Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — ص 38:1 – الزمر 39:75

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. ص 38:1
  2. ص 38:2
  3. ص 38:3
  4. ص 38:4
  5. ص 38:5
  6. ص 38:6
  7. ص 38:7
  8. ص 38:8
  9. ص 38:9
  10. ص 38:10
  11. ص 38:11
  12. ص 38:12
  13. ص 38:13
  14. ص 38:14
  15. ص 38:15
  16. ص 38:16
  17. ص 38:17
  18. ص 38:18
  19. ص 38:19
  20. ص 38:20
  21. ص 38:21
  22. ص 38:22
  23. ص 38:23
  24. ص 38:24
  25. ص 38:25
  26. ص 38:26
  27. ص 38:27
  28. ص 38:28
  29. ص 38:29
  30. ص 38:30
  31. ص 38:31
  32. ص 38:32
  33. ص 38:33
  34. ص 38:34
  35. ص 38:35
  36. ص 38:36
  37. ص 38:37
  38. ص 38:38
  39. ص 38:39
  40. ص 38:40
  41. ص 38:41
  42. ص 38:42
  43. ص 38:43
  44. ص 38:44
  45. ص 38:45
  46. ص 38:46
  47. ص 38:47
  48. ص 38:48
  49. ص 38:49
  50. ص 38:50
  51. ص 38:51
  52. ص 38:52
  53. ص 38:53
  54. ص 38:54
  55. ص 38:55
  56. ص 38:56
  57. ص 38:57
  58. ص 38:58
  59. ص 38:59
  60. ص 38:60
  61. ص 38:61
  62. ص 38:62
  63. ص 38:63
  64. ص 38:64
  65. ص 38:65
  66. ص 38:66
  67. ص 38:67
  68. ص 38:68
  69. ص 38:69
  70. ص 38:70
  71. ص 38:71
  72. ص 38:72
  73. ص 38:73
  74. ص 38:74
  75. ص 38:75
  76. ص 38:76
  77. ص 38:77
  78. ص 38:78
  79. ص 38:79
  80. ص 38:80
  81. ص 38:81
  82. ص 38:82
  83. ص 38:83
  84. ص 38:84
  85. ص 38:85
  86. ص 38:86
  87. ص 38:87
  88. ص 38:88
  89. الزمر 39:1
  90. الزمر 39:2
  91. الزمر 39:3
  92. الزمر 39:4
  93. الزمر 39:5
  94. الزمر 39:6
  95. الزمر 39:7
  96. الزمر 39:8
  97. الزمر 39:9
  98. الزمر 39:10
  99. الزمر 39:11
  100. الزمر 39:12
  101. الزمر 39:13
  102. الزمر 39:14
  103. الزمر 39:15
  104. الزمر 39:16
  105. الزمر 39:17
  106. الزمر 39:18
  107. الزمر 39:19
  108. الزمر 39:20
  109. الزمر 39:21
  110. الزمر 39:22
  111. الزمر 39:23
  112. الزمر 39:24
  113. الزمر 39:25
  114. الزمر 39:26
  115. الزمر 39:27
  116. الزمر 39:28
  117. الزمر 39:29
  118. الزمر 39:30
  119. الزمر 39:31
  120. الزمر 39:32
  121. الزمر 39:33
  122. الزمر 39:34
  123. الزمر 39:35
  124. الزمر 39:36
  125. الزمر 39:37
  126. الزمر 39:38
  127. الزمر 39:39
  128. الزمر 39:40
  129. الزمر 39:41
  130. الزمر 39:42
  131. الزمر 39:43
  132. الزمر 39:44
  133. الزمر 39:45
  134. الزمر 39:46
  135. الزمر 39:47
  136. الزمر 39:48
  137. الزمر 39:49
  138. الزمر 39:50
  139. الزمر 39:51
  140. الزمر 39:52
  141. الزمر 39:53
  142. الزمر 39:54
  143. الزمر 39:55
  144. الزمر 39:56
  145. الزمر 39:57
  146. الزمر 39:58
  147. الزمر 39:59
  148. الزمر 39:60
  149. الزمر 39:61
  150. الزمر 39:62
  151. الزمر 39:63
  152. الزمر 39:64
  153. الزمر 39:65
  154. الزمر 39:66
  155. الزمر 39:67
  156. الزمر 39:68
  157. الزمر 39:69
  158. الزمر 39:70
  159. الزمر 39:71
  160. الزمر 39:72
  161. الزمر 39:73
  162. الزمر 39:74
  163. الزمر 39:75

ص 38:1

درس نمبر 211 تشریح آیات ﷽ آیت نمبر 1 تا 3 اللہ تعالیٰ حرف ص اور قرآن کریم کی قسم کھاتا ہے۔ اس قرآن کی قسم جو نصیحت سے مالا مال ہے ۔ یہ حرف ص بھی اللہ کا بنایا ہوا ہے اور یہ قرآن بھی اللہ کا کلام ہے ۔ اور یہ اللہ ہی ہے جو انسان کے گلے میں حرف صاد پیدا کرتا ہے اور پھر یہ حرف اور اللہ کے پیدا کردہ دوسرے حروف تہجی مل کر قرآن کے اسالیب کلام پیدا کرتے ہیں ۔ لیکن تمام انسان ایسا کلام پیش کرتے سے عاجز ہیں ۔ کیونکہ قرآن کلام الہی ہے اور اس کے اندر وہ ادبی صنعت کاری ہے جو انسان کے دائرہ قدرت سے باہر ہے اور اللہ کا یہ اعجاز کلام الہی قرآن میں بھی ہے اور دوسری پیدا کردہ چیزوں میں بھی ہے۔ یہ آواز ص جو انسان کے گلے سے نکلتی ہے ' یہ اس اللہ کی تخلیق سے نکلتی ہے۔ جس نے انسان کا گلا بنایا ' جس سے اس کے سوا دوسری آوازیں بھی نکلتی ہیں انسانوں کی قدرت میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ آواز نکالنے کا کوئی ایسا چلتا پھرتا زندہ آلہ بنالیں اور یہ بھی ایک خارق العادت معجزہ ہے اور اس قسم کے ہزارہا معجزات خود ان کے جسم میں ہیں۔ اگر یہ لوگ صرف اپنے انفس کے اندر پائے جانے والے معجزات ہی پر غور کرتے تو انہیں اس بات پر کوئی اچنبھا نہ ہوتا کہ اللہ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے پر وحی نازل کی ہے اور ایک بندے کو مختار بنایا ہے کیونکہ وحی کے اندر اچنبھے کی کوئی ایسی بات نہیں ہے جس طرح اللہ کے پیدا کردہ انسان اور دوسری چیزوں کے اندر ایک ایک بات معجزہ ہے۔ ص والقراٰن ذی الذکر (38: 1) ” ص ' قسم ہے نصیحت بھرے قرآن کی “۔ قرآن کریم میں جس طرح قوانین ' دستور ' قصص ' فلسفہ اور تہذیب کی باتیں ہیں اسی طرح نصیحت اور یاد دہانی بھی ہے۔ لیکن نصیحت اور اللہ کی طرف راہنمائی سب دوسرے مضامین کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ قرآن کی اصل غرض نصیحت وہدایت ہے بلکہ نصیحت کے سوا دوسرے مضامین بھی دراصل اللہ تک پہنچانے والے ہیں۔ یوں کہ سب اللہ کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ذوالذکر کا مفہوم مذکور اور مشہور بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی قرآن کی صفت ہے کہ وہ بہت مشہور ہے۔

ص 38:2

بل الذین کفروافی عزۃ وشقاق (38: 2) ” بلکہ یہی لوگ جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے سخت تکبر اور ضد میں مبتلا ہیں “۔ یہاں کلام میں اضراب اور اچانک موضوع سخن کی تبدیلی نظر آتی ہے۔ پہلے قرآن کا موضوع تھا ' اب مشرکین پر تبصرہ شروع ہوگیا کہ وہ تکبروغرور میں ڈوبے ہوئے ہیں اور سخت ضد اور دشمنی میں مبتلا ہیں۔ لیکن یہ موضوع سخن کی تبدیلی فقط ظاہری ہے ظاہری ہے اور اس ظاہری تبدیلی سے غرض یہ ہے کہ قاری مسئلے پر ذرا سنجیدگی سے غور کرے ۔ یہاں ص اور قرآن ذی ذکر قسم اٹھائی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس بات کا ذکر ہورہا ہے وہ بہت بڑی بات ہے۔ اسی لیے اللہ نے اس پر قسم اٹھائی ہے۔ اس کے بعد مشرکین کے غرور اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ۔ مسئلہ ” بل “ حرف اضراب سے قبل اور بعد ایک ہی ہے۔ ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاتی ہے کہ اللہ قرآن کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور مشرکین ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے کس طرح قرآن کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ اسکے بعد یہ بتایا گیا اس سے قبل انسانی تاریخ میں جن جن اقوام نے غرور وتکبر کیا اور اسکی وجہ سے ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہوئے وہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ کیونکہ انہوں نے بہت بڑا تکبر کیا اور دعوت اسلامی سے شدید دشمنی اختیار کی ۔ ذرا تاریخ میں ان کا منظر دیکھو کہ چیخ و پکار کررہے ہیں اور کوئی سنتا نہیں ۔ اب تو انکے دماغ سے وہ سب کچھ نکل گیا ہے۔ اب تو وہ بچھے جا رہے ہیں ۔ دشمنی انہوں نے ترک کردی اور اب تو وہ بہت ہی برخوردار بنے جا رہے ہیں۔ لیکن اس وقت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت !

ص 38:3

کم اھلکنا۔۔۔۔ حین مناص (38: 3) ” ان سے پہلے ہم ایسی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں اور جب ان کی شامت آئی تو وہ چیخ اٹھے ہیں مگر وہ وقت بچنے کا نہیں “۔ شاید تاریخ کے ان صفحات کے مطالعے کا ان پر اثر ہوا اور وہ اپنے کبروغرور سے دستکش ہوجائیں اور اپنی بےجا دشمنی کو ترک کردیں ۔ اور اپنے آپکو اس موقف پر کھڑانہ کریں جو ان ہلاک شدہ اقوام کا تھا کہ وہ چیختے پکارتے رہے لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔ اب تو انکے سامنے وسیع وقت ہے۔ وہ اس بےبسی کی پکار سے بچ سکتے ہیں ۔ جب کوئی سننے والا نہ ہو۔ اور نہ بچنے کی کوئی راہ ہو۔ یہ تو تھی ان کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک سخت ضرب ۔ اب تفصیلاً بتایا جارہا ہے کہ ان کے تکبر اور ان کی دشمنی کی تفصیلات کیا تھیں ۔ سنئے تفصلات : آیت نمبر 4 تا 7 ترجمہ : ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ایک ذرانے والا خود انہی میں سے آگیا۔ منکرین کہنے لگے کہ ” یہ ساحر ہے ' سخت جھوٹا ہے ' کیا اس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے “۔ اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ ” چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر۔ یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے۔ یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی۔ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات “۔ تکبر یہ تھا۔ ء انزل ۔۔ بیننا (38: 8) ” کیا ہمارے درمیان بس یہی شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کردیا گیا “۔ اور دشمنی یہ تھی کہ اجعل ۔۔۔ واحدا (38: 5) ” کیا اس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا “۔ اور یہ بھی دشمنی کی وجہ ہے۔ ماسمعنا۔۔۔ الاخرۃ (38: 7) ” یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی “۔ اور یہ کہ ھذاسحر کذاب (38: 4) ” یہ جادوگر ہے بڑا جھوٹا “۔ اور ان ھذا لاً اختلاق (38: 7) ” یہ کچھ نہیں مگر ایک من گھڑت بات “۔ یہ سب دشمنی کی وجوہات تھیں۔ رسول کا انسان ہونا زمانہ قدیم سے قابل تعجب رہا ہے۔ ہر زمانے میں اس کا اعادہ ہوا ہے ۔ جب سے رسالتوں کا آغاز ہوا ہے۔ اعتراض ہوتا رہا ہے۔ رسول بھی آتے رہے اور اس قسم کے اعتراضات بھی ہوتے رہے۔

ص 38:4

وعجبوآ۔۔۔ منھم (38: 4) ” اور ان لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ایک ڈرانے والا خود انہی میں سے آگیا “۔ حالانکہ مناسب ترین بات تو یہی ہے کہ ڈرانے والا انہی میں سے ہو ، وہ بشر ہو اور یہ بات جانتا ہو کہ انسان کیا سوچتے ہیں اور ان کے احساسات کیا ہوتے ہیں ۔ ان کے خلجانات کیا ہوتے ہیں اور ان کے وجود میں کیا کشمکش ہے۔ اور ان کے اندر کیا کیا کمزوریاں ہوتی ہیں اور کیا کیا کو تاہیاں ان کے وجود میں ہوتی ہیں۔ ایک انسان ہی یہ جان سکتا ہے کہ انسان میں کہاں کہاں کیا کمزوری ہے۔ کہاں کہاں وہ جذبات اور میلانات کا دباؤ محسوس کرتا ہے۔ اس کی وسعت اور قدرت کی حدود کیا ہیں۔ وہ کس قدر مشقت برداشت کرسکتے ہیں۔ کن کن رکاوٹوں اور مشکلات کے سامنے وہ بےبس ہوجاتے ہیں اور کیا کیا چیزیں ان پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ رسول ایک انسان ہوتا ہے ' انسانوں سے ہوتا ہے ، انسانوں میں رہتا ہے تو اس کی زندگی ان کے لیے نمونہ ہوتی ہے۔ اور وہ اس کے اسوہ کو اپناتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارا ہی بھائی ہے اور ہم ہی میں سے ہے ۔ اور یہ کہ قوم اور رسول کے ردمیان انسانی اور سماجی روابط پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ لہذا وہ اس منہاج کو اپنا سکتے ہیں جس پر وہ ہوتا ہے۔ اور لوگوں سے بھی یہ مطالبہ کیا جاسکتا ہے کہ اسے اپناؤ۔ کیونکہ رسول جیسے طرز عمل کو وہ بھی اپنا سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ اس نظام پر ایک شخص نے عمل کرکے دکھا دیا ہے ۔ جو خود ان میں سے ہے اور ان جیسا انسان ہے۔ لیکن یہ بات تعجب انگیز ہے کہ معقول ترین اور لازمی امر بھی ہمشہ لوگوں کے لیے باعث تعجب بنارہا ہے۔ وہ اسے انوکھا سمجھتے رہے ہیں اور تکذیب کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ انسانوں میں سے رسول بھیجنے کی حکمت کو نہ سمجھتے تھے۔ وہ رسالت کے منصب کو بھی نہ سمجھتے تھے۔ بجائے اس کے کہ وہ رسول کو ایک بشر قائد اور راہنما سمجھتے جو ان کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے ' وہ رسول کو ایک عجوبہ ناقابل فہم اور خیالی شخصیت سمجھتے تھے۔ وہ یوں سیدھے سادے انسانوں کو رسول نہ مانتے تھے۔ وہ رسول کو بھی ایسی شخصیت سمجھتے تھے جو خیالی ہو ' جسے چھوانہ جاسکتا ہو۔ جسے دیکھا نہ جاسکتا ہو۔ وہ ظاہر و باہر نہ ہو ، جو اس کرۂ ارض پر ایک عملی زندگی نہ رکھتا ہو۔ غرض وہ رسولوں کو ایک افسانوی شخصیت کی شکل میں دیکھنا چاہتے تھے۔ اور جس طرح ان کے عقائد تھے وہ رسولوں کو بھی ایسا ہی دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن اللہ کی مرضی یہ تھی کہ انسانوں کے لیے اس کی یہ آخری رسولت نہایت عملی اور واقعیت پسندانہ ہو۔ اس میں لوگوں کے لیے پاکیزہ ' طیب اور اعلیٰ درجے کی زندگی کا انتظام ہو۔ اور یہ آخری رسالت زمین کے اوپر ایک حقیقت ہو۔ اوہام تخیلات اور محض ہوائی مثالوں پر مبنی نہ ہو۔ حقائق پر مبنی ہو ' محض اوہام واساطیرنہ ہو۔ وقال۔۔۔ کذاب (38: 4) ” منکرین کہنے لگے یہ تو ساحر ہے ' سخت جھوٹا ہے “۔ اور کافروں نے یہ بات محض اس لیے کہی کہ وہ اپنے جیسے ایک شخص کی رسالت کا تصور ہی نہ کرسکتے تھے۔ اور پھر انہوں نے یہ بات اس لیے بھی کہی کہ لوگ حضرت محمد ﷺ سے متنفر ہوجائیں اور ہو سچائی جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے تھے جو واضح تھی اور پھر حضرت محمد ﷺ چونکہ صدق وصفا میں مشہور تھے ، وہ اس کو لوگوں کی نظروں میں مشتبہ بنانے کے لیے ایسا کرتے تھے۔ اصل حقیقت یہ ہے اور اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مشرکین مکہ نے کسی بھی مرحلے میں خود اپنی اس بات کو کبھی بھی سچا نہیں سمجھا کہ حضرت محمد ﷺ جادوگر ہیں یا بہت بڑے جھوٹے ہیں کیونکہ وہ حضرت محمد ﷺ کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے خلاف پروپیگنڈے اور گمراہ کن نشرواشاعت کی جو مہم چلا رہے تھے۔ یہ اس کے ہتھیاروں میں سے ایک اوچھا ہتھیار تھا۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اپنے مقام و مرتبہ کو اور اپنے غلط عقائد کو بچانا چاہتے تھے ۔ کیونکہ تحریک اسلامی کی صورت میں ان کو خطرہ درپیش تھا ' اس کی وجہ سے ان کی کھوٹی اور جھوٹی اقدار کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا اور ان کی بناوٹی طریقوں کے وجود تک کو خطرہ لاحق تھا اور کبرائے قریش اسے اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ہم نے یہ بات اس سے پہلے بھی نقل کی ہے اور یہاں بھی نقل کررہے ہیں کہ کبرائے قریش نے پروپیگنڈے کی یہ جھوٹی مہم نہایت ہی سنجیدگی اور سوچ سمجھ کر شروع کی تھی ۔ اس طرح وہ اپنے وجود اپنے طور طریقوں اور اپنے نظریات کو بچانا چاہتے تھے ۔ نیز اسطرح موسم حج میں عرب قبائل میں تحریک اسلامی کے اثرات کے پھیلنے کا جو خطرہ کا جو درپیش تھا اسکا وہ سدباب چاہتے تھے محمد ابن اسحاق نے نقل کیا ہے کہ ولید ابن مغیرہ کے پاس کے کچھ معمر لوگ جمع ہوئے ' موسم حج آنے والا تھا۔ ولید نے ان سے کہا کہ اکابرین قریش آپ کو معلوم ہے کہ موسم حج آرہا ہے اور عرب کے وفود آنے شروع ہوں گے۔ نیز انہوں نے اس شخص کے بارے میں بھی سن رکھا ہوگا ۔ لہذا اس موضوع پر اپنی بات کو ایک کرلو۔ یوں نہ ہو کہ ہر شخص ایک علیحدہ بات کرے اور تم سب ایک دوسرے کی تکذیب کرتے پھرو۔ تو انہوں نے کہا عبدشمس تم ہی کچھ کہو اور ہمیں ایک مضبوط موقف دے دو تاکہ ہم سب ایک ہی بات کریں تو ولید نے کہا تم کہو میں سن کر قیاس کروں گا۔ کسی نے کہا اسے کاہن کہو ، ولید نے کہا یہ تو بات نہیں ہے۔ خدا کی قسم یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو خوب دیکھا ہوا ہے۔ نہ قرآن کاہنوں کا زمزمہ ہے اور نہ ان کا مسجع کلام ہے تو کسی نے کہا اسے پاگل کہو۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ مجنون بھی نہیں ہے۔ لوگ مجنونوں اور پاگلوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ نہ وہ مجنونوں کی طرح گلوگیر ہے۔ نہ ذہنی خلجان میں مبتلا ہے اور نہ اسے کوئی وسوسہ ہے۔ تو پھر اسے شاعر کہنا چاہئے۔ تو اس نے کہا کہ اس کا کلام شعر بھی نہیں ہے۔ ہم اشعار کو جانتے ہیں۔ نہ رجز ہے نہ ہزج ہے ' نہ قریض ہے ' نہ مقبوض ہے ' نہ مبسوط ہے۔ لہذا یہ کلام شعر نہیں ہے تو انہوں نے کہا پھر اسے جادوگر ہی کہا جاسکتا ہے۔ تو ولید نے کہا وہ تو جادوگر بھی نہیں ہے ۔ ہم نے جادوگر بھی دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کے جادو کے کرشمے بھی دیکھے ہوئے ہیں۔ نہ یہ ان کی پھونک ہے اور نہ ان کی بندش ہے تو ان اکابرین نے کہا عبدشمس پھر تم ہی بتاؤ کہ کیا کہیں اسے ۔ تو اس نے کہا خدا کی قسم اس کی بات میں مٹھاس ہے۔ اس کی جڑیں بہت ہی گہری ہیں۔ اور اس کی شاخوں پر پھل ہیں اور تم ان باتوں میں سے جس کا بھی پروپیگنڈہ کرو معلوم ہوگا کہ تمہاری بات غلط ہے۔ ہاں ممکن حد تک کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ تم اسے ساحر کہو کہ وہ جو کلام لایا ہے وہ جادو کی طرح ایک شخص اور اس کے بھائی ' ایک شخص اور اس کی بیوی ایک شخص اور اس کے خاندان کے درمیان تفریق کرتا ہے۔ لہذا سب یہی ایک بات کرو ' چناچہ موسم حج میں یہ لوگ راستوں پر بیٹھ گئے ۔ اور جو بھی گزرتا اسے وہ کہتے تھے کہ لوگو ڈرو اس شہر میں ایک جادوگر پیدا ہوگیا ہے۔ اور یہ ازخود حضرت محمد ﷺ کے بارے میں تفصیلات بتاتے۔ یہ تھی حقیقت اس بات کی جو وہ کہتے تھے۔ سحر کذاب (38: 4) جبکہ وہ خود جانتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ سچ کہتے تھے ' نہ ساحر تھے اور نہ کذاب تھے۔ نیز وہ اس بات پر بھی تعجب کرتے تھے کہ وہ تمام الہوں کی جگہ ایک ذات کو الہہ ماننے کی دعوت دے رہا ہے۔ حالانکہ سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ اس کائنات کا الہہ ایک ہی ہے۔

ص 38:5

اجعل الاٰلھۃ۔۔۔۔ الااختلاق (38: 7) کیا اس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر۔ یہ بات تو کسی اور ہی غرض کے لیے کہی جارہی ہے۔ یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی۔ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات “۔ قرآن کریم اسلامی نظریہ حیات سے ان کی دہشت اور بوکھلاہٹ کی خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ اجعل الاٰلھۃ الٰھاواحدا (38: 5) ” کیا اس نے تمام الہوں کو ایک الہہ بنا دیا “۔ گویا اسلام کا فطری عقیدہ ایک انہونی اور ناقابل تصور بات ہے۔ ان ھٰذآلشیء عجاب (38: 5) ” یہ تو ایک عجیب نظریہ ہے “۔ لفظ ” عجاب “ یہ بتایا ہے کہ ان کی دہشت زدگی اور بوکھلاہٹ بہت ہی عظیم تھی۔ جمہور کے ذہنوں سے اسلامی عقائد کے اثرات منانے کے لیے وہ جس قسم کی جدوجہد کررہے تھے۔ قرآن کریم اس کی بھی زبردست تصویر کشی کررہا ہے۔ وہ بےحد جدوجہد کررہے تھے کہ لوگ اپنے موروثی عقائد پر جمے رہیں۔ اگرچہ وہ عقائد و نظریات باطل اور سوچ ہوں۔ وہ عوام کو یہ باور کراتے تھے کہ دراصل اس تحریک کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ ہے۔ اور یہ کہ وہ سردار ہیں اور خفیہ سازشوں سے باخبر ہیں۔ اور یہ گہری سازش کی جارہی ہے۔

ص 38:6

وانطلق۔۔۔۔ یراد (38: 6) ” اور سرداران قریش یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ چلو اور اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو ۔ یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے “۔ یہ کوئی دین اور نظریہ کی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی اور ہی گہری سازش ہے اور جمہور عوام کا یہ فرض ہے کہ یہ معاملہ اکابرپر چھوڑدیں۔ جو خفیہ باتوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے موروثی طرز عمل پر جمے رہیں اور اپنے آباؤ اجداد کے عقائد کو سختی سے پکڑے رکھیں۔ اور اس جدید تحریک کے پیچھے جو سازش ہے اس میں نہ پڑیں۔ یہ لیڈروں کا کام ہے کہ وہ ان سازشوں کا دفاع کریں۔ عوام کو مطمئن رہنا چاہئے۔ قیادت اپنے مفادات ' عوام کے مفادات اور اپنے الہوں کے مفادات کو اچھی طرح جانتی ہے۔ یہ ہے ایک عام اور ہر سوسائٹی میں دہرائے جانے والا طریقہ کار جس کے مطابق لوگ عوام الناس کو ملک و ملت کے مسائل سے ہٹانے کے لئے جسے ہر سوسائٹی کے سرکش ' باغی اور ڈکٹیٹر اور طاغوتی قوتیں استعمال کرتی ہیں۔ اس لیے کہ اگر عوام الناس قومی مسائل پر سوچنا شروع کردیں تو یہ طاغوتی قوتوں کے لئے ایک خطرناک علامت ہوتی ہے۔ طاغوت کے اقتدار کے لیے یہ خطرہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اس طرح ان اندھیروں کے چھٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے جن میں عوام الناس غرق ہوتے ہیں۔ کیونکہ طاغوت کا اقتدار قائم ہی تب ہوتا ہے جب جمہورجہالت میں غرق ہوں۔ اس کے بعد وہ اہل کتاب کے ظاہری عقیدے سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں یعنی اہل کتاب کے حوالے سے جبکہ اہل کتاب کے عقائد میں بھی افسانے داخل ہوگئے تھے اور انہوں نے توحید کے خالص عقیدے میں تحریف کرکے اسے شرکیہ عقائد بنا دیا تھا ۔ چناچہ وہ کہتے ہیں : اس کائنات میں قدراشیاء ہیں ' ان میں ہر شے متحرک ہے۔ یہ پوری کائنات چھوٹے چھوٹے ذرلت سے مرکب ہے۔ خواہ زندہ کائنات ہو یا مردہ ۔ یہ تمام ذارت الیکٹرون سے مرکب ہیں اور یہ الیکڑان ایک گٹھلی کے اردگرد حرکت کرتے ہیں جو پروٹونز سے مرکب ہے۔ یہ حرکت اسی طرح ہے جس طرح کواکب سورج کے اردگرد حرکت کرتے ہیں ۔ اور جس طرح بیشمار سورجوں کا مجموعہ کہکشاں اپنے اردگرد حرکت کرتا ہے۔ یہ تمام حرکات غرب سے شرق کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ یہ وقت کی حرکت سے متضاد حرکت ہے۔ وہ عناصر جن سے زمین اور دوسرے ستارے اور سیارے مرکب ہوتے ہیں یہ ایک ہی ہیں۔ تمام ستارے بھی انہی عناصر سے مرکب ہیں جن سے زمین مرکب ہے۔ یہ تمام ذرات سے مرکب ہیں اور ذرات الیکٹرون ' پروٹون اور نیوٹرون سے مرکب ہیں ۔ تمام ذرات بلااستثناء ان تین اجزاء سے مرکب ہیں۔ ” جس طرح پورا مادہ ان تین اجزاء سے مرکب ہے ' اسی طرح قوت بھی ایک ہی اصل کی طرف لوٹتی ہے ۔ روشنی اور حرارت ' بنفشی شعاعیں ' لاسلکی شعاعین ' ماورائے بنفشی شعاعیں اور تمام دوسری شعاعیں دراصل مقناطیسی کہربائی قوت کی مختلف اقسام ہیں۔ ان کی رفتار ایک ہے ، اختلاف صرف ان کی موجودگی میں ہے “۔” مادہ تین اجزاء سے مرکب ہے اور قوت موجوں سے مرکب ہے “۔ ” آئن سٹائن کا مخصوص نظریہ اضافت یہ ثابت کرتا ہے کہ مادہ اور قوت ایک ہی چیز ہے۔ تجربات نے اس دعویٰ کی تصدیق کردی ہے۔ ایک آخری تجربہ بھی سامنے آگیا ہے۔ جس نے جہاراً یہ اعلان کردیا ہے تمام دنیا نے اسے سن لیا ہے کہ ایک جدید بم میں ایٹم نے قوت کی شکل اختیار کرلی “۔ ” یوں ثابت ہوتا ہے کہ مادہ اور قوت ایک چیز ہے “۔ یہ ہے اس کائنات کی طبعی تشکیل میں وحدت اور حال ہی میں انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرسکا ہے۔ اس کائنات کی مسلسل حرکت میں بھی ایک طرح کی یگانگت اور وحدت ہے جیسا کہ ہم نے باربار اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر اس کائنات کی تمام حرکات منظم اور مسلسل ہیں۔ اس قدر باقاعدہ کہ ان میں سے ایک سکینڈ کا خلل بھی نہیں پڑتا ۔ نہ اس میں کوئی اضطراب ہے۔ پھر پورے نظام میں اس قدر توازن ہے کہ نہ کسی جرم فلکی کی حرکت میں تعطل آتا ہے اور نہ ہی اجرام فلکی کے درمیان کوئی تصادم آتا ہے اور وہ ستارے اور سیارے جو ان کہکشانوں میں جو ہمارے قریب ہیں اور جو اس فضائے کائنات میں تیررہی ہیں ' ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مدار ، ان کی حرکت اور ان کے فاصلے متعین ہیں۔ ان کی اندر کوئی تغیروتبدل نہیں ہوتا۔ ان کی ہر چیز مقدر ہے ۔ ایک منصوبے کے مطابق ، یعنی یہ ایک ناقابل تغیرو تبدل منصوبے اور نقشے کے مطابق چل رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نظام کائنات کے اندر پائی جانے والی وحدت اور عقیدۂ پر کائناتی شہادت کے مطالعہ کے لیے یہ سرسری وقفہ کافی ہے۔ عقیدۂ توحید وہ اہم حقیقت ہے کہ انسان کی اصلاح اور ترقی اس کے سوا کسی اور عقیدے پر ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا عقیدۂ توحید کی وضاحت کے بغیر انسان کا تصور کائنات مکمل ہی نہیں ہوسکتا ۔ نہ اس کائنات میں انسان کی قدروقیمت متعین ہوسکتی ہے۔ اور نہ انسان اور اس کائنات کا باہم تعلق صحیح سمت لے سکتا ہے۔ نہ انسانوں کے ذہنوں میں اس کائنات کو وجود میں لانے والی ہستی کا تصور درست ہوسکتا ہے اور نہ انسان اور خدا کا تعلق درست ہوسکتا ہے ۔ لہذا انسان کے شعور کو صحیح سمت دینے کے لیے اور انسان کے طرز عمل کو درست حالت میں رکھنے کے لئے عقیدۂ توحید کی تشریح ضروری ہے۔ اب دیکھئے کہ جو شخص اللہ وحدہ پر ایمان لاتا ہے ، جو اس عقیدۂ توحید کے معنی کو سمجھتا ہے۔ اس کا تعلق اپنے رب کے ساتھ بھی درست ہوتا ہے۔ اور اس کا تعلق اللہ کے سوا پوری کائنات کے ساتھ بھی درست ہوجاتا ہے۔ اور یہ تعلقات حقیقت پسندانہ ہوتے ہیں اور ان میں افراط وتفریط نہیں ہوتی۔ یوں اس کے شعور میں انتشارنہین ہوتا۔ اور اس کی سوچ مختلف الہوں میں نہیں بٹتی ۔ اور نہ اس پر اللہ کے سوا کوئی اور مسلط ہوتا ہے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لے آتا ہے اور جو اللہ کو اس کائنات کا مصدر ومنبع سمجھتا ہے وہ اس کائنات کے ساتھ ' اس کے اندر موجود اشیاء کے ساتھ باہم تعارف ، محبت اور الفت کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور اس کی زندگی پر امید ہوتی ہے اور اس کی زندگی کی ایک ایسی صورت گری ہوتی ہے جو اس شخص سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا ۔ اور وہ اپنے آپ کو اپنے ماحول اور اپنے معاشرے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں پاتا۔ وہ شخص جو اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اللہ کیجانب سے مخصوص ہدایات پاتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو اس کا ئنات کے اندر پائے جانے والے ناموس اور اللہ کیطرف سے نازل شدہ شریعت کے مطابق تشکیل دے۔ کائنات پر بھی اللہ کا قانون جاری وساری ہے اور انسانی زندگی پر اللہ کی مقرر کردہ شریعت جاری ہوتی ہے اور یوں انسان کی عملی زندگی اس کائنات کیساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ غرض اس حقیقت کا ادراک اس لیے ضروری ہے کہ انسان کا شعور درست ہو۔ وہ روشن ہو ' وہ صحیح سمت رکھتا ہو۔ اور وہ اپنے گرد پھیلی ہوئی کائنات کے ساتھ ہم آہنگ متناسق اور متوازن ہو۔ اور انسان کے باہمی تعلقات ' اس کائنات کے ساتھ تعلقات اور اپنے معاشرے کے ساتھ تعلقات واضح اور متعین ہوں۔ یہ تعلقات اخلاقی ہوں یا طرز عمل سے متعلق ہوں ، اجتماعی معاملات سے متعلق ہوں ، شخصی ہوں یا انسانی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم توحید کو اس قدر اہمیت دیتا ہے اور عقیدۂ توحید کے لیے یہ جدوجہد آدم (علیہ السلام) سے ادھر آنے والے تمام انبیاء نے کی ہے۔ اور تمام رسولوں نے عقیدۂ توحید پر سخت اصرار کیا ہے۔ کلمہ توحید کے الفاظ بھی ایک رہے ہیں اور مفہوم بھی ایک رہا ہے۔ قرآن میں تو عقیدۂ توحیدپر اس قدر زور دیا گیا ہے کہ اسے باربار دہرایا گیا ہے۔ اس پر اصرار کیا گیا ہے۔ مسئلہ توحید اور اس کے تقاضوں کی باربار مختلف اسالیب سے تشریح کی گئی ہے۔ خصوصاً مکی سورتوں میں تو اس پر بہت زور دیا گیا ہے جبکہ مدنی سورتوں میں بھی عقیدۂ توحید پر مدنی موضوعات کے اعتبار سے زور دیا گیا ہے۔ جہاں حاکمیت اور قانون سازی کے حق کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ یہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے مشرکین مکہ تعجب کررہے تھے کہ حضور اکرم ﷺ تمام الہوں کو ردکرکے صرف ایک ہی الہہ کے قائل ہیں۔ چناچہ اس پر وہ حضور اکرم ﷺ سے الجھتے تھے۔ تعجب کرتے تھے ، لوگوں کو اس نظریہ سے پھیرتے تھے اور اس نظریہ حیات کے خلاف اپنے تمام وسائل انہوں نے مجتمع کرلیے تھے۔ اب ان کے تعجب کا دوسرا پہلو ، یہ کہ وہ حضرت محمد ﷺ کو دولت اور شخصی وجاہت کے زاویہ سے منصب نبوت کے قابل نہ سمجھتے تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ قائد کوئی خان اور نواب ہوتا چاہئے۔

ص 38:7

ماسمعنا۔۔۔۔ اختلاق (38: 7) ” یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی۔ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات “۔ نزول قرآن کے زمانے میں عیسائیوں کے درمیان عقیدۂ تثلیث عام ہوگیا تھا اور حضرت عزیر کی ابوہیت کا عقیدہ بھی یہودیوں کے درمیان پھیل گیا تھا۔ اکابرین قریش اس طرف اشارہ کررہے تھے اور کہتے تھے کہ ” یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں نہیں سنی۔ یہ خالص توحید تو نہ یہودیت میں ہے اور نہ عیسائیت میں۔ لہذا حضرت محمد ﷺ جو کچھ پیش کر رہے ہیں ' یہ ان کا من گھڑت دین ہے۔ اسلام نے خالص توحید کے قیام کے لئے بہت جدوجہد کی۔ اور عقیدۂ توحید سے ہر قسم کے انسانوں ' شرک خفی اور شرک جلی اور تمام دوسری بےراہ رویوں اور کج فکریوں کو دور کردیا ۔ یہ اس لیے کہ عقیدۂ توحید وہ حقیقت ہے جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اور اس پر یہ پوری کائنات شہادت دے رہی ہے۔ نہایت ہی واضح انداز میں ۔ پھر انسان کی شخصیت کی اصلاح اس کی ذات میں ، ان کے اصول حیات میں اور زندگی کے فروعی مسائل میں اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک وہ عقیدۂ توحید پر قائم نہ ہو۔ یہاں مناسب ہے کہ اس بات کی تفصیل دے دی جائے کہ قریش عقیدۂ توحید کی کس قدر شدید مزاحمت کررہے تھے ۔ اس عقیدے کی وجہ سے وہ کس قدر زیادہ دہشت زدہ ہوگئے تھے اور وہ بیشمار الہوں واحد کے عقیدے کو کس قدر عجیب اور انوکھا سمجھتے تھے۔ اور یہ بھی بیان کردیں کہ قریش سے قبل انسانی تاریخ میں تمام مشرکین نے کس طرح ہمشہ اس عقیدے کی مخالفت کی اور آدم (علیہ السلام) سے ادھر تمام انبیائے کرام نے کس طرح ہمیشہ اس عقیدے پر اصرار کیا۔ اور اس بات کے لیے ان تھک مساعی کیں کہ لوگ اس عقیدے کو تسلیم کرلیں اور یہ کہ حقیقتاً ان کے ذہنوں میں یہ عقیدہ بیٹھ جائے۔ سب سے پہلے یہ مناسب ہے کہ قارئین عقیدہ توحید کی اہمیت کو سمجھ لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عقیدۂ توحید وہ بنیادی سچائی ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے اور یہ پوری کائنات نہایت وضاحت کے ساتھ وحدت الوہیت پر شہادت دیتی ہے۔ وہ قوانین قدرت جو اس زمین پر لاگو ہیں اپنی حقیقت اور ماہیت کے اعتبار سے بالکل ایک اکائی ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ جس ارادے کے تحت یہ قوانین وجود میں آئے ہیں ' وہ ایک ہی ارادہ ہے۔ اس کائنات پر مجموعی نظرڈالنے سے یا اس کائنات کے ایک ہی جزء کے مطالعے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر وحدت پائی جاتی ہے۔ اور یہ وحدت بتاتی ہے کہ اس کو وجود میں لانے والا ارادہ ایک ہی ہے۔

ص 38:8

آیت نمبر 8 (1) یہ کوئی قابل تعجب بات تو نہ تھی مگر اکابرین قریش حسد میں مبتلا تھے۔ اس حسد کی وجہ سے وہ غرور ' دشمنی اور کنیہ پر اتر آتے تھے۔ ابن اسحاق نے محمد ابن شہاب زہری سے نقل کیا ہے کہ ایک بار ابوسفیان ابن حرب ، ابوجہل ابن ہشام اور اجس ابن شریق ابن عمرو ابن وہب ثقفی حلیف بنی زہرہ رات کے وقت نکلے کہ قرآن سنیں۔ حضور ﷺ رات کے وقت نماز میں قرآن کریم پڑھا کرتے تھے۔ ان تینوں میں سے ہر شخص دوسرے سے بیخبر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ رات دیر تک یہ سنتے رہے۔ جب سپیدہ صبح نمودار ہوئی تو یہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے ۔ راستے میں وہ اتفاقاً مل گئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو خوب ملامت کی۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا آئندہ یہ حرکت مت کرو ، اگر بعض نادانوں نے تمہیں دیکھ لیا تو ان کے دلوں میں بات بیٹھ کا ئے گی۔ یہ لوگ چلے جب دوسری رات ہوئی تو دوبارہ ہر شخص پھر آکر اپنی مقرر جگہ پر بیٹھ گیا۔ رات گئے تک سنتے رہے۔ جب فجر نمودار ہوئی تو یہ لوگ نکلے اور راستے میں پھر اکٹھے ہوگئے انہوں نے گزشتہ رات ایک دوسرے کو ملامت کی۔ اور چلے گئے۔ تیسری رات کو پھر ہر شخص آکر بیٹھ گیا۔ رات کو سنتے رہے۔ جب فجر ہوئی تو جانے لگے اور راستے میں پھر ایک دوسرے کو دیکھ لیا۔ اب انہوں نے کہا کہ جب تک ہم کوئی معاہدہ نہ کرلیں ، نہ جائیں گے۔ چناچہ انہوں نے باقاعدہ معاہدہ کیا اور پھر چلے گئے۔ صبح ہوئی تو انس ابن شریق نے اپنی عصا لی۔ یہ پہلے ابوسفیان کے پاس گیا۔ اس نے کہا ابوحظلہ تم نے محمد سے جو کچھ سنا بتاؤ۔ اس کے بارے میں کیا رائے ہے ۔ اس نے کہا میں نے بعض باتیں سنی جو میرے علم میں ہیں اور میں ان کا مطلب بھی سمجھتا ہوں اور بعض باتیں میں نے نہیں سنی اور نہ میں ان کا مطلب سمجھتا ہوں۔ تو اس نے کہا خدا کی قسم میرا بھی یہی حال ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ابوجہل کے پاس آیا۔ اس کے گھر میں اس سے ملا۔ اس سے کہا ابوالحکم ، محمد سے تم نے جو کچھ سنا ، اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا میں نے کیا سنا ؟ ہمارا اور بنو عبدمناف کے درمیان ہمیشہ مقابلہ رہا۔ انہوں نے کھانا کھلایا ، ہم نے بھی کھلایا۔ انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں ، ہم نے بھی سواریاں دیں۔ انہوں نے عطے دیئے ہم نے بھی عطے دیئے۔ جنگ میں بھی ہم نے مقابلہ کیا یہاں تک کہ ہم مقابلے کے گھوڑوں کی طرح ساتھ ساتھ رہے۔ اب وہ کہتے ہیں ہم میں نبی پیدا ہوگیا ہے۔ اس پر آسمانوں سے وحی آتی ہے ہم ان کے مقابلے میں نبی کہاں سے لائیں ؟ کبھی بھی ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے ، خدا کی قسم اور کبھی بھی اس کی تصدیق نہ کریں گے۔ انس اٹھ کھڑا ہوا اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ دیکھئے یہ کھلا کینہ ہے جس کی وجہ سے ابوجہل حق کا اعتراف نہیں کررہا ہے۔ حالانکہ جب مسلسل تین راتوں کو وہ کلام الہٰی سب رہا تھا تو وہ جانتا تھا کہ یہ برحق ہے۔ یہ حسد اور کینہ تھا جو اس کے ایمان کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا یہی ہے راز اس بات میں ہے۔ ء انزل علیہ الذکر من بیننا (38: 8) ” کیا ہمارے درمیان میں اس شخص پر کلام الہٰی نازل ہوا ، اور کوئی نہ تھا “۔ یہی لوگ تھے جو یہ کہتے تھے۔ لولآ۔۔۔ عظیم (43: 31) ” وہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ ہوا “۔ ان دو بستیوں سے ان کی مراد مکہ اور طائف تھی۔ جہاں قریش کے اکابر حکمران تھے۔ جہاں ان لوگوں کی مذہبی سیادت و قیادت قائم تھی۔ نیز انہوں نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ ایک نیا نبی آنے ہی والا ہے اور جب اللہ نے یہ منصب حضرت محمد ﷺ کو عطا کردیا تو یہ لوگ جل بھن گئے۔ اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ اللہ کی اس عظیم رحمت اور اس اونچے منصب کے مستحق وہ نہیں ہیں۔ کیا سارے جہاں سے محمد ﷺ ہی اس کے مستحق ٹھہرے ؟ اللہ تعالیٰ بھی ان کو اسی انداز میں جواب دیتا ہے حقارت کے ساتھ ، جس کے اندر تہدید اور ڈراوے کے اشارات موجود ہیں۔ آیت نمبر 8 (2) ان کا سوال یہ تھا کہ ” کیا ہمارے درمیان سے نزول قرآن کے لیے صرف اس شخص کا انتخاب کیا جانا تھا ؟ “ جبکہ وہ خود قرآن کی سچائی ہی کے بارے میں مشکوک ہیں۔ ان کے دلوں کے اندر یہ یقین ہی نہیں ہے کہ یہ قرآن اللہ کی جانب سے ہے۔ وہ تو حقیقت وحی کے بارے میں سخت خلجان میں تھے لیکن اس کے باوجود یہ بھی وہ تسلیم کرتے تھے کہ یہ قرآن ایک عام کلام کے مقابلے میں ایک بلند پایہ کلام ہے۔ اب قرآن کریم کے بارے میں ان کی بات سے روئے سخن پھرجاتا ہے۔ اور ان کے خلجان کو بھی ایک طرف چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور ان کو سخت عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے۔ بل لما یذوقوا عذاب (38:8) ” یہ ساری باتین اس لیے کر رہے ہیں کہ انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ یعنی اللہ نے اپنی مہربانی سے نجات دی ہوئی ہے لیکن جب ان کو عذاب نے آلیا تو پھر وہ ایسی باتیں نہ کریں گے۔ اس وقت ان کو حقیقت حال کا اچھی طرح علم ہوجائے گا۔ اب آخری تبصرہ یہ آتا ہے کہ یہ لوگ حضرت محمد ﷺ پر ہونے والے فضل وکرم کو ان کے استحقاق سے زیادہ سمجھتے ہیں تو سوال یہ کیا جاتا ہے کہ کیا رحمت ربی کی تقسیم کے انچارج یہ ہیں اور ان کا اختیار ہے کہ کسی پر رحمت کریں کس پر نہ کریں۔

ص 38:9

آیت نمبر 9 یہ ان کو سخت تنبیہہ ہے کہ ان کی یہ باتیں بارگاہ عزت میں صریح گستاخی ہیں ۔ یہ ان معاملات میں ٹانگ اڑا رہے ہیں جن میں مداخلت کرنے کا ان کو کوئی حق نہیں ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ کسی پر فضل کرتا ہے یا کسی سے اپنے فضل کو روکتا ہے۔ وہ غالب ہے ، قدرتوں والا ہے ' کوئی شخص اس کے ارادے کے سامنے بطور رکاوٹ کھڑا نہیں رہ سکتا ۔ وہ داتا ہے ، سخی ہے اور اس کی راد وہش کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ لوگ اس بات پر چیں بجبیں ہیں کہ حضرت محمد ﷺ رسول بنادیئے گئے ہیں۔ کیا اللہ کی کرم نوازیوں کی تقسیم ان کے ہاتھ میں ہے ؟ کیا اللہ کے خزانے ان کے چارج میں ہیں ؟

ص 38:10

آیت نمبر 10 (1) اس کا وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے کیونکہ یہ دعویٰ وہ نہیں کرسکتے ۔ اس لئے کہ خود ان کا یہ عقیدہ تھا کہ زمین اور آسمانوں کا مالک اللہ ہے اور وہ دیتا ہے اور وہی روکتا ہے۔ وہ کرم نوازیاں کرتا ہے اور وہی مناسب عطا کرتا ہے۔ اور چونکہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کا اقتدار انہیں حاصل نہیں ہے۔ اس لیے اللہ مقتدر اعلیٰ کے معالات میں ان کو دخل بھی نہ دینا چاہئے وہ تو بلاقید متصرف ہے۔ اب بطور مزاح اور لاجواب کرنے کی خاطر انہیں کہا جاتا ہے کہ ان کا جواب اثبات میں ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مقتدر اعلیٰ ہیں تو وہ اپنی قوت مقتدر کو کام میں لائیں۔ آ یت نمبر 10 (2) تاکہ زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان جو مدارج ہیں ان پر ان کا کنٹرول ظاہر ہو۔ اور وہ اللہ کے کام خود سرانجام دیں ۔ اللہ کے خزانوں کی تقسیم کریں۔ جسے چاہیں ' دیں اور جس سے چاہیں روک لیں۔ جب ان کے رویے کا تقاضا ہے کہ وہ منصب بنوت کی تقسیم پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ تو تھا مزاح اب کیا ہے اور کس انجام سے دوچار ہونے والے ہیں یہ لوگ ؟

ص 38:11

آیت نمبر 11 ان کا انجام اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ دور جاکر پھینک دیئے جائیں اور ان کے اس لشکر کو شکست ہوجائے۔ وہ مقام جس کا اپنے لئے یہ دعویٰ کرتے ہیں اس سے بہت دور کسی جگہ ان کا لشکر شکست کھانے والا ہے۔ یہ لشکر اللہ کی مملکت میں دخیل نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ارادوں کو نہیں بدل سکتا۔ اور اللہ کی مشیت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ ایک مجہول النسب لشکر ہے ، مجہول الشان ہے اور شکست خوردہ ہے۔ گویا شکست اس کی لازمی صفت ہے۔ اس کی شخصیت کا حصہ ہے اور یہ لشکر مختلف احزاب سے بنا ہوا ہے۔ جن کے رجحانات مختلف ہیں اور جن کی خواہشات مختلف ہیں۔ اللہ اور رسول اللہ کے دشمن صرف اسی قدر ترقی کرسکتے ہیں جس کی تصویر کشی قرآن کریم کمزوری ، عجز اور ضعف کے رنگوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اور یہ تاثر دیتا ہے کہ لوگ اللہ کے تصرف اور تدبیر کے دائرے سے بہت ہی دور ہیں۔ اگرچہ دنیا کی نظروں میں وہ جبار وقہار ہوں اور ان کی پکڑ سخت ہو اور کچھ عرصہ کے لیے دنیا میں ان کی بات چلتی ہو۔ پوری تاریخ انسانی میں ایسے جباروں کے بارے قرآن مجید یہ تصویر کشی کرتا ہے۔ جندما ھنالک مھزوم من الاحزاب (38: 11) ” یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتھا ہے جو اسی جگہ شکست کھانے والا ہے

ص 38:12

آیت نمبر 12 تا 14 یہ مثالیں تو ان لوگوں کی ہیں جو قریش سے قبل تاریخ میں گزرے ہیں ۔ قوم نوح ، قوم عاد ، فرعون جو بڑے بڑے اہراموں والا تھا۔ یہ اہرام زمین پر ایسے ہیں جیسی میخیں ، قوم ثمود ، قوم لوط ، قوم شعیب جنہیں اصحاب الایکہ بھی کہا جاتا ہے یعنی گھنے جنگلوں والے ، یہ ہیں وہ جتھے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ۔ تو انجام کیا ہوا ان کا ۔ حالانکہ وہ بڑے جبار اور پکڑوالے تھے۔ یہ ہوا فحق عقاب (38: 14) ” میرے عذاب کا فیصلہ ان پر چسپاں ہوا “۔ جو ہونا تھا وہ ہوا۔ وہ اس طرح نیست ونابود کردیئے گئے کہ ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہا ہے۔ یہ تھی پوزیشن ان لوگوں کی جو زمانہ ماضی میں گزرے۔ رہے یہ لوگ تو ان کے لیے ایک عذاب آنے والا ہے۔ یہ دن یوم الحساب سے قبل آئے گا اور ایک چیخ ہوگی اور پوری دنیا میں کچھ نہ رہے گا۔

ص 38:13

آیت نمبر 12 تا 14 یہ مثالیں تو ان لوگوں کی ہیں جو قریش سے قبل تاریخ میں گزرے ہیں ۔ قوم نوح ، قوم عاد ، فرعون جو بڑے بڑے اہراموں والا تھا۔ یہ اہرام زمین پر ایسے ہیں جیسی میخیں ، قوم ثمود ، قوم لوط ، قوم شعیب جنہیں اصحاب الایکہ بھی کہا جاتا ہے یعنی گھنے جنگلوں والے ، یہ ہیں وہ جتھے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ۔ تو انجام کیا ہوا ان کا ۔ حالانکہ وہ بڑے جبار اور پکڑوالے تھے۔ یہ ہوا فحق عقاب (38: 14) ” میرے عذاب کا فیصلہ ان پر چسپاں ہوا “۔ جو ہونا تھا وہ ہوا۔ وہ اس طرح نیست ونابود کردیئے گئے کہ ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہا ہے۔ یہ تھی پوزیشن ان لوگوں کی جو زمانہ ماضی میں گزرے۔ رہے یہ لوگ تو ان کے لیے ایک عذاب آنے والا ہے۔ یہ دن یوم الحساب سے قبل آئے گا اور ایک چیخ ہوگی اور پوری دنیا میں کچھ نہ رہے گا۔

ص 38:14

آیت نمبر 12 تا 14 یہ مثالیں تو ان لوگوں کی ہیں جو قریش سے قبل تاریخ میں گزرے ہیں ۔ قوم نوح ، قوم عاد ، فرعون جو بڑے بڑے اہراموں والا تھا۔ یہ اہرام زمین پر ایسے ہیں جیسی میخیں ، قوم ثمود ، قوم لوط ، قوم شعیب جنہیں اصحاب الایکہ بھی کہا جاتا ہے یعنی گھنے جنگلوں والے ، یہ ہیں وہ جتھے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ۔ تو انجام کیا ہوا ان کا ۔ حالانکہ وہ بڑے جبار اور پکڑوالے تھے۔ یہ ہوا فحق عقاب (38: 14) ” میرے عذاب کا فیصلہ ان پر چسپاں ہوا “۔ جو ہونا تھا وہ ہوا۔ وہ اس طرح نیست ونابود کردیئے گئے کہ ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہا ہے۔ یہ تھی پوزیشن ان لوگوں کی جو زمانہ ماضی میں گزرے۔ رہے یہ لوگ تو ان کے لیے ایک عذاب آنے والا ہے۔ یہ دن یوم الحساب سے قبل آئے گا اور ایک چیخ ہوگی اور پوری دنیا میں کچھ نہ رہے گا۔

ص 38:15

آیت نمبر 15 یعنی جب یہ وقت آئے گا تو اس میں اس قدر تاخیر بھی نہ ہوگی جس قدر اونٹنی کا دودھ دوہنے کے دو اوقات میں ہوتا ہے۔ اس لیے کہ دودھ دینے والے جانور کا دودھ وقت مقررہ پر نکالا جاتا ہے جس میں تقدیم و تاخیر نہیں کی جاتی۔ یہ امت آخری امت ہے اور اللہ نے اسے قیامت تک کا وقت اور مہلت دے دی ہے۔ کیونکہ اس امت کو اللہ امم سابقہ کی طرح نیست ونابود نہیں کرتا یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ اس امت کو اللہ نے طویل مہلت دے دی ہے لیکن افسوس کہ اہل قریش نے اس کو غنیمت نہ جانا اور اس پر خدا کا شکرادا نہ کیا ۔ الٹا اپنے مقرر انجام کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے رہے ، دعا کرتے رہے کہ اے اللہ ' تم میں سے جس کا انجام برا ہے جلدی وہ اس تک پہنچ جائے ۔ اور یوم الحساب سے بھی پہلے اسی دنیا میں یہ عذاب آجائے۔

ص 38:16

آیت نمبر 16 بس یہاں آکر قرآن مجید ان کے بارے میں بات ختم کردیتا ہے اور روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ ان کی حماقتوں کی پروانہ کریں۔ یہ عذاب کا مطالبہ کرکے اللہ کے جناب میں سوء ادب کا ارتکاب کررہے ہیں۔ دراصل یہ قیامت کے قیام پر یقین ہی نہیں رکھتے ۔ اللہ کی رحمت پر ناشکری کرتے ہیں۔ آپ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ انبیائے سابقہ کے حالات پڑھیں کہ ان پر کیا کیا آزمائشیں آئیں۔ اور اسکے بعد اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوئیں۔

ص 38:17

درس نمبر 212 تشریح آیات یہ پورا سبق قصص اور رسولوں کی زندگیوں کی اعلیٰ مثالوں پر مشتمل ہے۔ یہ مثالیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس لیے پیش کی جارہی ہیں کہ آپ ذرا رسل سابقین کی زندگیوں پر غور کریں اور فریش کو تکذیب کررہے تھے۔ الزام تراشیاں کرتے تھے ' الزام لگاتے تھے اور آپ کی رسالت کو انوکھا سمجھتے تھے ، اس پر صبر کریں اور ان مشکلات کو برداشت کریں جن کی وجہ سے انسان کا جی بھر آتا ہے۔ یہ تمام قصص ، حضور اکرم ﷺ کو تسلی کے لیے رسولوں پر اللہ کی رحمتوں اور مہربانیوں کے واقعات پیش کرتے ہیں۔ اس طرح کہ ان رسولوں پر اللہ نے کیا کیا کرم نوازیاں کیں ، بعض رسولوں کو اللہ نے حکومتیں اور بڑی بڑی سلطنتیں عطا کیں۔ اور ان پر بڑے بڑے انعامات کیے۔ یہ واقعات اس لیے بیان کیے کہ اہل قریش کو اس بات پر تعجب ہورہا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو منصب رسالت کیوں عطا کردیا گیا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کوئی پہلے رسول نہ تھے۔ رسولوں کو تو بڑی بڑی مملکتیں عطا ہوئی ہیں۔ بعض کے لیے تو پہاڑ بھی مسخر کردیئے گئے اور پرندے ان کے ساتھ مل کر تسبیح پڑھتے تھے۔ بعض کے لئے ہوائیں مسخر تھیں اور جن اور شیطان بھی ان کے تابع تھے مثلاً داؤد وسلیمان علیہما السلام۔ آخر یہ کوئی تعجب کی بات ہے کہ محمد ابن عبداللہ کو آخر الزمان کے منصب کے لیے منتخب کردیا گیا۔ ان قصص میں یہ بھی ثابت ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کی نگرانی ہر وقت کرتا رہتا ہے۔ ان کی زندگی کے ہر موڑ پر ہر وقت ہدایات دی جاتی ہیں ' ان کو تجربات کرائے جاتے ہیں۔ وہ بھی بشر تھے جس طرح حضرت محمد ﷺ بشر ہیں۔ ان رسولوں میں بشری کمزوریاں بھی تھیں۔ چناچہ اللہ ہر وقت نگرانی کرکے ان کو بزری کمزوریوں سے بچاتا تھا۔ اللہ ہر وقت ان کو صحیح موقف بتاتا ہے۔ ان کی راہنمائی کرتا ہے اور ان کو آزماتا ہے تاکہ ان کی لغزشوں پر مغفرت کردے۔ یہ باتیں بتانے سے حضور اکرم ﷺ کے دل کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپ اپنے رب کی نگرانی میں کام کررہے ہیں اور قدم قدم پر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی نگرانی اور حمایت کررہا ہے۔ آیت نمبر 17 تا 20 اصبرصبر کرو یہ تمام رسولوں کی زندگی کا اہم خاصہ ہے۔ وہ خاصہ جس کے کی بناء پر یہ سب لوگ ایک ہی گروہ قرار پاتے ہیں۔ سب اسی راہ پر چلے ، سب نے تکالیف برداشت کیں ۔ سب پر آزمائشیں آئیں اور سب نے ان پر صبر کیا۔ صبر سب کا زادہ تھا۔ انبیائی سلسلہ کے اندر سب نے درجہ بدرجہ مشکلات برداشت کیں۔ ان کی زندگی تجربہ تھی اور تجربہ مشقوں اور ابتلاؤں سے بھرا ہوا تھا۔ مصائب پر وہ صبر کرتے تھے اور ان کے لئے آزمائش تھی اور پھر اللہ کے فضل و کرم پر بھی وہ صبر کرتے تھے اور یہ بھی ابتلا تھی۔ دونوں حالات میں صبر حالات میں صبر ضروری ہوتا ہے اور انہوں نے صبر کیا۔ جس طرح قرآن نے رسولوں کی زندگی کی حکایات بیان کی ہیں اگر ہم ان سب کو پیش نظر رکھیں تو ان کی زندگی کی بنیاد اور ان کی زندگی کا اہم فیچر ہی صبر ہے۔ ان کی پوری زندگی عبارت ہے آزمائشوں ' مشقوں اور جدوجہد اور صبرو مصابرت سے۔ انبیاء کی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آزمائشوں پر مشتمل ایک برگزیدہ زندگی ہے۔ فی الواقع یہ ایک پر مشقت زندگی ہے۔ یہ ایک کھلی کتاب ہے ' جس کے اندر صرف ابتلاؤں اور صبر کے نغمے لکھے ہوئے ہیں۔ اور انسانیت کے لئے نچور نمونہ پیش کیے گئے ہیں تاکہ تاریخ کے اندر اس بات کو ریکارڈ کردیا جائے کہ روح انسان کس طرح مصائب اور زندگی کی ضروریات اور سہولیات کی خواہش پر غالب ہوجاتی ہے۔ اور انسانی روح کس طرح ان تمام اقدار سے برتر ہوجاتی ہیں جن پر دنیا فخر کرتی ہے اور کس طرح انسانی روح دنیا کی دھوکہ دینے والی چیزوں اور نفس کو مرغوب چیزوں سے لاتعلق ہوجاتی ہے۔ صرف اللہ کے لیے ہوجاتی ہے اور یوں آزمائشوں میں فلاح پالیتی ہے۔ وہ اللہ کو تمام ماسوا اللہ پر ترجیح دے دیتی ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر ہی پھر وہ انسانیت کو چیلنج کرکے کہہ سکتی ہے کہ یہ ہے طریق زندگی ۔ یہ ہے سربلندی کی راہ۔ اور یہ ہے وہ راہ جو نہایت ہی بلندیوں پر اللہ کی طرف جاتی ہے۔ اصبر علیٰ مایقولون (38: 17) ” یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان پر صبر کرو “۔ اور وہ کیا باتیں کرتے تھے ؟ اجعل الاٰلھة الٰھا واحدا (38: 5) ” کیا اس نے تمام الہوں کی جگہ ایک خدا ٹھہرایا ہے “۔ اور وہ یہ کہتے تھے۔ ء انزل علیه الذکر (38: 8) ” کیا خدا کے کلام کے لیے ہمارے درمیان میں سے صرف اسی کا انتخاب ہونا تھا “ وغیرہ۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو متوجہ فرماتا ہے کہ بس آپ صبر کرتے چلے جائیں۔ اور نبی ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان کفار کے ماڈلوں کے مقابلے میں کچھ دوسرے ماڈلوں میں زندہ رہیں۔ پر خلوص اور شریف النفس ماڈلوں کے ساتھ۔ یہ ماڈل آپ کے بھائی انبیائے سابقہ کے ماڈل ہیں۔ آپ کے سامنے ان کے نمونے پیش کئے جاتے ہیں تاکہ آپ ان کے ساتھ قریبی تعلق کا احساس کریں کہ یہ آپ کے بھائی ، آپ کے نسبی اور رشتہ دار۔ چناچہ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ اللہ میرے فلاں بھائی پر رحم کرے۔۔۔ اور میں اس نبی کا زیادہ قریبی ہوں۔ اصبرعلیٰ ۔۔۔۔ اواب (38: 17) ” اے نبی صبر کرو ، ان باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں اور ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو ، جو بڑی قوتوں کا مالک تھا اور ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا “۔ داؤد (علیہ السلام) کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نہایت قوتوں والے تھے لیکن ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ اس قوم نوح ، قوم عاد اور فرعون ، قوم ثمود ، قوم لوط اور اصحاب ایکہ کا ذکر ہوا تھا۔ یہ سب اقوام نہایت ہی سرکش تھیں۔ وہ اپنی قوت کا اظہار یوں کیا کرتی تھیں کہ وہ لوگوں پر ظلم کرتی تھیں ' زیادتی کرتی تھیں اور حق کی تکذیب کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں داؤد (علیہ السلام) بھی بڑی قوتوں والے تھے ۔ لیکن وہ اواب تھے۔ ہر معاملے میں اللہ کیطرف رجوع کرتے تھے۔ اللہ کے مطیع ' عبادت گزار اور اسے یاد کرنے والے۔ حالانکہ وہ قوتوں والے اور مقتدر اعلیٰ تھے۔ حضرت داؤد کے قصے کا ابتدائی حصہ اور طالوت کے لشکر میں انکی نمایاں کارکردگی بیان ہوچکی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعد بنی اسرائیل کا یہ لشکر طالوت کی قیادت میں اٹھا تھا۔ اس روز میں بنی اسرائیل زوال پذیر تھے اور انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہمارے لیے اللہ کیطرف سے بادشاہ اور قائد ریاست مقرر ہو ۔ یہ لشکر بنی اسرائیل کے جبار دشمن جالوت سے ٹکرایا۔ داؤد نے جالوت کو قتل کردیا۔ اس دور میں حضرت داؤد نوجوان تھے۔ یوں انکا ستارہ چمکا اور بالاخر وہ بادشاہ بن گئے ۔ لیکن ان کا رویہ یہ تھا کہ وہ ہر معاملے میں اللہ کیطرف رجوع کرنے والے تھے۔ اطاعت شعار اور عبادت گزار تھے اور ہر وقت ذکر و استغفار میں لگے رہتے تھے۔ اس اقتدار وسلطنت کے ساتھ اللہ نے ان کو نبوت بھی عطا کی اور نہایت ہی خوبصورت آواز ان کو دی گئی تھی۔ یہ نہایت ہی خوش الحانی کے ساتھ اللہ کی ثنا کرتے تھے ۔ یہ ذکر میں اس قدر مستغرق تھے اور حمد وثنا کو اس قدر ترسیل سے پڑھتے تھے کہ ان کے اور اس کائنات کے درمیان کے تمام پردے اٹھ گئے تھے۔ یوں ان کے ساتھ پرندے ، اور پہاڑ بھی ثنا پڑھتے تھے اور اللہ کی تعریف وتمجید کرتے تھے ۔ پہاڑ ان کے ساتھ گنگناتے تھے اور پرندے ان کے اردگرد پھڑ پھڑاتے تھے۔ اور سب کے سب مولائے کریم کے ثنا خواں تھے۔

ص 38:18

انا سخرنا۔۔۔۔ له اواب (38: 18 تا 19) ” ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ متحرک رکھا تھا کہ صبح وشام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ پرندے سمٹ آتے سب کے سب اس کی تسبیح کی طرف متوجہ ہوجاتے “۔ عام لوگ اگر اس آیت کو پڑھیں تو حیران رہ جائیں گے کہ جامد پہاڑ کس طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور یہ تسبیح وہ صبح و شام کرتے تھے ، خصوصاً جب وہ اپنے رب کی یاد کے لیے تخلیہ میں جاتے تھے۔ وہاں وہ اللہ کی حمد گاتے تھے۔ نہایت ہی خوش الحانی کے ساتھ ۔ اور اللہ کی تعریف وتمجید کرتے تھے۔ پرندے ان کے نغمات کو سن کر جمع ہوتے تھے ۔ اور وہ بھی ان کو دہراتے تھے۔ فی الواقع لوگوں کے لیے یہ بات حیران کن ہوگی۔ کیونکہ عادی امور اور عادی روش اس کے خلاف ہے۔ لوگ جب نشین ہوتے ہیں تو وہ ایسی باتیں محسوس نہیں کرتے۔ انسانوں اور پرندوں کے اجناس میں اور جامد پہاڑوں کے درمیان یہ یگانگت کیسے وجود میں آگئی۔ لیکن اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی تعجب خیز دعویٰ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام مخلوقات کی حقیقت اور ماہیت ایک ہے۔ اگرچہ شکل و صورت اور جنس ونوع میں وہ باہم مختلف ہیں۔ یہ سب چیزیں اپنے خالق کے حوالے سے ایک ہیں۔ اور ایک کلی وجود کا حصہ ہیں۔ زندہ وجود ہو یا غیر زندہ چیزیں ہوں۔ جب ایک انسان اپنے رب کے لیے خالص ہوجاتا ہے اور اسے صفائے باطن اور اشراق کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے تو جنس ونوع کے یہ تمام پردے اٹھ جاتے ہیں اور یہ تمام چیزیں اپنی اصل حقیقت کے ساتھ سامنے آجاتی ہیں۔ یہ سب مخلوق ان ظاہری پردوں کی پشت سے ایک ہوجاتی ہیں ۔ مختلف اجناس ، اصناف ، شکلیں اور صورتیں ، ظاہری رنگ اور خصوصیات تو دراصل پردے ہیں۔ حقیقت ان کے پیچھے ہے۔

ص 38:19

انا سخرنا۔۔۔۔ له اواب (38: 18 تا 19) ” ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ متحرک رکھا تھا کہ صبح وشام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ پرندے سمٹ آتے سب کے سب اس کی تسبیح کی طرف متوجہ ہوجاتے “۔ عام لوگ اگر اس آیت کو پڑھیں تو حیران رہ جائیں گے کہ جامد پہاڑ کس طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور یہ تسبیح وہ صبح و شام کرتے تھے ، خصوصاً جب وہ اپنے رب کی یاد کے لیے تخلیہ میں جاتے تھے۔ وہاں وہ اللہ کی حمد گاتے تھے۔ نہایت ہی خوش الحانی کے ساتھ ۔ اور اللہ کی تعریف وتمجید کرتے تھے۔ پرندے ان کے نغمات کو سن کر جمع ہوتے تھے ۔ اور وہ بھی ان کو دہراتے تھے۔ فی الواقع لوگوں کے لیے یہ بات حیران کن ہوگی۔ کیونکہ عادی امور اور عادی روش اس کے خلاف ہے۔ لوگ جب نشین ہوتے ہیں تو وہ ایسی باتیں محسوس نہیں کرتے۔ انسانوں اور پرندوں کے اجناس میں اور جامد پہاڑوں کے درمیان یہ یگانگت کیسے وجود میں آگئی۔ لیکن اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی تعجب خیز دعویٰ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام مخلوقات کی حقیقت اور ماہیت ایک ہے۔ اگرچہ شکل و صورت اور جنس ونوع میں وہ باہم مختلف ہیں۔ یہ سب چیزیں اپنے خالق کے حوالے سے ایک ہیں۔ اور ایک کلی وجود کا حصہ ہیں۔ زندہ وجود ہو یا غیر زندہ چیزیں ہوں۔ جب ایک انسان اپنے رب کے لیے خالص ہوجاتا ہے اور اسے صفائے باطن اور اشراق کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے تو جنس ونوع کے یہ تمام پردے اٹھ جاتے ہیں اور یہ تمام چیزیں اپنی اصل حقیقت کے ساتھ سامنے آجاتی ہیں۔ یہ سب مخلوق ان ظاہری پردوں کی پشت سے ایک ہوجاتی ہیں ۔ مختلف اجناس ، اصناف ، شکلیں اور صورتیں ، ظاہری رنگ اور خصوصیات تو دراصل پردے ہیں۔ حقیقت ان کے پیچھے ہے۔

ص 38:20

وشددناملکه واتینه الحکمة وفصل الخطاب (38: 20) ” ہم نے اس کی حکومت مضبوط کردی تھی اور اس کو حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی “۔ چناچہ آپ کی حکومت بہت ہی مضبوط تھی۔ آپ کی حکومت کی پالیسی حکمت دانش مندی اور ٹھوس فکر پر مبنی تھی۔ اور اس کے فیصلے دو ٹوک ہوتے تھے۔ آپ کے اندر بےپناہ قوت فیصلہ تھی۔ کسی حکومت میں جب قوت اور حکمت جمع ہوجائے تو وہ کمال کی انتہاؤں کو چھولیتی ہے۔ لیکن ان کمالات کے باوجود حضرت داؤد پر بھی اللہ کی طرف امتحان آئے۔ ان کو بھی آزمایا گیا ۔ ان آزمائشوں میں بھی وہ اللہ کی نگرانی میں رہے ، کیونکہ وہ پیغمبر تھے اور اللہ اپنے پیغمبروں کو غلطی سے بچاتا ہے۔ ان کی کمزوریوں کے مقامات پر دست گیری کرتا ہے۔ اور اس راہ کی مشکلات سے انہیں بچاتا ہے۔ احتیاط کے طریقے سکھاتا ہے۔

ص 38:21

آیت نمبر 21 تا 24 اس واقعہ کی تشریح یہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے وقت کا ایک حصہ امور مملکت کو دیتے تھے ، لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے۔ کچھ وقت وہ خلوت تنہائی ، عبادت اور حمد و ثنا اور حمد الہٰی کے ترانے پڑھنے کے لیے دیتے تھے۔ جب آپ محراب میں خلوت گزیں ہوتے تو کسی کو اندر آنے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔ جب تک کہ آپ خود باہر نہ آجائیں۔ ایک دن یوں ہوا کہ دو افراد دیوار پھلانگ کر اس خلوت گاہ میں گھس آئے۔ آپ ان کے اس طرح گھس آنے سے گھبراگئے۔ کیونکہ کوئی اہل ایمان یا کوئی ذمہ دار شخص یوں ان کی خلوت گاہ میں نہ آسکتا تھا۔ چناچہ ان دو افراد نے بھی آپ کے خوف کو محسوس کیا اور جلدی سے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔

ص 38:22

قالو۔۔۔ بعض (38: 22) ” انہوں نے کہا ڈریئے نہیں ، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے “۔ چناچہ ہم فیصلے کے لیے آئے ہیں۔ فاحکم بیننا۔۔۔۔ الصراط (38: 22) ” آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیجئے بےانصافی نہ کیجئے اور ہمیں راہ راست بتایئے “۔ اس کے بعد ایک نے بیان دعویٰ شروع کردیا۔

ص 38:23

ان ھذا۔۔۔۔۔ الخطاب (38: 23) ” یہ میرا بھائی ہے ، اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ اس نے مجھ سے کہا ہے کہ یہ ایک دنبی میرے حوالے کردے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبالیا “۔ اکفلنی کے معنی ہیں مجھے دے دے ، میری ملکیت میں دے دے اور میری کفالت میں دے دے اور عزنی کے معنی ہیں مجھ میں غالب ہوگیا۔ جہاں تک مقدمے کا تعلق ہے خود بیان دعویٰ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ظالمانہ فعل ہے جس کی کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی ۔ چناچہ حضرت داؤد نے بھی جواب دعویٰ سننے سے پہلے ہی فیصلہ کرنا شروع کردیا ۔ کیونکہ بادی النظر میں اس بھائی کا فعل ظالمانہ تھا۔ اس لیے حضرت داؤد نے دوسرے فریق سے بات ہی نہ کی ۔ نہ جواب دعویٰ سنا نہ اس سے کوئی عذر طلب کیا ۔ بس دعویٰ سن کر ہی فیصلہ کردیا ۔

ص 38:24

قال لقد۔۔۔ ماھم (38: 24) ” داؤد نے جواب دیا اس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملالینے کا مطالبہ کرکے یقیناً تجھ پر ظلم کیا اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر رہنے والے اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں۔ بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے ہوں اور عمل صالح کرتے ہیں اور ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں “۔ خلطاء سے مراد قربا جو اکٹھے ہوتے رہتے ہیں۔ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اشخاص اس مرحلے پر غائب ہوگئے کیونکہ یہ فرشتے تھے اور امتحان لینے آئے تھے یعنی اس نبی کا امتحان مطلوب تھا جسے اللہ نے عوام الناس کا حاکم اور سربراہ اور جج بنایا تھا۔ اور حکم دیا تھا کہ لوگوں کے درمیان عدل کے مطابق فیصلہ کریں۔ اور فیصلہ سنانے سے قبل مقدمات کی اچھی طرح تفتیش کریں۔ امتحان اس طرح زیادہ شدید ہوجاتا ہے جب ان کے سامنے ایک ایسا مقدمہ پیش کیا جاتا ہے تو بادی النظر میں صریح ظلم نظر آتا ہے لیکن ایک جج کا یہ رویہ ہوتا ہے کہ وہ کسی فریق کی بات سے متاثر نہ ہو وہ جلدی میں فیصلہ نہ کرے ۔ محض ظاہری باتوں یا حالات پر فیصلہ نہ کرے۔ بیان دعویٰ کے مقابلے میں جواب دعویٰ طلب کرے ۔ کیونکہ بعض اوقات جواب دعویٰ سننے سے دعویٰ کی حیثیت ہی بدل جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ بیان دعویٰ اگر ظاہراً درست ہے مگر درحقیقت مسئلہ کی نوعیت دوسری ہے ۔ یا یہ کہ مدعی بعض باتیں چھپا رہا ہے اور دھوکہ دے رہا ہے۔ اس مقام پر داؤد (علیہ السلام) کو یہ خیال آیا کہ یہ معاملہ کوئی حقیقی مقدمہ نہ تھا بلکہ پرچہ امتحان تھا۔ وظن داود انما فتنه (38: 24) ” اب داؤد کو یقین ہوگیا کہ ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے “۔ یہاں اب ان کا اصل مزاج سامنے آتا ہے۔ وہ تو ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ فاستغفر ۔۔۔۔ اناب (38: 24) ” السجدۃ “” چناچہ اسنے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کرلیا “۔

ص 38:25

آیت نمبر 25 بعض تفاسیر نے اس آیت کے تحت اسرائیل سے ربط وبابس جمع کیا ہے اور حضرت داؤد کی آزمائش کے معاملے میں بہت دور چلے گئے ہیں۔ انہوں نے ایسی باتیں بھی نقل کی ہیں جو نبوت کے شایان شان ہی نہیں ہیں۔ بلکہ وہ مطلقاً منصب بنوت کے ساتھ یکجا نہیں ہوسکتیں ۔ بعض روایات نے اگرچہ بعض انسانوں کی تاویل کرکے ان کی قباحت کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انہوں نے بھی بعض افسانوی پہلو اپنے اندر سمیٹ لیے ہیں ۔ لہٰذا یہ روایات اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ان کو نقل کیا جائے اور ان پر نظر ڈالی جائے۔ کیونکہ یہ روایات قرآن کریم کے اس تبصرے کے بالکل خلاف ہیں۔ وان ۔۔۔ ماٰب (38: 25) ” یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے “۔

ص 38:26

اس قصے پر جو تبصرہ آیا ہے ، وہ صاف صاف بتاتا ہے کہ حضرت داؤد کی آزمائش کی نوعیت کیا تھی۔ اللہ نے حضرت داؤد کو حکومت دی تھی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلے کریں ، اس لیے متعین ہوگیا کہ اس آزمائش و امتحان کا تعلق جو ڈیشل پر وسیڈنگز سے تھا۔ چناچہ کہا گیا : آیت نمبر 26 حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ کہا گیا کہ آپ کو زمین کا اقتدار اعلیٰ دیا گیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان حق پر مبنی فیصلے کریں اور ان فیصلوں میں اپنی ذاتی چاہت کا خیال نہ رکھیں ۔ جہاں تک نبی کا تعلق ہے وہ تو خواہشات نفس کی پیروی سے محفوظ ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ ابتدائی میلان پر ہی فیصلہ نہ کردیا کریں۔ یہ نہ ہو کہ بغیر سوچے سمجھے اور بغیر تحقیقات کیے ہی فیصلہ نہ کردیا کریں۔ کیونکہ اس طرح جلدی میں بغیر تحقیق کے فیصلے غلط ہوتے ہیں۔ آیت کے آخر میں حکم عام ہے۔ ان تمام لوگوں کیلیے جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوتے ہیں۔ جو اللہ کو بھول جاتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قیامت کے دن شدید عذاب سے دوچار ہوں گے۔ خلافت ارضی میں سچائی پر چلنے کے اصول کے طے ہونے کے بعد اور لوگوں کے درمیان سچائی اور حق پر مبنی فیصلے کے احکام کے بعد اور قصہ داؤد (علیہ السلام) کے ختم ہونے سے پہلے اس سچائی کو اس عالم گیر سچائی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے جس کے اوپر زمین و آسمان قائم ہیں اور آسمان اور زمینوں کے درمیان پوری کائنات قائم ہے۔ یہ سچائی اس کائنات کے اندر بہت گہری ہے اور صرف خلاف فی الارض کی سچائی اور لوگوں کے درمیان عدل کی سچائی سے بہت عام ہے۔ یہ سچائی اس زمین سے بھی وسیع تر ہے جبکہ یہ صرف اس دنیا کی زندگی سے بھی آگے عالم آخرت تک پھیلی ہوئی ہے ۔ جس طرح یہ کائنات اس کی لپیٹ میں ہے اسی طرح عالم آخرت بھی اس کی لپیٹ میں ہے ۔ اس عالم گیر سچائی پر یہ آخری رسالت مبنی ہے اور اللہ کی یہ آخری کتاب اسی ہمہ گیر اور والم گیر سچائی کی مظہر اور مفسر ہے۔

ص 38:27

آیت نمبر 27 تا 29 یہ ہے اصل بات ، ان تین آیات میں وہ عظیم حقیقت بیان کردی گئی ہے ، جس کی قرآن میں بہت اہمیت ہے۔ یہ نہایت ہی گہری ، عمومی اور عظیم الشان حقیقت ہے۔ اس کی جڑیں اور شاخیں اس پوری کائنات کے اندر گہری ہیں اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق کوئی کھیل تماشا نہیں ہے۔ یہ باطل نہ تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ بلکہ یہ حق ہے۔ یہ کائنات حقائق پر قائم ہے۔ اس ہمہ گیر سچائی سے تمام سچائیاں پھولتی ہیں اور یہ سچائی دراصل اس کائنات اور پھر اس زمین کی حقیقت وماہیت ہے۔ اس دنیا پر انسان کی حکمرانی میں سچائی ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے قیام میں سچائی ، لوگوں کے شعور کی سچائی اور ان کے اعمال میں سچائی کا قیام اس عظیم حق اور سچائی کی شاخیں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور شعور کی سچائی رکھتے ہیں اور جو لوگ نیک عمل کرتے ہیں اور ان کا طرز عمل درست ہے وہ مفسدین کی طرح نہیں ہوسکتے ۔ لہذا اس کرۂارض پر وزن اور فساق وفجار کا وزن برابر نہیں ہوسکتا ۔ جس عظیم سچائی کو یہ کتاب لے کر آئی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور ان میں سے جو عقلمند ہیں وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ وہ عظیم سچائی ہے۔ اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس عظیم حقیقت کا وافر حصہ پالیں اور اس پر تدبر کریں۔ کافر درحقیقت اس عظیم سچائی کا تصور بھی نہیں رکھتے ۔ کیونکہ ان کی فطرت ، ان کا شعور اس عظیم سچائی سے محروم ہے جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اور جس کا حامل قرآن ہے۔ کافر تو رب تعالیٰ کے بارے سوئے ظن رکھتے ہیں۔ اور وہ اس عظیم سچائی کے ادراک سے محروم ہوتے ہیں۔ ذٰلک ظن۔۔۔۔۔ من لنار (38: 27) ” یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے ، جہنم کی آگ سے “۔ اسلامی شریعت دراصل اللہ کے اس عظیم حق کی تشریح کررہی ہے۔ جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں حکام اور خلفاء سے جس سچائی اور عدل کا مطالبہ فرمایا ہے وہ اس کلی حق اور سچائی کا ایک حصہ ہے۔ اس حق کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح وہ کائنات میں قائم ہے اسی طرح انسانوں کے نظام اور معاشرے میں بھی قائم ہوتا کہ یہ عظیم سچائی ادھوری نہ ہو۔ اس کے تمام اطراف قائم ہوجائیں ۔ اس لیے جو لوگ شریعت سے انحراف کرتے ہیں ، عدالت سے انحراف کرتے ہیں۔ وہ دراصل اس سچائی سے انحراف کرتے ہیں جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اس طرح وہ اس کائنات میں ایک عظیم شروفساد پیدا کردیتے ہیں۔ یوں کائناتی قوتوں کے درمیان تصادم پیدا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں ان کائناتی قوتوں کے درمیان بھی تصادم کا خطرہ ہوتا ہے اور انسانی قوتوں کے درمیان بھی۔ یوں کائنات اور انسانی معاشرے دونوں میں ٹوٹ پھوٹ کا خطرہوتا ہے۔ کیونکہ ایک ظالم ، باغی اور ناموس الہٰی اور شریعت الہہ سے متصادم ہونے والا شخص سالم اور صراط مستقیم پر قائم نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ ضعیف اور ناتواں انسان اگر بغاوت بھی کرے تو اللہ کی عظیم قوتوں کا وہ کیا بگاڑ سکتا ہے۔ وہ اگر کوئی فساد برپا کرے گا اور نقصان کرے گا تو اپنا کرے گا۔ اللہ کی جبار وقہار قوتوں کے مقابلے میں تو وہ بےبس ہوجائے گا۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کے اوپر تمام اہل دانش کو غور کرنا چاہئے اور اصحاب دانش اور عقل کو چاہئے کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس قصے کے درمیان یہ سبق آموز واقعہ بیان ہوا اور اس پر تبصرہ ہوا تاکہ اس اہم بات کی وضاحت کردی جائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اللہ کے مزید انعامات گنائے جاتے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی اولاد میں حضرت سلیمان جیسے باکمال شخص پیدا کیے جن پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہوا۔ بلکہ کئی قسم کی کرم نوازیاں ہوئیں۔ حضرت سلیمان کی آزمائش ، ان پر اللہ کے کرم کے واقعات کے بعد اللہ کی رحمتوں کی بارش کے واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔

ص 38:28

آیت نمبر 27 تا 29 یہ ہے اصل بات ، ان تین آیات میں وہ عظیم حقیقت بیان کردی گئی ہے ، جس کی قرآن میں بہت اہمیت ہے۔ یہ نہایت ہی گہری ، عمومی اور عظیم الشان حقیقت ہے۔ اس کی جڑیں اور شاخیں اس پوری کائنات کے اندر گہری ہیں اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق کوئی کھیل تماشا نہیں ہے۔ یہ باطل نہ تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ بلکہ یہ حق ہے۔ یہ کائنات حقائق پر قائم ہے۔ اس ہمہ گیر سچائی سے تمام سچائیاں پھولتی ہیں اور یہ سچائی دراصل اس کائنات اور پھر اس زمین کی حقیقت وماہیت ہے۔ اس دنیا پر انسان کی حکمرانی میں سچائی ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے قیام میں سچائی ، لوگوں کے شعور کی سچائی اور ان کے اعمال میں سچائی کا قیام اس عظیم حق اور سچائی کی شاخیں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور شعور کی سچائی رکھتے ہیں اور جو لوگ نیک عمل کرتے ہیں اور ان کا طرز عمل درست ہے وہ مفسدین کی طرح نہیں ہوسکتے ۔ لہذا اس کرۂارض پر وزن اور فساق وفجار کا وزن برابر نہیں ہوسکتا ۔ جس عظیم سچائی کو یہ کتاب لے کر آئی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور ان میں سے جو عقلمند ہیں وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ وہ عظیم سچائی ہے۔ اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس عظیم حقیقت کا وافر حصہ پالیں اور اس پر تدبر کریں۔ کافر درحقیقت اس عظیم سچائی کا تصور بھی نہیں رکھتے ۔ کیونکہ ان کی فطرت ، ان کا شعور اس عظیم سچائی سے محروم ہے جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اور جس کا حامل قرآن ہے۔ کافر تو رب تعالیٰ کے بارے سوئے ظن رکھتے ہیں۔ اور وہ اس عظیم سچائی کے ادراک سے محروم ہوتے ہیں۔ ذٰلک ظن۔۔۔۔۔ من لنار (38: 27) ” یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے ، جہنم کی آگ سے “۔ اسلامی شریعت دراصل اللہ کے اس عظیم حق کی تشریح کررہی ہے۔ جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں حکام اور خلفاء سے جس سچائی اور عدل کا مطالبہ فرمایا ہے وہ اس کلی حق اور سچائی کا ایک حصہ ہے۔ اس حق کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح وہ کائنات میں قائم ہے اسی طرح انسانوں کے نظام اور معاشرے میں بھی قائم ہوتا کہ یہ عظیم سچائی ادھوری نہ ہو۔ اس کے تمام اطراف قائم ہوجائیں ۔ اس لیے جو لوگ شریعت سے انحراف کرتے ہیں ، عدالت سے انحراف کرتے ہیں۔ وہ دراصل اس سچائی سے انحراف کرتے ہیں جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اس طرح وہ اس کائنات میں ایک عظیم شروفساد پیدا کردیتے ہیں۔ یوں کائناتی قوتوں کے درمیان تصادم پیدا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں ان کائناتی قوتوں کے درمیان بھی تصادم کا خطرہ ہوتا ہے اور انسانی قوتوں کے درمیان بھی۔ یوں کائنات اور انسانی معاشرے دونوں میں ٹوٹ پھوٹ کا خطرہوتا ہے۔ کیونکہ ایک ظالم ، باغی اور ناموس الہٰی اور شریعت الہہ سے متصادم ہونے والا شخص سالم اور صراط مستقیم پر قائم نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ ضعیف اور ناتواں انسان اگر بغاوت بھی کرے تو اللہ کی عظیم قوتوں کا وہ کیا بگاڑ سکتا ہے۔ وہ اگر کوئی فساد برپا کرے گا اور نقصان کرے گا تو اپنا کرے گا۔ اللہ کی جبار وقہار قوتوں کے مقابلے میں تو وہ بےبس ہوجائے گا۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کے اوپر تمام اہل دانش کو غور کرنا چاہئے اور اصحاب دانش اور عقل کو چاہئے کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس قصے کے درمیان یہ سبق آموز واقعہ بیان ہوا اور اس پر تبصرہ ہوا تاکہ اس اہم بات کی وضاحت کردی جائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اللہ کے مزید انعامات گنائے جاتے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی اولاد میں حضرت سلیمان جیسے باکمال شخص پیدا کیے جن پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہوا۔ بلکہ کئی قسم کی کرم نوازیاں ہوئیں۔ حضرت سلیمان کی آزمائش ، ان پر اللہ کے کرم کے واقعات کے بعد اللہ کی رحمتوں کی بارش کے واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔

ص 38:29

آیت نمبر 27 تا 29 یہ ہے اصل بات ، ان تین آیات میں وہ عظیم حقیقت بیان کردی گئی ہے ، جس کی قرآن میں بہت اہمیت ہے۔ یہ نہایت ہی گہری ، عمومی اور عظیم الشان حقیقت ہے۔ اس کی جڑیں اور شاخیں اس پوری کائنات کے اندر گہری ہیں اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق کوئی کھیل تماشا نہیں ہے۔ یہ باطل نہ تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ بلکہ یہ حق ہے۔ یہ کائنات حقائق پر قائم ہے۔ اس ہمہ گیر سچائی سے تمام سچائیاں پھولتی ہیں اور یہ سچائی دراصل اس کائنات اور پھر اس زمین کی حقیقت وماہیت ہے۔ اس دنیا پر انسان کی حکمرانی میں سچائی ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے قیام میں سچائی ، لوگوں کے شعور کی سچائی اور ان کے اعمال میں سچائی کا قیام اس عظیم حق اور سچائی کی شاخیں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور شعور کی سچائی رکھتے ہیں اور جو لوگ نیک عمل کرتے ہیں اور ان کا طرز عمل درست ہے وہ مفسدین کی طرح نہیں ہوسکتے ۔ لہذا اس کرۂارض پر وزن اور فساق وفجار کا وزن برابر نہیں ہوسکتا ۔ جس عظیم سچائی کو یہ کتاب لے کر آئی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور ان میں سے جو عقلمند ہیں وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ وہ عظیم سچائی ہے۔ اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس عظیم حقیقت کا وافر حصہ پالیں اور اس پر تدبر کریں۔ کافر درحقیقت اس عظیم سچائی کا تصور بھی نہیں رکھتے ۔ کیونکہ ان کی فطرت ، ان کا شعور اس عظیم سچائی سے محروم ہے جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اور جس کا حامل قرآن ہے۔ کافر تو رب تعالیٰ کے بارے سوئے ظن رکھتے ہیں۔ اور وہ اس عظیم سچائی کے ادراک سے محروم ہوتے ہیں۔ ذٰلک ظن۔۔۔۔۔ من لنار (38: 27) ” یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے ، جہنم کی آگ سے “۔ اسلامی شریعت دراصل اللہ کے اس عظیم حق کی تشریح کررہی ہے۔ جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں حکام اور خلفاء سے جس سچائی اور عدل کا مطالبہ فرمایا ہے وہ اس کلی حق اور سچائی کا ایک حصہ ہے۔ اس حق کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح وہ کائنات میں قائم ہے اسی طرح انسانوں کے نظام اور معاشرے میں بھی قائم ہوتا کہ یہ عظیم سچائی ادھوری نہ ہو۔ اس کے تمام اطراف قائم ہوجائیں ۔ اس لیے جو لوگ شریعت سے انحراف کرتے ہیں ، عدالت سے انحراف کرتے ہیں۔ وہ دراصل اس سچائی سے انحراف کرتے ہیں جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اس طرح وہ اس کائنات میں ایک عظیم شروفساد پیدا کردیتے ہیں۔ یوں کائناتی قوتوں کے درمیان تصادم پیدا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں ان کائناتی قوتوں کے درمیان بھی تصادم کا خطرہ ہوتا ہے اور انسانی قوتوں کے درمیان بھی۔ یوں کائنات اور انسانی معاشرے دونوں میں ٹوٹ پھوٹ کا خطرہوتا ہے۔ کیونکہ ایک ظالم ، باغی اور ناموس الہٰی اور شریعت الہہ سے متصادم ہونے والا شخص سالم اور صراط مستقیم پر قائم نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ ضعیف اور ناتواں انسان اگر بغاوت بھی کرے تو اللہ کی عظیم قوتوں کا وہ کیا بگاڑ سکتا ہے۔ وہ اگر کوئی فساد برپا کرے گا اور نقصان کرے گا تو اپنا کرے گا۔ اللہ کی جبار وقہار قوتوں کے مقابلے میں تو وہ بےبس ہوجائے گا۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کے اوپر تمام اہل دانش کو غور کرنا چاہئے اور اصحاب دانش اور عقل کو چاہئے کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس قصے کے درمیان یہ سبق آموز واقعہ بیان ہوا اور اس پر تبصرہ ہوا تاکہ اس اہم بات کی وضاحت کردی جائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اللہ کے مزید انعامات گنائے جاتے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی اولاد میں حضرت سلیمان جیسے باکمال شخص پیدا کیے جن پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہوا۔ بلکہ کئی قسم کی کرم نوازیاں ہوئیں۔ حضرت سلیمان کی آزمائش ، ان پر اللہ کے کرم کے واقعات کے بعد اللہ کی رحمتوں کی بارش کے واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔

ص 38:30

آیت نمبر 30 تا 40 یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح حدیث بھی منقول نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جائے۔ ایک صحیح حدیث ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا تعلق ان واقعات کے ساتھ ہے ۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث مرفوعاً نقل کی ہے۔ ” حضرت سلیمان نے کہا میں آج رات اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر ایک سے ایک جوان پیدا ہوگا۔ جو کہاد فی سبیل اللہ کرے گا۔ لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا ۔ وہ ان بیویوں کے پاس گئے ۔ ان میں سے صرف ایک کا حمل ٹھہرا اور جب بچہ پیدا ہوا تو ناتمام تھا۔ خدا کی قسم اگر حضرت سلیمان انشاء اللہ کہتے تو یقیناً یہ سب اللہ کی راہ میں جہاد کرتے “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان آیات میں جس فتنے کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ یہی ہو اور ان کی کرسی پر یہی جسد ناتمام پھینکا گیا ہو۔ لیکن یہ بھی احتمال درجے میں ہے۔ گھوڑوں کا قصہ یہ بیان کیا گیا ہے شام کے وقت ان کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے اور غروب سے قبل وہ جو عبادت کرتے تھے وہ قضا ہوگئی تو حضرت نے کہا ان سب گھوڑوں کو واپس کرو ' چناچہ انہوں نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو تلوار سے کاٹنا شروع کیا۔ کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی نماز قضا ہوئی اور وہ ذکر رب سے غافل ہوگئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ان کے پاؤں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر کر ان کو تھپکی دیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے گھوڑے ہیں۔ دونوں روایتوں پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور اس کے بارے میں کوئی فرضی بات نہیں کرسکتے ۔ لہٰذا کوئی محقق ان دونوں واقعات کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کرسکتا۔ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی آزمایا گیا۔ اور یہ آزمائش امور مملکت کے بارے میں تھی اور اسی نوعیت کی تھی جس طرح تمام انبیاء کو راہ حق دکھانے کے لیے آزمایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس راہ میں ان سے کوئی لغزش سرزدنہ ہوجائے۔ اس آزمائش کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے رب کی طرف انابت اور رجوع کرلیا اور مغفرت طلب کی۔ اور اللہ کی طرف مڑکر دست بدعا ہوئے : قال رب۔۔۔۔ انت الوھاب (38: 35) ” کہا ' اے میرے رب مجھے معاف کر اور مجھے بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو ' بیشک تو ہی اصل داتا ہے “۔ حضرت سلیمان کی مذکورہ بالا دعا کا مطلب جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی خصوصیات چاہتے تھے جو معجزانہ ہو۔ یعنی ان کو حکومتی اقتدار چلانے کے لیے معجزانہ قوتیں دی جائیں اور تمام دوسرے ذی اقتدار لوگوں سے یہ اعجاز مختلف ہو۔ اس کی متعین شکل ہو ، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہ ہو۔ یعنی عوام الناس کے ہاں جس طرح کی حکومتیں متعارف ہیں۔ رب تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول کرنے میں دیر نہیں فرمائی ۔ چناچہ جیسی حکومت انہوں نے چاہی تھی وہ ان کو دے دی ۔ ایسی حکومت جو آئندہ کسی کو نہ دی جائے گی۔

ص 38:31

آیت نمبر 30 تا 40 یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح حدیث بھی منقول نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جائے۔ ایک صحیح حدیث ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا تعلق ان واقعات کے ساتھ ہے ۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث مرفوعاً نقل کی ہے۔ ” حضرت سلیمان نے کہا میں آج رات اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر ایک سے ایک جوان پیدا ہوگا۔ جو کہاد فی سبیل اللہ کرے گا۔ لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا ۔ وہ ان بیویوں کے پاس گئے ۔ ان میں سے صرف ایک کا حمل ٹھہرا اور جب بچہ پیدا ہوا تو ناتمام تھا۔ خدا کی قسم اگر حضرت سلیمان انشاء اللہ کہتے تو یقیناً یہ سب اللہ کی راہ میں جہاد کرتے “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان آیات میں جس فتنے کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ یہی ہو اور ان کی کرسی پر یہی جسد ناتمام پھینکا گیا ہو۔ لیکن یہ بھی احتمال درجے میں ہے۔ گھوڑوں کا قصہ یہ بیان کیا گیا ہے شام کے وقت ان کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے اور غروب سے قبل وہ جو عبادت کرتے تھے وہ قضا ہوگئی تو حضرت نے کہا ان سب گھوڑوں کو واپس کرو ' چناچہ انہوں نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو تلوار سے کاٹنا شروع کیا۔ کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی نماز قضا ہوئی اور وہ ذکر رب سے غافل ہوگئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ان کے پاؤں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر کر ان کو تھپکی دیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے گھوڑے ہیں۔ دونوں روایتوں پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور اس کے بارے میں کوئی فرضی بات نہیں کرسکتے ۔ لہٰذا کوئی محقق ان دونوں واقعات کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کرسکتا۔ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی آزمایا گیا۔ اور یہ آزمائش امور مملکت کے بارے میں تھی اور اسی نوعیت کی تھی جس طرح تمام انبیاء کو راہ حق دکھانے کے لیے آزمایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس راہ میں ان سے کوئی لغزش سرزدنہ ہوجائے۔ اس آزمائش کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے رب کی طرف انابت اور رجوع کرلیا اور مغفرت طلب کی۔ اور اللہ کی طرف مڑکر دست بدعا ہوئے : قال رب۔۔۔۔ انت الوھاب (38: 35) ” کہا ' اے میرے رب مجھے معاف کر اور مجھے بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو ' بیشک تو ہی اصل داتا ہے “۔ حضرت سلیمان کی مذکورہ بالا دعا کا مطلب جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی خصوصیات چاہتے تھے جو معجزانہ ہو۔ یعنی ان کو حکومتی اقتدار چلانے کے لیے معجزانہ قوتیں دی جائیں اور تمام دوسرے ذی اقتدار لوگوں سے یہ اعجاز مختلف ہو۔ اس کی متعین شکل ہو ، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہ ہو۔ یعنی عوام الناس کے ہاں جس طرح کی حکومتیں متعارف ہیں۔ رب تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول کرنے میں دیر نہیں فرمائی ۔ چناچہ جیسی حکومت انہوں نے چاہی تھی وہ ان کو دے دی ۔ ایسی حکومت جو آئندہ کسی کو نہ دی جائے گی۔

ص 38:32

آیت نمبر 30 تا 40 یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح حدیث بھی منقول نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جائے۔ ایک صحیح حدیث ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا تعلق ان واقعات کے ساتھ ہے ۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث مرفوعاً نقل کی ہے۔ ” حضرت سلیمان نے کہا میں آج رات اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر ایک سے ایک جوان پیدا ہوگا۔ جو کہاد فی سبیل اللہ کرے گا۔ لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا ۔ وہ ان بیویوں کے پاس گئے ۔ ان میں سے صرف ایک کا حمل ٹھہرا اور جب بچہ پیدا ہوا تو ناتمام تھا۔ خدا کی قسم اگر حضرت سلیمان انشاء اللہ کہتے تو یقیناً یہ سب اللہ کی راہ میں جہاد کرتے “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان آیات میں جس فتنے کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ یہی ہو اور ان کی کرسی پر یہی جسد ناتمام پھینکا گیا ہو۔ لیکن یہ بھی احتمال درجے میں ہے۔ گھوڑوں کا قصہ یہ بیان کیا گیا ہے شام کے وقت ان کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے اور غروب سے قبل وہ جو عبادت کرتے تھے وہ قضا ہوگئی تو حضرت نے کہا ان سب گھوڑوں کو واپس کرو ' چناچہ انہوں نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو تلوار سے کاٹنا شروع کیا۔ کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی نماز قضا ہوئی اور وہ ذکر رب سے غافل ہوگئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ان کے پاؤں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر کر ان کو تھپکی دیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے گھوڑے ہیں۔ دونوں روایتوں پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور اس کے بارے میں کوئی فرضی بات نہیں کرسکتے ۔ لہٰذا کوئی محقق ان دونوں واقعات کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کرسکتا۔ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی آزمایا گیا۔ اور یہ آزمائش امور مملکت کے بارے میں تھی اور اسی نوعیت کی تھی جس طرح تمام انبیاء کو راہ حق دکھانے کے لیے آزمایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس راہ میں ان سے کوئی لغزش سرزدنہ ہوجائے۔ اس آزمائش کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے رب کی طرف انابت اور رجوع کرلیا اور مغفرت طلب کی۔ اور اللہ کی طرف مڑکر دست بدعا ہوئے : قال رب۔۔۔۔ انت الوھاب (38: 35) ” کہا ' اے میرے رب مجھے معاف کر اور مجھے بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو ' بیشک تو ہی اصل داتا ہے “۔ حضرت سلیمان کی مذکورہ بالا دعا کا مطلب جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی خصوصیات چاہتے تھے جو معجزانہ ہو۔ یعنی ان کو حکومتی اقتدار چلانے کے لیے معجزانہ قوتیں دی جائیں اور تمام دوسرے ذی اقتدار لوگوں سے یہ اعجاز مختلف ہو۔ اس کی متعین شکل ہو ، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہ ہو۔ یعنی عوام الناس کے ہاں جس طرح کی حکومتیں متعارف ہیں۔ رب تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول کرنے میں دیر نہیں فرمائی ۔ چناچہ جیسی حکومت انہوں نے چاہی تھی وہ ان کو دے دی ۔ ایسی حکومت جو آئندہ کسی کو نہ دی جائے گی۔

ص 38:33

آیت نمبر 30 تا 40 یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح حدیث بھی منقول نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جائے۔ ایک صحیح حدیث ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا تعلق ان واقعات کے ساتھ ہے ۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث مرفوعاً نقل کی ہے۔ ” حضرت سلیمان نے کہا میں آج رات اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر ایک سے ایک جوان پیدا ہوگا۔ جو کہاد فی سبیل اللہ کرے گا۔ لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا ۔ وہ ان بیویوں کے پاس گئے ۔ ان میں سے صرف ایک کا حمل ٹھہرا اور جب بچہ پیدا ہوا تو ناتمام تھا۔ خدا کی قسم اگر حضرت سلیمان انشاء اللہ کہتے تو یقیناً یہ سب اللہ کی راہ میں جہاد کرتے “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان آیات میں جس فتنے کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ یہی ہو اور ان کی کرسی پر یہی جسد ناتمام پھینکا گیا ہو۔ لیکن یہ بھی احتمال درجے میں ہے۔ گھوڑوں کا قصہ یہ بیان کیا گیا ہے شام کے وقت ان کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے اور غروب سے قبل وہ جو عبادت کرتے تھے وہ قضا ہوگئی تو حضرت نے کہا ان سب گھوڑوں کو واپس کرو ' چناچہ انہوں نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو تلوار سے کاٹنا شروع کیا۔ کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی نماز قضا ہوئی اور وہ ذکر رب سے غافل ہوگئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ان کے پاؤں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر کر ان کو تھپکی دیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے گھوڑے ہیں۔ دونوں روایتوں پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور اس کے بارے میں کوئی فرضی بات نہیں کرسکتے ۔ لہٰذا کوئی محقق ان دونوں واقعات کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کرسکتا۔ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی آزمایا گیا۔ اور یہ آزمائش امور مملکت کے بارے میں تھی اور اسی نوعیت کی تھی جس طرح تمام انبیاء کو راہ حق دکھانے کے لیے آزمایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس راہ میں ان سے کوئی لغزش سرزدنہ ہوجائے۔ اس آزمائش کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے رب کی طرف انابت اور رجوع کرلیا اور مغفرت طلب کی۔ اور اللہ کی طرف مڑکر دست بدعا ہوئے : قال رب۔۔۔۔ انت الوھاب (38: 35) ” کہا ' اے میرے رب مجھے معاف کر اور مجھے بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو ' بیشک تو ہی اصل داتا ہے “۔ حضرت سلیمان کی مذکورہ بالا دعا کا مطلب جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی خصوصیات چاہتے تھے جو معجزانہ ہو۔ یعنی ان کو حکومتی اقتدار چلانے کے لیے معجزانہ قوتیں دی جائیں اور تمام دوسرے ذی اقتدار لوگوں سے یہ اعجاز مختلف ہو۔ اس کی متعین شکل ہو ، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہ ہو۔ یعنی عوام الناس کے ہاں جس طرح کی حکومتیں متعارف ہیں۔ رب تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول کرنے میں دیر نہیں فرمائی ۔ چناچہ جیسی حکومت انہوں نے چاہی تھی وہ ان کو دے دی ۔ ایسی حکومت جو آئندہ کسی کو نہ دی جائے گی۔

ص 38:34

آیت نمبر 30 تا 40 یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح حدیث بھی منقول نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جائے۔ ایک صحیح حدیث ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا تعلق ان واقعات کے ساتھ ہے ۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث مرفوعاً نقل کی ہے۔ ” حضرت سلیمان نے کہا میں آج رات اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر ایک سے ایک جوان پیدا ہوگا۔ جو کہاد فی سبیل اللہ کرے گا۔ لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا ۔ وہ ان بیویوں کے پاس گئے ۔ ان میں سے صرف ایک کا حمل ٹھہرا اور جب بچہ پیدا ہوا تو ناتمام تھا۔ خدا کی قسم اگر حضرت سلیمان انشاء اللہ کہتے تو یقیناً یہ سب اللہ کی راہ میں جہاد کرتے “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان آیات میں جس فتنے کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ یہی ہو اور ان کی کرسی پر یہی جسد ناتمام پھینکا گیا ہو۔ لیکن یہ بھی احتمال درجے میں ہے۔ گھوڑوں کا قصہ یہ بیان کیا گیا ہے شام کے وقت ان کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے اور غروب سے قبل وہ جو عبادت کرتے تھے وہ قضا ہوگئی تو حضرت نے کہا ان سب گھوڑوں کو واپس کرو ' چناچہ انہوں نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو تلوار سے کاٹنا شروع کیا۔ کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی نماز قضا ہوئی اور وہ ذکر رب سے غافل ہوگئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ان کے پاؤں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر کر ان کو تھپکی دیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے گھوڑے ہیں۔ دونوں روایتوں پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور اس کے بارے میں کوئی فرضی بات نہیں کرسکتے ۔ لہٰذا کوئی محقق ان دونوں واقعات کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کرسکتا۔ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی آزمایا گیا۔ اور یہ آزمائش امور مملکت کے بارے میں تھی اور اسی نوعیت کی تھی جس طرح تمام انبیاء کو راہ حق دکھانے کے لیے آزمایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس راہ میں ان سے کوئی لغزش سرزدنہ ہوجائے۔ اس آزمائش کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے رب کی طرف انابت اور رجوع کرلیا اور مغفرت طلب کی۔ اور اللہ کی طرف مڑکر دست بدعا ہوئے : قال رب۔۔۔۔ انت الوھاب (38: 35) ” کہا ' اے میرے رب مجھے معاف کر اور مجھے بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو ' بیشک تو ہی اصل داتا ہے “۔ حضرت سلیمان کی مذکورہ بالا دعا کا مطلب جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی خصوصیات چاہتے تھے جو معجزانہ ہو۔ یعنی ان کو حکومتی اقتدار چلانے کے لیے معجزانہ قوتیں دی جائیں اور تمام دوسرے ذی اقتدار لوگوں سے یہ اعجاز مختلف ہو۔ اس کی متعین شکل ہو ، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہ ہو۔ یعنی عوام الناس کے ہاں جس طرح کی حکومتیں متعارف ہیں۔ رب تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول کرنے میں دیر نہیں فرمائی ۔ چناچہ جیسی حکومت انہوں نے چاہی تھی وہ ان کو دے دی ۔ ایسی حکومت جو آئندہ کسی کو نہ دی جائے گی۔

ص 38:35

آیت نمبر 30 تا 40 یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح حدیث بھی منقول نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جائے۔ ایک صحیح حدیث ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا تعلق ان واقعات کے ساتھ ہے ۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث مرفوعاً نقل کی ہے۔ ” حضرت سلیمان نے کہا میں آج رات اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر ایک سے ایک جوان پیدا ہوگا۔ جو کہاد فی سبیل اللہ کرے گا۔ لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا ۔ وہ ان بیویوں کے پاس گئے ۔ ان میں سے صرف ایک کا حمل ٹھہرا اور جب بچہ پیدا ہوا تو ناتمام تھا۔ خدا کی قسم اگر حضرت سلیمان انشاء اللہ کہتے تو یقیناً یہ سب اللہ کی راہ میں جہاد کرتے “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان آیات میں جس فتنے کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ یہی ہو اور ان کی کرسی پر یہی جسد ناتمام پھینکا گیا ہو۔ لیکن یہ بھی احتمال درجے میں ہے۔ گھوڑوں کا قصہ یہ بیان کیا گیا ہے شام کے وقت ان کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے اور غروب سے قبل وہ جو عبادت کرتے تھے وہ قضا ہوگئی تو حضرت نے کہا ان سب گھوڑوں کو واپس کرو ' چناچہ انہوں نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو تلوار سے کاٹنا شروع کیا۔ کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی نماز قضا ہوئی اور وہ ذکر رب سے غافل ہوگئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ان کے پاؤں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر کر ان کو تھپکی دیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے گھوڑے ہیں۔ دونوں روایتوں پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور اس کے بارے میں کوئی فرضی بات نہیں کرسکتے ۔ لہٰذا کوئی محقق ان دونوں واقعات کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کرسکتا۔ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی آزمایا گیا۔ اور یہ آزمائش امور مملکت کے بارے میں تھی اور اسی نوعیت کی تھی جس طرح تمام انبیاء کو راہ حق دکھانے کے لیے آزمایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس راہ میں ان سے کوئی لغزش سرزدنہ ہوجائے۔ اس آزمائش کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے رب کی طرف انابت اور رجوع کرلیا اور مغفرت طلب کی۔ اور اللہ کی طرف مڑکر دست بدعا ہوئے : قال رب۔۔۔۔ انت الوھاب (38: 35) ” کہا ' اے میرے رب مجھے معاف کر اور مجھے بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو ' بیشک تو ہی اصل داتا ہے “۔ حضرت سلیمان کی مذکورہ بالا دعا کا مطلب جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی خصوصیات چاہتے تھے جو معجزانہ ہو۔ یعنی ان کو حکومتی اقتدار چلانے کے لیے معجزانہ قوتیں دی جائیں اور تمام دوسرے ذی اقتدار لوگوں سے یہ اعجاز مختلف ہو۔ اس کی متعین شکل ہو ، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہ ہو۔ یعنی عوام الناس کے ہاں جس طرح کی حکومتیں متعارف ہیں۔ رب تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول کرنے میں دیر نہیں فرمائی ۔ چناچہ جیسی حکومت انہوں نے چاہی تھی وہ ان کو دے دی ۔ ایسی حکومت جو آئندہ کسی کو نہ دی جائے گی۔

ص 38:36

فسخرناله۔۔۔ الصفاد (38: 36 تا 38) ” تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی ، جدھر وہ چاہتا تھا اور شیاطین کو مسخر کردیا ۔ ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے “۔ ہوا کو اللہ کے حکم سے اس کے بندوں میں سے کسی کے لیے مسخر کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ کے ارادے سے باہر آگئی ۔ انسانوں کی تسخیر کے باوجود ہوا بدستور ارادہ الہٰی کے تحت چلتی ہے۔ اللہ کے حکم سے اس کے نوا میں فطرت کے مطابق ہی چلتی ہے۔ جب اللہ اپنے کسی بندے کے لیے یہ بات سہل بنادے کہ اس کا فعل ارادۂ الہٰی کی تعبیر ہو اور بندے کا حکم الہٰی کے موافق ہوجائے تو ایسے میں کائناتی قوتیں اللہ کے امر کے ساتھ ساتھ بندے کے امر کے ساتھ چلتی نظر آتی ہیں۔ پھر یہ ہوائیں نہایت ہی نرمی کے ساتھ جہاں وہ بندہ چاہتا ہے ادھر چلتی ہیں۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جس کا صدور اللہ سے مستبد نہیں ہوتا ہے۔ یہ فعل کی صورتوں میں سرزد ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے فرماتا ہے۔ لئن لم۔۔۔ الاقلیلا (33: 60) ” اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے ، اور وہ مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلاتے ہیں ایسی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے اٹھا کھڑا کریں گے۔ پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے “۔ اس کا مفہوم کیا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو اللہ اپنا ارادہ حضرت محمد ﷺ کے ارادے کی صورت میں حرکت میں لائے گا اور آپ کو ان کے خلاف اٹھا کر یوں ان کو مدینہ سے نکال دے گا۔ اللہ کے ارادے کے نتیجے میں محمد ﷺ ان کے خلاف قتال شروع کردیں گے۔ یوں اللہ کے ارادے اور نبی کے ارادے میں توافق پیدا ہوجائے گا۔ دونوں کے ارادے باہم مل جائیں گے اور اللہ کا ارادہ رسول اللہ ﷺ کے اقدامات کی شکل میں نظر آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو اسی معنی میں مسخر کردیا تھا جس طرح حضرت سلیمان چاہتے۔ اسی طرح اللہ ہواؤں کو مسخر فرما دیتا ۔ یا جس طرح اللہ چاہتا اسی طرف حضرت سلیمان کا ارادہ ہوجاتا۔ اسی طرح آپ کیلیے شاطین کو بھی مسخر کردیا گیا اور آپ ان سے تعمیرات کا کام لیتے تھے۔ سمندر میں اور خشکی میں یہ لوگ آپ کیلیے غوطہ لگاتے تھے اور جو اشیاء حضرت سلیمان چاہتے تھے وہ نکال لاتے تھے اور مخالفین اور مفسدین کو سزا دینے کی پوری پوری قدرت اللہ نے آپ کیلیے ودیعت کردی تھی۔ مجرموں کو گرفتار کرنے ، قید کرنے اور پکڑنے کی پوری قدرت آپ کو دے دی تھی ۔ آپ کی حکومت میں امن وامان کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ یعنی مجرم اکیلے اور اجتماعی شکل میں گرفتار ہوکر پایہ زنجیر کردیئے جاتے۔ زمین میں دولت کی تقسیم کے پورے اختیارات آپ کو دے دیئے تھے۔ جسے چاہتے ' جسے چاہتے نہ دیتے۔ یا جسے جس قدر چاہتے ' دے دیتے۔

ص 38:37

فسخرناله۔۔۔ الصفاد (38: 36 تا 38) ” تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی ، جدھر وہ چاہتا تھا اور شیاطین کو مسخر کردیا ۔ ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے “۔ ہوا کو اللہ کے حکم سے اس کے بندوں میں سے کسی کے لیے مسخر کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ کے ارادے سے باہر آگئی ۔ انسانوں کی تسخیر کے باوجود ہوا بدستور ارادہ الہٰی کے تحت چلتی ہے۔ اللہ کے حکم سے اس کے نوا میں فطرت کے مطابق ہی چلتی ہے۔ جب اللہ اپنے کسی بندے کے لیے یہ بات سہل بنادے کہ اس کا فعل ارادۂ الہٰی کی تعبیر ہو اور بندے کا حکم الہٰی کے موافق ہوجائے تو ایسے میں کائناتی قوتیں اللہ کے امر کے ساتھ ساتھ بندے کے امر کے ساتھ چلتی نظر آتی ہیں۔ پھر یہ ہوائیں نہایت ہی نرمی کے ساتھ جہاں وہ بندہ چاہتا ہے ادھر چلتی ہیں۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جس کا صدور اللہ سے مستبد نہیں ہوتا ہے۔ یہ فعل کی صورتوں میں سرزد ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے فرماتا ہے۔ لئن لم۔۔۔ الاقلیلا (33: 60) ” اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے ، اور وہ مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلاتے ہیں ایسی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے اٹھا کھڑا کریں گے۔ پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے “۔ اس کا مفہوم کیا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو اللہ اپنا ارادہ حضرت محمد ﷺ کے ارادے کی صورت میں حرکت میں لائے گا اور آپ کو ان کے خلاف اٹھا کر یوں ان کو مدینہ سے نکال دے گا۔ اللہ کے ارادے کے نتیجے میں محمد ﷺ ان کے خلاف قتال شروع کردیں گے۔ یوں اللہ کے ارادے اور نبی کے ارادے میں توافق پیدا ہوجائے گا۔ دونوں کے ارادے باہم مل جائیں گے اور اللہ کا ارادہ رسول اللہ ﷺ کے اقدامات کی شکل میں نظر آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو اسی معنی میں مسخر کردیا تھا جس طرح حضرت سلیمان چاہتے۔ اسی طرح اللہ ہواؤں کو مسخر فرما دیتا ۔ یا جس طرح اللہ چاہتا اسی طرف حضرت سلیمان کا ارادہ ہوجاتا۔ اسی طرح آپ کیلیے شاطین کو بھی مسخر کردیا گیا اور آپ ان سے تعمیرات کا کام لیتے تھے۔ سمندر میں اور خشکی میں یہ لوگ آپ کیلیے غوطہ لگاتے تھے اور جو اشیاء حضرت سلیمان چاہتے تھے وہ نکال لاتے تھے اور مخالفین اور مفسدین کو سزا دینے کی پوری پوری قدرت اللہ نے آپ کیلیے ودیعت کردی تھی۔ مجرموں کو گرفتار کرنے ، قید کرنے اور پکڑنے کی پوری قدرت آپ کو دے دی تھی ۔ آپ کی حکومت میں امن وامان کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ یعنی مجرم اکیلے اور اجتماعی شکل میں گرفتار ہوکر پایہ زنجیر کردیئے جاتے۔ زمین میں دولت کی تقسیم کے پورے اختیارات آپ کو دے دیئے تھے۔ جسے چاہتے ' جسے چاہتے نہ دیتے۔ یا جسے جس قدر چاہتے ' دے دیتے۔

ص 38:38

فسخرناله۔۔۔ الصفاد (38: 36 تا 38) ” تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی ، جدھر وہ چاہتا تھا اور شیاطین کو مسخر کردیا ۔ ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے “۔ ہوا کو اللہ کے حکم سے اس کے بندوں میں سے کسی کے لیے مسخر کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ کے ارادے سے باہر آگئی ۔ انسانوں کی تسخیر کے باوجود ہوا بدستور ارادہ الہٰی کے تحت چلتی ہے۔ اللہ کے حکم سے اس کے نوا میں فطرت کے مطابق ہی چلتی ہے۔ جب اللہ اپنے کسی بندے کے لیے یہ بات سہل بنادے کہ اس کا فعل ارادۂ الہٰی کی تعبیر ہو اور بندے کا حکم الہٰی کے موافق ہوجائے تو ایسے میں کائناتی قوتیں اللہ کے امر کے ساتھ ساتھ بندے کے امر کے ساتھ چلتی نظر آتی ہیں۔ پھر یہ ہوائیں نہایت ہی نرمی کے ساتھ جہاں وہ بندہ چاہتا ہے ادھر چلتی ہیں۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جس کا صدور اللہ سے مستبد نہیں ہوتا ہے۔ یہ فعل کی صورتوں میں سرزد ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے فرماتا ہے۔ لئن لم۔۔۔ الاقلیلا (33: 60) ” اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے ، اور وہ مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلاتے ہیں ایسی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے اٹھا کھڑا کریں گے۔ پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے “۔ اس کا مفہوم کیا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو اللہ اپنا ارادہ حضرت محمد ﷺ کے ارادے کی صورت میں حرکت میں لائے گا اور آپ کو ان کے خلاف اٹھا کر یوں ان کو مدینہ سے نکال دے گا۔ اللہ کے ارادے کے نتیجے میں محمد ﷺ ان کے خلاف قتال شروع کردیں گے۔ یوں اللہ کے ارادے اور نبی کے ارادے میں توافق پیدا ہوجائے گا۔ دونوں کے ارادے باہم مل جائیں گے اور اللہ کا ارادہ رسول اللہ ﷺ کے اقدامات کی شکل میں نظر آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو اسی معنی میں مسخر کردیا تھا جس طرح حضرت سلیمان چاہتے۔ اسی طرح اللہ ہواؤں کو مسخر فرما دیتا ۔ یا جس طرح اللہ چاہتا اسی طرف حضرت سلیمان کا ارادہ ہوجاتا۔ اسی طرح آپ کیلیے شاطین کو بھی مسخر کردیا گیا اور آپ ان سے تعمیرات کا کام لیتے تھے۔ سمندر میں اور خشکی میں یہ لوگ آپ کیلیے غوطہ لگاتے تھے اور جو اشیاء حضرت سلیمان چاہتے تھے وہ نکال لاتے تھے اور مخالفین اور مفسدین کو سزا دینے کی پوری پوری قدرت اللہ نے آپ کیلیے ودیعت کردی تھی۔ مجرموں کو گرفتار کرنے ، قید کرنے اور پکڑنے کی پوری قدرت آپ کو دے دی تھی ۔ آپ کی حکومت میں امن وامان کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ یعنی مجرم اکیلے اور اجتماعی شکل میں گرفتار ہوکر پایہ زنجیر کردیئے جاتے۔ زمین میں دولت کی تقسیم کے پورے اختیارات آپ کو دے دیئے تھے۔ جسے چاہتے ' جسے چاہتے نہ دیتے۔ یا جسے جس قدر چاہتے ' دے دیتے۔

ص 38:39

ھذا۔۔۔ حساب (38: 39) ” یہ ہماری بخشش ہے تجھے اختیار ہے ، جسے چاہے دے اور جس سے چاہئے روک لے کوئی حساب نہیں ہے “۔ یہ اس لیے کہ آپ کو اللہ بہت بڑا اعزاز دینا چاہتا تھا کہ حکومت پر کوئی مالی قدغن عائد نہیں ہے۔ مزید اس پر یہ اضافہ فرمایا کہ حضرت سلیمان ہمارے نزدیک بہت ہی مقرب اور برگزیدہ بندے تھے۔ اور ان کا انجام بہتر ہوگا۔

ص 38:40

وان له عندنا لزلفٰی وحسن ماٰب (38: 40) ” یقیناً اس کے لیے ہمارے ہاں تقریب کا مقام اور بہتر انجام ہے “۔ یہ ایک نہایت ہی عظیم مقام و مرتبہ ہے جو حضرت سلیمان کو دیا گیا۔ نہایت ہی فضل وکرم اور رضامندی اور بخشش اور مہربانیاں۔ حضرت سلیمان کے بعد اب حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ ابتلا آتا ہے اور اس کے بعد ان پر اللہ کا فضل وکرم حضور ﷺ اور مسلمانوں کے لیے امید پیدا کی جاتی ہے۔

ص 38:41

آیت نمبر 41 تا 44 حضرت ایوب کے صبر کا قصہ تو ایک مثال بن گیا ہے۔ اور بہت ہی معروف ومشہور ہے۔ صبر ایوبی ایک محاورہ ہے۔ لیکن اس قصے کے اوپر اسرائیلی روایات کی تہہ جم گئی ہے۔ اور حقیقت خرافات میں کھوگئی ہے۔ اصل حقیقت وہ ہے جس طرح قرآن کریم تصریح کرتا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بندۂ صالح اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ اللہ کی آزمائش ان پر آئی اور اس میں انہوں نے خوب صبر فرمایا۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی آزمائش اس طرح تھی کہ مال چلا گیا ، صحت چلی گئی اور بیوی بھی ساتھ چھوڑ گئی۔ لیکن ان تمام جان لیوا تکالیف میں انہوں نے رب تعالیٰ کا دامن تھامے رکھا۔ اللہ پر ان کا بھروسہ رہا اور وہ راضی برضائے الہٰی رہے۔ شیطان ان لوگوں کے دل میں وسوسے ڈالتا رہا جو تعداد میں تھوڑے تھے مگر ان کے ساتھ وابستہ رہے ۔ ان میں سے ان کی بیوی بھی تھی۔ شیطان ان کے دلوں میں یہ وسوسے ڈالتا کہ اگر ایوب اللہ کا برگزیدہ بندہ ہوتا تو اللہ ہرگز ان کو اس آزمائش میں نہ ڈالتا۔ جب یہ لوگ حضرت ایوب کو یہ باتیں بتاتے تو مالی جسمانی مصیبت سے بھی زیادہ اذیت ان کو ان شیطانی وسوسہ اندازیوں سے ہوتی ۔ جب ان کی بیوی نے ان کے سامنے ایسی باتیں کیں تو آپ نے حلف اٹھایا کہ اگر اللہ نے اس مصیبت سے نجات دی اور وہ تندرست ہوگئے تو بیوی کو کوڑے ماریں گے۔ بعض نے سو کوڑے کہا ہے۔ انہی آزمائشوں پر جب شیطان کی جانب سے ایذارسانی بھی شروع ہوگئ اور اس کا اثر ان کے مخلصین پر بھی ہوتا شروع ہوگیا اور خود ان کے دل پر اثر ہوگیا تو وہ درست بدعا ہوئے۔ انی مسنی ۔۔۔ و عذاب (38: 41) ” کہ شیطان نے مجھے تکالیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے “۔

ص 38:42

جب یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ سچے اور صابر ہیں اور وہ شیطانی وسوسہ اندازیوں سے بھی نفرت کرتے ہیں اور اس سے انکی اذیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ تو اب اللہ کی رحمت انکو ڈھانپ لیتی ہے۔ آزمائش کے دن بیت جاتے ہیں ۔ انکی صحت لوٹ آتی ہے۔ رب تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنے قدموں کو زمین پر ماریں۔ ٹھنڈا پانی نکل آئے گا اس سے وہ پئیں اور غسل کریں صحت لوٹ آئے گی ارکض برجلک ھٰذا مغتسل بادو شراب (38: 43) ” اپنا پاؤں زمین پر مار ' یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے “۔ مزید رحمتیں یوں آتی ہیں۔

ص 38:43

ووھبنا۔۔۔ الالباب (38: 43) ” اور ہم نے اسے اہل و عیال واپس کردیئے اور اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ان کے ساتھ اتنے ہی اور دیئے اور عقل وفکر رکھنے والوں کے لئے درس کے طور پر “۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے ان کے وہ بچے زندہ کردیئے جو فوت ہوگئے تھے اور اسی تعداد میں اور اولاد بھی دے دی۔ قرآن کریم اس بات کی صراحت نہیں کرتا کہ مردوں کو زندہ کیا گیا۔ مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ ان کو چھوڑ کر غایب ہوگئے تھے ، وہ اور ان کے اہل خانہ واپس کردیئے گئے اور پھر مزید اولاد دی گئی۔ مزید انعام اور رحمت و رعایت کے طور پر۔ اور یہ انعامات اس لیے کیے گئے کہ اہل عقل و دانش اس سے عبرت لیں۔ ان تمام قصص سے مقصود یہ ہے کہ اللہ کے جو بندے اور آزمائشوں میں صبر کریں ان پر کرم نوازی کرتا ہے اور آخر کار ان پر کرم ہوتا ہے۔ یہ کہ ان کی قسم کا نتیجہ کیا ہوا تو اللہ کی رحمت نے ان کو اور ان کی بیوی کو ڈھانپ لیا۔ کیونکہ ان کی بیوی نے اس طویل آزمائش میں حضرت ایوب کی بہت خدمت کی تھی۔ اور اس نے بھی بہت ہی مصابرت سے کام لیا تھا۔ اللہ نے حکم دیا تھا کہ انہوں نے جتنے کوڑے مارنے کی قسم اٹھائی ہے اتنی ہی شاخیں لیں اور ان تمام شاخوں سے ایک ہی وار اس پر کرلیں۔ اس طرح ان کی قسم پوری ہوجائے گی اور وہ حانث نہ ہوں گے۔

ص 38:44

وخذبیدک ضغثا فاضرب به ولا تحنث (38: 44) ” تنکوں کا ایک مٹھالے اور اس سے ماردے ، اپنی قسم بہ توڑ “۔ یہ سہولت ان کو اس لیے دی گئی کہ اس عظیم امتحان میں انہوں نے اللہ کی منشاء کے مطابق صبر کیا اور اطاعت شعار بندے کے طور پر رہے اور آخر میں اللہ ہی سے التجا کی۔ انا وجدنه۔۔۔ اواب (38: 44) ” ہم نے اسے صابر پایا۔ بہترین بندہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا “۔ یہ تین قصص تو قدرے تفصیل سے ذکر ہوئے۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی موجود مشکلات پر صبر کریں۔ اب رسولوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ انکے قصص میں بھی آزمائشیں اور صبر کے واقعات ہیں اور ان پر بھی اللہ کے انعامات اور فضل وکرم ہوتے رہے ہیں جس طرح حضرت داؤد حضرت سلیمان اور ایوب (علیہم السلام) کے قصص میں آزمائشیں اور فضل وکرم ہوتے ہیں ۔ ان میں سے بعض انبیاء تو انسے پہلے گزرے ہیں اور معروف ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کے زمانے کا تعین نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن اور ہمارے ہاں حقیقی تاریخی مصارد کے اندر ان کے زمانے کا تعین نہیں کیا گیا۔

ص 38:45

آیت نمبر 45 تا 48 یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص اور حضرت سلیمان سے قبل تھے لیکن حضرت ایوب کے دور کے بارے میں ہمیں یقینی معلومات نہیں ہیں۔ ذوالکفل کے بارے میں بھی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ ان کے بارے قرآن کریم میں صرف اشارات ہی پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ نبی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کا نام عبرانی میں الشیع آتا ہے۔ یہی عربی میں السیع ہیں۔ اسی لئے ہم بھی ترجیح دیتے ہیں۔ رہے ذوالکفل تو ان کے بارے میں زیادہ تاریخی معلومات نہیں ہیں۔ اولی الایدی والابصار (38: 45) ” بڑی قوت رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے “۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہاتھ پاؤں سے عمل صالح کرنے والے اور نظریاتی اعتبار سے فکر مستقیم کے مالک تھے۔ گویا جو عمل صالح نہیں کرتا وہ کمزور ہوتا ہے اور جو شخص فکر سلیم نہیں رکھتا وہ آنکھوں کے باوجود اندھا ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ان پیغمبروں کے اعزاز کی صفت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اللہ کے خالص بندے تھے۔ اور ان کی دوسری خاص صفت یہ تھی وہ دار آخرت کو ہر وقت یاد کرنے والے اور اس کا لحاظ کرنے والے تھے۔ وہ صرف رضائے الہٰی اور فلاح کے لیے کام کرتے تھے۔

ص 38:46

انا۔۔۔ الدار (38: 46) ” ان کو ایک خاص صفت کی نبا پر برگزیدہ کیا تھا اور وہ دار آخرت کی یاد تھی “۔ یہ انکا مرتبہ اور ان کی بلندی نے ان کو برگزیدہ بنادیا تھا۔

ص 38:47

وانھم۔۔۔ الاخیار (38: 47) ” اور یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں سے ہے “۔ نیز اللہ تعالیٰ تصریح فرماتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ تم لوگ ان کی روحانی صحبت میں رہو۔ ان کے صبر ومصابرت کو یاد کرو ، اور آخر کار ان پر جو فضل وکرم ہوا ، اس کی امید رکھو۔ اور تمہاری قوم کی طرف سے جو تکذیب ہو رہی ہے اور اس پر تمہیں جو اذیت ہورہی ہے اس کو برداشت کرو۔ کیونکہ تمام رسولان کرام کا طریقہ صبر اور مصابرت کا ہے۔ اور رسولوں کے بعد بھی تمام دعوتوں کا طریقہ بھی صبر کا ہے اور ہمیشہ یوں ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے صبر کرنے والے بندوں پر رحم وکرم کرتا ہے۔ ان کو قوت اور اقتدار عطا کرتا ہے اور ان پر رحمتیں اور برکتیں نازل کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں اپنے بندوں کے لیے جو اجر اور انجام ہوتا ہے وہ بہرحال بہتر ہوتا ہے۔ اور اللہ کی رحمتوں ، اللہ کی برکتوں کے مقابلے میں سازشیوں کی شازشوں اور مکاروں کی مکاریوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اللہ اپنے بندوں کا ہر وقت نگہبان ہوتا ہے۔

ص 38:48

وانھم۔۔۔ الاخیار (38: 47) ” اور یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں سے ہے “۔ نیز اللہ تعالیٰ تصریح فرماتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ تم لوگ ان کی روحانی صحبت میں رہو۔ ان کے صبر ومصابرت کو یاد کرو ، اور آخر کار ان پر جو فضل وکرم ہوا ، اس کی امید رکھو۔ اور تمہاری قوم کی طرف سے جو تکذیب ہو رہی ہے اور اس پر تمہیں جو اذیت ہورہی ہے اس کو برداشت کرو۔ کیونکہ تمام رسولان کرام کا طریقہ صبر اور مصابرت کا ہے۔ اور رسولوں کے بعد بھی تمام دعوتوں کا طریقہ بھی صبر کا ہے اور ہمیشہ یوں ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے صبر کرنے والے بندوں پر رحم وکرم کرتا ہے۔ ان کو قوت اور اقتدار عطا کرتا ہے اور ان پر رحمتیں اور برکتیں نازل کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں اپنے بندوں کے لیے جو اجر اور انجام ہوتا ہے وہ بہرحال بہتر ہوتا ہے۔ اور اللہ کی رحمتوں ، اللہ کی برکتوں کے مقابلے میں سازشیوں کی شازشوں اور مکاروں کی مکاریوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اللہ اپنے بندوں کا ہر وقت نگہبان ہوتا ہے۔

ص 38:49

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز زیر بحث ہیں ۔ یہ زندگی یہاں مناظر کی شکل میں دکھائی گئی جیسا کہ قرآن کریم کا انداز ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ میں اپنی کتاب ” مشاہد قیامت “ کے کچھ اقتباسات دے دوں۔ ان مناظر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دو مناظر ہیں اور دوانجام ہیں اور ایک دوسرے کے بالکل بالمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر بھی ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور اجزاء کے اعتبار سے بھی یہ دونوں باہم متقابل ہیں۔ ہئیت وشکل اور مفہوم اور خواص کے اعتبار بھی دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مصبین ایک اچھے انجام تک پہنچ چکے ہیں (حسن مآب) ۔ جبکہ مفسدین برے انجام تک پہنچ چکے (شرمآب) ۔ اگر متقین کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ جنت عدن مفتحة لھم الابواب (38: 50) اور وہ اس میں بالمقابل تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور اچھا کھانا اور اچھا پینا ان کو میسر ہے۔ اور ان کو نوجوان حوریں میسر ہیں اور جوانی کے باوجود وہ شرمیلی بھی ہیں۔ نہ وہ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی ہیں اور نہ اٹھا کر چلتی ہیں اور جوانی کے ساتھ ہم عمر بھی ہیں۔ پھر یہ تمام سہولیات دائمی ہیں اور اللہ کی طرف سے ہیں اور ماله من نفاد ” ختم ہونے والی نہیں ہیں “۔ تو مکذبین بھی ایک جائے قرار میں نظر آتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔

ص 38:50

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز زیر بحث ہیں ۔ یہ زندگی یہاں مناظر کی شکل میں دکھائی گئی جیسا کہ قرآن کریم کا انداز ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ میں اپنی کتاب ” مشاہد قیامت “ کے کچھ اقتباسات دے دوں۔ ان مناظر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دو مناظر ہیں اور دوانجام ہیں اور ایک دوسرے کے بالکل بالمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر بھی ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور اجزاء کے اعتبار سے بھی یہ دونوں باہم متقابل ہیں۔ ہئیت وشکل اور مفہوم اور خواص کے اعتبار بھی دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مصبین ایک اچھے انجام تک پہنچ چکے ہیں (حسن مآب) ۔ جبکہ مفسدین برے انجام تک پہنچ چکے (شرمآب) ۔ اگر متقین کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ جنت عدن مفتحة لھم الابواب (38: 50) اور وہ اس میں بالمقابل تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور اچھا کھانا اور اچھا پینا ان کو میسر ہے۔ اور ان کو نوجوان حوریں میسر ہیں اور جوانی کے باوجود وہ شرمیلی بھی ہیں۔ نہ وہ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی ہیں اور نہ اٹھا کر چلتی ہیں اور جوانی کے ساتھ ہم عمر بھی ہیں۔ پھر یہ تمام سہولیات دائمی ہیں اور اللہ کی طرف سے ہیں اور ماله من نفاد ” ختم ہونے والی نہیں ہیں “۔ تو مکذبین بھی ایک جائے قرار میں نظر آتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔

ص 38:51

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز زیر بحث ہیں ۔ یہ زندگی یہاں مناظر کی شکل میں دکھائی گئی جیسا کہ قرآن کریم کا انداز ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ میں اپنی کتاب ” مشاہد قیامت “ کے کچھ اقتباسات دے دوں۔ ان مناظر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دو مناظر ہیں اور دوانجام ہیں اور ایک دوسرے کے بالکل بالمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر بھی ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور اجزاء کے اعتبار سے بھی یہ دونوں باہم متقابل ہیں۔ ہئیت وشکل اور مفہوم اور خواص کے اعتبار بھی دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مصبین ایک اچھے انجام تک پہنچ چکے ہیں (حسن مآب) ۔ جبکہ مفسدین برے انجام تک پہنچ چکے (شرمآب) ۔ اگر متقین کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ جنت عدن مفتحة لھم الابواب (38: 50) اور وہ اس میں بالمقابل تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور اچھا کھانا اور اچھا پینا ان کو میسر ہے۔ اور ان کو نوجوان حوریں میسر ہیں اور جوانی کے باوجود وہ شرمیلی بھی ہیں۔ نہ وہ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی ہیں اور نہ اٹھا کر چلتی ہیں اور جوانی کے ساتھ ہم عمر بھی ہیں۔ پھر یہ تمام سہولیات دائمی ہیں اور اللہ کی طرف سے ہیں اور ماله من نفاد ” ختم ہونے والی نہیں ہیں “۔ تو مکذبین بھی ایک جائے قرار میں نظر آتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔

ص 38:52

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز زیر بحث ہیں ۔ یہ زندگی یہاں مناظر کی شکل میں دکھائی گئی جیسا کہ قرآن کریم کا انداز ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ میں اپنی کتاب ” مشاہد قیامت “ کے کچھ اقتباسات دے دوں۔ ان مناظر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دو مناظر ہیں اور دوانجام ہیں اور ایک دوسرے کے بالکل بالمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر بھی ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور اجزاء کے اعتبار سے بھی یہ دونوں باہم متقابل ہیں۔ ہئیت وشکل اور مفہوم اور خواص کے اعتبار بھی دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مصبین ایک اچھے انجام تک پہنچ چکے ہیں (حسن مآب) ۔ جبکہ مفسدین برے انجام تک پہنچ چکے (شرمآب) ۔ اگر متقین کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ جنت عدن مفتحة لھم الابواب (38: 50) اور وہ اس میں بالمقابل تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور اچھا کھانا اور اچھا پینا ان کو میسر ہے۔ اور ان کو نوجوان حوریں میسر ہیں اور جوانی کے باوجود وہ شرمیلی بھی ہیں۔ نہ وہ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی ہیں اور نہ اٹھا کر چلتی ہیں اور جوانی کے ساتھ ہم عمر بھی ہیں۔ پھر یہ تمام سہولیات دائمی ہیں اور اللہ کی طرف سے ہیں اور ماله من نفاد ” ختم ہونے والی نہیں ہیں “۔ تو مکذبین بھی ایک جائے قرار میں نظر آتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔

ص 38:53

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز زیر بحث ہیں ۔ یہ زندگی یہاں مناظر کی شکل میں دکھائی گئی جیسا کہ قرآن کریم کا انداز ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ میں اپنی کتاب ” مشاہد قیامت “ کے کچھ اقتباسات دے دوں۔ ان مناظر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دو مناظر ہیں اور دوانجام ہیں اور ایک دوسرے کے بالکل بالمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر بھی ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور اجزاء کے اعتبار سے بھی یہ دونوں باہم متقابل ہیں۔ ہئیت وشکل اور مفہوم اور خواص کے اعتبار بھی دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مصبین ایک اچھے انجام تک پہنچ چکے ہیں (حسن مآب) ۔ جبکہ مفسدین برے انجام تک پہنچ چکے (شرمآب) ۔ اگر متقین کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ جنت عدن مفتحة لھم الابواب (38: 50) اور وہ اس میں بالمقابل تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور اچھا کھانا اور اچھا پینا ان کو میسر ہے۔ اور ان کو نوجوان حوریں میسر ہیں اور جوانی کے باوجود وہ شرمیلی بھی ہیں۔ نہ وہ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی ہیں اور نہ اٹھا کر چلتی ہیں اور جوانی کے ساتھ ہم عمر بھی ہیں۔ پھر یہ تمام سہولیات دائمی ہیں اور اللہ کی طرف سے ہیں اور ماله من نفاد ” ختم ہونے والی نہیں ہیں “۔ تو مکذبین بھی ایک جائے قرار میں نظر آتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔

ص 38:54

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز زیر بحث ہیں ۔ یہ زندگی یہاں مناظر کی شکل میں دکھائی گئی جیسا کہ قرآن کریم کا انداز ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ میں اپنی کتاب ” مشاہد قیامت “ کے کچھ اقتباسات دے دوں۔ ان مناظر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دو مناظر ہیں اور دوانجام ہیں اور ایک دوسرے کے بالکل بالمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر بھی ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور اجزاء کے اعتبار سے بھی یہ دونوں باہم متقابل ہیں۔ ہئیت وشکل اور مفہوم اور خواص کے اعتبار بھی دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مصبین ایک اچھے انجام تک پہنچ چکے ہیں (حسن مآب) ۔ جبکہ مفسدین برے انجام تک پہنچ چکے (شرمآب) ۔ اگر متقین کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ جنت عدن مفتحة لھم الابواب (38: 50) اور وہ اس میں بالمقابل تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور اچھا کھانا اور اچھا پینا ان کو میسر ہے۔ اور ان کو نوجوان حوریں میسر ہیں اور جوانی کے باوجود وہ شرمیلی بھی ہیں۔ نہ وہ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی ہیں اور نہ اٹھا کر چلتی ہیں اور جوانی کے ساتھ ہم عمر بھی ہیں۔ پھر یہ تمام سہولیات دائمی ہیں اور اللہ کی طرف سے ہیں اور ماله من نفاد ” ختم ہونے والی نہیں ہیں “۔ تو مکذبین بھی ایک جائے قرار میں نظر آتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔

ص 38:55

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز زیر بحث ہیں ۔ یہ زندگی یہاں مناظر کی شکل میں دکھائی گئی جیسا کہ قرآن کریم کا انداز ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ میں اپنی کتاب ” مشاہد قیامت “ کے کچھ اقتباسات دے دوں۔ ان مناظر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دو مناظر ہیں اور دوانجام ہیں اور ایک دوسرے کے بالکل بالمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر بھی ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور اجزاء کے اعتبار سے بھی یہ دونوں باہم متقابل ہیں۔ ہئیت وشکل اور مفہوم اور خواص کے اعتبار بھی دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مصبین ایک اچھے انجام تک پہنچ چکے ہیں (حسن مآب) ۔ جبکہ مفسدین برے انجام تک پہنچ چکے (شرمآب) ۔ اگر متقین کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ جنت عدن مفتحة لھم الابواب (38: 50) اور وہ اس میں بالمقابل تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور اچھا کھانا اور اچھا پینا ان کو میسر ہے۔ اور ان کو نوجوان حوریں میسر ہیں اور جوانی کے باوجود وہ شرمیلی بھی ہیں۔ نہ وہ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی ہیں اور نہ اٹھا کر چلتی ہیں اور جوانی کے ساتھ ہم عمر بھی ہیں۔ پھر یہ تمام سہولیات دائمی ہیں اور اللہ کی طرف سے ہیں اور ماله من نفاد ” ختم ہونے والی نہیں ہیں “۔ تو مکذبین بھی ایک جائے قرار میں نظر آتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔

ص 38:56

فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔ ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور کے ساتھ یہ لوگ مذاق کرتے تھے۔ خصوصاً ان کے اس عقیدے کے ساتھ کہ وہ جنتوں میں ہوں گے جیسا کہ قریش کہتے تھے۔ ء انزل علیه الذکر من بیننا ” کیا ہم میں سے ذکر اسی پر اتر گیا ! “ ذرا ان کے منظر کو دیکھئے کہ یہ فوج در فوج جہنم میں گھسے جارہے ہیں ' یا دھکیلے جارہے ہیں اور ایک دوسرے سے وہ یوں ہمکلام ہیں۔ ھذا فوج مفتحم معکم (38: 59) ” یہ لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آرہا ہے “۔ جواب کیا ہے ؟ نہایت ہی تنگ مزاجی سے جواب آتا ہے۔ لامرحبابھم انھم صالوا النار (38: 59) ” کوئی خوش آمدید ان کے لیے نہیں ہے۔ یہ تو آگ میں جھلسنے والے ہیں “۔ جس فوج پر یہ تبصرہ کیا جارہا ہے ، وہ بھی سن کع جل بھن جاتی ہے اور ان کا جواب یہ ہے ، قالوابل۔۔۔ القرار (38: 60) ” وہ کہیں بلکہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں ہے ، تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو۔ کیسی بری ہے یہ جائے قرار “۔ تم ہی تو اس مصیبت کا باعث بنے ہو۔ اب یہ لوگ نہایت دل تنگی ، گھٹن اور انتقام کے جذبات سے مغلوب ہوکر یہ دوخواست کرتے ہیں۔

ص 38:57

فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔ ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور کے ساتھ یہ لوگ مذاق کرتے تھے۔ خصوصاً ان کے اس عقیدے کے ساتھ کہ وہ جنتوں میں ہوں گے جیسا کہ قریش کہتے تھے۔ ء انزل علیه الذکر من بیننا ” کیا ہم میں سے ذکر اسی پر اتر گیا ! “ ذرا ان کے منظر کو دیکھئے کہ یہ فوج در فوج جہنم میں گھسے جارہے ہیں ' یا دھکیلے جارہے ہیں اور ایک دوسرے سے وہ یوں ہمکلام ہیں۔ ھذا فوج مفتحم معکم (38: 59) ” یہ لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آرہا ہے “۔ جواب کیا ہے ؟ نہایت ہی تنگ مزاجی سے جواب آتا ہے۔ لامرحبابھم انھم صالوا النار (38: 59) ” کوئی خوش آمدید ان کے لیے نہیں ہے۔ یہ تو آگ میں جھلسنے والے ہیں “۔ جس فوج پر یہ تبصرہ کیا جارہا ہے ، وہ بھی سن کع جل بھن جاتی ہے اور ان کا جواب یہ ہے ، قالوابل۔۔۔ القرار (38: 60) ” وہ کہیں بلکہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں ہے ، تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو۔ کیسی بری ہے یہ جائے قرار “۔ تم ہی تو اس مصیبت کا باعث بنے ہو۔ اب یہ لوگ نہایت دل تنگی ، گھٹن اور انتقام کے جذبات سے مغلوب ہوکر یہ دوخواست کرتے ہیں۔

ص 38:58

فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔ ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور کے ساتھ یہ لوگ مذاق کرتے تھے۔ خصوصاً ان کے اس عقیدے کے ساتھ کہ وہ جنتوں میں ہوں گے جیسا کہ قریش کہتے تھے۔ ء انزل علیه الذکر من بیننا ” کیا ہم میں سے ذکر اسی پر اتر گیا ! “ ذرا ان کے منظر کو دیکھئے کہ یہ فوج در فوج جہنم میں گھسے جارہے ہیں ' یا دھکیلے جارہے ہیں اور ایک دوسرے سے وہ یوں ہمکلام ہیں۔ ھذا فوج مفتحم معکم (38: 59) ” یہ لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آرہا ہے “۔ جواب کیا ہے ؟ نہایت ہی تنگ مزاجی سے جواب آتا ہے۔ لامرحبابھم انھم صالوا النار (38: 59) ” کوئی خوش آمدید ان کے لیے نہیں ہے۔ یہ تو آگ میں جھلسنے والے ہیں “۔ جس فوج پر یہ تبصرہ کیا جارہا ہے ، وہ بھی سن کع جل بھن جاتی ہے اور ان کا جواب یہ ہے ، قالوابل۔۔۔ القرار (38: 60) ” وہ کہیں بلکہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں ہے ، تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو۔ کیسی بری ہے یہ جائے قرار “۔ تم ہی تو اس مصیبت کا باعث بنے ہو۔ اب یہ لوگ نہایت دل تنگی ، گھٹن اور انتقام کے جذبات سے مغلوب ہوکر یہ دوخواست کرتے ہیں۔

ص 38:59

فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔ ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور کے ساتھ یہ لوگ مذاق کرتے تھے۔ خصوصاً ان کے اس عقیدے کے ساتھ کہ وہ جنتوں میں ہوں گے جیسا کہ قریش کہتے تھے۔ ء انزل علیه الذکر من بیننا ” کیا ہم میں سے ذکر اسی پر اتر گیا ! “ ذرا ان کے منظر کو دیکھئے کہ یہ فوج در فوج جہنم میں گھسے جارہے ہیں ' یا دھکیلے جارہے ہیں اور ایک دوسرے سے وہ یوں ہمکلام ہیں۔ ھذا فوج مفتحم معکم (38: 59) ” یہ لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آرہا ہے “۔ جواب کیا ہے ؟ نہایت ہی تنگ مزاجی سے جواب آتا ہے۔ لامرحبابھم انھم صالوا النار (38: 59) ” کوئی خوش آمدید ان کے لیے نہیں ہے۔ یہ تو آگ میں جھلسنے والے ہیں “۔ جس فوج پر یہ تبصرہ کیا جارہا ہے ، وہ بھی سن کع جل بھن جاتی ہے اور ان کا جواب یہ ہے ، قالوابل۔۔۔ القرار (38: 60) ” وہ کہیں بلکہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں ہے ، تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو۔ کیسی بری ہے یہ جائے قرار “۔ تم ہی تو اس مصیبت کا باعث بنے ہو۔ اب یہ لوگ نہایت دل تنگی ، گھٹن اور انتقام کے جذبات سے مغلوب ہوکر یہ دوخواست کرتے ہیں۔

ص 38:60

فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔ ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور کے ساتھ یہ لوگ مذاق کرتے تھے۔ خصوصاً ان کے اس عقیدے کے ساتھ کہ وہ جنتوں میں ہوں گے جیسا کہ قریش کہتے تھے۔ ء انزل علیه الذکر من بیننا ” کیا ہم میں سے ذکر اسی پر اتر گیا ! “ ذرا ان کے منظر کو دیکھئے کہ یہ فوج در فوج جہنم میں گھسے جارہے ہیں ' یا دھکیلے جارہے ہیں اور ایک دوسرے سے وہ یوں ہمکلام ہیں۔ ھذا فوج مفتحم معکم (38: 59) ” یہ لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آرہا ہے “۔ جواب کیا ہے ؟ نہایت ہی تنگ مزاجی سے جواب آتا ہے۔ لامرحبابھم انھم صالوا النار (38: 59) ” کوئی خوش آمدید ان کے لیے نہیں ہے۔ یہ تو آگ میں جھلسنے والے ہیں “۔ جس فوج پر یہ تبصرہ کیا جارہا ہے ، وہ بھی سن کع جل بھن جاتی ہے اور ان کا جواب یہ ہے ، قالوابل۔۔۔ القرار (38: 60) ” وہ کہیں بلکہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں ہے ، تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو۔ کیسی بری ہے یہ جائے قرار “۔ تم ہی تو اس مصیبت کا باعث بنے ہو۔ اب یہ لوگ نہایت دل تنگی ، گھٹن اور انتقام کے جذبات سے مغلوب ہوکر یہ دوخواست کرتے ہیں۔

ص 38:61

قالوا۔۔۔۔ فی النار (38: 61) ” پھر وہ کہیں گے اے ہمارے رب ، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچایا اس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے “۔ اب یہ لوگ جہنم میں مومنین کو تلاش کریں گے۔ ان کا کوئی اتہ پتہ جہنم میں نہ ہوگا۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں اونچے لوگ سمجھتے تھے ، اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ تو چند شریر لوگ ہیں۔ اور ان کے دستور اور منشور کے ساتھ بھی مذاق کرتے تھے۔ اور جن اعلیٰ مقاصد اور رضائے الہٰی کے لیے وہ کام کرتے تھے ، اس کو حماقت سمجھتے تھے۔ یہ لوگ ان جہنم میں گھسنے والوں میں نہیں ہیں۔ یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کہاں چلے گئے وہ لوگ ۔ یہاں وہ موجود نہیں یا نظر نہیں آتے۔

ص 38:62

وقالوا۔۔۔ الابصار (38: 62 تا 63) ” وہ آپس میں کہیں گے ” کیا بات ہے ، ہم ان لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے اور ہم نے یونہی ان کا مذاق بنالیا تھا ، یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں ؟ “ یہ لوگ ان کے بارے میں جہنم میں اتہ پتہ دریافت کررہے ہیں حالانکہ وہ لوگ جنتوں کے مزوں میں ہیں۔ یہ منظر اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ میں یہ جھگڑے یونہی چلتے رہیں گے۔

ص 38:63

وقالوا۔۔۔ الابصار (38: 62 تا 63) ” وہ آپس میں کہیں گے ” کیا بات ہے ، ہم ان لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے اور ہم نے یونہی ان کا مذاق بنالیا تھا ، یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں ؟ “ یہ لوگ ان کے بارے میں جہنم میں اتہ پتہ دریافت کررہے ہیں حالانکہ وہ لوگ جنتوں کے مزوں میں ہیں۔ یہ منظر اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ میں یہ جھگڑے یونہی چلتے رہیں گے۔

ص 38:64

ان ذلک لحق تخاصم اھل النار (38: 64) ” بیشک یہ بات سچی ہے کہ اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں “ ذرا دیکھئے کہ ان کا انجام اہل ایمان کے انجام سے کس قدر مختلف اور اپنے طور پر کس قدر بھیانک ہے۔ دنیا میں تو اہل جہنم متقین کا مذاق اڑاتے تھے ۔ اور یہ سمجھتے تھے کہ اللہ نے ان پر جو کلام الہٰی نازل کیا ہے۔ یہ اس کے اہل ہی نہیں۔ اور یہی وہ نقشہ عذاب ہے جس کے لیے وہ بچوں کی شتابی مچا رہے تھے۔ اور کہتے تھے۔ وقالو۔۔۔ الحساب (38: 16) ” اے ہمارے رب ' ہمارا حصہ ہمیں یوم الحساب سے بھی پہلے دے دے “۔

ص 38:65

درس نمبر 214 تشریح آیات یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور یہ ان مسائل کو دہراتا ہے جو اس سورت کے اغاز میں دہرائے گئے تھے۔ مسئلہ توحید ، مسئلہ وحی الہٰی ، مسئلہ جزاء وسزا ، حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصے کو ثبوت وحی کے لیے پیش کیا جاتا ہے کیونکہ رسولوں کا بھیجنا اس وقت طے ہوگیا تھا جب اللہ تخلیق آدم کے بارے میں فرشتوں کو بتارہا تھا۔ نیز اسی دن یہ طے ہوگیا تھا کہ ہدایت وضلالت کی راہ اختیار کرنے کا حساب اللہ لے ھا اور جزاء وسزا ہوگی ۔ اس قصے میں یہ بھی بتایا گیا ہے۔ انسان کے ساتھ شیطان کو روزازل سے حسد اور کینہ ہے اس نے روزاول سے اپنے آپ کو انسانی سے افضل سمجھا۔ یوں معرکہ آدم وابلیس شروع ہوا اور یہ معرکہ ہمیشہ جاری ہے اور قیامت تک یہ جنگ سرد نہیں پڑسکتی۔ کوئی فریق ہتھیار نہ ڈالے گا۔ شیطان کا ہدف یہ ہے کہ وہ انسانوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کردے تاکہ وہ ان کو جہنم رسید کردے اور یہ وہاں اس کے ساتھی ہوں۔ یہ شیطان کی طرف سے انسان سے انتقام ، ان کے باپ سے انتقام ہے ، اس نے آدم کو جنت سے نکالا لیکن تعجب ہے کہ ابن ادم اس کھلی دشمنی کے باوجود شیطان کی اطاعت قبول کرتا ہے۔ سورت کا اختتام وحی الہٰی کے مضمون پر ہوتا ہے۔ انسان کے لیے وحی الہٰی کی اہمیت بہت ہی عظیم ہے۔ جبکہ تکذیب کرنے والے غافل وحی الہٰی کی اہمیت کو سمجھ نہیں پا رہے۔ آیت نمبر 65 تا 66 ان مشرکین سے کہو ، جن پر تحریک کی وجہ سے دہشت طاری ہوگئی اور یہ لوگ حیران ہوکر کہتے ہیں۔ اجعل الالھة الٰھا واحدا۔۔۔۔ ان ھذالشیء عجاب (38: 5) ” کیا اس نے تمام الہوں کے بجائے ایک الہہ اختیار کرلیا ہے۔ ۔۔۔۔ یہ تو عجیب چیز ہے “۔ ان سے کہو کہ یہی تو حقیقت عظمی ہے۔ ومامن اله لا اللہ الواحد القھار (38: 65) ” کوئی معبود نہیں مگر اللہ جو یکتا سب پر غالب “۔ اور ان سے صاف صاف کہہ دیں کہ اختیارات میرے پاس نہیں ہیں۔ میرے ذمے جو کام ہے وہ صرف یہ ہے کہ میں لوگوں کو ڈراؤں اور اس سے بعد اللہ واحد اور قہار پر ان کا انجام چھوڑ دوں جو رب اسمٰوٰت والارض وما بینھما (38: 66) ” جو زمین و آسمان اور ان ساری چیزوں کا رب ہے جو ان کے درمیان ہیں “۔ لہٰذا اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے اور زمین و آسمان میں کسی کے لیے اس کے دربار کے سوا جائے پناہ نہیں ہے۔ وہ عزیز ہے ، قوی ہے ، اور وہ گناہوں کا بخشنے والا ، وہ درگزر فرمانے والا ہے۔ جو لوگ توبہ کرکے اس کی پناہ گاہ میں آتے ہیں وہ محفوظ ہوجاتے ہیں۔ اور اس کے تو بہت عظیم نتائج ، انقلابی نتائج نکلنے والے ہیں مگر تم غافل ہو۔

ص 38:66

درس نمبر 214 تشریح آیات یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور یہ ان مسائل کو دہراتا ہے جو اس سورت کے اغاز میں دہرائے گئے تھے۔ مسئلہ توحید ، مسئلہ وحی الہٰی ، مسئلہ جزاء وسزا ، حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصے کو ثبوت وحی کے لیے پیش کیا جاتا ہے کیونکہ رسولوں کا بھیجنا اس وقت طے ہوگیا تھا جب اللہ تخلیق آدم کے بارے میں فرشتوں کو بتارہا تھا۔ نیز اسی دن یہ طے ہوگیا تھا کہ ہدایت وضلالت کی راہ اختیار کرنے کا حساب اللہ لے ھا اور جزاء وسزا ہوگی ۔ اس قصے میں یہ بھی بتایا گیا ہے۔ انسان کے ساتھ شیطان کو روزازل سے حسد اور کینہ ہے اس نے روزاول سے اپنے آپ کو انسانی سے افضل سمجھا۔ یوں معرکہ آدم وابلیس شروع ہوا اور یہ معرکہ ہمیشہ جاری ہے اور قیامت تک یہ جنگ سرد نہیں پڑسکتی۔ کوئی فریق ہتھیار نہ ڈالے گا۔ شیطان کا ہدف یہ ہے کہ وہ انسانوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کردے تاکہ وہ ان کو جہنم رسید کردے اور یہ وہاں اس کے ساتھی ہوں۔ یہ شیطان کی طرف سے انسان سے انتقام ، ان کے باپ سے انتقام ہے ، اس نے آدم کو جنت سے نکالا لیکن تعجب ہے کہ ابن ادم اس کھلی دشمنی کے باوجود شیطان کی اطاعت قبول کرتا ہے۔ سورت کا اختتام وحی الہٰی کے مضمون پر ہوتا ہے۔ انسان کے لیے وحی الہٰی کی اہمیت بہت ہی عظیم ہے۔ جبکہ تکذیب کرنے والے غافل وحی الہٰی کی اہمیت کو سمجھ نہیں پا رہے۔ آیت نمبر 65 تا 66 ان مشرکین سے کہو ، جن پر تحریک کی وجہ سے دہشت طاری ہوگئی اور یہ لوگ حیران ہوکر کہتے ہیں۔ اجعل الالھة الٰھا واحدا۔۔۔۔ ان ھذالشیء عجاب (38: 5) ” کیا اس نے تمام الہوں کے بجائے ایک الہہ اختیار کرلیا ہے۔ ۔۔۔۔ یہ تو عجیب چیز ہے “۔ ان سے کہو کہ یہی تو حقیقت عظمی ہے۔ ومامن اله لا اللہ الواحد القھار (38: 65) ” کوئی معبود نہیں مگر اللہ جو یکتا سب پر غالب “۔ اور ان سے صاف صاف کہہ دیں کہ اختیارات میرے پاس نہیں ہیں۔ میرے ذمے جو کام ہے وہ صرف یہ ہے کہ میں لوگوں کو ڈراؤں اور اس سے بعد اللہ واحد اور قہار پر ان کا انجام چھوڑ دوں جو رب اسمٰوٰت والارض وما بینھما (38: 66) ” جو زمین و آسمان اور ان ساری چیزوں کا رب ہے جو ان کے درمیان ہیں “۔ لہٰذا اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے اور زمین و آسمان میں کسی کے لیے اس کے دربار کے سوا جائے پناہ نہیں ہے۔ وہ عزیز ہے ، قوی ہے ، اور وہ گناہوں کا بخشنے والا ، وہ درگزر فرمانے والا ہے۔ جو لوگ توبہ کرکے اس کی پناہ گاہ میں آتے ہیں وہ محفوظ ہوجاتے ہیں۔ اور اس کے تو بہت عظیم نتائج ، انقلابی نتائج نکلنے والے ہیں مگر تم غافل ہو۔

ص 38:67

آیت نمبر 67 تا 68 کہہ دو ' قرآن کریم اپنے موجودہ زمانے اور مستقبل قریب کی بہ نسبت آگے چل کر بہت ہی عظیم نتائج پیدا کرنے والا ہے۔ اس کائنات میں یہ امر الہٰی ہے۔ اور اس کا تعلق اس پوری کائنات کے عظیم معاملات میں سے ہے۔ یہ اس کائنات میں جاری وساری نظام قضاو قدر سے متعلق ہے۔ یہ قرآن اور اس کا نزول زمین و آسمانوں کے معاملات سے کوئی علیحدہ فیصلہ نہیں ہے۔ اس سے ماضی (ان سے کہو) ” مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہورہا تھا۔ بعید کے امور بھی متعلق ہیں اور مستقبل کی تبدیلیاں بھی اس کے نتیجے میں ہوں گی۔ یہ تو ایک عظیم شہ سرخی ہے۔ یہ عظیم خبر قریش سے بھی آگے بڑھنے والی ' یہ مدین اور جزیرۃ العرب سے بھی آگے پھیلنے والی ہے۔ یہ اس وقت کی موجود نسل سے بھی آگے آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک شہ سرخی ہے۔ یہ خبر زمان و مکان میں محدود رہنے والی نہیں ہے۔ یہ انسانیت کے مستقبل کے زمانوں میں اور تمام اقطار عالم میں انقلاب برپا کرنے والی خبر ہے۔ اور یہ انسانیت کے حالات اور مسائل کو اس وقت تک متاثر کرتی رہے گی جب تک قیامت برپا نہیں ہوجاتی ۔ نظام کائنات میں اس خبر کے لیے جو وقت مقرر تھا۔ یہ خبر بعینہ اپنے وقت پر نشر ہوئی تاکہ اس کے ذریعے دنیا کے اندر وہ تغیرات پیدا ہوں جو اللہ چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دست قدرت نے اس بناء عظیم کے ذریعے انسانیت کے سفر کے لیے جو راہ متعین کی ہے اور جس طرح انسانیت کو صراط مستقیم پر ڈالا ہے اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو وہ انقلابی تغیرات ثابت ہوں گے۔ ان لوگوں پر تو یہ اثرات ہوئے جو ماننے والے تھے لیکن اس سے وہ لوگ بھی متاثر ہوئے جو نہ ماننے والے تھے بلکہ جو مخالف تھے۔ نزول قرآن کے دور میں جانی والی نسلیں بھی اس سے متاثر ہوئیں اور بعد میں آنے والے بھی اس سے متاثر ہوئے۔ پوری انسانی تاریخ پر کسی بات ، کسی خبر نے اس قدر گہرے اثرات مرتب نہیں کیے ہیں جس طرح قرآن نے کیے۔ قرآن نے دنیا کو اعلیٰ اقدار اور برتر تصورات عطا کیے۔ اس دنیا کو ضابطہ اخلاق ، ضابطہ قانون اور بین الاقوامی قانون دیا۔ اور یہ قوانین اور انتظامات پوری انسانیت کے لیے تھے۔ ان اقدار اور ضابطہ عمل کے بارے میں عربوں نے تو سوچا ہی نہ تھا۔ عربوں نے کبھی یہ نہ سوچا تھا اور نہ سوچ سکتے تھے کہ اس عظیم خبر کے نتیجے میں روئے زمین پر اس قدر تغیرات واقع ہوں گے۔ تاریخ کا دھارا بدل جائے گا۔ اس زندگی کا نقشہ اللہ کی تقدیر کے مطابق بدل جائے گا۔ انسان کے ضمیرو شعور اور اس کے حالات میں انقلاب برپا ہوجائے گا۔ اور یہ تغیرات اس لائن پر ہوں گے جس پر یہ پوری جائنات چل رہی ہے اور یہ کہ یہ خبر دراصل اس سچائی کی خبر ہے جس کے اوپر یہ کائنات چل رہی ہے اور قیامت تک زندگی نے اب اس طرح چلنا ہے اور اس طرح اس بناء عظیم نے انسانوں کی قسمت کو بدلنا ہے۔ آج مسلمانوں کا ردعمل اس خبر پر وہی ہے جس طرح ابتداء میں عربوں کا تھا۔ وہ یہ نہ سمجھ پائے کہ اس خبر کا تعلق روح کائنات کے ساتھ ہے۔ آج مسلمان بھی یہ نہیں سمجھتے کہ یہ بناء عظیم اسی سچائی کی حامل ہے جس پر یہ کائنات قائم ہے۔ مسلمان اس کائنات پر اسکے اثرات کو اس طرح پیش نہیں کرتے ۔ جس طرح فی الواقع وہ اثرات مرتب ہوئے۔ انسانی تاریخ پر وہ قرآنی نظریہ اور قرآنی زاویہ سے نگاہ نہیں ڈالتے بلکہ وہ انسانی اور خود اپنی تاریخ اور اس عظیم خبر کو ان لوگوں کی عینک لگا کر پڑھتے ہیں جو اسے سرے سے درست ہی نہیں سمجھتے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس کرۂ ارض پر نہ اپنے ماضی کے کردار کو سمجھتے ہیں ، نہ اپنے حالیہ کردار کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور نہ مستقبل میں جو کردار انہوں نے ادا کرنا ہے اسکو سمجھے ہیں حالانکہ قیامت تک یہ کر ادار ادا کرنا ان کا فریضہ ہے۔ ابتدائی دور کے عرب یہ سمجھتے تھے کہ یہ معاملہ عربوں کا ہے ، قریش کا ہے اور محمد ﷺ کا ہے۔ اور صرف یہ ہے کہ عربوں سے محمد نامی شخص کو نبی چن لیا گیا حالانکہ ان کے خیال میں وہ کوئی بڑا آدمی نہ تھا۔ ان کے ارادے اور ان کی سوچ اس قدر محدود شکل میں تھی۔ قرآن کریم ان سے کہتا ہے کہ یہ کوئی میونسپل مسئلہ نہیں ہے ، یہ تو بہت ہی عظیم امر ہے۔ یہ محمد ابن عبد اللہ کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو صرف اس عظیم خبر کو نشر کرنے والے ہیں ۔ یہ خود اس کے موجد بھی نہیں ہیں۔ وہ صرف وہ بات کہہ رہے ہیں جس کے بارے میں ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اس عظیم خبر کا اعلان کردو۔ محمد کو کیا پتہ کہ آغاز میں اللہ نے تخلیق انسانیت کے بارے میں کیا مکالمہ کیا۔

ص 38:68

آیت نمبر 67 تا 68 کہہ دو ' قرآن کریم اپنے موجودہ زمانے اور مستقبل قریب کی بہ نسبت آگے چل کر بہت ہی عظیم نتائج پیدا کرنے والا ہے۔ اس کائنات میں یہ امر الہٰی ہے۔ اور اس کا تعلق اس پوری کائنات کے عظیم معاملات میں سے ہے۔ یہ اس کائنات میں جاری وساری نظام قضاو قدر سے متعلق ہے۔ یہ قرآن اور اس کا نزول زمین و آسمانوں کے معاملات سے کوئی علیحدہ فیصلہ نہیں ہے۔ اس سے ماضی (ان سے کہو) ” مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہورہا تھا۔ بعید کے امور بھی متعلق ہیں اور مستقبل کی تبدیلیاں بھی اس کے نتیجے میں ہوں گی۔ یہ تو ایک عظیم شہ سرخی ہے۔ یہ عظیم خبر قریش سے بھی آگے بڑھنے والی ' یہ مدین اور جزیرۃ العرب سے بھی آگے پھیلنے والی ہے۔ یہ اس وقت کی موجود نسل سے بھی آگے آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک شہ سرخی ہے۔ یہ خبر زمان و مکان میں محدود رہنے والی نہیں ہے۔ یہ انسانیت کے مستقبل کے زمانوں میں اور تمام اقطار عالم میں انقلاب برپا کرنے والی خبر ہے۔ اور یہ انسانیت کے حالات اور مسائل کو اس وقت تک متاثر کرتی رہے گی جب تک قیامت برپا نہیں ہوجاتی ۔ نظام کائنات میں اس خبر کے لیے جو وقت مقرر تھا۔ یہ خبر بعینہ اپنے وقت پر نشر ہوئی تاکہ اس کے ذریعے دنیا کے اندر وہ تغیرات پیدا ہوں جو اللہ چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دست قدرت نے اس بناء عظیم کے ذریعے انسانیت کے سفر کے لیے جو راہ متعین کی ہے اور جس طرح انسانیت کو صراط مستقیم پر ڈالا ہے اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو وہ انقلابی تغیرات ثابت ہوں گے۔ ان لوگوں پر تو یہ اثرات ہوئے جو ماننے والے تھے لیکن اس سے وہ لوگ بھی متاثر ہوئے جو نہ ماننے والے تھے بلکہ جو مخالف تھے۔ نزول قرآن کے دور میں جانی والی نسلیں بھی اس سے متاثر ہوئیں اور بعد میں آنے والے بھی اس سے متاثر ہوئے۔ پوری انسانی تاریخ پر کسی بات ، کسی خبر نے اس قدر گہرے اثرات مرتب نہیں کیے ہیں جس طرح قرآن نے کیے۔ قرآن نے دنیا کو اعلیٰ اقدار اور برتر تصورات عطا کیے۔ اس دنیا کو ضابطہ اخلاق ، ضابطہ قانون اور بین الاقوامی قانون دیا۔ اور یہ قوانین اور انتظامات پوری انسانیت کے لیے تھے۔ ان اقدار اور ضابطہ عمل کے بارے میں عربوں نے تو سوچا ہی نہ تھا۔ عربوں نے کبھی یہ نہ سوچا تھا اور نہ سوچ سکتے تھے کہ اس عظیم خبر کے نتیجے میں روئے زمین پر اس قدر تغیرات واقع ہوں گے۔ تاریخ کا دھارا بدل جائے گا۔ اس زندگی کا نقشہ اللہ کی تقدیر کے مطابق بدل جائے گا۔ انسان کے ضمیرو شعور اور اس کے حالات میں انقلاب برپا ہوجائے گا۔ اور یہ تغیرات اس لائن پر ہوں گے جس پر یہ پوری جائنات چل رہی ہے اور یہ کہ یہ خبر دراصل اس سچائی کی خبر ہے جس کے اوپر یہ کائنات چل رہی ہے اور قیامت تک زندگی نے اب اس طرح چلنا ہے اور اس طرح اس بناء عظیم نے انسانوں کی قسمت کو بدلنا ہے۔ آج مسلمانوں کا ردعمل اس خبر پر وہی ہے جس طرح ابتداء میں عربوں کا تھا۔ وہ یہ نہ سمجھ پائے کہ اس خبر کا تعلق روح کائنات کے ساتھ ہے۔ آج مسلمان بھی یہ نہیں سمجھتے کہ یہ بناء عظیم اسی سچائی کی حامل ہے جس پر یہ کائنات قائم ہے۔ مسلمان اس کائنات پر اسکے اثرات کو اس طرح پیش نہیں کرتے ۔ جس طرح فی الواقع وہ اثرات مرتب ہوئے۔ انسانی تاریخ پر وہ قرآنی نظریہ اور قرآنی زاویہ سے نگاہ نہیں ڈالتے بلکہ وہ انسانی اور خود اپنی تاریخ اور اس عظیم خبر کو ان لوگوں کی عینک لگا کر پڑھتے ہیں جو اسے سرے سے درست ہی نہیں سمجھتے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس کرۂ ارض پر نہ اپنے ماضی کے کردار کو سمجھتے ہیں ، نہ اپنے حالیہ کردار کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور نہ مستقبل میں جو کردار انہوں نے ادا کرنا ہے اسکو سمجھے ہیں حالانکہ قیامت تک یہ کر ادار ادا کرنا ان کا فریضہ ہے۔ ابتدائی دور کے عرب یہ سمجھتے تھے کہ یہ معاملہ عربوں کا ہے ، قریش کا ہے اور محمد ﷺ کا ہے۔ اور صرف یہ ہے کہ عربوں سے محمد نامی شخص کو نبی چن لیا گیا حالانکہ ان کے خیال میں وہ کوئی بڑا آدمی نہ تھا۔ ان کے ارادے اور ان کی سوچ اس قدر محدود شکل میں تھی۔ قرآن کریم ان سے کہتا ہے کہ یہ کوئی میونسپل مسئلہ نہیں ہے ، یہ تو بہت ہی عظیم امر ہے۔ یہ محمد ابن عبد اللہ کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو صرف اس عظیم خبر کو نشر کرنے والے ہیں ۔ یہ خود اس کے موجد بھی نہیں ہیں۔ وہ صرف وہ بات کہہ رہے ہیں جس کے بارے میں ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اس عظیم خبر کا اعلان کردو۔ محمد کو کیا پتہ کہ آغاز میں اللہ نے تخلیق انسانیت کے بارے میں کیا مکالمہ کیا۔

ص 38:69

آیت نمبر 69 تا 70 یہاں پھر قصہ انسانیت شروع ہوتا ہے کہ اس بناء عظیم میں انسان کا کیا مقام ہے ۔ اس وقت عالم بالا میں وہ مکالمہ ہوا جس سے انسانی تاریخ کی لائن متعین ہوتی ہے۔ اور انسانی قدریں متعین ہوتی ہیں اور اسی نظریہ اور فلسفہ کی تبلیغ کے لیے حضرت محمد ﷺ بھیجے گئے ہیں۔

ص 38:70

آیت نمبر 69 تا 70 یہاں پھر قصہ انسانیت شروع ہوتا ہے کہ اس بناء عظیم میں انسان کا کیا مقام ہے ۔ اس وقت عالم بالا میں وہ مکالمہ ہوا جس سے انسانی تاریخ کی لائن متعین ہوتی ہے۔ اور انسانی قدریں متعین ہوتی ہیں اور اسی نظریہ اور فلسفہ کی تبلیغ کے لیے حضرت محمد ﷺ بھیجے گئے ہیں۔

ص 38:71

آیت نمبر 71 تا 72 ہمیں اس کا علم نہیں ہے کہ مکالمہ کس انداز میں ہوا ۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی فرشتوں کے ساتھ مکالمے کی کیفیت کیا ہے اور یہ بھی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ فرشتے اللہ سے ہدایات کس طرح اخذ کرتے ہیں۔ نہ ہم فرشتوں کی حقیقت سے باخبر ہوں ۔ نہ ہمیں ان مسائل میں الجھنے کی ضرورت لاحق ہے اور نہ کوئی فائدہ متوقع ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس قصے کا جو مطلب ہے اور اس کے اندر جو فلسفہ ہے اس پر بات کریں۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ جس طرح زمین کی تمام ذی روح چیزوں کو مٹی سے بنایا۔ تمام زندہ مخلوقات کے عناصر ترکیبی مٹی میں موجود ہیں۔ صرف ایک چیز ابھی تک راز ہے کہ روح اور حیات اس کے اندر کہاں سے آئی اور کس طرح آئی۔ اس راز کے سوا انسان کی ذات کے تمام مٹی سے ہیں۔ اور انسان دوسرے حیوانوں کے مقابلے میں انسان قرار پایا۔ وہ اسی روح کی وجہ سے جو اللہ نے اس کی ذات کے اندر پھونکا۔ انسان کی ماں یہ زمین ہے۔ زمین کے عناصر سے اس کی تخلیق ہوئی ہے اور جب اس سے روح جدا ہوتی ہے تو وہ پھر مٹی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جب اس کے جسد خاکی سے روح نکلتی ہے تو اس سے اس کے آثار علوی نکل جاتے ہیں۔ روح کی پھونک کی کیا حقیقت ہے ' اس کی اہلیت سے ہم بیخبر ہیں ' البتہ روح کے آثار ہمارے علم میں ہیں۔ یہ روحانی آثار ہیں جن کی بنا پر یہ حضرت انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوتا ہے اور اس روح ہی کی وجہ سے وہ روحانی اور عقلی ارتقاء کرتا ہے ۔ یہ روح ہی ہے جس کی وجہ سے انسان ماضی سے تجربات حاصل کرتا ہے۔ اور مستقبل کے لیے راہ عمل متعین کرتا ہے۔ اس طرح انسانی عقل حواس کے مدرکات اور عقل کے مدرکات سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ اور اسے وہ روحانی معلومات حاصل ہوتی جو حواس اور عقل کے دائرے سے وراء ہیں۔ عقل اور روحانی ارتقاء انسان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس زمین پر زندہ ہونے والے تمام دوسرے ذی حیات انسان کے ساتھ اس خاصہ میں شریک نہیں ہیں۔ جب سے انسان پیدا ہوا ہے اس کے ساتھ دوسرے حیوانات بھی پیدا ہوئے۔ لیکن انسان اور زمین کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حیوانات میں سے کوئی حیوان عقل اور روح کے اعتبار سے انسان جیسی ترقی کر گیا ہو۔ اگر ہم عضویاتی ارتقاء کو تسلیم بھی کرلیں لیکن عقلی ارتقاء کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اللہ نے اس بشری مخلوق میں اپنی روح پھونکی ہے۔ کیونکہ اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ حضرت انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ ہو اور اس خلافت اور نیابت کی رو سے زمین کے اختیارات اپنے حدودقدرت کی حد تک سنبھال لے۔ یعنی اس کی تعمیر کرے۔ اس کے اندر پوشیدہ قوتوں کو اپنے کام میں لائے اور یہاں خدا کی منشاء کو پورا کرے۔ اللہ نے انسان کو ترقی اور حصول علم دی اور اپنے روز آفرینش سے وہ ترقی کررہا ہے بشرطیکہ وہ اس روح کے منبع سے جڑا رہے یعنی ذات باری سے۔ اور ذات باری سے وہ صراط مستقیم کی طرف گامزن ہونے کی ہدات لیتا رہے لیکن اگر وہ عالم بالا کی ہدایات سے منحرف ہوجائے تو پھر انسان کی ذات میں ترقی اور آگاہی کا جو تموج ہے وہ متوازن نہیں رہتا ۔ اور اس کی سمت بھی درست نہیں رہتی۔ اور بعض اوقات انسان آگے بڑھنے کے بجائے ترقی معکوس کرتا ہے اور یہ تموج پھر اس کی ذاتی اور انسانی سلامتی کے لیے خطرناک صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اگر وہ انسانی خصوصیات میں رفعت قہقری اختیار کرلے تو حقیقی ارتقاء کے بجائے وہ زوال کی راہ پر پڑجاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر اس کے علوم وفنون زیادہ ہوگئے ہوں۔ وہ تجربات میں بہت آگے جاچکا ہو اور زندگی کے بعض پہلوؤں کے اعتبار سے ترقی کر گیا ہو۔ یہ انسان ! نہایت ہی جھوٹا انسان ' کائنات کے ان عظیم اور ہولناک اجسام وکرات کی بہ نسبت ! یہ انسان ! جس کی قوتیں نہایت محدود ہیں جس کا عمل بہت قصیر ہے۔ جس کا علم بہت ہی محدود ہے۔ یہ انسان اس قدر عظمت و کرامت حاصل ہی نہ کرسکتا تھا۔ اگر اللہ نے اس میں اپنی روح نہ پھونکی ہوتی اور اس پر اللہ کا یہ مخصوص کرم نہ ہوا ہوتا۔ ذرا سوچو ' اس انسان کی حیثیت ہی کیا ہے۔ یہ تو اس کائنات کے اندر ایک نہایت ہی چھوٹا سا کیڑا ہے اور یہ لاتعدولا نحصی دوسرے زندہ کیڑوں ، مکوڑوں اور پرندوں اور چرندوں کے ساتھ یہاں رہتا ہے اور یہ زمین کیا ہے ، یہ کسی ایک نظام شمسی میں چھوٹی سی گیند ہے اور اس قسم کی کئی بلین گیندیں اس کائنات میں تیرتی پھرتی ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کا آغاز کہاں سے ہے اور انتہا کہاں پر ہے ' یہ انسان ! اس انسان کو فرشتے سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے فرشتے ' یہ محض اس نفح روح کی وجہ سے ہے جو نہایت ہی گہراراز ہے اور عظیم راز ہے۔ اس راز ہی کی وجہ سے یہ انسان زمانہ قدیم سے محض حیوان رذیل نہیں ہے۔ اگر اس سے یہ روح اور روحانیات کو منفی کردیا جائے تو یہ ایک حقیر مٹی کا ٹکڑا ہے۔ ملائکہ نے بہرحال امرالہٰی کی تعمیل کی۔

ص 38:72

آیت نمبر 71 تا 72 ہمیں اس کا علم نہیں ہے کہ مکالمہ کس انداز میں ہوا ۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی فرشتوں کے ساتھ مکالمے کی کیفیت کیا ہے اور یہ بھی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ فرشتے اللہ سے ہدایات کس طرح اخذ کرتے ہیں۔ نہ ہم فرشتوں کی حقیقت سے باخبر ہوں ۔ نہ ہمیں ان مسائل میں الجھنے کی ضرورت لاحق ہے اور نہ کوئی فائدہ متوقع ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس قصے کا جو مطلب ہے اور اس کے اندر جو فلسفہ ہے اس پر بات کریں۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ جس طرح زمین کی تمام ذی روح چیزوں کو مٹی سے بنایا۔ تمام زندہ مخلوقات کے عناصر ترکیبی مٹی میں موجود ہیں۔ صرف ایک چیز ابھی تک راز ہے کہ روح اور حیات اس کے اندر کہاں سے آئی اور کس طرح آئی۔ اس راز کے سوا انسان کی ذات کے تمام مٹی سے ہیں۔ اور انسان دوسرے حیوانوں کے مقابلے میں انسان قرار پایا۔ وہ اسی روح کی وجہ سے جو اللہ نے اس کی ذات کے اندر پھونکا۔ انسان کی ماں یہ زمین ہے۔ زمین کے عناصر سے اس کی تخلیق ہوئی ہے اور جب اس سے روح جدا ہوتی ہے تو وہ پھر مٹی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جب اس کے جسد خاکی سے روح نکلتی ہے تو اس سے اس کے آثار علوی نکل جاتے ہیں۔ روح کی پھونک کی کیا حقیقت ہے ' اس کی اہلیت سے ہم بیخبر ہیں ' البتہ روح کے آثار ہمارے علم میں ہیں۔ یہ روحانی آثار ہیں جن کی بنا پر یہ حضرت انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوتا ہے اور اس روح ہی کی وجہ سے وہ روحانی اور عقلی ارتقاء کرتا ہے ۔ یہ روح ہی ہے جس کی وجہ سے انسان ماضی سے تجربات حاصل کرتا ہے۔ اور مستقبل کے لیے راہ عمل متعین کرتا ہے۔ اس طرح انسانی عقل حواس کے مدرکات اور عقل کے مدرکات سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ اور اسے وہ روحانی معلومات حاصل ہوتی جو حواس اور عقل کے دائرے سے وراء ہیں۔ عقل اور روحانی ارتقاء انسان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس زمین پر زندہ ہونے والے تمام دوسرے ذی حیات انسان کے ساتھ اس خاصہ میں شریک نہیں ہیں۔ جب سے انسان پیدا ہوا ہے اس کے ساتھ دوسرے حیوانات بھی پیدا ہوئے۔ لیکن انسان اور زمین کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حیوانات میں سے کوئی حیوان عقل اور روح کے اعتبار سے انسان جیسی ترقی کر گیا ہو۔ اگر ہم عضویاتی ارتقاء کو تسلیم بھی کرلیں لیکن عقلی ارتقاء کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اللہ نے اس بشری مخلوق میں اپنی روح پھونکی ہے۔ کیونکہ اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ حضرت انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ ہو اور اس خلافت اور نیابت کی رو سے زمین کے اختیارات اپنے حدودقدرت کی حد تک سنبھال لے۔ یعنی اس کی تعمیر کرے۔ اس کے اندر پوشیدہ قوتوں کو اپنے کام میں لائے اور یہاں خدا کی منشاء کو پورا کرے۔ اللہ نے انسان کو ترقی اور حصول علم دی اور اپنے روز آفرینش سے وہ ترقی کررہا ہے بشرطیکہ وہ اس روح کے منبع سے جڑا رہے یعنی ذات باری سے۔ اور ذات باری سے وہ صراط مستقیم کی طرف گامزن ہونے کی ہدات لیتا رہے لیکن اگر وہ عالم بالا کی ہدایات سے منحرف ہوجائے تو پھر انسان کی ذات میں ترقی اور آگاہی کا جو تموج ہے وہ متوازن نہیں رہتا ۔ اور اس کی سمت بھی درست نہیں رہتی۔ اور بعض اوقات انسان آگے بڑھنے کے بجائے ترقی معکوس کرتا ہے اور یہ تموج پھر اس کی ذاتی اور انسانی سلامتی کے لیے خطرناک صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اگر وہ انسانی خصوصیات میں رفعت قہقری اختیار کرلے تو حقیقی ارتقاء کے بجائے وہ زوال کی راہ پر پڑجاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر اس کے علوم وفنون زیادہ ہوگئے ہوں۔ وہ تجربات میں بہت آگے جاچکا ہو اور زندگی کے بعض پہلوؤں کے اعتبار سے ترقی کر گیا ہو۔ یہ انسان ! نہایت ہی جھوٹا انسان ' کائنات کے ان عظیم اور ہولناک اجسام وکرات کی بہ نسبت ! یہ انسان ! جس کی قوتیں نہایت محدود ہیں جس کا عمل بہت قصیر ہے۔ جس کا علم بہت ہی محدود ہے۔ یہ انسان اس قدر عظمت و کرامت حاصل ہی نہ کرسکتا تھا۔ اگر اللہ نے اس میں اپنی روح نہ پھونکی ہوتی اور اس پر اللہ کا یہ مخصوص کرم نہ ہوا ہوتا۔ ذرا سوچو ' اس انسان کی حیثیت ہی کیا ہے۔ یہ تو اس کائنات کے اندر ایک نہایت ہی چھوٹا سا کیڑا ہے اور یہ لاتعدولا نحصی دوسرے زندہ کیڑوں ، مکوڑوں اور پرندوں اور چرندوں کے ساتھ یہاں رہتا ہے اور یہ زمین کیا ہے ، یہ کسی ایک نظام شمسی میں چھوٹی سی گیند ہے اور اس قسم کی کئی بلین گیندیں اس کائنات میں تیرتی پھرتی ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کا آغاز کہاں سے ہے اور انتہا کہاں پر ہے ' یہ انسان ! اس انسان کو فرشتے سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے فرشتے ' یہ محض اس نفح روح کی وجہ سے ہے جو نہایت ہی گہراراز ہے اور عظیم راز ہے۔ اس راز ہی کی وجہ سے یہ انسان زمانہ قدیم سے محض حیوان رذیل نہیں ہے۔ اگر اس سے یہ روح اور روحانیات کو منفی کردیا جائے تو یہ ایک حقیر مٹی کا ٹکڑا ہے۔ ملائکہ نے بہرحال امرالہٰی کی تعمیل کی۔

ص 38:73

آیت نمبر 73 کس طرح سجدہ کیا ۔ کہاں کیا ' کب کیا ؟ یہ سب اللہ کے علوم غسیہ سے ہیں۔ اگر یہ معلومات اللہ فراہم ہی کردیتا تو اس سے اس قصے کے مفہوم اور مطلب میں کسی چیز کا اضافہ نہ ہوتا ۔ قصے کا مقصد یہ ہے کہ مٹی سے بنایا ہوا یہ حضرت انسان جو دوسرے حیوانات کی طرح ہے کس طرح مکرم اور مسجود ملائک بن گیا۔ یوں کہ اسے نفح ربانی کی وجہ سے یہ برتری حاصل ہوئی۔ اس کی روح اور روحانیت کی وجہ سے نہ جسم اور جسمانیات کی وجہ سے۔ ملائکہ نے ازراہ امر الہٰی سجدہ کرلیا۔ وہ اس کی حکمت کو پاگئے تھے ۔ کیونکہ اللہ ان کو سکھا گیا تھا۔

ص 38:74

آیت نمبر 74 کیا ابلیس فرشتوں میں سے تھا ؟ ظاہر یہ ہے کہ نہ تھا۔ کیونکہ اگر یہ فرشتوں میں سے ہوتا تو معصیت کیسے کرتا اس لیے کہ فرشتے تو اللہ کے اوامر سے معصیت نہیں کرتے اور ان کو جو بھی حکم دیا جاتا ہے۔ اسے وہ کر گزرتے ہیں۔ آئندہ یہ بات آئے گی یہ آگ سے پیدا شدہ مخلوق ہے۔ اور یہ بات معقول ہے کہ فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن وہ فرشتوں میں رہتا تھا۔ اور اسے بھی حکم دیا گیا تھا کہ سجدہ کرو۔ اور حکم دیتے وقت صرف فرشتوں کا تذکرہ ہوا۔ اور اس کا تذکرہ نہ ہوا یعنی ” یہ نہیں کہا اے فرشتو اور شیطان سجدہ کرو “۔ اس لیے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ نافرمانی کرے گا لہٰذا اسے نظر انداز کرنے کے لیے ایسا کیا گیا۔ ہمیں تب معلوم ہوا کہ شیطان کو بھی سجدے کا حکم دیا گیا تھا جب اس پر عتاب نازل ہوا۔

ص 38:75

آیت نمبر 75 میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ؟ اللہ تو سب مخلوقات کا خالق ہے۔ لہٰذا انسان کی تخلیق میں کوئی امتیازی بات ہے ' اس لیے یہاں اللہ نے اپنے دست قدرت کا ذکر کیا ۔ وہ خصوصیت یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے اس مخلوق پر مخصوص عنایات کی ہیں ، اس میں اپنی مخصوص روح پھونکی ہے اور اس پر بہت کچھ عنایات کی ہیں۔ تو نے میرے حکم کے مقابلے میں سرکشی کی ہے یا تو کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے ہے۔ (ام کنت من العالین (38: 75) یعنی ان لوگوں میں سے ہے جو میری بغاوت پر تلے ہوئے ہوتے ہیں۔

ص 38:76

آیت نمبر 76 اس جواب سے حسد ٹپکا پڑتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ جسد آدم میں مٹی کے عنصر سے جو زائد عنصر ہے ، شیطان اس سے غافل تھا۔ یہ وہی عنصر تھا یعنی روح ربانی جو اس عزت افزائی کا مستحق تھا۔ بہرحال یہ اس ذات کی جانب سے ایک کورا جواب ہے جو اس منظر میں ہر قسم کی خبر اور بھلائی سے محروم ہوتی ہے۔ چناچہ بارگاہ رب العزت سے حکم نامہ جاری ہوا اور اس قبیح ذات کو دربار عالیہ سے نکال دیا گیا۔

ص 38:77

آیت نمبر 77 تا 78 یہ واضح نہیں ہے کہ منہا کی ضمیر کس طرف عائد ہوتی ہے۔ کیا یہ جنت کی طرف راجع ہے اور یہ خبیث جنت میں تھا۔ یا اس کا مرجع رحمت الہیہ ہے۔ دونوں کی طرف یہ ضمیر راجع ہوسکتی ہے۔ اس پر کسی مباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔ غرض شیطان راندۂ درگاہ ہوگیا اس پر اللہ کی لعنت ہوئی اور غضب ہوا کیوں ؟ اس لیے کہ اس نے امرالہٰی کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں جرات اور جسارت کا مظاہرہ کیا۔

ص 38:78

آیت نمبر 77 تا 78 یہ واضح نہیں ہے کہ منہا کی ضمیر کس طرف عائد ہوتی ہے۔ کیا یہ جنت کی طرف راجع ہے اور یہ خبیث جنت میں تھا۔ یا اس کا مرجع رحمت الہیہ ہے۔ دونوں کی طرف یہ ضمیر راجع ہوسکتی ہے۔ اس پر کسی مباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔ غرض شیطان راندۂ درگاہ ہوگیا اس پر اللہ کی لعنت ہوئی اور غضب ہوا کیوں ؟ اس لیے کہ اس نے امرالہٰی کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں جرات اور جسارت کا مظاہرہ کیا۔

ص 38:79

آیت نمبر 79 اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں تھا کہ اس کی دوخواست منظور کرلی اور اسے قیامت تک فرصت و مہلت دے دی جائے۔

ص 38:80

آیت نمبر 80 تا 81 شیطان نے اپنے مقاصد صاف صاف بتا دیئے کہ اپنی کینہ پروری وہ ان مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔

ص 38:81

آیت نمبر 80 تا 81 شیطان نے اپنے مقاصد صاف صاف بتا دیئے کہ اپنی کینہ پروری وہ ان مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔

ص 38:82

آیت نمبر 82 تا 83 اس نے اپنا منہاج کار بھی متعین کردیا ، وہ اللہ کی عزت کی قسم اٹھا کر اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ میں ان تمام انسانوں کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ ہاں وہ صرف ان لوگون کو مستثنیٰ کرتا ہے جن پر اس کا بس نہیں چلتا۔ اس لیے نہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ وہ کچھ مہربانی کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے دام میں آنے والے نہیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ شیطان کی دست درازیوں سے محفوظ ہیں۔ ان کے اور شیطان کے درمیان کیا پردہ ہوتا ہے ؟ وہ یہ کہ بندہ اللہ کی بندگی اخلاص کے ساتھ کرے تو وہ شیطان کی دسترس سے دور ہوجاتا ہے۔ یہی طریق نجات ہے اور یہی زندگی کی مضبوط رسی ہے۔ اور یہ بھی اللہ کے ارادے اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اللہ کی مشیت کے دائرہ کے اندر ہلاکت یا نجات ملتی ہے۔ اس موقع پر اللہ نے بھی اپنے ارادے کا برملا اظہار کردیا اور اللہ نے بھی اپنے منہاج کا اعلان کردیا ۔

ص 38:83

آیت نمبر 82 تا 83 اس نے اپنا منہاج کار بھی متعین کردیا ، وہ اللہ کی عزت کی قسم اٹھا کر اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ میں ان تمام انسانوں کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ ہاں وہ صرف ان لوگون کو مستثنیٰ کرتا ہے جن پر اس کا بس نہیں چلتا۔ اس لیے نہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ وہ کچھ مہربانی کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے دام میں آنے والے نہیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ شیطان کی دست درازیوں سے محفوظ ہیں۔ ان کے اور شیطان کے درمیان کیا پردہ ہوتا ہے ؟ وہ یہ کہ بندہ اللہ کی بندگی اخلاص کے ساتھ کرے تو وہ شیطان کی دسترس سے دور ہوجاتا ہے۔ یہی طریق نجات ہے اور یہی زندگی کی مضبوط رسی ہے۔ اور یہ بھی اللہ کے ارادے اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اللہ کی مشیت کے دائرہ کے اندر ہلاکت یا نجات ملتی ہے۔ اس موقع پر اللہ نے بھی اپنے ارادے کا برملا اظہار کردیا اور اللہ نے بھی اپنے منہاج کا اعلان کردیا ۔

ص 38:84

آیت نمبر 74 تا 75 اللہ حق بات کہتا ہے اور ہمیشہ حق بات کہتا ہے۔ اس بات کی طرف اس سورت میں مختلف اسالیب میں اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ دو فریق مقدمہ جو دیوار پھلانگ کر داؤد (علیہ السلام) کے پاس برائے فیصلہ پہنچ گئے تھے وہ کہتے ہیں۔ فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط (38: 22) ” ہمارے درمیان حق پر مبنی فیصلہ کرو اور بےانصافی نہ کرو “۔ اللہ اپنے بندے داؤد کو کہتا ہے۔ فاحکم بین الناس بالحق ولاتتبع الھوٰی (38: 26) ” لوگوں کے درمیان حق پر مبنی فیصلہ کرو اور اپنی خواہش کی پیروی نہ کرو “۔ اس کے بعد زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ تخلیق حق پر ہوئی ہے۔ وما خلقنا۔۔۔۔ کفروا (38: 27) ” اور ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل طور پر پیدا نہیں کیا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا “۔ اس کے حق کا تذکرہ اللہ قوی اور عزیز کی زبان پر ہوتا ہے۔ فالحق والحق اقول (38: 84) ” تو حق یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں “۔ لاملئن۔۔۔۔ اجمعین (38: 85) ” کہ میں جہنم کو تجھ سے اور ان لوگوں سے پھر دوں گا جو ان انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے “۔ یہ ہے معرکہ انسانوں یعنی بنی آدم اور شیطان کے درمیان ۔ یہ معرکہ باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق ہے۔ اور اللہ نے بھی ان کو ان کا انجام نہایت ہی واضح الفاظ میں بتادیا۔ اور اس وضاحت کے بعد اب لوگ جو راہ اختیار کریں وہ خود ذمہ دار ہوں گے ۔ اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ لوگوں کو بیخبر ی میں نہ پکڑا جائے۔ نہ جہالت میں رکھ کر پکڑلیا جائے۔ اس لیے اللہ نے انبیائے منذرین ان کے پاس بھیجے۔ سبق کے آخر اور سورت کے اختتام پر رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو آخری بات صاف طور پر کہہ دی جائے۔

ص 38:85

آیت نمبر 74 تا 75 اللہ حق بات کہتا ہے اور ہمیشہ حق بات کہتا ہے۔ اس بات کی طرف اس سورت میں مختلف اسالیب میں اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ دو فریق مقدمہ جو دیوار پھلانگ کر داؤد (علیہ السلام) کے پاس برائے فیصلہ پہنچ گئے تھے وہ کہتے ہیں۔ فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط (38: 22) ” ہمارے درمیان حق پر مبنی فیصلہ کرو اور بےانصافی نہ کرو “۔ اللہ اپنے بندے داؤد کو کہتا ہے۔ فاحکم بین الناس بالحق ولاتتبع الھوٰی (38: 26) ” لوگوں کے درمیان حق پر مبنی فیصلہ کرو اور اپنی خواہش کی پیروی نہ کرو “۔ اس کے بعد زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ تخلیق حق پر ہوئی ہے۔ وما خلقنا۔۔۔۔ کفروا (38: 27) ” اور ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل طور پر پیدا نہیں کیا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا “۔ اس کے حق کا تذکرہ اللہ قوی اور عزیز کی زبان پر ہوتا ہے۔ فالحق والحق اقول (38: 84) ” تو حق یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں “۔ لاملئن۔۔۔۔ اجمعین (38: 85) ” کہ میں جہنم کو تجھ سے اور ان لوگوں سے پھر دوں گا جو ان انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے “۔ یہ ہے معرکہ انسانوں یعنی بنی آدم اور شیطان کے درمیان ۔ یہ معرکہ باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق ہے۔ اور اللہ نے بھی ان کو ان کا انجام نہایت ہی واضح الفاظ میں بتادیا۔ اور اس وضاحت کے بعد اب لوگ جو راہ اختیار کریں وہ خود ذمہ دار ہوں گے ۔ اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ لوگوں کو بیخبر ی میں نہ پکڑا جائے۔ نہ جہالت میں رکھ کر پکڑلیا جائے۔ اس لیے اللہ نے انبیائے منذرین ان کے پاس بھیجے۔ سبق کے آخر اور سورت کے اختتام پر رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو آخری بات صاف طور پر کہہ دی جائے۔

ص 38:86

آیت نمبر 86 تا 88 یہ تو خاص نجات کی دعوت ہے۔ انجام بتادیا گیا اور اس سے خوب ڈرا بھی دیا گیا۔ یہ ایسی مخلصانہ دعوت ہے کہ داعی کسی اجر و انعام کا طلبگار نہیں ہے۔ یہ داعی سلیم الفطرت ہے۔ وہ عام لوگوں کی زبان میں بات کرتا ہے۔ کوئی تکلیف اور کوئی بناوٹ اس کی بات میں نہیں ہے۔ وہ وہی باتیں کرتا ہے جو اسے فطرت کی منطق سکھاتی ہے اور جو قریب الفہم ہے اور یہ ان لوگوں کو لیے یاددہانی ہے ، جو اپنی غفلت کی وجہ سے اس وعظ ونصیحت کو بھول چکے ہیں اور یہ تو وہ عظیم خبر اور شہ سرخی ہے جس کے نتائج عنقریب وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ لیکن بہت ہی تھوڑی دیر کے بعد ۔ یہ پورے کرۂ ارض کی عالمی خبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کے چند سال بعد ہی ان لوگوں نے اس کے نتائج دیکھ لیئے ۔ اور قیامت میں بھی اس کے نتائج دیکھ لیں گے کہ انسانوں اور جنوں سے جہنم کو بھر دیا جائے گا۔ لاملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین (38: 85) ” میں ضرور جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ان انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے “۔ یہ اس سورت کا خاتمہ ہے اور یہ اس سورت کے افتتاحی کلام اور اس کے موضوعات ومسائل سے ہم آہنگ ہے ، جن کے بارے میں اس سورت میں بحث کی گئی ہے۔ یہ ایک آخری اور گہری ضرب ہے۔ اور اس کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ اسلامی انقلاب کی اس تحریک کی خبریں مستقبل میں کیا ہوں گی ولتعلمن بناہ بعد حین (38: 88) ” تھوڑے ہی وقت کے بعد تم اس کی خبر پالوگے “۔ صدق اللہ العظیم

ص 38:87

آیت نمبر 86 تا 88 یہ تو خاص نجات کی دعوت ہے۔ انجام بتادیا گیا اور اس سے خوب ڈرا بھی دیا گیا۔ یہ ایسی مخلصانہ دعوت ہے کہ داعی کسی اجر و انعام کا طلبگار نہیں ہے۔ یہ داعی سلیم الفطرت ہے۔ وہ عام لوگوں کی زبان میں بات کرتا ہے۔ کوئی تکلیف اور کوئی بناوٹ اس کی بات میں نہیں ہے۔ وہ وہی باتیں کرتا ہے جو اسے فطرت کی منطق سکھاتی ہے اور جو قریب الفہم ہے اور یہ ان لوگوں کو لیے یاددہانی ہے ، جو اپنی غفلت کی وجہ سے اس وعظ ونصیحت کو بھول چکے ہیں اور یہ تو وہ عظیم خبر اور شہ سرخی ہے جس کے نتائج عنقریب وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ لیکن بہت ہی تھوڑی دیر کے بعد ۔ یہ پورے کرۂ ارض کی عالمی خبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کے چند سال بعد ہی ان لوگوں نے اس کے نتائج دیکھ لیئے ۔ اور قیامت میں بھی اس کے نتائج دیکھ لیں گے کہ انسانوں اور جنوں سے جہنم کو بھر دیا جائے گا۔ لاملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین (38: 85) ” میں ضرور جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ان انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے “۔ یہ اس سورت کا خاتمہ ہے اور یہ اس سورت کے افتتاحی کلام اور اس کے موضوعات ومسائل سے ہم آہنگ ہے ، جن کے بارے میں اس سورت میں بحث کی گئی ہے۔ یہ ایک آخری اور گہری ضرب ہے۔ اور اس کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ اسلامی انقلاب کی اس تحریک کی خبریں مستقبل میں کیا ہوں گی ولتعلمن بناہ بعد حین (38: 88) ” تھوڑے ہی وقت کے بعد تم اس کی خبر پالوگے “۔ صدق اللہ العظیم

ص 38:88

آیت نمبر 86 تا 88 یہ تو خاص نجات کی دعوت ہے۔ انجام بتادیا گیا اور اس سے خوب ڈرا بھی دیا گیا۔ یہ ایسی مخلصانہ دعوت ہے کہ داعی کسی اجر و انعام کا طلبگار نہیں ہے۔ یہ داعی سلیم الفطرت ہے۔ وہ عام لوگوں کی زبان میں بات کرتا ہے۔ کوئی تکلیف اور کوئی بناوٹ اس کی بات میں نہیں ہے۔ وہ وہی باتیں کرتا ہے جو اسے فطرت کی منطق سکھاتی ہے اور جو قریب الفہم ہے اور یہ ان لوگوں کو لیے یاددہانی ہے ، جو اپنی غفلت کی وجہ سے اس وعظ ونصیحت کو بھول چکے ہیں اور یہ تو وہ عظیم خبر اور شہ سرخی ہے جس کے نتائج عنقریب وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ لیکن بہت ہی تھوڑی دیر کے بعد ۔ یہ پورے کرۂ ارض کی عالمی خبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کے چند سال بعد ہی ان لوگوں نے اس کے نتائج دیکھ لیئے ۔ اور قیامت میں بھی اس کے نتائج دیکھ لیں گے کہ انسانوں اور جنوں سے جہنم کو بھر دیا جائے گا۔ لاملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین (38: 85) ” میں ضرور جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ان انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے “۔ یہ اس سورت کا خاتمہ ہے اور یہ اس سورت کے افتتاحی کلام اور اس کے موضوعات ومسائل سے ہم آہنگ ہے ، جن کے بارے میں اس سورت میں بحث کی گئی ہے۔ یہ ایک آخری اور گہری ضرب ہے۔ اور اس کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ اسلامی انقلاب کی اس تحریک کی خبریں مستقبل میں کیا ہوں گی ولتعلمن بناہ بعد حین (38: 88) ” تھوڑے ہی وقت کے بعد تم اس کی خبر پالوگے “۔ صدق اللہ العظیم

الزمر 39:1

درس نمبر 215 تشریح آیات ﷽ آیت نمبر 1 تا 3 سورت کا آغاز اس فیصلہ کن قرار داد سے ہوتا ہے۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم (39: 1) ” اس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے “۔ وہ زبردست ہے اور وہ اس قسم کی کتاب کے نزول پر قدرت رکھتا ہے۔ اور وہ حکیم ودانا ہے اور وہ جانتا ہے کہ نزول قرآن کس بارے میں ہے اور یہ حکیم کیوں ہے۔ یہ تمام کام اللہ نہایت حکمت اور تدبر اور تقدیر سے کرتا ہے۔ اس قرار داد پر بات طویل نہیں ہوتی کیونکہ یہ تو تمید تھی ، اصل بات کے لیے اور اصل موضوع کے لیے یہ پوری سورت وقف ہے۔ سورت کا نزول ہی اس موضوع کا ثبوت اور تاکید ہے۔ یعنی مسئلہ توحید ، اللہ کی بندگی میں توحید اور اسلامی نظام زندگی میں توحید۔ اور عقیدے ، بندگی اور نظام زندگی کو ہر پہلو سے شرک سے پاک کرنا۔ اور پھر اللہ تک رسائی کے لیے واسطوں کو ختم کرکے براہ راست اس کو پکارنا بغیر کسی سفارش کے۔

الزمر 39:2

انآ انزلنآ الیک الکتٰب بالحق (39: 2) ” اے نبی ﷺ یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے “۔ اور جس سچائی پر نازل کی گئی ہے۔ وہ ہمہ جہت وحدانیت ہے ، جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اس سورت کی پانچویں آیت میں ہے : خلق السٰمٰوت والارض بالحق (39: 5) ” آسمانوں اور زمین کو اس نے برحق پیدا کیا ہے “۔ لہٰذا جس حق اور سچائی پر سماوات کا قیام ہے ، وہی سچائی اس کتاب کا موضوع ہے۔ اس کتاب کا تصور توحید اور اس کائنات کی تخلیق کی وحدت ایک ہی ہیں۔ جس طرح یہ کائنات اللہ واحد کی تخلیق اور مصنوع ہے اور جس طرح یہ انسان اللہ کی تخلیق اور اس کے امر پر قائم ہے ، اسی طرح یہ کتاب بھی اللہ کے امر پر قائم ہے۔ لہٰذا منطقی نتیجہ یہ ہے : فاعبداللہ مخلصاله الدین (39: 2) ” لہذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو ، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے “۔ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے جن کی طرف یہ کتاب برحق نازل کی گئی۔ اور یہ کتاب رسول کا پیش کردہ منہاج حیات ہے جس کی طرف آپ تمام انسانوں کو دعوت دیتے ہیں۔ جو اس عقیدے پر قائم ہے کہ اللہ ایک ہے ، اسی کی بندگی کرنی ہے ۔ نظام زندگی صرف اسی سے اخذ کرنا ہے اور پوری زندگی کو اس عقیدۂ توحید پر قائم کرنا ہے۔ اللہ کو ایک الٰہ سمجھنا اور دین اس کے لیے خالص کرنا محض چند کلمات کا نام نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیئے جائیں۔ یہ دراصل زندگی کا پورا نظام ہے جو انسان کے دل و دماغ سے عقیدۂ توحید کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور ایک اسلامی سوسائٹی میں مکمل نظام زندگی کے قیام پر ختم ہوتا ہے۔ وہ دل جو اللہ وحدہ کو الٰہ سمجھتا ہے ' جو صرف اللہ کی بندگی کرتا ہے ، وہ اپنا سر کسی کے آگے نہیں جھکاتا۔ وہ نہ تو غیر اللہ سے کوئی چیز طلب کرتا ہے ، نہ غیر اللہ پر اعتماد کرتا ہے۔ ایسے شخص کے نزدیک صرف اللہ ہی قوی ہے اور صرف اللہ اس پوری کائنات پر غالب ہے۔ سب پر غالب ہے۔ سب کے سب ضعیف اور کمزور ہیں اور وہ کسی کے لیے کوئی نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ لہٰذا کسی انسان کو کسی انسان کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔ کیونکہ یہ انسان سب کے سب اسی کی طرح ہیں اور خود اپنے نفع ونقصان کے مختار بھی بنیں ۔ اللہ وحدہ ہی دینے والا اور روکنے والا ہے۔ لہٰذا اللہ کو اس سلسلے میں کسی وسیلے اور واسطے کی ضرورت نہیں۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ غنی ہے۔ پھر جو دل عقیدۂ توحید سے لبریز ہے وہ اس بات پر بھی ایمان لاتا ہے کہ اس کائنات کے ایک ہی قانون قدرت اور ناموس فطرت کنڑول کرتا ہے۔ لہذا اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ جو نظام زندگی اللہ نے انسانوں کے لیے تجویز کیا ہے ، یہ بھی انہی قوانین قدرت کا حصہ ہے۔ جو اس کائنات کے لیے وضع ہوئے ہیں۔ لہذا یہ انسان اس دنیا کے ساتھ ہم آہنگی کی زندگی نہیں بسر کرسکتا الایہ کہ وہ اسلامی نظام زندگی کو اپنالے۔ لہٰذا وہ وہی احکام و انتظام اختیار کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے یعنی وہ اللہ ہی کی شریعت کی اطاعت کرتا ہے جو اس نظام کائنات اور انسان کے وجود کے نظام کے ساتھ موافق ہے۔ پھر جو دل کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے ، وہ اپنے اور اس اللہ کی پیدا کردہ تمام کائنات کے درمیان ایک قربت اور تعلق محسوس کرتا ہے۔ اس کائنات کی زندہ چیزیں ہوں یا مردہ ۔ لہٰذا اس کی زندگی ایک ایسے ماحول کے اندر بسر ہوتی ہے جو اس کا دوست ، ہمد ومعاون اور اس کے ساتھ ہمقدم اور محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ماحول میں اللہ کے دست قدرت کی کارستانیاں محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اس ماحول میں اللہ اور اس کی مخلوقات کے ساتھ مانوس ہوکر رہتا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ کی مخلوق ہوتی ہے۔ اس کی آنکھیں اللہ کی پیدا کردہ عجائبات پر ہوتی ہیں۔ وہ یہاں اس کائنات کی کسی چیز کو ایذا نہیں دیتا۔ وہ اس کائنات کی کسی چیز کو تلف نہیں کرتا امرالہٰی سے۔ کیونکہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ وہی زندگی دینے والا ہے۔ وہ سب کا رب ہے اور ہر چیز کا رب ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی تصورات اور میلانات میں بھی توحید ظاہر ہوتی ہے۔ انسانی طرزعمل اور اس کی چال ڈھال میں بھی توحید کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی اور سوسائٹی کے لیے منہاج اور طریق زندگی میں بھی توحید کا اثر ہوتا ہے۔ اور عقیدۂ توحید محض ایک کلمہ نہیں رہتا جسے زبان سے کہہ دیا جائے ۔ وہ ایک مکمل نظام بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے قرآن میں عقیدۂتوحید کو بہت ہی بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ ہر جگہ اس پر اصرار و تکرار کیا گیا ہے۔ لہٰذا توحید پر ان زاویوں سے غور کیا جانا چاہئے ۔ اس زاویہ سے توحید ایک فکر ، ایک نظام اجتماعی اور نظام حکومت بن جاتی ہے۔ اور اس پر ہر وقت تدبر کی ضرورت ہے۔ ہر زمانے میں ، ہر خاندان اور سوسائٹی میں اور اسی مفہوم میں اس پر تدبر کی ضرورت ہے۔

الزمر 39:3

الاللہ الدین الخالص (39: 3) ” خبردار دین خالص اللہ کا حق ہے “۔ نہایت ہی اونچی بہایت ہی طویل اور نہایت ہی رعب دار آواز میں۔ گویا اعلان شاہی ہے اور لفظ ” الا “ خبردار ! سے اس کا آغاز ہوتا ہے اور نہایت ہی قصر اور حصر کے الفاظ میں کہ اللہ ہی کا حق ہے زندگی اور خالص اللہ کا حق ہے ۔ جس طرح مفہوم موکد ہے اس طرح الفاظ بھی پرشوکت ہیں۔ یہ اصول حیات ہے۔ پوری زندگی اس پر قائم ہے بلکہ پوری کائنات اس اعلان پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر مختصر زور دار اور قصر حصر کے الفاظ میں یہ قانون نافذ ہوتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں اس دور کی جاہلیت کا کلمہ اور نظریہ کیا تھا جسے رد کیا گیا۔ والذین اتخذوا۔۔۔۔ ھوکذب کفار (39: 4) ” رہے وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنارکھے ہیں (کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں۔ اللہ یقیناً ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو “۔ وہ اعلان کرتے تھے کہ اللہ ان کا خالق ہے۔ سموات اور زمین کا خالق ہے۔ لیکن پھر وہ فطری استدلال کی راہ پر چلتے تھے کہ اگر وہی خالق ہے تو وہی بندگی کے لائق ہے۔ اور پھر دین اور دستور اور قانون اسی کا چلنا چاہیے۔ یہاں آکر وہ یہ افسانہ گھڑتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ فرشتوں کے بت بناتے اور ان کو پوجتے ۔ پھر یہ کہتے کہ وہ ملائکہ کے بتوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں ، جن کو وہ الٰہ کہتے تھے۔ لات ، منات اور عزیٰ ، یہ دراصل ان کی عبادت نہیں ہے بلکہ یہ محض اللہ کے قریب ہونے کے لئے ہم ان کے آگے جھکتے ہیں تاکہ یہ فرشتے اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں۔ اور یوں ہم اللہ کے نزدیک ہوجائیں۔ یہ عقیدہ سیدھے فطری انداز فکر سے انحراف ہے اور یہ عقیدہ غلط ہونے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ اور ناقابل فہم بھی ہے۔ نہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نہ یہ بت فرشتوں کے بت ہیں۔ نہ اللہ نے اس کی اجازت دی ہے۔ نہ اللہ کسی کی سفارش سنتا ہے اور نہ اللہ اپنے بندے کو اس طریقے پر اپنے قریب لاتا ہے۔ جب بھی انسانیت نے عقیدۂ توحید کو ترک کیا ہے۔ وہ فطرت کے سیدھے انداز فکر اور سیدھے سادے انداز استدلال سے محروم ہوگئی ہے ، جو اسلام اول روز سے لے کر آیا ہے اور آدم (علیہ السلام) سے لے کر ادھر تمام رسولان محترم نے یہی عقیدۂ توحید پیش کیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت پر جگہ نیک لوگوں اور اولیاء کی عبادت اسی طرح کی جاتی ہے جس طرح نبی ﷺ کے دور میں عرب فرشتوں اور فرشتوں کے بتوں کی عبادت بطور تقرب الہٰی اپنے زعم کے مطابق کیا کرتے تھے۔ مقصد اک کی سفارش کا حصول ہوتا تھام لیکن اللہ عقیدۂ توحید ، اور سیدھے راستے کی نشاندہی فرماتا ہے ایسی توحید جس کے ساتھ کوئی التباس ، کوئی سفارشی اور کوئی افسانوی مقربین خدا نہ ہوں۔ ان اللہ لایھدی من ھو کذب کفار (39: 3) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو “۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک تو جھوٹ ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ، دوسرا یہ جھوٹ ہے کہ یہ اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں جبکہ فرشتے ان کی بندگی کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ لوگ دراصل اللہ کے صریح احکام کا کفر کرتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو اس پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہدایت تو ان کو ملتی ہے جو مخلص ہوں ، متوجہ ہوں ، برائی سے بچنا چاہتے ہوں اور ان کو نیکی کے کاموں میں دلچسپی بھی ہو اور وہ غور فکر کرکے اپنے لیے صحیح راستے کا انتخاب کرتے ہوں۔ جو لوگ جھوٹ باندھتے ہیں ، اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں تو وہ اللہ کی ہدایت اور مہربانیوں کے مستحق نہیں ہوتے اسلیے کہ ایسے لوگ جان بوجھ کر صحیح راستے سے دوسری اختیار کرتے ہیں۔ اسکے بعد اس شرکیہ تصور خدا کی کمزوری اور پوچ ہونے کو ظاہر کیا جاتا ہے۔

الزمر 39:4

آیت نمبر 4 یہ ایک استدلالی مفروضہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ کسی کو اپنا شریک بناتا تو اپنی مخلوق میں سے کسی کو شریک کر کے اس کا اعلان کردیتا ۔ اس کا ارادہ تو بےقید ہے ، لیکن اللہ کی ذات ان سے پاک ہے۔ اس لیے اللہ کی طرف نہ بیٹے کی نسبت ہوسکتی ہے ، نہ اللہ کسی کا بیٹا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت و ارادہ اور اس کی تقدیر ہے۔ ان چیزوں سے اللہ پاک ہے۔ سبحنه ھو اللہ الواحد القھار (39: 4) ” پاک ہے وہ اس سے ، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب “۔ اللہ اپنے لیے کسی کو بیٹا کب بناتا ہے۔ وہ تو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ ہر چیز کا خالق ہے۔ ہر چیز کا مدبر ہے۔ ہر چیز اور ہر انسان اس کی ملکیت میں ہے اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، تصرف کرتا ہے۔

الزمر 39:5

آیت نمبر 5 آسمان و زمین کی بادشاہت پر یہ ایک سرسری نظر ، لیل ونہار کے نظام اور شمس وقمر کے نظام اور اسے زبردست طریقے سے مسخر کرنے کے نظارے پر ایک نگاہ ، اس بات کو ثابت کردیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے۔ یہ نظام فطرت دل کے اندر یہ بات اتار دیتا ہے کہ نہ اللہ کا کوئی شریک ہے اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔ زمین و آسمان کی تخلیق میں اللہ کی وحدانیت کے دلائل بالکل ظاہر ہیں اور ان قوانین میں بھی وحدت الہٰی کے نشانات ظاہر ہیں جو ان کو کنڑول کررہے ہیں۔ اس پوری کائنات پر ایک سرسری نظر ہی اس بات کو ظاہر کردیتی ہے کہ بیشمار دلائل موجود ہیں۔ آج تک انسانوں نے جو سائنسی انکشافات کیے ہیں۔ ان میں وحدت الوہیت کے لیے بیشمار دلائل موجود ہیں۔ یہ بات انسانوں پر ثابت ہوگئی ہے کہ یہ کائنات جس تک انسان نے رسائی حاصل کرلی ہے ، یہ ایسے ذرات سے بنی ہوئی ہے جن کی حقیقت اور ماہیت ایک ہے اور ان ذرات میں سے ہر ایک ذرہ ایسی شعاعوں سے مرکب ہے ، جن کی حقیقت ایک ہے۔ اور یہ بات بھی معلوم ہوچکی ہے کہ ان ذرات سے جو اجرام فلکی بنے ہیں خواہ وہ ایسے ہوں جس میں ہم رہتے یا دوسرے سیارے اور ستارے ہوں۔ یہ سب کے سب مکمل حرکت میں ہیں اور اس حرکت کا ایک مخصوص جاری قانون ہے جس سے کوئی ستارہ بھی ہٹ نہیں سکتا ۔ چھوٹے ذرات اور ستاروں میں بھی وہی حرکت ہے اور اس دنیا کے عظیم ترین ذرات میں بھی وہی حرکت ہے۔ پھر مطالعہ کائنات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس حرکت کا ایک نظام ہے۔ یہ نظام وہ حقیقت ہے جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ اس پوری کائنات کا خالق و مدبر ایک ہے۔ سائنس دان ہر روز جس نئی حقیقت کی دریافت کرتے ہٰں اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس کائنات کے منصوبے میں جو کچھ رکھا ہوا ہے وہ اللہ وحدہ کی ذات پر شاہد عادل ہے اور ایک سچائی ہے اور یہ لوگوں کی خواہشات کے مطابق نہیں بدلتی۔ اور نہ کسی شخص کے سیلانات کے مطابق کسی طرف مائل ہوتی ہے۔ نہ اپنی راہ ایک سکینڈ کے لیے چھوڑتی ہے اور نہ بےراہ روی اختیار کرتی ہے۔ خلق السمٰوٰت والارض بالحق (39: 5) ” اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا “۔ اور کتاب بھی اس نے برحق نازل فرمائی۔ لہٰذا اس کائنات میں بھی حق ہے اور اس کتاب میں بھی حق ہے اور یہ ایک ہی دونوں حق اور سچائی ہے جو اس کائنات میں بھی ہے اور اس کتاب میں بھی ہے اور دونوں کا منبع ومصدر ایک ہی ہے۔ اور دونوں اس بات کی نشانی ہیں کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا ایک ہی ہے۔ یکورالیل۔۔۔ علی الیل (39: 5) ” وہی ہے جو دن پر رات کو اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے “۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ انسان کا دامن کھینچ کر ان جدید انکشافات کی طرف اس کی توجہ مبذول کراتا ہے جن کے مطابق زمین کا گول ہونا ثابت ہوا ہے۔ باوجود اس خواہش کے کہ میں قرآن مجید کی تفسیر میں جدید سائنسی انکشافات سے دامن بچاؤں۔ کیونکہ انسانی نظریات کبھی درست ہوتے ہیں کبھی غلط ۔ آج ثابت ہوتے اور کل باطل ہوجاتے ہیں جبکہ قرآن حق ہے اور اپنی سچائی پر وہ خود دلیل ہے۔ ” آفتاب آمد دلیل آفتاب “ قرآن اپنی سچائی کا ثبوت اپنے موافق یا مخالف سے مانگتا ہی نہیں ۔ نہ ان انکشافات سے جو یہ ضیعف انسان فراہم کرتا ہے۔ لیکن اپنے اس رویے کے باوجود یہ انداز تعبیر مجھے مجبور کررہا ہے کہ زمین کی گردش محوری اور اس کی کروی ساخت پر غور کروں اس لیے کہ ایک ظاہری منظر اس تعبیر سے صاف صاف نظر آتا ہے اور اس کا انکار ممکن نہیں۔ زمین گول ہے اور گردش محوری کے ساتھ سورج کے سامنے ہے۔ اس لیے اس کا جو حصہ دوسوج کے سامنے ہے وہ روشن ہے اور دن ہے لیکن یہ حصہ ایک جگہ کھڑا نہیں رہتا۔ جو نہی یہ حصہ حرکت کرکے آگے بڑھتا ہے۔ اندھیرا زمین کے اس حصے کو ڈھانپتا جاتا ہے۔ اور اسے لپیٹتا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ دن والا حصہ لپیٹتا جارہا ہے اور رات اسے لپیٹتی جاتی ہے۔ دوسری جانب سے جہاں رات لپٹی ہوئی ہے وہ بھی اگے بڑھتی اور روشنی رات والے حصے کو لپٹتی ہے اور اس میں دن آتا جاتا ہے۔ یوں ایک طرف سے دن کو رات کور (Cover) کرتی ہے اور دوسری طرف سے رات دن کو کور کرتی جاتی ہے اور یہ حرکت جاری ہے۔ یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل (39: 5) یہ الفاظ صورت حال کا خوب نقشہ کھینچتے ہیں اور صورت حال کا صحیح نقشہ ذہین میں آجاتا ہے۔ اس طرح زمین کی حرکت کی نوعیت کا اظہار بھی ہوجاتا ہے۔ زمین کا گول ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس کا دورہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس انداز بیان کی یہ بہترین تفسیر ہے ، اس کے سوا کوئی دوسری تفسیر اس سے زیادہ گہری نہیں ہوسکتی۔ وسخر الشمس والقمر کل یجزی لاجل مسمی (39: 5) ” اس نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخر کررکھا ہے کہ ایک ایک وقت مقرر تک چلے جارہا ہے “۔ سورج اپنے مدار پر چل رہا ہے اور چاند اپنے مدار پر چل رہا ہے۔ اور دونوں حکم الہٰی سے مسخر ہیں۔ اور کسی کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ وہ ان کو چلا رہا ہے اور فطری استدلال اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ بغیر کسی محرک کے یہ حرکت ہورہی ہے اور ازخود یہ نہایت ہی پیچیدہ نظام اس باقاعدگی سے چل رہا ہے کہ کئی ملین سال گزرنے کے بعد ہمیں اس حرکت میں بال برابر کمی نظر نہیں آتی۔ اور یہ شمس وقمر اسی طرح جاری رہیں گے اور ایک وقت تک جاری رہیں گے۔ یعنی قیامت تک اور اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ جب حکم ہوگا یہ رک جائیں گے۔ اناھو العزیز الغفار (39: 5) ” جان رکھو وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے “۔ لہٰذا قوت قدرت اور غلبے کی وجہ سے وہ کائنات کو سنبھالتا ہے اور اس قوت کے ساتھ ساتھ وہ غفار بھی ہے۔ جو لوگ اس کی طرف مڑ جاتے ہیں ان کی کوتاہیوں کو بخش دیتا ہے حالانکہ انہوں نے تکذیب اور شرک جیسے بڑے جرائم کیے تھے۔ اور وہ اللہ کے ساتھ الٰہ بناتے تھے۔ اور پھر اللہ کے لیے اولاد مقرر کرتے ہیں اور دوسرے جرائم کرتے ہیں لیکن توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اس سے داخل ہونے کے لیے راہ واگزار ہے اور اللہ عزیز و غفار ہے۔ اس عظیم کائنات کے مطالعے کے لیے اس سرسری نظر کے بعد اب روئے سخن ذرا پھرجاتا ہے۔ انسان کے نہایت ہی چھوٹے نفس کی طرف جو اپنے اند ایک عظیم جہان رکھتا ہے۔ صرف اس پہلو کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا ” زندگی “ اور ” حیات “ پر غور کرو۔

الزمر 39:6

آیت نمبر 6 انسان جب اپنے نفس پر غور کرتا ہے ، اس نفس پر جسے اس نے خود پیدا نہیں کیا اور وہ اس کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں بھی خود نہیں جانتا ۔ صرف وہی معلومات اس کے پاس ہیں جو اللہ خالق نے دیئے ہیں۔ انسان کا نفس ایک ہے ، اس کی ذات ایک ہے۔ اس کی اس ذات اور نفس کے خصائص ایک ہیں اور اس نفس انسانی کے بعض خصائص دوسری مخلوقات سے باکل جدا ہیں۔ جس طرح نفس انسانی کے تمام افراد ایک مخصوص دائرے کے اندر محدود اور متمیز ہیں۔ اسی طرح ” نفس انسانی “ ان اربوں افراد کے درمیان ایک ہے جو اس زمین میں منتشر ہیں یا رہتے ہیں۔ اسی نفس واحد سے پھر اس کا جوڑا یا بیوی بھی پیدا ہوئی۔ تمام انسانی خصوصیات کے اندر عورت مرد کے ساتھ شریک ہے۔ اگرچہ تفصیلی خصوصیات مختلف ہیں لیکن بنیادی خصوصیات ایک ہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مردو عورت کی ساخت ایک ہی نقشے کے مطابق ہے۔ اسی نقشے کے اندر بعض ترمیمات کی وجہ سے مرد اور عورت الگ الگ ہوگئے ۔ ایک ہی ارادہ ہے جو مرد اور عورت کو الگ کرتا ہے۔ نفس انسانی کے اندر مرد و عورت کے اختلافات کے حوالے اور مناسبت سے یہاں دوسرے حیوانات کی اہم اجناس کے نرومادہ کے نظام کیطرف بھی اشارہ کردیا گیا کہ اس پوری کائنات میں اور انسانوں کے علاوہ دوسرے حیوانات میں بھی حق جاری ہے وانزل لکم من الانعام ثمٰنیة ازواج (39: 6) ” اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نرو مادہ پیدا کیے “۔ یہ آٹھ جانور نرومادہ جس طرح دوسری آیات میں آئے ہیں ، بھیڑ ، بکریاں ، ڈنگر اور اونٹ ہیں۔ یعنی نرومادہ کے شمار سے آٹھ بنتے ہیں۔ اور جب نرومادہ کو جمع کیا جائے تو ان پر ازواج یعنی جوڑوں کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یوں مجموعہ بن جاتا ہے۔ انداز بیان یہ بتاتا ہے کہ اللہ نے ان کو نازل کیا ہے یعنی پیدا کرکے تمہارے لیے مسخر کیا ہے۔ یہ تسخیر اللہ کی طرف سے منزل ہے۔ یعنی اللہ کے علوشان کا یہ کارنامہ ہے اور اس اللہ نے اس کی اجازت دی ہے کہ انسان ان آٹھ قسم کے جانوروں کو گوشت استعمال کرے۔ جانوروں میں نرومادہ کی خصوصیات کے تذکرے کے بعد پھر ماؤں کے پیٹ میں پائے جانے والے جنین کے مختلف مراحل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ یخلقکم فی۔۔۔ بعد خلق (39: 6) ” پھر وہ ماؤں کے پیٹوں میں تخلیق کے بعد تخلیق کرتا چلا جاتا ہے “۔ پہلے نطفہ ، پھر لوتھڑا ، پھر گوشت کا قطعہ ، پھر ہڈیاں ، پھر واضح شکل اور آخر میں اس کے اندر انسانی حواس کا پیدا کرنا اور انسانی خصوصیات کا پیدا کرنا۔ فی ظلمٰت ثلث (39: 6) ” تین تین تاریک پردوں کے اندر “۔ پہلے اس پردے کی تاریکی جس کے اندر جنین ہوتا ہے ، رحم کی م اور کی ظلمت جس کے اندر وہ ملفوف ہوتا ہے اور پھر ماں کا پیٹ جس کے اندر رحم ہوتا ہے اور اللہ کا دست قدرت اس ذرے کو روز بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ اور یہ دست قدرت روزا سے بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ پھر اس کی شکل و صورت بدلتی جاتی ہے۔ یہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ اللہ اس مخلوق کی نگرانی کرتا ہے اور اسے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔ اور یوں شکل بدلنا اس کے لیے ممکن ہوتا ہے۔ یہ قدم بقدم آگے جاتا ہے۔ اللہ کی تقدیر اور اندازے کے مطابق ۔ انسان کے اس مختصر سفر اور اس کے اندر اس کی ساخت کی ان دور رس تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالنے اور ان تغیرات کو غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر پائی جانے والی عجیب و غریب ضصوصیات کی کارفرمائی اور راہنمائی میں اس کمزور ترین اور خوردبینی خلیے نے جس انداز سے ترقی کی ، ان اندھیروں میں اور اس عجیب انداز میں ، تو انسان کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ سب باتیں انسان کے علم وبصیرت اور اس کی قدرت سے وراء ہیں۔ یہ تمام حقائق اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انسان کو خالق کائنات کی معرفت پر مجبور کریں۔ اور انسان خالق کائنات کو اس کے ان زندہ آثار کے ذریعے پہچان لے اور اس تخلیق کے اندر جو وحدانیت ہے۔ اس کے آثار بالکل ظاہر و باہر ہیں اور کوئی سوچنے والا انسان کس طرح ان سے صرف نظر کرسکتا ہے۔ ذٰلکم اللہ ربکم له الملک لا اله الاھوفانیٰ نصرفون (39: 6) ” یہی تمہارا رب ہے ' بادشاہی اسی کی ہے ' کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے ' پھر تم کدھر جارہے ہو ؟ “ اللہ وحدہ کی ان نشانیوں کو دیکھتے ہوئے ، اللہ کی بےقید قدرت کے ان نشانات کو ملاحظہ کرتے ہوئے یہاں لوگوں کو خود اپنے طرز عمل پر خود کرنے کے لیے ذرا کھڑا کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اب تمہارے سامنے صرف دو راستے ہیں۔ شکر کی راہ اور کفر کی راہ اور جو راہ بھی تم اختیار کرو گے اس کے سارے نتیجے کی ذمہ رادی انفرادی ہے۔ اور اشارہ دے دیا جاتا کہ وقت قریب ہے ۔ دنیا کا یہ مرحلہ ختم ہونے والا ہے۔ پھر حساب و کتاب ہوگا اور یہ حساب و کتاب وہ ذات لے گی جس نے تمہیں تین تاریک ترین پردوں کے اندر سے نکال کر ذمہ راد بنایا ہے۔ اور وہ اب تمارے دلوں کی خفیہ ترین باتوں کو بھی جانتا ہے۔

الزمر 39:7

آیت نمبر 7 تمہاری ماؤں کے پیٹ کا عرصہ تو تمہارے طویل سفر زندگی کا ایک مختصر حصہ ہے۔ ابتدائی مرحلہ ہے۔ پھر پیٹ سے باہر آکر تم قدرے طویل مرحلے میں داخل ہوگے۔ اس کے بعد تیسرا طویل اور ابدی مرحلہ ہوگا۔ حساب و کتاب ہوگا اور یہ مرحلہ اللہ علیم وخبیر کی تدبیر سے طے ہوگا۔ جہاں تک اللہ کی ذات کا تعلق ہے وہ انسان جیسی کمزور مخلوق کا محتاج نہیں ہے۔ انسان بہت ہی ضعیف مخلوق ہے۔ یہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ وہ انسانوں کیطرف متوجہ ہے اور انکی نگرانی اور ان پر مہربانی کرتا ہے اور وہ کس قدر ضعیف اور کس قدر کمزور ہیں ان تکفروافان اللہ غنی عنکم (39: 7) ” اگر تم کفر کرو تو اللہ بےنیاز ہے “۔ کیونکہ تمہارا ایمان اللہ کی مملکت میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کرسکتا ۔ اور تمہارا کفر اس میں کسی چیز کی کمی نہیں کرسکتا۔ لیکن اللہ اپنے بندوں کی جانب سے کفر کو پسند نہیں کرتا اور کفر کو محبوب نہیں رکھتا۔ ولایرضٰی لعبادہ الکفر (39: 7) ” لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا “۔ اور اگر تم شکر کرو۔ وان تشکرواترضه لکم (39: 7) ” اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے “۔ وہ شکر کو محبوب رکھتا ہے ، اور اس پر جزائے خیر دیتا ہے۔ ولا تزروازرۃ وزراخرٰی (39: 7) ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا “۔ آخر کار ہم نے اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ صرف اس کے آگے پیش ہونا ہے اور اس کے سوا کوئی پناہ نہیں ہے۔ ثم الیٰ ۔۔۔۔ تعملون (39: 7) ” آخر کار تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے۔ پھر تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو “۔ اس پر کوئی امر مخفی نہیں ہے۔ انه علیم بذات الصدور (39: 7) ” وہ دلوں کا حال جانتا ہے “۔ یہ ہے انجام حیات ۔ یہ ہیں دلائل ہدایت اور یہ ہے دو راہہ جس سے دونوں راستے الگ ہوتے ہیں۔ ایک ہدایت کا راستہ اور ایک ضلالت کا راستہ۔ اب ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتا ہے جو شخص جس راستے کا اختیار کرے خوب سمجھ کر اختیار کرے غور و تدبر کے بعد کرے۔ علم اور فکر کے ساتھ کرے

الزمر 39:8

درس نمبر 216 ایک نظر میں پہلے سبق میں یہ بات کہی گئی کہ تخلیق انسان کی کہانی کیا ہے۔ یہ کہ تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا گیا ہے اور پھر اسی نفس سے ایک جوڑا بھی بنایا گیا ہے۔ پھر مویشیوں کو بھی بیشمار جوڑوں کی صورت میں بنایا گیا ہے۔ اور پھر تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تخلیق کے بعد تخلیق تمہیں دی اور تین ظلمتوں کے اندر تمہیں پیدا کیا ۔ پھر اللہ نے تمہیں انسانی خصوصیات عطا کیں اور پھر ان خصائص کا نظام تسلسل قائم کیا اور اس کو ترقی دی۔ اب یہاں انسانوں کی تفسیاتی دنیا کے حالات بتائے جاتے ہیں کہ خوشی اور غم اور امن وخوف کے وقت اس کی حالت کیا ہوتی ہے۔ وہ کس قدر کمزور ہیں اور کس قدر متلون مزاج ہیں اور کس قدر کمزور وناتواں ہیں الا یہ کہ وہ رب تعالیٰ کے ساتھ رابطہ قائم کرلیں۔ اور اسی کی طرف امید لگائے رہیں ، اس کے مطیع فرمان ہوجائیں اور صحیح راستہ پہچان لیں۔ اور اصل حقیقت کو پالیں اور اللہ نے انسان کو جو انسانی خصائص دیئے ہیں اپنے آپ کو ان کی راہ پر ڈالیں۔ درس نمبر 216 تشریح آیات آیت نمبر 8 یہ انسان کی فطرت کا مزاج ہے کہ جب خطرات لاحق ہوں تو انسانی فطرت کھل کر سامنے آجاتی ہے اور تمام پردے اور حجابات دور ہوجاتے ہیں جو اس فطرت کے اوپر چھائے ہوئے ہوں اور تمام اوہام و خرافات بھی دور ہوجاتے ہیں۔ خطرے کے وقت انسان صرف رب ذوالجلال کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ فطرت انسانی اس وقت اس بات کا ادراک کرلیتی ہے کہ یہ خطرہ صرف اللہ ہی کے ٹالنے سے ٹل سکتا ہے۔ اللہ کے سوا تمام دوسری قوتیں جھوٹی ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن جب مشکلات دور ہوتی ہیں اور امن وامان اور خوشحالی کا دور آتا ہے اور اللہ مشکلات کو نعمتوں سے بدل دیتا ہے اور یوں مشکلات دور ہوجاتی ہیں تو یہی انسان جس کی فطرت کھل کر سامنے آگئی تھی پھر اوہام و خرافات میں پھنس کر اپنی سابقہ حالت کے زیر اثر آجاتا ہے۔ اور مشکلات میں اپنے گڑگڑانے ، اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور توبہ کرنے کو بھول جاتا ہے۔ اس وقت پھر اس کی حالت نہیں ہوتی کہ وہ اللہ کو پکارے ، اس سے ڈرے اور یہ سمجھے کہ اب اللہ کے سوا کوئی بھی مشکلات کو دور نہیں کرسکتا ۔ یہ تمام حالات بھلا کر اب دوبارہ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتا ہے۔ یا تو وہ ان الہوں کو پوجتا ہے جو جاہلیت کے دور میں پوجے جاتے تھے یا بعض اشخاص کو پوجتا ہے۔ یہ ایسے حالات کی بندگی کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ سریک ہوتے ہیں ۔ جس طرح ہر جاہلیت کا ایک الٰہ ہوتا ہے۔ کبھی وہ اپنی خواہشات اور اپنے مفادات کو پوجتا ہے یا وہ مستقبل کی امیدوں اور ان جانے خوف سے ڈرتا ہے یا اپنی اولاد اور حکام ہے یا اپنے سرداروں اور لیڈروں کو پوجتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ سردار بھی پوجے جاتے ہیں جس طرح خدا کو پوجا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ خدا سے بھی زیادہ پوجے جاتے ہیں۔ یارد ہے کہ شرک کی بھی کئی اقسام ہیں۔ بعض شرک نہایت ہی خفی ہوتے ہیں لوگ نہ اسے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو اس کا احساس ہوتا ہے۔ قرآن کریم صرف معروف ومشہور شرک ہی کو نہیں لیتا بلکہ وہ ہر اس بات کو لیتا ہے جو اپنے نقشے کے اعتبار شرک پر۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی راہ تو ایک ہوتی ہے۔ اس میں تعداد ممکن نہیں ہے۔ وہ یہ کہ زندگی صرف اللہ ہی کی ہوگی۔ محبت صرف اللہ کے ساتھ ہوگی۔ اور کسی شخص کے تصور میں بھی اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ نہ مال کا خدا شریک ہو ، نہ اولاد کا خدا شریک ہو ، نہ وطن کا خدا شریک ہو ، نہ زمین کا خدا شریک ہو ، نہ رشتہ داری کا خدا شریک ہو ، شرک کی ان صورتوں میں سے جو کسی کے دل میں جاگزیں ہوگئی تو یہ انداز اللہ میں شامل ہوگی۔ اللہ کے راستے سے گمراہی ہوگی اور اللہ کے راستے سے گمراہی کا انجام آگ ہے اور یہ بات بہت جلد اس دنیا کی قلیل زندگی کے بعد سامنے آنے والی ہے قل تمتع۔۔۔ النار (39: 8) ” کہہ دیجئے کہ تھوڑے ہی دن اپنے کفر سے لطف اٹھالے یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے “۔ اس دنیا کے دن جس قدر بھی طویل ہوں ، تھوڑے ہی ہیں۔ انسان کے دن زمین پر بہرحال گنے چنے ہیں اگرچہ عمر طویل کوئی پائے۔ بلکہ خود پوری جنس انسانی کی زندگی بھی اس کرۂ ارض پر قلیل ہے۔ جب ہم اس عمر کا مقابلہ ایام اللہ سے کریں۔ اس بری تصویر کے مقابلے میں اچھی تصویر اور اچھی نفسیاتی کیفیت بھی ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا دل ، ہر حالت میں ، ہر آفت میں اللہ کو یاد کرنے والا دل ، دنیا میں آخرت کو نظر میں رکھ کر زندگی گزارنے والا دل ، اللہ کی رحمت کا طلبگار ، اللہ کے ساتھ ایسا رابطہ کرنے والا دل جس سے علم صحیح پیدا ہو ، اور اس کائنات کی حقیقت کو پالنے والا دل ، اس کی تصویر یہ ہے :

الزمر 39:9

آیت نمبر 9 یہ نہایت ہی روشن اور حساس تصویر ہے۔ مطیع فرمان ، اطاعت شعار ، سجدے کی حالت میں اور رکوع کی حالت میں ہونا دراصل حساس اطاعت شعاری ہے ۔ ایسا شخص آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کی رحمت کا امیدوار ہوتا ہے۔ یہ صفائی اور باطن کی یہ شفافی انسانی بصیرے کو کھول دیتی اور انسانی دل و دماغ کو دیکھنے ، اخذ کرنے اور فکر کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔ ان تمام امور کے ذریعہ مومنین کی بہت ہی اچھی تصویر کھنچ جاتی ہے۔ جبکہ آیت سابقہ میں مشرکین کی نہایت ہی بھونڈی تصویر تھی۔ اس کے بعد ان کے درمیان موازنہ دیکھئے۔ قل ھل ۔۔۔۔ یعلمون (39: 9) ” ان سے پوچھو کیا علم رکھنے والے اور نہ رکھنے والے دونوں یکساں ہوسکتے ہیں “۔ سچا علم دراصل الہی معرفت کا نام ہے۔ سچائی تک پہنچنے کا نام ہے۔ اور ایساعلم انسانی بصیرت کو کھول دیتا ہے۔ اور یوں ایک عالم ان حقائق تک رسائی حاصل کرلیتا ہے جو اس وجود میں ہوتی ہے۔ علم ان معلومات کا نام نہیں ہے جو ذہین میں جمع ہوجائیں اور جن سے کوئی سچا اصول اور کوئی سچی حقیقت ذہین نشین نہ ہو۔ اور نہ محسوسات کے علاوہ کوئی حقیقت ذہن میں بیٹھی ہو۔ یہ ہے صحیح راستہ علم حقیقی اور اس حقیقت کا جو دل و دماغ کو منور کردیتی ہے۔ یہی ہے اللہ کا مطیع فرمان ہونا۔ دل کا حساس ہونا اور آخرت اور اللہ کئ فضل وکرم کی امیدواری اور یہ ہے اللہ کا خوف اور اللہ کے سامنے ڈرے اور سہمے رہنا۔ علم اور حقیقی علم یہی ہے اور اس طرح عقلیت پیدا ہوتی ہے وہ دیکھنے والی اور سننے والی اور جس چیز کو وہ پاتی ہے اس سے فائدہ اٹھانے والی ہوتی ہے اور یوں اس قسم کا علم ان مشاہدات کے پیچھے حقیقت عظمیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ انفرادی تجربات کو علم کہتے ہیں اور صرف ان چیزوں کو معلومات کہتے ہیں جو نظر آتی ہیں۔ ایسے لوگ معلومات جمع کرنے والے تو ہیں لیکن علماء نہیں۔ انما یتذکر اولوا الالباب (39: 9) ” نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں “۔ یعنی کھلے دلوں والے ، جن کی بصیرت کے دروازے راہوں اور جو ظواہرو مشاہد کے پیچھے جھانک سکتے ہوں۔ وہ لوگ عقلمند ہیں اور وہی لوگ ہر چیز میں اللہ کے نشانات دیکھ کر اللہ کے سامنے جوابدہی کے یقین کو بھول نہیں جاتے۔ ان دو تصویروں کے بعد اہل ایمان کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور اچھے کام کریں اور اس مختصر زندگی میں طویل زندگی کے لیے کچھ کما کر اور سجا کر چھوڑیں۔

الزمر 39:10

آیت نمبر 10 کہو اے میرے بندو ، جو ایمان ہوئے ہو ، قل یٰعباد الذین اٰمنوا (39: 10) اہل ایمان کی طرف نہایت ہی نظر کرم ہے۔ اصل میں عربی عبارت یوں ہے : قل یٰعباد الذین اٰمنوا (39: 10) یعنی ان سے میرا یہ پیغام کہہ دو کہ متقی بن جاؤ۔ اپنے رب سے ڈرو۔ لیکن اللہ نے اسے براہ راست پکارہ کے صیغے میں تبدیل کردیا۔ یہ ایک قسم کا اعلان اور تنبیہہ ہے۔ رسول اللہ ؐ تو مسلمانوں کو (یاعبادی) کہہ کر نہیں پکارتے تھے آپ تو عباد اللہ کہہ کر انہیں پکارتے تھے لیکن یہ اللہ کی نظر کرم ہے کہ وہ حضور ﷺ سے فرماتا ہے کہ (یاعباد) کہہ کر پکارو۔ یوں یہ پکار اللہ کی جانب سے ہو اور حضور اکرم ﷺ اللہ کے ڈائریکٹ خطاب کی حکایت فرمائیں۔ قل یٰعباد الذین اٰمنوا اتقوا ربکم (39: 10) ” اے نبی کہو ، اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، اپنے رب سے ڈرو “۔ تقویٰ کیا ہے ، وہی دل کی حساسیت۔ اللہ کی طرف ڈر اور خشیت کے ساتھ دیکھنا ۔ امید اور طمع کے ساتھ دیکھنا ۔ اس کے غضب ، ناراضگی سے ڈرتے رہنا۔ یہ ہے بہترین تصور اہل ایمان کی۔ اس آیت میں جو تصویر کشی کی گئی ہے اور اس میں جو رنگ بھرے گئے ہیں وہ وہی ہیں جو آیت سابقہ میں ہیں ، البتہ یہ عملی رنگ ہیں۔ للذین احسنوافی ھٰذہ الدنیا حسنة (39: 10) ” جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ، ان کے لیے بھلائی ہے “۔ کیا خوب جزاء ہے کہ اس دنیا میں اچھا سلوک کرو۔ تو یہاں اس حقیر دنیا میں بھی اچھائی پاؤ اور آخرت میں بھی اچھائی پاؤ۔ جو دار بقا دار دوام ہے۔ لیکن یہ انسان پر فضل وکرم ہے اور اللہ کو معلوم ہے کہ یہ انسان کس قدر ضعیف اور ناتواں ہے۔ اس لیے اللہ نے اس پر بےپناہ کرم کیا۔ وارض اللہ واسعة (39: 10) ” خدا کی زمین وسیع ہے “۔ لہٰذا زمین کی محبت اور کسی ایک جگہ کے ساتھ الفت تمہیں بہاکر نہ رکھ دے۔ نسب ، رشتہ داری اور دوستی کے روابط تمہیں بڑے کاموں سے روک نہ دیں۔ ہجرت ایک عظیم مقصد کے لیے ہوتی ہے ۔ اگر کوئی جگہ تمہارے دین کے لیے تنگ ہو اور جہاں تم اسلام کا محسنانہ نظام جاری نہیں کرسکتے تو پھر زمین سے چمٹے رہنا شیطان کی حرکت ہے۔ اور یہ انسان کے دل میں شرک کا ایک رنگ ہے۔ یہ قرآن کا نہایت ہی لطیف اشارہ ہے ، اس طرف انسان کے دل و دماغ میں خفی اس طرح سرایت کرتی ہے کہ بات اللہ کی وحدانیت اور اللہ سے ڈرنے کی ہورہی ہے۔ اور اس میں یہ لطیف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا سرچشمہ وہی ذات باری ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ کیونکہ انسان کے دل و دماغ کا یہ علاج وہی ذات کرسکتی ہے جو انسان کی خالق ہے اور جو انسان کے بارے میں پوری معلومات رکھتی ہے۔ اور انسان کی شخصیت کے خفیہ گوشوں کو جانتی ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ ہجرت انسانوں کے لیے کس قدر مشکل کام ہے۔ دنیا کے ان رابطوں کو یکلخت ترک کردیتا ، کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایک چالو زندگی کو ترک کرنا ، رزق کے ایسے وسائل جن کا انسان عادی ہوجائے۔ ان کو ترک کرنا ، چلتے ہوئے کاروبار کو چھوڑنا ، اور بالکل ایک نئی سرزمین پر ازسرنو زندگی شروع کرنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ اس کے لیے انسان مشکل سے تیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس معاملے کو بڑا صبر کہا گیا ہے اور اس پر بڑے اور پورے اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔ انما۔۔۔۔ حساب (39: 10) ” صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا “۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسانی دلوں کو نہایت ہی برمحل یہ احساس دلاتا ہے اور ان کو اس کام کے لیے آمادہ فرماتے ہیں جو بالعموم انسانوں کے لیے بہت ہی دشوار ہوتا ہے۔ اور ہجرت جیسے شدید حالات میں اللہ ان پر اپنی رحمت اور شفقت اور اپنے قرب کی شبنم گراتا ہے۔ اور وطن کے روابط ، الفت و محبت اور اہل و عیال اور رشتہ داریوں اور دوستوں کو قربان کرنے پر بعض بےحساب اجر کا وعدہ فرماتا ہے ۔ پاک ہے وہ ذات جو انسان کے بارے میں حلیم وخبیر ہے۔ اور انسانی قلوب کے ساتھ یہ مشفقانہ معاملہ کرتی ہے۔ اور انسانی نفسیات کے نشیب و فراز کے اندر گہرائیوں تک پائے جانے والے نہایت ہی خفیہ احساسات کو جانتی ہے اور ان کا مداوا کرتی ہے۔

الزمر 39:11

درس نمبر 217 ایک نظر میں اس سبق پر آخرت کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ اور آخرت کے عذاب کے مختلف رنگ اور سائے ہیں۔ نیز آخرت کے ثواب کی امیدیں بھی ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ خالص توحید کے عقیدے کا اعلان کردیں۔ اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اس سے انحراف کروں تو مجھے عذاب الہٰی کا ڈر ہے اور یہ کہ میں اپنے منصوبے اور منہاج پر قائم ہوں اور تم جانو اور تمہارا منہاج وطریقہ۔ البتہ اسلامی منہاج کا انجام یہ ہوگا اور کفریہ منہاج کا انجام یہ ہوگا۔ درس نمبر 217 تشریح آیات آیت نمبر 11 تا 13 ترجمہ : یہ نبی ﷺ کی طرف سے اعلان ہے کہ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اللہ وحدہ کی بندگی کریں اور دین اس کے لیے خالص کردیں۔ اور اس طرح آپ پہلے مسلمان بن جائیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اپنے رب کی معصیت کا ارتکاب کرلوں تو میرے لیے بھی عذاب الہٰی کا خطرہ ہے۔ اسلام نے جو عقیدۂ توحید پیش کیا ہے اس کو خالص کرنے کے لیے اس اعلان کی بڑی اہمیت ہے۔ اس عقیدے کے حوالے سے نبی ﷺ بھی اللہ کے ایک بندے ہی ہیں اور آپ ﷺ مقام بندگی سے آگے نہیں جاسکتے ۔ اور تمام انسان بھی بندگی کے مقام پر مساوی طور پر کھڑے ہیں اور صرف ذات باری ہی ہے جو ان بندوں کے اوپر نگہبان ہے۔ یہ ہے مراد اس آیت سے۔ اس طرح مقام الوہیت اور مقام بندگی اپنی اپنی جگہ پر الگ ہوجاتے ہیں اور بالکل متمیز ہوجاتے ہیں۔ ان میں نہ کوئی اختلاط ہوتا ہے اور نہ کوئی اشتباہ ہوتا ہے اور وحدانیت کی صفت اللہ وحدہ کے لیے مختص ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہتا ۔ اور حضرت محمد ﷺ بحیثیت بندہ دوسرے بندوں کے ساتھ ہم صفت کھڑے ہیں اور آپ بھی اللہ کی معصیت کے ارتکاب سے ڈرتے ہیں لہٰذا بتوں اور فرشتوں کی سفارش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ اللہ کے ساتھ ساتھ ان کی عبادت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ ایک بار پھر اللہ کی بندگی کا اعلان فرماتے ہیں اور اصرار کے ساتھ بندگی کا اعلان فرماتے ہیں اور مشرکین سے کہہ دیا جاتا ہے کہ تم جانو اور تمہارا دردناک انجام۔

الزمر 39:12

درس نمبر 217 ایک نظر میں اس سبق پر آخرت کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ اور آخرت کے عذاب کے مختلف رنگ اور سائے ہیں۔ نیز آخرت کے ثواب کی امیدیں بھی ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ خالص توحید کے عقیدے کا اعلان کردیں۔ اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اس سے انحراف کروں تو مجھے عذاب الہٰی کا ڈر ہے اور یہ کہ میں اپنے منصوبے اور منہاج پر قائم ہوں اور تم جانو اور تمہارا منہاج وطریقہ۔ البتہ اسلامی منہاج کا انجام یہ ہوگا اور کفریہ منہاج کا انجام یہ ہوگا۔ درس نمبر 217 تشریح آیات آیت نمبر 11 تا 13 ترجمہ : یہ نبی ﷺ کی طرف سے اعلان ہے کہ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اللہ وحدہ کی بندگی کریں اور دین اس کے لیے خالص کردیں۔ اور اس طرح آپ پہلے مسلمان بن جائیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اپنے رب کی معصیت کا ارتکاب کرلوں تو میرے لیے بھی عذاب الہٰی کا خطرہ ہے۔ اسلام نے جو عقیدۂ توحید پیش کیا ہے اس کو خالص کرنے کے لیے اس اعلان کی بڑی اہمیت ہے۔ اس عقیدے کے حوالے سے نبی ﷺ بھی اللہ کے ایک بندے ہی ہیں اور آپ ﷺ مقام بندگی سے آگے نہیں جاسکتے ۔ اور تمام انسان بھی بندگی کے مقام پر مساوی طور پر کھڑے ہیں اور صرف ذات باری ہی ہے جو ان بندوں کے اوپر نگہبان ہے۔ یہ ہے مراد اس آیت سے۔ اس طرح مقام الوہیت اور مقام بندگی اپنی اپنی جگہ پر الگ ہوجاتے ہیں اور بالکل متمیز ہوجاتے ہیں۔ ان میں نہ کوئی اختلاط ہوتا ہے اور نہ کوئی اشتباہ ہوتا ہے اور وحدانیت کی صفت اللہ وحدہ کے لیے مختص ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہتا ۔ اور حضرت محمد ﷺ بحیثیت بندہ دوسرے بندوں کے ساتھ ہم صفت کھڑے ہیں اور آپ بھی اللہ کی معصیت کے ارتکاب سے ڈرتے ہیں لہٰذا بتوں اور فرشتوں کی سفارش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ اللہ کے ساتھ ساتھ ان کی عبادت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ ایک بار پھر اللہ کی بندگی کا اعلان فرماتے ہیں اور اصرار کے ساتھ بندگی کا اعلان فرماتے ہیں اور مشرکین سے کہہ دیا جاتا ہے کہ تم جانو اور تمہارا دردناک انجام۔

الزمر 39:13

درس نمبر 217 ایک نظر میں اس سبق پر آخرت کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ اور آخرت کے عذاب کے مختلف رنگ اور سائے ہیں۔ نیز آخرت کے ثواب کی امیدیں بھی ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ خالص توحید کے عقیدے کا اعلان کردیں۔ اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اس سے انحراف کروں تو مجھے عذاب الہٰی کا ڈر ہے اور یہ کہ میں اپنے منصوبے اور منہاج پر قائم ہوں اور تم جانو اور تمہارا منہاج وطریقہ۔ البتہ اسلامی منہاج کا انجام یہ ہوگا اور کفریہ منہاج کا انجام یہ ہوگا۔ درس نمبر 217 تشریح آیات آیت نمبر 11 تا 13 ترجمہ : یہ نبی ﷺ کی طرف سے اعلان ہے کہ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اللہ وحدہ کی بندگی کریں اور دین اس کے لیے خالص کردیں۔ اور اس طرح آپ پہلے مسلمان بن جائیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اپنے رب کی معصیت کا ارتکاب کرلوں تو میرے لیے بھی عذاب الہٰی کا خطرہ ہے۔ اسلام نے جو عقیدۂ توحید پیش کیا ہے اس کو خالص کرنے کے لیے اس اعلان کی بڑی اہمیت ہے۔ اس عقیدے کے حوالے سے نبی ﷺ بھی اللہ کے ایک بندے ہی ہیں اور آپ ﷺ مقام بندگی سے آگے نہیں جاسکتے ۔ اور تمام انسان بھی بندگی کے مقام پر مساوی طور پر کھڑے ہیں اور صرف ذات باری ہی ہے جو ان بندوں کے اوپر نگہبان ہے۔ یہ ہے مراد اس آیت سے۔ اس طرح مقام الوہیت اور مقام بندگی اپنی اپنی جگہ پر الگ ہوجاتے ہیں اور بالکل متمیز ہوجاتے ہیں۔ ان میں نہ کوئی اختلاط ہوتا ہے اور نہ کوئی اشتباہ ہوتا ہے اور وحدانیت کی صفت اللہ وحدہ کے لیے مختص ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہتا ۔ اور حضرت محمد ﷺ بحیثیت بندہ دوسرے بندوں کے ساتھ ہم صفت کھڑے ہیں اور آپ بھی اللہ کی معصیت کے ارتکاب سے ڈرتے ہیں لہٰذا بتوں اور فرشتوں کی سفارش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ اللہ کے ساتھ ساتھ ان کی عبادت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ ایک بار پھر اللہ کی بندگی کا اعلان فرماتے ہیں اور اصرار کے ساتھ بندگی کا اعلان فرماتے ہیں اور مشرکین سے کہہ دیا جاتا ہے کہ تم جانو اور تمہارا دردناک انجام۔

الزمر 39:14

درس نمبر 217 ایک نظر میں اس سبق پر آخرت کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ اور آخرت کے عذاب کے مختلف رنگ اور سائے ہیں۔ نیز آخرت کے ثواب کی امیدیں بھی ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ خالص توحید کے عقیدے کا اعلان کردیں۔ اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اس سے انحراف کروں تو مجھے عذاب الہٰی کا ڈر ہے اور یہ کہ میں اپنے منصوبے اور منہاج پر قائم ہوں اور تم جانو اور تمہارا منہاج وطریقہ۔ البتہ اسلامی منہاج کا انجام یہ ہوگا اور کفریہ منہاج کا انجام یہ ہوگا۔ درس نمبر 217 تشریح آیات آیت نمبر 11 تا 13 ترجمہ : یہ نبی ﷺ کی طرف سے اعلان ہے کہ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اللہ وحدہ کی بندگی کریں اور دین اس کے لیے خالص کردیں۔ اور اس طرح آپ پہلے مسلمان بن جائیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اپنے رب کی معصیت کا ارتکاب کرلوں تو میرے لیے بھی عذاب الہٰی کا خطرہ ہے۔ اسلام نے جو عقیدۂ توحید پیش کیا ہے اس کو خالص کرنے کے لیے اس اعلان کی بڑی اہمیت ہے۔ اس عقیدے کے حوالے سے نبی ﷺ بھی اللہ کے ایک بندے ہی ہیں اور آپ ﷺ مقام بندگی سے آگے نہیں جاسکتے ۔ اور تمام انسان بھی بندگی کے مقام پر مساوی طور پر کھڑے ہیں اور صرف ذات باری ہی ہے جو ان بندوں کے اوپر نگہبان ہے۔ یہ ہے مراد اس آیت سے۔ اس طرح مقام الوہیت اور مقام بندگی اپنی اپنی جگہ پر الگ ہوجاتے ہیں اور بالکل متمیز ہوجاتے ہیں۔ ان میں نہ کوئی اختلاط ہوتا ہے اور نہ کوئی اشتباہ ہوتا ہے اور وحدانیت کی صفت اللہ وحدہ کے لیے مختص ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہتا ۔ اور حضرت محمد ﷺ بحیثیت بندہ دوسرے بندوں کے ساتھ ہم صفت کھڑے ہیں اور آپ بھی اللہ کی معصیت کے ارتکاب سے ڈرتے ہیں لہٰذا بتوں اور فرشتوں کی سفارش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ اللہ کے ساتھ ساتھ ان کی عبادت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ ایک بار پھر اللہ کی بندگی کا اعلان فرماتے ہیں اور اصرار کے ساتھ بندگی کا اعلان فرماتے ہیں اور مشرکین سے کہہ دیا جاتا ہے کہ تم جانو اور تمہارا دردناک انجام۔

الزمر 39:15

آیت نمبر 15 اور دوبارہ اعلان کیا جاتا ہے کہ دیکھو میں تو اپنی راہ پر چل رہا ہوں ، میں بندگی صرف اللہ کی کرتا ہوں ، نظام زندگی صرف اللہ کا اپناتا ہوں ، تم بھی جس راہ کو پسند کرو اور جس کی بندگی چاہو ، اختیار کرو لیکن لیکن تم اس عظیم دیوالیہ پن سے دوچار ہوگے۔ اتنا بڑا خسارہ ہوگا تمہیں جس سے بڑا اور کوئی خسارہ نہ ہوگا۔ تم اپنی جان کو جہنم تک پہنچادوگے۔ تمہیں اہل و عیال کا خسران ہوگا چاہے مومن ہو یا کافر۔ اگر اہل مومن ہوں تو وہ جنتوں کو چلے جائیں گے اور یہ جہنم میں ان سے بہرحال کم ہوں گے۔ اگر کافر ہوں تو جس طرح خود کو گنوایا اسی طرح ان کو بھی گنوایا۔ دونوں جہنم میں ہوں گے۔ ذٰلک ھو الخسران المبین (39: 15) ” یہی کھلا دیوالیہ ہے “۔ اور اس خسارے کا ایک منظر یہ ہے :

الزمر 39:16

آیت نمبر 16 فی الواقع یہ ایک خوفناک منظر ہے۔ یہ آگ کا منظر ہے۔ ان کے اوپر بھی آگ کی چھڑیاں ہوں گی اور نیچے بھی اور وہ ان چھتریوں میں لپٹے ہوں گے اور آگ کے یہ شعلے جنہیں چھتریاں کہا گیا ہے ان پر حاوی ہوں گے۔ یہ خوفناک منظر اللہ اپنے بندوں کے سامنے اس وقت پیش کرتا ہے جبکہ ابھی وہ دنیا میں ہیں اور اگر وہ اس سے بچنا چاہیں تو بچ سکتے ہیں۔ ذٰلک یخوف اللہ به عبادہ (39: 16) ” یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے “۔ ان کو زور زور سے پکارتا ہے کہ بچو بچو ! آگے بہت بڑا خطرہ ہے۔ یٰعباد فاتقون (39: 16) ” اے میرے بندو ' میرے غضب سے بچو “۔ اور دوسری جانب ' بالمقابل پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں وہ لوگ جو نجات پاچکے ہیں ' جو دنیا میں اس برے انجام سے ڈرگئے تھے :

الزمر 39:17

آیت نمبر 17 تا 18 طاغوت کا صیغہ طغیان سے ہے۔ جس طرح ملکوت ' عظموت اور رحموت کے صغے بنے ہیں اس کے مفہوم میں ضخامت اور مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس کا مروج مفہوم یہ ہے کہ جو سرکشی کرے اور حد سے تجاوز کرجائے ' وہ طاغوت ہے۔ اور جو لوگ طاغوت کی بندگی اور طاعت سے اجتناب کرتے ہیں وہ لوگ کون ہیں ؟ وہ کسی شکل میں بھی طاغوت کی بندگی نہ کریں۔ اور یہ وہی لوگ ہوں گے جو ہر چھوٹے بڑے کام میں اللہ کی بندگی کرنے والے ہوں ، اس کی طرف لوٹنے والے ہوں اس کی طرف رجوع کرنے والے ہوں اور بندگی کے صحیح مقام پر کھڑے ہوں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے بشارت عالم بالا سے ہے اور رسول اللہ ؐ ان کو اس کی خوشخبری دے رہے ہیں۔ لھم البشرٰی فبشرعباد (39: 17) ” ان کے لیے خوشخبری ہے۔ (پس اے نبی ﷺ بشارت دے دو میرے ان بندوں کو “۔ ان کے لیے عالم بالا سے بشارت آئی اور رسول اللہ ؐ نے سنا دی تو اس سے بڑی تعمت اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اللہ کے ایسے کی صفت یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ اللہ کی جو بات سنتے ہیں اسے غور سے سنتے ہیں۔ پھر اس بات کی وہ اطاعت کرتے ہیں کیونکہ وہ بہت ہی احسن ہوتی ہے اور دوسری باتوں کو وہ ترک کردیتے ہیں۔ لہٰذا وہ صرف اچھی بات ہی لیتے ہیں ۔ اس کے ذریعہ اپنے اذہان وقلوب کو صاف کرتے ہیں۔ اور ہمشہ یوں ہوتا ہے کہ پاک اور طب نفوس پاک اور احسن باتوں کے لیے ہمشہ کھلے ہوتے ہیں۔ وہ فوراً قبول کرتے ہیں اور ناپاک اور خبیث دل طیب چیزوں کے لیے بند ہوتے ہیں۔ اور گندی باتیں ہی قبول کرتے ہیں۔ اولٰئک الذین ھدٰھم اللہ (39: 18) ” یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے “۔ کیونکہ اللہ نے دیکھ لیا کہ ان کے دلوں میں خیر موجود ہے۔ لہٰذا اللہ نے ان کو خیر کی طرف ہدایت دی اور انہوں نے اچھی باتوں کو سنا اور قبول کرلیا۔ اور ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔ وأولٰئک ھم اولوا الباب (39: 18) ” اور یہی لوگ دانشمند ہیں “۔ عقل سلیم ہی انسانوں کو پاکیزگی کی طرف مائل کرتی ہے ۔ نجات کی طرف مائل کرتی ہے۔ لہٰذا جو شخص پاکیزگی اور نجات کی طرف میلان نہیں رکھتاوہ گویا مسلوب العقل ہے اور اس نے اللہ کی دی ہوئی نعمت سے انکار کردیا ہے۔ قبل اس کے پاکیزہ لوگوں کے انعام و انجام کو پیش کیا جائے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ طاغوت کے یہ بندے دراصل عملاً اگ تک پہنچ گئے ہیں اور ان میں سے ایک بھی اگ سے نجات نہیں پاسکتا۔

الزمر 39:18

آیت نمبر 17 تا 18 طاغوت کا صیغہ طغیان سے ہے۔ جس طرح ملکوت ' عظموت اور رحموت کے صغے بنے ہیں اس کے مفہوم میں ضخامت اور مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس کا مروج مفہوم یہ ہے کہ جو سرکشی کرے اور حد سے تجاوز کرجائے ' وہ طاغوت ہے۔ اور جو لوگ طاغوت کی بندگی اور طاعت سے اجتناب کرتے ہیں وہ لوگ کون ہیں ؟ وہ کسی شکل میں بھی طاغوت کی بندگی نہ کریں۔ اور یہ وہی لوگ ہوں گے جو ہر چھوٹے بڑے کام میں اللہ کی بندگی کرنے والے ہوں ، اس کی طرف لوٹنے والے ہوں اس کی طرف رجوع کرنے والے ہوں اور بندگی کے صحیح مقام پر کھڑے ہوں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے بشارت عالم بالا سے ہے اور رسول اللہ ؐ ان کو اس کی خوشخبری دے رہے ہیں۔ لھم البشرٰی فبشرعباد (39: 17) ” ان کے لیے خوشخبری ہے۔ (پس اے نبی ﷺ بشارت دے دو میرے ان بندوں کو “۔ ان کے لیے عالم بالا سے بشارت آئی اور رسول اللہ ؐ نے سنا دی تو اس سے بڑی تعمت اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اللہ کے ایسے کی صفت یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ اللہ کی جو بات سنتے ہیں اسے غور سے سنتے ہیں۔ پھر اس بات کی وہ اطاعت کرتے ہیں کیونکہ وہ بہت ہی احسن ہوتی ہے اور دوسری باتوں کو وہ ترک کردیتے ہیں۔ لہٰذا وہ صرف اچھی بات ہی لیتے ہیں ۔ اس کے ذریعہ اپنے اذہان وقلوب کو صاف کرتے ہیں۔ اور ہمشہ یوں ہوتا ہے کہ پاک اور طب نفوس پاک اور احسن باتوں کے لیے ہمشہ کھلے ہوتے ہیں۔ وہ فوراً قبول کرتے ہیں اور ناپاک اور خبیث دل طیب چیزوں کے لیے بند ہوتے ہیں۔ اور گندی باتیں ہی قبول کرتے ہیں۔ اولٰئک الذین ھدٰھم اللہ (39: 18) ” یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے “۔ کیونکہ اللہ نے دیکھ لیا کہ ان کے دلوں میں خیر موجود ہے۔ لہٰذا اللہ نے ان کو خیر کی طرف ہدایت دی اور انہوں نے اچھی باتوں کو سنا اور قبول کرلیا۔ اور ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔ وأولٰئک ھم اولوا الباب (39: 18) ” اور یہی لوگ دانشمند ہیں “۔ عقل سلیم ہی انسانوں کو پاکیزگی کی طرف مائل کرتی ہے ۔ نجات کی طرف مائل کرتی ہے۔ لہٰذا جو شخص پاکیزگی اور نجات کی طرف میلان نہیں رکھتاوہ گویا مسلوب العقل ہے اور اس نے اللہ کی دی ہوئی نعمت سے انکار کردیا ہے۔ قبل اس کے پاکیزہ لوگوں کے انعام و انجام کو پیش کیا جائے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ طاغوت کے یہ بندے دراصل عملاً اگ تک پہنچ گئے ہیں اور ان میں سے ایک بھی اگ سے نجات نہیں پاسکتا۔

الزمر 39:19

آیت نمبر 19 خطاب رسول خدا سے ہے۔ اور اگر رسول اللہ ؐ ان کو آگ سے نہیں بچا سکتے تو آپ کے سوا اور پھر کون ہے جو ان لوگوں کو آگ سے بچاسکے۔ ان جہنمیوں کے منظر کے بالمقابل ان لوگوں کا منظر ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور ان باتوں سے ڈرتے ہیں جن سے اللہ نے ان کو ڈرایا ہے۔ گویا یہ جہنمی عملاً جہنم میں ہیں اور جنتی عملاً جنت میں ہیں۔

الزمر 39:20

آیت نمبر 20 اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے منزل بنی ہوئی بلند عمارتوں یعنی بالاخانوں کا یہ منظر اہل جہنم کے اس منظر کے بالمقابل ہے جن سے اوپر بھی چھتریاں ہوں گی آگ کی اور نیچے بھی ہوں گی۔ یہ تقابل قرآن کے انداز کلام کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ ان تمام مناظر میں پایا جاتا ہے جو قرآن مجید میں تقابلی مناظر کے طور پت پیش کئے گئے ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ ہمشہ واقع ہوکر رہتا ہے۔ جن مسلمانوں نے سب سے پہلے اس قرآن کوسنا۔ انہوں نے ان مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ ان کے لیے کوئی وعدہ یا وعید دورنہ تھا ۔ ان کے قلوب اور ان کے احساسات تو ان کی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ یہ وعدے اور وعید تو ان کے لیے مشاہدہ تھے۔ یہ وعدے اور وعید سن کر وہ کانپ اٹھتے تھے اور ان کے نفوس اس طرح اپنا رخ قرآن کے ساتھ بدل دہتے تھے۔ جس طرح بادنما ہوا کے ساتھ رخ کو بدل دیتا ہے۔ اور وہ اپنی زندگی کو اخروی مناظر کے مطابق بدل دیئے تھے اور وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مناظر قیامت میں زندہ رہ رہے تھے۔ یہی رویہ ہونا چاہئے ایک مسلمان کا قرآن کے حوالے سے کہ وہ قرآن کو سمجھے اور اپنی عملی زندگی کے رخ کو قرآن کے رخ پر ڈالتا رہے۔

الزمر 39:21

درس نمبر 218 ایک نظر میں یہ سبق عالم نباتات کی ایک جھلک دکھاتا ہے کہ کس طرح اللہ پانی آسمانوں سے اتارتا ہے اور پھر زمین سرسبز ہو کر فصلیں اگتی ہیں اور یہ فصلیں اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہ مثال قرآن میں زمین کی بےثباتی اور حیات دنیا کے اختصار کے لیے دی جاتی ہے۔ اور اہل فکر ونظر کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس پر غور و فکر کریں۔ پھر آسمانوں سے پانی کے نزول کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ کتاب بھی ایک قسم کا باران رحمت ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سے خشک دل سرسبز ہوجاتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔ اس موقعہ پر ایک نہایت ہی اشاراتی تصویر بھی پیش کی جاتی ہے کہ کھلے دل اس کتاب سے کس طرح استفادہ کرتے ہیں۔ وہ اس سے ڈرتے ہیں ، ان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور نرم ہوکر ان کے اندر قبولیت پیدا ہوتی ہے اور پھر ہدایت قبول کرکے وہ خوب مطمئن ہوجاتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کی تصویر جو ذکر الہٰی کی طرف لبیک کہتے ہیں اور ان کی تصویر جنکے دل پتھر ہوگئے ہیں۔ آخر میں توحید کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور ایک مثال دی جاتی ہے کہ الٰہ واحد کی بندگی کرنے والوں اور متعدد الہوں کی بندگی کرنے والوں کی حالت کیا ہوتی ہے۔ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ دونوں کا ایک حال نہیں ہوسکتا ، مثلاً ایک غلام جسکے مختلف اور باہم لڑنے جھگڑنے والے مالک ہوں اور دوسرا غلام جو صرف ایک ہی سنجیدہ مالک کا غلام ہو۔ درس نمبر 218 تشریح آیات آیت نمبر 21 یہ منظر جس کی طرف یہاں قرآن کریم ہماری توجہ مبذول کراتا ہے ، ایک ایسا منظر ہے جو اس کرۂ ارض پر ہر جگہ دہرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس منظر میں جو عبائبات ہیں ان کی تعجب خیزی بوجہ بار وہرائے جانے کے ، ختم ہوجاتی ہے اور انسان ان سے مانوس ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم انہی مناظر کو دوبارہ گہرے غوروفکر کے لیے پیش کرتا ہے کہ انسان اس منظر کی ترقی پر مرحلہ وار غور کرے۔ دیکھو ، آسمانوں سے پانی نازل ہورہا ہے۔ یہ پانی کیا ہے اور کس طرح یہ آرہا ہے۔ یہ چونکہ نازل ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر سے یوں ہی گزر جاتے ہیں۔ یہ پانی اور اس کی تخلیق بذات خود ایک معجزہ ہے۔ اگرچہ ہمیں اس قدر معلوم ہوگیا ہے کہ یہ ایک متعین انداز میں ہائیڈروجن کے دو ذروں کا آکسیجن کے ایک ذرے کے ملاپ کا نام ہے۔ لیکن ہمارا یہی علم ہے کہ اللہ نے کائنات کے اندر ہائیڈروجن اور آکسیجن کو پیدا کیا اور پھر ایسے حالات پیدا کیے۔ کہ یہ ذرے آپس میں مل گئے اور اس اتحاد کے نتیجے میں پانی وجود میں آگیا۔ اور اس کے بعد اس زمین پر حیات کا پیدا کیا جانا ممکن بنا دیا گیا اور اللہ کا دست قدرت ان تمام امور کے پیچھے ہے۔ اور یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی صنعت کاریاں ہیں۔ پھر اسمانوں سے اس پانی کا نازل کرنا ، اس مخصوص انداز میں ایک دوسرا معجزہ ہے کہ اس زمین اور اس کائنات کو اس انداز میں بنایا کہ پانیوں کا برسنا ممکن ہوگیا۔ پھر اس کے بعد جو مرحلہ آتا ہے وہ یہ کہ فسلکه ینابیع فی الارض (39: 21) ” پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا “۔ اس میں وہ دریا بھی شامل ہیں جو زمین پر بہتے ہیں۔ اس میں وہ ذخیرے بھی شامل ہیں جو سطح زمین کے نیچے ادھر ادھر چلتے ہیں۔ اور سورتوں اور چشموں کی شکل میں نکلتے ہیں۔ یا اس سطح زمین کے اندر کنویں نکال کر جاری کیے جاتے ہیں اس طرح کہ اللہ اس پانی کو سطح کے قریب رکھتا ہے اور یہ پانی دور تک نہیں جاتے کہ کبھی واپس ہی نہ ہوسکیں۔ ثم یخرج به زرعا مختلفا الوانه (39: 21) ” پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جس کی قسمیں مختلف ہیں “۔ نباتاتی زندگی جو بارش کے نتیجے میں نمودار ہوتی ہیں اور بارش سے پیدا ہوتی ہے ایک ایسا معجزہ ہے جس کا مقابلہ انسانی جدوجہد نہیں کرسکتی ۔ ایک چھوٹی سی کونپل جو زمین سے سر نکالتی ہے ، زمین کے بھاری بوجھ کو پھاڑ کر اور سر نکال کو کھلی فضا مٰن سانس لیتی ہے اور روشنی اور ہوا سے لطف اندوز ہوتی ہے اور آزاد فضا میں آزادی سے لہلہاتی ہے اور پھر یہ فضا میں آہستہ آہستہ اوپر اٹھتی ہے۔ صرف اس کو نپل کا ملاحظہ ہی انسان کے دل و دماغ کو ذکر الہٰی سے بھر دیتا ہے۔ اور اللہ خالق کائنات کے احساس کی ایک لہر انسان کے ذہین میں اٹھا دیتا ہے وہ اللہ جس نے ہر چیز کو اس کا وجود بخشا اور پھر اسے ہدایت دی پھر ایک ہی قطعہ زمین میں مختلف قسم کے پھل ، مختلف پھل نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا پودا بلکہ ایک چھوٹا سا پھول بھی قدرت باری تعالیٰ کی ایک عظیم نمائش گاہ ہے۔ انسان صرف ایک پھول کا تجزیہ کرکے ہی اپنے عجز کا اظہار کردیتا ہے۔ اور پھر یہ سرسبز فصل اپنی سر سبزی ختم کرکے پک جاتی ہے اور اپنے دن پورے کرکے۔ ثم یھیج فترہ مصفرا (39: 21) ” پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑگئیں “۔ اور اس کائنات کے ناموس فطرت میں اس کے لیے جو انجام مقرر ہے اس تک وہ پہنچ جاتی ہے اور مراحل حیات طے کرکے پک جاتی ہے۔ ثم یجعله حطاما (39: 21) ” پھر آخر کار اللہ ان کو ان کو بھس بنا دیتا ہے “۔ اس کا وقت مقرر آپہنچتا ہے۔ وہ اپنا کردار ادا کردیتی ہے۔ اور اس کا دور ختم ہوتا ہے جو زندگی بخشنے والے اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ ان فی ذٰلک لذکرٰی لاولی الالباب (39: 21) ” درحقیقت اس میں سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے “۔ وہ عقل رکھنے والے جو غور کرتے ہیں ، سبق لیتے ہیں اور اللہ ان کو جو صلاحیتیں دی ہیں اور جو عقل وخرد دی ہے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

الزمر 39:22

آیت نمبر 22 تا 23 جس طرح آسمانوں سے پانی نازل ہوتا ہے ، زمین سے نباتات اگتے ہیں اور ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے ذکر اور نصیحت نازل ہوتی ہے۔ اس ذکر اسے بھی زندہ دل فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان دنوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اچھے کاموں کے لئے بڑھتے ہیں۔ اور جس طرح آسمانوں کی بارش پتھروں پر فصل نہیں اگاتی۔ اسی طرح سنگدل لوگوں پر ذکر آسمانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ان میں کارخیر کی روئیدگی ہوتی ہے اور نہ فکر خیر کی روئیدگی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلام کے لیے ایسے دلوں کے اندر شرح صدر پیدا کردیتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں ہوتا ہے کہ ان کے اندر خیر ہے۔ ان تک نور الہٰی پہنچتا ہے تو چمک اٹھتے ہیں اور ان سے زوشنی پھولتی ہے۔ اور شرح صدر والے قلوب اور سنگدل قلوب میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ فویل للقٰسیة قلوبھم من ذکر اللہ (39: 22) ” تباہی ان لوگوں کے لیے جن کے دل نصیحت سے اور سخت ہوجاتے ہیں “۔ اولٰئک فی ضلل مبین (39: 22) ” وہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ آیت کریمہ ان دلوں کی حقیقت بیان کرتی ہے جو اسلام کے لیے کھل جاتے ہیں ، جو اسلام سے ہدایات لیتے ہیں اور اسلام سے تروتازگی حاصل کرتے ہیں اور اپنے دلوں کا تعلق اللہ سے جوڑتے ہیں۔ ان کی شرح صدر کی حالت سے ان کی تازگی ، ان کے اندر پائی جانے والی بشاشت اور مسرت اور نورانیت اور اشراق کی کیفیات وجود میں آتی ہیں اس کے مقابلے میں یہ آیت ان دلوں کا حال بھی بتاتی ہے جو سخت اور پتھر ہیں۔ جو اپنی خشکی کی وجہ سے مرچکے ہیں۔ بانجھ اور تاریک ہوچکے ہیں۔ غرض اللہ جس کو اسلام کے لیے پسند کرتا ہے اس کا دل اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور اسلام کا نور ان کے دلوں میں داخل ہوجاتا ہے اور جسے محروم کرنا چاہتا ہے اس کا دل سخت کردیتا ہے اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ دوسری آیت میں یہ بتایا گیا کہ اہل ایمان قرآن کریم کو کس انداز میں لیتے ہیں۔ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی طبیعت اور مزاج میں ، اس کی سمت میں اس کی روح میں ، اس کے خصائص میں ، یہ ان تمام زاویوں سے مشابہ اور مثانی ہے (دہرائی ہوئی) ۔ اس کی آیات کے آخری حصے یعنی مقطعے ، اس کے قصص اور اس کی ہدایات اور اس کے مناظر باربار دہرائے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں تضاد نہیں ہوتا۔ ہر جگہ ایک نئے زاویہ سے دہرائے جاتے ہیں اور ہر جگہ نئے لگتے ہیں اور پر جگہ نیا فائدہ ہوتا ہے۔ نہایت ہم آہنگی ، نہایت سنجیدگی اور مضبوط اصولوں کے مطابق ، جن میں نہ تصادم ہے اور نہ تضاد ہے۔ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام کے مطابق پرہیز کرتے ہیں اور ہر وقت احتیاط میں زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر وقت اللہ کے فضل کے امیدوار ہوتے ہیں۔ وہ قرآن کریم کے باران رحمت کو نہایت خوف اور کپکپی سے لیتے ہیں۔ اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے نفوس کے اوپر سکون کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور ان کے دل اس ذکر سے مانوس ہوجاتے ہیں ، پھر ان کے دل نرم ہوکر اس نصیحت کو قبول کرلیتے ہیں۔ یہ ایک زندہ حساس صورت حالات ہے ۔ یہ صورت حالات الفاظ کے رنگ سے منقش ہے اور یہ تصاویر یوں نظر آتی ہیں کہ گویا زندہ ومتحرک ہیں۔ ذٰلک ھدی اللہ یھدی به من یشآء (39: 23) ” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ جس کو چاہتا ہے ، راہ راست پر لے آتا ہے “۔ یہ دل از خود اس طرح کانپ نہیں جاتے بلکہ یہ رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتے ہیں اور رحمٰن کے فضل وکرم سے وہ لبیک کہتے ہیں اور ان کے اندر نور پیدا ہوجاتا ہے ، اللہ کو تمام قلوب کی حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ کسی کو ہدایت دیتا ہے اور کسی کو گمراہی لیکن یہ ان قلوب کی پسند کے مطابق ہوتا ہے۔ ومن یضلل اللہ فما له من ھاد (39: 23) ” اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے “۔ اللہ اس کو اس لیے گمراہ کرتا ہے کہ وہ شخص گمراہی اختیار کرتا ہے اور اللہ کو علم ہوتا ہے کہ اس نے ایسا کرلیا ہے یا کرے گا اور وہ کبھی بھی ہدایت کو قبول نہ کرے گا۔ اور نہ ہدایت کے سامنے سر جھکائے گا۔

الزمر 39:23

آیت نمبر 22 تا 23 جس طرح آسمانوں سے پانی نازل ہوتا ہے ، زمین سے نباتات اگتے ہیں اور ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے ذکر اور نصیحت نازل ہوتی ہے۔ اس ذکر اسے بھی زندہ دل فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان دنوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اچھے کاموں کے لئے بڑھتے ہیں۔ اور جس طرح آسمانوں کی بارش پتھروں پر فصل نہیں اگاتی۔ اسی طرح سنگدل لوگوں پر ذکر آسمانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ان میں کارخیر کی روئیدگی ہوتی ہے اور نہ فکر خیر کی روئیدگی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلام کے لیے ایسے دلوں کے اندر شرح صدر پیدا کردیتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں ہوتا ہے کہ ان کے اندر خیر ہے۔ ان تک نور الہٰی پہنچتا ہے تو چمک اٹھتے ہیں اور ان سے زوشنی پھولتی ہے۔ اور شرح صدر والے قلوب اور سنگدل قلوب میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ فویل للقٰسیة قلوبھم من ذکر اللہ (39: 22) ” تباہی ان لوگوں کے لیے جن کے دل نصیحت سے اور سخت ہوجاتے ہیں “۔ اولٰئک فی ضلل مبین (39: 22) ” وہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ آیت کریمہ ان دلوں کی حقیقت بیان کرتی ہے جو اسلام کے لیے کھل جاتے ہیں ، جو اسلام سے ہدایات لیتے ہیں اور اسلام سے تروتازگی حاصل کرتے ہیں اور اپنے دلوں کا تعلق اللہ سے جوڑتے ہیں۔ ان کی شرح صدر کی حالت سے ان کی تازگی ، ان کے اندر پائی جانے والی بشاشت اور مسرت اور نورانیت اور اشراق کی کیفیات وجود میں آتی ہیں اس کے مقابلے میں یہ آیت ان دلوں کا حال بھی بتاتی ہے جو سخت اور پتھر ہیں۔ جو اپنی خشکی کی وجہ سے مرچکے ہیں۔ بانجھ اور تاریک ہوچکے ہیں۔ غرض اللہ جس کو اسلام کے لیے پسند کرتا ہے اس کا دل اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور اسلام کا نور ان کے دلوں میں داخل ہوجاتا ہے اور جسے محروم کرنا چاہتا ہے اس کا دل سخت کردیتا ہے اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ دوسری آیت میں یہ بتایا گیا کہ اہل ایمان قرآن کریم کو کس انداز میں لیتے ہیں۔ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی طبیعت اور مزاج میں ، اس کی سمت میں اس کی روح میں ، اس کے خصائص میں ، یہ ان تمام زاویوں سے مشابہ اور مثانی ہے (دہرائی ہوئی) ۔ اس کی آیات کے آخری حصے یعنی مقطعے ، اس کے قصص اور اس کی ہدایات اور اس کے مناظر باربار دہرائے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں تضاد نہیں ہوتا۔ ہر جگہ ایک نئے زاویہ سے دہرائے جاتے ہیں اور ہر جگہ نئے لگتے ہیں اور پر جگہ نیا فائدہ ہوتا ہے۔ نہایت ہم آہنگی ، نہایت سنجیدگی اور مضبوط اصولوں کے مطابق ، جن میں نہ تصادم ہے اور نہ تضاد ہے۔ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام کے مطابق پرہیز کرتے ہیں اور ہر وقت احتیاط میں زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر وقت اللہ کے فضل کے امیدوار ہوتے ہیں۔ وہ قرآن کریم کے باران رحمت کو نہایت خوف اور کپکپی سے لیتے ہیں۔ اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے نفوس کے اوپر سکون کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور ان کے دل اس ذکر سے مانوس ہوجاتے ہیں ، پھر ان کے دل نرم ہوکر اس نصیحت کو قبول کرلیتے ہیں۔ یہ ایک زندہ حساس صورت حالات ہے ۔ یہ صورت حالات الفاظ کے رنگ سے منقش ہے اور یہ تصاویر یوں نظر آتی ہیں کہ گویا زندہ ومتحرک ہیں۔ ذٰلک ھدی اللہ یھدی به من یشآء (39: 23) ” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ جس کو چاہتا ہے ، راہ راست پر لے آتا ہے “۔ یہ دل از خود اس طرح کانپ نہیں جاتے بلکہ یہ رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتے ہیں اور رحمٰن کے فضل وکرم سے وہ لبیک کہتے ہیں اور ان کے اندر نور پیدا ہوجاتا ہے ، اللہ کو تمام قلوب کی حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ کسی کو ہدایت دیتا ہے اور کسی کو گمراہی لیکن یہ ان قلوب کی پسند کے مطابق ہوتا ہے۔ ومن یضلل اللہ فما له من ھاد (39: 23) ” اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے “۔ اللہ اس کو اس لیے گمراہ کرتا ہے کہ وہ شخص گمراہی اختیار کرتا ہے اور اللہ کو علم ہوتا ہے کہ اس نے ایسا کرلیا ہے یا کرے گا اور وہ کبھی بھی ہدایت کو قبول نہ کرے گا۔ اور نہ ہدایت کے سامنے سر جھکائے گا۔

الزمر 39:24

آیت نمبر 24 انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں اور اپنے جسم کے ذریعے بھی اپنے چہرے کو بچاتا ہے۔ یہاں دوزخ کے اندر تو وہ اپنے آپ کو کس صورت میں بھی آگ سے نہیں بچاسکتا ۔ نہ ہاتھوں سے ، نہ پاؤں سے۔ لہٰذا وہ یہاں چہرے سے آگ کو دفع کرے گا۔ اور چہرے کے ذریعہ سخت عذاب سے بچنے کی سعی کرے گا۔ یہاں مراد ہے شدید ڈر ، شدیدخوب اور شدید اضطراب۔ اس قسم کی صورت حال میں اب کفار کو سرزنش کیجاتی ہے اور اس کے سامنے اس کی پوری زندگی کی کمائی پیش کی جاتی ہے۔ وقیل للظلمین ذوقوا ماکنتم تکسبون (39: 24) ” وہ ظالموں سے کہہ دیا جائے گا ، اب چکھو مزہ ، اس کمائی کا جو تم کرتے تھے “۔ اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والے لوگوں سے پھر کر ان اقوام کی طرف چلا جاتا ہے جنہوں نے انسانی تاریخ میں دوسرے نبیوں کی تکذیب کی تاکہ ذراوہ تاریخ سے بھی سبق لیں اور اپنا بندوبست بھی کرلیں۔

الزمر 39:25

آیت نمبر 25 تا 26 یہ ہے حال مکذبین کا دنیا اور آخرت دونوں میں۔ دنیا میں بھی اللہ نے ان کو شرمندہ اور ذلیل کیا۔ آخرت میں بھی ان کے لیے ایک عظیم عذاب انتظار میں ہے۔ اللہ کی سنت اپنا کام کرتی ہے۔ وہ اٹل ہے۔ اقوام رفتہ کا انجام پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ شاہد عادل ہے۔ اللہ کی دھمکی قائم ہے کہ وہ آخرت میں ان کو سزا دے گا۔ ان کے سامنے اب بھی فرصت کے لمحات موجود ہیں۔ ان کو غنیمت سمجھیں اور قرآن کی نصیحت سے ہدایت لیں۔ لوکانوا یعلمون (39: 26) ” کاش یہ لوگ جانتے “۔

الزمر 39:26

آیت نمبر 25 تا 26 یہ ہے حال مکذبین کا دنیا اور آخرت دونوں میں۔ دنیا میں بھی اللہ نے ان کو شرمندہ اور ذلیل کیا۔ آخرت میں بھی ان کے لیے ایک عظیم عذاب انتظار میں ہے۔ اللہ کی سنت اپنا کام کرتی ہے۔ وہ اٹل ہے۔ اقوام رفتہ کا انجام پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ شاہد عادل ہے۔ اللہ کی دھمکی قائم ہے کہ وہ آخرت میں ان کو سزا دے گا۔ ان کے سامنے اب بھی فرصت کے لمحات موجود ہیں۔ ان کو غنیمت سمجھیں اور قرآن کی نصیحت سے ہدایت لیں۔ لوکانوا یعلمون (39: 26) ” کاش یہ لوگ جانتے “۔

الزمر 39:27

آیت نمبر 27 تا 29 اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کی جو موحد ہے اور کسی ایسے بندے کی جو مشرک ہے ، یہ مثال دیتا ہے کہ ان کی مثال ہے جیسے ایک غلام ایک شخص کی خالص ملکیت ہو اور دوسرا کئی مختلف الحیال مالکان کے درمیان مشترکہ ہو۔ اس مشترکہ غلام میں مختلف مالکان کے علیحدہ علیحدہ مطالبے ہیں۔ اور یہ بیچارہ انکے درمیان حیران وپریشان ہے۔ کوئی ادھر کھینچتا ہے ، کوئی ادھر۔ وہ اسے کوئی ایک پروگرام نہیں دیتے اور اس بیچارے کی یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ انکی متضاد فرمائشیں شروع کرسکے کیونکہ وہ اسکے رخ کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور اسکی خواہشات کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور ایک ایک کا غلام یکسو ہے۔ اس کو مالک نے ایک پروگرام دیا ہوا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اسنے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک آقا کا غلام مطمئن ، خوش اور یکسو ہوگا۔ ھل یستویٰن مثلا (39: 29) ” کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے “۔ یقیناً دونوں برابر نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس کا ایک آقا ہے وہ آدم ، استراحت ، استقامت اور یقینی پروگرام رکھتا ہے۔ اس کی قوتیں مجتمع ہیں۔ اس کا رخ متعین ہے ۔ اس کی راہ متعین ہے اور جس غلام کے مختلف الحیال آقا ہیں۔ وہ ایک دائمی عذاب میں ہے۔ ایک دائمی کشاکش میں ہے۔ اور ہر وقت قلق وبے چینی میں مبتلا ہے۔ کسی ایک حال پر برقرار نہیں ہے۔ اور اس سے ایک مالک بھی راضی نہ ہوگا ، سب کا راضی ہونا تو محال ہے۔ یہ مثال حقیقت توحید اور حقیقت شرک پر تمام حالات میں منطبق ہے۔ ایک موحدو مومن اس زمین پر اپنا سفر نہایت ہی سیدھے راہ پر علی وجہ البصیرت طے کرتا ہے۔ کیونکہ ان کی نظریں ہمشہ ایک نصب العین پر مرکوز ہیں۔ پوری زندگی ، پوری قوت اور تمام ضروریات اور تمام نفع ونقصان وہ ایک جہت سے طلب کرتا ہے۔ ایک ذات ہے جو اسے روکتی ہے اور ایک ہی ذات ہے جو اسے اجازت دیتی ہے۔ لہٰذا اس کے قدم سیدھے اس ایک سرچشمے کی طرف بڑھتے ہیں۔ وہ اسی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے اور اس کے ہاتھوں میں ایک ہی مضبوط رسی ہے جسے اس کے مضبوطی سے پکڑا رکھا ہے ، ایک ہی ہدف ہے جس پر وہ نظریں جمائے ہوئے ہے۔ ایک ہی آقا کی وہ خدمت کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ میرا آقا کس بات پر راضی ہوتا ہے اور کس پر نازاض ہوتا ہے۔ یوں اس کی قوتیں مجتمع ہوتی ہیں اور یوں وہ پوری قوت کے ساتھ زمین پر کام کرتا ہے۔ اور آسمان پر نظریں جمائے ہوتا ہے۔ اور اس مثال پر تبصرہ الحمدللہ سے کیا جاتا ہے کہ اس نے عقیدۂ توحید کے ذریعے اپنے بندوں کو آرام و اطمینان اور راحت بخشی ہے۔ اور ان کی زندگی کو اثبات وقرار عطا کیا۔ اب اگر وہ اس سے انحراف کرتے ہیں تو وہ لاعلم ہیں۔ یہ ان مثالوں میں ایک ہے جو قرآن نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے دی ہیں تاکہ لوگ حقیقت کو جان سکیں۔ یہ قرآن عربی ہے ، سیدھا ، واضح اور بین ہے۔ اس کے معانی میں کوئی التباس نہیں۔ نہ پیچیدگی اور انحراف ہے اور یہ عوام الناس کو ایک فطری استدلال سے خطاب کرتا ہے ، جو ان کی سمجھ میں آتا ہے۔

الزمر 39:28

آیت نمبر 27 تا 29 اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کی جو موحد ہے اور کسی ایسے بندے کی جو مشرک ہے ، یہ مثال دیتا ہے کہ ان کی مثال ہے جیسے ایک غلام ایک شخص کی خالص ملکیت ہو اور دوسرا کئی مختلف الحیال مالکان کے درمیان مشترکہ ہو۔ اس مشترکہ غلام میں مختلف مالکان کے علیحدہ علیحدہ مطالبے ہیں۔ اور یہ بیچارہ انکے درمیان حیران وپریشان ہے۔ کوئی ادھر کھینچتا ہے ، کوئی ادھر۔ وہ اسے کوئی ایک پروگرام نہیں دیتے اور اس بیچارے کی یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ انکی متضاد فرمائشیں شروع کرسکے کیونکہ وہ اسکے رخ کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور اسکی خواہشات کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور ایک ایک کا غلام یکسو ہے۔ اس کو مالک نے ایک پروگرام دیا ہوا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اسنے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک آقا کا غلام مطمئن ، خوش اور یکسو ہوگا۔ ھل یستویٰن مثلا (39: 29) ” کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے “۔ یقیناً دونوں برابر نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس کا ایک آقا ہے وہ آدم ، استراحت ، استقامت اور یقینی پروگرام رکھتا ہے۔ اس کی قوتیں مجتمع ہیں۔ اس کا رخ متعین ہے ۔ اس کی راہ متعین ہے اور جس غلام کے مختلف الحیال آقا ہیں۔ وہ ایک دائمی عذاب میں ہے۔ ایک دائمی کشاکش میں ہے۔ اور ہر وقت قلق وبے چینی میں مبتلا ہے۔ کسی ایک حال پر برقرار نہیں ہے۔ اور اس سے ایک مالک بھی راضی نہ ہوگا ، سب کا راضی ہونا تو محال ہے۔ یہ مثال حقیقت توحید اور حقیقت شرک پر تمام حالات میں منطبق ہے۔ ایک موحدو مومن اس زمین پر اپنا سفر نہایت ہی سیدھے راہ پر علی وجہ البصیرت طے کرتا ہے۔ کیونکہ ان کی نظریں ہمشہ ایک نصب العین پر مرکوز ہیں۔ پوری زندگی ، پوری قوت اور تمام ضروریات اور تمام نفع ونقصان وہ ایک جہت سے طلب کرتا ہے۔ ایک ذات ہے جو اسے روکتی ہے اور ایک ہی ذات ہے جو اسے اجازت دیتی ہے۔ لہٰذا اس کے قدم سیدھے اس ایک سرچشمے کی طرف بڑھتے ہیں۔ وہ اسی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے اور اس کے ہاتھوں میں ایک ہی مضبوط رسی ہے جسے اس کے مضبوطی سے پکڑا رکھا ہے ، ایک ہی ہدف ہے جس پر وہ نظریں جمائے ہوئے ہے۔ ایک ہی آقا کی وہ خدمت کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ میرا آقا کس بات پر راضی ہوتا ہے اور کس پر نازاض ہوتا ہے۔ یوں اس کی قوتیں مجتمع ہوتی ہیں اور یوں وہ پوری قوت کے ساتھ زمین پر کام کرتا ہے۔ اور آسمان پر نظریں جمائے ہوتا ہے۔ اور اس مثال پر تبصرہ الحمدللہ سے کیا جاتا ہے کہ اس نے عقیدۂ توحید کے ذریعے اپنے بندوں کو آرام و اطمینان اور راحت بخشی ہے۔ اور ان کی زندگی کو اثبات وقرار عطا کیا۔ اب اگر وہ اس سے انحراف کرتے ہیں تو وہ لاعلم ہیں۔ یہ ان مثالوں میں ایک ہے جو قرآن نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے دی ہیں تاکہ لوگ حقیقت کو جان سکیں۔ یہ قرآن عربی ہے ، سیدھا ، واضح اور بین ہے۔ اس کے معانی میں کوئی التباس نہیں۔ نہ پیچیدگی اور انحراف ہے اور یہ عوام الناس کو ایک فطری استدلال سے خطاب کرتا ہے ، جو ان کی سمجھ میں آتا ہے۔

الزمر 39:29

آیت نمبر 27 تا 29 اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کی جو موحد ہے اور کسی ایسے بندے کی جو مشرک ہے ، یہ مثال دیتا ہے کہ ان کی مثال ہے جیسے ایک غلام ایک شخص کی خالص ملکیت ہو اور دوسرا کئی مختلف الحیال مالکان کے درمیان مشترکہ ہو۔ اس مشترکہ غلام میں مختلف مالکان کے علیحدہ علیحدہ مطالبے ہیں۔ اور یہ بیچارہ انکے درمیان حیران وپریشان ہے۔ کوئی ادھر کھینچتا ہے ، کوئی ادھر۔ وہ اسے کوئی ایک پروگرام نہیں دیتے اور اس بیچارے کی یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ انکی متضاد فرمائشیں شروع کرسکے کیونکہ وہ اسکے رخ کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور اسکی خواہشات کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور ایک ایک کا غلام یکسو ہے۔ اس کو مالک نے ایک پروگرام دیا ہوا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اسنے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک آقا کا غلام مطمئن ، خوش اور یکسو ہوگا۔ ھل یستویٰن مثلا (39: 29) ” کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے “۔ یقیناً دونوں برابر نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس کا ایک آقا ہے وہ آدم ، استراحت ، استقامت اور یقینی پروگرام رکھتا ہے۔ اس کی قوتیں مجتمع ہیں۔ اس کا رخ متعین ہے ۔ اس کی راہ متعین ہے اور جس غلام کے مختلف الحیال آقا ہیں۔ وہ ایک دائمی عذاب میں ہے۔ ایک دائمی کشاکش میں ہے۔ اور ہر وقت قلق وبے چینی میں مبتلا ہے۔ کسی ایک حال پر برقرار نہیں ہے۔ اور اس سے ایک مالک بھی راضی نہ ہوگا ، سب کا راضی ہونا تو محال ہے۔ یہ مثال حقیقت توحید اور حقیقت شرک پر تمام حالات میں منطبق ہے۔ ایک موحدو مومن اس زمین پر اپنا سفر نہایت ہی سیدھے راہ پر علی وجہ البصیرت طے کرتا ہے۔ کیونکہ ان کی نظریں ہمشہ ایک نصب العین پر مرکوز ہیں۔ پوری زندگی ، پوری قوت اور تمام ضروریات اور تمام نفع ونقصان وہ ایک جہت سے طلب کرتا ہے۔ ایک ذات ہے جو اسے روکتی ہے اور ایک ہی ذات ہے جو اسے اجازت دیتی ہے۔ لہٰذا اس کے قدم سیدھے اس ایک سرچشمے کی طرف بڑھتے ہیں۔ وہ اسی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے اور اس کے ہاتھوں میں ایک ہی مضبوط رسی ہے جسے اس کے مضبوطی سے پکڑا رکھا ہے ، ایک ہی ہدف ہے جس پر وہ نظریں جمائے ہوئے ہے۔ ایک ہی آقا کی وہ خدمت کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ میرا آقا کس بات پر راضی ہوتا ہے اور کس پر نازاض ہوتا ہے۔ یوں اس کی قوتیں مجتمع ہوتی ہیں اور یوں وہ پوری قوت کے ساتھ زمین پر کام کرتا ہے۔ اور آسمان پر نظریں جمائے ہوتا ہے۔ اور اس مثال پر تبصرہ الحمدللہ سے کیا جاتا ہے کہ اس نے عقیدۂ توحید کے ذریعے اپنے بندوں کو آرام و اطمینان اور راحت بخشی ہے۔ اور ان کی زندگی کو اثبات وقرار عطا کیا۔ اب اگر وہ اس سے انحراف کرتے ہیں تو وہ لاعلم ہیں۔ یہ ان مثالوں میں ایک ہے جو قرآن نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے دی ہیں تاکہ لوگ حقیقت کو جان سکیں۔ یہ قرآن عربی ہے ، سیدھا ، واضح اور بین ہے۔ اس کے معانی میں کوئی التباس نہیں۔ نہ پیچیدگی اور انحراف ہے اور یہ عوام الناس کو ایک فطری استدلال سے خطاب کرتا ہے ، جو ان کی سمجھ میں آتا ہے۔

الزمر 39:30

درس نمبر 219 ایک نظر میں یہ سبق اس سے ماقبل کے تمام اسباق پر ایک تبصرہ ہے۔ آسمانوں سے پانی کے نزول کی نشانی بیان کرنے کے بعد مردہ زمین پر روئیدگی پیدا ہوکر فصل کاٹنے تک کی نشانی کے بعد ، اور اللہ کی جانب سے نازل ہونے والی اس کتاب کی نشانیوں کے بعد اور قرآنی امثال کے بیان کے بعد اور نبی ﷺ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ اکثر لوگ نہیں جانتے ، یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اب بعث بعد الموت کے بعد ہی اللہ تمام حقائق کا فیصلہ کر دے گا۔ لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو انکی تکذیب کا بدلہ مل جائے گا اور وہ اس کے مستحق ہوں گے۔ اور بچوں کو سچائی کا وہ صلہ مل جائے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ درس نمبر 219 تشریح آیات آیت نمبر 30 تا 31 ہر زندہ مخلوق نے اس جام کو ہونٹوں سے لگانا ہے ، باقی رہے گا صرف نام اللہ کا۔ اور موت کے معاملے میں تمام انسان برابر ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ نے بھی جان دیتی ہے اور یہاں اس کا ذکر بھی توحید کے ثبوت کے لیے ہے۔ اور توحید اس سورت کا بڑا موضوع ہے۔ اس کے بعث بعد الموت کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ کیونکہ موت ہی پر معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ یہ تو ایک مرحلہ ہے۔ اس کے بعد کے مراحل آنے والے ہیں۔ اس لیے کہ مخلوقات میں سے کوئی چیز عبث نہیں ہے کہ ہونہی چلی جائے کہ بس پیدا ہوئے اور مرگئے۔ آج دنیا میں جن موضوعات پر لوگ باہم دست وگریباں ہیں ان پر رب کے ہاں بھی جھگڑے ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے رب کے ہاں کھڑے ہوں گے اور وہاں پھر پوچھا جائے گا کہ اب بتاؤ تم رسول اللہ کے مقابلے میں کیا کیا کرتے رہے ہو۔ اور اللہ کی ہدایت اور قرآن کا کیا کیا مقابلہ کرتے رہے ہو۔

الزمر 39:31

درس نمبر 219 ایک نظر میں یہ سبق اس سے ماقبل کے تمام اسباق پر ایک تبصرہ ہے۔ آسمانوں سے پانی کے نزول کی نشانی بیان کرنے کے بعد مردہ زمین پر روئیدگی پیدا ہوکر فصل کاٹنے تک کی نشانی کے بعد ، اور اللہ کی جانب سے نازل ہونے والی اس کتاب کی نشانیوں کے بعد اور قرآنی امثال کے بیان کے بعد اور نبی ﷺ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ اکثر لوگ نہیں جانتے ، یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اب بعث بعد الموت کے بعد ہی اللہ تمام حقائق کا فیصلہ کر دے گا۔ لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو انکی تکذیب کا بدلہ مل جائے گا اور وہ اس کے مستحق ہوں گے۔ اور بچوں کو سچائی کا وہ صلہ مل جائے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ درس نمبر 219 تشریح آیات آیت نمبر 30 تا 31 ہر زندہ مخلوق نے اس جام کو ہونٹوں سے لگانا ہے ، باقی رہے گا صرف نام اللہ کا۔ اور موت کے معاملے میں تمام انسان برابر ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ نے بھی جان دیتی ہے اور یہاں اس کا ذکر بھی توحید کے ثبوت کے لیے ہے۔ اور توحید اس سورت کا بڑا موضوع ہے۔ اس کے بعث بعد الموت کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ کیونکہ موت ہی پر معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ یہ تو ایک مرحلہ ہے۔ اس کے بعد کے مراحل آنے والے ہیں۔ اس لیے کہ مخلوقات میں سے کوئی چیز عبث نہیں ہے کہ ہونہی چلی جائے کہ بس پیدا ہوئے اور مرگئے۔ آج دنیا میں جن موضوعات پر لوگ باہم دست وگریباں ہیں ان پر رب کے ہاں بھی جھگڑے ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے رب کے ہاں کھڑے ہوں گے اور وہاں پھر پوچھا جائے گا کہ اب بتاؤ تم رسول اللہ کے مقابلے میں کیا کیا کرتے رہے ہو۔ اور اللہ کی ہدایت اور قرآن کا کیا کیا مقابلہ کرتے رہے ہو۔

الزمر 39:32

پارہ ۔ 24 آیت نمبر 32 یہ سوال استفہام کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ سوال تقریری ہے۔ اس لیے کہ ایسے شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے ، کسی کو اللہ کا بیٹا اور کسی کو بیٹی کہتا ہے۔ سچائی کی تکذیب کرتا ہے جسے رسول اللہ لے آئے ہیں۔ وہ کلمہ توحید کی تصدیق نہیں کرتا۔ چونکہ یہ ایک کفریہ عمل ہے ، اور کافروں کا ٹھکانہ یقیناً جہنم ہے اس لیے اس کے فیصلہ کن اظہار کی خاطر سوالیہ انداز اور اسلوب اختیار کیا گیا ہے تاکہ بات زیادہ واضح ہوجائے اور اس کی زیادہ تاکید ہوجائے۔ یہ تو مجادلہ اور جھگڑے کا ایک فریق تھا۔ اور فریق مقابل کون ہے ؟ تو وہ شخص ہے جو اللہ کی طرف سے وہ سچائی لے کر آیا۔ اور اسنے اس کی تصدیق کی اور اس سچائی کو لوگوں تک پہنچایا ، نہایت عقیدت مندی اور تسلی کے ساتھ۔ اور اس شخص یعنی رسول اللہ کے ساتھ تمام رسول اور انبیائے کرام شامل ہیں۔ اور اسی طرح رسول اللہ کے ساتھ اس میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں درآنحالیکہ وہ اسلام پر پوری طرح ایمان لاتے ہیں اور اچھی طرح مطمئن ہیں اور اس دعوت میں ان کا قلب اور ان کی زبان دونوں شریک ہیں ایسے تمام لوگ متقی ہیں۔

الزمر 39:33

آیت نمبر 33 یہاں متقین اور ان کے لیے تیار شدہ جزاء کی تفصیلات دی جاتی ہیں .

الزمر 39:34

آیت نمبر 34 یہ ایک جامع انداز تعبیر ہے جو بھی چیز دل مومن کو مرغوب ہو اور جس کی چاہت اس کے دل میں پیدا ہو وہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں تیار ہوگی۔ یہ اس کا حق ہوگا ، جس میں کوئی خسارہ نہ ہوگا اور نہ کوئی حصہ اس کا ضائع ہوگا۔ ذٰلک جزاء المحسنین (39: 34) ” یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزاء “۔ اور یہ اس لیے کہ اللہ نے ان کے لیے بھلائی اور جس عزت افزائی کا ارادہ فرمالیا تھا وہ حقیقت بن جائے اور عدل سے آگے بڑھ کر ان کے ساتھ فضل وکرم کا معاملہ کرے۔

الزمر 39:35

آیت نمبر 35 اس لیے کہ عدل تو یہ ہوگا کہ نیکیوں کا بھی حساب کیا جائے اور برائیوں کا بھی حساب کیا جائے اور پھر دونوں پر سزا وجزاء دی جائے۔۔۔ لیکن اللہ یہاں فضل وکرم کرے گا۔ اللہ اپنے متقی بندوں پر اپنے کرم کی تجلی کرے گا۔ یوں کہ ان کے بہت برے اعمال کو قلم زد کردے گا۔ لہٰذا میزان میں ان کا کوئی حساب نہ ہوگا اور ان کو اجر بھی احسن طریقے سے دے گا ، یعنی ان کے استحقاق سے زیادہ ۔ چناچہ ان کے ترازو میں ان کی نیکیوں کو زیادہ زن دے دیا جائے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہوگا اور یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ جسے چاہے ، یہ فضل دے۔ ہاں اللہ نے اپنے ڈرنے والے بندوں کیلیے یہ وعدہ کردیا ہے لہٰذا ایسا ہی ہوگا اور اہل تقویٰ اس پر مطمئن ہیں۔

الزمر 39:36

درس نمبر 220 ایک نظر میں اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے فریضے کا تعین کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے ذمہ دار اور ٹھیکہ دار نہیں ہیں کہ ضرور ان کو راہ ہدایت پر لانا ہے۔ وہ تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ان کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ لوگوں کے لیے اللہ کے سوا اور کوئی سفارش بھی نہیں ہے۔ سفارش کے اختیارات تو اللہ کے پاس ہیں۔ زمین و آسمانوں کا مالک ہی وہ ہے۔ اور سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر مشرکین کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کی نفسیاتی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اگر کلمہ توحید کا ذکر ہو تو ان کی طبعیت منقبض ہوجاتی ہے اور اگر شرکیہ کلمہ سنیں تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید کا اعلان کردیں۔ اور مشرکین کو اللہ پر چھوڑ دیں ۔ اور ان کی ایک تصویر آپ کے سامنے کردی جاتی ہے کہ قیامت کے دن تو یہ چاہیں گے کہ پوری روئے زمین کی دولت اور اس جیسی مزید دولت بھی فدیے میں دے کر جان چھڑا لیں۔ اس لیے کہ وہاں وہ اللہ کی وہ بادشاہت دیکھ لیں گے جس سے وہ حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اور ان کی حالت یہ ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اگر وہ خوشحالی پا لیں تو پھر اکڑ کر لمبے چوڑے دعوے کرنے لگتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ دولت ہمیں اپنے علم وٹیکنالوجی کی وجہ سے دے دی گئی ہے اور یہ وہی بات ہے جو ان سے پہلے لوگوں نے بھی کہی تھی اور ان کو اللہ نے پکڑا اور وہ اللہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ بن سکے اور نہ اللہ کو عاجز کرسکے ۔ رہی رزق کی فراخی اور اسکی تنگی تو یہ اللہ کے سنن اور قوانین پر موقوف رکھی گئی ہے اور اللہ کے یہ قوانین قدرت اس کی حکمت کے مطابق چلتے ہیں۔ وہی ہے جو رزق میں کشادگی دیتا ہے۔ اور وہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یومنون (39: 54) ” بیشک اس میں آیات اور نشانیاں ہیں ، ہر اس قوم کے لیے جو مومن ہو “۔ درس نمبر 220 تشریح آیات آیت نمبر 36 تا 40 یہ چار آیات بتاتی ہیں کہ اہل ایمان کا سیدھا سادا استدلال کیا ہوتا ہے ، یہ استدلال کس قدر قدرتی اور زور ہوتا ہے۔ کس قدر واضح اور گہرا ہوتا ہے۔ جس طرح یہ استدلال اور سوچ حضرت نبی ﷺ کے ذہین میں ہے اور جس طرح اسے ہر مومن کے قلب میں ہونا چاہئے۔ جس کا ایمان حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر پختہ ہو۔ اور وہ اسی دعوت پر قائم ہو اور اسی کی تبلیغ کررہا ہو اور دستور ومنشور سمجھتا ہو اور وہ اس کے لیے کافی وشافی ہو۔ اس آیت کے نزول میں ایسی روایات آئی ہیں کہ مشرکین مکہ رسول اللہ کو اپنے بتوں اور ان کے غضب سے ڈراتے تھے۔ جبکہ حضور اکرم ﷺ ان کی یہ صفات ان کے سامنے رکھتے تھے اور ان کی بےبسی وبے کسی بیان فرماتے تھے۔ مشرکین مکہ حضور اکرم ﷺ کو ڈراتے تھے کہ اگر آپ ﷺ نے ان کے بارے میں خاموشی اختیار نہ کی تو یہ بت آپ ﷺ کو اذیت دیں گے۔ لیکن اس آیت کا مفہوم اس مخصوص شان نزول سے زیادہ وسیع ہے۔ مراد ہر وہ دعوت حق ہے جو اس کرۂ ارض پر قیام نظام اسلامی کیلیے اٹھی ہے اور ہر وہ قوت ہے جو اس نظام اور اس دعوت کے خلاف ہے۔ اسلیے کہ یہاں دعوت حق اٹھانے والے اہل ایمان کے مکمل پھر وسے اطمینان اور یقین کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مخالف قوتوں کو بھی صحیح طرح تولا گیا ہے کہ انکا وزن کیا ہے۔ الیس اللہ بکاف عبدہ (39: 36) ” کیا اللہ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ہے “۔ ہاں اللہ کافی ہے ، لہٰذا وہ لوگ کون ہیں جن سے حضور ﷺ کو ڈرایا جارہا ہے۔ اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ ہے ، تو ان دوسری مخلوقات کی حیثیت کیا ہے۔ خصوصاً جبکہ حضور ﷺ کا منصب لے لیا ہو اور بندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوں۔ اللہ نہایت قوی اور اپنے تمام بندوں پر کنڑول کرنے والا ہے۔ ویخوفونک بالذین من دونه (39: 36) ” یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں “۔ آپ ﷺ کس طرح ڈرسکتے ہیں ۔ اللہ کے سوا دوسری تمام قوتیں کس طرح ڈراسکتی ہیں ۔ اس شخص کو جس کی حفاظت اللہ کررہا ہو۔ اور تمام روئے زمین پر جو قوتیں ہیں وہ اللہ سے فروترقوتیں ہیں۔ یہ ایک بالکل سادہ واضح مسئلہ ہے۔ یہ کسی بڑی بحث اور مباحثے اور کسی زیادہ سوچ کا محتاج نہیں ہے۔ نبی ﷺ اور ہر داعی کا حامی تو اللہ ہے اور دوسری تمام قوتیں فروتر ہیں۔ اور جب کوئی شخص یہ موقف اختیار کرے تو پھر کوئی شک اور اشباہ نہیں رہتا کہ اللہ کا ارادہ ہی نافذ ہو کر رہتا ہے اور اللہ کی مشیت ہی غالب رہتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرماتا ہے۔ ان کی ذات کے بارے میں ، ان کے دلوں کے بارے میں اور ان کی سوچ اور شعور کے بارے میں بھی۔ ومن یضلل ۔۔۔۔ من مضل (39: 36 تا 37) ” اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اور جسے وہ ہدایت دے دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ہے “۔ اللہ جانتا ہے کہ ضلالت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے گمراہ کردیتا ہے اور وہ بھی جانتا ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے ہدایت دے دیتا ہے۔ اور وہ جس کے بارے میں جو فیصلہ بھی کردے اس کے فیصلے کو بدلنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ الیس اللہ بعزیز ذی انتقام (39: 37) ” کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے “۔ ہاں وہ انتقام لینے والا ہے۔ اور وہ عزیز وقوی ہے۔ اور وہ ان تمام لوگوں کو ان کے استحقاق کے مطابق جزاء دیتا ہے۔ اور جس سے وہ انتقام لیتا ہے۔ وہ مستحق ہوتا ہے کہ اس سے انتقام لیا جائے لہٰذا اس کی بندگی کرنے والے کو کسی چیز کا ڈر نہیں رہتا وہ کافی اور کفیل ہے۔ اس کے بعد خود ان کی منطق اور ان کے زاویہ نگاہ کے مطابق استدلال کرکے یہی نتائج نکالے جاتے ہیں اور اس منطق اور اس طرز فکر کا وہ اقرار کرتے تھے اور اللہ کے بارے میں وہ اس قسم کا تصور رکھتے تھے۔ ولئن سالتھم من۔۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ، تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے پوچھو ، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچالیں گی ؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی ؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا تھا کہ خالق ارض وسما کون ہے ؟ تو وہ اقرار کرتے تھے کہ خالق ارض وسماء اللہ وحدہ ہے۔ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کے سوا جواب دے ہی نہیں سکتا ۔ اور کوئی عقلمند زمین و آسمان کی تخلیق کا سبب ایک ذات بلند اور عالی مقام کے سوا کوئی اور نہیں بتاسکتا۔ لہٰذا قرآن ان کو اور تمام عقلاء کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ تمہاری فطرت کے اندر یہ بات بیٹھی ہوئی ہے اور بہت واضح ہے۔ اگر صورت یہی ہے تو پھر کوئی ہے جو اس مصیبت کو روک سکنے والا ہو جو وہ ذات عالی اپنے بندوں پر لانا چاہے ، یا زمین و آسمان میں کون ہے اگر وہ کسی پر رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت کو روک سکے۔ تو ان سوالات کا قطعی جواب یہ ہے کہ ” نہیں “۔ اگر یہ بات طے ہوجاتی ہے تو داعی الی اللہ کس سے ڈرسکتا ہے۔ وہ کس سے خائف ہوسکتا ہے اور کس سے امیدیں وابستہ کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اس کی مصیبتوں کو دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اللہ کی رحمت کو اس سے دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اسے بےچین کرسکتا ، اسے ڈرادھمکا سکتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹا سکتا ہے ؟ جب قلب مومن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کی نسبت سے معاملہ ختم ہوجاتا ہے ، تنازعہ ختم ہے ، غیر اللہ سے تمام امیدیں ختم ۔ صرف اللہ سے امید باقی رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے اور ہمیں اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ قل ۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” پس کہہ دو ، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ مجھے رب تعالیٰ پر پورا اعتماد ، بھروسہ اور یقین ہے۔ اس قدر بھروسہ جس میں کوئی شک نہیں ۔ ایسا یقین جس میں کوئی تزلزل نہیں ۔ اور اس قدر اطمینان جس میں بےچینی کا شائبہ نہیں۔ اور اس زادراہ کے ساتھ آپ چل پڑیں اور منزل تک پہنچنے سے پہلے دم نہ لیں۔ قل یٰقوم۔۔۔۔ عذاب مقیم (39: 39 تا 40) ان سے صاف کہو کہ ” میری قوم کے لوگو ، تم اپنی جگہ اپنا کام کئے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسواکن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں “ سے قوم تم اپنے منہاج کے مطابق کام کرو ، اور میں اپنی راہ پر چل پڑا ہوں ، نہ ڈرتا ہوں اور نہ شک ہے مجھے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اسی دنیا میں تم پر کس قدر شرمسار کنندہ عذاب آتا ہے اور پھر آخرت میں تو یہ عذاب دائمی ہوگا۔ اس معاملے کا فیصلہ ہوچکا ، اور اس فطری استدلال کے ذریعہ ہوا جس پر ہر سلیم الفطرت انسان گواہی دیتا ہے اور جس پر یہ کائنات گواہ ہے کہ اللہ خالق سماوات ہے اور خالق ارض ہے۔ اوتمام رسولوں نے آج تک جو دعوت پیش کی ہے یہ دعوت اللہ کی ہے ۔ لہٰذا اللہ کے رسولوں اور داعیان حق کے لیے زمین اور آسمان میں کون ہے جو کوئی اختیار رکھتا ہے۔ کوئی ہے جو ان سے مصائب دور کرسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو لوگ غیر اللہ اور ان دنیاوی قوتوں سے ڈرتے کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ واضح ہے اور راستہ صاف ہے اور اب بحث کی مزید کچھ ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو ہے تعلق رسولوں اور داعیان حق کا اور ان قوتوں کا جو ان کی راہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں اب سوال یہ ہے کہ دعوت حق کے حوالے سے رسولوں اور داعیانکا فریضہ کیا ہے اور جھٹلانے والوں کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کریں گے۔

الزمر 39:37

درس نمبر 220 ایک نظر میں اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے فریضے کا تعین کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے ذمہ دار اور ٹھیکہ دار نہیں ہیں کہ ضرور ان کو راہ ہدایت پر لانا ہے۔ وہ تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ان کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ لوگوں کے لیے اللہ کے سوا اور کوئی سفارش بھی نہیں ہے۔ سفارش کے اختیارات تو اللہ کے پاس ہیں۔ زمین و آسمانوں کا مالک ہی وہ ہے۔ اور سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر مشرکین کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کی نفسیاتی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اگر کلمہ توحید کا ذکر ہو تو ان کی طبعیت منقبض ہوجاتی ہے اور اگر شرکیہ کلمہ سنیں تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید کا اعلان کردیں۔ اور مشرکین کو اللہ پر چھوڑ دیں ۔ اور ان کی ایک تصویر آپ کے سامنے کردی جاتی ہے کہ قیامت کے دن تو یہ چاہیں گے کہ پوری روئے زمین کی دولت اور اس جیسی مزید دولت بھی فدیے میں دے کر جان چھڑا لیں۔ اس لیے کہ وہاں وہ اللہ کی وہ بادشاہت دیکھ لیں گے جس سے وہ حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اور ان کی حالت یہ ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اگر وہ خوشحالی پا لیں تو پھر اکڑ کر لمبے چوڑے دعوے کرنے لگتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ دولت ہمیں اپنے علم وٹیکنالوجی کی وجہ سے دے دی گئی ہے اور یہ وہی بات ہے جو ان سے پہلے لوگوں نے بھی کہی تھی اور ان کو اللہ نے پکڑا اور وہ اللہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ بن سکے اور نہ اللہ کو عاجز کرسکے ۔ رہی رزق کی فراخی اور اسکی تنگی تو یہ اللہ کے سنن اور قوانین پر موقوف رکھی گئی ہے اور اللہ کے یہ قوانین قدرت اس کی حکمت کے مطابق چلتے ہیں۔ وہی ہے جو رزق میں کشادگی دیتا ہے۔ اور وہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یومنون (39: 54) ” بیشک اس میں آیات اور نشانیاں ہیں ، ہر اس قوم کے لیے جو مومن ہو “۔ درس نمبر 220 تشریح آیات آیت نمبر 36 تا 40 یہ چار آیات بتاتی ہیں کہ اہل ایمان کا سیدھا سادا استدلال کیا ہوتا ہے ، یہ استدلال کس قدر قدرتی اور زور ہوتا ہے۔ کس قدر واضح اور گہرا ہوتا ہے۔ جس طرح یہ استدلال اور سوچ حضرت نبی ﷺ کے ذہین میں ہے اور جس طرح اسے ہر مومن کے قلب میں ہونا چاہئے۔ جس کا ایمان حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر پختہ ہو۔ اور وہ اسی دعوت پر قائم ہو اور اسی کی تبلیغ کررہا ہو اور دستور ومنشور سمجھتا ہو اور وہ اس کے لیے کافی وشافی ہو۔ اس آیت کے نزول میں ایسی روایات آئی ہیں کہ مشرکین مکہ رسول اللہ کو اپنے بتوں اور ان کے غضب سے ڈراتے تھے۔ جبکہ حضور اکرم ﷺ ان کی یہ صفات ان کے سامنے رکھتے تھے اور ان کی بےبسی وبے کسی بیان فرماتے تھے۔ مشرکین مکہ حضور اکرم ﷺ کو ڈراتے تھے کہ اگر آپ ﷺ نے ان کے بارے میں خاموشی اختیار نہ کی تو یہ بت آپ ﷺ کو اذیت دیں گے۔ لیکن اس آیت کا مفہوم اس مخصوص شان نزول سے زیادہ وسیع ہے۔ مراد ہر وہ دعوت حق ہے جو اس کرۂ ارض پر قیام نظام اسلامی کیلیے اٹھی ہے اور ہر وہ قوت ہے جو اس نظام اور اس دعوت کے خلاف ہے۔ اسلیے کہ یہاں دعوت حق اٹھانے والے اہل ایمان کے مکمل پھر وسے اطمینان اور یقین کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مخالف قوتوں کو بھی صحیح طرح تولا گیا ہے کہ انکا وزن کیا ہے۔ الیس اللہ بکاف عبدہ (39: 36) ” کیا اللہ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ہے “۔ ہاں اللہ کافی ہے ، لہٰذا وہ لوگ کون ہیں جن سے حضور ﷺ کو ڈرایا جارہا ہے۔ اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ ہے ، تو ان دوسری مخلوقات کی حیثیت کیا ہے۔ خصوصاً جبکہ حضور ﷺ کا منصب لے لیا ہو اور بندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوں۔ اللہ نہایت قوی اور اپنے تمام بندوں پر کنڑول کرنے والا ہے۔ ویخوفونک بالذین من دونه (39: 36) ” یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں “۔ آپ ﷺ کس طرح ڈرسکتے ہیں ۔ اللہ کے سوا دوسری تمام قوتیں کس طرح ڈراسکتی ہیں ۔ اس شخص کو جس کی حفاظت اللہ کررہا ہو۔ اور تمام روئے زمین پر جو قوتیں ہیں وہ اللہ سے فروترقوتیں ہیں۔ یہ ایک بالکل سادہ واضح مسئلہ ہے۔ یہ کسی بڑی بحث اور مباحثے اور کسی زیادہ سوچ کا محتاج نہیں ہے۔ نبی ﷺ اور ہر داعی کا حامی تو اللہ ہے اور دوسری تمام قوتیں فروتر ہیں۔ اور جب کوئی شخص یہ موقف اختیار کرے تو پھر کوئی شک اور اشباہ نہیں رہتا کہ اللہ کا ارادہ ہی نافذ ہو کر رہتا ہے اور اللہ کی مشیت ہی غالب رہتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرماتا ہے۔ ان کی ذات کے بارے میں ، ان کے دلوں کے بارے میں اور ان کی سوچ اور شعور کے بارے میں بھی۔ ومن یضلل ۔۔۔۔ من مضل (39: 36 تا 37) ” اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اور جسے وہ ہدایت دے دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ہے “۔ اللہ جانتا ہے کہ ضلالت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے گمراہ کردیتا ہے اور وہ بھی جانتا ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے ہدایت دے دیتا ہے۔ اور وہ جس کے بارے میں جو فیصلہ بھی کردے اس کے فیصلے کو بدلنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ الیس اللہ بعزیز ذی انتقام (39: 37) ” کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے “۔ ہاں وہ انتقام لینے والا ہے۔ اور وہ عزیز وقوی ہے۔ اور وہ ان تمام لوگوں کو ان کے استحقاق کے مطابق جزاء دیتا ہے۔ اور جس سے وہ انتقام لیتا ہے۔ وہ مستحق ہوتا ہے کہ اس سے انتقام لیا جائے لہٰذا اس کی بندگی کرنے والے کو کسی چیز کا ڈر نہیں رہتا وہ کافی اور کفیل ہے۔ اس کے بعد خود ان کی منطق اور ان کے زاویہ نگاہ کے مطابق استدلال کرکے یہی نتائج نکالے جاتے ہیں اور اس منطق اور اس طرز فکر کا وہ اقرار کرتے تھے اور اللہ کے بارے میں وہ اس قسم کا تصور رکھتے تھے۔ ولئن سالتھم من۔۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ، تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے پوچھو ، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچالیں گی ؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی ؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا تھا کہ خالق ارض وسما کون ہے ؟ تو وہ اقرار کرتے تھے کہ خالق ارض وسماء اللہ وحدہ ہے۔ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کے سوا جواب دے ہی نہیں سکتا ۔ اور کوئی عقلمند زمین و آسمان کی تخلیق کا سبب ایک ذات بلند اور عالی مقام کے سوا کوئی اور نہیں بتاسکتا۔ لہٰذا قرآن ان کو اور تمام عقلاء کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ تمہاری فطرت کے اندر یہ بات بیٹھی ہوئی ہے اور بہت واضح ہے۔ اگر صورت یہی ہے تو پھر کوئی ہے جو اس مصیبت کو روک سکنے والا ہو جو وہ ذات عالی اپنے بندوں پر لانا چاہے ، یا زمین و آسمان میں کون ہے اگر وہ کسی پر رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت کو روک سکے۔ تو ان سوالات کا قطعی جواب یہ ہے کہ ” نہیں “۔ اگر یہ بات طے ہوجاتی ہے تو داعی الی اللہ کس سے ڈرسکتا ہے۔ وہ کس سے خائف ہوسکتا ہے اور کس سے امیدیں وابستہ کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اس کی مصیبتوں کو دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اللہ کی رحمت کو اس سے دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اسے بےچین کرسکتا ، اسے ڈرادھمکا سکتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹا سکتا ہے ؟ جب قلب مومن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کی نسبت سے معاملہ ختم ہوجاتا ہے ، تنازعہ ختم ہے ، غیر اللہ سے تمام امیدیں ختم ۔ صرف اللہ سے امید باقی رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے اور ہمیں اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ قل ۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” پس کہہ دو ، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ مجھے رب تعالیٰ پر پورا اعتماد ، بھروسہ اور یقین ہے۔ اس قدر بھروسہ جس میں کوئی شک نہیں ۔ ایسا یقین جس میں کوئی تزلزل نہیں ۔ اور اس قدر اطمینان جس میں بےچینی کا شائبہ نہیں۔ اور اس زادراہ کے ساتھ آپ چل پڑیں اور منزل تک پہنچنے سے پہلے دم نہ لیں۔ قل یٰقوم۔۔۔۔ عذاب مقیم (39: 39 تا 40) ان سے صاف کہو کہ ” میری قوم کے لوگو ، تم اپنی جگہ اپنا کام کئے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسواکن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں “ سے قوم تم اپنے منہاج کے مطابق کام کرو ، اور میں اپنی راہ پر چل پڑا ہوں ، نہ ڈرتا ہوں اور نہ شک ہے مجھے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اسی دنیا میں تم پر کس قدر شرمسار کنندہ عذاب آتا ہے اور پھر آخرت میں تو یہ عذاب دائمی ہوگا۔ اس معاملے کا فیصلہ ہوچکا ، اور اس فطری استدلال کے ذریعہ ہوا جس پر ہر سلیم الفطرت انسان گواہی دیتا ہے اور جس پر یہ کائنات گواہ ہے کہ اللہ خالق سماوات ہے اور خالق ارض ہے۔ اوتمام رسولوں نے آج تک جو دعوت پیش کی ہے یہ دعوت اللہ کی ہے ۔ لہٰذا اللہ کے رسولوں اور داعیان حق کے لیے زمین اور آسمان میں کون ہے جو کوئی اختیار رکھتا ہے۔ کوئی ہے جو ان سے مصائب دور کرسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو لوگ غیر اللہ اور ان دنیاوی قوتوں سے ڈرتے کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ واضح ہے اور راستہ صاف ہے اور اب بحث کی مزید کچھ ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو ہے تعلق رسولوں اور داعیان حق کا اور ان قوتوں کا جو ان کی راہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں اب سوال یہ ہے کہ دعوت حق کے حوالے سے رسولوں اور داعیانکا فریضہ کیا ہے اور جھٹلانے والوں کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کریں گے۔

الزمر 39:38

درس نمبر 220 ایک نظر میں اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے فریضے کا تعین کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے ذمہ دار اور ٹھیکہ دار نہیں ہیں کہ ضرور ان کو راہ ہدایت پر لانا ہے۔ وہ تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ان کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ لوگوں کے لیے اللہ کے سوا اور کوئی سفارش بھی نہیں ہے۔ سفارش کے اختیارات تو اللہ کے پاس ہیں۔ زمین و آسمانوں کا مالک ہی وہ ہے۔ اور سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر مشرکین کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کی نفسیاتی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اگر کلمہ توحید کا ذکر ہو تو ان کی طبعیت منقبض ہوجاتی ہے اور اگر شرکیہ کلمہ سنیں تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید کا اعلان کردیں۔ اور مشرکین کو اللہ پر چھوڑ دیں ۔ اور ان کی ایک تصویر آپ کے سامنے کردی جاتی ہے کہ قیامت کے دن تو یہ چاہیں گے کہ پوری روئے زمین کی دولت اور اس جیسی مزید دولت بھی فدیے میں دے کر جان چھڑا لیں۔ اس لیے کہ وہاں وہ اللہ کی وہ بادشاہت دیکھ لیں گے جس سے وہ حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اور ان کی حالت یہ ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اگر وہ خوشحالی پا لیں تو پھر اکڑ کر لمبے چوڑے دعوے کرنے لگتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ دولت ہمیں اپنے علم وٹیکنالوجی کی وجہ سے دے دی گئی ہے اور یہ وہی بات ہے جو ان سے پہلے لوگوں نے بھی کہی تھی اور ان کو اللہ نے پکڑا اور وہ اللہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ بن سکے اور نہ اللہ کو عاجز کرسکے ۔ رہی رزق کی فراخی اور اسکی تنگی تو یہ اللہ کے سنن اور قوانین پر موقوف رکھی گئی ہے اور اللہ کے یہ قوانین قدرت اس کی حکمت کے مطابق چلتے ہیں۔ وہی ہے جو رزق میں کشادگی دیتا ہے۔ اور وہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یومنون (39: 54) ” بیشک اس میں آیات اور نشانیاں ہیں ، ہر اس قوم کے لیے جو مومن ہو “۔ درس نمبر 220 تشریح آیات آیت نمبر 36 تا 40 یہ چار آیات بتاتی ہیں کہ اہل ایمان کا سیدھا سادا استدلال کیا ہوتا ہے ، یہ استدلال کس قدر قدرتی اور زور ہوتا ہے۔ کس قدر واضح اور گہرا ہوتا ہے۔ جس طرح یہ استدلال اور سوچ حضرت نبی ﷺ کے ذہین میں ہے اور جس طرح اسے ہر مومن کے قلب میں ہونا چاہئے۔ جس کا ایمان حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر پختہ ہو۔ اور وہ اسی دعوت پر قائم ہو اور اسی کی تبلیغ کررہا ہو اور دستور ومنشور سمجھتا ہو اور وہ اس کے لیے کافی وشافی ہو۔ اس آیت کے نزول میں ایسی روایات آئی ہیں کہ مشرکین مکہ رسول اللہ کو اپنے بتوں اور ان کے غضب سے ڈراتے تھے۔ جبکہ حضور اکرم ﷺ ان کی یہ صفات ان کے سامنے رکھتے تھے اور ان کی بےبسی وبے کسی بیان فرماتے تھے۔ مشرکین مکہ حضور اکرم ﷺ کو ڈراتے تھے کہ اگر آپ ﷺ نے ان کے بارے میں خاموشی اختیار نہ کی تو یہ بت آپ ﷺ کو اذیت دیں گے۔ لیکن اس آیت کا مفہوم اس مخصوص شان نزول سے زیادہ وسیع ہے۔ مراد ہر وہ دعوت حق ہے جو اس کرۂ ارض پر قیام نظام اسلامی کیلیے اٹھی ہے اور ہر وہ قوت ہے جو اس نظام اور اس دعوت کے خلاف ہے۔ اسلیے کہ یہاں دعوت حق اٹھانے والے اہل ایمان کے مکمل پھر وسے اطمینان اور یقین کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مخالف قوتوں کو بھی صحیح طرح تولا گیا ہے کہ انکا وزن کیا ہے۔ الیس اللہ بکاف عبدہ (39: 36) ” کیا اللہ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ہے “۔ ہاں اللہ کافی ہے ، لہٰذا وہ لوگ کون ہیں جن سے حضور ﷺ کو ڈرایا جارہا ہے۔ اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ ہے ، تو ان دوسری مخلوقات کی حیثیت کیا ہے۔ خصوصاً جبکہ حضور ﷺ کا منصب لے لیا ہو اور بندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوں۔ اللہ نہایت قوی اور اپنے تمام بندوں پر کنڑول کرنے والا ہے۔ ویخوفونک بالذین من دونه (39: 36) ” یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں “۔ آپ ﷺ کس طرح ڈرسکتے ہیں ۔ اللہ کے سوا دوسری تمام قوتیں کس طرح ڈراسکتی ہیں ۔ اس شخص کو جس کی حفاظت اللہ کررہا ہو۔ اور تمام روئے زمین پر جو قوتیں ہیں وہ اللہ سے فروترقوتیں ہیں۔ یہ ایک بالکل سادہ واضح مسئلہ ہے۔ یہ کسی بڑی بحث اور مباحثے اور کسی زیادہ سوچ کا محتاج نہیں ہے۔ نبی ﷺ اور ہر داعی کا حامی تو اللہ ہے اور دوسری تمام قوتیں فروتر ہیں۔ اور جب کوئی شخص یہ موقف اختیار کرے تو پھر کوئی شک اور اشباہ نہیں رہتا کہ اللہ کا ارادہ ہی نافذ ہو کر رہتا ہے اور اللہ کی مشیت ہی غالب رہتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرماتا ہے۔ ان کی ذات کے بارے میں ، ان کے دلوں کے بارے میں اور ان کی سوچ اور شعور کے بارے میں بھی۔ ومن یضلل ۔۔۔۔ من مضل (39: 36 تا 37) ” اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اور جسے وہ ہدایت دے دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ہے “۔ اللہ جانتا ہے کہ ضلالت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے گمراہ کردیتا ہے اور وہ بھی جانتا ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے ہدایت دے دیتا ہے۔ اور وہ جس کے بارے میں جو فیصلہ بھی کردے اس کے فیصلے کو بدلنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ الیس اللہ بعزیز ذی انتقام (39: 37) ” کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے “۔ ہاں وہ انتقام لینے والا ہے۔ اور وہ عزیز وقوی ہے۔ اور وہ ان تمام لوگوں کو ان کے استحقاق کے مطابق جزاء دیتا ہے۔ اور جس سے وہ انتقام لیتا ہے۔ وہ مستحق ہوتا ہے کہ اس سے انتقام لیا جائے لہٰذا اس کی بندگی کرنے والے کو کسی چیز کا ڈر نہیں رہتا وہ کافی اور کفیل ہے۔ اس کے بعد خود ان کی منطق اور ان کے زاویہ نگاہ کے مطابق استدلال کرکے یہی نتائج نکالے جاتے ہیں اور اس منطق اور اس طرز فکر کا وہ اقرار کرتے تھے اور اللہ کے بارے میں وہ اس قسم کا تصور رکھتے تھے۔ ولئن سالتھم من۔۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ، تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے پوچھو ، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچالیں گی ؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی ؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا تھا کہ خالق ارض وسما کون ہے ؟ تو وہ اقرار کرتے تھے کہ خالق ارض وسماء اللہ وحدہ ہے۔ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کے سوا جواب دے ہی نہیں سکتا ۔ اور کوئی عقلمند زمین و آسمان کی تخلیق کا سبب ایک ذات بلند اور عالی مقام کے سوا کوئی اور نہیں بتاسکتا۔ لہٰذا قرآن ان کو اور تمام عقلاء کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ تمہاری فطرت کے اندر یہ بات بیٹھی ہوئی ہے اور بہت واضح ہے۔ اگر صورت یہی ہے تو پھر کوئی ہے جو اس مصیبت کو روک سکنے والا ہو جو وہ ذات عالی اپنے بندوں پر لانا چاہے ، یا زمین و آسمان میں کون ہے اگر وہ کسی پر رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت کو روک سکے۔ تو ان سوالات کا قطعی جواب یہ ہے کہ ” نہیں “۔ اگر یہ بات طے ہوجاتی ہے تو داعی الی اللہ کس سے ڈرسکتا ہے۔ وہ کس سے خائف ہوسکتا ہے اور کس سے امیدیں وابستہ کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اس کی مصیبتوں کو دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اللہ کی رحمت کو اس سے دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اسے بےچین کرسکتا ، اسے ڈرادھمکا سکتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹا سکتا ہے ؟ جب قلب مومن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کی نسبت سے معاملہ ختم ہوجاتا ہے ، تنازعہ ختم ہے ، غیر اللہ سے تمام امیدیں ختم ۔ صرف اللہ سے امید باقی رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے اور ہمیں اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ قل ۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” پس کہہ دو ، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ مجھے رب تعالیٰ پر پورا اعتماد ، بھروسہ اور یقین ہے۔ اس قدر بھروسہ جس میں کوئی شک نہیں ۔ ایسا یقین جس میں کوئی تزلزل نہیں ۔ اور اس قدر اطمینان جس میں بےچینی کا شائبہ نہیں۔ اور اس زادراہ کے ساتھ آپ چل پڑیں اور منزل تک پہنچنے سے پہلے دم نہ لیں۔ قل یٰقوم۔۔۔۔ عذاب مقیم (39: 39 تا 40) ان سے صاف کہو کہ ” میری قوم کے لوگو ، تم اپنی جگہ اپنا کام کئے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسواکن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں “ سے قوم تم اپنے منہاج کے مطابق کام کرو ، اور میں اپنی راہ پر چل پڑا ہوں ، نہ ڈرتا ہوں اور نہ شک ہے مجھے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اسی دنیا میں تم پر کس قدر شرمسار کنندہ عذاب آتا ہے اور پھر آخرت میں تو یہ عذاب دائمی ہوگا۔ اس معاملے کا فیصلہ ہوچکا ، اور اس فطری استدلال کے ذریعہ ہوا جس پر ہر سلیم الفطرت انسان گواہی دیتا ہے اور جس پر یہ کائنات گواہ ہے کہ اللہ خالق سماوات ہے اور خالق ارض ہے۔ اوتمام رسولوں نے آج تک جو دعوت پیش کی ہے یہ دعوت اللہ کی ہے ۔ لہٰذا اللہ کے رسولوں اور داعیان حق کے لیے زمین اور آسمان میں کون ہے جو کوئی اختیار رکھتا ہے۔ کوئی ہے جو ان سے مصائب دور کرسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو لوگ غیر اللہ اور ان دنیاوی قوتوں سے ڈرتے کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ واضح ہے اور راستہ صاف ہے اور اب بحث کی مزید کچھ ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو ہے تعلق رسولوں اور داعیان حق کا اور ان قوتوں کا جو ان کی راہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں اب سوال یہ ہے کہ دعوت حق کے حوالے سے رسولوں اور داعیانکا فریضہ کیا ہے اور جھٹلانے والوں کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کریں گے۔

الزمر 39:39

درس نمبر 220 ایک نظر میں اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے فریضے کا تعین کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے ذمہ دار اور ٹھیکہ دار نہیں ہیں کہ ضرور ان کو راہ ہدایت پر لانا ہے۔ وہ تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ان کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ لوگوں کے لیے اللہ کے سوا اور کوئی سفارش بھی نہیں ہے۔ سفارش کے اختیارات تو اللہ کے پاس ہیں۔ زمین و آسمانوں کا مالک ہی وہ ہے۔ اور سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر مشرکین کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کی نفسیاتی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اگر کلمہ توحید کا ذکر ہو تو ان کی طبعیت منقبض ہوجاتی ہے اور اگر شرکیہ کلمہ سنیں تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید کا اعلان کردیں۔ اور مشرکین کو اللہ پر چھوڑ دیں ۔ اور ان کی ایک تصویر آپ کے سامنے کردی جاتی ہے کہ قیامت کے دن تو یہ چاہیں گے کہ پوری روئے زمین کی دولت اور اس جیسی مزید دولت بھی فدیے میں دے کر جان چھڑا لیں۔ اس لیے کہ وہاں وہ اللہ کی وہ بادشاہت دیکھ لیں گے جس سے وہ حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اور ان کی حالت یہ ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اگر وہ خوشحالی پا لیں تو پھر اکڑ کر لمبے چوڑے دعوے کرنے لگتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ دولت ہمیں اپنے علم وٹیکنالوجی کی وجہ سے دے دی گئی ہے اور یہ وہی بات ہے جو ان سے پہلے لوگوں نے بھی کہی تھی اور ان کو اللہ نے پکڑا اور وہ اللہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ بن سکے اور نہ اللہ کو عاجز کرسکے ۔ رہی رزق کی فراخی اور اسکی تنگی تو یہ اللہ کے سنن اور قوانین پر موقوف رکھی گئی ہے اور اللہ کے یہ قوانین قدرت اس کی حکمت کے مطابق چلتے ہیں۔ وہی ہے جو رزق میں کشادگی دیتا ہے۔ اور وہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یومنون (39: 54) ” بیشک اس میں آیات اور نشانیاں ہیں ، ہر اس قوم کے لیے جو مومن ہو “۔ درس نمبر 220 تشریح آیات آیت نمبر 36 تا 40 یہ چار آیات بتاتی ہیں کہ اہل ایمان کا سیدھا سادا استدلال کیا ہوتا ہے ، یہ استدلال کس قدر قدرتی اور زور ہوتا ہے۔ کس قدر واضح اور گہرا ہوتا ہے۔ جس طرح یہ استدلال اور سوچ حضرت نبی ﷺ کے ذہین میں ہے اور جس طرح اسے ہر مومن کے قلب میں ہونا چاہئے۔ جس کا ایمان حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر پختہ ہو۔ اور وہ اسی دعوت پر قائم ہو اور اسی کی تبلیغ کررہا ہو اور دستور ومنشور سمجھتا ہو اور وہ اس کے لیے کافی وشافی ہو۔ اس آیت کے نزول میں ایسی روایات آئی ہیں کہ مشرکین مکہ رسول اللہ کو اپنے بتوں اور ان کے غضب سے ڈراتے تھے۔ جبکہ حضور اکرم ﷺ ان کی یہ صفات ان کے سامنے رکھتے تھے اور ان کی بےبسی وبے کسی بیان فرماتے تھے۔ مشرکین مکہ حضور اکرم ﷺ کو ڈراتے تھے کہ اگر آپ ﷺ نے ان کے بارے میں خاموشی اختیار نہ کی تو یہ بت آپ ﷺ کو اذیت دیں گے۔ لیکن اس آیت کا مفہوم اس مخصوص شان نزول سے زیادہ وسیع ہے۔ مراد ہر وہ دعوت حق ہے جو اس کرۂ ارض پر قیام نظام اسلامی کیلیے اٹھی ہے اور ہر وہ قوت ہے جو اس نظام اور اس دعوت کے خلاف ہے۔ اسلیے کہ یہاں دعوت حق اٹھانے والے اہل ایمان کے مکمل پھر وسے اطمینان اور یقین کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مخالف قوتوں کو بھی صحیح طرح تولا گیا ہے کہ انکا وزن کیا ہے۔ الیس اللہ بکاف عبدہ (39: 36) ” کیا اللہ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ہے “۔ ہاں اللہ کافی ہے ، لہٰذا وہ لوگ کون ہیں جن سے حضور ﷺ کو ڈرایا جارہا ہے۔ اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ ہے ، تو ان دوسری مخلوقات کی حیثیت کیا ہے۔ خصوصاً جبکہ حضور ﷺ کا منصب لے لیا ہو اور بندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوں۔ اللہ نہایت قوی اور اپنے تمام بندوں پر کنڑول کرنے والا ہے۔ ویخوفونک بالذین من دونه (39: 36) ” یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں “۔ آپ ﷺ کس طرح ڈرسکتے ہیں ۔ اللہ کے سوا دوسری تمام قوتیں کس طرح ڈراسکتی ہیں ۔ اس شخص کو جس کی حفاظت اللہ کررہا ہو۔ اور تمام روئے زمین پر جو قوتیں ہیں وہ اللہ سے فروترقوتیں ہیں۔ یہ ایک بالکل سادہ واضح مسئلہ ہے۔ یہ کسی بڑی بحث اور مباحثے اور کسی زیادہ سوچ کا محتاج نہیں ہے۔ نبی ﷺ اور ہر داعی کا حامی تو اللہ ہے اور دوسری تمام قوتیں فروتر ہیں۔ اور جب کوئی شخص یہ موقف اختیار کرے تو پھر کوئی شک اور اشباہ نہیں رہتا کہ اللہ کا ارادہ ہی نافذ ہو کر رہتا ہے اور اللہ کی مشیت ہی غالب رہتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرماتا ہے۔ ان کی ذات کے بارے میں ، ان کے دلوں کے بارے میں اور ان کی سوچ اور شعور کے بارے میں بھی۔ ومن یضلل ۔۔۔۔ من مضل (39: 36 تا 37) ” اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اور جسے وہ ہدایت دے دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ہے “۔ اللہ جانتا ہے کہ ضلالت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے گمراہ کردیتا ہے اور وہ بھی جانتا ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے ہدایت دے دیتا ہے۔ اور وہ جس کے بارے میں جو فیصلہ بھی کردے اس کے فیصلے کو بدلنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ الیس اللہ بعزیز ذی انتقام (39: 37) ” کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے “۔ ہاں وہ انتقام لینے والا ہے۔ اور وہ عزیز وقوی ہے۔ اور وہ ان تمام لوگوں کو ان کے استحقاق کے مطابق جزاء دیتا ہے۔ اور جس سے وہ انتقام لیتا ہے۔ وہ مستحق ہوتا ہے کہ اس سے انتقام لیا جائے لہٰذا اس کی بندگی کرنے والے کو کسی چیز کا ڈر نہیں رہتا وہ کافی اور کفیل ہے۔ اس کے بعد خود ان کی منطق اور ان کے زاویہ نگاہ کے مطابق استدلال کرکے یہی نتائج نکالے جاتے ہیں اور اس منطق اور اس طرز فکر کا وہ اقرار کرتے تھے اور اللہ کے بارے میں وہ اس قسم کا تصور رکھتے تھے۔ ولئن سالتھم من۔۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ، تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے پوچھو ، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچالیں گی ؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی ؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا تھا کہ خالق ارض وسما کون ہے ؟ تو وہ اقرار کرتے تھے کہ خالق ارض وسماء اللہ وحدہ ہے۔ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کے سوا جواب دے ہی نہیں سکتا ۔ اور کوئی عقلمند زمین و آسمان کی تخلیق کا سبب ایک ذات بلند اور عالی مقام کے سوا کوئی اور نہیں بتاسکتا۔ لہٰذا قرآن ان کو اور تمام عقلاء کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ تمہاری فطرت کے اندر یہ بات بیٹھی ہوئی ہے اور بہت واضح ہے۔ اگر صورت یہی ہے تو پھر کوئی ہے جو اس مصیبت کو روک سکنے والا ہو جو وہ ذات عالی اپنے بندوں پر لانا چاہے ، یا زمین و آسمان میں کون ہے اگر وہ کسی پر رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت کو روک سکے۔ تو ان سوالات کا قطعی جواب یہ ہے کہ ” نہیں “۔ اگر یہ بات طے ہوجاتی ہے تو داعی الی اللہ کس سے ڈرسکتا ہے۔ وہ کس سے خائف ہوسکتا ہے اور کس سے امیدیں وابستہ کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اس کی مصیبتوں کو دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اللہ کی رحمت کو اس سے دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اسے بےچین کرسکتا ، اسے ڈرادھمکا سکتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹا سکتا ہے ؟ جب قلب مومن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کی نسبت سے معاملہ ختم ہوجاتا ہے ، تنازعہ ختم ہے ، غیر اللہ سے تمام امیدیں ختم ۔ صرف اللہ سے امید باقی رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے اور ہمیں اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ قل ۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” پس کہہ دو ، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ مجھے رب تعالیٰ پر پورا اعتماد ، بھروسہ اور یقین ہے۔ اس قدر بھروسہ جس میں کوئی شک نہیں ۔ ایسا یقین جس میں کوئی تزلزل نہیں ۔ اور اس قدر اطمینان جس میں بےچینی کا شائبہ نہیں۔ اور اس زادراہ کے ساتھ آپ چل پڑیں اور منزل تک پہنچنے سے پہلے دم نہ لیں۔ قل یٰقوم۔۔۔۔ عذاب مقیم (39: 39 تا 40) ان سے صاف کہو کہ ” میری قوم کے لوگو ، تم اپنی جگہ اپنا کام کئے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسواکن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں “ سے قوم تم اپنے منہاج کے مطابق کام کرو ، اور میں اپنی راہ پر چل پڑا ہوں ، نہ ڈرتا ہوں اور نہ شک ہے مجھے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اسی دنیا میں تم پر کس قدر شرمسار کنندہ عذاب آتا ہے اور پھر آخرت میں تو یہ عذاب دائمی ہوگا۔ اس معاملے کا فیصلہ ہوچکا ، اور اس فطری استدلال کے ذریعہ ہوا جس پر ہر سلیم الفطرت انسان گواہی دیتا ہے اور جس پر یہ کائنات گواہ ہے کہ اللہ خالق سماوات ہے اور خالق ارض ہے۔ اوتمام رسولوں نے آج تک جو دعوت پیش کی ہے یہ دعوت اللہ کی ہے ۔ لہٰذا اللہ کے رسولوں اور داعیان حق کے لیے زمین اور آسمان میں کون ہے جو کوئی اختیار رکھتا ہے۔ کوئی ہے جو ان سے مصائب دور کرسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو لوگ غیر اللہ اور ان دنیاوی قوتوں سے ڈرتے کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ واضح ہے اور راستہ صاف ہے اور اب بحث کی مزید کچھ ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو ہے تعلق رسولوں اور داعیان حق کا اور ان قوتوں کا جو ان کی راہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں اب سوال یہ ہے کہ دعوت حق کے حوالے سے رسولوں اور داعیانکا فریضہ کیا ہے اور جھٹلانے والوں کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کریں گے۔

الزمر 39:40

درس نمبر 220 ایک نظر میں اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے فریضے کا تعین کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے ذمہ دار اور ٹھیکہ دار نہیں ہیں کہ ضرور ان کو راہ ہدایت پر لانا ہے۔ وہ تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ان کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ لوگوں کے لیے اللہ کے سوا اور کوئی سفارش بھی نہیں ہے۔ سفارش کے اختیارات تو اللہ کے پاس ہیں۔ زمین و آسمانوں کا مالک ہی وہ ہے۔ اور سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر مشرکین کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کی نفسیاتی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اگر کلمہ توحید کا ذکر ہو تو ان کی طبعیت منقبض ہوجاتی ہے اور اگر شرکیہ کلمہ سنیں تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید کا اعلان کردیں۔ اور مشرکین کو اللہ پر چھوڑ دیں ۔ اور ان کی ایک تصویر آپ کے سامنے کردی جاتی ہے کہ قیامت کے دن تو یہ چاہیں گے کہ پوری روئے زمین کی دولت اور اس جیسی مزید دولت بھی فدیے میں دے کر جان چھڑا لیں۔ اس لیے کہ وہاں وہ اللہ کی وہ بادشاہت دیکھ لیں گے جس سے وہ حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اور ان کی حالت یہ ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اگر وہ خوشحالی پا لیں تو پھر اکڑ کر لمبے چوڑے دعوے کرنے لگتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ دولت ہمیں اپنے علم وٹیکنالوجی کی وجہ سے دے دی گئی ہے اور یہ وہی بات ہے جو ان سے پہلے لوگوں نے بھی کہی تھی اور ان کو اللہ نے پکڑا اور وہ اللہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ بن سکے اور نہ اللہ کو عاجز کرسکے ۔ رہی رزق کی فراخی اور اسکی تنگی تو یہ اللہ کے سنن اور قوانین پر موقوف رکھی گئی ہے اور اللہ کے یہ قوانین قدرت اس کی حکمت کے مطابق چلتے ہیں۔ وہی ہے جو رزق میں کشادگی دیتا ہے۔ اور وہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یومنون (39: 54) ” بیشک اس میں آیات اور نشانیاں ہیں ، ہر اس قوم کے لیے جو مومن ہو “۔ درس نمبر 220 تشریح آیات آیت نمبر 36 تا 40 یہ چار آیات بتاتی ہیں کہ اہل ایمان کا سیدھا سادا استدلال کیا ہوتا ہے ، یہ استدلال کس قدر قدرتی اور زور ہوتا ہے۔ کس قدر واضح اور گہرا ہوتا ہے۔ جس طرح یہ استدلال اور سوچ حضرت نبی ﷺ کے ذہین میں ہے اور جس طرح اسے ہر مومن کے قلب میں ہونا چاہئے۔ جس کا ایمان حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر پختہ ہو۔ اور وہ اسی دعوت پر قائم ہو اور اسی کی تبلیغ کررہا ہو اور دستور ومنشور سمجھتا ہو اور وہ اس کے لیے کافی وشافی ہو۔ اس آیت کے نزول میں ایسی روایات آئی ہیں کہ مشرکین مکہ رسول اللہ کو اپنے بتوں اور ان کے غضب سے ڈراتے تھے۔ جبکہ حضور اکرم ﷺ ان کی یہ صفات ان کے سامنے رکھتے تھے اور ان کی بےبسی وبے کسی بیان فرماتے تھے۔ مشرکین مکہ حضور اکرم ﷺ کو ڈراتے تھے کہ اگر آپ ﷺ نے ان کے بارے میں خاموشی اختیار نہ کی تو یہ بت آپ ﷺ کو اذیت دیں گے۔ لیکن اس آیت کا مفہوم اس مخصوص شان نزول سے زیادہ وسیع ہے۔ مراد ہر وہ دعوت حق ہے جو اس کرۂ ارض پر قیام نظام اسلامی کیلیے اٹھی ہے اور ہر وہ قوت ہے جو اس نظام اور اس دعوت کے خلاف ہے۔ اسلیے کہ یہاں دعوت حق اٹھانے والے اہل ایمان کے مکمل پھر وسے اطمینان اور یقین کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مخالف قوتوں کو بھی صحیح طرح تولا گیا ہے کہ انکا وزن کیا ہے۔ الیس اللہ بکاف عبدہ (39: 36) ” کیا اللہ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ہے “۔ ہاں اللہ کافی ہے ، لہٰذا وہ لوگ کون ہیں جن سے حضور ﷺ کو ڈرایا جارہا ہے۔ اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ ہے ، تو ان دوسری مخلوقات کی حیثیت کیا ہے۔ خصوصاً جبکہ حضور ﷺ کا منصب لے لیا ہو اور بندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوں۔ اللہ نہایت قوی اور اپنے تمام بندوں پر کنڑول کرنے والا ہے۔ ویخوفونک بالذین من دونه (39: 36) ” یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں “۔ آپ ﷺ کس طرح ڈرسکتے ہیں ۔ اللہ کے سوا دوسری تمام قوتیں کس طرح ڈراسکتی ہیں ۔ اس شخص کو جس کی حفاظت اللہ کررہا ہو۔ اور تمام روئے زمین پر جو قوتیں ہیں وہ اللہ سے فروترقوتیں ہیں۔ یہ ایک بالکل سادہ واضح مسئلہ ہے۔ یہ کسی بڑی بحث اور مباحثے اور کسی زیادہ سوچ کا محتاج نہیں ہے۔ نبی ﷺ اور ہر داعی کا حامی تو اللہ ہے اور دوسری تمام قوتیں فروتر ہیں۔ اور جب کوئی شخص یہ موقف اختیار کرے تو پھر کوئی شک اور اشباہ نہیں رہتا کہ اللہ کا ارادہ ہی نافذ ہو کر رہتا ہے اور اللہ کی مشیت ہی غالب رہتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرماتا ہے۔ ان کی ذات کے بارے میں ، ان کے دلوں کے بارے میں اور ان کی سوچ اور شعور کے بارے میں بھی۔ ومن یضلل ۔۔۔۔ من مضل (39: 36 تا 37) ” اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اور جسے وہ ہدایت دے دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ہے “۔ اللہ جانتا ہے کہ ضلالت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے گمراہ کردیتا ہے اور وہ بھی جانتا ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے ہدایت دے دیتا ہے۔ اور وہ جس کے بارے میں جو فیصلہ بھی کردے اس کے فیصلے کو بدلنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ الیس اللہ بعزیز ذی انتقام (39: 37) ” کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے “۔ ہاں وہ انتقام لینے والا ہے۔ اور وہ عزیز وقوی ہے۔ اور وہ ان تمام لوگوں کو ان کے استحقاق کے مطابق جزاء دیتا ہے۔ اور جس سے وہ انتقام لیتا ہے۔ وہ مستحق ہوتا ہے کہ اس سے انتقام لیا جائے لہٰذا اس کی بندگی کرنے والے کو کسی چیز کا ڈر نہیں رہتا وہ کافی اور کفیل ہے۔ اس کے بعد خود ان کی منطق اور ان کے زاویہ نگاہ کے مطابق استدلال کرکے یہی نتائج نکالے جاتے ہیں اور اس منطق اور اس طرز فکر کا وہ اقرار کرتے تھے اور اللہ کے بارے میں وہ اس قسم کا تصور رکھتے تھے۔ ولئن سالتھم من۔۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ، تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے پوچھو ، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچالیں گی ؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی ؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا تھا کہ خالق ارض وسما کون ہے ؟ تو وہ اقرار کرتے تھے کہ خالق ارض وسماء اللہ وحدہ ہے۔ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کے سوا جواب دے ہی نہیں سکتا ۔ اور کوئی عقلمند زمین و آسمان کی تخلیق کا سبب ایک ذات بلند اور عالی مقام کے سوا کوئی اور نہیں بتاسکتا۔ لہٰذا قرآن ان کو اور تمام عقلاء کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ تمہاری فطرت کے اندر یہ بات بیٹھی ہوئی ہے اور بہت واضح ہے۔ اگر صورت یہی ہے تو پھر کوئی ہے جو اس مصیبت کو روک سکنے والا ہو جو وہ ذات عالی اپنے بندوں پر لانا چاہے ، یا زمین و آسمان میں کون ہے اگر وہ کسی پر رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت کو روک سکے۔ تو ان سوالات کا قطعی جواب یہ ہے کہ ” نہیں “۔ اگر یہ بات طے ہوجاتی ہے تو داعی الی اللہ کس سے ڈرسکتا ہے۔ وہ کس سے خائف ہوسکتا ہے اور کس سے امیدیں وابستہ کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اس کی مصیبتوں کو دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اللہ کی رحمت کو اس سے دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اسے بےچین کرسکتا ، اسے ڈرادھمکا سکتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹا سکتا ہے ؟ جب قلب مومن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کی نسبت سے معاملہ ختم ہوجاتا ہے ، تنازعہ ختم ہے ، غیر اللہ سے تمام امیدیں ختم ۔ صرف اللہ سے امید باقی رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے اور ہمیں اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ قل ۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” پس کہہ دو ، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ مجھے رب تعالیٰ پر پورا اعتماد ، بھروسہ اور یقین ہے۔ اس قدر بھروسہ جس میں کوئی شک نہیں ۔ ایسا یقین جس میں کوئی تزلزل نہیں ۔ اور اس قدر اطمینان جس میں بےچینی کا شائبہ نہیں۔ اور اس زادراہ کے ساتھ آپ چل پڑیں اور منزل تک پہنچنے سے پہلے دم نہ لیں۔ قل یٰقوم۔۔۔۔ عذاب مقیم (39: 39 تا 40) ان سے صاف کہو کہ ” میری قوم کے لوگو ، تم اپنی جگہ اپنا کام کئے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسواکن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں “ سے قوم تم اپنے منہاج کے مطابق کام کرو ، اور میں اپنی راہ پر چل پڑا ہوں ، نہ ڈرتا ہوں اور نہ شک ہے مجھے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اسی دنیا میں تم پر کس قدر شرمسار کنندہ عذاب آتا ہے اور پھر آخرت میں تو یہ عذاب دائمی ہوگا۔ اس معاملے کا فیصلہ ہوچکا ، اور اس فطری استدلال کے ذریعہ ہوا جس پر ہر سلیم الفطرت انسان گواہی دیتا ہے اور جس پر یہ کائنات گواہ ہے کہ اللہ خالق سماوات ہے اور خالق ارض ہے۔ اوتمام رسولوں نے آج تک جو دعوت پیش کی ہے یہ دعوت اللہ کی ہے ۔ لہٰذا اللہ کے رسولوں اور داعیان حق کے لیے زمین اور آسمان میں کون ہے جو کوئی اختیار رکھتا ہے۔ کوئی ہے جو ان سے مصائب دور کرسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو لوگ غیر اللہ اور ان دنیاوی قوتوں سے ڈرتے کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ واضح ہے اور راستہ صاف ہے اور اب بحث کی مزید کچھ ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو ہے تعلق رسولوں اور داعیان حق کا اور ان قوتوں کا جو ان کی راہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں اب سوال یہ ہے کہ دعوت حق کے حوالے سے رسولوں اور داعیانکا فریضہ کیا ہے اور جھٹلانے والوں کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کریں گے۔

الزمر 39:41

آیت نمبر 41 تا 44 انآ انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق (39: 41) ” ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کی ہے “۔ اس کتاب کی ماہیت سچائی ہے۔ یہ جو طرز زندگی اور منہاج حیات انسان کو عطا کرتی ہے ، وہ برحق ہے۔ اس کا قانون برحق ہے اور یہی وہ سچائی ہے جس سے زمین و آسمان قائم ہیں اور وہ نظام جو اس کتاب نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اور وہ ضابطہ جو اللہ نے اس کائنات کے چلانے کے لیے وضع کیا ، دونوں حق ہیں اور باہم ہم آہنگ اور متوافق ہیں۔ یہ سچائی لوگوں کے لیے نازل کی ہے کہ لوگ اس سے ہدایات لے اس کے مطابق زندگی بسر کریں اور آپ اس حق کے مبلغ ہیں۔ اور یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے لیے راہ ہدایت کا انتخاب کرتے ہیں یا راہ ضلالت کا۔ جنت کی نعمتیں حاصل کرتے ہیں یا جہنم کی آگ اختیار کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے نفس کو جدھر چاہے لے جائے۔ نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں اور نہ حوالدار۔ فمن اھتدی۔۔۔ بوکیل (39: 41) ” اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا تو اپنے لیے کرے گا ، اور جو بھٹکے گا تو اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہوگا۔ تم ان کے ذمہ راد نہیں ہو “۔ ان کا ذمہ دار اللہ ہے۔ وہ بیداری میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور سوتے میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اپنے تمام حالات میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، ان کے اندر تصرف فرماتا ہے۔ اللہ یتوفی۔۔۔ اجل مسمی (39: 43) ” وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے ، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے ، اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے “۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کی روحیں ان کے وقت مقرر کے مطابق قبض کرتا ہے۔ اس سے قبل اللہ ہر شخص کی روح کو سونے کی حالت میں بھی قبض کرتا ہے۔ اگرچہ وہ شخص مردہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس کی روح اس وقت بھی قبض ہوتی ہے ، ایک وقت مقررہ تک کے لیے۔ اگر سوتے ہی میں اس کا وقت مقرر آجائے تو پھر وہ شخص جاگ نہیں اٹھتا۔ اگر وقت مقرر نہ آیا تو روح واپس بھیجی جاتی ہے۔ اور یہ شخص جاگ اٹھتا ہے۔ لہٰذا تمام نفوس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، سوتے میں بھی اور جاگتے میں بھی۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یتفکرون (39: 42) ' اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے ہیں “۔ غرض یہ لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ ہی ان کا ذمہ دار ہے اور آپ ان کے انجام کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت پاتے ہیں تو اپنے لیے پاتے ہیں اور اگر وہ گمراہی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے لیے کرتے ہیں۔ محاسبہ سب کے لیے ہے۔ کوئی بھی مہمل چھوڑ دیا جانے والا نہیں ہے۔ لہذا ان کو اپنے آپ کو چھڑانے کی فکر کرنی چاہئے۔ ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔ الیه ترجعون (39: 43 تا 44) ” کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفع بنارکھا ہے ؟ ان سے کہو ، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ ان کے اختیار میں کچھ ہو نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی یہ ہوں ؟ کہو ، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ وہ لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ملائکہ کی بندگی اس لیے کرتے ہیں کہ ملائکہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے۔ اولو۔۔۔۔ یعقلون (39: 43) ” خواہ ان کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی کچھ نہ ہوں “۔ اور اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ سفارش تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس کو سفارش کی چاہے اجازت دے دے۔ لیکن اگر اللہ کسی کو سفارش کی اجازت دے تو ہمارے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ ہم اسے اللہ کا شریک بنالیں۔ له ملک السمٰوٰت والارض (39: 44) ” زمین و آسمان کی بادشاہی کا وہی مالک ہے “۔ اس بادشاہی میں کوئی اس کی ملکیت اور ارادہ کے دائرہ سے باہر نہیں ہے۔ سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور سب نے آخر کار اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ نظریہ اور موقف کہ اللہ وحدہ بادشاہ ہے۔ وہ تمام اختیارات کا مالک ہے اور قہار ہے اور جس کا خلاصہ کلمہ توحید ہے ، اس سے وہ کس قدر بدکتے ہیں اور کلمہ شرک کے لیے یہ کس قدر خوش ہوتے ہیں ، حالانکہ کلمہ کا انکار ان کی فطرت بھی کرتی ہے۔ اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات بھی کرتی ہے۔

الزمر 39:42

آیت نمبر 41 تا 44 انآ انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق (39: 41) ” ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کی ہے “۔ اس کتاب کی ماہیت سچائی ہے۔ یہ جو طرز زندگی اور منہاج حیات انسان کو عطا کرتی ہے ، وہ برحق ہے۔ اس کا قانون برحق ہے اور یہی وہ سچائی ہے جس سے زمین و آسمان قائم ہیں اور وہ نظام جو اس کتاب نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اور وہ ضابطہ جو اللہ نے اس کائنات کے چلانے کے لیے وضع کیا ، دونوں حق ہیں اور باہم ہم آہنگ اور متوافق ہیں۔ یہ سچائی لوگوں کے لیے نازل کی ہے کہ لوگ اس سے ہدایات لے اس کے مطابق زندگی بسر کریں اور آپ اس حق کے مبلغ ہیں۔ اور یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے لیے راہ ہدایت کا انتخاب کرتے ہیں یا راہ ضلالت کا۔ جنت کی نعمتیں حاصل کرتے ہیں یا جہنم کی آگ اختیار کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے نفس کو جدھر چاہے لے جائے۔ نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں اور نہ حوالدار۔ فمن اھتدی۔۔۔ بوکیل (39: 41) ” اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا تو اپنے لیے کرے گا ، اور جو بھٹکے گا تو اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہوگا۔ تم ان کے ذمہ راد نہیں ہو “۔ ان کا ذمہ دار اللہ ہے۔ وہ بیداری میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور سوتے میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اپنے تمام حالات میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، ان کے اندر تصرف فرماتا ہے۔ اللہ یتوفی۔۔۔ اجل مسمی (39: 43) ” وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے ، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے ، اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے “۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کی روحیں ان کے وقت مقرر کے مطابق قبض کرتا ہے۔ اس سے قبل اللہ ہر شخص کی روح کو سونے کی حالت میں بھی قبض کرتا ہے۔ اگرچہ وہ شخص مردہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس کی روح اس وقت بھی قبض ہوتی ہے ، ایک وقت مقررہ تک کے لیے۔ اگر سوتے ہی میں اس کا وقت مقرر آجائے تو پھر وہ شخص جاگ نہیں اٹھتا۔ اگر وقت مقرر نہ آیا تو روح واپس بھیجی جاتی ہے۔ اور یہ شخص جاگ اٹھتا ہے۔ لہٰذا تمام نفوس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، سوتے میں بھی اور جاگتے میں بھی۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یتفکرون (39: 42) ' اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے ہیں “۔ غرض یہ لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ ہی ان کا ذمہ دار ہے اور آپ ان کے انجام کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت پاتے ہیں تو اپنے لیے پاتے ہیں اور اگر وہ گمراہی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے لیے کرتے ہیں۔ محاسبہ سب کے لیے ہے۔ کوئی بھی مہمل چھوڑ دیا جانے والا نہیں ہے۔ لہذا ان کو اپنے آپ کو چھڑانے کی فکر کرنی چاہئے۔ ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔ الیه ترجعون (39: 43 تا 44) ” کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفع بنارکھا ہے ؟ ان سے کہو ، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ ان کے اختیار میں کچھ ہو نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی یہ ہوں ؟ کہو ، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ وہ لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ملائکہ کی بندگی اس لیے کرتے ہیں کہ ملائکہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے۔ اولو۔۔۔۔ یعقلون (39: 43) ” خواہ ان کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی کچھ نہ ہوں “۔ اور اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ سفارش تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس کو سفارش کی چاہے اجازت دے دے۔ لیکن اگر اللہ کسی کو سفارش کی اجازت دے تو ہمارے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ ہم اسے اللہ کا شریک بنالیں۔ له ملک السمٰوٰت والارض (39: 44) ” زمین و آسمان کی بادشاہی کا وہی مالک ہے “۔ اس بادشاہی میں کوئی اس کی ملکیت اور ارادہ کے دائرہ سے باہر نہیں ہے۔ سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور سب نے آخر کار اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ نظریہ اور موقف کہ اللہ وحدہ بادشاہ ہے۔ وہ تمام اختیارات کا مالک ہے اور قہار ہے اور جس کا خلاصہ کلمہ توحید ہے ، اس سے وہ کس قدر بدکتے ہیں اور کلمہ شرک کے لیے یہ کس قدر خوش ہوتے ہیں ، حالانکہ کلمہ کا انکار ان کی فطرت بھی کرتی ہے۔ اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات بھی کرتی ہے۔

الزمر 39:43

آیت نمبر 41 تا 44 انآ انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق (39: 41) ” ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کی ہے “۔ اس کتاب کی ماہیت سچائی ہے۔ یہ جو طرز زندگی اور منہاج حیات انسان کو عطا کرتی ہے ، وہ برحق ہے۔ اس کا قانون برحق ہے اور یہی وہ سچائی ہے جس سے زمین و آسمان قائم ہیں اور وہ نظام جو اس کتاب نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اور وہ ضابطہ جو اللہ نے اس کائنات کے چلانے کے لیے وضع کیا ، دونوں حق ہیں اور باہم ہم آہنگ اور متوافق ہیں۔ یہ سچائی لوگوں کے لیے نازل کی ہے کہ لوگ اس سے ہدایات لے اس کے مطابق زندگی بسر کریں اور آپ اس حق کے مبلغ ہیں۔ اور یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے لیے راہ ہدایت کا انتخاب کرتے ہیں یا راہ ضلالت کا۔ جنت کی نعمتیں حاصل کرتے ہیں یا جہنم کی آگ اختیار کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے نفس کو جدھر چاہے لے جائے۔ نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں اور نہ حوالدار۔ فمن اھتدی۔۔۔ بوکیل (39: 41) ” اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا تو اپنے لیے کرے گا ، اور جو بھٹکے گا تو اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہوگا۔ تم ان کے ذمہ راد نہیں ہو “۔ ان کا ذمہ دار اللہ ہے۔ وہ بیداری میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور سوتے میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اپنے تمام حالات میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، ان کے اندر تصرف فرماتا ہے۔ اللہ یتوفی۔۔۔ اجل مسمی (39: 43) ” وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے ، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے ، اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے “۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کی روحیں ان کے وقت مقرر کے مطابق قبض کرتا ہے۔ اس سے قبل اللہ ہر شخص کی روح کو سونے کی حالت میں بھی قبض کرتا ہے۔ اگرچہ وہ شخص مردہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس کی روح اس وقت بھی قبض ہوتی ہے ، ایک وقت مقررہ تک کے لیے۔ اگر سوتے ہی میں اس کا وقت مقرر آجائے تو پھر وہ شخص جاگ نہیں اٹھتا۔ اگر وقت مقرر نہ آیا تو روح واپس بھیجی جاتی ہے۔ اور یہ شخص جاگ اٹھتا ہے۔ لہٰذا تمام نفوس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، سوتے میں بھی اور جاگتے میں بھی۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یتفکرون (39: 42) ' اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے ہیں “۔ غرض یہ لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ ہی ان کا ذمہ دار ہے اور آپ ان کے انجام کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت پاتے ہیں تو اپنے لیے پاتے ہیں اور اگر وہ گمراہی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے لیے کرتے ہیں۔ محاسبہ سب کے لیے ہے۔ کوئی بھی مہمل چھوڑ دیا جانے والا نہیں ہے۔ لہذا ان کو اپنے آپ کو چھڑانے کی فکر کرنی چاہئے۔ ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔ الیه ترجعون (39: 43 تا 44) ” کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفع بنارکھا ہے ؟ ان سے کہو ، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ ان کے اختیار میں کچھ ہو نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی یہ ہوں ؟ کہو ، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ وہ لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ملائکہ کی بندگی اس لیے کرتے ہیں کہ ملائکہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے۔ اولو۔۔۔۔ یعقلون (39: 43) ” خواہ ان کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی کچھ نہ ہوں “۔ اور اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ سفارش تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس کو سفارش کی چاہے اجازت دے دے۔ لیکن اگر اللہ کسی کو سفارش کی اجازت دے تو ہمارے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ ہم اسے اللہ کا شریک بنالیں۔ له ملک السمٰوٰت والارض (39: 44) ” زمین و آسمان کی بادشاہی کا وہی مالک ہے “۔ اس بادشاہی میں کوئی اس کی ملکیت اور ارادہ کے دائرہ سے باہر نہیں ہے۔ سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور سب نے آخر کار اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ نظریہ اور موقف کہ اللہ وحدہ بادشاہ ہے۔ وہ تمام اختیارات کا مالک ہے اور قہار ہے اور جس کا خلاصہ کلمہ توحید ہے ، اس سے وہ کس قدر بدکتے ہیں اور کلمہ شرک کے لیے یہ کس قدر خوش ہوتے ہیں ، حالانکہ کلمہ کا انکار ان کی فطرت بھی کرتی ہے۔ اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات بھی کرتی ہے۔

الزمر 39:44

آیت نمبر 41 تا 44 انآ انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق (39: 41) ” ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کی ہے “۔ اس کتاب کی ماہیت سچائی ہے۔ یہ جو طرز زندگی اور منہاج حیات انسان کو عطا کرتی ہے ، وہ برحق ہے۔ اس کا قانون برحق ہے اور یہی وہ سچائی ہے جس سے زمین و آسمان قائم ہیں اور وہ نظام جو اس کتاب نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اور وہ ضابطہ جو اللہ نے اس کائنات کے چلانے کے لیے وضع کیا ، دونوں حق ہیں اور باہم ہم آہنگ اور متوافق ہیں۔ یہ سچائی لوگوں کے لیے نازل کی ہے کہ لوگ اس سے ہدایات لے اس کے مطابق زندگی بسر کریں اور آپ اس حق کے مبلغ ہیں۔ اور یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے لیے راہ ہدایت کا انتخاب کرتے ہیں یا راہ ضلالت کا۔ جنت کی نعمتیں حاصل کرتے ہیں یا جہنم کی آگ اختیار کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے نفس کو جدھر چاہے لے جائے۔ نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں اور نہ حوالدار۔ فمن اھتدی۔۔۔ بوکیل (39: 41) ” اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا تو اپنے لیے کرے گا ، اور جو بھٹکے گا تو اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہوگا۔ تم ان کے ذمہ راد نہیں ہو “۔ ان کا ذمہ دار اللہ ہے۔ وہ بیداری میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور سوتے میں بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اپنے تمام حالات میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، ان کے اندر تصرف فرماتا ہے۔ اللہ یتوفی۔۔۔ اجل مسمی (39: 43) ” وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے ، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے ، اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے “۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کی روحیں ان کے وقت مقرر کے مطابق قبض کرتا ہے۔ اس سے قبل اللہ ہر شخص کی روح کو سونے کی حالت میں بھی قبض کرتا ہے۔ اگرچہ وہ شخص مردہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس کی روح اس وقت بھی قبض ہوتی ہے ، ایک وقت مقررہ تک کے لیے۔ اگر سوتے ہی میں اس کا وقت مقرر آجائے تو پھر وہ شخص جاگ نہیں اٹھتا۔ اگر وقت مقرر نہ آیا تو روح واپس بھیجی جاتی ہے۔ اور یہ شخص جاگ اٹھتا ہے۔ لہٰذا تمام نفوس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، سوتے میں بھی اور جاگتے میں بھی۔ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یتفکرون (39: 42) ' اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے ہیں “۔ غرض یہ لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ ہی ان کا ذمہ دار ہے اور آپ ان کے انجام کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت پاتے ہیں تو اپنے لیے پاتے ہیں اور اگر وہ گمراہی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے لیے کرتے ہیں۔ محاسبہ سب کے لیے ہے۔ کوئی بھی مہمل چھوڑ دیا جانے والا نہیں ہے۔ لہذا ان کو اپنے آپ کو چھڑانے کی فکر کرنی چاہئے۔ ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔ الیه ترجعون (39: 43 تا 44) ” کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفع بنارکھا ہے ؟ ان سے کہو ، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ ان کے اختیار میں کچھ ہو نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی یہ ہوں ؟ کہو ، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ وہ لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ملائکہ کی بندگی اس لیے کرتے ہیں کہ ملائکہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے۔ اولو۔۔۔۔ یعقلون (39: 43) ” خواہ ان کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی کچھ نہ ہوں “۔ اور اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ سفارش تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس کو سفارش کی چاہے اجازت دے دے۔ لیکن اگر اللہ کسی کو سفارش کی اجازت دے تو ہمارے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ ہم اسے اللہ کا شریک بنالیں۔ له ملک السمٰوٰت والارض (39: 44) ” زمین و آسمان کی بادشاہی کا وہی مالک ہے “۔ اس بادشاہی میں کوئی اس کی ملکیت اور ارادہ کے دائرہ سے باہر نہیں ہے۔ سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور سب نے آخر کار اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ نظریہ اور موقف کہ اللہ وحدہ بادشاہ ہے۔ وہ تمام اختیارات کا مالک ہے اور قہار ہے اور جس کا خلاصہ کلمہ توحید ہے ، اس سے وہ کس قدر بدکتے ہیں اور کلمہ شرک کے لیے یہ کس قدر خوش ہوتے ہیں ، حالانکہ کلمہ کا انکار ان کی فطرت بھی کرتی ہے۔ اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات بھی کرتی ہے۔

الزمر 39:45

آیت نمبر 45 یہ ایک حقیقی صورت حال کی نقشہ کشی ہے جو حضور اکرم ﷺ کے دور میں موجود تھی۔ اس وقت صورت یہ تھی کہ جب مشرکین کے خداؤں کا ذکر احترم سے کیا جاتا تو یہ مشرکین کھل اٹھتے اور بہت خوش ہوتے ۔ اور جب کلمہ توحید کا بیان ہوتا تو یہ لوگ مرجھا جاتے اور ان کی طبیعت میں انقباض پیدا ہوجاتا ۔۔۔۔ لیکن یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جو ہر زمان ومکان میں پائی جاتی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ وحدہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے اور صرف اللہ کی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے اور صرف اسلامی نظام اور اسلامی دستور ومنشور کی بات کی جائے تو ان کو سخت انقباض ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں جب انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہائے زندگی کی بات کی جائے ، انسانی قوانین کی بات کی جائے تو وہ بہت ہی خوش ہوتے ہیں ، کھل اٹھتے ہیں اور ایسی باتوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے۔ یہ لوگ ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ ان کے مزاج میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ اور یہ لوگ ضال اور مضل ہیں۔ اگرچہ کوئی معاشرہ حضور اکرم ﷺ کے معاشرے سے مختلف ہو۔ اگرچہ ان کی جنس اور قوم عربوں سے جدا ہو۔ ایسے منحرفین ، گمراہوں اور بگڑے ہوئے لوگوں کا جواب وہی ہے جو اللہ نے حضور ﷺ کو بتایا تھا جب آپ کو ایسے حالات سے مقابلہ درپیش تھا۔

الزمر 39:46

آیت نمبر 46 یہ اس فطرت کی پکار ہے جو زمین و آسمان کو دیکھ رہی ہو۔ اور اس کے لیے یہ بات مشکل ہو کہ وہ اللہ کی ذات کے سوا کسی کو الہہ مان سکے جو خالق ارض وسما ہے۔ لہٰذا یہ فطرت اس کی طرف اعتراف اور اقرار کے ساتھ متوجہ ہوتی ہے اور اللہ کی تعریف و تمجید ان صفات کے ساتھ کرتی ہے جو اس کے لائق ہیں یعنی ” اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے “۔ علم الغیب والشھادۃ (39: 46) ” اے حاضر و غائب کو جاننے والے “۔ اے ظاہر و باطن کو جاننے والے۔ انت۔۔۔۔ یختلفون (39: 46) ” تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہتے ہیں “۔ کیونکہ قیامت کے دن تو وہی حاکم ہوگا۔ اور سب نے قیامت میں اسی کے سامنے آنا ہوگا۔ اور کوئی قیامت کی حاضری سے بچ کر نکلنے والا نہیں ہے۔ اور جب اللہ کے بندے قیامت کے روز کے فیصلے کے لیے حاضر کیے جائیں گے تو ان کی حالت پھر کیا ہوگی ذرا اسکرین پر یہ منظر دیکھیں :

الزمر 39:47

آیت نمبر 47 تا 48 ایک ہولناک صورت حال کا جامہ پہنادیا گیا ہے۔ یہ قرآن ہی کرسکتا ہے ، یہ ظالم جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور شرک ظلم عظیم ہے ۔ اگر قیامت کے دن ان کے قبضے میں یہ پوری زمین ہو اور اس جیسی ایک اور زمین بھی اور وہ اس کے اور مافیہا کے واحد مالک ہوں تو وہ قیامت کے دن کے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ اور اس عذاب سے یہ لوگ رہائی نہ پاسکیں گے۔ ان جامع الفاظ کے اندر ایک دوسری دھمکی بھی چھپی ہوئی ہے۔ وبدالھم من اللہ مالم یکونوا یحتسبون (39: 47) ” اور اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے “۔ یہاں اس بات کا تذکرہ نہیں کیا گیا کہ وہاں ان کے سامنے اللہ کی طرف سے کیا غیر متوقع انکشافات ہوں گے ؟ لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ جو کچھ ظاہر ہوگا وہ بہت ہی خوفناک ہوگا اور وہ ان کو مدہوش کردے گا۔ اور وہ حواص باختہ پھریں گے۔ ایک طرف اللہ ہے اور دوسری طرف یہ ضعفاء ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کے سامنے خوفناک انکشافات ہوں گے یہاں ان کو متعین نہیں کیا گیا۔ وبدالھم۔۔۔۔ یستھزءون (39: 48) ” وہاں اپنی کمائی کے سارے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں “۔ اس سے بھی ان کی حالت مزید بگڑ جائے گی۔ جب ان کے سامنے اپنے کرتوتوں کے نتائج بھیانک شکل میں آئیں گے۔ اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ انہیں گھیرلے گا۔ اور وہ نہایت ہی کربناک حالت میں ہوں گے۔ اعاذنا اللہ منھا۔ اب اس موقف کے بعد جب وہ اپنے رب کے سامنے حاضر کئے جائیں گے ، اس رب کے سامنے جس کے ساتھ یہ لوگ شرک کرتے تھے اور جب اللہ وحدہ کا ذکر کیا جاتا تو ان کے دل سکڑ جاتے اور جب ان کے شرکاء کا ذکر ہوتا تو وہ کھل جاتے تھے۔ ان مضامین کے بعد ان کی عجیب حالت کی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ یہ اللہ کی وحدانیت کا تو انکار کرتے ہیں لیکن جب یہ کسی بڑی مصیبت میں پھنستے ہیں تو صرف اللہ وحدہ کو نہایت عاجزی سے پکارتے ہیں۔ لیکن جب ان سے یہ مصیبت ٹل جائے تو پھر تکبر کرتے ہوئے انکار کرتے ہیں۔

الزمر 39:48

آیت نمبر 47 تا 48 ایک ہولناک صورت حال کا جامہ پہنادیا گیا ہے۔ یہ قرآن ہی کرسکتا ہے ، یہ ظالم جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور شرک ظلم عظیم ہے ۔ اگر قیامت کے دن ان کے قبضے میں یہ پوری زمین ہو اور اس جیسی ایک اور زمین بھی اور وہ اس کے اور مافیہا کے واحد مالک ہوں تو وہ قیامت کے دن کے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ اور اس عذاب سے یہ لوگ رہائی نہ پاسکیں گے۔ ان جامع الفاظ کے اندر ایک دوسری دھمکی بھی چھپی ہوئی ہے۔ وبدالھم من اللہ مالم یکونوا یحتسبون (39: 47) ” اور اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے “۔ یہاں اس بات کا تذکرہ نہیں کیا گیا کہ وہاں ان کے سامنے اللہ کی طرف سے کیا غیر متوقع انکشافات ہوں گے ؟ لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ جو کچھ ظاہر ہوگا وہ بہت ہی خوفناک ہوگا اور وہ ان کو مدہوش کردے گا۔ اور وہ حواص باختہ پھریں گے۔ ایک طرف اللہ ہے اور دوسری طرف یہ ضعفاء ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کے سامنے خوفناک انکشافات ہوں گے یہاں ان کو متعین نہیں کیا گیا۔ وبدالھم۔۔۔۔ یستھزءون (39: 48) ” وہاں اپنی کمائی کے سارے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں “۔ اس سے بھی ان کی حالت مزید بگڑ جائے گی۔ جب ان کے سامنے اپنے کرتوتوں کے نتائج بھیانک شکل میں آئیں گے۔ اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ انہیں گھیرلے گا۔ اور وہ نہایت ہی کربناک حالت میں ہوں گے۔ اعاذنا اللہ منھا۔ اب اس موقف کے بعد جب وہ اپنے رب کے سامنے حاضر کئے جائیں گے ، اس رب کے سامنے جس کے ساتھ یہ لوگ شرک کرتے تھے اور جب اللہ وحدہ کا ذکر کیا جاتا تو ان کے دل سکڑ جاتے اور جب ان کے شرکاء کا ذکر ہوتا تو وہ کھل جاتے تھے۔ ان مضامین کے بعد ان کی عجیب حالت کی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ یہ اللہ کی وحدانیت کا تو انکار کرتے ہیں لیکن جب یہ کسی بڑی مصیبت میں پھنستے ہیں تو صرف اللہ وحدہ کو نہایت عاجزی سے پکارتے ہیں۔ لیکن جب ان سے یہ مصیبت ٹل جائے تو پھر تکبر کرتے ہوئے انکار کرتے ہیں۔

الزمر 39:49

آیت نمبر 49 یہ آیت انسانوں کے ایک ایسے نمونے کا ذکر کرتی ہے جو ہر جگہ اور ہر زمانے میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایسا نمونہ ہے جس کی فطرت نے سچائی تک رسائی حاصل نہیں کی۔ رب واحد کے عقیدے تک نہیں پہنچ سکی کہ اسے صحیح رویہ معلوم ہو اور خوشی اور غم کی حالت میں بھی وہ اپنا صحیح راستہ نہ بھولے۔ مصیبت ، انسانی فطرت کے اوپر سے خواہشات نفسانیہ کی جمی ہوئی دبیز تہوں کو دور کردیتی ہے اور مصنوعی عوامل کو ہٹا کر انسانی ضمیر کے اندر موجود سچائی نکھارتی ہے۔ جب انسان مشکلات سے دوچار ہوتا ہے تو اسے اللہ نظر آتا ہے ” جب کیا تنگ بتوں نے تو خدایاد آیا “ اب خدا کی تعریف ہونے لگتی ہے اور لوگ صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اور جب یہ شدت اور مصیبت ختم ہوجاتی ہے اور خوش حالی اور امن لوٹ آتا ہے تو انسان ان باتوں کو بھول جاتا ہے جو اس نے شدت و مصیبت کے وقت میں کی تھیں اور اس کی فطرت پھر خواہشات نفسانیہ اور وقتی عوامل کے دباؤ میں آجاتی ہے اور اللہ کی نعمتوں اور فضل وکرم کے بارے میں وہ کہتا ہے۔ انمآ اوتیته علی علم (39: 49) ” یہ تو مجھے علم کی بناء پر دیا گیا ہے “۔ یہ بات قارون نے بھی کہی تھی۔ ہر وہ شخص اور قوم جسے یہ دھوکہ ہوجائے کہ اسکے اچھے دن علم و حکمت اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہیں۔ یہ اسکی مہارت ہے کہ اسکو مال اور اقتدار ملا ہے۔ ایسے لوگ فضل وکرم کے اصل مصدر سے غافل ہوتے ہیں اور علم دینے والے کو نہیں پہچانتے جو مبب الاسباب ہے اور جو رزق مقرر کرتا ہے۔ یہ ہے امتحان اور آزمائش۔ اسکے ذریعے اللہ معلوم کرتا ہے کہ جس پر فضل وکرم ہورہا ہے ، وہ شکر کریگا یا کفر کرے گا۔ آیا اس فضل وکرم کی وجہ سے اسکی اصلاح ہوتی ہے یا وہ مزید بگڑتا ہے۔ وہ راہ راست لیتا ہے یا گمراہی کی راہ آگے بڑھتا ہے۔ قرآن کریم نے بندوں پر مہربانی کرتے ہوئے یہ راز ان پر کھول دیا ہے اور اس خطرے سے انہیں پیشگی آگاہ کردیا ہے کہ یہ مال اور دولت اور اقتدار وجاہ بھی تمہارے لیے آزمائش ہے۔ قرآن کریم اقوام گزشتہ کے حالات ان پر پیش کر کے ان کو متنبہ کرتا ہے کہ پہلے بھی اس قسم کے لوگوں نے کہا تھا کہ۔ اوتیته علیٰ علم (39: 49) ” یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے

الزمر 39:50

آیت نمبر 50 تا 51 یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے قبل کے بدفطرت لوگوں نے کہے تھے۔ نہ ان کا علم ان کے کام آیا ، نہ ان کا اقتدار انہیں بچا سکا ۔ اور نہ ان کی ٹیکنالوجی اور اللہ کے عذاب نے انہیں آلیا۔ یہ ان کی آزمائش تھی اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ اور اللہ کو عاجز کرنے والا کوئی نہیں۔ انسان جیسی ضعیف مخلوق اللہ کو کیسے عاجز کرسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے ان کو مال واقتدار دیا تو یہ اللہ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اور یہ حکمت اللہ خود ہی جانتا ہے کہ وہ کسی کو مال واقتدار کی فراوانی کیوں دیتا ہے۔ اصل بات ہوتی ہے اس کی مشیت اور اس کی آزمائش۔

الزمر 39:51

آیت نمبر 50 تا 51 یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے قبل کے بدفطرت لوگوں نے کہے تھے۔ نہ ان کا علم ان کے کام آیا ، نہ ان کا اقتدار انہیں بچا سکا ۔ اور نہ ان کی ٹیکنالوجی اور اللہ کے عذاب نے انہیں آلیا۔ یہ ان کی آزمائش تھی اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ اور اللہ کو عاجز کرنے والا کوئی نہیں۔ انسان جیسی ضعیف مخلوق اللہ کو کیسے عاجز کرسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے ان کو مال واقتدار دیا تو یہ اللہ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اور یہ حکمت اللہ خود ہی جانتا ہے کہ وہ کسی کو مال واقتدار کی فراوانی کیوں دیتا ہے۔ اصل بات ہوتی ہے اس کی مشیت اور اس کی آزمائش۔

الزمر 39:52

آیت نمبر 52 یہ تو اللہ کی نشانیاں ہیں کہ وہ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم دیتا ہے ، اور ان نشانات سے راہ ہدایت لینا چاہے ، نہ یہ کہ ان نشانات الہیہ کو کفر وضلالت کا ذریعہ بنایا جائے

الزمر 39:53

درس نمبر 221 ایک نظر میں اس سے پہلے سبق میں بتایا گیا تھا کہ قیامت کے دن ظالمون کے حالات کیا ہوں گے۔ ولوان للذین۔۔۔۔۔۔ به یستھزءون (39: 47 تا 48) ” اگر ان ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو ، اور اتنی ہی اور بھی ، تو یہ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے ۔ وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے۔ وہاں اپنی کمائی کے سارے برے نتائج ان پر کھل جائیں گے جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں “۔ اس لیے اس سبق میں توبہ کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور کوئی کس قدر گناہوں کا مرتکب کیوں نہ ہوگیا ہو ، اسے دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہرگز نہ ہوں ، چاہے وہ میری راہوں پر بہت آگے نکل گئے ہوں۔ دعوت دی جاتی ہے کہ لوٹ آؤ، میرے در پر کوئی مایوسی نہیں ہے ، لیکن اگر اس عام معافی اور عام دعوت سے تم نے فائدہ نہ اٹھایا اور توبہ نہ کی تو پھر تمہارے لیے وہ عذاب ہے جس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ نہ ہوگی ۔ اس فرصت سے فائدہ اٹھاو ، قبل اس کے کہ وقت چلا جائے۔ درس نمبر 221 تشریح آیات آیت نمبر 53 اللہ کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ وہ بڑی سے بڑی معصیت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ، چاہے وہ جو بھی ہو۔ یہ توبہ اور واپس آجانے کی دعوت عام ہے۔ ان لوگوں کو دعوت ہے جو گمراہی ، فیق وفجور اور بدکاری کی راہوں میں بہت دور چلے گئے ہیں اور مایوس ہوگئے ہیں۔ ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ، اللہ پر بھروسہ کریں اور اللہ کی رحمت کا دروازہ وسیع ہے اور عفو و درگزر کی چادر بہت کھلی ہے۔ وہ اپنے بندوں پر رحیم وکریم ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میرے بندے کس قدر کمزور اور ضعیف ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ ان کے طرز عمل پر داخلی اور خارجی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ اللہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ شیطان لعین گھات میں بیٹھا ہوا ہے اور دائیں بائیں ہر طرف سے وہ ان کے راستوں پر بیٹھا ہوا ہے اور ان کو گمراہ کرتا ہے۔ اور اپنی تمام سوار افواج اور پیدل افواج اس نے انسانوں پر حملہ آور کردی ہیں۔ اور وہ اپنے اس خبیث منصوبے میں بہت ہی سنجیدہ ہے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ انسان کی ساخت بہت ہی کمزور ہے اور اس غریب کے ہاتھ سے جو نہی حبل متین چھوٹتی ہے یہ اپنے ذاتی میلانات ، نفسانی رجحانات ، نفسیاتی رجحانات سے برائی کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور اس کا توازن ختم ہوجاتا ہے اور وہ انحراف کی راہوں پر چل نکلتا ہے اور اس کا توازن ختم ہوکروہ معصیت کی راہوں پر نکل پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی اس مخلوق کی ان سب کمزوریوں سے واقف ہے۔ اس لیے اللہ اس کی معاونت فرماتا ہے اس کے لیے دامن رحمت وسیع فرماتا ہے اور سزا صرف اس وقت دیتا ہے جب اسکی اصلاح کیلیے تمام وسائل کام میں لائے کہ وہ راہ راست پر آجائے اور جب وہ مصعیت کی راہوں پر دور نکل جائے ، گناہوں میں حد سے گزرجائے ، اور اسے یقین ہوجائے کہ وہ ثواب ہر مردود ومسترد ہوگیا ہے اور اس کیلیے نہ اب واپسی ممکن ہے اور نہ معافی ، اس قسم کی مایوسی اور قنوطیت کی حالت میں اللہ کی یہ پکار سنتا ہے۔ قل یٰعبادی۔۔۔۔ الرحیم (39: 53) ”(اے نبی ﷺ کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے ، وہ تو غفور ورحیم ہے “۔ یہ شخص معصیت میں حد سے گزر گیا ہے ، گناہوں میں ڈوب گیا ، محفوظ جگہ سے بھاگ گیا ہے اور راستے سے بےراہ ہوگیا ہے ، اب اس کے سایہ رحمت ، تروتازہ کرنے والی رحمت ، زندہ کرنے والی رحمت ، نرم ونازک رحمت کے درمیان صرف ایک ہی دروازہ رہ گیا ہے۔ یہ ہے توبہ کا دروازہ ، یہ دروازہ ہر وقت کھلا ہے ، اس پر کوئی دربان نہیں ہے۔ اس دروازے سے رحمت خدا وندی کے سایوں تک پہنچنے کے لیے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے بس توبہ کرو اور لوٹ آؤ، صد بار توبہ شکستی باز آ۔

الزمر 39:54

آیت نمبر 54 تا 55 انابت ، اسلام اور سرتسلیم خم کردینے کے دائرے میں لوٹ آنا ایک ہی مفہوم رکھتا ہے اور ایک ہی حقیقت ہے۔ اللہ کی اطاعت کے خطیرہ میں داخل ہونا ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی مراسم نہیں ، کوئی رکاوٹ نہیں ، کوئی واسطہ اور سفارش نہیں ، جو چاہے ، جس وقت چاہے ، اسلام کے سادہ سے نظام میں داخل ہوجائے۔ اسلام بندے اور رب کے درمیان بلاواسطہ دین ہے۔ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان بلاواسطہ تعلق ہے۔ گناہ گاروں میں سے واپس ہونا چاہے ، گمراہوں میں سے جو چاہے لوٹ آئے ، جو لوگ بھی جس قدر نافرمانی کرتے رہے ہیں وہ سر تسلیم خم کردیں اور واپس آجائیں ، دوازہ کھلا ہے۔ سایہ دار پناہ گاہ موجود ہے۔ تروتازہ اور نرم ونازک فضا موجود ہے۔ اور یہ سب چیزیں ایک ایسے دروازے کے اندر ہیں جس کے لیے کوئی دربان نہیں ہے اور اس دروازے سے داخل ہونے کے لیے کوئی حساب و کتاب نہیں ہے۔ لوٹ آؤ، لوٹ آؤ، قبل اس کے آواز آجائے کہ فلاں نماند ! من قبل۔۔۔۔ تبصرون (39: 54) ” قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں سے تمہیں مددنہ مل سکے “۔ وہاں تو کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اس لیے آؤ، وقت کے ختم ہونے میں دیر نہیں ہے۔ کسی بھی وقت آخری گھڑی کا فیصلہ ہوسکتا ہے اور دروازہ بند ہوسکتا ہے۔ رات اور دن کے کسی وقت میں مہلت کی گھڑیاں ختم ہوسکتی ہیں۔ واتبعوآ۔۔۔۔ ربکم (39: 55) ” اور پیروی اختیار کرو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی “۔ اس سے مراد قرآن کریم ہے جو تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ من قبل۔۔۔۔ تشعرون (39: 55) ” قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو “۔ لہٰذا باز آجاؤ قبل اس کے کہ فرصت ختم ہوجائے ، مہلت جاتی رہے اور تم نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی ہو اور پھر تم پچھتاؤ کہ کیوں ہم اللہ کے وعدے کا مذاق اڑاتے تھے۔

الزمر 39:55

آیت نمبر 54 تا 55 انابت ، اسلام اور سرتسلیم خم کردینے کے دائرے میں لوٹ آنا ایک ہی مفہوم رکھتا ہے اور ایک ہی حقیقت ہے۔ اللہ کی اطاعت کے خطیرہ میں داخل ہونا ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی مراسم نہیں ، کوئی رکاوٹ نہیں ، کوئی واسطہ اور سفارش نہیں ، جو چاہے ، جس وقت چاہے ، اسلام کے سادہ سے نظام میں داخل ہوجائے۔ اسلام بندے اور رب کے درمیان بلاواسطہ دین ہے۔ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان بلاواسطہ تعلق ہے۔ گناہ گاروں میں سے واپس ہونا چاہے ، گمراہوں میں سے جو چاہے لوٹ آئے ، جو لوگ بھی جس قدر نافرمانی کرتے رہے ہیں وہ سر تسلیم خم کردیں اور واپس آجائیں ، دوازہ کھلا ہے۔ سایہ دار پناہ گاہ موجود ہے۔ تروتازہ اور نرم ونازک فضا موجود ہے۔ اور یہ سب چیزیں ایک ایسے دروازے کے اندر ہیں جس کے لیے کوئی دربان نہیں ہے اور اس دروازے سے داخل ہونے کے لیے کوئی حساب و کتاب نہیں ہے۔ لوٹ آؤ، لوٹ آؤ، قبل اس کے آواز آجائے کہ فلاں نماند ! من قبل۔۔۔۔ تبصرون (39: 54) ” قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں سے تمہیں مددنہ مل سکے “۔ وہاں تو کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اس لیے آؤ، وقت کے ختم ہونے میں دیر نہیں ہے۔ کسی بھی وقت آخری گھڑی کا فیصلہ ہوسکتا ہے اور دروازہ بند ہوسکتا ہے۔ رات اور دن کے کسی وقت میں مہلت کی گھڑیاں ختم ہوسکتی ہیں۔ واتبعوآ۔۔۔۔ ربکم (39: 55) ” اور پیروی اختیار کرو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی “۔ اس سے مراد قرآن کریم ہے جو تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ من قبل۔۔۔۔ تشعرون (39: 55) ” قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو “۔ لہٰذا باز آجاؤ قبل اس کے کہ فرصت ختم ہوجائے ، مہلت جاتی رہے اور تم نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی ہو اور پھر تم پچھتاؤ کہ کیوں ہم اللہ کے وعدے کا مذاق اڑاتے تھے۔

الزمر 39:56

آیت نمبر 56 یا کوئی یہ بات کہے کہ اللہ نے میرے لیے تو گمراہی لکھ دی تھی اگر اللہ میرے لیے ہدایت مقدر کردیتاتو میں ہدایت پر آجاتا۔

الزمر 39:57

آیت نمبر 57 یہ استدلال بادی النظر میں غلط ہے۔ فرصت کی گھڑی موجود ہے ، ہدایت کے ذرئع موجود ہیں ، توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور تمہیں آزادی دی گئی ہے۔

الزمر 39:58

آیت نمبر 58 اور یہ تو ایک ایسی آرزو ہے ، جسے کوئی نہیں پاسکتا ۔ جب یہ زندگی ختم ہوگی تو دوبارہ اس جہاں میں کسی کے بھیجے جانے کی کوئی امید نہیں ہے۔ کیا تم دارالعمل میں موجود نہیں ہو۔ یہ ایک فرصت ہے اور جب یہ ختم ہوجائے تو پھر وقت لوٹ کر نہیں آتا۔ اور اس وقت کے بارے میں تم سے نہایت ہی سرزنش کے انداز میں بازپرس ہوگی !

الزمر 39:59

آیت نمبر 59 سیاق کلام اب قیامت میں متقین اور منکرین کا ایک منظر پیش کرتا ہے۔ عین اس وقت جب قارئین کو قیامت کے برپا ہونے کے آخری لمحات تک پہنچادیا گیا ہے۔

الزمر 39:60

آیت نمبر 60 تا 61 یہ ہے آخری انجام ، ایک گروہ ہے کہ شرمندگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے۔ نیز غم کی وجہ سے اور جہنم کی شعلوں کی وجہ سے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زمین میں اپنے آپ کو بہت ہی بڑا سمجھتے تھے۔ ان کو رات اور دن اللہ کی دعوت دی جاتی تھی۔ یہ دعوت اس وقت بھی برقرار تھی جب یہ گناہوں میں گردن تک ڈوبے ہوئے تھے لیکن انہوں نے داعی کی پکار پر کان نہ دھرا۔ آج یہ گروہ بہت ہی شرمندہ ہے۔ شرمندگی اور کبیدگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے اور دوسرا فریق نجات پاچکا ہے ، کامیاب ہوگیا ہے۔ اب اسی کوئی گزند پہنچنے کا امکان ہی باقی نہیں رہا ۔ نہ اسے کوئی پریشانی لاحق ہوگی۔ یہ میقین کا فریق ہے جو دنیا میں اس طرح زندہ رہے کہ آخرت سے ڈرتے رہے اور اللہ کی رحمت کے امیدوار رہے۔ آج وہ نجات ' کامیابی ' امن اور سلامتی میں ہیں۔ لایمسھم۔۔۔ یحزنون (39: 61) ” ان کو اب کوئی گزند نہ پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے “۔ اس صورت حال کے بعد اب جو چاہے داعی حق کی پکار پر لبیک کہے اور اللہ کی تروتازہ رحمت اور جنت میں داخل ہوجائے ۔ یہ رحمتیں اور یہ توبہ کے دروازے کے ساتھ موجود ہیں۔ دروازہ کھلا ہے۔ چھوڑ دو اپنا اسراف ، چھوڑو بےراہ روی اور ترک کرو فسق وفجور ، قبل اس کے کہ تمہیں عذاب الہٰی آلے اور تمہیں اس کا شعور ہی نہ ہو۔

الزمر 39:61

آیت نمبر 60 تا 61 یہ ہے آخری انجام ، ایک گروہ ہے کہ شرمندگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے۔ نیز غم کی وجہ سے اور جہنم کی شعلوں کی وجہ سے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زمین میں اپنے آپ کو بہت ہی بڑا سمجھتے تھے۔ ان کو رات اور دن اللہ کی دعوت دی جاتی تھی۔ یہ دعوت اس وقت بھی برقرار تھی جب یہ گناہوں میں گردن تک ڈوبے ہوئے تھے لیکن انہوں نے داعی کی پکار پر کان نہ دھرا۔ آج یہ گروہ بہت ہی شرمندہ ہے۔ شرمندگی اور کبیدگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے اور دوسرا فریق نجات پاچکا ہے ، کامیاب ہوگیا ہے۔ اب اسی کوئی گزند پہنچنے کا امکان ہی باقی نہیں رہا ۔ نہ اسے کوئی پریشانی لاحق ہوگی۔ یہ میقین کا فریق ہے جو دنیا میں اس طرح زندہ رہے کہ آخرت سے ڈرتے رہے اور اللہ کی رحمت کے امیدوار رہے۔ آج وہ نجات ' کامیابی ' امن اور سلامتی میں ہیں۔ لایمسھم۔۔۔ یحزنون (39: 61) ” ان کو اب کوئی گزند نہ پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے “۔ اس صورت حال کے بعد اب جو چاہے داعی حق کی پکار پر لبیک کہے اور اللہ کی تروتازہ رحمت اور جنت میں داخل ہوجائے ۔ یہ رحمتیں اور یہ توبہ کے دروازے کے ساتھ موجود ہیں۔ دروازہ کھلا ہے۔ چھوڑ دو اپنا اسراف ، چھوڑو بےراہ روی اور ترک کرو فسق وفجور ، قبل اس کے کہ تمہیں عذاب الہٰی آلے اور تمہیں اس کا شعور ہی نہ ہو۔

الزمر 39:62

درس نمبر 222 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ، اس میں تخلیق کائنات کے حوالے سے حقیقت توحید کے مضمون کو لیا گیا ہے۔ یہ کہ اللہ نے تمام چیزوں کی تخلیق کی ہے۔ وہ تمام چیزوں میں مالکانہ تصرف رکھتا ہے۔ لہٰذا مشرکین کی یہ تجویز کہ حضور اکرم ﷺ ان کے الہوں کی بندگی کریں اور ہم اس کے مقابلے میں اللہ رب العالمین کی بندگی کریں۔ یوں ایک مشترکہ دین وجود میں آجائے ' یہ تجویز اور مطالبہ نہایت احمقانہ ہے اور عجیب و غریب ہے۔ اللہ تو خالق کائنات ہے۔ آسمانوں اور زمین کے تمام اختیارات اور بادشاہت اسی کی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور چیز کی بندگی بھی کی جائے۔ جبکہ زمین و آسمان کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے۔ وماقدرواللہ حق قدرہ ” اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے ساتھ اور وں کو شریک کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ وحدہ معبود ، قدرت والا اور تمام کائنات کا کنڑول کرنے والا ہے۔ والارض ۔۔۔۔ بیمنهٖ (39: 67) ” قیامت کے روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوں گے “۔ اور اس حقیقت کو اس انداز میں ریکارڈ کرنے کے لیے قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے اور یہ منظر اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ فرشتے عرش الہٰی کے اردگرد ننگے پاؤں پھر رہے ہوں گے۔ یہ اللہ کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد بیان کررہے ہوں گے۔ پوری کائنات حمدوثنا میں رطب اللسان ہوگی۔ اور کہا جائے گا ہر طرف اور ہر جہت سے الحمدللہ رب العالمین ” سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں “۔ اور اس کائنات کی حقیقت میں یہ ایک فیصلہ کس بات ہوگی۔ درس نمبر 222 تشریح آیات آیت نمبر 62 تا 63 یہ وہ حقیقت ہے جس پر ہر چیز گواہ ہے۔ کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے کوئی چیز بنائی ہے اور کوئی معقول انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ یہ کائنات بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود وجود میں آگئی ۔ حالانکہ اس کائنات کے اندر جو موجودات بھی ہیں ، ان کی ذات اور ان کی اسکیم بتاتی ہے کہ اس کو بالاراہ بنایا گیا ہے۔ کوئی چیز اتفاقی نظر نہیں آتی ، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی۔ وھو علی کل شئ وکیل (39: 62) ” اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے “۔ زمین و آسمان کو وہی چلانے والا ہے اور اپنے ارادے اور منشا کے مطابق اللہ زمین و آسمان کو چلاتا ہے۔ یہ پوری کائنات اللہ کے نظام قضاوقدر کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ کے ارادے کے سوا کسی اور کا ارادہ ان تصرفات میں دخیل نہیں ہے۔ اس بات کی شہادت فطرت دیتی ہے۔ حقیقت واقعہ بھی اسی کی تائید کرتی ہے اور انسانی عقل وضمیر بھی اس کی تائید میں ہے۔ والذین کفرواباٰیٰت اللہ اولئک ھم الخٰسرون (39: 63) ” اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں “۔ ان کو اس علم اور آگاہی سے محرومی ہے جس کے ذریعے ان کی زندگی اس پوری کائنات کی حرکت سے ہم آہنگ رہتی ہے۔ یہ ان کے لیے بڑا خسارہ ہے۔ وہ ہدایت کی راحت اور ایمان کے حسن سے محروم رہے اور اعتقاد اور نظریہ کے اطمینان اور یقین کی مٹھاس سے بھی محروم رہے اور آخرت میں وہ خود بھی گھاٹے میں رہے اور ان کی وجہ سے ان کے خاندان بھی گھاٹے میں رہے ۔ وہ تو اس قدر نقصان اٹھا رہے ہیں کہ ان پر آقاسرون کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں جس پر آسمان اور زمین گواہ ہیں اور جس پر اس کائنات کی ہر چیز گواہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ ان سے کہو : کیا تجویز کرتے ہو کہ میں تمہارے الہوں کی بندگی کروں اور اس بدلے میں تم الٰہ العالمین کی بندگی کرو۔ کس قدر جاہلانہ تجویز ہے یہ ؟ کیا سچائی کوئی بکنے والی جنس ہے جس کا بازاروں میں سودا ہوتا ہے۔

الزمر 39:63

درس نمبر 222 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ، اس میں تخلیق کائنات کے حوالے سے حقیقت توحید کے مضمون کو لیا گیا ہے۔ یہ کہ اللہ نے تمام چیزوں کی تخلیق کی ہے۔ وہ تمام چیزوں میں مالکانہ تصرف رکھتا ہے۔ لہٰذا مشرکین کی یہ تجویز کہ حضور اکرم ﷺ ان کے الہوں کی بندگی کریں اور ہم اس کے مقابلے میں اللہ رب العالمین کی بندگی کریں۔ یوں ایک مشترکہ دین وجود میں آجائے ' یہ تجویز اور مطالبہ نہایت احمقانہ ہے اور عجیب و غریب ہے۔ اللہ تو خالق کائنات ہے۔ آسمانوں اور زمین کے تمام اختیارات اور بادشاہت اسی کی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور چیز کی بندگی بھی کی جائے۔ جبکہ زمین و آسمان کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے۔ وماقدرواللہ حق قدرہ ” اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے ساتھ اور وں کو شریک کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ وحدہ معبود ، قدرت والا اور تمام کائنات کا کنڑول کرنے والا ہے۔ والارض ۔۔۔۔ بیمنهٖ (39: 67) ” قیامت کے روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوں گے “۔ اور اس حقیقت کو اس انداز میں ریکارڈ کرنے کے لیے قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے اور یہ منظر اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ فرشتے عرش الہٰی کے اردگرد ننگے پاؤں پھر رہے ہوں گے۔ یہ اللہ کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد بیان کررہے ہوں گے۔ پوری کائنات حمدوثنا میں رطب اللسان ہوگی۔ اور کہا جائے گا ہر طرف اور ہر جہت سے الحمدللہ رب العالمین ” سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں “۔ اور اس کائنات کی حقیقت میں یہ ایک فیصلہ کس بات ہوگی۔ درس نمبر 222 تشریح آیات آیت نمبر 62 تا 63 یہ وہ حقیقت ہے جس پر ہر چیز گواہ ہے۔ کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے کوئی چیز بنائی ہے اور کوئی معقول انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ یہ کائنات بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود وجود میں آگئی ۔ حالانکہ اس کائنات کے اندر جو موجودات بھی ہیں ، ان کی ذات اور ان کی اسکیم بتاتی ہے کہ اس کو بالاراہ بنایا گیا ہے۔ کوئی چیز اتفاقی نظر نہیں آتی ، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی۔ وھو علی کل شئ وکیل (39: 62) ” اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے “۔ زمین و آسمان کو وہی چلانے والا ہے اور اپنے ارادے اور منشا کے مطابق اللہ زمین و آسمان کو چلاتا ہے۔ یہ پوری کائنات اللہ کے نظام قضاوقدر کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ کے ارادے کے سوا کسی اور کا ارادہ ان تصرفات میں دخیل نہیں ہے۔ اس بات کی شہادت فطرت دیتی ہے۔ حقیقت واقعہ بھی اسی کی تائید کرتی ہے اور انسانی عقل وضمیر بھی اس کی تائید میں ہے۔ والذین کفرواباٰیٰت اللہ اولئک ھم الخٰسرون (39: 63) ” اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں “۔ ان کو اس علم اور آگاہی سے محرومی ہے جس کے ذریعے ان کی زندگی اس پوری کائنات کی حرکت سے ہم آہنگ رہتی ہے۔ یہ ان کے لیے بڑا خسارہ ہے۔ وہ ہدایت کی راحت اور ایمان کے حسن سے محروم رہے اور اعتقاد اور نظریہ کے اطمینان اور یقین کی مٹھاس سے بھی محروم رہے اور آخرت میں وہ خود بھی گھاٹے میں رہے اور ان کی وجہ سے ان کے خاندان بھی گھاٹے میں رہے ۔ وہ تو اس قدر نقصان اٹھا رہے ہیں کہ ان پر آقاسرون کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں جس پر آسمان اور زمین گواہ ہیں اور جس پر اس کائنات کی ہر چیز گواہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ ان سے کہو : کیا تجویز کرتے ہو کہ میں تمہارے الہوں کی بندگی کروں اور اس بدلے میں تم الٰہ العالمین کی بندگی کرو۔ کس قدر جاہلانہ تجویز ہے یہ ؟ کیا سچائی کوئی بکنے والی جنس ہے جس کا بازاروں میں سودا ہوتا ہے۔

الزمر 39:64

آیت نمبر 64 یہ ایک فطری سرزنش ہے اور ان لوگوں کی پوچ تجویز کا مناسب جواب ان کی اس تجویز ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر گہری جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے اور خالص اندھے تھے۔ چناچہ اس کے بعد مشرک لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور اس ڈراوے کے مخاطب اول حضور اکرم ﷺ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ حضرات انبیاء کے بارے میں تو شرک کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ دراصل یہ ڈراوا ان کی امتوں کو ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں ۔ اور بندگی صرف اللہ کی کریں اور تمام انسان جن میں انبیاء (علیہم السلام) بھی ہیں اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھیں۔

الزمر 39:65

آیت نمبر 65 شرک سے ڈراوے کا خاتمہ توحید پر کاربند ہونے کے حکم پر کیا جاتا ہے۔ یعنی صرف اللہ کی بندگی کرو اور ایمان اور ہدایت پر اللہ کا شکر ادا کرو اور اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو جو اللہ کے بندوں کو ڈھانپ لیتی ہیں اور جن کو وہ گن بھی نہیں سکتے جبکہ وہ ان میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں :

الزمر 39:66

آیت نمبر 66 اب اللہ جل شانہ کی قدرت اور اللہ کے مقام کے بارے میں بتایا جاتا ہے جسکے ساتھ شریک کرنے کی تجاویز وہ دیتے تھے۔

الزمر 39:67

آیت نمبر 67 حقیقت یہ کہ انہوں نے اللہ کی ذات کی قدر نہیں کی ۔ ورنہ وہ اللہ کے ساتھ اس کی مخلوقات کو شریک نہ کرتے ۔ نہ انہوں نے اللہ کی بندگی کا حق ادا کیا ہے ، کیونکہ وہ عقیدۂ توحید اور اللہ کی عظمت کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ان کو اللہ کی جلالت قدر کا شعور ہی نہیں ہے۔ اللہ کی جلالت قدر اور عظمت کا شعور ان کو یوں دیا جاتا ہے ، قرآن کے مخصوص انداز بیان کے مطابق کہ قرآن اعلیٰ عقلی افکار کو بھی نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ کلی اور عقلی مفاہیم محدود انسانی ادراک کے قریب آجائیں۔ قرآن وسنت میں جہاں جہاں اس قسم کی تصاویر اور مناظر آتے ہیں وہ دراصل تمثیلات ہیں اور حقائق کو انسانی ادراک کے قریب تر کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ معانی کو ایسے الفاظ میں بیان کیا جائے جن کا تصور ان کے لیے ممکن ہو ، یہاں بھی اللہ کی قدرت مطلقہ کو مٹھی کی شکل میں لایا گیا ہے ، ورنہ نہ کسی شکل ، نہ کسی جگہ اور نہ کسی حد کا پابند ہے۔ یہاں عقلی حقائق کو حسی انداز دیا گیا ہے۔ اس کے بعد قیامت کا ایک طویل منظر آتا ہے۔ اس کا آغاز نفخہ اولی سے ذوتا ہے اور خاتمہ اس وقت ہوتا ہے جب قیامت کے تمام معاملات چکا دیئے جاچکے ہیں۔ اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف چلا دیا جاتا ہے۔ اور اہل جنت کو جنت کی طرف رخصت کردیا جاتا ہے۔ اور صرف ذات باری رہ جاتی ہے اور تمام کائنات ذات باری کی حمد وثنا میں رطب کی طرف رخصت کردیا جاتا ہے۔ اور صرف ذات باری رہ جاتی ہے اور تمام کائنات ذات بارہ کی حمد وثنا میں رطب اللسان ہوتی ہے۔ یہ ایک زبردست منظر ہے۔ جوش و خروش اور حرکت سے پر ہے اور اس کی حرکات نہایت ترتیب سے آہستگی کے ساتھ شروع ہوتی ہیں اور آگے بڑھتی ہیں۔ یہاں تک کہ تمام حرکات ختم ہوجاتی ہیں ، تمام آوازیں بیٹھ جاتی ہیں اور منظر پر ایک خوفناک خاموشی چھا جاتی ہے۔ تمام مخلوقات اللہ واحد اور قہار کے سامنے سہم جاتی ہیں۔ دیکھئے ! ایک سخت آوازبلند ہوجاتی ہے اور سب لوگ مرکر گر جاتے ہیں۔ اس وقت زمین میں موجود پوری آبادی چشم زدن میں بےجان ہوجاتی ہے۔ آسمانوں کی پوری مخلوق بھی ختم ہوجاتی ہے۔ الاماشاء اللہ ۔ اب ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے وقفے کے بعد دوسری چیخ بلند ہوتی ہے۔ لیکن دوسری چیخ بلند ہوجاتی ہے۔

الزمر 39:68

آیت نمبر 68 یہاں تیسری آواز کا تذکرہ نہیں ہے۔ جس میں جمع ہونے اور اللہ کے ہاں حاضر کا حکم ہوگا۔ اور حشرونشر کی چیخ و پکار اور اژدہام کے شور کی تصویر کشی نہیں کی گئی کیونکہ اس منظر کو نہایت ہی پر سکون انداز میں پیش کرنا مطلوب ہے۔

الزمر 39:69

واشرقت الارض بنور ربھا (39: 69) ” “۔ یعنی وہ میدان جس میں قیامت برپا ہوگی۔ یہ میدان جہاں نور ربی ہوگا دوسرا کوئی نور نہ ہوگا۔ ووضع الکتٰب (39: 69) ” “۔ وہ کتاب جس میں لوگوں کا اعمال نامہ درج ہوگا۔ وجآیئ بالنبیین والسھدآء (39: 69) “۔ تاکہ وہ حق بات کہہ دیں جو وہ جانتے تھے اور ہر تنازعہ وہاں طے کردیا گیا۔ نہایت خاموشی کے ساتھ کیونکہ اس منظر میں تمام معاملات خشوع اور خضوع سے طے ہوتے ہیں۔ کوئی تنازعہ نہیں رہتا۔

الزمر 39:70

یہاں کسی کو کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، نہ کوئی آواز اٹھانے کی یہاں کوئی ضرورت ہے۔ چناچہ پوری انسانیت کا حساب و کتاب بڑی خاموشی کے ساتھ لپیٹ لیا جاتا ہے اور اجمال کے ساتھ جبکہ دوسرے مناظر میں تفصیلات دی گئی ہیں ، کیونکہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اس دن اللہ کا رعب اور خوف چھایا ہوا ہوگا۔ اور اللہ کے جلال کے سامنے کسی کو دم مارنے کی سکت نہ ہوگی

الزمر 39:71

آیت نمبر 71 یہاں فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے ہاں تم اس جہنم کے مستحق ہو اور یہ ہیں اس کے اسباب ۔ کافروں کے خلاف اللہ کا فیصلہ برحق صادر ہوچکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اس لیے کافر یہاں کسی مخاصمت کے اسے تسلیم کرتے ہیں ، اقرار کرتے ہیں کہ ہم مجرم تھے اور سرتسلیم خم کرتے ہیں۔

الزمر 39:72

آیت نمبر 72 یہ جہنمیوں کا قافلہ ہے۔ متکبرین کا قافلہ ہے۔ وہ گیا ، اس کے لیے دوازے کھلے۔۔۔۔ لیکن دیکھئے دوسری طرف متقین کا قافلہ بھی آرہا ہے۔ یہ اہل جنت کا قافلہ ہے !

الزمر 39:73

آیت نمبر 73 یہ ایک بہترین استقبال ہے۔ تعریف ہے۔ اور اس کے اندر اس کا سبب بھی بیان کردیا گیا ہے۔ طنبم ” تم اچھے رہے “ یعنی تم پاکیزہ رہے۔ تم پاک تھے۔ پاک ہوکر آئے کیونکہ جنت میں تو پاک لوگ ہوں گے ۔ پاک لوگ ہی وہاں داخل ہوسکتے ہیں کیونکہ وہاں تو خلود اور نعمتیں ہیں۔ اب یہاں اہل جنت کی آوازیں نہایت خشوع سے بلند ہوتی ہیں اور وہ دھیمی آواز کے ساتھ اللہ کی تسبیح و تمجید کرتے ہیں۔

الزمر 39:74

آیت نمبر 74 یہ جنت کی سر زمین کے وارث ہوگئے۔ جہاں چاہتے ہیں اس کے اندر جارہے ہیں اور بس رہے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کھا رہے ہیں ، سب کچھ موجود ہے۔ ۔ اب اس منظر کا خاتمہ نہایت ہی خوفناک انداز میں ہوتا ہے ، لیکن یہ جلال بھی نہایت دھیمی انداز کا ہے۔ اس منظر کی فضا سے ہم رنگ ۔ پوری کائنات رب کی ثنا میں رطب اللسان ہے۔ نہایت ہی دھیمے انداز میں ، خشوع اور سرافگندگی کے ساتھ اور ہر زندہ مخلوق جس کلمے کو دہراتی وہ نہایت عجز کے ساتھ دہراتی ہے۔

الزمر 39:75

آیت نمبر 74 یہ جنت کی سر زمین کے وارث ہوگئے۔ جہاں چاہتے ہیں اس کے اندر جارہے ہیں اور بس رہے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کھا رہے ہیں ، سب کچھ موجود ہے۔ ۔ اب اس منظر کا خاتمہ نہایت ہی خوفناک انداز میں ہوتا ہے ، لیکن یہ جلال بھی نہایت دھیمی انداز کا ہے۔ اس منظر کی فضا سے ہم رنگ ۔ پوری کائنات رب کی ثنا میں رطب اللسان ہے۔ نہایت ہی دھیمے انداز میں ، خشوع اور سرافگندگی کے ساتھ اور ہر زندہ مخلوق جس کلمے کو دہراتی وہ نہایت عجز کے ساتھ دہراتی ہے۔