Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — غافر 40:71 – فصلت 41:54

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. غافر 40:71
  2. غافر 40:72
  3. غافر 40:73
  4. غافر 40:74
  5. غافر 40:75
  6. غافر 40:76
  7. غافر 40:77
  8. غافر 40:78
  9. غافر 40:79
  10. غافر 40:80
  11. غافر 40:81
  12. غافر 40:82
  13. غافر 40:83
  14. غافر 40:84
  15. غافر 40:85
  16. فصلت 41:1
  17. فصلت 41:2
  18. فصلت 41:3
  19. فصلت 41:4
  20. فصلت 41:5
  21. فصلت 41:6
  22. فصلت 41:7
  23. فصلت 41:8
  24. فصلت 41:9
  25. فصلت 41:10
  26. فصلت 41:11
  27. فصلت 41:12
  28. فصلت 41:13
  29. فصلت 41:14
  30. فصلت 41:15
  31. فصلت 41:16
  32. فصلت 41:17
  33. فصلت 41:18
  34. فصلت 41:19
  35. فصلت 41:20
  36. فصلت 41:21
  37. فصلت 41:22
  38. فصلت 41:23
  39. فصلت 41:24
  40. فصلت 41:25
  41. فصلت 41:26
  42. فصلت 41:27
  43. فصلت 41:28
  44. فصلت 41:29
  45. فصلت 41:30
  46. فصلت 41:31
  47. فصلت 41:32
  48. فصلت 41:33
  49. فصلت 41:34
  50. فصلت 41:35
  51. فصلت 41:36
  52. فصلت 41:37
  53. فصلت 41:38
  54. فصلت 41:39
  55. فصلت 41:40
  56. فصلت 41:41
  57. فصلت 41:42
  58. فصلت 41:43
  59. فصلت 41:44
  60. فصلت 41:45
  61. فصلت 41:46
  62. فصلت 41:47
  63. فصلت 41:48
  64. فصلت 41:49
  65. فصلت 41:50
  66. فصلت 41:51
  67. فصلت 41:52
  68. فصلت 41:53
  69. فصلت 41:54

غافر 40:71

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں کا عقیدہ توحید تو ایک ہی تھا اور یہی عقیدہ اپنی مکمل صورت میں خاتم النبین ﷺ کو دیا گیا۔ لہٰذا انہوں نے گویا رسالتوں اور تمام رسولوں کی تکذیب کردی۔ ہر مکذیب نے یہی کیا خواہ قدیم زمانے میں تھا یا جدید زمانے میں اس نے عقیدۂ توحید ہی کی تکذیب کی۔ فسوف یعلمون (40: 70) ” عنقریب انہٰں معلوم ہوجائے گا “۔ کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ آگے تفصیلات دے دیں کہ ایسے لوگوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ یہی کہ نہایت توہین آمیز اور حقارت آمیز انداز میں ان کو سزا دی جائے گی صرف سزا نہ ہوگی بلکہ اہانت اس کے ساتھ شامل ہوگی۔ اذالا۔۔۔ یسحبون (40: 71) ” جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی ، اور کھینچے جائیں گے “۔ اس طرح جس طرح مویشی کھینچے جاتے ہیں ، اہانت کے ساتھ ۔ عزت ان کی کیوں ہو ، انہوں نے خود ہی عزت کا لباس اتارپھنکا تھا۔ یوں توہین کے ساتھ کھینچ کر اور چلا کر آخرکار انہیں گرم پانیوں اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (40: 76) ” گرم پانی میں ، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ یعنی ان کو باندھا جائے گا۔ پھر کتوں کی طرح گلے میں زنجیریں ڈال کر ہانکا جائے گا اور ان کو ایسے مکان میں گرادیا جائے گا جو گرم پانی اور آگ سے بھرا ہوگا۔ یہ لوگ ایسی ہی حالت میں ہوں گے کہ ان پر سرزنش ، ملامت دھتکار آئے گی : ثم قیل۔۔۔۔ دون اللہ (40: 73) ان سے پوچھا جائے گا اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ خدا جن کو تم شریک کرتے تھے “۔ اب وہ ایسا جواب دیتے ہیں جس طرح وہ شخص دیتا ہے جس کے ساتھ دھوکہ ہوا اور پھر یہ سھو کہ ظاہر ہوگیا اور وہ نہایت مایوس اور ضرر رسیدہ ہوتا ہے : قالو اضلوا۔۔۔۔ قبل شیئا (40: 74) ” وہ جواب دیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے ، بلکہ اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے “۔ وہ تو ہم سے اس طرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں ان کے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ ہم سے اسطرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں انکے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ اس سے پہلے ہم جنکو پکارتے تھے وہ تو کوئی چیز ہی نہ تھے محض اوہام اور افسانے تھے۔۔۔۔ اس مایوس کن جواب پر یہ تبصرہ اور عبرت۔ کذلک یضل اللہ الکفرین (40: 74) ” اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا “۔ اور اس کے بعد پھر سرزنش اور ان کے گمراہی کا سبب۔ ذٰلکم بما۔۔۔۔ مثوی المتکبرین (40: 75 تا 76) ” ان سے کہا جائے گا ” یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ زمین میں غیر حق پر مگن تھے۔ اور پھر اس پر اتراتے تھے۔ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا “۔ اے فریادرس خداوند ! یہ طوق اور زنجیریں گلے میں باندھ کر گرم پانیوں اور آگ میں کہاں لے جائے گے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے دائمی عذاب سے پہلے گرم پانی اور آگ کا عذاب دیا گیا۔ فبئس مثوی المتکبرین (40: 76) ” بہت ہی براٹھکانہ ہے متکبرین کا “۔ یہ توہین آمیز سزا ان کو جو دی جارہی ہے اس کا حقیقی سبب تو کبر ہی ہے اور اس کبرہی کی وجہ سے اس سخت سزا کے ساتھ تحقیر اور تذلیل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس خوفناک عذاب کے منظر اور ذلت آمیز سلوک کے بعد ، جو آیات الہٰی میں نارواجدل وجدال کے نتیجے میں ان پر نازل ہوا اور جس کا حقیقی کبر تھا ، جو انسان کو پھلا دیتا ہے ، اس منظر کے بعد اور اس برے انجام کے بعد حضور اکرم ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں کیونکہ ان لوگوں کے کبروجدال کی وجہ سے آپ کو بےحد تکلیف ہوتی ہے ، آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ چاہے اسلامی انقلاب کا وعدہ آپ کی حیات میں پورا ہو یا بعد میں ، یہ اللہ کی رضا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ، کرے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ تبلیغ کرکے اللہ کے پاس چلاجائے۔

غافر 40:72

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں کا عقیدہ توحید تو ایک ہی تھا اور یہی عقیدہ اپنی مکمل صورت میں خاتم النبین ﷺ کو دیا گیا۔ لہٰذا انہوں نے گویا رسالتوں اور تمام رسولوں کی تکذیب کردی۔ ہر مکذیب نے یہی کیا خواہ قدیم زمانے میں تھا یا جدید زمانے میں اس نے عقیدۂ توحید ہی کی تکذیب کی۔ فسوف یعلمون (40: 70) ” عنقریب انہٰں معلوم ہوجائے گا “۔ کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ آگے تفصیلات دے دیں کہ ایسے لوگوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ یہی کہ نہایت توہین آمیز اور حقارت آمیز انداز میں ان کو سزا دی جائے گی صرف سزا نہ ہوگی بلکہ اہانت اس کے ساتھ شامل ہوگی۔ اذالا۔۔۔ یسحبون (40: 71) ” جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی ، اور کھینچے جائیں گے “۔ اس طرح جس طرح مویشی کھینچے جاتے ہیں ، اہانت کے ساتھ ۔ عزت ان کی کیوں ہو ، انہوں نے خود ہی عزت کا لباس اتارپھنکا تھا۔ یوں توہین کے ساتھ کھینچ کر اور چلا کر آخرکار انہیں گرم پانیوں اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (40: 76) ” گرم پانی میں ، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ یعنی ان کو باندھا جائے گا۔ پھر کتوں کی طرح گلے میں زنجیریں ڈال کر ہانکا جائے گا اور ان کو ایسے مکان میں گرادیا جائے گا جو گرم پانی اور آگ سے بھرا ہوگا۔ یہ لوگ ایسی ہی حالت میں ہوں گے کہ ان پر سرزنش ، ملامت دھتکار آئے گی : ثم قیل۔۔۔۔ دون اللہ (40: 73) ان سے پوچھا جائے گا اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ خدا جن کو تم شریک کرتے تھے “۔ اب وہ ایسا جواب دیتے ہیں جس طرح وہ شخص دیتا ہے جس کے ساتھ دھوکہ ہوا اور پھر یہ سھو کہ ظاہر ہوگیا اور وہ نہایت مایوس اور ضرر رسیدہ ہوتا ہے : قالو اضلوا۔۔۔۔ قبل شیئا (40: 74) ” وہ جواب دیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے ، بلکہ اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے “۔ وہ تو ہم سے اس طرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں ان کے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ ہم سے اسطرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں انکے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ اس سے پہلے ہم جنکو پکارتے تھے وہ تو کوئی چیز ہی نہ تھے محض اوہام اور افسانے تھے۔۔۔۔ اس مایوس کن جواب پر یہ تبصرہ اور عبرت۔ کذلک یضل اللہ الکفرین (40: 74) ” اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا “۔ اور اس کے بعد پھر سرزنش اور ان کے گمراہی کا سبب۔ ذٰلکم بما۔۔۔۔ مثوی المتکبرین (40: 75 تا 76) ” ان سے کہا جائے گا ” یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ زمین میں غیر حق پر مگن تھے۔ اور پھر اس پر اتراتے تھے۔ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا “۔ اے فریادرس خداوند ! یہ طوق اور زنجیریں گلے میں باندھ کر گرم پانیوں اور آگ میں کہاں لے جائے گے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے دائمی عذاب سے پہلے گرم پانی اور آگ کا عذاب دیا گیا۔ فبئس مثوی المتکبرین (40: 76) ” بہت ہی براٹھکانہ ہے متکبرین کا “۔ یہ توہین آمیز سزا ان کو جو دی جارہی ہے اس کا حقیقی سبب تو کبر ہی ہے اور اس کبرہی کی وجہ سے اس سخت سزا کے ساتھ تحقیر اور تذلیل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس خوفناک عذاب کے منظر اور ذلت آمیز سلوک کے بعد ، جو آیات الہٰی میں نارواجدل وجدال کے نتیجے میں ان پر نازل ہوا اور جس کا حقیقی کبر تھا ، جو انسان کو پھلا دیتا ہے ، اس منظر کے بعد اور اس برے انجام کے بعد حضور اکرم ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں کیونکہ ان لوگوں کے کبروجدال کی وجہ سے آپ کو بےحد تکلیف ہوتی ہے ، آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ چاہے اسلامی انقلاب کا وعدہ آپ کی حیات میں پورا ہو یا بعد میں ، یہ اللہ کی رضا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ، کرے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ تبلیغ کرکے اللہ کے پاس چلاجائے۔

غافر 40:73

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں کا عقیدہ توحید تو ایک ہی تھا اور یہی عقیدہ اپنی مکمل صورت میں خاتم النبین ﷺ کو دیا گیا۔ لہٰذا انہوں نے گویا رسالتوں اور تمام رسولوں کی تکذیب کردی۔ ہر مکذیب نے یہی کیا خواہ قدیم زمانے میں تھا یا جدید زمانے میں اس نے عقیدۂ توحید ہی کی تکذیب کی۔ فسوف یعلمون (40: 70) ” عنقریب انہٰں معلوم ہوجائے گا “۔ کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ آگے تفصیلات دے دیں کہ ایسے لوگوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ یہی کہ نہایت توہین آمیز اور حقارت آمیز انداز میں ان کو سزا دی جائے گی صرف سزا نہ ہوگی بلکہ اہانت اس کے ساتھ شامل ہوگی۔ اذالا۔۔۔ یسحبون (40: 71) ” جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی ، اور کھینچے جائیں گے “۔ اس طرح جس طرح مویشی کھینچے جاتے ہیں ، اہانت کے ساتھ ۔ عزت ان کی کیوں ہو ، انہوں نے خود ہی عزت کا لباس اتارپھنکا تھا۔ یوں توہین کے ساتھ کھینچ کر اور چلا کر آخرکار انہیں گرم پانیوں اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (40: 76) ” گرم پانی میں ، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ یعنی ان کو باندھا جائے گا۔ پھر کتوں کی طرح گلے میں زنجیریں ڈال کر ہانکا جائے گا اور ان کو ایسے مکان میں گرادیا جائے گا جو گرم پانی اور آگ سے بھرا ہوگا۔ یہ لوگ ایسی ہی حالت میں ہوں گے کہ ان پر سرزنش ، ملامت دھتکار آئے گی : ثم قیل۔۔۔۔ دون اللہ (40: 73) ان سے پوچھا جائے گا اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ خدا جن کو تم شریک کرتے تھے “۔ اب وہ ایسا جواب دیتے ہیں جس طرح وہ شخص دیتا ہے جس کے ساتھ دھوکہ ہوا اور پھر یہ سھو کہ ظاہر ہوگیا اور وہ نہایت مایوس اور ضرر رسیدہ ہوتا ہے : قالو اضلوا۔۔۔۔ قبل شیئا (40: 74) ” وہ جواب دیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے ، بلکہ اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے “۔ وہ تو ہم سے اس طرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں ان کے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ ہم سے اسطرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں انکے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ اس سے پہلے ہم جنکو پکارتے تھے وہ تو کوئی چیز ہی نہ تھے محض اوہام اور افسانے تھے۔۔۔۔ اس مایوس کن جواب پر یہ تبصرہ اور عبرت۔ کذلک یضل اللہ الکفرین (40: 74) ” اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا “۔ اور اس کے بعد پھر سرزنش اور ان کے گمراہی کا سبب۔ ذٰلکم بما۔۔۔۔ مثوی المتکبرین (40: 75 تا 76) ” ان سے کہا جائے گا ” یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ زمین میں غیر حق پر مگن تھے۔ اور پھر اس پر اتراتے تھے۔ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا “۔ اے فریادرس خداوند ! یہ طوق اور زنجیریں گلے میں باندھ کر گرم پانیوں اور آگ میں کہاں لے جائے گے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے دائمی عذاب سے پہلے گرم پانی اور آگ کا عذاب دیا گیا۔ فبئس مثوی المتکبرین (40: 76) ” بہت ہی براٹھکانہ ہے متکبرین کا “۔ یہ توہین آمیز سزا ان کو جو دی جارہی ہے اس کا حقیقی سبب تو کبر ہی ہے اور اس کبرہی کی وجہ سے اس سخت سزا کے ساتھ تحقیر اور تذلیل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس خوفناک عذاب کے منظر اور ذلت آمیز سلوک کے بعد ، جو آیات الہٰی میں نارواجدل وجدال کے نتیجے میں ان پر نازل ہوا اور جس کا حقیقی کبر تھا ، جو انسان کو پھلا دیتا ہے ، اس منظر کے بعد اور اس برے انجام کے بعد حضور اکرم ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں کیونکہ ان لوگوں کے کبروجدال کی وجہ سے آپ کو بےحد تکلیف ہوتی ہے ، آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ چاہے اسلامی انقلاب کا وعدہ آپ کی حیات میں پورا ہو یا بعد میں ، یہ اللہ کی رضا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ، کرے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ تبلیغ کرکے اللہ کے پاس چلاجائے۔

غافر 40:74

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں کا عقیدہ توحید تو ایک ہی تھا اور یہی عقیدہ اپنی مکمل صورت میں خاتم النبین ﷺ کو دیا گیا۔ لہٰذا انہوں نے گویا رسالتوں اور تمام رسولوں کی تکذیب کردی۔ ہر مکذیب نے یہی کیا خواہ قدیم زمانے میں تھا یا جدید زمانے میں اس نے عقیدۂ توحید ہی کی تکذیب کی۔ فسوف یعلمون (40: 70) ” عنقریب انہٰں معلوم ہوجائے گا “۔ کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ آگے تفصیلات دے دیں کہ ایسے لوگوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ یہی کہ نہایت توہین آمیز اور حقارت آمیز انداز میں ان کو سزا دی جائے گی صرف سزا نہ ہوگی بلکہ اہانت اس کے ساتھ شامل ہوگی۔ اذالا۔۔۔ یسحبون (40: 71) ” جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی ، اور کھینچے جائیں گے “۔ اس طرح جس طرح مویشی کھینچے جاتے ہیں ، اہانت کے ساتھ ۔ عزت ان کی کیوں ہو ، انہوں نے خود ہی عزت کا لباس اتارپھنکا تھا۔ یوں توہین کے ساتھ کھینچ کر اور چلا کر آخرکار انہیں گرم پانیوں اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (40: 76) ” گرم پانی میں ، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ یعنی ان کو باندھا جائے گا۔ پھر کتوں کی طرح گلے میں زنجیریں ڈال کر ہانکا جائے گا اور ان کو ایسے مکان میں گرادیا جائے گا جو گرم پانی اور آگ سے بھرا ہوگا۔ یہ لوگ ایسی ہی حالت میں ہوں گے کہ ان پر سرزنش ، ملامت دھتکار آئے گی : ثم قیل۔۔۔۔ دون اللہ (40: 73) ان سے پوچھا جائے گا اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ خدا جن کو تم شریک کرتے تھے “۔ اب وہ ایسا جواب دیتے ہیں جس طرح وہ شخص دیتا ہے جس کے ساتھ دھوکہ ہوا اور پھر یہ سھو کہ ظاہر ہوگیا اور وہ نہایت مایوس اور ضرر رسیدہ ہوتا ہے : قالو اضلوا۔۔۔۔ قبل شیئا (40: 74) ” وہ جواب دیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے ، بلکہ اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے “۔ وہ تو ہم سے اس طرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں ان کے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ ہم سے اسطرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں انکے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ اس سے پہلے ہم جنکو پکارتے تھے وہ تو کوئی چیز ہی نہ تھے محض اوہام اور افسانے تھے۔۔۔۔ اس مایوس کن جواب پر یہ تبصرہ اور عبرت۔ کذلک یضل اللہ الکفرین (40: 74) ” اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا “۔ اور اس کے بعد پھر سرزنش اور ان کے گمراہی کا سبب۔ ذٰلکم بما۔۔۔۔ مثوی المتکبرین (40: 75 تا 76) ” ان سے کہا جائے گا ” یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ زمین میں غیر حق پر مگن تھے۔ اور پھر اس پر اتراتے تھے۔ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا “۔ اے فریادرس خداوند ! یہ طوق اور زنجیریں گلے میں باندھ کر گرم پانیوں اور آگ میں کہاں لے جائے گے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے دائمی عذاب سے پہلے گرم پانی اور آگ کا عذاب دیا گیا۔ فبئس مثوی المتکبرین (40: 76) ” بہت ہی براٹھکانہ ہے متکبرین کا “۔ یہ توہین آمیز سزا ان کو جو دی جارہی ہے اس کا حقیقی سبب تو کبر ہی ہے اور اس کبرہی کی وجہ سے اس سخت سزا کے ساتھ تحقیر اور تذلیل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس خوفناک عذاب کے منظر اور ذلت آمیز سلوک کے بعد ، جو آیات الہٰی میں نارواجدل وجدال کے نتیجے میں ان پر نازل ہوا اور جس کا حقیقی کبر تھا ، جو انسان کو پھلا دیتا ہے ، اس منظر کے بعد اور اس برے انجام کے بعد حضور اکرم ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں کیونکہ ان لوگوں کے کبروجدال کی وجہ سے آپ کو بےحد تکلیف ہوتی ہے ، آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ چاہے اسلامی انقلاب کا وعدہ آپ کی حیات میں پورا ہو یا بعد میں ، یہ اللہ کی رضا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ، کرے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ تبلیغ کرکے اللہ کے پاس چلاجائے۔

غافر 40:75

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں کا عقیدہ توحید تو ایک ہی تھا اور یہی عقیدہ اپنی مکمل صورت میں خاتم النبین ﷺ کو دیا گیا۔ لہٰذا انہوں نے گویا رسالتوں اور تمام رسولوں کی تکذیب کردی۔ ہر مکذیب نے یہی کیا خواہ قدیم زمانے میں تھا یا جدید زمانے میں اس نے عقیدۂ توحید ہی کی تکذیب کی۔ فسوف یعلمون (40: 70) ” عنقریب انہٰں معلوم ہوجائے گا “۔ کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ آگے تفصیلات دے دیں کہ ایسے لوگوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ یہی کہ نہایت توہین آمیز اور حقارت آمیز انداز میں ان کو سزا دی جائے گی صرف سزا نہ ہوگی بلکہ اہانت اس کے ساتھ شامل ہوگی۔ اذالا۔۔۔ یسحبون (40: 71) ” جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی ، اور کھینچے جائیں گے “۔ اس طرح جس طرح مویشی کھینچے جاتے ہیں ، اہانت کے ساتھ ۔ عزت ان کی کیوں ہو ، انہوں نے خود ہی عزت کا لباس اتارپھنکا تھا۔ یوں توہین کے ساتھ کھینچ کر اور چلا کر آخرکار انہیں گرم پانیوں اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (40: 76) ” گرم پانی میں ، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ یعنی ان کو باندھا جائے گا۔ پھر کتوں کی طرح گلے میں زنجیریں ڈال کر ہانکا جائے گا اور ان کو ایسے مکان میں گرادیا جائے گا جو گرم پانی اور آگ سے بھرا ہوگا۔ یہ لوگ ایسی ہی حالت میں ہوں گے کہ ان پر سرزنش ، ملامت دھتکار آئے گی : ثم قیل۔۔۔۔ دون اللہ (40: 73) ان سے پوچھا جائے گا اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ خدا جن کو تم شریک کرتے تھے “۔ اب وہ ایسا جواب دیتے ہیں جس طرح وہ شخص دیتا ہے جس کے ساتھ دھوکہ ہوا اور پھر یہ سھو کہ ظاہر ہوگیا اور وہ نہایت مایوس اور ضرر رسیدہ ہوتا ہے : قالو اضلوا۔۔۔۔ قبل شیئا (40: 74) ” وہ جواب دیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے ، بلکہ اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے “۔ وہ تو ہم سے اس طرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں ان کے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ ہم سے اسطرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں انکے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ اس سے پہلے ہم جنکو پکارتے تھے وہ تو کوئی چیز ہی نہ تھے محض اوہام اور افسانے تھے۔۔۔۔ اس مایوس کن جواب پر یہ تبصرہ اور عبرت۔ کذلک یضل اللہ الکفرین (40: 74) ” اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا “۔ اور اس کے بعد پھر سرزنش اور ان کے گمراہی کا سبب۔ ذٰلکم بما۔۔۔۔ مثوی المتکبرین (40: 75 تا 76) ” ان سے کہا جائے گا ” یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ زمین میں غیر حق پر مگن تھے۔ اور پھر اس پر اتراتے تھے۔ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا “۔ اے فریادرس خداوند ! یہ طوق اور زنجیریں گلے میں باندھ کر گرم پانیوں اور آگ میں کہاں لے جائے گے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے دائمی عذاب سے پہلے گرم پانی اور آگ کا عذاب دیا گیا۔ فبئس مثوی المتکبرین (40: 76) ” بہت ہی براٹھکانہ ہے متکبرین کا “۔ یہ توہین آمیز سزا ان کو جو دی جارہی ہے اس کا حقیقی سبب تو کبر ہی ہے اور اس کبرہی کی وجہ سے اس سخت سزا کے ساتھ تحقیر اور تذلیل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس خوفناک عذاب کے منظر اور ذلت آمیز سلوک کے بعد ، جو آیات الہٰی میں نارواجدل وجدال کے نتیجے میں ان پر نازل ہوا اور جس کا حقیقی کبر تھا ، جو انسان کو پھلا دیتا ہے ، اس منظر کے بعد اور اس برے انجام کے بعد حضور اکرم ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں کیونکہ ان لوگوں کے کبروجدال کی وجہ سے آپ کو بےحد تکلیف ہوتی ہے ، آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ چاہے اسلامی انقلاب کا وعدہ آپ کی حیات میں پورا ہو یا بعد میں ، یہ اللہ کی رضا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ، کرے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ تبلیغ کرکے اللہ کے پاس چلاجائے۔

غافر 40:76

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں کا عقیدہ توحید تو ایک ہی تھا اور یہی عقیدہ اپنی مکمل صورت میں خاتم النبین ﷺ کو دیا گیا۔ لہٰذا انہوں نے گویا رسالتوں اور تمام رسولوں کی تکذیب کردی۔ ہر مکذیب نے یہی کیا خواہ قدیم زمانے میں تھا یا جدید زمانے میں اس نے عقیدۂ توحید ہی کی تکذیب کی۔ فسوف یعلمون (40: 70) ” عنقریب انہٰں معلوم ہوجائے گا “۔ کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ آگے تفصیلات دے دیں کہ ایسے لوگوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ یہی کہ نہایت توہین آمیز اور حقارت آمیز انداز میں ان کو سزا دی جائے گی صرف سزا نہ ہوگی بلکہ اہانت اس کے ساتھ شامل ہوگی۔ اذالا۔۔۔ یسحبون (40: 71) ” جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی ، اور کھینچے جائیں گے “۔ اس طرح جس طرح مویشی کھینچے جاتے ہیں ، اہانت کے ساتھ ۔ عزت ان کی کیوں ہو ، انہوں نے خود ہی عزت کا لباس اتارپھنکا تھا۔ یوں توہین کے ساتھ کھینچ کر اور چلا کر آخرکار انہیں گرم پانیوں اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (40: 76) ” گرم پانی میں ، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ یعنی ان کو باندھا جائے گا۔ پھر کتوں کی طرح گلے میں زنجیریں ڈال کر ہانکا جائے گا اور ان کو ایسے مکان میں گرادیا جائے گا جو گرم پانی اور آگ سے بھرا ہوگا۔ یہ لوگ ایسی ہی حالت میں ہوں گے کہ ان پر سرزنش ، ملامت دھتکار آئے گی : ثم قیل۔۔۔۔ دون اللہ (40: 73) ان سے پوچھا جائے گا اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ خدا جن کو تم شریک کرتے تھے “۔ اب وہ ایسا جواب دیتے ہیں جس طرح وہ شخص دیتا ہے جس کے ساتھ دھوکہ ہوا اور پھر یہ سھو کہ ظاہر ہوگیا اور وہ نہایت مایوس اور ضرر رسیدہ ہوتا ہے : قالو اضلوا۔۔۔۔ قبل شیئا (40: 74) ” وہ جواب دیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے ، بلکہ اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے “۔ وہ تو ہم سے اس طرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں ان کے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ ہم سے اسطرح غائب ہوگئے کہ اب ہمیں انکے ڈھونڈنے کا راستہ تک معلوم نہیں۔ اور نہ اب وہ ہم کو راستہ بتاتے ہیں۔ بلکہ اس سے پہلے ہم جنکو پکارتے تھے وہ تو کوئی چیز ہی نہ تھے محض اوہام اور افسانے تھے۔۔۔۔ اس مایوس کن جواب پر یہ تبصرہ اور عبرت۔ کذلک یضل اللہ الکفرین (40: 74) ” اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا “۔ اور اس کے بعد پھر سرزنش اور ان کے گمراہی کا سبب۔ ذٰلکم بما۔۔۔۔ مثوی المتکبرین (40: 75 تا 76) ” ان سے کہا جائے گا ” یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ زمین میں غیر حق پر مگن تھے۔ اور پھر اس پر اتراتے تھے۔ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا “۔ اے فریادرس خداوند ! یہ طوق اور زنجیریں گلے میں باندھ کر گرم پانیوں اور آگ میں کہاں لے جائے گے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے دائمی عذاب سے پہلے گرم پانی اور آگ کا عذاب دیا گیا۔ فبئس مثوی المتکبرین (40: 76) ” بہت ہی براٹھکانہ ہے متکبرین کا “۔ یہ توہین آمیز سزا ان کو جو دی جارہی ہے اس کا حقیقی سبب تو کبر ہی ہے اور اس کبرہی کی وجہ سے اس سخت سزا کے ساتھ تحقیر اور تذلیل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس خوفناک عذاب کے منظر اور ذلت آمیز سلوک کے بعد ، جو آیات الہٰی میں نارواجدل وجدال کے نتیجے میں ان پر نازل ہوا اور جس کا حقیقی کبر تھا ، جو انسان کو پھلا دیتا ہے ، اس منظر کے بعد اور اس برے انجام کے بعد حضور اکرم ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں کیونکہ ان لوگوں کے کبروجدال کی وجہ سے آپ کو بےحد تکلیف ہوتی ہے ، آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ چاہے اسلامی انقلاب کا وعدہ آپ کی حیات میں پورا ہو یا بعد میں ، یہ اللہ کی رضا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ، کرے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ تبلیغ کرکے اللہ کے پاس چلاجائے۔

غافر 40:77

آیت نمبر 77 یہ ایک جھلک ہے ، ہمیں چاہئے کہ ذدا اس پر غور کریں۔ رسول اللہ ﷺ اس دور میں مخالفین کی جانب سے کبر ، اذیت ، تکذیب اور نافرمانی کی اذیت جھیل رہے تھے۔ آپ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ کے فرائض یہ ہیں ، بس آپ ان تک اپنے آپ کو محدود کردیں ، رہے نتائج تو ان کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے یہاں تک کہ وہ مکذبین اور متکبرین کو اس دنیا میں سزا پاتے دیکھنے کی خواہش بھی یہ رکھیں۔ آپ کا فرض ہے کہ آپ حکم بجا لائیں ، اپنافریضہ ادا کردیں ، کیونکہ انجام تک کسی بات کو پہنچانا یہ داعی کا کام نہیں ہے۔ یہ اللہ کے اختیار میں ہے ، اور وہ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ الہہ العالمین ! کس قدر بلند مقام ہے یہ ۔ کس قدر کامل آداب کی تلقین ان لوگوں کو جو دعوت اسلامی کے کام میں لگے ہوئے ہیں اور یہ کون ہیں ؟ حضور اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء ! نفس انسانی کے لیے یہ حکم بہت بھاری ہے۔ یہ ایک ایسا حکم ہے جو ضعیف انسان کی چاہتوں کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ حکم دینے سے بھی پہلے صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ لہٰذا یہاں دوبارہ صبر کی تلقین کا حکم دینا تکرار نہیں ہے۔ یہ ایک نئے انداز کا صبر ہے۔ یہ صبر ایذا ، تکذیب اور استہزاء سے بھی زیادہ مشکل صبر ہے۔ تمام داعیوں کو ، انسان اور بشرداعیوں کو ، یہ کہہ دینا کہ تمہارے دشمنوں کو ضرور سزا ہوگی۔ اللہ ان کو ضرور پکڑے گا لیکن شاید تم نہ دیکھ سکو ، یہ انسان کی اس خواہش کے خلاف ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو سزا پاتے دیکھے۔ یہ شدید خواہش ہوتی ہے ، جبکہ داعیوں پر مظالم ہورہے ہوں لیکن یہ آداب الہیہ ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے اپنے مختار بندوں کی تربیت ہے اور نفس انسانی کو ہر اس بات سے پاک کرنا مطلوب ہے جس میں کوئی ادنیٰ سی خواہش بھی ہو۔ اگرچہ یہ خواہش صرف یہ ہو کہ دشمنان دین کو سزا ہوجائے۔ اس نکتے پر تمام داعیان دین کو غور کرلینا چاہئے ، چاہے وہ جس زمان ومکان میں بھی ہوں ، خواہشات کے طوفانوں میں یہ کامیابی کا لنگر ہے۔ یہ خواہشات تو ابتداء میں بڑی پاکیزہ نظر آتی ہیں لیکن آخر میں شیطان ان میں گھس آتا ہے۔

غافر 40:78

درس نمبر 226 ایک نظر میں یہ پورا سبق اس سے پہلے سبق کے آخر میں آنے والے درس عبرت کی تکمیل وتشریح ہے۔ حضرت نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی مومنین کو ہدایت کی گئی تھی کہ آپ لوگ مشکلات راہ پر صبر کریں۔ اس وقت تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور اللہ نے فتح اسلام کا جو و عدہ کیا ہے وہ پورا ہوجائے ۔ چاہے نبی ﷺ کی زندگی میں ہو یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد ہو۔ کیونکہ اختیار آپ ﷺ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ بلکہ معاملہ اسلام اور اسلام کو ماننے والوں اور ان کے مخالفین اور مجادلین کا ہے۔ دونوں برسرجنگ ہیں اور فیصلہ ان کے درمیان اللہ کو کرنا ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جو اسلامی انقلاب کی تحریک کو چلاتا ہے ، جس طرح چاہتا ہے۔ یہ سبق جس پر اس سورت کا خاتمہ ہورہا ہے ، اس حقیقت کو ایک دوسرے رنگ میں پیش کررہا ہے یہ کہ کفر واسلام کی جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ یہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور اسلام سے شروع ہوئی ہے۔ آپ ﷺ سے قبل بھی رسول بھیجے گئے ہیں بعض کے قصے آپ کے سامنے بیان کیے گئے ہیں اور بعض کے بیان نہیں کیے گئے۔ ان سب کا استقبال تکذیب اور انکار سے کیا گیا۔ سب سے مطالبہ کیا گیا کہ معجزات پیش کرو ، اور سب نے یہ تمنائیں کیں کہ کاش اللہ کوئی معجزہ صادر کردے جس کو دیکھ کر تکذیب کرنے والے مان لیں ، لیکن معجزات کا صدور اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اور اس وقت ہوتاط ہے جب اللہ جاہتا ہے۔ یہ دعوت اللہ کی دعوت ہے وہ جس طرح چاہتا ہے ، اسے چلاتا ہے۔ البتہ اللہ کے بعض معجزات اس کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ، ہر زمان ومکان کے لوگوں کی نظروں کے سامنے ہیں۔ مثلاً مویشی ، کشتیاں اور دوسری چیزیں جن کا انکار کوئی نہیں کرسکتا اور اس سبق کا خاتمہ ایک نہایت شدید جھٹکے سے ہوتا ہے جس میں ان اقوام کی ہلاکت دکھائی گئی ہے جہنون نے اس سے قبل تکذیب کی اور وہ اپنے مال ، دولت اور ترقی پر نازاں رہے۔ اللہ نے پھر ان کو اپنی سنت کے مطابق پکڑا۔ فلم یک۔۔۔۔۔۔ الکفرون (40: 78) ” مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکا تھا ، کیونکہ یہی اللہ کا مقرر شدہ ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑے۔ درس نمبر 226 تشریح آیات آیت نمبر 78 اقامت دین کی جدوجہد کی مثالیں اور پیغمبر بھیجنے کی مثالیں سابقہ تاریخ میں وجود ہیں۔ بعض کے واقعات قرآن میں بیان کیے گئے ہیں اور بعض کا تذکرہ نہیں کیا گیا ، اور جن کے واقعات سابقہ تاریخ میں موجود ہیں۔ بعض کے اوقات قرآن میں بیان کیے گئے ہیں اور بعض کا تذکرہ نہیں کیا گیا ، اور جن کے واقعات بیان کیے گئے ہیں ان میں تحریک اسلامی کی طویل جدوجہد کے نشانات راہ موجود ہیں۔ یہ راستہ واضح ہے اور طویل ہے اور اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ اور ان پیغمبروں کے واقعات صاف صاف بتاتے ہیں کہ اللہ کی سنت کیا ہے اور رسولوں کا فریضہ کیا ہے۔ اور جس بات کی تاکید مطلوب ہے اس کی وضاحت بھی کردی گئی جس پر داعی کو اعتماد کرنا چاہئے وہ یہ کہ۔ وما کان۔۔۔۔ باذن اللہ (40: 78) ” کسی رسول کی بھی طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آئے “۔ نفس انسانی کی یہ شدید خواہش ہوتی ہے ، اگرچہ رسول ہی کیوں نہ ہو کہ دعوت اسلامی کے مخالفین دعوت اسلامی کو قبول کرلیں ، اور اس کے مقابلے میں سرکشی اور ضد کرنے والے لوک اس پر یقین کرلیں۔ اس لیے قدرتی وطرپر انسانی نفوس معجزات کے صدور کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ مخالفین کی زبانیں بندہوجائیں اور وہ یقین کرلیں لیکن اللہ کی خواہش یہ ہے کہ اس کے مختار بندے صبر کا سہارا لیں آپ کو دعوت پر قائم رکھیں ۔ یہ بات یوں کہی جاتی ہے کہ فتح وشکست کا معاملہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ تمہارا کام یہ ہے کہ تم دعوت پہنچا دو ۔ رہ معجزہ دکھانا ، تو اللہ کا کام ہے ، جس وقت اللہ چاہے گا معجزہ آجائے گا۔ تم اطمینان رکھو ، ثابت قدم رہو اور دلجمعی سے کام کرو اور جو نتائج تمہارے ہاتھوں سے برآمد ہوتے ہیں ، ابن پر صبر کرو ، دعوت کا انجام اللہ کے سپرد کردو یہاں یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ لوگ حقیقت الوہیت کو بھی جان لیں اور منصب رسالت کو بھی سمجھ لیں۔ اور یہ جان لیں کہ رسول بھی بشر ہوتے ہیں۔ ان کو اللہ نے منصب نبوت کے لیے چن لیا ہوتا ہے۔ ان کے لیے فریضہ مقرر کردیا جاتا ہے ، نہ وہ طاقت رکھتے ہیں اور نہ ان کو اجازت ہے کہ اپنے فرائض کے حدود سے آگے بڑھیں۔ پھر یہ کہ معجزات کے آنے میں تاخیر ان کیلیے ایک نعمت ہے کیونکہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب معجزات آتے ہیں اور لوگ انکار کرتے ہیں تو اللہ پھر اپنی اقوام کو ہلاک کردیتا ہے اسلیے معجزہ نہ آنا دراصل ایک مہلت ہے اور یہ مہلت اللہ کی طرف سے ہے۔ فاذاجآء۔۔۔۔ المبطلون (40: 78) ” پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کردیا گیا۔ اور اس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑگئے “۔ اب پھر عمل اور توبہ یا واپسی کی کوئی مہلت باقی نہیں رہتی اور آخری فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اب ان لوگوں کو جو معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں ، ان آیات ومعجزات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس کائنات میں بکھرے پڑے ہیں اور جن کو رات دن دیکھتے دیکھتے انسان ان کے ساتھ اس قدر مانوس ہوگیا ہے کہ اب وہ اس کے لیے معجزہ نہیں رہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان پر غور وفکر کیا جاتا تو ہرگز مزید کسی معجزے کا مطالبہ نہ ہوتا ۔ یہ تمام چیزیں اللہ کی الوہیت کی بھی نشانیاں ہیں ، کیونکہ اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جو دعویٰ کرسکتا ہو کہ اس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اور اسی طرح یہ دعویٰ بھی بادی النظر میں مسترد ہے کہ یہ تمام کائنات از خود وجود میں آگئی ہے۔

غافر 40:79

آیت نمبر 79 تا 81 ان مویشیوں کی ابتدائی تخلیق اسی طرح نشانی ہے جس طرح انسان کی تخلیق نشانی اور معجزہ ہے ، ان حیوانات کے اندرروح ڈالنا ، ان کو اس شکل و صورت میں بنانا اور ان کو رنگارنگ پیدا کرنا سب معجزات ہیں۔ پھر یہ تمام جانور اور مویشی انسان کے لیے مسخر کیے گئے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو جسم کے اعتبار سے بھی اور قوت کے اعتبار سے بھی انسان سے زیادہ قوی ہیں لیکن اللہ الذی ۔۔۔۔ تاکلون (40: 79) ” اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار اور کسی کا گوشت کھاؤ “۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ جانور اسی طرح دنیا پائے گئے ہیں اور یہ کہ انسان کے لیے یہ کوئی معجزہ نہیں ہیں ، یا یہ کہ جانور کسی خالق پر دلالت نہیں کرتے جس نے انہیں پیدا کیا ہو اور انسان کے لیے مسخر کیا اور ان جانوروں کے اندر یہ خصائص موجود ہیں اور انسانوں کے اندر بھی یہ خصائص موجود ہیں تو اسی قسم کی باتیں قابل قبول نہیں ہیں اور انسانی کی فطری سوچ اس کے خلاف ہے۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ بہت ہی سطحی لوگ ہیں اور ان کی یہ باتیں بالکل سطحی اور محض جدال ہیں۔ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ ان آیات میں کیا کیا خوارق عادت معجزات ہیں اور کیا کیا نعمتیں ہیں۔ لترکبوا منھا۔۔۔۔۔۔ الفلک تحملون (40: 80) ” تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ۔ ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں۔ وہ اس کام بھی آتے ہیں کہ تمہارے دنوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو وہاں تم ان پر پہنچ سکو۔ ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو “۔ اور وہ خواہشات کو ان کے دلوں میں ہوتی تھیں اور ان جانوروں پر سوار ہوکر ان تک پہنچتے تھے۔ وہ بہت بڑی حاجت و ضروریات تھیں ، خصوصاً اس دور میں۔ اس دور میں نقل وحمل کے موجودہ ذرائع تو تھے نہیں۔ لیکن آج تک یہ جانور بعض ضروریات پورا کرتے ہیں آج بھی بعض پہاڑ ایسے دشوار گزار ہیں کہ وہاں تک کوئی جہاز ، کوئی ریل ، کوئی موٹروغیرہ نہیں جاتے۔ وہاں یہی جانور آتے ہیں۔ ان پہاڑوں میں راستے اس قدر تنگ ہوتے ہیں کہ وہاں یہی جانور کرتے ہیں۔ وعلیھاوعلی الفلک تحملون (40: 80) ” ان پر بھی اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو “۔ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں۔ اور اللہ کی ان مہربانیوں میں سے ہیں جو اس نے انسان پر کیں۔ کشتی کو پانی پر چلایا۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو پانی اور کشتی کے اندر تخلیق کے وقت رکھی گئیں۔ زمین میں بھی اور آسمان میں بھی۔ خشکی میں بھی اور تری میں بھی۔ چاہے یہ کشتی بادبانوں سے چلے ، بخارات سے چلے یا ایٹمی قوت سے چلے یا ان کے بھی علاوہ کسی اور قوت سے چلے جو اللہ نے اس کائنات میں رکھ دی ہیں اور انسان کو یہ توقیق بخشی ہے کہ وہ ان قوتوں کو کام میں لائے۔ اس لیے ان سب چیزوں کو اللہ کے معجزات اور اللہ کے دیئے ہوئے انعامات کے مضمون میں لایا گیا ہے۔ اور اس قسم کی کئی آیات ومعجزت اس کائنات میں جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ انسان کے لیے ممکن کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان میں سے کسی معجزے اور انعام کا انکار کرسکے بشرطیکہ وہ سنجیدہ ہو۔ ویریکم اٰیٰته فای اٰیٰت اللہ تنکرون (40: 81) ” اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے ، آخر تم اللہ کی کن کن نشانیوں سے انکار کروگے “۔ ہاں بعض لوگ ہیں جو انکار کرتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں ، بعض ایسے ہیں جو باطل دلائل لے کر آتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے حق کو نیچا دکھائیں۔ لیکن ان سب میں سے کوئی بھی نیک نہیں ہے یا اس کے اندر ٹیڑھ ہے یا کوئی مفاد ہے ، یاکبر ہے یا اسے کوئی مغالطٰہ ہے یا کسی اور غرض کے لیے یہ کررہا ہے۔ بعض لوگ اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ فرعون اور دوسرے لوگوں کی طرح ذی جاہ اور سرکش اور ظالم ہیں ، ان کو اپنی حکومت اور اقتدار کا خطرہ ہے ، ان کو تخت وتاج کا خطرہ ہے ، یہ تخت وتاج جن خاکوں پر قائم ہیں ان کو دعوت حق اڑا دیتی ہے ، کیونکہ دعوت اسلامی کا نظریہ یہ ہے کہ الٰہ اور حاکم ایک ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ مذہبی راہنما ہیں ، بعض اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ ایک خاص طرز کا نظام حکومت و معیشت چاہتے ہیں مثلاً اشتراکیت کے علم برادار ، جب آسمانی عقائد ونظریات اک بندہ نہیں بناتا اور اللہ کی بندگی سے چھڑا کر کسی دوسرے نظریہ یا کسی دوسرے لیڈر کی بندگی میں داخل نہیں کرتا۔ بعض لوگ اس لیے جھگرتے ہیں کہ وہ پاپائیت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ میں اہل کنیہ اور عوام کے درمیان ہوا۔ چونکہ عوام پاپائیت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں ، اس لیے انہوں نے اہل کینہ کو ان کا الٰہ بھی واپس کردیا۔ کیونکہ الٰہ کے نام سے انہوں نے لوگوں کو غلام بنارکھا تھا۔ ان اسباب کے سوا اور بھی کئی اسباب ہیں ، لیکن انسان کی فطری سوچ ان تمام اسباب کو مسترد کردیتی ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے جو اس کائنات کے وجود میں مستقلاً موجود ہے اور جس کی موجودگی کی نشاندہی کائنات کی یہ نشانیاں کرتی ہیں۔ اور آخر میں یہ زور دار تبصرہ :

غافر 40:80

آیت نمبر 79 تا 81 ان مویشیوں کی ابتدائی تخلیق اسی طرح نشانی ہے جس طرح انسان کی تخلیق نشانی اور معجزہ ہے ، ان حیوانات کے اندرروح ڈالنا ، ان کو اس شکل و صورت میں بنانا اور ان کو رنگارنگ پیدا کرنا سب معجزات ہیں۔ پھر یہ تمام جانور اور مویشی انسان کے لیے مسخر کیے گئے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو جسم کے اعتبار سے بھی اور قوت کے اعتبار سے بھی انسان سے زیادہ قوی ہیں لیکن اللہ الذی ۔۔۔۔ تاکلون (40: 79) ” اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار اور کسی کا گوشت کھاؤ “۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ جانور اسی طرح دنیا پائے گئے ہیں اور یہ کہ انسان کے لیے یہ کوئی معجزہ نہیں ہیں ، یا یہ کہ جانور کسی خالق پر دلالت نہیں کرتے جس نے انہیں پیدا کیا ہو اور انسان کے لیے مسخر کیا اور ان جانوروں کے اندر یہ خصائص موجود ہیں اور انسانوں کے اندر بھی یہ خصائص موجود ہیں تو اسی قسم کی باتیں قابل قبول نہیں ہیں اور انسانی کی فطری سوچ اس کے خلاف ہے۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ بہت ہی سطحی لوگ ہیں اور ان کی یہ باتیں بالکل سطحی اور محض جدال ہیں۔ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ ان آیات میں کیا کیا خوارق عادت معجزات ہیں اور کیا کیا نعمتیں ہیں۔ لترکبوا منھا۔۔۔۔۔۔ الفلک تحملون (40: 80) ” تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ۔ ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں۔ وہ اس کام بھی آتے ہیں کہ تمہارے دنوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو وہاں تم ان پر پہنچ سکو۔ ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو “۔ اور وہ خواہشات کو ان کے دلوں میں ہوتی تھیں اور ان جانوروں پر سوار ہوکر ان تک پہنچتے تھے۔ وہ بہت بڑی حاجت و ضروریات تھیں ، خصوصاً اس دور میں۔ اس دور میں نقل وحمل کے موجودہ ذرائع تو تھے نہیں۔ لیکن آج تک یہ جانور بعض ضروریات پورا کرتے ہیں آج بھی بعض پہاڑ ایسے دشوار گزار ہیں کہ وہاں تک کوئی جہاز ، کوئی ریل ، کوئی موٹروغیرہ نہیں جاتے۔ وہاں یہی جانور آتے ہیں۔ ان پہاڑوں میں راستے اس قدر تنگ ہوتے ہیں کہ وہاں یہی جانور کرتے ہیں۔ وعلیھاوعلی الفلک تحملون (40: 80) ” ان پر بھی اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو “۔ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں۔ اور اللہ کی ان مہربانیوں میں سے ہیں جو اس نے انسان پر کیں۔ کشتی کو پانی پر چلایا۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو پانی اور کشتی کے اندر تخلیق کے وقت رکھی گئیں۔ زمین میں بھی اور آسمان میں بھی۔ خشکی میں بھی اور تری میں بھی۔ چاہے یہ کشتی بادبانوں سے چلے ، بخارات سے چلے یا ایٹمی قوت سے چلے یا ان کے بھی علاوہ کسی اور قوت سے چلے جو اللہ نے اس کائنات میں رکھ دی ہیں اور انسان کو یہ توقیق بخشی ہے کہ وہ ان قوتوں کو کام میں لائے۔ اس لیے ان سب چیزوں کو اللہ کے معجزات اور اللہ کے دیئے ہوئے انعامات کے مضمون میں لایا گیا ہے۔ اور اس قسم کی کئی آیات ومعجزت اس کائنات میں جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ انسان کے لیے ممکن کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان میں سے کسی معجزے اور انعام کا انکار کرسکے بشرطیکہ وہ سنجیدہ ہو۔ ویریکم اٰیٰته فای اٰیٰت اللہ تنکرون (40: 81) ” اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے ، آخر تم اللہ کی کن کن نشانیوں سے انکار کروگے “۔ ہاں بعض لوگ ہیں جو انکار کرتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں ، بعض ایسے ہیں جو باطل دلائل لے کر آتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے حق کو نیچا دکھائیں۔ لیکن ان سب میں سے کوئی بھی نیک نہیں ہے یا اس کے اندر ٹیڑھ ہے یا کوئی مفاد ہے ، یاکبر ہے یا اسے کوئی مغالطٰہ ہے یا کسی اور غرض کے لیے یہ کررہا ہے۔ بعض لوگ اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ فرعون اور دوسرے لوگوں کی طرح ذی جاہ اور سرکش اور ظالم ہیں ، ان کو اپنی حکومت اور اقتدار کا خطرہ ہے ، ان کو تخت وتاج کا خطرہ ہے ، یہ تخت وتاج جن خاکوں پر قائم ہیں ان کو دعوت حق اڑا دیتی ہے ، کیونکہ دعوت اسلامی کا نظریہ یہ ہے کہ الٰہ اور حاکم ایک ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ مذہبی راہنما ہیں ، بعض اس لیے جھگڑتے ہیں کہ وہ ایک خاص طرز کا نظام حکومت و معیشت چاہتے ہیں مثلاً اشتراکیت کے علم برادار ، جب آسمانی عقائد ونظریات اک بندہ نہیں بناتا اور اللہ کی بندگی سے چھڑا کر کسی دوسرے نظریہ یا کسی دوسرے لیڈر کی بندگی میں داخل نہیں کرتا۔ بعض لوگ اس لیے جھگرتے ہیں کہ وہ پاپائیت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ میں اہل کنیہ اور عوام کے درمیان ہوا۔ چونکہ عوام پاپائیت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں ، اس لیے انہوں نے اہل کینہ کو ان کا الٰہ بھی واپس کردیا۔ کیونکہ الٰہ کے نام سے انہوں نے لوگوں کو غلام بنارکھا تھا۔ ان اسباب کے سوا اور بھی کئی اسباب ہیں ، لیکن انسان کی فطری سوچ ان تمام اسباب کو مسترد کردیتی ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے جو اس کائنات کے وجود میں مستقلاً موجود ہے اور جس کی موجودگی کی نشاندہی کائنات کی یہ نشانیاں کرتی ہیں۔ اور آخر میں یہ زور دار تبصرہ :

غافر 40:81

آیت نمبر 81 تا 85 انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ انسانی دل کا کون سادروازہ صرف ایک ہی دستک دینے سے کھل جاتا ہے اور کون سا دروازہ چند زور دار دستک دینے سے کھلتا ہے اور کون سا ہے جو زنگ آلود ہوگیا اور توڑے بغیر نہیں کھلتا۔ اللہ انسانوں سے پوچھتا ہے ، انہیں انسانی تاریخ کی سیر کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے کہ ذدا کھلی آنکھوں سے انسانی تاریخ کے نشیب و فراز کو دیکھو۔ وادی وادی میں گھومو اور احساس کو تیز رکھو ، اور قلب ونظر کو کھول کر چلو ، دیکھو اور غور کرو ، تم سے پہلے اس زمین پر کیا کیا ہوتا رہا ہے اور انسانی پر کیا کیا مصائب ٹوٹے ہیں۔ افلم یسیروا۔۔۔۔۔ من قبلھم (40: 82) ” پھر کیا زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کو ان کو لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں “۔ قبل اس کے کہ ان کے انجام کو بتایا جائے ، ان کے کچھ خدوخال بتائے جاتے ہیں اور ان کے حالات زندگی سے موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ عبرت آموزی مکمل ہو۔ کانوآ اکثر۔۔۔۔ فی الارض (40: 82) ” وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے ، ان سے بڑھ کع طاقتور تھے اور زمین میں ان سے زیادہ ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑگئے ہیں “۔ کثرت تعداد ، سیاسی قوت اور ترقی سب میں موجود لوگوں سے زیادہ تھے۔ ان میں سے کئی نسلیں تھیں جو عربوں سے پہلے گزری تھیں ۔ بعضوں کے قصے تو رسول کو سنائے گئے اور بعض کو تاریخ کے قبر ستان میں مدفون ہی چھوڑدیا گیا اور بعض قصے ، عربوں کو معلوم تھے اور بعض کے آثار کو وہ شب وروز دیکھتے تھے۔ فمآ اغنی عنھم ماکانوا یکسبون (40: 82) ” جو کچھ کمائی انہوں نے کی تھی آخر وہ ان کے کس کام آئی “۔ نہ ان کی کثرت ، نہ قوت اور نہ ترقی انکو بچاسکی حالانکہ وہ انہی چیزوں پر بھروسہ کیے ہوئے تھے اور مغرور تھے۔ بلکہ انکی ہلاکت کا سبب یہی باتیں ہوئیں فلماجآء۔۔۔۔ من العلم (40: 83) ” جب ان کے رسول ان کے پاس بینات لے کر آئے تو وہ اس علم میں مگن رہے جو ان کے پاس تھا “۔ علم ایمان کے ایک عظیم فتنہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کو اندھا کردیتا ہے اور سرکش بنا دیتا ہے۔ اس قسم کے ظاہری اور سائنسی علوم لوگوں کو مغرور بنا دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنے اس علم کی وجہ سے وہ اقتدار میں ہیں ، بڑی بڑی قوتوں کو چلاتے ہیں اور وہ بڑے بڑے خزانوں کے مالک ہیں۔ یوں وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور وہ ان وسعتوں کو بھول جاتے ہیں جن تک ابھی ان کے علم کو رسائی نہیں ہوئی ہے حالانکہ وہ وسعتیں اس کائنات میں موجود ہیں۔ ان قوتوں پر ابھی انہوں نے قابو نہیں پایا ہوتا ہے بلکہ ان کا تصور بھی وہ نہیں کرپاتے ، ان کو تو وسعتوں کے صرف ایک معمولی کنارے تک رسائی ہوئی ہوتی ہے۔ یوں یہ بےایمان صاحب علم پھول جاتا ہے اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس کا علم اسے پھلا دیتا ہے اور اس کا جہل اسے اپنی حقیقت بھلا دیتا ہے۔ اگر وہ یہ قیاس کرلیتا کہ اس کا علم تو بہت ہی تھوڑا ہے اور اس کے جہل کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جس کا وہ اندازہ کرتا ہے وہ بہت تھوڑا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ تو وہ سر جھکا لیتا اور اپنی کبریائی کو تھوک دیتا اور یہ جو پھول رہا ہے اس میں ذرا کمی کردیتا۔ بہرحال یہ لوگ جو اپنے موجودہ علم میں مگن ہوگئے تھے وہ یاد دہانی کرانے والوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ وحاق بھم ماکانوابه یستھزءون (40: 83) ” پھر اس چیز کے پھیرے میں آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے “۔ جب انہوں نے اللہ کے عذاب کو دیکھا تو پردہ گر گیا اور ان کو معلوم ہوگیا کہ جس چیز پر ان کو غرور تھا وہ تو کچھ نہ تھی۔ اب انہوں نے اس بات کا اعتراف کرلیا جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوگئے۔ اپنے شرکاء کا انکار کردیا لیکن اب تو وقت چلا گیا تھا۔ فلما راوا۔۔۔۔ راواباسنا (40: 85) ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم اس کا شریک ٹھہراتے تھے مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکتا تھا “۔ کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان قبول نہیں ہوتا اس لیے کہ اس وقت خوف کی توبہ ہوتی ہے۔ ایمان کی توبہ نہیں ہوتی۔ سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ (40: 85) ” کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے “۔ اور اللہ کی سنت میں کوئی تغیر اور ترمیم نہیں ہوا کرتی۔ یہ اپنی مقرر راہ پر چلتی ہے۔ وخسرھنالک الکٰفرون (40: 85) ” اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے “۔ اس سخت منظر ، یعنی منظر عذاب الہٰی پر یہ سورت ختم ہوتی ہے ، جس میں یہ چیخ و پکار کرتے ہیں ، جزع فزع کرتے ہیں اور معافیاں مانگتے ہیں ، ایمان ویقین کا اعلان کرتے ہیں ، سورت کا یہ خاتمہ سورت کی فضا اور موضوعات اور مضامین کیساتھ متناسب ہے اس سورت کے دوران ہم نے ایسے مسائل پر بھی بحث کی ہے جو خالص مکی سورتوں کے اہم مسائل ہیں ، مثلاً مسئلہ توحید ، مسئلہ معاد ، مسئلہ وحی ، لیکن یہ مسائل اس سورت کا اصل موضوع نہ تھے۔ اس کا اصل موضوع معرکہ حق و باطل تھا ۔ ایمان وکفر تھا۔ اصلاح وسرکشی تھی۔ یہ اس سورت کے نمایاں موضوعات ومضامین تھے۔ اور اسے سورت کے اہم خدوخال ، اور تمام سورتوں کے مقابلے میں نہایت ہی نمایاں مقاصد۔۔۔۔

غافر 40:82

آیت نمبر 81 تا 85 انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ انسانی دل کا کون سادروازہ صرف ایک ہی دستک دینے سے کھل جاتا ہے اور کون سا دروازہ چند زور دار دستک دینے سے کھلتا ہے اور کون سا ہے جو زنگ آلود ہوگیا اور توڑے بغیر نہیں کھلتا۔ اللہ انسانوں سے پوچھتا ہے ، انہیں انسانی تاریخ کی سیر کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے کہ ذدا کھلی آنکھوں سے انسانی تاریخ کے نشیب و فراز کو دیکھو۔ وادی وادی میں گھومو اور احساس کو تیز رکھو ، اور قلب ونظر کو کھول کر چلو ، دیکھو اور غور کرو ، تم سے پہلے اس زمین پر کیا کیا ہوتا رہا ہے اور انسانی پر کیا کیا مصائب ٹوٹے ہیں۔ افلم یسیروا۔۔۔۔۔ من قبلھم (40: 82) ” پھر کیا زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کو ان کو لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں “۔ قبل اس کے کہ ان کے انجام کو بتایا جائے ، ان کے کچھ خدوخال بتائے جاتے ہیں اور ان کے حالات زندگی سے موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ عبرت آموزی مکمل ہو۔ کانوآ اکثر۔۔۔۔ فی الارض (40: 82) ” وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے ، ان سے بڑھ کع طاقتور تھے اور زمین میں ان سے زیادہ ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑگئے ہیں “۔ کثرت تعداد ، سیاسی قوت اور ترقی سب میں موجود لوگوں سے زیادہ تھے۔ ان میں سے کئی نسلیں تھیں جو عربوں سے پہلے گزری تھیں ۔ بعضوں کے قصے تو رسول کو سنائے گئے اور بعض کو تاریخ کے قبر ستان میں مدفون ہی چھوڑدیا گیا اور بعض قصے ، عربوں کو معلوم تھے اور بعض کے آثار کو وہ شب وروز دیکھتے تھے۔ فمآ اغنی عنھم ماکانوا یکسبون (40: 82) ” جو کچھ کمائی انہوں نے کی تھی آخر وہ ان کے کس کام آئی “۔ نہ ان کی کثرت ، نہ قوت اور نہ ترقی انکو بچاسکی حالانکہ وہ انہی چیزوں پر بھروسہ کیے ہوئے تھے اور مغرور تھے۔ بلکہ انکی ہلاکت کا سبب یہی باتیں ہوئیں فلماجآء۔۔۔۔ من العلم (40: 83) ” جب ان کے رسول ان کے پاس بینات لے کر آئے تو وہ اس علم میں مگن رہے جو ان کے پاس تھا “۔ علم ایمان کے ایک عظیم فتنہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کو اندھا کردیتا ہے اور سرکش بنا دیتا ہے۔ اس قسم کے ظاہری اور سائنسی علوم لوگوں کو مغرور بنا دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنے اس علم کی وجہ سے وہ اقتدار میں ہیں ، بڑی بڑی قوتوں کو چلاتے ہیں اور وہ بڑے بڑے خزانوں کے مالک ہیں۔ یوں وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور وہ ان وسعتوں کو بھول جاتے ہیں جن تک ابھی ان کے علم کو رسائی نہیں ہوئی ہے حالانکہ وہ وسعتیں اس کائنات میں موجود ہیں۔ ان قوتوں پر ابھی انہوں نے قابو نہیں پایا ہوتا ہے بلکہ ان کا تصور بھی وہ نہیں کرپاتے ، ان کو تو وسعتوں کے صرف ایک معمولی کنارے تک رسائی ہوئی ہوتی ہے۔ یوں یہ بےایمان صاحب علم پھول جاتا ہے اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس کا علم اسے پھلا دیتا ہے اور اس کا جہل اسے اپنی حقیقت بھلا دیتا ہے۔ اگر وہ یہ قیاس کرلیتا کہ اس کا علم تو بہت ہی تھوڑا ہے اور اس کے جہل کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جس کا وہ اندازہ کرتا ہے وہ بہت تھوڑا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ تو وہ سر جھکا لیتا اور اپنی کبریائی کو تھوک دیتا اور یہ جو پھول رہا ہے اس میں ذرا کمی کردیتا۔ بہرحال یہ لوگ جو اپنے موجودہ علم میں مگن ہوگئے تھے وہ یاد دہانی کرانے والوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ وحاق بھم ماکانوابه یستھزءون (40: 83) ” پھر اس چیز کے پھیرے میں آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے “۔ جب انہوں نے اللہ کے عذاب کو دیکھا تو پردہ گر گیا اور ان کو معلوم ہوگیا کہ جس چیز پر ان کو غرور تھا وہ تو کچھ نہ تھی۔ اب انہوں نے اس بات کا اعتراف کرلیا جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوگئے۔ اپنے شرکاء کا انکار کردیا لیکن اب تو وقت چلا گیا تھا۔ فلما راوا۔۔۔۔ راواباسنا (40: 85) ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم اس کا شریک ٹھہراتے تھے مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکتا تھا “۔ کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان قبول نہیں ہوتا اس لیے کہ اس وقت خوف کی توبہ ہوتی ہے۔ ایمان کی توبہ نہیں ہوتی۔ سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ (40: 85) ” کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے “۔ اور اللہ کی سنت میں کوئی تغیر اور ترمیم نہیں ہوا کرتی۔ یہ اپنی مقرر راہ پر چلتی ہے۔ وخسرھنالک الکٰفرون (40: 85) ” اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے “۔ اس سخت منظر ، یعنی منظر عذاب الہٰی پر یہ سورت ختم ہوتی ہے ، جس میں یہ چیخ و پکار کرتے ہیں ، جزع فزع کرتے ہیں اور معافیاں مانگتے ہیں ، ایمان ویقین کا اعلان کرتے ہیں ، سورت کا یہ خاتمہ سورت کی فضا اور موضوعات اور مضامین کیساتھ متناسب ہے اس سورت کے دوران ہم نے ایسے مسائل پر بھی بحث کی ہے جو خالص مکی سورتوں کے اہم مسائل ہیں ، مثلاً مسئلہ توحید ، مسئلہ معاد ، مسئلہ وحی ، لیکن یہ مسائل اس سورت کا اصل موضوع نہ تھے۔ اس کا اصل موضوع معرکہ حق و باطل تھا ۔ ایمان وکفر تھا۔ اصلاح وسرکشی تھی۔ یہ اس سورت کے نمایاں موضوعات ومضامین تھے۔ اور اسے سورت کے اہم خدوخال ، اور تمام سورتوں کے مقابلے میں نہایت ہی نمایاں مقاصد۔۔۔۔

غافر 40:83

آیت نمبر 81 تا 85 انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ انسانی دل کا کون سادروازہ صرف ایک ہی دستک دینے سے کھل جاتا ہے اور کون سا دروازہ چند زور دار دستک دینے سے کھلتا ہے اور کون سا ہے جو زنگ آلود ہوگیا اور توڑے بغیر نہیں کھلتا۔ اللہ انسانوں سے پوچھتا ہے ، انہیں انسانی تاریخ کی سیر کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے کہ ذدا کھلی آنکھوں سے انسانی تاریخ کے نشیب و فراز کو دیکھو۔ وادی وادی میں گھومو اور احساس کو تیز رکھو ، اور قلب ونظر کو کھول کر چلو ، دیکھو اور غور کرو ، تم سے پہلے اس زمین پر کیا کیا ہوتا رہا ہے اور انسانی پر کیا کیا مصائب ٹوٹے ہیں۔ افلم یسیروا۔۔۔۔۔ من قبلھم (40: 82) ” پھر کیا زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کو ان کو لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں “۔ قبل اس کے کہ ان کے انجام کو بتایا جائے ، ان کے کچھ خدوخال بتائے جاتے ہیں اور ان کے حالات زندگی سے موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ عبرت آموزی مکمل ہو۔ کانوآ اکثر۔۔۔۔ فی الارض (40: 82) ” وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے ، ان سے بڑھ کع طاقتور تھے اور زمین میں ان سے زیادہ ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑگئے ہیں “۔ کثرت تعداد ، سیاسی قوت اور ترقی سب میں موجود لوگوں سے زیادہ تھے۔ ان میں سے کئی نسلیں تھیں جو عربوں سے پہلے گزری تھیں ۔ بعضوں کے قصے تو رسول کو سنائے گئے اور بعض کو تاریخ کے قبر ستان میں مدفون ہی چھوڑدیا گیا اور بعض قصے ، عربوں کو معلوم تھے اور بعض کے آثار کو وہ شب وروز دیکھتے تھے۔ فمآ اغنی عنھم ماکانوا یکسبون (40: 82) ” جو کچھ کمائی انہوں نے کی تھی آخر وہ ان کے کس کام آئی “۔ نہ ان کی کثرت ، نہ قوت اور نہ ترقی انکو بچاسکی حالانکہ وہ انہی چیزوں پر بھروسہ کیے ہوئے تھے اور مغرور تھے۔ بلکہ انکی ہلاکت کا سبب یہی باتیں ہوئیں فلماجآء۔۔۔۔ من العلم (40: 83) ” جب ان کے رسول ان کے پاس بینات لے کر آئے تو وہ اس علم میں مگن رہے جو ان کے پاس تھا “۔ علم ایمان کے ایک عظیم فتنہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کو اندھا کردیتا ہے اور سرکش بنا دیتا ہے۔ اس قسم کے ظاہری اور سائنسی علوم لوگوں کو مغرور بنا دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنے اس علم کی وجہ سے وہ اقتدار میں ہیں ، بڑی بڑی قوتوں کو چلاتے ہیں اور وہ بڑے بڑے خزانوں کے مالک ہیں۔ یوں وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور وہ ان وسعتوں کو بھول جاتے ہیں جن تک ابھی ان کے علم کو رسائی نہیں ہوئی ہے حالانکہ وہ وسعتیں اس کائنات میں موجود ہیں۔ ان قوتوں پر ابھی انہوں نے قابو نہیں پایا ہوتا ہے بلکہ ان کا تصور بھی وہ نہیں کرپاتے ، ان کو تو وسعتوں کے صرف ایک معمولی کنارے تک رسائی ہوئی ہوتی ہے۔ یوں یہ بےایمان صاحب علم پھول جاتا ہے اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس کا علم اسے پھلا دیتا ہے اور اس کا جہل اسے اپنی حقیقت بھلا دیتا ہے۔ اگر وہ یہ قیاس کرلیتا کہ اس کا علم تو بہت ہی تھوڑا ہے اور اس کے جہل کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جس کا وہ اندازہ کرتا ہے وہ بہت تھوڑا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ تو وہ سر جھکا لیتا اور اپنی کبریائی کو تھوک دیتا اور یہ جو پھول رہا ہے اس میں ذرا کمی کردیتا۔ بہرحال یہ لوگ جو اپنے موجودہ علم میں مگن ہوگئے تھے وہ یاد دہانی کرانے والوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ وحاق بھم ماکانوابه یستھزءون (40: 83) ” پھر اس چیز کے پھیرے میں آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے “۔ جب انہوں نے اللہ کے عذاب کو دیکھا تو پردہ گر گیا اور ان کو معلوم ہوگیا کہ جس چیز پر ان کو غرور تھا وہ تو کچھ نہ تھی۔ اب انہوں نے اس بات کا اعتراف کرلیا جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوگئے۔ اپنے شرکاء کا انکار کردیا لیکن اب تو وقت چلا گیا تھا۔ فلما راوا۔۔۔۔ راواباسنا (40: 85) ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم اس کا شریک ٹھہراتے تھے مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکتا تھا “۔ کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان قبول نہیں ہوتا اس لیے کہ اس وقت خوف کی توبہ ہوتی ہے۔ ایمان کی توبہ نہیں ہوتی۔ سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ (40: 85) ” کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے “۔ اور اللہ کی سنت میں کوئی تغیر اور ترمیم نہیں ہوا کرتی۔ یہ اپنی مقرر راہ پر چلتی ہے۔ وخسرھنالک الکٰفرون (40: 85) ” اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے “۔ اس سخت منظر ، یعنی منظر عذاب الہٰی پر یہ سورت ختم ہوتی ہے ، جس میں یہ چیخ و پکار کرتے ہیں ، جزع فزع کرتے ہیں اور معافیاں مانگتے ہیں ، ایمان ویقین کا اعلان کرتے ہیں ، سورت کا یہ خاتمہ سورت کی فضا اور موضوعات اور مضامین کیساتھ متناسب ہے اس سورت کے دوران ہم نے ایسے مسائل پر بھی بحث کی ہے جو خالص مکی سورتوں کے اہم مسائل ہیں ، مثلاً مسئلہ توحید ، مسئلہ معاد ، مسئلہ وحی ، لیکن یہ مسائل اس سورت کا اصل موضوع نہ تھے۔ اس کا اصل موضوع معرکہ حق و باطل تھا ۔ ایمان وکفر تھا۔ اصلاح وسرکشی تھی۔ یہ اس سورت کے نمایاں موضوعات ومضامین تھے۔ اور اسے سورت کے اہم خدوخال ، اور تمام سورتوں کے مقابلے میں نہایت ہی نمایاں مقاصد۔۔۔۔

غافر 40:84

آیت نمبر 81 تا 85 انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ انسانی دل کا کون سادروازہ صرف ایک ہی دستک دینے سے کھل جاتا ہے اور کون سا دروازہ چند زور دار دستک دینے سے کھلتا ہے اور کون سا ہے جو زنگ آلود ہوگیا اور توڑے بغیر نہیں کھلتا۔ اللہ انسانوں سے پوچھتا ہے ، انہیں انسانی تاریخ کی سیر کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے کہ ذدا کھلی آنکھوں سے انسانی تاریخ کے نشیب و فراز کو دیکھو۔ وادی وادی میں گھومو اور احساس کو تیز رکھو ، اور قلب ونظر کو کھول کر چلو ، دیکھو اور غور کرو ، تم سے پہلے اس زمین پر کیا کیا ہوتا رہا ہے اور انسانی پر کیا کیا مصائب ٹوٹے ہیں۔ افلم یسیروا۔۔۔۔۔ من قبلھم (40: 82) ” پھر کیا زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کو ان کو لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں “۔ قبل اس کے کہ ان کے انجام کو بتایا جائے ، ان کے کچھ خدوخال بتائے جاتے ہیں اور ان کے حالات زندگی سے موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ عبرت آموزی مکمل ہو۔ کانوآ اکثر۔۔۔۔ فی الارض (40: 82) ” وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے ، ان سے بڑھ کع طاقتور تھے اور زمین میں ان سے زیادہ ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑگئے ہیں “۔ کثرت تعداد ، سیاسی قوت اور ترقی سب میں موجود لوگوں سے زیادہ تھے۔ ان میں سے کئی نسلیں تھیں جو عربوں سے پہلے گزری تھیں ۔ بعضوں کے قصے تو رسول کو سنائے گئے اور بعض کو تاریخ کے قبر ستان میں مدفون ہی چھوڑدیا گیا اور بعض قصے ، عربوں کو معلوم تھے اور بعض کے آثار کو وہ شب وروز دیکھتے تھے۔ فمآ اغنی عنھم ماکانوا یکسبون (40: 82) ” جو کچھ کمائی انہوں نے کی تھی آخر وہ ان کے کس کام آئی “۔ نہ ان کی کثرت ، نہ قوت اور نہ ترقی انکو بچاسکی حالانکہ وہ انہی چیزوں پر بھروسہ کیے ہوئے تھے اور مغرور تھے۔ بلکہ انکی ہلاکت کا سبب یہی باتیں ہوئیں فلماجآء۔۔۔۔ من العلم (40: 83) ” جب ان کے رسول ان کے پاس بینات لے کر آئے تو وہ اس علم میں مگن رہے جو ان کے پاس تھا “۔ علم ایمان کے ایک عظیم فتنہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کو اندھا کردیتا ہے اور سرکش بنا دیتا ہے۔ اس قسم کے ظاہری اور سائنسی علوم لوگوں کو مغرور بنا دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنے اس علم کی وجہ سے وہ اقتدار میں ہیں ، بڑی بڑی قوتوں کو چلاتے ہیں اور وہ بڑے بڑے خزانوں کے مالک ہیں۔ یوں وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور وہ ان وسعتوں کو بھول جاتے ہیں جن تک ابھی ان کے علم کو رسائی نہیں ہوئی ہے حالانکہ وہ وسعتیں اس کائنات میں موجود ہیں۔ ان قوتوں پر ابھی انہوں نے قابو نہیں پایا ہوتا ہے بلکہ ان کا تصور بھی وہ نہیں کرپاتے ، ان کو تو وسعتوں کے صرف ایک معمولی کنارے تک رسائی ہوئی ہوتی ہے۔ یوں یہ بےایمان صاحب علم پھول جاتا ہے اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس کا علم اسے پھلا دیتا ہے اور اس کا جہل اسے اپنی حقیقت بھلا دیتا ہے۔ اگر وہ یہ قیاس کرلیتا کہ اس کا علم تو بہت ہی تھوڑا ہے اور اس کے جہل کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جس کا وہ اندازہ کرتا ہے وہ بہت تھوڑا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ تو وہ سر جھکا لیتا اور اپنی کبریائی کو تھوک دیتا اور یہ جو پھول رہا ہے اس میں ذرا کمی کردیتا۔ بہرحال یہ لوگ جو اپنے موجودہ علم میں مگن ہوگئے تھے وہ یاد دہانی کرانے والوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ وحاق بھم ماکانوابه یستھزءون (40: 83) ” پھر اس چیز کے پھیرے میں آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے “۔ جب انہوں نے اللہ کے عذاب کو دیکھا تو پردہ گر گیا اور ان کو معلوم ہوگیا کہ جس چیز پر ان کو غرور تھا وہ تو کچھ نہ تھی۔ اب انہوں نے اس بات کا اعتراف کرلیا جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوگئے۔ اپنے شرکاء کا انکار کردیا لیکن اب تو وقت چلا گیا تھا۔ فلما راوا۔۔۔۔ راواباسنا (40: 85) ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم اس کا شریک ٹھہراتے تھے مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکتا تھا “۔ کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان قبول نہیں ہوتا اس لیے کہ اس وقت خوف کی توبہ ہوتی ہے۔ ایمان کی توبہ نہیں ہوتی۔ سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ (40: 85) ” کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے “۔ اور اللہ کی سنت میں کوئی تغیر اور ترمیم نہیں ہوا کرتی۔ یہ اپنی مقرر راہ پر چلتی ہے۔ وخسرھنالک الکٰفرون (40: 85) ” اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے “۔ اس سخت منظر ، یعنی منظر عذاب الہٰی پر یہ سورت ختم ہوتی ہے ، جس میں یہ چیخ و پکار کرتے ہیں ، جزع فزع کرتے ہیں اور معافیاں مانگتے ہیں ، ایمان ویقین کا اعلان کرتے ہیں ، سورت کا یہ خاتمہ سورت کی فضا اور موضوعات اور مضامین کیساتھ متناسب ہے اس سورت کے دوران ہم نے ایسے مسائل پر بھی بحث کی ہے جو خالص مکی سورتوں کے اہم مسائل ہیں ، مثلاً مسئلہ توحید ، مسئلہ معاد ، مسئلہ وحی ، لیکن یہ مسائل اس سورت کا اصل موضوع نہ تھے۔ اس کا اصل موضوع معرکہ حق و باطل تھا ۔ ایمان وکفر تھا۔ اصلاح وسرکشی تھی۔ یہ اس سورت کے نمایاں موضوعات ومضامین تھے۔ اور اسے سورت کے اہم خدوخال ، اور تمام سورتوں کے مقابلے میں نہایت ہی نمایاں مقاصد۔۔۔۔

غافر 40:85

آیت نمبر 81 تا 85 انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ انسانی دل کا کون سادروازہ صرف ایک ہی دستک دینے سے کھل جاتا ہے اور کون سا دروازہ چند زور دار دستک دینے سے کھلتا ہے اور کون سا ہے جو زنگ آلود ہوگیا اور توڑے بغیر نہیں کھلتا۔ اللہ انسانوں سے پوچھتا ہے ، انہیں انسانی تاریخ کی سیر کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے کہ ذدا کھلی آنکھوں سے انسانی تاریخ کے نشیب و فراز کو دیکھو۔ وادی وادی میں گھومو اور احساس کو تیز رکھو ، اور قلب ونظر کو کھول کر چلو ، دیکھو اور غور کرو ، تم سے پہلے اس زمین پر کیا کیا ہوتا رہا ہے اور انسانی پر کیا کیا مصائب ٹوٹے ہیں۔ افلم یسیروا۔۔۔۔۔ من قبلھم (40: 82) ” پھر کیا زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کو ان کو لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں “۔ قبل اس کے کہ ان کے انجام کو بتایا جائے ، ان کے کچھ خدوخال بتائے جاتے ہیں اور ان کے حالات زندگی سے موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ عبرت آموزی مکمل ہو۔ کانوآ اکثر۔۔۔۔ فی الارض (40: 82) ” وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے ، ان سے بڑھ کع طاقتور تھے اور زمین میں ان سے زیادہ ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑگئے ہیں “۔ کثرت تعداد ، سیاسی قوت اور ترقی سب میں موجود لوگوں سے زیادہ تھے۔ ان میں سے کئی نسلیں تھیں جو عربوں سے پہلے گزری تھیں ۔ بعضوں کے قصے تو رسول کو سنائے گئے اور بعض کو تاریخ کے قبر ستان میں مدفون ہی چھوڑدیا گیا اور بعض قصے ، عربوں کو معلوم تھے اور بعض کے آثار کو وہ شب وروز دیکھتے تھے۔ فمآ اغنی عنھم ماکانوا یکسبون (40: 82) ” جو کچھ کمائی انہوں نے کی تھی آخر وہ ان کے کس کام آئی “۔ نہ ان کی کثرت ، نہ قوت اور نہ ترقی انکو بچاسکی حالانکہ وہ انہی چیزوں پر بھروسہ کیے ہوئے تھے اور مغرور تھے۔ بلکہ انکی ہلاکت کا سبب یہی باتیں ہوئیں فلماجآء۔۔۔۔ من العلم (40: 83) ” جب ان کے رسول ان کے پاس بینات لے کر آئے تو وہ اس علم میں مگن رہے جو ان کے پاس تھا “۔ علم ایمان کے ایک عظیم فتنہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کو اندھا کردیتا ہے اور سرکش بنا دیتا ہے۔ اس قسم کے ظاہری اور سائنسی علوم لوگوں کو مغرور بنا دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنے اس علم کی وجہ سے وہ اقتدار میں ہیں ، بڑی بڑی قوتوں کو چلاتے ہیں اور وہ بڑے بڑے خزانوں کے مالک ہیں۔ یوں وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور وہ ان وسعتوں کو بھول جاتے ہیں جن تک ابھی ان کے علم کو رسائی نہیں ہوئی ہے حالانکہ وہ وسعتیں اس کائنات میں موجود ہیں۔ ان قوتوں پر ابھی انہوں نے قابو نہیں پایا ہوتا ہے بلکہ ان کا تصور بھی وہ نہیں کرپاتے ، ان کو تو وسعتوں کے صرف ایک معمولی کنارے تک رسائی ہوئی ہوتی ہے۔ یوں یہ بےایمان صاحب علم پھول جاتا ہے اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس کا علم اسے پھلا دیتا ہے اور اس کا جہل اسے اپنی حقیقت بھلا دیتا ہے۔ اگر وہ یہ قیاس کرلیتا کہ اس کا علم تو بہت ہی تھوڑا ہے اور اس کے جہل کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جس کا وہ اندازہ کرتا ہے وہ بہت تھوڑا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ تو وہ سر جھکا لیتا اور اپنی کبریائی کو تھوک دیتا اور یہ جو پھول رہا ہے اس میں ذرا کمی کردیتا۔ بہرحال یہ لوگ جو اپنے موجودہ علم میں مگن ہوگئے تھے وہ یاد دہانی کرانے والوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ وحاق بھم ماکانوابه یستھزءون (40: 83) ” پھر اس چیز کے پھیرے میں آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے “۔ جب انہوں نے اللہ کے عذاب کو دیکھا تو پردہ گر گیا اور ان کو معلوم ہوگیا کہ جس چیز پر ان کو غرور تھا وہ تو کچھ نہ تھی۔ اب انہوں نے اس بات کا اعتراف کرلیا جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوگئے۔ اپنے شرکاء کا انکار کردیا لیکن اب تو وقت چلا گیا تھا۔ فلما راوا۔۔۔۔ راواباسنا (40: 85) ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم اس کا شریک ٹھہراتے تھے مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکتا تھا “۔ کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان قبول نہیں ہوتا اس لیے کہ اس وقت خوف کی توبہ ہوتی ہے۔ ایمان کی توبہ نہیں ہوتی۔ سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ (40: 85) ” کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے “۔ اور اللہ کی سنت میں کوئی تغیر اور ترمیم نہیں ہوا کرتی۔ یہ اپنی مقرر راہ پر چلتی ہے۔ وخسرھنالک الکٰفرون (40: 85) ” اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے “۔ اس سخت منظر ، یعنی منظر عذاب الہٰی پر یہ سورت ختم ہوتی ہے ، جس میں یہ چیخ و پکار کرتے ہیں ، جزع فزع کرتے ہیں اور معافیاں مانگتے ہیں ، ایمان ویقین کا اعلان کرتے ہیں ، سورت کا یہ خاتمہ سورت کی فضا اور موضوعات اور مضامین کیساتھ متناسب ہے اس سورت کے دوران ہم نے ایسے مسائل پر بھی بحث کی ہے جو خالص مکی سورتوں کے اہم مسائل ہیں ، مثلاً مسئلہ توحید ، مسئلہ معاد ، مسئلہ وحی ، لیکن یہ مسائل اس سورت کا اصل موضوع نہ تھے۔ اس کا اصل موضوع معرکہ حق و باطل تھا ۔ ایمان وکفر تھا۔ اصلاح وسرکشی تھی۔ یہ اس سورت کے نمایاں موضوعات ومضامین تھے۔ اور اسے سورت کے اہم خدوخال ، اور تمام سورتوں کے مقابلے میں نہایت ہی نمایاں مقاصد۔۔۔۔

فصلت 41:1

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار یاد دلاتا ہے ، وہ خالق قلب اور مصرف القلوب ہے۔ حٰم ۔۔۔۔ الرحیم (41: 1 تا 2) ” یہ حدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے “۔ حم گویا سورت کا نام یا جنس قرآن جو انہی حروف سے بنایا گیا ہے۔ حم مبتداء ہے اور تنزیل خبر ہے یعنی یہ ہیں حم (جن سے قرآن بنا ہے جو ) رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل ہورہا ہے۔ نزول کتاب کے وقت رحمن ورحیم کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اس تنزیل کی صفات عالیہ رحمت الہیہ ہے۔ اور یہ کتاب اور حاصل کتاب بطور رحمت اللعالمین آئے۔ یہ صرف ان لوگوں پر رحمت نہیں ہے جو ایمان لائیں اور اس کی اطاعت کریں۔ بلکہ غیروں کے لیے بھی رحمت ہے صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام زندہ لوگوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ اس کتاب نے ایک ایسا منہاج حیات دنیا کو دیا جس کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ اس کو تصورات دیئے ، اس کو علم دیا اور عرض اس قرآن نے انسانیت کے آگے بڑھنے کی سمت ہی بدل کر رکھ دی۔ قرآن کے رحیمانہ اثرات صرف اہل ایمان تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات عالمی تھے اور اس وقت سے آج تک یہ اثرات جاری ہیں۔ جو لوگ انسانی تاریخ کا مطالعہ انصاف سے کرتے ہیں اور اس کا عام انسانی زاویہ سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مطالعہ میں انسانی سرگرمیوں کا پوری طرح احاطہ کرتے ہیں وہ اس حقیقت کو پاتے ہیں اور نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس کو ریکارڈ کرادیا ہے۔ کتٰب۔۔۔ یعلمون (41: 3) ” ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی اغراض ومقاصد کے لحاظ سے ، لوگون کی طبیعت کے مطابق ، معاشروں اور زمانوں کے مطابق ، لوگوں کی نفسیات اور انکی ضروریات کے مطابق اس کی آیات کو نہایت پختہ انداز میں مفصل بنایا گیا ہے۔ اور یہ اس کتاب کی امتیازی خصوصیت ہے اس زاویہ سے یہ کتاب مفصل اور محکم ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے یہ کتاب مفصل ہے۔ پھر عربی زبان میں ہے۔ لقوم یعلمون (41: 3) ” ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی جن کے پاس علمی استعداد ہے وہ سمجھ سکتے ہیں اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ اس قرآن کے نزول کا بڑا مقصد بشارت اور ڈراوا ہے۔ بشیراونذیرا (41: 4) ” بشارت دینے والا اور ڈرانے والا “۔ یہ قرآن مومنین کو بشارت دیتا ہے اور مکذبین اور بدکاروں کو ڈراتا ہے اور پھر خوشخبری اور ڈراوے کے اسباب بھی بتاتا ہے۔ یہ اسباب وہ عربی مبین میں بتاتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے پیش ہورہا ہے جو عرب ہیں لیکن ان کی اکثریت اسے قبول نہیں کررہی ہے۔ فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون (41: 4) ” مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “۔ اور یہ لوگ روگردانی اس لیے کرتے تھے اور نہ سنتے تھے اور اپنے دلوں کو روگردانی کرکے قرآن سننے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ قرآن غضب کی تاثیر رکھتا ہے اس لیے جو جمہور عوام کو بھی اس بات پر ابھارتے تھے کہ نہ سنو جس طرح عنقریب اس کی تفصیلات آئیں گی۔ وقالوالا۔۔۔۔۔ تغلبون (41: 26) ” منکرین حق کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ بعض اوقات وہ سنتے تھے لیکن اس طرح جیسے کہ نہ سنتے ہوں ، اس لیے قرآن کے ان پر جو اثرات پڑتے تھے ، ہٹ دگرمی کی وجہ سے ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ گویا وہ بہرے ہیں ، سنتے ہی نہیں۔ وقالوا قلوبنا۔۔۔۔ عملون (41: 5) ” کہتے ہیں : جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں میں غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ، تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جارہے ہیں “ یہ بات وہ گہری ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو مایوس کرنے کے لیے کہتے تھے تاکہ آپ دعوت دینا بند کردیں کیونکہ وہ آپ کی دعوت کا اثر خود اپنے دلوں میں پاتے تھے اور وہ بالا راوہ اس موقف پر جمے ہوئے تھے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں ڈھنپے ہوئے ہیں ، تمہاری بات تو ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں ۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں ، لہٰذا تمہاری بات ہم تک پہنچتی ہی نہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان پردے حائل ہیں ، اس لیے رابطے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم کیا کرتے ہو ، کیا کہتے ہو ، کس سے ڈارتے ہو ، کس کا وعدہ کرتے ہو ، ہم اپنی راہ پر چلنے والے ہیں۔ تم چاہو تو اپنی راہ پر چلو ، تمہاری جو مرضی ہے ، کرو۔ ہم نے سن کر نہیں دینا۔ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے ہی آؤ۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تھے وہ حالات و مشکلات جن سے داعی اول ﷺ دوچار تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ دعوت دیتے جاتے تھے۔ کبھی رکے نہیں تھے۔ ان مایوس کن حالات سے کبھی آپ متاثر نہیں ہوئے ، کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا عرصہ ہوگیا ، اللہ کا وعدہ سچا نہیں ہوا اور نہ دشمنوں پر عذاب آیا۔ آپ یہی کہتے کہ اللہ کے وعدے کا پورا ہونا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو ایک بشر ہوں۔ اللہ کا پیغام میرے پاس آتا ہے اور میں تبلیغ کرتا ہوں ، لوگوں کو اللہ واحد کی طرف بلاتا ہوں اور جو مان لیں ، ان سے کہتا ہوں کہ اسی راستے پر جم جاؤ، اور مشرکین کو انجام بد سے ڈراتا ہوں اس کے بعد کے مراحل میرے اختیار میں نہیں۔ میں تو ایک بشر اور مامور ہوں۔ قل انمآ۔۔۔۔۔ وویل المشرکین (41: 6) ” اے نبی ؐ، ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہار خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے “۔ کس قدر عظیم صفر ہے ! کس قدر برداشت ہے ! کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم ورضا ہے ! لیکن ایسی صورت حال کو صرف وہی داعی سمجھ سکتا ہے ، ایسے حالات پر وہی صبر کرسکتا ہے ، اس قسم کے حالات میں سرف وہی ماحول سے لاپرواہ ہوکر دعوت دیتے آگے بڑھ سکتا ہے اور اعراض ، تکذیب ، تکبر اور توہین آمیز سلوک کو برداشت کرسکتا ہے جو ایسے حالات سے دوچار ہوگیا ہو ، جس نے تجربہ کرلیا ہو کہ جلد بازی نہیں کرنی ، جس نے روگردانی کرنے والوں ، متکبرین اور سرکشوں کی مدافعت کی ہو ، جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کی ہو ، اور جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کرنے کا حوصلہ پایا ہو اور پھر ان مشکلات کے باوجود وہ ڈٹ گیا ہو۔ ایسے ہی مقامات کی وجہ سے انبیاء ورسل کو باربار ہدایت کی گئی ہے کہ صبر کریں ، کیونکہ دعوت کی راہ صبر کی راہ ہے۔ طویل صبر ، اور صبر کی آزمائش سب سے پہلے اس خواہش میں ہوتی ہے ، جو بہت شدید ہوتی ہے کہ دعوت جلدی کامیاب ہوجائے۔ نصرت جلدی آجائے ، نصرت کے نشانات بھی نہ ہوں لیکن داعی صبر ، استقامت اور تسلیم ورضا سے کام کیے جارہا ہو۔ اور ان مشکلات ، روگردانیوں اور کبر و لاپرواہی کے جواب میں رسول اللہ صرف یہ کہتے ہیں۔ وویل للمشرکین۔۔۔۔۔ ھم کٰفرون (41: 6 تا 7) ” تباہی ہے ان مشرکون کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں “۔ اس مقام پر زکوٰۃ کے ذکر کی کوئی مناسبت ہوگی ، کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں آیا ، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ سن دوہجری میں مدینہ میں فرض ہوئی۔ اگرچہ اصولا مکہ مکرمہ میں بھی معروف تھی۔ مدینہ میں فرضیت کے ساتھ نصاب بھی مقرر ہوگیا ۔ اور اسے معین فرض وصول کیا جانے لگا۔ مکہ میں یہ ایک عام کام تھا۔ لوگ رضا کارانہ طور پر زکوٰۃ دیتے تھے۔ اس کی کوئی حد نہ تھی اور ادائیگی دینے والے کے ضمیر پر چھوڑدی گئی تھی۔ کفر بالاخرۃ تو وہی کفر ہے جس کے نتیجے میں انسان دائمی تباہی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں زکوٰۃ سے مراد ایمان لانا اور شرک سے پاک ہونا لیا ہے۔ یہ مفہوم بھی رد نہیں کیا جاسکتا ، ایسے حالات میں اس کا احتمال ضرور ہے۔ اب داعی حق ان کو یہ بتانے کے لیے کہ کفر وشرک کا ارتکاب کرکے وہ کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اس کائنات کی سیر کراتے ہیں کہ ذرا تم زمین و آسمانوں پر مشتمل اس عظیم کائنات پر غور تو کرو ، کہ تم اس کے مقابلے میں کس قدر چھوٹے ہو ، کس قدر کمزور ہو ، یہ سیر اس لیے کرائی جاتی ہے کہ ذرا وہ اللہ کی بادشاہت کو بھی دیکھ لیں جس کا وہ انکار کرتے ہیں کیونکہ انسان بھی فطرت کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر جزء ہے اور تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ اس دعوت کی طرف تم نہایت ہی تنگ زاویہ نظر سے دیکھ رہے ہو ، تم صرف یہ دیکھ سکتے ہو کہ ہمچو مادیگرے نیست۔ تم تو صرف اپنے آپ کو اور حضرت محمد ﷺ کی ذات کو دیکھتے ہو اور تم یہ سوچتے ہو کہ محمد ابن عبداللہ کو اگر مان لیا تو وہ بلند مقام پر فائز ہوجائے گا۔ تمہیں تو یہ تنگ نظری اس عظیم حقیقت کے دیکھنے سے روکے ہوئے ہے جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ، جس کی تفصیلات قرآن کریم میں درج ہیں۔ یہ حقیقت جس کا تعلق آسمانوں ، زمین ، انسان ، پوری انسانی تاریخ اور اس عظیم سچائی کے ساتھ ہے جو زمان ومکان سے وراء ہے۔ اور جسے اس کائنات کے نقشے میں رکھا گیا ہے :

فصلت 41:2

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار یاد دلاتا ہے ، وہ خالق قلب اور مصرف القلوب ہے۔ حٰم ۔۔۔۔ الرحیم (41: 1 تا 2) ” یہ حدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے “۔ حم گویا سورت کا نام یا جنس قرآن جو انہی حروف سے بنایا گیا ہے۔ حم مبتداء ہے اور تنزیل خبر ہے یعنی یہ ہیں حم (جن سے قرآن بنا ہے جو ) رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل ہورہا ہے۔ نزول کتاب کے وقت رحمن ورحیم کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اس تنزیل کی صفات عالیہ رحمت الہیہ ہے۔ اور یہ کتاب اور حاصل کتاب بطور رحمت اللعالمین آئے۔ یہ صرف ان لوگوں پر رحمت نہیں ہے جو ایمان لائیں اور اس کی اطاعت کریں۔ بلکہ غیروں کے لیے بھی رحمت ہے صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام زندہ لوگوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ اس کتاب نے ایک ایسا منہاج حیات دنیا کو دیا جس کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ اس کو تصورات دیئے ، اس کو علم دیا اور عرض اس قرآن نے انسانیت کے آگے بڑھنے کی سمت ہی بدل کر رکھ دی۔ قرآن کے رحیمانہ اثرات صرف اہل ایمان تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات عالمی تھے اور اس وقت سے آج تک یہ اثرات جاری ہیں۔ جو لوگ انسانی تاریخ کا مطالعہ انصاف سے کرتے ہیں اور اس کا عام انسانی زاویہ سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مطالعہ میں انسانی سرگرمیوں کا پوری طرح احاطہ کرتے ہیں وہ اس حقیقت کو پاتے ہیں اور نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس کو ریکارڈ کرادیا ہے۔ کتٰب۔۔۔ یعلمون (41: 3) ” ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی اغراض ومقاصد کے لحاظ سے ، لوگون کی طبیعت کے مطابق ، معاشروں اور زمانوں کے مطابق ، لوگوں کی نفسیات اور انکی ضروریات کے مطابق اس کی آیات کو نہایت پختہ انداز میں مفصل بنایا گیا ہے۔ اور یہ اس کتاب کی امتیازی خصوصیت ہے اس زاویہ سے یہ کتاب مفصل اور محکم ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے یہ کتاب مفصل ہے۔ پھر عربی زبان میں ہے۔ لقوم یعلمون (41: 3) ” ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی جن کے پاس علمی استعداد ہے وہ سمجھ سکتے ہیں اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ اس قرآن کے نزول کا بڑا مقصد بشارت اور ڈراوا ہے۔ بشیراونذیرا (41: 4) ” بشارت دینے والا اور ڈرانے والا “۔ یہ قرآن مومنین کو بشارت دیتا ہے اور مکذبین اور بدکاروں کو ڈراتا ہے اور پھر خوشخبری اور ڈراوے کے اسباب بھی بتاتا ہے۔ یہ اسباب وہ عربی مبین میں بتاتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے پیش ہورہا ہے جو عرب ہیں لیکن ان کی اکثریت اسے قبول نہیں کررہی ہے۔ فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون (41: 4) ” مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “۔ اور یہ لوگ روگردانی اس لیے کرتے تھے اور نہ سنتے تھے اور اپنے دلوں کو روگردانی کرکے قرآن سننے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ قرآن غضب کی تاثیر رکھتا ہے اس لیے جو جمہور عوام کو بھی اس بات پر ابھارتے تھے کہ نہ سنو جس طرح عنقریب اس کی تفصیلات آئیں گی۔ وقالوالا۔۔۔۔۔ تغلبون (41: 26) ” منکرین حق کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ بعض اوقات وہ سنتے تھے لیکن اس طرح جیسے کہ نہ سنتے ہوں ، اس لیے قرآن کے ان پر جو اثرات پڑتے تھے ، ہٹ دگرمی کی وجہ سے ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ گویا وہ بہرے ہیں ، سنتے ہی نہیں۔ وقالوا قلوبنا۔۔۔۔ عملون (41: 5) ” کہتے ہیں : جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں میں غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ، تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جارہے ہیں “ یہ بات وہ گہری ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو مایوس کرنے کے لیے کہتے تھے تاکہ آپ دعوت دینا بند کردیں کیونکہ وہ آپ کی دعوت کا اثر خود اپنے دلوں میں پاتے تھے اور وہ بالا راوہ اس موقف پر جمے ہوئے تھے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں ڈھنپے ہوئے ہیں ، تمہاری بات تو ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں ۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں ، لہٰذا تمہاری بات ہم تک پہنچتی ہی نہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان پردے حائل ہیں ، اس لیے رابطے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم کیا کرتے ہو ، کیا کہتے ہو ، کس سے ڈارتے ہو ، کس کا وعدہ کرتے ہو ، ہم اپنی راہ پر چلنے والے ہیں۔ تم چاہو تو اپنی راہ پر چلو ، تمہاری جو مرضی ہے ، کرو۔ ہم نے سن کر نہیں دینا۔ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے ہی آؤ۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تھے وہ حالات و مشکلات جن سے داعی اول ﷺ دوچار تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ دعوت دیتے جاتے تھے۔ کبھی رکے نہیں تھے۔ ان مایوس کن حالات سے کبھی آپ متاثر نہیں ہوئے ، کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا عرصہ ہوگیا ، اللہ کا وعدہ سچا نہیں ہوا اور نہ دشمنوں پر عذاب آیا۔ آپ یہی کہتے کہ اللہ کے وعدے کا پورا ہونا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو ایک بشر ہوں۔ اللہ کا پیغام میرے پاس آتا ہے اور میں تبلیغ کرتا ہوں ، لوگوں کو اللہ واحد کی طرف بلاتا ہوں اور جو مان لیں ، ان سے کہتا ہوں کہ اسی راستے پر جم جاؤ، اور مشرکین کو انجام بد سے ڈراتا ہوں اس کے بعد کے مراحل میرے اختیار میں نہیں۔ میں تو ایک بشر اور مامور ہوں۔ قل انمآ۔۔۔۔۔ وویل المشرکین (41: 6) ” اے نبی ؐ، ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہار خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے “۔ کس قدر عظیم صفر ہے ! کس قدر برداشت ہے ! کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم ورضا ہے ! لیکن ایسی صورت حال کو صرف وہی داعی سمجھ سکتا ہے ، ایسے حالات پر وہی صبر کرسکتا ہے ، اس قسم کے حالات میں سرف وہی ماحول سے لاپرواہ ہوکر دعوت دیتے آگے بڑھ سکتا ہے اور اعراض ، تکذیب ، تکبر اور توہین آمیز سلوک کو برداشت کرسکتا ہے جو ایسے حالات سے دوچار ہوگیا ہو ، جس نے تجربہ کرلیا ہو کہ جلد بازی نہیں کرنی ، جس نے روگردانی کرنے والوں ، متکبرین اور سرکشوں کی مدافعت کی ہو ، جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کی ہو ، اور جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کرنے کا حوصلہ پایا ہو اور پھر ان مشکلات کے باوجود وہ ڈٹ گیا ہو۔ ایسے ہی مقامات کی وجہ سے انبیاء ورسل کو باربار ہدایت کی گئی ہے کہ صبر کریں ، کیونکہ دعوت کی راہ صبر کی راہ ہے۔ طویل صبر ، اور صبر کی آزمائش سب سے پہلے اس خواہش میں ہوتی ہے ، جو بہت شدید ہوتی ہے کہ دعوت جلدی کامیاب ہوجائے۔ نصرت جلدی آجائے ، نصرت کے نشانات بھی نہ ہوں لیکن داعی صبر ، استقامت اور تسلیم ورضا سے کام کیے جارہا ہو۔ اور ان مشکلات ، روگردانیوں اور کبر و لاپرواہی کے جواب میں رسول اللہ صرف یہ کہتے ہیں۔ وویل للمشرکین۔۔۔۔۔ ھم کٰفرون (41: 6 تا 7) ” تباہی ہے ان مشرکون کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں “۔ اس مقام پر زکوٰۃ کے ذکر کی کوئی مناسبت ہوگی ، کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں آیا ، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ سن دوہجری میں مدینہ میں فرض ہوئی۔ اگرچہ اصولا مکہ مکرمہ میں بھی معروف تھی۔ مدینہ میں فرضیت کے ساتھ نصاب بھی مقرر ہوگیا ۔ اور اسے معین فرض وصول کیا جانے لگا۔ مکہ میں یہ ایک عام کام تھا۔ لوگ رضا کارانہ طور پر زکوٰۃ دیتے تھے۔ اس کی کوئی حد نہ تھی اور ادائیگی دینے والے کے ضمیر پر چھوڑدی گئی تھی۔ کفر بالاخرۃ تو وہی کفر ہے جس کے نتیجے میں انسان دائمی تباہی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں زکوٰۃ سے مراد ایمان لانا اور شرک سے پاک ہونا لیا ہے۔ یہ مفہوم بھی رد نہیں کیا جاسکتا ، ایسے حالات میں اس کا احتمال ضرور ہے۔ اب داعی حق ان کو یہ بتانے کے لیے کہ کفر وشرک کا ارتکاب کرکے وہ کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اس کائنات کی سیر کراتے ہیں کہ ذرا تم زمین و آسمانوں پر مشتمل اس عظیم کائنات پر غور تو کرو ، کہ تم اس کے مقابلے میں کس قدر چھوٹے ہو ، کس قدر کمزور ہو ، یہ سیر اس لیے کرائی جاتی ہے کہ ذرا وہ اللہ کی بادشاہت کو بھی دیکھ لیں جس کا وہ انکار کرتے ہیں کیونکہ انسان بھی فطرت کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر جزء ہے اور تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ اس دعوت کی طرف تم نہایت ہی تنگ زاویہ نظر سے دیکھ رہے ہو ، تم صرف یہ دیکھ سکتے ہو کہ ہمچو مادیگرے نیست۔ تم تو صرف اپنے آپ کو اور حضرت محمد ﷺ کی ذات کو دیکھتے ہو اور تم یہ سوچتے ہو کہ محمد ابن عبداللہ کو اگر مان لیا تو وہ بلند مقام پر فائز ہوجائے گا۔ تمہیں تو یہ تنگ نظری اس عظیم حقیقت کے دیکھنے سے روکے ہوئے ہے جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ، جس کی تفصیلات قرآن کریم میں درج ہیں۔ یہ حقیقت جس کا تعلق آسمانوں ، زمین ، انسان ، پوری انسانی تاریخ اور اس عظیم سچائی کے ساتھ ہے جو زمان ومکان سے وراء ہے۔ اور جسے اس کائنات کے نقشے میں رکھا گیا ہے :

فصلت 41:3

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار یاد دلاتا ہے ، وہ خالق قلب اور مصرف القلوب ہے۔ حٰم ۔۔۔۔ الرحیم (41: 1 تا 2) ” یہ حدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے “۔ حم گویا سورت کا نام یا جنس قرآن جو انہی حروف سے بنایا گیا ہے۔ حم مبتداء ہے اور تنزیل خبر ہے یعنی یہ ہیں حم (جن سے قرآن بنا ہے جو ) رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل ہورہا ہے۔ نزول کتاب کے وقت رحمن ورحیم کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اس تنزیل کی صفات عالیہ رحمت الہیہ ہے۔ اور یہ کتاب اور حاصل کتاب بطور رحمت اللعالمین آئے۔ یہ صرف ان لوگوں پر رحمت نہیں ہے جو ایمان لائیں اور اس کی اطاعت کریں۔ بلکہ غیروں کے لیے بھی رحمت ہے صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام زندہ لوگوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ اس کتاب نے ایک ایسا منہاج حیات دنیا کو دیا جس کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ اس کو تصورات دیئے ، اس کو علم دیا اور عرض اس قرآن نے انسانیت کے آگے بڑھنے کی سمت ہی بدل کر رکھ دی۔ قرآن کے رحیمانہ اثرات صرف اہل ایمان تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات عالمی تھے اور اس وقت سے آج تک یہ اثرات جاری ہیں۔ جو لوگ انسانی تاریخ کا مطالعہ انصاف سے کرتے ہیں اور اس کا عام انسانی زاویہ سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مطالعہ میں انسانی سرگرمیوں کا پوری طرح احاطہ کرتے ہیں وہ اس حقیقت کو پاتے ہیں اور نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس کو ریکارڈ کرادیا ہے۔ کتٰب۔۔۔ یعلمون (41: 3) ” ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی اغراض ومقاصد کے لحاظ سے ، لوگون کی طبیعت کے مطابق ، معاشروں اور زمانوں کے مطابق ، لوگوں کی نفسیات اور انکی ضروریات کے مطابق اس کی آیات کو نہایت پختہ انداز میں مفصل بنایا گیا ہے۔ اور یہ اس کتاب کی امتیازی خصوصیت ہے اس زاویہ سے یہ کتاب مفصل اور محکم ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے یہ کتاب مفصل ہے۔ پھر عربی زبان میں ہے۔ لقوم یعلمون (41: 3) ” ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی جن کے پاس علمی استعداد ہے وہ سمجھ سکتے ہیں اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ اس قرآن کے نزول کا بڑا مقصد بشارت اور ڈراوا ہے۔ بشیراونذیرا (41: 4) ” بشارت دینے والا اور ڈرانے والا “۔ یہ قرآن مومنین کو بشارت دیتا ہے اور مکذبین اور بدکاروں کو ڈراتا ہے اور پھر خوشخبری اور ڈراوے کے اسباب بھی بتاتا ہے۔ یہ اسباب وہ عربی مبین میں بتاتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے پیش ہورہا ہے جو عرب ہیں لیکن ان کی اکثریت اسے قبول نہیں کررہی ہے۔ فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون (41: 4) ” مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “۔ اور یہ لوگ روگردانی اس لیے کرتے تھے اور نہ سنتے تھے اور اپنے دلوں کو روگردانی کرکے قرآن سننے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ قرآن غضب کی تاثیر رکھتا ہے اس لیے جو جمہور عوام کو بھی اس بات پر ابھارتے تھے کہ نہ سنو جس طرح عنقریب اس کی تفصیلات آئیں گی۔ وقالوالا۔۔۔۔۔ تغلبون (41: 26) ” منکرین حق کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ بعض اوقات وہ سنتے تھے لیکن اس طرح جیسے کہ نہ سنتے ہوں ، اس لیے قرآن کے ان پر جو اثرات پڑتے تھے ، ہٹ دگرمی کی وجہ سے ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ گویا وہ بہرے ہیں ، سنتے ہی نہیں۔ وقالوا قلوبنا۔۔۔۔ عملون (41: 5) ” کہتے ہیں : جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں میں غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ، تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جارہے ہیں “ یہ بات وہ گہری ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو مایوس کرنے کے لیے کہتے تھے تاکہ آپ دعوت دینا بند کردیں کیونکہ وہ آپ کی دعوت کا اثر خود اپنے دلوں میں پاتے تھے اور وہ بالا راوہ اس موقف پر جمے ہوئے تھے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں ڈھنپے ہوئے ہیں ، تمہاری بات تو ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں ۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں ، لہٰذا تمہاری بات ہم تک پہنچتی ہی نہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان پردے حائل ہیں ، اس لیے رابطے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم کیا کرتے ہو ، کیا کہتے ہو ، کس سے ڈارتے ہو ، کس کا وعدہ کرتے ہو ، ہم اپنی راہ پر چلنے والے ہیں۔ تم چاہو تو اپنی راہ پر چلو ، تمہاری جو مرضی ہے ، کرو۔ ہم نے سن کر نہیں دینا۔ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے ہی آؤ۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تھے وہ حالات و مشکلات جن سے داعی اول ﷺ دوچار تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ دعوت دیتے جاتے تھے۔ کبھی رکے نہیں تھے۔ ان مایوس کن حالات سے کبھی آپ متاثر نہیں ہوئے ، کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا عرصہ ہوگیا ، اللہ کا وعدہ سچا نہیں ہوا اور نہ دشمنوں پر عذاب آیا۔ آپ یہی کہتے کہ اللہ کے وعدے کا پورا ہونا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو ایک بشر ہوں۔ اللہ کا پیغام میرے پاس آتا ہے اور میں تبلیغ کرتا ہوں ، لوگوں کو اللہ واحد کی طرف بلاتا ہوں اور جو مان لیں ، ان سے کہتا ہوں کہ اسی راستے پر جم جاؤ، اور مشرکین کو انجام بد سے ڈراتا ہوں اس کے بعد کے مراحل میرے اختیار میں نہیں۔ میں تو ایک بشر اور مامور ہوں۔ قل انمآ۔۔۔۔۔ وویل المشرکین (41: 6) ” اے نبی ؐ، ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہار خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے “۔ کس قدر عظیم صفر ہے ! کس قدر برداشت ہے ! کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم ورضا ہے ! لیکن ایسی صورت حال کو صرف وہی داعی سمجھ سکتا ہے ، ایسے حالات پر وہی صبر کرسکتا ہے ، اس قسم کے حالات میں سرف وہی ماحول سے لاپرواہ ہوکر دعوت دیتے آگے بڑھ سکتا ہے اور اعراض ، تکذیب ، تکبر اور توہین آمیز سلوک کو برداشت کرسکتا ہے جو ایسے حالات سے دوچار ہوگیا ہو ، جس نے تجربہ کرلیا ہو کہ جلد بازی نہیں کرنی ، جس نے روگردانی کرنے والوں ، متکبرین اور سرکشوں کی مدافعت کی ہو ، جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کی ہو ، اور جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کرنے کا حوصلہ پایا ہو اور پھر ان مشکلات کے باوجود وہ ڈٹ گیا ہو۔ ایسے ہی مقامات کی وجہ سے انبیاء ورسل کو باربار ہدایت کی گئی ہے کہ صبر کریں ، کیونکہ دعوت کی راہ صبر کی راہ ہے۔ طویل صبر ، اور صبر کی آزمائش سب سے پہلے اس خواہش میں ہوتی ہے ، جو بہت شدید ہوتی ہے کہ دعوت جلدی کامیاب ہوجائے۔ نصرت جلدی آجائے ، نصرت کے نشانات بھی نہ ہوں لیکن داعی صبر ، استقامت اور تسلیم ورضا سے کام کیے جارہا ہو۔ اور ان مشکلات ، روگردانیوں اور کبر و لاپرواہی کے جواب میں رسول اللہ صرف یہ کہتے ہیں۔ وویل للمشرکین۔۔۔۔۔ ھم کٰفرون (41: 6 تا 7) ” تباہی ہے ان مشرکون کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں “۔ اس مقام پر زکوٰۃ کے ذکر کی کوئی مناسبت ہوگی ، کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں آیا ، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ سن دوہجری میں مدینہ میں فرض ہوئی۔ اگرچہ اصولا مکہ مکرمہ میں بھی معروف تھی۔ مدینہ میں فرضیت کے ساتھ نصاب بھی مقرر ہوگیا ۔ اور اسے معین فرض وصول کیا جانے لگا۔ مکہ میں یہ ایک عام کام تھا۔ لوگ رضا کارانہ طور پر زکوٰۃ دیتے تھے۔ اس کی کوئی حد نہ تھی اور ادائیگی دینے والے کے ضمیر پر چھوڑدی گئی تھی۔ کفر بالاخرۃ تو وہی کفر ہے جس کے نتیجے میں انسان دائمی تباہی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں زکوٰۃ سے مراد ایمان لانا اور شرک سے پاک ہونا لیا ہے۔ یہ مفہوم بھی رد نہیں کیا جاسکتا ، ایسے حالات میں اس کا احتمال ضرور ہے۔ اب داعی حق ان کو یہ بتانے کے لیے کہ کفر وشرک کا ارتکاب کرکے وہ کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اس کائنات کی سیر کراتے ہیں کہ ذرا تم زمین و آسمانوں پر مشتمل اس عظیم کائنات پر غور تو کرو ، کہ تم اس کے مقابلے میں کس قدر چھوٹے ہو ، کس قدر کمزور ہو ، یہ سیر اس لیے کرائی جاتی ہے کہ ذرا وہ اللہ کی بادشاہت کو بھی دیکھ لیں جس کا وہ انکار کرتے ہیں کیونکہ انسان بھی فطرت کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر جزء ہے اور تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ اس دعوت کی طرف تم نہایت ہی تنگ زاویہ نظر سے دیکھ رہے ہو ، تم صرف یہ دیکھ سکتے ہو کہ ہمچو مادیگرے نیست۔ تم تو صرف اپنے آپ کو اور حضرت محمد ﷺ کی ذات کو دیکھتے ہو اور تم یہ سوچتے ہو کہ محمد ابن عبداللہ کو اگر مان لیا تو وہ بلند مقام پر فائز ہوجائے گا۔ تمہیں تو یہ تنگ نظری اس عظیم حقیقت کے دیکھنے سے روکے ہوئے ہے جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ، جس کی تفصیلات قرآن کریم میں درج ہیں۔ یہ حقیقت جس کا تعلق آسمانوں ، زمین ، انسان ، پوری انسانی تاریخ اور اس عظیم سچائی کے ساتھ ہے جو زمان ومکان سے وراء ہے۔ اور جسے اس کائنات کے نقشے میں رکھا گیا ہے :

فصلت 41:4

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار یاد دلاتا ہے ، وہ خالق قلب اور مصرف القلوب ہے۔ حٰم ۔۔۔۔ الرحیم (41: 1 تا 2) ” یہ حدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے “۔ حم گویا سورت کا نام یا جنس قرآن جو انہی حروف سے بنایا گیا ہے۔ حم مبتداء ہے اور تنزیل خبر ہے یعنی یہ ہیں حم (جن سے قرآن بنا ہے جو ) رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل ہورہا ہے۔ نزول کتاب کے وقت رحمن ورحیم کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اس تنزیل کی صفات عالیہ رحمت الہیہ ہے۔ اور یہ کتاب اور حاصل کتاب بطور رحمت اللعالمین آئے۔ یہ صرف ان لوگوں پر رحمت نہیں ہے جو ایمان لائیں اور اس کی اطاعت کریں۔ بلکہ غیروں کے لیے بھی رحمت ہے صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام زندہ لوگوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ اس کتاب نے ایک ایسا منہاج حیات دنیا کو دیا جس کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ اس کو تصورات دیئے ، اس کو علم دیا اور عرض اس قرآن نے انسانیت کے آگے بڑھنے کی سمت ہی بدل کر رکھ دی۔ قرآن کے رحیمانہ اثرات صرف اہل ایمان تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات عالمی تھے اور اس وقت سے آج تک یہ اثرات جاری ہیں۔ جو لوگ انسانی تاریخ کا مطالعہ انصاف سے کرتے ہیں اور اس کا عام انسانی زاویہ سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مطالعہ میں انسانی سرگرمیوں کا پوری طرح احاطہ کرتے ہیں وہ اس حقیقت کو پاتے ہیں اور نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس کو ریکارڈ کرادیا ہے۔ کتٰب۔۔۔ یعلمون (41: 3) ” ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی اغراض ومقاصد کے لحاظ سے ، لوگون کی طبیعت کے مطابق ، معاشروں اور زمانوں کے مطابق ، لوگوں کی نفسیات اور انکی ضروریات کے مطابق اس کی آیات کو نہایت پختہ انداز میں مفصل بنایا گیا ہے۔ اور یہ اس کتاب کی امتیازی خصوصیت ہے اس زاویہ سے یہ کتاب مفصل اور محکم ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے یہ کتاب مفصل ہے۔ پھر عربی زبان میں ہے۔ لقوم یعلمون (41: 3) ” ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی جن کے پاس علمی استعداد ہے وہ سمجھ سکتے ہیں اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ اس قرآن کے نزول کا بڑا مقصد بشارت اور ڈراوا ہے۔ بشیراونذیرا (41: 4) ” بشارت دینے والا اور ڈرانے والا “۔ یہ قرآن مومنین کو بشارت دیتا ہے اور مکذبین اور بدکاروں کو ڈراتا ہے اور پھر خوشخبری اور ڈراوے کے اسباب بھی بتاتا ہے۔ یہ اسباب وہ عربی مبین میں بتاتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے پیش ہورہا ہے جو عرب ہیں لیکن ان کی اکثریت اسے قبول نہیں کررہی ہے۔ فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون (41: 4) ” مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “۔ اور یہ لوگ روگردانی اس لیے کرتے تھے اور نہ سنتے تھے اور اپنے دلوں کو روگردانی کرکے قرآن سننے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ قرآن غضب کی تاثیر رکھتا ہے اس لیے جو جمہور عوام کو بھی اس بات پر ابھارتے تھے کہ نہ سنو جس طرح عنقریب اس کی تفصیلات آئیں گی۔ وقالوالا۔۔۔۔۔ تغلبون (41: 26) ” منکرین حق کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ بعض اوقات وہ سنتے تھے لیکن اس طرح جیسے کہ نہ سنتے ہوں ، اس لیے قرآن کے ان پر جو اثرات پڑتے تھے ، ہٹ دگرمی کی وجہ سے ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ گویا وہ بہرے ہیں ، سنتے ہی نہیں۔ وقالوا قلوبنا۔۔۔۔ عملون (41: 5) ” کہتے ہیں : جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں میں غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ، تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جارہے ہیں “ یہ بات وہ گہری ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو مایوس کرنے کے لیے کہتے تھے تاکہ آپ دعوت دینا بند کردیں کیونکہ وہ آپ کی دعوت کا اثر خود اپنے دلوں میں پاتے تھے اور وہ بالا راوہ اس موقف پر جمے ہوئے تھے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں ڈھنپے ہوئے ہیں ، تمہاری بات تو ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں ۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں ، لہٰذا تمہاری بات ہم تک پہنچتی ہی نہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان پردے حائل ہیں ، اس لیے رابطے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم کیا کرتے ہو ، کیا کہتے ہو ، کس سے ڈارتے ہو ، کس کا وعدہ کرتے ہو ، ہم اپنی راہ پر چلنے والے ہیں۔ تم چاہو تو اپنی راہ پر چلو ، تمہاری جو مرضی ہے ، کرو۔ ہم نے سن کر نہیں دینا۔ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے ہی آؤ۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تھے وہ حالات و مشکلات جن سے داعی اول ﷺ دوچار تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ دعوت دیتے جاتے تھے۔ کبھی رکے نہیں تھے۔ ان مایوس کن حالات سے کبھی آپ متاثر نہیں ہوئے ، کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا عرصہ ہوگیا ، اللہ کا وعدہ سچا نہیں ہوا اور نہ دشمنوں پر عذاب آیا۔ آپ یہی کہتے کہ اللہ کے وعدے کا پورا ہونا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو ایک بشر ہوں۔ اللہ کا پیغام میرے پاس آتا ہے اور میں تبلیغ کرتا ہوں ، لوگوں کو اللہ واحد کی طرف بلاتا ہوں اور جو مان لیں ، ان سے کہتا ہوں کہ اسی راستے پر جم جاؤ، اور مشرکین کو انجام بد سے ڈراتا ہوں اس کے بعد کے مراحل میرے اختیار میں نہیں۔ میں تو ایک بشر اور مامور ہوں۔ قل انمآ۔۔۔۔۔ وویل المشرکین (41: 6) ” اے نبی ؐ، ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہار خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے “۔ کس قدر عظیم صفر ہے ! کس قدر برداشت ہے ! کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم ورضا ہے ! لیکن ایسی صورت حال کو صرف وہی داعی سمجھ سکتا ہے ، ایسے حالات پر وہی صبر کرسکتا ہے ، اس قسم کے حالات میں سرف وہی ماحول سے لاپرواہ ہوکر دعوت دیتے آگے بڑھ سکتا ہے اور اعراض ، تکذیب ، تکبر اور توہین آمیز سلوک کو برداشت کرسکتا ہے جو ایسے حالات سے دوچار ہوگیا ہو ، جس نے تجربہ کرلیا ہو کہ جلد بازی نہیں کرنی ، جس نے روگردانی کرنے والوں ، متکبرین اور سرکشوں کی مدافعت کی ہو ، جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کی ہو ، اور جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کرنے کا حوصلہ پایا ہو اور پھر ان مشکلات کے باوجود وہ ڈٹ گیا ہو۔ ایسے ہی مقامات کی وجہ سے انبیاء ورسل کو باربار ہدایت کی گئی ہے کہ صبر کریں ، کیونکہ دعوت کی راہ صبر کی راہ ہے۔ طویل صبر ، اور صبر کی آزمائش سب سے پہلے اس خواہش میں ہوتی ہے ، جو بہت شدید ہوتی ہے کہ دعوت جلدی کامیاب ہوجائے۔ نصرت جلدی آجائے ، نصرت کے نشانات بھی نہ ہوں لیکن داعی صبر ، استقامت اور تسلیم ورضا سے کام کیے جارہا ہو۔ اور ان مشکلات ، روگردانیوں اور کبر و لاپرواہی کے جواب میں رسول اللہ صرف یہ کہتے ہیں۔ وویل للمشرکین۔۔۔۔۔ ھم کٰفرون (41: 6 تا 7) ” تباہی ہے ان مشرکون کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں “۔ اس مقام پر زکوٰۃ کے ذکر کی کوئی مناسبت ہوگی ، کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں آیا ، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ سن دوہجری میں مدینہ میں فرض ہوئی۔ اگرچہ اصولا مکہ مکرمہ میں بھی معروف تھی۔ مدینہ میں فرضیت کے ساتھ نصاب بھی مقرر ہوگیا ۔ اور اسے معین فرض وصول کیا جانے لگا۔ مکہ میں یہ ایک عام کام تھا۔ لوگ رضا کارانہ طور پر زکوٰۃ دیتے تھے۔ اس کی کوئی حد نہ تھی اور ادائیگی دینے والے کے ضمیر پر چھوڑدی گئی تھی۔ کفر بالاخرۃ تو وہی کفر ہے جس کے نتیجے میں انسان دائمی تباہی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں زکوٰۃ سے مراد ایمان لانا اور شرک سے پاک ہونا لیا ہے۔ یہ مفہوم بھی رد نہیں کیا جاسکتا ، ایسے حالات میں اس کا احتمال ضرور ہے۔ اب داعی حق ان کو یہ بتانے کے لیے کہ کفر وشرک کا ارتکاب کرکے وہ کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اس کائنات کی سیر کراتے ہیں کہ ذرا تم زمین و آسمانوں پر مشتمل اس عظیم کائنات پر غور تو کرو ، کہ تم اس کے مقابلے میں کس قدر چھوٹے ہو ، کس قدر کمزور ہو ، یہ سیر اس لیے کرائی جاتی ہے کہ ذرا وہ اللہ کی بادشاہت کو بھی دیکھ لیں جس کا وہ انکار کرتے ہیں کیونکہ انسان بھی فطرت کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر جزء ہے اور تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ اس دعوت کی طرف تم نہایت ہی تنگ زاویہ نظر سے دیکھ رہے ہو ، تم صرف یہ دیکھ سکتے ہو کہ ہمچو مادیگرے نیست۔ تم تو صرف اپنے آپ کو اور حضرت محمد ﷺ کی ذات کو دیکھتے ہو اور تم یہ سوچتے ہو کہ محمد ابن عبداللہ کو اگر مان لیا تو وہ بلند مقام پر فائز ہوجائے گا۔ تمہیں تو یہ تنگ نظری اس عظیم حقیقت کے دیکھنے سے روکے ہوئے ہے جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ، جس کی تفصیلات قرآن کریم میں درج ہیں۔ یہ حقیقت جس کا تعلق آسمانوں ، زمین ، انسان ، پوری انسانی تاریخ اور اس عظیم سچائی کے ساتھ ہے جو زمان ومکان سے وراء ہے۔ اور جسے اس کائنات کے نقشے میں رکھا گیا ہے :

فصلت 41:5

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار یاد دلاتا ہے ، وہ خالق قلب اور مصرف القلوب ہے۔ حٰم ۔۔۔۔ الرحیم (41: 1 تا 2) ” یہ حدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے “۔ حم گویا سورت کا نام یا جنس قرآن جو انہی حروف سے بنایا گیا ہے۔ حم مبتداء ہے اور تنزیل خبر ہے یعنی یہ ہیں حم (جن سے قرآن بنا ہے جو ) رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل ہورہا ہے۔ نزول کتاب کے وقت رحمن ورحیم کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اس تنزیل کی صفات عالیہ رحمت الہیہ ہے۔ اور یہ کتاب اور حاصل کتاب بطور رحمت اللعالمین آئے۔ یہ صرف ان لوگوں پر رحمت نہیں ہے جو ایمان لائیں اور اس کی اطاعت کریں۔ بلکہ غیروں کے لیے بھی رحمت ہے صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام زندہ لوگوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ اس کتاب نے ایک ایسا منہاج حیات دنیا کو دیا جس کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ اس کو تصورات دیئے ، اس کو علم دیا اور عرض اس قرآن نے انسانیت کے آگے بڑھنے کی سمت ہی بدل کر رکھ دی۔ قرآن کے رحیمانہ اثرات صرف اہل ایمان تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات عالمی تھے اور اس وقت سے آج تک یہ اثرات جاری ہیں۔ جو لوگ انسانی تاریخ کا مطالعہ انصاف سے کرتے ہیں اور اس کا عام انسانی زاویہ سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مطالعہ میں انسانی سرگرمیوں کا پوری طرح احاطہ کرتے ہیں وہ اس حقیقت کو پاتے ہیں اور نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس کو ریکارڈ کرادیا ہے۔ کتٰب۔۔۔ یعلمون (41: 3) ” ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی اغراض ومقاصد کے لحاظ سے ، لوگون کی طبیعت کے مطابق ، معاشروں اور زمانوں کے مطابق ، لوگوں کی نفسیات اور انکی ضروریات کے مطابق اس کی آیات کو نہایت پختہ انداز میں مفصل بنایا گیا ہے۔ اور یہ اس کتاب کی امتیازی خصوصیت ہے اس زاویہ سے یہ کتاب مفصل اور محکم ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے یہ کتاب مفصل ہے۔ پھر عربی زبان میں ہے۔ لقوم یعلمون (41: 3) ” ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی جن کے پاس علمی استعداد ہے وہ سمجھ سکتے ہیں اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ اس قرآن کے نزول کا بڑا مقصد بشارت اور ڈراوا ہے۔ بشیراونذیرا (41: 4) ” بشارت دینے والا اور ڈرانے والا “۔ یہ قرآن مومنین کو بشارت دیتا ہے اور مکذبین اور بدکاروں کو ڈراتا ہے اور پھر خوشخبری اور ڈراوے کے اسباب بھی بتاتا ہے۔ یہ اسباب وہ عربی مبین میں بتاتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے پیش ہورہا ہے جو عرب ہیں لیکن ان کی اکثریت اسے قبول نہیں کررہی ہے۔ فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون (41: 4) ” مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “۔ اور یہ لوگ روگردانی اس لیے کرتے تھے اور نہ سنتے تھے اور اپنے دلوں کو روگردانی کرکے قرآن سننے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ قرآن غضب کی تاثیر رکھتا ہے اس لیے جو جمہور عوام کو بھی اس بات پر ابھارتے تھے کہ نہ سنو جس طرح عنقریب اس کی تفصیلات آئیں گی۔ وقالوالا۔۔۔۔۔ تغلبون (41: 26) ” منکرین حق کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ بعض اوقات وہ سنتے تھے لیکن اس طرح جیسے کہ نہ سنتے ہوں ، اس لیے قرآن کے ان پر جو اثرات پڑتے تھے ، ہٹ دگرمی کی وجہ سے ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ گویا وہ بہرے ہیں ، سنتے ہی نہیں۔ وقالوا قلوبنا۔۔۔۔ عملون (41: 5) ” کہتے ہیں : جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں میں غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ، تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جارہے ہیں “ یہ بات وہ گہری ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو مایوس کرنے کے لیے کہتے تھے تاکہ آپ دعوت دینا بند کردیں کیونکہ وہ آپ کی دعوت کا اثر خود اپنے دلوں میں پاتے تھے اور وہ بالا راوہ اس موقف پر جمے ہوئے تھے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں ڈھنپے ہوئے ہیں ، تمہاری بات تو ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں ۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں ، لہٰذا تمہاری بات ہم تک پہنچتی ہی نہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان پردے حائل ہیں ، اس لیے رابطے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم کیا کرتے ہو ، کیا کہتے ہو ، کس سے ڈارتے ہو ، کس کا وعدہ کرتے ہو ، ہم اپنی راہ پر چلنے والے ہیں۔ تم چاہو تو اپنی راہ پر چلو ، تمہاری جو مرضی ہے ، کرو۔ ہم نے سن کر نہیں دینا۔ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے ہی آؤ۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تھے وہ حالات و مشکلات جن سے داعی اول ﷺ دوچار تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ دعوت دیتے جاتے تھے۔ کبھی رکے نہیں تھے۔ ان مایوس کن حالات سے کبھی آپ متاثر نہیں ہوئے ، کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا عرصہ ہوگیا ، اللہ کا وعدہ سچا نہیں ہوا اور نہ دشمنوں پر عذاب آیا۔ آپ یہی کہتے کہ اللہ کے وعدے کا پورا ہونا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو ایک بشر ہوں۔ اللہ کا پیغام میرے پاس آتا ہے اور میں تبلیغ کرتا ہوں ، لوگوں کو اللہ واحد کی طرف بلاتا ہوں اور جو مان لیں ، ان سے کہتا ہوں کہ اسی راستے پر جم جاؤ، اور مشرکین کو انجام بد سے ڈراتا ہوں اس کے بعد کے مراحل میرے اختیار میں نہیں۔ میں تو ایک بشر اور مامور ہوں۔ قل انمآ۔۔۔۔۔ وویل المشرکین (41: 6) ” اے نبی ؐ، ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہار خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے “۔ کس قدر عظیم صفر ہے ! کس قدر برداشت ہے ! کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم ورضا ہے ! لیکن ایسی صورت حال کو صرف وہی داعی سمجھ سکتا ہے ، ایسے حالات پر وہی صبر کرسکتا ہے ، اس قسم کے حالات میں سرف وہی ماحول سے لاپرواہ ہوکر دعوت دیتے آگے بڑھ سکتا ہے اور اعراض ، تکذیب ، تکبر اور توہین آمیز سلوک کو برداشت کرسکتا ہے جو ایسے حالات سے دوچار ہوگیا ہو ، جس نے تجربہ کرلیا ہو کہ جلد بازی نہیں کرنی ، جس نے روگردانی کرنے والوں ، متکبرین اور سرکشوں کی مدافعت کی ہو ، جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کی ہو ، اور جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کرنے کا حوصلہ پایا ہو اور پھر ان مشکلات کے باوجود وہ ڈٹ گیا ہو۔ ایسے ہی مقامات کی وجہ سے انبیاء ورسل کو باربار ہدایت کی گئی ہے کہ صبر کریں ، کیونکہ دعوت کی راہ صبر کی راہ ہے۔ طویل صبر ، اور صبر کی آزمائش سب سے پہلے اس خواہش میں ہوتی ہے ، جو بہت شدید ہوتی ہے کہ دعوت جلدی کامیاب ہوجائے۔ نصرت جلدی آجائے ، نصرت کے نشانات بھی نہ ہوں لیکن داعی صبر ، استقامت اور تسلیم ورضا سے کام کیے جارہا ہو۔ اور ان مشکلات ، روگردانیوں اور کبر و لاپرواہی کے جواب میں رسول اللہ صرف یہ کہتے ہیں۔ وویل للمشرکین۔۔۔۔۔ ھم کٰفرون (41: 6 تا 7) ” تباہی ہے ان مشرکون کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں “۔ اس مقام پر زکوٰۃ کے ذکر کی کوئی مناسبت ہوگی ، کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں آیا ، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ سن دوہجری میں مدینہ میں فرض ہوئی۔ اگرچہ اصولا مکہ مکرمہ میں بھی معروف تھی۔ مدینہ میں فرضیت کے ساتھ نصاب بھی مقرر ہوگیا ۔ اور اسے معین فرض وصول کیا جانے لگا۔ مکہ میں یہ ایک عام کام تھا۔ لوگ رضا کارانہ طور پر زکوٰۃ دیتے تھے۔ اس کی کوئی حد نہ تھی اور ادائیگی دینے والے کے ضمیر پر چھوڑدی گئی تھی۔ کفر بالاخرۃ تو وہی کفر ہے جس کے نتیجے میں انسان دائمی تباہی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں زکوٰۃ سے مراد ایمان لانا اور شرک سے پاک ہونا لیا ہے۔ یہ مفہوم بھی رد نہیں کیا جاسکتا ، ایسے حالات میں اس کا احتمال ضرور ہے۔ اب داعی حق ان کو یہ بتانے کے لیے کہ کفر وشرک کا ارتکاب کرکے وہ کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اس کائنات کی سیر کراتے ہیں کہ ذرا تم زمین و آسمانوں پر مشتمل اس عظیم کائنات پر غور تو کرو ، کہ تم اس کے مقابلے میں کس قدر چھوٹے ہو ، کس قدر کمزور ہو ، یہ سیر اس لیے کرائی جاتی ہے کہ ذرا وہ اللہ کی بادشاہت کو بھی دیکھ لیں جس کا وہ انکار کرتے ہیں کیونکہ انسان بھی فطرت کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر جزء ہے اور تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ اس دعوت کی طرف تم نہایت ہی تنگ زاویہ نظر سے دیکھ رہے ہو ، تم صرف یہ دیکھ سکتے ہو کہ ہمچو مادیگرے نیست۔ تم تو صرف اپنے آپ کو اور حضرت محمد ﷺ کی ذات کو دیکھتے ہو اور تم یہ سوچتے ہو کہ محمد ابن عبداللہ کو اگر مان لیا تو وہ بلند مقام پر فائز ہوجائے گا۔ تمہیں تو یہ تنگ نظری اس عظیم حقیقت کے دیکھنے سے روکے ہوئے ہے جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ، جس کی تفصیلات قرآن کریم میں درج ہیں۔ یہ حقیقت جس کا تعلق آسمانوں ، زمین ، انسان ، پوری انسانی تاریخ اور اس عظیم سچائی کے ساتھ ہے جو زمان ومکان سے وراء ہے۔ اور جسے اس کائنات کے نقشے میں رکھا گیا ہے :

فصلت 41:6

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار یاد دلاتا ہے ، وہ خالق قلب اور مصرف القلوب ہے۔ حٰم ۔۔۔۔ الرحیم (41: 1 تا 2) ” یہ حدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے “۔ حم گویا سورت کا نام یا جنس قرآن جو انہی حروف سے بنایا گیا ہے۔ حم مبتداء ہے اور تنزیل خبر ہے یعنی یہ ہیں حم (جن سے قرآن بنا ہے جو ) رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل ہورہا ہے۔ نزول کتاب کے وقت رحمن ورحیم کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اس تنزیل کی صفات عالیہ رحمت الہیہ ہے۔ اور یہ کتاب اور حاصل کتاب بطور رحمت اللعالمین آئے۔ یہ صرف ان لوگوں پر رحمت نہیں ہے جو ایمان لائیں اور اس کی اطاعت کریں۔ بلکہ غیروں کے لیے بھی رحمت ہے صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام زندہ لوگوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ اس کتاب نے ایک ایسا منہاج حیات دنیا کو دیا جس کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ اس کو تصورات دیئے ، اس کو علم دیا اور عرض اس قرآن نے انسانیت کے آگے بڑھنے کی سمت ہی بدل کر رکھ دی۔ قرآن کے رحیمانہ اثرات صرف اہل ایمان تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات عالمی تھے اور اس وقت سے آج تک یہ اثرات جاری ہیں۔ جو لوگ انسانی تاریخ کا مطالعہ انصاف سے کرتے ہیں اور اس کا عام انسانی زاویہ سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مطالعہ میں انسانی سرگرمیوں کا پوری طرح احاطہ کرتے ہیں وہ اس حقیقت کو پاتے ہیں اور نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس کو ریکارڈ کرادیا ہے۔ کتٰب۔۔۔ یعلمون (41: 3) ” ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی اغراض ومقاصد کے لحاظ سے ، لوگون کی طبیعت کے مطابق ، معاشروں اور زمانوں کے مطابق ، لوگوں کی نفسیات اور انکی ضروریات کے مطابق اس کی آیات کو نہایت پختہ انداز میں مفصل بنایا گیا ہے۔ اور یہ اس کتاب کی امتیازی خصوصیت ہے اس زاویہ سے یہ کتاب مفصل اور محکم ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے یہ کتاب مفصل ہے۔ پھر عربی زبان میں ہے۔ لقوم یعلمون (41: 3) ” ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی جن کے پاس علمی استعداد ہے وہ سمجھ سکتے ہیں اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ اس قرآن کے نزول کا بڑا مقصد بشارت اور ڈراوا ہے۔ بشیراونذیرا (41: 4) ” بشارت دینے والا اور ڈرانے والا “۔ یہ قرآن مومنین کو بشارت دیتا ہے اور مکذبین اور بدکاروں کو ڈراتا ہے اور پھر خوشخبری اور ڈراوے کے اسباب بھی بتاتا ہے۔ یہ اسباب وہ عربی مبین میں بتاتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے پیش ہورہا ہے جو عرب ہیں لیکن ان کی اکثریت اسے قبول نہیں کررہی ہے۔ فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون (41: 4) ” مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “۔ اور یہ لوگ روگردانی اس لیے کرتے تھے اور نہ سنتے تھے اور اپنے دلوں کو روگردانی کرکے قرآن سننے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ قرآن غضب کی تاثیر رکھتا ہے اس لیے جو جمہور عوام کو بھی اس بات پر ابھارتے تھے کہ نہ سنو جس طرح عنقریب اس کی تفصیلات آئیں گی۔ وقالوالا۔۔۔۔۔ تغلبون (41: 26) ” منکرین حق کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ بعض اوقات وہ سنتے تھے لیکن اس طرح جیسے کہ نہ سنتے ہوں ، اس لیے قرآن کے ان پر جو اثرات پڑتے تھے ، ہٹ دگرمی کی وجہ سے ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ گویا وہ بہرے ہیں ، سنتے ہی نہیں۔ وقالوا قلوبنا۔۔۔۔ عملون (41: 5) ” کہتے ہیں : جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں میں غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ، تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جارہے ہیں “ یہ بات وہ گہری ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو مایوس کرنے کے لیے کہتے تھے تاکہ آپ دعوت دینا بند کردیں کیونکہ وہ آپ کی دعوت کا اثر خود اپنے دلوں میں پاتے تھے اور وہ بالا راوہ اس موقف پر جمے ہوئے تھے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں ڈھنپے ہوئے ہیں ، تمہاری بات تو ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں ۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں ، لہٰذا تمہاری بات ہم تک پہنچتی ہی نہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان پردے حائل ہیں ، اس لیے رابطے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم کیا کرتے ہو ، کیا کہتے ہو ، کس سے ڈارتے ہو ، کس کا وعدہ کرتے ہو ، ہم اپنی راہ پر چلنے والے ہیں۔ تم چاہو تو اپنی راہ پر چلو ، تمہاری جو مرضی ہے ، کرو۔ ہم نے سن کر نہیں دینا۔ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے ہی آؤ۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تھے وہ حالات و مشکلات جن سے داعی اول ﷺ دوچار تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ دعوت دیتے جاتے تھے۔ کبھی رکے نہیں تھے۔ ان مایوس کن حالات سے کبھی آپ متاثر نہیں ہوئے ، کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا عرصہ ہوگیا ، اللہ کا وعدہ سچا نہیں ہوا اور نہ دشمنوں پر عذاب آیا۔ آپ یہی کہتے کہ اللہ کے وعدے کا پورا ہونا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو ایک بشر ہوں۔ اللہ کا پیغام میرے پاس آتا ہے اور میں تبلیغ کرتا ہوں ، لوگوں کو اللہ واحد کی طرف بلاتا ہوں اور جو مان لیں ، ان سے کہتا ہوں کہ اسی راستے پر جم جاؤ، اور مشرکین کو انجام بد سے ڈراتا ہوں اس کے بعد کے مراحل میرے اختیار میں نہیں۔ میں تو ایک بشر اور مامور ہوں۔ قل انمآ۔۔۔۔۔ وویل المشرکین (41: 6) ” اے نبی ؐ، ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہار خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے “۔ کس قدر عظیم صفر ہے ! کس قدر برداشت ہے ! کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم ورضا ہے ! لیکن ایسی صورت حال کو صرف وہی داعی سمجھ سکتا ہے ، ایسے حالات پر وہی صبر کرسکتا ہے ، اس قسم کے حالات میں سرف وہی ماحول سے لاپرواہ ہوکر دعوت دیتے آگے بڑھ سکتا ہے اور اعراض ، تکذیب ، تکبر اور توہین آمیز سلوک کو برداشت کرسکتا ہے جو ایسے حالات سے دوچار ہوگیا ہو ، جس نے تجربہ کرلیا ہو کہ جلد بازی نہیں کرنی ، جس نے روگردانی کرنے والوں ، متکبرین اور سرکشوں کی مدافعت کی ہو ، جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کی ہو ، اور جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کرنے کا حوصلہ پایا ہو اور پھر ان مشکلات کے باوجود وہ ڈٹ گیا ہو۔ ایسے ہی مقامات کی وجہ سے انبیاء ورسل کو باربار ہدایت کی گئی ہے کہ صبر کریں ، کیونکہ دعوت کی راہ صبر کی راہ ہے۔ طویل صبر ، اور صبر کی آزمائش سب سے پہلے اس خواہش میں ہوتی ہے ، جو بہت شدید ہوتی ہے کہ دعوت جلدی کامیاب ہوجائے۔ نصرت جلدی آجائے ، نصرت کے نشانات بھی نہ ہوں لیکن داعی صبر ، استقامت اور تسلیم ورضا سے کام کیے جارہا ہو۔ اور ان مشکلات ، روگردانیوں اور کبر و لاپرواہی کے جواب میں رسول اللہ صرف یہ کہتے ہیں۔ وویل للمشرکین۔۔۔۔۔ ھم کٰفرون (41: 6 تا 7) ” تباہی ہے ان مشرکون کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں “۔ اس مقام پر زکوٰۃ کے ذکر کی کوئی مناسبت ہوگی ، کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں آیا ، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ سن دوہجری میں مدینہ میں فرض ہوئی۔ اگرچہ اصولا مکہ مکرمہ میں بھی معروف تھی۔ مدینہ میں فرضیت کے ساتھ نصاب بھی مقرر ہوگیا ۔ اور اسے معین فرض وصول کیا جانے لگا۔ مکہ میں یہ ایک عام کام تھا۔ لوگ رضا کارانہ طور پر زکوٰۃ دیتے تھے۔ اس کی کوئی حد نہ تھی اور ادائیگی دینے والے کے ضمیر پر چھوڑدی گئی تھی۔ کفر بالاخرۃ تو وہی کفر ہے جس کے نتیجے میں انسان دائمی تباہی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں زکوٰۃ سے مراد ایمان لانا اور شرک سے پاک ہونا لیا ہے۔ یہ مفہوم بھی رد نہیں کیا جاسکتا ، ایسے حالات میں اس کا احتمال ضرور ہے۔ اب داعی حق ان کو یہ بتانے کے لیے کہ کفر وشرک کا ارتکاب کرکے وہ کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اس کائنات کی سیر کراتے ہیں کہ ذرا تم زمین و آسمانوں پر مشتمل اس عظیم کائنات پر غور تو کرو ، کہ تم اس کے مقابلے میں کس قدر چھوٹے ہو ، کس قدر کمزور ہو ، یہ سیر اس لیے کرائی جاتی ہے کہ ذرا وہ اللہ کی بادشاہت کو بھی دیکھ لیں جس کا وہ انکار کرتے ہیں کیونکہ انسان بھی فطرت کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر جزء ہے اور تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ اس دعوت کی طرف تم نہایت ہی تنگ زاویہ نظر سے دیکھ رہے ہو ، تم صرف یہ دیکھ سکتے ہو کہ ہمچو مادیگرے نیست۔ تم تو صرف اپنے آپ کو اور حضرت محمد ﷺ کی ذات کو دیکھتے ہو اور تم یہ سوچتے ہو کہ محمد ابن عبداللہ کو اگر مان لیا تو وہ بلند مقام پر فائز ہوجائے گا۔ تمہیں تو یہ تنگ نظری اس عظیم حقیقت کے دیکھنے سے روکے ہوئے ہے جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ، جس کی تفصیلات قرآن کریم میں درج ہیں۔ یہ حقیقت جس کا تعلق آسمانوں ، زمین ، انسان ، پوری انسانی تاریخ اور اس عظیم سچائی کے ساتھ ہے جو زمان ومکان سے وراء ہے۔ اور جسے اس کائنات کے نقشے میں رکھا گیا ہے :

فصلت 41:7

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار یاد دلاتا ہے ، وہ خالق قلب اور مصرف القلوب ہے۔ حٰم ۔۔۔۔ الرحیم (41: 1 تا 2) ” یہ حدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے “۔ حم گویا سورت کا نام یا جنس قرآن جو انہی حروف سے بنایا گیا ہے۔ حم مبتداء ہے اور تنزیل خبر ہے یعنی یہ ہیں حم (جن سے قرآن بنا ہے جو ) رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل ہورہا ہے۔ نزول کتاب کے وقت رحمن ورحیم کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اس تنزیل کی صفات عالیہ رحمت الہیہ ہے۔ اور یہ کتاب اور حاصل کتاب بطور رحمت اللعالمین آئے۔ یہ صرف ان لوگوں پر رحمت نہیں ہے جو ایمان لائیں اور اس کی اطاعت کریں۔ بلکہ غیروں کے لیے بھی رحمت ہے صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام زندہ لوگوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ اس کتاب نے ایک ایسا منہاج حیات دنیا کو دیا جس کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ اس کو تصورات دیئے ، اس کو علم دیا اور عرض اس قرآن نے انسانیت کے آگے بڑھنے کی سمت ہی بدل کر رکھ دی۔ قرآن کے رحیمانہ اثرات صرف اہل ایمان تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات عالمی تھے اور اس وقت سے آج تک یہ اثرات جاری ہیں۔ جو لوگ انسانی تاریخ کا مطالعہ انصاف سے کرتے ہیں اور اس کا عام انسانی زاویہ سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مطالعہ میں انسانی سرگرمیوں کا پوری طرح احاطہ کرتے ہیں وہ اس حقیقت کو پاتے ہیں اور نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس کو ریکارڈ کرادیا ہے۔ کتٰب۔۔۔ یعلمون (41: 3) ” ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی اغراض ومقاصد کے لحاظ سے ، لوگون کی طبیعت کے مطابق ، معاشروں اور زمانوں کے مطابق ، لوگوں کی نفسیات اور انکی ضروریات کے مطابق اس کی آیات کو نہایت پختہ انداز میں مفصل بنایا گیا ہے۔ اور یہ اس کتاب کی امتیازی خصوصیت ہے اس زاویہ سے یہ کتاب مفصل اور محکم ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے یہ کتاب مفصل ہے۔ پھر عربی زبان میں ہے۔ لقوم یعلمون (41: 3) ” ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی جن کے پاس علمی استعداد ہے وہ سمجھ سکتے ہیں اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ اس قرآن کے نزول کا بڑا مقصد بشارت اور ڈراوا ہے۔ بشیراونذیرا (41: 4) ” بشارت دینے والا اور ڈرانے والا “۔ یہ قرآن مومنین کو بشارت دیتا ہے اور مکذبین اور بدکاروں کو ڈراتا ہے اور پھر خوشخبری اور ڈراوے کے اسباب بھی بتاتا ہے۔ یہ اسباب وہ عربی مبین میں بتاتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے پیش ہورہا ہے جو عرب ہیں لیکن ان کی اکثریت اسے قبول نہیں کررہی ہے۔ فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون (41: 4) ” مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “۔ اور یہ لوگ روگردانی اس لیے کرتے تھے اور نہ سنتے تھے اور اپنے دلوں کو روگردانی کرکے قرآن سننے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ قرآن غضب کی تاثیر رکھتا ہے اس لیے جو جمہور عوام کو بھی اس بات پر ابھارتے تھے کہ نہ سنو جس طرح عنقریب اس کی تفصیلات آئیں گی۔ وقالوالا۔۔۔۔۔ تغلبون (41: 26) ” منکرین حق کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ بعض اوقات وہ سنتے تھے لیکن اس طرح جیسے کہ نہ سنتے ہوں ، اس لیے قرآن کے ان پر جو اثرات پڑتے تھے ، ہٹ دگرمی کی وجہ سے ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ گویا وہ بہرے ہیں ، سنتے ہی نہیں۔ وقالوا قلوبنا۔۔۔۔ عملون (41: 5) ” کہتے ہیں : جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں میں غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ، تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جارہے ہیں “ یہ بات وہ گہری ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو مایوس کرنے کے لیے کہتے تھے تاکہ آپ دعوت دینا بند کردیں کیونکہ وہ آپ کی دعوت کا اثر خود اپنے دلوں میں پاتے تھے اور وہ بالا راوہ اس موقف پر جمے ہوئے تھے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں ڈھنپے ہوئے ہیں ، تمہاری بات تو ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں ۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں ، لہٰذا تمہاری بات ہم تک پہنچتی ہی نہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان پردے حائل ہیں ، اس لیے رابطے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم کیا کرتے ہو ، کیا کہتے ہو ، کس سے ڈارتے ہو ، کس کا وعدہ کرتے ہو ، ہم اپنی راہ پر چلنے والے ہیں۔ تم چاہو تو اپنی راہ پر چلو ، تمہاری جو مرضی ہے ، کرو۔ ہم نے سن کر نہیں دینا۔ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے ہی آؤ۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تھے وہ حالات و مشکلات جن سے داعی اول ﷺ دوچار تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ دعوت دیتے جاتے تھے۔ کبھی رکے نہیں تھے۔ ان مایوس کن حالات سے کبھی آپ متاثر نہیں ہوئے ، کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا عرصہ ہوگیا ، اللہ کا وعدہ سچا نہیں ہوا اور نہ دشمنوں پر عذاب آیا۔ آپ یہی کہتے کہ اللہ کے وعدے کا پورا ہونا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو ایک بشر ہوں۔ اللہ کا پیغام میرے پاس آتا ہے اور میں تبلیغ کرتا ہوں ، لوگوں کو اللہ واحد کی طرف بلاتا ہوں اور جو مان لیں ، ان سے کہتا ہوں کہ اسی راستے پر جم جاؤ، اور مشرکین کو انجام بد سے ڈراتا ہوں اس کے بعد کے مراحل میرے اختیار میں نہیں۔ میں تو ایک بشر اور مامور ہوں۔ قل انمآ۔۔۔۔۔ وویل المشرکین (41: 6) ” اے نبی ؐ، ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہار خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے “۔ کس قدر عظیم صفر ہے ! کس قدر برداشت ہے ! کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم ورضا ہے ! لیکن ایسی صورت حال کو صرف وہی داعی سمجھ سکتا ہے ، ایسے حالات پر وہی صبر کرسکتا ہے ، اس قسم کے حالات میں سرف وہی ماحول سے لاپرواہ ہوکر دعوت دیتے آگے بڑھ سکتا ہے اور اعراض ، تکذیب ، تکبر اور توہین آمیز سلوک کو برداشت کرسکتا ہے جو ایسے حالات سے دوچار ہوگیا ہو ، جس نے تجربہ کرلیا ہو کہ جلد بازی نہیں کرنی ، جس نے روگردانی کرنے والوں ، متکبرین اور سرکشوں کی مدافعت کی ہو ، جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کی ہو ، اور جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کرنے کا حوصلہ پایا ہو اور پھر ان مشکلات کے باوجود وہ ڈٹ گیا ہو۔ ایسے ہی مقامات کی وجہ سے انبیاء ورسل کو باربار ہدایت کی گئی ہے کہ صبر کریں ، کیونکہ دعوت کی راہ صبر کی راہ ہے۔ طویل صبر ، اور صبر کی آزمائش سب سے پہلے اس خواہش میں ہوتی ہے ، جو بہت شدید ہوتی ہے کہ دعوت جلدی کامیاب ہوجائے۔ نصرت جلدی آجائے ، نصرت کے نشانات بھی نہ ہوں لیکن داعی صبر ، استقامت اور تسلیم ورضا سے کام کیے جارہا ہو۔ اور ان مشکلات ، روگردانیوں اور کبر و لاپرواہی کے جواب میں رسول اللہ صرف یہ کہتے ہیں۔ وویل للمشرکین۔۔۔۔۔ ھم کٰفرون (41: 6 تا 7) ” تباہی ہے ان مشرکون کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں “۔ اس مقام پر زکوٰۃ کے ذکر کی کوئی مناسبت ہوگی ، کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں آیا ، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ سن دوہجری میں مدینہ میں فرض ہوئی۔ اگرچہ اصولا مکہ مکرمہ میں بھی معروف تھی۔ مدینہ میں فرضیت کے ساتھ نصاب بھی مقرر ہوگیا ۔ اور اسے معین فرض وصول کیا جانے لگا۔ مکہ میں یہ ایک عام کام تھا۔ لوگ رضا کارانہ طور پر زکوٰۃ دیتے تھے۔ اس کی کوئی حد نہ تھی اور ادائیگی دینے والے کے ضمیر پر چھوڑدی گئی تھی۔ کفر بالاخرۃ تو وہی کفر ہے جس کے نتیجے میں انسان دائمی تباہی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں زکوٰۃ سے مراد ایمان لانا اور شرک سے پاک ہونا لیا ہے۔ یہ مفہوم بھی رد نہیں کیا جاسکتا ، ایسے حالات میں اس کا احتمال ضرور ہے۔ اب داعی حق ان کو یہ بتانے کے لیے کہ کفر وشرک کا ارتکاب کرکے وہ کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اس کائنات کی سیر کراتے ہیں کہ ذرا تم زمین و آسمانوں پر مشتمل اس عظیم کائنات پر غور تو کرو ، کہ تم اس کے مقابلے میں کس قدر چھوٹے ہو ، کس قدر کمزور ہو ، یہ سیر اس لیے کرائی جاتی ہے کہ ذرا وہ اللہ کی بادشاہت کو بھی دیکھ لیں جس کا وہ انکار کرتے ہیں کیونکہ انسان بھی فطرت کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر جزء ہے اور تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ اس دعوت کی طرف تم نہایت ہی تنگ زاویہ نظر سے دیکھ رہے ہو ، تم صرف یہ دیکھ سکتے ہو کہ ہمچو مادیگرے نیست۔ تم تو صرف اپنے آپ کو اور حضرت محمد ﷺ کی ذات کو دیکھتے ہو اور تم یہ سوچتے ہو کہ محمد ابن عبداللہ کو اگر مان لیا تو وہ بلند مقام پر فائز ہوجائے گا۔ تمہیں تو یہ تنگ نظری اس عظیم حقیقت کے دیکھنے سے روکے ہوئے ہے جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ، جس کی تفصیلات قرآن کریم میں درج ہیں۔ یہ حقیقت جس کا تعلق آسمانوں ، زمین ، انسان ، پوری انسانی تاریخ اور اس عظیم سچائی کے ساتھ ہے جو زمان ومکان سے وراء ہے۔ اور جسے اس کائنات کے نقشے میں رکھا گیا ہے :

فصلت 41:8

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار یاد دلاتا ہے ، وہ خالق قلب اور مصرف القلوب ہے۔ حٰم ۔۔۔۔ الرحیم (41: 1 تا 2) ” یہ حدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے “۔ حم گویا سورت کا نام یا جنس قرآن جو انہی حروف سے بنایا گیا ہے۔ حم مبتداء ہے اور تنزیل خبر ہے یعنی یہ ہیں حم (جن سے قرآن بنا ہے جو ) رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل ہورہا ہے۔ نزول کتاب کے وقت رحمن ورحیم کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اس تنزیل کی صفات عالیہ رحمت الہیہ ہے۔ اور یہ کتاب اور حاصل کتاب بطور رحمت اللعالمین آئے۔ یہ صرف ان لوگوں پر رحمت نہیں ہے جو ایمان لائیں اور اس کی اطاعت کریں۔ بلکہ غیروں کے لیے بھی رحمت ہے صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام زندہ لوگوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ اس کتاب نے ایک ایسا منہاج حیات دنیا کو دیا جس کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ اس کو تصورات دیئے ، اس کو علم دیا اور عرض اس قرآن نے انسانیت کے آگے بڑھنے کی سمت ہی بدل کر رکھ دی۔ قرآن کے رحیمانہ اثرات صرف اہل ایمان تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات عالمی تھے اور اس وقت سے آج تک یہ اثرات جاری ہیں۔ جو لوگ انسانی تاریخ کا مطالعہ انصاف سے کرتے ہیں اور اس کا عام انسانی زاویہ سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مطالعہ میں انسانی سرگرمیوں کا پوری طرح احاطہ کرتے ہیں وہ اس حقیقت کو پاتے ہیں اور نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس کو ریکارڈ کرادیا ہے۔ کتٰب۔۔۔ یعلمون (41: 3) ” ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی اغراض ومقاصد کے لحاظ سے ، لوگون کی طبیعت کے مطابق ، معاشروں اور زمانوں کے مطابق ، لوگوں کی نفسیات اور انکی ضروریات کے مطابق اس کی آیات کو نہایت پختہ انداز میں مفصل بنایا گیا ہے۔ اور یہ اس کتاب کی امتیازی خصوصیت ہے اس زاویہ سے یہ کتاب مفصل اور محکم ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے یہ کتاب مفصل ہے۔ پھر عربی زبان میں ہے۔ لقوم یعلمون (41: 3) ” ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی جن کے پاس علمی استعداد ہے وہ سمجھ سکتے ہیں اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ اس قرآن کے نزول کا بڑا مقصد بشارت اور ڈراوا ہے۔ بشیراونذیرا (41: 4) ” بشارت دینے والا اور ڈرانے والا “۔ یہ قرآن مومنین کو بشارت دیتا ہے اور مکذبین اور بدکاروں کو ڈراتا ہے اور پھر خوشخبری اور ڈراوے کے اسباب بھی بتاتا ہے۔ یہ اسباب وہ عربی مبین میں بتاتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے پیش ہورہا ہے جو عرب ہیں لیکن ان کی اکثریت اسے قبول نہیں کررہی ہے۔ فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون (41: 4) ” مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “۔ اور یہ لوگ روگردانی اس لیے کرتے تھے اور نہ سنتے تھے اور اپنے دلوں کو روگردانی کرکے قرآن سننے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ قرآن غضب کی تاثیر رکھتا ہے اس لیے جو جمہور عوام کو بھی اس بات پر ابھارتے تھے کہ نہ سنو جس طرح عنقریب اس کی تفصیلات آئیں گی۔ وقالوالا۔۔۔۔۔ تغلبون (41: 26) ” منکرین حق کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ بعض اوقات وہ سنتے تھے لیکن اس طرح جیسے کہ نہ سنتے ہوں ، اس لیے قرآن کے ان پر جو اثرات پڑتے تھے ، ہٹ دگرمی کی وجہ سے ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ گویا وہ بہرے ہیں ، سنتے ہی نہیں۔ وقالوا قلوبنا۔۔۔۔ عملون (41: 5) ” کہتے ہیں : جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں میں غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ، تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جارہے ہیں “ یہ بات وہ گہری ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو مایوس کرنے کے لیے کہتے تھے تاکہ آپ دعوت دینا بند کردیں کیونکہ وہ آپ کی دعوت کا اثر خود اپنے دلوں میں پاتے تھے اور وہ بالا راوہ اس موقف پر جمے ہوئے تھے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں ڈھنپے ہوئے ہیں ، تمہاری بات تو ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں ۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں ، لہٰذا تمہاری بات ہم تک پہنچتی ہی نہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان پردے حائل ہیں ، اس لیے رابطے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم کیا کرتے ہو ، کیا کہتے ہو ، کس سے ڈارتے ہو ، کس کا وعدہ کرتے ہو ، ہم اپنی راہ پر چلنے والے ہیں۔ تم چاہو تو اپنی راہ پر چلو ، تمہاری جو مرضی ہے ، کرو۔ ہم نے سن کر نہیں دینا۔ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے ہی آؤ۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تھے وہ حالات و مشکلات جن سے داعی اول ﷺ دوچار تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ دعوت دیتے جاتے تھے۔ کبھی رکے نہیں تھے۔ ان مایوس کن حالات سے کبھی آپ متاثر نہیں ہوئے ، کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا عرصہ ہوگیا ، اللہ کا وعدہ سچا نہیں ہوا اور نہ دشمنوں پر عذاب آیا۔ آپ یہی کہتے کہ اللہ کے وعدے کا پورا ہونا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو ایک بشر ہوں۔ اللہ کا پیغام میرے پاس آتا ہے اور میں تبلیغ کرتا ہوں ، لوگوں کو اللہ واحد کی طرف بلاتا ہوں اور جو مان لیں ، ان سے کہتا ہوں کہ اسی راستے پر جم جاؤ، اور مشرکین کو انجام بد سے ڈراتا ہوں اس کے بعد کے مراحل میرے اختیار میں نہیں۔ میں تو ایک بشر اور مامور ہوں۔ قل انمآ۔۔۔۔۔ وویل المشرکین (41: 6) ” اے نبی ؐ، ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہار خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے “۔ کس قدر عظیم صفر ہے ! کس قدر برداشت ہے ! کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم ورضا ہے ! لیکن ایسی صورت حال کو صرف وہی داعی سمجھ سکتا ہے ، ایسے حالات پر وہی صبر کرسکتا ہے ، اس قسم کے حالات میں سرف وہی ماحول سے لاپرواہ ہوکر دعوت دیتے آگے بڑھ سکتا ہے اور اعراض ، تکذیب ، تکبر اور توہین آمیز سلوک کو برداشت کرسکتا ہے جو ایسے حالات سے دوچار ہوگیا ہو ، جس نے تجربہ کرلیا ہو کہ جلد بازی نہیں کرنی ، جس نے روگردانی کرنے والوں ، متکبرین اور سرکشوں کی مدافعت کی ہو ، جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کی ہو ، اور جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کرنے کا حوصلہ پایا ہو اور پھر ان مشکلات کے باوجود وہ ڈٹ گیا ہو۔ ایسے ہی مقامات کی وجہ سے انبیاء ورسل کو باربار ہدایت کی گئی ہے کہ صبر کریں ، کیونکہ دعوت کی راہ صبر کی راہ ہے۔ طویل صبر ، اور صبر کی آزمائش سب سے پہلے اس خواہش میں ہوتی ہے ، جو بہت شدید ہوتی ہے کہ دعوت جلدی کامیاب ہوجائے۔ نصرت جلدی آجائے ، نصرت کے نشانات بھی نہ ہوں لیکن داعی صبر ، استقامت اور تسلیم ورضا سے کام کیے جارہا ہو۔ اور ان مشکلات ، روگردانیوں اور کبر و لاپرواہی کے جواب میں رسول اللہ صرف یہ کہتے ہیں۔ وویل للمشرکین۔۔۔۔۔ ھم کٰفرون (41: 6 تا 7) ” تباہی ہے ان مشرکون کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں “۔ اس مقام پر زکوٰۃ کے ذکر کی کوئی مناسبت ہوگی ، کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں آیا ، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ سن دوہجری میں مدینہ میں فرض ہوئی۔ اگرچہ اصولا مکہ مکرمہ میں بھی معروف تھی۔ مدینہ میں فرضیت کے ساتھ نصاب بھی مقرر ہوگیا ۔ اور اسے معین فرض وصول کیا جانے لگا۔ مکہ میں یہ ایک عام کام تھا۔ لوگ رضا کارانہ طور پر زکوٰۃ دیتے تھے۔ اس کی کوئی حد نہ تھی اور ادائیگی دینے والے کے ضمیر پر چھوڑدی گئی تھی۔ کفر بالاخرۃ تو وہی کفر ہے جس کے نتیجے میں انسان دائمی تباہی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں زکوٰۃ سے مراد ایمان لانا اور شرک سے پاک ہونا لیا ہے۔ یہ مفہوم بھی رد نہیں کیا جاسکتا ، ایسے حالات میں اس کا احتمال ضرور ہے۔ اب داعی حق ان کو یہ بتانے کے لیے کہ کفر وشرک کا ارتکاب کرکے وہ کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اس کائنات کی سیر کراتے ہیں کہ ذرا تم زمین و آسمانوں پر مشتمل اس عظیم کائنات پر غور تو کرو ، کہ تم اس کے مقابلے میں کس قدر چھوٹے ہو ، کس قدر کمزور ہو ، یہ سیر اس لیے کرائی جاتی ہے کہ ذرا وہ اللہ کی بادشاہت کو بھی دیکھ لیں جس کا وہ انکار کرتے ہیں کیونکہ انسان بھی فطرت کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر جزء ہے اور تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ اس دعوت کی طرف تم نہایت ہی تنگ زاویہ نظر سے دیکھ رہے ہو ، تم صرف یہ دیکھ سکتے ہو کہ ہمچو مادیگرے نیست۔ تم تو صرف اپنے آپ کو اور حضرت محمد ﷺ کی ذات کو دیکھتے ہو اور تم یہ سوچتے ہو کہ محمد ابن عبداللہ کو اگر مان لیا تو وہ بلند مقام پر فائز ہوجائے گا۔ تمہیں تو یہ تنگ نظری اس عظیم حقیقت کے دیکھنے سے روکے ہوئے ہے جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ، جس کی تفصیلات قرآن کریم میں درج ہیں۔ یہ حقیقت جس کا تعلق آسمانوں ، زمین ، انسان ، پوری انسانی تاریخ اور اس عظیم سچائی کے ساتھ ہے جو زمان ومکان سے وراء ہے۔ اور جسے اس کائنات کے نقشے میں رکھا گیا ہے :

فصلت 41:9

آیت نمبر 9 تا 12 اے پیغمبر ان سے کہو کہ تم جب کفر کرتے ہو اور لاپرواہی میں یہ عظیم بات کہہ جاتے ہو ، یہ تو تم ایک بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہو ، یہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے ، تم ایک ایسی ذات کا انکار کرتے ہو ، جس نے زمین کو پیدا کیا ، اس کے اندر پہاڑ پیدا کیے ، ان کے اندر برکات پیدا کیں ، اس زمین کے اندر رزق کی تمام ضروریات پوری پوری رکھ دیں ، جس نے آسمانوں کو پیدا کیا اور یہ سب کام اس نے چار دنوں میں سرانجام دیئے اور تمام مانگنے والوں کے لیے ان کی ضروریات مہیا کردیں جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ، منظم کیا ، خصوصاً دنیا سے قریب والے آسمان کو خوب مزین کیا ، زمین اور آسمان نے اس کے قوانین قدرت اور احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ، لیکن اے اہل زمین تم ہو کہ تم انکار کرتے ہو اور تکبر کرتے ہو۔ لیکن قرآن کی عبارت نے ، قرآن کے انداز بیان کے مطابق ان مضامین کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ بات فوراً دل میں اتر جاتی ہے اور دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ ذرا اس قرآن کے الفاظ دوبارہ پڑھئے اور غور کیجئے ۔ قل ائنکم۔۔۔۔ سوآء للسبآئلین (41: 9 تا 10) ” اے نبی ﷺ ، ان سے کہو ، کیا تم اس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیراتے ہو ، جس نے زمین کو دودنوں میں بنادیا۔ وہی تو سارے جہان والوں کا رب ہے ، اس نے اوپر سے اس میں پہاڑ جما دیئے اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک انداز سے خوارک کا سامان مہیا کردیا۔ یہ سب کام چار دن میں ہوگئے “۔ یہاں زمین کی تخلیق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے دو دنوں میں پیدا کیا گیا۔ زمین کی پیدائش کی مزید بات سے پہلے اس پر تبصرہ کرکے شرک کی نفی کی گئی اور بتایا گیا کہ ذٰلک رب العٰلمین (41: 9) ” یہی جہاں والوں کا رب ہے “۔ تم اس رب کا انکار کررہے ہو ، اور اس کے ساتھ لوگوں کو شریک کررہے ہو ، جس زمین پر تم چل پھر رہے ہو ، وہ تو اس نے بنائی ہے لہٰذا تکبر اور لاپرواہی تمہیں زیب نہیں دیتی ۔ یہ تو بہت ہی قبیح فعل ہے۔ اس کے بعد باقی بات۔ سوال یہ ہے کہ یہ دودن کون سے دن ہیں ، جس کے اندر زمین پیدا کی گئی اور جن دودنوں میں پہاڑ پیدا کیے اور زمین کے اندر زندگی پیدا کی گئیں اور یوں یہ چار دن ہوگئے ؟ یہ ایام دراصل ایام اللہ ہیں اور ان کی طوالت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ ایام اس زمین کے ایام بہرحال نہیں ہیں۔ کیونکہ زمین کے ایام تو وہ زمانی معیار ہے جو زمین کے پیدا ہونے اور اس کی گردش متعین ہونے کے بعدوجود میں آیا ہے۔ جس طرح اس زمین کے ایام ہیں۔ اور یہ گردش محوری اور سورج کے گرد سالانہ گردش کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اسی طرح کواکب میں سے ہر ایک کے اپنے اپنے ایام ہیں۔ ستاروں کے اپنے ایام ہیں یہ زمین کے ایام سے مختلف ہیں۔ بعض زمین کے ایام سے چھوٹے اور بعض طویل ہیں۔ وہ ایام جن میں ابتداء زمین پیدا ہوئی ، پھر اس میں پہاڑ پیدا ہوئے ، پھر اس کے اندر حسب ضرورت رزق اور ضروریات رکھی گئیں ، یہ کوئی اور ہی ایام تھے اور ان کا معیار بھی اور تھا۔ ہمیں اس کا علم نہیں ہے ، لیکن اس قدر ضرور معلوم ہے کہ یہ ایام ان دونوں کے مقابلے میں بہت ہی طویل تھے۔ آج تک انسانی علم جہاں تک پہنچ سکا ہے ، اس کے مطابق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے مراد وہ زمانے ہیں جن سے یہ زمین گزرتی رہی ، یہاں تک کہ وہ اپنے موجودہ مدار میں ٹھہری ، اس کا چھلکا سخت ہوگیا اور یہ زندگی کے قیام کے لیے قابل ہوگیا ، جس زندگی کو ہم جانتے ہیں اور آج تک جو نظریات پیش ہوئے ہیں ان کے مطابق اس پر ہمارے زمین کے معیار ایام کے مطابق نو ہزار ملین سالوں کا وقت لگا۔ یہ بھی علمی نظریات ہیں اور ان کو تبصروں اور چٹانوں کے مطالعہ کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ قرآن کے مطالعہ میں ہم ان عملی نظریات کو آخری بات نہیں کہتے کیونکہ یہ فائنل تو ہیں نہیں۔ یہ نظریات ہیں اور ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ ہم قرآن کو انکا تابع تو نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر ان نظریات اور نص قرآنی کے درمیان قرب اور موافقت ہو تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظریہ درست ہوسکتا ہے۔ اور ایسا نظریہ تشریح قرآن کا معاون بھی ہوسکتا ہے اور اسکے ذریعہ ہم قرآن کے مفہوم کے قریب جاسکتے ہیں آج کل کے نظریات کے مطابق راجح قول یہی سمجھا جا ات ہے کہ زمین بھی کسی وقت ایک آگ کا گولا تھی جس طرح اس وقت سورج ہے اور گیس کی شکل میں تھی۔ اور یہ زمین بھی سورج ہی کا حصہ تھی ، اس سے جدا ہوگئی ، اس کے بارے میں سائنس دانوں کا اتفاق نہیں ہے کہ کیوں ہوئی اور کس طرح ہوئی البتہ اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے طویل وقت لگا جبکہ اس کا پیٹ ابھی تک اسی حالت میں ہے۔ جہاں بڑے بڑے پہاڑ پگھل جاتے ہیں۔ اور کھولنے لگتے ہیں۔ ” جب زمین کا چھلکا ٹھنڈا ہوا تو یہ سخت ہوگیا “۔ پہلے پہل یہ سخت پتھر تھا اور پتھر کے پھر طبقے تھے۔ اوپر اور نیچے پتھر۔ اور نہایت ہی ابتدائی دور میں بخارات پیدا ہوئے جن کا 3/2 حصہ ہائیڈروجن اور 3/1 حصہ آکسیجن تھا۔ ان کے اتحاد کی وجہ سے زمین پر پانی پیدا ہوگیا۔ ” ہوا اور پانی نے باہم تعاون کرکے چٹانوں کو توڑا اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو ایک جگہ سے اٹھایا اور دوسری جگہ ڈھیر لگا دیا اور اس کی وجہ سے مٹی پیدا ہوئی جس میں فصل اگنا ممکن ہوا ، اس طرح ہوا اور پانی نے پہاڑوں کو توڑا اور اونچی جگہوں کو پست کیا اور گڑہوں اور نیچی جگہوں کی پھرائی کا کام کیا۔ لہٰذا زمین کے اندر جو بھی چیز ہے یا ہونے والی ہے۔ اس میں ہمیں تعمیر وتخریب ساتھ ساتھ چلتی نظر آتی ہیں “۔ ” زمین کا اوپر کا حصہ جسے چھلکا کہہ سکتے ہیں ، دائمی طور پر حرکت اور تغیر میں رہتا ہے۔ سمندر میں جب موجیں اٹھتی ہیں تو یہ چھلکا متاثر ہوتا ہے۔ سورج کی گرمی سے سمندر کا پانی بخارات بن جاتا ہے ، آسمانوں کی طرف اٹھتا ہے ، بادلوں کی شکل اختیار کرتا ہے ، زمین پر میٹھا پانی برستا ہے۔ موسلادھار بارشیں ہوتی ہیں ، سیلاب آتے ہیں ، دریا بہتے ہیں ، اور یہ اس زمین کے چھلکے کے اوپر چلتے ہیں اور اس میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ایک پتھر اور چٹان پر یوں اثر انداز ہوتے ہیں کہ اسے ایک چٹان سے دوسری قسم کی چٹان میں بدل دیتے ہیں۔ اور پھر یہ سیلاب اور دریا اسے اٹھا کر دوسری جگہ بھی لیجاتے ہیں اور صدیوں کے بعد پھر زمین کا چہرہ بدل جاتا ہے۔ اور ہزاروں اور لاکھوں سولوں کے بعد وسیع تغیرات پیدا ہوتے ہیں ، پھر پہاڑوں پر برف جمتی ہے۔ یہ وہی کام کرتی ہے جو ہوا اور پانی کرتے ہیں اور سورج بھی زمین کی چھلکے پر ویسے ہی اثرات ڈالتا ہے جس طرح ہوا اور پانی ڈالتے ہیں۔ یہ اسے گرم کرتا ہے پھر زمین کے اوپر زندہ جانور بھی زمین کے اس چہرے کو بدلتے رہتے ہیں اور آتش فشانی کا عمل بھی زمین پر تغیرات پیدا کرتا ہے۔ ” اس زمین کے چٹانوں کے بارے میں آپ کسی بھی جیالوجسٹ سے پوچھ سکتے ہیں ، وہ چٹانوں کے بارے میں آپ کو بہت سی معلومات دے گا اور وہ اس کی تین بڑی اقسام بتائے گا۔۔۔۔ مثلاً ” ناری چٹانیں (Igneous Rocks) جو زمین کے پیٹ کے پگھلے ہوئے مادے کی شکل میں باہر آئیں۔ یہ مادہ پھر ٹھنڈا ہوگیا۔ وہ آپ کو لاوا کی چٹان (Granites) بطور مثال پیش کرے گا اور پتھر دکھا کر آپ کو بتائے گا کہ اس کے اندر سفید ، سرخ اور سیاہ چمکدار مادے ہیں۔ یہ کیمیاوی مرکبات ہیں اور ان کا اپنا وجود ہے کیونکہ یہ مخلوط دھاتوں کے پتھر ہیں۔ وہ یہ بتائے گا کہ تمام روئے زمین کا چھلکا انہی پتھروں سے بنا ہوا ہے۔ جب یہ زمین تیار ہوئی ، بہت زمانہ پہلے ، بارشیں شروع ہوئیں ، زمین پر دریاب ہے ، یا برف پگھلی ، طوفان چلے ، سورج نے اثر دکھایا۔ ان موثرات نے ان ناری چٹانوں کے اندر توڑ پوڑ کا عمل کیا۔ ان کے ملبے اور ان کے اندر کی کیمیاوی مواد سے یہ جدید چٹانیں تیار ہوگئیں اور لاوے کی ان چٹانوں سے کئی اور رنگ اور قسم کی چٹانیں تیار ہوگئیں۔ ” اب چٹانوں کی ایک دوسری اہم قسم ہے جس کو جیالوجی کی زبان میں گارے (Sedimentary Rocks) کی چٹانیں کہتے ہیں یہ وہ چٹانیں ہیں جو پانی ، ہوا ، سورج یا زندہ چیزوں کے عمل سے زمین کی اصلی سخت چٹانوں سے ٹوٹ پھوٹ کر بنیں اور ان کو Sedimentary اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنی اصلی جگہ میں نہیں ہوتی ہیں۔ یہ اپنی اصلی چٹانوں سے ٹوٹ پھوٹ کر اور پانی ، ہوا اور طوفان کی وجہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں اور وہاں گارے کی شکل میں جمع ہوکر جم جاتی ہیں “۔ ” ان گارے کی چٹانوں کی مثال جبری پتھر ہیں جن سے پورا ” مقطم “ پہاڑ بنا ہوا ہے اس پہاڑ سے اہل قاہرہ پتھر توڑ کر اپنے مکانات بناتے ہیں۔ ماہرین بتائیں گے کہ یہ کیلشیم کاربونیٹ (Calcium Carbonate) ہے اور یہ زمین سے زندہ چیزوں یا کیمیاوی عمل سے جدا ہوا ، پھر ریت بھی اسی قسم کے پتھروں سے نبی ہوئی ہے نیز کیلشیم ایسڈ بھی اس قسم سے بنا ہے۔ یہ بھی دوسری چٹانوں سے نکلا ہے۔ مثلاً خشک گارے کے پتھر اور خشک بچنے والی مٹی کے پتھر۔ یہ تمام سابقہ اصول کے مطابق بنتے ہیں “۔ یہ سابقہ اصلی چٹانیں ہیں جن سے گارے کی (Sedimentary) چٹانیں بنیں جن کی اقسام مختلف ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ اصلی چٹانیں لاوے کی چٹانیں ہیں ، جب زمین کی سطح جم گئی اور اس کی مائع حالت جاتی رہی اور یہ عمل بہت ہی پہلے ہوا ، اس وقت سطح زمین پر لاوے کی چٹان کے سوا کچھ نہ تھا۔ پھر بخارات اور پانی پیدا ہوا اور اس نے لاوے کی چٹان پر توڑ پھوڑ کا عمل شروع کیا۔ اس میں ہوا اور مختلف قسم کی گیسوں نے بھی کام کیا۔ سخت طوفانوں اور سورج کی گرمی نے بھی امداد دی ۔ یہ سب مراحل جمع ہوئے اور اپنے اپنے طبیعی اور مزاج کے مطابق کام کیا اور یہ لاوے کے پتھروں کی شکل میں بدلے۔ اب ان پتھروں سے عمارات بنتی ہیں۔ معدنیات نکالی جاتی ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سخت لاوے کے پتھر ہی سے مٹی نکالی گئی ، جو سطح زمین پر مختلف مقامات پر جمع ہوئی اور یہی مٹی نباتات وحیوانات کے لیے تمید بنی۔ ” لاوے کی چٹانیں کھتی ، فصل اور آبپاشی کے لیے مفید نہیں ہے۔ لیکن اس سے ، نرم وملائم مٹی نکلتی ہے یا اس جیسی دوسری چٹانوں سے یہ مٹی جمع ہوتی ہے اور اس مٹی سے پھر نباتات وحیوانات پیدا ہوئے۔ اور یوں اس زمین کے رئیس المخلوقات انسان کی پیدائش کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ یہ طویل سفر جس کا انکشاف علم جدید نے کیا ہے ، اس کی مدد سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں جو ایام لگے ، زمین کی تخلیق ، اس کے اوپر پہاڑوں کی تنصیب ، اس کے اندر برکات و ضروریات کی تشکیل پر جو چار دن لگے ، یہ ایام اللہ کے چار دن تھے جن کی طوالت کا ہمیں علم نہیں کہ ان کی طوالت کا کیا معیار ومقیاس ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ وہ یقیناً ہماری اس زمین کے ایام نہ تھے۔ اب ہم نص قرآنی کے ایک ایک فقرے پر غور کریں گے ، قبل اس کے کہ ہم زمین کے موضوع کو چھوڑ کر آسمان کی طرف چلیں : وجعل فیھا رواسی من فوقھا (41: 10) ” اور اوپر سے اس پر پہاڑ جما دیئے “۔ بعض اوقات ان پہاڑوں کے لیے رواسی کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ رواسی کے معنی لنگرانداز ہونے والی کشتی اور پہاڑ ہیں اور بعض جگہ پہاڑوں کو رواسی کہہ کر ان تمیدبکم ” کہ تم ڈھلک نہ جاؤ “۔ یعنی زمین لنگر انداز ہے۔ یہ پہاڑ اسے ایک جگہ ٹکاتے ہیں ، تاکہ انسان ڈھلک نہ جائیں۔ ایک وقت ایسا تھا کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین ایک جگہ جمی ہوئی ہے اور مستحکم بنیادوں پر ٹھہری ہوئی ہے۔ اب ایسا وقت آگیا ہے کہ یہ زمین تو ایک کرہ ہے ، چھوٹی سی گیند جو فضا میں تیر رہی ہے اور کسی چیز کا سہارا نہیں لے رہی ہے۔ جب انسانوں کو سب سے پہلے یہ بتائی گئی ہوگی تو وہ پریشان ہوکر دائیں بائیں دیکھ رہے ہوں گے کہ واقعی کہیں ہم گرنہ جائیں۔ ڈھلک نہ جائیں ۔ یا ہم فضا کی گہرائیوں میں نہ اڑجائیں۔ اطمینان رکھو ، اللہ نے اس کو فضا ہی میں تھامے رکھا ہے اور زمین و آسمان دونوں اپنی جگہ سے ہٹ یا پھسل نہیں سکتے ۔ اگر ان کا توازن کبھی بگڑ گیا تو پھر اللہ کے سوا کوئی اسے قائم بھی نہیں کرسکتا ۔ اطمینان کیجئے ! اللہ نے جو قوانین فطرت کائنات میں جاری کیے ہیں وہ بہت ہی پختہ ہیں اور اللہ قوی و عزیز ہے۔ ذرا پہاڑوں کا مزید مطالعہ درکار ہے انکو اللہ نے ” رواسی “ کہا ہے۔ یہ زمین کو باندھتے ہیں کہ وہ ڈھلک نہ جائے جیسا کہ ظلال القرآن میں ہم نے دوسری جگہ یہ نکتہ بیان کیا کہ سمندروں کے اندر جو گہرائیاں ہیں اور زمین کے اوپر جو بلندیاں ہیں یہ دونوں حصوں کا توازن برابر کرتی ہیں۔ یوں زمین کے دونوں حصے سمندری اور خشکی متوازن ہوجاتے ہیں۔۔۔ ایک سائنس دان کی سنئے ! ” زمین کے اندر جو حادثہ ہوتا ہے اس کی سطح پر ای اندر ، اس کی وجہ سے زمین کا مادہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کو منتقل ہوتا ہے ، یہ اس کی گردش کو متاثر کرتا ہے۔ اس میں صرف مدوجزر ہی واحد عامل نہیں ہے۔ یعنی زمین کی رفتار میں کمی کے بارے میں ، یہاں تک کہ دریا ایک جگہ سے جو پانی دوسری جگہ کو منتقل کرتے ہیں اس کا بھی زمین کی رفتار پر اثر ہوتا ہے۔ ہوائیں جو ادھر جاتی ہیں ، یہ بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ سمندروں کے اندر کی سطح کا جگہ جگہ کرنا اور خشکی کی سطح کا جگہ جگہ سے اٹھنا بھی گردش زمین کی رفتار کو متاثر کرتا ہے اور یہ چیز بھی زمین کی گردش کی رفتار کو متاثر کرتی ہے کہ کسی جگہ سے زمین پھیلے یا سکڑے۔ اگرچہ یہ سکڑنا اور پھیلنا چند اقدام تک محدود کیوں نہ ہو “۔ غرض یہ حساس زمین ، جس کی حساسیت کے بارے میں ہم نے یہ مطالعہ کیا ، کیا بعید کہ اس کی رفتار کی تیزی میں یہ اونچے اونچے پہاڑ توازن قائم کرتے ہوں اور وہ اس کی غیر متوازن ہونے سے روکتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے آج سے چودہ سو سال قبل یہ بات کہہ دی ” ان تمیدبکم “” کہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے “۔ وبٰرک فیھا وقدر فیھآ اقواتھا (41: 10) ” اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس میں ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیا کردیا “۔ یہ فقرہ ہمارے اسلاف کے ذہنوں میں یہ مفہوم منتقل کرتا ہوگا کہ فصلیں اگا دیں اور زمین کے اندر بعض مفید جمادات اور دھاتیں رکھ دیں مثلاً سونا چاندی اور لوہا وغیرہ۔ لیکن آج اللہ تعالیٰ نے انسان پر زمین کی جو برکات کھول دی ہیں اور جو صدیوں پہلے اس زمین میں رکھ دی گئی تھیں اور ہم ان سے استفادہ کرتے ہیں تو اس فقرے کا مفہوم بہت ہی وسیع ہوگیا ہے۔ اب ہم نے دیکھ لیا کہ کس طرح ہوا کے عناصر نے تعاون کیا اور پانی تشکیل ہوا اور کس طرح پانی اور ہوانے تعاون کیا اور سورج اور طوفان نے تعاون کیا اور مٹی کی تشکیل ہوئی جو قابل زراعت بن گئی۔ اور پانی ، سورج ، ہواؤں کے باہم تعاون سے بارشیں برسیں ، یہ بارش ہی ہے جس کے ذریعہ سے تمام پانی فراہم ہوتے ہیں۔ میٹھی نہروں کے ذریعے ، دریاؤں اور ندیوں کے ذریعے اور زمین کے اندر کے ذخیروں اور چشموں کے ذریعہ ، یہ سب برکات وارزاق ہی تو ہیں۔ اور پھر ہوا اور ہمارا اور تمام حیوانات کا نظام تنفس اور ہمارے جسم۔ ” زمین ایک کرہ اور گیند ہے۔ اس کے اوپر چٹان کی ایک تہہ ملفوف ہے اور اس چٹان کی تہہ کے اکثر حصے کے اوپر پانی کی تہہ ہے جس سے یہ چٹان ملفوف ہے۔ پھر اس پانی اور چٹان کی تہہ کے اوپر ایک ہوائی کرہ ہے جو دبیزگیس کی شکل میں دنیا کو ملفوف کیے ہوئے ہے۔ یہ ہوائی کرہ سمندر کی طرح ہے۔ اس کی سمندر کی طرح گہرائی ہے۔ ہم انسان اور حیوان اور نباتات ہوا کے اس سمندر کی تہہ میں زندہ رہ رہے ہیں اور بڑے مزے سے رہ رہے ہیں “۔ ” ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں ، آکسیجن لیتے ہیں ، ہوا ہی سے بناتات اپنا جسم بناتے ہیں ، ہوا ہی سے کاربن لیتے ہیں بلکہ آکسائیڈ سے کاربن لیتے ہیں جسے اہل کیمیا کا ربن ڈائی آکسائیڈ کہتے ہیں۔ نباتات اپنا جسم کوئلے کے آکسائیڈ سے بناتے ہیں۔ ہم نباتات کھاتے ہیں اور ہم حیوانات کو بھی کھاتے ہیں۔ اور حیوانات نباتات کو کھاتے ہیں۔ دونوں سے ہمارا جسم تیار ہوتا ہے۔ ہوا میں نائٹروجن ہے ، یہ آکسیجن کو خفیف بناتی ہیں۔ ورنہ ہم سانس لیتے ہی جل جائیں ۔ پانی کے بخارات ہوا کے اندر رطوبت پیدا کرتے ہیں۔ کچھ دوسری گیس ہیں جو قلیل مقدار میں پائی جاتی ہیں اور غیر مرتب ہیں۔ ان میں ہیلیم ، نیون وغیرہ اور ہائیڈروجن گیس ، یہ ہوا میں ابتدائی تخلیق کے وقت سے موجود ہیں۔ وہ مواد جو ہم کھاتے ہیں اور اپنی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، جبکہ رزق اس مواد سے وسیع مفہوم رکھتا ہے جو صرف پیٹ میں جاتا ہے ، یہ سب چیزیں اس اصلی مواد اور عناصر پر مشتمل ہیں جو یہ زمین اپنے پیٹ میں رکھتی ہے یا فضا میں رکھتی ہے۔ مثلاً چینی کیا چیز ہے۔ یہ کاربن ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب ہے اور پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن سے مرکب ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہمارے کھانے اور پینے کی چیزوں کے بڑے مرکبات ہیں۔ نیز لباس اور آلات بھی انہیں عناصر سے بنتے ہیں ، جو اس زمین کے اندر اللہ نے ودیعت کیے ہیں۔ یہ ہیں وہ امور جو اس زمین کی برکات اور اس کے اندر ذرائع رزق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کو چار دنوں یا چار طویل ادوار ، یعنی ایام اللہ میں بنایا گیا جن کی مقدار ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ثم استوٰی۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (41: 11 تا 12) ” پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا ، جو اس وقت محض دھواں تھا۔ اس نے آسمان اور زمین سے کہا ” وجود میں آجاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو “۔ دونوں نے کہا ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ تب اس نے دودن کے اندر آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان میں اس کا قانون وحی کردیا۔ اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کردیا ۔ یہ سب کچھ ایک زبردست علیم ہستی کا منصوبہ ہے “۔ استواء کا مفہوم یہاں ارادہ کرنا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے قصد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف اپنے ارادے کو متوجہ کردے۔ ثم بعض اوقات ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ معنوی ارتقاء کے لیے بھی آتا ہے۔ آسمان چونکہ انسانوں کو ارفع اور بلند نظر آتے ہیں اس لیے اس کے لیے ثم کا لفظ آیا۔ ثم استوٰی الیٰ السمآء وھی دخان (41: 11) ” پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ اس وقت محض دھواں تھا “۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ستاروں کی تخلیق سے قبل ایک حالت تھی جیسے ” سدم “ کی حالت ہوتی ہے اور یہ ایک قسم کا گیس تھا ، جیسے دھواں ہوتا ہے۔ ” سدم (Black Whole) میں جو گیس اور غبار ہوتا ہے وہ وہی ہوتا ہے ، جو ستاروں کی تخلیق سے بچ گیا ہوتا ہے۔ نظریہ تخلیق کائنات یہ ہے کہ کہکشاں گیس اور غبار سے مرکب ہوتی ہے۔ جب یہ گیس اور غبار زیادہ کثیف ہوگئے تو اس کے نتیجے میں ستارے پیدا ہوئے۔ کچھ ملبہ رہ گیا۔ یہ بقیہ ملبہ سدم کی شکل اختیار کرگیا۔ اس وسیع کہکشاں میں اس کا جو حصہ باقی ہے وہ منتشر ہے۔ گیس اور غبار کی شکل میں ۔ اس کی مقدار اتنی ہے جتنے ستارے بن گئے ۔ یہ ستارے اس بقیہ گیس اور غبار کو اپنی جاذبیت کے ذریعے کھینچتے رہتے ہیں۔ چناچہ اس عمل سے آسمانوں کی صفائی ہورہی ہے مگر اس غبار کو جذب کرنے والے ستارے اس ہولناک فضا میں بہت تھوڑے ہیں۔ اور جن علاقوں کو اس سے صاف کرنا ہے وہ بہت ہی وسیع ہیں “۔ یہ بات صحیح ہوسکتی ہے کیونکہ یہ اس مفہوم سے زیادہ قریب ہے۔ جو اس آیت میں ہے۔ ثم استوٰی الی السمآء وھی دخان (41: 11) ” پھر وہ آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا ، اور وہ اس وقت دھواں تھا “۔ یہاں تک کہ اس سے آسمان بنائے اور ان میں دوایام اللہ صرف ہوئے یعنی طویل عرصہ۔ اس کے بعد اب ہم اس حقیقت پر غور کریں گے۔ فقال لھا۔۔۔۔ طآئعین (41: 11) ” اس نے آسمان اور زمین سے کہا : وجود میں آجاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو “۔ دونوں نے کہا ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ اس آیت میں عجب اشارہ ہے اس قانون قدرت اور ناموس فطرت کی طرف جو اس کائنات میں چلایا گیا ہے اور اس کائنات کا تعلق اپنے خالق کے ساتھ اطاعت اور سرتسلیم خم کردینے کا تعلق ہے۔ پوری کائنات اللہ کی مشیت اور حکم کے مطابق چل رہی ہے۔ یہاں صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جو اللہ کے ناموس کے سامنے مجبور ہو کر سرطاعت خم کرتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے۔ یہ انسان بھی یقینی طور پر اس ناموس فطرت کا مطیع فرمان ہے ، اس سے نکل نہیں سکتا ۔ یہ اس عظیم کائنات نہایت ہی معمولی پرزہ ہے۔ اور اس کائنات کے کلی قوانین اس پر بھی نافذ ہیں خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو ، لیکن اس کائنات میں یہ انسان واحد ذات شریف ہے جو اللہ کی اطاعت اس طرح نہیں کرتا جس طرح ارض وسما کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اطاعت سے آزاد کرنا چاہتا ہے یا راہ حق سے انخراف چاہتا ہے جو مستقیم اور آسان ہے ، لہٰذا وہ قوانین فطرت سے ٹکراتا ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ یہ بات لازمی ہے کہ یہ قوانین اس پر غالب آکر اسے پاش پاش کردیتے ہیں۔ اس وقت یہ پھر کر مطیع فرمان ہوتا ہے۔ ہاں اللہ کے وہ بندے جن کے دل ، جن کا وجود ، جن کی حرکات ، جن کے تصورات ، جن کا ارادہ ، جن کی خواہشات اور جن کا رخ نوامیس فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے تو ایسے بندے پھر خوشی خوشی سے سر تسلیم خم کردیتے ہیں اور اس کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوکر نہایت تعاون سے چلتے ہیں اور جس طرح یہ پوری کائنات اللہ کی سمت چلتی ہے۔ وہ بھی اسی سمت رواں دواں ہوتے ہیں۔ وہ کائناتی قوتوں کے ساتھ لڑتے ہیں ، جب مومن اس مقام تک پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کے ہاتھوں معجزات کا صدور ہوتا ہے کیونکہ اس نے ناموس قدرت کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے۔ اس کائنات کی عظیم قوتیں اس کی پشت پت آجاتی ہیں۔ اور یہ عظیم قوت جب اللہ کی راہ میں چلتی ہے تو مطیع فرمان ہوکر چلتی ہے۔ ہم اگر اللہ کی اطاعت کرتے ہیں تو مجبور ہوکر کرتے ہیں۔ کاش کہ ہم خوشی سے مطیع فرمان ہوتے ۔ کاش ہم بھی زمین و آسمان کی طرح خوشی سے اطاعت کرتے ، رضا اور خوشی سے۔ اس حال میں کہ ہم روح کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوچکے ہوں اور نہایت خوشی اور خضوع وخشوع کے ساتھ لبیک کہتے ہوئے اور سر تسلیم خم کرتے ہوئے اللہ رب العالمین کی طرف چلیں۔ بعض اوقات ہم سے بڑی مضحکہ خیز حرکات سرزد ہوتی ہیں ، تقدیر کی گاڑی اپنی شاہراہ پرچلتی ہے ، تیزی سے چلتی ہے۔ اپنی سمت پر چلتی ہے ، یہ پوری کائنات اس کے ساتھ چلتی ہے۔ مستقل قوانین فطرت کے مطابق چلتی ہے۔ ہم آتے ہیں اور ہمارا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم تقدیر سے بھی آگے ہوجائیں یا تقدیر سے ست روی اختیار کرلیں حالانکہ ہم اس عظیم کائنات کا حصہ ہیں۔ ہم اپنی نفساتی کمزوریوں کی وجہ سے جب قافلہ کائنات سے الگ ہوجاتے ہیں تو ہمارے سفر کی سمت ہی بدل جاتی ہے اور یہ سمت اس لیے بدلتی ہے کہ ہم بےچین ، جلد باز ، لالچی ، مطلب پرست اور ڈرپوک ہوجاتے ہیں۔ اور قافلہ ایمان اور قافلہ کائنات سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، ہم کبھی اس طرف ٹکراتے ہیں ، کبھی ادھر لڑھکتے ہیں اور درد پاتے ہیں ، ادھر گرتے ہیں ، ادھر حادثہ کرتے ہیں ، اور پاش پاش ہوجاتے ہیں۔ جبکہ کائنات کی گاڑی اپنے راستے پر ، اپنی مقررہ رفتار کے ساتھ اپنی منزل مقصود کی طرف جارہی ہے۔ اور اس طرح ہماری تمام قوتیں ، تمام جدوجہد بےکار ہوجاتی ہیں لیکن جب ہمارے دل ایمان سے لبریز ہوں ، ہم اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ، روح کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں ، اس وقت ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارا کردار کس قدر حقیقی ہے۔ پھر ہم اپنے قدموں اور تقدیر کی رفتار کے درمیان توازن پیدا کردیں گے۔ اور ہم مناسب وقت میں مناسب رفتار سے مناسب سمت کی طرف حرکت کریں گے۔ ہمارے ساتھ اس پوری کائنات کی قوت شامل ہوگی۔ اور ہم عملاً عظیم کام کرسکیں گے ، سوائے اس کے کہ ہم پر کبر و غرور کا اثر ہو ، کیونکہ ہمیں تو اصل حقیقت معلوم ہوگی کہ جس قوت کے ذریعے ہم یہ کارہائے نمایاں کررہے ہیں ، اس کا درچشمہ تو دراصل کوئی اور ہے ۔ یہ ہماری ذاتی قوت نہیں ہے۔ ہماری قوت میں یہ برکت اس لیے پیدا ہوگئی کہ یہ اس کائنات کے اندر ودیعت کردہ اللہ کی قوت کے ساتھ یکجا ہوگئی ہے۔ کیا ہی سعادت مندی ہوگی ، کیا رضا مندی ہوگی ، کس قدر راحت ہوگی اور کس قدر اطمینان ہوگا ، کہ ہم اس کرۂ ارض پر جو اللہ کو لبیک کہنے والا ہے ، اپنا یہ مختصر سفر اس خوشی میں ، اس کرۂ ارض کی معیت میں طے کریں اور آخر کار رب تعالیٰ کے ہاں ایک بڑے سفر کے آغاز کے لیے پہنچ جائیں۔ وہ کیا عظیم امن وسلامتی ہوگی جب ہم ایک کائنات میں زندہ رہ رہے ہوں جو ہماری دوست ہو ، سب کی سب اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والی ہو اور ہم بھی اللہ کے مطیع فرمان ہوں۔ ہم دونوں ہمقدم ہوں ، دشمنی پر نہ ہوں ، دوست ہوں ، کیونکہ ہم اس کائنات کا حصہ ہیں اور اسی کے ہمہ رخ ہیں۔ قالتآ اتینا طآئعین (41: 11) ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ فقضھن سبع سمٰوات فی یومین (41: 12) ” تب اس نے دو دن کے اندر سات آسمان بنا دیئے “۔ واوحی فی کل سمآء امرھا (41: 12) ” اور ہر آسمان میں اس کا قانون وحی کردیا “۔ یہ دو دن وہی ہوسکتے ہیں جن میں سدم سے ستارے تیار ہوئے یا جن میں ان کی تشکیل مکمل ہوئی۔ حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔ ہر آسمان کی طرف اس کے امور کی وحی کے معنی یہ ہیں کہ اس پر قوانین قدرت نافذ کردیئے۔ اور ہدایت کردی کہ یوں چلو ، پھر آسمان کے حدود کیا ہیں تو اس کا تعین فی الحال ہم نہیں کرسکتے ۔ دوری کا ایک درجہ ایک آسمان ہوسکتا ہے۔ ایک کہکشاں ایک آسمان ہوسکتی ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک دوری تک جس قدر کہکشاں ہیں وہ ایک آسمان ہوں یا اس کا اور بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ بلندیاں سات ہیں۔ وزینا السمآء الدنیا بمصابیح وحفطا (41: 12) ” اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے محفوظ کردیا “۔ سماء دنیا کا بھی کوئی متعین مفہوم نہیں ہے ، اس سے مراد قریب تر کہکشاں بھی ہو سکتی ہے جو ہمارے ہاں شمسی کہکشاں کے نام سے مشہور ہے اور جس کا قطر ایک لاکھ ملین نوری سال ہے۔ یا کوئی اور معیار ہو اللہ کے نزدیک جس پر لفظ سما کا اطلاق ہوا ہو۔ اس میں ستارے اور ستارے ہیں جو ہمارے لیے چراغ ہیں اور بہت خوبصورت ہیں۔ حفاظت کس چیز سے ؟ شیطانوں سے۔ قرآن میں دوسری جگہ اس کی تصریح ہے۔ پھر سیاطین کی حقیقت کیا ہے ؟ قرآن کریم میں جو افعال ان کی طرف منسوب ہیں اور جو اشارے ہیں ، ان کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی حقیقت اور ماہیت کا علم اللہ کو ہے۔ ذٰلک تقدیر العزیزالعلیم (41: 12) ” یہ سب کچھ ایک زبردست اور علیم ہستی کا منصوبہ ہے۔ کون ہے اللہ کے سوا جو اس عظیم اور ہولناک کائنات کو چلا سکتا ہے ؟ صرف اللہ زبردست اور علیم و حکیم ، اس کام کو کرسکتا ہے ، جو ہر چیز سے باخبر ہے۔ ایک عظیم کائناتی سفر کے بعد اللہ انکار کرنے والوں کے موقف کی کیا وقعت رہ جاتی ہے اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتے ہیں ان کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے ، جبکہ آسمان و زمین بیک زبان کہتے ہیں کہ ہم ہیں مطیع فرمان ۔ لیکن انسان ہے اور کیا انسان ؟ اس کائنات کے اعتبار سے ایک نہایت چھوٹی سی چیونٹی بلکہ جرثومہ ، بےوقعت ، جو زمین پر رینگتا ہے۔ یہ نہایت ہی لاپرواہی ، غرور کے ساتھ کہتا ہے کہ میں نہ مانوں !۔۔۔۔ کیا سزا ہونی چاہئے ایسے لوگوں کی ، ایسے لاپرواہ متکبرین کی !

فصلت 41:10

آیت نمبر 9 تا 12 اے پیغمبر ان سے کہو کہ تم جب کفر کرتے ہو اور لاپرواہی میں یہ عظیم بات کہہ جاتے ہو ، یہ تو تم ایک بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہو ، یہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے ، تم ایک ایسی ذات کا انکار کرتے ہو ، جس نے زمین کو پیدا کیا ، اس کے اندر پہاڑ پیدا کیے ، ان کے اندر برکات پیدا کیں ، اس زمین کے اندر رزق کی تمام ضروریات پوری پوری رکھ دیں ، جس نے آسمانوں کو پیدا کیا اور یہ سب کام اس نے چار دنوں میں سرانجام دیئے اور تمام مانگنے والوں کے لیے ان کی ضروریات مہیا کردیں جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ، منظم کیا ، خصوصاً دنیا سے قریب والے آسمان کو خوب مزین کیا ، زمین اور آسمان نے اس کے قوانین قدرت اور احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ، لیکن اے اہل زمین تم ہو کہ تم انکار کرتے ہو اور تکبر کرتے ہو۔ لیکن قرآن کی عبارت نے ، قرآن کے انداز بیان کے مطابق ان مضامین کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ بات فوراً دل میں اتر جاتی ہے اور دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ ذرا اس قرآن کے الفاظ دوبارہ پڑھئے اور غور کیجئے ۔ قل ائنکم۔۔۔۔ سوآء للسبآئلین (41: 9 تا 10) ” اے نبی ﷺ ، ان سے کہو ، کیا تم اس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیراتے ہو ، جس نے زمین کو دودنوں میں بنادیا۔ وہی تو سارے جہان والوں کا رب ہے ، اس نے اوپر سے اس میں پہاڑ جما دیئے اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک انداز سے خوارک کا سامان مہیا کردیا۔ یہ سب کام چار دن میں ہوگئے “۔ یہاں زمین کی تخلیق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے دو دنوں میں پیدا کیا گیا۔ زمین کی پیدائش کی مزید بات سے پہلے اس پر تبصرہ کرکے شرک کی نفی کی گئی اور بتایا گیا کہ ذٰلک رب العٰلمین (41: 9) ” یہی جہاں والوں کا رب ہے “۔ تم اس رب کا انکار کررہے ہو ، اور اس کے ساتھ لوگوں کو شریک کررہے ہو ، جس زمین پر تم چل پھر رہے ہو ، وہ تو اس نے بنائی ہے لہٰذا تکبر اور لاپرواہی تمہیں زیب نہیں دیتی ۔ یہ تو بہت ہی قبیح فعل ہے۔ اس کے بعد باقی بات۔ سوال یہ ہے کہ یہ دودن کون سے دن ہیں ، جس کے اندر زمین پیدا کی گئی اور جن دودنوں میں پہاڑ پیدا کیے اور زمین کے اندر زندگی پیدا کی گئیں اور یوں یہ چار دن ہوگئے ؟ یہ ایام دراصل ایام اللہ ہیں اور ان کی طوالت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ ایام اس زمین کے ایام بہرحال نہیں ہیں۔ کیونکہ زمین کے ایام تو وہ زمانی معیار ہے جو زمین کے پیدا ہونے اور اس کی گردش متعین ہونے کے بعدوجود میں آیا ہے۔ جس طرح اس زمین کے ایام ہیں۔ اور یہ گردش محوری اور سورج کے گرد سالانہ گردش کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اسی طرح کواکب میں سے ہر ایک کے اپنے اپنے ایام ہیں۔ ستاروں کے اپنے ایام ہیں یہ زمین کے ایام سے مختلف ہیں۔ بعض زمین کے ایام سے چھوٹے اور بعض طویل ہیں۔ وہ ایام جن میں ابتداء زمین پیدا ہوئی ، پھر اس میں پہاڑ پیدا ہوئے ، پھر اس کے اندر حسب ضرورت رزق اور ضروریات رکھی گئیں ، یہ کوئی اور ہی ایام تھے اور ان کا معیار بھی اور تھا۔ ہمیں اس کا علم نہیں ہے ، لیکن اس قدر ضرور معلوم ہے کہ یہ ایام ان دونوں کے مقابلے میں بہت ہی طویل تھے۔ آج تک انسانی علم جہاں تک پہنچ سکا ہے ، اس کے مطابق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے مراد وہ زمانے ہیں جن سے یہ زمین گزرتی رہی ، یہاں تک کہ وہ اپنے موجودہ مدار میں ٹھہری ، اس کا چھلکا سخت ہوگیا اور یہ زندگی کے قیام کے لیے قابل ہوگیا ، جس زندگی کو ہم جانتے ہیں اور آج تک جو نظریات پیش ہوئے ہیں ان کے مطابق اس پر ہمارے زمین کے معیار ایام کے مطابق نو ہزار ملین سالوں کا وقت لگا۔ یہ بھی علمی نظریات ہیں اور ان کو تبصروں اور چٹانوں کے مطالعہ کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ قرآن کے مطالعہ میں ہم ان عملی نظریات کو آخری بات نہیں کہتے کیونکہ یہ فائنل تو ہیں نہیں۔ یہ نظریات ہیں اور ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ ہم قرآن کو انکا تابع تو نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر ان نظریات اور نص قرآنی کے درمیان قرب اور موافقت ہو تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظریہ درست ہوسکتا ہے۔ اور ایسا نظریہ تشریح قرآن کا معاون بھی ہوسکتا ہے اور اسکے ذریعہ ہم قرآن کے مفہوم کے قریب جاسکتے ہیں آج کل کے نظریات کے مطابق راجح قول یہی سمجھا جا ات ہے کہ زمین بھی کسی وقت ایک آگ کا گولا تھی جس طرح اس وقت سورج ہے اور گیس کی شکل میں تھی۔ اور یہ زمین بھی سورج ہی کا حصہ تھی ، اس سے جدا ہوگئی ، اس کے بارے میں سائنس دانوں کا اتفاق نہیں ہے کہ کیوں ہوئی اور کس طرح ہوئی البتہ اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے طویل وقت لگا جبکہ اس کا پیٹ ابھی تک اسی حالت میں ہے۔ جہاں بڑے بڑے پہاڑ پگھل جاتے ہیں۔ اور کھولنے لگتے ہیں۔ ” جب زمین کا چھلکا ٹھنڈا ہوا تو یہ سخت ہوگیا “۔ پہلے پہل یہ سخت پتھر تھا اور پتھر کے پھر طبقے تھے۔ اوپر اور نیچے پتھر۔ اور نہایت ہی ابتدائی دور میں بخارات پیدا ہوئے جن کا 3/2 حصہ ہائیڈروجن اور 3/1 حصہ آکسیجن تھا۔ ان کے اتحاد کی وجہ سے زمین پر پانی پیدا ہوگیا۔ ” ہوا اور پانی نے باہم تعاون کرکے چٹانوں کو توڑا اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو ایک جگہ سے اٹھایا اور دوسری جگہ ڈھیر لگا دیا اور اس کی وجہ سے مٹی پیدا ہوئی جس میں فصل اگنا ممکن ہوا ، اس طرح ہوا اور پانی نے پہاڑوں کو توڑا اور اونچی جگہوں کو پست کیا اور گڑہوں اور نیچی جگہوں کی پھرائی کا کام کیا۔ لہٰذا زمین کے اندر جو بھی چیز ہے یا ہونے والی ہے۔ اس میں ہمیں تعمیر وتخریب ساتھ ساتھ چلتی نظر آتی ہیں “۔ ” زمین کا اوپر کا حصہ جسے چھلکا کہہ سکتے ہیں ، دائمی طور پر حرکت اور تغیر میں رہتا ہے۔ سمندر میں جب موجیں اٹھتی ہیں تو یہ چھلکا متاثر ہوتا ہے۔ سورج کی گرمی سے سمندر کا پانی بخارات بن جاتا ہے ، آسمانوں کی طرف اٹھتا ہے ، بادلوں کی شکل اختیار کرتا ہے ، زمین پر میٹھا پانی برستا ہے۔ موسلادھار بارشیں ہوتی ہیں ، سیلاب آتے ہیں ، دریا بہتے ہیں ، اور یہ اس زمین کے چھلکے کے اوپر چلتے ہیں اور اس میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ایک پتھر اور چٹان پر یوں اثر انداز ہوتے ہیں کہ اسے ایک چٹان سے دوسری قسم کی چٹان میں بدل دیتے ہیں۔ اور پھر یہ سیلاب اور دریا اسے اٹھا کر دوسری جگہ بھی لیجاتے ہیں اور صدیوں کے بعد پھر زمین کا چہرہ بدل جاتا ہے۔ اور ہزاروں اور لاکھوں سولوں کے بعد وسیع تغیرات پیدا ہوتے ہیں ، پھر پہاڑوں پر برف جمتی ہے۔ یہ وہی کام کرتی ہے جو ہوا اور پانی کرتے ہیں اور سورج بھی زمین کی چھلکے پر ویسے ہی اثرات ڈالتا ہے جس طرح ہوا اور پانی ڈالتے ہیں۔ یہ اسے گرم کرتا ہے پھر زمین کے اوپر زندہ جانور بھی زمین کے اس چہرے کو بدلتے رہتے ہیں اور آتش فشانی کا عمل بھی زمین پر تغیرات پیدا کرتا ہے۔ ” اس زمین کے چٹانوں کے بارے میں آپ کسی بھی جیالوجسٹ سے پوچھ سکتے ہیں ، وہ چٹانوں کے بارے میں آپ کو بہت سی معلومات دے گا اور وہ اس کی تین بڑی اقسام بتائے گا۔۔۔۔ مثلاً ” ناری چٹانیں (Igneous Rocks) جو زمین کے پیٹ کے پگھلے ہوئے مادے کی شکل میں باہر آئیں۔ یہ مادہ پھر ٹھنڈا ہوگیا۔ وہ آپ کو لاوا کی چٹان (Granites) بطور مثال پیش کرے گا اور پتھر دکھا کر آپ کو بتائے گا کہ اس کے اندر سفید ، سرخ اور سیاہ چمکدار مادے ہیں۔ یہ کیمیاوی مرکبات ہیں اور ان کا اپنا وجود ہے کیونکہ یہ مخلوط دھاتوں کے پتھر ہیں۔ وہ یہ بتائے گا کہ تمام روئے زمین کا چھلکا انہی پتھروں سے بنا ہوا ہے۔ جب یہ زمین تیار ہوئی ، بہت زمانہ پہلے ، بارشیں شروع ہوئیں ، زمین پر دریاب ہے ، یا برف پگھلی ، طوفان چلے ، سورج نے اثر دکھایا۔ ان موثرات نے ان ناری چٹانوں کے اندر توڑ پوڑ کا عمل کیا۔ ان کے ملبے اور ان کے اندر کی کیمیاوی مواد سے یہ جدید چٹانیں تیار ہوگئیں اور لاوے کی ان چٹانوں سے کئی اور رنگ اور قسم کی چٹانیں تیار ہوگئیں۔ ” اب چٹانوں کی ایک دوسری اہم قسم ہے جس کو جیالوجی کی زبان میں گارے (Sedimentary Rocks) کی چٹانیں کہتے ہیں یہ وہ چٹانیں ہیں جو پانی ، ہوا ، سورج یا زندہ چیزوں کے عمل سے زمین کی اصلی سخت چٹانوں سے ٹوٹ پھوٹ کر بنیں اور ان کو Sedimentary اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنی اصلی جگہ میں نہیں ہوتی ہیں۔ یہ اپنی اصلی چٹانوں سے ٹوٹ پھوٹ کر اور پانی ، ہوا اور طوفان کی وجہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں اور وہاں گارے کی شکل میں جمع ہوکر جم جاتی ہیں “۔ ” ان گارے کی چٹانوں کی مثال جبری پتھر ہیں جن سے پورا ” مقطم “ پہاڑ بنا ہوا ہے اس پہاڑ سے اہل قاہرہ پتھر توڑ کر اپنے مکانات بناتے ہیں۔ ماہرین بتائیں گے کہ یہ کیلشیم کاربونیٹ (Calcium Carbonate) ہے اور یہ زمین سے زندہ چیزوں یا کیمیاوی عمل سے جدا ہوا ، پھر ریت بھی اسی قسم کے پتھروں سے نبی ہوئی ہے نیز کیلشیم ایسڈ بھی اس قسم سے بنا ہے۔ یہ بھی دوسری چٹانوں سے نکلا ہے۔ مثلاً خشک گارے کے پتھر اور خشک بچنے والی مٹی کے پتھر۔ یہ تمام سابقہ اصول کے مطابق بنتے ہیں “۔ یہ سابقہ اصلی چٹانیں ہیں جن سے گارے کی (Sedimentary) چٹانیں بنیں جن کی اقسام مختلف ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ اصلی چٹانیں لاوے کی چٹانیں ہیں ، جب زمین کی سطح جم گئی اور اس کی مائع حالت جاتی رہی اور یہ عمل بہت ہی پہلے ہوا ، اس وقت سطح زمین پر لاوے کی چٹان کے سوا کچھ نہ تھا۔ پھر بخارات اور پانی پیدا ہوا اور اس نے لاوے کی چٹان پر توڑ پھوڑ کا عمل شروع کیا۔ اس میں ہوا اور مختلف قسم کی گیسوں نے بھی کام کیا۔ سخت طوفانوں اور سورج کی گرمی نے بھی امداد دی ۔ یہ سب مراحل جمع ہوئے اور اپنے اپنے طبیعی اور مزاج کے مطابق کام کیا اور یہ لاوے کے پتھروں کی شکل میں بدلے۔ اب ان پتھروں سے عمارات بنتی ہیں۔ معدنیات نکالی جاتی ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سخت لاوے کے پتھر ہی سے مٹی نکالی گئی ، جو سطح زمین پر مختلف مقامات پر جمع ہوئی اور یہی مٹی نباتات وحیوانات کے لیے تمید بنی۔ ” لاوے کی چٹانیں کھتی ، فصل اور آبپاشی کے لیے مفید نہیں ہے۔ لیکن اس سے ، نرم وملائم مٹی نکلتی ہے یا اس جیسی دوسری چٹانوں سے یہ مٹی جمع ہوتی ہے اور اس مٹی سے پھر نباتات وحیوانات پیدا ہوئے۔ اور یوں اس زمین کے رئیس المخلوقات انسان کی پیدائش کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ یہ طویل سفر جس کا انکشاف علم جدید نے کیا ہے ، اس کی مدد سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں جو ایام لگے ، زمین کی تخلیق ، اس کے اوپر پہاڑوں کی تنصیب ، اس کے اندر برکات و ضروریات کی تشکیل پر جو چار دن لگے ، یہ ایام اللہ کے چار دن تھے جن کی طوالت کا ہمیں علم نہیں کہ ان کی طوالت کا کیا معیار ومقیاس ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ وہ یقیناً ہماری اس زمین کے ایام نہ تھے۔ اب ہم نص قرآنی کے ایک ایک فقرے پر غور کریں گے ، قبل اس کے کہ ہم زمین کے موضوع کو چھوڑ کر آسمان کی طرف چلیں : وجعل فیھا رواسی من فوقھا (41: 10) ” اور اوپر سے اس پر پہاڑ جما دیئے “۔ بعض اوقات ان پہاڑوں کے لیے رواسی کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ رواسی کے معنی لنگرانداز ہونے والی کشتی اور پہاڑ ہیں اور بعض جگہ پہاڑوں کو رواسی کہہ کر ان تمیدبکم ” کہ تم ڈھلک نہ جاؤ “۔ یعنی زمین لنگر انداز ہے۔ یہ پہاڑ اسے ایک جگہ ٹکاتے ہیں ، تاکہ انسان ڈھلک نہ جائیں۔ ایک وقت ایسا تھا کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین ایک جگہ جمی ہوئی ہے اور مستحکم بنیادوں پر ٹھہری ہوئی ہے۔ اب ایسا وقت آگیا ہے کہ یہ زمین تو ایک کرہ ہے ، چھوٹی سی گیند جو فضا میں تیر رہی ہے اور کسی چیز کا سہارا نہیں لے رہی ہے۔ جب انسانوں کو سب سے پہلے یہ بتائی گئی ہوگی تو وہ پریشان ہوکر دائیں بائیں دیکھ رہے ہوں گے کہ واقعی کہیں ہم گرنہ جائیں۔ ڈھلک نہ جائیں ۔ یا ہم فضا کی گہرائیوں میں نہ اڑجائیں۔ اطمینان رکھو ، اللہ نے اس کو فضا ہی میں تھامے رکھا ہے اور زمین و آسمان دونوں اپنی جگہ سے ہٹ یا پھسل نہیں سکتے ۔ اگر ان کا توازن کبھی بگڑ گیا تو پھر اللہ کے سوا کوئی اسے قائم بھی نہیں کرسکتا ۔ اطمینان کیجئے ! اللہ نے جو قوانین فطرت کائنات میں جاری کیے ہیں وہ بہت ہی پختہ ہیں اور اللہ قوی و عزیز ہے۔ ذرا پہاڑوں کا مزید مطالعہ درکار ہے انکو اللہ نے ” رواسی “ کہا ہے۔ یہ زمین کو باندھتے ہیں کہ وہ ڈھلک نہ جائے جیسا کہ ظلال القرآن میں ہم نے دوسری جگہ یہ نکتہ بیان کیا کہ سمندروں کے اندر جو گہرائیاں ہیں اور زمین کے اوپر جو بلندیاں ہیں یہ دونوں حصوں کا توازن برابر کرتی ہیں۔ یوں زمین کے دونوں حصے سمندری اور خشکی متوازن ہوجاتے ہیں۔۔۔ ایک سائنس دان کی سنئے ! ” زمین کے اندر جو حادثہ ہوتا ہے اس کی سطح پر ای اندر ، اس کی وجہ سے زمین کا مادہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کو منتقل ہوتا ہے ، یہ اس کی گردش کو متاثر کرتا ہے۔ اس میں صرف مدوجزر ہی واحد عامل نہیں ہے۔ یعنی زمین کی رفتار میں کمی کے بارے میں ، یہاں تک کہ دریا ایک جگہ سے جو پانی دوسری جگہ کو منتقل کرتے ہیں اس کا بھی زمین کی رفتار پر اثر ہوتا ہے۔ ہوائیں جو ادھر جاتی ہیں ، یہ بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ سمندروں کے اندر کی سطح کا جگہ جگہ کرنا اور خشکی کی سطح کا جگہ جگہ سے اٹھنا بھی گردش زمین کی رفتار کو متاثر کرتا ہے اور یہ چیز بھی زمین کی گردش کی رفتار کو متاثر کرتی ہے کہ کسی جگہ سے زمین پھیلے یا سکڑے۔ اگرچہ یہ سکڑنا اور پھیلنا چند اقدام تک محدود کیوں نہ ہو “۔ غرض یہ حساس زمین ، جس کی حساسیت کے بارے میں ہم نے یہ مطالعہ کیا ، کیا بعید کہ اس کی رفتار کی تیزی میں یہ اونچے اونچے پہاڑ توازن قائم کرتے ہوں اور وہ اس کی غیر متوازن ہونے سے روکتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے آج سے چودہ سو سال قبل یہ بات کہہ دی ” ان تمیدبکم “” کہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے “۔ وبٰرک فیھا وقدر فیھآ اقواتھا (41: 10) ” اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس میں ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیا کردیا “۔ یہ فقرہ ہمارے اسلاف کے ذہنوں میں یہ مفہوم منتقل کرتا ہوگا کہ فصلیں اگا دیں اور زمین کے اندر بعض مفید جمادات اور دھاتیں رکھ دیں مثلاً سونا چاندی اور لوہا وغیرہ۔ لیکن آج اللہ تعالیٰ نے انسان پر زمین کی جو برکات کھول دی ہیں اور جو صدیوں پہلے اس زمین میں رکھ دی گئی تھیں اور ہم ان سے استفادہ کرتے ہیں تو اس فقرے کا مفہوم بہت ہی وسیع ہوگیا ہے۔ اب ہم نے دیکھ لیا کہ کس طرح ہوا کے عناصر نے تعاون کیا اور پانی تشکیل ہوا اور کس طرح پانی اور ہوانے تعاون کیا اور سورج اور طوفان نے تعاون کیا اور مٹی کی تشکیل ہوئی جو قابل زراعت بن گئی۔ اور پانی ، سورج ، ہواؤں کے باہم تعاون سے بارشیں برسیں ، یہ بارش ہی ہے جس کے ذریعہ سے تمام پانی فراہم ہوتے ہیں۔ میٹھی نہروں کے ذریعے ، دریاؤں اور ندیوں کے ذریعے اور زمین کے اندر کے ذخیروں اور چشموں کے ذریعہ ، یہ سب برکات وارزاق ہی تو ہیں۔ اور پھر ہوا اور ہمارا اور تمام حیوانات کا نظام تنفس اور ہمارے جسم۔ ” زمین ایک کرہ اور گیند ہے۔ اس کے اوپر چٹان کی ایک تہہ ملفوف ہے اور اس چٹان کی تہہ کے اکثر حصے کے اوپر پانی کی تہہ ہے جس سے یہ چٹان ملفوف ہے۔ پھر اس پانی اور چٹان کی تہہ کے اوپر ایک ہوائی کرہ ہے جو دبیزگیس کی شکل میں دنیا کو ملفوف کیے ہوئے ہے۔ یہ ہوائی کرہ سمندر کی طرح ہے۔ اس کی سمندر کی طرح گہرائی ہے۔ ہم انسان اور حیوان اور نباتات ہوا کے اس سمندر کی تہہ میں زندہ رہ رہے ہیں اور بڑے مزے سے رہ رہے ہیں “۔ ” ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں ، آکسیجن لیتے ہیں ، ہوا ہی سے بناتات اپنا جسم بناتے ہیں ، ہوا ہی سے کاربن لیتے ہیں بلکہ آکسائیڈ سے کاربن لیتے ہیں جسے اہل کیمیا کا ربن ڈائی آکسائیڈ کہتے ہیں۔ نباتات اپنا جسم کوئلے کے آکسائیڈ سے بناتے ہیں۔ ہم نباتات کھاتے ہیں اور ہم حیوانات کو بھی کھاتے ہیں۔ اور حیوانات نباتات کو کھاتے ہیں۔ دونوں سے ہمارا جسم تیار ہوتا ہے۔ ہوا میں نائٹروجن ہے ، یہ آکسیجن کو خفیف بناتی ہیں۔ ورنہ ہم سانس لیتے ہی جل جائیں ۔ پانی کے بخارات ہوا کے اندر رطوبت پیدا کرتے ہیں۔ کچھ دوسری گیس ہیں جو قلیل مقدار میں پائی جاتی ہیں اور غیر مرتب ہیں۔ ان میں ہیلیم ، نیون وغیرہ اور ہائیڈروجن گیس ، یہ ہوا میں ابتدائی تخلیق کے وقت سے موجود ہیں۔ وہ مواد جو ہم کھاتے ہیں اور اپنی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، جبکہ رزق اس مواد سے وسیع مفہوم رکھتا ہے جو صرف پیٹ میں جاتا ہے ، یہ سب چیزیں اس اصلی مواد اور عناصر پر مشتمل ہیں جو یہ زمین اپنے پیٹ میں رکھتی ہے یا فضا میں رکھتی ہے۔ مثلاً چینی کیا چیز ہے۔ یہ کاربن ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب ہے اور پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن سے مرکب ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہمارے کھانے اور پینے کی چیزوں کے بڑے مرکبات ہیں۔ نیز لباس اور آلات بھی انہیں عناصر سے بنتے ہیں ، جو اس زمین کے اندر اللہ نے ودیعت کیے ہیں۔ یہ ہیں وہ امور جو اس زمین کی برکات اور اس کے اندر ذرائع رزق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کو چار دنوں یا چار طویل ادوار ، یعنی ایام اللہ میں بنایا گیا جن کی مقدار ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ثم استوٰی۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (41: 11 تا 12) ” پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا ، جو اس وقت محض دھواں تھا۔ اس نے آسمان اور زمین سے کہا ” وجود میں آجاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو “۔ دونوں نے کہا ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ تب اس نے دودن کے اندر آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان میں اس کا قانون وحی کردیا۔ اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کردیا ۔ یہ سب کچھ ایک زبردست علیم ہستی کا منصوبہ ہے “۔ استواء کا مفہوم یہاں ارادہ کرنا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے قصد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف اپنے ارادے کو متوجہ کردے۔ ثم بعض اوقات ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ معنوی ارتقاء کے لیے بھی آتا ہے۔ آسمان چونکہ انسانوں کو ارفع اور بلند نظر آتے ہیں اس لیے اس کے لیے ثم کا لفظ آیا۔ ثم استوٰی الیٰ السمآء وھی دخان (41: 11) ” پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ اس وقت محض دھواں تھا “۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ستاروں کی تخلیق سے قبل ایک حالت تھی جیسے ” سدم “ کی حالت ہوتی ہے اور یہ ایک قسم کا گیس تھا ، جیسے دھواں ہوتا ہے۔ ” سدم (Black Whole) میں جو گیس اور غبار ہوتا ہے وہ وہی ہوتا ہے ، جو ستاروں کی تخلیق سے بچ گیا ہوتا ہے۔ نظریہ تخلیق کائنات یہ ہے کہ کہکشاں گیس اور غبار سے مرکب ہوتی ہے۔ جب یہ گیس اور غبار زیادہ کثیف ہوگئے تو اس کے نتیجے میں ستارے پیدا ہوئے۔ کچھ ملبہ رہ گیا۔ یہ بقیہ ملبہ سدم کی شکل اختیار کرگیا۔ اس وسیع کہکشاں میں اس کا جو حصہ باقی ہے وہ منتشر ہے۔ گیس اور غبار کی شکل میں ۔ اس کی مقدار اتنی ہے جتنے ستارے بن گئے ۔ یہ ستارے اس بقیہ گیس اور غبار کو اپنی جاذبیت کے ذریعے کھینچتے رہتے ہیں۔ چناچہ اس عمل سے آسمانوں کی صفائی ہورہی ہے مگر اس غبار کو جذب کرنے والے ستارے اس ہولناک فضا میں بہت تھوڑے ہیں۔ اور جن علاقوں کو اس سے صاف کرنا ہے وہ بہت ہی وسیع ہیں “۔ یہ بات صحیح ہوسکتی ہے کیونکہ یہ اس مفہوم سے زیادہ قریب ہے۔ جو اس آیت میں ہے۔ ثم استوٰی الی السمآء وھی دخان (41: 11) ” پھر وہ آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا ، اور وہ اس وقت دھواں تھا “۔ یہاں تک کہ اس سے آسمان بنائے اور ان میں دوایام اللہ صرف ہوئے یعنی طویل عرصہ۔ اس کے بعد اب ہم اس حقیقت پر غور کریں گے۔ فقال لھا۔۔۔۔ طآئعین (41: 11) ” اس نے آسمان اور زمین سے کہا : وجود میں آجاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو “۔ دونوں نے کہا ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ اس آیت میں عجب اشارہ ہے اس قانون قدرت اور ناموس فطرت کی طرف جو اس کائنات میں چلایا گیا ہے اور اس کائنات کا تعلق اپنے خالق کے ساتھ اطاعت اور سرتسلیم خم کردینے کا تعلق ہے۔ پوری کائنات اللہ کی مشیت اور حکم کے مطابق چل رہی ہے۔ یہاں صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جو اللہ کے ناموس کے سامنے مجبور ہو کر سرطاعت خم کرتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے۔ یہ انسان بھی یقینی طور پر اس ناموس فطرت کا مطیع فرمان ہے ، اس سے نکل نہیں سکتا ۔ یہ اس عظیم کائنات نہایت ہی معمولی پرزہ ہے۔ اور اس کائنات کے کلی قوانین اس پر بھی نافذ ہیں خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو ، لیکن اس کائنات میں یہ انسان واحد ذات شریف ہے جو اللہ کی اطاعت اس طرح نہیں کرتا جس طرح ارض وسما کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اطاعت سے آزاد کرنا چاہتا ہے یا راہ حق سے انخراف چاہتا ہے جو مستقیم اور آسان ہے ، لہٰذا وہ قوانین فطرت سے ٹکراتا ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ یہ بات لازمی ہے کہ یہ قوانین اس پر غالب آکر اسے پاش پاش کردیتے ہیں۔ اس وقت یہ پھر کر مطیع فرمان ہوتا ہے۔ ہاں اللہ کے وہ بندے جن کے دل ، جن کا وجود ، جن کی حرکات ، جن کے تصورات ، جن کا ارادہ ، جن کی خواہشات اور جن کا رخ نوامیس فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے تو ایسے بندے پھر خوشی خوشی سے سر تسلیم خم کردیتے ہیں اور اس کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوکر نہایت تعاون سے چلتے ہیں اور جس طرح یہ پوری کائنات اللہ کی سمت چلتی ہے۔ وہ بھی اسی سمت رواں دواں ہوتے ہیں۔ وہ کائناتی قوتوں کے ساتھ لڑتے ہیں ، جب مومن اس مقام تک پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کے ہاتھوں معجزات کا صدور ہوتا ہے کیونکہ اس نے ناموس قدرت کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے۔ اس کائنات کی عظیم قوتیں اس کی پشت پت آجاتی ہیں۔ اور یہ عظیم قوت جب اللہ کی راہ میں چلتی ہے تو مطیع فرمان ہوکر چلتی ہے۔ ہم اگر اللہ کی اطاعت کرتے ہیں تو مجبور ہوکر کرتے ہیں۔ کاش کہ ہم خوشی سے مطیع فرمان ہوتے ۔ کاش ہم بھی زمین و آسمان کی طرح خوشی سے اطاعت کرتے ، رضا اور خوشی سے۔ اس حال میں کہ ہم روح کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوچکے ہوں اور نہایت خوشی اور خضوع وخشوع کے ساتھ لبیک کہتے ہوئے اور سر تسلیم خم کرتے ہوئے اللہ رب العالمین کی طرف چلیں۔ بعض اوقات ہم سے بڑی مضحکہ خیز حرکات سرزد ہوتی ہیں ، تقدیر کی گاڑی اپنی شاہراہ پرچلتی ہے ، تیزی سے چلتی ہے۔ اپنی سمت پر چلتی ہے ، یہ پوری کائنات اس کے ساتھ چلتی ہے۔ مستقل قوانین فطرت کے مطابق چلتی ہے۔ ہم آتے ہیں اور ہمارا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم تقدیر سے بھی آگے ہوجائیں یا تقدیر سے ست روی اختیار کرلیں حالانکہ ہم اس عظیم کائنات کا حصہ ہیں۔ ہم اپنی نفساتی کمزوریوں کی وجہ سے جب قافلہ کائنات سے الگ ہوجاتے ہیں تو ہمارے سفر کی سمت ہی بدل جاتی ہے اور یہ سمت اس لیے بدلتی ہے کہ ہم بےچین ، جلد باز ، لالچی ، مطلب پرست اور ڈرپوک ہوجاتے ہیں۔ اور قافلہ ایمان اور قافلہ کائنات سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، ہم کبھی اس طرف ٹکراتے ہیں ، کبھی ادھر لڑھکتے ہیں اور درد پاتے ہیں ، ادھر گرتے ہیں ، ادھر حادثہ کرتے ہیں ، اور پاش پاش ہوجاتے ہیں۔ جبکہ کائنات کی گاڑی اپنے راستے پر ، اپنی مقررہ رفتار کے ساتھ اپنی منزل مقصود کی طرف جارہی ہے۔ اور اس طرح ہماری تمام قوتیں ، تمام جدوجہد بےکار ہوجاتی ہیں لیکن جب ہمارے دل ایمان سے لبریز ہوں ، ہم اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ، روح کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں ، اس وقت ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارا کردار کس قدر حقیقی ہے۔ پھر ہم اپنے قدموں اور تقدیر کی رفتار کے درمیان توازن پیدا کردیں گے۔ اور ہم مناسب وقت میں مناسب رفتار سے مناسب سمت کی طرف حرکت کریں گے۔ ہمارے ساتھ اس پوری کائنات کی قوت شامل ہوگی۔ اور ہم عملاً عظیم کام کرسکیں گے ، سوائے اس کے کہ ہم پر کبر و غرور کا اثر ہو ، کیونکہ ہمیں تو اصل حقیقت معلوم ہوگی کہ جس قوت کے ذریعے ہم یہ کارہائے نمایاں کررہے ہیں ، اس کا درچشمہ تو دراصل کوئی اور ہے ۔ یہ ہماری ذاتی قوت نہیں ہے۔ ہماری قوت میں یہ برکت اس لیے پیدا ہوگئی کہ یہ اس کائنات کے اندر ودیعت کردہ اللہ کی قوت کے ساتھ یکجا ہوگئی ہے۔ کیا ہی سعادت مندی ہوگی ، کیا رضا مندی ہوگی ، کس قدر راحت ہوگی اور کس قدر اطمینان ہوگا ، کہ ہم اس کرۂ ارض پر جو اللہ کو لبیک کہنے والا ہے ، اپنا یہ مختصر سفر اس خوشی میں ، اس کرۂ ارض کی معیت میں طے کریں اور آخر کار رب تعالیٰ کے ہاں ایک بڑے سفر کے آغاز کے لیے پہنچ جائیں۔ وہ کیا عظیم امن وسلامتی ہوگی جب ہم ایک کائنات میں زندہ رہ رہے ہوں جو ہماری دوست ہو ، سب کی سب اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والی ہو اور ہم بھی اللہ کے مطیع فرمان ہوں۔ ہم دونوں ہمقدم ہوں ، دشمنی پر نہ ہوں ، دوست ہوں ، کیونکہ ہم اس کائنات کا حصہ ہیں اور اسی کے ہمہ رخ ہیں۔ قالتآ اتینا طآئعین (41: 11) ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ فقضھن سبع سمٰوات فی یومین (41: 12) ” تب اس نے دو دن کے اندر سات آسمان بنا دیئے “۔ واوحی فی کل سمآء امرھا (41: 12) ” اور ہر آسمان میں اس کا قانون وحی کردیا “۔ یہ دو دن وہی ہوسکتے ہیں جن میں سدم سے ستارے تیار ہوئے یا جن میں ان کی تشکیل مکمل ہوئی۔ حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔ ہر آسمان کی طرف اس کے امور کی وحی کے معنی یہ ہیں کہ اس پر قوانین قدرت نافذ کردیئے۔ اور ہدایت کردی کہ یوں چلو ، پھر آسمان کے حدود کیا ہیں تو اس کا تعین فی الحال ہم نہیں کرسکتے ۔ دوری کا ایک درجہ ایک آسمان ہوسکتا ہے۔ ایک کہکشاں ایک آسمان ہوسکتی ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک دوری تک جس قدر کہکشاں ہیں وہ ایک آسمان ہوں یا اس کا اور بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ بلندیاں سات ہیں۔ وزینا السمآء الدنیا بمصابیح وحفطا (41: 12) ” اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے محفوظ کردیا “۔ سماء دنیا کا بھی کوئی متعین مفہوم نہیں ہے ، اس سے مراد قریب تر کہکشاں بھی ہو سکتی ہے جو ہمارے ہاں شمسی کہکشاں کے نام سے مشہور ہے اور جس کا قطر ایک لاکھ ملین نوری سال ہے۔ یا کوئی اور معیار ہو اللہ کے نزدیک جس پر لفظ سما کا اطلاق ہوا ہو۔ اس میں ستارے اور ستارے ہیں جو ہمارے لیے چراغ ہیں اور بہت خوبصورت ہیں۔ حفاظت کس چیز سے ؟ شیطانوں سے۔ قرآن میں دوسری جگہ اس کی تصریح ہے۔ پھر سیاطین کی حقیقت کیا ہے ؟ قرآن کریم میں جو افعال ان کی طرف منسوب ہیں اور جو اشارے ہیں ، ان کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی حقیقت اور ماہیت کا علم اللہ کو ہے۔ ذٰلک تقدیر العزیزالعلیم (41: 12) ” یہ سب کچھ ایک زبردست اور علیم ہستی کا منصوبہ ہے۔ کون ہے اللہ کے سوا جو اس عظیم اور ہولناک کائنات کو چلا سکتا ہے ؟ صرف اللہ زبردست اور علیم و حکیم ، اس کام کو کرسکتا ہے ، جو ہر چیز سے باخبر ہے۔ ایک عظیم کائناتی سفر کے بعد اللہ انکار کرنے والوں کے موقف کی کیا وقعت رہ جاتی ہے اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتے ہیں ان کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے ، جبکہ آسمان و زمین بیک زبان کہتے ہیں کہ ہم ہیں مطیع فرمان ۔ لیکن انسان ہے اور کیا انسان ؟ اس کائنات کے اعتبار سے ایک نہایت چھوٹی سی چیونٹی بلکہ جرثومہ ، بےوقعت ، جو زمین پر رینگتا ہے۔ یہ نہایت ہی لاپرواہی ، غرور کے ساتھ کہتا ہے کہ میں نہ مانوں !۔۔۔۔ کیا سزا ہونی چاہئے ایسے لوگوں کی ، ایسے لاپرواہ متکبرین کی !

فصلت 41:11

آیت نمبر 9 تا 12 اے پیغمبر ان سے کہو کہ تم جب کفر کرتے ہو اور لاپرواہی میں یہ عظیم بات کہہ جاتے ہو ، یہ تو تم ایک بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہو ، یہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے ، تم ایک ایسی ذات کا انکار کرتے ہو ، جس نے زمین کو پیدا کیا ، اس کے اندر پہاڑ پیدا کیے ، ان کے اندر برکات پیدا کیں ، اس زمین کے اندر رزق کی تمام ضروریات پوری پوری رکھ دیں ، جس نے آسمانوں کو پیدا کیا اور یہ سب کام اس نے چار دنوں میں سرانجام دیئے اور تمام مانگنے والوں کے لیے ان کی ضروریات مہیا کردیں جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ، منظم کیا ، خصوصاً دنیا سے قریب والے آسمان کو خوب مزین کیا ، زمین اور آسمان نے اس کے قوانین قدرت اور احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ، لیکن اے اہل زمین تم ہو کہ تم انکار کرتے ہو اور تکبر کرتے ہو۔ لیکن قرآن کی عبارت نے ، قرآن کے انداز بیان کے مطابق ان مضامین کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ بات فوراً دل میں اتر جاتی ہے اور دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ ذرا اس قرآن کے الفاظ دوبارہ پڑھئے اور غور کیجئے ۔ قل ائنکم۔۔۔۔ سوآء للسبآئلین (41: 9 تا 10) ” اے نبی ﷺ ، ان سے کہو ، کیا تم اس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیراتے ہو ، جس نے زمین کو دودنوں میں بنادیا۔ وہی تو سارے جہان والوں کا رب ہے ، اس نے اوپر سے اس میں پہاڑ جما دیئے اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک انداز سے خوارک کا سامان مہیا کردیا۔ یہ سب کام چار دن میں ہوگئے “۔ یہاں زمین کی تخلیق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے دو دنوں میں پیدا کیا گیا۔ زمین کی پیدائش کی مزید بات سے پہلے اس پر تبصرہ کرکے شرک کی نفی کی گئی اور بتایا گیا کہ ذٰلک رب العٰلمین (41: 9) ” یہی جہاں والوں کا رب ہے “۔ تم اس رب کا انکار کررہے ہو ، اور اس کے ساتھ لوگوں کو شریک کررہے ہو ، جس زمین پر تم چل پھر رہے ہو ، وہ تو اس نے بنائی ہے لہٰذا تکبر اور لاپرواہی تمہیں زیب نہیں دیتی ۔ یہ تو بہت ہی قبیح فعل ہے۔ اس کے بعد باقی بات۔ سوال یہ ہے کہ یہ دودن کون سے دن ہیں ، جس کے اندر زمین پیدا کی گئی اور جن دودنوں میں پہاڑ پیدا کیے اور زمین کے اندر زندگی پیدا کی گئیں اور یوں یہ چار دن ہوگئے ؟ یہ ایام دراصل ایام اللہ ہیں اور ان کی طوالت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ ایام اس زمین کے ایام بہرحال نہیں ہیں۔ کیونکہ زمین کے ایام تو وہ زمانی معیار ہے جو زمین کے پیدا ہونے اور اس کی گردش متعین ہونے کے بعدوجود میں آیا ہے۔ جس طرح اس زمین کے ایام ہیں۔ اور یہ گردش محوری اور سورج کے گرد سالانہ گردش کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اسی طرح کواکب میں سے ہر ایک کے اپنے اپنے ایام ہیں۔ ستاروں کے اپنے ایام ہیں یہ زمین کے ایام سے مختلف ہیں۔ بعض زمین کے ایام سے چھوٹے اور بعض طویل ہیں۔ وہ ایام جن میں ابتداء زمین پیدا ہوئی ، پھر اس میں پہاڑ پیدا ہوئے ، پھر اس کے اندر حسب ضرورت رزق اور ضروریات رکھی گئیں ، یہ کوئی اور ہی ایام تھے اور ان کا معیار بھی اور تھا۔ ہمیں اس کا علم نہیں ہے ، لیکن اس قدر ضرور معلوم ہے کہ یہ ایام ان دونوں کے مقابلے میں بہت ہی طویل تھے۔ آج تک انسانی علم جہاں تک پہنچ سکا ہے ، اس کے مطابق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے مراد وہ زمانے ہیں جن سے یہ زمین گزرتی رہی ، یہاں تک کہ وہ اپنے موجودہ مدار میں ٹھہری ، اس کا چھلکا سخت ہوگیا اور یہ زندگی کے قیام کے لیے قابل ہوگیا ، جس زندگی کو ہم جانتے ہیں اور آج تک جو نظریات پیش ہوئے ہیں ان کے مطابق اس پر ہمارے زمین کے معیار ایام کے مطابق نو ہزار ملین سالوں کا وقت لگا۔ یہ بھی علمی نظریات ہیں اور ان کو تبصروں اور چٹانوں کے مطالعہ کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ قرآن کے مطالعہ میں ہم ان عملی نظریات کو آخری بات نہیں کہتے کیونکہ یہ فائنل تو ہیں نہیں۔ یہ نظریات ہیں اور ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ ہم قرآن کو انکا تابع تو نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر ان نظریات اور نص قرآنی کے درمیان قرب اور موافقت ہو تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظریہ درست ہوسکتا ہے۔ اور ایسا نظریہ تشریح قرآن کا معاون بھی ہوسکتا ہے اور اسکے ذریعہ ہم قرآن کے مفہوم کے قریب جاسکتے ہیں آج کل کے نظریات کے مطابق راجح قول یہی سمجھا جا ات ہے کہ زمین بھی کسی وقت ایک آگ کا گولا تھی جس طرح اس وقت سورج ہے اور گیس کی شکل میں تھی۔ اور یہ زمین بھی سورج ہی کا حصہ تھی ، اس سے جدا ہوگئی ، اس کے بارے میں سائنس دانوں کا اتفاق نہیں ہے کہ کیوں ہوئی اور کس طرح ہوئی البتہ اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے طویل وقت لگا جبکہ اس کا پیٹ ابھی تک اسی حالت میں ہے۔ جہاں بڑے بڑے پہاڑ پگھل جاتے ہیں۔ اور کھولنے لگتے ہیں۔ ” جب زمین کا چھلکا ٹھنڈا ہوا تو یہ سخت ہوگیا “۔ پہلے پہل یہ سخت پتھر تھا اور پتھر کے پھر طبقے تھے۔ اوپر اور نیچے پتھر۔ اور نہایت ہی ابتدائی دور میں بخارات پیدا ہوئے جن کا 3/2 حصہ ہائیڈروجن اور 3/1 حصہ آکسیجن تھا۔ ان کے اتحاد کی وجہ سے زمین پر پانی پیدا ہوگیا۔ ” ہوا اور پانی نے باہم تعاون کرکے چٹانوں کو توڑا اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو ایک جگہ سے اٹھایا اور دوسری جگہ ڈھیر لگا دیا اور اس کی وجہ سے مٹی پیدا ہوئی جس میں فصل اگنا ممکن ہوا ، اس طرح ہوا اور پانی نے پہاڑوں کو توڑا اور اونچی جگہوں کو پست کیا اور گڑہوں اور نیچی جگہوں کی پھرائی کا کام کیا۔ لہٰذا زمین کے اندر جو بھی چیز ہے یا ہونے والی ہے۔ اس میں ہمیں تعمیر وتخریب ساتھ ساتھ چلتی نظر آتی ہیں “۔ ” زمین کا اوپر کا حصہ جسے چھلکا کہہ سکتے ہیں ، دائمی طور پر حرکت اور تغیر میں رہتا ہے۔ سمندر میں جب موجیں اٹھتی ہیں تو یہ چھلکا متاثر ہوتا ہے۔ سورج کی گرمی سے سمندر کا پانی بخارات بن جاتا ہے ، آسمانوں کی طرف اٹھتا ہے ، بادلوں کی شکل اختیار کرتا ہے ، زمین پر میٹھا پانی برستا ہے۔ موسلادھار بارشیں ہوتی ہیں ، سیلاب آتے ہیں ، دریا بہتے ہیں ، اور یہ اس زمین کے چھلکے کے اوپر چلتے ہیں اور اس میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ایک پتھر اور چٹان پر یوں اثر انداز ہوتے ہیں کہ اسے ایک چٹان سے دوسری قسم کی چٹان میں بدل دیتے ہیں۔ اور پھر یہ سیلاب اور دریا اسے اٹھا کر دوسری جگہ بھی لیجاتے ہیں اور صدیوں کے بعد پھر زمین کا چہرہ بدل جاتا ہے۔ اور ہزاروں اور لاکھوں سولوں کے بعد وسیع تغیرات پیدا ہوتے ہیں ، پھر پہاڑوں پر برف جمتی ہے۔ یہ وہی کام کرتی ہے جو ہوا اور پانی کرتے ہیں اور سورج بھی زمین کی چھلکے پر ویسے ہی اثرات ڈالتا ہے جس طرح ہوا اور پانی ڈالتے ہیں۔ یہ اسے گرم کرتا ہے پھر زمین کے اوپر زندہ جانور بھی زمین کے اس چہرے کو بدلتے رہتے ہیں اور آتش فشانی کا عمل بھی زمین پر تغیرات پیدا کرتا ہے۔ ” اس زمین کے چٹانوں کے بارے میں آپ کسی بھی جیالوجسٹ سے پوچھ سکتے ہیں ، وہ چٹانوں کے بارے میں آپ کو بہت سی معلومات دے گا اور وہ اس کی تین بڑی اقسام بتائے گا۔۔۔۔ مثلاً ” ناری چٹانیں (Igneous Rocks) جو زمین کے پیٹ کے پگھلے ہوئے مادے کی شکل میں باہر آئیں۔ یہ مادہ پھر ٹھنڈا ہوگیا۔ وہ آپ کو لاوا کی چٹان (Granites) بطور مثال پیش کرے گا اور پتھر دکھا کر آپ کو بتائے گا کہ اس کے اندر سفید ، سرخ اور سیاہ چمکدار مادے ہیں۔ یہ کیمیاوی مرکبات ہیں اور ان کا اپنا وجود ہے کیونکہ یہ مخلوط دھاتوں کے پتھر ہیں۔ وہ یہ بتائے گا کہ تمام روئے زمین کا چھلکا انہی پتھروں سے بنا ہوا ہے۔ جب یہ زمین تیار ہوئی ، بہت زمانہ پہلے ، بارشیں شروع ہوئیں ، زمین پر دریاب ہے ، یا برف پگھلی ، طوفان چلے ، سورج نے اثر دکھایا۔ ان موثرات نے ان ناری چٹانوں کے اندر توڑ پوڑ کا عمل کیا۔ ان کے ملبے اور ان کے اندر کی کیمیاوی مواد سے یہ جدید چٹانیں تیار ہوگئیں اور لاوے کی ان چٹانوں سے کئی اور رنگ اور قسم کی چٹانیں تیار ہوگئیں۔ ” اب چٹانوں کی ایک دوسری اہم قسم ہے جس کو جیالوجی کی زبان میں گارے (Sedimentary Rocks) کی چٹانیں کہتے ہیں یہ وہ چٹانیں ہیں جو پانی ، ہوا ، سورج یا زندہ چیزوں کے عمل سے زمین کی اصلی سخت چٹانوں سے ٹوٹ پھوٹ کر بنیں اور ان کو Sedimentary اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنی اصلی جگہ میں نہیں ہوتی ہیں۔ یہ اپنی اصلی چٹانوں سے ٹوٹ پھوٹ کر اور پانی ، ہوا اور طوفان کی وجہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں اور وہاں گارے کی شکل میں جمع ہوکر جم جاتی ہیں “۔ ” ان گارے کی چٹانوں کی مثال جبری پتھر ہیں جن سے پورا ” مقطم “ پہاڑ بنا ہوا ہے اس پہاڑ سے اہل قاہرہ پتھر توڑ کر اپنے مکانات بناتے ہیں۔ ماہرین بتائیں گے کہ یہ کیلشیم کاربونیٹ (Calcium Carbonate) ہے اور یہ زمین سے زندہ چیزوں یا کیمیاوی عمل سے جدا ہوا ، پھر ریت بھی اسی قسم کے پتھروں سے نبی ہوئی ہے نیز کیلشیم ایسڈ بھی اس قسم سے بنا ہے۔ یہ بھی دوسری چٹانوں سے نکلا ہے۔ مثلاً خشک گارے کے پتھر اور خشک بچنے والی مٹی کے پتھر۔ یہ تمام سابقہ اصول کے مطابق بنتے ہیں “۔ یہ سابقہ اصلی چٹانیں ہیں جن سے گارے کی (Sedimentary) چٹانیں بنیں جن کی اقسام مختلف ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ اصلی چٹانیں لاوے کی چٹانیں ہیں ، جب زمین کی سطح جم گئی اور اس کی مائع حالت جاتی رہی اور یہ عمل بہت ہی پہلے ہوا ، اس وقت سطح زمین پر لاوے کی چٹان کے سوا کچھ نہ تھا۔ پھر بخارات اور پانی پیدا ہوا اور اس نے لاوے کی چٹان پر توڑ پھوڑ کا عمل شروع کیا۔ اس میں ہوا اور مختلف قسم کی گیسوں نے بھی کام کیا۔ سخت طوفانوں اور سورج کی گرمی نے بھی امداد دی ۔ یہ سب مراحل جمع ہوئے اور اپنے اپنے طبیعی اور مزاج کے مطابق کام کیا اور یہ لاوے کے پتھروں کی شکل میں بدلے۔ اب ان پتھروں سے عمارات بنتی ہیں۔ معدنیات نکالی جاتی ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سخت لاوے کے پتھر ہی سے مٹی نکالی گئی ، جو سطح زمین پر مختلف مقامات پر جمع ہوئی اور یہی مٹی نباتات وحیوانات کے لیے تمید بنی۔ ” لاوے کی چٹانیں کھتی ، فصل اور آبپاشی کے لیے مفید نہیں ہے۔ لیکن اس سے ، نرم وملائم مٹی نکلتی ہے یا اس جیسی دوسری چٹانوں سے یہ مٹی جمع ہوتی ہے اور اس مٹی سے پھر نباتات وحیوانات پیدا ہوئے۔ اور یوں اس زمین کے رئیس المخلوقات انسان کی پیدائش کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ یہ طویل سفر جس کا انکشاف علم جدید نے کیا ہے ، اس کی مدد سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں جو ایام لگے ، زمین کی تخلیق ، اس کے اوپر پہاڑوں کی تنصیب ، اس کے اندر برکات و ضروریات کی تشکیل پر جو چار دن لگے ، یہ ایام اللہ کے چار دن تھے جن کی طوالت کا ہمیں علم نہیں کہ ان کی طوالت کا کیا معیار ومقیاس ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ وہ یقیناً ہماری اس زمین کے ایام نہ تھے۔ اب ہم نص قرآنی کے ایک ایک فقرے پر غور کریں گے ، قبل اس کے کہ ہم زمین کے موضوع کو چھوڑ کر آسمان کی طرف چلیں : وجعل فیھا رواسی من فوقھا (41: 10) ” اور اوپر سے اس پر پہاڑ جما دیئے “۔ بعض اوقات ان پہاڑوں کے لیے رواسی کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ رواسی کے معنی لنگرانداز ہونے والی کشتی اور پہاڑ ہیں اور بعض جگہ پہاڑوں کو رواسی کہہ کر ان تمیدبکم ” کہ تم ڈھلک نہ جاؤ “۔ یعنی زمین لنگر انداز ہے۔ یہ پہاڑ اسے ایک جگہ ٹکاتے ہیں ، تاکہ انسان ڈھلک نہ جائیں۔ ایک وقت ایسا تھا کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین ایک جگہ جمی ہوئی ہے اور مستحکم بنیادوں پر ٹھہری ہوئی ہے۔ اب ایسا وقت آگیا ہے کہ یہ زمین تو ایک کرہ ہے ، چھوٹی سی گیند جو فضا میں تیر رہی ہے اور کسی چیز کا سہارا نہیں لے رہی ہے۔ جب انسانوں کو سب سے پہلے یہ بتائی گئی ہوگی تو وہ پریشان ہوکر دائیں بائیں دیکھ رہے ہوں گے کہ واقعی کہیں ہم گرنہ جائیں۔ ڈھلک نہ جائیں ۔ یا ہم فضا کی گہرائیوں میں نہ اڑجائیں۔ اطمینان رکھو ، اللہ نے اس کو فضا ہی میں تھامے رکھا ہے اور زمین و آسمان دونوں اپنی جگہ سے ہٹ یا پھسل نہیں سکتے ۔ اگر ان کا توازن کبھی بگڑ گیا تو پھر اللہ کے سوا کوئی اسے قائم بھی نہیں کرسکتا ۔ اطمینان کیجئے ! اللہ نے جو قوانین فطرت کائنات میں جاری کیے ہیں وہ بہت ہی پختہ ہیں اور اللہ قوی و عزیز ہے۔ ذرا پہاڑوں کا مزید مطالعہ درکار ہے انکو اللہ نے ” رواسی “ کہا ہے۔ یہ زمین کو باندھتے ہیں کہ وہ ڈھلک نہ جائے جیسا کہ ظلال القرآن میں ہم نے دوسری جگہ یہ نکتہ بیان کیا کہ سمندروں کے اندر جو گہرائیاں ہیں اور زمین کے اوپر جو بلندیاں ہیں یہ دونوں حصوں کا توازن برابر کرتی ہیں۔ یوں زمین کے دونوں حصے سمندری اور خشکی متوازن ہوجاتے ہیں۔۔۔ ایک سائنس دان کی سنئے ! ” زمین کے اندر جو حادثہ ہوتا ہے اس کی سطح پر ای اندر ، اس کی وجہ سے زمین کا مادہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کو منتقل ہوتا ہے ، یہ اس کی گردش کو متاثر کرتا ہے۔ اس میں صرف مدوجزر ہی واحد عامل نہیں ہے۔ یعنی زمین کی رفتار میں کمی کے بارے میں ، یہاں تک کہ دریا ایک جگہ سے جو پانی دوسری جگہ کو منتقل کرتے ہیں اس کا بھی زمین کی رفتار پر اثر ہوتا ہے۔ ہوائیں جو ادھر جاتی ہیں ، یہ بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ سمندروں کے اندر کی سطح کا جگہ جگہ کرنا اور خشکی کی سطح کا جگہ جگہ سے اٹھنا بھی گردش زمین کی رفتار کو متاثر کرتا ہے اور یہ چیز بھی زمین کی گردش کی رفتار کو متاثر کرتی ہے کہ کسی جگہ سے زمین پھیلے یا سکڑے۔ اگرچہ یہ سکڑنا اور پھیلنا چند اقدام تک محدود کیوں نہ ہو “۔ غرض یہ حساس زمین ، جس کی حساسیت کے بارے میں ہم نے یہ مطالعہ کیا ، کیا بعید کہ اس کی رفتار کی تیزی میں یہ اونچے اونچے پہاڑ توازن قائم کرتے ہوں اور وہ اس کی غیر متوازن ہونے سے روکتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے آج سے چودہ سو سال قبل یہ بات کہہ دی ” ان تمیدبکم “” کہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے “۔ وبٰرک فیھا وقدر فیھآ اقواتھا (41: 10) ” اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس میں ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیا کردیا “۔ یہ فقرہ ہمارے اسلاف کے ذہنوں میں یہ مفہوم منتقل کرتا ہوگا کہ فصلیں اگا دیں اور زمین کے اندر بعض مفید جمادات اور دھاتیں رکھ دیں مثلاً سونا چاندی اور لوہا وغیرہ۔ لیکن آج اللہ تعالیٰ نے انسان پر زمین کی جو برکات کھول دی ہیں اور جو صدیوں پہلے اس زمین میں رکھ دی گئی تھیں اور ہم ان سے استفادہ کرتے ہیں تو اس فقرے کا مفہوم بہت ہی وسیع ہوگیا ہے۔ اب ہم نے دیکھ لیا کہ کس طرح ہوا کے عناصر نے تعاون کیا اور پانی تشکیل ہوا اور کس طرح پانی اور ہوانے تعاون کیا اور سورج اور طوفان نے تعاون کیا اور مٹی کی تشکیل ہوئی جو قابل زراعت بن گئی۔ اور پانی ، سورج ، ہواؤں کے باہم تعاون سے بارشیں برسیں ، یہ بارش ہی ہے جس کے ذریعہ سے تمام پانی فراہم ہوتے ہیں۔ میٹھی نہروں کے ذریعے ، دریاؤں اور ندیوں کے ذریعے اور زمین کے اندر کے ذخیروں اور چشموں کے ذریعہ ، یہ سب برکات وارزاق ہی تو ہیں۔ اور پھر ہوا اور ہمارا اور تمام حیوانات کا نظام تنفس اور ہمارے جسم۔ ” زمین ایک کرہ اور گیند ہے۔ اس کے اوپر چٹان کی ایک تہہ ملفوف ہے اور اس چٹان کی تہہ کے اکثر حصے کے اوپر پانی کی تہہ ہے جس سے یہ چٹان ملفوف ہے۔ پھر اس پانی اور چٹان کی تہہ کے اوپر ایک ہوائی کرہ ہے جو دبیزگیس کی شکل میں دنیا کو ملفوف کیے ہوئے ہے۔ یہ ہوائی کرہ سمندر کی طرح ہے۔ اس کی سمندر کی طرح گہرائی ہے۔ ہم انسان اور حیوان اور نباتات ہوا کے اس سمندر کی تہہ میں زندہ رہ رہے ہیں اور بڑے مزے سے رہ رہے ہیں “۔ ” ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں ، آکسیجن لیتے ہیں ، ہوا ہی سے بناتات اپنا جسم بناتے ہیں ، ہوا ہی سے کاربن لیتے ہیں بلکہ آکسائیڈ سے کاربن لیتے ہیں جسے اہل کیمیا کا ربن ڈائی آکسائیڈ کہتے ہیں۔ نباتات اپنا جسم کوئلے کے آکسائیڈ سے بناتے ہیں۔ ہم نباتات کھاتے ہیں اور ہم حیوانات کو بھی کھاتے ہیں۔ اور حیوانات نباتات کو کھاتے ہیں۔ دونوں سے ہمارا جسم تیار ہوتا ہے۔ ہوا میں نائٹروجن ہے ، یہ آکسیجن کو خفیف بناتی ہیں۔ ورنہ ہم سانس لیتے ہی جل جائیں ۔ پانی کے بخارات ہوا کے اندر رطوبت پیدا کرتے ہیں۔ کچھ دوسری گیس ہیں جو قلیل مقدار میں پائی جاتی ہیں اور غیر مرتب ہیں۔ ان میں ہیلیم ، نیون وغیرہ اور ہائیڈروجن گیس ، یہ ہوا میں ابتدائی تخلیق کے وقت سے موجود ہیں۔ وہ مواد جو ہم کھاتے ہیں اور اپنی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، جبکہ رزق اس مواد سے وسیع مفہوم رکھتا ہے جو صرف پیٹ میں جاتا ہے ، یہ سب چیزیں اس اصلی مواد اور عناصر پر مشتمل ہیں جو یہ زمین اپنے پیٹ میں رکھتی ہے یا فضا میں رکھتی ہے۔ مثلاً چینی کیا چیز ہے۔ یہ کاربن ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب ہے اور پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن سے مرکب ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہمارے کھانے اور پینے کی چیزوں کے بڑے مرکبات ہیں۔ نیز لباس اور آلات بھی انہیں عناصر سے بنتے ہیں ، جو اس زمین کے اندر اللہ نے ودیعت کیے ہیں۔ یہ ہیں وہ امور جو اس زمین کی برکات اور اس کے اندر ذرائع رزق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کو چار دنوں یا چار طویل ادوار ، یعنی ایام اللہ میں بنایا گیا جن کی مقدار ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ثم استوٰی۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (41: 11 تا 12) ” پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا ، جو اس وقت محض دھواں تھا۔ اس نے آسمان اور زمین سے کہا ” وجود میں آجاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو “۔ دونوں نے کہا ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ تب اس نے دودن کے اندر آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان میں اس کا قانون وحی کردیا۔ اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کردیا ۔ یہ سب کچھ ایک زبردست علیم ہستی کا منصوبہ ہے “۔ استواء کا مفہوم یہاں ارادہ کرنا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے قصد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف اپنے ارادے کو متوجہ کردے۔ ثم بعض اوقات ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ معنوی ارتقاء کے لیے بھی آتا ہے۔ آسمان چونکہ انسانوں کو ارفع اور بلند نظر آتے ہیں اس لیے اس کے لیے ثم کا لفظ آیا۔ ثم استوٰی الیٰ السمآء وھی دخان (41: 11) ” پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ اس وقت محض دھواں تھا “۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ستاروں کی تخلیق سے قبل ایک حالت تھی جیسے ” سدم “ کی حالت ہوتی ہے اور یہ ایک قسم کا گیس تھا ، جیسے دھواں ہوتا ہے۔ ” سدم (Black Whole) میں جو گیس اور غبار ہوتا ہے وہ وہی ہوتا ہے ، جو ستاروں کی تخلیق سے بچ گیا ہوتا ہے۔ نظریہ تخلیق کائنات یہ ہے کہ کہکشاں گیس اور غبار سے مرکب ہوتی ہے۔ جب یہ گیس اور غبار زیادہ کثیف ہوگئے تو اس کے نتیجے میں ستارے پیدا ہوئے۔ کچھ ملبہ رہ گیا۔ یہ بقیہ ملبہ سدم کی شکل اختیار کرگیا۔ اس وسیع کہکشاں میں اس کا جو حصہ باقی ہے وہ منتشر ہے۔ گیس اور غبار کی شکل میں ۔ اس کی مقدار اتنی ہے جتنے ستارے بن گئے ۔ یہ ستارے اس بقیہ گیس اور غبار کو اپنی جاذبیت کے ذریعے کھینچتے رہتے ہیں۔ چناچہ اس عمل سے آسمانوں کی صفائی ہورہی ہے مگر اس غبار کو جذب کرنے والے ستارے اس ہولناک فضا میں بہت تھوڑے ہیں۔ اور جن علاقوں کو اس سے صاف کرنا ہے وہ بہت ہی وسیع ہیں “۔ یہ بات صحیح ہوسکتی ہے کیونکہ یہ اس مفہوم سے زیادہ قریب ہے۔ جو اس آیت میں ہے۔ ثم استوٰی الی السمآء وھی دخان (41: 11) ” پھر وہ آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا ، اور وہ اس وقت دھواں تھا “۔ یہاں تک کہ اس سے آسمان بنائے اور ان میں دوایام اللہ صرف ہوئے یعنی طویل عرصہ۔ اس کے بعد اب ہم اس حقیقت پر غور کریں گے۔ فقال لھا۔۔۔۔ طآئعین (41: 11) ” اس نے آسمان اور زمین سے کہا : وجود میں آجاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو “۔ دونوں نے کہا ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ اس آیت میں عجب اشارہ ہے اس قانون قدرت اور ناموس فطرت کی طرف جو اس کائنات میں چلایا گیا ہے اور اس کائنات کا تعلق اپنے خالق کے ساتھ اطاعت اور سرتسلیم خم کردینے کا تعلق ہے۔ پوری کائنات اللہ کی مشیت اور حکم کے مطابق چل رہی ہے۔ یہاں صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جو اللہ کے ناموس کے سامنے مجبور ہو کر سرطاعت خم کرتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے۔ یہ انسان بھی یقینی طور پر اس ناموس فطرت کا مطیع فرمان ہے ، اس سے نکل نہیں سکتا ۔ یہ اس عظیم کائنات نہایت ہی معمولی پرزہ ہے۔ اور اس کائنات کے کلی قوانین اس پر بھی نافذ ہیں خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو ، لیکن اس کائنات میں یہ انسان واحد ذات شریف ہے جو اللہ کی اطاعت اس طرح نہیں کرتا جس طرح ارض وسما کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اطاعت سے آزاد کرنا چاہتا ہے یا راہ حق سے انخراف چاہتا ہے جو مستقیم اور آسان ہے ، لہٰذا وہ قوانین فطرت سے ٹکراتا ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ یہ بات لازمی ہے کہ یہ قوانین اس پر غالب آکر اسے پاش پاش کردیتے ہیں۔ اس وقت یہ پھر کر مطیع فرمان ہوتا ہے۔ ہاں اللہ کے وہ بندے جن کے دل ، جن کا وجود ، جن کی حرکات ، جن کے تصورات ، جن کا ارادہ ، جن کی خواہشات اور جن کا رخ نوامیس فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے تو ایسے بندے پھر خوشی خوشی سے سر تسلیم خم کردیتے ہیں اور اس کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوکر نہایت تعاون سے چلتے ہیں اور جس طرح یہ پوری کائنات اللہ کی سمت چلتی ہے۔ وہ بھی اسی سمت رواں دواں ہوتے ہیں۔ وہ کائناتی قوتوں کے ساتھ لڑتے ہیں ، جب مومن اس مقام تک پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کے ہاتھوں معجزات کا صدور ہوتا ہے کیونکہ اس نے ناموس قدرت کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے۔ اس کائنات کی عظیم قوتیں اس کی پشت پت آجاتی ہیں۔ اور یہ عظیم قوت جب اللہ کی راہ میں چلتی ہے تو مطیع فرمان ہوکر چلتی ہے۔ ہم اگر اللہ کی اطاعت کرتے ہیں تو مجبور ہوکر کرتے ہیں۔ کاش کہ ہم خوشی سے مطیع فرمان ہوتے ۔ کاش ہم بھی زمین و آسمان کی طرح خوشی سے اطاعت کرتے ، رضا اور خوشی سے۔ اس حال میں کہ ہم روح کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوچکے ہوں اور نہایت خوشی اور خضوع وخشوع کے ساتھ لبیک کہتے ہوئے اور سر تسلیم خم کرتے ہوئے اللہ رب العالمین کی طرف چلیں۔ بعض اوقات ہم سے بڑی مضحکہ خیز حرکات سرزد ہوتی ہیں ، تقدیر کی گاڑی اپنی شاہراہ پرچلتی ہے ، تیزی سے چلتی ہے۔ اپنی سمت پر چلتی ہے ، یہ پوری کائنات اس کے ساتھ چلتی ہے۔ مستقل قوانین فطرت کے مطابق چلتی ہے۔ ہم آتے ہیں اور ہمارا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم تقدیر سے بھی آگے ہوجائیں یا تقدیر سے ست روی اختیار کرلیں حالانکہ ہم اس عظیم کائنات کا حصہ ہیں۔ ہم اپنی نفساتی کمزوریوں کی وجہ سے جب قافلہ کائنات سے الگ ہوجاتے ہیں تو ہمارے سفر کی سمت ہی بدل جاتی ہے اور یہ سمت اس لیے بدلتی ہے کہ ہم بےچین ، جلد باز ، لالچی ، مطلب پرست اور ڈرپوک ہوجاتے ہیں۔ اور قافلہ ایمان اور قافلہ کائنات سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، ہم کبھی اس طرف ٹکراتے ہیں ، کبھی ادھر لڑھکتے ہیں اور درد پاتے ہیں ، ادھر گرتے ہیں ، ادھر حادثہ کرتے ہیں ، اور پاش پاش ہوجاتے ہیں۔ جبکہ کائنات کی گاڑی اپنے راستے پر ، اپنی مقررہ رفتار کے ساتھ اپنی منزل مقصود کی طرف جارہی ہے۔ اور اس طرح ہماری تمام قوتیں ، تمام جدوجہد بےکار ہوجاتی ہیں لیکن جب ہمارے دل ایمان سے لبریز ہوں ، ہم اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ، روح کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں ، اس وقت ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارا کردار کس قدر حقیقی ہے۔ پھر ہم اپنے قدموں اور تقدیر کی رفتار کے درمیان توازن پیدا کردیں گے۔ اور ہم مناسب وقت میں مناسب رفتار سے مناسب سمت کی طرف حرکت کریں گے۔ ہمارے ساتھ اس پوری کائنات کی قوت شامل ہوگی۔ اور ہم عملاً عظیم کام کرسکیں گے ، سوائے اس کے کہ ہم پر کبر و غرور کا اثر ہو ، کیونکہ ہمیں تو اصل حقیقت معلوم ہوگی کہ جس قوت کے ذریعے ہم یہ کارہائے نمایاں کررہے ہیں ، اس کا درچشمہ تو دراصل کوئی اور ہے ۔ یہ ہماری ذاتی قوت نہیں ہے۔ ہماری قوت میں یہ برکت اس لیے پیدا ہوگئی کہ یہ اس کائنات کے اندر ودیعت کردہ اللہ کی قوت کے ساتھ یکجا ہوگئی ہے۔ کیا ہی سعادت مندی ہوگی ، کیا رضا مندی ہوگی ، کس قدر راحت ہوگی اور کس قدر اطمینان ہوگا ، کہ ہم اس کرۂ ارض پر جو اللہ کو لبیک کہنے والا ہے ، اپنا یہ مختصر سفر اس خوشی میں ، اس کرۂ ارض کی معیت میں طے کریں اور آخر کار رب تعالیٰ کے ہاں ایک بڑے سفر کے آغاز کے لیے پہنچ جائیں۔ وہ کیا عظیم امن وسلامتی ہوگی جب ہم ایک کائنات میں زندہ رہ رہے ہوں جو ہماری دوست ہو ، سب کی سب اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والی ہو اور ہم بھی اللہ کے مطیع فرمان ہوں۔ ہم دونوں ہمقدم ہوں ، دشمنی پر نہ ہوں ، دوست ہوں ، کیونکہ ہم اس کائنات کا حصہ ہیں اور اسی کے ہمہ رخ ہیں۔ قالتآ اتینا طآئعین (41: 11) ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ فقضھن سبع سمٰوات فی یومین (41: 12) ” تب اس نے دو دن کے اندر سات آسمان بنا دیئے “۔ واوحی فی کل سمآء امرھا (41: 12) ” اور ہر آسمان میں اس کا قانون وحی کردیا “۔ یہ دو دن وہی ہوسکتے ہیں جن میں سدم سے ستارے تیار ہوئے یا جن میں ان کی تشکیل مکمل ہوئی۔ حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔ ہر آسمان کی طرف اس کے امور کی وحی کے معنی یہ ہیں کہ اس پر قوانین قدرت نافذ کردیئے۔ اور ہدایت کردی کہ یوں چلو ، پھر آسمان کے حدود کیا ہیں تو اس کا تعین فی الحال ہم نہیں کرسکتے ۔ دوری کا ایک درجہ ایک آسمان ہوسکتا ہے۔ ایک کہکشاں ایک آسمان ہوسکتی ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک دوری تک جس قدر کہکشاں ہیں وہ ایک آسمان ہوں یا اس کا اور بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ بلندیاں سات ہیں۔ وزینا السمآء الدنیا بمصابیح وحفطا (41: 12) ” اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے محفوظ کردیا “۔ سماء دنیا کا بھی کوئی متعین مفہوم نہیں ہے ، اس سے مراد قریب تر کہکشاں بھی ہو سکتی ہے جو ہمارے ہاں شمسی کہکشاں کے نام سے مشہور ہے اور جس کا قطر ایک لاکھ ملین نوری سال ہے۔ یا کوئی اور معیار ہو اللہ کے نزدیک جس پر لفظ سما کا اطلاق ہوا ہو۔ اس میں ستارے اور ستارے ہیں جو ہمارے لیے چراغ ہیں اور بہت خوبصورت ہیں۔ حفاظت کس چیز سے ؟ شیطانوں سے۔ قرآن میں دوسری جگہ اس کی تصریح ہے۔ پھر سیاطین کی حقیقت کیا ہے ؟ قرآن کریم میں جو افعال ان کی طرف منسوب ہیں اور جو اشارے ہیں ، ان کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی حقیقت اور ماہیت کا علم اللہ کو ہے۔ ذٰلک تقدیر العزیزالعلیم (41: 12) ” یہ سب کچھ ایک زبردست اور علیم ہستی کا منصوبہ ہے۔ کون ہے اللہ کے سوا جو اس عظیم اور ہولناک کائنات کو چلا سکتا ہے ؟ صرف اللہ زبردست اور علیم و حکیم ، اس کام کو کرسکتا ہے ، جو ہر چیز سے باخبر ہے۔ ایک عظیم کائناتی سفر کے بعد اللہ انکار کرنے والوں کے موقف کی کیا وقعت رہ جاتی ہے اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتے ہیں ان کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے ، جبکہ آسمان و زمین بیک زبان کہتے ہیں کہ ہم ہیں مطیع فرمان ۔ لیکن انسان ہے اور کیا انسان ؟ اس کائنات کے اعتبار سے ایک نہایت چھوٹی سی چیونٹی بلکہ جرثومہ ، بےوقعت ، جو زمین پر رینگتا ہے۔ یہ نہایت ہی لاپرواہی ، غرور کے ساتھ کہتا ہے کہ میں نہ مانوں !۔۔۔۔ کیا سزا ہونی چاہئے ایسے لوگوں کی ، ایسے لاپرواہ متکبرین کی !

فصلت 41:12

آیت نمبر 9 تا 12 اے پیغمبر ان سے کہو کہ تم جب کفر کرتے ہو اور لاپرواہی میں یہ عظیم بات کہہ جاتے ہو ، یہ تو تم ایک بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہو ، یہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے ، تم ایک ایسی ذات کا انکار کرتے ہو ، جس نے زمین کو پیدا کیا ، اس کے اندر پہاڑ پیدا کیے ، ان کے اندر برکات پیدا کیں ، اس زمین کے اندر رزق کی تمام ضروریات پوری پوری رکھ دیں ، جس نے آسمانوں کو پیدا کیا اور یہ سب کام اس نے چار دنوں میں سرانجام دیئے اور تمام مانگنے والوں کے لیے ان کی ضروریات مہیا کردیں جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ، منظم کیا ، خصوصاً دنیا سے قریب والے آسمان کو خوب مزین کیا ، زمین اور آسمان نے اس کے قوانین قدرت اور احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ، لیکن اے اہل زمین تم ہو کہ تم انکار کرتے ہو اور تکبر کرتے ہو۔ لیکن قرآن کی عبارت نے ، قرآن کے انداز بیان کے مطابق ان مضامین کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ بات فوراً دل میں اتر جاتی ہے اور دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ ذرا اس قرآن کے الفاظ دوبارہ پڑھئے اور غور کیجئے ۔ قل ائنکم۔۔۔۔ سوآء للسبآئلین (41: 9 تا 10) ” اے نبی ﷺ ، ان سے کہو ، کیا تم اس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیراتے ہو ، جس نے زمین کو دودنوں میں بنادیا۔ وہی تو سارے جہان والوں کا رب ہے ، اس نے اوپر سے اس میں پہاڑ جما دیئے اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک انداز سے خوارک کا سامان مہیا کردیا۔ یہ سب کام چار دن میں ہوگئے “۔ یہاں زمین کی تخلیق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے دو دنوں میں پیدا کیا گیا۔ زمین کی پیدائش کی مزید بات سے پہلے اس پر تبصرہ کرکے شرک کی نفی کی گئی اور بتایا گیا کہ ذٰلک رب العٰلمین (41: 9) ” یہی جہاں والوں کا رب ہے “۔ تم اس رب کا انکار کررہے ہو ، اور اس کے ساتھ لوگوں کو شریک کررہے ہو ، جس زمین پر تم چل پھر رہے ہو ، وہ تو اس نے بنائی ہے لہٰذا تکبر اور لاپرواہی تمہیں زیب نہیں دیتی ۔ یہ تو بہت ہی قبیح فعل ہے۔ اس کے بعد باقی بات۔ سوال یہ ہے کہ یہ دودن کون سے دن ہیں ، جس کے اندر زمین پیدا کی گئی اور جن دودنوں میں پہاڑ پیدا کیے اور زمین کے اندر زندگی پیدا کی گئیں اور یوں یہ چار دن ہوگئے ؟ یہ ایام دراصل ایام اللہ ہیں اور ان کی طوالت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ ایام اس زمین کے ایام بہرحال نہیں ہیں۔ کیونکہ زمین کے ایام تو وہ زمانی معیار ہے جو زمین کے پیدا ہونے اور اس کی گردش متعین ہونے کے بعدوجود میں آیا ہے۔ جس طرح اس زمین کے ایام ہیں۔ اور یہ گردش محوری اور سورج کے گرد سالانہ گردش کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اسی طرح کواکب میں سے ہر ایک کے اپنے اپنے ایام ہیں۔ ستاروں کے اپنے ایام ہیں یہ زمین کے ایام سے مختلف ہیں۔ بعض زمین کے ایام سے چھوٹے اور بعض طویل ہیں۔ وہ ایام جن میں ابتداء زمین پیدا ہوئی ، پھر اس میں پہاڑ پیدا ہوئے ، پھر اس کے اندر حسب ضرورت رزق اور ضروریات رکھی گئیں ، یہ کوئی اور ہی ایام تھے اور ان کا معیار بھی اور تھا۔ ہمیں اس کا علم نہیں ہے ، لیکن اس قدر ضرور معلوم ہے کہ یہ ایام ان دونوں کے مقابلے میں بہت ہی طویل تھے۔ آج تک انسانی علم جہاں تک پہنچ سکا ہے ، اس کے مطابق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے مراد وہ زمانے ہیں جن سے یہ زمین گزرتی رہی ، یہاں تک کہ وہ اپنے موجودہ مدار میں ٹھہری ، اس کا چھلکا سخت ہوگیا اور یہ زندگی کے قیام کے لیے قابل ہوگیا ، جس زندگی کو ہم جانتے ہیں اور آج تک جو نظریات پیش ہوئے ہیں ان کے مطابق اس پر ہمارے زمین کے معیار ایام کے مطابق نو ہزار ملین سالوں کا وقت لگا۔ یہ بھی علمی نظریات ہیں اور ان کو تبصروں اور چٹانوں کے مطالعہ کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ قرآن کے مطالعہ میں ہم ان عملی نظریات کو آخری بات نہیں کہتے کیونکہ یہ فائنل تو ہیں نہیں۔ یہ نظریات ہیں اور ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ ہم قرآن کو انکا تابع تو نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر ان نظریات اور نص قرآنی کے درمیان قرب اور موافقت ہو تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظریہ درست ہوسکتا ہے۔ اور ایسا نظریہ تشریح قرآن کا معاون بھی ہوسکتا ہے اور اسکے ذریعہ ہم قرآن کے مفہوم کے قریب جاسکتے ہیں آج کل کے نظریات کے مطابق راجح قول یہی سمجھا جا ات ہے کہ زمین بھی کسی وقت ایک آگ کا گولا تھی جس طرح اس وقت سورج ہے اور گیس کی شکل میں تھی۔ اور یہ زمین بھی سورج ہی کا حصہ تھی ، اس سے جدا ہوگئی ، اس کے بارے میں سائنس دانوں کا اتفاق نہیں ہے کہ کیوں ہوئی اور کس طرح ہوئی البتہ اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے طویل وقت لگا جبکہ اس کا پیٹ ابھی تک اسی حالت میں ہے۔ جہاں بڑے بڑے پہاڑ پگھل جاتے ہیں۔ اور کھولنے لگتے ہیں۔ ” جب زمین کا چھلکا ٹھنڈا ہوا تو یہ سخت ہوگیا “۔ پہلے پہل یہ سخت پتھر تھا اور پتھر کے پھر طبقے تھے۔ اوپر اور نیچے پتھر۔ اور نہایت ہی ابتدائی دور میں بخارات پیدا ہوئے جن کا 3/2 حصہ ہائیڈروجن اور 3/1 حصہ آکسیجن تھا۔ ان کے اتحاد کی وجہ سے زمین پر پانی پیدا ہوگیا۔ ” ہوا اور پانی نے باہم تعاون کرکے چٹانوں کو توڑا اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو ایک جگہ سے اٹھایا اور دوسری جگہ ڈھیر لگا دیا اور اس کی وجہ سے مٹی پیدا ہوئی جس میں فصل اگنا ممکن ہوا ، اس طرح ہوا اور پانی نے پہاڑوں کو توڑا اور اونچی جگہوں کو پست کیا اور گڑہوں اور نیچی جگہوں کی پھرائی کا کام کیا۔ لہٰذا زمین کے اندر جو بھی چیز ہے یا ہونے والی ہے۔ اس میں ہمیں تعمیر وتخریب ساتھ ساتھ چلتی نظر آتی ہیں “۔ ” زمین کا اوپر کا حصہ جسے چھلکا کہہ سکتے ہیں ، دائمی طور پر حرکت اور تغیر میں رہتا ہے۔ سمندر میں جب موجیں اٹھتی ہیں تو یہ چھلکا متاثر ہوتا ہے۔ سورج کی گرمی سے سمندر کا پانی بخارات بن جاتا ہے ، آسمانوں کی طرف اٹھتا ہے ، بادلوں کی شکل اختیار کرتا ہے ، زمین پر میٹھا پانی برستا ہے۔ موسلادھار بارشیں ہوتی ہیں ، سیلاب آتے ہیں ، دریا بہتے ہیں ، اور یہ اس زمین کے چھلکے کے اوپر چلتے ہیں اور اس میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ایک پتھر اور چٹان پر یوں اثر انداز ہوتے ہیں کہ اسے ایک چٹان سے دوسری قسم کی چٹان میں بدل دیتے ہیں۔ اور پھر یہ سیلاب اور دریا اسے اٹھا کر دوسری جگہ بھی لیجاتے ہیں اور صدیوں کے بعد پھر زمین کا چہرہ بدل جاتا ہے۔ اور ہزاروں اور لاکھوں سولوں کے بعد وسیع تغیرات پیدا ہوتے ہیں ، پھر پہاڑوں پر برف جمتی ہے۔ یہ وہی کام کرتی ہے جو ہوا اور پانی کرتے ہیں اور سورج بھی زمین کی چھلکے پر ویسے ہی اثرات ڈالتا ہے جس طرح ہوا اور پانی ڈالتے ہیں۔ یہ اسے گرم کرتا ہے پھر زمین کے اوپر زندہ جانور بھی زمین کے اس چہرے کو بدلتے رہتے ہیں اور آتش فشانی کا عمل بھی زمین پر تغیرات پیدا کرتا ہے۔ ” اس زمین کے چٹانوں کے بارے میں آپ کسی بھی جیالوجسٹ سے پوچھ سکتے ہیں ، وہ چٹانوں کے بارے میں آپ کو بہت سی معلومات دے گا اور وہ اس کی تین بڑی اقسام بتائے گا۔۔۔۔ مثلاً ” ناری چٹانیں (Igneous Rocks) جو زمین کے پیٹ کے پگھلے ہوئے مادے کی شکل میں باہر آئیں۔ یہ مادہ پھر ٹھنڈا ہوگیا۔ وہ آپ کو لاوا کی چٹان (Granites) بطور مثال پیش کرے گا اور پتھر دکھا کر آپ کو بتائے گا کہ اس کے اندر سفید ، سرخ اور سیاہ چمکدار مادے ہیں۔ یہ کیمیاوی مرکبات ہیں اور ان کا اپنا وجود ہے کیونکہ یہ مخلوط دھاتوں کے پتھر ہیں۔ وہ یہ بتائے گا کہ تمام روئے زمین کا چھلکا انہی پتھروں سے بنا ہوا ہے۔ جب یہ زمین تیار ہوئی ، بہت زمانہ پہلے ، بارشیں شروع ہوئیں ، زمین پر دریاب ہے ، یا برف پگھلی ، طوفان چلے ، سورج نے اثر دکھایا۔ ان موثرات نے ان ناری چٹانوں کے اندر توڑ پوڑ کا عمل کیا۔ ان کے ملبے اور ان کے اندر کی کیمیاوی مواد سے یہ جدید چٹانیں تیار ہوگئیں اور لاوے کی ان چٹانوں سے کئی اور رنگ اور قسم کی چٹانیں تیار ہوگئیں۔ ” اب چٹانوں کی ایک دوسری اہم قسم ہے جس کو جیالوجی کی زبان میں گارے (Sedimentary Rocks) کی چٹانیں کہتے ہیں یہ وہ چٹانیں ہیں جو پانی ، ہوا ، سورج یا زندہ چیزوں کے عمل سے زمین کی اصلی سخت چٹانوں سے ٹوٹ پھوٹ کر بنیں اور ان کو Sedimentary اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنی اصلی جگہ میں نہیں ہوتی ہیں۔ یہ اپنی اصلی چٹانوں سے ٹوٹ پھوٹ کر اور پانی ، ہوا اور طوفان کی وجہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں اور وہاں گارے کی شکل میں جمع ہوکر جم جاتی ہیں “۔ ” ان گارے کی چٹانوں کی مثال جبری پتھر ہیں جن سے پورا ” مقطم “ پہاڑ بنا ہوا ہے اس پہاڑ سے اہل قاہرہ پتھر توڑ کر اپنے مکانات بناتے ہیں۔ ماہرین بتائیں گے کہ یہ کیلشیم کاربونیٹ (Calcium Carbonate) ہے اور یہ زمین سے زندہ چیزوں یا کیمیاوی عمل سے جدا ہوا ، پھر ریت بھی اسی قسم کے پتھروں سے نبی ہوئی ہے نیز کیلشیم ایسڈ بھی اس قسم سے بنا ہے۔ یہ بھی دوسری چٹانوں سے نکلا ہے۔ مثلاً خشک گارے کے پتھر اور خشک بچنے والی مٹی کے پتھر۔ یہ تمام سابقہ اصول کے مطابق بنتے ہیں “۔ یہ سابقہ اصلی چٹانیں ہیں جن سے گارے کی (Sedimentary) چٹانیں بنیں جن کی اقسام مختلف ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ اصلی چٹانیں لاوے کی چٹانیں ہیں ، جب زمین کی سطح جم گئی اور اس کی مائع حالت جاتی رہی اور یہ عمل بہت ہی پہلے ہوا ، اس وقت سطح زمین پر لاوے کی چٹان کے سوا کچھ نہ تھا۔ پھر بخارات اور پانی پیدا ہوا اور اس نے لاوے کی چٹان پر توڑ پھوڑ کا عمل شروع کیا۔ اس میں ہوا اور مختلف قسم کی گیسوں نے بھی کام کیا۔ سخت طوفانوں اور سورج کی گرمی نے بھی امداد دی ۔ یہ سب مراحل جمع ہوئے اور اپنے اپنے طبیعی اور مزاج کے مطابق کام کیا اور یہ لاوے کے پتھروں کی شکل میں بدلے۔ اب ان پتھروں سے عمارات بنتی ہیں۔ معدنیات نکالی جاتی ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سخت لاوے کے پتھر ہی سے مٹی نکالی گئی ، جو سطح زمین پر مختلف مقامات پر جمع ہوئی اور یہی مٹی نباتات وحیوانات کے لیے تمید بنی۔ ” لاوے کی چٹانیں کھتی ، فصل اور آبپاشی کے لیے مفید نہیں ہے۔ لیکن اس سے ، نرم وملائم مٹی نکلتی ہے یا اس جیسی دوسری چٹانوں سے یہ مٹی جمع ہوتی ہے اور اس مٹی سے پھر نباتات وحیوانات پیدا ہوئے۔ اور یوں اس زمین کے رئیس المخلوقات انسان کی پیدائش کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ یہ طویل سفر جس کا انکشاف علم جدید نے کیا ہے ، اس کی مدد سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں جو ایام لگے ، زمین کی تخلیق ، اس کے اوپر پہاڑوں کی تنصیب ، اس کے اندر برکات و ضروریات کی تشکیل پر جو چار دن لگے ، یہ ایام اللہ کے چار دن تھے جن کی طوالت کا ہمیں علم نہیں کہ ان کی طوالت کا کیا معیار ومقیاس ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ وہ یقیناً ہماری اس زمین کے ایام نہ تھے۔ اب ہم نص قرآنی کے ایک ایک فقرے پر غور کریں گے ، قبل اس کے کہ ہم زمین کے موضوع کو چھوڑ کر آسمان کی طرف چلیں : وجعل فیھا رواسی من فوقھا (41: 10) ” اور اوپر سے اس پر پہاڑ جما دیئے “۔ بعض اوقات ان پہاڑوں کے لیے رواسی کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ رواسی کے معنی لنگرانداز ہونے والی کشتی اور پہاڑ ہیں اور بعض جگہ پہاڑوں کو رواسی کہہ کر ان تمیدبکم ” کہ تم ڈھلک نہ جاؤ “۔ یعنی زمین لنگر انداز ہے۔ یہ پہاڑ اسے ایک جگہ ٹکاتے ہیں ، تاکہ انسان ڈھلک نہ جائیں۔ ایک وقت ایسا تھا کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین ایک جگہ جمی ہوئی ہے اور مستحکم بنیادوں پر ٹھہری ہوئی ہے۔ اب ایسا وقت آگیا ہے کہ یہ زمین تو ایک کرہ ہے ، چھوٹی سی گیند جو فضا میں تیر رہی ہے اور کسی چیز کا سہارا نہیں لے رہی ہے۔ جب انسانوں کو سب سے پہلے یہ بتائی گئی ہوگی تو وہ پریشان ہوکر دائیں بائیں دیکھ رہے ہوں گے کہ واقعی کہیں ہم گرنہ جائیں۔ ڈھلک نہ جائیں ۔ یا ہم فضا کی گہرائیوں میں نہ اڑجائیں۔ اطمینان رکھو ، اللہ نے اس کو فضا ہی میں تھامے رکھا ہے اور زمین و آسمان دونوں اپنی جگہ سے ہٹ یا پھسل نہیں سکتے ۔ اگر ان کا توازن کبھی بگڑ گیا تو پھر اللہ کے سوا کوئی اسے قائم بھی نہیں کرسکتا ۔ اطمینان کیجئے ! اللہ نے جو قوانین فطرت کائنات میں جاری کیے ہیں وہ بہت ہی پختہ ہیں اور اللہ قوی و عزیز ہے۔ ذرا پہاڑوں کا مزید مطالعہ درکار ہے انکو اللہ نے ” رواسی “ کہا ہے۔ یہ زمین کو باندھتے ہیں کہ وہ ڈھلک نہ جائے جیسا کہ ظلال القرآن میں ہم نے دوسری جگہ یہ نکتہ بیان کیا کہ سمندروں کے اندر جو گہرائیاں ہیں اور زمین کے اوپر جو بلندیاں ہیں یہ دونوں حصوں کا توازن برابر کرتی ہیں۔ یوں زمین کے دونوں حصے سمندری اور خشکی متوازن ہوجاتے ہیں۔۔۔ ایک سائنس دان کی سنئے ! ” زمین کے اندر جو حادثہ ہوتا ہے اس کی سطح پر ای اندر ، اس کی وجہ سے زمین کا مادہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کو منتقل ہوتا ہے ، یہ اس کی گردش کو متاثر کرتا ہے۔ اس میں صرف مدوجزر ہی واحد عامل نہیں ہے۔ یعنی زمین کی رفتار میں کمی کے بارے میں ، یہاں تک کہ دریا ایک جگہ سے جو پانی دوسری جگہ کو منتقل کرتے ہیں اس کا بھی زمین کی رفتار پر اثر ہوتا ہے۔ ہوائیں جو ادھر جاتی ہیں ، یہ بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ سمندروں کے اندر کی سطح کا جگہ جگہ کرنا اور خشکی کی سطح کا جگہ جگہ سے اٹھنا بھی گردش زمین کی رفتار کو متاثر کرتا ہے اور یہ چیز بھی زمین کی گردش کی رفتار کو متاثر کرتی ہے کہ کسی جگہ سے زمین پھیلے یا سکڑے۔ اگرچہ یہ سکڑنا اور پھیلنا چند اقدام تک محدود کیوں نہ ہو “۔ غرض یہ حساس زمین ، جس کی حساسیت کے بارے میں ہم نے یہ مطالعہ کیا ، کیا بعید کہ اس کی رفتار کی تیزی میں یہ اونچے اونچے پہاڑ توازن قائم کرتے ہوں اور وہ اس کی غیر متوازن ہونے سے روکتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے آج سے چودہ سو سال قبل یہ بات کہہ دی ” ان تمیدبکم “” کہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے “۔ وبٰرک فیھا وقدر فیھآ اقواتھا (41: 10) ” اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس میں ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیا کردیا “۔ یہ فقرہ ہمارے اسلاف کے ذہنوں میں یہ مفہوم منتقل کرتا ہوگا کہ فصلیں اگا دیں اور زمین کے اندر بعض مفید جمادات اور دھاتیں رکھ دیں مثلاً سونا چاندی اور لوہا وغیرہ۔ لیکن آج اللہ تعالیٰ نے انسان پر زمین کی جو برکات کھول دی ہیں اور جو صدیوں پہلے اس زمین میں رکھ دی گئی تھیں اور ہم ان سے استفادہ کرتے ہیں تو اس فقرے کا مفہوم بہت ہی وسیع ہوگیا ہے۔ اب ہم نے دیکھ لیا کہ کس طرح ہوا کے عناصر نے تعاون کیا اور پانی تشکیل ہوا اور کس طرح پانی اور ہوانے تعاون کیا اور سورج اور طوفان نے تعاون کیا اور مٹی کی تشکیل ہوئی جو قابل زراعت بن گئی۔ اور پانی ، سورج ، ہواؤں کے باہم تعاون سے بارشیں برسیں ، یہ بارش ہی ہے جس کے ذریعہ سے تمام پانی فراہم ہوتے ہیں۔ میٹھی نہروں کے ذریعے ، دریاؤں اور ندیوں کے ذریعے اور زمین کے اندر کے ذخیروں اور چشموں کے ذریعہ ، یہ سب برکات وارزاق ہی تو ہیں۔ اور پھر ہوا اور ہمارا اور تمام حیوانات کا نظام تنفس اور ہمارے جسم۔ ” زمین ایک کرہ اور گیند ہے۔ اس کے اوپر چٹان کی ایک تہہ ملفوف ہے اور اس چٹان کی تہہ کے اکثر حصے کے اوپر پانی کی تہہ ہے جس سے یہ چٹان ملفوف ہے۔ پھر اس پانی اور چٹان کی تہہ کے اوپر ایک ہوائی کرہ ہے جو دبیزگیس کی شکل میں دنیا کو ملفوف کیے ہوئے ہے۔ یہ ہوائی کرہ سمندر کی طرح ہے۔ اس کی سمندر کی طرح گہرائی ہے۔ ہم انسان اور حیوان اور نباتات ہوا کے اس سمندر کی تہہ میں زندہ رہ رہے ہیں اور بڑے مزے سے رہ رہے ہیں “۔ ” ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں ، آکسیجن لیتے ہیں ، ہوا ہی سے بناتات اپنا جسم بناتے ہیں ، ہوا ہی سے کاربن لیتے ہیں بلکہ آکسائیڈ سے کاربن لیتے ہیں جسے اہل کیمیا کا ربن ڈائی آکسائیڈ کہتے ہیں۔ نباتات اپنا جسم کوئلے کے آکسائیڈ سے بناتے ہیں۔ ہم نباتات کھاتے ہیں اور ہم حیوانات کو بھی کھاتے ہیں۔ اور حیوانات نباتات کو کھاتے ہیں۔ دونوں سے ہمارا جسم تیار ہوتا ہے۔ ہوا میں نائٹروجن ہے ، یہ آکسیجن کو خفیف بناتی ہیں۔ ورنہ ہم سانس لیتے ہی جل جائیں ۔ پانی کے بخارات ہوا کے اندر رطوبت پیدا کرتے ہیں۔ کچھ دوسری گیس ہیں جو قلیل مقدار میں پائی جاتی ہیں اور غیر مرتب ہیں۔ ان میں ہیلیم ، نیون وغیرہ اور ہائیڈروجن گیس ، یہ ہوا میں ابتدائی تخلیق کے وقت سے موجود ہیں۔ وہ مواد جو ہم کھاتے ہیں اور اپنی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، جبکہ رزق اس مواد سے وسیع مفہوم رکھتا ہے جو صرف پیٹ میں جاتا ہے ، یہ سب چیزیں اس اصلی مواد اور عناصر پر مشتمل ہیں جو یہ زمین اپنے پیٹ میں رکھتی ہے یا فضا میں رکھتی ہے۔ مثلاً چینی کیا چیز ہے۔ یہ کاربن ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب ہے اور پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن سے مرکب ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہمارے کھانے اور پینے کی چیزوں کے بڑے مرکبات ہیں۔ نیز لباس اور آلات بھی انہیں عناصر سے بنتے ہیں ، جو اس زمین کے اندر اللہ نے ودیعت کیے ہیں۔ یہ ہیں وہ امور جو اس زمین کی برکات اور اس کے اندر ذرائع رزق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کو چار دنوں یا چار طویل ادوار ، یعنی ایام اللہ میں بنایا گیا جن کی مقدار ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ثم استوٰی۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (41: 11 تا 12) ” پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا ، جو اس وقت محض دھواں تھا۔ اس نے آسمان اور زمین سے کہا ” وجود میں آجاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو “۔ دونوں نے کہا ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ تب اس نے دودن کے اندر آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان میں اس کا قانون وحی کردیا۔ اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کردیا ۔ یہ سب کچھ ایک زبردست علیم ہستی کا منصوبہ ہے “۔ استواء کا مفہوم یہاں ارادہ کرنا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے قصد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف اپنے ارادے کو متوجہ کردے۔ ثم بعض اوقات ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ معنوی ارتقاء کے لیے بھی آتا ہے۔ آسمان چونکہ انسانوں کو ارفع اور بلند نظر آتے ہیں اس لیے اس کے لیے ثم کا لفظ آیا۔ ثم استوٰی الیٰ السمآء وھی دخان (41: 11) ” پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ اس وقت محض دھواں تھا “۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ستاروں کی تخلیق سے قبل ایک حالت تھی جیسے ” سدم “ کی حالت ہوتی ہے اور یہ ایک قسم کا گیس تھا ، جیسے دھواں ہوتا ہے۔ ” سدم (Black Whole) میں جو گیس اور غبار ہوتا ہے وہ وہی ہوتا ہے ، جو ستاروں کی تخلیق سے بچ گیا ہوتا ہے۔ نظریہ تخلیق کائنات یہ ہے کہ کہکشاں گیس اور غبار سے مرکب ہوتی ہے۔ جب یہ گیس اور غبار زیادہ کثیف ہوگئے تو اس کے نتیجے میں ستارے پیدا ہوئے۔ کچھ ملبہ رہ گیا۔ یہ بقیہ ملبہ سدم کی شکل اختیار کرگیا۔ اس وسیع کہکشاں میں اس کا جو حصہ باقی ہے وہ منتشر ہے۔ گیس اور غبار کی شکل میں ۔ اس کی مقدار اتنی ہے جتنے ستارے بن گئے ۔ یہ ستارے اس بقیہ گیس اور غبار کو اپنی جاذبیت کے ذریعے کھینچتے رہتے ہیں۔ چناچہ اس عمل سے آسمانوں کی صفائی ہورہی ہے مگر اس غبار کو جذب کرنے والے ستارے اس ہولناک فضا میں بہت تھوڑے ہیں۔ اور جن علاقوں کو اس سے صاف کرنا ہے وہ بہت ہی وسیع ہیں “۔ یہ بات صحیح ہوسکتی ہے کیونکہ یہ اس مفہوم سے زیادہ قریب ہے۔ جو اس آیت میں ہے۔ ثم استوٰی الی السمآء وھی دخان (41: 11) ” پھر وہ آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا ، اور وہ اس وقت دھواں تھا “۔ یہاں تک کہ اس سے آسمان بنائے اور ان میں دوایام اللہ صرف ہوئے یعنی طویل عرصہ۔ اس کے بعد اب ہم اس حقیقت پر غور کریں گے۔ فقال لھا۔۔۔۔ طآئعین (41: 11) ” اس نے آسمان اور زمین سے کہا : وجود میں آجاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو “۔ دونوں نے کہا ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ اس آیت میں عجب اشارہ ہے اس قانون قدرت اور ناموس فطرت کی طرف جو اس کائنات میں چلایا گیا ہے اور اس کائنات کا تعلق اپنے خالق کے ساتھ اطاعت اور سرتسلیم خم کردینے کا تعلق ہے۔ پوری کائنات اللہ کی مشیت اور حکم کے مطابق چل رہی ہے۔ یہاں صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جو اللہ کے ناموس کے سامنے مجبور ہو کر سرطاعت خم کرتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے۔ یہ انسان بھی یقینی طور پر اس ناموس فطرت کا مطیع فرمان ہے ، اس سے نکل نہیں سکتا ۔ یہ اس عظیم کائنات نہایت ہی معمولی پرزہ ہے۔ اور اس کائنات کے کلی قوانین اس پر بھی نافذ ہیں خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو ، لیکن اس کائنات میں یہ انسان واحد ذات شریف ہے جو اللہ کی اطاعت اس طرح نہیں کرتا جس طرح ارض وسما کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اطاعت سے آزاد کرنا چاہتا ہے یا راہ حق سے انخراف چاہتا ہے جو مستقیم اور آسان ہے ، لہٰذا وہ قوانین فطرت سے ٹکراتا ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ یہ بات لازمی ہے کہ یہ قوانین اس پر غالب آکر اسے پاش پاش کردیتے ہیں۔ اس وقت یہ پھر کر مطیع فرمان ہوتا ہے۔ ہاں اللہ کے وہ بندے جن کے دل ، جن کا وجود ، جن کی حرکات ، جن کے تصورات ، جن کا ارادہ ، جن کی خواہشات اور جن کا رخ نوامیس فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے تو ایسے بندے پھر خوشی خوشی سے سر تسلیم خم کردیتے ہیں اور اس کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوکر نہایت تعاون سے چلتے ہیں اور جس طرح یہ پوری کائنات اللہ کی سمت چلتی ہے۔ وہ بھی اسی سمت رواں دواں ہوتے ہیں۔ وہ کائناتی قوتوں کے ساتھ لڑتے ہیں ، جب مومن اس مقام تک پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کے ہاتھوں معجزات کا صدور ہوتا ہے کیونکہ اس نے ناموس قدرت کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے۔ اس کائنات کی عظیم قوتیں اس کی پشت پت آجاتی ہیں۔ اور یہ عظیم قوت جب اللہ کی راہ میں چلتی ہے تو مطیع فرمان ہوکر چلتی ہے۔ ہم اگر اللہ کی اطاعت کرتے ہیں تو مجبور ہوکر کرتے ہیں۔ کاش کہ ہم خوشی سے مطیع فرمان ہوتے ۔ کاش ہم بھی زمین و آسمان کی طرح خوشی سے اطاعت کرتے ، رضا اور خوشی سے۔ اس حال میں کہ ہم روح کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوچکے ہوں اور نہایت خوشی اور خضوع وخشوع کے ساتھ لبیک کہتے ہوئے اور سر تسلیم خم کرتے ہوئے اللہ رب العالمین کی طرف چلیں۔ بعض اوقات ہم سے بڑی مضحکہ خیز حرکات سرزد ہوتی ہیں ، تقدیر کی گاڑی اپنی شاہراہ پرچلتی ہے ، تیزی سے چلتی ہے۔ اپنی سمت پر چلتی ہے ، یہ پوری کائنات اس کے ساتھ چلتی ہے۔ مستقل قوانین فطرت کے مطابق چلتی ہے۔ ہم آتے ہیں اور ہمارا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم تقدیر سے بھی آگے ہوجائیں یا تقدیر سے ست روی اختیار کرلیں حالانکہ ہم اس عظیم کائنات کا حصہ ہیں۔ ہم اپنی نفساتی کمزوریوں کی وجہ سے جب قافلہ کائنات سے الگ ہوجاتے ہیں تو ہمارے سفر کی سمت ہی بدل جاتی ہے اور یہ سمت اس لیے بدلتی ہے کہ ہم بےچین ، جلد باز ، لالچی ، مطلب پرست اور ڈرپوک ہوجاتے ہیں۔ اور قافلہ ایمان اور قافلہ کائنات سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، ہم کبھی اس طرف ٹکراتے ہیں ، کبھی ادھر لڑھکتے ہیں اور درد پاتے ہیں ، ادھر گرتے ہیں ، ادھر حادثہ کرتے ہیں ، اور پاش پاش ہوجاتے ہیں۔ جبکہ کائنات کی گاڑی اپنے راستے پر ، اپنی مقررہ رفتار کے ساتھ اپنی منزل مقصود کی طرف جارہی ہے۔ اور اس طرح ہماری تمام قوتیں ، تمام جدوجہد بےکار ہوجاتی ہیں لیکن جب ہمارے دل ایمان سے لبریز ہوں ، ہم اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ، روح کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں ، اس وقت ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارا کردار کس قدر حقیقی ہے۔ پھر ہم اپنے قدموں اور تقدیر کی رفتار کے درمیان توازن پیدا کردیں گے۔ اور ہم مناسب وقت میں مناسب رفتار سے مناسب سمت کی طرف حرکت کریں گے۔ ہمارے ساتھ اس پوری کائنات کی قوت شامل ہوگی۔ اور ہم عملاً عظیم کام کرسکیں گے ، سوائے اس کے کہ ہم پر کبر و غرور کا اثر ہو ، کیونکہ ہمیں تو اصل حقیقت معلوم ہوگی کہ جس قوت کے ذریعے ہم یہ کارہائے نمایاں کررہے ہیں ، اس کا درچشمہ تو دراصل کوئی اور ہے ۔ یہ ہماری ذاتی قوت نہیں ہے۔ ہماری قوت میں یہ برکت اس لیے پیدا ہوگئی کہ یہ اس کائنات کے اندر ودیعت کردہ اللہ کی قوت کے ساتھ یکجا ہوگئی ہے۔ کیا ہی سعادت مندی ہوگی ، کیا رضا مندی ہوگی ، کس قدر راحت ہوگی اور کس قدر اطمینان ہوگا ، کہ ہم اس کرۂ ارض پر جو اللہ کو لبیک کہنے والا ہے ، اپنا یہ مختصر سفر اس خوشی میں ، اس کرۂ ارض کی معیت میں طے کریں اور آخر کار رب تعالیٰ کے ہاں ایک بڑے سفر کے آغاز کے لیے پہنچ جائیں۔ وہ کیا عظیم امن وسلامتی ہوگی جب ہم ایک کائنات میں زندہ رہ رہے ہوں جو ہماری دوست ہو ، سب کی سب اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والی ہو اور ہم بھی اللہ کے مطیع فرمان ہوں۔ ہم دونوں ہمقدم ہوں ، دشمنی پر نہ ہوں ، دوست ہوں ، کیونکہ ہم اس کائنات کا حصہ ہیں اور اسی کے ہمہ رخ ہیں۔ قالتآ اتینا طآئعین (41: 11) ” ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح “۔ فقضھن سبع سمٰوات فی یومین (41: 12) ” تب اس نے دو دن کے اندر سات آسمان بنا دیئے “۔ واوحی فی کل سمآء امرھا (41: 12) ” اور ہر آسمان میں اس کا قانون وحی کردیا “۔ یہ دو دن وہی ہوسکتے ہیں جن میں سدم سے ستارے تیار ہوئے یا جن میں ان کی تشکیل مکمل ہوئی۔ حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔ ہر آسمان کی طرف اس کے امور کی وحی کے معنی یہ ہیں کہ اس پر قوانین قدرت نافذ کردیئے۔ اور ہدایت کردی کہ یوں چلو ، پھر آسمان کے حدود کیا ہیں تو اس کا تعین فی الحال ہم نہیں کرسکتے ۔ دوری کا ایک درجہ ایک آسمان ہوسکتا ہے۔ ایک کہکشاں ایک آسمان ہوسکتی ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک دوری تک جس قدر کہکشاں ہیں وہ ایک آسمان ہوں یا اس کا اور بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ بلندیاں سات ہیں۔ وزینا السمآء الدنیا بمصابیح وحفطا (41: 12) ” اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے محفوظ کردیا “۔ سماء دنیا کا بھی کوئی متعین مفہوم نہیں ہے ، اس سے مراد قریب تر کہکشاں بھی ہو سکتی ہے جو ہمارے ہاں شمسی کہکشاں کے نام سے مشہور ہے اور جس کا قطر ایک لاکھ ملین نوری سال ہے۔ یا کوئی اور معیار ہو اللہ کے نزدیک جس پر لفظ سما کا اطلاق ہوا ہو۔ اس میں ستارے اور ستارے ہیں جو ہمارے لیے چراغ ہیں اور بہت خوبصورت ہیں۔ حفاظت کس چیز سے ؟ شیطانوں سے۔ قرآن میں دوسری جگہ اس کی تصریح ہے۔ پھر سیاطین کی حقیقت کیا ہے ؟ قرآن کریم میں جو افعال ان کی طرف منسوب ہیں اور جو اشارے ہیں ، ان کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی حقیقت اور ماہیت کا علم اللہ کو ہے۔ ذٰلک تقدیر العزیزالعلیم (41: 12) ” یہ سب کچھ ایک زبردست اور علیم ہستی کا منصوبہ ہے۔ کون ہے اللہ کے سوا جو اس عظیم اور ہولناک کائنات کو چلا سکتا ہے ؟ صرف اللہ زبردست اور علیم و حکیم ، اس کام کو کرسکتا ہے ، جو ہر چیز سے باخبر ہے۔ ایک عظیم کائناتی سفر کے بعد اللہ انکار کرنے والوں کے موقف کی کیا وقعت رہ جاتی ہے اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتے ہیں ان کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے ، جبکہ آسمان و زمین بیک زبان کہتے ہیں کہ ہم ہیں مطیع فرمان ۔ لیکن انسان ہے اور کیا انسان ؟ اس کائنات کے اعتبار سے ایک نہایت چھوٹی سی چیونٹی بلکہ جرثومہ ، بےوقعت ، جو زمین پر رینگتا ہے۔ یہ نہایت ہی لاپرواہی ، غرور کے ساتھ کہتا ہے کہ میں نہ مانوں !۔۔۔۔ کیا سزا ہونی چاہئے ایسے لوگوں کی ، ایسے لاپرواہ متکبرین کی !

فصلت 41:13

آیت نمبر 13 تا 18 یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔ فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔ اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا گیا کہ عتبہ ابن ربیعہ نے ، جو قریش کا ایک سردار تھا ، ایک دن جبکہ وہ قریش کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اور رسول اللہ ﷺ مسجد الحرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے کہنے لگا سرداران قریش ، کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ میں محمد سے بات کروں اور ان کے سامنے کچھ تجاویز پیش کروں ، شاید وہ ان میں سے بعض کو قبول کرلے۔ وہ جو چاہے ہم اس کو دے دیں اور وہ ہمیں معاف کردے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ اسلام لے آئے تھے۔ اور سرداران قریش نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھیوں میں تو اضافہ ہورہا ہے۔ وہ تو زیادہ ہورہے ہیں بلکہ لوگ کثرت سے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اہل مجلس نے کہا ابوالولید یہ تو اچھی بات ہے۔ آپ اٹھیں اور اس سے بات کریں۔ عتبہ اٹھا اور حضور ﷺ کے پاس گیا ، یہ رسول اللہ ؐ کے بیٹھا اور کہا ، بھتیجے ! تو ہم میں خاندانی مقام و مرتبہ کے اعتبار اور جاہ نسب کے لحاظ سے ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ تو نے اپنی قوم کو ایک بہت بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے ۔ تو نے ان کے نظریاتے اور عقائد کی تضحیک بھی کی۔ ان کے دین اور الہوں پت نکتہ چینی کی۔ پھر تو نے ان آباواجداد کی تکفیر کی جو چلے گئے ہیں۔ لہٰذا اب میری کچھ تجاویز سنو ، ان پر غور کرو۔ اگر تم ان میں سے بعض تجاویز کو قبول کروتو آپ ﷺ نے فرمایا ابوالولید آپ کہیں میں سنتا ہوں۔ تو اس نے کہا :” بھتیجے تم نے جو تحریک چلا رکھی ہے اگر اس سے تمہاری غرض مال و دولت جمع کرنا ہے تو ہم تمہارے لیے مال و دولت کی بڑی مقدار جمع کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے ، اگر تم اقتدار چاہتے ہو تو ہم تمہیں ایسے اختیارات کے ساتھ سردار بناتے ہیں کہ تمہاری مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہ ہوسکے گا۔ اور اگر سرداری سے بھی آگے تم بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم بادشاہ بنادیتے ہیں۔ اور اگر یہ صورت ہے کہ جو تم پر آتا ہے وہ کوئی بیماری ہے جسے تم اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتے ہو تو ہم تمہارے لیے بڑے بڑے طبیب لاتے ہیں اور اس میں بہت کچھ خرچ کرنے لے لیے تیار ہیں یہاں تک کہ تم تندرست ہوجاؤ۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے پیچھے لگنے والا اس پر غالب ہوجاتا ہے اور اسے اس کا علاج کرانا پڑتا ہے۔ یہ تھی عتبہ کی تقریر جو اس نے کی۔ جب عتبہ فارغ ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس کی باتیں غور سے سن رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : آپ کی بات ختم ہوگئی تو اس نے کہا ” ہاں “۔ حضور ﷺ نے فرمایا سنئے میری بات ، تو اس نے بھی کہا بات کیجئے ، حضور ﷺ نے فرمایا : حٰم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسمعون (41: 1 تا 4) ” ح م ، یہ خدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے ، ایک ایسی کتاب جس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ، ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ بشارت دینے والا اور ڈرادینے والا ہے۔ مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سب کر نہیں دیتے “ حضور اکرم ﷺ یہ سورت اس کے سامنے پڑھتے رہے۔ عتبہ نے سنا تو وہ خاموش رہا اور اپنے ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے لگا کر ان پر ٹیک لی اور سنتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سجدے کے مقام تک آئے ، تو حضور ﷺ نے سجدہ فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا : ابوالولید تم نے سن لیا۔ اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عتبہ اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا ، ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ابوالولید کا چہرہ وہ نہیں ہے جس کے ساتھ وہ گیا تھا۔ جب وہ ان کے پاس بیٹھا ، تو انہوں نے پوچھا ابوالولید کیا خبر لائے ہو۔ تو اس نے کہا خبریہ ہے کہ خدا کی قسم میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے ، اپنی زندگی میں ، میں نے ایسا کلام ہرگز نہیں سنا۔ خدا کی قسم یہ جادو نہیں ہے ، یہ شعر نہیں ہے ، یہ کہانت نہیں ہے۔ اے برادران قریش میری بات مانو اور یہ معاملہ میرے حوالے کردو ، اس شخص کو چھوڑ دو وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے ، اسے کرنے دو ، اسے اپنے حال پر چھوڑ دو ، خدا کی قسم وہ جو کچھ کہتا ہے ، آئندہ اس کی بڑی اہمیت ہوگی۔ اگر دوسری عرب اقوام نے اسے کچل دیا تو وہ تمہاری مصیبت کو ختم کردیں گے تمہارے بغیر ہی۔ اور اگر یہ شخص عربوں پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمہاری بادشاہی ہوگی۔ اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور تم اس کے ذریعہ خوشحال ترین لوگ ہوجاؤ گے تو انہوں نے کہا ” خدا کی قسم ، ابوالولیدتم پر اس نے اپنی باتوں سے جادو کردیا ۔ اس پر اس نے کہا کہ میری رائے تو یہی ہے ، تم جو چاہو ، کرو “۔ علامہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی ہے (محمدابن فضل سے ، انہوں نے اجلح سے) یہ اجلح ابن عبداللہ الکندی الکوتی ہیں۔ (اس آدمی کے بارے میں ابن کثیر نے کہا یہ کسی قدر ضعیف ہے) اس نے زیال ابن حرملہ سے انہوں نے حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے کہ جب حضور ﷺ اس آیت تک آئے۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) توعتبہ نے آپ ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور صلہ رحمی کا واسطہ دیا۔ اور یہ عتبہ اپنے گھر چلا گیا اور پھر قریش کی محفل میں نہ آیا اور اپنے آپ کو ان سے دور رہنے کے لیے گھر میں بند کرلیا۔ اس ڈراوے کے اثرات کی ایک صورت آپ نے دیکھی کہ حصور ﷺ کی زبان سے ایک غیر مسلم نے اسے سنا اور وہ کانپ اٹھا۔ اس حدیث پر غور ابھی ختم نہیں ہوا ، ذرا رکئے ، رسول اللہ کی تصویر دیکھئے ، اس عظیم انسان کے آداب گفتگو دیکھئے۔ آپ کے اطمینان قلبی کو دیکھئے ، آپ نے بڑے اطمینان سے عتبہ کے منہ سے نہایت گری ہوئی باتیں سنیں جن کی آپ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہے۔ لیکن آپ کا دل اپنے عظیم مقصد کو چھوڑ کر نیچے نہیں آتا ۔ یہ چھوٹی چھوٹی پیش کشیں آپ کو گندی تجاویز محسوس ہوتی ہیں جن سے آپ کا نفس نفرت کرتا ہے لیکن حضور ﷺ ہی حلم کے ساتھ ان کو سنتے ہیں۔ شریفانہ انداز میں سنتے ہیں۔ آپ مطمئن ، ٹھہرے ہوئے ، سنجیدہ اور محبت کرنے والے کی طرف سنتے ہیں۔ آپ صبر سے عقبہ کو یہ گری ہوئی تجاویز پیش کرنے دیتے ہیں۔ جب وہ بات ختم کرتا ہے تو پھر بھی جلدی نہیں کرتے نہایت ہی اطمینان کے ساتھ پوچھتے ہیں اور کے ساتھ۔” ابوالولید تم فارغ ہوگئے “ ؟ وہ کہتا ہے ہاں ۔ تو آپ فرماتے ہیں اچھا اب میری بات سنو۔ اور آپ اس وقت تک نہیں شروع کرتے جب تک وہ کہہ نہیں دیتا کہ سنایئے۔ جب حضور نہایت اطمینان ، اعتماد اور بھرپور انداز میں شروع کرتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی یہ ایسی تصویر ہے جسے دیکھتے ہی دل میں ہیبت واحترام کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اعتماد و محبت پیدا ہوتی ہے۔ اور اطمینان ہوجاتا ہے کہ آپ ایک عظیم شخصیت ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سامعین پر آپ چھا جاتے تھے ، جو بھی آپ کی طرف آتا وہ مسحور ہوکر لوٹتا یا مبہوت ہوجاتا۔ اللہ نے سچ کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ منصب رسالت کس کے سپرد کرتا ہے۔۔۔۔ اب ہم اس واقعہ کو چھوڑ کرنص قرآنی کی طرف آتے ہیں۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) اگر یہ منہ موڑیں تو ان سے کہہ دیں کہ میں تم کو اسی کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ایک سفر ہے گزری ہوائی اقوام کے کھنڈرات کی سیر کے لیے۔ جبکہ اس سے قبل قرآن نے ہمیں آسمانوں کی وسعتوں کی سیر کرائی۔ یہ ایک ایسی سیر ہے جو خوف کے مارے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے کہ کیسی کیسی اقوام کو اللہ نے تباہ کیا جو اس جہاں میں اپنے خیال کے مطابق بڑے بنے ہوئے تھے۔ اذجآءتھم۔۔۔۔ الا اللہ (41: 14) ” جب خدا کے رسول انکے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو “۔ یہ وہی ایک کلمہ ہے جسے انبیاء ورسل نے پیش کیا اور جس پر تمام ادیان حقہ کی عمارت تعمیر ہوئی۔ قالوالوشآء۔۔۔۔۔ کٰفرون (41: 14) ” تو انہوں نے کہا ، ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا لہٰذا ہم اس بات کو نہیں مانتے ، جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو “۔ یہ بھی وہی اعتراض ہے جس کا سامنا تمام انبیاء ورسل نے کیا۔ حالانکہ انسانوں سے خطاب کرنے والے رسول کو انسان ہی تو ہونا چاہئے ، جو ان کو جانتا ہو ، اور جسے وہ جانتے ہوں ، جس کے اندر لیڈر شپ کے حقیقی اوصاف وہ پائے جاتے ہوں۔ وہ انہی مشکلات میں رہتا ہو ، جس میں وہ رہتے ہوں ، لیکن عاد اور ثمود نے اپنے رسولوں کی دعوت کا انکار کردیا۔ اور اس لیے کردیا کہ وہ بشر کیوں ہیں۔ ان کی تجویز کے مطابق ملائکہ کیوں نہیں۔ یہاں تک تو عاد وثمود دونوں کی بات ایک تھی کہ دونوں پر عذاب ایک سخت کڑک دار آواز یا دھماکے سے آیا تھا۔ اب یہاں سے آگے ان کی ہلاکت کی تفصیلات الگ تھیں۔ اس لیے الگ الگ بیان کیا گیا۔ فاماعاد۔۔۔۔۔ مناقوۃ (41: 15) ” عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے :” کون ہے ہم سے زیادہ زور آور “۔ حق تو یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جھکے اور زمین میں استکبار نہ کرے۔ پھر انسان ذار اللہ کی عظیم خلقت کے مقابلے میں اپنے آپ کو دیکھے ۔ ، لہٰذا اس کرۂ ارض پر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنا کسی استحقاق کے بغیر ہی ہوتا ہے۔ پھر استکبار کے بعد اظہار غروز بہت بڑا جرم ہے کہ ہمچو مادیگرے نیست۔

فصلت 41:14

آیت نمبر 13 تا 18 یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔ فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔ اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا گیا کہ عتبہ ابن ربیعہ نے ، جو قریش کا ایک سردار تھا ، ایک دن جبکہ وہ قریش کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اور رسول اللہ ﷺ مسجد الحرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے کہنے لگا سرداران قریش ، کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ میں محمد سے بات کروں اور ان کے سامنے کچھ تجاویز پیش کروں ، شاید وہ ان میں سے بعض کو قبول کرلے۔ وہ جو چاہے ہم اس کو دے دیں اور وہ ہمیں معاف کردے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ اسلام لے آئے تھے۔ اور سرداران قریش نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھیوں میں تو اضافہ ہورہا ہے۔ وہ تو زیادہ ہورہے ہیں بلکہ لوگ کثرت سے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اہل مجلس نے کہا ابوالولید یہ تو اچھی بات ہے۔ آپ اٹھیں اور اس سے بات کریں۔ عتبہ اٹھا اور حضور ﷺ کے پاس گیا ، یہ رسول اللہ ؐ کے بیٹھا اور کہا ، بھتیجے ! تو ہم میں خاندانی مقام و مرتبہ کے اعتبار اور جاہ نسب کے لحاظ سے ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ تو نے اپنی قوم کو ایک بہت بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے ۔ تو نے ان کے نظریاتے اور عقائد کی تضحیک بھی کی۔ ان کے دین اور الہوں پت نکتہ چینی کی۔ پھر تو نے ان آباواجداد کی تکفیر کی جو چلے گئے ہیں۔ لہٰذا اب میری کچھ تجاویز سنو ، ان پر غور کرو۔ اگر تم ان میں سے بعض تجاویز کو قبول کروتو آپ ﷺ نے فرمایا ابوالولید آپ کہیں میں سنتا ہوں۔ تو اس نے کہا :” بھتیجے تم نے جو تحریک چلا رکھی ہے اگر اس سے تمہاری غرض مال و دولت جمع کرنا ہے تو ہم تمہارے لیے مال و دولت کی بڑی مقدار جمع کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے ، اگر تم اقتدار چاہتے ہو تو ہم تمہیں ایسے اختیارات کے ساتھ سردار بناتے ہیں کہ تمہاری مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہ ہوسکے گا۔ اور اگر سرداری سے بھی آگے تم بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم بادشاہ بنادیتے ہیں۔ اور اگر یہ صورت ہے کہ جو تم پر آتا ہے وہ کوئی بیماری ہے جسے تم اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتے ہو تو ہم تمہارے لیے بڑے بڑے طبیب لاتے ہیں اور اس میں بہت کچھ خرچ کرنے لے لیے تیار ہیں یہاں تک کہ تم تندرست ہوجاؤ۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے پیچھے لگنے والا اس پر غالب ہوجاتا ہے اور اسے اس کا علاج کرانا پڑتا ہے۔ یہ تھی عتبہ کی تقریر جو اس نے کی۔ جب عتبہ فارغ ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس کی باتیں غور سے سن رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : آپ کی بات ختم ہوگئی تو اس نے کہا ” ہاں “۔ حضور ﷺ نے فرمایا سنئے میری بات ، تو اس نے بھی کہا بات کیجئے ، حضور ﷺ نے فرمایا : حٰم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسمعون (41: 1 تا 4) ” ح م ، یہ خدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے ، ایک ایسی کتاب جس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ، ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ بشارت دینے والا اور ڈرادینے والا ہے۔ مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سب کر نہیں دیتے “ حضور اکرم ﷺ یہ سورت اس کے سامنے پڑھتے رہے۔ عتبہ نے سنا تو وہ خاموش رہا اور اپنے ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے لگا کر ان پر ٹیک لی اور سنتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سجدے کے مقام تک آئے ، تو حضور ﷺ نے سجدہ فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا : ابوالولید تم نے سن لیا۔ اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عتبہ اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا ، ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ابوالولید کا چہرہ وہ نہیں ہے جس کے ساتھ وہ گیا تھا۔ جب وہ ان کے پاس بیٹھا ، تو انہوں نے پوچھا ابوالولید کیا خبر لائے ہو۔ تو اس نے کہا خبریہ ہے کہ خدا کی قسم میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے ، اپنی زندگی میں ، میں نے ایسا کلام ہرگز نہیں سنا۔ خدا کی قسم یہ جادو نہیں ہے ، یہ شعر نہیں ہے ، یہ کہانت نہیں ہے۔ اے برادران قریش میری بات مانو اور یہ معاملہ میرے حوالے کردو ، اس شخص کو چھوڑ دو وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے ، اسے کرنے دو ، اسے اپنے حال پر چھوڑ دو ، خدا کی قسم وہ جو کچھ کہتا ہے ، آئندہ اس کی بڑی اہمیت ہوگی۔ اگر دوسری عرب اقوام نے اسے کچل دیا تو وہ تمہاری مصیبت کو ختم کردیں گے تمہارے بغیر ہی۔ اور اگر یہ شخص عربوں پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمہاری بادشاہی ہوگی۔ اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور تم اس کے ذریعہ خوشحال ترین لوگ ہوجاؤ گے تو انہوں نے کہا ” خدا کی قسم ، ابوالولیدتم پر اس نے اپنی باتوں سے جادو کردیا ۔ اس پر اس نے کہا کہ میری رائے تو یہی ہے ، تم جو چاہو ، کرو “۔ علامہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی ہے (محمدابن فضل سے ، انہوں نے اجلح سے) یہ اجلح ابن عبداللہ الکندی الکوتی ہیں۔ (اس آدمی کے بارے میں ابن کثیر نے کہا یہ کسی قدر ضعیف ہے) اس نے زیال ابن حرملہ سے انہوں نے حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے کہ جب حضور ﷺ اس آیت تک آئے۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) توعتبہ نے آپ ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور صلہ رحمی کا واسطہ دیا۔ اور یہ عتبہ اپنے گھر چلا گیا اور پھر قریش کی محفل میں نہ آیا اور اپنے آپ کو ان سے دور رہنے کے لیے گھر میں بند کرلیا۔ اس ڈراوے کے اثرات کی ایک صورت آپ نے دیکھی کہ حصور ﷺ کی زبان سے ایک غیر مسلم نے اسے سنا اور وہ کانپ اٹھا۔ اس حدیث پر غور ابھی ختم نہیں ہوا ، ذرا رکئے ، رسول اللہ کی تصویر دیکھئے ، اس عظیم انسان کے آداب گفتگو دیکھئے۔ آپ کے اطمینان قلبی کو دیکھئے ، آپ نے بڑے اطمینان سے عتبہ کے منہ سے نہایت گری ہوئی باتیں سنیں جن کی آپ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہے۔ لیکن آپ کا دل اپنے عظیم مقصد کو چھوڑ کر نیچے نہیں آتا ۔ یہ چھوٹی چھوٹی پیش کشیں آپ کو گندی تجاویز محسوس ہوتی ہیں جن سے آپ کا نفس نفرت کرتا ہے لیکن حضور ﷺ ہی حلم کے ساتھ ان کو سنتے ہیں۔ شریفانہ انداز میں سنتے ہیں۔ آپ مطمئن ، ٹھہرے ہوئے ، سنجیدہ اور محبت کرنے والے کی طرف سنتے ہیں۔ آپ صبر سے عقبہ کو یہ گری ہوئی تجاویز پیش کرنے دیتے ہیں۔ جب وہ بات ختم کرتا ہے تو پھر بھی جلدی نہیں کرتے نہایت ہی اطمینان کے ساتھ پوچھتے ہیں اور کے ساتھ۔” ابوالولید تم فارغ ہوگئے “ ؟ وہ کہتا ہے ہاں ۔ تو آپ فرماتے ہیں اچھا اب میری بات سنو۔ اور آپ اس وقت تک نہیں شروع کرتے جب تک وہ کہہ نہیں دیتا کہ سنایئے۔ جب حضور نہایت اطمینان ، اعتماد اور بھرپور انداز میں شروع کرتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی یہ ایسی تصویر ہے جسے دیکھتے ہی دل میں ہیبت واحترام کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اعتماد و محبت پیدا ہوتی ہے۔ اور اطمینان ہوجاتا ہے کہ آپ ایک عظیم شخصیت ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سامعین پر آپ چھا جاتے تھے ، جو بھی آپ کی طرف آتا وہ مسحور ہوکر لوٹتا یا مبہوت ہوجاتا۔ اللہ نے سچ کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ منصب رسالت کس کے سپرد کرتا ہے۔۔۔۔ اب ہم اس واقعہ کو چھوڑ کرنص قرآنی کی طرف آتے ہیں۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) اگر یہ منہ موڑیں تو ان سے کہہ دیں کہ میں تم کو اسی کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ایک سفر ہے گزری ہوائی اقوام کے کھنڈرات کی سیر کے لیے۔ جبکہ اس سے قبل قرآن نے ہمیں آسمانوں کی وسعتوں کی سیر کرائی۔ یہ ایک ایسی سیر ہے جو خوف کے مارے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے کہ کیسی کیسی اقوام کو اللہ نے تباہ کیا جو اس جہاں میں اپنے خیال کے مطابق بڑے بنے ہوئے تھے۔ اذجآءتھم۔۔۔۔ الا اللہ (41: 14) ” جب خدا کے رسول انکے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو “۔ یہ وہی ایک کلمہ ہے جسے انبیاء ورسل نے پیش کیا اور جس پر تمام ادیان حقہ کی عمارت تعمیر ہوئی۔ قالوالوشآء۔۔۔۔۔ کٰفرون (41: 14) ” تو انہوں نے کہا ، ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا لہٰذا ہم اس بات کو نہیں مانتے ، جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو “۔ یہ بھی وہی اعتراض ہے جس کا سامنا تمام انبیاء ورسل نے کیا۔ حالانکہ انسانوں سے خطاب کرنے والے رسول کو انسان ہی تو ہونا چاہئے ، جو ان کو جانتا ہو ، اور جسے وہ جانتے ہوں ، جس کے اندر لیڈر شپ کے حقیقی اوصاف وہ پائے جاتے ہوں۔ وہ انہی مشکلات میں رہتا ہو ، جس میں وہ رہتے ہوں ، لیکن عاد اور ثمود نے اپنے رسولوں کی دعوت کا انکار کردیا۔ اور اس لیے کردیا کہ وہ بشر کیوں ہیں۔ ان کی تجویز کے مطابق ملائکہ کیوں نہیں۔ یہاں تک تو عاد وثمود دونوں کی بات ایک تھی کہ دونوں پر عذاب ایک سخت کڑک دار آواز یا دھماکے سے آیا تھا۔ اب یہاں سے آگے ان کی ہلاکت کی تفصیلات الگ تھیں۔ اس لیے الگ الگ بیان کیا گیا۔ فاماعاد۔۔۔۔۔ مناقوۃ (41: 15) ” عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے :” کون ہے ہم سے زیادہ زور آور “۔ حق تو یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جھکے اور زمین میں استکبار نہ کرے۔ پھر انسان ذار اللہ کی عظیم خلقت کے مقابلے میں اپنے آپ کو دیکھے ۔ ، لہٰذا اس کرۂ ارض پر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنا کسی استحقاق کے بغیر ہی ہوتا ہے۔ پھر استکبار کے بعد اظہار غروز بہت بڑا جرم ہے کہ ہمچو مادیگرے نیست۔

فصلت 41:15

آیت نمبر 13 تا 18 یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔ فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔ اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا گیا کہ عتبہ ابن ربیعہ نے ، جو قریش کا ایک سردار تھا ، ایک دن جبکہ وہ قریش کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اور رسول اللہ ﷺ مسجد الحرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے کہنے لگا سرداران قریش ، کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ میں محمد سے بات کروں اور ان کے سامنے کچھ تجاویز پیش کروں ، شاید وہ ان میں سے بعض کو قبول کرلے۔ وہ جو چاہے ہم اس کو دے دیں اور وہ ہمیں معاف کردے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ اسلام لے آئے تھے۔ اور سرداران قریش نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھیوں میں تو اضافہ ہورہا ہے۔ وہ تو زیادہ ہورہے ہیں بلکہ لوگ کثرت سے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اہل مجلس نے کہا ابوالولید یہ تو اچھی بات ہے۔ آپ اٹھیں اور اس سے بات کریں۔ عتبہ اٹھا اور حضور ﷺ کے پاس گیا ، یہ رسول اللہ ؐ کے بیٹھا اور کہا ، بھتیجے ! تو ہم میں خاندانی مقام و مرتبہ کے اعتبار اور جاہ نسب کے لحاظ سے ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ تو نے اپنی قوم کو ایک بہت بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے ۔ تو نے ان کے نظریاتے اور عقائد کی تضحیک بھی کی۔ ان کے دین اور الہوں پت نکتہ چینی کی۔ پھر تو نے ان آباواجداد کی تکفیر کی جو چلے گئے ہیں۔ لہٰذا اب میری کچھ تجاویز سنو ، ان پر غور کرو۔ اگر تم ان میں سے بعض تجاویز کو قبول کروتو آپ ﷺ نے فرمایا ابوالولید آپ کہیں میں سنتا ہوں۔ تو اس نے کہا :” بھتیجے تم نے جو تحریک چلا رکھی ہے اگر اس سے تمہاری غرض مال و دولت جمع کرنا ہے تو ہم تمہارے لیے مال و دولت کی بڑی مقدار جمع کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے ، اگر تم اقتدار چاہتے ہو تو ہم تمہیں ایسے اختیارات کے ساتھ سردار بناتے ہیں کہ تمہاری مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہ ہوسکے گا۔ اور اگر سرداری سے بھی آگے تم بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم بادشاہ بنادیتے ہیں۔ اور اگر یہ صورت ہے کہ جو تم پر آتا ہے وہ کوئی بیماری ہے جسے تم اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتے ہو تو ہم تمہارے لیے بڑے بڑے طبیب لاتے ہیں اور اس میں بہت کچھ خرچ کرنے لے لیے تیار ہیں یہاں تک کہ تم تندرست ہوجاؤ۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے پیچھے لگنے والا اس پر غالب ہوجاتا ہے اور اسے اس کا علاج کرانا پڑتا ہے۔ یہ تھی عتبہ کی تقریر جو اس نے کی۔ جب عتبہ فارغ ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس کی باتیں غور سے سن رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : آپ کی بات ختم ہوگئی تو اس نے کہا ” ہاں “۔ حضور ﷺ نے فرمایا سنئے میری بات ، تو اس نے بھی کہا بات کیجئے ، حضور ﷺ نے فرمایا : حٰم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسمعون (41: 1 تا 4) ” ح م ، یہ خدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے ، ایک ایسی کتاب جس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ، ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ بشارت دینے والا اور ڈرادینے والا ہے۔ مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سب کر نہیں دیتے “ حضور اکرم ﷺ یہ سورت اس کے سامنے پڑھتے رہے۔ عتبہ نے سنا تو وہ خاموش رہا اور اپنے ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے لگا کر ان پر ٹیک لی اور سنتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سجدے کے مقام تک آئے ، تو حضور ﷺ نے سجدہ فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا : ابوالولید تم نے سن لیا۔ اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عتبہ اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا ، ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ابوالولید کا چہرہ وہ نہیں ہے جس کے ساتھ وہ گیا تھا۔ جب وہ ان کے پاس بیٹھا ، تو انہوں نے پوچھا ابوالولید کیا خبر لائے ہو۔ تو اس نے کہا خبریہ ہے کہ خدا کی قسم میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے ، اپنی زندگی میں ، میں نے ایسا کلام ہرگز نہیں سنا۔ خدا کی قسم یہ جادو نہیں ہے ، یہ شعر نہیں ہے ، یہ کہانت نہیں ہے۔ اے برادران قریش میری بات مانو اور یہ معاملہ میرے حوالے کردو ، اس شخص کو چھوڑ دو وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے ، اسے کرنے دو ، اسے اپنے حال پر چھوڑ دو ، خدا کی قسم وہ جو کچھ کہتا ہے ، آئندہ اس کی بڑی اہمیت ہوگی۔ اگر دوسری عرب اقوام نے اسے کچل دیا تو وہ تمہاری مصیبت کو ختم کردیں گے تمہارے بغیر ہی۔ اور اگر یہ شخص عربوں پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمہاری بادشاہی ہوگی۔ اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور تم اس کے ذریعہ خوشحال ترین لوگ ہوجاؤ گے تو انہوں نے کہا ” خدا کی قسم ، ابوالولیدتم پر اس نے اپنی باتوں سے جادو کردیا ۔ اس پر اس نے کہا کہ میری رائے تو یہی ہے ، تم جو چاہو ، کرو “۔ علامہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی ہے (محمدابن فضل سے ، انہوں نے اجلح سے) یہ اجلح ابن عبداللہ الکندی الکوتی ہیں۔ (اس آدمی کے بارے میں ابن کثیر نے کہا یہ کسی قدر ضعیف ہے) اس نے زیال ابن حرملہ سے انہوں نے حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے کہ جب حضور ﷺ اس آیت تک آئے۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) توعتبہ نے آپ ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور صلہ رحمی کا واسطہ دیا۔ اور یہ عتبہ اپنے گھر چلا گیا اور پھر قریش کی محفل میں نہ آیا اور اپنے آپ کو ان سے دور رہنے کے لیے گھر میں بند کرلیا۔ اس ڈراوے کے اثرات کی ایک صورت آپ نے دیکھی کہ حصور ﷺ کی زبان سے ایک غیر مسلم نے اسے سنا اور وہ کانپ اٹھا۔ اس حدیث پر غور ابھی ختم نہیں ہوا ، ذرا رکئے ، رسول اللہ کی تصویر دیکھئے ، اس عظیم انسان کے آداب گفتگو دیکھئے۔ آپ کے اطمینان قلبی کو دیکھئے ، آپ نے بڑے اطمینان سے عتبہ کے منہ سے نہایت گری ہوئی باتیں سنیں جن کی آپ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہے۔ لیکن آپ کا دل اپنے عظیم مقصد کو چھوڑ کر نیچے نہیں آتا ۔ یہ چھوٹی چھوٹی پیش کشیں آپ کو گندی تجاویز محسوس ہوتی ہیں جن سے آپ کا نفس نفرت کرتا ہے لیکن حضور ﷺ ہی حلم کے ساتھ ان کو سنتے ہیں۔ شریفانہ انداز میں سنتے ہیں۔ آپ مطمئن ، ٹھہرے ہوئے ، سنجیدہ اور محبت کرنے والے کی طرف سنتے ہیں۔ آپ صبر سے عقبہ کو یہ گری ہوئی تجاویز پیش کرنے دیتے ہیں۔ جب وہ بات ختم کرتا ہے تو پھر بھی جلدی نہیں کرتے نہایت ہی اطمینان کے ساتھ پوچھتے ہیں اور کے ساتھ۔” ابوالولید تم فارغ ہوگئے “ ؟ وہ کہتا ہے ہاں ۔ تو آپ فرماتے ہیں اچھا اب میری بات سنو۔ اور آپ اس وقت تک نہیں شروع کرتے جب تک وہ کہہ نہیں دیتا کہ سنایئے۔ جب حضور نہایت اطمینان ، اعتماد اور بھرپور انداز میں شروع کرتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی یہ ایسی تصویر ہے جسے دیکھتے ہی دل میں ہیبت واحترام کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اعتماد و محبت پیدا ہوتی ہے۔ اور اطمینان ہوجاتا ہے کہ آپ ایک عظیم شخصیت ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سامعین پر آپ چھا جاتے تھے ، جو بھی آپ کی طرف آتا وہ مسحور ہوکر لوٹتا یا مبہوت ہوجاتا۔ اللہ نے سچ کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ منصب رسالت کس کے سپرد کرتا ہے۔۔۔۔ اب ہم اس واقعہ کو چھوڑ کرنص قرآنی کی طرف آتے ہیں۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) اگر یہ منہ موڑیں تو ان سے کہہ دیں کہ میں تم کو اسی کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ایک سفر ہے گزری ہوائی اقوام کے کھنڈرات کی سیر کے لیے۔ جبکہ اس سے قبل قرآن نے ہمیں آسمانوں کی وسعتوں کی سیر کرائی۔ یہ ایک ایسی سیر ہے جو خوف کے مارے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے کہ کیسی کیسی اقوام کو اللہ نے تباہ کیا جو اس جہاں میں اپنے خیال کے مطابق بڑے بنے ہوئے تھے۔ اذجآءتھم۔۔۔۔ الا اللہ (41: 14) ” جب خدا کے رسول انکے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو “۔ یہ وہی ایک کلمہ ہے جسے انبیاء ورسل نے پیش کیا اور جس پر تمام ادیان حقہ کی عمارت تعمیر ہوئی۔ قالوالوشآء۔۔۔۔۔ کٰفرون (41: 14) ” تو انہوں نے کہا ، ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا لہٰذا ہم اس بات کو نہیں مانتے ، جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو “۔ یہ بھی وہی اعتراض ہے جس کا سامنا تمام انبیاء ورسل نے کیا۔ حالانکہ انسانوں سے خطاب کرنے والے رسول کو انسان ہی تو ہونا چاہئے ، جو ان کو جانتا ہو ، اور جسے وہ جانتے ہوں ، جس کے اندر لیڈر شپ کے حقیقی اوصاف وہ پائے جاتے ہوں۔ وہ انہی مشکلات میں رہتا ہو ، جس میں وہ رہتے ہوں ، لیکن عاد اور ثمود نے اپنے رسولوں کی دعوت کا انکار کردیا۔ اور اس لیے کردیا کہ وہ بشر کیوں ہیں۔ ان کی تجویز کے مطابق ملائکہ کیوں نہیں۔ یہاں تک تو عاد وثمود دونوں کی بات ایک تھی کہ دونوں پر عذاب ایک سخت کڑک دار آواز یا دھماکے سے آیا تھا۔ اب یہاں سے آگے ان کی ہلاکت کی تفصیلات الگ تھیں۔ اس لیے الگ الگ بیان کیا گیا۔ فاماعاد۔۔۔۔۔ مناقوۃ (41: 15) ” عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے :” کون ہے ہم سے زیادہ زور آور “۔ حق تو یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جھکے اور زمین میں استکبار نہ کرے۔ پھر انسان ذار اللہ کی عظیم خلقت کے مقابلے میں اپنے آپ کو دیکھے ۔ ، لہٰذا اس کرۂ ارض پر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنا کسی استحقاق کے بغیر ہی ہوتا ہے۔ پھر استکبار کے بعد اظہار غروز بہت بڑا جرم ہے کہ ہمچو مادیگرے نیست۔

فصلت 41:16

آیت نمبر 13 تا 18 یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔ فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔ اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا گیا کہ عتبہ ابن ربیعہ نے ، جو قریش کا ایک سردار تھا ، ایک دن جبکہ وہ قریش کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اور رسول اللہ ﷺ مسجد الحرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے کہنے لگا سرداران قریش ، کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ میں محمد سے بات کروں اور ان کے سامنے کچھ تجاویز پیش کروں ، شاید وہ ان میں سے بعض کو قبول کرلے۔ وہ جو چاہے ہم اس کو دے دیں اور وہ ہمیں معاف کردے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ اسلام لے آئے تھے۔ اور سرداران قریش نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھیوں میں تو اضافہ ہورہا ہے۔ وہ تو زیادہ ہورہے ہیں بلکہ لوگ کثرت سے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اہل مجلس نے کہا ابوالولید یہ تو اچھی بات ہے۔ آپ اٹھیں اور اس سے بات کریں۔ عتبہ اٹھا اور حضور ﷺ کے پاس گیا ، یہ رسول اللہ ؐ کے بیٹھا اور کہا ، بھتیجے ! تو ہم میں خاندانی مقام و مرتبہ کے اعتبار اور جاہ نسب کے لحاظ سے ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ تو نے اپنی قوم کو ایک بہت بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے ۔ تو نے ان کے نظریاتے اور عقائد کی تضحیک بھی کی۔ ان کے دین اور الہوں پت نکتہ چینی کی۔ پھر تو نے ان آباواجداد کی تکفیر کی جو چلے گئے ہیں۔ لہٰذا اب میری کچھ تجاویز سنو ، ان پر غور کرو۔ اگر تم ان میں سے بعض تجاویز کو قبول کروتو آپ ﷺ نے فرمایا ابوالولید آپ کہیں میں سنتا ہوں۔ تو اس نے کہا :” بھتیجے تم نے جو تحریک چلا رکھی ہے اگر اس سے تمہاری غرض مال و دولت جمع کرنا ہے تو ہم تمہارے لیے مال و دولت کی بڑی مقدار جمع کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے ، اگر تم اقتدار چاہتے ہو تو ہم تمہیں ایسے اختیارات کے ساتھ سردار بناتے ہیں کہ تمہاری مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہ ہوسکے گا۔ اور اگر سرداری سے بھی آگے تم بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم بادشاہ بنادیتے ہیں۔ اور اگر یہ صورت ہے کہ جو تم پر آتا ہے وہ کوئی بیماری ہے جسے تم اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتے ہو تو ہم تمہارے لیے بڑے بڑے طبیب لاتے ہیں اور اس میں بہت کچھ خرچ کرنے لے لیے تیار ہیں یہاں تک کہ تم تندرست ہوجاؤ۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے پیچھے لگنے والا اس پر غالب ہوجاتا ہے اور اسے اس کا علاج کرانا پڑتا ہے۔ یہ تھی عتبہ کی تقریر جو اس نے کی۔ جب عتبہ فارغ ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس کی باتیں غور سے سن رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : آپ کی بات ختم ہوگئی تو اس نے کہا ” ہاں “۔ حضور ﷺ نے فرمایا سنئے میری بات ، تو اس نے بھی کہا بات کیجئے ، حضور ﷺ نے فرمایا : حٰم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسمعون (41: 1 تا 4) ” ح م ، یہ خدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے ، ایک ایسی کتاب جس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ، ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ بشارت دینے والا اور ڈرادینے والا ہے۔ مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سب کر نہیں دیتے “ حضور اکرم ﷺ یہ سورت اس کے سامنے پڑھتے رہے۔ عتبہ نے سنا تو وہ خاموش رہا اور اپنے ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے لگا کر ان پر ٹیک لی اور سنتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سجدے کے مقام تک آئے ، تو حضور ﷺ نے سجدہ فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا : ابوالولید تم نے سن لیا۔ اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عتبہ اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا ، ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ابوالولید کا چہرہ وہ نہیں ہے جس کے ساتھ وہ گیا تھا۔ جب وہ ان کے پاس بیٹھا ، تو انہوں نے پوچھا ابوالولید کیا خبر لائے ہو۔ تو اس نے کہا خبریہ ہے کہ خدا کی قسم میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے ، اپنی زندگی میں ، میں نے ایسا کلام ہرگز نہیں سنا۔ خدا کی قسم یہ جادو نہیں ہے ، یہ شعر نہیں ہے ، یہ کہانت نہیں ہے۔ اے برادران قریش میری بات مانو اور یہ معاملہ میرے حوالے کردو ، اس شخص کو چھوڑ دو وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے ، اسے کرنے دو ، اسے اپنے حال پر چھوڑ دو ، خدا کی قسم وہ جو کچھ کہتا ہے ، آئندہ اس کی بڑی اہمیت ہوگی۔ اگر دوسری عرب اقوام نے اسے کچل دیا تو وہ تمہاری مصیبت کو ختم کردیں گے تمہارے بغیر ہی۔ اور اگر یہ شخص عربوں پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمہاری بادشاہی ہوگی۔ اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور تم اس کے ذریعہ خوشحال ترین لوگ ہوجاؤ گے تو انہوں نے کہا ” خدا کی قسم ، ابوالولیدتم پر اس نے اپنی باتوں سے جادو کردیا ۔ اس پر اس نے کہا کہ میری رائے تو یہی ہے ، تم جو چاہو ، کرو “۔ علامہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی ہے (محمدابن فضل سے ، انہوں نے اجلح سے) یہ اجلح ابن عبداللہ الکندی الکوتی ہیں۔ (اس آدمی کے بارے میں ابن کثیر نے کہا یہ کسی قدر ضعیف ہے) اس نے زیال ابن حرملہ سے انہوں نے حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے کہ جب حضور ﷺ اس آیت تک آئے۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) توعتبہ نے آپ ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور صلہ رحمی کا واسطہ دیا۔ اور یہ عتبہ اپنے گھر چلا گیا اور پھر قریش کی محفل میں نہ آیا اور اپنے آپ کو ان سے دور رہنے کے لیے گھر میں بند کرلیا۔ اس ڈراوے کے اثرات کی ایک صورت آپ نے دیکھی کہ حصور ﷺ کی زبان سے ایک غیر مسلم نے اسے سنا اور وہ کانپ اٹھا۔ اس حدیث پر غور ابھی ختم نہیں ہوا ، ذرا رکئے ، رسول اللہ کی تصویر دیکھئے ، اس عظیم انسان کے آداب گفتگو دیکھئے۔ آپ کے اطمینان قلبی کو دیکھئے ، آپ نے بڑے اطمینان سے عتبہ کے منہ سے نہایت گری ہوئی باتیں سنیں جن کی آپ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہے۔ لیکن آپ کا دل اپنے عظیم مقصد کو چھوڑ کر نیچے نہیں آتا ۔ یہ چھوٹی چھوٹی پیش کشیں آپ کو گندی تجاویز محسوس ہوتی ہیں جن سے آپ کا نفس نفرت کرتا ہے لیکن حضور ﷺ ہی حلم کے ساتھ ان کو سنتے ہیں۔ شریفانہ انداز میں سنتے ہیں۔ آپ مطمئن ، ٹھہرے ہوئے ، سنجیدہ اور محبت کرنے والے کی طرف سنتے ہیں۔ آپ صبر سے عقبہ کو یہ گری ہوئی تجاویز پیش کرنے دیتے ہیں۔ جب وہ بات ختم کرتا ہے تو پھر بھی جلدی نہیں کرتے نہایت ہی اطمینان کے ساتھ پوچھتے ہیں اور کے ساتھ۔” ابوالولید تم فارغ ہوگئے “ ؟ وہ کہتا ہے ہاں ۔ تو آپ فرماتے ہیں اچھا اب میری بات سنو۔ اور آپ اس وقت تک نہیں شروع کرتے جب تک وہ کہہ نہیں دیتا کہ سنایئے۔ جب حضور نہایت اطمینان ، اعتماد اور بھرپور انداز میں شروع کرتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی یہ ایسی تصویر ہے جسے دیکھتے ہی دل میں ہیبت واحترام کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اعتماد و محبت پیدا ہوتی ہے۔ اور اطمینان ہوجاتا ہے کہ آپ ایک عظیم شخصیت ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سامعین پر آپ چھا جاتے تھے ، جو بھی آپ کی طرف آتا وہ مسحور ہوکر لوٹتا یا مبہوت ہوجاتا۔ اللہ نے سچ کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ منصب رسالت کس کے سپرد کرتا ہے۔۔۔۔ اب ہم اس واقعہ کو چھوڑ کرنص قرآنی کی طرف آتے ہیں۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) اگر یہ منہ موڑیں تو ان سے کہہ دیں کہ میں تم کو اسی کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ایک سفر ہے گزری ہوائی اقوام کے کھنڈرات کی سیر کے لیے۔ جبکہ اس سے قبل قرآن نے ہمیں آسمانوں کی وسعتوں کی سیر کرائی۔ یہ ایک ایسی سیر ہے جو خوف کے مارے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے کہ کیسی کیسی اقوام کو اللہ نے تباہ کیا جو اس جہاں میں اپنے خیال کے مطابق بڑے بنے ہوئے تھے۔ اذجآءتھم۔۔۔۔ الا اللہ (41: 14) ” جب خدا کے رسول انکے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو “۔ یہ وہی ایک کلمہ ہے جسے انبیاء ورسل نے پیش کیا اور جس پر تمام ادیان حقہ کی عمارت تعمیر ہوئی۔ قالوالوشآء۔۔۔۔۔ کٰفرون (41: 14) ” تو انہوں نے کہا ، ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا لہٰذا ہم اس بات کو نہیں مانتے ، جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو “۔ یہ بھی وہی اعتراض ہے جس کا سامنا تمام انبیاء ورسل نے کیا۔ حالانکہ انسانوں سے خطاب کرنے والے رسول کو انسان ہی تو ہونا چاہئے ، جو ان کو جانتا ہو ، اور جسے وہ جانتے ہوں ، جس کے اندر لیڈر شپ کے حقیقی اوصاف وہ پائے جاتے ہوں۔ وہ انہی مشکلات میں رہتا ہو ، جس میں وہ رہتے ہوں ، لیکن عاد اور ثمود نے اپنے رسولوں کی دعوت کا انکار کردیا۔ اور اس لیے کردیا کہ وہ بشر کیوں ہیں۔ ان کی تجویز کے مطابق ملائکہ کیوں نہیں۔ یہاں تک تو عاد وثمود دونوں کی بات ایک تھی کہ دونوں پر عذاب ایک سخت کڑک دار آواز یا دھماکے سے آیا تھا۔ اب یہاں سے آگے ان کی ہلاکت کی تفصیلات الگ تھیں۔ اس لیے الگ الگ بیان کیا گیا۔ فاماعاد۔۔۔۔۔ مناقوۃ (41: 15) ” عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے :” کون ہے ہم سے زیادہ زور آور “۔ حق تو یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جھکے اور زمین میں استکبار نہ کرے۔ پھر انسان ذار اللہ کی عظیم خلقت کے مقابلے میں اپنے آپ کو دیکھے ۔ ، لہٰذا اس کرۂ ارض پر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنا کسی استحقاق کے بغیر ہی ہوتا ہے۔ پھر استکبار کے بعد اظہار غروز بہت بڑا جرم ہے کہ ہمچو مادیگرے نیست۔

فصلت 41:17

آیت نمبر 13 تا 18 یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔ فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔ اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا گیا کہ عتبہ ابن ربیعہ نے ، جو قریش کا ایک سردار تھا ، ایک دن جبکہ وہ قریش کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اور رسول اللہ ﷺ مسجد الحرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے کہنے لگا سرداران قریش ، کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ میں محمد سے بات کروں اور ان کے سامنے کچھ تجاویز پیش کروں ، شاید وہ ان میں سے بعض کو قبول کرلے۔ وہ جو چاہے ہم اس کو دے دیں اور وہ ہمیں معاف کردے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ اسلام لے آئے تھے۔ اور سرداران قریش نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھیوں میں تو اضافہ ہورہا ہے۔ وہ تو زیادہ ہورہے ہیں بلکہ لوگ کثرت سے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اہل مجلس نے کہا ابوالولید یہ تو اچھی بات ہے۔ آپ اٹھیں اور اس سے بات کریں۔ عتبہ اٹھا اور حضور ﷺ کے پاس گیا ، یہ رسول اللہ ؐ کے بیٹھا اور کہا ، بھتیجے ! تو ہم میں خاندانی مقام و مرتبہ کے اعتبار اور جاہ نسب کے لحاظ سے ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ تو نے اپنی قوم کو ایک بہت بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے ۔ تو نے ان کے نظریاتے اور عقائد کی تضحیک بھی کی۔ ان کے دین اور الہوں پت نکتہ چینی کی۔ پھر تو نے ان آباواجداد کی تکفیر کی جو چلے گئے ہیں۔ لہٰذا اب میری کچھ تجاویز سنو ، ان پر غور کرو۔ اگر تم ان میں سے بعض تجاویز کو قبول کروتو آپ ﷺ نے فرمایا ابوالولید آپ کہیں میں سنتا ہوں۔ تو اس نے کہا :” بھتیجے تم نے جو تحریک چلا رکھی ہے اگر اس سے تمہاری غرض مال و دولت جمع کرنا ہے تو ہم تمہارے لیے مال و دولت کی بڑی مقدار جمع کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے ، اگر تم اقتدار چاہتے ہو تو ہم تمہیں ایسے اختیارات کے ساتھ سردار بناتے ہیں کہ تمہاری مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہ ہوسکے گا۔ اور اگر سرداری سے بھی آگے تم بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم بادشاہ بنادیتے ہیں۔ اور اگر یہ صورت ہے کہ جو تم پر آتا ہے وہ کوئی بیماری ہے جسے تم اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتے ہو تو ہم تمہارے لیے بڑے بڑے طبیب لاتے ہیں اور اس میں بہت کچھ خرچ کرنے لے لیے تیار ہیں یہاں تک کہ تم تندرست ہوجاؤ۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے پیچھے لگنے والا اس پر غالب ہوجاتا ہے اور اسے اس کا علاج کرانا پڑتا ہے۔ یہ تھی عتبہ کی تقریر جو اس نے کی۔ جب عتبہ فارغ ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس کی باتیں غور سے سن رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : آپ کی بات ختم ہوگئی تو اس نے کہا ” ہاں “۔ حضور ﷺ نے فرمایا سنئے میری بات ، تو اس نے بھی کہا بات کیجئے ، حضور ﷺ نے فرمایا : حٰم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسمعون (41: 1 تا 4) ” ح م ، یہ خدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے ، ایک ایسی کتاب جس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ، ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ بشارت دینے والا اور ڈرادینے والا ہے۔ مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سب کر نہیں دیتے “ حضور اکرم ﷺ یہ سورت اس کے سامنے پڑھتے رہے۔ عتبہ نے سنا تو وہ خاموش رہا اور اپنے ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے لگا کر ان پر ٹیک لی اور سنتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سجدے کے مقام تک آئے ، تو حضور ﷺ نے سجدہ فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا : ابوالولید تم نے سن لیا۔ اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عتبہ اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا ، ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ابوالولید کا چہرہ وہ نہیں ہے جس کے ساتھ وہ گیا تھا۔ جب وہ ان کے پاس بیٹھا ، تو انہوں نے پوچھا ابوالولید کیا خبر لائے ہو۔ تو اس نے کہا خبریہ ہے کہ خدا کی قسم میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے ، اپنی زندگی میں ، میں نے ایسا کلام ہرگز نہیں سنا۔ خدا کی قسم یہ جادو نہیں ہے ، یہ شعر نہیں ہے ، یہ کہانت نہیں ہے۔ اے برادران قریش میری بات مانو اور یہ معاملہ میرے حوالے کردو ، اس شخص کو چھوڑ دو وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے ، اسے کرنے دو ، اسے اپنے حال پر چھوڑ دو ، خدا کی قسم وہ جو کچھ کہتا ہے ، آئندہ اس کی بڑی اہمیت ہوگی۔ اگر دوسری عرب اقوام نے اسے کچل دیا تو وہ تمہاری مصیبت کو ختم کردیں گے تمہارے بغیر ہی۔ اور اگر یہ شخص عربوں پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمہاری بادشاہی ہوگی۔ اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور تم اس کے ذریعہ خوشحال ترین لوگ ہوجاؤ گے تو انہوں نے کہا ” خدا کی قسم ، ابوالولیدتم پر اس نے اپنی باتوں سے جادو کردیا ۔ اس پر اس نے کہا کہ میری رائے تو یہی ہے ، تم جو چاہو ، کرو “۔ علامہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی ہے (محمدابن فضل سے ، انہوں نے اجلح سے) یہ اجلح ابن عبداللہ الکندی الکوتی ہیں۔ (اس آدمی کے بارے میں ابن کثیر نے کہا یہ کسی قدر ضعیف ہے) اس نے زیال ابن حرملہ سے انہوں نے حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے کہ جب حضور ﷺ اس آیت تک آئے۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) توعتبہ نے آپ ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور صلہ رحمی کا واسطہ دیا۔ اور یہ عتبہ اپنے گھر چلا گیا اور پھر قریش کی محفل میں نہ آیا اور اپنے آپ کو ان سے دور رہنے کے لیے گھر میں بند کرلیا۔ اس ڈراوے کے اثرات کی ایک صورت آپ نے دیکھی کہ حصور ﷺ کی زبان سے ایک غیر مسلم نے اسے سنا اور وہ کانپ اٹھا۔ اس حدیث پر غور ابھی ختم نہیں ہوا ، ذرا رکئے ، رسول اللہ کی تصویر دیکھئے ، اس عظیم انسان کے آداب گفتگو دیکھئے۔ آپ کے اطمینان قلبی کو دیکھئے ، آپ نے بڑے اطمینان سے عتبہ کے منہ سے نہایت گری ہوئی باتیں سنیں جن کی آپ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہے۔ لیکن آپ کا دل اپنے عظیم مقصد کو چھوڑ کر نیچے نہیں آتا ۔ یہ چھوٹی چھوٹی پیش کشیں آپ کو گندی تجاویز محسوس ہوتی ہیں جن سے آپ کا نفس نفرت کرتا ہے لیکن حضور ﷺ ہی حلم کے ساتھ ان کو سنتے ہیں۔ شریفانہ انداز میں سنتے ہیں۔ آپ مطمئن ، ٹھہرے ہوئے ، سنجیدہ اور محبت کرنے والے کی طرف سنتے ہیں۔ آپ صبر سے عقبہ کو یہ گری ہوئی تجاویز پیش کرنے دیتے ہیں۔ جب وہ بات ختم کرتا ہے تو پھر بھی جلدی نہیں کرتے نہایت ہی اطمینان کے ساتھ پوچھتے ہیں اور کے ساتھ۔” ابوالولید تم فارغ ہوگئے “ ؟ وہ کہتا ہے ہاں ۔ تو آپ فرماتے ہیں اچھا اب میری بات سنو۔ اور آپ اس وقت تک نہیں شروع کرتے جب تک وہ کہہ نہیں دیتا کہ سنایئے۔ جب حضور نہایت اطمینان ، اعتماد اور بھرپور انداز میں شروع کرتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی یہ ایسی تصویر ہے جسے دیکھتے ہی دل میں ہیبت واحترام کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اعتماد و محبت پیدا ہوتی ہے۔ اور اطمینان ہوجاتا ہے کہ آپ ایک عظیم شخصیت ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سامعین پر آپ چھا جاتے تھے ، جو بھی آپ کی طرف آتا وہ مسحور ہوکر لوٹتا یا مبہوت ہوجاتا۔ اللہ نے سچ کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ منصب رسالت کس کے سپرد کرتا ہے۔۔۔۔ اب ہم اس واقعہ کو چھوڑ کرنص قرآنی کی طرف آتے ہیں۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) اگر یہ منہ موڑیں تو ان سے کہہ دیں کہ میں تم کو اسی کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ایک سفر ہے گزری ہوائی اقوام کے کھنڈرات کی سیر کے لیے۔ جبکہ اس سے قبل قرآن نے ہمیں آسمانوں کی وسعتوں کی سیر کرائی۔ یہ ایک ایسی سیر ہے جو خوف کے مارے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے کہ کیسی کیسی اقوام کو اللہ نے تباہ کیا جو اس جہاں میں اپنے خیال کے مطابق بڑے بنے ہوئے تھے۔ اذجآءتھم۔۔۔۔ الا اللہ (41: 14) ” جب خدا کے رسول انکے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو “۔ یہ وہی ایک کلمہ ہے جسے انبیاء ورسل نے پیش کیا اور جس پر تمام ادیان حقہ کی عمارت تعمیر ہوئی۔ قالوالوشآء۔۔۔۔۔ کٰفرون (41: 14) ” تو انہوں نے کہا ، ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا لہٰذا ہم اس بات کو نہیں مانتے ، جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو “۔ یہ بھی وہی اعتراض ہے جس کا سامنا تمام انبیاء ورسل نے کیا۔ حالانکہ انسانوں سے خطاب کرنے والے رسول کو انسان ہی تو ہونا چاہئے ، جو ان کو جانتا ہو ، اور جسے وہ جانتے ہوں ، جس کے اندر لیڈر شپ کے حقیقی اوصاف وہ پائے جاتے ہوں۔ وہ انہی مشکلات میں رہتا ہو ، جس میں وہ رہتے ہوں ، لیکن عاد اور ثمود نے اپنے رسولوں کی دعوت کا انکار کردیا۔ اور اس لیے کردیا کہ وہ بشر کیوں ہیں۔ ان کی تجویز کے مطابق ملائکہ کیوں نہیں۔ یہاں تک تو عاد وثمود دونوں کی بات ایک تھی کہ دونوں پر عذاب ایک سخت کڑک دار آواز یا دھماکے سے آیا تھا۔ اب یہاں سے آگے ان کی ہلاکت کی تفصیلات الگ تھیں۔ اس لیے الگ الگ بیان کیا گیا۔ فاماعاد۔۔۔۔۔ مناقوۃ (41: 15) ” عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے :” کون ہے ہم سے زیادہ زور آور “۔ حق تو یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جھکے اور زمین میں استکبار نہ کرے۔ پھر انسان ذار اللہ کی عظیم خلقت کے مقابلے میں اپنے آپ کو دیکھے ۔ ، لہٰذا اس کرۂ ارض پر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنا کسی استحقاق کے بغیر ہی ہوتا ہے۔ پھر استکبار کے بعد اظہار غروز بہت بڑا جرم ہے کہ ہمچو مادیگرے نیست۔

فصلت 41:18

آیت نمبر 13 تا 18 یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔ فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔ اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا گیا کہ عتبہ ابن ربیعہ نے ، جو قریش کا ایک سردار تھا ، ایک دن جبکہ وہ قریش کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اور رسول اللہ ﷺ مسجد الحرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے کہنے لگا سرداران قریش ، کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ میں محمد سے بات کروں اور ان کے سامنے کچھ تجاویز پیش کروں ، شاید وہ ان میں سے بعض کو قبول کرلے۔ وہ جو چاہے ہم اس کو دے دیں اور وہ ہمیں معاف کردے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ اسلام لے آئے تھے۔ اور سرداران قریش نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھیوں میں تو اضافہ ہورہا ہے۔ وہ تو زیادہ ہورہے ہیں بلکہ لوگ کثرت سے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اہل مجلس نے کہا ابوالولید یہ تو اچھی بات ہے۔ آپ اٹھیں اور اس سے بات کریں۔ عتبہ اٹھا اور حضور ﷺ کے پاس گیا ، یہ رسول اللہ ؐ کے بیٹھا اور کہا ، بھتیجے ! تو ہم میں خاندانی مقام و مرتبہ کے اعتبار اور جاہ نسب کے لحاظ سے ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ تو نے اپنی قوم کو ایک بہت بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے ۔ تو نے ان کے نظریاتے اور عقائد کی تضحیک بھی کی۔ ان کے دین اور الہوں پت نکتہ چینی کی۔ پھر تو نے ان آباواجداد کی تکفیر کی جو چلے گئے ہیں۔ لہٰذا اب میری کچھ تجاویز سنو ، ان پر غور کرو۔ اگر تم ان میں سے بعض تجاویز کو قبول کروتو آپ ﷺ نے فرمایا ابوالولید آپ کہیں میں سنتا ہوں۔ تو اس نے کہا :” بھتیجے تم نے جو تحریک چلا رکھی ہے اگر اس سے تمہاری غرض مال و دولت جمع کرنا ہے تو ہم تمہارے لیے مال و دولت کی بڑی مقدار جمع کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے ، اگر تم اقتدار چاہتے ہو تو ہم تمہیں ایسے اختیارات کے ساتھ سردار بناتے ہیں کہ تمہاری مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہ ہوسکے گا۔ اور اگر سرداری سے بھی آگے تم بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم بادشاہ بنادیتے ہیں۔ اور اگر یہ صورت ہے کہ جو تم پر آتا ہے وہ کوئی بیماری ہے جسے تم اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتے ہو تو ہم تمہارے لیے بڑے بڑے طبیب لاتے ہیں اور اس میں بہت کچھ خرچ کرنے لے لیے تیار ہیں یہاں تک کہ تم تندرست ہوجاؤ۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے پیچھے لگنے والا اس پر غالب ہوجاتا ہے اور اسے اس کا علاج کرانا پڑتا ہے۔ یہ تھی عتبہ کی تقریر جو اس نے کی۔ جب عتبہ فارغ ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس کی باتیں غور سے سن رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : آپ کی بات ختم ہوگئی تو اس نے کہا ” ہاں “۔ حضور ﷺ نے فرمایا سنئے میری بات ، تو اس نے بھی کہا بات کیجئے ، حضور ﷺ نے فرمایا : حٰم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسمعون (41: 1 تا 4) ” ح م ، یہ خدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے ، ایک ایسی کتاب جس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ، ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ بشارت دینے والا اور ڈرادینے والا ہے۔ مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سب کر نہیں دیتے “ حضور اکرم ﷺ یہ سورت اس کے سامنے پڑھتے رہے۔ عتبہ نے سنا تو وہ خاموش رہا اور اپنے ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے لگا کر ان پر ٹیک لی اور سنتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سجدے کے مقام تک آئے ، تو حضور ﷺ نے سجدہ فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا : ابوالولید تم نے سن لیا۔ اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عتبہ اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا ، ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ابوالولید کا چہرہ وہ نہیں ہے جس کے ساتھ وہ گیا تھا۔ جب وہ ان کے پاس بیٹھا ، تو انہوں نے پوچھا ابوالولید کیا خبر لائے ہو۔ تو اس نے کہا خبریہ ہے کہ خدا کی قسم میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے ، اپنی زندگی میں ، میں نے ایسا کلام ہرگز نہیں سنا۔ خدا کی قسم یہ جادو نہیں ہے ، یہ شعر نہیں ہے ، یہ کہانت نہیں ہے۔ اے برادران قریش میری بات مانو اور یہ معاملہ میرے حوالے کردو ، اس شخص کو چھوڑ دو وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے ، اسے کرنے دو ، اسے اپنے حال پر چھوڑ دو ، خدا کی قسم وہ جو کچھ کہتا ہے ، آئندہ اس کی بڑی اہمیت ہوگی۔ اگر دوسری عرب اقوام نے اسے کچل دیا تو وہ تمہاری مصیبت کو ختم کردیں گے تمہارے بغیر ہی۔ اور اگر یہ شخص عربوں پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمہاری بادشاہی ہوگی۔ اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور تم اس کے ذریعہ خوشحال ترین لوگ ہوجاؤ گے تو انہوں نے کہا ” خدا کی قسم ، ابوالولیدتم پر اس نے اپنی باتوں سے جادو کردیا ۔ اس پر اس نے کہا کہ میری رائے تو یہی ہے ، تم جو چاہو ، کرو “۔ علامہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی ہے (محمدابن فضل سے ، انہوں نے اجلح سے) یہ اجلح ابن عبداللہ الکندی الکوتی ہیں۔ (اس آدمی کے بارے میں ابن کثیر نے کہا یہ کسی قدر ضعیف ہے) اس نے زیال ابن حرملہ سے انہوں نے حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے کہ جب حضور ﷺ اس آیت تک آئے۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) توعتبہ نے آپ ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور صلہ رحمی کا واسطہ دیا۔ اور یہ عتبہ اپنے گھر چلا گیا اور پھر قریش کی محفل میں نہ آیا اور اپنے آپ کو ان سے دور رہنے کے لیے گھر میں بند کرلیا۔ اس ڈراوے کے اثرات کی ایک صورت آپ نے دیکھی کہ حصور ﷺ کی زبان سے ایک غیر مسلم نے اسے سنا اور وہ کانپ اٹھا۔ اس حدیث پر غور ابھی ختم نہیں ہوا ، ذرا رکئے ، رسول اللہ کی تصویر دیکھئے ، اس عظیم انسان کے آداب گفتگو دیکھئے۔ آپ کے اطمینان قلبی کو دیکھئے ، آپ نے بڑے اطمینان سے عتبہ کے منہ سے نہایت گری ہوئی باتیں سنیں جن کی آپ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہے۔ لیکن آپ کا دل اپنے عظیم مقصد کو چھوڑ کر نیچے نہیں آتا ۔ یہ چھوٹی چھوٹی پیش کشیں آپ کو گندی تجاویز محسوس ہوتی ہیں جن سے آپ کا نفس نفرت کرتا ہے لیکن حضور ﷺ ہی حلم کے ساتھ ان کو سنتے ہیں۔ شریفانہ انداز میں سنتے ہیں۔ آپ مطمئن ، ٹھہرے ہوئے ، سنجیدہ اور محبت کرنے والے کی طرف سنتے ہیں۔ آپ صبر سے عقبہ کو یہ گری ہوئی تجاویز پیش کرنے دیتے ہیں۔ جب وہ بات ختم کرتا ہے تو پھر بھی جلدی نہیں کرتے نہایت ہی اطمینان کے ساتھ پوچھتے ہیں اور کے ساتھ۔” ابوالولید تم فارغ ہوگئے “ ؟ وہ کہتا ہے ہاں ۔ تو آپ فرماتے ہیں اچھا اب میری بات سنو۔ اور آپ اس وقت تک نہیں شروع کرتے جب تک وہ کہہ نہیں دیتا کہ سنایئے۔ جب حضور نہایت اطمینان ، اعتماد اور بھرپور انداز میں شروع کرتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی یہ ایسی تصویر ہے جسے دیکھتے ہی دل میں ہیبت واحترام کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اعتماد و محبت پیدا ہوتی ہے۔ اور اطمینان ہوجاتا ہے کہ آپ ایک عظیم شخصیت ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ کے سامعین پر آپ چھا جاتے تھے ، جو بھی آپ کی طرف آتا وہ مسحور ہوکر لوٹتا یا مبہوت ہوجاتا۔ اللہ نے سچ کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ منصب رسالت کس کے سپرد کرتا ہے۔۔۔۔ اب ہم اس واقعہ کو چھوڑ کرنص قرآنی کی طرف آتے ہیں۔ فان اعرضوا۔۔۔۔ وثمود (41: 13) اگر یہ منہ موڑیں تو ان سے کہہ دیں کہ میں تم کو اسی کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ایک سفر ہے گزری ہوائی اقوام کے کھنڈرات کی سیر کے لیے۔ جبکہ اس سے قبل قرآن نے ہمیں آسمانوں کی وسعتوں کی سیر کرائی۔ یہ ایک ایسی سیر ہے جو خوف کے مارے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے کہ کیسی کیسی اقوام کو اللہ نے تباہ کیا جو اس جہاں میں اپنے خیال کے مطابق بڑے بنے ہوئے تھے۔ اذجآءتھم۔۔۔۔ الا اللہ (41: 14) ” جب خدا کے رسول انکے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو “۔ یہ وہی ایک کلمہ ہے جسے انبیاء ورسل نے پیش کیا اور جس پر تمام ادیان حقہ کی عمارت تعمیر ہوئی۔ قالوالوشآء۔۔۔۔۔ کٰفرون (41: 14) ” تو انہوں نے کہا ، ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا لہٰذا ہم اس بات کو نہیں مانتے ، جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو “۔ یہ بھی وہی اعتراض ہے جس کا سامنا تمام انبیاء ورسل نے کیا۔ حالانکہ انسانوں سے خطاب کرنے والے رسول کو انسان ہی تو ہونا چاہئے ، جو ان کو جانتا ہو ، اور جسے وہ جانتے ہوں ، جس کے اندر لیڈر شپ کے حقیقی اوصاف وہ پائے جاتے ہوں۔ وہ انہی مشکلات میں رہتا ہو ، جس میں وہ رہتے ہوں ، لیکن عاد اور ثمود نے اپنے رسولوں کی دعوت کا انکار کردیا۔ اور اس لیے کردیا کہ وہ بشر کیوں ہیں۔ ان کی تجویز کے مطابق ملائکہ کیوں نہیں۔ یہاں تک تو عاد وثمود دونوں کی بات ایک تھی کہ دونوں پر عذاب ایک سخت کڑک دار آواز یا دھماکے سے آیا تھا۔ اب یہاں سے آگے ان کی ہلاکت کی تفصیلات الگ تھیں۔ اس لیے الگ الگ بیان کیا گیا۔ فاماعاد۔۔۔۔۔ مناقوۃ (41: 15) ” عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے :” کون ہے ہم سے زیادہ زور آور “۔ حق تو یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جھکے اور زمین میں استکبار نہ کرے۔ پھر انسان ذار اللہ کی عظیم خلقت کے مقابلے میں اپنے آپ کو دیکھے ۔ ، لہٰذا اس کرۂ ارض پر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنا کسی استحقاق کے بغیر ہی ہوتا ہے۔ پھر استکبار کے بعد اظہار غروز بہت بڑا جرم ہے کہ ہمچو مادیگرے نیست۔

فصلت 41:19

اب جبکہ فطرت کائنات کے اندر اللہ کی قوتوں کا مطالعہ کرلیا گیا۔ انسانی تاریخ میں اللہ کے فیصلوں کو ہم نے دیکھ لیا کہ کتنی کتنی طاقتور تہذیبوں کو نیست و نابود کیا گیا۔ اب اللہ ان کو بتاتا ہے کہ خود نفس انسانی پر اللہ کی بادشاہت کس طرح قائم ہے کہ خود اپنی ذات کی کسی چیز کے بھی وہ مالک نہیں ہیں۔ اور اللہ کے اقتدار سے وہ اپنی ذات کی کوئی چیز بھی بچا کر نہیں رکھ سکتے۔ یہاں تک کہ ان کے کان ، ان کی آنکھیں ، ان کا گوشت و پوست بھی اللہ کے مطیع فرمان ہیں اور جب قیامت کا دن آئے گا تو یہ سب خود انسان پر گواہ ہوں گے۔ اس وقت انسان کی حیرانگی کا عالم کیا ہوگا ! ملاحظہ کیجئے :

فصلت 41:20

اب جبکہ فطرت کائنات کے اندر اللہ کی قوتوں کا مطالعہ کرلیا گیا۔ انسانی تاریخ میں اللہ کے فیصلوں کو ہم نے دیکھ لیا کہ کتنی کتنی طاقتور تہذیبوں کو نیست و نابود کیا گیا۔ اب اللہ ان کو بتاتا ہے کہ خود نفس انسانی پر اللہ کی بادشاہت کس طرح قائم ہے کہ خود اپنی ذات کی کسی چیز کے بھی وہ مالک نہیں ہیں۔ اور اللہ کے اقتدار سے وہ اپنی ذات کی کوئی چیز بھی بچا کر نہیں رکھ سکتے۔ یہاں تک کہ ان کے کان ، ان کی آنکھیں ، ان کا گوشت و پوست بھی اللہ کے مطیع فرمان ہیں اور جب قیامت کا دن آئے گا تو یہ سب خود انسان پر گواہ ہوں گے۔ اس وقت انسان کی حیرانگی کا عالم کیا ہوگا ! ملاحظہ کیجئے :

فصلت 41:21

یہاں اچانک قارئین کے سامنے ایک منظر آتا ہے ، انتہائی مصیبت کا منظر ہے۔ اللہ کا اقتدار عروج پر ہے۔ انسان کے اعضا اللہ کے حکم پر کلمہ حق کہتے ہیں۔ یہ کس کے اعضا ہیں ؟ اللہ کے دشمنوں کے اعضاء کیا ہے انجام اعدائے الٰہی کا۔ یہ حشر کے میدان میں جمع ہیں ، آدم (علیہ السلام) سے لے کر اس جہاں پر آخری پیدا ہونے والا انسان تک حاضر ہیں۔ ایک ریوڑ کی طرح جمع ہوں گے۔ ان میں سے دشمنان خدا کو چلایا جائے گا کس طرف ؟ آگ کی طرف ، جب حساب و کتاب شروع ہوگا۔ ان کے خلاف ایسے گواہ آتے ہیں جن کے بارے میں ان کی توقع ہی نہ تھی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی حالانکہ یہ ان کے حق میں جھوٹ بولتی تھی ، افتراء باندھتی تھی اور مذاق اڑاتی تھی۔ ان کے کان ، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف عدالت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور تسلیم ورضا کے ساتھ اللہ کے ہاں گواہی دے رہے ہیں ، جو کچھ انہوں نے کہا ، پورا پورا بیان کر رہے ہیں۔ یہ لوگ تو یہ سب باتیں اللہ سے چھپاتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ اللہ انہیں دیکھ نہیں رہا ہے۔ وہ اپنی نیتوں اور جرائم کو ہلکا سمجھتے ہیں اور چھپاتے ہیں لیکن اپنے اعضاء سے تو نہ چھپا سکتے تھے۔ اعضاء تو ان کے ساتھ تھے۔ یہ تو ان کا حصہ تھے۔ یہ اعضاء ان باتوں کو کھول دیتے ہیں جن کے بارے ان کا خیال تھا کہ وہ خفیہ راز میں اور تمام لوگوں سے چھپے ہوئے ہیں۔ رب العالمین سے بھی چھپے ہیں۔ اللہ کی سلطنت اور اقتدار اعلیٰ کا یہ منظر اچانک ہمارے سامنے آتا ہے۔ اور اقتدار الٰہی ہم سے ہمارے اعضاء بھی چھین لیتا ہے۔ وقالوا لجلودھم لم شھدتم علینا (41 : 21) ” وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ “ تو وہ ان کو وہ حقیقت بتاتے ہیں جو ان سے پوشیدہ تھی۔ اور یہ بات وہ بغیر کسی جھجک اور رکھ رکھاؤ کے بتاتے ہیں۔ قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء (41 : 21) ” وہ جواب دیں گے ہمیں اس خدا نے گویائی دی ہے ، جس نے ہر چیز کو گویائی دی ہے ، جس نے ہر چیز کو گویا کردیا ہے “۔ کیا وہی نہیں ہے جس نے زبانوں کو گویائی دی۔ کیا وہ دوسرے اعضاء کو گویائی نہیں دے سکتا۔ آج تو اس نے ہر چیز کو گویا کردیا ہے ، ہر چیز اب بولتی ہے۔ وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون (41 : 21) ” اسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو “۔ تخلیق بھی اسی کی ہے اور آخر کار رجوع بھی اس کی طرف ہوگا۔ اس کے قبضہ قدرت سے کوئی باہر نہیں ہے۔ اور نہ بھاگ سکتا ہے۔ نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ ان باتوں کا تو انہوں نے انکار کیا تھا۔ اب خود ان کے اعضاء ان کا اقرار کر رہے ہیں۔ اب اگلی آیت اعضاء کے کلام کی حکایت بھی ہوسکتی ہے اور اس پورے واقعہ پر تبصرہ بھی ہو سکتا ہے۔

فصلت 41:22

وما کنتم تستترون ۔۔۔۔۔۔ ولا جلودکم (41 : 22) ” تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان ، تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی “۔ تمہارے تو تصور میں بھی نہ تھا کہ یہ اعضاء تمہارے خلاف بغاوت کردیں گے ۔ اور تمہاری طاقت میں بھی یہ بات نہ تھی کہ تم کسی بھی طرح اللہ سے چھپا سکو اگر چاہو بھی۔ ولکن ظننتم ان اللہ لا یعلم کثیرا مما تعملون (41 : 22) ” بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے “۔ ناسمجھی نے تمہیں دھوکہ دے دیا۔ یہ نہایت ہی جاہلانہ اور بدکارانہ روش تھی جس نے تمہیں جہنم کے دھانے پر پہنچا دیا۔

فصلت 41:23

وذلکم ظننکم ۔۔۔۔ من الخسرین (41 : 23) ” تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا ، تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑگئے “۔ اور اب اس پورے منظر پر تبصرہ اور اس سے حاصل ہونے والا سبق :

فصلت 41:24

فان یصبروا فالنار مثوی لھم (41 : 24) ” اس حالت میں اگر وہ صبر کریں تو آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے “۔ کیا سنجیدہ مزاح ہے۔ صبر اب آگ جہنم پر ہے۔ یہ وہ صبر نہیں ہے جس کے نتیجے میں انسان کو خوشی ، اور حسن جزاء نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر جزاء نار جہنم ہے کیونکہ اب تو قرار دیا جا چکا ہے کہ یہی ان کا ٹھکانا ہے۔ وان یستعتبوا فماھم من المعتبین (41 : 24) ” اگر رجوع کا موقعہ چاہیں گے تو کوئی موقعہ انہیں نہ دیا جائے گا “ ۔ نہ وہاں رضا مندی ہے اور نہ وہاں توبہ کی گنجائش ہے۔ کیونکہ جو شخص معافی مانگتا ہے تو معافی تب ہوتی ہے جب ظلم و زیادتی کو زائل کر کے معافی طلب کی جائے۔ آج تو معافی اور ازالے کا دروازہ ہی بند ہوچکا ہے۔ اور اس لئے ان کے پاس کوئی موقعہ نہیں ہے۔

فصلت 41:25

اب اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا اقتدار تو تمہارے دلوں پر بھی قائم ہے۔ جب تم زمین میں تھے اس وقت بھی تمہارے دل اللہ کے قبضہ قدرت میں تھے۔ جب تم اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔ جب اللہ کو تمہارے دلوں کا میلان فساد معلوم ہوا تو اللہ نے تمہارے دلوں پر ایسے ساتھی مسلط کر دئیے جو جنوں میں سے بھی تھے اور انسانوں میں سے بھی ۔ یہ برائی کو تمہارے دل و دماغ کے لئے مزین کرتے تھے۔ یہ ساتھی ان کو اس قافلے میں ملا دیتے تھے جس کا انجام گھاٹے کا لکھا گیا تھا۔ یوں ان پر کلمہ عذاب اور فیصلہ عذاب صادق ہوا : ذرا دیکھیں تو سہی کہ وہ کس حد تک اللہ کے قبضے میں ہیں ، جس کی بندگی کرنے سے وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔ اور ان کے دل جو ان کے پہلوؤں میں ہیں ، وہ ان کو عذاب اور برے انجام کی طرف لے جارہے ہیں۔ جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے اس پر وہ ایسے ساتھ مسلط کردیتا ہے جو اس کے دل میں وسوسہ اندازی کا کام کرتے ہیں اور اس کے ماحول میں جو بری چیز ہوتی ہے اس کو اس کے لئے مزین کرتے ہیں اور اس کے جو اعمال ہوتے ہیں اس کی نظروں میں اچھے بناتے ہیں ، ان کو ان میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی اور انسان کے لئے سب سے بڑی بیماری یہ ہوتی ہے کہ اس کے برے افعال اور اس کی گمراہی کے بارے میں اس کا احساس ختم ہوجائے۔ اپنی ذات کے ہر پہلو کے بارے میں وہ یہ دیکھنے لگے کہ وہ اچھا ہے ۔ اس مقام پر جب انسان پہنچ جائے تو پھر وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ لوگ اس گلے میں شامل ہوگئے جس نے ہلاکت کی طرف جانا تھا۔ یعنی ان گروہوں میں جن پر اللہ کا فیصلہ طے ہوچکا تھا ، جنوں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی کہ : انھم کانوا خسرین (41 : 25) ” کہ یقیناً وہ خسارہ میں رہ جائیں گے “۔ ان لوگوں کے جو ساتھی تھے ان کو گمراہ کرنے کے لئے ، انہوں نے ان کو آمادہ کیا کہ قرآن کا مقابلہ اس طرح کرو کہ اسے نہ سنو ، نہ سننے دو کیونکہ انہوں نے معلوم کرلیا تھا کہ اس کے اندر غضب کی تاثیر ہے۔

فصلت 41:26

یہ وہ بات ہے جو قریش کے کبراء اپنے آپ کو اور جمہور عوام کو کہتے تھے۔ یہ لوگ قرآن کریم کی حیرت انگیز اثر آفرینی سے عاجز آگئے تھے۔ یہ اثر ان پر بھی تھا اور عوام پر بھی تھا۔ لا تسمعوا لھذا القران (41 : 26) ” اس قرآن کو ہرگز نہ سنو “۔ کیونکہ جس طرح وہ کہتے تھے یہ ان پر جادو کرتا ہے۔ ان کی سوچ پر غالب آجاتا ہے اور ان کی زندگی کو خراب کر رہا ہے۔ باپ اور بیٹے کے درمیان تفرقہ کردیتا ہے ، خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی کردیتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن ایسی جدائیاں کردیتا تھا لیکن اس لیے کہ خود اللہ نے ایمان اور کفر کے درمیان جدائی کردی ہے ، ہدایت اور ضلالت کے درمیان جدائی کردی ہے ، جو اسے مانتا تھا وہ خلوص سے مانتا تھا۔ اس لیے اس کے بعد وہ کسی اور تعلق کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔ چناچہ اس طرح جدائیاں ہوجاتی تھیں۔ والغوا فیہ لعلکم تغلبون (41 : 26) ” اور اسی میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ یہ پاگلوں کی باتیں ہیں۔ لیکن وہ اس کے سوا کہہ کیا سکتے ہیں وہ تو عاجز آچکے ہیں ، وہ دلیل وبرہان سے بات نہیں کرسکتے کہ انہیں کوئی دلیل و حجت دستیاب ہی نہیں ہے۔ اس لیے پاگل پنے پر اتر آئے ہیں اور جو شخص ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتا وہ پھر اس پاگل پنے پر اتر آتا ہے۔ چناچہ انہوں نے رستم و اسفند یار کے قصوں کے ذریعہ قرآن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ابن نصر خصوصاً یہ کام کرتا تھا۔ اس طرح شورو شغب اور سیٹیاں بجانے کے ذریعے قرآن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ابن نصر خصوصاً یہ کام کرتا تھا۔ اس طرح شورو شغب اور سیٹیاں بجانے کے ذریعے بھی وہ یہ کام کرتے تھے اور اپنے سجع اور رجز کے اشعار کے ذریعے بھی کرتے تھے لیکن یہ سب تدبیریں ہوا ہوگئیں اور قرآن غالب رہا۔ کیونکہ اس کے اندر غلبے کا راز تھا۔ وہ حق پر مشتمل تھا۔ اور سچائی ہمیشہ غالب ہوا کرتی ہے۔ اگرچہ اہل باطل لاکھ جتن کریں ان کی اس مکروہ بات کی تردید میں ان کو سخت ڈراوا دیا جاتا ہے۔

فصلت 41:27

آگے اب بہت جلد ہم انہیں آگ میں دیکھتے ہیں اور اب ان دو ساتھیوں پر ان لوگوں کی نفرت کی بوچھاڑ ہوتی ہے جنہوں نے ان کو دھوکہ دیا تھا ، اور ان کے لئے ان کے ماحول کو مزین کردیا تھا اور دھوکہ دے کر اس مقام تک انہیں لے آئے تھے۔

فصلت 41:28

آگے اب بہت جلد ہم انہیں آگ میں دیکھتے ہیں اور اب ان دو ساتھیوں پر ان لوگوں کی نفرت کی بوچھاڑ ہوتی ہے جنہوں نے ان کو دھوکہ دیا تھا ، اور ان کے لئے ان کے ماحول کو مزین کردیا تھا اور دھوکہ دے کر اس مقام تک انہیں لے آئے تھے۔

فصلت 41:29

یہ بہت سخت غصہ ہے۔ یہ لوگ اب انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں اور ان کے دلوں میں یہ خواہش ہے کہ ۔ نجعلھما تحت اقدامنا (41 : 29) ” ہم انہیں پاؤن تلے روند ڈالیں “۔ لیکونا من الاسفلین (41 : 29) ” تا کہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں “۔ لیکن پہلے تو تم دوست تھے ، گہرے یار تھے ، ان کے وسوسوں اور ان کی تزئین پر تم یقین کرتے تھے۔ یہ تو انجام تھا وسوسوں کا اور عوام کو گمراہ کرنے کا۔ لیکن لوگوں کی اصلاح کے لئے جدو جہد کرنے والوں کا بھی ایک انجام اور اجر ہے۔ یہ مومن ہیں ، جنہوں نے اخلاص کے ساتھ کہہ دیا کہ بس اللہ ہمارا رب ہے ، پھر اپنی راہ پر استقامت اختیار کی یعنی ایمان لائے اور عمل صالح کیا۔ ایسے لوگوں پر اللہ پھر برے ساتھی مسلط نہیں کرتا۔ ان کے ساتھ ملائکہ ہوتے ہیں جو ہر وقت ان کے دلوں پر امن و اطمینان وحی کرتے رہتے ہیں اور ان کو جنت کی خوشخبری دیتے رہتے ہیں اور یہ فرشتے ان کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں محبت کرتے ہیں۔

فصلت 41:30

یعنی اللہ کو اپنا رب کہہ کر ، استقامت کے یہ معنی ہیں کہ اس اقرار کے تقاضے پورے کئے جائیں جس طرح ان کا حق ہے۔ ضمیر میں شعور طور پر یہ عقیدہ بیٹھا ہوا ہو ، زندگی اور عمل میں اس پر گامزن ہو ، اس راہ میں اگر تکالیف آئیں تو ان کو برداشت کرے۔ اس معنے میں یہ دراصل بہت بڑا حکم ہے اور بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ہاں پھر اس کا بہت بڑا اجر ہے کہ ملائکہ ان پر نازل ہوں گے اور ان کے ہمدم ہوں گے۔ ان کے دوست ہوں گے اور وہ جو باتیں کریں گے اللہ نے ان فرشتوں کی زبانی ان کو نقل کیا ہے۔ الا تخافوا (41 : 30) ” نہ ڈرو “ ولا تحزنوا (41 : 30) ” نہ غم کرو “۔ اور اس جنت کے لیے خوش ہوجاؤ۔ بشارت ہے تم کو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی۔ اس کے بعد یہ فرشتے پھر ان کے سامنے اس جنت کی تصویر کھینچتے ہیں جو انہیں ملنے والی ہے کہ ” وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے ، تمہاری ہوگی “۔۔۔۔ پھر وہ مزید حسن و جمال اور عزت و استقبال کا ذکر کرتے ہیں : ” یہ ہے سامان ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے “ ۔ یعنی یہ اللہ نے تمہاری ضیافت اور مہمانی کے لئے تیار کیا ہے۔ اب ان نعمتوں کے بعد اور کیا رہ جاتا ہے۔

فصلت 41:31

یعنی اللہ کو اپنا رب کہہ کر ، استقامت کے یہ معنی ہیں کہ اس اقرار کے تقاضے پورے کئے جائیں جس طرح ان کا حق ہے۔ ضمیر میں شعور طور پر یہ عقیدہ بیٹھا ہوا ہو ، زندگی اور عمل میں اس پر گامزن ہو ، اس راہ میں اگر تکالیف آئیں تو ان کو برداشت کرے۔ اس معنے میں یہ دراصل بہت بڑا حکم ہے اور بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ہاں پھر اس کا بہت بڑا اجر ہے کہ ملائکہ ان پر نازل ہوں گے اور ان کے ہمدم ہوں گے۔ ان کے دوست ہوں گے اور وہ جو باتیں کریں گے اللہ نے ان فرشتوں کی زبانی ان کو نقل کیا ہے۔ الا تخافوا (41 : 30) ” نہ ڈرو “ ولا تحزنوا (41 : 30) ” نہ غم کرو “۔ اور اس جنت کے لیے خوش ہوجاؤ۔ بشارت ہے تم کو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی۔ اس کے بعد یہ فرشتے پھر ان کے سامنے اس جنت کی تصویر کھینچتے ہیں جو انہیں ملنے والی ہے کہ ” وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے ، تمہاری ہوگی “۔۔۔۔ پھر وہ مزید حسن و جمال اور عزت و استقبال کا ذکر کرتے ہیں : ” یہ ہے سامان ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے “ ۔ یعنی یہ اللہ نے تمہاری ضیافت اور مہمانی کے لئے تیار کیا ہے۔ اب ان نعمتوں کے بعد اور کیا رہ جاتا ہے۔

فصلت 41:32

یعنی اللہ کو اپنا رب کہہ کر ، استقامت کے یہ معنی ہیں کہ اس اقرار کے تقاضے پورے کئے جائیں جس طرح ان کا حق ہے۔ ضمیر میں شعور طور پر یہ عقیدہ بیٹھا ہوا ہو ، زندگی اور عمل میں اس پر گامزن ہو ، اس راہ میں اگر تکالیف آئیں تو ان کو برداشت کرے۔ اس معنے میں یہ دراصل بہت بڑا حکم ہے اور بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ہاں پھر اس کا بہت بڑا اجر ہے کہ ملائکہ ان پر نازل ہوں گے اور ان کے ہمدم ہوں گے۔ ان کے دوست ہوں گے اور وہ جو باتیں کریں گے اللہ نے ان فرشتوں کی زبانی ان کو نقل کیا ہے۔ الا تخافوا (41 : 30) ” نہ ڈرو “ ولا تحزنوا (41 : 30) ” نہ غم کرو “۔ اور اس جنت کے لیے خوش ہوجاؤ۔ بشارت ہے تم کو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی۔ اس کے بعد یہ فرشتے پھر ان کے سامنے اس جنت کی تصویر کھینچتے ہیں جو انہیں ملنے والی ہے کہ ” وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے ، تمہاری ہوگی “۔۔۔۔ پھر وہ مزید حسن و جمال اور عزت و استقبال کا ذکر کرتے ہیں : ” یہ ہے سامان ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے “ ۔ یعنی یہ اللہ نے تمہاری ضیافت اور مہمانی کے لئے تیار کیا ہے۔ اب ان نعمتوں کے بعد اور کیا رہ جاتا ہے۔

فصلت 41:33

اس سبق کا خاتمہ ایک داعی کے خدو خال اور حوصلہ افزائی پر ہوتا ہے۔ اس کی روح ، اس کے الفاظ ، اس کے آداب اور اس کی میٹھی میٹھی باتوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ان باتوں کی طرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کے تمام داعیوں کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ سورت کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ پیغمبروں اور داعیوں کے ساتھ عوام الناس کا رویہ کس قدر ظالمانہ ہوتا ہے۔ اور وہ کس قدر گستاخی اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں داعی کو بتایا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کا منہاج دعوت یہ ہے۔ دعوت اسلامی کا کام ایک بہت بڑا اور کٹھن کام ہے ، داعی کو مخاطب کی پیچیدہ نفسیات کا ، اس کی جہالت کا ، اس کی عزت نفس ، اس کے استکبار کا ، اس کی خواہشات کا ، اس کے مفادات کا اور اس کے مرتبہ و مقام کا سامنا ہوتا ہے۔ صرف اللہ وحدہ کی حاکمیت کی طرف دعوت دینا ، ان میں سے بیشتر چیزوں کو خطرے میں ڈال دیتا ہے ۔ پھر یہ دعوت دینا اور ایک طبقاتی معاشرے میں دینا کہ سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ برابر ہیں ، ایسے حالات میں دعوت کی ذمہ داری اٹھانا حقیقت ہے کہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ لیکن مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک عظیم کام بھی تو ہے۔ ومن احسن قولا ۔۔۔۔۔۔ من المسلمین (33) ” اور اس شخص کی بات سے اور اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا میں مسلمان ہوں “۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام لے کر اٹھے ہیں ان کی دعوت اس عالم میں سب سے برگذیدہ دعوت ہے ، ان کے کلمے آسمانوں کی طرف پاکیزہ کلمات کی صورت میں بلند ہوتے ہیں ، لیکن داعی کی دعوت کے ساتھ اس کا عمل بھی ایسا ہی ہونا چاہئے ۔ وہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا ہو۔ اس کی ذات اس دعوت میں گم ہوجائے اور اس کے سب کام دعوت ہوجائیں اور اس کی تمام سرگرمیوں میں اس کا اپنا کچھ نہ ہو۔ اس کے بعد پھر داعی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے کہ اس کی دعوت کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔ کوئی انکار کرتا ہے ، کوئی گستاخی کرتا ہے ، کوئی تکبر کرتا ہے ، بہرحال داعی ایک اچھا انداز لے کر ہی چلتا ہے۔ وہ تو بلند مقام پر ہوتا ہے۔ اس کا مخالف برائی لے کر آتا ہے۔ اس کا مخالف تو نہایت ہی گرے ہوئے مقام پر ہوتا ہے۔

فصلت 41:34

ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ (41 : 34) ” اے نبی ، نیکی اور بدی یکساں نہیں “۔ اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ برائی کا جواب برائی سے دے۔ نیکی اور بدی کا اثر یکساں نہیں ہوتا۔ نہ دونوں کی قدرو قیمت یکساں ہے۔ داعی کو چاہئے کہ شر کا مقابلہ شر سے کرنے کی دلی رغبت کو ترک کر دے اور برائی کو صبر ، معافی اور سنجیدگی کے ساتھ رد کرے۔ کرخت نفوس کو اعتماد اور نرمی پر آمادہ کرے۔ چناچہ دشمن دوستی سے بدل جائے اور سختی نرمی میں بدل جائے۔ ادفع بالتی ھی ۔۔۔۔۔ ولی حمیم (41 : 34) ” تم بدی کو نیکی سے دفع کرو ، جو بہترین ہو ، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے “۔ اسلام کا یہ اصول بسا اوقات نہایت ہی اچھے نتائج دیتا ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سخت دشمنی دوستی میں بدل جاتی ہے اور غضب اور کینہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ تکبر ، شرم و حیاء میں بدل جاتا ہے ، بشرطیکہ کوئی اچھی بات کرنا جانتا ہو ، اور سنجیدگی سے بات کرسکتا ہو ، اور ایک نہایت ہی ہیجانی کیفیت کے سامنے مسکراہٹ سے بات کرسکتا ہو۔ ایک ایسے شخص کے سامنے نہایت ہی ٹھنڈے مزاج کا مظاہرہ کرسکتا ہو ، جو آپے سے باہر ہوگیا ہو۔ اگر کسی ایسے شخص کا مقابلہ ایسے ہی انداز میں کیا گیا جس طرح اس کا ہے تو پھر کیا ہوگا۔ وہ مزید آپے سے باہر ہوگا ، کبر کرے گا اور سرکشی پر آمادہ ہوگا ، حیا و شرم کا جامہ اتار پھینکے گا اور آپے سے باہر ہو کر آمادۂ جنگ ہوگا۔ لیکن اس میں ایک شرط ہے ، وہ یہ کہ اس طرح کی شرافت کا مظاہرہ کرنے والا ایک بڑے دل اور بڑے مقام کا مالک ہو ، وہ اس پوزیشن میں ہو کہ اگر اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہے تو دے سکے۔ برائی کا جواب دینے کی اگر قدرت ہو تو پھر شرافت کا اثر ہوگا۔ ورنہ ” گداگر تواضع گند خوئے اوست “۔ یہ نہ ہو کہ اچھا رویہ اختیار کرنے کو کمزوری سمجھا جائے ۔ اگر مخالف نے یہ سمجھ لیا کہ یہ کمزور ہے تو پھر وہ ہرگز احترام نہ کرے گا اور پھر اچھائی کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ پھر یہ بات بھی نوٹ کرلینا چاہئے کہ اس شرافت کا مظاہرہ شخصی دست درازی کے مواقع پر ہونا چاہئے۔ اگر کوئی اسلام اور اللہ کے اصولوں پر دست درازی کرتا ہے ، یا کوئی اہل ایمان پر مظالم ڈھاتا ہے۔ لوگوں کو دین سے روکتا ہے ، تو اس صورت میں ہر قسم کے ہتھیاروں سے مقابلہ ضروری ہے یا پھر اگر مقابلے کی صورت نہ ہو تو صبر کیا جاسکتا ہے۔ یہ نہ ہو کہ ایک تو اسلام کی بیخ کنی کر رہا ہو اور دوسرا برائی کا بدلہ نیکی سے دے رہا ہو۔ یہ مقام ، کہ برائی کو نیکی کے ساتھ دفع کرنا ، اور غیض و غضب کے مقام پر رواداری اور برداشت کرنا اور یہ فیصلہ کر سکنا کہ کہاں رواداری اور برداشت کرنا ہے اور کہاں برائی کو نیکی کے ساتھ دفع کرنا ہے۔ یہ ایک عظیم مرتبہ ہے۔ یہ مرتبہ و مقام ہر انسان کو نہیں مل سکتا۔ اس مقام پر وہی شخص فائز ہوسکتا ہے جسے صبر کی بڑی مقدار دی گئی ہو۔ یہ وہ مقام ہے جس پر اللہ کے خاص بندے اور صبر کرنے والے ہی فائز ہو سکتے ہیں۔

فصلت 41:35

وما یلقھا الا الذین صبروا وما یلقھا الا ذو حظ عظیم (41 : 35) ” اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہوتے ہیں “ ۔ یہ اس حد تک بلند درجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ جو ذاتی معاملات میں بھی کبھی غصے میں نہیں آتے تھے اور اگر غصے میں آتے تھے تو ان کے مقابلے میں کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا تھا ، آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ذریعہ ہر داعی کو یہ کہا جاتا ہے :

فصلت 41:36

واما ینزغنک ۔۔۔۔۔ السمیع العلیم (41 : 36) ” اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو ، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ غصے میں کبھی اکساہٹ ہوتی ہے انتقام کی ، برائی کی وجہ سے بعض اوقات انسان صبر کی کمی محسوس کرتا ہے یا شرافت میں تنگ دلی محسوس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا چاہئے۔ اس سے وہ سوراخ بند ہوجائے گا جو شیطان کرنا چاہتا تھا۔ اللہ انسانی دل کا خالق ہے ، وہ اس کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ اس کی طاقت اور حد برداشت کو بھی جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ شیطان کس سوراخ سے حملہ آور ہوتا ہے ۔ یہ داعی کے قلب کو گھیرتا ہے اور اکساتا ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو بچانے والا ہے۔ کیونکہ یہ راستہ کٹھن ہے۔ یہ راہ بڑی دشوار گزار ہے ، نفس انسانی کے نشیب و فراز میں اور نفس انسانی کی پیچیدہ وادیوں میں داعی کو سفر کرنا ہوتا ہے تا کہ داعی گہرے نفسیاتی میلانات میں ہدایت اور قیادت کا حق ادا کرسکے۔

فصلت 41:37

درس نمبر 228 ایک نظر میں اس سبق کا تعلق بھی اسلامی دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ کائناتی نشانیوں سے شروع ہوتا ہے۔ اور گردش لیل ونہار کو ہمارے غور کے لئے پیش کرتا ہے اور شمس وقمر کو اس لیے پیش کرتا ہے کہ مشرکین میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو شمس و قمر کے پجاری تھے۔ حالانکہ یہ دونوں خدا کی مخلوقات میں سے ہیں۔ ان آیات کے باوجود یہ لوگ اللہ کی آیات سے انکار کرتے ہیں اور اس کی بندگی نہیں کرتے لیکن اللہ کے ہاں ایسی مخلوق ہے جو ہر وقت اس کی بندگی میں لگی ہوئی ہے۔ پھر یہ پوری زمین بھی اللہ کی بندگی میں لگی ہوئی ہے ، یہ مردہ ہوجاتی اور پھر اللہ سے فیض حیات لیتی ہے جیسا کہ انسان کو بھی زندگی اللہ نے دی ہے ، لیکن انسان ہے کہ نافرمانی کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو الٹے معنی پہناتا ہے۔ قرآن کی آیات کے معنی بگاڑتا ہے ، حالانکہ قرآن مجید صاف عربی میں ہے۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر سامنے آتا ہے ۔ پھر خود اس کی زندگی کو پیش کر کے یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان ایک ضعیف مخلوق ہے۔ مال کا لالچی ہے اور جب کوئی مشکل پڑتی ہے تو جزع فزع کرتا ہے۔ اور سورت کے آخر میں انفس و آفاق کے دلائل و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تا کہ لوگوں پر حق واضھ ہوجائے اور ان کے دلوں کے شبہات دور ہوجائیں۔ یہ نشانیاں جن کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ، آنکھوں کے سامنے پھیلی ہوئی ہیں ، عالم بھی انہیں دیکھ سکتا ہے اور جاہل بھی ، انسانی دل پر ان کے براہ راست گہرے اثرات بھی ہیں۔ اگرچہ انسان ان کی سائنسی حقیقت بالکل نہ جانتا ہو ، کیونکہ انسان اور اس کائنات کے درمیان ، سائنسی علم سے بھی زیادہ گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ دونوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ فطرت دونوں کی ایک ہے ، ساخت ایک ہے ، انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور یہ کائنات انسان ہی کا حصہ ہے۔ دونوں کا مادۂ وجود ایک ہے ، فطرت ایک ہے اور جس قانون قدرت کے مطابق انسان چلتا ہے ، اس کے مطابق یہ کائنات بھی چلتی ہے ۔ دونوں کا الٰہ ایک ہے۔ اس لیے انسان اس زمین و آسمان کے بارے میں ایک گہرا احساس اور گہرا فطری ادراک رکھتا ہے۔ اور یہ ادراک اسے گہری فطری منطق کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم صرف اس پر اکتفا کرتا ہے کہ انسان کو اس کی طرف متوجہ کر دے اور اسے غفلت سے جگا دے اور یہ غفلت انسانوں پر اس لیے طاری ہوجاتی ہے کہ انہوں نے گردش لیل ونہار اور شمس و قمر کو دیکھتے دیکھتے اب ان کی کوئی اہمیت ان کے ہاں نہیں رہی ہے۔ ان کے دل و دماغ پر پردے آگئے ہیں ، اس لیے قرآن انسان کو جگاتا ہے ، ان کی سوچ کو صیقل کرتا ہے کہ ذرا ان معجزات پر غور کرو ، یہ تمہاری دوست کائنات کا حصہ ہیں ، تم لیل و نہار اور شمس قمر کے ساتھ رہتے ہو۔ شمس و قمر کے حوالے سے ایک گمراہی اور فکری انحراف کی طرف بھی متوجہ کردیا۔ بعض لوگ شمس و قمر کی پوجا کرتے تھے تا کہ اس طرح وہ اللہ کا تقرب حاصل کرلیں ، کیونکہ اللہ کی بہترین مخلوق کے سامنے سجدہ کرنا اللہ کے سامنے سجدہ کرنا ہے۔ قرآن نے یہاں حتمی طور پر اس انحراف کی تصحیح بھی کردی اور عقائد کی آلودگی کو صاف بھی کردیا۔ اگر تم فی الحقیقت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو پھر شمس و قمر کی عبادت نہ کرو ، واسجدوا للہ الذی خلقھن (41 : 37) ” بلکہ اس خدا کی بندگی کرو ، جس نے ان کو پیدا کیا ہے “۔ مخلوق کو صرف خالق کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ، اور شمس وقمر بھی تمہاری طرح اللہ ہی کے پیرو کار ہیں۔ اللہ نے ان دو شمس و قمر کو پیدا کیا ہے اور ان دو کے لئے یہاں جمع مونث کی ضمیر استعمال کی ہے ۔ کیونکہ یہاں جنس ستاروں اور سیاروں کی طرف اشارہ ہے۔ صرف یہ دو مراد نہیں اور پھر جمع مونث عاقل کی خبر ان کی طرف اس لیے راجع کی گئی ہے کہ یہ بھی تمہاری طرح اشخاص ہیں اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ان آیات و نشانات اور اس تبلیغ وبیان کے بعد بھی اگر وہ تکبر کرتے ہیں ، تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی کمی بیشی اور کوئی تقدیم و تاخیر واقع نہیں ہوتی ، اللہ کے ہاں بیشمار مخلوقات اس کی عبادت میں لگی ہوئی ہیں۔

فصلت 41:38

اس کا قریب الفہم مفہوم تو یہی ہے کہ اللہ کے پاس کی مخلوق سے مراد ملائکہ ہیں۔ لیکن اللہ کے مقرب بندوں پر مشتمل کوئی اور مخلوق بھی اس سے مراد ہو سکتی ہے۔ اللہ کی مخلوقات کے بارے میں تو ہم بہت کم جانتے ہیں۔ وہ لوگ جو رب کے ہاں ہیں وہ ارفع و اعلیٰ مخلوق ہیں ، وہ زیادہ مکرم اور مثالی لوگ ہیں۔ یہ اللہ کے مقابلے میں اس طرح کبر نہیں کرتے جس طرح زمین کی یہ کمزور مخلوق انسان کرتا ہے ، نہ وہ اس طرے میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم اللہ کے مقربین ہیں اور نہ وہ رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کی تسبیح کرنے سے رکتے یا تھکتے ہیں۔ وھم لا یسئمون (41 : 38) ” کبھی نہیں تھکتے “۔ لہٰذا اگر اہل امین سب کے سب ہی اللہ کی بندگی چھوڑ دیں تو اللہ کی پرستش میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ذرا اس زمین کو تو دیکھیں جس میں وہ رہتے ہیں ، جس سے وہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور جس کی طرف لوٹا کر دفنائے جائیں گے۔ یہ زمین جس کے اوپر یہ چیونٹیوں جیسے پھرتے ہیں ان کے کھانے پینے کا کوئی سامان بھی اس زمین کے سوا کہیں نہیں ہے۔ یہ زمین بھی نہایت خشوع میں اللہ کے سامنے سہمی ہوتی ہے۔ مردہ ہوجاتی ہے تو اللہ ہی اسے زندہ اور سرسبز و شاداب کردیتا ہے۔

فصلت 41:39

ہر مقام پر قرآن کا انداز تعبیر قابل ملاحظہ ہے۔ زمین کا ” خشوع “ کی حالت میں ہونا سے مراد یہ ہے کہ بارش سے پہلے وہ سوئی ہوئی اور مردہ حالت میں تھی۔ جب بارش برسی تو وہ پھبک اٹھی ، سر سبز و شاداب ہوگئی ، گویا اس نے شکر ادا کیا اور سجدے میں گر گئی کہ اسے زندگی مل گئی۔ جس سیاق میں یہ مثال آرہی ہے وہاں عبادت خشوع و خضوع اور حمد و ثنا اور تسبیح کا مضمون چل رہا ہے۔ چناچہ زمین کی بھی ایسی کیفیت دکھائی گئی ، گویا وہ بھی زندہ ہے اور اللہ کے حوالے سے وہ بھی شعور رکھتی ہے۔ مناسب ہے کہ میں اپنی ہی کتاب التصویر الفنی فی القرآن سے ایک صفحہ یہاں نقل کر دوں : ” قرآن نے بارش ہونے سے قبل زمین کی حالت کو بعض جگہ خاشعہ ( سوئی ہوئی ، مردہ اور سہمی ہوئی ) اور بعض جگہ ھامدہ (سوکھی ، بجھی ہوئی ، مردہ) کہا ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض طرز تعبیر کا تنوع ہے ، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ دونوں لفظ کس سیاق میں کس طرح استعمال ہوئے ہیں ، یہ الفاظ قرآن نے دو مختلف سیاق وسباق میں استعمال کئے ہیں : لفظ ھامدہ سورة حج میں آیا ہے۔ یایھا الناس ۔۔۔۔۔ زوج بھیج (22 : 5) ” لوگو ، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے ، پھر نطفے سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے ، جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی تا کہ تم پر حقیقت واضح کریں ۔ ہم جس کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی پہلے بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کو پھیر دیا جاتا ہے تا کہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے ، پھر جہاں ہم نے اس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتا اگلنی شروع کردی “۔ اور لفظ خاشعہ اس سیاق وسباق میں آیا ہے : ومن ایتہ الیل والنھار ۔۔۔۔۔ ایاہ تعبدون (41 : 37) فان استکبروا ۔۔۔۔۔ لا یسئمون (41 : 38) ومن ایتہ ۔۔۔۔۔۔ کل شیء قدیر (41 : 39) ” اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے ، اگر فی الواقعہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو ، لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آکر اپنی ہی بات پر اڑے رہیں تو پرواہ نہیں ، جو فرشتے ترے رب کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ دیکھتے ہو زمین سونی پڑی ہوئی ہے ! پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا ، یکایک وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے “۔ ان دونوں سیاق وسباق پر ایک سر سری نظر ڈالنے ہی سے ھامدہ اور خاشعہ کا ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔ پہلے سیاق وسباق میں فضا اٹھانے ، زندہ کرنے اور نکالنے کی ہے۔ تو اس کے ساتھ زمین کی حالت مردہ (ھامدہ) زیادہ مناسب ہے۔ مردنی کے بعد وہ حرکت میں آتی ہے ، پھولتی ہے ، اور ہر قسم کے کوش منظر نباتات کے جوڑے پیدا کرتی ہے (میں کہوں گا کہ لفظ زوج بھی یہاں نہایت معنی خیز ہے ) دوسرے سیاق وسباق میں مضمون عبادت ، خضوع وخشوع کا ہے ، لہٰذا اس کے ساتھ زمین کی تصویر خامشہ اور سہمی ہوئی زیادہ مناسب ہے۔ اور جب بارش ہوتی ہے تو وہ پھول اٹھتی ہے۔ یہاں اس دوسرے سیاق میں زمین کے پھبک اٹھنے اور پھول جانے کے بعد نباتات کے اگنے کا ذکر نہیں جبکہ پہلے سیاق میں ذکر ہے ، کیونکہ یہاں عبادت کا موضوع ہے اور عبادت کے ساتھ نباتات کے اگنے کی کوئی مناسبت نہیں ہے کیونکہ اھتزت وربت (41 : 39) کے لفظ کے بھی دونوں جگہ دو الگ مقاصد ہیں ، یہاں دوسرے سیاق میں مطلب یہ ہے کہ زمین حرکت میں آئی جس طرح اس منظر میں تمام متحرک چیزیں عبادت کے لئے حرکت میں آتی ہے۔ لہٰذا زمین کو بھی خشوع اور مردنی کی حالت میں نہ چھوڑا جائے۔ اس لیے یہاں وہ حرکت میں آئی کہ وہ دوسرے عبادت گزاروں کے ساتھ عبادت میں شریک ہو ، اور منظر کے تمام اجزاء اس میں شریک ہوجائیں۔ یوں انداز بیان کی نہایت ہی باریک جزئیات کے تناسق کو بھی پیش نظر رکھتا ہے جبکہ پہلے سیاق میں اھتذت وربت (41 : 39) پیدائشی عمل کی حرکت کے لئے ہے “۔ اب ہم پھر سیاق کلام کی طرف آتے ہیں ، اسی زمین کے احیاء کے استدلال سے یہ نتیجہ کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مردوں کو نکال لائے گا۔ ان الذی احیاھا لمحی الموتی انہ علی کل شیء قدیر (41 : 39) ” یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے۔ یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ اس قسم کے مناظر سے قران میں بار بار یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ اسی طرح مردوں کو اٹھا لے گا اور اس سے اللہ کی بےپناہ قدرت پر بھی استدلال قرآن کریم میں بارہا کیا جاتا ہے۔ زمین کے اندر نباتاتی اور دوسری زندگیوں کے مناظر کو انسان بڑے قریب سے مشاہدہ کرتا ہے۔ عقل سے بھی پہلے یہ بو قلمونیاں دل کو متاثر کرتی ہیں۔ جب موت سے زندگی نمودار ہوتی ہے تو انسان اس قدرت کے کرشمے کو بڑی حیرت سے دیکھتا ہے اور انسان کے شعور میں اس کے اثرات بیٹھتے ہیں اور قرآن کا انداز یہ ہے کہ وہ عقل کی بجائے فطری شعور سے مخاطب ہوتا ہے۔

فصلت 41:40

اب اس قدر تفصیلات کے بعد اور کائناتی شواہد و دلائل کے بعد اگر لوگ ان نشانیوں کو الٹے معنی پہناتا ہے یا قرآن کی آیات میں الحاد کرتے ہیں تو وہ تیار ہوجائیں اپنے انجام کے لئے۔ یہ لوگ اللہ کی واضح آیات کا انکار کرتے ہیں اور ان میں مغالطے ڈالتے ہیں۔ یہ تہدید اگرچہ بالواسطہ اور مجمل ہے لیکن نہایت ہی خطرناک ہے۔ لا یخفون علینا (41 : 40) ” وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں “۔ اللہ کے علم میں وہ بالکل سامنے ہیں۔ لہٰذا وہ جو الحاد کرتے ہیں ، قرآن کے معنوں کو الٹے معنی پہناتے ہیں۔ اس پر ان کو سزا ہوگی۔ اگرچہ وہ مغالطے اور تاویلات کریں۔ اگرچہ وہ سمجھیں کہ ہم اللہ کے ہاتھوں چھوٹ جائیں گے۔ جس طرح وہ قرآن کے معانی میں مغالطے اور تاویلات کریں۔ اگرچہ وہ سمجھیں کہ ہم اللہ کے ہاتھوں چھوٹ جائیں گے۔ جس طرح وہ قرآن کے معانی میں مغالطہ ڈال کر اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے آزاد کرتے ہیں ۔ یا لوگون کے سامنے بہانہ بنا لیتے ہیں۔ اس اجمالی ڈراوے کے بعد قدرے تصریح افمن یلقی ۔۔۔۔۔ یوم القیمۃ (41 : 40) ” خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ قیامت کے دن امن کی حالت میں حاضر ہوگا “۔ یہ دھمکی کی تصریح ہے کہ آگ میں پھینکا جانا اور جزع فزع تمہارے انتظار میں ہے جبکہ مومن نہایت امن و اطمینان کے ساتھ آئیں گے۔ اس آیت میں ایک دوسری دھمکی بھی ہے۔ اعملوا ما شئتم انہ بما تعلمون بصیر (41 : 40) ” کرتے رہو جو تم چاہو ، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے “۔ کس قدر بد بخت ہے وہ شخص جسے ہر کچھ کرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ وہ جس طرح چاہے اللہ کی آیات میں مغالطے ڈالے اور اللہ اس کے تمام کرتوتوں کو نوٹ کر رہا ہو۔

فصلت 41:41

اب سیاق کلام انہی لوگوں کے بارے میں آگے بڑھتا ہے جو قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں ، جبکہ وہ ایک طاقتور اور غالب ہونے والی کتاب ہے ، نہایت ہی محفوظ ہے۔ اس کے قریب بھی باطل نہیں پھٹک سکتا۔ آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ذکر ربی کا انکار کرتے ہیں جبکہ وہ ان کے پاس آگیا ہے۔ لیکن یہ لوگ کون ہیں اور ان کا انجام کیا ہوگا ، اس کا ذکر نہیں ہے۔ مبتداء ہے اور خیر نہیں ہے۔ گویا ان کا فعل اس قدر گھناؤنا ہے کہ اس پر منطبق کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ بہت ہی بری حرکت یہ کر رہے ہیں۔۔۔ ان لوگوں کے بارے میں کوئی خبر دینے کی بجائے یہ تفصیلات دے دی جاتی ہیں کہ وہ ذکر و نصیحت کیسی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں تا کہ ان کے اس فعل کی کراہت اور زیادہ سمجھی جائے۔ انہ لکتب عزیز (41 : 41) لا یاتیہ الباطل ۔۔۔۔۔۔ حکیم حمید (41 : 42) “ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے ، یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیز ہے ”۔ باطل اس کتاب میں کس طرح داخل ہو سکتا ہے۔ یہ تو اللہ برحق کی طرف سے نازل شدہ ہے جو حق بیان کرتا ہے ، اور یہ کتاب اس سچائی سے مربوط ہے جس کے اوپر آسمان و زمین ۔۔۔ ہیں۔ یہ کتاب ، کتاب عزیز ہے اور یہ محفوظ ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (15 : 9) “ بیشک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ”۔ جو شخص بھی قرآن پر تدبر کرتا ہے وہ اس سچائی کو پالیتا ہے جس کو لے کر یہ نازل ہوئی ہے۔ اور جو نازل ہی اس لیے ہوئی ہے کہ اسے پڑھا جائے اور جو شخص بھی اسے پڑھے گا وہ یہ سچائی ایک طرف اپنی روح میں پائے گا اور دوسری طرف اس کے نصوص میں پائے گا۔ بڑی سادگی اور آسانی کے ساتھ قرآن سے ہر شخص سچائی حاصل کرسکتا ہے۔ یہ سچائی نہایت فطری ، اطمینان بخش اور انسانی فطرت کے اندر موجود ہے۔ ہر قاری پر اس کتاب کا نہایت ہی گہرا اور عجیب اثر ہوتا ہے۔

فصلت 41:42

اور پھر یہ کتاب۔ تنزیل من حکیم حمید (41 : 42) “ یہ حمید و حکیم کی نازل کردہ ہے ”۔ اس کی تعمیر ہی میں حکمت پنہان ہے۔ اس کے طریق نزول اور اس کی ہدایات سے حکمت عیاں ہے۔ لہٰذا جس رب تعالیٰ نے اسے نازل کیا ہے ، وہ حمد کثیر کا مستحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار حمد و ثنا کے لئے ابھارا گیا ہے۔ اب قرآن کو کتب سابقہ کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے ۔ رسول اللہ اور تمام انبیائے سابقہ کے درمیان ایسا تعلق قائم کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی محفل ہے ، ایک خاندان ہے ، ان کی بات بھی ایک ہے ، ان کی روح اور قلب بھی ایک ہیں۔ طریقہ دعوت بھی ایک ہے۔ یوں ہر ایک مسلمان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے درخت کا پتہ ہے جس کے اندر بیشمار پتے ہیں اور جس کی جڑیں گہری ہیں اور یہ کہ وہ ایک ایسی محفل کا ممبر ہے جو آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوتی ہے :

فصلت 41:43

ما یقال لک ۔۔۔۔۔ وذوا عقاب الیم (41 : 43) “ اے نبی ﷺ ، تم کو جو کچھ کہا جا رہا ہے ، اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جا چکی ہو۔ بیشک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے ، اور اس کے ساتھ بڑی درد ناک سزا دینے والا بھی ہے ”۔ ایک ہی وحی ، ایک ہی رسالت ، ایک ہی عقیدہ اور پوری تاریخ میں انسانوں کا اس کے مقابلے میں ایک ہی رد عمل رہا ہے۔ سب لوگوں نے تکذیب کی ، سب نے ایک جیسا اعتراض کیا۔ لہٰذا تمام انبیاء کے درمیان ایک ہی پختہ رشتہ ہے ، ایک شجرۂ نسب ہے ، ایک ہی خاندان ہے ، دکھ اور درد بھی ایک ہے۔ تجربات بھی ایک ہی طرح کے ہیں اور مقاصد بھی ایک ہی جیسے اور راستہ بھی ایک اور طریقہ کار بھی ایک۔ انس و محبت کا کیا گہرا شعور ہے یہ ! قوت ، صبر اور گہری پختگی کا شعور ۔ داعی کو یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ آپ ایک ایسے راستے پر رواں ہیں جس پر آپ سے قبل نوح ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ رواں دواں رہے ہیں ۔۔۔ کس قدر اعزاز اور بلندی کا شعور دیا جا رہا ہے کہ اس راہ کے مصائب ، اس کی ٹھوکریں ، اس کے کانٹے اور مشکلات کو برداشت کرو کہ یہ راہ تو بہت بڑے لوگوں کی ہے۔ یہ تو انبیاء و صالحین کی راہ ہے اور اس شعور کے ساتھ داعی کی قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے۔ ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل من قبلک (41 : 43) “ تم کو جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے ، جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جا چکی ہو “۔ کہنے کو تو یہ ایک معمولی بات ہے لیکن اس حقیقت کو مومنین کے دل و دماغ میں بٹھانے کے کس قدر عظیم اثرات ہیں۔ اس سے اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ کام قرآن ہی کرسکتا ہے۔ وہ اس عظیم حقیقت کے بیج دلوں میں کاشت کرتا ہے اور رسولوں اور حضرت محمد ﷺ کو خدا کی طرف سے یہ بھی کہا گیا : ان ربک لذو ومغفرۃ وذو عقاب الیم (41 : 43) “ بیشک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے اور اس کے ساتھ بڑی درد ناک سزا دینے والا بھی ”۔ مغفرت کے ساتھ سزا بھی ہے تا کہ توازن قائم ہوجائے ۔ انسان اگر کسی مغفرت کا امیداوار بھی ہوگا اور اس کے عقاب الیم سے ڈرنے والا بھی ۔ نہ مایوس ہو اور نہ بےباک ہو حقیقت یہ ہے کہ توازن اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول ہے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ اللہ کی یہ مہربانی ہے کہ اس نے عربی مبین میں ، تمہاری زبان میں قرآن اتارا لیکن تمہاری ہت دھرمی ، تمہارے مغالطے ، تمہارے مجادلے اور پھر اس کتاب میں تحریفات قابل تعجب ہیں۔

فصلت 41:44

ولو جعلنہ ۔۔۔۔۔ وعربی (41 : 44) “ اگر ہم اس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے ، کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں۔ کیا ہی عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی ”۔ یہ لوگ ایک عربی قرآن کی طرف کان نہیں لگاتے ، کیونکہ یہ اس کی بےپناہ تاثیر سے ڈرتے ہیں۔ یہ عربی کلام ہے اور عربوں کی فطرت سے مخاطب ہوتا ہے ، ان کی اپنی زبان میں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں خلل ڈالو۔ جب پڑھا جائے تو شور کرو ، اسی طرح تم غالب ہوگے۔ تو اگر یہ عجمی ہوتا تو پھر بھی یہ اس پر اعتراض کرتے کہ کیوں نہ قرآن عربی میں نازل ہوا ، کیوں نہ مفصل اور فصیح زبان میں آیا اور اگر اس کا بعض حصہ عربی ہوتا اور بعض عجمی ہوتا تو پھر کہتے تو پھر کہتے کہ عربی و عجمی ، غرض ان کا مقصد ہر صورت میں اعتراض کرنا ہے۔ اور اس بحث وجدال سے جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جھگڑا صرف الفاظ اور زبان کے بارے میں ہے۔ اور قرآن کی تعلیمات کے بارے میں نہیں ہے۔ تعلیمات کے لحاظ سے یہ مومنین کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔ مومنین کے دل ہی اس کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ اس سے رہنمائی اور شفا پاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان ہی نہیں لاتے ان کے دل اندھے ہیں ، ان تک قرآن کی روشنی ہی نہیں پہنچتی۔ ان کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے۔ وہ دلوں کے اندھے ہیں ، لہٰذا ان کو اس کتاب میں سے کچھ بھی نہیں ملتا۔ کیوں ؟ یہ لوگ اس کتاب کے مزاج ہی سے بہت دور ہیں ، اس کی آواز ہی کو نہیں سمجھتے۔ قل ھو للذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ من مکان بعید (41 : 44) “ ان سے کہو ، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے تو ہدایت اور شفا ہے ، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے لئے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے۔ ان کا حال تو ایسا ہے جیسے ان کو دور سے پکارا جا رہا ہو ”۔ اس آیت کا اطلاق جن لوگوں پر ہوتا ہے وہ ہر زمان ومکان اور ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ یہ قرآن ان کے نفوس میں اثر کرتا ہے اور ان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔ مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔ وہ اپنی ذات اور اپنے ماحول میں عظیم لوگ بن جاتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دل و دماغ پر یہ قرآن بہت بھاری لگتا ہے۔ اور ان کو سنایا جائے تو یہ ان کو اور اندھا اور بہرا کردیتا ہے ۔ قرآن تو وہی ہے ، دلوں کا فرق ہے۔ ٭٭٭٭ قرآن کے حوالے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی کتاب اور اس کے بارے میں ان کی قوم کے اختلافات کو بھی بیان کردیا جاتا ہے۔ یہاں بطور نمونہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے پہلے تمام رسولوں کا ذکر مجموعی طور پر ہوا۔ یہاں کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کے اختلافات کو بھی مجمل چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل کہہ دیا گیا ہے کہ ان کا فیصلہ یوم عظیم یعنی قیامت کے دن ہوگا۔

فصلت 41:45

اور یہی فیصلہ نبی ﷺ کی رسالت کے بارے میں کیا گیا۔ قیامت میں اس کے بارے میں بھی فیصلہ ہوجائے گا ، لوگ جس طرح چاہیں عمل کریں ، قیامت میں جزاء وسزا ہوگی ان کے اعمال پر۔

فصلت 41:46

رسالت محمدی ﷺ نے اعلان کردیا کہ انسانیت اب بالغ ہوچکی ہے اور اس کے کاندھوں پر آزادی کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ اور ہر شخص کو اپنی کئے کا ذاتی طور پر ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے۔ اب جو شخص جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ وما ربک بظلام للعبید (41 : 46) “ اور تیرا رب اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے ”۔

فصلت 41:47

آیات گزشتہ میں قیامت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اس میں اللہ کی جانب سے سب کے ساتھ انصاف کرنے کی طرف بھی اشارہ تھا کہ کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اس لیے یہاں یہ بھی کہہ دیا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا علم صرف اللہ وحدہ کو ہے۔ اس ضمن میں اللہ کے علم کی تصویر کشی بھی کردی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے میں کتنی گہرائیاں اور تفصیلات رکھتا ہے۔ بعض مثالیں بھی دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد قیامت کا ایک منظر بھی پیش کیا جاتا ہے جس میں مشرکوں سے سوال و جواب ہوتے ہیں : قیام قیامت ایک ایسا غیب ہے جو مجہول اور مستقبل کے ضمیر میں گہرا پوشیدہ ہے۔ اسی طرح شگوفوں میں سے جو پھل مستقبل میں برآمد ہوتے ہیں ان کو بھی صرف اللہ جانتا ہے۔ اسی طرح رحم میں حمل بھی غیب ہے ، جو چھپا ہوا ہے۔ یہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ انسانی سوچ ان پھلوں کے پیچھے دوڑ رہی ہے جو پھولوں اور کلیوں سے نکلتے ہیں ، ان بچوں کے پیچھے جو ماؤں کے رحم میں ہیں ، ہماری سوچ اس وسیع زمین کے نشیب و فراز میں دوڑ رہی ہے اور لاتعداد پھولوں اور شگوفوں کے بارے میں سوچتی ہے ۔ پھر ہر مادہ کے رحم میں موجود بچے جن کی تعداد متعین کرنا انسان کے دائرہ قدرت میں نہیں ہے ، تمام انسانوں ، حیوانوں کی عادیاں ، چرندوں پرندوں اور حشرات کی مادیاں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا را ہوار خیال تھک کر گر گر پڑتا ہے۔ اللہ کے علم کے حدود کا تصور بھی ممکن نہیں کہ وہ لامحدود ہے۔ انسانوں میں سے گمراہوں کا ایک چھوٹا سا ریوڑ ، ایک دن اس علم کا سامنا کرے گا اور اس علم کے دائرے سے تو کوئی چیز باہر نہ ہوگی۔ ویوم ینادیھم این شرکاءی (41 : 47) “ پھر جس روز وہ ان کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے شریک ؟ ” اس وقت بھی کوئی جھگڑا ، مجادلہ اور مغالطہ کام نہ دے گا ، نہ زبان کی تحریف و تاویل چل سکے گی تو وہ پھر کیا کہہ سکیں گے اس کے سوا : قالوا اذنک ما منا من شھید (41 : 47) “ یہ کہیں گے ہم عرج کرچکے ہیں ، آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے ”۔ اے اللہ ہم نے تو تجھے اطلاع کردی ہے کہ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس بات کا گواہ نہیں ہے۔

فصلت 41:48

وضل عنھم ما ۔۔۔۔۔ من محیص (41 : 48) “ اس وقت وہ سارے معبودان سے گم ہوجائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لئے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔ کیونکہ اب ان کو اپنے سابقہ دعویٰ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ ہوگا کہ اس کی تصدیق کرسکیں۔ ان کے نفوس میں یہ بات گہرے طور پر بیٹھ گئی ہوگی کہ اب تو کوئی جائے فرار نہیں ہے۔ یہ ہوگی ان کی کربناک اور مدہوش کردینے والی حالت اس دن۔ جب ایسی حالت آتی ہے تو انسان اپنا تمام ماضی بھول جاتا ہے ، پھر اسے وہی حالات یاد ہوتے ہیں جو درپیش ہوتے ہیں۔

فصلت 41:49

یہ کس قدر خوفناک دن ہے لیکن انسان اس کے بارے میں بالکل محتاط نہیں ہے۔ انسان ہر قسم کی بھلائی کے لئے بہت ہی حریص ہے۔ لیکن قیامت کی بھلائی کی وہ ذرا بھی فکر نہیں کرتا۔ انسان معمولی مصیبت پر جزع فزع کرنے لگتا ہے۔ لیکن قیامت کے ہولناک جزع فزع کا اسے خیال نہیں ہے۔ یہاں انسان کے نفس کی اندرونی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ تمام لباس اور پردے اتار دئیے جاتے ہیں اور ہر قسم کی ملمع کاری کو ہٹا کر نقش انسانی کا اصل رنگ دکھایا جاتا ہے۔ نفس انسانی کی یہ نہایت ہی سچی تصویر ہے۔ نہایت ہی باریک خدو خال کو بھی اس میں نمایاں کیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو اللہ کی ہدایات پر ایمان نہیں رکھتے ، جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ، وہ تو بالکل سیدھی راہ پر گامزن ہوتے ہیں ، ان کا ایک ہی رنگ ڈھنگ ہوتا ہے۔ لیکن گمراہ لوگوں کی نفسیات کیا ہیں ، یکدم بدلنے والے ، ضعیف الارادہ ، دکھاوے کے شیدائی ، مال کے لالچی ، ناشکرے ، خوشحالی میں مغرور اور بدحالی میں آہ وفغان کرنے والے ، غرض یہ نہایت ہی تفصیل تصویر ہے ان لوگوں کی اور عجیب تصویر ہے۔ انسان بھلائی کی دعا مانگتے نہی تھکتا۔ وہ بڑے اصرار اور گڑگڑا کر دعائے خیر کرتا ہے۔ اور دعا کرتے ہوئے نہیں تھکتا لیکن شر اگر محض اس کو چھو کر بھی گزر جائے تو وہ تمام امیدیں کھو دیتا ہے ، مکمل طور پر مایوس ہوجاتا ہے۔ یہ خیال کرتا ہے کہ اس شر سے تو اب نکلنے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ یوں وہ سمجھ لیتا ہے کہ سب اسباب و وسائل ختم ہوگئے۔ اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے ، مغموم و متفکر ہوجاتا ہے۔ اللہ کی رحمتوں اور مہربانیوں سے مایوس ہوجاتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اس کا اپنے رب پر بھروسہ نہیں ہوتا اور رب سے اس کا تعلق کمزور ہوتا ہے۔ لیکن یہی انسان ، جب اللہ اس پر اپنی رحمتیں اور مہربانیاں کرتا ہے ، یہ مصیبت جاتی رہتی ہے ، تو اللہ کی نعمتیں اسے ۔۔۔ اور متکبر کردیتی ہیں۔ یہ شکر نہیں بجا لاتا۔ اب خوشحال اسے آسمانوں پر چڑھا دیتی ہے۔ وہ کہتا ہے یہ تو میرا فرض ہے۔ میں اپنی صلاحیت پر اس کا مستحق ہوا ہوں اور یہ حق داعی ہے۔ یہ شخص آخرت کو بھول جاتا ہے اور اسے بعید از امکان سمجھتا ہے۔ کہتا ہے۔

فصلت 41:50

وما اظن الساعۃ قائمۃ (41 : 50) “ میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی ”۔ اب یہ اپنے آپ میں مست ہے۔ اللہ پر احسان جتلاتا ہے۔ اور یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ کے ہاں بھی میرا یہی مقام ہوگا حالانکہ اس کا کوئی مقام نہ ہوگا۔ یہ تو آخرت کا منکر اور کافر ہے۔ اس کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ اگر اللہ کے ہاں چلا گیا تو وہاں بھی باعزت لوگوں میں شمار ہوگا۔ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی (41 : 50) “ لیکن اگر واقعی میں اپنے رب کی پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا ”۔ یہ ہے بےجا غرور ، اب نہایت ہی برمحل تنبیہہ آتی ہے۔ فلننبئن الذین ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (41 : 50) “ حالانکہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزہ چکھائیں گے ”۔ یہ ہے انسان کہ جب اللہ اسے خوشحال بناتا ہے۔ تو یہ سرکشی اختیار کرتا ہے۔ منہ موڑتا ہے اور غرور کرتا ہے۔ لیکن اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو پھر گرجاتا ہے۔ اپنے آپ کو ذلیل و خوار سمجھتا ہے۔ حقیر و لاچار ہوتا ہے۔ اور گڑ گڑانے اور بلبلانے لگتا ہے ، لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے۔ ذرا دیکھئے تو سہی ، قرآن کریم نے انسانی نفسیات کے چھوٹے بڑے عمل اور رد عمل کو کس باریکی سے ریکارڈ کیا ہے۔ یہ اللہ کا کلام ہے جو خالق انسان ہے اور خود خالق بتا رہا ہے کہ یہ ہے حضرت انسان۔ کیونکہ خالق اپنی مخلوق کے کل پرزوں کو اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ جانتا ہے کہ یہ ان نشیب و فراز میں پھرتا رہتا ہے ، الا یہ کہ اسے صراط مستقیم کی طرف پکڑ کرلے جایا جائے۔ تب وہ راہ راست پر چلتا ہے۔ نفس انسانی کی اس نہایت ہی ننگی تصویر کے بعد اللہ ان سے پوچھتا ہے کہ تم اس وقت کیا کرو گے کہ جس کتاب کی تم تکذیب کرتے ہو۔ اگر یہ اللہ کی جانب ہی سے ہو اور تم اس عذاب کے مستحق ہوجاؤ جس سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے اور اس وقت تم تکذیب اور دشمنی کے عواقب و نتائج کا اپنے آپ کو مستحق کرلو۔

فصلت 41:51

وما اظن الساعۃ قائمۃ (41 : 50) “ میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی ”۔ اب یہ اپنے آپ میں مست ہے۔ اللہ پر احسان جتلاتا ہے۔ اور یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ کے ہاں بھی میرا یہی مقام ہوگا حالانکہ اس کا کوئی مقام نہ ہوگا۔ یہ تو آخرت کا منکر اور کافر ہے۔ اس کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ اگر اللہ کے ہاں چلا گیا تو وہاں بھی باعزت لوگوں میں شمار ہوگا۔ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی (41 : 50) “ لیکن اگر واقعی میں اپنے رب کی پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا ”۔ یہ ہے بےجا غرور ، اب نہایت ہی برمحل تنبیہہ آتی ہے۔ فلننبئن الذین ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (41 : 50) “ حالانکہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزہ چکھائیں گے ”۔ یہ ہے انسان کہ جب اللہ اسے خوشحال بناتا ہے۔ تو یہ سرکشی اختیار کرتا ہے۔ منہ موڑتا ہے اور غرور کرتا ہے۔ لیکن اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو پھر گرجاتا ہے۔ اپنے آپ کو ذلیل و خوار سمجھتا ہے۔ حقیر و لاچار ہوتا ہے۔ اور گڑ گڑانے اور بلبلانے لگتا ہے ، لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے۔ ذرا دیکھئے تو سہی ، قرآن کریم نے انسانی نفسیات کے چھوٹے بڑے عمل اور رد عمل کو کس باریکی سے ریکارڈ کیا ہے۔ یہ اللہ کا کلام ہے جو خالق انسان ہے اور خود خالق بتا رہا ہے کہ یہ ہے حضرت انسان۔ کیونکہ خالق اپنی مخلوق کے کل پرزوں کو اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ جانتا ہے کہ یہ ان نشیب و فراز میں پھرتا رہتا ہے ، الا یہ کہ اسے صراط مستقیم کی طرف پکڑ کرلے جایا جائے۔ تب وہ راہ راست پر چلتا ہے۔ نفس انسانی کی اس نہایت ہی ننگی تصویر کے بعد اللہ ان سے پوچھتا ہے کہ تم اس وقت کیا کرو گے کہ جس کتاب کی تم تکذیب کرتے ہو۔ اگر یہ اللہ کی جانب ہی سے ہو اور تم اس عذاب کے مستحق ہوجاؤ جس سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے اور اس وقت تم تکذیب اور دشمنی کے عواقب و نتائج کا اپنے آپ کو مستحق کرلو۔

فصلت 41:52

قرآن ان کے سامنے ایک احتمال پیش کرتا ہے کہ اس قدر احتیاط تو کرو ، لیکن انہوں نے کوئی احتیاط بھی نہ کی۔

فصلت 41:53

اس کے بعد اب قرآن کریم ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ سوچیں۔ اور پھر اس وسیع کائنات کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ دیکھو اللہ نے اس میں کچھ نشانات اور تقدیرات طے کر رکھی ہیں ، جن کا ظہور مستقبل میں ہوگا۔ یہ آخر ضرب ہے اور آخری تبصرہ ہے۔ ۔۔۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے کہ عنقریب تمہیں اس کائنات کے کچھ رازوں سے آگاہ کیا جائے گا ، اسی طرح خود تمہارے نفس اور ذات کے اندر جو راز ہیں ان کے بارے میں تم پر انکشافات ہوں گے یعنی انفس و آفاق کے نشانات تمہیں دکھائے جائیں گے۔ اور یہ راز ہائے ۔۔۔ جب کھلیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ کتاب ، کتاب برحق ہے۔ یہ کتاب اور یہ منہاج اور نظام زندگی ، اور یہ قول جو تمہیں بتایا جارہا ہے ، یہ سب سچے ہیں۔ فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا تھا۔ گزشتہ چودہ سو سال سے اللہ نے انفس و آفاق کے کئی نشانات انسانوں پر ظاہر فرمائے ہیں۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ انسان کی ذات کے بارے میں بھی عجیب و غریب انکشافات ہوئے ہیں۔ اور کائنات کے بارے میں بھی۔ پھر انسان بھی لگا ہوا ہے ، اس نے نزول قرآن کے وقت سے آج تک بہت سارے انکشافات کئے ہیں۔ اس کائنات کی وسعتیں بھی دور تک انسان نے دیکھ لیں اور اس کے لئے کھل گئیں اور نفس انسانی کے وسائل بھی اس پر واضح ہوگئے اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔ انسان نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے ، اور دیکھ لیا ہے ، اگر انسان یہ بات معلوم کرے کہ کس طرح اس نے ان چیزوں کا ادراک کیا اور اللہ کا شکر ادا کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہوگا۔ مثلاً انسان نے معلوم کرلیا کہ وہ جس زمین کو کائنات کو مرکز سمجھتا تھا۔ یہ تو ایک حقیر سا ذرہ ہے جو سورج کے تابع ہے۔ اور انہوں نے معلوم کرلیا کہ یہ سورج اس کائنات کا ایک چھوٹا سا کرہ ہے۔ اور اس جیسے کئی سو ملین سورج ہیں۔ انہوں نے شمس و قمر اور ارح و سما کی حقیقت معلوم کرلی اور انہوں نے اپنے وجود کی اور نفس کی حقیقت بھی معلوم کرلی ہے۔ پھر انسان نے اس کائنات کے مادے میں سے بھی اکثر چیزوں کو معلوم کرلیا ہے کہ اس مادے کے اندر کیا عناصر ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہو کہ کوئی مادہ ہے۔ پھر انسان نے یہ دیکھ لیا کہ اس کائنات کا اصل مادہ ذرہ ہے۔ اس نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ یہ ذرہ شعاع کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ چناچہ اس نے یہ دیکھ لیا کہ دراصل تو یہ پوری کائنات روشنی ہے۔ مختلف انداز کی روشنی جس سے مختلف انداز کی روشنی جس سے مختلف شکل و صورت کی چیزیں بنتی ہیں۔ افسانوں نے اس چھوٹے سے کرے اور زمین کے بارے میں تو بہت کچھ جان لیا ہے کہ یہ گیند ہے اور گیند کی طرح ہے۔ یہ بھی معلوم کرلیا ہے کہ یہ اپنے گرد بھی گھومتا ہے اور سورج کے گرد بھی گھومتا ہے۔ انہوں نے اس کے براعظموں ، اس کے سمندروں اور اس کے دریاؤں کو معلوم کرلیا ۔ اس کے اندرون تک گھس گئے اور اس کے پیٹ میں جو کچھ چھپا تھا اس کو بھی انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ کیا کیا قوتیں اس کے اندر ودیعت کردہ ہیں۔ پھر اس قوتوں میں سے فضا میں کون کون سی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی معلوم کرلیا ہے کہ ان کی اس زمین کو اس پوری کائنات کے ساتھ جس قانون قدرت نے مربوط کردیا ہے وہ ایک ہی قانون ہے۔ اس کائنات میں تصرفات ہوتے ہیں ، ان میں سے بیشتر کو انسان نے دریافت کرلیا ہے۔ اب انسانوں میں سے کچھ اہل علم ایسے ہیں کہ انہوں نے ان قوانین سے معلوم کرلیا ہے کہ کوئی ۔۔۔ اور خالق ہے اور بعض ایسے ہیں کہ ان کے لئے ان کا یہ عالم ہی وبال بن گیا۔ یہ ان ظاہری انکشافات کے اندر ہی گم ہوگئے۔ آگے نہ بڑھ سکے۔ لیکن آیات الٰہیہ کے اس عظیم انکشاف کے بعد انسانیت نے اب اللہ کی طرف رجوع کرنا شروع کردیا ہے اور تسلیم کرنا شروع کردیا ہے کہ یہ حق ہے۔ انسان کی ذات اور اس کے نفس کے اندر علم کی فتوحات اس کائنات سے کم نہیں ہیں انسانوں نے انسانی جسم ، اس کی ترکیب ، اس کے خصائص اور اس کے اسر اور موز کے بارے میں بہت کچھ معلوم کرلیا ہے۔ اس کی بناوٹ ، اس کے اعضاء ان کے فرائض ، اس کے امراض ، اس کی غذا کے بارے میں وافر علوم جمع کرلیے ہیں ، انسانی اعمال اور حرکات کے بارے میں بھی بہت کچھ معلوم کرلیا ہے۔ یہ تمام انکشافات دراصل آیات الٰہیہ کے بارے میں ہیں۔ ان چیزوں کا خالق اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ انسانی نفسیات کے بارے میں بھی انسان نے بہت کچھ جان لیا ہے۔ یہ اگرچہ اس حد تک نہیں ہے جو نشانات جسم کے بارے میں انسان نے دریافت کرلیے ہیں۔ کیونکہ انسان کی جدو جہد زیادہ تر انسانی جسم اور اس کی آلاتی حیثیت پر مرکوز ہے۔ انسان کی عقل ، اس کی روح کی طرف ابھی زیادہ توجہ نہیں ہوئی۔ لیکن نفس انسانی کے میدان میں بعض چیزوں کا انکشاف ہوا ، وہ بتاتا ہے کہ اس میدان میں بھی مستقبل میں بڑی فتوحات ہوں گی اور انسان مزید نشانات دیکھیں گے۔ ابھی تو انسان راستے ہی میں ہے۔ اللہ کا وعدہ قائم ہے۔ سنریھم ایتینا فی الافاق ۔۔۔۔۔ انہ الحق (41 : 53) “ عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے ، اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے ”۔ اور اس وعدے کا آخری حصہ کہ قرآن کتاب برھق ہے ، بیسویں صدی میں اس کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ایمان کے قافلے مختلف راستوں سے جمع ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خالص مادی علوم کے راستے سے بھی لوگ اسلام کی حقانیت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہر طرف سے اسلامی افواج کا اجتماع ہو رہا ہے۔ اگرچہ ماضی میں اس کرۂ ارضی پر مادیت و الحاد کی جو لہریں اٹھیں وہ بڑی سرکش تھیں۔ لیکن یہ طوفان ختم ہو رہا ہے۔ اگرچہ باد مخالف بڑی تند تھی۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ صدی جس سے ہم گزر رہے ہیں ، ابھی ختم نہ ہوگی کہ مادیت و الحاد کے یہ طوفان ختم ہوں گے اور اللہ کا کلمہ حق ہو کر رہے گا۔ (سید قطب ! آپ کی روح کو اللہ اطلاع کرے کہ اشتراکی روس ختم ہوگیا ہے ، جس کے ایک کتے نے آپ کو شہادت کے منصب پر فائز کیا۔ اور یہ تو تھی مادیت اور امریکہ الحاد کے خلاف بھی خدائی فوجیں لڑ رہی ہیں ، امید ہے کہ بہت جلد وہ بھی ختم ہوگا۔ مترجم ) اولم یکف بربک انہ علی کل شییء شھید (41 : 53) “ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے ”۔ اللہ نے یہ وعدہ علم و یقین کے ساتھ کیا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے اور شاید عادل ہے ، اس لیے یہ سچا ہے۔

فصلت 41:54

الا انھم فی مریۃ من لقاء ربھم (41 : 54) “ آگاہ رہو یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں ”۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ ان کو اللہ کی ملاقات پر پورا یقین نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی تاکیدی امر ہے۔ الا انہ بکل شییء محیط (41 : 54) “ سن رکھو وہ ہر چیز پر محیط ہے ”۔ لہٰذا تم اس کی ملاقات سے کیسے بچ سکتے ہو۔ تم مکمل طور پر اس کے گھیرے میں ہو۔