Fi Zilal al-Quran — سبأ 34:1 – فاطر 35:45
Contents
- سبأ 34:1
- سبأ 34:2
- سبأ 34:3
- سبأ 34:4
- سبأ 34:5
- سبأ 34:6
- سبأ 34:7
- سبأ 34:8
- سبأ 34:9
- سبأ 34:10
- سبأ 34:11
- سبأ 34:12
- سبأ 34:13
- سبأ 34:14
- سبأ 34:15
- سبأ 34:16
- سبأ 34:17
- سبأ 34:18
- سبأ 34:19
- سبأ 34:20
- سبأ 34:21
- سبأ 34:22
- سبأ 34:23
- سبأ 34:24
- سبأ 34:25
- سبأ 34:26
- سبأ 34:27
- سبأ 34:28
- سبأ 34:29
- سبأ 34:30
- سبأ 34:31
- سبأ 34:32
- سبأ 34:33
- سبأ 34:34
- سبأ 34:35
- سبأ 34:36
- سبأ 34:37
- سبأ 34:38
- سبأ 34:39
- سبأ 34:40
- سبأ 34:41
- سبأ 34:42
- سبأ 34:43
- سبأ 34:44
- سبأ 34:45
- سبأ 34:46
- سبأ 34:47
- سبأ 34:48
- سبأ 34:49
- سبأ 34:50
- سبأ 34:51
- سبأ 34:52
- سبأ 34:53
- سبأ 34:54
- فاطر 35:1
- فاطر 35:2
- فاطر 35:3
- فاطر 35:4
- فاطر 35:5
- فاطر 35:6
- فاطر 35:7
- فاطر 35:8
- فاطر 35:9
- فاطر 35:10
- فاطر 35:11
- فاطر 35:12
- فاطر 35:13
- فاطر 35:14
- فاطر 35:15
- فاطر 35:16
- فاطر 35:17
- فاطر 35:18
- فاطر 35:19
- فاطر 35:20
- فاطر 35:21
- فاطر 35:22
- فاطر 35:23
- فاطر 35:24
- فاطر 35:25
- فاطر 35:26
- فاطر 35:27
- فاطر 35:28
- فاطر 35:29
- فاطر 35:30
- فاطر 35:31
- فاطر 35:32
- فاطر 35:33
- فاطر 35:34
- فاطر 35:35
- فاطر 35:36
- فاطر 35:37
- فاطر 35:38
- فاطر 35:39
- فاطر 35:40
- فاطر 35:41
- فاطر 35:42
- فاطر 35:43
- فاطر 35:44
- فاطر 35:45
سبأ 34:1
الحمدللہ الذی لہ ۔۔۔۔۔ وھو الرحیم الغفور (1 – 2) ” ۔ “۔
یہ اس سورة کا آغاز ہے جس میں مشرکین کے شرک ، ان کی جانب سے رسول اللہ کی تکذیب ، آخرت میں تشکیک ، اور ان کی طرف سے بعث بعد الموت کو مستبد سمجھنے کے موضوعات پر کلام کیا گیا ہے۔ آغاز ان کلمات کے ساتھ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہے۔ جو بذات خود محمود ہے اگرچہ مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کی تعریف نہ کرے۔ وہ اس پوری کائنات میں محمود ہے اور اس کائنات کی پوری قوتیں اور مخلوقات اللہ کی حمد کرتی ہیں اگرچہ یہ انسان اس کی حمد نہ کرے۔
حمد کے ساتھ اللہ کی اس صفت کا ذکر ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ نہ زمین اور آسمانوں میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اور یہ اسلامی نطریہ حیات کا پہلا اور اساسی نکتہ ہے۔ اس طویل و عریض کائنات کا مالک اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی شریک نہیں ہے۔
ولہ الحمد فی الاخرۃ (34: 1) ” اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے “۔ یعنی اللہ اپنی ذات میں محمود ہے اور بندوں کی طرف سے کی جانے والی حمد بھی اسی کے لئے ہے۔ غرض وہ لوگ جو اللہ کا انکار کرتے ہیں یا اس کے ساتھ کسی کو شریک کرتے ہیں ان کی طرف سے بھی حمد اللہ ہی کے لیے ہے اور وہی اس کا مستحق ہے اور ان پر یہ بات آخرت میں منکشف ہوگی۔
وھو الحکیم الخبیر (34: 1) ” وہ دانا اور باخبر ہے “۔ وہ ایسا حکیم ہے کہ اسکا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔ وہ
زمین اور آسمان کو بھی حکمت سے چلاتا ہے ۔ اس کائنات کی تدبیر نہایت حکمت سے کرتا ہے۔ وہ ہر چیز سے خبردار ہے ، ہر معاملے کا اسے علم ہے اور اس کا علم بہت گہرا ، شامل اور محیط ہے۔ اللہ کے علم کو اگر دیکھنا ہے تو اس کی مثال کیلئے اس کی کتاب علم کا ایک صفحہ ملاحظہ ہو۔
یعلم ما یلج ۔۔۔۔۔ یعرج فیھا (34: 2) ” جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے ، ہر چیز کو وہ جانتا ہے “۔ یہ چند الفاظ ہیں ذرا ان پر غور کرو ، کس قدر تعداد زمین کے اندر جاتی ہے ، کس قدر اس سے نکلتی ہے ، کس قدر تعداد کا آسمانوں سے نزول ہوتا ہے اور کسی قدر اشیاء کا عروج ہوتا ہے مختلف حرکات ، مختلف شکلوں ، مختلف صورتوں ، مختلف تصورات اور مختلف بینات میں۔ اس قدر کثیر کہ خیال ان کو اپنے دائرے میں نہیں لے سکتا۔ اگر تمام اہل زمین ایک سیکنڈ میں ہونے والے مذکورہ اعمال کا احاطہ کرنا چاہیں تو شمار نہ کرسکیں۔ اگرچہ پوری زندگی اس کام میں لگا دیں۔ یقیناً وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ کیونکہ لاتعداد اشیا اس ایک لحظہ میں زمین میں داخل ہوتی اور نکلتی ہیں اور آسمان سے لاتعداد اشیاء کا نزول و عروج ہوتا ہے ۔ کس قدر بیج زمین میں گرتے ہیں اور کس قدر کونپلیں نکلتی ہیں ، کتنے ہی حشرات داخل ہوتے اور نکلتے ہیں۔ کس قدر اجرام اور حیوانات ، کس قدر پانی کے قطرے اور کس قدر گیس کے ذرات اور کس قدر کہرابائی ذرات زمین کے اطراف میں داخل ہوتے ہیں اور کس قدر دوسری اشیاء داخل و خارج ہوتی ہیں۔ اللہ کی آنکھ ان کو دیکھ رہی ہے اور شمار کر رہی ہے۔
ذرا نباتات ہی کو دیکھئے ! ذرا چشموں کو دیکھئے ، ذرا آتش فشاں پہاڑوں کو دیکھئے ، ذرا دوسری گیسوں کو دیکھئے اور یہ دیکھئے کہ کس قدر مستور خزانے ہیں اور ذرا حشرات الارض کو دیکھئے جو نظر آتے ہیں اور جو خوردبینوں سے بھی نظر نہیں آتے۔ بعض کے بارے میں انسان نے علم حاصل کرلیا ہے اور لاتعداد ابھی تک نامعلوم ہیں۔
آسمانوں سے نازل ہونے والے بارش کے قطروں کا شمار کرسکتے ہو ! شہاب ثاقب تو قطرے نہیں ان کی تعداد معلوم ہے۔ سورج سے کسی بھی لمحے شعارعیں نکلتی ہیں۔ کس قدر جلانے والی ، کس قدر روشنی کرنے والی ، کس قدر فیصلے نافذ ہو رہے ہیں اور کس قدر ابھی تک چھپے ہوئے ہیں۔ کس قدر رحمتیں ہیں جو عوام الناس پر ہیں اور کس قدر ہیں جو بعض بندوں پر نافذ ہونے والی ہیں۔ کس قدر رزق ہے جو تقسیم ہوتا ہے اور کس قدر رزق ہے جو روک لیا جاتا ہے اور کیا کچھ ہے جو صرف اللہ کے علم میں ہے۔
کتنے نفوس اور کتنے سانس ہیں جو آسمانوں کی طرف بلند ہوتے ہیں ، نباتات کے ، حیوانات کے جراثیم کے اور دوسری مخلوقات کے اور کتنی ہی دعوتیں ہیں جو اللہ کی طرف سے دی جا رہی ہیں ، اعلانیہ ہیں یا چھپی ہوئی ہیں اور کوئی ان کو نہیں سنتا مگر اللہ ! کس قدر روحین ہیں جن کو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔ یہ اللہ کی طرف اٹھتی ہیں اور کتنے ہی فرشتے ہیں جو ہر روز اللہ کے ہاں واپس ہوتے ہیں اور کتنی روحیں اس کائنات میں ہیں جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
سمندر سے بخارات کے کس قدر ذرے اور گیس کے دوسرے ذرات اٹھتے ہیں ، جن کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ تمام اشیاء صرف ایک ہی لمحہ میں یہ عمل کرتی ہیں۔ یہ ایک لمحے کی بات ہے جس کا شمار سب انسان پوری زندگی لگا کر بھی نہیں کرسکتے۔ اگرچہ وہ عمریں صرف کردیں جبکہ اللہ کا علم شامل اور محیط ہے۔ ہر لمحے اور ہر زمانے اور ہر جگہ کے ان واقعات کا اس کے ہاں حساب و کتاب ہے بلکہ وہ انسان کی حرکات و سکنات اور خیالات و وساوس کا بھی حساب کرتا ہے لیکن وہ ستار ہے اور انسان کی کمزرویوں کا چھپاتا ہے۔
وھو الرحیم الغفور (34: 2) وہ رحیم و غفور ہے “۔
قرآن کریم کی آیات میں سے ایسی ایک ایک آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے۔ انسانی عقل کا مزاج یہ ہے کہ وہ اس قدر گہرا تصور پیش ہی نہیں کرسکتی جس کی انتہاؤں تک وہ کود نہ جاسکے۔ انسانی تخیل میں ایسے عمومی اور جامع خیالات آہی نہیں سکتے۔ اور اس قسم کے جوامع العلم جس کے اندر اس قدر مفہومات و مداولات آجائیں جن کا احاط ممکن نہ ہو۔ انسانی کلام میں نہیں ہوتے کیونکہ انسانی کلام انسانی عقل کا نتیجہ ہوتا ہے اور انسانی عقل کے مزاج کے یہ بات خلاف ہے۔ اس قسم کی آیات بندوں کے کلام سے مختلف ہیں۔
اللہ کے علم کی اس جامعیت اور اللہ کے شامریات کے محیط ہونے کے ثبوت اور معجزانہ بیان کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اہل کفر قیامت کا انکار کرتے ہیں جبکہ خود ان کا علم اس قدر محدود ہے کہ وہ کل کے بارے میں نہیں جانتے کہ کیا ہوگا۔ جبکہ اللہ علیم وبصیر ہے۔ زمین اور آسمانوں میں کوئی شے بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور قیامت اس لیے ضروری ہے کہ نیک اور بد دونوں کو اپنے کیے کا انجام ملے۔
سبأ 34:2
الحمدللہ الذی لہ ۔۔۔۔۔ وھو الرحیم الغفور (1 – 2) ” ۔ “۔
یہ اس سورة کا آغاز ہے جس میں مشرکین کے شرک ، ان کی جانب سے رسول اللہ کی تکذیب ، آخرت میں تشکیک ، اور ان کی طرف سے بعث بعد الموت کو مستبد سمجھنے کے موضوعات پر کلام کیا گیا ہے۔ آغاز ان کلمات کے ساتھ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہے۔ جو بذات خود محمود ہے اگرچہ مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کی تعریف نہ کرے۔ وہ اس پوری کائنات میں محمود ہے اور اس کائنات کی پوری قوتیں اور مخلوقات اللہ کی حمد کرتی ہیں اگرچہ یہ انسان اس کی حمد نہ کرے۔
حمد کے ساتھ اللہ کی اس صفت کا ذکر ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ نہ زمین اور آسمانوں میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اور یہ اسلامی نطریہ حیات کا پہلا اور اساسی نکتہ ہے۔ اس طویل و عریض کائنات کا مالک اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی شریک نہیں ہے۔
ولہ الحمد فی الاخرۃ (34: 1) ” اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے “۔ یعنی اللہ اپنی ذات میں محمود ہے اور بندوں کی طرف سے کی جانے والی حمد بھی اسی کے لئے ہے۔ غرض وہ لوگ جو اللہ کا انکار کرتے ہیں یا اس کے ساتھ کسی کو شریک کرتے ہیں ان کی طرف سے بھی حمد اللہ ہی کے لیے ہے اور وہی اس کا مستحق ہے اور ان پر یہ بات آخرت میں منکشف ہوگی۔
وھو الحکیم الخبیر (34: 1) ” وہ دانا اور باخبر ہے “۔ وہ ایسا حکیم ہے کہ اسکا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔ وہ
زمین اور آسمان کو بھی حکمت سے چلاتا ہے ۔ اس کائنات کی تدبیر نہایت حکمت سے کرتا ہے۔ وہ ہر چیز سے خبردار ہے ، ہر معاملے کا اسے علم ہے اور اس کا علم بہت گہرا ، شامل اور محیط ہے۔ اللہ کے علم کو اگر دیکھنا ہے تو اس کی مثال کیلئے اس کی کتاب علم کا ایک صفحہ ملاحظہ ہو۔
یعلم ما یلج ۔۔۔۔۔ یعرج فیھا (34: 2) ” جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے ، ہر چیز کو وہ جانتا ہے “۔ یہ چند الفاظ ہیں ذرا ان پر غور کرو ، کس قدر تعداد زمین کے اندر جاتی ہے ، کس قدر اس سے نکلتی ہے ، کس قدر تعداد کا آسمانوں سے نزول ہوتا ہے اور کسی قدر اشیاء کا عروج ہوتا ہے مختلف حرکات ، مختلف شکلوں ، مختلف صورتوں ، مختلف تصورات اور مختلف بینات میں۔ اس قدر کثیر کہ خیال ان کو اپنے دائرے میں نہیں لے سکتا۔ اگر تمام اہل زمین ایک سیکنڈ میں ہونے والے مذکورہ اعمال کا احاطہ کرنا چاہیں تو شمار نہ کرسکیں۔ اگرچہ پوری زندگی اس کام میں لگا دیں۔ یقیناً وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ کیونکہ لاتعداد اشیا اس ایک لحظہ میں زمین میں داخل ہوتی اور نکلتی ہیں اور آسمان سے لاتعداد اشیاء کا نزول و عروج ہوتا ہے ۔ کس قدر بیج زمین میں گرتے ہیں اور کس قدر کونپلیں نکلتی ہیں ، کتنے ہی حشرات داخل ہوتے اور نکلتے ہیں۔ کس قدر اجرام اور حیوانات ، کس قدر پانی کے قطرے اور کس قدر گیس کے ذرات اور کس قدر کہرابائی ذرات زمین کے اطراف میں داخل ہوتے ہیں اور کس قدر دوسری اشیاء داخل و خارج ہوتی ہیں۔ اللہ کی آنکھ ان کو دیکھ رہی ہے اور شمار کر رہی ہے۔
ذرا نباتات ہی کو دیکھئے ! ذرا چشموں کو دیکھئے ، ذرا آتش فشاں پہاڑوں کو دیکھئے ، ذرا دوسری گیسوں کو دیکھئے اور یہ دیکھئے کہ کس قدر مستور خزانے ہیں اور ذرا حشرات الارض کو دیکھئے جو نظر آتے ہیں اور جو خوردبینوں سے بھی نظر نہیں آتے۔ بعض کے بارے میں انسان نے علم حاصل کرلیا ہے اور لاتعداد ابھی تک نامعلوم ہیں۔
آسمانوں سے نازل ہونے والے بارش کے قطروں کا شمار کرسکتے ہو ! شہاب ثاقب تو قطرے نہیں ان کی تعداد معلوم ہے۔ سورج سے کسی بھی لمحے شعارعیں نکلتی ہیں۔ کس قدر جلانے والی ، کس قدر روشنی کرنے والی ، کس قدر فیصلے نافذ ہو رہے ہیں اور کس قدر ابھی تک چھپے ہوئے ہیں۔ کس قدر رحمتیں ہیں جو عوام الناس پر ہیں اور کس قدر ہیں جو بعض بندوں پر نافذ ہونے والی ہیں۔ کس قدر رزق ہے جو تقسیم ہوتا ہے اور کس قدر رزق ہے جو روک لیا جاتا ہے اور کیا کچھ ہے جو صرف اللہ کے علم میں ہے۔
کتنے نفوس اور کتنے سانس ہیں جو آسمانوں کی طرف بلند ہوتے ہیں ، نباتات کے ، حیوانات کے جراثیم کے اور دوسری مخلوقات کے اور کتنی ہی دعوتیں ہیں جو اللہ کی طرف سے دی جا رہی ہیں ، اعلانیہ ہیں یا چھپی ہوئی ہیں اور کوئی ان کو نہیں سنتا مگر اللہ ! کس قدر روحین ہیں جن کو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔ یہ اللہ کی طرف اٹھتی ہیں اور کتنے ہی فرشتے ہیں جو ہر روز اللہ کے ہاں واپس ہوتے ہیں اور کتنی روحیں اس کائنات میں ہیں جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
سمندر سے بخارات کے کس قدر ذرے اور گیس کے دوسرے ذرات اٹھتے ہیں ، جن کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ تمام اشیاء صرف ایک ہی لمحہ میں یہ عمل کرتی ہیں۔ یہ ایک لمحے کی بات ہے جس کا شمار سب انسان پوری زندگی لگا کر بھی نہیں کرسکتے۔ اگرچہ وہ عمریں صرف کردیں جبکہ اللہ کا علم شامل اور محیط ہے۔ ہر لمحے اور ہر زمانے اور ہر جگہ کے ان واقعات کا اس کے ہاں حساب و کتاب ہے بلکہ وہ انسان کی حرکات و سکنات اور خیالات و وساوس کا بھی حساب کرتا ہے لیکن وہ ستار ہے اور انسان کی کمزرویوں کا چھپاتا ہے۔
وھو الرحیم الغفور (34: 2) وہ رحیم و غفور ہے “۔
قرآن کریم کی آیات میں سے ایسی ایک ایک آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے۔ انسانی عقل کا مزاج یہ ہے کہ وہ اس قدر گہرا تصور پیش ہی نہیں کرسکتی جس کی انتہاؤں تک وہ کود نہ جاسکے۔ انسانی تخیل میں ایسے عمومی اور جامع خیالات آہی نہیں سکتے۔ اور اس قسم کے جوامع العلم جس کے اندر اس قدر مفہومات و مداولات آجائیں جن کا احاط ممکن نہ ہو۔ انسانی کلام میں نہیں ہوتے کیونکہ انسانی کلام انسانی عقل کا نتیجہ ہوتا ہے اور انسانی عقل کے مزاج کے یہ بات خلاف ہے۔ اس قسم کی آیات بندوں کے کلام سے مختلف ہیں۔
اللہ کے علم کی اس جامعیت اور اللہ کے شامریات کے محیط ہونے کے ثبوت اور معجزانہ بیان کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اہل کفر قیامت کا انکار کرتے ہیں جبکہ خود ان کا علم اس قدر محدود ہے کہ وہ کل کے بارے میں نہیں جانتے کہ کیا ہوگا۔ جبکہ اللہ علیم وبصیر ہے۔ زمین اور آسمانوں میں کوئی شے بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور قیامت اس لیے ضروری ہے کہ نیک اور بد دونوں کو اپنے کیے کا انجام ملے۔
سبأ 34:3
وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (3 – 5)
کافروں کی جانب سے آخرت کا انکار اس وجہ سے تھا کہ وہ تخلیق انسانیت میں پنہاں حکمت الہیہ اور تقدیر الٰہی کا ادراک نہ کرسکے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو شتر بےمہار کی طرح نہ چھوڑ دیا جائے کہ جو اچھائی کرے اس کی بھی مرضی ہے اور جو برائی کرے اس کی بھی مرضی ہے۔ نہ محسن کو جزاء ملے اور نہ بدکار کو سزا ملے۔ اللہ نے اپنے رسولوں کی زبانی لوگوں کو متنبہ کردیا تھا کہ جزاء کا ایک حصہ آخرت کے لیے باقی رہتا ہے اور سزا کا ایک حصہ بھی آخرت کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کو حکمت تخلیق کا ادراک ہوجائے وہ جان لیتے ہیں کہ اللہ کی اسکیم کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ آخرت برپا ہو ، تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور اللہ کی اطلاع سچی ہو۔ کفار کی نظروں سے بس یہی حکمت اوجھل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے۔
لا تاتینا الساعۃ (34: 3) ” قیامت ہم پر نہیں آئے گی “۔ اور اللہ ان کی اس بات کی پرزور تردید فرماتے ہیں۔
قل بلی وربی لتاتینکم (34: 3) ” کہہ دیجئے ، ہاں میرے رب کی قسم قیامت تم پر ضرور آئے گی “۔ اللہ بھی سچا ہے اور اس کے رسول بھی سچے ہیں۔ وہ غیب تو نہیں جانتے لیکن وہ اللہ پر اعتماد کرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں۔ جس چیز کا خود انہیں علم نہیں ہوتا اس کے معاملے میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ جو تاکیداً کہتا ہے کہ قیامت آئے گی وہ عالم الغیب ہے اس لیے اس کی بات سچ ہے کیونکہ وہ علم پر مبنی ہے۔
اب علم الٰہی کو ایک کائناتی حقیقت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے جس طرح سورة کے آغاز ہی میں اس کی ایک جامع مثال دی گئی تھی۔ اس شہادت سے معلوم ہوا تھا کہ یہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے کیونکہ اس قسم کی جامع تمثیلات انسانی فکر کا نتیجہ نہیں ہوسکتیں۔ اسی بات کو اب یہاں دوسرے الفاظ میں پڑھئے۔
لا یعزب عنہ مثقال۔۔۔۔ فی کتب مبین (34: 3) ” اس سے زرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ۔ نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی ! سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے “۔ میں اس بات کو یہاں دوبارہ دہراتا ہوں کہ یہ تصور ایک انسانی تصور نہیں ہے اور نہ انسان اس طرح کی جامع سوچ سوچتا ہے۔ آج تک انسانی کلام کے جو نمونے ہیں نظم کے ہیں یا نثر کے ، ان میں ایسی جامع بات نہیں ملتی۔ جب بھی انسان علم کی جامعیت اور اس کے احاطے کے بارے میں کوئی سوچ پیش کرتا ہے وہ اس قدر کائناتی رنگ میں نہیں ہوتی۔
لا یعزب عنہ ۔۔۔۔۔ من ذلک ولا اکبر (34: 3) ” اس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ، نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی “۔ کم از کم انسانی نمونہ ہائے کلام میں علم کی شمولیت ، گہرائی اور جامعیت کے لیے ایسا انداز نہیں ملتا جو قرآن نے اختیار کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس طرح اپنے علم کی جامعیت کو بیان کرسکتا ہے اپنے علم کی گہرائی کو بیان کرسکتا ہے۔ یہ باتیں انسانی تخیل کے احاطے میں ہی نہیں آسکتیں۔ اسی طرح مسلمانوں کا تصور الٰہ اس طرح بلند ہوجاتا ہے جس کی مثال ان کے خیال میں نہیں آتی۔ وہ اپنے تصور اور خیال کو سمجھتے ہوئے اور اسے فوق التصور اور فوق الحیال سمجھتے ہوئے اس کی بندگی کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کتاب مبین کیا ہے ؟ کتاب مبین اللہ کا علم ہی ہے جس نے ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ جس سے کائنات کے اندر تیرنے والا ذرہ بھی چھوٹ کر رہ نہیں گیا ، نہ ڈرنے سے کم اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز۔
ذرا اس تعبیر پر کھڑے ہوکر غور کیجئے ” نہ ذرے سے کم “ نزول قرآن کے زمانے تک معروف اور مشہور بات یہ تھی کہ ذرہ صغیر ترین جسم ہے۔ اس سے کم کا تصور موجود ہی نہ تھا۔ آج ذرے کے توڑنے سے انسان کو معلوم ہوا کہ ذرے سے زیادہ چھوٹی چیز بھی موجود ہے۔ اس وقت انسان کے تصور اور حساب میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اللہ بہت ہی برکت والا ہے کہ اسکے بندے اسکی صفت کے وہ اسرار و رموز بھی جانتے ہیں۔ دوسرے لوگ صدیوں بعد مانتے ہیں اور یہ اللہ ہئ ہے جو کسی بھی وقت ان اسرار و رموز سے پردہ اٹھا دیتا ہے ، جب چاہتا ہے۔ یہ قیامت کیوں برپا ہوگی ؟ جس کا حتمی اور جزی علم اللہ کو ہے جو صغیر و کبیر کا جاننے والا ہے ؟
لیجزی الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (34: 4 – 5) ” اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ اللہ جزاء دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ ان کیلئے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے ان کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے “۔
یہ ہے اللہ کی حکمت ، اس کا ارادہ اور اس کی تدبیر۔ اللہ نے اس بات کو مقدر بنا دیا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد نیک کام کیے ان کو پوری جزاء دے اور ان لوگوں کو بھی سزا دے جنہوں نے اللہ کی آیات کی نیچا دکھانے کیلئے مقدر بھر کوشش کی۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کا ایمان اعمال صالحہ کے روپ میں نمودار ہوا۔ ان کے لیے مغفرت ہے ، ان معاملات کے لئے جو ان سے غلط ہوگئے اور تقصیرات ہوگئیں اور پھر مغفرت کے بعد ان کے لئے رزق کریم ہے۔ اس سورة میں رزق کا ذکر بہت آتا ہے ، مراد جنتیں ہیں کیونکہ اللہ کی نعمتیں رزق کریم ہیں۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات کو نیچا دکھانے کی مساعی کیں اور تحریک اسلامی کے خلاف پوری قوت لگا دی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ رجز نہایت ہی برے عذاب کو کہا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے تحریک اسلامی کی خلاف سرگرمیاں دکھائیں ، تحریک کو ناکام کرنے کی سعی کی اور بری راہ پر جدوجہد کرتے رہے۔ یوں اللہ کی حکمت اور اس کا منصوبہ مکمل ہوتا ہے اور ان لوگوں نے جو نظریہ اپنا رکھا ہے کہ آخرت برپا نہ ہوگی اسکی وجہ ان کی لاعلمی ہے۔ حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ ضرور آئے گی
ان لوگوں نے یقین کرلیا تھا کہ قیامت نہ آئے گی جبکہ وہ اللہ کے مخصوص غیوب میں سے ایک غیب ہے اور اللہ نے فیصلہ دے دیا کہ وہ ضرور آئے گی۔ اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو حکم دے دیا کہ آپ ﷺ اس پیغام کو نشر کردیں اور یہ کہ ان کا یہ عقیدہ جہالت پر مبنی ہے۔ اہل علم بھی اس نتیجے تک پہنچے ہیں جس تک اہل ایمان پہنچے ہیں۔ یہی راستہ ہے اللہ عزیز وحمید کا۔
سبأ 34:4
وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (3 – 5)
کافروں کی جانب سے آخرت کا انکار اس وجہ سے تھا کہ وہ تخلیق انسانیت میں پنہاں حکمت الہیہ اور تقدیر الٰہی کا ادراک نہ کرسکے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو شتر بےمہار کی طرح نہ چھوڑ دیا جائے کہ جو اچھائی کرے اس کی بھی مرضی ہے اور جو برائی کرے اس کی بھی مرضی ہے۔ نہ محسن کو جزاء ملے اور نہ بدکار کو سزا ملے۔ اللہ نے اپنے رسولوں کی زبانی لوگوں کو متنبہ کردیا تھا کہ جزاء کا ایک حصہ آخرت کے لیے باقی رہتا ہے اور سزا کا ایک حصہ بھی آخرت کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کو حکمت تخلیق کا ادراک ہوجائے وہ جان لیتے ہیں کہ اللہ کی اسکیم کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ آخرت برپا ہو ، تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور اللہ کی اطلاع سچی ہو۔ کفار کی نظروں سے بس یہی حکمت اوجھل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے۔
لا تاتینا الساعۃ (34: 3) ” قیامت ہم پر نہیں آئے گی “۔ اور اللہ ان کی اس بات کی پرزور تردید فرماتے ہیں۔
قل بلی وربی لتاتینکم (34: 3) ” کہہ دیجئے ، ہاں میرے رب کی قسم قیامت تم پر ضرور آئے گی “۔ اللہ بھی سچا ہے اور اس کے رسول بھی سچے ہیں۔ وہ غیب تو نہیں جانتے لیکن وہ اللہ پر اعتماد کرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں۔ جس چیز کا خود انہیں علم نہیں ہوتا اس کے معاملے میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ جو تاکیداً کہتا ہے کہ قیامت آئے گی وہ عالم الغیب ہے اس لیے اس کی بات سچ ہے کیونکہ وہ علم پر مبنی ہے۔
اب علم الٰہی کو ایک کائناتی حقیقت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے جس طرح سورة کے آغاز ہی میں اس کی ایک جامع مثال دی گئی تھی۔ اس شہادت سے معلوم ہوا تھا کہ یہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے کیونکہ اس قسم کی جامع تمثیلات انسانی فکر کا نتیجہ نہیں ہوسکتیں۔ اسی بات کو اب یہاں دوسرے الفاظ میں پڑھئے۔
لا یعزب عنہ مثقال۔۔۔۔ فی کتب مبین (34: 3) ” اس سے زرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ۔ نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی ! سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے “۔ میں اس بات کو یہاں دوبارہ دہراتا ہوں کہ یہ تصور ایک انسانی تصور نہیں ہے اور نہ انسان اس طرح کی جامع سوچ سوچتا ہے۔ آج تک انسانی کلام کے جو نمونے ہیں نظم کے ہیں یا نثر کے ، ان میں ایسی جامع بات نہیں ملتی۔ جب بھی انسان علم کی جامعیت اور اس کے احاطے کے بارے میں کوئی سوچ پیش کرتا ہے وہ اس قدر کائناتی رنگ میں نہیں ہوتی۔
لا یعزب عنہ ۔۔۔۔۔ من ذلک ولا اکبر (34: 3) ” اس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ، نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی “۔ کم از کم انسانی نمونہ ہائے کلام میں علم کی شمولیت ، گہرائی اور جامعیت کے لیے ایسا انداز نہیں ملتا جو قرآن نے اختیار کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس طرح اپنے علم کی جامعیت کو بیان کرسکتا ہے اپنے علم کی گہرائی کو بیان کرسکتا ہے۔ یہ باتیں انسانی تخیل کے احاطے میں ہی نہیں آسکتیں۔ اسی طرح مسلمانوں کا تصور الٰہ اس طرح بلند ہوجاتا ہے جس کی مثال ان کے خیال میں نہیں آتی۔ وہ اپنے تصور اور خیال کو سمجھتے ہوئے اور اسے فوق التصور اور فوق الحیال سمجھتے ہوئے اس کی بندگی کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کتاب مبین کیا ہے ؟ کتاب مبین اللہ کا علم ہی ہے جس نے ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ جس سے کائنات کے اندر تیرنے والا ذرہ بھی چھوٹ کر رہ نہیں گیا ، نہ ڈرنے سے کم اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز۔
ذرا اس تعبیر پر کھڑے ہوکر غور کیجئے ” نہ ذرے سے کم “ نزول قرآن کے زمانے تک معروف اور مشہور بات یہ تھی کہ ذرہ صغیر ترین جسم ہے۔ اس سے کم کا تصور موجود ہی نہ تھا۔ آج ذرے کے توڑنے سے انسان کو معلوم ہوا کہ ذرے سے زیادہ چھوٹی چیز بھی موجود ہے۔ اس وقت انسان کے تصور اور حساب میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اللہ بہت ہی برکت والا ہے کہ اسکے بندے اسکی صفت کے وہ اسرار و رموز بھی جانتے ہیں۔ دوسرے لوگ صدیوں بعد مانتے ہیں اور یہ اللہ ہئ ہے جو کسی بھی وقت ان اسرار و رموز سے پردہ اٹھا دیتا ہے ، جب چاہتا ہے۔ یہ قیامت کیوں برپا ہوگی ؟ جس کا حتمی اور جزی علم اللہ کو ہے جو صغیر و کبیر کا جاننے والا ہے ؟
لیجزی الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (34: 4 – 5) ” اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ اللہ جزاء دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ ان کیلئے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے ان کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے “۔
یہ ہے اللہ کی حکمت ، اس کا ارادہ اور اس کی تدبیر۔ اللہ نے اس بات کو مقدر بنا دیا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد نیک کام کیے ان کو پوری جزاء دے اور ان لوگوں کو بھی سزا دے جنہوں نے اللہ کی آیات کی نیچا دکھانے کیلئے مقدر بھر کوشش کی۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کا ایمان اعمال صالحہ کے روپ میں نمودار ہوا۔ ان کے لیے مغفرت ہے ، ان معاملات کے لئے جو ان سے غلط ہوگئے اور تقصیرات ہوگئیں اور پھر مغفرت کے بعد ان کے لئے رزق کریم ہے۔ اس سورة میں رزق کا ذکر بہت آتا ہے ، مراد جنتیں ہیں کیونکہ اللہ کی نعمتیں رزق کریم ہیں۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات کو نیچا دکھانے کی مساعی کیں اور تحریک اسلامی کے خلاف پوری قوت لگا دی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ رجز نہایت ہی برے عذاب کو کہا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے تحریک اسلامی کی خلاف سرگرمیاں دکھائیں ، تحریک کو ناکام کرنے کی سعی کی اور بری راہ پر جدوجہد کرتے رہے۔ یوں اللہ کی حکمت اور اس کا منصوبہ مکمل ہوتا ہے اور ان لوگوں نے جو نظریہ اپنا رکھا ہے کہ آخرت برپا نہ ہوگی اسکی وجہ ان کی لاعلمی ہے۔ حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ ضرور آئے گی
ان لوگوں نے یقین کرلیا تھا کہ قیامت نہ آئے گی جبکہ وہ اللہ کے مخصوص غیوب میں سے ایک غیب ہے اور اللہ نے فیصلہ دے دیا کہ وہ ضرور آئے گی۔ اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو حکم دے دیا کہ آپ ﷺ اس پیغام کو نشر کردیں اور یہ کہ ان کا یہ عقیدہ جہالت پر مبنی ہے۔ اہل علم بھی اس نتیجے تک پہنچے ہیں جس تک اہل ایمان پہنچے ہیں۔ یہی راستہ ہے اللہ عزیز وحمید کا۔
سبأ 34:5
وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (3 – 5)
کافروں کی جانب سے آخرت کا انکار اس وجہ سے تھا کہ وہ تخلیق انسانیت میں پنہاں حکمت الہیہ اور تقدیر الٰہی کا ادراک نہ کرسکے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو شتر بےمہار کی طرح نہ چھوڑ دیا جائے کہ جو اچھائی کرے اس کی بھی مرضی ہے اور جو برائی کرے اس کی بھی مرضی ہے۔ نہ محسن کو جزاء ملے اور نہ بدکار کو سزا ملے۔ اللہ نے اپنے رسولوں کی زبانی لوگوں کو متنبہ کردیا تھا کہ جزاء کا ایک حصہ آخرت کے لیے باقی رہتا ہے اور سزا کا ایک حصہ بھی آخرت کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کو حکمت تخلیق کا ادراک ہوجائے وہ جان لیتے ہیں کہ اللہ کی اسکیم کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ آخرت برپا ہو ، تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور اللہ کی اطلاع سچی ہو۔ کفار کی نظروں سے بس یہی حکمت اوجھل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے۔
لا تاتینا الساعۃ (34: 3) ” قیامت ہم پر نہیں آئے گی “۔ اور اللہ ان کی اس بات کی پرزور تردید فرماتے ہیں۔
قل بلی وربی لتاتینکم (34: 3) ” کہہ دیجئے ، ہاں میرے رب کی قسم قیامت تم پر ضرور آئے گی “۔ اللہ بھی سچا ہے اور اس کے رسول بھی سچے ہیں۔ وہ غیب تو نہیں جانتے لیکن وہ اللہ پر اعتماد کرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں۔ جس چیز کا خود انہیں علم نہیں ہوتا اس کے معاملے میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ جو تاکیداً کہتا ہے کہ قیامت آئے گی وہ عالم الغیب ہے اس لیے اس کی بات سچ ہے کیونکہ وہ علم پر مبنی ہے۔
اب علم الٰہی کو ایک کائناتی حقیقت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے جس طرح سورة کے آغاز ہی میں اس کی ایک جامع مثال دی گئی تھی۔ اس شہادت سے معلوم ہوا تھا کہ یہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے کیونکہ اس قسم کی جامع تمثیلات انسانی فکر کا نتیجہ نہیں ہوسکتیں۔ اسی بات کو اب یہاں دوسرے الفاظ میں پڑھئے۔
لا یعزب عنہ مثقال۔۔۔۔ فی کتب مبین (34: 3) ” اس سے زرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ۔ نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی ! سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے “۔ میں اس بات کو یہاں دوبارہ دہراتا ہوں کہ یہ تصور ایک انسانی تصور نہیں ہے اور نہ انسان اس طرح کی جامع سوچ سوچتا ہے۔ آج تک انسانی کلام کے جو نمونے ہیں نظم کے ہیں یا نثر کے ، ان میں ایسی جامع بات نہیں ملتی۔ جب بھی انسان علم کی جامعیت اور اس کے احاطے کے بارے میں کوئی سوچ پیش کرتا ہے وہ اس قدر کائناتی رنگ میں نہیں ہوتی۔
لا یعزب عنہ ۔۔۔۔۔ من ذلک ولا اکبر (34: 3) ” اس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ، نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی “۔ کم از کم انسانی نمونہ ہائے کلام میں علم کی شمولیت ، گہرائی اور جامعیت کے لیے ایسا انداز نہیں ملتا جو قرآن نے اختیار کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس طرح اپنے علم کی جامعیت کو بیان کرسکتا ہے اپنے علم کی گہرائی کو بیان کرسکتا ہے۔ یہ باتیں انسانی تخیل کے احاطے میں ہی نہیں آسکتیں۔ اسی طرح مسلمانوں کا تصور الٰہ اس طرح بلند ہوجاتا ہے جس کی مثال ان کے خیال میں نہیں آتی۔ وہ اپنے تصور اور خیال کو سمجھتے ہوئے اور اسے فوق التصور اور فوق الحیال سمجھتے ہوئے اس کی بندگی کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کتاب مبین کیا ہے ؟ کتاب مبین اللہ کا علم ہی ہے جس نے ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ جس سے کائنات کے اندر تیرنے والا ذرہ بھی چھوٹ کر رہ نہیں گیا ، نہ ڈرنے سے کم اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز۔
ذرا اس تعبیر پر کھڑے ہوکر غور کیجئے ” نہ ذرے سے کم “ نزول قرآن کے زمانے تک معروف اور مشہور بات یہ تھی کہ ذرہ صغیر ترین جسم ہے۔ اس سے کم کا تصور موجود ہی نہ تھا۔ آج ذرے کے توڑنے سے انسان کو معلوم ہوا کہ ذرے سے زیادہ چھوٹی چیز بھی موجود ہے۔ اس وقت انسان کے تصور اور حساب میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اللہ بہت ہی برکت والا ہے کہ اسکے بندے اسکی صفت کے وہ اسرار و رموز بھی جانتے ہیں۔ دوسرے لوگ صدیوں بعد مانتے ہیں اور یہ اللہ ہئ ہے جو کسی بھی وقت ان اسرار و رموز سے پردہ اٹھا دیتا ہے ، جب چاہتا ہے۔ یہ قیامت کیوں برپا ہوگی ؟ جس کا حتمی اور جزی علم اللہ کو ہے جو صغیر و کبیر کا جاننے والا ہے ؟
لیجزی الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (34: 4 – 5) ” اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ اللہ جزاء دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ ان کیلئے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے ان کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے “۔
یہ ہے اللہ کی حکمت ، اس کا ارادہ اور اس کی تدبیر۔ اللہ نے اس بات کو مقدر بنا دیا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد نیک کام کیے ان کو پوری جزاء دے اور ان لوگوں کو بھی سزا دے جنہوں نے اللہ کی آیات کی نیچا دکھانے کیلئے مقدر بھر کوشش کی۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کا ایمان اعمال صالحہ کے روپ میں نمودار ہوا۔ ان کے لیے مغفرت ہے ، ان معاملات کے لئے جو ان سے غلط ہوگئے اور تقصیرات ہوگئیں اور پھر مغفرت کے بعد ان کے لئے رزق کریم ہے۔ اس سورة میں رزق کا ذکر بہت آتا ہے ، مراد جنتیں ہیں کیونکہ اللہ کی نعمتیں رزق کریم ہیں۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات کو نیچا دکھانے کی مساعی کیں اور تحریک اسلامی کے خلاف پوری قوت لگا دی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ رجز نہایت ہی برے عذاب کو کہا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے تحریک اسلامی کی خلاف سرگرمیاں دکھائیں ، تحریک کو ناکام کرنے کی سعی کی اور بری راہ پر جدوجہد کرتے رہے۔ یوں اللہ کی حکمت اور اس کا منصوبہ مکمل ہوتا ہے اور ان لوگوں نے جو نظریہ اپنا رکھا ہے کہ آخرت برپا نہ ہوگی اسکی وجہ ان کی لاعلمی ہے۔ حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ ضرور آئے گی
ان لوگوں نے یقین کرلیا تھا کہ قیامت نہ آئے گی جبکہ وہ اللہ کے مخصوص غیوب میں سے ایک غیب ہے اور اللہ نے فیصلہ دے دیا کہ وہ ضرور آئے گی۔ اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو حکم دے دیا کہ آپ ﷺ اس پیغام کو نشر کردیں اور یہ کہ ان کا یہ عقیدہ جہالت پر مبنی ہے۔ اہل علم بھی اس نتیجے تک پہنچے ہیں جس تک اہل ایمان پہنچے ہیں۔ یہی راستہ ہے اللہ عزیز وحمید کا۔
سبأ 34:6
ویری الذین اوتوا ۔۔۔۔۔ صراط العزیز الحمید (6) ” “۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل العلم سے مراد اہل کتاب ہیں جن کو اپنی مذہبی کتابوں کی پیشن گوئیاں کی وجہ سے معلوم تھا کہ قرآن کتاب برحق ہے اور وہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرنے والا ہے ، لیکن آیت کا دائرہ اطلاق اہل کتاب تک محدود نہیں ہے۔ اس سے مطلق اہل علم مراد ہیں۔ یہ آیت کسی زمان و مکان تک بھی محدود نہیں ہے۔ ہر زمانے کے اہل علم اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ ہر زمانے ، ہر نسل اور ہر قسم کے اہل علم مراد ہیں۔ بشرطیکہ ان کا علم صحیح علم ہو۔ اس لیے کہ قرآن کریم تو تمام زمانوں کے لیے کھلی کتاب ہے۔ اس کے اندر جو سچائی ہے وہ ہر زمانے اور علاقے کے اہل علم کے لیے سچائی ہے۔ یہ کتاب اسی سچائی پر مشتمل ہے جو اس کائنات کی تہہ میں ہے۔ اس لیے قرآن کریم اس کائناتی سچائی کا بہترین اور سچا ترجمہ ہے۔
ویھدی الی صراط العزیز الحمید (34: 6) ” اور خدائے عزیز وحمید کا راستہ دکھاتا ہے “۔ اللہ عزیز وحمید کا راستہ وہی ہے جو اللہ نے اس کائنات کے لیے اختیار کیا ہے اور وہی راستہ اللہ نے انسان کے لیے بھی اختیار کیا ہے تاکہ انسانی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہو جو اس کائنات کے لیے ہے جس میں انسان رہتا ہے۔ یہ راستہ قانون قدرت ہے اور ناموس فطرت کا راستہ ہے جس کے مطابق یہ کائنات چلتی اور جس کے مطابق خود یہ زندگی چلتی ہے کیونکہ خود انسانی زندگی اپنے نظام اور اپنی رفتار کے مطابق اس کائنات سے علیحدہ نہیں ہے۔ نہ ان تمام چیزوں سے علیحدہ ہے جو اس کائنات میں ہیں۔
وہ اللہ عزیز وحمید کی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، یوں کہ وہ مومنین کی قوت مدرکہ کے اندر اس کائنات کا متناسب تصور پیدا کرتا ہے ، اور پھر اس کائنات کے ساتھ مومنین کے تعلقات ، روابط اور اقدار کا ایک تصور پیدا کرتا ہے کہ اس کائنات کے اندر انسان کا مقام کیا ہے۔ اس کے اندر انسان کا کردار کیا ہے ، انسان اور اس کے گرد پھیلی ہوئی کائنات مل کر کس طرح اللہ کی حکمت تخلیق کو بروئے کار لاسکتے ہیں اور انسان اور یہ کائنات باہم مل کر کس طرح اللہ طرح اللہ جل شانہ کی سمت کی طرف سفر کرسکتے ہیں
یہ سچائی انسان کو عزیز وحمید کے راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے ۔ یوں کہ وہ انسان کو ایک منہاج فکر دیتی ہے۔ اس فکر کو نہایت ہی مضبوط بنیادوں پر اٹھاتی ہے اور یہ کائناتی اثرات فطرت انسانی پر اثر انداز ہوکر اسے اس کائنات کا بہترین ادراک عطا کرتے ہیں۔ انسان اس کائنات کے خواص اور قوانین کو سمجھتا ہے اور ان سے استفادہ کرتا ہے۔ پھر وہ کائناتی حقائق کے ساتھ ٹکرانے کے بجائے ان کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔
یہ سچائی انسان کو اللہ عزیز وحمید کی راہ یوں دکھاتی ہے کہ ایک فرد کی تربیت کرکے اسے ایک سوسائٹی کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ چلانا سکھائی ہے۔ پھر یہ ایک سوسائٹی کو دوسری سوسائٹیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرکے اس پوری کائنات کی تعمیر اور ترقی کے لیے ہم آہنگ کرتی ہے۔ اور تمام سوسائٹیوں کو اس کائنات کے ساتھ ہم قدم کرتی ہے تاکہ یہ کائنات اور اس کے اندر انسانی سوسائٹیاں بڑی سہولت کے ساتھ چل سکیں۔
یہ سچائی اللہ عزیز وحمید کی راہ کی طرف یوں بھی ہدایت کرتی ہے کہ وہ انسان اور انسانی سوسائٹی کو ایسے قوانین عطا کرتی ہے جو فطرت انسانی سے ہم آہنگ ہوں۔ انسانی زندگی کے حالات اور انسانی معیثت کے بارے میں ایسی ہدایات دیتی ہے کہ انسان تمام زندہ مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلے ۔ یہ نہ ہو کہ انسانی نظام اس کائنات اور اس کے اندر موجود دوسرے حیوانات کے نظام کے ساتھ متضاد ہو۔ حالانکہ انسان بھی اس کرہ ارض کی دوسری مخلوقات اور امم میں سے ایک امت ہے۔
غرض یہ کتاب اور یہ سچائی راہنما ہے ، سیدھی راہ کی طرف اور یہ راہنما بھی اللہ کا راسال کردہ ہے اور یہ راستہ بھی اسی کا پیدا کردہ ہے ۔ اگر آپ نے کسی سڑک پر چلنا ہے اور آپ کو راہنمائی کیلئے وہی انجینئر مل جائے جس نے اس راستے کا نقشہ بنایا تھا تو آپ جیسا خوش قسمت اور کون ہے اور آپ کس خوش اسلوبی اور بےفکری سے یہ سفر طے کرسکیں گے۔ یقیناً بہت اطمینان کے ساتھ !
اس حساس تبصرے کے بعد اب دوبارہ بات شروع ہوتی ہے بعث بعد الموت کے موضوع پر ، تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ بعث بعد الموت پر کس قدر بےت کے اعتراضات کرتے ہیں ۔ وہ اپنی جانب سے حضور ﷺ پر تعجب کرتے ہیں کہ آپ ایسی انہونی باتیں کرتے ہیں ، یا اللہ پر افتراء باندھتے ہیں حالانکہ خود ان کی تعجب انگیزی احمقانہ ہے۔
سبأ 34:7
وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ والضلل البعید (7 – 8)
یہ لوگ قیام قیامت کو اس قدر عجیب سمجھتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے قائل کو قابل تعجب یا مجنون یا چھوٹا سمجھتے تھے۔ ذرا انداز گفتگو کو دیکھو “ بتائیں تمہیں ایسا شخص جو کہتا ہے کہ جن تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دئیے جاؤ گے “۔ یہ ایک عجیب و غریب شخص پیدا ہوگیا ہے جو اس قسم کی انہونی باتیں کرتا ہے کہ مرنے کے بعد ، مٹی کے ذرات بن جانے کے بعد کے بعد اور مٹی میں رل مل جانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔
یہ لوگ مزید تعجب کرتے ہیں اور نہایت ہی انوکھا سمجھتے ہوئے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ یا تو یہ اللہ کے نام سے افتراء باندھتا ہے اور یا پھر یہ شخص مجنون ہے۔ کیونکہ ان کے زعم کے مطابق اس قسم کی باتیں یا تو جھوٹا شخص کرسکتا ہے یا مجنوں کرسکتا ہے۔ اگر مجنون ہے تو یہ کلام ہذیان ہے اور اگر جھوٹا ہے تو یہ تعجب خیز ہے۔ وہ یہ باتیں کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ حضرت محمد ﷺ یہ کہتے ہیں کہ تمہیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا لیکن خود ان کی بات تعجب خیز ہے۔ کیا یہ لوگ پہلی بار پیدا نہیں کیے گئے ؟ انسان کی تخلیق کیا کوئی کم واقعہ ہے۔ پہلی بار ایسی تخلیق ؟ اگر یہ اسے تدبر اور غور سے دیکھیں تو کبھی بھی تعجب نہ کریں۔ لیکن یہ گمراہ ہیں اور ہدایت کی راہ نہیں لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اس تعجب پر ان کو سخت دھمکی دی جاتی ہے۔
بل الذین لا یومنون بالاخرۃ فی العذاب والضلل البعید (34: 8) ” بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ خواب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں “۔ اس عذاب سے مراد عذاب آخرت بھی ہوسکتا ہے گویا وہ عذاب ان پر واقعہ ہوگیا ہے۔ چونکہ وہ گمراہی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں اس لیے اب ان کے ہدایت پر آنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ جس طرح عذاب الٰہی میں مبتلا ہیں اسی طرح گمراہ بھی ہیں۔ یہ بہت گہری حقیقت ہے اس لیے کہ جس شخص کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا وہ نفسیاتی لحاظ سے سخت عذاب اور کشمکش میں ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو دنیا کی بےانصافیوں میں نہ انصاف کی امید ہوتی ہے ، نہ عدل کی ، نہ جزائے آخرت کی اور نہ اخروی اجر کی۔ انسانی زندگی میں ایسے واقعات اور حوادث آتے ہیں کہ انسان انہیں صرف اجر اخروی کی خاطر ہی برداشت کرسکتا ہے اور یہ تسلی رکھتا ہے کہ نیکوکار کے لیے اجر حسن ہے اور بدکار کے لئے سزا ہے۔ کئی ایسی مشکلات ہوتی ہیں کہ انسان رضائے الٰہی اور جزائے اخروی کے لیے انہیں برداشت کرتا ہے کیونکہ آخرت میں چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ضائع نہیں ہوتا۔ اگر وہ ذرا برابر ہو اور کسی چٹان کے اندر ہو ، وہاں سے بھی اللہ اس مطلوب ذرے کو جو رائی کے دانے کے برابر ہو ، لے کر آتا ہے اور جو شخص اس تروتازہ اور فرحت بخش اور روشن چراغ سے محروم ہے وہ گویا دائمی عذاب میں ہے۔ اس دنیا میں بھی منکر آخرت ایک مسلسل عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اور آخرت میں تو وہ اپنے اعمال کی جزا بہرحال پائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا عقیدہ انسان کے لیے ایک رحمت ہے ، ایک عظیم نعمت ہے جس کے مستحق اللہ کے مخلص بندے ہوتے ہیں ، جو حق کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور جن کی خواہش ہر وقت یہ ہوتی ہے کہ وہ راہ راست پر گامزن ہوں ۔ راجح بات یہی ہے کہ اس آیت میں اسی نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ گمراہی کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی ایک مصیبت میں گرفتار ہیں۔
ان مکذبین کو اب ایک سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر اللہ چاہے تو ان کی اس گمراہی کی وجہ سے مزید عذاب دنیا ان پر نازل کر دے اور آسمان کا ایک ٹکڑا ان پر گرا دے یا ان کو اس ضلالت کی وجہ سے زمین کے اندر دھنسا دے۔ یہ اس نظام کائنات پر غور نہیں کرتے کہ یہ نظام تو کسی بھی وقت بگڑ سکتا ہے۔
سبأ 34:8
وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ والضلل البعید (7 – 8)
یہ لوگ قیام قیامت کو اس قدر عجیب سمجھتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے قائل کو قابل تعجب یا مجنون یا چھوٹا سمجھتے تھے۔ ذرا انداز گفتگو کو دیکھو “ بتائیں تمہیں ایسا شخص جو کہتا ہے کہ جن تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دئیے جاؤ گے “۔ یہ ایک عجیب و غریب شخص پیدا ہوگیا ہے جو اس قسم کی انہونی باتیں کرتا ہے کہ مرنے کے بعد ، مٹی کے ذرات بن جانے کے بعد کے بعد اور مٹی میں رل مل جانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔
یہ لوگ مزید تعجب کرتے ہیں اور نہایت ہی انوکھا سمجھتے ہوئے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ یا تو یہ اللہ کے نام سے افتراء باندھتا ہے اور یا پھر یہ شخص مجنون ہے۔ کیونکہ ان کے زعم کے مطابق اس قسم کی باتیں یا تو جھوٹا شخص کرسکتا ہے یا مجنوں کرسکتا ہے۔ اگر مجنون ہے تو یہ کلام ہذیان ہے اور اگر جھوٹا ہے تو یہ تعجب خیز ہے۔ وہ یہ باتیں کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ حضرت محمد ﷺ یہ کہتے ہیں کہ تمہیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا لیکن خود ان کی بات تعجب خیز ہے۔ کیا یہ لوگ پہلی بار پیدا نہیں کیے گئے ؟ انسان کی تخلیق کیا کوئی کم واقعہ ہے۔ پہلی بار ایسی تخلیق ؟ اگر یہ اسے تدبر اور غور سے دیکھیں تو کبھی بھی تعجب نہ کریں۔ لیکن یہ گمراہ ہیں اور ہدایت کی راہ نہیں لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اس تعجب پر ان کو سخت دھمکی دی جاتی ہے۔
بل الذین لا یومنون بالاخرۃ فی العذاب والضلل البعید (34: 8) ” بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ خواب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں “۔ اس عذاب سے مراد عذاب آخرت بھی ہوسکتا ہے گویا وہ عذاب ان پر واقعہ ہوگیا ہے۔ چونکہ وہ گمراہی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں اس لیے اب ان کے ہدایت پر آنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ جس طرح عذاب الٰہی میں مبتلا ہیں اسی طرح گمراہ بھی ہیں۔ یہ بہت گہری حقیقت ہے اس لیے کہ جس شخص کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا وہ نفسیاتی لحاظ سے سخت عذاب اور کشمکش میں ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو دنیا کی بےانصافیوں میں نہ انصاف کی امید ہوتی ہے ، نہ عدل کی ، نہ جزائے آخرت کی اور نہ اخروی اجر کی۔ انسانی زندگی میں ایسے واقعات اور حوادث آتے ہیں کہ انسان انہیں صرف اجر اخروی کی خاطر ہی برداشت کرسکتا ہے اور یہ تسلی رکھتا ہے کہ نیکوکار کے لیے اجر حسن ہے اور بدکار کے لئے سزا ہے۔ کئی ایسی مشکلات ہوتی ہیں کہ انسان رضائے الٰہی اور جزائے اخروی کے لیے انہیں برداشت کرتا ہے کیونکہ آخرت میں چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ضائع نہیں ہوتا۔ اگر وہ ذرا برابر ہو اور کسی چٹان کے اندر ہو ، وہاں سے بھی اللہ اس مطلوب ذرے کو جو رائی کے دانے کے برابر ہو ، لے کر آتا ہے اور جو شخص اس تروتازہ اور فرحت بخش اور روشن چراغ سے محروم ہے وہ گویا دائمی عذاب میں ہے۔ اس دنیا میں بھی منکر آخرت ایک مسلسل عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اور آخرت میں تو وہ اپنے اعمال کی جزا بہرحال پائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا عقیدہ انسان کے لیے ایک رحمت ہے ، ایک عظیم نعمت ہے جس کے مستحق اللہ کے مخلص بندے ہوتے ہیں ، جو حق کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور جن کی خواہش ہر وقت یہ ہوتی ہے کہ وہ راہ راست پر گامزن ہوں ۔ راجح بات یہی ہے کہ اس آیت میں اسی نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ گمراہی کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی ایک مصیبت میں گرفتار ہیں۔
ان مکذبین کو اب ایک سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر اللہ چاہے تو ان کی اس گمراہی کی وجہ سے مزید عذاب دنیا ان پر نازل کر دے اور آسمان کا ایک ٹکڑا ان پر گرا دے یا ان کو اس ضلالت کی وجہ سے زمین کے اندر دھنسا دے۔ یہ اس نظام کائنات پر غور نہیں کرتے کہ یہ نظام تو کسی بھی وقت بگڑ سکتا ہے۔
سبأ 34:9
افلم یروا الی ۔۔۔۔۔۔ لکل عبد منیب (9) ” “۔
یہ ایک سخت ڈراؤنا کائناتی منظر ہے۔ یہ منظر ان کے مشاہدات سے ماخوذ ہے جن کو وہ رات اور دن دیکھتے رہتے ہیں۔ زمین کا دھنس جانا بھی انسانی مشاہدہ ہے اور قصص اور روایات میں بھی آتا ہے۔ اسی طرح شہاب ثاقب کے گرنے اور بجلیوں کے گرنے سے بھی آسمانی چیزیں گرتی رہی ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کو دیکھی سنی ہیں۔ اس قدر خوفناک حالات کی طرف ان کو متوجہ کرکے ڈرایا جاتا ہے جو قیام قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ اگر قیام قیامت سے پہلے ہی اللہ ان کو عذاب دینا چاہئے تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی زمین اور اسی آسمان میں ان کو یہ عذاب دے دیا جائے جو ان کے آگے پیچھے ان کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ ان سے دور بھی نہیں ہے جس طرح قیام قیامت انکو بعید نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے عذاب سے تو غافل لوگ ہی بےفکر ہوتے ہیں
یہ آسمانوں کے اندر جو عملیات وہ دیکھتے ہیں ، بجلیاں اور شہاب ثاقب اور زمین کا دھنس جانا اور زلزلے۔ کسی وقت بھی ان میں سے کوئی عذاب اگر آجائے تو قیامت ہی ہوگی۔
ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب (34: 9) ” حقیقت یہ ہے کہ اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو “۔ اور جو غلط راہ پر اس قدر دور نہ چلا گیا ہو۔
سبأ 34:10
درس نمبر 195 ایک نظر میں
اس سبق میں شکر اور سرکشی کی دو صورتیں پیش کی گئی ہیں اور یہ مثال بھی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کیلئے ایسی قوتیں مسخر کردیتے ہیں جو عموماً لوگوں کے لئے مسخر نہیں کی جاتیں۔ لیکن اللہ کی مشیت اور اللہ کی تقدیر کو لوگوں کی عادات کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ ان نقوش کے درمیان جنوں کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے جن کو پوجا بعض عرب کیا کرتے تھے یا ان سے یہ عرب قبائل غیب کی خبریں طلب کرتے تھے جبکہ یہ جنات بذات خود غیب کی خبروں سے محروم ہوتے ہیں۔ اس سبق میں گمراہی کے وہ اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں جن کے ذریعے شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ لیکن یہ اسباب انسان کے دائرہ اختیار کے اندر ہیں۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ لوگوں کے جو اعمال پوشیدہ ہوتے ہیں اللہ ان کو ظاہر فرماتے ہیں اور اس سبق کا خاتمہ بھی سابقہ سبق کی طرح ذکر آخرت پر ہوتا ہے۔
درس نمبر 195 تشریح آیات
10 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 21
لقد اتینا داؤد منا ۔۔۔۔۔ انی بما تعملون بصیر (10 – 11) ” ۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ۔ (اے آل داؤد) نیک عمل کرو ، جو کچھ تم کرتے ہو ، اس کو میں دیکھ رہا ہوں “۔ حضرت داؤد اللہ کے مطیع فرمان بندے تھے۔ گزشتہ سبق کا خاتمہ اس ذکر سے ہوا تھا۔
ان فی ذالک لایۃ لکل عبد منیب ” اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے “۔ اس اشارہ کے بعد حضرت داؤد کا قصہ لایا گیا اور اس کا آغاز اس بات سے کیا گیا جو بطور فضیلت ان کو دی گئی۔
یجبال اوبی معہ والطیر (34: 10) ” اے پہاڑو ، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو اور اے میرے پرندو تم بھی “۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بہت ہی خوبصورت آواز دی گئی تھی۔ یہ آواز اپنی خوبصورتی میں ایک معجزانہ آواز تھی۔ وہ اپنے ترانے نہایت خوش الحانی سے گاتے تھے۔ یہ ترانے اللہ کی حمد پر مشتمل ہوتے تھے۔ ان میں سے بعض قدیم میں موجود ہیں اگرچہ ہم ان کی صحت کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی آواز سنی جو رات کو قرآن پڑھتے تھے ، آپ کھڑے ہو کر سننے لگے تو آپ نے فرمایا کہ ” ان کو ایسی خوشی الحانی دی گئی ہے جس طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کو دی گئی تھی “۔
اس آیت میں حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اللہ کے فضل و کرم کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ اس قدر شفاف ہے کہ ان کی حمد و ثنا کے نتیجے میں ان کے اور اس کائنات کے درمیان پر دے اٹھ گئے تھے۔ ان کی حقیقت ، حقیقت کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوگئی تھی۔ اور جس طرح وہ رب تعالیٰ کی حمد گاتے تھے۔ اس طرح کہ ان کے وجود اور کائنات کی حقیقت کے درمیان فاصلے مٹ گئے تھے۔ یہ کائنات بھی اللہ کی حدی خواں تھی اور حضرت داؤد بھی۔ یوں اللہ کی مخلوقات کی دو اقسام کے درمیان فاصلے مٹ گئے اور دنوں مخلوقات الٰہی حقیقت کے ساتھ مربوط ہوگئیں جس نے ان کے درمیان یہ پردے قائم کر رکھے تھے۔ دونوں اللہ کی تسبیح اور حمد گانے لگیں اور دونوں کا نغمہ ایک ہوگیا۔ یہ اشترا ، صفائی اور خلوص کا ایک درجہ ہے اور اس مقام اور درجے تک اللہ کے فضل و کرم کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جب حقیقت نوعیہ کے پردے اٹھ جائیں تو اللہ کی مخلوق ایک رہ جاتی ہے اور تمام حائل پردے اٹھ جاتے ہیں ۔ کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کی حمد و ثنا گاتے تو پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ گائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی شخصیت میں جو ترنم تھا ، وہ پوری کائنات میں سرایت کرجاتا اور یوں پوری کائنات خالق کی طرف متوجہ ہو کر حمد گاتی۔ یہ وہ ۔۔۔۔ ہوتے ہیں جن کا ذوق انہیں لوگوں کو ہوتا ہے جو ان تجربات سے گزرے ہوں اور جن لوگوں نے اپنی زندگی میں ایسے لمحات پائے ہوں۔
والنالہ الحدید (34: 10) ” ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کردیا “۔ یہ اللہ کے فضل و کرم کا ایک دوسرا رنگ تھا جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ہوا تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر انعامات کا جس طرح یہاں بیان ہو رہا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خارق العادت عمل تھا۔ معاملہ یہ نہ تھا جس طرح بھٹیوں میں لوہے کو گرم کرکے ان کو پگھلاتے ہیں اور پھر ڈھلائی کا کام کرتے ہیں۔ یہ دراصل ایک معجزانہ عمل تھا اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نبوت پر ایک دلیل تھا اور سیاق کلام سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہاں مخصوص فضل و کرم کا ذکر ہو رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی اور عادی ٹیکنالوجی نہ تھی۔
سبأ 34:11
ان اعمل سبغت وقدر فی السرد (34: 11) ” “۔ سابغات معنی زر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) سے قبل تختیاں بنائی جاتی تھی اور تختیوں کی زر ہیں جسم کے لیے ثقیل ہوتی تھیں اور جسم کو زخمی کردیتی تھیں۔ اللہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ امر سکھایا کہ آپ گرم تاروں سے ان کو بنائیں تاکہ وہ نرم ہوں اور کپڑے کی طرح جسم ان کے اندر حرکت کرسکے۔ حکم دیا کہ اس زرہ کے حلقے تنگ کیے جائیں تاکہ اس کے اندر سے تیر نہ جائیں اور حلقے سب کے سب ایک اندازے سے بنائے جائیں اور یہ تمام کام اللہ کی جانب سے الہامی طور پر ہوا۔ ان کو مزید ہدایات یوں دی گئیں :
واعملوا صالحا انی بما تعملون بصیر (34: 11) ” “۔ اس ذرہ سازی کے کام ہی میں نہیں ، بلکہ ہر کام میں اعمال صالحہ کرو ، ہر معاملے میں اللہ کو حاضر سمجھو۔ اور یہ یقین رکھو کہ اللہ جزاء دینے والا ہے۔ اس سے کوئی چیز رہ نہ جائے گی۔ وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ یہ تو تھا حضرت داؤد (علیہ السلام) کا معاملہ۔ رہے حضرت سلیمان تو ان پر بھی بہت ہی بڑا فضل وکرم ہوا تھا۔
سبأ 34:12
ولسلیمن الریح غدوھا شھر۔۔۔۔۔۔ وقلیل من عبادی الشکور (12 – 13) ” اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا ، اونچی عمارتیں ، تصویریں ، بڑے بڑے خوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں۔ اے آل داؤد ، عمل کرو شکر کے طریقے پر ، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا گیا تھا ، اس کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان روایات پر اسرائیلیات کا رنگ غالب ہے۔ اگرچہ یہودی کتابوں میں ان کا تذکرہ نہیں ہے۔ ان روایات میں پڑنے سے بچنا ہی بہتر ہے۔ آیت میں جو کچھ آیا ہے کہ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا اور یہ ہوا صبح کے وقت ایک علاقے کی طرف چلتی تھی ۔ ( سورة انبیاء میں ہے کہ یہ ارض مقدس کی طرف چلتی تھی) اور ایک مہینے کا فاصل طے کرتی تھی اور شام کے وقت وہ دوسرے علاقے کی طرف چلتی اور مسافت ایک مدد کا فاصلہ ہوتا ۔ دونوں سے حضرت سلیمان اپنے مفادات لیتے اور اللہ کے حکم سے استفادہ کرتے۔ اس کی تفصیلات کیا ہیں۔ وہ ہمیں معلوم نہیں۔ اور بلا تحقیق انسانوں کے پیچھے پڑنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
واسلنا لہ عین القطر (34: 12) ” ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا ایک چشمہ بہا دیا تھا “ قطر نحاس یعنی تانبے کو کہتے ہیں۔ سیاق کلام سے یہاں بھی معلوم ہوتا ہے کہ لوہے کو نرم کرنے کی طرح ، تانبے کا چشمہ بھی کوئی معجزانہ عمل تھا۔ یوں ہوسکتا ہے کہ اللہ نے آتش فشانی کے عمل کی طرح ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا ہو یا یوں کہ اللہ نے ان کو بطور الہام تانبا پگھلانا سکھا دیا ہو۔ یہ بھی اللہ کی طرف سے فضل عظیم تھا۔
ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ (34: 12) ” “۔ اللہ نے معجزانہ طور پر جن ان کے تابع کر دئیے تھے اور وہ ان کی مملکت میں معجزانہ ڈیوٹیاں دیتے تھے۔ عربی میں ان تمام مخفی قوتوں کو جن کہا جاتا ہے جو نظر نہیں آتیں۔ یہ ایک مخلوق ہے جس پر اللہ نے جن کے لفظ کا اطلاق کیا ہے ہم اس مخلوق کے بارے میں وہی کچھ جانتے ہیں جو اللہ نے بتایا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ یہاں اللہ نے صرف یہی کہا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کا ایک گروہ مسخر کردیا گیا تھا جو آپ کے تحت کام کرتا تھا اور ان میں سے جو بھی بھاگ جاتا اسے اللہ سخت سزا دیتے تھے۔
ومن یزغ ۔۔۔۔۔ عذاب السعیر (34: 12) ” “۔ جنوں کی تسخیر کی بات ختم ہونے سے قبل ہی یہ تبصرہ کیا گیا کہ جن اللہ کے اس طرح قبضے میں ہیں کہ اگر نافرمانی کریں تو اللہ انہیں آگ میں ڈال دے۔ چونکہ بعض مشرکین جنوں کی پوجا کرتے تھے اس لیے یہاں ان کی اس بےبسی کو بیان کیا گیا کہ مشرکین کی طرح ان کے معبود بھی نار جہنم میں جائیں گے بوجہ نافرمانی کے۔ جن حضرت سلیمان کیلئے یوں مسخر تھے
سبأ 34:13
یعملوان لہ ۔۔۔۔۔ وقدور رسیت (34: 13) ” “۔ محاریب تو ان جگہوں کو کہا جاتا ہے جہاں عبادت کی جاتی ہے۔ تماثیل تانبے اور لکڑی کی تصاویر کو کہتے ہیں۔ جوابی جابیہ کی جمع ہے وہ حوض جس میں پانی آئے۔ جن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ایسے بڑے لگن بناتے تھے جو حوضوں کی طرح تھے اور وہ ان کے لئے ایسے بڑے دیگ بناتے تھے جو اپنی بڑائی کی وجہ سے جڑے رہتے تھے۔ یہ تمام خدمات وہ ہیں جن پر جنات مامور تھے۔ یہ تمام امور اس وقت خارق عادت تھے اس لیے ان کی یہی تفسیر درست ہے۔ اگر ان کو معمولی بنا دیا جائے تو یہ فضل نہیں رہتا۔ اب آل داؤد کو مخاطب کرکے ہدایت دی جاتی ہے۔
اعملوا آل داؤد شکرا (34: 13) ” “۔ ہم نے تمہارے لیے یہ فضل و
کرم حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی شکل میں فراہم کردیا ہے ، لہٰذا اے آل داؤد تم شکر کا طریقہ اختیار کرو۔ فخر و مباہات کا طریقہ نہ اپناؤ اور عمل صالح کا طریقہ اپناؤ۔
وقلیل من عبادی الشکور (34: 13) ” “۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جو حقیقت نفس الامری قارئین کے سامنے رکھتا ہے اور یہ قرآن کریم کے تمام قصوں پر آتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ کا فضل و کرم انسانوں پر اس قدر زیادہ ہے کہ کم انسان شکر ادا کرسکتے ہیں اور بشر ہمیشہ شکر الٰہی کی بجا آوری میں قاصر ہی رہتے ہیں۔ وہ جس قدر زیادہ شکر بھی ادا کریں پھر بھی قاصر رہتے ہیں لیکن اگر وہ بالکل شکر ہی نہ کریں تو ان کا قصور بہت زیادہ ہوگا اور اگر سرکشی کریں تو۔۔۔۔۔ اللہ کے بندے نہایت ہی محدود قوت کے مالک ہیں اور ان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اللہ کی لامحدود نعمتوں پر شکر بجا لاسکیں۔ اگر اللہ کی نعمتوں کو کوئی گنے تو گن ہی نہ سکے ، یہ نعمتیں گو انسان کو اوپر سے ڈھانپ رہی ہے ، پاؤں کے نیچے سے انسان ان میں غرق ہے ، دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے انسان ان سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اس کی ذات ان میں ڈوبی ہوئی ہے۔ خود انشان انعامات الہیہ کا ایک نمونہ ہے۔
ایک بار ہم بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ نہایت ہی دلچسپی کے ساتھ ہمکلام تھے۔ ہر قسم کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اچانک چھوٹی بلی سو سو نمودار ہوئی۔ یہ ہمارے اردگرد گھوم رہی تھی گویا کوئی چیز تلاش کر رہی ہے لیکن وہ بلی زبان سے کچھ کہنے پر قادر نہ تھی۔ اچانک اللہ نے ہمارے دل میں ڈال دیا کہ شاید یہ پیاسی ہے۔ جب ہم نے پانی فراہم کیا تو معلوم ہوا کہ وہ پیاسی تھی ، اسے شدید پیاس لگی ہوئی تھی لیکن وہ زبان سے کچھ کہہ نہ سکتی تھی۔ اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ انسان پر اللہ کے فضل و کرم سے ایک بڑا فضل و کرم زبان بھی ہے جس کا شکر ادا کرنا انسان کے لئے ممکن نہیں ہے۔
ایک طویل عرصے تک ہم نے سورج نہ دیکھا تھا۔ سورج کی شعاعیں صرف ایک پیسے کے برابر ہم پر چمکتی تھیں ہم اس کے سامنے کھڑے ہوجاتے اور اپنے منہ ، ہاتھ اور چہرے اس سورج کے سامنے لاتے ” سر “ پیٹھ اور پاؤں کو اس سورج کی شعاعوں کی ٹکیا سے غسل دیتے۔ اور ہم سب یہ عمل باری باری کرتے۔ یہ ایک نعمت تھی جو ہمیں مل رہی تھی اور جب پہلے دن ہم سورج میں نکلے تو میں وہ خوشی بھول نہیں سکتا۔ اس وقت ہر ایک کے چہرے پر جو مسرت تھی اسکا تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ ہر ایک اللہ کا گہرا شکر ادا کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا ، الحمد للہ یہ ہے سورج اور یہ تو ہمیشہ ہی چمکتا رہتا ہے۔
روزانہ یہ شعاعیں کس قدر پھیلتی ہیں اور ہم ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ اور ان شعاعوں میں غسل کرتے ہیں۔ یوں ہم اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اللہ کی نعمت میں غرق رہتے ہیں۔ ذرا سوچئے کہ ہم اس عظیم فیض الٰہی سے کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں جو مفت اور بلا حساب ہمیں فراہم کردیا گیا ہے بغیر مشقت اور بغیر کسی تکلیف کے۔
اگر ہم اسی طرز پر اللہ کی نعمتوں کو پیش کرتے رہیں تو ہماری عمر ختم ہوجائے ، ہماری پوری قوت صرف ہوجائے لیکن پھر بھی ہم ان نعمتوں میں سے کسی معتدبہ حصے کا شمار نہ کرسکیں۔ لہٰذا ہم بھی یہاں اسی مجمل اشارے پر اکتفاء کرتے جو قرآن نے کیا ہے تاکہ آگے اہل فکر و تدبر خود ہی سوچ لیں اور وہ جس قدر اللہ چاہے اس سے تاثر لیں۔ یہ تو ہے اللہ کی نعمتوں کا ایک حصہ اور وہی شخص ان کو پاسکتا ہے جو نہایت ہی توجہ ، خلوص اور یکسوئی کے ساتھ اس طرف متوجہ ہو۔
اب ہم قرآنی قصے کی آخری آیات کی طرف آتے ہیں۔ یہ آخری منظر کا حصہ ہیں۔ حضرت سلیمان وفات پا جاتے ہیں اور جنات ان احکام کی تعمیل میں لگے ہوئے تھے جو انہوں نے اپنی زندگی کے دوران دئیے تھے۔ جنات کو معلوم نہیں ہے کہ حضرت سلیمان تو فوت ہوچکے ہیں۔ حضرت سلیمان جنات کے سامنے عصا پر ٹیک لگائے کھڑے ہی تھے کہ گھن نے ان کے عصا کو کھالیا اور آپ گر گئے۔ تب جنوں کو معلوم ہوا کہ وہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے اس مشقت میں مبتلا رہے۔
سبأ 34:14
فلما قضینا علیہ ۔۔۔۔۔ فی العذاب المھین (13)
روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا وقت آگیا تو وہ عصا پر تکیہ کیے ہوئے تھے۔ جن اپنی اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے تھے اور ان کے ذمہ بہت سے شدید فرائض تھے جو ان کو کرتے تھے۔ جنوں کو ایک عرصہ تک معلوم نہ ہوا کہ حضرت سلیمان فوت ہوگئے ہیں یہاں تک کہ گھن نے ان کے عصا کو چاٹ لیا۔ یہ کیڑا جہاں ہوتا ہے۔ چھت کے شہتیروں ، دروازوں ، ستونوں کو بری طرح کھا جاتا ہے۔ پورٹ سعید کے علاقے میں لوگ گھر بناتے ہیں اور اس گھن کے ڈر سے اس میں ایک لکڑی بھی نہیں لگاتے کہ یہ کیڑا ہر قسم کی لکڑی کو چاٹ جاتا ہے۔ جب اس نے عصا کو چاٹ لیا تو وہ حضرت سلیمان کو نہ سہار سکا اور آپ زمین پر گر پڑے۔ اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ حضرت تو وفات پا چکے ہیں۔ یہاں آکر جنوں کو معلوم ہوا۔
تبینت الجن ۔۔۔۔۔۔ العذاب المھین (34: 14) ” یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے “۔ یہ ہیں وہ جن جن کو عرب پوجتے ہیں اور ان کو اللہ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کے تابع بنا دیا اور ان کو اپنے قریب کے غیب کا بھی علم نہ تھا۔ لیکن بعض لوگ اس قدر کم فہم ہیں کہ ان سے دور کی باتیں پوچھتے ہیں۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کے گھرانے کا قصہ تو ان اہل ایمان کا قصہ تھا جو اللہ کے فضل و کرم کا بےحد شکر ادا کرنے والے تھے۔ اس کے بالمقابل قوم سبا کا قصہ ہے۔ سورة نمل میں حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کے حالات گزر گئے ہیں۔ اب ان کا قصہ بعد کے ادوار سے متعلق ہے کیونکہ جن واقعات کا یہاں ذکر ہے وہ زمانہ مابعد سے متعلق ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ جب قوم سبا نے سرکشی اختیار کی تو اللہ نے ان سے اپنی نعمتیں چھین لیں اور اس کے بعد یہ لوگ اس علاقے سے منتشر ہوگئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور میں یہ لوگ ایک بہت بڑی ترقی یافتہ مملکت کے مالک تھے اور ان کے علاقے میں ہر طرف خوشحالی اور رفاہ عامہ کے کام تھے۔ کیونکہ ہدہد نے سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے یہ رپورٹ پیش کی۔
انی وجدت امرۃ ۔۔۔۔۔ من دون اللہ ” میں نے دیکھا کہ ایک عورت ان کی ملکہ ہے اور اسے ہر چیز دی گئی ہے اور اس کا ایک عظیم تخت ہے۔ میں نے پایا کہ وہ اور اس کی قوم سورج کے پجاری ہیں ، اللہ کے سوا “۔ اس کے بعد پھر ملکہ سبا سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے مسلمان ہو کر آجاتی ہے۔ لہٰذا یہاں کے جو واقعات ہیں وہ ملکہ سبا کے زمانہ کے بعد سے متعلق ہیں۔ یہ مصائب ان پر اس وقت آئے جب انہوں نے سرکشی اختیار کرلی ۔ اور اللہ کی ناشکری کی وجہ سے اللہ نے اپنے انعامات ان سے چھین لیے۔
قصے کا آغاز اس حالت کے بیان سے ہوتا ہے جس میں وہ تھے۔ اچھے دن ، فراوانی ، ترقی اور اللہ کی نعمتیں اور ہر طرح کی پیداوار جس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ان انعامات کے بدلے میں اللہ کا شکر ادا کرتے۔
سبأ 34:15
لقد کان لسبا۔۔۔۔۔ ورب غفور (15)
سبا اس قوم کا نام ہے جو جنوب یمن میں رہتی تھی۔ ان کی زمین تروتازہ تھی۔ اس کا ایک حصہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے۔ یہ اس قدر ترقی یافتہ تھے کہ مشرق اور جنوب سے آنے والی بارشوں کے پانی کا انہوں نے ذخیرہ بنا لیا تھا۔ ایک ایسا ڈیم بنایا تھا جس کے دونوں جانب قدرتی پہاڑ تھے۔ پہاڑوں کے درمیان تنگ جگہ پر انہوں نے ڈیم بنا لیا تھا ، جس میں سے چشمے اور نہریں نکلتی تھیں۔ ان کا پانی وہ حسب ضرورت بند کرتے تھے اور کھولتے تھے۔ انہوں نے پانی کی بہت ہی بڑی مقدار کو جمع کرلیا تھا اور ذخیرے پر انہیں کنڑول حاصل تھا۔ چناچہ یہ ان کے لئے ایک وسیع ذریعہ آبپاشی تھا۔ اسے یہ لوگ سد مارب کہتے تھے۔
اس ڈیم کے دائیں اور بائیں جانب کی نہروں کے تحت باغات تھے۔ یعنی پورا علاقہ سرسبز اور شاداب تھا ، حسین و جمیل تھا اور یہ نشانی تھی ، رب کریم کی انعامات کی۔ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ رب غفور کا شکر ادا کریں ان نعمتوں پر۔
کلوا من رزق ربکم واشکروالہ (34: 15) ” کھاؤ اپنے رب کا رزق اور شکر بجا لاؤ اس کا “۔ ان کو یہ نصیحت کی گئی کہ اللہ کی نعمتوں پر غور کرو ، جس نے تمہیں یہ خوبصورت علاقہ دیا۔ اور اس میں ہر قسم کی پیداوار دی اور پھر تم سے جو تقصیرات سرزد ہوئیں وہ بھی معاف کی گئیں۔
بلدۃ طیبہ و رب غفور (34: 15) ” ملک عمدہ اور پروردگار بخشش کرنے والا “۔ زمین عمدہ ، پیداوار والی ، اور نعمتوں اور آسانیوں والی اور آسمانوں کی بادشاہت معاف کرنے والی۔ سوال یہ ہے کہ زمین ہر قدم کا پھل دینے والی ہے اور اللہ غفور الرحیم ہے تو پھر شکر ادا نہ کرنے اور اللہ کی حمد نہ کرنے کا جواز کیا ہے ؟ لیکن اس کے باوجود انہوں نے شکر ادا نہ کیا۔
سبأ 34:16
فاعرضوا فارسلنا ۔۔۔۔۔ من سدر قلیل (16) ” “۔ انہوں نے اللہ کے شکر بجالانے سے منہ موڑ لیا۔ نیک کام کرنا چھوڑ دیا۔ اللہ کے انعامات میں غلط تصرفات کرنا شروع کر دئیے۔ لہٰذا اللہ نے ان سے وہ خوشحالی چھین لی جس میں وہ زندگی بسر کررہے تھے۔ ان پر اس قدر شدید سیلاب بھیجا جو راستے میں آنے والے پتھروں کو بھی بہا کرلے جا رہا تھا۔ العرم کے معنی پتھر ہیں۔ یوں یہ ڈیم ٹوٹ گیا۔ پانی نے سیلاب کی شکل اختیار کرلی۔ یہ گاؤں اور باغات تباہ ہوگئے۔ اور ازسرنو پانیوں کے ذخیرہ کرنے کا انتظام ان سے نہ ہوسکا۔ اس لیے خوشحالی کی جگہ خشک سالی نے لی۔ زمین خشک ہوکر جل گئی اور سرسبز باغات بیرویوں کی جھاڑیون میں بدل گئے اور سرسبز زمین صحرا میں بدل گئی۔
وبدلنھم بجنتھم ۔۔۔۔۔ من سدر قلیل (34: 16) ” اور ان کے پچھلے دو باغوں کے بدلے دو اور باغ انہیں دئیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں “۔ خمط اراک کے درخت کو کہتے ہیں۔ ہر خاردار درخت کو بھی خمط کہتے ہیں۔ اور اٹل ایک درخت ہے جو الفرفاء کے مماثل ہوتا ہے یعنی جھاؤ۔ اور سدر بیری کو کہتے ہیں اور یہ بیری جواب ان کے لیے بہترین پھل رہ گئی تھی یہ بھی قلیل مقدار میں تھی۔
سبأ 34:17
ذلک جزینھم۔۔۔۔۔۔ الا الکفور (17) یعنی کفران نعمت کی وجہ سے ان کو یہ سزا دی گئی۔
لیکن ابھی تک یہ لوگ اپنی بستیوں ہی میں رہ رہے تھے اگرچہ اس سیلاب کی وجہ سے ان کے رزق کے ذرائع محدود ہوگئے تھے۔ خوشحالی اور سہولیات کے بدلے بدحالی اور مشکلات معیشت نے جگہ لے لی تھی۔ لیکن ابھی تک ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے زمین کے اندر بکھیر نہ دیا گیا تھا۔ اور ان کی بستیوں اور برکت والی بستیوں مکہ مکرمہ اور بیت المقدس کے درمیان مواصلات کا سلسلہ باقی تھا۔ علاقہ سبا کے شمال میں یمن کا علاقہ بھی آباد تھا اور یمن مکہ اور مدینہ کے ذریعہ شام اور بیت المقدس سے جڑا ہوا تھا۔ یہ راہ مامون اور جاری تھی۔
سبأ 34:18
وجعلنا بینھم ۔۔۔۔۔ وایاما امنین (18) ” “۔ یہ راستہ ایسا تھا کہ مسافر اور قافلے صبح نکلتے اور اندھیرا ہونے سے پہلے دوسرے شہر تک پہنچ جاتے۔ لہٰذا ان شہروں کے درمیان محدود فاصلے کا سفر ہوتا اور یہ راستہ مسافروں کے لیے نہایت ہی امن وامان کا اور محفوظ ہوتا تھا۔ روز کے سفر کے بعد مسافر آرام کرسکتے تھے اور ان کو جگہ جگہ سروسز کی سہولیات مل جاتی تھیں۔
سبأ 34:19
فقالوا ربنا بعد ۔۔۔۔۔ لکل صبار شکور (19) “۔ انہوں نے خود مطالبہ کیا کہ اے اللہ ہمیں طویل المسافت سفر دے۔ ایسا سفر جو سالوں میں کیا جاسکے کیونکہ ان تھوڑے تھوڑے مختصر سفروں سے ہم تنگ آگئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انکے دماغ اور انکے نفوس فساد پذیر ہوگئے تھے
وظلموا انفسھم (34: 19) ” “۔ انہوں نے یہ دعا کرکے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اللہ نے بھی ان کی دعا قبول کرلی۔ یہ دعا دراصل سرکشی کی دعا تھی اور اللہ نے اسے بطور سزا قبول کرلیا۔
فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق (34: 19) ”
“۔ وہ خود خواہش کے مطابق اس ملک سے نکال دئیے گئے ، تتر بتر ہوگئے اور پورے جزیرۃ العرب میں پھیل گئے۔ ان کی تاریخ افسانہ بن گئی۔ صرف قصے رہ گئے قوم اور ملک ناپید ہوگیا۔ حالانکہ وہ ملک اور امت کے مالک تھے اور بہترین زندگی بسر کرتے تھے۔
ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (34: 19) ” “۔ شکر کے ساتھ یہاں صبر کا ذکر بھی کیا گیا ہے کیونکہ مشکلات میں صبر بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔ نعمتوں میں شکر انسان کے لیے بہت ہی مفید رویہ ہوتا ہے اور قصہ قوم سبا میں دونوں کے لیے سبق ہے۔
یہ تو تھا آیت کا ایک مفہوم لیکن ایک دوسرا مفہوم بھی ہوسکتا ہے۔ اس آیت کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ۔
وجعلنا بینھم ۔۔۔۔۔ قری ظاھرۃ (34: 18) ” اور ہم نے ان بستیوں اور برکت والی بستیوں کے درمیان ایسی بستیاں پیدا کردیں جو قوت اور شوکت والی تھیں “۔ یعنی ان ہلاکت شدہ بستیوں اور مبارک بستیوں کے درمیان غالب بستیاں وجود میں آگئیں۔ جبکہ سبا کے لوگ فقراء بن گئے اور خشک صحراوی زندگی کی طرف لوٹ گئے۔ ان کو چراگاہوں اور پانیوں کی طرف رات دن سفر کرنا پڑتا۔ انہوں نے ان آزمائشوں پر صبر نہ کیا۔ اور یہ دعا کی سے رب باعد۔
بین اسفارنا (34: 19) ” ہمارے سفروں کو دور کر دے “۔ یعنی ہماری حالت پادندگی کو ختم کر دے۔ ہم تنگ آگئے۔ یہ دعا انہوں نے انابت اور اصلاح حال کے ساتھ نہ کی تھی اور وہ پوری طرح تائب نہ ہوئے تھے۔ اس لیے دعا قبول نہ ہوئی۔ انہوں نے خوشحالی کی وجہ سے سرکشی اختیار کی تھی اور مشکلات پر صبر نہ کیا تو اللہ نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا۔ یوں یہ لوگ افسانہ بن گئے جس کا کوئی مصداق روئے زمین پر نہ رہا۔
ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (34: 19) ” بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صابر اور شاکر ہو “۔ چونکہ انہوں نے شکر نہ کیا تھا اور مشکلات میں صبر نہ کیا تھا۔ اس آیت کی یہ بھی ایک تفسیر ہے جو ذہن میں آتی ہے۔ اب آخر میں بات قصے کے محدود احاطے سے نکل کر اللہ کی عمومی تدبیر کے دائرے میں آتی ہے۔ اللہ کا نظام قضا وقدر جو نہایت ہی محکم ہے ، جو عام اور جو بطور سنت الہیہ اس کائنات میں جاری وساری ہے۔ قصے کا سبق یوں نچوڑا جاتا ہے۔
سبأ 34:20
ولقد صدق علیھم۔۔۔۔۔۔۔ کل شئ حفیظ (20 – 21) یہ قوم ، اس راستے پر چل کر اس کا یہ انجام کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ابلیس نے اپنی منصوبہ بندی کو درست پایا اور وہ ان کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہا۔ ہاں اہل ایمان کو وہ گمراہ نہ کرسکا ، مومنین کے گروہ کو وہ گمراہ نہ کرسکا “۔ کیونکہ ہر گمراہ سوسائٹی میں لوگوں کی ایک قلیل تعداد ایسی رہ جاتی ہے جو گمراہ ہونے سے انکار کردیتی ہے اور یہ قلیل گروہ مومنین اس بات کا گواہ ہوتا ہے کہ سچائی اپنی جگی قائم ہوتی ہے۔ صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی سچائی کا طالب ہو۔ اگر کوئی طالب ہو تو سچائی مل جاتی ہے۔ بدترین حالات میں بھی سچائی قائم رہتی ہے۔ جہاں تک ابلیس کا تعلق ہے لوگوں کے اوپر اس کو کوئی جابرانہ اقتدار حاصل نہیں ہے کہ وہ ان کو مجبور کرکے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ شیطان ہر حال میں لوگوں پر مسلط ہوتا ہے۔ اب لوگوں میں سے بعض حق پر ثابت قدم ہوجاتے ہیں اور بعض لوگ حق کے طالب ہی نہیں ہوتے۔ وہ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ پھر عالم واقعہ میں یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ مومن کون ہے اور مومن کو اس کا ایمان برے راستے سے بچاتا ہے۔
ممن ھو منھا فی شک (34: 21) ” اس سے جو آخرت سے شک میں ہوتا ہے “۔ جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ بچ جاتا ہے اور جو آخرت کے بارے میں شک کرتا ہے وہ شیطان کی گمراہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اللہ کو تو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کون سیدھی راہ لے گا اور کون غلط لے گا لیکن اللہ اللہ تعالیٰ فیصلوں کو تب صادر کرتا ہے جب وہ عملاً صادر ہوجاتے ہیں۔
اس وسیع میدان میں یعنی اللہ کی تدبیر اور تقدیر کے وسیع میدان میں شیطان کو یہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ کسی کو مجبور کیے بغیر لوگوں مسلط ہوجائے اور ان نتائج کو ظاہر کر دے جو پہلے سے اللہ کے علم میں تھے۔ اس میدان میں قصہ سبا دراصل تمام اقوام عالم کا قصہ ہے۔ اقوام کے عروج وزوال کی داستان وہی ہے جو سبا کی ہے۔ اس لیے اس آیت کے دائرہ اطلاق کو وسیع کردیا جاتا ہے۔ یہ اصول قوم سبا تک محدود نہیں رہتا۔ تمام انسانوں کے اچھے اور برے حالات اسی اصول کے تحت آتے جاتے ہیں۔ لوگوں کا ہدایت پانا اور گمراہ ہونا اسباب ہدایت اور اسباب ضلالت اختیار کرنے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔
وربک علیٰ کل شئ حفیظ (34: 21) ” اور تیرا رب ہر چیز پر نگران ہے “۔ اس سے کوئی چیز غائب نہیں ہوتی ، کوئی چیز نظام تخلیق میں مہمل نہیں ہوتی اور نہ بےکار ہوتی ہے “۔
سبأ 34:21
ولقد صدق علیھم۔۔۔۔۔۔۔ کل شئ حفیظ (20 – 21) یہ قوم ، اس راستے پر چل کر اس کا یہ انجام کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ابلیس نے اپنی منصوبہ بندی کو درست پایا اور وہ ان کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہا۔ ہاں اہل ایمان کو وہ گمراہ نہ کرسکا ، مومنین کے گروہ کو وہ گمراہ نہ کرسکا “۔ کیونکہ ہر گمراہ سوسائٹی میں لوگوں کی ایک قلیل تعداد ایسی رہ جاتی ہے جو گمراہ ہونے سے انکار کردیتی ہے اور یہ قلیل گروہ مومنین اس بات کا گواہ ہوتا ہے کہ سچائی اپنی جگی قائم ہوتی ہے۔ صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی سچائی کا طالب ہو۔ اگر کوئی طالب ہو تو سچائی مل جاتی ہے۔ بدترین حالات میں بھی سچائی قائم رہتی ہے۔ جہاں تک ابلیس کا تعلق ہے لوگوں کے اوپر اس کو کوئی جابرانہ اقتدار حاصل نہیں ہے کہ وہ ان کو مجبور کرکے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ شیطان ہر حال میں لوگوں پر مسلط ہوتا ہے۔ اب لوگوں میں سے بعض حق پر ثابت قدم ہوجاتے ہیں اور بعض لوگ حق کے طالب ہی نہیں ہوتے۔ وہ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ پھر عالم واقعہ میں یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ مومن کون ہے اور مومن کو اس کا ایمان برے راستے سے بچاتا ہے۔
ممن ھو منھا فی شک (34: 21) ” اس سے جو آخرت سے شک میں ہوتا ہے “۔ جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ بچ جاتا ہے اور جو آخرت کے بارے میں شک کرتا ہے وہ شیطان کی گمراہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اللہ کو تو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کون سیدھی راہ لے گا اور کون غلط لے گا لیکن اللہ اللہ تعالیٰ فیصلوں کو تب صادر کرتا ہے جب وہ عملاً صادر ہوجاتے ہیں۔
اس وسیع میدان میں یعنی اللہ کی تدبیر اور تقدیر کے وسیع میدان میں شیطان کو یہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ کسی کو مجبور کیے بغیر لوگوں مسلط ہوجائے اور ان نتائج کو ظاہر کر دے جو پہلے سے اللہ کے علم میں تھے۔ اس میدان میں قصہ سبا دراصل تمام اقوام عالم کا قصہ ہے۔ اقوام کے عروج وزوال کی داستان وہی ہے جو سبا کی ہے۔ اس لیے اس آیت کے دائرہ اطلاق کو وسیع کردیا جاتا ہے۔ یہ اصول قوم سبا تک محدود نہیں رہتا۔ تمام انسانوں کے اچھے اور برے حالات اسی اصول کے تحت آتے جاتے ہیں۔ لوگوں کا ہدایت پانا اور گمراہ ہونا اسباب ہدایت اور اسباب ضلالت اختیار کرنے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔
وربک علیٰ کل شئ حفیظ (34: 21) ” اور تیرا رب ہر چیز پر نگران ہے “۔ اس سے کوئی چیز غائب نہیں ہوتی ، کوئی چیز نظام تخلیق میں مہمل نہیں ہوتی اور نہ بےکار ہوتی ہے “۔
سبأ 34:22
درس نمبر 192 ایک نظر میں
یہ ایک مختصر سبق ہے جس کا موضوع توحید اور شرک ہے ، لیکن اس سبق میں انسان کے عقل و خرد کو پوری کائنات کی سیر کرالی جاتی ہے۔ ظاہری کائنات ہو یا مخفی ہو ، حاضرہویا غائب ہو ، زمین سے ہو یا افلاک سے ہو ، دنیا سے متعلق ہو یا آخرت سے ۔ اس سفر میں انسان پر اس قدر خوف طاری کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود کا نپنے لگتا ہے اور اللہ کا جلال اس پر اس قدر طاری ہوتا ہے کہ انسان مدہوش ہوجاتا ہے ۔ انسان کے سامنے اس کا نسب ، اس کا رزق اور جزاد سزا کے مناظر رکھے جاتے ہیں ۔ اس سبق میں نہایت ہی زور دار الفاظ میں لفظ قل قل قل کے ساتھ انسان کو جھنجھوڑا جاتا ہے ۔ ہر فقرے میں ایک لاجواب دلیل سامنے لائی جاتی ہے ۔ نہایت ہی قوی دلیل ۔
درس نمبر 196 تشریح آیات
22 ۔۔۔ تا۔۔۔ 27
قل ادعوا الذین ۔۔۔۔۔ منھم من ظھیر (22)
“۔ آسمانوں اور زمین کے وسیع میدان میں یہ چیلنج ہے ۔
قل ادعوا الذین من دون اللہ (34: 22) ” کہو کہ پکار دیکھو اپنے معبود وں کو جن جو تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو “۔ ان کو بلاؤ ، وہ آئیں ۔ ذرا ظاہرتو ہوں میدان میں ، دہ خود دعویٰ کریں یا تم ان کی جانب سے دعویٰ کرو کہ زمین و آسمانوں کی بادشاہت میں ان کے اختیارات کیا ہیں ؟ کچھ نہیں ۔
لا یملکون ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (34: 22) ” وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرے کے برابر چیز کے مالک ہیں اور نہ زمین میں “۔ ظاہر ہے کہ وہ اور نہ ان کی جانب سے کوئی اور اس زغم کا دعویٰ کرسکتا ہے کیونکہ مالک تو وہ ہوتا ہے جو کسی چیز میں متصرف ہوتا اور اس میں وہ متصرف نہیں ہیں ۔ لہٰذا یہ معبود کسی چیز کے مالک نہیں ہیں کیونکہ اس وسیع کائنات میں ان کا کوئی تصرف نہیں ہے ۔
وما لھم فیھما من شرک (34: 22) ” آسمان اور زمین کی ملکیت میں وہ شریک ہی نہیں “ ۔ یعنی نہ تو وہ واحد مالک ہیں اور نہ وہ شریک مالک ہیں۔
وما لہ منھم من ظھیر (34: 22) ” ان میں سے کوئی اللہ کا مددرگار بھی نہیں ہے “۔
تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ رضا کارانہ طور پر اللہ کے مددگار ہوں ، یہ بھی نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشارہ مخصوص قسم کے معبودوں اور مخصوص قسم کے شرک کی طرف ہے۔ یعنی اشارہ ملائکہ کی طرف ہے ، جنہیں عرب اللہ کی بیٹیا سمجھتے تھے۔ سفارشی سمجھتے تھے اور انہیں کے بارے میں ان کا کہنا تھا۔
ما نعبدھم ۔۔۔۔۔ زلفی ” ہم ان کی بندگی اس لیے کرتے ہیں کہ یہ تو ہمیں اللہ کے بہت قریب کرتے ہیں “۔ یہی وجہ ہے کہ اگلی آیت میں سفارش کی نفی کی جاتی ہے اور ایک ایسے منظر میں جو نہایت ہی خوفناک ہے “۔
سبأ 34:23
ولا تنفع ۔۔۔۔۔۔ اذن لہ ” “۔ اللہ کے ہاں شفاعت وہی لوگ کرسکیں گے جن کو اللہ کی جانب سے اجازت ہوگی۔ اللہ کسی ایسے شخص کے لیے اجازت نہیں دیا کرتا جو مومن نہ ہو اور سفارش کا مستحق نہ ہو۔ وہ لوگ جو شرک کرتے ہیں وہ اس کے مستحق نہیں رہتے۔ نہ ملائکہ کو اس کی اجازت ہے اور نہ ان کے علاوہ اور لوگوں کو جن کو شفاعت کی اجازت ہوگی۔ جن حالات میں شفاعت کرنے والے کی شفاعت کریں گے باوجود اجازت کے ، وہ کس قدر خوفناک ہوں گے ، کس قدر دہشت ناک ہوں گے ؟
حتی اذا فزع ۔۔۔۔۔ العلی الکبیر (23) ” “۔
یہ اس دن کا منظر ہے جو نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ لوگ قیامت کے دن کھڑے ہوں گے۔ سفارش کرنے والے اور جن کی سفارش ہو رہی ہوگی سب کے سب سہمے ہوئے ہوں گے۔ پہلے تو سفارش کرنے والے اجازت کے منتظر ہوں گے ۔ یہ انتظار طویل ہوگا۔ لوگ تو قعات میں کھڑے ہوں گے اور تھک جائیں گے۔ سہمے ہوئے ہوں گے ، دل ڈرے ہوئے ہوں گے اور کان فیصلہ سنتے ہوں گے۔ جب اللہ کی بارگاہ عزت سے فیصلہ صادر ہوگا تو سفارش کرنے والے اور جن کی سفارش ہو رہی ہے اس قدر ڈرے ہوئے ہوں گے کہ وہ فیصلے کو سمجھ ہی نہ سکیں گے۔
حتی اذا فزع عن قلوبھم (34: 23) ” حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوگی “ جب حالت خوف سے وہ نکلیں گے اور وہ اس پیبت سے نکل آئیں جس کی وجہ سے وہ مدہوش ہوگئے تھے تو پھر کہیں گے۔
ماذا قال ربکم (34: 23) ” تمہارے رب نے کیا جواب دیا “۔ یعنی وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ ان میں سے شاید بعض لوگوں نے حواس بحال رکھ کر بات کو سمجھ لیا ہوگا۔
قالوا الحق (34: 23) ” انہوں نے کہا حق کہا “۔ شاید یہ کہنے والے ملائکہ مقربین تھے جنہوں نے یہ مجمل اور جامع بات کہہ دی کیونکہ اللہ نے جو کچھ کہنا تھا وہ حق ہی تھا ۔ وہ حق ہے ، ازلی حق اور ابدی حق ہے ۔ لہٰذا اس کی بات بھی حق ہے ۔
وھوالعلی الکبیر (34: 23) ” اور وہ بزرگ دبرتر ہے “۔ اللہ کی یہ صفت ایسے مقام پر آئی ہے ، جس میں اللہ کی علوشان نمایاں ہے اور اس مقام پر ہر شخص اللہ کی شان بلند کا ادراک کرسکتا ہے “۔
یہ مجمل سورة اس بات کا مظہر ہے کہ فضا کے اندد گہری سنجیدگی اور خوف چھایا ہوا ہے کہ اس میں بھی مختصربات کہی جاسکتی ہے ۔ یہ سفارش کا خوفناک موقعہ ہے ۔ اگر منظور نہ ہو تو ؟ اور یہ حالت ملائکہ مقربین کی ہے ۔ کیا اس خوفناک منظر کے بعد کوئی دعویٰ کو سکتا ہے کہ وہ شریک ہے یا کوئی عقلمند شخص یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے ؟
یہ تو تھی عقل وخرد کے تاروں پر پہلی ضرب اور دوسری ضرب کا تعلق ان ارزاق سے ہے جو انسان رات اور دن استعمال کرتے ہیں ۔ یہ انسانی ضروریات کون فراہم کرتا ہے ۔ انسان حیات اور اس کے قائم رکھنے کے لیے خوراک ہی پر اگر غور کیا جائے تو یہ بھی اللہ وحدہ کی ذات پر ایک سلطان اور برہان ہے ۔
سبأ 34:24
قل من یرزقکم۔۔۔۔۔ اوفی ضلٰل مبین (24) ” “۔
رزق ہر انسان کی زندگی کا واقعی اور زندہ مسئلہ ہے ۔ رزق نتیجہ ہے آسمانوں سے بارشوں ، سورج کی روشنی اور نور کا۔ یہ باتیں تو اس وقت قرآن کے مخاطب جانتے تھے۔ اس کے بعد رزق کے بارے میں بہت ہی انکشافات ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ زمین کے رزق کیا ہیں۔ نباتات ، حیوانات ، چشمے ، نہریں ، معدنیات اور خزانے۔ سابقہ ادوار کے لوگ بھی ان سے واقف تھے ، بعد کے لوگوں نے مزید انکشافات کیے۔
قل من یرزکم ۔۔۔۔۔ قل اللہ (34: 24) ” کون ہے جو آسمانوں اور زمین میں سے تمہیں رزق دیتا ہے ، کہواللہ “۔ اس لیے کہ وہ اس جواب میں شک نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے سوا کسی اور جواب کا دعویٰ کرسکتے تھے۔ کہو کہ رزق تو اللہ ہی دیتا ہے اور تمہارے امور اور ان کے امور اللہ کے سپرد ہیں۔ تم دونوں میں سے کوئی ایک خواہ مخواہ ضلالت پر ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ دونوں ہدایت پر ہوں ، یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ لہٰذا ایک فریق ایک راستے پر ہے اور دوسرا دوسرے پر ہے۔
وانا او ایاکم ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (34: 24) ” اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے “۔ بحث و مباحثہ میں یہ نہایت ہی معتدلانہ انداز گفتگو ہے کہ رسول اللہ ﷺ مشرکین سے کہتے ہیں کہ ہم اور تم میں سے ایک فریق ہدایت پر ہے اور دوسرا ضلالت پر ہے۔ ہدایت یافتہ اور گمراہ فریق کا تعین نہیں کیا جاتا تاکہ سامع خود غور و فکر کے بعد متعین کرے۔ نہایت سنجیدگی کے ساتھ ، بغیر ہٹ دھرمی اور بغیر بحث وجدال اور حجت بازی کے۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ تو ایک ہادی اور معلم تھے۔ آپ کا مقصد لوگوں کو راہ راست دکھانا تھا۔ ان کو لاجواب کرکے ذلیل کرنا مطلوب نہ تھا۔
اس انداز گفتگو سے نہایت معاند ، متکبر ، سرکش اور دست درازی کرنے والے شخص کے دل پر بھی بات کا اثر ہوتا ہے اور کسی شخص کا مقام و مرتبہ راہ ہدایت لینے میں رکاوٹ نہیں۔ اور ایک بلند مقام رکھنے والا بھی سرتسلیم خم کردیتا ہے اور نہایت ہی ٹھنڈے دل سے غور کرتا ہے۔ اسے اطمینان ہوجاتا ہے ۔ یہ انداز گفتگو خصوصاً ان لوگوں کے گہرے غور کا مستحق ہے جو دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔
اب عقل و خرد کے تاروں پر تیسری ضرب ، نہایت منصفانہ اور عادلانہ انداز گفتگو کے ساتھ لگائی جاتی ہے۔ ہر دل کو اس کے اعمال اور ان کے نتائج کے سامنے کھڑا کردیا جاتا ہے۔
سبأ 34:25
قل لا تسئلون ۔۔۔۔۔ تعملون (25)
مشرکین رسول اللہ ؐ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ لوگ غلط کار ، صابی اور مجرم ہیں اور انہوں نے اپنا حقیقی دین چھوڑ دیا ہے جو ان کے آباء و اجداد کا دین تھا۔ اہل باطل اہل حق کو ہمیشہ گمراہ کہتے چلے آئے ہیں۔ یہ ان کی طوطا چشمی اور غرور ہوتا ہے اور اس کا جواب یہی ہے۔
قل لا تسئلون ۔۔۔۔ عما تعملون (34: 25) ” کہہ دو ، جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہ ہوگی “۔ ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا۔ اور ہر شخص کو اپنے اعمال ہی کی جزاء ملے گی۔ لہٰذا یہ ہر شخص کا اپنا کام ہے کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھائے۔ فلاح کی طرف یا ہلاکت کی طرف۔
یوں قرآن ان کو جھنجھوڑتا ہے کہ وہ غوروفکر کریں۔ سچائی کی طرف چلنے کے لیے یہ پہلا مرحلہ ہے کہ انسان راہ حق پر غور کرے۔ اب چوتھی ضرب :
سبأ 34:26
قل یجمع بیننا ۔۔۔۔۔ العلیم (26)
پہلے سبق میں اللہ اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مشترکہ فیصلہ دیا گیا کہ دونوں میں سے ایک ہی حق پر ہے ، اور ایک باطل پر ہے۔ اور حق اور باطل کا آمنا سامنا ہوا تھا تاکہ اہل حق ، حق کی طرف آئیں ، داعی اپنی دعوت پیش کریں اور حق و باطل باہم کشمکش کریں۔ دلائل کے سامنے شبہات لائے جائیں اور باطل حق کو بچھاڑنے کی کوشش کرے۔ لیکن یہ صورت ایک مختصر وقت کے لئے ہوتی ہے۔ اس کے بعد فریقین کے درمیان فیصلہ ہوجاتا ہے۔ یہ فیصلہ دو ٹوک ہے اور فیصلہ کرنے والا بہت بڑا حاکم ہے اور علیم بھی ہے۔ وہ علم اور معرفت پر فیصلہ کرتا ہے۔
اللہ کو فتاح علیم کہہ کر یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کے فیصلے پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ایسا حاکم ہے جو حق و باطل کے درمیان علم کے مطابق فیصلہ کرنے والا ہے۔ وہ حق و باطل کو نکھار کر رکھ دیتا ہے اور ان کے درمیان التباس رہنے نہیں دیتا۔ حق پرستوں اور باطل پرستوں کو اکٹھا اور ملا جلا نہیں چھوڑا جاتا بشرطیکہ حق اپنی دعوت زوردار انداز سے پیش کرے ، قوت اس راہ میں لگا دے۔ پورے تجربات سے کام لے اور پوری قوت لگا کر معاملے کو اللہ کے سپرد کر دے تاکہ اللہ فتاح علیم فیصلہ کرے۔
یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کس وقت کرتا ہے اس فیصلہ کے لیے وقت کا تعین بھی اللہ کرتا ہے ۔ نہ اس میں جلدی کا کوئی داعیہ ہے کیونکہ یہ اللہ ہی ہے جو حق و باطل کا آمنا سامنا کراتا ہے ، کمشکش کراتا ہے اور پھر فیصلہ کراتا ہے۔ وہی قناح علیم ہے۔
اب آخری ضرب ، یہ آخری ضرب پہلی ضرب کے مشابہ ہے۔ اس میں اللہ کے نام نہاد شرکاء کو چیلنج دیا جاتا ہے۔
سبأ 34:27
قل ارونی ۔۔۔۔۔ العزیز الحکیم (27) ” “۔
یہ نہایت ہی تہدید آمیز اور حقارت آمیز سوال ہے۔ ذرا دکھاؤ تو سہی وہ کون لوگ ہیں جن کو تم نے اللہ کے ساتھ الوہیت میں ملحق کردیا ہے۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ ان کی کیا حیثیت ہے۔ کس درجے کے لوگ ہیں یہ ! اور پھر اس مقام کے لیے ان کا استحقاق کیا ہے۔ اس کے بعد لفظ کا۔۔۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے۔ کہاں سے یہ لائیں گے جبکہ اللہ کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔
بل ھو اللہ العزیز الحکیم (34: 27) ” زبردست اور دانا تو بس اللہ ہی ہے “۔ جس ذات کی صفات یہ ہوں اس کا کوئی شریک کیسے ہو سکتا ہے اور ضرورت بھی کیا ہے ، لہٰذا اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس پر یہ سبق ختم ہوتا ہے۔ اس کے آخر میں نہایت ہی دو ٹوک اور سبق آمیز تبصرے ہیں۔ اس عظیم کائنات کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔ ایسے حالات میں جبکہ قیامت میں شفاعت کا مرحلہ ہوگا۔ حق و باطل کی کشمکش کے حوالے سے اور نفس انسانی کے اندر غوروفکر اور سوچ و بچار کے حوالے سے۔
سبأ 34:28
درس نمبر 197 ایک نظر میں
اس سبق میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اوپر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں مشرکین کا موقف بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہر رسول کے مقابلے میں اختیار کیا جانے والا کھاتے پیتے لوگوں کا موقف ہے۔ اس قسم کے لوگ اپنے مال اور اولاد اور اپنے معاشرتی مقام کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف اس دنیا کے مفادات ہوتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ دنیا کے مفادات حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے ہیں اس لیے کہ مختار اور افضل لوگ ہیں۔ اور یہ کہ اس دنیاوی دولت کی وجہ سے وہ دنیا و آخرت دونوں کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ چناچہ یہاں ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے جو آخرت میں ان کا ہوگا۔ یہ منظر ایسا ہے کہ گویا واقعہ ہوچکا ہے تاکہ وہ دیکھ لیں کہ جن چیزوں نے ان کو مغرور کردیا ہے ، وہ تو قیامت میں کچھ فائدہ دینے والی نہیں ہیں۔ اس منظر میں یہ بات بھی دکھائی گئی ہے کہ دنیا میں جن فرشتوں اور جنوں کی بندگی کرتے تھے وہ تو قیامت کے دن ان کے لیے ذرہ بھر مفید نہیں ہیں۔ اس منظر کے مکالموں کے درمیان یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ کے ترازو میں کون سی چیز وزن رکھتی ہے۔ اسی طرح ان کھوٹی قدروں کی تردید خود بخود ہوجاتی ہے۔ جن کو وہ اس دنیا میں سینوں سے لگائے ہوئے ہیں۔ ثابت یہ ہوتا ہے کہ رزق کا کشادہ ہونا یا محدود ہونا مشیت الہیہ پر موقوف ہے اور یہ اللہ کے غضب یا رضا مندی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ ایک قسم کی آزمائش ہوتی ہے۔
درس نمبر 197 تشریح آیات
28 ۔۔۔ تا۔۔۔ 42
وما ارسلنک الا ۔۔۔۔۔۔ ولا تستقدمون (28 – 30) ” ۔ “
گذشتہ سبق میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے اور اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مکالمہ ضرور ہونا چاہئے۔ اہل حق کو چاہئے کہ اپنی بات کھول کر رکھ دیں نہایت حکمت کے ساتھ ، پھر معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ وہاں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نبی کا منصب و مقام اور فریضہ کیا ہے۔ یہ لوگ منصب نبوت سے جاہل ہیں۔ آخرت کی جس جزاء و سزا کا نبی ذکر کرتے ہیں اپنی اس جہالت کی وجہ سے یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت برپا کیوں نہیں ہوجاتی تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ قیامت کے برپا ہونے کے لیے ایک وقت مقرر ہے ، اس سے وہ نہ پہلے آسکتی ہے اور نہ بعد میں۔
وما ارسلنک ۔۔۔۔۔۔۔۔ ونذیرا (34: 28) ” اے نبی ﷺ ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے “۔ یہ رسالت کے منصب کے عام فرائض ہیں کہ آپ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے اور تمام انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔ نبی کا فرض پورا ہوجاتا ہے جب وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر لوگوں کو جنت کی خوشخبری دے دے اور دوزخ کے عذاب سے ڈرا دے۔
ولکن اکثر الناس ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (34: 28 – 29) ” لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ وہ ڈراوا کب آئے گا اگر تم سچے ہو “۔ ان کے اس سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی رسول کے فرائض منصبی سے واقف نہیں ہیں۔ آخر رسول کا یہ فرض نہیں ہوتا کہ وہ انجام برپا کر دے۔ رسول کا فریضہ صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو خبردار کر دے۔ رسول کی ڈیوٹی محدود ہوتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ اپنا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں اور اپنے فرائض سے رسول اللہ ﷺ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھتے۔ اصل اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی بھیجنے والا ہے ، وہی کام کی حدود مقرر کرنے والا ہے۔ اللہ کے رسول کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ قیامت برپا کردیں یا اس کا وقت بتا دیں۔ یہ رب تعالیٰ کا کام ہے۔ رسول اپنے حدود کار سے باخبر ہیں لہٰذا وہ اللہ سے کوئی ایسا سوال نہیں کرتے جو ان کی ڈیوٹی کی حدود سے باہر ہو۔ اور اس کے بارے میں کوئی ذمہ داری ان پر ڈالی نہ گئی ہو۔ حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو ایک اصولی بات بتا دی جائے۔
قل لکم میعاد ۔۔۔۔۔۔ ولا تستقدمون (34: 30) ” کہو ، تمہارے لیے ایک دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی کی تاخیر تم کرسکتے ہو اور نہ گھڑی بھر پہلے اسے لا سکتے ہو “۔ ہر میعاد اپنے مقررہ وقت پر آتی ہے ، جو اللہ نے مقرر کیا ہے ، اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ نہ کسی کی خواہش پر اللہ اس طرح کرتا ہے۔ دنیا میں کوئی کام نہ عبث ہوتا ہے ، نہ اتفاقاً واقعہ ہوجاتا ہے ۔ ہر واقعہ اللہ کا تخلیق کردہ اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ ہر معاملے کا تعلق آخرت سے ہے۔ اللہ کی تقدیر ان واقعات کو اپنی حکمت کے مطابق روبعمل لاتی ہے اور حکمت الٰہی سے انسان اسی قدر خبردار ہوتا ہے جس قدر اللہ انسان کو سمجھاتا ہے۔ ورنہ اللہ کی حکمت کا بیشتر حصہ مستور ہوتا ہے۔
اللہ کے وعدے اور اللہ کی سزا کے معاملے میں جلدی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا مطالبہ کرنے والا انسان اس اصول اور حکمت ربانی کے نظام سے واقف نہیں ہے اور علم نہیں رکھتا۔ اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں اور اپنی لا علمی کی وجہ سے جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔
سبأ 34:29
درس نمبر 197 ایک نظر میں
اس سبق میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اوپر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں مشرکین کا موقف بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہر رسول کے مقابلے میں اختیار کیا جانے والا کھاتے پیتے لوگوں کا موقف ہے۔ اس قسم کے لوگ اپنے مال اور اولاد اور اپنے معاشرتی مقام کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف اس دنیا کے مفادات ہوتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ دنیا کے مفادات حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے ہیں اس لیے کہ مختار اور افضل لوگ ہیں۔ اور یہ کہ اس دنیاوی دولت کی وجہ سے وہ دنیا و آخرت دونوں کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ چناچہ یہاں ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے جو آخرت میں ان کا ہوگا۔ یہ منظر ایسا ہے کہ گویا واقعہ ہوچکا ہے تاکہ وہ دیکھ لیں کہ جن چیزوں نے ان کو مغرور کردیا ہے ، وہ تو قیامت میں کچھ فائدہ دینے والی نہیں ہیں۔ اس منظر میں یہ بات بھی دکھائی گئی ہے کہ دنیا میں جن فرشتوں اور جنوں کی بندگی کرتے تھے وہ تو قیامت کے دن ان کے لیے ذرہ بھر مفید نہیں ہیں۔ اس منظر کے مکالموں کے درمیان یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ کے ترازو میں کون سی چیز وزن رکھتی ہے۔ اسی طرح ان کھوٹی قدروں کی تردید خود بخود ہوجاتی ہے۔ جن کو وہ اس دنیا میں سینوں سے لگائے ہوئے ہیں۔ ثابت یہ ہوتا ہے کہ رزق کا کشادہ ہونا یا محدود ہونا مشیت الہیہ پر موقوف ہے اور یہ اللہ کے غضب یا رضا مندی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ ایک قسم کی آزمائش ہوتی ہے۔
درس نمبر 197 تشریح آیات
28 ۔۔۔ تا۔۔۔ 42
وما ارسلنک الا ۔۔۔۔۔۔ ولا تستقدمون (28 – 30) ” ۔ “
گذشتہ سبق میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے اور اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مکالمہ ضرور ہونا چاہئے۔ اہل حق کو چاہئے کہ اپنی بات کھول کر رکھ دیں نہایت حکمت کے ساتھ ، پھر معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ وہاں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نبی کا منصب و مقام اور فریضہ کیا ہے۔ یہ لوگ منصب نبوت سے جاہل ہیں۔ آخرت کی جس جزاء و سزا کا نبی ذکر کرتے ہیں اپنی اس جہالت کی وجہ سے یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت برپا کیوں نہیں ہوجاتی تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ قیامت کے برپا ہونے کے لیے ایک وقت مقرر ہے ، اس سے وہ نہ پہلے آسکتی ہے اور نہ بعد میں۔
وما ارسلنک ۔۔۔۔۔۔۔۔ ونذیرا (34: 28) ” اے نبی ﷺ ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے “۔ یہ رسالت کے منصب کے عام فرائض ہیں کہ آپ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے اور تمام انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔ نبی کا فرض پورا ہوجاتا ہے جب وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر لوگوں کو جنت کی خوشخبری دے دے اور دوزخ کے عذاب سے ڈرا دے۔
ولکن اکثر الناس ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (34: 28 – 29) ” لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ وہ ڈراوا کب آئے گا اگر تم سچے ہو “۔ ان کے اس سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی رسول کے فرائض منصبی سے واقف نہیں ہیں۔ آخر رسول کا یہ فرض نہیں ہوتا کہ وہ انجام برپا کر دے۔ رسول کا فریضہ صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو خبردار کر دے۔ رسول کی ڈیوٹی محدود ہوتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ اپنا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں اور اپنے فرائض سے رسول اللہ ﷺ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھتے۔ اصل اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی بھیجنے والا ہے ، وہی کام کی حدود مقرر کرنے والا ہے۔ اللہ کے رسول کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ قیامت برپا کردیں یا اس کا وقت بتا دیں۔ یہ رب تعالیٰ کا کام ہے۔ رسول اپنے حدود کار سے باخبر ہیں لہٰذا وہ اللہ سے کوئی ایسا سوال نہیں کرتے جو ان کی ڈیوٹی کی حدود سے باہر ہو۔ اور اس کے بارے میں کوئی ذمہ داری ان پر ڈالی نہ گئی ہو۔ حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو ایک اصولی بات بتا دی جائے۔
قل لکم میعاد ۔۔۔۔۔۔ ولا تستقدمون (34: 30) ” کہو ، تمہارے لیے ایک دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی کی تاخیر تم کرسکتے ہو اور نہ گھڑی بھر پہلے اسے لا سکتے ہو “۔ ہر میعاد اپنے مقررہ وقت پر آتی ہے ، جو اللہ نے مقرر کیا ہے ، اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ نہ کسی کی خواہش پر اللہ اس طرح کرتا ہے۔ دنیا میں کوئی کام نہ عبث ہوتا ہے ، نہ اتفاقاً واقعہ ہوجاتا ہے ۔ ہر واقعہ اللہ کا تخلیق کردہ اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ ہر معاملے کا تعلق آخرت سے ہے۔ اللہ کی تقدیر ان واقعات کو اپنی حکمت کے مطابق روبعمل لاتی ہے اور حکمت الٰہی سے انسان اسی قدر خبردار ہوتا ہے جس قدر اللہ انسان کو سمجھاتا ہے۔ ورنہ اللہ کی حکمت کا بیشتر حصہ مستور ہوتا ہے۔
اللہ کے وعدے اور اللہ کی سزا کے معاملے میں جلدی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا مطالبہ کرنے والا انسان اس اصول اور حکمت ربانی کے نظام سے واقف نہیں ہے اور علم نہیں رکھتا۔ اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں اور اپنی لا علمی کی وجہ سے جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔
سبأ 34:30
درس نمبر 197 ایک نظر میں
اس سبق میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اوپر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں مشرکین کا موقف بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہر رسول کے مقابلے میں اختیار کیا جانے والا کھاتے پیتے لوگوں کا موقف ہے۔ اس قسم کے لوگ اپنے مال اور اولاد اور اپنے معاشرتی مقام کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف اس دنیا کے مفادات ہوتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ دنیا کے مفادات حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے ہیں اس لیے کہ مختار اور افضل لوگ ہیں۔ اور یہ کہ اس دنیاوی دولت کی وجہ سے وہ دنیا و آخرت دونوں کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ چناچہ یہاں ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے جو آخرت میں ان کا ہوگا۔ یہ منظر ایسا ہے کہ گویا واقعہ ہوچکا ہے تاکہ وہ دیکھ لیں کہ جن چیزوں نے ان کو مغرور کردیا ہے ، وہ تو قیامت میں کچھ فائدہ دینے والی نہیں ہیں۔ اس منظر میں یہ بات بھی دکھائی گئی ہے کہ دنیا میں جن فرشتوں اور جنوں کی بندگی کرتے تھے وہ تو قیامت کے دن ان کے لیے ذرہ بھر مفید نہیں ہیں۔ اس منظر کے مکالموں کے درمیان یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ کے ترازو میں کون سی چیز وزن رکھتی ہے۔ اسی طرح ان کھوٹی قدروں کی تردید خود بخود ہوجاتی ہے۔ جن کو وہ اس دنیا میں سینوں سے لگائے ہوئے ہیں۔ ثابت یہ ہوتا ہے کہ رزق کا کشادہ ہونا یا محدود ہونا مشیت الہیہ پر موقوف ہے اور یہ اللہ کے غضب یا رضا مندی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ ایک قسم کی آزمائش ہوتی ہے۔
درس نمبر 197 تشریح آیات
28 ۔۔۔ تا۔۔۔ 42
وما ارسلنک الا ۔۔۔۔۔۔ ولا تستقدمون (28 – 30) ” ۔ “
گذشتہ سبق میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے اور اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مکالمہ ضرور ہونا چاہئے۔ اہل حق کو چاہئے کہ اپنی بات کھول کر رکھ دیں نہایت حکمت کے ساتھ ، پھر معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ وہاں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نبی کا منصب و مقام اور فریضہ کیا ہے۔ یہ لوگ منصب نبوت سے جاہل ہیں۔ آخرت کی جس جزاء و سزا کا نبی ذکر کرتے ہیں اپنی اس جہالت کی وجہ سے یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت برپا کیوں نہیں ہوجاتی تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ قیامت کے برپا ہونے کے لیے ایک وقت مقرر ہے ، اس سے وہ نہ پہلے آسکتی ہے اور نہ بعد میں۔
وما ارسلنک ۔۔۔۔۔۔۔۔ ونذیرا (34: 28) ” اے نبی ﷺ ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے “۔ یہ رسالت کے منصب کے عام فرائض ہیں کہ آپ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے اور تمام انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔ نبی کا فرض پورا ہوجاتا ہے جب وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر لوگوں کو جنت کی خوشخبری دے دے اور دوزخ کے عذاب سے ڈرا دے۔
ولکن اکثر الناس ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (34: 28 – 29) ” لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ وہ ڈراوا کب آئے گا اگر تم سچے ہو “۔ ان کے اس سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی رسول کے فرائض منصبی سے واقف نہیں ہیں۔ آخر رسول کا یہ فرض نہیں ہوتا کہ وہ انجام برپا کر دے۔ رسول کا فریضہ صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو خبردار کر دے۔ رسول کی ڈیوٹی محدود ہوتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ اپنا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں اور اپنے فرائض سے رسول اللہ ﷺ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھتے۔ اصل اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی بھیجنے والا ہے ، وہی کام کی حدود مقرر کرنے والا ہے۔ اللہ کے رسول کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ قیامت برپا کردیں یا اس کا وقت بتا دیں۔ یہ رب تعالیٰ کا کام ہے۔ رسول اپنے حدود کار سے باخبر ہیں لہٰذا وہ اللہ سے کوئی ایسا سوال نہیں کرتے جو ان کی ڈیوٹی کی حدود سے باہر ہو۔ اور اس کے بارے میں کوئی ذمہ داری ان پر ڈالی نہ گئی ہو۔ حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو ایک اصولی بات بتا دی جائے۔
قل لکم میعاد ۔۔۔۔۔۔ ولا تستقدمون (34: 30) ” کہو ، تمہارے لیے ایک دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی کی تاخیر تم کرسکتے ہو اور نہ گھڑی بھر پہلے اسے لا سکتے ہو “۔ ہر میعاد اپنے مقررہ وقت پر آتی ہے ، جو اللہ نے مقرر کیا ہے ، اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ نہ کسی کی خواہش پر اللہ اس طرح کرتا ہے۔ دنیا میں کوئی کام نہ عبث ہوتا ہے ، نہ اتفاقاً واقعہ ہوجاتا ہے ۔ ہر واقعہ اللہ کا تخلیق کردہ اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ ہر معاملے کا تعلق آخرت سے ہے۔ اللہ کی تقدیر ان واقعات کو اپنی حکمت کے مطابق روبعمل لاتی ہے اور حکمت الٰہی سے انسان اسی قدر خبردار ہوتا ہے جس قدر اللہ انسان کو سمجھاتا ہے۔ ورنہ اللہ کی حکمت کا بیشتر حصہ مستور ہوتا ہے۔
اللہ کے وعدے اور اللہ کی سزا کے معاملے میں جلدی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا مطالبہ کرنے والا انسان اس اصول اور حکمت ربانی کے نظام سے واقف نہیں ہے اور علم نہیں رکھتا۔ اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں اور اپنی لا علمی کی وجہ سے جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔
سبأ 34:31
وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔ بین یدیہ ” “۔ یہ ہے وہ عناد جس میں مخالفین اسلام اول روز سے مبتلا تھے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہدایت کو مان کر نہ دیں گے اگرچہ اس کا منبع کتب سابقہ میں ہو۔ نہ قرآن کو مانیں گے اور نہ پہلی کسی کتاب کو۔ نہ اس کو نہ سابقہ کتب کو ۔ یہی فیصلہ مخالفین اسلام کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ پختہ فیصلہ انہوں نے کرلیا ہے کہ وہ کفر پر اصرار کریں گے اور دلائل ہدایت پر غور ہی نہ کریں گے۔ جب انہوں نے یہ فیصلہ کر ہی دیا ہے تو ان کا علاج یہی ہے کہ ان کے سامنے بس مناظر قیامت میں سے ایک منظر پیش کردیا جائے۔
ولو تری اذ ۔۔۔۔۔ الا ما کانوا یعملون (21 – 23)
یہ تو تھی ان کی دنیاوی بات ” ہم ہرگز قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے “۔ لیکن ان ظالموں کی ھالت قیامت کے دن دیکھنے کے قابل ہوگی جب یہ لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور بطور ملزم اللہ کی عدالت میں سزا کا انتظار کر رہے ہوں گے اور ان کو اس وقت یقین ہوگا کہ انہوں نے تو ہدایت کا انکار کیا تھا لہٰذا نتیجہ سامنے ہے۔ اب اور تو کچھ بس نہ چلے گا ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کریں گے اور اس انجام کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالیں گے۔ یہ اس وقت کیا کہیں گے ؟
یقول الذین ۔۔۔۔۔ انتم لکنا مومنین (34: 31) ” جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اس وقت وہ جس خوفناک صورت حالات سے دوچار ہیں یہ اس کی ذمہ داری اکابرین پر رکھیں گے۔ کیونکہ ان کو نظر آرہا ہے کہ مصیبت سر پر ہے۔ آج تو وہ ان کے منہ پر یہ حق بات کہہ رہے ہیں لیکن دنیا میں ان کو یہ حق بات کہنے کی توفیق نہ تھی۔ ان کو وقت ، کمزوری ، غلامی ، حق بات کہنے نہ دیتی تھی۔ انہوں نے اللہ کی بخشی ہوئی آزادی کو فروخت کردیا تھا۔ وہ عزت جو اللہ نے ہر انسان کو دی تھی اس سے وہ دستبردار ہوگئے تھے۔ وہ قوت مدرکہ جو ہر انسان کو دی گئی ، انہوں نے معطل کردی تھی۔ آج تو سب جھوٹی اور کھوٹی قدریں ختم ہیں۔ سامنے دردناک عذاب ہے۔ اب وہ یہ حق بات کہتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
لو لا انتم لکنا مومنین (34: 31) ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اور یہ اکابرین بھی نہایت ہی تنگی اور ترشی سے جواب دیتے ہیں۔ خطرہ تو اب دونوں کے لیے برابر ہے۔ یہ اپنی ذمہ داری خواہ مخواہ ان پر ڈالتے ہیں۔ وہ بھی خوب جواب دیتے ہیں۔
قال الذین ۔۔۔۔۔۔ کنتم مجرمین (34: 32) ” اور ان بڑے بننے والوں نے جواب دیا ، کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی ؟ نہیں بلکہ تم خود مجرم تھے “۔ یوں وہ کسی ذمہ داری کے قبول کرنے کا صاف انکار کردیتے ہیں۔ اور یہ اقرار کرلیتے ہیں کہ ہدایت آئی تھی۔ یہ مستکبرین دنیا میں تو ضعفاء کو کوئی اہمیت ہی نہ دیتے تھے۔ نہ ان سے رائے طلب کرتے تھے ، بلکہ ان کا وجود ہی تسلیم نہ کرتے تھے اور یہ بات برداشت ہی نہ کرتے تھے کہ یہ ضعفاء ان کی مخالفت کریں یا مباحثہ کریں لیکن آج جبکہ عذاب کا سامنا ہے تو وہ صاف صاف انکار کرتے ہیں کہ۔
انحن صددنکم ۔۔۔۔۔ اذجآء کم (34: 32) ” کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ، جب تمہارے پاس ہدایت آئی تھی “۔ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ تم نے مجرمانہ انداز اختیار کرلیا تھا۔
اگر دنیا ہوتی تو ان کمزور لوگوں کے ہونٹ سلے ہوئے ہوتے لیکن آخرت میں دنیا کے تمام جھوٹے پردے اٹھ جائیں گے۔ جھوٹی قدریں مٹ جائیں گی۔ آنکھیں کھل جائیں گی اور چھپے حقائق پردے سے باہر آجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ کمزور لوگ بھی کھل کر بات کریں گے۔ بلکہ اب وہاں مستکبرین کے منہ میں منہ ڈال کر بات کریں گے اور کہیں گے کہ تم ہی اس سب صورت حالات کے ذمہ ہو۔ تم رات اور دن مکاری کرتے تھے اور ہمیں ہدایت سے روکتے تھے۔ تم نے باطل کو تھام رکھا تھا ، ہم پر مسلط کردیا تھا اور دعوت اسلامی کو ہم پر مشتبہ بنا دیا تھا۔ تم اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ہمیں گمراہ کرتے تھے۔
وقال الذین استضعفوا ۔۔۔ ونجعل لہ اندادا (34: 33) وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ” نہیں ، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں “۔
اب ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مکالمہ اور مجادلہ نہ ان کے لیے مفید ہے اور ان کے لیے۔ نہ بڑے کی نجات ممکن ہے اور نہ چھوٹوں کی۔ ہر گروہ مجرم ہے ، البتہ بڑوں پر اپنی گواہی کی بھی ذمہ داری ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی بھی ذمہ داری ہے۔ چھوٹوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ انہوں نے کیوں ان بڑے لوگوں کی اطاعت کی۔ یہ بات وہاں معانی کی وجہ نہیں بن سکتی کہ یہ ضعیف تھے۔ اللہ نے ان کو عقل اور آزادی دی تھی۔ انہوں نے عقل سے کام نہ لیا اور اپنی آزادی رائے کو فروخت کردیا۔ وہ طفیلی پن رہنے پر راضی ہوئے اور ذلت کی زندگی قبول کی۔ اس لیے وہ عذاب کے مستحق بن گئے۔ اس گفتگو کے دوران ہی ان پر سخت ندامت طاری ہوگئی اور یہ اسے چھپانے لگے۔ جب انہوں نے عذاب دیکھ لیا۔
واسروا الندامۃ لما راوا العذاب (34: 33) ” جب یہ عذاب دیکھیں گے تو پچھتائیں گے “۔ اور اپنی ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔ یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ دل کی بات دل ہی میں رہ جاتی ہے۔ زبانیں بند ہوجاتی ہیں ، ہونٹ سل جاتے ہیں اور سخت عذاب انہیں آلیتا ہے۔
وجعلنا الاغلل ۔۔۔۔۔ الذین کفروا (34: 33) ” ہم ان منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے “ اب یہ لوگ طوقوں میں بندھے ہوئے ہیں لیکن بات کا رخ ان سے پھرجاتا ہے اور عام بدکاروں سے کہا جاتا ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
ھل یجزون الا ما کانوا یعملون (34: 33) ” کیا لوگوں کو اس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جاسکتا ہے کہ جیسے اعمال ان کے تھے ، ویسی ہی جزا وہ پائیں۔ اب بڑے بننے والے اور چھوٹے بننے والے دونوں قسم کے ظالموں کے اس منظر پر پردہ گرتا ہے۔ دونوں ظالم ہیں۔ یہ اس لیے ظالم ہیں کہ سرکش تھے اور باغی تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے تھے۔ وہ اس لیے ظالم تھے کہ انہوں نے انسانی شرافت اور آزادی کے مقام کو ترک کردیا اور اپنے جیسے انسانوں کے غلام بن گئے۔ ان کے سامنے ذلت اختیار کی۔ اب دونوں کے لیے دائمی عذاب ہے۔
پردہ گرتا ہے اور ظالم اپنا منظر اچھی طرح دیکھ چکے ، زندہ مشکل ہیں۔ انہوں نے اپنی ہر حالت دیکھ لی اور وہ اس زمین پر زندہ ہیں۔ دوسروں نے بھی اس منظر کو دیکھ لیا۔ سب کے سامنے ابھی مہلت کی گھڑیاں ہیں۔ کبراء قریش جو باتیں کرتے ہیں ایسی ہی باتیں اقوام رفتہ کے مستکبرین بھی کرتے چلے آئے ہیں۔
سبأ 34:32
وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔ بین یدیہ ” “۔ یہ ہے وہ عناد جس میں مخالفین اسلام اول روز سے مبتلا تھے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہدایت کو مان کر نہ دیں گے اگرچہ اس کا منبع کتب سابقہ میں ہو۔ نہ قرآن کو مانیں گے اور نہ پہلی کسی کتاب کو۔ نہ اس کو نہ سابقہ کتب کو ۔ یہی فیصلہ مخالفین اسلام کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ پختہ فیصلہ انہوں نے کرلیا ہے کہ وہ کفر پر اصرار کریں گے اور دلائل ہدایت پر غور ہی نہ کریں گے۔ جب انہوں نے یہ فیصلہ کر ہی دیا ہے تو ان کا علاج یہی ہے کہ ان کے سامنے بس مناظر قیامت میں سے ایک منظر پیش کردیا جائے۔
ولو تری اذ ۔۔۔۔۔ الا ما کانوا یعملون (21 – 23)
یہ تو تھی ان کی دنیاوی بات ” ہم ہرگز قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے “۔ لیکن ان ظالموں کی ھالت قیامت کے دن دیکھنے کے قابل ہوگی جب یہ لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور بطور ملزم اللہ کی عدالت میں سزا کا انتظار کر رہے ہوں گے اور ان کو اس وقت یقین ہوگا کہ انہوں نے تو ہدایت کا انکار کیا تھا لہٰذا نتیجہ سامنے ہے۔ اب اور تو کچھ بس نہ چلے گا ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کریں گے اور اس انجام کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالیں گے۔ یہ اس وقت کیا کہیں گے ؟
یقول الذین ۔۔۔۔۔ انتم لکنا مومنین (34: 31) ” جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اس وقت وہ جس خوفناک صورت حالات سے دوچار ہیں یہ اس کی ذمہ داری اکابرین پر رکھیں گے۔ کیونکہ ان کو نظر آرہا ہے کہ مصیبت سر پر ہے۔ آج تو وہ ان کے منہ پر یہ حق بات کہہ رہے ہیں لیکن دنیا میں ان کو یہ حق بات کہنے کی توفیق نہ تھی۔ ان کو وقت ، کمزوری ، غلامی ، حق بات کہنے نہ دیتی تھی۔ انہوں نے اللہ کی بخشی ہوئی آزادی کو فروخت کردیا تھا۔ وہ عزت جو اللہ نے ہر انسان کو دی تھی اس سے وہ دستبردار ہوگئے تھے۔ وہ قوت مدرکہ جو ہر انسان کو دی گئی ، انہوں نے معطل کردی تھی۔ آج تو سب جھوٹی اور کھوٹی قدریں ختم ہیں۔ سامنے دردناک عذاب ہے۔ اب وہ یہ حق بات کہتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
لو لا انتم لکنا مومنین (34: 31) ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اور یہ اکابرین بھی نہایت ہی تنگی اور ترشی سے جواب دیتے ہیں۔ خطرہ تو اب دونوں کے لیے برابر ہے۔ یہ اپنی ذمہ داری خواہ مخواہ ان پر ڈالتے ہیں۔ وہ بھی خوب جواب دیتے ہیں۔
قال الذین ۔۔۔۔۔۔ کنتم مجرمین (34: 32) ” اور ان بڑے بننے والوں نے جواب دیا ، کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی ؟ نہیں بلکہ تم خود مجرم تھے “۔ یوں وہ کسی ذمہ داری کے قبول کرنے کا صاف انکار کردیتے ہیں۔ اور یہ اقرار کرلیتے ہیں کہ ہدایت آئی تھی۔ یہ مستکبرین دنیا میں تو ضعفاء کو کوئی اہمیت ہی نہ دیتے تھے۔ نہ ان سے رائے طلب کرتے تھے ، بلکہ ان کا وجود ہی تسلیم نہ کرتے تھے اور یہ بات برداشت ہی نہ کرتے تھے کہ یہ ضعفاء ان کی مخالفت کریں یا مباحثہ کریں لیکن آج جبکہ عذاب کا سامنا ہے تو وہ صاف صاف انکار کرتے ہیں کہ۔
انحن صددنکم ۔۔۔۔۔ اذجآء کم (34: 32) ” کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ، جب تمہارے پاس ہدایت آئی تھی “۔ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ تم نے مجرمانہ انداز اختیار کرلیا تھا۔
اگر دنیا ہوتی تو ان کمزور لوگوں کے ہونٹ سلے ہوئے ہوتے لیکن آخرت میں دنیا کے تمام جھوٹے پردے اٹھ جائیں گے۔ جھوٹی قدریں مٹ جائیں گی۔ آنکھیں کھل جائیں گی اور چھپے حقائق پردے سے باہر آجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ کمزور لوگ بھی کھل کر بات کریں گے۔ بلکہ اب وہاں مستکبرین کے منہ میں منہ ڈال کر بات کریں گے اور کہیں گے کہ تم ہی اس سب صورت حالات کے ذمہ ہو۔ تم رات اور دن مکاری کرتے تھے اور ہمیں ہدایت سے روکتے تھے۔ تم نے باطل کو تھام رکھا تھا ، ہم پر مسلط کردیا تھا اور دعوت اسلامی کو ہم پر مشتبہ بنا دیا تھا۔ تم اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ہمیں گمراہ کرتے تھے۔
وقال الذین استضعفوا ۔۔۔ ونجعل لہ اندادا (34: 33) وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ” نہیں ، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں “۔
اب ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مکالمہ اور مجادلہ نہ ان کے لیے مفید ہے اور ان کے لیے۔ نہ بڑے کی نجات ممکن ہے اور نہ چھوٹوں کی۔ ہر گروہ مجرم ہے ، البتہ بڑوں پر اپنی گواہی کی بھی ذمہ داری ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی بھی ذمہ داری ہے۔ چھوٹوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ انہوں نے کیوں ان بڑے لوگوں کی اطاعت کی۔ یہ بات وہاں معانی کی وجہ نہیں بن سکتی کہ یہ ضعیف تھے۔ اللہ نے ان کو عقل اور آزادی دی تھی۔ انہوں نے عقل سے کام نہ لیا اور اپنی آزادی رائے کو فروخت کردیا۔ وہ طفیلی پن رہنے پر راضی ہوئے اور ذلت کی زندگی قبول کی۔ اس لیے وہ عذاب کے مستحق بن گئے۔ اس گفتگو کے دوران ہی ان پر سخت ندامت طاری ہوگئی اور یہ اسے چھپانے لگے۔ جب انہوں نے عذاب دیکھ لیا۔
واسروا الندامۃ لما راوا العذاب (34: 33) ” جب یہ عذاب دیکھیں گے تو پچھتائیں گے “۔ اور اپنی ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔ یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ دل کی بات دل ہی میں رہ جاتی ہے۔ زبانیں بند ہوجاتی ہیں ، ہونٹ سل جاتے ہیں اور سخت عذاب انہیں آلیتا ہے۔
وجعلنا الاغلل ۔۔۔۔۔ الذین کفروا (34: 33) ” ہم ان منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے “ اب یہ لوگ طوقوں میں بندھے ہوئے ہیں لیکن بات کا رخ ان سے پھرجاتا ہے اور عام بدکاروں سے کہا جاتا ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
ھل یجزون الا ما کانوا یعملون (34: 33) ” کیا لوگوں کو اس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جاسکتا ہے کہ جیسے اعمال ان کے تھے ، ویسی ہی جزا وہ پائیں۔ اب بڑے بننے والے اور چھوٹے بننے والے دونوں قسم کے ظالموں کے اس منظر پر پردہ گرتا ہے۔ دونوں ظالم ہیں۔ یہ اس لیے ظالم ہیں کہ سرکش تھے اور باغی تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے تھے۔ وہ اس لیے ظالم تھے کہ انہوں نے انسانی شرافت اور آزادی کے مقام کو ترک کردیا اور اپنے جیسے انسانوں کے غلام بن گئے۔ ان کے سامنے ذلت اختیار کی۔ اب دونوں کے لیے دائمی عذاب ہے۔
پردہ گرتا ہے اور ظالم اپنا منظر اچھی طرح دیکھ چکے ، زندہ مشکل ہیں۔ انہوں نے اپنی ہر حالت دیکھ لی اور وہ اس زمین پر زندہ ہیں۔ دوسروں نے بھی اس منظر کو دیکھ لیا۔ سب کے سامنے ابھی مہلت کی گھڑیاں ہیں۔ کبراء قریش جو باتیں کرتے ہیں ایسی ہی باتیں اقوام رفتہ کے مستکبرین بھی کرتے چلے آئے ہیں۔
سبأ 34:33
وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔ بین یدیہ ” “۔ یہ ہے وہ عناد جس میں مخالفین اسلام اول روز سے مبتلا تھے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہدایت کو مان کر نہ دیں گے اگرچہ اس کا منبع کتب سابقہ میں ہو۔ نہ قرآن کو مانیں گے اور نہ پہلی کسی کتاب کو۔ نہ اس کو نہ سابقہ کتب کو ۔ یہی فیصلہ مخالفین اسلام کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ پختہ فیصلہ انہوں نے کرلیا ہے کہ وہ کفر پر اصرار کریں گے اور دلائل ہدایت پر غور ہی نہ کریں گے۔ جب انہوں نے یہ فیصلہ کر ہی دیا ہے تو ان کا علاج یہی ہے کہ ان کے سامنے بس مناظر قیامت میں سے ایک منظر پیش کردیا جائے۔
ولو تری اذ ۔۔۔۔۔ الا ما کانوا یعملون (21 – 23)
یہ تو تھی ان کی دنیاوی بات ” ہم ہرگز قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے “۔ لیکن ان ظالموں کی ھالت قیامت کے دن دیکھنے کے قابل ہوگی جب یہ لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور بطور ملزم اللہ کی عدالت میں سزا کا انتظار کر رہے ہوں گے اور ان کو اس وقت یقین ہوگا کہ انہوں نے تو ہدایت کا انکار کیا تھا لہٰذا نتیجہ سامنے ہے۔ اب اور تو کچھ بس نہ چلے گا ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کریں گے اور اس انجام کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالیں گے۔ یہ اس وقت کیا کہیں گے ؟
یقول الذین ۔۔۔۔۔ انتم لکنا مومنین (34: 31) ” جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اس وقت وہ جس خوفناک صورت حالات سے دوچار ہیں یہ اس کی ذمہ داری اکابرین پر رکھیں گے۔ کیونکہ ان کو نظر آرہا ہے کہ مصیبت سر پر ہے۔ آج تو وہ ان کے منہ پر یہ حق بات کہہ رہے ہیں لیکن دنیا میں ان کو یہ حق بات کہنے کی توفیق نہ تھی۔ ان کو وقت ، کمزوری ، غلامی ، حق بات کہنے نہ دیتی تھی۔ انہوں نے اللہ کی بخشی ہوئی آزادی کو فروخت کردیا تھا۔ وہ عزت جو اللہ نے ہر انسان کو دی تھی اس سے وہ دستبردار ہوگئے تھے۔ وہ قوت مدرکہ جو ہر انسان کو دی گئی ، انہوں نے معطل کردی تھی۔ آج تو سب جھوٹی اور کھوٹی قدریں ختم ہیں۔ سامنے دردناک عذاب ہے۔ اب وہ یہ حق بات کہتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
لو لا انتم لکنا مومنین (34: 31) ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اور یہ اکابرین بھی نہایت ہی تنگی اور ترشی سے جواب دیتے ہیں۔ خطرہ تو اب دونوں کے لیے برابر ہے۔ یہ اپنی ذمہ داری خواہ مخواہ ان پر ڈالتے ہیں۔ وہ بھی خوب جواب دیتے ہیں۔
قال الذین ۔۔۔۔۔۔ کنتم مجرمین (34: 32) ” اور ان بڑے بننے والوں نے جواب دیا ، کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی ؟ نہیں بلکہ تم خود مجرم تھے “۔ یوں وہ کسی ذمہ داری کے قبول کرنے کا صاف انکار کردیتے ہیں۔ اور یہ اقرار کرلیتے ہیں کہ ہدایت آئی تھی۔ یہ مستکبرین دنیا میں تو ضعفاء کو کوئی اہمیت ہی نہ دیتے تھے۔ نہ ان سے رائے طلب کرتے تھے ، بلکہ ان کا وجود ہی تسلیم نہ کرتے تھے اور یہ بات برداشت ہی نہ کرتے تھے کہ یہ ضعفاء ان کی مخالفت کریں یا مباحثہ کریں لیکن آج جبکہ عذاب کا سامنا ہے تو وہ صاف صاف انکار کرتے ہیں کہ۔
انحن صددنکم ۔۔۔۔۔ اذجآء کم (34: 32) ” کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ، جب تمہارے پاس ہدایت آئی تھی “۔ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ تم نے مجرمانہ انداز اختیار کرلیا تھا۔
اگر دنیا ہوتی تو ان کمزور لوگوں کے ہونٹ سلے ہوئے ہوتے لیکن آخرت میں دنیا کے تمام جھوٹے پردے اٹھ جائیں گے۔ جھوٹی قدریں مٹ جائیں گی۔ آنکھیں کھل جائیں گی اور چھپے حقائق پردے سے باہر آجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ کمزور لوگ بھی کھل کر بات کریں گے۔ بلکہ اب وہاں مستکبرین کے منہ میں منہ ڈال کر بات کریں گے اور کہیں گے کہ تم ہی اس سب صورت حالات کے ذمہ ہو۔ تم رات اور دن مکاری کرتے تھے اور ہمیں ہدایت سے روکتے تھے۔ تم نے باطل کو تھام رکھا تھا ، ہم پر مسلط کردیا تھا اور دعوت اسلامی کو ہم پر مشتبہ بنا دیا تھا۔ تم اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ہمیں گمراہ کرتے تھے۔
وقال الذین استضعفوا ۔۔۔ ونجعل لہ اندادا (34: 33) وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ” نہیں ، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں “۔
اب ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مکالمہ اور مجادلہ نہ ان کے لیے مفید ہے اور ان کے لیے۔ نہ بڑے کی نجات ممکن ہے اور نہ چھوٹوں کی۔ ہر گروہ مجرم ہے ، البتہ بڑوں پر اپنی گواہی کی بھی ذمہ داری ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی بھی ذمہ داری ہے۔ چھوٹوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ انہوں نے کیوں ان بڑے لوگوں کی اطاعت کی۔ یہ بات وہاں معانی کی وجہ نہیں بن سکتی کہ یہ ضعیف تھے۔ اللہ نے ان کو عقل اور آزادی دی تھی۔ انہوں نے عقل سے کام نہ لیا اور اپنی آزادی رائے کو فروخت کردیا۔ وہ طفیلی پن رہنے پر راضی ہوئے اور ذلت کی زندگی قبول کی۔ اس لیے وہ عذاب کے مستحق بن گئے۔ اس گفتگو کے دوران ہی ان پر سخت ندامت طاری ہوگئی اور یہ اسے چھپانے لگے۔ جب انہوں نے عذاب دیکھ لیا۔
واسروا الندامۃ لما راوا العذاب (34: 33) ” جب یہ عذاب دیکھیں گے تو پچھتائیں گے “۔ اور اپنی ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔ یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ دل کی بات دل ہی میں رہ جاتی ہے۔ زبانیں بند ہوجاتی ہیں ، ہونٹ سل جاتے ہیں اور سخت عذاب انہیں آلیتا ہے۔
وجعلنا الاغلل ۔۔۔۔۔ الذین کفروا (34: 33) ” ہم ان منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے “ اب یہ لوگ طوقوں میں بندھے ہوئے ہیں لیکن بات کا رخ ان سے پھرجاتا ہے اور عام بدکاروں سے کہا جاتا ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
ھل یجزون الا ما کانوا یعملون (34: 33) ” کیا لوگوں کو اس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جاسکتا ہے کہ جیسے اعمال ان کے تھے ، ویسی ہی جزا وہ پائیں۔ اب بڑے بننے والے اور چھوٹے بننے والے دونوں قسم کے ظالموں کے اس منظر پر پردہ گرتا ہے۔ دونوں ظالم ہیں۔ یہ اس لیے ظالم ہیں کہ سرکش تھے اور باغی تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے تھے۔ وہ اس لیے ظالم تھے کہ انہوں نے انسانی شرافت اور آزادی کے مقام کو ترک کردیا اور اپنے جیسے انسانوں کے غلام بن گئے۔ ان کے سامنے ذلت اختیار کی۔ اب دونوں کے لیے دائمی عذاب ہے۔
پردہ گرتا ہے اور ظالم اپنا منظر اچھی طرح دیکھ چکے ، زندہ مشکل ہیں۔ انہوں نے اپنی ہر حالت دیکھ لی اور وہ اس زمین پر زندہ ہیں۔ دوسروں نے بھی اس منظر کو دیکھ لیا۔ سب کے سامنے ابھی مہلت کی گھڑیاں ہیں۔ کبراء قریش جو باتیں کرتے ہیں ایسی ہی باتیں اقوام رفتہ کے مستکبرین بھی کرتے چلے آئے ہیں۔
سبأ 34:34
وما ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ بہ کفرون (24)
یہ ایک عام رویہ ہے ، بار بار دہرایا جاتا ہے ، اس دنیا میں۔ زمانوں سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ خوشحالی دلوں کو سخت کردیتی ہے دلوں سے احساس ختم ہوجاتا ہے۔ فطرت بگڑ جاتی ہے۔ اور باطل کے نیچے دب جاتی ہے۔ اسے دلائل ہدایت نظر ہی نہیں آتے۔ اس لیے ہدایت کے مقابلے میں مفسدین اپنے آپ کو اونچا سمجھتے ہیں اور ان کے سینے روشنی کے لیے بند ہوجاتے ہیں۔
ہمیشہ یوں ہوتا ہے کہ اہل ثروت اور کھاتے پیتے لوگوں کی جھوٹی قدریں ان کو دھوکہ دیتی ہیں۔ ان کے پاس جو دولت اور قوت ہوتی ہے وہ ان کو دھوکے میں ڈالتی ہے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ اثر ان کو عذاب الٰہی سے بھی بچا لے گا۔ اللہ نے جع ان کو دولت دی ہے یہی تو اللہ کی رضا کی علامت ہے اور یہ کہ وہ حساب و کتاب اور جواب دہی کے مقام سے بلند ہیں۔
سبأ 34:35
وقالوا نحن ۔۔۔۔۔ نحن بمعذبین (25) ” “۔ لیکن قرآن کریم جواب دہی کے لیے وہ معیار اور وہ قدریں وضع کرتا ہے جو اللہ کے ہاں معمول بہا ہیں۔ اللہ کے ہاں رائج ہیں۔ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی پر مدار فیصلہ نہیں ہے۔ فیصلہ اللہ کی رضا و غضب پر ہوگا۔ رزق نہ کسی کو سزا دیتا ہے اور نہ بچاتا ہے۔ حساب و کتاب اور جزاء و سزا کا معاملہ دولت مندی اور تنگدستی سے جدا ہے۔ اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کا تعلق رزق سے نہیں ہے اس کے لئے دوسرا معیار ہے۔
سبأ 34:36
قل ان ربی ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (26) ” “۔ یہ مسئلہ یعنی رزق کی فراوانی اور تنگی کا مسئلہ ، عیش و عشرت کے وسائل کی ملکیت اور زیب وزینت کے ذرائع اور ان سے محرومی کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے کئی لوگوں کے دلوں میں بےحد خلجان پیدا ہوتا ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ اہل شر ، اہل فساد اور باطل پرستوں پر دنیا کے مال و دولت کے دروازے کھلے ہیں۔ اہل حق ، اہل خیر اور نیک لوگ ان سے محروم ہیں اس لیے بعض لوگ یوں سوچتے ہیں کہ اگر اللہ ان لوگوں سے ناراض ہوتا تو ان پر وسائل کی یوں بارش کیوں کرتا۔ بعض اوقات لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نیکی ، سچائی اور پاکبازی ہمیشہ محروم رہتی ہے
یہاں قرآن مجید دنیا کے مال و متاع اور سازوسامان اور ان قدروں کے درمیان جدائی کردیتا ہے جو اللہ کی نظروں میں بلند ہیں۔ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ رزق کی تنگی اور فراوانی اللہ کی مشیت کے تحت ہے۔ اس کا اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض اوقات اللہ ایک ایسے شخص کو بھی رزق فراواں دے دیتا ہے جس سے وہ ناراض ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کو بھی دیتا ہے جس سے راضی ہوتا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ اہل شر اور اہل خیر دونوں غریب اور نادار ہوتے ہیں لیکن تمام حالات میں علل و اسباب ایک نہیں ہوتے۔
بعض اوقات اللہ اہل شر کو زیادہ نوازتا ہے تاکہ وہ سرکشی ، فساد اور نافرمانی میں آگے بڑھ جائیں۔ یوں ان کو پکڑنا مقصود ہوتا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ جرائم کا ارتکاب کرلیں تاکہ ان کو زیادہ سزا ملے۔ پھر اللہ ان کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے اور آخرت میں بھی دے گا۔ اپنی حکمت اور تدبیر کے مطابق بھی بعض اوقات اللہ اہل شر کا رزق تنگ کرتا ہے تو وہ مزید جرائم کرتے ہیں ۔ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں اور اپنی ناداری کی وجہ سے شروفساد اور ظلم و ضلالت کی حدوں کو پار کر جاتے ہیں۔
بعض اوقات اللہ اہل خیر پر بارش کردیتا ہے تاکہ وہ مزید نیکی کے کام کریں۔ اگر ان کے پاس دولت نہ ہوتی تو وہ یہ کام نہ کرسکتے اور اس لیے بھی کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں۔ دل کے ساتھ ، زبان کے ساتھ اور عمل کے ساتھ۔ وہ اپنے مال کے ذریعے ایسی نیکیاں کمائیں جو اللہ کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ ہوں اور کبھی اہل خیر محروم کیے جاتے ہیں تاکہ محرومیت پر ان کے صبر اور شکر کو آزمایا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ وہ اللہ پر کس قدر بھروسہ کرتے ہیں۔ کس قدر رحمت کے امیدوار ہوتے ہیں اور اللہ کی تقدیر پر ان کو کس قدر یقین ہوتا ہے۔ کس قدر راضی برضا ہوتے ہیں اور رب تعالیٰ اچھا اور باقی رہنے والا ہے۔ اس طرح ان کا ذخیرہ آخرت بڑھ جاتا ہے اور اللہ ان سے بہت راضی ہوتا ہے۔
بہرحال رزق کی فراوانی اور تنگی کے جو اسباب بھی ہوں ، اور لوگوں کے اعمال اور حکمت الہیہ کے حوالے سے جو بھی سبب ہو ، حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اللہ کے ہاں مقبولیت سے بالکل علیحدہ مسئلہ ہے۔ اس کی بنا پر اللہ کے ہاں کوئی مقدم و موخر نہیں ہوتا۔ اللہ کے ہاں مقدم اور موخر ہونے کا دار و مدار اس پر ہے کہ جس شخص کے مال اور اولاد میں فراوانی دی گئی ہے وہ اپنے مال اور اولاد میں تصرف کیسے کرتا ہے۔ اسی طرح جسے رزق کی تنگی دی گئی ہے وہ کس قدر صبر وشکر کرتا ہے۔ لہٰذا مال و اولاد والا شخص اگر اپنے مال اور اولاد میں اچھا تصرف کرتا ہے تو اللہ اس کے اجر میں اضافہ کرے گا۔
سبأ 34:37
وما اموالکم ولا اولادکم ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (27 – 28)
نہایت صراحت کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ رزق کی فراوانی کے ذریعہ کوئی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوجاتا۔ ہاں اگر کوئی اپنی دولت میں سے فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے تو وہ اللہ کے ہاں مفید ہے۔
سبأ 34:38
وما اموالکم ولا اولادکم ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (27 – 28)
نہایت صراحت کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ رزق کی فراوانی کے ذریعہ کوئی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوجاتا۔ ہاں اگر کوئی اپنی دولت میں سے فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے تو وہ اللہ کے ہاں مفید ہے۔
سبأ 34:39
قل ان ربی یبسط ۔۔۔۔۔۔ خیر الرزقین (29) ” یہ سبق ایک ایسے منظر پر ختم ہوتا ہے جس میں وہ تمام لوگ فرشتوں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ، جو فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ قیامت کے عذاب سے ڈرو تو وہ کہتے تھے کہاں ہے قیامت ، لاؤ۔ ان سے کہا جائے گا اب چکھو اس عذاب کو جس کے متعلق تمہیں جلدی تھی۔
سبأ 34:40
ویوم یحشرھم جمیعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنتم بھا تکذبون (40 – 42)
ان فرشتوں کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے یا ان کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ اب ان کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ گویا یہ بندگی اور عبادت ان کی جانب سے لغو اور کالعدم حرکت تھی۔ گویا یہ ہوئی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بندگی دراصل شیطان کی بندگی کرتے تھے تو گویا شیطان کی بندگی کرتے تھے۔ جنوں کی بندگی تو عربوں میں ۔۔۔ تھا۔ بعض لوگ ایسے تھے جو جنوں کی بندگی بھی کرتے تھے اور ان سے استعانت بھی کرتے تھے۔
بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون (34: 41) ” دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے تھے “۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قصہ سلیمان (علیہ السلام) کا ان مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ قرآن کریم کا خاص انداز ہے کہ قصص سورة کے موضوع سے مربوط ہوتے ہیں۔
یہ منظر اسکرین پر چل رہا تھا کہ اچانک کلام کا اسلوب بدل جاتا ہے اور براہ راست خطاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ شرمسار کنندہ باتیں ان سے کہی جاتی ہیں۔
فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولاضرا (34: 42) ” آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان “۔ نہ فرشتے کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ نہ یہ کفار ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ وہ آگ جس کی ظالم تکذیب کرتے تھے اور جس کے بارے میں وہ مطالبہ کرتے تھے کہ لاؤ وہ آگ ، اسے اب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔
ونقول للذین ۔۔۔۔۔ بھا تکذبون (34: 42) ” اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوجاتا ہے جس کا مرکزی مضمون حساب و کتاب ، سزا و جزاء اور قیام قیامت ہے ، جس طرح دوسرے اسباق کا بھی یہی مضمون رہا ہے۔
سبأ 34:41
ویوم یحشرھم جمیعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنتم بھا تکذبون (40 – 42)
ان فرشتوں کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے یا ان کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ اب ان کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ گویا یہ بندگی اور عبادت ان کی جانب سے لغو اور کالعدم حرکت تھی۔ گویا یہ ہوئی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بندگی دراصل شیطان کی بندگی کرتے تھے تو گویا شیطان کی بندگی کرتے تھے۔ جنوں کی بندگی تو عربوں میں ۔۔۔ تھا۔ بعض لوگ ایسے تھے جو جنوں کی بندگی بھی کرتے تھے اور ان سے استعانت بھی کرتے تھے۔
بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون (34: 41) ” دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے تھے “۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قصہ سلیمان (علیہ السلام) کا ان مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ قرآن کریم کا خاص انداز ہے کہ قصص سورة کے موضوع سے مربوط ہوتے ہیں۔
یہ منظر اسکرین پر چل رہا تھا کہ اچانک کلام کا اسلوب بدل جاتا ہے اور براہ راست خطاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ شرمسار کنندہ باتیں ان سے کہی جاتی ہیں۔
فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولاضرا (34: 42) ” آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان “۔ نہ فرشتے کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ نہ یہ کفار ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ وہ آگ جس کی ظالم تکذیب کرتے تھے اور جس کے بارے میں وہ مطالبہ کرتے تھے کہ لاؤ وہ آگ ، اسے اب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔
ونقول للذین ۔۔۔۔۔ بھا تکذبون (34: 42) ” اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوجاتا ہے جس کا مرکزی مضمون حساب و کتاب ، سزا و جزاء اور قیام قیامت ہے ، جس طرح دوسرے اسباق کا بھی یہی مضمون رہا ہے۔
سبأ 34:42
ویوم یحشرھم جمیعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنتم بھا تکذبون (40 – 42)
ان فرشتوں کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے یا ان کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ اب ان کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ گویا یہ بندگی اور عبادت ان کی جانب سے لغو اور کالعدم حرکت تھی۔ گویا یہ ہوئی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بندگی دراصل شیطان کی بندگی کرتے تھے تو گویا شیطان کی بندگی کرتے تھے۔ جنوں کی بندگی تو عربوں میں ۔۔۔ تھا۔ بعض لوگ ایسے تھے جو جنوں کی بندگی بھی کرتے تھے اور ان سے استعانت بھی کرتے تھے۔
بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون (34: 41) ” دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے تھے “۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قصہ سلیمان (علیہ السلام) کا ان مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ قرآن کریم کا خاص انداز ہے کہ قصص سورة کے موضوع سے مربوط ہوتے ہیں۔
یہ منظر اسکرین پر چل رہا تھا کہ اچانک کلام کا اسلوب بدل جاتا ہے اور براہ راست خطاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ شرمسار کنندہ باتیں ان سے کہی جاتی ہیں۔
فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولاضرا (34: 42) ” آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان “۔ نہ فرشتے کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ نہ یہ کفار ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ وہ آگ جس کی ظالم تکذیب کرتے تھے اور جس کے بارے میں وہ مطالبہ کرتے تھے کہ لاؤ وہ آگ ، اسے اب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔
ونقول للذین ۔۔۔۔۔ بھا تکذبون (34: 42) ” اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوجاتا ہے جس کا مرکزی مضمون حساب و کتاب ، سزا و جزاء اور قیام قیامت ہے ، جس طرح دوسرے اسباق کا بھی یہی مضمون رہا ہے۔
سبأ 34:43
درس نمبر 198 ایک نظر میں
اس سورة کے اس آخری سبق کا آغاز مشرکین اور نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں ان کے اقوال سے ہوتا ہے۔ ان کو یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ ان جیسے لوگوں کا انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ انسانی تاریخ کی ایسی اقوام کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو ان سے زیادہ قوی ، زیادہ علم والی اور زیادہ مالدار تھیں ، جن کو اس دنیا ہی میں پکڑ لیا گیا۔
اس کے بعد عقل و خرد کے تاروں پر مسلسل شدید ترین ضربات لگائی جاتی ہیں۔ پہلی ضرب میں ان کو یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ ذرا تنہائی میں ، تمام رکاوٹوں اور پردوں کو ہٹا کر جو انہیں صحیح فکر و نظر سے روکتے ہیں اللہ کے بارے میں سوچیں۔ دوسری ضرب میں ، ان کو اس حقیقت پر غور کرنے کے لئے دعوت دی گئی ہے کہ وہ دیکھیں کہ نبی کریم ﷺ ان لوگوں کو مسلسل جو دعوت دے رہے ہیں اس دعوت میں ان کا کوئی مفاد بھی نہیں ہے اور آپ ان سے اجر بھی طلب نہیں کرتے تو آخر یہ لوگ حضور ﷺ کی دعوت میں شک کیوں کرتے ہیں اور منہ کیوں موڑتے ہیں۔ اس کے بعد قل قل قل سے یہ ضربات مسلسل لگائی جاتی ہیں اور یہ اس قدر زور دار ہیں کہ اگر کسی دل میں ذرہ برابر بھی شعور ہو تو وہ متاثر ہوئے نظر نہیں رہ سکتا۔
اور یہ سبق قیامت کے ایک نہایت ہی متحرک منظر پر ختم ہوتا ہے جو نہایت ہی متحرک ہے اور سابقہ ضربات کے ساتھ مناسب ہے۔
درس نمبر 198 تشریح آیات
43 ۔۔۔ تا۔۔۔ 54
سبأ 34:44
واذا تتلی علیھم ایتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فکیف کان نکیر (43 – 45)
ان لوگوں کے سامنے رسول اللہ ﷺ نہایت واضح سچائی پیش فرماتے تھے لیکن وہ اس کا مقابلہ ماضی کے افسانوں سے کرتے تھے۔ یہ چند پارینہ رسم رواج تھے اور اوہام و خرافات تھے جو انہوں نے سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ ان کے اندر کوئی جامعیت اور ربط بھی نہ تھا۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ قرآن مجیس سیدھی سادی سچائی پیش کر رہا ہے اور قرآن کی تعلیمات ایک مکمل اور مربوط نظام زندگی ہیں اور معقول اور دل کو لگتی ہیں تو انہوں نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ ان کے آباؤ اجداد سے منقول خرافات ، غیر معقول ، رسم و رواج اس معقول نظام زندگی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس لیے انہوں نے یہ اعلان کیا کہ یہ نئی تعلیم ان کے تمام سرمایہ رسوم کے لیے خطرہ ہے۔
ما ھذا الا ۔۔۔۔۔ یعبد اباء کم (34: 43) ” کہ یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو ان معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ داد کرتے آئے ہیں “۔ لیکن صرف یہ الزام لگا دینا تو کافی نہ تھا کیونکہ صرف یہ بات کہ آباء و اجداد کے معبودوں سے روکتا ہے سب لوگوں کے لیے مسلم نہ ہوسکتی تھی۔ اس لیے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک دوسرا الزام بھی لگایا کہ جو تعلیمات حضرت محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں۔
وقالوا ما ھذا الا افک مفتری (34: 43) ” اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو محض ایک جھوٹ گھڑا ہوا ہے “۔ افک کے معنی جھوٹ اور افتراء کے ہیں۔ لیکن مفتری کا لفظ بطور تاکید لائے ہیں تاکہ ابتداء ہی سے قرآن کی قدر و قیمت میں کمی کردی کیونکہ جب قرآن کریم کے حقیقی مصدر ہی کو مشکوک بنا دیا گیا تو اس کی قدروقیمت ظاہر ہے کہ کم ہوجاتی ہے۔ اور مزید یہ الزام۔
وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔ سحر مبین (34: 43) ” ان کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو صریح جادو ہے “۔ اور یہ الزام انہوں نے اس لیے لگایا کہ قرآن ایک نہایت موثر کلام تھا۔ جو اس کو سنتا اس کی دینی دنیا میں بھونچال آجاتا۔ اس لیے صرف یہ بات بھی کافی نہ تھی کہ یہ جھوٹ اور گھڑا ہوا ہے۔ اس لیے اس کے اثر کی تاویل یہ کی کہ یہ کھلا جادو ہے۔ یہ مسلسل الزامات تھے۔ ایک کے بعد دوسرا الزام اور یہ الزامات بھی وہ اللہ کے قرآن پر لگا رہے تھے تاکہ لوگوں کے دلوں پر اس کا اثر نہ ہو لیکن یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے ان میں سے کسی پر خود ان کے ساتھ کوئی ثبوت نہ تھا۔ یہ سب جھوٹے الزامات تھے اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لیے تھے۔ جو لوگ یہ الزامات لگاتے تھے وہ کبراء اور سردار تھے۔ یہ کبراء اور سردار خود پوری طرح یقین رکھتے تھے کہ قرآن کریم خدا کی سچی کتاب ہے۔ یہ کتاب انسانی طاقت سے باہر ہے۔ بڑے سے بڑے متکلمین بھی اس قسم کا کلام لانے سے عاجز آگئے تھے۔ ہم نے ظلال القرآن میں ایسے لوگوں کی کئی روایات دی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ اور قرآن کے بارے میں ان کی اصل رائے کیا تھی۔ اور یہ روایات بھی ہم نے بتا دیں کہ وہ قرآن کریم کے بارے میں اور اس کے خلاف کیا کیا تدابیر کرتے تھے۔
قرآن کریم نے ان کی اس کمزوری کو کھول دیا۔ اور یہ کہا کہ یہ عرب توامی تھے ، یہ اہل کتاب نہ تھے کہ وہ کسی آسمانی کتاب کی تعلیمات کے بارے میں کوئی فیصلہ کن بات کرسکیں۔ یہ لوگ وحی کے بارے میں بھی نہ جانتے تھے۔ اس لیے یہ لوگ وحی کے بارے میں بھی کوئی ماہر لوگ نہ تھے۔ نیز ان کے پاس حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد کوئی رسول بھی نہیں آیا تھا کہ یہ اس بارے میں کوئی ماہرانہ رائے دے سکیں۔ لہٰذا وہ رسول اللہ ﷺ ، قرآن اور وحی کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں وہ ایسی باتیں ہیں جس موضوع پر ان کو کوئی علم نہیں۔
وما اتینھم من ۔۔۔۔۔ من نذیر (34: 44) ” حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو پہلے کوئی کتاب نہ بھیجی تھی کہ یہ اسے پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تھا “۔ ان کے دلوں کو احساس دلایا جاتا ہے کہ ذرا ان سے پہلے کے ان لوگوں کے انجام پر غور کرو جنہوں نے تکذیب کی۔ تم لوگ ان لوگوں کے مقابلے میں بہت کم قوت والے ہو۔ وہ علم والے تھے ، مال والے تھے ، قوت والے تھے اور ترقی یافتہ تھے لیکن جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تو ان کو عذاب الٰہی نے گھیر لیا اور وہ بہت ہی سخت پکڑ میں آگئے۔
وکذب الذین ۔۔۔۔۔ کان نکیر (34: 45) ” ان سے پہلے گزرے ہوئے لوھ جھٹلاچکے ہیں جو کچھ ہم نے انہیں دیا تھا اس کا عشر عشیر بھی ان کے پاس نہیں ہے مگر جب انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ اللہ کی یہ سزا نہایت ہی تباہ کن تھی۔ ان منکرین میں سے بعض لوگ ایسے تھے جن کے بارے میں قریش جانتے بھی تھے لہٰذا ان کو یہ یاد دہانی کافی تھی۔ لیکن یہاں طنزیہ انداز میں سوال کیا گیا ہے۔
فکیف کان نکیر (34: 45) ” میری سزا کیسی تھی “۔ چونکہ مخاطبین کو معلوم تھا کہ یہ سز اکیسی تھی اس لیے یہ سوالیہ انداز نہایت موثر ہے۔
ان لوگوں کو نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ یہ دعوت دی جاتی ہے کہ سچائی کے ساتھ تم حق کو تلاش کرو اور سچائی کے بارے میں جو جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرو اور جو دعوت تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے اس کے بارے میں خارجی موثرات سے آزاد ہو کر سوچو اور اس کی قدروقیمت معلوم کرو۔
سبأ 34:45
واذا تتلی علیھم ایتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فکیف کان نکیر (43 – 45)
ان لوگوں کے سامنے رسول اللہ ﷺ نہایت واضح سچائی پیش فرماتے تھے لیکن وہ اس کا مقابلہ ماضی کے افسانوں سے کرتے تھے۔ یہ چند پارینہ رسم رواج تھے اور اوہام و خرافات تھے جو انہوں نے سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ ان کے اندر کوئی جامعیت اور ربط بھی نہ تھا۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ قرآن مجیس سیدھی سادی سچائی پیش کر رہا ہے اور قرآن کی تعلیمات ایک مکمل اور مربوط نظام زندگی ہیں اور معقول اور دل کو لگتی ہیں تو انہوں نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ ان کے آباؤ اجداد سے منقول خرافات ، غیر معقول ، رسم و رواج اس معقول نظام زندگی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس لیے انہوں نے یہ اعلان کیا کہ یہ نئی تعلیم ان کے تمام سرمایہ رسوم کے لیے خطرہ ہے۔
ما ھذا الا ۔۔۔۔۔ یعبد اباء کم (34: 43) ” کہ یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو ان معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ داد کرتے آئے ہیں “۔ لیکن صرف یہ الزام لگا دینا تو کافی نہ تھا کیونکہ صرف یہ بات کہ آباء و اجداد کے معبودوں سے روکتا ہے سب لوگوں کے لیے مسلم نہ ہوسکتی تھی۔ اس لیے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک دوسرا الزام بھی لگایا کہ جو تعلیمات حضرت محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں۔
وقالوا ما ھذا الا افک مفتری (34: 43) ” اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو محض ایک جھوٹ گھڑا ہوا ہے “۔ افک کے معنی جھوٹ اور افتراء کے ہیں۔ لیکن مفتری کا لفظ بطور تاکید لائے ہیں تاکہ ابتداء ہی سے قرآن کی قدر و قیمت میں کمی کردی کیونکہ جب قرآن کریم کے حقیقی مصدر ہی کو مشکوک بنا دیا گیا تو اس کی قدروقیمت ظاہر ہے کہ کم ہوجاتی ہے۔ اور مزید یہ الزام۔
وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔ سحر مبین (34: 43) ” ان کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو صریح جادو ہے “۔ اور یہ الزام انہوں نے اس لیے لگایا کہ قرآن ایک نہایت موثر کلام تھا۔ جو اس کو سنتا اس کی دینی دنیا میں بھونچال آجاتا۔ اس لیے صرف یہ بات بھی کافی نہ تھی کہ یہ جھوٹ اور گھڑا ہوا ہے۔ اس لیے اس کے اثر کی تاویل یہ کی کہ یہ کھلا جادو ہے۔ یہ مسلسل الزامات تھے۔ ایک کے بعد دوسرا الزام اور یہ الزامات بھی وہ اللہ کے قرآن پر لگا رہے تھے تاکہ لوگوں کے دلوں پر اس کا اثر نہ ہو لیکن یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے ان میں سے کسی پر خود ان کے ساتھ کوئی ثبوت نہ تھا۔ یہ سب جھوٹے الزامات تھے اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لیے تھے۔ جو لوگ یہ الزامات لگاتے تھے وہ کبراء اور سردار تھے۔ یہ کبراء اور سردار خود پوری طرح یقین رکھتے تھے کہ قرآن کریم خدا کی سچی کتاب ہے۔ یہ کتاب انسانی طاقت سے باہر ہے۔ بڑے سے بڑے متکلمین بھی اس قسم کا کلام لانے سے عاجز آگئے تھے۔ ہم نے ظلال القرآن میں ایسے لوگوں کی کئی روایات دی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ اور قرآن کے بارے میں ان کی اصل رائے کیا تھی۔ اور یہ روایات بھی ہم نے بتا دیں کہ وہ قرآن کریم کے بارے میں اور اس کے خلاف کیا کیا تدابیر کرتے تھے۔
قرآن کریم نے ان کی اس کمزوری کو کھول دیا۔ اور یہ کہا کہ یہ عرب توامی تھے ، یہ اہل کتاب نہ تھے کہ وہ کسی آسمانی کتاب کی تعلیمات کے بارے میں کوئی فیصلہ کن بات کرسکیں۔ یہ لوگ وحی کے بارے میں بھی نہ جانتے تھے۔ اس لیے یہ لوگ وحی کے بارے میں بھی کوئی ماہر لوگ نہ تھے۔ نیز ان کے پاس حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد کوئی رسول بھی نہیں آیا تھا کہ یہ اس بارے میں کوئی ماہرانہ رائے دے سکیں۔ لہٰذا وہ رسول اللہ ﷺ ، قرآن اور وحی کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں وہ ایسی باتیں ہیں جس موضوع پر ان کو کوئی علم نہیں۔
وما اتینھم من ۔۔۔۔۔ من نذیر (34: 44) ” حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو پہلے کوئی کتاب نہ بھیجی تھی کہ یہ اسے پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تھا “۔ ان کے دلوں کو احساس دلایا جاتا ہے کہ ذرا ان سے پہلے کے ان لوگوں کے انجام پر غور کرو جنہوں نے تکذیب کی۔ تم لوگ ان لوگوں کے مقابلے میں بہت کم قوت والے ہو۔ وہ علم والے تھے ، مال والے تھے ، قوت والے تھے اور ترقی یافتہ تھے لیکن جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تو ان کو عذاب الٰہی نے گھیر لیا اور وہ بہت ہی سخت پکڑ میں آگئے۔
وکذب الذین ۔۔۔۔۔ کان نکیر (34: 45) ” ان سے پہلے گزرے ہوئے لوھ جھٹلاچکے ہیں جو کچھ ہم نے انہیں دیا تھا اس کا عشر عشیر بھی ان کے پاس نہیں ہے مگر جب انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ اللہ کی یہ سزا نہایت ہی تباہ کن تھی۔ ان منکرین میں سے بعض لوگ ایسے تھے جن کے بارے میں قریش جانتے بھی تھے لہٰذا ان کو یہ یاد دہانی کافی تھی۔ لیکن یہاں طنزیہ انداز میں سوال کیا گیا ہے۔
فکیف کان نکیر (34: 45) ” میری سزا کیسی تھی “۔ چونکہ مخاطبین کو معلوم تھا کہ یہ سز اکیسی تھی اس لیے یہ سوالیہ انداز نہایت موثر ہے۔
ان لوگوں کو نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ یہ دعوت دی جاتی ہے کہ سچائی کے ساتھ تم حق کو تلاش کرو اور سچائی کے بارے میں جو جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرو اور جو دعوت تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے اس کے بارے میں خارجی موثرات سے آزاد ہو کر سوچو اور اس کی قدروقیمت معلوم کرو۔
سبأ 34:46
قل انما اعظکم ۔۔۔۔۔ عذاب شدید (46) ” “۔ یعنی اللہ کے مقابلے میں غور رو ، اور یہ غور اپنی ذاتی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر دو ۔ اپنی مصلحتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے غور کرو۔ دنیا کے حالات اور میلانات سے ہٹ کر کرو ، اور ان وسوسوں اور خلجانات سے ہٹ کر گرجو دلوں میں پیدا ہوتے ہیں ، یہ سب چیزیں انسان کو اللہ سے دور کرتی ہیں ، غرض تمہاری سوسائٹی اور تمہارے معاشرے کے اندر راسخ تصورات سے ہٹ کر تم اللہ کے معاملے پر غور کرو۔
یعنی دعوت اسلامی کے مضمون کو سادہ انداز میں لو ، اپنے رائج تصورات کے حوالے سے نہ لو۔ نہ خالص منطقی اور فلسفیانہ انداز میں لو جس میں لفاظی تو بہت ہوتی ہے لیکن سیدھی سادہ حقیقت کو جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ منطقیانہ سوچ کے بجائے فطرت کی سنجیدہ سوچ کا راستہ اختیار کرو۔ جس میں شورو شغب کم ہوتا ہے اور خلط مبحث نہیں ہوتا نہ سوچ میں ٹیڑھ ہوتی ہے اور نہ فکر میں گدلاپن ہوتا ہے بلکہ صاف و شفاف سوچ ہوتی ہے۔
لیکن فطری انداز میں تلاش حقیقت بھی دراصل حقیقت کی تلاش ہی ہوتی ہے۔ جبکہ یہ سوچنے کا سیدھا سادہ طریقہ ہوتا ہے۔ جس پر معاشرے کے رائج افکار اثر انداز نہیں ہوتے ، نہ معاشرے کے اندر رائج غلط رسم و رواج اثر ڈالتے ہیں صرف خدا کا خوف اور اللہ کی نگرانی ہی بڑی موثر ہوتی ہے۔ اس سوچ کا راستہ صرف ایک ہی ہے خدا کا راستہ ، خدا کے سامنے جھکنے کا راستہ ، خدا کی رضا کا راستہ۔ اور بےلوث راستہ جس میں کوئی ذاتی خواہش ، کوئی مصلحت ، کوئی مفاد موثر نہ ہو ، خالص انداز میں فطری سوچ جس پر
کوئی خارجی عوامل اثر انداز نہ ہوں۔ یعنی صرف اللہ کے لیے سوچ۔
ان تقوموا للہ مثنی وفرادی (34: 46) ” خدا کے لیے تم اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ “۔ دو دو اس طرح کہ دعوت اسلامی کے مسئلے پر ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرہ کرو ، یعنی محدود تعداد میں شوروشغب سے علیحدہ ہوکر مذاکرہ کرو ، عوام الناس کی بھیڑ سے الگ ہوکر۔ حالات اور عوام سے متاثر ہوئے بغیر کیونکہ عوام الناس وقتی حالات سے متاثر ہوتے جاتے ہیں ، اور اکیلے غور کرو ، جو غوروفکر کا سب سے موثر طریقہ ہے۔
ثم تتفکروا ما بصاحبکم من جنۃ (34: 46) ” سوچو کہ تمہارے صاحب میں آخر کون سی بات ہے جو جنون کی ہو “۔ آپ کے سامنے تو وہ عقل ، تدبر اور نہایت ہی دانائی کی بات کرتا ہے۔ اور آخر وہ کون سی بات ایسی کرتا ہے جس سے معلوم ہو کہ اس کی عقل میں فرق ہے۔ وہ تو نہایت ہی مضبوط ، قوی اور واضح بات کرتا ہے۔
ان ھو الا نذیر لکم بین یدی عذاب شدید (34: 46) ” وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے “۔ شدید ترین عذاب کے واقع ہونے کا امکان انسان کو غوروفکر پر آمادہ کرتا ہے اور ڈرانے والے نے متنبہ بھی کردیا تاکہ جو بچنا چاہتا ہے ، بچ جائے۔ مگر ایک شخص چلاتا ہے کہ آگ لگ گئی ہے بھاگو۔ اگر کوئی نہیں بھاگتا تو اپنے آپ کو خطرے میں ڈالتا ہے جبکہ آواز دینے والا ہے بھی سچا شخص اور نہایت ہی بہترین کردار کا مالک ہے۔
امام احمد نے ابو نعیم شیر سے عبد اللہ ابن بریدہ ہے ، اس نے اپنے باپ سے ، کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ہم پر نکلے تو تین بار آواز دی لوگو ، تمہیں معلوم ہے کہ میری اور تمہاری مثال کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور رسول اللہ خوب جانتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میری اور آپ لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قوم کو کسی دشمن کے حملے کا خطرہ ہو۔ انہوں نے ایک آدمی بھیجا کہ وہ حالات معلوم کرکے بتائے۔ یہ شخص دیکھ رہا تھا کہ دشمن آگیا۔ وہ چلانے لگا اور اسے ڈر تھا کہ لوگوں کو اس کی آواز پہنچنے سے پہلے ہی اسے دشمن پکڑ نہ لے۔ تو اس نے دور ہی سے کپڑا ہلایا ، لوگو ، دشمن آگیا ، دشمن آگیا ، لوگو تم پر حملہ ہوگیا “۔ اور ایک دوسری روایت میں حضور ﷺ سے مروی ہے کہ میں اور قیامت ایک ہی ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ قیامت مجھ سے بھی پہلے آجائے ۔ یہ تو تھی پہلی ضرب ۔ اب دوسری ضرب ملاحظہ ہو۔
سبأ 34:47
قل ما سالتکم۔۔۔۔۔ کل شیئ شھید (47) ” “۔ پہلے تو آپ نے ان کو دعوت دی کہ تم لوگ اکیلئے یا دو دو مل کر تحریک اسلامی پر غور کرو کہ تمہارے ساتھی کی دعوت میں آخر جنوں کی کیا بات ہے۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ لوگوں کے ڈرانے میں اس قدر مگن ہیں اور لوگوں کو شدید عذاب سے ڈرا رہے ہیں۔ آخر اس میں ان کا مفاد کیا ہے۔ اس کے اسباب کیا ہیں ۔ حضور ﷺ کو کیا فائدہ ہے۔ اس حقیقت کی طرف ان لوگوں کی سوچ اور قوت استدلال کو نہایت ہی موثر انداز میں متوجہ کیا جاتا ہے۔
قل ما سالتکم من اجر فھو لکم (34: 47) ” کہو میں اگر تم سے کوئی اجر مانگتا ہوں تو وہ تم ہی لے لو “۔ یہ اجر تمہیں ہی مبارک ہو۔ یہ نہایت ہی طنز یہ انداز ہے اور اس میں ان کے لیے سرزتش بھی ہے ۔
ان اجری الا علی اللہ (34: 47) ” میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے “۔ اسی نے مجھے اس کام پر لگایا ہے ۔ وہی معاوضہ دے گا ۔ میں اسی سے امید رکھتا ہوں اور جو شخص اللہ کے عطیہ کا امید وار ہو ، اس کے نزدیک پھر اہل دنیا کا ہر عطیہ حقیر اور بےقیمت ہوجاتا ہے ۔ اس کے بارے میں ایسا شخص سوچتاہی نہیں ہے ۔
وھو علی کل شئی شھید (34: 47) ” وہ ہر چیز پر گواہ ہے “۔ وہ جانتا ہے ، دیکھتا ہے اور اس سے کوئی چیز خفیہ نہیں ہوتی ۔ وہ میرے اوپر گواہ ہے ۔ میں جو کچھ ساچتا ہوں ، جو کچھ کہتا ہوں اور جو کچھ کرتا ہوں۔ اب تیسرا مضراب :
سبأ 34:48
قل ان ربی ۔۔۔۔ الغیوب (48) ” “۔ یعنی میں جو چیز لے کر آیا ہوں وہ حق ہے ۔ یہ وہ مضبوط حق ہے جسے اللہ قوت سے پھینکتا ہے ۔ اس سچائی کے مقابلے میں کون کھڑا ہوسکتا ہے جسے اللہ زور دار انداز سے نازل کررہا ہو ۔ یہ ایک نہایت ہی مجسم اور مصور انداز تعبیر ہے ۔ گویا حق کے گولے برس رہے ہیں ، بمباری ہورہی ہے اور کسی کو ہمت نہیں ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہوسکے ۔ اللہ سچائی کے گولے پھینک رہا ہے جو علام الغیوب ہے ۔ وہ علم سے یہ گولے پھینک رہا ہے ۔ علم کے ساتھ ان کا رخ کسی کی طرف کرتا ہے ۔ اس کا نشانہ خطا نہیں ہوتا ۔ کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہے اور کوئی چیز اس سچائی کی ذد سے بچ نہیں سکتی اس لیے کہ رکاوٹ بننے والی کوئی چیز سامنے نہیں ہے ۔ اللہ کے سامنے نشانہ کھلا ہے ۔
سبأ 34:49
اب آخری ضرب : قل جاء ۔۔۔۔۔ وما یعید (49) ” “۔ سچائی آگئی ہے ، رسول آگیا ، قرآن آگیا ، اسلامی نظام زندگی سیدھا سیدھا آگیا ۔ اعلان کردو ، اور کھلا اعلان کردو کہ اب حق آگیا ہے ۔ یہ گولہ قوت کے ساتھ پھینکا گیا ہے ۔ قوت اور سربلندی کے ساتھ آگیا ہے ۔
وما یبدی الباطل وما یعید (34: 49) ” باطل کے لیے نہ آغاز ہے اور نہ انجام “۔ اس کا معاملہ اب ختم ہے ۔ اس کی زندگی ختم ہے ۔ اب اس کے لیے کوئی میدان عمل نہیں ہے ۔ اس کا جانا ٹھہر گیا ہے ۔ یہ ایک نہایت ہی ہلا مارنے والی ضرب ہے ۔ جو کوئی بھی اس اعلان کو سنتا ہے ، وہ یقین کرلیتا ہے کہ اب کوئی گنجائش نہیں ہے ، باطل کے قائم رہنے کی ۔ لہٰذا حق کے سوا اب کسی اور کی حکمرانی نہ ہوگی ۔
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب سے قرآن آیا ہے ، سچائی کا منہاج دنیا میں قائم ہوگیا ہے اور باطل ان اس سچائی کے سامنے دفاعی پر زیشن میں ہے ، کیونکہ سچ نے غالب ہونے کا عزم بالجزم کیا ہوا ہے ۔ اگر چہ بعض اوقات باطل کو مادی قوت حاصل ہوتی ہے لیکن وہ کبھی حق پر نظریاتی برتری حاصل نہیں کرسکا۔ یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات اہل باطل اہل حق پر غالب آجاتے ہیں لیکن یہ اہل حق کی غلطی کی وجہ سے وقتی تزلزل ہوتا ہے ۔ جہاں تک حق کا تعلق ہے ، وہ اپنی جگہ جماہواہوتا ہے۔ واضح ہوتا ہے ، صریح
ہوتا ہے ۔ اور آخری ضرب۔
سبأ 34:50
قل ان ضللت۔۔۔۔ سمیع قریب (50)
اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو اس کا وہال تم پر نہ ہوگا ۔ میں خود ذمہ دار ہوں گا اور اگر میں ہدایت ہر ہوں تو اللہ نے بذریعہ وحی مجھے یہ ہدایات دی ہیں ۔ میں خود از خود کوئی کام کرنے کا مجاز نہیں ہوں ۔ میں تو خود بھی اسیراشارہ ابرر دہوں ۔
انہ سمیع قریب (34: 50) ” وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے “۔ یہ لوگ اللہ کو قریب پاتے تھے ۔ ان کے تصور میں اللہ کی یہ صفات بیٹھی ہوئی تھیں اور ان کی حقیقی زندگی میں یہ صفات موثر تھیں ۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ سمیع ہے اور قریب ہے ۔ اور وہ ان کے امور کو براہ راست دیکھ رہا ہے ۔ ان کی شکایت اور ان کے مشورے سب اللہ کے سامنے ہیں ۔ اللہ نے اپنے بندوں کو چھوڑ نہیں رکھا اور نہ کسی کے حوالے کررکھا ہے ۔ چناچہ ان کی زندگی اللہ کی انس و محبت میں گزرتی تھی ۔ اللہ کے زیر سایہ تھی ۔ اس کے پڑوس میں تھی ۔ اس کی مہربانیوں میں تھی ۔ اس کی نگرانی میں تھی اور یہ عقیدہ وہ اپنے قصوس کے اندر زندہ پاتے تھے ، زندہ اور سادہ شکل میں۔ یہ صفات محض تصور ہی نہ تھیں بلکہ زندہ اور عملی تھیں انہ سمیع قریب (34: 50)
سبأ 34:51
اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔
فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔
واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔
اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت دور نکل گیا ہے ۔ بہت دور جا چکا ہے ۔ یہ ان اسے پکڑ نہیں سکتے ۔
التناوش من مکان بعید (34: 52) اب ان کی سعی طرح ہے جس طرح کوئی کسی چیز کو دور سے پکڑ نا چاہے ، مگر نہ پکڑ سکے ۔ ایمان تو دور دنیا میں رہ گیا ہے ۔ انہوں نے موقع ضائع کردیا۔
وقدکفر وابہ من قبل (34: 53) ” اس سے پہلے انہوں نے ایمان سے انکار کردیا “۔ اب یہاں تو معاملہ ختم ہے ، مہلت ختم ، اب سعی لا حاصل ہے ۔
ویقذ فون بالغیب من مکان بعید (34: 53) ” یہ دور سے غائب نشانے پر پھینکتے تھے “۔ اس وقت انہوں نے انکار ہی کر دیا تھا کہ قیامت نہیں ہے حالانکہ وہ مستقبل کے پر دوں میں اسے کسی طرح دیکھ سکتے تھے کہ نہیں ہے ۔ اس طرح وہ دور نامعلوم نشانے پر بمباری کررہے تھے ۔ اور اب ایمان لانے کی سعی کررہے ہیں جبکہ وہ دور نکل گیا ہے ۔
وحیل ۔۔۔ یشتھون (34: 54) ” اس وقت جس چیز کی یہ تمنا کررہے ہوں گے ۔ اس سے وہ محروم کردیئے جائیں گے “۔ اب یہ ایمان سے محروم ہوں گے کیونکہ وہ بعدازوقت ہوگا ۔ اب عذاب سے بچنا ممکن نہ ہوگا کہ وہ سرپر ہوگا ۔
کما۔۔۔ من قبل (34: 54) ” جس طرح ان کے پیش ردہم مشرب محروم کردیئے جائیں گے “۔ یعنی جب ان پر پکڑ آئی تو انہوں نے نجات کی دعا کی لیکن اب نہ دعا کا وقت تھا نہ بھا گنے کی جگہ تھی ۔
انھم۔۔۔ مریب (34: 54) ” یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے “۔ اور اب یقین کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں “۔
اس سورة کا خاتمہ اس شدید ضرب پر ہوتا ہے ۔ اور یہ منظر قیامت ، قیام قیامت کو عملاً ثابت کردیتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت برپا ہوگئی ! یہی مضمون تھا اس سورة کا ۔ آغاز بھی قیامت کے قیام اور انتہا بھی احوال قیامت پر ۔
سبأ 34:52
اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔
فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔
واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔
اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت دور نکل گیا ہے ۔ بہت دور جا چکا ہے ۔ یہ ان اسے پکڑ نہیں سکتے ۔
التناوش من مکان بعید (34: 52) اب ان کی سعی طرح ہے جس طرح کوئی کسی چیز کو دور سے پکڑ نا چاہے ، مگر نہ پکڑ سکے ۔ ایمان تو دور دنیا میں رہ گیا ہے ۔ انہوں نے موقع ضائع کردیا۔
وقدکفر وابہ من قبل (34: 53) ” اس سے پہلے انہوں نے ایمان سے انکار کردیا “۔ اب یہاں تو معاملہ ختم ہے ، مہلت ختم ، اب سعی لا حاصل ہے ۔
ویقذ فون بالغیب من مکان بعید (34: 53) ” یہ دور سے غائب نشانے پر پھینکتے تھے “۔ اس وقت انہوں نے انکار ہی کر دیا تھا کہ قیامت نہیں ہے حالانکہ وہ مستقبل کے پر دوں میں اسے کسی طرح دیکھ سکتے تھے کہ نہیں ہے ۔ اس طرح وہ دور نامعلوم نشانے پر بمباری کررہے تھے ۔ اور اب ایمان لانے کی سعی کررہے ہیں جبکہ وہ دور نکل گیا ہے ۔
وحیل ۔۔۔ یشتھون (34: 54) ” اس وقت جس چیز کی یہ تمنا کررہے ہوں گے ۔ اس سے وہ محروم کردیئے جائیں گے “۔ اب یہ ایمان سے محروم ہوں گے کیونکہ وہ بعدازوقت ہوگا ۔ اب عذاب سے بچنا ممکن نہ ہوگا کہ وہ سرپر ہوگا ۔
کما۔۔۔ من قبل (34: 54) ” جس طرح ان کے پیش ردہم مشرب محروم کردیئے جائیں گے “۔ یعنی جب ان پر پکڑ آئی تو انہوں نے نجات کی دعا کی لیکن اب نہ دعا کا وقت تھا نہ بھا گنے کی جگہ تھی ۔
انھم۔۔۔ مریب (34: 54) ” یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے “۔ اور اب یقین کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں “۔
اس سورة کا خاتمہ اس شدید ضرب پر ہوتا ہے ۔ اور یہ منظر قیامت ، قیام قیامت کو عملاً ثابت کردیتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت برپا ہوگئی ! یہی مضمون تھا اس سورة کا ۔ آغاز بھی قیامت کے قیام اور انتہا بھی احوال قیامت پر ۔
سبأ 34:53
اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔
فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔
واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔
اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت دور نکل گیا ہے ۔ بہت دور جا چکا ہے ۔ یہ ان اسے پکڑ نہیں سکتے ۔
التناوش من مکان بعید (34: 52) اب ان کی سعی طرح ہے جس طرح کوئی کسی چیز کو دور سے پکڑ نا چاہے ، مگر نہ پکڑ سکے ۔ ایمان تو دور دنیا میں رہ گیا ہے ۔ انہوں نے موقع ضائع کردیا۔
وقدکفر وابہ من قبل (34: 53) ” اس سے پہلے انہوں نے ایمان سے انکار کردیا “۔ اب یہاں تو معاملہ ختم ہے ، مہلت ختم ، اب سعی لا حاصل ہے ۔
ویقذ فون بالغیب من مکان بعید (34: 53) ” یہ دور سے غائب نشانے پر پھینکتے تھے “۔ اس وقت انہوں نے انکار ہی کر دیا تھا کہ قیامت نہیں ہے حالانکہ وہ مستقبل کے پر دوں میں اسے کسی طرح دیکھ سکتے تھے کہ نہیں ہے ۔ اس طرح وہ دور نامعلوم نشانے پر بمباری کررہے تھے ۔ اور اب ایمان لانے کی سعی کررہے ہیں جبکہ وہ دور نکل گیا ہے ۔
وحیل ۔۔۔ یشتھون (34: 54) ” اس وقت جس چیز کی یہ تمنا کررہے ہوں گے ۔ اس سے وہ محروم کردیئے جائیں گے “۔ اب یہ ایمان سے محروم ہوں گے کیونکہ وہ بعدازوقت ہوگا ۔ اب عذاب سے بچنا ممکن نہ ہوگا کہ وہ سرپر ہوگا ۔
کما۔۔۔ من قبل (34: 54) ” جس طرح ان کے پیش ردہم مشرب محروم کردیئے جائیں گے “۔ یعنی جب ان پر پکڑ آئی تو انہوں نے نجات کی دعا کی لیکن اب نہ دعا کا وقت تھا نہ بھا گنے کی جگہ تھی ۔
انھم۔۔۔ مریب (34: 54) ” یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے “۔ اور اب یقین کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں “۔
اس سورة کا خاتمہ اس شدید ضرب پر ہوتا ہے ۔ اور یہ منظر قیامت ، قیام قیامت کو عملاً ثابت کردیتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت برپا ہوگئی ! یہی مضمون تھا اس سورة کا ۔ آغاز بھی قیامت کے قیام اور انتہا بھی احوال قیامت پر ۔
سبأ 34:54
اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔
فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔
واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔
اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت دور نکل گیا ہے ۔ بہت دور جا چکا ہے ۔ یہ ان اسے پکڑ نہیں سکتے ۔
التناوش من مکان بعید (34: 52) اب ان کی سعی طرح ہے جس طرح کوئی کسی چیز کو دور سے پکڑ نا چاہے ، مگر نہ پکڑ سکے ۔ ایمان تو دور دنیا میں رہ گیا ہے ۔ انہوں نے موقع ضائع کردیا۔
وقدکفر وابہ من قبل (34: 53) ” اس سے پہلے انہوں نے ایمان سے انکار کردیا “۔ اب یہاں تو معاملہ ختم ہے ، مہلت ختم ، اب سعی لا حاصل ہے ۔
ویقذ فون بالغیب من مکان بعید (34: 53) ” یہ دور سے غائب نشانے پر پھینکتے تھے “۔ اس وقت انہوں نے انکار ہی کر دیا تھا کہ قیامت نہیں ہے حالانکہ وہ مستقبل کے پر دوں میں اسے کسی طرح دیکھ سکتے تھے کہ نہیں ہے ۔ اس طرح وہ دور نامعلوم نشانے پر بمباری کررہے تھے ۔ اور اب ایمان لانے کی سعی کررہے ہیں جبکہ وہ دور نکل گیا ہے ۔
وحیل ۔۔۔ یشتھون (34: 54) ” اس وقت جس چیز کی یہ تمنا کررہے ہوں گے ۔ اس سے وہ محروم کردیئے جائیں گے “۔ اب یہ ایمان سے محروم ہوں گے کیونکہ وہ بعدازوقت ہوگا ۔ اب عذاب سے بچنا ممکن نہ ہوگا کہ وہ سرپر ہوگا ۔
کما۔۔۔ من قبل (34: 54) ” جس طرح ان کے پیش ردہم مشرب محروم کردیئے جائیں گے “۔ یعنی جب ان پر پکڑ آئی تو انہوں نے نجات کی دعا کی لیکن اب نہ دعا کا وقت تھا نہ بھا گنے کی جگہ تھی ۔
انھم۔۔۔ مریب (34: 54) ” یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے “۔ اور اب یقین کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں “۔
اس سورة کا خاتمہ اس شدید ضرب پر ہوتا ہے ۔ اور یہ منظر قیامت ، قیام قیامت کو عملاً ثابت کردیتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت برپا ہوگئی ! یہی مضمون تھا اس سورة کا ۔ آغاز بھی قیامت کے قیام اور انتہا بھی احوال قیامت پر ۔
فاطر 35:1
درس نمبر 199 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا۔۔ 3
﷽
الحمدللہ فاطر السمٰوٰت ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل شیء قدیر (1) “۔ سورة کا آغاز حمد باری سے ہو رہا ہے ۔ اس پوری سورة کا مضمون یہ ہے کہ انسانی دل کو اللہ کی طرف متوجہ کیا جائے ۔ اللہ کی نعمتوں کو دیکھا جائے ، اللہ کی رحمتوں کا شعور زندہ کیا جائے اور انسان کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ اپنی مخلوقات میں اللہ نے کیا کیا عجائبات پیدا لیے ہیں ۔ انسانی احساس کو ان عجائنات کے شعور سے بھر دیا جائے اور نتیجہ انسان اللہ کی حمد وثنا میں رطب اللسان ہو۔
سب حمد اللہ کے لیے ہے ۔
الحمدللہ (35: 1) ” سب تعریف اللہ کے لیے ہے “۔ اور اس کے بعد اللہ کی وہ صفت بیان ہورہی ہے جو خلق اور ایجاد پر دلالت کرتی ہے ۔
فاطرالسموت والارض (35: 1) ” جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے “۔ وہ ان عظیم اور ہولناک مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے جنہیں ہم اپنے اوپر نیچے دیکھ رہے ہیں ۔ جہاں بھی ہم ہوں اور ان میں سے نہایت ہی چھوٹے اجسام اور ہم سے قریب ترین اجسام کے بارے میں ہم کچھ معلومات رکھتے ہیں ۔ ان تمام اجسام کو ایک ہی قانون قدرت کنٹرول کرتا ہے ، نہایت ہی تناسب اور توافق کے ساتھ ۔ یہ سب چیزیں چلتی ہیں اور ان کا تصور بھی ہم اپنے ذہن پر بہت بڑا بوجھ ڈال کر ، کرسکتے ہیں۔ یہ تمام اجسام اپنی عظمت اور خوفناکی کے ساتھ ساتھ ایک ایسے دقیق اور پیچیدہ تناسب کے ساتھ اپنے مدارات میں ایک ہی رخ پر چلتے ہیں کہ اگر اس تناسب میں بالفعل ایک معمولی فرق آجائے تو یہ تمام عظیم اجسام ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراکر پاش پاش ہوجائیں اور قیامت برپا ہوجائے اور سب کے سب روٹی کے گالوں کی طرح بکھر جائیں ۔
قرآن کریم اسی عظیم تخلیق سماوات کی طرف باربار اشارہ کرتا ہے اور ہم اس پر سے یو نہی گزر جاتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ہم اس کے سامنے رک کر قدرت تامل اور تدبر کریں ۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ یہ کہ ہمارا احساس جمود اختیار کر گیا ہے ۔ ہماری عقل وخرد کے تار زنگ آلود ہوگئے ہیں اور ان پر قرآن کو یم کے منصراب کی اس قدر سخت ضربات بھی کارگر نہیں ہیں اور ان ضربات کے باوجود ان سے کوئی نغمہ نہیں نکلتا۔ وہ سرودجو کبھی اللہ کے لیے جڑے ہوئے دلوں سے نکلتا تھا ، جو اللہ کو یاد کرتے تھے اور اللہ کی قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے ۔ اس کی وجہ یہ ہے اور یہ بڑی وجہ ہے کہ اس عظیم کائنات کو ہم دیکھتے دیکھتے اس کے اس قدر عادی بن گئے ہیں کہ اس کے عجائبات ہمیں عجائبات ہی نہیں لگتے ۔ ان کو بےمثال حسن ہمیں متاثر ہی نہیں کرتا اور ان کی نہایت ہی پیچیدہ ٹیکنا لوجی ہمیں ششدر نہیں کرتی ۔ اگر ہم ان پر ایسی نظر ڈالیں جس طرح کوئی انہیں پہلی مرتبہ دیکھتا ہے اور بہت ہی حیران ہوجاتا ہے ۔
یاد رہے کہ کھلے دل ، اللہ کے ساتھ جڑے ہوئے دل کے لیے آسمان میں ، ستاروں کے مواقع دمدار ات پر غور اور تد بر کرنے کے لیے ، ان کے حجم اور عظمت کو دیکھنے کے لیے ، اور ان کے ماحول کے مطالعے کے لیے ، بعض کا دوسرے کے ساتھ تعلق اور کشش کے معلوم کرنے کے لیے ۔ اور ہر ایک کے حجم ، ہر ایک کی حرکت اور ہر ایک کی حالات معلوم کرنے کے لیے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں ہے ، جو دل اللہ سے جڑا ہوا ہو ، اس کے لیے کسی بڑے اور گہرے علم کی ضرورت نہیں ہے ۔ معمولی توجہ سے اس کائنات کے حسن و جمال کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ یہ مناظر ایک خدا سیدہ شخص کے دماغ کے تاروں کے اندر نغمہ پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں ۔ رات کے وقت ذراصاف ستھری فضا اور صاف موسم میں ان گنت تاروں ہی کو چمکتا ہوا دیکھ لیجئے ! تاریک رات ہو اور موسم صاف ہو اور ہر ستارہ زمین پر ضوپاشی کررہاہو۔ پھر صبح کے وقت ذراسپیدۂ صبح کی نموداری اور سورج کے طلوع ہونے کے منظر کو دیکھئے ۔ اسی طرح پہاڑوں کی اوٹ میں ذدبنے والے سورج اور سرخ شفق ہی کو دیکھئے ۔ پھر اس چھوٹی سی زمین اور اس کے مختلف مواقع اور مناظر کو دیکھئے ۔ ان مناظر کو کوئی سیاح ختم نہیں کرسکتا اور نہ ان کی سیر سے سیر ہوسکتا ہے ۔ بلکہ میں کہوں گا کہ صرف ایک پھول ہی کو دیکھئے ۔ اس کا رنگ اور اس کی پتیاں اور اس کی تشکیل اور رنگوں کی تنظیم سبحان اللہ احسن الخالقین ۔
قرآن کریم ان امور کی طرف جابجا اشارات کرتا ہے ۔ بڑے بڑے مناظر کی طرف بھی اور چھوٹے چھوٹے پیش پا افتادہ مناظر کی طرف بھی ۔ اگر کوئی زندہ دل ان میں سے ایک کی طرف بھی اشارہ کر دے تو زندہ دبیدار مغز انسان کی ہدایت کے لیے صرف ایک ہی چیز یا ایک ہی پھول کا مطالعہ کا فی ہے اور کسی ایک چیز کے اندر موجود عجائبات پر بھی انسان اللہ کی حمد وثنا کا حق ادا نہیں کرسکتا ۔
الحمداللہ ۔۔۔۔ وربع (35: 1) ” تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا اور فرشتوں کو پیغام رساں مقرر کرنے والا ہے ، جن کے دودو ، تین تین ، اور چارچار بازو ہیں “۔ اس سورة میں موضوع سخن رسولوں ، وحی الٰہی اور نزول وحی ہے ، فرشتوں کا اس کے اندر بہت اہم کردار ہے کیونکہ یہ فرشتے ہی آسمانوں سے وحی لے کر مختار رسولوں کے پاس آیا کرتے ہیں اور یہ پیظام رسانی جو اللہ سے رسولسوں کے پاس آتی ہے ، نہایت ہی اہم اور نہایت ہی بھاری کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم تخلیقات کے بعد فرشتوں کی تخلیق کا خصوصی ذکر ہوا کیونکہ یہ فرشتے ہی زمین اور آسمان کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہیں۔ وہی رابطہ ہوتے ہیں خالق سماوات وارض اور اللہ کے مختار بندوں یعنی رسولوں کے درمیان اور یہ پیغام رسانی اور ذریعہ ربط اس کائنات کا اہم کام فریضہ رسالت کے بارے میں ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں آغاز سے یہاں تک فرشتوں کا ذکر ہوتا رہا ہے لیکن فرشتوں کی شکل و صورت کے بارے میں پہلی مرتبہ بتایا گیا ہے ۔ اس سے قبل فرشتوں کی طبیعت اور ان کے فریضہ منصبی کی بات ہوتی رہی ہے مثلاً
ومن عندہ لا ۔۔۔۔۔ لا یفترون (انبیاء : 19- 20) ” اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں۔ نہ ملول ہوتے ہیں۔ شب و روز تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ دم نہیں لیتے “۔ دوسری جگہ ہے۔
ان الذین عند ۔۔۔۔۔ ولہ یسجدون (7: 206) ” جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آکر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے۔ اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں “۔ (7: 206) یہاں ایک نیہ بات یہ کہی گئی ہے کہ ان کی تخلیقی صورت کیا ہے کہ ” جن کے دو دو ، تین تین اور چار چار بازو ہیں “۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے ، نہ اس کا ہم کوئی تصور کرسکتے ہیں کہ ان کے بازو اور پر کیسے ہیں۔ ہمیں بس چاہئے اور ہم یہی کرسکتے ہیں کہ بس اجمالاً ایمان لائیں کہ ان کے پر ایسے ہوں گے۔ اس بارے میں کوئی متعین تصور ہم نہیں کرسکتے کیونکہ ہم جو اندازہ بھی کریں گے اس میں غلطی ہوگی جبکہ ان کی شکل کے بارے میں تفصیلات ہمیں احادیث صحیحہ سے بھی نہیں ملتیں۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ ان کی ایک اور صفت آئی ہے اور وہ یہ ہے۔
علیھا ملئکۃ ۔۔۔۔ ما یومرون (66: 6) ” جن پر نہایت تندخو اور سخت گیر فرشتے ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں “۔ اس میں بھی فرشتوں کی شکل کو متعین نہیں کیا گیا۔ احادیث میں جو کچھ آتا ہے وہ یہ ہی ہے کہ رسول اللہ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دو مرتبہ اپنی اصل شکل میں دیکھا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ اس کے چھو سو پر تھے اس سے بھی ان کی شکل وہیبت کا تعین نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ معاملہ بھی علوم غیبیہ میں سے ایک ہے۔
ان کے دو دو یا تین تین یا چار چار پر ہیں اور انسانوں نے صرف پرندوں کے پر دیکھے ہیں۔ اس لیے اللہ فرماتے ہیں۔
یزید فی الخلق ما یشآء (35: 1) ” وہ اپنی مخلوق کی ساخت میں جیسا چاہتا ہے ، اضافہ کرتا ہے “۔ یوں اللہ کی مشیت بےقید ہے اور وہ خود اپنی بنائی ہوئی اشکال کا پابند نہیں ہے۔ اس کی مخلوقات میں ہم دیکھتے ہیں کہ لاتعداد شکلیں ہیں اور لاتعداد شکلیں ایسی ہیں جو ابھی تک ہمارے علم ہی سے باہر ہیں۔
ان اللہ علی کل شئ قدیر (35: 1) ” اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ یہ تبصرہ نہایت وسیع ہے اور زیادہ جامع ہے “۔ لہٰذا کسی صورت کے تعین کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی تمام شکلیں اللہ کی قدرت کے دائرے کے اندر آتی ہیں۔ ہر قدم کا تغیر و تبدل اللہ کی قدرت کے تحت ہوتا ہے۔
فاطر 35:2
ما یفتح اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (2) ” “۔
اس سورة کی اس دوسری آیت میں اللہ کی قدرتوں کا ایک رنگ دکھایا گیا ہے جبکہ پہلی آیت میں اللہ کی قدرت کا ذکر تھا۔ جب یہ رنگ کسی انسان کے تصور اور عمل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے تصورات ، اس کا شعور ، اس کا رخ ، اس کے حسن و قبح کے پیمانے بھی اس رنگ میں رنگے جاتے ہیں اور اسکی پوری زندگی اس رنگ میں رنگی جاتی ہے۔
یوں کہ یہ رنگ انسان کو اس کائنات کی پوری قوتوں سے کاٹ کر اللہ کی قوت سے جوڑ دیتا ہے۔ اسے زمین و آسمان کی تمام مشکوک رحمتوں سے مایوس کردیتا ہے۔ صرف اللہ کی رحمت سے جو ڑتا ہے اور اس کے امیدوار بنا دیتا ہے۔ زمین و آسمان کے تمام دروازے بند کرکے صرف اللہ کا دروازہ کھلا چھوڑتا ہے اور اس کے سامنے زمین و آسمان کے تمام راستے بند کرکے صرف اللہ کا دروازہ کھلا چھوڑتا ہے۔ اس کے سامنے زمین و آسمانوں کے تمام راستے بند کرکے صرف اللہ کا راستہ کھلا چھوڑتا ہے۔
اللہ کی رحمت کے مظاہر متعدد ہوتے ہیں ، لا تعداد ہوتے ہیں۔ اللہ نے انسانوں کی جس انداز سے تخلیق کی ، اس کی نفس
کے اندر جو ممتاز قوتیں ودیعت کیں اور اپنی مخلوق میں سے جس طرح اسے مکرم بنایا صرف ان رحمتوں کو اگر انسان قلم بند کرنا چاہئے تو وہ انتہاؤں تک نہیں پہنچ سکتا۔ جس طرح اللہ نے انسان کے لیے اس کے ماحول کو سازگار بنایا ہے۔ اس کے اردگرد ، اس کے اوپر نیچے ہر چیز کو اس کے لیے مسخر کیا ہے اور اس کے اوپر جو انعامات کیے ہیں جنہیں وہ جانتا ہے اور وہ انعامات جنہیں وہ نہیں چاہتا ، یہ انعامات بیشمار ہیں ، ان گنت ہیں۔
اللہ کی رحمت ان چیزوں میں بھی موجود ہے جو ممنوع ہیں۔ ان میں بھی موجود ہے ، جن کی اجازت ہے اور جس شخص پر اللہ کی رحمتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے ، اسے یہ رحمت ہر چیز میں نظر آتی ہے۔ ہر حال ، ہر ماحول ، اور ہر جگہ نظر آتی ہے۔ اس کے شعور میں ، اس کے ماحول میں جہاں بھی وہ ہو ، جیسا بھی ہو ، اگرچہ انسان ان تمام نعمتوں سے محروم ہوجائے جنہیں لوگ محرومیت سمجھتے ہیں۔ اس رحمت سے اپنی آپ کو وہ ہر شخص محروم پاتا ہے جس پر اللہ اس کا دروازہ ہر چیز میں بند کردیتا ہے۔ ایسا شخص پھر ہر حال میں ، ہر صورت میں اور ہر جگہ محروم ہی ہوتا ہے اگرچہ اس کے پاس بظاہر وہ سازوسامان موجود ہوں جس کو لوگ خوشحالی تصور کرتے ہیں۔ دنیا کے بیشمار سازوسامان ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ اللہ کی رحمت شامل نہیں ہوتی ، وہ عذاب الٰہی بن جاتے ہیں اور کئی ایسی مشکلات ہوتی ہیں جن کے ساتھ اللہ کی رحمت شامل ہوتی ہے۔ یہ مشکلات بذات خود رحمت بن جاتی ہیں۔ بعض اوقات انسان کانٹوں پر سوتا ہے مگر اس پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ یہ کانٹے اس کے لیے نرم بچھونا ہوجاتے ہیں ۔ بعض اوقات نرم و نازک بستر انسان کے لیے کانٹے بن جاتے ہیں اور بہت ہی اذیت کا باعث ہوتے ہیں۔ انسان مشکل ترین کام کر رہا ہوتا ہے اور وہ اس کے لیے اللہ کی رحمت ہوتے ہی پر تعیش زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ اس کے لیے مصیبت ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ ایک خوفناک صورت حالات میں گھس جاتا ہے اور وہ اس کے لیے امن ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ مشکلات کے بغیر مراحل عبور کرلیتا ہے اور وہ اس کے لیے ہلاکت کا باعث بن جاتے ہیں۔
اللہ کی رحمت کے ساتھ کوئی تنگی ، تنگی نہیں رہتی۔ اگرچہ کوئی جیل کی تاریکیوں میں ہو ، یا ہلاکت کی دیواروں میں یا سخت مصائب میں ہو ، بلکہ اللہ کی رحمت کے سوا تمام کشادگیاں تنگی ہوتی ہیں۔ اگرچہ کوئی نعمتوں اور سہولتوں میں زندگی بسر کر رہا ہو۔ خوشحال ہو ، اسے زندگی کی تمام سہولیات حاصل ہوں۔ جب انسان اللہ کی رحمت کی وجہ سے قلبی طمانیت کا مقام حاصل کرلیتا ہے تو اس کے اندر سے نیک بختی ، رضا مندی اور اطمینان کے سرچشمے پھوٹنے لگتے ہیں اور یوں نفس کے اندر قلق ، تھکاوٹ ، واماندگی اور محنت و مشقت کی تکلیف وہ نیش زیناں ختم ہونا شروع ہوجاتی ہیں اگرچہ وہ نفس کے اندر جمی ہوئی ہوں۔
اللہ کی رحمت کی کنجی تمام دروازوں کے لیے ماسٹر چابی ہے۔ اس سے تمام دروازے کھل جاتے ہیں ، اس سے تمام چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں بند ہوجاتی ہیں اور تمام غلط راہیں مسدود ہوجاتی ہیں ، انسان بےفکر ہوجاتا ہے ، اللہ کی رحمت کا دروازہ کھل جانے سے پھر وسعتیں ، کشادگیاں اور آرام و سکون حاصل ہوجاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا دروازہ ہے کہ اس کے کھل جانے سے تمام نفع بخش دروازے اور راستے کھل جاتے ہیں اور تمام غیر نفع بخش دروازے بند ہوجاتے ہیں اور جب یہ دروازہ بند ہوجائے تو تمام ایسے دروازے ، کھڑکیاں اور راستے کھل جاتے ہیں جو نفع بخش نہیں ہوتے اور انسان تنگی ، کرب ، سختی ، بےچینی اور داماندگی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
بعض اوقات اللہ کا یہ فیض انسان کو ڈھانپ لیتا ہے ، پھر اگر زندگی تنگ ہو یا مالی حالت اچھی نہ ہو ، رہنے اور سہنے کے حالات خراب ہوں تو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ یہ فیض رحمت ہی دوام ، راحت ، سعادت ہے۔ اور جب اس رحمت کا دروازہ بند ہوتا ہے اور دوسری جانب سے رزق کشادہ ہوتا ہے اور ہر سامان کی آمد آمد ہوتی ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اسے سے تنگی ، حرج اور شقاوت و بدبختی حاصل ہوتی ہے۔ مال و دولت ، صحت و قوت ، شان و شوکت بھی بسا اوقات رنج الم اور تھکاوٹ اور مشقت کا باعث ہوتے ہیں۔ اگر دست قدرت اپنا فضل و رحمت کھینچ لے۔
بعض اوقات اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور متاع حسن اور دنیا کے سازو سامان کو جمع کردیا ۔ پھر کیا ہوتا ہے ہر طرف آرام اور سکون ہوتا ہے۔ دنیا میں عیش و عشرت اور آخرت کے لیے پوری تیاری ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے خلاف پھر دنیا پرستوں کے دل میں حسد اور کینہ برپا ہوتا ہے لیکن مال و دولت کے ساتھ ایک شخص کو اگر بخل دے دیا جائے تو وہ محروم ہوجاتا ہے یا مال و دولت کے ساتھ بیماری بھی دے دی جائے تو بھی وہ دنیا کے انعامات سے محروم ہوجاتا ہے اور بعح اوقات مالدار سرکش ہوجاتا ہے اور اس کا مال تلف بھی ہوجاتا ہے۔
بعض اوقات اللہ کسی بو اولاد دیتا ہے اور اس اولاد کے ساتھ رحمت خداوندی بھی شامل ہوتی ہے ۔ پھر یہ اولاد زینت حیات بن جاتی ہے۔ خوشی اوسعادت کا باعث بن جاتی ہے اور آخرت میں ، مزید اجر کا باعث بنتی ہے۔ وہ اس شخص کے لیے نیک اور اچھے جانشین بن جاتے ہیں اور اسی اولاد کے ساتھ اگر رحمت خداوندی نہ ہو تو یہی میٹھی اولاد زحمت بن جاتی ہے ، بلائے جان ہوتی ہے ، باعث بدبختی اور پریشانی ہوتی ہے۔ راتوں کی نیند حرام کردیتی ہے اور دن کا آرام غارت کردیتی ہے۔ اللہ انسان کو صحت اور قوت دیتا ہے۔ اب اگر اس صحت اور قوت کے ساتھ رحمت خداوندی بھی ہو تو یہ نعمت ہوتی ہے۔ زندگی اچھی طرح بسر ہوتی ہے۔ زندگی کی لذتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر اس صحت و قوت کے ساتھ رحمت خداوندی شامل نہ ہو تو یہ صحت اور یہ قوت بلائے جان بن جاتی ہے۔ اور ایک صحیح اور قوی شخص مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی صحت اور اپنی قوت کو ان کاموں میں کھپا دیتا ہے جو خود اس کی صحت اور قوت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی روح اور اس کے اخلاق کی تباہی کے ساتھ ساتھ اس کی آخرت بھی تباہ ہوجاتی ہے۔
بعض لوگوں کو اللہ مرتبہ اور مقام دیتا ہے اور اس کی رحمت ایسے لوگوں کے شامل حال ہوتی ہے ۔ یہ مرتبہ و مقام اصلاح کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ ملک میں امن قائم ہوجاتا ہے اور یہ مرتبہ و جاہ اس بات کا ذریعہ بن جاتے ہیں کہ انسان اپنے پیچھے اچھے اعمال اور اچھے آثار چھوڑے جو آخرت کا بہترین ذخیرہ ہوں ۔ اگر اللہ کی رحمت اقتدار اور جاہ کے ساتھ شامل نہ ہو تو وہ شخص بےچین رہتا ہے۔ لوگوں پر ظلم کرتا ہے ۔ حد دے تجاوز کرتا اور سرکشی اختیار کرتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ نہایت بغض اور کینہ رکھتا ہے۔ یہ جاہ و اقتدار ہی ایسے لوگوں کے لیے عداوت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور ایسا شخص پھر ایسے کام کرتا ہے کہ اپنے لیے آخرت میں آگ کا ایک بہت بڑا سرمایہ جمع کرلیتا ہے۔
گہرا علم اور طویل عمر اور جاہ و مرتبہ بدلتے رہتے ہیں۔ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ علم و معرفت کسی کے لیے مفید ہوتے ہیں اور کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ طویل عمر باعث برکت ہو۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ قلیل عمر ہی برکت کا باعث ہوتی ہے اور نہایت ہی قلیل مال و دولت بڑی سعادت مندی کا ذریعہ ہوجاتا ہے۔
جماعت بھی ایک فرد کی طرح ہوتی ہے اور ملت بھی ایک فرد ہے۔ ہر حال اور ہر صورت میں اور مثالوں پر غور کرنے سے کوئی نتیجہ نکالنا مشکل کام نہیں ہے۔ اللہ کی رحمت کی علامت یہ ہے کہ انسان اللہ کی رحمت کو محسوس کرے۔ اس طرح اللہ کی رحمت پھر انسان کو سینے سے لگا لیتی ہے اور رحمر الٰہی کی بارش ہوجاتی ہے۔ فیوض و برکات نازل ہوتے ہیں۔ لیکن کسی کا یہ شعور کہ اس پر اللہ کی رحمت ہے ، سب سے بڑی رحمت یہی ہے ۔ کسی انسان کا صرف اللہ سے امیدوار ہونا ، اسی پر بھروسہ کرنا رحمت ہے۔ ہر معاملے میں اللہ سے امیدیں وابستہ کرنا اور اللہ پر اعتماد کرنا ہی رحمت ہے۔ اور حقیقی عذاب یہ ہے کہ انسان اس سے چھپ جائے۔ اس سے مایوس ہوجائے اور اس میں شک کرے۔ یہ ایک ایسا عذاب ہے جو کسی مومن کے کبھی قریب ہی نہیں جاتا۔
انہ لا بیئس ۔۔۔۔۔ الکفرون ” اس میں شک نہیں ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف کافر ہوا کرتے ہیں “۔
اللہ کی رحمت کا اگر کوئی طالب ہو تو وہ ہر کسی کو ہر جگہ مل جاتی ہے۔ کسی کے لیے ناپید نہیں ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے آگ میں پایا۔ یونس (علیہ السلام) نے اسے مچھلی کے پیٹ کے اندھیروں میں پایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے سمندر کی لہروں میں پایا جبکہ وہ طفل ناتواں تھے۔ پھر انہوں نے اسے فرعون کے محل میں پایا جبکہ وہ ان کا دشمن ہوگیا اور اس کی تلاش میں نکل گیا۔ اصحاب کہف نے اسے غار میں پایا جبکہ محلات اور شہروں میں وہ اس سے محروم رہے جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔
فاوا الی الکھف ینشرلکم ربکم من رحمتہ (18: 16) ” غار میں پناہ لے لو ، تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت کی چادر بچھا دے گا “۔ رسول اللہ ﷺ اور ان کے رفیق نے اسے غار میں پایا جبکہ کفار ان لوگوں کا تعاقب کر رہے تھے۔ اور ان کے قدموں کے نشانات کو تلاش کرکے غار کے دھانے تک پہنچ گئے تھے۔ یہ رحمت ہر اس شخص کو ملتی ہے جو تمام دوسرے ذرائع سے مایوس ہوجائے اور اسے بالکل یہ امید نہ رہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور قوت بھی بچانے والی ہے اور وہ پوری طرح یقین کرتا ہے کہ اب اللہ کی رحمت ہی بچانے والی ہے اور تمام دروازوں کو چھوڑ کر وہ اللہ کے در پر سوالی ہوگیا ہو۔
پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر اللہ اپنی رحمت کا دروازہ کسی پر کھول دے تو اس کا بند کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اور جب اللہ اپنی رحمت کے دروازے کسی پر بند کر دے تو کوئی کھولنے والا نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایک سچے مومن کے دل میں کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔ کسی سے کچھ امید نہیں رہتی۔ کسی چیز کے چلے جانے کا خوف نہیں رہتا اور کسی چیز کی امید نہیں رہتی کسی ذریعے کے فوت ہونے کا ڈر نہیں ہوتا اور کسی وسیلے کی موجودگی کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ اللہ کی مطلق مشیت ہی اصل فیکٹر ہے۔ لہٰذا اللہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو کوئی بند کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ بند کر دے تو کوئی کھولنے والا نہیں ہے۔ معاملہ براہ راست اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے۔ وہ ایسے اندازے اور تقدیر مقرر کرتا ہے کہ کسی کو روکنے یا عطا کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں رہتا۔ اللہ کی عطا اور اللہ کا روک لینا اس کی اپنی رحمت کے مطابق ہوتا ہے۔ بلکہ اس کی اپنی حکمتوں کے مطابق ہوتا ہے اور اللہ کے ہر کام کے پیچھے ایک حکمت کام کر رہی ہوتی ہے۔
ما یفتح اللہ ۔۔۔۔۔ ممسک لھا ” اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا ہی نہیں ہے “۔ اللہ کی رحمت اور لوگوں کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں۔ لوگ براہ راست اللہ سے براہ راست طلب کرسکتے ہیں۔ وہ بلا وسیلہ طلب کرسکتے ہیں۔ صرف بندے کی طرف سے توجہ ، اطاعت ، امید ، بھروسے اور سر اطاعت ختم کردینے کی ضرورت ہے
وما یمسک فلا مرسل لہ من بعدہ ” اور جسے وہ بند کر دے اسے پھر اللہ کے سوا کوئی کھولنے والا نہیں ہے “۔ یہ آیت انسانی ضمیر کو انتہائی قرار و سکون اور انسانی شعور اور تصور کو نہایت ہی نمایاں کرتی اور انسانی اقدار اور پیمانوں کو اونچا معیار عطا کرتی ہے۔ انسانی شخصیت کو وقار اور اطمینان ملتا ہے۔ یہ ایک مختصر آیت ہے لیکن زندگی کے لیے بالکل ایک نیا نقشہ تیار کرتی ہے۔ انسانی تصور اور شعور کو نہایت مستحکم قدریں عطا کرتی ہیں۔ ایسی قدریں جن میں نہ تزلزل ہے ، نہ جھکاؤ اور نہ وہ وقتی باتوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ یہ اثرانداز ہونے والے فیکٹر آئیں یا جائیں ، بڑے ہوں یا چھوٹے ہوں ، عظیم ہوں یا چھوٹے ہوں ، ان کا مبدا لوگ ہوں یا واقعات ہوں ، یا اشیاء ہوں۔ ان سے یہ قدریں متاثر نہیں ہوتیں۔
یہ زندگی کی ایک صورت ہے اگر یہ عقیدہ انسانی زندگی میں بیٹھ جائے تو وہ واقعات ، اشیاء ، افراد ، بڑی بڑی قوتوں ، اقدار اور حالات کے سامنے پہاڑ کی طرح سینہ سپر ہو کر کھڑا ہوجائے۔ اگرچہ اس پر جن و انس باہم مل کر ، سب کے سب ٹوٹ پڑیں۔ یہ تمام جن و انس نہ اللہ کی رحمت کے دروازے کو بند کرسکتے اور نہ اگر بند ہوں تو کھول سکتے ہیں۔ صرف اللہ ہی العزیز اور الحکیم ہے۔
اسلام کے آغاز میں اسلام اور قرآن نے انسانوں کا ایک ایسا ہی گروہ پیدا کردیا تھا۔ یہ ایسا گروہ تھا کہ اللہ نے خود اپنی نگرانی میں اس قرآن کے ذریعہ پیدا کردیا تھا ، تاکہ یہ گروہ قدرت الہیہ کے لیے دست قدرت ہو۔ یہ گروہ اس زمین کے اندر وہ عقائد و تصورات تخلیق کرے جنہیں اللہ چاہتا تھا۔ وہ قدریں عطا کرے جن کو اللہ کھڑا کرنا چاہتا تھا۔ وہ حالات اور صورت حالات پیدا کر دے جو اللہ چاہتا تھا اور دنیا کے اندر ایک ایسی زندگی ، عملی زندگی قائم کرکے چلا جائے جس کے بارے میں آج جب ہم پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں افسانہ اور قصے نظر آتے ہیں۔ وہ گروہ جو اللہ کی تقدیر تھا ، اسے اللہ جس پر چاہتا تھا ، مسلط کردیتا تھا۔ اس کے ذریعہ اللہ نے کچھ کو اقوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا اور کچھ کو قائم کردیا۔ جنہیں اللہ مٹانا چاہتا تھا یا جنہیں اللہ کھڑا کرنا چاہتا تھا۔ یہ اس لیے کہ یہ یہ گروہ اس قرآن کے الفاظ ہی کے ساتھ معاملہ نہ کرتا تھا ، نہ خوبصورت نطریات و تصورات ہی سے بحث کرتا تھا بلکہ اس نے قرآن کو اپنی زندگیوں کے اندر عملاً قائم کردیا تھا اور وہ گروہ قرآن کی دنیا میں زندہ رہتا تھا۔
وہی قرآن لوگوں کے پاس موجود ہے۔ یہ قرآن اب بھی ایسے گروہ پیدا کرسکتا ہے جو دنیا سے اقوام کو مٹا دیں اور دوسری
اقوام کو اٹھا دیں۔ لیکن یہ تب ہوگا کہ قرآنی تصورات کسی گروہ کی زندگی میں ٹھوس شکل میں ، عملی شکل میں بیٹھ جائیں ، رائج ہوجائیں اور قرآن کسی گروہ کی زندگی میں چلتا پھرتا نظر آئے ۔ اسے لوگ آنکھوں سے دیکھ سکیں اور ہاتھوں سے چھو سکیں۔
اب میں اس طرح آتا ہوں کہ اس مختصر آیت کے ذریعے میں نے معلوم کرلیا ہے کہ اللہ کی مجھ پر خاص رحمت ہے۔ میں نے جب اس آیت کا سامنا کیا تو میں روحانی لحاظ سے نہایت ہی خشک ، فکری لحاظ سے بہت تنگ ، نفسیاتی لحاظ سے بہت ہی پریشان ، جسمانی اور سازوسامان کے لحاظ سے مشکل حالات میں تھاما۔ ایسے سخت اور شدید حالات میں ، میں نے اس آیت کا مطالعہ کیا۔ اللہ نے مجھے اس آیت کی حقیقت تک پہنچا دیا۔ یہ حقیقت میری روح میں انڈیل دی گئی۔ گویا وہ ایک شراب طہور ہے جو میرے جسم کی رگ رگ میں سرایت کر رہی ہے اور میں اسے محسوس کر رہا ہوں۔ یہ حقیقت ہے جس کا میں ادراک کر رہا ہوں۔ محض تصور نہیں ہے۔ یہ حقیقت بذات خود میرے لیے رحمت ہے اور یہ آیت میرے سامنے خود اپنی تفسیر بیان کر رہی ہے۔ یہ ایک واقعی اور عملی تفسیر تھی۔ جس طرح اس آیت کے اسرار و رموز میرے سامنے کھلے اسی طرح اللہ کی رحمت کے دروازے بھی میرے سامنے کھلے۔ اس سے قبل میں اس آیت کو پڑھتا رہا اور اس آیت کے پاس سے اس سے قبل میں بارہا گزرا ہوں لیکن آج یہ آیت مجھ پر رحمت کا فیضان کر رہی ہے۔ میں اس کے معانی اور مفہومات سے سیراب ہو رہا ہوں۔ میں اس آیت کی حقیقت کو صاف صاف دیکھ رہا ہوں۔ یہ آیت مجھے پکار رہی ہے کہ آئیے میں ادھر ہوں۔ میں اللہ کی رحمت ہوں ، جس کا دروازہ کبھی کبھی کھلتا ہے۔ ذرا دیکھئے اللہ کی رحمت کے کرشمے۔
غور کیجئے میرے ماحول کی کوئی چیز نہیں بدلی لیکن میرے احساس نے اب ہر چیز کو ایک نیا رنگ دے دیا ہے۔ یہ ایک نہایت عظیم رحمت ہے جو کسی پر ہوجاتی ہے۔ اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ جس طرح اس آیت کے خزانے مجھ پر کھل گئے۔ یہ ایک نعمت خدواندی ہے اور جب یہ کسی پر آتی ہے تو انسان اسے چکھتا ہے۔ اس کے اندر زندگی بسر کرتا ہے لیکن اس کے لیے اس کا بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح اس احسا کو اور اس ذوق کو قلم بند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ میں ایک عرصہ رحمت خداوندی کے اس فیضان میں زندہ رہا ہوں ، اسے محسوس کرتا رہا ہوں اور اسے پہچانتا رہا ہوں۔ اپنی زندگی کے مشکل ترین حالات میں مجھ پر یہ کیفیت طاری ہوئی ہے۔ اب میری حالت یہ ہے کہ میں کشادگی ، خوشی ، سیرابی ، آزادی اور بےقیدی محسوس کرتا ہوں۔ ہر چیز سے آزادی ، ہر کرب اور ہر رنج سے آزادی محسوس کرتا ہوں اور میں اسی جگہ ہوں ، جہاں تھا۔ یہ اللہ کی رحمت ہی ہے جس کے دروازے مجھ پر کھل گئے ہیں۔ یہ اللہ کا فیض ہی ہے جس کی مجھ پر اس آیت کے ذریعہ بارش ہو رہی ہے۔ یہ آیت ہے ، قرآن کی بس ایک ہی آیت لیکن اس نے تاریک کوٹھڑی میں روشنی کا ایک طاق کھول دیا ہے۔ اس نے میری سیرابی کے لیے خشک جگہ پر ایک چشمہ آب صافی بہا دیا ہے اور میں اب نہایت ہی کھلی شاہراہ پر رضائے الٰہی کی سمت نہایت ہی اطمینان کے ساتھ بڑھ رہا ہوں۔ اور چشم زون میں۔ اذیت کے بجائے میری زندگی راحت میں بدل گئی ہے۔ الحمدللہ ، حمدا کثیرا ” اے پروردگار ، جس نے اس قرآن کو اللہ کی رحمت بنا کر بھیجا مومنین کے لیے رحمت اور شفاء اور ہدایت “۔
مطالعہ کلام الٰہی کے دوران یہ ایک چمک تھی جسے میں نے قلم بند کردیا۔ اب دوبارہ ہم سورة کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ پہلی دو آیات کے اندر جو اشارات تھے وہی تیسری آیت میں بھی ہیں۔ لوگوں پر ان کے حوالے سے اللہ کے انعامات اور رحمتوں کا ذکر ہے۔ اللہ جس کے سوا کوئی الٰہ مالک اور حاکم اور رازق نہیں ہے۔ تعجب انگیز اسلوب سے کہا جاتا ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی یہ لوگ یہ اختیارات اللہ کے سوا کسی اور معبود کو دیتے ہیں۔
فاطر 35:3
یایھا الناس ۔۔۔۔۔ فانی تؤفکون (3) اللہ کی نعمتوں کی تو یاد دہانی کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ اس لیے کہ یہ نعمتیں بہت ہی واضح اور کھلی ہیں ، جو ان کو دیکھتے ہیں ، محسوس کرتے ہیں اور چھوتے ہیں ۔ لیکن وہ بھول جاتے ہیں ۔ ان کو یہ نعمتیں یاد نہیں رہتیں ۔
ذرا اس زمین و آسمان اور انسان کو گھیرے ہوئے اس کائنات پر نگاہ دوڑاۂ ، ہر وقت اللہ کے انعامات انسان پر برسارہی ہے ۔
رزق کے دروازے ان پر کھل گئے ہیں ۔ ہر قدم پر ایک نعمت ہے ۔ ہر خظہ میں ایک نیا فیض ہے ۔ آسمانوں اور زمین سے انسان کے لیے سہولیات چلی آرہی ہیں اور یہ اللہ کی طرف سے آرہی ہیں جو وحدہ خالق و رازق ہے ۔ اللہ کا فیض عام ہے اور یہ کس کی طرف سے ہے ؟ سخت سے سخت شرک بھی یہ نہیں کہہ سکتے ۔
کیا ان فیوض دبرکات اور رحمتوں کا نزدل خالق کائنات اللہ کے سوا کوئی اور کررہا ہے ۔ جب اللہ کے سوا کوئی خالق اور رازق نہیں ہے تو پھر کیوں وہ نصیحت حاصل کرکے شکر الہٰی بجا نہیں لاتے ؟ پھر کیوں وہ اللہ کی حمدوثنا نہیں کرتے اور صرف اسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور بندگی سے منہ موڑتے ہیں ؟ اس کے سوا تو کوئی حاکم نہیں ہے ۔ آخر وہ ایسے خدا پر ایمان لانے سے کیوں منہ موڑتے ہیں جس میں کوئی شک نہیں ہے ۔
فانی توفکون (35: 3) یایھا الناس ” آخر تم کہاں دھوکہ کھا رہے ہو ؟ “ تعجب انگیز بات ہے کہ ایک ایسے واضح حق اور بین سچائی سے عقل مندلوگ منہ موڑیں جو رات اور دن انہیں رزق بھی دے رہا ہے اور پھر اس سے بڑا تعجب خیز امراد اور کیا ہوگا کہ لوگ رب ذوالجلال کا انکار بھی نہیں کرپاتے اور اس کا اعتراف بھی نہیں کرتے ؟
یہ تین ضربات تھیں ، نہایت ہی قوی اور تیز جو عقل وخرد کی تاروں پر لگائی گئیں اور سورة کا آغاز ہوا تاکہ پوری سورة کے زمزمے کو لوگ توجہ سے سنیں ۔ ہر آیت میں انسان کو جو تعلیم دی گئی ہے وہ انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے اور اس کے شعور میں ایک گہری حقیقت کے طور پر بیٹھ جاتی ہے ۔ یہ تینوں ضربات باہم مربوط اور متناسب ہیں اور مختلف سمتوں سے ایک ہی اثر ڈالتی ہیں ۔
فاطر 35:4
درس نمبر 200 ایک نظر میں
پہلا سبق کائنات کے نہایت ہی بنیادی تین حقائق پر تھا ۔ یعنی یہ کہ اس کائنات کا خالق اور موجد اللہ وحدہ ہے ۔ رحمت کا حزانہ اسی کے پاس ہے اور رازق بھی وہی وحدہ ہے ۔ اس دوسرے سبق میں نبی ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ان لوگوں کی تکذیب اور انکار سے پر یشان نہ ہوں ۔ ان کا اور ان کے ردعمل کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں اور لوگوں سے زوردار اور بلند آواز کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ اللہ کا وعدۂ قیامت بر حق ہے اور شیطان سے خبردار رہیں کیو ن کہ اس کا مشن ہی یہ ہے کہ تمہیں ان عظیم حقائق سے بدراہ کرے۔ تمام لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ جو ایمان لائیں گے ان کا صلہ کیا ہوگا اور جو شیطان کے دھوکے میں آجائیں گے ان کا انجام کیا ہوگا۔ آخر میں دوبارہ حضور اکرم ؐ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو پریشان کرکے اپنی جان نہ کھلائیں ۔ ہدایت وضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ لوگوں کی صنعت کا ریوں کے بدلے ان کو ملتی ہو اور اللہ ان کے کارناموں سے واقف ہے ۔
درس نمبر 200 تشریح آیات
4 ۔۔۔ تا۔۔۔ 8
وان یکذبول ۔۔۔۔۔۔ ترجع الامور (4) “۔
یہ عظیم حقائق بالکل واضح ہیں ۔ اگر پھر بھی یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ کیا آپ سے پہلے رسول نہیں آتے رہے ۔
فقد کذبت رسل من قبلک (35: 4) ” تم سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں “۔ تمام امور اللہ کے لیے ہیں اور تمام معاملات کے فیصلے اللہ کی طرف جاتے ہیں۔ تبلیغ وتکذیب تو ایک روٹین کام ہے ۔ یہ اللہ نے اسباب مقرر کیے ہیں ۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے اور انجام کی تدبیر وہ جس طرح چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔ لوگوں کو دوسری آواز یہ دی جاتی ہے کہ خبر دار !
فاطر 35:5
یا یھا الناس ۔۔۔۔۔ مناصحٰب السعیر (5 ۔ 6) ” “۔
اللہ کا وعدہ برحق ہے اور وہ واقع ہونے والا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ جب یہ حق ہے تو حق ہوتا ہی وہ ہے جو واقع ہونے والاہو۔ حق نہ ضائع ہوتا ہے ، نہ باطل ہوتا ہے اور نہ کالعدم ہوتا ہے ، نہ اپنا دھارا اور راستہ بدلتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کو صرف یہ دنیاوی زندگی دھوکہ دیتی ہے ۔
فلا تغرنکم الحیٰوۃ الدنیا (35: 5) ” لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ نہ دے “۔ لیکن شیطان تو رات اور دن لگا ہوا ہے دھوکہ دینے میں ، اس لیے تم کو چاہئے کہ اس سے چوکنے رہو۔
ولا یغرنکم باللہ الغرور (35: 5) ” اور نہ کوئی بڑا دھوکہ بار تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے “۔ شیطان نے اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ وہ تمہارا دشمن ہے اور اسے تمہاری دشمنی پر اصرار بھی ہے ۔
فاطر 35:6
فاتخذوہ عدوا (35: 6) ” لہٰذا تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو “۔ اس کی طرف نہ جھکو ، اسے اپنا ناصح نہ سمجھو ۔ اس
کے نقش قدم پر نہ چلو کیونکہ دشمن ، دشمن کے قدم پر نہیں چلا کرتا۔ اگر وہ عقلمند ہے کیونکہ دشمن انسان کو کبھی بھی بھلائی کی طرف نہیں بلاتا اور نہ دشمن دشمن کی فلاح ونجات چاہتا ہے ۔
انما یدعوا جزبہ لیکوامن اصحب السعیر (35: 6) ” وہ تو اپنے پیردوں کو اپنی راہ پر اس لیے چلا رہا ہوتا ہے کہ وہ دو زخیوں میں شامل ہوجائیں “۔ کیا کوئی عاقل یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ وہ جہنمیوں میں سے ہوجائے ۔
یہ ایک وجدانی احساس ہے ۔ جب انسان اس بات کو ذہن میں رکھ لے کہ اس کے اور شیطان کے درمیان معرکہ جاری ہے تو وہ اپنی پوری قوت مجتمع کرلیتا ہے ۔ وہ ہر وقت بیدار رہتا ہے اور اپنی ذات اور اپنے خیالات کا دفاع کرتا ہے ۔ وہ دشمن کے دھوکے اور گمراہ کن اقدامات سے اپنے آپ کو بچاتا ہے اور وہ ہر وسوسہ اندازی سے بیدار رہتا ہے ۔ ہر نئی بات کو اللہ اور رسول کے پیمانوں سے پیمائش کرتا ہے تاکہ وہ معلوم کرسکے کہ یہ حقیقت ہے یا دھوکہ ہے۔
یہ ایک وجدانی حالت ہے جسے قرآن ہر ضمیر میں پیدا کرنا چاہتا ہے یعنی ہر وقت شیطانی وساوس سے بچاؤ کے لیے تیار رہتا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ۔ جیسا کہ کوئی شخص یا ملک اپنے دشمن سے ہر وقت چوکنارہتا ہے ۔ اور اس کے شروفسار کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے ۔ دشمن کے ذہنی اور جسمانی شر سے بچاؤ کے لیے ۔ اور ہر وقت کسی بھی معر کے میں کو دنے کے لیے تیاری کی حالت کا برقرار رکھنا ، اسی احتیاط ، مدافیچا تیاری اور احتیاطی تدابیر کو مزید متحکمر کرنے کے لیے بتایا جاتا ہے کہ کا فرین کا انجام کیا ہوگا اور اہل اسلام کا کیا ہوگا ۔
فاطر 35:7
الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ واجرکبیر (7) ” “۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ شیطان کس طرح انسان کو گمراہ کرتا ہے اور شیطان کا عمل اور اس کی گمراہ کن چالیں کیسی ہوتی ہیں ۔ وہ کون سا دروازہ کھول دیتا ہے جس سے ہر قسم کا شرورآتا ہے ۔ کس طرح وہ انسان کو راہ ضلالت پر دور تک لے جاتا ہے تاکہ وہاں سے کوئی واپس نہ آسکے ۔
فاطر 35:8
افمن زین ۔۔۔۔۔ بما یصنعون (8 (
شرکا دروازہ اور اس کی کنجی یہ ہے کہ انسان کے لیے اس کے برے اعمال کو اچھا بنادیا جائے ۔ شیطان یہی کام کرتا ہے کہ انسان کے لیے اس کے برے اعمال اچھے بنادیئے جاتے ہیں اور وہ برے کاموں کو اچھے کام سمجھتا ہے ۔ وہ جس قدر برے افعال کرتا ہے ، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھا کررہا ہے اور وہ کام اسے لگتے بھی اچھے ہیں ۔ ایسا شخص کبھی اپنے اعمال کا جائزہ بھی نہیں لیتا کہ ان میں کیا کیا غلطی کے مقامات ہیں کیونکہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہ غلطی نہیں کرتا۔ اسے پختہ یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ کہتا اور کرتا ہے ، وہ درست ہے ۔ وہ اپنے قول وعمل پر اتراتا ہے اور اپنے کاموں سے اسے عشق ہوجاتا ہے ۔ اسے یہ خیال بھی نہیں آتا ہے کہ وہ اپنے کسی کام پر نظر ثانی کرے یا اپنا محاسبہ خود کرے ۔ لہٰذا وہ اپنے کسی خیال اور کسی عمل سے رجوع نہیں کرتا ۔ کیونکہ جب کوئی سمجھے کہ وہ اچھا کررہا ہے تو وہ کس طرح اسے چھوڑسکتا ہے کیونکہ اچھے کام کبھی نقصان وہ نہیں ہوتے ۔
افمن زین۔۔۔۔۔۔۔ حسنا (35: 8) ” بھلا ہے کچھ ٹھکانا اس شخص کی گمراہی کا جس کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنادیاجائے گیا ہو “۔ یہ ہے وہ عظیم مصیبت جو انسان پر شیطان لادتا ہے اور یہ ہے وہ مقام جہاں تک شیطان انسان کی راہنمائی کرکے اسے لے جاتا ہے ۔ پہلے اسے گمراہ کرتا ہے ، پھر اسے ہلاکت کے گڑھے میں گراتا ہے ۔
جس شخص کے لیے اللہ ہدایت اور بھلائی لکھ دیتا ہے اس کے دل میں احساس ، شعور ، احتیاط اور غور وفکر کی عادت ڈال دیتا ہے ۔ وہ اللہ کی تدبیروں سے غافل نہیں رہتا۔ اور نہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ اللہ انسان کے دل کو کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔ نہ وہ انسان کی فطرت کمزوری ، تزلزل اور خطاکاری سے غافل رہتا ہے ۔ نہ وہ انسان کے فطری نقص اور عاجزی کو نظر انداز کرسکتا ہے ۔ ایسا شخص ہر وقت اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے ۔ ہر وقت اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہے ۔ اپنے بارے میں بہت حساس رہتا ہے ۔ وہ شیطان سے ہر وقت ڈرتا ہے اور ہر وقت اللہ کی مدد اور نصرت کا امید وار ہوتا ہے ۔
یہ ہے مقام امتیاز اور جدائی ہدایت وضلالت اور فلاح اور بربادی کے درمیان ۔۔۔۔ یہ ایک گہری نفسیاتی حقیقت ہے جس کی تصویر کشی قرآن کریم ان الفاظ میں کرتا ہے ۔
افمن ذین ۔۔۔۔۔ حسنا (35: 8) ” بھلا کچھ ٹھکانا ہے اس شخص کی گمراہی کا جس کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اسے اچھا سمجھ رہاہو “۔
یہ ہے نمونہ اس گمراہ شخص کا جو تباہ وبرباد ہوگیا اور آخر کار وہ ہلاکت کے برے انجام تک پہنچ گیا اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس کے لیے اس کے برے اعمال کو مزین بنا دیا گیا۔ اس خوشنمائی کی وجہ سے وہ مغرور ہوگیا ۔ یوں اس شخص کے دل پر اور آنکھوں پر پردے پڑجاتے ہیں اور وہ صحیح راہ کو دیکھ ہی نہیں سکتا ۔ ایسا شخص کوئی اچھا کام بھی نہیں کرسکتا اس لیے کہ وہ خوداپنے کام کو اچھاسمجھتا ہے ۔ ایسا شخص اپنی غلطی کی اصلاح بھی نہیں کرسکتا اس لیے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس سے غلطی سرزد ہی نہیں ہوسکتی ۔ وہ کسی فاسد کام کی اصلاح بھی نہیں کرسکتا کیونکہ بزعم خود اس سے فاسد کام کا صدور ہی نہیں ہوسکتا ۔ ایسا شخص ایک حد پر جا کر رکتا بھی نہیں کیونکہ وہ اپنی ہر قدم کو اصلاح سمجھتا ہے۔ غرض شیطان کا صرف یہی کام تمام فسادوں کا دروازہ ہے اور آخرہی گمراہی کی چابی ہے۔
یہاں اللہ سوال فرماتے ہیں کہ اس شخص کی گمراہی کی کیا حد ہوگی جس کے لیے اس کے برے اعمال خوبصورت بنا دئیے گئے ہیں اور وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے ؟ اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس لیے کہ اس کا کوئی جو جواب بھی دے وہی جواب ہوگا۔ کیا ایسے شخص کی اصلاح کی امید کی جاسکتی ہے ؟ کیا یہ شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو ہر وقت اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے۔ کیا یہ شخص اللہ سے ڈرنے والوں جیسا ہو سکتا ہے۔ غرض اس سوال کا اب جو جواب بھی دیں وہی جواب ہوگا۔ یہ وہ اسلوب ہے جو قرآن کریم میں بہت آتا ہے۔ لیکن اس میں ان جوابات میں سے ایک جواب کی طرف بالواسطہ اشارہ کردیا گیا ہے۔
فان اللہ یضل ۔۔۔۔۔ علیھم حسرت (35: 8) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، راہ راست دکھاتا ہے “۔ گویا یہ جواب دیا گیا کہ جس شخص کے لئے شیطان اس کے اعمال کو خوشنما بنا دے ایسے شخص پر ضلالت لکھ دی جاتی ہے۔ اس کے لیے اللہ نے ضلالت کا راستہ کھول دیا ہے۔ وہ اس کے اندر چلا گیا ہے ، اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں ہے۔ اللہ کا اختیار ہے کہ وہ جسے چاہے ہدایت دے دے اور جسے چاہے ، ضلالت دے دے۔ یوں کہ جو شخص طالب ضلالت ہوتا ہے اسے ضلالت ملتی ہے اور جو طالب ہدایت ہوتا ہے ، اسے ہدایت مل جاتی ہے۔ ضلالت کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ برے اعمال کو اچھا دکھاتی ہے اور ہدایت کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ ہدایت پانے والا ہر معاملے میں محتاط ہوتا ہے ، ڈرتا ہے ، محاسبہ کرتا ہے اور یہی فرق ہے ہدایت اور ضلالت کا۔ اور جب فیصلہ یہی ہے۔
فلا تذھب نفسک علیھم حسرت (35: 8) ” آپ اپنی جان کو ان لوگوں کے غم میں نہ کھلائیں “۔ یہ معاملہ ہدایت و ضلالتر کا معاملہ ہے جو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگرچہ یہ بشر خود رسول اللہ ﷺ ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ دل اللہ کی انگلیوں کے درمیان رہیں اور اللہ مقلب القلوب ہے۔ اس طرح اللہ حضور ﷺ کو تسلی دیتے ہیں۔ تاکہ آپ کا رحیم و شفیق دل قرار پکڑے کیونکہ آپ سے ان لوگوں کی گمراہی دیکھی نہ جاتی تھی۔ جبکہ آپ دیکھ رہے تھے کہ ان بیچاروں کا کس قدر برا انجام ہونے والا ہے اس لیے آپ کا دل جوش مارتا تھا کہ آپ ان کے سامنے جو حق پیش کر رہے ہیں وہ اسے تسلیم کرلیں۔ یہ انسانی حرص ہے ہر شخص جانتا ہے کہ انسان جس چیز کو پسند کرتا ہے ، وہ چاہتا ہے کہ سب لوگ اسے قبول کرلیں اور اللہ کو رسول اللہ ﷺ سے ہمدردی ہے کہ ان کے احساسات پر یہ ناحق بوجھ ہے کیونکہ یہ حضور ﷺ کے اختیار اور استطاعت ہی میں نہیں ہے کہ وہ سب کو ہدایت میں لے آئیں ، یہ کام اللہ کا ہے۔
تمام مخلص داعیوں کو اس کیفیت سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ وہ اپنی دعوت کی اہمیت ، خوبصورتی اور افادیت کو دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب عوام کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ وہ اس خوبصورتی ، افادیت اور حسن کو محسوس نہیں کرسکتے جو داعی محسوس کرتا ہے۔ اس عدم احساس کی وجہ سے یہ اس دعوت سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ لہٰذا ایسے مخلص داعیوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی اس ہدایت کو پلے باندھ لیں۔ اپنی پوری قوت دعوت میں جھونک دیں اور پھر لوگوں کو اللہ کے سپرد کردیں۔ اگر کسی قوم کے لیے اللہ نے سچائی کو مقدر نہ کیا ہو تو اسے اپنے حال پر چھوڑ دیں اور مایوس نہ ہوں۔
ان اللہ علیم بما یصنعون (35: 8) ” جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے “۔ وہی ہدایت کی تقسیم کرتا ہے اور کسی کے لیے ضلالت مقدر کرتا ہے۔ یہ سب کام اس کے علم اور اس کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اللہ ان باتوں کو اس وقت سے جانتا ہے جب ان کا صدور بھی نہیں ہوا ہوتا۔ اسے پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہوگا۔ یہ تقسیم اس نے علم ازلی سے کرلی ہوئی ہے۔ لیکن اللہ اپنے علم ازلی کی بنیاد پر سزا نہیں دیتا۔ سزا اس وقت دیتا ہے جب ان سے اس معصیت کا صدور ہوتا ہے۔ یہاں دوسرا سبق ختم ہوتا ہے۔ اس سبق اور پہلے سبق کے درمیان گہرا ربط ہے اسی طرح آنے والے سبق سے بھی ربط ہے۔
فاطر 35:9
درس نمبر 201 ایک نظر میں
یہ تیسرا سبق دراصل پے در پے اسفار پر مشتمل ہے۔ یہ سفر انسانی خیال کو ، اس کائنات وسعتوں میں کرائے گئے ہیں اور قرآن نے ان اسفار میں انسان کو دلائل ایمان سے آگاہ کیا ہے۔ ان اسفار کے درمیان انسان کو جو مظاہر دکھائے گئے ہیں ، ان سے قرآن دعوت اسلامی پر دلائل وبراہین فراہم کرتا ہے۔
یہ اسفار اس مضمون کے بعد آئے ہیں کہ ہدایت و ضلالت کا اختیار صرف اللہ کو ہے اور جس میں رسول اللہ ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ آپ منہ موڑنے والوں کے رویہ کی کوئی پرواہ نہ کریں اور ان کا معاملہ اس اللہ کے سپرد کردیں جو ان کی تمام کارستانیوں سے باخبر ہے۔ اس سبق کا مضمون یہ ہے کہ اگر کوئی ایمان لانا چاہتا ہے تو یہ دیکھو دلائل ایمان اس کائنات میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ جس کے اندر کوئی پیچیدگی نہیں ہے لیکن بہرحال اگر کوئی گمراہ ہونا ہی چاہے تو وہ اس حال میں گمراہ ہوگا کہ دلائل ایمان ہر طرف سے اس کا گھیرا ڈالے ہوئے ہوں گے۔
صرف ایک منظر پر غور کرو ، یہ زمین بالکل مردہ ہونے کے بعد سرسبز ہوجاتی اور زندہ و تابندہ ہوجاتی ہے۔ کیا اس میں اس بات کے لیے دلیل نہیں ہے کہ موت کے بعد اسی طرح لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ پھر انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور اسے اس کی موجودہ شکل میں ایک نہایت ہی برتر مخلوق بنایا گیا۔ یہ بھی ایک برہان ہے۔ پھر انسانی تخلیق کے مراحل میں سے ہر مرحلہ ایک حجت بے اور انسان اپنے تخلیقی مراحل میں نہایت ہی طے شدہ نقشے کے مطابق آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور یہ نقشہ بھی کتاب مبین میں درج ہے اور ایک برہان ہے۔
پھر دو قسم کے پانی ایک ہی سمندر میں علیحدہ علیحدہ رہتے ہیں ۔ ایک میٹھا ہے دوسرا کھارا ہے۔ یہ بھی ایک حجت ہے۔ اور سمندروں کے اندر مزید اللہ کی نعمتیں ہیں اور ہر ایک چیز میں اللہ کی کبریائی ہے۔ پھر رات اور دن کا منظر جو ایک دوسرے کے اندر داخل ہوتے ہیں ، بڑھتے گھٹتے ہیں۔ یہ بھی ایک حجت ہے اور اس نظام کو جاری کرنے میں بھی ایک حجت ہے۔ شمس وقمر کو ایک نظام کے اندر مسخر کردیا جانا بھی ایک حجت اور دلیل ہے۔
یہ سب دلائل وبراہین اس کائنات کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور یہ اللہ ہے جو خالق ومالک ہے اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسرے معبود سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تو ایک گٹھلی کے برابر بھی تخلیق نہیں کرسکتے۔ جو نہ سنتے ہیں اور نہ جواب دیتے ہیں۔ وہ قیامت کے دن ان کی عبادت سے براءت کا اظہار کریں گے اور یہ فیصلہ دیں گے کہ یہ لوگ گمراہ تھے اور سچائی کے علاوہ جو کچھ بھی ہے ، گمراہی ہے۔
درس نمبر 201 تشریح آیات
9 ۔۔۔ تا۔۔۔ 14
واللہ الذی ارسل ۔۔۔۔۔۔ کذلک النشور (9) ”
یہ منظر قرآن میں دلائل تکوینی کے بیان کے دوران بار بار آتا ہے۔ ہواؤں کا منظر ، بادلوں کا منظر ، سمندروں کا منظر۔ بادلوں کو ہواؤں کا چلانا ، سمندروں سے بخارات کا اٹھنا۔ گرم ہوائیں بخارات اٹھاتی ہیں۔ سرد ہوائیں ان کو کثیف کرکے بادل کی شکل دیتی ہیں۔ سمندروں سے یہ بخارات اور بادل پھر ہوا کی موجوں کی سمت میں شمال و جنوب اور مشرق و مغرب کی طرف چلتے ہیں جس طرف بھی اللہ کو ان کا چلانا منظور ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ منزل مقصود پر پہنچ کر برستے ہیں اور جہاں مردہ زمینوں پر بارش ہوتی ہے۔ وہاں زمین زندہ ہوجاتی ہے۔
فاحیینا بہ الارض بعد موتھا (35: 9) ” اور اس کے ذریعے سے اس زمین کو جلا اٹھاتے ہیں جو مری پڑی تھی “ یوں یہ معجزہ برپا ہوتا ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ہر لحظہ اس قسم کے معجزات دیکھتے ہوئے بھی انہیں قیامت میں لوگوں کا اٹھایا جانا مستبد نظر آتا ہے حالانکہ حشر و نشر تو ان کے ہاتھوں میں اس دنیا میں موجود ہے۔
کذلک النشور (35: 9) ” مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا “۔ یہی سادہ طریق استدلال ہے قرآن کا۔ اسی طرح آسانی سے یہ عمل ہوگا ، اللہ کے لیے اس میں کوئی دقت نہیں ہے۔
یہ منظر قرآن میں کائناتی دلائل کے بیان کے دوران بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ یہ منظر ایسا ہے جسے ہر شخص دیکھتا ہے اور اس کے انکار کا کوئی جواز انسان کے سامنے نہیں ہے۔ پھر یہ منظر انسان کو بےحد جھنجھوڑتا ہے بشرطیکہ انسان اسے دیکھیں ۔ اسے سمجھیں اس حال میں کہ ان کے دل زندہ ہوں اور جب بھی انسان اس منظر پر غور کرے تو یہ انسانی شعور پر چھا جاتا ہے۔ پھر یہ منظر ایک خوبصورت اور پسندیدہ منظر ہے۔ خصوصا صحرائی علاقوں میں جہاں انسان ریگستانوں میں جلتا رہتا ہے۔ اچانک جب سرسبز اور شاداب علاقہ آجاتا ہے تو انسان کی نگاہ گرویدہ ہوجاتی ہے ۔ حالانکہ کل جب بارش نہ ہوئی تھی تو یہی علاقہ چٹیل میدان اور خشک صحرا تھا۔ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ اپنے دلائل ایسے مناظر سے اخذ کرتا ہے جو انسان نے دیکھے ہوئے ہوں۔ جبکہ ان مناظر سے انسان روز گزرتے ہیں لیکن نہایت غفلت سے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ان مناظر پر انسان غور کرتا ہے تو اسے یہ منظر معجزات نظر آتے ہیں۔
اب روئے سخن مردہ زمین کے احیا کے موضوع سے ہٹ کر نفسیاتی شعور کے میدان میں آتا ہے۔ موضوع کی یہ تبدیلی بظاہر عجیب لگتی ہے یہ کہ عزت ، سربلندی ، قوت اور شوکت کا سرچشمہ کیا ہے ؟ اور عزت اور سربلندی کو مربوط کیا جاتا ہے۔ قول طیب اور قول صالح کے ساتھ ، کیونکہ قول صالح بھی اللہ کی طرف اٹھتا ہے اور عمل صالح بھی عزت اور رفعت پاتا ہے اور اس کے
مقابلے میں قول خبیث اور عمل خبیث سرنگوں ہوکر ہلاکت اور تباہی کی طرف آتے ہیں۔
فاطر 35:10
من کان یرید العزۃ ۔۔۔۔۔ اولئک ھو یبور (10) ” “۔
شاید مردہ زمین میں اٹھنے والی نباتاتی زندگی اور کلمہ طیبہ اور عمل صالح کے درمیان ربط یہ ہے کہ دونوں میں پاکیزہ زندگی اور قدر مشرک ہے۔ نباتات کی بھی طیب زندگی ہے اور عمل صالح اور کلمہ طیبہ بھی پاک زندگی ہے۔ اور ان کے درمیان ربط اور تعلق وہی ہے جس کی طرف سورة ابراہیم کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات کے مزاج اور اسلامی زندگی کے مزاج کی یکسائی سورة ابراہیم میں فرمایا :
الم ترکیف ضرب اللہ ۔۔۔۔۔ مالھا من قرار (24 – 26) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اس سے سبق لیں اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بدذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھنکا جاتا ہے۔ اس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے “۔ یہ ایک حقیقی مشابہت ہے جو ایک پاک کلمہ اور پاک درخت کے درمیان پائی جاتی ہے ۔ دونوں کے اندر حیات اور برہنہ موجود ہے۔ ایک کلمہ اور نظریہ بھی نشوونما پاتا ہے اور بار آور ہوتا ہے اور ایک درخت بھی نشوونما پاتا ہے اور پھل دیتا ہے۔ دونوں کی ایک ہی مثال ہے۔
مشرکین اس لیے شرک کرتے تھے کہ مکہ کے اندر ان کا جو دینی مقام تھا ، وہ برقرار رہے۔ محض عقیدے اور نظریہ کی وجہ سے وہ دوسرے قبائل سے برتر تسلیم کیے جاتے تھے۔ پھر ان کو مالی مفادات بھی حاصل تھے۔ مثلاً ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اس وجہ سے وہ پرشوکت اور پر قوت تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے۔
ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا ” اگر تمہارے ساتھ ہدایت کے تابع ہوجائیں تو ہمیں ہماری زمین سے اچک لیا جائے گا۔ لہٰذا اللہ فرماتے ہیں :
من کان یرید العزۃ فللہ العزۃ جمیعا (35: 10) ” جو کوئی عزت چاہتا ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے “۔ یہ حقیقت جب کسی کے دل میں بیٹھ جائے تو اس انسان کی قدریں اور حسن و قبح کے اصول بدل جاتے ہیں۔ ان قدروں کے حصول کے ذرائع اور منصوبے ہی بدل جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عزت سب کی سب اللہ کیلئے ہے اور عزت کا کوئی حصہ بھی اللہ کے سوا کسی کا نہیں ہے۔ اگر کوئی عزت چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ ہاں عزت طلب کرے گا تو وہاں لازما جائے گا اور اسے عزت ضرور ملے گی اور اگر کسی اور دروازے پر عزت تلاش کرے گا تو خوار ہوگا اس لیے کہ ۔ فان العزۃ فللہ جمیعا ” عزت تو سب کی سب اللہ کے ہاں ہے “۔ قریش اپنے بت پرستانہ عقیدے کی وجہ سے لوگوں سے عزت چاہتے تھے۔ وہ لوگوں کے علی الرغم ہدایت قبول کرنے سے ڈرتے تھے حالانکہ وہ سمجھتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت دیتے ہیں وہ ہدایت ہے۔ وہ اس لیے ڈرتے تھے کہ ان کے مقام و مرتبہ میں فرق نہ آجائے۔ جن عوام اور قبائل سے وہ ڈرتے تھے ان کے پاس عزت کا کوئی سرچشمہ ہی نہ تھا۔ وہ عزت کے مالک ہی نہ تھے۔ عزت کا مالک تو اللہ ہے۔
فان العزۃ فللہ جمیعا ” بیشک عزت اللہ کی ہے “۔ اگر قریش قوی تھے تو قوت کا مصدر بھی اللہ ہی ہے۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ عزت اور قوت اور شوکت اپنے اصلی مصدر سے لیں ، لوگوں سے نہ لیں۔ یہ لوگ تو خود عزت کے طالب ، محتاج اور کمزور ہیں۔ اسلامی نظریہ حیات کے حقائق میں سے یہ اولین حقیقت ہے ۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ اگر کسی کے ذہن میں بیٹھ جائے تو اس کی قدریں بدل کر رکھ دیتی ہے۔ حسن و قبح کے پیمانے بدل دیتی ہے۔ اقوام کے فیصلے اور ان کی تقدیریں بدل دیتی ہے۔ ان کا منہاج زندگی اور طرز عمل بدل جاتا ہے۔ وہ اپنے اسباب و وسائل بدل دیتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم صرف اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں اور پھر پوری دنیا کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیں۔ پھر ہم دنیا میں نہایت معزز ، پروقار اور مستقل مقام و مرتبہ پائیں گے۔ اقوام عالم میں ہمارا وزن ہوگا۔ یہی ہے عزت و وقار کا طریقہ ۔ ایک مسلمان کیلئے اس کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔
جب کسی دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو وہ دل پھر کسی جبار وقہار کے سامنے نہیں جھکتا۔ وہ کسی تندوتیز طوفان سے بھی نہیں ڈرتا۔ کوئی عظیم حادثہ بھی اس کے عزائم کو ختم نہیں کرسکتا۔ کوئی صورت حال اور کوئی حکومت اسے متاثر نہیں کرسکتی۔ کوئی مملکت اور کوئی مصلحت اسے متاثر نہیں کرسکتی۔ اس کرہ ارض کی قوتوں میں سے کوئی قوت اسے نہیں جھکا سکتی اور کیوں ایسا ہو سکے ؟ جب کہ ہر قسم کی قوت کا سرچشمہ اللہ کے پاس ہے اور اس کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔
یہ وجہ ہے کہ یہاں کلمہ طیبہ اور عمل صالح کا ذکر ہوتا ہے۔
الیہ یصعد۔۔۔۔۔ الصالح یرفعہ (35: 10) ” اس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ پاکیزہ قول ہے اور عمل صالح اس کو اوپر اٹھاتا ہے “۔ اس عظیم حقیقت کے ذکر کے بعد اس تبصرے کا ایک خاص مفہوم اور اشارہ ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ اگر کوئی عزت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے ذرائع کیا ہیں ؟ وہ ہیں قول طیب اور عمل صالح۔ قول طیب سیدھا اللہ کی طرف بلند ہوتا ہے اور عمل صالح اللہ کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔ یوں اللہ عمل صالح کو مکرم بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قول طیب اور عمل صالح کے مالک ہمیشہ سربلند اور معزز اور مکرم ہوتے ہیں اور ان کو عزت عطا ہوتی ہے۔
صحیح عزت وہ ہوتی ہے جو قبل اس کے کہ اس دنیا میں وہ نمودار ہو یا اس کے آثار نمودار ہوں ایک شخص کے قلب میں بیٹھی ہے۔ جب یہ حقیقت کسی دل میں بیٹھ جائے تو ایسا شخص ذات اور سرنگونی کے تمام اسباب کے دائرے سے باہر نکل آتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جب کسی کے دل میں بیٹھ جائے تو سب سے پہلے تو وہ خود اپنے نفس امارہ پر قابو پا لیتا ہے۔ یہ سب سے پہلے اپنی سفلی خواہشات کو کنڑول کرلیتا ہے۔ جب کوئی انسان ان انسانی کمزوریوں پر قابو پالے تو پھر اس کو ذلیل کرنے اور تابع کرنے کا کوئی سبب ہی نہیں رہتا۔ لوگوں کو جو چیز ڈلیل کرکے رکھ دیتی ہے وہ ان کی خواہشات اور رغبات ہوتی ہیں ۔ ڈر اور لالچ ہوتا ہے اور جو شخص ان کمزوریوں پر غالب آجاتے وہ گویا تمام انسانوں پر غالب آگیا۔ اور وہ یہ حقیقی عزت ہے جس کے ذریعے انسان سربلند ، قوی اور نڈر ہوجاتا ہے۔
عزت یہ نہیں ہے کہ انسان حق کے ساتھ معاند ہو ، خود سر ہو اور باغی ہو اور باطل کو بلند کرنے کی سعی کرتا ہو نہ قوت اس بات کا نام ہے کہ کوئی فاسق و فاجر ہوجائے ، اللہ کا باغی اور نافرمان ہوجائے اور نہایت ہی جبر اور اصرار کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کرے اور نہ قوت اس بات کا نام ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کوئی آزادانہ شہوت رانی اور بےحیائی کا رویہ اختیار کرے۔ نہ قوت یہ ہے کہ کوئی بغیر کسی اصول اور ضابطے کے طاقت کا استعمال کرے اور انصاف اور اصلاح کے مقاصد کے بغیر دھکڑ شروع کر دے۔ ہرگز نہیں ، بلکہ قوت یہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پالے۔ انسان ذلت اور غلامی کا مقابلہ کرے ، اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے نہ جھکے اور صرف اللہ ہی کے سامنے عاجزی اور خشوع کرے ، اللہ کا خوف کرے ، اس سے ڈرے ، خوشی اور غم دونوں حالتوں میں اللہ سے ڈرے۔ جب کوئی ایسی قوت حاصل کرلے تو پھر اس کی پیشانی بلند ہوگی اور ایسا انسان ہر اس بات کا مقابلہ کرسکے گا جسے اس کا ضمیر پسند نہ کرتا ہو۔ اور ایسا انسان اللہ کی رضا کے سوا کسی اور چیز کو خاطر میں نہ لائے گا۔ یہ ہے کلمہ طیبہ اور عمل صالح کا مقام۔ عزت کے حوالے سے اور سیاق کلام میں بات کی مناسبت اور ربط کے حوالے سے۔ اس کے بعد صفحہ بالمقابل کی تکمیل یوں کی جاتی ہے۔
والذین یمکرون ۔۔۔۔۔۔ ھو یبور (35: 10) ” رہے وہ لوگ جو بیہودہ چال بازیاں کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے “۔ یمکرون کے اندر تدبیر کے معنی بھی شامل ہیں لیکن یہاں مکر بمعنی سازش اور چال اس لیے استعمال ہوا ہے کہ اس کا اکثر استعمال برے معنوں ہی میں ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے عذاب شدید ہے اور یہ عذاب تو ان کے لیے مقدر ہے کہ ان کی یہ چال بازیاں غارت جائیں گی ، نہ قائم رہیں گی اور نہ ان کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔ یہ ” بور “ کے ہے اور ” بور “ اور ” بوران “ دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ آیت سابقہ میں چونکہ اشارہ زمین کی آبادی اور پھل دینے کے معنی کی طرف تھا ، یہاں اس کے بالمقابل بوران کا لفظ لایا گیا ہے جس میں پھل ضائع ہوجانے کے معنی ہیں۔
جو لوگ یہ چال بازیاں کرتے ہیں وہ جھوٹی عزت حاصل کرنے کے لیے یہ کام کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ سوسائٹی میں عام لوگوں کی نظروں میں ، وہ معزز ہوں۔ بظاہر وہ بڑے لوگ اور صاحب عزت ہوں اور قوت والے نظر آئیں۔ یہاں عزت ذرا وسیع مفہوم میں ہے لیکن ہر بری تدبیر جس میں قول طیب نہ ہو اور عمل صالح نہ ہو ، اس کا مدبر کبھی بھی معزز ، پروقار اور صاحب قوت نہیں ہوتا۔ اگرچہ بعض اوقات وہ ایک مختصر وقت کے لیے اپنا عرب جما لیتا ہے لیکن آخر کار وہ ہلاکت کی طرف جاتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اور اللہ اپنے وعدوں سے کبھی الٹ نہیں کرتا۔ ہاں وہ ہر مکار کو قدرت مہلت ضرور دیتا ہے لیکن جب وقت آتا ہے تو یہ
تمام مکاریاں غارت چلی جاتی ہیں۔
اب انسان کی پہلی زندگی اور پہلی پیدائش کا ایک منظر ، اس سے قبل کے منظر میں بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک خشک زمین کو پانی کے ذریعہ کس طرح زندہ اور سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے۔ انسان کی پیدائش میں اس کے زمانہ حمل مادر اور پھر اس کی طویل عمر یا قصیر عمل۔ یہ سب چیزیں اللہ کے علم اور منصوبے کے مطابق ہوتی ہیں۔
فاطر 35:11
واللہ خلقکم من تراب ۔۔۔۔۔۔ علی اللہ یسیر (11) ”
انسان کی پہلی تخلیق کی طرف قرآن کریم میں بار بار اشارہ کیا گیا ہے کہ اسے مٹی سے پیدا کیا گیا ۔ اسی طرح قرآن میں حمل کے ابتدائی مراحل کی طرف بھی مفصل اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی نطفے کی طرف۔ تراب وہ عنصر ہے جس میں زندگی نہیں ہوتی اور نطفہ وہ عنصر ہے جس میں زندگی ہوتی ہے۔ اس کائنات کے عظیم معجزات میں سے ایک یہ ہے کہ اس بےجان عنصر میں کس طرح جان ڈال دی گئی اور حیات کس طرح پہلے عنصر کے ساتھ گھل مل گئی۔ آج تک یہ راز معمہ ہے اور انسان ابھی تک اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکا۔ یہ ایک قائم اور دیکھی جانے والی حقیقت ہے۔ اس کے اعتراف کے سوا چارہ کار بھی نہیں ہے۔ یہ معجزہ خالق ، زندہ کرنے والے اور عظیم قدرت والے اللہ کی طرف انسان کو دھکیل کرلے جاتا ہے اور انسان کسی شکل میں بھی اسے رد نہیں کرسکتا اور نہ اس میدان میں کوئی چوں چرا کرسکتا ہے۔
بےجان سے جان دار کی طرف کسی عنصر کو منتقل کرنا نہایت ہی بڑا انقلاب ہے اور یہ زمان و مکان کی دوریوں سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس انقلاب پر ایک زندہ دل شخص جس قدر بھی غور کرے وہ ملول نہ ہوگا۔ اس طرح اس کائنات کے اسرار کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس راہ میں علم کے آگے بڑھنے سے جو اسرار و رموز کبھی کھلیں گے ہر اگلا راز پچھلے سے زیادہ عجیب ہوگا۔
اب اس نطفے سے ذرا آگے بڑھئے۔ ایک خلیہ کامل ہوتا ہے ، جنین بنتا ہے اور پھر ایک مرحلے میں اس جنین کی جنس کا تعین ہوتا ہے ۔ مرد اور عورت الگ الگ ۔ پھر وہ صورت بنتی ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے۔
ثم جعلکم ازواجا (35: 11) ” پھر تمہارے جوڑے بنا دئیے “۔ چاہے اس سے مراد یہ ہو کہ جنین کی حالت میں مذکر اور مونث کا امتیار کردیا یا اس سے مراد یہ ہو کہ ولادت کے بعد اور بالغ ہونے کے بعد شادیاں کر کے جوڑے بنا دیا۔ یہ انقلاب بھی کیا فکر و نظر کے لیے کم ہے کہ نہایت چھوٹے نطفے سے یوں مذکر و مونث بنا دیا گیا تو یہ بھی ایک عظیم انقلاب ہے۔ یا تو ایک چھوٹا سا نکتہ جو نطفے کی شکل میں ہے اور یا پھر ایک مکمل انسان جو ایک قوی ہیکل مخلوق ہے اور جس کے جسم کے اندر کثیر التعداد مشینیں ہیں جو مختلف کام کر رہی ہیں۔ جس کی تفصیلات میڈیکل سائنسز میں موجود ہیں اور باہم بالکل جدا ہیں۔
اب ہمارے زیر مطالعہ یہ سادہ خلیہ ہے۔ یہ اب تقسیم در تقسیم ہوتا ہے اور اس سے اور خلیے نکلتے ہیں ۔ اب اس ایک خلیے سے خلیات کے مجموعے بنتے چلے جاتے ہیں اور اعضاء بنتے چلے جاتے ہیں اور ہر عضو کا ایک فیضہ مقرر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان تمام اعضا سے ترکیب پاکر ایک انسان وجود میں آتا ہے اور اس کے تمام اعضاء باہم مربوط اور ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ یہ انسان ایک بالکل ممتاز مخلوق ہوتا ہے۔ یہ اپنے ہم جنس بنی نوع انسان سے بھی الگ خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ بلکہ اپنے قریبی رشتہ داروں سے بھی جدا ہوتا ہے۔ ممکن ہی نہیں ہے کہ دو انسان بالکل ایک ہی جیسے ہوں ، حالانکہ یہ ایک ہی نطفے سے پیدا ہوئے اور اس کے اندر کسی فرق کا ادراک انسان کو نہ تھا ۔ پھر یہ خلیے مرد و عورت کی شکل اختیار کرکے جوڑے بن جاتے ہیں اور ان جوڑوں کے ذریعے پھر اس تخلیق کا تسلسل قائم ہوتا ہے اور یہ تسلسل انہی مراحل میں چلتا ہے۔ وہی مراحل دوبارہ دہرائے جاتے ہیں۔ یہ اس قدر عجیب سلسلہ ہے کہ جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے قرآن میں اس اعجوبے کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ ایک راز نہیں ہے بلکہ جسم انسانی میں رازوں کا مجموعہ ہے۔ لوگ اگر اس پر تدبر کریں تو ایک سنان کے جسم میں بیشمار عجائبات ہیں اور انسان کی روح ان پر تدبر کرکے جاگ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اس زاویہ سے انسان کو بار بار جھنجھوڑتا ہے اور جگاتا ہے۔
اس باریک مطالعہ کو پیش کرنے کے بعد اللہ کے علم کی وسعت کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سورة سبا میں اس کی تفصیلات آئی ہیں کہ اللہ کا علم بہت ہی وسیع ہے۔ یہاں مذکر و مونث کی تخلیق اور حمل اور وضع حمل بھی اس کے علم میں رہتا ہے
وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ (35: 11) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ کوئی بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے “۔ اب یہاں مذکر و مونث کا دائرہ عام کردیا جاتا ہے۔ انسان ، حیوان ، طیور ، مچھلیاں اور تمام حشرات الارض اس کے دائرے میں آجاتے ہیں ۔ چاہے ہم ان کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں کہ جن کا وضع حمل ہوتا ہے یا جو انڈے دیتے ہیں کیونکہ انڈا بھی ایک قسم کا حمل ہوتا ہے ۔ انڈے کے اندر جو جنین ہوتا ہے وہ ماں کے پیٹ میں نہیں بڑھتا بلکہ انڈے کے اندر بڑھتا ہے۔ صرف انڈا ماں کے پیٹ سے باہر آجاتا ہے اور یہ بھی اللہ کی صنعت کاری کا ایک کرشمہ ہے کہ ایک عمل جو پیٹ کے اندر ہوتا ہے ، یہاں یہ پوری ٹیکنالوجی انڈے کے اندر پیٹ کے باہر کردی جاتی ہے اور پھر وہ بڑھتی ہے اور ان سب عملوں کو اللہ جانتا ہے اور اس پر اس کا علم محیط ہے۔ اس پوری کائنات کے مختلف اطراف ہیں۔
اللہ کے علم کی یہ جامعیت ایسی ہے کہ ذہن انسانی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتا۔ نہ تصور کے اعتبار سے اور نہ انداز تعبیر کے اعتبار سے جیسا کہ ہم نے سورة سبا میں یہ نکتہ بیان کیا۔ یہ تو بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ہی قرآن کا نازل کرنے والا ہے اور قرآن کا مصدر وسیع ذات باری ہے اور یہ ایک منفرد انداز استدلال ہے۔ پھر مختلف افراد و اشیاء کی عمر بھی اللہ کے علم میں ہے اور کتاب میں درج ہے۔ وما یعمر من ۔۔۔۔۔ علی اللہ یسیر (35: 11) ” کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے ۔ اللہ کے لیے یہ سب کچھ بہت آسان کام ہے۔ جب خیال اس طرف جاتا ہے کہ اس کائنات میں نباتات ، پرندے ، حیوانات اور انسان اور دوسری چیزیں ، جن کے سائز اور حجم مختلف ہیں اور مختلف انواع و اقسام کی ہیں۔ مختلف علاقوں اور زمانوں میں ہیں ، پھر انسان جب یہ تصور کرتا ہے کہ یہ عظیم تعداد ، جس کا صحیح علم صرف خالق ہی کو ہے ، اس کے ہر فرد کو ایک عمر دی جاتی ہے۔ یہ عمر طویل ہو یا قصیر ہو ، اس میں زیادتی ہو یا کمی ہو ، سب کی سب ایک کتاب میں درج ہے اور اللہ سب کے بارے میں جانتا ہے۔
بلکہ ہر ایک فرد کے جزء کے بارے میں بھی اللہ جانتا ہے کہ اس کی عمر کیا ہوگی۔ زیادہ ہوگی یا کم ہوگی مثلا کسی درخت کے پتے کی عمر کیا ہوگی۔ کب نکلے گا اور کب گرے گا۔ اور کب مٹی ہوگا۔ ہر پرندے کے ہر پر کے بارے میں بھی اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب جسم سے الگ ہوگا۔ ہر حیوان کا ہر سینگ کس قدر عمر پائے گا یا حیوانات کی باہم ٹکر میں کوئی سینگ ٹوٹ جائے گا۔ پھر انسان کے اعضاء آنکھ اور کان وغیرہ یہ کب تک رہیں گے اور کب کام چھوڑ دیں گے۔ یہ سب باتیں اللہ کی کتاب تقدیر میں درج ہیں۔ اور اللہ کے علم میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو اس سلسلے میں کوئی جہد کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
ان ذلک علی اللہ یسیر (35: 11) ” اللہ کے لیے یہ بہت آسان ہے “۔
جب انسانی خیال ان باتوں پر غور و فکر کرتا ہے اور ان لائنوں پر آگے بڑھتا ہے تو یہ بہت ہی عجیب نظر آتا ہے۔ اس آیت کے ضمن میں ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں جس طرف انسانی خیال بالعموم متوجہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اس طرح کی باتیں ساچنا انسان کی عادت ہی نہیں ہے۔ یہ صرف خداوند قدوس کی ہدایت ہے کہ تم ذرا اس انداز سے غور کرو۔
اور عمر کی زیادتی سال و ماہ کی تعداد کے ذریعے بھی ہوتی ہے اور عمر میں برکت کے ذریعے بھی ہوتی ہے۔ عمر میں برکت یوں ہوتی ہے کہ انسان کی عمر اچھے کاموں میں صرف ہو اور اس میں دوڑ دھوپ ، مفید کام اور اعمال و آثار زیادہ ہوں۔ اور عمر کا نقص بھی اسی طرح ہے یا تو ماہ و سال کم ہوجائیں یا عمر کی افادیت کم ہوجائے اور اس سے برکت نکل آئے بجائے اس کے کہ انسان اچھے کام کرے اس کی زندگی خالی ہو۔
بعض اوقات زندگی کا ایک گھنٹہ بھی پوری عمر کے برابر ہوتا ہے۔ وہ افکار اور شعور اور احساسات سے بھرپور ہوتا ہے۔ اور اس کے اندر اونچے درجے کا اعمال عمل میں آجاتے ہیں اور اچھے نتائج نکلتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات انسان کا پورا سال خالی خولی گزر جاتا ہے اور اس کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہوتا۔ اللہ کے نزدیک اس سال کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی۔ یہ سب امور اللہ کے حساب و کتاب میں ہیں اور ہر موجود مخلوق کے بارے میں یہ سب امور صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
جماعتیں افراد کی طرح ہیں۔ اسی طرح اقوام بھی ایک فرد کی طرح ہیں۔ ان کی عمر کا بھی یہی قانون ہے۔ کسی کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور کسی امت کا پتہ جلد ہی کاٹ لیا جاتا ہے اور یہ سب معانی اس آیت میں داخل ہیں۔ امم کی بھی تقدیر ہوتی ہے اور وہ طاؤس و رباب پر ختم ہوتی ہے۔ تمام اشیاء کی بھی عمر ہوتی ہے جس طرح زندہ چیزوں کی عمر ہوتی ہے۔ ایک چٹان کی بھی عمر ہوتی ہے۔ ایک پہاڑ کی بھی عمر ہوتی ہے ۔ ایک نہر کی بھی عمر ہوتی ہے اور ایک پتھر کی بھی عمر ہوتی ہے۔ پھر وہ پاش پاش ہوجاتا ہے۔ ایک غار کی بھی عمر ہوتی ہے اور پھر وہ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ ایک نہر کی عمر ہوتی ہے اور جب عمر ختم ہو تو نہر خشک ہو کر ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔ بعض اشیاء ایسی ہوتی ہیں جن کو انسان بناتا ہے۔ ان کی بھی عمر ہوتی ہے۔ مشینیں ، کپڑے اور تمام دوسری مصنوعات کی بھی عمر ہوتی ہے اور اپنی مقررہ عمر پوری کرکے وہ ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ اور یہ سب کام اللہ کی تقدیر میں ہیں اور معلوم و مقدر ہیں۔
اس زاویہ سے اگر امور پر تدبر کیا جائے تو اس کائنات کا مطالعہ ایک نئے افق سے ہوتا ہے ۔ یہ کائنات کے مطالعہ کا یہ ایک نیا اسلوب ہے اور انسانی فہم و ادراک کی قوتوں کو ایک نیا شعور ملتا ہے۔ انسان محصوس کرتا ہے کہ اللہ کی قدرت اور علم وسیع اور شامل اور کامل ہے۔ لہٰذا انسان اس شعور کے ہوتے ہوئے کبھی غافل اور گمراہ نہیں ہوسکتا۔ وہ جہاں دیکھتا ہے ، دست قدرت کی کاری گری نظر آتی ہے۔ اللہ کی نگرانی نظر آتی ہے اور ہر چیز کی مہربانی اور قدرت نظرآتی ہے۔
اب سیاق کلام کا رخ کائناتی مناظر کے ایک منظر کی طرف ہوتا ہے ۔ سمندر کے پانیوں کے مناظر میں سے ایک منظر ، پانیوں کی اقسام ۔ یہ ہے میٹھا پانی اور وہ ہے سخت کھارا۔ دونوں قسم کے پانیوں کے پہاڑ سمندر کے اندر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ دونوں انسانوں کی خدمت کرتے ہیں ، یا ہم ملتے نہیں ہیں۔
فاطر 35:12
وما یستوی البحرن۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (12) پانی کی تخلیق میں انواع و اقسام واضح ہیں۔ اور اس تقسیم کے پیچھے جو خدمت ہے وہ بھی واضح ہے۔ میٹھے پانی کا استعمال تو واضح ہے۔ رات اور ان ہم اسے استعمال کرتے ہیں۔ ہر قسم کی زندگی تو پانی پر موقوف ہے اور پانی زندگی کا اہم عنصر ہے۔ رہا کڑوا پانی مثلاً سمندر اور بڑے سمندر تو اس کے بارے میں بعض سائنس دانوں نے عجیب معلومات دی ہیں اور بتایا ہے کہ اس کی تخلیق میں کس قدر گہری انجینئرنگ کار فرما ہے۔
اور اب رات اور دن کے منظر پر یہ کائناتی سفر ختم ہوتا ہے ۔ شمس و قمر کی تسخیر جو اللہ کے وسیع کائناتی نظام کا ایک حصہ ہے
” لاکھوں سالوں سے زمین مختلف قسم کے گیس چھوڑتی ہے اور ان میں سے اکثر گیسیں زہریلی ہوتی ہیں۔ لیکن قدرت الہیہ کی منصوبہ بندی دیکھئے کہ زمین کے اوپر جو ہوا ہے ، اس کے اندر پائے جانے والی نسبت متاثر نہیں ہوتی۔ جو انسان کے وجود کے لیے ضروری ہے۔ اس عظیم توازن کی گاڑی پانی کی وہ عظیم مقدار ہے یعنی گہرا سمندر جس سے زندگی ، غذا ، بارش ، معتدل مقسم اور نباتات اور پھر خود انسانی زندگی حاصل کرتے ہیں “۔
پانی کی تخلیق کے بارے میں آج تک جو راز معلوم ہوئے ہیں ، ان میں بالا رادہ رکھی ہوئی حکمت بالکل واضح ہے۔ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس تخلیق میں خالق نے بالارادہ توازن اور ہم آہنگی رکھی ہے۔ اور ان ہم آہنگیوں اور توازنوں پر اس کائنات کی مختلف چیزوں کی زندگی قائم ہے اور حیات کا پورا نظام ایستادہ ہے۔ اور یہ پیچیدہ نظام اللہ جل شانہ نے بالارادہ وضع کیا ہے۔ یہ توازن اس قدر پیچیدہ ہے اور اس قدر بارک انجینئرنگ پر مبنی ہے کہ کوئی عقلمند انسان یہ نہیں سوچ سکتا کہ یہ اتفاقاً ایسا ہوگیا ہے۔ یہاں دو قسم کے سمندری پانی کی طرف اشارے کا مقصد یہ ہے کہ یہ پانی ایک دوسرے کے ساتھ مکس نہیں ہوتے۔ ان کے درمیان واضح فرق ہے۔ اس قسم کا امتیازی افتراق انسانی جذبات ، انسانی شعور ، انسان رجحانات اور انسانی قدروں میں بھی ہوتا ہے ۔ پھر دونوں قسم کے پانی انسانوں کے لیے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔
ومن کل تاکلون ۔۔۔۔۔ فیہ مواخر (35: 12) ” مگر دونوں سے تم تروتازہ گوشت حاصل کرتے ہو ، پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس کا سینہ چیرتی جاتی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو “۔ تروتازہ گوشت سے مراد مچھلیاں اور سمندر کے دوسرے جانور ہیں جو مختلف قسم کے ہیں اور زیب وزینت کے لیے سیپ اور مرجان اور دوسرے موتی جو سمندر سے نکالے جاتے ہیں۔ یہ موتی سمندر کی سیپیوں میں پائے جاتے ہیں۔ سیپیوں کے اندر جب پانی اور ریت کے ذرات داخل ہوتے ہیں تو اس کے اندر کیمیاوی عمل سے یہ موتی تیار ہوتے ہیں ۔ مرجان ایک حیوانی پورا ہے جو سمندر میں میلوں تک پھیل جاتا ہے اور یہ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ بعض اوقات سمندری سفر کے لیے خطرہ بن جاتا ہے ۔ بعض اوقات اس کی شاخوں میں زندہ مخلوق بھی پھنس جاتی ہے۔ یہ مرجان بھی ایک خاص طریقے سے کاٹ کر اس سے زیورات بنائے جاتے تھے۔
کشتی سمندروں اور دریاؤں کو چیرتی چلی جاتی ہے اس لیے کہ اللہ نے پانی اور کشتی دونوں میں بعض خواص رکھ دئیے ہیں۔ جن چیزوں سے کشتی بنائی جاتی ہے ، ان کی کثافت اور ساخت اور سمندر کے پانی کی اپنی کثافت ہے۔ یوں سمندر کی سطح پر کشتی تیرتی ہے۔ ہواؤں کے اندر بھی یہی خصوصیات رکھ دی گئی ہیں۔ پھر اللہ نے ان قوتوں کو انسان کے لیے مسخر کردیا اور انسان ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
لتبتغوا من فضلہ (35: 12) ” تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو “۔ سفر اور تجارت کے ذریعہ سے تم اللہ کا فضل تلاش کرو ۔ سمندر سے مفاد کی چیزیں نکالو اور پانی اور کشتیوں کو نقل و حمل کے مقاصد کے لیے استعمال کرو۔
ولعلکم تشکرون (35: 12) ” تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو “۔ اللہ نے تمہارے لیے شکر کے اسباب فراہم کر دئیے ہیں۔ یہ اسباب تمہارے ہاتھ میں ہیں اور یوں اللہ تمہاری جانب سے ادائے شکر میں بھی تمہارا مددگار ہے۔
فاطر 35:13
یولج الیل ۔۔۔۔۔ لاجل مسمی ”
رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں ۔ یہ نہایت ہی خوبصورت مناظر ہیں۔ جب رات دن میں داخل ہوتی ہے تو روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی ہے اور تاریکی دھیرے دھیرے چھاتی ہے۔ غروب کے بعد پھر تاریکی گہری ہوتی جاتی ہے اور رات کے اندر دن کے داخل ہونے کا منظر بھی بہت ہی دلچسپ ہے۔ سفیدہ صبح آہستہ آہستہ نمودار ہوتا ہے ، روشنی پھیلتی جاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ روشنی نمودار ہوتی ہے اور خوب پھیل جاتی ہے۔ یعنی رات دن کو پوری طرح کھا جاتی ہے اور دن رات کو کھا جاتا ہے۔ دونوں اوقات میں دل کو خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے اور دونوں اوقات میں انسان کے غوروفکر کی قوت تیز ہوتی ہے۔ وہ خدا سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ خدا بہت ہی عظیم ہے جو یہ عظیم تصورات لاتا ہے۔ یوں خطوط کھینچتا ہے۔ ایک رسی کو کھینچتا ہے اور دوسری کو ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ اور گردش لیل و نہار کا یہ نظام نہایت ہی پیچیدہ اور حساس ہے اس کے اندر اس قدر استحکام ہے کہ کبھی اس میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی اضطراب پیدا نہیں ہوتا اور نہ کبھی اس میں خلل پڑتا ہے۔
شمس و قمر کی تسخیر اور اجل مقرر تک ان کا یونہی چلتے رہنا۔ اس وقت تک جس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ وہ منظر جسے ہر انسان دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ چاہے اسے شمس و قمر کا صحیح علم ہو یا نہ ہو ، چاہے اسے ستاروں اور سیاروں کے جسم ، حرکت اور حجم کے بارے میں معلومات ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن یہ دونوں اجرام فلکی ہمارے سامنے طلوع اور غروب ہوتے ہیں۔ ہر آنکھ کے سامنے چڑھتے اور گرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کی یہ حرکت ایک مسلسل حرکت ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کے لیے بھی خلل ، اضطراب اور وقفہ نہیں ہوتا۔ اس منظر کو اس حد تک دیکھنے کے لیے کسی گہرے علم و حساب کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لہٰذا گردش لیل و نہار اور شمس و قمر کا طلوع و غروب وہ منظر ہے جو ہماری نظروں کے سامنے بچھا ہوا ہے۔ آج ہم ان کے بارے میں ذرا زیادہ جانتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جن کے سامنے یہ قرآن نازل ہو رہا تھا۔
لیکن علم کی مقدار اہم نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ان سے کس قدر متاثر ہوتے ہیں ۔ ہمارے دل اس سے کس قدر اثر لیتے ہیں۔ ہمارے اندر غوروفکر کی کس قدر قوت پیدا ہوتی ہے اور ہم اس منظر سے اللہ کی قدرت کا کس قدر گہرا ادراک کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے دل کس قدر زندہ ہوتے ہیں کیونکہ اصل زندگی تو دلوں کی زندگی ہوتی ہے۔
ذلکم اللہ ربکم ۔۔۔۔۔۔ ینبئک مثل خبیر (13 – 14)
یہ ہے وہ رب جس نے ہواؤں کے ذریعہ بال بھیجے ، جس نے بادلوں کے ذریعہ بارشیں بھیجیں ، جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، جس نے تمہیں جوڑے جوڑے بنایا ، جو جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا حمل لیتی ہے ، وہ جو جانتا ہے کہ کس کی عمر کیا ہے اور زیوریشن کیا ہے ، جس نے دو سمندر پیدا کیے۔ میٹھا اور کھارا ، جس نے رات اور دن پیدا کیے ، جس نے شمس و قمر کی گردش مقرر کی ۔ یہ ہے تمہارا رب۔ سب کچھ اسی کا ہے۔
لہ الملک اور والذین تدعون ۔۔۔۔۔ من قطمیر (35: 13) ” اور اس کے سوا جن دوسروں کو تم پکارتے ہو ، وہ پرکار کے مالک بھی نہیں ہیں “۔ قطمیر گٹھلی کے خلاف اور مہین پردے کو کہتے ہیں۔ یہ مہین اور حقیر پردہ بھی ان کی ملکیت میں نہیں ہے جن کو تم خواہ مخواہ پکارتے ہو۔ ذرا مزید تشریح۔
ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم (35: 14) ” انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن ہی نہیں سکتے “۔ یہ تو بت اور مورتیاں ہیں ، درخت ہیں ، ملائکہ اور جن ہیں۔ یہ سب کے سب بھی قطمیر کے مالک نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی تمہاری دعائیں نہیں سنتا۔ اگر سنتا بھی ہے تو وہ سمجھتا نہیں۔ اگر سمجھتا بھی ہے تو مدد نہیں دے سکتا۔
ولو سمعوا ما استجابوا (35: 14) ” اگر سنیں بھی تو جواب نہیں دے سکتے “۔ مثلاً جن و ملائکہ تو سنتے ہیں تو جن جواب ہی نہیں دے سکتے۔ اور ملائکہ بھی از خود کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ یہ تو ہے ان کی حالت دنیا میں اور قیامت میں تو وہ تم سے براءت کا اعلان کردیں گے۔
ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم (35: 14) ” اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے “۔ ذرا ہوش کرو ، یہ اطلاع تمہیں کون دے رہا ہے “۔
ولا ینبئک مثل خبیر (35: 14) ” ایسی صحیح خبریں تمہیں خبردار کرنے والے کے سوا کوئی نہیں دے سکتا “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوتا ہے اور اس کائنات کی سیر ختم ہوتی ہے۔ اس سیر سے قلب مومن نے بہت کچھ سیکھا اور دیکھا۔ وہ کیفیات مغفرت میں ڈوبا اور تیرا۔ اگر کوئی ہدایت لینا چاہے تو قرآن کی ایک سورة کا ایک ہی سبق اس کے لیے کافی ہے بشرطیکہ کوئی برہان و سلطان کا متلاشی ہو کسی نشانی اور معجزات کا طالب ہو۔
مجھے یہ ڈر ہے کہ دل زندہ تو نہ مر جائے ۔ کہ زندگی تو عبادت ہے تیرے جینے سے
نہایت ہی گہرائی تک متاثر کردینے والے ان مناظر کی چھاؤں میں اور حیران کن حد تک متاثر کردینے والے دلائل ربوبیت کے ان مناظر میں بتایا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ یہ اسی کے کارنامے ہیں اور جو لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ نہایت ہی بڑے خسارے میں ہوں گے۔
فاطر 35:14
یولج الیل ۔۔۔۔۔ لاجل مسمی ”
رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں ۔ یہ نہایت ہی خوبصورت مناظر ہیں۔ جب رات دن میں داخل ہوتی ہے تو روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی ہے اور تاریکی دھیرے دھیرے چھاتی ہے۔ غروب کے بعد پھر تاریکی گہری ہوتی جاتی ہے اور رات کے اندر دن کے داخل ہونے کا منظر بھی بہت ہی دلچسپ ہے۔ سفیدہ صبح آہستہ آہستہ نمودار ہوتا ہے ، روشنی پھیلتی جاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ روشنی نمودار ہوتی ہے اور خوب پھیل جاتی ہے۔ یعنی رات دن کو پوری طرح کھا جاتی ہے اور دن رات کو کھا جاتا ہے۔ دونوں اوقات میں دل کو خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے اور دونوں اوقات میں انسان کے غوروفکر کی قوت تیز ہوتی ہے۔ وہ خدا سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ خدا بہت ہی عظیم ہے جو یہ عظیم تصورات لاتا ہے۔ یوں خطوط کھینچتا ہے۔ ایک رسی کو کھینچتا ہے اور دوسری کو ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ اور گردش لیل و نہار کا یہ نظام نہایت ہی پیچیدہ اور حساس ہے اس کے اندر اس قدر استحکام ہے کہ کبھی اس میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی اضطراب پیدا نہیں ہوتا اور نہ کبھی اس میں خلل پڑتا ہے۔
شمس و قمر کی تسخیر اور اجل مقرر تک ان کا یونہی چلتے رہنا۔ اس وقت تک جس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ وہ منظر جسے ہر انسان دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ چاہے اسے شمس و قمر کا صحیح علم ہو یا نہ ہو ، چاہے اسے ستاروں اور سیاروں کے جسم ، حرکت اور حجم کے بارے میں معلومات ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن یہ دونوں اجرام فلکی ہمارے سامنے طلوع اور غروب ہوتے ہیں۔ ہر آنکھ کے سامنے چڑھتے اور گرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کی یہ حرکت ایک مسلسل حرکت ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کے لیے بھی خلل ، اضطراب اور وقفہ نہیں ہوتا۔ اس منظر کو اس حد تک دیکھنے کے لیے کسی گہرے علم و حساب کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لہٰذا گردش لیل و نہار اور شمس و قمر کا طلوع و غروب وہ منظر ہے جو ہماری نظروں کے سامنے بچھا ہوا ہے۔ آج ہم ان کے بارے میں ذرا زیادہ جانتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جن کے سامنے یہ قرآن نازل ہو رہا تھا۔
لیکن علم کی مقدار اہم نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ان سے کس قدر متاثر ہوتے ہیں ۔ ہمارے دل اس سے کس قدر اثر لیتے ہیں۔ ہمارے اندر غوروفکر کی کس قدر قوت پیدا ہوتی ہے اور ہم اس منظر سے اللہ کی قدرت کا کس قدر گہرا ادراک کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے دل کس قدر زندہ ہوتے ہیں کیونکہ اصل زندگی تو دلوں کی زندگی ہوتی ہے۔
ذلکم اللہ ربکم ۔۔۔۔۔۔ ینبئک مثل خبیر (13 – 14)
یہ ہے وہ رب جس نے ہواؤں کے ذریعہ بال بھیجے ، جس نے بادلوں کے ذریعہ بارشیں بھیجیں ، جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، جس نے تمہیں جوڑے جوڑے بنایا ، جو جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا حمل لیتی ہے ، وہ جو جانتا ہے کہ کس کی عمر کیا ہے اور زیوریشن کیا ہے ، جس نے دو سمندر پیدا کیے۔ میٹھا اور کھارا ، جس نے رات اور دن پیدا کیے ، جس نے شمس و قمر کی گردش مقرر کی ۔ یہ ہے تمہارا رب۔ سب کچھ اسی کا ہے۔
لہ الملک اور والذین تدعون ۔۔۔۔۔ من قطمیر (35: 13) ” اور اس کے سوا جن دوسروں کو تم پکارتے ہو ، وہ پرکار کے مالک بھی نہیں ہیں “۔ قطمیر گٹھلی کے خلاف اور مہین پردے کو کہتے ہیں۔ یہ مہین اور حقیر پردہ بھی ان کی ملکیت میں نہیں ہے جن کو تم خواہ مخواہ پکارتے ہو۔ ذرا مزید تشریح۔
ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم (35: 14) ” انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن ہی نہیں سکتے “۔ یہ تو بت اور مورتیاں ہیں ، درخت ہیں ، ملائکہ اور جن ہیں۔ یہ سب کے سب بھی قطمیر کے مالک نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی تمہاری دعائیں نہیں سنتا۔ اگر سنتا بھی ہے تو وہ سمجھتا نہیں۔ اگر سمجھتا بھی ہے تو مدد نہیں دے سکتا۔
ولو سمعوا ما استجابوا (35: 14) ” اگر سنیں بھی تو جواب نہیں دے سکتے “۔ مثلاً جن و ملائکہ تو سنتے ہیں تو جن جواب ہی نہیں دے سکتے۔ اور ملائکہ بھی از خود کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ یہ تو ہے ان کی حالت دنیا میں اور قیامت میں تو وہ تم سے براءت کا اعلان کردیں گے۔
ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم (35: 14) ” اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے “۔ ذرا ہوش کرو ، یہ اطلاع تمہیں کون دے رہا ہے “۔
ولا ینبئک مثل خبیر (35: 14) ” ایسی صحیح خبریں تمہیں خبردار کرنے والے کے سوا کوئی نہیں دے سکتا “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوتا ہے اور اس کائنات کی سیر ختم ہوتی ہے۔ اس سیر سے قلب مومن نے بہت کچھ سیکھا اور دیکھا۔ وہ کیفیات مغفرت میں ڈوبا اور تیرا۔ اگر کوئی ہدایت لینا چاہے تو قرآن کی ایک سورة کا ایک ہی سبق اس کے لیے کافی ہے بشرطیکہ کوئی برہان و سلطان کا متلاشی ہو کسی نشانی اور معجزات کا طالب ہو۔
مجھے یہ ڈر ہے کہ دل زندہ تو نہ مر جائے ۔ کہ زندگی تو عبادت ہے تیرے جینے سے
نہایت ہی گہرائی تک متاثر کردینے والے ان مناظر کی چھاؤں میں اور حیران کن حد تک متاثر کردینے والے دلائل ربوبیت کے ان مناظر میں بتایا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ یہ اسی کے کارنامے ہیں اور جو لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ نہایت ہی بڑے خسارے میں ہوں گے۔
فاطر 35:15
درس نمبر 202 ایک نظر میں
ایک بار پھر پکارا جاتا ہے کہ لوگو ! ذرا اپنی حقیقت پر غور کرو ، اور اپنے تعلق باللہ کا جائزہ لو ، ایک بار پھر حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ جو لوگ روگردانی کرتے ہیں یہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اس سورة کے دوسرے سبق میں بھی حضور ﷺ کو ایسی ہی تسلی دی گئی تھی۔ البتہ یہاں ذرا اس بات کی وضاحت کردی جاتی ہے کہ ہدایت اور ضلالت کی حقیقت اور ماہیت ایک نہیں ہے ، دونوں کے درمیان اس طرح کا فرق و امتیاز ہے جس طرح اندھے اور بینا میں ہوتا ہے۔ جس طرح نور و تاریکی میں ہے ، جس طرح سائے اور کڑکتی دھوپ میں ہے۔ جس طرح موت وحیات میں ہے۔ پھر ہدایت ، بصیرت ، نور ، سائے اور زندگی اپنے اندر بذات خود ایک گہرا ربط اور مشابہت رکھتے ہیں اور اسی طرح اندھا پن ، تاریکی ، گرمی اور موت باہم مربوط اور مماثل ہیں۔ یہ سبق مکذبین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔
درس نمبر 202 تشریح آیات
15 ۔۔۔ تا۔۔۔ 26
یایھا الناس انتم ۔۔۔۔۔ علی اللہ بعزیز (15 – 17) ” “۔
لوگوں کو جب یہ دعوت دی جائے کہ وہ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آنے کی جدوجہد کریں اور ضلالت کے بدلے ہدایت اختیار کریں تو اس وقت ان کو یہ حقیقت یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ فقراء ہیں اور اللہ کی طرف محتاج ہیں جب کہ اللہ ان کے مقابلے میں پوری طرح غنی ہے اور جب ان کو ایمان ، اللہ کی عبادت اور اللہ کی حمد و ثنا کی دعوت دی جاتی ہے تو اللہ ان کی عبادت اور حمد سے پوری طرح نے نیاز ہے۔ وہ تو بذات خود محمود ہے۔ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ یہ اللہ کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اگر اللہ چاہے تو ان کو ختم کرکے ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے اور ان کو اپنا خلیفہ بنا لے تو یہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے ہیں اور یہ کام اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے تاکہ ان کے ذہنوں سے یہ غرور نکل جائے کہ اللہ ان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجتا ہے اور ان کی ہدایت کا سازوسامان کرتا ہے تو شاید اللہ کو ہماری ہدایت کی کوئی ضرورت ہے۔ اللہ رسول بھیجتا ہے اور وہ پوری انسانی تاریخ میں لوگوں کی ہدایت کے لیے جہدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتے رہے ہیں۔
اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی کرتا ہے ، ان پر رحمت کرتا اور ان پر فضل و کرم کرتا ہے یوں کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجتا ہے یہ رسول لوگوں کی نافرمانی اور لوگوں کی ایذا رسانی کی وجہ سے مصیبتیں برداشت کرتے ہیں اور ان روگردانیوں اور ایذا رسانیوں کے باوجود وہ دعوت پر جمے رہتے ہیں تو یہ اہتمام کرکے اللہ اپنے بندوں پر محض رحم و کرم کرتے ہیں کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے۔ یہ اس کی ذاتی صفات ہیں ، اس لیے نہیں کہ لوگ اللہ کی حکومت میں پرکاہ کے برابر کوئی کوئی اضافہ کرسکتے ہیں یا اللہ کی حکومت میں ذرے کے برابر کسی چیز کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ نیز اللہ کے مقابلے میں انسان کوئی بڑی طاقتور یا غالب مخلوق نہیں ہے کہ اللہ ان کو بدل نہیں سکتا۔ اس لیے اللہ ان کی غلطیوں کو برداشت کرتا ہے۔ کیا یہ انسان ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ایسی صورت نہیں ہے۔
انسان جب اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کو دیکھتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ ایک طرف یہ انسان ، کمزور ، حقیر اور ناتواں ہے اور اس کے مقابلے میں ذات باری ہے ، جو بہت طاقتور ہے اور اس کی جانب سے انسانوں پر یہ مہربانیاں ہیں۔
انسان تو اس کائنات کے مکینوں میں سے ایک نہایت ہی چھوٹی سی مخلوق ہے اور یہ انسان سورج کے گرد چکر لگانے والے ذرات و کر ات میں سے ایک نہایت ہی چھوٹے سے کرے پر رہتا ہے۔ سورج بھی ان ستاروں میں سے ایک ستارہ ہے اور سورج جیسے ستاروں کی تعداد کا بھی ابھی تک انسان کو علم نہیں ہے۔ یہ دوسرے ستارے تو چھوٹے چھوٹے نکلتے ہیں حالا ن کہ اپنی جگہ نہایت دوریوں میں وہ بہت ہی عظیم الجنۃ ہیں اور یہ عظیم الجنۃ ستارے اس فضا میں حقیر ذروں کی طرح تیرتے پھرتے ہیں۔ یہ اللہ کی مخلوقات کا نہایت ہی مختصر حصہ ہیں۔
اس کے باوجود انسان اللہ کی جانب سے اس قدر عظیم فضل و کرم اور اس کے بیشمار فیوض کا وصول کنندہ ہے۔ اس پر اس قدر مہربانیاں ہیں جو اس کے لئے اس زمین میں رکھ دئیے گئے ہیں۔ اس کے جسم کے اندر ودیعت کر دئیے گئے ہیں اور اس کے لیے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیر مخلوق گمراہ ہوکر اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتی ہے اور اللہ کو اس کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے رسول بھیجنے پڑے۔ ایک کے بعد دوسرا رسول آیا۔ رسولوں پر کتابیں بھیجی گئیں۔ رسولوں کو خوارق عادت معجزات دئیے گئے۔ اور اللہ کا یہ فضل و کرم اس مقام تک پہنچ گیا کہ اللہ نے اپنی آخری کتاب بھیج دی۔ اس میں تمام انبیاء کے قصص بھی ثبت کر دئیے۔ اسلاف کی تاریخ اس میں ثبت کردی۔ پھر انسان کو جو صلاحیتیں دی گئیں اور اس کے اندر جو کمزوریاں رکھ دی گئی تھیں وہ سب اس میں بیان کردی گئیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایک انسان کی مشکلات کا حل بتا دیا اور اس کی مشکلات کو دور کردیا۔
یہ عظیم کرم ایک طرف اور دوسری جانب یہ حقیقت کہ یہ انسان مکان زمین میں سے ایک حقیر اور کمزور مخلوق ہے۔ یہ زمین جس پر وہ رہتا ہے۔ یہ شمسی کہکشاں کا ایک حقیر تابع ستارہ ہے جو اس عظیم اور ہولناک عظیم الجنۃ کائنات کے اندر یوں ہے جسطرح زمین کی فضا میں تیرتا ہوا ایٹم اور اللہ سبحانہ اس پوری کائنات و سماوات کا پیدا کنندہ ہے۔ اس نے اس پوری کائنات اور مافیہا کو صرف ایک کلمہ سے پیدا کیا۔ صرف ارادہ متوجہ ہوا اور کن فیکون سے سب کچھ وجود میں آگیا اور یہ ایسا کرنے پر قدرت رکھتا ہے
لوگوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور غور کریں کہ اللہ کا فضل و کرم کس قدر ہے اور وہ معلوم کرلیں کہ اگر وہ زندہ رہ رہے ہیں تو محض اللہ کے فضل و کرم کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور اللہ کی عظیم رحمت کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور یہ رحمت انسان کے انکار ، اعراض ، نافرمانیوں کے باوجود ہے۔
اس لحاظ سے یہ ایک نہایت ہی وجدانی نج ہے جبکہ یہ ایک حقیقت بھی ہے۔ قرآن کریم ایسے ہی حقائق انسانی قلوب پر القاء کرتا ہے ۔ کیونکہ جب حقیقت انسان کے دل پر روشن ہوتی ہے تو وہ انسان کے دل کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ قرآن حق ہے اور سچائی کے ساتھ یہ نازل ہو رہا ہے۔ لہٰذا قرآن کی تمام باتیں حق ہیں۔ وہ سچائی کے ساتھ لوگوں کو مطمئن کرتا ہے ، سچائی پیش کرتا ہے ۔ اس کے اشارات تمام کے تمام حق ہیں۔
اب ایک دوسرا نج۔ یہ کہ دنیا و آخرت میں ذمہ داری انفرادی ہے۔ ذمہ داری انفرادی ہوگی ، کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا
بوجھ نہ اٹھائے گا۔ نہ کوئی کسی کو فائدہ دے سکے گا۔ لہٰذا لوگ اگر ہدایت یافتہ ہوجائیں تو اس سے حضرت نبی ﷺ کی کوئی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ سے صرف ان کے اعمال اور فرائض کے بارے میں پوچھا جائے گا جب کہ دوسرے تمام افراد سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ہر شخص اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا۔ کوئی اس سے پوچھنے والا نہ ہوگا۔ اگر کوئی پاکیزہ زندگی اختیار کرتا ہے تو اپنے لیے کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ کسی اور کے لئے نہیں اور قیامت میں معاملات کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔
فاطر 35:16
درس نمبر 202 ایک نظر میں
ایک بار پھر پکارا جاتا ہے کہ لوگو ! ذرا اپنی حقیقت پر غور کرو ، اور اپنے تعلق باللہ کا جائزہ لو ، ایک بار پھر حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ جو لوگ روگردانی کرتے ہیں یہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اس سورة کے دوسرے سبق میں بھی حضور ﷺ کو ایسی ہی تسلی دی گئی تھی۔ البتہ یہاں ذرا اس بات کی وضاحت کردی جاتی ہے کہ ہدایت اور ضلالت کی حقیقت اور ماہیت ایک نہیں ہے ، دونوں کے درمیان اس طرح کا فرق و امتیاز ہے جس طرح اندھے اور بینا میں ہوتا ہے۔ جس طرح نور و تاریکی میں ہے ، جس طرح سائے اور کڑکتی دھوپ میں ہے۔ جس طرح موت وحیات میں ہے۔ پھر ہدایت ، بصیرت ، نور ، سائے اور زندگی اپنے اندر بذات خود ایک گہرا ربط اور مشابہت رکھتے ہیں اور اسی طرح اندھا پن ، تاریکی ، گرمی اور موت باہم مربوط اور مماثل ہیں۔ یہ سبق مکذبین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔
درس نمبر 202 تشریح آیات
15 ۔۔۔ تا۔۔۔ 26
یایھا الناس انتم ۔۔۔۔۔ علی اللہ بعزیز (15 – 17) ” “۔
لوگوں کو جب یہ دعوت دی جائے کہ وہ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آنے کی جدوجہد کریں اور ضلالت کے بدلے ہدایت اختیار کریں تو اس وقت ان کو یہ حقیقت یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ فقراء ہیں اور اللہ کی طرف محتاج ہیں جب کہ اللہ ان کے مقابلے میں پوری طرح غنی ہے اور جب ان کو ایمان ، اللہ کی عبادت اور اللہ کی حمد و ثنا کی دعوت دی جاتی ہے تو اللہ ان کی عبادت اور حمد سے پوری طرح نے نیاز ہے۔ وہ تو بذات خود محمود ہے۔ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ یہ اللہ کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اگر اللہ چاہے تو ان کو ختم کرکے ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے اور ان کو اپنا خلیفہ بنا لے تو یہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے ہیں اور یہ کام اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے تاکہ ان کے ذہنوں سے یہ غرور نکل جائے کہ اللہ ان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجتا ہے اور ان کی ہدایت کا سازوسامان کرتا ہے تو شاید اللہ کو ہماری ہدایت کی کوئی ضرورت ہے۔ اللہ رسول بھیجتا ہے اور وہ پوری انسانی تاریخ میں لوگوں کی ہدایت کے لیے جہدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتے رہے ہیں۔
اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی کرتا ہے ، ان پر رحمت کرتا اور ان پر فضل و کرم کرتا ہے یوں کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجتا ہے یہ رسول لوگوں کی نافرمانی اور لوگوں کی ایذا رسانی کی وجہ سے مصیبتیں برداشت کرتے ہیں اور ان روگردانیوں اور ایذا رسانیوں کے باوجود وہ دعوت پر جمے رہتے ہیں تو یہ اہتمام کرکے اللہ اپنے بندوں پر محض رحم و کرم کرتے ہیں کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے۔ یہ اس کی ذاتی صفات ہیں ، اس لیے نہیں کہ لوگ اللہ کی حکومت میں پرکاہ کے برابر کوئی کوئی اضافہ کرسکتے ہیں یا اللہ کی حکومت میں ذرے کے برابر کسی چیز کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ نیز اللہ کے مقابلے میں انسان کوئی بڑی طاقتور یا غالب مخلوق نہیں ہے کہ اللہ ان کو بدل نہیں سکتا۔ اس لیے اللہ ان کی غلطیوں کو برداشت کرتا ہے۔ کیا یہ انسان ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ایسی صورت نہیں ہے۔
انسان جب اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کو دیکھتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ ایک طرف یہ انسان ، کمزور ، حقیر اور ناتواں ہے اور اس کے مقابلے میں ذات باری ہے ، جو بہت طاقتور ہے اور اس کی جانب سے انسانوں پر یہ مہربانیاں ہیں۔
انسان تو اس کائنات کے مکینوں میں سے ایک نہایت ہی چھوٹی سی مخلوق ہے اور یہ انسان سورج کے گرد چکر لگانے والے ذرات و کر ات میں سے ایک نہایت ہی چھوٹے سے کرے پر رہتا ہے۔ سورج بھی ان ستاروں میں سے ایک ستارہ ہے اور سورج جیسے ستاروں کی تعداد کا بھی ابھی تک انسان کو علم نہیں ہے۔ یہ دوسرے ستارے تو چھوٹے چھوٹے نکلتے ہیں حالا ن کہ اپنی جگہ نہایت دوریوں میں وہ بہت ہی عظیم الجنۃ ہیں اور یہ عظیم الجنۃ ستارے اس فضا میں حقیر ذروں کی طرح تیرتے پھرتے ہیں۔ یہ اللہ کی مخلوقات کا نہایت ہی مختصر حصہ ہیں۔
اس کے باوجود انسان اللہ کی جانب سے اس قدر عظیم فضل و کرم اور اس کے بیشمار فیوض کا وصول کنندہ ہے۔ اس پر اس قدر مہربانیاں ہیں جو اس کے لئے اس زمین میں رکھ دئیے گئے ہیں۔ اس کے جسم کے اندر ودیعت کر دئیے گئے ہیں اور اس کے لیے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیر مخلوق گمراہ ہوکر اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتی ہے اور اللہ کو اس کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے رسول بھیجنے پڑے۔ ایک کے بعد دوسرا رسول آیا۔ رسولوں پر کتابیں بھیجی گئیں۔ رسولوں کو خوارق عادت معجزات دئیے گئے۔ اور اللہ کا یہ فضل و کرم اس مقام تک پہنچ گیا کہ اللہ نے اپنی آخری کتاب بھیج دی۔ اس میں تمام انبیاء کے قصص بھی ثبت کر دئیے۔ اسلاف کی تاریخ اس میں ثبت کردی۔ پھر انسان کو جو صلاحیتیں دی گئیں اور اس کے اندر جو کمزوریاں رکھ دی گئی تھیں وہ سب اس میں بیان کردی گئیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایک انسان کی مشکلات کا حل بتا دیا اور اس کی مشکلات کو دور کردیا۔
یہ عظیم کرم ایک طرف اور دوسری جانب یہ حقیقت کہ یہ انسان مکان زمین میں سے ایک حقیر اور کمزور مخلوق ہے۔ یہ زمین جس پر وہ رہتا ہے۔ یہ شمسی کہکشاں کا ایک حقیر تابع ستارہ ہے جو اس عظیم اور ہولناک عظیم الجنۃ کائنات کے اندر یوں ہے جسطرح زمین کی فضا میں تیرتا ہوا ایٹم اور اللہ سبحانہ اس پوری کائنات و سماوات کا پیدا کنندہ ہے۔ اس نے اس پوری کائنات اور مافیہا کو صرف ایک کلمہ سے پیدا کیا۔ صرف ارادہ متوجہ ہوا اور کن فیکون سے سب کچھ وجود میں آگیا اور یہ ایسا کرنے پر قدرت رکھتا ہے
لوگوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور غور کریں کہ اللہ کا فضل و کرم کس قدر ہے اور وہ معلوم کرلیں کہ اگر وہ زندہ رہ رہے ہیں تو محض اللہ کے فضل و کرم کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور اللہ کی عظیم رحمت کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور یہ رحمت انسان کے انکار ، اعراض ، نافرمانیوں کے باوجود ہے۔
اس لحاظ سے یہ ایک نہایت ہی وجدانی نج ہے جبکہ یہ ایک حقیقت بھی ہے۔ قرآن کریم ایسے ہی حقائق انسانی قلوب پر القاء کرتا ہے ۔ کیونکہ جب حقیقت انسان کے دل پر روشن ہوتی ہے تو وہ انسان کے دل کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ قرآن حق ہے اور سچائی کے ساتھ یہ نازل ہو رہا ہے۔ لہٰذا قرآن کی تمام باتیں حق ہیں۔ وہ سچائی کے ساتھ لوگوں کو مطمئن کرتا ہے ، سچائی پیش کرتا ہے ۔ اس کے اشارات تمام کے تمام حق ہیں۔
اب ایک دوسرا نج۔ یہ کہ دنیا و آخرت میں ذمہ داری انفرادی ہے۔ ذمہ داری انفرادی ہوگی ، کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا
بوجھ نہ اٹھائے گا۔ نہ کوئی کسی کو فائدہ دے سکے گا۔ لہٰذا لوگ اگر ہدایت یافتہ ہوجائیں تو اس سے حضرت نبی ﷺ کی کوئی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ سے صرف ان کے اعمال اور فرائض کے بارے میں پوچھا جائے گا جب کہ دوسرے تمام افراد سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ہر شخص اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا۔ کوئی اس سے پوچھنے والا نہ ہوگا۔ اگر کوئی پاکیزہ زندگی اختیار کرتا ہے تو اپنے لیے کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ کسی اور کے لئے نہیں اور قیامت میں معاملات کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔
فاطر 35:17
درس نمبر 202 ایک نظر میں
ایک بار پھر پکارا جاتا ہے کہ لوگو ! ذرا اپنی حقیقت پر غور کرو ، اور اپنے تعلق باللہ کا جائزہ لو ، ایک بار پھر حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ جو لوگ روگردانی کرتے ہیں یہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اس سورة کے دوسرے سبق میں بھی حضور ﷺ کو ایسی ہی تسلی دی گئی تھی۔ البتہ یہاں ذرا اس بات کی وضاحت کردی جاتی ہے کہ ہدایت اور ضلالت کی حقیقت اور ماہیت ایک نہیں ہے ، دونوں کے درمیان اس طرح کا فرق و امتیاز ہے جس طرح اندھے اور بینا میں ہوتا ہے۔ جس طرح نور و تاریکی میں ہے ، جس طرح سائے اور کڑکتی دھوپ میں ہے۔ جس طرح موت وحیات میں ہے۔ پھر ہدایت ، بصیرت ، نور ، سائے اور زندگی اپنے اندر بذات خود ایک گہرا ربط اور مشابہت رکھتے ہیں اور اسی طرح اندھا پن ، تاریکی ، گرمی اور موت باہم مربوط اور مماثل ہیں۔ یہ سبق مکذبین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔
درس نمبر 202 تشریح آیات
15 ۔۔۔ تا۔۔۔ 26
یایھا الناس انتم ۔۔۔۔۔ علی اللہ بعزیز (15 – 17) ” “۔
لوگوں کو جب یہ دعوت دی جائے کہ وہ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آنے کی جدوجہد کریں اور ضلالت کے بدلے ہدایت اختیار کریں تو اس وقت ان کو یہ حقیقت یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ فقراء ہیں اور اللہ کی طرف محتاج ہیں جب کہ اللہ ان کے مقابلے میں پوری طرح غنی ہے اور جب ان کو ایمان ، اللہ کی عبادت اور اللہ کی حمد و ثنا کی دعوت دی جاتی ہے تو اللہ ان کی عبادت اور حمد سے پوری طرح نے نیاز ہے۔ وہ تو بذات خود محمود ہے۔ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ یہ اللہ کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اگر اللہ چاہے تو ان کو ختم کرکے ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے اور ان کو اپنا خلیفہ بنا لے تو یہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے ہیں اور یہ کام اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے تاکہ ان کے ذہنوں سے یہ غرور نکل جائے کہ اللہ ان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجتا ہے اور ان کی ہدایت کا سازوسامان کرتا ہے تو شاید اللہ کو ہماری ہدایت کی کوئی ضرورت ہے۔ اللہ رسول بھیجتا ہے اور وہ پوری انسانی تاریخ میں لوگوں کی ہدایت کے لیے جہدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتے رہے ہیں۔
اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی کرتا ہے ، ان پر رحمت کرتا اور ان پر فضل و کرم کرتا ہے یوں کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجتا ہے یہ رسول لوگوں کی نافرمانی اور لوگوں کی ایذا رسانی کی وجہ سے مصیبتیں برداشت کرتے ہیں اور ان روگردانیوں اور ایذا رسانیوں کے باوجود وہ دعوت پر جمے رہتے ہیں تو یہ اہتمام کرکے اللہ اپنے بندوں پر محض رحم و کرم کرتے ہیں کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے۔ یہ اس کی ذاتی صفات ہیں ، اس لیے نہیں کہ لوگ اللہ کی حکومت میں پرکاہ کے برابر کوئی کوئی اضافہ کرسکتے ہیں یا اللہ کی حکومت میں ذرے کے برابر کسی چیز کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ نیز اللہ کے مقابلے میں انسان کوئی بڑی طاقتور یا غالب مخلوق نہیں ہے کہ اللہ ان کو بدل نہیں سکتا۔ اس لیے اللہ ان کی غلطیوں کو برداشت کرتا ہے۔ کیا یہ انسان ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ایسی صورت نہیں ہے۔
انسان جب اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کو دیکھتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ ایک طرف یہ انسان ، کمزور ، حقیر اور ناتواں ہے اور اس کے مقابلے میں ذات باری ہے ، جو بہت طاقتور ہے اور اس کی جانب سے انسانوں پر یہ مہربانیاں ہیں۔
انسان تو اس کائنات کے مکینوں میں سے ایک نہایت ہی چھوٹی سی مخلوق ہے اور یہ انسان سورج کے گرد چکر لگانے والے ذرات و کر ات میں سے ایک نہایت ہی چھوٹے سے کرے پر رہتا ہے۔ سورج بھی ان ستاروں میں سے ایک ستارہ ہے اور سورج جیسے ستاروں کی تعداد کا بھی ابھی تک انسان کو علم نہیں ہے۔ یہ دوسرے ستارے تو چھوٹے چھوٹے نکلتے ہیں حالا ن کہ اپنی جگہ نہایت دوریوں میں وہ بہت ہی عظیم الجنۃ ہیں اور یہ عظیم الجنۃ ستارے اس فضا میں حقیر ذروں کی طرح تیرتے پھرتے ہیں۔ یہ اللہ کی مخلوقات کا نہایت ہی مختصر حصہ ہیں۔
اس کے باوجود انسان اللہ کی جانب سے اس قدر عظیم فضل و کرم اور اس کے بیشمار فیوض کا وصول کنندہ ہے۔ اس پر اس قدر مہربانیاں ہیں جو اس کے لئے اس زمین میں رکھ دئیے گئے ہیں۔ اس کے جسم کے اندر ودیعت کر دئیے گئے ہیں اور اس کے لیے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیر مخلوق گمراہ ہوکر اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتی ہے اور اللہ کو اس کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے رسول بھیجنے پڑے۔ ایک کے بعد دوسرا رسول آیا۔ رسولوں پر کتابیں بھیجی گئیں۔ رسولوں کو خوارق عادت معجزات دئیے گئے۔ اور اللہ کا یہ فضل و کرم اس مقام تک پہنچ گیا کہ اللہ نے اپنی آخری کتاب بھیج دی۔ اس میں تمام انبیاء کے قصص بھی ثبت کر دئیے۔ اسلاف کی تاریخ اس میں ثبت کردی۔ پھر انسان کو جو صلاحیتیں دی گئیں اور اس کے اندر جو کمزوریاں رکھ دی گئی تھیں وہ سب اس میں بیان کردی گئیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایک انسان کی مشکلات کا حل بتا دیا اور اس کی مشکلات کو دور کردیا۔
یہ عظیم کرم ایک طرف اور دوسری جانب یہ حقیقت کہ یہ انسان مکان زمین میں سے ایک حقیر اور کمزور مخلوق ہے۔ یہ زمین جس پر وہ رہتا ہے۔ یہ شمسی کہکشاں کا ایک حقیر تابع ستارہ ہے جو اس عظیم اور ہولناک عظیم الجنۃ کائنات کے اندر یوں ہے جسطرح زمین کی فضا میں تیرتا ہوا ایٹم اور اللہ سبحانہ اس پوری کائنات و سماوات کا پیدا کنندہ ہے۔ اس نے اس پوری کائنات اور مافیہا کو صرف ایک کلمہ سے پیدا کیا۔ صرف ارادہ متوجہ ہوا اور کن فیکون سے سب کچھ وجود میں آگیا اور یہ ایسا کرنے پر قدرت رکھتا ہے
لوگوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور غور کریں کہ اللہ کا فضل و کرم کس قدر ہے اور وہ معلوم کرلیں کہ اگر وہ زندہ رہ رہے ہیں تو محض اللہ کے فضل و کرم کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور اللہ کی عظیم رحمت کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور یہ رحمت انسان کے انکار ، اعراض ، نافرمانیوں کے باوجود ہے۔
اس لحاظ سے یہ ایک نہایت ہی وجدانی نج ہے جبکہ یہ ایک حقیقت بھی ہے۔ قرآن کریم ایسے ہی حقائق انسانی قلوب پر القاء کرتا ہے ۔ کیونکہ جب حقیقت انسان کے دل پر روشن ہوتی ہے تو وہ انسان کے دل کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ قرآن حق ہے اور سچائی کے ساتھ یہ نازل ہو رہا ہے۔ لہٰذا قرآن کی تمام باتیں حق ہیں۔ وہ سچائی کے ساتھ لوگوں کو مطمئن کرتا ہے ، سچائی پیش کرتا ہے ۔ اس کے اشارات تمام کے تمام حق ہیں۔
اب ایک دوسرا نج۔ یہ کہ دنیا و آخرت میں ذمہ داری انفرادی ہے۔ ذمہ داری انفرادی ہوگی ، کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا
بوجھ نہ اٹھائے گا۔ نہ کوئی کسی کو فائدہ دے سکے گا۔ لہٰذا لوگ اگر ہدایت یافتہ ہوجائیں تو اس سے حضرت نبی ﷺ کی کوئی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ سے صرف ان کے اعمال اور فرائض کے بارے میں پوچھا جائے گا جب کہ دوسرے تمام افراد سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ہر شخص اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا۔ کوئی اس سے پوچھنے والا نہ ہوگا۔ اگر کوئی پاکیزہ زندگی اختیار کرتا ہے تو اپنے لیے کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ کسی اور کے لئے نہیں اور قیامت میں معاملات کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔
فاطر 35:18
ولا تزر وازرۃ وزرا اخری ۔۔۔۔۔۔۔ والی اللہ المصیر (18)
انفرادی ذمہ داری کے اصول کا انسانی اخلاقیات پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے اور اسی طرح انسانی طرز عمل پر بھی اس کا فیصلہ کن اثر پوتا ہے۔ کسی انسان میں یہ شعور پیدا ہونا ضروری ہے کہ اسے سزا و جزاء صرف اس کے اعمال پر ہوگی اور اس سے مواخذہ صرف اس کے اعمال پر ہوگا۔ کسی دوسرے کی بدعملی پر اسے سزا نہ ہوگی اور اپنے اعمال بد سے بھی وہ کسی طرح بچ کر نہ نکل سکے گا۔ یہ ایک ایسا فیکٹر ہے جو انسان کو ہر وقت بیدار رکھتا ہے اور اس کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ انسان جھوٹی امیدوں پر تکیہ نہیں کرتا کہ کوئی اسے فائدہ دے گا یا اس کی جگہ کوئی ذمہ داری برداشت کرلے گا۔ یہ اصول انسانوں کے لیے باعث اطمینان بھی ہے۔ اس میں ایک فرد اس بات سے مطمئن ہوجاتا ہے کہ پوری جماعت کی بداعمالیوں کا مواخذہ اس سے نہ ہوگا۔ یوں وہ خود اپنے اچھے اعمال سے مایوس نہ ہوگا بشرطیکہ اس نے جماعت اور سوسائٹی میں تبلیغ و نصیحت اور معروف کو جاری کرنے اور منکر کو روکنے کی سعی کی ہو اور اپنی طاقت اس کام کے لیے استعمال کی ہو۔
اللہ تعالیٰ لوگوں کا محاسبہ بحیثیت جماعت نہیں کرے گا۔ بلکہ ہر ایک مرد کا محاسبہ ہوگا ۔ اور یہ محاسبہ اس کے پورے اعمال کا ہوگا۔ ان حدود کے اندر ہوگا جو اس پر فرض کیے گئے ہیں اور ہر فرد پر یہ بھی فریضہ ہے کہ وہ دوسروں کو نصیحت کرے اور اپنی طاقت کی حد تک ان کی اصلاح کا فریضہ سر انجام دے۔ اگر اس نے اپنی یہ اجتماعی ذمہ داری ادا کردی تو پھر سوسائٹی جو کچھ بھی کرتی ہے وہ اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ وہ صرف اپنے اچھے اعمال کی جزاء پائے گا۔ نیز اگر جماعت اور سوسائٹی اچھی ہو اور یہ شخص اس کے اندر گمراہ اور بدکار ہو تو بھی سوسائٹی کی اچھائی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ کیونکہ اللہ لوگوں کا محاسبہ فہرستوں کے مطابق نہ کرے گا
قرآن کریم نے اس اصول کو قرآن کے مخصوص انداز تعبیر کے مطابق بیان کیا ہے۔ اس انداز کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے ۔ یوں بتایا جاتا ہے کہ بیشمار لوگ ہیں اور انہوں نے اپنا اپنا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ کوئی شخص جس کا بوجھ ہلکا ہو وہ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا رہا ۔ اگر کسی کا بار گنا زیادہ ہے اور وہ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو بلاتا ہے تو کوئی شخص اس کی اس دعوت پر لبیک نہیں کہتا اور کوئی اس کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔
یہ ایک ایسے قافلے کا منظر ہے جس میں ہر شخص اپنا اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اپنے راستے پر جا رہا ہے یہاں تک کہ لوگ ترازو کے سامنے پہنچ جاتے ہیں اور وزن کرنے والا وزن کرنا شروع کردیتا ہے ۔ اس منظر کو دیکھ کر نظر آتا ہے کہ ہر شخص بوجھ کے نیچے ہے۔ کوئی تھکا ماندہ ہے اور کوئی ہلکا ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے نتیجے کا منتظر ہے اور اپنے آپ میں مشغول ہے۔
اس منظر کو دیکھتے ہوئے جس میں اہل قافلہ تھکے ماندے ہیں روئے سخن حضرت نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔
انما تنذر۔۔۔۔۔ الصلوۃ (35: 18) ” تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کرسکتے ہو جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں “۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ڈرانا مفید ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں ہے اور وہ نماز قائم کرکے اپنے رب کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ذات پیغمبر سے استفادہ کرسکتے تھے۔ تمہاری بات سن سکتے تھے۔ لہٰذا آپ پر ان لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتے اور جو نماز قائم نہیں کرتے۔
ومن تذ کی فانما یتزکی لمنفسہ (35: 18) ” اور جو شخص پاکیزگی کی راہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی کے لیے کرتا ہے “۔ نہ آپ کسی کے ذمہ دار ہیں اور نہ کوئی اور کسی کا ٹھیکہ دار ہے۔ جو شخص نیکی اختیار کرتا ہے اور پاکیزگی کرتا ہے وہ خود اس سے نفع اندوز ہوتا ہے۔ (تزکی) کے اندر نہایت ہی لطیف اور گہرا مفہوم ہے۔ جس کے اندر ظاہری صفائی بھی شامل ہے۔ جس کے اندر قلب و شعور کی صفائی بھی شامل ہے۔ جس کے اندر طرز عمل اور رویہ کی صفائی بھی شامل ہے۔ (تزکی) کے اندر گہرا اشاراتی مفہوم پایا جاتا ہے۔
والی اللہ المصیر (35: 18) ” اور پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے “۔ اللہ ہی محاسب ہے۔ وہی جزاء و سزا دینے والا ہے۔ اس کے ہاں نہ اچھا عمل ضائع ہوتا ہے ، نہ برا عمل شمار سے رہ سکتا ہے اور نہ جزاء و سزا کے احکام ایسے لوگوں کے حوالے کیے جاتے ہیں جو فیصلے میں رعایت کرتے ہیں ، یا بھولتے ہیں یا ویسے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
اللہ کے نزدیک ایمان و کفر برابر نہیں ہیں۔ خیر و شر کی برابر قیمت نہیں۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاں برابر نہیں ہوتے۔ اندھا اور آنکھوں والا بھی اس کے ہاں ایک نہیں ہوتے۔ روشنی اور تاریکی کی قدر وہاں ایک نہیں ہے۔ چھاؤں اور گرمی کی افادیت بھی برابر نہیں ہے اور نہ اللہ کے ہاں زندہ اور مردہ برابر ہوتے ہیں۔ یہ سب چیزیں واضح طور پر قدر و قیمت کے اعتبار سے جدا ہیں۔
فاطر 35:19
وما یستوی ۔۔۔۔۔۔ ولا الاموات (19 – 21) یہاں ایک طرف کفر ، اندھے پن ، تاریکی ، گرمی اور موت سب کے سب ایک مزاج رکھتے ہیں اور ان کے مفہومات کے درمیان ربط ہے۔ دوسری جانب ایمان ، نور ، بصارت ، چھاؤں اور زندگی کے مفہومات کا ایک ہی مزاج ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔
ایمان نور ہے۔ دل میں نور ، اعضاء میں نور ، حواس میں نور ، ایسا نور جس سے اشیاء کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ اقدار اور واقعات روشن ہوتے ہیں اور ان کی حدود اور روابط واضح ہوتے ہیں۔ مومن اس نور سے تمام اشیاء کو دیکھتا ہے اور وہ روشنی کے اندر واقعات کو دیکھتا ہے۔ اس لیے اس کے معاملات اچھے ہوتے ہیں۔ اس کے اقدامات درست سمت میں ہوتے ہیں اور اس کے قدم ڈگمگاتے نہیں۔
ایمان ایک آنکھ ہے جو دیکھتی ہے۔ یہ آنکھ چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق دیکھتی ہے۔ نہ اس میں تزلزل ہوتا ہے اور نہ اس میں انتشار ہوتا ہے اور صاحب ایمان اپنی راہ پر روشنی میں ، اعتماد کے ساتھ اور اطمینان کے ساتھ چلتا ہے۔ پھر ایمان ایک سایہ ہے جس کے نیچے انسان راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا نفس اس میں آرام کرتا ہے اور روح خوش ہوتی ہے۔ شک ، بےچینی ، حیرت اور اندھیروں کے سفر کی گرمی سے انسان پناہ میں ہوتا ہے۔
پھر ایمان ایک زندگی ہے۔ دلوں اور شعور کی زندگی۔ ارادہ کی زندگی ، رخ اور سمت کی زندگی۔ ایمان ایک حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔ یہ تعمیر جدوجہد ہے ، مفید اور بامقصد زندگی ہے ، جس کے اندر یہ مروگی اور مردنی نہیں ہے اور زندگی بجھی بجھی بھی نہیں ہوتی ہے۔ نہ اس میں کوئی چیز عبث ہے اور نہ بیہودگی ہے۔
کفر تاریکی ہے تاریکیاں ہیں۔ جب لوگ نور ایمان کے دائرہ سے نکل آئیں تو پھر وہ مختلف قسم کے اندھیروں میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ ایسے اندھیرے جن کے اندر کسی چیز کی صحیح حقیقت نظر نہیں آتی۔ کفر ایک قسم کی سخت دھوپ ہے۔ اس کے اندر دل حیرانی ، پریشانی ، قلق ، بےچینی ، تزلزل اور عدم اطمینان کی گرم آندھیوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور آخرت میں جہنم کی گرمی کا شکار ہوتا ہے۔ کفر ایک طرح کی موت ہے۔ ضمیر کی موت ، منبع حیات سے کٹ جانا ، صحیح راستے سے کٹ جانا ، حقیقی سرچشمے سے کٹ جانا اور حقیقی آب حیات سے محروم ہونا ، جس سے انسانی سیرت متاثر ہوتی ہے۔ غرض ان صفات میں سے ہر ایک صفت کی ایک حقیقت ہے اور دونوں کے درمیان مکمل تضاد ہے اور اللہ کے ہاں دونوں برابر نہیں ہیں۔
اب روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حوالے سے آپ کے فرائض اور عمل کی حدود کیا ہیں۔ اپنے فرائض و حدود سے آگے جو معاملات ہیں وہ اللہ کے سپرد کردیں کیونکہ اللہ ہی ان کا واکدار ہے۔
فاطر 35:20
وما یستوی ۔۔۔۔۔۔ ولا الاموات (19 – 21) یہاں ایک طرف کفر ، اندھے پن ، تاریکی ، گرمی اور موت سب کے سب ایک مزاج رکھتے ہیں اور ان کے مفہومات کے درمیان ربط ہے۔ دوسری جانب ایمان ، نور ، بصارت ، چھاؤں اور زندگی کے مفہومات کا ایک ہی مزاج ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔
ایمان نور ہے۔ دل میں نور ، اعضاء میں نور ، حواس میں نور ، ایسا نور جس سے اشیاء کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ اقدار اور واقعات روشن ہوتے ہیں اور ان کی حدود اور روابط واضح ہوتے ہیں۔ مومن اس نور سے تمام اشیاء کو دیکھتا ہے اور وہ روشنی کے اندر واقعات کو دیکھتا ہے۔ اس لیے اس کے معاملات اچھے ہوتے ہیں۔ اس کے اقدامات درست سمت میں ہوتے ہیں اور اس کے قدم ڈگمگاتے نہیں۔
ایمان ایک آنکھ ہے جو دیکھتی ہے۔ یہ آنکھ چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق دیکھتی ہے۔ نہ اس میں تزلزل ہوتا ہے اور نہ اس میں انتشار ہوتا ہے اور صاحب ایمان اپنی راہ پر روشنی میں ، اعتماد کے ساتھ اور اطمینان کے ساتھ چلتا ہے۔ پھر ایمان ایک سایہ ہے جس کے نیچے انسان راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا نفس اس میں آرام کرتا ہے اور روح خوش ہوتی ہے۔ شک ، بےچینی ، حیرت اور اندھیروں کے سفر کی گرمی سے انسان پناہ میں ہوتا ہے۔
پھر ایمان ایک زندگی ہے۔ دلوں اور شعور کی زندگی۔ ارادہ کی زندگی ، رخ اور سمت کی زندگی۔ ایمان ایک حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔ یہ تعمیر جدوجہد ہے ، مفید اور بامقصد زندگی ہے ، جس کے اندر یہ مروگی اور مردنی نہیں ہے اور زندگی بجھی بجھی بھی نہیں ہوتی ہے۔ نہ اس میں کوئی چیز عبث ہے اور نہ بیہودگی ہے۔
کفر تاریکی ہے تاریکیاں ہیں۔ جب لوگ نور ایمان کے دائرہ سے نکل آئیں تو پھر وہ مختلف قسم کے اندھیروں میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ ایسے اندھیرے جن کے اندر کسی چیز کی صحیح حقیقت نظر نہیں آتی۔ کفر ایک قسم کی سخت دھوپ ہے۔ اس کے اندر دل حیرانی ، پریشانی ، قلق ، بےچینی ، تزلزل اور عدم اطمینان کی گرم آندھیوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور آخرت میں جہنم کی گرمی کا شکار ہوتا ہے۔ کفر ایک طرح کی موت ہے۔ ضمیر کی موت ، منبع حیات سے کٹ جانا ، صحیح راستے سے کٹ جانا ، حقیقی سرچشمے سے کٹ جانا اور حقیقی آب حیات سے محروم ہونا ، جس سے انسانی سیرت متاثر ہوتی ہے۔ غرض ان صفات میں سے ہر ایک صفت کی ایک حقیقت ہے اور دونوں کے درمیان مکمل تضاد ہے اور اللہ کے ہاں دونوں برابر نہیں ہیں۔
اب روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حوالے سے آپ کے فرائض اور عمل کی حدود کیا ہیں۔ اپنے فرائض و حدود سے آگے جو معاملات ہیں وہ اللہ کے سپرد کردیں کیونکہ اللہ ہی ان کا واکدار ہے۔
فاطر 35:21
وما یستوی ۔۔۔۔۔۔ ولا الاموات (19 – 21) یہاں ایک طرف کفر ، اندھے پن ، تاریکی ، گرمی اور موت سب کے سب ایک مزاج رکھتے ہیں اور ان کے مفہومات کے درمیان ربط ہے۔ دوسری جانب ایمان ، نور ، بصارت ، چھاؤں اور زندگی کے مفہومات کا ایک ہی مزاج ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔
ایمان نور ہے۔ دل میں نور ، اعضاء میں نور ، حواس میں نور ، ایسا نور جس سے اشیاء کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ اقدار اور واقعات روشن ہوتے ہیں اور ان کی حدود اور روابط واضح ہوتے ہیں۔ مومن اس نور سے تمام اشیاء کو دیکھتا ہے اور وہ روشنی کے اندر واقعات کو دیکھتا ہے۔ اس لیے اس کے معاملات اچھے ہوتے ہیں۔ اس کے اقدامات درست سمت میں ہوتے ہیں اور اس کے قدم ڈگمگاتے نہیں۔
ایمان ایک آنکھ ہے جو دیکھتی ہے۔ یہ آنکھ چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق دیکھتی ہے۔ نہ اس میں تزلزل ہوتا ہے اور نہ اس میں انتشار ہوتا ہے اور صاحب ایمان اپنی راہ پر روشنی میں ، اعتماد کے ساتھ اور اطمینان کے ساتھ چلتا ہے۔ پھر ایمان ایک سایہ ہے جس کے نیچے انسان راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا نفس اس میں آرام کرتا ہے اور روح خوش ہوتی ہے۔ شک ، بےچینی ، حیرت اور اندھیروں کے سفر کی گرمی سے انسان پناہ میں ہوتا ہے۔
پھر ایمان ایک زندگی ہے۔ دلوں اور شعور کی زندگی۔ ارادہ کی زندگی ، رخ اور سمت کی زندگی۔ ایمان ایک حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔ یہ تعمیر جدوجہد ہے ، مفید اور بامقصد زندگی ہے ، جس کے اندر یہ مروگی اور مردنی نہیں ہے اور زندگی بجھی بجھی بھی نہیں ہوتی ہے۔ نہ اس میں کوئی چیز عبث ہے اور نہ بیہودگی ہے۔
کفر تاریکی ہے تاریکیاں ہیں۔ جب لوگ نور ایمان کے دائرہ سے نکل آئیں تو پھر وہ مختلف قسم کے اندھیروں میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ ایسے اندھیرے جن کے اندر کسی چیز کی صحیح حقیقت نظر نہیں آتی۔ کفر ایک قسم کی سخت دھوپ ہے۔ اس کے اندر دل حیرانی ، پریشانی ، قلق ، بےچینی ، تزلزل اور عدم اطمینان کی گرم آندھیوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور آخرت میں جہنم کی گرمی کا شکار ہوتا ہے۔ کفر ایک طرح کی موت ہے۔ ضمیر کی موت ، منبع حیات سے کٹ جانا ، صحیح راستے سے کٹ جانا ، حقیقی سرچشمے سے کٹ جانا اور حقیقی آب حیات سے محروم ہونا ، جس سے انسانی سیرت متاثر ہوتی ہے۔ غرض ان صفات میں سے ہر ایک صفت کی ایک حقیقت ہے اور دونوں کے درمیان مکمل تضاد ہے اور اللہ کے ہاں دونوں برابر نہیں ہیں۔
اب روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حوالے سے آپ کے فرائض اور عمل کی حدود کیا ہیں۔ اپنے فرائض و حدود سے آگے جو معاملات ہیں وہ اللہ کے سپرد کردیں کیونکہ اللہ ہی ان کا واکدار ہے۔
فاطر 35:22
ان اللہ یسمع ۔۔۔۔۔ فکیف کان نکیر (22 – 26) ”
اس کائنات کی حقیقت اور نفس انسانی کی ماہیت میں امتیازات حقیقی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لوگوں کا مزاج مختلف ہوتا ہے اور دعوت اسلامی کے حوالے سے ان کا ردعمل بھی جدا ہوتا ہے اس طرح جس طرح بصارت اور اندھے پن کا ، سائے اور دھوپ کا ، اندھیروں اور روشنی کا اور حیات اور موت کا ، اور ان تمام معاملات کی پشت پر اللہ کی حکمت اور قدرت کام کر رہی ہوتی ہے۔
لہٰذا رسول صرف نذیر ہوتا ہے۔ اس کی انسانی طاقت محدود ہوتی ہے۔ وہ قبروں کے اندر پڑے مردوں تک دعوت نہیں پہنچا سکتا۔ نہ ایسے چلتے پھرتے مردوں کو وہ دعوت دے سکتا ہے یا سنا سکتا ہے۔ وہ اصل میں حقیقی مردوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اللہ ہی ہے جو ہر اس شخص کو سنا دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ جب چاہے ، جس طرح چاہے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی گمراہ ہوتا ہے تو کیوں ہوتا ہے۔ اگر کوئی منہ پھیرتا ہے تو پھیرے بشرطیکہ رسول ﷺ نے دعوت دے دی ہو اور رسالت کی ڈیوٹی ادا کردی ہو۔ لہٰذا جو سنتا ہے ، سنے ، اور جو اعراض کرتا ہے ، اعراض کرے۔ اس سے قبل رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا تھا۔
فاطر 35:23
فلا تذھب نفسک علیھم حسرت (35: 8) ” پس آپ ﷺ ان پر حسرت کرکے اپنے آپ کو گھلا نہ دیں “۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا تھا۔ آپ ﷺ کا منصب ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ کے دوسرے بھائی رسولوں کا تھا۔ وہ تعداد میں تو بہت زیادہ تھے کیونکہ ہر امت اور ہر قوم کے لیے رسول بھیجا جاتا رہا ہے۔
فاطر 35:24
وان من امۃ الا خلا فیھا نذیر (35: 24) ” اور کوئی امت نہیں گزری جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو “ اگر آپ کی قوم تکذیب کر رہی ہے تو بیشمار رسولوں کی اقوام نے اسی طرح تکذیب کی ہے اور اس تکذیب کی وجہ رسولوں کی تبلیغ کا قصور نہ تھا۔ اور نہ دلائل کی کمی تھی۔
فاطر 35:25
وان یکذبوک فقد ۔۔۔ بالکتب المنیر (35: 25) ” اب اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل اور صحیفے اور روشن ہدایات دینے والی کتاب کے کر آئے تھے “۔ بینات سے مراد مختلف قسم کے دلائل ہیں۔ معجزات بھی دلائل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے تھے اور تحدی دیتے تھے۔ الزبر سے مراد متفرق صحیفے ، رسائل اور پمفلٹ ہیں ، جن میں نصیحتیں ، ہدایات اور تکالیف و فرائض ہوتے تھے۔ کتاب منیر سے مراد مطابق قول راجح حضرت موسیٰ کی کتاب تورات ہے۔ لیکن ان کی امت نے کتب الہیہ کی تکذیب کی۔
ہمیشہ اکثر اقوام نے رسولوں اور ان کی ہدایات اور کتابوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ لہٰذا معاملہ جدید نہیں ہے۔ یہ حضور ﷺ کے ساتھ ہونے والا سلوک کوئی منفرد سلوک نہیں ہے۔ یہ تو ایک معمول بہ طرز عمل ہے۔ لیکن ایسا رویہ اختیار کرنے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔
فاطر 35:26
ثم اخذت الذین کفروا (35: 26) ” پھر جن لوگوں نے ظلم کیا میں نے ان کو پکڑا “۔ اور ذرا دیکھو یہ پکڑ کیسی تھی۔
فکیف کان نکیر (35: 26) ” دیکھو لو ، میری سزا کیسی سخت تھی “۔ اللہ کی پکڑ بہت سخت تھی اور وہ یہ تھی کہ اللہ نے ان کو ہلاک کرکے رکھ دیا۔ لہٰذا جو لوگ اس راہ پر گامزن ہیں ، انہیں ذرا ڈرانا چاہئے کہ ان کا انجام ایسا ہی نہ ہوجائے۔
یہ ہے قرآنی ٹچ جس کے ساتھ یہ سبق مکمل ہوتا ہے۔ اب ہم ایک دوسری وادی کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں۔
فاطر 35:27
درس نمبر 203 ایک نظر میں
یہ سبق اس کائنات کی کتاب اور اللہ کی کتاب کے ایک اقتباس پر مشتمل ہے۔ کتاب کائنات کا مطالعہ اور اس کے خوبصورت اور عجیب صحائف پر ایک نظر ہے جو مختلف اقسام اور مختلف موضوعات سے متعلق ہیں۔ جن کے پھل قسما قسم ہیں ، جس کے پہاڑ رنگا رنگ ہیں۔ جن کے انسان ، حیوان اور زمین پر چلنے والے جانور مختلف النوع اور مختلف الاشکال ہیں۔ اس خوبصورت کائنات کا یہ عجیب مطالعہ بہت ہی دلچسپ ہے اور پوری کائنات اس کا موضوع ہے۔ پھر اللہ کی کتاب منزل کا مطالعہ اور اس کے اندر جو تعلیمات ہیں اور جو سچائیاں ہیں اور جو اس سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتی ہے پھر امت مسلمہ کا سابقہ امتوں کا وارث بنایا جانا اور وارثوں کے درجے اور اہل ایمان کے لیے جو عفو و مغفرت اور انعامات تیار کیے گئے ہیں ۔ جنتوں کے مناظر اور جہنم کے مناظر اور کافروں کے حالات ، اور آخر میں یہ قرار داد کہ یہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق ہوتا ہے
درس نمبر 203 تشریح آیات
27 ۔۔۔ تا۔۔۔ 38
الم تر ان اللہ۔۔۔۔۔۔ ان اللہ عزیز غفور (27 – 28) ” “
یہ اس کائنات کی ایک جھلک ہے۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ کتاب اللہ کا سرچشمہ اور کتاب کائنات کا سرچشمہ ایک ہے۔ اس جھلکی میں پوری زمین کو دکھا دیا گیا ہے اور پوری زمین کے رنگ ڈھنگ ظاہر کیے گئے ہیں۔ پھلوں کے رنگ و اقسام ، پہاڑوں کے رنگ اور ان کی انواع ، لوگوں کے رنگ اور شکلیں ، حیوانات اور مویشیوں کی اقسام و انواع ، چند الفاظ کے اندر پوری زمین کے خدوخال ضبط کر دئیے گئے ہیں جس میں زندہ اور غیر زندہ سب چیزوں کو لپیٹ لیا گیا ہے ۔ چند الفاظ کے اندر خداوند قدوس کی اس نمائش کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے جو بہت ہی دلکش ہے اور یہ دلکشیاں پوری زمین پر پھیلی ہوئی ہیں۔
آغاز میں ہم دیکھتے ہیں کہ بارشیں ہو رہی ہیں۔ اور ان بارشوں کے نتیجے میں اس زمین پر رنگا رنگ پھل پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں چونکہ مختلف رنگوں کی نمائش مقصود ہے اس لیے پھلوں کے ذکر کے بجائے ان کے رنگ دکھائے جاتے ہیں۔
فاخرجنا بہ ثمرت مختلفا الوانھا (35: 27) ” اور پھر اس کے ذریعے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں “۔ پھلوں کے رنگ بھی درحقیقت ایک عظیم نمائش گاہ ہے اور اس میں رنگوں کی جو اسکیم ہے ، اس کا کوئی حصہ ، دنیا کے تمام نقاش مل کر بھی تیار نہیں کرسکتے۔ ایک قسم کے پھلوں کا رنگ دوسری اقسام سے مختلف ہے۔ بلکہ ایک قسم کے پھلوں میں بھی مختلف رنگ ہیں اور ایک قسم کا رنگ دوسروں سے مختلف ہے۔ اور ہر دانے کا رنگ بھی دوسروں سے مختلف ہے۔
اور پھلوں کے رنگ کے بعد پھر پہاڑوں کے رنگ ، اور پھلوں کے رنگوں اور پہاڑوں کے رنگوں کے درمیان بظاہر کوئی ربط نظر نہیں آتا لیکن اگر حقیقی مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو ایک قدرتی ربط موجود ہے۔ پہاڑوں کے رنگوں اور پھلوں کے رنگوں کے درمیان ایک قسم کا ربط موجود ہے۔ بلکہ پتھروں اور پہاڑوں کے رنگ بھی بعض اوقات پھلوں کے رنگوں جیسے ہوتے ہیں۔
ومن الجبال جدد۔۔۔۔۔ وغرابیب سود (35: 27) ” پہاڑوں میں سفید ، سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں “۔ جدد کے معنی راستے اور شاخیں ہیں یعنی دھاریاں۔ آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ ” جدد بیض “ کا رنگ بھی مختلف ہے اسی طرح ” جدد حمر “ کا رنگ بھی مختلف ہے۔ یعنی ہر قسم یعنی سفید و سرخ کا رنگ بھی مختلف ہے اور بعض دھاریاں شدید درجے کی سیاہ ہیں۔
یہاں اس بات کی طرف توجہ دی جاتی ہے کہ ایک رنگ کے پتھر مثلاً سرخ وسفید پھر آپس میں مختلف ہیں۔ پہاڑوں اور پتھروں کے یہ مختلف رنگ ، پھلوں کے مختلف رنگوں کے بعد ذکر ہوئے۔ اس سے انسان کے دل میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور ذوق جمال تیز ہوجاتا ہے۔ یوں یہاں جمال اور خوبصورتی کو بھی تجریدی آرٹ کی شکل میں پیش کیا گیا جو بیک وقت پتھروں میں بھی ذوق نظر کے لیے دامن کش ہے اور پھلوں میں بھی ذوق نظر کو کھینچتا ہے جبکہ پھلوں میں اور پتھروں میں بظاہر کوئی نسبت نہیں ہے۔ لیکن تجریدی ذوق جمال ہر جگہ خوبصورتی کو دیکھ لیتا ہے اور قرآن کی یہ خصوصیت قابل التفات ہے۔
پھر لوگوں کے رنگ ؟ یہ انسانوں کے عام رنگوں تک محدود نہیں ، بلکہ ایک رنگ کے مختلف لوگوں کے رنگ اور ہر ایک کی بناوٹ کے درمیان فرق ہے بلکہ دو لوام بھائی بھی رنگ میں مختلف ہوتے ہیں۔ انسانوں سے آگے پھر پرندوں ، چرندوں اور درندوں کے رنگ ، دابہ ہر حیوان کو کہا جاتا ہے جو زمین پر چلتا ہے۔ انعام اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکریوں کے لیے آتا ہے۔ دواب کے لفظ کے بعد انعام کا خصوصی ذکر اس لیے کیا کہ انسان ان سے زیادہ مانوس ہے۔ ان کے رنگوں کی اسکیم بھی پھلوں اور پتھروں کی طرح حیران کن ہے۔
اس کائنات کے رنگوں کا یہ البم عجیب و غریب ہے۔ قرآن کریم اس کی ورق گردانی کرتا ہے اور انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ چشم بینا کے ساتھ رنگوں کی اس کائناتی اسکیم پر غور کرے۔ صرف اہل علم اور اہل ذوق ہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ صرف اہل علم ہی حکمت اور قدرت خداوندی کو پاکر اللہ کی عظمت کا خیال کرکے اس سے ڈرسکتے ہیں۔
انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا (35: 28) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں “۔ کتاب کائنات کے جو اوراق قرآن مجید نے الٹے ہیں وہ اس کے بہت کم اوراق ہیں اور علماء دراصل اس کائنات پر غور کرتے رہتے ہیں ۔ اس لیے علماء ہی دراصل اللہ کی حقیقی معرفت رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کی صفتوں کے آثار سے زیادہ واقف ہوتے ہیں اور اللہ کی معرفت کا ادراک اس کی قدرت کے آثار سے ملاحظہ کرتے ہیں۔ اللہ کی تخلیق کے عجائبات کو دیکھ کر اس کی عظمت کا شعور رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ سے صحیح معنوں میں ڈرتے ہیں۔ وہ اس کی حقیقی بندگی اس کے خوف کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اللہ کے بارے میں ان علمائے کائنات کا شعور مہمل اور پیچیدہ شعور نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے بارے میں ان کو گہری معرفت حاصل ہوتی ہے۔
قرآن کے یہ صفحات اللہ کی کتاب کا نمونہ ہیں جبکہ رنگ اور دوسرے کائناتی عجائبات اس کائنات کا نمونہ ہیں اور ان کی حقیقت دراصل علمائے کائنات ہی مانتے ہیں ۔ وہ لوگ جو حقیقی علم کتاب رکھتے ہیں اور جو حقیقی تکوینی علم بھی رکھتے ہیں۔ جو اللہ کی معرفت براہ راست رکھتے ہیں۔ ایسا علم جو ان کے دل کا شعور ہو اور جس کے ذریعہ ان کا دل متحرک ہو۔ جس کے ذریعہ وہ اس کائنات کے خوبصورت رنگوں کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں ، اور ان سے خوشی حاصل کرسکتے ہیں اور اللہ کی قدرت کاملہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
اس کائنات کی تشکیل و تخلیق میں حسن و جمال کا عنصر اصل مقصود ہے اور اس حسن کا کمال یہ ہے کہ ہر چیز اپنے فرائض منصبی اپنے طبیعی جمال اور حسن کے واسطے سے ادا کرتی ہے۔ یہ پھول اپنے حسن و جمال اور اپنی نہایت ہی اچھی خوشبو کی وجہ سے شہد کی مکھیوں اور پروانوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مکھیوں اور پروانوں کی ڈیوٹی پھولوں کے حوالے سے یہ ہے کہ یہ مادہ اور نر پھولوں کے درمیان ملاپ کرائیں تاکہ پودوں کے ساتھ پھل لگیں۔ یوں یہ پھول اپنی خوبصورتی اور حسن و جمال کے ذریعے یہ کام کرواتے ہیں۔ مادہ اور نر کے درمیان حسن و جمال ایک دوسرے کے لیے باعث کشش ہوتا ہے اور اس طرح دو صنفیں اپنا اپنا فریضہ منصبی اور طبیعی ادا کرتے ہیں۔ یوں تمام اشیاء فریضہ طبیعی حسن و جمال کے ذریعے سر انجام دیتی ہیں۔ پس جمال اس کائنات کی اسکیم میں مقصود بالذات ہے اور یہی وجہ ہے کہ کتاب کائنات کے حسن و جمال کے اظہار کیلئے کتاب الٰہی جابجا انسانی نظر کیلئے دامن کش ہے۔
ان اللہ عزیز غفور (35: 28) ” بیشک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے “۔ وہ زبردست ہے جس نے یہ اشیاء پیدا کیں اور وہ جزاء و سزا بھی دے سکتا ہے۔ وہ غفور ہے اور جو لوگ اس کی اطاعت اور خوف و خشیت میں تقصیر کرتے ہیں وہ ان کو معاف کرتا ہے۔ نیز جو لوگ اللہ کی صنعت کے عجائبات میں غور نہیں کرتے وہ ان کو بھی معاف کرتا ہے۔
فاطر 35:28
درس نمبر 203 ایک نظر میں
یہ سبق اس کائنات کی کتاب اور اللہ کی کتاب کے ایک اقتباس پر مشتمل ہے۔ کتاب کائنات کا مطالعہ اور اس کے خوبصورت اور عجیب صحائف پر ایک نظر ہے جو مختلف اقسام اور مختلف موضوعات سے متعلق ہیں۔ جن کے پھل قسما قسم ہیں ، جس کے پہاڑ رنگا رنگ ہیں۔ جن کے انسان ، حیوان اور زمین پر چلنے والے جانور مختلف النوع اور مختلف الاشکال ہیں۔ اس خوبصورت کائنات کا یہ عجیب مطالعہ بہت ہی دلچسپ ہے اور پوری کائنات اس کا موضوع ہے۔ پھر اللہ کی کتاب منزل کا مطالعہ اور اس کے اندر جو تعلیمات ہیں اور جو سچائیاں ہیں اور جو اس سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتی ہے پھر امت مسلمہ کا سابقہ امتوں کا وارث بنایا جانا اور وارثوں کے درجے اور اہل ایمان کے لیے جو عفو و مغفرت اور انعامات تیار کیے گئے ہیں ۔ جنتوں کے مناظر اور جہنم کے مناظر اور کافروں کے حالات ، اور آخر میں یہ قرار داد کہ یہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق ہوتا ہے
درس نمبر 203 تشریح آیات
27 ۔۔۔ تا۔۔۔ 38
الم تر ان اللہ۔۔۔۔۔۔ ان اللہ عزیز غفور (27 – 28) ” “
یہ اس کائنات کی ایک جھلک ہے۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ کتاب اللہ کا سرچشمہ اور کتاب کائنات کا سرچشمہ ایک ہے۔ اس جھلکی میں پوری زمین کو دکھا دیا گیا ہے اور پوری زمین کے رنگ ڈھنگ ظاہر کیے گئے ہیں۔ پھلوں کے رنگ و اقسام ، پہاڑوں کے رنگ اور ان کی انواع ، لوگوں کے رنگ اور شکلیں ، حیوانات اور مویشیوں کی اقسام و انواع ، چند الفاظ کے اندر پوری زمین کے خدوخال ضبط کر دئیے گئے ہیں جس میں زندہ اور غیر زندہ سب چیزوں کو لپیٹ لیا گیا ہے ۔ چند الفاظ کے اندر خداوند قدوس کی اس نمائش کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے جو بہت ہی دلکش ہے اور یہ دلکشیاں پوری زمین پر پھیلی ہوئی ہیں۔
آغاز میں ہم دیکھتے ہیں کہ بارشیں ہو رہی ہیں۔ اور ان بارشوں کے نتیجے میں اس زمین پر رنگا رنگ پھل پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں چونکہ مختلف رنگوں کی نمائش مقصود ہے اس لیے پھلوں کے ذکر کے بجائے ان کے رنگ دکھائے جاتے ہیں۔
فاخرجنا بہ ثمرت مختلفا الوانھا (35: 27) ” اور پھر اس کے ذریعے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں “۔ پھلوں کے رنگ بھی درحقیقت ایک عظیم نمائش گاہ ہے اور اس میں رنگوں کی جو اسکیم ہے ، اس کا کوئی حصہ ، دنیا کے تمام نقاش مل کر بھی تیار نہیں کرسکتے۔ ایک قسم کے پھلوں کا رنگ دوسری اقسام سے مختلف ہے۔ بلکہ ایک قسم کے پھلوں میں بھی مختلف رنگ ہیں اور ایک قسم کا رنگ دوسروں سے مختلف ہے۔ اور ہر دانے کا رنگ بھی دوسروں سے مختلف ہے۔
اور پھلوں کے رنگ کے بعد پھر پہاڑوں کے رنگ ، اور پھلوں کے رنگوں اور پہاڑوں کے رنگوں کے درمیان بظاہر کوئی ربط نظر نہیں آتا لیکن اگر حقیقی مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو ایک قدرتی ربط موجود ہے۔ پہاڑوں کے رنگوں اور پھلوں کے رنگوں کے درمیان ایک قسم کا ربط موجود ہے۔ بلکہ پتھروں اور پہاڑوں کے رنگ بھی بعض اوقات پھلوں کے رنگوں جیسے ہوتے ہیں۔
ومن الجبال جدد۔۔۔۔۔ وغرابیب سود (35: 27) ” پہاڑوں میں سفید ، سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں “۔ جدد کے معنی راستے اور شاخیں ہیں یعنی دھاریاں۔ آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ ” جدد بیض “ کا رنگ بھی مختلف ہے اسی طرح ” جدد حمر “ کا رنگ بھی مختلف ہے۔ یعنی ہر قسم یعنی سفید و سرخ کا رنگ بھی مختلف ہے اور بعض دھاریاں شدید درجے کی سیاہ ہیں۔
یہاں اس بات کی طرف توجہ دی جاتی ہے کہ ایک رنگ کے پتھر مثلاً سرخ وسفید پھر آپس میں مختلف ہیں۔ پہاڑوں اور پتھروں کے یہ مختلف رنگ ، پھلوں کے مختلف رنگوں کے بعد ذکر ہوئے۔ اس سے انسان کے دل میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور ذوق جمال تیز ہوجاتا ہے۔ یوں یہاں جمال اور خوبصورتی کو بھی تجریدی آرٹ کی شکل میں پیش کیا گیا جو بیک وقت پتھروں میں بھی ذوق نظر کے لیے دامن کش ہے اور پھلوں میں بھی ذوق نظر کو کھینچتا ہے جبکہ پھلوں میں اور پتھروں میں بظاہر کوئی نسبت نہیں ہے۔ لیکن تجریدی ذوق جمال ہر جگہ خوبصورتی کو دیکھ لیتا ہے اور قرآن کی یہ خصوصیت قابل التفات ہے۔
پھر لوگوں کے رنگ ؟ یہ انسانوں کے عام رنگوں تک محدود نہیں ، بلکہ ایک رنگ کے مختلف لوگوں کے رنگ اور ہر ایک کی بناوٹ کے درمیان فرق ہے بلکہ دو لوام بھائی بھی رنگ میں مختلف ہوتے ہیں۔ انسانوں سے آگے پھر پرندوں ، چرندوں اور درندوں کے رنگ ، دابہ ہر حیوان کو کہا جاتا ہے جو زمین پر چلتا ہے۔ انعام اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکریوں کے لیے آتا ہے۔ دواب کے لفظ کے بعد انعام کا خصوصی ذکر اس لیے کیا کہ انسان ان سے زیادہ مانوس ہے۔ ان کے رنگوں کی اسکیم بھی پھلوں اور پتھروں کی طرح حیران کن ہے۔
اس کائنات کے رنگوں کا یہ البم عجیب و غریب ہے۔ قرآن کریم اس کی ورق گردانی کرتا ہے اور انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ چشم بینا کے ساتھ رنگوں کی اس کائناتی اسکیم پر غور کرے۔ صرف اہل علم اور اہل ذوق ہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ صرف اہل علم ہی حکمت اور قدرت خداوندی کو پاکر اللہ کی عظمت کا خیال کرکے اس سے ڈرسکتے ہیں۔
انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا (35: 28) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں “۔ کتاب کائنات کے جو اوراق قرآن مجید نے الٹے ہیں وہ اس کے بہت کم اوراق ہیں اور علماء دراصل اس کائنات پر غور کرتے رہتے ہیں ۔ اس لیے علماء ہی دراصل اللہ کی حقیقی معرفت رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کی صفتوں کے آثار سے زیادہ واقف ہوتے ہیں اور اللہ کی معرفت کا ادراک اس کی قدرت کے آثار سے ملاحظہ کرتے ہیں۔ اللہ کی تخلیق کے عجائبات کو دیکھ کر اس کی عظمت کا شعور رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ سے صحیح معنوں میں ڈرتے ہیں۔ وہ اس کی حقیقی بندگی اس کے خوف کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اللہ کے بارے میں ان علمائے کائنات کا شعور مہمل اور پیچیدہ شعور نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے بارے میں ان کو گہری معرفت حاصل ہوتی ہے۔
قرآن کے یہ صفحات اللہ کی کتاب کا نمونہ ہیں جبکہ رنگ اور دوسرے کائناتی عجائبات اس کائنات کا نمونہ ہیں اور ان کی حقیقت دراصل علمائے کائنات ہی مانتے ہیں ۔ وہ لوگ جو حقیقی علم کتاب رکھتے ہیں اور جو حقیقی تکوینی علم بھی رکھتے ہیں۔ جو اللہ کی معرفت براہ راست رکھتے ہیں۔ ایسا علم جو ان کے دل کا شعور ہو اور جس کے ذریعہ ان کا دل متحرک ہو۔ جس کے ذریعہ وہ اس کائنات کے خوبصورت رنگوں کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں ، اور ان سے خوشی حاصل کرسکتے ہیں اور اللہ کی قدرت کاملہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
اس کائنات کی تشکیل و تخلیق میں حسن و جمال کا عنصر اصل مقصود ہے اور اس حسن کا کمال یہ ہے کہ ہر چیز اپنے فرائض منصبی اپنے طبیعی جمال اور حسن کے واسطے سے ادا کرتی ہے۔ یہ پھول اپنے حسن و جمال اور اپنی نہایت ہی اچھی خوشبو کی وجہ سے شہد کی مکھیوں اور پروانوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مکھیوں اور پروانوں کی ڈیوٹی پھولوں کے حوالے سے یہ ہے کہ یہ مادہ اور نر پھولوں کے درمیان ملاپ کرائیں تاکہ پودوں کے ساتھ پھل لگیں۔ یوں یہ پھول اپنی خوبصورتی اور حسن و جمال کے ذریعے یہ کام کرواتے ہیں۔ مادہ اور نر کے درمیان حسن و جمال ایک دوسرے کے لیے باعث کشش ہوتا ہے اور اس طرح دو صنفیں اپنا اپنا فریضہ منصبی اور طبیعی ادا کرتے ہیں۔ یوں تمام اشیاء فریضہ طبیعی حسن و جمال کے ذریعے سر انجام دیتی ہیں۔ پس جمال اس کائنات کی اسکیم میں مقصود بالذات ہے اور یہی وجہ ہے کہ کتاب کائنات کے حسن و جمال کے اظہار کیلئے کتاب الٰہی جابجا انسانی نظر کیلئے دامن کش ہے۔
ان اللہ عزیز غفور (35: 28) ” بیشک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے “۔ وہ زبردست ہے جس نے یہ اشیاء پیدا کیں اور وہ جزاء و سزا بھی دے سکتا ہے۔ وہ غفور ہے اور جو لوگ اس کی اطاعت اور خوف و خشیت میں تقصیر کرتے ہیں وہ ان کو معاف کرتا ہے۔ نیز جو لوگ اللہ کی صنعت کے عجائبات میں غور نہیں کرتے وہ ان کو بھی معاف کرتا ہے۔
فاطر 35:29
اب صفحات کائنات سے روئے سخن صفحات کتاب الٰہی کی طرف پھرجاتا ہے کہ جو لوگ اس کی تلاوت کرتے ہیں ان کے پیش نظر کیا ہے اور ان کے لیے کیا کیا انعامات تیار ہیں۔
ان الذین یتلون۔۔۔۔۔ انہ غفور شکور (29 – 30) ” ۔
تلاوت کتاب سے مراد صرف جبرا یا خاموشی کے ساتھ کلمات کتاب دہرانے کے بجائے کوئی اور چیز ہے اور وہ ہے قرآن کو تدبر کے ساتھ پڑھنا۔ جس کے بعد پڑھنے والا کسی حقیقت کا ادراک کرے اور اس سے متاثر ہو۔ اس کے بعد وہ اس پر عمل کرے اور اپنی زندگی کو اس پر ڈھالے۔ یہی وجہ ہے کہ تلاوت قرآن کے بعد اقامت صلوٰۃ اور انفاق کو ذکر ہوا ، خواہ پوشیدہ ہو یا علانیہ ہو۔ اور اس کے بعد پھر ایسے لوگوں کو یہ امید ہو کہ اس سودے میں انہیں کوئی گھاٹا نہ ہوگا۔ ایسے لوگوں کو یہ معرفت حاصل ہو کہ اللہ کے ہاں جو اجر ہے وہ ان امور سے بہتر ہے جو ان کے ہاں ہیں۔ ان کو یہ یقین بھی ہو کہ وہ ایک ایسی تجارت کر رہے ہیں جس کا فائدہ محفوظ ہے اور ضمانت شدہ ہے۔ وہ اللہ وحدہ سے معاملہ کیے ہوئے ہیں اور اللہ کے ساتھ کیا ہوا بیوپار بہت ہی نفع بخش ہوتا ہے۔ یہ تجارت اخروی تجارت ہے جس میں منافع کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں لین دین بالکل پورا پورا ہوتا ہے اور اس پر فضل اللہ بھی ہوتا ہے۔ وہ (غفور و شکور ہے) تقصیرات کو معاف کرتا ہے اور بہت ہی شکر کرنے والا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے شکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بہترین جزاء دیتا ہے لیکن لفظ شکر انسان کے لیے حوصلہ افزائی کے لیے استعمال ہوا ہے اور یہ بات انسان کو شرم دلانے کے لیے اور حیا کرنے کے لیے کہی گئی ہے کہ جب اللہ منعم حقیقی اپنے بندوں کا شکر کرتا ہے تو پھر بندوں کا تو فرض ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کے شکر میں رطب اللسان رہیں۔
اس کے بعد اس کتاب کے مزاج کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے اندر حق ہی حق ہے اور اس کے وارث جنتوں کے وارث ہوں گے۔ آگے اس حق کے وارثوں کی بات آرہی ہے۔
فاطر 35:30
اب صفحات کائنات سے روئے سخن صفحات کتاب الٰہی کی طرف پھرجاتا ہے کہ جو لوگ اس کی تلاوت کرتے ہیں ان کے پیش نظر کیا ہے اور ان کے لیے کیا کیا انعامات تیار ہیں۔
ان الذین یتلون۔۔۔۔۔ انہ غفور شکور (29 – 30) ” ۔
تلاوت کتاب سے مراد صرف جبرا یا خاموشی کے ساتھ کلمات کتاب دہرانے کے بجائے کوئی اور چیز ہے اور وہ ہے قرآن کو تدبر کے ساتھ پڑھنا۔ جس کے بعد پڑھنے والا کسی حقیقت کا ادراک کرے اور اس سے متاثر ہو۔ اس کے بعد وہ اس پر عمل کرے اور اپنی زندگی کو اس پر ڈھالے۔ یہی وجہ ہے کہ تلاوت قرآن کے بعد اقامت صلوٰۃ اور انفاق کو ذکر ہوا ، خواہ پوشیدہ ہو یا علانیہ ہو۔ اور اس کے بعد پھر ایسے لوگوں کو یہ امید ہو کہ اس سودے میں انہیں کوئی گھاٹا نہ ہوگا۔ ایسے لوگوں کو یہ معرفت حاصل ہو کہ اللہ کے ہاں جو اجر ہے وہ ان امور سے بہتر ہے جو ان کے ہاں ہیں۔ ان کو یہ یقین بھی ہو کہ وہ ایک ایسی تجارت کر رہے ہیں جس کا فائدہ محفوظ ہے اور ضمانت شدہ ہے۔ وہ اللہ وحدہ سے معاملہ کیے ہوئے ہیں اور اللہ کے ساتھ کیا ہوا بیوپار بہت ہی نفع بخش ہوتا ہے۔ یہ تجارت اخروی تجارت ہے جس میں منافع کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں لین دین بالکل پورا پورا ہوتا ہے اور اس پر فضل اللہ بھی ہوتا ہے۔ وہ (غفور و شکور ہے) تقصیرات کو معاف کرتا ہے اور بہت ہی شکر کرنے والا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے شکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بہترین جزاء دیتا ہے لیکن لفظ شکر انسان کے لیے حوصلہ افزائی کے لیے استعمال ہوا ہے اور یہ بات انسان کو شرم دلانے کے لیے اور حیا کرنے کے لیے کہی گئی ہے کہ جب اللہ منعم حقیقی اپنے بندوں کا شکر کرتا ہے تو پھر بندوں کا تو فرض ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کے شکر میں رطب اللسان رہیں۔
اس کے بعد اس کتاب کے مزاج کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے اندر حق ہی حق ہے اور اس کے وارث جنتوں کے وارث ہوں گے۔ آگے اس حق کے وارثوں کی بات آرہی ہے۔
فاطر 35:31
والذی اوحینا۔۔۔۔۔ لخبیر بصیر (31)
سچائی کے دلائل اس کتاب کے مضامین میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔ یہ کتاب اس کائنات کے حقائق کی ترجمان ہے۔ بلکہ یہ کتاب اس کائنات کا وہ صفحہ ہے جو پڑھا جاتا ہے اور پوری کائنات وہ صفحہ ہے جو خاموش ہے اور اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب تصدیق کرتی ہے ان کتابوں کی جو اللہ نے پہلے بھی بھیجی ہیں کیونکہ دونوں کا مصدر اور سرچشمہ ایک ہے۔ اور سچائی ہمیشہ ایک ہوتی ہے ۔ اس میں تعدد نہیں ہوتا۔ اس کتاب کے نازل کرنے والے نے اسے لوگوں کے لیے بھیجا ہے اور وہ لوگوں کا خالق ہے اور وہ اچھی طرح لوگوں کو جانتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس چیز میں ان کی مصلحت ہے اور کس چیز کے ذریعہ ان کی اصلاح ممکن ہے۔
ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر (35: 31) ” بیشک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے “۔ یہ تو ہے حقیقت اس کتاب کی۔
فاطر 35:32
یہ کتاب اللہ نے امت مسلمہ کو دی ہے اور اللہ نے اس کام کے لئے اس کا انتخاب کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں :
ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا ” “۔ ان الفاظ پر امت مسلمہ کو غور کرنا چاہئے۔ اللہ نے اسے بہت ہی بڑا اعزاز دیا ہے اور اللہ نے اس کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے۔ اس انتخاب کے ذریعہ سے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کتاب کے کچھ تقاضے ہیں۔ کیا یہ برگزیدہ امت سن رہی ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے ؟ اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔ اللہ نے تو اس امت کو اس انتخاب کی وجہ سے بہت بڑی عزت دی ہے اور اس کے بعد اللہ نے اس پر جزاء اور انعام مقرر کرکے اسے مزید فضیلت عطا کردی ہے۔
فمنھم ظالم ۔۔۔۔۔ باذن اللہ “۔ پہلا فریق تعداد میں زیادہ ہوگا اس لیے اس کا ذکر پہلے کیا گیا۔ یہ لوگ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہوں گے اور ان لوگوں کے اعمال میں سیئات زیادہ ہوں گے اور نیکیاں کم ہوں گی۔ اور دوسرا فریق مقتصد ہوگا۔ یعنی میانہ روی والا۔ اس کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ اور تیسرا فریق سابق بالخیرات ہوگا یعنی نیکیوں میں سبقت لے جانے والا۔ اس کی نیکیاں برائیوں سے بہت زیادہ ہوں گی لیکن ان تینوں کے ساتھ اللہ کا فضل شامل رہے گا۔ یہ سب لوگ آنے والی آیتوں میں مذکور نعمتوں میں داخل ہوں گے۔ اگرچہ درجات میں مختلف ہوں گے۔
قرآن کریم نے امت کی کرامت کے سلسلے میں جو کچھ کہا ہے ہم اس میں کوئی اضافہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اللہ نے اس امت کو برگزیدہ کرلیا ہے اور اس کیلئے جزائے خیر کا اعلان کردیا ہے۔ آیات یہی بتاتی ہیں کہ آخر کار امت کا انجام یہی ہوگا۔ امت سب کی سب اچھے انجام تک پہنچ جائے گی اور اس کی تفصیلات ہم اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس جزاء کو ہم یہاں لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں جو اللہ نے اس امت کے ان تینوں قسم کے لوگوں کے لیے مقدر کر رکھی ہے اور وہ اچھی ہی جزاء ہوگی۔
فاطر 35:33
ذلک ھو الفضل الکبیر ۔۔۔۔۔۔ فیھا لغوب (22 – 25)
اس منظر میں نہایت ٹھوس اور مادی نعمتوں کا ذکر ہے اور ایسی نفسیاتی سہولتوں کا ذکر ہے جنہیں محسوس کیا جاتا ہے ۔ وہاں ان کی ظاہری حالت یہ ہوگی۔
یحلون فیھا ۔۔۔۔۔ فیھا حریر (35: 33) ” وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا ، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا “۔ یہ سازو سامان مادی اور ٹھوس ہے اور نظر آنے والا ہے۔ انسان کا نفس ان چیزوں کو پسند کرتا ہے اور اس کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ، دلی اطمینان اور امن و سکون ہوگا۔
فاطر 35:34
وقالوا الحمدللہ الذی اذھب عنا الحزن (35: 34) ” شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کیا “۔ اور یہ دنیا جہاں ہر شخص قلق و بےچینی ، اور مصائب و مشکلات سے دو چار ہوتا ہے آخرت کے مقابلے میں حزن ہے جہاں نعیم مقیم ہوگا۔ حشر کے دن کی پریشانی دنیا کی پریشانیوں سے بھی بڑی ہوگی جس سے ان کو نجات مل چکی ہوگی۔
ان ربنا لغفور شکور (35: 34) ” بیشک ہمارا رب معاف کردینے والا اور قدر فرمانے والا ہے “۔ اس نے ہمیں بخش دیا ، ہمارے معتبر اعمال کی قدر کی اور اس پر بہت بڑا معاوضہ دیا۔
فاطر 35:35
الذی احلنا دار المقامہ (35: 35) ” جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرایا “۔ ہمیشہ کیلئے رہائش پذیر کردیا اور مستقلاً ہم آباد ہوگئے۔ یہ کام اس نے اپنے فضل و کرم سے کیا کیونکہ ہم اپنے اعمال کے بل بوتے پر تو مستحق نہ تھے۔ یہ تو فضل تھا ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔ بلکہ راحت ، اطمینان اور ہر قسم کی نعمتیں جمع ہیں۔
پوری فضا آرام ، راحت اور نعمتوں سے مالا مال ہے۔ اور اس نرم و نازک اور پر لطف ماحول کے لیے اللہ نے الفاظ بھی نہایت ہی نرم و نازک چنے ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ حزن کو بھی یہاں حزن کہہ کر نرم و نازک کردیا گیا ہے اور جنت کے لیے دار المقامہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تکان اور مشقت کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ چھو کر بھی نہ جاسکے گی۔ اور الفاظ اور فقروں کا ترنم اپنی جگہ نہایت ہی فرحت بخش ہے۔ نہایت ہی دھیمی موسیقی کی طرح ۔
فاطر 35:36
اب ذرا دوسری جانب آئیے ! قلق ، اضطراب اور پریشانی اور افراتفری۔
والذین کفروا۔۔ من عذابھا ” “۔ نہ یہ ہے اور نہ وہ۔ ان کے لیے موت بھی نہ ہوگی
کذلک نجزی کل کفور (36) ” “۔ اور اب ہمارے کان ایک کرخت اور سخت آواز سنتے ہیں۔ یہ ایک غوغا ہے جو مختلف آوازوں سے مل کر اٹھ رہا ہے۔ یہ مختلف اطراف سے آنے والی چیخ و پکار ہے۔ ان کی طرف سے جو جہنم میں پھینک دئیے گئے ہیں۔
فاطر 35:37
وھم یصطرخون فیھا ۔۔۔۔۔ من نصیر (37) ” “۔
وھم یصطرخون فیھا (35: 37) ” وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے “۔ لفظ (یصطرخون) کے تلفظ کے اندر ہی اس کے تمام مفہوم ثبت ہیں۔ اس کرخت آواز ہی سے اس کا مفہوم ظاہر ہوجاتا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں :
ربان اخرجنا ۔۔۔۔ نعمل (35: 37) ” اے ہمارے رب ، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں ان اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے “۔ اب یہ اللہ کی طرف جھک رہے ہیں۔ اعتراف گناہ کر رہے ہیں اور نادم ہیں لیکن جب
چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ دیکھئے کس قدر سخت اور دو ٹوک جواب سنتے ہیں ہم جس کے اندر سرزنش بھی ہے۔
اولم نعمر کم ۔۔۔۔ من نصیر (35: 37) ”(انہیں جواب دیا جائے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا ؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آچکا تھا۔ اب مزا چکھو۔ ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے “۔ تمہیں ہم نے ' عمر دی ' تم نے اس سے استفادہ نہ کیا ، حالانکہ یہ عمران لوگوں کے لیے کافی تھی جو نصیحت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پھر تمہاری مزید سہولت کے لیے انبیاء بھی بھیجے گئے۔ انہوں نے تمہیں ڈرایا مگر تم نہ ڈرے۔ ان آیات میں دو باہم متقابل صورتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک جانب امن و راحت ہے اور دوسری جانب قلق و اضطراب ہے۔ ایک طرف شکر نعمت کا میٹھا نغمہ ہے اور دوسری طرف چیخ و پکار ہے۔ ایک طرف اعزازو اکرام و استقبال ہے اور دوسری جانب نظر انداز کرنا اور سرزنش کرنا ہے۔ ایک طرف نرم و نازک اور فرحت بخش الفاظ اور دوسری جانب کرخت اور سخت جھڑکی ہے۔ یوں کلام کے دونوں اطراف میں مکمل تقابل ہے ، ہر ہر جزء میں۔ اور سب سے آخر میں تمام مناظر پر ایک آخری تبصرہ آتا ہے ، خصوصاً اہل دین اور امت مصطفوی کو چن لینے اور اسے اعزازو اکرام دینے پر۔
فاطر 35:38
ان اللہ علم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (38) ” “۔ اللہ کا کامل و شامل اور وسیع و عریض علم تو ان موضوعات کے بعد بیان کیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے کتاب نازل کی اور اس کتاب کے جو لوگ وارث بتائے گئے ہیں ، دو جہاں والوں سے برگزیدہ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اگر بعض لوگوں سے کوئی ظلم و تقصیر صادر ہوجائے تو اللہ ان کو معاف کر دے گا۔ یہ اللہ کی جانب سے ان پر فضل و کرم ہوگا اور پھر اہل کفر کا جو انجام بتایا گیا۔ ان سب حقائق پر یہ آخری تبصرہ کہ وہ عالم الغیب ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں پائی جانے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ دلوں کی باتوں کو بھی جانتا ہے لہٰذا وہ تمام فیصلے اپنے اس عظیم اور کامل و شامل علم کے ذریعے کرے گا۔ اللہ کے فیصلوں میں کوئی ناانصافی نہ ہوگی۔
فاطر 35:39
درس نمبر 204 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا آخری سبق ہے اور یہ وسیع مطالعاتی اسفار پر مشتمل ہے۔ اس میں جابجا دل و دماغ کو تیز احساس دلایا گیا ہے اور اشارات و ہدایات دی گئی ہیں۔ انسان کی تاریخ کی طویل وادی میں دور تک یہ سفر ہے ، جس میں بیشمار نشیب و فراز آتے ہیں۔ بعض اقوام و ملل کیا اور بعض کچھ ہیں۔ پھر زمین و آسمان کا ایک سفر بھی اس میں ہے جس میں سعی بسیار کے باوجود اللہ کا کوئی شریک اور ہمسر نہ ملا۔ پوری کائنات کو چھان مارا۔ پھر ایک سفر اس مطالعہ کے لیے ہے کہ زمین و آسمان کو اللہ نے کس طرح تھام رکھا ہے وہ مہین توازن کیا ہے جس کی وجہ سے کائنات کے یہ دیوہیکل کرے باہم نہیں ٹکراتے۔ پھر ایک سفر اس قوم کی وادیوں میں ہے جس نے ہدایت کو ٹھکرا دیا ہے حالانکہ اس سے قبل یہ قوم دعائیں کرتی تھی کہ اگر اس کے اندر کوئی رسول آگیا تو وہ دو امتوں میں سے کسی ایک کے مقابلے میں کم از کم زیادہ ہدایت پر ہوں گے۔ لیکن جب ان کے ہاں رسول بشیر و نذیر بھیجا گیا تو وہ اپنے وعدے کو بھلا بیٹھے اور بےحد نفرت کرنے لگے اپنے مطلوب رسول سے۔ اور پھر انسانی تاریخ کی طویل وادیوں میں ہلاک کردہ اقوام کی سیر جن پر عذاب آئے اور ہلاک ہوئیں لیکن آج کے لوگ ان مصائب سے کوئی عبرت نہیں لیتے اور پھر اس سبق کا خوفناک خاتمہ۔
ولو یواخذ اللہ ۔۔۔۔۔ من دابۃ (35: 45) ” اگر کہیں اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑتا تو زمین پر کسی متنفس کو جیتا نہ چھوڑتا “۔ لیکن یہ اللہ کا عظیم فضل ہے کہ وہ لوگوں کو مہلت دئیے جا رہا ہے اور ان پر تباہ کن عذاب نازل نہیں فرماتا حالانکہ وہ اس کے مستحق ہیں۔
درس نمبر 204 تشریح آیات
39 ۔۔۔ تا۔۔۔ 45
ھو الذی جعلکم۔۔۔۔۔۔ کفرھم الا خسارا (39) “۔
زمین کے اوپر نسلوں کا آنا اور جانا اور اس کا تسلسل اور ایک نسل کا مٹنا اور دوسری کا اس کی جانشینی کے مقام کو پانا ، ایک مملکت کا ختم ہونا اور دوسری کا قیام عمل میں آنا ، ایک شعلہ جوالہ کا بجھنا اور دوسرے کا اشتعال پذیر ہونا ، ایک قوم کا مٹنا اور دوسری کا ظاہر و غالب ہونا اور صدیوں سے ایسا ہوتے چلے جانا۔ تاریخ کی اس رفتار پر غور و فکر کرنے سے انسان کو بہت سا سبق اور عبرت حاصل ہوتی ہے اور حاضر اقوام یہ سوچتی ہیں کہ انہیں بھی اسی طرح نیست و نابود ہونا ہے۔ ان کے آثار پر بھی آنے والے اسی طرح غور کریں گے جس طرح ہم جانے والوں کے آثار پر غور کرتے ہیں۔ یوں غافل سے غافل شخص بھی ہوش کے ناخن لے سکتا ہے۔ یوں ایک گور کرنے والا یہ غور کرسکتا ہے کہ وہ دست قدرت کیا ہے جس کی یہ سب کرشمہ سازیاں ہیں کہ کسی کی عمر کم ہے اور کسی کی زیادہ۔ آج ایک حکومت ہے اور کل دوسری۔ آج ایک ملک پر قابض ہے اور کل دوسرا قابض ہے۔ ایک قوم دوسری قوم کی جانشین ہے۔ ہر چیز جاری ہے۔ اس کی انتہاء ہو رہی ہے اور باقی ہے صرف نام اللہ کا۔ جو نہ زائل ہوتا ہے اور نہ اس کے لیے انتہاء ہے۔
جو چیز جانے والی ہے اور اس کا وجود ختم ہوتا ہے وہ دائمی نہیں ہوتی۔ اس کی مثال اس طرح ہے جس طرح ایک مسافر کسی منزل پر رکتا ہے۔ کل اسے آگے جانا ہوتا ہے۔ اور بعد میں دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس نے کیا کیا اور کیا چھوڑا۔ اور اس کا انجام یہ ہونے والا ہے کہ اس کا حساب کیا جائے کہ اس نے کیا کیا اور کیا نہ کیا۔ لہٰذا ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی قلیل زندگی میں اچھے کام کرے اور اپنے پیچھے ذکر جمیل چھوڑے۔ کچھ ایسے کام کرے جو اس کے جائے آرام میں اسے کام آئیں۔ یہ ہیں بعض وہ خیالات جو دل و دماغ کی دیواریں پھلانگ کر آتے ہیں لیکن اس وقت جب کوئی اقوام کے عروج وزوال کو دیکھتا ہے۔ طلوع و غروب پر غور کرتا ہے۔ عروج پانے والی قوتوں اور مٹ جانے والی قوتوں کے امور پر غور کرتا ہے اور ایک قوم کو دیکھتا ہے کہ وہ دوسری قوم کی
وارث ہوجاتی ہے۔
ھو الذی جعلکم خلئف فی الارض (35: 39) ” وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے “۔ اس موثر ، مسلسل اور دیکھے جانے والے منظر کے سائے میں ، انسانوں کو یہ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ذمہ داری انفرادی ہے۔ لہٰذا قیامت میں کوئی کسی کی جگہ کوئی ذمہ داری نہ اٹھا سکے گا اور کوئی کسی کے مقابلے میں مدافعت نہ کرسکے گا۔ یہاں اشارہ کیا جاتا ہے کہ تم جس طرح منہ پھیرتے ہو ، جس طرح کفر کرتے ہو ، جس طرح گمراہی ہی مبتلا ہوتے ہو ، آخر کار اس کا انجام نہایت ہی گھناؤنا ہوگا
فمن کفر فعلیہ۔۔۔۔۔ کفرھم الا خسارا (35: 39) ” اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے ، اور کافروں کو ان کا کفر اس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رب کا غضب ان پر زیادہ سے زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے۔ کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں “۔ مقت کا مفہوم شدید غضب ہے اور جس پر اللہ کا شدید غضب ہوجائے تو اسے جان لینا چاہئے کہ کس قدر بر انجام اس کے انتظار میں ہے۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
دوسرا سفر آسمانوں کی وسعتوں میں ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ جن لوگوں کو یہ اللہ کا شریک بناتے ہیں آیا ان کے کسی کارنامے کے کوئی آثار زمین و آسمان میں ہیں۔ زمین و آسمان میں تو ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور نہ کچھ آثار ہیں۔
فاطر 35:40
قل ارءیتم۔۔۔۔۔ الا غرورا (40) “۔
یہ حجت بالکل واضح ہے اور یہ دلیل محتاج تشریح نہیں ہے۔ یہ زمین اور اس کے اندر جو بھی ہے اس کے ساتھ وہ اللہ کی مخلوق ہے اور یہ آسمان اپنی وسعتوں تک اللہ کا ہے۔ اس زمین کے اندر نظر آنے والی اشیاء میں سے کون سی چیز ایسی ہے جس کے بارے میں اللہ کے سوا کوئی اور دعویٰ کرسکتا ہو یا کسی اور کے بارے میں دعویٰ کیا جاسکتا ہو کہ اس نے اسے پیدا کیا ہے۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرتا ہے تو ہر چیز اس کے دعویٰ کے خلاف پکار اٹھے گی کہ یہ غلط ہے اور ہر چیز پکار کر کہے گی کہ اسے اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ہر چیز اپنے اندر ایسے آثار اٹھائے ہوئے ہے کہ وہ کسی مدعی کے دعویٰ کو رد کرنے کے لیے کافی ہیں کیونکہ یہ آثار کسی انسانی صنعت سے مشابہت ہی نہیں رکھتے۔ یعنی انسانوں نے جس قدر چیزیں بنائی ہیں ان میں نظام قدرت کی مصنوعات کی صفات نہیں ہیں۔
ام لھم شرک فی السموت (35: 40) ” یا آسمانوں میں ان کی کیا شرکت ہے “۔ یہ تو بطریق اولیٰ مسترد ہے۔ جب زمین کو کسی چیز میں وہ شریک نہیں تو آسمان کی کسی چیز میں شریک کیسے ہیں۔ کیونکہ جب زمین کی کسی چیز کے بارے میں کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ان نام والیوں کی مخلوق ہے تو آسمان کی کسی چیز کے بارے میں کوئی کیسے دعویٰ کرسکتا ہے۔ غرض نہ یہ الٰہ آسمانوں کی کسی چیز کی تخلیق میں شریک ہیں اور نہ مملکت میں شریک ہیں۔ جو چیز بھی آپ کہیں۔ یہاں تک کہ جن اور ملائکہ کو بھی ایسی کوئی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ ان کے بارے میں تو ان کا زعم یہ تھا کہ جن آسمانوں کی خبریں چراکر لاتے ہیں اور یہ ان سے یہ خبریں معلوم کرلیتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ عقیدہ کبھی نہیں رہا ہے کہ جن یا ملائکہ آسمانوں میں خدا کے ساتھ شریک ہیں۔
ام اتینھم۔۔۔۔ بینت منہ (35: 40) ” کیا ہم نے ان کو کوئی تحریر لکھ کردی ہے جس کی بنا پر کوئی سند رکھتے ہیں “۔ یہ کہ اللہ نے ان خود ساختہ خداؤں کو کوئی تحریر دی ہو اور انہیں یقین ہو کہ وہ بھی خدا کے ساتھ شریک ہیں یہ مفروضہ بھی غلط ہے۔ یہاں یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ استفہام انکاری شرکاء کے بجائے مشرکین سے ہو ، یعنی ان خود ساختہ الہوں پر ان لوگوں کا جو اندھا عقیدہ ہے کیا یہ عقیدہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی تحریر پر مبنی ہے۔ جو ان مشرکین پر اتری ہو۔ اس سے یہ اپنا عقیدہ لیتے ہوں اور استدلال کرتے ہوں جبکہ یہ صحیح نہیں ہے اور نہ وہ کوئی ایسی تحریر پیش کرسکتے ہیں ۔ یہاں اس تفسیر کے مطابق اشارہ بھی نکلے گا کہ عقائد صرف اللہ کی جانب سے کسی کتاب اور صریح نص ہی سے ثابت ہوتے ہیں اور کتاب اللہ ہی نظریات کے لیے ماخذ ہوسکتی ہے کیونکہ یہی یقینی سرچشمہ ہدایت ہوتی ہے۔ ان کے پاس کوئی منصوص دلیل چونکہ نہیں ہے اس لیے ان کا دعویٰ غلط ہے۔ ان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کا ہر قوم اللہ تعالیٰ کا فرمایا ہوا ہے۔ پس کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ منہ پھیرتے ہیں حالانکہ عقائد لینے کا صحیح راستے یہی ہے کہ یہ لوگ رسول ﷺ کی بات مانیں۔
بل ان یعد۔۔۔۔ الا غرورا (35: 40) ” بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دئیے جا رہے ہیں “ یہ ظالم ایک دوسرے سے لمبے چوڑے وعدے کرتے ہیں کہ ان کا راستہ یہی راستہ ہے جو آباء و اجداد کا ہے اور یہ کہ وہ آخر کار کامیاب ہوں گے۔ حالانکہ یہ لوگ فریب خوردہ اور مغرور ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ بعض کو دھوکہ دیتے ہیں۔ وہ اس غرور میں زندہ رہتے ہیں اور یہ ان کے لیے کوئی نفع بخش صورت حال نہیں ہے۔
اس کے بعد کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے نہ آسمانوں میں ، نہ زمین میں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ دست قدرت کا کارنامہ ہے کہ جس نے زمین و آسمان کو تھام رکھا ہے اور وہ بلاشکت غیرے اس کائنات کا مدبر اور چلانے والا ہے۔ کائنات میں کوئی اور الٰہ تلاش کرنے کے بجائے خود اس کو دیکھو۔
فاطر 35:41
ان اللہ یمسک ۔۔۔۔ حلیما غفورا (41) “۔ ذرا اس آسمان پر نگاہ ڈالو ، ذرا زمین کو دیکھو اور ان لاتعداد اربوں اجرام فلکی کو دیکھو جو اس لا انتہا فضا میں بکھرے ہوئے ہیں۔ تمام کے تمام اپنی جگہ پر رکے ہوئے ہیں جو اپنے افلاک میں پھر رہے ہیں۔ اپنے مدارات میں مقرر ، پھر ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ نہ ان کی رفتار میں کوئی خلل آتا ہے نہ مدار سے نکل سکتے ہیں ، نہ ان کی رفتار سست ہوسکتی ہے ، اور نہ تیز ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کو اس طرح اپنے مقام پر ٹھہرانے کے لیے کوئی ستون نہیں لگا ہوا اور نہ یہ مضبوط رسیوں سے باندھے ہوئے ہیں۔ کسی چیز کا بظاہر ان پر کوئی سہارا نہیں ہے۔ اس عظیم مخلوق کو دیکھتے ہو جو اربوں کھربوں کی تعداد سے زیادہ ہے اور جو نہایت ہی عجیب و غریب ہے۔ ایک عقلمند انسان کی آنکھیں ضرور کھل جانی چاہئیں کہ اس کے پیچھے ایک نہایت طاقتور الٰہ العالمین کا دست قدرت کام کر رہا ہے ، جس نے اس عظیم کارخانے کو تھام رکھا ہے۔
اگر آسمانوں کے یہ ستارے اور زمین اپنی جگہ سے ٹل جائیں اور بےترتیبی سے ادھر ادھر بکھر جائیں تو ان کو کوئی پھر سے مرتب نہیں کرسکتا۔ یہ ہے وہ وقت جب قیامت برپا ہوجائے گی اور اس جہان کے خاتمہ کے لیے قرآن نے اسی نظام کے اختلال کو علامت قرار دیا ہے جہاں پہاڑ اور ستارے روئی کے گالوں کی طرح اڑ جائیں گے اور اس نظام کائنات کی ہر شے دوسری سے ٹکرا جائے گی۔ یہ وہ مقرر وقت ہے جس میں تمام لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا اور دنیا میں جس نے جو عمل کیا اس کا محاسبہ ہوگا۔ دنیا کا انجام عالم آخرت پر ہوگا اور یہ دوسرا جہان اپنے مزاج اور طبیعت کے اعتبار سے اس دنیا سے بالکل مختلف ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ زمین و آسمان کو تھامے رکھنے پر یہ تبصرہ ہوتا ہے۔
انہ کان حلیما غفورا (35: 41) ” اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے “۔ وہ حلیم ہے۔ لوگوں کو مہلت دیتا ہے ، وہ ان کی بدعملی کی وجہ سے اس جہان کو ختم نہیں کرتا اور اجل مقرر سے قبل ہی ان سے حساب و کتاب لینا نہیں شروع کردیتا۔ لوگوں کو تو بہ کا بھی موقعہ دیتا ہے ، قیامت کی تیاری کی مہلت بھی دیتا ہے اور غفور اس طرح ہے کہ لوگوں نے جو جو جرائم کیے سب پر مواخذہ نہیں کرتا بلکہ اللہ لوگوں کی برائیوں کے ایک بڑے حصے سے درگزر فرماتا ہے۔ جب بھی اللہ ان میں کوئی بھلائی دیکھے تو ان کی مغفرت کردیتا ہے۔ یہ ایک ہدایت ہے جو لوگوں کو خبردار کرتی ہے کہ وہ اس موقع اور ضرورت کو غنیمت سمجھیں اور اگر یہ فرصت گنوادی تو یہ واپس نہ آئے گی۔
فاطر 35:42
چوتھا سفر اہل مکہ اور اس کے اردگرد کے مشرکین کے احوال کا ہے۔ ان لوگوں کی دعا ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ اگر اللہ ان میں رسول بھیج دے اور اسے کتاب دے دے تو وہ ایمان لائیں گے۔ پھر انہوں نے نقص عہد کیا اور فساد فی الارض کا ارتکاب کیا۔ ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور اللہ کی سنت میں تبدیلی نہیں ہوا کرتی۔
واقسموا باللہ۔۔۔۔ لسنت اللہ تحویلا (42 – 43) ” “۔
اہل عرب دیکھتے تھے کہ یہودی جزیرۃ العرب میں ان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کو ایک کتاب دیدی گئی ہے اور وہ دیکھتے تھے کہ یہ یہودی اپنے دین سے منحرف ہوگئے ہیں اور بےعمل ہیں۔ عرب ان کی تاریخ بھی پڑھتے تھے کہ انہوں نے اپنے بیشمار رسولوں کو قتل بھی کیا اور جب بھی ان کے پاس سچائی آئی انہوں نے اس سے منہ پھیرا۔ اس وقت یہ یہودیوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغمبر دیا ، اور وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو وہ دنیا کی تمام امتوں سے بڑھ کر نیک ہوں گے۔ مراد ان کی یہ تھی کہ یہودیوں سے وہ زیادہ ہدایت پر رہیں گے۔ یہ لوگ اشارہ یہودیوں کی طرف کرتے تھے۔
لئن جآءھم۔۔۔۔ احدی الامم (35: 42) ” اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہو تو تو وہ دنیا کی ہر قوم سے زیادہ راست رو ہوتے “۔ یہ تھا ان کا حال قبل بعثت اور یہ تھا ان کا عقیدہ۔ یہ عقیدہ قرآن مجید ان پر اس طرح پیش کرتا ہے کہ ذرا تم اس صورت حالات کو یاد کرو تم کیا کہا کرتے تھے۔ اس کے بعد ان کے سامنے وہ حالات پیش کیے جاتے ہیں جو عملاً رسول کے آنے کے بعد پیش آئے۔
فلما جآءھم نذیر ۔۔۔۔۔ مکر السیئ (35: 42 – 43) ” مگر جب خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا تو اس کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے کی خاطر اور بری چالیں چلنے کی وجہ سے “۔ یہ کس قدر بری بات ہے کہ ایک شخص قسمیں کھائے کہ اس کا رویہ یہ ہوگا اور پھر وہ اس کے الٹ رویہ اختیار کرے مگر تکبرو غرور کی وجہ سے اور اپنی بری سازشوں کی وجہ سے۔ قرآن مجید ان کے انکار کا اصلی سبب ریکارڈ کرتا ہے اور اس کے بعد قرآن مجید پھر ان کی ان مکاریوں کے بارے میں یہ فیصلہ اور جواب یوں دیتا ہے کہ جو شخص اس قدر قبیح حرکت کرتا ہے اس کا ایمان کیا ہوگا۔ اور انجام کیا ہوگا۔
ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ (35: 43) ” حالانکہ بری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں “۔ یعنی ان کی بری چالیں ان ہی کے خلاف پڑیں گی اور یہ بری چالیں ان کو مخبوط الحواس کردیں گے اور ان کے اعمال ضائع ہوجائیں جو ان سے پہلی اقوام پر آئے سابقہ اقوام کے قصے تو انہیں معلوم ہیں۔ وہ بس اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ کی مستحکم سنت انہیں پکڑلے
فلن تجد لسنت۔۔۔۔ تحویلا (35: 43) ” یہی بات ہے تو تم اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقررہ راستے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے۔
لوگوں کے معاملات اتفاقاً نہیں چل رہے اور اس زمین پر یہ زندگی اور مخلوقات عبث طور پر نہیں پیدا کیے گئے۔ اس دنیا کے کچھ قوانین ہیں جو ہرگز تبدیل نہیں ہوتے۔ قرآن کریم اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے اور لوگوں کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ وہ اس دنیا کے واقعات کو ایک انفرادی واقعہ ہی نہ سمجھیں اور اپنی زندگی ان سنن الہیہ سے غافل ہو کر نہ گزاریں بلکہ اپنی زندگی کو زمان و مکان کے مختصر ترین لمحات و مقامات تک بھی محدود نہ کردیں۔ قرآن ان کے قصور کو ذرا بلند کرکے ان کی زندگی کے طریقوں کو اس کائنات کے طریقوں کے ساتھ مربوط کرنا چاہتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید بار بار اس طرف توجہ کرتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ نے کچھ اٹل اصول جاری کر رکھے ہیں۔ وہ ان کو ان واقعات کی طرف متوجہ کرتا رہتا ہے جو اس دنیا میں ان سنن الہیہ کے مطابق ظاہر ہوئے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کا ماضی بتاتا ہے کہ یہ سنن اس کائنات میں جاری ہیں۔ یہ پانچواں سفر اسی کی ایک مثال ہے۔ یہاں بھی یہ کہنے کے بعد کہ اللہ کے سنن نہیں بدلتے ، اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔
فاطر 35:43
چوتھا سفر اہل مکہ اور اس کے اردگرد کے مشرکین کے احوال کا ہے۔ ان لوگوں کی دعا ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ اگر اللہ ان میں رسول بھیج دے اور اسے کتاب دے دے تو وہ ایمان لائیں گے۔ پھر انہوں نے نقص عہد کیا اور فساد فی الارض کا ارتکاب کیا۔ ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور اللہ کی سنت میں تبدیلی نہیں ہوا کرتی۔
واقسموا باللہ۔۔۔۔ لسنت اللہ تحویلا (42 – 43) ” “۔
اہل عرب دیکھتے تھے کہ یہودی جزیرۃ العرب میں ان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کو ایک کتاب دیدی گئی ہے اور وہ دیکھتے تھے کہ یہ یہودی اپنے دین سے منحرف ہوگئے ہیں اور بےعمل ہیں۔ عرب ان کی تاریخ بھی پڑھتے تھے کہ انہوں نے اپنے بیشمار رسولوں کو قتل بھی کیا اور جب بھی ان کے پاس سچائی آئی انہوں نے اس سے منہ پھیرا۔ اس وقت یہ یہودیوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغمبر دیا ، اور وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو وہ دنیا کی تمام امتوں سے بڑھ کر نیک ہوں گے۔ مراد ان کی یہ تھی کہ یہودیوں سے وہ زیادہ ہدایت پر رہیں گے۔ یہ لوگ اشارہ یہودیوں کی طرف کرتے تھے۔
لئن جآءھم۔۔۔۔ احدی الامم (35: 42) ” اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہو تو تو وہ دنیا کی ہر قوم سے زیادہ راست رو ہوتے “۔ یہ تھا ان کا حال قبل بعثت اور یہ تھا ان کا عقیدہ۔ یہ عقیدہ قرآن مجید ان پر اس طرح پیش کرتا ہے کہ ذرا تم اس صورت حالات کو یاد کرو تم کیا کہا کرتے تھے۔ اس کے بعد ان کے سامنے وہ حالات پیش کیے جاتے ہیں جو عملاً رسول کے آنے کے بعد پیش آئے۔
فلما جآءھم نذیر ۔۔۔۔۔ مکر السیئ (35: 42 – 43) ” مگر جب خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا تو اس کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے کی خاطر اور بری چالیں چلنے کی وجہ سے “۔ یہ کس قدر بری بات ہے کہ ایک شخص قسمیں کھائے کہ اس کا رویہ یہ ہوگا اور پھر وہ اس کے الٹ رویہ اختیار کرے مگر تکبرو غرور کی وجہ سے اور اپنی بری سازشوں کی وجہ سے۔ قرآن مجید ان کے انکار کا اصلی سبب ریکارڈ کرتا ہے اور اس کے بعد قرآن مجید پھر ان کی ان مکاریوں کے بارے میں یہ فیصلہ اور جواب یوں دیتا ہے کہ جو شخص اس قدر قبیح حرکت کرتا ہے اس کا ایمان کیا ہوگا۔ اور انجام کیا ہوگا۔
ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ (35: 43) ” حالانکہ بری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں “۔ یعنی ان کی بری چالیں ان ہی کے خلاف پڑیں گی اور یہ بری چالیں ان کو مخبوط الحواس کردیں گے اور ان کے اعمال ضائع ہوجائیں جو ان سے پہلی اقوام پر آئے سابقہ اقوام کے قصے تو انہیں معلوم ہیں۔ وہ بس اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ کی مستحکم سنت انہیں پکڑلے
فلن تجد لسنت۔۔۔۔ تحویلا (35: 43) ” یہی بات ہے تو تم اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقررہ راستے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے۔
لوگوں کے معاملات اتفاقاً نہیں چل رہے اور اس زمین پر یہ زندگی اور مخلوقات عبث طور پر نہیں پیدا کیے گئے۔ اس دنیا کے کچھ قوانین ہیں جو ہرگز تبدیل نہیں ہوتے۔ قرآن کریم اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے اور لوگوں کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ وہ اس دنیا کے واقعات کو ایک انفرادی واقعہ ہی نہ سمجھیں اور اپنی زندگی ان سنن الہیہ سے غافل ہو کر نہ گزاریں بلکہ اپنی زندگی کو زمان و مکان کے مختصر ترین لمحات و مقامات تک بھی محدود نہ کردیں۔ قرآن ان کے قصور کو ذرا بلند کرکے ان کی زندگی کے طریقوں کو اس کائنات کے طریقوں کے ساتھ مربوط کرنا چاہتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید بار بار اس طرف توجہ کرتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ نے کچھ اٹل اصول جاری کر رکھے ہیں۔ وہ ان کو ان واقعات کی طرف متوجہ کرتا رہتا ہے جو اس دنیا میں ان سنن الہیہ کے مطابق ظاہر ہوئے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کا ماضی بتاتا ہے کہ یہ سنن اس کائنات میں جاری ہیں۔ یہ پانچواں سفر اسی کی ایک مثال ہے۔ یہاں بھی یہ کہنے کے بعد کہ اللہ کے سنن نہیں بدلتے ، اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔
فاطر 35:44
اولم یسیروا۔۔۔۔۔ علیما قدیرا (44) ”
اس زمین میں سیر کھلی آنکھوں اور بیدار دل و دماغ کے ساتھ ہونا چاہئے اور اس میں گزشتہ اقوام کے واقعات بھی پیش نظر رہنے چاہئیں کہ وہ کیا کرتے تھے اور ان کا انجام کیا ہوا۔ زمین کے واقعات و حادثات سے انسانی شعور اور دل میں خدا کا خوف اور عبرت آموز اشارات کا بیٹھنا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار یہ ہدایت کی گئی ہے کہ زمین میں پھرو اور اقوام کے عروج وزوال کی داستانوں کا مطالعہ کرو ، ہلاک شدہ اقوام کے شب و روز دیکھو ! جن کا نام و نشان اس زمین سے مٹا دیا گیا۔ ان سے عبرت حاصل کرو اور ان دلوں کو جگاؤ جن کا علم نہیں ہے۔ اگر علم ہے تو ان کے اندر احساس نہیں ہے اور اگر احساس ہے تو وہ عبرت نہیں لیتے۔ ان مردہ دلوں میں سنن الہیہ کا کوئی شعور نہیں ہے اور وہ تاریخی واقعات کی تعبیر سنن الہیہ کی روشنی میں نہیں کرتے۔ حالانکہ انسان اور حیوان کے اندر فرق ہی صرف یہ ہے کہ انسان واقعات کی تعبیر و تشریح اصولوں کی روشنی میں کرتا ہے جبکہ حیوان حالات ، واقعات ، اصولوں اور قواعد اور سنن الہیہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچتا ، نہ وہ کسی واقعہ سے احکام و نتائج اخذ کرتا ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ تمام بنی نوع انسان سنن الہیہ اور نوامیس فطرت کے سامنے یکساں ہوتے ہیں۔
اس تاریخی سفر میں قرآن کریم ناظرین کو تاریخ کی ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈرات کے دہانے کھڑا کرکے ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ یہ لوگ نہایت قوت اور شوکت والے تھے اور ان کو ان کی یہ قوت اور شوکت بچانہ سکی ، لہٰذا تمام قوتوں سے برتر قوت موجود ہے ۔ وہ قوت جس کے مقابل کی کوئی قوت نہیں ہے اور نہ اس کو کوئی قوت عاجز کرسکتی ہے۔ یہ قوت ان لوگوں کو اسی طرح پکڑ سکتی ہے جس طرح سابقہ اقوام کو اس نے پکڑا۔
وما کان۔۔۔۔۔ فی الارض (35: 44) ” اور اللہ کو کوئی چیز عاجز کرنے والی نہیں ہے ، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں “ اور اس پر یہ تبصرہ آتا ہے جو اس کی تفسیر کرتا ہے اور دلیل پیش کرتا ہے۔
انہ کان علیما قدیرا (35: 44) ” وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ سب سے آخر میں سورة کا خاتمہ آتا ہے جس میں اللہ کی مہربانیاں اور معافیاں اور درگزر کا اظہار بھی کیا جاتا ہے اور اللہ کی قدرت اور قوت کا احساس بھی دلایا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ لوگوں کو جو مہلت دئیے جا رہا ہے وہ اس لیے دے رہا ہے کہ وہ رحیم و کریم ہے اور اللہ حساب و کتاب میں نرم رویہ اختیار کرتا ہے۔
فاطر 35:45
ولو یؤاخذ اللہ۔۔۔۔۔ بعبادہ بصیرا (45)
لوگ جو اللہ کے انعامات کا کفر کرتے ہیں ، زمین میں شروفساد کا ارتکاب کرتے ہیں اور ظلم و زیادتی اور سرکشی کرتے ہیں یہ ان کی جانب سے بہت ہی بری حرکت ہے۔ اگر اللہ لوگوں کو ان کی اس بری حرکت پر پکڑتا تو اللہ کی پکڑ کا دائرہ پورے کرہ ارض تک پھیل جاتا اور یہ پورا کرہ ارض زندگی کے قابل ہی نہ رہتا۔ صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ کوئی زندہ چیز بھی یہاں نہ رہتی۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ بہت برا اور گھناؤنا کام ہے اور اگر اللہ اس پر فوراً ہی پکڑ لیتا تو لوگوں کے اعمال کے طبعی اور اخلاقی نتائج ان کی فوری بربادی پر منتج ہوئے۔ لیکن اللہ حلیم ہے اور وہ لوگوں کی پکڑ میں شتابی نہیں فرماتا۔
ولکن یواخرھم الی اجل مسمی (35: 45) لیکن وہ انہیں ایک مقررہ وقت تک کیلئے مہلت دیتا ہے “۔ یعنی ہر فرد کو اسکی عمر طبیعی تک مہلت دیتا ہے اور دنیا میں وہ اپنی عمر پوری کرتا ہے۔ اور وہ سوسائٹیوں اور ملتوں کو بھی اپنے وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ وہ نیست و نابود ہو کر دوسری طلل کے لیے جگہ خالی کرتی ہیں اور پوری بنی نوع انسان کو وہ مہلت دیتا ہے جب وقت مقرر آئے گا تو قیامت برپا کرکے حساب و کتاب لے گا اور وہ اسطرح لوگوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ شاید نیک کام کر سکیں
فاذا جآء اجلھم (35: 45) ” پھر جب ان کا وقت پورا ہوگا “۔ جب کسب و عمل کا وقت پورا ہوگا اور حساب و کتاب کا وقت آئے گا تو اللہ ان پر کوئی ظلم نہ کرے گا۔
فان اللہ کان بعبادہ بصیرا (35: 45) ” تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا “۔ اللہ کا اپنے بندوں کو دیکھ لیان اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ پورا حساب و کتاب ان کے اعمال کے مطابق کرلے۔ ان کے اعمال میں سے صغیرہ اور کبیرہ کوئی چیز رہ نہ جائے گئ۔ یہ اس سورة کا آخری زمزمہ ہے۔ اس کا آغاز حمد الٰہی سے ہوا تھا جو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے وہ
جاعل الملئکۃ اولی اجنحلۃ (35: 1) ” جو فرشتوں کو رسول بناتا ہے جو پروں والے ہیں “۔ اور جو آسمانوں سے اس کا پیغام زمین پر لاتے ہیں جس کے اندر خوشخبری اور ڈر اوا ہے۔ خوشخبری جنت کی ہے اور ڈراوا جہنم کا ہے۔ اس آغاز اور اختتام کے درمیان اس سورة نے قارئین کو اس پوری کائنات کے مطالعہ کے لیے بیشمار سفر کرائے ۔ یہ ہے اختتام ان اسفار کا ۔ یہ ہے انجام زندگی کا اور یہ ہے انجام حضرت انسان کا۔