اور حاضر ہے۔ خلدین فیھا (33: 65) ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اس قدر طویل عرصہ اس میں رہیں گے کہ اس کی طوالت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کی انتہا نہیں ہے الایہ کہ اللہ کے علم میں ہو ، جب وہ چاہے ختم کر دے۔ ان کے ساتھ کوئی بھی معاونت کرنے والا نہ ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا۔ لہٰذا اس آگ سے نکلنے کی کوئی امید ان کو نہ ہوگی۔ لا یجدون ولیا ولا نصیرا (33: 65) ” کوئی حامی و مددگار وہ نہ پاسکیں گے “۔ اس عذاب میں ان کا منظر نامہ کیا ہوگا ؟ نہایت ہی بری حالت اور نہایت ہی المناک صورت حال : یوم تقلب وجوھھم فی النار (33: 66) ” جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے “۔ ہر طرف سے آگ ان کو ڈھانپ رہی ہوگی۔ یہاں ان کی حرکات کی تصویر یعنی فلم بنائی جا رہی ہے اور اسے مجسم کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کہ ان کے چہروں کے ہر حصے کو آگ جھلسائے گی اور اس طرح انہیں سخت سے سخت عذاب دیا جائے گا۔ یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا (33: 66) ” اس وقت وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی “۔ یہ ان کی جانب سے بالکل بےکار تمنا ہوگی۔ کیونکہ تب اطاعت کا موقع و محل کہاں ہوگا۔ اس وقت تو کوئی موقع نہ ہوگا آزمائش کا۔ اب تو صرف حسرت ہی ہے ۔ اب ان کو اپنے سرداروں اور کبراء پر سخت غصہ آئے گا ، جنہوں نے دراصل ان کو گمراہ کیا تھا ، اور وہ اب اللہ کے مطیع فرمان بننے کی سعی کریں گے مگر ان اطاعت کو موقع ہی ختم ہوگیا۔ وقالوا ربنا انا اطعنا ۔۔۔۔۔۔ والعنھم لعنا کبیرا (33: 67 – 68) ” اور کہیں گے اے رب ہمارے ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بےراہ کردیا۔ اے رب ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر “۔ یہ ہے قیامت کا نمونہ۔ پوچھتے کیا ہو ؟ اس روز بیچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے لیے تیاریاں کرو ورنہ یہ المناک انجام تمہارے سامنے ہوگا۔ حضرت زینب کے ساتھ حضور ﷺ کا نکاح چونکہ جاہلیت کی ایک نہایت ہی گہری رسم کے خلاف تھا اور اسلام نے اسی لیے اس پر حضور اکرم ﷺ کے فعل کے ذریعے ضرب کاری لگائی تھی ، لیکن اس معاشرے نے درد محسوس کیے بغیر اپنے اندر سے اس رسم کا اکھاڑ پھینکنا قبول نہ کیا۔ منافقین اور مریض اخلاق کے لوگوں نے سخت غوغا آرائی شروع کردی۔ ان کے ساتھ ہاں میں ہاں ملانے والے ایسے مسلمان بھی تھے جن کے ذہنوں میں اسلامی تصور حیات ابھی اچھی طرح نہ بیٹھا تھا۔ چناچہ یہ عناصر طنز وتشنیع ، اعتراض و تنقید کرتے تھے۔ پورے شہر میں انہوں نے کانا پھوسی شروع کر رکھی تھی اور حضور اکرم ﷺ کے بارے میں بری باتیں کرتے تھے۔ منافقین اور افواہیں پھیلانے والے کب خاموش رہ سکتے تھے ۔ وہ کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جس طرح غزوہ احزاب میں انہوں نے ایک زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔ ۔۔۔ کے معاملے میں وہ اس سے قبل تجربہ کرچکے تھے۔ مال غنیمت کی تقسیم میں وہ ایسی ہی مہم چلا چکے تھے۔ غرض ہر موقع و محل میں یہ لوگ نبی ﷺ کیلئے اذیت کا باعث تھے اور بالکل بےجواز۔ اس دور میں جبکہ بنی قریظہ اور سارے یہودیوں کو مدینہ سے نکالا گیا تھا ، مدینہ میں کوئی کافر اور مشرک نہ تھا۔ اہل مدینہ یا تو سچے مسلمان تھے اور یا منافق تھے اور اس قسم کی مہم یہ منافق ہی چلاتے تھے۔ یہ جھوٹی افواہیں پھیلاتے۔ بعض سادہ لوح مسلمانوں پر بھی ان کا اثر تھا جو ان کے ساتھ نافہمی کی وجہ سے شریک ہوجاتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے اہل ایمان کو یہاں متنبہ کیا ہے کہ نبی ﷺ کے لیے باعث اذیت نہ بنو ، اس سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی مومنین نے بھی حضرت موسیٰ کو اذیت دی تھی۔ اس لیے ان منافقین کی باتوں پر بلا تحقیق و تفتیش کان نہ دھرو۔ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، تمہارے لیے یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

الأحزاب 33:65

ان اللہ لعن الکفرین ۔۔۔۔۔۔ من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (64 – 68) ” ۔ یہ لوگ قیامت کے قیام کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ذرا ان کو قیام قیامت کا ایک منظر ہی بتا دو ۔ ان اللہ لعن الکفرین واعدلھم سعیرا (33: 64) ” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے “۔ اللہ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ وہ ان کے لیے تیار اور حاضر ہے۔ خلدین فیھا (33: 65) ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اس قدر طویل عرصہ اس میں رہیں گے کہ اس کی طوالت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کی انتہا نہیں ہے الایہ کہ اللہ کے علم میں ہو ، جب وہ چاہے ختم کر دے۔ ان کے ساتھ کوئی بھی معاونت کرنے والا نہ ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا۔ لہٰذا اس آگ سے نکلنے کی کوئی امید ان کو نہ ہوگی۔ لا یجدون ولیا ولا نصیرا (33: 65) ” کوئی حامی و مددگار وہ نہ پاسکیں گے “۔ اس عذاب میں ان کا منظر نامہ کیا ہوگا ؟ نہایت ہی بری حالت اور نہایت ہی المناک صورت حال : یوم تقلب وجوھھم فی النار (33: 66) ” جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے “۔ ہر طرف سے آگ ان کو ڈھانپ رہی ہوگی۔ یہاں ان کی حرکات کی تصویر یعنی فلم بنائی جا رہی ہے اور اسے مجسم کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کہ ان کے چہروں کے ہر حصے کو آگ جھلسائے گی اور اس طرح انہیں سخت سے سخت عذاب دیا جائے گا۔ یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا (33: 66) ” اس وقت وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی “۔ یہ ان کی جانب سے بالکل بےکار تمنا ہوگی۔ کیونکہ تب اطاعت کا موقع و محل کہاں ہوگا۔ اس وقت تو کوئی موقع نہ ہوگا آزمائش کا۔ اب تو صرف حسرت ہی ہے ۔ اب ان کو اپنے سرداروں اور کبراء پر سخت غصہ آئے گا ، جنہوں نے دراصل ان کو گمراہ کیا تھا ، اور وہ اب اللہ کے مطیع فرمان بننے کی سعی کریں گے مگر ان اطاعت کو موقع ہی ختم ہوگیا۔ وقالوا ربنا انا اطعنا ۔۔۔۔۔۔ والعنھم لعنا کبیرا (33: 67 – 68) ” اور کہیں گے اے رب ہمارے ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بےراہ کردیا۔ اے رب ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر “۔ یہ ہے قیامت کا نمونہ۔ پوچھتے کیا ہو ؟ اس روز بیچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے لیے تیاریاں کرو ورنہ یہ المناک انجام تمہارے سامنے ہوگا۔ حضرت زینب کے ساتھ حضور ﷺ کا نکاح چونکہ جاہلیت کی ایک نہایت ہی گہری رسم کے خلاف تھا اور اسلام نے اسی لیے اس پر حضور اکرم ﷺ کے فعل کے ذریعے ضرب کاری لگائی تھی ، لیکن اس معاشرے نے درد محسوس کیے بغیر اپنے اندر سے اس رسم کا اکھاڑ پھینکنا قبول نہ کیا۔ منافقین اور مریض اخلاق کے لوگوں نے سخت غوغا آرائی شروع کردی۔ ان کے ساتھ ہاں میں ہاں ملانے والے ایسے مسلمان بھی تھے جن کے ذہنوں میں اسلامی تصور حیات ابھی اچھی طرح نہ بیٹھا تھا۔ چناچہ یہ عناصر طنز وتشنیع ، اعتراض و تنقید کرتے تھے۔ پورے شہر میں انہوں نے کانا پھوسی شروع کر رکھی تھی اور حضور اکرم ﷺ کے بارے میں بری باتیں کرتے تھے۔ منافقین اور افواہیں پھیلانے والے کب خاموش رہ سکتے تھے ۔ وہ کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جس طرح غزوہ احزاب میں انہوں نے ایک زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔ ۔۔۔ کے معاملے میں وہ اس سے قبل تجربہ کرچکے تھے۔ مال غنیمت کی تقسیم میں وہ ایسی ہی مہم چلا چکے تھے۔ غرض ہر موقع و محل میں یہ لوگ نبی ﷺ کیلئے اذیت کا باعث تھے اور بالکل بےجواز۔ اس دور میں جبکہ بنی قریظہ اور سارے یہودیوں کو مدینہ سے نکالا گیا تھا ، مدینہ میں کوئی کافر اور مشرک نہ تھا۔ اہل مدینہ یا تو سچے مسلمان تھے اور یا منافق تھے اور اس قسم کی مہم یہ منافق ہی چلاتے تھے۔ یہ جھوٹی افواہیں پھیلاتے۔ بعض سادہ لوح مسلمانوں پر بھی ان کا اثر تھا جو ان کے ساتھ نافہمی کی وجہ سے شریک ہوجاتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے اہل ایمان کو یہاں متنبہ کیا ہے کہ نبی ﷺ کے لیے باعث اذیت نہ بنو ، اس سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی مومنین نے بھی حضرت موسیٰ کو اذیت دی تھی۔ اس لیے ان منافقین کی باتوں پر بلا تحقیق و تفتیش کان نہ دھرو۔ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، تمہارے لیے یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

الأحزاب 33:66

ان اللہ لعن الکفرین ۔۔۔۔۔۔ من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (64 – 68) ” ۔ یہ لوگ قیامت کے قیام کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ذرا ان کو قیام قیامت کا ایک منظر ہی بتا دو ۔ ان اللہ لعن الکفرین واعدلھم سعیرا (33: 64) ” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے “۔ اللہ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ وہ ان کے لیے تیار اور حاضر ہے۔ خلدین فیھا (33: 65) ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اس قدر طویل عرصہ اس میں رہیں گے کہ اس کی طوالت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کی انتہا نہیں ہے الایہ کہ اللہ کے علم میں ہو ، جب وہ چاہے ختم کر دے۔ ان کے ساتھ کوئی بھی معاونت کرنے والا نہ ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا۔ لہٰذا اس آگ سے نکلنے کی کوئی امید ان کو نہ ہوگی۔ لا یجدون ولیا ولا نصیرا (33: 65) ” کوئی حامی و مددگار وہ نہ پاسکیں گے “۔ اس عذاب میں ان کا منظر نامہ کیا ہوگا ؟ نہایت ہی بری حالت اور نہایت ہی المناک صورت حال : یوم تقلب وجوھھم فی النار (33: 66) ” جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے “۔ ہر طرف سے آگ ان کو ڈھانپ رہی ہوگی۔ یہاں ان کی حرکات کی تصویر یعنی فلم بنائی جا رہی ہے اور اسے مجسم کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کہ ان کے چہروں کے ہر حصے کو آگ جھلسائے گی اور اس طرح انہیں سخت سے سخت عذاب دیا جائے گا۔ یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا (33: 66) ” اس وقت وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی “۔ یہ ان کی جانب سے بالکل بےکار تمنا ہوگی۔ کیونکہ تب اطاعت کا موقع و محل کہاں ہوگا۔ اس وقت تو کوئی موقع نہ ہوگا آزمائش کا۔ اب تو صرف حسرت ہی ہے ۔ اب ان کو اپنے سرداروں اور کبراء پر سخت غصہ آئے گا ، جنہوں نے دراصل ان کو گمراہ کیا تھا ، اور وہ اب اللہ کے مطیع فرمان بننے کی سعی کریں گے مگر ان اطاعت کو موقع ہی ختم ہوگیا۔ وقالوا ربنا انا اطعنا ۔۔۔۔۔۔ والعنھم لعنا کبیرا (33: 67 – 68) ” اور کہیں گے اے رب ہمارے ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بےراہ کردیا۔ اے رب ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر “۔ یہ ہے قیامت کا نمونہ۔ پوچھتے کیا ہو ؟ اس روز بیچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے لیے تیاریاں کرو ورنہ یہ المناک انجام تمہارے سامنے ہوگا۔ حضرت زینب کے ساتھ حضور ﷺ کا نکاح چونکہ جاہلیت کی ایک نہایت ہی گہری رسم کے خلاف تھا اور اسلام نے اسی لیے اس پر حضور اکرم ﷺ کے فعل کے ذریعے ضرب کاری لگائی تھی ، لیکن اس معاشرے نے درد محسوس کیے بغیر اپنے اندر سے اس رسم کا اکھاڑ پھینکنا قبول نہ کیا۔ منافقین اور مریض اخلاق کے لوگوں نے سخت غوغا آرائی شروع کردی۔ ان کے ساتھ ہاں میں ہاں ملانے والے ایسے مسلمان بھی تھے جن کے ذہنوں میں اسلامی تصور حیات ابھی اچھی طرح نہ بیٹھا تھا۔ چناچہ یہ عناصر طنز وتشنیع ، اعتراض و تنقید کرتے تھے۔ پورے شہر میں انہوں نے کانا پھوسی شروع کر رکھی تھی اور حضور اکرم ﷺ کے بارے میں بری باتیں کرتے تھے۔ منافقین اور افواہیں پھیلانے والے کب خاموش رہ سکتے تھے ۔ وہ کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جس طرح غزوہ احزاب میں انہوں نے ایک زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔ ۔۔۔ کے معاملے میں وہ اس سے قبل تجربہ کرچکے تھے۔ مال غنیمت کی تقسیم میں وہ ایسی ہی مہم چلا چکے تھے۔ غرض ہر موقع و محل میں یہ لوگ نبی ﷺ کیلئے اذیت کا باعث تھے اور بالکل بےجواز۔ اس دور میں جبکہ بنی قریظہ اور سارے یہودیوں کو مدینہ سے نکالا گیا تھا ، مدینہ میں کوئی کافر اور مشرک نہ تھا۔ اہل مدینہ یا تو سچے مسلمان تھے اور یا منافق تھے اور اس قسم کی مہم یہ منافق ہی چلاتے تھے۔ یہ جھوٹی افواہیں پھیلاتے۔ بعض سادہ لوح مسلمانوں پر بھی ان کا اثر تھا جو ان کے ساتھ نافہمی کی وجہ سے شریک ہوجاتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے اہل ایمان کو یہاں متنبہ کیا ہے کہ نبی ﷺ کے لیے باعث اذیت نہ بنو ، اس سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی مومنین نے بھی حضرت موسیٰ کو اذیت دی تھی۔ اس لیے ان منافقین کی باتوں پر بلا تحقیق و تفتیش کان نہ دھرو۔ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، تمہارے لیے یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

الأحزاب 33:67

ان اللہ لعن الکفرین ۔۔۔۔۔۔ من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (64 – 68) ” ۔ یہ لوگ قیامت کے قیام کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ذرا ان کو قیام قیامت کا ایک منظر ہی بتا دو ۔ ان اللہ لعن الکفرین واعدلھم سعیرا (33: 64) ” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے “۔ اللہ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ وہ ان کے لیے تیار اور حاضر ہے۔ خلدین فیھا (33: 65) ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اس قدر طویل عرصہ اس میں رہیں گے کہ اس کی طوالت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کی انتہا نہیں ہے الایہ کہ اللہ کے علم میں ہو ، جب وہ چاہے ختم کر دے۔ ان کے ساتھ کوئی بھی معاونت کرنے والا نہ ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا۔ لہٰذا اس آگ سے نکلنے کی کوئی امید ان کو نہ ہوگی۔ لا یجدون ولیا ولا نصیرا (33: 65) ” کوئی حامی و مددگار وہ نہ پاسکیں گے “۔ اس عذاب میں ان کا منظر نامہ کیا ہوگا ؟ نہایت ہی بری حالت اور نہایت ہی المناک صورت حال : یوم تقلب وجوھھم فی النار (33: 66) ” جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے “۔ ہر طرف سے آگ ان کو ڈھانپ رہی ہوگی۔ یہاں ان کی حرکات کی تصویر یعنی فلم بنائی جا رہی ہے اور اسے مجسم کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کہ ان کے چہروں کے ہر حصے کو آگ جھلسائے گی اور اس طرح انہیں سخت سے سخت عذاب دیا جائے گا۔ یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا (33: 66) ” اس وقت وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی “۔ یہ ان کی جانب سے بالکل بےکار تمنا ہوگی۔ کیونکہ تب اطاعت کا موقع و محل کہاں ہوگا۔ اس وقت تو کوئی موقع نہ ہوگا آزمائش کا۔ اب تو صرف حسرت ہی ہے ۔ اب ان کو اپنے سرداروں اور کبراء پر سخت غصہ آئے گا ، جنہوں نے دراصل ان کو گمراہ کیا تھا ، اور وہ اب اللہ کے مطیع فرمان بننے کی سعی کریں گے مگر ان اطاعت کو موقع ہی ختم ہوگیا۔ وقالوا ربنا انا اطعنا ۔۔۔۔۔۔ والعنھم لعنا کبیرا (33: 67 – 68) ” اور کہیں گے اے رب ہمارے ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بےراہ کردیا۔ اے رب ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر “۔ یہ ہے قیامت کا نمونہ۔ پوچھتے کیا ہو ؟ اس روز بیچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے لیے تیاریاں کرو ورنہ یہ المناک انجام تمہارے سامنے ہوگا۔ حضرت زینب کے ساتھ حضور ﷺ کا نکاح چونکہ جاہلیت کی ایک نہایت ہی گہری رسم کے خلاف تھا اور اسلام نے اسی لیے اس پر حضور اکرم ﷺ کے فعل کے ذریعے ضرب کاری لگائی تھی ، لیکن اس معاشرے نے درد محسوس کیے بغیر اپنے اندر سے اس رسم کا اکھاڑ پھینکنا قبول نہ کیا۔ منافقین اور مریض اخلاق کے لوگوں نے سخت غوغا آرائی شروع کردی۔ ان کے ساتھ ہاں میں ہاں ملانے والے ایسے مسلمان بھی تھے جن کے ذہنوں میں اسلامی تصور حیات ابھی اچھی طرح نہ بیٹھا تھا۔ چناچہ یہ عناصر طنز وتشنیع ، اعتراض و تنقید کرتے تھے۔ پورے شہر میں انہوں نے کانا پھوسی شروع کر رکھی تھی اور حضور اکرم ﷺ کے بارے میں بری باتیں کرتے تھے۔ منافقین اور افواہیں پھیلانے والے کب خاموش رہ سکتے تھے ۔ وہ کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جس طرح غزوہ احزاب میں انہوں نے ایک زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔ ۔۔۔ کے معاملے میں وہ اس سے قبل تجربہ کرچکے تھے۔ مال غنیمت کی تقسیم میں وہ ایسی ہی مہم چلا چکے تھے۔ غرض ہر موقع و محل میں یہ لوگ نبی ﷺ کیلئے اذیت کا باعث تھے اور بالکل بےجواز۔ اس دور میں جبکہ بنی قریظہ اور سارے یہودیوں کو مدینہ سے نکالا گیا تھا ، مدینہ میں کوئی کافر اور مشرک نہ تھا۔ اہل مدینہ یا تو سچے مسلمان تھے اور یا منافق تھے اور اس قسم کی مہم یہ منافق ہی چلاتے تھے۔ یہ جھوٹی افواہیں پھیلاتے۔ بعض سادہ لوح مسلمانوں پر بھی ان کا اثر تھا جو ان کے ساتھ نافہمی کی وجہ سے شریک ہوجاتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے اہل ایمان کو یہاں متنبہ کیا ہے کہ نبی ﷺ کے لیے باعث اذیت نہ بنو ، اس سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی مومنین نے بھی حضرت موسیٰ کو اذیت دی تھی۔ اس لیے ان منافقین کی باتوں پر بلا تحقیق و تفتیش کان نہ دھرو۔ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، تمہارے لیے یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

الأحزاب 33:68

ان اللہ لعن الکفرین ۔۔۔۔۔۔ من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (64 – 68) ” ۔ یہ لوگ قیامت کے قیام کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ذرا ان کو قیام قیامت کا ایک منظر ہی بتا دو ۔ ان اللہ لعن الکفرین واعدلھم سعیرا (33: 64) ” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے “۔ اللہ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ وہ ان کے لیے تیار اور حاضر ہے۔ خلدین فیھا (33: 65) ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اس قدر طویل عرصہ اس میں رہیں گے کہ اس کی طوالت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کی انتہا نہیں ہے الایہ کہ اللہ کے علم میں ہو ، جب وہ چاہے ختم کر دے۔ ان کے ساتھ کوئی بھی معاونت کرنے والا نہ ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا۔ لہٰذا اس آگ سے نکلنے کی کوئی امید ان کو نہ ہوگی۔ لا یجدون ولیا ولا نصیرا (33: 65) ” کوئی حامی و مددگار وہ نہ پاسکیں گے “۔ اس عذاب میں ان کا منظر نامہ کیا ہوگا ؟ نہایت ہی بری حالت اور نہایت ہی المناک صورت حال : یوم تقلب وجوھھم فی النار (33: 66) ” جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے “۔ ہر طرف سے آگ ان کو ڈھانپ رہی ہوگی۔ یہاں ان کی حرکات کی تصویر یعنی فلم بنائی جا رہی ہے اور اسے مجسم کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کہ ان کے چہروں کے ہر حصے کو آگ جھلسائے گی اور اس طرح انہیں سخت سے سخت عذاب دیا جائے گا۔ یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا (33: 66) ” اس وقت وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی “۔ یہ ان کی جانب سے بالکل بےکار تمنا ہوگی۔ کیونکہ تب اطاعت کا موقع و محل کہاں ہوگا۔ اس وقت تو کوئی موقع نہ ہوگا آزمائش کا۔ اب تو صرف حسرت ہی ہے ۔ اب ان کو اپنے سرداروں اور کبراء پر سخت غصہ آئے گا ، جنہوں نے دراصل ان کو گمراہ کیا تھا ، اور وہ اب اللہ کے مطیع فرمان بننے کی سعی کریں گے مگر ان اطاعت کو موقع ہی ختم ہوگیا۔ وقالوا ربنا انا اطعنا ۔۔۔۔۔۔ والعنھم لعنا کبیرا (33: 67 – 68) ” اور کہیں گے اے رب ہمارے ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بےراہ کردیا۔ اے رب ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر “۔ یہ ہے قیامت کا نمونہ۔ پوچھتے کیا ہو ؟ اس روز بیچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے لیے تیاریاں کرو ورنہ یہ المناک انجام تمہارے سامنے ہوگا۔ حضرت زینب کے ساتھ حضور ﷺ کا نکاح چونکہ جاہلیت کی ایک نہایت ہی گہری رسم کے خلاف تھا اور اسلام نے اسی لیے اس پر حضور اکرم ﷺ کے فعل کے ذریعے ضرب کاری لگائی تھی ، لیکن اس معاشرے نے درد محسوس کیے بغیر اپنے اندر سے اس رسم کا اکھاڑ پھینکنا قبول نہ کیا۔ منافقین اور مریض اخلاق کے لوگوں نے سخت غوغا آرائی شروع کردی۔ ان کے ساتھ ہاں میں ہاں ملانے والے ایسے مسلمان بھی تھے جن کے ذہنوں میں اسلامی تصور حیات ابھی اچھی طرح نہ بیٹھا تھا۔ چناچہ یہ عناصر طنز وتشنیع ، اعتراض و تنقید کرتے تھے۔ پورے شہر میں انہوں نے کانا پھوسی شروع کر رکھی تھی اور حضور اکرم ﷺ کے بارے میں بری باتیں کرتے تھے۔ منافقین اور افواہیں پھیلانے والے کب خاموش رہ سکتے تھے ۔ وہ کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جس طرح غزوہ احزاب میں انہوں نے ایک زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔ ۔۔۔ کے معاملے میں وہ اس سے قبل تجربہ کرچکے تھے۔ مال غنیمت کی تقسیم میں وہ ایسی ہی مہم چلا چکے تھے۔ غرض ہر موقع و محل میں یہ لوگ نبی ﷺ کیلئے اذیت کا باعث تھے اور بالکل بےجواز۔ اس دور میں جبکہ بنی قریظہ اور سارے یہودیوں کو مدینہ سے نکالا گیا تھا ، مدینہ میں کوئی کافر اور مشرک نہ تھا۔ اہل مدینہ یا تو سچے مسلمان تھے اور یا منافق تھے اور اس قسم کی مہم یہ منافق ہی چلاتے تھے۔ یہ جھوٹی افواہیں پھیلاتے۔ بعض سادہ لوح مسلمانوں پر بھی ان کا اثر تھا جو ان کے ساتھ نافہمی کی وجہ سے شریک ہوجاتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے اہل ایمان کو یہاں متنبہ کیا ہے کہ نبی ﷺ کے لیے باعث اذیت نہ بنو ، اس سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی مومنین نے بھی حضرت موسیٰ کو اذیت دی تھی۔ اس لیے ان منافقین کی باتوں پر بلا تحقیق و تفتیش کان نہ دھرو۔ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، تمہارے لیے یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

الأحزاب 33:69

یایھا الذین امنوا لا تکونوا ۔۔۔۔۔۔۔ فاز فوزا عظیما (69 – 71) ” ۔ قرآن کریم نے اس ایذا کا تعین نہیں کیا جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ البتہ روایت میں اس کا تعین کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہم اس بات کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں جسے قرآن کریم نے مجمل چھوڑ دیا۔ یہاں مقصد اہل ایمان کو اس بات سے خبردار کرنا ہے کہ وہ حضرت نبی ﷺ کو اذیت نہ دیں۔ اللہ نے قرآن کریم میں بنی اسرائیل کی بدعملیوں اور بدکرداریوں کی کئی مثالیں دی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کردیا کہ انہوں نے اپنے نبی کو اذیت دی تھی۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایس انہیں کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کا شعور ایسا بن جائے کہ وہ کسی معاملے میں بھی بنی اسرائیل کے مماثل نہ ہوں۔ ان کے دلوں میں ان کی نفرت بیٹھ جائے کیونکہ یہ لوگ مجسم بدعمل ، بےراہ رو ، نبی کو ہر وقت تنگ کرنے والے تھے۔ بنی اسرائیل نے اپنے نبی پر جو الزم لگایا تھا اللہ نے ان کو اس سے بری کردیا تھا۔ وکان عند اللہ وجیھا (33: 69) ” اور وہ اللہ کے نزدیک باعزت تھا “۔ یعنی وہ اللہ کے نزدیک صاحب قدر و منزلت تھا۔ اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو ہر قسم کے بہتان اور الزام سے علی روش الاشاد بری کرتا ہے اور محمد ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں اس لیے اللہ ان کو بھی بری اور پاک کرتا ہے۔ قرآن کریم اہل ایمان کو ہدایت کرتا ہے کہ کسی معاملے میں منافقین اور دشمنوں کے ساتھ اتفاق کرنے سے قبل اس کی تحقیق اور درستگی کا پتہ کرنا فرض ہے۔ خصوصاً اپنے نبی ، مرشد اور ولی اور دوست کے بارے میں گمراہوں اور فساق و فجار کی باتوں پر کان دھرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ قرآن کریم ان کو ایک صالح بات کی ہدایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں عمل صالح نمودار ہوتا ہے۔ جو لوگ سچے ہوتے ہیں اللہ ان کی نگہبانی کرتا ہے اور ان کی راہنمائی اعمال خیر کی طرف کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اچھی باتیں کرنے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور ان کی تقصیرات کو معاف کرتا ہے۔ کیونکہ تقصیرات سے کوئی آدمی محفوظ نہیں رہتا۔ ان تقصیرات سے آدمی صرف مغفرت الٰہی سے نکل سکتا ہے۔ من یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزا عظیما (33: 71) ” جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ اطاعت الٰہی بذات خود فوز عظیم ہے ، کیونکہ اطاعت سے انسان اللہ کی نہج پر قائم ہوتا ہے۔ اور اللہ کے طریقے پر استقامت انسان کے لئے نفع بخش ہوتی ہے۔ اور جسے اللہ کے سیدھے طریقہ اور راستے کی طرف ہدایت ہوجائے یہ بذات خود دائمی سعادت اور نیک بختی ہے۔ اگرچہ اس کے سوا اس کے لیے کوئی اجر و جزاء نہ ہو۔ کیونکہ جو شخص ٹھیک ٹھیک اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھ رہا ہو ، اسے اپنا راستہ صاف نظر آرہا ہو اور اس کے اردگرد مخلوق اسی کے ساتھ معاون ہو وہ اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا جسے اپنی راہ معلوم نہ ہو ، پریشان ہو ، اور اس کی راہ کے اردگرد تمام کائنات اس سے متصادم ہو اور اس کے لیے اذیت ناک ہو۔ لہٰذا اللہ اور رسول کی اطاعت بذات خود احسن الجزاء ہے۔ یہی فوز عظیم ہے۔ یوم الحساب اور جنت نعیم سے بھی پہلے یہ کامیابی ہے۔ اخروی کامیابی تو فضل عظیم ہے اور یہ بونس ہے جو نعمت ملے گی اور یہ فضل اللہ جسے چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ یہ اللہ کا فضل اس لیے ہے کہ حضرت انسان بہت ہی ضعیف ہیں۔ اور اللہ نے انسان کے کاندھوں پر جو ذمہ داری عائد کی ہے وہ بہت ہی بھاری ہے اور انسان نے اپنی نادانی کی وجہ سے اس قدر عظیم بوجھ اپنے اوپر لیا ہے جس کے اٹھانے سے آسمان ، زمین اور پہاڑوں نے معذرت کی تھی۔ حالانکہ اسے اپنی کمزوریاں معلوم تھیں۔ شہوات و میلانات کا دباؤ ، علم و ہنر کا قصور ، عمر کا اختصار اور زمان و مکان کی مشکلات اور مستقبل کے واقعات کی پیش بینی میں انسان کی کمزوری وغیرہ۔

الأحزاب 33:70

یایھا الذین امنوا لا تکونوا ۔۔۔۔۔۔۔ فاز فوزا عظیما (69 – 71) ” ۔ قرآن کریم نے اس ایذا کا تعین نہیں کیا جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ البتہ روایت میں اس کا تعین کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہم اس بات کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں جسے قرآن کریم نے مجمل چھوڑ دیا۔ یہاں مقصد اہل ایمان کو اس بات سے خبردار کرنا ہے کہ وہ حضرت نبی ﷺ کو اذیت نہ دیں۔ اللہ نے قرآن کریم میں بنی اسرائیل کی بدعملیوں اور بدکرداریوں کی کئی مثالیں دی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کردیا کہ انہوں نے اپنے نبی کو اذیت دی تھی۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایس انہیں کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کا شعور ایسا بن جائے کہ وہ کسی معاملے میں بھی بنی اسرائیل کے مماثل نہ ہوں۔ ان کے دلوں میں ان کی نفرت بیٹھ جائے کیونکہ یہ لوگ مجسم بدعمل ، بےراہ رو ، نبی کو ہر وقت تنگ کرنے والے تھے۔ بنی اسرائیل نے اپنے نبی پر جو الزم لگایا تھا اللہ نے ان کو اس سے بری کردیا تھا۔ وکان عند اللہ وجیھا (33: 69) ” اور وہ اللہ کے نزدیک باعزت تھا “۔ یعنی وہ اللہ کے نزدیک صاحب قدر و منزلت تھا۔ اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو ہر قسم کے بہتان اور الزام سے علی روش الاشاد بری کرتا ہے اور محمد ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں اس لیے اللہ ان کو بھی بری اور پاک کرتا ہے۔ قرآن کریم اہل ایمان کو ہدایت کرتا ہے کہ کسی معاملے میں منافقین اور دشمنوں کے ساتھ اتفاق کرنے سے قبل اس کی تحقیق اور درستگی کا پتہ کرنا فرض ہے۔ خصوصاً اپنے نبی ، مرشد اور ولی اور دوست کے بارے میں گمراہوں اور فساق و فجار کی باتوں پر کان دھرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ قرآن کریم ان کو ایک صالح بات کی ہدایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں عمل صالح نمودار ہوتا ہے۔ جو لوگ سچے ہوتے ہیں اللہ ان کی نگہبانی کرتا ہے اور ان کی راہنمائی اعمال خیر کی طرف کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اچھی باتیں کرنے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور ان کی تقصیرات کو معاف کرتا ہے۔ کیونکہ تقصیرات سے کوئی آدمی محفوظ نہیں رہتا۔ ان تقصیرات سے آدمی صرف مغفرت الٰہی سے نکل سکتا ہے۔ من یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزا عظیما (33: 71) ” جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ اطاعت الٰہی بذات خود فوز عظیم ہے ، کیونکہ اطاعت سے انسان اللہ کی نہج پر قائم ہوتا ہے۔ اور اللہ کے طریقے پر استقامت انسان کے لئے نفع بخش ہوتی ہے۔ اور جسے اللہ کے سیدھے طریقہ اور راستے کی طرف ہدایت ہوجائے یہ بذات خود دائمی سعادت اور نیک بختی ہے۔ اگرچہ اس کے سوا اس کے لیے کوئی اجر و جزاء نہ ہو۔ کیونکہ جو شخص ٹھیک ٹھیک اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھ رہا ہو ، اسے اپنا راستہ صاف نظر آرہا ہو اور اس کے اردگرد مخلوق اسی کے ساتھ معاون ہو وہ اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا جسے اپنی راہ معلوم نہ ہو ، پریشان ہو ، اور اس کی راہ کے اردگرد تمام کائنات اس سے متصادم ہو اور اس کے لیے اذیت ناک ہو۔ لہٰذا اللہ اور رسول کی اطاعت بذات خود احسن الجزاء ہے۔ یہی فوز عظیم ہے۔ یوم الحساب اور جنت نعیم سے بھی پہلے یہ کامیابی ہے۔ اخروی کامیابی تو فضل عظیم ہے اور یہ بونس ہے جو نعمت ملے گی اور یہ فضل اللہ جسے چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ یہ اللہ کا فضل اس لیے ہے کہ حضرت انسان بہت ہی ضعیف ہیں۔ اور اللہ نے انسان کے کاندھوں پر جو ذمہ داری عائد کی ہے وہ بہت ہی بھاری ہے اور انسان نے اپنی نادانی کی وجہ سے اس قدر عظیم بوجھ اپنے اوپر لیا ہے جس کے اٹھانے سے آسمان ، زمین اور پہاڑوں نے معذرت کی تھی۔ حالانکہ اسے اپنی کمزوریاں معلوم تھیں۔ شہوات و میلانات کا دباؤ ، علم و ہنر کا قصور ، عمر کا اختصار اور زمان و مکان کی مشکلات اور مستقبل کے واقعات کی پیش بینی میں انسان کی کمزوری وغیرہ۔

الأحزاب 33:71

یایھا الذین امنوا لا تکونوا ۔۔۔۔۔۔۔ فاز فوزا عظیما (69 – 71) ” ۔ قرآن کریم نے اس ایذا کا تعین نہیں کیا جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ البتہ روایت میں اس کا تعین کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہم اس بات کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں جسے قرآن کریم نے مجمل چھوڑ دیا۔ یہاں مقصد اہل ایمان کو اس بات سے خبردار کرنا ہے کہ وہ حضرت نبی ﷺ کو اذیت نہ دیں۔ اللہ نے قرآن کریم میں بنی اسرائیل کی بدعملیوں اور بدکرداریوں کی کئی مثالیں دی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کردیا کہ انہوں نے اپنے نبی کو اذیت دی تھی۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایس انہیں کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کا شعور ایسا بن جائے کہ وہ کسی معاملے میں بھی بنی اسرائیل کے مماثل نہ ہوں۔ ان کے دلوں میں ان کی نفرت بیٹھ جائے کیونکہ یہ لوگ مجسم بدعمل ، بےراہ رو ، نبی کو ہر وقت تنگ کرنے والے تھے۔ بنی اسرائیل نے اپنے نبی پر جو الزم لگایا تھا اللہ نے ان کو اس سے بری کردیا تھا۔ وکان عند اللہ وجیھا (33: 69) ” اور وہ اللہ کے نزدیک باعزت تھا “۔ یعنی وہ اللہ کے نزدیک صاحب قدر و منزلت تھا۔ اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو ہر قسم کے بہتان اور الزام سے علی روش الاشاد بری کرتا ہے اور محمد ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں اس لیے اللہ ان کو بھی بری اور پاک کرتا ہے۔ قرآن کریم اہل ایمان کو ہدایت کرتا ہے کہ کسی معاملے میں منافقین اور دشمنوں کے ساتھ اتفاق کرنے سے قبل اس کی تحقیق اور درستگی کا پتہ کرنا فرض ہے۔ خصوصاً اپنے نبی ، مرشد اور ولی اور دوست کے بارے میں گمراہوں اور فساق و فجار کی باتوں پر کان دھرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ قرآن کریم ان کو ایک صالح بات کی ہدایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں عمل صالح نمودار ہوتا ہے۔ جو لوگ سچے ہوتے ہیں اللہ ان کی نگہبانی کرتا ہے اور ان کی راہنمائی اعمال خیر کی طرف کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اچھی باتیں کرنے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور ان کی تقصیرات کو معاف کرتا ہے۔ کیونکہ تقصیرات سے کوئی آدمی محفوظ نہیں رہتا۔ ان تقصیرات سے آدمی صرف مغفرت الٰہی سے نکل سکتا ہے۔ من یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزا عظیما (33: 71) ” جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ اطاعت الٰہی بذات خود فوز عظیم ہے ، کیونکہ اطاعت سے انسان اللہ کی نہج پر قائم ہوتا ہے۔ اور اللہ کے طریقے پر استقامت انسان کے لئے نفع بخش ہوتی ہے۔ اور جسے اللہ کے سیدھے طریقہ اور راستے کی طرف ہدایت ہوجائے یہ بذات خود دائمی سعادت اور نیک بختی ہے۔ اگرچہ اس کے سوا اس کے لیے کوئی اجر و جزاء نہ ہو۔ کیونکہ جو شخص ٹھیک ٹھیک اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھ رہا ہو ، اسے اپنا راستہ صاف نظر آرہا ہو اور اس کے اردگرد مخلوق اسی کے ساتھ معاون ہو وہ اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا جسے اپنی راہ معلوم نہ ہو ، پریشان ہو ، اور اس کی راہ کے اردگرد تمام کائنات اس سے متصادم ہو اور اس کے لیے اذیت ناک ہو۔ لہٰذا اللہ اور رسول کی اطاعت بذات خود احسن الجزاء ہے۔ یہی فوز عظیم ہے۔ یوم الحساب اور جنت نعیم سے بھی پہلے یہ کامیابی ہے۔ اخروی کامیابی تو فضل عظیم ہے اور یہ بونس ہے جو نعمت ملے گی اور یہ فضل اللہ جسے چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ یہ اللہ کا فضل اس لیے ہے کہ حضرت انسان بہت ہی ضعیف ہیں۔ اور اللہ نے انسان کے کاندھوں پر جو ذمہ داری عائد کی ہے وہ بہت ہی بھاری ہے اور انسان نے اپنی نادانی کی وجہ سے اس قدر عظیم بوجھ اپنے اوپر لیا ہے جس کے اٹھانے سے آسمان ، زمین اور پہاڑوں نے معذرت کی تھی۔ حالانکہ اسے اپنی کمزوریاں معلوم تھیں۔ شہوات و میلانات کا دباؤ ، علم و ہنر کا قصور ، عمر کا اختصار اور زمان و مکان کی مشکلات اور مستقبل کے واقعات کی پیش بینی میں انسان کی کمزوری وغیرہ۔

الأحزاب 33:72

انا عرضنا الامانۃ ۔۔۔۔۔۔ ظلوما جھولا (72) ” “۔ زمین و آسمان اور زمین کے اندر بڑے بڑے پہاڑ ، دراصل ایک عام انسان کے لیے عظیم مخلوق ہیں ، جن کا یہاں قرآن نے ذکر کیا ہے اور جن کے اندر انسان رہتا ہے ، ان کے مقابلے میں انسان بہت ہی ضعیف اور حقیر ہے۔ یہ مخلوقات اپنے خالق کو اچھی طرح جانتی ہے اور اللہ کے تکوینی نظام اور قانون کے مطابق چل رہی ہے۔ اللہ کے احکام کو براہ راست پاتی ہے اور ان پر عمل پیدا ہے۔ یہ اس ناموس فطرت کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے اس کے اندر جاری کیا ہے۔ آغاز تخلیق سے یہ کائنات یونہی ، نظام قضا و قدر کے مطابق جاری وساری ہے۔ نہ اللہ کی اطاعت سے نکلتی ہے اور نہ اللہ کے ناموس فطرت سے سرمو انحراف کرتی ہے اور نہ کرسکتی ہے۔ یہ سب مخلوق اپنا فریضہ منصبی ادا کر رہی ہے ، چاہے اسے شعور ہو یا نہ ہو۔ چاہے اس کا کوئی اختیار ہو یا نہ ہو۔ یہ سورج اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے اور اس کے دورے میں کوئی خلل نہیں آتا۔ یہ چمک رہا ہے اور جہاں تک اللہ کا حکم ہوگا ، کائنات کو گرم اور روشن کرتا رہے گا۔ پھر اس سورج کا کنبہ بھی اس کے دائرے کے اندر ٹھیک ٹھیک اپنے اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے اور اپنا فریضہ منصبی ادا کر رہا ہے۔ یہ زمین اپنے مدار میں گردش کر رہی ہے۔ اس گردش کے نتیجے میں فصلیں اگتی ہیں۔ انسانوں کے رزق کا انتظام ہو رہا ہے ۔ یہ مردوں کو سمیٹتی ہے۔ اس کے اندر سے چشمے پھوٹتے ہیں اور یہ سب کام سنت الہیہ کے مطابق ہوتا ہے بغیر زمین کے ارادہ کے۔ یہ چاند اور یہ ستارے و سیارے ، یہ ہوائیں اور یہ بادل یا یہ پانی اور یہ سمندر ، یہ پہاڑ اور یہ میدان سب کے سب اپنے رب کے حکم سے اور اپنے خالق کی تقدیر سے اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور یہ تمام اشیاء یہ فرائض بغیر جہد و مشقت کے ادا کرتی ہیں۔ یہ ارکان کائنات نہ اٹھاسکے ، ڈر گئے اور سہم گئے۔ یہ اس عظیم امانت کو نہ اٹھا سکے۔ یہ امانت کیا تھی ، ذاتی ارادے اور اختیار سے اپنے فرائض کو سرانجام دینا اور اپنے اعمال اور افعال کا ذمہ دار ہونا۔ لیکن ! وجعلھا الانسان (33: 72) ” مگر انسان نے اسے اٹھا لیا “۔ انسان جو اللہ کو اپنے شعور اور اپنے ادراک سے جانتا ہے ، اپنے تدبر اور اپنی بصیرت سے ناموس قدرت کو معلوم کرتا ہے ، اور اپنی سعی و جدوجہد سے اس ناموس کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے ، وہ اپنے ارادے سے اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور بالا رادہ ذمہ داریاں اٹھاتا ہے۔ اور اپنے میلانات اور خواہشات پر قابو پاتا ہے۔ اپنی زندگی کے ہر قدم پر وہ متحرک بالارادہ ہے۔ اپنی راہ کا ادراک رکھتا ہے۔ جان بوجھ کر اپنے لیے راہ اختیار کرتا ہے اور علی وجہ البصیرت کسی کی راہ پر چلتا ہے۔ یہ ہے وہ عظیم امانت جو اس انسان نے اٹھائی حالانکہ انسان بہت ہی ضعیف ، کمزور اور چھوٹا اور بےطاقت تھا۔ جس طرح اس کی قوت محدود تھی اس طرح اس کی عمر بھی محدود تھی اور پھر اس ضعیف انسان پر ہر طرف سے میلانات خواہشات اور طبیعی شہوات کی افواج حملہ آور تھیں۔ اس زوایہ سے اس ضعیف انسان نے اپنے کاندھوں پر ایک عظیم ذمہ داری اٹھالی۔ بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ اپنے نفس پر اس نے ظلم کیا کہ یہ بھاری بوجھ اس پر ڈالا اور اپنی قوت کی کمی سے وہ بیخبر تھا۔ لیکن جب انسان اس ذمہ داری کو پورا کرے جو اس نے اٹھائی اور جب وہ اپنی معرفت اور اپنے ادراک سے باری تعالیٰ تک پہنچ جائے تو وہ براہ راست ناموس الٰہی کی معرفت حاصل کرلیتا ہے ، اور پوری طرح اپنے رب کے ارادے کا مطیع ہوجاتا ہے۔ یہ معرفت ، یہ ہدایت اور یہ اطاعت اپنی حقیقت کے اعتبار سے اور اپنے آثار کے اعتبار سے ایک بلند مقام تک پہنچ جاتی ہے اور اس قدر خود کار طریقے سے کام کرتی ہے جس طرح آسمان اور زمین اور پہاڑ بڑی سہولت سے ، براہ راست ہدایت ، معرفت اور اطاعت پذیر ہوتے ہیں ، کیونکہ یہ تمام مخلوقات براہ راست اللہ کی معرفت حاصل کیے ہوئے ہوتی ہیں۔ براہ راست اللہ کی ہدایت کے تحت چلتے ہیں۔ براہ راست اطاعت کرتے ہیں اور ان کے اور باری تعالیٰ کے درمیان کوئی حائل اور کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اور کوئی چیز ان کو اللہ کی اطاعت سے روکنے والی نہیں ہوتی ، تو جب انسان بھی اس پوری کائنات کی طرح اللہ کی معرفت ، ہدایت اور اطاعت کا پابند ہوجاتا ہے تو اس وقت وہ واصل باللہ ہوجاتا ہے اور تب اللہ کی مخلوقات میں اس کا مقام منفرد ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ارادہ ، ادراک اور اختیار اور ذمہ داری اٹھانا ہی انسان کی امتیازی خصوصیات ہیں اور انہی کی وجہ سے انسان ان ان مخلوقات کے اندر ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہی وہ کرامت اور شرف ہے جس کا اعلان اللہ نے عالم بالا میں کیا تھا کہ فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ اس انسان کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور قرآن کے اندر یہ اعلان قیامت تک ثبت کردیا۔ ولقد کرمان بنی آدم ” حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی “۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی اس تکریم کی اصلی وجہ سمجھے اور اللہ نے اس کے حوالے جو امانت کی ہے اور اس نے جسے قبول کیا ہے اور جس کے اٹھانے سے آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں نے انکار کیا ، اور ڈرگئے اسے اچھی طرح ادا کرے۔ یہ امانت یا ذمہ داری اللہ نے انسان کے اوپر کیوں ڈالی ؟

الأحزاب 33:73

لیعذب اللہ المنفقین ۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (73) ” “۔ وہ خصوصیات کیا ہیں جو انسان نے اپنے کاندھوں پر اٹھائیں ؟ یہ کہ اپنے آپ کو پہچانے ، اپنی قوت عقلیہ سے معرفت کردار حاصل کرے۔ بذات خود عمل کرے اور خود خدا تک پہنچے۔ یوں وہ اپنے اختیار کو صحیح استعمال کرے اور اپنے اعمال کی سزا اور جزاء کا ذمہ دار ہو۔ اس طرح منافقین اور منافقات سزا کے مستحق ہوں ، مشرکین اور مشرکات اپنے انجام تک پہنچیں اور اللہ مومنین و مومنات کی امداد کرے اور ان سے جو تقصیرات ، کمزروریاں ، ناتوانیاں صادر ہوں ان کو معاف کرے۔ کیونکہ انسان کی راہ میں ضعف ، کمزوری ، شہوات ، جذبات ، میلانات اور معاشرے کے تاثرات کی بیشمار رکاوٹیں ہیں اور اس کو اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بےحد ضرورت ہے اور اللہ ہے بھی غفور و رحیم۔ اس عظیم تبصرے اور عقل و خرد کی تاروں پر آخری اور شدید ضرب سے اس سورة کا خاتمہ ہوتا ہے جس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ اے نبی تم اللہ کی اطاعت کرو اور کفار اور منافقین کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ اللہ کی وحی اور اشاروں کے مطابق کام کرو ، اللہ پر بھروسہ کرو ، اور اللہ کے سوا کسی قوت پر تکیہ نہ کرو۔ اس کے بعد اسلامی نطام حیات کے لیے ضروری قانون سازی اور مملکت اسلامی کو عملی ہدایات دی گئی تھیں اور حکم تھا کہ اللہ کے قانون اور اللہ کی حکمت عملی پر چلو۔ اس آخری ضرب اور تبصرے میں یہ بتایا گیا کہ جو ذمہ داری انسان پر عائد ہو ، اس کا ذرا احساس کرے۔ یہ کس قدر عظیم ذمہ داری تھی ؟ کہ پہاڑ بھی اس کے اٹھانے سے کانپ اٹھے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح یہ کائنات اللہ کے ناموس کی مطیع ہے انسان طوعا اللہ کے ناموس تک رسائل حاصل کرکے مطیع ہوجائے اور اللہ کی مشیت کی اطاعت کرے۔ اس تبصرے پر سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس کا آغاز اور اختتام دونوں باہم متناسب پاس اور پوری سورة اس آغاز اور اختتام کے رخ پر رواں دواں ہے۔ نہایت توافق کے ساتھ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہی ذات کریم اس کتاب کو بھیجنے والی ہے جو اس کائنات کو چلا رہی ہے۔