Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — غافر 40:1 – غافر 40:70

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. غافر 40:1
  2. غافر 40:2
  3. غافر 40:3
  4. غافر 40:4
  5. غافر 40:5
  6. غافر 40:6
  7. غافر 40:7
  8. غافر 40:8
  9. غافر 40:9
  10. غافر 40:10
  11. غافر 40:11
  12. غافر 40:12
  13. غافر 40:13
  14. غافر 40:14
  15. غافر 40:15
  16. غافر 40:16
  17. غافر 40:17
  18. غافر 40:18
  19. غافر 40:19
  20. غافر 40:20
  21. غافر 40:21
  22. غافر 40:22
  23. غافر 40:23
  24. غافر 40:24
  25. غافر 40:25
  26. غافر 40:26
  27. غافر 40:27
  28. غافر 40:28
  29. غافر 40:29
  30. غافر 40:30
  31. غافر 40:31
  32. غافر 40:32
  33. غافر 40:33
  34. غافر 40:34
  35. غافر 40:35
  36. غافر 40:36
  37. غافر 40:37
  38. غافر 40:38
  39. غافر 40:39
  40. غافر 40:40
  41. غافر 40:41
  42. غافر 40:42
  43. غافر 40:43
  44. غافر 40:44
  45. غافر 40:45
  46. غافر 40:46
  47. غافر 40:47
  48. غافر 40:48
  49. غافر 40:49
  50. غافر 40:50
  51. غافر 40:51
  52. غافر 40:52
  53. غافر 40:53
  54. غافر 40:54
  55. غافر 40:55
  56. غافر 40:56
  57. غافر 40:57
  58. غافر 40:58
  59. غافر 40:59
  60. غافر 40:60
  61. غافر 40:61
  62. غافر 40:62
  63. غافر 40:63
  64. غافر 40:64
  65. غافر 40:65
  66. غافر 40:66
  67. غافر 40:67
  68. غافر 40:68
  69. غافر 40:69
  70. غافر 40:70

غافر 40:1

درس نمبر 223 تشریح آیات آیت نمبر 1 تا 3 ﷽ یہ سورت ان سات سورتوں میں سے پہلی سورت ہے جن کا آغاز حا اور میم کے حروف مقعات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک سورت ایسی ہے جس میں حا ۔ میم کے بعد عین ، سین اور قاف بھی آیا ہے۔ حرف مقطعات کے بارے میں ہم تمام سورتوں میں کہہ آئے ہیں کہ ان میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کلام انہی حروف تہجی سے بنا ہے اور یہ ایک معجز کلام ہے حالانکہ یہ حروف تہجی تمہاری دسترس میں ہیں۔ یہ تمہاری زبان کے حروف ہیں اور اس زبان کو تم بولتے بھی ہو ، لکھتے بھی ہو۔ ان حروف کے بعد پھر نزول کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ بات ہے جو اکثر مکی سورتوں کے اغاز میں کہی جاتی ہے جن کا مضمون اکثر اسلامی نظریہ حیات اور کلمہ توحید سے ہوتا ہے۔ تنزیل ۔۔۔۔ العلیم (40: 2) ” اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے “۔ اس اشارے کے بعد اب بات اس ذات کی بعض صفات کی طرف منتقل ہوتی ہے جس نے یہ کلام نازل کیا ہے ۔ یہ وہ صفات ہیں جن کا اس سورت کے موضوع کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اس سورت میں جو موضوعات اور جو مسائل لیے گئے ہیں ان کے ساتھ ان صفات الہٰی کا ربط ہے۔ غافر الذنب۔۔۔۔ المصیر (40: 3) ” زبردست ہے ، سب کچھ جاننے والا ہے ، گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے ، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحب قضل ہے ، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ، اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے “۔ اس آیت میں عزت ، علم ، گناہوں کی مغفرت ، توبہ کی قبولیت ، سخت سزا ، فضل وکرم ، الوہیت اور حاکمیت کی وحدت اور سب لوگوں کا اس کی طرف لوٹنے کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور اس سورت کے تمام موضوعات انہی معافی کے اردگرد گھومتے ہیں جن کو اس آیت میں قلم بند کیا گیا ہے۔ اس آیت میں نہایت زور دار انداز ، زور دار آواز میں اور قومی ترتراکیب اور جملوں میں نہایت پختگی اور استقلال سے لایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی وہ صفات یہاں متعارف کرائی ہیں جن کا انسانی وجود اور انسانی زندگی پر گہرا اثر ہے۔ یوں اللہ نے انسانوں کے دلوں اور ان کے شعور کے احساسات کو تیز کیا۔ ان کے اندر رجائیت پیدا کی اور امید کو جگایا۔ ان کے اندر خوف اور تقویٰ پیدا کیا گیا اور ان کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ اللہ کے قبضے میں ہیں۔ وہ اللہ کے تصرفات سے کہیں بھاگ نہیں سکتے ۔ ذرا ان صفات کا تفصیلی جائزہ لیں۔ العزیز (40: 2) ” وہ قوی اور قادر مطلق جو ہر کسی پر غالب ہے ، اور اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ۔ وہ تمام امور میں تصرف کرتا ہے اور اس پر کوئی قدرت نہیں رکھتا اور نہ اس کے اوپر کوئی نگران ہے۔ العلیم (40: 2) وہ ذات ہے جو اس کائنات کو علم اور مہارت سے چلاتی ہے ، اس پر اس کائنات کا کوئی راز مخفی نہیں ہے۔ اور کوئی چیز اس کے علم سے غائب نہیں ہے۔ غافر الذنب (40: 3) وہ جو بندوں کے گناہوں کو بخشتا ہے ، ان بندوں کے گناہوں کو جن کے بارے میں اپنے شامل علم کے ذریعے اللہ جانتا ہے کہ وہ بخشش کے مستحق ہیں۔ وقابل التوب (40: 3) وہ جو نافرمانوں پر مہربانی کرتا ہے اور ان کو لوٹا کر اپنے خطیرۂ امن میں لاتا ہے اور ان کے لیے اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے اور بلاروک ٹوک ان کو اندر آنے دیتا ہے۔ شدید العقاب (40: 3) جو متکبرین کو نیست ونابود کرتا ہے ، اور اسلام کے دشمنوں کو سزا دیتا ہے ، جو نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ استغفار کرتے ہیں۔ ذی الطول (40: 3) وہ جو لوگوں کو انعامات دیتا ہے ، جو نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس قدر دیتا ہے کہ ان انعامات کا کوئی حساب نہیں کیا جاسکتا ۔ لاالٰه الاھو (40: 3) الوہیت ، حاکمیت اسی کی ہے۔ ، اور وہ وحدہ لاشریک ہے ، اپنی ذات وصفات ہیں۔ الیه المصیر (40: 3) حساب و کتاب کے لیے ہر کسی نے اس کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور اس سے ملاقات ہوگی۔ تمام مخلوق نے اسی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی لوٹنے کی جگہ ہے۔ یوں بندوں کا تعلق اللہ سے اور اللہ کا تعلق بندوں سے واضح کیا جاتا ہے۔ بندوں کے شعور ان کے تصورات ، ان کے ارداک ، اور ان کے علم میں اللہ سے رابطہ بیٹھ جاتا ہے۔ اس طرح انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کس قدر چوکنا ہو کر اور احتیاط سے معاملہ کرنا ہے اور یہ جانتے ہوئے معاملہ کرنا ہے کہ کس چیز سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور کس چیز سے راضی ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے ادیان اور عقائد افسانوی ہیں ، وہ اپنے الہوں کے بارے میں جو تصور رکھتے ہیں ، وہ اس کے بارے میں حیرت میں رہتے ہیں ، انہیں ان الہوں کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں ہوتیں ، ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ کیا چیز انہیں ناراض کرتی ہے اور کس سے وہ راضی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے الہوں کی جو تصویر کھینچتے ہیں۔ اس کے مطابق ان الہوں کی خواہشات بدلتی رہتی ہیں ، ان کا رجحان صاف نہیں ہوتا۔ وہ الہہ جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ ان الہوں کے ساتھ ہمیشہ بےچینی کی زندگی گزارتے ہیں اور ہر وقت اس بات کی تلاش میں رہتے ہیں کہ ان کی رضا کس میں ہے اور کس میں نہیں ہے۔ آیا وہ تعویذوں سے راضی ہوتے ہیں ، قربانیوں سے راضی ہوتے ہیں۔ ذبیحوں سے راضی ہوتے ہیں یا اور اگر وہ یہ کام کر بھی گزریں تو بھی ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ راضی ہوگئے یا نہیں ہوئے۔ ان حالات میں اسلام آیا ، اس نے واضح اور ستھرے و عقائد دیئے ، لوگوں کو اپنے سچے خدا سے ملا دیا۔ ان کو اللہ کی صحیح صفات سے آگاہ کردیا ۔ ان کو اللہ کی مشیت کے بارے میں بتا دیا ، یہ بھی صاف صاف بتادیا کہ وہ اللہ کے قریب کس طرح ہوسکتے ہیں ، اسکی رحمت کی امیدوہ کس طرح کرسکتے ہیں۔ اسکے عذاب سے کسطرح ڈرسکتے ہیں اور اللہ کا سیدھا اور درست راستہ کونسا ہے۔

غافر 40:2

درس نمبر 223 تشریح آیات آیت نمبر 1 تا 3 ﷽ یہ سورت ان سات سورتوں میں سے پہلی سورت ہے جن کا آغاز حا اور میم کے حروف مقعات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک سورت ایسی ہے جس میں حا ۔ میم کے بعد عین ، سین اور قاف بھی آیا ہے۔ حرف مقطعات کے بارے میں ہم تمام سورتوں میں کہہ آئے ہیں کہ ان میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کلام انہی حروف تہجی سے بنا ہے اور یہ ایک معجز کلام ہے حالانکہ یہ حروف تہجی تمہاری دسترس میں ہیں۔ یہ تمہاری زبان کے حروف ہیں اور اس زبان کو تم بولتے بھی ہو ، لکھتے بھی ہو۔ ان حروف کے بعد پھر نزول کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ بات ہے جو اکثر مکی سورتوں کے اغاز میں کہی جاتی ہے جن کا مضمون اکثر اسلامی نظریہ حیات اور کلمہ توحید سے ہوتا ہے۔ تنزیل ۔۔۔۔ العلیم (40: 2) ” اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے “۔ اس اشارے کے بعد اب بات اس ذات کی بعض صفات کی طرف منتقل ہوتی ہے جس نے یہ کلام نازل کیا ہے ۔ یہ وہ صفات ہیں جن کا اس سورت کے موضوع کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اس سورت میں جو موضوعات اور جو مسائل لیے گئے ہیں ان کے ساتھ ان صفات الہٰی کا ربط ہے۔ غافر الذنب۔۔۔۔ المصیر (40: 3) ” زبردست ہے ، سب کچھ جاننے والا ہے ، گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے ، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحب قضل ہے ، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ، اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے “۔ اس آیت میں عزت ، علم ، گناہوں کی مغفرت ، توبہ کی قبولیت ، سخت سزا ، فضل وکرم ، الوہیت اور حاکمیت کی وحدت اور سب لوگوں کا اس کی طرف لوٹنے کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور اس سورت کے تمام موضوعات انہی معافی کے اردگرد گھومتے ہیں جن کو اس آیت میں قلم بند کیا گیا ہے۔ اس آیت میں نہایت زور دار انداز ، زور دار آواز میں اور قومی ترتراکیب اور جملوں میں نہایت پختگی اور استقلال سے لایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی وہ صفات یہاں متعارف کرائی ہیں جن کا انسانی وجود اور انسانی زندگی پر گہرا اثر ہے۔ یوں اللہ نے انسانوں کے دلوں اور ان کے شعور کے احساسات کو تیز کیا۔ ان کے اندر رجائیت پیدا کی اور امید کو جگایا۔ ان کے اندر خوف اور تقویٰ پیدا کیا گیا اور ان کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ اللہ کے قبضے میں ہیں۔ وہ اللہ کے تصرفات سے کہیں بھاگ نہیں سکتے ۔ ذرا ان صفات کا تفصیلی جائزہ لیں۔ العزیز (40: 2) ” وہ قوی اور قادر مطلق جو ہر کسی پر غالب ہے ، اور اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ۔ وہ تمام امور میں تصرف کرتا ہے اور اس پر کوئی قدرت نہیں رکھتا اور نہ اس کے اوپر کوئی نگران ہے۔ العلیم (40: 2) وہ ذات ہے جو اس کائنات کو علم اور مہارت سے چلاتی ہے ، اس پر اس کائنات کا کوئی راز مخفی نہیں ہے۔ اور کوئی چیز اس کے علم سے غائب نہیں ہے۔ غافر الذنب (40: 3) وہ جو بندوں کے گناہوں کو بخشتا ہے ، ان بندوں کے گناہوں کو جن کے بارے میں اپنے شامل علم کے ذریعے اللہ جانتا ہے کہ وہ بخشش کے مستحق ہیں۔ وقابل التوب (40: 3) وہ جو نافرمانوں پر مہربانی کرتا ہے اور ان کو لوٹا کر اپنے خطیرۂ امن میں لاتا ہے اور ان کے لیے اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے اور بلاروک ٹوک ان کو اندر آنے دیتا ہے۔ شدید العقاب (40: 3) جو متکبرین کو نیست ونابود کرتا ہے ، اور اسلام کے دشمنوں کو سزا دیتا ہے ، جو نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ استغفار کرتے ہیں۔ ذی الطول (40: 3) وہ جو لوگوں کو انعامات دیتا ہے ، جو نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس قدر دیتا ہے کہ ان انعامات کا کوئی حساب نہیں کیا جاسکتا ۔ لاالٰه الاھو (40: 3) الوہیت ، حاکمیت اسی کی ہے۔ ، اور وہ وحدہ لاشریک ہے ، اپنی ذات وصفات ہیں۔ الیه المصیر (40: 3) حساب و کتاب کے لیے ہر کسی نے اس کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور اس سے ملاقات ہوگی۔ تمام مخلوق نے اسی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی لوٹنے کی جگہ ہے۔ یوں بندوں کا تعلق اللہ سے اور اللہ کا تعلق بندوں سے واضح کیا جاتا ہے۔ بندوں کے شعور ان کے تصورات ، ان کے ارداک ، اور ان کے علم میں اللہ سے رابطہ بیٹھ جاتا ہے۔ اس طرح انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کس قدر چوکنا ہو کر اور احتیاط سے معاملہ کرنا ہے اور یہ جانتے ہوئے معاملہ کرنا ہے کہ کس چیز سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور کس چیز سے راضی ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے ادیان اور عقائد افسانوی ہیں ، وہ اپنے الہوں کے بارے میں جو تصور رکھتے ہیں ، وہ اس کے بارے میں حیرت میں رہتے ہیں ، انہیں ان الہوں کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں ہوتیں ، ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ کیا چیز انہیں ناراض کرتی ہے اور کس سے وہ راضی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے الہوں کی جو تصویر کھینچتے ہیں۔ اس کے مطابق ان الہوں کی خواہشات بدلتی رہتی ہیں ، ان کا رجحان صاف نہیں ہوتا۔ وہ الہہ جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ ان الہوں کے ساتھ ہمیشہ بےچینی کی زندگی گزارتے ہیں اور ہر وقت اس بات کی تلاش میں رہتے ہیں کہ ان کی رضا کس میں ہے اور کس میں نہیں ہے۔ آیا وہ تعویذوں سے راضی ہوتے ہیں ، قربانیوں سے راضی ہوتے ہیں۔ ذبیحوں سے راضی ہوتے ہیں یا اور اگر وہ یہ کام کر بھی گزریں تو بھی ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ راضی ہوگئے یا نہیں ہوئے۔ ان حالات میں اسلام آیا ، اس نے واضح اور ستھرے و عقائد دیئے ، لوگوں کو اپنے سچے خدا سے ملا دیا۔ ان کو اللہ کی صحیح صفات سے آگاہ کردیا ۔ ان کو اللہ کی مشیت کے بارے میں بتا دیا ، یہ بھی صاف صاف بتادیا کہ وہ اللہ کے قریب کس طرح ہوسکتے ہیں ، اسکی رحمت کی امیدوہ کس طرح کرسکتے ہیں۔ اسکے عذاب سے کسطرح ڈرسکتے ہیں اور اللہ کا سیدھا اور درست راستہ کونسا ہے۔

غافر 40:3

درس نمبر 223 تشریح آیات آیت نمبر 1 تا 3 ﷽ یہ سورت ان سات سورتوں میں سے پہلی سورت ہے جن کا آغاز حا اور میم کے حروف مقعات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک سورت ایسی ہے جس میں حا ۔ میم کے بعد عین ، سین اور قاف بھی آیا ہے۔ حرف مقطعات کے بارے میں ہم تمام سورتوں میں کہہ آئے ہیں کہ ان میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کلام انہی حروف تہجی سے بنا ہے اور یہ ایک معجز کلام ہے حالانکہ یہ حروف تہجی تمہاری دسترس میں ہیں۔ یہ تمہاری زبان کے حروف ہیں اور اس زبان کو تم بولتے بھی ہو ، لکھتے بھی ہو۔ ان حروف کے بعد پھر نزول کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ بات ہے جو اکثر مکی سورتوں کے اغاز میں کہی جاتی ہے جن کا مضمون اکثر اسلامی نظریہ حیات اور کلمہ توحید سے ہوتا ہے۔ تنزیل ۔۔۔۔ العلیم (40: 2) ” اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے “۔ اس اشارے کے بعد اب بات اس ذات کی بعض صفات کی طرف منتقل ہوتی ہے جس نے یہ کلام نازل کیا ہے ۔ یہ وہ صفات ہیں جن کا اس سورت کے موضوع کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اس سورت میں جو موضوعات اور جو مسائل لیے گئے ہیں ان کے ساتھ ان صفات الہٰی کا ربط ہے۔ غافر الذنب۔۔۔۔ المصیر (40: 3) ” زبردست ہے ، سب کچھ جاننے والا ہے ، گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے ، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحب قضل ہے ، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ، اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے “۔ اس آیت میں عزت ، علم ، گناہوں کی مغفرت ، توبہ کی قبولیت ، سخت سزا ، فضل وکرم ، الوہیت اور حاکمیت کی وحدت اور سب لوگوں کا اس کی طرف لوٹنے کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور اس سورت کے تمام موضوعات انہی معافی کے اردگرد گھومتے ہیں جن کو اس آیت میں قلم بند کیا گیا ہے۔ اس آیت میں نہایت زور دار انداز ، زور دار آواز میں اور قومی ترتراکیب اور جملوں میں نہایت پختگی اور استقلال سے لایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی وہ صفات یہاں متعارف کرائی ہیں جن کا انسانی وجود اور انسانی زندگی پر گہرا اثر ہے۔ یوں اللہ نے انسانوں کے دلوں اور ان کے شعور کے احساسات کو تیز کیا۔ ان کے اندر رجائیت پیدا کی اور امید کو جگایا۔ ان کے اندر خوف اور تقویٰ پیدا کیا گیا اور ان کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ اللہ کے قبضے میں ہیں۔ وہ اللہ کے تصرفات سے کہیں بھاگ نہیں سکتے ۔ ذرا ان صفات کا تفصیلی جائزہ لیں۔ العزیز (40: 2) ” وہ قوی اور قادر مطلق جو ہر کسی پر غالب ہے ، اور اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ۔ وہ تمام امور میں تصرف کرتا ہے اور اس پر کوئی قدرت نہیں رکھتا اور نہ اس کے اوپر کوئی نگران ہے۔ العلیم (40: 2) وہ ذات ہے جو اس کائنات کو علم اور مہارت سے چلاتی ہے ، اس پر اس کائنات کا کوئی راز مخفی نہیں ہے۔ اور کوئی چیز اس کے علم سے غائب نہیں ہے۔ غافر الذنب (40: 3) وہ جو بندوں کے گناہوں کو بخشتا ہے ، ان بندوں کے گناہوں کو جن کے بارے میں اپنے شامل علم کے ذریعے اللہ جانتا ہے کہ وہ بخشش کے مستحق ہیں۔ وقابل التوب (40: 3) وہ جو نافرمانوں پر مہربانی کرتا ہے اور ان کو لوٹا کر اپنے خطیرۂ امن میں لاتا ہے اور ان کے لیے اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے اور بلاروک ٹوک ان کو اندر آنے دیتا ہے۔ شدید العقاب (40: 3) جو متکبرین کو نیست ونابود کرتا ہے ، اور اسلام کے دشمنوں کو سزا دیتا ہے ، جو نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ استغفار کرتے ہیں۔ ذی الطول (40: 3) وہ جو لوگوں کو انعامات دیتا ہے ، جو نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس قدر دیتا ہے کہ ان انعامات کا کوئی حساب نہیں کیا جاسکتا ۔ لاالٰه الاھو (40: 3) الوہیت ، حاکمیت اسی کی ہے۔ ، اور وہ وحدہ لاشریک ہے ، اپنی ذات وصفات ہیں۔ الیه المصیر (40: 3) حساب و کتاب کے لیے ہر کسی نے اس کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور اس سے ملاقات ہوگی۔ تمام مخلوق نے اسی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی لوٹنے کی جگہ ہے۔ یوں بندوں کا تعلق اللہ سے اور اللہ کا تعلق بندوں سے واضح کیا جاتا ہے۔ بندوں کے شعور ان کے تصورات ، ان کے ارداک ، اور ان کے علم میں اللہ سے رابطہ بیٹھ جاتا ہے۔ اس طرح انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کس قدر چوکنا ہو کر اور احتیاط سے معاملہ کرنا ہے اور یہ جانتے ہوئے معاملہ کرنا ہے کہ کس چیز سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور کس چیز سے راضی ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے ادیان اور عقائد افسانوی ہیں ، وہ اپنے الہوں کے بارے میں جو تصور رکھتے ہیں ، وہ اس کے بارے میں حیرت میں رہتے ہیں ، انہیں ان الہوں کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں ہوتیں ، ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ کیا چیز انہیں ناراض کرتی ہے اور کس سے وہ راضی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے الہوں کی جو تصویر کھینچتے ہیں۔ اس کے مطابق ان الہوں کی خواہشات بدلتی رہتی ہیں ، ان کا رجحان صاف نہیں ہوتا۔ وہ الہہ جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ ان الہوں کے ساتھ ہمیشہ بےچینی کی زندگی گزارتے ہیں اور ہر وقت اس بات کی تلاش میں رہتے ہیں کہ ان کی رضا کس میں ہے اور کس میں نہیں ہے۔ آیا وہ تعویذوں سے راضی ہوتے ہیں ، قربانیوں سے راضی ہوتے ہیں۔ ذبیحوں سے راضی ہوتے ہیں یا اور اگر وہ یہ کام کر بھی گزریں تو بھی ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ راضی ہوگئے یا نہیں ہوئے۔ ان حالات میں اسلام آیا ، اس نے واضح اور ستھرے و عقائد دیئے ، لوگوں کو اپنے سچے خدا سے ملا دیا۔ ان کو اللہ کی صحیح صفات سے آگاہ کردیا ۔ ان کو اللہ کی مشیت کے بارے میں بتا دیا ، یہ بھی صاف صاف بتادیا کہ وہ اللہ کے قریب کس طرح ہوسکتے ہیں ، اسکی رحمت کی امیدوہ کس طرح کرسکتے ہیں۔ اسکے عذاب سے کسطرح ڈرسکتے ہیں اور اللہ کا سیدھا اور درست راستہ کونسا ہے۔

غافر 40:4

آیت نمبر 4 تا 6 اس فیصلے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی صفات رکھتا ہے اور وہ وحدہ لاشریک ہے ، اب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حقائق ، اس کائنات کی ہر چیز کی طرف سے مسلم ہیں کیونکہ اس کائنات کی فطرت ان حقائق کے ساتھ مربوط ہے اور یہ تعلق براہ راست ہے جس میں تنازعہ اور کوئی مجادلہ نہیں ہے۔ یہ پوری کائنات بڑے اطمینان سے آیات الہیہ کو تسلیم کرتی ہے ، اللہ کی وحدانیت پر شاہد عادل ہے ۔ اور اس میں مجادلہ وہی لوگ کرتے ہیں جو کفر پر تلے ہوئے ہیں اور یہ لوگ اس کائنات سے منحرف ہیں۔ مایجادل۔۔۔۔ کفروا (40: 4) ” اللہ کی آیات میں جھگڑے نہیں کرتے مگر وہی لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے “۔” یہی لوگ “ یعنی اس کائنات میں سے وہی لوگ اکیلے ان آیات کا انکار کرتے ہیں جو کفر پر تلے ہوئے ہیں۔ اس عظیم مخلوقات میں سے صرف یہی لوگ منحرف ہیں۔ اور ان کی اس عظیم الشان دجود میں چیونٹی سے بھی کم حیثیت ہے۔ جس طرح اس کرۂ ارض کی نسبت سے ایک چیونٹی حقیر شے ہے۔ اس طرح اس کائنات کے حوالے سے انسان ایک چیونٹی سے بھی کم ہے۔ لیکن جھگڑتا ہے یہ حضرت انسان اللہ کی نشانیوں کے بارے میں ، جبکہ یہ عظیم کائنات اہل کفر کے مقابلے میں کھڑی ہے۔ اور حق تعالیٰ کا اعتراف کررہی ہے۔ اور عزیز وجبار کی قوتوں کی معترف ہے۔ یہ لوگ ، اس موقف میں انجام کے خلاف کھڑے ہیں۔ یہ لوگ چاہے دنیا میں قوت رکھتے ہوں اور جاہ ومال کے مالک ہوں اور مقتدر اعلیٰ ہوں ، لیکن جس جگہ انہوں نے جانا ہے ، اس کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔ فلایغررک تقلبھم فی البلاد (4 ہ : 4) ” اس کے بعد دنیا کے ملکوں میں ان کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے “۔ وہ جس قدر دوڑ دھوپ کریں ، جس قدر اقتدار اور مال وجاہ کے وہ مالک ہوں ، جس قدر وہ عیش و عشرت میں ہوں ، آخر کار یہ لوگ تباہ برباد اور ہلاک ہونے والے ہیں۔ ان کی اس جنگ کا انجام معروف ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس عظیم خالق کائنات کے درمیان اور اس کائنات کے درمیان اور اس کائنات کی ایک حقیر چیونٹی کے درمیان کوئی معرکہ برپا ہوسکتا ہے۔ ان سے پہلے ان جیسی کئی اقوام اس زمین پر گزری ہیں ، ان کا جو انجام ہوا ، اس سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسی اقوام کا انجام کیا ہوا کرتا ہے ، جو اللہ کی قوت کے مقابلے میں آجائیں ۔ اللہ کی قوت ان کو پیش کر رکھ دیا کرتی ہے اور ہر اس قوت کو پیس ڈالتی ہے جو اللہ کے ساتھ جنگ کے لیے اٹھتی ہے۔ کذبت قبلھم۔۔۔۔۔ کان عقاب (40: 5) ” ان سے پہلے نوح کی قوم بھی جھٹلاچ کی ہے اور ان کے بعد بہت سے دوسرے جتھوں نے بھی یہ کام کیا۔ ہر قوم اپنے رسول پر جھپٹی تاکہ اسے گرفتار کرے۔ ان سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑلیا۔ پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی تھی “۔ یہ سلسلہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے چلا آرہا ہے اور یہ ایک ایسا معرکہ ہے جو ہر زمان ومکان میں برپا ہے ، اور یہ آیت اس قصے کا خلاصہ بتاتی ہے۔ رسولوں اور انکی تکذیب کا قصہ۔ اور ان کے اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی کا رویہ ہر زمان ومکان میں یونہی ہوتا رہا ہے اور انجام بھی ایک رہا ہے رسول آیا ہے ، اس کی قوم کے سرکشوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ انہوں نے دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیا ، بلکہ دلیل کے مقابلے میں تشدد کے ہتھیار لے کر آئے اور انہوں نے رسول کو پکڑ کر گرفتار کرنے کی کوشش کی اور جمہور عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی کوشش کی تاکہ حق کا مقابلہ کریں ، حق کو نیچا دکھائیں مگر اللہ کی قوت جبارہ نے مداخلت کی ہے۔ اور ایسے سرکشوں کو اس طرح چوٹی سے پکڑا کہ وہ آنے والوں کے لیے عبرت بن گئے۔ فکیف کان عقاب (40: 5) ” میری سزا کیسی سخت تھی “۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی سزا تباہ کن تھی ، بہت سخت تھی۔ ان اقوام کے جو آثار بھی آج باقی ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ یہ سزا بہت سخت تھی۔ اور احادیث وروایات بھی یہ بتاتی ہیں کہ وہ سزا بہت سخت تھی۔ اور یہ معرکہ یہاں ختم نہیں ہوگیا بلکہ قیامت تک چلا گیا : وکذٰلک۔۔۔۔ النار (40: 6) ” اسی طرح تیرے رب کا یہ فیصلہ بھی ان سب لوگوں پر چسپاں ہوچکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنم ہونیوالے ہیں “۔ جب یہ اللہ کا فیصلہ حق ہوا ، چسپاں ہوا ، گویا نافذ ہوگیا ، اور ہر قسم کا مباحثہ ہی ختم ہوگیا یوں قرآن کریم ایک حقیقی صورت حال کی تصویر کشی کرتا ہے۔ ایمان اور کفر کے طویل معرکہ کی تصویر کشی۔ حق اور باطل کے درمیان معرکہ آرائی ، ان لوگوں کے درمیان جو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان معرکہ آرائی جو زمین میں سرکشی اختیار کرتے ہیں ، بغیر دلیل کے بات کرتے ہیں۔ یوں قرآن یہ بتاتا ہے کہ یہ معرکہ حق و باطل آغاز انسانیت سے شروع ہے اور اس کا میدان زمین سے بھی آگے ہے۔ اس پوری کائنات میں بھی یہ جاری ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے لیکن ایک کافرنہ صرف اہل ایمان سے بلکہ پوری کائنات کے ساتھ بھی برسرپیکار ہوتا ہے۔ یہ اس کائنات کے اندر موجود اللہ کی نشانیوں سے بھی لڑتا ہے اور اس معرکہ آرائی کا انجام بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق کی قوتیں ، بہت بڑی ، بہت طاقتور ہیں۔ اللہ ہے ، پوری کائنات ہے ، اہل ایمان ہیں اور اس کے مقابلے کی قلیل و حقیر قوت ہے۔ اگرچہ عارضی طور پر اس کا پلہ بھاری ہوا اور بظاہر یہ قوت بہت ہی خوفناک نظر آئی ہو مگر آخر کار یہ تباہ ہونے والی ہے۔ یہ حقیقت کہ حق و باطل کا معرکہ اور اس میں لڑنے والی قوتیں اور اس کا میدان جنگ یعنی طویل انسانی تاریخ ، اس کی تصویر کشی قرآن اس لیے کرتا ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جائے ، خصوصاً ان اہل ایمان کے دلوں میں جو پیغمبروں کے اصول ومنہاج پر دعوت حق لے کر آئے ہیں اور ہر زمان ومکان میں دعوت ایمان دیتے ہیں وہ اچھی طرح جان لیں اور یقین کرلیں کہ باطل کی قوت کچھ بھی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر پھولی ہوئی نظر آئے ، ایک محدود وقت کے لیے کسی محدود سرزمین میں ، یہ قوت حقیقت نہیں ہے۔ اصل حقیقت وہ ہے ، جس کی نشاندہی اللہ کی کتاب کررہی ہے ، جسے وہ کلمتہ الحق کہتی ہے ، اور حق غالب ہوا کرتا ہے۔ اللہ سب سے سچا ہے اور اس کی بات سچی ہے۔ اس حقیقت کے ساتھ ساتھ کہ دعوت حق ہے اور اس کے حامل مومنین ہیں۔ ان کے ساتھ وہ مومنین بھی شامل ہیں ، جو اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے اردگرد متعین وہ بھی اہل ایمان کے ساتھ تائید میں کھڑے ہیں۔ وہ ہر وقت انسان مومنین کی رپورٹ اللہ کے ہاں پیش کرتے ہیں ، ان کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں اور ان کے لیے جو اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ سے اس کے پورا کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ انسان بھی مومن ہیں اور وہ مومن ہیں۔

غافر 40:5

آیت نمبر 4 تا 6 اس فیصلے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی صفات رکھتا ہے اور وہ وحدہ لاشریک ہے ، اب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حقائق ، اس کائنات کی ہر چیز کی طرف سے مسلم ہیں کیونکہ اس کائنات کی فطرت ان حقائق کے ساتھ مربوط ہے اور یہ تعلق براہ راست ہے جس میں تنازعہ اور کوئی مجادلہ نہیں ہے۔ یہ پوری کائنات بڑے اطمینان سے آیات الہیہ کو تسلیم کرتی ہے ، اللہ کی وحدانیت پر شاہد عادل ہے ۔ اور اس میں مجادلہ وہی لوگ کرتے ہیں جو کفر پر تلے ہوئے ہیں اور یہ لوگ اس کائنات سے منحرف ہیں۔ مایجادل۔۔۔۔ کفروا (40: 4) ” اللہ کی آیات میں جھگڑے نہیں کرتے مگر وہی لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے “۔” یہی لوگ “ یعنی اس کائنات میں سے وہی لوگ اکیلے ان آیات کا انکار کرتے ہیں جو کفر پر تلے ہوئے ہیں۔ اس عظیم مخلوقات میں سے صرف یہی لوگ منحرف ہیں۔ اور ان کی اس عظیم الشان دجود میں چیونٹی سے بھی کم حیثیت ہے۔ جس طرح اس کرۂ ارض کی نسبت سے ایک چیونٹی حقیر شے ہے۔ اس طرح اس کائنات کے حوالے سے انسان ایک چیونٹی سے بھی کم ہے۔ لیکن جھگڑتا ہے یہ حضرت انسان اللہ کی نشانیوں کے بارے میں ، جبکہ یہ عظیم کائنات اہل کفر کے مقابلے میں کھڑی ہے۔ اور حق تعالیٰ کا اعتراف کررہی ہے۔ اور عزیز وجبار کی قوتوں کی معترف ہے۔ یہ لوگ ، اس موقف میں انجام کے خلاف کھڑے ہیں۔ یہ لوگ چاہے دنیا میں قوت رکھتے ہوں اور جاہ ومال کے مالک ہوں اور مقتدر اعلیٰ ہوں ، لیکن جس جگہ انہوں نے جانا ہے ، اس کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔ فلایغررک تقلبھم فی البلاد (4 ہ : 4) ” اس کے بعد دنیا کے ملکوں میں ان کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے “۔ وہ جس قدر دوڑ دھوپ کریں ، جس قدر اقتدار اور مال وجاہ کے وہ مالک ہوں ، جس قدر وہ عیش و عشرت میں ہوں ، آخر کار یہ لوگ تباہ برباد اور ہلاک ہونے والے ہیں۔ ان کی اس جنگ کا انجام معروف ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس عظیم خالق کائنات کے درمیان اور اس کائنات کے درمیان اور اس کائنات کی ایک حقیر چیونٹی کے درمیان کوئی معرکہ برپا ہوسکتا ہے۔ ان سے پہلے ان جیسی کئی اقوام اس زمین پر گزری ہیں ، ان کا جو انجام ہوا ، اس سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسی اقوام کا انجام کیا ہوا کرتا ہے ، جو اللہ کی قوت کے مقابلے میں آجائیں ۔ اللہ کی قوت ان کو پیش کر رکھ دیا کرتی ہے اور ہر اس قوت کو پیس ڈالتی ہے جو اللہ کے ساتھ جنگ کے لیے اٹھتی ہے۔ کذبت قبلھم۔۔۔۔۔ کان عقاب (40: 5) ” ان سے پہلے نوح کی قوم بھی جھٹلاچ کی ہے اور ان کے بعد بہت سے دوسرے جتھوں نے بھی یہ کام کیا۔ ہر قوم اپنے رسول پر جھپٹی تاکہ اسے گرفتار کرے۔ ان سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑلیا۔ پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی تھی “۔ یہ سلسلہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے چلا آرہا ہے اور یہ ایک ایسا معرکہ ہے جو ہر زمان ومکان میں برپا ہے ، اور یہ آیت اس قصے کا خلاصہ بتاتی ہے۔ رسولوں اور انکی تکذیب کا قصہ۔ اور ان کے اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی کا رویہ ہر زمان ومکان میں یونہی ہوتا رہا ہے اور انجام بھی ایک رہا ہے رسول آیا ہے ، اس کی قوم کے سرکشوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ انہوں نے دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیا ، بلکہ دلیل کے مقابلے میں تشدد کے ہتھیار لے کر آئے اور انہوں نے رسول کو پکڑ کر گرفتار کرنے کی کوشش کی اور جمہور عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی کوشش کی تاکہ حق کا مقابلہ کریں ، حق کو نیچا دکھائیں مگر اللہ کی قوت جبارہ نے مداخلت کی ہے۔ اور ایسے سرکشوں کو اس طرح چوٹی سے پکڑا کہ وہ آنے والوں کے لیے عبرت بن گئے۔ فکیف کان عقاب (40: 5) ” میری سزا کیسی سخت تھی “۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی سزا تباہ کن تھی ، بہت سخت تھی۔ ان اقوام کے جو آثار بھی آج باقی ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ یہ سزا بہت سخت تھی۔ اور احادیث وروایات بھی یہ بتاتی ہیں کہ وہ سزا بہت سخت تھی۔ اور یہ معرکہ یہاں ختم نہیں ہوگیا بلکہ قیامت تک چلا گیا : وکذٰلک۔۔۔۔ النار (40: 6) ” اسی طرح تیرے رب کا یہ فیصلہ بھی ان سب لوگوں پر چسپاں ہوچکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنم ہونیوالے ہیں “۔ جب یہ اللہ کا فیصلہ حق ہوا ، چسپاں ہوا ، گویا نافذ ہوگیا ، اور ہر قسم کا مباحثہ ہی ختم ہوگیا یوں قرآن کریم ایک حقیقی صورت حال کی تصویر کشی کرتا ہے۔ ایمان اور کفر کے طویل معرکہ کی تصویر کشی۔ حق اور باطل کے درمیان معرکہ آرائی ، ان لوگوں کے درمیان جو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان معرکہ آرائی جو زمین میں سرکشی اختیار کرتے ہیں ، بغیر دلیل کے بات کرتے ہیں۔ یوں قرآن یہ بتاتا ہے کہ یہ معرکہ حق و باطل آغاز انسانیت سے شروع ہے اور اس کا میدان زمین سے بھی آگے ہے۔ اس پوری کائنات میں بھی یہ جاری ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے لیکن ایک کافرنہ صرف اہل ایمان سے بلکہ پوری کائنات کے ساتھ بھی برسرپیکار ہوتا ہے۔ یہ اس کائنات کے اندر موجود اللہ کی نشانیوں سے بھی لڑتا ہے اور اس معرکہ آرائی کا انجام بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق کی قوتیں ، بہت بڑی ، بہت طاقتور ہیں۔ اللہ ہے ، پوری کائنات ہے ، اہل ایمان ہیں اور اس کے مقابلے کی قلیل و حقیر قوت ہے۔ اگرچہ عارضی طور پر اس کا پلہ بھاری ہوا اور بظاہر یہ قوت بہت ہی خوفناک نظر آئی ہو مگر آخر کار یہ تباہ ہونے والی ہے۔ یہ حقیقت کہ حق و باطل کا معرکہ اور اس میں لڑنے والی قوتیں اور اس کا میدان جنگ یعنی طویل انسانی تاریخ ، اس کی تصویر کشی قرآن اس لیے کرتا ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جائے ، خصوصاً ان اہل ایمان کے دلوں میں جو پیغمبروں کے اصول ومنہاج پر دعوت حق لے کر آئے ہیں اور ہر زمان ومکان میں دعوت ایمان دیتے ہیں وہ اچھی طرح جان لیں اور یقین کرلیں کہ باطل کی قوت کچھ بھی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر پھولی ہوئی نظر آئے ، ایک محدود وقت کے لیے کسی محدود سرزمین میں ، یہ قوت حقیقت نہیں ہے۔ اصل حقیقت وہ ہے ، جس کی نشاندہی اللہ کی کتاب کررہی ہے ، جسے وہ کلمتہ الحق کہتی ہے ، اور حق غالب ہوا کرتا ہے۔ اللہ سب سے سچا ہے اور اس کی بات سچی ہے۔ اس حقیقت کے ساتھ ساتھ کہ دعوت حق ہے اور اس کے حامل مومنین ہیں۔ ان کے ساتھ وہ مومنین بھی شامل ہیں ، جو اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے اردگرد متعین وہ بھی اہل ایمان کے ساتھ تائید میں کھڑے ہیں۔ وہ ہر وقت انسان مومنین کی رپورٹ اللہ کے ہاں پیش کرتے ہیں ، ان کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں اور ان کے لیے جو اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ سے اس کے پورا کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ انسان بھی مومن ہیں اور وہ مومن ہیں۔

غافر 40:6

آیت نمبر 4 تا 6 اس فیصلے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی صفات رکھتا ہے اور وہ وحدہ لاشریک ہے ، اب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حقائق ، اس کائنات کی ہر چیز کی طرف سے مسلم ہیں کیونکہ اس کائنات کی فطرت ان حقائق کے ساتھ مربوط ہے اور یہ تعلق براہ راست ہے جس میں تنازعہ اور کوئی مجادلہ نہیں ہے۔ یہ پوری کائنات بڑے اطمینان سے آیات الہیہ کو تسلیم کرتی ہے ، اللہ کی وحدانیت پر شاہد عادل ہے ۔ اور اس میں مجادلہ وہی لوگ کرتے ہیں جو کفر پر تلے ہوئے ہیں اور یہ لوگ اس کائنات سے منحرف ہیں۔ مایجادل۔۔۔۔ کفروا (40: 4) ” اللہ کی آیات میں جھگڑے نہیں کرتے مگر وہی لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے “۔” یہی لوگ “ یعنی اس کائنات میں سے وہی لوگ اکیلے ان آیات کا انکار کرتے ہیں جو کفر پر تلے ہوئے ہیں۔ اس عظیم مخلوقات میں سے صرف یہی لوگ منحرف ہیں۔ اور ان کی اس عظیم الشان دجود میں چیونٹی سے بھی کم حیثیت ہے۔ جس طرح اس کرۂ ارض کی نسبت سے ایک چیونٹی حقیر شے ہے۔ اس طرح اس کائنات کے حوالے سے انسان ایک چیونٹی سے بھی کم ہے۔ لیکن جھگڑتا ہے یہ حضرت انسان اللہ کی نشانیوں کے بارے میں ، جبکہ یہ عظیم کائنات اہل کفر کے مقابلے میں کھڑی ہے۔ اور حق تعالیٰ کا اعتراف کررہی ہے۔ اور عزیز وجبار کی قوتوں کی معترف ہے۔ یہ لوگ ، اس موقف میں انجام کے خلاف کھڑے ہیں۔ یہ لوگ چاہے دنیا میں قوت رکھتے ہوں اور جاہ ومال کے مالک ہوں اور مقتدر اعلیٰ ہوں ، لیکن جس جگہ انہوں نے جانا ہے ، اس کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔ فلایغررک تقلبھم فی البلاد (4 ہ : 4) ” اس کے بعد دنیا کے ملکوں میں ان کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے “۔ وہ جس قدر دوڑ دھوپ کریں ، جس قدر اقتدار اور مال وجاہ کے وہ مالک ہوں ، جس قدر وہ عیش و عشرت میں ہوں ، آخر کار یہ لوگ تباہ برباد اور ہلاک ہونے والے ہیں۔ ان کی اس جنگ کا انجام معروف ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس عظیم خالق کائنات کے درمیان اور اس کائنات کے درمیان اور اس کائنات کی ایک حقیر چیونٹی کے درمیان کوئی معرکہ برپا ہوسکتا ہے۔ ان سے پہلے ان جیسی کئی اقوام اس زمین پر گزری ہیں ، ان کا جو انجام ہوا ، اس سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسی اقوام کا انجام کیا ہوا کرتا ہے ، جو اللہ کی قوت کے مقابلے میں آجائیں ۔ اللہ کی قوت ان کو پیش کر رکھ دیا کرتی ہے اور ہر اس قوت کو پیس ڈالتی ہے جو اللہ کے ساتھ جنگ کے لیے اٹھتی ہے۔ کذبت قبلھم۔۔۔۔۔ کان عقاب (40: 5) ” ان سے پہلے نوح کی قوم بھی جھٹلاچ کی ہے اور ان کے بعد بہت سے دوسرے جتھوں نے بھی یہ کام کیا۔ ہر قوم اپنے رسول پر جھپٹی تاکہ اسے گرفتار کرے۔ ان سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑلیا۔ پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی تھی “۔ یہ سلسلہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے چلا آرہا ہے اور یہ ایک ایسا معرکہ ہے جو ہر زمان ومکان میں برپا ہے ، اور یہ آیت اس قصے کا خلاصہ بتاتی ہے۔ رسولوں اور انکی تکذیب کا قصہ۔ اور ان کے اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی کا رویہ ہر زمان ومکان میں یونہی ہوتا رہا ہے اور انجام بھی ایک رہا ہے رسول آیا ہے ، اس کی قوم کے سرکشوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ انہوں نے دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیا ، بلکہ دلیل کے مقابلے میں تشدد کے ہتھیار لے کر آئے اور انہوں نے رسول کو پکڑ کر گرفتار کرنے کی کوشش کی اور جمہور عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی کوشش کی تاکہ حق کا مقابلہ کریں ، حق کو نیچا دکھائیں مگر اللہ کی قوت جبارہ نے مداخلت کی ہے۔ اور ایسے سرکشوں کو اس طرح چوٹی سے پکڑا کہ وہ آنے والوں کے لیے عبرت بن گئے۔ فکیف کان عقاب (40: 5) ” میری سزا کیسی سخت تھی “۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی سزا تباہ کن تھی ، بہت سخت تھی۔ ان اقوام کے جو آثار بھی آج باقی ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ یہ سزا بہت سخت تھی۔ اور احادیث وروایات بھی یہ بتاتی ہیں کہ وہ سزا بہت سخت تھی۔ اور یہ معرکہ یہاں ختم نہیں ہوگیا بلکہ قیامت تک چلا گیا : وکذٰلک۔۔۔۔ النار (40: 6) ” اسی طرح تیرے رب کا یہ فیصلہ بھی ان سب لوگوں پر چسپاں ہوچکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنم ہونیوالے ہیں “۔ جب یہ اللہ کا فیصلہ حق ہوا ، چسپاں ہوا ، گویا نافذ ہوگیا ، اور ہر قسم کا مباحثہ ہی ختم ہوگیا یوں قرآن کریم ایک حقیقی صورت حال کی تصویر کشی کرتا ہے۔ ایمان اور کفر کے طویل معرکہ کی تصویر کشی۔ حق اور باطل کے درمیان معرکہ آرائی ، ان لوگوں کے درمیان جو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان معرکہ آرائی جو زمین میں سرکشی اختیار کرتے ہیں ، بغیر دلیل کے بات کرتے ہیں۔ یوں قرآن یہ بتاتا ہے کہ یہ معرکہ حق و باطل آغاز انسانیت سے شروع ہے اور اس کا میدان زمین سے بھی آگے ہے۔ اس پوری کائنات میں بھی یہ جاری ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے لیکن ایک کافرنہ صرف اہل ایمان سے بلکہ پوری کائنات کے ساتھ بھی برسرپیکار ہوتا ہے۔ یہ اس کائنات کے اندر موجود اللہ کی نشانیوں سے بھی لڑتا ہے اور اس معرکہ آرائی کا انجام بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق کی قوتیں ، بہت بڑی ، بہت طاقتور ہیں۔ اللہ ہے ، پوری کائنات ہے ، اہل ایمان ہیں اور اس کے مقابلے کی قلیل و حقیر قوت ہے۔ اگرچہ عارضی طور پر اس کا پلہ بھاری ہوا اور بظاہر یہ قوت بہت ہی خوفناک نظر آئی ہو مگر آخر کار یہ تباہ ہونے والی ہے۔ یہ حقیقت کہ حق و باطل کا معرکہ اور اس میں لڑنے والی قوتیں اور اس کا میدان جنگ یعنی طویل انسانی تاریخ ، اس کی تصویر کشی قرآن اس لیے کرتا ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جائے ، خصوصاً ان اہل ایمان کے دلوں میں جو پیغمبروں کے اصول ومنہاج پر دعوت حق لے کر آئے ہیں اور ہر زمان ومکان میں دعوت ایمان دیتے ہیں وہ اچھی طرح جان لیں اور یقین کرلیں کہ باطل کی قوت کچھ بھی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر پھولی ہوئی نظر آئے ، ایک محدود وقت کے لیے کسی محدود سرزمین میں ، یہ قوت حقیقت نہیں ہے۔ اصل حقیقت وہ ہے ، جس کی نشاندہی اللہ کی کتاب کررہی ہے ، جسے وہ کلمتہ الحق کہتی ہے ، اور حق غالب ہوا کرتا ہے۔ اللہ سب سے سچا ہے اور اس کی بات سچی ہے۔ اس حقیقت کے ساتھ ساتھ کہ دعوت حق ہے اور اس کے حامل مومنین ہیں۔ ان کے ساتھ وہ مومنین بھی شامل ہیں ، جو اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے اردگرد متعین وہ بھی اہل ایمان کے ساتھ تائید میں کھڑے ہیں۔ وہ ہر وقت انسان مومنین کی رپورٹ اللہ کے ہاں پیش کرتے ہیں ، ان کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں اور ان کے لیے جو اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ سے اس کے پورا کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ انسان بھی مومن ہیں اور وہ مومن ہیں۔

غافر 40:7

آیت نمبر 7 تا 9 ہم نہیں جانتے کہ عرش کی حقیقت کیا ہے ، نہ اس کی صورت متعین کرسکتے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کے اٹھانے والے اسے کس طرح اٹھاتے ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کا ماحول کیسا ہے اور اس کے اردگرد فرشتے کیسے ہیں ، لہٰذا ہمیں ان چیزوں کی ہئیت اور ماہیت معلوم کرنے کی فضول جدوجہد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اشیاء انسانی ادراک کے دائرہ سے ماوراء ہیں۔ نہ ہمیں ان غیبی امور کے پیچھے پڑتا چاہئے ، جن کے بارے میں مباحثے کرنے والوں کو کوئی علم نہیں دیا گیا۔ جو بات آیات سے سمجھ میں آتی ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ اللہ کے بعض مقرب بندے ، رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں ، اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور قرآن کریم ان کے ایمان کی تصریح اس لیے کررہا ہے کہ ان کا ربط مومن انسانوں کے ساتھ واضح ہوجائے اور اللہ کے یہ مقرب بندے ان مومن انسانوں کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں جو یہاں اس دنیا میں معرکہ خیر وشر میں کودے ہوئے ہیں ۔ یہ بندے جس انداز سے دعا کرتے ہیں اس میں ہمارے لیے تعلیم ہے کہ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ کو یوں مخاطب کرے ۔ وہ کہتے ہیں ربنا وسعت کل شئ رحمة وعلما (40: 7) ” اے ہمارے رب ، تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے “۔ وہ اللہ کے سامنے طلب رحمت کے لیے یوں درخواست کرتے کہ (اے اللہ) ہم انسانوں کے لیے وہ رحمت طلب کرتے ہیں جو دراصل ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور اللہ کے علم کو ذریعہ بناتے ہیں جو ہر چیز کو شامل ہے۔ وہ اللہ کے سامنے کوئی نئی چیز پیش نہیں کرتے جو اللہ کے پیش نظرنہ ہو۔ اللہ کی رحمت اور علم جو ہر چیز کو محیط ہیں انہی کے واسطہ سے وہ التجا کرتے ہیں۔ فاغفر۔۔۔۔ الجحیم (40: 7) ” پس معاف کردے اور عذاب دوزخ سے بچا لے ، ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کرلیا ہے “۔ اس دعا میں ایک اشارہ مغفرت اور توبہ کا ہے جو آغاز سورت میں غافر الذنب اور قابل التوب کے ساتھ موافق ہے اور دوسرا اشارہ عذاب جہنم سے بچانے کی طرف ہے جو آغاز سورت میں شدید العقاب کے ساتھ موافق ہے۔ اس کے بعد یہ بندے دعا میں ذرا آگے بڑھتے ہیں ، اب وہ مغفرت اور عذاب جہنم سے بچانے سے بھی آگے جنت عطا کرنے کا سوال کرتے ہیں اور ان وعدوں کے پورے کیے جانے کا سوال کرتے ہیں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں سے کر رکھے ہیں۔ ربنا۔۔۔۔ العزیز الحکیم (40: 8) ” اے ہمارے رب ، اور داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی اب جنتوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے ، اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (ان کو بھی وہاں ان کے ساتھ ہی پہنچادے) ۔ تو بلاشبہ قادر مطلق اور حکیم ہے “۔ جنت میں داخلہ ، بیشک بڑی نعمت اور بہت بڑی کامیابی ہے ، اور اس پر مزید کہ آباء ، ازواج اور اولاد بھی ساتھ ہوں۔ یہ مزید نعمت ہے۔ اس سے اس بات کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ مومنین جنت میں بھی اکٹھے خاندانی نظام کی شکل میں ہوں گے۔ یہ ایمان ہے جو اباء ، ازواج اور اولا کے درمیان اکٹھ پیدا کرتا ہے ، اگر ایمان نہ ہوتا تو یہ رشتے کٹ جاتے۔ اور اس فقرے پر جو آخری نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔ انت العزیز الحکیم (40: 8) ” تو قادر مطلق اور حکیم ہے “۔ اس میں ایک طرف قوت ہے اور دوسری طرف حکمت۔ بندوں کے معاملے میں کوئی فیصلہ قوت اور حکمت کے سوا نہیں ہوسکتا۔ وقھم السیاٰت ۔۔۔۔ العظیم (40: 9) ” اور بچا دے ان کو برائیوں سے ' جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا دیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے “۔ جنت میں داخل ہونے کی دعا کے بعد یہ دعا کہ ان کو برائیوں سے بچا ، یہ توجہ دلاتی ہے کہ ذرا غور کرو کہ یہ سیئات اور برائیاں ہی ہیں جو ان کا ارتکاب کرنے والوں کو برباد کرتی ہیں۔ اور یہ بربادی آخرت میں ظاہر ہوتی ہے ۔ یہی جہنم رسید کرتی ہیں۔ جب اللہ نے مومنین کو برائیوں سے بچالیا تو وہ جہنم سے ہی بچ گئے اور برے نتائج سے بھی ۔ یہی رحمت خداوندی کا عروج ہوگا اس مشکل وقت میں ۔ اور وذٰلک ھوالفوز العظیم (40: 9) ” یہی بڑی کامیابی ہے “۔ کہ کوئی برائیوں سے بچ جائے۔ ایک طرف عرش کے حاملین اپنے مومنین بھائیوں کے لیے دعا گو ہیں ، دوسری جانب کفار کی حالت یہ ہے کہ وہ سخت مصیبت میں پھنس گئے ہیں ، کسی مدد گار کی تلاش میں ہیں اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اور پوری کائنات کے درمیان کوئی ربط نہیں رہا ہے۔ ہر طرف سے ان پر پھٹکار اور لعنت و ملامت ہے۔ دنیا کے استکبار کے بعد اب یہاں وہ سخت ذلت میں ہیں۔ اور بےیار مددگار ہیں ، لیکن پھر بھی موہوم امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ، لیکن کہاں ہے منزل مراد !

غافر 40:8

آیت نمبر 7 تا 9 ہم نہیں جانتے کہ عرش کی حقیقت کیا ہے ، نہ اس کی صورت متعین کرسکتے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کے اٹھانے والے اسے کس طرح اٹھاتے ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کا ماحول کیسا ہے اور اس کے اردگرد فرشتے کیسے ہیں ، لہٰذا ہمیں ان چیزوں کی ہئیت اور ماہیت معلوم کرنے کی فضول جدوجہد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اشیاء انسانی ادراک کے دائرہ سے ماوراء ہیں۔ نہ ہمیں ان غیبی امور کے پیچھے پڑتا چاہئے ، جن کے بارے میں مباحثے کرنے والوں کو کوئی علم نہیں دیا گیا۔ جو بات آیات سے سمجھ میں آتی ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ اللہ کے بعض مقرب بندے ، رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں ، اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور قرآن کریم ان کے ایمان کی تصریح اس لیے کررہا ہے کہ ان کا ربط مومن انسانوں کے ساتھ واضح ہوجائے اور اللہ کے یہ مقرب بندے ان مومن انسانوں کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں جو یہاں اس دنیا میں معرکہ خیر وشر میں کودے ہوئے ہیں ۔ یہ بندے جس انداز سے دعا کرتے ہیں اس میں ہمارے لیے تعلیم ہے کہ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ کو یوں مخاطب کرے ۔ وہ کہتے ہیں ربنا وسعت کل شئ رحمة وعلما (40: 7) ” اے ہمارے رب ، تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے “۔ وہ اللہ کے سامنے طلب رحمت کے لیے یوں درخواست کرتے کہ (اے اللہ) ہم انسانوں کے لیے وہ رحمت طلب کرتے ہیں جو دراصل ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور اللہ کے علم کو ذریعہ بناتے ہیں جو ہر چیز کو شامل ہے۔ وہ اللہ کے سامنے کوئی نئی چیز پیش نہیں کرتے جو اللہ کے پیش نظرنہ ہو۔ اللہ کی رحمت اور علم جو ہر چیز کو محیط ہیں انہی کے واسطہ سے وہ التجا کرتے ہیں۔ فاغفر۔۔۔۔ الجحیم (40: 7) ” پس معاف کردے اور عذاب دوزخ سے بچا لے ، ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کرلیا ہے “۔ اس دعا میں ایک اشارہ مغفرت اور توبہ کا ہے جو آغاز سورت میں غافر الذنب اور قابل التوب کے ساتھ موافق ہے اور دوسرا اشارہ عذاب جہنم سے بچانے کی طرف ہے جو آغاز سورت میں شدید العقاب کے ساتھ موافق ہے۔ اس کے بعد یہ بندے دعا میں ذرا آگے بڑھتے ہیں ، اب وہ مغفرت اور عذاب جہنم سے بچانے سے بھی آگے جنت عطا کرنے کا سوال کرتے ہیں اور ان وعدوں کے پورے کیے جانے کا سوال کرتے ہیں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں سے کر رکھے ہیں۔ ربنا۔۔۔۔ العزیز الحکیم (40: 8) ” اے ہمارے رب ، اور داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی اب جنتوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے ، اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (ان کو بھی وہاں ان کے ساتھ ہی پہنچادے) ۔ تو بلاشبہ قادر مطلق اور حکیم ہے “۔ جنت میں داخلہ ، بیشک بڑی نعمت اور بہت بڑی کامیابی ہے ، اور اس پر مزید کہ آباء ، ازواج اور اولاد بھی ساتھ ہوں۔ یہ مزید نعمت ہے۔ اس سے اس بات کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ مومنین جنت میں بھی اکٹھے خاندانی نظام کی شکل میں ہوں گے۔ یہ ایمان ہے جو اباء ، ازواج اور اولا کے درمیان اکٹھ پیدا کرتا ہے ، اگر ایمان نہ ہوتا تو یہ رشتے کٹ جاتے۔ اور اس فقرے پر جو آخری نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔ انت العزیز الحکیم (40: 8) ” تو قادر مطلق اور حکیم ہے “۔ اس میں ایک طرف قوت ہے اور دوسری طرف حکمت۔ بندوں کے معاملے میں کوئی فیصلہ قوت اور حکمت کے سوا نہیں ہوسکتا۔ وقھم السیاٰت ۔۔۔۔ العظیم (40: 9) ” اور بچا دے ان کو برائیوں سے ' جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا دیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے “۔ جنت میں داخل ہونے کی دعا کے بعد یہ دعا کہ ان کو برائیوں سے بچا ، یہ توجہ دلاتی ہے کہ ذرا غور کرو کہ یہ سیئات اور برائیاں ہی ہیں جو ان کا ارتکاب کرنے والوں کو برباد کرتی ہیں۔ اور یہ بربادی آخرت میں ظاہر ہوتی ہے ۔ یہی جہنم رسید کرتی ہیں۔ جب اللہ نے مومنین کو برائیوں سے بچالیا تو وہ جہنم سے ہی بچ گئے اور برے نتائج سے بھی ۔ یہی رحمت خداوندی کا عروج ہوگا اس مشکل وقت میں ۔ اور وذٰلک ھوالفوز العظیم (40: 9) ” یہی بڑی کامیابی ہے “۔ کہ کوئی برائیوں سے بچ جائے۔ ایک طرف عرش کے حاملین اپنے مومنین بھائیوں کے لیے دعا گو ہیں ، دوسری جانب کفار کی حالت یہ ہے کہ وہ سخت مصیبت میں پھنس گئے ہیں ، کسی مدد گار کی تلاش میں ہیں اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اور پوری کائنات کے درمیان کوئی ربط نہیں رہا ہے۔ ہر طرف سے ان پر پھٹکار اور لعنت و ملامت ہے۔ دنیا کے استکبار کے بعد اب یہاں وہ سخت ذلت میں ہیں۔ اور بےیار مددگار ہیں ، لیکن پھر بھی موہوم امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ، لیکن کہاں ہے منزل مراد !

غافر 40:9

آیت نمبر 7 تا 9 ہم نہیں جانتے کہ عرش کی حقیقت کیا ہے ، نہ اس کی صورت متعین کرسکتے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کے اٹھانے والے اسے کس طرح اٹھاتے ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کا ماحول کیسا ہے اور اس کے اردگرد فرشتے کیسے ہیں ، لہٰذا ہمیں ان چیزوں کی ہئیت اور ماہیت معلوم کرنے کی فضول جدوجہد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اشیاء انسانی ادراک کے دائرہ سے ماوراء ہیں۔ نہ ہمیں ان غیبی امور کے پیچھے پڑتا چاہئے ، جن کے بارے میں مباحثے کرنے والوں کو کوئی علم نہیں دیا گیا۔ جو بات آیات سے سمجھ میں آتی ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ اللہ کے بعض مقرب بندے ، رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں ، اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور قرآن کریم ان کے ایمان کی تصریح اس لیے کررہا ہے کہ ان کا ربط مومن انسانوں کے ساتھ واضح ہوجائے اور اللہ کے یہ مقرب بندے ان مومن انسانوں کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں جو یہاں اس دنیا میں معرکہ خیر وشر میں کودے ہوئے ہیں ۔ یہ بندے جس انداز سے دعا کرتے ہیں اس میں ہمارے لیے تعلیم ہے کہ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ کو یوں مخاطب کرے ۔ وہ کہتے ہیں ربنا وسعت کل شئ رحمة وعلما (40: 7) ” اے ہمارے رب ، تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے “۔ وہ اللہ کے سامنے طلب رحمت کے لیے یوں درخواست کرتے کہ (اے اللہ) ہم انسانوں کے لیے وہ رحمت طلب کرتے ہیں جو دراصل ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور اللہ کے علم کو ذریعہ بناتے ہیں جو ہر چیز کو شامل ہے۔ وہ اللہ کے سامنے کوئی نئی چیز پیش نہیں کرتے جو اللہ کے پیش نظرنہ ہو۔ اللہ کی رحمت اور علم جو ہر چیز کو محیط ہیں انہی کے واسطہ سے وہ التجا کرتے ہیں۔ فاغفر۔۔۔۔ الجحیم (40: 7) ” پس معاف کردے اور عذاب دوزخ سے بچا لے ، ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کرلیا ہے “۔ اس دعا میں ایک اشارہ مغفرت اور توبہ کا ہے جو آغاز سورت میں غافر الذنب اور قابل التوب کے ساتھ موافق ہے اور دوسرا اشارہ عذاب جہنم سے بچانے کی طرف ہے جو آغاز سورت میں شدید العقاب کے ساتھ موافق ہے۔ اس کے بعد یہ بندے دعا میں ذرا آگے بڑھتے ہیں ، اب وہ مغفرت اور عذاب جہنم سے بچانے سے بھی آگے جنت عطا کرنے کا سوال کرتے ہیں اور ان وعدوں کے پورے کیے جانے کا سوال کرتے ہیں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں سے کر رکھے ہیں۔ ربنا۔۔۔۔ العزیز الحکیم (40: 8) ” اے ہمارے رب ، اور داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی اب جنتوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے ، اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (ان کو بھی وہاں ان کے ساتھ ہی پہنچادے) ۔ تو بلاشبہ قادر مطلق اور حکیم ہے “۔ جنت میں داخلہ ، بیشک بڑی نعمت اور بہت بڑی کامیابی ہے ، اور اس پر مزید کہ آباء ، ازواج اور اولاد بھی ساتھ ہوں۔ یہ مزید نعمت ہے۔ اس سے اس بات کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ مومنین جنت میں بھی اکٹھے خاندانی نظام کی شکل میں ہوں گے۔ یہ ایمان ہے جو اباء ، ازواج اور اولا کے درمیان اکٹھ پیدا کرتا ہے ، اگر ایمان نہ ہوتا تو یہ رشتے کٹ جاتے۔ اور اس فقرے پر جو آخری نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔ انت العزیز الحکیم (40: 8) ” تو قادر مطلق اور حکیم ہے “۔ اس میں ایک طرف قوت ہے اور دوسری طرف حکمت۔ بندوں کے معاملے میں کوئی فیصلہ قوت اور حکمت کے سوا نہیں ہوسکتا۔ وقھم السیاٰت ۔۔۔۔ العظیم (40: 9) ” اور بچا دے ان کو برائیوں سے ' جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا دیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے “۔ جنت میں داخل ہونے کی دعا کے بعد یہ دعا کہ ان کو برائیوں سے بچا ، یہ توجہ دلاتی ہے کہ ذرا غور کرو کہ یہ سیئات اور برائیاں ہی ہیں جو ان کا ارتکاب کرنے والوں کو برباد کرتی ہیں۔ اور یہ بربادی آخرت میں ظاہر ہوتی ہے ۔ یہی جہنم رسید کرتی ہیں۔ جب اللہ نے مومنین کو برائیوں سے بچالیا تو وہ جہنم سے ہی بچ گئے اور برے نتائج سے بھی ۔ یہی رحمت خداوندی کا عروج ہوگا اس مشکل وقت میں ۔ اور وذٰلک ھوالفوز العظیم (40: 9) ” یہی بڑی کامیابی ہے “۔ کہ کوئی برائیوں سے بچ جائے۔ ایک طرف عرش کے حاملین اپنے مومنین بھائیوں کے لیے دعا گو ہیں ، دوسری جانب کفار کی حالت یہ ہے کہ وہ سخت مصیبت میں پھنس گئے ہیں ، کسی مدد گار کی تلاش میں ہیں اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اور پوری کائنات کے درمیان کوئی ربط نہیں رہا ہے۔ ہر طرف سے ان پر پھٹکار اور لعنت و ملامت ہے۔ دنیا کے استکبار کے بعد اب یہاں وہ سخت ذلت میں ہیں۔ اور بےیار مددگار ہیں ، لیکن پھر بھی موہوم امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ، لیکن کہاں ہے منزل مراد !

غافر 40:10

آیت نمبر 10 تا 12 لمقت کا مفہوم ہے بہت شدید ناپسندیدگی۔ ان کو سب مخلوق خدا ہر طرف سے یہ پکارے گی ، کی بدبختو تمہیں رسول اللہ ﷺ ، ایمان کی پکار دے رہے تھے اور تم ناحق انکار کرتے تھے۔ اور اللہ تم پر بہت ناراض ہوتا تھا۔ اور تمہارے رویے کو بہت ناپسند فرماتا تھا ، جس طرح آج تمہیں حقیقت معلوم ہوئی ہے تو تم اپنے رویے کو ناپسند کرتے ہو لیکن تم سے تو وقت چلا گیا ہے۔ تم نے کفر کیا ، ایمان سے منہ موڑا اور تم سے ایک عظیم دولت چلی گئی۔ پوری کائنات کی جانب سے یہ علامت آرہی ہوگی اور یہ ان کے لیے سخت سوہان روح ہوگی۔ اس برے دن میں کسی تسلی کے بجائے ہر طرف سے مزید ملامت۔ اب تو دھوکے اور گمراہی کے پردے آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گئے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ نجات کی جگہ اب صرف ذات باری ہے۔ لہٰذا گڑگڑاتے ہیں : قالوا ربنآ۔۔۔۔۔ من سبیل (40: 11) ” وہ کہیں گے ” اب ہمارے رب ، تو نے واقعی ہمیں دو دفعہ زندگی دے دی ، اب ہم اپنے قصوروں کا اعتراف کرتے ہیں ، کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟ “ یہ ایک نہایت ہی بدحال ، مایوس اور بدبخت کی درخواست ہے ، اب تو وہ کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “ اور اس وقت وہ رب کا انکار کرتے تھے ، تو نے پہلی مرتبہ ہمیں زندگی دی ۔ مردے میں روح ڈالی ، وہ زندہ ہوگیا۔ پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندگی دی اور اب ہم میدان حشر میں ہیں ۔ اس لیے تو اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ہمیں موجودہ مصیبت سے نکال دے۔ اب تو ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ فھل الیٰ خروج من سبیل (40: 11) ” کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے “۔ یہ ہے سرزنش جس سے ان کی بےتابی ، مایوسی اور تلخی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کڑے وقت میں ان کو یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ تمہارے اس برے انجام کا اصل سبب کیا ہے : ذٰلکم بانه۔۔۔۔ الکبیر (40: 12) ” یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو ، اس وجہ سے ہے کہ اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم مان نے سے انکار کردیتے تھے اور جب اسکے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے ، میں ذلیل کرنے والے انجام تک تمہیں یہ بات لائی ہے کہ تم عقیدۂ توحید کا انکار کرتے تھے۔ اور عقیدۂشرک کو مان لیتے تھے۔ لہٰذا اب فیصلہ اللہ وحدہ کے ہاتھ میں ہے جو علی اور کبیر ہے۔ فیصلے کے حوالے سے یہ دونوں مناسب صفات ہیں۔ کوئی فیصلہ وہی شخص کرسکتا ہے جو بزرگ ہو اور برتر مقام رکھتا ہو اور اللہ تو ہر چیز پر برتر ہے اور ہر چیز سے بڑا ہے ، خصوصاً قیامت کے دن۔ یہاں اللہ کی صفات علی وکبیر کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے اور مومنین کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس علی وکبیر کی بارگاہ میں دعا کرو اور توحید کا عقیدہ اپنا کر نظام زندگی بھی اسی کا اپنا لو ، یہاں قیامت کے فیصلے کی گھڑی سے بھی ڈرایا جاتا ہے جہاں اللہ واحد وقہار کے پاس سب اختیارات ہوں گے اور وہ بہت ہی بلندو برتر ہے۔

غافر 40:11

آیت نمبر 10 تا 12 لمقت کا مفہوم ہے بہت شدید ناپسندیدگی۔ ان کو سب مخلوق خدا ہر طرف سے یہ پکارے گی ، کی بدبختو تمہیں رسول اللہ ﷺ ، ایمان کی پکار دے رہے تھے اور تم ناحق انکار کرتے تھے۔ اور اللہ تم پر بہت ناراض ہوتا تھا۔ اور تمہارے رویے کو بہت ناپسند فرماتا تھا ، جس طرح آج تمہیں حقیقت معلوم ہوئی ہے تو تم اپنے رویے کو ناپسند کرتے ہو لیکن تم سے تو وقت چلا گیا ہے۔ تم نے کفر کیا ، ایمان سے منہ موڑا اور تم سے ایک عظیم دولت چلی گئی۔ پوری کائنات کی جانب سے یہ علامت آرہی ہوگی اور یہ ان کے لیے سخت سوہان روح ہوگی۔ اس برے دن میں کسی تسلی کے بجائے ہر طرف سے مزید ملامت۔ اب تو دھوکے اور گمراہی کے پردے آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گئے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ نجات کی جگہ اب صرف ذات باری ہے۔ لہٰذا گڑگڑاتے ہیں : قالوا ربنآ۔۔۔۔۔ من سبیل (40: 11) ” وہ کہیں گے ” اب ہمارے رب ، تو نے واقعی ہمیں دو دفعہ زندگی دے دی ، اب ہم اپنے قصوروں کا اعتراف کرتے ہیں ، کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟ “ یہ ایک نہایت ہی بدحال ، مایوس اور بدبخت کی درخواست ہے ، اب تو وہ کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “ اور اس وقت وہ رب کا انکار کرتے تھے ، تو نے پہلی مرتبہ ہمیں زندگی دی ۔ مردے میں روح ڈالی ، وہ زندہ ہوگیا۔ پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندگی دی اور اب ہم میدان حشر میں ہیں ۔ اس لیے تو اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ہمیں موجودہ مصیبت سے نکال دے۔ اب تو ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ فھل الیٰ خروج من سبیل (40: 11) ” کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے “۔ یہ ہے سرزنش جس سے ان کی بےتابی ، مایوسی اور تلخی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کڑے وقت میں ان کو یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ تمہارے اس برے انجام کا اصل سبب کیا ہے : ذٰلکم بانه۔۔۔۔ الکبیر (40: 12) ” یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو ، اس وجہ سے ہے کہ اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم مان نے سے انکار کردیتے تھے اور جب اسکے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے ، میں ذلیل کرنے والے انجام تک تمہیں یہ بات لائی ہے کہ تم عقیدۂ توحید کا انکار کرتے تھے۔ اور عقیدۂشرک کو مان لیتے تھے۔ لہٰذا اب فیصلہ اللہ وحدہ کے ہاتھ میں ہے جو علی اور کبیر ہے۔ فیصلے کے حوالے سے یہ دونوں مناسب صفات ہیں۔ کوئی فیصلہ وہی شخص کرسکتا ہے جو بزرگ ہو اور برتر مقام رکھتا ہو اور اللہ تو ہر چیز پر برتر ہے اور ہر چیز سے بڑا ہے ، خصوصاً قیامت کے دن۔ یہاں اللہ کی صفات علی وکبیر کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے اور مومنین کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس علی وکبیر کی بارگاہ میں دعا کرو اور توحید کا عقیدہ اپنا کر نظام زندگی بھی اسی کا اپنا لو ، یہاں قیامت کے فیصلے کی گھڑی سے بھی ڈرایا جاتا ہے جہاں اللہ واحد وقہار کے پاس سب اختیارات ہوں گے اور وہ بہت ہی بلندو برتر ہے۔

غافر 40:12

آیت نمبر 10 تا 12 لمقت کا مفہوم ہے بہت شدید ناپسندیدگی۔ ان کو سب مخلوق خدا ہر طرف سے یہ پکارے گی ، کی بدبختو تمہیں رسول اللہ ﷺ ، ایمان کی پکار دے رہے تھے اور تم ناحق انکار کرتے تھے۔ اور اللہ تم پر بہت ناراض ہوتا تھا۔ اور تمہارے رویے کو بہت ناپسند فرماتا تھا ، جس طرح آج تمہیں حقیقت معلوم ہوئی ہے تو تم اپنے رویے کو ناپسند کرتے ہو لیکن تم سے تو وقت چلا گیا ہے۔ تم نے کفر کیا ، ایمان سے منہ موڑا اور تم سے ایک عظیم دولت چلی گئی۔ پوری کائنات کی جانب سے یہ علامت آرہی ہوگی اور یہ ان کے لیے سخت سوہان روح ہوگی۔ اس برے دن میں کسی تسلی کے بجائے ہر طرف سے مزید ملامت۔ اب تو دھوکے اور گمراہی کے پردے آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گئے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ نجات کی جگہ اب صرف ذات باری ہے۔ لہٰذا گڑگڑاتے ہیں : قالوا ربنآ۔۔۔۔۔ من سبیل (40: 11) ” وہ کہیں گے ” اب ہمارے رب ، تو نے واقعی ہمیں دو دفعہ زندگی دے دی ، اب ہم اپنے قصوروں کا اعتراف کرتے ہیں ، کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟ “ یہ ایک نہایت ہی بدحال ، مایوس اور بدبخت کی درخواست ہے ، اب تو وہ کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “ اور اس وقت وہ رب کا انکار کرتے تھے ، تو نے پہلی مرتبہ ہمیں زندگی دی ۔ مردے میں روح ڈالی ، وہ زندہ ہوگیا۔ پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندگی دی اور اب ہم میدان حشر میں ہیں ۔ اس لیے تو اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ہمیں موجودہ مصیبت سے نکال دے۔ اب تو ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ فھل الیٰ خروج من سبیل (40: 11) ” کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے “۔ یہ ہے سرزنش جس سے ان کی بےتابی ، مایوسی اور تلخی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کڑے وقت میں ان کو یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ تمہارے اس برے انجام کا اصل سبب کیا ہے : ذٰلکم بانه۔۔۔۔ الکبیر (40: 12) ” یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو ، اس وجہ سے ہے کہ اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم مان نے سے انکار کردیتے تھے اور جب اسکے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے ، میں ذلیل کرنے والے انجام تک تمہیں یہ بات لائی ہے کہ تم عقیدۂ توحید کا انکار کرتے تھے۔ اور عقیدۂشرک کو مان لیتے تھے۔ لہٰذا اب فیصلہ اللہ وحدہ کے ہاتھ میں ہے جو علی اور کبیر ہے۔ فیصلے کے حوالے سے یہ دونوں مناسب صفات ہیں۔ کوئی فیصلہ وہی شخص کرسکتا ہے جو بزرگ ہو اور برتر مقام رکھتا ہو اور اللہ تو ہر چیز پر برتر ہے اور ہر چیز سے بڑا ہے ، خصوصاً قیامت کے دن۔ یہاں اللہ کی صفات علی وکبیر کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے اور مومنین کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس علی وکبیر کی بارگاہ میں دعا کرو اور توحید کا عقیدہ اپنا کر نظام زندگی بھی اسی کا اپنا لو ، یہاں قیامت کے فیصلے کی گھڑی سے بھی ڈرایا جاتا ہے جہاں اللہ واحد وقہار کے پاس سب اختیارات ہوں گے اور وہ بہت ہی بلندو برتر ہے۔

غافر 40:13

آیت نمبر 13 تا 17 ھوالذی یریکم اٰیٰته (40: 13) ” وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “۔ اور اللہ کی نشانیاں تو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔ شمس وقمر کی گردش میں ، رات اور دن کے نظام میں۔ رعد وبرق اور بارو باراں میں ، ذرے ، خلیے ، پتے اور پتیوں میں عرض ہر چیز میں ایک معجزانہ نشانی ہے اور اس نشانی کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کی نقل کرنے کے لیے بیٹھے۔ یا اس جیسی کوئی چیز بنائے لیکن اے کاش کہ وہ اس قسم کی کسی چیز کی نقل کرسکتا یا اس جیسی ہی بناسکتا اور اللہ کی بنائی ہوئی ایک نہایت ہی چھوٹی چیز ہی بناسکتا۔ وینزل لکم من السمآء رزقا (40: 13) ” اور آسمانوں سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے “۔ لوگوں کو صرف بارش کے بارے میں علم ہے جس کی وجہ سے اس زمین پر زندگی قائم ہے ، اور یہ کھانے وپینے کے تمام اسباب فراہم کرتی ہے اور آسمانوں سے نازل ہونے والی دوسری اشیاء بھی بیشمار ہیں جن کے انکشافات روز ہوتے رہتے ہیں ، ان میں وہ شعاعیں ہیں جو زندگی بخشتی ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو زمین کے اس ستارے پر زندگی نہ ہوتی اور یہ بھی انسان کے لیے ایک ذہنی اور روحانی غذا ہے جو آدم (علیہ السلام) سے نازل ہوتی چلی آرہی ہے اور جس کے ذریعے انسان سے بچنے سے آگے بڑھ کر بالغ ہوگیا ہے۔ اور اب نبوت محمدی ﷺ کی وجہ سے صراط مستقیم پر گامزن ہوگیا ہے۔ اور اس رزاق نے اسے منہاج حیات دیا ، اور اس کائنات کا مستقل قانون عطا کیا۔ وما یتذکر الامن ینیب (40: 13) ” سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ سے رجوع کرنے والا ہو “۔ جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ اللہ کا فضل وکرم کس قدرعظیم ہے اور وہ اس کائنات میں اللہ کی نشانیوں کو پاتا ہے جبکہ غافل اور سخت دل ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔۔۔۔ انابت کی وجہ سے اہل ایمان کے دل میں جو یاد الہٰی پیدا ہوتی ہے ، اور وہ ان نشانیوں پر غور وفکر کرتے ہیں ، اس کے حوالے سے مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو پکاریں ، اسی کا طے کردہ نظام زندگی جاری کریں اور کافروں کی ناپسندیدگی کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اگر مومنین اپنا دین اللہ کے لیے خالص کردیں اور صرف اسلامی نظام زندگی نافذ کردیں تو اس صورت میں کافران سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتے ۔ اسی طرح وہ اگر اللہ وحدہ کو پکاریں تو بھی کافر راضی نہیں ہوسکتے۔ مومنین کافروں کے ساتھ جس قدر نرمی بھی کریں ، جس قدر مصالحت بھی کریں اور ان کی رضا جوئی کے لیے جس قدر جتن بھی کریں وہ ان سے راضی نہیں ہوسکتے ۔ لہٰذا مومنین کو بےخطر اپنے راستے پر گامزن ہوجانا چاہئے ۔ رب واحد کو پکارنا چاہئے ، اس کے لیے عقیدہ خالص اختیار کرنا چاہئے۔ دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرنا چاہئے ، چاہے کافر خوش ہوں یا خفا ہوں وہ تو کبھی راضی نہ ہوں گے۔ اب بتایا جاتا ہے کہ اس اللہ کی صفات کیا ہیں جس کی عبادت کی طرف اہل ایمان متوجہ ہوں گے اور اس پر کافر ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے۔ وہ صفات یہ ہیں : رفیع الدرجٰت۔۔۔۔۔ من عبادہ (40: 15) ” وہ بلند دوجوں والا ہے ، مالک عرش ہے ، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنے حکم سے روح نازل کردیتا ہے “۔ اللہ ہی رفعتوں والا اور عالی مقام ہے۔ اور وہ ایک ایسے عرش کا مالک ہے جو قابض ہے پوری کائنات پر اور بہت ہی بلند ہے اور یہ وہی ہے جو اپنے بندے پر روحانی تعلیمات نازل کردیتا ہے۔ اور ان کی وجہ سے یہ زمین دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں بسنے والے انسانوں کی روح اور دل زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس سے مراد وحی اور رسالت ہے۔ لیکن انداز تعبیر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وحی اور رسالت کی غرض وغایت کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وحی لوگوں کے لیے روح اور زندگی ہے۔ اور پھر بلندیوں سے چنے ہوئے بندوں پر آتی ہے۔ یہ سب صفات اور سائے اور رنگ اللہ کی اس صفت کے ساتھ متناسب ہیں جن میں کیا گیا ہے کہ وہ العلی الکبیر ہے۔ اب جن لوگوں کو چنا جاتا ہے اور ان پر روح نازل کی جاتی ہے۔ ان کا فریضہ منصبی کیا ہے ؟ صرف لوگوں کو متنبہ کرنا۔ لینذریوم التلاق (40: 15) ” تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کردے “۔ اس دن تمام لوگ باہم ملیں گے ، لوگ اپنے اعمال کے ساتھ دوچار ہوں گے۔ لوگ ملائکہ ، جنوں اور تمام مخلوقات سے ملیں گے اور تمام لوگوں کو بھی باری تعالیٰ سے ملنا ہوگا اور حساب دینا ہوگا۔ گویا یہ دن اپنے تمام مفاہیم کے ساتھ یوم التلاق ہے۔ پھر یہ ایسا دن ہوگا کو کھلا ڈھلا ہوگا ، کوئی پردہ ، کوئی ملع کاری اور کوئی دھوکہ بازی اس میں نہ چلے گی : یوم ھم۔۔۔۔ شئ (40: 16) ” وہ دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن اور کسی بھی حال میں کوئی شئ مخفی نہیں ہوتی ، لیکن دوسرے دنوں میں ، اس دنیا کے دنوں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مخفی ہیں اور ان کے اعمال اور حرکات پوشیدہ ہیں ، آج لوگ خود بھی یہ سمجھیں گے کہ اب تو سب کھل گیا ہے ، ان کا سیاہ وسپید سامنے ہے۔ اور پردے غائب ہیں اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ آج تو مکذبین اور متکبرین برخوردار ہوں گے ، سکڑے اور سمٹے ہوئے ہوں گے۔ تمام کائنات سہمی ہوئی ہوگی ، لوگ ڈرے ہوئے ہوں گے۔ بادشاہت صرف اللہ وحدوقہار کی ہوگی۔ اللہ تو ہر وقت وحدہ بادشاہ ہے لیکن پہلے لوگوں کو اللہ کی بادشاہت نظرنہ آتی تھی۔ آج ان کا دل دماغ تسلیم کرتا ہے کہ بادشاہت اللہ کی ہے۔ ہر متکبر اور ہر متکبر بھی جان جائے گا کہ بادشاہ صرف اللہ ہے ۔ ہر قسم کی شور وغوغا اس دن ختم ہوگی اور ایک عظیم القدر اور صاحب جلالت آواز آئے گی۔ خود ہی سوال کرے گی اور خود ہی جواب دے گی پوری کائنات میں آج جواب دینے والا ہی کوئی نہیں ہے۔ لمن الملک۔۔۔ القھار (40: 16) ” آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ واحد قہار کی “۔ الیوم تجزٰی۔۔۔۔ الحساب (40: 17) ” آج ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا ، جو اس نے کی تھی ، آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے “۔ آج کا دن جزائے حق کا دن ہے۔ آج عدل کا دن ہے ، آج فیصلے اور حکم سنانے کا دن ہے۔ کوئی مہلت کسی کے لیے نہیں اور نہ سست روی ہے۔ فضا پر رعب اور خاموشی چھا جاتی ہے۔ لوگوں پر خشوع اور خوف طاری ہوجاتا ہے ، تمام مخلوق بات سنتی ہے اور سہم جاتی ہے۔ تمام معاملات طے کردیئے جاتے ہیں اور تمام دفاتر لپیٹ لیے جاتے ہیں ، بڑی تیزی میں ۔ سورت کے آغاز میں کہا گیا تھا کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ فلایغررک تقلبھم فی البلاد (40: 4) ” شہروں میں ان کی چلت پھرت تمہیں دھوکہ نہ دے۔ یہاں بتادیا کہ زمین میں ان کی اس چلت پھرت کا ، ان کی سربلندی اور ناحق بڑائی کا ، ان کی جباری وقہاری کا ، اور ان کی دولت وسازو سامان کا یہ انجام ہے کہ مارے خوف کے سہمے ہوئے ہیں ، بات تک نہیں کرسکتے۔ اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف مڑجاتا ہے کہ اپنی قوم کو اس سخت دن سے ڈرائیں ۔ ایک منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں فیصلے کے اختیارات صرف اللہ کے ہیں ، جبکہ اس سے قبل ان کے اس دن کے حالات حکایتی انداز میں بیان کیے گئے تھے اور اس میں ان کو بات کرنے کی کوئی اجازت نہ تھی۔

غافر 40:14

آیت نمبر 13 تا 17 ھوالذی یریکم اٰیٰته (40: 13) ” وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “۔ اور اللہ کی نشانیاں تو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔ شمس وقمر کی گردش میں ، رات اور دن کے نظام میں۔ رعد وبرق اور بارو باراں میں ، ذرے ، خلیے ، پتے اور پتیوں میں عرض ہر چیز میں ایک معجزانہ نشانی ہے اور اس نشانی کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کی نقل کرنے کے لیے بیٹھے۔ یا اس جیسی کوئی چیز بنائے لیکن اے کاش کہ وہ اس قسم کی کسی چیز کی نقل کرسکتا یا اس جیسی ہی بناسکتا اور اللہ کی بنائی ہوئی ایک نہایت ہی چھوٹی چیز ہی بناسکتا۔ وینزل لکم من السمآء رزقا (40: 13) ” اور آسمانوں سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے “۔ لوگوں کو صرف بارش کے بارے میں علم ہے جس کی وجہ سے اس زمین پر زندگی قائم ہے ، اور یہ کھانے وپینے کے تمام اسباب فراہم کرتی ہے اور آسمانوں سے نازل ہونے والی دوسری اشیاء بھی بیشمار ہیں جن کے انکشافات روز ہوتے رہتے ہیں ، ان میں وہ شعاعیں ہیں جو زندگی بخشتی ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو زمین کے اس ستارے پر زندگی نہ ہوتی اور یہ بھی انسان کے لیے ایک ذہنی اور روحانی غذا ہے جو آدم (علیہ السلام) سے نازل ہوتی چلی آرہی ہے اور جس کے ذریعے انسان سے بچنے سے آگے بڑھ کر بالغ ہوگیا ہے۔ اور اب نبوت محمدی ﷺ کی وجہ سے صراط مستقیم پر گامزن ہوگیا ہے۔ اور اس رزاق نے اسے منہاج حیات دیا ، اور اس کائنات کا مستقل قانون عطا کیا۔ وما یتذکر الامن ینیب (40: 13) ” سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ سے رجوع کرنے والا ہو “۔ جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ اللہ کا فضل وکرم کس قدرعظیم ہے اور وہ اس کائنات میں اللہ کی نشانیوں کو پاتا ہے جبکہ غافل اور سخت دل ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔۔۔۔ انابت کی وجہ سے اہل ایمان کے دل میں جو یاد الہٰی پیدا ہوتی ہے ، اور وہ ان نشانیوں پر غور وفکر کرتے ہیں ، اس کے حوالے سے مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو پکاریں ، اسی کا طے کردہ نظام زندگی جاری کریں اور کافروں کی ناپسندیدگی کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اگر مومنین اپنا دین اللہ کے لیے خالص کردیں اور صرف اسلامی نظام زندگی نافذ کردیں تو اس صورت میں کافران سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتے ۔ اسی طرح وہ اگر اللہ وحدہ کو پکاریں تو بھی کافر راضی نہیں ہوسکتے۔ مومنین کافروں کے ساتھ جس قدر نرمی بھی کریں ، جس قدر مصالحت بھی کریں اور ان کی رضا جوئی کے لیے جس قدر جتن بھی کریں وہ ان سے راضی نہیں ہوسکتے ۔ لہٰذا مومنین کو بےخطر اپنے راستے پر گامزن ہوجانا چاہئے ۔ رب واحد کو پکارنا چاہئے ، اس کے لیے عقیدہ خالص اختیار کرنا چاہئے۔ دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرنا چاہئے ، چاہے کافر خوش ہوں یا خفا ہوں وہ تو کبھی راضی نہ ہوں گے۔ اب بتایا جاتا ہے کہ اس اللہ کی صفات کیا ہیں جس کی عبادت کی طرف اہل ایمان متوجہ ہوں گے اور اس پر کافر ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے۔ وہ صفات یہ ہیں : رفیع الدرجٰت۔۔۔۔۔ من عبادہ (40: 15) ” وہ بلند دوجوں والا ہے ، مالک عرش ہے ، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنے حکم سے روح نازل کردیتا ہے “۔ اللہ ہی رفعتوں والا اور عالی مقام ہے۔ اور وہ ایک ایسے عرش کا مالک ہے جو قابض ہے پوری کائنات پر اور بہت ہی بلند ہے اور یہ وہی ہے جو اپنے بندے پر روحانی تعلیمات نازل کردیتا ہے۔ اور ان کی وجہ سے یہ زمین دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں بسنے والے انسانوں کی روح اور دل زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس سے مراد وحی اور رسالت ہے۔ لیکن انداز تعبیر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وحی اور رسالت کی غرض وغایت کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وحی لوگوں کے لیے روح اور زندگی ہے۔ اور پھر بلندیوں سے چنے ہوئے بندوں پر آتی ہے۔ یہ سب صفات اور سائے اور رنگ اللہ کی اس صفت کے ساتھ متناسب ہیں جن میں کیا گیا ہے کہ وہ العلی الکبیر ہے۔ اب جن لوگوں کو چنا جاتا ہے اور ان پر روح نازل کی جاتی ہے۔ ان کا فریضہ منصبی کیا ہے ؟ صرف لوگوں کو متنبہ کرنا۔ لینذریوم التلاق (40: 15) ” تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کردے “۔ اس دن تمام لوگ باہم ملیں گے ، لوگ اپنے اعمال کے ساتھ دوچار ہوں گے۔ لوگ ملائکہ ، جنوں اور تمام مخلوقات سے ملیں گے اور تمام لوگوں کو بھی باری تعالیٰ سے ملنا ہوگا اور حساب دینا ہوگا۔ گویا یہ دن اپنے تمام مفاہیم کے ساتھ یوم التلاق ہے۔ پھر یہ ایسا دن ہوگا کو کھلا ڈھلا ہوگا ، کوئی پردہ ، کوئی ملع کاری اور کوئی دھوکہ بازی اس میں نہ چلے گی : یوم ھم۔۔۔۔ شئ (40: 16) ” وہ دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن اور کسی بھی حال میں کوئی شئ مخفی نہیں ہوتی ، لیکن دوسرے دنوں میں ، اس دنیا کے دنوں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مخفی ہیں اور ان کے اعمال اور حرکات پوشیدہ ہیں ، آج لوگ خود بھی یہ سمجھیں گے کہ اب تو سب کھل گیا ہے ، ان کا سیاہ وسپید سامنے ہے۔ اور پردے غائب ہیں اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ آج تو مکذبین اور متکبرین برخوردار ہوں گے ، سکڑے اور سمٹے ہوئے ہوں گے۔ تمام کائنات سہمی ہوئی ہوگی ، لوگ ڈرے ہوئے ہوں گے۔ بادشاہت صرف اللہ وحدوقہار کی ہوگی۔ اللہ تو ہر وقت وحدہ بادشاہ ہے لیکن پہلے لوگوں کو اللہ کی بادشاہت نظرنہ آتی تھی۔ آج ان کا دل دماغ تسلیم کرتا ہے کہ بادشاہت اللہ کی ہے۔ ہر متکبر اور ہر متکبر بھی جان جائے گا کہ بادشاہ صرف اللہ ہے ۔ ہر قسم کی شور وغوغا اس دن ختم ہوگی اور ایک عظیم القدر اور صاحب جلالت آواز آئے گی۔ خود ہی سوال کرے گی اور خود ہی جواب دے گی پوری کائنات میں آج جواب دینے والا ہی کوئی نہیں ہے۔ لمن الملک۔۔۔ القھار (40: 16) ” آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ واحد قہار کی “۔ الیوم تجزٰی۔۔۔۔ الحساب (40: 17) ” آج ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا ، جو اس نے کی تھی ، آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے “۔ آج کا دن جزائے حق کا دن ہے۔ آج عدل کا دن ہے ، آج فیصلے اور حکم سنانے کا دن ہے۔ کوئی مہلت کسی کے لیے نہیں اور نہ سست روی ہے۔ فضا پر رعب اور خاموشی چھا جاتی ہے۔ لوگوں پر خشوع اور خوف طاری ہوجاتا ہے ، تمام مخلوق بات سنتی ہے اور سہم جاتی ہے۔ تمام معاملات طے کردیئے جاتے ہیں اور تمام دفاتر لپیٹ لیے جاتے ہیں ، بڑی تیزی میں ۔ سورت کے آغاز میں کہا گیا تھا کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ فلایغررک تقلبھم فی البلاد (40: 4) ” شہروں میں ان کی چلت پھرت تمہیں دھوکہ نہ دے۔ یہاں بتادیا کہ زمین میں ان کی اس چلت پھرت کا ، ان کی سربلندی اور ناحق بڑائی کا ، ان کی جباری وقہاری کا ، اور ان کی دولت وسازو سامان کا یہ انجام ہے کہ مارے خوف کے سہمے ہوئے ہیں ، بات تک نہیں کرسکتے۔ اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف مڑجاتا ہے کہ اپنی قوم کو اس سخت دن سے ڈرائیں ۔ ایک منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں فیصلے کے اختیارات صرف اللہ کے ہیں ، جبکہ اس سے قبل ان کے اس دن کے حالات حکایتی انداز میں بیان کیے گئے تھے اور اس میں ان کو بات کرنے کی کوئی اجازت نہ تھی۔

غافر 40:15

آیت نمبر 13 تا 17 ھوالذی یریکم اٰیٰته (40: 13) ” وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “۔ اور اللہ کی نشانیاں تو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔ شمس وقمر کی گردش میں ، رات اور دن کے نظام میں۔ رعد وبرق اور بارو باراں میں ، ذرے ، خلیے ، پتے اور پتیوں میں عرض ہر چیز میں ایک معجزانہ نشانی ہے اور اس نشانی کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کی نقل کرنے کے لیے بیٹھے۔ یا اس جیسی کوئی چیز بنائے لیکن اے کاش کہ وہ اس قسم کی کسی چیز کی نقل کرسکتا یا اس جیسی ہی بناسکتا اور اللہ کی بنائی ہوئی ایک نہایت ہی چھوٹی چیز ہی بناسکتا۔ وینزل لکم من السمآء رزقا (40: 13) ” اور آسمانوں سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے “۔ لوگوں کو صرف بارش کے بارے میں علم ہے جس کی وجہ سے اس زمین پر زندگی قائم ہے ، اور یہ کھانے وپینے کے تمام اسباب فراہم کرتی ہے اور آسمانوں سے نازل ہونے والی دوسری اشیاء بھی بیشمار ہیں جن کے انکشافات روز ہوتے رہتے ہیں ، ان میں وہ شعاعیں ہیں جو زندگی بخشتی ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو زمین کے اس ستارے پر زندگی نہ ہوتی اور یہ بھی انسان کے لیے ایک ذہنی اور روحانی غذا ہے جو آدم (علیہ السلام) سے نازل ہوتی چلی آرہی ہے اور جس کے ذریعے انسان سے بچنے سے آگے بڑھ کر بالغ ہوگیا ہے۔ اور اب نبوت محمدی ﷺ کی وجہ سے صراط مستقیم پر گامزن ہوگیا ہے۔ اور اس رزاق نے اسے منہاج حیات دیا ، اور اس کائنات کا مستقل قانون عطا کیا۔ وما یتذکر الامن ینیب (40: 13) ” سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ سے رجوع کرنے والا ہو “۔ جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ اللہ کا فضل وکرم کس قدرعظیم ہے اور وہ اس کائنات میں اللہ کی نشانیوں کو پاتا ہے جبکہ غافل اور سخت دل ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔۔۔۔ انابت کی وجہ سے اہل ایمان کے دل میں جو یاد الہٰی پیدا ہوتی ہے ، اور وہ ان نشانیوں پر غور وفکر کرتے ہیں ، اس کے حوالے سے مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو پکاریں ، اسی کا طے کردہ نظام زندگی جاری کریں اور کافروں کی ناپسندیدگی کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اگر مومنین اپنا دین اللہ کے لیے خالص کردیں اور صرف اسلامی نظام زندگی نافذ کردیں تو اس صورت میں کافران سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتے ۔ اسی طرح وہ اگر اللہ وحدہ کو پکاریں تو بھی کافر راضی نہیں ہوسکتے۔ مومنین کافروں کے ساتھ جس قدر نرمی بھی کریں ، جس قدر مصالحت بھی کریں اور ان کی رضا جوئی کے لیے جس قدر جتن بھی کریں وہ ان سے راضی نہیں ہوسکتے ۔ لہٰذا مومنین کو بےخطر اپنے راستے پر گامزن ہوجانا چاہئے ۔ رب واحد کو پکارنا چاہئے ، اس کے لیے عقیدہ خالص اختیار کرنا چاہئے۔ دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرنا چاہئے ، چاہے کافر خوش ہوں یا خفا ہوں وہ تو کبھی راضی نہ ہوں گے۔ اب بتایا جاتا ہے کہ اس اللہ کی صفات کیا ہیں جس کی عبادت کی طرف اہل ایمان متوجہ ہوں گے اور اس پر کافر ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے۔ وہ صفات یہ ہیں : رفیع الدرجٰت۔۔۔۔۔ من عبادہ (40: 15) ” وہ بلند دوجوں والا ہے ، مالک عرش ہے ، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنے حکم سے روح نازل کردیتا ہے “۔ اللہ ہی رفعتوں والا اور عالی مقام ہے۔ اور وہ ایک ایسے عرش کا مالک ہے جو قابض ہے پوری کائنات پر اور بہت ہی بلند ہے اور یہ وہی ہے جو اپنے بندے پر روحانی تعلیمات نازل کردیتا ہے۔ اور ان کی وجہ سے یہ زمین دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں بسنے والے انسانوں کی روح اور دل زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس سے مراد وحی اور رسالت ہے۔ لیکن انداز تعبیر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وحی اور رسالت کی غرض وغایت کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وحی لوگوں کے لیے روح اور زندگی ہے۔ اور پھر بلندیوں سے چنے ہوئے بندوں پر آتی ہے۔ یہ سب صفات اور سائے اور رنگ اللہ کی اس صفت کے ساتھ متناسب ہیں جن میں کیا گیا ہے کہ وہ العلی الکبیر ہے۔ اب جن لوگوں کو چنا جاتا ہے اور ان پر روح نازل کی جاتی ہے۔ ان کا فریضہ منصبی کیا ہے ؟ صرف لوگوں کو متنبہ کرنا۔ لینذریوم التلاق (40: 15) ” تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کردے “۔ اس دن تمام لوگ باہم ملیں گے ، لوگ اپنے اعمال کے ساتھ دوچار ہوں گے۔ لوگ ملائکہ ، جنوں اور تمام مخلوقات سے ملیں گے اور تمام لوگوں کو بھی باری تعالیٰ سے ملنا ہوگا اور حساب دینا ہوگا۔ گویا یہ دن اپنے تمام مفاہیم کے ساتھ یوم التلاق ہے۔ پھر یہ ایسا دن ہوگا کو کھلا ڈھلا ہوگا ، کوئی پردہ ، کوئی ملع کاری اور کوئی دھوکہ بازی اس میں نہ چلے گی : یوم ھم۔۔۔۔ شئ (40: 16) ” وہ دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن اور کسی بھی حال میں کوئی شئ مخفی نہیں ہوتی ، لیکن دوسرے دنوں میں ، اس دنیا کے دنوں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مخفی ہیں اور ان کے اعمال اور حرکات پوشیدہ ہیں ، آج لوگ خود بھی یہ سمجھیں گے کہ اب تو سب کھل گیا ہے ، ان کا سیاہ وسپید سامنے ہے۔ اور پردے غائب ہیں اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ آج تو مکذبین اور متکبرین برخوردار ہوں گے ، سکڑے اور سمٹے ہوئے ہوں گے۔ تمام کائنات سہمی ہوئی ہوگی ، لوگ ڈرے ہوئے ہوں گے۔ بادشاہت صرف اللہ وحدوقہار کی ہوگی۔ اللہ تو ہر وقت وحدہ بادشاہ ہے لیکن پہلے لوگوں کو اللہ کی بادشاہت نظرنہ آتی تھی۔ آج ان کا دل دماغ تسلیم کرتا ہے کہ بادشاہت اللہ کی ہے۔ ہر متکبر اور ہر متکبر بھی جان جائے گا کہ بادشاہ صرف اللہ ہے ۔ ہر قسم کی شور وغوغا اس دن ختم ہوگی اور ایک عظیم القدر اور صاحب جلالت آواز آئے گی۔ خود ہی سوال کرے گی اور خود ہی جواب دے گی پوری کائنات میں آج جواب دینے والا ہی کوئی نہیں ہے۔ لمن الملک۔۔۔ القھار (40: 16) ” آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ واحد قہار کی “۔ الیوم تجزٰی۔۔۔۔ الحساب (40: 17) ” آج ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا ، جو اس نے کی تھی ، آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے “۔ آج کا دن جزائے حق کا دن ہے۔ آج عدل کا دن ہے ، آج فیصلے اور حکم سنانے کا دن ہے۔ کوئی مہلت کسی کے لیے نہیں اور نہ سست روی ہے۔ فضا پر رعب اور خاموشی چھا جاتی ہے۔ لوگوں پر خشوع اور خوف طاری ہوجاتا ہے ، تمام مخلوق بات سنتی ہے اور سہم جاتی ہے۔ تمام معاملات طے کردیئے جاتے ہیں اور تمام دفاتر لپیٹ لیے جاتے ہیں ، بڑی تیزی میں ۔ سورت کے آغاز میں کہا گیا تھا کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ فلایغررک تقلبھم فی البلاد (40: 4) ” شہروں میں ان کی چلت پھرت تمہیں دھوکہ نہ دے۔ یہاں بتادیا کہ زمین میں ان کی اس چلت پھرت کا ، ان کی سربلندی اور ناحق بڑائی کا ، ان کی جباری وقہاری کا ، اور ان کی دولت وسازو سامان کا یہ انجام ہے کہ مارے خوف کے سہمے ہوئے ہیں ، بات تک نہیں کرسکتے۔ اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف مڑجاتا ہے کہ اپنی قوم کو اس سخت دن سے ڈرائیں ۔ ایک منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں فیصلے کے اختیارات صرف اللہ کے ہیں ، جبکہ اس سے قبل ان کے اس دن کے حالات حکایتی انداز میں بیان کیے گئے تھے اور اس میں ان کو بات کرنے کی کوئی اجازت نہ تھی۔

غافر 40:16

آیت نمبر 13 تا 17 ھوالذی یریکم اٰیٰته (40: 13) ” وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “۔ اور اللہ کی نشانیاں تو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔ شمس وقمر کی گردش میں ، رات اور دن کے نظام میں۔ رعد وبرق اور بارو باراں میں ، ذرے ، خلیے ، پتے اور پتیوں میں عرض ہر چیز میں ایک معجزانہ نشانی ہے اور اس نشانی کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کی نقل کرنے کے لیے بیٹھے۔ یا اس جیسی کوئی چیز بنائے لیکن اے کاش کہ وہ اس قسم کی کسی چیز کی نقل کرسکتا یا اس جیسی ہی بناسکتا اور اللہ کی بنائی ہوئی ایک نہایت ہی چھوٹی چیز ہی بناسکتا۔ وینزل لکم من السمآء رزقا (40: 13) ” اور آسمانوں سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے “۔ لوگوں کو صرف بارش کے بارے میں علم ہے جس کی وجہ سے اس زمین پر زندگی قائم ہے ، اور یہ کھانے وپینے کے تمام اسباب فراہم کرتی ہے اور آسمانوں سے نازل ہونے والی دوسری اشیاء بھی بیشمار ہیں جن کے انکشافات روز ہوتے رہتے ہیں ، ان میں وہ شعاعیں ہیں جو زندگی بخشتی ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو زمین کے اس ستارے پر زندگی نہ ہوتی اور یہ بھی انسان کے لیے ایک ذہنی اور روحانی غذا ہے جو آدم (علیہ السلام) سے نازل ہوتی چلی آرہی ہے اور جس کے ذریعے انسان سے بچنے سے آگے بڑھ کر بالغ ہوگیا ہے۔ اور اب نبوت محمدی ﷺ کی وجہ سے صراط مستقیم پر گامزن ہوگیا ہے۔ اور اس رزاق نے اسے منہاج حیات دیا ، اور اس کائنات کا مستقل قانون عطا کیا۔ وما یتذکر الامن ینیب (40: 13) ” سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ سے رجوع کرنے والا ہو “۔ جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ اللہ کا فضل وکرم کس قدرعظیم ہے اور وہ اس کائنات میں اللہ کی نشانیوں کو پاتا ہے جبکہ غافل اور سخت دل ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔۔۔۔ انابت کی وجہ سے اہل ایمان کے دل میں جو یاد الہٰی پیدا ہوتی ہے ، اور وہ ان نشانیوں پر غور وفکر کرتے ہیں ، اس کے حوالے سے مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو پکاریں ، اسی کا طے کردہ نظام زندگی جاری کریں اور کافروں کی ناپسندیدگی کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اگر مومنین اپنا دین اللہ کے لیے خالص کردیں اور صرف اسلامی نظام زندگی نافذ کردیں تو اس صورت میں کافران سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتے ۔ اسی طرح وہ اگر اللہ وحدہ کو پکاریں تو بھی کافر راضی نہیں ہوسکتے۔ مومنین کافروں کے ساتھ جس قدر نرمی بھی کریں ، جس قدر مصالحت بھی کریں اور ان کی رضا جوئی کے لیے جس قدر جتن بھی کریں وہ ان سے راضی نہیں ہوسکتے ۔ لہٰذا مومنین کو بےخطر اپنے راستے پر گامزن ہوجانا چاہئے ۔ رب واحد کو پکارنا چاہئے ، اس کے لیے عقیدہ خالص اختیار کرنا چاہئے۔ دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرنا چاہئے ، چاہے کافر خوش ہوں یا خفا ہوں وہ تو کبھی راضی نہ ہوں گے۔ اب بتایا جاتا ہے کہ اس اللہ کی صفات کیا ہیں جس کی عبادت کی طرف اہل ایمان متوجہ ہوں گے اور اس پر کافر ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے۔ وہ صفات یہ ہیں : رفیع الدرجٰت۔۔۔۔۔ من عبادہ (40: 15) ” وہ بلند دوجوں والا ہے ، مالک عرش ہے ، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنے حکم سے روح نازل کردیتا ہے “۔ اللہ ہی رفعتوں والا اور عالی مقام ہے۔ اور وہ ایک ایسے عرش کا مالک ہے جو قابض ہے پوری کائنات پر اور بہت ہی بلند ہے اور یہ وہی ہے جو اپنے بندے پر روحانی تعلیمات نازل کردیتا ہے۔ اور ان کی وجہ سے یہ زمین دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں بسنے والے انسانوں کی روح اور دل زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس سے مراد وحی اور رسالت ہے۔ لیکن انداز تعبیر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وحی اور رسالت کی غرض وغایت کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وحی لوگوں کے لیے روح اور زندگی ہے۔ اور پھر بلندیوں سے چنے ہوئے بندوں پر آتی ہے۔ یہ سب صفات اور سائے اور رنگ اللہ کی اس صفت کے ساتھ متناسب ہیں جن میں کیا گیا ہے کہ وہ العلی الکبیر ہے۔ اب جن لوگوں کو چنا جاتا ہے اور ان پر روح نازل کی جاتی ہے۔ ان کا فریضہ منصبی کیا ہے ؟ صرف لوگوں کو متنبہ کرنا۔ لینذریوم التلاق (40: 15) ” تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کردے “۔ اس دن تمام لوگ باہم ملیں گے ، لوگ اپنے اعمال کے ساتھ دوچار ہوں گے۔ لوگ ملائکہ ، جنوں اور تمام مخلوقات سے ملیں گے اور تمام لوگوں کو بھی باری تعالیٰ سے ملنا ہوگا اور حساب دینا ہوگا۔ گویا یہ دن اپنے تمام مفاہیم کے ساتھ یوم التلاق ہے۔ پھر یہ ایسا دن ہوگا کو کھلا ڈھلا ہوگا ، کوئی پردہ ، کوئی ملع کاری اور کوئی دھوکہ بازی اس میں نہ چلے گی : یوم ھم۔۔۔۔ شئ (40: 16) ” وہ دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن اور کسی بھی حال میں کوئی شئ مخفی نہیں ہوتی ، لیکن دوسرے دنوں میں ، اس دنیا کے دنوں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مخفی ہیں اور ان کے اعمال اور حرکات پوشیدہ ہیں ، آج لوگ خود بھی یہ سمجھیں گے کہ اب تو سب کھل گیا ہے ، ان کا سیاہ وسپید سامنے ہے۔ اور پردے غائب ہیں اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ آج تو مکذبین اور متکبرین برخوردار ہوں گے ، سکڑے اور سمٹے ہوئے ہوں گے۔ تمام کائنات سہمی ہوئی ہوگی ، لوگ ڈرے ہوئے ہوں گے۔ بادشاہت صرف اللہ وحدوقہار کی ہوگی۔ اللہ تو ہر وقت وحدہ بادشاہ ہے لیکن پہلے لوگوں کو اللہ کی بادشاہت نظرنہ آتی تھی۔ آج ان کا دل دماغ تسلیم کرتا ہے کہ بادشاہت اللہ کی ہے۔ ہر متکبر اور ہر متکبر بھی جان جائے گا کہ بادشاہ صرف اللہ ہے ۔ ہر قسم کی شور وغوغا اس دن ختم ہوگی اور ایک عظیم القدر اور صاحب جلالت آواز آئے گی۔ خود ہی سوال کرے گی اور خود ہی جواب دے گی پوری کائنات میں آج جواب دینے والا ہی کوئی نہیں ہے۔ لمن الملک۔۔۔ القھار (40: 16) ” آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ واحد قہار کی “۔ الیوم تجزٰی۔۔۔۔ الحساب (40: 17) ” آج ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا ، جو اس نے کی تھی ، آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے “۔ آج کا دن جزائے حق کا دن ہے۔ آج عدل کا دن ہے ، آج فیصلے اور حکم سنانے کا دن ہے۔ کوئی مہلت کسی کے لیے نہیں اور نہ سست روی ہے۔ فضا پر رعب اور خاموشی چھا جاتی ہے۔ لوگوں پر خشوع اور خوف طاری ہوجاتا ہے ، تمام مخلوق بات سنتی ہے اور سہم جاتی ہے۔ تمام معاملات طے کردیئے جاتے ہیں اور تمام دفاتر لپیٹ لیے جاتے ہیں ، بڑی تیزی میں ۔ سورت کے آغاز میں کہا گیا تھا کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ فلایغررک تقلبھم فی البلاد (40: 4) ” شہروں میں ان کی چلت پھرت تمہیں دھوکہ نہ دے۔ یہاں بتادیا کہ زمین میں ان کی اس چلت پھرت کا ، ان کی سربلندی اور ناحق بڑائی کا ، ان کی جباری وقہاری کا ، اور ان کی دولت وسازو سامان کا یہ انجام ہے کہ مارے خوف کے سہمے ہوئے ہیں ، بات تک نہیں کرسکتے۔ اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف مڑجاتا ہے کہ اپنی قوم کو اس سخت دن سے ڈرائیں ۔ ایک منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں فیصلے کے اختیارات صرف اللہ کے ہیں ، جبکہ اس سے قبل ان کے اس دن کے حالات حکایتی انداز میں بیان کیے گئے تھے اور اس میں ان کو بات کرنے کی کوئی اجازت نہ تھی۔

غافر 40:17

آیت نمبر 13 تا 17 ھوالذی یریکم اٰیٰته (40: 13) ” وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “۔ اور اللہ کی نشانیاں تو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔ شمس وقمر کی گردش میں ، رات اور دن کے نظام میں۔ رعد وبرق اور بارو باراں میں ، ذرے ، خلیے ، پتے اور پتیوں میں عرض ہر چیز میں ایک معجزانہ نشانی ہے اور اس نشانی کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کی نقل کرنے کے لیے بیٹھے۔ یا اس جیسی کوئی چیز بنائے لیکن اے کاش کہ وہ اس قسم کی کسی چیز کی نقل کرسکتا یا اس جیسی ہی بناسکتا اور اللہ کی بنائی ہوئی ایک نہایت ہی چھوٹی چیز ہی بناسکتا۔ وینزل لکم من السمآء رزقا (40: 13) ” اور آسمانوں سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے “۔ لوگوں کو صرف بارش کے بارے میں علم ہے جس کی وجہ سے اس زمین پر زندگی قائم ہے ، اور یہ کھانے وپینے کے تمام اسباب فراہم کرتی ہے اور آسمانوں سے نازل ہونے والی دوسری اشیاء بھی بیشمار ہیں جن کے انکشافات روز ہوتے رہتے ہیں ، ان میں وہ شعاعیں ہیں جو زندگی بخشتی ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو زمین کے اس ستارے پر زندگی نہ ہوتی اور یہ بھی انسان کے لیے ایک ذہنی اور روحانی غذا ہے جو آدم (علیہ السلام) سے نازل ہوتی چلی آرہی ہے اور جس کے ذریعے انسان سے بچنے سے آگے بڑھ کر بالغ ہوگیا ہے۔ اور اب نبوت محمدی ﷺ کی وجہ سے صراط مستقیم پر گامزن ہوگیا ہے۔ اور اس رزاق نے اسے منہاج حیات دیا ، اور اس کائنات کا مستقل قانون عطا کیا۔ وما یتذکر الامن ینیب (40: 13) ” سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ سے رجوع کرنے والا ہو “۔ جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ اللہ کا فضل وکرم کس قدرعظیم ہے اور وہ اس کائنات میں اللہ کی نشانیوں کو پاتا ہے جبکہ غافل اور سخت دل ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔۔۔۔ انابت کی وجہ سے اہل ایمان کے دل میں جو یاد الہٰی پیدا ہوتی ہے ، اور وہ ان نشانیوں پر غور وفکر کرتے ہیں ، اس کے حوالے سے مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ وحدہ کو پکاریں ، اسی کا طے کردہ نظام زندگی جاری کریں اور کافروں کی ناپسندیدگی کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اگر مومنین اپنا دین اللہ کے لیے خالص کردیں اور صرف اسلامی نظام زندگی نافذ کردیں تو اس صورت میں کافران سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتے ۔ اسی طرح وہ اگر اللہ وحدہ کو پکاریں تو بھی کافر راضی نہیں ہوسکتے۔ مومنین کافروں کے ساتھ جس قدر نرمی بھی کریں ، جس قدر مصالحت بھی کریں اور ان کی رضا جوئی کے لیے جس قدر جتن بھی کریں وہ ان سے راضی نہیں ہوسکتے ۔ لہٰذا مومنین کو بےخطر اپنے راستے پر گامزن ہوجانا چاہئے ۔ رب واحد کو پکارنا چاہئے ، اس کے لیے عقیدہ خالص اختیار کرنا چاہئے۔ دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرنا چاہئے ، چاہے کافر خوش ہوں یا خفا ہوں وہ تو کبھی راضی نہ ہوں گے۔ اب بتایا جاتا ہے کہ اس اللہ کی صفات کیا ہیں جس کی عبادت کی طرف اہل ایمان متوجہ ہوں گے اور اس پر کافر ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے۔ وہ صفات یہ ہیں : رفیع الدرجٰت۔۔۔۔۔ من عبادہ (40: 15) ” وہ بلند دوجوں والا ہے ، مالک عرش ہے ، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنے حکم سے روح نازل کردیتا ہے “۔ اللہ ہی رفعتوں والا اور عالی مقام ہے۔ اور وہ ایک ایسے عرش کا مالک ہے جو قابض ہے پوری کائنات پر اور بہت ہی بلند ہے اور یہ وہی ہے جو اپنے بندے پر روحانی تعلیمات نازل کردیتا ہے۔ اور ان کی وجہ سے یہ زمین دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں بسنے والے انسانوں کی روح اور دل زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس سے مراد وحی اور رسالت ہے۔ لیکن انداز تعبیر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وحی اور رسالت کی غرض وغایت کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وحی لوگوں کے لیے روح اور زندگی ہے۔ اور پھر بلندیوں سے چنے ہوئے بندوں پر آتی ہے۔ یہ سب صفات اور سائے اور رنگ اللہ کی اس صفت کے ساتھ متناسب ہیں جن میں کیا گیا ہے کہ وہ العلی الکبیر ہے۔ اب جن لوگوں کو چنا جاتا ہے اور ان پر روح نازل کی جاتی ہے۔ ان کا فریضہ منصبی کیا ہے ؟ صرف لوگوں کو متنبہ کرنا۔ لینذریوم التلاق (40: 15) ” تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کردے “۔ اس دن تمام لوگ باہم ملیں گے ، لوگ اپنے اعمال کے ساتھ دوچار ہوں گے۔ لوگ ملائکہ ، جنوں اور تمام مخلوقات سے ملیں گے اور تمام لوگوں کو بھی باری تعالیٰ سے ملنا ہوگا اور حساب دینا ہوگا۔ گویا یہ دن اپنے تمام مفاہیم کے ساتھ یوم التلاق ہے۔ پھر یہ ایسا دن ہوگا کو کھلا ڈھلا ہوگا ، کوئی پردہ ، کوئی ملع کاری اور کوئی دھوکہ بازی اس میں نہ چلے گی : یوم ھم۔۔۔۔ شئ (40: 16) ” وہ دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن جبکہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اور اللہ سے تو کسی بھی وقت ، کسی بھی دن اور کسی بھی حال میں کوئی شئ مخفی نہیں ہوتی ، لیکن دوسرے دنوں میں ، اس دنیا کے دنوں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مخفی ہیں اور ان کے اعمال اور حرکات پوشیدہ ہیں ، آج لوگ خود بھی یہ سمجھیں گے کہ اب تو سب کھل گیا ہے ، ان کا سیاہ وسپید سامنے ہے۔ اور پردے غائب ہیں اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ آج تو مکذبین اور متکبرین برخوردار ہوں گے ، سکڑے اور سمٹے ہوئے ہوں گے۔ تمام کائنات سہمی ہوئی ہوگی ، لوگ ڈرے ہوئے ہوں گے۔ بادشاہت صرف اللہ وحدوقہار کی ہوگی۔ اللہ تو ہر وقت وحدہ بادشاہ ہے لیکن پہلے لوگوں کو اللہ کی بادشاہت نظرنہ آتی تھی۔ آج ان کا دل دماغ تسلیم کرتا ہے کہ بادشاہت اللہ کی ہے۔ ہر متکبر اور ہر متکبر بھی جان جائے گا کہ بادشاہ صرف اللہ ہے ۔ ہر قسم کی شور وغوغا اس دن ختم ہوگی اور ایک عظیم القدر اور صاحب جلالت آواز آئے گی۔ خود ہی سوال کرے گی اور خود ہی جواب دے گی پوری کائنات میں آج جواب دینے والا ہی کوئی نہیں ہے۔ لمن الملک۔۔۔ القھار (40: 16) ” آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ واحد قہار کی “۔ الیوم تجزٰی۔۔۔۔ الحساب (40: 17) ” آج ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا ، جو اس نے کی تھی ، آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے “۔ آج کا دن جزائے حق کا دن ہے۔ آج عدل کا دن ہے ، آج فیصلے اور حکم سنانے کا دن ہے۔ کوئی مہلت کسی کے لیے نہیں اور نہ سست روی ہے۔ فضا پر رعب اور خاموشی چھا جاتی ہے۔ لوگوں پر خشوع اور خوف طاری ہوجاتا ہے ، تمام مخلوق بات سنتی ہے اور سہم جاتی ہے۔ تمام معاملات طے کردیئے جاتے ہیں اور تمام دفاتر لپیٹ لیے جاتے ہیں ، بڑی تیزی میں ۔ سورت کے آغاز میں کہا گیا تھا کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ فلایغررک تقلبھم فی البلاد (40: 4) ” شہروں میں ان کی چلت پھرت تمہیں دھوکہ نہ دے۔ یہاں بتادیا کہ زمین میں ان کی اس چلت پھرت کا ، ان کی سربلندی اور ناحق بڑائی کا ، ان کی جباری وقہاری کا ، اور ان کی دولت وسازو سامان کا یہ انجام ہے کہ مارے خوف کے سہمے ہوئے ہیں ، بات تک نہیں کرسکتے۔ اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف مڑجاتا ہے کہ اپنی قوم کو اس سخت دن سے ڈرائیں ۔ ایک منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں فیصلے کے اختیارات صرف اللہ کے ہیں ، جبکہ اس سے قبل ان کے اس دن کے حالات حکایتی انداز میں بیان کیے گئے تھے اور اس میں ان کو بات کرنے کی کوئی اجازت نہ تھی۔

غافر 40:18

آیت نمبر 18 تا 20 آزفہ کے معنی ہوتے ہیں قریبہ ، جلدی آنے والی ، معنی ہے قیامت ۔ یہ لفظ قامت کی تصویر اس طرح کھینچ رہا ہے کہ گویا وہ پہنچنے ہی والی ہے۔ انسانی سانس تیز ہوگا ، لوگ ہانپ رہے ہوں گے۔ اور کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے اور لوگوں پر بہت بڑا دباؤ ہوگا لیکن یہ پریشان دل لوگ دباؤ کا مقابلہ کرنے کی سعی کریں گے۔ سانس کی تیزی کو روک رہے ہوں گے۔ دورپر قابو پانے کی سعی کریں گے ، خوف کو چھپائیں گے۔ اور اس برداشت کی وجہ سے ان پر مزید دباؤ ہوگا ، ان کے سینے پھٹ رہے ہوں گے۔ کوئی دوست نہ ہوگا جس کے سامنے سینہ کھول کر رکھ دیں اور وہ ہمدردی کرے ، کوئی سفارشی نہ ہوگا جو ان کے حق میں کوئی بات کرے۔ اس قدر خوفناک اور کربناک مقام پر کوئی کیا بات کرسکتا ہے۔ ان کے راز اس دن کھلیں گے ، ان کی کوئی بات اللہ سے مخفی نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ آنکھوں کے خائن کی کوئی بات بھی مخفی نہ ہوگی اور دلوں کے راز بھی مخفی نہ ہوں گے۔ یعلم خآئنة الاعین وما تخفی الصدور (40: 19) ” اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے ، اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں میں چھپا رکھے ہیں “۔ خائن آنکھیں ہمیشہ اپنی خیانت کو چھپائے رکھتی ہیں۔ لیکن اللہ پر تو کوئی بات مخفی نہیں ہوتی ، نہ دلوں کا راز مخفی ہوتا ہے ، اللہ تو سب کچھ جانتا ہے۔ اس دن صرف اللہ ہی فیصلے کرے گا۔ یہ سچے فیصلے ہوں گے۔ لوگوں کو الٰہ بنارکھا ہے ، ان کا کوئی اختیار نہ ہوگا اور نہ وہ فیصلہ کرسکیں گے۔ واللہ یقضی۔۔۔۔ بشئ (40: 20) ” اور اللہ ٹھیک ٹھیک بےلاگ فیصلے کرے گا۔ رہے وہ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی کرنے والے نہیں ہیں “۔ اللہ حق کے فیصلے علم ومہارت سے کرتا ہے۔ وہ دیکھ سن کر فیصلے کرتا ہے۔ نہ کسی پر ظلم کرتا ہے اور نہ کوئی چیز بھولتا ہے۔ ان اللہ ھو السمیع البصیر (40: 20) ” بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے

غافر 40:19

آیت نمبر 18 تا 20 آزفہ کے معنی ہوتے ہیں قریبہ ، جلدی آنے والی ، معنی ہے قیامت ۔ یہ لفظ قامت کی تصویر اس طرح کھینچ رہا ہے کہ گویا وہ پہنچنے ہی والی ہے۔ انسانی سانس تیز ہوگا ، لوگ ہانپ رہے ہوں گے۔ اور کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے اور لوگوں پر بہت بڑا دباؤ ہوگا لیکن یہ پریشان دل لوگ دباؤ کا مقابلہ کرنے کی سعی کریں گے۔ سانس کی تیزی کو روک رہے ہوں گے۔ دورپر قابو پانے کی سعی کریں گے ، خوف کو چھپائیں گے۔ اور اس برداشت کی وجہ سے ان پر مزید دباؤ ہوگا ، ان کے سینے پھٹ رہے ہوں گے۔ کوئی دوست نہ ہوگا جس کے سامنے سینہ کھول کر رکھ دیں اور وہ ہمدردی کرے ، کوئی سفارشی نہ ہوگا جو ان کے حق میں کوئی بات کرے۔ اس قدر خوفناک اور کربناک مقام پر کوئی کیا بات کرسکتا ہے۔ ان کے راز اس دن کھلیں گے ، ان کی کوئی بات اللہ سے مخفی نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ آنکھوں کے خائن کی کوئی بات بھی مخفی نہ ہوگی اور دلوں کے راز بھی مخفی نہ ہوں گے۔ یعلم خآئنة الاعین وما تخفی الصدور (40: 19) ” اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے ، اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں میں چھپا رکھے ہیں “۔ خائن آنکھیں ہمیشہ اپنی خیانت کو چھپائے رکھتی ہیں۔ لیکن اللہ پر تو کوئی بات مخفی نہیں ہوتی ، نہ دلوں کا راز مخفی ہوتا ہے ، اللہ تو سب کچھ جانتا ہے۔ اس دن صرف اللہ ہی فیصلے کرے گا۔ یہ سچے فیصلے ہوں گے۔ لوگوں کو الٰہ بنارکھا ہے ، ان کا کوئی اختیار نہ ہوگا اور نہ وہ فیصلہ کرسکیں گے۔ واللہ یقضی۔۔۔۔ بشئ (40: 20) ” اور اللہ ٹھیک ٹھیک بےلاگ فیصلے کرے گا۔ رہے وہ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی کرنے والے نہیں ہیں “۔ اللہ حق کے فیصلے علم ومہارت سے کرتا ہے۔ وہ دیکھ سن کر فیصلے کرتا ہے۔ نہ کسی پر ظلم کرتا ہے اور نہ کوئی چیز بھولتا ہے۔ ان اللہ ھو السمیع البصیر (40: 20) ” بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے

غافر 40:20

آیت نمبر 18 تا 20 آزفہ کے معنی ہوتے ہیں قریبہ ، جلدی آنے والی ، معنی ہے قیامت ۔ یہ لفظ قامت کی تصویر اس طرح کھینچ رہا ہے کہ گویا وہ پہنچنے ہی والی ہے۔ انسانی سانس تیز ہوگا ، لوگ ہانپ رہے ہوں گے۔ اور کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے اور لوگوں پر بہت بڑا دباؤ ہوگا لیکن یہ پریشان دل لوگ دباؤ کا مقابلہ کرنے کی سعی کریں گے۔ سانس کی تیزی کو روک رہے ہوں گے۔ دورپر قابو پانے کی سعی کریں گے ، خوف کو چھپائیں گے۔ اور اس برداشت کی وجہ سے ان پر مزید دباؤ ہوگا ، ان کے سینے پھٹ رہے ہوں گے۔ کوئی دوست نہ ہوگا جس کے سامنے سینہ کھول کر رکھ دیں اور وہ ہمدردی کرے ، کوئی سفارشی نہ ہوگا جو ان کے حق میں کوئی بات کرے۔ اس قدر خوفناک اور کربناک مقام پر کوئی کیا بات کرسکتا ہے۔ ان کے راز اس دن کھلیں گے ، ان کی کوئی بات اللہ سے مخفی نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ آنکھوں کے خائن کی کوئی بات بھی مخفی نہ ہوگی اور دلوں کے راز بھی مخفی نہ ہوں گے۔ یعلم خآئنة الاعین وما تخفی الصدور (40: 19) ” اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے ، اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں میں چھپا رکھے ہیں “۔ خائن آنکھیں ہمیشہ اپنی خیانت کو چھپائے رکھتی ہیں۔ لیکن اللہ پر تو کوئی بات مخفی نہیں ہوتی ، نہ دلوں کا راز مخفی ہوتا ہے ، اللہ تو سب کچھ جانتا ہے۔ اس دن صرف اللہ ہی فیصلے کرے گا۔ یہ سچے فیصلے ہوں گے۔ لوگوں کو الٰہ بنارکھا ہے ، ان کا کوئی اختیار نہ ہوگا اور نہ وہ فیصلہ کرسکیں گے۔ واللہ یقضی۔۔۔۔ بشئ (40: 20) ” اور اللہ ٹھیک ٹھیک بےلاگ فیصلے کرے گا۔ رہے وہ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی کرنے والے نہیں ہیں “۔ اللہ حق کے فیصلے علم ومہارت سے کرتا ہے۔ وہ دیکھ سن کر فیصلے کرتا ہے۔ نہ کسی پر ظلم کرتا ہے اور نہ کوئی چیز بھولتا ہے۔ ان اللہ ھو السمیع البصیر (40: 20) ” بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے

غافر 40:21

درس نمبر 224 ایک نظر میں اس سے قبل ہم اس سبق پر اجمالی تبصرہ کر آئے ہیں ۔ تفصیلی تشریح سے قبل یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ یہاں یہ قصہ سورت کے موضوع کی مناسبت سے لایا گیا ہے۔ اور اس سورت کے انداز بیان کے ساتھ ہم آہنگ کرکے لایا گیا ہے ، بلکہ بعض اسی سورت کے فقروں ہی کو استعمال کیا گیا ہے۔ اور ایک ہی انداز بیان اختیار کیا ہے۔ مثلاً رجل مومن فرعون کے سامنے جو تقریر کرتا ہے ، اس کے بعض فقرے اس سے قبل اسی سورت میں موجود ہیں۔ وہ فرعون ، ہامان اور قارون کو نصیحت کرتا ہے کہ تم لوگ زمین میں چلت پھرت رکھتے ہو ، نیز ان کو وہ ایک ایسے دن سے ڈراتا ہے جو دوسری اقوام کو پیش آیا۔ اور وہ ان کو قیامت کے دن سے بھی اسی طرح ڈراتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل سورت میں قامت کے مشاہد ذکر ہوئے۔ یہ اس بات کو دہراتا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ اللہ کی ناراضگی کا ذکر ، اہل ایمان کی ناراضی جسطرح پہلے سبق میں ذکر ہوئی۔ اسکے بعد جہنم میں ان کا منظر ، جہاں سے وہ نکالے جانے کی درخواست کرینگے لیکن منظور نہ ہوگی جیسا کہ ایسا ہی منظر اس سے پہلے ذکر ہو۔ رجل مومن کی پوری تقریر اس سورت کے مضامین کو دہراتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان سب کے سب ایک طرح سوچا کرتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس تقریر سے سورت کی فضا یک رنگ ہوجاتی ہے۔ اس سورت کی ایک شخصیت سامنے آتی ہے جس کے خدوخال واضح ہیں اور یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن میں پیش نظر رکھی گئی ہے۔ درس نمبر 224 تشریح آیات آیت نمبر 21 تا 22 یہ آیات قصہ موسیٰ اور سورت کے سابقہ مضامین کے درمیان پل کا کام دے رہی ہیں۔ مشرکین مکہ کو یاد دلاتی ہیں کہ تم ذرا ان تاریخی واقعات پر غور کرو اور ان سے عبرت حاصل کرو جو تمہارے گردوپیش ہی میں واقع ہوئے۔ زمین کے اندر پھرو اور گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے واقعات پر غور کرو ، جنہوں نے سچائی کے مقابلے میں وہی رویہ اختیار کیا تھا جو تم نے اختیار کررکھا ہے۔ وہ قوت کے اعتبار سے اور زمین کے اوپر آثار چھوڑنے کے اعتبار سے تمہارے مقابلے میں زیادہ قوی تھے لیکن اپنی اس زبردست تہذیب و تمدن کے باوجود اللہ کے عذاب کے مقابلے میں بےبس تھے۔ اپنے گناہوں کی وجہ سے وہ قوت کے اصلی مرکز سے دور ہوگئے تھے۔ چناچہ ان کے گناہوں نے اہل ایمان کو دعوت دی کہ وہ ان کی ہلاکت کے لیے اٹھیں جن کے ساتھ اللہ عزیز وقہار کی قوتیں معاون مددگار تھیں۔ فاخذھم ۔۔۔۔ من واق (40: 21) ” مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا “۔ کیونکہ بچانے والی چیز ایمان اور عمل صالح ہوتی ہے۔ اور اس سے وہ محروم تھے ۔ پھر بچانے والی چیز یہ ہوتی ہے کہ انسان ایمان عمل صالح اور سچائی کے محاذ کے ساتھ ہو لیکن وہ تو تکذیب کرنے والے اور اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والے تھے اور ان چیزوں اک انجام بربادی اور ہلاکت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ ذٰلک بانھم۔۔۔۔۔ العقاب (40: 22) ” یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول بینات لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ یقیناً وہ بڑی قوت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔ اس اصولی اور کلی اشارے کے بعد اب اللہ تعالیٰ ایسی اقوام میں سے ایک نمونہ پیش فرماتا ہے۔ یہ لوگ مشرکین ن کہ سے بہت قوی تھے اور انہوں نے زمین پر بہت سے آثار چھوڑے تھے۔ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے انہیں پکڑلیا۔ یہ تھے فرعون ، قارون اور ہامان۔ اور ان کے ساتھ بڑے بننے والوں کے ٹولے بھی تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ کئی حصوں اور مناظر پر مشتمل ہے۔ آغاز اس مقام سے ہوتا ہے جہاں حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور اس کا انجام اس پر ہوتا ہے کہ آخرت میں جہنم رسید ہوکر وہ آگ میں باہم لڑتے ہیں۔ یہ بہت ہی طویل سفر ہے لیکن یہاں اس طویل سفر کی جھلکیوں پر اکتفاء کیا گیا ہے اور یہ جھلکیاں اس قصے کے وہ تمام حصے دکھا دیتی ہیں جو یہاں مطلوب ہیں۔

غافر 40:22

درس نمبر 224 ایک نظر میں اس سے قبل ہم اس سبق پر اجمالی تبصرہ کر آئے ہیں ۔ تفصیلی تشریح سے قبل یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ یہاں یہ قصہ سورت کے موضوع کی مناسبت سے لایا گیا ہے۔ اور اس سورت کے انداز بیان کے ساتھ ہم آہنگ کرکے لایا گیا ہے ، بلکہ بعض اسی سورت کے فقروں ہی کو استعمال کیا گیا ہے۔ اور ایک ہی انداز بیان اختیار کیا ہے۔ مثلاً رجل مومن فرعون کے سامنے جو تقریر کرتا ہے ، اس کے بعض فقرے اس سے قبل اسی سورت میں موجود ہیں۔ وہ فرعون ، ہامان اور قارون کو نصیحت کرتا ہے کہ تم لوگ زمین میں چلت پھرت رکھتے ہو ، نیز ان کو وہ ایک ایسے دن سے ڈراتا ہے جو دوسری اقوام کو پیش آیا۔ اور وہ ان کو قیامت کے دن سے بھی اسی طرح ڈراتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل سورت میں قامت کے مشاہد ذکر ہوئے۔ یہ اس بات کو دہراتا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ اللہ کی ناراضگی کا ذکر ، اہل ایمان کی ناراضی جسطرح پہلے سبق میں ذکر ہوئی۔ اسکے بعد جہنم میں ان کا منظر ، جہاں سے وہ نکالے جانے کی درخواست کرینگے لیکن منظور نہ ہوگی جیسا کہ ایسا ہی منظر اس سے پہلے ذکر ہو۔ رجل مومن کی پوری تقریر اس سورت کے مضامین کو دہراتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان سب کے سب ایک طرح سوچا کرتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس تقریر سے سورت کی فضا یک رنگ ہوجاتی ہے۔ اس سورت کی ایک شخصیت سامنے آتی ہے جس کے خدوخال واضح ہیں اور یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن میں پیش نظر رکھی گئی ہے۔ درس نمبر 224 تشریح آیات آیت نمبر 21 تا 22 یہ آیات قصہ موسیٰ اور سورت کے سابقہ مضامین کے درمیان پل کا کام دے رہی ہیں۔ مشرکین مکہ کو یاد دلاتی ہیں کہ تم ذرا ان تاریخی واقعات پر غور کرو اور ان سے عبرت حاصل کرو جو تمہارے گردوپیش ہی میں واقع ہوئے۔ زمین کے اندر پھرو اور گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے واقعات پر غور کرو ، جنہوں نے سچائی کے مقابلے میں وہی رویہ اختیار کیا تھا جو تم نے اختیار کررکھا ہے۔ وہ قوت کے اعتبار سے اور زمین کے اوپر آثار چھوڑنے کے اعتبار سے تمہارے مقابلے میں زیادہ قوی تھے لیکن اپنی اس زبردست تہذیب و تمدن کے باوجود اللہ کے عذاب کے مقابلے میں بےبس تھے۔ اپنے گناہوں کی وجہ سے وہ قوت کے اصلی مرکز سے دور ہوگئے تھے۔ چناچہ ان کے گناہوں نے اہل ایمان کو دعوت دی کہ وہ ان کی ہلاکت کے لیے اٹھیں جن کے ساتھ اللہ عزیز وقہار کی قوتیں معاون مددگار تھیں۔ فاخذھم ۔۔۔۔ من واق (40: 21) ” مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا “۔ کیونکہ بچانے والی چیز ایمان اور عمل صالح ہوتی ہے۔ اور اس سے وہ محروم تھے ۔ پھر بچانے والی چیز یہ ہوتی ہے کہ انسان ایمان عمل صالح اور سچائی کے محاذ کے ساتھ ہو لیکن وہ تو تکذیب کرنے والے اور اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والے تھے اور ان چیزوں اک انجام بربادی اور ہلاکت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ ذٰلک بانھم۔۔۔۔۔ العقاب (40: 22) ” یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول بینات لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ یقیناً وہ بڑی قوت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔ اس اصولی اور کلی اشارے کے بعد اب اللہ تعالیٰ ایسی اقوام میں سے ایک نمونہ پیش فرماتا ہے۔ یہ لوگ مشرکین ن کہ سے بہت قوی تھے اور انہوں نے زمین پر بہت سے آثار چھوڑے تھے۔ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے انہیں پکڑلیا۔ یہ تھے فرعون ، قارون اور ہامان۔ اور ان کے ساتھ بڑے بننے والوں کے ٹولے بھی تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ کئی حصوں اور مناظر پر مشتمل ہے۔ آغاز اس مقام سے ہوتا ہے جہاں حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور اس کا انجام اس پر ہوتا ہے کہ آخرت میں جہنم رسید ہوکر وہ آگ میں باہم لڑتے ہیں۔ یہ بہت ہی طویل سفر ہے لیکن یہاں اس طویل سفر کی جھلکیوں پر اکتفاء کیا گیا ہے اور یہ جھلکیاں اس قصے کے وہ تمام حصے دکھا دیتی ہیں جو یہاں مطلوب ہیں۔

غافر 40:23

آیت نمبر 23 تا 24 یہ ہے فرعون کے ساتھ ملاپ۔ حضرت موسیٰ بمعہ معجزات کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ وہ ہیبت بھی ہے جو ہر سچائی کے ساتھ ہوتی ہے اور سچائی ان کے ہاتھ میں ہے۔ فرعون ، ہامان اور قارون بھی موجود ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا کھوٹا اور باطل موقف ہے اور ان کے ساتھ ان کی ظاہری قوت ہے اور وہ مقام و مرتبہ ہے جس کے چلے جانے کا ان کو بہت ڈر ہے ، یہ لوگ سچائی کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ چناچہ یہ اب باطل بحث ومباحثے میں پڑگئے ہیں۔ چناچہ وہ کہتے ہیں سحر کذاب (40: 24) ” جادو گر ہے جھوٹا ہے “۔ یہاں اب قصے میں سے وہ تمام حصے کاٹ دیئے جاتے ہیں ، جو اس مباحثے کے بعد پیش آئے۔ جادو گروں کے ساتھ مقابلے کا حصہ بھی کٹ جاتا ہے ، جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے سب باطل جادوٹونوں کو عصائے موسوی چاٹ گیا تو وہ ایمان لاتے ہیں تو یہ سب حصے کاٹ کر فرعونیوں کے وہ اقدامات لائے جاتے ہیں جو انہوں نے میدان میں ہارنے کے بعد کیے۔

غافر 40:24

آیت نمبر 23 تا 24 یہ ہے فرعون کے ساتھ ملاپ۔ حضرت موسیٰ بمعہ معجزات کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ وہ ہیبت بھی ہے جو ہر سچائی کے ساتھ ہوتی ہے اور سچائی ان کے ہاتھ میں ہے۔ فرعون ، ہامان اور قارون بھی موجود ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا کھوٹا اور باطل موقف ہے اور ان کے ساتھ ان کی ظاہری قوت ہے اور وہ مقام و مرتبہ ہے جس کے چلے جانے کا ان کو بہت ڈر ہے ، یہ لوگ سچائی کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ چناچہ یہ اب باطل بحث ومباحثے میں پڑگئے ہیں۔ چناچہ وہ کہتے ہیں سحر کذاب (40: 24) ” جادو گر ہے جھوٹا ہے “۔ یہاں اب قصے میں سے وہ تمام حصے کاٹ دیئے جاتے ہیں ، جو اس مباحثے کے بعد پیش آئے۔ جادو گروں کے ساتھ مقابلے کا حصہ بھی کٹ جاتا ہے ، جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے سب باطل جادوٹونوں کو عصائے موسوی چاٹ گیا تو وہ ایمان لاتے ہیں تو یہ سب حصے کاٹ کر فرعونیوں کے وہ اقدامات لائے جاتے ہیں جو انہوں نے میدان میں ہارنے کے بعد کیے۔

غافر 40:25

آیت نمبر 25 یہی انداز ہمیشہ سب سرکشوں کا ہوتا ہے جب ان سے دلیل وحجت کے ہتھیار ختم ہوتے ہیں تو وہ تشدد کے ہتھیار تھام لیتے ہیں ، جب بھی دلائل کے اعتبار سے وہ ذلیل ہوتے ہیں اور ان کو یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ حق تو غالب آنے والا ہے کیونکہ اس کی بات صاف ، زور دار ہے۔ واضح اور قابل فہم ہے ، اور دل لگتی اور فطرت کو اپیل کرتی ہے ، جس طرح جادوگروں کی فطرت نے قبول کرلیا ، وہ ایمان لے آئے حالانکہ وہ مقابلے کے لیے لائے گئے تھے۔ انہوں نے حق کو قبول کرکے فرعون کا مقابلہ شروع کردیا حالانکہ وہ بہت بڑا جبار تھا۔ اس پر تبصرہ نہایت برمحل ہے ” کافروں کی چال اکارت گئی “۔ اب فرعون اور ہامان اور قارون کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا : اقتلوآ۔۔۔ ھم (40: 25) ” جو لوگ ایمان لاکر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان کے لڑکوں کو جیتا چھوڑدو “۔ فرعون نے اس قسم کا حکم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے زمانے میں کیا تھا۔ ہو سکتا کہ اس سے پہلے فرمان کے صدور کے بعد یہ ہوا کہ جس فرعون نے یہ حکم جاری کیا تھا وہ مر گیا ہو ، اور اس کا بیٹا اور ولی عہد فرعون مقرر ہوگیا ہو اور جدید عہد میں یہ ظالمانہ فرمان مردہ قانون ہوگیا ہو ، اور حضرت موسیٰ جب آئے اور انہوں نے فرعون کو دعوت دی تو وہ آپ کو جانتا تھا کیونکہ آپ کی تربیت تو شاہی محل میں ہوئی تھی۔ اور یہ جدید فرعون یہ بھی جانتا تھا کہ سابقہ حکومت نے ایک فرعون بنی اسرائیلی کے خلاف جاری کیا تھا کہ ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑو اور مردوں کو قتل کردو ، یوں اس کے حاثیہ نشینوں نے یہ مسورت دیا ہو کہ موسیٰ پر جو لوگ ایمان لائے ہیں ان پر وہی فرمان دوبارہ نافذ کیا جائے ، چاہے وہ جادوگر مصری ہوں یا بنی اسرائیل ہوں یا اور لوگ ہوں جنہوں نے موسیٰ کی دعوت کو قبول کرلیا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرعون وہی ہو جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پالا تھا لیکن اس کے سابقہ فرمان میں قدرے نرمی کردی گئی ہو اور اس قانون کے نفاذ میں شدت نہ رہی ہو اور اب یہاں اس کے مشیروں نے ازسرنو مسورت دیا ہو کہ اس قانون کو صرف ان لوگوں پر نافذ کیا جائے جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے ہوں تاکہ ان کو ڈرایا جاسکے۔ رہا فرعون تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رائے اور تھی۔ وہ یہ کہتا تھا کہ موسیٰ تمہارا دین بدل دے گا اور ملک کا امن وامان تباہ ہوجائے گا لہٰذا مجھے اجازت دو کہ میں موسیٰ سے تمہاری جان چھڑادوں۔

غافر 40:26

آیت نمبر 26 اس کے اس قول سے ذرونی اقتل موسیٰ (40: 26) ” چھوڑو مجھے ، میں اس موسیٰ کو قتل کروں “ سے معلوم ہوتا ہے ، اس کے حاشیہ نشینوں کی جانب سے حضرت موسیٰ کے قتل کے خلاف دلائل دیئے جارہے تھے کہ اگر آپ موسیٰ کو قتل کر بھی دیں تو مسئلہ ختم نہ ہوگا ، جمہور عوام انہیں شہید سمجھ کر اسے ایک مقدس شخصیت قرار دیں گے۔ اس طرح لوگ شعوری طور پر ان کے دین کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہون ، خصوصاً جبکہ ایک قومی میلے کے دن جادوگر اس پر ایمان لاچکے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کی وجہ بھی لوگوں کو بتادی ہے۔ حالانکہ جادوگروں کو جمع اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کے دین کو باطل ثابت کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بادشاہ کے بعض مشیر دل ہی دل میں ڈرگئے ہوں کہ حضرت موسیٰ کا خدا ان سے انتقام لے گا۔ اور وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے ، یہ بات بعید ازامکان نہیں ہے کیونکہ بت پرست تو متعدد الہوں کے قائل ہوتے تھے۔ اور وہ قدرتی طور پر سوچ سکتے تھے کہ موسیٰ کا خدا ان سے انتقام لے۔ اور فرعون کا یہ قول کہ ولیدع ربه (40: 26) ” اور یہ اپنے رب کو بھی پکار دیکھے “۔ اگرچہ بظاہر فرعون کی ایک متکبرانہ بات ہے۔ لیکن شاید یہ ان مشیروں کے رد میں ہو اور اسی متکبرانہ بات کی وجہ سے بعد میں اسے اللہ نے پکڑا اور ہلاک کردیا۔ جیسا کہ بعد میں آئے گا۔ یہ بات بڑی دلچسپ ہے جو فرعون نے حضرت موسیٰ کے قتل کے جواز کے بارے میں کہی۔ انی اخاف۔۔۔۔ الفساد (40: 26) ” مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا زمین میں فساد برپا کردے گا “۔ فرعون کی اس دلیل پر غور ضروری ہے۔ کیا ایک بت پرست بادشاہ کی یہ بات کوئی نئی بات ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارا دین بدل دے گا ، یا کم ازکم ملک میں فساد ضرور برپا کردے گا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر سرکش اور مفسد ہمیشہ یہی کہتا ہے ، جب بھی کسی نے اسلام کی اصلاحی دعوت شروع کی ہے۔ مفسدین نے یہی بات کہی کہ انہوں نے اصلاح کو فساد کہا ، ہمیشہ اہل ایمان داعیوں اور مصلحین کے بارے میں مطلب برست سرکشوں اور مفسدوں نے عوام کے سامنے یہی عذر پیش کیا۔ جب بھی حق و باطل کے درمیان کشمکش شروع ہوئی ، باطل کی منطق اور استدلال یہی رہا۔ ایمان اور کفر کی جنگ میں یہی منطق چلتی رہی۔ ہر زمان ومکان میں اور تاریخ کے ہر دور میں اصلاح کو فساد اور فساد کو اصلاح کہا گیا۔ عرض یہ قدیم کہانی ہے اور اسے باربار دہرایا جاتا ہے۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے تھے۔ ان کا بھروسہ نہایت مضبوط قوت پر تھا۔ وہ حصن حصین میں محفوظ تھے اور انہوں نے اس ذات کے ہاں پناہ لے رکھی تھی جہاں ہر سرکش متکبر سے بھاگ کر لوگ پناہ لیتے ہیں۔

غافر 40:27

آیت نمبر 27 حضرت موسیٰ نے یہ بات کہہ دی اور مطمئن ہوگئے اور اپنی حفاظت کا معاملہ اس ذات کے سپرد کردیا جو ہر متکبر سے بلند ہے۔ ہر جبار کے اوپر ہے اور تمام دوسرے جباروں سے بھاگ کر اس کی پناہ میں آنے والوں کی حفاظت کرتا ہے۔ حضرت نے یہ کہا کہ وہ اس رب کی پناہ میں ہیں جو خود میں ہیں جو خود ان کافروں کا بھی رب ہے اور ہمارا بھی رب ہے ، اللہ نے ہمیں بھلا نہیں دیا اور نہ فرعون کی دھمکیوں کے مقابلے میں بےسہارا چھوڑدیا ہے۔ یہ لوگ تو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اس لیے یہ زمین میں اپنی کبریائی قائم کرتے ہیں۔ کوئی شخص جو قیامت کی جوابدہی پر ایمان رکھتا ہو وہ متکبر نہیں بن سکتا۔ کیونکہ وہ تصور کرسکتا ہے کہ قیامت کے دن لوگ کس قدر ذلیل ، سہمے ہوئے اور ڈرے ہوئے ہوں گے۔ کوئی قوت اور طاقت اور کوئی سہارا نہ ہوگا ، نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی ہوگا اور نہ کوئی فدیہ دیا جاسکے گا۔ اب یہاں منظر پر خود فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص آتا ہے۔ اس کے دل پر سچائی اثر انداز ہوگئی لیکن اس نے اپنا ایمان ابھی چھپارکھا ہے۔ یہ شخص حضرت موسیٰ کی مدافعت میں آواز بلند کرتا ہے ، کوشش کرتا ہے کہ لوگ حضرت موسیٰ کے قتل سے باز آجائیں۔ یہ اپنی تقریر میں مختلف پہلوؤں سے بات کرتا ہے۔ یہ اپنی ناصحانہ باتیں ان کے دلوں میں اتارنے کی کوشش کرتا ہے ، ان کے اچھے جذبات کو ابھارتا ہے ، ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے اور انجام بد سے بھی ڈراتا ہے۔

غافر 40:28

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔ اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔ وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔ لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔ وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔ ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔ یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔ فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔ قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں ! لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔ وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔ مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔ وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔ ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔ تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔ یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔ ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔ ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔ ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔ ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔ حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔ ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔ لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے ! الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔ رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا

غافر 40:29

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔ اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔ وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔ لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔ وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔ ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔ یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔ فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔ قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں ! لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔ وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔ مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔ وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔ ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔ تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔ یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔ ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔ ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔ ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔ ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔ حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔ ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔ لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے ! الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔ رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا

غافر 40:30

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔ اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔ وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔ لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔ وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔ ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔ یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔ فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔ قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں ! لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔ وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔ مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔ وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔ ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔ تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔ یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔ ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔ ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔ ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔ ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔ حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔ ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔ لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے ! الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔ رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا

غافر 40:31

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔ اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔ وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔ لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔ وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔ ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔ یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔ فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔ قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں ! لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔ وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔ مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔ وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔ ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔ تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔ یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔ ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔ ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔ ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔ ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔ حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔ ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔ لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے ! الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔ رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا

غافر 40:32

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔ اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔ وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔ لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔ وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔ ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔ یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔ فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔ قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں ! لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔ وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔ مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔ وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔ ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔ تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔ یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔ ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔ ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔ ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔ ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔ حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔ ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔ لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے ! الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔ رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا

غافر 40:33

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔ اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔ وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔ لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔ وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔ ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔ یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔ فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔ قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں ! لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔ وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔ مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔ وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔ ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔ تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔ یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔ ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔ ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔ ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔ ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔ حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔ ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔ لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے ! الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔ رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا

غافر 40:34

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔ اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔ وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔ لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔ وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔ ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔ یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔ فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔ قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں ! لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔ وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔ مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔ وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔ ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔ تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔ یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔ ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔ ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔ ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔ ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔ حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔ ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔ لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے ! الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔ رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا

غافر 40:35

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔ اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔ وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔ لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔ وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔ ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔ یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔ فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔ قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں ! لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔ وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔ مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔ وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔ ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔ تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔ یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔ ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔ ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔ ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔ ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔ حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔ ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔ لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے ! الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔ رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا

غافر 40:36

آیت نمبر 36 تا 37 فرعون نے ہامان سے کہا میرے لیے ایک بلند عمارت بناتک کہ میں آسمان کے راستوں تک پہنچ سکوں اور موسیٰ کے حدا کے بارے میں جان سکوں۔ وانی لاظنه جاذبا (40: 37) ” مجھے تو یہ موسیٰ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے “۔ یہ سرکش فرعون کی چالاکی اور اٹکل بازی ہے ، وہ سچائی کے مقابلے میں علانیہ آنا نہیں چاہتا اور عقیدۂ توحید کا اعتراف بھی نہیں کرتا کیونکہ اس صورت میں اس کی حکومت جاتی ہے ، جن افسانوں پر اس کی مملک قائم تھی وہ عقیدۂ توحید کے بعد باطل قرار پاتے تھے۔ یہ بات بعید ازامکان ہے کہ فرعون اس قدر کم عقل تھا اور وہ اس علمی سطح کا آدمی تھا۔ اور وہ الہہ موسیٰ کو اس سادہ انداز سے دھوکہ دے رہا تھا کیونکہ فراعنہ مصر علمی لحاظ سے بہت ہی ترقی یافتہ تھے۔ یہ دراصل اس کی طرف سے حضرت موسیٰ اور الہٰ العالمین کے ساتھ مذاق تھا۔ البتہ اس مذاق کے ساتھ وہ اپنے رویہ کو بظاہر منصفانہ بنانا چاہتا تھا۔ اور رجل مومن نے جو زبردست منطقی تقریر کی تھی اس سے جان چھڑانے کا یہ بھونڈا طریقہ اور تدبیر تھی لیکن یہ سب باتیں یہ ضرور ظاہر کردیتی ہیں کہ فرعون مصر کو اپنی گمراہی پر اصرار تھا اور وہ کبر میں مبتلا تھا۔ اور حضرت موسیٰ کو رع کرنے پر تلا ہو تھا۔ وکذٰلک۔۔۔ عن السبیل (40: 37) ” اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا “۔ اور اب وہ اس بات کا مستحق قرار پا گیا کہ اسے راستے سے روک دیاجائے کیونکہ وہ جس رویے کا اظہار کررہا تھا ، وہ صراط مستقیم سے دور انحراف کا رویہ تھا۔ نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ وہ بربادی اور ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہے ، وماکیدفرعون الافی تباب (40: 37) ” اور فرعون کی ساری چالبازی تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی۔ اسی مذاق اور فریب اور گمراہی پر یہ اصرار کو دیکھکر رجل مومن نے بھی مناسب سمجھا کہ ایک آخری بات ان سے کہہ دے۔ یہ بہت ہی بلند واضح بات ہے۔ اس سے پہلے تو لوگوں کو یہ دعوت دی کہ میرا اتباع کرو ، میں تمہیں سیدھی راہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ پھر اس نے لوگوں کو بتایا کہ یہ زندگی تو بہت ہی مختصر اور فانی زندگی ہے۔ اسلیے تم اس زندگی کا انتظام کرو جو باقی رہنے والی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب سے بچو اور اسنے واضح طور پر بتایا کہ شرک کے عقیدے میں کیا کیا کمزوریاں ہیں :

غافر 40:37

آیت نمبر 36 تا 37 فرعون نے ہامان سے کہا میرے لیے ایک بلند عمارت بناتک کہ میں آسمان کے راستوں تک پہنچ سکوں اور موسیٰ کے حدا کے بارے میں جان سکوں۔ وانی لاظنه جاذبا (40: 37) ” مجھے تو یہ موسیٰ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے “۔ یہ سرکش فرعون کی چالاکی اور اٹکل بازی ہے ، وہ سچائی کے مقابلے میں علانیہ آنا نہیں چاہتا اور عقیدۂ توحید کا اعتراف بھی نہیں کرتا کیونکہ اس صورت میں اس کی حکومت جاتی ہے ، جن افسانوں پر اس کی مملک قائم تھی وہ عقیدۂ توحید کے بعد باطل قرار پاتے تھے۔ یہ بات بعید ازامکان ہے کہ فرعون اس قدر کم عقل تھا اور وہ اس علمی سطح کا آدمی تھا۔ اور وہ الہہ موسیٰ کو اس سادہ انداز سے دھوکہ دے رہا تھا کیونکہ فراعنہ مصر علمی لحاظ سے بہت ہی ترقی یافتہ تھے۔ یہ دراصل اس کی طرف سے حضرت موسیٰ اور الہٰ العالمین کے ساتھ مذاق تھا۔ البتہ اس مذاق کے ساتھ وہ اپنے رویہ کو بظاہر منصفانہ بنانا چاہتا تھا۔ اور رجل مومن نے جو زبردست منطقی تقریر کی تھی اس سے جان چھڑانے کا یہ بھونڈا طریقہ اور تدبیر تھی لیکن یہ سب باتیں یہ ضرور ظاہر کردیتی ہیں کہ فرعون مصر کو اپنی گمراہی پر اصرار تھا اور وہ کبر میں مبتلا تھا۔ اور حضرت موسیٰ کو رع کرنے پر تلا ہو تھا۔ وکذٰلک۔۔۔ عن السبیل (40: 37) ” اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا “۔ اور اب وہ اس بات کا مستحق قرار پا گیا کہ اسے راستے سے روک دیاجائے کیونکہ وہ جس رویے کا اظہار کررہا تھا ، وہ صراط مستقیم سے دور انحراف کا رویہ تھا۔ نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ وہ بربادی اور ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہے ، وماکیدفرعون الافی تباب (40: 37) ” اور فرعون کی ساری چالبازی تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی۔ اسی مذاق اور فریب اور گمراہی پر یہ اصرار کو دیکھکر رجل مومن نے بھی مناسب سمجھا کہ ایک آخری بات ان سے کہہ دے۔ یہ بہت ہی بلند واضح بات ہے۔ اس سے پہلے تو لوگوں کو یہ دعوت دی کہ میرا اتباع کرو ، میں تمہیں سیدھی راہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ پھر اس نے لوگوں کو بتایا کہ یہ زندگی تو بہت ہی مختصر اور فانی زندگی ہے۔ اسلیے تم اس زندگی کا انتظام کرو جو باقی رہنے والی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب سے بچو اور اسنے واضح طور پر بتایا کہ شرک کے عقیدے میں کیا کیا کمزوریاں ہیں :

غافر 40:38

آیت نمبر 38 تا 44 یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔ یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا : وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں فرعون کے وزیر تھے جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ رجل مومن ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حقیقت یوں کھولتا ہے۔ انما ھٰذہ الحیوۃ الدنیا متاع (40: 39) ” یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے “۔ ایک ایسا سازوسامان ہے جو زائل ہونے والا ہے اس کے لیے ثبات و دوام نہیں ہے۔ وان الاخرۃ ھی دار القرار (40: 39) ” اور دار آخرت ہی ہمشہ قیام کی جگہ ہے “۔ آخرت اصل ہے اور اسے زیادہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ پھر وہ یہ بات دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ من عمل۔۔۔ حساب (40: 40) ” جو برائی کریگا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائگا “۔ اللہ کے فضل وکرم کا تقاضا ہوا کہ نیکیوں کو بڑھایا جائے اور بغیر حساب معاوضہ ہو اور برائیوں کو نہ بڑھایا جائے ۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے اپنے بندوں کی کمزوریوں کا اللہ نے خیال رکھا ہے اور خیر اور بھلائی کے کاموں کو پرکشش بنانے کے لیے اللہ نے ان کے اجر کو زیادہ رکھاتا کہ لوگ اس راہ پر ثابت قدمی سے کا مزن ہوں۔ اللہ نے نیکی کو سیئات اور برائیوں کا کفارہ بنادیا اور جب وہ اس نرم حساب و کتاب کے بعد جنت میں پہنچیں گے تو وہاں بغیر حساب و کتاب ان کو دیا جائے گا۔ یہ رجل مومن اپنی تقریر میں ان پت تنقید بھی کرتا ہے وہ تو ان کو راہ نجات کی طرف بلاتا ہے۔ جنتوں کی طرف بلاتا ہے ، اور وہ اسے آگ کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ سرزنش کے انداز میں کہتا ہے : ویٰقوم۔۔۔۔ الی النار (40: 41) ” اے قوم ، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو “۔ انہوں نے تو بظاہر اس کو آگ کی طرف نہیں بلایاشرک کی طرف بلایا۔ ظاہر ہے کہ شرک کی طرف بلانے اور آگ کی طرف بلانے میں کیا فرق ہے۔ یہ ایک ہی بات ہے اور اگلی آیت میں بات صاف کردیتا ہے۔ تدعوننی لاکفر۔۔۔۔ الغفار (40: 42) ” تم مجھے اس بات کی طرف دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک ٹھہراؤں جنہیں میں نہیں جانتا حالانکہ میں تمہیں زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلاتا ہوں “۔ اور ان دونوں دعوتوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ میری دعوت تو بہت واضح اور صاف ہے۔ عزیز و غفار کی طرف سے یہ دعوت ۔ ایک ایسے اللہ وحدہ کی طرف دعوت ہے جس کی وحدانیت پر اس کائنات کے تمام آثارشاہد ہیں اور اس کی قدرت اور حکمت پر اس کائنات کی ہر چیز شاہد عادل ہے۔ وہ ان کو اس کی طرف بلاتا ہے جو مغفرت کرنے والا ہے تاکہ بخش دے۔ جو بہت بڑا بخشنے والا ہے۔ اور یہ لوگ اس رجل مومن کس طرف بلاتے ہیں ؟ کفر کرنے کے لیے ، شرک کرنے کے لیے ، جس کا اسے کوئی علم نہیں ہے۔ محض دعویٰ ہے ، اوہام ہیں اور افسانے ہیں جن پر ان کا عقیدہ ہے۔ وہ ان کو دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ جن ہستیوں کو تم نے خدا کا شریک بنارکھا ہے۔ ان کی تو نہ دنیا میں کوئی پوزیشن ہے اور نہ آخرت میں کوئی پوزیشن ہے۔ آخر کار تمام انسانوں کو تو صرف اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ اور یہ تم لوگ جو اسراف کرتے ہو اور حدود کو یاد کرتے ہو تمہارے لیے تو جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لاجرم۔۔۔۔۔ اصحٰب النار (40: 43) ” حق یہ ہے اور اس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ، ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں “۔ عقائد کے حوالے سے یہ بنیادی باتیں دوٹوک انداز میں بیان کردینے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ یہ سب باتیں اس رجل مومن نے فرعون ، اس کے درباریوں اور وزراء کے سامنے کردیں ، بغیر کسی جھجک اور شف شف کے۔ پہلے تو وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا لیکن تقریر کے آخر میں اسنے اس کا اظہار کردیا۔ اب صرف یہ بات رہتی ہے کہ حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد وہ تمام امور کو اللہ پر چھوڑدے۔ اسنے بات کہہ دی ، اس کا ضمیر مطمئن ہوگیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اے کاش ! عنقریب تم میری باتوں کو یاد کروگے لیکن اس وقت اس نصیحت کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ حقیقت میں معاملات کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فستذکرون۔۔۔۔ بالعباد (40: 44) ” آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اسے یاد کروگے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کا نگہنان ہے “۔ اب اس پر یہ تقریر اور مکاملہ ختم ہوتا ہے۔ رجل مومن نے کلمہ حق اس کائنات کے ضمیر میں ریکارڈکرادیا اور قرآن نے اسے لازوال دوام بخشا۔ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ اور فرعون کی طویل کشمکش کی بعض کڑیوں کو مجمل کردیتا ہے۔ اب یہاں بنی اسرائیل کے فرار اور نجات اور فرعون کی غرقابی کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔ برزخی زندگی میں اس کا حال یہ ہوگا۔

غافر 40:39

آیت نمبر 38 تا 44 یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔ یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا : وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں فرعون کے وزیر تھے جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ رجل مومن ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حقیقت یوں کھولتا ہے۔ انما ھٰذہ الحیوۃ الدنیا متاع (40: 39) ” یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے “۔ ایک ایسا سازوسامان ہے جو زائل ہونے والا ہے اس کے لیے ثبات و دوام نہیں ہے۔ وان الاخرۃ ھی دار القرار (40: 39) ” اور دار آخرت ہی ہمشہ قیام کی جگہ ہے “۔ آخرت اصل ہے اور اسے زیادہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ پھر وہ یہ بات دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ من عمل۔۔۔ حساب (40: 40) ” جو برائی کریگا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائگا “۔ اللہ کے فضل وکرم کا تقاضا ہوا کہ نیکیوں کو بڑھایا جائے اور بغیر حساب معاوضہ ہو اور برائیوں کو نہ بڑھایا جائے ۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے اپنے بندوں کی کمزوریوں کا اللہ نے خیال رکھا ہے اور خیر اور بھلائی کے کاموں کو پرکشش بنانے کے لیے اللہ نے ان کے اجر کو زیادہ رکھاتا کہ لوگ اس راہ پر ثابت قدمی سے کا مزن ہوں۔ اللہ نے نیکی کو سیئات اور برائیوں کا کفارہ بنادیا اور جب وہ اس نرم حساب و کتاب کے بعد جنت میں پہنچیں گے تو وہاں بغیر حساب و کتاب ان کو دیا جائے گا۔ یہ رجل مومن اپنی تقریر میں ان پت تنقید بھی کرتا ہے وہ تو ان کو راہ نجات کی طرف بلاتا ہے۔ جنتوں کی طرف بلاتا ہے ، اور وہ اسے آگ کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ سرزنش کے انداز میں کہتا ہے : ویٰقوم۔۔۔۔ الی النار (40: 41) ” اے قوم ، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو “۔ انہوں نے تو بظاہر اس کو آگ کی طرف نہیں بلایاشرک کی طرف بلایا۔ ظاہر ہے کہ شرک کی طرف بلانے اور آگ کی طرف بلانے میں کیا فرق ہے۔ یہ ایک ہی بات ہے اور اگلی آیت میں بات صاف کردیتا ہے۔ تدعوننی لاکفر۔۔۔۔ الغفار (40: 42) ” تم مجھے اس بات کی طرف دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک ٹھہراؤں جنہیں میں نہیں جانتا حالانکہ میں تمہیں زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلاتا ہوں “۔ اور ان دونوں دعوتوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ میری دعوت تو بہت واضح اور صاف ہے۔ عزیز و غفار کی طرف سے یہ دعوت ۔ ایک ایسے اللہ وحدہ کی طرف دعوت ہے جس کی وحدانیت پر اس کائنات کے تمام آثارشاہد ہیں اور اس کی قدرت اور حکمت پر اس کائنات کی ہر چیز شاہد عادل ہے۔ وہ ان کو اس کی طرف بلاتا ہے جو مغفرت کرنے والا ہے تاکہ بخش دے۔ جو بہت بڑا بخشنے والا ہے۔ اور یہ لوگ اس رجل مومن کس طرف بلاتے ہیں ؟ کفر کرنے کے لیے ، شرک کرنے کے لیے ، جس کا اسے کوئی علم نہیں ہے۔ محض دعویٰ ہے ، اوہام ہیں اور افسانے ہیں جن پر ان کا عقیدہ ہے۔ وہ ان کو دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ جن ہستیوں کو تم نے خدا کا شریک بنارکھا ہے۔ ان کی تو نہ دنیا میں کوئی پوزیشن ہے اور نہ آخرت میں کوئی پوزیشن ہے۔ آخر کار تمام انسانوں کو تو صرف اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ اور یہ تم لوگ جو اسراف کرتے ہو اور حدود کو یاد کرتے ہو تمہارے لیے تو جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لاجرم۔۔۔۔۔ اصحٰب النار (40: 43) ” حق یہ ہے اور اس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ، ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں “۔ عقائد کے حوالے سے یہ بنیادی باتیں دوٹوک انداز میں بیان کردینے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ یہ سب باتیں اس رجل مومن نے فرعون ، اس کے درباریوں اور وزراء کے سامنے کردیں ، بغیر کسی جھجک اور شف شف کے۔ پہلے تو وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا لیکن تقریر کے آخر میں اسنے اس کا اظہار کردیا۔ اب صرف یہ بات رہتی ہے کہ حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد وہ تمام امور کو اللہ پر چھوڑدے۔ اسنے بات کہہ دی ، اس کا ضمیر مطمئن ہوگیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اے کاش ! عنقریب تم میری باتوں کو یاد کروگے لیکن اس وقت اس نصیحت کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ حقیقت میں معاملات کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فستذکرون۔۔۔۔ بالعباد (40: 44) ” آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اسے یاد کروگے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کا نگہنان ہے “۔ اب اس پر یہ تقریر اور مکاملہ ختم ہوتا ہے۔ رجل مومن نے کلمہ حق اس کائنات کے ضمیر میں ریکارڈکرادیا اور قرآن نے اسے لازوال دوام بخشا۔ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ اور فرعون کی طویل کشمکش کی بعض کڑیوں کو مجمل کردیتا ہے۔ اب یہاں بنی اسرائیل کے فرار اور نجات اور فرعون کی غرقابی کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔ برزخی زندگی میں اس کا حال یہ ہوگا۔

غافر 40:40

آیت نمبر 38 تا 44 یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔ یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا : وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں فرعون کے وزیر تھے جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ رجل مومن ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حقیقت یوں کھولتا ہے۔ انما ھٰذہ الحیوۃ الدنیا متاع (40: 39) ” یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے “۔ ایک ایسا سازوسامان ہے جو زائل ہونے والا ہے اس کے لیے ثبات و دوام نہیں ہے۔ وان الاخرۃ ھی دار القرار (40: 39) ” اور دار آخرت ہی ہمشہ قیام کی جگہ ہے “۔ آخرت اصل ہے اور اسے زیادہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ پھر وہ یہ بات دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ من عمل۔۔۔ حساب (40: 40) ” جو برائی کریگا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائگا “۔ اللہ کے فضل وکرم کا تقاضا ہوا کہ نیکیوں کو بڑھایا جائے اور بغیر حساب معاوضہ ہو اور برائیوں کو نہ بڑھایا جائے ۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے اپنے بندوں کی کمزوریوں کا اللہ نے خیال رکھا ہے اور خیر اور بھلائی کے کاموں کو پرکشش بنانے کے لیے اللہ نے ان کے اجر کو زیادہ رکھاتا کہ لوگ اس راہ پر ثابت قدمی سے کا مزن ہوں۔ اللہ نے نیکی کو سیئات اور برائیوں کا کفارہ بنادیا اور جب وہ اس نرم حساب و کتاب کے بعد جنت میں پہنچیں گے تو وہاں بغیر حساب و کتاب ان کو دیا جائے گا۔ یہ رجل مومن اپنی تقریر میں ان پت تنقید بھی کرتا ہے وہ تو ان کو راہ نجات کی طرف بلاتا ہے۔ جنتوں کی طرف بلاتا ہے ، اور وہ اسے آگ کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ سرزنش کے انداز میں کہتا ہے : ویٰقوم۔۔۔۔ الی النار (40: 41) ” اے قوم ، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو “۔ انہوں نے تو بظاہر اس کو آگ کی طرف نہیں بلایاشرک کی طرف بلایا۔ ظاہر ہے کہ شرک کی طرف بلانے اور آگ کی طرف بلانے میں کیا فرق ہے۔ یہ ایک ہی بات ہے اور اگلی آیت میں بات صاف کردیتا ہے۔ تدعوننی لاکفر۔۔۔۔ الغفار (40: 42) ” تم مجھے اس بات کی طرف دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک ٹھہراؤں جنہیں میں نہیں جانتا حالانکہ میں تمہیں زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلاتا ہوں “۔ اور ان دونوں دعوتوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ میری دعوت تو بہت واضح اور صاف ہے۔ عزیز و غفار کی طرف سے یہ دعوت ۔ ایک ایسے اللہ وحدہ کی طرف دعوت ہے جس کی وحدانیت پر اس کائنات کے تمام آثارشاہد ہیں اور اس کی قدرت اور حکمت پر اس کائنات کی ہر چیز شاہد عادل ہے۔ وہ ان کو اس کی طرف بلاتا ہے جو مغفرت کرنے والا ہے تاکہ بخش دے۔ جو بہت بڑا بخشنے والا ہے۔ اور یہ لوگ اس رجل مومن کس طرف بلاتے ہیں ؟ کفر کرنے کے لیے ، شرک کرنے کے لیے ، جس کا اسے کوئی علم نہیں ہے۔ محض دعویٰ ہے ، اوہام ہیں اور افسانے ہیں جن پر ان کا عقیدہ ہے۔ وہ ان کو دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ جن ہستیوں کو تم نے خدا کا شریک بنارکھا ہے۔ ان کی تو نہ دنیا میں کوئی پوزیشن ہے اور نہ آخرت میں کوئی پوزیشن ہے۔ آخر کار تمام انسانوں کو تو صرف اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ اور یہ تم لوگ جو اسراف کرتے ہو اور حدود کو یاد کرتے ہو تمہارے لیے تو جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لاجرم۔۔۔۔۔ اصحٰب النار (40: 43) ” حق یہ ہے اور اس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ، ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں “۔ عقائد کے حوالے سے یہ بنیادی باتیں دوٹوک انداز میں بیان کردینے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ یہ سب باتیں اس رجل مومن نے فرعون ، اس کے درباریوں اور وزراء کے سامنے کردیں ، بغیر کسی جھجک اور شف شف کے۔ پہلے تو وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا لیکن تقریر کے آخر میں اسنے اس کا اظہار کردیا۔ اب صرف یہ بات رہتی ہے کہ حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد وہ تمام امور کو اللہ پر چھوڑدے۔ اسنے بات کہہ دی ، اس کا ضمیر مطمئن ہوگیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اے کاش ! عنقریب تم میری باتوں کو یاد کروگے لیکن اس وقت اس نصیحت کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ حقیقت میں معاملات کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فستذکرون۔۔۔۔ بالعباد (40: 44) ” آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اسے یاد کروگے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کا نگہنان ہے “۔ اب اس پر یہ تقریر اور مکاملہ ختم ہوتا ہے۔ رجل مومن نے کلمہ حق اس کائنات کے ضمیر میں ریکارڈکرادیا اور قرآن نے اسے لازوال دوام بخشا۔ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ اور فرعون کی طویل کشمکش کی بعض کڑیوں کو مجمل کردیتا ہے۔ اب یہاں بنی اسرائیل کے فرار اور نجات اور فرعون کی غرقابی کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔ برزخی زندگی میں اس کا حال یہ ہوگا۔

غافر 40:41

آیت نمبر 38 تا 44 یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔ یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا : وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں فرعون کے وزیر تھے جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ رجل مومن ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حقیقت یوں کھولتا ہے۔ انما ھٰذہ الحیوۃ الدنیا متاع (40: 39) ” یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے “۔ ایک ایسا سازوسامان ہے جو زائل ہونے والا ہے اس کے لیے ثبات و دوام نہیں ہے۔ وان الاخرۃ ھی دار القرار (40: 39) ” اور دار آخرت ہی ہمشہ قیام کی جگہ ہے “۔ آخرت اصل ہے اور اسے زیادہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ پھر وہ یہ بات دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ من عمل۔۔۔ حساب (40: 40) ” جو برائی کریگا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائگا “۔ اللہ کے فضل وکرم کا تقاضا ہوا کہ نیکیوں کو بڑھایا جائے اور بغیر حساب معاوضہ ہو اور برائیوں کو نہ بڑھایا جائے ۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے اپنے بندوں کی کمزوریوں کا اللہ نے خیال رکھا ہے اور خیر اور بھلائی کے کاموں کو پرکشش بنانے کے لیے اللہ نے ان کے اجر کو زیادہ رکھاتا کہ لوگ اس راہ پر ثابت قدمی سے کا مزن ہوں۔ اللہ نے نیکی کو سیئات اور برائیوں کا کفارہ بنادیا اور جب وہ اس نرم حساب و کتاب کے بعد جنت میں پہنچیں گے تو وہاں بغیر حساب و کتاب ان کو دیا جائے گا۔ یہ رجل مومن اپنی تقریر میں ان پت تنقید بھی کرتا ہے وہ تو ان کو راہ نجات کی طرف بلاتا ہے۔ جنتوں کی طرف بلاتا ہے ، اور وہ اسے آگ کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ سرزنش کے انداز میں کہتا ہے : ویٰقوم۔۔۔۔ الی النار (40: 41) ” اے قوم ، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو “۔ انہوں نے تو بظاہر اس کو آگ کی طرف نہیں بلایاشرک کی طرف بلایا۔ ظاہر ہے کہ شرک کی طرف بلانے اور آگ کی طرف بلانے میں کیا فرق ہے۔ یہ ایک ہی بات ہے اور اگلی آیت میں بات صاف کردیتا ہے۔ تدعوننی لاکفر۔۔۔۔ الغفار (40: 42) ” تم مجھے اس بات کی طرف دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک ٹھہراؤں جنہیں میں نہیں جانتا حالانکہ میں تمہیں زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلاتا ہوں “۔ اور ان دونوں دعوتوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ میری دعوت تو بہت واضح اور صاف ہے۔ عزیز و غفار کی طرف سے یہ دعوت ۔ ایک ایسے اللہ وحدہ کی طرف دعوت ہے جس کی وحدانیت پر اس کائنات کے تمام آثارشاہد ہیں اور اس کی قدرت اور حکمت پر اس کائنات کی ہر چیز شاہد عادل ہے۔ وہ ان کو اس کی طرف بلاتا ہے جو مغفرت کرنے والا ہے تاکہ بخش دے۔ جو بہت بڑا بخشنے والا ہے۔ اور یہ لوگ اس رجل مومن کس طرف بلاتے ہیں ؟ کفر کرنے کے لیے ، شرک کرنے کے لیے ، جس کا اسے کوئی علم نہیں ہے۔ محض دعویٰ ہے ، اوہام ہیں اور افسانے ہیں جن پر ان کا عقیدہ ہے۔ وہ ان کو دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ جن ہستیوں کو تم نے خدا کا شریک بنارکھا ہے۔ ان کی تو نہ دنیا میں کوئی پوزیشن ہے اور نہ آخرت میں کوئی پوزیشن ہے۔ آخر کار تمام انسانوں کو تو صرف اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ اور یہ تم لوگ جو اسراف کرتے ہو اور حدود کو یاد کرتے ہو تمہارے لیے تو جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لاجرم۔۔۔۔۔ اصحٰب النار (40: 43) ” حق یہ ہے اور اس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ، ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں “۔ عقائد کے حوالے سے یہ بنیادی باتیں دوٹوک انداز میں بیان کردینے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ یہ سب باتیں اس رجل مومن نے فرعون ، اس کے درباریوں اور وزراء کے سامنے کردیں ، بغیر کسی جھجک اور شف شف کے۔ پہلے تو وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا لیکن تقریر کے آخر میں اسنے اس کا اظہار کردیا۔ اب صرف یہ بات رہتی ہے کہ حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد وہ تمام امور کو اللہ پر چھوڑدے۔ اسنے بات کہہ دی ، اس کا ضمیر مطمئن ہوگیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اے کاش ! عنقریب تم میری باتوں کو یاد کروگے لیکن اس وقت اس نصیحت کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ حقیقت میں معاملات کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فستذکرون۔۔۔۔ بالعباد (40: 44) ” آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اسے یاد کروگے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کا نگہنان ہے “۔ اب اس پر یہ تقریر اور مکاملہ ختم ہوتا ہے۔ رجل مومن نے کلمہ حق اس کائنات کے ضمیر میں ریکارڈکرادیا اور قرآن نے اسے لازوال دوام بخشا۔ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ اور فرعون کی طویل کشمکش کی بعض کڑیوں کو مجمل کردیتا ہے۔ اب یہاں بنی اسرائیل کے فرار اور نجات اور فرعون کی غرقابی کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔ برزخی زندگی میں اس کا حال یہ ہوگا۔

غافر 40:42

آیت نمبر 38 تا 44 یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔ یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا : وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں فرعون کے وزیر تھے جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ رجل مومن ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حقیقت یوں کھولتا ہے۔ انما ھٰذہ الحیوۃ الدنیا متاع (40: 39) ” یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے “۔ ایک ایسا سازوسامان ہے جو زائل ہونے والا ہے اس کے لیے ثبات و دوام نہیں ہے۔ وان الاخرۃ ھی دار القرار (40: 39) ” اور دار آخرت ہی ہمشہ قیام کی جگہ ہے “۔ آخرت اصل ہے اور اسے زیادہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ پھر وہ یہ بات دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ من عمل۔۔۔ حساب (40: 40) ” جو برائی کریگا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائگا “۔ اللہ کے فضل وکرم کا تقاضا ہوا کہ نیکیوں کو بڑھایا جائے اور بغیر حساب معاوضہ ہو اور برائیوں کو نہ بڑھایا جائے ۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے اپنے بندوں کی کمزوریوں کا اللہ نے خیال رکھا ہے اور خیر اور بھلائی کے کاموں کو پرکشش بنانے کے لیے اللہ نے ان کے اجر کو زیادہ رکھاتا کہ لوگ اس راہ پر ثابت قدمی سے کا مزن ہوں۔ اللہ نے نیکی کو سیئات اور برائیوں کا کفارہ بنادیا اور جب وہ اس نرم حساب و کتاب کے بعد جنت میں پہنچیں گے تو وہاں بغیر حساب و کتاب ان کو دیا جائے گا۔ یہ رجل مومن اپنی تقریر میں ان پت تنقید بھی کرتا ہے وہ تو ان کو راہ نجات کی طرف بلاتا ہے۔ جنتوں کی طرف بلاتا ہے ، اور وہ اسے آگ کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ سرزنش کے انداز میں کہتا ہے : ویٰقوم۔۔۔۔ الی النار (40: 41) ” اے قوم ، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو “۔ انہوں نے تو بظاہر اس کو آگ کی طرف نہیں بلایاشرک کی طرف بلایا۔ ظاہر ہے کہ شرک کی طرف بلانے اور آگ کی طرف بلانے میں کیا فرق ہے۔ یہ ایک ہی بات ہے اور اگلی آیت میں بات صاف کردیتا ہے۔ تدعوننی لاکفر۔۔۔۔ الغفار (40: 42) ” تم مجھے اس بات کی طرف دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک ٹھہراؤں جنہیں میں نہیں جانتا حالانکہ میں تمہیں زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلاتا ہوں “۔ اور ان دونوں دعوتوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ میری دعوت تو بہت واضح اور صاف ہے۔ عزیز و غفار کی طرف سے یہ دعوت ۔ ایک ایسے اللہ وحدہ کی طرف دعوت ہے جس کی وحدانیت پر اس کائنات کے تمام آثارشاہد ہیں اور اس کی قدرت اور حکمت پر اس کائنات کی ہر چیز شاہد عادل ہے۔ وہ ان کو اس کی طرف بلاتا ہے جو مغفرت کرنے والا ہے تاکہ بخش دے۔ جو بہت بڑا بخشنے والا ہے۔ اور یہ لوگ اس رجل مومن کس طرف بلاتے ہیں ؟ کفر کرنے کے لیے ، شرک کرنے کے لیے ، جس کا اسے کوئی علم نہیں ہے۔ محض دعویٰ ہے ، اوہام ہیں اور افسانے ہیں جن پر ان کا عقیدہ ہے۔ وہ ان کو دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ جن ہستیوں کو تم نے خدا کا شریک بنارکھا ہے۔ ان کی تو نہ دنیا میں کوئی پوزیشن ہے اور نہ آخرت میں کوئی پوزیشن ہے۔ آخر کار تمام انسانوں کو تو صرف اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ اور یہ تم لوگ جو اسراف کرتے ہو اور حدود کو یاد کرتے ہو تمہارے لیے تو جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لاجرم۔۔۔۔۔ اصحٰب النار (40: 43) ” حق یہ ہے اور اس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ، ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں “۔ عقائد کے حوالے سے یہ بنیادی باتیں دوٹوک انداز میں بیان کردینے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ یہ سب باتیں اس رجل مومن نے فرعون ، اس کے درباریوں اور وزراء کے سامنے کردیں ، بغیر کسی جھجک اور شف شف کے۔ پہلے تو وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا لیکن تقریر کے آخر میں اسنے اس کا اظہار کردیا۔ اب صرف یہ بات رہتی ہے کہ حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد وہ تمام امور کو اللہ پر چھوڑدے۔ اسنے بات کہہ دی ، اس کا ضمیر مطمئن ہوگیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اے کاش ! عنقریب تم میری باتوں کو یاد کروگے لیکن اس وقت اس نصیحت کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ حقیقت میں معاملات کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فستذکرون۔۔۔۔ بالعباد (40: 44) ” آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اسے یاد کروگے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کا نگہنان ہے “۔ اب اس پر یہ تقریر اور مکاملہ ختم ہوتا ہے۔ رجل مومن نے کلمہ حق اس کائنات کے ضمیر میں ریکارڈکرادیا اور قرآن نے اسے لازوال دوام بخشا۔ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ اور فرعون کی طویل کشمکش کی بعض کڑیوں کو مجمل کردیتا ہے۔ اب یہاں بنی اسرائیل کے فرار اور نجات اور فرعون کی غرقابی کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔ برزخی زندگی میں اس کا حال یہ ہوگا۔

غافر 40:43

آیت نمبر 38 تا 44 یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔ یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا : وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں فرعون کے وزیر تھے جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ رجل مومن ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حقیقت یوں کھولتا ہے۔ انما ھٰذہ الحیوۃ الدنیا متاع (40: 39) ” یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے “۔ ایک ایسا سازوسامان ہے جو زائل ہونے والا ہے اس کے لیے ثبات و دوام نہیں ہے۔ وان الاخرۃ ھی دار القرار (40: 39) ” اور دار آخرت ہی ہمشہ قیام کی جگہ ہے “۔ آخرت اصل ہے اور اسے زیادہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ پھر وہ یہ بات دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ من عمل۔۔۔ حساب (40: 40) ” جو برائی کریگا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائگا “۔ اللہ کے فضل وکرم کا تقاضا ہوا کہ نیکیوں کو بڑھایا جائے اور بغیر حساب معاوضہ ہو اور برائیوں کو نہ بڑھایا جائے ۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے اپنے بندوں کی کمزوریوں کا اللہ نے خیال رکھا ہے اور خیر اور بھلائی کے کاموں کو پرکشش بنانے کے لیے اللہ نے ان کے اجر کو زیادہ رکھاتا کہ لوگ اس راہ پر ثابت قدمی سے کا مزن ہوں۔ اللہ نے نیکی کو سیئات اور برائیوں کا کفارہ بنادیا اور جب وہ اس نرم حساب و کتاب کے بعد جنت میں پہنچیں گے تو وہاں بغیر حساب و کتاب ان کو دیا جائے گا۔ یہ رجل مومن اپنی تقریر میں ان پت تنقید بھی کرتا ہے وہ تو ان کو راہ نجات کی طرف بلاتا ہے۔ جنتوں کی طرف بلاتا ہے ، اور وہ اسے آگ کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ سرزنش کے انداز میں کہتا ہے : ویٰقوم۔۔۔۔ الی النار (40: 41) ” اے قوم ، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو “۔ انہوں نے تو بظاہر اس کو آگ کی طرف نہیں بلایاشرک کی طرف بلایا۔ ظاہر ہے کہ شرک کی طرف بلانے اور آگ کی طرف بلانے میں کیا فرق ہے۔ یہ ایک ہی بات ہے اور اگلی آیت میں بات صاف کردیتا ہے۔ تدعوننی لاکفر۔۔۔۔ الغفار (40: 42) ” تم مجھے اس بات کی طرف دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک ٹھہراؤں جنہیں میں نہیں جانتا حالانکہ میں تمہیں زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلاتا ہوں “۔ اور ان دونوں دعوتوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ میری دعوت تو بہت واضح اور صاف ہے۔ عزیز و غفار کی طرف سے یہ دعوت ۔ ایک ایسے اللہ وحدہ کی طرف دعوت ہے جس کی وحدانیت پر اس کائنات کے تمام آثارشاہد ہیں اور اس کی قدرت اور حکمت پر اس کائنات کی ہر چیز شاہد عادل ہے۔ وہ ان کو اس کی طرف بلاتا ہے جو مغفرت کرنے والا ہے تاکہ بخش دے۔ جو بہت بڑا بخشنے والا ہے۔ اور یہ لوگ اس رجل مومن کس طرف بلاتے ہیں ؟ کفر کرنے کے لیے ، شرک کرنے کے لیے ، جس کا اسے کوئی علم نہیں ہے۔ محض دعویٰ ہے ، اوہام ہیں اور افسانے ہیں جن پر ان کا عقیدہ ہے۔ وہ ان کو دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ جن ہستیوں کو تم نے خدا کا شریک بنارکھا ہے۔ ان کی تو نہ دنیا میں کوئی پوزیشن ہے اور نہ آخرت میں کوئی پوزیشن ہے۔ آخر کار تمام انسانوں کو تو صرف اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ اور یہ تم لوگ جو اسراف کرتے ہو اور حدود کو یاد کرتے ہو تمہارے لیے تو جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لاجرم۔۔۔۔۔ اصحٰب النار (40: 43) ” حق یہ ہے اور اس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ، ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں “۔ عقائد کے حوالے سے یہ بنیادی باتیں دوٹوک انداز میں بیان کردینے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ یہ سب باتیں اس رجل مومن نے فرعون ، اس کے درباریوں اور وزراء کے سامنے کردیں ، بغیر کسی جھجک اور شف شف کے۔ پہلے تو وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا لیکن تقریر کے آخر میں اسنے اس کا اظہار کردیا۔ اب صرف یہ بات رہتی ہے کہ حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد وہ تمام امور کو اللہ پر چھوڑدے۔ اسنے بات کہہ دی ، اس کا ضمیر مطمئن ہوگیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اے کاش ! عنقریب تم میری باتوں کو یاد کروگے لیکن اس وقت اس نصیحت کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ حقیقت میں معاملات کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فستذکرون۔۔۔۔ بالعباد (40: 44) ” آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اسے یاد کروگے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کا نگہنان ہے “۔ اب اس پر یہ تقریر اور مکاملہ ختم ہوتا ہے۔ رجل مومن نے کلمہ حق اس کائنات کے ضمیر میں ریکارڈکرادیا اور قرآن نے اسے لازوال دوام بخشا۔ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ اور فرعون کی طویل کشمکش کی بعض کڑیوں کو مجمل کردیتا ہے۔ اب یہاں بنی اسرائیل کے فرار اور نجات اور فرعون کی غرقابی کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔ برزخی زندگی میں اس کا حال یہ ہوگا۔

غافر 40:44

آیت نمبر 38 تا 44 یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔ یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا : وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں فرعون کے وزیر تھے جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ رجل مومن ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حقیقت یوں کھولتا ہے۔ انما ھٰذہ الحیوۃ الدنیا متاع (40: 39) ” یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے “۔ ایک ایسا سازوسامان ہے جو زائل ہونے والا ہے اس کے لیے ثبات و دوام نہیں ہے۔ وان الاخرۃ ھی دار القرار (40: 39) ” اور دار آخرت ہی ہمشہ قیام کی جگہ ہے “۔ آخرت اصل ہے اور اسے زیادہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ پھر وہ یہ بات دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ من عمل۔۔۔ حساب (40: 40) ” جو برائی کریگا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائگا “۔ اللہ کے فضل وکرم کا تقاضا ہوا کہ نیکیوں کو بڑھایا جائے اور بغیر حساب معاوضہ ہو اور برائیوں کو نہ بڑھایا جائے ۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے اپنے بندوں کی کمزوریوں کا اللہ نے خیال رکھا ہے اور خیر اور بھلائی کے کاموں کو پرکشش بنانے کے لیے اللہ نے ان کے اجر کو زیادہ رکھاتا کہ لوگ اس راہ پر ثابت قدمی سے کا مزن ہوں۔ اللہ نے نیکی کو سیئات اور برائیوں کا کفارہ بنادیا اور جب وہ اس نرم حساب و کتاب کے بعد جنت میں پہنچیں گے تو وہاں بغیر حساب و کتاب ان کو دیا جائے گا۔ یہ رجل مومن اپنی تقریر میں ان پت تنقید بھی کرتا ہے وہ تو ان کو راہ نجات کی طرف بلاتا ہے۔ جنتوں کی طرف بلاتا ہے ، اور وہ اسے آگ کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ سرزنش کے انداز میں کہتا ہے : ویٰقوم۔۔۔۔ الی النار (40: 41) ” اے قوم ، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو “۔ انہوں نے تو بظاہر اس کو آگ کی طرف نہیں بلایاشرک کی طرف بلایا۔ ظاہر ہے کہ شرک کی طرف بلانے اور آگ کی طرف بلانے میں کیا فرق ہے۔ یہ ایک ہی بات ہے اور اگلی آیت میں بات صاف کردیتا ہے۔ تدعوننی لاکفر۔۔۔۔ الغفار (40: 42) ” تم مجھے اس بات کی طرف دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک ٹھہراؤں جنہیں میں نہیں جانتا حالانکہ میں تمہیں زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلاتا ہوں “۔ اور ان دونوں دعوتوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ میری دعوت تو بہت واضح اور صاف ہے۔ عزیز و غفار کی طرف سے یہ دعوت ۔ ایک ایسے اللہ وحدہ کی طرف دعوت ہے جس کی وحدانیت پر اس کائنات کے تمام آثارشاہد ہیں اور اس کی قدرت اور حکمت پر اس کائنات کی ہر چیز شاہد عادل ہے۔ وہ ان کو اس کی طرف بلاتا ہے جو مغفرت کرنے والا ہے تاکہ بخش دے۔ جو بہت بڑا بخشنے والا ہے۔ اور یہ لوگ اس رجل مومن کس طرف بلاتے ہیں ؟ کفر کرنے کے لیے ، شرک کرنے کے لیے ، جس کا اسے کوئی علم نہیں ہے۔ محض دعویٰ ہے ، اوہام ہیں اور افسانے ہیں جن پر ان کا عقیدہ ہے۔ وہ ان کو دوٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ جن ہستیوں کو تم نے خدا کا شریک بنارکھا ہے۔ ان کی تو نہ دنیا میں کوئی پوزیشن ہے اور نہ آخرت میں کوئی پوزیشن ہے۔ آخر کار تمام انسانوں کو تو صرف اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ اور یہ تم لوگ جو اسراف کرتے ہو اور حدود کو یاد کرتے ہو تمہارے لیے تو جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لاجرم۔۔۔۔۔ اصحٰب النار (40: 43) ” حق یہ ہے اور اس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ، ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں “۔ عقائد کے حوالے سے یہ بنیادی باتیں دوٹوک انداز میں بیان کردینے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ یہ سب باتیں اس رجل مومن نے فرعون ، اس کے درباریوں اور وزراء کے سامنے کردیں ، بغیر کسی جھجک اور شف شف کے۔ پہلے تو وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا لیکن تقریر کے آخر میں اسنے اس کا اظہار کردیا۔ اب صرف یہ بات رہتی ہے کہ حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد وہ تمام امور کو اللہ پر چھوڑدے۔ اسنے بات کہہ دی ، اس کا ضمیر مطمئن ہوگیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اے کاش ! عنقریب تم میری باتوں کو یاد کروگے لیکن اس وقت اس نصیحت کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ حقیقت میں معاملات کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فستذکرون۔۔۔۔ بالعباد (40: 44) ” آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اسے یاد کروگے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کا نگہنان ہے “۔ اب اس پر یہ تقریر اور مکاملہ ختم ہوتا ہے۔ رجل مومن نے کلمہ حق اس کائنات کے ضمیر میں ریکارڈکرادیا اور قرآن نے اسے لازوال دوام بخشا۔ یہاں سیاق کلام حضرت موسیٰ اور فرعون کی طویل کشمکش کی بعض کڑیوں کو مجمل کردیتا ہے۔ اب یہاں بنی اسرائیل کے فرار اور نجات اور فرعون کی غرقابی کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔ برزخی زندگی میں اس کا حال یہ ہوگا۔

غافر 40:45

آیت نمبر 45 تا 50 یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔ النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کے زمانے میں ، یہ ہوگا عذاب قبر۔ کیونکہ اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ ویوم تقوم۔۔۔۔ العذاب (40: 46) ' اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ لہٰذا آگ پر پیش کرنے کا عذاب قیامت سے پہلے کا عذاب ہوگا اور یہ بہت ہی سخت سزا ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اسے دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ یہ آگ ہے جو انہیں جلائے گی۔ اس کی حرارت تو ان کو بہرحال پہنچے گی۔ یہ بھی شدید عذاب ہے کیونکہ لفظ عرض قرآن میں چھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو معنی یہ ہوں گے کہ عملاً انہیں صبح وشام آگ میں جلایا جاتا ہے اور قیامت کے دن پھر مستقلاً شدید ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ لیکن اگلی آیت میں اب جو منظر ہے اس میں قیامت عملاً برپا ہے۔ ایک جھلک جہنم کی دکھائی جاتی ہے۔ جہاں وہ یوں جھگڑتے ہیں : فیقول۔۔۔۔ من الناز (40: 47) ” دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ اس وقت ضعفاء بھی متکبرین کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ یہ بات ان کے لیے بھی مفید نہ ہوگی کہ وہ دوسروں کے تابع مہمل تھے اور ماتحت تھے۔ ان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ انہیں تو دنیا میں بھیڑ بکریوں کی طرح چلایا جارہا تھا۔ اور ان کی کوئی رائے اور کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ اختیارات تھے۔ اللہ نے تو ان کو بہت بڑا مرتبہ دیا تھا ، انسانی کرامت اور شرافت دی تھی اور یہ شرافت دی تھی کہ ہر ایک فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ اور ہر فرد کو آزادی اور حریت دی تھی لیکن انہوں نے ازخود ان سب باتوں کو ترک کردیا اور ازخود انہوں نے ان بڑے اور سرکشوں کے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ اس لیے اب یہ لوگ ان کبراء سے کیوں شکایت کرتے ہیں بلکہ وہ اس شکایت کے بارے میں سوچتے کیوں ہیں بلکہ یہ جو شکایت کرتے ہیں اسکے بارے میں انہوں نے سوچا ہی نہیں ، وہ کہتے ہیں۔ انا کنا لکم تبعا (40: 47) ” ہم تمہارے تابع تھے “۔ لیکن یہ اس لیے تو تابع نہ ہوئے تھے اور اپنی آزادی سے اس لیے تو دستکش نہ ہوئے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ کبراء کوئی شفاعت کریں گے۔ وہ تو اس وقت آگ میں جل رہے ہیں اور یہاں تک کبراء ہی نے ان کو پہنچایا ہے ، جس طرح وہ دنیا میں ان کو چلاتے تھے۔ اس طرح جیسے بھیڑ بکریوں کو چلایا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ ان کبراء سے پوچھتے ہیں۔ فھل انتم مغنون عنا نصیبا من النار (40: 47) ” اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ جس طرح زمین میں تمہارا دعویٰ تھا کہ ہم عوام کو سیدھے راستے کی طرف لے جاتے ہیں اور فساد سے بچاتے ہیں اور شر اور تکلیفوں اور دکھوں سے اور دشمنوں کی سازشوں سے بچاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دنیا میں بڑے بنے ہوئے تھے۔ وہ اس سوال کا جواب بڑی ترشی سے دیتے ہیں ، کیونکہ وہ جہنم کے عذاب میں جل رہے ہیں ، نہایت ہی تنگدلی کیساتھ ، وہ دوٹوک الفاظ میں ، جواب دیتے ہیں اور استکبار کے بعد اب اجرام کا اقرار کرتے ہیں۔ قال الذین۔۔۔۔ العباد (40: 48) ” بڑے بننے والے جواب دیں گے ، ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے “۔ ہم سب اس میں ہیں۔ اناکل فیھآ (40: 48) ” ہم سب اس میں ہیں “۔ اب ہم سب ضعفاء ہیں۔ کوئی معاون اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ سب رنج والم میں مبتلا ہیں ، سب کے سب دردوکرب میں ہیں۔ اس لیے تمہارا سوال احمقانہ ہے ۔ یہاں تو کبراء وضعفاء سب ہی مر رہے ہیں۔ اللہ نے فیصلہ سب کا کردیا ہے ، اس پر کوئی اپیل نہیں ہوسکتی ، اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ یہ فائنل فیصلہ ہے۔ بندوں میں سے تو کوئی اللہ کے کسی فیصلے کی سزا میں کمی نہیں کرسکتا۔ جب دونوں نے معلوم کرلیا کہ اللہ کے سوا کوئی شنوائی نہیں کرسکتا تو یہ لوگ اب جہنم کے داروغہ کی طرف جاتے ہیں ، نہایت ہی ذلت کی حالت میں ، نہایت ہی عاجزی اور بےکسی میں ، اور یہ حالت کبراء وضعفاء دونوں پر طاری ہے۔ وقال الذین۔۔۔۔۔ العذاب (40: 49) ” پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ” اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں پس ایک دن کی تخفیف کردے “۔ اب یہ جہنم کے اہل کاروں کی سفارش لانے کی سعی کریں گے کہ وہ ان کی دوخواست پیش کریں ، ان اہلکاروں سے امیدیں وابستہ کریں گے کیونکہ عذاب سخت ہے ، اور تم لوگ رب تعالیٰ سے صرف ایک دن کی معافی دلوا دو ۔ صرف اہل دن ۔ کہ ایک دن کے لیے تو ہم سانس لے سکیں اور ایک دن ہی تو آرام سے گزرجائے ۔ جہنم میں ایک دن بھی اس قدر اہم ہوگا کہ اس کے لیے یہ عاجزانہ التماس کررہے ہیں۔ لیکن جہنم کے اہل کار اس عاجزانہ دوخواست پر بحث ہی نہیں کرتے ۔ جو نہایت ہی ذلت اور مصیبت میں دی گئی ہے کیونکہ ان کو اللہ کے قواعد معلوم ہیں۔ ان کو سنت الہیہ کا علم ہے۔ امن کو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے وقت گنوادیا ہے۔ لہذا وہ ان کو ملامت کرکے مزید دکھ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تو سوچو کہ اس حالت زار تک کس طرح پہنچے۔ قالوآاولم۔۔۔۔۔ قالوابلٰی (40: 50) ” وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آتے رہے تھے۔ وہ کہیں گے ہاں “۔ جہنم کے اہل کار ان کا یہ سوال جواب ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ بات یہاں ختم ہوجائے ۔ اب جہنم کے اہل کار ان سے دامن جھاڑلیتے ہیں اور نہایت ہی حقارت اور استہزاء کے ساتھ ان کو اس مایوسی میں ڈوبا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔ قالوا فادعوا (40: 50) ” پھر تو تم دعا کرو “۔ اگر یہ دعا تمہاری اس حالت کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔۔۔۔ اور آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے : وما دعوالکٰفرین الافی ضلٰل (40: 50) ” اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے “۔ وہ مقام تک نہیں پہنچ سکتی ۔ وہ نہ جگہ تک پہنچتی ہے اور نہ اس کا جواب آتا ہے۔ یوں ضعفاء اور کبراء دونوں کو ناقابل التفات حالت میں چھوڑدیا جاتا ہے۔ جہنم کے اس فیصلہ کن موقف کے بعد آخری تبصرہ یہ ہے۔ یہ تمام مخلوق کے لیے سبق ہے۔ اس سے قبل اس طرف اشارہ آیا تھا کہ جو گروہ اور پارٹیاں اللہ کے عذاب کو دعوت دیتی ہیں اور رسول کی تکذیب کرتی ہیں اور زمین میں استکبار کا رویہ اختیار کرتی ہیں ، قیامت میں تو ان اک یہ حال ہوگا ہی دنیا میں بھی بےغم نہ رہیں گے۔

غافر 40:46

آیت نمبر 45 تا 50 یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔ النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کے زمانے میں ، یہ ہوگا عذاب قبر۔ کیونکہ اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ ویوم تقوم۔۔۔۔ العذاب (40: 46) ' اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ لہٰذا آگ پر پیش کرنے کا عذاب قیامت سے پہلے کا عذاب ہوگا اور یہ بہت ہی سخت سزا ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اسے دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ یہ آگ ہے جو انہیں جلائے گی۔ اس کی حرارت تو ان کو بہرحال پہنچے گی۔ یہ بھی شدید عذاب ہے کیونکہ لفظ عرض قرآن میں چھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو معنی یہ ہوں گے کہ عملاً انہیں صبح وشام آگ میں جلایا جاتا ہے اور قیامت کے دن پھر مستقلاً شدید ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ لیکن اگلی آیت میں اب جو منظر ہے اس میں قیامت عملاً برپا ہے۔ ایک جھلک جہنم کی دکھائی جاتی ہے۔ جہاں وہ یوں جھگڑتے ہیں : فیقول۔۔۔۔ من الناز (40: 47) ” دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ اس وقت ضعفاء بھی متکبرین کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ یہ بات ان کے لیے بھی مفید نہ ہوگی کہ وہ دوسروں کے تابع مہمل تھے اور ماتحت تھے۔ ان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ انہیں تو دنیا میں بھیڑ بکریوں کی طرح چلایا جارہا تھا۔ اور ان کی کوئی رائے اور کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ اختیارات تھے۔ اللہ نے تو ان کو بہت بڑا مرتبہ دیا تھا ، انسانی کرامت اور شرافت دی تھی اور یہ شرافت دی تھی کہ ہر ایک فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ اور ہر فرد کو آزادی اور حریت دی تھی لیکن انہوں نے ازخود ان سب باتوں کو ترک کردیا اور ازخود انہوں نے ان بڑے اور سرکشوں کے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ اس لیے اب یہ لوگ ان کبراء سے کیوں شکایت کرتے ہیں بلکہ وہ اس شکایت کے بارے میں سوچتے کیوں ہیں بلکہ یہ جو شکایت کرتے ہیں اسکے بارے میں انہوں نے سوچا ہی نہیں ، وہ کہتے ہیں۔ انا کنا لکم تبعا (40: 47) ” ہم تمہارے تابع تھے “۔ لیکن یہ اس لیے تو تابع نہ ہوئے تھے اور اپنی آزادی سے اس لیے تو دستکش نہ ہوئے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ کبراء کوئی شفاعت کریں گے۔ وہ تو اس وقت آگ میں جل رہے ہیں اور یہاں تک کبراء ہی نے ان کو پہنچایا ہے ، جس طرح وہ دنیا میں ان کو چلاتے تھے۔ اس طرح جیسے بھیڑ بکریوں کو چلایا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ ان کبراء سے پوچھتے ہیں۔ فھل انتم مغنون عنا نصیبا من النار (40: 47) ” اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ جس طرح زمین میں تمہارا دعویٰ تھا کہ ہم عوام کو سیدھے راستے کی طرف لے جاتے ہیں اور فساد سے بچاتے ہیں اور شر اور تکلیفوں اور دکھوں سے اور دشمنوں کی سازشوں سے بچاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دنیا میں بڑے بنے ہوئے تھے۔ وہ اس سوال کا جواب بڑی ترشی سے دیتے ہیں ، کیونکہ وہ جہنم کے عذاب میں جل رہے ہیں ، نہایت ہی تنگدلی کیساتھ ، وہ دوٹوک الفاظ میں ، جواب دیتے ہیں اور استکبار کے بعد اب اجرام کا اقرار کرتے ہیں۔ قال الذین۔۔۔۔ العباد (40: 48) ” بڑے بننے والے جواب دیں گے ، ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے “۔ ہم سب اس میں ہیں۔ اناکل فیھآ (40: 48) ” ہم سب اس میں ہیں “۔ اب ہم سب ضعفاء ہیں۔ کوئی معاون اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ سب رنج والم میں مبتلا ہیں ، سب کے سب دردوکرب میں ہیں۔ اس لیے تمہارا سوال احمقانہ ہے ۔ یہاں تو کبراء وضعفاء سب ہی مر رہے ہیں۔ اللہ نے فیصلہ سب کا کردیا ہے ، اس پر کوئی اپیل نہیں ہوسکتی ، اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ یہ فائنل فیصلہ ہے۔ بندوں میں سے تو کوئی اللہ کے کسی فیصلے کی سزا میں کمی نہیں کرسکتا۔ جب دونوں نے معلوم کرلیا کہ اللہ کے سوا کوئی شنوائی نہیں کرسکتا تو یہ لوگ اب جہنم کے داروغہ کی طرف جاتے ہیں ، نہایت ہی ذلت کی حالت میں ، نہایت ہی عاجزی اور بےکسی میں ، اور یہ حالت کبراء وضعفاء دونوں پر طاری ہے۔ وقال الذین۔۔۔۔۔ العذاب (40: 49) ” پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ” اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں پس ایک دن کی تخفیف کردے “۔ اب یہ جہنم کے اہل کاروں کی سفارش لانے کی سعی کریں گے کہ وہ ان کی دوخواست پیش کریں ، ان اہلکاروں سے امیدیں وابستہ کریں گے کیونکہ عذاب سخت ہے ، اور تم لوگ رب تعالیٰ سے صرف ایک دن کی معافی دلوا دو ۔ صرف اہل دن ۔ کہ ایک دن کے لیے تو ہم سانس لے سکیں اور ایک دن ہی تو آرام سے گزرجائے ۔ جہنم میں ایک دن بھی اس قدر اہم ہوگا کہ اس کے لیے یہ عاجزانہ التماس کررہے ہیں۔ لیکن جہنم کے اہل کار اس عاجزانہ دوخواست پر بحث ہی نہیں کرتے ۔ جو نہایت ہی ذلت اور مصیبت میں دی گئی ہے کیونکہ ان کو اللہ کے قواعد معلوم ہیں۔ ان کو سنت الہیہ کا علم ہے۔ امن کو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے وقت گنوادیا ہے۔ لہذا وہ ان کو ملامت کرکے مزید دکھ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تو سوچو کہ اس حالت زار تک کس طرح پہنچے۔ قالوآاولم۔۔۔۔۔ قالوابلٰی (40: 50) ” وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آتے رہے تھے۔ وہ کہیں گے ہاں “۔ جہنم کے اہل کار ان کا یہ سوال جواب ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ بات یہاں ختم ہوجائے ۔ اب جہنم کے اہل کار ان سے دامن جھاڑلیتے ہیں اور نہایت ہی حقارت اور استہزاء کے ساتھ ان کو اس مایوسی میں ڈوبا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔ قالوا فادعوا (40: 50) ” پھر تو تم دعا کرو “۔ اگر یہ دعا تمہاری اس حالت کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔۔۔۔ اور آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے : وما دعوالکٰفرین الافی ضلٰل (40: 50) ” اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے “۔ وہ مقام تک نہیں پہنچ سکتی ۔ وہ نہ جگہ تک پہنچتی ہے اور نہ اس کا جواب آتا ہے۔ یوں ضعفاء اور کبراء دونوں کو ناقابل التفات حالت میں چھوڑدیا جاتا ہے۔ جہنم کے اس فیصلہ کن موقف کے بعد آخری تبصرہ یہ ہے۔ یہ تمام مخلوق کے لیے سبق ہے۔ اس سے قبل اس طرف اشارہ آیا تھا کہ جو گروہ اور پارٹیاں اللہ کے عذاب کو دعوت دیتی ہیں اور رسول کی تکذیب کرتی ہیں اور زمین میں استکبار کا رویہ اختیار کرتی ہیں ، قیامت میں تو ان اک یہ حال ہوگا ہی دنیا میں بھی بےغم نہ رہیں گے۔

غافر 40:47

آیت نمبر 45 تا 50 یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔ النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کے زمانے میں ، یہ ہوگا عذاب قبر۔ کیونکہ اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ ویوم تقوم۔۔۔۔ العذاب (40: 46) ' اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ لہٰذا آگ پر پیش کرنے کا عذاب قیامت سے پہلے کا عذاب ہوگا اور یہ بہت ہی سخت سزا ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اسے دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ یہ آگ ہے جو انہیں جلائے گی۔ اس کی حرارت تو ان کو بہرحال پہنچے گی۔ یہ بھی شدید عذاب ہے کیونکہ لفظ عرض قرآن میں چھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو معنی یہ ہوں گے کہ عملاً انہیں صبح وشام آگ میں جلایا جاتا ہے اور قیامت کے دن پھر مستقلاً شدید ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ لیکن اگلی آیت میں اب جو منظر ہے اس میں قیامت عملاً برپا ہے۔ ایک جھلک جہنم کی دکھائی جاتی ہے۔ جہاں وہ یوں جھگڑتے ہیں : فیقول۔۔۔۔ من الناز (40: 47) ” دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ اس وقت ضعفاء بھی متکبرین کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ یہ بات ان کے لیے بھی مفید نہ ہوگی کہ وہ دوسروں کے تابع مہمل تھے اور ماتحت تھے۔ ان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ انہیں تو دنیا میں بھیڑ بکریوں کی طرح چلایا جارہا تھا۔ اور ان کی کوئی رائے اور کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ اختیارات تھے۔ اللہ نے تو ان کو بہت بڑا مرتبہ دیا تھا ، انسانی کرامت اور شرافت دی تھی اور یہ شرافت دی تھی کہ ہر ایک فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ اور ہر فرد کو آزادی اور حریت دی تھی لیکن انہوں نے ازخود ان سب باتوں کو ترک کردیا اور ازخود انہوں نے ان بڑے اور سرکشوں کے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ اس لیے اب یہ لوگ ان کبراء سے کیوں شکایت کرتے ہیں بلکہ وہ اس شکایت کے بارے میں سوچتے کیوں ہیں بلکہ یہ جو شکایت کرتے ہیں اسکے بارے میں انہوں نے سوچا ہی نہیں ، وہ کہتے ہیں۔ انا کنا لکم تبعا (40: 47) ” ہم تمہارے تابع تھے “۔ لیکن یہ اس لیے تو تابع نہ ہوئے تھے اور اپنی آزادی سے اس لیے تو دستکش نہ ہوئے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ کبراء کوئی شفاعت کریں گے۔ وہ تو اس وقت آگ میں جل رہے ہیں اور یہاں تک کبراء ہی نے ان کو پہنچایا ہے ، جس طرح وہ دنیا میں ان کو چلاتے تھے۔ اس طرح جیسے بھیڑ بکریوں کو چلایا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ ان کبراء سے پوچھتے ہیں۔ فھل انتم مغنون عنا نصیبا من النار (40: 47) ” اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ جس طرح زمین میں تمہارا دعویٰ تھا کہ ہم عوام کو سیدھے راستے کی طرف لے جاتے ہیں اور فساد سے بچاتے ہیں اور شر اور تکلیفوں اور دکھوں سے اور دشمنوں کی سازشوں سے بچاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دنیا میں بڑے بنے ہوئے تھے۔ وہ اس سوال کا جواب بڑی ترشی سے دیتے ہیں ، کیونکہ وہ جہنم کے عذاب میں جل رہے ہیں ، نہایت ہی تنگدلی کیساتھ ، وہ دوٹوک الفاظ میں ، جواب دیتے ہیں اور استکبار کے بعد اب اجرام کا اقرار کرتے ہیں۔ قال الذین۔۔۔۔ العباد (40: 48) ” بڑے بننے والے جواب دیں گے ، ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے “۔ ہم سب اس میں ہیں۔ اناکل فیھآ (40: 48) ” ہم سب اس میں ہیں “۔ اب ہم سب ضعفاء ہیں۔ کوئی معاون اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ سب رنج والم میں مبتلا ہیں ، سب کے سب دردوکرب میں ہیں۔ اس لیے تمہارا سوال احمقانہ ہے ۔ یہاں تو کبراء وضعفاء سب ہی مر رہے ہیں۔ اللہ نے فیصلہ سب کا کردیا ہے ، اس پر کوئی اپیل نہیں ہوسکتی ، اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ یہ فائنل فیصلہ ہے۔ بندوں میں سے تو کوئی اللہ کے کسی فیصلے کی سزا میں کمی نہیں کرسکتا۔ جب دونوں نے معلوم کرلیا کہ اللہ کے سوا کوئی شنوائی نہیں کرسکتا تو یہ لوگ اب جہنم کے داروغہ کی طرف جاتے ہیں ، نہایت ہی ذلت کی حالت میں ، نہایت ہی عاجزی اور بےکسی میں ، اور یہ حالت کبراء وضعفاء دونوں پر طاری ہے۔ وقال الذین۔۔۔۔۔ العذاب (40: 49) ” پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ” اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں پس ایک دن کی تخفیف کردے “۔ اب یہ جہنم کے اہل کاروں کی سفارش لانے کی سعی کریں گے کہ وہ ان کی دوخواست پیش کریں ، ان اہلکاروں سے امیدیں وابستہ کریں گے کیونکہ عذاب سخت ہے ، اور تم لوگ رب تعالیٰ سے صرف ایک دن کی معافی دلوا دو ۔ صرف اہل دن ۔ کہ ایک دن کے لیے تو ہم سانس لے سکیں اور ایک دن ہی تو آرام سے گزرجائے ۔ جہنم میں ایک دن بھی اس قدر اہم ہوگا کہ اس کے لیے یہ عاجزانہ التماس کررہے ہیں۔ لیکن جہنم کے اہل کار اس عاجزانہ دوخواست پر بحث ہی نہیں کرتے ۔ جو نہایت ہی ذلت اور مصیبت میں دی گئی ہے کیونکہ ان کو اللہ کے قواعد معلوم ہیں۔ ان کو سنت الہیہ کا علم ہے۔ امن کو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے وقت گنوادیا ہے۔ لہذا وہ ان کو ملامت کرکے مزید دکھ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تو سوچو کہ اس حالت زار تک کس طرح پہنچے۔ قالوآاولم۔۔۔۔۔ قالوابلٰی (40: 50) ” وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آتے رہے تھے۔ وہ کہیں گے ہاں “۔ جہنم کے اہل کار ان کا یہ سوال جواب ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ بات یہاں ختم ہوجائے ۔ اب جہنم کے اہل کار ان سے دامن جھاڑلیتے ہیں اور نہایت ہی حقارت اور استہزاء کے ساتھ ان کو اس مایوسی میں ڈوبا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔ قالوا فادعوا (40: 50) ” پھر تو تم دعا کرو “۔ اگر یہ دعا تمہاری اس حالت کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔۔۔۔ اور آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے : وما دعوالکٰفرین الافی ضلٰل (40: 50) ” اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے “۔ وہ مقام تک نہیں پہنچ سکتی ۔ وہ نہ جگہ تک پہنچتی ہے اور نہ اس کا جواب آتا ہے۔ یوں ضعفاء اور کبراء دونوں کو ناقابل التفات حالت میں چھوڑدیا جاتا ہے۔ جہنم کے اس فیصلہ کن موقف کے بعد آخری تبصرہ یہ ہے۔ یہ تمام مخلوق کے لیے سبق ہے۔ اس سے قبل اس طرف اشارہ آیا تھا کہ جو گروہ اور پارٹیاں اللہ کے عذاب کو دعوت دیتی ہیں اور رسول کی تکذیب کرتی ہیں اور زمین میں استکبار کا رویہ اختیار کرتی ہیں ، قیامت میں تو ان اک یہ حال ہوگا ہی دنیا میں بھی بےغم نہ رہیں گے۔

غافر 40:48

آیت نمبر 45 تا 50 یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔ النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کے زمانے میں ، یہ ہوگا عذاب قبر۔ کیونکہ اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ ویوم تقوم۔۔۔۔ العذاب (40: 46) ' اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ لہٰذا آگ پر پیش کرنے کا عذاب قیامت سے پہلے کا عذاب ہوگا اور یہ بہت ہی سخت سزا ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اسے دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ یہ آگ ہے جو انہیں جلائے گی۔ اس کی حرارت تو ان کو بہرحال پہنچے گی۔ یہ بھی شدید عذاب ہے کیونکہ لفظ عرض قرآن میں چھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو معنی یہ ہوں گے کہ عملاً انہیں صبح وشام آگ میں جلایا جاتا ہے اور قیامت کے دن پھر مستقلاً شدید ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ لیکن اگلی آیت میں اب جو منظر ہے اس میں قیامت عملاً برپا ہے۔ ایک جھلک جہنم کی دکھائی جاتی ہے۔ جہاں وہ یوں جھگڑتے ہیں : فیقول۔۔۔۔ من الناز (40: 47) ” دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ اس وقت ضعفاء بھی متکبرین کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ یہ بات ان کے لیے بھی مفید نہ ہوگی کہ وہ دوسروں کے تابع مہمل تھے اور ماتحت تھے۔ ان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ انہیں تو دنیا میں بھیڑ بکریوں کی طرح چلایا جارہا تھا۔ اور ان کی کوئی رائے اور کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ اختیارات تھے۔ اللہ نے تو ان کو بہت بڑا مرتبہ دیا تھا ، انسانی کرامت اور شرافت دی تھی اور یہ شرافت دی تھی کہ ہر ایک فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ اور ہر فرد کو آزادی اور حریت دی تھی لیکن انہوں نے ازخود ان سب باتوں کو ترک کردیا اور ازخود انہوں نے ان بڑے اور سرکشوں کے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ اس لیے اب یہ لوگ ان کبراء سے کیوں شکایت کرتے ہیں بلکہ وہ اس شکایت کے بارے میں سوچتے کیوں ہیں بلکہ یہ جو شکایت کرتے ہیں اسکے بارے میں انہوں نے سوچا ہی نہیں ، وہ کہتے ہیں۔ انا کنا لکم تبعا (40: 47) ” ہم تمہارے تابع تھے “۔ لیکن یہ اس لیے تو تابع نہ ہوئے تھے اور اپنی آزادی سے اس لیے تو دستکش نہ ہوئے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ کبراء کوئی شفاعت کریں گے۔ وہ تو اس وقت آگ میں جل رہے ہیں اور یہاں تک کبراء ہی نے ان کو پہنچایا ہے ، جس طرح وہ دنیا میں ان کو چلاتے تھے۔ اس طرح جیسے بھیڑ بکریوں کو چلایا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ ان کبراء سے پوچھتے ہیں۔ فھل انتم مغنون عنا نصیبا من النار (40: 47) ” اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ جس طرح زمین میں تمہارا دعویٰ تھا کہ ہم عوام کو سیدھے راستے کی طرف لے جاتے ہیں اور فساد سے بچاتے ہیں اور شر اور تکلیفوں اور دکھوں سے اور دشمنوں کی سازشوں سے بچاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دنیا میں بڑے بنے ہوئے تھے۔ وہ اس سوال کا جواب بڑی ترشی سے دیتے ہیں ، کیونکہ وہ جہنم کے عذاب میں جل رہے ہیں ، نہایت ہی تنگدلی کیساتھ ، وہ دوٹوک الفاظ میں ، جواب دیتے ہیں اور استکبار کے بعد اب اجرام کا اقرار کرتے ہیں۔ قال الذین۔۔۔۔ العباد (40: 48) ” بڑے بننے والے جواب دیں گے ، ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے “۔ ہم سب اس میں ہیں۔ اناکل فیھآ (40: 48) ” ہم سب اس میں ہیں “۔ اب ہم سب ضعفاء ہیں۔ کوئی معاون اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ سب رنج والم میں مبتلا ہیں ، سب کے سب دردوکرب میں ہیں۔ اس لیے تمہارا سوال احمقانہ ہے ۔ یہاں تو کبراء وضعفاء سب ہی مر رہے ہیں۔ اللہ نے فیصلہ سب کا کردیا ہے ، اس پر کوئی اپیل نہیں ہوسکتی ، اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ یہ فائنل فیصلہ ہے۔ بندوں میں سے تو کوئی اللہ کے کسی فیصلے کی سزا میں کمی نہیں کرسکتا۔ جب دونوں نے معلوم کرلیا کہ اللہ کے سوا کوئی شنوائی نہیں کرسکتا تو یہ لوگ اب جہنم کے داروغہ کی طرف جاتے ہیں ، نہایت ہی ذلت کی حالت میں ، نہایت ہی عاجزی اور بےکسی میں ، اور یہ حالت کبراء وضعفاء دونوں پر طاری ہے۔ وقال الذین۔۔۔۔۔ العذاب (40: 49) ” پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ” اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں پس ایک دن کی تخفیف کردے “۔ اب یہ جہنم کے اہل کاروں کی سفارش لانے کی سعی کریں گے کہ وہ ان کی دوخواست پیش کریں ، ان اہلکاروں سے امیدیں وابستہ کریں گے کیونکہ عذاب سخت ہے ، اور تم لوگ رب تعالیٰ سے صرف ایک دن کی معافی دلوا دو ۔ صرف اہل دن ۔ کہ ایک دن کے لیے تو ہم سانس لے سکیں اور ایک دن ہی تو آرام سے گزرجائے ۔ جہنم میں ایک دن بھی اس قدر اہم ہوگا کہ اس کے لیے یہ عاجزانہ التماس کررہے ہیں۔ لیکن جہنم کے اہل کار اس عاجزانہ دوخواست پر بحث ہی نہیں کرتے ۔ جو نہایت ہی ذلت اور مصیبت میں دی گئی ہے کیونکہ ان کو اللہ کے قواعد معلوم ہیں۔ ان کو سنت الہیہ کا علم ہے۔ امن کو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے وقت گنوادیا ہے۔ لہذا وہ ان کو ملامت کرکے مزید دکھ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تو سوچو کہ اس حالت زار تک کس طرح پہنچے۔ قالوآاولم۔۔۔۔۔ قالوابلٰی (40: 50) ” وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آتے رہے تھے۔ وہ کہیں گے ہاں “۔ جہنم کے اہل کار ان کا یہ سوال جواب ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ بات یہاں ختم ہوجائے ۔ اب جہنم کے اہل کار ان سے دامن جھاڑلیتے ہیں اور نہایت ہی حقارت اور استہزاء کے ساتھ ان کو اس مایوسی میں ڈوبا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔ قالوا فادعوا (40: 50) ” پھر تو تم دعا کرو “۔ اگر یہ دعا تمہاری اس حالت کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔۔۔۔ اور آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے : وما دعوالکٰفرین الافی ضلٰل (40: 50) ” اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے “۔ وہ مقام تک نہیں پہنچ سکتی ۔ وہ نہ جگہ تک پہنچتی ہے اور نہ اس کا جواب آتا ہے۔ یوں ضعفاء اور کبراء دونوں کو ناقابل التفات حالت میں چھوڑدیا جاتا ہے۔ جہنم کے اس فیصلہ کن موقف کے بعد آخری تبصرہ یہ ہے۔ یہ تمام مخلوق کے لیے سبق ہے۔ اس سے قبل اس طرف اشارہ آیا تھا کہ جو گروہ اور پارٹیاں اللہ کے عذاب کو دعوت دیتی ہیں اور رسول کی تکذیب کرتی ہیں اور زمین میں استکبار کا رویہ اختیار کرتی ہیں ، قیامت میں تو ان اک یہ حال ہوگا ہی دنیا میں بھی بےغم نہ رہیں گے۔

غافر 40:49

آیت نمبر 45 تا 50 یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔ النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کے زمانے میں ، یہ ہوگا عذاب قبر۔ کیونکہ اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ ویوم تقوم۔۔۔۔ العذاب (40: 46) ' اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ لہٰذا آگ پر پیش کرنے کا عذاب قیامت سے پہلے کا عذاب ہوگا اور یہ بہت ہی سخت سزا ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اسے دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ یہ آگ ہے جو انہیں جلائے گی۔ اس کی حرارت تو ان کو بہرحال پہنچے گی۔ یہ بھی شدید عذاب ہے کیونکہ لفظ عرض قرآن میں چھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو معنی یہ ہوں گے کہ عملاً انہیں صبح وشام آگ میں جلایا جاتا ہے اور قیامت کے دن پھر مستقلاً شدید ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ لیکن اگلی آیت میں اب جو منظر ہے اس میں قیامت عملاً برپا ہے۔ ایک جھلک جہنم کی دکھائی جاتی ہے۔ جہاں وہ یوں جھگڑتے ہیں : فیقول۔۔۔۔ من الناز (40: 47) ” دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ اس وقت ضعفاء بھی متکبرین کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ یہ بات ان کے لیے بھی مفید نہ ہوگی کہ وہ دوسروں کے تابع مہمل تھے اور ماتحت تھے۔ ان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ انہیں تو دنیا میں بھیڑ بکریوں کی طرح چلایا جارہا تھا۔ اور ان کی کوئی رائے اور کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ اختیارات تھے۔ اللہ نے تو ان کو بہت بڑا مرتبہ دیا تھا ، انسانی کرامت اور شرافت دی تھی اور یہ شرافت دی تھی کہ ہر ایک فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ اور ہر فرد کو آزادی اور حریت دی تھی لیکن انہوں نے ازخود ان سب باتوں کو ترک کردیا اور ازخود انہوں نے ان بڑے اور سرکشوں کے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ اس لیے اب یہ لوگ ان کبراء سے کیوں شکایت کرتے ہیں بلکہ وہ اس شکایت کے بارے میں سوچتے کیوں ہیں بلکہ یہ جو شکایت کرتے ہیں اسکے بارے میں انہوں نے سوچا ہی نہیں ، وہ کہتے ہیں۔ انا کنا لکم تبعا (40: 47) ” ہم تمہارے تابع تھے “۔ لیکن یہ اس لیے تو تابع نہ ہوئے تھے اور اپنی آزادی سے اس لیے تو دستکش نہ ہوئے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ کبراء کوئی شفاعت کریں گے۔ وہ تو اس وقت آگ میں جل رہے ہیں اور یہاں تک کبراء ہی نے ان کو پہنچایا ہے ، جس طرح وہ دنیا میں ان کو چلاتے تھے۔ اس طرح جیسے بھیڑ بکریوں کو چلایا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ ان کبراء سے پوچھتے ہیں۔ فھل انتم مغنون عنا نصیبا من النار (40: 47) ” اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ جس طرح زمین میں تمہارا دعویٰ تھا کہ ہم عوام کو سیدھے راستے کی طرف لے جاتے ہیں اور فساد سے بچاتے ہیں اور شر اور تکلیفوں اور دکھوں سے اور دشمنوں کی سازشوں سے بچاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دنیا میں بڑے بنے ہوئے تھے۔ وہ اس سوال کا جواب بڑی ترشی سے دیتے ہیں ، کیونکہ وہ جہنم کے عذاب میں جل رہے ہیں ، نہایت ہی تنگدلی کیساتھ ، وہ دوٹوک الفاظ میں ، جواب دیتے ہیں اور استکبار کے بعد اب اجرام کا اقرار کرتے ہیں۔ قال الذین۔۔۔۔ العباد (40: 48) ” بڑے بننے والے جواب دیں گے ، ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے “۔ ہم سب اس میں ہیں۔ اناکل فیھآ (40: 48) ” ہم سب اس میں ہیں “۔ اب ہم سب ضعفاء ہیں۔ کوئی معاون اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ سب رنج والم میں مبتلا ہیں ، سب کے سب دردوکرب میں ہیں۔ اس لیے تمہارا سوال احمقانہ ہے ۔ یہاں تو کبراء وضعفاء سب ہی مر رہے ہیں۔ اللہ نے فیصلہ سب کا کردیا ہے ، اس پر کوئی اپیل نہیں ہوسکتی ، اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ یہ فائنل فیصلہ ہے۔ بندوں میں سے تو کوئی اللہ کے کسی فیصلے کی سزا میں کمی نہیں کرسکتا۔ جب دونوں نے معلوم کرلیا کہ اللہ کے سوا کوئی شنوائی نہیں کرسکتا تو یہ لوگ اب جہنم کے داروغہ کی طرف جاتے ہیں ، نہایت ہی ذلت کی حالت میں ، نہایت ہی عاجزی اور بےکسی میں ، اور یہ حالت کبراء وضعفاء دونوں پر طاری ہے۔ وقال الذین۔۔۔۔۔ العذاب (40: 49) ” پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ” اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں پس ایک دن کی تخفیف کردے “۔ اب یہ جہنم کے اہل کاروں کی سفارش لانے کی سعی کریں گے کہ وہ ان کی دوخواست پیش کریں ، ان اہلکاروں سے امیدیں وابستہ کریں گے کیونکہ عذاب سخت ہے ، اور تم لوگ رب تعالیٰ سے صرف ایک دن کی معافی دلوا دو ۔ صرف اہل دن ۔ کہ ایک دن کے لیے تو ہم سانس لے سکیں اور ایک دن ہی تو آرام سے گزرجائے ۔ جہنم میں ایک دن بھی اس قدر اہم ہوگا کہ اس کے لیے یہ عاجزانہ التماس کررہے ہیں۔ لیکن جہنم کے اہل کار اس عاجزانہ دوخواست پر بحث ہی نہیں کرتے ۔ جو نہایت ہی ذلت اور مصیبت میں دی گئی ہے کیونکہ ان کو اللہ کے قواعد معلوم ہیں۔ ان کو سنت الہیہ کا علم ہے۔ امن کو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے وقت گنوادیا ہے۔ لہذا وہ ان کو ملامت کرکے مزید دکھ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تو سوچو کہ اس حالت زار تک کس طرح پہنچے۔ قالوآاولم۔۔۔۔۔ قالوابلٰی (40: 50) ” وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آتے رہے تھے۔ وہ کہیں گے ہاں “۔ جہنم کے اہل کار ان کا یہ سوال جواب ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ بات یہاں ختم ہوجائے ۔ اب جہنم کے اہل کار ان سے دامن جھاڑلیتے ہیں اور نہایت ہی حقارت اور استہزاء کے ساتھ ان کو اس مایوسی میں ڈوبا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔ قالوا فادعوا (40: 50) ” پھر تو تم دعا کرو “۔ اگر یہ دعا تمہاری اس حالت کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔۔۔۔ اور آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے : وما دعوالکٰفرین الافی ضلٰل (40: 50) ” اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے “۔ وہ مقام تک نہیں پہنچ سکتی ۔ وہ نہ جگہ تک پہنچتی ہے اور نہ اس کا جواب آتا ہے۔ یوں ضعفاء اور کبراء دونوں کو ناقابل التفات حالت میں چھوڑدیا جاتا ہے۔ جہنم کے اس فیصلہ کن موقف کے بعد آخری تبصرہ یہ ہے۔ یہ تمام مخلوق کے لیے سبق ہے۔ اس سے قبل اس طرف اشارہ آیا تھا کہ جو گروہ اور پارٹیاں اللہ کے عذاب کو دعوت دیتی ہیں اور رسول کی تکذیب کرتی ہیں اور زمین میں استکبار کا رویہ اختیار کرتی ہیں ، قیامت میں تو ان اک یہ حال ہوگا ہی دنیا میں بھی بےغم نہ رہیں گے۔

غافر 40:50

آیت نمبر 45 تا 50 یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔ النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کے زمانے میں ، یہ ہوگا عذاب قبر۔ کیونکہ اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔ ویوم تقوم۔۔۔۔ العذاب (40: 46) ' اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ لہٰذا آگ پر پیش کرنے کا عذاب قیامت سے پہلے کا عذاب ہوگا اور یہ بہت ہی سخت سزا ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اسے دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ یہ آگ ہے جو انہیں جلائے گی۔ اس کی حرارت تو ان کو بہرحال پہنچے گی۔ یہ بھی شدید عذاب ہے کیونکہ لفظ عرض قرآن میں چھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو معنی یہ ہوں گے کہ عملاً انہیں صبح وشام آگ میں جلایا جاتا ہے اور قیامت کے دن پھر مستقلاً شدید ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ لیکن اگلی آیت میں اب جو منظر ہے اس میں قیامت عملاً برپا ہے۔ ایک جھلک جہنم کی دکھائی جاتی ہے۔ جہاں وہ یوں جھگڑتے ہیں : فیقول۔۔۔۔ من الناز (40: 47) ” دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ اس وقت ضعفاء بھی متکبرین کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ یہ بات ان کے لیے بھی مفید نہ ہوگی کہ وہ دوسروں کے تابع مہمل تھے اور ماتحت تھے۔ ان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ انہیں تو دنیا میں بھیڑ بکریوں کی طرح چلایا جارہا تھا۔ اور ان کی کوئی رائے اور کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ اختیارات تھے۔ اللہ نے تو ان کو بہت بڑا مرتبہ دیا تھا ، انسانی کرامت اور شرافت دی تھی اور یہ شرافت دی تھی کہ ہر ایک فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ اور ہر فرد کو آزادی اور حریت دی تھی لیکن انہوں نے ازخود ان سب باتوں کو ترک کردیا اور ازخود انہوں نے ان بڑے اور سرکشوں کے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ اس لیے اب یہ لوگ ان کبراء سے کیوں شکایت کرتے ہیں بلکہ وہ اس شکایت کے بارے میں سوچتے کیوں ہیں بلکہ یہ جو شکایت کرتے ہیں اسکے بارے میں انہوں نے سوچا ہی نہیں ، وہ کہتے ہیں۔ انا کنا لکم تبعا (40: 47) ” ہم تمہارے تابع تھے “۔ لیکن یہ اس لیے تو تابع نہ ہوئے تھے اور اپنی آزادی سے اس لیے تو دستکش نہ ہوئے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ کبراء کوئی شفاعت کریں گے۔ وہ تو اس وقت آگ میں جل رہے ہیں اور یہاں تک کبراء ہی نے ان کو پہنچایا ہے ، جس طرح وہ دنیا میں ان کو چلاتے تھے۔ اس طرح جیسے بھیڑ بکریوں کو چلایا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ ان کبراء سے پوچھتے ہیں۔ فھل انتم مغنون عنا نصیبا من النار (40: 47) ” اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالوگے “۔ جس طرح زمین میں تمہارا دعویٰ تھا کہ ہم عوام کو سیدھے راستے کی طرف لے جاتے ہیں اور فساد سے بچاتے ہیں اور شر اور تکلیفوں اور دکھوں سے اور دشمنوں کی سازشوں سے بچاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دنیا میں بڑے بنے ہوئے تھے۔ وہ اس سوال کا جواب بڑی ترشی سے دیتے ہیں ، کیونکہ وہ جہنم کے عذاب میں جل رہے ہیں ، نہایت ہی تنگدلی کیساتھ ، وہ دوٹوک الفاظ میں ، جواب دیتے ہیں اور استکبار کے بعد اب اجرام کا اقرار کرتے ہیں۔ قال الذین۔۔۔۔ العباد (40: 48) ” بڑے بننے والے جواب دیں گے ، ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے “۔ ہم سب اس میں ہیں۔ اناکل فیھآ (40: 48) ” ہم سب اس میں ہیں “۔ اب ہم سب ضعفاء ہیں۔ کوئی معاون اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ سب رنج والم میں مبتلا ہیں ، سب کے سب دردوکرب میں ہیں۔ اس لیے تمہارا سوال احمقانہ ہے ۔ یہاں تو کبراء وضعفاء سب ہی مر رہے ہیں۔ اللہ نے فیصلہ سب کا کردیا ہے ، اس پر کوئی اپیل نہیں ہوسکتی ، اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ یہ فائنل فیصلہ ہے۔ بندوں میں سے تو کوئی اللہ کے کسی فیصلے کی سزا میں کمی نہیں کرسکتا۔ جب دونوں نے معلوم کرلیا کہ اللہ کے سوا کوئی شنوائی نہیں کرسکتا تو یہ لوگ اب جہنم کے داروغہ کی طرف جاتے ہیں ، نہایت ہی ذلت کی حالت میں ، نہایت ہی عاجزی اور بےکسی میں ، اور یہ حالت کبراء وضعفاء دونوں پر طاری ہے۔ وقال الذین۔۔۔۔۔ العذاب (40: 49) ” پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ” اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں پس ایک دن کی تخفیف کردے “۔ اب یہ جہنم کے اہل کاروں کی سفارش لانے کی سعی کریں گے کہ وہ ان کی دوخواست پیش کریں ، ان اہلکاروں سے امیدیں وابستہ کریں گے کیونکہ عذاب سخت ہے ، اور تم لوگ رب تعالیٰ سے صرف ایک دن کی معافی دلوا دو ۔ صرف اہل دن ۔ کہ ایک دن کے لیے تو ہم سانس لے سکیں اور ایک دن ہی تو آرام سے گزرجائے ۔ جہنم میں ایک دن بھی اس قدر اہم ہوگا کہ اس کے لیے یہ عاجزانہ التماس کررہے ہیں۔ لیکن جہنم کے اہل کار اس عاجزانہ دوخواست پر بحث ہی نہیں کرتے ۔ جو نہایت ہی ذلت اور مصیبت میں دی گئی ہے کیونکہ ان کو اللہ کے قواعد معلوم ہیں۔ ان کو سنت الہیہ کا علم ہے۔ امن کو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے وقت گنوادیا ہے۔ لہذا وہ ان کو ملامت کرکے مزید دکھ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تو سوچو کہ اس حالت زار تک کس طرح پہنچے۔ قالوآاولم۔۔۔۔۔ قالوابلٰی (40: 50) ” وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آتے رہے تھے۔ وہ کہیں گے ہاں “۔ جہنم کے اہل کار ان کا یہ سوال جواب ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ بات یہاں ختم ہوجائے ۔ اب جہنم کے اہل کار ان سے دامن جھاڑلیتے ہیں اور نہایت ہی حقارت اور استہزاء کے ساتھ ان کو اس مایوسی میں ڈوبا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔ قالوا فادعوا (40: 50) ” پھر تو تم دعا کرو “۔ اگر یہ دعا تمہاری اس حالت کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔۔۔۔ اور آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے : وما دعوالکٰفرین الافی ضلٰل (40: 50) ” اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے “۔ وہ مقام تک نہیں پہنچ سکتی ۔ وہ نہ جگہ تک پہنچتی ہے اور نہ اس کا جواب آتا ہے۔ یوں ضعفاء اور کبراء دونوں کو ناقابل التفات حالت میں چھوڑدیا جاتا ہے۔ جہنم کے اس فیصلہ کن موقف کے بعد آخری تبصرہ یہ ہے۔ یہ تمام مخلوق کے لیے سبق ہے۔ اس سے قبل اس طرف اشارہ آیا تھا کہ جو گروہ اور پارٹیاں اللہ کے عذاب کو دعوت دیتی ہیں اور رسول کی تکذیب کرتی ہیں اور زمین میں استکبار کا رویہ اختیار کرتی ہیں ، قیامت میں تو ان اک یہ حال ہوگا ہی دنیا میں بھی بےغم نہ رہیں گے۔

غافر 40:51

آیت نمبر 51 تا 55 اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ رہی آخرت تو کسی مومن کی جانب سے تو اس کے بارے میں کسی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر بحث ہوسکے ۔ رہی دنیا میں نصرت تو اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ بہرحال اللہ کا فیصلہ اور وعدہ تو یقینی ہے۔ قطعی الفاظ میں ہے۔ انا لننصر۔۔۔۔ الدنیا (40: 51) ” بیشک ہم اپنے رسولوں اور لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں مدد کرتے ہیں “۔ لیکن لوگوں کا مشاہدہ یہ ہے کہ رسولوں میں سے بعض تو قتل کیے گئے ، بعض کو اپنی زمین سے بھی نکالا گیا۔ ان کو اپنا گھر اور قوم چھوڑنا پڑی اور علاقہ بدر کردیئے گئے۔ مومنین میں سے بعض بعض کو سخت عذاب دیا جاتا ہے۔ بعض کو گڑھوں میں جلایا جاتا ہے ، بعض شہید ہوتے ہیں ، بعض نہایت دکھ درد اور مصیبتیں جھیلتے ہیں تو پھر یہ قطعی وعدہ کس طرح ہے کہ ہم حیات دنیا میں اپنے رسولوں اور مومنین کی مدد کرتے ہیں۔ اس سوال کے ذریعہ شیطان اللہ کے بندوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہے ؟ تو حقیقت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ تمام امور کے ظاہری پہلو ہی کو جانتے ہیں۔ ان کے سامنے وہ بیشتر قدریں اور حقائق نہیں ہوتے۔ جن کا تعلق اللہ کے نظام وقدر سے ہوتا ہے۔۔۔ پھر لوگوں کی سوچ ، اعمال ونتائج کے بارے میں ایک محدود زمانے تک محدود ہوتی ہے اور انسان کے قیاس اور سوچ کا دائرہ محدود ہوتا ہے ، رہے اللہ کے فیصلے تو زمان ومکان کے اعتبار سے ان کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک زمانے اور دوسرے زمانے میں جدائی نہیں کرتا۔ ایک علاقے اور دوسرے علاقے میں فرق نہیں کرتا۔ اگر ہم زمان و مکان کے حدود سے آگے بڑھ کر ایمان کے مسئلہ پر سوچیں تو حقیقت یہ سامنے آئے گی کہ ایمان کامیاب رہتا ہے۔ ایمان اور عقیدے کی کامیابی دراصل ان لوگوں کی کامیابی ہوتی ہے جو ایمان اور عقیدے کو اپناتے ہیں۔ اہل ایمان سے باہر کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اور ایمان کا پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے والے اس میں فنا ہوجائیں۔ وہ خود مٹ جائیں اور ایمان کو نمایاں کردیں۔ پھر نصرت کا مفہوم بھی لوگوں کے ہاں محدود ہے۔ وہ قریبی نصرت دیکھتے ہیں جسے وہ خود دیکھ سکیں ۔ لیکن نصرت کی اشکال تو بیشمار ہیں۔ بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ انسان کو نصرت بطاہر شکست نظر آتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا جاتا ہے لیکن وہ اپنے عقیدے اور دعوت سے نہیں پھرتے ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو نصرت ہوئی یا وہ شکست کھاگئے ایمان کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو ان کو فتح ہوئی۔ اس وقت بھی وہ فاتح تھے ، جب ان کو آگ میں پھینکا جارہا تھا اور اس وقت بھی فاتح تھے ان کو نجات دی گئی۔ یہ بھی فتح کی ایک صورت ہے اور آگ کا گلزار ہوتا بھی اس کی ایک صورت ہے۔ جبکہ بظاہر دونوں کی صورتیں مختلف ہیں۔ لیکن اپنی اصلیت میں دونوں ایک ہیں ۔ حضرت حسین ؓ کربلا میں شہادت پاتے ہیں۔ یہ ایک دلدوز واقعہ ہے۔ یہ فتح تھی یا شکست ۔ اگر بظاہر محدود پیمانوں سے دیکھا جائے تو شکست تھی۔ اور اگر حقیقت کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو یہ عظیم فتح ہے۔ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد حسین کو آج تک محبت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ آج تک لوگوں کے دل حسین کے ساتھ ہیں آج تک لوگ ان پر فدا ہوتے ہیں جبکہ فاتح یزید کا نام ونشان غائب ہے۔ حسین پر شیعہ سنی سب فدا ہیں اور یزید کے بارے میں کوئی نہیں کہتا کہ وہ اولاد یزید ہے یا یزید ہی ہے۔ کئی ایسے شہداء ہیں کہ اگر وہ ہزار سال زندہ رہتے تو اپنے نظریات کو پھیلانہ سکتے ۔ لیکن ایک شہادت سے ان کے نظریات اقطار عالم تک پھیل گئے۔ کوئی بھی شہید اپنے بیان اور تقریروں سے عوام کو بلند مقاصد عطا نہیں کرسکتا ۔ نہ عوام کو بلند مقاصد کے لیے ابھار سکتا ہے۔ لیکن اپنے خون کے زریعہ وہ جو خطبہ دیتا ہے اور وہ اس کا آخری خطاب ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محرک ہوتا اور نسلوں تک نشان منزل رہتا ہے۔ اور بعض اوقات تو ایک شہید جو راہ متعین کرتا ہے صدیوں تک تاریخ اس پر چلتی رہتی ہے اور قافلے اسی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ تو پھر فتح کیا ہے اور ہزیمت کیا ہے ؟ ہمیں چاہئے کہ فتح وشکست کے جو پیمانے ہمنے اپنے ذہنوں میں قائم کر رکھے ہیں ان پر ذرا نظرثانی کریں۔ اور اس کے بعد پھر پوچھیں کہ اللہ کی وہ مدد کہاں ہے ، جس کا وعدہ اللہ نے مومنین سے کیا ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ہاں بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ جب ظاہری صورت حال ، اللہ کے اعلیٰ اور دور رس پیمانوں کے ساتھ موافق ہوجاتی ہے تو فوری فتح بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو اللہ نے اپنی زندگی ہی میں نصرت اور کامرانی عطا فرمائی تھی کیونکہ دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی حقیقت اور یہ نصرف ساتھ ساتھ قائم ہوگئی تھیں۔ عقیدے کو نصرت تب ملتی ہے جب عقیدہ انسانی سوسائٹی پر غالب آجائے اور وہ سوسائٹی اس کے رنگ میں رنگ کرا سکے اندر ڈوب جائے۔ ایک فرد ایک جماعت اور ایک قوت حاکمہ سب کی سب اس میں ڈوب جایں تو پھر اللہ ایسے دوعیوں اور ایسی دعوت کی مدد کرتا ہے اور یہ نظریہ اور یہ نظام اپنی حقیقی صورت میں پھر قائم ہوجاتا ہے اور یہ نظام غالب ہو کر تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔ اور تاریخ پر اسکے یہ نقوش نمایاں نظر آتے ہیں۔ یوں قریبی نصرت کی صورت اور دوررس مقاصد کی صورت باہم متصل ہوجاتی ہیں۔ اب بظاہر نصرت عاجلہ ظہور میں آتی ہے جو دوررس سنت الہیہ کا حصہ ہوتی ہے۔ یوں سنت الہیہ اور تقدیر الہٰی کے اندر ایک فوری فتح کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کے ساتھ قائم ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ وعدے کے مستحق ہونے والے مومنین کے دلوں کے اندر حقیقت ایمان صحیح طرح قائم اور جاگزیں ہوجائے تاکہ اس پر اللہ کا وعدہ مرتب ہو۔ حقیقت ایمان کے سلسلے میں بسا اوقات لوگ سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ قلب مومن میں شرک کا شائبہ تک نہ رہے۔ کسی قسم کی شرک بھی دل کے قریب نہ ہو۔ شرک کی بعض صورتیں نہایت خفیہ ہوتی ہیں۔ ان سے دل پاک وصاف اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہو۔ اور صرف اللہ وحدہ پر توکل کرے۔ اور اللہ انسان کے بارے میں جو فیصلہ کرے اس پر وہ مطمئن ہوجائے۔ اور انسان اپنے آپ کو تقدیرالہٰی کے سپرد کردے۔ انسان کے اندر یہ حساس ہو کہ اس کے معاملات میں صرف اللہ ہی متصرف ہے۔ لہٰذا اس کے لیے اللہ جو اختیار کرتا ہے اس پر وہ کسی حال میں حیران نہ ہو اور اس کو جو پیش آئے اسے نہایت اطمینان ، اعتماد اور سرتسلیم خم کرکے قبول کرے۔ جب انسان تسلیم ورضا کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ بھی اللہ کے آگے نہیں بڑھتا اور جلد بازی نہیں کرتا۔ اور اللہ کے سامنے فتح ونصرت اپنی پسندیدہ صورت میں پیش نہیں کرتا۔ اپنے معاملات اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور اپنی راہ پر گامزن رہتا ہے ۔ اسے اسی راہ میں جو بھی پیش ہے ، وہ اسے خیر سمجھتا ہے۔ یہ ہے حقیقی نصرت۔۔۔۔ یہ ہے نصرت اور فتح اپنی ذات ، اپنی خواہشات پر۔ یہ ہے اندرونی فتح اور خالص فتح تب ہی ہوتی ہے ، جب اندرونی فتح مکمل ہو۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ سابقہ منظر میں ہم نے دیکھا کہ ظالموں کے لیے کوئی معذرت مفید نہیں ہے۔ اور ان کا انجام یہ ہوا کہ ان پر لعنت پڑی اور جہنم رسید ہوئے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رسولوں کی مدد کس طرح کرتا ہے تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ نے مدد فرمائی ۔ ولقداتینا۔۔۔۔ الالباب (40: 54) ” آخر کار دیکھ لو کہ موسیٰ کی ہم نے رہنمائی کی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لئے ہدایت ونصیحت تھی “۔ یہ اللہ کی نصرت کا ایک نمونہ تھا کہ حضرت موسیٰ کو کتاب دی ، ہدایت دی اور پھر نجات دی۔ یہاں بطور مثال قصہ موسیٰ کی طرف اشارہ کردیا۔ یہ قصہ بہت ہی طویل ہے اور اس میں نصرت اور تائید خداوندی کے کئی نمونے ہیں۔ اس مثال کے بعد ایک آخری تسلی کیونکہ مکہ میں مسلمان اور رسول اللہ بہت ہی مشکل حالات میں زندگی بسر فرما رہے تھے ، ان کو تسلی دی جارہی ہے کہ نصرت ضرور آئے گی اور رسول اللہ کے بعد جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کررہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں ہیں۔ ان کے لیے بھی ایسی ہی تسلی ہے۔ فاصبران۔۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اے نبی ، صبر کرو ، اللہ کا وعدہ برحق ہے ، اپنے قصوروں کی معافی چاہو اور صبح وشام اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ عقل وخرد کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے۔ صبر کی دعوت ، لوگوں کی جانب سے تکذیب پر صبر کرو ، اس پر صبر کرو کہ باطل کو اقتدار حاصل ہے اور اس کی وجہ سے وہ پھیل رہا ہے لیکن یہ ایک عرصے کے لیے ہے ، لوگوں کے مزاج ۔ ان کے اخلاق اور ان کے معاملات کی غلطیوں پر صبر کرو ، انسان کے نفس ، اس کی خواہشات اور چاہتوں پر صبر کرو۔ خصوصاً جب نفس یہ چاہے کہ اللہ کی نصرت بہت جلد آنی چاہئے اور نصرت کے نتیجے میں ہونے والی کامیابیوں اور تحریک اسلامی کی طویل جدوجہد میں دشمنوں سے بھی پہلے دوستوں کی طرف سے پیدا کی جانے والی مشکلات پر صبر کرو۔ فاصبر ان وعد اللہ حق (40: 55) ' اے نبی صبر کرو ، اللہ کا وعدہ حق ہے “۔ دیر آید درست آید۔ اگر آپ کے معاملات پیچیدہ ہوں ۔ اگر بظاہر اسباب نصرت نہ نظر آتے ہوں۔ کیونکہ نصرت کا وعدہ وہ ذات باری کر رہی ہے جو اپنے وعدے کو حقیقت کا جامہ پہناسکتی ہے اور اللہ نے وعدہ کیا ہے تو اللہ نے ارادہ کرلیا ہے۔ واستغفر ۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اور اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح وشام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے اصلی زاد سفر۔ نہ راہ بہت طویل ہے اور دشوار گزار ہے۔ اس میں وہی شخص آگے قدم بڑھا سکتا ہے جو اپنے قصوروں کی معافی چاہتا رہے۔ جو حمد باری تعالیٰ کرتا رہے اور حمد کے ساتھ اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتا رہے۔ اس میں نصرت بھی مل سکتی ہے ، اور نفس انسانی کی تربیت بھی۔ اور اس راستے پرچلنے کی تیاری بھی اور قلب ونظر کی تطہیر بھی۔ یہ وہ نصرت ہے جو قلب تعداد کے اندر بھی اپنا کام کرتی ہے اور اس کے بعد نصرت کی وہ صورت سامنے آتی ہے جو زندگی کی عملی صورت میں ہوتی ہے۔ صبح وشام کا ذکر یا تو اس لیے ہے کہ اس سے مراد پورا وقت ہے کیونکہ صبح وشام اوقات کے اطراف ہیں۔ یا ان اوقات میں انسانی قلب صاف اور متوجہ ہوتا ہے اور ان اوقات میں غور وفکر اور اللہ کی حمد وتسبیح کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ کی نصرت حاصل ہوسکتی ہے اور اسے اللہ نے اپنی نصرت دینے کے لیے مقرر فرمایا ہے ۔ اسی کے مطابق اس راستے پر شلنے کی تیاری ہوگی ، زاوسفر تیار ہوگا۔ اور تب نصرت ملے گی اور کسی بھی معرکے کے لیے تیاری اور سازو سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی جنگ بغیرتربیت اور سامان کے نہیں ہوسکتی۔

غافر 40:52

آیت نمبر 51 تا 55 اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ رہی آخرت تو کسی مومن کی جانب سے تو اس کے بارے میں کسی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر بحث ہوسکے ۔ رہی دنیا میں نصرت تو اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ بہرحال اللہ کا فیصلہ اور وعدہ تو یقینی ہے۔ قطعی الفاظ میں ہے۔ انا لننصر۔۔۔۔ الدنیا (40: 51) ” بیشک ہم اپنے رسولوں اور لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں مدد کرتے ہیں “۔ لیکن لوگوں کا مشاہدہ یہ ہے کہ رسولوں میں سے بعض تو قتل کیے گئے ، بعض کو اپنی زمین سے بھی نکالا گیا۔ ان کو اپنا گھر اور قوم چھوڑنا پڑی اور علاقہ بدر کردیئے گئے۔ مومنین میں سے بعض بعض کو سخت عذاب دیا جاتا ہے۔ بعض کو گڑھوں میں جلایا جاتا ہے ، بعض شہید ہوتے ہیں ، بعض نہایت دکھ درد اور مصیبتیں جھیلتے ہیں تو پھر یہ قطعی وعدہ کس طرح ہے کہ ہم حیات دنیا میں اپنے رسولوں اور مومنین کی مدد کرتے ہیں۔ اس سوال کے ذریعہ شیطان اللہ کے بندوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہے ؟ تو حقیقت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ تمام امور کے ظاہری پہلو ہی کو جانتے ہیں۔ ان کے سامنے وہ بیشتر قدریں اور حقائق نہیں ہوتے۔ جن کا تعلق اللہ کے نظام وقدر سے ہوتا ہے۔۔۔ پھر لوگوں کی سوچ ، اعمال ونتائج کے بارے میں ایک محدود زمانے تک محدود ہوتی ہے اور انسان کے قیاس اور سوچ کا دائرہ محدود ہوتا ہے ، رہے اللہ کے فیصلے تو زمان ومکان کے اعتبار سے ان کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک زمانے اور دوسرے زمانے میں جدائی نہیں کرتا۔ ایک علاقے اور دوسرے علاقے میں فرق نہیں کرتا۔ اگر ہم زمان و مکان کے حدود سے آگے بڑھ کر ایمان کے مسئلہ پر سوچیں تو حقیقت یہ سامنے آئے گی کہ ایمان کامیاب رہتا ہے۔ ایمان اور عقیدے کی کامیابی دراصل ان لوگوں کی کامیابی ہوتی ہے جو ایمان اور عقیدے کو اپناتے ہیں۔ اہل ایمان سے باہر کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اور ایمان کا پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے والے اس میں فنا ہوجائیں۔ وہ خود مٹ جائیں اور ایمان کو نمایاں کردیں۔ پھر نصرت کا مفہوم بھی لوگوں کے ہاں محدود ہے۔ وہ قریبی نصرت دیکھتے ہیں جسے وہ خود دیکھ سکیں ۔ لیکن نصرت کی اشکال تو بیشمار ہیں۔ بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ انسان کو نصرت بطاہر شکست نظر آتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا جاتا ہے لیکن وہ اپنے عقیدے اور دعوت سے نہیں پھرتے ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو نصرت ہوئی یا وہ شکست کھاگئے ایمان کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو ان کو فتح ہوئی۔ اس وقت بھی وہ فاتح تھے ، جب ان کو آگ میں پھینکا جارہا تھا اور اس وقت بھی فاتح تھے ان کو نجات دی گئی۔ یہ بھی فتح کی ایک صورت ہے اور آگ کا گلزار ہوتا بھی اس کی ایک صورت ہے۔ جبکہ بظاہر دونوں کی صورتیں مختلف ہیں۔ لیکن اپنی اصلیت میں دونوں ایک ہیں ۔ حضرت حسین ؓ کربلا میں شہادت پاتے ہیں۔ یہ ایک دلدوز واقعہ ہے۔ یہ فتح تھی یا شکست ۔ اگر بظاہر محدود پیمانوں سے دیکھا جائے تو شکست تھی۔ اور اگر حقیقت کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو یہ عظیم فتح ہے۔ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد حسین کو آج تک محبت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ آج تک لوگوں کے دل حسین کے ساتھ ہیں آج تک لوگ ان پر فدا ہوتے ہیں جبکہ فاتح یزید کا نام ونشان غائب ہے۔ حسین پر شیعہ سنی سب فدا ہیں اور یزید کے بارے میں کوئی نہیں کہتا کہ وہ اولاد یزید ہے یا یزید ہی ہے۔ کئی ایسے شہداء ہیں کہ اگر وہ ہزار سال زندہ رہتے تو اپنے نظریات کو پھیلانہ سکتے ۔ لیکن ایک شہادت سے ان کے نظریات اقطار عالم تک پھیل گئے۔ کوئی بھی شہید اپنے بیان اور تقریروں سے عوام کو بلند مقاصد عطا نہیں کرسکتا ۔ نہ عوام کو بلند مقاصد کے لیے ابھار سکتا ہے۔ لیکن اپنے خون کے زریعہ وہ جو خطبہ دیتا ہے اور وہ اس کا آخری خطاب ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محرک ہوتا اور نسلوں تک نشان منزل رہتا ہے۔ اور بعض اوقات تو ایک شہید جو راہ متعین کرتا ہے صدیوں تک تاریخ اس پر چلتی رہتی ہے اور قافلے اسی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ تو پھر فتح کیا ہے اور ہزیمت کیا ہے ؟ ہمیں چاہئے کہ فتح وشکست کے جو پیمانے ہمنے اپنے ذہنوں میں قائم کر رکھے ہیں ان پر ذرا نظرثانی کریں۔ اور اس کے بعد پھر پوچھیں کہ اللہ کی وہ مدد کہاں ہے ، جس کا وعدہ اللہ نے مومنین سے کیا ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ہاں بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ جب ظاہری صورت حال ، اللہ کے اعلیٰ اور دور رس پیمانوں کے ساتھ موافق ہوجاتی ہے تو فوری فتح بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو اللہ نے اپنی زندگی ہی میں نصرت اور کامرانی عطا فرمائی تھی کیونکہ دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی حقیقت اور یہ نصرف ساتھ ساتھ قائم ہوگئی تھیں۔ عقیدے کو نصرت تب ملتی ہے جب عقیدہ انسانی سوسائٹی پر غالب آجائے اور وہ سوسائٹی اس کے رنگ میں رنگ کرا سکے اندر ڈوب جائے۔ ایک فرد ایک جماعت اور ایک قوت حاکمہ سب کی سب اس میں ڈوب جایں تو پھر اللہ ایسے دوعیوں اور ایسی دعوت کی مدد کرتا ہے اور یہ نظریہ اور یہ نظام اپنی حقیقی صورت میں پھر قائم ہوجاتا ہے اور یہ نظام غالب ہو کر تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔ اور تاریخ پر اسکے یہ نقوش نمایاں نظر آتے ہیں۔ یوں قریبی نصرت کی صورت اور دوررس مقاصد کی صورت باہم متصل ہوجاتی ہیں۔ اب بظاہر نصرت عاجلہ ظہور میں آتی ہے جو دوررس سنت الہیہ کا حصہ ہوتی ہے۔ یوں سنت الہیہ اور تقدیر الہٰی کے اندر ایک فوری فتح کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کے ساتھ قائم ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ وعدے کے مستحق ہونے والے مومنین کے دلوں کے اندر حقیقت ایمان صحیح طرح قائم اور جاگزیں ہوجائے تاکہ اس پر اللہ کا وعدہ مرتب ہو۔ حقیقت ایمان کے سلسلے میں بسا اوقات لوگ سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ قلب مومن میں شرک کا شائبہ تک نہ رہے۔ کسی قسم کی شرک بھی دل کے قریب نہ ہو۔ شرک کی بعض صورتیں نہایت خفیہ ہوتی ہیں۔ ان سے دل پاک وصاف اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہو۔ اور صرف اللہ وحدہ پر توکل کرے۔ اور اللہ انسان کے بارے میں جو فیصلہ کرے اس پر وہ مطمئن ہوجائے۔ اور انسان اپنے آپ کو تقدیرالہٰی کے سپرد کردے۔ انسان کے اندر یہ حساس ہو کہ اس کے معاملات میں صرف اللہ ہی متصرف ہے۔ لہٰذا اس کے لیے اللہ جو اختیار کرتا ہے اس پر وہ کسی حال میں حیران نہ ہو اور اس کو جو پیش آئے اسے نہایت اطمینان ، اعتماد اور سرتسلیم خم کرکے قبول کرے۔ جب انسان تسلیم ورضا کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ بھی اللہ کے آگے نہیں بڑھتا اور جلد بازی نہیں کرتا۔ اور اللہ کے سامنے فتح ونصرت اپنی پسندیدہ صورت میں پیش نہیں کرتا۔ اپنے معاملات اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور اپنی راہ پر گامزن رہتا ہے ۔ اسے اسی راہ میں جو بھی پیش ہے ، وہ اسے خیر سمجھتا ہے۔ یہ ہے حقیقی نصرت۔۔۔۔ یہ ہے نصرت اور فتح اپنی ذات ، اپنی خواہشات پر۔ یہ ہے اندرونی فتح اور خالص فتح تب ہی ہوتی ہے ، جب اندرونی فتح مکمل ہو۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ سابقہ منظر میں ہم نے دیکھا کہ ظالموں کے لیے کوئی معذرت مفید نہیں ہے۔ اور ان کا انجام یہ ہوا کہ ان پر لعنت پڑی اور جہنم رسید ہوئے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رسولوں کی مدد کس طرح کرتا ہے تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ نے مدد فرمائی ۔ ولقداتینا۔۔۔۔ الالباب (40: 54) ” آخر کار دیکھ لو کہ موسیٰ کی ہم نے رہنمائی کی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لئے ہدایت ونصیحت تھی “۔ یہ اللہ کی نصرت کا ایک نمونہ تھا کہ حضرت موسیٰ کو کتاب دی ، ہدایت دی اور پھر نجات دی۔ یہاں بطور مثال قصہ موسیٰ کی طرف اشارہ کردیا۔ یہ قصہ بہت ہی طویل ہے اور اس میں نصرت اور تائید خداوندی کے کئی نمونے ہیں۔ اس مثال کے بعد ایک آخری تسلی کیونکہ مکہ میں مسلمان اور رسول اللہ بہت ہی مشکل حالات میں زندگی بسر فرما رہے تھے ، ان کو تسلی دی جارہی ہے کہ نصرت ضرور آئے گی اور رسول اللہ کے بعد جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کررہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں ہیں۔ ان کے لیے بھی ایسی ہی تسلی ہے۔ فاصبران۔۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اے نبی ، صبر کرو ، اللہ کا وعدہ برحق ہے ، اپنے قصوروں کی معافی چاہو اور صبح وشام اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ عقل وخرد کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے۔ صبر کی دعوت ، لوگوں کی جانب سے تکذیب پر صبر کرو ، اس پر صبر کرو کہ باطل کو اقتدار حاصل ہے اور اس کی وجہ سے وہ پھیل رہا ہے لیکن یہ ایک عرصے کے لیے ہے ، لوگوں کے مزاج ۔ ان کے اخلاق اور ان کے معاملات کی غلطیوں پر صبر کرو ، انسان کے نفس ، اس کی خواہشات اور چاہتوں پر صبر کرو۔ خصوصاً جب نفس یہ چاہے کہ اللہ کی نصرت بہت جلد آنی چاہئے اور نصرت کے نتیجے میں ہونے والی کامیابیوں اور تحریک اسلامی کی طویل جدوجہد میں دشمنوں سے بھی پہلے دوستوں کی طرف سے پیدا کی جانے والی مشکلات پر صبر کرو۔ فاصبر ان وعد اللہ حق (40: 55) ' اے نبی صبر کرو ، اللہ کا وعدہ حق ہے “۔ دیر آید درست آید۔ اگر آپ کے معاملات پیچیدہ ہوں ۔ اگر بظاہر اسباب نصرت نہ نظر آتے ہوں۔ کیونکہ نصرت کا وعدہ وہ ذات باری کر رہی ہے جو اپنے وعدے کو حقیقت کا جامہ پہناسکتی ہے اور اللہ نے وعدہ کیا ہے تو اللہ نے ارادہ کرلیا ہے۔ واستغفر ۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اور اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح وشام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے اصلی زاد سفر۔ نہ راہ بہت طویل ہے اور دشوار گزار ہے۔ اس میں وہی شخص آگے قدم بڑھا سکتا ہے جو اپنے قصوروں کی معافی چاہتا رہے۔ جو حمد باری تعالیٰ کرتا رہے اور حمد کے ساتھ اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتا رہے۔ اس میں نصرت بھی مل سکتی ہے ، اور نفس انسانی کی تربیت بھی۔ اور اس راستے پرچلنے کی تیاری بھی اور قلب ونظر کی تطہیر بھی۔ یہ وہ نصرت ہے جو قلب تعداد کے اندر بھی اپنا کام کرتی ہے اور اس کے بعد نصرت کی وہ صورت سامنے آتی ہے جو زندگی کی عملی صورت میں ہوتی ہے۔ صبح وشام کا ذکر یا تو اس لیے ہے کہ اس سے مراد پورا وقت ہے کیونکہ صبح وشام اوقات کے اطراف ہیں۔ یا ان اوقات میں انسانی قلب صاف اور متوجہ ہوتا ہے اور ان اوقات میں غور وفکر اور اللہ کی حمد وتسبیح کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ کی نصرت حاصل ہوسکتی ہے اور اسے اللہ نے اپنی نصرت دینے کے لیے مقرر فرمایا ہے ۔ اسی کے مطابق اس راستے پر شلنے کی تیاری ہوگی ، زاوسفر تیار ہوگا۔ اور تب نصرت ملے گی اور کسی بھی معرکے کے لیے تیاری اور سازو سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی جنگ بغیرتربیت اور سامان کے نہیں ہوسکتی۔

غافر 40:53

آیت نمبر 51 تا 55 اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ رہی آخرت تو کسی مومن کی جانب سے تو اس کے بارے میں کسی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر بحث ہوسکے ۔ رہی دنیا میں نصرت تو اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ بہرحال اللہ کا فیصلہ اور وعدہ تو یقینی ہے۔ قطعی الفاظ میں ہے۔ انا لننصر۔۔۔۔ الدنیا (40: 51) ” بیشک ہم اپنے رسولوں اور لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں مدد کرتے ہیں “۔ لیکن لوگوں کا مشاہدہ یہ ہے کہ رسولوں میں سے بعض تو قتل کیے گئے ، بعض کو اپنی زمین سے بھی نکالا گیا۔ ان کو اپنا گھر اور قوم چھوڑنا پڑی اور علاقہ بدر کردیئے گئے۔ مومنین میں سے بعض بعض کو سخت عذاب دیا جاتا ہے۔ بعض کو گڑھوں میں جلایا جاتا ہے ، بعض شہید ہوتے ہیں ، بعض نہایت دکھ درد اور مصیبتیں جھیلتے ہیں تو پھر یہ قطعی وعدہ کس طرح ہے کہ ہم حیات دنیا میں اپنے رسولوں اور مومنین کی مدد کرتے ہیں۔ اس سوال کے ذریعہ شیطان اللہ کے بندوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہے ؟ تو حقیقت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ تمام امور کے ظاہری پہلو ہی کو جانتے ہیں۔ ان کے سامنے وہ بیشتر قدریں اور حقائق نہیں ہوتے۔ جن کا تعلق اللہ کے نظام وقدر سے ہوتا ہے۔۔۔ پھر لوگوں کی سوچ ، اعمال ونتائج کے بارے میں ایک محدود زمانے تک محدود ہوتی ہے اور انسان کے قیاس اور سوچ کا دائرہ محدود ہوتا ہے ، رہے اللہ کے فیصلے تو زمان ومکان کے اعتبار سے ان کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک زمانے اور دوسرے زمانے میں جدائی نہیں کرتا۔ ایک علاقے اور دوسرے علاقے میں فرق نہیں کرتا۔ اگر ہم زمان و مکان کے حدود سے آگے بڑھ کر ایمان کے مسئلہ پر سوچیں تو حقیقت یہ سامنے آئے گی کہ ایمان کامیاب رہتا ہے۔ ایمان اور عقیدے کی کامیابی دراصل ان لوگوں کی کامیابی ہوتی ہے جو ایمان اور عقیدے کو اپناتے ہیں۔ اہل ایمان سے باہر کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اور ایمان کا پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے والے اس میں فنا ہوجائیں۔ وہ خود مٹ جائیں اور ایمان کو نمایاں کردیں۔ پھر نصرت کا مفہوم بھی لوگوں کے ہاں محدود ہے۔ وہ قریبی نصرت دیکھتے ہیں جسے وہ خود دیکھ سکیں ۔ لیکن نصرت کی اشکال تو بیشمار ہیں۔ بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ انسان کو نصرت بطاہر شکست نظر آتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا جاتا ہے لیکن وہ اپنے عقیدے اور دعوت سے نہیں پھرتے ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو نصرت ہوئی یا وہ شکست کھاگئے ایمان کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو ان کو فتح ہوئی۔ اس وقت بھی وہ فاتح تھے ، جب ان کو آگ میں پھینکا جارہا تھا اور اس وقت بھی فاتح تھے ان کو نجات دی گئی۔ یہ بھی فتح کی ایک صورت ہے اور آگ کا گلزار ہوتا بھی اس کی ایک صورت ہے۔ جبکہ بظاہر دونوں کی صورتیں مختلف ہیں۔ لیکن اپنی اصلیت میں دونوں ایک ہیں ۔ حضرت حسین ؓ کربلا میں شہادت پاتے ہیں۔ یہ ایک دلدوز واقعہ ہے۔ یہ فتح تھی یا شکست ۔ اگر بظاہر محدود پیمانوں سے دیکھا جائے تو شکست تھی۔ اور اگر حقیقت کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو یہ عظیم فتح ہے۔ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد حسین کو آج تک محبت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ آج تک لوگوں کے دل حسین کے ساتھ ہیں آج تک لوگ ان پر فدا ہوتے ہیں جبکہ فاتح یزید کا نام ونشان غائب ہے۔ حسین پر شیعہ سنی سب فدا ہیں اور یزید کے بارے میں کوئی نہیں کہتا کہ وہ اولاد یزید ہے یا یزید ہی ہے۔ کئی ایسے شہداء ہیں کہ اگر وہ ہزار سال زندہ رہتے تو اپنے نظریات کو پھیلانہ سکتے ۔ لیکن ایک شہادت سے ان کے نظریات اقطار عالم تک پھیل گئے۔ کوئی بھی شہید اپنے بیان اور تقریروں سے عوام کو بلند مقاصد عطا نہیں کرسکتا ۔ نہ عوام کو بلند مقاصد کے لیے ابھار سکتا ہے۔ لیکن اپنے خون کے زریعہ وہ جو خطبہ دیتا ہے اور وہ اس کا آخری خطاب ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محرک ہوتا اور نسلوں تک نشان منزل رہتا ہے۔ اور بعض اوقات تو ایک شہید جو راہ متعین کرتا ہے صدیوں تک تاریخ اس پر چلتی رہتی ہے اور قافلے اسی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ تو پھر فتح کیا ہے اور ہزیمت کیا ہے ؟ ہمیں چاہئے کہ فتح وشکست کے جو پیمانے ہمنے اپنے ذہنوں میں قائم کر رکھے ہیں ان پر ذرا نظرثانی کریں۔ اور اس کے بعد پھر پوچھیں کہ اللہ کی وہ مدد کہاں ہے ، جس کا وعدہ اللہ نے مومنین سے کیا ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ہاں بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ جب ظاہری صورت حال ، اللہ کے اعلیٰ اور دور رس پیمانوں کے ساتھ موافق ہوجاتی ہے تو فوری فتح بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو اللہ نے اپنی زندگی ہی میں نصرت اور کامرانی عطا فرمائی تھی کیونکہ دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی حقیقت اور یہ نصرف ساتھ ساتھ قائم ہوگئی تھیں۔ عقیدے کو نصرت تب ملتی ہے جب عقیدہ انسانی سوسائٹی پر غالب آجائے اور وہ سوسائٹی اس کے رنگ میں رنگ کرا سکے اندر ڈوب جائے۔ ایک فرد ایک جماعت اور ایک قوت حاکمہ سب کی سب اس میں ڈوب جایں تو پھر اللہ ایسے دوعیوں اور ایسی دعوت کی مدد کرتا ہے اور یہ نظریہ اور یہ نظام اپنی حقیقی صورت میں پھر قائم ہوجاتا ہے اور یہ نظام غالب ہو کر تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔ اور تاریخ پر اسکے یہ نقوش نمایاں نظر آتے ہیں۔ یوں قریبی نصرت کی صورت اور دوررس مقاصد کی صورت باہم متصل ہوجاتی ہیں۔ اب بظاہر نصرت عاجلہ ظہور میں آتی ہے جو دوررس سنت الہیہ کا حصہ ہوتی ہے۔ یوں سنت الہیہ اور تقدیر الہٰی کے اندر ایک فوری فتح کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کے ساتھ قائم ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ وعدے کے مستحق ہونے والے مومنین کے دلوں کے اندر حقیقت ایمان صحیح طرح قائم اور جاگزیں ہوجائے تاکہ اس پر اللہ کا وعدہ مرتب ہو۔ حقیقت ایمان کے سلسلے میں بسا اوقات لوگ سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ قلب مومن میں شرک کا شائبہ تک نہ رہے۔ کسی قسم کی شرک بھی دل کے قریب نہ ہو۔ شرک کی بعض صورتیں نہایت خفیہ ہوتی ہیں۔ ان سے دل پاک وصاف اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہو۔ اور صرف اللہ وحدہ پر توکل کرے۔ اور اللہ انسان کے بارے میں جو فیصلہ کرے اس پر وہ مطمئن ہوجائے۔ اور انسان اپنے آپ کو تقدیرالہٰی کے سپرد کردے۔ انسان کے اندر یہ حساس ہو کہ اس کے معاملات میں صرف اللہ ہی متصرف ہے۔ لہٰذا اس کے لیے اللہ جو اختیار کرتا ہے اس پر وہ کسی حال میں حیران نہ ہو اور اس کو جو پیش آئے اسے نہایت اطمینان ، اعتماد اور سرتسلیم خم کرکے قبول کرے۔ جب انسان تسلیم ورضا کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ بھی اللہ کے آگے نہیں بڑھتا اور جلد بازی نہیں کرتا۔ اور اللہ کے سامنے فتح ونصرت اپنی پسندیدہ صورت میں پیش نہیں کرتا۔ اپنے معاملات اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور اپنی راہ پر گامزن رہتا ہے ۔ اسے اسی راہ میں جو بھی پیش ہے ، وہ اسے خیر سمجھتا ہے۔ یہ ہے حقیقی نصرت۔۔۔۔ یہ ہے نصرت اور فتح اپنی ذات ، اپنی خواہشات پر۔ یہ ہے اندرونی فتح اور خالص فتح تب ہی ہوتی ہے ، جب اندرونی فتح مکمل ہو۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ سابقہ منظر میں ہم نے دیکھا کہ ظالموں کے لیے کوئی معذرت مفید نہیں ہے۔ اور ان کا انجام یہ ہوا کہ ان پر لعنت پڑی اور جہنم رسید ہوئے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رسولوں کی مدد کس طرح کرتا ہے تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ نے مدد فرمائی ۔ ولقداتینا۔۔۔۔ الالباب (40: 54) ” آخر کار دیکھ لو کہ موسیٰ کی ہم نے رہنمائی کی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لئے ہدایت ونصیحت تھی “۔ یہ اللہ کی نصرت کا ایک نمونہ تھا کہ حضرت موسیٰ کو کتاب دی ، ہدایت دی اور پھر نجات دی۔ یہاں بطور مثال قصہ موسیٰ کی طرف اشارہ کردیا۔ یہ قصہ بہت ہی طویل ہے اور اس میں نصرت اور تائید خداوندی کے کئی نمونے ہیں۔ اس مثال کے بعد ایک آخری تسلی کیونکہ مکہ میں مسلمان اور رسول اللہ بہت ہی مشکل حالات میں زندگی بسر فرما رہے تھے ، ان کو تسلی دی جارہی ہے کہ نصرت ضرور آئے گی اور رسول اللہ کے بعد جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کررہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں ہیں۔ ان کے لیے بھی ایسی ہی تسلی ہے۔ فاصبران۔۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اے نبی ، صبر کرو ، اللہ کا وعدہ برحق ہے ، اپنے قصوروں کی معافی چاہو اور صبح وشام اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ عقل وخرد کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے۔ صبر کی دعوت ، لوگوں کی جانب سے تکذیب پر صبر کرو ، اس پر صبر کرو کہ باطل کو اقتدار حاصل ہے اور اس کی وجہ سے وہ پھیل رہا ہے لیکن یہ ایک عرصے کے لیے ہے ، لوگوں کے مزاج ۔ ان کے اخلاق اور ان کے معاملات کی غلطیوں پر صبر کرو ، انسان کے نفس ، اس کی خواہشات اور چاہتوں پر صبر کرو۔ خصوصاً جب نفس یہ چاہے کہ اللہ کی نصرت بہت جلد آنی چاہئے اور نصرت کے نتیجے میں ہونے والی کامیابیوں اور تحریک اسلامی کی طویل جدوجہد میں دشمنوں سے بھی پہلے دوستوں کی طرف سے پیدا کی جانے والی مشکلات پر صبر کرو۔ فاصبر ان وعد اللہ حق (40: 55) ' اے نبی صبر کرو ، اللہ کا وعدہ حق ہے “۔ دیر آید درست آید۔ اگر آپ کے معاملات پیچیدہ ہوں ۔ اگر بظاہر اسباب نصرت نہ نظر آتے ہوں۔ کیونکہ نصرت کا وعدہ وہ ذات باری کر رہی ہے جو اپنے وعدے کو حقیقت کا جامہ پہناسکتی ہے اور اللہ نے وعدہ کیا ہے تو اللہ نے ارادہ کرلیا ہے۔ واستغفر ۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اور اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح وشام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے اصلی زاد سفر۔ نہ راہ بہت طویل ہے اور دشوار گزار ہے۔ اس میں وہی شخص آگے قدم بڑھا سکتا ہے جو اپنے قصوروں کی معافی چاہتا رہے۔ جو حمد باری تعالیٰ کرتا رہے اور حمد کے ساتھ اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتا رہے۔ اس میں نصرت بھی مل سکتی ہے ، اور نفس انسانی کی تربیت بھی۔ اور اس راستے پرچلنے کی تیاری بھی اور قلب ونظر کی تطہیر بھی۔ یہ وہ نصرت ہے جو قلب تعداد کے اندر بھی اپنا کام کرتی ہے اور اس کے بعد نصرت کی وہ صورت سامنے آتی ہے جو زندگی کی عملی صورت میں ہوتی ہے۔ صبح وشام کا ذکر یا تو اس لیے ہے کہ اس سے مراد پورا وقت ہے کیونکہ صبح وشام اوقات کے اطراف ہیں۔ یا ان اوقات میں انسانی قلب صاف اور متوجہ ہوتا ہے اور ان اوقات میں غور وفکر اور اللہ کی حمد وتسبیح کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ کی نصرت حاصل ہوسکتی ہے اور اسے اللہ نے اپنی نصرت دینے کے لیے مقرر فرمایا ہے ۔ اسی کے مطابق اس راستے پر شلنے کی تیاری ہوگی ، زاوسفر تیار ہوگا۔ اور تب نصرت ملے گی اور کسی بھی معرکے کے لیے تیاری اور سازو سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی جنگ بغیرتربیت اور سامان کے نہیں ہوسکتی۔

غافر 40:54

آیت نمبر 51 تا 55 اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ رہی آخرت تو کسی مومن کی جانب سے تو اس کے بارے میں کسی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر بحث ہوسکے ۔ رہی دنیا میں نصرت تو اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ بہرحال اللہ کا فیصلہ اور وعدہ تو یقینی ہے۔ قطعی الفاظ میں ہے۔ انا لننصر۔۔۔۔ الدنیا (40: 51) ” بیشک ہم اپنے رسولوں اور لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں مدد کرتے ہیں “۔ لیکن لوگوں کا مشاہدہ یہ ہے کہ رسولوں میں سے بعض تو قتل کیے گئے ، بعض کو اپنی زمین سے بھی نکالا گیا۔ ان کو اپنا گھر اور قوم چھوڑنا پڑی اور علاقہ بدر کردیئے گئے۔ مومنین میں سے بعض بعض کو سخت عذاب دیا جاتا ہے۔ بعض کو گڑھوں میں جلایا جاتا ہے ، بعض شہید ہوتے ہیں ، بعض نہایت دکھ درد اور مصیبتیں جھیلتے ہیں تو پھر یہ قطعی وعدہ کس طرح ہے کہ ہم حیات دنیا میں اپنے رسولوں اور مومنین کی مدد کرتے ہیں۔ اس سوال کے ذریعہ شیطان اللہ کے بندوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہے ؟ تو حقیقت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ تمام امور کے ظاہری پہلو ہی کو جانتے ہیں۔ ان کے سامنے وہ بیشتر قدریں اور حقائق نہیں ہوتے۔ جن کا تعلق اللہ کے نظام وقدر سے ہوتا ہے۔۔۔ پھر لوگوں کی سوچ ، اعمال ونتائج کے بارے میں ایک محدود زمانے تک محدود ہوتی ہے اور انسان کے قیاس اور سوچ کا دائرہ محدود ہوتا ہے ، رہے اللہ کے فیصلے تو زمان ومکان کے اعتبار سے ان کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک زمانے اور دوسرے زمانے میں جدائی نہیں کرتا۔ ایک علاقے اور دوسرے علاقے میں فرق نہیں کرتا۔ اگر ہم زمان و مکان کے حدود سے آگے بڑھ کر ایمان کے مسئلہ پر سوچیں تو حقیقت یہ سامنے آئے گی کہ ایمان کامیاب رہتا ہے۔ ایمان اور عقیدے کی کامیابی دراصل ان لوگوں کی کامیابی ہوتی ہے جو ایمان اور عقیدے کو اپناتے ہیں۔ اہل ایمان سے باہر کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اور ایمان کا پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے والے اس میں فنا ہوجائیں۔ وہ خود مٹ جائیں اور ایمان کو نمایاں کردیں۔ پھر نصرت کا مفہوم بھی لوگوں کے ہاں محدود ہے۔ وہ قریبی نصرت دیکھتے ہیں جسے وہ خود دیکھ سکیں ۔ لیکن نصرت کی اشکال تو بیشمار ہیں۔ بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ انسان کو نصرت بطاہر شکست نظر آتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا جاتا ہے لیکن وہ اپنے عقیدے اور دعوت سے نہیں پھرتے ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو نصرت ہوئی یا وہ شکست کھاگئے ایمان کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو ان کو فتح ہوئی۔ اس وقت بھی وہ فاتح تھے ، جب ان کو آگ میں پھینکا جارہا تھا اور اس وقت بھی فاتح تھے ان کو نجات دی گئی۔ یہ بھی فتح کی ایک صورت ہے اور آگ کا گلزار ہوتا بھی اس کی ایک صورت ہے۔ جبکہ بظاہر دونوں کی صورتیں مختلف ہیں۔ لیکن اپنی اصلیت میں دونوں ایک ہیں ۔ حضرت حسین ؓ کربلا میں شہادت پاتے ہیں۔ یہ ایک دلدوز واقعہ ہے۔ یہ فتح تھی یا شکست ۔ اگر بظاہر محدود پیمانوں سے دیکھا جائے تو شکست تھی۔ اور اگر حقیقت کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو یہ عظیم فتح ہے۔ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد حسین کو آج تک محبت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ آج تک لوگوں کے دل حسین کے ساتھ ہیں آج تک لوگ ان پر فدا ہوتے ہیں جبکہ فاتح یزید کا نام ونشان غائب ہے۔ حسین پر شیعہ سنی سب فدا ہیں اور یزید کے بارے میں کوئی نہیں کہتا کہ وہ اولاد یزید ہے یا یزید ہی ہے۔ کئی ایسے شہداء ہیں کہ اگر وہ ہزار سال زندہ رہتے تو اپنے نظریات کو پھیلانہ سکتے ۔ لیکن ایک شہادت سے ان کے نظریات اقطار عالم تک پھیل گئے۔ کوئی بھی شہید اپنے بیان اور تقریروں سے عوام کو بلند مقاصد عطا نہیں کرسکتا ۔ نہ عوام کو بلند مقاصد کے لیے ابھار سکتا ہے۔ لیکن اپنے خون کے زریعہ وہ جو خطبہ دیتا ہے اور وہ اس کا آخری خطاب ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محرک ہوتا اور نسلوں تک نشان منزل رہتا ہے۔ اور بعض اوقات تو ایک شہید جو راہ متعین کرتا ہے صدیوں تک تاریخ اس پر چلتی رہتی ہے اور قافلے اسی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ تو پھر فتح کیا ہے اور ہزیمت کیا ہے ؟ ہمیں چاہئے کہ فتح وشکست کے جو پیمانے ہمنے اپنے ذہنوں میں قائم کر رکھے ہیں ان پر ذرا نظرثانی کریں۔ اور اس کے بعد پھر پوچھیں کہ اللہ کی وہ مدد کہاں ہے ، جس کا وعدہ اللہ نے مومنین سے کیا ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ہاں بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ جب ظاہری صورت حال ، اللہ کے اعلیٰ اور دور رس پیمانوں کے ساتھ موافق ہوجاتی ہے تو فوری فتح بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو اللہ نے اپنی زندگی ہی میں نصرت اور کامرانی عطا فرمائی تھی کیونکہ دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی حقیقت اور یہ نصرف ساتھ ساتھ قائم ہوگئی تھیں۔ عقیدے کو نصرت تب ملتی ہے جب عقیدہ انسانی سوسائٹی پر غالب آجائے اور وہ سوسائٹی اس کے رنگ میں رنگ کرا سکے اندر ڈوب جائے۔ ایک فرد ایک جماعت اور ایک قوت حاکمہ سب کی سب اس میں ڈوب جایں تو پھر اللہ ایسے دوعیوں اور ایسی دعوت کی مدد کرتا ہے اور یہ نظریہ اور یہ نظام اپنی حقیقی صورت میں پھر قائم ہوجاتا ہے اور یہ نظام غالب ہو کر تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔ اور تاریخ پر اسکے یہ نقوش نمایاں نظر آتے ہیں۔ یوں قریبی نصرت کی صورت اور دوررس مقاصد کی صورت باہم متصل ہوجاتی ہیں۔ اب بظاہر نصرت عاجلہ ظہور میں آتی ہے جو دوررس سنت الہیہ کا حصہ ہوتی ہے۔ یوں سنت الہیہ اور تقدیر الہٰی کے اندر ایک فوری فتح کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کے ساتھ قائم ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ وعدے کے مستحق ہونے والے مومنین کے دلوں کے اندر حقیقت ایمان صحیح طرح قائم اور جاگزیں ہوجائے تاکہ اس پر اللہ کا وعدہ مرتب ہو۔ حقیقت ایمان کے سلسلے میں بسا اوقات لوگ سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ قلب مومن میں شرک کا شائبہ تک نہ رہے۔ کسی قسم کی شرک بھی دل کے قریب نہ ہو۔ شرک کی بعض صورتیں نہایت خفیہ ہوتی ہیں۔ ان سے دل پاک وصاف اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہو۔ اور صرف اللہ وحدہ پر توکل کرے۔ اور اللہ انسان کے بارے میں جو فیصلہ کرے اس پر وہ مطمئن ہوجائے۔ اور انسان اپنے آپ کو تقدیرالہٰی کے سپرد کردے۔ انسان کے اندر یہ حساس ہو کہ اس کے معاملات میں صرف اللہ ہی متصرف ہے۔ لہٰذا اس کے لیے اللہ جو اختیار کرتا ہے اس پر وہ کسی حال میں حیران نہ ہو اور اس کو جو پیش آئے اسے نہایت اطمینان ، اعتماد اور سرتسلیم خم کرکے قبول کرے۔ جب انسان تسلیم ورضا کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ بھی اللہ کے آگے نہیں بڑھتا اور جلد بازی نہیں کرتا۔ اور اللہ کے سامنے فتح ونصرت اپنی پسندیدہ صورت میں پیش نہیں کرتا۔ اپنے معاملات اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور اپنی راہ پر گامزن رہتا ہے ۔ اسے اسی راہ میں جو بھی پیش ہے ، وہ اسے خیر سمجھتا ہے۔ یہ ہے حقیقی نصرت۔۔۔۔ یہ ہے نصرت اور فتح اپنی ذات ، اپنی خواہشات پر۔ یہ ہے اندرونی فتح اور خالص فتح تب ہی ہوتی ہے ، جب اندرونی فتح مکمل ہو۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ سابقہ منظر میں ہم نے دیکھا کہ ظالموں کے لیے کوئی معذرت مفید نہیں ہے۔ اور ان کا انجام یہ ہوا کہ ان پر لعنت پڑی اور جہنم رسید ہوئے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رسولوں کی مدد کس طرح کرتا ہے تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ نے مدد فرمائی ۔ ولقداتینا۔۔۔۔ الالباب (40: 54) ” آخر کار دیکھ لو کہ موسیٰ کی ہم نے رہنمائی کی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لئے ہدایت ونصیحت تھی “۔ یہ اللہ کی نصرت کا ایک نمونہ تھا کہ حضرت موسیٰ کو کتاب دی ، ہدایت دی اور پھر نجات دی۔ یہاں بطور مثال قصہ موسیٰ کی طرف اشارہ کردیا۔ یہ قصہ بہت ہی طویل ہے اور اس میں نصرت اور تائید خداوندی کے کئی نمونے ہیں۔ اس مثال کے بعد ایک آخری تسلی کیونکہ مکہ میں مسلمان اور رسول اللہ بہت ہی مشکل حالات میں زندگی بسر فرما رہے تھے ، ان کو تسلی دی جارہی ہے کہ نصرت ضرور آئے گی اور رسول اللہ کے بعد جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کررہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں ہیں۔ ان کے لیے بھی ایسی ہی تسلی ہے۔ فاصبران۔۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اے نبی ، صبر کرو ، اللہ کا وعدہ برحق ہے ، اپنے قصوروں کی معافی چاہو اور صبح وشام اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ عقل وخرد کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے۔ صبر کی دعوت ، لوگوں کی جانب سے تکذیب پر صبر کرو ، اس پر صبر کرو کہ باطل کو اقتدار حاصل ہے اور اس کی وجہ سے وہ پھیل رہا ہے لیکن یہ ایک عرصے کے لیے ہے ، لوگوں کے مزاج ۔ ان کے اخلاق اور ان کے معاملات کی غلطیوں پر صبر کرو ، انسان کے نفس ، اس کی خواہشات اور چاہتوں پر صبر کرو۔ خصوصاً جب نفس یہ چاہے کہ اللہ کی نصرت بہت جلد آنی چاہئے اور نصرت کے نتیجے میں ہونے والی کامیابیوں اور تحریک اسلامی کی طویل جدوجہد میں دشمنوں سے بھی پہلے دوستوں کی طرف سے پیدا کی جانے والی مشکلات پر صبر کرو۔ فاصبر ان وعد اللہ حق (40: 55) ' اے نبی صبر کرو ، اللہ کا وعدہ حق ہے “۔ دیر آید درست آید۔ اگر آپ کے معاملات پیچیدہ ہوں ۔ اگر بظاہر اسباب نصرت نہ نظر آتے ہوں۔ کیونکہ نصرت کا وعدہ وہ ذات باری کر رہی ہے جو اپنے وعدے کو حقیقت کا جامہ پہناسکتی ہے اور اللہ نے وعدہ کیا ہے تو اللہ نے ارادہ کرلیا ہے۔ واستغفر ۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اور اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح وشام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے اصلی زاد سفر۔ نہ راہ بہت طویل ہے اور دشوار گزار ہے۔ اس میں وہی شخص آگے قدم بڑھا سکتا ہے جو اپنے قصوروں کی معافی چاہتا رہے۔ جو حمد باری تعالیٰ کرتا رہے اور حمد کے ساتھ اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتا رہے۔ اس میں نصرت بھی مل سکتی ہے ، اور نفس انسانی کی تربیت بھی۔ اور اس راستے پرچلنے کی تیاری بھی اور قلب ونظر کی تطہیر بھی۔ یہ وہ نصرت ہے جو قلب تعداد کے اندر بھی اپنا کام کرتی ہے اور اس کے بعد نصرت کی وہ صورت سامنے آتی ہے جو زندگی کی عملی صورت میں ہوتی ہے۔ صبح وشام کا ذکر یا تو اس لیے ہے کہ اس سے مراد پورا وقت ہے کیونکہ صبح وشام اوقات کے اطراف ہیں۔ یا ان اوقات میں انسانی قلب صاف اور متوجہ ہوتا ہے اور ان اوقات میں غور وفکر اور اللہ کی حمد وتسبیح کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ کی نصرت حاصل ہوسکتی ہے اور اسے اللہ نے اپنی نصرت دینے کے لیے مقرر فرمایا ہے ۔ اسی کے مطابق اس راستے پر شلنے کی تیاری ہوگی ، زاوسفر تیار ہوگا۔ اور تب نصرت ملے گی اور کسی بھی معرکے کے لیے تیاری اور سازو سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی جنگ بغیرتربیت اور سامان کے نہیں ہوسکتی۔

غافر 40:55

آیت نمبر 51 تا 55 اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ رہی آخرت تو کسی مومن کی جانب سے تو اس کے بارے میں کسی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر بحث ہوسکے ۔ رہی دنیا میں نصرت تو اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ بہرحال اللہ کا فیصلہ اور وعدہ تو یقینی ہے۔ قطعی الفاظ میں ہے۔ انا لننصر۔۔۔۔ الدنیا (40: 51) ” بیشک ہم اپنے رسولوں اور لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں مدد کرتے ہیں “۔ لیکن لوگوں کا مشاہدہ یہ ہے کہ رسولوں میں سے بعض تو قتل کیے گئے ، بعض کو اپنی زمین سے بھی نکالا گیا۔ ان کو اپنا گھر اور قوم چھوڑنا پڑی اور علاقہ بدر کردیئے گئے۔ مومنین میں سے بعض بعض کو سخت عذاب دیا جاتا ہے۔ بعض کو گڑھوں میں جلایا جاتا ہے ، بعض شہید ہوتے ہیں ، بعض نہایت دکھ درد اور مصیبتیں جھیلتے ہیں تو پھر یہ قطعی وعدہ کس طرح ہے کہ ہم حیات دنیا میں اپنے رسولوں اور مومنین کی مدد کرتے ہیں۔ اس سوال کے ذریعہ شیطان اللہ کے بندوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہے ؟ تو حقیقت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ تمام امور کے ظاہری پہلو ہی کو جانتے ہیں۔ ان کے سامنے وہ بیشتر قدریں اور حقائق نہیں ہوتے۔ جن کا تعلق اللہ کے نظام وقدر سے ہوتا ہے۔۔۔ پھر لوگوں کی سوچ ، اعمال ونتائج کے بارے میں ایک محدود زمانے تک محدود ہوتی ہے اور انسان کے قیاس اور سوچ کا دائرہ محدود ہوتا ہے ، رہے اللہ کے فیصلے تو زمان ومکان کے اعتبار سے ان کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک زمانے اور دوسرے زمانے میں جدائی نہیں کرتا۔ ایک علاقے اور دوسرے علاقے میں فرق نہیں کرتا۔ اگر ہم زمان و مکان کے حدود سے آگے بڑھ کر ایمان کے مسئلہ پر سوچیں تو حقیقت یہ سامنے آئے گی کہ ایمان کامیاب رہتا ہے۔ ایمان اور عقیدے کی کامیابی دراصل ان لوگوں کی کامیابی ہوتی ہے جو ایمان اور عقیدے کو اپناتے ہیں۔ اہل ایمان سے باہر کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اور ایمان کا پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے والے اس میں فنا ہوجائیں۔ وہ خود مٹ جائیں اور ایمان کو نمایاں کردیں۔ پھر نصرت کا مفہوم بھی لوگوں کے ہاں محدود ہے۔ وہ قریبی نصرت دیکھتے ہیں جسے وہ خود دیکھ سکیں ۔ لیکن نصرت کی اشکال تو بیشمار ہیں۔ بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ انسان کو نصرت بطاہر شکست نظر آتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا جاتا ہے لیکن وہ اپنے عقیدے اور دعوت سے نہیں پھرتے ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو نصرت ہوئی یا وہ شکست کھاگئے ایمان کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو ان کو فتح ہوئی۔ اس وقت بھی وہ فاتح تھے ، جب ان کو آگ میں پھینکا جارہا تھا اور اس وقت بھی فاتح تھے ان کو نجات دی گئی۔ یہ بھی فتح کی ایک صورت ہے اور آگ کا گلزار ہوتا بھی اس کی ایک صورت ہے۔ جبکہ بظاہر دونوں کی صورتیں مختلف ہیں۔ لیکن اپنی اصلیت میں دونوں ایک ہیں ۔ حضرت حسین ؓ کربلا میں شہادت پاتے ہیں۔ یہ ایک دلدوز واقعہ ہے۔ یہ فتح تھی یا شکست ۔ اگر بظاہر محدود پیمانوں سے دیکھا جائے تو شکست تھی۔ اور اگر حقیقت کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو یہ عظیم فتح ہے۔ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد حسین کو آج تک محبت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ آج تک لوگوں کے دل حسین کے ساتھ ہیں آج تک لوگ ان پر فدا ہوتے ہیں جبکہ فاتح یزید کا نام ونشان غائب ہے۔ حسین پر شیعہ سنی سب فدا ہیں اور یزید کے بارے میں کوئی نہیں کہتا کہ وہ اولاد یزید ہے یا یزید ہی ہے۔ کئی ایسے شہداء ہیں کہ اگر وہ ہزار سال زندہ رہتے تو اپنے نظریات کو پھیلانہ سکتے ۔ لیکن ایک شہادت سے ان کے نظریات اقطار عالم تک پھیل گئے۔ کوئی بھی شہید اپنے بیان اور تقریروں سے عوام کو بلند مقاصد عطا نہیں کرسکتا ۔ نہ عوام کو بلند مقاصد کے لیے ابھار سکتا ہے۔ لیکن اپنے خون کے زریعہ وہ جو خطبہ دیتا ہے اور وہ اس کا آخری خطاب ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محرک ہوتا اور نسلوں تک نشان منزل رہتا ہے۔ اور بعض اوقات تو ایک شہید جو راہ متعین کرتا ہے صدیوں تک تاریخ اس پر چلتی رہتی ہے اور قافلے اسی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ تو پھر فتح کیا ہے اور ہزیمت کیا ہے ؟ ہمیں چاہئے کہ فتح وشکست کے جو پیمانے ہمنے اپنے ذہنوں میں قائم کر رکھے ہیں ان پر ذرا نظرثانی کریں۔ اور اس کے بعد پھر پوچھیں کہ اللہ کی وہ مدد کہاں ہے ، جس کا وعدہ اللہ نے مومنین سے کیا ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ہاں بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ جب ظاہری صورت حال ، اللہ کے اعلیٰ اور دور رس پیمانوں کے ساتھ موافق ہوجاتی ہے تو فوری فتح بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو اللہ نے اپنی زندگی ہی میں نصرت اور کامرانی عطا فرمائی تھی کیونکہ دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی حقیقت اور یہ نصرف ساتھ ساتھ قائم ہوگئی تھیں۔ عقیدے کو نصرت تب ملتی ہے جب عقیدہ انسانی سوسائٹی پر غالب آجائے اور وہ سوسائٹی اس کے رنگ میں رنگ کرا سکے اندر ڈوب جائے۔ ایک فرد ایک جماعت اور ایک قوت حاکمہ سب کی سب اس میں ڈوب جایں تو پھر اللہ ایسے دوعیوں اور ایسی دعوت کی مدد کرتا ہے اور یہ نظریہ اور یہ نظام اپنی حقیقی صورت میں پھر قائم ہوجاتا ہے اور یہ نظام غالب ہو کر تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔ اور تاریخ پر اسکے یہ نقوش نمایاں نظر آتے ہیں۔ یوں قریبی نصرت کی صورت اور دوررس مقاصد کی صورت باہم متصل ہوجاتی ہیں۔ اب بظاہر نصرت عاجلہ ظہور میں آتی ہے جو دوررس سنت الہیہ کا حصہ ہوتی ہے۔ یوں سنت الہیہ اور تقدیر الہٰی کے اندر ایک فوری فتح کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کے ساتھ قائم ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ وعدے کے مستحق ہونے والے مومنین کے دلوں کے اندر حقیقت ایمان صحیح طرح قائم اور جاگزیں ہوجائے تاکہ اس پر اللہ کا وعدہ مرتب ہو۔ حقیقت ایمان کے سلسلے میں بسا اوقات لوگ سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ قلب مومن میں شرک کا شائبہ تک نہ رہے۔ کسی قسم کی شرک بھی دل کے قریب نہ ہو۔ شرک کی بعض صورتیں نہایت خفیہ ہوتی ہیں۔ ان سے دل پاک وصاف اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہو۔ اور صرف اللہ وحدہ پر توکل کرے۔ اور اللہ انسان کے بارے میں جو فیصلہ کرے اس پر وہ مطمئن ہوجائے۔ اور انسان اپنے آپ کو تقدیرالہٰی کے سپرد کردے۔ انسان کے اندر یہ حساس ہو کہ اس کے معاملات میں صرف اللہ ہی متصرف ہے۔ لہٰذا اس کے لیے اللہ جو اختیار کرتا ہے اس پر وہ کسی حال میں حیران نہ ہو اور اس کو جو پیش آئے اسے نہایت اطمینان ، اعتماد اور سرتسلیم خم کرکے قبول کرے۔ جب انسان تسلیم ورضا کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ بھی اللہ کے آگے نہیں بڑھتا اور جلد بازی نہیں کرتا۔ اور اللہ کے سامنے فتح ونصرت اپنی پسندیدہ صورت میں پیش نہیں کرتا۔ اپنے معاملات اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور اپنی راہ پر گامزن رہتا ہے ۔ اسے اسی راہ میں جو بھی پیش ہے ، وہ اسے خیر سمجھتا ہے۔ یہ ہے حقیقی نصرت۔۔۔۔ یہ ہے نصرت اور فتح اپنی ذات ، اپنی خواہشات پر۔ یہ ہے اندرونی فتح اور خالص فتح تب ہی ہوتی ہے ، جب اندرونی فتح مکمل ہو۔ انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ سابقہ منظر میں ہم نے دیکھا کہ ظالموں کے لیے کوئی معذرت مفید نہیں ہے۔ اور ان کا انجام یہ ہوا کہ ان پر لعنت پڑی اور جہنم رسید ہوئے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رسولوں کی مدد کس طرح کرتا ہے تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ نے مدد فرمائی ۔ ولقداتینا۔۔۔۔ الالباب (40: 54) ” آخر کار دیکھ لو کہ موسیٰ کی ہم نے رہنمائی کی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لئے ہدایت ونصیحت تھی “۔ یہ اللہ کی نصرت کا ایک نمونہ تھا کہ حضرت موسیٰ کو کتاب دی ، ہدایت دی اور پھر نجات دی۔ یہاں بطور مثال قصہ موسیٰ کی طرف اشارہ کردیا۔ یہ قصہ بہت ہی طویل ہے اور اس میں نصرت اور تائید خداوندی کے کئی نمونے ہیں۔ اس مثال کے بعد ایک آخری تسلی کیونکہ مکہ میں مسلمان اور رسول اللہ بہت ہی مشکل حالات میں زندگی بسر فرما رہے تھے ، ان کو تسلی دی جارہی ہے کہ نصرت ضرور آئے گی اور رسول اللہ کے بعد جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کررہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں ہیں۔ ان کے لیے بھی ایسی ہی تسلی ہے۔ فاصبران۔۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اے نبی ، صبر کرو ، اللہ کا وعدہ برحق ہے ، اپنے قصوروں کی معافی چاہو اور صبح وشام اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ عقل وخرد کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے۔ صبر کی دعوت ، لوگوں کی جانب سے تکذیب پر صبر کرو ، اس پر صبر کرو کہ باطل کو اقتدار حاصل ہے اور اس کی وجہ سے وہ پھیل رہا ہے لیکن یہ ایک عرصے کے لیے ہے ، لوگوں کے مزاج ۔ ان کے اخلاق اور ان کے معاملات کی غلطیوں پر صبر کرو ، انسان کے نفس ، اس کی خواہشات اور چاہتوں پر صبر کرو۔ خصوصاً جب نفس یہ چاہے کہ اللہ کی نصرت بہت جلد آنی چاہئے اور نصرت کے نتیجے میں ہونے والی کامیابیوں اور تحریک اسلامی کی طویل جدوجہد میں دشمنوں سے بھی پہلے دوستوں کی طرف سے پیدا کی جانے والی مشکلات پر صبر کرو۔ فاصبر ان وعد اللہ حق (40: 55) ' اے نبی صبر کرو ، اللہ کا وعدہ حق ہے “۔ دیر آید درست آید۔ اگر آپ کے معاملات پیچیدہ ہوں ۔ اگر بظاہر اسباب نصرت نہ نظر آتے ہوں۔ کیونکہ نصرت کا وعدہ وہ ذات باری کر رہی ہے جو اپنے وعدے کو حقیقت کا جامہ پہناسکتی ہے اور اللہ نے وعدہ کیا ہے تو اللہ نے ارادہ کرلیا ہے۔ واستغفر ۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اور اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح وشام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے اصلی زاد سفر۔ نہ راہ بہت طویل ہے اور دشوار گزار ہے۔ اس میں وہی شخص آگے قدم بڑھا سکتا ہے جو اپنے قصوروں کی معافی چاہتا رہے۔ جو حمد باری تعالیٰ کرتا رہے اور حمد کے ساتھ اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتا رہے۔ اس میں نصرت بھی مل سکتی ہے ، اور نفس انسانی کی تربیت بھی۔ اور اس راستے پرچلنے کی تیاری بھی اور قلب ونظر کی تطہیر بھی۔ یہ وہ نصرت ہے جو قلب تعداد کے اندر بھی اپنا کام کرتی ہے اور اس کے بعد نصرت کی وہ صورت سامنے آتی ہے جو زندگی کی عملی صورت میں ہوتی ہے۔ صبح وشام کا ذکر یا تو اس لیے ہے کہ اس سے مراد پورا وقت ہے کیونکہ صبح وشام اوقات کے اطراف ہیں۔ یا ان اوقات میں انسانی قلب صاف اور متوجہ ہوتا ہے اور ان اوقات میں غور وفکر اور اللہ کی حمد وتسبیح کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ کی نصرت حاصل ہوسکتی ہے اور اسے اللہ نے اپنی نصرت دینے کے لیے مقرر فرمایا ہے ۔ اسی کے مطابق اس راستے پر شلنے کی تیاری ہوگی ، زاوسفر تیار ہوگا۔ اور تب نصرت ملے گی اور کسی بھی معرکے کے لیے تیاری اور سازو سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی جنگ بغیرتربیت اور سامان کے نہیں ہوسکتی۔

غافر 40:56

درس نمبر 225 ایک نظر میں یہ سبق اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے پوری طرح سابق سبق سے بالکل مربوط اور یکساں ہے۔ اس سبق میں وہی مضمون آگے چلتا ہے جو پہلے سبق کے آخر میں چھوڑا گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کی جو ناحق تکذیب کرتے ہیں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ وہ آپ کو ایذا دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں ، یہ سب کچھ وہ اپنے جھوٹے فخرو غرور کی وجہ سے کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بغیر دلیل وبرہان کے اللہ کی آیات میں کیوں جھگڑتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ہیں تو بہت چھوٹے اور بونے مگر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور یہ کبران کے دلوں میں بیٹھا ہے اور حق کو تسلیم کرنے سے مانع ہورہا ہے۔ چناچہ ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم بڑے ہو یا اللہ کی بنائی ہوئی یہ کائنات بڑی ہے۔ ذرا آسمانوں کی دوریوں پر غور کرو اور اس زمین پر غور کروم تمہیں نظر آجائے گا کہ تم کتنے بڑے ہو۔ یہ سبق آگے بڑھتا اور اس کائنات کی بعض نشانیوں کو بیان کرتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو ان عظیم نشانیوں کو اس چھوٹے اور کمزور انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انسانی ذات پر اللہ نے جو فضل وکرم کیے ہیں۔ ذرا ان پر غور کرو ، کیا یہ سب چیزیں اللہ وحدہ کے دجود اور اس کی بادشاہت اور وحدانیت پر مکمل دلیل نہیں ہیں۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید بلند کریں اور ان الہوں سے منہ پھیرلیں جن کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ ایک ایسے خوفناک منظر کے ساتھ ہوتا ہے جو قیامت کے مناظر میں سے ہے۔ ان کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے وہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ تمہارے الہہ۔ اور اس کا خاتمہ بھی درس سابق کے خاتمہ کی طرح نبی ﷺ کو اس تلقین پر ہوتا ہے کہ آپ صبر فرمائیں۔ چاہے اللہ آپ کو اسلامی انقلاب کا کچھ دکھاوے ، یا آپ کو اٹھالے۔ قبل اس کے کہ نصرت آئے۔ یہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ درس نمبر 225 تشریح آیات آیت نمبر 56 تا 60 یہ انسان بسا اوقات اپنے آپ کو بھول جاتا ہے ، یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ایک چھوٹی اور ضعیف مخلوق ہے۔ یہ بذات خود قوت کا سرچشمہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنی قوت دراصل قوت کے اصلی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے ، یعنی اللہ سے۔ جب اللہ سے اس کا رابطہ کٹ جا ات ہے تو پھر وہ پھولنا سوجنا شروع ہوجاتا ہے ، اونچا ہونا اور سرکش ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور اس کے دل میں یہ بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی چیز ہے اور اس کی یہ سوچ شیطان سے اخذ ہوتی ہے جو اس کبر ہی کے وجہ سے زاندۂ درگاہ ہوا اور پھر اللہ نے اسے انسان پر مسلط کردیا ، جس پر وہ ہر طرف سے حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ انسان پھر اللہ کی نشانیوں کے بارے میں جھگڑتا رہتا ہے اور ہٹ دھرمی کرتا ہے۔ یہ ہٹ دھرمی ایک ایسی صفت ہے جس سے انسان کی فطرت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ اس قسم کا انسان خود اپنے آپ کو اور لوگوں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ حق کے لیے تحقیق وتفتیش کررہا ہے اور بحث اس لیے کررہا ہے کہ اسے تسلی نہیں ہوئی۔ اور اسے پوراپورا یقین نہیں ہے لیکن اللہ تو اپنے بندوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ سمیع وبصیر ہے اور دل کے رازوں کا جاننے والا ہے ، یہ اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ یہ کبر کی وجہ سے ہے صرف اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ یہ کبر دل میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ کسی شخص کو ایسے مسئلے میں جھگڑے پر آمادہ کردیتا ہے جو جھگڑے کا ہوتا نہیں ہے۔ یہ کبر ہی ہے جو انسان کو ایسے کاموں میں ہاتھ ڈالنے پر آمادہ کرتا ہے جو انسان کی حقیقت سے زیادہ اونچے ہوتے ہیں ، انسان ایسے مقام تک پہنچنے کی سعی کرتا ہے جو اس سے بلند ہوتا ہے اور انسانی حقیقت سے بالاتر ہوتا ہے۔ انسان کے پاس اس کے لیے نہ دلیل ہوتی ہے اور نہ وجہ جواز۔ صرف اس کبر کی وجہ سے وہ اس طرح کی اونچی پرواز شروع کردیتا ہے ، ایسے ہی لوگ ہیں۔ ان الذین۔۔۔۔ ھم ببالغیه (40: 56) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند اور حجت کے بغیر جو ان کے پاس آئی ہو ، اللہ کی آیات میں جھگڑا رہے ہیں ، ان کے دلوں میں کبر بھرا ہے ، مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جن کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں “۔ اگر انسان اس کائنات کو اچھی طرح سمجھ لے اور اپنی ذات کی معرفت حاصل کرلے اور اس کائنات میں اپنی حیثیت کا ادراک کرے رو وہ مطمئن ہوجائے اور اپنی حیثیت اور منصب سے آگے نہ بڑھے۔ اگر وہ یہ معلوم کرے کہ وہ ان لاتعداد موجودات میں سے ایک ہے اور جس طرح یہ پوری کائنات امرربی کی پابند ہے ، اس طرح وہ بھی ہے اور وہ بھی اللہ کے نظام قضا وقدر کے مطابق چل رہا ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے اور یہ کہ کائنات میں اس کا کردار ایک متعین کردار ہے ، اگر انسان ان حقائق کا ادراک کرے تو وہ مطمئن اور آرام سے بیٹھ جائے اور اس کا سر قدرے جھک جانے اور اس کے اندر تواضع پیدا ہوجانے اور وہ اپنے آپ کے ساتھ ، اس کائنات کے ساتھ اور اپنے ماحول کے ساتھ نہایت امن وسلامتی کے ساتھ رہے۔ فاستعذباللہ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” پس اللہ کی پناہ مانگ لو وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر کے مقابلے میں اللہ کی پناہ مانگنے کا مشورہ دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہت ہی قبیح اور قابل نفرت خصلت ہے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ چیز سے مانگی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں شروفساد اور اذیت ملتی ہے۔ اور کبر میں یہ سب چیزیں موجود ہیں۔ کبر خود صاحب کبر کے لیے مصیبت ہے اور اس کے ماحول کے لیے بھی مصیبت ہے۔ جس دل میں کبر ہو ، اس کے لیے بھی اذیت ہے اور دوسروں کے دلوں کو بھی دکھانے والی عادت ہے۔ لہٰذا کبر ایک ایسا شر اور فساد ہے جس سے اللہ کی پناہ مانگنا ضروری ہے۔ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر انسان کو ایسی حرکات پر آمادہ کرتا ہے جو دیکھی جاسکتی ہیں اور انسان سے ایسی باتیں کرواتا ہے جو سنی جاسکتی ہیں اس سے بچنے کیلیے اپنے آپ کو سننے اور دیکھنے والے کی ولایت میں دے دو ۔ اس کے بعد انسان کو بتایا جاتا ہے کہ اس عظیم کائنات میں اس کا حقیقی مقام کیا ہے ، اور اللہ کی بعض مخلوقات جسے انسان دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں وہ کس قدر چھوٹا اور کمزور ہے۔ اور یہ چیزیں جن کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔ سدیکھتے ہی انسان ان کی ضخامت کا قائل ہوجاتا ہے۔ اور جب ان کی پوری حقیقت ان کی سمجھ میں آجائے تو ان کا شعور اور پختہ ہوجاتا ہے۔ لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے مقابلے میں یقیناً زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ آسمان اور زمین انسان کے سامنے بچھے ہوئے ہیں اور انسان ان کو دیکھتا ہے۔ اور انسان کی طاقت میں ہے یہ بات کہ وہ ان کے حوالے سے اپنی قدر و قیمت معلوم کرے۔ جب انسان کو اس زمین و آسمان کے حوالے سے اپنی نسبت ، آسمانوں کی دوریاں اور افلاک سماوی کے حجم کا علم ہوتا ہے تو اس کا سرجھک سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی کم مائیگی کے شعور کی وجہ سے وہ پگھل کر رہ جائے الایہ کہ وہ انسان کے اس شرف کو یاد کرے جو اللہ نے اس کے اندر رکھا ہے اور جس کی وجہ سے انسان کو مکرم بنایا گیا ہے۔ وہ واحد صفت ہے جس کی وجہ سے انسان اس کائنات کی عظمت کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے کیونکہ کائنات بہت ہی عظیم اور ہولناک ہے اور وہ بہت ہی چھوٹا ہے۔ اس عظیم کائنات کے اور اوپر ایک لمحہ غور کرنا انسان کو یہ سب کچھ معلوم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں۔ یہ سورج کے تابع ستاروں میں سے ایک چھوٹا ساستارہ ہے۔ اس سورج کے تابع ستاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ زمین سورج سے دس لاکھ چھوٹی ہے۔ پھر یہ سورج اس قسم کے سوملین سورجوں میں سے ایک ہے ، جو ہمارے قریب ترین کہکشاں میں ہیں۔ اور ہم بھی اسی کہکشاں میں ہیں ، اور انسانوں نے آج تک سو ملین کہکشاں دریافت کرلیے ہیں جو اس عظیم فضا میں تیر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ اس فضا کا نہایت ہی چھوٹاحصہ ہوں۔ جہاں تک انسانی معلومات کا تعلق ہے تو انسان نے ابھی تک کائنات کے ایک مختصر اور قابل ذکر حصے کی دریافت کی ہے اور یہ چھوٹا ساحصہ بھی اس قدر بڑا ہے کہ صرف اس کے تصور ہی سے انسان کا سر چکراتا ہے۔ ہم اپنے سورج سے تقریباً 93 ملین میل دور ہیں اور یہ سورج ہماری اس چھوٹی سی زمین کے کنبے کا سرخیل ہے۔ اور یہ زمین بھی اپنی اس ماں کی جھولی سے یعنی سورج سے 93 ملین دور ہے۔ یہ زمین سورج ہی سے جدا ہوئی ہے۔ وہ کہکشاں جس کے تابع یہ سورج ہے ، اس کا قطر تقریباً ایک لاکھ ملین نوری سال ہے۔ اور نوری سال چھ سو ملین میل ہوتا ہے کیونکہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اور ہماری کہکشاں سے فریب ترین کہکشاں ایک لاکھ سات سو پچاس ہزار نوری سال دور ہے۔ ہمیں یہاں یہ بات پیش نظر چاہئے کہ یہ دوریاں اور حجم وہ ہیں جو اس حقیر انسان نے دریافت کرلیے ہیں اور اس کے ساتھ انسان نے یہ بھی دریافت کرلیا ہے وہ حقیقت کا نہایت ہی چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسان کو پیدا کرنے کی یہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اللہ کی قدرت کوئی بات نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی ، نہ مشکل ہے اور نہ آسان۔ وہ تو ہر چیز کی تخلیق ایک کلمہ سے کرتا ہے۔ یہ صفات تو اشیاء کی ہیں۔ لوگ انہیں کم دیکھتے ہیں یا زیادہ ، آسان دیکھتے یا مشکل ۔ پھر انسان اور اس ہولناک سرچکر دینے والی کائنات کی باہم کیا نسبت ہے ؟ اس کم مائیگی کے باوجود پھر انسان کا یہ کبر ! وما یستوی۔۔۔۔ المسیئ (40: 58) ” اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہوجائیں اور ایماندار اور صالح اور بدکار برابر ٹھہریں “۔ صاحب بصارت تو دیکھتا ہے اور اسے علم ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی قدروقیمت بھی جانتا ہے۔ حد سے نہیں گزرتا ، پھولتا نہیں اور نہ تکبر کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے ، اندھا نہ دیکھتا ہے اور نہ خود اپنی قدروقیمت جانتا ہے ، نہ اپنی پوزیشن جانتا ہے اور نہ اپنے ماحول کے ساتھ اپنی نسبت کو جانتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے بارے میں غلط اندازہ کرتا ہے۔ پھر اپنے ماحول کے بارے میں غلط فیصلہ کرتا ہے۔ اور ان اندازوں کی وجہ سے پھر وہ راہ بھول جاتا ہے۔ اس طرح مومن و صالح اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن دیکھنے والے اور جاننے والے ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنا اور اپنے ماحول کا صحیح اندازہ کرتے ہیں ، جبکہ کافر اور بدکار جاہل ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو برباد کردیتے ہیں ۔ اپنے آپ کو ، اپنے ماحول کو ، لوگوں کو ، اور سب سے پہلے وہ اپنے عمل اور فہم کو برباد کردیتے ہیں۔ وہ اپنے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکتے ۔ اندھے ہوتے ہیں ، دلوں کے اندھے۔ قلیلا ماتتذکرون (40: 58) ” مگر تم لوگ کم ہی سمجھتے ہو “۔ اگر ہم سمجھتے تو ہمیں حقیقت معلوم ہوتی۔ بات واضح ہے۔ صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم آخرت پر پختہ یقین رکھتے اور اسے یاد کرتے اور مقامات قیامت کو ذہین میں رکھتے اور وہاں کی حاضری ہمارے ذہین میں ہوتی تو ہم پختہ مومن ہوتے۔ ان الساعة ۔۔۔۔ یومنون (40: 59) ” یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں مگر اکثر لوگ نہیں مانتے “۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات میں مجادلہ کرتے ہیں اور کبر کرتے ہیں۔ ورنہ اگر مانتے اور یقین کرتے تو وہ حق کو پہنچانتے۔ وہ جانتے کہ حق کے حوالے سے ان کا کیا مقام ہے۔ اس لیے تجاوز نہ کرتے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور بندگی کرنا ، اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ کو پکارنا ، انسام کو اس کبر سے بچاتا ہے ، جس کی وجہ سے انسان پھول جاتا ہے اور بغیر حجت کے اللہ کی آیات میں جھگڑا کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اپنے دروازے کھولتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کو پکاریں اور اعلان فرماتا ہے کہ میں ہر پکارنے والے کی پکارکو قبول کرنا اپنے اوپر لکھ دیا ہے۔ اور ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو اللہ کی پکار کے مقابلے میں تکبر کرتے ہیں کہ وہ آگ میں ذلیل و خوار ہوں گے۔ وقال ربکم۔۔۔۔۔ دخرین (40: 60) ” تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ، ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے “۔ یہ یاد رہے کہ دعا کے بھی آداب ہیں اور ان کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ قلب کو اللہ کے لیے خالص ہونا چاہئے ، کوئی صورت متعین کیے بغیر مانگنا چاہئے اور اس یقین کے ساتھ مانگنا چاہئے کہ اللہ ضرور قبول فرماتا ہے۔ قبولیت کے ظروف واحوال اور زمان ومکاں متعین نہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ آداب دعا کے سراسر خلاف ہے۔ اور یہ یقین کرنا چاہئے کہ دعاء کی توفیق صرف اللہ ہی دیتا ہے۔ یہ بھی ایک انعام ہے ، قبول ہونا دوسرا انعام ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں ” میں استجابت دعا کی پریشانی اٹھا کر نہیں پھرتا ، میری ذمہ داری توبہ ہے کہ دعا کروں۔ جو مجھے یہ توفیق دے دی گئی اور یہ الہام کردیا گیا کہ دعا کرو تو قبولیت ساتھ ہوتی ہے “۔ دعاء تو عارف کے دل کی بات ہوتی ہے ، عارف اس بات کو جانتا ہے کہ جس خدا نے دعا کو مقدر کیا وہی قبولیت کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ جب اللہ توفیق دے تو دعاء اور قبولیت دونوں باہم موافق اور مطابق اور ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں تو ان کی سزا یہ ہے کہ جہنم میں خوار اور ذلیل کرکے پھینکے جائیں اور کبر کی سزا اللہ کے ہاں یہی ہے جس کی وجہ سے انسان پھولتا ہے۔ ایک چھوٹا سا انسان ، اس چھوٹی سی زمین پر اور اس چھوٹی سی زندگی میں ۔ اور یہ شخص اللہ کی عظیم تخلیق کو بھول جاتا ہے ، اللہ کی عظمت کو بھول جاتا ہے اور آخرت کو بھول جاتا ہے جبکہ یہ آنے والی ہے ، اور وہاں پھرا سے ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں گرنا ہوگا۔ جب ان لوگوں کا ذکر ہوا جو اللہ کی بندگی کرنے اور اسے پکارنے سے کبر کرتے ہیں تو اس حوالے سے اللہ کی بعض نعمتوں کا ذکر کردیا گیا۔ وہ نعمتیں جو اللہ کی عظمت کی گواہ ہیں اور اس قسم کے متکبر ان پر اللہ کا شکر نہیں بجالاتے بلکہ اللہ کی عبادت کرنے ، اسے پکارنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں :

غافر 40:57

درس نمبر 225 ایک نظر میں یہ سبق اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے پوری طرح سابق سبق سے بالکل مربوط اور یکساں ہے۔ اس سبق میں وہی مضمون آگے چلتا ہے جو پہلے سبق کے آخر میں چھوڑا گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کی جو ناحق تکذیب کرتے ہیں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ وہ آپ کو ایذا دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں ، یہ سب کچھ وہ اپنے جھوٹے فخرو غرور کی وجہ سے کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بغیر دلیل وبرہان کے اللہ کی آیات میں کیوں جھگڑتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ہیں تو بہت چھوٹے اور بونے مگر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور یہ کبران کے دلوں میں بیٹھا ہے اور حق کو تسلیم کرنے سے مانع ہورہا ہے۔ چناچہ ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم بڑے ہو یا اللہ کی بنائی ہوئی یہ کائنات بڑی ہے۔ ذرا آسمانوں کی دوریوں پر غور کرو اور اس زمین پر غور کروم تمہیں نظر آجائے گا کہ تم کتنے بڑے ہو۔ یہ سبق آگے بڑھتا اور اس کائنات کی بعض نشانیوں کو بیان کرتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو ان عظیم نشانیوں کو اس چھوٹے اور کمزور انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انسانی ذات پر اللہ نے جو فضل وکرم کیے ہیں۔ ذرا ان پر غور کرو ، کیا یہ سب چیزیں اللہ وحدہ کے دجود اور اس کی بادشاہت اور وحدانیت پر مکمل دلیل نہیں ہیں۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید بلند کریں اور ان الہوں سے منہ پھیرلیں جن کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ ایک ایسے خوفناک منظر کے ساتھ ہوتا ہے جو قیامت کے مناظر میں سے ہے۔ ان کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے وہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ تمہارے الہہ۔ اور اس کا خاتمہ بھی درس سابق کے خاتمہ کی طرح نبی ﷺ کو اس تلقین پر ہوتا ہے کہ آپ صبر فرمائیں۔ چاہے اللہ آپ کو اسلامی انقلاب کا کچھ دکھاوے ، یا آپ کو اٹھالے۔ قبل اس کے کہ نصرت آئے۔ یہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ درس نمبر 225 تشریح آیات آیت نمبر 56 تا 60 یہ انسان بسا اوقات اپنے آپ کو بھول جاتا ہے ، یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ایک چھوٹی اور ضعیف مخلوق ہے۔ یہ بذات خود قوت کا سرچشمہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنی قوت دراصل قوت کے اصلی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے ، یعنی اللہ سے۔ جب اللہ سے اس کا رابطہ کٹ جا ات ہے تو پھر وہ پھولنا سوجنا شروع ہوجاتا ہے ، اونچا ہونا اور سرکش ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور اس کے دل میں یہ بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی چیز ہے اور اس کی یہ سوچ شیطان سے اخذ ہوتی ہے جو اس کبر ہی کے وجہ سے زاندۂ درگاہ ہوا اور پھر اللہ نے اسے انسان پر مسلط کردیا ، جس پر وہ ہر طرف سے حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ انسان پھر اللہ کی نشانیوں کے بارے میں جھگڑتا رہتا ہے اور ہٹ دھرمی کرتا ہے۔ یہ ہٹ دھرمی ایک ایسی صفت ہے جس سے انسان کی فطرت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ اس قسم کا انسان خود اپنے آپ کو اور لوگوں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ حق کے لیے تحقیق وتفتیش کررہا ہے اور بحث اس لیے کررہا ہے کہ اسے تسلی نہیں ہوئی۔ اور اسے پوراپورا یقین نہیں ہے لیکن اللہ تو اپنے بندوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ سمیع وبصیر ہے اور دل کے رازوں کا جاننے والا ہے ، یہ اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ یہ کبر کی وجہ سے ہے صرف اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ یہ کبر دل میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ کسی شخص کو ایسے مسئلے میں جھگڑے پر آمادہ کردیتا ہے جو جھگڑے کا ہوتا نہیں ہے۔ یہ کبر ہی ہے جو انسان کو ایسے کاموں میں ہاتھ ڈالنے پر آمادہ کرتا ہے جو انسان کی حقیقت سے زیادہ اونچے ہوتے ہیں ، انسان ایسے مقام تک پہنچنے کی سعی کرتا ہے جو اس سے بلند ہوتا ہے اور انسانی حقیقت سے بالاتر ہوتا ہے۔ انسان کے پاس اس کے لیے نہ دلیل ہوتی ہے اور نہ وجہ جواز۔ صرف اس کبر کی وجہ سے وہ اس طرح کی اونچی پرواز شروع کردیتا ہے ، ایسے ہی لوگ ہیں۔ ان الذین۔۔۔۔ ھم ببالغیه (40: 56) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند اور حجت کے بغیر جو ان کے پاس آئی ہو ، اللہ کی آیات میں جھگڑا رہے ہیں ، ان کے دلوں میں کبر بھرا ہے ، مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جن کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں “۔ اگر انسان اس کائنات کو اچھی طرح سمجھ لے اور اپنی ذات کی معرفت حاصل کرلے اور اس کائنات میں اپنی حیثیت کا ادراک کرے رو وہ مطمئن ہوجائے اور اپنی حیثیت اور منصب سے آگے نہ بڑھے۔ اگر وہ یہ معلوم کرے کہ وہ ان لاتعداد موجودات میں سے ایک ہے اور جس طرح یہ پوری کائنات امرربی کی پابند ہے ، اس طرح وہ بھی ہے اور وہ بھی اللہ کے نظام قضا وقدر کے مطابق چل رہا ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے اور یہ کہ کائنات میں اس کا کردار ایک متعین کردار ہے ، اگر انسان ان حقائق کا ادراک کرے تو وہ مطمئن اور آرام سے بیٹھ جائے اور اس کا سر قدرے جھک جانے اور اس کے اندر تواضع پیدا ہوجانے اور وہ اپنے آپ کے ساتھ ، اس کائنات کے ساتھ اور اپنے ماحول کے ساتھ نہایت امن وسلامتی کے ساتھ رہے۔ فاستعذباللہ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” پس اللہ کی پناہ مانگ لو وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر کے مقابلے میں اللہ کی پناہ مانگنے کا مشورہ دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہت ہی قبیح اور قابل نفرت خصلت ہے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ چیز سے مانگی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں شروفساد اور اذیت ملتی ہے۔ اور کبر میں یہ سب چیزیں موجود ہیں۔ کبر خود صاحب کبر کے لیے مصیبت ہے اور اس کے ماحول کے لیے بھی مصیبت ہے۔ جس دل میں کبر ہو ، اس کے لیے بھی اذیت ہے اور دوسروں کے دلوں کو بھی دکھانے والی عادت ہے۔ لہٰذا کبر ایک ایسا شر اور فساد ہے جس سے اللہ کی پناہ مانگنا ضروری ہے۔ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر انسان کو ایسی حرکات پر آمادہ کرتا ہے جو دیکھی جاسکتی ہیں اور انسان سے ایسی باتیں کرواتا ہے جو سنی جاسکتی ہیں اس سے بچنے کیلیے اپنے آپ کو سننے اور دیکھنے والے کی ولایت میں دے دو ۔ اس کے بعد انسان کو بتایا جاتا ہے کہ اس عظیم کائنات میں اس کا حقیقی مقام کیا ہے ، اور اللہ کی بعض مخلوقات جسے انسان دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں وہ کس قدر چھوٹا اور کمزور ہے۔ اور یہ چیزیں جن کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔ سدیکھتے ہی انسان ان کی ضخامت کا قائل ہوجاتا ہے۔ اور جب ان کی پوری حقیقت ان کی سمجھ میں آجائے تو ان کا شعور اور پختہ ہوجاتا ہے۔ لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے مقابلے میں یقیناً زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ آسمان اور زمین انسان کے سامنے بچھے ہوئے ہیں اور انسان ان کو دیکھتا ہے۔ اور انسان کی طاقت میں ہے یہ بات کہ وہ ان کے حوالے سے اپنی قدر و قیمت معلوم کرے۔ جب انسان کو اس زمین و آسمان کے حوالے سے اپنی نسبت ، آسمانوں کی دوریاں اور افلاک سماوی کے حجم کا علم ہوتا ہے تو اس کا سرجھک سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی کم مائیگی کے شعور کی وجہ سے وہ پگھل کر رہ جائے الایہ کہ وہ انسان کے اس شرف کو یاد کرے جو اللہ نے اس کے اندر رکھا ہے اور جس کی وجہ سے انسان کو مکرم بنایا گیا ہے۔ وہ واحد صفت ہے جس کی وجہ سے انسان اس کائنات کی عظمت کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے کیونکہ کائنات بہت ہی عظیم اور ہولناک ہے اور وہ بہت ہی چھوٹا ہے۔ اس عظیم کائنات کے اور اوپر ایک لمحہ غور کرنا انسان کو یہ سب کچھ معلوم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں۔ یہ سورج کے تابع ستاروں میں سے ایک چھوٹا ساستارہ ہے۔ اس سورج کے تابع ستاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ زمین سورج سے دس لاکھ چھوٹی ہے۔ پھر یہ سورج اس قسم کے سوملین سورجوں میں سے ایک ہے ، جو ہمارے قریب ترین کہکشاں میں ہیں۔ اور ہم بھی اسی کہکشاں میں ہیں ، اور انسانوں نے آج تک سو ملین کہکشاں دریافت کرلیے ہیں جو اس عظیم فضا میں تیر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ اس فضا کا نہایت ہی چھوٹاحصہ ہوں۔ جہاں تک انسانی معلومات کا تعلق ہے تو انسان نے ابھی تک کائنات کے ایک مختصر اور قابل ذکر حصے کی دریافت کی ہے اور یہ چھوٹا ساحصہ بھی اس قدر بڑا ہے کہ صرف اس کے تصور ہی سے انسان کا سر چکراتا ہے۔ ہم اپنے سورج سے تقریباً 93 ملین میل دور ہیں اور یہ سورج ہماری اس چھوٹی سی زمین کے کنبے کا سرخیل ہے۔ اور یہ زمین بھی اپنی اس ماں کی جھولی سے یعنی سورج سے 93 ملین دور ہے۔ یہ زمین سورج ہی سے جدا ہوئی ہے۔ وہ کہکشاں جس کے تابع یہ سورج ہے ، اس کا قطر تقریباً ایک لاکھ ملین نوری سال ہے۔ اور نوری سال چھ سو ملین میل ہوتا ہے کیونکہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اور ہماری کہکشاں سے فریب ترین کہکشاں ایک لاکھ سات سو پچاس ہزار نوری سال دور ہے۔ ہمیں یہاں یہ بات پیش نظر چاہئے کہ یہ دوریاں اور حجم وہ ہیں جو اس حقیر انسان نے دریافت کرلیے ہیں اور اس کے ساتھ انسان نے یہ بھی دریافت کرلیا ہے وہ حقیقت کا نہایت ہی چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسان کو پیدا کرنے کی یہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اللہ کی قدرت کوئی بات نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی ، نہ مشکل ہے اور نہ آسان۔ وہ تو ہر چیز کی تخلیق ایک کلمہ سے کرتا ہے۔ یہ صفات تو اشیاء کی ہیں۔ لوگ انہیں کم دیکھتے ہیں یا زیادہ ، آسان دیکھتے یا مشکل ۔ پھر انسان اور اس ہولناک سرچکر دینے والی کائنات کی باہم کیا نسبت ہے ؟ اس کم مائیگی کے باوجود پھر انسان کا یہ کبر ! وما یستوی۔۔۔۔ المسیئ (40: 58) ” اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہوجائیں اور ایماندار اور صالح اور بدکار برابر ٹھہریں “۔ صاحب بصارت تو دیکھتا ہے اور اسے علم ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی قدروقیمت بھی جانتا ہے۔ حد سے نہیں گزرتا ، پھولتا نہیں اور نہ تکبر کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے ، اندھا نہ دیکھتا ہے اور نہ خود اپنی قدروقیمت جانتا ہے ، نہ اپنی پوزیشن جانتا ہے اور نہ اپنے ماحول کے ساتھ اپنی نسبت کو جانتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے بارے میں غلط اندازہ کرتا ہے۔ پھر اپنے ماحول کے بارے میں غلط فیصلہ کرتا ہے۔ اور ان اندازوں کی وجہ سے پھر وہ راہ بھول جاتا ہے۔ اس طرح مومن و صالح اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن دیکھنے والے اور جاننے والے ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنا اور اپنے ماحول کا صحیح اندازہ کرتے ہیں ، جبکہ کافر اور بدکار جاہل ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو برباد کردیتے ہیں ۔ اپنے آپ کو ، اپنے ماحول کو ، لوگوں کو ، اور سب سے پہلے وہ اپنے عمل اور فہم کو برباد کردیتے ہیں۔ وہ اپنے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکتے ۔ اندھے ہوتے ہیں ، دلوں کے اندھے۔ قلیلا ماتتذکرون (40: 58) ” مگر تم لوگ کم ہی سمجھتے ہو “۔ اگر ہم سمجھتے تو ہمیں حقیقت معلوم ہوتی۔ بات واضح ہے۔ صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم آخرت پر پختہ یقین رکھتے اور اسے یاد کرتے اور مقامات قیامت کو ذہین میں رکھتے اور وہاں کی حاضری ہمارے ذہین میں ہوتی تو ہم پختہ مومن ہوتے۔ ان الساعة ۔۔۔۔ یومنون (40: 59) ” یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں مگر اکثر لوگ نہیں مانتے “۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات میں مجادلہ کرتے ہیں اور کبر کرتے ہیں۔ ورنہ اگر مانتے اور یقین کرتے تو وہ حق کو پہنچانتے۔ وہ جانتے کہ حق کے حوالے سے ان کا کیا مقام ہے۔ اس لیے تجاوز نہ کرتے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور بندگی کرنا ، اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ کو پکارنا ، انسام کو اس کبر سے بچاتا ہے ، جس کی وجہ سے انسان پھول جاتا ہے اور بغیر حجت کے اللہ کی آیات میں جھگڑا کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اپنے دروازے کھولتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کو پکاریں اور اعلان فرماتا ہے کہ میں ہر پکارنے والے کی پکارکو قبول کرنا اپنے اوپر لکھ دیا ہے۔ اور ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو اللہ کی پکار کے مقابلے میں تکبر کرتے ہیں کہ وہ آگ میں ذلیل و خوار ہوں گے۔ وقال ربکم۔۔۔۔۔ دخرین (40: 60) ” تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ، ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے “۔ یہ یاد رہے کہ دعا کے بھی آداب ہیں اور ان کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ قلب کو اللہ کے لیے خالص ہونا چاہئے ، کوئی صورت متعین کیے بغیر مانگنا چاہئے اور اس یقین کے ساتھ مانگنا چاہئے کہ اللہ ضرور قبول فرماتا ہے۔ قبولیت کے ظروف واحوال اور زمان ومکاں متعین نہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ آداب دعا کے سراسر خلاف ہے۔ اور یہ یقین کرنا چاہئے کہ دعاء کی توفیق صرف اللہ ہی دیتا ہے۔ یہ بھی ایک انعام ہے ، قبول ہونا دوسرا انعام ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں ” میں استجابت دعا کی پریشانی اٹھا کر نہیں پھرتا ، میری ذمہ داری توبہ ہے کہ دعا کروں۔ جو مجھے یہ توفیق دے دی گئی اور یہ الہام کردیا گیا کہ دعا کرو تو قبولیت ساتھ ہوتی ہے “۔ دعاء تو عارف کے دل کی بات ہوتی ہے ، عارف اس بات کو جانتا ہے کہ جس خدا نے دعا کو مقدر کیا وہی قبولیت کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ جب اللہ توفیق دے تو دعاء اور قبولیت دونوں باہم موافق اور مطابق اور ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں تو ان کی سزا یہ ہے کہ جہنم میں خوار اور ذلیل کرکے پھینکے جائیں اور کبر کی سزا اللہ کے ہاں یہی ہے جس کی وجہ سے انسان پھولتا ہے۔ ایک چھوٹا سا انسان ، اس چھوٹی سی زمین پر اور اس چھوٹی سی زندگی میں ۔ اور یہ شخص اللہ کی عظیم تخلیق کو بھول جاتا ہے ، اللہ کی عظمت کو بھول جاتا ہے اور آخرت کو بھول جاتا ہے جبکہ یہ آنے والی ہے ، اور وہاں پھرا سے ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں گرنا ہوگا۔ جب ان لوگوں کا ذکر ہوا جو اللہ کی بندگی کرنے اور اسے پکارنے سے کبر کرتے ہیں تو اس حوالے سے اللہ کی بعض نعمتوں کا ذکر کردیا گیا۔ وہ نعمتیں جو اللہ کی عظمت کی گواہ ہیں اور اس قسم کے متکبر ان پر اللہ کا شکر نہیں بجالاتے بلکہ اللہ کی عبادت کرنے ، اسے پکارنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں :

غافر 40:58

درس نمبر 225 ایک نظر میں یہ سبق اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے پوری طرح سابق سبق سے بالکل مربوط اور یکساں ہے۔ اس سبق میں وہی مضمون آگے چلتا ہے جو پہلے سبق کے آخر میں چھوڑا گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کی جو ناحق تکذیب کرتے ہیں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ وہ آپ کو ایذا دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں ، یہ سب کچھ وہ اپنے جھوٹے فخرو غرور کی وجہ سے کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بغیر دلیل وبرہان کے اللہ کی آیات میں کیوں جھگڑتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ہیں تو بہت چھوٹے اور بونے مگر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور یہ کبران کے دلوں میں بیٹھا ہے اور حق کو تسلیم کرنے سے مانع ہورہا ہے۔ چناچہ ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم بڑے ہو یا اللہ کی بنائی ہوئی یہ کائنات بڑی ہے۔ ذرا آسمانوں کی دوریوں پر غور کرو اور اس زمین پر غور کروم تمہیں نظر آجائے گا کہ تم کتنے بڑے ہو۔ یہ سبق آگے بڑھتا اور اس کائنات کی بعض نشانیوں کو بیان کرتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو ان عظیم نشانیوں کو اس چھوٹے اور کمزور انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انسانی ذات پر اللہ نے جو فضل وکرم کیے ہیں۔ ذرا ان پر غور کرو ، کیا یہ سب چیزیں اللہ وحدہ کے دجود اور اس کی بادشاہت اور وحدانیت پر مکمل دلیل نہیں ہیں۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید بلند کریں اور ان الہوں سے منہ پھیرلیں جن کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ ایک ایسے خوفناک منظر کے ساتھ ہوتا ہے جو قیامت کے مناظر میں سے ہے۔ ان کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے وہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ تمہارے الہہ۔ اور اس کا خاتمہ بھی درس سابق کے خاتمہ کی طرح نبی ﷺ کو اس تلقین پر ہوتا ہے کہ آپ صبر فرمائیں۔ چاہے اللہ آپ کو اسلامی انقلاب کا کچھ دکھاوے ، یا آپ کو اٹھالے۔ قبل اس کے کہ نصرت آئے۔ یہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ درس نمبر 225 تشریح آیات آیت نمبر 56 تا 60 یہ انسان بسا اوقات اپنے آپ کو بھول جاتا ہے ، یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ایک چھوٹی اور ضعیف مخلوق ہے۔ یہ بذات خود قوت کا سرچشمہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنی قوت دراصل قوت کے اصلی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے ، یعنی اللہ سے۔ جب اللہ سے اس کا رابطہ کٹ جا ات ہے تو پھر وہ پھولنا سوجنا شروع ہوجاتا ہے ، اونچا ہونا اور سرکش ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور اس کے دل میں یہ بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی چیز ہے اور اس کی یہ سوچ شیطان سے اخذ ہوتی ہے جو اس کبر ہی کے وجہ سے زاندۂ درگاہ ہوا اور پھر اللہ نے اسے انسان پر مسلط کردیا ، جس پر وہ ہر طرف سے حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ انسان پھر اللہ کی نشانیوں کے بارے میں جھگڑتا رہتا ہے اور ہٹ دھرمی کرتا ہے۔ یہ ہٹ دھرمی ایک ایسی صفت ہے جس سے انسان کی فطرت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ اس قسم کا انسان خود اپنے آپ کو اور لوگوں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ حق کے لیے تحقیق وتفتیش کررہا ہے اور بحث اس لیے کررہا ہے کہ اسے تسلی نہیں ہوئی۔ اور اسے پوراپورا یقین نہیں ہے لیکن اللہ تو اپنے بندوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ سمیع وبصیر ہے اور دل کے رازوں کا جاننے والا ہے ، یہ اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ یہ کبر کی وجہ سے ہے صرف اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ یہ کبر دل میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ کسی شخص کو ایسے مسئلے میں جھگڑے پر آمادہ کردیتا ہے جو جھگڑے کا ہوتا نہیں ہے۔ یہ کبر ہی ہے جو انسان کو ایسے کاموں میں ہاتھ ڈالنے پر آمادہ کرتا ہے جو انسان کی حقیقت سے زیادہ اونچے ہوتے ہیں ، انسان ایسے مقام تک پہنچنے کی سعی کرتا ہے جو اس سے بلند ہوتا ہے اور انسانی حقیقت سے بالاتر ہوتا ہے۔ انسان کے پاس اس کے لیے نہ دلیل ہوتی ہے اور نہ وجہ جواز۔ صرف اس کبر کی وجہ سے وہ اس طرح کی اونچی پرواز شروع کردیتا ہے ، ایسے ہی لوگ ہیں۔ ان الذین۔۔۔۔ ھم ببالغیه (40: 56) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند اور حجت کے بغیر جو ان کے پاس آئی ہو ، اللہ کی آیات میں جھگڑا رہے ہیں ، ان کے دلوں میں کبر بھرا ہے ، مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جن کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں “۔ اگر انسان اس کائنات کو اچھی طرح سمجھ لے اور اپنی ذات کی معرفت حاصل کرلے اور اس کائنات میں اپنی حیثیت کا ادراک کرے رو وہ مطمئن ہوجائے اور اپنی حیثیت اور منصب سے آگے نہ بڑھے۔ اگر وہ یہ معلوم کرے کہ وہ ان لاتعداد موجودات میں سے ایک ہے اور جس طرح یہ پوری کائنات امرربی کی پابند ہے ، اس طرح وہ بھی ہے اور وہ بھی اللہ کے نظام قضا وقدر کے مطابق چل رہا ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے اور یہ کہ کائنات میں اس کا کردار ایک متعین کردار ہے ، اگر انسان ان حقائق کا ادراک کرے تو وہ مطمئن اور آرام سے بیٹھ جائے اور اس کا سر قدرے جھک جانے اور اس کے اندر تواضع پیدا ہوجانے اور وہ اپنے آپ کے ساتھ ، اس کائنات کے ساتھ اور اپنے ماحول کے ساتھ نہایت امن وسلامتی کے ساتھ رہے۔ فاستعذباللہ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” پس اللہ کی پناہ مانگ لو وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر کے مقابلے میں اللہ کی پناہ مانگنے کا مشورہ دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہت ہی قبیح اور قابل نفرت خصلت ہے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ چیز سے مانگی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں شروفساد اور اذیت ملتی ہے۔ اور کبر میں یہ سب چیزیں موجود ہیں۔ کبر خود صاحب کبر کے لیے مصیبت ہے اور اس کے ماحول کے لیے بھی مصیبت ہے۔ جس دل میں کبر ہو ، اس کے لیے بھی اذیت ہے اور دوسروں کے دلوں کو بھی دکھانے والی عادت ہے۔ لہٰذا کبر ایک ایسا شر اور فساد ہے جس سے اللہ کی پناہ مانگنا ضروری ہے۔ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر انسان کو ایسی حرکات پر آمادہ کرتا ہے جو دیکھی جاسکتی ہیں اور انسان سے ایسی باتیں کرواتا ہے جو سنی جاسکتی ہیں اس سے بچنے کیلیے اپنے آپ کو سننے اور دیکھنے والے کی ولایت میں دے دو ۔ اس کے بعد انسان کو بتایا جاتا ہے کہ اس عظیم کائنات میں اس کا حقیقی مقام کیا ہے ، اور اللہ کی بعض مخلوقات جسے انسان دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں وہ کس قدر چھوٹا اور کمزور ہے۔ اور یہ چیزیں جن کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔ سدیکھتے ہی انسان ان کی ضخامت کا قائل ہوجاتا ہے۔ اور جب ان کی پوری حقیقت ان کی سمجھ میں آجائے تو ان کا شعور اور پختہ ہوجاتا ہے۔ لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے مقابلے میں یقیناً زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ آسمان اور زمین انسان کے سامنے بچھے ہوئے ہیں اور انسان ان کو دیکھتا ہے۔ اور انسان کی طاقت میں ہے یہ بات کہ وہ ان کے حوالے سے اپنی قدر و قیمت معلوم کرے۔ جب انسان کو اس زمین و آسمان کے حوالے سے اپنی نسبت ، آسمانوں کی دوریاں اور افلاک سماوی کے حجم کا علم ہوتا ہے تو اس کا سرجھک سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی کم مائیگی کے شعور کی وجہ سے وہ پگھل کر رہ جائے الایہ کہ وہ انسان کے اس شرف کو یاد کرے جو اللہ نے اس کے اندر رکھا ہے اور جس کی وجہ سے انسان کو مکرم بنایا گیا ہے۔ وہ واحد صفت ہے جس کی وجہ سے انسان اس کائنات کی عظمت کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے کیونکہ کائنات بہت ہی عظیم اور ہولناک ہے اور وہ بہت ہی چھوٹا ہے۔ اس عظیم کائنات کے اور اوپر ایک لمحہ غور کرنا انسان کو یہ سب کچھ معلوم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں۔ یہ سورج کے تابع ستاروں میں سے ایک چھوٹا ساستارہ ہے۔ اس سورج کے تابع ستاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ زمین سورج سے دس لاکھ چھوٹی ہے۔ پھر یہ سورج اس قسم کے سوملین سورجوں میں سے ایک ہے ، جو ہمارے قریب ترین کہکشاں میں ہیں۔ اور ہم بھی اسی کہکشاں میں ہیں ، اور انسانوں نے آج تک سو ملین کہکشاں دریافت کرلیے ہیں جو اس عظیم فضا میں تیر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ اس فضا کا نہایت ہی چھوٹاحصہ ہوں۔ جہاں تک انسانی معلومات کا تعلق ہے تو انسان نے ابھی تک کائنات کے ایک مختصر اور قابل ذکر حصے کی دریافت کی ہے اور یہ چھوٹا ساحصہ بھی اس قدر بڑا ہے کہ صرف اس کے تصور ہی سے انسان کا سر چکراتا ہے۔ ہم اپنے سورج سے تقریباً 93 ملین میل دور ہیں اور یہ سورج ہماری اس چھوٹی سی زمین کے کنبے کا سرخیل ہے۔ اور یہ زمین بھی اپنی اس ماں کی جھولی سے یعنی سورج سے 93 ملین دور ہے۔ یہ زمین سورج ہی سے جدا ہوئی ہے۔ وہ کہکشاں جس کے تابع یہ سورج ہے ، اس کا قطر تقریباً ایک لاکھ ملین نوری سال ہے۔ اور نوری سال چھ سو ملین میل ہوتا ہے کیونکہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اور ہماری کہکشاں سے فریب ترین کہکشاں ایک لاکھ سات سو پچاس ہزار نوری سال دور ہے۔ ہمیں یہاں یہ بات پیش نظر چاہئے کہ یہ دوریاں اور حجم وہ ہیں جو اس حقیر انسان نے دریافت کرلیے ہیں اور اس کے ساتھ انسان نے یہ بھی دریافت کرلیا ہے وہ حقیقت کا نہایت ہی چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسان کو پیدا کرنے کی یہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اللہ کی قدرت کوئی بات نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی ، نہ مشکل ہے اور نہ آسان۔ وہ تو ہر چیز کی تخلیق ایک کلمہ سے کرتا ہے۔ یہ صفات تو اشیاء کی ہیں۔ لوگ انہیں کم دیکھتے ہیں یا زیادہ ، آسان دیکھتے یا مشکل ۔ پھر انسان اور اس ہولناک سرچکر دینے والی کائنات کی باہم کیا نسبت ہے ؟ اس کم مائیگی کے باوجود پھر انسان کا یہ کبر ! وما یستوی۔۔۔۔ المسیئ (40: 58) ” اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہوجائیں اور ایماندار اور صالح اور بدکار برابر ٹھہریں “۔ صاحب بصارت تو دیکھتا ہے اور اسے علم ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی قدروقیمت بھی جانتا ہے۔ حد سے نہیں گزرتا ، پھولتا نہیں اور نہ تکبر کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے ، اندھا نہ دیکھتا ہے اور نہ خود اپنی قدروقیمت جانتا ہے ، نہ اپنی پوزیشن جانتا ہے اور نہ اپنے ماحول کے ساتھ اپنی نسبت کو جانتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے بارے میں غلط اندازہ کرتا ہے۔ پھر اپنے ماحول کے بارے میں غلط فیصلہ کرتا ہے۔ اور ان اندازوں کی وجہ سے پھر وہ راہ بھول جاتا ہے۔ اس طرح مومن و صالح اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن دیکھنے والے اور جاننے والے ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنا اور اپنے ماحول کا صحیح اندازہ کرتے ہیں ، جبکہ کافر اور بدکار جاہل ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو برباد کردیتے ہیں ۔ اپنے آپ کو ، اپنے ماحول کو ، لوگوں کو ، اور سب سے پہلے وہ اپنے عمل اور فہم کو برباد کردیتے ہیں۔ وہ اپنے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکتے ۔ اندھے ہوتے ہیں ، دلوں کے اندھے۔ قلیلا ماتتذکرون (40: 58) ” مگر تم لوگ کم ہی سمجھتے ہو “۔ اگر ہم سمجھتے تو ہمیں حقیقت معلوم ہوتی۔ بات واضح ہے۔ صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم آخرت پر پختہ یقین رکھتے اور اسے یاد کرتے اور مقامات قیامت کو ذہین میں رکھتے اور وہاں کی حاضری ہمارے ذہین میں ہوتی تو ہم پختہ مومن ہوتے۔ ان الساعة ۔۔۔۔ یومنون (40: 59) ” یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں مگر اکثر لوگ نہیں مانتے “۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات میں مجادلہ کرتے ہیں اور کبر کرتے ہیں۔ ورنہ اگر مانتے اور یقین کرتے تو وہ حق کو پہنچانتے۔ وہ جانتے کہ حق کے حوالے سے ان کا کیا مقام ہے۔ اس لیے تجاوز نہ کرتے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور بندگی کرنا ، اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ کو پکارنا ، انسام کو اس کبر سے بچاتا ہے ، جس کی وجہ سے انسان پھول جاتا ہے اور بغیر حجت کے اللہ کی آیات میں جھگڑا کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اپنے دروازے کھولتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کو پکاریں اور اعلان فرماتا ہے کہ میں ہر پکارنے والے کی پکارکو قبول کرنا اپنے اوپر لکھ دیا ہے۔ اور ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو اللہ کی پکار کے مقابلے میں تکبر کرتے ہیں کہ وہ آگ میں ذلیل و خوار ہوں گے۔ وقال ربکم۔۔۔۔۔ دخرین (40: 60) ” تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ، ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے “۔ یہ یاد رہے کہ دعا کے بھی آداب ہیں اور ان کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ قلب کو اللہ کے لیے خالص ہونا چاہئے ، کوئی صورت متعین کیے بغیر مانگنا چاہئے اور اس یقین کے ساتھ مانگنا چاہئے کہ اللہ ضرور قبول فرماتا ہے۔ قبولیت کے ظروف واحوال اور زمان ومکاں متعین نہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ آداب دعا کے سراسر خلاف ہے۔ اور یہ یقین کرنا چاہئے کہ دعاء کی توفیق صرف اللہ ہی دیتا ہے۔ یہ بھی ایک انعام ہے ، قبول ہونا دوسرا انعام ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں ” میں استجابت دعا کی پریشانی اٹھا کر نہیں پھرتا ، میری ذمہ داری توبہ ہے کہ دعا کروں۔ جو مجھے یہ توفیق دے دی گئی اور یہ الہام کردیا گیا کہ دعا کرو تو قبولیت ساتھ ہوتی ہے “۔ دعاء تو عارف کے دل کی بات ہوتی ہے ، عارف اس بات کو جانتا ہے کہ جس خدا نے دعا کو مقدر کیا وہی قبولیت کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ جب اللہ توفیق دے تو دعاء اور قبولیت دونوں باہم موافق اور مطابق اور ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں تو ان کی سزا یہ ہے کہ جہنم میں خوار اور ذلیل کرکے پھینکے جائیں اور کبر کی سزا اللہ کے ہاں یہی ہے جس کی وجہ سے انسان پھولتا ہے۔ ایک چھوٹا سا انسان ، اس چھوٹی سی زمین پر اور اس چھوٹی سی زندگی میں ۔ اور یہ شخص اللہ کی عظیم تخلیق کو بھول جاتا ہے ، اللہ کی عظمت کو بھول جاتا ہے اور آخرت کو بھول جاتا ہے جبکہ یہ آنے والی ہے ، اور وہاں پھرا سے ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں گرنا ہوگا۔ جب ان لوگوں کا ذکر ہوا جو اللہ کی بندگی کرنے اور اسے پکارنے سے کبر کرتے ہیں تو اس حوالے سے اللہ کی بعض نعمتوں کا ذکر کردیا گیا۔ وہ نعمتیں جو اللہ کی عظمت کی گواہ ہیں اور اس قسم کے متکبر ان پر اللہ کا شکر نہیں بجالاتے بلکہ اللہ کی عبادت کرنے ، اسے پکارنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں :

غافر 40:59

درس نمبر 225 ایک نظر میں یہ سبق اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے پوری طرح سابق سبق سے بالکل مربوط اور یکساں ہے۔ اس سبق میں وہی مضمون آگے چلتا ہے جو پہلے سبق کے آخر میں چھوڑا گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کی جو ناحق تکذیب کرتے ہیں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ وہ آپ کو ایذا دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں ، یہ سب کچھ وہ اپنے جھوٹے فخرو غرور کی وجہ سے کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بغیر دلیل وبرہان کے اللہ کی آیات میں کیوں جھگڑتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ہیں تو بہت چھوٹے اور بونے مگر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور یہ کبران کے دلوں میں بیٹھا ہے اور حق کو تسلیم کرنے سے مانع ہورہا ہے۔ چناچہ ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم بڑے ہو یا اللہ کی بنائی ہوئی یہ کائنات بڑی ہے۔ ذرا آسمانوں کی دوریوں پر غور کرو اور اس زمین پر غور کروم تمہیں نظر آجائے گا کہ تم کتنے بڑے ہو۔ یہ سبق آگے بڑھتا اور اس کائنات کی بعض نشانیوں کو بیان کرتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو ان عظیم نشانیوں کو اس چھوٹے اور کمزور انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انسانی ذات پر اللہ نے جو فضل وکرم کیے ہیں۔ ذرا ان پر غور کرو ، کیا یہ سب چیزیں اللہ وحدہ کے دجود اور اس کی بادشاہت اور وحدانیت پر مکمل دلیل نہیں ہیں۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید بلند کریں اور ان الہوں سے منہ پھیرلیں جن کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ ایک ایسے خوفناک منظر کے ساتھ ہوتا ہے جو قیامت کے مناظر میں سے ہے۔ ان کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے وہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ تمہارے الہہ۔ اور اس کا خاتمہ بھی درس سابق کے خاتمہ کی طرح نبی ﷺ کو اس تلقین پر ہوتا ہے کہ آپ صبر فرمائیں۔ چاہے اللہ آپ کو اسلامی انقلاب کا کچھ دکھاوے ، یا آپ کو اٹھالے۔ قبل اس کے کہ نصرت آئے۔ یہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ درس نمبر 225 تشریح آیات آیت نمبر 56 تا 60 یہ انسان بسا اوقات اپنے آپ کو بھول جاتا ہے ، یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ایک چھوٹی اور ضعیف مخلوق ہے۔ یہ بذات خود قوت کا سرچشمہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنی قوت دراصل قوت کے اصلی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے ، یعنی اللہ سے۔ جب اللہ سے اس کا رابطہ کٹ جا ات ہے تو پھر وہ پھولنا سوجنا شروع ہوجاتا ہے ، اونچا ہونا اور سرکش ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور اس کے دل میں یہ بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی چیز ہے اور اس کی یہ سوچ شیطان سے اخذ ہوتی ہے جو اس کبر ہی کے وجہ سے زاندۂ درگاہ ہوا اور پھر اللہ نے اسے انسان پر مسلط کردیا ، جس پر وہ ہر طرف سے حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ انسان پھر اللہ کی نشانیوں کے بارے میں جھگڑتا رہتا ہے اور ہٹ دھرمی کرتا ہے۔ یہ ہٹ دھرمی ایک ایسی صفت ہے جس سے انسان کی فطرت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ اس قسم کا انسان خود اپنے آپ کو اور لوگوں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ حق کے لیے تحقیق وتفتیش کررہا ہے اور بحث اس لیے کررہا ہے کہ اسے تسلی نہیں ہوئی۔ اور اسے پوراپورا یقین نہیں ہے لیکن اللہ تو اپنے بندوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ سمیع وبصیر ہے اور دل کے رازوں کا جاننے والا ہے ، یہ اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ یہ کبر کی وجہ سے ہے صرف اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ یہ کبر دل میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ کسی شخص کو ایسے مسئلے میں جھگڑے پر آمادہ کردیتا ہے جو جھگڑے کا ہوتا نہیں ہے۔ یہ کبر ہی ہے جو انسان کو ایسے کاموں میں ہاتھ ڈالنے پر آمادہ کرتا ہے جو انسان کی حقیقت سے زیادہ اونچے ہوتے ہیں ، انسان ایسے مقام تک پہنچنے کی سعی کرتا ہے جو اس سے بلند ہوتا ہے اور انسانی حقیقت سے بالاتر ہوتا ہے۔ انسان کے پاس اس کے لیے نہ دلیل ہوتی ہے اور نہ وجہ جواز۔ صرف اس کبر کی وجہ سے وہ اس طرح کی اونچی پرواز شروع کردیتا ہے ، ایسے ہی لوگ ہیں۔ ان الذین۔۔۔۔ ھم ببالغیه (40: 56) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند اور حجت کے بغیر جو ان کے پاس آئی ہو ، اللہ کی آیات میں جھگڑا رہے ہیں ، ان کے دلوں میں کبر بھرا ہے ، مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جن کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں “۔ اگر انسان اس کائنات کو اچھی طرح سمجھ لے اور اپنی ذات کی معرفت حاصل کرلے اور اس کائنات میں اپنی حیثیت کا ادراک کرے رو وہ مطمئن ہوجائے اور اپنی حیثیت اور منصب سے آگے نہ بڑھے۔ اگر وہ یہ معلوم کرے کہ وہ ان لاتعداد موجودات میں سے ایک ہے اور جس طرح یہ پوری کائنات امرربی کی پابند ہے ، اس طرح وہ بھی ہے اور وہ بھی اللہ کے نظام قضا وقدر کے مطابق چل رہا ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے اور یہ کہ کائنات میں اس کا کردار ایک متعین کردار ہے ، اگر انسان ان حقائق کا ادراک کرے تو وہ مطمئن اور آرام سے بیٹھ جائے اور اس کا سر قدرے جھک جانے اور اس کے اندر تواضع پیدا ہوجانے اور وہ اپنے آپ کے ساتھ ، اس کائنات کے ساتھ اور اپنے ماحول کے ساتھ نہایت امن وسلامتی کے ساتھ رہے۔ فاستعذباللہ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” پس اللہ کی پناہ مانگ لو وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر کے مقابلے میں اللہ کی پناہ مانگنے کا مشورہ دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہت ہی قبیح اور قابل نفرت خصلت ہے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ چیز سے مانگی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں شروفساد اور اذیت ملتی ہے۔ اور کبر میں یہ سب چیزیں موجود ہیں۔ کبر خود صاحب کبر کے لیے مصیبت ہے اور اس کے ماحول کے لیے بھی مصیبت ہے۔ جس دل میں کبر ہو ، اس کے لیے بھی اذیت ہے اور دوسروں کے دلوں کو بھی دکھانے والی عادت ہے۔ لہٰذا کبر ایک ایسا شر اور فساد ہے جس سے اللہ کی پناہ مانگنا ضروری ہے۔ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر انسان کو ایسی حرکات پر آمادہ کرتا ہے جو دیکھی جاسکتی ہیں اور انسان سے ایسی باتیں کرواتا ہے جو سنی جاسکتی ہیں اس سے بچنے کیلیے اپنے آپ کو سننے اور دیکھنے والے کی ولایت میں دے دو ۔ اس کے بعد انسان کو بتایا جاتا ہے کہ اس عظیم کائنات میں اس کا حقیقی مقام کیا ہے ، اور اللہ کی بعض مخلوقات جسے انسان دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں وہ کس قدر چھوٹا اور کمزور ہے۔ اور یہ چیزیں جن کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔ سدیکھتے ہی انسان ان کی ضخامت کا قائل ہوجاتا ہے۔ اور جب ان کی پوری حقیقت ان کی سمجھ میں آجائے تو ان کا شعور اور پختہ ہوجاتا ہے۔ لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے مقابلے میں یقیناً زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ آسمان اور زمین انسان کے سامنے بچھے ہوئے ہیں اور انسان ان کو دیکھتا ہے۔ اور انسان کی طاقت میں ہے یہ بات کہ وہ ان کے حوالے سے اپنی قدر و قیمت معلوم کرے۔ جب انسان کو اس زمین و آسمان کے حوالے سے اپنی نسبت ، آسمانوں کی دوریاں اور افلاک سماوی کے حجم کا علم ہوتا ہے تو اس کا سرجھک سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی کم مائیگی کے شعور کی وجہ سے وہ پگھل کر رہ جائے الایہ کہ وہ انسان کے اس شرف کو یاد کرے جو اللہ نے اس کے اندر رکھا ہے اور جس کی وجہ سے انسان کو مکرم بنایا گیا ہے۔ وہ واحد صفت ہے جس کی وجہ سے انسان اس کائنات کی عظمت کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے کیونکہ کائنات بہت ہی عظیم اور ہولناک ہے اور وہ بہت ہی چھوٹا ہے۔ اس عظیم کائنات کے اور اوپر ایک لمحہ غور کرنا انسان کو یہ سب کچھ معلوم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں۔ یہ سورج کے تابع ستاروں میں سے ایک چھوٹا ساستارہ ہے۔ اس سورج کے تابع ستاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ زمین سورج سے دس لاکھ چھوٹی ہے۔ پھر یہ سورج اس قسم کے سوملین سورجوں میں سے ایک ہے ، جو ہمارے قریب ترین کہکشاں میں ہیں۔ اور ہم بھی اسی کہکشاں میں ہیں ، اور انسانوں نے آج تک سو ملین کہکشاں دریافت کرلیے ہیں جو اس عظیم فضا میں تیر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ اس فضا کا نہایت ہی چھوٹاحصہ ہوں۔ جہاں تک انسانی معلومات کا تعلق ہے تو انسان نے ابھی تک کائنات کے ایک مختصر اور قابل ذکر حصے کی دریافت کی ہے اور یہ چھوٹا ساحصہ بھی اس قدر بڑا ہے کہ صرف اس کے تصور ہی سے انسان کا سر چکراتا ہے۔ ہم اپنے سورج سے تقریباً 93 ملین میل دور ہیں اور یہ سورج ہماری اس چھوٹی سی زمین کے کنبے کا سرخیل ہے۔ اور یہ زمین بھی اپنی اس ماں کی جھولی سے یعنی سورج سے 93 ملین دور ہے۔ یہ زمین سورج ہی سے جدا ہوئی ہے۔ وہ کہکشاں جس کے تابع یہ سورج ہے ، اس کا قطر تقریباً ایک لاکھ ملین نوری سال ہے۔ اور نوری سال چھ سو ملین میل ہوتا ہے کیونکہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اور ہماری کہکشاں سے فریب ترین کہکشاں ایک لاکھ سات سو پچاس ہزار نوری سال دور ہے۔ ہمیں یہاں یہ بات پیش نظر چاہئے کہ یہ دوریاں اور حجم وہ ہیں جو اس حقیر انسان نے دریافت کرلیے ہیں اور اس کے ساتھ انسان نے یہ بھی دریافت کرلیا ہے وہ حقیقت کا نہایت ہی چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسان کو پیدا کرنے کی یہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اللہ کی قدرت کوئی بات نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی ، نہ مشکل ہے اور نہ آسان۔ وہ تو ہر چیز کی تخلیق ایک کلمہ سے کرتا ہے۔ یہ صفات تو اشیاء کی ہیں۔ لوگ انہیں کم دیکھتے ہیں یا زیادہ ، آسان دیکھتے یا مشکل ۔ پھر انسان اور اس ہولناک سرچکر دینے والی کائنات کی باہم کیا نسبت ہے ؟ اس کم مائیگی کے باوجود پھر انسان کا یہ کبر ! وما یستوی۔۔۔۔ المسیئ (40: 58) ” اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہوجائیں اور ایماندار اور صالح اور بدکار برابر ٹھہریں “۔ صاحب بصارت تو دیکھتا ہے اور اسے علم ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی قدروقیمت بھی جانتا ہے۔ حد سے نہیں گزرتا ، پھولتا نہیں اور نہ تکبر کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے ، اندھا نہ دیکھتا ہے اور نہ خود اپنی قدروقیمت جانتا ہے ، نہ اپنی پوزیشن جانتا ہے اور نہ اپنے ماحول کے ساتھ اپنی نسبت کو جانتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے بارے میں غلط اندازہ کرتا ہے۔ پھر اپنے ماحول کے بارے میں غلط فیصلہ کرتا ہے۔ اور ان اندازوں کی وجہ سے پھر وہ راہ بھول جاتا ہے۔ اس طرح مومن و صالح اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن دیکھنے والے اور جاننے والے ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنا اور اپنے ماحول کا صحیح اندازہ کرتے ہیں ، جبکہ کافر اور بدکار جاہل ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو برباد کردیتے ہیں ۔ اپنے آپ کو ، اپنے ماحول کو ، لوگوں کو ، اور سب سے پہلے وہ اپنے عمل اور فہم کو برباد کردیتے ہیں۔ وہ اپنے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکتے ۔ اندھے ہوتے ہیں ، دلوں کے اندھے۔ قلیلا ماتتذکرون (40: 58) ” مگر تم لوگ کم ہی سمجھتے ہو “۔ اگر ہم سمجھتے تو ہمیں حقیقت معلوم ہوتی۔ بات واضح ہے۔ صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم آخرت پر پختہ یقین رکھتے اور اسے یاد کرتے اور مقامات قیامت کو ذہین میں رکھتے اور وہاں کی حاضری ہمارے ذہین میں ہوتی تو ہم پختہ مومن ہوتے۔ ان الساعة ۔۔۔۔ یومنون (40: 59) ” یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں مگر اکثر لوگ نہیں مانتے “۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات میں مجادلہ کرتے ہیں اور کبر کرتے ہیں۔ ورنہ اگر مانتے اور یقین کرتے تو وہ حق کو پہنچانتے۔ وہ جانتے کہ حق کے حوالے سے ان کا کیا مقام ہے۔ اس لیے تجاوز نہ کرتے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور بندگی کرنا ، اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ کو پکارنا ، انسام کو اس کبر سے بچاتا ہے ، جس کی وجہ سے انسان پھول جاتا ہے اور بغیر حجت کے اللہ کی آیات میں جھگڑا کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اپنے دروازے کھولتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کو پکاریں اور اعلان فرماتا ہے کہ میں ہر پکارنے والے کی پکارکو قبول کرنا اپنے اوپر لکھ دیا ہے۔ اور ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو اللہ کی پکار کے مقابلے میں تکبر کرتے ہیں کہ وہ آگ میں ذلیل و خوار ہوں گے۔ وقال ربکم۔۔۔۔۔ دخرین (40: 60) ” تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ، ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے “۔ یہ یاد رہے کہ دعا کے بھی آداب ہیں اور ان کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ قلب کو اللہ کے لیے خالص ہونا چاہئے ، کوئی صورت متعین کیے بغیر مانگنا چاہئے اور اس یقین کے ساتھ مانگنا چاہئے کہ اللہ ضرور قبول فرماتا ہے۔ قبولیت کے ظروف واحوال اور زمان ومکاں متعین نہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ آداب دعا کے سراسر خلاف ہے۔ اور یہ یقین کرنا چاہئے کہ دعاء کی توفیق صرف اللہ ہی دیتا ہے۔ یہ بھی ایک انعام ہے ، قبول ہونا دوسرا انعام ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں ” میں استجابت دعا کی پریشانی اٹھا کر نہیں پھرتا ، میری ذمہ داری توبہ ہے کہ دعا کروں۔ جو مجھے یہ توفیق دے دی گئی اور یہ الہام کردیا گیا کہ دعا کرو تو قبولیت ساتھ ہوتی ہے “۔ دعاء تو عارف کے دل کی بات ہوتی ہے ، عارف اس بات کو جانتا ہے کہ جس خدا نے دعا کو مقدر کیا وہی قبولیت کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ جب اللہ توفیق دے تو دعاء اور قبولیت دونوں باہم موافق اور مطابق اور ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں تو ان کی سزا یہ ہے کہ جہنم میں خوار اور ذلیل کرکے پھینکے جائیں اور کبر کی سزا اللہ کے ہاں یہی ہے جس کی وجہ سے انسان پھولتا ہے۔ ایک چھوٹا سا انسان ، اس چھوٹی سی زمین پر اور اس چھوٹی سی زندگی میں ۔ اور یہ شخص اللہ کی عظیم تخلیق کو بھول جاتا ہے ، اللہ کی عظمت کو بھول جاتا ہے اور آخرت کو بھول جاتا ہے جبکہ یہ آنے والی ہے ، اور وہاں پھرا سے ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں گرنا ہوگا۔ جب ان لوگوں کا ذکر ہوا جو اللہ کی بندگی کرنے اور اسے پکارنے سے کبر کرتے ہیں تو اس حوالے سے اللہ کی بعض نعمتوں کا ذکر کردیا گیا۔ وہ نعمتیں جو اللہ کی عظمت کی گواہ ہیں اور اس قسم کے متکبر ان پر اللہ کا شکر نہیں بجالاتے بلکہ اللہ کی عبادت کرنے ، اسے پکارنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں :

غافر 40:60

درس نمبر 225 ایک نظر میں یہ سبق اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے پوری طرح سابق سبق سے بالکل مربوط اور یکساں ہے۔ اس سبق میں وہی مضمون آگے چلتا ہے جو پہلے سبق کے آخر میں چھوڑا گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کی جو ناحق تکذیب کرتے ہیں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ وہ آپ کو ایذا دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں ، یہ سب کچھ وہ اپنے جھوٹے فخرو غرور کی وجہ سے کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بغیر دلیل وبرہان کے اللہ کی آیات میں کیوں جھگڑتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ہیں تو بہت چھوٹے اور بونے مگر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور یہ کبران کے دلوں میں بیٹھا ہے اور حق کو تسلیم کرنے سے مانع ہورہا ہے۔ چناچہ ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم بڑے ہو یا اللہ کی بنائی ہوئی یہ کائنات بڑی ہے۔ ذرا آسمانوں کی دوریوں پر غور کرو اور اس زمین پر غور کروم تمہیں نظر آجائے گا کہ تم کتنے بڑے ہو۔ یہ سبق آگے بڑھتا اور اس کائنات کی بعض نشانیوں کو بیان کرتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو ان عظیم نشانیوں کو اس چھوٹے اور کمزور انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انسانی ذات پر اللہ نے جو فضل وکرم کیے ہیں۔ ذرا ان پر غور کرو ، کیا یہ سب چیزیں اللہ وحدہ کے دجود اور اس کی بادشاہت اور وحدانیت پر مکمل دلیل نہیں ہیں۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید بلند کریں اور ان الہوں سے منہ پھیرلیں جن کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ ایک ایسے خوفناک منظر کے ساتھ ہوتا ہے جو قیامت کے مناظر میں سے ہے۔ ان کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے وہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ تمہارے الہہ۔ اور اس کا خاتمہ بھی درس سابق کے خاتمہ کی طرح نبی ﷺ کو اس تلقین پر ہوتا ہے کہ آپ صبر فرمائیں۔ چاہے اللہ آپ کو اسلامی انقلاب کا کچھ دکھاوے ، یا آپ کو اٹھالے۔ قبل اس کے کہ نصرت آئے۔ یہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ درس نمبر 225 تشریح آیات آیت نمبر 56 تا 60 یہ انسان بسا اوقات اپنے آپ کو بھول جاتا ہے ، یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ایک چھوٹی اور ضعیف مخلوق ہے۔ یہ بذات خود قوت کا سرچشمہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنی قوت دراصل قوت کے اصلی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے ، یعنی اللہ سے۔ جب اللہ سے اس کا رابطہ کٹ جا ات ہے تو پھر وہ پھولنا سوجنا شروع ہوجاتا ہے ، اونچا ہونا اور سرکش ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور اس کے دل میں یہ بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی چیز ہے اور اس کی یہ سوچ شیطان سے اخذ ہوتی ہے جو اس کبر ہی کے وجہ سے زاندۂ درگاہ ہوا اور پھر اللہ نے اسے انسان پر مسلط کردیا ، جس پر وہ ہر طرف سے حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ انسان پھر اللہ کی نشانیوں کے بارے میں جھگڑتا رہتا ہے اور ہٹ دھرمی کرتا ہے۔ یہ ہٹ دھرمی ایک ایسی صفت ہے جس سے انسان کی فطرت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ اس قسم کا انسان خود اپنے آپ کو اور لوگوں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ حق کے لیے تحقیق وتفتیش کررہا ہے اور بحث اس لیے کررہا ہے کہ اسے تسلی نہیں ہوئی۔ اور اسے پوراپورا یقین نہیں ہے لیکن اللہ تو اپنے بندوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ سمیع وبصیر ہے اور دل کے رازوں کا جاننے والا ہے ، یہ اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ یہ کبر کی وجہ سے ہے صرف اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ یہ کبر دل میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ کسی شخص کو ایسے مسئلے میں جھگڑے پر آمادہ کردیتا ہے جو جھگڑے کا ہوتا نہیں ہے۔ یہ کبر ہی ہے جو انسان کو ایسے کاموں میں ہاتھ ڈالنے پر آمادہ کرتا ہے جو انسان کی حقیقت سے زیادہ اونچے ہوتے ہیں ، انسان ایسے مقام تک پہنچنے کی سعی کرتا ہے جو اس سے بلند ہوتا ہے اور انسانی حقیقت سے بالاتر ہوتا ہے۔ انسان کے پاس اس کے لیے نہ دلیل ہوتی ہے اور نہ وجہ جواز۔ صرف اس کبر کی وجہ سے وہ اس طرح کی اونچی پرواز شروع کردیتا ہے ، ایسے ہی لوگ ہیں۔ ان الذین۔۔۔۔ ھم ببالغیه (40: 56) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند اور حجت کے بغیر جو ان کے پاس آئی ہو ، اللہ کی آیات میں جھگڑا رہے ہیں ، ان کے دلوں میں کبر بھرا ہے ، مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جن کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں “۔ اگر انسان اس کائنات کو اچھی طرح سمجھ لے اور اپنی ذات کی معرفت حاصل کرلے اور اس کائنات میں اپنی حیثیت کا ادراک کرے رو وہ مطمئن ہوجائے اور اپنی حیثیت اور منصب سے آگے نہ بڑھے۔ اگر وہ یہ معلوم کرے کہ وہ ان لاتعداد موجودات میں سے ایک ہے اور جس طرح یہ پوری کائنات امرربی کی پابند ہے ، اس طرح وہ بھی ہے اور وہ بھی اللہ کے نظام قضا وقدر کے مطابق چل رہا ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے اور یہ کہ کائنات میں اس کا کردار ایک متعین کردار ہے ، اگر انسان ان حقائق کا ادراک کرے تو وہ مطمئن اور آرام سے بیٹھ جائے اور اس کا سر قدرے جھک جانے اور اس کے اندر تواضع پیدا ہوجانے اور وہ اپنے آپ کے ساتھ ، اس کائنات کے ساتھ اور اپنے ماحول کے ساتھ نہایت امن وسلامتی کے ساتھ رہے۔ فاستعذباللہ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” پس اللہ کی پناہ مانگ لو وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر کے مقابلے میں اللہ کی پناہ مانگنے کا مشورہ دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہت ہی قبیح اور قابل نفرت خصلت ہے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ چیز سے مانگی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں شروفساد اور اذیت ملتی ہے۔ اور کبر میں یہ سب چیزیں موجود ہیں۔ کبر خود صاحب کبر کے لیے مصیبت ہے اور اس کے ماحول کے لیے بھی مصیبت ہے۔ جس دل میں کبر ہو ، اس کے لیے بھی اذیت ہے اور دوسروں کے دلوں کو بھی دکھانے والی عادت ہے۔ لہٰذا کبر ایک ایسا شر اور فساد ہے جس سے اللہ کی پناہ مانگنا ضروری ہے۔ انه ھو السمیع البصیر (40: 56) ” وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے “۔ کبر انسان کو ایسی حرکات پر آمادہ کرتا ہے جو دیکھی جاسکتی ہیں اور انسان سے ایسی باتیں کرواتا ہے جو سنی جاسکتی ہیں اس سے بچنے کیلیے اپنے آپ کو سننے اور دیکھنے والے کی ولایت میں دے دو ۔ اس کے بعد انسان کو بتایا جاتا ہے کہ اس عظیم کائنات میں اس کا حقیقی مقام کیا ہے ، اور اللہ کی بعض مخلوقات جسے انسان دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں وہ کس قدر چھوٹا اور کمزور ہے۔ اور یہ چیزیں جن کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔ سدیکھتے ہی انسان ان کی ضخامت کا قائل ہوجاتا ہے۔ اور جب ان کی پوری حقیقت ان کی سمجھ میں آجائے تو ان کا شعور اور پختہ ہوجاتا ہے۔ لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے مقابلے میں یقیناً زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ آسمان اور زمین انسان کے سامنے بچھے ہوئے ہیں اور انسان ان کو دیکھتا ہے۔ اور انسان کی طاقت میں ہے یہ بات کہ وہ ان کے حوالے سے اپنی قدر و قیمت معلوم کرے۔ جب انسان کو اس زمین و آسمان کے حوالے سے اپنی نسبت ، آسمانوں کی دوریاں اور افلاک سماوی کے حجم کا علم ہوتا ہے تو اس کا سرجھک سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی کم مائیگی کے شعور کی وجہ سے وہ پگھل کر رہ جائے الایہ کہ وہ انسان کے اس شرف کو یاد کرے جو اللہ نے اس کے اندر رکھا ہے اور جس کی وجہ سے انسان کو مکرم بنایا گیا ہے۔ وہ واحد صفت ہے جس کی وجہ سے انسان اس کائنات کی عظمت کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے کیونکہ کائنات بہت ہی عظیم اور ہولناک ہے اور وہ بہت ہی چھوٹا ہے۔ اس عظیم کائنات کے اور اوپر ایک لمحہ غور کرنا انسان کو یہ سب کچھ معلوم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں۔ یہ سورج کے تابع ستاروں میں سے ایک چھوٹا ساستارہ ہے۔ اس سورج کے تابع ستاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ زمین سورج سے دس لاکھ چھوٹی ہے۔ پھر یہ سورج اس قسم کے سوملین سورجوں میں سے ایک ہے ، جو ہمارے قریب ترین کہکشاں میں ہیں۔ اور ہم بھی اسی کہکشاں میں ہیں ، اور انسانوں نے آج تک سو ملین کہکشاں دریافت کرلیے ہیں جو اس عظیم فضا میں تیر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ اس فضا کا نہایت ہی چھوٹاحصہ ہوں۔ جہاں تک انسانی معلومات کا تعلق ہے تو انسان نے ابھی تک کائنات کے ایک مختصر اور قابل ذکر حصے کی دریافت کی ہے اور یہ چھوٹا ساحصہ بھی اس قدر بڑا ہے کہ صرف اس کے تصور ہی سے انسان کا سر چکراتا ہے۔ ہم اپنے سورج سے تقریباً 93 ملین میل دور ہیں اور یہ سورج ہماری اس چھوٹی سی زمین کے کنبے کا سرخیل ہے۔ اور یہ زمین بھی اپنی اس ماں کی جھولی سے یعنی سورج سے 93 ملین دور ہے۔ یہ زمین سورج ہی سے جدا ہوئی ہے۔ وہ کہکشاں جس کے تابع یہ سورج ہے ، اس کا قطر تقریباً ایک لاکھ ملین نوری سال ہے۔ اور نوری سال چھ سو ملین میل ہوتا ہے کیونکہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اور ہماری کہکشاں سے فریب ترین کہکشاں ایک لاکھ سات سو پچاس ہزار نوری سال دور ہے۔ ہمیں یہاں یہ بات پیش نظر چاہئے کہ یہ دوریاں اور حجم وہ ہیں جو اس حقیر انسان نے دریافت کرلیے ہیں اور اس کے ساتھ انسان نے یہ بھی دریافت کرلیا ہے وہ حقیقت کا نہایت ہی چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لخلق السمٰوٰت۔۔۔۔ یعلمون (40: 57) ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسان کو پیدا کرنے کی یہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اللہ کی قدرت کوئی بات نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی ، نہ مشکل ہے اور نہ آسان۔ وہ تو ہر چیز کی تخلیق ایک کلمہ سے کرتا ہے۔ یہ صفات تو اشیاء کی ہیں۔ لوگ انہیں کم دیکھتے ہیں یا زیادہ ، آسان دیکھتے یا مشکل ۔ پھر انسان اور اس ہولناک سرچکر دینے والی کائنات کی باہم کیا نسبت ہے ؟ اس کم مائیگی کے باوجود پھر انسان کا یہ کبر ! وما یستوی۔۔۔۔ المسیئ (40: 58) ” اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہوجائیں اور ایماندار اور صالح اور بدکار برابر ٹھہریں “۔ صاحب بصارت تو دیکھتا ہے اور اسے علم ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی قدروقیمت بھی جانتا ہے۔ حد سے نہیں گزرتا ، پھولتا نہیں اور نہ تکبر کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے ، اندھا نہ دیکھتا ہے اور نہ خود اپنی قدروقیمت جانتا ہے ، نہ اپنی پوزیشن جانتا ہے اور نہ اپنے ماحول کے ساتھ اپنی نسبت کو جانتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے بارے میں غلط اندازہ کرتا ہے۔ پھر اپنے ماحول کے بارے میں غلط فیصلہ کرتا ہے۔ اور ان اندازوں کی وجہ سے پھر وہ راہ بھول جاتا ہے۔ اس طرح مومن و صالح اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن دیکھنے والے اور جاننے والے ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنا اور اپنے ماحول کا صحیح اندازہ کرتے ہیں ، جبکہ کافر اور بدکار جاہل ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو برباد کردیتے ہیں ۔ اپنے آپ کو ، اپنے ماحول کو ، لوگوں کو ، اور سب سے پہلے وہ اپنے عمل اور فہم کو برباد کردیتے ہیں۔ وہ اپنے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکتے ۔ اندھے ہوتے ہیں ، دلوں کے اندھے۔ قلیلا ماتتذکرون (40: 58) ” مگر تم لوگ کم ہی سمجھتے ہو “۔ اگر ہم سمجھتے تو ہمیں حقیقت معلوم ہوتی۔ بات واضح ہے۔ صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم آخرت پر پختہ یقین رکھتے اور اسے یاد کرتے اور مقامات قیامت کو ذہین میں رکھتے اور وہاں کی حاضری ہمارے ذہین میں ہوتی تو ہم پختہ مومن ہوتے۔ ان الساعة ۔۔۔۔ یومنون (40: 59) ” یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں مگر اکثر لوگ نہیں مانتے “۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات میں مجادلہ کرتے ہیں اور کبر کرتے ہیں۔ ورنہ اگر مانتے اور یقین کرتے تو وہ حق کو پہنچانتے۔ وہ جانتے کہ حق کے حوالے سے ان کا کیا مقام ہے۔ اس لیے تجاوز نہ کرتے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور بندگی کرنا ، اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ کو پکارنا ، انسام کو اس کبر سے بچاتا ہے ، جس کی وجہ سے انسان پھول جاتا ہے اور بغیر حجت کے اللہ کی آیات میں جھگڑا کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اپنے دروازے کھولتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کو پکاریں اور اعلان فرماتا ہے کہ میں ہر پکارنے والے کی پکارکو قبول کرنا اپنے اوپر لکھ دیا ہے۔ اور ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو اللہ کی پکار کے مقابلے میں تکبر کرتے ہیں کہ وہ آگ میں ذلیل و خوار ہوں گے۔ وقال ربکم۔۔۔۔۔ دخرین (40: 60) ” تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ، ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے “۔ یہ یاد رہے کہ دعا کے بھی آداب ہیں اور ان کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ قلب کو اللہ کے لیے خالص ہونا چاہئے ، کوئی صورت متعین کیے بغیر مانگنا چاہئے اور اس یقین کے ساتھ مانگنا چاہئے کہ اللہ ضرور قبول فرماتا ہے۔ قبولیت کے ظروف واحوال اور زمان ومکاں متعین نہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ آداب دعا کے سراسر خلاف ہے۔ اور یہ یقین کرنا چاہئے کہ دعاء کی توفیق صرف اللہ ہی دیتا ہے۔ یہ بھی ایک انعام ہے ، قبول ہونا دوسرا انعام ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں ” میں استجابت دعا کی پریشانی اٹھا کر نہیں پھرتا ، میری ذمہ داری توبہ ہے کہ دعا کروں۔ جو مجھے یہ توفیق دے دی گئی اور یہ الہام کردیا گیا کہ دعا کرو تو قبولیت ساتھ ہوتی ہے “۔ دعاء تو عارف کے دل کی بات ہوتی ہے ، عارف اس بات کو جانتا ہے کہ جس خدا نے دعا کو مقدر کیا وہی قبولیت کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ جب اللہ توفیق دے تو دعاء اور قبولیت دونوں باہم موافق اور مطابق اور ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں تو ان کی سزا یہ ہے کہ جہنم میں خوار اور ذلیل کرکے پھینکے جائیں اور کبر کی سزا اللہ کے ہاں یہی ہے جس کی وجہ سے انسان پھولتا ہے۔ ایک چھوٹا سا انسان ، اس چھوٹی سی زمین پر اور اس چھوٹی سی زندگی میں ۔ اور یہ شخص اللہ کی عظیم تخلیق کو بھول جاتا ہے ، اللہ کی عظمت کو بھول جاتا ہے اور آخرت کو بھول جاتا ہے جبکہ یہ آنے والی ہے ، اور وہاں پھرا سے ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں گرنا ہوگا۔ جب ان لوگوں کا ذکر ہوا جو اللہ کی بندگی کرنے اور اسے پکارنے سے کبر کرتے ہیں تو اس حوالے سے اللہ کی بعض نعمتوں کا ذکر کردیا گیا۔ وہ نعمتیں جو اللہ کی عظمت کی گواہ ہیں اور اس قسم کے متکبر ان پر اللہ کا شکر نہیں بجالاتے بلکہ اللہ کی عبادت کرنے ، اسے پکارنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے کبر کرتے ہیں :

غافر 40:61

آیت نمبر 61 تا 64 گزرش لیل ونہار تو دو کائناتی مظاہر ہیں جبکہ زمین آسمان دو کائناتی تخلیقات ہیں۔ ان دونوں کو یہاں ذکر کرکے پھر بتایا جاتا ہے کہ اس لیل ونہار اور ارض وسماء کے اندر اللہ نے تمہاری خوبصورت شکلیں پیدا کیں اور پھر تمہارے لیے اس جہاں میں قسم قسم کے رزق پیدا کیے۔ یہ ہے تمہارا رب اور یہ ہیں اس کے کارنامے۔ بڑی ہی برکتوں والا ہے رب العالمین ! وہی زندہ ہے اور اس کے سوا کوئی زندہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل ہے۔ لہٰذا اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کائناتی مظاہر اور ان تکوینی معافی اور اللہ کی ان تخلیقات کو اللہ کی توحید اور اللہ کے نظام زندگی کے حوالے سے وسیع دائرہ میں پڑھنا ، ان پر تدبر کرنا اور توحید اور شریعت کے ساتھ ان کا ربط پانا ضروری ہے۔ اور یہ دیکھنا کہ اس تکوینی نظام کے درمیان ہم آہنگی کیا ہے۔ یہ کائنات اللہ نے جس اصول پر بنائی ہے ، پھر اللہ نے اسے جس ناموس فطرت کے مطابق چلایا ہے ، وہی اللہ ہے جس نے اس کراۂ ارض پر زندگی کو چلایا ، اس کی ترقی اور نشوونما کا انتظام فرمایا۔ پھر یہ وہی ذات باری ہے جس نے انسان کو اس کی موجود شکل عطا فرمائی جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اور انسان کی تخلیق اور اس کی حیات کے لیے ضروری امور کو اس کائنات کے اندر ملحوظ رکھا۔ وہی تو ہے جس نے رات کو سکون ، آرام اور راحت کے لیے بنایا۔ اور دن روشن ، دیکھنے کے لیے معاون اور دوڑ دھوپ کے لیے بنایا۔ اور زمین کو زندگی کے قابل اور چلنے پھرنے کے اہل بنایا اور آسمان کو ایک چھت کی طرح بنایا کہ وہ بلندیوں پر سیاروں اور ستاروں کو لیے ہوئے ہے ، جو گرتے نہیں۔ اور جن کی دوریاں بھی باہم ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا کر خلل ڈالتیں۔ اگر ان دوریوں میں پھر فرق پڑجائے تو اس چھوٹے سے کرۂ ارض پر انسان کے وجود کے اندر خلل واقع ہوجائے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے اس زمین پر پاک خوراک پیدا کی۔ یہ رزق اسی زمین سے پیدا کیا۔ یہ رزق آسمانون سے بارشوں کی شکل میں نازل ہوتا ہے اور لوگ اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ اور انسانی صورتیں کس قدر خوبصورت اور رنگا رنگ ہیں۔ اور پھر وہی ہے جس نے انسان کے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کیں جو اس کائنات کے ساتھ متفق ہیں۔ اور یہ صلاحیتیں اس زمین پر رہنے کے لیے کافی ہیں۔ پھر یہ صلاحیتیں اس پوری کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں۔ تو یہ تمام امور باہم مربوط اور موافق ہیں جیسا کہ ہر شخص ملاحظہ کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام امور کو قرآن ایک ہی جگہ لیتا ہے۔ اسی ترتیب اور ربط سے لیتا ہے اور ان اموردے وحدانیت پر برہان قاطع پیش کرتا ہے۔ اور ان امور ہی کی روشنی میں قلب انسانی کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ وحدہ کو پکارو۔ اور دین اور نظام زندگی صرف اسی کارائج کرو۔ اور آخر میں کہا جاتا ہے ، الحمدللہ رب العالمین ! اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ رب العالمین وہی ذات ہوسکتی ہے جس نے ان تمام چیزوں کو اس طرح پیدا کیا۔ یہی ہے الٰہ ، رب العالمین ، لہٰذا تعجب ہے کہ لوگ اس عظیم سچائی سے کس طرح منہ موڑتے ہیں۔ یہاں ہم سرسری طور پر وہ جھلکیاں دیتے ہیں جو خود بتائیں گی کہ اس کائنات کی ساخت میں ، اور انسان کی زندگی کے ساتھ اس کے تعلق میں یہ امور ملحوظ رکھے گئے ہیں۔ اللہ نے یہاں جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ، اس سمت میں چند لمحات۔ ” یہ زمین سورج کے سامنے گردش محوری کررہی ہے جس کے نتیجے میں لیل ونہار کا نظام وجود میں آیا ہے ، اگر اپنی گردش کی موجودہ رفتار سے اس کی رفتار قدرے تیز ہوجائے تو تمام مکانات گرجائیں ، اس زمین کے اجزاء ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور فضائے آسمانی میں بکھر جائیں “۔ ” اور اگر یہ زمین موجود گردش محوری کی رفتار ذراکم کردے تو لوگ گرمی یا سردی سے ہلاک ہوجائیں۔ زمین کی موجودہ گردش محوری ایسی بنائی گئی ہے کہ یہ اس زمین کے اوپر حیوانی اور نباتاتی زندگی کے ساتھ ہم آہنگ اور ان کے لیے اپنے وسیع معنوں میں مفید ہے “۔ ” اور اگر زمین گردش محوری صرف رک جائے تو بخارات ختم ہوجائیں اور سمندر پانیوں سے خالی ہوجائیں “۔ ” اگر زمین گردش محوری ختم کردے اور سورج کے اردگرد اپنی گردش سالانہ جاری رکھے تو کیا ہوگا۔ تمام فصلیں ختم ہوجائیں ، لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ گرمیاں کہاں ہیں اور سردیاں کب ہوئیں اور ربیع وخریف ختم ہوجائے “۔ ” اگر زمین کا چھلکا چند قدم اور دبیز ہوتا تو بعض گیسوں کے جذب کرلینے کی وجہ سے نباتات ختم ہوجائے “۔ ” زمین کے اوپر کرۂ ہوائی جس قدر بلندی پر ہے اگر اس سے مزید بلند ہوجائے تو آج کل لاکھوں کے حساب سے ہوا میں جو شہاب ثاقب جل جاتے ہیں ، وہ سب کے سب کرۂ ارض پر گرنے لگتے ، ان کی رفتار 46 میل فی سکینڈ ہوتی ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اوپر ان تمام چیزوں کو جلا کر رکھ دیں گے جو جلنے کے قابل ہیں۔ اور اگر یہ شہاب بندوق کی گولی کی رفتار سے بھی چلیں تب بھی سب کے سب زمین سے ٹکڑا جائیں۔ اور اس کے نتائج نہایت ہی خوفناک ہوں۔ انسان بیچارے کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ایک چھوٹا سا شہاب جس کی رفتار بندوق کی گولی سے ستر مرتبہ زیادہ ہو ، اس زمین سے بھی ٹکرا جائے تو اس شہاب کے گزرنے سے جو حرارت پیدا ہوگی ، صرف اس حرارت ہی سے اس کے اجزائے جسم بکھر کر رہ جائیں “۔ ” اس وقت ہوا میں آکسیجن کی نسبت 21 فیصد ہے اگر یہ 50 فیصد ہوجائے تو جل جانے کی قابل تمام چیزیں آگ پکڑ لیں اور جل جائیں۔ بس آگ کی ایک چنگاری لگتے ہی تمام جنگلات جل جائیں بلکہ بھک سے اڑجائیں۔ اگر ہوا کی آکسیجن کم ہوکر 10 فیصد ہوجائے یا اس سے کم ہوجائے تو کرۂ ارض کی زندگی شاید ایک طویل عرصہ بعد اپنے آپ کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کر ہی لے لیکن وہ تمام سہولیات ختم ہوجائیں جن کی وجہ سے انسان متمدن قرار پاتا ہے مثلاًآگ وغیرہ “۔ غرض اس کائنات کی تخلیق وتشکیل میں ہزاروں ایسی ممد اور معاون چیزیں ، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ رکھی ہوئی نظر آتی ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک چیز میں معمولی خلل آجائے تو ہماری زندگی اپنی موجودہ شکل میں نہ رہے۔ اسی طرح دوسرے حیوانات کی زندگی کی موجودہ شکل بھی نہ رہے۔ رہا انسان تو اس کی توبہ پیاری پیاری صورت ہی ایسی ہے ، جو نہایت ہی منفرد انداز میں ہے اور تمام زندہ اشیاء میں ممتاز ہے۔ یہ ایک اس قدر کامل اور مکمل تخلیق ہے کہ وہ اپنے تمام فرائض نہایت ہی سہولت اور باریکی سے ادا کرتی ہے۔ اس کی یہ تخلیق اس کی زمین کے اوپر حرکت اور وہ حالات جن میں اس کے لیے زندہ رہنا اور کام کرنا آسان بنایا گیا ہے ، پھر اس کی اعلیٰ وارفع خصوصیت جس کے ذریعہ اسے تمام روئے زمین کی مخلوقات کا سردار بنایا گیا ہے اور اسے منصب خلافت ارضی دی گئی ہے اور اس منصب کے فرائض کی ادائیگی کے لئے اسے عقل وخرد سے نوازا گیا ہے۔ اور پھر رب تعالیٰ کے ساتھ اسے رابطے کا اعزاز دیا ہے۔ یہ تو انسان کی ممتاز ترین خصوصیات ہیں۔ اب ذرا ذات انسان کی طرف آئے اگر انسانی ذات اس کے اعضاء ، اور ان کے فرائض کی باریکی پر بحث کریں ، جو اس آیت کا مفہوم بھی ہے۔ وصورکم فاحسن صورکم (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بہت ہی عمدہ بنائی “۔ تو ہمیں انسان کے چھوٹے چھوٹے اعضاء میں سے ہر ایک کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بلکہ انسان کے خلیات میں سے ہر ایک خلیے پر بحث کرنی ہوگی۔ ایک ہی مثال سے تخلیق انسانی اور جسم انسانی کی گہری ٹیکنالوجی کا پتہ چل سکتا ہے۔ انسان کے جبڑے کو لیجئے اور اس کے اندر دانتوں کی تنصیب کو اگر آلہ خوراک کے زاویہ سے دیکھا جائے تو یہ اس قدر حساس ہیں کہ اگر زبان یا لعاب میں 10/1 ملی میٹر کی حد تک ابھار آجائے تو یہ جبڑے زبان اور لعاب کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اور اگر کسی دانت میں اسی قدر ابھار آجائے تو وہ اپنے مقابل جسم کے ساتھ ٹکرانا شروع کردے اور اگر دوجبڑوں کے درمیان سگریٹ کے کاغذ جتنا موٹا کاغذ آجائے تو وہ دونوں جبڑوں کا دباؤ محسوس کرے گا۔ اور اس پر بھی دونوں جبڑوں کا دباؤ ہوگا کیونکہ دونوں جبڑوں کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ جب یہ دونوں ملتے ہیں تو دونوں طرف کے دانت پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ یوں یہ پینے اور چبانے کا عمل کرتے ہیں اور ایسی چیزوں کو بھی چبالیتے ہیں جن کا موٹاپا سگریٹ کے ابری کاغذ جیسا باریک ہو۔ پھر اسی انسان کو اپنی اس ساخت کے ساتھ ، اس زمین پر رہنے کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں کہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس کی آنکھوں کو روشنی کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ دیکھنے کا کام کریں۔ اور اس کے کانوں کو ہوا اور آواز کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ سننے کا کام کریں۔ غرض اس کے تمام اعضاء اور حواس کو اس فضا کے مطابق بناتا گیا ہے جس کے اندر اس نے زندگی بسر کرنا ہے اور اسے یہ طاقت بھی دی گئی ہے کہ وہ ایک حد تک اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال سکے۔ غرض اسے اس زمین کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس سے متاثر ہو ، اس کو متاثر کرے۔ غرض یہ ماحول جس میں انسان رہتا ہے ، اس کے اور انسان کی تخلیق کے درمیان گہری منصوبہ بندی موجود ہے۔ پھر انسان کی موجودہ شکل و صورت کا بھی اس کے موجودہ ماحول کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس کی ساخت کو اس ماحول کے مطابق بنایا گیا ہے ، جہاں وہ رہتا ہے ، یعنی اس زمین و آسمان کے مطابق ۔ اس لیے یہاں اللہ نے انسان کی اسی شکل کا ذکر اس آیت کے درمیان کیا ہے جس میں زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر ہے۔ اب قرآنی آیات کی قدرے تشریح۔ اللہ الذی۔۔۔۔ مبصرا (40: 61) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو ، اور دن کو روشن کیا “۔ رات کو سکون کرنا ہر زندہ چیز کے لیے ضروری ہے۔ نیز ایک تاریکی کا عرصہ ضروری ہے تاکہ اس میں زندہ خلیے آرام کرسکیں اور اس وقت کے بعد پھر روشنی میں کام شروع کرسکیں۔ صرف نیند ہی کافی نہیں ہے تاریکی بھی ضروری ہے۔ بلکہ رات ضروری ہے۔ کیونکہ زندہ خلیہ روشنی کو برداشت کرتے کرتے اس قدر تھک جاتا ہے کہ اس کے اعصاب تلف ہونا شروع ہوجاتے ہیں چونکہ روشنی میں اسے آرام نہیں مل سکتا۔ لہٰذا رات کی تاریکی ضروری ہے۔ والنھار مبصرا (40: 61) ” دن کو روشن کیا “۔ انداز تعبیر بالکل شخص ہے گویا دن ایک شخص ہے جو دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ دن میں دیکھتے ہیں۔ یہ تو ہے دن کی غالب افادیت اور صفت۔۔۔ لیکن گردش لیل ونہار کا یہ نظام ایک نعمت ہے جو اپنے اندر مزید نعمتیں پوشیدہ رکھتی ہے۔ اگر رات اور دن میں سے کوئی ایک دائمی ہوجائے ، بلکہ موجودہ وقت سے ذرا طویل ہی ہوجائے تو زندگی ناپید ہوجائے یہی وجہ ہے کہ اسکے بعد اللہ کے اس فضل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جسکا لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ ان اللہ ۔۔۔۔ لایشکرون (40: 61) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر لوگ شکر ادا نہیں کرتے “۔ اور ان دوفطری مظاہر یعنی گردش ونہار کے بعد یہ تصریح کردی جاتی ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لہٰذا وہی الہہ ہونے کا مستحق ہے اور یہ نام ” اللہ “ ایک عظیم نام ہے۔ ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ توفکون (40: 62) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہر چیز کا خالق ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ، پھر تم کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ یہ ایک نہایت ہی تعجب انگیز اور حیرت افزا بات ہے کہ لوگ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز میں اللہ کا ہاتھ ہے ، اور تمام اشیاء کا موجود ہونا ہی ازروئے عقل اس بات کو فرض کردے کہ اس کا اللہ خالق ہے اور اللہ کے سوا کوئی اور قوت بھی نہ ہو کہ وہ خالق ہونے کی مدعی ہو ، اور یہ بات بھی ذہن میں نہ آتی ہو کہ یہ چیزیں خود بخود وجود میں آگئی ہوں یہ فی الواقع ایسی عجیب بات جوہر معقول انسان کے لیے تعجب انگیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے بھی لوگ ایمان لانے سے منہ موڑیں۔ فانی توفکون (40: 62) ” کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ لیکن ، ہو یہی رہا ہے کہ لوگ بدستورمنہ موڑ رہے ہیں جیسا کہ قرآن کے پہلے مخاطب منہ موڑ رہے تھے اور اس کے بعد بھی ہر زمان ومکان میں منہ موڑ رہے ہیں۔ بغیر حجت اور بغیر دلیل کے۔ کذٰلک ۔۔۔۔ یجحدون (40: 63) ” اسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جارہے ہیں ، جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے “۔ اب سیاق کلام اس طرف آتا ہے کہ اپنی جگہ ٹھیرایا گیا اور آسمان کو چھت کی طرح اوپر ٹھیرایا گیا۔ اللہ الذی۔۔۔۔ بنآء (40: 64) ” وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنادیا “۔ زمین تو برقرار ہے اور انسانوں کی رہائش کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اس میں ایسی بیشمار سہولیات رکھ دی گئی جو انسان کے لیے ضروری ہیں اور جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور آسمان ایک ایسی چھت ہے جس کی نسبتیں متعین اور مقرر ہیں۔ جس کی دوریاں ، حرکتیں اور چکر مقرر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وجہ سے زمین پر انسان کی زندگی کو قرار حاصل ہے اور یہ قرار اور سہولیات اس کائنات کے نقشے کے اندر حساب سے رکھ دی گئی ہیں اور اس کی تعمیر میں انہیں ایک خاص نسبت سے رکھا گیا ہے۔ زمین و آسمان کی تخلیق کے ساتھ ہی انسان کی پیاری صورت اور انسان کے لیے رزق کو بھی مربوط کردیا گیا جیسا کہ ہم نے ان باتوں کی طرف اجمالی اشارہ کردیا ہے۔ وصورکم۔۔۔۔ من الطیبٰت (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا “۔۔۔ اور پھر ان نشانیوں اور مہربانیوں پر یہ تبصرہ : ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ رب العلمین (40: 64) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب ، بےحساب برکتوں والا ہے۔ وہ کائنات کا رب ہے “۔ یہ اللہ جو تخلیق کرتا ہے ، جو انداز سے تخلیق کرتا ہے اور پھر اپنی مخلوقات کا مدبر بھی ہے۔ وہ تمہاری نگہبانی کرتا ہے اور تمہیں اس نے اپنی اس مخلوق میں بسایا ہے۔ یہ ہے تمہارا رب ، برکتوں والا ، اور بہت بہت برکتوں والا اور تمام جہانوں والا ، جن کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے۔ ھوالحی (40: 65) ” وہی زندہ ہے “۔ ہاں ، وہی اکیلا زندہ ہے۔ اس کی ذاتی زندگی ہے ، کسی سے لی نہیں گئی ، کسی کی تخلیق کردہ نہیں ہے۔ نہ اس کی ابتداء اور نہ انتہا ہے نہ اس کے درمیان کوئی حائل ہے اور نہ وہ زائل ہونے والی ہے۔ نہ اس میں کوئی انقلاب آتا ہے اور نہ تغیر۔ اللہ کے سوا کسی کو یہ صفات حاصل نہیں ہیں۔ اللہ پاک ہی منفرد ہے ان صفات میں۔ لہٰذا وہی منفرد ہے الوہیت میں ۔ اس لیے کہ زندہ وہی ہے۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ وہی واحدوقہار ہو۔ لآ الٰه الاھو (40: 65) ” نہیں کوئی الٰہ مگر وہ “ تو پھر صرف : فادعوہ مخلصین له الدین (40: 65) ” اسی کو تم پکارو ، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے “۔ اس کی حمد کرو ، اس سے دعا کرو ، الحمدللہ رب العٰلمین (40: 65) ” ساری تعریف اللہ رن العالمین ہی کے لیے ہے “۔ ان نشانیوں اور مہربانیوں کے تذکرے اور ان پر تبصرے کے بعد اور حقیقت الوہیت اور عقیدۂ توحید اور مظاہر ربوبیت کی تشریح کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ ان نشانیوں اور دلائل کی بناپر میں روک دیا گیا ہون کہ میں تمہارے معبودوں کی بندگی کروں مجھے تو حکم دیدیا گیا کہ صرف رب العالمین کے سامنے سرتسلیم خم کردوں۔

غافر 40:62

آیت نمبر 61 تا 64 گزرش لیل ونہار تو دو کائناتی مظاہر ہیں جبکہ زمین آسمان دو کائناتی تخلیقات ہیں۔ ان دونوں کو یہاں ذکر کرکے پھر بتایا جاتا ہے کہ اس لیل ونہار اور ارض وسماء کے اندر اللہ نے تمہاری خوبصورت شکلیں پیدا کیں اور پھر تمہارے لیے اس جہاں میں قسم قسم کے رزق پیدا کیے۔ یہ ہے تمہارا رب اور یہ ہیں اس کے کارنامے۔ بڑی ہی برکتوں والا ہے رب العالمین ! وہی زندہ ہے اور اس کے سوا کوئی زندہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل ہے۔ لہٰذا اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کائناتی مظاہر اور ان تکوینی معافی اور اللہ کی ان تخلیقات کو اللہ کی توحید اور اللہ کے نظام زندگی کے حوالے سے وسیع دائرہ میں پڑھنا ، ان پر تدبر کرنا اور توحید اور شریعت کے ساتھ ان کا ربط پانا ضروری ہے۔ اور یہ دیکھنا کہ اس تکوینی نظام کے درمیان ہم آہنگی کیا ہے۔ یہ کائنات اللہ نے جس اصول پر بنائی ہے ، پھر اللہ نے اسے جس ناموس فطرت کے مطابق چلایا ہے ، وہی اللہ ہے جس نے اس کراۂ ارض پر زندگی کو چلایا ، اس کی ترقی اور نشوونما کا انتظام فرمایا۔ پھر یہ وہی ذات باری ہے جس نے انسان کو اس کی موجود شکل عطا فرمائی جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اور انسان کی تخلیق اور اس کی حیات کے لیے ضروری امور کو اس کائنات کے اندر ملحوظ رکھا۔ وہی تو ہے جس نے رات کو سکون ، آرام اور راحت کے لیے بنایا۔ اور دن روشن ، دیکھنے کے لیے معاون اور دوڑ دھوپ کے لیے بنایا۔ اور زمین کو زندگی کے قابل اور چلنے پھرنے کے اہل بنایا اور آسمان کو ایک چھت کی طرح بنایا کہ وہ بلندیوں پر سیاروں اور ستاروں کو لیے ہوئے ہے ، جو گرتے نہیں۔ اور جن کی دوریاں بھی باہم ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا کر خلل ڈالتیں۔ اگر ان دوریوں میں پھر فرق پڑجائے تو اس چھوٹے سے کرۂ ارض پر انسان کے وجود کے اندر خلل واقع ہوجائے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے اس زمین پر پاک خوراک پیدا کی۔ یہ رزق اسی زمین سے پیدا کیا۔ یہ رزق آسمانون سے بارشوں کی شکل میں نازل ہوتا ہے اور لوگ اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ اور انسانی صورتیں کس قدر خوبصورت اور رنگا رنگ ہیں۔ اور پھر وہی ہے جس نے انسان کے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کیں جو اس کائنات کے ساتھ متفق ہیں۔ اور یہ صلاحیتیں اس زمین پر رہنے کے لیے کافی ہیں۔ پھر یہ صلاحیتیں اس پوری کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں۔ تو یہ تمام امور باہم مربوط اور موافق ہیں جیسا کہ ہر شخص ملاحظہ کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام امور کو قرآن ایک ہی جگہ لیتا ہے۔ اسی ترتیب اور ربط سے لیتا ہے اور ان اموردے وحدانیت پر برہان قاطع پیش کرتا ہے۔ اور ان امور ہی کی روشنی میں قلب انسانی کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ وحدہ کو پکارو۔ اور دین اور نظام زندگی صرف اسی کارائج کرو۔ اور آخر میں کہا جاتا ہے ، الحمدللہ رب العالمین ! اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ رب العالمین وہی ذات ہوسکتی ہے جس نے ان تمام چیزوں کو اس طرح پیدا کیا۔ یہی ہے الٰہ ، رب العالمین ، لہٰذا تعجب ہے کہ لوگ اس عظیم سچائی سے کس طرح منہ موڑتے ہیں۔ یہاں ہم سرسری طور پر وہ جھلکیاں دیتے ہیں جو خود بتائیں گی کہ اس کائنات کی ساخت میں ، اور انسان کی زندگی کے ساتھ اس کے تعلق میں یہ امور ملحوظ رکھے گئے ہیں۔ اللہ نے یہاں جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ، اس سمت میں چند لمحات۔ ” یہ زمین سورج کے سامنے گردش محوری کررہی ہے جس کے نتیجے میں لیل ونہار کا نظام وجود میں آیا ہے ، اگر اپنی گردش کی موجودہ رفتار سے اس کی رفتار قدرے تیز ہوجائے تو تمام مکانات گرجائیں ، اس زمین کے اجزاء ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور فضائے آسمانی میں بکھر جائیں “۔ ” اور اگر یہ زمین موجود گردش محوری کی رفتار ذراکم کردے تو لوگ گرمی یا سردی سے ہلاک ہوجائیں۔ زمین کی موجودہ گردش محوری ایسی بنائی گئی ہے کہ یہ اس زمین کے اوپر حیوانی اور نباتاتی زندگی کے ساتھ ہم آہنگ اور ان کے لیے اپنے وسیع معنوں میں مفید ہے “۔ ” اور اگر زمین گردش محوری صرف رک جائے تو بخارات ختم ہوجائیں اور سمندر پانیوں سے خالی ہوجائیں “۔ ” اگر زمین گردش محوری ختم کردے اور سورج کے اردگرد اپنی گردش سالانہ جاری رکھے تو کیا ہوگا۔ تمام فصلیں ختم ہوجائیں ، لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ گرمیاں کہاں ہیں اور سردیاں کب ہوئیں اور ربیع وخریف ختم ہوجائے “۔ ” اگر زمین کا چھلکا چند قدم اور دبیز ہوتا تو بعض گیسوں کے جذب کرلینے کی وجہ سے نباتات ختم ہوجائے “۔ ” زمین کے اوپر کرۂ ہوائی جس قدر بلندی پر ہے اگر اس سے مزید بلند ہوجائے تو آج کل لاکھوں کے حساب سے ہوا میں جو شہاب ثاقب جل جاتے ہیں ، وہ سب کے سب کرۂ ارض پر گرنے لگتے ، ان کی رفتار 46 میل فی سکینڈ ہوتی ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اوپر ان تمام چیزوں کو جلا کر رکھ دیں گے جو جلنے کے قابل ہیں۔ اور اگر یہ شہاب بندوق کی گولی کی رفتار سے بھی چلیں تب بھی سب کے سب زمین سے ٹکڑا جائیں۔ اور اس کے نتائج نہایت ہی خوفناک ہوں۔ انسان بیچارے کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ایک چھوٹا سا شہاب جس کی رفتار بندوق کی گولی سے ستر مرتبہ زیادہ ہو ، اس زمین سے بھی ٹکرا جائے تو اس شہاب کے گزرنے سے جو حرارت پیدا ہوگی ، صرف اس حرارت ہی سے اس کے اجزائے جسم بکھر کر رہ جائیں “۔ ” اس وقت ہوا میں آکسیجن کی نسبت 21 فیصد ہے اگر یہ 50 فیصد ہوجائے تو جل جانے کی قابل تمام چیزیں آگ پکڑ لیں اور جل جائیں۔ بس آگ کی ایک چنگاری لگتے ہی تمام جنگلات جل جائیں بلکہ بھک سے اڑجائیں۔ اگر ہوا کی آکسیجن کم ہوکر 10 فیصد ہوجائے یا اس سے کم ہوجائے تو کرۂ ارض کی زندگی شاید ایک طویل عرصہ بعد اپنے آپ کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کر ہی لے لیکن وہ تمام سہولیات ختم ہوجائیں جن کی وجہ سے انسان متمدن قرار پاتا ہے مثلاًآگ وغیرہ “۔ غرض اس کائنات کی تخلیق وتشکیل میں ہزاروں ایسی ممد اور معاون چیزیں ، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ رکھی ہوئی نظر آتی ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک چیز میں معمولی خلل آجائے تو ہماری زندگی اپنی موجودہ شکل میں نہ رہے۔ اسی طرح دوسرے حیوانات کی زندگی کی موجودہ شکل بھی نہ رہے۔ رہا انسان تو اس کی توبہ پیاری پیاری صورت ہی ایسی ہے ، جو نہایت ہی منفرد انداز میں ہے اور تمام زندہ اشیاء میں ممتاز ہے۔ یہ ایک اس قدر کامل اور مکمل تخلیق ہے کہ وہ اپنے تمام فرائض نہایت ہی سہولت اور باریکی سے ادا کرتی ہے۔ اس کی یہ تخلیق اس کی زمین کے اوپر حرکت اور وہ حالات جن میں اس کے لیے زندہ رہنا اور کام کرنا آسان بنایا گیا ہے ، پھر اس کی اعلیٰ وارفع خصوصیت جس کے ذریعہ اسے تمام روئے زمین کی مخلوقات کا سردار بنایا گیا ہے اور اسے منصب خلافت ارضی دی گئی ہے اور اس منصب کے فرائض کی ادائیگی کے لئے اسے عقل وخرد سے نوازا گیا ہے۔ اور پھر رب تعالیٰ کے ساتھ اسے رابطے کا اعزاز دیا ہے۔ یہ تو انسان کی ممتاز ترین خصوصیات ہیں۔ اب ذرا ذات انسان کی طرف آئے اگر انسانی ذات اس کے اعضاء ، اور ان کے فرائض کی باریکی پر بحث کریں ، جو اس آیت کا مفہوم بھی ہے۔ وصورکم فاحسن صورکم (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بہت ہی عمدہ بنائی “۔ تو ہمیں انسان کے چھوٹے چھوٹے اعضاء میں سے ہر ایک کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بلکہ انسان کے خلیات میں سے ہر ایک خلیے پر بحث کرنی ہوگی۔ ایک ہی مثال سے تخلیق انسانی اور جسم انسانی کی گہری ٹیکنالوجی کا پتہ چل سکتا ہے۔ انسان کے جبڑے کو لیجئے اور اس کے اندر دانتوں کی تنصیب کو اگر آلہ خوراک کے زاویہ سے دیکھا جائے تو یہ اس قدر حساس ہیں کہ اگر زبان یا لعاب میں 10/1 ملی میٹر کی حد تک ابھار آجائے تو یہ جبڑے زبان اور لعاب کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اور اگر کسی دانت میں اسی قدر ابھار آجائے تو وہ اپنے مقابل جسم کے ساتھ ٹکرانا شروع کردے اور اگر دوجبڑوں کے درمیان سگریٹ کے کاغذ جتنا موٹا کاغذ آجائے تو وہ دونوں جبڑوں کا دباؤ محسوس کرے گا۔ اور اس پر بھی دونوں جبڑوں کا دباؤ ہوگا کیونکہ دونوں جبڑوں کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ جب یہ دونوں ملتے ہیں تو دونوں طرف کے دانت پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ یوں یہ پینے اور چبانے کا عمل کرتے ہیں اور ایسی چیزوں کو بھی چبالیتے ہیں جن کا موٹاپا سگریٹ کے ابری کاغذ جیسا باریک ہو۔ پھر اسی انسان کو اپنی اس ساخت کے ساتھ ، اس زمین پر رہنے کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں کہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس کی آنکھوں کو روشنی کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ دیکھنے کا کام کریں۔ اور اس کے کانوں کو ہوا اور آواز کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ سننے کا کام کریں۔ غرض اس کے تمام اعضاء اور حواس کو اس فضا کے مطابق بناتا گیا ہے جس کے اندر اس نے زندگی بسر کرنا ہے اور اسے یہ طاقت بھی دی گئی ہے کہ وہ ایک حد تک اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال سکے۔ غرض اسے اس زمین کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس سے متاثر ہو ، اس کو متاثر کرے۔ غرض یہ ماحول جس میں انسان رہتا ہے ، اس کے اور انسان کی تخلیق کے درمیان گہری منصوبہ بندی موجود ہے۔ پھر انسان کی موجودہ شکل و صورت کا بھی اس کے موجودہ ماحول کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس کی ساخت کو اس ماحول کے مطابق بنایا گیا ہے ، جہاں وہ رہتا ہے ، یعنی اس زمین و آسمان کے مطابق ۔ اس لیے یہاں اللہ نے انسان کی اسی شکل کا ذکر اس آیت کے درمیان کیا ہے جس میں زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر ہے۔ اب قرآنی آیات کی قدرے تشریح۔ اللہ الذی۔۔۔۔ مبصرا (40: 61) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو ، اور دن کو روشن کیا “۔ رات کو سکون کرنا ہر زندہ چیز کے لیے ضروری ہے۔ نیز ایک تاریکی کا عرصہ ضروری ہے تاکہ اس میں زندہ خلیے آرام کرسکیں اور اس وقت کے بعد پھر روشنی میں کام شروع کرسکیں۔ صرف نیند ہی کافی نہیں ہے تاریکی بھی ضروری ہے۔ بلکہ رات ضروری ہے۔ کیونکہ زندہ خلیہ روشنی کو برداشت کرتے کرتے اس قدر تھک جاتا ہے کہ اس کے اعصاب تلف ہونا شروع ہوجاتے ہیں چونکہ روشنی میں اسے آرام نہیں مل سکتا۔ لہٰذا رات کی تاریکی ضروری ہے۔ والنھار مبصرا (40: 61) ” دن کو روشن کیا “۔ انداز تعبیر بالکل شخص ہے گویا دن ایک شخص ہے جو دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ دن میں دیکھتے ہیں۔ یہ تو ہے دن کی غالب افادیت اور صفت۔۔۔ لیکن گردش لیل ونہار کا یہ نظام ایک نعمت ہے جو اپنے اندر مزید نعمتیں پوشیدہ رکھتی ہے۔ اگر رات اور دن میں سے کوئی ایک دائمی ہوجائے ، بلکہ موجودہ وقت سے ذرا طویل ہی ہوجائے تو زندگی ناپید ہوجائے یہی وجہ ہے کہ اسکے بعد اللہ کے اس فضل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جسکا لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ ان اللہ ۔۔۔۔ لایشکرون (40: 61) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر لوگ شکر ادا نہیں کرتے “۔ اور ان دوفطری مظاہر یعنی گردش ونہار کے بعد یہ تصریح کردی جاتی ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لہٰذا وہی الہہ ہونے کا مستحق ہے اور یہ نام ” اللہ “ ایک عظیم نام ہے۔ ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ توفکون (40: 62) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہر چیز کا خالق ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ، پھر تم کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ یہ ایک نہایت ہی تعجب انگیز اور حیرت افزا بات ہے کہ لوگ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز میں اللہ کا ہاتھ ہے ، اور تمام اشیاء کا موجود ہونا ہی ازروئے عقل اس بات کو فرض کردے کہ اس کا اللہ خالق ہے اور اللہ کے سوا کوئی اور قوت بھی نہ ہو کہ وہ خالق ہونے کی مدعی ہو ، اور یہ بات بھی ذہن میں نہ آتی ہو کہ یہ چیزیں خود بخود وجود میں آگئی ہوں یہ فی الواقع ایسی عجیب بات جوہر معقول انسان کے لیے تعجب انگیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے بھی لوگ ایمان لانے سے منہ موڑیں۔ فانی توفکون (40: 62) ” کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ لیکن ، ہو یہی رہا ہے کہ لوگ بدستورمنہ موڑ رہے ہیں جیسا کہ قرآن کے پہلے مخاطب منہ موڑ رہے تھے اور اس کے بعد بھی ہر زمان ومکان میں منہ موڑ رہے ہیں۔ بغیر حجت اور بغیر دلیل کے۔ کذٰلک ۔۔۔۔ یجحدون (40: 63) ” اسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جارہے ہیں ، جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے “۔ اب سیاق کلام اس طرف آتا ہے کہ اپنی جگہ ٹھیرایا گیا اور آسمان کو چھت کی طرح اوپر ٹھیرایا گیا۔ اللہ الذی۔۔۔۔ بنآء (40: 64) ” وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنادیا “۔ زمین تو برقرار ہے اور انسانوں کی رہائش کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اس میں ایسی بیشمار سہولیات رکھ دی گئی جو انسان کے لیے ضروری ہیں اور جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور آسمان ایک ایسی چھت ہے جس کی نسبتیں متعین اور مقرر ہیں۔ جس کی دوریاں ، حرکتیں اور چکر مقرر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وجہ سے زمین پر انسان کی زندگی کو قرار حاصل ہے اور یہ قرار اور سہولیات اس کائنات کے نقشے کے اندر حساب سے رکھ دی گئی ہیں اور اس کی تعمیر میں انہیں ایک خاص نسبت سے رکھا گیا ہے۔ زمین و آسمان کی تخلیق کے ساتھ ہی انسان کی پیاری صورت اور انسان کے لیے رزق کو بھی مربوط کردیا گیا جیسا کہ ہم نے ان باتوں کی طرف اجمالی اشارہ کردیا ہے۔ وصورکم۔۔۔۔ من الطیبٰت (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا “۔۔۔ اور پھر ان نشانیوں اور مہربانیوں پر یہ تبصرہ : ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ رب العلمین (40: 64) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب ، بےحساب برکتوں والا ہے۔ وہ کائنات کا رب ہے “۔ یہ اللہ جو تخلیق کرتا ہے ، جو انداز سے تخلیق کرتا ہے اور پھر اپنی مخلوقات کا مدبر بھی ہے۔ وہ تمہاری نگہبانی کرتا ہے اور تمہیں اس نے اپنی اس مخلوق میں بسایا ہے۔ یہ ہے تمہارا رب ، برکتوں والا ، اور بہت بہت برکتوں والا اور تمام جہانوں والا ، جن کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے۔ ھوالحی (40: 65) ” وہی زندہ ہے “۔ ہاں ، وہی اکیلا زندہ ہے۔ اس کی ذاتی زندگی ہے ، کسی سے لی نہیں گئی ، کسی کی تخلیق کردہ نہیں ہے۔ نہ اس کی ابتداء اور نہ انتہا ہے نہ اس کے درمیان کوئی حائل ہے اور نہ وہ زائل ہونے والی ہے۔ نہ اس میں کوئی انقلاب آتا ہے اور نہ تغیر۔ اللہ کے سوا کسی کو یہ صفات حاصل نہیں ہیں۔ اللہ پاک ہی منفرد ہے ان صفات میں۔ لہٰذا وہی منفرد ہے الوہیت میں ۔ اس لیے کہ زندہ وہی ہے۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ وہی واحدوقہار ہو۔ لآ الٰه الاھو (40: 65) ” نہیں کوئی الٰہ مگر وہ “ تو پھر صرف : فادعوہ مخلصین له الدین (40: 65) ” اسی کو تم پکارو ، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے “۔ اس کی حمد کرو ، اس سے دعا کرو ، الحمدللہ رب العٰلمین (40: 65) ” ساری تعریف اللہ رن العالمین ہی کے لیے ہے “۔ ان نشانیوں اور مہربانیوں کے تذکرے اور ان پر تبصرے کے بعد اور حقیقت الوہیت اور عقیدۂ توحید اور مظاہر ربوبیت کی تشریح کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ ان نشانیوں اور دلائل کی بناپر میں روک دیا گیا ہون کہ میں تمہارے معبودوں کی بندگی کروں مجھے تو حکم دیدیا گیا کہ صرف رب العالمین کے سامنے سرتسلیم خم کردوں۔

غافر 40:63

آیت نمبر 61 تا 64 گزرش لیل ونہار تو دو کائناتی مظاہر ہیں جبکہ زمین آسمان دو کائناتی تخلیقات ہیں۔ ان دونوں کو یہاں ذکر کرکے پھر بتایا جاتا ہے کہ اس لیل ونہار اور ارض وسماء کے اندر اللہ نے تمہاری خوبصورت شکلیں پیدا کیں اور پھر تمہارے لیے اس جہاں میں قسم قسم کے رزق پیدا کیے۔ یہ ہے تمہارا رب اور یہ ہیں اس کے کارنامے۔ بڑی ہی برکتوں والا ہے رب العالمین ! وہی زندہ ہے اور اس کے سوا کوئی زندہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل ہے۔ لہٰذا اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کائناتی مظاہر اور ان تکوینی معافی اور اللہ کی ان تخلیقات کو اللہ کی توحید اور اللہ کے نظام زندگی کے حوالے سے وسیع دائرہ میں پڑھنا ، ان پر تدبر کرنا اور توحید اور شریعت کے ساتھ ان کا ربط پانا ضروری ہے۔ اور یہ دیکھنا کہ اس تکوینی نظام کے درمیان ہم آہنگی کیا ہے۔ یہ کائنات اللہ نے جس اصول پر بنائی ہے ، پھر اللہ نے اسے جس ناموس فطرت کے مطابق چلایا ہے ، وہی اللہ ہے جس نے اس کراۂ ارض پر زندگی کو چلایا ، اس کی ترقی اور نشوونما کا انتظام فرمایا۔ پھر یہ وہی ذات باری ہے جس نے انسان کو اس کی موجود شکل عطا فرمائی جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اور انسان کی تخلیق اور اس کی حیات کے لیے ضروری امور کو اس کائنات کے اندر ملحوظ رکھا۔ وہی تو ہے جس نے رات کو سکون ، آرام اور راحت کے لیے بنایا۔ اور دن روشن ، دیکھنے کے لیے معاون اور دوڑ دھوپ کے لیے بنایا۔ اور زمین کو زندگی کے قابل اور چلنے پھرنے کے اہل بنایا اور آسمان کو ایک چھت کی طرح بنایا کہ وہ بلندیوں پر سیاروں اور ستاروں کو لیے ہوئے ہے ، جو گرتے نہیں۔ اور جن کی دوریاں بھی باہم ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا کر خلل ڈالتیں۔ اگر ان دوریوں میں پھر فرق پڑجائے تو اس چھوٹے سے کرۂ ارض پر انسان کے وجود کے اندر خلل واقع ہوجائے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے اس زمین پر پاک خوراک پیدا کی۔ یہ رزق اسی زمین سے پیدا کیا۔ یہ رزق آسمانون سے بارشوں کی شکل میں نازل ہوتا ہے اور لوگ اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ اور انسانی صورتیں کس قدر خوبصورت اور رنگا رنگ ہیں۔ اور پھر وہی ہے جس نے انسان کے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کیں جو اس کائنات کے ساتھ متفق ہیں۔ اور یہ صلاحیتیں اس زمین پر رہنے کے لیے کافی ہیں۔ پھر یہ صلاحیتیں اس پوری کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں۔ تو یہ تمام امور باہم مربوط اور موافق ہیں جیسا کہ ہر شخص ملاحظہ کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام امور کو قرآن ایک ہی جگہ لیتا ہے۔ اسی ترتیب اور ربط سے لیتا ہے اور ان اموردے وحدانیت پر برہان قاطع پیش کرتا ہے۔ اور ان امور ہی کی روشنی میں قلب انسانی کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ وحدہ کو پکارو۔ اور دین اور نظام زندگی صرف اسی کارائج کرو۔ اور آخر میں کہا جاتا ہے ، الحمدللہ رب العالمین ! اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ رب العالمین وہی ذات ہوسکتی ہے جس نے ان تمام چیزوں کو اس طرح پیدا کیا۔ یہی ہے الٰہ ، رب العالمین ، لہٰذا تعجب ہے کہ لوگ اس عظیم سچائی سے کس طرح منہ موڑتے ہیں۔ یہاں ہم سرسری طور پر وہ جھلکیاں دیتے ہیں جو خود بتائیں گی کہ اس کائنات کی ساخت میں ، اور انسان کی زندگی کے ساتھ اس کے تعلق میں یہ امور ملحوظ رکھے گئے ہیں۔ اللہ نے یہاں جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ، اس سمت میں چند لمحات۔ ” یہ زمین سورج کے سامنے گردش محوری کررہی ہے جس کے نتیجے میں لیل ونہار کا نظام وجود میں آیا ہے ، اگر اپنی گردش کی موجودہ رفتار سے اس کی رفتار قدرے تیز ہوجائے تو تمام مکانات گرجائیں ، اس زمین کے اجزاء ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور فضائے آسمانی میں بکھر جائیں “۔ ” اور اگر یہ زمین موجود گردش محوری کی رفتار ذراکم کردے تو لوگ گرمی یا سردی سے ہلاک ہوجائیں۔ زمین کی موجودہ گردش محوری ایسی بنائی گئی ہے کہ یہ اس زمین کے اوپر حیوانی اور نباتاتی زندگی کے ساتھ ہم آہنگ اور ان کے لیے اپنے وسیع معنوں میں مفید ہے “۔ ” اور اگر زمین گردش محوری صرف رک جائے تو بخارات ختم ہوجائیں اور سمندر پانیوں سے خالی ہوجائیں “۔ ” اگر زمین گردش محوری ختم کردے اور سورج کے اردگرد اپنی گردش سالانہ جاری رکھے تو کیا ہوگا۔ تمام فصلیں ختم ہوجائیں ، لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ گرمیاں کہاں ہیں اور سردیاں کب ہوئیں اور ربیع وخریف ختم ہوجائے “۔ ” اگر زمین کا چھلکا چند قدم اور دبیز ہوتا تو بعض گیسوں کے جذب کرلینے کی وجہ سے نباتات ختم ہوجائے “۔ ” زمین کے اوپر کرۂ ہوائی جس قدر بلندی پر ہے اگر اس سے مزید بلند ہوجائے تو آج کل لاکھوں کے حساب سے ہوا میں جو شہاب ثاقب جل جاتے ہیں ، وہ سب کے سب کرۂ ارض پر گرنے لگتے ، ان کی رفتار 46 میل فی سکینڈ ہوتی ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اوپر ان تمام چیزوں کو جلا کر رکھ دیں گے جو جلنے کے قابل ہیں۔ اور اگر یہ شہاب بندوق کی گولی کی رفتار سے بھی چلیں تب بھی سب کے سب زمین سے ٹکڑا جائیں۔ اور اس کے نتائج نہایت ہی خوفناک ہوں۔ انسان بیچارے کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ایک چھوٹا سا شہاب جس کی رفتار بندوق کی گولی سے ستر مرتبہ زیادہ ہو ، اس زمین سے بھی ٹکرا جائے تو اس شہاب کے گزرنے سے جو حرارت پیدا ہوگی ، صرف اس حرارت ہی سے اس کے اجزائے جسم بکھر کر رہ جائیں “۔ ” اس وقت ہوا میں آکسیجن کی نسبت 21 فیصد ہے اگر یہ 50 فیصد ہوجائے تو جل جانے کی قابل تمام چیزیں آگ پکڑ لیں اور جل جائیں۔ بس آگ کی ایک چنگاری لگتے ہی تمام جنگلات جل جائیں بلکہ بھک سے اڑجائیں۔ اگر ہوا کی آکسیجن کم ہوکر 10 فیصد ہوجائے یا اس سے کم ہوجائے تو کرۂ ارض کی زندگی شاید ایک طویل عرصہ بعد اپنے آپ کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کر ہی لے لیکن وہ تمام سہولیات ختم ہوجائیں جن کی وجہ سے انسان متمدن قرار پاتا ہے مثلاًآگ وغیرہ “۔ غرض اس کائنات کی تخلیق وتشکیل میں ہزاروں ایسی ممد اور معاون چیزیں ، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ رکھی ہوئی نظر آتی ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک چیز میں معمولی خلل آجائے تو ہماری زندگی اپنی موجودہ شکل میں نہ رہے۔ اسی طرح دوسرے حیوانات کی زندگی کی موجودہ شکل بھی نہ رہے۔ رہا انسان تو اس کی توبہ پیاری پیاری صورت ہی ایسی ہے ، جو نہایت ہی منفرد انداز میں ہے اور تمام زندہ اشیاء میں ممتاز ہے۔ یہ ایک اس قدر کامل اور مکمل تخلیق ہے کہ وہ اپنے تمام فرائض نہایت ہی سہولت اور باریکی سے ادا کرتی ہے۔ اس کی یہ تخلیق اس کی زمین کے اوپر حرکت اور وہ حالات جن میں اس کے لیے زندہ رہنا اور کام کرنا آسان بنایا گیا ہے ، پھر اس کی اعلیٰ وارفع خصوصیت جس کے ذریعہ اسے تمام روئے زمین کی مخلوقات کا سردار بنایا گیا ہے اور اسے منصب خلافت ارضی دی گئی ہے اور اس منصب کے فرائض کی ادائیگی کے لئے اسے عقل وخرد سے نوازا گیا ہے۔ اور پھر رب تعالیٰ کے ساتھ اسے رابطے کا اعزاز دیا ہے۔ یہ تو انسان کی ممتاز ترین خصوصیات ہیں۔ اب ذرا ذات انسان کی طرف آئے اگر انسانی ذات اس کے اعضاء ، اور ان کے فرائض کی باریکی پر بحث کریں ، جو اس آیت کا مفہوم بھی ہے۔ وصورکم فاحسن صورکم (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بہت ہی عمدہ بنائی “۔ تو ہمیں انسان کے چھوٹے چھوٹے اعضاء میں سے ہر ایک کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بلکہ انسان کے خلیات میں سے ہر ایک خلیے پر بحث کرنی ہوگی۔ ایک ہی مثال سے تخلیق انسانی اور جسم انسانی کی گہری ٹیکنالوجی کا پتہ چل سکتا ہے۔ انسان کے جبڑے کو لیجئے اور اس کے اندر دانتوں کی تنصیب کو اگر آلہ خوراک کے زاویہ سے دیکھا جائے تو یہ اس قدر حساس ہیں کہ اگر زبان یا لعاب میں 10/1 ملی میٹر کی حد تک ابھار آجائے تو یہ جبڑے زبان اور لعاب کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اور اگر کسی دانت میں اسی قدر ابھار آجائے تو وہ اپنے مقابل جسم کے ساتھ ٹکرانا شروع کردے اور اگر دوجبڑوں کے درمیان سگریٹ کے کاغذ جتنا موٹا کاغذ آجائے تو وہ دونوں جبڑوں کا دباؤ محسوس کرے گا۔ اور اس پر بھی دونوں جبڑوں کا دباؤ ہوگا کیونکہ دونوں جبڑوں کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ جب یہ دونوں ملتے ہیں تو دونوں طرف کے دانت پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ یوں یہ پینے اور چبانے کا عمل کرتے ہیں اور ایسی چیزوں کو بھی چبالیتے ہیں جن کا موٹاپا سگریٹ کے ابری کاغذ جیسا باریک ہو۔ پھر اسی انسان کو اپنی اس ساخت کے ساتھ ، اس زمین پر رہنے کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں کہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس کی آنکھوں کو روشنی کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ دیکھنے کا کام کریں۔ اور اس کے کانوں کو ہوا اور آواز کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ سننے کا کام کریں۔ غرض اس کے تمام اعضاء اور حواس کو اس فضا کے مطابق بناتا گیا ہے جس کے اندر اس نے زندگی بسر کرنا ہے اور اسے یہ طاقت بھی دی گئی ہے کہ وہ ایک حد تک اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال سکے۔ غرض اسے اس زمین کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس سے متاثر ہو ، اس کو متاثر کرے۔ غرض یہ ماحول جس میں انسان رہتا ہے ، اس کے اور انسان کی تخلیق کے درمیان گہری منصوبہ بندی موجود ہے۔ پھر انسان کی موجودہ شکل و صورت کا بھی اس کے موجودہ ماحول کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس کی ساخت کو اس ماحول کے مطابق بنایا گیا ہے ، جہاں وہ رہتا ہے ، یعنی اس زمین و آسمان کے مطابق ۔ اس لیے یہاں اللہ نے انسان کی اسی شکل کا ذکر اس آیت کے درمیان کیا ہے جس میں زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر ہے۔ اب قرآنی آیات کی قدرے تشریح۔ اللہ الذی۔۔۔۔ مبصرا (40: 61) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو ، اور دن کو روشن کیا “۔ رات کو سکون کرنا ہر زندہ چیز کے لیے ضروری ہے۔ نیز ایک تاریکی کا عرصہ ضروری ہے تاکہ اس میں زندہ خلیے آرام کرسکیں اور اس وقت کے بعد پھر روشنی میں کام شروع کرسکیں۔ صرف نیند ہی کافی نہیں ہے تاریکی بھی ضروری ہے۔ بلکہ رات ضروری ہے۔ کیونکہ زندہ خلیہ روشنی کو برداشت کرتے کرتے اس قدر تھک جاتا ہے کہ اس کے اعصاب تلف ہونا شروع ہوجاتے ہیں چونکہ روشنی میں اسے آرام نہیں مل سکتا۔ لہٰذا رات کی تاریکی ضروری ہے۔ والنھار مبصرا (40: 61) ” دن کو روشن کیا “۔ انداز تعبیر بالکل شخص ہے گویا دن ایک شخص ہے جو دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ دن میں دیکھتے ہیں۔ یہ تو ہے دن کی غالب افادیت اور صفت۔۔۔ لیکن گردش لیل ونہار کا یہ نظام ایک نعمت ہے جو اپنے اندر مزید نعمتیں پوشیدہ رکھتی ہے۔ اگر رات اور دن میں سے کوئی ایک دائمی ہوجائے ، بلکہ موجودہ وقت سے ذرا طویل ہی ہوجائے تو زندگی ناپید ہوجائے یہی وجہ ہے کہ اسکے بعد اللہ کے اس فضل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جسکا لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ ان اللہ ۔۔۔۔ لایشکرون (40: 61) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر لوگ شکر ادا نہیں کرتے “۔ اور ان دوفطری مظاہر یعنی گردش ونہار کے بعد یہ تصریح کردی جاتی ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لہٰذا وہی الہہ ہونے کا مستحق ہے اور یہ نام ” اللہ “ ایک عظیم نام ہے۔ ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ توفکون (40: 62) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہر چیز کا خالق ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ، پھر تم کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ یہ ایک نہایت ہی تعجب انگیز اور حیرت افزا بات ہے کہ لوگ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز میں اللہ کا ہاتھ ہے ، اور تمام اشیاء کا موجود ہونا ہی ازروئے عقل اس بات کو فرض کردے کہ اس کا اللہ خالق ہے اور اللہ کے سوا کوئی اور قوت بھی نہ ہو کہ وہ خالق ہونے کی مدعی ہو ، اور یہ بات بھی ذہن میں نہ آتی ہو کہ یہ چیزیں خود بخود وجود میں آگئی ہوں یہ فی الواقع ایسی عجیب بات جوہر معقول انسان کے لیے تعجب انگیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے بھی لوگ ایمان لانے سے منہ موڑیں۔ فانی توفکون (40: 62) ” کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ لیکن ، ہو یہی رہا ہے کہ لوگ بدستورمنہ موڑ رہے ہیں جیسا کہ قرآن کے پہلے مخاطب منہ موڑ رہے تھے اور اس کے بعد بھی ہر زمان ومکان میں منہ موڑ رہے ہیں۔ بغیر حجت اور بغیر دلیل کے۔ کذٰلک ۔۔۔۔ یجحدون (40: 63) ” اسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جارہے ہیں ، جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے “۔ اب سیاق کلام اس طرف آتا ہے کہ اپنی جگہ ٹھیرایا گیا اور آسمان کو چھت کی طرح اوپر ٹھیرایا گیا۔ اللہ الذی۔۔۔۔ بنآء (40: 64) ” وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنادیا “۔ زمین تو برقرار ہے اور انسانوں کی رہائش کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اس میں ایسی بیشمار سہولیات رکھ دی گئی جو انسان کے لیے ضروری ہیں اور جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور آسمان ایک ایسی چھت ہے جس کی نسبتیں متعین اور مقرر ہیں۔ جس کی دوریاں ، حرکتیں اور چکر مقرر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وجہ سے زمین پر انسان کی زندگی کو قرار حاصل ہے اور یہ قرار اور سہولیات اس کائنات کے نقشے کے اندر حساب سے رکھ دی گئی ہیں اور اس کی تعمیر میں انہیں ایک خاص نسبت سے رکھا گیا ہے۔ زمین و آسمان کی تخلیق کے ساتھ ہی انسان کی پیاری صورت اور انسان کے لیے رزق کو بھی مربوط کردیا گیا جیسا کہ ہم نے ان باتوں کی طرف اجمالی اشارہ کردیا ہے۔ وصورکم۔۔۔۔ من الطیبٰت (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا “۔۔۔ اور پھر ان نشانیوں اور مہربانیوں پر یہ تبصرہ : ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ رب العلمین (40: 64) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب ، بےحساب برکتوں والا ہے۔ وہ کائنات کا رب ہے “۔ یہ اللہ جو تخلیق کرتا ہے ، جو انداز سے تخلیق کرتا ہے اور پھر اپنی مخلوقات کا مدبر بھی ہے۔ وہ تمہاری نگہبانی کرتا ہے اور تمہیں اس نے اپنی اس مخلوق میں بسایا ہے۔ یہ ہے تمہارا رب ، برکتوں والا ، اور بہت بہت برکتوں والا اور تمام جہانوں والا ، جن کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے۔ ھوالحی (40: 65) ” وہی زندہ ہے “۔ ہاں ، وہی اکیلا زندہ ہے۔ اس کی ذاتی زندگی ہے ، کسی سے لی نہیں گئی ، کسی کی تخلیق کردہ نہیں ہے۔ نہ اس کی ابتداء اور نہ انتہا ہے نہ اس کے درمیان کوئی حائل ہے اور نہ وہ زائل ہونے والی ہے۔ نہ اس میں کوئی انقلاب آتا ہے اور نہ تغیر۔ اللہ کے سوا کسی کو یہ صفات حاصل نہیں ہیں۔ اللہ پاک ہی منفرد ہے ان صفات میں۔ لہٰذا وہی منفرد ہے الوہیت میں ۔ اس لیے کہ زندہ وہی ہے۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ وہی واحدوقہار ہو۔ لآ الٰه الاھو (40: 65) ” نہیں کوئی الٰہ مگر وہ “ تو پھر صرف : فادعوہ مخلصین له الدین (40: 65) ” اسی کو تم پکارو ، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے “۔ اس کی حمد کرو ، اس سے دعا کرو ، الحمدللہ رب العٰلمین (40: 65) ” ساری تعریف اللہ رن العالمین ہی کے لیے ہے “۔ ان نشانیوں اور مہربانیوں کے تذکرے اور ان پر تبصرے کے بعد اور حقیقت الوہیت اور عقیدۂ توحید اور مظاہر ربوبیت کی تشریح کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ ان نشانیوں اور دلائل کی بناپر میں روک دیا گیا ہون کہ میں تمہارے معبودوں کی بندگی کروں مجھے تو حکم دیدیا گیا کہ صرف رب العالمین کے سامنے سرتسلیم خم کردوں۔

غافر 40:64

آیت نمبر 61 تا 64 گزرش لیل ونہار تو دو کائناتی مظاہر ہیں جبکہ زمین آسمان دو کائناتی تخلیقات ہیں۔ ان دونوں کو یہاں ذکر کرکے پھر بتایا جاتا ہے کہ اس لیل ونہار اور ارض وسماء کے اندر اللہ نے تمہاری خوبصورت شکلیں پیدا کیں اور پھر تمہارے لیے اس جہاں میں قسم قسم کے رزق پیدا کیے۔ یہ ہے تمہارا رب اور یہ ہیں اس کے کارنامے۔ بڑی ہی برکتوں والا ہے رب العالمین ! وہی زندہ ہے اور اس کے سوا کوئی زندہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل ہے۔ لہٰذا اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کائناتی مظاہر اور ان تکوینی معافی اور اللہ کی ان تخلیقات کو اللہ کی توحید اور اللہ کے نظام زندگی کے حوالے سے وسیع دائرہ میں پڑھنا ، ان پر تدبر کرنا اور توحید اور شریعت کے ساتھ ان کا ربط پانا ضروری ہے۔ اور یہ دیکھنا کہ اس تکوینی نظام کے درمیان ہم آہنگی کیا ہے۔ یہ کائنات اللہ نے جس اصول پر بنائی ہے ، پھر اللہ نے اسے جس ناموس فطرت کے مطابق چلایا ہے ، وہی اللہ ہے جس نے اس کراۂ ارض پر زندگی کو چلایا ، اس کی ترقی اور نشوونما کا انتظام فرمایا۔ پھر یہ وہی ذات باری ہے جس نے انسان کو اس کی موجود شکل عطا فرمائی جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اور انسان کی تخلیق اور اس کی حیات کے لیے ضروری امور کو اس کائنات کے اندر ملحوظ رکھا۔ وہی تو ہے جس نے رات کو سکون ، آرام اور راحت کے لیے بنایا۔ اور دن روشن ، دیکھنے کے لیے معاون اور دوڑ دھوپ کے لیے بنایا۔ اور زمین کو زندگی کے قابل اور چلنے پھرنے کے اہل بنایا اور آسمان کو ایک چھت کی طرح بنایا کہ وہ بلندیوں پر سیاروں اور ستاروں کو لیے ہوئے ہے ، جو گرتے نہیں۔ اور جن کی دوریاں بھی باہم ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا کر خلل ڈالتیں۔ اگر ان دوریوں میں پھر فرق پڑجائے تو اس چھوٹے سے کرۂ ارض پر انسان کے وجود کے اندر خلل واقع ہوجائے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے اس زمین پر پاک خوراک پیدا کی۔ یہ رزق اسی زمین سے پیدا کیا۔ یہ رزق آسمانون سے بارشوں کی شکل میں نازل ہوتا ہے اور لوگ اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ اور انسانی صورتیں کس قدر خوبصورت اور رنگا رنگ ہیں۔ اور پھر وہی ہے جس نے انسان کے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کیں جو اس کائنات کے ساتھ متفق ہیں۔ اور یہ صلاحیتیں اس زمین پر رہنے کے لیے کافی ہیں۔ پھر یہ صلاحیتیں اس پوری کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں۔ تو یہ تمام امور باہم مربوط اور موافق ہیں جیسا کہ ہر شخص ملاحظہ کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام امور کو قرآن ایک ہی جگہ لیتا ہے۔ اسی ترتیب اور ربط سے لیتا ہے اور ان اموردے وحدانیت پر برہان قاطع پیش کرتا ہے۔ اور ان امور ہی کی روشنی میں قلب انسانی کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ وحدہ کو پکارو۔ اور دین اور نظام زندگی صرف اسی کارائج کرو۔ اور آخر میں کہا جاتا ہے ، الحمدللہ رب العالمین ! اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ رب العالمین وہی ذات ہوسکتی ہے جس نے ان تمام چیزوں کو اس طرح پیدا کیا۔ یہی ہے الٰہ ، رب العالمین ، لہٰذا تعجب ہے کہ لوگ اس عظیم سچائی سے کس طرح منہ موڑتے ہیں۔ یہاں ہم سرسری طور پر وہ جھلکیاں دیتے ہیں جو خود بتائیں گی کہ اس کائنات کی ساخت میں ، اور انسان کی زندگی کے ساتھ اس کے تعلق میں یہ امور ملحوظ رکھے گئے ہیں۔ اللہ نے یہاں جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ، اس سمت میں چند لمحات۔ ” یہ زمین سورج کے سامنے گردش محوری کررہی ہے جس کے نتیجے میں لیل ونہار کا نظام وجود میں آیا ہے ، اگر اپنی گردش کی موجودہ رفتار سے اس کی رفتار قدرے تیز ہوجائے تو تمام مکانات گرجائیں ، اس زمین کے اجزاء ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور فضائے آسمانی میں بکھر جائیں “۔ ” اور اگر یہ زمین موجود گردش محوری کی رفتار ذراکم کردے تو لوگ گرمی یا سردی سے ہلاک ہوجائیں۔ زمین کی موجودہ گردش محوری ایسی بنائی گئی ہے کہ یہ اس زمین کے اوپر حیوانی اور نباتاتی زندگی کے ساتھ ہم آہنگ اور ان کے لیے اپنے وسیع معنوں میں مفید ہے “۔ ” اور اگر زمین گردش محوری صرف رک جائے تو بخارات ختم ہوجائیں اور سمندر پانیوں سے خالی ہوجائیں “۔ ” اگر زمین گردش محوری ختم کردے اور سورج کے اردگرد اپنی گردش سالانہ جاری رکھے تو کیا ہوگا۔ تمام فصلیں ختم ہوجائیں ، لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ گرمیاں کہاں ہیں اور سردیاں کب ہوئیں اور ربیع وخریف ختم ہوجائے “۔ ” اگر زمین کا چھلکا چند قدم اور دبیز ہوتا تو بعض گیسوں کے جذب کرلینے کی وجہ سے نباتات ختم ہوجائے “۔ ” زمین کے اوپر کرۂ ہوائی جس قدر بلندی پر ہے اگر اس سے مزید بلند ہوجائے تو آج کل لاکھوں کے حساب سے ہوا میں جو شہاب ثاقب جل جاتے ہیں ، وہ سب کے سب کرۂ ارض پر گرنے لگتے ، ان کی رفتار 46 میل فی سکینڈ ہوتی ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اوپر ان تمام چیزوں کو جلا کر رکھ دیں گے جو جلنے کے قابل ہیں۔ اور اگر یہ شہاب بندوق کی گولی کی رفتار سے بھی چلیں تب بھی سب کے سب زمین سے ٹکڑا جائیں۔ اور اس کے نتائج نہایت ہی خوفناک ہوں۔ انسان بیچارے کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ایک چھوٹا سا شہاب جس کی رفتار بندوق کی گولی سے ستر مرتبہ زیادہ ہو ، اس زمین سے بھی ٹکرا جائے تو اس شہاب کے گزرنے سے جو حرارت پیدا ہوگی ، صرف اس حرارت ہی سے اس کے اجزائے جسم بکھر کر رہ جائیں “۔ ” اس وقت ہوا میں آکسیجن کی نسبت 21 فیصد ہے اگر یہ 50 فیصد ہوجائے تو جل جانے کی قابل تمام چیزیں آگ پکڑ لیں اور جل جائیں۔ بس آگ کی ایک چنگاری لگتے ہی تمام جنگلات جل جائیں بلکہ بھک سے اڑجائیں۔ اگر ہوا کی آکسیجن کم ہوکر 10 فیصد ہوجائے یا اس سے کم ہوجائے تو کرۂ ارض کی زندگی شاید ایک طویل عرصہ بعد اپنے آپ کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کر ہی لے لیکن وہ تمام سہولیات ختم ہوجائیں جن کی وجہ سے انسان متمدن قرار پاتا ہے مثلاًآگ وغیرہ “۔ غرض اس کائنات کی تخلیق وتشکیل میں ہزاروں ایسی ممد اور معاون چیزیں ، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ رکھی ہوئی نظر آتی ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک چیز میں معمولی خلل آجائے تو ہماری زندگی اپنی موجودہ شکل میں نہ رہے۔ اسی طرح دوسرے حیوانات کی زندگی کی موجودہ شکل بھی نہ رہے۔ رہا انسان تو اس کی توبہ پیاری پیاری صورت ہی ایسی ہے ، جو نہایت ہی منفرد انداز میں ہے اور تمام زندہ اشیاء میں ممتاز ہے۔ یہ ایک اس قدر کامل اور مکمل تخلیق ہے کہ وہ اپنے تمام فرائض نہایت ہی سہولت اور باریکی سے ادا کرتی ہے۔ اس کی یہ تخلیق اس کی زمین کے اوپر حرکت اور وہ حالات جن میں اس کے لیے زندہ رہنا اور کام کرنا آسان بنایا گیا ہے ، پھر اس کی اعلیٰ وارفع خصوصیت جس کے ذریعہ اسے تمام روئے زمین کی مخلوقات کا سردار بنایا گیا ہے اور اسے منصب خلافت ارضی دی گئی ہے اور اس منصب کے فرائض کی ادائیگی کے لئے اسے عقل وخرد سے نوازا گیا ہے۔ اور پھر رب تعالیٰ کے ساتھ اسے رابطے کا اعزاز دیا ہے۔ یہ تو انسان کی ممتاز ترین خصوصیات ہیں۔ اب ذرا ذات انسان کی طرف آئے اگر انسانی ذات اس کے اعضاء ، اور ان کے فرائض کی باریکی پر بحث کریں ، جو اس آیت کا مفہوم بھی ہے۔ وصورکم فاحسن صورکم (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بہت ہی عمدہ بنائی “۔ تو ہمیں انسان کے چھوٹے چھوٹے اعضاء میں سے ہر ایک کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بلکہ انسان کے خلیات میں سے ہر ایک خلیے پر بحث کرنی ہوگی۔ ایک ہی مثال سے تخلیق انسانی اور جسم انسانی کی گہری ٹیکنالوجی کا پتہ چل سکتا ہے۔ انسان کے جبڑے کو لیجئے اور اس کے اندر دانتوں کی تنصیب کو اگر آلہ خوراک کے زاویہ سے دیکھا جائے تو یہ اس قدر حساس ہیں کہ اگر زبان یا لعاب میں 10/1 ملی میٹر کی حد تک ابھار آجائے تو یہ جبڑے زبان اور لعاب کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اور اگر کسی دانت میں اسی قدر ابھار آجائے تو وہ اپنے مقابل جسم کے ساتھ ٹکرانا شروع کردے اور اگر دوجبڑوں کے درمیان سگریٹ کے کاغذ جتنا موٹا کاغذ آجائے تو وہ دونوں جبڑوں کا دباؤ محسوس کرے گا۔ اور اس پر بھی دونوں جبڑوں کا دباؤ ہوگا کیونکہ دونوں جبڑوں کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ جب یہ دونوں ملتے ہیں تو دونوں طرف کے دانت پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ یوں یہ پینے اور چبانے کا عمل کرتے ہیں اور ایسی چیزوں کو بھی چبالیتے ہیں جن کا موٹاپا سگریٹ کے ابری کاغذ جیسا باریک ہو۔ پھر اسی انسان کو اپنی اس ساخت کے ساتھ ، اس زمین پر رہنے کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں کہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس کی آنکھوں کو روشنی کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ دیکھنے کا کام کریں۔ اور اس کے کانوں کو ہوا اور آواز کی لہروں پر بنایا گیا ہے تاکہ یہ سننے کا کام کریں۔ غرض اس کے تمام اعضاء اور حواس کو اس فضا کے مطابق بناتا گیا ہے جس کے اندر اس نے زندگی بسر کرنا ہے اور اسے یہ طاقت بھی دی گئی ہے کہ وہ ایک حد تک اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال سکے۔ غرض اسے اس زمین کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ یہاں زندہ رہے۔ اس سے متاثر ہو ، اس کو متاثر کرے۔ غرض یہ ماحول جس میں انسان رہتا ہے ، اس کے اور انسان کی تخلیق کے درمیان گہری منصوبہ بندی موجود ہے۔ پھر انسان کی موجودہ شکل و صورت کا بھی اس کے موجودہ ماحول کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس کی ساخت کو اس ماحول کے مطابق بنایا گیا ہے ، جہاں وہ رہتا ہے ، یعنی اس زمین و آسمان کے مطابق ۔ اس لیے یہاں اللہ نے انسان کی اسی شکل کا ذکر اس آیت کے درمیان کیا ہے جس میں زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر ہے۔ اب قرآنی آیات کی قدرے تشریح۔ اللہ الذی۔۔۔۔ مبصرا (40: 61) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو ، اور دن کو روشن کیا “۔ رات کو سکون کرنا ہر زندہ چیز کے لیے ضروری ہے۔ نیز ایک تاریکی کا عرصہ ضروری ہے تاکہ اس میں زندہ خلیے آرام کرسکیں اور اس وقت کے بعد پھر روشنی میں کام شروع کرسکیں۔ صرف نیند ہی کافی نہیں ہے تاریکی بھی ضروری ہے۔ بلکہ رات ضروری ہے۔ کیونکہ زندہ خلیہ روشنی کو برداشت کرتے کرتے اس قدر تھک جاتا ہے کہ اس کے اعصاب تلف ہونا شروع ہوجاتے ہیں چونکہ روشنی میں اسے آرام نہیں مل سکتا۔ لہٰذا رات کی تاریکی ضروری ہے۔ والنھار مبصرا (40: 61) ” دن کو روشن کیا “۔ انداز تعبیر بالکل شخص ہے گویا دن ایک شخص ہے جو دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ دن میں دیکھتے ہیں۔ یہ تو ہے دن کی غالب افادیت اور صفت۔۔۔ لیکن گردش لیل ونہار کا یہ نظام ایک نعمت ہے جو اپنے اندر مزید نعمتیں پوشیدہ رکھتی ہے۔ اگر رات اور دن میں سے کوئی ایک دائمی ہوجائے ، بلکہ موجودہ وقت سے ذرا طویل ہی ہوجائے تو زندگی ناپید ہوجائے یہی وجہ ہے کہ اسکے بعد اللہ کے اس فضل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جسکا لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ ان اللہ ۔۔۔۔ لایشکرون (40: 61) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر لوگ شکر ادا نہیں کرتے “۔ اور ان دوفطری مظاہر یعنی گردش ونہار کے بعد یہ تصریح کردی جاتی ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لہٰذا وہی الہہ ہونے کا مستحق ہے اور یہ نام ” اللہ “ ایک عظیم نام ہے۔ ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ توفکون (40: 62) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہر چیز کا خالق ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ، پھر تم کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ یہ ایک نہایت ہی تعجب انگیز اور حیرت افزا بات ہے کہ لوگ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز میں اللہ کا ہاتھ ہے ، اور تمام اشیاء کا موجود ہونا ہی ازروئے عقل اس بات کو فرض کردے کہ اس کا اللہ خالق ہے اور اللہ کے سوا کوئی اور قوت بھی نہ ہو کہ وہ خالق ہونے کی مدعی ہو ، اور یہ بات بھی ذہن میں نہ آتی ہو کہ یہ چیزیں خود بخود وجود میں آگئی ہوں یہ فی الواقع ایسی عجیب بات جوہر معقول انسان کے لیے تعجب انگیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے بھی لوگ ایمان لانے سے منہ موڑیں۔ فانی توفکون (40: 62) ” کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ لیکن ، ہو یہی رہا ہے کہ لوگ بدستورمنہ موڑ رہے ہیں جیسا کہ قرآن کے پہلے مخاطب منہ موڑ رہے تھے اور اس کے بعد بھی ہر زمان ومکان میں منہ موڑ رہے ہیں۔ بغیر حجت اور بغیر دلیل کے۔ کذٰلک ۔۔۔۔ یجحدون (40: 63) ” اسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جارہے ہیں ، جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے “۔ اب سیاق کلام اس طرف آتا ہے کہ اپنی جگہ ٹھیرایا گیا اور آسمان کو چھت کی طرح اوپر ٹھیرایا گیا۔ اللہ الذی۔۔۔۔ بنآء (40: 64) ” وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنادیا “۔ زمین تو برقرار ہے اور انسانوں کی رہائش کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اس میں ایسی بیشمار سہولیات رکھ دی گئی جو انسان کے لیے ضروری ہیں اور جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور آسمان ایک ایسی چھت ہے جس کی نسبتیں متعین اور مقرر ہیں۔ جس کی دوریاں ، حرکتیں اور چکر مقرر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وجہ سے زمین پر انسان کی زندگی کو قرار حاصل ہے اور یہ قرار اور سہولیات اس کائنات کے نقشے کے اندر حساب سے رکھ دی گئی ہیں اور اس کی تعمیر میں انہیں ایک خاص نسبت سے رکھا گیا ہے۔ زمین و آسمان کی تخلیق کے ساتھ ہی انسان کی پیاری صورت اور انسان کے لیے رزق کو بھی مربوط کردیا گیا جیسا کہ ہم نے ان باتوں کی طرف اجمالی اشارہ کردیا ہے۔ وصورکم۔۔۔۔ من الطیبٰت (40: 64) ” جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا “۔۔۔ اور پھر ان نشانیوں اور مہربانیوں پر یہ تبصرہ : ذٰلکم اللہ ۔۔۔۔ رب العلمین (40: 64) ” یہ ہے اللہ تمہارا رب ، بےحساب برکتوں والا ہے۔ وہ کائنات کا رب ہے “۔ یہ اللہ جو تخلیق کرتا ہے ، جو انداز سے تخلیق کرتا ہے اور پھر اپنی مخلوقات کا مدبر بھی ہے۔ وہ تمہاری نگہبانی کرتا ہے اور تمہیں اس نے اپنی اس مخلوق میں بسایا ہے۔ یہ ہے تمہارا رب ، برکتوں والا ، اور بہت بہت برکتوں والا اور تمام جہانوں والا ، جن کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے۔ ھوالحی (40: 65) ” وہی زندہ ہے “۔ ہاں ، وہی اکیلا زندہ ہے۔ اس کی ذاتی زندگی ہے ، کسی سے لی نہیں گئی ، کسی کی تخلیق کردہ نہیں ہے۔ نہ اس کی ابتداء اور نہ انتہا ہے نہ اس کے درمیان کوئی حائل ہے اور نہ وہ زائل ہونے والی ہے۔ نہ اس میں کوئی انقلاب آتا ہے اور نہ تغیر۔ اللہ کے سوا کسی کو یہ صفات حاصل نہیں ہیں۔ اللہ پاک ہی منفرد ہے ان صفات میں۔ لہٰذا وہی منفرد ہے الوہیت میں ۔ اس لیے کہ زندہ وہی ہے۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ وہی واحدوقہار ہو۔ لآ الٰه الاھو (40: 65) ” نہیں کوئی الٰہ مگر وہ “ تو پھر صرف : فادعوہ مخلصین له الدین (40: 65) ” اسی کو تم پکارو ، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے “۔ اس کی حمد کرو ، اس سے دعا کرو ، الحمدللہ رب العٰلمین (40: 65) ” ساری تعریف اللہ رن العالمین ہی کے لیے ہے “۔ ان نشانیوں اور مہربانیوں کے تذکرے اور ان پر تبصرے کے بعد اور حقیقت الوہیت اور عقیدۂ توحید اور مظاہر ربوبیت کی تشریح کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ ان نشانیوں اور دلائل کی بناپر میں روک دیا گیا ہون کہ میں تمہارے معبودوں کی بندگی کروں مجھے تو حکم دیدیا گیا کہ صرف رب العالمین کے سامنے سرتسلیم خم کردوں۔

غافر 40:65

آیت نمبر 65 تا 66 یہ اعلان ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی آیات سے منہ موڑتے ہیں اور اللہ کے عطیات کی ناشکری کرتے ہیں ، کہ میں تو ان معبودوں کی بندگی سے منع کردیا گیا ہوں جن کو تم پکارتے ہو۔ لہٰذا میں منع ہوگیا ہوں۔ اس لیے کہ میرے پاس نشانات آگئے ہیں اور آئے بھی میرے رب کی طرف سے ہیں۔ میرے پاس دلائل پہنچ چکے ہیں اور میں ان پر ایمان لاچکا ہوں۔ اور اللہ نے میرے پاس جو دلائل بھیجے ہیں ، ان کا حق ہے کہ میں ان پر مطمئن ہوجاؤں اور تصدیق کردوں اور اس سچائی کا اعلان کردوں جو میرے پاس آگئی ہے۔ اور غیر اللہ کی بندگی سے رک جانا ہی کافی نہیں بلکہ رب العالمین کے سامنے سر تسلیم خم کردینا اور ایک مثبت پروگرام شروع کرنا بھی بڑا مشن ہے۔ اس میں ” لا “ بھی ہے اور ” الا “ بھی ہے۔ اور آفاقی دلائل الہیہ کے بیان کے بعد اب انفس کی طرف روئے سخن مڑتا ہے۔ انفس کے دلائل میں سے بڑی دلیل ظہور حیات انسانی ہے اور پھر اس کے ظہور کے عجیب اطوار ودرجات ہیں۔ انسانی حیات کا مطالعہ ایک مقدمہ ہے۔ اس بات کے لیے کہ اس کائنات میں ہر قسم کی حیات درحقیقت اللہ کے دست قدرت کا کرشمہ ہے اور اس کی مٹھی میں ہے۔

غافر 40:66

آیت نمبر 65 تا 66 یہ اعلان ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی آیات سے منہ موڑتے ہیں اور اللہ کے عطیات کی ناشکری کرتے ہیں ، کہ میں تو ان معبودوں کی بندگی سے منع کردیا گیا ہوں جن کو تم پکارتے ہو۔ لہٰذا میں منع ہوگیا ہوں۔ اس لیے کہ میرے پاس نشانات آگئے ہیں اور آئے بھی میرے رب کی طرف سے ہیں۔ میرے پاس دلائل پہنچ چکے ہیں اور میں ان پر ایمان لاچکا ہوں۔ اور اللہ نے میرے پاس جو دلائل بھیجے ہیں ، ان کا حق ہے کہ میں ان پر مطمئن ہوجاؤں اور تصدیق کردوں اور اس سچائی کا اعلان کردوں جو میرے پاس آگئی ہے۔ اور غیر اللہ کی بندگی سے رک جانا ہی کافی نہیں بلکہ رب العالمین کے سامنے سر تسلیم خم کردینا اور ایک مثبت پروگرام شروع کرنا بھی بڑا مشن ہے۔ اس میں ” لا “ بھی ہے اور ” الا “ بھی ہے۔ اور آفاقی دلائل الہیہ کے بیان کے بعد اب انفس کی طرف روئے سخن مڑتا ہے۔ انفس کے دلائل میں سے بڑی دلیل ظہور حیات انسانی ہے اور پھر اس کے ظہور کے عجیب اطوار ودرجات ہیں۔ انسانی حیات کا مطالعہ ایک مقدمہ ہے۔ اس بات کے لیے کہ اس کائنات میں ہر قسم کی حیات درحقیقت اللہ کے دست قدرت کا کرشمہ ہے اور اس کی مٹھی میں ہے۔

غافر 40:67

آیت نمبر 67 تا 68 اس کرۂ ارض پر انسانی پیدائش کا ارداک انسانی علم نہیں کرسکتا ، کیونکہ انسان اس وقت نہ تھا جب اسے پیدا کیا گیا تھا ، انسانی پیدائش کے تسلسل میں بعض امور ایسے ہیں جن کا مشاہدہ انسان کرتا ہے لیکن یہ انسانی مشاہدہ اپنی موجودہ ترقی یافتہ شکل میں زمانہ حال میں سامنے آیا ہے ، نزول قرآن کے صدیوں بعد۔ پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور یہ واقعہ اس وقت ہوا جب انسان نہ تھا۔ لیکن معلوم ہوگیا کہ اس کرۂ ارض پر مٹی ہی حیات کی بنیاد ہے۔ اسی سے انسان کو بنایا گیا ہے اور اسے زندگی دی گئی ہے۔ یہ بات اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا کہ یہ معجزہ کس طرح ظہور میں آیا زندگی اور زمین کی تاریخ میں یہ عظیم واقعہ کب اور کس طرح وجود میں آیا۔ رہا نسلوں کا چلنا تو اس کا نظام یوں بنایا گیا کہ مرد کا خلیہ یعنی نطفہ جب عورت کے انڈے سے ملتا ہے اور یہ دونوں آپس میں متحد ہوجاتے ہیں اور رحم میں خون کے ایک لوتھڑے کی شکل میں ٹک جاتے ہیں تو جنین اپنے مراحل طے کرتا ہے اور اپنے آخری مرحلے میں بچہ نمودار ہوتا ہے ۔ پیدا ہونے سے قبل بچے میں بہت بڑے بڑے انقلابات ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ابتدائی خلیے کو غور سے دیکھا جائے تو اس کی زندگی بچے کی زندگی سے زیادہ طویل ہے یعنی ولادت سے لے کر موت تک کے عرصہ سے ، سیاق کلام میں قرآن مجید نے یہاں صرف اس کی بعض ممتاز صفات و مراحل کا ذکر کیا ہے۔ یعنی بچپنے کا مرحلہ۔ پھر سن رشد تک پہنچنا یعنی تیس سال کی عمر تک پھر بڑھاپا۔ یہ وہ مراحل ہیں جنہیں طے کرکے انسان اپنے کمزور ، آغازوانجام کے درمیان اپنی پوری قوت تک پہنچتا ہے۔ ومنکم من یتوفی من قبل (40: 67) ' تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے “۔ اور وہ یہ پورے مراحل طے نہیں کرتا یا بعض مراحل اس سے چھوٹ جاتے ہیں اور وہ فوت ہوجاتا ہے۔ ولتبلغوآ اجلا مسمی (40: 67) ” یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقررہ وقت تک پہنچ جاؤ “۔ یہ وقت مقرر ، طے شدہ اور معلوم ہے۔ اس میں کوئی تقدیم اور تاخیر نہیں ہوتی۔ ولعلکم تعقلون (40: 67) ” اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو “۔ جنین کا سفر طے کرنا ، پھر بچے کا سفر طے کرنا ، پھر ان کی شکل و صورت کا حسن اور ان کی طبیعی نشوونما کے صحیح صحیح اندازے اور اطوار میں سوچنے کا بہت بڑا سامان ہے۔ جنین کا سفر تو نہایت ہی حیرت انگیز سفر ہے۔ علوم طبیہ کی ترقی کے بعد تو اس کے بارے میں ہم نے حیرت انگیز معلومات حاصل کرلی ہیں۔ علوم جنین ایک مستقل شعبہ ہے لیکن قرآن نے جس انداز سے آج سے چودہ سو سال قبل اس کے بعض مراحل کی طرف جس ٹھیک ٹھیک اندازے سے اشارہ کیا ہے ، یہ فکر ونظر کے لیے دامن گیر ہے۔ انسان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان مراحل سے غافل ہوکر گزر جائے اور ان پر گہرا غور وفکر نہ کرے۔ جنین کا سفر اور بچے کا سفر انسانی احساس پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں اور انسانی دل کو خوب جھنجھوڑتے ہیں۔ چاہے عقل ورشد کے جس مرحلے میں بھی وہ ہو۔ ہر نسل انسانی ، اپنی معلومات کے حوالے سے اس سے متاثر ہوتی ہے ، اس لیے قرآن نے انسانی نسلوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے اس لیے کہ اس سے انسان متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ آزاد ہے ، لبیک کہے یا نہ کہے۔ اس بحث کے بعد زندہ کرنے اور مارنے اور تخلیق اور نشوونما کے بارے میں ایک سبق آموز تبصرہ : ھوالذی۔۔۔۔ کن فیکون (40: 68) ” وہی ہے زندگی اور موت دینے والا۔ وہ جس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے بس ایک حکم دیتا ہے کہ وہ ہوجائے اور وہ ہوجاتی ہے “۔ قرآن میں آیات موت وحیات کا بہت ذکر ہوا ہے۔ کیونکہ موت وحیات کا مضمون انسانی شخصیت کو گہرے طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی ممتاز اور باربار دہرائے جانے والے واقعات ہیں اور انسانی حس ان کو بہت ہی قریب سے دیکھتی ہے۔ بادی النظر میں زندہ کرنے اور مارنے سے جو بات انسان کی سمجھ میں آتی ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو حیات وممات کا مفہوم اس سے کہیں گہرا ہے۔ حیات کی بھی کئی اقسام ہیں ، موت کی بھی کئی اقسام ہیں۔ زمین کو ہم مردہ دیکھتے ہیں۔ پھر زمین ہی کو ہم زندہ اور سرسبز دیکھتے ہیں۔ جب مردہ ہو تو درختوں کے پتے نہیں ہوتے ، شاخیں خشک نظر آتی ہیں ، ایک تو یہ موسم ہوتا ہے ، اور جب یہ زندہ ہوتے ہیں تو یہی مردہ شاخیں اور ٹہنیاں سرسبز اور شاداب ہوکر لہلہاتی ہیں۔ ان شاخوں کا انگ انگ پھوٹ جاتا ہے اور پھول اور پتے نکل آتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ زندگی ان شاخوں سے ابلی پڑتی ہے۔ ایک انڈے کو دیکھو ، پھر بچے کو دیکھو ، بیج کو دیکھو اور اگنے والے پودے کو دیکھو ، اور پھر الٹے سفر کو دیکھو کہ یہی زندگی موت میں بدل جاتی ہے اور بچھے ہوئے کھیت سامنے آتے ہیں۔ یہ سب حالات دل اور دماغ کو متاثر کرتے ہیں اور بمو جب ” فکر ہر کس بقدر ہمت اوست “ ہر شخص کا تاثر ہوتا ہے۔ آخر میں موت وحیات سے آگے ، اہم سوال کہ کائنات کس طرح وجود میں آئی ؟ بس اللہ کا ارادہ ہوا ، کن کا حکم ہوا اور سب کچھ ہوگیا یا جو چاہا ہوگیا۔ یہ کائنات ہوتی چلی گئی اور تسلسل قائم ہوتا چلا گیا۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ حیات وممات کے اس منظر کے بعد اور انشاء و تخلیق کے کن فیکون کے بعد ، اللہ کی نشانیوں اور مہربانیوں میں جدل وجدال اور بحث و تکرار لاحاصل اور بہت عجیب و غریب ہے اور رسولوں کے پیغام اور دعوت کی تکذیب اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اب ہوجاؤ خبردار ! ایک خوفناک منظر تمہارے سامنے آنے والا ہے۔ خبردار ! یہ قیامت ہے اور تم نے اس منظر کو دیکھنا ہے ، ذرا دیکھنے سے پہلے ہی دیکھ لو !

غافر 40:68

آیت نمبر 67 تا 68 اس کرۂ ارض پر انسانی پیدائش کا ارداک انسانی علم نہیں کرسکتا ، کیونکہ انسان اس وقت نہ تھا جب اسے پیدا کیا گیا تھا ، انسانی پیدائش کے تسلسل میں بعض امور ایسے ہیں جن کا مشاہدہ انسان کرتا ہے لیکن یہ انسانی مشاہدہ اپنی موجودہ ترقی یافتہ شکل میں زمانہ حال میں سامنے آیا ہے ، نزول قرآن کے صدیوں بعد۔ پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور یہ واقعہ اس وقت ہوا جب انسان نہ تھا۔ لیکن معلوم ہوگیا کہ اس کرۂ ارض پر مٹی ہی حیات کی بنیاد ہے۔ اسی سے انسان کو بنایا گیا ہے اور اسے زندگی دی گئی ہے۔ یہ بات اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا کہ یہ معجزہ کس طرح ظہور میں آیا زندگی اور زمین کی تاریخ میں یہ عظیم واقعہ کب اور کس طرح وجود میں آیا۔ رہا نسلوں کا چلنا تو اس کا نظام یوں بنایا گیا کہ مرد کا خلیہ یعنی نطفہ جب عورت کے انڈے سے ملتا ہے اور یہ دونوں آپس میں متحد ہوجاتے ہیں اور رحم میں خون کے ایک لوتھڑے کی شکل میں ٹک جاتے ہیں تو جنین اپنے مراحل طے کرتا ہے اور اپنے آخری مرحلے میں بچہ نمودار ہوتا ہے ۔ پیدا ہونے سے قبل بچے میں بہت بڑے بڑے انقلابات ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ابتدائی خلیے کو غور سے دیکھا جائے تو اس کی زندگی بچے کی زندگی سے زیادہ طویل ہے یعنی ولادت سے لے کر موت تک کے عرصہ سے ، سیاق کلام میں قرآن مجید نے یہاں صرف اس کی بعض ممتاز صفات و مراحل کا ذکر کیا ہے۔ یعنی بچپنے کا مرحلہ۔ پھر سن رشد تک پہنچنا یعنی تیس سال کی عمر تک پھر بڑھاپا۔ یہ وہ مراحل ہیں جنہیں طے کرکے انسان اپنے کمزور ، آغازوانجام کے درمیان اپنی پوری قوت تک پہنچتا ہے۔ ومنکم من یتوفی من قبل (40: 67) ' تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے “۔ اور وہ یہ پورے مراحل طے نہیں کرتا یا بعض مراحل اس سے چھوٹ جاتے ہیں اور وہ فوت ہوجاتا ہے۔ ولتبلغوآ اجلا مسمی (40: 67) ” یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقررہ وقت تک پہنچ جاؤ “۔ یہ وقت مقرر ، طے شدہ اور معلوم ہے۔ اس میں کوئی تقدیم اور تاخیر نہیں ہوتی۔ ولعلکم تعقلون (40: 67) ” اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو “۔ جنین کا سفر طے کرنا ، پھر بچے کا سفر طے کرنا ، پھر ان کی شکل و صورت کا حسن اور ان کی طبیعی نشوونما کے صحیح صحیح اندازے اور اطوار میں سوچنے کا بہت بڑا سامان ہے۔ جنین کا سفر تو نہایت ہی حیرت انگیز سفر ہے۔ علوم طبیہ کی ترقی کے بعد تو اس کے بارے میں ہم نے حیرت انگیز معلومات حاصل کرلی ہیں۔ علوم جنین ایک مستقل شعبہ ہے لیکن قرآن نے جس انداز سے آج سے چودہ سو سال قبل اس کے بعض مراحل کی طرف جس ٹھیک ٹھیک اندازے سے اشارہ کیا ہے ، یہ فکر ونظر کے لیے دامن گیر ہے۔ انسان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان مراحل سے غافل ہوکر گزر جائے اور ان پر گہرا غور وفکر نہ کرے۔ جنین کا سفر اور بچے کا سفر انسانی احساس پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں اور انسانی دل کو خوب جھنجھوڑتے ہیں۔ چاہے عقل ورشد کے جس مرحلے میں بھی وہ ہو۔ ہر نسل انسانی ، اپنی معلومات کے حوالے سے اس سے متاثر ہوتی ہے ، اس لیے قرآن نے انسانی نسلوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے اس لیے کہ اس سے انسان متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ آزاد ہے ، لبیک کہے یا نہ کہے۔ اس بحث کے بعد زندہ کرنے اور مارنے اور تخلیق اور نشوونما کے بارے میں ایک سبق آموز تبصرہ : ھوالذی۔۔۔۔ کن فیکون (40: 68) ” وہی ہے زندگی اور موت دینے والا۔ وہ جس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے بس ایک حکم دیتا ہے کہ وہ ہوجائے اور وہ ہوجاتی ہے “۔ قرآن میں آیات موت وحیات کا بہت ذکر ہوا ہے۔ کیونکہ موت وحیات کا مضمون انسانی شخصیت کو گہرے طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی ممتاز اور باربار دہرائے جانے والے واقعات ہیں اور انسانی حس ان کو بہت ہی قریب سے دیکھتی ہے۔ بادی النظر میں زندہ کرنے اور مارنے سے جو بات انسان کی سمجھ میں آتی ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو حیات وممات کا مفہوم اس سے کہیں گہرا ہے۔ حیات کی بھی کئی اقسام ہیں ، موت کی بھی کئی اقسام ہیں۔ زمین کو ہم مردہ دیکھتے ہیں۔ پھر زمین ہی کو ہم زندہ اور سرسبز دیکھتے ہیں۔ جب مردہ ہو تو درختوں کے پتے نہیں ہوتے ، شاخیں خشک نظر آتی ہیں ، ایک تو یہ موسم ہوتا ہے ، اور جب یہ زندہ ہوتے ہیں تو یہی مردہ شاخیں اور ٹہنیاں سرسبز اور شاداب ہوکر لہلہاتی ہیں۔ ان شاخوں کا انگ انگ پھوٹ جاتا ہے اور پھول اور پتے نکل آتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ زندگی ان شاخوں سے ابلی پڑتی ہے۔ ایک انڈے کو دیکھو ، پھر بچے کو دیکھو ، بیج کو دیکھو اور اگنے والے پودے کو دیکھو ، اور پھر الٹے سفر کو دیکھو کہ یہی زندگی موت میں بدل جاتی ہے اور بچھے ہوئے کھیت سامنے آتے ہیں۔ یہ سب حالات دل اور دماغ کو متاثر کرتے ہیں اور بمو جب ” فکر ہر کس بقدر ہمت اوست “ ہر شخص کا تاثر ہوتا ہے۔ آخر میں موت وحیات سے آگے ، اہم سوال کہ کائنات کس طرح وجود میں آئی ؟ بس اللہ کا ارادہ ہوا ، کن کا حکم ہوا اور سب کچھ ہوگیا یا جو چاہا ہوگیا۔ یہ کائنات ہوتی چلی گئی اور تسلسل قائم ہوتا چلا گیا۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ حیات وممات کے اس منظر کے بعد اور انشاء و تخلیق کے کن فیکون کے بعد ، اللہ کی نشانیوں اور مہربانیوں میں جدل وجدال اور بحث و تکرار لاحاصل اور بہت عجیب و غریب ہے اور رسولوں کے پیغام اور دعوت کی تکذیب اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اب ہوجاؤ خبردار ! ایک خوفناک منظر تمہارے سامنے آنے والا ہے۔ خبردار ! یہ قیامت ہے اور تم نے اس منظر کو دیکھنا ہے ، ذرا دیکھنے سے پہلے ہی دیکھ لو !

غافر 40:69

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں کا عقیدہ توحید تو ایک ہی تھا اور یہی عقیدہ اپنی مکمل صورت میں خاتم النبین ﷺ کو دیا گیا۔ لہٰذا انہوں نے گویا رسالتوں اور تمام رسولوں کی تکذیب کردی۔ ہر مکذیب نے یہی کیا خواہ قدیم زمانے میں تھا یا جدید زمانے میں اس نے عقیدۂ توحید ہی کی تکذیب کی۔ فسوف یعلمون (40: 70) ” عنقریب انہٰں معلوم ہوجائے گا “۔ کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ آگے تفصیلات دے دیں کہ ایسے لوگوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ یہی کہ نہایت توہین آمیز اور حقارت آمیز انداز میں ان کو سزا دی جائے گی صرف سزا نہ ہوگی بلکہ اہانت اس کے ساتھ شامل ہوگی۔ اذالا۔۔۔ یسحبون (40: 71) ” جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی ، اور کھینچے جائیں گے “۔ اس طرح جس طرح مویشی کھینچے جاتے ہیں ، اہانت کے ساتھ ۔ عزت ان کی کیوں ہو ، انہوں نے خود ہی عزت کا لباس اتارپھنکا تھا۔ یوں توہین کے ساتھ کھینچ کر اور چلا کر آخرکار انہیں گرم پانیوں اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (40: 76) ” گرم پانی میں ، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ یعنی ان کو باندھا جائے گا۔ پھر کتوں کی طرح گلے میں زنجیریں ڈال کر ہانکا جائے گا اور ان کو ایسے مکان میں گرادیا جائے گا جو گرم پانی اور آگ سے بھرا ہوگا۔ یہ لوگ ایسی ہی حالت میں ہوں گے کہ ان پر سرزنش ، ملامت دھتکار آئے گی : ثم قیل۔۔۔۔ دون اللہ (40: 73) ان سے پوچھا جائے گا اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ خدا جن کو تم شریک کرتے تھے “۔ اب وہ ایسا جواب دیتے ہیں جس طرح وہ شخص دیتا ہے جس کے ساتھ دھوکہ ہوا اور پھر یہ سھو کہ ظاہر ہوگیا اور وہ نہایت مایوس اور ضرر رسیدہ ہوتا ہے : قالو اضلوا۔۔۔۔ قبل شیئا (40: 74) ” وہ جواب دیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے ، بلکہ اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے “۔ وہ تو ہم سے اس طرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں ان کے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ ہم سے اسطرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں انکے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ اس سے پہلے ہم جنکو پکارتے تھے وہ تو کوئی چیز ہی نہ تھے محض اوہام اور افسانے تھے۔۔۔۔ اس مایوس کن جواب پر یہ تبصرہ اور عبرت۔ کذلک یضل اللہ الکفرین (40: 74) ” اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا “۔ اور اس کے بعد پھر سرزنش اور ان کے گمراہی کا سبب۔ ذٰلکم بما۔۔۔۔ مثوی المتکبرین (40: 75 تا 76) ” ان سے کہا جائے گا ” یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ زمین میں غیر حق پر مگن تھے۔ اور پھر اس پر اتراتے تھے۔ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا “۔ اے فریادرس خداوند ! یہ طوق اور زنجیریں گلے میں باندھ کر گرم پانیوں اور آگ میں کہاں لے جائے گے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے دائمی عذاب سے پہلے گرم پانی اور آگ کا عذاب دیا گیا۔ فبئس مثوی المتکبرین (40: 76) ” بہت ہی براٹھکانہ ہے متکبرین کا “۔ یہ توہین آمیز سزا ان کو جو دی جارہی ہے اس کا حقیقی سبب تو کبر ہی ہے اور اس کبرہی کی وجہ سے اس سخت سزا کے ساتھ تحقیر اور تذلیل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس خوفناک عذاب کے منظر اور ذلت آمیز سلوک کے بعد ، جو آیات الہٰی میں نارواجدل وجدال کے نتیجے میں ان پر نازل ہوا اور جس کا حقیقی کبر تھا ، جو انسان کو پھلا دیتا ہے ، اس منظر کے بعد اور اس برے انجام کے بعد حضور اکرم ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں کیونکہ ان لوگوں کے کبروجدال کی وجہ سے آپ کو بےحد تکلیف ہوتی ہے ، آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ چاہے اسلامی انقلاب کا وعدہ آپ کی حیات میں پورا ہو یا بعد میں ، یہ اللہ کی رضا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ، کرے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ تبلیغ کرکے اللہ کے پاس چلاجائے۔

غافر 40:70

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں کا عقیدہ توحید تو ایک ہی تھا اور یہی عقیدہ اپنی مکمل صورت میں خاتم النبین ﷺ کو دیا گیا۔ لہٰذا انہوں نے گویا رسالتوں اور تمام رسولوں کی تکذیب کردی۔ ہر مکذیب نے یہی کیا خواہ قدیم زمانے میں تھا یا جدید زمانے میں اس نے عقیدۂ توحید ہی کی تکذیب کی۔ فسوف یعلمون (40: 70) ” عنقریب انہٰں معلوم ہوجائے گا “۔ کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ آگے تفصیلات دے دیں کہ ایسے لوگوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ یہی کہ نہایت توہین آمیز اور حقارت آمیز انداز میں ان کو سزا دی جائے گی صرف سزا نہ ہوگی بلکہ اہانت اس کے ساتھ شامل ہوگی۔ اذالا۔۔۔ یسحبون (40: 71) ” جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی ، اور کھینچے جائیں گے “۔ اس طرح جس طرح مویشی کھینچے جاتے ہیں ، اہانت کے ساتھ ۔ عزت ان کی کیوں ہو ، انہوں نے خود ہی عزت کا لباس اتارپھنکا تھا۔ یوں توہین کے ساتھ کھینچ کر اور چلا کر آخرکار انہیں گرم پانیوں اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (40: 76) ” گرم پانی میں ، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ یعنی ان کو باندھا جائے گا۔ پھر کتوں کی طرح گلے میں زنجیریں ڈال کر ہانکا جائے گا اور ان کو ایسے مکان میں گرادیا جائے گا جو گرم پانی اور آگ سے بھرا ہوگا۔ یہ لوگ ایسی ہی حالت میں ہوں گے کہ ان پر سرزنش ، ملامت دھتکار آئے گی : ثم قیل۔۔۔۔ دون اللہ (40: 73) ان سے پوچھا جائے گا اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ خدا جن کو تم شریک کرتے تھے “۔ اب وہ ایسا جواب دیتے ہیں جس طرح وہ شخص دیتا ہے جس کے ساتھ دھوکہ ہوا اور پھر یہ سھو کہ ظاہر ہوگیا اور وہ نہایت مایوس اور ضرر رسیدہ ہوتا ہے : قالو اضلوا۔۔۔۔ قبل شیئا (40: 74) ” وہ جواب دیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے ، بلکہ اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے “۔ وہ تو ہم سے اس طرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں ان کے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ ہم سے اسطرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں انکے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ اس سے پہلے ہم جنکو پکارتے تھے وہ تو کوئی چیز ہی نہ تھے محض اوہام اور افسانے تھے۔۔۔۔ اس مایوس کن جواب پر یہ تبصرہ اور عبرت۔ کذلک یضل اللہ الکفرین (40: 74) ” اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا “۔ اور اس کے بعد پھر سرزنش اور ان کے گمراہی کا سبب۔ ذٰلکم بما۔۔۔۔ مثوی المتکبرین (40: 75 تا 76) ” ان سے کہا جائے گا ” یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ زمین میں غیر حق پر مگن تھے۔ اور پھر اس پر اتراتے تھے۔ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا “۔ اے فریادرس خداوند ! یہ طوق اور زنجیریں گلے میں باندھ کر گرم پانیوں اور آگ میں کہاں لے جائے گے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے دائمی عذاب سے پہلے گرم پانی اور آگ کا عذاب دیا گیا۔ فبئس مثوی المتکبرین (40: 76) ” بہت ہی براٹھکانہ ہے متکبرین کا “۔ یہ توہین آمیز سزا ان کو جو دی جارہی ہے اس کا حقیقی سبب تو کبر ہی ہے اور اس کبرہی کی وجہ سے اس سخت سزا کے ساتھ تحقیر اور تذلیل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس خوفناک عذاب کے منظر اور ذلت آمیز سلوک کے بعد ، جو آیات الہٰی میں نارواجدل وجدال کے نتیجے میں ان پر نازل ہوا اور جس کا حقیقی کبر تھا ، جو انسان کو پھلا دیتا ہے ، اس منظر کے بعد اور اس برے انجام کے بعد حضور اکرم ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں کیونکہ ان لوگوں کے کبروجدال کی وجہ سے آپ کو بےحد تکلیف ہوتی ہے ، آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ چاہے اسلامی انقلاب کا وعدہ آپ کی حیات میں پورا ہو یا بعد میں ، یہ اللہ کی رضا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ، کرے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ تبلیغ کرکے اللہ کے پاس چلاجائے۔