Fi Zilal al-Quran — يس 36:1 – الصافات 37:182
Contents
- يس 36:1
- يس 36:2
- يس 36:3
- يس 36:4
- يس 36:5
- يس 36:6
- يس 36:7
- يس 36:8
- يس 36:9
- يس 36:10
- يس 36:11
- يس 36:12
- يس 36:13
- يس 36:14
- يس 36:15
- يس 36:16
- يس 36:17
- يس 36:18
- يس 36:19
- يس 36:20
- يس 36:21
- يس 36:22
- يس 36:23
- يس 36:24
- يس 36:25
- يس 36:26
- يس 36:27
- يس 36:28
- يس 36:29
- يس 36:30
- يس 36:31
- يس 36:32
- يس 36:33
- يس 36:34
- يس 36:35
- يس 36:36
- يس 36:37
- يس 36:38
- يس 36:39
- يس 36:40
- يس 36:41
- يس 36:42
- يس 36:43
- يس 36:44
- يس 36:45
- يس 36:46
- يس 36:47
- يس 36:48
- يس 36:49
- يس 36:50
- يس 36:51
- يس 36:52
- يس 36:53
- يس 36:54
- يس 36:55
- يس 36:56
- يس 36:57
- يس 36:58
- يس 36:59
- يس 36:60
- يس 36:61
- يس 36:62
- يس 36:63
- يس 36:64
- يس 36:65
- يس 36:66
- يس 36:67
- يس 36:68
- يس 36:69
- يس 36:70
- يس 36:71
- يس 36:72
- يس 36:73
- يس 36:74
- يس 36:75
- يس 36:76
- يس 36:77
- يس 36:78
- يس 36:79
- يس 36:80
- يس 36:81
- يس 36:82
- يس 36:83
- الصافات 37:1
- الصافات 37:2
- الصافات 37:3
- الصافات 37:4
- الصافات 37:5
- الصافات 37:6
- الصافات 37:7
- الصافات 37:8
- الصافات 37:9
- الصافات 37:10
- الصافات 37:11
- الصافات 37:12
- الصافات 37:13
- الصافات 37:14
- الصافات 37:15
- الصافات 37:16
- الصافات 37:17
- الصافات 37:18
- الصافات 37:19
- الصافات 37:20
- الصافات 37:21
- الصافات 37:22
- الصافات 37:23
- الصافات 37:24
- الصافات 37:25
- الصافات 37:26
- الصافات 37:27
- الصافات 37:28
- الصافات 37:29
- الصافات 37:30
- الصافات 37:31
- الصافات 37:32
- الصافات 37:33
- الصافات 37:34
- الصافات 37:35
- الصافات 37:36
- الصافات 37:37
- الصافات 37:38
- الصافات 37:39
- الصافات 37:40
- الصافات 37:41
- الصافات 37:42
- الصافات 37:43
- الصافات 37:44
- الصافات 37:45
- الصافات 37:46
- الصافات 37:47
- الصافات 37:48
- الصافات 37:49
- الصافات 37:50
- الصافات 37:51
- الصافات 37:52
- الصافات 37:53
- الصافات 37:54
- الصافات 37:55
- الصافات 37:56
- الصافات 37:57
- الصافات 37:58
- الصافات 37:59
- الصافات 37:60
- الصافات 37:61
- الصافات 37:62
- الصافات 37:63
- الصافات 37:64
- الصافات 37:65
- الصافات 37:66
- الصافات 37:67
- الصافات 37:68
- الصافات 37:69
- الصافات 37:70
- الصافات 37:71
- الصافات 37:72
- الصافات 37:73
- الصافات 37:74
- الصافات 37:75
- الصافات 37:76
- الصافات 37:77
- الصافات 37:78
- الصافات 37:79
- الصافات 37:80
- الصافات 37:81
- الصافات 37:82
- الصافات 37:83
- الصافات 37:84
- الصافات 37:85
- الصافات 37:86
- الصافات 37:87
- الصافات 37:88
- الصافات 37:89
- الصافات 37:90
- الصافات 37:91
- الصافات 37:92
- الصافات 37:93
- الصافات 37:94
- الصافات 37:95
- الصافات 37:96
- الصافات 37:97
- الصافات 37:98
- الصافات 37:99
- الصافات 37:100
- الصافات 37:101
- الصافات 37:102
- الصافات 37:103
- الصافات 37:104
- الصافات 37:105
- الصافات 37:106
- الصافات 37:107
- الصافات 37:108
- الصافات 37:109
- الصافات 37:110
- الصافات 37:111
- الصافات 37:112
- الصافات 37:113
- الصافات 37:114
- الصافات 37:115
- الصافات 37:116
- الصافات 37:117
- الصافات 37:118
- الصافات 37:119
- الصافات 37:120
- الصافات 37:121
- الصافات 37:122
- الصافات 37:123
- الصافات 37:124
- الصافات 37:125
- الصافات 37:126
- الصافات 37:127
- الصافات 37:128
- الصافات 37:129
- الصافات 37:130
- الصافات 37:131
- الصافات 37:132
- الصافات 37:133
- الصافات 37:134
- الصافات 37:135
- الصافات 37:136
- الصافات 37:137
- الصافات 37:138
- الصافات 37:139
- الصافات 37:140
- الصافات 37:141
- الصافات 37:142
- الصافات 37:143
- الصافات 37:144
- الصافات 37:145
- الصافات 37:146
- الصافات 37:147
- الصافات 37:148
- الصافات 37:149
- الصافات 37:150
- الصافات 37:151
- الصافات 37:152
- الصافات 37:153
- الصافات 37:154
- الصافات 37:155
- الصافات 37:156
- الصافات 37:157
- الصافات 37:158
- الصافات 37:159
- الصافات 37:160
- الصافات 37:161
- الصافات 37:162
- الصافات 37:163
- الصافات 37:164
- الصافات 37:165
- الصافات 37:166
- الصافات 37:167
- الصافات 37:168
- الصافات 37:169
- الصافات 37:170
- الصافات 37:171
- الصافات 37:172
- الصافات 37:173
- الصافات 37:174
- الصافات 37:175
- الصافات 37:176
- الصافات 37:177
- الصافات 37:178
- الصافات 37:179
- الصافات 37:180
- الصافات 37:181
- الصافات 37:182
يس 36:1
درس نمبر 205 تشریح آیات
1 ۔۔ تا۔۔۔ 29
﷽
یس والقرآن الحکیم۔۔۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین (1 – 12)
اللہ تعالیٰ دو حرفوں ” یا “ اور ” سین “ کی قسم اٹھا تا ہے اور اسی طرح قرآن کریم کی بھی قسم اٹھاتا ہے ۔ اللہ نے یہاں قسم میں ان حروف اور قرآن کریم کو یکجا فرمایاِ ، اس سے حروف مقطعات کی اس تفیرٹ کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے جو ہم نے ان حروف کے حوالے سے اختیار کی ہے ۔ ان حروف کے تذ کرے اور قرآن کے تذکرے کے درمیان یہ ربط ہے کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنا ہے ۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ کی جا نب سے ہے اور جس پر یہ لوگ تدبر نہیں کرتے ، اس کے ذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو متوجہ کرتا ہے کہ تم اس نکتے پر غور کرو ، کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنایا گیا ہے جو تمہاری دسترس میں ہیں۔ لیکن قرآن کا انداز تعبیر ، اس کا انداز بیان اور اس کی منطقی فکر ایسی ہے کہ تم اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے ہو۔
قسم کھائے ہوئے قرآن کی جو صفت یہاں لائی جاتی ہے۔ وہ صفت حکمت ہے۔ حکمت ایک ذی عقل کی صفت ہوتی ہے جو زندہ اور عقلمند ہو۔ قرآن کریم کی یہ صفت بتا کر یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ یہ زندہ اور قصد و ارادے کی مالک کتاب ہے۔ اسی وجہ سے یہ حکیم ہے۔ اگرچہ قرآن کریم کے لئے یہ صفت بطور مجاز استعمال کی گئی ہے لیکن یہ ایک عظیم حقیقت کی مظہر ہے۔ ایک اہم حقیقت کو اذہان کے قریب لایا جا رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کتاب کی ایک روح اور ایک زندگی ہے۔ اور جب قاری کا دل صاف ہوجائے اور وہ محبت کے ساتھ اس سے ہم کلام ہوجائے تو یہ کتاب نہایت الفت اور محبت کے ساتھ اس شخص کے ساتھ ہمکلام ہوتی ہے اور وہ ایسے شخص پر پھر اپنے اسرار و رموز کھولتی ہے بشرطیکہ قاری خود اس کے لئے اپنا دل کھول دے اور اپنے دل و جان کے ساتھ اس کا ہوجائے۔ پھر اس کے قاری کو اس کے وہ خدوخال نظر آئیں گے جس طرح کسی دوست کے چہرے میں انسان کو نظر آتے ہیں۔ اور وہ اس کتاب کی طرف اسی شوق کے ساتھ مائل ہوگا جس طرح کوئی اپنے دوست کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اور پھر قرآن میں اسے وہی سکون ملتا ہے جس طرح ایک دوست کی محفل میں ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دوسروں سے قرآن کو سننا پسند فرماتے تھے۔ آپ ایسے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے اور سنتے جن میں قرآن حکیم کی تلاوت ہو رہی ہوتی تھی ۔ جس طرح کوئی عاشق اپنے محبوب کی باتیں غور سے سنتا ہے۔
اور قرآن تو حکیم ہے۔ وہ ہر اس شخص سے ہمکلام ہوتا ہے جو اس کا گرویدہ ہوجائے ۔ وہ ایک مومن کے دل کی حساس تاروں کو چھیڑتا ہے۔ اس کے ساتھ اسی مقدار میں ہمکلام ہوتا ہے جس قدر اس کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ مکالمہ نہایت حکمت سے ہوتا ہے ۔ اس انداز میں کہ مخاطب کی اصلاح ہوتی ہے اور اس کو ایک سمت ملتی ہے۔
قرآن حکیم ہے ، بڑی حکمت کے ساتھ تربیت کرتا ہے۔ نہایت ہی معقول انداز میں۔ درست نفسیاتی سمت میں۔ ایسے انداز
میں کہ جس میں تمام انسانی صلاحیتوں کو تعمیری انداز میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اور انسانی صلاحیتوں کو صحت مند ترقی کے لیے ایک سمت دی جاتی ہے ۔ یہ انسانوں کو زندگی گزارنے کا نہایت ہی حکیمانہ نظام دیتا ہے جس کے کھلے اور وسیع حدود کے اندر انسان زندگی کی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یا اور سین اور پھر قرآن مجید کی قسم کھا کر یقین دہانی فرماتا ہے کہ اے رسول آپ رسولوں میں سے ہیں اور آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ آپ رسول کریم ہیں اور یہ قرآن حکیم ہے۔
يس 36:2
درس نمبر 205 تشریح آیات
1 ۔۔ تا۔۔۔ 29
﷽
یس والقرآن الحکیم۔۔۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین (1 – 12)
اللہ تعالیٰ دو حرفوں ” یا “ اور ” سین “ کی قسم اٹھا تا ہے اور اسی طرح قرآن کریم کی بھی قسم اٹھاتا ہے ۔ اللہ نے یہاں قسم میں ان حروف اور قرآن کریم کو یکجا فرمایاِ ، اس سے حروف مقطعات کی اس تفیرٹ کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے جو ہم نے ان حروف کے حوالے سے اختیار کی ہے ۔ ان حروف کے تذ کرے اور قرآن کے تذکرے کے درمیان یہ ربط ہے کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنا ہے ۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ کی جا نب سے ہے اور جس پر یہ لوگ تدبر نہیں کرتے ، اس کے ذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو متوجہ کرتا ہے کہ تم اس نکتے پر غور کرو ، کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنایا گیا ہے جو تمہاری دسترس میں ہیں۔ لیکن قرآن کا انداز تعبیر ، اس کا انداز بیان اور اس کی منطقی فکر ایسی ہے کہ تم اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے ہو۔
قسم کھائے ہوئے قرآن کی جو صفت یہاں لائی جاتی ہے۔ وہ صفت حکمت ہے۔ حکمت ایک ذی عقل کی صفت ہوتی ہے جو زندہ اور عقلمند ہو۔ قرآن کریم کی یہ صفت بتا کر یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ یہ زندہ اور قصد و ارادے کی مالک کتاب ہے۔ اسی وجہ سے یہ حکیم ہے۔ اگرچہ قرآن کریم کے لئے یہ صفت بطور مجاز استعمال کی گئی ہے لیکن یہ ایک عظیم حقیقت کی مظہر ہے۔ ایک اہم حقیقت کو اذہان کے قریب لایا جا رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کتاب کی ایک روح اور ایک زندگی ہے۔ اور جب قاری کا دل صاف ہوجائے اور وہ محبت کے ساتھ اس سے ہم کلام ہوجائے تو یہ کتاب نہایت الفت اور محبت کے ساتھ اس شخص کے ساتھ ہمکلام ہوتی ہے اور وہ ایسے شخص پر پھر اپنے اسرار و رموز کھولتی ہے بشرطیکہ قاری خود اس کے لئے اپنا دل کھول دے اور اپنے دل و جان کے ساتھ اس کا ہوجائے۔ پھر اس کے قاری کو اس کے وہ خدوخال نظر آئیں گے جس طرح کسی دوست کے چہرے میں انسان کو نظر آتے ہیں۔ اور وہ اس کتاب کی طرف اسی شوق کے ساتھ مائل ہوگا جس طرح کوئی اپنے دوست کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اور پھر قرآن میں اسے وہی سکون ملتا ہے جس طرح ایک دوست کی محفل میں ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دوسروں سے قرآن کو سننا پسند فرماتے تھے۔ آپ ایسے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے اور سنتے جن میں قرآن حکیم کی تلاوت ہو رہی ہوتی تھی ۔ جس طرح کوئی عاشق اپنے محبوب کی باتیں غور سے سنتا ہے۔
اور قرآن تو حکیم ہے۔ وہ ہر اس شخص سے ہمکلام ہوتا ہے جو اس کا گرویدہ ہوجائے ۔ وہ ایک مومن کے دل کی حساس تاروں کو چھیڑتا ہے۔ اس کے ساتھ اسی مقدار میں ہمکلام ہوتا ہے جس قدر اس کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ مکالمہ نہایت حکمت سے ہوتا ہے ۔ اس انداز میں کہ مخاطب کی اصلاح ہوتی ہے اور اس کو ایک سمت ملتی ہے۔
قرآن حکیم ہے ، بڑی حکمت کے ساتھ تربیت کرتا ہے۔ نہایت ہی معقول انداز میں۔ درست نفسیاتی سمت میں۔ ایسے انداز
میں کہ جس میں تمام انسانی صلاحیتوں کو تعمیری انداز میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اور انسانی صلاحیتوں کو صحت مند ترقی کے لیے ایک سمت دی جاتی ہے ۔ یہ انسانوں کو زندگی گزارنے کا نہایت ہی حکیمانہ نظام دیتا ہے جس کے کھلے اور وسیع حدود کے اندر انسان زندگی کی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یا اور سین اور پھر قرآن مجید کی قسم کھا کر یقین دہانی فرماتا ہے کہ اے رسول آپ رسولوں میں سے ہیں اور آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ آپ رسول کریم ہیں اور یہ قرآن حکیم ہے۔
يس 36:3
انک لمن المرسلین۔۔۔۔ علی صراط مستقیم (36: 3 – 4) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ کو قسم اٹھانے کی ضرورت کیا ہے ؟ لیکن قرآن اور حروف قرآن کی یہ قسم ، ان چیزوں کو جلالت شان عطا کرتی ہے جن کی قسم اٹھائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ کسی عظیم الشان اور اہم چیز کی قسم اٹھاتا ہے یہاں تک کہ اس چیز کی اہمیت ایک شاہد اور ثابت کنندہ کی ہوجاتی ہے۔
انک لمن المرسلین (36: 3) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو “۔ جس انداز سے یہ آیت آئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں رسولوں کا بھیجنا اور انتخاب پہلے سے طے شدہ ہے۔ یہاں حضور اکرم ﷺ کو خلیفہ بیان کی صورت میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کا نام رسولوں کی فہرست میں ہے اور یہاں مکذبین اور منکرین کو خطاب کرنے کی بجائے رسول اللہ کو خطاب فرمایا جاتا ہے۔ اس میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ رسول اور منصب رسالت ، اس قدر بلند وبالا ہیں کہ جن پر کوئی کلام اور مباحثہ اور مجادلہ نہیں ہوسکتا۔ بس اللہ کی جانب سے رسول کو اطلاع دے دینا ہی مکمل ثبوت ہوتا ہے۔
انک لمن المرسلین۔۔۔۔۔۔ علی صراط مستقیم (36: 3- 4) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو “۔ رسولوں کے تعین اور تقرر کے بعد بتایا جاتا ہے کہ رسالت کی نوعیت کیا ہے ؟ یہ کہ وہ ایک سیدھا راستہ ہے۔ یہ رسالت تلوار کی دھار کی طرح سیدھی ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی ٹیڑھ پن اور کوئی انحراف نہیں ہوتا۔ نہ اس میں کوئی پیچیدگی ہوتی ہے اور نہ کوئی لچک ہوتی ہے۔ یہ ایسی سچائی پر مشتمل ہوتی ہے جو بالکل واضح ہوتی ہے۔ اور اس میں کوئی التباس نہیں ہوتا۔ نہ وہ خواہشات نفاسیہ کی تابع ہے۔ اور نہ وہ مصلحتوں کی سمت میں قبلہ بدلتی ہے۔ جو شخص بھی اس سچائی کی تلاش کرے اور مخلص ہو ، یہ اسے مل جاتی ہے۔
یہ رسالت چونکہ سیدھا راستہ بتاتی ہے اس لیے اس میں نہ کوئی اشکال ہے ، نہ پیچیدگی ہے ، اور نہ کوئی چکر ہے۔ یہ مسائل کو مشکل نہیں بناتی۔ نہ لوگوں کو مشکلات میں ڈالتی ہے ، اس کے اندر جدلیاتی مسائل پر مکالمہ نہیں ہوتا۔ اور نہ فلسفیانہ تصورات میں الجھایا جاتا ہے۔ یہ سچائی کو نہایت ہی سادہ شکل میں پیش کرتی ہے۔ اور اس قدر سادہ شکل میں جس میں کوئی شبہ اور کوئی غلط مبحث نہیں ہوتا۔ اس قدر سادہ کہ اسے مزید تشریح کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ الفاظ کو جوڑ توڑ ، اور باتوں سے بات نکالنا اس میں پیش ہوتا ہے اور نہ پیچیدہ اور ذولیدہ افکار کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اسی رسالت کے ساتھ موجودہ ہدایات اور ظاہری احکام پر عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔ یہ امی اور عالم دونوں کے لیے ہدایت ہے۔ یہ دیہاتی اور شہری دونوں کے لیے ہدایت ہے۔ ہر شخص اور ہر طبقہ اس کے اندر اپنی ضرورت کی ہدایت پاتا ہے ۔ اور اس کے ساتھ اس کی زندگی کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ اسکا نظام زندگی درست ہوجاتا ہے۔ زندگی کے طور طریقے درست ہوجاتے ہیں اور انسانوں کے باہم تعلقات نہایت ہی آسانی کے ساتھ سر انجام پاتے ہیں۔
پھر یہ رسالت اس کائنات کی فطرت اور اس کائنات کے اندر جاری وساری قانون الٰہی کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ انسان اور انسان کے ماحول میں پائے جانے والی اشیاء کے ساتھ بھی یہ رسالت ہم آہنگ ہے۔ یہ نہ دنیا کی اشیاء کے ساتھ متصادم ہے ، نہ انسان کو یہ رسالت حکم دیتی ہے کہ وہ فطرت کے ساتھ متصادم ہو۔ یہ اپنے منہاج پر درست استوار ہے۔ اور اس کائنات کے ساتھ متوازی ہے۔ یہ معاون ہے ، یہ ایک ایسا نظام دیتی ہے جو مکمل کائنات ہے۔
یہ رسالت اللہ تک پہنچنے کا صحیح راستہ بتاتی ہے ، اور اللہ تک پہنچاتی ہے۔ اس رسالت کے متبعین کو کبھی یہ خطرہ درپیش نہیں ہوتا کہ وہ راستہ بھلا دیں۔ نہ ان کی راہ میں کوئی ٹیڑھ آتی ہے جو اس وادی میں داخل ہوتا ہے۔ وہ اس کے نشیب و فراز سے ہوتا ہوا سیدھا رضائے الٰہی اور اپنے خالق عظیم تک جا پہنچتا ہے۔ اس رسالت نے یہ قرآن دیا پ ہے ۔ جو اس سیدھی راہ کا پورا نقشہ بناتا ہے اور ایک گائیڈ ہے۔ جب انسان اس کتاب کی راہنمائی میں چلے تو وہ سچائی کی سیدھی فکر پالیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر اس کی قدروں کے بارے میں یہ کتاب فیصلہ کن ہدایت دیتی ہے اور ہر چیز کو اس کی صحیح جگہ پر رکھ دیتی ہے۔
يس 36:4
انک لمن المرسلین۔۔۔۔ علی صراط مستقیم (36: 3 – 4) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ کو قسم اٹھانے کی ضرورت کیا ہے ؟ لیکن قرآن اور حروف قرآن کی یہ قسم ، ان چیزوں کو جلالت شان عطا کرتی ہے جن کی قسم اٹھائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ کسی عظیم الشان اور اہم چیز کی قسم اٹھاتا ہے یہاں تک کہ اس چیز کی اہمیت ایک شاہد اور ثابت کنندہ کی ہوجاتی ہے۔
انک لمن المرسلین (36: 3) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو “۔ جس انداز سے یہ آیت آئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں رسولوں کا بھیجنا اور انتخاب پہلے سے طے شدہ ہے۔ یہاں حضور اکرم ﷺ کو خلیفہ بیان کی صورت میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کا نام رسولوں کی فہرست میں ہے اور یہاں مکذبین اور منکرین کو خطاب کرنے کی بجائے رسول اللہ کو خطاب فرمایا جاتا ہے۔ اس میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ رسول اور منصب رسالت ، اس قدر بلند وبالا ہیں کہ جن پر کوئی کلام اور مباحثہ اور مجادلہ نہیں ہوسکتا۔ بس اللہ کی جانب سے رسول کو اطلاع دے دینا ہی مکمل ثبوت ہوتا ہے۔
انک لمن المرسلین۔۔۔۔۔۔ علی صراط مستقیم (36: 3- 4) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو “۔ رسولوں کے تعین اور تقرر کے بعد بتایا جاتا ہے کہ رسالت کی نوعیت کیا ہے ؟ یہ کہ وہ ایک سیدھا راستہ ہے۔ یہ رسالت تلوار کی دھار کی طرح سیدھی ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی ٹیڑھ پن اور کوئی انحراف نہیں ہوتا۔ نہ اس میں کوئی پیچیدگی ہوتی ہے اور نہ کوئی لچک ہوتی ہے۔ یہ ایسی سچائی پر مشتمل ہوتی ہے جو بالکل واضح ہوتی ہے۔ اور اس میں کوئی التباس نہیں ہوتا۔ نہ وہ خواہشات نفاسیہ کی تابع ہے۔ اور نہ وہ مصلحتوں کی سمت میں قبلہ بدلتی ہے۔ جو شخص بھی اس سچائی کی تلاش کرے اور مخلص ہو ، یہ اسے مل جاتی ہے۔
یہ رسالت چونکہ سیدھا راستہ بتاتی ہے اس لیے اس میں نہ کوئی اشکال ہے ، نہ پیچیدگی ہے ، اور نہ کوئی چکر ہے۔ یہ مسائل کو مشکل نہیں بناتی۔ نہ لوگوں کو مشکلات میں ڈالتی ہے ، اس کے اندر جدلیاتی مسائل پر مکالمہ نہیں ہوتا۔ اور نہ فلسفیانہ تصورات میں الجھایا جاتا ہے۔ یہ سچائی کو نہایت ہی سادہ شکل میں پیش کرتی ہے۔ اور اس قدر سادہ شکل میں جس میں کوئی شبہ اور کوئی غلط مبحث نہیں ہوتا۔ اس قدر سادہ کہ اسے مزید تشریح کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ الفاظ کو جوڑ توڑ ، اور باتوں سے بات نکالنا اس میں پیش ہوتا ہے اور نہ پیچیدہ اور ذولیدہ افکار کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اسی رسالت کے ساتھ موجودہ ہدایات اور ظاہری احکام پر عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔ یہ امی اور عالم دونوں کے لیے ہدایت ہے۔ یہ دیہاتی اور شہری دونوں کے لیے ہدایت ہے۔ ہر شخص اور ہر طبقہ اس کے اندر اپنی ضرورت کی ہدایت پاتا ہے ۔ اور اس کے ساتھ اس کی زندگی کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ اسکا نظام زندگی درست ہوجاتا ہے۔ زندگی کے طور طریقے درست ہوجاتے ہیں اور انسانوں کے باہم تعلقات نہایت ہی آسانی کے ساتھ سر انجام پاتے ہیں۔
پھر یہ رسالت اس کائنات کی فطرت اور اس کائنات کے اندر جاری وساری قانون الٰہی کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ انسان اور انسان کے ماحول میں پائے جانے والی اشیاء کے ساتھ بھی یہ رسالت ہم آہنگ ہے۔ یہ نہ دنیا کی اشیاء کے ساتھ متصادم ہے ، نہ انسان کو یہ رسالت حکم دیتی ہے کہ وہ فطرت کے ساتھ متصادم ہو۔ یہ اپنے منہاج پر درست استوار ہے۔ اور اس کائنات کے ساتھ متوازی ہے۔ یہ معاون ہے ، یہ ایک ایسا نظام دیتی ہے جو مکمل کائنات ہے۔
یہ رسالت اللہ تک پہنچنے کا صحیح راستہ بتاتی ہے ، اور اللہ تک پہنچاتی ہے۔ اس رسالت کے متبعین کو کبھی یہ خطرہ درپیش نہیں ہوتا کہ وہ راستہ بھلا دیں۔ نہ ان کی راہ میں کوئی ٹیڑھ آتی ہے جو اس وادی میں داخل ہوتا ہے۔ وہ اس کے نشیب و فراز سے ہوتا ہوا سیدھا رضائے الٰہی اور اپنے خالق عظیم تک جا پہنچتا ہے۔ اس رسالت نے یہ قرآن دیا پ ہے ۔ جو اس سیدھی راہ کا پورا نقشہ بناتا ہے اور ایک گائیڈ ہے۔ جب انسان اس کتاب کی راہنمائی میں چلے تو وہ سچائی کی سیدھی فکر پالیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر اس کی قدروں کے بارے میں یہ کتاب فیصلہ کن ہدایت دیتی ہے اور ہر چیز کو اس کی صحیح جگہ پر رکھ دیتی ہے۔
يس 36:5
تنزیل العزیز الرحیم (36: 5) ” یہ غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے “۔ ایسے مقامات پر اللہ اپنے بندوں سے اپنے آپ کو متعارف فرماتا ہے تاکہ وہ اللہ کے کلام کی حقیقت کو سمجھیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم ہے۔ وہ غالب ہے لہٰذا جو چاہے کرسکتا ہے۔ اور رحیم ہے ، اس لیے اپنے بندوں کے ساتھ رحیمانہ برتاؤ کرتا ہے۔ اس لیے اللہ کے احکام میں رحمت کا پہلو ضرور ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس قرآن کے نزول کے مقاصد کیا ہیں اور اس کی حکمت کیا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انجام بد د سے ڈرایا جائے اور ان تک سچائی کا پیغام پہنچایا جائے۔ خصوصاً
لتنذر قوما۔۔۔۔ فھم غفلون (36: 6) ” تاکہ تم خبردار کرو ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبر دار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ غفلت وہ بڑی بیماری ہے جس کی وجہ سے دلوں میں فساد پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک غافل دل دراصل اپنے فریضہ منصبی کو چھوڑ دیتا ہے ، اس لیے وہ ایک عضو معطل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہدایت اخذ کرنا اور اسے قبول کرنا یہ دل کا کام ہے۔ جب انسانوں کے سامنے دلائل ہدایت پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی دل یا تو ان پر غافل ہوکر گزر جاتا ہے اور یا ان دلائل کو اخذ کرلیتا ہے۔ لہٰذا ان غافل لوگوں کو ڈرانا مفید تھا۔ کیونکہ نسلیں گزر گئی تھیں اور اس قوم کے پاس کوئی درانے والا نہ آیا تھا۔ نہ کوئی ایسا شخص آیا تھا جو ان کو متنبہ کرتا۔ یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امت اور اولاد میں سے تھے۔ اور ان کے بعد صدیاں گزر گئی تھیں۔ اور ان کے پاس کوئی نبی اور نذیر نہ آیا تھ۔ لہٰذا ایسا ڈرانے والا ان کی ضرورت تھا ، جو ان کو خوب غفلت سے بیدار کر دے کیونکہ آباؤ اجداد کے وقت سے یہ لوگ خواب غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان غوفلوں کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اللہ کے نظام قضاء قدر نے ان کے بارے میں کیا فیصلہ کردیا ہے کیونکہ اللہ کو ان کے قلوب کے بارے میں خوب علم تھا۔ وہ ان سے سرزد ہونے والے امور کو پہلے سے جانتا تھا ۔ انہوں نے جو کیا وہ بھی اللہ کے علم میں تھا اور جو ہونے والا تھا ، وہ بھی اس کے علم میں تھا۔
يس 36:6
تنزیل العزیز الرحیم (36: 5) ” یہ غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے “۔ ایسے مقامات پر اللہ اپنے بندوں سے اپنے آپ کو متعارف فرماتا ہے تاکہ وہ اللہ کے کلام کی حقیقت کو سمجھیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم ہے۔ وہ غالب ہے لہٰذا جو چاہے کرسکتا ہے۔ اور رحیم ہے ، اس لیے اپنے بندوں کے ساتھ رحیمانہ برتاؤ کرتا ہے۔ اس لیے اللہ کے احکام میں رحمت کا پہلو ضرور ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس قرآن کے نزول کے مقاصد کیا ہیں اور اس کی حکمت کیا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انجام بد د سے ڈرایا جائے اور ان تک سچائی کا پیغام پہنچایا جائے۔ خصوصاً
لتنذر قوما۔۔۔۔ فھم غفلون (36: 6) ” تاکہ تم خبردار کرو ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبر دار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ غفلت وہ بڑی بیماری ہے جس کی وجہ سے دلوں میں فساد پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک غافل دل دراصل اپنے فریضہ منصبی کو چھوڑ دیتا ہے ، اس لیے وہ ایک عضو معطل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہدایت اخذ کرنا اور اسے قبول کرنا یہ دل کا کام ہے۔ جب انسانوں کے سامنے دلائل ہدایت پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی دل یا تو ان پر غافل ہوکر گزر جاتا ہے اور یا ان دلائل کو اخذ کرلیتا ہے۔ لہٰذا ان غافل لوگوں کو ڈرانا مفید تھا۔ کیونکہ نسلیں گزر گئی تھیں اور اس قوم کے پاس کوئی درانے والا نہ آیا تھا۔ نہ کوئی ایسا شخص آیا تھا جو ان کو متنبہ کرتا۔ یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امت اور اولاد میں سے تھے۔ اور ان کے بعد صدیاں گزر گئی تھیں۔ اور ان کے پاس کوئی نبی اور نذیر نہ آیا تھ۔ لہٰذا ایسا ڈرانے والا ان کی ضرورت تھا ، جو ان کو خوب غفلت سے بیدار کر دے کیونکہ آباؤ اجداد کے وقت سے یہ لوگ خواب غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان غوفلوں کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اللہ کے نظام قضاء قدر نے ان کے بارے میں کیا فیصلہ کردیا ہے کیونکہ اللہ کو ان کے قلوب کے بارے میں خوب علم تھا۔ وہ ان سے سرزد ہونے والے امور کو پہلے سے جانتا تھا ۔ انہوں نے جو کیا وہ بھی اللہ کے علم میں تھا اور جو ہونے والا تھا ، وہ بھی اس کے علم میں تھا۔
يس 36:7
لقد حق۔۔۔۔۔ فھم لا یومنون (36: 7) ” ان میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے “۔ ان کے معاملے میں اللہ نے فیصلہ صادر کردیا ہے اور اللہ کا فیصلہ ان کے حق میں درست ہے۔ یہ فیصلہ سچائی پر ہوا ہے۔ حق کے مطابق ہے۔ کیونکہ اللہ ان کی حقیقت سے خوب واقف تھا۔ اللہ ان کے شعور اور میلان سے بھی واقف تھا۔ یہ لوگ ایمان لانے والے ہی نہ تھے۔ اکثریت کا یہی انجام ہے۔ ان کے نفوس اور ہدایت کے درمیان پر دے حائل ہو چلے ہیں۔ وہ نہ سچائی کے دلائل کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو ان کا شعور حاصل ہے۔
جن لوگوں پر اللہ کا فیصلہ حق ہوچکا ان کی نفسیاتی حالت کی تصویر یہ ہے ۔ ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں ، ان طوقوں کے اندر وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ دیکھ بھی نہیں سکتے۔ ان کے اوپر ہدایت کے درمیان پردے اور رکاوٹیں حامل ہوچکی ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں ، اس لیے وہ سیکھنے کے اہل ہی نہیں رہے۔
يس 36:8
انا جعلنا فی اعناقھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فھم لا یبصرون (36: 8 – 9) ” ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں ، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے۔ انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا “۔
ان کے ہاتھ طوقوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ پھر یہ ان کی گردنوں کے ساتھ بندھے ہیں اور ان کی ٹھوڑیوں کے نیچے جکڑ دئے گئے ہیں۔ اس طرح ان کے سر مجبوراً اوپر کی طرف اٹھ گئے ہیں ۔ اس لیے وہ اپنے سامنے کی طرف نیچے راستے کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ چونکہ وہ اس بری حالت میں ہیں۔ اس لیے نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کچھ کرسکتے ہیں۔ پھر ان کے آگے بھی ایک دیوار ہے اور پیچھے بھی ایک دیوار ہے۔ اس طرح وہ کسی طرح بھی حق تک پہنچنے کے اہل ہی نہیں رہے۔ یہ کسے ہوئے ہیں لہٰذا دیکھ نہیں سکتے۔ آگے پیچھے دیواریں ہیں جن سے ان کی نظریں پار نہیں ہوسکتیں۔ خود اپنی اپنی نالائقی اور بدعملی کی وجہ سے وہ اس نفسیاتی حالت تک پہنچے ہیں۔
یہ منظر حسی ہے اور بڑا شدید منظر ہے لیکن روز مرہ کی زندگی میں ہمیں بیشمار لوگ ملتے ہیں جن کے بارے میں انسان اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ یہ لوگ واضح سچائی کو نہیں دیکھ پا رہے۔ لہٰذا ان کے سامنے ایسے پردے اور ایسی دیواریں حائل ہیں کہ وہ ان سے اس پار نہیں دیکھ سکتے۔ اگر ہاتھ پاؤں یوں بندھے ہوئے نہ بھی ہوں اور ان کے سر اوپر کی طرف کس نے بھی دئیے گئے ہوں کہ وہ اوپر ہی کو دیکھ سکتے ہوں ، بلکہ وہ بظاہر صحیح سالم اور آزاد ہوں لیکن ان کی نفسیاتی حالت ایسی ہی ہوتی ہے ، کہ وہ اپنی بصیرت کے ذریعے ہدایت کو نہیں دیکھ پاتے اور دلائل ہدایت اور ان کی سوچ کے درمیان غیر مرئی دیواریں حائل نظر آتی ہیں۔ یہی حالت مکہ کے ان لوگوں کی تھی جنہوں نے قرآن کا استقبال ایسی ہی نفسیاتی حالت کے ساتھ کیا۔ قرآن ان کے سامنے صاف صاف دلائل و نشانیاں پیش کرتا اور وہ انکار پر مصر رہتے۔ پیش کردہ دلائل کے علاوہ قرآن تو بذات خود معجزانہ دلیل اور نشانی تھا جس کے مقابلے میں کوئی صاحب بصیرت انسان نہیں ٹھہر سکتا تھا مگر یہ لوگ انکار پر مصر رہے۔
يس 36:9
انا جعلنا فی اعناقھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فھم لا یبصرون (36: 8 – 9) ” ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں ، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے۔ انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا “۔
ان کے ہاتھ طوقوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ پھر یہ ان کی گردنوں کے ساتھ بندھے ہیں اور ان کی ٹھوڑیوں کے نیچے جکڑ دئے گئے ہیں۔ اس طرح ان کے سر مجبوراً اوپر کی طرف اٹھ گئے ہیں ۔ اس لیے وہ اپنے سامنے کی طرف نیچے راستے کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ چونکہ وہ اس بری حالت میں ہیں۔ اس لیے نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کچھ کرسکتے ہیں۔ پھر ان کے آگے بھی ایک دیوار ہے اور پیچھے بھی ایک دیوار ہے۔ اس طرح وہ کسی طرح بھی حق تک پہنچنے کے اہل ہی نہیں رہے۔ یہ کسے ہوئے ہیں لہٰذا دیکھ نہیں سکتے۔ آگے پیچھے دیواریں ہیں جن سے ان کی نظریں پار نہیں ہوسکتیں۔ خود اپنی اپنی نالائقی اور بدعملی کی وجہ سے وہ اس نفسیاتی حالت تک پہنچے ہیں۔
یہ منظر حسی ہے اور بڑا شدید منظر ہے لیکن روز مرہ کی زندگی میں ہمیں بیشمار لوگ ملتے ہیں جن کے بارے میں انسان اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ یہ لوگ واضح سچائی کو نہیں دیکھ پا رہے۔ لہٰذا ان کے سامنے ایسے پردے اور ایسی دیواریں حائل ہیں کہ وہ ان سے اس پار نہیں دیکھ سکتے۔ اگر ہاتھ پاؤں یوں بندھے ہوئے نہ بھی ہوں اور ان کے سر اوپر کی طرف کس نے بھی دئیے گئے ہوں کہ وہ اوپر ہی کو دیکھ سکتے ہوں ، بلکہ وہ بظاہر صحیح سالم اور آزاد ہوں لیکن ان کی نفسیاتی حالت ایسی ہی ہوتی ہے ، کہ وہ اپنی بصیرت کے ذریعے ہدایت کو نہیں دیکھ پاتے اور دلائل ہدایت اور ان کی سوچ کے درمیان غیر مرئی دیواریں حائل نظر آتی ہیں۔ یہی حالت مکہ کے ان لوگوں کی تھی جنہوں نے قرآن کا استقبال ایسی ہی نفسیاتی حالت کے ساتھ کیا۔ قرآن ان کے سامنے صاف صاف دلائل و نشانیاں پیش کرتا اور وہ انکار پر مصر رہتے۔ پیش کردہ دلائل کے علاوہ قرآن تو بذات خود معجزانہ دلیل اور نشانی تھا جس کے مقابلے میں کوئی صاحب بصیرت انسان نہیں ٹھہر سکتا تھا مگر یہ لوگ انکار پر مصر رہے۔
يس 36:10
وسوآء علیھم ۔۔۔۔۔ لا یومنون (36: 10) ” ان کے لیے یکساں ہے تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو ، یہ نہ مانیں گے “۔ اس لیے کہ ان کے معاملے میں اللہ نے فیصلہ کردیا کیونکہ اللہ کو علم تھا کہ ان کے دلوں میں ایمان کے راہ پانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اور ایسے دلوں پر خبردار کرنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جو ایمان کے لیے تیار ہی نہ ہوں۔ وہ دل جو بندھے ہوئے ہیں جن کے اور سچائی کے درمیان دیواریں حائل ہوں۔ انذار اور تبلیغ کی وجہ سے مردہ دلوں کو زندہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ غافل اور سوئے ہوؤں کو جگایا جاسکتا ہے۔ خصوصا ایسے سوئے ہوئے دلوں کو جو ہدایت لینا چاہیں اور اس کے لیے تیار ہوں۔
يس 36:11
انما تنذر من۔۔۔۔۔ واجر کریم (36: 11) ” تم تو اسی شخص کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور جو بےدیکھے رحمن سے ڈرے ، اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو “۔ الذکر سے یہاں قرآن کریم مراد ہے۔ راجع قول یہی ہے۔ وہ شخص جو قرآن کی تابعداری کرے اور رحمن سے بن دیکھے ڈرے ، یہی شخص ڈرانے سے استفادہ کرسکتا ہے۔ گویا یہی شخص ہے جس کے لیے ڈراوا آیا ہے۔ گویا ایسے ہی شخص کے لیے رسول اللہ کو بھیجا گیا ہے۔ اگرچہ رسالت عمومی ہے لیکن دوسرے لوگوں اور ہدایت کے درمیان پردے حائل ہوچکے ہیں۔ لہٰذا ہدایت اس شخص تک محدود ہوگئی جو قرآن کو مان لے اور بن دیکھے رحمن سے ڈرے۔ ایسے ہی لوگ جب وہ ڈراوے سے استفادہ کرتے ہیں تو وہ خوشخبری کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
فبشرہ بمغفرۃ واجر کریم (36: 11) ” اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو “۔ مغفرت ان غلطیوں پر جو واقع ہوگئیں اور ان پر اصرار نہ کیا گیا۔ اور اجر کریم اسلیے کہ یہ شخص غائبانہ طور پر اللہ سے ڈرتا رہا۔ اور اللہ کی جانب سے جو یاد دہانی آتی رہی اس کا اتباع کرتا رہا۔ یہ دونوں چیزیں قلب مومن میں باہم دگر لازم و ملزوم ہیں۔ جب بھی کسی دل میں خدا کا خوف پیدا ہو تو انسان خدا کی ہدایات پر عمل شروع کردیتا ہے اور جس نظام زندگی کا اس نے ارادہ کیا اس پر استقامت حاصل ہوجاتی ہے۔
يس 36:12
چناچہ یہاں یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ایک دن تم نے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے ، تمہارا حساب نہایت وقت کے ساتھ تیار ہوگا اور اس میں سے کوئی بات چھوٹی ہوئی نہ ہوگی۔
انا نحن ۔۔۔۔۔ امام مبین (36: 12) ” یقیناً ہم ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔ جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں۔ ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے “۔
مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا وہ مسئلہ ہے جس پر ہمیشہ مباحثہ ہوتا رہا ہے ۔ اس سورت میں بھی اس کے امکان پر کئی مثالیں دی جائیں گی۔ یہاں ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ وہ جو اعمال بھی کر رہے ہیں اور اپنے پیچھے جو بھی اچھے یا برے آثار چھوڑ رہے ہیں وہ سب اللہ کے ہاں ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ ان اعمال میں سے نہ کوئی چیز چھوٹ سکتی ہے اور نہ بھول سکتی ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ وہی ہے جو ان کے اعمال و آثار کو قلم بند کر رہا ہے۔ وہی ہے جو ہر چیز کو لکھ رہا ہے۔ لہٰذا یہ تمام امور اسی طرح ظہور پذیر ہوں گے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے دست قدرت سے انہیں ظاہر کرے گا اور جس طرح اللہ نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ان امور کو اسی طرح ظاہر کرے گا۔ امام مبین سے مراد لوح محفوظ ہے یا وہ دفتر جہاں اللہ کے نظام کے مطابق اعمال ریکارڈ ہوتے ہیں ، لوح محفوظ سے اللہ کا ازلی اور قدیم علم مراد ہے۔ اور اللہ کا علم ہر چیز کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔
يس 36:13
وحی و رسالت کے مسئلے کے اس تاکیدی بیان اور قضیہ حساب و کتاب کے اس اٹل اعلان کے بعد ، اب اسی مضمون کو قصے کی صورت میں لایا جاتا ہے۔ اس قصے میں ایمان اور کفر کے جو دو باہم متقابل موقف سامنے آتے ہیں وہ نفس انسانی پر نہایت گہرے اثرات چھوڑتے ہیں اور دونوں مواقف کا انجام بھی آنکھوں کے سامنے منقش نظر آتا ہے۔
واضرب لھم مثلا ۔۔۔۔۔۔۔ بل انتم قوم مسرفون (13 – 19) ” “۔
رسولوں نے کہا ” ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ، اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ بستی والے کہنے لگے ” ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کرسکیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے “۔ رسولوں نے جواب دیا ” تمہاری فال بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو “۔
قرآن کریم نے اصحاب قریہ کا نام نہیں لیا ، نہ اس گاؤں کا ۔۔۔ ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے بہت سی روایات نقل کی ہیں۔ ان روایات کے پیچھے پڑنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ نہ ان پر بحث کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کا اس شہر کا نام نہ لینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ قصہ کے جو مقاصد ہیں ان میں اس گاؤں کا نام لینے سے کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس شہر اور اس کے محل وقوع کا نام نہیں لیا۔ اور قصے اور اس سے حاصل ہونے والے سبق ہی پر اکتفاء کیا۔ بہرحال یہ ایک گاؤں تھا جس کی طرف دو رسول بھیجے گئے تھے۔ جس طرح حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہما السلام) دونوں کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اس گاؤں والوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی۔ اللہ نے ان دونوں رسولوں کی تائید میں ایک تیسرا رسول بھی بھیج دیا اور اس تیسرے نے لوگوں کو بتایا کہ یہ دونوں برحق رسول ہیں ، چناچہ ان تینوں نے ازسرنو اپنی دعوت کا آغاز کیا۔
فقالوا انا الیکم مرسلون (36: 14) ” ان سب نے کہا ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں “۔
اب اس گاؤں والوں نے ان پر وہی گھسے پٹے اعتراضات کیے جو ہمیشہ رسولوں پر ہوتے ہیں۔
قالوا ما انتم۔۔۔۔۔ الا تکذبون (36: 15) ” بستی والوں نے کہا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے انسان اور خدائے رحمن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے ، تم محض جھوٹ بولتے ہو “۔ یہ اعتراضات جو تمام رسولوں پر ہوتے رہے ہیں ، ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بہت ہی سادہ لوح تھے اور ان کی سوچ ناپختہ تھی۔ یہ لوگ رسول اور رسالت کے بارے میں عجیب تصورات رکھتے تھے۔ ان کے خیال میں رسول کی شخصیت ایک پر اسرار شخصیت ہونا چاہئے اور اس کی شخصیت کے ساتھ بہت سے اوہام اور قصے منسوب ہونے چائیں۔ اس لیے کہ رسول آسمان کی طرف سے زمین والوں کی طرف آتا ہے لہٰذا اس کی شخصیت کے ساتھ اوہام و اساطیر وابستہ ہونا ضروری ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہو کہ ایک رسول کھلا اور سادہ انسان ہو۔ ہماری طرح اس کی زندگی میں کوئی راز نہ ہو اور نہ کوئی عجوبہ ہو۔ ہم جیسا ایک عام اور معمولی انسان رسول کس طرح ہو سکتا ہے جو بازاروں میں پھرتا ہو اور ہمارے جیسے گھروں میں رہتا ہو۔
یہ تھی ان کے فکر اور ان کی سوچ کی سادگی۔ اس لیے کہ نبوت کے ساتھ پر اسراریت لازم نہیں ہے۔ لیکن مقام نبوت اس قدر سادہ بھی نہیں ہے جس طرح یہ لوگ سمجھے ہیں۔ منصب رسالت اور منصب نبوت میں ایک عظیم اور گہرا راز بھی پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک عام اور سادہ انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردیتا ہے کہ وہ ایک عام انسان ہونے کے باوجود باری تعالیٰ سے وحی وصول کرنے کے قابل ہوجاتا ہے ۔ اور یہ بات اس سے زیادہ تعجب خیز ہے کہ ایک رسول فرشتہ ہو جیسا کہ ان لوگوں کی تجویز تھی کہ رسول کو تو فرشتہ ہونا چاہئے۔
اصل بات یہ ہے کہ رسالت کا مقصد لوگوں کو اسلامی نظام زندگی سے روشناس کرنا ہوتا ہے اور رسول کی زندگی اس نطام کا عملی نمونہ ہوا کرتی ہے اور رسول کی دعوت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس عملی نظام کے اتباع کی طرف بلاتا ہے۔ لوگ چونکہ انسان ہیں ، اس لیے ان کا مقتدا بھی انسان ہونا چاہئے تاکہ وہ ان لوگوں کے لیے عملی نمونہ پیش کرسکے۔ اور وہ اس کی تقلید کر سکیں
یہی وجہ ہے کہ ہر رسول کی زندگی لوگوں کے لیے ایک کھلی کتاب ہوا کرتی ہے۔ قرآن جو اللہ کی محکم کتاب ہے ، اس نے اس تفصیلی زندگی کے ایک معمولی اور اصولی حصے کو قلم بند کیا ، تفصیلات کے بجائے اصول لکھ دئیے ۔ باقی تفصیلی نظام زندگی رسول وقت کی عملی زندگی سے امت اخذ کرتی ہے اور وہ عملی زندگی ایک کھلی کتاب کے طور پر تمام امت کے سامنے ہوتی ہے اور کئی سالوں پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ ان تفصیلات میں رسول کی خاندانی اور گھویلو زندگی کے خدوخال اور اجتماعی زندگی کے نمونے سب موجود ہوتے ہیں۔ بعض اوقات قرآن نے تو رسول کی نفسیاتی کیفیات کو بھی قلم بند کیا ہے تاکہ آنے والی امتیں بھی دیکھیں کہ نبی امین کی قلبی کیفیت کیا تھی۔
يس 36:14
وحی و رسالت کے مسئلے کے اس تاکیدی بیان اور قضیہ حساب و کتاب کے اس اٹل اعلان کے بعد ، اب اسی مضمون کو قصے کی صورت میں لایا جاتا ہے۔ اس قصے میں ایمان اور کفر کے جو دو باہم متقابل موقف سامنے آتے ہیں وہ نفس انسانی پر نہایت گہرے اثرات چھوڑتے ہیں اور دونوں مواقف کا انجام بھی آنکھوں کے سامنے منقش نظر آتا ہے۔
واضرب لھم مثلا ۔۔۔۔۔۔۔ بل انتم قوم مسرفون (13 – 19) ” “۔
رسولوں نے کہا ” ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ، اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ بستی والے کہنے لگے ” ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کرسکیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے “۔ رسولوں نے جواب دیا ” تمہاری فال بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو “۔
قرآن کریم نے اصحاب قریہ کا نام نہیں لیا ، نہ اس گاؤں کا ۔۔۔ ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے بہت سی روایات نقل کی ہیں۔ ان روایات کے پیچھے پڑنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ نہ ان پر بحث کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کا اس شہر کا نام نہ لینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ قصہ کے جو مقاصد ہیں ان میں اس گاؤں کا نام لینے سے کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس شہر اور اس کے محل وقوع کا نام نہیں لیا۔ اور قصے اور اس سے حاصل ہونے والے سبق ہی پر اکتفاء کیا۔ بہرحال یہ ایک گاؤں تھا جس کی طرف دو رسول بھیجے گئے تھے۔ جس طرح حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہما السلام) دونوں کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اس گاؤں والوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی۔ اللہ نے ان دونوں رسولوں کی تائید میں ایک تیسرا رسول بھی بھیج دیا اور اس تیسرے نے لوگوں کو بتایا کہ یہ دونوں برحق رسول ہیں ، چناچہ ان تینوں نے ازسرنو اپنی دعوت کا آغاز کیا۔
فقالوا انا الیکم مرسلون (36: 14) ” ان سب نے کہا ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں “۔
اب اس گاؤں والوں نے ان پر وہی گھسے پٹے اعتراضات کیے جو ہمیشہ رسولوں پر ہوتے ہیں۔
قالوا ما انتم۔۔۔۔۔ الا تکذبون (36: 15) ” بستی والوں نے کہا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے انسان اور خدائے رحمن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے ، تم محض جھوٹ بولتے ہو “۔ یہ اعتراضات جو تمام رسولوں پر ہوتے رہے ہیں ، ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بہت ہی سادہ لوح تھے اور ان کی سوچ ناپختہ تھی۔ یہ لوگ رسول اور رسالت کے بارے میں عجیب تصورات رکھتے تھے۔ ان کے خیال میں رسول کی شخصیت ایک پر اسرار شخصیت ہونا چاہئے اور اس کی شخصیت کے ساتھ بہت سے اوہام اور قصے منسوب ہونے چائیں۔ اس لیے کہ رسول آسمان کی طرف سے زمین والوں کی طرف آتا ہے لہٰذا اس کی شخصیت کے ساتھ اوہام و اساطیر وابستہ ہونا ضروری ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہو کہ ایک رسول کھلا اور سادہ انسان ہو۔ ہماری طرح اس کی زندگی میں کوئی راز نہ ہو اور نہ کوئی عجوبہ ہو۔ ہم جیسا ایک عام اور معمولی انسان رسول کس طرح ہو سکتا ہے جو بازاروں میں پھرتا ہو اور ہمارے جیسے گھروں میں رہتا ہو۔
یہ تھی ان کے فکر اور ان کی سوچ کی سادگی۔ اس لیے کہ نبوت کے ساتھ پر اسراریت لازم نہیں ہے۔ لیکن مقام نبوت اس قدر سادہ بھی نہیں ہے جس طرح یہ لوگ سمجھے ہیں۔ منصب رسالت اور منصب نبوت میں ایک عظیم اور گہرا راز بھی پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک عام اور سادہ انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردیتا ہے کہ وہ ایک عام انسان ہونے کے باوجود باری تعالیٰ سے وحی وصول کرنے کے قابل ہوجاتا ہے ۔ اور یہ بات اس سے زیادہ تعجب خیز ہے کہ ایک رسول فرشتہ ہو جیسا کہ ان لوگوں کی تجویز تھی کہ رسول کو تو فرشتہ ہونا چاہئے۔
اصل بات یہ ہے کہ رسالت کا مقصد لوگوں کو اسلامی نظام زندگی سے روشناس کرنا ہوتا ہے اور رسول کی زندگی اس نطام کا عملی نمونہ ہوا کرتی ہے اور رسول کی دعوت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس عملی نظام کے اتباع کی طرف بلاتا ہے۔ لوگ چونکہ انسان ہیں ، اس لیے ان کا مقتدا بھی انسان ہونا چاہئے تاکہ وہ ان لوگوں کے لیے عملی نمونہ پیش کرسکے۔ اور وہ اس کی تقلید کر سکیں
یہی وجہ ہے کہ ہر رسول کی زندگی لوگوں کے لیے ایک کھلی کتاب ہوا کرتی ہے۔ قرآن جو اللہ کی محکم کتاب ہے ، اس نے اس تفصیلی زندگی کے ایک معمولی اور اصولی حصے کو قلم بند کیا ، تفصیلات کے بجائے اصول لکھ دئیے ۔ باقی تفصیلی نظام زندگی رسول وقت کی عملی زندگی سے امت اخذ کرتی ہے اور وہ عملی زندگی ایک کھلی کتاب کے طور پر تمام امت کے سامنے ہوتی ہے اور کئی سالوں پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ ان تفصیلات میں رسول کی خاندانی اور گھویلو زندگی کے خدوخال اور اجتماعی زندگی کے نمونے سب موجود ہوتے ہیں۔ بعض اوقات قرآن نے تو رسول کی نفسیاتی کیفیات کو بھی قلم بند کیا ہے تاکہ آنے والی امتیں بھی دیکھیں کہ نبی امین کی قلبی کیفیت کیا تھی۔
يس 36:15
یہ تھی وہ واضح اور قریب الفہم حقیقت جس پر ہمیشہ انسانوں کی طرف سے اعتراض ہوتا رہا ہے۔ چناچہ اس گاؤں کے باشندوں نے تینوں رسولوں سے یہ کہا
ما انتم الا بشر مثلنا (36: 15) ” تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے انسان ہو “۔ یہ تم محض دعویٰ کر رہے ہو کہ تم رسول ہو۔ اب ذرا رسولوں کا جواب دیکھیں۔ وہ حقیقت حال سے واقف ایک مطمئن اور پر اعتماد شخص کی طرح جواب دیتے ہیں
يس 36:16
قالوا ربنا یعلم ۔۔۔۔۔ البلغ المبین (36: 16 – 17) ” اللہ جانتا ہے کہ ہم رسول ہیں ، بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ہمارا فریضہ صرف یہ ہے کہ رب کا پیغام پہنچا دیں۔ اور یہ تو ہم نے ادا کردیا ہے۔ اس کے بعد لوگ آزاد ہیں اپنی زندگی میں جو تصرف چاہیں ، کریں۔ اور وہ جو رویہ بھی اختیار کریں گے ، اس کی ذمہ داری وہ اٹھائیں گے۔ رسولوں اور امتوں کے درمیان تعلق صرف فیضہ رسالت کی ادائیگی کا ہے۔ جب یہ فریضہ ادا کردیا گیا تو اس کے نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں اور اللہ ہی کے حوالے ہیں۔
لیکن جاہلی گروہ اور جھٹلانے والے اس معاملے کو اس طرح سادگی سے اور آسانی سے نہیں لیتے۔ وہ داعیان حق کو برداشت کرنے کے روادار بھی نہیں ہوتے۔ ان کو ان کا غرور نفس مجبور کرتا ہے کہ وہ کوئی سخت قدم اٹھائیں۔ وہ محبت اور دلیل کے مقابلے میں تشدد اور بدمزاجی اور سخت کلامی کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ باطل ہمیشہ تھڑدلا ہوتا ہے۔
يس 36:17
قالوا ربنا یعلم ۔۔۔۔۔ البلغ المبین (36: 16 – 17) ” اللہ جانتا ہے کہ ہم رسول ہیں ، بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ہمارا فریضہ صرف یہ ہے کہ رب کا پیغام پہنچا دیں۔ اور یہ تو ہم نے ادا کردیا ہے۔ اس کے بعد لوگ آزاد ہیں اپنی زندگی میں جو تصرف چاہیں ، کریں۔ اور وہ جو رویہ بھی اختیار کریں گے ، اس کی ذمہ داری وہ اٹھائیں گے۔ رسولوں اور امتوں کے درمیان تعلق صرف فیضہ رسالت کی ادائیگی کا ہے۔ جب یہ فریضہ ادا کردیا گیا تو اس کے نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں اور اللہ ہی کے حوالے ہیں۔
لیکن جاہلی گروہ اور جھٹلانے والے اس معاملے کو اس طرح سادگی سے اور آسانی سے نہیں لیتے۔ وہ داعیان حق کو برداشت کرنے کے روادار بھی نہیں ہوتے۔ ان کو ان کا غرور نفس مجبور کرتا ہے کہ وہ کوئی سخت قدم اٹھائیں۔ وہ محبت اور دلیل کے مقابلے میں تشدد اور بدمزاجی اور سخت کلامی کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ باطل ہمیشہ تھڑدلا ہوتا ہے۔
يس 36:18
قالوا انا تطیرنا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (36: 18 “۔ تم منحوس لوگ ہو ، تمہاری وجہ سے ہم پر مصبیت آگئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمہاری دعوت کہ وجہ سے ہماری بستی میں شرو فساد پھیل جائے گا۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم خاموش نہ رہ سکیں گے۔ اور ہمارے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ تم اس طرح دعوت دیتے چلے جاؤ۔
لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب الیم (36: 18) ” اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے “۔ یوں باطل نے اپنی برہمی کا اظہار کردیا اور ہدایت دینے والوں کو دھمکی دے دی اور پر امن کلمہ حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور فکر و خیال اور انداز گفتگو میں بدمستی کا اظہار کیا۔ لیکن رسولوں کا فیضہ تو یہ ہے کہ جیسے بھی حالات ہوں وہ اپنی راہ پر چلتے رہیں۔ اس لیے ان کا رویہ بالکل مختلف ہے۔
يس 36:19
قالوا طآئرکم معکم (36: 19) ” ۔ اس لیے کہ نیک فالی یا بدفالی دونوں جاہلیت کے خرافات میں ہیں۔ اور رسولوں کے مشن میں یہ بھی داخل ہے کہ اس وہم کو بھی دور کیا جائے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو شیر و شر باہر سے نہیں ملتا بلکہ خیر اور شر دراصل خود اس کے نفس کے اندر سے پیدا ہوتا ہے۔ خیر اور شر تو تمہارے ساتھ لگا ہوا ہے۔ تمہاری نیتوں اور تمہارے اعمال سے آنے والے خیر و شر کا گہرا ربط ہے اور خیر و شر کا مدار تمہارے اعمال پر ہے۔ یہ تمہارے اختیار میں ہے کہ تم آنے والے واقعات کو اپنے لیے بہتر بناؤ اور نیک انجام پاؤ یا اسے خود اپنے لیے شربنا دو کیونکہ اللہ لوگوں کے بارے میں وہی فیصلے کرتا ہے جن کے لیے ان کے نفوس میں میلان ہو اور اپنے عمل کی وجہ سے اس طرف انسانوں کا رجحان ہو۔ لہٰذا تمہارا شگون اور بدشگونی تمہارے ساتھ اور تمہارے نفوس کے اندر ہے۔ یہ ہے ایک قائم اور دائم حقیقت۔ رہی یہ بات کہ کسی کا منہ دیکھ کر فال بدلینا ، یا کسی جگہ سے بدشگونی یا الفاظ سے بدشگونی لینا یہ خرافات جاہلیت میں سے ایک موہوم بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔
اس لیے رسولوں نے کہا ائن ذکرتم (36: 19) ” یعنی تم ہمیں رجم کرنے کی دھمکی اسلئے دیتے ہو یا نہیں سخت سزا اسلئے دیتے ہو کہ ہم تمہیں نصیحت کر رہے ہیں اور راہ بد سے بجا رہے ہیں۔
بل انتم قوم مسرفون (36: 19) “۔ یعنی اپنی سوچ اور واقعات کو وزن کرنے میں تم حدود سے نکل چکے ہو۔ ، تم نصیحت کا بدلہ دھمکی سے دیتے ہو ، اور تشدد پر اتر آئے ہو۔ اور دعوت اسلامی کے جواب میں تشدد اور قتل کی بات کرتے ہو۔
جن لوگوں کے دلوں پر پردے پڑگئے تھے۔ ان کی جانب سے رسولوں کی دعوت کا جواب یہ دیا گیا اور یہ ہے مثال اس سرکش لوگوں کی جو ہمیشہ دعوت اسلامی کی راہ روک کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور تشدد پر اتر آتے ہیں۔ جب بھی دعوت اسلامی کا آغاز ہوگا اس قسم کے لوگ متحرک ہوجائیں گے ۔ یہ ہے راہ و رسم دعوت اللہ کے کام کی۔ اس کے بالمقابل انسانوں میں سے ایک دوسرا نمونہ بھی ہوتا ہے جو نصیحت قبول کرکے اس کی اطاعت کرتا ہے۔ رحمن سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ اس لیے اس دوسرے نمونے کا رویہ بالکل پہلے رویے سے مختلف ہوتا ہے۔ اور اس کا ردعمل پہلے والے لوگوں کے ردعمل سے بالکل جدا ہوتا ہے۔
يس 36:20
وجآء من اقصا المدینۃ۔۔۔۔۔ اجرا وھم مھتدون (20 – 21) ” “۔
یہ ہے نمونہ فطرت سلیمہ کا۔ جب فطرت سلیمہ ایک سیدھے سادے حق کو سنتی ہے تو وہ فوراً تصدیق کرتی ہے۔ نہایت سادگی اور نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ اور فطرت سلیمہ کی فکر مستقیم ہوئی ہے۔ اور وہ پرشوکت سچائی کے مقابلے میں جوش و خروش سے لبیک کہتی ہے۔
یہ شخص بھی اسی معاشرے اور گاؤں کا فرد ہے ، دعوت اسلامی کو سنتے ہی وہ لبیک کہتا ہے۔ وہ سچائی کے دلائل و نشانات کو اچھی طرح پاتا ہے۔ رسولوں اور ان کی قوم کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے اس کے اندر پائے جانے والی گہری منطق کو وہ پالیتا ہے۔ جب یہ سچائی اس کے دل و دماغ میں جاگزیں ہوگئی تو وہ فوراً حرکت میں آجاتا ہے۔ اب وہ خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہ اپنا دروازہ بند کرکے اپنے گھر میں بیٹھا بھی نہیں رہتا جبکہ اس کے اردگرد گمراہی کا دور دورہ ہو ، فسق و فجور عام ہو اور لوگ کفر کر رہے ہوں ، اس کے ضمیر کے اندر جو سچائی اتر چکی ہے اور جس کو اس کا شعور حق تسلیم کرچکا ہے وہ اسے لے کر دوڑتا ہوا آتا ہے ، وہ اپنی قوم کے پاس آتا ہے ، یہ قوم جو انکار کر رہی ہے ، دھمکیاں دے رہی ہے ، تشدد پر اتر آئی ہے۔ یہ شخص شہر کے مضافاتی علاقے میں رہتا ہے۔ یہ اپنا فریضہ ادا کرنے کیلئے بھاگ نکلا ہے۔ اور اپنی اس منکر حق قوم کو دعوت حق دیتا ہے ان کو بغاوت ، سرکشی اور تشدد سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے جس کا وہ اپنے رسولوں کے بارے میں ارادہ کرچکے ہیں۔
معلوم یوں ہوتا ہے کہ یہ شخص اس سوسائٹی کا کوئی با اثر فرد نہ تھا۔ نہ اس کے پاس کوئی خاندانی وجاہت اور قوت تھی کہ اس کو ان سرکشوں کے تشدد سے بچائے۔ ہاں اس کے قلب میں ایک زندہ اور پر جوش ایمان تھا۔ یہ ولولہ انگیز ایمان تھا جو اسے بستی کے مضافات سے اٹھا لایا۔
وجاء من اقصا ۔۔۔۔۔ اجرا وھم مھتدون (36: 20 – 21) ” اتنے میں شہر کے دور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” اے میری قوم کے لوگو ، رسولوں کی پیروی اختیار کرلو۔ پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں “۔ جو شخص اس قسم کی تحریک اٹھاتا ہے اور اس پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا ، نہ کوئی مفاد اس کا اس تحریک سے وابستہ ہوتا ہے۔ بیشک وہ سچا ہے۔ اگر یہ فریضہ اس کی جانب سے عائد نہیں ہے اور اللہ کے لیے نہیں ہے تو پھر وہ کیوں یہ سب کچھ برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا لازمی نتیجہ ہے کہ یہ سچا ہے۔ اگر سچا نہیں تو پھر وہ کیوں خواہ مخواہ یہ مشکلات برداشت کرتا ہے۔ لوگوں کو ایسے خیالات و نظریات دیتا ہے جن کے وہ عادی نہیں ہیں ، لوگ اسے اذیت دیتے ہیں ، اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، اس سے انتقام لیتے ہیں ، وہ یہ سب کچھ برداشت کرتا ہے۔ حالانکہ اس کا کوئی مفاد اس کے ساتھ وابستہ نہیں ہے ۔ نہ وہ کوئی اجرت طلب کرتا ہے۔ لہٰذا معقول راہ یہی ہے کہ
اتبعوا من لا۔۔۔۔ مھتدون (36: 21) ” پیروی اختیار کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں “۔ ان کی ہدایت تو ان کی دعوت اور ان کے کردار سے واضح ہے۔ وہ فقط ایک الٰہ کی دعوت دیتے ہیں اور یہ نہایت ہی معقول بات ہے۔ وہ ایک واضح منہاج زندگی کی طرف دعوت دیتے ہیں جو واضح طور پر معقول ہے۔ وہ ایسے عقائد و نظریات کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے اور نہ کوئی وہم و گمان ہے۔ یہ لوگ دراصل ایک نہایت ہی درست اور سیدھے راستے کی طرف راہ پاچکے ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں۔
اس پورے معاشرے اور بستی سے پھر یہ اکیلا شخص کیوں ایمان لایا۔ اس کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ دیکھو میرے ایمان کے اسباب یہ ہیں۔ میری فطرت جاگ اٹھی ہے۔ اور اپنی فطری سلامتی کی وجہ سے بات میری سمجھ میں آگئی ہے اور کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ اس دعوت سے کوئی سلیم الفطرت شخص منہ موڑے۔
يس 36:21
وجآء من اقصا المدینۃ۔۔۔۔۔ اجرا وھم مھتدون (20 – 21) ” “۔
یہ ہے نمونہ فطرت سلیمہ کا۔ جب فطرت سلیمہ ایک سیدھے سادے حق کو سنتی ہے تو وہ فوراً تصدیق کرتی ہے۔ نہایت سادگی اور نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ اور فطرت سلیمہ کی فکر مستقیم ہوئی ہے۔ اور وہ پرشوکت سچائی کے مقابلے میں جوش و خروش سے لبیک کہتی ہے۔
یہ شخص بھی اسی معاشرے اور گاؤں کا فرد ہے ، دعوت اسلامی کو سنتے ہی وہ لبیک کہتا ہے۔ وہ سچائی کے دلائل و نشانات کو اچھی طرح پاتا ہے۔ رسولوں اور ان کی قوم کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے اس کے اندر پائے جانے والی گہری منطق کو وہ پالیتا ہے۔ جب یہ سچائی اس کے دل و دماغ میں جاگزیں ہوگئی تو وہ فوراً حرکت میں آجاتا ہے۔ اب وہ خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہ اپنا دروازہ بند کرکے اپنے گھر میں بیٹھا بھی نہیں رہتا جبکہ اس کے اردگرد گمراہی کا دور دورہ ہو ، فسق و فجور عام ہو اور لوگ کفر کر رہے ہوں ، اس کے ضمیر کے اندر جو سچائی اتر چکی ہے اور جس کو اس کا شعور حق تسلیم کرچکا ہے وہ اسے لے کر دوڑتا ہوا آتا ہے ، وہ اپنی قوم کے پاس آتا ہے ، یہ قوم جو انکار کر رہی ہے ، دھمکیاں دے رہی ہے ، تشدد پر اتر آئی ہے۔ یہ شخص شہر کے مضافاتی علاقے میں رہتا ہے۔ یہ اپنا فریضہ ادا کرنے کیلئے بھاگ نکلا ہے۔ اور اپنی اس منکر حق قوم کو دعوت حق دیتا ہے ان کو بغاوت ، سرکشی اور تشدد سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے جس کا وہ اپنے رسولوں کے بارے میں ارادہ کرچکے ہیں۔
معلوم یوں ہوتا ہے کہ یہ شخص اس سوسائٹی کا کوئی با اثر فرد نہ تھا۔ نہ اس کے پاس کوئی خاندانی وجاہت اور قوت تھی کہ اس کو ان سرکشوں کے تشدد سے بچائے۔ ہاں اس کے قلب میں ایک زندہ اور پر جوش ایمان تھا۔ یہ ولولہ انگیز ایمان تھا جو اسے بستی کے مضافات سے اٹھا لایا۔
وجاء من اقصا ۔۔۔۔۔ اجرا وھم مھتدون (36: 20 – 21) ” اتنے میں شہر کے دور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” اے میری قوم کے لوگو ، رسولوں کی پیروی اختیار کرلو۔ پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں “۔ جو شخص اس قسم کی تحریک اٹھاتا ہے اور اس پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا ، نہ کوئی مفاد اس کا اس تحریک سے وابستہ ہوتا ہے۔ بیشک وہ سچا ہے۔ اگر یہ فریضہ اس کی جانب سے عائد نہیں ہے اور اللہ کے لیے نہیں ہے تو پھر وہ کیوں یہ سب کچھ برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا لازمی نتیجہ ہے کہ یہ سچا ہے۔ اگر سچا نہیں تو پھر وہ کیوں خواہ مخواہ یہ مشکلات برداشت کرتا ہے۔ لوگوں کو ایسے خیالات و نظریات دیتا ہے جن کے وہ عادی نہیں ہیں ، لوگ اسے اذیت دیتے ہیں ، اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، اس سے انتقام لیتے ہیں ، وہ یہ سب کچھ برداشت کرتا ہے۔ حالانکہ اس کا کوئی مفاد اس کے ساتھ وابستہ نہیں ہے ۔ نہ وہ کوئی اجرت طلب کرتا ہے۔ لہٰذا معقول راہ یہی ہے کہ
اتبعوا من لا۔۔۔۔ مھتدون (36: 21) ” پیروی اختیار کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں “۔ ان کی ہدایت تو ان کی دعوت اور ان کے کردار سے واضح ہے۔ وہ فقط ایک الٰہ کی دعوت دیتے ہیں اور یہ نہایت ہی معقول بات ہے۔ وہ ایک واضح منہاج زندگی کی طرف دعوت دیتے ہیں جو واضح طور پر معقول ہے۔ وہ ایسے عقائد و نظریات کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے اور نہ کوئی وہم و گمان ہے۔ یہ لوگ دراصل ایک نہایت ہی درست اور سیدھے راستے کی طرف راہ پاچکے ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں۔
اس پورے معاشرے اور بستی سے پھر یہ اکیلا شخص کیوں ایمان لایا۔ اس کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ دیکھو میرے ایمان کے اسباب یہ ہیں۔ میری فطرت جاگ اٹھی ہے۔ اور اپنی فطری سلامتی کی وجہ سے بات میری سمجھ میں آگئی ہے اور کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ اس دعوت سے کوئی سلیم الفطرت شخص منہ موڑے۔
يس 36:22
پارہ ۔۔۔۔ 23
سورة یسین۔ 36
آیات 22 ۔۔۔ تا۔۔۔ 83
وما لی لا اعبد۔۔۔۔۔ امنت بربکم فاسمعون (22 – 25) ” “۔
یہ سوچ اور یہ سوالات ایک ایسی فطرت کے ہیں جسے خالق کائنات کا شعور حاصل ہوچکا ہو ، جو اپنے مقصد و جود کو پا چکی ہو اور اس کے ساتھ پوری طرح وابستہ ہوچکی ہو۔ پھر اس کی پکار یہ ہوتی ہے۔
ومالی لا اعبد الذی فطرنی (36: 22) ” آخر کیوں نہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا “۔ آخر میں اس فطری منہاج سے کیوں ہٹ جاؤں جو میرے دل میں پیوست ہوچکا ہے۔ کیونکہ انسان کے اندر اس ذات کی کشش ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ سب سے پہلے انسانی فطرت خدا اور خالق کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اور اگر فطرت اس راہ سے انحراف کرتی ہے تو اس کے اسباب خارجی ہوتے ہیں اور یہ گمراہ کن اسباب اور موثرات انسانی طبیعت کے اندر نہیں ہوتے۔ اور خالق کی طرف توجہ فطرت کا پہلا اور بہترین داعیہ ہوتا ہے۔ یہ فطرت کے اندر ہوتا ہے اور اس کے لیے کسی بیرونی محرک یا موثر کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ نفس انسانی فطری طور پر اس کی طرف مائل ہوتا ہے جب کسی کے دل میں ایمان داخل ہوجاتا ہے کہ تو نفس کے اندر گہرائیوں میں وہ اپنے خالق کو محسوس کرتا ہے۔ اسی رجل مومن کی یہ تعبیر اس کے اس فطری میلان کا ظہور ہے۔ بلاتکلف وہ پکار اٹھتا ہے کہ کیوں میں اس خالق کی بندگی نہ کروں ؟
یہ فطرت سلیمہ یہ بات بھی محسوس کرتی ہے کہ آخر کار انسان نے اپنے خالق ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے۔ اسی لیے وہ کہتا ہے والیہ ترجعون (36: 22) ” اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے “۔ فطری سوچ یہ ہے کہ جس نے میری تخلیق کی ہے میں اس کی بندگی کیوں نہ کروں ؟ جبکہ تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے کیونکہ تمہارا خالق بھی تو وہ ہے ، اور تمہارا حق بھی یہ ہے کہ تم بھی اسی کی بندگی کرو۔
اب یہ رجل ۔۔۔ مخالفانہ رویہ پر بھی تبصرہ کرتا ہے کہ میرا رویہ اور میری سوچ تو معقول اور فطری ہے اور اس کے خلاف اگر میں رویہ اختیار کروں تو وہ خلاف فطرت اور گمراہ نہ ہوگا۔
يس 36:23
ء اتخذ من دونہ ۔۔۔۔۔ ولا ینقدون (36: 23) ” کیا میں اسے چھوڑ کر دوسرے معبود بنا لوں حالانکہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ ان کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکتے ہیں “۔ اس سے بڑا گمراہ اور کون ہو سکتا ہے جو اس فطری سوچ کو ترک کر دے کہ جو ہر مخلوق کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے خالق کی عبادت کرے اور ایسے معبودوں کی بندگی نہ کرے جو خالق نہیں ہیں۔ جن کا کوئی جواز نہیں اور جن میں کوئی معقولیت نہیں۔ اور یہ معبود ہوں بھی ضعیف و ناتواں ، نہ کسی کی حمایت کرسکتے ہیں اور نہ کسی سے مدافعت کرسکتے ہیں ، خصوصا جبکہ حقیقی خالق کسی کو اس کی
گمراہی کی وجہ سے سزا دینا چاہے۔
يس 36:24
انی اذا لفی ضلل مبین (36: 24) ” اگر میں ایسا کروں تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا “۔ اس رجل مومن نے لوگوں کے سامنے فطری سوچ تو پیش کردی ، نہایت ہی سچے اور عارفانہ اور واضح انداز میں۔ اب وہ خود اپنا فیصلہ ان کو سناتا ہے۔ وہ جو تکذیب پر تلے ہوئے ، وہ جو تشدد پر آمادہ ہیں۔ یہ فیصلہ وہ اس لئے سناتا ہے کہ یہ فطری آواز اس کے دل کو ایمان سے بھر چکی ہے۔ اس کا دل اب کسی دھمکی اور کسی نامعقول تہدید و تکذیب کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ وہ کہتا ہے۔
انی امنت بربکم فاسمعون (36: 25) ” میں تمہارے ربپر ایمان لایا ہوں سن لو میری بات “۔ یوں اس نے نہایت اطمینان ، نہایت اعتماد کے ساتھ اپنے ایمان کا آخری اعلان کیا اور اس پر اس نے خود ان کو گواہ ٹھہرایا۔ اشارہ یہ دیا کہ جس طرح میں ایمان لایا ہوں تم بھی ایمان لاؤ کیونکہ میں جس رب پر ایمان لایا ہوں وہ تمہارا ہی رب ہے یا یہ کہ سن لو میں ایمان لایا ہوں جو چاہو کرو ، جو چاہو کہو۔
اس کے بعد اس رجل مومن کی تقریر پر جو تبصرہ آتا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اس شخص کو تو وہیں شہید کردیا۔ اگرچہ قرآن کریم نے اس کی صراحت نہیں کی۔ لیکن اس قصے کا وہ منظر جو اس دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ گر جاتا ہے۔ دنیا اور اس کے اندر اس کی قوم کے ساتھ یہ مکالمہ ختم ہوتا ہے۔ اب یہ شہید آخرت میں نظر آتا ہے۔ جس نے کلمہ حق بلند کیا ، جس نے اپنی فطرت کی پکار پر لبیک کہا ، اور جس نے اپنے ایمان کا اعلان ان لوگوں کے سامنے جہارا کیا جو نبیوں کو بھی قتل اور تشدد کی دھکمیاں دے رہے تھے۔ اب یہ شخص عالم آخرت میں ہے۔ وہاں اللہ کے ہاں اس کا عظیم استقبال ہو رہا ہے۔ جیسا کہ مومنین صادقین اور شہداء کا وہاں ہوتا ہے۔
يس 36:25
انی اذا لفی ضلل مبین (36: 24) ” اگر میں ایسا کروں تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا “۔ اس رجل مومن نے لوگوں کے سامنے فطری سوچ تو پیش کردی ، نہایت ہی سچے اور عارفانہ اور واضح انداز میں۔ اب وہ خود اپنا فیصلہ ان کو سناتا ہے۔ وہ جو تکذیب پر تلے ہوئے ، وہ جو تشدد پر آمادہ ہیں۔ یہ فیصلہ وہ اس لئے سناتا ہے کہ یہ فطری آواز اس کے دل کو ایمان سے بھر چکی ہے۔ اس کا دل اب کسی دھمکی اور کسی نامعقول تہدید و تکذیب کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ وہ کہتا ہے۔
انی امنت بربکم فاسمعون (36: 25) ” میں تمہارے ربپر ایمان لایا ہوں سن لو میری بات “۔ یوں اس نے نہایت اطمینان ، نہایت اعتماد کے ساتھ اپنے ایمان کا آخری اعلان کیا اور اس پر اس نے خود ان کو گواہ ٹھہرایا۔ اشارہ یہ دیا کہ جس طرح میں ایمان لایا ہوں تم بھی ایمان لاؤ کیونکہ میں جس رب پر ایمان لایا ہوں وہ تمہارا ہی رب ہے یا یہ کہ سن لو میں ایمان لایا ہوں جو چاہو کرو ، جو چاہو کہو۔
اس کے بعد اس رجل مومن کی تقریر پر جو تبصرہ آتا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اس شخص کو تو وہیں شہید کردیا۔ اگرچہ قرآن کریم نے اس کی صراحت نہیں کی۔ لیکن اس قصے کا وہ منظر جو اس دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ گر جاتا ہے۔ دنیا اور اس کے اندر اس کی قوم کے ساتھ یہ مکالمہ ختم ہوتا ہے۔ اب یہ شہید آخرت میں نظر آتا ہے۔ جس نے کلمہ حق بلند کیا ، جس نے اپنی فطرت کی پکار پر لبیک کہا ، اور جس نے اپنے ایمان کا اعلان ان لوگوں کے سامنے جہارا کیا جو نبیوں کو بھی قتل اور تشدد کی دھکمیاں دے رہے تھے۔ اب یہ شخص عالم آخرت میں ہے۔ وہاں اللہ کے ہاں اس کا عظیم استقبال ہو رہا ہے۔ جیسا کہ مومنین صادقین اور شہداء کا وہاں ہوتا ہے۔
يس 36:26
قیل ادخل الجنۃ۔۔۔۔۔ من المکرمین (26 – 27) ” “۔
یہاں دنیا کی زندگی کے ڈانڈے آخرت سے مل جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ موت اور شہادت نے اسے عالم فنا سے عالم بقا کی طرف منتقل کردیا ہے۔ یہ ایک جست ہوتی ہے جس کے ذریعے ایک مومن دنیا کی تنگیوں سے نکل کر جنت کی وسعتوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ باطل کی زیادتیوں سے رہائی پاکر سچائی کی مطمئن دنیا میں داخل ہوجاتا ہے اور تشدد کی دھمکیوں سے نکل کر ، امن و سلامتی کی نعمتوں میں پہنچ جاتا ہے اور جاہلیت کے اندھیروں سے یقین کی روشنی میں آجاتا ہے۔
اب ہم اس رجل مومن کو دیکھتے ہیں ۔ یہ ان انعامات و اکرامات کی اطلاع چشم زدن میں پاچکا ہے۔ لیکن وہاں سے بھی قوم کے نام اس کی ایک پکار آتی ہے ، اس کی اس پکار میں کوئی تلخی نہیں ہے اس کا نفس راضی ہے ، وہاں بھی وہ یہی تمنا کرتا ہے کہ اے کاش میری قوم جانتی کہ میں کہاں پہنچ چکا ہوں ، اللہ کے اکرام اور انعام کی کیا شان ہے تاکہ وہ بھی حق کو قبول کرلیں اور ان کو بھی یقین کی دلالت مل جائے۔ یہ تو ہے جزائے ایمان ، رہے نبیوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے والے ۔۔۔ تو ان کی حیثیت ہی کیا ان کو تو اللہ اپنے ملائکہ کے ذریعے ہلاک کرسکتا ہے۔ وہ تو بہت ہی ضعیف و حقیر ہیں۔
يس 36:27
قیل ادخل الجنۃ۔۔۔۔۔ من المکرمین (26 – 27) ” “۔
یہاں دنیا کی زندگی کے ڈانڈے آخرت سے مل جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ موت اور شہادت نے اسے عالم فنا سے عالم بقا کی طرف منتقل کردیا ہے۔ یہ ایک جست ہوتی ہے جس کے ذریعے ایک مومن دنیا کی تنگیوں سے نکل کر جنت کی وسعتوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ باطل کی زیادتیوں سے رہائی پاکر سچائی کی مطمئن دنیا میں داخل ہوجاتا ہے اور تشدد کی دھمکیوں سے نکل کر ، امن و سلامتی کی نعمتوں میں پہنچ جاتا ہے اور جاہلیت کے اندھیروں سے یقین کی روشنی میں آجاتا ہے۔
اب ہم اس رجل مومن کو دیکھتے ہیں ۔ یہ ان انعامات و اکرامات کی اطلاع چشم زدن میں پاچکا ہے۔ لیکن وہاں سے بھی قوم کے نام اس کی ایک پکار آتی ہے ، اس کی اس پکار میں کوئی تلخی نہیں ہے اس کا نفس راضی ہے ، وہاں بھی وہ یہی تمنا کرتا ہے کہ اے کاش میری قوم جانتی کہ میں کہاں پہنچ چکا ہوں ، اللہ کے اکرام اور انعام کی کیا شان ہے تاکہ وہ بھی حق کو قبول کرلیں اور ان کو بھی یقین کی دلالت مل جائے۔ یہ تو ہے جزائے ایمان ، رہے نبیوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے والے ۔۔۔ تو ان کی حیثیت ہی کیا ان کو تو اللہ اپنے ملائکہ کے ذریعے ہلاک کرسکتا ہے۔ وہ تو بہت ہی ضعیف و حقیر ہیں۔
يس 36:28
وما انزلنا علی۔۔۔۔۔ فاذا ھم خمدون (28 – 29) ان سرکشوں کا کیا انجام ہوا ، یہاں اللہ تعالیٰ ان کو حقیر سمجھتے ہوئے قلم زد فرما دیتا ہے۔ ان حقیر لوگوں کے خلاف کسی لشکر کشی کی ضرورت نہ تھی۔ بس اچانک ایک دھماکہ ہوا ، ایک سخت چیخ اٹھی اور وہ بجھ کر رہ گئے۔ یہاں اب ان لوگوں کے اس حسرتناک ، ذلت آمیز اور توہین آمیز انجام پر پردہ گرتا ہے۔ اور یہ منظر یہاں لپیٹ لیا جاتا ہے
يس 36:29
وما انزلنا علی۔۔۔۔۔ فاذا ھم خمدون (28 – 29) ان سرکشوں کا کیا انجام ہوا ، یہاں اللہ تعالیٰ ان کو حقیر سمجھتے ہوئے قلم زد فرما دیتا ہے۔ ان حقیر لوگوں کے خلاف کسی لشکر کشی کی ضرورت نہ تھی۔ بس اچانک ایک دھماکہ ہوا ، ایک سخت چیخ اٹھی اور وہ بجھ کر رہ گئے۔ یہاں اب ان لوگوں کے اس حسرتناک ، ذلت آمیز اور توہین آمیز انجام پر پردہ گرتا ہے۔ اور یہ منظر یہاں لپیٹ لیا جاتا ہے
يس 36:30
درس 206 ایک نظر میں
پہلے سبق میں بات ان لوگوں کے بارے میں تھی جنہوں نے دعوت اسلامی کا استقبال انکار اور تکذیب کے ساتھ کیا۔ اور اس کا انجام ان کے گاؤں کا قصہ بیان کرکے بتایا گیا کہ ان جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ ان کا انجام یہ ہوا کہ
فاذاھم خمدون (36: 29) ” اچانک وہ بجھ کر رہ گئے “۔ لیکن اس سبق میں تمام ملتوں اور تمام کتب سماوی کے مکذبین کا انجام بنایا گیا ہے۔ اور پوری انسانی تاریخ سے گمراہ انسانوں کے خدوخال اور نقوش یہاں بتائے گئے ہیں اور یہاں نہایت ہی دلدوز آواز و انداز میں پکارا جاتا ہے کہ تعجب ہے کہ لوگ ان اقوام کی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔ جن کی سچائی کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ یہ مکذبین وہ ہیں جو گمراہی کے راستے پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں اور یوم الدین کا انہیں کوئی خیال نہیں ہے۔
وان کل لما جمیع لدینا محضرون (36: 32) ” ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جاتا ہے “۔
اس کے بعد تکوینی دلائل اور معجزات اور نشانیوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ یہ وہ نشانیاں ہیں جن کو یہ لوگ رات اور دن دیکھتے ہیں اور نہایت ہی لاپرواہی سے ان پر سے گزر جاتے ہیں۔ یہ خود ان کے نفوس کے اندر بھی موجود ہیں۔ ان کے ماحول میں بھی موجود ہیں۔ ان کی قدیم تاریخ میں بھی موجود ہیں لیکن ان کو اس کا شعور نہیں ہے اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو وہ یاد نہیں کرتے۔ سبق نہیں حاصل کرے۔
وما تاتیھم من ۔۔۔۔ عنھا معرضین (36: 46) ” ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے “۔ اس کے برعکس یہ لوگ اللہ کے عذاب کے بارے میں جلد آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ مطالبہ وہ اس لیے کرتے ہیں کہ ان کو عذاب کے آنے کا کوئی یقین نہیں۔
ویقولون متی۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ چونکہ یہ لوگ عذاب میں شتابی کا مطالبہ کرتے ہیں ، قیامت کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور دل میں یہ ہے کہ ان کو ان امور کے واقع ہونے کا یقین نہیں ہے۔ اس لیے یہاں مناظر قیامت میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ منظر صاف صاف بتاتا ہے کہ انجام کیا ہوگا ، جس کے واقع ہونے کی ان کو بہت جلدی ہے۔ یہ منظر اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ گویا ان کا انجام واقع ہوگیا اور یہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔
درس نمبر 206 تشریح آیات
30 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68
یحسرۃ علی العباد۔۔۔۔۔ لدنیا محضرون (30 – 32) حسرت ایک ایسی نفسیاتی حالت ہے جس میں انسان کو بےحد افسوس ہوتا ہے لیکن وہ اس حالت کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پس وہ دیکھ دیکھ کر کڑھتا ہے اور اسے اذیت ہوتی ہے۔ اللہ کو تو بندوں کے ایمان نہ لانے پر کوئی حسرت نہیں ہوتی۔ مفہوم یہ ہے کہ انسان نقطہ نظر سے یہ لوگ قابل حسرت ہیں۔ وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی حالت پر افسوس کیا جائے۔ کیونکہ ان کا یہ حال نہایت ہی قابل تالیف ، پریشان کن اور قابل رحم ہے کہ یہ لوگ اپنی اس ضلالت کی وجہ سے دائمی شر اور دائمی مصیبت میں مبتلا ہونے والے ہیں۔
یقیناً وہ لوگ اس قابل ہیں کہ ان کی حالت پر افسوس کیا جائے جن کو نجات کا موقعہ ملتا ہے اور وہ اس سے استفادہ نہیں کرتے۔ ان کے سامنے انسانی تاریخ موجود ہے اور وہ اس تاریخ سے عبرت نہیں پکڑتے اور نہ ہی تاریخی واقعات پر غور کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس وقتاً فوقتاً اللہ ان کی ہدایت کے لیے رسولوں کو بھیجتا ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی رحمت کے دروازوں سے دور ہوجاتے ہیں اور پھر اللہ کی شان میں گستاخی بھی کرتے ہیں۔
یحسرۃ علی ۔۔۔۔ یستھزءون (36: 30) ” جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے “۔
يس 36:31
الم یرواکم۔۔۔۔۔ لا یرجعون (36: 31) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے “۔ وہ اقوام جو ہلاک کی گئیں اور اس دنیا سے مٹا دی گئیں ، ان کے مٹ جانے میں لوگوں کے لیے سامان عبرت و نصیحت ہے ۔ اور طویل انسانی تاریخ انسانوں کے لیے موضوع غوروفکر و تدبر ہے۔ لیکن یہ بدبخت لوگ انسانی تاریخ پر غور نہیں کرتے۔ حالانکہ اپنی اس لاپرواہی کی وجہ سے وہ ہلاکت اور بربادی کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ تو انکی اس افسوسناک حالت پر حسرت کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔
ایک حیوان بھی جب دوسرے حیوان کی موت اور ہلاکت اپنے سامنے دیکھتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے اور مقدر بھر کوشش کرتا ہے کہ وہ اس انجام سے بچ جائے۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ باوجود اسکے کہ وہ اپنے بھائیوں کو اپنی بےراہ روی کی وجہ سے ہلاک ہوتے دیکھتا ہے اور پھر وہ اسی راہ پر چلتا ہے۔ محض اپنے غرور اور کبر اور لاپرواہی کی وجہ سے ، وہ دھوکہ کھاتا ہے اور دیکھنے کے باوجود اسی راہ پر چلتا ہے۔ انسان کی ایک طویل تاریخ اس کے سامنے اور وہ جانتا بھی ہے کہ انسانوں کی ہلاکت فلاں فلاں اسباب کی وجہ سے ہوئی لیکن وہ پھر بھی اندھوں کی طرح لاپرواہی سے انہی راہوں پر چلتا ہے ۔ اور نہیں دیکھتا۔
جب ہلاک ہونے والے اور نابود کو دئیے جانے والے اب اپنے جانشینوں کے پاس واپس نہیں آسکتے تو یہ جانشین بھی اسی راستے پر جائیں گے۔ یہ ہم سے بچ کر نہ نکل سکیں گے۔ ان سے بھی حساب لیا جائے گا۔
وان کل لما ۔۔۔۔۔۔۔ محضرون (36: 32) ” بیشک ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے “۔
يس 36:32
الم یرواکم۔۔۔۔۔ لا یرجعون (36: 31) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے “۔ وہ اقوام جو ہلاک کی گئیں اور اس دنیا سے مٹا دی گئیں ، ان کے مٹ جانے میں لوگوں کے لیے سامان عبرت و نصیحت ہے ۔ اور طویل انسانی تاریخ انسانوں کے لیے موضوع غوروفکر و تدبر ہے۔ لیکن یہ بدبخت لوگ انسانی تاریخ پر غور نہیں کرتے۔ حالانکہ اپنی اس لاپرواہی کی وجہ سے وہ ہلاکت اور بربادی کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ تو انکی اس افسوسناک حالت پر حسرت کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔
ایک حیوان بھی جب دوسرے حیوان کی موت اور ہلاکت اپنے سامنے دیکھتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے اور مقدر بھر کوشش کرتا ہے کہ وہ اس انجام سے بچ جائے۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ باوجود اسکے کہ وہ اپنے بھائیوں کو اپنی بےراہ روی کی وجہ سے ہلاک ہوتے دیکھتا ہے اور پھر وہ اسی راہ پر چلتا ہے۔ محض اپنے غرور اور کبر اور لاپرواہی کی وجہ سے ، وہ دھوکہ کھاتا ہے اور دیکھنے کے باوجود اسی راہ پر چلتا ہے۔ انسان کی ایک طویل تاریخ اس کے سامنے اور وہ جانتا بھی ہے کہ انسانوں کی ہلاکت فلاں فلاں اسباب کی وجہ سے ہوئی لیکن وہ پھر بھی اندھوں کی طرح لاپرواہی سے انہی راہوں پر چلتا ہے ۔ اور نہیں دیکھتا۔
جب ہلاک ہونے والے اور نابود کو دئیے جانے والے اب اپنے جانشینوں کے پاس واپس نہیں آسکتے تو یہ جانشین بھی اسی راستے پر جائیں گے۔ یہ ہم سے بچ کر نہ نکل سکیں گے۔ ان سے بھی حساب لیا جائے گا۔
وان کل لما ۔۔۔۔۔۔۔ محضرون (36: 32) ” بیشک ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے “۔
يس 36:33
وایۃ لھم الارض المیتۃ۔۔۔۔۔ ومما لا یعلمون (33 – 36 پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں “۔
یہ لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ کے اندر تکذیب کرنے والوں کی قتل گاہوں اور بربادیوں پر گور نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ مخلوق کی اس حالت سے کوئی سبق نہیں لیتے کہ لوگ چلے جا رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہو رہا ہے۔ اور رسول کی دعوت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں ۔ وہ اللہ جس کے وجود پر ان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات اچھی طرح دلالت کرتی ہے۔ اللہ کی ثنا کرتی ہے اور اس کے وجود پر شاہد ہے۔ یہ زمین جو ان کے پاؤں کے نیچے ہے ، یہ دیکھتے ہیں کہ ایک وقت میں یہ مر جاتی ہے۔ اس میں کوئی روئیدگی نہیں ہوتی۔ پھر یہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں حیوانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اندر باغات پیدا ہوتے ہیں۔ کھجوریں ، انگور اور پھر ان باغات کے اندر چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور یوں انسانی اور دوسری زندگی رواں دواں نظر آتی ہے۔
اور پھر یہ زندگی بذات خود ایک معجزہ ہے اور کوئی انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ زندگی کا اجرا کرسکے ، اس کی تخلیق کرسکے اور اس کے بعد اس کا سلسلہ تناسل کو جاری کرسکے۔ زندگی کے اس عظیم معجزے کا اجراء دست قدرت کا عجیب کارنامہ ہے۔ مردہ جسم کے اندر زندگی کی روح پھونک دی جاتی ہے دم بدم بڑھنے والی فصل کو دیکھ کر ، گھنی چھاؤں والے باغات کو دیکھ کر ، اور اس سے بھرے ہوئے پختہ پھلوں کو دیکھ کر انسانی دل و دماغ کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انسان دیکھتا ہے کہ یہ پوری زمین کو پھاڑ کر روشنی اور آزادی کے لیے سر نکالتے ہیں۔ اور یہ سر نکالنے والی لکڑی سورج کی روشنی میں سرسز و شاداب ہوجاتی ہے۔ اور پھر یہ پودا پتوں اور پھلوں سے مزین ہوجاتا ہے۔ پھول کھل جاتے ہیں ، پھل پک جاتے ہیں اور توڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
لیاکلوا ۔۔۔ ایدیھم (36: 35) ” تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے “۔ یہ اللہ ہی کا ہاتھ ہے جس نے ان کو اس کام پر قدرت دی۔ جس طرح اس نے فصلوں اور پھلوں کو بڑھنے کی صلاحیت دی۔
افلا یشکرون (36: 35) ” پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے۔
اس کے بعد قرآن کریم میں ایک لطیف اشارہ ، اس طرح آتا ہے کہ جس ذات نے انسان کی راہنمائی ان نباتات اور باغات کی طرف فرمائی۔ وہ وہی ہے جس نے فصلوں کے اندر بھی جوڑے پیدا کیے یعنی نر اور مادہ جس طرح انسانوں اور حیوانوں کے اندر جوڑے ہیں اور تمام دوسری مخلوق میں بھی جوڑے ہیں جن کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
يس 36:34
وایۃ لھم الارض المیتۃ۔۔۔۔۔ ومما لا یعلمون (33 – 36 پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں “۔
یہ لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ کے اندر تکذیب کرنے والوں کی قتل گاہوں اور بربادیوں پر گور نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ مخلوق کی اس حالت سے کوئی سبق نہیں لیتے کہ لوگ چلے جا رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہو رہا ہے۔ اور رسول کی دعوت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں ۔ وہ اللہ جس کے وجود پر ان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات اچھی طرح دلالت کرتی ہے۔ اللہ کی ثنا کرتی ہے اور اس کے وجود پر شاہد ہے۔ یہ زمین جو ان کے پاؤں کے نیچے ہے ، یہ دیکھتے ہیں کہ ایک وقت میں یہ مر جاتی ہے۔ اس میں کوئی روئیدگی نہیں ہوتی۔ پھر یہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں حیوانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اندر باغات پیدا ہوتے ہیں۔ کھجوریں ، انگور اور پھر ان باغات کے اندر چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور یوں انسانی اور دوسری زندگی رواں دواں نظر آتی ہے۔
اور پھر یہ زندگی بذات خود ایک معجزہ ہے اور کوئی انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ زندگی کا اجرا کرسکے ، اس کی تخلیق کرسکے اور اس کے بعد اس کا سلسلہ تناسل کو جاری کرسکے۔ زندگی کے اس عظیم معجزے کا اجراء دست قدرت کا عجیب کارنامہ ہے۔ مردہ جسم کے اندر زندگی کی روح پھونک دی جاتی ہے دم بدم بڑھنے والی فصل کو دیکھ کر ، گھنی چھاؤں والے باغات کو دیکھ کر ، اور اس سے بھرے ہوئے پختہ پھلوں کو دیکھ کر انسانی دل و دماغ کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انسان دیکھتا ہے کہ یہ پوری زمین کو پھاڑ کر روشنی اور آزادی کے لیے سر نکالتے ہیں۔ اور یہ سر نکالنے والی لکڑی سورج کی روشنی میں سرسز و شاداب ہوجاتی ہے۔ اور پھر یہ پودا پتوں اور پھلوں سے مزین ہوجاتا ہے۔ پھول کھل جاتے ہیں ، پھل پک جاتے ہیں اور توڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
لیاکلوا ۔۔۔ ایدیھم (36: 35) ” تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے “۔ یہ اللہ ہی کا ہاتھ ہے جس نے ان کو اس کام پر قدرت دی۔ جس طرح اس نے فصلوں اور پھلوں کو بڑھنے کی صلاحیت دی۔
افلا یشکرون (36: 35) ” پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے۔
اس کے بعد قرآن کریم میں ایک لطیف اشارہ ، اس طرح آتا ہے کہ جس ذات نے انسان کی راہنمائی ان نباتات اور باغات کی طرف فرمائی۔ وہ وہی ہے جس نے فصلوں کے اندر بھی جوڑے پیدا کیے یعنی نر اور مادہ جس طرح انسانوں اور حیوانوں کے اندر جوڑے ہیں اور تمام دوسری مخلوق میں بھی جوڑے ہیں جن کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
يس 36:35
وایۃ لھم الارض المیتۃ۔۔۔۔۔ ومما لا یعلمون (33 – 36 پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں “۔
یہ لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ کے اندر تکذیب کرنے والوں کی قتل گاہوں اور بربادیوں پر گور نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ مخلوق کی اس حالت سے کوئی سبق نہیں لیتے کہ لوگ چلے جا رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہو رہا ہے۔ اور رسول کی دعوت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں ۔ وہ اللہ جس کے وجود پر ان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات اچھی طرح دلالت کرتی ہے۔ اللہ کی ثنا کرتی ہے اور اس کے وجود پر شاہد ہے۔ یہ زمین جو ان کے پاؤں کے نیچے ہے ، یہ دیکھتے ہیں کہ ایک وقت میں یہ مر جاتی ہے۔ اس میں کوئی روئیدگی نہیں ہوتی۔ پھر یہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں حیوانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اندر باغات پیدا ہوتے ہیں۔ کھجوریں ، انگور اور پھر ان باغات کے اندر چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور یوں انسانی اور دوسری زندگی رواں دواں نظر آتی ہے۔
اور پھر یہ زندگی بذات خود ایک معجزہ ہے اور کوئی انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ زندگی کا اجرا کرسکے ، اس کی تخلیق کرسکے اور اس کے بعد اس کا سلسلہ تناسل کو جاری کرسکے۔ زندگی کے اس عظیم معجزے کا اجراء دست قدرت کا عجیب کارنامہ ہے۔ مردہ جسم کے اندر زندگی کی روح پھونک دی جاتی ہے دم بدم بڑھنے والی فصل کو دیکھ کر ، گھنی چھاؤں والے باغات کو دیکھ کر ، اور اس سے بھرے ہوئے پختہ پھلوں کو دیکھ کر انسانی دل و دماغ کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انسان دیکھتا ہے کہ یہ پوری زمین کو پھاڑ کر روشنی اور آزادی کے لیے سر نکالتے ہیں۔ اور یہ سر نکالنے والی لکڑی سورج کی روشنی میں سرسز و شاداب ہوجاتی ہے۔ اور پھر یہ پودا پتوں اور پھلوں سے مزین ہوجاتا ہے۔ پھول کھل جاتے ہیں ، پھل پک جاتے ہیں اور توڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
لیاکلوا ۔۔۔ ایدیھم (36: 35) ” تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے “۔ یہ اللہ ہی کا ہاتھ ہے جس نے ان کو اس کام پر قدرت دی۔ جس طرح اس نے فصلوں اور پھلوں کو بڑھنے کی صلاحیت دی۔
افلا یشکرون (36: 35) ” پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے۔
اس کے بعد قرآن کریم میں ایک لطیف اشارہ ، اس طرح آتا ہے کہ جس ذات نے انسان کی راہنمائی ان نباتات اور باغات کی طرف فرمائی۔ وہ وہی ہے جس نے فصلوں کے اندر بھی جوڑے پیدا کیے یعنی نر اور مادہ جس طرح انسانوں اور حیوانوں کے اندر جوڑے ہیں اور تمام دوسری مخلوق میں بھی جوڑے ہیں جن کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
يس 36:36
سبحن الذی۔۔۔۔ مما لایعلمون (36: 36) ”
اللہ کی یہ تسبیح نہایت ہی موزوں وقت پر آتی ہے اور تسبیح کے ساتھ ساتھ یہ اس کائنات کی عظیم حقیقت کا اظہار بھی کر رہی ہے۔ یہ کہ تمام مخلوق ایک جیسی ہے۔ اللہ کی تخلیق کا ایک اصول ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے تمام مخلوقات کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے۔ نباتات بھی انسانوں کی طرح جوڑے ہیں۔ اور انسانوں اور نباتات کے علاوہ دوسری مخلوق بھی جوڑے ہیں۔
ومما لا یعلمون (36: 36) ” اور ان اشیاء میں بھی جوڑے ہیں جنہیں یہ جانتے تک نہیں “۔ اصول تخلیق اور تکوین کی یہ یگانگت بتلاتی ہے کہ اس کائنات کا خالق بھی ایک ہے۔ تمام شکلوں ، تمام مجموعوں ، تمام انواع ، تمام اجناس ، تمام خصائص اور تمام علامات کے اندر یہ قاعدہ پوری طرح کارفرما ہے۔ یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ ایٹم اس کائنات کا وہ چھوٹا سا حصہ ہے جو آج معلوم ہوچکا ہے اور یہ ایٹم بھی دو جوڑوں سے مرکب ہے۔ یعنی مثبت اور منفی الیکڑانک شعاعیں۔ یہ باہم جدا بھی ہوتی ہیں اور متحد بھی۔ اسی طرح ہزاروں ستارے ایسے معلوم ہوچکے ہیں جو مزدوج تخلیق کے مالک ہیں۔ جو دو ستاروں سے بنے ہوئے ہیں اور باہم مرتب وہم آہنگ ہیں اور ایک ہی مدار میں پھرتے ہیں۔ گویا وہ ایک مرتب نغمہ کی شکل میں ہیں۔
يس 36:37
یہ تو تھی مردہ زمین جس سے زندگی پھوٹ رہی ہے ۔ اب زمین سے آگے بڑھ کر قرآن آسمان کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، آسمانی نطارے ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں اور یہ تمام نظارے دست قدرت کے عجوبے ہیں۔
وایۃ لھو الیل ۔۔۔۔۔۔ فی فلک یسبحون (37 – 40) ” “۔
رات کے آنے کا منظر ، روشنی ختم ہوجاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ چھا جاتا ہے ۔ یہ وہ منظر ہے جسے تمام انسان 24 گھنٹوں میں دہرایا ہوا دیکھتے ہیں ، ماسوائے ان خطوں کے جہاں رات اور دن کا عمل چھ ماہ کے بعد دہرایا جاتا ہے۔ یعنی ان علاقوں میں جو قطبین کے بہت قریب ہیں۔ یہ عمل اگرچہ رات اور دن میں بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ اللہ کی قدرت
کا ایک عجوبہ ہے اور اس قابل ہے کہ انسان اس پر غور و فکر کریں۔
یہاں اس مقام پر اس عجوبے کا انداز تعبیر بھی منفرد ہے۔ یہاں رات کو دن میں ملبوس تصور کیا گیا ہے اور جب دن کا لباس اتر جائے تو رات آجاتی ہے۔ اور لوگ اچانک اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ اسی انداز تعبیر کا ادراک یوں ہو سکتا ہے اور یہ اس وقت پھر مجاز کے بجائے حقیقت نظر آتی ہے ، جب ہم زمین کی گردش محوری پر غور کریں۔ سورج کے سامنے اس کی اس گردش کے بدولت زمین کا ایک نقطہ سورج کے سامنے رہتا ہے اور وہاں دن ہوتا ہے اور جن زمین کا وہ حصہ غائب ہوتا ہے تو اچانک دن کا لباس اتار دیا جاتا ہے اور ماحول پر پھر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اور یہ منظر نہایت ہی تنظیم کے ساتھ یونہی چلتا رہتا ہے۔ ہر وقت دن کے لباس کو رات کے جسم سے کھینچا جاتا ہے اور رات ظاہر ہوتی رہتی ہے غرض یہ قرآنی تعبیر حقیقی بھی ہے اور نہایت ہی فصیح اور ادیبانہ بھی
والشمس تجری لمستقرلھا (36: 38) ” اور سورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے “۔ سورج بھی گردش محوری رکھتا ہے۔ بالعموم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اپنی جگہ ابستادہ ہے لیکن تازہ ترین سائنسی معلومات یہ ہیں کہ یہ سورج اپنی جگہ رکا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ بھی چل رہا ہے ، عملاً رواں ہے۔ یہ ایک ہی سمت میں جا رہا ہے۔ اس عظیم کائنات اور اس فضا اور خلا میں یہ ایک طرف جا رہا ہے۔ اور یہ 12 میل فی سیکنڈ کے حساب سے ایک ہی سمت میں جا رہا ہے۔ لیکن اس کی حرکت اور رفتار کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے جو خبیر وبصیر ہے اور اللہ صریح طور پر فرماتا ہے کہ اس کی ایک جائے فتراء ہے اور اس کے لیے دوب تابی سے چل رہا ہے۔ کس طرح اور کب وہاں پہنچتا ہے یہ قیامت ہے اور اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
جب ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ اس سورج کا حجم زمین سے ایک ملین گنا زیادہ ہے اور یہ سورج اپنی اس کہکشاں کے ساتھ (اور کہکشاں کس قدر عظیم ہے ، ذرا سوچ لیں) ایک فضائے لامتناہی میں اپنے مستقر کے لیے رواں ہے ، تو اس سے اللہ کے علم اور قدرت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا۔
ذلک تقدیر العزیز العلیم (36: 38) ” یہ زبردست ، علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے ؛۔
يس 36:38
یہ تو تھی مردہ زمین جس سے زندگی پھوٹ رہی ہے ۔ اب زمین سے آگے بڑھ کر قرآن آسمان کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، آسمانی نطارے ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں اور یہ تمام نظارے دست قدرت کے عجوبے ہیں۔
وایۃ لھو الیل ۔۔۔۔۔۔ فی فلک یسبحون (37 – 40) ” “۔
رات کے آنے کا منظر ، روشنی ختم ہوجاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ چھا جاتا ہے ۔ یہ وہ منظر ہے جسے تمام انسان 24 گھنٹوں میں دہرایا ہوا دیکھتے ہیں ، ماسوائے ان خطوں کے جہاں رات اور دن کا عمل چھ ماہ کے بعد دہرایا جاتا ہے۔ یعنی ان علاقوں میں جو قطبین کے بہت قریب ہیں۔ یہ عمل اگرچہ رات اور دن میں بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ اللہ کی قدرت
کا ایک عجوبہ ہے اور اس قابل ہے کہ انسان اس پر غور و فکر کریں۔
یہاں اس مقام پر اس عجوبے کا انداز تعبیر بھی منفرد ہے۔ یہاں رات کو دن میں ملبوس تصور کیا گیا ہے اور جب دن کا لباس اتر جائے تو رات آجاتی ہے۔ اور لوگ اچانک اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ اسی انداز تعبیر کا ادراک یوں ہو سکتا ہے اور یہ اس وقت پھر مجاز کے بجائے حقیقت نظر آتی ہے ، جب ہم زمین کی گردش محوری پر غور کریں۔ سورج کے سامنے اس کی اس گردش کے بدولت زمین کا ایک نقطہ سورج کے سامنے رہتا ہے اور وہاں دن ہوتا ہے اور جن زمین کا وہ حصہ غائب ہوتا ہے تو اچانک دن کا لباس اتار دیا جاتا ہے اور ماحول پر پھر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اور یہ منظر نہایت ہی تنظیم کے ساتھ یونہی چلتا رہتا ہے۔ ہر وقت دن کے لباس کو رات کے جسم سے کھینچا جاتا ہے اور رات ظاہر ہوتی رہتی ہے غرض یہ قرآنی تعبیر حقیقی بھی ہے اور نہایت ہی فصیح اور ادیبانہ بھی
والشمس تجری لمستقرلھا (36: 38) ” اور سورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے “۔ سورج بھی گردش محوری رکھتا ہے۔ بالعموم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اپنی جگہ ابستادہ ہے لیکن تازہ ترین سائنسی معلومات یہ ہیں کہ یہ سورج اپنی جگہ رکا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ بھی چل رہا ہے ، عملاً رواں ہے۔ یہ ایک ہی سمت میں جا رہا ہے۔ اس عظیم کائنات اور اس فضا اور خلا میں یہ ایک طرف جا رہا ہے۔ اور یہ 12 میل فی سیکنڈ کے حساب سے ایک ہی سمت میں جا رہا ہے۔ لیکن اس کی حرکت اور رفتار کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے جو خبیر وبصیر ہے اور اللہ صریح طور پر فرماتا ہے کہ اس کی ایک جائے فتراء ہے اور اس کے لیے دوب تابی سے چل رہا ہے۔ کس طرح اور کب وہاں پہنچتا ہے یہ قیامت ہے اور اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
جب ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ اس سورج کا حجم زمین سے ایک ملین گنا زیادہ ہے اور یہ سورج اپنی اس کہکشاں کے ساتھ (اور کہکشاں کس قدر عظیم ہے ، ذرا سوچ لیں) ایک فضائے لامتناہی میں اپنے مستقر کے لیے رواں ہے ، تو اس سے اللہ کے علم اور قدرت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا۔
ذلک تقدیر العزیز العلیم (36: 38) ” یہ زبردست ، علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے ؛۔
يس 36:39
والقمر قدرنہ۔۔۔۔۔ القدیم (36: 39) ” چاند ، اس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند رہ جاتا ہے “۔ لوگ چاند کو تو اپنی ان منزلوں میں دیکھ سکتے ہیں ۔ وہ ہلال کی طرح نمودار ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گول ہو کر بدر ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد گھٹنا شروع ہوتا ہے اور پھر وہ ہلال کی طرح ہوجاتا ہے اور یوں نظر آتا ہے جس طرح کھجور کی پرانی خشک شاخ۔ العرجون اس شاخ کو کہتے ہیں جس میں کھجور کی قسم ” بلح “ ہوتی ہے۔ جو لوگ چاند کو ہر رات دیکھتے ہیں وہ قرآن کریم کی اس انداز تعبیر کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔
عاد کالعرجون القدیم (36: 39) ” یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے “۔ خصوصاً اس تعبیر میں لفظ قدیم معنی خیز ہے۔ چاند پہلی راتوں میں ہلال ہوتا ہے اور آخری راتوں میں بھی ہلال ہوتا ہے لیکن پہلی راتوں میں وہ شگفتہ اور نشوونما والا نظر آتا ہے۔ اور آخری راتوں میں پژ مردہ ، زوال پذیر اور خشکی اور سکڑنے کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہ سکڑ کر اس قدر خشک ہوجاتا ہے جس طرح خشک شاخ ۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ قرآن نے یہ انداز تعبیر اختیار کیا ہے بلکہ یہ بامقصد اور اصل صورت کا حقیقی اظہار ہے اور عجیب ہے۔
چاندنی راتوں میں مسلسل غور و فکر کرنے سے انسانی احساس کے پردوں پر شعور اور تخیلات کی عجیب و غریب اور تروتازہ کیفیات آتی ہیں اور انسان پر اس سوچ کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور وہ انسان جو اس چاند کا پورے ایک ماہ تک مشاہدہ کرتا ہے اور غور کرتا ہے وہ تاثرات لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ بدیع المسوات اور خالق جلال و جمال کی قدرت کی شان کیا ہے جس نے اس قدر عظیم اجرام سماوی کی یہ خوبصورتی اور یہ تنظیم عطا کی ہے۔ ہر شخص اس منظر سے بقدر ہمت ہدایت لے سکتا ہے۔ چاہے وہ اس عظیم کائنات کے ان رازوں کو جانتا ہے یا نہیں ۔ میں کہتا ہوں صرف رات کے وقت چاند کا مشاہدہ ہی انسانی دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ اس سے شعور بیدار ہوتا ہے اور انسان کے اندر غوروفکر کی عادت پڑتی ہے۔
يس 36:40
اب اللہ ذرا اس عظیم کائنات اور ان عظیم اجرام فلکی کی لطیف تنظیم کی طرف اشارہ فرماتا ہے اور اس تنظیم اور ترتیب کی وجہ سے کیا کیا مظاہر پیدا ہوتے ہیں ؟ غور کیجئے !
لا الشمس ینبغی ۔۔۔۔۔ فلک یسبحون (36: 40) ” نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں “۔ ہر ستارے اور سیارے کے لیے ایک فلک ہے یا اس کا اپنا مدار ہے۔ اپنی رفتار اور گردش میں وہ اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ ستاروں اور سیاروں کے درمیان عظیم فاصلے ہیں۔ زمین سورج کے درمیان 73 ملین میل کا فاصلہ ہے اور چاند زمین سے 240 ملین میل دور ہے۔ لیکن یہ فاصلے بھی اپنی اس دوری کے باوجود شمسی کہکشاں اور اس کے قریب ترین دوسری کہکشاں کے قریب تارے سے چار نوری سال دور ہے۔ اور نوری سال میں ٹائم کا تعین یوں کیا گیا ہے کہ جس میں روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سکینڈ ہو گویا سورج کی کہکشاں سے قریب ترین ستارہ ایک سو چار ملین میل دور ہے۔
اللہ جو اس کائنات کا خالق ہے ، اس نے ستاروں اور سیاروں کو درمیان اس قدر عظیم فاصلے پیدا کیے ہیں اور جس نے اس عظیم کائنات کا یہ عجیب نقشہ تیار فرمایا ہے تاکہ اسے باہم تصادم اور ٹکراؤ سے بچایا جائے اور یہ نظام یونہی جاری رہے الایہ کہ اللہ تعالیٰ قیامت برپا کر دے اس لیے سورج کے اندر یہ قوت نہیں ہے کہ وہ چاند کو جالے۔ اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے نہ اس کے مقابلے میں کھڑی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ جس گردش کی وجہ سے روزوشب پیدا ہوتے ہیں وہ جاری ہے۔ لہٰذا ان دونوں میں سے کوئی دوسرے سے آگے نہیں ہوسکتا اور نہ دوسرے کی راہ روک سکتا ہے۔
وکل فی فلک یسبحون (36: 40) ” اور سب ایک فلک میں تیر رہے ہیں “۔ فضائے کائنات میں ان سیاروں اور اجرام فلکی کی حرکت یوں ہے جس طرح سفینہ سمندر میں تیر رہا ہوتا ہے۔ یہ بحری جہاز اپنی عظمت کے باوجود اس عظیم سمندر میں ایک سیاہ نکتہ ہی ہوتا ہے۔
انسان حیران اور ششدر رہ جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ لاکھوں سیارے اور جرم فلکی اس وسیع فضائے کائنات میں بکھرے پڑے ہیں اور تیر رہے ہیں۔ ہر سیارے اور اجرام فلکی کے اردگرد ایک وسیع فضا ہے اور وہ دوسرے سے بہت دور ہے اور ان سیاروں اور اجرام کا حجم بہت بڑا ہونے کے باوجود اس وسیع فضا میں وہ ایک نکتہ ہیں ۔ بہت ہی معمولی نکتہ ! !
يس 36:41
وایۃ لھم انا۔۔۔۔۔ الی حین (41 – 44) ۔ یہاں سیاق کلام میں ایک نہایت ہی لطیف مناسبت ہے ۔ ستارے اور سیارے بلند فضائے کا ئناتی میں تیر رہے ہیں اور کشتی اولاد آدم سے بھری ہے اور وہ پانیوں میں تیررہی ہے ۔ ان دونوں مناظر کے اندر ظاہری نسبت بھی ہے ، رفتار کی مناسبت بھی ہے ، اور یہ ربط بھی ہے کہ ان دونوں کو اللہ نے مسخر کرلیا ہے ۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کے اندر اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے ۔
یہ دونوں مناظر انسانوں کی نظروں کے سامنے ہیں لیکن انسان ان پر غور نہیں کرتے۔ اگر انسان اپنے قلب کو کھول دے اور اپنے دماغ کو وسعت دے تو ان اور امور و تدبر کرکے وہ بڑی سہولت سے اللہ کی نشانیوں کو پاسکتا ہے ۔
بھری ہوئی کشتی سے مراد شاید کشتی نوح ہو جس نے اولاد آدم کو اٹھایا اور اس کے بعد اللہ نے ان کے لیے ایسی ہی دوسری کشتیاں پیدا کیں جو انسانوں کو اٹھا کر چلتی ہیں اور ان دونوں کو اللہ کے ان قوانین قدرت نے چلایا جو اس نے اس کائنات میں ودیعت کیے کہ کشتی پانیوں کی سطح پر تیررہی ہے ۔ سیارے آسمانوں کی فضاؤں میں تیر رہے ہیں اور لکڑی ، پانی اور ہوا ، بخارات یا ایٹمی قوت پیدا کی جس کی وجہ سے یہ بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں ۔ یہ سب امور تقدپر الہٰی کے مطابق ہیں ۔
يس 36:42
وایۃ لھم انا۔۔۔۔۔ الی حین (41 – 44) ۔ یہاں سیاق کلام میں ایک نہایت ہی لطیف مناسبت ہے ۔ ستارے اور سیارے بلند فضائے کا ئناتی میں تیر رہے ہیں اور کشتی اولاد آدم سے بھری ہے اور وہ پانیوں میں تیررہی ہے ۔ ان دونوں مناظر کے اندر ظاہری نسبت بھی ہے ، رفتار کی مناسبت بھی ہے ، اور یہ ربط بھی ہے کہ ان دونوں کو اللہ نے مسخر کرلیا ہے ۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کے اندر اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے ۔
یہ دونوں مناظر انسانوں کی نظروں کے سامنے ہیں لیکن انسان ان پر غور نہیں کرتے۔ اگر انسان اپنے قلب کو کھول دے اور اپنے دماغ کو وسعت دے تو ان اور امور و تدبر کرکے وہ بڑی سہولت سے اللہ کی نشانیوں کو پاسکتا ہے ۔
بھری ہوئی کشتی سے مراد شاید کشتی نوح ہو جس نے اولاد آدم کو اٹھایا اور اس کے بعد اللہ نے ان کے لیے ایسی ہی دوسری کشتیاں پیدا کیں جو انسانوں کو اٹھا کر چلتی ہیں اور ان دونوں کو اللہ کے ان قوانین قدرت نے چلایا جو اس نے اس کائنات میں ودیعت کیے کہ کشتی پانیوں کی سطح پر تیررہی ہے ۔ سیارے آسمانوں کی فضاؤں میں تیر رہے ہیں اور لکڑی ، پانی اور ہوا ، بخارات یا ایٹمی قوت پیدا کی جس کی وجہ سے یہ بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں ۔ یہ سب امور تقدپر الہٰی کے مطابق ہیں ۔
يس 36:43
وان نشا ۔۔۔۔۔ الٰی حین (36: 44) ” ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ، کوئی ان کی فریاد سننے والانہ ہو ، اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔ گہرے سمندروں میں کشتی کی حقیقت وہی ہوتی ہے جس طرح طوفان میں ایک پر کی ہوتی ہے ۔ جس قدر بھی کشتی بھاری اور بڑی ہو ، اور چاہے وہ بہت ہی اعلیٰ سائنسی اصولوں کے مطابق بنی ہو۔ اگر ان کشتیوں کے ساتھ اللہ کی رحمت اور شفقت نہ ہو تو وہ رات یا دن کے کسی بھی لمحے میں تباہ ہوجائیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے سمندروں کا سفر چھوٹے بجرے میں ہواہویا بڑے بحری جہاز میں۔۔۔۔ وہ سمندر کی ہولناکی کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ سمندر کی طاقتور لہروں کے مقابلے میں انسانی بچاؤ کی تدابیر کس قدر معمولی ہوتی ہیں ۔ اس لیے ایسے لوگ اللہ کی رحمت کی اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم کائنات میں عالم طبیعت کے طوفانوں اور انقلابات کے مقابلے میں صرف اللہ کی رحمت ہے جس نے سرکش طبیعی قوتوں کی لگام تھام رکھی ہے ۔ زمین و آسمان میں اللہ کے دست قدرت کے سوا اور کوئی تمہیں ہے جس نے سب چیزوں کو تھام رکھا ہے ۔ یہاتک کہ قیام قیامت کا
وقت آپہنچے جس طرح اللہ حکیم وخبیر نے اس کے لیے وقت مقرر کیا ہے ۔
ومتاعا الٰی حین (36: 44) ” پھر وقت خاص تک متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔
لیکن ان واضح ترین نشا نیوں کے باوجود لوگ غفلت کی نیند میں سوئے ہوئے ہیں ۔ ان کی نظر ان نشانیوں پر نہیں پڑتی ۔ اور ان کے دل بیدار نہیں ہوتے اور وہ نگار اور تمسخرانہ انداز کو نہیں چھوڑتے ۔ اور بس انہوں نے یہی رٹ لگا رکھی ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو بس اسے لے ہی آؤ۔
يس 36:44
وان نشا ۔۔۔۔۔ الٰی حین (36: 44) ” ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ، کوئی ان کی فریاد سننے والانہ ہو ، اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔ گہرے سمندروں میں کشتی کی حقیقت وہی ہوتی ہے جس طرح طوفان میں ایک پر کی ہوتی ہے ۔ جس قدر بھی کشتی بھاری اور بڑی ہو ، اور چاہے وہ بہت ہی اعلیٰ سائنسی اصولوں کے مطابق بنی ہو۔ اگر ان کشتیوں کے ساتھ اللہ کی رحمت اور شفقت نہ ہو تو وہ رات یا دن کے کسی بھی لمحے میں تباہ ہوجائیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے سمندروں کا سفر چھوٹے بجرے میں ہواہویا بڑے بحری جہاز میں۔۔۔۔ وہ سمندر کی ہولناکی کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ سمندر کی طاقتور لہروں کے مقابلے میں انسانی بچاؤ کی تدابیر کس قدر معمولی ہوتی ہیں ۔ اس لیے ایسے لوگ اللہ کی رحمت کی اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم کائنات میں عالم طبیعت کے طوفانوں اور انقلابات کے مقابلے میں صرف اللہ کی رحمت ہے جس نے سرکش طبیعی قوتوں کی لگام تھام رکھی ہے ۔ زمین و آسمان میں اللہ کے دست قدرت کے سوا اور کوئی تمہیں ہے جس نے سب چیزوں کو تھام رکھا ہے ۔ یہاتک کہ قیام قیامت کا
وقت آپہنچے جس طرح اللہ حکیم وخبیر نے اس کے لیے وقت مقرر کیا ہے ۔
ومتاعا الٰی حین (36: 44) ” پھر وقت خاص تک متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔
لیکن ان واضح ترین نشا نیوں کے باوجود لوگ غفلت کی نیند میں سوئے ہوئے ہیں ۔ ان کی نظر ان نشانیوں پر نہیں پڑتی ۔ اور ان کے دل بیدار نہیں ہوتے اور وہ نگار اور تمسخرانہ انداز کو نہیں چھوڑتے ۔ اور بس انہوں نے یہی رٹ لگا رکھی ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو بس اسے لے ہی آؤ۔
يس 36:45
واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔ ان کنتم صٰدقین (48) ” ۔ “۔
یہ نشانیاں بھی ان کے دل و دماغ میں تجتس ، تدبر اور احساس خدا خوفی نہیں کرتیں ۔ حالانکہ اگر کسی انسان کا دل کھلا ہو تو یہ نشا نیاں اس کے اندر حرکت پیدا کرتی ہیں ، اسے جھنجھوڑتی ہیں اور اسے پرجوش رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں ۔ اور یہ نشانیاں اس قابل ہیں کہ انسان کو اس کائنات کے ساتھ ملا دیں۔ وہ کائنات جو ایک کھلی کتاب ہے اور اس کا ہر ایک صفحہ خالق کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تدابیر بہت گہری اور اس کے اندازے نہایت ہی درست ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ جن کی فطرت اور بصیرت مسخ ہوچکی ہے۔ وہ ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور اگر وہ ان کو دیکھ بھی لیں ، ان پر ۔۔ نہیں کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی عظیم رحمتوں کی وجہ سے پھر بھی ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ نہیں دیتا۔ اللہ پھر بھی ان کے پاس رسول بھیجتا ہے ، جو ان کو ڈراتا ہے۔ اور ان کو اس کائنات کے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اسے وجود میں لانے والا ایک قادر مطلق ہے۔ یہ رسول ان کو ڈراتا ہے ، ان کے دل میں خوف اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اور ان کو اللہ کے غضب اور ان کو عذاب الٰہی کے اسباب فراہم کرنے سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے عذاب نے تو ان کو احاطہ میں لیا ہوا ہے۔ ان کے آگے اور پیچھے عذاب الٰہی موجود ہے۔ اگر یہ لوگ محتاط نہ رہے تو کسی بھی وقت اللہ کے عذاب میں پڑ سکتے ہیں اور ان کے قدم پھسل سکتے ہیں۔ پھر ان تکوینی نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں اور معجزات بھی اللہ پے در پے ان کے لیے بھیجتا ہے لیکن وہ تو جہ نہیں کرتے اور اپنی روش پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں لاپرواہ ہوکر۔
واذا قیل لھم اتقوا ما بین۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (45 – 48) ” ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں) ۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے ، اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ “۔
یہ نشانیاں بھی ان کے دل و دماغ میں تجسس ، تدبر اور احساس خدا خوفی پیدا نہیں کرتیں۔ حالانکہ اگر کسی انسان کا دل کھلا ہو تو یہ نشانیاں اس کے اندر حرکت پیدا کرتی ہے ، اسے جھنجھوڑتی ہیں اور اسے پر جوش رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ اور یہ نشانیاں اس قابل ہیں کہ انسان کو اس کائنات کے ساتھ ملا دیں۔ وہ کائنات جو ایک کھلی کتاب ہے اور اس کا ہر ایک صفحہ خالق کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تدابیر بہت گہری اور اس کے اندازے نہایت ہی درست ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ جن کی فطرت اور بصیرت مسخ ہوچکی ہے۔ وہ ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور اگر وہ ان کو دیکھ بھی لیں ، ان پر تدبر نہیں کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی عظیم رحمتوں کی وجہ سے پھر بھی ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ نہیں دیتا ۔ اللہ پھر بھی ان کے پاس رسول بھیجتا ہے ، جو ان کو ڈراتا ہے۔ اور ان کو اس کائنات کے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اسے وجود میں لانے والا ایک قادر مطلق ہے۔ یہ رسول ان کو ڈراتا ہے ، ان کے دل میں خوف اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اور ان کو اللہ کے غضب اور ان کو عذاب الٰہی کے اسباب فراہم کرنے سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے عذاب نے تو ان کو احاطہ میں لیا ہوا ہے۔ ان کے آگے اور پیچھے عذاب الٰہی موجود ہے۔ اگر یہ لوگ محتاط نہ رہے تو کسی بھی وقت اللہ کے عذاب میں پڑ سکتے ہیں اور ان کے قدم پھسل سکتے ہیں۔ پھر ان تکوینی نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں اور معجزات بھی اللہ پے در پے ان کے لیے بھیجتا ہے لیکن وہ توجہ نہیں کرتے اور اپنی روش پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں لاپرواہ ہوکر۔
يس 36:46
واذا قیل لھم۔۔۔۔ عنھا معرضین (36: 45 – 46) ” ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں) ۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے “۔
اور اگر ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اپنی دولت میں سے کچھ فقراء پر بھی خرچ کرو تو وہ مزاح کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
انطعم من ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (36: 48) ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلاتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ مزاح کے علاوہ یہ لوگ ان لوگوں پر گمراہی کا الزام لگاتے جو ان کو دعوت انفاق دیتے ہیں۔
ان لوگوں کے اس انداز گفتگو سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ انسانوں کی زندگی میں جاری وساری سنن الہیہ سے بالکل بےبہرہ ہیں۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ ہی سب کو کھلاتا ہے۔ اللہ ہی سب کا رازق ہے۔ زمین میں بندوں کے پاس جو دولت اور جو رزق ہے وہ اللہ ہی کا تخلیق کردہ ہے۔ انسانوں نے خود تو اپنے لیے کچھ پیدا کیا ہی نہیں ، اور نہ وہ کسی ایک چیز کی تخلیق پر قدرت رکھتے ہیں۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ ہے کہ اس زمین کو انسان آباد کریں۔ اس لیے اللہ نے لوگوں کو ضروریات کا محتاج کیا۔ یہ ضروریات لوگوں کو صرف ان کی جہد اور سعی سے ۔۔ سکتی ہیں۔ زمین کے اندر زراعت کا انتظام صنعتوں کا انتظام پھر زمین کے خزانوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا انتظام ۔ پھر ان اشیاء کی سپلائی اور خریدو فروخت مختلف زمانوں میں مختلف طریقوں سے۔ یہ سب انتظامات اللہ نے کیے۔ پھر لوگ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے مختلف اور متفاوت ہیں اور اللہ اپنی مشیت کے مطابق مختلف لوگوں کو مختلف صلاحیتیں دیں اور یہ اس لیے تاکہ انسان مل کر خلافت ارضی کے فرائض سر انجام دیں۔ انسان کی صلاحیتوں کے اندر تفاوت صرف مال اور دولت جمع کرنے ہی میں نہیں ہے۔ بلکہ بعض اوقات انسان دوسری ضروریات میں مصروف ہوتے ہیں اور یہ دوسرے میدان بھی خلاف ارضی کا تفاضا ہوتے ہیں۔ اس لیے بعض انسان مال دولت جمع کے کام کے لیے فارغ ہی نہیں ہوتے اور مالی لحاظ سے محتاج ہوتے ہیں۔ ایک طرف انسان کے منصب خلافت ارضی کے وسیع تقاضے ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔ اور ان صلاحیتوں کے مطابق پھر انسانوں کے درمیان ضروریات اور منافع کا لین دین ہوتا ہے۔ لوگوں کے درمیان مقابلہ اور حصہ رسدی کا تعین ہوتا ہے۔ یہ ایک وسیع معاشی نظام ہے جس کی بیشمار کڑیاں ہیں اور ہر کڑی دوسری سے ملی ہوئی ہے بلکہ اس کا تعلق نسلوں سے بھی ہے۔ یعنی نسلا بعد نسل ایسے اسباب ہوتے ہیں جو لوگوں کی معاشی جدوجہد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ غرض معاشیات کے میدان میں مختلف اور متنوع اسباب کی بنا پر اللہ سے لوگوں کے درمیان دولت اور ان کے رزق میں تفاوت رکھی۔ یہ تفاوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو اس لیے رکھی گئی ہے کہ انسان خلافت ارضی کے منصب کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس زمین کی تعمیر و ترقی میں کوشاں رہے لیکن اس تفاوت کو حد اعتدال میں رکھنے کے لیے اسلام نے بعض انفرادی محرومیوں کا مداوا بھی کیا ہے۔ وہ یہ کہ اہل ثروت پر لازم ہے کہ وہ اپنی دولت کا ایک حصہ فقراء اور محرومین کے لیے نکالیں۔ اور معاشرے کے اندر کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جو بنیادی معاشی ضروریات سے محروم ہو۔ ان انتظامات کی وجہ سے اغنیاء اور فقراء کی اخلاقی اور نفسیاتی اصلاح ہوجاتی ہے۔ اس انفاق کے لیے اسلام زکوٰۃ لیتا ہے اور زکوٰۃ کے لغوی مفہوم میں طہارت کے معنی شامل ہیں۔ گویا یہ انفاق طہارت مال بھی ہے اور عبادت بھی۔ اور اس کے ذریعے اللہ نے فقراء اور اغنیاء کے درمیان محبت اور دوستی کا رشتہ بھی استوار کردیا ہے۔
لہٰذا ان لوگوں کا جو حکمت خداوندی کے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے : کہنا ،
انطعم من لو شاء اللہ اطعمہ (36: 47) ” کیا ہم کو ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ “ اور اس پر مزید پھر ان کی جانب سے انفاق کی دعوت دینے والوں پر یہ الزام
ان انتم الا فی ضلل مبین (36: 47) ” تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ دراصل حقیقی گمراہی ہے ۔ اور یہ لوگ اس کائنات میں جاری سنن الہیہ سے بیخبر ہیں۔ اور یہ لوگ اس جہاں میں زندگی کی حقیقی چلن اور اس کے متنوع معاشی اسباب سے بھی بیخبر ہیں۔ پھر اس جہاں میں اللہ نے جن مقاصد کی خاطر لوگوں کو متنوع صلاحیتیں دی ہیں اور جن کے نتیجے میں لوگ مختلف کام کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے پھر سامان زیست کا تبادلہ ہوتا ہے اور دنیا کا معاشی نظام چل رہا ہے۔ یہ لوگ اس سے بھی واقف نہیں ہیں۔
اسلام ایک ایسا نظام معیشت وضع کرتا ہے جس کے اندر تمام لوگوں کو کام کرنے کے آزادانہ مواقع حاصل ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد اسلامی نظام تمام لوگوں کے مختلف قسم کے کام کرنے کے آزادانہ مواقع فراہم بھی کرتا ہے۔ اور لوگ اس طرح پاک اور صاف زندگی بسر کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنے عملی اقدامات سے معاشی ناہمواریوں کے حل کے لیے خصوصی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ سب سے آخر میں بات ان کے اس خلجان پر ہوتی ہے۔ جو انہیں بعث بعد الموت کے سلسلے میں تھا۔ اور جس کی وجہ سے وہ اس قسم کا عقیدہ رکھنے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔
يس 36:47
واذا قیل لھم۔۔۔۔ عنھا معرضین (36: 45 – 46) ” ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں) ۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے “۔
اور اگر ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اپنی دولت میں سے کچھ فقراء پر بھی خرچ کرو تو وہ مزاح کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
انطعم من ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (36: 48) ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلاتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ مزاح کے علاوہ یہ لوگ ان لوگوں پر گمراہی کا الزام لگاتے جو ان کو دعوت انفاق دیتے ہیں۔
ان لوگوں کے اس انداز گفتگو سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ انسانوں کی زندگی میں جاری وساری سنن الہیہ سے بالکل بےبہرہ ہیں۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ ہی سب کو کھلاتا ہے۔ اللہ ہی سب کا رازق ہے۔ زمین میں بندوں کے پاس جو دولت اور جو رزق ہے وہ اللہ ہی کا تخلیق کردہ ہے۔ انسانوں نے خود تو اپنے لیے کچھ پیدا کیا ہی نہیں ، اور نہ وہ کسی ایک چیز کی تخلیق پر قدرت رکھتے ہیں۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ ہے کہ اس زمین کو انسان آباد کریں۔ اس لیے اللہ نے لوگوں کو ضروریات کا محتاج کیا۔ یہ ضروریات لوگوں کو صرف ان کی جہد اور سعی سے ۔۔ سکتی ہیں۔ زمین کے اندر زراعت کا انتظام صنعتوں کا انتظام پھر زمین کے خزانوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا انتظام ۔ پھر ان اشیاء کی سپلائی اور خریدو فروخت مختلف زمانوں میں مختلف طریقوں سے۔ یہ سب انتظامات اللہ نے کیے۔ پھر لوگ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے مختلف اور متفاوت ہیں اور اللہ اپنی مشیت کے مطابق مختلف لوگوں کو مختلف صلاحیتیں دیں اور یہ اس لیے تاکہ انسان مل کر خلافت ارضی کے فرائض سر انجام دیں۔ انسان کی صلاحیتوں کے اندر تفاوت صرف مال اور دولت جمع کرنے ہی میں نہیں ہے۔ بلکہ بعض اوقات انسان دوسری ضروریات میں مصروف ہوتے ہیں اور یہ دوسرے میدان بھی خلاف ارضی کا تفاضا ہوتے ہیں۔ اس لیے بعض انسان مال دولت جمع کے کام کے لیے فارغ ہی نہیں ہوتے اور مالی لحاظ سے محتاج ہوتے ہیں۔ ایک طرف انسان کے منصب خلافت ارضی کے وسیع تقاضے ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔ اور ان صلاحیتوں کے مطابق پھر انسانوں کے درمیان ضروریات اور منافع کا لین دین ہوتا ہے۔ لوگوں کے درمیان مقابلہ اور حصہ رسدی کا تعین ہوتا ہے۔ یہ ایک وسیع معاشی نظام ہے جس کی بیشمار کڑیاں ہیں اور ہر کڑی دوسری سے ملی ہوئی ہے بلکہ اس کا تعلق نسلوں سے بھی ہے۔ یعنی نسلا بعد نسل ایسے اسباب ہوتے ہیں جو لوگوں کی معاشی جدوجہد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ غرض معاشیات کے میدان میں مختلف اور متنوع اسباب کی بنا پر اللہ سے لوگوں کے درمیان دولت اور ان کے رزق میں تفاوت رکھی۔ یہ تفاوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو اس لیے رکھی گئی ہے کہ انسان خلافت ارضی کے منصب کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس زمین کی تعمیر و ترقی میں کوشاں رہے لیکن اس تفاوت کو حد اعتدال میں رکھنے کے لیے اسلام نے بعض انفرادی محرومیوں کا مداوا بھی کیا ہے۔ وہ یہ کہ اہل ثروت پر لازم ہے کہ وہ اپنی دولت کا ایک حصہ فقراء اور محرومین کے لیے نکالیں۔ اور معاشرے کے اندر کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جو بنیادی معاشی ضروریات سے محروم ہو۔ ان انتظامات کی وجہ سے اغنیاء اور فقراء کی اخلاقی اور نفسیاتی اصلاح ہوجاتی ہے۔ اس انفاق کے لیے اسلام زکوٰۃ لیتا ہے اور زکوٰۃ کے لغوی مفہوم میں طہارت کے معنی شامل ہیں۔ گویا یہ انفاق طہارت مال بھی ہے اور عبادت بھی۔ اور اس کے ذریعے اللہ نے فقراء اور اغنیاء کے درمیان محبت اور دوستی کا رشتہ بھی استوار کردیا ہے۔
لہٰذا ان لوگوں کا جو حکمت خداوندی کے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے : کہنا ،
انطعم من لو شاء اللہ اطعمہ (36: 47) ” کیا ہم کو ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ “ اور اس پر مزید پھر ان کی جانب سے انفاق کی دعوت دینے والوں پر یہ الزام
ان انتم الا فی ضلل مبین (36: 47) ” تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ دراصل حقیقی گمراہی ہے ۔ اور یہ لوگ اس کائنات میں جاری سنن الہیہ سے بیخبر ہیں۔ اور یہ لوگ اس جہاں میں زندگی کی حقیقی چلن اور اس کے متنوع معاشی اسباب سے بھی بیخبر ہیں۔ پھر اس جہاں میں اللہ نے جن مقاصد کی خاطر لوگوں کو متنوع صلاحیتیں دی ہیں اور جن کے نتیجے میں لوگ مختلف کام کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے پھر سامان زیست کا تبادلہ ہوتا ہے اور دنیا کا معاشی نظام چل رہا ہے۔ یہ لوگ اس سے بھی واقف نہیں ہیں۔
اسلام ایک ایسا نظام معیشت وضع کرتا ہے جس کے اندر تمام لوگوں کو کام کرنے کے آزادانہ مواقع حاصل ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد اسلامی نظام تمام لوگوں کے مختلف قسم کے کام کرنے کے آزادانہ مواقع فراہم بھی کرتا ہے۔ اور لوگ اس طرح پاک اور صاف زندگی بسر کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنے عملی اقدامات سے معاشی ناہمواریوں کے حل کے لیے خصوصی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ سب سے آخر میں بات ان کے اس خلجان پر ہوتی ہے۔ جو انہیں بعث بعد الموت کے سلسلے میں تھا۔ اور جس کی وجہ سے وہ اس قسم کا عقیدہ رکھنے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔
يس 36:48
ویقولون متی۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ اللہ نے قیامت کے واقع ہونے کے لیے جو وقت مقرر کر رکھا ہے وہ انسانوں کی جلد بازی یا مطالبے کی وجہ سے وقت سے پہلے نہیں آسکتا۔ اور اگر لوگ یہ امید کریں کہ وہ اپنے مقررہ وقت سے ذرا اوپر کرکے واقع ہوگا تو یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک ہر شے ایک مقدار کے مطابق ہے۔ اور ہر واقعہ اپنے مقررہ وقت پر ہوتا ہے۔ تمام واقعات اپنے وقت پر ہوتے ہیں جس طرح اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ ازل میں کر رکھا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق کر رکھا ہے۔ اس دنیا کا ہر واقعہ اپنے وقت پر نظام قضا و قدر کے مطابق قضا و قدر کے مطابق ظہور پذیر ہوتا ہے۔
ان لوگوں کے ان سوالات اور خلجانات کا جواب کیا ہے تو وہ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کی صورت میں دیا گیا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جب قیامت ہوگی تو اس کی کیفیت یہ ہوگی۔ رہی یہ بات کہ یہ کب ہوگی تو اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔
يس 36:49
ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔
ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔
ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید ہی نہ ہوگی ۔ اور نہ وہ اسے کچھ اہمیت دیں گے۔ لیکن وہ اچانک واقع ہوجائے گی۔ ہر شخص اسی حال میں گرفتار ہوگا۔ جس پر وہ اس وقت ہوگا۔ کسی کو آنے والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں سے کچھ کہہ دے۔ اور وہ ہوں گے کہاں ؟ کیونکہ گھر والے بھی جہاں ہوں گے اسی قیامت کی گرفت میں ہوں گے۔
اور اس کے بعد صور پھونکا جائے گا۔ ہر شخص اپنی قبر سے اٹھے گا اور جلدی سے دوڑ پڑے گا۔ یہ انتہائی درجے میں ہیبت زدہ اور دہشت زدہ ہوگا۔ ہر شخص دوسرے سے پوچھے گا۔
من بعثنا من مرقدنا (36: 52) ” ارے یہ کس نے ہماری خوابگاہ سے ہمیں اٹھا کر کھڑا کیا ؟ قدرے وقفے کے بعد اب دہشت ختم ہوگی تو اصل حقیقت ان کو معلوم ہوجائے گی۔
ھذا ما وعد۔۔۔۔ المرسلون (36: 52) ” یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی “ اور اب آخری آواز ہوگی۔ ایک پکار اور یہ تمام بکھرے ہوئے پریشان اور حیران لوگ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے
فاذاھم جمیع لدینا محضرون (36: 53) ” اچانک سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے “۔ اور سب کے سب صفوں کی صورت میں منظم کر دئیے جائیں گے اور یہ پیشی چشم زدن میں ہوگی اور صدائے بازگشت کی طرح ہوگی اور اس وقفہ و محل پر اللہ کا یہ فیصلہ سنایا جائے گا اور اعلان ہوگا کہ جزاء و سزائیں کسی کے ساتھ کوئی بےانصافی نہ ہوگی۔
يس 36:50
ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔
ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔
ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید ہی نہ ہوگی ۔ اور نہ وہ اسے کچھ اہمیت دیں گے۔ لیکن وہ اچانک واقع ہوجائے گی۔ ہر شخص اسی حال میں گرفتار ہوگا۔ جس پر وہ اس وقت ہوگا۔ کسی کو آنے والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں سے کچھ کہہ دے۔ اور وہ ہوں گے کہاں ؟ کیونکہ گھر والے بھی جہاں ہوں گے اسی قیامت کی گرفت میں ہوں گے۔
اور اس کے بعد صور پھونکا جائے گا۔ ہر شخص اپنی قبر سے اٹھے گا اور جلدی سے دوڑ پڑے گا۔ یہ انتہائی درجے میں ہیبت زدہ اور دہشت زدہ ہوگا۔ ہر شخص دوسرے سے پوچھے گا۔
من بعثنا من مرقدنا (36: 52) ” ارے یہ کس نے ہماری خوابگاہ سے ہمیں اٹھا کر کھڑا کیا ؟ قدرے وقفے کے بعد اب دہشت ختم ہوگی تو اصل حقیقت ان کو معلوم ہوجائے گی۔
ھذا ما وعد۔۔۔۔ المرسلون (36: 52) ” یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی “ اور اب آخری آواز ہوگی۔ ایک پکار اور یہ تمام بکھرے ہوئے پریشان اور حیران لوگ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے
فاذاھم جمیع لدینا محضرون (36: 53) ” اچانک سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے “۔ اور سب کے سب صفوں کی صورت میں منظم کر دئیے جائیں گے اور یہ پیشی چشم زدن میں ہوگی اور صدائے بازگشت کی طرح ہوگی اور اس وقفہ و محل پر اللہ کا یہ فیصلہ سنایا جائے گا اور اعلان ہوگا کہ جزاء و سزائیں کسی کے ساتھ کوئی بےانصافی نہ ہوگی۔
يس 36:51
ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔
ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔
ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید ہی نہ ہوگی ۔ اور نہ وہ اسے کچھ اہمیت دیں گے۔ لیکن وہ اچانک واقع ہوجائے گی۔ ہر شخص اسی حال میں گرفتار ہوگا۔ جس پر وہ اس وقت ہوگا۔ کسی کو آنے والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں سے کچھ کہہ دے۔ اور وہ ہوں گے کہاں ؟ کیونکہ گھر والے بھی جہاں ہوں گے اسی قیامت کی گرفت میں ہوں گے۔
اور اس کے بعد صور پھونکا جائے گا۔ ہر شخص اپنی قبر سے اٹھے گا اور جلدی سے دوڑ پڑے گا۔ یہ انتہائی درجے میں ہیبت زدہ اور دہشت زدہ ہوگا۔ ہر شخص دوسرے سے پوچھے گا۔
من بعثنا من مرقدنا (36: 52) ” ارے یہ کس نے ہماری خوابگاہ سے ہمیں اٹھا کر کھڑا کیا ؟ قدرے وقفے کے بعد اب دہشت ختم ہوگی تو اصل حقیقت ان کو معلوم ہوجائے گی۔
ھذا ما وعد۔۔۔۔ المرسلون (36: 52) ” یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی “ اور اب آخری آواز ہوگی۔ ایک پکار اور یہ تمام بکھرے ہوئے پریشان اور حیران لوگ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے
فاذاھم جمیع لدینا محضرون (36: 53) ” اچانک سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے “۔ اور سب کے سب صفوں کی صورت میں منظم کر دئیے جائیں گے اور یہ پیشی چشم زدن میں ہوگی اور صدائے بازگشت کی طرح ہوگی اور اس وقفہ و محل پر اللہ کا یہ فیصلہ سنایا جائے گا اور اعلان ہوگا کہ جزاء و سزائیں کسی کے ساتھ کوئی بےانصافی نہ ہوگی۔
يس 36:52
ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔
ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔
ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید ہی نہ ہوگی ۔ اور نہ وہ اسے کچھ اہمیت دیں گے۔ لیکن وہ اچانک واقع ہوجائے گی۔ ہر شخص اسی حال میں گرفتار ہوگا۔ جس پر وہ اس وقت ہوگا۔ کسی کو آنے والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں سے کچھ کہہ دے۔ اور وہ ہوں گے کہاں ؟ کیونکہ گھر والے بھی جہاں ہوں گے اسی قیامت کی گرفت میں ہوں گے۔
اور اس کے بعد صور پھونکا جائے گا۔ ہر شخص اپنی قبر سے اٹھے گا اور جلدی سے دوڑ پڑے گا۔ یہ انتہائی درجے میں ہیبت زدہ اور دہشت زدہ ہوگا۔ ہر شخص دوسرے سے پوچھے گا۔
من بعثنا من مرقدنا (36: 52) ” ارے یہ کس نے ہماری خوابگاہ سے ہمیں اٹھا کر کھڑا کیا ؟ قدرے وقفے کے بعد اب دہشت ختم ہوگی تو اصل حقیقت ان کو معلوم ہوجائے گی۔
ھذا ما وعد۔۔۔۔ المرسلون (36: 52) ” یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی “ اور اب آخری آواز ہوگی۔ ایک پکار اور یہ تمام بکھرے ہوئے پریشان اور حیران لوگ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے
فاذاھم جمیع لدینا محضرون (36: 53) ” اچانک سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے “۔ اور سب کے سب صفوں کی صورت میں منظم کر دئیے جائیں گے اور یہ پیشی چشم زدن میں ہوگی اور صدائے بازگشت کی طرح ہوگی اور اس وقفہ و محل پر اللہ کا یہ فیصلہ سنایا جائے گا اور اعلان ہوگا کہ جزاء و سزائیں کسی کے ساتھ کوئی بےانصافی نہ ہوگی۔
يس 36:53
ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔
ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔
ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید ہی نہ ہوگی ۔ اور نہ وہ اسے کچھ اہمیت دیں گے۔ لیکن وہ اچانک واقع ہوجائے گی۔ ہر شخص اسی حال میں گرفتار ہوگا۔ جس پر وہ اس وقت ہوگا۔ کسی کو آنے والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں سے کچھ کہہ دے۔ اور وہ ہوں گے کہاں ؟ کیونکہ گھر والے بھی جہاں ہوں گے اسی قیامت کی گرفت میں ہوں گے۔
اور اس کے بعد صور پھونکا جائے گا۔ ہر شخص اپنی قبر سے اٹھے گا اور جلدی سے دوڑ پڑے گا۔ یہ انتہائی درجے میں ہیبت زدہ اور دہشت زدہ ہوگا۔ ہر شخص دوسرے سے پوچھے گا۔
من بعثنا من مرقدنا (36: 52) ” ارے یہ کس نے ہماری خوابگاہ سے ہمیں اٹھا کر کھڑا کیا ؟ قدرے وقفے کے بعد اب دہشت ختم ہوگی تو اصل حقیقت ان کو معلوم ہوجائے گی۔
ھذا ما وعد۔۔۔۔ المرسلون (36: 52) ” یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی “ اور اب آخری آواز ہوگی۔ ایک پکار اور یہ تمام بکھرے ہوئے پریشان اور حیران لوگ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے
فاذاھم جمیع لدینا محضرون (36: 53) ” اچانک سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے “۔ اور سب کے سب صفوں کی صورت میں منظم کر دئیے جائیں گے اور یہ پیشی چشم زدن میں ہوگی اور صدائے بازگشت کی طرح ہوگی اور اس وقفہ و محل پر اللہ کا یہ فیصلہ سنایا جائے گا اور اعلان ہوگا کہ جزاء و سزائیں کسی کے ساتھ کوئی بےانصافی نہ ہوگی۔
يس 36:54
فالیوم لا تظلم ۔۔۔۔ تعملون (54) ” یہاں نہایت تیزی کے ساتھ تین مناظر کی جھلک دکھائی جاتی ہے اور ان لوگوں کے شکوک اور خلجانات کا رد کردیا جاتا ہے جو خواہ مخواہ وقوع قیامت میں شک کرتے ہیں اور نہایت ہی ترتیب کے ساتھ۔ اب یہاں اہل ایمان کے ستاھ حساب و کتاب کا حال بھی چند لمحوں میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور ان کا انجام بھی تیزی کے ساتھ دکھا دیا جاتا ہے۔
يس 36:55
ان اصحب الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ من رب رحیم (55 – 58) ” “۔
یہ عیش و عشرت میں مشغول ہوں گے ، ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوگی اور نہایت ہی خوشگوار چھاؤں میں بیٹھے ہوں گے۔ آمنے سامنے تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور وہ جنت کے مالک ہوں گے اور ان کا یہ حق ہوگا کہ جو چاہیں گے ، مہیا ہوگا اور ان لذائذ کے اوپر مزید ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اور ان کی تکریم ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے نام سلام بھیجے گا ۔ یہ رب کریم کی طرف سے ان کا اعزاز ہوگا۔
سلم قولا من رب رحیم (36: 58) ” رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے “۔ رہے کفار تو ان کے ساتھ حساب و کتاب یہاں نہیں دکھایا گیا بلکہ یہاں محض سرزنش اور جھڑکی اور ملامت کردی جاتی ہے۔
يس 36:56
ان اصحب الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ من رب رحیم (55 – 58) ” “۔
یہ عیش و عشرت میں مشغول ہوں گے ، ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوگی اور نہایت ہی خوشگوار چھاؤں میں بیٹھے ہوں گے۔ آمنے سامنے تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور وہ جنت کے مالک ہوں گے اور ان کا یہ حق ہوگا کہ جو چاہیں گے ، مہیا ہوگا اور ان لذائذ کے اوپر مزید ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اور ان کی تکریم ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے نام سلام بھیجے گا ۔ یہ رب کریم کی طرف سے ان کا اعزاز ہوگا۔
سلم قولا من رب رحیم (36: 58) ” رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے “۔ رہے کفار تو ان کے ساتھ حساب و کتاب یہاں نہیں دکھایا گیا بلکہ یہاں محض سرزنش اور جھڑکی اور ملامت کردی جاتی ہے۔
يس 36:57
ان اصحب الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ من رب رحیم (55 – 58) ” “۔
یہ عیش و عشرت میں مشغول ہوں گے ، ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوگی اور نہایت ہی خوشگوار چھاؤں میں بیٹھے ہوں گے۔ آمنے سامنے تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور وہ جنت کے مالک ہوں گے اور ان کا یہ حق ہوگا کہ جو چاہیں گے ، مہیا ہوگا اور ان لذائذ کے اوپر مزید ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اور ان کی تکریم ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے نام سلام بھیجے گا ۔ یہ رب کریم کی طرف سے ان کا اعزاز ہوگا۔
سلم قولا من رب رحیم (36: 58) ” رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے “۔ رہے کفار تو ان کے ساتھ حساب و کتاب یہاں نہیں دکھایا گیا بلکہ یہاں محض سرزنش اور جھڑکی اور ملامت کردی جاتی ہے۔
يس 36:58
ان اصحب الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ من رب رحیم (55 – 58) ” “۔
یہ عیش و عشرت میں مشغول ہوں گے ، ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوگی اور نہایت ہی خوشگوار چھاؤں میں بیٹھے ہوں گے۔ آمنے سامنے تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور وہ جنت کے مالک ہوں گے اور ان کا یہ حق ہوگا کہ جو چاہیں گے ، مہیا ہوگا اور ان لذائذ کے اوپر مزید ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اور ان کی تکریم ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے نام سلام بھیجے گا ۔ یہ رب کریم کی طرف سے ان کا اعزاز ہوگا۔
سلم قولا من رب رحیم (36: 58) ” رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے “۔ رہے کفار تو ان کے ساتھ حساب و کتاب یہاں نہیں دکھایا گیا بلکہ یہاں محض سرزنش اور جھڑکی اور ملامت کردی جاتی ہے۔
يس 36:59
وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔
وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔
الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ ہے “۔ یہ راستہ مجھ تک پہنچانے والا ہے اور اس پر چلنے سے میری رضا مندی حاصل ہوتی ہے۔ تم اس دشمن سے نہ ڈرے جس نے تمہاری نسلوں اور گروہوں کو گمراہ کر دیا
افلم تکونوا تعقلون (36: 62) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے “۔ اور اس موقع پر ان کو دی جانے والی سزا یہاں سنا دی جاتی ہے جو نہایت ہی دردناک ہے۔ اور یہ فیصلہ بھی سختی اور سرزنش کے انداز میں سنایا جاتا ہے۔
ھذا جھنم۔۔۔۔ تکفرون (36: 63 – 64) ” یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھ ، جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو “۔ یہ پیشی یہاں ختم ہوجاتی اور اس کی بساط کو لپیٹ نہیں لیا جاتا بلکہ اس موضوع پر بات چیت جاری ہے اور ایک نیا منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔
يس 36:60
وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔
وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔
الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ ہے “۔ یہ راستہ مجھ تک پہنچانے والا ہے اور اس پر چلنے سے میری رضا مندی حاصل ہوتی ہے۔ تم اس دشمن سے نہ ڈرے جس نے تمہاری نسلوں اور گروہوں کو گمراہ کر دیا
افلم تکونوا تعقلون (36: 62) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے “۔ اور اس موقع پر ان کو دی جانے والی سزا یہاں سنا دی جاتی ہے جو نہایت ہی دردناک ہے۔ اور یہ فیصلہ بھی سختی اور سرزنش کے انداز میں سنایا جاتا ہے۔
ھذا جھنم۔۔۔۔ تکفرون (36: 63 – 64) ” یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھ ، جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو “۔ یہ پیشی یہاں ختم ہوجاتی اور اس کی بساط کو لپیٹ نہیں لیا جاتا بلکہ اس موضوع پر بات چیت جاری ہے اور ایک نیا منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔
يس 36:61
وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔
وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔
الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ ہے “۔ یہ راستہ مجھ تک پہنچانے والا ہے اور اس پر چلنے سے میری رضا مندی حاصل ہوتی ہے۔ تم اس دشمن سے نہ ڈرے جس نے تمہاری نسلوں اور گروہوں کو گمراہ کر دیا
افلم تکونوا تعقلون (36: 62) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے “۔ اور اس موقع پر ان کو دی جانے والی سزا یہاں سنا دی جاتی ہے جو نہایت ہی دردناک ہے۔ اور یہ فیصلہ بھی سختی اور سرزنش کے انداز میں سنایا جاتا ہے۔
ھذا جھنم۔۔۔۔ تکفرون (36: 63 – 64) ” یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھ ، جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو “۔ یہ پیشی یہاں ختم ہوجاتی اور اس کی بساط کو لپیٹ نہیں لیا جاتا بلکہ اس موضوع پر بات چیت جاری ہے اور ایک نیا منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔
يس 36:62
وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔
وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔
الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ ہے “۔ یہ راستہ مجھ تک پہنچانے والا ہے اور اس پر چلنے سے میری رضا مندی حاصل ہوتی ہے۔ تم اس دشمن سے نہ ڈرے جس نے تمہاری نسلوں اور گروہوں کو گمراہ کر دیا
افلم تکونوا تعقلون (36: 62) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے “۔ اور اس موقع پر ان کو دی جانے والی سزا یہاں سنا دی جاتی ہے جو نہایت ہی دردناک ہے۔ اور یہ فیصلہ بھی سختی اور سرزنش کے انداز میں سنایا جاتا ہے۔
ھذا جھنم۔۔۔۔ تکفرون (36: 63 – 64) ” یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھ ، جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو “۔ یہ پیشی یہاں ختم ہوجاتی اور اس کی بساط کو لپیٹ نہیں لیا جاتا بلکہ اس موضوع پر بات چیت جاری ہے اور ایک نیا منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔
يس 36:63
وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔
وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔
الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ ہے “۔ یہ راستہ مجھ تک پہنچانے والا ہے اور اس پر چلنے سے میری رضا مندی حاصل ہوتی ہے۔ تم اس دشمن سے نہ ڈرے جس نے تمہاری نسلوں اور گروہوں کو گمراہ کر دیا
افلم تکونوا تعقلون (36: 62) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے “۔ اور اس موقع پر ان کو دی جانے والی سزا یہاں سنا دی جاتی ہے جو نہایت ہی دردناک ہے۔ اور یہ فیصلہ بھی سختی اور سرزنش کے انداز میں سنایا جاتا ہے۔
ھذا جھنم۔۔۔۔ تکفرون (36: 63 – 64) ” یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھ ، جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو “۔ یہ پیشی یہاں ختم ہوجاتی اور اس کی بساط کو لپیٹ نہیں لیا جاتا بلکہ اس موضوع پر بات چیت جاری ہے اور ایک نیا منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔
يس 36:64
وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔
وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔
الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ ہے “۔ یہ راستہ مجھ تک پہنچانے والا ہے اور اس پر چلنے سے میری رضا مندی حاصل ہوتی ہے۔ تم اس دشمن سے نہ ڈرے جس نے تمہاری نسلوں اور گروہوں کو گمراہ کر دیا
افلم تکونوا تعقلون (36: 62) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے “۔ اور اس موقع پر ان کو دی جانے والی سزا یہاں سنا دی جاتی ہے جو نہایت ہی دردناک ہے۔ اور یہ فیصلہ بھی سختی اور سرزنش کے انداز میں سنایا جاتا ہے۔
ھذا جھنم۔۔۔۔ تکفرون (36: 63 – 64) ” یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھ ، جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو “۔ یہ پیشی یہاں ختم ہوجاتی اور اس کی بساط کو لپیٹ نہیں لیا جاتا بلکہ اس موضوع پر بات چیت جاری ہے اور ایک نیا منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔
يس 36:65
الیوم نختم۔۔۔۔ یکسبون (65) ” “۔ یوں وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہیں۔ ان پر خود ان کے اعضاء شہادت دے رہے ہیں خود ان کی اپنی شخصیت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے اور ان کی ذات کے حصے ایک دوسرے کے خلاف گواہ ہوں گے اور انسان کا ہر عضو اپنے رب کے سامنے انفرادی طور پر ذمہ دار ہوگا۔ اور اللہ کے سامنے ہر عضو اقرار گناہ کرے گا اور سرتسلیم خم کرے گا۔ یہ نہایت ہیبت ناک اور خوفناک منظر ہے۔ انسان اس منظر کے بارے میں سوچتے ہی کانپ اٹھتا ہے۔
یہ منظر یوں اختتام پذیر ہوتا ہے کہ ان کی زبانیں بند ہیں اور ان کے ہاتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کے پاؤں شہادت دے رہے ہیں ، حالانکہ انہیں اپنے ہاتھ پاؤں سے یہ توقع ہرگز نہ تھی۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کے ساتھ اس کے سوا کوئی اور سلوک کرتا اور انہیں جو سزا چاہتا ، دیتا اور ان پر جو مصیبت چاہتا لے آتا۔ یہاں اللہ دوسری سزاؤں کے دو نمونے بھی دیتا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو یوں ہوتا۔
يس 36:66
ولو نشآء لطمسنا۔۔۔۔ ولا یرجعون (66 – 67) “۔
یہ دو مناظر ہیں ان میں عذاب اور سزا بھی ہے اور تحقیر اور مزاح بھی ہے۔ تحقیر ان لوگوں کی ہے جو دعوت اسلامی کی تکذیب کرتے ہیں اور مزاح ان لوگوں کا ہے جو دین اسلام کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں ۔ جو یہ کہتے تھے۔
متی ھذا۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو “۔ چناچہ پہلے منظر میں ان کو ان کی شکل بگاڑ کر ان کو اندھا کردیا گیا ہے۔ اندھوں کے درمیان ایک دوسرے کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ ہے۔ وہ راستے کو عبور کرکے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ان کو اندھوں کی طرح راہ نہیں سوجھتی۔ اور وہ گرتے پڑتے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ سیدھی راہ دیکھ سکیں۔
فانی یبصرون (36: 66) ” کہاں سے انہیں راستہ سجھائی دے گا “۔ اور دوسرے منظر میں انہیں یوں دکھایا گیا ہے کہ چلتے چلتے وہ اپنی جگہ جم گئے ۔ بت بن گئے جو نہ آگے جاسکتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ حالانکہ ابھی یہ لوگ اندھے تھے اور ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے۔
ان دو مناظر میں وہ کھلونے نطر آتے ہیں ، ایسے کھلونے جنہیں دیکھ کر بےاختیار ہنسی آتی ہے۔ یہ وہی لوگ تھے جو قیامت کے وقوع کے بارے میں مزاح کرتے تھے اور اسے اہمیت ہی نہ دیتے تھے۔
یہ حالت تو ان کی اس وقت ہوگی جب قیامت واقع ہوجائے گی جس کے بارے میں انہیں بہت جلدی ہے لیکن اگر انہیں زمین پر مہلت دے دی گئی اور انہوں نے اس میں خوب ترقی کی اور اسے ترقی دی اور قیام قیامت تک اللہ کے منصوبے کے مطابق یہاں زندہ رہے تو بھی یہ لوگ ایک ایسی ناپسندیدہ حالت تک پہنچ جائیں گے جس کے اندر زندگی گزارنے کے بجائے وہ جلدی مرنا زیادہ پسند کریں گے۔ یہ لوگ ایسے ناتواں اور بوڑھے ہوجائیں گے اور ان کی جسمانی اور دماغی قوتیں اس قدر مضحل ہوجائیں گی کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہ آئے گی۔
يس 36:67
ولو نشآء لطمسنا۔۔۔۔ ولا یرجعون (66 – 67) “۔
یہ دو مناظر ہیں ان میں عذاب اور سزا بھی ہے اور تحقیر اور مزاح بھی ہے۔ تحقیر ان لوگوں کی ہے جو دعوت اسلامی کی تکذیب کرتے ہیں اور مزاح ان لوگوں کا ہے جو دین اسلام کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں ۔ جو یہ کہتے تھے۔
متی ھذا۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو “۔ چناچہ پہلے منظر میں ان کو ان کی شکل بگاڑ کر ان کو اندھا کردیا گیا ہے۔ اندھوں کے درمیان ایک دوسرے کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ ہے۔ وہ راستے کو عبور کرکے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ان کو اندھوں کی طرح راہ نہیں سوجھتی۔ اور وہ گرتے پڑتے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ سیدھی راہ دیکھ سکیں۔
فانی یبصرون (36: 66) ” کہاں سے انہیں راستہ سجھائی دے گا “۔ اور دوسرے منظر میں انہیں یوں دکھایا گیا ہے کہ چلتے چلتے وہ اپنی جگہ جم گئے ۔ بت بن گئے جو نہ آگے جاسکتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ حالانکہ ابھی یہ لوگ اندھے تھے اور ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے۔
ان دو مناظر میں وہ کھلونے نطر آتے ہیں ، ایسے کھلونے جنہیں دیکھ کر بےاختیار ہنسی آتی ہے۔ یہ وہی لوگ تھے جو قیامت کے وقوع کے بارے میں مزاح کرتے تھے اور اسے اہمیت ہی نہ دیتے تھے۔
یہ حالت تو ان کی اس وقت ہوگی جب قیامت واقع ہوجائے گی جس کے بارے میں انہیں بہت جلدی ہے لیکن اگر انہیں زمین پر مہلت دے دی گئی اور انہوں نے اس میں خوب ترقی کی اور اسے ترقی دی اور قیام قیامت تک اللہ کے منصوبے کے مطابق یہاں زندہ رہے تو بھی یہ لوگ ایک ایسی ناپسندیدہ حالت تک پہنچ جائیں گے جس کے اندر زندگی گزارنے کے بجائے وہ جلدی مرنا زیادہ پسند کریں گے۔ یہ لوگ ایسے ناتواں اور بوڑھے ہوجائیں گے اور ان کی جسمانی اور دماغی قوتیں اس قدر مضحل ہوجائیں گی کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہ آئے گی۔
يس 36:68
ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق ، افلا یعقلون (68) ” جب انسان بہت بوڑھا ہوجاتا ہے تو وہ دوبارہ الٹ کر طفل ناتواں بن جاتا ہے۔ لیکن اس میں بچوں جیسی محبوبیت اور کشش نہیں ہوتی۔ یوں بوڑھے لوگ پیچھے کی طرف چلتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس جو علم تھا ، اسے بھولتے جاتے ہیں۔ ان کے اعصاب کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی فکر مضحمل ہوتی جاتی ہے۔ ان کی قوت برداشت ختم ہوتی جاتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایسا انسان خالص بچہ ہوجاتا ہے۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ بچہ اگر توتلی زبان بھی بولتا ہے تو اچھا لگتا ہے۔ لوگ اسے دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں۔ وہ اگر کوئی حماقت کرتا ہے تو بھی دیکھنے والے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن بوڑھا تو کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔ اس کی حماقتوں کو محض رحم اور احترام ہی سے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اور جوں جوں اور کی قوتیں مضحمل ہوتی ہیں اور اس سے حماقتیں سرزد ہوتی ہیں۔ لوگ اس کے ساتھ مزاح کرتے ہیں۔ جوں وہ ناتواں ہوتا ہے اس کی کمر ٹیڑھی ہوتی ہے وہ پیچھے ہٹتا چلا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ برا انجام ہے جو دعوت اسلامی کو جھٹلانے والوں کے انتظار میں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ نے رشد و ہدایت سے محروم کردیا ہے اور ایمان کی وجہ سے ان کو جو اعزاز ملنے والا تھا ، اس سے وہ بےبہرہ رہ گئے۔
يس 36:69
درس نمبر 207 تشریح آیات
69 ۔۔۔ تا۔۔۔ 83
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس میں ان تمام مسائل کو لیا گیا ہے جو اس سورت کا محور ہیں۔ وحی کا مسئلہ ، وحی کی ماہیت ، مسئلہ الوہیت اور وحدانیت الٰہی۔ بعث بعد الموت اور حشر و نشر۔ اس سبق میں یہ تمام مسائل علیحدہ علیحدہ یکے بعد دیگرے بیان کیے گئے ہیں ، نہایت ہی موثر اور زور دار انداز میں۔ تمام موضوعات میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہر چیز کی صنعت میں دست قدرت کار فرما ہے اور اس کائنات کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ مضمون اس سبق اور اس سورت کی آخری آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
فسبحن الذی۔۔۔۔ ترجعون (36: 83) ” پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔ یہ دست قدرت اور اس کی صنعت کاریاں ہیں کہ اس نے جانوروں کو بشر کے لیے پیدا کیا اور ان کے تابع فرمان کردیا۔ جس نے انسان کو ایک حقیر نطفے سے پیدا کیا اور جس طرح ایک نہایت ہی چھوٹے نطفے سے اسے پیدا کیا۔ اسی طرح بوسیدہ ہڈیوں سے اسے دوبارہ پیدا کر دے گا۔ جس نے سرسبز درخت سے آگ پیدا کی۔ جس نے زمین و آسمان جیسی عظیم کائنات پیدا کی۔ اور جو اس جہاں کی ہر چیز کا مالک اور مقتدر اعلیٰ ہے۔ یہ ہے اس سورت کا خلاصہ۔
وما علمنہ الشعر۔۔۔۔ علی الکفرین (69 – 70) ”
۔ وحی کے موضوع پر سورت کے آغاز ہی میں بحث ہوئی تھی۔
یس ، والقرآن الحکیم۔۔۔۔۔ غفلون (36: 1 – 6) ” پس ، قسم ہے قرآن حکیم کی کہ تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو اور یہ قرآن غالب اور حکیم ہستی کا نازل کردہ ہے تاکہ تم خبردار کرو ایک ہی قوم کو جس کے باپ داد خبردار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے “۔ یہاں وحی کا ذکر اس مضمون اور مناسبت سے آتا ہے کہ یہ وحی الٰہی ہے ، شاعری نہیں ہے۔ کیونکہ بعض لوگ آپ پر یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ ﷺ شاعر ہیں اور قرآن کریم ایک مخصوص قسم کا شعری کلام ہے۔ دراصل کبرائے قریش جانتے تھے کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔ اور حضرت محمد ﷺ جو کلام لائے ہیں وہ عربوں کے اسالیب شعر کے مطابق نہ شعر ہے اور نہ ان کی نثر کی طرف نثر ہے۔ یہ الزام دراصل اسلام کے خلاف ان کی جانب سے پروپیگنڈے کی جنگ تھی۔ اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لئے قرآن اور حضور ﷺ پر یہ الزام تھا۔ ہاں یہ لوگ قرآن کریم کے حسن و جمال اور انوکھے اور موثر اسلوب کلام سے یہ استدلال کرتے تھے ۔ اس طرح عوام الناس اشعار اور قرآن میں فرق نہ کرسکتے تھے اور اس لیے وہ اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوتے تھے۔
یہاں اللہ اس بات کی تردید فرماتا ہے کہ ہم نے نبی ﷺ کو شاعری سکھائی ہے جب اللہ نے آپ کو شعر کا علم نہیں سکھایا تو آپ کو شعر کا علم ہی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ انسان وہی جانتا ہے جو اللہ اسے سکھاتا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس حقیقت سے بھی نقاب کشائی کرتا ہے کہ شعر کہنا آپ کے شایان شان ہی نہیں ہے۔ (وما ینبغی لہ) کیونکہ شاعری کا منہاج نبوت کے منہاج سے بہت ہی مختلف ہوتا ہے۔ شعر ایک تاثر ہوتا ہے اور تاثرات کا بیان ہوتا ہے۔ اور انسانی تاثرات مختلف حالات میں بدلتے رہتے ہیں جبکہ نبوت کا منہاج وحی پر مبنی ہوتا ہے اور مستقل ہوتا ہے۔ اور نبی ایک سیدھے راستے پر ہوتا ہے۔ اور اس ناموس الٰہی کے تابع ہوتا ہے جس کے مطابق یہ پوری کائنات رواں دواں ہوتی ہے۔ اور یہ ناموس بدلتی ہوئی خواہشات اور بدلتے ہوئے تاثرات کے مطابق نہیں بدلتا۔ جس طرح شعر بدلتے رہتے ہیں اور ہر حال میں شعر میں ایک نظریہ نہیں پایا جاتا۔
نبوت میں تو نبی براہ راست ہر وقت اللہ سے مربوط ہوتا ہے اور وہ براہ راست اللہ کی وحی سے ہدایت لیتا ہے اور اس کی جدوجہد دائمی انداز لئے ہوئے ہوتی ہے کہ زندگی کا نظام اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق چلے۔ جبکہ شعر ، اپنے اعلیٰ معیار کے ساتھ محض انسانی خواہشات اور جمال و کمال کے تاثرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ انسان میں انسانی سوچ کی تقصیرات اور کمزوریاں موجود ہوتی ہیں۔ اور وہ انسان کے محدود تصورات کا عکس ہوتا ہے اور انسان کی محدود صلاحیت اور علم کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ شعر جب اپنے مقام سے گر جاتا ہے تو یہ محض جسمانی لذت اور طبعی خواہشات اور جنسی لذت تک گر کر محدود ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد پھر وہ جسمانی بخار کا نام ہوتا ہے۔ لہٰذا نبوت اور شاعری اپنی نوعیت اور ماہیت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ شعر اگر اعلیٰ درجے کا بھی ہو وہ ان خواہشات پر مشتمل ہوتا ہے جو زمین سے اٹھتی ہیں اور نبوت آسمانوں سے ایک ہدایت کی شکل میں نازل ہوتی ہے۔
ان ھو الا ذکر وقران مبین (36: 69) ” یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھے جانے والی کتاب ہے “۔ ذکر اور قرآن دونوں ایک ہی چیز کی صفات ہیں ۔ ذکر اس معنی میں ہے کہ اس کتاب کا اصل مقصد ہی نصیحت ہے اور قرآن اس حساب سے ہے کہ اس کی تلاوت کی جاتی ہے ۔ یہ گویا اللہ کی یاد ہے اور دل اس میں مشغول ہوتا ہے اور قرآن ہے جس کی تلاوت زبان سے ہوتی ہے اور اسے نازل اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ اپنا مشین مقصد پورا کرے۔
يس 36:70
لینذر من ۔۔۔۔ الکفرین (36: 70) ” تاکہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت تمام ہوجائے “۔ قرآن نے کفر اور حیات کو بالمقابل رکھا ہے۔ گویا کفر موت کے ہم معنی ہے۔ اور جس شخص کے دل میں ایمان کی استعداد ہو ، وہ زندہ ہے اور قرآن کا مقصد یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر اس لیے نازل ہوا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے ان لوگوں کو ڈرائیں جو زندہ ہوں ، جن لوگوں کے اندر زندگی کی رمق ہو ، وہ مر نہ گئے ہوں تاکہ ڈرانے کا انہیں فائدہ ہو۔ رہے کفار تو وہ مردے ہوتے ہیں۔ ان کو ڈرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ نیز ڈرانے کا فیضہ اس لیے عائد کیا گیا ہے تاکہ وہ عذاب کے مستحق ہوجائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی کو سزا نہیں دیتا جب تک اس تک اللہ کا پیغام پہنچ نہ جائے اور پھر وہ کفر نہ کر دے۔ اور پھر اگر اللہ انہیں ہلاک کر دے تو وہ بلا حجت اور بغیر سبب کے ہلاک نہ کیا جائے۔
یوں لوگوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن کے حوالے سے لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک فریق وہ ہے جو اسے قبول کرتا ہے تو وہ زندہ ہے اور ایک وہ ہے جو قبول نہیں کرتا تو وہ مردہ ہے۔ اور اس فریق کو معلوم ہوجائے کہ اس کے خلاف فیصلہ برحق ہوا اور وہ سزا کا مستحق ہوجاتا ہے۔
اس سبق کے دوسرے ٹکڑے میں الوہیت اور وحدانیت کا مضمون بیان ہوا ہے۔ الوہیت اور وحدانیت کا یہ بیان لوگوں کے مشاہدات کے فریم ورک میں ہے کہ ذرا دیکھو کہ اللہ کے ان پر کس قدر انعامات ہیں جنہیں وہ استعمال کر رہے ہیں لیکن اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔
يس 36:71
اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ ما یسرون وما یعلنون (71 – 76)
کیا یہ دیکھتے نہیں ؟ اللہ کی نشانیاں تو ان کے سامنے موجود ہیں اور سب کو نظر آتی ہیں۔ نہ ان سے اوجھل ہیں اور نہ دور ہیں۔ اور نہ یہ نشانیاں اس قدر پیچیدہ ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لئے کسی بڑے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ یہ انعامات جو اللہ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے اور انسانوں کو ان کا مالک بنایا ، ان میں سے جانور ہیں جن کو انسانوں کے تابع بنایا جن پر انسان سوار ہوتے ہیں ، ان میں سے بعض نعمتوں کو کھاتے اور پیتے ہیں ۔ اور بعض سے بعض دوسرے فائدے اٹھاتے ہیں اور یہ سب امور اللہ کی تدابیر اور تقادیر کے مطابق ہے۔ اور پھر اللہ نے انسانوں کے اندر مختلف صلاحیتیں اور خصوصیات و دیعت فرمائیں۔ پھر جانوروں کو مختلف خصائص اور صلاحیتیں دیں۔ انسانوں کو یہ قدرت دی کہ وہ ان کو اپنا تابع فرمان بنائیں اور ان سے فائدے اٹھائیں۔ چناچہ وہ سدھائے گئے تابع فرمان بنائے گئے اور ان سے انسانوں کی مختلف حاجات و ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ انسانوں کے اندر یہ قدرت نہ تھی کہ وہ ازخود ان نعمتوں کو پیدا کرسکتے۔ سب نعمتیں تو بڑی بات ہے اگر تمام انسان جمع ہوجائیں اور وہ ایک مکھی کی تخلیق کرنا چاہیں تو وہ بھی نہ کرسکیں گے۔ نیز اللہ نے چونکہ مکھی کے اندر یہ خاصیت نہیں رکھی کہ وہ انسانوں کے تابع ہوجائے اس لیے آج تک انسان مکی کو تابع نہ کرسکے۔
افلا یشکرون (36: 73) ” پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے “۔ جب انسان ان معاملات کے بارے میں اس انداز سے سوچتا ہے اور قرآن کریم کی روشنی میں ان امور پر غور کرتا ہے تو وہ اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ تو اللہ کے انعامات کے اندر ڈوبا ہوا ہے اور اس پر اللہ کے کرم کی ہر وقت بارش ہو رہی ہے۔ اس کے ماحول کی ہر چیز اس کے لیے رحمت ہے۔ جب بھی وہ کسی حیوان پر سوار ہوتا ہے ، یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کھاتا ہے ، یا دودھ کا ایک گھونٹ پیتا ہے یا سوت ، اون اور ریشم کا کوئی کپڑا پہنتا ہے ، یا گھی اور پنیت استعمال کرتا ہے یا اپنے انعامات کو کام میں لاتا ہے تو اسے گہرا شعور حاصل ہوتا ہے کہ خالق کائنات کی رحمت کس قدر وسیع ہے اور اس کے انعامات کا دائرہ کسی قدر بڑا ہے۔ غرض یہ شعور اور بھی پختہ ہوجاتا ہے جب انسان اس جہاں کی تازہ اور باسی فصلوں اور پھلوں کو استعمال کرتا ہے اور اسی شعور کے نتیجے میں انسانی زندگی پوری کی پوری حمد و ثنا ہوجاتی ہے۔ قدم قدم پر اس شعور کی وجہ سے انسان عبادت اور بندگی کرتا ہے اور رات دن اللہ کا ثنا خواں ہوتا ہے۔
يس 36:72
اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ ما یسرون وما یعلنون (71 – 76)
کیا یہ دیکھتے نہیں ؟ اللہ کی نشانیاں تو ان کے سامنے موجود ہیں اور سب کو نظر آتی ہیں۔ نہ ان سے اوجھل ہیں اور نہ دور ہیں۔ اور نہ یہ نشانیاں اس قدر پیچیدہ ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لئے کسی بڑے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ یہ انعامات جو اللہ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے اور انسانوں کو ان کا مالک بنایا ، ان میں سے جانور ہیں جن کو انسانوں کے تابع بنایا جن پر انسان سوار ہوتے ہیں ، ان میں سے بعض نعمتوں کو کھاتے اور پیتے ہیں ۔ اور بعض سے بعض دوسرے فائدے اٹھاتے ہیں اور یہ سب امور اللہ کی تدابیر اور تقادیر کے مطابق ہے۔ اور پھر اللہ نے انسانوں کے اندر مختلف صلاحیتیں اور خصوصیات و دیعت فرمائیں۔ پھر جانوروں کو مختلف خصائص اور صلاحیتیں دیں۔ انسانوں کو یہ قدرت دی کہ وہ ان کو اپنا تابع فرمان بنائیں اور ان سے فائدے اٹھائیں۔ چناچہ وہ سدھائے گئے تابع فرمان بنائے گئے اور ان سے انسانوں کی مختلف حاجات و ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ انسانوں کے اندر یہ قدرت نہ تھی کہ وہ ازخود ان نعمتوں کو پیدا کرسکتے۔ سب نعمتیں تو بڑی بات ہے اگر تمام انسان جمع ہوجائیں اور وہ ایک مکھی کی تخلیق کرنا چاہیں تو وہ بھی نہ کرسکیں گے۔ نیز اللہ نے چونکہ مکھی کے اندر یہ خاصیت نہیں رکھی کہ وہ انسانوں کے تابع ہوجائے اس لیے آج تک انسان مکی کو تابع نہ کرسکے۔
افلا یشکرون (36: 73) ” پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے “۔ جب انسان ان معاملات کے بارے میں اس انداز سے سوچتا ہے اور قرآن کریم کی روشنی میں ان امور پر غور کرتا ہے تو وہ اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ تو اللہ کے انعامات کے اندر ڈوبا ہوا ہے اور اس پر اللہ کے کرم کی ہر وقت بارش ہو رہی ہے۔ اس کے ماحول کی ہر چیز اس کے لیے رحمت ہے۔ جب بھی وہ کسی حیوان پر سوار ہوتا ہے ، یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کھاتا ہے ، یا دودھ کا ایک گھونٹ پیتا ہے یا سوت ، اون اور ریشم کا کوئی کپڑا پہنتا ہے ، یا گھی اور پنیت استعمال کرتا ہے یا اپنے انعامات کو کام میں لاتا ہے تو اسے گہرا شعور حاصل ہوتا ہے کہ خالق کائنات کی رحمت کس قدر وسیع ہے اور اس کے انعامات کا دائرہ کسی قدر بڑا ہے۔ غرض یہ شعور اور بھی پختہ ہوجاتا ہے جب انسان اس جہاں کی تازہ اور باسی فصلوں اور پھلوں کو استعمال کرتا ہے اور اسی شعور کے نتیجے میں انسانی زندگی پوری کی پوری حمد و ثنا ہوجاتی ہے۔ قدم قدم پر اس شعور کی وجہ سے انسان عبادت اور بندگی کرتا ہے اور رات دن اللہ کا ثنا خواں ہوتا ہے۔
يس 36:73
اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ ما یسرون وما یعلنون (71 – 76)
کیا یہ دیکھتے نہیں ؟ اللہ کی نشانیاں تو ان کے سامنے موجود ہیں اور سب کو نظر آتی ہیں۔ نہ ان سے اوجھل ہیں اور نہ دور ہیں۔ اور نہ یہ نشانیاں اس قدر پیچیدہ ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لئے کسی بڑے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ یہ انعامات جو اللہ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے اور انسانوں کو ان کا مالک بنایا ، ان میں سے جانور ہیں جن کو انسانوں کے تابع بنایا جن پر انسان سوار ہوتے ہیں ، ان میں سے بعض نعمتوں کو کھاتے اور پیتے ہیں ۔ اور بعض سے بعض دوسرے فائدے اٹھاتے ہیں اور یہ سب امور اللہ کی تدابیر اور تقادیر کے مطابق ہے۔ اور پھر اللہ نے انسانوں کے اندر مختلف صلاحیتیں اور خصوصیات و دیعت فرمائیں۔ پھر جانوروں کو مختلف خصائص اور صلاحیتیں دیں۔ انسانوں کو یہ قدرت دی کہ وہ ان کو اپنا تابع فرمان بنائیں اور ان سے فائدے اٹھائیں۔ چناچہ وہ سدھائے گئے تابع فرمان بنائے گئے اور ان سے انسانوں کی مختلف حاجات و ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ انسانوں کے اندر یہ قدرت نہ تھی کہ وہ ازخود ان نعمتوں کو پیدا کرسکتے۔ سب نعمتیں تو بڑی بات ہے اگر تمام انسان جمع ہوجائیں اور وہ ایک مکھی کی تخلیق کرنا چاہیں تو وہ بھی نہ کرسکیں گے۔ نیز اللہ نے چونکہ مکھی کے اندر یہ خاصیت نہیں رکھی کہ وہ انسانوں کے تابع ہوجائے اس لیے آج تک انسان مکی کو تابع نہ کرسکے۔
افلا یشکرون (36: 73) ” پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے “۔ جب انسان ان معاملات کے بارے میں اس انداز سے سوچتا ہے اور قرآن کریم کی روشنی میں ان امور پر غور کرتا ہے تو وہ اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ تو اللہ کے انعامات کے اندر ڈوبا ہوا ہے اور اس پر اللہ کے کرم کی ہر وقت بارش ہو رہی ہے۔ اس کے ماحول کی ہر چیز اس کے لیے رحمت ہے۔ جب بھی وہ کسی حیوان پر سوار ہوتا ہے ، یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کھاتا ہے ، یا دودھ کا ایک گھونٹ پیتا ہے یا سوت ، اون اور ریشم کا کوئی کپڑا پہنتا ہے ، یا گھی اور پنیت استعمال کرتا ہے یا اپنے انعامات کو کام میں لاتا ہے تو اسے گہرا شعور حاصل ہوتا ہے کہ خالق کائنات کی رحمت کس قدر وسیع ہے اور اس کے انعامات کا دائرہ کسی قدر بڑا ہے۔ غرض یہ شعور اور بھی پختہ ہوجاتا ہے جب انسان اس جہاں کی تازہ اور باسی فصلوں اور پھلوں کو استعمال کرتا ہے اور اسی شعور کے نتیجے میں انسانی زندگی پوری کی پوری حمد و ثنا ہوجاتی ہے۔ قدم قدم پر اس شعور کی وجہ سے انسان عبادت اور بندگی کرتا ہے اور رات دن اللہ کا ثنا خواں ہوتا ہے۔
يس 36:74
لیکن لوگوں کے اندر یہ شعور نہیں ہے اس لیے وہ شکر نہیں بجا لاتے بلکہ انہوں نے الٹا اللہ کی مخلوق میں دوسری چیزوں کو اللہ کے سوا الٰہ اور مددگار بنا رکھا ہے۔
واتخذوا من دون ۔۔۔۔۔ جند محضرون (36: 74 – 75) ” انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے بلکہ یہ لوگ الٹے ان کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں “۔ ماضی میں یوں ہوتا تھا کہ بت اور آستانے پوجے جاتے تھے ، یا درختوں اور ستاروں کی پوجا کی جاتی تھی۔ فرشتوں ، اور جنوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ ماضی کی بت پرستی آج بھی بعض علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ لیکن جو لوگ اس مظاہر پرستی میں مبتلا نہیں ہیں وہ بھی خالص توحید کے قائل نہیں ہیں۔ آج اکثر لوگ اللہ کے سوا دوسری کھوٹی اور جھوٹی قوتوں سے خائف ہیں اور اللہ کے سوا دوسرے سہاروں پر اعتماد کرتے ہیں ۔ شرک کے بہرحال بہت سے رنگ ہوتے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس کے رنگ ڈھنگ بھی بدلتے رہتے ہیں۔
یہ لوگ ان الہوں کی بندگی اس لیے کرتے تھے کہ ان کے ذریعے یہ لوگ کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ حالانکہ عملاً صورت حالات یہ ہوتی تھی کہ ان کے الہوں کے خلاف اگر کوئی کچھ اقدام کرتا تھا تو یہ لوگ اپنے الہوں کی امداد کے لیے کھڑا ہوجاتے تھے اور اپنے الہوں کی حمایت کرتے تھے۔ اصل میں تو یہ لوگ اپنے کھوٹے خداؤں کے مددگار ہوتے تھے۔
يس 36:75
وھم لھم جند محضرون (36: 75) ” وہ اپنے الہوں کے لیے حاضر باش فوجدار تھے “۔ یہ اب کی سوچ اور فکر کی انتہائی کمزوری تھی۔ آج بھی لوگوں کی اکثریت اسی سوچ میں مبتلا ہے۔ اور صرف شکل و صورت کے اعتبار سے ہی اختلاف ہے۔ اصل سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آج جو لوگ بڑے بڑے سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کا الہہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ازمنۃ سابقہ کے بتوں کے پجاریوں سے کہیں دور نہیں ہیں۔ دراصل یہ لوگ ان بتوں کے فوجدار ہیں۔ یہ لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کو پوجتے بھی ہیں۔ اور ان کی حمایت و مدافعت بھی کرتے ہیں۔
بت پرستی بہرحال بت پرستی ہے۔ اس کی شکل و صورت مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ہر دور میں موجود ہوتی ہے۔ اور جب بھی عقیدہ توحید میں اضطراب پیدا ہوتا ہے بت پرستی کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ شرک اور جاہلیت لے لیتی ہے۔ انسانوں کی فلاح اور نجات صرف توحید خالص میں ہے جس کے اندر صرف اللہ ہی کو الٰہ سمجھا جائے۔ صرف اس کی بندگی کی جائے۔ اور صرف اسی پر بھروسہ کیا جائے اور اطاعت اور تعظیم بھی اسی کی کی جائے۔
يس 36:76
فلا یحزنک ۔۔۔۔۔ وما یعلنون (36: 76) ” اچھا جو باتیں یہ بنا رہے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں ۔ ان کی چھپی اور کھی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں “۔ اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے ۔ آپ کے مخاطب وہی لوگ تھے جنہوں نے اللہ کے سوا دو سروں کو الہہ بنار کھا تھا ۔ اور یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ۔ لہٰذا یہ لوگ نصیحت بھی نہ لیتے تھے ۔ حضور سے کہا گیا کہ آپ ان کی فکر نہ کریں ۔ اللہ ان کے بارے میں خوب جانتا ہے ۔ وہ تحریک اسلامی کے خلاف اور بت پر ستی کے حق میں جو تدابیر اختیار کررہے ہیں ، وہ ہماری نظر وں میں ہیں ۔ لہٰذا اے رسول آپ پر ان باتوں کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ ان کے معاملات قدرت المبیہ کے سامنے کھلے ہیں اور اللہ کی قدرت ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔
تحریک اسلامی کے کارکن جب یہ عقیدہ رکھیں تو ان کا معاملہ بہت ہی سہل ہوجاتا ہے ۔ وہ چونکہ صرف اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہتا ۔ کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ اللہ ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ یہ کہ وہ اللہ کے قبضے میں ہیں ، اللہ کی نظروں میں ہیں اگر چہ بظاہر یہ بات نظر نہ آتی ہو۔
يس 36:77
اس آخری سبق کا یہ تیسرا حصہ ہے ۔ اس میں حشر ونشر کے مسئلہ کو لیا گیا ہے ۔
اولم یرالانسان ۔۔۔۔۔ لہ کن فیکون (77-82)
اس حصے میں بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ انسان کو خود اپنے وجود اور اپنی ذات کی طرف دیکھنا چاہئے ۔ اس کی تخلیق کا آغاز کس طرح ہوا ، وہ کس طرح بڑا ہوا اور سن بلوغ کو پہنچا۔ یہ سب مراحل جو اس کی زندگی میں طے ہوئے وہ اس کی نظر وں میں ہیں ۔ وہ دیکھتارہا ہے ۔ کیا اس سے وہ کوئی سبق اور نصیحت نہیں لے رہا ہے ۔ کیا خود انسانی زندگی تخلیق وتشکیل سے وہ یہ سبق نہیں اخذاکر سکتا کہ اللہ کے لیے دوبارہ اٹھا نا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر چہ وہ مٹ جائے اور اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں ۔
اولم یر ۔۔۔۔۔ خصیم مبین (36: 77) ” کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا۔
سوال یہ ہے کہ وہ نطفہ کیا چیز ہے جس کے بارے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ انسان کا اصل قریب ہے ۔ یہ ایک حقیر پانی سے مرکب ہے ، یہ کوئی ٹھوس چیز ہے اور نہ اس کی کوئی قیمت ہے ۔ یہ ایک پانی ہے جس میں ہزارہا خل سے ہوتے ہیں ۔ ان ہزار ہا خلیوں میں سے صرف ایک جنین بنتا ہے ۔ اور یہ ایک جنین پھر انسان بنتا ہے ۔ یہ پھر اپنے رب اور خالق کے ساتھ گستاخانہ باتیں کرتا ہے۔ رب کی مخالفت کرتا ہے اور اپنے خالق سے برہان و دلیل کا مطالبہ کرتا ہے ۔
حالا ن کہ وہ خالق قدیر ہی ہے جس نے اس قدر حقیر چیز سے انسان کو بنایا اور ” خصیم مبین “ اور صریح جھگڑالوبن گیا ۔ ذراغور تو کیا جائے کہ یہ انسان کی اسے کیا بن گیا ۔ ذرا اس کے آغاز اور انجام پر غور کیا جائے ۔ کیا اس قدرت ” قادرہ “ کے سامنے یہ کوئی مشکل کام ہے کہ وہ اجزائے جسم کو دوبارہ یکجا کردے۔ اگر چہ وہ مرمٹنے کے بعد زمین میں بکھر گئے ہیں ۔
يس 36:78
وضرب ۔۔۔۔۔ خلق علیم (36: 78-79) ” وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے ۔ کہتا ہے ” کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں “۔ اس سے کہو ، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے “ کس قدر سادہ منطق ہے یہ ؟ نہایت فطری استدلال ۔ ایسا استدلال جو مشاہدہ کے مطابق نظر آتا ہے ۔ یہ نطفہ جو کچھ کہ وہ ہے کیا وہ بوسیدہ ہڈیوں سے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے ۔ کیا انسان اسی نطفے سے نہیں بنا اور کیا انسان کی پیدائش ثالی کا عمل پیدائش ادل کا عمل نہیں ہے اور جس ذات نے اسے حقیر نطفے کو ایک انسان بنایا اور اسے وہ شخصیت دی کہ وہ صریح جھگڑالو بن گیا تم وہ ذات ان بوسیدہ ہڈیوں سے انسان کو تیار نہیں کرسکتی اور انہی ہڈیوں اور اجزاء سے ایک خلق جدید تیار نہیں کرسکتی ؟ یہ معاملہ تو بہت ہی آسان اور ظاہر ہے ۔ اور اس قدر ظاہر ہے کہ اس پر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ چہ جائیکہ کوئی اس پر مباحثہ کرے ۔
قل یحییھا۔۔۔۔ خلق علیم (36: 79) ” اس سے کہو ، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے “۔
اس کے بعد اللہ کی قدرت خالقہ کی ماہیت کا ایک نمونہ انہیں بتایا جاتا کہ یہ بات ان کے ذہن میں بیٹھ جائے ۔ اللہ کی یہ صنعت کاری ان کے مشاہدہ اور ان کے روز مرہ کے معمولات میں سے ہے اور یہ اسے آزماتے رہتے ہیں ۔
يس 36:79
وضرب ۔۔۔۔۔ خلق علیم (36: 78-79) ” وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے ۔ کہتا ہے ” کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں “۔ اس سے کہو ، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے “ کس قدر سادہ منطق ہے یہ ؟ نہایت فطری استدلال ۔ ایسا استدلال جو مشاہدہ کے مطابق نظر آتا ہے ۔ یہ نطفہ جو کچھ کہ وہ ہے کیا وہ بوسیدہ ہڈیوں سے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے ۔ کیا انسان اسی نطفے سے نہیں بنا اور کیا انسان کی پیدائش ثالی کا عمل پیدائش ادل کا عمل نہیں ہے اور جس ذات نے اسے حقیر نطفے کو ایک انسان بنایا اور اسے وہ شخصیت دی کہ وہ صریح جھگڑالو بن گیا تم وہ ذات ان بوسیدہ ہڈیوں سے انسان کو تیار نہیں کرسکتی اور انہی ہڈیوں اور اجزاء سے ایک خلق جدید تیار نہیں کرسکتی ؟ یہ معاملہ تو بہت ہی آسان اور ظاہر ہے ۔ اور اس قدر ظاہر ہے کہ اس پر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ چہ جائیکہ کوئی اس پر مباحثہ کرے ۔
قل یحییھا۔۔۔۔ خلق علیم (36: 79) ” اس سے کہو ، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے “۔
اس کے بعد اللہ کی قدرت خالقہ کی ماہیت کا ایک نمونہ انہیں بتایا جاتا کہ یہ بات ان کے ذہن میں بیٹھ جائے ۔ اللہ کی یہ صنعت کاری ان کے مشاہدہ اور ان کے روز مرہ کے معمولات میں سے ہے اور یہ اسے آزماتے رہتے ہیں ۔
يس 36:80
الذی جعل۔۔۔۔ توقدون (36: 80 ) ” وہ جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی اور تم اس سے اپنے چولہے روشن کرتے ہو “۔ یعنی یہ سادی ابتدائی مشاہدہ ہی اللہ کی قدرت مذکورہ کی تصدیق کر دے گا۔ یہ مشاہدہ تم لوگ روز کرتے ہو لیکن اس کی حقیقت نہیں پاتے ہو۔ یہ سرسبز درخت جو پانی کے رس سے بھرا ہوا ہے جب اس کا ایک حصہ دوسرے سے رگڑا جاتا ہے تو اس سے آگ پیدا ہوتی ہے اور یہ درخت بھی پھر اس آگ کا ایندھن بن جاتا ہے۔ باوجود اپنی سرسبزی اور تروتازگی کے۔ اور وہ گہری تحقیق کہ درخت کے اندر جو طبیعی حرارت کا خزانہ ہوتا ہے ، جو وہ سورج کی تاب کاری سے جذب کرتا ہے اور وہ اسے اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتا ہے حالانکہ وہ پانی کے رس سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اور ان درختوں کے رگڑ سے پھر وہ آگ پیدا ہوتی ہے جس طرح جلنے کے عمل سے آگ پیدا ہوتی ہے تو اس حقیقی علم و معرفت سے یہ حقیقت اور کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہرے بھرے درخت سے آگ کس طرح نمودار ہوتی ہے۔ خالق کائنات ہی نے درختوں کے اندر یہ کمالات ودیعت فرمائے جس نے ہر چیز کو اسکی تخلیق دی اور پھر اسے حکم دیا کہ وہ ان مقاصد کو پورا کرے جن کے لئے پیدا کیا گیا۔ ہاں یہ ہماری بےراہ روی ہے کہ ہم اس مخلوق کو اسی زاویہ نظر سے نہیں کھلتے اور نہ وہ ہماری راہنمائی اس خالق اور صانع کی طرف کرتے ہیں۔ اگر ہم کھلے دلوں اور گہری نظروں کے ساتھ دیکھیں تو یہ اسرار و رموز ہماری دسترس میں ہیں اور ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ ہم انہیں سمجھیں ، اللہ کی بندگی کریں اور ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کرتے رہیں۔
اس کے بعد دلائل قدرت الہیہ بیان کیے جاتے ہیں اور یہ بتایا جاتا ہے کہ تخلیق کا یہ عمل کس قدر سادہ ہے اور اسی طرح اللہ کے لوگوں کا دوبارہ پیدا کرنا کس قدر آسان ہے۔
يس 36:81
اولیس الذی۔۔۔۔۔ الخلق العلیم (36: 81) ” کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کردیا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے کیوں نہیں ! جبکہ وہ ماہر خلاق ہے “۔
آسمان اور زمین اور یہ وسیع کائنات تو ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں اور اس میں لاکھوں ملین اجناس و اصناف مخلوقات موجود ہیں ، بعض اس قدر باریک کہ ہم ان کے حجم ہی کو نہیں پکڑ سکتے۔ نہ ہم ان کی حقیقت کو پاسکتے ہیں ۔ اور ان کے بارے میں آج تک ہم بہت کم جانتے ہیں۔ یہ زمین اس سورج کے کہکشاں میں سے ایک چھوٹا سا تابع سیارہ ہے جس پر ہم رہتے ہیں۔ اس میں ہم سورج کی روشنی اور حرارت سے رہتے ہیں اور ہمارا یہ سورج جس کہکشاں کے تابع ہے ، اس کے اندر ایک کروڑ ستاروں میں سے سورج ایک ہے جس سے ہماری قریب کی یہ دنیا بنتی ہے۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس جہاں میں کئی اور کہکشاں ہیں۔ اور کئی ایسی دنیا ئیں ہیں جس طرح ہماری قریب کی دنیا ہے۔ ماہرین فلکیات ابھی تک ایک کروڑ کہکشاؤں تک شمار کرسکتے ہیں اور یہ شمار انہوں نے اپنی محدود طاقت والی دوربینوں سے کیا ہے ۔ اور وہ اس انتظار میں ہیں کہ کئی اور کہکشاں دریافت ہوں گے جب طاقتور رصدگاہیں اور بہت ہی دور تک دکھانے والی دوربینیں بنا دی جائیں گی۔ ہماری اس کہکشاں اور اس سے قریب ترین کہکشاں کے درمیان فاصلہ کتنا ہے ؟ سات لاکھ پچاس ہزار نوری سال کا فاصلہ ہے۔ اور ایک نوری سال کا فاصلہ کیا ہوتا ہے یعنی 26 ملین میل۔ کہتے ہیں کہ طبعی مواد کا ایک عظیم ڈھیر یا گور تھا اور اس کے بکھرنے سے یہ سورج بنے ہیں۔ یہ ہے اللہ کی وسیع کائنات اور اس کی وسیع کرسی اور اس کے بارے میں ہمارے حقیر اور محدود معلومات۔
یہ سورج جن کو گنا نہیں جاسکتا ان میں سے ہر ایک کا ایک مدار یا آسمان اور فلک ہے جس کے اندر یہ سورج چلتا ہے اور ان سورجوں میں سے ہر سورج کے اپنے تابع اجرام ہیں جن کے اپنے اپنے مدار ہیں۔ وہ ان مداروں میں اپنے اپنے سورجوں کے گرد گھومتے ہیں۔ جس طرح ہماری زمین ہمارے سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ تمام گھومنے والے اربوں سورج اور چاند اور ستارے نہایت ہی دقیق اور متعین رفتار کے ساتھ چلتے ہیں اور کبھی اپنی رفتار اور مدار کو نہیں بدلتے۔ ایک لمحہ کے لیے نہیں رکتے۔ اگر ایسا ہوجائے تو کائنات کے تمام مجموعے جو اس وقت ان فضاؤں میں تیر رہے ہیں ، سب باہم متصادم ہوجائیں اور یہ تمام نظام درہم برہم ہوجائے۔
یہ فضا جس میں اربوں اجرام فلکی چکر لگا رہے ہیں اور جن کی تعداد بھی ابھی تک معلوم نہیں ، یوں ہیں جس طرح چھوٹے چھوٹے ذرے ہیں۔ نہ ان کی تصویر کشی ہو سکتی ہے اور نہ یہ دائرہ تصور میں آسکتے ہیں۔ یہ اس قدر وسیع و عریض کائنات کے حصے ہیں جس کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے۔ اولیس الذی۔۔۔۔ یخلق مثلھم (36: 81) ” وہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے “۔ لوگوں کی تخلیق تو ایک معمولی بات ہے جبکہ یہ کائنات بہت ہی وسیع اور عظیم ہے۔
بلی وھو الخلق العلیم (36: 81) ” ہاں وہ ماہر خلاق ہے “۔ اللہ نے یہ سب چیزیں پیدا کیں وہ ان کے علاوہ اور چیزوں کو بھی پیدا کرسکتا ہے اور بغیر کسی تکلیف اور محنت کے۔ اللہ کے لیے چھوٹی یا بڑی چیز کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں ہے۔
يس 36:82
انما امرہ ۔۔۔۔ کن فیکون (36: 82) ” وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے “۔ یہ چیز زمین ہو یا آسمان ہوں ، مچھر ہو یا پسو ہو ، یا چیونٹی ، یہ سب چیزیں اللہ کے حکم کے سامنے یکساں ہوتی ہیں۔ کن فیکون۔
اللہ کے سامنے مشکل و آسان کوئی چیز نہیں ہے۔ اللہ کے لیے قریب و بعید یکساں ہیں۔ صرف ارادے کا متوجہ ہونا ہوتا ہے
ادھر ارادہ ہوا ادھر وہ چیز ہوگئی۔ وہ جو بھی ہو۔ اللہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ لوگ اللہ کے اعمال و افعال کو سمجھ جائیں۔ ورنہ انسان کی محدود قوت مدرکہ کے لیے چیزوں کا سمجھنا ہی مشکل ہے۔
اب اس سورت میں انسان کے قلب و نظر کی تاروں پر ایک آخری ضرب لگائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی ضرب ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ خالق و مخلوق کے درمیان تعلق کیا ہے۔
يس 36:83
فسبحن الذی۔۔۔۔ ترجعون (83) ” “۔ لفظ ملکوت سے خالق و مخلوق کے تعلق کی اہمیت اور عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ اس کائنات کی ہر چیز مطلقا اللہ کی ملکیت ہے اور اس کائنات کی تمام مملوکات پر اللہ کا مکمل قبضہ اور کنٹرول ہے۔ دوسری بات یہ کہ تمام چیزوں کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ آخری ضرب ہے اور اس سورت کی نہایت عظیم اور ہولناک فضا کے لیے یہ نہایت ہی مناسب تنبیہہ ہے۔ اس سورت کا موضوع بھی نہایت ہی عظیم اور اہم ہے۔ اور اس کے اندر جو حقائق اور دلائل بھی لائے گئے ہیں وہ بھی بہت ہی عظیم اور ہولناک ہیں اور اس عظیم حقیقت سے مربوط و متعلق ہیں جن کی تفصیلات اور موضوع اس سورت میں دی گئی ہیں۔
الصافات 37:1
درس نمبر 208 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68
﷽
والصفت صفا۔۔۔۔۔ ورب المشارق (1 – 5) ۔ ۔ ” ، ۔ “۔
قطاروں میں صف آرا ہونے والے ، زجر کرنے والے اور تلاوت کرنے والے دراصل وہ فرشتے ہیں جو ان اعمال کے حامل ہیں۔ صفیں باندھنے والے یعنی نمازوں میں یا اللہ سے احکام لینے کے انتظار میں صف بستہ مراد ہوں اور زجر و توبیخ سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ جن نافرمانوں کی روح قبض کرنا مقصود ہو تو وہ ڈانٹتے ہوئے لیتے ہیں ، یا وہ جو حشر میں ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے جہنم کی طرف چلائیں گے۔ یا کسی بھی حال میں اللہ کی مرضی کے مطابق زجر کرنے والے۔ اور تلاوت و ذکر کرنے والوں سے مراد کتاب الٰہی پڑھنے والے اور اللہ کی تسبیحات کرنے والے ہوسکتے ہیں۔ غرض ملائکہ کی ان خاص اقسام و انواع کی قسم کھانے کی غرض وغایت یہ ہے کہ لوگو ! جان لو کہ۔
ان الھکم لواحد (37: 4) ” تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے ؛۔ اور ان فرشتوں کی اس حالت کی پھر قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ فرشتوں کے بارے میں عربوں کا مقصود بہت غلط تھا جیسا کہ ہم نے کہا کہ عرب فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھتے تھے اور بعض عرب فرشتوں کو الہہ بھی اس لیے بناتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں لہٰذا ہماری دیویاں ہیں۔
الصافات 37:2
درس نمبر 208 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68
﷽
والصفت صفا۔۔۔۔۔ ورب المشارق (1 – 5) ۔ ۔ ” ، ۔ “۔
قطاروں میں صف آرا ہونے والے ، زجر کرنے والے اور تلاوت کرنے والے دراصل وہ فرشتے ہیں جو ان اعمال کے حامل ہیں۔ صفیں باندھنے والے یعنی نمازوں میں یا اللہ سے احکام لینے کے انتظار میں صف بستہ مراد ہوں اور زجر و توبیخ سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ جن نافرمانوں کی روح قبض کرنا مقصود ہو تو وہ ڈانٹتے ہوئے لیتے ہیں ، یا وہ جو حشر میں ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے جہنم کی طرف چلائیں گے۔ یا کسی بھی حال میں اللہ کی مرضی کے مطابق زجر کرنے والے۔ اور تلاوت و ذکر کرنے والوں سے مراد کتاب الٰہی پڑھنے والے اور اللہ کی تسبیحات کرنے والے ہوسکتے ہیں۔ غرض ملائکہ کی ان خاص اقسام و انواع کی قسم کھانے کی غرض وغایت یہ ہے کہ لوگو ! جان لو کہ۔
ان الھکم لواحد (37: 4) ” تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے ؛۔ اور ان فرشتوں کی اس حالت کی پھر قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ فرشتوں کے بارے میں عربوں کا مقصود بہت غلط تھا جیسا کہ ہم نے کہا کہ عرب فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھتے تھے اور بعض عرب فرشتوں کو الہہ بھی اس لیے بناتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں لہٰذا ہماری دیویاں ہیں۔
الصافات 37:3
درس نمبر 208 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68
﷽
والصفت صفا۔۔۔۔۔ ورب المشارق (1 – 5) ۔ ۔ ” ، ۔ “۔
قطاروں میں صف آرا ہونے والے ، زجر کرنے والے اور تلاوت کرنے والے دراصل وہ فرشتے ہیں جو ان اعمال کے حامل ہیں۔ صفیں باندھنے والے یعنی نمازوں میں یا اللہ سے احکام لینے کے انتظار میں صف بستہ مراد ہوں اور زجر و توبیخ سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ جن نافرمانوں کی روح قبض کرنا مقصود ہو تو وہ ڈانٹتے ہوئے لیتے ہیں ، یا وہ جو حشر میں ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے جہنم کی طرف چلائیں گے۔ یا کسی بھی حال میں اللہ کی مرضی کے مطابق زجر کرنے والے۔ اور تلاوت و ذکر کرنے والوں سے مراد کتاب الٰہی پڑھنے والے اور اللہ کی تسبیحات کرنے والے ہوسکتے ہیں۔ غرض ملائکہ کی ان خاص اقسام و انواع کی قسم کھانے کی غرض وغایت یہ ہے کہ لوگو ! جان لو کہ۔
ان الھکم لواحد (37: 4) ” تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے ؛۔ اور ان فرشتوں کی اس حالت کی پھر قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ فرشتوں کے بارے میں عربوں کا مقصود بہت غلط تھا جیسا کہ ہم نے کہا کہ عرب فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھتے تھے اور بعض عرب فرشتوں کو الہہ بھی اس لیے بناتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں لہٰذا ہماری دیویاں ہیں۔
الصافات 37:4
درس نمبر 208 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68
﷽
والصفت صفا۔۔۔۔۔ ورب المشارق (1 – 5) ۔ ۔ ” ، ۔ “۔
قطاروں میں صف آرا ہونے والے ، زجر کرنے والے اور تلاوت کرنے والے دراصل وہ فرشتے ہیں جو ان اعمال کے حامل ہیں۔ صفیں باندھنے والے یعنی نمازوں میں یا اللہ سے احکام لینے کے انتظار میں صف بستہ مراد ہوں اور زجر و توبیخ سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ جن نافرمانوں کی روح قبض کرنا مقصود ہو تو وہ ڈانٹتے ہوئے لیتے ہیں ، یا وہ جو حشر میں ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے جہنم کی طرف چلائیں گے۔ یا کسی بھی حال میں اللہ کی مرضی کے مطابق زجر کرنے والے۔ اور تلاوت و ذکر کرنے والوں سے مراد کتاب الٰہی پڑھنے والے اور اللہ کی تسبیحات کرنے والے ہوسکتے ہیں۔ غرض ملائکہ کی ان خاص اقسام و انواع کی قسم کھانے کی غرض وغایت یہ ہے کہ لوگو ! جان لو کہ۔
ان الھکم لواحد (37: 4) ” تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے ؛۔ اور ان فرشتوں کی اس حالت کی پھر قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ فرشتوں کے بارے میں عربوں کا مقصود بہت غلط تھا جیسا کہ ہم نے کہا کہ عرب فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھتے تھے اور بعض عرب فرشتوں کو الہہ بھی اس لیے بناتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں لہٰذا ہماری دیویاں ہیں۔
الصافات 37:5
ضروری ہوا کہ فرشتوں کی حیثیت بتانے کے بعد اللہ خود اپنی تعریف بھی فرما دے :
رب السموت والارض وما بینھما ورب المشارق (38: 5) ” وہ جو زمینوں اور آسمانوں کا اور تمام ان چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان ہیں اور سارے مشرقوں کا مالک ہے “۔ یہ زمین اور آسمان جو انسانوں کے اردگرد قائم ہیں وہ انسانوں کو بتاتے ہیں کہ اس عظیم کائنات کا ایک خالق مدبر ہے۔ اس جہاں میں کوئی ذات اس کے سوا نہیں ہے جس کا یہ دعویٰ ہو کہ اس کی تخلیق اور تدبیر میں اس کا بھی حصہ ہے۔ کوئی عقلمند انسان اس اعتراف سے نہیں بھاگ سکتا کہ اس جہاں کا خالق بےقید قدرتوں کا مالک ہے۔ اور وہ رب ہے اور وہی مالک ہے زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہر چیز کا۔ خواہ ہوائیں ہیں ، بادل ہیں ، روشنی ہے ، مخلوقات ہیں ، دیکھی جانے والی مخلوقات ہیں یا ایسی مخلوقات ہیں جو نظر نہیں اسکتیں اور آئے دن ان کے بارے میں انسانوں کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ان کی اکثریت اب بھی نظروں سے اوجھل ہے۔
آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی مسافتیں اسی قدر وسیع ، اس قدر عظیم ہیں اور ان کے درمیان پائی جانے والی مخلوقات اس قدر متنوع ، خوبصورت اور باہم ہم آہنگ ہیں کہ ایک زندہ دل انسان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور اس کائنات سے گہرے تاثر اور عبرت پکڑنے اور اس پر غور و فکر کے بغیر وہی شخص گزر سکتا ہے جس کا دل مر چکا ہو۔ اس لیے ایسے شخص پر پھر یہ خوشگوار تاثرات کوئی اثر نہیں کرتے اور اس کا دل و دماغ ان عجائبات کو دیکھ کر بھی جوش میں نہیں آتا۔
رب المشارق (37: 5) ” مشرقوں کا مالک “۔ ہر ستارے کے لیے ایک مشرق ہے اور ہر سیارے کا بھی ایک مشرق ہے۔ لہٰذا اس کائنات میں بیشمار مشارق ہیں۔ ان وسیع اجرام فلکی میں ان گنت مشارق ہیں۔ اس تعبیر میں اس زمین کی طرف بھی گہرا اشارہ ہے جس پر ہم رہتے ہیں۔ زمین جب سورج کے سامنے حرکت محوری کا عمل کرتی ہے ، تو کسی نہ کسی وقت اس کا ایک حصہ مشرق ہوتا ہے ۔ اسی طرح کسی نہ کسی وقت اس کا ایک حصہ مغرب ہوتا رہتا ہے۔ اور یہ عمل پے در پے چلتا رہتا ہے۔ جونہی کوئی حصہ سورج کے سامنے آتا ہے وہ مشرق ہوتا ہے۔ اور اس کے بالمقابل حصہ مغرب ہوتا ہے۔ جوں جوں حرکت اور گردش ہوتی رہتی ہے ، مشرق بھی بدلتا رہتا ہے اور مغرب بھی۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے نزول قرآن کے وقت لوگ بیخبر تھے۔ لیکن اللہ نے ان کو اس قدر قدیم زمانے میں خبر دے دی۔
یہ نہایت ہی گہرا نظام ہے ، جس کے مطابق اس زمین پر مشارق رواں دواں ہیں اور یہ خوبصورتی جو طلوع آفتاب کے وقت اس زمین پر بکھر جاتی ہے ، یہ اس قابل ہے کہ انسانی دل کو خوشگوار ، تاثر اور گہرے غور وفکر کے تاثرات سے بھر دیں۔ اور انسان چلا اٹھے کہ صانع کائنات کی کیا شان ہے اور انسان چلا اٹھے کہ بیشک اللہ وحدہ خالق کائنات ہے کہ اس عجیب صفت کے آثار اور اس کی مسافت اور طبیعت یہ بتاتی ہے کہ اس کا بنانے والا ایک ہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ کی صفت رب المشارق کو لایا گیا ہے۔ عنقریب ہم کواکب ، شہاب ثاقب ، شیاطین اور ان کے بھگائے جانے پر بحث کریں گے ، اس موقعہ پر رب المشارق کے کچھ اور مفہوم اور مناسبتیں بھی بیان کریں گے۔
الصافات 37:6
ربنا زینا السمآء۔۔۔۔ الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب (6 –۔۔
سورت کے آغاز میں ملائکہ کے بارے میں عربوں کے غلط خیالات پر بحث کی گئی تھی ، یہاں شیاطین کے بارے میں ان کے غلط خیالات کو لیا جاتا ہے۔ عربوں کئ یہ خیالات تھے کہ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری ہے۔ بعض عرب محض اس خیال سے شیاطین کی پوجا کرتے تھے کہ شیاطین کو ملکوت السموات کی بعض غیوب کا علم ہوتا ہے۔ وہ ملاء اعلیٰ سے وابستہ ہوتے ہیں اور یوں نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ زمین ، آسمان اور مشرقوں کے ذکر کے بعد ، چاہے ان سے مراد ستاروں کے مشرق ہوں ، زمین کے اوپر جاری مشرق ہوں ، یا دونوں مشرق ہوں یا ان سے مراد نور اور روشنی ہو ، بہرحال اب یہاں کواکب کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
انا زینا السماء الدنیا بزینۃ الکواکب (37: 6) ” ہم نے آسمان دنیا کو تاروں سے آراستہ کیا ہے “۔ صرف ایک نظر ہی سے یہ زینت دکھائی دیتی ہے۔ چاندنی رات میں تارے اور کواکب کیا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق کائنات میں جمال ایک اہم عنصر ہے۔ جس طرح اللہ کی تخلیق غوروفکر کے بعد انوکھی معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح خوبصورت بھی معلوم ہوتی ہے۔ جمال اس کائنات کے نقشے میں کوئی عارضی رنگ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک حقیقی عنصر ہے۔ تخلیق کائنات میں دو چیزیں بنیادی مواد ہیں۔ ایک کمال درجے کا منصوبہ اور دوسرا نہایت ہی خوبصورت نقوش فطرت۔ یہ دونوں عنصر برابر اور مقصود بالذات ہیں۔ اور اس کائنات میں کمال و جمال دونوں اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔
چاندنی رات میں جب انسان تاروں بھرے آسمان کو دیکھتا ہے تو وہ اس دنیا کے خوبصورت ترین منظر کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہ منظر اس قدر خوبصورت ہوتا ہے کہ انسان دیکھتا چلا جائے ، نظریں تھکتی نہیں اور دل ملول نہیں ہوتا۔ ہر ستارہ ضوبار ہوتا ہے اور چمکتا ہے۔ ہر سیارہ اپنا نور بکھیر رہا ہوتا ہے۔ انسان محسوس کر رہا ہے کہ یہ کائنات کی محبت بھری آنکھیں ہیں جو نظر چرا کے دیکھ رہی ہیں اور جب انسان ان پر نطر ڈالتا ہے تو یہ آنکھیں بند ہوجاتی ہیں ، چھپ جاتی ہیں اور جب آپ ان سے نظر ہٹاتے ہیں تو یہ آنکھیں پھر چمک اٹھتی ہیں اور اپنے منظور نطر کی تلاش میں رہتی ہیں۔ ہر رات ان آنکھوں کا موقف مختلف ہوتا ہے اور منزل جدا ہوتی ہے یہ بھی انسان کے لیے ایک ذہبی اور نفسیاتی خوارک ہے اور اسے جس قدر بھی کوئی کھائے سیر نہیں ہوتا اور نہ ملول ہوتا ہے۔
اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ ان کواکب کا ایک دوسرا فریضہ بھی ہے ۔ ان میں سے بعض شہاب ثاقب ہوتے ہیں اور یہ ان شیاطین پر بمباری کرتے ہیں جو ملاء اعلیٰ کے قریب جانے کی سعی کرتے ہیں۔
الصافات 37:7
وحفظا من ۔۔۔۔ شھاب ثاقب (37: 7 – 10) اور ہر سرکش شیطان سے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے۔ ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے۔ تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے آرے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔
بعض سیارے ایسے ہوتے ہیں جو عالم بالا کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ یہ عالم بالا میں جو فیصلے اس عالم کے بارے میں ہوتے ہیں ، شیاطین کو ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے روکتے رہیں۔ جب بھی کوئی شیطان عالم بالا سے کوئی راز چرانے کی سعی کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اور ان کو مار کا ہانک دیتے ہیں۔ ایسے شیاطین متمردین کے لیے آخرت میں ایسا عذاب ہوگا جو کبھی ختم ہونے والا نہ ہوگا۔ بعض اوقات شیاطین ، بعض معلومات لے آرتے ہیں ایسے شیاطین کا پیچھا یہ شہاب ثاقب کرتے ہیں ۔ یہ شہاب ایسے شیاطین پر لگتے ہیں اور انہیں جلا کر رکھ دیتے ہیں۔
ہم ان کیفیات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکتے کہ یہ شیاطین جاسوسی کا یہ عمل کس طرح کرتے ہیں اور کس طرح وہ کچھ معلومات لے اڑتے ہیں اور کس طرح انہیں شہاب ثاقب کے ذریعے بھسم کردیا جاتا ہے۔ یہ عالم غیب کی باتیں ہیں اور انسانی فہم و ادراک کی جو طبیعت ہے وہ انکے معلوم کرنے سے عاجز ہے۔ اور نہ ان کی کیفیات کا تصور کرسکتی ہے۔ ہمارا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ آجائے ہم اس کی تصدیق کردیں۔ اس جہاں کے اندر ہم طبیعات کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں وہ سطحی علم ہے
اصل بات یہ ہے کہ یہ شیاطین جن کو عالم بالا تک پہنچنے نہیں دیا جاتا۔ اور وہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کی طرف کان لگانے سے بھی ان کو روکا جاتا ہے۔ وہی شیاطین ہیں جن کے بارے میں عرب کے لوگوں کا دعویٰ تھا کہ ان کا اور اللہ تعالیٰ کا آپس میں رشتہ ہے (نعوذ باللہ) ۔ اگر ان لوگوں کا یہ دعویٰ درست ہوتا تو معاملہ مختلف ہوتا۔ اور یہ نہ ہوتا کہ اللہ کے رشتہ داروں کو اس طرح دھتکارا جاتا ، ہانکا جاتا اور اگر کچھ بات وہ لے اڑیں تو انہیں رجم کردیا جاتا۔ یہ رشتہ دار تو عالم بالا میں آزادانہ آتے جاتے۔
ملائکہ کے ذکر اور آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان اشیاء کے ذکر کے بعد اور ان ستاروں کے ذکر کے بعد جن سے آسمانوں کو مزین کیا گیا اور ان شیطانوں کے ذکر کے بعد جو سرکش ہیں اور جن پر شہاب ثاقب چھوڑے جاتے ہیں ، اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ذرا ان لوگوں سے پوچھیں کہ وہ زیادہ طاقتور ہیں یا مذکورہ بالا ۔۔۔۔۔۔۔ طاقتور ہے اور زیادہ قوی ہے تو پھر وہ دوبارہ اٹھائے جانے کے تصور سے کیوں دہشت زدہ ہوجاتے ہیں اور مزاح کرتے ہیں۔ اور اس کے وقوع کو مستبعد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قیامت میں لوگوں کو دوبارہ اٹھانا اس عظیم اور ہولناک مخلوقات کی پیدائش سے زیادہ مشکل امر نہیں ہے۔
الصافات 37:8
وحفظا من ۔۔۔۔ شھاب ثاقب (37: 7 – 10) اور ہر سرکش شیطان سے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے۔ ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے۔ تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے آرے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔
بعض سیارے ایسے ہوتے ہیں جو عالم بالا کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ یہ عالم بالا میں جو فیصلے اس عالم کے بارے میں ہوتے ہیں ، شیاطین کو ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے روکتے رہیں۔ جب بھی کوئی شیطان عالم بالا سے کوئی راز چرانے کی سعی کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اور ان کو مار کا ہانک دیتے ہیں۔ ایسے شیاطین متمردین کے لیے آخرت میں ایسا عذاب ہوگا جو کبھی ختم ہونے والا نہ ہوگا۔ بعض اوقات شیاطین ، بعض معلومات لے آرتے ہیں ایسے شیاطین کا پیچھا یہ شہاب ثاقب کرتے ہیں ۔ یہ شہاب ایسے شیاطین پر لگتے ہیں اور انہیں جلا کر رکھ دیتے ہیں۔
ہم ان کیفیات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکتے کہ یہ شیاطین جاسوسی کا یہ عمل کس طرح کرتے ہیں اور کس طرح وہ کچھ معلومات لے اڑتے ہیں اور کس طرح انہیں شہاب ثاقب کے ذریعے بھسم کردیا جاتا ہے۔ یہ عالم غیب کی باتیں ہیں اور انسانی فہم و ادراک کی جو طبیعت ہے وہ انکے معلوم کرنے سے عاجز ہے۔ اور نہ ان کی کیفیات کا تصور کرسکتی ہے۔ ہمارا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ آجائے ہم اس کی تصدیق کردیں۔ اس جہاں کے اندر ہم طبیعات کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں وہ سطحی علم ہے
اصل بات یہ ہے کہ یہ شیاطین جن کو عالم بالا تک پہنچنے نہیں دیا جاتا۔ اور وہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کی طرف کان لگانے سے بھی ان کو روکا جاتا ہے۔ وہی شیاطین ہیں جن کے بارے میں عرب کے لوگوں کا دعویٰ تھا کہ ان کا اور اللہ تعالیٰ کا آپس میں رشتہ ہے (نعوذ باللہ) ۔ اگر ان لوگوں کا یہ دعویٰ درست ہوتا تو معاملہ مختلف ہوتا۔ اور یہ نہ ہوتا کہ اللہ کے رشتہ داروں کو اس طرح دھتکارا جاتا ، ہانکا جاتا اور اگر کچھ بات وہ لے اڑیں تو انہیں رجم کردیا جاتا۔ یہ رشتہ دار تو عالم بالا میں آزادانہ آتے جاتے۔
ملائکہ کے ذکر اور آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان اشیاء کے ذکر کے بعد اور ان ستاروں کے ذکر کے بعد جن سے آسمانوں کو مزین کیا گیا اور ان شیطانوں کے ذکر کے بعد جو سرکش ہیں اور جن پر شہاب ثاقب چھوڑے جاتے ہیں ، اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ذرا ان لوگوں سے پوچھیں کہ وہ زیادہ طاقتور ہیں یا مذکورہ بالا ۔۔۔۔۔۔۔ طاقتور ہے اور زیادہ قوی ہے تو پھر وہ دوبارہ اٹھائے جانے کے تصور سے کیوں دہشت زدہ ہوجاتے ہیں اور مزاح کرتے ہیں۔ اور اس کے وقوع کو مستبعد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قیامت میں لوگوں کو دوبارہ اٹھانا اس عظیم اور ہولناک مخلوقات کی پیدائش سے زیادہ مشکل امر نہیں ہے۔
الصافات 37:9
وحفظا من ۔۔۔۔ شھاب ثاقب (37: 7 – 10) اور ہر سرکش شیطان سے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے۔ ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے۔ تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے آرے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔
بعض سیارے ایسے ہوتے ہیں جو عالم بالا کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ یہ عالم بالا میں جو فیصلے اس عالم کے بارے میں ہوتے ہیں ، شیاطین کو ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے روکتے رہیں۔ جب بھی کوئی شیطان عالم بالا سے کوئی راز چرانے کی سعی کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اور ان کو مار کا ہانک دیتے ہیں۔ ایسے شیاطین متمردین کے لیے آخرت میں ایسا عذاب ہوگا جو کبھی ختم ہونے والا نہ ہوگا۔ بعض اوقات شیاطین ، بعض معلومات لے آرتے ہیں ایسے شیاطین کا پیچھا یہ شہاب ثاقب کرتے ہیں ۔ یہ شہاب ایسے شیاطین پر لگتے ہیں اور انہیں جلا کر رکھ دیتے ہیں۔
ہم ان کیفیات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکتے کہ یہ شیاطین جاسوسی کا یہ عمل کس طرح کرتے ہیں اور کس طرح وہ کچھ معلومات لے اڑتے ہیں اور کس طرح انہیں شہاب ثاقب کے ذریعے بھسم کردیا جاتا ہے۔ یہ عالم غیب کی باتیں ہیں اور انسانی فہم و ادراک کی جو طبیعت ہے وہ انکے معلوم کرنے سے عاجز ہے۔ اور نہ ان کی کیفیات کا تصور کرسکتی ہے۔ ہمارا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ آجائے ہم اس کی تصدیق کردیں۔ اس جہاں کے اندر ہم طبیعات کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں وہ سطحی علم ہے
اصل بات یہ ہے کہ یہ شیاطین جن کو عالم بالا تک پہنچنے نہیں دیا جاتا۔ اور وہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کی طرف کان لگانے سے بھی ان کو روکا جاتا ہے۔ وہی شیاطین ہیں جن کے بارے میں عرب کے لوگوں کا دعویٰ تھا کہ ان کا اور اللہ تعالیٰ کا آپس میں رشتہ ہے (نعوذ باللہ) ۔ اگر ان لوگوں کا یہ دعویٰ درست ہوتا تو معاملہ مختلف ہوتا۔ اور یہ نہ ہوتا کہ اللہ کے رشتہ داروں کو اس طرح دھتکارا جاتا ، ہانکا جاتا اور اگر کچھ بات وہ لے اڑیں تو انہیں رجم کردیا جاتا۔ یہ رشتہ دار تو عالم بالا میں آزادانہ آتے جاتے۔
ملائکہ کے ذکر اور آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان اشیاء کے ذکر کے بعد اور ان ستاروں کے ذکر کے بعد جن سے آسمانوں کو مزین کیا گیا اور ان شیطانوں کے ذکر کے بعد جو سرکش ہیں اور جن پر شہاب ثاقب چھوڑے جاتے ہیں ، اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ذرا ان لوگوں سے پوچھیں کہ وہ زیادہ طاقتور ہیں یا مذکورہ بالا ۔۔۔۔۔۔۔ طاقتور ہے اور زیادہ قوی ہے تو پھر وہ دوبارہ اٹھائے جانے کے تصور سے کیوں دہشت زدہ ہوجاتے ہیں اور مزاح کرتے ہیں۔ اور اس کے وقوع کو مستبعد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قیامت میں لوگوں کو دوبارہ اٹھانا اس عظیم اور ہولناک مخلوقات کی پیدائش سے زیادہ مشکل امر نہیں ہے۔
الصافات 37:10
وحفظا من ۔۔۔۔ شھاب ثاقب (37: 7 – 10) اور ہر سرکش شیطان سے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے۔ ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے۔ تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے آرے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔
بعض سیارے ایسے ہوتے ہیں جو عالم بالا کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ یہ عالم بالا میں جو فیصلے اس عالم کے بارے میں ہوتے ہیں ، شیاطین کو ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے روکتے رہیں۔ جب بھی کوئی شیطان عالم بالا سے کوئی راز چرانے کی سعی کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اور ان کو مار کا ہانک دیتے ہیں۔ ایسے شیاطین متمردین کے لیے آخرت میں ایسا عذاب ہوگا جو کبھی ختم ہونے والا نہ ہوگا۔ بعض اوقات شیاطین ، بعض معلومات لے آرتے ہیں ایسے شیاطین کا پیچھا یہ شہاب ثاقب کرتے ہیں ۔ یہ شہاب ایسے شیاطین پر لگتے ہیں اور انہیں جلا کر رکھ دیتے ہیں۔
ہم ان کیفیات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکتے کہ یہ شیاطین جاسوسی کا یہ عمل کس طرح کرتے ہیں اور کس طرح وہ کچھ معلومات لے اڑتے ہیں اور کس طرح انہیں شہاب ثاقب کے ذریعے بھسم کردیا جاتا ہے۔ یہ عالم غیب کی باتیں ہیں اور انسانی فہم و ادراک کی جو طبیعت ہے وہ انکے معلوم کرنے سے عاجز ہے۔ اور نہ ان کی کیفیات کا تصور کرسکتی ہے۔ ہمارا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ آجائے ہم اس کی تصدیق کردیں۔ اس جہاں کے اندر ہم طبیعات کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں وہ سطحی علم ہے
اصل بات یہ ہے کہ یہ شیاطین جن کو عالم بالا تک پہنچنے نہیں دیا جاتا۔ اور وہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کی طرف کان لگانے سے بھی ان کو روکا جاتا ہے۔ وہی شیاطین ہیں جن کے بارے میں عرب کے لوگوں کا دعویٰ تھا کہ ان کا اور اللہ تعالیٰ کا آپس میں رشتہ ہے (نعوذ باللہ) ۔ اگر ان لوگوں کا یہ دعویٰ درست ہوتا تو معاملہ مختلف ہوتا۔ اور یہ نہ ہوتا کہ اللہ کے رشتہ داروں کو اس طرح دھتکارا جاتا ، ہانکا جاتا اور اگر کچھ بات وہ لے اڑیں تو انہیں رجم کردیا جاتا۔ یہ رشتہ دار تو عالم بالا میں آزادانہ آتے جاتے۔
ملائکہ کے ذکر اور آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان اشیاء کے ذکر کے بعد اور ان ستاروں کے ذکر کے بعد جن سے آسمانوں کو مزین کیا گیا اور ان شیطانوں کے ذکر کے بعد جو سرکش ہیں اور جن پر شہاب ثاقب چھوڑے جاتے ہیں ، اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ذرا ان لوگوں سے پوچھیں کہ وہ زیادہ طاقتور ہیں یا مذکورہ بالا ۔۔۔۔۔۔۔ طاقتور ہے اور زیادہ قوی ہے تو پھر وہ دوبارہ اٹھائے جانے کے تصور سے کیوں دہشت زدہ ہوجاتے ہیں اور مزاح کرتے ہیں۔ اور اس کے وقوع کو مستبعد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قیامت میں لوگوں کو دوبارہ اٹھانا اس عظیم اور ہولناک مخلوقات کی پیدائش سے زیادہ مشکل امر نہیں ہے۔
الصافات 37:11
فاستفتھم اھم ۔۔۔۔۔ اباؤنا الاولون (11 – 17)
ذرا ان سے پوچھو کہ تم مانتے ہو کہ ملائکہ ، سماوات ، زمین ، ان کے درمیان فضائیں ، شیاطین ، ستارے اور شہاب ثاقب سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ تو کیا تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا اللہ کے ان جہانوں کی تخلیق ؟
اس سوال کے بعد ان کے جواب کا انتظار ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ جواب تو ظاہر ہے ۔ یہ سوال تو محض سرزنش کے لیے کیا گیا ہے اور ان کی غباوت پر تعجب کے اظہار کے لیے کیا گیا ہے۔ اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ لوگ حددرجہ غافل اور حیران کن حد تک نافہم نہیں۔ چناچہ ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی جاتی ہے کہ آغاز میں تمہیں ایک لیس دار گارے سے بنایا گیا ہے۔ اور یہ گارا اسی زمین سے لیا گیا ہے۔ جو خلائق میں سے ایک ہے۔
انا خلقنھم من طین لازب (37: 11) ” ہم نے انہیں لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے “۔ لہٰذا یہ لوگ پیدائش کے اعتبار سے کوئی زیادہ دشوار نہیں ہیں اور نہ ان کی تخلیق مشکل ہے۔ لہٰذا ان کا موقف عجیب ہے کہ اپنی حماقتوں کو نہیں سمجھتے۔ الٹا اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ ان کو بعث بعد الموت کی جواب دہی سے ڈرایا جاتا ہے اور یہ اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ ان کی یہی حماقت ہے جس پر حضور اکرم ﷺ کو تعجب ہوتا ہے اور یہ لوگ ہیں کہ اپنی روش پر چل رہے ہیں۔
الصافات 37:12
بل عجبت ویسخرون۔۔۔۔۔ ایۃ یستخرون (37: 12 – 14) ” تم حیران ہو اور یہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے۔ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھہ میں اڑا دیتے ہیں “۔ رسول اللہ ﷺ کو تو حق ہے کہ آپ ان کے معاملات پر تعجب کریں۔ کیونکہ آپ تو اللہ کو اپنے قلب میں پاتے ہیں۔ جس طرح ہر مومن پاتا ہے اور اللہ کی آیات کو واضح طور پر دیکھتا ہے۔ جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔ آپ کو اس پر تعجب ہے کہ ان آیات اور نشانیوں کو دیکھتے ہوئے کس طرح ایک شخص اندھا ہوسکتا ہے اور کس طرح اس قسم کا جاہلانہ موقف اختیار کرسکتا ہے۔
ادھر رسول اللہ ﷺ ان کے رویہ کی وجہ سے انگشت بدنداں ہیں ، ادھر ان کی حالت یہ ہے کہ مسئلہ کی اس قدر وضاحت کے باوجود ، عقیدہ توحید اور بعث بعد الموت کے مسائل کے واضح ہونے کے باوجود ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ اور وہ مذاق کرتے ہیں ۔ بلکہ وہ مذاق طلب کرتے ہیں ۔ دوسروں کو بھی مذاق کی دعوت دیتے ہیں۔ لفظ (یستخرون) سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے مذاق اور نافہمی کا ایک نمونہ یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن مجید کو جادو کہتے ہیں اور اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ قرآن کریم موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے نظریہ کی دعوت دیتا ہے۔
الصافات 37:13
بل عجبت ویسخرون۔۔۔۔۔ ایۃ یستخرون (37: 12 – 14) ” تم حیران ہو اور یہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے۔ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھہ میں اڑا دیتے ہیں “۔ رسول اللہ ﷺ کو تو حق ہے کہ آپ ان کے معاملات پر تعجب کریں۔ کیونکہ آپ تو اللہ کو اپنے قلب میں پاتے ہیں۔ جس طرح ہر مومن پاتا ہے اور اللہ کی آیات کو واضح طور پر دیکھتا ہے۔ جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔ آپ کو اس پر تعجب ہے کہ ان آیات اور نشانیوں کو دیکھتے ہوئے کس طرح ایک شخص اندھا ہوسکتا ہے اور کس طرح اس قسم کا جاہلانہ موقف اختیار کرسکتا ہے۔
ادھر رسول اللہ ﷺ ان کے رویہ کی وجہ سے انگشت بدنداں ہیں ، ادھر ان کی حالت یہ ہے کہ مسئلہ کی اس قدر وضاحت کے باوجود ، عقیدہ توحید اور بعث بعد الموت کے مسائل کے واضح ہونے کے باوجود ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ اور وہ مذاق کرتے ہیں ۔ بلکہ وہ مذاق طلب کرتے ہیں ۔ دوسروں کو بھی مذاق کی دعوت دیتے ہیں۔ لفظ (یستخرون) سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے مذاق اور نافہمی کا ایک نمونہ یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن مجید کو جادو کہتے ہیں اور اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ قرآن کریم موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے نظریہ کی دعوت دیتا ہے۔
الصافات 37:14
بل عجبت ویسخرون۔۔۔۔۔ ایۃ یستخرون (37: 12 – 14) ” تم حیران ہو اور یہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے۔ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھہ میں اڑا دیتے ہیں “۔ رسول اللہ ﷺ کو تو حق ہے کہ آپ ان کے معاملات پر تعجب کریں۔ کیونکہ آپ تو اللہ کو اپنے قلب میں پاتے ہیں۔ جس طرح ہر مومن پاتا ہے اور اللہ کی آیات کو واضح طور پر دیکھتا ہے۔ جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔ آپ کو اس پر تعجب ہے کہ ان آیات اور نشانیوں کو دیکھتے ہوئے کس طرح ایک شخص اندھا ہوسکتا ہے اور کس طرح اس قسم کا جاہلانہ موقف اختیار کرسکتا ہے۔
ادھر رسول اللہ ﷺ ان کے رویہ کی وجہ سے انگشت بدنداں ہیں ، ادھر ان کی حالت یہ ہے کہ مسئلہ کی اس قدر وضاحت کے باوجود ، عقیدہ توحید اور بعث بعد الموت کے مسائل کے واضح ہونے کے باوجود ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ اور وہ مذاق کرتے ہیں ۔ بلکہ وہ مذاق طلب کرتے ہیں ۔ دوسروں کو بھی مذاق کی دعوت دیتے ہیں۔ لفظ (یستخرون) سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے مذاق اور نافہمی کا ایک نمونہ یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن مجید کو جادو کہتے ہیں اور اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ قرآن کریم موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے نظریہ کی دعوت دیتا ہے۔
الصافات 37:15
وقالوا ان ھذا۔۔۔۔ ابآؤنا الاولون (37: 15 – 17) ” اور وہ کہتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے۔ بھلا کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مرچکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اس وقت ہم پھر زندہ کرکے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباواجداد بھی اٹھائے جائیں گے “۔
اپنے ماحول میں اللہ کی قدرت کے آثار کے دیکھنے سے یہ لوگ غافل ہیں ، خود اپنی ذات کے اندر اللہ کی قدرت کے آثار یہ دیکھ نہیں پاتے ۔ زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے اندر جو آثار پائے جاتے ہیں ، ان سے بھی یہ غافل ہیں۔ ستاروں ، سیاروں اور شہاب ثاقب پر بھی غور نہیں کرتے۔ ملائکہ ، شیاطین کی تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ خود اپنی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کسی طرح ایک لیس دار گارے سے ان کو بنایا گیا ۔ یہ سب آ ثار قدرت ان کی نظروں سے اوجھل ہیں اور یہ تعجب کرتے ہیں اس بات پر کہ جب وہ مرمٹ جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو انہیں دوبارہ کس طرح اٹھایا جائے گا اور پھر اگلے دور کے آباء کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ جن کی ہڈیاں بھی نہیں۔ حالانکہ اس طرح دوبارہ اٹھائے جانے میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے نہ یہ بعید از امکان ہے۔ صرف معمولی غوروفکر کی ضرورت ہے اور انفس و آفاق کے مذکورہ مشاہدات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
الصافات 37:16
وقالوا ان ھذا۔۔۔۔ ابآؤنا الاولون (37: 15 – 17) ” اور وہ کہتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے۔ بھلا کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مرچکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اس وقت ہم پھر زندہ کرکے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباواجداد بھی اٹھائے جائیں گے “۔
اپنے ماحول میں اللہ کی قدرت کے آثار کے دیکھنے سے یہ لوگ غافل ہیں ، خود اپنی ذات کے اندر اللہ کی قدرت کے آثار یہ دیکھ نہیں پاتے ۔ زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے اندر جو آثار پائے جاتے ہیں ، ان سے بھی یہ غافل ہیں۔ ستاروں ، سیاروں اور شہاب ثاقب پر بھی غور نہیں کرتے۔ ملائکہ ، شیاطین کی تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ خود اپنی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کسی طرح ایک لیس دار گارے سے ان کو بنایا گیا ۔ یہ سب آ ثار قدرت ان کی نظروں سے اوجھل ہیں اور یہ تعجب کرتے ہیں اس بات پر کہ جب وہ مرمٹ جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو انہیں دوبارہ کس طرح اٹھایا جائے گا اور پھر اگلے دور کے آباء کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ جن کی ہڈیاں بھی نہیں۔ حالانکہ اس طرح دوبارہ اٹھائے جانے میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے نہ یہ بعید از امکان ہے۔ صرف معمولی غوروفکر کی ضرورت ہے اور انفس و آفاق کے مذکورہ مشاہدات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
الصافات 37:17
وقالوا ان ھذا۔۔۔۔ ابآؤنا الاولون (37: 15 – 17) ” اور وہ کہتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے۔ بھلا کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مرچکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اس وقت ہم پھر زندہ کرکے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباواجداد بھی اٹھائے جائیں گے “۔
اپنے ماحول میں اللہ کی قدرت کے آثار کے دیکھنے سے یہ لوگ غافل ہیں ، خود اپنی ذات کے اندر اللہ کی قدرت کے آثار یہ دیکھ نہیں پاتے ۔ زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے اندر جو آثار پائے جاتے ہیں ، ان سے بھی یہ غافل ہیں۔ ستاروں ، سیاروں اور شہاب ثاقب پر بھی غور نہیں کرتے۔ ملائکہ ، شیاطین کی تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ خود اپنی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کسی طرح ایک لیس دار گارے سے ان کو بنایا گیا ۔ یہ سب آ ثار قدرت ان کی نظروں سے اوجھل ہیں اور یہ تعجب کرتے ہیں اس بات پر کہ جب وہ مرمٹ جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو انہیں دوبارہ کس طرح اٹھایا جائے گا اور پھر اگلے دور کے آباء کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ جن کی ہڈیاں بھی نہیں۔ حالانکہ اس طرح دوبارہ اٹھائے جانے میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے نہ یہ بعید از امکان ہے۔ صرف معمولی غوروفکر کی ضرورت ہے اور انفس و آفاق کے مذکورہ مشاہدات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
الصافات 37:18
ق اگر یہ لوگ اس جہاں میں ان مشاہدات پر ٹھنڈے دل سے غوروفکر نہیں کرتے اور صحیح نتیجے پر پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے یہ ہولناک منظر پیش فرماتا ہے کہ اب یہ لوگ گویا موت کے بعد اٹھا دئیے گئے ہیں۔ قیامت کے اس منظر کی تصویر کشی اس قدر خوفناک انداز میں کی گئی ہے کہ اس میں دو ماہی بےآب کی طرح مضطرب نظر آتے ہیں۔
۔
قل نعم وانتم داخرون (18)
” “۔ ہاں تم اور تمہارے آباؤواجدادازمنہ قدیم والے بھی اٹھا ئے جائیں گے ۔ اور نہایت ہی بےبسی کی حالت میں ، ذلیل اور گرفتار کرکے ، یوں کہ سرتابی کی مجال نہ ہوگی۔ اور یہ کس طرح ہوگا ۔ ذرا دیکھو اس منظر کو اب قیامت کا ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس منظر کے پیش کرنے کا اسلوب منضرو ہے ۔ زندہ اور متحرک ہے ۔ مکالمے اور حرکات سے بھرپور ہے ۔ کبھی بیانیہ انداز کلام ہے اور کبھی مکالمے کی شکل میں ہے اور کبھی واقعات پر بیچ میں تبصرہ آجاتا ہے ۔ چناچہ کلام کے اعلیٰ ترین خصوصیات پر یہ منظر مشتمل ہے
الصافات 37:19
فانما ھی ۔۔۔۔ ھم ینظرون (19)
یعنی پلک جھپکتے ہی وہ یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے ۔ بس ایک تنعبیہ آمیز چیخ ہوگی ۔ (زجرۃ) کا لفظ اس لیے استعمال ہوا ہے کہ اس میں سختی کلام ہوگی ۔ ایک برتر اتھارنی کی طرف سے حاکمانہ چیخ ۔ اس چیخ کے ساتھ ہی وہ اپنی نظروں کے سامنے سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے ۔ یہ منظر ان کے سامنے اچانک بغیر کسی تمید کے ہوگا ۔ یہ لوگ حواس باختہ ہوکر چیخنے چلا نے لگیں گے ۔
الصافات 37:20
وقالوا ۔۔۔ الدین (20)
” “۔ یہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے ، ان کے حواس ابھی تک درست نہ ہوں گے کہ اچانک ان کے کانوں سے ایک دوسری سخت آواز ٹکرائے گی ، بالکل خلاف توقع !
الصافات 37:21
ھذا یوم ۔۔۔۔ بہٖ تکذبون (21) ” “۔ ان یہاں انداز کلام ” بیانی “ اور ” خبری “ سے بدل کر خطاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور خطاب ان لوگوں سے ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیت کرتے تھے۔ ایک سخت حکم ہے جو ان کے کانوں سے بڑی سختی سے ٹکراتا ہے ۔ فیصلہ کن انداز میں ۔ اور اس کے بعد ردئے سخن اللہ کے کارندوں کی طرف
الصافات 37:22
احشروا الذین ظلموا۔۔۔۔۔۔ انھم مسئولون (22 – 24) ( “۔ گھیر لاؤ اور اٹھالوؤ گرفتار کرکے ان لوگوں جنہوں نے ظلم کیا اور جو ظالموں کی صف میں تھے۔ یہ ایک جیسے ہیں۔ اس لیے ان کو جوڑے کہا گیا اور ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ انداز کلام کس قدر سخت فیصلہ کن اور توہین آمیز ہے۔
فاھدوھم الی صراط الجحیم (37: 23) ” ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ “۔ جنت کا راستہ تو ان کو دکھایا جا رہا تھا لیکن انہوں نے اسے رد کردیا۔ اب جہنم کا راستہ ہی ان کے لیے رہ جاتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ چشم زدن میں ان کو جہنم رسید کردیا گیا۔ جہنم تک پہنچا دیا گیا لیکن ایک ضمنی حکم میں کہا گیا کہ ذرا ٹھہراؤ ان کو ، ان سے کچھ پوچھ ہی لیا جائے اور اچانک ان کو ملامت سے بھرپور انداز میں خطاب کیا جاتا ہے۔ سوالیہ اندا زمین مکالمہ ہے۔
الصافات 37:23
احشروا الذین ظلموا۔۔۔۔۔۔ انھم مسئولون (22 – 24) ( “۔ گھیر لاؤ اور اٹھالوؤ گرفتار کرکے ان لوگوں جنہوں نے ظلم کیا اور جو ظالموں کی صف میں تھے۔ یہ ایک جیسے ہیں۔ اس لیے ان کو جوڑے کہا گیا اور ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ انداز کلام کس قدر سخت فیصلہ کن اور توہین آمیز ہے۔
فاھدوھم الی صراط الجحیم (37: 23) ” ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ “۔ جنت کا راستہ تو ان کو دکھایا جا رہا تھا لیکن انہوں نے اسے رد کردیا۔ اب جہنم کا راستہ ہی ان کے لیے رہ جاتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ چشم زدن میں ان کو جہنم رسید کردیا گیا۔ جہنم تک پہنچا دیا گیا لیکن ایک ضمنی حکم میں کہا گیا کہ ذرا ٹھہراؤ ان کو ، ان سے کچھ پوچھ ہی لیا جائے اور اچانک ان کو ملامت سے بھرپور انداز میں خطاب کیا جاتا ہے۔ سوالیہ اندا زمین مکالمہ ہے۔
الصافات 37:24
احشروا الذین ظلموا۔۔۔۔۔۔ انھم مسئولون (22 – 24) ( “۔ گھیر لاؤ اور اٹھالوؤ گرفتار کرکے ان لوگوں جنہوں نے ظلم کیا اور جو ظالموں کی صف میں تھے۔ یہ ایک جیسے ہیں۔ اس لیے ان کو جوڑے کہا گیا اور ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ انداز کلام کس قدر سخت فیصلہ کن اور توہین آمیز ہے۔
فاھدوھم الی صراط الجحیم (37: 23) ” ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ “۔ جنت کا راستہ تو ان کو دکھایا جا رہا تھا لیکن انہوں نے اسے رد کردیا۔ اب جہنم کا راستہ ہی ان کے لیے رہ جاتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ چشم زدن میں ان کو جہنم رسید کردیا گیا۔ جہنم تک پہنچا دیا گیا لیکن ایک ضمنی حکم میں کہا گیا کہ ذرا ٹھہراؤ ان کو ، ان سے کچھ پوچھ ہی لیا جائے اور اچانک ان کو ملامت سے بھرپور انداز میں خطاب کیا جاتا ہے۔ سوالیہ اندا زمین مکالمہ ہے۔
الصافات 37:25
ما لکم لاتناصرون (25) ” “۔ اب کیا وجہ ہے کہ تم یہاں کوئی اجتماعی بچاؤ کی تدابیر نہیں کرتے۔ یہاں تو تم سب کھڑے ہو اور اب تمہیں ایک دوسرے کی امداد کی بہت ضرورت بھی ہے ۔ اور وہ دیکھو تمہارے وہ معبود بھی کھڑے ہیں ، جن کی دنیا میں تم بندگی کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس نہ کوئی جواب ہے اور نہ وہ بات کرسکتے ہیں۔ یہ سوال تو کیا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس پر ایک تبصرہ ہو۔
الصافات 37:26
بل ھم الیوم مستسلمون (26) ” “۔ یعنی ہر ایک اپنے آپ کو بےبسی میں دوسرے کے حوالے کر رہا ہے ، بندگی کرنے والے ہوں کہ معبود ہوں۔ اب یہاں خطابی انداز کلام کو بدل کر پھر مطالبتی اور بیانیہ انداز سامنے آتا ہے۔ اس منظر میں یہ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں۔
الصافات 37:27
واقبل بعضھم۔۔۔۔۔ عن الیمین (27 – 28) ”
“۔ یعنی تم سیدھے رخ سے آکر ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے ، بالعموم جب کسی کے کان میں کوئی بات ڈالتا ہے تو وہ دائیں جانب سے آتا ہے۔ لہٰذا تم ہماری اس حالت کے ذمہ دار ہو۔ اور ان کا جواب یہ آتا ہے کہ تمہارا یہ الزام احمقانہ ہے۔ تم خود اپنے کیے کے ذمہ دار ہو ، جو فیصلہ کیا تم نے کیا۔
الصافات 37:28
واقبل بعضھم۔۔۔۔۔ عن الیمین (27 – 28) ”
“۔ یعنی تم سیدھے رخ سے آکر ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے ، بالعموم جب کسی کے کان میں کوئی بات ڈالتا ہے تو وہ دائیں جانب سے آتا ہے۔ لہٰذا تم ہماری اس حالت کے ذمہ دار ہو۔ اور ان کا جواب یہ آتا ہے کہ تمہارا یہ الزام احمقانہ ہے۔ تم خود اپنے کیے کے ذمہ دار ہو ، جو فیصلہ کیا تم نے کیا۔
الصافات 37:29
قالوا بل لم تکونوا مؤمنین (29) ” “۔ یہ ہمارا وسوسہ ہی نہ تھا جس نے تمہیں گمراہ کیا بلکہ تم تو ایمان ہی نہ لائے تھے اور تم نے تو ہدایت کو قبول ہی نہ کیا تھا۔
الصافات 37:30
وما کان ۔۔۔۔ سلطن کہ ہم نے تمہیں اس رائے کے اختیار کرنے پر مجبور کیا جو ہماری تھی۔ ایسا نہ تھا کہ تم ایک رائے کو اختیار کرنا تو نہ چاہتے تھے اور ہم نے تم سے زبردستی کرکے اس رائے کے اختیار کرنے پر مجبور کیا
بل کنتم قوما طغین (30) ” “۔ تم خود ہی حد سے گزرنے والے تھے۔ کسی حد پر رکنے والے نہ تھے۔
الصافات 37:31
فحق علینا ۔۔۔۔۔ کنا غوین (31 – 32) ” لہٰذا ہم لوگ اور تم لوگ دونوں عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ وہ ارادا اب ہم پر حق بن کر آگیا ہے۔ اب ہمارے لیے عذاب کا مزہ چکھنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ تم لوگ ہمارے ساتھ اسلیے آگئے تھے کہ تم ہمارے راتے پر چلنے کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ تم ہمارے پیچھے لگ گئے تھے
الصافات 37:32
فحق علینا ۔۔۔۔۔ کنا غوین (31 – 32) ” لہٰذا ہم لوگ اور تم لوگ دونوں عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ وہ ارادا اب ہم پر حق بن کر آگیا ہے۔ اب ہمارے لیے عذاب کا مزہ چکھنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ تم لوگ ہمارے ساتھ اسلیے آگئے تھے کہ تم ہمارے راتے پر چلنے کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ تم ہمارے پیچھے لگ گئے تھے
الصافات 37:33
فاغوینکم انا کنا غوین (37: 32) ” سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔ اب یہاں اس صورت حال ہر ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے۔ یہ گویا عدالت ، کھلی عدالت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ایسے کام کرتے رہے۔ اس لیے آخرت میں ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا :
فانھم یومئذ فی ۔۔۔۔۔۔ ب (34 – 36) ۔
اور یہ تبصرہ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کی سرزنش پر ختم ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں یہ رائے اختیار کی تھی جبکہ یہ رائے نہایت ہی گھٹیا رائے تھی۔
الصافات 37:34
فاغوینکم انا کنا غوین (37: 32) ” سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔ اب یہاں اس صورت حال ہر ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے۔ یہ گویا عدالت ، کھلی عدالت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ایسے کام کرتے رہے۔ اس لیے آخرت میں ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا :
فانھم یومئذ فی ۔۔۔۔۔۔ ب (34 – 36) ۔
اور یہ تبصرہ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کی سرزنش پر ختم ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں یہ رائے اختیار کی تھی جبکہ یہ رائے نہایت ہی گھٹیا رائے تھی۔
الصافات 37:35
فاغوینکم انا کنا غوین (37: 32) ” سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔ اب یہاں اس صورت حال ہر ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے۔ یہ گویا عدالت ، کھلی عدالت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ایسے کام کرتے رہے۔ اس لیے آخرت میں ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا :
فانھم یومئذ فی ۔۔۔۔۔۔ ب (34 – 36) ۔
اور یہ تبصرہ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کی سرزنش پر ختم ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں یہ رائے اختیار کی تھی جبکہ یہ رائے نہایت ہی گھٹیا رائے تھی۔
الصافات 37:36
فاغوینکم انا کنا غوین (37: 32) ” سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔ اب یہاں اس صورت حال ہر ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے۔ یہ گویا عدالت ، کھلی عدالت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ایسے کام کرتے رہے۔ اس لیے آخرت میں ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا :
فانھم یومئذ فی ۔۔۔۔۔۔ ب (34 – 36) ۔
اور یہ تبصرہ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کی سرزنش پر ختم ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں یہ رائے اختیار کی تھی جبکہ یہ رائے نہایت ہی گھٹیا رائے تھی۔
الصافات 37:37
بل جآء بالحق ۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (37 – 40) ”
مجرموں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اوپر اللہ کی مخلص بندوں کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا کہ وہ عذاب الیم سے بچ گئے تھے۔ اس مناسبت سے قیامت میں ان کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھا دی جاتی ہے۔ ان مجرموں کے عذاب الیم کے بالمقابل وہ انعامات بھی رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن میں وہ مزے لے رہے ہوں گے۔ انداز یوں ہے کہ ایک منظر کے بالمقابل دوسرا منظر۔
الصافات 37:38
بل جآء بالحق ۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (37 – 40) ”
مجرموں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اوپر اللہ کی مخلص بندوں کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا کہ وہ عذاب الیم سے بچ گئے تھے۔ اس مناسبت سے قیامت میں ان کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھا دی جاتی ہے۔ ان مجرموں کے عذاب الیم کے بالمقابل وہ انعامات بھی رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن میں وہ مزے لے رہے ہوں گے۔ انداز یوں ہے کہ ایک منظر کے بالمقابل دوسرا منظر۔
الصافات 37:39
بل جآء بالحق ۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (37 – 40) ”
مجرموں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اوپر اللہ کی مخلص بندوں کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا کہ وہ عذاب الیم سے بچ گئے تھے۔ اس مناسبت سے قیامت میں ان کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھا دی جاتی ہے۔ ان مجرموں کے عذاب الیم کے بالمقابل وہ انعامات بھی رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن میں وہ مزے لے رہے ہوں گے۔ انداز یوں ہے کہ ایک منظر کے بالمقابل دوسرا منظر۔
الصافات 37:40
بل جآء بالحق ۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (37 – 40) ”
مجرموں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اوپر اللہ کی مخلص بندوں کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا کہ وہ عذاب الیم سے بچ گئے تھے۔ اس مناسبت سے قیامت میں ان کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھا دی جاتی ہے۔ ان مجرموں کے عذاب الیم کے بالمقابل وہ انعامات بھی رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن میں وہ مزے لے رہے ہوں گے۔ انداز یوں ہے کہ ایک منظر کے بالمقابل دوسرا منظر۔
الصافات 37:41
اولئک لھم رزق۔۔۔۔۔۔ کانھن بیض مکنون (41 – 49 “۔
جنت کی نعمتیں کیسی ہوں گی ؟ اس میں نعمتوں کا ہر رنگ ہوگا جس میں نفس انسانی کی غذا بھی ہوگی اور انسانی احساسات اور انسانی جسم سب کے لیے متاع ہوگا ۔ مزید یہ کہ وہاں جو نفس جو کچھ چاہے گا وہ اسے ملے گا ۔ قسماقسم انعامات ، اس لیے کہ یہ لوگ سب سے پہلے تو اللہ کے مکرم بندے ہیں ، اللہ کی بندگی انسان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے ۔ پھر عالم بالا میں وہ معزز ترین مہمان ہوں گے ۔ یہ ان کے آرام کی جگہ ہوگی اور وہاں ان کو کوئی مشقت اور ذیوئی نہ کرنا ہوگی ۔ پھر مزید یہ کہ آرام کے ساتھ اللہ کی رضامندی بھی انہیں حاصل ہوگی ۔ جو سب سے بڑی نعمت ہوگی ۔
الصافات 37:42
اولئک لھم رزق۔۔۔۔۔۔ کانھن بیض مکنون (41 – 49 “۔
جنت کی نعمتیں کیسی ہوں گی ؟ اس میں نعمتوں کا ہر رنگ ہوگا جس میں نفس انسانی کی غذا بھی ہوگی اور انسانی احساسات اور انسانی جسم سب کے لیے متاع ہوگا ۔ مزید یہ کہ وہاں جو نفس جو کچھ چاہے گا وہ اسے ملے گا ۔ قسماقسم انعامات ، اس لیے کہ یہ لوگ سب سے پہلے تو اللہ کے مکرم بندے ہیں ، اللہ کی بندگی انسان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے ۔ پھر عالم بالا میں وہ معزز ترین مہمان ہوں گے ۔ یہ ان کے آرام کی جگہ ہوگی اور وہاں ان کو کوئی مشقت اور ذیوئی نہ کرنا ہوگی ۔ پھر مزید یہ کہ آرام کے ساتھ اللہ کی رضامندی بھی انہیں حاصل ہوگی ۔ جو سب سے بڑی نعمت ہوگی ۔
الصافات 37:43
اولئک لھم رزق۔۔۔۔۔۔ کانھن بیض مکنون (41 – 49 “۔
جنت کی نعمتیں کیسی ہوں گی ؟ اس میں نعمتوں کا ہر رنگ ہوگا جس میں نفس انسانی کی غذا بھی ہوگی اور انسانی احساسات اور انسانی جسم سب کے لیے متاع ہوگا ۔ مزید یہ کہ وہاں جو نفس جو کچھ چاہے گا وہ اسے ملے گا ۔ قسماقسم انعامات ، اس لیے کہ یہ لوگ سب سے پہلے تو اللہ کے مکرم بندے ہیں ، اللہ کی بندگی انسان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے ۔ پھر عالم بالا میں وہ معزز ترین مہمان ہوں گے ۔ یہ ان کے آرام کی جگہ ہوگی اور وہاں ان کو کوئی مشقت اور ذیوئی نہ کرنا ہوگی ۔ پھر مزید یہ کہ آرام کے ساتھ اللہ کی رضامندی بھی انہیں حاصل ہوگی ۔ جو سب سے بڑی نعمت ہوگی ۔
الصافات 37:44
اولئک لھم رزق۔۔۔۔۔۔ کانھن بیض مکنون (41 – 49 “۔
جنت کی نعمتیں کیسی ہوں گی ؟ اس میں نعمتوں کا ہر رنگ ہوگا جس میں نفس انسانی کی غذا بھی ہوگی اور انسانی احساسات اور انسانی جسم سب کے لیے متاع ہوگا ۔ مزید یہ کہ وہاں جو نفس جو کچھ چاہے گا وہ اسے ملے گا ۔ قسماقسم انعامات ، اس لیے کہ یہ لوگ سب سے پہلے تو اللہ کے مکرم بندے ہیں ، اللہ کی بندگی انسان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے ۔ پھر عالم بالا میں وہ معزز ترین مہمان ہوں گے ۔ یہ ان کے آرام کی جگہ ہوگی اور وہاں ان کو کوئی مشقت اور ذیوئی نہ کرنا ہوگی ۔ پھر مزید یہ کہ آرام کے ساتھ اللہ کی رضامندی بھی انہیں حاصل ہوگی ۔ جو سب سے بڑی نعمت ہوگی ۔
الصافات 37:45
یطاف علیھم ۔۔۔۔۔۔ عنھا ینزفون (37: 45-47) ” شران کے چشموں سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان بھرائے جائیں گے چمکتی ہوئی شراب جو پینے والوں کے لیے لذت ہوگی ۔ نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی “۔ یہ جنت کی شراب کی نہایت ہی خوبصورت تعریف ہے کہ اس سے شراب کی لذت تو ہوگی لیکن شراب کے مضرات اس میں نہ ہوں گے ۔ اس میں نشہ نہ ہوگا جس سے سرچکراجائیں گے ۔ اور نہ اس میں کمی ہوگی کہ کبھی ملے اور کبھی نہ ملے مزہ جاتا رہے ۔
الصافات 37:46
یطاف علیھم ۔۔۔۔۔۔ عنھا ینزفون (37: 45-47) ” شران کے چشموں سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان بھرائے جائیں گے چمکتی ہوئی شراب جو پینے والوں کے لیے لذت ہوگی ۔ نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی “۔ یہ جنت کی شراب کی نہایت ہی خوبصورت تعریف ہے کہ اس سے شراب کی لذت تو ہوگی لیکن شراب کے مضرات اس میں نہ ہوں گے ۔ اس میں نشہ نہ ہوگا جس سے سرچکراجائیں گے ۔ اور نہ اس میں کمی ہوگی کہ کبھی ملے اور کبھی نہ ملے مزہ جاتا رہے ۔
الصافات 37:47
یطاف علیھم ۔۔۔۔۔۔ عنھا ینزفون (37: 45-47) ” شران کے چشموں سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان بھرائے جائیں گے چمکتی ہوئی شراب جو پینے والوں کے لیے لذت ہوگی ۔ نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی “۔ یہ جنت کی شراب کی نہایت ہی خوبصورت تعریف ہے کہ اس سے شراب کی لذت تو ہوگی لیکن شراب کے مضرات اس میں نہ ہوں گے ۔ اس میں نشہ نہ ہوگا جس سے سرچکراجائیں گے ۔ اور نہ اس میں کمی ہوگی کہ کبھی ملے اور کبھی نہ ملے مزہ جاتا رہے ۔
الصافات 37:48
وعندھم قصرت الطرف عین (37: 48) ” اور ان کے پاس نکا ہیں بچا بےوالی خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی “۔ نہایت حیادار ، نظریں اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نہ ڈالیں گی بوجہ حیادصفت ۔ اور ان کی آنکھیں بہت ہی خوبصورت ہوں گی ۔ وہ نہایت محفوظ ، نرم ونازک اور پتلی ہوں گی ۔
الصافات 37:49
کانھن بیض مکنون (37: 49) ” جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی “ یہ جھلی ایسی ہوتی ہے کہ نہ اس کو کسی کا ہاتھ لگ سکتا ہے اور نہ آنکھ دیکھ سکتی ہے اور ہوتی بھی نرم ونازک ہے ۔ یہ تصویر کشی ابھی جاری ہے ۔ اللہ کے یہ مخلص اور نیک بندے جو جنت کے متاع اور عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے ہیں ؛ نہایت ہی خوشگوار موذ میں باہم گفتگو بھی کرتے ہیں ۔ اس گفتگو میں اپنے ماضی اور حال پر بحث کرتے ہیں جبکہ اس سے قبل ہم پڑھ آئے ہیں کہ مجرمین بھی باہم لعن طعن کرتے تھے ۔ چنانچہ
جنتیوں میں ایک شخص دوسروں کے سامنے اپنے حالات رکھتا ہے ۔
الصافات 37:50
فاقبل بعضھم ۔۔۔۔۔۔۔ انا لمدینون (50-53) ”
اس جتنی کا یہ دوست وقوع قیامت اور حسان و کتاب کا منکر تھا اور وہ اس جتنی کو ملا مت کرتا تھا کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ لوگ قیامت میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد کہ وہ مٹی ہوجائیں اور محض ہڈیاں رہ جائیں گی ۔ یہ جتنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ محو گفتگو ہے کہ اچانک اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ ذرا تلاش تو کرے کہ اس کے دوست کا انجام کیا ہوا ہے ۔ اسے یقین ہے کہ جنت میں تو وہ ہو نہیں سکتا لازما جہنم میں ہوگا۔ وہ خود بھی تلاش کرتا ہے اور دوستوں سے بھی کہتا ہے کہ اسے تلاش کیا جائے ۔
الصافات 37:51
فاقبل بعضھم ۔۔۔۔۔۔۔ انا لمدینون (50-53) ”
اس جتنی کا یہ دوست وقوع قیامت اور حسان و کتاب کا منکر تھا اور وہ اس جتنی کو ملا مت کرتا تھا کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ لوگ قیامت میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد کہ وہ مٹی ہوجائیں اور محض ہڈیاں رہ جائیں گی ۔ یہ جتنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ محو گفتگو ہے کہ اچانک اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ ذرا تلاش تو کرے کہ اس کے دوست کا انجام کیا ہوا ہے ۔ اسے یقین ہے کہ جنت میں تو وہ ہو نہیں سکتا لازما جہنم میں ہوگا۔ وہ خود بھی تلاش کرتا ہے اور دوستوں سے بھی کہتا ہے کہ اسے تلاش کیا جائے ۔
الصافات 37:52
فاقبل بعضھم ۔۔۔۔۔۔۔ انا لمدینون (50-53) ”
اس جتنی کا یہ دوست وقوع قیامت اور حسان و کتاب کا منکر تھا اور وہ اس جتنی کو ملا مت کرتا تھا کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ لوگ قیامت میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد کہ وہ مٹی ہوجائیں اور محض ہڈیاں رہ جائیں گی ۔ یہ جتنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ محو گفتگو ہے کہ اچانک اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ ذرا تلاش تو کرے کہ اس کے دوست کا انجام کیا ہوا ہے ۔ اسے یقین ہے کہ جنت میں تو وہ ہو نہیں سکتا لازما جہنم میں ہوگا۔ وہ خود بھی تلاش کرتا ہے اور دوستوں سے بھی کہتا ہے کہ اسے تلاش کیا جائے ۔
الصافات 37:53
فاقبل بعضھم ۔۔۔۔۔۔۔ انا لمدینون (50-53) ”
اس جتنی کا یہ دوست وقوع قیامت اور حسان و کتاب کا منکر تھا اور وہ اس جتنی کو ملا مت کرتا تھا کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ لوگ قیامت میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد کہ وہ مٹی ہوجائیں اور محض ہڈیاں رہ جائیں گی ۔ یہ جتنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ محو گفتگو ہے کہ اچانک اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ ذرا تلاش تو کرے کہ اس کے دوست کا انجام کیا ہوا ہے ۔ اسے یقین ہے کہ جنت میں تو وہ ہو نہیں سکتا لازما جہنم میں ہوگا۔ وہ خود بھی تلاش کرتا ہے اور دوستوں سے بھی کہتا ہے کہ اسے تلاش کیا جائے ۔
الصافات 37:54
قال ھل ۔۔۔۔۔ الجحیم (54-55) ” “۔
اب یہ جتنی اپنے دوزخی دوست سے ہم کلام ہوتا ہے جسے اس نے جہنم میں دیکھ لیا۔ یہ اس سے یوں مخاطب ہوتا ہے ۔ اے فلاں ، قریب تھا کہ اپنی وسوسہ اندازیوں کی وجہ سے تو مجھے ہلاک کردیتا۔ یہ تو مجھ پر اللہ کا انعام تھا کہ اس نے مجھے بچالیا اور میں نے تیری باتوں پر توجہ نہ دی ۔
الصافات 37:55
قال ھل ۔۔۔۔۔ الجحیم (54-55) ” “۔
اب یہ جتنی اپنے دوزخی دوست سے ہم کلام ہوتا ہے جسے اس نے جہنم میں دیکھ لیا۔ یہ اس سے یوں مخاطب ہوتا ہے ۔ اے فلاں ، قریب تھا کہ اپنی وسوسہ اندازیوں کی وجہ سے تو مجھے ہلاک کردیتا۔ یہ تو مجھ پر اللہ کا انعام تھا کہ اس نے مجھے بچالیا اور میں نے تیری باتوں پر توجہ نہ دی ۔
الصافات 37:56
قال تاللہ ۔۔۔۔۔ من المحضرین (56-57) ” “۔
یعنی میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جنہیں پکڑکر کچہری میں لایا جاتا ہے اور وہ دراصل پیشی نہیں چاہتے ۔
اس دوست کو دیکھو وہ اپنی خوشحالی اور نیک انجامی کو بیان کرکے اپنی خوشی میں اضافہ کرتا ہے ۔ جب کہ اس کا دوست جہنم کے بچ میں پڑا ہے اور یہ اور اس کے دوست انعاماتا البیہ میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ تحدیث نعمت ہے ، دوام نعمت پر خوشی کا اظہار ہے اور یوں لذت میں نفسیاتی اضافہ ۔
الصافات 37:57
قال تاللہ ۔۔۔۔۔ من المحضرین (56-57) ” “۔
یعنی میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جنہیں پکڑکر کچہری میں لایا جاتا ہے اور وہ دراصل پیشی نہیں چاہتے ۔
اس دوست کو دیکھو وہ اپنی خوشحالی اور نیک انجامی کو بیان کرکے اپنی خوشی میں اضافہ کرتا ہے ۔ جب کہ اس کا دوست جہنم کے بچ میں پڑا ہے اور یہ اور اس کے دوست انعاماتا البیہ میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ تحدیث نعمت ہے ، دوام نعمت پر خوشی کا اظہار ہے اور یوں لذت میں نفسیاتی اضافہ ۔
الصافات 37:58
افما نحن ۔۔۔۔ بمعذبین (58-59) ” ؟ “ اب یہاں قرآن ایک تبصرہ لاتا ہے جس کے ذریعے قارئین کو اچھے کاموں میں باہم مسابقت اور اچھے انجام کے لیے جہد مسلسل پر ابھارا جاتا ہے ۔
الصافات 37:59
افما نحن ۔۔۔۔ بمعذبین (58-59) ” ؟ “ اب یہاں قرآن ایک تبصرہ لاتا ہے جس کے ذریعے قارئین کو اچھے کاموں میں باہم مسابقت اور اچھے انجام کے لیے جہد مسلسل پر ابھارا جاتا ہے ۔
الصافات 37:60
ان ھذا۔۔۔۔۔ العٰملون (60-61) ” ۔ “۔
اس قسم کے اچھے انجام کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے جو دائمی ہے ۔ جس کی ختم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جس کے بعد کوئی موت نہیں ہے ۔ جس کے بعد کسی عذاب اور سڑا کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ یہ انجام ہے جس کی فکر ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ جا کچھ بھی اس زمین پر ہے اور جس کے لیے اہل زمین عمریں کھپا دیتے ہیں وہ ہیچ ہے ۔ اس اخروی انجام کے مقابلے میں جو وائمی ہے ۔
الصافات 37:61
ان ھذا۔۔۔۔۔ العٰملون (60-61) ” ۔ “۔
اس قسم کے اچھے انجام کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے جو دائمی ہے ۔ جس کی ختم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جس کے بعد کوئی موت نہیں ہے ۔ جس کے بعد کسی عذاب اور سڑا کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ یہ انجام ہے جس کی فکر ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ جا کچھ بھی اس زمین پر ہے اور جس کے لیے اہل زمین عمریں کھپا دیتے ہیں وہ ہیچ ہے ۔ اس اخروی انجام کے مقابلے میں جو وائمی ہے ۔
الصافات 37:62
یہاں فریق مخالف کے انجام کا منظر بھی دے دیا جاتا ہے جو قیامت اور حشرو نشر کا منکر تھا تا کہ اہل جنت کے اچھے ، دائمی ، پرامن اور ہمہ گیر عیش اور اچھے انجام کی اہمیت اور اجاگر ہوجائے اہل جہنم کا انجام یہ ہوگا۔
اذٰلک خیر۔۔۔۔۔ الی الجحیم (62-68) ” ۔ وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے ۔ اس کے شگونے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ جہنم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے ، پھر اس پر پینے کے لیے ان کو کھولتا ہوا غیرخالص پانی ملے گا اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتش دوزخ کی طرف ہوگی “۔
یہ قائم اور دائم نعمتیں بہتر ہیں اور جنت بہتریں جائے قیام ہے ۔ یازقوم کا درخت بطور خوراک اور جہنم جائے قیام بہتر ہے اور زقوم ہے کیا ؟
الصافات 37:63
یہاں فریق مخالف کے انجام کا منظر بھی دے دیا جاتا ہے جو قیامت اور حشرو نشر کا منکر تھا تا کہ اہل جنت کے اچھے ، دائمی ، پرامن اور ہمہ گیر عیش اور اچھے انجام کی اہمیت اور اجاگر ہوجائے اہل جہنم کا انجام یہ ہوگا۔
اذٰلک خیر۔۔۔۔۔ الی الجحیم (62-68) ” ۔ وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے ۔ اس کے شگونے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ جہنم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے ، پھر اس پر پینے کے لیے ان کو کھولتا ہوا غیرخالص پانی ملے گا اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتش دوزخ کی طرف ہوگی “۔
یہ قائم اور دائم نعمتیں بہتر ہیں اور جنت بہتریں جائے قیام ہے ۔ یازقوم کا درخت بطور خوراک اور جہنم جائے قیام بہتر ہے اور زقوم ہے کیا ؟
الصافات 37:64
انھا شجرۃ۔۔۔۔۔ الشیطین (37: 64-65) ” ۔ “۔ اور لوگ شیطانوں کے سروں کو نہیں جانتے ۔ لہٰذا ان کی سمجھ میں کیا ۔۔۔َ ؟ یہ دراصل ایک خوفناک صورت حال ہے ۔ اس کا محض تصور ہی خوفناک ہے ۔ چہ جائیکہ وہ اسے کھائیں گے اور اس سے اپنے پیٹ بھریں گے ۔
اللہ نے اس درخت کو ظالموں کے لیے ایک آزمائش بنادیا ہے وہ زقوم کا نام سنتے تھے تو اس کے بارے میں مذاق کرتے تھے کہ کس طرح یہ درخت جہنم میں اگ سکے گا ۔ کیا جلے گا نہیں ؟ بعض لوگوں نے کہا ، مثلاً ابوجہل ابن ہشام نے نہایت ہی مزاجیہ انداز میں ” اے اہل قریش تمہیں معلوم ہے کہ زقوم کا درخت کیا ہے ؟ محمد تمہیں اس سے ڈراتا ہے تو انہوں نے کہا : ہمیں تو معلوم نہیں ۔ اس نے کہا یہ یثرب کے عمدہ کھجور اور مکھن ہوگا اور اگر یہ ہمیں دستیاب ہواتو ہم اسے ضرور نگل جائیں گے “۔ لیکن اسے کیا معلوم کہ یہ زقوم کا درخت ایک دوسری چیز ہے جسے انسانوں نے نہیں چکھا۔ اور نہ جانتے ہیں ۔
الصافات 37:65
انھا شجرۃ۔۔۔۔۔ الشیطین (37: 64-65) ” ۔ “۔ اور لوگ شیطانوں کے سروں کو نہیں جانتے ۔ لہٰذا ان کی سمجھ میں کیا ۔۔۔َ ؟ یہ دراصل ایک خوفناک صورت حال ہے ۔ اس کا محض تصور ہی خوفناک ہے ۔ چہ جائیکہ وہ اسے کھائیں گے اور اس سے اپنے پیٹ بھریں گے ۔
اللہ نے اس درخت کو ظالموں کے لیے ایک آزمائش بنادیا ہے وہ زقوم کا نام سنتے تھے تو اس کے بارے میں مذاق کرتے تھے کہ کس طرح یہ درخت جہنم میں اگ سکے گا ۔ کیا جلے گا نہیں ؟ بعض لوگوں نے کہا ، مثلاً ابوجہل ابن ہشام نے نہایت ہی مزاجیہ انداز میں ” اے اہل قریش تمہیں معلوم ہے کہ زقوم کا درخت کیا ہے ؟ محمد تمہیں اس سے ڈراتا ہے تو انہوں نے کہا : ہمیں تو معلوم نہیں ۔ اس نے کہا یہ یثرب کے عمدہ کھجور اور مکھن ہوگا اور اگر یہ ہمیں دستیاب ہواتو ہم اسے ضرور نگل جائیں گے “۔ لیکن اسے کیا معلوم کہ یہ زقوم کا درخت ایک دوسری چیز ہے جسے انسانوں نے نہیں چکھا۔ اور نہ جانتے ہیں ۔
الصافات 37:66
فانھم لا ۔۔۔۔ البطون (37: 66) ” “۔ اور اس کے کھانے میں اور نکلنے میں ان کو تکلیف ہوگی کیونکہ یہ تو شیاطین کے سروں جیسا ہوگا۔ اور اس سے ان کے پیٹ جل اٹھیں گے۔ اس لئے کہ یہ تو پیدا ہی جہنم میں ہوگا۔ اور یہ خود نہیں جلے گا یہ ہوگا ہی آگ کی نوعیت کا۔ اب یہ پانی کی طرف متوجہ ہوں گے تاکہ پیاس بجھا سکیں۔ چناچہ پینے کے لیے ان کو غیر خالص پانی ملے گا۔
الصافات 37:67
ثم ان لھم۔۔۔۔ حمیم (37: 67) “۔ اور اس کے بعد یہ لوگ
اس دسترخواں سے اٹھیں گے اور اپنے اصل مقر جہنم کی طرف جائیں گے۔ کیا ہی برا مقام اور جائے فرار ہے۔ اللہ کی پناہ
الصافات 37:68
ثم ان ۔۔۔۔۔ الجحیم (37: 68) ” “۔ یوں اس منفرد منظر کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اور اس سورت کا پہلا سبق ختم ہوتا ہے۔ گویا یہ منظر ایک دیکھا ہوا منظر ہے۔
الصافات 37:69
درس نمبر 209 تشریح آیات
69 ۔۔۔ تا۔۔۔ 148
اس سبق میں سیاق کلام عالم آخرت ، اللہ کی نعمتوں اور قیامت میں اللہ کی سزاؤں سے نکل کر اب انسانی تاریخ اور امم ماضیہ کے حالات میں داخل ہوتا ہے۔ انسانیت کے آغاز سے قصہ ہدایت و ضلالت کو لیا جاتا ہے۔ یہ قصہ تمام اقوام کے ہاں ایک ہی ہے اور نظر آتا ہے کہ مکہ کے منکرین جو حضرت محمد ﷺ کی دعوت کی تکذیب کرتے ہیں۔ وہ سابقہ مکذبین کے بقایا اور نمونہ ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ تم سے پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے۔ یوں ان کے دلوں کے سامنے انسانی تاریخ کے قدیم ترین صفحات رکھے جاتے ہیں ان قصص میں اہل ایمان کیلئے بھی اطمینان کا سامان ہے کہ پوری انسانی تاریخ شاہد ہے کہ اللہ نے ہمیشہ اہل ایمان کا خیال رکھا ہے
چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے ، کا ایک رخ حضرت ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، موسیٰ ، ہارون ، الیاس ، لوط اور یونس (علیہما السلام) کے قصص کے بعض حصے قارئین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے حالات ذرا طوالت کے ساتھ لئے گئے ہیں ، جن میں عظمت ایمان ، قربانی ، اطاعت اور ابراہیم اور اسماعیل (علیہم السلام) کے ذہنوں میں اسلام کا جو تصور تھا ، وہ یہاں بیان کیا جاتا ہے اور اس میں ان کے قصے کا ایک ایسا حلقہ دیا جاتا ہے جو اس سورت کے سوا کسی دوسری سورت میں نہیں دیا گیا۔ اس سبق کا بنیادی مواد انہی قصص پر مشتمل ہے۔
انھم الفوا اباءھم۔۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (69 – 74) ۔ “۔
یہ لوگ ضلالت اور گمراہی میں غرق ہوچکے ہیں۔ یوں کہ وہ ہر بات میں آباء و اجداد کی تقلید کرتے ہیں۔ کسی پیش آمدہ معاملے پر غور و فکر نہیں کرتے۔ بلکہ یہ جلد بازوں کی طرح اڑتے اور دوڑتے چلے جا رہے ہیں۔ آباء و اجداد کے قدموں پر قدم رکھتے چلے جا رہے ہیں ، بغیر سوچے اور بغیر عقل سے کام لیتے ہوئے اور وہ چونکہ گمراہ تھے لہٰذا یہ بھی گمراہ ہیں۔ انھم الفوا ۔۔۔۔۔ یھرعون (37: 69 – 70) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے باپ دادا کو گمراہ پایا اور انہی کے نقش قدم پر دوڑتے چلے گئے “۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اور ان کے آباء و اجداد اسی گمراہی پر تھے جس میں اکثر مکذبین مبتلا تھے۔
الصافات 37:70
درس نمبر 209 تشریح آیات
69 ۔۔۔ تا۔۔۔ 148
اس سبق میں سیاق کلام عالم آخرت ، اللہ کی نعمتوں اور قیامت میں اللہ کی سزاؤں سے نکل کر اب انسانی تاریخ اور امم ماضیہ کے حالات میں داخل ہوتا ہے۔ انسانیت کے آغاز سے قصہ ہدایت و ضلالت کو لیا جاتا ہے۔ یہ قصہ تمام اقوام کے ہاں ایک ہی ہے اور نظر آتا ہے کہ مکہ کے منکرین جو حضرت محمد ﷺ کی دعوت کی تکذیب کرتے ہیں۔ وہ سابقہ مکذبین کے بقایا اور نمونہ ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ تم سے پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے۔ یوں ان کے دلوں کے سامنے انسانی تاریخ کے قدیم ترین صفحات رکھے جاتے ہیں ان قصص میں اہل ایمان کیلئے بھی اطمینان کا سامان ہے کہ پوری انسانی تاریخ شاہد ہے کہ اللہ نے ہمیشہ اہل ایمان کا خیال رکھا ہے
چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے ، کا ایک رخ حضرت ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، موسیٰ ، ہارون ، الیاس ، لوط اور یونس (علیہما السلام) کے قصص کے بعض حصے قارئین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے حالات ذرا طوالت کے ساتھ لئے گئے ہیں ، جن میں عظمت ایمان ، قربانی ، اطاعت اور ابراہیم اور اسماعیل (علیہم السلام) کے ذہنوں میں اسلام کا جو تصور تھا ، وہ یہاں بیان کیا جاتا ہے اور اس میں ان کے قصے کا ایک ایسا حلقہ دیا جاتا ہے جو اس سورت کے سوا کسی دوسری سورت میں نہیں دیا گیا۔ اس سبق کا بنیادی مواد انہی قصص پر مشتمل ہے۔
انھم الفوا اباءھم۔۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (69 – 74) ۔ “۔
یہ لوگ ضلالت اور گمراہی میں غرق ہوچکے ہیں۔ یوں کہ وہ ہر بات میں آباء و اجداد کی تقلید کرتے ہیں۔ کسی پیش آمدہ معاملے پر غور و فکر نہیں کرتے۔ بلکہ یہ جلد بازوں کی طرح اڑتے اور دوڑتے چلے جا رہے ہیں۔ آباء و اجداد کے قدموں پر قدم رکھتے چلے جا رہے ہیں ، بغیر سوچے اور بغیر عقل سے کام لیتے ہوئے اور وہ چونکہ گمراہ تھے لہٰذا یہ بھی گمراہ ہیں۔ انھم الفوا ۔۔۔۔۔ یھرعون (37: 69 – 70) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے باپ دادا کو گمراہ پایا اور انہی کے نقش قدم پر دوڑتے چلے گئے “۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اور ان کے آباء و اجداد اسی گمراہی پر تھے جس میں اکثر مکذبین مبتلا تھے۔
الصافات 37:71
ولقد ضل۔۔۔۔ الاولین (37: 71) ” حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہوچکے ہیں “۔ اور یہ گمراہی اس
کے باوجود تھی کہ ہم نے ان کی خاطر ڈرانے والے بھیجے تھے۔
الصافات 37:72
ولقد ارسلنا فیھم منذرین (37: 72) ” اور ان میں ہم تنبیہہ کرنے والے رسول بھیجے تھے “۔ لیکن ان لوگوں کا کیا انجام ہوا اور اللہ کے مخلص بندوں کا انجام کیا ہوا ؟ یہ سب آپ کو انبیاء کے قصص سے معلوم ہوجائے گا۔ یہ بات یہاں محض متوجہ کرنے کے لیے کہی جا رہی ہے۔
الصافات 37:73
فانظر کیف کان۔۔۔۔ المخلصین (37: 73 – 74) ” اب دیکھ لو ، ان تنبیہہ کیے جانے والوں کا انجام کیا ہوا ، اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کرلیا “۔ اب قصہ نوح کا آغاز کیا جاتا ہے اور اس میں اللہ کے نیک بندوں کا انجام نہایت ہی تیزی سے بتا دیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کے انجام کا لحاظ رکھتا ہے۔
الصافات 37:74
فانظر کیف کان۔۔۔۔ المخلصین (37: 73 – 74) ” اب دیکھ لو ، ان تنبیہہ کیے جانے والوں کا انجام کیا ہوا ، اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کرلیا “۔ اب قصہ نوح کا آغاز کیا جاتا ہے اور اس میں اللہ کے نیک بندوں کا انجام نہایت ہی تیزی سے بتا دیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کے انجام کا لحاظ رکھتا ہے۔
الصافات 37:75
ولقد نادنا نوح۔۔۔۔ اغرقنا الاخرین (75 –82) ” ۔ ۔ ۔
اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے رب تعالیٰ سے کی تھی۔ اور اللہ نے ان کی دعا کو پوری طرح قبول فرمایا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ۔۔۔ جواب دینے والا ہے۔
فلنعم المجیبون (37: 75) ” ہم کسے اچھے جواب دینے والے تھے “۔ اور اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو کرب عظیم سے نجات دی تھی۔ یعنی وہ کرب عظیم دراصل وہ طوفان تھا جس سے صرف وہی لوگ بچے جن کے بچانے کا اللہ نے ارادہ کرلیا تھا۔ اور جن کی زندگی ابھی باقی تھی اور اللہ کی تقدیر میں جن لوگوں کے بارے میں لکھا تھا کہ اللہ نوح کی اولاد سے ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جنہوں نے اس دین پر بطور خلیفۃ اللہ کام کرنا تھا اور اس زمین کو آباد رکھنا تھا تاکہ حضرت نوح کا ذکر آنے والی نسلوں میں باقی رہے۔
الصافات 37:76
ولقد نادنا نوح۔۔۔۔ اغرقنا الاخرین (75 –82) ” ۔ ۔ ۔
اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے رب تعالیٰ سے کی تھی۔ اور اللہ نے ان کی دعا کو پوری طرح قبول فرمایا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ۔۔۔ جواب دینے والا ہے۔
فلنعم المجیبون (37: 75) ” ہم کسے اچھے جواب دینے والے تھے “۔ اور اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو کرب عظیم سے نجات دی تھی۔ یعنی وہ کرب عظیم دراصل وہ طوفان تھا جس سے صرف وہی لوگ بچے جن کے بچانے کا اللہ نے ارادہ کرلیا تھا۔ اور جن کی زندگی ابھی باقی تھی اور اللہ کی تقدیر میں جن لوگوں کے بارے میں لکھا تھا کہ اللہ نوح کی اولاد سے ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جنہوں نے اس دین پر بطور خلیفۃ اللہ کام کرنا تھا اور اس زمین کو آباد رکھنا تھا تاکہ حضرت نوح کا ذکر آنے والی نسلوں میں باقی رہے۔
الصافات 37:77
ولقد نادنا نوح۔۔۔۔ اغرقنا الاخرین (75 –82) ” ۔ ۔ ۔
اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے رب تعالیٰ سے کی تھی۔ اور اللہ نے ان کی دعا کو پوری طرح قبول فرمایا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ۔۔۔ جواب دینے والا ہے۔
فلنعم المجیبون (37: 75) ” ہم کسے اچھے جواب دینے والے تھے “۔ اور اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو کرب عظیم سے نجات دی تھی۔ یعنی وہ کرب عظیم دراصل وہ طوفان تھا جس سے صرف وہی لوگ بچے جن کے بچانے کا اللہ نے ارادہ کرلیا تھا۔ اور جن کی زندگی ابھی باقی تھی اور اللہ کی تقدیر میں جن لوگوں کے بارے میں لکھا تھا کہ اللہ نوح کی اولاد سے ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جنہوں نے اس دین پر بطور خلیفۃ اللہ کام کرنا تھا اور اس زمین کو آباد رکھنا تھا تاکہ حضرت نوح کا ذکر آنے والی نسلوں میں باقی رہے۔
الصافات 37:78
وترکنا علیہ فی الاخرین (37: 78) ” اور بعد کی نسلوں میں ان کی تعریف و توصیف چھوڑی “۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ دونوں جہانوں میں نوح پر سلامتی ہوگی اس لیے کہ انہوں نے نیک راہ اختیار کی۔
الصافات 37:79
سلم علی نوح۔۔۔۔۔ المحسنین (37: 80) ” سلام ہے نوح پر تمام دنیا والوں میں۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیا کرتے ہیں “۔ اللہ کے سلام کے بعد اور کیا جزاء درکار ہے کسی بندے کو۔ اور تمام جہاں میں قیامت تک کسی کے نام کو باقی رکھنے کے بعد اور کیا انعام ہے کسی بندے کے لیے۔ احسان اور اس کے بعد انعام کا حقیقی سبب بہرحال ایمان ہے ۔ اس لیے کہا گیا۔
انہ من عبادنا المومنین (37: 81) ” درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا “۔ اور یہی جزاء ہے اہل
ایمان کی۔ رہے وہ لوگ جو قوم نوح سے غیر مومن تھے تو ان پر اللہ نے ہلاکت اور فنا لکھ دی تھی۔
الصافات 37:80
سلم علی نوح۔۔۔۔۔ المحسنین (37: 80) ” سلام ہے نوح پر تمام دنیا والوں میں۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیا کرتے ہیں “۔ اللہ کے سلام کے بعد اور کیا جزاء درکار ہے کسی بندے کو۔ اور تمام جہاں میں قیامت تک کسی کے نام کو باقی رکھنے کے بعد اور کیا انعام ہے کسی بندے کے لیے۔ احسان اور اس کے بعد انعام کا حقیقی سبب بہرحال ایمان ہے ۔ اس لیے کہا گیا۔
انہ من عبادنا المومنین (37: 81) ” درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا “۔ اور یہی جزاء ہے اہل
ایمان کی۔ رہے وہ لوگ جو قوم نوح سے غیر مومن تھے تو ان پر اللہ نے ہلاکت اور فنا لکھ دی تھی۔
الصافات 37:81
سلم علی نوح۔۔۔۔۔ المحسنین (37: 80) ” سلام ہے نوح پر تمام دنیا والوں میں۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیا کرتے ہیں “۔ اللہ کے سلام کے بعد اور کیا جزاء درکار ہے کسی بندے کو۔ اور تمام جہاں میں قیامت تک کسی کے نام کو باقی رکھنے کے بعد اور کیا انعام ہے کسی بندے کے لیے۔ احسان اور اس کے بعد انعام کا حقیقی سبب بہرحال ایمان ہے ۔ اس لیے کہا گیا۔
انہ من عبادنا المومنین (37: 81) ” درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا “۔ اور یہی جزاء ہے اہل
ایمان کی۔ رہے وہ لوگ جو قوم نوح سے غیر مومن تھے تو ان پر اللہ نے ہلاکت اور فنا لکھ دی تھی۔
الصافات 37:82
ثم اغرقنا الاخرین (37: 82) ” پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کردیا “۔ لہٰذا انسانیت کے آغاز ہی سے سنت الہیہ یہی رہی ہے جس طرح ان قصص کے آغاز میں کہا گیا۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔ المخلصین (37: 72 – 74) ” اور ان میں ہم نے تنبیہہ کرنے والے رسول بھیجے تھے۔ اب دیکھ لو کہ ان تنبیہہ کیے جانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کرلیا ہے “۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم کا قصہ آتا ہے۔ اس قصے کی دو کڑیاں یہاں لائی گئی ہیں۔ پہلی کڑی میں آپ اپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ بتوں کو توڑتے ہیں ، لوگ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کے حکم سے ان کے لیے آگ ٹھنڈی ہوجاتی ہے اور قصے کا یہ حصہ کئی دوسری سورتوں میں بھی آیا ہے۔ اور دوسری کڑی وہ ہے جو صرف اسی سورت میں آئی ہے ، یعنی خواب ، ذبح اور فدیہ۔ یہ کڑی نہایت ہی تفصیل کے ساتھ آئی ہے ، جس کے واقعات اور مراحل کو نہایر ہی تفصیلات کے ساتھ دیا گیا ہے۔ اسلوب کلام نہایت موثر ، دلکش اور پر شوکت ہے۔ اس کڑی کے اندر تسلیم و رضا ، سمع وطاعت کا اعلیٰ معیار اور اعلیٰ مثال پائی جاتی ہے ۔ اسنانی نطریات کی تاریخ میں اس قسم کی کوئی مثال نہیں ہے۔
الصافات 37:83
وان من شیعتہ ۔۔۔۔۔ ظنکم برب العلمین (83 – 87)
یہ اس قصے کا آغاز ہے اور قصے کے اندر پہلا منظر ہے۔ نوح سے اب ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک آگئے۔ ان دونوں انبیاء کی دعوت ، نظریہ اور منہاج دعوت ایک ہے۔ اگرچہ دونوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے ہیں لیکن دونوں ایک ہی گروہ کے لوگ ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کا دبا ہوا نظام زندگی ایک ہے۔ اور اس زاویہ سے یہ دونوں باہم مربوط ہیں اور ان کا تعلق ایک ہی سلسلہ سے ہے جس میں وہ باہم شریک ہیں۔
الصافات 37:84
ابراہیم (علیہ السلام) کی صفات میں قلب کی سلامتی ، عقیدے کی راستی اور خلوص ممتاز صفات ہیں۔
اذ جآء ربہ بقلب سلیم (37: 84) ” جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا “۔ قلب سلیم کیا چیز ہے ؟ پوری طرح اسلام کے سامنے سر تسلیم خم کردینا۔ اللہ کے ساتھ پوری محبت رکھنا۔ صاف ستھری ، سیدھی روش سلامت قلبی ہے۔ قلب سلیم کی تعبیر نہایت معنی خیز اور اپنے مفہوم کی واضح تصویر لیے ہوئے ہے۔ تعبیر سادہ اور قریب الفہم بھی ہے اور واضح بھی۔ قلب سلیم کے اندر صفائی ، اخلاص ، سیدھا پن اور پاکیزگی کے مفاہیم شامل ہیں۔ یہ لفظ بہت ہی سادہ ہے۔ پیچیدہ نہیں۔ اور مذکورہ تمام معانی پر عادی ہے جبکہ مذکورہ الفاظ کے اندر اس قدر جامعیت نہیں ہے۔ یہ قرآن مجید کا انوکھا انداز تعبیر ہے۔
یہ قلب سلیم ہی تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی قوم کے عقائد کو ناپسند کیا۔ انسان جب صحت مند سوچ رکھتا ہے اور سلیم الفطرت ہوتا ہے تو وہ ازروئے طہارت قلب ناپسندیدہ چیز کو ناپسند کرتا ہے۔ تصور میں بھی اور عمل میں بھی۔
الصافات 37:85
اذ قال ۔۔۔۔ برب العلمین (37: 84 – 87) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو۔ کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو۔ آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے “۔ حجرت دیکھ رہے تھے کہ وہ بتوں اور آستھانوں کو پوجتے تھے۔ چناچہ وہ اپنی فطرت سلیمہ کی رد سے ان پر شدید گرفت کرتے ہیں کہ تم یہ کیا کر رہے ہو ؟
ماذا تعبدون (37: 84) ” یہ کیا ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو “۔ یعنی یہ کیا چیزیں ہیں ؟ یہ تو اس قابل ہرگز نہیں کہ ان کی بندگی کی جائے یا کوئی ان کا بندہ ہو۔ اور حقیقت یہ ہے کہ انسان ان کے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ یہ تو محض گھڑے ہوئے ہیں ، افتراء ہیں اور ان کے من گھڑت ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ ان جھوٹے خداؤں کی بندگی کرکے تم عمداً افتراء باندھتے ہو۔
ائفکا الھۃ دون اللہ تریدون (37: 86) ” جھوٹ گھڑے ہوئے معبود تم چاہتے ہو “۔ یہ تمہارا اللہ کے بارے میں کیا تصور ہے۔ تمہار تصور الہ اس قدر گرا ہوا ہے کہ انسانی فطرت سلیمہ پہلی نظر ہی میں اس کا انکار کردیتی ہے۔
فما ظنکم برب العلمین (37: 87) ” آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟ “ اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت سلیمہ ایسے امر کا پہلی ہی نظر میں انکار کردیتی ہے جو عقل و ضمیر کے خلاف ہو اور انسانی عقل اور شعور اس کا انکار کرتے ہوں۔ اب سیاق کلام میں ان کی جانب سے کسی جواب کا تذکرہ نہیں ہے ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ازروئے فطرت سلیمہ اور قلب سلیم جس نتیجے تک پہنچے اگلی کڑی میں وہ بتا دیا جاتا ہے کیونکہ ان کی قوم کھوکھلے من گھڑت عقائد پر تھی۔
الصافات 37:86
اذ قال ۔۔۔۔ برب العلمین (37: 84 – 87) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو۔ کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو۔ آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے “۔ حجرت دیکھ رہے تھے کہ وہ بتوں اور آستھانوں کو پوجتے تھے۔ چناچہ وہ اپنی فطرت سلیمہ کی رد سے ان پر شدید گرفت کرتے ہیں کہ تم یہ کیا کر رہے ہو ؟
ماذا تعبدون (37: 84) ” یہ کیا ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو “۔ یعنی یہ کیا چیزیں ہیں ؟ یہ تو اس قابل ہرگز نہیں کہ ان کی بندگی کی جائے یا کوئی ان کا بندہ ہو۔ اور حقیقت یہ ہے کہ انسان ان کے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ یہ تو محض گھڑے ہوئے ہیں ، افتراء ہیں اور ان کے من گھڑت ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ ان جھوٹے خداؤں کی بندگی کرکے تم عمداً افتراء باندھتے ہو۔
ائفکا الھۃ دون اللہ تریدون (37: 86) ” جھوٹ گھڑے ہوئے معبود تم چاہتے ہو “۔ یہ تمہارا اللہ کے بارے میں کیا تصور ہے۔ تمہار تصور الہ اس قدر گرا ہوا ہے کہ انسانی فطرت سلیمہ پہلی نظر ہی میں اس کا انکار کردیتی ہے۔
فما ظنکم برب العلمین (37: 87) ” آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟ “ اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت سلیمہ ایسے امر کا پہلی ہی نظر میں انکار کردیتی ہے جو عقل و ضمیر کے خلاف ہو اور انسانی عقل اور شعور اس کا انکار کرتے ہوں۔ اب سیاق کلام میں ان کی جانب سے کسی جواب کا تذکرہ نہیں ہے ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ازروئے فطرت سلیمہ اور قلب سلیم جس نتیجے تک پہنچے اگلی کڑی میں وہ بتا دیا جاتا ہے کیونکہ ان کی قوم کھوکھلے من گھڑت عقائد پر تھی۔
الصافات 37:87
اذ قال ۔۔۔۔ برب العلمین (37: 84 – 87) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو۔ کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو۔ آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے “۔ حجرت دیکھ رہے تھے کہ وہ بتوں اور آستھانوں کو پوجتے تھے۔ چناچہ وہ اپنی فطرت سلیمہ کی رد سے ان پر شدید گرفت کرتے ہیں کہ تم یہ کیا کر رہے ہو ؟
ماذا تعبدون (37: 84) ” یہ کیا ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو “۔ یعنی یہ کیا چیزیں ہیں ؟ یہ تو اس قابل ہرگز نہیں کہ ان کی بندگی کی جائے یا کوئی ان کا بندہ ہو۔ اور حقیقت یہ ہے کہ انسان ان کے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ یہ تو محض گھڑے ہوئے ہیں ، افتراء ہیں اور ان کے من گھڑت ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ ان جھوٹے خداؤں کی بندگی کرکے تم عمداً افتراء باندھتے ہو۔
ائفکا الھۃ دون اللہ تریدون (37: 86) ” جھوٹ گھڑے ہوئے معبود تم چاہتے ہو “۔ یہ تمہارا اللہ کے بارے میں کیا تصور ہے۔ تمہار تصور الہ اس قدر گرا ہوا ہے کہ انسانی فطرت سلیمہ پہلی نظر ہی میں اس کا انکار کردیتی ہے۔
فما ظنکم برب العلمین (37: 87) ” آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟ “ اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت سلیمہ ایسے امر کا پہلی ہی نظر میں انکار کردیتی ہے جو عقل و ضمیر کے خلاف ہو اور انسانی عقل اور شعور اس کا انکار کرتے ہوں۔ اب سیاق کلام میں ان کی جانب سے کسی جواب کا تذکرہ نہیں ہے ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ازروئے فطرت سلیمہ اور قلب سلیم جس نتیجے تک پہنچے اگلی کڑی میں وہ بتا دیا جاتا ہے کیونکہ ان کی قوم کھوکھلے من گھڑت عقائد پر تھی۔
الصافات 37:88
فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔
روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ عبادت گاہوں کو خالی چھوڑ کر باہر چلے جاتے تھے۔ اور حضرت کے لیے اپنے منصوبے پر عمل کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تنگ نظری اور کج فہمی حضرت ابراہیم کے لیے اب قابل برداشت نہ رہی تھی۔ جب دوسرے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم عبادت گاہ کو چھوڑکر ہمارے ساتھ چلو تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ میں سیرو تفریح کے لیے نہیں جاسکتا۔ کیونکہ سیرو تفریح اور میلوں میں تو وہ لوگ جاتے ہیں جو عیش و عشرت کرنا چاہیں ، جن کے دل خالی ہوں اور ان کے لیے کوئی دلچسپی یا اہم کام پیش نظر نہ ہو۔ حضرت ابراہیم تو ہر وقت پریشان تھے۔ اپنی قوم کی اس بیماری کی وجہ سے۔ اس لیے ان کے قلب سلیم کو سیرو تفریح میں خوشی کب نصیب ہوئی تھی۔
بہر حال لوگ جلدی میں تھے تاکہ جائیں اور اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنی عید منائیں۔ اس لیے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی زیادہ فکر نہ کی بلکہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی خوشیاں منانے لگے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ موقعہ مل گیا جس کی تلاش میں تھے۔
حضرت ابراہیم فوراً ان کے نام نہاد الہوں کے پاس پہنچے۔ ان کے سامنے قسم قسم کے کھانے اور تازہ پھل رکھے ہوئے تھے۔ بطور مزاح حضرت نے فرمایا تم کھاتے نہیں ہو ؟ ظاہر ہے کہ بتوں نے اس مزاح کا کیا جواب دیتا تھا ۔ اب آپ نے ذرا غصے اور کھلے مزاح کے ساتھ کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم بات کیوں نہیں کرتے ۔ بعض اوقات انسان ایسی چیز سے بطور مزاح ہمکلام ہوتا ہے جس کے بارے میں اس کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ نہیں سنتی اور نہ جواب دے سکتی ہے۔ حقیقت کا علم ہوتے ہوئے بھی انسان ایسی باتیں کرتا ہے۔ یہ بات دراصل حضرت ان لوگوں کے پوچ اور غلط عقائد سے تنگ آکر ، کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ بتوں نے جواب تو نہ دینا تھا اور نہ دیا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان کے بجائے آپ کے ہاتھ حرکت میں آگئے۔
فراح علیھم ضرنا بالیمین (37: 93) ” اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں “۔ اب آپ کی بیماری دل کی گرفتگی اور پریشانی دور ہوئی۔ بالفاظ دیکگر آپ کا دل ٹھنڈا ہوا۔
الصافات 37:89
فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔
روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ عبادت گاہوں کو خالی چھوڑ کر باہر چلے جاتے تھے۔ اور حضرت کے لیے اپنے منصوبے پر عمل کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تنگ نظری اور کج فہمی حضرت ابراہیم کے لیے اب قابل برداشت نہ رہی تھی۔ جب دوسرے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم عبادت گاہ کو چھوڑکر ہمارے ساتھ چلو تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ میں سیرو تفریح کے لیے نہیں جاسکتا۔ کیونکہ سیرو تفریح اور میلوں میں تو وہ لوگ جاتے ہیں جو عیش و عشرت کرنا چاہیں ، جن کے دل خالی ہوں اور ان کے لیے کوئی دلچسپی یا اہم کام پیش نظر نہ ہو۔ حضرت ابراہیم تو ہر وقت پریشان تھے۔ اپنی قوم کی اس بیماری کی وجہ سے۔ اس لیے ان کے قلب سلیم کو سیرو تفریح میں خوشی کب نصیب ہوئی تھی۔
بہر حال لوگ جلدی میں تھے تاکہ جائیں اور اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنی عید منائیں۔ اس لیے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی زیادہ فکر نہ کی بلکہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی خوشیاں منانے لگے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ موقعہ مل گیا جس کی تلاش میں تھے۔
حضرت ابراہیم فوراً ان کے نام نہاد الہوں کے پاس پہنچے۔ ان کے سامنے قسم قسم کے کھانے اور تازہ پھل رکھے ہوئے تھے۔ بطور مزاح حضرت نے فرمایا تم کھاتے نہیں ہو ؟ ظاہر ہے کہ بتوں نے اس مزاح کا کیا جواب دیتا تھا ۔ اب آپ نے ذرا غصے اور کھلے مزاح کے ساتھ کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم بات کیوں نہیں کرتے ۔ بعض اوقات انسان ایسی چیز سے بطور مزاح ہمکلام ہوتا ہے جس کے بارے میں اس کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ نہیں سنتی اور نہ جواب دے سکتی ہے۔ حقیقت کا علم ہوتے ہوئے بھی انسان ایسی باتیں کرتا ہے۔ یہ بات دراصل حضرت ان لوگوں کے پوچ اور غلط عقائد سے تنگ آکر ، کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ بتوں نے جواب تو نہ دینا تھا اور نہ دیا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان کے بجائے آپ کے ہاتھ حرکت میں آگئے۔
فراح علیھم ضرنا بالیمین (37: 93) ” اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں “۔ اب آپ کی بیماری دل کی گرفتگی اور پریشانی دور ہوئی۔ بالفاظ دیکگر آپ کا دل ٹھنڈا ہوا۔
الصافات 37:90
فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔
روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ عبادت گاہوں کو خالی چھوڑ کر باہر چلے جاتے تھے۔ اور حضرت کے لیے اپنے منصوبے پر عمل کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تنگ نظری اور کج فہمی حضرت ابراہیم کے لیے اب قابل برداشت نہ رہی تھی۔ جب دوسرے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم عبادت گاہ کو چھوڑکر ہمارے ساتھ چلو تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ میں سیرو تفریح کے لیے نہیں جاسکتا۔ کیونکہ سیرو تفریح اور میلوں میں تو وہ لوگ جاتے ہیں جو عیش و عشرت کرنا چاہیں ، جن کے دل خالی ہوں اور ان کے لیے کوئی دلچسپی یا اہم کام پیش نظر نہ ہو۔ حضرت ابراہیم تو ہر وقت پریشان تھے۔ اپنی قوم کی اس بیماری کی وجہ سے۔ اس لیے ان کے قلب سلیم کو سیرو تفریح میں خوشی کب نصیب ہوئی تھی۔
بہر حال لوگ جلدی میں تھے تاکہ جائیں اور اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنی عید منائیں۔ اس لیے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی زیادہ فکر نہ کی بلکہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی خوشیاں منانے لگے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ موقعہ مل گیا جس کی تلاش میں تھے۔
حضرت ابراہیم فوراً ان کے نام نہاد الہوں کے پاس پہنچے۔ ان کے سامنے قسم قسم کے کھانے اور تازہ پھل رکھے ہوئے تھے۔ بطور مزاح حضرت نے فرمایا تم کھاتے نہیں ہو ؟ ظاہر ہے کہ بتوں نے اس مزاح کا کیا جواب دیتا تھا ۔ اب آپ نے ذرا غصے اور کھلے مزاح کے ساتھ کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم بات کیوں نہیں کرتے ۔ بعض اوقات انسان ایسی چیز سے بطور مزاح ہمکلام ہوتا ہے جس کے بارے میں اس کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ نہیں سنتی اور نہ جواب دے سکتی ہے۔ حقیقت کا علم ہوتے ہوئے بھی انسان ایسی باتیں کرتا ہے۔ یہ بات دراصل حضرت ان لوگوں کے پوچ اور غلط عقائد سے تنگ آکر ، کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ بتوں نے جواب تو نہ دینا تھا اور نہ دیا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان کے بجائے آپ کے ہاتھ حرکت میں آگئے۔
فراح علیھم ضرنا بالیمین (37: 93) ” اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں “۔ اب آپ کی بیماری دل کی گرفتگی اور پریشانی دور ہوئی۔ بالفاظ دیکگر آپ کا دل ٹھنڈا ہوا۔
الصافات 37:91
فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔
روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ عبادت گاہوں کو خالی چھوڑ کر باہر چلے جاتے تھے۔ اور حضرت کے لیے اپنے منصوبے پر عمل کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تنگ نظری اور کج فہمی حضرت ابراہیم کے لیے اب قابل برداشت نہ رہی تھی۔ جب دوسرے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم عبادت گاہ کو چھوڑکر ہمارے ساتھ چلو تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ میں سیرو تفریح کے لیے نہیں جاسکتا۔ کیونکہ سیرو تفریح اور میلوں میں تو وہ لوگ جاتے ہیں جو عیش و عشرت کرنا چاہیں ، جن کے دل خالی ہوں اور ان کے لیے کوئی دلچسپی یا اہم کام پیش نظر نہ ہو۔ حضرت ابراہیم تو ہر وقت پریشان تھے۔ اپنی قوم کی اس بیماری کی وجہ سے۔ اس لیے ان کے قلب سلیم کو سیرو تفریح میں خوشی کب نصیب ہوئی تھی۔
بہر حال لوگ جلدی میں تھے تاکہ جائیں اور اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنی عید منائیں۔ اس لیے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی زیادہ فکر نہ کی بلکہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی خوشیاں منانے لگے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ موقعہ مل گیا جس کی تلاش میں تھے۔
حضرت ابراہیم فوراً ان کے نام نہاد الہوں کے پاس پہنچے۔ ان کے سامنے قسم قسم کے کھانے اور تازہ پھل رکھے ہوئے تھے۔ بطور مزاح حضرت نے فرمایا تم کھاتے نہیں ہو ؟ ظاہر ہے کہ بتوں نے اس مزاح کا کیا جواب دیتا تھا ۔ اب آپ نے ذرا غصے اور کھلے مزاح کے ساتھ کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم بات کیوں نہیں کرتے ۔ بعض اوقات انسان ایسی چیز سے بطور مزاح ہمکلام ہوتا ہے جس کے بارے میں اس کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ نہیں سنتی اور نہ جواب دے سکتی ہے۔ حقیقت کا علم ہوتے ہوئے بھی انسان ایسی باتیں کرتا ہے۔ یہ بات دراصل حضرت ان لوگوں کے پوچ اور غلط عقائد سے تنگ آکر ، کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ بتوں نے جواب تو نہ دینا تھا اور نہ دیا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان کے بجائے آپ کے ہاتھ حرکت میں آگئے۔
فراح علیھم ضرنا بالیمین (37: 93) ” اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں “۔ اب آپ کی بیماری دل کی گرفتگی اور پریشانی دور ہوئی۔ بالفاظ دیکگر آپ کا دل ٹھنڈا ہوا۔
الصافات 37:92
فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔
روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ عبادت گاہوں کو خالی چھوڑ کر باہر چلے جاتے تھے۔ اور حضرت کے لیے اپنے منصوبے پر عمل کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تنگ نظری اور کج فہمی حضرت ابراہیم کے لیے اب قابل برداشت نہ رہی تھی۔ جب دوسرے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم عبادت گاہ کو چھوڑکر ہمارے ساتھ چلو تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ میں سیرو تفریح کے لیے نہیں جاسکتا۔ کیونکہ سیرو تفریح اور میلوں میں تو وہ لوگ جاتے ہیں جو عیش و عشرت کرنا چاہیں ، جن کے دل خالی ہوں اور ان کے لیے کوئی دلچسپی یا اہم کام پیش نظر نہ ہو۔ حضرت ابراہیم تو ہر وقت پریشان تھے۔ اپنی قوم کی اس بیماری کی وجہ سے۔ اس لیے ان کے قلب سلیم کو سیرو تفریح میں خوشی کب نصیب ہوئی تھی۔
بہر حال لوگ جلدی میں تھے تاکہ جائیں اور اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنی عید منائیں۔ اس لیے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی زیادہ فکر نہ کی بلکہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی خوشیاں منانے لگے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ موقعہ مل گیا جس کی تلاش میں تھے۔
حضرت ابراہیم فوراً ان کے نام نہاد الہوں کے پاس پہنچے۔ ان کے سامنے قسم قسم کے کھانے اور تازہ پھل رکھے ہوئے تھے۔ بطور مزاح حضرت نے فرمایا تم کھاتے نہیں ہو ؟ ظاہر ہے کہ بتوں نے اس مزاح کا کیا جواب دیتا تھا ۔ اب آپ نے ذرا غصے اور کھلے مزاح کے ساتھ کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم بات کیوں نہیں کرتے ۔ بعض اوقات انسان ایسی چیز سے بطور مزاح ہمکلام ہوتا ہے جس کے بارے میں اس کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ نہیں سنتی اور نہ جواب دے سکتی ہے۔ حقیقت کا علم ہوتے ہوئے بھی انسان ایسی باتیں کرتا ہے۔ یہ بات دراصل حضرت ان لوگوں کے پوچ اور غلط عقائد سے تنگ آکر ، کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ بتوں نے جواب تو نہ دینا تھا اور نہ دیا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان کے بجائے آپ کے ہاتھ حرکت میں آگئے۔
فراح علیھم ضرنا بالیمین (37: 93) ” اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں “۔ اب آپ کی بیماری دل کی گرفتگی اور پریشانی دور ہوئی۔ بالفاظ دیکگر آپ کا دل ٹھنڈا ہوا۔
الصافات 37:93
فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔
روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ عبادت گاہوں کو خالی چھوڑ کر باہر چلے جاتے تھے۔ اور حضرت کے لیے اپنے منصوبے پر عمل کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تنگ نظری اور کج فہمی حضرت ابراہیم کے لیے اب قابل برداشت نہ رہی تھی۔ جب دوسرے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم عبادت گاہ کو چھوڑکر ہمارے ساتھ چلو تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ میں سیرو تفریح کے لیے نہیں جاسکتا۔ کیونکہ سیرو تفریح اور میلوں میں تو وہ لوگ جاتے ہیں جو عیش و عشرت کرنا چاہیں ، جن کے دل خالی ہوں اور ان کے لیے کوئی دلچسپی یا اہم کام پیش نظر نہ ہو۔ حضرت ابراہیم تو ہر وقت پریشان تھے۔ اپنی قوم کی اس بیماری کی وجہ سے۔ اس لیے ان کے قلب سلیم کو سیرو تفریح میں خوشی کب نصیب ہوئی تھی۔
بہر حال لوگ جلدی میں تھے تاکہ جائیں اور اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنی عید منائیں۔ اس لیے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی زیادہ فکر نہ کی بلکہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی خوشیاں منانے لگے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ موقعہ مل گیا جس کی تلاش میں تھے۔
حضرت ابراہیم فوراً ان کے نام نہاد الہوں کے پاس پہنچے۔ ان کے سامنے قسم قسم کے کھانے اور تازہ پھل رکھے ہوئے تھے۔ بطور مزاح حضرت نے فرمایا تم کھاتے نہیں ہو ؟ ظاہر ہے کہ بتوں نے اس مزاح کا کیا جواب دیتا تھا ۔ اب آپ نے ذرا غصے اور کھلے مزاح کے ساتھ کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم بات کیوں نہیں کرتے ۔ بعض اوقات انسان ایسی چیز سے بطور مزاح ہمکلام ہوتا ہے جس کے بارے میں اس کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ نہیں سنتی اور نہ جواب دے سکتی ہے۔ حقیقت کا علم ہوتے ہوئے بھی انسان ایسی باتیں کرتا ہے۔ یہ بات دراصل حضرت ان لوگوں کے پوچ اور غلط عقائد سے تنگ آکر ، کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ بتوں نے جواب تو نہ دینا تھا اور نہ دیا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان کے بجائے آپ کے ہاتھ حرکت میں آگئے۔
فراح علیھم ضرنا بالیمین (37: 93) ” اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں “۔ اب آپ کی بیماری دل کی گرفتگی اور پریشانی دور ہوئی۔ بالفاظ دیکگر آپ کا دل ٹھنڈا ہوا۔
الصافات 37:94
اب یہ منظر ختم ہوتا ہے اور دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔ لوگ واپس ہوئے انہیں علم ہوا کہ ان کے بتوں کے سر پاؤں اور ہاتھ کٹے ہوئے ہیں۔ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں کہ انہوں نے تفتیش کی کہ کس نے یہ کام کیا ہے۔ آخر وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ ابراہیم نام کا ایک شخص ان کے بارے میں بدگوئی کرتا ہے ، بہرحال یہاں اختصار کرکے فریقین کا آمنا سامنا دکھایا جاتا ہے۔
فاقبلوا الیہ یزفون (94) “۔ انہوں نے ایک دوسرے سے یہ خبر سن لی تھی۔ یہ بھی یقین ہوگیا تھا کہ کام کرنے والا کون ہے۔ لہٰذا سب لوگ دوڑ کر ابراہیم کے پاس پہنچے۔ سب اب کے اردگرد جمع ہوگئے۔ لوگوں کی بڑی تعداد بلکہ پورا میلہ اکٹھا ہوگیا۔ سب لوگ ایک طرف اور ایک مومن ایک طرف۔ ایک ایسا فرد جو کام کرنا چاہتا ہے۔ ایسا فرد جس کا تصور الٰہ واضح ہے جس کا عقیدہ ٹھوس اور متعین ہے۔ وہ اپنے نفس کے اندر اسے حقیقت کے طور پر پاتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں اسے پاتا ہے۔ یہ ایک فرد ہے لیکن افراد کی اس بھیڑ اور جم غفیر سے وہ اپنے آپ کو قوی پاتا ہے۔ جن کا عقیدہ درست نہیں۔ جس کا تصور حیات ٹھوس نہیں۔ چناچہ وہ فطری سچائی کے ساتھ جرات مندانہ طریقے سے ان کو یوں خطاب کرتا ہے۔ اور ان کے کسی ردعمل کا کوئی خیال نہیں کرتا۔ حالانکہ یہ لوگ اس وقت استعمال کی حالت میں ہیں اور بڑی تعداد میں ہیں۔
الصافات 37:95
قال اتعبدون۔۔۔۔۔ وما تعملون (95 – 96) “۔ یہ ایک فطری استدلال تھا ، حضرت ابراہیم نے یبانگ دبل ان کے سامنے رکھ دیا کہ تم اپنی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو ، معبود حق تو وہ ہوسکتا ہے جو سب چیزوں کا بنانے والا ہو نہ کہ اسے کسی سنگ تراش نے تراشا ہو۔
الصافات 37:96
واللہ خلقکم وما تعملون (37: 96) ” اللہ تو وہ ہے جس نے تمہیں بھی بنایا اور تمہاری مصنوعات کو بھی بنایا “۔ یہ صانع مطلق اس قابل ہے کہ اس کی پوجا کی جائے۔ اس استدلال کی سادگی اور واضح ہونے کے باوجود ، لوگوں نے اپنی غفلت اور غلط روش کی وجہ سے اس پر کان نہ دھرا۔ باطل کی روش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ سچائی کے نہایت ہی سادہ اور منطقی الاستدلال پر کان نہیں دھرتا۔ اور اللہ کی جانب سے جن لوگوں کے ذمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ اہل باطل کی طرف سے تشدد سہتے رہے ہیں۔
الصافات 37:97
قالوا انبوا۔۔۔۔ الجحیم (97) ” “۔ یہ ہے قوت اور طاقت کا استدلال۔ اور آگ اور تشدد جس کے سوا سرکشوں کے پاس اور کوئی استدلال نہیں ہوتا۔ جب بھی دلیل ختم ہوتی ہے اور کوئی سرکش حجت پیش نہیں کرسکتا۔ وہ تشد کرتا ہے۔ خصوصاً جبکہ سرکشوں کے سامنے کلمہ حق پیش کیا جائے اور وہ اسے لاجواب کر دے۔
ان کی اس دھکمی کے بعد کیا ہوا ، یہاں قرآن مجید اس کی کوئی صراحت نہیں کرتا۔ اور یہ بتا دیا جاتا ہے کہ اہل حق کو کامیابی نصیب ہوئی اور مکذبین گھاٹے میں رہے۔
الصافات 37:98
فارادوا بہ کیدا فجعلنھم الاسفلین (98) ” “۔ جب اللہ نہ چاہے تو ضعیف بندوں کی تدابیر کیا کرسکتی ہیں اور اللہ کے معاملے میں ضعیف اور حقیر بندے کر بھی کیا سکتے ہیں۔ دنیا کے سرکش ، جبار ، حکمران ، ڈکٹیٹر اور ان کے اعوان و انصار اللہ کے مقابلے میں ہیچ ہوتے ہیں ۔ جب اللہ کا فضل اللہ کے بندوں کے شامل حال ہو۔
اب قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری کڑی شروع ہوتی ہے۔ اپنے باپ اور اپنی قوم کے ساتھ آپ کا تنازعہ ختم ہوگیا۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ ایک خود ساختہ حجیم (آگ) میں آپ کو جلا دیں۔ اور اللہ نے ارادہ کیا کہ وہ گھاٹے میں رہیں ۔ اور حضرت ابراہیم ان کی سازش سے بچ گئے۔ یہاں آکر حضرت ابراہیم نے اپنی سابقہ زندگی کو خیر باد کہا اور زندگی کے نئے مرحلے کا آغاز کیا۔ سابقہ زندگی کا دفتر لپیٹ لیا گیا اور زندگی کے ایک نیئے باپ کا آغاز ہوگیا۔
الصافات 37:99
وقال انی۔۔۔۔ سیھدین (99) ” “ میں رب کی طرف ہجرت کر کے جا رہا ہوں۔ یعنی مسافاتی ہجرت سے قبل یہ نفسیاتی اور نظریاتی ہجرت ہے۔ ایک ایسی ہجرت جس میں وہ اپنی تمام ماضی اور آبائی مقام کو خیر آبار کہہ رہے ہیں۔ اپنے باپ اور قوم کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے گھر اور وطن کو چھوڑ رہے ہیں۔ ان تمام روابط کو کاٹ رہے ہیں جو انسان کو اس زمین سے وابستہ کردیتے ہیں۔ ان لوگوں سے وابستہ کردیتے ہیں ، تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے آگے بڑھ رہے ہیں۔ تمام مصروفیتوں کو ختم کر رہے ہیں۔ تمام بوجھ ہلکے کرکے اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ تمام چیزوں کو پش پشت ڈال رہے ہیں۔ اپنی پوری ذات کو رب کے سپرد کر رہے ہیں۔ اور اپنی ذات کا کوئی حصہ اپنے لیے نہیں رکھ رہے ہیں انہیں یقین ہے کہ ان کا رب ضرور انہیں ہدایت دے گا۔ ان کی مدد کرے گا اور سیدھی راہ سجھائے گا۔
یہ ایک مکمل ہجرت ہے بلکہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف مکمل انتقال ہے۔ تمام روابط کو کاٹ کر صرف ایک رب سے جڑنا ، یہ گویا نہایت ہی یکسوئی ، تجرد ، خلوص اور سرتسلیم خم کردینے کا اقدام ہے۔ پورے اطمینان اور پورے یقین کے ساتھ۔ حضرت ابراہیم اس وقت تک اکیلے تھے۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ پیچھے وہ جو کچھ چھوڑ رہے تھے وہ اقرباء اور رشتہ داری کے تعلقات تھے۔ ہر قسم کی دوستی اور آشنائی کو ترک کر رہے تھے ۔ ماضی کے تمام مالوفات اور عادات کو ترک کر رہے تھے۔ ان تمام روابط کو کاٹ رہے تھے جو جنم بھوی سے قائم ہوجایا کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور ان کے اہل کے درمیان پائے جانے والے تمام روابط کٹ گئے جنہوں نے ان کو آگ میں ڈالنے کا اقدام کیا۔ اس لیے آپ نے اس عزم کا ارادہ کرلیا کہ اب میں اللہ کی طرف جا رہا ہوں اور چونکہ اہل و ابالی رہ گئی اس لیے رشتہ داروں کی جگہ اولاد اور جانشیں کے طلبگار ہوئے۔
الصافات 37:100
رب ھب لی من الصلحین (100) ” “۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مخلص بندے کی دعا مقبول کرلی۔ جس نے سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور قلب سلیم لے کر اللہ کے دربار میں آگیا تھا۔
الصافات 37:101
فبشرنہ بغلم حلیم (101) “۔ یہ حضرت اسماعیل ہیں جس طرح اس سورت اور سیرت کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور اللہ نے ان کے علم اور صبر اور بردباری کی تعریف کی۔ جبکہ وہ ابھی لڑکے تھے۔ ہمیں چاہئے کہ اس مقام پر حضرت ابراہیم کی تنہائی ، وطن سے جدائی اور اہل قرابت سے دوری کے بارے میں سوچیں اور پھر اس بچے کی خوشخبری پر خوشی کا تصور کریں جس کی تعریف رب تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یہ بچہ غلام حلیم ہوگا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کا وہ طرز عمل سامنے آتا ہے جو پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد طرز عمل ہے اور ان کی زندگی میں تو وہ بہرحال ایک یادگار طرز عمل ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو قیامت تک امت مسلمہ کے لیے ایک اعلیٰ وارفع مثال ہے۔ یہ عمل حضرت ابراہیم نے خود پیش فرمایا۔
الصافات 37:102
فلما بلغ معہ ۔۔۔۔۔۔ من الصبرین (102) “۔
یا اللہ ، کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم و رضا کا کیا اعلیٰ مقام ہے۔ یہ ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک بوڑھے ، اپنے اقرباء اور رشتہ داروں سے دور ، اپنے ملک اور وطن سے دور۔ ان کو بڑھاپے اور کبر سنی میں ایک بیٹا عطا ہوتا ہے۔ ایک طویل عرصہ تک انہوں نے اس بچے کا انتظار فرمایا۔ جب اللہ ان کو یہ ممتاز اور ذی صلاحیت بیٹا دیا اور ان کے مرتبہ و مقام کی شہادت دی۔ وہ ابھی ان کے ساتھ اچھی طرح مانوس بھی نہیں ہوا ، ابھی بچہ ہے۔ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے لگا ہے اور قریب ہے کہ اب وہ زندگی کا ساتھی بن جائے۔ غرض ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بچے سے امیدیں وابستہ ہی ہوئی تھیں کہ وہ خواب میں دیکھتے ہیں کہ وہ اس بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے اشارہ ہے کہ اس بچے کی قربانی دے دو ۔ اب کیا ہوتا ہے ؟ آپ بالکل تردد نہیں کرتے۔ آپ کو کوئی شک اور خلجان نہیں ہوتا۔ بس جذبہ اطاعت ہی سامنے آتا ہے۔ آپ تسلیم امر ربی پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ یہ محض اشارہ تھا۔ یہ امر صریح نہ تھا ، نہ براہ راست وحی آئی تھی۔ لیکن آپ نے رب کی طرف سے اشارہ ہی کو کافی سمجھا۔ آپ کے لیے تو اشارہ ہی کافی تھا۔ آپ نے لبیک کہہ دیا۔ اور تعمیل پر آمادہ ہوگئے بغیر کسی اعتراض کے ، بغیر کسی سوال کے کہ اے اللہ میں اپنے واحد بیٹے کو کیوں ذبح کر دوں۔
حضرت ابراہیم جزع و فزع کی حالت میں لبیک نہیں کہتے۔ نہ ان پر کوئی اضطرابی کیفیت طاری ہوتی ہے ، بلکہ وہ تسلیم و رضا کے پیکر ہیں ، مطمئن اور پر وقار ہیں اور ان کا یہ اطمینان ، ٹھہراؤ اور تسلیم و رضا ان کے ان کلمات سے ظاہر ہوتی ہے جن میں وہ یہ تجویز اپنے بیٹے کے سامنے رکھتے ہیں۔ یہ تو نہایت ہی عظیم اقدام ہے لیکن ان کے الفاظ نہایت سنجیدہ اور ان کی روش پر وقار ہے۔
قال یبنی انی۔۔۔۔ ماذا تری (37: 102) ” ابراہیم نے اس سے کہا ” بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں ، اب تو بتا تیرا کیا خیال ہے ؟ “ یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جن کو اپنے اعصاب پر پورا پورا کنٹرول حاصل ہے۔ وہ درپیش اہم معاملے کے بارے میں پوری طرح مطمئن ہے۔ اسے یقین ہے اور وہ اس پر تلا ہوا ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے گا۔ یہ ایک مومن کے الفاظ ہیں ایسے مومن کے جسے یہ عظیم امر خوفزدہ نہیں کر رہا ہے تاکہ وہ جلدی جلدی اسے کر گزرے۔ آنکھیں بند کرکے تاکہ وہ اس سے بچ جائے اور یہ معاملہ ختم ہوجائے اور اس کے اعصاب پر جو قابل برداشت بوجھ آپڑا ہے وہ اتر جائے۔ ایسا نہیں ۔
اس میں شک نہیں کہ یہ فعل ناقابل برداشت ضرور ہے۔ مطالبہ یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو کسی معرکہ کا رزار میں بھیج دیں۔ نہ حکم یہ ہے کہ اسے ایک ایسے کام میں لگا دیں جس سے اس کی زندگی ختم ہوجائے ۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کردیں۔ اور یہ حکم انہیں اس طرح خواب میں ملتا ہے ۔ اور آپ اسے اپنے اکلوتے بیٹے کے سامنے رکھتے ہیں۔ اور اس سے
یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر غور کرے اور اپنی رائے دے۔
نیز حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو اچانک پکڑ کر ایسی حالت میں ذبح نہیں کردیتے کہ انہیں پتہ ہی نہ ہو کہ کیا ہو رہا ہے اور معاملہ ختم کردیا جائے۔ بلکہ معاملہ تجویز کی صورت میں ان کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) محسوس کرتے ہیں کہ ان کے رب کی مرضی ہی ایسی ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو اس طرح سر انجام دینا چاہئے جس طرح رب کی مرضی ہے۔ رب کا حکم سر آنکھوں پر ۔ لہٰذا بچے کو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ معاملہ کیا درپیش ہے اور وہ بھی اس حکم کھے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کوئی جبر اور کوئی اضطرار نہ ہوتا کہ اس کو بھی اطاعت امر کا اجر ملے۔ وہ بھی تسلیم و رضا کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو اور اطاعت امر کے مٹھاس کو پالے۔ ذرا ان کے اکلوتے بھی جان سپردگی کی لذت چکھ لیں اور وہ بھی وہ بھلائی دیکھ لیں جو زندگی کے مقابلے میں اعلیٰ وارفع ہے اب بیٹے کا فیصلہ کیا ہے ؟ کہ اس کے باپ نے خواب دیکھا ہے اور باپ خواب بیٹے کے سامنے رکھتے ہیں اور تجویز یہ ہے کہ بیٹے کو ذبح کردیا جائے ، فیصلہ کیا ہے ؟ بیٹا بھی آخر حضرت ابراہیم کا بیٹا ہے۔ وہ بھی اس مقام بلند پر پہنچ چکے ہیں جس پر حضرت ابراہیم ہیں۔
قال یابت افعل۔۔۔۔ من الصبرین (37: 102) ” اس نے کہا ، ابا جان ، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالئے۔ آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے “۔ حضرت اساعیل بھی اس حکم کے سامنے صرف سر تسلیم خم نہیں کردیتے بلکہ وہ نہایت اعتماد اور رضائے الٰہی سے سرشار ہو کر تسلیم کرتے ہیں۔ یا ابت ابا جان ، نہایت ہی محبت اور نہایت ہی اپنائیت کے ساتھ۔ وہ ذبح ہونے جا رہے ہیں لیکن ان پر کوئی خوف نہیں ہے ، کوئی جزع و فزع نہیں ہے۔ ان کے حواس بحال ہیں بلکہ ادب اور محبت میں بھی کوئی کمی نہیں آتی ہے۔
افعل ما تومر (37: 102) ” آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل فرمائیں “۔ حضرت اسماعیل کا احساس بھی وہی ہے۔ جو اس سے قبل آپ کے باپ کا تھا۔ بیٹا بھی یہ سمجھا ہے کہ باپ کو ذبح عظیم کا اشارہ مل گیا ہے۔ اور خدا کی طرف سے اشارہ بھی امر ربی ہے اور ایک جلیل القدر پیغمبر کیلئے یہ اشارہ ہی کافی ہے کہ وہ بغیر کسی تردد ، بغیر کسی شک اور بغیر کسی بہانہ سازی کے عمل کریں۔
بارگاہ رب العزت میں نہایت ادب کے ساتھ بات ہو رہی ہے۔ بات کرنے و الے کو اپنی قوت کے حدود کا اچھی طرح علم ہے اور اپنی قوت برداشت کا بھی علم ہے۔ اسے اپنی کمزوریوں کا علم ہے۔ اس لیے اللہ کی معاونت طلب کی جاتی ہے۔ اس لیے اس قربانی اور اطاعت شعاری کی نسبت بھی اللہ کی مشیت کی طرف کی جاتی ہے۔
ستجدنی انشاء اللہ من الصبرین (37: 102) ” آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے “۔ یہ بیٹے اپنی بہادری کا اظہار بھی نہیں کرتے۔ نہ جسورانہ اور تہورانہ بات کرتے ہیں۔ نہ لاپرواہی سے دوڑ کر خطرے میں کودتے ہیں ۔ وہ اپنی شخصیت کا کوئی رنگ یہاں نہیں دکھاتے۔ نہ اپنا حجم اور نہ اپنا وزن جتاتے ہیں۔ تمام معاملے کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں ۔ کہ اللہ نے جو قربانی طلب کی ہے اگر اللہ کی معاونت شامل حال رہی اور اس نے صبر عطا کردیا تو یہ کام ہوجائے گا۔
الصافات 37:103
ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین (37: 102) ” اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے “۔
ورنہ نہیں۔ کیا شان ہے اللہ کے جناب میں عاجزی کی۔ اور کس قدر روشن ایمان ہے کس قدر عالی شان اطاعت اور بےمثال تسلیم و رضا ہے یہ ! باتوں سے آگے اب اس منظر میں واقعات ایک قدم آگے بڑھتے ہیں۔ اب صرف مکالمہ نہیں ہے عمل شروع ہو رہا ہے
فلما اسلما وتلہ للجبین (103) ” “۔ ایک بار پھر یہاں اطاعت سر بلند ہوتی ہے اور عظمت ایمان کا اظہار ہوتا ہے اور تسلیم و رضا کی وہ مثال سامنے آتی ہے جو پوری انسانی تاریخ کا ایک جلی عنوان ہے۔ ایک انسان اپنے اکلوتے بیٹے کو منہ کے بل گراتا ہے تاکہ اسے ذبح کے لیے تیار کرلے۔ اور وہ لڑکا بھی سر تسلیم خم کرتا ہے اور بےحس و حرکت گر جاتا ہے۔ بات اب عمل تک آپہنچی ہے اور قریب ہے کہ چھری چل جائے۔
باپ بیٹے دونوں نے سر تسلیم خم کردیا ہے۔ یہی ہے اسلام۔ اسلام میں تسلیم و رضا ہی اصل حقیقت ہے۔ اعتماد ، طاعت ، اطمینان اور تسلیم و رضا ، دونوں کے جذبات ، نظریات اور عمل یکساں ہیں۔ نفاذ امر کے لیے تیار ہیں۔ اس قسم کی تیاری کہ تنفیذ کے لیے بس ایک کش کی ضرورت ہے اور یہ کام ایک عظیم ایمان ہی کرسکتا ہے۔
یہ جرات اور جسارت کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ جوش اور بہادری کا معاملہ نہیں ہے۔ بعض اوقات میدان کا رزار میں ایک مجاہد پر جوش انداز میں آگے بڑھتا ہے۔ قتل کرتا ہے اور قتل ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک فدائی اقدام کرتا ہے اور اسے علم بھی ہوتا ہے کہ وہ زندہ نہ بچے گا لیکن وہ جذبہ فداکاری سے سرشار ہوتا ہے اور یہ ایک انداز ہوتا ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل جو کچھ کر رہے ہیں اس کی ادا بالکل نرالی ہے۔ یہاں کوئی خونی جوش نہیں ہے۔ نہ جذبہ حمایت کار فرما ہے ۔ نہ عجلت پسندانہ جوش ہے جس کی تہہ میں خوف و ہراس کو چھپایا جاتا ہے۔ کمزوری اور بزدلی کو نعروں میں لپیٹ لیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ ایسی تسلیم و رضا ہے جو معاملے کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر کی جا رہی ہے۔ عقلمندی کے ساتھ ایک کام ہو رہا ہے۔ قصد و ارادے اور سوچ و فکر کے بعد ہو رہا ہے۔ پورے مشورے اور بحث و مباحثے کے بعد۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ، اطمینان کے ساتھ کہ نتائج کیا ہوں گے۔ ٹھنڈی رضا مندی ، خوشی خوشی سے اللہ کا جذبہ اطاعت کام کر رہا ہے۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے حق ادا کردیا۔ تسلیم و رضا کا اظہار ہوگیا۔ امر الٰہی کو وہ روبعمل لے ہی آئے۔ فرض پورا کردیا۔ بس چھری کی ایک کش ہی باقی رہ گئی تھی۔ خون کی ایک دھار ہی باقی تھی۔ اکلوتے بیٹے کی روح کی پرداز ہو چکنی باقی تھی۔ اللہ کے ہاں اس روح کی کوئی زیادہ اہمیت نہ تھی۔ اللہ کے پیمانے میں وزن کسی اور چیز کا تھا جو ہوچکا۔ دونوں نے عزم و ارادہ اس میزان میں رکھ دیا تھا۔ رب جانتا تھا کہ ان کے شعور کی حالت کیا ہے ، ان کا جذبہ کیا ہے۔
یہ ایک امتحان تھا جو ہوچکا۔ اس میں وہ فتح یاب ہوگئے۔ نتائج سامنے آگئے۔ مقصد امتحان پورا ہوگیا جو بات رہ گئی وہ صرف یہ تھی کہ کوئی تڑپ جائے۔ خون بہہ جائے۔ ذبیح کا جسم ٹھنڈا ہوجائے۔ لیکن اللہ بندگی و اطاعت چاہتا ہے۔ عبادت کے معنی اسلام میں ابتلا اور تعذیب نہیں۔ اللہ خون اور جسموں کو گرانا نہیں چاہتا۔ جب خلوص کا اظہار ہوگیا۔ بندہ اس مشکل حکم کی تعیل کے لیے تیار ہوگیا۔ اپنے دل و جان سے تیار ہوگیا تو فرض ادا ہوگیا اور امتحان میں وہ کامیاب ہوگیا۔
اللہ جانتا تھا کہ ابراہیم اور اسماعیل دونوں سچے ہیں۔ اس لیے اللہ نے ان کی تیاری ہی کو عمل سمجھا۔
الصافات 37:104
ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین (37: 102) ” اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے “۔
ورنہ نہیں۔ کیا شان ہے اللہ کے جناب میں عاجزی کی۔ اور کس قدر روشن ایمان ہے کس قدر عالی شان اطاعت اور بےمثال تسلیم و رضا ہے یہ ! باتوں سے آگے اب اس منظر میں واقعات ایک قدم آگے بڑھتے ہیں۔ اب صرف مکالمہ نہیں ہے عمل شروع ہو رہا ہے
فلما اسلما وتلہ للجبین (103) ” “۔ ایک بار پھر یہاں اطاعت سر بلند ہوتی ہے اور عظمت ایمان کا اظہار ہوتا ہے اور تسلیم و رضا کی وہ مثال سامنے آتی ہے جو پوری انسانی تاریخ کا ایک جلی عنوان ہے۔ ایک انسان اپنے اکلوتے بیٹے کو منہ کے بل گراتا ہے تاکہ اسے ذبح کے لیے تیار کرلے۔ اور وہ لڑکا بھی سر تسلیم خم کرتا ہے اور بےحس و حرکت گر جاتا ہے۔ بات اب عمل تک آپہنچی ہے اور قریب ہے کہ چھری چل جائے۔
باپ بیٹے دونوں نے سر تسلیم خم کردیا ہے۔ یہی ہے اسلام۔ اسلام میں تسلیم و رضا ہی اصل حقیقت ہے۔ اعتماد ، طاعت ، اطمینان اور تسلیم و رضا ، دونوں کے جذبات ، نظریات اور عمل یکساں ہیں۔ نفاذ امر کے لیے تیار ہیں۔ اس قسم کی تیاری کہ تنفیذ کے لیے بس ایک کش کی ضرورت ہے اور یہ کام ایک عظیم ایمان ہی کرسکتا ہے۔
یہ جرات اور جسارت کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ جوش اور بہادری کا معاملہ نہیں ہے۔ بعض اوقات میدان کا رزار میں ایک مجاہد پر جوش انداز میں آگے بڑھتا ہے۔ قتل کرتا ہے اور قتل ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک فدائی اقدام کرتا ہے اور اسے علم بھی ہوتا ہے کہ وہ زندہ نہ بچے گا لیکن وہ جذبہ فداکاری سے سرشار ہوتا ہے اور یہ ایک انداز ہوتا ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل جو کچھ کر رہے ہیں اس کی ادا بالکل نرالی ہے۔ یہاں کوئی خونی جوش نہیں ہے۔ نہ جذبہ حمایت کار فرما ہے ۔ نہ عجلت پسندانہ جوش ہے جس کی تہہ میں خوف و ہراس کو چھپایا جاتا ہے۔ کمزوری اور بزدلی کو نعروں میں لپیٹ لیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ ایسی تسلیم و رضا ہے جو معاملے کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر کی جا رہی ہے۔ عقلمندی کے ساتھ ایک کام ہو رہا ہے۔ قصد و ارادے اور سوچ و فکر کے بعد ہو رہا ہے۔ پورے مشورے اور بحث و مباحثے کے بعد۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ، اطمینان کے ساتھ کہ نتائج کیا ہوں گے۔ ٹھنڈی رضا مندی ، خوشی خوشی سے اللہ کا جذبہ اطاعت کام کر رہا ہے۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے حق ادا کردیا۔ تسلیم و رضا کا اظہار ہوگیا۔ امر الٰہی کو وہ روبعمل لے ہی آئے۔ فرض پورا کردیا۔ بس چھری کی ایک کش ہی باقی رہ گئی تھی۔ خون کی ایک دھار ہی باقی تھی۔ اکلوتے بیٹے کی روح کی پرداز ہو چکنی باقی تھی۔ اللہ کے ہاں اس روح کی کوئی زیادہ اہمیت نہ تھی۔ اللہ کے پیمانے میں وزن کسی اور چیز کا تھا جو ہوچکا۔ دونوں نے عزم و ارادہ اس میزان میں رکھ دیا تھا۔ رب جانتا تھا کہ ان کے شعور کی حالت کیا ہے ، ان کا جذبہ کیا ہے۔
یہ ایک امتحان تھا جو ہوچکا۔ اس میں وہ فتح یاب ہوگئے۔ نتائج سامنے آگئے۔ مقصد امتحان پورا ہوگیا جو بات رہ گئی وہ صرف یہ تھی کہ کوئی تڑپ جائے۔ خون بہہ جائے۔ ذبیح کا جسم ٹھنڈا ہوجائے۔ لیکن اللہ بندگی و اطاعت چاہتا ہے۔ عبادت کے معنی اسلام میں ابتلا اور تعذیب نہیں۔ اللہ خون اور جسموں کو گرانا نہیں چاہتا۔ جب خلوص کا اظہار ہوگیا۔ بندہ اس مشکل حکم کی تعیل کے لیے تیار ہوگیا۔ اپنے دل و جان سے تیار ہوگیا تو فرض ادا ہوگیا اور امتحان میں وہ کامیاب ہوگیا۔
اللہ جانتا تھا کہ ابراہیم اور اسماعیل دونوں سچے ہیں۔ اس لیے اللہ نے ان کی تیاری ہی کو عمل سمجھا۔
الصافات 37:105
ونادینہ ان یابراھیم ۔۔۔۔۔ بذبح عظیم (105 – 107) ” ۔ “۔ تمہارا خواب بھی سچا تھا ، تم نے اسے سچ کر دکھایا۔ عملاً سچا کردیا۔ اللہ تو تسلیم و رضا کا خواہش مند ہے۔ یوں کہ نفس کے اندر کوئی ایسی بات نہ رہے جو اللہ سے چھپائے ، جو اللہ کے حکم سے زیادہ عزیز ہو ، یا حکم الٰہی کے مقابلے میں کوئی تحفظ ہو۔ اگرچہ وہ اکلوتا بیٹا اور جگر گوشہ ہو۔ اگرچہ وہ جان اور روح ہو۔ اے ابراہیم تو نے تو یہ گویا کر دکھایا۔ تم تو ذبح عظیم کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ اگر اللہ ہاتھ کو نہ پکڑتا۔ تم نے عزیز ترین متاع قربان کردی تھی۔ اور تم نہایت ہی سنجیدگی ، دھیمے انداز اور پروقار طریقے سے ، اطمینان اور اعتماد کے ساتھ ، مشورے اور سوچ کے ساتھ قربانی کردی۔ اب تو صرف خون اور گوشت رہ گیا تھا۔ اس مقام پر انسان کے خون اور گوشت کے بدلے قربانی کا خون اور گوشت پیش کردیا جاتا ہے۔ اس کا بدل دے دیا جاتا ہے اور اسے ذبح عظیم کا نام بھی دے دیا جاتا ہے۔ ایک ایک مینڈھا حکم ربی سے ابراہیم (علیہ السلام) کی چھری کے نیچے آجاتا ہے۔ اور وہ اسے اسماعیل (علیہ السلام) کے بدلے ذبح کردیتے ہیں اور کہا جاتا ہے :
انا کذلک نجری المحسنین (37: 105) ” ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ ہم ان کو اس قسم کی آزمائش کے لیے چن کر ان پر کرم کرتے ہیں اور ان کے دلوں کو تسلیم ورضا اور اطاعت وفا کے لیے تیار کرکے اور ان کو اس عظیم کام پر آمادہ کرکے ان پر انعام کرتے ہیں اور اس قسم کی عظیم قربانی پر ان کو قدرت دے کر اور صبر دے کر ان کو جزاء دیتے ہیں۔ اور ھقیقی جزاء کے مستحق قرار دے کر ان پر احسان کرتے ہیں۔
اس تعذیب و ابتلا کو ایک سنت جاریہ بنایا گیا ہے۔ ہر بقر عید پر قربانی جاری ہوگئی۔ یہ اس عظیم واقعہ کی دائمی یادگار ہے۔ جس کے اندر ایمان اپنے عروج پر نظر آتا ہے جس میں اطاعت کا حسن اور تسلیم و رضا کی بلندی اور عظمت نظر آتی ہے۔ اور امت مسلمہ اس قربانی کی یاد تازہ کرتی رہتی ہے تاکہ اپنے جدا مجد حضرت ابراہیم کی عظمت کی معرفت تازہ ہوتی رہے۔ جن کی ملت پر یہ امت ہے جن کی نسبت اور جن کی نطریاتی میراث کی وہ وارث ہے تاکہ وہ اس نظریہ حیات اور ان عقاید و ایمانیات کا اچھی طرح ادراک کرسکے جو ملت ابراہیمی کی میراث ہیں۔ اور جسے معلوم ہو کہ مسلم وہ ہوتا ہے ۔ جو بےچون و چرا رب تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرے ، خوشی خوشی۔ اور اللہ کا حکم پاتے ہی بلکہ اشارہ پاتے ہی وہ اسے روبعمل لائے۔ اپنے لیے کچھ نہ رکھے۔ کوئی تحفظ نہ ہو۔ وہ اللہ کی اطاعت میں کوئی اپنا طریقہ ، اپنا اسلوب اختیار نہ کرے بلکہ اللہ کی مرضی اور اس کے طریقے کے مطابق عمل پیدا ہو ، جس طرح حکم ہو اور جس طرح حکم ملا ہو۔
پھر امت کو یہ بھی سبق دیا گیا کہ اللہ کے احکام کی تعمیل میں امت پر سختی اور تشدد مطلوب نہیں ہے کہ اسے ایسے احکام دئیے جائیں جو اس کی وسعت اور طاقت میں نہ ہوں۔ اللہ ایسے احکام دیتا ہے جن پر امت لبیک کہہ کر تعمیل کرسکے۔ اور پوری طرح ان احکام کو ادا کرسکے۔ اور جو حکم بھی آئے اس پر سلمنا کہے۔ اور اپنی طرف سے کوئی تجویز نہ دے۔ نہ اس میں سستی دکھائے اور نہ احسان جتلائے۔ جب اللہ آمادگی اور تسلیم کو جان لیتا ہے تو پھر وہ اپنے بندوں کو عذاب دے کر اور ان پر تشدد کرکے خوش نہیں ہوتا۔ آمادگی اور سرتسلیم خم کرنا ہی دراصل عمل شمار ہوا اور اصل عمل کا فدیہ دے دیا گیا۔ یہ سلوک اللہ کا اس امت کے ساتھ ہے جس طرح اس کے جد امجد ابراہیم کے ساتھ ہوا۔
الصافات 37:106
ونادینہ ان یابراھیم ۔۔۔۔۔ بذبح عظیم (105 – 107) ” ۔ “۔ تمہارا خواب بھی سچا تھا ، تم نے اسے سچ کر دکھایا۔ عملاً سچا کردیا۔ اللہ تو تسلیم و رضا کا خواہش مند ہے۔ یوں کہ نفس کے اندر کوئی ایسی بات نہ رہے جو اللہ سے چھپائے ، جو اللہ کے حکم سے زیادہ عزیز ہو ، یا حکم الٰہی کے مقابلے میں کوئی تحفظ ہو۔ اگرچہ وہ اکلوتا بیٹا اور جگر گوشہ ہو۔ اگرچہ وہ جان اور روح ہو۔ اے ابراہیم تو نے تو یہ گویا کر دکھایا۔ تم تو ذبح عظیم کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ اگر اللہ ہاتھ کو نہ پکڑتا۔ تم نے عزیز ترین متاع قربان کردی تھی۔ اور تم نہایت ہی سنجیدگی ، دھیمے انداز اور پروقار طریقے سے ، اطمینان اور اعتماد کے ساتھ ، مشورے اور سوچ کے ساتھ قربانی کردی۔ اب تو صرف خون اور گوشت رہ گیا تھا۔ اس مقام پر انسان کے خون اور گوشت کے بدلے قربانی کا خون اور گوشت پیش کردیا جاتا ہے۔ اس کا بدل دے دیا جاتا ہے اور اسے ذبح عظیم کا نام بھی دے دیا جاتا ہے۔ ایک ایک مینڈھا حکم ربی سے ابراہیم (علیہ السلام) کی چھری کے نیچے آجاتا ہے۔ اور وہ اسے اسماعیل (علیہ السلام) کے بدلے ذبح کردیتے ہیں اور کہا جاتا ہے :
انا کذلک نجری المحسنین (37: 105) ” ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ ہم ان کو اس قسم کی آزمائش کے لیے چن کر ان پر کرم کرتے ہیں اور ان کے دلوں کو تسلیم ورضا اور اطاعت وفا کے لیے تیار کرکے اور ان کو اس عظیم کام پر آمادہ کرکے ان پر انعام کرتے ہیں اور اس قسم کی عظیم قربانی پر ان کو قدرت دے کر اور صبر دے کر ان کو جزاء دیتے ہیں۔ اور ھقیقی جزاء کے مستحق قرار دے کر ان پر احسان کرتے ہیں۔
اس تعذیب و ابتلا کو ایک سنت جاریہ بنایا گیا ہے۔ ہر بقر عید پر قربانی جاری ہوگئی۔ یہ اس عظیم واقعہ کی دائمی یادگار ہے۔ جس کے اندر ایمان اپنے عروج پر نظر آتا ہے جس میں اطاعت کا حسن اور تسلیم و رضا کی بلندی اور عظمت نظر آتی ہے۔ اور امت مسلمہ اس قربانی کی یاد تازہ کرتی رہتی ہے تاکہ اپنے جدا مجد حضرت ابراہیم کی عظمت کی معرفت تازہ ہوتی رہے۔ جن کی ملت پر یہ امت ہے جن کی نسبت اور جن کی نطریاتی میراث کی وہ وارث ہے تاکہ وہ اس نظریہ حیات اور ان عقاید و ایمانیات کا اچھی طرح ادراک کرسکے جو ملت ابراہیمی کی میراث ہیں۔ اور جسے معلوم ہو کہ مسلم وہ ہوتا ہے ۔ جو بےچون و چرا رب تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرے ، خوشی خوشی۔ اور اللہ کا حکم پاتے ہی بلکہ اشارہ پاتے ہی وہ اسے روبعمل لائے۔ اپنے لیے کچھ نہ رکھے۔ کوئی تحفظ نہ ہو۔ وہ اللہ کی اطاعت میں کوئی اپنا طریقہ ، اپنا اسلوب اختیار نہ کرے بلکہ اللہ کی مرضی اور اس کے طریقے کے مطابق عمل پیدا ہو ، جس طرح حکم ہو اور جس طرح حکم ملا ہو۔
پھر امت کو یہ بھی سبق دیا گیا کہ اللہ کے احکام کی تعمیل میں امت پر سختی اور تشدد مطلوب نہیں ہے کہ اسے ایسے احکام دئیے جائیں جو اس کی وسعت اور طاقت میں نہ ہوں۔ اللہ ایسے احکام دیتا ہے جن پر امت لبیک کہہ کر تعمیل کرسکے۔ اور پوری طرح ان احکام کو ادا کرسکے۔ اور جو حکم بھی آئے اس پر سلمنا کہے۔ اور اپنی طرف سے کوئی تجویز نہ دے۔ نہ اس میں سستی دکھائے اور نہ احسان جتلائے۔ جب اللہ آمادگی اور تسلیم کو جان لیتا ہے تو پھر وہ اپنے بندوں کو عذاب دے کر اور ان پر تشدد کرکے خوش نہیں ہوتا۔ آمادگی اور سرتسلیم خم کرنا ہی دراصل عمل شمار ہوا اور اصل عمل کا فدیہ دے دیا گیا۔ یہ سلوک اللہ کا اس امت کے ساتھ ہے جس طرح اس کے جد امجد ابراہیم کے ساتھ ہوا۔
الصافات 37:107
ونادینہ ان یابراھیم ۔۔۔۔۔ بذبح عظیم (105 – 107) ” ۔ “۔ تمہارا خواب بھی سچا تھا ، تم نے اسے سچ کر دکھایا۔ عملاً سچا کردیا۔ اللہ تو تسلیم و رضا کا خواہش مند ہے۔ یوں کہ نفس کے اندر کوئی ایسی بات نہ رہے جو اللہ سے چھپائے ، جو اللہ کے حکم سے زیادہ عزیز ہو ، یا حکم الٰہی کے مقابلے میں کوئی تحفظ ہو۔ اگرچہ وہ اکلوتا بیٹا اور جگر گوشہ ہو۔ اگرچہ وہ جان اور روح ہو۔ اے ابراہیم تو نے تو یہ گویا کر دکھایا۔ تم تو ذبح عظیم کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ اگر اللہ ہاتھ کو نہ پکڑتا۔ تم نے عزیز ترین متاع قربان کردی تھی۔ اور تم نہایت ہی سنجیدگی ، دھیمے انداز اور پروقار طریقے سے ، اطمینان اور اعتماد کے ساتھ ، مشورے اور سوچ کے ساتھ قربانی کردی۔ اب تو صرف خون اور گوشت رہ گیا تھا۔ اس مقام پر انسان کے خون اور گوشت کے بدلے قربانی کا خون اور گوشت پیش کردیا جاتا ہے۔ اس کا بدل دے دیا جاتا ہے اور اسے ذبح عظیم کا نام بھی دے دیا جاتا ہے۔ ایک ایک مینڈھا حکم ربی سے ابراہیم (علیہ السلام) کی چھری کے نیچے آجاتا ہے۔ اور وہ اسے اسماعیل (علیہ السلام) کے بدلے ذبح کردیتے ہیں اور کہا جاتا ہے :
انا کذلک نجری المحسنین (37: 105) ” ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ ہم ان کو اس قسم کی آزمائش کے لیے چن کر ان پر کرم کرتے ہیں اور ان کے دلوں کو تسلیم ورضا اور اطاعت وفا کے لیے تیار کرکے اور ان کو اس عظیم کام پر آمادہ کرکے ان پر انعام کرتے ہیں اور اس قسم کی عظیم قربانی پر ان کو قدرت دے کر اور صبر دے کر ان کو جزاء دیتے ہیں۔ اور ھقیقی جزاء کے مستحق قرار دے کر ان پر احسان کرتے ہیں۔
اس تعذیب و ابتلا کو ایک سنت جاریہ بنایا گیا ہے۔ ہر بقر عید پر قربانی جاری ہوگئی۔ یہ اس عظیم واقعہ کی دائمی یادگار ہے۔ جس کے اندر ایمان اپنے عروج پر نظر آتا ہے جس میں اطاعت کا حسن اور تسلیم و رضا کی بلندی اور عظمت نظر آتی ہے۔ اور امت مسلمہ اس قربانی کی یاد تازہ کرتی رہتی ہے تاکہ اپنے جدا مجد حضرت ابراہیم کی عظمت کی معرفت تازہ ہوتی رہے۔ جن کی ملت پر یہ امت ہے جن کی نسبت اور جن کی نطریاتی میراث کی وہ وارث ہے تاکہ وہ اس نظریہ حیات اور ان عقاید و ایمانیات کا اچھی طرح ادراک کرسکے جو ملت ابراہیمی کی میراث ہیں۔ اور جسے معلوم ہو کہ مسلم وہ ہوتا ہے ۔ جو بےچون و چرا رب تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرے ، خوشی خوشی۔ اور اللہ کا حکم پاتے ہی بلکہ اشارہ پاتے ہی وہ اسے روبعمل لائے۔ اپنے لیے کچھ نہ رکھے۔ کوئی تحفظ نہ ہو۔ وہ اللہ کی اطاعت میں کوئی اپنا طریقہ ، اپنا اسلوب اختیار نہ کرے بلکہ اللہ کی مرضی اور اس کے طریقے کے مطابق عمل پیدا ہو ، جس طرح حکم ہو اور جس طرح حکم ملا ہو۔
پھر امت کو یہ بھی سبق دیا گیا کہ اللہ کے احکام کی تعمیل میں امت پر سختی اور تشدد مطلوب نہیں ہے کہ اسے ایسے احکام دئیے جائیں جو اس کی وسعت اور طاقت میں نہ ہوں۔ اللہ ایسے احکام دیتا ہے جن پر امت لبیک کہہ کر تعمیل کرسکے۔ اور پوری طرح ان احکام کو ادا کرسکے۔ اور جو حکم بھی آئے اس پر سلمنا کہے۔ اور اپنی طرف سے کوئی تجویز نہ دے۔ نہ اس میں سستی دکھائے اور نہ احسان جتلائے۔ جب اللہ آمادگی اور تسلیم کو جان لیتا ہے تو پھر وہ اپنے بندوں کو عذاب دے کر اور ان پر تشدد کرکے خوش نہیں ہوتا۔ آمادگی اور سرتسلیم خم کرنا ہی دراصل عمل شمار ہوا اور اصل عمل کا فدیہ دے دیا گیا۔ یہ سلوک اللہ کا اس امت کے ساتھ ہے جس طرح اس کے جد امجد ابراہیم کے ساتھ ہوا۔
الصافات 37:108
وترکنا علیہ فی الاخرین (108) ” “۔ صدیوں سے اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) امہ قرار پائے۔ انبیاء کے باپ قرار پائے۔ اس امت کے باپ قرار پائے۔ یہ امت ان کی ملت کی وارث ہوئی۔ اور اللہ نے اسی لیے ان کے ذمہ پوری بشریت کی راہنمائی اور قیادت کا فیضہ عائد کیا۔ چناچہ اس امت کو ابراہیم کا جانشین قرار دیا گیا۔ قیامت تک کے لئے۔
الصافات 37:109
سلم علی ابراہیم (109) ” “۔ رب تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم پر سلام آتا ہے۔ اس کو قرآن کریم جیسی دائمی اور باقی رہنے و الی کتاب میں رجسٹر کردیا جاتا ہے ۔ اور یوں اسے اس کائنات کے وجود میں ثبت کردیا جاتا ہے۔
الصافات 37:110
کذلک نجزی المحسین (110) ” ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ آزمائش میں ڈال کر ان سے وفا کا اظہار کرا کے ، ان کے ذکر کو دوام بخش کر ، ان پر سلام بھیج کر ، اور ان کو اعزاز دے کر ہم جزاء دیتے ہیں۔
الصافات 37:111
انہ من عبادنا المؤمنین (111) ” “۔ یہ ہے جزاء ان کے ایمان کی اور اس کی حقیقت وہ ہے جو اس آزمائش میں کامرانی سے ظہور میں آئی۔ اس کے بعد اللہ ان پر ایک بار پھر تجلیات فرماتا ہے۔ اور اللہ کا ایک بار پھر کرم ہوتا ہے۔ اور وہ یوں کہ بڑھاپے میں ان کو ایک دو سرا لڑکا اسحاق دیا جاتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی برکت دی جاتی ہے۔ اور ان کے بیٹے اسحاق کو بھی برکت دی جاتی ہے اور حضرت اسحاق کو بھی صالح نبی بنایا جاتا ہے۔
الصافات 37:112
وبشرنہ باسحق۔۔۔۔۔ لنفسہ مبین (112- 113) ” ۔ اسماعیل اور اسحاق کے بعد ان کی اولاد کا سلسلہ چلتا ہے لیکن ان کی اولاد کی وراثت ، وراثت گوشت و پوست نہیں ہے۔ یہ نظریاتی اور ملی وراثت ہے لہٰذا جو اس ملت پر رہا وہ محسن رہا اور جس نے ملت اور نطریات سے انحراف کیا وہ ظالم قرار پایا اور قرابت اور نسب اس کے لیے مفید نہ ہوا۔
الصافات 37:113
ومن ذریتھما ۔۔۔۔ لنفسہ مبین (37: 113) ” اب ان دونوں کی ذریت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے “۔ اور انہی کی اولاد سے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) تھے۔
الصافات 37:114
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا گیا۔ اس حصے کا خاتمہ بھی موسیٰ اور ہارون پر اللہ کی طرف سے سلامتی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ یہ مختصر اور پرتاثیر فقرے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لیے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے کہ اہل ایمان کی قدر و قیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی احسان کی وجہ سے۔
الصافات 37:115
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا گیا۔ اس حصے کا خاتمہ بھی موسیٰ اور ہارون پر اللہ کی طرف سے سلامتی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ یہ مختصر اور پرتاثیر فقرے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لیے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے کہ اہل ایمان کی قدر و قیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی احسان کی وجہ سے۔
الصافات 37:116
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا گیا۔ اس حصے کا خاتمہ بھی موسیٰ اور ہارون پر اللہ کی طرف سے سلامتی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ یہ مختصر اور پرتاثیر فقرے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لیے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے کہ اہل ایمان کی قدر و قیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی احسان کی وجہ سے۔
الصافات 37:117
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا گیا۔ اس حصے کا خاتمہ بھی موسیٰ اور ہارون پر اللہ کی طرف سے سلامتی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ یہ مختصر اور پرتاثیر فقرے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لیے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے کہ اہل ایمان کی قدر و قیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی احسان کی وجہ سے۔
الصافات 37:118
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا گیا۔ اس حصے کا خاتمہ بھی موسیٰ اور ہارون پر اللہ کی طرف سے سلامتی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ یہ مختصر اور پرتاثیر فقرے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لیے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے کہ اہل ایمان کی قدر و قیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی احسان کی وجہ سے۔
الصافات 37:119
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا گیا۔ اس حصے کا خاتمہ بھی موسیٰ اور ہارون پر اللہ کی طرف سے سلامتی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ یہ مختصر اور پرتاثیر فقرے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لیے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے کہ اہل ایمان کی قدر و قیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی احسان کی وجہ سے۔
الصافات 37:120
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا گیا۔ اس حصے کا خاتمہ بھی موسیٰ اور ہارون پر اللہ کی طرف سے سلامتی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ یہ مختصر اور پرتاثیر فقرے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لیے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے کہ اہل ایمان کی قدر و قیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی احسان کی وجہ سے۔
الصافات 37:121
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا گیا۔ اس حصے کا خاتمہ بھی موسیٰ اور ہارون پر اللہ کی طرف سے سلامتی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ یہ مختصر اور پرتاثیر فقرے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لیے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے کہ اہل ایمان کی قدر و قیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی احسان کی وجہ سے۔
الصافات 37:122
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا گیا۔ اس حصے کا خاتمہ بھی موسیٰ اور ہارون پر اللہ کی طرف سے سلامتی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ یہ مختصر اور پرتاثیر فقرے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لیے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے کہ اہل ایمان کی قدر و قیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی احسان کی وجہ سے۔
الصافات 37:123
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔
نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ
آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے
سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
الصافات 37:124
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔
نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ
آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے
سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
الصافات 37:125
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔
نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ
آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے
سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
الصافات 37:126
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔
نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ
آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے
سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
الصافات 37:127
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔
نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ
آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے
سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
الصافات 37:128
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔
نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ
آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے
سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
الصافات 37:129
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔
نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ
آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے
سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
الصافات 37:130
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔
نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ
آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے
سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
الصافات 37:131
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔
نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ
آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے
سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
الصافات 37:132
اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔
وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)
حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔
نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ
آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے
سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
الصافات 37:133
اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔
وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ”
یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا نہیں ہوتا۔ قصص انبیاء کی یہ جھلکیاں قصہ یونس پر ختم ہوتی ہیں۔
الصافات 37:134
اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔
وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ”
یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا نہیں ہوتا۔ قصص انبیاء کی یہ جھلکیاں قصہ یونس پر ختم ہوتی ہیں۔
الصافات 37:135
اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔
وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ”
یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا نہیں ہوتا۔ قصص انبیاء کی یہ جھلکیاں قصہ یونس پر ختم ہوتی ہیں۔
الصافات 37:136
اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔
وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ”
یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا نہیں ہوتا۔ قصص انبیاء کی یہ جھلکیاں قصہ یونس پر ختم ہوتی ہیں۔
الصافات 37:137
اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔
وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ”
یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا نہیں ہوتا۔ قصص انبیاء کی یہ جھلکیاں قصہ یونس پر ختم ہوتی ہیں۔
الصافات 37:138
اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔
وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ”
یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا نہیں ہوتا۔ قصص انبیاء کی یہ جھلکیاں قصہ یونس پر ختم ہوتی ہیں۔
الصافات 37:139
وان یونس لمن المرسلین۔۔۔۔ فمتعنھم الی حین (139 – 148)
قرآن کریم اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ قوم یونس کہاں تھی۔ یہ بات قرآن سے صاف صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی ساحلی بستی میں آباد تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یونس کی قوم کی جانب سے مسلسل تکذیب کی وجہ سے ان کا دل بھر آیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی قوم کو یہ وارننگ دے دی کہ جلد ہی تم پر عذاب آنے والا ہے۔ آپ نے اپنی قوم سے سخت غصہ ہوکر نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ آپ سمندر کے ساحل پر چلے گئے۔ اور وہاں ایک ایسی کشتی میں سوار ہوگئے جو سواریوں سے بھری ہوئی تھی۔ سمندر کے درمیان میں کشتی کو طوفان نے آلیا اور وہ موجوں کی لپیٹ میں آگئی۔ لوگوں کی طرف سے اعلان ہوا ، کشتی کے سواروں میں کوئی شخص ایسا ہے جس نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور وہ مغضوب علیہ ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ ایسے شخص کو سمندر میں پھینک دیا جائے تاکہ کشتی نجات پاجائے۔ اس لیے ان لوگوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کا قرعہ نکلا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ یونس (علیہ السلام) کا قرعہ نکل آیا۔ ان لوگوں کے اندر یونس (علیہ السلام) نیکی اور تقویٰ میں معروف تھے۔ لیکن جب ان کے نام بار بار قرعہ نکلا تو انہوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا یا خود وہ سمندر میں کود گئے۔ چناچہ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت سب لوگ ان کو ملامت کر رہے تھے یعنی وہ ملامت کے بظاہر مستحق تھے کیونکہ انہوں نے اس مہم کو چھوڑ دیا تھا جس کے لیے ان کو بھیجا گیا تھا اور اپنی قوم سے ناراض ہوکر ان کو چھوڑ دیا حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ آئی تھی۔ جب مچھلی کے پیٹ میں انہوں نے احساس کرلیا اس ظلم سے استغفار کرنا شروع کردیا۔ اور یہ اعتراف کرلیا کہ میں نے ظلم کیا ہے۔
لا الہ الا ۔۔۔۔ من الظالمین ” نہیں ہے کوئی حاکم مگر تو ، تو پاک ہے ، بیشک میں ظالموں میں سے تھا “۔ اللہ نے ان کی دعا کو سنا اور قبول کرلیا۔ چناچہ مچھلی نے ان کو ساحل پر اگل دیا۔
الصافات 37:140
وان یونس لمن المرسلین۔۔۔۔ فمتعنھم الی حین (139 – 148)
قرآن کریم اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ قوم یونس کہاں تھی۔ یہ بات قرآن سے صاف صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی ساحلی بستی میں آباد تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یونس کی قوم کی جانب سے مسلسل تکذیب کی وجہ سے ان کا دل بھر آیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی قوم کو یہ وارننگ دے دی کہ جلد ہی تم پر عذاب آنے والا ہے۔ آپ نے اپنی قوم سے سخت غصہ ہوکر نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ آپ سمندر کے ساحل پر چلے گئے۔ اور وہاں ایک ایسی کشتی میں سوار ہوگئے جو سواریوں سے بھری ہوئی تھی۔ سمندر کے درمیان میں کشتی کو طوفان نے آلیا اور وہ موجوں کی لپیٹ میں آگئی۔ لوگوں کی طرف سے اعلان ہوا ، کشتی کے سواروں میں کوئی شخص ایسا ہے جس نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور وہ مغضوب علیہ ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ ایسے شخص کو سمندر میں پھینک دیا جائے تاکہ کشتی نجات پاجائے۔ اس لیے ان لوگوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کا قرعہ نکلا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ یونس (علیہ السلام) کا قرعہ نکل آیا۔ ان لوگوں کے اندر یونس (علیہ السلام) نیکی اور تقویٰ میں معروف تھے۔ لیکن جب ان کے نام بار بار قرعہ نکلا تو انہوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا یا خود وہ سمندر میں کود گئے۔ چناچہ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت سب لوگ ان کو ملامت کر رہے تھے یعنی وہ ملامت کے بظاہر مستحق تھے کیونکہ انہوں نے اس مہم کو چھوڑ دیا تھا جس کے لیے ان کو بھیجا گیا تھا اور اپنی قوم سے ناراض ہوکر ان کو چھوڑ دیا حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ آئی تھی۔ جب مچھلی کے پیٹ میں انہوں نے احساس کرلیا اس ظلم سے استغفار کرنا شروع کردیا۔ اور یہ اعتراف کرلیا کہ میں نے ظلم کیا ہے۔
لا الہ الا ۔۔۔۔ من الظالمین ” نہیں ہے کوئی حاکم مگر تو ، تو پاک ہے ، بیشک میں ظالموں میں سے تھا “۔ اللہ نے ان کی دعا کو سنا اور قبول کرلیا۔ چناچہ مچھلی نے ان کو ساحل پر اگل دیا۔
الصافات 37:141
وان یونس لمن المرسلین۔۔۔۔ فمتعنھم الی حین (139 – 148)
قرآن کریم اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ قوم یونس کہاں تھی۔ یہ بات قرآن سے صاف صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی ساحلی بستی میں آباد تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یونس کی قوم کی جانب سے مسلسل تکذیب کی وجہ سے ان کا دل بھر آیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی قوم کو یہ وارننگ دے دی کہ جلد ہی تم پر عذاب آنے والا ہے۔ آپ نے اپنی قوم سے سخت غصہ ہوکر نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ آپ سمندر کے ساحل پر چلے گئے۔ اور وہاں ایک ایسی کشتی میں سوار ہوگئے جو سواریوں سے بھری ہوئی تھی۔ سمندر کے درمیان میں کشتی کو طوفان نے آلیا اور وہ موجوں کی لپیٹ میں آگئی۔ لوگوں کی طرف سے اعلان ہوا ، کشتی کے سواروں میں کوئی شخص ایسا ہے جس نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور وہ مغضوب علیہ ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ ایسے شخص کو سمندر میں پھینک دیا جائے تاکہ کشتی نجات پاجائے۔ اس لیے ان لوگوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کا قرعہ نکلا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ یونس (علیہ السلام) کا قرعہ نکل آیا۔ ان لوگوں کے اندر یونس (علیہ السلام) نیکی اور تقویٰ میں معروف تھے۔ لیکن جب ان کے نام بار بار قرعہ نکلا تو انہوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا یا خود وہ سمندر میں کود گئے۔ چناچہ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت سب لوگ ان کو ملامت کر رہے تھے یعنی وہ ملامت کے بظاہر مستحق تھے کیونکہ انہوں نے اس مہم کو چھوڑ دیا تھا جس کے لیے ان کو بھیجا گیا تھا اور اپنی قوم سے ناراض ہوکر ان کو چھوڑ دیا حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ آئی تھی۔ جب مچھلی کے پیٹ میں انہوں نے احساس کرلیا اس ظلم سے استغفار کرنا شروع کردیا۔ اور یہ اعتراف کرلیا کہ میں نے ظلم کیا ہے۔
لا الہ الا ۔۔۔۔ من الظالمین ” نہیں ہے کوئی حاکم مگر تو ، تو پاک ہے ، بیشک میں ظالموں میں سے تھا “۔ اللہ نے ان کی دعا کو سنا اور قبول کرلیا۔ چناچہ مچھلی نے ان کو ساحل پر اگل دیا۔
الصافات 37:142
وان یونس لمن المرسلین۔۔۔۔ فمتعنھم الی حین (139 – 148)
قرآن کریم اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ قوم یونس کہاں تھی۔ یہ بات قرآن سے صاف صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی ساحلی بستی میں آباد تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یونس کی قوم کی جانب سے مسلسل تکذیب کی وجہ سے ان کا دل بھر آیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی قوم کو یہ وارننگ دے دی کہ جلد ہی تم پر عذاب آنے والا ہے۔ آپ نے اپنی قوم سے سخت غصہ ہوکر نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ آپ سمندر کے ساحل پر چلے گئے۔ اور وہاں ایک ایسی کشتی میں سوار ہوگئے جو سواریوں سے بھری ہوئی تھی۔ سمندر کے درمیان میں کشتی کو طوفان نے آلیا اور وہ موجوں کی لپیٹ میں آگئی۔ لوگوں کی طرف سے اعلان ہوا ، کشتی کے سواروں میں کوئی شخص ایسا ہے جس نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور وہ مغضوب علیہ ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ ایسے شخص کو سمندر میں پھینک دیا جائے تاکہ کشتی نجات پاجائے۔ اس لیے ان لوگوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کا قرعہ نکلا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ یونس (علیہ السلام) کا قرعہ نکل آیا۔ ان لوگوں کے اندر یونس (علیہ السلام) نیکی اور تقویٰ میں معروف تھے۔ لیکن جب ان کے نام بار بار قرعہ نکلا تو انہوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا یا خود وہ سمندر میں کود گئے۔ چناچہ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت سب لوگ ان کو ملامت کر رہے تھے یعنی وہ ملامت کے بظاہر مستحق تھے کیونکہ انہوں نے اس مہم کو چھوڑ دیا تھا جس کے لیے ان کو بھیجا گیا تھا اور اپنی قوم سے ناراض ہوکر ان کو چھوڑ دیا حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ آئی تھی۔ جب مچھلی کے پیٹ میں انہوں نے احساس کرلیا اس ظلم سے استغفار کرنا شروع کردیا۔ اور یہ اعتراف کرلیا کہ میں نے ظلم کیا ہے۔
لا الہ الا ۔۔۔۔ من الظالمین ” نہیں ہے کوئی حاکم مگر تو ، تو پاک ہے ، بیشک میں ظالموں میں سے تھا “۔ اللہ نے ان کی دعا کو سنا اور قبول کرلیا۔ چناچہ مچھلی نے ان کو ساحل پر اگل دیا۔
الصافات 37:143
فلولا انہ کان ۔۔۔۔۔ یوم یبعثون (37: 143 – 144) ” اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو روز قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا “۔ جب آپ مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو بہت ہی کمزور ہوچکے تھے اور آپ کے پاس اوڑھنے کے لیے بھی کچھ نہ تھا اور آپ ساحل کی گرمی میں پڑے تھے۔
الصافات 37:144
فلولا انہ کان ۔۔۔۔۔ یوم یبعثون (37: 143 – 144) ” اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو روز قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا “۔ جب آپ مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو بہت ہی کمزور ہوچکے تھے اور آپ کے پاس اوڑھنے کے لیے بھی کچھ نہ تھا اور آپ ساحل کی گرمی میں پڑے تھے۔
الصافات 37:145
فلولا انہ کان ۔۔۔۔۔ یوم یبعثون (37: 143 – 144) ” اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو روز قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا “۔ جب آپ مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو بہت ہی کمزور ہوچکے تھے اور آپ کے پاس اوڑھنے کے لیے بھی کچھ نہ تھا اور آپ ساحل کی گرمی میں پڑے تھے۔
الصافات 37:146
وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین (37: 146) ” اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا “۔ اور یہ کدو کی بیل تھی۔ یہ اپنے پھیلے ہوئے بتوں کے ذریعہ انہیں دھوپ سے بچاتی اور یہ ان سے مکھیوں کو بھی دور رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مکھیاں اس درخت کے قریب نہیں جاتیں۔ یہ اللہ کا لطف و کرم تھا اور معجزانہ تدابیر تھیں۔ جب ان کی صحت لوٹ آئی تو اللہ نے ان کو اپنی اس قوم کھے پاس واپس بھیجا جن سے ناراض ہوکر وہ آگئے تھے۔ حضرت یونس کے بعد یہ لوگ ڈرگئے تھے ، ایمان لے آئے تھے۔ اللہ سے استغفار کیا اور اجتماعی طور پر معافی مانگی اور اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان پر وہ عذاب سنت الہیہ کے مطابق نہ آیا جو مکذبین پر آتا رہتا ہے۔
الصافات 37:147
وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین (37: 146) ” اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا “۔ اور یہ کدو کی بیل تھی۔ یہ اپنے پھیلے ہوئے بتوں کے ذریعہ انہیں دھوپ سے بچاتی اور یہ ان سے مکھیوں کو بھی دور رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مکھیاں اس درخت کے قریب نہیں جاتیں۔ یہ اللہ کا لطف و کرم تھا اور معجزانہ تدابیر تھیں۔ جب ان کی صحت لوٹ آئی تو اللہ نے ان کو اپنی اس قوم کھے پاس واپس بھیجا جن سے ناراض ہوکر وہ آگئے تھے۔ حضرت یونس کے بعد یہ لوگ ڈرگئے تھے ، ایمان لے آئے تھے۔ اللہ سے استغفار کیا اور اجتماعی طور پر معافی مانگی اور اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان پر وہ عذاب سنت الہیہ کے مطابق نہ آیا جو مکذبین پر آتا رہتا ہے۔
الصافات 37:148
فامنوا فمتعنھم الی حین (37: 148) ” وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ایک مقررہ وقت تک ان کو متاع حیات دیا “۔ ان کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے زیادہ تھی۔ اور یہ سب کے سب ایمان لے آئے تھے۔ یہ قصہ یہاں یہ بتاتا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے جو ایمان لاتے ہیں جبکہ سابقہ قصص کا مدعا یہ بتانا تھا کہ جو ایمان نہیں لاتے ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ لہٰذا اے قوم محمد ، تم ان دو انجاموں میں سے اپنے لیے جو انجام چاہتے ہو ، اختیار کرلو۔ یہاں آکر اس سورت کا یہ سبق ختم ہوتا ہے اور اس پر وہ تاریخی جائزہ بھی ختم ہوتا ہے جو نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام ڈرانے والوں کی اقوام کے انجام کے بارے میں تھا ، خواہ وہ مومنین تھے یا مکذبین تھے۔
الصافات 37:149
درس نمبر 210 ایک نظر میں
اس سورت کے سبق 2 میں لائے جانے والے قصص نے جن امور پر روشنی ڈالی اور اللہ اور اس کے بندوں کے تعلق کی جو وضاحت کی اور اللہ کی جانب سے اپنے رسولوں کے مکذبین کو جس طرح پکڑا گیا جو غیر اللہ کی بندگی کرتے تھے اور اللہ کے ساتھ خود اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو شریک کرتے تھے اور اس حقیقت کی روشنی میں جو درس اول کا موضوع تھی ، اب اس آخری سبق میں رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اس موضوع پر مکالمہ کریں کہ ان تمام حقائق کے مقابلے میں ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حقیقت ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں نیز ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حیثیت ہے جس کے مطابق وہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ اور جنوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے اور ان کو یاد دلائیں کہ تم تو تمنائیں کرتے تھے کہ ہم میں بھی کوئی رسول آجائے اور تم یہ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی رسول آجائے تو ہم اس کی ہدایات کو بسر و چشم قبول کریں گے لیکن ان تمہارا حال یہ ہے کہ جب رسول آگیا تو تم نے کفر کا رویہ اختیار کرلیا۔ سورت کا خاتمہ اس ریکارڈ پر ہوتا ہے کہ اللہ نے رسولوں کے ساتھ وعدہ کرلیا ہے کہ وہی غالب رہیں گے اور یہ کہ یہ مشرکین اللہ کی طرف جو نسبتیں کرتے ہیں وہ ان سے پاک ہے اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ چناچہ آغاز ہوتا ہے۔
درس نمبر 210 تشریح آیات
149 ۔۔۔ تا۔۔۔ 182
فاستفتھم الربک البنات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (149 – 157)
ان کے اس غلط عقیدے کا ہر طرف سے گھیراؤ کیا جاتا ہے ۔ ان کے خلاف ان کی زبان میں بات کی جاتی ہے اور ان کے سماج میں جو سوچ تھی اسی کو ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ عربوں کے سماج میں لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ اور وہ بچیوں کی پیدائش کو مصیبت سمجھتے تھے۔ لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم تر مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ فرشتے دیویاں ہیں اور یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ چناچہ اس عقیدے کو ان کی منطق اور سوچ کے مطابق رد کردیا گیا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ حقیقت تو دور کی بات ہے خود ان کے تسلیم شدہ معیار کے مطابق بھی ان کا عقیدہ غلط ہے۔
فاستفتھم الربک البنات ولھم النبون (37: 149) ” پھر ذرا ان سے پوچھو کہ تمہارے رب کیلئے تو ہوں بیٹاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے “۔ کیا تمہارے دل کو یہ بات لگتی ہے۔ جبکہ تمہارے سماج میں لڑکیاں لڑکوں سے کم تر رتبہ رکھتی ہیں۔ کیا خوب تقسیم ہے تمہاری ، کہ تمہارے لیے ہوں بیٹے اور خالق کے لیے ہوں بیٹیاں یا یہ کہ خود اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں چن لیں اور بیٹے تمہارے لیے چھوڑ دئیے۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ تمہارے یہ مزعومات کس قدر پوچ ہیں۔ آج تمہارے اندر یہ افسانوی سوچ کیسے پیدا ہوگئی۔ کہاں سے یہ عقیدہ پھیل گیا کہ فرشتے مونث ہیں۔ کیا انہوں نے ان کی پیدائش کو دیکھا ہے ، اس وقت یہ موجود تھے اور انہوں نے ان کی جنس کو معلوم کرلیا ؟ ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون (37: 150) “ کیا ہم نے ملائکہ کی تخلیق مونث کے طور پر کی اور یہ اس وقت دیکھ رہے تھے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کے اس مقولے اور عقیدے کو ان کے منصوص الفاظ میں نقل کرکے رد کرتا ہے۔
الصافات 37:150
درس نمبر 210 ایک نظر میں
اس سورت کے سبق 2 میں لائے جانے والے قصص نے جن امور پر روشنی ڈالی اور اللہ اور اس کے بندوں کے تعلق کی جو وضاحت کی اور اللہ کی جانب سے اپنے رسولوں کے مکذبین کو جس طرح پکڑا گیا جو غیر اللہ کی بندگی کرتے تھے اور اللہ کے ساتھ خود اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو شریک کرتے تھے اور اس حقیقت کی روشنی میں جو درس اول کا موضوع تھی ، اب اس آخری سبق میں رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اس موضوع پر مکالمہ کریں کہ ان تمام حقائق کے مقابلے میں ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حقیقت ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں نیز ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حیثیت ہے جس کے مطابق وہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ اور جنوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے اور ان کو یاد دلائیں کہ تم تو تمنائیں کرتے تھے کہ ہم میں بھی کوئی رسول آجائے اور تم یہ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی رسول آجائے تو ہم اس کی ہدایات کو بسر و چشم قبول کریں گے لیکن ان تمہارا حال یہ ہے کہ جب رسول آگیا تو تم نے کفر کا رویہ اختیار کرلیا۔ سورت کا خاتمہ اس ریکارڈ پر ہوتا ہے کہ اللہ نے رسولوں کے ساتھ وعدہ کرلیا ہے کہ وہی غالب رہیں گے اور یہ کہ یہ مشرکین اللہ کی طرف جو نسبتیں کرتے ہیں وہ ان سے پاک ہے اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ چناچہ آغاز ہوتا ہے۔
درس نمبر 210 تشریح آیات
149 ۔۔۔ تا۔۔۔ 182
فاستفتھم الربک البنات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (149 – 157)
ان کے اس غلط عقیدے کا ہر طرف سے گھیراؤ کیا جاتا ہے ۔ ان کے خلاف ان کی زبان میں بات کی جاتی ہے اور ان کے سماج میں جو سوچ تھی اسی کو ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ عربوں کے سماج میں لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ اور وہ بچیوں کی پیدائش کو مصیبت سمجھتے تھے۔ لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم تر مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ فرشتے دیویاں ہیں اور یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ چناچہ اس عقیدے کو ان کی منطق اور سوچ کے مطابق رد کردیا گیا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ حقیقت تو دور کی بات ہے خود ان کے تسلیم شدہ معیار کے مطابق بھی ان کا عقیدہ غلط ہے۔
فاستفتھم الربک البنات ولھم النبون (37: 149) ” پھر ذرا ان سے پوچھو کہ تمہارے رب کیلئے تو ہوں بیٹاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے “۔ کیا تمہارے دل کو یہ بات لگتی ہے۔ جبکہ تمہارے سماج میں لڑکیاں لڑکوں سے کم تر رتبہ رکھتی ہیں۔ کیا خوب تقسیم ہے تمہاری ، کہ تمہارے لیے ہوں بیٹے اور خالق کے لیے ہوں بیٹیاں یا یہ کہ خود اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں چن لیں اور بیٹے تمہارے لیے چھوڑ دئیے۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ تمہارے یہ مزعومات کس قدر پوچ ہیں۔ آج تمہارے اندر یہ افسانوی سوچ کیسے پیدا ہوگئی۔ کہاں سے یہ عقیدہ پھیل گیا کہ فرشتے مونث ہیں۔ کیا انہوں نے ان کی پیدائش کو دیکھا ہے ، اس وقت یہ موجود تھے اور انہوں نے ان کی جنس کو معلوم کرلیا ؟ ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون (37: 150) “ کیا ہم نے ملائکہ کی تخلیق مونث کے طور پر کی اور یہ اس وقت دیکھ رہے تھے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کے اس مقولے اور عقیدے کو ان کے منصوص الفاظ میں نقل کرکے رد کرتا ہے۔
الصافات 37:151
الا انھم من۔۔۔۔۔ لکذبون (37: 151 – 152) ” دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں کہ ” اللہ اولاد رکھتا ہے “ اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں “۔ یہ اپنے سماج کے مسلمہ رواج اور اپنی ثابت شدہ روایات کے خلاف یہ بات کرتے ہیں۔ یہ خود تو بیٹے چاہتے ہیں اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں۔
الصافات 37:152
الا انھم من۔۔۔۔۔ لکذبون (37: 151 – 152) ” دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں کہ ” اللہ اولاد رکھتا ہے “ اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں “۔ یہ اپنے سماج کے مسلمہ رواج اور اپنی ثابت شدہ روایات کے خلاف یہ بات کرتے ہیں۔ یہ خود تو بیٹے چاہتے ہیں اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں۔
الصافات 37:153
اصطفی البنات علی البنین (37: 153) ” کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لیے پسند کیں “۔ تمہاری یہ منطق خود تمہارے غلط یا صحیح مسلمات کی رو سے ہی غلط ہے۔
الصافات 37:154
مالکم کیف۔۔۔۔۔ تذکرون (37: 154 – 155) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے ، کیسے حکم لگا رہے ہو ، کیا تمہیں ہوش نہیں آتا “۔ یہ استدلال تم کہاں سے نکال لائے ہو ، عجیب ہے یہ ؟
الصافات 37:155
مالکم کیف۔۔۔۔۔ تذکرون (37: 154 – 155) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے ، کیسے حکم لگا رہے ہو ، کیا تمہیں ہوش نہیں آتا “۔ یہ استدلال تم کہاں سے نکال لائے ہو ، عجیب ہے یہ ؟
الصافات 37:156
ام لکم ۔۔۔۔۔ صدقین (37: 156 – 157) ” پھر کیا تمہارے پاس اپنی باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو “۔ ان کا دوسرا افسانہ یہ تھا کہ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری ہے۔
الصافات 37:157
ام لکم ۔۔۔۔۔ صدقین (37: 156 – 157) ” پھر کیا تمہارے پاس اپنی باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو “۔ ان کا دوسرا افسانہ یہ تھا کہ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری ہے۔
الصافات 37:158
وجعلوا بینہ۔۔۔۔۔ انھم لمحضرون (158) ” ، “۔ ان کا زعم یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں تھیں اور ان سے جن پیدا ہوئے یوں جنوں اور اللہ کے درمیان قرابت ہوگئی۔ جنوں کو تو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ کی دوسری مخلوق کی طرح ایک مخلوق ہیں۔ اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حکم سے حاضر کیے جائیں گے اور رشتہ داروں کے ساتھ یہ سلوک تو نہیں کیا جاتا کہ وہ بطور مجرم پکڑے جاکر پیش کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صراحت کے ساتھ اس عقیدے کی تردید بھی کردی جاتی ہے
الصافات 37:159
وجعلوا بینہ۔۔۔۔۔ انھم لمحضرون (158) ” ، “۔ ان کا زعم یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں تھیں اور ان سے جن پیدا ہوئے یوں جنوں اور اللہ کے درمیان قرابت ہوگئی۔ جنوں کو تو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ کی دوسری مخلوق کی طرح ایک مخلوق ہیں۔ اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حکم سے حاضر کیے جائیں گے اور رشتہ داروں کے ساتھ یہ سلوک تو نہیں کیا جاتا کہ وہ بطور مجرم پکڑے جاکر پیش کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صراحت کے ساتھ اس عقیدے کی تردید بھی کردی جاتی ہے
الصافات 37:160
الا عباد اللہ المخلصین (160)
یہاں جنوں سے اللہ کے نیک بندوں کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے جو جنوں سے ہیں اور جو ایمان لانے والے ہیں۔
اس کے بعد فرشتوں کی طرف سے خطاب ہے ، ان مشرکین کو اور ان کے ان معبودوں کو ، جن کی وہ بندگی کرتے تھے۔ یہ خطاب ان کے خود ساختہ عقائد پر ہے جو وہ رکھتے ہیں۔ بظاہر انداز کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب فرشتوں کا ہے۔
الصافات 37:161
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔
یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ہر کسی کے لیے مقام و انجام مقرر کردیا ہے۔ ہر کسی نے اس تک لامحالہ پہنچنا ہے ۔ ہم فرشتے تو سب اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، ہمارے لیے اللہ نے اپنی اطاعت کے فرائض مقرر کر رکھے ہیں۔ ہم نماز کے لیے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک اہنے مقام پر کھڑا ڈیوٹی دے رہا ہے اور اللہ تو اللہ ہے (فرشتوں کی بات یہاں ختم ہوگئی)
الصافات 37:162
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔
یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ہر کسی کے لیے مقام و انجام مقرر کردیا ہے۔ ہر کسی نے اس تک لامحالہ پہنچنا ہے ۔ ہم فرشتے تو سب اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، ہمارے لیے اللہ نے اپنی اطاعت کے فرائض مقرر کر رکھے ہیں۔ ہم نماز کے لیے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک اہنے مقام پر کھڑا ڈیوٹی دے رہا ہے اور اللہ تو اللہ ہے (فرشتوں کی بات یہاں ختم ہوگئی)
الصافات 37:163
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔
یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ہر کسی کے لیے مقام و انجام مقرر کردیا ہے۔ ہر کسی نے اس تک لامحالہ پہنچنا ہے ۔ ہم فرشتے تو سب اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، ہمارے لیے اللہ نے اپنی اطاعت کے فرائض مقرر کر رکھے ہیں۔ ہم نماز کے لیے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک اہنے مقام پر کھڑا ڈیوٹی دے رہا ہے اور اللہ تو اللہ ہے (فرشتوں کی بات یہاں ختم ہوگئی)
الصافات 37:164
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔
یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ہر کسی کے لیے مقام و انجام مقرر کردیا ہے۔ ہر کسی نے اس تک لامحالہ پہنچنا ہے ۔ ہم فرشتے تو سب اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، ہمارے لیے اللہ نے اپنی اطاعت کے فرائض مقرر کر رکھے ہیں۔ ہم نماز کے لیے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک اہنے مقام پر کھڑا ڈیوٹی دے رہا ہے اور اللہ تو اللہ ہے (فرشتوں کی بات یہاں ختم ہوگئی)
الصافات 37:165
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔
یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ہر کسی کے لیے مقام و انجام مقرر کردیا ہے۔ ہر کسی نے اس تک لامحالہ پہنچنا ہے ۔ ہم فرشتے تو سب اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، ہمارے لیے اللہ نے اپنی اطاعت کے فرائض مقرر کر رکھے ہیں۔ ہم نماز کے لیے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک اہنے مقام پر کھڑا ڈیوٹی دے رہا ہے اور اللہ تو اللہ ہے (فرشتوں کی بات یہاں ختم ہوگئی)
الصافات 37:166
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔
یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ہر کسی کے لیے مقام و انجام مقرر کردیا ہے۔ ہر کسی نے اس تک لامحالہ پہنچنا ہے ۔ ہم فرشتے تو سب اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، ہمارے لیے اللہ نے اپنی اطاعت کے فرائض مقرر کر رکھے ہیں۔ ہم نماز کے لیے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک اہنے مقام پر کھڑا ڈیوٹی دے رہا ہے اور اللہ تو اللہ ہے (فرشتوں کی بات یہاں ختم ہوگئی)
الصافات 37:167
اب روئے سخن پھر مشرکین کی طرف پھرجاتا ہے جو ان افسانوی عقیدے کے قائل تھے۔ ان کو ان کے وہ وعدے اور وہ آرزوئیں یاد دلائی جاتی ہیں کہ جب وہ اہل کتاب کے ساتھ حسد کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی ایسی کتاب آجائے جس میں پہلے لوگوں کا ذکر ہو یعنی حضرت ابراہیم اور آپ کے بعد آنے والوں کا تو ہم اللہ کے مخلص اور اعلیٰ بندے بن جائیں اور اللہ کے ہاں ہمارا بلند مقام ہو۔
وان کانوا ۔۔۔۔۔ بہ فسوف یعلمون (167 – 170) “۔ یہ ہے وہ ذکر جو ان کے پاس آگیا اور یہ اس کرہ ارض پر عظیم ترین نصیحت ہے لیکن ان لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔
فکفروا بہ فسوف یعلمون (37: 170) ” مگر جب آگیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اب عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ (عنقریب) کے لفظ میں درپردہ دھمکی بھی ہے اور یہ دھمکی ان کے مناسب حال ہے کیونکہ وہ خود تمنائیں کرتے تھے اور اب انکار کرتے ہیں۔ اس تہدید خفی کے بعد اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو غالب کرے گا اور ان کی نصرت کرے گا۔
الصافات 37:168
اب روئے سخن پھر مشرکین کی طرف پھرجاتا ہے جو ان افسانوی عقیدے کے قائل تھے۔ ان کو ان کے وہ وعدے اور وہ آرزوئیں یاد دلائی جاتی ہیں کہ جب وہ اہل کتاب کے ساتھ حسد کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی ایسی کتاب آجائے جس میں پہلے لوگوں کا ذکر ہو یعنی حضرت ابراہیم اور آپ کے بعد آنے والوں کا تو ہم اللہ کے مخلص اور اعلیٰ بندے بن جائیں اور اللہ کے ہاں ہمارا بلند مقام ہو۔
وان کانوا ۔۔۔۔۔ بہ فسوف یعلمون (167 – 170) “۔ یہ ہے وہ ذکر جو ان کے پاس آگیا اور یہ اس کرہ ارض پر عظیم ترین نصیحت ہے لیکن ان لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔
فکفروا بہ فسوف یعلمون (37: 170) ” مگر جب آگیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اب عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ (عنقریب) کے لفظ میں درپردہ دھمکی بھی ہے اور یہ دھمکی ان کے مناسب حال ہے کیونکہ وہ خود تمنائیں کرتے تھے اور اب انکار کرتے ہیں۔ اس تہدید خفی کے بعد اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو غالب کرے گا اور ان کی نصرت کرے گا۔
الصافات 37:169
اب روئے سخن پھر مشرکین کی طرف پھرجاتا ہے جو ان افسانوی عقیدے کے قائل تھے۔ ان کو ان کے وہ وعدے اور وہ آرزوئیں یاد دلائی جاتی ہیں کہ جب وہ اہل کتاب کے ساتھ حسد کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی ایسی کتاب آجائے جس میں پہلے لوگوں کا ذکر ہو یعنی حضرت ابراہیم اور آپ کے بعد آنے والوں کا تو ہم اللہ کے مخلص اور اعلیٰ بندے بن جائیں اور اللہ کے ہاں ہمارا بلند مقام ہو۔
وان کانوا ۔۔۔۔۔ بہ فسوف یعلمون (167 – 170) “۔ یہ ہے وہ ذکر جو ان کے پاس آگیا اور یہ اس کرہ ارض پر عظیم ترین نصیحت ہے لیکن ان لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔
فکفروا بہ فسوف یعلمون (37: 170) ” مگر جب آگیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اب عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ (عنقریب) کے لفظ میں درپردہ دھمکی بھی ہے اور یہ دھمکی ان کے مناسب حال ہے کیونکہ وہ خود تمنائیں کرتے تھے اور اب انکار کرتے ہیں۔ اس تہدید خفی کے بعد اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو غالب کرے گا اور ان کی نصرت کرے گا۔
الصافات 37:170
اب روئے سخن پھر مشرکین کی طرف پھرجاتا ہے جو ان افسانوی عقیدے کے قائل تھے۔ ان کو ان کے وہ وعدے اور وہ آرزوئیں یاد دلائی جاتی ہیں کہ جب وہ اہل کتاب کے ساتھ حسد کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی ایسی کتاب آجائے جس میں پہلے لوگوں کا ذکر ہو یعنی حضرت ابراہیم اور آپ کے بعد آنے والوں کا تو ہم اللہ کے مخلص اور اعلیٰ بندے بن جائیں اور اللہ کے ہاں ہمارا بلند مقام ہو۔
وان کانوا ۔۔۔۔۔ بہ فسوف یعلمون (167 – 170) “۔ یہ ہے وہ ذکر جو ان کے پاس آگیا اور یہ اس کرہ ارض پر عظیم ترین نصیحت ہے لیکن ان لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔
فکفروا بہ فسوف یعلمون (37: 170) ” مگر جب آگیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اب عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ (عنقریب) کے لفظ میں درپردہ دھمکی بھی ہے اور یہ دھمکی ان کے مناسب حال ہے کیونکہ وہ خود تمنائیں کرتے تھے اور اب انکار کرتے ہیں۔ اس تہدید خفی کے بعد اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو غالب کرے گا اور ان کی نصرت کرے گا۔
الصافات 37:171
ولقد سبقت کلمتنا۔۔۔۔ لھم الغلبون (171 – 173) ” “۔ یہ وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے اور اللہ کی بات اپنی جگہ قائم ہے۔ زمین کے اوپر توحیدی نطریہ حیات قائم ہے۔ ایمان کی عمارت مکمل ہوچکی ہے ۔ تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے علی الرغم توحید کا کلمہ بلند ہے۔ اگرچہ جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں اسلام کی دعوت اور اسلام کے قیام کا علم بلند کرنے والوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ آج بھی کفار کے عقائد ، ان کا رعب دنیا سے ختم ہے۔ کفار ، مشرکین کا تمام نظریاتی زور ختم ہے۔ آج دنیا میں وہی عقائد و نظریات زندہ ہیں جو رسولوں نے پیش کیے۔ آج بھی رسولوں کا پیش کردہ عقیدہ توحید لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔ لوگوں کے تصورات اور نطریات کو ایک خاص کیف دے رہا ہے اور تمام رکاوٹوں کے باوجود اس کرہ ارض پر انسانوں کے دل و دماغ پر واضح طور پر چھایا ہوا ہے ۔ اور تہ تمام نظریات ناکام ہوچکے ہیں جو رسولوں کے پیش کردہ نطریہ توحید کے مخالف تھے۔ یہ نظریات ان علاقوں میں بھی ختم ہوچکے ہیں جہاں سے وہ اٹھے تھے۔ (سو شلزم روس میں) اور اللہ کے رسولوں کا کلمہ آج بھی بلند ہے اور وہ اللہ کا لشکر نطریاتی اعتبار سے آج بھی غالب ہے۔
یہ تو ہم ایک عمومی بات کرتے ہیں لیکن ایک بات تمام روئے زمین پر بطور حقیقت پائی جاتی ہے اور وہ ہمیشہ ہر زمانے میں پائی گئی ہے اور ہر تحریک اور دعوت پر وہ اصول صادق آیا ہے کہ جب داعی مخلص ہوں ، سچے ہوں اور دعوت کے لیے یکسو ہوں تو وہ ہر حال میں غالب رہتے ہیں۔ اس کے راستے میں مشکلات اور رکاوٹوں کے پہاڑ کیوں نہ کھڑے کر دئیے جائیں۔ اللہ کا لشکر بہرحال غالب رہتا ہے مخلصین کو بیشک ، مختلف جنگیں لڑنی پڑتی ہیں چو مکھی لڑائی سے سابقہ پیش آتا ہے لیکن آخری نتیجہ وہی ہوتا ہے کہ اللہ کا لشکر غالب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اگر پوری دنیا کی قوتیں اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں ، یہ وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔ مخلصین مومنین کو نصرت ملے گی۔ وہ غالب ہوں گے اور زمین پر ان کا اقتدار قائم ہوگا۔
اللہ کا یہ وعدہ کوئی جزوی واقعہ نہیں ہوگا بلکہ یہ اس کائنات کی سنتوں میں سے ایک سنت الہیہ ہے۔ اور اللہ کی سنت اس طرح حرکت میں رہتی ہے جس طرح یہ ستارے اور سیارے اپنے مدار میں متحرک ہوتے ہیں۔ ان کے مدار پر ان کی رفتار میں ایک لمحے کا فرق نہیں آتا۔ جس طرح رات اور دن کے ظہور میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ صدیوں سے یہ ظہور جاری ہے۔ جس طرح بہار و خزاں کے مظاہر آتے جاتے ہیں اور مردہ زمین کو زندہ کرتے رہتے ہیں اسی طرح سنت الہیہ بھی جاری وساری ہے۔ لیکن وہ اللہ کی تقدیر کی پابند ہے اور اللہ کے ارادے کے مطابق چلتی ہے۔ اور جس طرح اللہ چاہتا ہے ، اس کا ظہور ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے ظہور میں دیر نطر آتی ہے اور یہ دیر عجلت پسند انسان کی تمناؤں کی وجہ سے آتی ہے۔ لیکن اس سنت میں تخلف نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ سنت اس طرح اپنا کام کرتی ہے کہ انسان اسے سمجھ ہی نہیں سکتا۔ وہ ایسی شکل و صورت میں آتی ہے جو انسان کے تصور میں نہیں ہوتی۔ اور جب سنت الہیہ اپنا کام کرکے چلی جاتی ہے تو ایک عرصے کے بعد اہل ایمان کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں گوشے سے نصرت الہیہ نے کام کیا تھا۔
اللہ کے رسولوں کا اتباع کرنے والے لشکر خداوندی کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی امداد اس متعین صورت میں ہو جو اس کے ذہن میں ہے۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نصرت نہایت ہی اعلیٰ اور مکمل شکل میں ہو۔ چناچہ ہوتا وہی کچھ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اگرچہ یہ لشکر اپنے خیال میں بہت زیادہ مشقت اٹھا رہا ہو اور اس کے خیال میں جدوجہد پر بہت عرصہ گزر چکا ہو اور انتظار ان کے تصور سے زیادہ ہوگیا ہو۔ مثلاً مسلمانوں کا ارادہ یہ تھا کہ جنگ بدر کے موقعے پر قافلہ ان کے ہاتھ آجائے لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ یہ دنیاوی نفع ان کے ہاتھ سے جاتا رہے اور ان کی مڈبھیڑ فوج اور لشکر جرار سے ہوجائے اور وہ ایک ایسے گروہ سے ٹکرا جائیں جو زادوعتاد رکھتا ہو۔ اور اللہ نے جو چاہا وہ بہتر تھا۔ اسلام اور مسلمانوں دوں کے لیے بہتر تھا۔ یہ تھی اللہ کی نصرت لشکر الٰہی کے حق میں۔ اللہ پوری انسانی تاریخ میں اپنے لشکروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتا ہے۔
بعض اوقات اللہ کے لشکر کسی نہ کسی جنگ میں شکست بھی کھا جاتے ہیں اور جنگ کا رخ ان کے خلاف چلا جاتا ہے۔ انپر ابتلائیں اور مشکلات بھی آجاتی ہیں۔ کیونکہ اللہ کی منشا یہ ہوتی ہے کہ کسی دوسرے بڑے معرکے میں نصرت اور غلبہ دے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ اس موقعے پر اس کے لشکر کے لیے فتح مفید نہیں ہے اور اگلے موقعے پر وہ فتح بہت وسیع ، بہت ہمہ گیر اور دور رس اثرات کی حامل ہوگی۔
اللہ نے اپنی بات کردی ہے ، اس کا وعدہ اور ارداہ کام کرچکا ہے اور اللہ کی سنت بارہا ثابت ہوچکی ہے۔
ولقد سبقت۔۔۔۔۔ لھم الغلبون (37: 171 – 173) ” اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا “۔
اس فیصلہ کن وعدے کے بعد اور نہایت ہی دیرینہ دستاویز ہونے کے بعد اور اللہ کی طرف سے ہونے کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب آپ مشرکین مکہ کو چھوڑ دیں۔ اب دیکھیں کہ اللہ کا یہ وعدہ کس طرح سچا ہوتا ہے اور سنت الہیہ کس طرح کام کرتی ہے۔ آپ بھی انتظار کریں اور وہ بھی انتظار کریں اور اللہ کے کاموں اور شانوں کا نظارہ کریں۔
الصافات 37:172
ولقد سبقت کلمتنا۔۔۔۔ لھم الغلبون (171 – 173) ” “۔ یہ وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے اور اللہ کی بات اپنی جگہ قائم ہے۔ زمین کے اوپر توحیدی نطریہ حیات قائم ہے۔ ایمان کی عمارت مکمل ہوچکی ہے ۔ تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے علی الرغم توحید کا کلمہ بلند ہے۔ اگرچہ جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں اسلام کی دعوت اور اسلام کے قیام کا علم بلند کرنے والوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ آج بھی کفار کے عقائد ، ان کا رعب دنیا سے ختم ہے۔ کفار ، مشرکین کا تمام نظریاتی زور ختم ہے۔ آج دنیا میں وہی عقائد و نظریات زندہ ہیں جو رسولوں نے پیش کیے۔ آج بھی رسولوں کا پیش کردہ عقیدہ توحید لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔ لوگوں کے تصورات اور نطریات کو ایک خاص کیف دے رہا ہے اور تمام رکاوٹوں کے باوجود اس کرہ ارض پر انسانوں کے دل و دماغ پر واضح طور پر چھایا ہوا ہے ۔ اور تہ تمام نظریات ناکام ہوچکے ہیں جو رسولوں کے پیش کردہ نطریہ توحید کے مخالف تھے۔ یہ نظریات ان علاقوں میں بھی ختم ہوچکے ہیں جہاں سے وہ اٹھے تھے۔ (سو شلزم روس میں) اور اللہ کے رسولوں کا کلمہ آج بھی بلند ہے اور وہ اللہ کا لشکر نطریاتی اعتبار سے آج بھی غالب ہے۔
یہ تو ہم ایک عمومی بات کرتے ہیں لیکن ایک بات تمام روئے زمین پر بطور حقیقت پائی جاتی ہے اور وہ ہمیشہ ہر زمانے میں پائی گئی ہے اور ہر تحریک اور دعوت پر وہ اصول صادق آیا ہے کہ جب داعی مخلص ہوں ، سچے ہوں اور دعوت کے لیے یکسو ہوں تو وہ ہر حال میں غالب رہتے ہیں۔ اس کے راستے میں مشکلات اور رکاوٹوں کے پہاڑ کیوں نہ کھڑے کر دئیے جائیں۔ اللہ کا لشکر بہرحال غالب رہتا ہے مخلصین کو بیشک ، مختلف جنگیں لڑنی پڑتی ہیں چو مکھی لڑائی سے سابقہ پیش آتا ہے لیکن آخری نتیجہ وہی ہوتا ہے کہ اللہ کا لشکر غالب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اگر پوری دنیا کی قوتیں اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں ، یہ وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔ مخلصین مومنین کو نصرت ملے گی۔ وہ غالب ہوں گے اور زمین پر ان کا اقتدار قائم ہوگا۔
اللہ کا یہ وعدہ کوئی جزوی واقعہ نہیں ہوگا بلکہ یہ اس کائنات کی سنتوں میں سے ایک سنت الہیہ ہے۔ اور اللہ کی سنت اس طرح حرکت میں رہتی ہے جس طرح یہ ستارے اور سیارے اپنے مدار میں متحرک ہوتے ہیں۔ ان کے مدار پر ان کی رفتار میں ایک لمحے کا فرق نہیں آتا۔ جس طرح رات اور دن کے ظہور میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ صدیوں سے یہ ظہور جاری ہے۔ جس طرح بہار و خزاں کے مظاہر آتے جاتے ہیں اور مردہ زمین کو زندہ کرتے رہتے ہیں اسی طرح سنت الہیہ بھی جاری وساری ہے۔ لیکن وہ اللہ کی تقدیر کی پابند ہے اور اللہ کے ارادے کے مطابق چلتی ہے۔ اور جس طرح اللہ چاہتا ہے ، اس کا ظہور ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے ظہور میں دیر نطر آتی ہے اور یہ دیر عجلت پسند انسان کی تمناؤں کی وجہ سے آتی ہے۔ لیکن اس سنت میں تخلف نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ سنت اس طرح اپنا کام کرتی ہے کہ انسان اسے سمجھ ہی نہیں سکتا۔ وہ ایسی شکل و صورت میں آتی ہے جو انسان کے تصور میں نہیں ہوتی۔ اور جب سنت الہیہ اپنا کام کرکے چلی جاتی ہے تو ایک عرصے کے بعد اہل ایمان کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں گوشے سے نصرت الہیہ نے کام کیا تھا۔
اللہ کے رسولوں کا اتباع کرنے والے لشکر خداوندی کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی امداد اس متعین صورت میں ہو جو اس کے ذہن میں ہے۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نصرت نہایت ہی اعلیٰ اور مکمل شکل میں ہو۔ چناچہ ہوتا وہی کچھ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اگرچہ یہ لشکر اپنے خیال میں بہت زیادہ مشقت اٹھا رہا ہو اور اس کے خیال میں جدوجہد پر بہت عرصہ گزر چکا ہو اور انتظار ان کے تصور سے زیادہ ہوگیا ہو۔ مثلاً مسلمانوں کا ارادہ یہ تھا کہ جنگ بدر کے موقعے پر قافلہ ان کے ہاتھ آجائے لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ یہ دنیاوی نفع ان کے ہاتھ سے جاتا رہے اور ان کی مڈبھیڑ فوج اور لشکر جرار سے ہوجائے اور وہ ایک ایسے گروہ سے ٹکرا جائیں جو زادوعتاد رکھتا ہو۔ اور اللہ نے جو چاہا وہ بہتر تھا۔ اسلام اور مسلمانوں دوں کے لیے بہتر تھا۔ یہ تھی اللہ کی نصرت لشکر الٰہی کے حق میں۔ اللہ پوری انسانی تاریخ میں اپنے لشکروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتا ہے۔
بعض اوقات اللہ کے لشکر کسی نہ کسی جنگ میں شکست بھی کھا جاتے ہیں اور جنگ کا رخ ان کے خلاف چلا جاتا ہے۔ انپر ابتلائیں اور مشکلات بھی آجاتی ہیں۔ کیونکہ اللہ کی منشا یہ ہوتی ہے کہ کسی دوسرے بڑے معرکے میں نصرت اور غلبہ دے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ اس موقعے پر اس کے لشکر کے لیے فتح مفید نہیں ہے اور اگلے موقعے پر وہ فتح بہت وسیع ، بہت ہمہ گیر اور دور رس اثرات کی حامل ہوگی۔
اللہ نے اپنی بات کردی ہے ، اس کا وعدہ اور ارداہ کام کرچکا ہے اور اللہ کی سنت بارہا ثابت ہوچکی ہے۔
ولقد سبقت۔۔۔۔۔ لھم الغلبون (37: 171 – 173) ” اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا “۔
اس فیصلہ کن وعدے کے بعد اور نہایت ہی دیرینہ دستاویز ہونے کے بعد اور اللہ کی طرف سے ہونے کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب آپ مشرکین مکہ کو چھوڑ دیں۔ اب دیکھیں کہ اللہ کا یہ وعدہ کس طرح سچا ہوتا ہے اور سنت الہیہ کس طرح کام کرتی ہے۔ آپ بھی انتظار کریں اور وہ بھی انتظار کریں اور اللہ کے کاموں اور شانوں کا نظارہ کریں۔
الصافات 37:173
ولقد سبقت کلمتنا۔۔۔۔ لھم الغلبون (171 – 173) ” “۔ یہ وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے اور اللہ کی بات اپنی جگہ قائم ہے۔ زمین کے اوپر توحیدی نطریہ حیات قائم ہے۔ ایمان کی عمارت مکمل ہوچکی ہے ۔ تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے علی الرغم توحید کا کلمہ بلند ہے۔ اگرچہ جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں اسلام کی دعوت اور اسلام کے قیام کا علم بلند کرنے والوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ آج بھی کفار کے عقائد ، ان کا رعب دنیا سے ختم ہے۔ کفار ، مشرکین کا تمام نظریاتی زور ختم ہے۔ آج دنیا میں وہی عقائد و نظریات زندہ ہیں جو رسولوں نے پیش کیے۔ آج بھی رسولوں کا پیش کردہ عقیدہ توحید لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔ لوگوں کے تصورات اور نطریات کو ایک خاص کیف دے رہا ہے اور تمام رکاوٹوں کے باوجود اس کرہ ارض پر انسانوں کے دل و دماغ پر واضح طور پر چھایا ہوا ہے ۔ اور تہ تمام نظریات ناکام ہوچکے ہیں جو رسولوں کے پیش کردہ نطریہ توحید کے مخالف تھے۔ یہ نظریات ان علاقوں میں بھی ختم ہوچکے ہیں جہاں سے وہ اٹھے تھے۔ (سو شلزم روس میں) اور اللہ کے رسولوں کا کلمہ آج بھی بلند ہے اور وہ اللہ کا لشکر نطریاتی اعتبار سے آج بھی غالب ہے۔
یہ تو ہم ایک عمومی بات کرتے ہیں لیکن ایک بات تمام روئے زمین پر بطور حقیقت پائی جاتی ہے اور وہ ہمیشہ ہر زمانے میں پائی گئی ہے اور ہر تحریک اور دعوت پر وہ اصول صادق آیا ہے کہ جب داعی مخلص ہوں ، سچے ہوں اور دعوت کے لیے یکسو ہوں تو وہ ہر حال میں غالب رہتے ہیں۔ اس کے راستے میں مشکلات اور رکاوٹوں کے پہاڑ کیوں نہ کھڑے کر دئیے جائیں۔ اللہ کا لشکر بہرحال غالب رہتا ہے مخلصین کو بیشک ، مختلف جنگیں لڑنی پڑتی ہیں چو مکھی لڑائی سے سابقہ پیش آتا ہے لیکن آخری نتیجہ وہی ہوتا ہے کہ اللہ کا لشکر غالب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اگر پوری دنیا کی قوتیں اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں ، یہ وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔ مخلصین مومنین کو نصرت ملے گی۔ وہ غالب ہوں گے اور زمین پر ان کا اقتدار قائم ہوگا۔
اللہ کا یہ وعدہ کوئی جزوی واقعہ نہیں ہوگا بلکہ یہ اس کائنات کی سنتوں میں سے ایک سنت الہیہ ہے۔ اور اللہ کی سنت اس طرح حرکت میں رہتی ہے جس طرح یہ ستارے اور سیارے اپنے مدار میں متحرک ہوتے ہیں۔ ان کے مدار پر ان کی رفتار میں ایک لمحے کا فرق نہیں آتا۔ جس طرح رات اور دن کے ظہور میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ صدیوں سے یہ ظہور جاری ہے۔ جس طرح بہار و خزاں کے مظاہر آتے جاتے ہیں اور مردہ زمین کو زندہ کرتے رہتے ہیں اسی طرح سنت الہیہ بھی جاری وساری ہے۔ لیکن وہ اللہ کی تقدیر کی پابند ہے اور اللہ کے ارادے کے مطابق چلتی ہے۔ اور جس طرح اللہ چاہتا ہے ، اس کا ظہور ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے ظہور میں دیر نطر آتی ہے اور یہ دیر عجلت پسند انسان کی تمناؤں کی وجہ سے آتی ہے۔ لیکن اس سنت میں تخلف نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ سنت اس طرح اپنا کام کرتی ہے کہ انسان اسے سمجھ ہی نہیں سکتا۔ وہ ایسی شکل و صورت میں آتی ہے جو انسان کے تصور میں نہیں ہوتی۔ اور جب سنت الہیہ اپنا کام کرکے چلی جاتی ہے تو ایک عرصے کے بعد اہل ایمان کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں گوشے سے نصرت الہیہ نے کام کیا تھا۔
اللہ کے رسولوں کا اتباع کرنے والے لشکر خداوندی کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی امداد اس متعین صورت میں ہو جو اس کے ذہن میں ہے۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نصرت نہایت ہی اعلیٰ اور مکمل شکل میں ہو۔ چناچہ ہوتا وہی کچھ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اگرچہ یہ لشکر اپنے خیال میں بہت زیادہ مشقت اٹھا رہا ہو اور اس کے خیال میں جدوجہد پر بہت عرصہ گزر چکا ہو اور انتظار ان کے تصور سے زیادہ ہوگیا ہو۔ مثلاً مسلمانوں کا ارادہ یہ تھا کہ جنگ بدر کے موقعے پر قافلہ ان کے ہاتھ آجائے لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ یہ دنیاوی نفع ان کے ہاتھ سے جاتا رہے اور ان کی مڈبھیڑ فوج اور لشکر جرار سے ہوجائے اور وہ ایک ایسے گروہ سے ٹکرا جائیں جو زادوعتاد رکھتا ہو۔ اور اللہ نے جو چاہا وہ بہتر تھا۔ اسلام اور مسلمانوں دوں کے لیے بہتر تھا۔ یہ تھی اللہ کی نصرت لشکر الٰہی کے حق میں۔ اللہ پوری انسانی تاریخ میں اپنے لشکروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتا ہے۔
بعض اوقات اللہ کے لشکر کسی نہ کسی جنگ میں شکست بھی کھا جاتے ہیں اور جنگ کا رخ ان کے خلاف چلا جاتا ہے۔ انپر ابتلائیں اور مشکلات بھی آجاتی ہیں۔ کیونکہ اللہ کی منشا یہ ہوتی ہے کہ کسی دوسرے بڑے معرکے میں نصرت اور غلبہ دے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ اس موقعے پر اس کے لشکر کے لیے فتح مفید نہیں ہے اور اگلے موقعے پر وہ فتح بہت وسیع ، بہت ہمہ گیر اور دور رس اثرات کی حامل ہوگی۔
اللہ نے اپنی بات کردی ہے ، اس کا وعدہ اور ارداہ کام کرچکا ہے اور اللہ کی سنت بارہا ثابت ہوچکی ہے۔
ولقد سبقت۔۔۔۔۔ لھم الغلبون (37: 171 – 173) ” اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا “۔
اس فیصلہ کن وعدے کے بعد اور نہایت ہی دیرینہ دستاویز ہونے کے بعد اور اللہ کی طرف سے ہونے کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب آپ مشرکین مکہ کو چھوڑ دیں۔ اب دیکھیں کہ اللہ کا یہ وعدہ کس طرح سچا ہوتا ہے اور سنت الہیہ کس طرح کام کرتی ہے۔ آپ بھی انتظار کریں اور وہ بھی انتظار کریں اور اللہ کے کاموں اور شانوں کا نظارہ کریں۔
الصافات 37:174
فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔
ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔
دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔
فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔
وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔
الصافات 37:175
فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔
ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔
دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔
فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔
وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔
الصافات 37:176
فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔
ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔
دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔
فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔
وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔
الصافات 37:177
فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔
ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔
دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔
فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔
وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔
الصافات 37:178
فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔
ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔
دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔
فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔
وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔
الصافات 37:179
فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔
ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔
دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔
فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔
وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔
الصافات 37:180
سورت کا خاتمہ اللہ کی پاکی کے بیان پر ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عزت اور غلبہ اسی کا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہے جس طرح تمام رسولوں پر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بلا شرکت غیرے رب العالمین ہے۔
سبحن ربک رب العزۃ۔۔۔۔۔۔ رب العالمین (180 – 182) ”
یہ ایسا خاتمہ ہے جو اس سورت کے تمام موضوعات پر حاوی ہے اور مضامین سورت اور مسائل زیر بحث کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے۔
الصافات 37:181
سورت کا خاتمہ اللہ کی پاکی کے بیان پر ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عزت اور غلبہ اسی کا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہے جس طرح تمام رسولوں پر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بلا شرکت غیرے رب العالمین ہے۔
سبحن ربک رب العزۃ۔۔۔۔۔۔ رب العالمین (180 – 182) ”
یہ ایسا خاتمہ ہے جو اس سورت کے تمام موضوعات پر حاوی ہے اور مضامین سورت اور مسائل زیر بحث کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے۔
الصافات 37:182
سورت کا خاتمہ اللہ کی پاکی کے بیان پر ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عزت اور غلبہ اسی کا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہے جس طرح تمام رسولوں پر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بلا شرکت غیرے رب العالمین ہے۔
سبحن ربک رب العزۃ۔۔۔۔۔۔ رب العالمین (180 – 182) ”
یہ ایسا خاتمہ ہے جو اس سورت کے تمام موضوعات پر حاوی ہے اور مضامین سورت اور مسائل زیر بحث کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے۔