Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الشورى 42:1 – الشورى 42:41

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الشورى 42:1
  2. الشورى 42:2
  3. الشورى 42:3
  4. الشورى 42:4
  5. الشورى 42:5
  6. الشورى 42:6
  7. الشورى 42:7
  8. الشورى 42:8
  9. الشورى 42:9
  10. الشورى 42:10
  11. الشورى 42:11
  12. الشورى 42:12
  13. الشورى 42:13
  14. الشورى 42:14
  15. الشورى 42:15
  16. الشورى 42:16
  17. الشورى 42:17
  18. الشورى 42:18
  19. الشورى 42:19
  20. الشورى 42:20
  21. الشورى 42:21
  22. الشورى 42:22
  23. الشورى 42:23
  24. الشورى 42:24
  25. الشورى 42:25
  26. الشورى 42:26
  27. الشورى 42:27
  28. الشورى 42:28
  29. الشورى 42:29
  30. الشورى 42:30
  31. الشورى 42:31
  32. الشورى 42:32
  33. الشورى 42:33
  34. الشورى 42:34
  35. الشورى 42:35
  36. الشورى 42:36
  37. الشورى 42:37
  38. الشورى 42:38
  39. الشورى 42:39
  40. الشورى 42:40
  41. الشورى 42:41

الشورى 42:1

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام پیش نہیں کرسکتے۔ حالانکہ جس مواد سے یہ کلام بنا ہے ، وہ ان کے سامنے ہے اور دسترس میں ہے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ وحی ایک ہے ، وحی کا مصدر و ماخذ ایک اللہ ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ اور جن کی طرف وحی آتی ہے وہ ہر زمان و مکان کے رسول ہیں۔ رسول مختلف ہیں ، زمان و مکان کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وحی اور ہدایت ایک ہی ہے۔ الیک والی الذین من قبلک (42 : 3) ” تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف “۔ یہ بہت لمبی کہانی ہے ، زمانے کے نشیب و فراز اور تاریخ کی بیشمار کڑیوں پر مشتمل اس کے مختلف سلسلے ہیں البتہ وحی کا یہ ایک مستحکم و مستقبل اصول و منہاج ہے اور اس کی کئی شاخیں ہیں۔ یہ بات اس انداز سے جب اہل ایمان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے تو وہ اپنے اندر یہ شعور پاتے ہیں کہ وہ جس منہاج اور طریقے پر ہیں ، یہ ایک مستقل ، واحد طریقہ ہے اور اس کا سرچشمہ بھی واحد اللہ وحدہ ہے۔ اور یہ کہ ان کا سر رشتہ بھی اللہ العزیز الحلیم ہے۔ اس طرح ان کے اندر یہ شعور بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک تاریخی قافلہ حق کے ممبر ہیں جس کا آخری سرایا پہلا سرا زمان ومکان کے اندر دور تک چلا گیا ہے ، یہ گویا اہل ایمان کا ایک خاندان ہے جس کا روحانی شجرۂ نسب انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آخر میں اس شجرے کی کڑیاں ملتی ہیں اور سب جا کر اللہ العزیز پر ملتے ہیں ، جو قوی اور قادر مطلق ہے ، جو حکیم ہے ، جو اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ جس کی طرف چاہتا ہے ، وحی کرتا ہے۔ لہٰذا تم اس واحد ثابت اور مستقل ربانی منہاج سے منتشر ہوکر ادھر ادھر پگڈنڈیوں پر کیوں جارہے ہو ، کیونکہ یہ پگڈنڈیاں تو اللہ تک نہیں پہنچاتیں ، ان کے جائے آغاز کا نہ پتہ اور نہ ان کے مقام انجام کا پتہ ہے اور نہ ان کا راستہ مستقیم ہے۔ اللہ جس نے تمام رسولوں کی طرف وحی فرمائی۔ اس کی مزید صفات بھی دی جاتی ہیں کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا واحد مالک ہے۔ اور وہی بلند اور عظیم ہے۔ لہ ما فی السموت ومافی الارض وھو العلی العظیم (42 : 4) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ، وہ برتر اور عظیم ہے “ بسا اوقات لوگوں کو یہ دھوکہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی مالک ہیں ، محض اس لیے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں لیکن یہ دراصل حقیقی ملکیت نہیں ہے۔ حقیقی ملکیت اللہ کی ہے۔ وہ اللہ ہے جو موجود اور معدوم کرتا ہے ، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ یہ وہی ہے جو کسی بشر کو جو چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اور جس چیز سے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے۔ جس وقت چاہتا ہے ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ یکدم چلا جاتا ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو جو چلا گیا ہے ، اس کا متبادل دے دے۔ مالک حقیقی تمام اشیاء میں اللہ ہے۔ وہ ان چیزوں کو اپنے قانون قدرت کے مطابق چلاتا ہے۔ اور یہ تمام اشیاء اس کے حکم پر لبیک کہتی ہیں۔ اس لحاظ سے زمین و آسمان میں جو چیز ہے ، وہ اللہ کی ہے اور اس لحاظ سے اللہ کے ساتھ اس ملکیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ وھو العلی العظیم (42 : 4) ” وہ برتر اور عظیم ہے “۔ وہ صرف مالک ہی نہیں ہے ۔ وہ مالک اعلیٰ بھی ہے۔ اور وہ بڑی عظمتوں والا ہے ، اور اس عظمت میں وہ منفرد ہے۔ وہ اس طرح برتر ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز کمتر ہے اور وہ اس معنی میں عظیم ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز بہت ہی چھوٹی ہے۔ جب یہ حقیقت انسانوں کے خمیر میں اچھی طرح بیٹھ گئی اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے نفوس کے لئے جو مال ، جو رزق اور جو روزگار طلب کرتے ہیں ، یہ انہوں نے کہاں سے طلب کرنا ہے یعنی یہ زمین و آسمان میں جو چیزیں موجود ہیں ، ان کا مالک اللہ ہے۔ اور وہ مالک ہی کسی کو کوئی چیز دے سکتا ہے۔ پھر وہ برتر اور عظیم بھی ہے۔ اس سے اگر کوئی کچھ مانگتا ہے تو وہ اس کے سوال کو رد نہیں کرتا۔ جس طرح مخلوقات کے سامنے ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ نہ برتر ہیں اور نہ عظیم ہیں ، اس لیے ان کا سوال محروم بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اس کائنات میں سے ایک ایسا منظر دکھایا جاتا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کائنات کا مالک صرف اللہ ہے اور برتری اور عظمت اللہ ہی کے لئے ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اللہ کی عظمت کے رعب کی وجہ سے اور بعض لوگوں کی کج روی اور بری باتوں کی وجہ سے پھٹ پڑیں پھر اللہ کی عظمت کا ایک مظہر یہ بھی یہاں لایا گیا ہے کہ ملائکہ ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت مانگتے رہتے ہیں ، کیونکہ اہل زمین کے انحراف اور بےراہ روی کو دیکھ کر وہ بھی سہم جاتے ہیں۔ تکاد السموت یتفطرن ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (42 : 5) “ قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جارہے ہیں ۔ آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے ”۔ سماوات وہ عظیم کائنات ہے جو ہمارے اوپر نظر آتی ہے۔ اس کرۂ ارض کی پشت پر ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہمارے پاس اس کے بارے میں ابھی تک جو معلومات جمع ہو ئی ہیں وہ اس کے ایک بالکل معمولی حصے کے بارے میں ہیں۔ آج تک جو معلومات دستیاب ہیں ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سورج جیسے ایک لاکھ ملین سورج معہ اپنے لاتعداد توابع کے موجود ہیں۔ اور ایسے مجموعے یا گروپ کتنے ہیں ؟ تقریباً ایک لاکھ ملین گروپ معلوم ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سورج ہماری زمین سے ایک ملین گنا بڑا ہے۔ اور یہ لاکھوں اربوں سورج تو وہ ہیں جن کو ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعے دیکھتے ہیں ، یہ اس لا محدود فضائے کائنات (جسے ہم آسمان کہتے ہیں ) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان طویل مسافتیں ہیں جو ہزارہا ملین نوری سالوں کی دوری پر ہیں ، جن کا حساب روشنی کی رفتار کے حساب سے کیا جاتا ہے یعنی 186000 میل فی سیکنڈ کے حساب سے۔ یہ آسمان جن کے بارے میں ہمارا علم بہت ہی محدود ہے ، قریب ہے کہ پھٹ پڑیں ، ہمارے اوپر اس فضا میں سے ، کیوں ؟ اللہ کے خوف سے ، اللہ کی عظمت سے ، اور اللہ کے جلال سے اور زمین کے ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کی غفلت اور نسیان کی وجہ سے جو انہوں نے اس رب ذوالجلال اور اس کائنات کے بارے میں روا رکھی ہوئی ہیں۔ قریب ہے کہ آسمانوں پر رعشہ طاری ہوجائے اور یہ ٹوٹ پڑیں اور اس مقام سے گر جائیں جہاں یہ ٹکے ہوئے ہیں۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض (42 : 5) “ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں ”۔ ملائکہ وہ مخلوق ہے جو مکمل طور پر اطاعت شعار ہے۔ یہ تمام مخلوقات میں سے بہتر مخلوق ہے ، لیکن یہ مسلسل اپنے رب کی تسبیح کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب کتنا برتر ہے ۔ اور کتنا عظیم ہے۔ وہ باوجود اپنی مکمل اطاعت شعاری کے پھر بھی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حمد و ثنا میں اور اطاعت میں ان سے کوئی تقصیر نہ ہوجائے۔ جبکہ اہل زمین قصور وار بھی ہیں ، ضعیف بھی ہیں۔ راہ راست سے منحرف بھی ہیں ، پھر بھی احساس نہیں رکھتے چناچہ ملائکہ اللہ کے غضب سے ڈرتے ہیں اور زمین میں جو معصیت ہوتی ہے ، جو تقصیرات ہوتی ہیں ، اس پر وہ اللہ کے غضب کے ڈر سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ملائکہ کے استغفار سے مراد اہل ایمان کے لئے استغفار ہو ، جس طرح سورة غافر میں آیا ہے۔ الذین یحملون ۔۔۔۔۔ للذین امنوا (غافر : 7) “ عرش الٰہی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ”۔ اس حالت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتے زمین پر معصیت کے ارتکاب سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل ایمان بھی اگر معصیت کریں تو فرشتے ڈرتے ہیں اور اس خوف کی وجہ سے وہ اللہ سے اہل زمین کے لئے معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں تا کہ ان معصیتوں کی وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے اور اس لئے کہ اللہ کی رحمت لوگوں پر آتی رہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کیا جائے گا اور ان پر حمت ہوگی۔ الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (52 : 5) “ آگاہ رہو حقیقت میں اللہ غفورو رحیم ہے ”۔ اللہ کی صفات عزت اور حکمت کے ساتھ اور صفات علو اور عظمت کے ساتھ صفات مغفرت اور رحمت کو بھی یہاں جمع کیا گیا ہے تا کہ لوگ رب کی تمام صفات کو پیش نظر رکھیں۔ اس پیرے کے آخر میں ، ان صفات الٰہیہ کے بیان اور اس کائنات میں ان کے اثرات کے بیان کے بعد ، روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سرپرست بھی بنا رکھے ہیں ، حالانکہ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی سرپرست نہیں ہے تا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے معاملات سے اب دستکش ہوجائیں ، کیونکہ آپ کو ان کا حوالہ دار نہیں مقرر کیا گیا۔ اللہ ہی دراصل ان پر نگران ہے اور مختار ہے۔ والذین اتخذوا من۔۔۔۔۔۔ علیھم بوکیل (42 : 6) “ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ، اللہ ہی ان پر نگران ہے ، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو ”۔ انسانی تصور میں ان کج خلق اور بدبختوں کی یہ تصویر آتی ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے سر پرستوں کے سامنے ہاتھ دراز کیے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ مانگتے ہیں اور ان کے ہاتھ خالی ہیں ، وہاں تو ہوا کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی تصویر اور ان کے سرپرستوں کی تصویر نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور بونی تصویر ہے۔ اللہ کے قبضے میں ہیں یہ لوگ اور نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ نبی ﷺ کو کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے سے بری الذمہ ہیں۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ، اللہ تعالیٰ ان کا بندوبست کرے گا۔ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جانی چاہئے اور اس معاملے میں ان کو مطمئن ہونا چاہئے ، ہر حال میں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ لوگ جن کو سرپرست بنایا گیا ہے ، وہ اس کرۂ ارض پر برسر اقتدار اور اصحاب جاہ و مرتبہ ہوں یا دوسرے لوگ ہوں۔ اصحاب اقتدار کے بارے میں تو اہل ایمان کو یوں مطمئن ہونا چاہئے کہ وہ جس قدر جبار وقہار بھی ہوں ، اگر ان کا اقتدار قرآن وسنت سے ماخوذ نہیں ہے تو پھر وہ اللہ کی گرفت میں ہیں ، اللہ نے انہیں احاطے میں لے رکھا ہے۔ ان کے اردگرد پوری کائنات اللہ پر ایمان لانے والی ہے ، صرف وہی منحرف ہیں۔ وہ ایک نہایت ہی موزوں زمزمے میں ایک کرخت آواز کی طرح ہیں۔ اور اگر یہ سرپرست اہل اقتدار کے علاوہ اور پیر فقیر ہوں تو اہل ایمان پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ اللہ کی مخلوق میں سے اگر کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے۔ تو یہ ذمہ دار نہیں۔ دین و عقائد میں زبردستی نہیں ہے ، ان پر صرف تبلیغ کی ذمہ داری ہے ۔ بندوں کے دلوں پر نگران اللہ ہی ہے۔ چناچہ مومنین کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سیدھی راہ پر وحی الٰہی کی روشنی میں چلیں اور اگر دوسرے لوگ غلط عقائد اختیار کرتے ہیں تو ان پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ غلط عقائد جو بھی ہوں ، وہ خود ذمہ دار ہیں۔ اب ہم اس سورت کے پہلے موضوع یعنی وحی و رسالت کی طرف آتے ہیں :

الشورى 42:2

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام پیش نہیں کرسکتے۔ حالانکہ جس مواد سے یہ کلام بنا ہے ، وہ ان کے سامنے ہے اور دسترس میں ہے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ وحی ایک ہے ، وحی کا مصدر و ماخذ ایک اللہ ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ اور جن کی طرف وحی آتی ہے وہ ہر زمان و مکان کے رسول ہیں۔ رسول مختلف ہیں ، زمان و مکان کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وحی اور ہدایت ایک ہی ہے۔ الیک والی الذین من قبلک (42 : 3) ” تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف “۔ یہ بہت لمبی کہانی ہے ، زمانے کے نشیب و فراز اور تاریخ کی بیشمار کڑیوں پر مشتمل اس کے مختلف سلسلے ہیں البتہ وحی کا یہ ایک مستحکم و مستقبل اصول و منہاج ہے اور اس کی کئی شاخیں ہیں۔ یہ بات اس انداز سے جب اہل ایمان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے تو وہ اپنے اندر یہ شعور پاتے ہیں کہ وہ جس منہاج اور طریقے پر ہیں ، یہ ایک مستقل ، واحد طریقہ ہے اور اس کا سرچشمہ بھی واحد اللہ وحدہ ہے۔ اور یہ کہ ان کا سر رشتہ بھی اللہ العزیز الحلیم ہے۔ اس طرح ان کے اندر یہ شعور بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک تاریخی قافلہ حق کے ممبر ہیں جس کا آخری سرایا پہلا سرا زمان ومکان کے اندر دور تک چلا گیا ہے ، یہ گویا اہل ایمان کا ایک خاندان ہے جس کا روحانی شجرۂ نسب انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آخر میں اس شجرے کی کڑیاں ملتی ہیں اور سب جا کر اللہ العزیز پر ملتے ہیں ، جو قوی اور قادر مطلق ہے ، جو حکیم ہے ، جو اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ جس کی طرف چاہتا ہے ، وحی کرتا ہے۔ لہٰذا تم اس واحد ثابت اور مستقل ربانی منہاج سے منتشر ہوکر ادھر ادھر پگڈنڈیوں پر کیوں جارہے ہو ، کیونکہ یہ پگڈنڈیاں تو اللہ تک نہیں پہنچاتیں ، ان کے جائے آغاز کا نہ پتہ اور نہ ان کے مقام انجام کا پتہ ہے اور نہ ان کا راستہ مستقیم ہے۔ اللہ جس نے تمام رسولوں کی طرف وحی فرمائی۔ اس کی مزید صفات بھی دی جاتی ہیں کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا واحد مالک ہے۔ اور وہی بلند اور عظیم ہے۔ لہ ما فی السموت ومافی الارض وھو العلی العظیم (42 : 4) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ، وہ برتر اور عظیم ہے “ بسا اوقات لوگوں کو یہ دھوکہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی مالک ہیں ، محض اس لیے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں لیکن یہ دراصل حقیقی ملکیت نہیں ہے۔ حقیقی ملکیت اللہ کی ہے۔ وہ اللہ ہے جو موجود اور معدوم کرتا ہے ، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ یہ وہی ہے جو کسی بشر کو جو چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اور جس چیز سے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے۔ جس وقت چاہتا ہے ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ یکدم چلا جاتا ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو جو چلا گیا ہے ، اس کا متبادل دے دے۔ مالک حقیقی تمام اشیاء میں اللہ ہے۔ وہ ان چیزوں کو اپنے قانون قدرت کے مطابق چلاتا ہے۔ اور یہ تمام اشیاء اس کے حکم پر لبیک کہتی ہیں۔ اس لحاظ سے زمین و آسمان میں جو چیز ہے ، وہ اللہ کی ہے اور اس لحاظ سے اللہ کے ساتھ اس ملکیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ وھو العلی العظیم (42 : 4) ” وہ برتر اور عظیم ہے “۔ وہ صرف مالک ہی نہیں ہے ۔ وہ مالک اعلیٰ بھی ہے۔ اور وہ بڑی عظمتوں والا ہے ، اور اس عظمت میں وہ منفرد ہے۔ وہ اس طرح برتر ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز کمتر ہے اور وہ اس معنی میں عظیم ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز بہت ہی چھوٹی ہے۔ جب یہ حقیقت انسانوں کے خمیر میں اچھی طرح بیٹھ گئی اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے نفوس کے لئے جو مال ، جو رزق اور جو روزگار طلب کرتے ہیں ، یہ انہوں نے کہاں سے طلب کرنا ہے یعنی یہ زمین و آسمان میں جو چیزیں موجود ہیں ، ان کا مالک اللہ ہے۔ اور وہ مالک ہی کسی کو کوئی چیز دے سکتا ہے۔ پھر وہ برتر اور عظیم بھی ہے۔ اس سے اگر کوئی کچھ مانگتا ہے تو وہ اس کے سوال کو رد نہیں کرتا۔ جس طرح مخلوقات کے سامنے ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ نہ برتر ہیں اور نہ عظیم ہیں ، اس لیے ان کا سوال محروم بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اس کائنات میں سے ایک ایسا منظر دکھایا جاتا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کائنات کا مالک صرف اللہ ہے اور برتری اور عظمت اللہ ہی کے لئے ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اللہ کی عظمت کے رعب کی وجہ سے اور بعض لوگوں کی کج روی اور بری باتوں کی وجہ سے پھٹ پڑیں پھر اللہ کی عظمت کا ایک مظہر یہ بھی یہاں لایا گیا ہے کہ ملائکہ ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت مانگتے رہتے ہیں ، کیونکہ اہل زمین کے انحراف اور بےراہ روی کو دیکھ کر وہ بھی سہم جاتے ہیں۔ تکاد السموت یتفطرن ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (42 : 5) “ قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جارہے ہیں ۔ آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے ”۔ سماوات وہ عظیم کائنات ہے جو ہمارے اوپر نظر آتی ہے۔ اس کرۂ ارض کی پشت پر ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہمارے پاس اس کے بارے میں ابھی تک جو معلومات جمع ہو ئی ہیں وہ اس کے ایک بالکل معمولی حصے کے بارے میں ہیں۔ آج تک جو معلومات دستیاب ہیں ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سورج جیسے ایک لاکھ ملین سورج معہ اپنے لاتعداد توابع کے موجود ہیں۔ اور ایسے مجموعے یا گروپ کتنے ہیں ؟ تقریباً ایک لاکھ ملین گروپ معلوم ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سورج ہماری زمین سے ایک ملین گنا بڑا ہے۔ اور یہ لاکھوں اربوں سورج تو وہ ہیں جن کو ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعے دیکھتے ہیں ، یہ اس لا محدود فضائے کائنات (جسے ہم آسمان کہتے ہیں ) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان طویل مسافتیں ہیں جو ہزارہا ملین نوری سالوں کی دوری پر ہیں ، جن کا حساب روشنی کی رفتار کے حساب سے کیا جاتا ہے یعنی 186000 میل فی سیکنڈ کے حساب سے۔ یہ آسمان جن کے بارے میں ہمارا علم بہت ہی محدود ہے ، قریب ہے کہ پھٹ پڑیں ، ہمارے اوپر اس فضا میں سے ، کیوں ؟ اللہ کے خوف سے ، اللہ کی عظمت سے ، اور اللہ کے جلال سے اور زمین کے ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کی غفلت اور نسیان کی وجہ سے جو انہوں نے اس رب ذوالجلال اور اس کائنات کے بارے میں روا رکھی ہوئی ہیں۔ قریب ہے کہ آسمانوں پر رعشہ طاری ہوجائے اور یہ ٹوٹ پڑیں اور اس مقام سے گر جائیں جہاں یہ ٹکے ہوئے ہیں۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض (42 : 5) “ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں ”۔ ملائکہ وہ مخلوق ہے جو مکمل طور پر اطاعت شعار ہے۔ یہ تمام مخلوقات میں سے بہتر مخلوق ہے ، لیکن یہ مسلسل اپنے رب کی تسبیح کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب کتنا برتر ہے ۔ اور کتنا عظیم ہے۔ وہ باوجود اپنی مکمل اطاعت شعاری کے پھر بھی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حمد و ثنا میں اور اطاعت میں ان سے کوئی تقصیر نہ ہوجائے۔ جبکہ اہل زمین قصور وار بھی ہیں ، ضعیف بھی ہیں۔ راہ راست سے منحرف بھی ہیں ، پھر بھی احساس نہیں رکھتے چناچہ ملائکہ اللہ کے غضب سے ڈرتے ہیں اور زمین میں جو معصیت ہوتی ہے ، جو تقصیرات ہوتی ہیں ، اس پر وہ اللہ کے غضب کے ڈر سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ملائکہ کے استغفار سے مراد اہل ایمان کے لئے استغفار ہو ، جس طرح سورة غافر میں آیا ہے۔ الذین یحملون ۔۔۔۔۔ للذین امنوا (غافر : 7) “ عرش الٰہی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ”۔ اس حالت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتے زمین پر معصیت کے ارتکاب سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل ایمان بھی اگر معصیت کریں تو فرشتے ڈرتے ہیں اور اس خوف کی وجہ سے وہ اللہ سے اہل زمین کے لئے معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں تا کہ ان معصیتوں کی وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے اور اس لئے کہ اللہ کی رحمت لوگوں پر آتی رہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کیا جائے گا اور ان پر حمت ہوگی۔ الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (52 : 5) “ آگاہ رہو حقیقت میں اللہ غفورو رحیم ہے ”۔ اللہ کی صفات عزت اور حکمت کے ساتھ اور صفات علو اور عظمت کے ساتھ صفات مغفرت اور رحمت کو بھی یہاں جمع کیا گیا ہے تا کہ لوگ رب کی تمام صفات کو پیش نظر رکھیں۔ اس پیرے کے آخر میں ، ان صفات الٰہیہ کے بیان اور اس کائنات میں ان کے اثرات کے بیان کے بعد ، روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سرپرست بھی بنا رکھے ہیں ، حالانکہ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی سرپرست نہیں ہے تا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے معاملات سے اب دستکش ہوجائیں ، کیونکہ آپ کو ان کا حوالہ دار نہیں مقرر کیا گیا۔ اللہ ہی دراصل ان پر نگران ہے اور مختار ہے۔ والذین اتخذوا من۔۔۔۔۔۔ علیھم بوکیل (42 : 6) “ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ، اللہ ہی ان پر نگران ہے ، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو ”۔ انسانی تصور میں ان کج خلق اور بدبختوں کی یہ تصویر آتی ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے سر پرستوں کے سامنے ہاتھ دراز کیے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ مانگتے ہیں اور ان کے ہاتھ خالی ہیں ، وہاں تو ہوا کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی تصویر اور ان کے سرپرستوں کی تصویر نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور بونی تصویر ہے۔ اللہ کے قبضے میں ہیں یہ لوگ اور نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ نبی ﷺ کو کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے سے بری الذمہ ہیں۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ، اللہ تعالیٰ ان کا بندوبست کرے گا۔ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جانی چاہئے اور اس معاملے میں ان کو مطمئن ہونا چاہئے ، ہر حال میں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ لوگ جن کو سرپرست بنایا گیا ہے ، وہ اس کرۂ ارض پر برسر اقتدار اور اصحاب جاہ و مرتبہ ہوں یا دوسرے لوگ ہوں۔ اصحاب اقتدار کے بارے میں تو اہل ایمان کو یوں مطمئن ہونا چاہئے کہ وہ جس قدر جبار وقہار بھی ہوں ، اگر ان کا اقتدار قرآن وسنت سے ماخوذ نہیں ہے تو پھر وہ اللہ کی گرفت میں ہیں ، اللہ نے انہیں احاطے میں لے رکھا ہے۔ ان کے اردگرد پوری کائنات اللہ پر ایمان لانے والی ہے ، صرف وہی منحرف ہیں۔ وہ ایک نہایت ہی موزوں زمزمے میں ایک کرخت آواز کی طرح ہیں۔ اور اگر یہ سرپرست اہل اقتدار کے علاوہ اور پیر فقیر ہوں تو اہل ایمان پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ اللہ کی مخلوق میں سے اگر کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے۔ تو یہ ذمہ دار نہیں۔ دین و عقائد میں زبردستی نہیں ہے ، ان پر صرف تبلیغ کی ذمہ داری ہے ۔ بندوں کے دلوں پر نگران اللہ ہی ہے۔ چناچہ مومنین کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سیدھی راہ پر وحی الٰہی کی روشنی میں چلیں اور اگر دوسرے لوگ غلط عقائد اختیار کرتے ہیں تو ان پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ غلط عقائد جو بھی ہوں ، وہ خود ذمہ دار ہیں۔ اب ہم اس سورت کے پہلے موضوع یعنی وحی و رسالت کی طرف آتے ہیں :

الشورى 42:3

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام پیش نہیں کرسکتے۔ حالانکہ جس مواد سے یہ کلام بنا ہے ، وہ ان کے سامنے ہے اور دسترس میں ہے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ وحی ایک ہے ، وحی کا مصدر و ماخذ ایک اللہ ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ اور جن کی طرف وحی آتی ہے وہ ہر زمان و مکان کے رسول ہیں۔ رسول مختلف ہیں ، زمان و مکان کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وحی اور ہدایت ایک ہی ہے۔ الیک والی الذین من قبلک (42 : 3) ” تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف “۔ یہ بہت لمبی کہانی ہے ، زمانے کے نشیب و فراز اور تاریخ کی بیشمار کڑیوں پر مشتمل اس کے مختلف سلسلے ہیں البتہ وحی کا یہ ایک مستحکم و مستقبل اصول و منہاج ہے اور اس کی کئی شاخیں ہیں۔ یہ بات اس انداز سے جب اہل ایمان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے تو وہ اپنے اندر یہ شعور پاتے ہیں کہ وہ جس منہاج اور طریقے پر ہیں ، یہ ایک مستقل ، واحد طریقہ ہے اور اس کا سرچشمہ بھی واحد اللہ وحدہ ہے۔ اور یہ کہ ان کا سر رشتہ بھی اللہ العزیز الحلیم ہے۔ اس طرح ان کے اندر یہ شعور بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک تاریخی قافلہ حق کے ممبر ہیں جس کا آخری سرایا پہلا سرا زمان ومکان کے اندر دور تک چلا گیا ہے ، یہ گویا اہل ایمان کا ایک خاندان ہے جس کا روحانی شجرۂ نسب انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آخر میں اس شجرے کی کڑیاں ملتی ہیں اور سب جا کر اللہ العزیز پر ملتے ہیں ، جو قوی اور قادر مطلق ہے ، جو حکیم ہے ، جو اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ جس کی طرف چاہتا ہے ، وحی کرتا ہے۔ لہٰذا تم اس واحد ثابت اور مستقل ربانی منہاج سے منتشر ہوکر ادھر ادھر پگڈنڈیوں پر کیوں جارہے ہو ، کیونکہ یہ پگڈنڈیاں تو اللہ تک نہیں پہنچاتیں ، ان کے جائے آغاز کا نہ پتہ اور نہ ان کے مقام انجام کا پتہ ہے اور نہ ان کا راستہ مستقیم ہے۔ اللہ جس نے تمام رسولوں کی طرف وحی فرمائی۔ اس کی مزید صفات بھی دی جاتی ہیں کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا واحد مالک ہے۔ اور وہی بلند اور عظیم ہے۔ لہ ما فی السموت ومافی الارض وھو العلی العظیم (42 : 4) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ، وہ برتر اور عظیم ہے “ بسا اوقات لوگوں کو یہ دھوکہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی مالک ہیں ، محض اس لیے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں لیکن یہ دراصل حقیقی ملکیت نہیں ہے۔ حقیقی ملکیت اللہ کی ہے۔ وہ اللہ ہے جو موجود اور معدوم کرتا ہے ، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ یہ وہی ہے جو کسی بشر کو جو چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اور جس چیز سے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے۔ جس وقت چاہتا ہے ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ یکدم چلا جاتا ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو جو چلا گیا ہے ، اس کا متبادل دے دے۔ مالک حقیقی تمام اشیاء میں اللہ ہے۔ وہ ان چیزوں کو اپنے قانون قدرت کے مطابق چلاتا ہے۔ اور یہ تمام اشیاء اس کے حکم پر لبیک کہتی ہیں۔ اس لحاظ سے زمین و آسمان میں جو چیز ہے ، وہ اللہ کی ہے اور اس لحاظ سے اللہ کے ساتھ اس ملکیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ وھو العلی العظیم (42 : 4) ” وہ برتر اور عظیم ہے “۔ وہ صرف مالک ہی نہیں ہے ۔ وہ مالک اعلیٰ بھی ہے۔ اور وہ بڑی عظمتوں والا ہے ، اور اس عظمت میں وہ منفرد ہے۔ وہ اس طرح برتر ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز کمتر ہے اور وہ اس معنی میں عظیم ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز بہت ہی چھوٹی ہے۔ جب یہ حقیقت انسانوں کے خمیر میں اچھی طرح بیٹھ گئی اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے نفوس کے لئے جو مال ، جو رزق اور جو روزگار طلب کرتے ہیں ، یہ انہوں نے کہاں سے طلب کرنا ہے یعنی یہ زمین و آسمان میں جو چیزیں موجود ہیں ، ان کا مالک اللہ ہے۔ اور وہ مالک ہی کسی کو کوئی چیز دے سکتا ہے۔ پھر وہ برتر اور عظیم بھی ہے۔ اس سے اگر کوئی کچھ مانگتا ہے تو وہ اس کے سوال کو رد نہیں کرتا۔ جس طرح مخلوقات کے سامنے ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ نہ برتر ہیں اور نہ عظیم ہیں ، اس لیے ان کا سوال محروم بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اس کائنات میں سے ایک ایسا منظر دکھایا جاتا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کائنات کا مالک صرف اللہ ہے اور برتری اور عظمت اللہ ہی کے لئے ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اللہ کی عظمت کے رعب کی وجہ سے اور بعض لوگوں کی کج روی اور بری باتوں کی وجہ سے پھٹ پڑیں پھر اللہ کی عظمت کا ایک مظہر یہ بھی یہاں لایا گیا ہے کہ ملائکہ ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت مانگتے رہتے ہیں ، کیونکہ اہل زمین کے انحراف اور بےراہ روی کو دیکھ کر وہ بھی سہم جاتے ہیں۔ تکاد السموت یتفطرن ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (42 : 5) “ قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جارہے ہیں ۔ آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے ”۔ سماوات وہ عظیم کائنات ہے جو ہمارے اوپر نظر آتی ہے۔ اس کرۂ ارض کی پشت پر ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہمارے پاس اس کے بارے میں ابھی تک جو معلومات جمع ہو ئی ہیں وہ اس کے ایک بالکل معمولی حصے کے بارے میں ہیں۔ آج تک جو معلومات دستیاب ہیں ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سورج جیسے ایک لاکھ ملین سورج معہ اپنے لاتعداد توابع کے موجود ہیں۔ اور ایسے مجموعے یا گروپ کتنے ہیں ؟ تقریباً ایک لاکھ ملین گروپ معلوم ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سورج ہماری زمین سے ایک ملین گنا بڑا ہے۔ اور یہ لاکھوں اربوں سورج تو وہ ہیں جن کو ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعے دیکھتے ہیں ، یہ اس لا محدود فضائے کائنات (جسے ہم آسمان کہتے ہیں ) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان طویل مسافتیں ہیں جو ہزارہا ملین نوری سالوں کی دوری پر ہیں ، جن کا حساب روشنی کی رفتار کے حساب سے کیا جاتا ہے یعنی 186000 میل فی سیکنڈ کے حساب سے۔ یہ آسمان جن کے بارے میں ہمارا علم بہت ہی محدود ہے ، قریب ہے کہ پھٹ پڑیں ، ہمارے اوپر اس فضا میں سے ، کیوں ؟ اللہ کے خوف سے ، اللہ کی عظمت سے ، اور اللہ کے جلال سے اور زمین کے ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کی غفلت اور نسیان کی وجہ سے جو انہوں نے اس رب ذوالجلال اور اس کائنات کے بارے میں روا رکھی ہوئی ہیں۔ قریب ہے کہ آسمانوں پر رعشہ طاری ہوجائے اور یہ ٹوٹ پڑیں اور اس مقام سے گر جائیں جہاں یہ ٹکے ہوئے ہیں۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض (42 : 5) “ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں ”۔ ملائکہ وہ مخلوق ہے جو مکمل طور پر اطاعت شعار ہے۔ یہ تمام مخلوقات میں سے بہتر مخلوق ہے ، لیکن یہ مسلسل اپنے رب کی تسبیح کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب کتنا برتر ہے ۔ اور کتنا عظیم ہے۔ وہ باوجود اپنی مکمل اطاعت شعاری کے پھر بھی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حمد و ثنا میں اور اطاعت میں ان سے کوئی تقصیر نہ ہوجائے۔ جبکہ اہل زمین قصور وار بھی ہیں ، ضعیف بھی ہیں۔ راہ راست سے منحرف بھی ہیں ، پھر بھی احساس نہیں رکھتے چناچہ ملائکہ اللہ کے غضب سے ڈرتے ہیں اور زمین میں جو معصیت ہوتی ہے ، جو تقصیرات ہوتی ہیں ، اس پر وہ اللہ کے غضب کے ڈر سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ملائکہ کے استغفار سے مراد اہل ایمان کے لئے استغفار ہو ، جس طرح سورة غافر میں آیا ہے۔ الذین یحملون ۔۔۔۔۔ للذین امنوا (غافر : 7) “ عرش الٰہی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ”۔ اس حالت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتے زمین پر معصیت کے ارتکاب سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل ایمان بھی اگر معصیت کریں تو فرشتے ڈرتے ہیں اور اس خوف کی وجہ سے وہ اللہ سے اہل زمین کے لئے معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں تا کہ ان معصیتوں کی وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے اور اس لئے کہ اللہ کی رحمت لوگوں پر آتی رہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کیا جائے گا اور ان پر حمت ہوگی۔ الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (52 : 5) “ آگاہ رہو حقیقت میں اللہ غفورو رحیم ہے ”۔ اللہ کی صفات عزت اور حکمت کے ساتھ اور صفات علو اور عظمت کے ساتھ صفات مغفرت اور رحمت کو بھی یہاں جمع کیا گیا ہے تا کہ لوگ رب کی تمام صفات کو پیش نظر رکھیں۔ اس پیرے کے آخر میں ، ان صفات الٰہیہ کے بیان اور اس کائنات میں ان کے اثرات کے بیان کے بعد ، روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سرپرست بھی بنا رکھے ہیں ، حالانکہ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی سرپرست نہیں ہے تا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے معاملات سے اب دستکش ہوجائیں ، کیونکہ آپ کو ان کا حوالہ دار نہیں مقرر کیا گیا۔ اللہ ہی دراصل ان پر نگران ہے اور مختار ہے۔ والذین اتخذوا من۔۔۔۔۔۔ علیھم بوکیل (42 : 6) “ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ، اللہ ہی ان پر نگران ہے ، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو ”۔ انسانی تصور میں ان کج خلق اور بدبختوں کی یہ تصویر آتی ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے سر پرستوں کے سامنے ہاتھ دراز کیے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ مانگتے ہیں اور ان کے ہاتھ خالی ہیں ، وہاں تو ہوا کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی تصویر اور ان کے سرپرستوں کی تصویر نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور بونی تصویر ہے۔ اللہ کے قبضے میں ہیں یہ لوگ اور نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ نبی ﷺ کو کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے سے بری الذمہ ہیں۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ، اللہ تعالیٰ ان کا بندوبست کرے گا۔ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جانی چاہئے اور اس معاملے میں ان کو مطمئن ہونا چاہئے ، ہر حال میں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ لوگ جن کو سرپرست بنایا گیا ہے ، وہ اس کرۂ ارض پر برسر اقتدار اور اصحاب جاہ و مرتبہ ہوں یا دوسرے لوگ ہوں۔ اصحاب اقتدار کے بارے میں تو اہل ایمان کو یوں مطمئن ہونا چاہئے کہ وہ جس قدر جبار وقہار بھی ہوں ، اگر ان کا اقتدار قرآن وسنت سے ماخوذ نہیں ہے تو پھر وہ اللہ کی گرفت میں ہیں ، اللہ نے انہیں احاطے میں لے رکھا ہے۔ ان کے اردگرد پوری کائنات اللہ پر ایمان لانے والی ہے ، صرف وہی منحرف ہیں۔ وہ ایک نہایت ہی موزوں زمزمے میں ایک کرخت آواز کی طرح ہیں۔ اور اگر یہ سرپرست اہل اقتدار کے علاوہ اور پیر فقیر ہوں تو اہل ایمان پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ اللہ کی مخلوق میں سے اگر کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے۔ تو یہ ذمہ دار نہیں۔ دین و عقائد میں زبردستی نہیں ہے ، ان پر صرف تبلیغ کی ذمہ داری ہے ۔ بندوں کے دلوں پر نگران اللہ ہی ہے۔ چناچہ مومنین کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سیدھی راہ پر وحی الٰہی کی روشنی میں چلیں اور اگر دوسرے لوگ غلط عقائد اختیار کرتے ہیں تو ان پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ غلط عقائد جو بھی ہوں ، وہ خود ذمہ دار ہیں۔ اب ہم اس سورت کے پہلے موضوع یعنی وحی و رسالت کی طرف آتے ہیں :

الشورى 42:4

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام پیش نہیں کرسکتے۔ حالانکہ جس مواد سے یہ کلام بنا ہے ، وہ ان کے سامنے ہے اور دسترس میں ہے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ وحی ایک ہے ، وحی کا مصدر و ماخذ ایک اللہ ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ اور جن کی طرف وحی آتی ہے وہ ہر زمان و مکان کے رسول ہیں۔ رسول مختلف ہیں ، زمان و مکان کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وحی اور ہدایت ایک ہی ہے۔ الیک والی الذین من قبلک (42 : 3) ” تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف “۔ یہ بہت لمبی کہانی ہے ، زمانے کے نشیب و فراز اور تاریخ کی بیشمار کڑیوں پر مشتمل اس کے مختلف سلسلے ہیں البتہ وحی کا یہ ایک مستحکم و مستقبل اصول و منہاج ہے اور اس کی کئی شاخیں ہیں۔ یہ بات اس انداز سے جب اہل ایمان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے تو وہ اپنے اندر یہ شعور پاتے ہیں کہ وہ جس منہاج اور طریقے پر ہیں ، یہ ایک مستقل ، واحد طریقہ ہے اور اس کا سرچشمہ بھی واحد اللہ وحدہ ہے۔ اور یہ کہ ان کا سر رشتہ بھی اللہ العزیز الحلیم ہے۔ اس طرح ان کے اندر یہ شعور بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک تاریخی قافلہ حق کے ممبر ہیں جس کا آخری سرایا پہلا سرا زمان ومکان کے اندر دور تک چلا گیا ہے ، یہ گویا اہل ایمان کا ایک خاندان ہے جس کا روحانی شجرۂ نسب انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آخر میں اس شجرے کی کڑیاں ملتی ہیں اور سب جا کر اللہ العزیز پر ملتے ہیں ، جو قوی اور قادر مطلق ہے ، جو حکیم ہے ، جو اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ جس کی طرف چاہتا ہے ، وحی کرتا ہے۔ لہٰذا تم اس واحد ثابت اور مستقل ربانی منہاج سے منتشر ہوکر ادھر ادھر پگڈنڈیوں پر کیوں جارہے ہو ، کیونکہ یہ پگڈنڈیاں تو اللہ تک نہیں پہنچاتیں ، ان کے جائے آغاز کا نہ پتہ اور نہ ان کے مقام انجام کا پتہ ہے اور نہ ان کا راستہ مستقیم ہے۔ اللہ جس نے تمام رسولوں کی طرف وحی فرمائی۔ اس کی مزید صفات بھی دی جاتی ہیں کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا واحد مالک ہے۔ اور وہی بلند اور عظیم ہے۔ لہ ما فی السموت ومافی الارض وھو العلی العظیم (42 : 4) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ، وہ برتر اور عظیم ہے “ بسا اوقات لوگوں کو یہ دھوکہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی مالک ہیں ، محض اس لیے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں لیکن یہ دراصل حقیقی ملکیت نہیں ہے۔ حقیقی ملکیت اللہ کی ہے۔ وہ اللہ ہے جو موجود اور معدوم کرتا ہے ، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ یہ وہی ہے جو کسی بشر کو جو چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اور جس چیز سے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے۔ جس وقت چاہتا ہے ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ یکدم چلا جاتا ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو جو چلا گیا ہے ، اس کا متبادل دے دے۔ مالک حقیقی تمام اشیاء میں اللہ ہے۔ وہ ان چیزوں کو اپنے قانون قدرت کے مطابق چلاتا ہے۔ اور یہ تمام اشیاء اس کے حکم پر لبیک کہتی ہیں۔ اس لحاظ سے زمین و آسمان میں جو چیز ہے ، وہ اللہ کی ہے اور اس لحاظ سے اللہ کے ساتھ اس ملکیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ وھو العلی العظیم (42 : 4) ” وہ برتر اور عظیم ہے “۔ وہ صرف مالک ہی نہیں ہے ۔ وہ مالک اعلیٰ بھی ہے۔ اور وہ بڑی عظمتوں والا ہے ، اور اس عظمت میں وہ منفرد ہے۔ وہ اس طرح برتر ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز کمتر ہے اور وہ اس معنی میں عظیم ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز بہت ہی چھوٹی ہے۔ جب یہ حقیقت انسانوں کے خمیر میں اچھی طرح بیٹھ گئی اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے نفوس کے لئے جو مال ، جو رزق اور جو روزگار طلب کرتے ہیں ، یہ انہوں نے کہاں سے طلب کرنا ہے یعنی یہ زمین و آسمان میں جو چیزیں موجود ہیں ، ان کا مالک اللہ ہے۔ اور وہ مالک ہی کسی کو کوئی چیز دے سکتا ہے۔ پھر وہ برتر اور عظیم بھی ہے۔ اس سے اگر کوئی کچھ مانگتا ہے تو وہ اس کے سوال کو رد نہیں کرتا۔ جس طرح مخلوقات کے سامنے ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ نہ برتر ہیں اور نہ عظیم ہیں ، اس لیے ان کا سوال محروم بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اس کائنات میں سے ایک ایسا منظر دکھایا جاتا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کائنات کا مالک صرف اللہ ہے اور برتری اور عظمت اللہ ہی کے لئے ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اللہ کی عظمت کے رعب کی وجہ سے اور بعض لوگوں کی کج روی اور بری باتوں کی وجہ سے پھٹ پڑیں پھر اللہ کی عظمت کا ایک مظہر یہ بھی یہاں لایا گیا ہے کہ ملائکہ ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت مانگتے رہتے ہیں ، کیونکہ اہل زمین کے انحراف اور بےراہ روی کو دیکھ کر وہ بھی سہم جاتے ہیں۔ تکاد السموت یتفطرن ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (42 : 5) “ قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جارہے ہیں ۔ آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے ”۔ سماوات وہ عظیم کائنات ہے جو ہمارے اوپر نظر آتی ہے۔ اس کرۂ ارض کی پشت پر ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہمارے پاس اس کے بارے میں ابھی تک جو معلومات جمع ہو ئی ہیں وہ اس کے ایک بالکل معمولی حصے کے بارے میں ہیں۔ آج تک جو معلومات دستیاب ہیں ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سورج جیسے ایک لاکھ ملین سورج معہ اپنے لاتعداد توابع کے موجود ہیں۔ اور ایسے مجموعے یا گروپ کتنے ہیں ؟ تقریباً ایک لاکھ ملین گروپ معلوم ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سورج ہماری زمین سے ایک ملین گنا بڑا ہے۔ اور یہ لاکھوں اربوں سورج تو وہ ہیں جن کو ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعے دیکھتے ہیں ، یہ اس لا محدود فضائے کائنات (جسے ہم آسمان کہتے ہیں ) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان طویل مسافتیں ہیں جو ہزارہا ملین نوری سالوں کی دوری پر ہیں ، جن کا حساب روشنی کی رفتار کے حساب سے کیا جاتا ہے یعنی 186000 میل فی سیکنڈ کے حساب سے۔ یہ آسمان جن کے بارے میں ہمارا علم بہت ہی محدود ہے ، قریب ہے کہ پھٹ پڑیں ، ہمارے اوپر اس فضا میں سے ، کیوں ؟ اللہ کے خوف سے ، اللہ کی عظمت سے ، اور اللہ کے جلال سے اور زمین کے ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کی غفلت اور نسیان کی وجہ سے جو انہوں نے اس رب ذوالجلال اور اس کائنات کے بارے میں روا رکھی ہوئی ہیں۔ قریب ہے کہ آسمانوں پر رعشہ طاری ہوجائے اور یہ ٹوٹ پڑیں اور اس مقام سے گر جائیں جہاں یہ ٹکے ہوئے ہیں۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض (42 : 5) “ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں ”۔ ملائکہ وہ مخلوق ہے جو مکمل طور پر اطاعت شعار ہے۔ یہ تمام مخلوقات میں سے بہتر مخلوق ہے ، لیکن یہ مسلسل اپنے رب کی تسبیح کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب کتنا برتر ہے ۔ اور کتنا عظیم ہے۔ وہ باوجود اپنی مکمل اطاعت شعاری کے پھر بھی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حمد و ثنا میں اور اطاعت میں ان سے کوئی تقصیر نہ ہوجائے۔ جبکہ اہل زمین قصور وار بھی ہیں ، ضعیف بھی ہیں۔ راہ راست سے منحرف بھی ہیں ، پھر بھی احساس نہیں رکھتے چناچہ ملائکہ اللہ کے غضب سے ڈرتے ہیں اور زمین میں جو معصیت ہوتی ہے ، جو تقصیرات ہوتی ہیں ، اس پر وہ اللہ کے غضب کے ڈر سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ملائکہ کے استغفار سے مراد اہل ایمان کے لئے استغفار ہو ، جس طرح سورة غافر میں آیا ہے۔ الذین یحملون ۔۔۔۔۔ للذین امنوا (غافر : 7) “ عرش الٰہی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ”۔ اس حالت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتے زمین پر معصیت کے ارتکاب سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل ایمان بھی اگر معصیت کریں تو فرشتے ڈرتے ہیں اور اس خوف کی وجہ سے وہ اللہ سے اہل زمین کے لئے معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں تا کہ ان معصیتوں کی وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے اور اس لئے کہ اللہ کی رحمت لوگوں پر آتی رہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کیا جائے گا اور ان پر حمت ہوگی۔ الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (52 : 5) “ آگاہ رہو حقیقت میں اللہ غفورو رحیم ہے ”۔ اللہ کی صفات عزت اور حکمت کے ساتھ اور صفات علو اور عظمت کے ساتھ صفات مغفرت اور رحمت کو بھی یہاں جمع کیا گیا ہے تا کہ لوگ رب کی تمام صفات کو پیش نظر رکھیں۔ اس پیرے کے آخر میں ، ان صفات الٰہیہ کے بیان اور اس کائنات میں ان کے اثرات کے بیان کے بعد ، روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سرپرست بھی بنا رکھے ہیں ، حالانکہ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی سرپرست نہیں ہے تا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے معاملات سے اب دستکش ہوجائیں ، کیونکہ آپ کو ان کا حوالہ دار نہیں مقرر کیا گیا۔ اللہ ہی دراصل ان پر نگران ہے اور مختار ہے۔ والذین اتخذوا من۔۔۔۔۔۔ علیھم بوکیل (42 : 6) “ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ، اللہ ہی ان پر نگران ہے ، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو ”۔ انسانی تصور میں ان کج خلق اور بدبختوں کی یہ تصویر آتی ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے سر پرستوں کے سامنے ہاتھ دراز کیے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ مانگتے ہیں اور ان کے ہاتھ خالی ہیں ، وہاں تو ہوا کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی تصویر اور ان کے سرپرستوں کی تصویر نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور بونی تصویر ہے۔ اللہ کے قبضے میں ہیں یہ لوگ اور نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ نبی ﷺ کو کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے سے بری الذمہ ہیں۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ، اللہ تعالیٰ ان کا بندوبست کرے گا۔ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جانی چاہئے اور اس معاملے میں ان کو مطمئن ہونا چاہئے ، ہر حال میں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ لوگ جن کو سرپرست بنایا گیا ہے ، وہ اس کرۂ ارض پر برسر اقتدار اور اصحاب جاہ و مرتبہ ہوں یا دوسرے لوگ ہوں۔ اصحاب اقتدار کے بارے میں تو اہل ایمان کو یوں مطمئن ہونا چاہئے کہ وہ جس قدر جبار وقہار بھی ہوں ، اگر ان کا اقتدار قرآن وسنت سے ماخوذ نہیں ہے تو پھر وہ اللہ کی گرفت میں ہیں ، اللہ نے انہیں احاطے میں لے رکھا ہے۔ ان کے اردگرد پوری کائنات اللہ پر ایمان لانے والی ہے ، صرف وہی منحرف ہیں۔ وہ ایک نہایت ہی موزوں زمزمے میں ایک کرخت آواز کی طرح ہیں۔ اور اگر یہ سرپرست اہل اقتدار کے علاوہ اور پیر فقیر ہوں تو اہل ایمان پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ اللہ کی مخلوق میں سے اگر کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے۔ تو یہ ذمہ دار نہیں۔ دین و عقائد میں زبردستی نہیں ہے ، ان پر صرف تبلیغ کی ذمہ داری ہے ۔ بندوں کے دلوں پر نگران اللہ ہی ہے۔ چناچہ مومنین کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سیدھی راہ پر وحی الٰہی کی روشنی میں چلیں اور اگر دوسرے لوگ غلط عقائد اختیار کرتے ہیں تو ان پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ غلط عقائد جو بھی ہوں ، وہ خود ذمہ دار ہیں۔ اب ہم اس سورت کے پہلے موضوع یعنی وحی و رسالت کی طرف آتے ہیں :

الشورى 42:5

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام پیش نہیں کرسکتے۔ حالانکہ جس مواد سے یہ کلام بنا ہے ، وہ ان کے سامنے ہے اور دسترس میں ہے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ وحی ایک ہے ، وحی کا مصدر و ماخذ ایک اللہ ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ اور جن کی طرف وحی آتی ہے وہ ہر زمان و مکان کے رسول ہیں۔ رسول مختلف ہیں ، زمان و مکان کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وحی اور ہدایت ایک ہی ہے۔ الیک والی الذین من قبلک (42 : 3) ” تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف “۔ یہ بہت لمبی کہانی ہے ، زمانے کے نشیب و فراز اور تاریخ کی بیشمار کڑیوں پر مشتمل اس کے مختلف سلسلے ہیں البتہ وحی کا یہ ایک مستحکم و مستقبل اصول و منہاج ہے اور اس کی کئی شاخیں ہیں۔ یہ بات اس انداز سے جب اہل ایمان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے تو وہ اپنے اندر یہ شعور پاتے ہیں کہ وہ جس منہاج اور طریقے پر ہیں ، یہ ایک مستقل ، واحد طریقہ ہے اور اس کا سرچشمہ بھی واحد اللہ وحدہ ہے۔ اور یہ کہ ان کا سر رشتہ بھی اللہ العزیز الحلیم ہے۔ اس طرح ان کے اندر یہ شعور بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک تاریخی قافلہ حق کے ممبر ہیں جس کا آخری سرایا پہلا سرا زمان ومکان کے اندر دور تک چلا گیا ہے ، یہ گویا اہل ایمان کا ایک خاندان ہے جس کا روحانی شجرۂ نسب انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آخر میں اس شجرے کی کڑیاں ملتی ہیں اور سب جا کر اللہ العزیز پر ملتے ہیں ، جو قوی اور قادر مطلق ہے ، جو حکیم ہے ، جو اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ جس کی طرف چاہتا ہے ، وحی کرتا ہے۔ لہٰذا تم اس واحد ثابت اور مستقل ربانی منہاج سے منتشر ہوکر ادھر ادھر پگڈنڈیوں پر کیوں جارہے ہو ، کیونکہ یہ پگڈنڈیاں تو اللہ تک نہیں پہنچاتیں ، ان کے جائے آغاز کا نہ پتہ اور نہ ان کے مقام انجام کا پتہ ہے اور نہ ان کا راستہ مستقیم ہے۔ اللہ جس نے تمام رسولوں کی طرف وحی فرمائی۔ اس کی مزید صفات بھی دی جاتی ہیں کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا واحد مالک ہے۔ اور وہی بلند اور عظیم ہے۔ لہ ما فی السموت ومافی الارض وھو العلی العظیم (42 : 4) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ، وہ برتر اور عظیم ہے “ بسا اوقات لوگوں کو یہ دھوکہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی مالک ہیں ، محض اس لیے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں لیکن یہ دراصل حقیقی ملکیت نہیں ہے۔ حقیقی ملکیت اللہ کی ہے۔ وہ اللہ ہے جو موجود اور معدوم کرتا ہے ، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ یہ وہی ہے جو کسی بشر کو جو چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اور جس چیز سے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے۔ جس وقت چاہتا ہے ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ یکدم چلا جاتا ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو جو چلا گیا ہے ، اس کا متبادل دے دے۔ مالک حقیقی تمام اشیاء میں اللہ ہے۔ وہ ان چیزوں کو اپنے قانون قدرت کے مطابق چلاتا ہے۔ اور یہ تمام اشیاء اس کے حکم پر لبیک کہتی ہیں۔ اس لحاظ سے زمین و آسمان میں جو چیز ہے ، وہ اللہ کی ہے اور اس لحاظ سے اللہ کے ساتھ اس ملکیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ وھو العلی العظیم (42 : 4) ” وہ برتر اور عظیم ہے “۔ وہ صرف مالک ہی نہیں ہے ۔ وہ مالک اعلیٰ بھی ہے۔ اور وہ بڑی عظمتوں والا ہے ، اور اس عظمت میں وہ منفرد ہے۔ وہ اس طرح برتر ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز کمتر ہے اور وہ اس معنی میں عظیم ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز بہت ہی چھوٹی ہے۔ جب یہ حقیقت انسانوں کے خمیر میں اچھی طرح بیٹھ گئی اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے نفوس کے لئے جو مال ، جو رزق اور جو روزگار طلب کرتے ہیں ، یہ انہوں نے کہاں سے طلب کرنا ہے یعنی یہ زمین و آسمان میں جو چیزیں موجود ہیں ، ان کا مالک اللہ ہے۔ اور وہ مالک ہی کسی کو کوئی چیز دے سکتا ہے۔ پھر وہ برتر اور عظیم بھی ہے۔ اس سے اگر کوئی کچھ مانگتا ہے تو وہ اس کے سوال کو رد نہیں کرتا۔ جس طرح مخلوقات کے سامنے ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ نہ برتر ہیں اور نہ عظیم ہیں ، اس لیے ان کا سوال محروم بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اس کائنات میں سے ایک ایسا منظر دکھایا جاتا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کائنات کا مالک صرف اللہ ہے اور برتری اور عظمت اللہ ہی کے لئے ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اللہ کی عظمت کے رعب کی وجہ سے اور بعض لوگوں کی کج روی اور بری باتوں کی وجہ سے پھٹ پڑیں پھر اللہ کی عظمت کا ایک مظہر یہ بھی یہاں لایا گیا ہے کہ ملائکہ ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت مانگتے رہتے ہیں ، کیونکہ اہل زمین کے انحراف اور بےراہ روی کو دیکھ کر وہ بھی سہم جاتے ہیں۔ تکاد السموت یتفطرن ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (42 : 5) “ قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جارہے ہیں ۔ آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے ”۔ سماوات وہ عظیم کائنات ہے جو ہمارے اوپر نظر آتی ہے۔ اس کرۂ ارض کی پشت پر ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہمارے پاس اس کے بارے میں ابھی تک جو معلومات جمع ہو ئی ہیں وہ اس کے ایک بالکل معمولی حصے کے بارے میں ہیں۔ آج تک جو معلومات دستیاب ہیں ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سورج جیسے ایک لاکھ ملین سورج معہ اپنے لاتعداد توابع کے موجود ہیں۔ اور ایسے مجموعے یا گروپ کتنے ہیں ؟ تقریباً ایک لاکھ ملین گروپ معلوم ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سورج ہماری زمین سے ایک ملین گنا بڑا ہے۔ اور یہ لاکھوں اربوں سورج تو وہ ہیں جن کو ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعے دیکھتے ہیں ، یہ اس لا محدود فضائے کائنات (جسے ہم آسمان کہتے ہیں ) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان طویل مسافتیں ہیں جو ہزارہا ملین نوری سالوں کی دوری پر ہیں ، جن کا حساب روشنی کی رفتار کے حساب سے کیا جاتا ہے یعنی 186000 میل فی سیکنڈ کے حساب سے۔ یہ آسمان جن کے بارے میں ہمارا علم بہت ہی محدود ہے ، قریب ہے کہ پھٹ پڑیں ، ہمارے اوپر اس فضا میں سے ، کیوں ؟ اللہ کے خوف سے ، اللہ کی عظمت سے ، اور اللہ کے جلال سے اور زمین کے ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کی غفلت اور نسیان کی وجہ سے جو انہوں نے اس رب ذوالجلال اور اس کائنات کے بارے میں روا رکھی ہوئی ہیں۔ قریب ہے کہ آسمانوں پر رعشہ طاری ہوجائے اور یہ ٹوٹ پڑیں اور اس مقام سے گر جائیں جہاں یہ ٹکے ہوئے ہیں۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض (42 : 5) “ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں ”۔ ملائکہ وہ مخلوق ہے جو مکمل طور پر اطاعت شعار ہے۔ یہ تمام مخلوقات میں سے بہتر مخلوق ہے ، لیکن یہ مسلسل اپنے رب کی تسبیح کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب کتنا برتر ہے ۔ اور کتنا عظیم ہے۔ وہ باوجود اپنی مکمل اطاعت شعاری کے پھر بھی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حمد و ثنا میں اور اطاعت میں ان سے کوئی تقصیر نہ ہوجائے۔ جبکہ اہل زمین قصور وار بھی ہیں ، ضعیف بھی ہیں۔ راہ راست سے منحرف بھی ہیں ، پھر بھی احساس نہیں رکھتے چناچہ ملائکہ اللہ کے غضب سے ڈرتے ہیں اور زمین میں جو معصیت ہوتی ہے ، جو تقصیرات ہوتی ہیں ، اس پر وہ اللہ کے غضب کے ڈر سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ملائکہ کے استغفار سے مراد اہل ایمان کے لئے استغفار ہو ، جس طرح سورة غافر میں آیا ہے۔ الذین یحملون ۔۔۔۔۔ للذین امنوا (غافر : 7) “ عرش الٰہی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ”۔ اس حالت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتے زمین پر معصیت کے ارتکاب سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل ایمان بھی اگر معصیت کریں تو فرشتے ڈرتے ہیں اور اس خوف کی وجہ سے وہ اللہ سے اہل زمین کے لئے معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں تا کہ ان معصیتوں کی وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے اور اس لئے کہ اللہ کی رحمت لوگوں پر آتی رہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کیا جائے گا اور ان پر حمت ہوگی۔ الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (52 : 5) “ آگاہ رہو حقیقت میں اللہ غفورو رحیم ہے ”۔ اللہ کی صفات عزت اور حکمت کے ساتھ اور صفات علو اور عظمت کے ساتھ صفات مغفرت اور رحمت کو بھی یہاں جمع کیا گیا ہے تا کہ لوگ رب کی تمام صفات کو پیش نظر رکھیں۔ اس پیرے کے آخر میں ، ان صفات الٰہیہ کے بیان اور اس کائنات میں ان کے اثرات کے بیان کے بعد ، روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سرپرست بھی بنا رکھے ہیں ، حالانکہ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی سرپرست نہیں ہے تا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے معاملات سے اب دستکش ہوجائیں ، کیونکہ آپ کو ان کا حوالہ دار نہیں مقرر کیا گیا۔ اللہ ہی دراصل ان پر نگران ہے اور مختار ہے۔ والذین اتخذوا من۔۔۔۔۔۔ علیھم بوکیل (42 : 6) “ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ، اللہ ہی ان پر نگران ہے ، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو ”۔ انسانی تصور میں ان کج خلق اور بدبختوں کی یہ تصویر آتی ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے سر پرستوں کے سامنے ہاتھ دراز کیے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ مانگتے ہیں اور ان کے ہاتھ خالی ہیں ، وہاں تو ہوا کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی تصویر اور ان کے سرپرستوں کی تصویر نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور بونی تصویر ہے۔ اللہ کے قبضے میں ہیں یہ لوگ اور نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ نبی ﷺ کو کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے سے بری الذمہ ہیں۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ، اللہ تعالیٰ ان کا بندوبست کرے گا۔ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جانی چاہئے اور اس معاملے میں ان کو مطمئن ہونا چاہئے ، ہر حال میں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ لوگ جن کو سرپرست بنایا گیا ہے ، وہ اس کرۂ ارض پر برسر اقتدار اور اصحاب جاہ و مرتبہ ہوں یا دوسرے لوگ ہوں۔ اصحاب اقتدار کے بارے میں تو اہل ایمان کو یوں مطمئن ہونا چاہئے کہ وہ جس قدر جبار وقہار بھی ہوں ، اگر ان کا اقتدار قرآن وسنت سے ماخوذ نہیں ہے تو پھر وہ اللہ کی گرفت میں ہیں ، اللہ نے انہیں احاطے میں لے رکھا ہے۔ ان کے اردگرد پوری کائنات اللہ پر ایمان لانے والی ہے ، صرف وہی منحرف ہیں۔ وہ ایک نہایت ہی موزوں زمزمے میں ایک کرخت آواز کی طرح ہیں۔ اور اگر یہ سرپرست اہل اقتدار کے علاوہ اور پیر فقیر ہوں تو اہل ایمان پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ اللہ کی مخلوق میں سے اگر کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے۔ تو یہ ذمہ دار نہیں۔ دین و عقائد میں زبردستی نہیں ہے ، ان پر صرف تبلیغ کی ذمہ داری ہے ۔ بندوں کے دلوں پر نگران اللہ ہی ہے۔ چناچہ مومنین کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سیدھی راہ پر وحی الٰہی کی روشنی میں چلیں اور اگر دوسرے لوگ غلط عقائد اختیار کرتے ہیں تو ان پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ غلط عقائد جو بھی ہوں ، وہ خود ذمہ دار ہیں۔ اب ہم اس سورت کے پہلے موضوع یعنی وحی و رسالت کی طرف آتے ہیں :

الشورى 42:6

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام پیش نہیں کرسکتے۔ حالانکہ جس مواد سے یہ کلام بنا ہے ، وہ ان کے سامنے ہے اور دسترس میں ہے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ وحی ایک ہے ، وحی کا مصدر و ماخذ ایک اللہ ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ اور جن کی طرف وحی آتی ہے وہ ہر زمان و مکان کے رسول ہیں۔ رسول مختلف ہیں ، زمان و مکان کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وحی اور ہدایت ایک ہی ہے۔ الیک والی الذین من قبلک (42 : 3) ” تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف “۔ یہ بہت لمبی کہانی ہے ، زمانے کے نشیب و فراز اور تاریخ کی بیشمار کڑیوں پر مشتمل اس کے مختلف سلسلے ہیں البتہ وحی کا یہ ایک مستحکم و مستقبل اصول و منہاج ہے اور اس کی کئی شاخیں ہیں۔ یہ بات اس انداز سے جب اہل ایمان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے تو وہ اپنے اندر یہ شعور پاتے ہیں کہ وہ جس منہاج اور طریقے پر ہیں ، یہ ایک مستقل ، واحد طریقہ ہے اور اس کا سرچشمہ بھی واحد اللہ وحدہ ہے۔ اور یہ کہ ان کا سر رشتہ بھی اللہ العزیز الحلیم ہے۔ اس طرح ان کے اندر یہ شعور بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک تاریخی قافلہ حق کے ممبر ہیں جس کا آخری سرایا پہلا سرا زمان ومکان کے اندر دور تک چلا گیا ہے ، یہ گویا اہل ایمان کا ایک خاندان ہے جس کا روحانی شجرۂ نسب انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آخر میں اس شجرے کی کڑیاں ملتی ہیں اور سب جا کر اللہ العزیز پر ملتے ہیں ، جو قوی اور قادر مطلق ہے ، جو حکیم ہے ، جو اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ جس کی طرف چاہتا ہے ، وحی کرتا ہے۔ لہٰذا تم اس واحد ثابت اور مستقل ربانی منہاج سے منتشر ہوکر ادھر ادھر پگڈنڈیوں پر کیوں جارہے ہو ، کیونکہ یہ پگڈنڈیاں تو اللہ تک نہیں پہنچاتیں ، ان کے جائے آغاز کا نہ پتہ اور نہ ان کے مقام انجام کا پتہ ہے اور نہ ان کا راستہ مستقیم ہے۔ اللہ جس نے تمام رسولوں کی طرف وحی فرمائی۔ اس کی مزید صفات بھی دی جاتی ہیں کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا واحد مالک ہے۔ اور وہی بلند اور عظیم ہے۔ لہ ما فی السموت ومافی الارض وھو العلی العظیم (42 : 4) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ، وہ برتر اور عظیم ہے “ بسا اوقات لوگوں کو یہ دھوکہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی مالک ہیں ، محض اس لیے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں لیکن یہ دراصل حقیقی ملکیت نہیں ہے۔ حقیقی ملکیت اللہ کی ہے۔ وہ اللہ ہے جو موجود اور معدوم کرتا ہے ، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ یہ وہی ہے جو کسی بشر کو جو چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اور جس چیز سے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے۔ جس وقت چاہتا ہے ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ یکدم چلا جاتا ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو جو چلا گیا ہے ، اس کا متبادل دے دے۔ مالک حقیقی تمام اشیاء میں اللہ ہے۔ وہ ان چیزوں کو اپنے قانون قدرت کے مطابق چلاتا ہے۔ اور یہ تمام اشیاء اس کے حکم پر لبیک کہتی ہیں۔ اس لحاظ سے زمین و آسمان میں جو چیز ہے ، وہ اللہ کی ہے اور اس لحاظ سے اللہ کے ساتھ اس ملکیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ وھو العلی العظیم (42 : 4) ” وہ برتر اور عظیم ہے “۔ وہ صرف مالک ہی نہیں ہے ۔ وہ مالک اعلیٰ بھی ہے۔ اور وہ بڑی عظمتوں والا ہے ، اور اس عظمت میں وہ منفرد ہے۔ وہ اس طرح برتر ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز کمتر ہے اور وہ اس معنی میں عظیم ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز بہت ہی چھوٹی ہے۔ جب یہ حقیقت انسانوں کے خمیر میں اچھی طرح بیٹھ گئی اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے نفوس کے لئے جو مال ، جو رزق اور جو روزگار طلب کرتے ہیں ، یہ انہوں نے کہاں سے طلب کرنا ہے یعنی یہ زمین و آسمان میں جو چیزیں موجود ہیں ، ان کا مالک اللہ ہے۔ اور وہ مالک ہی کسی کو کوئی چیز دے سکتا ہے۔ پھر وہ برتر اور عظیم بھی ہے۔ اس سے اگر کوئی کچھ مانگتا ہے تو وہ اس کے سوال کو رد نہیں کرتا۔ جس طرح مخلوقات کے سامنے ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ نہ برتر ہیں اور نہ عظیم ہیں ، اس لیے ان کا سوال محروم بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اس کائنات میں سے ایک ایسا منظر دکھایا جاتا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کائنات کا مالک صرف اللہ ہے اور برتری اور عظمت اللہ ہی کے لئے ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اللہ کی عظمت کے رعب کی وجہ سے اور بعض لوگوں کی کج روی اور بری باتوں کی وجہ سے پھٹ پڑیں پھر اللہ کی عظمت کا ایک مظہر یہ بھی یہاں لایا گیا ہے کہ ملائکہ ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت مانگتے رہتے ہیں ، کیونکہ اہل زمین کے انحراف اور بےراہ روی کو دیکھ کر وہ بھی سہم جاتے ہیں۔ تکاد السموت یتفطرن ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (42 : 5) “ قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جارہے ہیں ۔ آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے ”۔ سماوات وہ عظیم کائنات ہے جو ہمارے اوپر نظر آتی ہے۔ اس کرۂ ارض کی پشت پر ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہمارے پاس اس کے بارے میں ابھی تک جو معلومات جمع ہو ئی ہیں وہ اس کے ایک بالکل معمولی حصے کے بارے میں ہیں۔ آج تک جو معلومات دستیاب ہیں ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سورج جیسے ایک لاکھ ملین سورج معہ اپنے لاتعداد توابع کے موجود ہیں۔ اور ایسے مجموعے یا گروپ کتنے ہیں ؟ تقریباً ایک لاکھ ملین گروپ معلوم ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سورج ہماری زمین سے ایک ملین گنا بڑا ہے۔ اور یہ لاکھوں اربوں سورج تو وہ ہیں جن کو ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعے دیکھتے ہیں ، یہ اس لا محدود فضائے کائنات (جسے ہم آسمان کہتے ہیں ) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان طویل مسافتیں ہیں جو ہزارہا ملین نوری سالوں کی دوری پر ہیں ، جن کا حساب روشنی کی رفتار کے حساب سے کیا جاتا ہے یعنی 186000 میل فی سیکنڈ کے حساب سے۔ یہ آسمان جن کے بارے میں ہمارا علم بہت ہی محدود ہے ، قریب ہے کہ پھٹ پڑیں ، ہمارے اوپر اس فضا میں سے ، کیوں ؟ اللہ کے خوف سے ، اللہ کی عظمت سے ، اور اللہ کے جلال سے اور زمین کے ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کی غفلت اور نسیان کی وجہ سے جو انہوں نے اس رب ذوالجلال اور اس کائنات کے بارے میں روا رکھی ہوئی ہیں۔ قریب ہے کہ آسمانوں پر رعشہ طاری ہوجائے اور یہ ٹوٹ پڑیں اور اس مقام سے گر جائیں جہاں یہ ٹکے ہوئے ہیں۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض (42 : 5) “ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں ”۔ ملائکہ وہ مخلوق ہے جو مکمل طور پر اطاعت شعار ہے۔ یہ تمام مخلوقات میں سے بہتر مخلوق ہے ، لیکن یہ مسلسل اپنے رب کی تسبیح کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب کتنا برتر ہے ۔ اور کتنا عظیم ہے۔ وہ باوجود اپنی مکمل اطاعت شعاری کے پھر بھی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حمد و ثنا میں اور اطاعت میں ان سے کوئی تقصیر نہ ہوجائے۔ جبکہ اہل زمین قصور وار بھی ہیں ، ضعیف بھی ہیں۔ راہ راست سے منحرف بھی ہیں ، پھر بھی احساس نہیں رکھتے چناچہ ملائکہ اللہ کے غضب سے ڈرتے ہیں اور زمین میں جو معصیت ہوتی ہے ، جو تقصیرات ہوتی ہیں ، اس پر وہ اللہ کے غضب کے ڈر سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ملائکہ کے استغفار سے مراد اہل ایمان کے لئے استغفار ہو ، جس طرح سورة غافر میں آیا ہے۔ الذین یحملون ۔۔۔۔۔ للذین امنوا (غافر : 7) “ عرش الٰہی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ”۔ اس حالت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتے زمین پر معصیت کے ارتکاب سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل ایمان بھی اگر معصیت کریں تو فرشتے ڈرتے ہیں اور اس خوف کی وجہ سے وہ اللہ سے اہل زمین کے لئے معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں تا کہ ان معصیتوں کی وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے اور اس لئے کہ اللہ کی رحمت لوگوں پر آتی رہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کیا جائے گا اور ان پر حمت ہوگی۔ الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (52 : 5) “ آگاہ رہو حقیقت میں اللہ غفورو رحیم ہے ”۔ اللہ کی صفات عزت اور حکمت کے ساتھ اور صفات علو اور عظمت کے ساتھ صفات مغفرت اور رحمت کو بھی یہاں جمع کیا گیا ہے تا کہ لوگ رب کی تمام صفات کو پیش نظر رکھیں۔ اس پیرے کے آخر میں ، ان صفات الٰہیہ کے بیان اور اس کائنات میں ان کے اثرات کے بیان کے بعد ، روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سرپرست بھی بنا رکھے ہیں ، حالانکہ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی سرپرست نہیں ہے تا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے معاملات سے اب دستکش ہوجائیں ، کیونکہ آپ کو ان کا حوالہ دار نہیں مقرر کیا گیا۔ اللہ ہی دراصل ان پر نگران ہے اور مختار ہے۔ والذین اتخذوا من۔۔۔۔۔۔ علیھم بوکیل (42 : 6) “ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ، اللہ ہی ان پر نگران ہے ، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو ”۔ انسانی تصور میں ان کج خلق اور بدبختوں کی یہ تصویر آتی ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے سر پرستوں کے سامنے ہاتھ دراز کیے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ مانگتے ہیں اور ان کے ہاتھ خالی ہیں ، وہاں تو ہوا کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی تصویر اور ان کے سرپرستوں کی تصویر نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور بونی تصویر ہے۔ اللہ کے قبضے میں ہیں یہ لوگ اور نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ نبی ﷺ کو کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے سے بری الذمہ ہیں۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ، اللہ تعالیٰ ان کا بندوبست کرے گا۔ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جانی چاہئے اور اس معاملے میں ان کو مطمئن ہونا چاہئے ، ہر حال میں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ لوگ جن کو سرپرست بنایا گیا ہے ، وہ اس کرۂ ارض پر برسر اقتدار اور اصحاب جاہ و مرتبہ ہوں یا دوسرے لوگ ہوں۔ اصحاب اقتدار کے بارے میں تو اہل ایمان کو یوں مطمئن ہونا چاہئے کہ وہ جس قدر جبار وقہار بھی ہوں ، اگر ان کا اقتدار قرآن وسنت سے ماخوذ نہیں ہے تو پھر وہ اللہ کی گرفت میں ہیں ، اللہ نے انہیں احاطے میں لے رکھا ہے۔ ان کے اردگرد پوری کائنات اللہ پر ایمان لانے والی ہے ، صرف وہی منحرف ہیں۔ وہ ایک نہایت ہی موزوں زمزمے میں ایک کرخت آواز کی طرح ہیں۔ اور اگر یہ سرپرست اہل اقتدار کے علاوہ اور پیر فقیر ہوں تو اہل ایمان پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ اللہ کی مخلوق میں سے اگر کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے۔ تو یہ ذمہ دار نہیں۔ دین و عقائد میں زبردستی نہیں ہے ، ان پر صرف تبلیغ کی ذمہ داری ہے ۔ بندوں کے دلوں پر نگران اللہ ہی ہے۔ چناچہ مومنین کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سیدھی راہ پر وحی الٰہی کی روشنی میں چلیں اور اگر دوسرے لوگ غلط عقائد اختیار کرتے ہیں تو ان پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ غلط عقائد جو بھی ہوں ، وہ خود ذمہ دار ہیں۔ اب ہم اس سورت کے پہلے موضوع یعنی وحی و رسالت کی طرف آتے ہیں :

الشورى 42:7

آیت نمبر 7 تا 9 وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیاً ( 42 : 7) “ ہاں ، اسی طرح اے نبی یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے ”۔ تا کہ تم بستیوں کے مرکزی شہر مکہ کے لوگوں کو ڈراؤ ۔ یہ فقرہ معطوف ہے ، اس فقرے پر جس سے سورت کا آغاز ہوا۔ یعنی کذلک یوحی پر۔ سورت کے آغاز میں آنے والے اس کذلک سے مراد حروف مقطعات تھے۔ یہاں معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان مناسبت حروف مقطعات اور قرآن عربی کی ہے۔ یہ مناسبت ظاہر ہے ۔ یعنی یہ حروف عربی ہیں اور یہ قرآن عربی ہے۔ وحی نے ان حروف سے یہ قرآن بنایا ہے تا کہ وہ اپنا مقصد پورا کرے اور غرض وغایت کیا ہے۔ لتنذر ام القری ومن حولھا (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اس کے گردو پیش رہنے والوں کو خبردار کردو ”۔ ام القریٰ سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس میں بیت اللہ ، اللہ کا پرانا گھر تھا۔ اللہ نے یہ پسند فرمایا کہ خانہ کعبہ اس آخری رسالت کا مرکز ہو اور اللہ نے اپنی آخری کتاب کے لئے عربی زبان کو منتخب کیا۔ یہ اس کی مصلحت تھی اور وہی اس کو جانتا ہے کہ کیوں۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے ”۔ آج جب ہم تاریخی واقعات کا جائز لیتے ہیں اور پوری تاریخ کو چھانتے ہیں ، اس وقت کے حالات اور تقاضوں کو دیکھتے ہیں۔ پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ دعوت کس طرح پھیلی اور کن خطوط پر آگے بڑھی اور اس نے کیا کیا نتائج پیدا کئے اور دنیا پر کیا کیا اثرات چھوڑے۔ آج جب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ نے اس سر زمین کو اس مقصد کے لئے کیوں منتخب کیا تھا۔ اور تاریخ کے ایک خاص موڑ پر اس آخری رسالت کے لئے کیوں مکہ مکرمہ کو مرکز ٹھہرایا۔ جبکہ یہ آخری رسالت تھی بھی عالمی رسالت ، تمام انسانوں کے لئے تھی۔ اور جس کے عالمی خدو خال اس کے ابتدائی دنوں ہی سے عیاں تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے ظہور کے دور میں پورے کرۂ ارض کے آباد علاقوں کو چار شہنشاہوں نے باہم تقسیم کر رکھا تھا۔ روی سلطنت جو پورے ایشیا کے ایک حصے ، اور افریقہ پر حکمران تھی۔ کسرائے فارس کی مملکت جس کا اقتدار ایشیا کے ایک بڑے حصے ، افریقہ کے ایک حصے پر قائم تھا ، مملکت ہند اور مملکت چین۔ یہ آخر الذکر دونوں شہنشاہتیں اپنے خول میں بند تھیں ، ان کے اپنے عقائد تھے اور صرف چین و ہند کے باہم سیاسی روابط تھے ، چونکہ چین وہند کی مملکتیں اپنے ہی خول میں بند تھیں۔ اس لیے دنیا کے معاشروں پر حقیقی اثر قیصر روم اور کسرائے فارس ہی کی حکومتوں کو حاصل تھا۔ اس دور میں دنیا میں دو مشہور سماوی دین تھے۔ یہودیت اور نصرانیت ۔ یہ دونوں مذاہب اس پوزیشن تک پہنچ گئے تھے کہ یہ کسی نہ کسی حکومت اور مملکت کے زیر اثر ہوگئے تھے۔ ان ادیان پر حکومت کا اثر قائم ہوگیا تھا۔ کسی مملکت پر دین کا اثر نہ تھا بلکہ مملکت دین پر غالب تھی۔ یہ اس لیے کہ ان ادیان کے اندر تحریف و تغیر واقع ہوگیا تھا اور اہل دین بد عمل ہوگئے تھے۔ یہودیوں پر تو کبھی رومی ظلم کرتے اور کبھی اہل فارس ان پر مظالم ڈھاتے۔ ان کی تو اس علاقے میں کوئی قابل ذکر پوزیشن نہ تھی۔ حالات نے یہودیت کو مجبور کردیا تھا کہ وہ صرف یہودیوں ، یعنی بنی اسرائیل کا دین بن جائے اور خود اپنے اندر سکڑ جائے۔ ان کو نہ اس بات کی ضرورت تھی اور نہ خواہش تھی کہ وہ دوسری اقوام کو دین یہودیت میں لائیں۔ جہاں تک موجودہ عیسائیت کا تعلق ہے ، یہ مملکت روما کی پیدا کردہ ہے۔ جس وقت عیسائیت وجود میں آئی تو مملکت روما ، فلسطین ، مصر ، شام اور ان باقی حصوں پر برسر اقتدار تھی جن میں مسیحیت خفیہ طور پر پھیل گئی تھی اور مملکت روما اس پر تشدد کر رہی تھی۔ اس دین کو ماننے والوں کا پیچھا کیا جاتا تھا۔ اور ان پر سختیاں کی جاتی تھیں۔ یہ تشدد اس قدر سخت تھا کہ ہزارہا لوگوں کو ظالمانہ طریقے پر ذبح کیا گیا ۔ جب اس تشدد کا دور ختم ہوا اور قیصر روم خود دین مسیحیت میں داخل ہوگیا تو وہ اپنے ساتھ بت پرستانہ افسانے بھی لایا۔ چناچہ یونان کے مذہبی دیو مالائی فلسفے عیسائیت میں داخل ہوگئے اور عیسائیت کی سادہ شکل ہی کو بدل کر رکھ دیا گیا۔ لہٰذا اب سرکار کے سائے میں جو عیسائیت وجود میں آئی ، وہ اس دین سے بالکل مختلف تھی جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا تھا بلکہ یہ ایک نئی چیز وجود میں آگئی۔ ہوا یوں کہ مملکت روم نے کلمہ تو پڑھ لیا مگر وہ مسیحیت سے متاثر نہ ہوئی۔ ادھر مسیحیت تشدد سے تو کنٹرول میں نہ آئی تھی ، اب مکمل طور پر کنٹرول میں آگئی۔ اس سرکاری کنٹرول کی وجہ سے یہ دین مزید ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور اس طرح تشدد کا ایک دوسرا دور شروع ہوا ، سرکاری مسیحیت نے دوسرے فرقوں کو کچلنا شروع کردیا۔ کینسہ تقسیم ہوگیا اور یہ خطرہ بھی پیدا ہوگیا کہ اس کے نتیجے میں مملکت روما منقسم ہوجائے۔ یوں ایک سرکاری فرقے نے دوسرے فرقوں کو کچلا اور دونوں کی حالت یہ ہوگئی کہ کوئی بھی حضرت عیسیٰ کے دین پر نہ رہا۔ یہ وقت تھا جب اسلام نمودار ہوا۔ اسلام کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت جس انحراف ، فساد ، ظلم اور جاہلیت میں گرفتار ہے ، اسے ان تاریکیوں سے نکالا جائے۔ اسلام نے چاہا کہ پوری انسانی زندگی کو اپنے کنٹرول میں لے ، اور نہایت ہی روشنی اور صحیح راستے پر اس کی راہنمائی کرے۔ یہ ضروری تھا کہ اسلام پوری انسانیت کے اوپر اپنا اقتدار اعلیٰ قائم کرے تا کہ انسانی زندگی میں وہ عظیم انقلاب لایا جاسکے ۔ جو اسلام کے پیش نظر تھا۔ لہٰذا یہ ضروری تھا کہ اسلام کا آغاز کسی ایسے مقام سے کیا جائے جو آزادانہ ہو اور وہاں دنیا کی بڑی شہنشاہیتوں میں سے کوئی بھی برسر اقتدار نہ ہو۔ اور اسلام کی ترقی اور نشوونما ایسے حالات میں ہو کہ اس پر کوئی ایسی مملکت مسلط نہ ہو ، جو اس کے مزاج کے متضاد ہو۔ بلکہ اس علاقے پر اسلام خود ہی برسر اقتدار ہو۔ ان مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر سوچا جائے تو مکہ مکرمہ ، اس وقت کے حالات کے مطابق آغاز اسلام کے لئے ایک بہترین مقام تھا ، جہاں سے اسلام نے اپنا عالمی سفر شروع کیا کیونکہ ایک عالمی انقلاب اول روز سے اسلام کے پیش نظر تھا۔ جزیرۃ العرب میں ان دنوں کوئی منظم حکومت نہ تھی جس کے اپنے قوانین ہوں ، جس کی فوجیں ہوں ، جس کی پولیس ہو ، اور وہ پورے جزیرۃ العرب پر اقتدار رکھتی ہو۔ اور جو اپنے منظم ڈھانچے کے بل بوتے پر جدید نظریہ حیات کا مقابلہ کرسکتی ہو۔ اور جمہور عوام پوری طرح اس کے کنٹرول میں ہوں جیسا کہ اس وقت دنیا کی چار شہنشاہیتوں میں ایسا انتظام تھا۔ پھر جزیرۃ العرب میں ایسا واضح دین بھی نہ تھا ، جس طرح یہودیت ، عیسائیت تھی یا بکھری ہوئی بت پرستی تھی۔ تمام قبائل کے معتقدات اور ان کے طریقہ ہائے حیات مختلف تھے۔ پھر ان کے الہہ بھی مختلف تھے۔ ملائکہ سے ، جنوں سے ، سیاروں اور ستاروں سے ، اور بتوں سے ، لیکن ان حالات کے باوجود خانہ کعبہ اور قریش کی دینی قیادت و سیادت ، پورے جزیرۃ العرب میں مسلم تھی۔ اگرچہ یہ قیادت باقاعدہ اقتدار اعلیٰ کی نہ تھی ، نہ مکہ پر اور نہ بیرون مکہ پر۔ اس وجہ سے دین جدید کی مزاحمت حکومتی سطح پر نہ تھی۔ قریش نے دین جدید کا ایک حد تک مقابلہ ضرور کیا لیکن اگر اقتصادی وجوہات نہ ہوتیں ، اور قریش کے سرداروں کے خاص مفادات کا مسئلہ نہ ہوتا تو اسلام کی جو مخالفت ام القریٰ میں ہوئی وہ بھی نہ ہوتی۔ جہاں تک عقائد ونظریات کا تعلق ہے ، وہ جانتے تھے کہ ان کے عقائد پوچ ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جزیرۃ العرب میں کسی سیاسی نظام کا نہ ہونا ، یا کسی منظم دینی نظام کا نہ ہونا ، اسلام کے مفاد میں تھا ، ابتدائی ادوار میں اسلام کے اوپر کوئی خاص دباؤ نہ تھا۔ اگر کوئی ایسا نظام ہوتا تو وہ لازماً اسلام کے مزاج کے خلاف ہوتا اور وہ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا۔ بلکہ کسی اجتماعی حکومتی اور دینی نظام کی عدم موجودگی میں ، ایک طرح اسلام کی حمایت کا پہلو نکل آیا۔ اجتماعی نظام حکومت کی جگہ جزیرۃ العرب میں قبائلی نظام تھا اور اس قبائلی نظام میں خاندان کو اہمیت حاصل ہوتی۔ جب حضور ﷺ دعوت اسلامی لے کر اٹھے تو بنی ہاشم کی تلواریں آپ کے ساتھ تھیں اور جو قبائلی توازن قائم تھا وہ آپ کے حق میں تھا ۔ کیونکہ بنو ہاشم باوجود اس کے کہ آپ کے دین کو قبول نہ کرتے تھے لیکن آپ کے حامی ضرور تھے۔ بلکہ آغاز اسلام میں جن جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا اور ان کا تعلق اہم قبائل سے تھا ، ان پر لوگ کسی قسم کے تشدد سے ڈرتے تھے۔ ان کی اصلاح اور تادیبی کاروائی کا کام قبائل کے سپرد تھا۔ اسی طرح جن غلاموں پر تشدد ہوا ان پر بھی ان کے مالکان نے تشدد کیا ، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر ایسے غلاموں کو خریدتے اور آزاد کردیتے۔ اس طرح ان پر سختی ختم ہوجاتی اور وہ حضرت ابوبکر کے موالی ہوجاتے۔ اب لوگ ان کے دین کے بارے میں زیادہ نہ چھیڑتے ۔ اس صورت حال نے دین جدید کو ایک امتیازی شان دے دی ۔ تمام غرباء اور غلام اس کی طرف لپکے۔ پھر عربوں کے اندر بہادری ، ذاتی وقار ، جوانمردی اور بھلائی پر خوشی سے آمادہ ہوجانے کی صفات بھی تھیں۔ یہ وہ صفات ہیں جو جدید دین کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ضروری تھیں۔ ان باتوں کے علاوہ جزیرۃ العرب میں اس وقت وہ تمام صلاحیتیں موجود تھیں جو کسی تہذیب و ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہیں اور ساکنان جزیرہ ان پر فخر کرتے تھے۔ جزیرۃ العرب میں قوت ، قابلیت ، شخصیات کے کافی ذخائر موجود تھے جو بےتاب تھے کہ ان کو کام میں لایا جائے۔ غیب کے قلب میں یہ سب کچھ موجود تھا۔ پھر اہل قریش پوری دنیا میں گرویدہ اور گرم و سروچشیدہ تھے۔ وہ ایک طرف قیصر روم کی مملکت میں سفر کرتے تھے دوسری جانب وہ کسری فارس کے علاقوں میں سفر کرتے تھے اور انہوں نے اس وقت کی تہذیب و تمدن کے تمام تجربات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے تھے۔ اہل قریش کے سفر موسم گرما اور سفر موسم سرما کو قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے ریکارڈ بھی کردیا ہے۔ لایلف قریش (106 : 1) الفھم رحلۃ الشتاء والصیف (106 : 2) فلیعبدوا رب ھذا البیت (106 : 3) الذی اطعمھم من جوع وامنھم من خوف (106 : 4) “ چونکہ قریش مانوس ہوتے ہیں ، جاڑے اور گرمی کے سفروں سے ، لہٰذا ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا ”۔ پھر تجربات کا ایک بڑا ذخیرہ ان کے ہاں مختلف اسباب کے تحت جمع ہوگیا ، تا کہ جزیرۃ العرب اسلامی انقلاب کی مہم کے لئے تیار ہوجائے۔ جب اسلام آیا تو اس نے ان تمام ذخائر اور صلاحیتوں کو اسلام کے حق میں استعمال کیا۔ عربوں کی طاقت اور جنگی صلاحیت جو صدیوں سے جمع ہوچکی تھی ، وہ صلاحیت کھل گئی۔ اسلام کی کنجی سے یہ خزانے رو بعمل ہوگئے۔ یہ تمام صلاحیتیں اسلام کا سرمایہ بن گئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آغاز اسلام ہی سے اسلام کو ایسی عظیم شخصیات مل گئی جن کا ملنا کسی تحریک کے لئے بڑی خوش نصیبی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام اس زاویہ نظر سے بہت بڑا مقام رکھتے ہیں ، مثلاً حضرت ابوبکر ‏ ؓ ‌ ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، حضرت عباس ؓ ، حضرت ابو عبیدہ ؓ ، حضرت سعد ؓ ، حضرت معاذ ؓ ، حضرت ابو ایوب انصاری وغیرھم۔ ساتھیوں کا یہ باصلاحیت گروپ جنہوں نے ابتداء ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا ، ان کے دل اللہ نے اسلام کے لئے کھول دئیے ، انہوں نے اس دعوت کو اٹھایا۔ اس دعوت کے ذریعہ یہ باصلاحیت لوگ مزید بڑے لوگ بن گئے اور ان کی صلاحیتیں اور نکھر گئیں۔ لیکن ان کے اندر بنیادی قابلیت اسلام سے پہلے بھی موجود تھی۔ یہاں ہم تفصیلی اسباب نہیں لکھ سکتے کہ جزیرۃ العرب کو کیوں دعوت اسلامی کے لئے منتخب کیا گیا۔ کیوں اس دعوت کو آغاز میں بچا کر جزیرۃ العرب ہی میں اس کی نشوونما کی گئی ، اور کیوں ام القریٰ اور ماحول کو برتری دی گئی کہ بڑی مملکتیں اس کی طرف متوجہ ہی نہ ہوئیں ، تو یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جزیرۃ العرب کو جدید رسالت کے لئے ایک پرورش گاہ بنانا چاہتا تھا ۔ جس نے پوری انسانیت کو روشنی دینی تھی۔ اور پھر ام القریٰ کو منتخب کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ وہاں سے اٹھیں۔ بہرحال یہ بہت ہی طویل بحث ہوگی اور اس کے لئے ایک مستقل کتاب کے صفحات درکار ہیں۔ یہاں یہی اشارات کافی ہیں اور جن سے آگے بڑھ کر مزید اسباب بھی معلوم کئے جاسکتے ہیں ، یہ تو ان اسباب کا ایک حصہ ہیں۔ جس طرح ہم کائنات میں سنن الٰہیہ کے سلسلے میں نئے اسباب معلوم کر رہے ہیں۔ اسی طرح ام القریٰ کے بارے میں مزید وجوہات غوروفکر کے بعد سامنے لائی جاسکتی ہیں۔ غرض یوں یہ قرآن ام القریٰ میں نازل ہوا ، اس نے اس کے اردگرد کام شروع کیا اور جب پورا جزیرۃ العرب جاہلیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہوگیا۔ اور عرب پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوگئے تو انہوں نے اسلام کے جھنڈے بلند کر دئیے اور وہ اسلام کو لے کر شرق و غرب میں داخل ہوگئے اور انہوں نے جدید رسالت اور اس کے ذریعہ آیا ہوا نظام اسلام اور نظام شریعت انسانوں کے سامنے پیش کیا۔ جس طرح اسلام کا مزاج تھا۔ جن لوگوں نے یہ جھنڈے بلند کئے وہ اس مقصد کے لئے صالح ترین لوگ تھے۔ جنہوں نے اسے اٹھایا اور پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ جب وہ اسے لے کر اٹھے تو اسلام کی تولید وتشکیل ایک بہترین ماحول میں ہوچکی تھی۔ یہ بات کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو پورے جزیرۃ العرب میں اسلام کے مکمل غلبے تک زندہ رکھا اور پورے جزیرۃ العرب کو مشرکین اور شرک کے آثار سے بھی پاک کردیا گیا۔ پھر اس دعوت کے لئے عربی زبان کو بھی محض اتفاق سے نہ چنا تھا بلکہ دنیا کی زبانوں میں یہ اس دعوت کے پھیلانے کے لئے نہایت ہی موزوں زبان تھی۔ یہ ایک مکمل اور پختہ زبان تھی۔ اس کے اندر وسعت کی بےپناہ صلاحیت تھی اور اس دعوت کے مقاصد کے لئے اس وقت اس سے زیادہ بہتر اور کوئی زبان نہ تھی۔ اگر یہ کوئی اور زبان ہوتی یا اس زبان کی تشکیل اور مقاصد کے لئے اس وقت اس سے زیادہ بہتر اور کوئی زبان نہ تھی۔ اگر یہ کوئی اور زبان ہوتی یا اس زبان کی تشکیل اور ساخت میں کوئی جھول ہوتی تو اس کے لئے ممکن نہ ہوتا ہے کہ یہ زبان دعوت اسلامی کے مقاصڈ کو پورا کرسکتی اور نہ یہ زبان اس دعوت کو جزیرۃ العرب کے باہر پھیلا سکتی۔ غرض جس طرح رجال عرب اس دعوت کا بوجھ اٹھانے کے لئے موزوں تھے اسی طرح ان کی زبان بھی موزوں تھی ، (یہ زبان پھر قرب و جوار کے ملکوں کی زبان بن گئی ) ۔ غرض یہ وہ قدرتی سازگاریاں تھیں جو اس رسالت کے جزیرۃ العرب سے آغاز میں مضمر تھیں۔ لیکن تمام وجوہات کے مقابلے میں اصل وجہ یہی ہے جو خود قرآن نے بتائی ہے۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھتا ہے ”۔ بہرحال غورو تدبر سے حکمت الٰہیہ کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔ لتنذر ام القری ۔۔۔۔ فی السعیر (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز اور اس کے گردو پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو ، اور جمع ہونے کے دن سے ڈراؤ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں ”۔ قرآن کریم میں ڈراوے کا ذکر بہت آتا ہے۔ بار بار مختلف طریقوں سے لفظ انذار آتا ہے۔ اس سے مراد یوم قیامت سے ڈرانا ہے۔ پوری دنیا کی تاریخ میں جس زمان ومکان میں انسان پیدا ہوئے اور فوت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ایک دن سب کو جمع کرے گا اور پھر ان کی گروہ بندی ہوگی ، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (42 : 7) “ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک جہنم میں ”۔ جس طرح انہوں نے اس دنیا میں عمل کیا ، جو دارالعمل ہے اور جو رویہ انہوں نے اپنی اس مختصر زندگی میں اختیار کیا۔ ولو شاء اللہ لجعلھم ۔۔۔۔۔۔ ولا نصیر (42 : 8) “ اگر اللہ چاہتا ہے تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ جسے چاہتا ہے ، اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے اور نہ مددگار ”۔ اگر اللہ چاہتا تو انسانوں کی تخلیق ہی دوسرے انداز سے کرتا جس میں ان کا رویہ ایک جیسا ہوتا۔ ان کا انجام بھی ایک ہی ہوتا ، یا سب جنتی ہوتے یا سب جہنمی ہوتے لیکن اللہ نے اس انسان کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اس کرۂ ارض پر اللہ کا خلیفہ ہے۔ اور اس خلافت کا تقاضا یہ تھا کہ انسان ایسا ہو جیسا کہ وہ ہے۔ انسان کو خصوصی استعداد دی جائے ، اس استعداد کے ذریعہ وہ فرشتوں سے بھی ممتاز ہو اور شیاطین سے بھی ممتاز ہو۔ جن کی تخلیق کسی محدود مقصد کے لئے ہے اور ان کا ایک ہی رویہ ہے۔ اس استعداد کے ذریعہ بعض انسان ہدایت اور نور کی طرف آجائیں ، عمل صالح کریں ، اور بعض لوگ گمراہی اور تاریکی کی طرف چلیں اور برے کام کریں۔ ہر انسان ان اجتمالات میں سے ایک طرف جھک جائے جو اس کی طبیعت میں رکھے ہوئے ہیں اور پھر اس احتمال کے لئے جو انجام مقرر ہے اس سے دوچار ہو ، یعنی ایک فریق جنت میں جائے اور دوسرا دوزخ میں۔ اور اس طرح یہ بات حق بن جائے کہ ۔ یدخل من یشاء فی رحمتہ والظالمون ما لھم من ولی ولا نصیر (42 : 8) “ اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے اور نہ مددگار ” ۔ اور اللہ کی مشیت نے اپنا کام اپنے سابق علم کی وجہ سے کیا۔ انسان اس کی ہدایت کی وجہ سے اس کی رحمت مستحق ہوا اور ضلالت کی وجہ سے وہ گمراہی و عذاب کا مستحق ہوگیا۔ اس سے قبل یہ بات گزر گئی کہ بعض لوگوں نے اللہ کے سوا اور سرپرست بنا رکھے تھے۔ یہاں یہ فیصلہ دے دیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا تو کوئی ولی و مدد گار نہ ہوگا ۔ لہٰذا جن کو وہ ولی و مدد گار پکڑتے ہیں تو ، یہ ایک فضول حرکت ہے ان کی جانب سے کیونکہ ان کا تو وجود ہی نہیں ہے۔ پھر پوچھا جاتا ہے : ام اتخذوا من دونہ اولیاء ( 42 : 9) “ کہا ، انہوں نے اللہ کے سوا اور ولی و مددگار پکڑ رکھے ہیں ؟” یہ سوال استنکاری اس لیے ہے کہ ان کو متوجہ کر کے یہ فیصلہ دے دیا جائے کہ اللہ وحدہ ولی و مددگار ہے۔ وہ قادر مطلق ہے۔ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور اس سے اس کی قدرت واضح ہوتی ہے۔ مردے کو حیات دینا یہ بہت بڑی قدرت ہے۔ فاللہ ھو الولی وھو یحی الموتی (42 : 9) “ اللہ ہی ولی و مددگار ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے ” اس کے بعد اس خصوصی قدرت کے مظہر یعنی احیائے موتیٰ کے بعد عام قدرت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ وھو علی کل شیء قدیر (42 : 9) “ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ اس کی قدرت صرف احیائے موتیٰ تک محدود نہیں ۔ ٭٭٭ پھر روئے سخن اس سورت کے موضوع اول کی طرف مڑتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں اپنے تمام اختلافات کس معیار پر رفع کئے جائیں گے۔ یہ وحی واحد معیار حق ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہے ، یہ صراط مستقیم ہے اور مکمل اسلامی نظام زندگی آنے کے بعد تم نے تمام اختلافات اس کے مطابق ختم کرنے ہیں۔ اب یہ نہ ہوگا کہ ہر شخص ہوائے نفس کے مطابق چلے

الشورى 42:8

آیت نمبر 7 تا 9 وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیاً ( 42 : 7) “ ہاں ، اسی طرح اے نبی یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے ”۔ تا کہ تم بستیوں کے مرکزی شہر مکہ کے لوگوں کو ڈراؤ ۔ یہ فقرہ معطوف ہے ، اس فقرے پر جس سے سورت کا آغاز ہوا۔ یعنی کذلک یوحی پر۔ سورت کے آغاز میں آنے والے اس کذلک سے مراد حروف مقطعات تھے۔ یہاں معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان مناسبت حروف مقطعات اور قرآن عربی کی ہے۔ یہ مناسبت ظاہر ہے ۔ یعنی یہ حروف عربی ہیں اور یہ قرآن عربی ہے۔ وحی نے ان حروف سے یہ قرآن بنایا ہے تا کہ وہ اپنا مقصد پورا کرے اور غرض وغایت کیا ہے۔ لتنذر ام القری ومن حولھا (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اس کے گردو پیش رہنے والوں کو خبردار کردو ”۔ ام القریٰ سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس میں بیت اللہ ، اللہ کا پرانا گھر تھا۔ اللہ نے یہ پسند فرمایا کہ خانہ کعبہ اس آخری رسالت کا مرکز ہو اور اللہ نے اپنی آخری کتاب کے لئے عربی زبان کو منتخب کیا۔ یہ اس کی مصلحت تھی اور وہی اس کو جانتا ہے کہ کیوں۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے ”۔ آج جب ہم تاریخی واقعات کا جائز لیتے ہیں اور پوری تاریخ کو چھانتے ہیں ، اس وقت کے حالات اور تقاضوں کو دیکھتے ہیں۔ پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ دعوت کس طرح پھیلی اور کن خطوط پر آگے بڑھی اور اس نے کیا کیا نتائج پیدا کئے اور دنیا پر کیا کیا اثرات چھوڑے۔ آج جب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ نے اس سر زمین کو اس مقصد کے لئے کیوں منتخب کیا تھا۔ اور تاریخ کے ایک خاص موڑ پر اس آخری رسالت کے لئے کیوں مکہ مکرمہ کو مرکز ٹھہرایا۔ جبکہ یہ آخری رسالت تھی بھی عالمی رسالت ، تمام انسانوں کے لئے تھی۔ اور جس کے عالمی خدو خال اس کے ابتدائی دنوں ہی سے عیاں تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے ظہور کے دور میں پورے کرۂ ارض کے آباد علاقوں کو چار شہنشاہوں نے باہم تقسیم کر رکھا تھا۔ روی سلطنت جو پورے ایشیا کے ایک حصے ، اور افریقہ پر حکمران تھی۔ کسرائے فارس کی مملکت جس کا اقتدار ایشیا کے ایک بڑے حصے ، افریقہ کے ایک حصے پر قائم تھا ، مملکت ہند اور مملکت چین۔ یہ آخر الذکر دونوں شہنشاہتیں اپنے خول میں بند تھیں ، ان کے اپنے عقائد تھے اور صرف چین و ہند کے باہم سیاسی روابط تھے ، چونکہ چین وہند کی مملکتیں اپنے ہی خول میں بند تھیں۔ اس لیے دنیا کے معاشروں پر حقیقی اثر قیصر روم اور کسرائے فارس ہی کی حکومتوں کو حاصل تھا۔ اس دور میں دنیا میں دو مشہور سماوی دین تھے۔ یہودیت اور نصرانیت ۔ یہ دونوں مذاہب اس پوزیشن تک پہنچ گئے تھے کہ یہ کسی نہ کسی حکومت اور مملکت کے زیر اثر ہوگئے تھے۔ ان ادیان پر حکومت کا اثر قائم ہوگیا تھا۔ کسی مملکت پر دین کا اثر نہ تھا بلکہ مملکت دین پر غالب تھی۔ یہ اس لیے کہ ان ادیان کے اندر تحریف و تغیر واقع ہوگیا تھا اور اہل دین بد عمل ہوگئے تھے۔ یہودیوں پر تو کبھی رومی ظلم کرتے اور کبھی اہل فارس ان پر مظالم ڈھاتے۔ ان کی تو اس علاقے میں کوئی قابل ذکر پوزیشن نہ تھی۔ حالات نے یہودیت کو مجبور کردیا تھا کہ وہ صرف یہودیوں ، یعنی بنی اسرائیل کا دین بن جائے اور خود اپنے اندر سکڑ جائے۔ ان کو نہ اس بات کی ضرورت تھی اور نہ خواہش تھی کہ وہ دوسری اقوام کو دین یہودیت میں لائیں۔ جہاں تک موجودہ عیسائیت کا تعلق ہے ، یہ مملکت روما کی پیدا کردہ ہے۔ جس وقت عیسائیت وجود میں آئی تو مملکت روما ، فلسطین ، مصر ، شام اور ان باقی حصوں پر برسر اقتدار تھی جن میں مسیحیت خفیہ طور پر پھیل گئی تھی اور مملکت روما اس پر تشدد کر رہی تھی۔ اس دین کو ماننے والوں کا پیچھا کیا جاتا تھا۔ اور ان پر سختیاں کی جاتی تھیں۔ یہ تشدد اس قدر سخت تھا کہ ہزارہا لوگوں کو ظالمانہ طریقے پر ذبح کیا گیا ۔ جب اس تشدد کا دور ختم ہوا اور قیصر روم خود دین مسیحیت میں داخل ہوگیا تو وہ اپنے ساتھ بت پرستانہ افسانے بھی لایا۔ چناچہ یونان کے مذہبی دیو مالائی فلسفے عیسائیت میں داخل ہوگئے اور عیسائیت کی سادہ شکل ہی کو بدل کر رکھ دیا گیا۔ لہٰذا اب سرکار کے سائے میں جو عیسائیت وجود میں آئی ، وہ اس دین سے بالکل مختلف تھی جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا تھا بلکہ یہ ایک نئی چیز وجود میں آگئی۔ ہوا یوں کہ مملکت روم نے کلمہ تو پڑھ لیا مگر وہ مسیحیت سے متاثر نہ ہوئی۔ ادھر مسیحیت تشدد سے تو کنٹرول میں نہ آئی تھی ، اب مکمل طور پر کنٹرول میں آگئی۔ اس سرکاری کنٹرول کی وجہ سے یہ دین مزید ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور اس طرح تشدد کا ایک دوسرا دور شروع ہوا ، سرکاری مسیحیت نے دوسرے فرقوں کو کچلنا شروع کردیا۔ کینسہ تقسیم ہوگیا اور یہ خطرہ بھی پیدا ہوگیا کہ اس کے نتیجے میں مملکت روما منقسم ہوجائے۔ یوں ایک سرکاری فرقے نے دوسرے فرقوں کو کچلا اور دونوں کی حالت یہ ہوگئی کہ کوئی بھی حضرت عیسیٰ کے دین پر نہ رہا۔ یہ وقت تھا جب اسلام نمودار ہوا۔ اسلام کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت جس انحراف ، فساد ، ظلم اور جاہلیت میں گرفتار ہے ، اسے ان تاریکیوں سے نکالا جائے۔ اسلام نے چاہا کہ پوری انسانی زندگی کو اپنے کنٹرول میں لے ، اور نہایت ہی روشنی اور صحیح راستے پر اس کی راہنمائی کرے۔ یہ ضروری تھا کہ اسلام پوری انسانیت کے اوپر اپنا اقتدار اعلیٰ قائم کرے تا کہ انسانی زندگی میں وہ عظیم انقلاب لایا جاسکے ۔ جو اسلام کے پیش نظر تھا۔ لہٰذا یہ ضروری تھا کہ اسلام کا آغاز کسی ایسے مقام سے کیا جائے جو آزادانہ ہو اور وہاں دنیا کی بڑی شہنشاہیتوں میں سے کوئی بھی برسر اقتدار نہ ہو۔ اور اسلام کی ترقی اور نشوونما ایسے حالات میں ہو کہ اس پر کوئی ایسی مملکت مسلط نہ ہو ، جو اس کے مزاج کے متضاد ہو۔ بلکہ اس علاقے پر اسلام خود ہی برسر اقتدار ہو۔ ان مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر سوچا جائے تو مکہ مکرمہ ، اس وقت کے حالات کے مطابق آغاز اسلام کے لئے ایک بہترین مقام تھا ، جہاں سے اسلام نے اپنا عالمی سفر شروع کیا کیونکہ ایک عالمی انقلاب اول روز سے اسلام کے پیش نظر تھا۔ جزیرۃ العرب میں ان دنوں کوئی منظم حکومت نہ تھی جس کے اپنے قوانین ہوں ، جس کی فوجیں ہوں ، جس کی پولیس ہو ، اور وہ پورے جزیرۃ العرب پر اقتدار رکھتی ہو۔ اور جو اپنے منظم ڈھانچے کے بل بوتے پر جدید نظریہ حیات کا مقابلہ کرسکتی ہو۔ اور جمہور عوام پوری طرح اس کے کنٹرول میں ہوں جیسا کہ اس وقت دنیا کی چار شہنشاہیتوں میں ایسا انتظام تھا۔ پھر جزیرۃ العرب میں ایسا واضح دین بھی نہ تھا ، جس طرح یہودیت ، عیسائیت تھی یا بکھری ہوئی بت پرستی تھی۔ تمام قبائل کے معتقدات اور ان کے طریقہ ہائے حیات مختلف تھے۔ پھر ان کے الہہ بھی مختلف تھے۔ ملائکہ سے ، جنوں سے ، سیاروں اور ستاروں سے ، اور بتوں سے ، لیکن ان حالات کے باوجود خانہ کعبہ اور قریش کی دینی قیادت و سیادت ، پورے جزیرۃ العرب میں مسلم تھی۔ اگرچہ یہ قیادت باقاعدہ اقتدار اعلیٰ کی نہ تھی ، نہ مکہ پر اور نہ بیرون مکہ پر۔ اس وجہ سے دین جدید کی مزاحمت حکومتی سطح پر نہ تھی۔ قریش نے دین جدید کا ایک حد تک مقابلہ ضرور کیا لیکن اگر اقتصادی وجوہات نہ ہوتیں ، اور قریش کے سرداروں کے خاص مفادات کا مسئلہ نہ ہوتا تو اسلام کی جو مخالفت ام القریٰ میں ہوئی وہ بھی نہ ہوتی۔ جہاں تک عقائد ونظریات کا تعلق ہے ، وہ جانتے تھے کہ ان کے عقائد پوچ ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جزیرۃ العرب میں کسی سیاسی نظام کا نہ ہونا ، یا کسی منظم دینی نظام کا نہ ہونا ، اسلام کے مفاد میں تھا ، ابتدائی ادوار میں اسلام کے اوپر کوئی خاص دباؤ نہ تھا۔ اگر کوئی ایسا نظام ہوتا تو وہ لازماً اسلام کے مزاج کے خلاف ہوتا اور وہ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا۔ بلکہ کسی اجتماعی حکومتی اور دینی نظام کی عدم موجودگی میں ، ایک طرح اسلام کی حمایت کا پہلو نکل آیا۔ اجتماعی نظام حکومت کی جگہ جزیرۃ العرب میں قبائلی نظام تھا اور اس قبائلی نظام میں خاندان کو اہمیت حاصل ہوتی۔ جب حضور ﷺ دعوت اسلامی لے کر اٹھے تو بنی ہاشم کی تلواریں آپ کے ساتھ تھیں اور جو قبائلی توازن قائم تھا وہ آپ کے حق میں تھا ۔ کیونکہ بنو ہاشم باوجود اس کے کہ آپ کے دین کو قبول نہ کرتے تھے لیکن آپ کے حامی ضرور تھے۔ بلکہ آغاز اسلام میں جن جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا اور ان کا تعلق اہم قبائل سے تھا ، ان پر لوگ کسی قسم کے تشدد سے ڈرتے تھے۔ ان کی اصلاح اور تادیبی کاروائی کا کام قبائل کے سپرد تھا۔ اسی طرح جن غلاموں پر تشدد ہوا ان پر بھی ان کے مالکان نے تشدد کیا ، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر ایسے غلاموں کو خریدتے اور آزاد کردیتے۔ اس طرح ان پر سختی ختم ہوجاتی اور وہ حضرت ابوبکر کے موالی ہوجاتے۔ اب لوگ ان کے دین کے بارے میں زیادہ نہ چھیڑتے ۔ اس صورت حال نے دین جدید کو ایک امتیازی شان دے دی ۔ تمام غرباء اور غلام اس کی طرف لپکے۔ پھر عربوں کے اندر بہادری ، ذاتی وقار ، جوانمردی اور بھلائی پر خوشی سے آمادہ ہوجانے کی صفات بھی تھیں۔ یہ وہ صفات ہیں جو جدید دین کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ضروری تھیں۔ ان باتوں کے علاوہ جزیرۃ العرب میں اس وقت وہ تمام صلاحیتیں موجود تھیں جو کسی تہذیب و ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہیں اور ساکنان جزیرہ ان پر فخر کرتے تھے۔ جزیرۃ العرب میں قوت ، قابلیت ، شخصیات کے کافی ذخائر موجود تھے جو بےتاب تھے کہ ان کو کام میں لایا جائے۔ غیب کے قلب میں یہ سب کچھ موجود تھا۔ پھر اہل قریش پوری دنیا میں گرویدہ اور گرم و سروچشیدہ تھے۔ وہ ایک طرف قیصر روم کی مملکت میں سفر کرتے تھے دوسری جانب وہ کسری فارس کے علاقوں میں سفر کرتے تھے اور انہوں نے اس وقت کی تہذیب و تمدن کے تمام تجربات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے تھے۔ اہل قریش کے سفر موسم گرما اور سفر موسم سرما کو قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے ریکارڈ بھی کردیا ہے۔ لایلف قریش (106 : 1) الفھم رحلۃ الشتاء والصیف (106 : 2) فلیعبدوا رب ھذا البیت (106 : 3) الذی اطعمھم من جوع وامنھم من خوف (106 : 4) “ چونکہ قریش مانوس ہوتے ہیں ، جاڑے اور گرمی کے سفروں سے ، لہٰذا ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا ”۔ پھر تجربات کا ایک بڑا ذخیرہ ان کے ہاں مختلف اسباب کے تحت جمع ہوگیا ، تا کہ جزیرۃ العرب اسلامی انقلاب کی مہم کے لئے تیار ہوجائے۔ جب اسلام آیا تو اس نے ان تمام ذخائر اور صلاحیتوں کو اسلام کے حق میں استعمال کیا۔ عربوں کی طاقت اور جنگی صلاحیت جو صدیوں سے جمع ہوچکی تھی ، وہ صلاحیت کھل گئی۔ اسلام کی کنجی سے یہ خزانے رو بعمل ہوگئے۔ یہ تمام صلاحیتیں اسلام کا سرمایہ بن گئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آغاز اسلام ہی سے اسلام کو ایسی عظیم شخصیات مل گئی جن کا ملنا کسی تحریک کے لئے بڑی خوش نصیبی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام اس زاویہ نظر سے بہت بڑا مقام رکھتے ہیں ، مثلاً حضرت ابوبکر ‏ ؓ ‌ ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، حضرت عباس ؓ ، حضرت ابو عبیدہ ؓ ، حضرت سعد ؓ ، حضرت معاذ ؓ ، حضرت ابو ایوب انصاری وغیرھم۔ ساتھیوں کا یہ باصلاحیت گروپ جنہوں نے ابتداء ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا ، ان کے دل اللہ نے اسلام کے لئے کھول دئیے ، انہوں نے اس دعوت کو اٹھایا۔ اس دعوت کے ذریعہ یہ باصلاحیت لوگ مزید بڑے لوگ بن گئے اور ان کی صلاحیتیں اور نکھر گئیں۔ لیکن ان کے اندر بنیادی قابلیت اسلام سے پہلے بھی موجود تھی۔ یہاں ہم تفصیلی اسباب نہیں لکھ سکتے کہ جزیرۃ العرب کو کیوں دعوت اسلامی کے لئے منتخب کیا گیا۔ کیوں اس دعوت کو آغاز میں بچا کر جزیرۃ العرب ہی میں اس کی نشوونما کی گئی ، اور کیوں ام القریٰ اور ماحول کو برتری دی گئی کہ بڑی مملکتیں اس کی طرف متوجہ ہی نہ ہوئیں ، تو یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جزیرۃ العرب کو جدید رسالت کے لئے ایک پرورش گاہ بنانا چاہتا تھا ۔ جس نے پوری انسانیت کو روشنی دینی تھی۔ اور پھر ام القریٰ کو منتخب کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ وہاں سے اٹھیں۔ بہرحال یہ بہت ہی طویل بحث ہوگی اور اس کے لئے ایک مستقل کتاب کے صفحات درکار ہیں۔ یہاں یہی اشارات کافی ہیں اور جن سے آگے بڑھ کر مزید اسباب بھی معلوم کئے جاسکتے ہیں ، یہ تو ان اسباب کا ایک حصہ ہیں۔ جس طرح ہم کائنات میں سنن الٰہیہ کے سلسلے میں نئے اسباب معلوم کر رہے ہیں۔ اسی طرح ام القریٰ کے بارے میں مزید وجوہات غوروفکر کے بعد سامنے لائی جاسکتی ہیں۔ غرض یوں یہ قرآن ام القریٰ میں نازل ہوا ، اس نے اس کے اردگرد کام شروع کیا اور جب پورا جزیرۃ العرب جاہلیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہوگیا۔ اور عرب پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوگئے تو انہوں نے اسلام کے جھنڈے بلند کر دئیے اور وہ اسلام کو لے کر شرق و غرب میں داخل ہوگئے اور انہوں نے جدید رسالت اور اس کے ذریعہ آیا ہوا نظام اسلام اور نظام شریعت انسانوں کے سامنے پیش کیا۔ جس طرح اسلام کا مزاج تھا۔ جن لوگوں نے یہ جھنڈے بلند کئے وہ اس مقصد کے لئے صالح ترین لوگ تھے۔ جنہوں نے اسے اٹھایا اور پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ جب وہ اسے لے کر اٹھے تو اسلام کی تولید وتشکیل ایک بہترین ماحول میں ہوچکی تھی۔ یہ بات کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو پورے جزیرۃ العرب میں اسلام کے مکمل غلبے تک زندہ رکھا اور پورے جزیرۃ العرب کو مشرکین اور شرک کے آثار سے بھی پاک کردیا گیا۔ پھر اس دعوت کے لئے عربی زبان کو بھی محض اتفاق سے نہ چنا تھا بلکہ دنیا کی زبانوں میں یہ اس دعوت کے پھیلانے کے لئے نہایت ہی موزوں زبان تھی۔ یہ ایک مکمل اور پختہ زبان تھی۔ اس کے اندر وسعت کی بےپناہ صلاحیت تھی اور اس دعوت کے مقاصد کے لئے اس وقت اس سے زیادہ بہتر اور کوئی زبان نہ تھی۔ اگر یہ کوئی اور زبان ہوتی یا اس زبان کی تشکیل اور مقاصد کے لئے اس وقت اس سے زیادہ بہتر اور کوئی زبان نہ تھی۔ اگر یہ کوئی اور زبان ہوتی یا اس زبان کی تشکیل اور ساخت میں کوئی جھول ہوتی تو اس کے لئے ممکن نہ ہوتا ہے کہ یہ زبان دعوت اسلامی کے مقاصڈ کو پورا کرسکتی اور نہ یہ زبان اس دعوت کو جزیرۃ العرب کے باہر پھیلا سکتی۔ غرض جس طرح رجال عرب اس دعوت کا بوجھ اٹھانے کے لئے موزوں تھے اسی طرح ان کی زبان بھی موزوں تھی ، (یہ زبان پھر قرب و جوار کے ملکوں کی زبان بن گئی ) ۔ غرض یہ وہ قدرتی سازگاریاں تھیں جو اس رسالت کے جزیرۃ العرب سے آغاز میں مضمر تھیں۔ لیکن تمام وجوہات کے مقابلے میں اصل وجہ یہی ہے جو خود قرآن نے بتائی ہے۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھتا ہے ”۔ بہرحال غورو تدبر سے حکمت الٰہیہ کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔ لتنذر ام القری ۔۔۔۔ فی السعیر (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز اور اس کے گردو پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو ، اور جمع ہونے کے دن سے ڈراؤ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں ”۔ قرآن کریم میں ڈراوے کا ذکر بہت آتا ہے۔ بار بار مختلف طریقوں سے لفظ انذار آتا ہے۔ اس سے مراد یوم قیامت سے ڈرانا ہے۔ پوری دنیا کی تاریخ میں جس زمان ومکان میں انسان پیدا ہوئے اور فوت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ایک دن سب کو جمع کرے گا اور پھر ان کی گروہ بندی ہوگی ، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (42 : 7) “ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک جہنم میں ”۔ جس طرح انہوں نے اس دنیا میں عمل کیا ، جو دارالعمل ہے اور جو رویہ انہوں نے اپنی اس مختصر زندگی میں اختیار کیا۔ ولو شاء اللہ لجعلھم ۔۔۔۔۔۔ ولا نصیر (42 : 8) “ اگر اللہ چاہتا ہے تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ جسے چاہتا ہے ، اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے اور نہ مددگار ”۔ اگر اللہ چاہتا تو انسانوں کی تخلیق ہی دوسرے انداز سے کرتا جس میں ان کا رویہ ایک جیسا ہوتا۔ ان کا انجام بھی ایک ہی ہوتا ، یا سب جنتی ہوتے یا سب جہنمی ہوتے لیکن اللہ نے اس انسان کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اس کرۂ ارض پر اللہ کا خلیفہ ہے۔ اور اس خلافت کا تقاضا یہ تھا کہ انسان ایسا ہو جیسا کہ وہ ہے۔ انسان کو خصوصی استعداد دی جائے ، اس استعداد کے ذریعہ وہ فرشتوں سے بھی ممتاز ہو اور شیاطین سے بھی ممتاز ہو۔ جن کی تخلیق کسی محدود مقصد کے لئے ہے اور ان کا ایک ہی رویہ ہے۔ اس استعداد کے ذریعہ بعض انسان ہدایت اور نور کی طرف آجائیں ، عمل صالح کریں ، اور بعض لوگ گمراہی اور تاریکی کی طرف چلیں اور برے کام کریں۔ ہر انسان ان اجتمالات میں سے ایک طرف جھک جائے جو اس کی طبیعت میں رکھے ہوئے ہیں اور پھر اس احتمال کے لئے جو انجام مقرر ہے اس سے دوچار ہو ، یعنی ایک فریق جنت میں جائے اور دوسرا دوزخ میں۔ اور اس طرح یہ بات حق بن جائے کہ ۔ یدخل من یشاء فی رحمتہ والظالمون ما لھم من ولی ولا نصیر (42 : 8) “ اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے اور نہ مددگار ” ۔ اور اللہ کی مشیت نے اپنا کام اپنے سابق علم کی وجہ سے کیا۔ انسان اس کی ہدایت کی وجہ سے اس کی رحمت مستحق ہوا اور ضلالت کی وجہ سے وہ گمراہی و عذاب کا مستحق ہوگیا۔ اس سے قبل یہ بات گزر گئی کہ بعض لوگوں نے اللہ کے سوا اور سرپرست بنا رکھے تھے۔ یہاں یہ فیصلہ دے دیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا تو کوئی ولی و مدد گار نہ ہوگا ۔ لہٰذا جن کو وہ ولی و مدد گار پکڑتے ہیں تو ، یہ ایک فضول حرکت ہے ان کی جانب سے کیونکہ ان کا تو وجود ہی نہیں ہے۔ پھر پوچھا جاتا ہے : ام اتخذوا من دونہ اولیاء ( 42 : 9) “ کہا ، انہوں نے اللہ کے سوا اور ولی و مددگار پکڑ رکھے ہیں ؟” یہ سوال استنکاری اس لیے ہے کہ ان کو متوجہ کر کے یہ فیصلہ دے دیا جائے کہ اللہ وحدہ ولی و مددگار ہے۔ وہ قادر مطلق ہے۔ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور اس سے اس کی قدرت واضح ہوتی ہے۔ مردے کو حیات دینا یہ بہت بڑی قدرت ہے۔ فاللہ ھو الولی وھو یحی الموتی (42 : 9) “ اللہ ہی ولی و مددگار ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے ” اس کے بعد اس خصوصی قدرت کے مظہر یعنی احیائے موتیٰ کے بعد عام قدرت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ وھو علی کل شیء قدیر (42 : 9) “ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ اس کی قدرت صرف احیائے موتیٰ تک محدود نہیں ۔ ٭٭٭ پھر روئے سخن اس سورت کے موضوع اول کی طرف مڑتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں اپنے تمام اختلافات کس معیار پر رفع کئے جائیں گے۔ یہ وحی واحد معیار حق ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہے ، یہ صراط مستقیم ہے اور مکمل اسلامی نظام زندگی آنے کے بعد تم نے تمام اختلافات اس کے مطابق ختم کرنے ہیں۔ اب یہ نہ ہوگا کہ ہر شخص ہوائے نفس کے مطابق چلے

الشورى 42:9

آیت نمبر 7 تا 9 وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیاً ( 42 : 7) “ ہاں ، اسی طرح اے نبی یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے ”۔ تا کہ تم بستیوں کے مرکزی شہر مکہ کے لوگوں کو ڈراؤ ۔ یہ فقرہ معطوف ہے ، اس فقرے پر جس سے سورت کا آغاز ہوا۔ یعنی کذلک یوحی پر۔ سورت کے آغاز میں آنے والے اس کذلک سے مراد حروف مقطعات تھے۔ یہاں معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان مناسبت حروف مقطعات اور قرآن عربی کی ہے۔ یہ مناسبت ظاہر ہے ۔ یعنی یہ حروف عربی ہیں اور یہ قرآن عربی ہے۔ وحی نے ان حروف سے یہ قرآن بنایا ہے تا کہ وہ اپنا مقصد پورا کرے اور غرض وغایت کیا ہے۔ لتنذر ام القری ومن حولھا (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اس کے گردو پیش رہنے والوں کو خبردار کردو ”۔ ام القریٰ سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس میں بیت اللہ ، اللہ کا پرانا گھر تھا۔ اللہ نے یہ پسند فرمایا کہ خانہ کعبہ اس آخری رسالت کا مرکز ہو اور اللہ نے اپنی آخری کتاب کے لئے عربی زبان کو منتخب کیا۔ یہ اس کی مصلحت تھی اور وہی اس کو جانتا ہے کہ کیوں۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے ”۔ آج جب ہم تاریخی واقعات کا جائز لیتے ہیں اور پوری تاریخ کو چھانتے ہیں ، اس وقت کے حالات اور تقاضوں کو دیکھتے ہیں۔ پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ دعوت کس طرح پھیلی اور کن خطوط پر آگے بڑھی اور اس نے کیا کیا نتائج پیدا کئے اور دنیا پر کیا کیا اثرات چھوڑے۔ آج جب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ نے اس سر زمین کو اس مقصد کے لئے کیوں منتخب کیا تھا۔ اور تاریخ کے ایک خاص موڑ پر اس آخری رسالت کے لئے کیوں مکہ مکرمہ کو مرکز ٹھہرایا۔ جبکہ یہ آخری رسالت تھی بھی عالمی رسالت ، تمام انسانوں کے لئے تھی۔ اور جس کے عالمی خدو خال اس کے ابتدائی دنوں ہی سے عیاں تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے ظہور کے دور میں پورے کرۂ ارض کے آباد علاقوں کو چار شہنشاہوں نے باہم تقسیم کر رکھا تھا۔ روی سلطنت جو پورے ایشیا کے ایک حصے ، اور افریقہ پر حکمران تھی۔ کسرائے فارس کی مملکت جس کا اقتدار ایشیا کے ایک بڑے حصے ، افریقہ کے ایک حصے پر قائم تھا ، مملکت ہند اور مملکت چین۔ یہ آخر الذکر دونوں شہنشاہتیں اپنے خول میں بند تھیں ، ان کے اپنے عقائد تھے اور صرف چین و ہند کے باہم سیاسی روابط تھے ، چونکہ چین وہند کی مملکتیں اپنے ہی خول میں بند تھیں۔ اس لیے دنیا کے معاشروں پر حقیقی اثر قیصر روم اور کسرائے فارس ہی کی حکومتوں کو حاصل تھا۔ اس دور میں دنیا میں دو مشہور سماوی دین تھے۔ یہودیت اور نصرانیت ۔ یہ دونوں مذاہب اس پوزیشن تک پہنچ گئے تھے کہ یہ کسی نہ کسی حکومت اور مملکت کے زیر اثر ہوگئے تھے۔ ان ادیان پر حکومت کا اثر قائم ہوگیا تھا۔ کسی مملکت پر دین کا اثر نہ تھا بلکہ مملکت دین پر غالب تھی۔ یہ اس لیے کہ ان ادیان کے اندر تحریف و تغیر واقع ہوگیا تھا اور اہل دین بد عمل ہوگئے تھے۔ یہودیوں پر تو کبھی رومی ظلم کرتے اور کبھی اہل فارس ان پر مظالم ڈھاتے۔ ان کی تو اس علاقے میں کوئی قابل ذکر پوزیشن نہ تھی۔ حالات نے یہودیت کو مجبور کردیا تھا کہ وہ صرف یہودیوں ، یعنی بنی اسرائیل کا دین بن جائے اور خود اپنے اندر سکڑ جائے۔ ان کو نہ اس بات کی ضرورت تھی اور نہ خواہش تھی کہ وہ دوسری اقوام کو دین یہودیت میں لائیں۔ جہاں تک موجودہ عیسائیت کا تعلق ہے ، یہ مملکت روما کی پیدا کردہ ہے۔ جس وقت عیسائیت وجود میں آئی تو مملکت روما ، فلسطین ، مصر ، شام اور ان باقی حصوں پر برسر اقتدار تھی جن میں مسیحیت خفیہ طور پر پھیل گئی تھی اور مملکت روما اس پر تشدد کر رہی تھی۔ اس دین کو ماننے والوں کا پیچھا کیا جاتا تھا۔ اور ان پر سختیاں کی جاتی تھیں۔ یہ تشدد اس قدر سخت تھا کہ ہزارہا لوگوں کو ظالمانہ طریقے پر ذبح کیا گیا ۔ جب اس تشدد کا دور ختم ہوا اور قیصر روم خود دین مسیحیت میں داخل ہوگیا تو وہ اپنے ساتھ بت پرستانہ افسانے بھی لایا۔ چناچہ یونان کے مذہبی دیو مالائی فلسفے عیسائیت میں داخل ہوگئے اور عیسائیت کی سادہ شکل ہی کو بدل کر رکھ دیا گیا۔ لہٰذا اب سرکار کے سائے میں جو عیسائیت وجود میں آئی ، وہ اس دین سے بالکل مختلف تھی جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا تھا بلکہ یہ ایک نئی چیز وجود میں آگئی۔ ہوا یوں کہ مملکت روم نے کلمہ تو پڑھ لیا مگر وہ مسیحیت سے متاثر نہ ہوئی۔ ادھر مسیحیت تشدد سے تو کنٹرول میں نہ آئی تھی ، اب مکمل طور پر کنٹرول میں آگئی۔ اس سرکاری کنٹرول کی وجہ سے یہ دین مزید ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور اس طرح تشدد کا ایک دوسرا دور شروع ہوا ، سرکاری مسیحیت نے دوسرے فرقوں کو کچلنا شروع کردیا۔ کینسہ تقسیم ہوگیا اور یہ خطرہ بھی پیدا ہوگیا کہ اس کے نتیجے میں مملکت روما منقسم ہوجائے۔ یوں ایک سرکاری فرقے نے دوسرے فرقوں کو کچلا اور دونوں کی حالت یہ ہوگئی کہ کوئی بھی حضرت عیسیٰ کے دین پر نہ رہا۔ یہ وقت تھا جب اسلام نمودار ہوا۔ اسلام کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت جس انحراف ، فساد ، ظلم اور جاہلیت میں گرفتار ہے ، اسے ان تاریکیوں سے نکالا جائے۔ اسلام نے چاہا کہ پوری انسانی زندگی کو اپنے کنٹرول میں لے ، اور نہایت ہی روشنی اور صحیح راستے پر اس کی راہنمائی کرے۔ یہ ضروری تھا کہ اسلام پوری انسانیت کے اوپر اپنا اقتدار اعلیٰ قائم کرے تا کہ انسانی زندگی میں وہ عظیم انقلاب لایا جاسکے ۔ جو اسلام کے پیش نظر تھا۔ لہٰذا یہ ضروری تھا کہ اسلام کا آغاز کسی ایسے مقام سے کیا جائے جو آزادانہ ہو اور وہاں دنیا کی بڑی شہنشاہیتوں میں سے کوئی بھی برسر اقتدار نہ ہو۔ اور اسلام کی ترقی اور نشوونما ایسے حالات میں ہو کہ اس پر کوئی ایسی مملکت مسلط نہ ہو ، جو اس کے مزاج کے متضاد ہو۔ بلکہ اس علاقے پر اسلام خود ہی برسر اقتدار ہو۔ ان مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر سوچا جائے تو مکہ مکرمہ ، اس وقت کے حالات کے مطابق آغاز اسلام کے لئے ایک بہترین مقام تھا ، جہاں سے اسلام نے اپنا عالمی سفر شروع کیا کیونکہ ایک عالمی انقلاب اول روز سے اسلام کے پیش نظر تھا۔ جزیرۃ العرب میں ان دنوں کوئی منظم حکومت نہ تھی جس کے اپنے قوانین ہوں ، جس کی فوجیں ہوں ، جس کی پولیس ہو ، اور وہ پورے جزیرۃ العرب پر اقتدار رکھتی ہو۔ اور جو اپنے منظم ڈھانچے کے بل بوتے پر جدید نظریہ حیات کا مقابلہ کرسکتی ہو۔ اور جمہور عوام پوری طرح اس کے کنٹرول میں ہوں جیسا کہ اس وقت دنیا کی چار شہنشاہیتوں میں ایسا انتظام تھا۔ پھر جزیرۃ العرب میں ایسا واضح دین بھی نہ تھا ، جس طرح یہودیت ، عیسائیت تھی یا بکھری ہوئی بت پرستی تھی۔ تمام قبائل کے معتقدات اور ان کے طریقہ ہائے حیات مختلف تھے۔ پھر ان کے الہہ بھی مختلف تھے۔ ملائکہ سے ، جنوں سے ، سیاروں اور ستاروں سے ، اور بتوں سے ، لیکن ان حالات کے باوجود خانہ کعبہ اور قریش کی دینی قیادت و سیادت ، پورے جزیرۃ العرب میں مسلم تھی۔ اگرچہ یہ قیادت باقاعدہ اقتدار اعلیٰ کی نہ تھی ، نہ مکہ پر اور نہ بیرون مکہ پر۔ اس وجہ سے دین جدید کی مزاحمت حکومتی سطح پر نہ تھی۔ قریش نے دین جدید کا ایک حد تک مقابلہ ضرور کیا لیکن اگر اقتصادی وجوہات نہ ہوتیں ، اور قریش کے سرداروں کے خاص مفادات کا مسئلہ نہ ہوتا تو اسلام کی جو مخالفت ام القریٰ میں ہوئی وہ بھی نہ ہوتی۔ جہاں تک عقائد ونظریات کا تعلق ہے ، وہ جانتے تھے کہ ان کے عقائد پوچ ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جزیرۃ العرب میں کسی سیاسی نظام کا نہ ہونا ، یا کسی منظم دینی نظام کا نہ ہونا ، اسلام کے مفاد میں تھا ، ابتدائی ادوار میں اسلام کے اوپر کوئی خاص دباؤ نہ تھا۔ اگر کوئی ایسا نظام ہوتا تو وہ لازماً اسلام کے مزاج کے خلاف ہوتا اور وہ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا۔ بلکہ کسی اجتماعی حکومتی اور دینی نظام کی عدم موجودگی میں ، ایک طرح اسلام کی حمایت کا پہلو نکل آیا۔ اجتماعی نظام حکومت کی جگہ جزیرۃ العرب میں قبائلی نظام تھا اور اس قبائلی نظام میں خاندان کو اہمیت حاصل ہوتی۔ جب حضور ﷺ دعوت اسلامی لے کر اٹھے تو بنی ہاشم کی تلواریں آپ کے ساتھ تھیں اور جو قبائلی توازن قائم تھا وہ آپ کے حق میں تھا ۔ کیونکہ بنو ہاشم باوجود اس کے کہ آپ کے دین کو قبول نہ کرتے تھے لیکن آپ کے حامی ضرور تھے۔ بلکہ آغاز اسلام میں جن جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا اور ان کا تعلق اہم قبائل سے تھا ، ان پر لوگ کسی قسم کے تشدد سے ڈرتے تھے۔ ان کی اصلاح اور تادیبی کاروائی کا کام قبائل کے سپرد تھا۔ اسی طرح جن غلاموں پر تشدد ہوا ان پر بھی ان کے مالکان نے تشدد کیا ، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر ایسے غلاموں کو خریدتے اور آزاد کردیتے۔ اس طرح ان پر سختی ختم ہوجاتی اور وہ حضرت ابوبکر کے موالی ہوجاتے۔ اب لوگ ان کے دین کے بارے میں زیادہ نہ چھیڑتے ۔ اس صورت حال نے دین جدید کو ایک امتیازی شان دے دی ۔ تمام غرباء اور غلام اس کی طرف لپکے۔ پھر عربوں کے اندر بہادری ، ذاتی وقار ، جوانمردی اور بھلائی پر خوشی سے آمادہ ہوجانے کی صفات بھی تھیں۔ یہ وہ صفات ہیں جو جدید دین کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ضروری تھیں۔ ان باتوں کے علاوہ جزیرۃ العرب میں اس وقت وہ تمام صلاحیتیں موجود تھیں جو کسی تہذیب و ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہیں اور ساکنان جزیرہ ان پر فخر کرتے تھے۔ جزیرۃ العرب میں قوت ، قابلیت ، شخصیات کے کافی ذخائر موجود تھے جو بےتاب تھے کہ ان کو کام میں لایا جائے۔ غیب کے قلب میں یہ سب کچھ موجود تھا۔ پھر اہل قریش پوری دنیا میں گرویدہ اور گرم و سروچشیدہ تھے۔ وہ ایک طرف قیصر روم کی مملکت میں سفر کرتے تھے دوسری جانب وہ کسری فارس کے علاقوں میں سفر کرتے تھے اور انہوں نے اس وقت کی تہذیب و تمدن کے تمام تجربات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے تھے۔ اہل قریش کے سفر موسم گرما اور سفر موسم سرما کو قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے ریکارڈ بھی کردیا ہے۔ لایلف قریش (106 : 1) الفھم رحلۃ الشتاء والصیف (106 : 2) فلیعبدوا رب ھذا البیت (106 : 3) الذی اطعمھم من جوع وامنھم من خوف (106 : 4) “ چونکہ قریش مانوس ہوتے ہیں ، جاڑے اور گرمی کے سفروں سے ، لہٰذا ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا ”۔ پھر تجربات کا ایک بڑا ذخیرہ ان کے ہاں مختلف اسباب کے تحت جمع ہوگیا ، تا کہ جزیرۃ العرب اسلامی انقلاب کی مہم کے لئے تیار ہوجائے۔ جب اسلام آیا تو اس نے ان تمام ذخائر اور صلاحیتوں کو اسلام کے حق میں استعمال کیا۔ عربوں کی طاقت اور جنگی صلاحیت جو صدیوں سے جمع ہوچکی تھی ، وہ صلاحیت کھل گئی۔ اسلام کی کنجی سے یہ خزانے رو بعمل ہوگئے۔ یہ تمام صلاحیتیں اسلام کا سرمایہ بن گئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آغاز اسلام ہی سے اسلام کو ایسی عظیم شخصیات مل گئی جن کا ملنا کسی تحریک کے لئے بڑی خوش نصیبی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام اس زاویہ نظر سے بہت بڑا مقام رکھتے ہیں ، مثلاً حضرت ابوبکر ‏ ؓ ‌ ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، حضرت عباس ؓ ، حضرت ابو عبیدہ ؓ ، حضرت سعد ؓ ، حضرت معاذ ؓ ، حضرت ابو ایوب انصاری وغیرھم۔ ساتھیوں کا یہ باصلاحیت گروپ جنہوں نے ابتداء ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا ، ان کے دل اللہ نے اسلام کے لئے کھول دئیے ، انہوں نے اس دعوت کو اٹھایا۔ اس دعوت کے ذریعہ یہ باصلاحیت لوگ مزید بڑے لوگ بن گئے اور ان کی صلاحیتیں اور نکھر گئیں۔ لیکن ان کے اندر بنیادی قابلیت اسلام سے پہلے بھی موجود تھی۔ یہاں ہم تفصیلی اسباب نہیں لکھ سکتے کہ جزیرۃ العرب کو کیوں دعوت اسلامی کے لئے منتخب کیا گیا۔ کیوں اس دعوت کو آغاز میں بچا کر جزیرۃ العرب ہی میں اس کی نشوونما کی گئی ، اور کیوں ام القریٰ اور ماحول کو برتری دی گئی کہ بڑی مملکتیں اس کی طرف متوجہ ہی نہ ہوئیں ، تو یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جزیرۃ العرب کو جدید رسالت کے لئے ایک پرورش گاہ بنانا چاہتا تھا ۔ جس نے پوری انسانیت کو روشنی دینی تھی۔ اور پھر ام القریٰ کو منتخب کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ وہاں سے اٹھیں۔ بہرحال یہ بہت ہی طویل بحث ہوگی اور اس کے لئے ایک مستقل کتاب کے صفحات درکار ہیں۔ یہاں یہی اشارات کافی ہیں اور جن سے آگے بڑھ کر مزید اسباب بھی معلوم کئے جاسکتے ہیں ، یہ تو ان اسباب کا ایک حصہ ہیں۔ جس طرح ہم کائنات میں سنن الٰہیہ کے سلسلے میں نئے اسباب معلوم کر رہے ہیں۔ اسی طرح ام القریٰ کے بارے میں مزید وجوہات غوروفکر کے بعد سامنے لائی جاسکتی ہیں۔ غرض یوں یہ قرآن ام القریٰ میں نازل ہوا ، اس نے اس کے اردگرد کام شروع کیا اور جب پورا جزیرۃ العرب جاہلیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہوگیا۔ اور عرب پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوگئے تو انہوں نے اسلام کے جھنڈے بلند کر دئیے اور وہ اسلام کو لے کر شرق و غرب میں داخل ہوگئے اور انہوں نے جدید رسالت اور اس کے ذریعہ آیا ہوا نظام اسلام اور نظام شریعت انسانوں کے سامنے پیش کیا۔ جس طرح اسلام کا مزاج تھا۔ جن لوگوں نے یہ جھنڈے بلند کئے وہ اس مقصد کے لئے صالح ترین لوگ تھے۔ جنہوں نے اسے اٹھایا اور پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ جب وہ اسے لے کر اٹھے تو اسلام کی تولید وتشکیل ایک بہترین ماحول میں ہوچکی تھی۔ یہ بات کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو پورے جزیرۃ العرب میں اسلام کے مکمل غلبے تک زندہ رکھا اور پورے جزیرۃ العرب کو مشرکین اور شرک کے آثار سے بھی پاک کردیا گیا۔ پھر اس دعوت کے لئے عربی زبان کو بھی محض اتفاق سے نہ چنا تھا بلکہ دنیا کی زبانوں میں یہ اس دعوت کے پھیلانے کے لئے نہایت ہی موزوں زبان تھی۔ یہ ایک مکمل اور پختہ زبان تھی۔ اس کے اندر وسعت کی بےپناہ صلاحیت تھی اور اس دعوت کے مقاصد کے لئے اس وقت اس سے زیادہ بہتر اور کوئی زبان نہ تھی۔ اگر یہ کوئی اور زبان ہوتی یا اس زبان کی تشکیل اور مقاصد کے لئے اس وقت اس سے زیادہ بہتر اور کوئی زبان نہ تھی۔ اگر یہ کوئی اور زبان ہوتی یا اس زبان کی تشکیل اور ساخت میں کوئی جھول ہوتی تو اس کے لئے ممکن نہ ہوتا ہے کہ یہ زبان دعوت اسلامی کے مقاصڈ کو پورا کرسکتی اور نہ یہ زبان اس دعوت کو جزیرۃ العرب کے باہر پھیلا سکتی۔ غرض جس طرح رجال عرب اس دعوت کا بوجھ اٹھانے کے لئے موزوں تھے اسی طرح ان کی زبان بھی موزوں تھی ، (یہ زبان پھر قرب و جوار کے ملکوں کی زبان بن گئی ) ۔ غرض یہ وہ قدرتی سازگاریاں تھیں جو اس رسالت کے جزیرۃ العرب سے آغاز میں مضمر تھیں۔ لیکن تمام وجوہات کے مقابلے میں اصل وجہ یہی ہے جو خود قرآن نے بتائی ہے۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھتا ہے ”۔ بہرحال غورو تدبر سے حکمت الٰہیہ کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔ لتنذر ام القری ۔۔۔۔ فی السعیر (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز اور اس کے گردو پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو ، اور جمع ہونے کے دن سے ڈراؤ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں ”۔ قرآن کریم میں ڈراوے کا ذکر بہت آتا ہے۔ بار بار مختلف طریقوں سے لفظ انذار آتا ہے۔ اس سے مراد یوم قیامت سے ڈرانا ہے۔ پوری دنیا کی تاریخ میں جس زمان ومکان میں انسان پیدا ہوئے اور فوت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ایک دن سب کو جمع کرے گا اور پھر ان کی گروہ بندی ہوگی ، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (42 : 7) “ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک جہنم میں ”۔ جس طرح انہوں نے اس دنیا میں عمل کیا ، جو دارالعمل ہے اور جو رویہ انہوں نے اپنی اس مختصر زندگی میں اختیار کیا۔ ولو شاء اللہ لجعلھم ۔۔۔۔۔۔ ولا نصیر (42 : 8) “ اگر اللہ چاہتا ہے تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ جسے چاہتا ہے ، اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے اور نہ مددگار ”۔ اگر اللہ چاہتا تو انسانوں کی تخلیق ہی دوسرے انداز سے کرتا جس میں ان کا رویہ ایک جیسا ہوتا۔ ان کا انجام بھی ایک ہی ہوتا ، یا سب جنتی ہوتے یا سب جہنمی ہوتے لیکن اللہ نے اس انسان کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اس کرۂ ارض پر اللہ کا خلیفہ ہے۔ اور اس خلافت کا تقاضا یہ تھا کہ انسان ایسا ہو جیسا کہ وہ ہے۔ انسان کو خصوصی استعداد دی جائے ، اس استعداد کے ذریعہ وہ فرشتوں سے بھی ممتاز ہو اور شیاطین سے بھی ممتاز ہو۔ جن کی تخلیق کسی محدود مقصد کے لئے ہے اور ان کا ایک ہی رویہ ہے۔ اس استعداد کے ذریعہ بعض انسان ہدایت اور نور کی طرف آجائیں ، عمل صالح کریں ، اور بعض لوگ گمراہی اور تاریکی کی طرف چلیں اور برے کام کریں۔ ہر انسان ان اجتمالات میں سے ایک طرف جھک جائے جو اس کی طبیعت میں رکھے ہوئے ہیں اور پھر اس احتمال کے لئے جو انجام مقرر ہے اس سے دوچار ہو ، یعنی ایک فریق جنت میں جائے اور دوسرا دوزخ میں۔ اور اس طرح یہ بات حق بن جائے کہ ۔ یدخل من یشاء فی رحمتہ والظالمون ما لھم من ولی ولا نصیر (42 : 8) “ اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے اور نہ مددگار ” ۔ اور اللہ کی مشیت نے اپنا کام اپنے سابق علم کی وجہ سے کیا۔ انسان اس کی ہدایت کی وجہ سے اس کی رحمت مستحق ہوا اور ضلالت کی وجہ سے وہ گمراہی و عذاب کا مستحق ہوگیا۔ اس سے قبل یہ بات گزر گئی کہ بعض لوگوں نے اللہ کے سوا اور سرپرست بنا رکھے تھے۔ یہاں یہ فیصلہ دے دیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا تو کوئی ولی و مدد گار نہ ہوگا ۔ لہٰذا جن کو وہ ولی و مدد گار پکڑتے ہیں تو ، یہ ایک فضول حرکت ہے ان کی جانب سے کیونکہ ان کا تو وجود ہی نہیں ہے۔ پھر پوچھا جاتا ہے : ام اتخذوا من دونہ اولیاء ( 42 : 9) “ کہا ، انہوں نے اللہ کے سوا اور ولی و مددگار پکڑ رکھے ہیں ؟” یہ سوال استنکاری اس لیے ہے کہ ان کو متوجہ کر کے یہ فیصلہ دے دیا جائے کہ اللہ وحدہ ولی و مددگار ہے۔ وہ قادر مطلق ہے۔ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور اس سے اس کی قدرت واضح ہوتی ہے۔ مردے کو حیات دینا یہ بہت بڑی قدرت ہے۔ فاللہ ھو الولی وھو یحی الموتی (42 : 9) “ اللہ ہی ولی و مددگار ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے ” اس کے بعد اس خصوصی قدرت کے مظہر یعنی احیائے موتیٰ کے بعد عام قدرت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ وھو علی کل شیء قدیر (42 : 9) “ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ اس کی قدرت صرف احیائے موتیٰ تک محدود نہیں ۔ ٭٭٭ پھر روئے سخن اس سورت کے موضوع اول کی طرف مڑتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں اپنے تمام اختلافات کس معیار پر رفع کئے جائیں گے۔ یہ وحی واحد معیار حق ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہے ، یہ صراط مستقیم ہے اور مکمل اسلامی نظام زندگی آنے کے بعد تم نے تمام اختلافات اس کے مطابق ختم کرنے ہیں۔ اب یہ نہ ہوگا کہ ہر شخص ہوائے نفس کے مطابق چلے

الشورى 42:10

آیت نمبر 10 تا 12 ان حقائق کو اس ایک پیراگراف میں پیش کرنے کا طریقہ بڑا عجیب ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حقائق کے درمیان ایک باریک اور خفیہ ربط موجود ہے۔ یہ کہ لوگوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وما اختلفتم فیہ من شییء فحکمہ الی اللہ (42 : 10) “ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو ، اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے ”۔ اور اللہ نے اپنا فیصلہ اس قرآن میں نازل کردیا ہے اور اس قرآن نے دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں فیصلے کر دئیے ہیں اور لوگوں کی زندگی کے لئے انفرادی اور اجتماعی منہاج اس کے اندر ضبط کردیا ہے۔ ان کے نظام زندگی ، ان کے نظام معیشت ، ان کے نظام قانون ، ان کے نظام سیاست اور ان کے نظام اخلاق و سلوک کے تمام امور قرآن کریم نے طے دئیے ہیں اور ان موضوعات پر کافی و شافی بیان دے دیا ہے۔ اس قرآن کو انسانی زندگی کا دستور العمل بنا دیا ہے۔ یہ تمام دنیا کے دساتیر سے زیادہ جامع و مانع ہے۔ اگر ان کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو اس کا حکم اس قرآن میں تیار ہے اور حاضر ۔۔۔۔۔ حضرت محمد ﷺ پر اترا ہے۔ اور آپ نے اس قرآن کی اساس پر نظام زندگی قائم کر کے بتا دیا ہے۔ اس ہدایت کے بعد اب نبی ﷺ کی تقریر شروع ہوتی ہے کہ آپ نے اعلان کردیا کہ آپ اپنے امور تمام کے تمام اللہ کے حوالے کرتے ہیں اور اس طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ یہ ہے رب تعالیٰ جس نے مجھے یہ کلیہ دیا ہے۔ ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (42 : 10) “ یہی اللہ میرا رب ہے ، اس پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ” یہ انابت اور یہ توکل اور یہ اقرار نبی ﷺ کی زبان سے یہاں ریکارڈ کیا جاتا ہے تا کہ اس کا لوگوں پر ایک نفسیاتی اثر ہو کہ دیکھو یہ ہیں رسول اللہ ﷺ جو اللہ کے نبی ہیں ، وہ بھی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ ہی ان کا رب اور حاکم ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ لہٰذا دوسرے انسان اور مسلمان اپنے اختلافات میں کس طرح کسی اور کی طرف رجوع کرسکتے ہیں اور نبی جو ہدایت پر ہیں اپنے فیصلہ اللہ ہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ لہٰذا تمام لوگوں کو بطریق اولیٰ اپنے فیصلہ قرآن کی طرف لے جانے چاہئیں۔ اور اس سے کسی جگہ بھی ایک لمحے کے بھی ادھر ادھر نہیں ہونا چاہئے۔ اور کس طرح وہ اپنے امور میں کسی دوسری جانب جاسکتے ہیں جبکہ نبی ﷺ بذات خود بھی کسی دوسری طرف نہیں جاتے۔ اللہ ہی کی طرف رجوع فرماتے ہیں کیونکہ رب بھی اللہ ، والی بھی اللہ ، کفیل بھی اللہ اور یہ اللہ ہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کو جدھر موڑنا چاہتا ہے ، موڑتا ہے۔ جب کسی مومن کے دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو اس کا راستہ روشن ہوجاتا ہے ، اس کے سفر زندگی کے نشانات واضح ہوجاتے ہیں اس لیے وہ اپنے سفر میں ادھر ادھر دیکھتا ہی نہیں۔ طمانیت کا ایک لبریز پیمانہ اس کے دل پر انڈیل دیا جاتا ہے اور اس کے مقامات قدم پر اعتماد بچھا دیا جاتا ہے۔ اس لیے وہ نہ شک کرتا ہے ، نہ تردد کرتا ہے ، اور نہ حیرت زدہ ہوتا ہے۔ اس کو یہ شعور مل جاتا ہے کہ اللہ اس کا حامی ، نگہبان ، محافظ اور اس کے قدموں کو درست رکھنے والا ہے اور نبی اکرم ﷺ بھی اس راستے کے راہی رہے ہیں۔ جب مومن کے ضمیر میں اور شعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کے نظام زندگی اور طرز زندگی کے بارے میں اس کا شعور اور اس کی سوچ بلند ہوجاتی ہے ، اس لیے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اسلامی نظام زندگی کے سوا اور بھی کوئی قابل التفات منہاج ہو سکتا ہے۔ نہ وہ یہ تصور کرسکتا ہے کہ اللہ کے حکم اور فیصلے کے سوا اور بھی کوئی حکم اور فیصلہ ہو سکتا ہے ، جس کی طرف اختلاف کی صورت میں کوئی نگاہ بلند کرسکے۔ جبکہ ہادی اور نبی بھی اپنے فیصلوں میں اللہ کی شریعت اور حکم کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ اب ایک بار پھر اس حقیقت کو ذہن نشین کیا جاتا ہے تا کہ وہ اچھی طرح مومن کے شعور کی گہرائی تک اتر جائے۔ فاطر السموت والارض۔۔۔۔۔۔ وھو السمیع البصیر (42 : 11) “ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کئے اور اس طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ، اور اس طریقے سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے ”۔ اللہ قرآن کو نازل کرنے والا ہے کہ اس کا حکم تمہارے اختلاف کے اندر فیصل ہو۔ وہی اللہ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کا مدبر ہے۔ زمین اور آسمان میں جو قانون قدرت چلتا ہے ، وہ زمین اور آسمان کے امور میں فیصلہ کن ہے۔ لوگوں کی زندگیوں کے معاملات بھی دراصل اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہیں ، لہٰذا لوگوں کی زندگیوں میں قانون خداوندی کا اجراء دراصل لوگوں کی زندگیوں کو اس پوری کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کر دے گا۔ اس طرح تمام انسان اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ اور ہم قدم ہو کر چلیں گے۔ جبکہ کائنات میں حکمرانی میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کی زندگی میں حکمرانی اس کی ہوگی۔ وہ اللہ جس کے حکم کی طرف لوگوں نے اپنے اختلافات میں رجوع کرنا ہے ، وہ اللہ وہی ذات ہے جو تمہارا خالق ہے۔ تمہارے نفوس کو اسی نے بنایا ہے اور یہ اپنی مخلوق کو اچھی طرح جانتا ہے۔ پھر۔ جعل لکم من انفسکم ازواجاً (42 : 11) پھر تمہاری جنس ہی سے تمہارے لیے جوڑے بنائے ”۔ اس طرح تمہاری زندگی کی بنیاد کی تشکیل ایک خاندان کی صورت میں ہوئی ، لہٰذا وہی جانتا ہے کہ کس طرح یہ زندگی درست ہو سکتی ہے ، اور انسان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے ، اللہ وہ ہے جس نے تمہاری تخلیق اس طرح کی جس طرح تمام دوسری زندہ مخلوق کو اس نے بنایا اور ان کے بھی جوڑے بنائے۔ ومن الانعام ازواجاً (42 : 11) “ اور اسی طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ”۔ تخلیق میں وحدت نظام اور تسلسل نوع ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ خالق ایک ہی ہے۔ تم اور مویشی اسی نظام کے مطابق تکاثر و تناسل کے عمل سے گزرتے ہو۔ جبکہ اللہ کی مثال اپنی مخلوقات میں سے نہیں ہے۔ لیس کمثلہ شیء (42 : 11) “ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ”۔ انسانی فطرت اس اصول کو تسلیم کرتی ہے کیونہ کوئی چیزیں اگر کسی نے بنائی ہیں تو خالق کسی طرح بھی ان کے ممثال نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپے اس بےمثال خالق کے احکام ہی کی طرف لوٹیں۔ خصوصاً اس دنیا میں اپنے اختلافات کے معاملے میں۔ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہ کریں۔ کیونکہ وہ بےمثال خالق و حاکم ہے۔ لہٰذا ایک مرجع کے سوا کوئی اور مرجع اور جائے فیصلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جیسا کوئی نہیں ہے۔ باوجود اس کے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے مشابہ کوئی شیء اس دنیا میں نہیں ہے لیکن اللہ اور اس کی مخلوقات کے درمیان رابطہ باقی اور قائم ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور پھر دیکھنے اور سننے والے کی طرح فیصلے کرتا ہے۔ اور اللہ جس اختلافی معاملے میں فیصلہ کرتا ہے وہ پھر آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ اس معنی میں کہ کنجیاں سب کائنات کی اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اس وقت سے ہیں جب سے اس نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور اس کے لئے ایک ناموس فطرت بنا کر اس میں اسے رائج کردیا ہے۔ لہ مقالید السموت والارض (42 : 21) “ آسمان اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں ”۔ لہٰذا انسانوں کے اختیارات بھی اسی کے ہیں کیونہ انسان بھی اس کائنات کا حصہ ہیں۔ لہٰذا انسانوں کی کنجیاں بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو انسانوں کے رزق کی کشادگی اور تنگی کے اختیارات رکھتا ہے ۔ اور یہ رزق ان کو زمین و آسمان کے خزانوں سے دیتا ہے۔ یسبط الرزق لمن یشاء ویقدر (42 : 21) “ جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، نپا تلا دیتا ہے ”۔ وہ ان کا رازق ہے ، وہ ان کا کفیل ہے ، وہ ان کو کھانا دینے والا ہے ، ان کو پلانے والا ہے لہٰذا وہ غیر اللہ کے متوجہ کیوں ہوتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان فیصلے کرے۔ حق تو یہ ہے کہ لوگ فیصلوں کے لئے رازق اور کفیل کی طرف رخ کریں جو رزق اور دوسرے معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ انہ بکل شیء علیم (42 : 21) “ اسے ہر چیز کا علم ہے ”۔ فیصلہ وہی ذات کرسکتی ہے جو علم رکھتی ہے اور اسی کا فیصلہ عادلانہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ یوں اس پوری تقریر کے معانی نہایت ہی دقیق و لطیف انداز میں باہم مربوط اور متناسب ہیں تا کہ وہ انسانی قلب و عقل پر اثر انداز ہوں اور عقل و خرد کی تاروں پر ایسی چوٹ لگائیں کہ ان سے نہایت ہی گہرا ، موزوں اور خوش آواز زمزمہ پیدا ہو اب پھر وحی الٰہی کی طرف :

الشورى 42:11

آیت نمبر 10 تا 12 ان حقائق کو اس ایک پیراگراف میں پیش کرنے کا طریقہ بڑا عجیب ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حقائق کے درمیان ایک باریک اور خفیہ ربط موجود ہے۔ یہ کہ لوگوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وما اختلفتم فیہ من شییء فحکمہ الی اللہ (42 : 10) “ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو ، اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے ”۔ اور اللہ نے اپنا فیصلہ اس قرآن میں نازل کردیا ہے اور اس قرآن نے دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں فیصلے کر دئیے ہیں اور لوگوں کی زندگی کے لئے انفرادی اور اجتماعی منہاج اس کے اندر ضبط کردیا ہے۔ ان کے نظام زندگی ، ان کے نظام معیشت ، ان کے نظام قانون ، ان کے نظام سیاست اور ان کے نظام اخلاق و سلوک کے تمام امور قرآن کریم نے طے دئیے ہیں اور ان موضوعات پر کافی و شافی بیان دے دیا ہے۔ اس قرآن کو انسانی زندگی کا دستور العمل بنا دیا ہے۔ یہ تمام دنیا کے دساتیر سے زیادہ جامع و مانع ہے۔ اگر ان کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو اس کا حکم اس قرآن میں تیار ہے اور حاضر ۔۔۔۔۔ حضرت محمد ﷺ پر اترا ہے۔ اور آپ نے اس قرآن کی اساس پر نظام زندگی قائم کر کے بتا دیا ہے۔ اس ہدایت کے بعد اب نبی ﷺ کی تقریر شروع ہوتی ہے کہ آپ نے اعلان کردیا کہ آپ اپنے امور تمام کے تمام اللہ کے حوالے کرتے ہیں اور اس طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ یہ ہے رب تعالیٰ جس نے مجھے یہ کلیہ دیا ہے۔ ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (42 : 10) “ یہی اللہ میرا رب ہے ، اس پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ” یہ انابت اور یہ توکل اور یہ اقرار نبی ﷺ کی زبان سے یہاں ریکارڈ کیا جاتا ہے تا کہ اس کا لوگوں پر ایک نفسیاتی اثر ہو کہ دیکھو یہ ہیں رسول اللہ ﷺ جو اللہ کے نبی ہیں ، وہ بھی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ ہی ان کا رب اور حاکم ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ لہٰذا دوسرے انسان اور مسلمان اپنے اختلافات میں کس طرح کسی اور کی طرف رجوع کرسکتے ہیں اور نبی جو ہدایت پر ہیں اپنے فیصلہ اللہ ہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ لہٰذا تمام لوگوں کو بطریق اولیٰ اپنے فیصلہ قرآن کی طرف لے جانے چاہئیں۔ اور اس سے کسی جگہ بھی ایک لمحے کے بھی ادھر ادھر نہیں ہونا چاہئے۔ اور کس طرح وہ اپنے امور میں کسی دوسری جانب جاسکتے ہیں جبکہ نبی ﷺ بذات خود بھی کسی دوسری طرف نہیں جاتے۔ اللہ ہی کی طرف رجوع فرماتے ہیں کیونکہ رب بھی اللہ ، والی بھی اللہ ، کفیل بھی اللہ اور یہ اللہ ہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کو جدھر موڑنا چاہتا ہے ، موڑتا ہے۔ جب کسی مومن کے دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو اس کا راستہ روشن ہوجاتا ہے ، اس کے سفر زندگی کے نشانات واضح ہوجاتے ہیں اس لیے وہ اپنے سفر میں ادھر ادھر دیکھتا ہی نہیں۔ طمانیت کا ایک لبریز پیمانہ اس کے دل پر انڈیل دیا جاتا ہے اور اس کے مقامات قدم پر اعتماد بچھا دیا جاتا ہے۔ اس لیے وہ نہ شک کرتا ہے ، نہ تردد کرتا ہے ، اور نہ حیرت زدہ ہوتا ہے۔ اس کو یہ شعور مل جاتا ہے کہ اللہ اس کا حامی ، نگہبان ، محافظ اور اس کے قدموں کو درست رکھنے والا ہے اور نبی اکرم ﷺ بھی اس راستے کے راہی رہے ہیں۔ جب مومن کے ضمیر میں اور شعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کے نظام زندگی اور طرز زندگی کے بارے میں اس کا شعور اور اس کی سوچ بلند ہوجاتی ہے ، اس لیے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اسلامی نظام زندگی کے سوا اور بھی کوئی قابل التفات منہاج ہو سکتا ہے۔ نہ وہ یہ تصور کرسکتا ہے کہ اللہ کے حکم اور فیصلے کے سوا اور بھی کوئی حکم اور فیصلہ ہو سکتا ہے ، جس کی طرف اختلاف کی صورت میں کوئی نگاہ بلند کرسکے۔ جبکہ ہادی اور نبی بھی اپنے فیصلوں میں اللہ کی شریعت اور حکم کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ اب ایک بار پھر اس حقیقت کو ذہن نشین کیا جاتا ہے تا کہ وہ اچھی طرح مومن کے شعور کی گہرائی تک اتر جائے۔ فاطر السموت والارض۔۔۔۔۔۔ وھو السمیع البصیر (42 : 11) “ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کئے اور اس طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ، اور اس طریقے سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے ”۔ اللہ قرآن کو نازل کرنے والا ہے کہ اس کا حکم تمہارے اختلاف کے اندر فیصل ہو۔ وہی اللہ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کا مدبر ہے۔ زمین اور آسمان میں جو قانون قدرت چلتا ہے ، وہ زمین اور آسمان کے امور میں فیصلہ کن ہے۔ لوگوں کی زندگیوں کے معاملات بھی دراصل اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہیں ، لہٰذا لوگوں کی زندگیوں میں قانون خداوندی کا اجراء دراصل لوگوں کی زندگیوں کو اس پوری کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کر دے گا۔ اس طرح تمام انسان اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ اور ہم قدم ہو کر چلیں گے۔ جبکہ کائنات میں حکمرانی میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کی زندگی میں حکمرانی اس کی ہوگی۔ وہ اللہ جس کے حکم کی طرف لوگوں نے اپنے اختلافات میں رجوع کرنا ہے ، وہ اللہ وہی ذات ہے جو تمہارا خالق ہے۔ تمہارے نفوس کو اسی نے بنایا ہے اور یہ اپنی مخلوق کو اچھی طرح جانتا ہے۔ پھر۔ جعل لکم من انفسکم ازواجاً (42 : 11) پھر تمہاری جنس ہی سے تمہارے لیے جوڑے بنائے ”۔ اس طرح تمہاری زندگی کی بنیاد کی تشکیل ایک خاندان کی صورت میں ہوئی ، لہٰذا وہی جانتا ہے کہ کس طرح یہ زندگی درست ہو سکتی ہے ، اور انسان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے ، اللہ وہ ہے جس نے تمہاری تخلیق اس طرح کی جس طرح تمام دوسری زندہ مخلوق کو اس نے بنایا اور ان کے بھی جوڑے بنائے۔ ومن الانعام ازواجاً (42 : 11) “ اور اسی طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ”۔ تخلیق میں وحدت نظام اور تسلسل نوع ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ خالق ایک ہی ہے۔ تم اور مویشی اسی نظام کے مطابق تکاثر و تناسل کے عمل سے گزرتے ہو۔ جبکہ اللہ کی مثال اپنی مخلوقات میں سے نہیں ہے۔ لیس کمثلہ شیء (42 : 11) “ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ”۔ انسانی فطرت اس اصول کو تسلیم کرتی ہے کیونہ کوئی چیزیں اگر کسی نے بنائی ہیں تو خالق کسی طرح بھی ان کے ممثال نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپے اس بےمثال خالق کے احکام ہی کی طرف لوٹیں۔ خصوصاً اس دنیا میں اپنے اختلافات کے معاملے میں۔ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہ کریں۔ کیونکہ وہ بےمثال خالق و حاکم ہے۔ لہٰذا ایک مرجع کے سوا کوئی اور مرجع اور جائے فیصلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جیسا کوئی نہیں ہے۔ باوجود اس کے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے مشابہ کوئی شیء اس دنیا میں نہیں ہے لیکن اللہ اور اس کی مخلوقات کے درمیان رابطہ باقی اور قائم ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور پھر دیکھنے اور سننے والے کی طرح فیصلے کرتا ہے۔ اور اللہ جس اختلافی معاملے میں فیصلہ کرتا ہے وہ پھر آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ اس معنی میں کہ کنجیاں سب کائنات کی اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اس وقت سے ہیں جب سے اس نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور اس کے لئے ایک ناموس فطرت بنا کر اس میں اسے رائج کردیا ہے۔ لہ مقالید السموت والارض (42 : 21) “ آسمان اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں ”۔ لہٰذا انسانوں کے اختیارات بھی اسی کے ہیں کیونہ انسان بھی اس کائنات کا حصہ ہیں۔ لہٰذا انسانوں کی کنجیاں بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو انسانوں کے رزق کی کشادگی اور تنگی کے اختیارات رکھتا ہے ۔ اور یہ رزق ان کو زمین و آسمان کے خزانوں سے دیتا ہے۔ یسبط الرزق لمن یشاء ویقدر (42 : 21) “ جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، نپا تلا دیتا ہے ”۔ وہ ان کا رازق ہے ، وہ ان کا کفیل ہے ، وہ ان کو کھانا دینے والا ہے ، ان کو پلانے والا ہے لہٰذا وہ غیر اللہ کے متوجہ کیوں ہوتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان فیصلے کرے۔ حق تو یہ ہے کہ لوگ فیصلوں کے لئے رازق اور کفیل کی طرف رخ کریں جو رزق اور دوسرے معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ انہ بکل شیء علیم (42 : 21) “ اسے ہر چیز کا علم ہے ”۔ فیصلہ وہی ذات کرسکتی ہے جو علم رکھتی ہے اور اسی کا فیصلہ عادلانہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ یوں اس پوری تقریر کے معانی نہایت ہی دقیق و لطیف انداز میں باہم مربوط اور متناسب ہیں تا کہ وہ انسانی قلب و عقل پر اثر انداز ہوں اور عقل و خرد کی تاروں پر ایسی چوٹ لگائیں کہ ان سے نہایت ہی گہرا ، موزوں اور خوش آواز زمزمہ پیدا ہو اب پھر وحی الٰہی کی طرف :

الشورى 42:12

آیت نمبر 10 تا 12 ان حقائق کو اس ایک پیراگراف میں پیش کرنے کا طریقہ بڑا عجیب ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حقائق کے درمیان ایک باریک اور خفیہ ربط موجود ہے۔ یہ کہ لوگوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وما اختلفتم فیہ من شییء فحکمہ الی اللہ (42 : 10) “ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو ، اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے ”۔ اور اللہ نے اپنا فیصلہ اس قرآن میں نازل کردیا ہے اور اس قرآن نے دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں فیصلے کر دئیے ہیں اور لوگوں کی زندگی کے لئے انفرادی اور اجتماعی منہاج اس کے اندر ضبط کردیا ہے۔ ان کے نظام زندگی ، ان کے نظام معیشت ، ان کے نظام قانون ، ان کے نظام سیاست اور ان کے نظام اخلاق و سلوک کے تمام امور قرآن کریم نے طے دئیے ہیں اور ان موضوعات پر کافی و شافی بیان دے دیا ہے۔ اس قرآن کو انسانی زندگی کا دستور العمل بنا دیا ہے۔ یہ تمام دنیا کے دساتیر سے زیادہ جامع و مانع ہے۔ اگر ان کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو اس کا حکم اس قرآن میں تیار ہے اور حاضر ۔۔۔۔۔ حضرت محمد ﷺ پر اترا ہے۔ اور آپ نے اس قرآن کی اساس پر نظام زندگی قائم کر کے بتا دیا ہے۔ اس ہدایت کے بعد اب نبی ﷺ کی تقریر شروع ہوتی ہے کہ آپ نے اعلان کردیا کہ آپ اپنے امور تمام کے تمام اللہ کے حوالے کرتے ہیں اور اس طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ یہ ہے رب تعالیٰ جس نے مجھے یہ کلیہ دیا ہے۔ ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (42 : 10) “ یہی اللہ میرا رب ہے ، اس پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ” یہ انابت اور یہ توکل اور یہ اقرار نبی ﷺ کی زبان سے یہاں ریکارڈ کیا جاتا ہے تا کہ اس کا لوگوں پر ایک نفسیاتی اثر ہو کہ دیکھو یہ ہیں رسول اللہ ﷺ جو اللہ کے نبی ہیں ، وہ بھی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ ہی ان کا رب اور حاکم ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ لہٰذا دوسرے انسان اور مسلمان اپنے اختلافات میں کس طرح کسی اور کی طرف رجوع کرسکتے ہیں اور نبی جو ہدایت پر ہیں اپنے فیصلہ اللہ ہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ لہٰذا تمام لوگوں کو بطریق اولیٰ اپنے فیصلہ قرآن کی طرف لے جانے چاہئیں۔ اور اس سے کسی جگہ بھی ایک لمحے کے بھی ادھر ادھر نہیں ہونا چاہئے۔ اور کس طرح وہ اپنے امور میں کسی دوسری جانب جاسکتے ہیں جبکہ نبی ﷺ بذات خود بھی کسی دوسری طرف نہیں جاتے۔ اللہ ہی کی طرف رجوع فرماتے ہیں کیونکہ رب بھی اللہ ، والی بھی اللہ ، کفیل بھی اللہ اور یہ اللہ ہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کو جدھر موڑنا چاہتا ہے ، موڑتا ہے۔ جب کسی مومن کے دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو اس کا راستہ روشن ہوجاتا ہے ، اس کے سفر زندگی کے نشانات واضح ہوجاتے ہیں اس لیے وہ اپنے سفر میں ادھر ادھر دیکھتا ہی نہیں۔ طمانیت کا ایک لبریز پیمانہ اس کے دل پر انڈیل دیا جاتا ہے اور اس کے مقامات قدم پر اعتماد بچھا دیا جاتا ہے۔ اس لیے وہ نہ شک کرتا ہے ، نہ تردد کرتا ہے ، اور نہ حیرت زدہ ہوتا ہے۔ اس کو یہ شعور مل جاتا ہے کہ اللہ اس کا حامی ، نگہبان ، محافظ اور اس کے قدموں کو درست رکھنے والا ہے اور نبی اکرم ﷺ بھی اس راستے کے راہی رہے ہیں۔ جب مومن کے ضمیر میں اور شعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کے نظام زندگی اور طرز زندگی کے بارے میں اس کا شعور اور اس کی سوچ بلند ہوجاتی ہے ، اس لیے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اسلامی نظام زندگی کے سوا اور بھی کوئی قابل التفات منہاج ہو سکتا ہے۔ نہ وہ یہ تصور کرسکتا ہے کہ اللہ کے حکم اور فیصلے کے سوا اور بھی کوئی حکم اور فیصلہ ہو سکتا ہے ، جس کی طرف اختلاف کی صورت میں کوئی نگاہ بلند کرسکے۔ جبکہ ہادی اور نبی بھی اپنے فیصلوں میں اللہ کی شریعت اور حکم کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ اب ایک بار پھر اس حقیقت کو ذہن نشین کیا جاتا ہے تا کہ وہ اچھی طرح مومن کے شعور کی گہرائی تک اتر جائے۔ فاطر السموت والارض۔۔۔۔۔۔ وھو السمیع البصیر (42 : 11) “ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کئے اور اس طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ، اور اس طریقے سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے ”۔ اللہ قرآن کو نازل کرنے والا ہے کہ اس کا حکم تمہارے اختلاف کے اندر فیصل ہو۔ وہی اللہ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کا مدبر ہے۔ زمین اور آسمان میں جو قانون قدرت چلتا ہے ، وہ زمین اور آسمان کے امور میں فیصلہ کن ہے۔ لوگوں کی زندگیوں کے معاملات بھی دراصل اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہیں ، لہٰذا لوگوں کی زندگیوں میں قانون خداوندی کا اجراء دراصل لوگوں کی زندگیوں کو اس پوری کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کر دے گا۔ اس طرح تمام انسان اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ اور ہم قدم ہو کر چلیں گے۔ جبکہ کائنات میں حکمرانی میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کی زندگی میں حکمرانی اس کی ہوگی۔ وہ اللہ جس کے حکم کی طرف لوگوں نے اپنے اختلافات میں رجوع کرنا ہے ، وہ اللہ وہی ذات ہے جو تمہارا خالق ہے۔ تمہارے نفوس کو اسی نے بنایا ہے اور یہ اپنی مخلوق کو اچھی طرح جانتا ہے۔ پھر۔ جعل لکم من انفسکم ازواجاً (42 : 11) پھر تمہاری جنس ہی سے تمہارے لیے جوڑے بنائے ”۔ اس طرح تمہاری زندگی کی بنیاد کی تشکیل ایک خاندان کی صورت میں ہوئی ، لہٰذا وہی جانتا ہے کہ کس طرح یہ زندگی درست ہو سکتی ہے ، اور انسان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے ، اللہ وہ ہے جس نے تمہاری تخلیق اس طرح کی جس طرح تمام دوسری زندہ مخلوق کو اس نے بنایا اور ان کے بھی جوڑے بنائے۔ ومن الانعام ازواجاً (42 : 11) “ اور اسی طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ”۔ تخلیق میں وحدت نظام اور تسلسل نوع ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ خالق ایک ہی ہے۔ تم اور مویشی اسی نظام کے مطابق تکاثر و تناسل کے عمل سے گزرتے ہو۔ جبکہ اللہ کی مثال اپنی مخلوقات میں سے نہیں ہے۔ لیس کمثلہ شیء (42 : 11) “ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ”۔ انسانی فطرت اس اصول کو تسلیم کرتی ہے کیونہ کوئی چیزیں اگر کسی نے بنائی ہیں تو خالق کسی طرح بھی ان کے ممثال نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپے اس بےمثال خالق کے احکام ہی کی طرف لوٹیں۔ خصوصاً اس دنیا میں اپنے اختلافات کے معاملے میں۔ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہ کریں۔ کیونکہ وہ بےمثال خالق و حاکم ہے۔ لہٰذا ایک مرجع کے سوا کوئی اور مرجع اور جائے فیصلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جیسا کوئی نہیں ہے۔ باوجود اس کے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے مشابہ کوئی شیء اس دنیا میں نہیں ہے لیکن اللہ اور اس کی مخلوقات کے درمیان رابطہ باقی اور قائم ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور پھر دیکھنے اور سننے والے کی طرح فیصلے کرتا ہے۔ اور اللہ جس اختلافی معاملے میں فیصلہ کرتا ہے وہ پھر آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ اس معنی میں کہ کنجیاں سب کائنات کی اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اس وقت سے ہیں جب سے اس نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور اس کے لئے ایک ناموس فطرت بنا کر اس میں اسے رائج کردیا ہے۔ لہ مقالید السموت والارض (42 : 21) “ آسمان اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں ”۔ لہٰذا انسانوں کے اختیارات بھی اسی کے ہیں کیونہ انسان بھی اس کائنات کا حصہ ہیں۔ لہٰذا انسانوں کی کنجیاں بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو انسانوں کے رزق کی کشادگی اور تنگی کے اختیارات رکھتا ہے ۔ اور یہ رزق ان کو زمین و آسمان کے خزانوں سے دیتا ہے۔ یسبط الرزق لمن یشاء ویقدر (42 : 21) “ جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، نپا تلا دیتا ہے ”۔ وہ ان کا رازق ہے ، وہ ان کا کفیل ہے ، وہ ان کو کھانا دینے والا ہے ، ان کو پلانے والا ہے لہٰذا وہ غیر اللہ کے متوجہ کیوں ہوتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان فیصلے کرے۔ حق تو یہ ہے کہ لوگ فیصلوں کے لئے رازق اور کفیل کی طرف رخ کریں جو رزق اور دوسرے معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ انہ بکل شیء علیم (42 : 21) “ اسے ہر چیز کا علم ہے ”۔ فیصلہ وہی ذات کرسکتی ہے جو علم رکھتی ہے اور اسی کا فیصلہ عادلانہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ یوں اس پوری تقریر کے معانی نہایت ہی دقیق و لطیف انداز میں باہم مربوط اور متناسب ہیں تا کہ وہ انسانی قلب و عقل پر اثر انداز ہوں اور عقل و خرد کی تاروں پر ایسی چوٹ لگائیں کہ ان سے نہایت ہی گہرا ، موزوں اور خوش آواز زمزمہ پیدا ہو اب پھر وحی الٰہی کی طرف :

الشورى 42:13

آیت نمبر 13 تا 16 کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (42 : 3) “ اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے ”۔ یہ ایک اجمالی اشارہ تھا کہ وحی الٰہی کا سرچشمہ ایک ہے ۔ اور اس وحی نے جو نظام پیش کیا ہے ، یہ وہی ہے جو سابقہ رسولوں نے پیش کیا تھا ، اور اس وحی کا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف سابقہ انبیاء کا تھا۔ اب اس اشارے کی تفصیلات دی جارہی ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے جو نظام زندگی اور جو شریعت وضع کی ہے ، وہ عمومی اصولوں میں وہی ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔ سب کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے واحد دین کو قائم کرو ، اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو ، اور تمہارا فرض ہے کہ اللہ کے اس قدیم نظام زندگی پر جم جاؤ اور جو لوگ اس سے ادھر ادھر دیکھتے ہیں ، محض خواہشات نفسانیہ پوری کرنے کے لئے تو ان کی طرف کوئی توجہ نہ کرو ، اس دین کو غالب کرو ، اور جو لوگ اس دین کے خلاف حجت بازیاں کرتے ہیں ، ان کی حجت کو رد کر کے باطل کردو ، اور ان کو اللہ کے غضب اور شدید عذاب سے ڈراؤ۔ اس پیراگراف کے فقروں کے اندر بھی نہایت ہی لطیف ربط ہے جس طرح سابقہ پیراگراف کے فقروں میں ہم نے بیان کیا۔ شرع لکم من الدین۔۔۔۔۔۔ ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد ﷺ اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ ”۔ اس کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کردیا جاتا ہے جس کی تفصیلات ہم نے سورت کے آغاز میں دیں کہ ادیان کی جڑ ایک ہے۔ زمان و مکان کے لحاظ سے مختلف زمانوں میں اس کی نشوونما ہوئی ۔ اس سے جس مومن میں ایسے تصورات و لمحات آتے ہیں کہ وہ سوچتا ہے کہ اس کا ماضی بہت طویل ہے اور اس کے سلف بہت ہی عظیم لوگ ہیں اور وہ ایسے عظیم لوگوں کا تابع اور پیروکار ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت محمد ﷺ اجعین۔ یہ شعور پختہ ہوتا ہے کہ یہ دین ادیان سابقہ ہی کا تسلسل ہے اور یہ کہ وہ انبیاء و رسل کے راستے ہی پر رواں دواں ہے۔ اور اس راستے پر وہ نہایت خوشی سے چل رہا ہے۔ اگرچہ اس میں تھکاوٹ ہو ، مشکلات ہوں اور اسے اپنے بیشمار مفادات قربان کرنے پڑیں۔ مومن کو یہ پختہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ وہ عظیم لوگوں کے قافلے کافرد ہے اور یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں عظیم لوگوں کا قافلہ ہے۔ یہ کہ جو لوگ اللہ کے اس دین پر چلنے والے ہیں ، ان کے درمیان دائمی امن و آشتی ہے ۔ یہ ایک مستقل شریعت اور شاہراہ پر قائم ہیں۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف اور دشمنی نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان تو گہرے تعلقات و روابط ہیں۔ یہ تعلقات و روابط باہمی مزید تعلق اور مفاہت کا تقاضا کرتے ہیں۔ یوں مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین اور مسلمین کے لئے مقرر کی ہے ، وہی ہے جس کی وصیت اور تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو بھی اس سے قبل کی گئی تھی تو پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین باہم کیوں لڑتے جھگڑتے ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے مختلف فرقے کیوں باہم دست و گریباں ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین حضرت محمد ﷺ کے پیروکاروں کے ساتھ کیوں عناد رکھتے ہیں۔ پھر وہ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں یعنی مشرکین عرب تو ان کے لئے کیا جواب ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور وہ کیوں نبی آخر الزمان کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہوتے جن کی دعوت یہ ہے کہ تمام پیروکار ان دین کو یہ وصیت کی گئی تھی کہ۔ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ دین کو قائم کرو اور اس میں فرقے نہ بنو ”۔ اور کیوں اپنے فرائض ادا نہیں کرتے ، کیوں ایسا نہیں کرتے کہ وہ انحراف کو چھوڑ دیں۔ کج روی سے توبہ کریں اور کیوں پھر یہ لوگ آخری نبی کے جھنڈے تلے صف واحد کی صورت میں کھڑے نہیں ہوتے۔ کیونکہ حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے بعد اب حضرت محمد ﷺ کی باری ہے اور یہ امانت اب ان تک پہنچی ہے۔ مشرکین جو ام القریٰ میں بستے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں وہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں ایک معاند اور مخالف کے طور کھڑے ہیں۔ یہ کیوں ؟ کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ (42 : 13) “ یہ بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو ” ۔ ان کو یہ بات ناگوار ہے کہ ان میں سے محمد ابن عبد اللہ پر وحی کیوں آئی۔ حالانکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ وحی دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر نازل ہوگی۔ علی رجل من القریتین عظیم یعنی ان دو گاؤں کے کبراء اور اہل اقتدار میں سے کسی پر نازل ہوتی۔ لیکن خود ان کی یہ بات بھی حقیقت واقعہ کے طور پر درست نہ تھی ، حضرت محمد ﷺ خود ان کے قول کے مطابق صادق وامین تھے۔ اور آپ قریش کے ایک ممتاز قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ تو بیشک عظیم آدمی تھے۔ ان پر یہ نئی دعوت شاق گزرتی تھی کیونکہ اگر یہ کامیاب ہوتی ہے تو بت پرستی کا دور ختم ہوجاتا ہے ۔ بت اور بتوں کے افسانے ختم ہوجاتے ہیں اور اسی پر تو ان کی سیادت و قیادت قائم تھی۔ ان کے ذاتی اور اقتصادی مفادات انہیں تصورات سے وابستہ تھے ، لہٰذا انہوں نے شرک کو سینے سے لگالیا اور خالص تو حید پر مبنی ان پر بھاری تھی ، جس کی طرف رسول بلاتے تھے۔ پھر ان پر یہ بات بھی گراں گزر رہی تھی کہ ان کے جو آباء و اجداد جاہلیت پر مرگئے ہیں وہ گمراہی پر گئے اور وہ کافر اور جہنمی تھے۔ لہٰذا انہوں نے کہا اگر آباء جہنمی ہیں تو ہم بھی ہیں۔ یوں وہ ضد میں آگئے اور غلط راہ عناد کی وجہ سے پکڑ لی۔ اور عمداً اپنے آپ کو جہنم میں گرانے کے لئے تیار ہوگئے۔ محض اس لیے کہ وہ اپنے آباء کو گمراہ قرار دینے کے لئے تیار نہ تھے۔ قرآن کریم ان کے اس موقف کی تردیدیوں کرتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے ، چن لے۔ اس طرح اللہ اپنی جانب سے صرف اسی کو متوجہ کرتا ہے جو اللہ کی پناہ میں آنا چاہے اور دھتکارے ہوئے لوگوں کو بذریعہ توبہ واپس کرتا ہے : اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینیب (42 : 13) ” اللہ جسے چاہتا ہے ، اپنا لیتا ہے اور جو اپنی طرف اسی کو راستہ دکھاتا ہے جو اس کی رجوع کرے “۔ تو اللہ نے محمد ﷺ کو چن لیا۔ اور جو بھی اب اللہ کے بتائے ہوئے راستے کی طرف متوجہ ہوگا اللہ اسے ہدایت دے دے گا۔ اب روئے سخن مذکور بالا بڑے انبیاء کے متبعین کے موقف کی طرف پھرتا ہے ، جن کو اللہ نے ایک ہی دین دے کر بھیجا تھا اور انہوں نے قوم کے سامنے ایک ہی دین پیش کیا تھا مگر متبعین نے اس میں تفرقہ اختیار کرلیا : وما تفرقوا الا من بعد ۔۔۔۔۔۔ شک منہ مریب (42 : 14) ” لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا ، وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اگر تیرا رب پہلے ہی نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقررہ تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ، وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “ ۔ ایک تو یہ کہ یہ اختلافات جہالت کی وجہ سے نہ تھے۔ یہ وجہ نہ تھی کہ ان کو اس اصل حقیقت کا پتہ نہ تھا اور یہ پتہ نہ تھا کہ رسولوں کی تعلیم کا ماخذ کیا ہے بلکہ انہوں نے اچھی طرح جانتے بوجھتے شک کیا۔ آپس کی دشمنی کی وجہ سے تفرقہ کیا۔ بغض اور حسد کی وجہ سے یہ اختلافات ہوئے۔ ظالمانہ خواہشات نے مجبور کیا کہ وہ تفرقہ کریں۔ اور ناقاب کنٹرول خواہشات نفس نے ان کو مجبور کیا۔ یہ تفرقہ اس لیے نہیں ہوا کہ ان کے پاس درست عقائد کے لئے کوئی دلیل نہ تھی یا جو نظام زندگی انہیں دیا گیا تھا ، اس میں سے ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا ۔ اگر وہ اپنے حقیقی عقیدے اور شریعت پر مخلصانہ طور پر قائم رہتے تو تفرقہ نہ کرتے۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق تھے کہ اللہ ان کو پکڑ لیتا اور ان پر جلدی اللہ کا عذاب آجاتا ، ان کی سرکشی اور ان کے ظلم کی وجہ سے جو انہوں نے یہ تفریق کر کے دین حق کے ساتھ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے تدبیر کائنات کے سلسلے میں پہلے سے ایک فیصلہ کردیا تھا اور ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دے دی گئی تھی۔ ولو لا کلمۃ سبقت ۔۔۔۔۔ لقضی بینھم (42 : 14) ” اگر تیرا رب پہلے یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “۔ اور اس طرح ان اختلافات میں حق ، حق ہوچکا ہوتا اور باطل باطل ہوچکا ہوتا اور معاملہ اس دنیا ہی کی زندگی میں ہی ختم ہوچکا ہوتا لیکن ان کو وقت معلوم تک مہلت دے دی گئی ہے۔ وہ نسلیں جو ان ابنائے سابقین کے پہلے متبعین کی وارث بنیں جنہوں نے تفرقہ کیا تھا۔ اور یہ کتاب ان کو ملی تو ان کو یہ کتاب اور یہ نظریہ یقینی انداز میں نہ ملا۔ کیونکہ اختلافات کا ریکارڈ ان کے سامنے تھا اور اس سے کوئی جزی اور قطعی بات سامنے نہ آتی تھی۔ تمام فرقہ وارانہ اختلافات عمل ، غیر واضح اور پریشان کن تھے۔ وان الذین اور ثوا ۔۔۔۔۔ منہ مریب (42 : 14) ” اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے تھے “۔ یوں ہوتا ہے عقیدہ تو اس مضبوط چٹان کی طرح ہوتا ہے جس کے اردگرد سے زمین حرکت میں ہوتی ہے لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے۔ اور ایک مومن اس راسخ چٹان پر مضبوطی سے جم جاتا ہے اور اسے کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا اور عقیدہ وہ ستارہ ہوتا ہے جو اپنی جگہ جما ہوا ہوتا ہے اور لہروں اور طوفانوں کے باوجود مومن کی نظر بلند افق پر اپنے ستارے پر ہوتی ہے جو سمت کا تعین کرتا ہے۔ اس طرح ایک مومن راستہ نہیں بھولتا اگرچہ تاریک سمندروں میں ہو۔ لیکن جب عقیدہ اور نظریہ ہی مشکوک ہوجائے تو پھر کسی کی کوئی بات مستقل نہیں ہو سکتی۔ نہ کسی بےعقیدہ شخص کی کوئی بات مستقل ہو سکتی ہے۔ نہ ایسا شخص کسی بھی سمت پر مستقل رہ سکتا ہے۔ نہ کسی راستے پر مطمئن ہو سکتا ہے۔ عقیدہ اور نظریہ ہوتا ہی اس لیے ہے کہ لوگوں کا نصب العین اور ان کی سمت متعین کرے اور پھر وہ دوسرے لوگوں کی اس راہ پر چلتے ہوئے قیادت کریں۔ اگر وہ خود اضطراب اور شک میں پڑے ہوں تو وہ کسی کی قیادت نہیں کرسکتے۔ خفتہ را خفتہ کے کند بیدار۔۔۔۔ جب اس دنیا میں دین اسلام آیا تو امم سابقہ کے متبعین کی یہی حالت تھی۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی اپنی ” کتاب عالم اسلام میں مشرقیت و مغربیت کی کشمکش “ میں لکھتے ہیں : ” حقیقت یہ ہے کہ دوسرے بڑے ادیان کے لیڈر کھیلنے والوں اور کھلاڑیوں کے ہاتھ میں شکار ہیں اور ان پر تحریف کرنے والوں اور منافقوں کا اثر ہے۔ یہ ادیان اپنی روح اور شکل گنوا بیٹھے ہیں۔ اگر ان ادیان کے پہلے ماننے والوں کو اللہ اب زندہ کر دے تو وہ خود اپنے نام سے منسوب ان ادیان کو نہ پہچان سکیں۔ چناچہ کبھی تو ادیان تہذیب و تمدن اور حکومت و سیاست عطا کرنے والے تھے۔ اب وہاں سے بدنظمی ، خلل اور اختلافات اور طوائف الملوکی ہوتی ہے ، حکام بد عمل ہیں ، اپنی ذات میں گم ہیں۔ ان کے پاس اقوام اور دنیا کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے۔ مقاصد عالیہ کے اعتبار سے وہ مفلس ہیں۔ ان کی زندگی کے سوتے خشک ہوچکے ہیں ، ہدایات سماوی کی روشنی میں ان کے پاس کوئی راہ نہیں ہے ، نہ کوئی مستقل اور محکم نظام زندگی ہے۔ مشہور امریکی مصنف جارج ایچ۔ ڈینسن اپنی کتاب جذبات بحیثیت اساس تمدن (Emotion as the basis of civilization ) میں لکھتے ہیں : ” پانچویں صدی اور چھٹی صدی عیسوی میں اہل دین کی دنیا تباہی کے ایک گہرے گڑھے کے دہانے پر تھی۔ کیونکہ جو نظریات تمدن کو جنم دینے میں ممدو معاون تھے ، وہ ختم ہوچکے تھے اور اس وقت کے موجودہ ادیان کی جگہ لینے کے لئے کوئی نظریہ موجود نہ تھا۔ اور یہ واضح طور پر نظر آنے لگا تھا کہ جس انسانی تہذیب کی تعمیر و ترقی پر چار ہزار سال گزرے تھے وہ ختم اور برباد ہونے والی ہے اور انسانیت دوبارہ جہالت ، قبائلی نظام کے چنگل میں پھنسنے والی ہے ، جس میں کوئی قانون و نظام نہیں ہوتا کیونکہ مسیحیت نے جو اجتماعی نظم و نسق قائم کیا تھا ، اس کی عمارت گرنے ہی والی تھی۔ اس لیے کہ عیسائیت فرقے فرقے ہوگئی تھی۔ اس کے اندر کوئی اتحاد اور نظم نہ تھا۔ اس دور میں تمدن کی مثال اس طرح تھی کہ وہ ایک عظیم درخت کی طرح تھی جس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں اور اس کا سایہ تمام دنیا پر چھا یا ہوا تھا ، یہ درخت سخت طوفانوں کی رد میں نہایت کمزوری کی حالت میں کھڑا تھا اور ہلاکت اس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی ، کہ اس اثناء میں ایک شخص (حضرت محمد ﷺ پیدا ہوگیا “۔ یہ صورت حال اس لیے تھی کہ ادیان سماوی کے حاملین نے باہم سخت اختلافات شروع کر دئیے تھے ، بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ اور ادیان کے اصحاب اولین کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنے تھے ان کو ان کتابوں کی صداقت کے بارے ہی میں شک تھا۔ ان وجوہات سے اور پوری دنیا میں انسانیت کی قیادت کے لئے کسی مرکز کے ناپید ہوجانے کی وجہ سے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ سیدھے راستے پر چل پڑیں لوگوں کو دعوت دیں اور آپ کی واضح اور بین نظریات اور آپ کی مستحکم دعوت کے بارے میں لوگ جو چاہیں ، کہیں۔ آپ کسی کی طرف متوجہ نہ ہوں اور یہ اعلان کردیں کہ یہ دعوت اور یہ نظام وہی ہے جسے اللہ نے تمام انبیاء کو دیا تھا اور اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ فلذلک فادع واستقم کما امرت ۔۔۔۔۔۔۔۔ والیہ المصیر (42 : 15) ” (چونکہ یہ حالت پیدا ہوچکی ہے) اس لیے اے محمد ﷺ اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو ، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجاؤ، اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، اور ان سے کہہ دو کہ :” اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ایک روز سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے “۔ اب دعوت اسلامی گویا پوری انسانیت کے لئے نئی قیادت تھی۔ یہ ایک دانشمند ، صحیح الفکر قیادت تھی جس کا نظام زندگی واضح تھا ، جس کو یقین محکم حاصل تھا۔ یہ اللہ کی طرف بلاتی تھی اور اپنے مقصد کے لئے علی وجہ البصیرت کام کر رہی تھی اور بغیر کسی کج روی کے امر الٰہی پر گامزن تھی۔ اور وہ اپنے فیصلوں میں بدلتے ہوئے مقاصد اور بدلتی ہوئی خواہشات کے پیچھے نہ جاتی تھی۔ ایسی قیادت جس کا پیغام ایک تھا ، جس کی کتاب ایک تھی ، نظام شریع ایک تھا ، جس کا ایمان ماخذ ایمان کی طرف راجع تھا۔ اور جس نے تمام انسانیت کو ایک اہم اصول کی طرف لوٹا دیا تھا۔ وقل امنت بما انزل اللہ من کتب (52 : 15) ” اور ان سے کہہ دو کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں “۔ اس کے بعد یہ دعوت یہ تحریک دعوت حق کو لے کر دنیا میں سربلند ہوتی ہے اور اقتدار اعلیٰ حاصل کرتا ہے تا کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل کرے۔ وامرت لاعدل بینکم (42 : 15) ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں “ ۔ یہ ایسی قیادت ہے جس کے پاس اقتدار بھی ہے اور یہ زمین میں عدل گستری کا اعلان کرتی ہے۔ (یہ بات حضور ﷺ اس وقت کر رہے ہیں جب دعوت اسلامی مکہ میں ہے اور داعی اور تحریک شعب ابی طالب میں محصور ہیں ، ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن وہاں بھی دعوت اسلامی کا مزاج ، چھا جانے والا مزاج بالکل واضح ہے ) (مترجم) ۔ یہ دعوت اعلان کرتی ہے کہ رب واحد ہے۔ اللہ ربنا وربکم (52 : 15) ” اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی “۔ اور یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور جواب وہی انفرادی ہے۔ لنا اعمالنا ولکم اعمالکم (52 : 15) ” ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے ، تمہارے لیے ہیں “ ۔ اس لیے اب فضول بحث و مباحثہ ختم ہونا چاہئے۔ لا حجۃ بیننا وبینکم (52 : 15) ” ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں “۔ اللہ یجمع بینناوالیہ المصیر (42 : 15) ” اللہ ہم سب کو ایک روز جمع کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹنا ہے “۔ یہ ایک آیت ہے لیکن یہ دعوت اسلامی کے مزاج کی وضاحت پوری طرح کردیتی ہے۔ اس آیت کے فقرے بھی چھوٹے چھوٹے ، لیکن وہ نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن بات کرتے ہیں۔ یہ ایک دعوت ہے جس نے اپنی راہ پر گامزن رہنا ہے اور انسانوں کی خواہشات کا کوئی لحاظ نہیں رکھنا۔ اس نے اس کرۂ ارض پر اقتدار اعلیٰ پر خالص ہونا ہے تا کہ وہ عدل کرسکے۔ اس نے تمام انسانوں کو ایک سیدھی راہ دکھانی ہے جو صراط مستقیم ہے اور یہی راہ تمام رسولوں کی راہ رہی ہے۔ چناچہ دعوت اسلامی کی اس رنگ میں وضاحت کرنے کے بعد اور اہل ایمان کے ایک گروہ کی جانب سے اس دعوت پر لبیک کہنے کے بعد ، الجھنے والوں اور بےفائدہ مباحثے کرنے والوں کی باتوں کی طرف التفات کرنے کا کوئی موقعہ نہیں رہا ہے۔ ان کی تمام دلیلیں باطل ہوچکی ہیں ، ان کا کوئی وزن نہیں ہے ، نہ اہمیت ہے۔ لہٰذا ان کے بارے میں اب فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور ان کو اللہ کی شدید دھمکی کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ والذین یحاجون فی اللہ ۔۔۔۔۔ عذاب شدید (42 : 16) ” اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ اللہ کے معاملے میں جھگڑتے ہیں ، ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر اس کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے “۔ جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ان کی حجت اللہ کے نزدیک ہی باطل ہے تو پھر ان کا جھگڑا باطل ہے اور ان کی دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔ زمین پر بھی ان کی دلیل مسترد ہے اور آخرت میں ان کو اللہ کے شدید غضب اور عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور یہ فضول جھگڑے اور حجت بازی ان کے لئے موزوں سزا ہے جبکہ وہ دیکھتے بھی ہیں کہ نہایت ہی مخلص اور دانشمند لوگوں نے اس دعوت کو قبول کرلیا ہے۔ لہٰذا ان کی یہ بحث اور منا ظرہ حق کی وضاحت کے بعد ہے اور کچھ دوسرے مقاصد کے لئے ہیں۔ اب سیاق کلام کا رخ پھر پہلے موضوع کی طرف

الشورى 42:14

آیت نمبر 13 تا 16 کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (42 : 3) “ اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے ”۔ یہ ایک اجمالی اشارہ تھا کہ وحی الٰہی کا سرچشمہ ایک ہے ۔ اور اس وحی نے جو نظام پیش کیا ہے ، یہ وہی ہے جو سابقہ رسولوں نے پیش کیا تھا ، اور اس وحی کا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف سابقہ انبیاء کا تھا۔ اب اس اشارے کی تفصیلات دی جارہی ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے جو نظام زندگی اور جو شریعت وضع کی ہے ، وہ عمومی اصولوں میں وہی ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔ سب کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے واحد دین کو قائم کرو ، اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو ، اور تمہارا فرض ہے کہ اللہ کے اس قدیم نظام زندگی پر جم جاؤ اور جو لوگ اس سے ادھر ادھر دیکھتے ہیں ، محض خواہشات نفسانیہ پوری کرنے کے لئے تو ان کی طرف کوئی توجہ نہ کرو ، اس دین کو غالب کرو ، اور جو لوگ اس دین کے خلاف حجت بازیاں کرتے ہیں ، ان کی حجت کو رد کر کے باطل کردو ، اور ان کو اللہ کے غضب اور شدید عذاب سے ڈراؤ۔ اس پیراگراف کے فقروں کے اندر بھی نہایت ہی لطیف ربط ہے جس طرح سابقہ پیراگراف کے فقروں میں ہم نے بیان کیا۔ شرع لکم من الدین۔۔۔۔۔۔ ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد ﷺ اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ ”۔ اس کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کردیا جاتا ہے جس کی تفصیلات ہم نے سورت کے آغاز میں دیں کہ ادیان کی جڑ ایک ہے۔ زمان و مکان کے لحاظ سے مختلف زمانوں میں اس کی نشوونما ہوئی ۔ اس سے جس مومن میں ایسے تصورات و لمحات آتے ہیں کہ وہ سوچتا ہے کہ اس کا ماضی بہت طویل ہے اور اس کے سلف بہت ہی عظیم لوگ ہیں اور وہ ایسے عظیم لوگوں کا تابع اور پیروکار ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت محمد ﷺ اجعین۔ یہ شعور پختہ ہوتا ہے کہ یہ دین ادیان سابقہ ہی کا تسلسل ہے اور یہ کہ وہ انبیاء و رسل کے راستے ہی پر رواں دواں ہے۔ اور اس راستے پر وہ نہایت خوشی سے چل رہا ہے۔ اگرچہ اس میں تھکاوٹ ہو ، مشکلات ہوں اور اسے اپنے بیشمار مفادات قربان کرنے پڑیں۔ مومن کو یہ پختہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ وہ عظیم لوگوں کے قافلے کافرد ہے اور یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں عظیم لوگوں کا قافلہ ہے۔ یہ کہ جو لوگ اللہ کے اس دین پر چلنے والے ہیں ، ان کے درمیان دائمی امن و آشتی ہے ۔ یہ ایک مستقل شریعت اور شاہراہ پر قائم ہیں۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف اور دشمنی نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان تو گہرے تعلقات و روابط ہیں۔ یہ تعلقات و روابط باہمی مزید تعلق اور مفاہت کا تقاضا کرتے ہیں۔ یوں مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین اور مسلمین کے لئے مقرر کی ہے ، وہی ہے جس کی وصیت اور تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو بھی اس سے قبل کی گئی تھی تو پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین باہم کیوں لڑتے جھگڑتے ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے مختلف فرقے کیوں باہم دست و گریباں ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین حضرت محمد ﷺ کے پیروکاروں کے ساتھ کیوں عناد رکھتے ہیں۔ پھر وہ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں یعنی مشرکین عرب تو ان کے لئے کیا جواب ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور وہ کیوں نبی آخر الزمان کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہوتے جن کی دعوت یہ ہے کہ تمام پیروکار ان دین کو یہ وصیت کی گئی تھی کہ۔ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ دین کو قائم کرو اور اس میں فرقے نہ بنو ”۔ اور کیوں اپنے فرائض ادا نہیں کرتے ، کیوں ایسا نہیں کرتے کہ وہ انحراف کو چھوڑ دیں۔ کج روی سے توبہ کریں اور کیوں پھر یہ لوگ آخری نبی کے جھنڈے تلے صف واحد کی صورت میں کھڑے نہیں ہوتے۔ کیونکہ حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے بعد اب حضرت محمد ﷺ کی باری ہے اور یہ امانت اب ان تک پہنچی ہے۔ مشرکین جو ام القریٰ میں بستے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں وہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں ایک معاند اور مخالف کے طور کھڑے ہیں۔ یہ کیوں ؟ کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ (42 : 13) “ یہ بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو ” ۔ ان کو یہ بات ناگوار ہے کہ ان میں سے محمد ابن عبد اللہ پر وحی کیوں آئی۔ حالانکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ وحی دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر نازل ہوگی۔ علی رجل من القریتین عظیم یعنی ان دو گاؤں کے کبراء اور اہل اقتدار میں سے کسی پر نازل ہوتی۔ لیکن خود ان کی یہ بات بھی حقیقت واقعہ کے طور پر درست نہ تھی ، حضرت محمد ﷺ خود ان کے قول کے مطابق صادق وامین تھے۔ اور آپ قریش کے ایک ممتاز قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ تو بیشک عظیم آدمی تھے۔ ان پر یہ نئی دعوت شاق گزرتی تھی کیونکہ اگر یہ کامیاب ہوتی ہے تو بت پرستی کا دور ختم ہوجاتا ہے ۔ بت اور بتوں کے افسانے ختم ہوجاتے ہیں اور اسی پر تو ان کی سیادت و قیادت قائم تھی۔ ان کے ذاتی اور اقتصادی مفادات انہیں تصورات سے وابستہ تھے ، لہٰذا انہوں نے شرک کو سینے سے لگالیا اور خالص تو حید پر مبنی ان پر بھاری تھی ، جس کی طرف رسول بلاتے تھے۔ پھر ان پر یہ بات بھی گراں گزر رہی تھی کہ ان کے جو آباء و اجداد جاہلیت پر مرگئے ہیں وہ گمراہی پر گئے اور وہ کافر اور جہنمی تھے۔ لہٰذا انہوں نے کہا اگر آباء جہنمی ہیں تو ہم بھی ہیں۔ یوں وہ ضد میں آگئے اور غلط راہ عناد کی وجہ سے پکڑ لی۔ اور عمداً اپنے آپ کو جہنم میں گرانے کے لئے تیار ہوگئے۔ محض اس لیے کہ وہ اپنے آباء کو گمراہ قرار دینے کے لئے تیار نہ تھے۔ قرآن کریم ان کے اس موقف کی تردیدیوں کرتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے ، چن لے۔ اس طرح اللہ اپنی جانب سے صرف اسی کو متوجہ کرتا ہے جو اللہ کی پناہ میں آنا چاہے اور دھتکارے ہوئے لوگوں کو بذریعہ توبہ واپس کرتا ہے : اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینیب (42 : 13) ” اللہ جسے چاہتا ہے ، اپنا لیتا ہے اور جو اپنی طرف اسی کو راستہ دکھاتا ہے جو اس کی رجوع کرے “۔ تو اللہ نے محمد ﷺ کو چن لیا۔ اور جو بھی اب اللہ کے بتائے ہوئے راستے کی طرف متوجہ ہوگا اللہ اسے ہدایت دے دے گا۔ اب روئے سخن مذکور بالا بڑے انبیاء کے متبعین کے موقف کی طرف پھرتا ہے ، جن کو اللہ نے ایک ہی دین دے کر بھیجا تھا اور انہوں نے قوم کے سامنے ایک ہی دین پیش کیا تھا مگر متبعین نے اس میں تفرقہ اختیار کرلیا : وما تفرقوا الا من بعد ۔۔۔۔۔۔ شک منہ مریب (42 : 14) ” لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا ، وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اگر تیرا رب پہلے ہی نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقررہ تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ، وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “ ۔ ایک تو یہ کہ یہ اختلافات جہالت کی وجہ سے نہ تھے۔ یہ وجہ نہ تھی کہ ان کو اس اصل حقیقت کا پتہ نہ تھا اور یہ پتہ نہ تھا کہ رسولوں کی تعلیم کا ماخذ کیا ہے بلکہ انہوں نے اچھی طرح جانتے بوجھتے شک کیا۔ آپس کی دشمنی کی وجہ سے تفرقہ کیا۔ بغض اور حسد کی وجہ سے یہ اختلافات ہوئے۔ ظالمانہ خواہشات نے مجبور کیا کہ وہ تفرقہ کریں۔ اور ناقاب کنٹرول خواہشات نفس نے ان کو مجبور کیا۔ یہ تفرقہ اس لیے نہیں ہوا کہ ان کے پاس درست عقائد کے لئے کوئی دلیل نہ تھی یا جو نظام زندگی انہیں دیا گیا تھا ، اس میں سے ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا ۔ اگر وہ اپنے حقیقی عقیدے اور شریعت پر مخلصانہ طور پر قائم رہتے تو تفرقہ نہ کرتے۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق تھے کہ اللہ ان کو پکڑ لیتا اور ان پر جلدی اللہ کا عذاب آجاتا ، ان کی سرکشی اور ان کے ظلم کی وجہ سے جو انہوں نے یہ تفریق کر کے دین حق کے ساتھ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے تدبیر کائنات کے سلسلے میں پہلے سے ایک فیصلہ کردیا تھا اور ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دے دی گئی تھی۔ ولو لا کلمۃ سبقت ۔۔۔۔۔ لقضی بینھم (42 : 14) ” اگر تیرا رب پہلے یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “۔ اور اس طرح ان اختلافات میں حق ، حق ہوچکا ہوتا اور باطل باطل ہوچکا ہوتا اور معاملہ اس دنیا ہی کی زندگی میں ہی ختم ہوچکا ہوتا لیکن ان کو وقت معلوم تک مہلت دے دی گئی ہے۔ وہ نسلیں جو ان ابنائے سابقین کے پہلے متبعین کی وارث بنیں جنہوں نے تفرقہ کیا تھا۔ اور یہ کتاب ان کو ملی تو ان کو یہ کتاب اور یہ نظریہ یقینی انداز میں نہ ملا۔ کیونکہ اختلافات کا ریکارڈ ان کے سامنے تھا اور اس سے کوئی جزی اور قطعی بات سامنے نہ آتی تھی۔ تمام فرقہ وارانہ اختلافات عمل ، غیر واضح اور پریشان کن تھے۔ وان الذین اور ثوا ۔۔۔۔۔ منہ مریب (42 : 14) ” اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے تھے “۔ یوں ہوتا ہے عقیدہ تو اس مضبوط چٹان کی طرح ہوتا ہے جس کے اردگرد سے زمین حرکت میں ہوتی ہے لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے۔ اور ایک مومن اس راسخ چٹان پر مضبوطی سے جم جاتا ہے اور اسے کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا اور عقیدہ وہ ستارہ ہوتا ہے جو اپنی جگہ جما ہوا ہوتا ہے اور لہروں اور طوفانوں کے باوجود مومن کی نظر بلند افق پر اپنے ستارے پر ہوتی ہے جو سمت کا تعین کرتا ہے۔ اس طرح ایک مومن راستہ نہیں بھولتا اگرچہ تاریک سمندروں میں ہو۔ لیکن جب عقیدہ اور نظریہ ہی مشکوک ہوجائے تو پھر کسی کی کوئی بات مستقل نہیں ہو سکتی۔ نہ کسی بےعقیدہ شخص کی کوئی بات مستقل ہو سکتی ہے۔ نہ ایسا شخص کسی بھی سمت پر مستقل رہ سکتا ہے۔ نہ کسی راستے پر مطمئن ہو سکتا ہے۔ عقیدہ اور نظریہ ہوتا ہی اس لیے ہے کہ لوگوں کا نصب العین اور ان کی سمت متعین کرے اور پھر وہ دوسرے لوگوں کی اس راہ پر چلتے ہوئے قیادت کریں۔ اگر وہ خود اضطراب اور شک میں پڑے ہوں تو وہ کسی کی قیادت نہیں کرسکتے۔ خفتہ را خفتہ کے کند بیدار۔۔۔۔ جب اس دنیا میں دین اسلام آیا تو امم سابقہ کے متبعین کی یہی حالت تھی۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی اپنی ” کتاب عالم اسلام میں مشرقیت و مغربیت کی کشمکش “ میں لکھتے ہیں : ” حقیقت یہ ہے کہ دوسرے بڑے ادیان کے لیڈر کھیلنے والوں اور کھلاڑیوں کے ہاتھ میں شکار ہیں اور ان پر تحریف کرنے والوں اور منافقوں کا اثر ہے۔ یہ ادیان اپنی روح اور شکل گنوا بیٹھے ہیں۔ اگر ان ادیان کے پہلے ماننے والوں کو اللہ اب زندہ کر دے تو وہ خود اپنے نام سے منسوب ان ادیان کو نہ پہچان سکیں۔ چناچہ کبھی تو ادیان تہذیب و تمدن اور حکومت و سیاست عطا کرنے والے تھے۔ اب وہاں سے بدنظمی ، خلل اور اختلافات اور طوائف الملوکی ہوتی ہے ، حکام بد عمل ہیں ، اپنی ذات میں گم ہیں۔ ان کے پاس اقوام اور دنیا کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے۔ مقاصد عالیہ کے اعتبار سے وہ مفلس ہیں۔ ان کی زندگی کے سوتے خشک ہوچکے ہیں ، ہدایات سماوی کی روشنی میں ان کے پاس کوئی راہ نہیں ہے ، نہ کوئی مستقل اور محکم نظام زندگی ہے۔ مشہور امریکی مصنف جارج ایچ۔ ڈینسن اپنی کتاب جذبات بحیثیت اساس تمدن (Emotion as the basis of civilization ) میں لکھتے ہیں : ” پانچویں صدی اور چھٹی صدی عیسوی میں اہل دین کی دنیا تباہی کے ایک گہرے گڑھے کے دہانے پر تھی۔ کیونکہ جو نظریات تمدن کو جنم دینے میں ممدو معاون تھے ، وہ ختم ہوچکے تھے اور اس وقت کے موجودہ ادیان کی جگہ لینے کے لئے کوئی نظریہ موجود نہ تھا۔ اور یہ واضح طور پر نظر آنے لگا تھا کہ جس انسانی تہذیب کی تعمیر و ترقی پر چار ہزار سال گزرے تھے وہ ختم اور برباد ہونے والی ہے اور انسانیت دوبارہ جہالت ، قبائلی نظام کے چنگل میں پھنسنے والی ہے ، جس میں کوئی قانون و نظام نہیں ہوتا کیونکہ مسیحیت نے جو اجتماعی نظم و نسق قائم کیا تھا ، اس کی عمارت گرنے ہی والی تھی۔ اس لیے کہ عیسائیت فرقے فرقے ہوگئی تھی۔ اس کے اندر کوئی اتحاد اور نظم نہ تھا۔ اس دور میں تمدن کی مثال اس طرح تھی کہ وہ ایک عظیم درخت کی طرح تھی جس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں اور اس کا سایہ تمام دنیا پر چھا یا ہوا تھا ، یہ درخت سخت طوفانوں کی رد میں نہایت کمزوری کی حالت میں کھڑا تھا اور ہلاکت اس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی ، کہ اس اثناء میں ایک شخص (حضرت محمد ﷺ پیدا ہوگیا “۔ یہ صورت حال اس لیے تھی کہ ادیان سماوی کے حاملین نے باہم سخت اختلافات شروع کر دئیے تھے ، بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ اور ادیان کے اصحاب اولین کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنے تھے ان کو ان کتابوں کی صداقت کے بارے ہی میں شک تھا۔ ان وجوہات سے اور پوری دنیا میں انسانیت کی قیادت کے لئے کسی مرکز کے ناپید ہوجانے کی وجہ سے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ سیدھے راستے پر چل پڑیں لوگوں کو دعوت دیں اور آپ کی واضح اور بین نظریات اور آپ کی مستحکم دعوت کے بارے میں لوگ جو چاہیں ، کہیں۔ آپ کسی کی طرف متوجہ نہ ہوں اور یہ اعلان کردیں کہ یہ دعوت اور یہ نظام وہی ہے جسے اللہ نے تمام انبیاء کو دیا تھا اور اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ فلذلک فادع واستقم کما امرت ۔۔۔۔۔۔۔۔ والیہ المصیر (42 : 15) ” (چونکہ یہ حالت پیدا ہوچکی ہے) اس لیے اے محمد ﷺ اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو ، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجاؤ، اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، اور ان سے کہہ دو کہ :” اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ایک روز سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے “۔ اب دعوت اسلامی گویا پوری انسانیت کے لئے نئی قیادت تھی۔ یہ ایک دانشمند ، صحیح الفکر قیادت تھی جس کا نظام زندگی واضح تھا ، جس کو یقین محکم حاصل تھا۔ یہ اللہ کی طرف بلاتی تھی اور اپنے مقصد کے لئے علی وجہ البصیرت کام کر رہی تھی اور بغیر کسی کج روی کے امر الٰہی پر گامزن تھی۔ اور وہ اپنے فیصلوں میں بدلتے ہوئے مقاصد اور بدلتی ہوئی خواہشات کے پیچھے نہ جاتی تھی۔ ایسی قیادت جس کا پیغام ایک تھا ، جس کی کتاب ایک تھی ، نظام شریع ایک تھا ، جس کا ایمان ماخذ ایمان کی طرف راجع تھا۔ اور جس نے تمام انسانیت کو ایک اہم اصول کی طرف لوٹا دیا تھا۔ وقل امنت بما انزل اللہ من کتب (52 : 15) ” اور ان سے کہہ دو کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں “۔ اس کے بعد یہ دعوت یہ تحریک دعوت حق کو لے کر دنیا میں سربلند ہوتی ہے اور اقتدار اعلیٰ حاصل کرتا ہے تا کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل کرے۔ وامرت لاعدل بینکم (42 : 15) ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں “ ۔ یہ ایسی قیادت ہے جس کے پاس اقتدار بھی ہے اور یہ زمین میں عدل گستری کا اعلان کرتی ہے۔ (یہ بات حضور ﷺ اس وقت کر رہے ہیں جب دعوت اسلامی مکہ میں ہے اور داعی اور تحریک شعب ابی طالب میں محصور ہیں ، ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن وہاں بھی دعوت اسلامی کا مزاج ، چھا جانے والا مزاج بالکل واضح ہے ) (مترجم) ۔ یہ دعوت اعلان کرتی ہے کہ رب واحد ہے۔ اللہ ربنا وربکم (52 : 15) ” اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی “۔ اور یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور جواب وہی انفرادی ہے۔ لنا اعمالنا ولکم اعمالکم (52 : 15) ” ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے ، تمہارے لیے ہیں “ ۔ اس لیے اب فضول بحث و مباحثہ ختم ہونا چاہئے۔ لا حجۃ بیننا وبینکم (52 : 15) ” ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں “۔ اللہ یجمع بینناوالیہ المصیر (42 : 15) ” اللہ ہم سب کو ایک روز جمع کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹنا ہے “۔ یہ ایک آیت ہے لیکن یہ دعوت اسلامی کے مزاج کی وضاحت پوری طرح کردیتی ہے۔ اس آیت کے فقرے بھی چھوٹے چھوٹے ، لیکن وہ نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن بات کرتے ہیں۔ یہ ایک دعوت ہے جس نے اپنی راہ پر گامزن رہنا ہے اور انسانوں کی خواہشات کا کوئی لحاظ نہیں رکھنا۔ اس نے اس کرۂ ارض پر اقتدار اعلیٰ پر خالص ہونا ہے تا کہ وہ عدل کرسکے۔ اس نے تمام انسانوں کو ایک سیدھی راہ دکھانی ہے جو صراط مستقیم ہے اور یہی راہ تمام رسولوں کی راہ رہی ہے۔ چناچہ دعوت اسلامی کی اس رنگ میں وضاحت کرنے کے بعد اور اہل ایمان کے ایک گروہ کی جانب سے اس دعوت پر لبیک کہنے کے بعد ، الجھنے والوں اور بےفائدہ مباحثے کرنے والوں کی باتوں کی طرف التفات کرنے کا کوئی موقعہ نہیں رہا ہے۔ ان کی تمام دلیلیں باطل ہوچکی ہیں ، ان کا کوئی وزن نہیں ہے ، نہ اہمیت ہے۔ لہٰذا ان کے بارے میں اب فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور ان کو اللہ کی شدید دھمکی کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ والذین یحاجون فی اللہ ۔۔۔۔۔ عذاب شدید (42 : 16) ” اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ اللہ کے معاملے میں جھگڑتے ہیں ، ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر اس کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے “۔ جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ان کی حجت اللہ کے نزدیک ہی باطل ہے تو پھر ان کا جھگڑا باطل ہے اور ان کی دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔ زمین پر بھی ان کی دلیل مسترد ہے اور آخرت میں ان کو اللہ کے شدید غضب اور عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور یہ فضول جھگڑے اور حجت بازی ان کے لئے موزوں سزا ہے جبکہ وہ دیکھتے بھی ہیں کہ نہایت ہی مخلص اور دانشمند لوگوں نے اس دعوت کو قبول کرلیا ہے۔ لہٰذا ان کی یہ بحث اور منا ظرہ حق کی وضاحت کے بعد ہے اور کچھ دوسرے مقاصد کے لئے ہیں۔ اب سیاق کلام کا رخ پھر پہلے موضوع کی طرف

الشورى 42:15

آیت نمبر 13 تا 16 کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (42 : 3) “ اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے ”۔ یہ ایک اجمالی اشارہ تھا کہ وحی الٰہی کا سرچشمہ ایک ہے ۔ اور اس وحی نے جو نظام پیش کیا ہے ، یہ وہی ہے جو سابقہ رسولوں نے پیش کیا تھا ، اور اس وحی کا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف سابقہ انبیاء کا تھا۔ اب اس اشارے کی تفصیلات دی جارہی ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے جو نظام زندگی اور جو شریعت وضع کی ہے ، وہ عمومی اصولوں میں وہی ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔ سب کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے واحد دین کو قائم کرو ، اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو ، اور تمہارا فرض ہے کہ اللہ کے اس قدیم نظام زندگی پر جم جاؤ اور جو لوگ اس سے ادھر ادھر دیکھتے ہیں ، محض خواہشات نفسانیہ پوری کرنے کے لئے تو ان کی طرف کوئی توجہ نہ کرو ، اس دین کو غالب کرو ، اور جو لوگ اس دین کے خلاف حجت بازیاں کرتے ہیں ، ان کی حجت کو رد کر کے باطل کردو ، اور ان کو اللہ کے غضب اور شدید عذاب سے ڈراؤ۔ اس پیراگراف کے فقروں کے اندر بھی نہایت ہی لطیف ربط ہے جس طرح سابقہ پیراگراف کے فقروں میں ہم نے بیان کیا۔ شرع لکم من الدین۔۔۔۔۔۔ ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد ﷺ اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ ”۔ اس کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کردیا جاتا ہے جس کی تفصیلات ہم نے سورت کے آغاز میں دیں کہ ادیان کی جڑ ایک ہے۔ زمان و مکان کے لحاظ سے مختلف زمانوں میں اس کی نشوونما ہوئی ۔ اس سے جس مومن میں ایسے تصورات و لمحات آتے ہیں کہ وہ سوچتا ہے کہ اس کا ماضی بہت طویل ہے اور اس کے سلف بہت ہی عظیم لوگ ہیں اور وہ ایسے عظیم لوگوں کا تابع اور پیروکار ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت محمد ﷺ اجعین۔ یہ شعور پختہ ہوتا ہے کہ یہ دین ادیان سابقہ ہی کا تسلسل ہے اور یہ کہ وہ انبیاء و رسل کے راستے ہی پر رواں دواں ہے۔ اور اس راستے پر وہ نہایت خوشی سے چل رہا ہے۔ اگرچہ اس میں تھکاوٹ ہو ، مشکلات ہوں اور اسے اپنے بیشمار مفادات قربان کرنے پڑیں۔ مومن کو یہ پختہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ وہ عظیم لوگوں کے قافلے کافرد ہے اور یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں عظیم لوگوں کا قافلہ ہے۔ یہ کہ جو لوگ اللہ کے اس دین پر چلنے والے ہیں ، ان کے درمیان دائمی امن و آشتی ہے ۔ یہ ایک مستقل شریعت اور شاہراہ پر قائم ہیں۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف اور دشمنی نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان تو گہرے تعلقات و روابط ہیں۔ یہ تعلقات و روابط باہمی مزید تعلق اور مفاہت کا تقاضا کرتے ہیں۔ یوں مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین اور مسلمین کے لئے مقرر کی ہے ، وہی ہے جس کی وصیت اور تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو بھی اس سے قبل کی گئی تھی تو پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین باہم کیوں لڑتے جھگڑتے ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے مختلف فرقے کیوں باہم دست و گریباں ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین حضرت محمد ﷺ کے پیروکاروں کے ساتھ کیوں عناد رکھتے ہیں۔ پھر وہ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں یعنی مشرکین عرب تو ان کے لئے کیا جواب ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور وہ کیوں نبی آخر الزمان کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہوتے جن کی دعوت یہ ہے کہ تمام پیروکار ان دین کو یہ وصیت کی گئی تھی کہ۔ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ دین کو قائم کرو اور اس میں فرقے نہ بنو ”۔ اور کیوں اپنے فرائض ادا نہیں کرتے ، کیوں ایسا نہیں کرتے کہ وہ انحراف کو چھوڑ دیں۔ کج روی سے توبہ کریں اور کیوں پھر یہ لوگ آخری نبی کے جھنڈے تلے صف واحد کی صورت میں کھڑے نہیں ہوتے۔ کیونکہ حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے بعد اب حضرت محمد ﷺ کی باری ہے اور یہ امانت اب ان تک پہنچی ہے۔ مشرکین جو ام القریٰ میں بستے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں وہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں ایک معاند اور مخالف کے طور کھڑے ہیں۔ یہ کیوں ؟ کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ (42 : 13) “ یہ بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو ” ۔ ان کو یہ بات ناگوار ہے کہ ان میں سے محمد ابن عبد اللہ پر وحی کیوں آئی۔ حالانکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ وحی دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر نازل ہوگی۔ علی رجل من القریتین عظیم یعنی ان دو گاؤں کے کبراء اور اہل اقتدار میں سے کسی پر نازل ہوتی۔ لیکن خود ان کی یہ بات بھی حقیقت واقعہ کے طور پر درست نہ تھی ، حضرت محمد ﷺ خود ان کے قول کے مطابق صادق وامین تھے۔ اور آپ قریش کے ایک ممتاز قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ تو بیشک عظیم آدمی تھے۔ ان پر یہ نئی دعوت شاق گزرتی تھی کیونکہ اگر یہ کامیاب ہوتی ہے تو بت پرستی کا دور ختم ہوجاتا ہے ۔ بت اور بتوں کے افسانے ختم ہوجاتے ہیں اور اسی پر تو ان کی سیادت و قیادت قائم تھی۔ ان کے ذاتی اور اقتصادی مفادات انہیں تصورات سے وابستہ تھے ، لہٰذا انہوں نے شرک کو سینے سے لگالیا اور خالص تو حید پر مبنی ان پر بھاری تھی ، جس کی طرف رسول بلاتے تھے۔ پھر ان پر یہ بات بھی گراں گزر رہی تھی کہ ان کے جو آباء و اجداد جاہلیت پر مرگئے ہیں وہ گمراہی پر گئے اور وہ کافر اور جہنمی تھے۔ لہٰذا انہوں نے کہا اگر آباء جہنمی ہیں تو ہم بھی ہیں۔ یوں وہ ضد میں آگئے اور غلط راہ عناد کی وجہ سے پکڑ لی۔ اور عمداً اپنے آپ کو جہنم میں گرانے کے لئے تیار ہوگئے۔ محض اس لیے کہ وہ اپنے آباء کو گمراہ قرار دینے کے لئے تیار نہ تھے۔ قرآن کریم ان کے اس موقف کی تردیدیوں کرتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے ، چن لے۔ اس طرح اللہ اپنی جانب سے صرف اسی کو متوجہ کرتا ہے جو اللہ کی پناہ میں آنا چاہے اور دھتکارے ہوئے لوگوں کو بذریعہ توبہ واپس کرتا ہے : اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینیب (42 : 13) ” اللہ جسے چاہتا ہے ، اپنا لیتا ہے اور جو اپنی طرف اسی کو راستہ دکھاتا ہے جو اس کی رجوع کرے “۔ تو اللہ نے محمد ﷺ کو چن لیا۔ اور جو بھی اب اللہ کے بتائے ہوئے راستے کی طرف متوجہ ہوگا اللہ اسے ہدایت دے دے گا۔ اب روئے سخن مذکور بالا بڑے انبیاء کے متبعین کے موقف کی طرف پھرتا ہے ، جن کو اللہ نے ایک ہی دین دے کر بھیجا تھا اور انہوں نے قوم کے سامنے ایک ہی دین پیش کیا تھا مگر متبعین نے اس میں تفرقہ اختیار کرلیا : وما تفرقوا الا من بعد ۔۔۔۔۔۔ شک منہ مریب (42 : 14) ” لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا ، وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اگر تیرا رب پہلے ہی نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقررہ تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ، وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “ ۔ ایک تو یہ کہ یہ اختلافات جہالت کی وجہ سے نہ تھے۔ یہ وجہ نہ تھی کہ ان کو اس اصل حقیقت کا پتہ نہ تھا اور یہ پتہ نہ تھا کہ رسولوں کی تعلیم کا ماخذ کیا ہے بلکہ انہوں نے اچھی طرح جانتے بوجھتے شک کیا۔ آپس کی دشمنی کی وجہ سے تفرقہ کیا۔ بغض اور حسد کی وجہ سے یہ اختلافات ہوئے۔ ظالمانہ خواہشات نے مجبور کیا کہ وہ تفرقہ کریں۔ اور ناقاب کنٹرول خواہشات نفس نے ان کو مجبور کیا۔ یہ تفرقہ اس لیے نہیں ہوا کہ ان کے پاس درست عقائد کے لئے کوئی دلیل نہ تھی یا جو نظام زندگی انہیں دیا گیا تھا ، اس میں سے ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا ۔ اگر وہ اپنے حقیقی عقیدے اور شریعت پر مخلصانہ طور پر قائم رہتے تو تفرقہ نہ کرتے۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق تھے کہ اللہ ان کو پکڑ لیتا اور ان پر جلدی اللہ کا عذاب آجاتا ، ان کی سرکشی اور ان کے ظلم کی وجہ سے جو انہوں نے یہ تفریق کر کے دین حق کے ساتھ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے تدبیر کائنات کے سلسلے میں پہلے سے ایک فیصلہ کردیا تھا اور ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دے دی گئی تھی۔ ولو لا کلمۃ سبقت ۔۔۔۔۔ لقضی بینھم (42 : 14) ” اگر تیرا رب پہلے یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “۔ اور اس طرح ان اختلافات میں حق ، حق ہوچکا ہوتا اور باطل باطل ہوچکا ہوتا اور معاملہ اس دنیا ہی کی زندگی میں ہی ختم ہوچکا ہوتا لیکن ان کو وقت معلوم تک مہلت دے دی گئی ہے۔ وہ نسلیں جو ان ابنائے سابقین کے پہلے متبعین کی وارث بنیں جنہوں نے تفرقہ کیا تھا۔ اور یہ کتاب ان کو ملی تو ان کو یہ کتاب اور یہ نظریہ یقینی انداز میں نہ ملا۔ کیونکہ اختلافات کا ریکارڈ ان کے سامنے تھا اور اس سے کوئی جزی اور قطعی بات سامنے نہ آتی تھی۔ تمام فرقہ وارانہ اختلافات عمل ، غیر واضح اور پریشان کن تھے۔ وان الذین اور ثوا ۔۔۔۔۔ منہ مریب (42 : 14) ” اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے تھے “۔ یوں ہوتا ہے عقیدہ تو اس مضبوط چٹان کی طرح ہوتا ہے جس کے اردگرد سے زمین حرکت میں ہوتی ہے لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے۔ اور ایک مومن اس راسخ چٹان پر مضبوطی سے جم جاتا ہے اور اسے کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا اور عقیدہ وہ ستارہ ہوتا ہے جو اپنی جگہ جما ہوا ہوتا ہے اور لہروں اور طوفانوں کے باوجود مومن کی نظر بلند افق پر اپنے ستارے پر ہوتی ہے جو سمت کا تعین کرتا ہے۔ اس طرح ایک مومن راستہ نہیں بھولتا اگرچہ تاریک سمندروں میں ہو۔ لیکن جب عقیدہ اور نظریہ ہی مشکوک ہوجائے تو پھر کسی کی کوئی بات مستقل نہیں ہو سکتی۔ نہ کسی بےعقیدہ شخص کی کوئی بات مستقل ہو سکتی ہے۔ نہ ایسا شخص کسی بھی سمت پر مستقل رہ سکتا ہے۔ نہ کسی راستے پر مطمئن ہو سکتا ہے۔ عقیدہ اور نظریہ ہوتا ہی اس لیے ہے کہ لوگوں کا نصب العین اور ان کی سمت متعین کرے اور پھر وہ دوسرے لوگوں کی اس راہ پر چلتے ہوئے قیادت کریں۔ اگر وہ خود اضطراب اور شک میں پڑے ہوں تو وہ کسی کی قیادت نہیں کرسکتے۔ خفتہ را خفتہ کے کند بیدار۔۔۔۔ جب اس دنیا میں دین اسلام آیا تو امم سابقہ کے متبعین کی یہی حالت تھی۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی اپنی ” کتاب عالم اسلام میں مشرقیت و مغربیت کی کشمکش “ میں لکھتے ہیں : ” حقیقت یہ ہے کہ دوسرے بڑے ادیان کے لیڈر کھیلنے والوں اور کھلاڑیوں کے ہاتھ میں شکار ہیں اور ان پر تحریف کرنے والوں اور منافقوں کا اثر ہے۔ یہ ادیان اپنی روح اور شکل گنوا بیٹھے ہیں۔ اگر ان ادیان کے پہلے ماننے والوں کو اللہ اب زندہ کر دے تو وہ خود اپنے نام سے منسوب ان ادیان کو نہ پہچان سکیں۔ چناچہ کبھی تو ادیان تہذیب و تمدن اور حکومت و سیاست عطا کرنے والے تھے۔ اب وہاں سے بدنظمی ، خلل اور اختلافات اور طوائف الملوکی ہوتی ہے ، حکام بد عمل ہیں ، اپنی ذات میں گم ہیں۔ ان کے پاس اقوام اور دنیا کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے۔ مقاصد عالیہ کے اعتبار سے وہ مفلس ہیں۔ ان کی زندگی کے سوتے خشک ہوچکے ہیں ، ہدایات سماوی کی روشنی میں ان کے پاس کوئی راہ نہیں ہے ، نہ کوئی مستقل اور محکم نظام زندگی ہے۔ مشہور امریکی مصنف جارج ایچ۔ ڈینسن اپنی کتاب جذبات بحیثیت اساس تمدن (Emotion as the basis of civilization ) میں لکھتے ہیں : ” پانچویں صدی اور چھٹی صدی عیسوی میں اہل دین کی دنیا تباہی کے ایک گہرے گڑھے کے دہانے پر تھی۔ کیونکہ جو نظریات تمدن کو جنم دینے میں ممدو معاون تھے ، وہ ختم ہوچکے تھے اور اس وقت کے موجودہ ادیان کی جگہ لینے کے لئے کوئی نظریہ موجود نہ تھا۔ اور یہ واضح طور پر نظر آنے لگا تھا کہ جس انسانی تہذیب کی تعمیر و ترقی پر چار ہزار سال گزرے تھے وہ ختم اور برباد ہونے والی ہے اور انسانیت دوبارہ جہالت ، قبائلی نظام کے چنگل میں پھنسنے والی ہے ، جس میں کوئی قانون و نظام نہیں ہوتا کیونکہ مسیحیت نے جو اجتماعی نظم و نسق قائم کیا تھا ، اس کی عمارت گرنے ہی والی تھی۔ اس لیے کہ عیسائیت فرقے فرقے ہوگئی تھی۔ اس کے اندر کوئی اتحاد اور نظم نہ تھا۔ اس دور میں تمدن کی مثال اس طرح تھی کہ وہ ایک عظیم درخت کی طرح تھی جس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں اور اس کا سایہ تمام دنیا پر چھا یا ہوا تھا ، یہ درخت سخت طوفانوں کی رد میں نہایت کمزوری کی حالت میں کھڑا تھا اور ہلاکت اس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی ، کہ اس اثناء میں ایک شخص (حضرت محمد ﷺ پیدا ہوگیا “۔ یہ صورت حال اس لیے تھی کہ ادیان سماوی کے حاملین نے باہم سخت اختلافات شروع کر دئیے تھے ، بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ اور ادیان کے اصحاب اولین کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنے تھے ان کو ان کتابوں کی صداقت کے بارے ہی میں شک تھا۔ ان وجوہات سے اور پوری دنیا میں انسانیت کی قیادت کے لئے کسی مرکز کے ناپید ہوجانے کی وجہ سے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ سیدھے راستے پر چل پڑیں لوگوں کو دعوت دیں اور آپ کی واضح اور بین نظریات اور آپ کی مستحکم دعوت کے بارے میں لوگ جو چاہیں ، کہیں۔ آپ کسی کی طرف متوجہ نہ ہوں اور یہ اعلان کردیں کہ یہ دعوت اور یہ نظام وہی ہے جسے اللہ نے تمام انبیاء کو دیا تھا اور اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ فلذلک فادع واستقم کما امرت ۔۔۔۔۔۔۔۔ والیہ المصیر (42 : 15) ” (چونکہ یہ حالت پیدا ہوچکی ہے) اس لیے اے محمد ﷺ اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو ، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجاؤ، اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، اور ان سے کہہ دو کہ :” اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ایک روز سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے “۔ اب دعوت اسلامی گویا پوری انسانیت کے لئے نئی قیادت تھی۔ یہ ایک دانشمند ، صحیح الفکر قیادت تھی جس کا نظام زندگی واضح تھا ، جس کو یقین محکم حاصل تھا۔ یہ اللہ کی طرف بلاتی تھی اور اپنے مقصد کے لئے علی وجہ البصیرت کام کر رہی تھی اور بغیر کسی کج روی کے امر الٰہی پر گامزن تھی۔ اور وہ اپنے فیصلوں میں بدلتے ہوئے مقاصد اور بدلتی ہوئی خواہشات کے پیچھے نہ جاتی تھی۔ ایسی قیادت جس کا پیغام ایک تھا ، جس کی کتاب ایک تھی ، نظام شریع ایک تھا ، جس کا ایمان ماخذ ایمان کی طرف راجع تھا۔ اور جس نے تمام انسانیت کو ایک اہم اصول کی طرف لوٹا دیا تھا۔ وقل امنت بما انزل اللہ من کتب (52 : 15) ” اور ان سے کہہ دو کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں “۔ اس کے بعد یہ دعوت یہ تحریک دعوت حق کو لے کر دنیا میں سربلند ہوتی ہے اور اقتدار اعلیٰ حاصل کرتا ہے تا کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل کرے۔ وامرت لاعدل بینکم (42 : 15) ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں “ ۔ یہ ایسی قیادت ہے جس کے پاس اقتدار بھی ہے اور یہ زمین میں عدل گستری کا اعلان کرتی ہے۔ (یہ بات حضور ﷺ اس وقت کر رہے ہیں جب دعوت اسلامی مکہ میں ہے اور داعی اور تحریک شعب ابی طالب میں محصور ہیں ، ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن وہاں بھی دعوت اسلامی کا مزاج ، چھا جانے والا مزاج بالکل واضح ہے ) (مترجم) ۔ یہ دعوت اعلان کرتی ہے کہ رب واحد ہے۔ اللہ ربنا وربکم (52 : 15) ” اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی “۔ اور یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور جواب وہی انفرادی ہے۔ لنا اعمالنا ولکم اعمالکم (52 : 15) ” ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے ، تمہارے لیے ہیں “ ۔ اس لیے اب فضول بحث و مباحثہ ختم ہونا چاہئے۔ لا حجۃ بیننا وبینکم (52 : 15) ” ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں “۔ اللہ یجمع بینناوالیہ المصیر (42 : 15) ” اللہ ہم سب کو ایک روز جمع کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹنا ہے “۔ یہ ایک آیت ہے لیکن یہ دعوت اسلامی کے مزاج کی وضاحت پوری طرح کردیتی ہے۔ اس آیت کے فقرے بھی چھوٹے چھوٹے ، لیکن وہ نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن بات کرتے ہیں۔ یہ ایک دعوت ہے جس نے اپنی راہ پر گامزن رہنا ہے اور انسانوں کی خواہشات کا کوئی لحاظ نہیں رکھنا۔ اس نے اس کرۂ ارض پر اقتدار اعلیٰ پر خالص ہونا ہے تا کہ وہ عدل کرسکے۔ اس نے تمام انسانوں کو ایک سیدھی راہ دکھانی ہے جو صراط مستقیم ہے اور یہی راہ تمام رسولوں کی راہ رہی ہے۔ چناچہ دعوت اسلامی کی اس رنگ میں وضاحت کرنے کے بعد اور اہل ایمان کے ایک گروہ کی جانب سے اس دعوت پر لبیک کہنے کے بعد ، الجھنے والوں اور بےفائدہ مباحثے کرنے والوں کی باتوں کی طرف التفات کرنے کا کوئی موقعہ نہیں رہا ہے۔ ان کی تمام دلیلیں باطل ہوچکی ہیں ، ان کا کوئی وزن نہیں ہے ، نہ اہمیت ہے۔ لہٰذا ان کے بارے میں اب فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور ان کو اللہ کی شدید دھمکی کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ والذین یحاجون فی اللہ ۔۔۔۔۔ عذاب شدید (42 : 16) ” اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ اللہ کے معاملے میں جھگڑتے ہیں ، ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر اس کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے “۔ جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ان کی حجت اللہ کے نزدیک ہی باطل ہے تو پھر ان کا جھگڑا باطل ہے اور ان کی دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔ زمین پر بھی ان کی دلیل مسترد ہے اور آخرت میں ان کو اللہ کے شدید غضب اور عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور یہ فضول جھگڑے اور حجت بازی ان کے لئے موزوں سزا ہے جبکہ وہ دیکھتے بھی ہیں کہ نہایت ہی مخلص اور دانشمند لوگوں نے اس دعوت کو قبول کرلیا ہے۔ لہٰذا ان کی یہ بحث اور منا ظرہ حق کی وضاحت کے بعد ہے اور کچھ دوسرے مقاصد کے لئے ہیں۔ اب سیاق کلام کا رخ پھر پہلے موضوع کی طرف

الشورى 42:16

آیت نمبر 13 تا 16 کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (42 : 3) “ اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے ”۔ یہ ایک اجمالی اشارہ تھا کہ وحی الٰہی کا سرچشمہ ایک ہے ۔ اور اس وحی نے جو نظام پیش کیا ہے ، یہ وہی ہے جو سابقہ رسولوں نے پیش کیا تھا ، اور اس وحی کا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف سابقہ انبیاء کا تھا۔ اب اس اشارے کی تفصیلات دی جارہی ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے جو نظام زندگی اور جو شریعت وضع کی ہے ، وہ عمومی اصولوں میں وہی ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔ سب کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے واحد دین کو قائم کرو ، اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو ، اور تمہارا فرض ہے کہ اللہ کے اس قدیم نظام زندگی پر جم جاؤ اور جو لوگ اس سے ادھر ادھر دیکھتے ہیں ، محض خواہشات نفسانیہ پوری کرنے کے لئے تو ان کی طرف کوئی توجہ نہ کرو ، اس دین کو غالب کرو ، اور جو لوگ اس دین کے خلاف حجت بازیاں کرتے ہیں ، ان کی حجت کو رد کر کے باطل کردو ، اور ان کو اللہ کے غضب اور شدید عذاب سے ڈراؤ۔ اس پیراگراف کے فقروں کے اندر بھی نہایت ہی لطیف ربط ہے جس طرح سابقہ پیراگراف کے فقروں میں ہم نے بیان کیا۔ شرع لکم من الدین۔۔۔۔۔۔ ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد ﷺ اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ ”۔ اس کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کردیا جاتا ہے جس کی تفصیلات ہم نے سورت کے آغاز میں دیں کہ ادیان کی جڑ ایک ہے۔ زمان و مکان کے لحاظ سے مختلف زمانوں میں اس کی نشوونما ہوئی ۔ اس سے جس مومن میں ایسے تصورات و لمحات آتے ہیں کہ وہ سوچتا ہے کہ اس کا ماضی بہت طویل ہے اور اس کے سلف بہت ہی عظیم لوگ ہیں اور وہ ایسے عظیم لوگوں کا تابع اور پیروکار ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت محمد ﷺ اجعین۔ یہ شعور پختہ ہوتا ہے کہ یہ دین ادیان سابقہ ہی کا تسلسل ہے اور یہ کہ وہ انبیاء و رسل کے راستے ہی پر رواں دواں ہے۔ اور اس راستے پر وہ نہایت خوشی سے چل رہا ہے۔ اگرچہ اس میں تھکاوٹ ہو ، مشکلات ہوں اور اسے اپنے بیشمار مفادات قربان کرنے پڑیں۔ مومن کو یہ پختہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ وہ عظیم لوگوں کے قافلے کافرد ہے اور یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں عظیم لوگوں کا قافلہ ہے۔ یہ کہ جو لوگ اللہ کے اس دین پر چلنے والے ہیں ، ان کے درمیان دائمی امن و آشتی ہے ۔ یہ ایک مستقل شریعت اور شاہراہ پر قائم ہیں۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف اور دشمنی نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان تو گہرے تعلقات و روابط ہیں۔ یہ تعلقات و روابط باہمی مزید تعلق اور مفاہت کا تقاضا کرتے ہیں۔ یوں مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین اور مسلمین کے لئے مقرر کی ہے ، وہی ہے جس کی وصیت اور تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو بھی اس سے قبل کی گئی تھی تو پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین باہم کیوں لڑتے جھگڑتے ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے مختلف فرقے کیوں باہم دست و گریباں ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین حضرت محمد ﷺ کے پیروکاروں کے ساتھ کیوں عناد رکھتے ہیں۔ پھر وہ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں یعنی مشرکین عرب تو ان کے لئے کیا جواب ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور وہ کیوں نبی آخر الزمان کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہوتے جن کی دعوت یہ ہے کہ تمام پیروکار ان دین کو یہ وصیت کی گئی تھی کہ۔ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ دین کو قائم کرو اور اس میں فرقے نہ بنو ”۔ اور کیوں اپنے فرائض ادا نہیں کرتے ، کیوں ایسا نہیں کرتے کہ وہ انحراف کو چھوڑ دیں۔ کج روی سے توبہ کریں اور کیوں پھر یہ لوگ آخری نبی کے جھنڈے تلے صف واحد کی صورت میں کھڑے نہیں ہوتے۔ کیونکہ حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے بعد اب حضرت محمد ﷺ کی باری ہے اور یہ امانت اب ان تک پہنچی ہے۔ مشرکین جو ام القریٰ میں بستے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں وہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں ایک معاند اور مخالف کے طور کھڑے ہیں۔ یہ کیوں ؟ کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ (42 : 13) “ یہ بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو ” ۔ ان کو یہ بات ناگوار ہے کہ ان میں سے محمد ابن عبد اللہ پر وحی کیوں آئی۔ حالانکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ وحی دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر نازل ہوگی۔ علی رجل من القریتین عظیم یعنی ان دو گاؤں کے کبراء اور اہل اقتدار میں سے کسی پر نازل ہوتی۔ لیکن خود ان کی یہ بات بھی حقیقت واقعہ کے طور پر درست نہ تھی ، حضرت محمد ﷺ خود ان کے قول کے مطابق صادق وامین تھے۔ اور آپ قریش کے ایک ممتاز قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ تو بیشک عظیم آدمی تھے۔ ان پر یہ نئی دعوت شاق گزرتی تھی کیونکہ اگر یہ کامیاب ہوتی ہے تو بت پرستی کا دور ختم ہوجاتا ہے ۔ بت اور بتوں کے افسانے ختم ہوجاتے ہیں اور اسی پر تو ان کی سیادت و قیادت قائم تھی۔ ان کے ذاتی اور اقتصادی مفادات انہیں تصورات سے وابستہ تھے ، لہٰذا انہوں نے شرک کو سینے سے لگالیا اور خالص تو حید پر مبنی ان پر بھاری تھی ، جس کی طرف رسول بلاتے تھے۔ پھر ان پر یہ بات بھی گراں گزر رہی تھی کہ ان کے جو آباء و اجداد جاہلیت پر مرگئے ہیں وہ گمراہی پر گئے اور وہ کافر اور جہنمی تھے۔ لہٰذا انہوں نے کہا اگر آباء جہنمی ہیں تو ہم بھی ہیں۔ یوں وہ ضد میں آگئے اور غلط راہ عناد کی وجہ سے پکڑ لی۔ اور عمداً اپنے آپ کو جہنم میں گرانے کے لئے تیار ہوگئے۔ محض اس لیے کہ وہ اپنے آباء کو گمراہ قرار دینے کے لئے تیار نہ تھے۔ قرآن کریم ان کے اس موقف کی تردیدیوں کرتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے ، چن لے۔ اس طرح اللہ اپنی جانب سے صرف اسی کو متوجہ کرتا ہے جو اللہ کی پناہ میں آنا چاہے اور دھتکارے ہوئے لوگوں کو بذریعہ توبہ واپس کرتا ہے : اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینیب (42 : 13) ” اللہ جسے چاہتا ہے ، اپنا لیتا ہے اور جو اپنی طرف اسی کو راستہ دکھاتا ہے جو اس کی رجوع کرے “۔ تو اللہ نے محمد ﷺ کو چن لیا۔ اور جو بھی اب اللہ کے بتائے ہوئے راستے کی طرف متوجہ ہوگا اللہ اسے ہدایت دے دے گا۔ اب روئے سخن مذکور بالا بڑے انبیاء کے متبعین کے موقف کی طرف پھرتا ہے ، جن کو اللہ نے ایک ہی دین دے کر بھیجا تھا اور انہوں نے قوم کے سامنے ایک ہی دین پیش کیا تھا مگر متبعین نے اس میں تفرقہ اختیار کرلیا : وما تفرقوا الا من بعد ۔۔۔۔۔۔ شک منہ مریب (42 : 14) ” لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا ، وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اگر تیرا رب پہلے ہی نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقررہ تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ، وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “ ۔ ایک تو یہ کہ یہ اختلافات جہالت کی وجہ سے نہ تھے۔ یہ وجہ نہ تھی کہ ان کو اس اصل حقیقت کا پتہ نہ تھا اور یہ پتہ نہ تھا کہ رسولوں کی تعلیم کا ماخذ کیا ہے بلکہ انہوں نے اچھی طرح جانتے بوجھتے شک کیا۔ آپس کی دشمنی کی وجہ سے تفرقہ کیا۔ بغض اور حسد کی وجہ سے یہ اختلافات ہوئے۔ ظالمانہ خواہشات نے مجبور کیا کہ وہ تفرقہ کریں۔ اور ناقاب کنٹرول خواہشات نفس نے ان کو مجبور کیا۔ یہ تفرقہ اس لیے نہیں ہوا کہ ان کے پاس درست عقائد کے لئے کوئی دلیل نہ تھی یا جو نظام زندگی انہیں دیا گیا تھا ، اس میں سے ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا ۔ اگر وہ اپنے حقیقی عقیدے اور شریعت پر مخلصانہ طور پر قائم رہتے تو تفرقہ نہ کرتے۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق تھے کہ اللہ ان کو پکڑ لیتا اور ان پر جلدی اللہ کا عذاب آجاتا ، ان کی سرکشی اور ان کے ظلم کی وجہ سے جو انہوں نے یہ تفریق کر کے دین حق کے ساتھ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے تدبیر کائنات کے سلسلے میں پہلے سے ایک فیصلہ کردیا تھا اور ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دے دی گئی تھی۔ ولو لا کلمۃ سبقت ۔۔۔۔۔ لقضی بینھم (42 : 14) ” اگر تیرا رب پہلے یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “۔ اور اس طرح ان اختلافات میں حق ، حق ہوچکا ہوتا اور باطل باطل ہوچکا ہوتا اور معاملہ اس دنیا ہی کی زندگی میں ہی ختم ہوچکا ہوتا لیکن ان کو وقت معلوم تک مہلت دے دی گئی ہے۔ وہ نسلیں جو ان ابنائے سابقین کے پہلے متبعین کی وارث بنیں جنہوں نے تفرقہ کیا تھا۔ اور یہ کتاب ان کو ملی تو ان کو یہ کتاب اور یہ نظریہ یقینی انداز میں نہ ملا۔ کیونکہ اختلافات کا ریکارڈ ان کے سامنے تھا اور اس سے کوئی جزی اور قطعی بات سامنے نہ آتی تھی۔ تمام فرقہ وارانہ اختلافات عمل ، غیر واضح اور پریشان کن تھے۔ وان الذین اور ثوا ۔۔۔۔۔ منہ مریب (42 : 14) ” اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے تھے “۔ یوں ہوتا ہے عقیدہ تو اس مضبوط چٹان کی طرح ہوتا ہے جس کے اردگرد سے زمین حرکت میں ہوتی ہے لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے۔ اور ایک مومن اس راسخ چٹان پر مضبوطی سے جم جاتا ہے اور اسے کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا اور عقیدہ وہ ستارہ ہوتا ہے جو اپنی جگہ جما ہوا ہوتا ہے اور لہروں اور طوفانوں کے باوجود مومن کی نظر بلند افق پر اپنے ستارے پر ہوتی ہے جو سمت کا تعین کرتا ہے۔ اس طرح ایک مومن راستہ نہیں بھولتا اگرچہ تاریک سمندروں میں ہو۔ لیکن جب عقیدہ اور نظریہ ہی مشکوک ہوجائے تو پھر کسی کی کوئی بات مستقل نہیں ہو سکتی۔ نہ کسی بےعقیدہ شخص کی کوئی بات مستقل ہو سکتی ہے۔ نہ ایسا شخص کسی بھی سمت پر مستقل رہ سکتا ہے۔ نہ کسی راستے پر مطمئن ہو سکتا ہے۔ عقیدہ اور نظریہ ہوتا ہی اس لیے ہے کہ لوگوں کا نصب العین اور ان کی سمت متعین کرے اور پھر وہ دوسرے لوگوں کی اس راہ پر چلتے ہوئے قیادت کریں۔ اگر وہ خود اضطراب اور شک میں پڑے ہوں تو وہ کسی کی قیادت نہیں کرسکتے۔ خفتہ را خفتہ کے کند بیدار۔۔۔۔ جب اس دنیا میں دین اسلام آیا تو امم سابقہ کے متبعین کی یہی حالت تھی۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی اپنی ” کتاب عالم اسلام میں مشرقیت و مغربیت کی کشمکش “ میں لکھتے ہیں : ” حقیقت یہ ہے کہ دوسرے بڑے ادیان کے لیڈر کھیلنے والوں اور کھلاڑیوں کے ہاتھ میں شکار ہیں اور ان پر تحریف کرنے والوں اور منافقوں کا اثر ہے۔ یہ ادیان اپنی روح اور شکل گنوا بیٹھے ہیں۔ اگر ان ادیان کے پہلے ماننے والوں کو اللہ اب زندہ کر دے تو وہ خود اپنے نام سے منسوب ان ادیان کو نہ پہچان سکیں۔ چناچہ کبھی تو ادیان تہذیب و تمدن اور حکومت و سیاست عطا کرنے والے تھے۔ اب وہاں سے بدنظمی ، خلل اور اختلافات اور طوائف الملوکی ہوتی ہے ، حکام بد عمل ہیں ، اپنی ذات میں گم ہیں۔ ان کے پاس اقوام اور دنیا کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے۔ مقاصد عالیہ کے اعتبار سے وہ مفلس ہیں۔ ان کی زندگی کے سوتے خشک ہوچکے ہیں ، ہدایات سماوی کی روشنی میں ان کے پاس کوئی راہ نہیں ہے ، نہ کوئی مستقل اور محکم نظام زندگی ہے۔ مشہور امریکی مصنف جارج ایچ۔ ڈینسن اپنی کتاب جذبات بحیثیت اساس تمدن (Emotion as the basis of civilization ) میں لکھتے ہیں : ” پانچویں صدی اور چھٹی صدی عیسوی میں اہل دین کی دنیا تباہی کے ایک گہرے گڑھے کے دہانے پر تھی۔ کیونکہ جو نظریات تمدن کو جنم دینے میں ممدو معاون تھے ، وہ ختم ہوچکے تھے اور اس وقت کے موجودہ ادیان کی جگہ لینے کے لئے کوئی نظریہ موجود نہ تھا۔ اور یہ واضح طور پر نظر آنے لگا تھا کہ جس انسانی تہذیب کی تعمیر و ترقی پر چار ہزار سال گزرے تھے وہ ختم اور برباد ہونے والی ہے اور انسانیت دوبارہ جہالت ، قبائلی نظام کے چنگل میں پھنسنے والی ہے ، جس میں کوئی قانون و نظام نہیں ہوتا کیونکہ مسیحیت نے جو اجتماعی نظم و نسق قائم کیا تھا ، اس کی عمارت گرنے ہی والی تھی۔ اس لیے کہ عیسائیت فرقے فرقے ہوگئی تھی۔ اس کے اندر کوئی اتحاد اور نظم نہ تھا۔ اس دور میں تمدن کی مثال اس طرح تھی کہ وہ ایک عظیم درخت کی طرح تھی جس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں اور اس کا سایہ تمام دنیا پر چھا یا ہوا تھا ، یہ درخت سخت طوفانوں کی رد میں نہایت کمزوری کی حالت میں کھڑا تھا اور ہلاکت اس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی ، کہ اس اثناء میں ایک شخص (حضرت محمد ﷺ پیدا ہوگیا “۔ یہ صورت حال اس لیے تھی کہ ادیان سماوی کے حاملین نے باہم سخت اختلافات شروع کر دئیے تھے ، بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ اور ادیان کے اصحاب اولین کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنے تھے ان کو ان کتابوں کی صداقت کے بارے ہی میں شک تھا۔ ان وجوہات سے اور پوری دنیا میں انسانیت کی قیادت کے لئے کسی مرکز کے ناپید ہوجانے کی وجہ سے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ سیدھے راستے پر چل پڑیں لوگوں کو دعوت دیں اور آپ کی واضح اور بین نظریات اور آپ کی مستحکم دعوت کے بارے میں لوگ جو چاہیں ، کہیں۔ آپ کسی کی طرف متوجہ نہ ہوں اور یہ اعلان کردیں کہ یہ دعوت اور یہ نظام وہی ہے جسے اللہ نے تمام انبیاء کو دیا تھا اور اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ فلذلک فادع واستقم کما امرت ۔۔۔۔۔۔۔۔ والیہ المصیر (42 : 15) ” (چونکہ یہ حالت پیدا ہوچکی ہے) اس لیے اے محمد ﷺ اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو ، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجاؤ، اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، اور ان سے کہہ دو کہ :” اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ایک روز سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے “۔ اب دعوت اسلامی گویا پوری انسانیت کے لئے نئی قیادت تھی۔ یہ ایک دانشمند ، صحیح الفکر قیادت تھی جس کا نظام زندگی واضح تھا ، جس کو یقین محکم حاصل تھا۔ یہ اللہ کی طرف بلاتی تھی اور اپنے مقصد کے لئے علی وجہ البصیرت کام کر رہی تھی اور بغیر کسی کج روی کے امر الٰہی پر گامزن تھی۔ اور وہ اپنے فیصلوں میں بدلتے ہوئے مقاصد اور بدلتی ہوئی خواہشات کے پیچھے نہ جاتی تھی۔ ایسی قیادت جس کا پیغام ایک تھا ، جس کی کتاب ایک تھی ، نظام شریع ایک تھا ، جس کا ایمان ماخذ ایمان کی طرف راجع تھا۔ اور جس نے تمام انسانیت کو ایک اہم اصول کی طرف لوٹا دیا تھا۔ وقل امنت بما انزل اللہ من کتب (52 : 15) ” اور ان سے کہہ دو کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں “۔ اس کے بعد یہ دعوت یہ تحریک دعوت حق کو لے کر دنیا میں سربلند ہوتی ہے اور اقتدار اعلیٰ حاصل کرتا ہے تا کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل کرے۔ وامرت لاعدل بینکم (42 : 15) ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں “ ۔ یہ ایسی قیادت ہے جس کے پاس اقتدار بھی ہے اور یہ زمین میں عدل گستری کا اعلان کرتی ہے۔ (یہ بات حضور ﷺ اس وقت کر رہے ہیں جب دعوت اسلامی مکہ میں ہے اور داعی اور تحریک شعب ابی طالب میں محصور ہیں ، ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن وہاں بھی دعوت اسلامی کا مزاج ، چھا جانے والا مزاج بالکل واضح ہے ) (مترجم) ۔ یہ دعوت اعلان کرتی ہے کہ رب واحد ہے۔ اللہ ربنا وربکم (52 : 15) ” اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی “۔ اور یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور جواب وہی انفرادی ہے۔ لنا اعمالنا ولکم اعمالکم (52 : 15) ” ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے ، تمہارے لیے ہیں “ ۔ اس لیے اب فضول بحث و مباحثہ ختم ہونا چاہئے۔ لا حجۃ بیننا وبینکم (52 : 15) ” ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں “۔ اللہ یجمع بینناوالیہ المصیر (42 : 15) ” اللہ ہم سب کو ایک روز جمع کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹنا ہے “۔ یہ ایک آیت ہے لیکن یہ دعوت اسلامی کے مزاج کی وضاحت پوری طرح کردیتی ہے۔ اس آیت کے فقرے بھی چھوٹے چھوٹے ، لیکن وہ نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن بات کرتے ہیں۔ یہ ایک دعوت ہے جس نے اپنی راہ پر گامزن رہنا ہے اور انسانوں کی خواہشات کا کوئی لحاظ نہیں رکھنا۔ اس نے اس کرۂ ارض پر اقتدار اعلیٰ پر خالص ہونا ہے تا کہ وہ عدل کرسکے۔ اس نے تمام انسانوں کو ایک سیدھی راہ دکھانی ہے جو صراط مستقیم ہے اور یہی راہ تمام رسولوں کی راہ رہی ہے۔ چناچہ دعوت اسلامی کی اس رنگ میں وضاحت کرنے کے بعد اور اہل ایمان کے ایک گروہ کی جانب سے اس دعوت پر لبیک کہنے کے بعد ، الجھنے والوں اور بےفائدہ مباحثے کرنے والوں کی باتوں کی طرف التفات کرنے کا کوئی موقعہ نہیں رہا ہے۔ ان کی تمام دلیلیں باطل ہوچکی ہیں ، ان کا کوئی وزن نہیں ہے ، نہ اہمیت ہے۔ لہٰذا ان کے بارے میں اب فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور ان کو اللہ کی شدید دھمکی کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ والذین یحاجون فی اللہ ۔۔۔۔۔ عذاب شدید (42 : 16) ” اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ اللہ کے معاملے میں جھگڑتے ہیں ، ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر اس کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے “۔ جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ان کی حجت اللہ کے نزدیک ہی باطل ہے تو پھر ان کا جھگڑا باطل ہے اور ان کی دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔ زمین پر بھی ان کی دلیل مسترد ہے اور آخرت میں ان کو اللہ کے شدید غضب اور عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور یہ فضول جھگڑے اور حجت بازی ان کے لئے موزوں سزا ہے جبکہ وہ دیکھتے بھی ہیں کہ نہایت ہی مخلص اور دانشمند لوگوں نے اس دعوت کو قبول کرلیا ہے۔ لہٰذا ان کی یہ بحث اور منا ظرہ حق کی وضاحت کے بعد ہے اور کچھ دوسرے مقاصد کے لئے ہیں۔ اب سیاق کلام کا رخ پھر پہلے موضوع کی طرف

الشورى 42:17

آیت نمبر 17 تا 19 اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔ اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے درمیان اس دنیا میں میزان لگا کر عدل کرنا ہے ، اور آخرت میں بھی میزان لگا کر عدل و انصاف ہوگا ۔ قیام قیامت چونکہ ایک غیب ہے اور اس کے قیام کی گھڑی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو۔ وما یدریک لعل الساعۃ قریب (42 : 17) ” اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کی گھڑی قریب آلگی ہو “۔ اور لوگ اس سے غافل ہوں اور وہ ان کے قریب ہو۔ اور یہ آخری عدل و انصاف کا ترازو بھی نصیب ہوجائے جہاں کسی عمل کو مہمل نہ چھوڑا جائے گا اور نہ کوئی گم ہوگا۔ یہاں قیامت کے بارے میں مومنین اور منکرین دونوں کی سوچ کو بتایا جاتا ہے۔ یستعجل بھا الذین ۔۔۔۔ انھا الحق (42 : 18) ” جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں ، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ یقیناً آنے والی ہے “۔ ظاہر کہ جو اس پر ایمان نہیں لاتے ان کے دلوں پر اس کا خوف ہی نہیں ہے اور ان کو اندازہ نہیں ہے کہ وہاں انہیں کیا پیش آنے والا ہے۔ اس لیے وہ بطور مزاح اس کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، یا اس کے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اندھے ہیں اور ان کو نظر ہی نہیں آتا۔ رہے وہ لوگ جو ایماندار ہیں تو انہیں قیامت پر بھی یقین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں اور نہایت خوف اور ڈر سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو کیا ہوگا ، وہ حق ہے۔ اس کا آنا حق ہے اور مومن اسے جانتا ہے کیونکہ مومن اور حق کے درمیان رابطہ ہے۔ الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (42 : 18) ” خوب سن لو ، جو لوگ اس گھڑی میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں ، وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ انہوں نے گمراہی میں غلو کرلیا ہے۔ اور اس راہ پر بہت دور نکل گئے ہیں ، اب ان کے لئے اس قدر دور نکلنے کے بعد واپسی ممکن نہیں ہے۔ اب آخرت ، اس کے انکار اور اس کے بارے میں لا پرواہی اور اس سے ڈرنے کے مضمون سے روئے سخن اس دنیا میں لوگوں کے رزق کی بحث کی طرف مڑتا ہے جو اللہ کسی کو کم ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ اللہ لطیف بعبادہ برزق من یشاء وھو القوی العزیز (42 : 19) ” اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ہے ، دیتا ہے اور وہ بڑی قوت ولا اور زبردست ہے “۔ بظاہر آخرت اور بندوں کے رزق کے مضامین کے درمیان کوئی خاص مناسبت اور ربط نظر نہیں آتا۔ لیکن بعد کی آیت پڑھنے کے بعد ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔ من کان یرید حرث ۔۔۔۔۔ الاخرۃ من نصیب (42 : 20) ” جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا “۔ بس اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ، دیتا ۔ ہے صالح کو بھی دیتا ہے ، برے کو بھی دیتا ہے ، مومن کو بھی دیتا ہے ، کافر کو بھی دیتا ہے ، کیونکہ انسان خود اپنے رزق کا بندو بست نہیں سکتے ، جب اللہ نے ان کو زندگی دی ہے تو زندگی کے بنیادی اسباب بھی دئیے ہیں ، اگر اللہ کافر ، فاسق اور بدکار کو رزق نہ دیتا تو وہ اپنے رزق کا بندوبست تو خود نہ کرسکتے اور بھوک اور پیاس سے مرجاتے ۔ جب وہ زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھ کر مہلت دینے کا جو قانون مقرر فرمایا تھا ، وہ پورا نہ ہوتا۔ اور یہ نہ ہو سکتا تھا کہ لوگ دنیا میں آزادانہ عمل کریں اور ان کے اعمال کا حساب آخرت میں ہو۔ اس لیے اللہ نے رزق کا معاملہ نیکی اور برائی کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ ایمان وکفر کے ساتھ رزق کا تعلق نہیں ہے اور رزق کے معاملے کو انسانوں کی اجتماعی زندگی کے حالات پر رکھ دیا ، پھر ان اجتماعی حالات میں بندوں کے طرز عمل پر رکھ دیا اور مال کو بھی لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش بنا دیا جس پر جزاء و سزا کا دارو مدار ٹھہرا۔ پھر آخرت اور دنیا کے لئے علیحدہ علیحدہ کھیت قرار دیا۔ ہر آدمی کو اختیار دے دیا کہ وہ دنیا کے کھیت میں محنت کرتا ہے یا آخرت کے کھیت میں۔ جو شخص آخرت کے لئے کھیتی باڑی کرتا ہے اسے آخرت کی فصل ملے گی اور اللہ بطور انعام اس کے کھیت میں اضافہ کر دے گا اور اس کی نیت کی وجہ سے اس کام میں اس کے لئے اسباب فراہم کر دے گا۔ اس میں برکت دے گا۔ اس آخرت کی کھیتی میں اس کے لئے ضروریات دنیا کا بھی انتظام ہوگا۔ دنیا کے لئے بھی رزق اسے ملے گا ۔ اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ بلکہ یہی دنیا کا رزق ہی فلاح آخرت قرار پائے گا۔ جب وہ اس دنیا کے رزق کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس میں ، اللہ کے حکم کے مطابق تصرف۔ انفاق فی سبیل اللہ کرے گا۔ اور جو شخص صرف دنیا کا کھیت چاہے تو اللہ اسے دنیا کا سازوسامان دے گا اور جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہو وہ اسے ملے گا۔ لیکن آخرت میں اس کا حصہ نہ ہوگا اس لیے کہ اس نے آخرت کی کھیت میں کام ہی نہیں کیا کہ وہاں اس کے لئے کوئی چیز منتظر ہو۔ اب ذرا طلبگار ان کشت زار دنیا اور طلب گار ان کشت زار آخرت پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ صرف دنیا کے کھیت میں کام کرنے والے بہت ہی احمق ہیں۔ جہاں تک دنیا کے رزق کا تعلق ہے تو اللہ دونوں فریقوں کو دیتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے جس قدر اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ ہاں آخرت کے کھیت میں کام کرنے والے کے لئے آخرت کا حصہ صرف اس کا ہوتا ہے۔ صرف دنیا کے کھیت کا انتخاب کرنے والوں میں فقراء بھی ہوتے ہیں اور امراء بھی۔ یعنی جس کے پاس جس قدر دولت ہے ، اس معاشرے کے عام حالات کے مطابق جس میں وہ رہتا ہے ، اور اس کی ذاتی صلاحیت اور محنت کے مطابق۔ یہی حال ہے آخرت کے کھیت میں کام کرنے والوں کا کہ ان میں امراء بھی ہوں گے اور فقراء بھی۔ کیونکہ رزق کے معاملے میں مومن اور کافر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اختلاف تو یہاں ہوگا کہ کون کس کھیت کا انتخاب کرتا ہے ، فقط دنیا کا ، یا آخرت کا۔ احمق وہ ہے جو آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے جس میں دنیا کا رزق بھی ہے اور آخرت کا بھی۔ اور جب وہ آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے تو دنیا میں بھی اسے اسی قدر ملتا ہے جو مقدر ہے۔ غرض معاملہ اس سچائی کے مطابق اپنے انجام کو پہنچے گا جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کی ہے۔ حق اور انصاف یہ ہے کہ تمام زندہ چیزوں کو رزق دیا جائے اور آخرت کا حصہ صرف ان لوگوں کے لئے ہو جنہوں نے آخرت کے لئے کام کیا اور جو آخرت کے لئے کام نہ کریں وہ آخرت میں محروم ہوں۔ ٭٭٭٭ اب پھر ایک سفر پہلے موضوع پر یعنی توحید و رسالت پر

الشورى 42:18

آیت نمبر 17 تا 19 اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔ اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے درمیان اس دنیا میں میزان لگا کر عدل کرنا ہے ، اور آخرت میں بھی میزان لگا کر عدل و انصاف ہوگا ۔ قیام قیامت چونکہ ایک غیب ہے اور اس کے قیام کی گھڑی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو۔ وما یدریک لعل الساعۃ قریب (42 : 17) ” اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کی گھڑی قریب آلگی ہو “۔ اور لوگ اس سے غافل ہوں اور وہ ان کے قریب ہو۔ اور یہ آخری عدل و انصاف کا ترازو بھی نصیب ہوجائے جہاں کسی عمل کو مہمل نہ چھوڑا جائے گا اور نہ کوئی گم ہوگا۔ یہاں قیامت کے بارے میں مومنین اور منکرین دونوں کی سوچ کو بتایا جاتا ہے۔ یستعجل بھا الذین ۔۔۔۔ انھا الحق (42 : 18) ” جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں ، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ یقیناً آنے والی ہے “۔ ظاہر کہ جو اس پر ایمان نہیں لاتے ان کے دلوں پر اس کا خوف ہی نہیں ہے اور ان کو اندازہ نہیں ہے کہ وہاں انہیں کیا پیش آنے والا ہے۔ اس لیے وہ بطور مزاح اس کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، یا اس کے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اندھے ہیں اور ان کو نظر ہی نہیں آتا۔ رہے وہ لوگ جو ایماندار ہیں تو انہیں قیامت پر بھی یقین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں اور نہایت خوف اور ڈر سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو کیا ہوگا ، وہ حق ہے۔ اس کا آنا حق ہے اور مومن اسے جانتا ہے کیونکہ مومن اور حق کے درمیان رابطہ ہے۔ الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (42 : 18) ” خوب سن لو ، جو لوگ اس گھڑی میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں ، وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ انہوں نے گمراہی میں غلو کرلیا ہے۔ اور اس راہ پر بہت دور نکل گئے ہیں ، اب ان کے لئے اس قدر دور نکلنے کے بعد واپسی ممکن نہیں ہے۔ اب آخرت ، اس کے انکار اور اس کے بارے میں لا پرواہی اور اس سے ڈرنے کے مضمون سے روئے سخن اس دنیا میں لوگوں کے رزق کی بحث کی طرف مڑتا ہے جو اللہ کسی کو کم ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ اللہ لطیف بعبادہ برزق من یشاء وھو القوی العزیز (42 : 19) ” اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ہے ، دیتا ہے اور وہ بڑی قوت ولا اور زبردست ہے “۔ بظاہر آخرت اور بندوں کے رزق کے مضامین کے درمیان کوئی خاص مناسبت اور ربط نظر نہیں آتا۔ لیکن بعد کی آیت پڑھنے کے بعد ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔ من کان یرید حرث ۔۔۔۔۔ الاخرۃ من نصیب (42 : 20) ” جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا “۔ بس اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ، دیتا ۔ ہے صالح کو بھی دیتا ہے ، برے کو بھی دیتا ہے ، مومن کو بھی دیتا ہے ، کافر کو بھی دیتا ہے ، کیونکہ انسان خود اپنے رزق کا بندو بست نہیں سکتے ، جب اللہ نے ان کو زندگی دی ہے تو زندگی کے بنیادی اسباب بھی دئیے ہیں ، اگر اللہ کافر ، فاسق اور بدکار کو رزق نہ دیتا تو وہ اپنے رزق کا بندوبست تو خود نہ کرسکتے اور بھوک اور پیاس سے مرجاتے ۔ جب وہ زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھ کر مہلت دینے کا جو قانون مقرر فرمایا تھا ، وہ پورا نہ ہوتا۔ اور یہ نہ ہو سکتا تھا کہ لوگ دنیا میں آزادانہ عمل کریں اور ان کے اعمال کا حساب آخرت میں ہو۔ اس لیے اللہ نے رزق کا معاملہ نیکی اور برائی کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ ایمان وکفر کے ساتھ رزق کا تعلق نہیں ہے اور رزق کے معاملے کو انسانوں کی اجتماعی زندگی کے حالات پر رکھ دیا ، پھر ان اجتماعی حالات میں بندوں کے طرز عمل پر رکھ دیا اور مال کو بھی لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش بنا دیا جس پر جزاء و سزا کا دارو مدار ٹھہرا۔ پھر آخرت اور دنیا کے لئے علیحدہ علیحدہ کھیت قرار دیا۔ ہر آدمی کو اختیار دے دیا کہ وہ دنیا کے کھیت میں محنت کرتا ہے یا آخرت کے کھیت میں۔ جو شخص آخرت کے لئے کھیتی باڑی کرتا ہے اسے آخرت کی فصل ملے گی اور اللہ بطور انعام اس کے کھیت میں اضافہ کر دے گا اور اس کی نیت کی وجہ سے اس کام میں اس کے لئے اسباب فراہم کر دے گا۔ اس میں برکت دے گا۔ اس آخرت کی کھیتی میں اس کے لئے ضروریات دنیا کا بھی انتظام ہوگا۔ دنیا کے لئے بھی رزق اسے ملے گا ۔ اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ بلکہ یہی دنیا کا رزق ہی فلاح آخرت قرار پائے گا۔ جب وہ اس دنیا کے رزق کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس میں ، اللہ کے حکم کے مطابق تصرف۔ انفاق فی سبیل اللہ کرے گا۔ اور جو شخص صرف دنیا کا کھیت چاہے تو اللہ اسے دنیا کا سازوسامان دے گا اور جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہو وہ اسے ملے گا۔ لیکن آخرت میں اس کا حصہ نہ ہوگا اس لیے کہ اس نے آخرت کی کھیت میں کام ہی نہیں کیا کہ وہاں اس کے لئے کوئی چیز منتظر ہو۔ اب ذرا طلبگار ان کشت زار دنیا اور طلب گار ان کشت زار آخرت پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ صرف دنیا کے کھیت میں کام کرنے والے بہت ہی احمق ہیں۔ جہاں تک دنیا کے رزق کا تعلق ہے تو اللہ دونوں فریقوں کو دیتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے جس قدر اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ ہاں آخرت کے کھیت میں کام کرنے والے کے لئے آخرت کا حصہ صرف اس کا ہوتا ہے۔ صرف دنیا کے کھیت کا انتخاب کرنے والوں میں فقراء بھی ہوتے ہیں اور امراء بھی۔ یعنی جس کے پاس جس قدر دولت ہے ، اس معاشرے کے عام حالات کے مطابق جس میں وہ رہتا ہے ، اور اس کی ذاتی صلاحیت اور محنت کے مطابق۔ یہی حال ہے آخرت کے کھیت میں کام کرنے والوں کا کہ ان میں امراء بھی ہوں گے اور فقراء بھی۔ کیونکہ رزق کے معاملے میں مومن اور کافر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اختلاف تو یہاں ہوگا کہ کون کس کھیت کا انتخاب کرتا ہے ، فقط دنیا کا ، یا آخرت کا۔ احمق وہ ہے جو آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے جس میں دنیا کا رزق بھی ہے اور آخرت کا بھی۔ اور جب وہ آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے تو دنیا میں بھی اسے اسی قدر ملتا ہے جو مقدر ہے۔ غرض معاملہ اس سچائی کے مطابق اپنے انجام کو پہنچے گا جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کی ہے۔ حق اور انصاف یہ ہے کہ تمام زندہ چیزوں کو رزق دیا جائے اور آخرت کا حصہ صرف ان لوگوں کے لئے ہو جنہوں نے آخرت کے لئے کام کیا اور جو آخرت کے لئے کام نہ کریں وہ آخرت میں محروم ہوں۔ ٭٭٭٭ اب پھر ایک سفر پہلے موضوع پر یعنی توحید و رسالت پر

الشورى 42:19

آیت نمبر 17 تا 19 اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔ اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے درمیان اس دنیا میں میزان لگا کر عدل کرنا ہے ، اور آخرت میں بھی میزان لگا کر عدل و انصاف ہوگا ۔ قیام قیامت چونکہ ایک غیب ہے اور اس کے قیام کی گھڑی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو۔ وما یدریک لعل الساعۃ قریب (42 : 17) ” اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کی گھڑی قریب آلگی ہو “۔ اور لوگ اس سے غافل ہوں اور وہ ان کے قریب ہو۔ اور یہ آخری عدل و انصاف کا ترازو بھی نصیب ہوجائے جہاں کسی عمل کو مہمل نہ چھوڑا جائے گا اور نہ کوئی گم ہوگا۔ یہاں قیامت کے بارے میں مومنین اور منکرین دونوں کی سوچ کو بتایا جاتا ہے۔ یستعجل بھا الذین ۔۔۔۔ انھا الحق (42 : 18) ” جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں ، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ یقیناً آنے والی ہے “۔ ظاہر کہ جو اس پر ایمان نہیں لاتے ان کے دلوں پر اس کا خوف ہی نہیں ہے اور ان کو اندازہ نہیں ہے کہ وہاں انہیں کیا پیش آنے والا ہے۔ اس لیے وہ بطور مزاح اس کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، یا اس کے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اندھے ہیں اور ان کو نظر ہی نہیں آتا۔ رہے وہ لوگ جو ایماندار ہیں تو انہیں قیامت پر بھی یقین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں اور نہایت خوف اور ڈر سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو کیا ہوگا ، وہ حق ہے۔ اس کا آنا حق ہے اور مومن اسے جانتا ہے کیونکہ مومن اور حق کے درمیان رابطہ ہے۔ الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (42 : 18) ” خوب سن لو ، جو لوگ اس گھڑی میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں ، وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ انہوں نے گمراہی میں غلو کرلیا ہے۔ اور اس راہ پر بہت دور نکل گئے ہیں ، اب ان کے لئے اس قدر دور نکلنے کے بعد واپسی ممکن نہیں ہے۔ اب آخرت ، اس کے انکار اور اس کے بارے میں لا پرواہی اور اس سے ڈرنے کے مضمون سے روئے سخن اس دنیا میں لوگوں کے رزق کی بحث کی طرف مڑتا ہے جو اللہ کسی کو کم ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ اللہ لطیف بعبادہ برزق من یشاء وھو القوی العزیز (42 : 19) ” اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ہے ، دیتا ہے اور وہ بڑی قوت ولا اور زبردست ہے “۔ بظاہر آخرت اور بندوں کے رزق کے مضامین کے درمیان کوئی خاص مناسبت اور ربط نظر نہیں آتا۔ لیکن بعد کی آیت پڑھنے کے بعد ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔ من کان یرید حرث ۔۔۔۔۔ الاخرۃ من نصیب (42 : 20) ” جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا “۔ بس اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ، دیتا ۔ ہے صالح کو بھی دیتا ہے ، برے کو بھی دیتا ہے ، مومن کو بھی دیتا ہے ، کافر کو بھی دیتا ہے ، کیونکہ انسان خود اپنے رزق کا بندو بست نہیں سکتے ، جب اللہ نے ان کو زندگی دی ہے تو زندگی کے بنیادی اسباب بھی دئیے ہیں ، اگر اللہ کافر ، فاسق اور بدکار کو رزق نہ دیتا تو وہ اپنے رزق کا بندوبست تو خود نہ کرسکتے اور بھوک اور پیاس سے مرجاتے ۔ جب وہ زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھ کر مہلت دینے کا جو قانون مقرر فرمایا تھا ، وہ پورا نہ ہوتا۔ اور یہ نہ ہو سکتا تھا کہ لوگ دنیا میں آزادانہ عمل کریں اور ان کے اعمال کا حساب آخرت میں ہو۔ اس لیے اللہ نے رزق کا معاملہ نیکی اور برائی کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ ایمان وکفر کے ساتھ رزق کا تعلق نہیں ہے اور رزق کے معاملے کو انسانوں کی اجتماعی زندگی کے حالات پر رکھ دیا ، پھر ان اجتماعی حالات میں بندوں کے طرز عمل پر رکھ دیا اور مال کو بھی لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش بنا دیا جس پر جزاء و سزا کا دارو مدار ٹھہرا۔ پھر آخرت اور دنیا کے لئے علیحدہ علیحدہ کھیت قرار دیا۔ ہر آدمی کو اختیار دے دیا کہ وہ دنیا کے کھیت میں محنت کرتا ہے یا آخرت کے کھیت میں۔ جو شخص آخرت کے لئے کھیتی باڑی کرتا ہے اسے آخرت کی فصل ملے گی اور اللہ بطور انعام اس کے کھیت میں اضافہ کر دے گا اور اس کی نیت کی وجہ سے اس کام میں اس کے لئے اسباب فراہم کر دے گا۔ اس میں برکت دے گا۔ اس آخرت کی کھیتی میں اس کے لئے ضروریات دنیا کا بھی انتظام ہوگا۔ دنیا کے لئے بھی رزق اسے ملے گا ۔ اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ بلکہ یہی دنیا کا رزق ہی فلاح آخرت قرار پائے گا۔ جب وہ اس دنیا کے رزق کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس میں ، اللہ کے حکم کے مطابق تصرف۔ انفاق فی سبیل اللہ کرے گا۔ اور جو شخص صرف دنیا کا کھیت چاہے تو اللہ اسے دنیا کا سازوسامان دے گا اور جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہو وہ اسے ملے گا۔ لیکن آخرت میں اس کا حصہ نہ ہوگا اس لیے کہ اس نے آخرت کی کھیت میں کام ہی نہیں کیا کہ وہاں اس کے لئے کوئی چیز منتظر ہو۔ اب ذرا طلبگار ان کشت زار دنیا اور طلب گار ان کشت زار آخرت پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ صرف دنیا کے کھیت میں کام کرنے والے بہت ہی احمق ہیں۔ جہاں تک دنیا کے رزق کا تعلق ہے تو اللہ دونوں فریقوں کو دیتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے جس قدر اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ ہاں آخرت کے کھیت میں کام کرنے والے کے لئے آخرت کا حصہ صرف اس کا ہوتا ہے۔ صرف دنیا کے کھیت کا انتخاب کرنے والوں میں فقراء بھی ہوتے ہیں اور امراء بھی۔ یعنی جس کے پاس جس قدر دولت ہے ، اس معاشرے کے عام حالات کے مطابق جس میں وہ رہتا ہے ، اور اس کی ذاتی صلاحیت اور محنت کے مطابق۔ یہی حال ہے آخرت کے کھیت میں کام کرنے والوں کا کہ ان میں امراء بھی ہوں گے اور فقراء بھی۔ کیونکہ رزق کے معاملے میں مومن اور کافر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اختلاف تو یہاں ہوگا کہ کون کس کھیت کا انتخاب کرتا ہے ، فقط دنیا کا ، یا آخرت کا۔ احمق وہ ہے جو آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے جس میں دنیا کا رزق بھی ہے اور آخرت کا بھی۔ اور جب وہ آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے تو دنیا میں بھی اسے اسی قدر ملتا ہے جو مقدر ہے۔ غرض معاملہ اس سچائی کے مطابق اپنے انجام کو پہنچے گا جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کی ہے۔ حق اور انصاف یہ ہے کہ تمام زندہ چیزوں کو رزق دیا جائے اور آخرت کا حصہ صرف ان لوگوں کے لئے ہو جنہوں نے آخرت کے لئے کام کیا اور جو آخرت کے لئے کام نہ کریں وہ آخرت میں محروم ہوں۔ ٭٭٭٭ اب پھر ایک سفر پہلے موضوع پر یعنی توحید و رسالت پر

الشورى 42:20

آیت نمبر 17 تا 19 اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔ اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے درمیان اس دنیا میں میزان لگا کر عدل کرنا ہے ، اور آخرت میں بھی میزان لگا کر عدل و انصاف ہوگا ۔ قیام قیامت چونکہ ایک غیب ہے اور اس کے قیام کی گھڑی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو۔ وما یدریک لعل الساعۃ قریب (42 : 17) ” اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کی گھڑی قریب آلگی ہو “۔ اور لوگ اس سے غافل ہوں اور وہ ان کے قریب ہو۔ اور یہ آخری عدل و انصاف کا ترازو بھی نصیب ہوجائے جہاں کسی عمل کو مہمل نہ چھوڑا جائے گا اور نہ کوئی گم ہوگا۔ یہاں قیامت کے بارے میں مومنین اور منکرین دونوں کی سوچ کو بتایا جاتا ہے۔ یستعجل بھا الذین ۔۔۔۔ انھا الحق (42 : 18) ” جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں ، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ یقیناً آنے والی ہے “۔ ظاہر کہ جو اس پر ایمان نہیں لاتے ان کے دلوں پر اس کا خوف ہی نہیں ہے اور ان کو اندازہ نہیں ہے کہ وہاں انہیں کیا پیش آنے والا ہے۔ اس لیے وہ بطور مزاح اس کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، یا اس کے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اندھے ہیں اور ان کو نظر ہی نہیں آتا۔ رہے وہ لوگ جو ایماندار ہیں تو انہیں قیامت پر بھی یقین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں اور نہایت خوف اور ڈر سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو کیا ہوگا ، وہ حق ہے۔ اس کا آنا حق ہے اور مومن اسے جانتا ہے کیونکہ مومن اور حق کے درمیان رابطہ ہے۔ الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (42 : 18) ” خوب سن لو ، جو لوگ اس گھڑی میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں ، وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ انہوں نے گمراہی میں غلو کرلیا ہے۔ اور اس راہ پر بہت دور نکل گئے ہیں ، اب ان کے لئے اس قدر دور نکلنے کے بعد واپسی ممکن نہیں ہے۔ اب آخرت ، اس کے انکار اور اس کے بارے میں لا پرواہی اور اس سے ڈرنے کے مضمون سے روئے سخن اس دنیا میں لوگوں کے رزق کی بحث کی طرف مڑتا ہے جو اللہ کسی کو کم ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ اللہ لطیف بعبادہ برزق من یشاء وھو القوی العزیز (42 : 19) ” اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ہے ، دیتا ہے اور وہ بڑی قوت ولا اور زبردست ہے “۔ بظاہر آخرت اور بندوں کے رزق کے مضامین کے درمیان کوئی خاص مناسبت اور ربط نظر نہیں آتا۔ لیکن بعد کی آیت پڑھنے کے بعد ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔ من کان یرید حرث ۔۔۔۔۔ الاخرۃ من نصیب (42 : 20) ” جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا “۔ بس اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ، دیتا ۔ ہے صالح کو بھی دیتا ہے ، برے کو بھی دیتا ہے ، مومن کو بھی دیتا ہے ، کافر کو بھی دیتا ہے ، کیونکہ انسان خود اپنے رزق کا بندو بست نہیں سکتے ، جب اللہ نے ان کو زندگی دی ہے تو زندگی کے بنیادی اسباب بھی دئیے ہیں ، اگر اللہ کافر ، فاسق اور بدکار کو رزق نہ دیتا تو وہ اپنے رزق کا بندوبست تو خود نہ کرسکتے اور بھوک اور پیاس سے مرجاتے ۔ جب وہ زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھ کر مہلت دینے کا جو قانون مقرر فرمایا تھا ، وہ پورا نہ ہوتا۔ اور یہ نہ ہو سکتا تھا کہ لوگ دنیا میں آزادانہ عمل کریں اور ان کے اعمال کا حساب آخرت میں ہو۔ اس لیے اللہ نے رزق کا معاملہ نیکی اور برائی کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ ایمان وکفر کے ساتھ رزق کا تعلق نہیں ہے اور رزق کے معاملے کو انسانوں کی اجتماعی زندگی کے حالات پر رکھ دیا ، پھر ان اجتماعی حالات میں بندوں کے طرز عمل پر رکھ دیا اور مال کو بھی لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش بنا دیا جس پر جزاء و سزا کا دارو مدار ٹھہرا۔ پھر آخرت اور دنیا کے لئے علیحدہ علیحدہ کھیت قرار دیا۔ ہر آدمی کو اختیار دے دیا کہ وہ دنیا کے کھیت میں محنت کرتا ہے یا آخرت کے کھیت میں۔ جو شخص آخرت کے لئے کھیتی باڑی کرتا ہے اسے آخرت کی فصل ملے گی اور اللہ بطور انعام اس کے کھیت میں اضافہ کر دے گا اور اس کی نیت کی وجہ سے اس کام میں اس کے لئے اسباب فراہم کر دے گا۔ اس میں برکت دے گا۔ اس آخرت کی کھیتی میں اس کے لئے ضروریات دنیا کا بھی انتظام ہوگا۔ دنیا کے لئے بھی رزق اسے ملے گا ۔ اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ بلکہ یہی دنیا کا رزق ہی فلاح آخرت قرار پائے گا۔ جب وہ اس دنیا کے رزق کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس میں ، اللہ کے حکم کے مطابق تصرف۔ انفاق فی سبیل اللہ کرے گا۔ اور جو شخص صرف دنیا کا کھیت چاہے تو اللہ اسے دنیا کا سازوسامان دے گا اور جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہو وہ اسے ملے گا۔ لیکن آخرت میں اس کا حصہ نہ ہوگا اس لیے کہ اس نے آخرت کی کھیت میں کام ہی نہیں کیا کہ وہاں اس کے لئے کوئی چیز منتظر ہو۔ اب ذرا طلبگار ان کشت زار دنیا اور طلب گار ان کشت زار آخرت پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ صرف دنیا کے کھیت میں کام کرنے والے بہت ہی احمق ہیں۔ جہاں تک دنیا کے رزق کا تعلق ہے تو اللہ دونوں فریقوں کو دیتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے جس قدر اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ ہاں آخرت کے کھیت میں کام کرنے والے کے لئے آخرت کا حصہ صرف اس کا ہوتا ہے۔ صرف دنیا کے کھیت کا انتخاب کرنے والوں میں فقراء بھی ہوتے ہیں اور امراء بھی۔ یعنی جس کے پاس جس قدر دولت ہے ، اس معاشرے کے عام حالات کے مطابق جس میں وہ رہتا ہے ، اور اس کی ذاتی صلاحیت اور محنت کے مطابق۔ یہی حال ہے آخرت کے کھیت میں کام کرنے والوں کا کہ ان میں امراء بھی ہوں گے اور فقراء بھی۔ کیونکہ رزق کے معاملے میں مومن اور کافر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اختلاف تو یہاں ہوگا کہ کون کس کھیت کا انتخاب کرتا ہے ، فقط دنیا کا ، یا آخرت کا۔ احمق وہ ہے جو آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے جس میں دنیا کا رزق بھی ہے اور آخرت کا بھی۔ اور جب وہ آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے تو دنیا میں بھی اسے اسی قدر ملتا ہے جو مقدر ہے۔ غرض معاملہ اس سچائی کے مطابق اپنے انجام کو پہنچے گا جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کی ہے۔ حق اور انصاف یہ ہے کہ تمام زندہ چیزوں کو رزق دیا جائے اور آخرت کا حصہ صرف ان لوگوں کے لئے ہو جنہوں نے آخرت کے لئے کام کیا اور جو آخرت کے لئے کام نہ کریں وہ آخرت میں محروم ہوں۔ ٭٭٭٭ اب پھر ایک سفر پہلے موضوع پر یعنی توحید و رسالت پر

الشورى 42:21

آیت نمبر 20 تا 23 پچھلے پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے جو نظام زندگی اور شریعت تجویز کی تھی وہ وہی ہے جس کے بارے میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی تھی۔ وہی بات حضرت محمد ﷺ کی طرف بھی وحی کی گئی۔ اب اس پیرے میں ان سے گرفت کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتاؤ تمہاری شریعت اور قانون اور نظام اور نظریہ کا ماخذ کیا ہے ؟ تمہاری شریعت کس نے بنائی ہے۔ یہ تم جس نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہو ، یہ تو شریعتوں کے خلاف ہے۔ ام لھم شرکاء شرعوا ۔۔۔۔ بہ اللہ (42 : 21) ” کیا کچھ لوگ ایسے شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اللہ کی شریعت اور قانون کے متضاد کوئی قانون بنانا چاہے وہ کوئی شخص بھی ہو۔ قانون سازی کا اختیار صرف اللہ وحدہ کو ہے کیونکہ اللہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے اس پوری کائنات کے لئے ایک نظام تجویز کر رکھا ہے اور انسان بھی اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے انسان کی زندگی کو ضابطے میں لانے کے لئے ایسا ہی قانون چاہئے جو قانون فطرت ہو۔ اللہ کے قوانین فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اور یہ صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب قانون وہ ذات بنائے جو نظام فطرت کی موجد ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور ذات یہ کام نہیں کرسکتی۔ اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص انسانوں کی قانون سازی پر ، وہ اعتماد نہیں کرسکتا جو اللہ کے قانون پر کرتا ہے۔ اگرچہ یہ وہ حقیقت ہے جو ہدایت کی حد تک واضح ہے لیکن پھر بھی زیادہ لوگ اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں یا ان کو اس پر یقین نہیں آتا۔ اور پھر بھی وہ جرات کرتے ہیں کہ اللہ کے قانون کے سوا کسی اور اصول کے مطابق قانون سازی کریں۔ ان کا زعم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لئے بھلائی کر رہے ہیں ، پھر وہ اپنے حالات کو ان قوانین کے مطابق ڈھالتے ہیں جو انہیں نے خود بنائے ہیں۔ گویا وہ اللہ سے زیادہ جانتے ہیں ، زیادہ بہتر فیصلے کرنے والے ہیں ، یا اللہ کے سوا ان کے کوئی اور الٰہ ہیں جو ان کے لئے ایسے قانون بناتے ہیں جس کا اللہ نے اذن نہ دیا ہو۔ اس قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک گھاٹا اٹھانے والے ہیں اور اللہ کی ذات کے خلاف جرات کرتے ہیں۔ اللہ نے انسانوں کے لئے ایسا قانون بنایا ہے جو انسان کی فطرت اور اس کائنات کے ناموس فطرت اور انسان کے مزاج کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کے مطابق انسانوں کا باہم تعاون اپنے اعلیٰ درجات تک پہنچ جاتا ہے اور اس کائنات کی دوسری قوتوں کے ساتھ بھی انسان کو تعاون حاصل ہوجاتا ہے۔ اللہ نے انسان کی پوری زندگی کے بارے میں قانون بنا دیا ہے۔ صرف جزئیات کا دائرہ چھوڑ دیا گیا جن کے بارے میں انسان نئے حالات کے مطابق خود قانون سازی کرسکتا ہے۔ لیکن یہ قانون سازی بھی اللہ کے جاری کردہ اصولی قوانین کے دائرے کے اندر کرسکتا ہے۔ اور اگر کسی معاملے میں انسانوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق طے کرنا ہوگا۔ کیونکہ اصول اسلامی شریعت میں طے کر دئیے گئے ہیں اور یہ اصول وہ ترازو ہیں جن کے تمام انسانوں نے اپنی آراء کو تولنا ہے۔ یوں قانون سازی کا ماخذ طے ہوجاتا ہے اور حکم اللہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے جو احکم الحاکمین ہے۔ اس کے سوا کوئی اگر اصول و دستور طے کرے گا وہ اسلامی شریعت سے بغاوت کرے گا۔ اللہ کے دین سے بغاوت کرے گا۔ اور اس وصیت اور تاکید کے خلاف چلے گا جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی۔ اور اب حضرت محمد ﷺ کے لئے وہی شریعت نافذ کردی گئی۔ ولو لا کلمۃ الفصل لقضی بینھم (42 : 21) ” اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “ ۔ اللہ نے فیصلہ کی بات یوں کردی ہے کہ لوگوں کو فیصلے کے دن تک مہلت دی جائے گی۔ اگر یہ بات طے نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں ان کا فیصلہ کردیتا۔ اور اللہ کی شریعت کے مخالفین کو یہاں ہی پکڑ لیا جاتا۔ ان کا قضیہ جلدی ہی چکا دیا جاتا۔ لیکن اللہ نے مہلت دے دی ہے۔ وان الظلمین لھم عذاب الیم (42 : 21) ” اور ان ظالموں کے لئے یقیناً دردناک عذاب ہے “۔ یہ عذاب ان کے طلم کی وجہ سے ان کا منظر ہے اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو شخص اللہ کی شریعت کی مخالفت کرے۔ اور اللہ کے سوا دوسروں کی شریعت کی حمایت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ظالموں کو اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ وہاں ڈرے ہوئے ہیں ، سہمے ہوئے ہیں۔ عذاب جہنم ان کے سامنے ہے۔ اس سے قبل تو وہ اس سے نہ ڈرتے تھے اور نہ خوف کھاتے تھے بلکہ مذاق اڑاتے تھے۔ تری الظلمین مشفقین مما کسبوا وھو واقع بھم (42 : 22) ” تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اس وقت اپنے کئے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا “۔ قرآن کا انداز تعبیر بڑا عجیب ہے کہ یہ لوگ وہاں ” اپنی کمائی “ سے ڈر رہے ہوں گے۔ ان کی کمائی گویا ایک بلا ہوگی جس سے وہ ڈر رہے ہوں گے اور یہ بلا انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے کمائی اور دنیا سے وہ اپنے اس کارنامے ( غیر اسلامی قانون سازی ) پر بہت خوش تھے لیکن آج وہ اس سے خوفزدہ ہیں لیکن وھو واقع بھم (42 : 22) ” اور وہ ان پر واقع ہونے والا ہے “۔ اور اس منظر کی دوسری جھلک مومنین کے بارے میں ہے ، جو اس دن سے ڈرتے تھے لیکن آج وہ امن و عافیت سے ہیں اور بہت ہی خوشحال ہیں : والذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ الفضل الکبیر (42 : 22) ذلک الذی یبشر ۔۔۔۔۔ وعملوا الصلحت (42 : 23) ” بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے ، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے ، یہی بڑا فضل ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کئے “۔ قرآن کی تعبیر بھی نہایت ہی خوش کن ، نرم اور دھیمے انداز کی ہے۔ روضات الجنت جنتوں کے گلستان ، کئی جنتیں اور کئی گلستان۔ ” جو کچھ وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے “۔ بلا حدود وقیود۔ ” یہی بڑا فضل ہے “۔ ” یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے “۔ یہ حاضر خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے ” ۔ یہ حاضر خوشخبری ہے اور یہ سابقہ خوشخبری کے لئے مصداق ہے۔ خوشخبری کی فضا سب سے زیادہ فرحت بخش ہوتی ہے۔ جب کسی کو نعمت حاصل ہو تو خوشخبری دینے سے اس کا احساس اور تیز ہوجاتا ہے۔ نعمتوں کے اس نرم و نازک اور لطف و کرم کے اس بھرپور منظر کے دکھانے پر نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ جو ہدایت میں پیش کر رہا ہوں اور جس سے تمہیں یہ نعمتیں ملیں گی اور جہنم سے دور ہوجاؤ گے یہ میں اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ تم میرے رشتہ دار ہو اور مجھے تم سے محبت ہے میرے لیے یہی اجر کافی ہے۔ قل لا اسئلکم ۔۔۔۔۔۔ غفور شکور (42 : 23) ” اے نبی ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اس کام پر تم لوگوں سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ البتہ قرابت محبت کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ تم جہنم سے بچ جاؤ۔ جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بیشک اللہ بڑا درگزر کرے والا اور قدر دان ہے “۔ جس مفہوم کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا بلکہ قرابت داری کی محبت مجھے اس کام پر مجبور کر رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری قریش کی ہر شاخ سے تھی اور آپ یہ کوشش فرماتے تھے کہ آپ کے رشتہ دار ہدایت پر آجائیں۔ آپ اس قرابت داری کی وجہ سے چاہتے تھے کہ یہ بھلائی ان کو مل جائے اور یہی وافر اجر ہے آپ کے لئے۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ انداز تعبیر آیا ہے اسے پڑھنے کے بعد میرے خیال میں یہی معنی واضح ہے۔ حضرت ابن عباس سے ایک تفسیر بھی مروی ہے ۔ یہاں میں اسے اس لیے نقل کرتا ہوں کہ وہ صحیح بخاری میں وارد ہے۔ بخاری نے روایت کی ہے۔ محمد ابن بشار سے انہوں نے محمد ابن جعفر سے انہوں نے شعبہ ابن عبد المالک ابن میسرہ سے انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے کہ انہوں نے آیت المودۃ فی القربی (42 : 23) کے بارے میں پوچھا تو سعید ابن جبیر نے کہا ” آل محمد کے رشتہ دار مراد ہیں “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا تم نے جلدی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قریش کی کوئی شاخ نہ تھی کہ نبی ﷺ کی اس میں رشتہ داری نہ ہو “۔ اس کے بعد انہوں نے کہا معنی یہ ہے ” الا یہ کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اس کا تعلق رکھو “۔ اس حدیث کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ تم میری قرابت داری کا لحاظ رکھتے ہوئے ، مجھے اذیت دینے سے باز آجاؤ۔ اور میں جو کچھ کہتا ہوں سنو اور نرم رویہ اختیار کرو۔ یہی کافی اجر ہوگا۔ بس یہی اجر میں تم سے چاہتا ہوں ، اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی تاویل ، سعید ابن جبیر کی تاویل سے زیادہ قریب الفہم ہے۔ لیکن میں نے جو مفہوم اوپر بیان کیا ہے وہ زیادہ قریب اور زیادہ خوبصورت ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو مذکورہ باغات اور خوشخبری کے مناظر کے بعد اللہ فرماتا ہے کہ پیغمبر اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور یہ بات تو بہت ہی بعید ہے کہ جن کو ہدایت کی جارہی ہے وہ اس پر ان سے اجر طلب کریں ، لیکن یہ تو اللہ کے فضل و کرم ہیں کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ تجارتی حساب و کتاب نہیں کرتا ، نہ منصفانہ حساب کرتا ہے ۔ اللہ کا حساب مہربانی اور فضل والا ہے۔ ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے “۔ اللہ معاف بھی کرتا ہے ، پھر خود شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ کس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اپنے بندوں کا کہ وہ راہ راست پر آئے ، حالانکہ راہ راست پر آنے کی توفیق بھی اسی نے دی۔ پھر مزید یہ کہ ان کی صفات میں اضافہ کرتا ہے ، برائی کو صاف کرتا ہے اور اس کے بعد قدر دانی بھی کرتا ہے ، کیا ہی مہربانیاں ہیں ! انسان کے لئے تو ایسا سلوک کرنا ممکن نہیں ۔ صرف اللہ کا شکر ادا کیا جاسکتا ہے اور توفیق قلب کی جاسکتی ہے۔ اب روئے سخن پھر وحی الٰہی کی طرف !

الشورى 42:22

آیت نمبر 20 تا 23 پچھلے پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے جو نظام زندگی اور شریعت تجویز کی تھی وہ وہی ہے جس کے بارے میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی تھی۔ وہی بات حضرت محمد ﷺ کی طرف بھی وحی کی گئی۔ اب اس پیرے میں ان سے گرفت کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتاؤ تمہاری شریعت اور قانون اور نظام اور نظریہ کا ماخذ کیا ہے ؟ تمہاری شریعت کس نے بنائی ہے۔ یہ تم جس نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہو ، یہ تو شریعتوں کے خلاف ہے۔ ام لھم شرکاء شرعوا ۔۔۔۔ بہ اللہ (42 : 21) ” کیا کچھ لوگ ایسے شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اللہ کی شریعت اور قانون کے متضاد کوئی قانون بنانا چاہے وہ کوئی شخص بھی ہو۔ قانون سازی کا اختیار صرف اللہ وحدہ کو ہے کیونکہ اللہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے اس پوری کائنات کے لئے ایک نظام تجویز کر رکھا ہے اور انسان بھی اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے انسان کی زندگی کو ضابطے میں لانے کے لئے ایسا ہی قانون چاہئے جو قانون فطرت ہو۔ اللہ کے قوانین فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اور یہ صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب قانون وہ ذات بنائے جو نظام فطرت کی موجد ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور ذات یہ کام نہیں کرسکتی۔ اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص انسانوں کی قانون سازی پر ، وہ اعتماد نہیں کرسکتا جو اللہ کے قانون پر کرتا ہے۔ اگرچہ یہ وہ حقیقت ہے جو ہدایت کی حد تک واضح ہے لیکن پھر بھی زیادہ لوگ اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں یا ان کو اس پر یقین نہیں آتا۔ اور پھر بھی وہ جرات کرتے ہیں کہ اللہ کے قانون کے سوا کسی اور اصول کے مطابق قانون سازی کریں۔ ان کا زعم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لئے بھلائی کر رہے ہیں ، پھر وہ اپنے حالات کو ان قوانین کے مطابق ڈھالتے ہیں جو انہیں نے خود بنائے ہیں۔ گویا وہ اللہ سے زیادہ جانتے ہیں ، زیادہ بہتر فیصلے کرنے والے ہیں ، یا اللہ کے سوا ان کے کوئی اور الٰہ ہیں جو ان کے لئے ایسے قانون بناتے ہیں جس کا اللہ نے اذن نہ دیا ہو۔ اس قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک گھاٹا اٹھانے والے ہیں اور اللہ کی ذات کے خلاف جرات کرتے ہیں۔ اللہ نے انسانوں کے لئے ایسا قانون بنایا ہے جو انسان کی فطرت اور اس کائنات کے ناموس فطرت اور انسان کے مزاج کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کے مطابق انسانوں کا باہم تعاون اپنے اعلیٰ درجات تک پہنچ جاتا ہے اور اس کائنات کی دوسری قوتوں کے ساتھ بھی انسان کو تعاون حاصل ہوجاتا ہے۔ اللہ نے انسان کی پوری زندگی کے بارے میں قانون بنا دیا ہے۔ صرف جزئیات کا دائرہ چھوڑ دیا گیا جن کے بارے میں انسان نئے حالات کے مطابق خود قانون سازی کرسکتا ہے۔ لیکن یہ قانون سازی بھی اللہ کے جاری کردہ اصولی قوانین کے دائرے کے اندر کرسکتا ہے۔ اور اگر کسی معاملے میں انسانوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق طے کرنا ہوگا۔ کیونکہ اصول اسلامی شریعت میں طے کر دئیے گئے ہیں اور یہ اصول وہ ترازو ہیں جن کے تمام انسانوں نے اپنی آراء کو تولنا ہے۔ یوں قانون سازی کا ماخذ طے ہوجاتا ہے اور حکم اللہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے جو احکم الحاکمین ہے۔ اس کے سوا کوئی اگر اصول و دستور طے کرے گا وہ اسلامی شریعت سے بغاوت کرے گا۔ اللہ کے دین سے بغاوت کرے گا۔ اور اس وصیت اور تاکید کے خلاف چلے گا جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی۔ اور اب حضرت محمد ﷺ کے لئے وہی شریعت نافذ کردی گئی۔ ولو لا کلمۃ الفصل لقضی بینھم (42 : 21) ” اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “ ۔ اللہ نے فیصلہ کی بات یوں کردی ہے کہ لوگوں کو فیصلے کے دن تک مہلت دی جائے گی۔ اگر یہ بات طے نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں ان کا فیصلہ کردیتا۔ اور اللہ کی شریعت کے مخالفین کو یہاں ہی پکڑ لیا جاتا۔ ان کا قضیہ جلدی ہی چکا دیا جاتا۔ لیکن اللہ نے مہلت دے دی ہے۔ وان الظلمین لھم عذاب الیم (42 : 21) ” اور ان ظالموں کے لئے یقیناً دردناک عذاب ہے “۔ یہ عذاب ان کے طلم کی وجہ سے ان کا منظر ہے اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو شخص اللہ کی شریعت کی مخالفت کرے۔ اور اللہ کے سوا دوسروں کی شریعت کی حمایت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ظالموں کو اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ وہاں ڈرے ہوئے ہیں ، سہمے ہوئے ہیں۔ عذاب جہنم ان کے سامنے ہے۔ اس سے قبل تو وہ اس سے نہ ڈرتے تھے اور نہ خوف کھاتے تھے بلکہ مذاق اڑاتے تھے۔ تری الظلمین مشفقین مما کسبوا وھو واقع بھم (42 : 22) ” تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اس وقت اپنے کئے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا “۔ قرآن کا انداز تعبیر بڑا عجیب ہے کہ یہ لوگ وہاں ” اپنی کمائی “ سے ڈر رہے ہوں گے۔ ان کی کمائی گویا ایک بلا ہوگی جس سے وہ ڈر رہے ہوں گے اور یہ بلا انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے کمائی اور دنیا سے وہ اپنے اس کارنامے ( غیر اسلامی قانون سازی ) پر بہت خوش تھے لیکن آج وہ اس سے خوفزدہ ہیں لیکن وھو واقع بھم (42 : 22) ” اور وہ ان پر واقع ہونے والا ہے “۔ اور اس منظر کی دوسری جھلک مومنین کے بارے میں ہے ، جو اس دن سے ڈرتے تھے لیکن آج وہ امن و عافیت سے ہیں اور بہت ہی خوشحال ہیں : والذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ الفضل الکبیر (42 : 22) ذلک الذی یبشر ۔۔۔۔۔ وعملوا الصلحت (42 : 23) ” بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے ، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے ، یہی بڑا فضل ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کئے “۔ قرآن کی تعبیر بھی نہایت ہی خوش کن ، نرم اور دھیمے انداز کی ہے۔ روضات الجنت جنتوں کے گلستان ، کئی جنتیں اور کئی گلستان۔ ” جو کچھ وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے “۔ بلا حدود وقیود۔ ” یہی بڑا فضل ہے “۔ ” یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے “۔ یہ حاضر خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے ” ۔ یہ حاضر خوشخبری ہے اور یہ سابقہ خوشخبری کے لئے مصداق ہے۔ خوشخبری کی فضا سب سے زیادہ فرحت بخش ہوتی ہے۔ جب کسی کو نعمت حاصل ہو تو خوشخبری دینے سے اس کا احساس اور تیز ہوجاتا ہے۔ نعمتوں کے اس نرم و نازک اور لطف و کرم کے اس بھرپور منظر کے دکھانے پر نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ جو ہدایت میں پیش کر رہا ہوں اور جس سے تمہیں یہ نعمتیں ملیں گی اور جہنم سے دور ہوجاؤ گے یہ میں اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ تم میرے رشتہ دار ہو اور مجھے تم سے محبت ہے میرے لیے یہی اجر کافی ہے۔ قل لا اسئلکم ۔۔۔۔۔۔ غفور شکور (42 : 23) ” اے نبی ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اس کام پر تم لوگوں سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ البتہ قرابت محبت کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ تم جہنم سے بچ جاؤ۔ جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بیشک اللہ بڑا درگزر کرے والا اور قدر دان ہے “۔ جس مفہوم کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا بلکہ قرابت داری کی محبت مجھے اس کام پر مجبور کر رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری قریش کی ہر شاخ سے تھی اور آپ یہ کوشش فرماتے تھے کہ آپ کے رشتہ دار ہدایت پر آجائیں۔ آپ اس قرابت داری کی وجہ سے چاہتے تھے کہ یہ بھلائی ان کو مل جائے اور یہی وافر اجر ہے آپ کے لئے۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ انداز تعبیر آیا ہے اسے پڑھنے کے بعد میرے خیال میں یہی معنی واضح ہے۔ حضرت ابن عباس سے ایک تفسیر بھی مروی ہے ۔ یہاں میں اسے اس لیے نقل کرتا ہوں کہ وہ صحیح بخاری میں وارد ہے۔ بخاری نے روایت کی ہے۔ محمد ابن بشار سے انہوں نے محمد ابن جعفر سے انہوں نے شعبہ ابن عبد المالک ابن میسرہ سے انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے کہ انہوں نے آیت المودۃ فی القربی (42 : 23) کے بارے میں پوچھا تو سعید ابن جبیر نے کہا ” آل محمد کے رشتہ دار مراد ہیں “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا تم نے جلدی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قریش کی کوئی شاخ نہ تھی کہ نبی ﷺ کی اس میں رشتہ داری نہ ہو “۔ اس کے بعد انہوں نے کہا معنی یہ ہے ” الا یہ کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اس کا تعلق رکھو “۔ اس حدیث کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ تم میری قرابت داری کا لحاظ رکھتے ہوئے ، مجھے اذیت دینے سے باز آجاؤ۔ اور میں جو کچھ کہتا ہوں سنو اور نرم رویہ اختیار کرو۔ یہی کافی اجر ہوگا۔ بس یہی اجر میں تم سے چاہتا ہوں ، اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی تاویل ، سعید ابن جبیر کی تاویل سے زیادہ قریب الفہم ہے۔ لیکن میں نے جو مفہوم اوپر بیان کیا ہے وہ زیادہ قریب اور زیادہ خوبصورت ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو مذکورہ باغات اور خوشخبری کے مناظر کے بعد اللہ فرماتا ہے کہ پیغمبر اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور یہ بات تو بہت ہی بعید ہے کہ جن کو ہدایت کی جارہی ہے وہ اس پر ان سے اجر طلب کریں ، لیکن یہ تو اللہ کے فضل و کرم ہیں کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ تجارتی حساب و کتاب نہیں کرتا ، نہ منصفانہ حساب کرتا ہے ۔ اللہ کا حساب مہربانی اور فضل والا ہے۔ ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے “۔ اللہ معاف بھی کرتا ہے ، پھر خود شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ کس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اپنے بندوں کا کہ وہ راہ راست پر آئے ، حالانکہ راہ راست پر آنے کی توفیق بھی اسی نے دی۔ پھر مزید یہ کہ ان کی صفات میں اضافہ کرتا ہے ، برائی کو صاف کرتا ہے اور اس کے بعد قدر دانی بھی کرتا ہے ، کیا ہی مہربانیاں ہیں ! انسان کے لئے تو ایسا سلوک کرنا ممکن نہیں ۔ صرف اللہ کا شکر ادا کیا جاسکتا ہے اور توفیق قلب کی جاسکتی ہے۔ اب روئے سخن پھر وحی الٰہی کی طرف !

الشورى 42:23

آیت نمبر 20 تا 23 پچھلے پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے جو نظام زندگی اور شریعت تجویز کی تھی وہ وہی ہے جس کے بارے میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی تھی۔ وہی بات حضرت محمد ﷺ کی طرف بھی وحی کی گئی۔ اب اس پیرے میں ان سے گرفت کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتاؤ تمہاری شریعت اور قانون اور نظام اور نظریہ کا ماخذ کیا ہے ؟ تمہاری شریعت کس نے بنائی ہے۔ یہ تم جس نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہو ، یہ تو شریعتوں کے خلاف ہے۔ ام لھم شرکاء شرعوا ۔۔۔۔ بہ اللہ (42 : 21) ” کیا کچھ لوگ ایسے شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اللہ کی شریعت اور قانون کے متضاد کوئی قانون بنانا چاہے وہ کوئی شخص بھی ہو۔ قانون سازی کا اختیار صرف اللہ وحدہ کو ہے کیونکہ اللہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے اس پوری کائنات کے لئے ایک نظام تجویز کر رکھا ہے اور انسان بھی اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے انسان کی زندگی کو ضابطے میں لانے کے لئے ایسا ہی قانون چاہئے جو قانون فطرت ہو۔ اللہ کے قوانین فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اور یہ صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب قانون وہ ذات بنائے جو نظام فطرت کی موجد ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور ذات یہ کام نہیں کرسکتی۔ اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص انسانوں کی قانون سازی پر ، وہ اعتماد نہیں کرسکتا جو اللہ کے قانون پر کرتا ہے۔ اگرچہ یہ وہ حقیقت ہے جو ہدایت کی حد تک واضح ہے لیکن پھر بھی زیادہ لوگ اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں یا ان کو اس پر یقین نہیں آتا۔ اور پھر بھی وہ جرات کرتے ہیں کہ اللہ کے قانون کے سوا کسی اور اصول کے مطابق قانون سازی کریں۔ ان کا زعم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لئے بھلائی کر رہے ہیں ، پھر وہ اپنے حالات کو ان قوانین کے مطابق ڈھالتے ہیں جو انہیں نے خود بنائے ہیں۔ گویا وہ اللہ سے زیادہ جانتے ہیں ، زیادہ بہتر فیصلے کرنے والے ہیں ، یا اللہ کے سوا ان کے کوئی اور الٰہ ہیں جو ان کے لئے ایسے قانون بناتے ہیں جس کا اللہ نے اذن نہ دیا ہو۔ اس قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک گھاٹا اٹھانے والے ہیں اور اللہ کی ذات کے خلاف جرات کرتے ہیں۔ اللہ نے انسانوں کے لئے ایسا قانون بنایا ہے جو انسان کی فطرت اور اس کائنات کے ناموس فطرت اور انسان کے مزاج کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کے مطابق انسانوں کا باہم تعاون اپنے اعلیٰ درجات تک پہنچ جاتا ہے اور اس کائنات کی دوسری قوتوں کے ساتھ بھی انسان کو تعاون حاصل ہوجاتا ہے۔ اللہ نے انسان کی پوری زندگی کے بارے میں قانون بنا دیا ہے۔ صرف جزئیات کا دائرہ چھوڑ دیا گیا جن کے بارے میں انسان نئے حالات کے مطابق خود قانون سازی کرسکتا ہے۔ لیکن یہ قانون سازی بھی اللہ کے جاری کردہ اصولی قوانین کے دائرے کے اندر کرسکتا ہے۔ اور اگر کسی معاملے میں انسانوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق طے کرنا ہوگا۔ کیونکہ اصول اسلامی شریعت میں طے کر دئیے گئے ہیں اور یہ اصول وہ ترازو ہیں جن کے تمام انسانوں نے اپنی آراء کو تولنا ہے۔ یوں قانون سازی کا ماخذ طے ہوجاتا ہے اور حکم اللہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے جو احکم الحاکمین ہے۔ اس کے سوا کوئی اگر اصول و دستور طے کرے گا وہ اسلامی شریعت سے بغاوت کرے گا۔ اللہ کے دین سے بغاوت کرے گا۔ اور اس وصیت اور تاکید کے خلاف چلے گا جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی۔ اور اب حضرت محمد ﷺ کے لئے وہی شریعت نافذ کردی گئی۔ ولو لا کلمۃ الفصل لقضی بینھم (42 : 21) ” اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “ ۔ اللہ نے فیصلہ کی بات یوں کردی ہے کہ لوگوں کو فیصلے کے دن تک مہلت دی جائے گی۔ اگر یہ بات طے نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں ان کا فیصلہ کردیتا۔ اور اللہ کی شریعت کے مخالفین کو یہاں ہی پکڑ لیا جاتا۔ ان کا قضیہ جلدی ہی چکا دیا جاتا۔ لیکن اللہ نے مہلت دے دی ہے۔ وان الظلمین لھم عذاب الیم (42 : 21) ” اور ان ظالموں کے لئے یقیناً دردناک عذاب ہے “۔ یہ عذاب ان کے طلم کی وجہ سے ان کا منظر ہے اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو شخص اللہ کی شریعت کی مخالفت کرے۔ اور اللہ کے سوا دوسروں کی شریعت کی حمایت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ظالموں کو اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ وہاں ڈرے ہوئے ہیں ، سہمے ہوئے ہیں۔ عذاب جہنم ان کے سامنے ہے۔ اس سے قبل تو وہ اس سے نہ ڈرتے تھے اور نہ خوف کھاتے تھے بلکہ مذاق اڑاتے تھے۔ تری الظلمین مشفقین مما کسبوا وھو واقع بھم (42 : 22) ” تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اس وقت اپنے کئے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا “۔ قرآن کا انداز تعبیر بڑا عجیب ہے کہ یہ لوگ وہاں ” اپنی کمائی “ سے ڈر رہے ہوں گے۔ ان کی کمائی گویا ایک بلا ہوگی جس سے وہ ڈر رہے ہوں گے اور یہ بلا انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے کمائی اور دنیا سے وہ اپنے اس کارنامے ( غیر اسلامی قانون سازی ) پر بہت خوش تھے لیکن آج وہ اس سے خوفزدہ ہیں لیکن وھو واقع بھم (42 : 22) ” اور وہ ان پر واقع ہونے والا ہے “۔ اور اس منظر کی دوسری جھلک مومنین کے بارے میں ہے ، جو اس دن سے ڈرتے تھے لیکن آج وہ امن و عافیت سے ہیں اور بہت ہی خوشحال ہیں : والذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ الفضل الکبیر (42 : 22) ذلک الذی یبشر ۔۔۔۔۔ وعملوا الصلحت (42 : 23) ” بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے ، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے ، یہی بڑا فضل ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کئے “۔ قرآن کی تعبیر بھی نہایت ہی خوش کن ، نرم اور دھیمے انداز کی ہے۔ روضات الجنت جنتوں کے گلستان ، کئی جنتیں اور کئی گلستان۔ ” جو کچھ وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے “۔ بلا حدود وقیود۔ ” یہی بڑا فضل ہے “۔ ” یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے “۔ یہ حاضر خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے ” ۔ یہ حاضر خوشخبری ہے اور یہ سابقہ خوشخبری کے لئے مصداق ہے۔ خوشخبری کی فضا سب سے زیادہ فرحت بخش ہوتی ہے۔ جب کسی کو نعمت حاصل ہو تو خوشخبری دینے سے اس کا احساس اور تیز ہوجاتا ہے۔ نعمتوں کے اس نرم و نازک اور لطف و کرم کے اس بھرپور منظر کے دکھانے پر نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ جو ہدایت میں پیش کر رہا ہوں اور جس سے تمہیں یہ نعمتیں ملیں گی اور جہنم سے دور ہوجاؤ گے یہ میں اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ تم میرے رشتہ دار ہو اور مجھے تم سے محبت ہے میرے لیے یہی اجر کافی ہے۔ قل لا اسئلکم ۔۔۔۔۔۔ غفور شکور (42 : 23) ” اے نبی ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اس کام پر تم لوگوں سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ البتہ قرابت محبت کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ تم جہنم سے بچ جاؤ۔ جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بیشک اللہ بڑا درگزر کرے والا اور قدر دان ہے “۔ جس مفہوم کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا بلکہ قرابت داری کی محبت مجھے اس کام پر مجبور کر رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری قریش کی ہر شاخ سے تھی اور آپ یہ کوشش فرماتے تھے کہ آپ کے رشتہ دار ہدایت پر آجائیں۔ آپ اس قرابت داری کی وجہ سے چاہتے تھے کہ یہ بھلائی ان کو مل جائے اور یہی وافر اجر ہے آپ کے لئے۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ انداز تعبیر آیا ہے اسے پڑھنے کے بعد میرے خیال میں یہی معنی واضح ہے۔ حضرت ابن عباس سے ایک تفسیر بھی مروی ہے ۔ یہاں میں اسے اس لیے نقل کرتا ہوں کہ وہ صحیح بخاری میں وارد ہے۔ بخاری نے روایت کی ہے۔ محمد ابن بشار سے انہوں نے محمد ابن جعفر سے انہوں نے شعبہ ابن عبد المالک ابن میسرہ سے انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے کہ انہوں نے آیت المودۃ فی القربی (42 : 23) کے بارے میں پوچھا تو سعید ابن جبیر نے کہا ” آل محمد کے رشتہ دار مراد ہیں “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا تم نے جلدی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قریش کی کوئی شاخ نہ تھی کہ نبی ﷺ کی اس میں رشتہ داری نہ ہو “۔ اس کے بعد انہوں نے کہا معنی یہ ہے ” الا یہ کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اس کا تعلق رکھو “۔ اس حدیث کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ تم میری قرابت داری کا لحاظ رکھتے ہوئے ، مجھے اذیت دینے سے باز آجاؤ۔ اور میں جو کچھ کہتا ہوں سنو اور نرم رویہ اختیار کرو۔ یہی کافی اجر ہوگا۔ بس یہی اجر میں تم سے چاہتا ہوں ، اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی تاویل ، سعید ابن جبیر کی تاویل سے زیادہ قریب الفہم ہے۔ لیکن میں نے جو مفہوم اوپر بیان کیا ہے وہ زیادہ قریب اور زیادہ خوبصورت ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو مذکورہ باغات اور خوشخبری کے مناظر کے بعد اللہ فرماتا ہے کہ پیغمبر اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور یہ بات تو بہت ہی بعید ہے کہ جن کو ہدایت کی جارہی ہے وہ اس پر ان سے اجر طلب کریں ، لیکن یہ تو اللہ کے فضل و کرم ہیں کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ تجارتی حساب و کتاب نہیں کرتا ، نہ منصفانہ حساب کرتا ہے ۔ اللہ کا حساب مہربانی اور فضل والا ہے۔ ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے “۔ اللہ معاف بھی کرتا ہے ، پھر خود شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ کس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اپنے بندوں کا کہ وہ راہ راست پر آئے ، حالانکہ راہ راست پر آنے کی توفیق بھی اسی نے دی۔ پھر مزید یہ کہ ان کی صفات میں اضافہ کرتا ہے ، برائی کو صاف کرتا ہے اور اس کے بعد قدر دانی بھی کرتا ہے ، کیا ہی مہربانیاں ہیں ! انسان کے لئے تو ایسا سلوک کرنا ممکن نہیں ۔ صرف اللہ کا شکر ادا کیا جاسکتا ہے اور توفیق قلب کی جاسکتی ہے۔ اب روئے سخن پھر وحی الٰہی کی طرف !

الشورى 42:24

آیت نمبر 24 اب یہاں مشرکین کے آخری اعتراض کو لیا جاتا ہے۔ وحی کے بارے میں ان کا جو رویہ تھا اس پر یہ ان کی آخری دلیل تھی ، اس سے قبل وحی کے مصدر اور سرچشمہ ، وحی کے مزاج و ماہیت اور وحی کے اغراض و مقاصد کے مفصل بیان کے بعد اب یہ ان کا آخری سوال ہے۔ ام یقولون افتری علی اللہ کذباً (42 : 34) ” کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑ لیا ہے “۔ اور اصل وجہ یہ ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق نہیں کرتے ۔ کیونکہ ان کا زعم یہ ہے کہ یہ وحی نہیں ہے ، اللہ کی طرف سے کوئی بات نہیں آرہی۔ یہ سوال اس لیے پردرد ہے کہ اللہ کس طرح ایسے شخص کو اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اللہ کی مملکت میں اللہ کے نام پر یہ فریب کرتا پھرے۔ اور یہ کہے کہ اس پر وحی آرہی ہے حالانکہ اس پر وحی نہ آرہی ہو۔ اللہ تو اس بات پر قادر ہے کہ ایسے کسی شخص کے دل پر مہر لگادے اور وہ سرے سے کوئی بات ہی نہ کرسکے اور کسی اور ذریعہ سے اس باطل کا پول کھول دے۔ اور اس طرح اسے مٹا دے اور اصل بات کو واضح کر کے رکھ دے۔ فان یشا اللہ یختم ۔۔۔۔ الحق بکلمتہ (42 : 24) ” اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر کر دے۔ وہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کر دکھاتا ہے “۔ اللہ پر تو کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے جو حضرت محمد ﷺ کے دل میں آتی ہے۔ اگر اللہ کی جانب سے یہ باتیں نہ ہوتیں تو اللہ مٹا دیتا۔ انہ علیم بذات الصدور (42 : 24) ” بیشک وہ سینوں کے چھپے ہوئے راز جانتا ہے “۔ لہٰذا یہ ایک ایسا شبہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو اللہ کے علم کے خلاف ہے۔ اللہ کی قدرت کو یہ چیلنچ ہے اور یہ اللہ کی سنت جاریہ کے خلاف ہے کیونکہ اللہ زمین میں حق کو ٹھہراتا ہے اور باطل کو مٹاتا ہے۔ لہٰذا یہ وحی برحق ہے۔ حضرت محمد صادق و امین ہیں اور جو اعتراضات و الزامات لگائے جاتے ہیں وہ غلط اور باطل ہیں۔ یوں وحی پر یہاں وقتی طور پر بات ختم ہوتی ہے۔ اور ایک دوسرا سبق شروع ہوتا ہے

الشورى 42:25

درس نمبر 230 ایک نظر میں سورت کا یہ دوسرا حصہ انفس ، و آفاق میں موجود دلائل ایمان کے بیان پر مشتمل ہے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت کے آثار کس طرح قدم قدم پر موجود ہیں۔ اور لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ان آثار کا تعلق ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے ساتھ ہے۔ اور پھر اس میں اہل ایمان کی صفات بیان کی گئیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کیا کیا امتیازی خصوصیات رکھتے ہیں جبکہ پہلے حصے میں موضوع سخن زیادہ تر وحی و رسالت تھا۔ اس سبق کے آخر میں وحی الٰہی کی شکلیں بیان کی گئی ہیں۔ اس سورت کے دونوں حصوں میں ربط ظاہر ہے اللہ کے دلائل ایمان کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ وحی و رسالت کے ساتھ منسلک ہوجائیں درس نمبر 230 تشریح آیات 25 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 53 آیت نمبر 25 تا 27 یہ بیان اس منظر کے بعد آتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قیامت کے دن ظالم ڈرے ہوئے ہوں گے ، یہ خوف انہیں اپنے کرتوتوں کی بلائے ناگہانی سے ہوگا جو یقیناً آنے ہی والی تھی اور پھر اس منظر کے بعد کہ اہل ایمان جنات کے گلستانوں میں ہوں گے اور یہ کہ نبی ﷺ کے پیغام میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا ، آپ جو پہنچا رہے ہیں ، اللہ کی طرف سے پہنچاتے ہیں اور یہ کہ اللہ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے “۔ ان حالات میں کہا جاتا ہے کہ مایوس نہ ہوجاؤ، تم جس گمراہی میں پڑے ہو ، کسی بھی وقت تم اس سے باہر نکل کر ۔۔۔ سکتے ہو۔ قبل اس کے کہ آخری فیصلہ ہوجائے ۔ تو بہ کا دروازہ کھلا ہے ، اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے اور سیئات کو وہ معاف کرتا ہے۔ لہٰذا ناامیدی اور معصیت ہی میں آگے بڑھنے پر تم مجبور نہیں ہو۔ سابقہ گناہوں کے بارے میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ جانتا ہے وہ سچی توبہ کو بھی جانتا ہے۔ سابقہ گناہوں کو بھی جانتا ہے اور معاف کرتا ہے۔ اس خوبصورت طرز بیان کے درمیان بھی مومنوں اور کافروں کا انجام ذکر کیا جاتا ہے ، جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں وہ اپنے رب کی دعوت قبول کرتے ہیں اور رب پھر ان پر مزید فضل فرماتے ہیں۔ والکفرون لھم عذاب شدید (42 : 26) ” اور انکار کرنے والوں کے لئے شدید سزا ہے “۔ جبکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور ہر شخص اس عذاب شدید سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔ اور جو توبہ کرے گا اسے مزید فضل الٰہی بطور انعام ملے گا۔ آخرت میں اللہ کا فضل بلا حساب ہوگا اس پر کوئی حد اور قید نہیں ہے۔ رہا اس جہاں میں بندوں کے لئے رزق کا انتظام تو اس پر اللہ نے حدود وقیود رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کو جانتا ہے کہ ان کا ظرف کتنا ہے۔ لا محدود فضل الٰہی کے وہ متحمل نہیں ہیں۔ ولو بسط اللہ ۔۔۔۔۔ بعبادہ خبیر بصیر (42 : 27) ” اگر اللہ اپنے بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے ، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے ، نازل کرتا ہے۔ یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور ان پر نگاہ رکھتا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا رزق چاہے وہ جتنا بھی ہو ، آخرت کے فیض اور آخرت کے ارزاق کے مقابلے میں کفاف ہی ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ اللہ ان پیراں پارسا کو خوب جانتا ہے کہ ان کو ایک حد تک ہی مالدار ہونا چاہئے۔ اور اگر ان کے لئے رزق اسی طرح وسیع کردیا جاتا جس طرح آخرت میں ہے تو یہ زمین پہ طوفان بدتمیزی مچا دیتے ۔ ان کا ظرف کم ہے۔ یہ اپنے حدود میں نہیں رہ سکتے۔ یہ ایک حد تک ہی مالداری برداشت کرسکتے ہیں۔ اور اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ لہٰذا اس جہاں میں ان کے لئے رزق کو محدود کردیا ہے۔ ایک مقدار کے مطابق ، جو ان کے لئے برداشت کرنے کے قابل ہو اور جو اس زمین کی آزمائشوں میں کامیاب ہوں گے اور امتحان پاس کرلیں اور سلامتی کے ساتھ دار بقاء تک پہنچ جائیں گے ان کو اللہ کا فیض اور فضل کبیر وہاں بلا حدودو قیود ملے گا

الشورى 42:26

درس نمبر 230 ایک نظر میں سورت کا یہ دوسرا حصہ انفس ، و آفاق میں موجود دلائل ایمان کے بیان پر مشتمل ہے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت کے آثار کس طرح قدم قدم پر موجود ہیں۔ اور لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ان آثار کا تعلق ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے ساتھ ہے۔ اور پھر اس میں اہل ایمان کی صفات بیان کی گئیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کیا کیا امتیازی خصوصیات رکھتے ہیں جبکہ پہلے حصے میں موضوع سخن زیادہ تر وحی و رسالت تھا۔ اس سبق کے آخر میں وحی الٰہی کی شکلیں بیان کی گئی ہیں۔ اس سورت کے دونوں حصوں میں ربط ظاہر ہے اللہ کے دلائل ایمان کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ وحی و رسالت کے ساتھ منسلک ہوجائیں درس نمبر 230 تشریح آیات 25 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 53 آیت نمبر 25 تا 27 یہ بیان اس منظر کے بعد آتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قیامت کے دن ظالم ڈرے ہوئے ہوں گے ، یہ خوف انہیں اپنے کرتوتوں کی بلائے ناگہانی سے ہوگا جو یقیناً آنے ہی والی تھی اور پھر اس منظر کے بعد کہ اہل ایمان جنات کے گلستانوں میں ہوں گے اور یہ کہ نبی ﷺ کے پیغام میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا ، آپ جو پہنچا رہے ہیں ، اللہ کی طرف سے پہنچاتے ہیں اور یہ کہ اللہ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے “۔ ان حالات میں کہا جاتا ہے کہ مایوس نہ ہوجاؤ، تم جس گمراہی میں پڑے ہو ، کسی بھی وقت تم اس سے باہر نکل کر ۔۔۔ سکتے ہو۔ قبل اس کے کہ آخری فیصلہ ہوجائے ۔ تو بہ کا دروازہ کھلا ہے ، اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے اور سیئات کو وہ معاف کرتا ہے۔ لہٰذا ناامیدی اور معصیت ہی میں آگے بڑھنے پر تم مجبور نہیں ہو۔ سابقہ گناہوں کے بارے میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ جانتا ہے وہ سچی توبہ کو بھی جانتا ہے۔ سابقہ گناہوں کو بھی جانتا ہے اور معاف کرتا ہے۔ اس خوبصورت طرز بیان کے درمیان بھی مومنوں اور کافروں کا انجام ذکر کیا جاتا ہے ، جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں وہ اپنے رب کی دعوت قبول کرتے ہیں اور رب پھر ان پر مزید فضل فرماتے ہیں۔ والکفرون لھم عذاب شدید (42 : 26) ” اور انکار کرنے والوں کے لئے شدید سزا ہے “۔ جبکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور ہر شخص اس عذاب شدید سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔ اور جو توبہ کرے گا اسے مزید فضل الٰہی بطور انعام ملے گا۔ آخرت میں اللہ کا فضل بلا حساب ہوگا اس پر کوئی حد اور قید نہیں ہے۔ رہا اس جہاں میں بندوں کے لئے رزق کا انتظام تو اس پر اللہ نے حدود وقیود رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کو جانتا ہے کہ ان کا ظرف کتنا ہے۔ لا محدود فضل الٰہی کے وہ متحمل نہیں ہیں۔ ولو بسط اللہ ۔۔۔۔۔ بعبادہ خبیر بصیر (42 : 27) ” اگر اللہ اپنے بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے ، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے ، نازل کرتا ہے۔ یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور ان پر نگاہ رکھتا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا رزق چاہے وہ جتنا بھی ہو ، آخرت کے فیض اور آخرت کے ارزاق کے مقابلے میں کفاف ہی ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ اللہ ان پیراں پارسا کو خوب جانتا ہے کہ ان کو ایک حد تک ہی مالدار ہونا چاہئے۔ اور اگر ان کے لئے رزق اسی طرح وسیع کردیا جاتا جس طرح آخرت میں ہے تو یہ زمین پہ طوفان بدتمیزی مچا دیتے ۔ ان کا ظرف کم ہے۔ یہ اپنے حدود میں نہیں رہ سکتے۔ یہ ایک حد تک ہی مالداری برداشت کرسکتے ہیں۔ اور اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ لہٰذا اس جہاں میں ان کے لئے رزق کو محدود کردیا ہے۔ ایک مقدار کے مطابق ، جو ان کے لئے برداشت کرنے کے قابل ہو اور جو اس زمین کی آزمائشوں میں کامیاب ہوں گے اور امتحان پاس کرلیں اور سلامتی کے ساتھ دار بقاء تک پہنچ جائیں گے ان کو اللہ کا فیض اور فضل کبیر وہاں بلا حدودو قیود ملے گا

الشورى 42:27

درس نمبر 230 ایک نظر میں سورت کا یہ دوسرا حصہ انفس ، و آفاق میں موجود دلائل ایمان کے بیان پر مشتمل ہے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت کے آثار کس طرح قدم قدم پر موجود ہیں۔ اور لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ان آثار کا تعلق ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے ساتھ ہے۔ اور پھر اس میں اہل ایمان کی صفات بیان کی گئیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کیا کیا امتیازی خصوصیات رکھتے ہیں جبکہ پہلے حصے میں موضوع سخن زیادہ تر وحی و رسالت تھا۔ اس سبق کے آخر میں وحی الٰہی کی شکلیں بیان کی گئی ہیں۔ اس سورت کے دونوں حصوں میں ربط ظاہر ہے اللہ کے دلائل ایمان کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ وحی و رسالت کے ساتھ منسلک ہوجائیں درس نمبر 230 تشریح آیات 25 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 53 آیت نمبر 25 تا 27 یہ بیان اس منظر کے بعد آتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قیامت کے دن ظالم ڈرے ہوئے ہوں گے ، یہ خوف انہیں اپنے کرتوتوں کی بلائے ناگہانی سے ہوگا جو یقیناً آنے ہی والی تھی اور پھر اس منظر کے بعد کہ اہل ایمان جنات کے گلستانوں میں ہوں گے اور یہ کہ نبی ﷺ کے پیغام میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا ، آپ جو پہنچا رہے ہیں ، اللہ کی طرف سے پہنچاتے ہیں اور یہ کہ اللہ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے “۔ ان حالات میں کہا جاتا ہے کہ مایوس نہ ہوجاؤ، تم جس گمراہی میں پڑے ہو ، کسی بھی وقت تم اس سے باہر نکل کر ۔۔۔ سکتے ہو۔ قبل اس کے کہ آخری فیصلہ ہوجائے ۔ تو بہ کا دروازہ کھلا ہے ، اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے اور سیئات کو وہ معاف کرتا ہے۔ لہٰذا ناامیدی اور معصیت ہی میں آگے بڑھنے پر تم مجبور نہیں ہو۔ سابقہ گناہوں کے بارے میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ جانتا ہے وہ سچی توبہ کو بھی جانتا ہے۔ سابقہ گناہوں کو بھی جانتا ہے اور معاف کرتا ہے۔ اس خوبصورت طرز بیان کے درمیان بھی مومنوں اور کافروں کا انجام ذکر کیا جاتا ہے ، جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں وہ اپنے رب کی دعوت قبول کرتے ہیں اور رب پھر ان پر مزید فضل فرماتے ہیں۔ والکفرون لھم عذاب شدید (42 : 26) ” اور انکار کرنے والوں کے لئے شدید سزا ہے “۔ جبکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور ہر شخص اس عذاب شدید سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔ اور جو توبہ کرے گا اسے مزید فضل الٰہی بطور انعام ملے گا۔ آخرت میں اللہ کا فضل بلا حساب ہوگا اس پر کوئی حد اور قید نہیں ہے۔ رہا اس جہاں میں بندوں کے لئے رزق کا انتظام تو اس پر اللہ نے حدود وقیود رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کو جانتا ہے کہ ان کا ظرف کتنا ہے۔ لا محدود فضل الٰہی کے وہ متحمل نہیں ہیں۔ ولو بسط اللہ ۔۔۔۔۔ بعبادہ خبیر بصیر (42 : 27) ” اگر اللہ اپنے بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے ، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے ، نازل کرتا ہے۔ یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور ان پر نگاہ رکھتا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا رزق چاہے وہ جتنا بھی ہو ، آخرت کے فیض اور آخرت کے ارزاق کے مقابلے میں کفاف ہی ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ اللہ ان پیراں پارسا کو خوب جانتا ہے کہ ان کو ایک حد تک ہی مالدار ہونا چاہئے۔ اور اگر ان کے لئے رزق اسی طرح وسیع کردیا جاتا جس طرح آخرت میں ہے تو یہ زمین پہ طوفان بدتمیزی مچا دیتے ۔ ان کا ظرف کم ہے۔ یہ اپنے حدود میں نہیں رہ سکتے۔ یہ ایک حد تک ہی مالداری برداشت کرسکتے ہیں۔ اور اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ لہٰذا اس جہاں میں ان کے لئے رزق کو محدود کردیا ہے۔ ایک مقدار کے مطابق ، جو ان کے لئے برداشت کرنے کے قابل ہو اور جو اس زمین کی آزمائشوں میں کامیاب ہوں گے اور امتحان پاس کرلیں اور سلامتی کے ساتھ دار بقاء تک پہنچ جائیں گے ان کو اللہ کا فیض اور فضل کبیر وہاں بلا حدودو قیود ملے گا

الشورى 42:28

آیت نمبر 28 یہ ایک دوسرا انداز ہے جو ان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس دنیا میں بندوں پر اللہ کے فضل وکرم کے کئی رنگ ہیں۔ بعض اوقات سخت خشک سالی ہوجاتی ہے ، بارشیں بند ہوجاتی ہیں اور وہ زندگی کی پہلی ضرورت کی فراہمی سے بھی عاجز آجاتے ہیں ، زندگی کی پہلی ضرورت پانی ہے۔ حال یہاں تک آپہنچتی ہے کہ یہ مایوس ہونے لگتے ہیں ، اس کے بعد اللہ بارشیں برسا دیتا ہے۔ ان کی حاجت پوری ہوتی ہے۔ اللہ کی رحمت پھیل جاتی ہے ، زمین زندہ اور سر سبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ بیج پھوٹنے لگتے ہیں ، نباتات اٹھنے لگتے ہیں۔ فضا لطیف ہوجاتی ہے۔ اور ہر طرف زندگی حرکت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چہرے کھل جاتے ہیں ، دل کھل جاتے ہیں ، امیدیں بڑھ جاتی ہیں اور امنگیں پوری ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ مایوسی اور امیدو رحمت کے درمیان پس چند لمحے ہوتے ہیں۔ چند لمحوں میں اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ آسمانوں کے دروازے پانی کھول دیتے ہیں۔ وھو الولی الحمید (42 : 28) ” اور وہی قابل تعریف ولی ہے “۔ وہ مددگار ، کفیل ہے اور اپنی ذات وصفات میں محمود ہے۔ یہاں قرآن مجید نے بارش کے لئے غیث کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس میں امداد اور داد رسی کا مفہوم شامل ہے۔ اس وقت امداد دینا جب لوگوں پر تنگی اور مصیبت ہو ، غیث ہے۔ اسی طرح اس مدد کے نتائج کو رحمت کا نام دیا۔ وینشر رحمتہ (42 : 28) ” اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے ، اس سے ترو تازگی ، سرسبزی ، امید اور خوشی کے معانی نکلتے ہیں۔ جو نباتا کے پھوٹنے سے ، اور پھلوں کے نکلنے سے ظاہری طور پر رحمت کے پھیلاؤ کی شکل میں نظر آتے ہیں جب بھی طویل خشک سالی کے بعد باران رحمت کا نزول ہوتا ہے تو لوگوں کی خوشی ، جسم اور اعصاب کی ترو تازگی اور قلب و شعور کا سرور قابل دید ہوتا ہے۔ ایسی خشک سالی کے بعد جب زمین نباتات سے سبز سبز ہوجاتی ہے تو انسانی دلوں سے تمام پریشانیاں دور ہوجاتی ہے۔ زمین مرونی کے بعد زندہ ہوجاتی ہے۔

الشورى 42:29

آیت نمبر 29 تا 31 یہ نشانی ہر وقت انسانی نظروں کے سامنے ہے اور جب وحی آئی تو اس نے اس کی شہادت دی۔ وحی میں تو انہوں نے شک کیا اور جھگڑتے رہے لیکن آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی جو نشانی کی جو نشانی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں وہ تو قطعی الدلالہ ہے۔ یہ فطرت انسانی کو فطری زبان میں خطاب کرتی ہے۔ کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے والا اس کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں رکھ سکتا۔ یہ نشانی یہ بتاتی ہے کہ جس ذات نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی ہے وہ انسان نہیں ہے۔ نہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس نشانی کا خالق نظر آتا ہے۔ لہٰذا کسی خالق و مدبر کے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہولناک ضخامت ، اس کی رفتار کی باریک اور دقیق یکسانی ، اس کے نظام کا حیران کن تسلسل اور اس پوری کائنات کے اندر ایک ہی قانون طبیعت اور ناموس فطرت کا اجراء ، ان سب امور کی کوئی عقلی توجیہہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ ایک ذات ہے جو الٰہ العالمین ہے ، جو اس کی تدبیر کر رہا ہے۔ رہی انسانی فطرت تو وہ براہ راست اس استدلال کو اور ان نشانیوں کو دیکھ پاتی ہے اور ان کا ادراک کر کے مطمئن ہوجاتی ہے۔ قبل اس کے کہ ایک بھی لفظ کسی خارجی ذریعہ سے سنے۔ آسمانوں اور زمین کی یہ بڑی نشانی اپنے اندر کئی نشانیاں رکھتی ہے۔ وما بث فیھما من دابۃ (42 : 29) ” اور یہ جاندار مخلوقات جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھے ہیں “ ۔ اس کو چھوڑ دیجئے کہ آسمانوں میں زندگی ہے یا نہیں ، ابھی تک ہمیں اس کا علم نہیں ، البتہ اس زمین کے اندر زندگی کی جو رنگا رنگی ہے یہ ایک نہایت ہی عظیم نشانی ہے۔ یہ ایک ایسا راز ہے کہ ابھی تک اس کی ماہیت تک کوئی نہیں پہنچا ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ کوئی اسے پیدا کرسکے۔ یہ ایک پوشیدہ راز ہے کہ زندگی کہاں سے آتی ہے ۔ کس طرح آتی ہے۔ اجسام کے اندر کس طرح مل جاتی ہے۔ آج تک حیات کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے جس قدر مساعی کی گئی ہیں اس راز کے دریافت کے تمام دروازے بند پائے گئے ہیں جو کچھ دریافت ہوا ، وہ حیات کے بعد زندگی کی ترقی اور نشوونما کے بارے میں ہے۔ زندگی کی رنگا رنگی اور اس کے مقاصد اور حکمتوں کے بارے میں ہے۔ اور اس محدود دائرے میں بھی آراء اور نظریات کا بےحد اختلاف ہے۔ ظاہری زندگی کے پیچھے کیا ہے ، وہ پردۂ کے پیچھے ہے۔ کوئی آنکھ وہاں تک نہیں دیکھ سکتی۔ کوئی قوت مدرکہ اس کا ادراک نہیں کرسکتی۔ یہ امر الٰہی ہے ، اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ یہ رنگا رنگ زندہ مخلوق جو سطح زمین کے اوپر ہے ، سطح کے اندر ہے اور سمندروں کے اندر ہے اور لا انتہا فضاؤں میں ہے۔ ان میں سے انسان نہایت ہی معمولی حصے کے بارے میں جانتا ہے۔ رہی یہ کہ اس نہایت ہی وسیع اور ناقابل تصور وسعتوں والی کائنات میں اور کوئی زندہ مخلوق ہے یا نہیں اس کے متعلق ہمیں کوئی معلومات نہیں ہیں ہم تو زمین کے اوپر موجود اور مشہود حیات میں سے بھی نہایت ہی تھوڑے حصے کو ۔۔۔ معلوم کرسکے ہیں ، یہ زندہ مخلوقات جو آسمانوں اور زمین میں ہے اسے اللہ جس دن چاہے گا ، جمع کرے گا۔ کوئی ایک فرد بھی جو یہاں وجود کائنات کے بعدپیدا ہوا ہے ، رہ نہ جائے گا یا غائب نہ ہو سکے گا۔ انسانوں کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ان کے پنجروں سے پرندوں کی ایک ڈار اڑ جائے یا مکھیوں کے ایک چھتے سے ایک ڈار اڑ جائے تو وہ اسے جمع نہیں کرسکے۔ رہے پرندوں کے ڈار ، وہ کتنے ہیں ، یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ پھر مکھیوں ، چیونٹیوں اور اسی طرح کے دوسرے حیوانات کے چھتے تو ان کے بارے میں بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ اللہ ہی ان کو گن سکتا ہے۔ حشرات ارض ، کیڑے مکوڑے اور جراثیم تو ان کی تعداد اور ان کی جگہ کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ مچھلیوں اور دوسرے حیوانات بحر تو ان کی تعداد اور اقسام کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ پالتو اور جنگلی جانوروں کی اقسام و تعداد کہ کہاں کہاں بکھرے ہیں اس کا علم بھی صرف اللہ کو ہے اور پھر انسانوں کی آبادیوں اور گروہ اور اقوام و انواع سے اللہ ہی باخبر ہے کہ وہ کہاں کہاں رہتے رہے ہیں ، رہتے ہیں اور رہیں گے۔ ان اقسام کے علاوہ بیشمار خلائق ہیں جو تعداد میں ان سے زیادہ اور جو زمین و آسمان میں مخفی ہیں ، ان کو بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی مخلوق ہے۔ اللہ جب جمع کرے گا تو وہ ایک ہی لفظ کے ساتھ چشم زدن میں جمع کر دے گا۔ ایک ہی آیت میں ان سب زندہ چیزوں کے بکھیرنے اور پھر جمع کرنے کے دونوں مناظر دکھا دئیے گئے ، قبل اس کے کہ فقرہ پوری طرح زبان سے ادا ہوجائے۔ منظر پہلے ہی ذہن کے پردے پر آکر چلا جاتا ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز ہے۔ ان مناظر کے درمیان ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کی وجہ سے اس جہاں میں تم پر وبال بھی آتے رہے ہیں۔ یہ وبال پورے نہیں بلکہ ان کا ایک حصہ تم پر آتا ہے ، اکثر تو اللہ معاف کردیتا ہے کیونکہ اللہ انسانوں کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا انہیں دیتا ۔ اکثر اعمال بد سے اللہ درگزر کردیتا ہے۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم تو بہت ہی عاجز و لاچار ہو۔ تم اللہ کے کسی منصوبے کو تو نہیں روک سکتے۔ تم تو اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہو۔ وما اصابکم من مصیبۃ ۔۔۔۔۔۔۔ عن کثیر (42 : 30) وما انتم بمعجزین ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (42 : 31) ” تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے ، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے۔ اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کرجاتا ہے۔ تم زمین میں اپنے خدا کو عاجز کردینے والے نہیں ہو ، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی وناصر نہیں رکھتے “۔ پہلی آیت میں اللہ کے عدل کی تجلی ہے ، اور انسانوں پر اللہ کی رحمت کی تجلیات ہیں۔ اس پر جو مصائب آتے ہیں اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے آتے ہیں۔ لیکن اللہ تو تمام بدکاریوں پر خود انہیں پکڑ پکڑ کر معاف کردیتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ انسان بہت ضعیف ہے۔ اس کی فطرت کے رحجانات اور اس کا ماحول اسے بدکاری پر مجبور کرتا ہے۔ اس لیے بہت سے گناہوں کو اللہ معاف کردیتا ہے۔ یہ اس کی رحمتیں اور مہربانیاں ہوتی ہیں۔ دوسری آیت میں انسان کی کمزوری کا اظہار ہے کہ وہ زمین پر اللہ کے کسی منصوبے کو نہیں روک سکتا۔ (اسی طرح وہ دعوت اسلامی کو نہیں روک سکتا) اس کا کوئی ولی و مددگار اللہ کے سوا نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے حقیقی ولی کی طرف لوٹ آئے۔

الشورى 42:30

آیت نمبر 29 تا 31 یہ نشانی ہر وقت انسانی نظروں کے سامنے ہے اور جب وحی آئی تو اس نے اس کی شہادت دی۔ وحی میں تو انہوں نے شک کیا اور جھگڑتے رہے لیکن آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی جو نشانی کی جو نشانی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں وہ تو قطعی الدلالہ ہے۔ یہ فطرت انسانی کو فطری زبان میں خطاب کرتی ہے۔ کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے والا اس کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں رکھ سکتا۔ یہ نشانی یہ بتاتی ہے کہ جس ذات نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی ہے وہ انسان نہیں ہے۔ نہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس نشانی کا خالق نظر آتا ہے۔ لہٰذا کسی خالق و مدبر کے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہولناک ضخامت ، اس کی رفتار کی باریک اور دقیق یکسانی ، اس کے نظام کا حیران کن تسلسل اور اس پوری کائنات کے اندر ایک ہی قانون طبیعت اور ناموس فطرت کا اجراء ، ان سب امور کی کوئی عقلی توجیہہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ ایک ذات ہے جو الٰہ العالمین ہے ، جو اس کی تدبیر کر رہا ہے۔ رہی انسانی فطرت تو وہ براہ راست اس استدلال کو اور ان نشانیوں کو دیکھ پاتی ہے اور ان کا ادراک کر کے مطمئن ہوجاتی ہے۔ قبل اس کے کہ ایک بھی لفظ کسی خارجی ذریعہ سے سنے۔ آسمانوں اور زمین کی یہ بڑی نشانی اپنے اندر کئی نشانیاں رکھتی ہے۔ وما بث فیھما من دابۃ (42 : 29) ” اور یہ جاندار مخلوقات جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھے ہیں “ ۔ اس کو چھوڑ دیجئے کہ آسمانوں میں زندگی ہے یا نہیں ، ابھی تک ہمیں اس کا علم نہیں ، البتہ اس زمین کے اندر زندگی کی جو رنگا رنگی ہے یہ ایک نہایت ہی عظیم نشانی ہے۔ یہ ایک ایسا راز ہے کہ ابھی تک اس کی ماہیت تک کوئی نہیں پہنچا ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ کوئی اسے پیدا کرسکے۔ یہ ایک پوشیدہ راز ہے کہ زندگی کہاں سے آتی ہے ۔ کس طرح آتی ہے۔ اجسام کے اندر کس طرح مل جاتی ہے۔ آج تک حیات کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے جس قدر مساعی کی گئی ہیں اس راز کے دریافت کے تمام دروازے بند پائے گئے ہیں جو کچھ دریافت ہوا ، وہ حیات کے بعد زندگی کی ترقی اور نشوونما کے بارے میں ہے۔ زندگی کی رنگا رنگی اور اس کے مقاصد اور حکمتوں کے بارے میں ہے۔ اور اس محدود دائرے میں بھی آراء اور نظریات کا بےحد اختلاف ہے۔ ظاہری زندگی کے پیچھے کیا ہے ، وہ پردۂ کے پیچھے ہے۔ کوئی آنکھ وہاں تک نہیں دیکھ سکتی۔ کوئی قوت مدرکہ اس کا ادراک نہیں کرسکتی۔ یہ امر الٰہی ہے ، اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ یہ رنگا رنگ زندہ مخلوق جو سطح زمین کے اوپر ہے ، سطح کے اندر ہے اور سمندروں کے اندر ہے اور لا انتہا فضاؤں میں ہے۔ ان میں سے انسان نہایت ہی معمولی حصے کے بارے میں جانتا ہے۔ رہی یہ کہ اس نہایت ہی وسیع اور ناقابل تصور وسعتوں والی کائنات میں اور کوئی زندہ مخلوق ہے یا نہیں اس کے متعلق ہمیں کوئی معلومات نہیں ہیں ہم تو زمین کے اوپر موجود اور مشہود حیات میں سے بھی نہایت ہی تھوڑے حصے کو ۔۔۔ معلوم کرسکے ہیں ، یہ زندہ مخلوقات جو آسمانوں اور زمین میں ہے اسے اللہ جس دن چاہے گا ، جمع کرے گا۔ کوئی ایک فرد بھی جو یہاں وجود کائنات کے بعدپیدا ہوا ہے ، رہ نہ جائے گا یا غائب نہ ہو سکے گا۔ انسانوں کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ان کے پنجروں سے پرندوں کی ایک ڈار اڑ جائے یا مکھیوں کے ایک چھتے سے ایک ڈار اڑ جائے تو وہ اسے جمع نہیں کرسکے۔ رہے پرندوں کے ڈار ، وہ کتنے ہیں ، یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ پھر مکھیوں ، چیونٹیوں اور اسی طرح کے دوسرے حیوانات کے چھتے تو ان کے بارے میں بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ اللہ ہی ان کو گن سکتا ہے۔ حشرات ارض ، کیڑے مکوڑے اور جراثیم تو ان کی تعداد اور ان کی جگہ کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ مچھلیوں اور دوسرے حیوانات بحر تو ان کی تعداد اور اقسام کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ پالتو اور جنگلی جانوروں کی اقسام و تعداد کہ کہاں کہاں بکھرے ہیں اس کا علم بھی صرف اللہ کو ہے اور پھر انسانوں کی آبادیوں اور گروہ اور اقوام و انواع سے اللہ ہی باخبر ہے کہ وہ کہاں کہاں رہتے رہے ہیں ، رہتے ہیں اور رہیں گے۔ ان اقسام کے علاوہ بیشمار خلائق ہیں جو تعداد میں ان سے زیادہ اور جو زمین و آسمان میں مخفی ہیں ، ان کو بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی مخلوق ہے۔ اللہ جب جمع کرے گا تو وہ ایک ہی لفظ کے ساتھ چشم زدن میں جمع کر دے گا۔ ایک ہی آیت میں ان سب زندہ چیزوں کے بکھیرنے اور پھر جمع کرنے کے دونوں مناظر دکھا دئیے گئے ، قبل اس کے کہ فقرہ پوری طرح زبان سے ادا ہوجائے۔ منظر پہلے ہی ذہن کے پردے پر آکر چلا جاتا ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز ہے۔ ان مناظر کے درمیان ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کی وجہ سے اس جہاں میں تم پر وبال بھی آتے رہے ہیں۔ یہ وبال پورے نہیں بلکہ ان کا ایک حصہ تم پر آتا ہے ، اکثر تو اللہ معاف کردیتا ہے کیونکہ اللہ انسانوں کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا انہیں دیتا ۔ اکثر اعمال بد سے اللہ درگزر کردیتا ہے۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم تو بہت ہی عاجز و لاچار ہو۔ تم اللہ کے کسی منصوبے کو تو نہیں روک سکتے۔ تم تو اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہو۔ وما اصابکم من مصیبۃ ۔۔۔۔۔۔۔ عن کثیر (42 : 30) وما انتم بمعجزین ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (42 : 31) ” تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے ، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے۔ اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کرجاتا ہے۔ تم زمین میں اپنے خدا کو عاجز کردینے والے نہیں ہو ، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی وناصر نہیں رکھتے “۔ پہلی آیت میں اللہ کے عدل کی تجلی ہے ، اور انسانوں پر اللہ کی رحمت کی تجلیات ہیں۔ اس پر جو مصائب آتے ہیں اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے آتے ہیں۔ لیکن اللہ تو تمام بدکاریوں پر خود انہیں پکڑ پکڑ کر معاف کردیتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ انسان بہت ضعیف ہے۔ اس کی فطرت کے رحجانات اور اس کا ماحول اسے بدکاری پر مجبور کرتا ہے۔ اس لیے بہت سے گناہوں کو اللہ معاف کردیتا ہے۔ یہ اس کی رحمتیں اور مہربانیاں ہوتی ہیں۔ دوسری آیت میں انسان کی کمزوری کا اظہار ہے کہ وہ زمین پر اللہ کے کسی منصوبے کو نہیں روک سکتا۔ (اسی طرح وہ دعوت اسلامی کو نہیں روک سکتا) اس کا کوئی ولی و مددگار اللہ کے سوا نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے حقیقی ولی کی طرف لوٹ آئے۔

الشورى 42:31

آیت نمبر 29 تا 31 یہ نشانی ہر وقت انسانی نظروں کے سامنے ہے اور جب وحی آئی تو اس نے اس کی شہادت دی۔ وحی میں تو انہوں نے شک کیا اور جھگڑتے رہے لیکن آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی جو نشانی کی جو نشانی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں وہ تو قطعی الدلالہ ہے۔ یہ فطرت انسانی کو فطری زبان میں خطاب کرتی ہے۔ کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے والا اس کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں رکھ سکتا۔ یہ نشانی یہ بتاتی ہے کہ جس ذات نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی ہے وہ انسان نہیں ہے۔ نہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس نشانی کا خالق نظر آتا ہے۔ لہٰذا کسی خالق و مدبر کے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہولناک ضخامت ، اس کی رفتار کی باریک اور دقیق یکسانی ، اس کے نظام کا حیران کن تسلسل اور اس پوری کائنات کے اندر ایک ہی قانون طبیعت اور ناموس فطرت کا اجراء ، ان سب امور کی کوئی عقلی توجیہہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ ایک ذات ہے جو الٰہ العالمین ہے ، جو اس کی تدبیر کر رہا ہے۔ رہی انسانی فطرت تو وہ براہ راست اس استدلال کو اور ان نشانیوں کو دیکھ پاتی ہے اور ان کا ادراک کر کے مطمئن ہوجاتی ہے۔ قبل اس کے کہ ایک بھی لفظ کسی خارجی ذریعہ سے سنے۔ آسمانوں اور زمین کی یہ بڑی نشانی اپنے اندر کئی نشانیاں رکھتی ہے۔ وما بث فیھما من دابۃ (42 : 29) ” اور یہ جاندار مخلوقات جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھے ہیں “ ۔ اس کو چھوڑ دیجئے کہ آسمانوں میں زندگی ہے یا نہیں ، ابھی تک ہمیں اس کا علم نہیں ، البتہ اس زمین کے اندر زندگی کی جو رنگا رنگی ہے یہ ایک نہایت ہی عظیم نشانی ہے۔ یہ ایک ایسا راز ہے کہ ابھی تک اس کی ماہیت تک کوئی نہیں پہنچا ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ کوئی اسے پیدا کرسکے۔ یہ ایک پوشیدہ راز ہے کہ زندگی کہاں سے آتی ہے ۔ کس طرح آتی ہے۔ اجسام کے اندر کس طرح مل جاتی ہے۔ آج تک حیات کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے جس قدر مساعی کی گئی ہیں اس راز کے دریافت کے تمام دروازے بند پائے گئے ہیں جو کچھ دریافت ہوا ، وہ حیات کے بعد زندگی کی ترقی اور نشوونما کے بارے میں ہے۔ زندگی کی رنگا رنگی اور اس کے مقاصد اور حکمتوں کے بارے میں ہے۔ اور اس محدود دائرے میں بھی آراء اور نظریات کا بےحد اختلاف ہے۔ ظاہری زندگی کے پیچھے کیا ہے ، وہ پردۂ کے پیچھے ہے۔ کوئی آنکھ وہاں تک نہیں دیکھ سکتی۔ کوئی قوت مدرکہ اس کا ادراک نہیں کرسکتی۔ یہ امر الٰہی ہے ، اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ یہ رنگا رنگ زندہ مخلوق جو سطح زمین کے اوپر ہے ، سطح کے اندر ہے اور سمندروں کے اندر ہے اور لا انتہا فضاؤں میں ہے۔ ان میں سے انسان نہایت ہی معمولی حصے کے بارے میں جانتا ہے۔ رہی یہ کہ اس نہایت ہی وسیع اور ناقابل تصور وسعتوں والی کائنات میں اور کوئی زندہ مخلوق ہے یا نہیں اس کے متعلق ہمیں کوئی معلومات نہیں ہیں ہم تو زمین کے اوپر موجود اور مشہود حیات میں سے بھی نہایت ہی تھوڑے حصے کو ۔۔۔ معلوم کرسکے ہیں ، یہ زندہ مخلوقات جو آسمانوں اور زمین میں ہے اسے اللہ جس دن چاہے گا ، جمع کرے گا۔ کوئی ایک فرد بھی جو یہاں وجود کائنات کے بعدپیدا ہوا ہے ، رہ نہ جائے گا یا غائب نہ ہو سکے گا۔ انسانوں کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ان کے پنجروں سے پرندوں کی ایک ڈار اڑ جائے یا مکھیوں کے ایک چھتے سے ایک ڈار اڑ جائے تو وہ اسے جمع نہیں کرسکے۔ رہے پرندوں کے ڈار ، وہ کتنے ہیں ، یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ پھر مکھیوں ، چیونٹیوں اور اسی طرح کے دوسرے حیوانات کے چھتے تو ان کے بارے میں بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ اللہ ہی ان کو گن سکتا ہے۔ حشرات ارض ، کیڑے مکوڑے اور جراثیم تو ان کی تعداد اور ان کی جگہ کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ مچھلیوں اور دوسرے حیوانات بحر تو ان کی تعداد اور اقسام کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ پالتو اور جنگلی جانوروں کی اقسام و تعداد کہ کہاں کہاں بکھرے ہیں اس کا علم بھی صرف اللہ کو ہے اور پھر انسانوں کی آبادیوں اور گروہ اور اقوام و انواع سے اللہ ہی باخبر ہے کہ وہ کہاں کہاں رہتے رہے ہیں ، رہتے ہیں اور رہیں گے۔ ان اقسام کے علاوہ بیشمار خلائق ہیں جو تعداد میں ان سے زیادہ اور جو زمین و آسمان میں مخفی ہیں ، ان کو بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی مخلوق ہے۔ اللہ جب جمع کرے گا تو وہ ایک ہی لفظ کے ساتھ چشم زدن میں جمع کر دے گا۔ ایک ہی آیت میں ان سب زندہ چیزوں کے بکھیرنے اور پھر جمع کرنے کے دونوں مناظر دکھا دئیے گئے ، قبل اس کے کہ فقرہ پوری طرح زبان سے ادا ہوجائے۔ منظر پہلے ہی ذہن کے پردے پر آکر چلا جاتا ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز ہے۔ ان مناظر کے درمیان ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کی وجہ سے اس جہاں میں تم پر وبال بھی آتے رہے ہیں۔ یہ وبال پورے نہیں بلکہ ان کا ایک حصہ تم پر آتا ہے ، اکثر تو اللہ معاف کردیتا ہے کیونکہ اللہ انسانوں کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا انہیں دیتا ۔ اکثر اعمال بد سے اللہ درگزر کردیتا ہے۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم تو بہت ہی عاجز و لاچار ہو۔ تم اللہ کے کسی منصوبے کو تو نہیں روک سکتے۔ تم تو اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہو۔ وما اصابکم من مصیبۃ ۔۔۔۔۔۔۔ عن کثیر (42 : 30) وما انتم بمعجزین ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (42 : 31) ” تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے ، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے۔ اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کرجاتا ہے۔ تم زمین میں اپنے خدا کو عاجز کردینے والے نہیں ہو ، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی وناصر نہیں رکھتے “۔ پہلی آیت میں اللہ کے عدل کی تجلی ہے ، اور انسانوں پر اللہ کی رحمت کی تجلیات ہیں۔ اس پر جو مصائب آتے ہیں اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے آتے ہیں۔ لیکن اللہ تو تمام بدکاریوں پر خود انہیں پکڑ پکڑ کر معاف کردیتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ انسان بہت ضعیف ہے۔ اس کی فطرت کے رحجانات اور اس کا ماحول اسے بدکاری پر مجبور کرتا ہے۔ اس لیے بہت سے گناہوں کو اللہ معاف کردیتا ہے۔ یہ اس کی رحمتیں اور مہربانیاں ہوتی ہیں۔ دوسری آیت میں انسان کی کمزوری کا اظہار ہے کہ وہ زمین پر اللہ کے کسی منصوبے کو نہیں روک سکتا۔ (اسی طرح وہ دعوت اسلامی کو نہیں روک سکتا) اس کا کوئی ولی و مددگار اللہ کے سوا نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے حقیقی ولی کی طرف لوٹ آئے۔

الشورى 42:32

آیت نمبر 32 تا 35 پہاڑوں کی طرح دریاؤں میں چلنے پھرنے والے بحری جہاز اللہ کی نشانیوں میں سے مزید نشانیاں ہیں۔ یہ نشانی بھی حاضر و مشہود ہے۔ یہ نشانی ایسی ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی نشانیوں میں سے کئی نشانیوں پر قائم ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ یہ سمندر ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے اسے بنایا ؟ انسانوں نے اسے بنایا اور نام نہاد الہٰوں نے ۔ کون ہے جس نے اسے یہ گہرائی ، یہ کثافت اور یہ وسعت دی کہ وہ بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں کے اٹھانے کے قابل ہوگیا۔ پھر جس مواد سے کشتیاں بنتی ہیں ، اس مواد میں ایسی خصوصیت کس نے رکھی کہ وہ سطح سمندر پر تیرتا پھرے اور پھر یہ ہوا جو اس وقت ان بحری جہازوں کو چلاتی تھی اور اس وقت کے مخاطب جانتے تھے اور ہمارے دور میں وہ تمام قوتیں جن کو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخر کیا ہے اور وہ انہیں عظیم الجثہ جہازوں کے چلانے کے لئے کام میں لاتے ہیں۔ یہ قوتیں کس نے پیدا کیں جو جدید دے جدید پہاڑوں جیسے جہازوں کو چلاتی ہیں۔ ان یشا یسکن الریح فیظللن رواکد علی ظھرہ (42 : 33) “ اللہ جب چاہے ، ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ”۔ اور بعض اوقات یہ جہاز اس طرح کھڑے رہ جاتے تھے جسے ان کے اندر کوئی زندگی نہیں ہے۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (42 : 33) “ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو کمال درجے صبر و شکر کرنے والا ہو ”۔ یعنی ان جہازوں کے چلانے میں اور ان کے کھڑے کرنے میں نشانیاں ہیں۔ قرآن کریم میں بسا اوقات صبر اور شکر ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ صبر ابتلا پر ہوتا ہے اور شکر نعمتوں پر ہوتا ہے ، خوشی اور غم اور صبر اور شکر دونوں انسانی نفسیات میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ او یوبقھن بما کسبوا (42 : 34) “ یا ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ڈبو دے ”۔ ان کشتیوں کو پاش پاش کر دے یا ان کو غرق کر دے ، اس وجہ سے کہ لوگوں نے گناہوں اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے ایمان کی مخالفت کی حالانکہ اللہ کی تمام مخلوقات مومن ہے انسانوں میں سے بعض لوگ انکار کرتے ہیں۔ ویعف عن کثیر (42 : 34) “ اور اللہ بہت سے گناہوں سے در گزر کرتا ہے ”۔ اس لیے وہ لوگوں کو قدم قدم پر ان کے ہر گناہ پر نہیں پکڑتا بلکہ در گزر فرماتا ہے اور معاف کردیتا ہے۔ ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا مالھم من محیص (42 : 35) “ اور اس وقت ہماری آیات میں جھگڑا کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو اپنے عذاب کے سامنے لا کھڑا کرتا ، ان کی کشتیاں غرق کردیتا اور نہ نجات نہ پا سکتے۔۔۔۔۔ یوں ان کو یہ بات سمجھائی جاتی ہے کہ وہ اس دنیا کے جس سازو سامان اور کاروبار کے مالک ہیں ، وہ بھی اللہ کی ہلاکت کی زد میں ہیں۔ لہٰذا دنیا میں کسی چیز کے لئے قرار و ثبات نہیں ، ماسوائے تعلق باللہ کے۔ ٭٭٭ اس کے بعد ان کو ذرا اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ان کو جو سازوسامان دیا گیا ہے ، ذرا اس پر نگاہ ڈالیں کہ یہ کس قدر مختصر وقت کے لئے ہے۔ اور اصل باقی رہنے والی چیز اور دولت وہی ہے جو اللہ کے ہاں ذخیرہ کی گئی ہے۔ اور یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لاتے ہیں اور رب تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں ۔ یہ بیان آگے جاتا ہے اور اہل ایمان کی صفات گنواتا ہے جو ان کو ایک امت بنا دیتی ہیں ، جس کے الگ خدو خال ہوتے ہیں اور وہ امت تمام امتوں سے ممتاز ہے۔

الشورى 42:33

آیت نمبر 32 تا 35 پہاڑوں کی طرح دریاؤں میں چلنے پھرنے والے بحری جہاز اللہ کی نشانیوں میں سے مزید نشانیاں ہیں۔ یہ نشانی بھی حاضر و مشہود ہے۔ یہ نشانی ایسی ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی نشانیوں میں سے کئی نشانیوں پر قائم ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ یہ سمندر ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے اسے بنایا ؟ انسانوں نے اسے بنایا اور نام نہاد الہٰوں نے ۔ کون ہے جس نے اسے یہ گہرائی ، یہ کثافت اور یہ وسعت دی کہ وہ بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں کے اٹھانے کے قابل ہوگیا۔ پھر جس مواد سے کشتیاں بنتی ہیں ، اس مواد میں ایسی خصوصیت کس نے رکھی کہ وہ سطح سمندر پر تیرتا پھرے اور پھر یہ ہوا جو اس وقت ان بحری جہازوں کو چلاتی تھی اور اس وقت کے مخاطب جانتے تھے اور ہمارے دور میں وہ تمام قوتیں جن کو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخر کیا ہے اور وہ انہیں عظیم الجثہ جہازوں کے چلانے کے لئے کام میں لاتے ہیں۔ یہ قوتیں کس نے پیدا کیں جو جدید دے جدید پہاڑوں جیسے جہازوں کو چلاتی ہیں۔ ان یشا یسکن الریح فیظللن رواکد علی ظھرہ (42 : 33) “ اللہ جب چاہے ، ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ”۔ اور بعض اوقات یہ جہاز اس طرح کھڑے رہ جاتے تھے جسے ان کے اندر کوئی زندگی نہیں ہے۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (42 : 33) “ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو کمال درجے صبر و شکر کرنے والا ہو ”۔ یعنی ان جہازوں کے چلانے میں اور ان کے کھڑے کرنے میں نشانیاں ہیں۔ قرآن کریم میں بسا اوقات صبر اور شکر ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ صبر ابتلا پر ہوتا ہے اور شکر نعمتوں پر ہوتا ہے ، خوشی اور غم اور صبر اور شکر دونوں انسانی نفسیات میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ او یوبقھن بما کسبوا (42 : 34) “ یا ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ڈبو دے ”۔ ان کشتیوں کو پاش پاش کر دے یا ان کو غرق کر دے ، اس وجہ سے کہ لوگوں نے گناہوں اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے ایمان کی مخالفت کی حالانکہ اللہ کی تمام مخلوقات مومن ہے انسانوں میں سے بعض لوگ انکار کرتے ہیں۔ ویعف عن کثیر (42 : 34) “ اور اللہ بہت سے گناہوں سے در گزر کرتا ہے ”۔ اس لیے وہ لوگوں کو قدم قدم پر ان کے ہر گناہ پر نہیں پکڑتا بلکہ در گزر فرماتا ہے اور معاف کردیتا ہے۔ ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا مالھم من محیص (42 : 35) “ اور اس وقت ہماری آیات میں جھگڑا کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو اپنے عذاب کے سامنے لا کھڑا کرتا ، ان کی کشتیاں غرق کردیتا اور نہ نجات نہ پا سکتے۔۔۔۔۔ یوں ان کو یہ بات سمجھائی جاتی ہے کہ وہ اس دنیا کے جس سازو سامان اور کاروبار کے مالک ہیں ، وہ بھی اللہ کی ہلاکت کی زد میں ہیں۔ لہٰذا دنیا میں کسی چیز کے لئے قرار و ثبات نہیں ، ماسوائے تعلق باللہ کے۔ ٭٭٭ اس کے بعد ان کو ذرا اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ان کو جو سازوسامان دیا گیا ہے ، ذرا اس پر نگاہ ڈالیں کہ یہ کس قدر مختصر وقت کے لئے ہے۔ اور اصل باقی رہنے والی چیز اور دولت وہی ہے جو اللہ کے ہاں ذخیرہ کی گئی ہے۔ اور یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لاتے ہیں اور رب تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں ۔ یہ بیان آگے جاتا ہے اور اہل ایمان کی صفات گنواتا ہے جو ان کو ایک امت بنا دیتی ہیں ، جس کے الگ خدو خال ہوتے ہیں اور وہ امت تمام امتوں سے ممتاز ہے۔

الشورى 42:34

آیت نمبر 32 تا 35 پہاڑوں کی طرح دریاؤں میں چلنے پھرنے والے بحری جہاز اللہ کی نشانیوں میں سے مزید نشانیاں ہیں۔ یہ نشانی بھی حاضر و مشہود ہے۔ یہ نشانی ایسی ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی نشانیوں میں سے کئی نشانیوں پر قائم ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ یہ سمندر ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے اسے بنایا ؟ انسانوں نے اسے بنایا اور نام نہاد الہٰوں نے ۔ کون ہے جس نے اسے یہ گہرائی ، یہ کثافت اور یہ وسعت دی کہ وہ بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں کے اٹھانے کے قابل ہوگیا۔ پھر جس مواد سے کشتیاں بنتی ہیں ، اس مواد میں ایسی خصوصیت کس نے رکھی کہ وہ سطح سمندر پر تیرتا پھرے اور پھر یہ ہوا جو اس وقت ان بحری جہازوں کو چلاتی تھی اور اس وقت کے مخاطب جانتے تھے اور ہمارے دور میں وہ تمام قوتیں جن کو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخر کیا ہے اور وہ انہیں عظیم الجثہ جہازوں کے چلانے کے لئے کام میں لاتے ہیں۔ یہ قوتیں کس نے پیدا کیں جو جدید دے جدید پہاڑوں جیسے جہازوں کو چلاتی ہیں۔ ان یشا یسکن الریح فیظللن رواکد علی ظھرہ (42 : 33) “ اللہ جب چاہے ، ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ”۔ اور بعض اوقات یہ جہاز اس طرح کھڑے رہ جاتے تھے جسے ان کے اندر کوئی زندگی نہیں ہے۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (42 : 33) “ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو کمال درجے صبر و شکر کرنے والا ہو ”۔ یعنی ان جہازوں کے چلانے میں اور ان کے کھڑے کرنے میں نشانیاں ہیں۔ قرآن کریم میں بسا اوقات صبر اور شکر ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ صبر ابتلا پر ہوتا ہے اور شکر نعمتوں پر ہوتا ہے ، خوشی اور غم اور صبر اور شکر دونوں انسانی نفسیات میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ او یوبقھن بما کسبوا (42 : 34) “ یا ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ڈبو دے ”۔ ان کشتیوں کو پاش پاش کر دے یا ان کو غرق کر دے ، اس وجہ سے کہ لوگوں نے گناہوں اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے ایمان کی مخالفت کی حالانکہ اللہ کی تمام مخلوقات مومن ہے انسانوں میں سے بعض لوگ انکار کرتے ہیں۔ ویعف عن کثیر (42 : 34) “ اور اللہ بہت سے گناہوں سے در گزر کرتا ہے ”۔ اس لیے وہ لوگوں کو قدم قدم پر ان کے ہر گناہ پر نہیں پکڑتا بلکہ در گزر فرماتا ہے اور معاف کردیتا ہے۔ ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا مالھم من محیص (42 : 35) “ اور اس وقت ہماری آیات میں جھگڑا کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو اپنے عذاب کے سامنے لا کھڑا کرتا ، ان کی کشتیاں غرق کردیتا اور نہ نجات نہ پا سکتے۔۔۔۔۔ یوں ان کو یہ بات سمجھائی جاتی ہے کہ وہ اس دنیا کے جس سازو سامان اور کاروبار کے مالک ہیں ، وہ بھی اللہ کی ہلاکت کی زد میں ہیں۔ لہٰذا دنیا میں کسی چیز کے لئے قرار و ثبات نہیں ، ماسوائے تعلق باللہ کے۔ ٭٭٭ اس کے بعد ان کو ذرا اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ان کو جو سازوسامان دیا گیا ہے ، ذرا اس پر نگاہ ڈالیں کہ یہ کس قدر مختصر وقت کے لئے ہے۔ اور اصل باقی رہنے والی چیز اور دولت وہی ہے جو اللہ کے ہاں ذخیرہ کی گئی ہے۔ اور یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لاتے ہیں اور رب تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں ۔ یہ بیان آگے جاتا ہے اور اہل ایمان کی صفات گنواتا ہے جو ان کو ایک امت بنا دیتی ہیں ، جس کے الگ خدو خال ہوتے ہیں اور وہ امت تمام امتوں سے ممتاز ہے۔

الشورى 42:35

آیت نمبر 32 تا 35 پہاڑوں کی طرح دریاؤں میں چلنے پھرنے والے بحری جہاز اللہ کی نشانیوں میں سے مزید نشانیاں ہیں۔ یہ نشانی بھی حاضر و مشہود ہے۔ یہ نشانی ایسی ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی نشانیوں میں سے کئی نشانیوں پر قائم ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ یہ سمندر ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے اسے بنایا ؟ انسانوں نے اسے بنایا اور نام نہاد الہٰوں نے ۔ کون ہے جس نے اسے یہ گہرائی ، یہ کثافت اور یہ وسعت دی کہ وہ بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں کے اٹھانے کے قابل ہوگیا۔ پھر جس مواد سے کشتیاں بنتی ہیں ، اس مواد میں ایسی خصوصیت کس نے رکھی کہ وہ سطح سمندر پر تیرتا پھرے اور پھر یہ ہوا جو اس وقت ان بحری جہازوں کو چلاتی تھی اور اس وقت کے مخاطب جانتے تھے اور ہمارے دور میں وہ تمام قوتیں جن کو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخر کیا ہے اور وہ انہیں عظیم الجثہ جہازوں کے چلانے کے لئے کام میں لاتے ہیں۔ یہ قوتیں کس نے پیدا کیں جو جدید دے جدید پہاڑوں جیسے جہازوں کو چلاتی ہیں۔ ان یشا یسکن الریح فیظللن رواکد علی ظھرہ (42 : 33) “ اللہ جب چاہے ، ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ”۔ اور بعض اوقات یہ جہاز اس طرح کھڑے رہ جاتے تھے جسے ان کے اندر کوئی زندگی نہیں ہے۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (42 : 33) “ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو کمال درجے صبر و شکر کرنے والا ہو ”۔ یعنی ان جہازوں کے چلانے میں اور ان کے کھڑے کرنے میں نشانیاں ہیں۔ قرآن کریم میں بسا اوقات صبر اور شکر ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ صبر ابتلا پر ہوتا ہے اور شکر نعمتوں پر ہوتا ہے ، خوشی اور غم اور صبر اور شکر دونوں انسانی نفسیات میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ او یوبقھن بما کسبوا (42 : 34) “ یا ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ڈبو دے ”۔ ان کشتیوں کو پاش پاش کر دے یا ان کو غرق کر دے ، اس وجہ سے کہ لوگوں نے گناہوں اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے ایمان کی مخالفت کی حالانکہ اللہ کی تمام مخلوقات مومن ہے انسانوں میں سے بعض لوگ انکار کرتے ہیں۔ ویعف عن کثیر (42 : 34) “ اور اللہ بہت سے گناہوں سے در گزر کرتا ہے ”۔ اس لیے وہ لوگوں کو قدم قدم پر ان کے ہر گناہ پر نہیں پکڑتا بلکہ در گزر فرماتا ہے اور معاف کردیتا ہے۔ ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا مالھم من محیص (42 : 35) “ اور اس وقت ہماری آیات میں جھگڑا کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو اپنے عذاب کے سامنے لا کھڑا کرتا ، ان کی کشتیاں غرق کردیتا اور نہ نجات نہ پا سکتے۔۔۔۔۔ یوں ان کو یہ بات سمجھائی جاتی ہے کہ وہ اس دنیا کے جس سازو سامان اور کاروبار کے مالک ہیں ، وہ بھی اللہ کی ہلاکت کی زد میں ہیں۔ لہٰذا دنیا میں کسی چیز کے لئے قرار و ثبات نہیں ، ماسوائے تعلق باللہ کے۔ ٭٭٭ اس کے بعد ان کو ذرا اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ان کو جو سازوسامان دیا گیا ہے ، ذرا اس پر نگاہ ڈالیں کہ یہ کس قدر مختصر وقت کے لئے ہے۔ اور اصل باقی رہنے والی چیز اور دولت وہی ہے جو اللہ کے ہاں ذخیرہ کی گئی ہے۔ اور یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لاتے ہیں اور رب تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں ۔ یہ بیان آگے جاتا ہے اور اہل ایمان کی صفات گنواتا ہے جو ان کو ایک امت بنا دیتی ہیں ، جس کے الگ خدو خال ہوتے ہیں اور وہ امت تمام امتوں سے ممتاز ہے۔

الشورى 42:36

آیت نمبر 36 تا 43 اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف کیا ان کے بعدجب کوئی کتاب ان کی اگلی نسلوں کو ملی تو ان اختلافات کی وجہ سے وہ سرے سے کتابوں کے بارے میں شک میں پڑگئے۔ جب اہل کتاب اور اہل دین سماوی کا یہ حال ہوگیا تھا تو جن اقوام کے پاس کوئی کتاب یا کوئی دین ہی نہ تھا ، ظاہر ہے کہ ان کی حالت تو ان سے بھی بدتر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کو ایک صالح قیادت کی ضرورت تھی تا کہ وہ انسانوں کو ان اندھی جاہلیتوں سے نکالے اور ان کی رہنمائی کر کے ان کو ایک مضبوط رسی میں باندھ دے۔ اور ان کی رہنمائی ایک ایسے راستے کی طرف کرے جو اللہ تک پہنچاتا ہو جو اس وجود کا رب ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ آخری کتاب عربی زبان میں اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر اتاری تا کہ ام القریٰ ، مکہ مکرمہ اور اس کے ماحول میں رہنے والوں سے دعوت کا آغاز کرے اور ان کے اندر وہی دین قائم کرے جس کی سخت تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی تھی تا کہ تمام ادیان حقہ کی کڑیاں باہم مل جائیں اور آغاز تاریخ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی نہج ، ایک منہاج ، ایک ہی دین اور ایک ہی شریعت ہو اور ایک ایسی جماعت یہاں قائم کی جائے جو اس تاریخی دعوت کی محافظ ہو ، اس کی قیادت کرے اور اس کرۂ ارض پر اس دعوت کو اللہ کی منشا کے مطابق برپا کر کے یہاں اس منہاج کو قائم کرے۔ اور یہ کام اس شکل و صورت میں ہو جو اللہ کو پسند ہو۔ لہٰذا زیر بحث آیات میں اس جماعت کے خدوخال بیان ہو رہے ہیں۔ جس نے یہ عظیم فریضہ سر انجام دینا ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ آیات مکی ہیں اور مدینہ میں اسلامی نظام حکومت کے قیام سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ہم مکہ میں بھی تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت دیکھتے ہیں۔ وامرھم شوری بینھم (42 : 38) “ اور اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت کا قیام اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اسلامی جماعت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ جماعتی نظام شوریٰ پر قائم ہوتا ہے۔ یہی نظام جماعت سے آگے بڑھ کر پھر مملکت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی اسلامی معاشرے کی جان شورائیت ہے اور یہ اس کے اندر پھیلتی جاتی ہے۔ اس طرح اس جماعت کی دوسری خصوصیت یہ بتائی گئی ہے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ باوجود اس کے کہ مکہ میں حکم یہی تھا کہ صبر کرو ، اور زیادتی کا بدلہ زیادتی سے نہ دو ، اور یہ حکم اس وقت تک کے لئے تھا جب ہجرت کے بعد قتال کی اجازت دے دی گئی اور یہ کہا گیا ۔ اذن للذین ۔۔۔۔۔ نصرھم لقدیر (22 : 39) “ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ”۔ تو اس صفت کا ان مکی آیات میں ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ تحریک اسلامی کا مزاج یہی ہے کہ وہ زیادتی کے خلاف سینہ سپر ہوجاتی ہے اور اس سے پہلے اور بعد کے جو احکام ہیں وہ صبر کرنے اور رکے رہنے کے لئے ہیں۔ اور استثنائی احکام ہیں اور ایک متبعین وقت تک کے لئے ہیں۔ یہاں اس مکی سورت میں چونکہ جماعت مسلمہ کی بنیادی صفات قلم بند کی جا رہی تھیں اس لیے یہاں ذکر کردیا کہ اگرچہ فی الوقت انتصار کی ممانعت تھی لیکن یہ صفت اہل ایمان کی بنیادی صفات میں سے ہے۔ بہرحال جماعت مسلمہ کی صفات کے ضمن میں ایسے امور کا ذکر جن پر عمل نہ ہو رہا تھا اور نہ جماعت کے ہاتھ میں کسی ملک کی عملی قیادت تھی اور جماعت ابھی مکہ میں مصائب برداشت کر رہی تھی ، یہ اس لیے ہوا کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی تھی اور اسے اس لیے برپا کیا گیا تھا کہ وہ پوری انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور اسلام میں لائے گی۔ لہٰذا جماعت مسلمہ کے اندر ان صفات کا پیدا ہونا اور جماعت کے لئے ان مقاصد کے لئے تیار کرنا ضروری تھا۔ یہاں ان باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تا کہ جب اس کے ہاتھ میں اقتدار آئے تو وہ اس کی اہل ہو۔ لہٰذا ان صفات پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ یہ کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور انسانی معاشرے میں ان کی اہمیت کیا ہے۔ یہ ہیں ایک اسلامی جماعت کی صفات۔ ایمان ، توکل ، اجتناب کبائر اور فواحش ، غصے کے وقت معافی ، اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ، اقامت صلوٰۃ ، ہر معاملے میں مشاورت ، انفاق فی سبیل اللہ ، ظلم و زیادتی کا مقابلہ ، عفو ، اصلاح اور صبر۔ یہ کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ان کی اہمیت کیا ہے۔ مناسب ہے کہ ان صفات کو قرآنی ترتیب کے مطابق بیان کریں۔ قرآن کریم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طے کردہ ، مستحکم اور دائمی میزان کے سامنے کھڑا کردیتا ہے تا کہ وہ دائمی اور مستقل قدروں اور عارضی اور بدلنے والے حالات کے درمیان فرق و امتیاز کرسکیں۔ اور ان کی سوچ میں فرق نہ ہو ورنہ ان کی نگاہ میں ہر چیز کی حقیقی قدرو قیمت صحیح نہ رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات کے بیان سے پہلے ایک مستقبل میزان اور پیمانہ بیان کردیا کہ ایک مسلم جماعت کی صفات کے لئے یہ پیمانہ ہے۔ فما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ خیر وابقیٰ (42 : 36) “ جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی اور پائیدار بھی ”۔ اس زمین کا سازو سامان بہت ہی پرکشش اور زرق وبرق ہے۔ کھانے پینے کے سامان ، اولاد ، شہوات ، لذائذ ، مرتبہ اور اقتدار وغیرہ اور بعض نعمتیں وہ ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو زمین میں بطور مہربانی دی ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے خالص بخشش ہیں۔ ان کو اللہ نے اس دنیا میں معصیت اور طاعت پر موقوف نہیں کیا ہے۔ اگرچہ اطاعت شعار کی اس قلیل بخشش میں برکت ہوتی ہے اور بدکار کے ہاتھ میں اگر بہت کچھ ہو تب بھی اس سے برکت چھن جاتی ہے۔ لیکن یہ سب امور باقی اقدار نہیں ہیں۔ یہ متاع اور اس زندگی کا سروسامان ہے۔ یہ سرو سامان محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ نہ کسی کا مرتبہ بلند کرتا ہے ، نہ گراتا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک نہ شرافت و عزت کی دلیل ہے اور نہ کراہت اور ناپسندیدگی کی دلیل ہے۔ نہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے اللہ راضی ہے اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اللہ ناراض ہے۔ بس یہ اس زندگی ، فانی زندگی کا سامان ہے اور اس کے مقابلے میں۔ وما عند اللہ خیر وابقی (42 : 36) “ جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ”۔ بہتر ہے اپنی قیمت کے اعتبار سے اور پائیداریوں کہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ لہٰذا اس فانی دنیا کا سازو سامان بمقابلہ آخرت کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت ہی محدود اور کم قیمت ہے اور چند روزہ ہے۔ ایک فرد کے لئے صرف اسی کی زندگی میں کار آمد ہے اور پھر ہر شخص سوچ لے کہ وہ کتنی عمر لے کر آیا ہے اور کتنی رہ گئی ہے۔ اور بمقابلہ ایام اللہ یہ تو بہت کم بلکہ لمحات ہیں جس طرح چشم زدن۔ اس تمہیدی بیان اور اصل معیار نیک و بد کے بیان کے بعد اب اللہ ان مومنین کی صفات بیان فرماتا ہے جن کے لئے اللہ نے بہتر اور پائیدار انجام اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے۔ وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا (42 : 36) “ اور اللہ کے ہاں جو ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں ”۔ ایمان وہ حقیقت ہے کہ جب یہ ذہن میں بیٹھ جائے تب ہی جا کر اس کے ذریعہ انسانوں کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز کی اصل “ قدر ” معلوم کرسکیں۔ صرف ایمان کے ذریعہ ہم اس کائنات کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں کہ اس کائنات کو الٰہ العالمین نے بتایا ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہی کوئی شخص اس کائنات کے ساتھ کوئی معاملہ کرسکتا ہے۔ اس طرح انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرلیتا ہے۔ اس کے اندر پائے جانے والے قوانی قدرت کا حقیقی ادراک کرسکتا ہے اور اس طرح یہ انسان اپنی حرکت کو اس کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ پھر انسان اس کائنات کے کلی قوانین قدرت سے انحراف نہ کرے گا کیونکہ اس طرح یہ ہم آہنگی ختم ہوجائے گی اور یہ ہم آہنگی اس قدر اہم ہے کہ اس کے ساتھ انسان اس دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرسکے گا۔ اور اس عظیم وجود کے ساتھ مل کر اپنے باری تعالیٰ اور خالق کی اطاعت اور تابعداری میں زندگی بسر کرسکے گا۔ یہ صفت ہر انسان کے لئے لازمی صفت ہے کہ وہ مومن ہو ، لیکن جس جماعت نے پوری انسانیت کے اس سفر کی قیادت کرنی ہے اور جس نے پوری انسانیت کو خالق کائنات تک پہنچا نا ہے اس کے اندر اس صفت کا بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے۔ اس ایمان کے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ مومن کو نفسیاتی اطمینان اور نصب العین کا تعین حاصل ہوجاتا ہے۔ تردد ، حیرت ، خوف اور مایوسی اس کے قریب نہیں لگتی اور اس کرۂ ارض پر عام زندگی گزارنے کے لئے بھی یہ صفات اشد ضروری ہیں۔ لیکن یہ صفات اس جماعت کے لئے تو لابدی ہیں جس نے اس کٹھن راہ میں دوسرے انسانوں کی رہنمائی کرنی ہے۔ ایمان کو اہم قدروں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن خواہشات نفسانیہ ، ذاتی اغراض ، ذاتی مصلحتوں ، مفادات کے حصول سے پاک ہو۔ تب جا کر وہ کسی اونچے مقاصد کے لئے کام کرسکے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ اس کام میں اس کی ذات کی کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ یہ تو صرف دعوت الی اللہ کی ڈیوٹی ہے۔ یہ عند اللہ اجر پا چکا ہے۔ اللہ کے ساتھ سودا ہوچکا ہے اور یہ شعور اس شخص کے لئے تو بہت ہی لازمی ہے جو قائد تحریک ہو ، تا کہ وہ اس وقت مایوس نہ ہو جب ایک خود سر گروہ اس سے الگ ہوجائے یا اسے دعوت کی وجہ سے ایذا دی گئی ہو ، اور اگر تمام عوام اس کے گرویہ ہوجائیں اس کے مطیع ہوجائیں تو وہ مغرور نہ ہوجائے کیونکہ وہ تو ایک مزدور ہے ، اس نے اجرت اللہ سے پہلے ہی لے لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا پہلا گروہ ، جماعت صحابہ کے اندر اس قسم کا ایمان پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے ایمان نے ان کے نفوس ، ان کے اخلاق ، ان کے طرز عمل میں ایک عجیب انقلاب پید کردیا تھا۔ ان کے دور میں پوری انسانیت کے اندر ایمان کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ ایمان دب گیا تھا ، بلکہ ایمان کا لوگوں کے اخلاق ، ان کے طرزعمل اور ان کی نفسیات پر کوئی اثر ہی نہ رہا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے ایمان کی ایک زندہ ، موثر ، فعال صورت دی۔ اور اس نے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی جماعت پیدا کردی جنہوں نے اسلامی انقلاب کا بیڑا اٹھایا۔ ٭٭٭ سید ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب “ مسلمانوں کے زوال کے عالمی اثرات ” میں فرماتے ہیں : “ یہ ہے وہ ایمان جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں ایمان کو اس جماعت کی صفت اول بتایا گیا ہے جو پوری انسانیت کی قیادت کے لئے اٹھائی گئی ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے انسانیت کی قیادت کرتی ہے۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مومن صرف اللہ پر توکل کرے ”۔ لیکن قرآن مجید تو کل علی اللہ کو بطور ایک مستقل عنوان ذکر کرتا ہے۔ وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) “ اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ”۔ یہاں سیدھے سارے فقرے یتوکلون علی ربھم کی بجائے وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) کہا۔ یعنی بعد کے الفاظ کو مقدم یعنی جار مجرور کو مقدم کرنے سے حصر کے معنی پیدا ہوئے یعنی صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور کسی پر نہیں کرتے۔ یہ بھی عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اللہ پر بھروسہ ہو۔ مومن کا اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان ہوتا ہے۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مشیت سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ کوئی کام یہاں اللہ کے اذن کے بغیر واقع ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مومن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ کسی کام کے کرنے یا کسی کام کے نہ کرنے میں مومن صرف اللہ پر توکل کرتا ہے۔ ہر شخص کے لئے یہ شعور اس کی عملی زندگی میں لابدی ہے ۔ کیونکہ اس طرح وہ ہر کسی کے سامنے سر اٹھا کے چلے گا۔ اور اس کا سر کسی کے سامنے نہ جھکے گا۔ وہ بہت مطمئن ہوگا ، نہ کسی سے کوئی امید رکھے گا نہ اسے کسی کا خوف ہوگا اگر مشکلات آجائیں تو پرجوش اور ثابت قدم ہوگا اور اچھے دن ہوں تو سنجیدہ رہے گا۔ نہ خوشحالی اور نہ ہی بدحالی اسے اپنی جگہ سے ہلا سکے گی۔ لیکن یہ شعور اسلامی انقلاب کے قائد کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ وہ اس راہ کے نشیب و فراز میں جم جانے اور اسلامی انقلاب لانے والی جماعت کے ہر فرد میں بھی یہ صفت ضروری ہے۔ والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش (42 : 37) “ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ” ۔ قلب کی طہارت ، طرز عمل کا شفاف ہونا ، خصوصاً بڑے گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے ، اسلامی معاشرے کی اساسی خصوصیت ہے اور یہ ایمان کے نمایاں آثار میں سے ہے۔ اور کسی صحیح قائد اور خصوصاً اسلامی دعوت کے لئے اٹھنے والی جماعت کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری صفت ہے۔ کوئی دل اور شفاف نہیں رہ سکتا ، اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہو اور فحاشی کے کاموں میں حصہ دار ہو اور ان چیزوں سے اجتناب کرنے والا نہ ہو ، اور کوئی فرد اور کوئی جماعت قیادت کے قابل نہیں ، اگر اس کا دل صاف نہ ہو ، اور معصیت اور فحاشی نے اس کے ایمان کو خود ختم کردیا ہو اور اس کی شکل ہی بگڑی ہوئی ہو۔ پہلی جماعت مسلمہ کے دل میں ایمان اس قدر تیز احساس کے ساتھ ، اس درجے تک بلند ہوگیا تھا ، جس کی طرف محولہ بالا ص میں 22 میں اشارہ کیا گیا اور اس طرح اس جماعت کو اس کے ایمان نے انسانی قیادت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔ اور انہوں نے ایسی قیادت کی کہ اس کی مثال نہ سابقہ قدیم تاریخ میں ملتی ہے اور نہ نئی تاریخ میں۔ اس قیادت کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک تیز ہو اور جو ستارے کی طرف اشارہ کرتا ہو ، اس جہان میں جہاں خواہشات کی جنگ برپا ہو اور نفسا نفسی کا عالم ہو۔ اللہ اس انسانی مخلوق کی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قیادت کے لئے شرائط بھی معقول حد کے اندر رکھی ہیں۔ جن پر کوئی قیادت عمل کرسکے اور اس پر وہ اللہ کے ہاں موہود اجر پاسکے۔ اللہ نے جو معیار تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت اور اس کی لیڈر شپ کبائر گناہوں اور فواحش سے مجتنب ہو۔ رہے چھوڑے گناہوں کا ارتکاب تو وہ اللہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ انسانوں کی طاعت کی حدود وقیود سے خوب واقف ہے۔ یہ اللہ کا فضل ، اس کی مہربانی اور رحمت ہے ، جو اس نے اس انسان پر کیا۔ مناسب ہے کہ ہم اللہ سے شرم کریں کیونکہ مہربانی سے انسان کے اندر حیا کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عفو درگزر کی وجہ سے عزت و احترام پیدا ہوتا ہے۔ واذا ما غضبوا ھم یغفرون (42 : 37) “ اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں ” ۔ یہ صفت اس کے بعد متصلا آئی جب اس سے قبل اشارہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے چھوٹے گناہ معاف کر کے درگزر فرماتا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس میں مہربانی اور درگزر کا سلوک روا رکھیں۔ چناچہ مومنین کی صفات میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ جب ان کو غصہ آئے تو وہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔ اس معاملے میں بھی اسلام نفس انسانی کے ساتھ نہایت ہی احسان کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ غصہ ایک ایسا انسانی رد عمل ہے جو انسان کی فطرت سے اٹھتا ہے۔ اور یہ غصہ سرا سر شر بھی نہیں ہے۔ اللہ کے لئے ، اللہ کے دین کی خاطر ، سچائی کے لئے اور انصاف کی خاطر تو غصہ مطلوب ہے۔ اور اس میں خیر ہے۔ لہٰذا اسلام نفس غصے کو جرم قرار نہیں دیتا۔ نہ اسے غلطی قرار دیتا ہے بلکہ اسلام انسانی مزاج اور فطرت میں غصے کو قبول کرتا ہے۔ اس لیے اسلام انسان اور اس کی فطرت کے درمیان کسی دینی حکم کی وجہ سے جدائی اور تفریق نہیں کرتا۔ ہاں اسلام یہ ہدایت ضرور دیتا ہے کہ انسان کو اپنے غصے پر قابو پانا چاہئے۔ اسے چاہئے کہ حتی الوسع عفو و درگزر سے کام لے اور یہ اس کی ایمانی صفات میں سے ایک مثالی صفت ہوگی۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ آپ کبھی بھی ذاتی معاملات میں غصہ نہیں ہوئے۔ آپ کا غصہ اللہ کے لئے ہوتا تھا اور پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی طاقت ٹھہر نہ سکتی تھی۔ خیر یہ تو مقام محمدی ﷺ کے درجات و کمالات ہیں۔ عام مسلمانوں کو اللہ ان کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے ۔ اگرچہ وہ اس میں ان کو آزماتا ہے اور صرف یہ حکم دیتا ہے کہ اگر غصہ آجائے تو معاف کردیں ، اور اگر ممکن ہو سکے تو معاف کردیں اور انتقام کے جذبات پر قابو پالیں بشرطیکہ معاملہ ذاتی حدود کے اندر ہو۔ اور دو افراد کے درمیان ہو۔ والذین استجابوا لربھم (42 : 38) “ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ”۔ وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں اور نفس انسانی سے وہ باتیں محو کرتے ہیں جو توجہ الی اللہ سے مانع ہوں ، یہ رکاوٹیں نفسانی خواہشات ، جذبات و میلانات اور وہ رکاوٹیں جو انسان کے وجود اور اس کی ذات سے لگی ہوئی ہیں ، جب انسان ذاتی خواہشات پر قابو پالے اور شخصی رکاوٹوں کو دور کرے تو پھر اس کے اور اس کے رب کے درمیان راستہ صاف ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ رب کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے سامنے ذاتی خواہشات کی کوئی رکاوٹ ، رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی یہ عمومی صفت ہے لیکن احکام الٰہی میں سے بعض کا یہاں خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ واقاموا الصلوٰۃ (42 : 38) “ نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اسلام میں نماز کو ایک بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ کلمہ طیبہ کے اقرار کے بعد پہلا حکم نماز کا آتا ہے۔ گویا نماز اللہ کے احکام کی پیروی کا آغاز ہوتا ہے۔ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا نام نماز ہے۔ پھر یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام میں محمود وایاز ایک ہی صفت میں کھڑے ہوں گے۔ کسی کا سر دوسرے کے مقابلے میں بلند نہ ہوگا ، کوئی کسی سے آگے نہ ہوگا۔ اور یہی پہلو ہے یعنی مساوات کا پہلو کہ نماز کے بعد بالعموم زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے لیکن یہاں زکوٰۃ سے پہلے وامرھم شوری (42 : 38) کا ذکر کیا تا کہ معلوم ہو کہ رائے ہر شخص کی برابر شمار ہوگی۔ وامرھم شوریٰ بینھم (42 : 38) “ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ان کے تمام امور مشورے کے نتیجے میں ہوتے ہیں گویا ان کی پوری زندگی مشورے کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ ایک مکی آیت ہے اور یہ حکم اسلامی حکومت کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ رنگ گویا صرف حکومتی امور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسلامی سوسائٹی کا عمومی طرز عمل ہے۔ اگرچہ حکومت اس وقت قائم ہی نہ ہوئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی تنظیم دراصل اسلامی سوسائٹی کے خدو خال کا ایک منظم ظہور ہی ہے اور اسلامی سوسائٹی میں اسلامی حکومت بھی آتی ہے۔ لہٰذا اسلامی سوسائٹی ، اسلامی حکومت کو بھی اسی نہج پر چلاتی ہے۔ جس طرح اس کے عمومی امور چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں آغاز ہی سے مشورے کا عمل جاری تھا۔ اور اس مشورے کا دائرہ حکومت اور حکومتی احکام سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ یہ دراصل اسلامی سوسائٹی کی صفت ہے اور اس جماعت کی تو ممتاز صفات میں سے ہے جسے اللہ نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے برپا کیا ہے۔ اور قیادت کے لئے تو یہ بہت ہی اہم ہے۔ شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہونی چاہئے تو اسلام نے اس کے لئے کوئی فولادی قالب نہیں تیار کیا۔ ہر زمان و مکان کے حالات میں اس کی مختلف شکل و صورت تیار ہو سکتی ہے تا کہ یہ صفت یعنی شو رائیت اسلامی سوسائٹی میں بھی رائج ہو۔ اسلامی اداروں میں بھی مروج ہو ، لیکن اس کی کوئی جامد شکل نہ ہو بلکہ شوریٰ کی روح ہر جگہ موجود ہو۔ یعنی یہ شورائیت دراصل الفاظ اور اشکال کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک صفت ہے جو ایمان کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی میں شورائی شعور اور طرز عمل پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگ ایسے اسلامی اداروں کی بات کرتے ہیں جن کی تہہ میں ایمان نہ ہو یا ایمان کا ہونا ضروری نہ ہو تو وہ ایک فضول کام کر رہے ہیں۔ اور یہ کوئی سطحی بات نہیں ہے جس طرح پہلی نظر میں نظر آئے گی اور خصوصاً ان لوگوں کو نظر آئے گی جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات میں ایمان کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اسلامی نظریہ حیات اداروں اور تنظیمات میں منتقل ہونے سے قبل ، اس کے اندر ایسی عقلی اور نفسیاتی حقیقتیں ہوتی ہیں جو انسانی سوچ اور انسان کی ذات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد اسلام کے اجتماعی اداروں میں وہ اصول بن کر ایک متبعین شکل اختیار کر کے سامنے آتی ہیں اور اس کے بعد پھر نصوص آتے ہیں اور وہ ان اشکال اور حالات کی طرف اشارہ کردیتے ہیں ۔ نصوص ان اصولوں کو منظم کردیتے ہیں ، ان کی تخلیق نہیں کرتے ، ان کی تخلیق تو ایمان کی وجہ سے ہوچکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلامی نظریہ حیات کی کسی شکل و صورت کے ظہور کے لئے کسی ملک میں اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کا وجود ضروری ہے۔ اور ان مسلمانوں کا ایمان فعال اور بااثر ہو۔ اگر مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہو تو محض اداروں کے قیام سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ محض ادارے ضروریات پوری نہ کرسکیں گے اور اس صورت میں کوئی ایسا نظام وجود میں نہ آسکے گا جسے اسلامی کہا جاسکے۔ جب مسلمان صحیح معنوں میں پائے جائیں گے اور ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے وجود میں آجائے گا تو اسلامی نظام بذات خود وجود میں آجائے گا اور اس کی ایک اداراتی شکل خودبخود وجود میں آجائے گی جو ان مسلمانوں کی ضرورت ہوگی اور ان کی سوسائٹی کی ضرورت ہوگی اور صرف اس طرح اسلامی اصولوں کے خواب کی سچی تعبیر وجود میں آسکے گی۔ ومما رزقنھم ینفقون (42 : 38) “ اور ہم نے ان کو جو رزق دیا اس سے خرچ کرتے ہیں ” یہ آیت بھی حکم فرضیت زکوٰۃ سے پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ زکوٰۃ دو ہجری میں فرض ہوئی لیکن انفاق فی سبیل اللہ عام حکم اسلامی جماعت کے لئے پہلے سے تھا۔ بلکہ اسلامی سوسائٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ حکم وجود میں آگیا تھا۔ دعوت اسلامی کے عمل کے لئے مال کی ضرورت ہے اور یہ مال بذریعہ انفاق حاصل ہوگا۔ انفاق کے ذریعہ انسانوں کے دل کنجوسی کی بری خصلت سے پاک ہوتے ہیں جب انسانی جذبہ مال پر قابو پا لیتا ہے اور اپنی مملوکات کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہے ، ایمان کے مفہوم کے نکھار کے لئے یہ سب امور ضروری ہیں۔ اور یہ بات تو اپنی جگہ ہے کہ انفاق کے بغیر کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دعوت تو ایک جدو جہد ہے اور جدو جہد میں کارکنوں کی کفالت ضروری ہے تا کہ اجماعی ضروریات پوری ہوں اور نتائج برآمد ہوں۔ بعض اوقات یہ تکافل ہمہ گیر ہوجاتا ہے کہ کیس کے لئے انفرادی دولت رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ جب مہاجرین مکہ سے نکلے اور مدینہ میں انصار کے ساتھ مل کر جو نظام قائم ہوا یہ سب اسی اصول کے تحت تھا لیکن جب حالات معمول پر آگئے تو پھر زکوٰۃ کو رائج کر کے موافات کے نظام کو منسوخ کردیا گیا جو کلی تکافل تھا۔ بہرحال انفاق فی سبیل اللہ اس جماعت کی ممتاز خصوصیت ہے جسے اس مقصد کے لئے چنا گیا ہو یا اسے اس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہو کہ وہ کسی خطے میں اسلامی انقلاب برپا کرے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ مکی سورتوں میں اس صفت کا ذکر اپنے اندر خاص معنی رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت مسلمہ کے اندر یہ طبیعی صفت ہوتی ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا مقابلہ کرنا ایک اہم فریضہ ہے کیونکہ اگر کوئی ظالم کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو ظالم اور جری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ظالم کا مقابلہ کرنا بہت ضروی ہے۔ اور ایک ایسی ملت جسے اٹھایا ہی اس لیے گیا ہو کہ لوگوں کے حقوق کی پاسبانی کرے ، امر بالمعروف اس کا مشن ہو اور “ نہی عن المنکر اس کا فریضہ ہو ، اس کے لئے تو برائی کا مقابلہ کرنا بہت ہی اہم ہے کیونکہ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی پر چھا جانے اور اس کے اندر سچائی کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرے۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین “ اور عزت اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہے ”۔ لہٰذا اسلامی جماعت کا مزاج ، اس کے فرائض کی نوعیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرے اور اس پر جو دست درازیاں کی جا رہی ہیں ان کی مدافعت کرے۔ مکہ میں حکم یہ تھا کہ رک جاؤ اور ہاتھ روک لو اور صبر کرو۔ نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو ، وہاں یہ احکام مکہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے تھے اور ابتدائے عرب مسلمانوں کی قدرے تربیت بھی مطلوب تھی کیونکہ عرب مزاجاً منتقم المزاج تھے ، یہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کے لئے مستقل احکام نہ تھے۔ مکہ میں بعض خصوصی اسباب کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہر قیمت پر بقائے باہمی کے لئے امن اور سلامتی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ 1۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف سختی اور زیادتی کسی منظم حکومت ادارے کی طرف سے نہ تھی جو اس وقت کی جماعت پر حکمران ہو ، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سیاسی صورت حال غیر منظم قبائل انداز کی تھی۔ وہاں مسلمانوں پر جو تشدد کیا جاتا ہے تھا ، اگر کوئی مسلمان کسی قبیلے کا فرد تھا تو اس پر یہ تشدد قبیلہ کرتا تھا اور قبیلے میں بھی اس کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کوئی جرات نہ کرسکتا تھا۔ مسلمانوں پر بحیثیت جماعت کوئی تشدد نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات آقا اپنے مسلمان غلاموں پر تشدد کرتے تھے اور مسلمان انہیں خرید کر آزاد کردیتے تھے۔ اس لیے کوئی بھی اپنے غلاموں پر زیادہ تشدد کی جرات نہ کرتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نہ چاہتے تھے کہ مکہ میں گھر گھر کے اندر لڑائی شروع ہوجائے۔ ایک ہی گھر کے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں وہ غیر مسلموں سے لڑنا شروع کردیں۔ پھر مکہ میں نرمی دوسرے لوگوں کے دلوں کو زیادہ نرم کردیتی تھی بسنبت سختی کے۔ پھر عرب معاشرہ ایک خوددار اور جوانمرد معاشرہ تھا۔ اس میں مظلوم کی تمایت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ مسلمان جب اذیت برداشت کرتے تھے اور اپنے عقیدے پر جم جاتے تھے تو عربوں کی جوانمردی کے جذبات ان کے حق میں اٹھتے تھے۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران بالعموم اسی جذبے نے مسلمانوں کی مدد کی ، جس میں بنی ہاشم سب محصور کر دئیے گئے تھے۔ اس محاصرے کے خلاف لوگوں کی ہمدردیاں ، مسلمانوں کے حق میں ہوگئیں اور لوگوں نے اس معاہدے کے پرزے پرزے کر دئیے جو صحیفے میں تھا اور یوں یہ ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا۔ پھر عربوں کے اندر یہ رواج تھا کہ وہ بات بات پر تلوار سونت لیتے تھے۔ وہ بڑے جذباتی تھے اور کسی نظم و نسق کے پابند نہ تھے ۔ اسلامی جماعت میں جو تنظیم مطلوب تھی اس کا تقاضا تھا کہ اس جذباتیت کو ذرا دبایا جائے اور اسے کسی ہدف کا پابند کیا جائے۔ اور لوگوں کو اعصابی ضبط اور صبر کا عادی بنایا جائے۔ اور لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ نظریہ اور نصب العین ہر جذبے اور ہر مفاد پر مقدم ہیں۔ لہٰذا مکہ میں صبر اور مسلسل صبر کی تلقین کرنا اسلام کے منہاج تربیت کے لیے بہت ضروری تھا۔ اس طرح ایک مسلم کی شخصیت میں مطلویہ توازن پیدا ہوگیا اور وہ صبر وثبات کے ساتھ اپنے مقصد کے لئے آگے بڑھتے رہے۔۔۔۔ غرض یہ اور اس طرح کے دوسرے اسباب تھے جن کو اللہ اور رسول جانتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں ، صبر کی تلقین ہوتی رہی لیکن اصلی ہدف تحریک اسلامی کا یہی تھا۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ وہ لوگ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ مقابلہ کرتے ہیں ”۔ اس اصول کو زندگی کا ایک دوسرا اصول عملاً رائج کرتا ہے ، وہ ہے : وجذء سیئۃ سیئۃ مثلھا (42 : 40) “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔ سزا کا یہ اصول ہے کہ جیسا جرم ہو ، ویسی ہی سزا دی جائے تا کہ سرکشی اختیار نہ کرے۔ اگر کسی سرکش انسان کو کوئی روکنے والا نہ ہو تو وہ سر کشی اور ظلم میں بڑے اطمینان سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ تو ہے مظلوم کا حق اور اصول عامہ۔ لیکن اگر کوئی اپنے اصلاح نفس یا جزائے خیر اور اخروی اجر کے لئے کسی کو معاف کرتا ہے یا جماعت مسلمہ کے خلاف اٹھنے والے جذبات کی وجہ سے معاف کرتا ہے تو اس قاعدے میں استثناء موجود ہے۔ لیکن معافی کو اس وقت معانی تصور کیا جائے گا جب کوئی شخص برائی کا جواب برائی کے ساتھ دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ اس وقت عفو کا وزن بھی ہوگا اور دست درازی کرنے والے کی اصلاح بھی ہوگی کیونکہ دست درازی کرنے والا جب یہ سوچے گا کہ عفو اور در گزر محض احسان کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس میں معاف کرنے والے کی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ شرمندگی محسوس کرے گا ، نادم ہوگا اور آئندہ حیا کرے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ میرے مخالف نے میرے ساتھ شریفانہ سلوک کیا ہے۔ وہ اونچا آدمی ہے اور جو شخص انتقام لینے پر قادر ہو اور معاف کر دے تو اس کا دل بھی صاف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات میں عفو و درگزر دونوں کے لئے مفید ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص انتقام لینے سے عاجز ہو اور معاف کردے تو پھر صورت یہ ہوگی ، گداگر تواضع کند خوئے اوست۔ لہٰذا ایسے عفو کو عفو کہنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ وہاں عفو نہیں ہے ، مجبوری ہے۔ اور یہ صورت حال ایک شر انگیز صورت حال ہے ۔ اس کے نتیجے میں ظلم کرنے والا اور جری ہوتا ہے۔ اور فساد اور پھیلتا ہے ، یہ آیت مفہوم ۔ فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (42 : 40) “ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ پر ہے ”۔ انہ لا یحب الظلمین (42 : 40) “ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ”۔ یہ پہلے قاعدے کی تاکید ہے کہ “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یا تو معاف کر دو یا اگر بدلہ لینا ہے تو برابر بدلہ لو اس میں حدت نہ بڑھو۔۔۔۔ ایک دوسری تاکید اسی قاعدے گی : ولمن انتصر بعد ۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 42) انما السبیل علی الذین ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (42 : 42) “ اور جو لوگ ظلم کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ”۔ لہٰذا جو شخص ظلم کے بعد مدافعت کرتا ہے اور برائی کا بدلہ اس کے مساوی لینا ہے ، تعدی نہیں کرتا تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ تو اپنا قانون حق استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کسی کے پاس کوئی حجت نہیں ہے۔ نہ کسی کے لئے جائز ہے کہ اس کی راہ روکے۔ راہ تو ان لوگوں کی روکنی چاہئے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، اور زمین میں بغیر استحقاق کے زیادتیاں کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی ایسے ملک کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب اس میں ایک ظالم لوگوں پر ظلم کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ اس میں باغی ہو جو لوگوں پر مظالم ڈھا رہا ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس کا ہاتھ روکے یا اس سے قصاص دلواسکے۔ اللہ تعالیٰ بہرحال اس قسم کے ظالموں کو عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگوں کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ پکڑیں۔ آخر میں پھر انفرادی حالات اور طاقت انتقام کے باوجود ، تو ازن ، اعتدال ، ضبط نفس ، صبر اور احسان کا رویہ اپنانے پر متوجہ کیا جاتا ہے۔ جب صبر اور احسان فی الواقعہ ایک درگزر ہو ، ذلت نہ ہو ، کوئی احسان ہو ، مجبور نہ کردیا گیا ہو۔ ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور (42 : 43) “ البتہ جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے ”۔ اس پیراگراف کی تمام ہدایات و احکام نہایت ہی اعتدال اور میانہ روی پر مبنی ہیں۔ نفس انسانی کو ایک طرف کینہ اور غصے سے بچانے کی سعی کی گئی ہے ، اور دوسری جانب کمزوری ، ذلت اور ظلم و زیادتی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ہر حال میں اللہ کی رضا مندی کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ صبر بہرحال زاد راہ ہے۔ اور مومنین کی جو صفات یہاں دی گئی ہیں وہ اس انقلابی جماعت کی خصوصیات ہیں ، جس نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی ہے ، اور جس کے پیش نظر انعام اخروی اور رضائے الٰہی ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں اور رب پر توکل کریں۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ صفات مومنین یہ ہیں اور ان کے لئے جو اخروی اجر ہے ، وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اب بطور تقابل تصویر کا دوسرا رخ بعض ظالموں کا انجام بھی یہاں دے دیا جاتا ہے۔ اور ان کے لئے ذلت اور خسران کا اعلان کیا گیا ہے۔

الشورى 42:37

آیت نمبر 36 تا 43 اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف کیا ان کے بعدجب کوئی کتاب ان کی اگلی نسلوں کو ملی تو ان اختلافات کی وجہ سے وہ سرے سے کتابوں کے بارے میں شک میں پڑگئے۔ جب اہل کتاب اور اہل دین سماوی کا یہ حال ہوگیا تھا تو جن اقوام کے پاس کوئی کتاب یا کوئی دین ہی نہ تھا ، ظاہر ہے کہ ان کی حالت تو ان سے بھی بدتر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کو ایک صالح قیادت کی ضرورت تھی تا کہ وہ انسانوں کو ان اندھی جاہلیتوں سے نکالے اور ان کی رہنمائی کر کے ان کو ایک مضبوط رسی میں باندھ دے۔ اور ان کی رہنمائی ایک ایسے راستے کی طرف کرے جو اللہ تک پہنچاتا ہو جو اس وجود کا رب ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ آخری کتاب عربی زبان میں اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر اتاری تا کہ ام القریٰ ، مکہ مکرمہ اور اس کے ماحول میں رہنے والوں سے دعوت کا آغاز کرے اور ان کے اندر وہی دین قائم کرے جس کی سخت تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی تھی تا کہ تمام ادیان حقہ کی کڑیاں باہم مل جائیں اور آغاز تاریخ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی نہج ، ایک منہاج ، ایک ہی دین اور ایک ہی شریعت ہو اور ایک ایسی جماعت یہاں قائم کی جائے جو اس تاریخی دعوت کی محافظ ہو ، اس کی قیادت کرے اور اس کرۂ ارض پر اس دعوت کو اللہ کی منشا کے مطابق برپا کر کے یہاں اس منہاج کو قائم کرے۔ اور یہ کام اس شکل و صورت میں ہو جو اللہ کو پسند ہو۔ لہٰذا زیر بحث آیات میں اس جماعت کے خدوخال بیان ہو رہے ہیں۔ جس نے یہ عظیم فریضہ سر انجام دینا ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ آیات مکی ہیں اور مدینہ میں اسلامی نظام حکومت کے قیام سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ہم مکہ میں بھی تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت دیکھتے ہیں۔ وامرھم شوری بینھم (42 : 38) “ اور اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت کا قیام اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اسلامی جماعت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ جماعتی نظام شوریٰ پر قائم ہوتا ہے۔ یہی نظام جماعت سے آگے بڑھ کر پھر مملکت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی اسلامی معاشرے کی جان شورائیت ہے اور یہ اس کے اندر پھیلتی جاتی ہے۔ اس طرح اس جماعت کی دوسری خصوصیت یہ بتائی گئی ہے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ باوجود اس کے کہ مکہ میں حکم یہی تھا کہ صبر کرو ، اور زیادتی کا بدلہ زیادتی سے نہ دو ، اور یہ حکم اس وقت تک کے لئے تھا جب ہجرت کے بعد قتال کی اجازت دے دی گئی اور یہ کہا گیا ۔ اذن للذین ۔۔۔۔۔ نصرھم لقدیر (22 : 39) “ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ”۔ تو اس صفت کا ان مکی آیات میں ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ تحریک اسلامی کا مزاج یہی ہے کہ وہ زیادتی کے خلاف سینہ سپر ہوجاتی ہے اور اس سے پہلے اور بعد کے جو احکام ہیں وہ صبر کرنے اور رکے رہنے کے لئے ہیں۔ اور استثنائی احکام ہیں اور ایک متبعین وقت تک کے لئے ہیں۔ یہاں اس مکی سورت میں چونکہ جماعت مسلمہ کی بنیادی صفات قلم بند کی جا رہی تھیں اس لیے یہاں ذکر کردیا کہ اگرچہ فی الوقت انتصار کی ممانعت تھی لیکن یہ صفت اہل ایمان کی بنیادی صفات میں سے ہے۔ بہرحال جماعت مسلمہ کی صفات کے ضمن میں ایسے امور کا ذکر جن پر عمل نہ ہو رہا تھا اور نہ جماعت کے ہاتھ میں کسی ملک کی عملی قیادت تھی اور جماعت ابھی مکہ میں مصائب برداشت کر رہی تھی ، یہ اس لیے ہوا کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی تھی اور اسے اس لیے برپا کیا گیا تھا کہ وہ پوری انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور اسلام میں لائے گی۔ لہٰذا جماعت مسلمہ کے اندر ان صفات کا پیدا ہونا اور جماعت کے لئے ان مقاصد کے لئے تیار کرنا ضروری تھا۔ یہاں ان باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تا کہ جب اس کے ہاتھ میں اقتدار آئے تو وہ اس کی اہل ہو۔ لہٰذا ان صفات پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ یہ کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور انسانی معاشرے میں ان کی اہمیت کیا ہے۔ یہ ہیں ایک اسلامی جماعت کی صفات۔ ایمان ، توکل ، اجتناب کبائر اور فواحش ، غصے کے وقت معافی ، اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ، اقامت صلوٰۃ ، ہر معاملے میں مشاورت ، انفاق فی سبیل اللہ ، ظلم و زیادتی کا مقابلہ ، عفو ، اصلاح اور صبر۔ یہ کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ان کی اہمیت کیا ہے۔ مناسب ہے کہ ان صفات کو قرآنی ترتیب کے مطابق بیان کریں۔ قرآن کریم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طے کردہ ، مستحکم اور دائمی میزان کے سامنے کھڑا کردیتا ہے تا کہ وہ دائمی اور مستقل قدروں اور عارضی اور بدلنے والے حالات کے درمیان فرق و امتیاز کرسکیں۔ اور ان کی سوچ میں فرق نہ ہو ورنہ ان کی نگاہ میں ہر چیز کی حقیقی قدرو قیمت صحیح نہ رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات کے بیان سے پہلے ایک مستقبل میزان اور پیمانہ بیان کردیا کہ ایک مسلم جماعت کی صفات کے لئے یہ پیمانہ ہے۔ فما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ خیر وابقیٰ (42 : 36) “ جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی اور پائیدار بھی ”۔ اس زمین کا سازو سامان بہت ہی پرکشش اور زرق وبرق ہے۔ کھانے پینے کے سامان ، اولاد ، شہوات ، لذائذ ، مرتبہ اور اقتدار وغیرہ اور بعض نعمتیں وہ ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو زمین میں بطور مہربانی دی ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے خالص بخشش ہیں۔ ان کو اللہ نے اس دنیا میں معصیت اور طاعت پر موقوف نہیں کیا ہے۔ اگرچہ اطاعت شعار کی اس قلیل بخشش میں برکت ہوتی ہے اور بدکار کے ہاتھ میں اگر بہت کچھ ہو تب بھی اس سے برکت چھن جاتی ہے۔ لیکن یہ سب امور باقی اقدار نہیں ہیں۔ یہ متاع اور اس زندگی کا سروسامان ہے۔ یہ سرو سامان محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ نہ کسی کا مرتبہ بلند کرتا ہے ، نہ گراتا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک نہ شرافت و عزت کی دلیل ہے اور نہ کراہت اور ناپسندیدگی کی دلیل ہے۔ نہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے اللہ راضی ہے اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اللہ ناراض ہے۔ بس یہ اس زندگی ، فانی زندگی کا سامان ہے اور اس کے مقابلے میں۔ وما عند اللہ خیر وابقی (42 : 36) “ جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ”۔ بہتر ہے اپنی قیمت کے اعتبار سے اور پائیداریوں کہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ لہٰذا اس فانی دنیا کا سازو سامان بمقابلہ آخرت کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت ہی محدود اور کم قیمت ہے اور چند روزہ ہے۔ ایک فرد کے لئے صرف اسی کی زندگی میں کار آمد ہے اور پھر ہر شخص سوچ لے کہ وہ کتنی عمر لے کر آیا ہے اور کتنی رہ گئی ہے۔ اور بمقابلہ ایام اللہ یہ تو بہت کم بلکہ لمحات ہیں جس طرح چشم زدن۔ اس تمہیدی بیان اور اصل معیار نیک و بد کے بیان کے بعد اب اللہ ان مومنین کی صفات بیان فرماتا ہے جن کے لئے اللہ نے بہتر اور پائیدار انجام اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے۔ وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا (42 : 36) “ اور اللہ کے ہاں جو ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں ”۔ ایمان وہ حقیقت ہے کہ جب یہ ذہن میں بیٹھ جائے تب ہی جا کر اس کے ذریعہ انسانوں کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز کی اصل “ قدر ” معلوم کرسکیں۔ صرف ایمان کے ذریعہ ہم اس کائنات کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں کہ اس کائنات کو الٰہ العالمین نے بتایا ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہی کوئی شخص اس کائنات کے ساتھ کوئی معاملہ کرسکتا ہے۔ اس طرح انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرلیتا ہے۔ اس کے اندر پائے جانے والے قوانی قدرت کا حقیقی ادراک کرسکتا ہے اور اس طرح یہ انسان اپنی حرکت کو اس کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ پھر انسان اس کائنات کے کلی قوانین قدرت سے انحراف نہ کرے گا کیونکہ اس طرح یہ ہم آہنگی ختم ہوجائے گی اور یہ ہم آہنگی اس قدر اہم ہے کہ اس کے ساتھ انسان اس دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرسکے گا۔ اور اس عظیم وجود کے ساتھ مل کر اپنے باری تعالیٰ اور خالق کی اطاعت اور تابعداری میں زندگی بسر کرسکے گا۔ یہ صفت ہر انسان کے لئے لازمی صفت ہے کہ وہ مومن ہو ، لیکن جس جماعت نے پوری انسانیت کے اس سفر کی قیادت کرنی ہے اور جس نے پوری انسانیت کو خالق کائنات تک پہنچا نا ہے اس کے اندر اس صفت کا بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے۔ اس ایمان کے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ مومن کو نفسیاتی اطمینان اور نصب العین کا تعین حاصل ہوجاتا ہے۔ تردد ، حیرت ، خوف اور مایوسی اس کے قریب نہیں لگتی اور اس کرۂ ارض پر عام زندگی گزارنے کے لئے بھی یہ صفات اشد ضروری ہیں۔ لیکن یہ صفات اس جماعت کے لئے تو لابدی ہیں جس نے اس کٹھن راہ میں دوسرے انسانوں کی رہنمائی کرنی ہے۔ ایمان کو اہم قدروں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن خواہشات نفسانیہ ، ذاتی اغراض ، ذاتی مصلحتوں ، مفادات کے حصول سے پاک ہو۔ تب جا کر وہ کسی اونچے مقاصد کے لئے کام کرسکے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ اس کام میں اس کی ذات کی کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ یہ تو صرف دعوت الی اللہ کی ڈیوٹی ہے۔ یہ عند اللہ اجر پا چکا ہے۔ اللہ کے ساتھ سودا ہوچکا ہے اور یہ شعور اس شخص کے لئے تو بہت ہی لازمی ہے جو قائد تحریک ہو ، تا کہ وہ اس وقت مایوس نہ ہو جب ایک خود سر گروہ اس سے الگ ہوجائے یا اسے دعوت کی وجہ سے ایذا دی گئی ہو ، اور اگر تمام عوام اس کے گرویہ ہوجائیں اس کے مطیع ہوجائیں تو وہ مغرور نہ ہوجائے کیونکہ وہ تو ایک مزدور ہے ، اس نے اجرت اللہ سے پہلے ہی لے لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا پہلا گروہ ، جماعت صحابہ کے اندر اس قسم کا ایمان پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے ایمان نے ان کے نفوس ، ان کے اخلاق ، ان کے طرز عمل میں ایک عجیب انقلاب پید کردیا تھا۔ ان کے دور میں پوری انسانیت کے اندر ایمان کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ ایمان دب گیا تھا ، بلکہ ایمان کا لوگوں کے اخلاق ، ان کے طرزعمل اور ان کی نفسیات پر کوئی اثر ہی نہ رہا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے ایمان کی ایک زندہ ، موثر ، فعال صورت دی۔ اور اس نے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی جماعت پیدا کردی جنہوں نے اسلامی انقلاب کا بیڑا اٹھایا۔ ٭٭٭ سید ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب “ مسلمانوں کے زوال کے عالمی اثرات ” میں فرماتے ہیں : “ یہ ہے وہ ایمان جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں ایمان کو اس جماعت کی صفت اول بتایا گیا ہے جو پوری انسانیت کی قیادت کے لئے اٹھائی گئی ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے انسانیت کی قیادت کرتی ہے۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مومن صرف اللہ پر توکل کرے ”۔ لیکن قرآن مجید تو کل علی اللہ کو بطور ایک مستقل عنوان ذکر کرتا ہے۔ وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) “ اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ”۔ یہاں سیدھے سارے فقرے یتوکلون علی ربھم کی بجائے وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) کہا۔ یعنی بعد کے الفاظ کو مقدم یعنی جار مجرور کو مقدم کرنے سے حصر کے معنی پیدا ہوئے یعنی صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور کسی پر نہیں کرتے۔ یہ بھی عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اللہ پر بھروسہ ہو۔ مومن کا اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان ہوتا ہے۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مشیت سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ کوئی کام یہاں اللہ کے اذن کے بغیر واقع ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مومن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ کسی کام کے کرنے یا کسی کام کے نہ کرنے میں مومن صرف اللہ پر توکل کرتا ہے۔ ہر شخص کے لئے یہ شعور اس کی عملی زندگی میں لابدی ہے ۔ کیونکہ اس طرح وہ ہر کسی کے سامنے سر اٹھا کے چلے گا۔ اور اس کا سر کسی کے سامنے نہ جھکے گا۔ وہ بہت مطمئن ہوگا ، نہ کسی سے کوئی امید رکھے گا نہ اسے کسی کا خوف ہوگا اگر مشکلات آجائیں تو پرجوش اور ثابت قدم ہوگا اور اچھے دن ہوں تو سنجیدہ رہے گا۔ نہ خوشحالی اور نہ ہی بدحالی اسے اپنی جگہ سے ہلا سکے گی۔ لیکن یہ شعور اسلامی انقلاب کے قائد کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ وہ اس راہ کے نشیب و فراز میں جم جانے اور اسلامی انقلاب لانے والی جماعت کے ہر فرد میں بھی یہ صفت ضروری ہے۔ والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش (42 : 37) “ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ” ۔ قلب کی طہارت ، طرز عمل کا شفاف ہونا ، خصوصاً بڑے گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے ، اسلامی معاشرے کی اساسی خصوصیت ہے اور یہ ایمان کے نمایاں آثار میں سے ہے۔ اور کسی صحیح قائد اور خصوصاً اسلامی دعوت کے لئے اٹھنے والی جماعت کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری صفت ہے۔ کوئی دل اور شفاف نہیں رہ سکتا ، اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہو اور فحاشی کے کاموں میں حصہ دار ہو اور ان چیزوں سے اجتناب کرنے والا نہ ہو ، اور کوئی فرد اور کوئی جماعت قیادت کے قابل نہیں ، اگر اس کا دل صاف نہ ہو ، اور معصیت اور فحاشی نے اس کے ایمان کو خود ختم کردیا ہو اور اس کی شکل ہی بگڑی ہوئی ہو۔ پہلی جماعت مسلمہ کے دل میں ایمان اس قدر تیز احساس کے ساتھ ، اس درجے تک بلند ہوگیا تھا ، جس کی طرف محولہ بالا ص میں 22 میں اشارہ کیا گیا اور اس طرح اس جماعت کو اس کے ایمان نے انسانی قیادت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔ اور انہوں نے ایسی قیادت کی کہ اس کی مثال نہ سابقہ قدیم تاریخ میں ملتی ہے اور نہ نئی تاریخ میں۔ اس قیادت کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک تیز ہو اور جو ستارے کی طرف اشارہ کرتا ہو ، اس جہان میں جہاں خواہشات کی جنگ برپا ہو اور نفسا نفسی کا عالم ہو۔ اللہ اس انسانی مخلوق کی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قیادت کے لئے شرائط بھی معقول حد کے اندر رکھی ہیں۔ جن پر کوئی قیادت عمل کرسکے اور اس پر وہ اللہ کے ہاں موہود اجر پاسکے۔ اللہ نے جو معیار تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت اور اس کی لیڈر شپ کبائر گناہوں اور فواحش سے مجتنب ہو۔ رہے چھوڑے گناہوں کا ارتکاب تو وہ اللہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ انسانوں کی طاعت کی حدود وقیود سے خوب واقف ہے۔ یہ اللہ کا فضل ، اس کی مہربانی اور رحمت ہے ، جو اس نے اس انسان پر کیا۔ مناسب ہے کہ ہم اللہ سے شرم کریں کیونکہ مہربانی سے انسان کے اندر حیا کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عفو درگزر کی وجہ سے عزت و احترام پیدا ہوتا ہے۔ واذا ما غضبوا ھم یغفرون (42 : 37) “ اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں ” ۔ یہ صفت اس کے بعد متصلا آئی جب اس سے قبل اشارہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے چھوٹے گناہ معاف کر کے درگزر فرماتا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس میں مہربانی اور درگزر کا سلوک روا رکھیں۔ چناچہ مومنین کی صفات میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ جب ان کو غصہ آئے تو وہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔ اس معاملے میں بھی اسلام نفس انسانی کے ساتھ نہایت ہی احسان کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ غصہ ایک ایسا انسانی رد عمل ہے جو انسان کی فطرت سے اٹھتا ہے۔ اور یہ غصہ سرا سر شر بھی نہیں ہے۔ اللہ کے لئے ، اللہ کے دین کی خاطر ، سچائی کے لئے اور انصاف کی خاطر تو غصہ مطلوب ہے۔ اور اس میں خیر ہے۔ لہٰذا اسلام نفس غصے کو جرم قرار نہیں دیتا۔ نہ اسے غلطی قرار دیتا ہے بلکہ اسلام انسانی مزاج اور فطرت میں غصے کو قبول کرتا ہے۔ اس لیے اسلام انسان اور اس کی فطرت کے درمیان کسی دینی حکم کی وجہ سے جدائی اور تفریق نہیں کرتا۔ ہاں اسلام یہ ہدایت ضرور دیتا ہے کہ انسان کو اپنے غصے پر قابو پانا چاہئے۔ اسے چاہئے کہ حتی الوسع عفو و درگزر سے کام لے اور یہ اس کی ایمانی صفات میں سے ایک مثالی صفت ہوگی۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ آپ کبھی بھی ذاتی معاملات میں غصہ نہیں ہوئے۔ آپ کا غصہ اللہ کے لئے ہوتا تھا اور پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی طاقت ٹھہر نہ سکتی تھی۔ خیر یہ تو مقام محمدی ﷺ کے درجات و کمالات ہیں۔ عام مسلمانوں کو اللہ ان کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے ۔ اگرچہ وہ اس میں ان کو آزماتا ہے اور صرف یہ حکم دیتا ہے کہ اگر غصہ آجائے تو معاف کردیں ، اور اگر ممکن ہو سکے تو معاف کردیں اور انتقام کے جذبات پر قابو پالیں بشرطیکہ معاملہ ذاتی حدود کے اندر ہو۔ اور دو افراد کے درمیان ہو۔ والذین استجابوا لربھم (42 : 38) “ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ”۔ وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں اور نفس انسانی سے وہ باتیں محو کرتے ہیں جو توجہ الی اللہ سے مانع ہوں ، یہ رکاوٹیں نفسانی خواہشات ، جذبات و میلانات اور وہ رکاوٹیں جو انسان کے وجود اور اس کی ذات سے لگی ہوئی ہیں ، جب انسان ذاتی خواہشات پر قابو پالے اور شخصی رکاوٹوں کو دور کرے تو پھر اس کے اور اس کے رب کے درمیان راستہ صاف ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ رب کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے سامنے ذاتی خواہشات کی کوئی رکاوٹ ، رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی یہ عمومی صفت ہے لیکن احکام الٰہی میں سے بعض کا یہاں خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ واقاموا الصلوٰۃ (42 : 38) “ نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اسلام میں نماز کو ایک بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ کلمہ طیبہ کے اقرار کے بعد پہلا حکم نماز کا آتا ہے۔ گویا نماز اللہ کے احکام کی پیروی کا آغاز ہوتا ہے۔ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا نام نماز ہے۔ پھر یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام میں محمود وایاز ایک ہی صفت میں کھڑے ہوں گے۔ کسی کا سر دوسرے کے مقابلے میں بلند نہ ہوگا ، کوئی کسی سے آگے نہ ہوگا۔ اور یہی پہلو ہے یعنی مساوات کا پہلو کہ نماز کے بعد بالعموم زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے لیکن یہاں زکوٰۃ سے پہلے وامرھم شوری (42 : 38) کا ذکر کیا تا کہ معلوم ہو کہ رائے ہر شخص کی برابر شمار ہوگی۔ وامرھم شوریٰ بینھم (42 : 38) “ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ان کے تمام امور مشورے کے نتیجے میں ہوتے ہیں گویا ان کی پوری زندگی مشورے کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ ایک مکی آیت ہے اور یہ حکم اسلامی حکومت کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ رنگ گویا صرف حکومتی امور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسلامی سوسائٹی کا عمومی طرز عمل ہے۔ اگرچہ حکومت اس وقت قائم ہی نہ ہوئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی تنظیم دراصل اسلامی سوسائٹی کے خدو خال کا ایک منظم ظہور ہی ہے اور اسلامی سوسائٹی میں اسلامی حکومت بھی آتی ہے۔ لہٰذا اسلامی سوسائٹی ، اسلامی حکومت کو بھی اسی نہج پر چلاتی ہے۔ جس طرح اس کے عمومی امور چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں آغاز ہی سے مشورے کا عمل جاری تھا۔ اور اس مشورے کا دائرہ حکومت اور حکومتی احکام سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ یہ دراصل اسلامی سوسائٹی کی صفت ہے اور اس جماعت کی تو ممتاز صفات میں سے ہے جسے اللہ نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے برپا کیا ہے۔ اور قیادت کے لئے تو یہ بہت ہی اہم ہے۔ شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہونی چاہئے تو اسلام نے اس کے لئے کوئی فولادی قالب نہیں تیار کیا۔ ہر زمان و مکان کے حالات میں اس کی مختلف شکل و صورت تیار ہو سکتی ہے تا کہ یہ صفت یعنی شو رائیت اسلامی سوسائٹی میں بھی رائج ہو۔ اسلامی اداروں میں بھی مروج ہو ، لیکن اس کی کوئی جامد شکل نہ ہو بلکہ شوریٰ کی روح ہر جگہ موجود ہو۔ یعنی یہ شورائیت دراصل الفاظ اور اشکال کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک صفت ہے جو ایمان کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی میں شورائی شعور اور طرز عمل پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگ ایسے اسلامی اداروں کی بات کرتے ہیں جن کی تہہ میں ایمان نہ ہو یا ایمان کا ہونا ضروری نہ ہو تو وہ ایک فضول کام کر رہے ہیں۔ اور یہ کوئی سطحی بات نہیں ہے جس طرح پہلی نظر میں نظر آئے گی اور خصوصاً ان لوگوں کو نظر آئے گی جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات میں ایمان کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اسلامی نظریہ حیات اداروں اور تنظیمات میں منتقل ہونے سے قبل ، اس کے اندر ایسی عقلی اور نفسیاتی حقیقتیں ہوتی ہیں جو انسانی سوچ اور انسان کی ذات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد اسلام کے اجتماعی اداروں میں وہ اصول بن کر ایک متبعین شکل اختیار کر کے سامنے آتی ہیں اور اس کے بعد پھر نصوص آتے ہیں اور وہ ان اشکال اور حالات کی طرف اشارہ کردیتے ہیں ۔ نصوص ان اصولوں کو منظم کردیتے ہیں ، ان کی تخلیق نہیں کرتے ، ان کی تخلیق تو ایمان کی وجہ سے ہوچکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلامی نظریہ حیات کی کسی شکل و صورت کے ظہور کے لئے کسی ملک میں اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کا وجود ضروری ہے۔ اور ان مسلمانوں کا ایمان فعال اور بااثر ہو۔ اگر مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہو تو محض اداروں کے قیام سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ محض ادارے ضروریات پوری نہ کرسکیں گے اور اس صورت میں کوئی ایسا نظام وجود میں نہ آسکے گا جسے اسلامی کہا جاسکے۔ جب مسلمان صحیح معنوں میں پائے جائیں گے اور ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے وجود میں آجائے گا تو اسلامی نظام بذات خود وجود میں آجائے گا اور اس کی ایک اداراتی شکل خودبخود وجود میں آجائے گی جو ان مسلمانوں کی ضرورت ہوگی اور ان کی سوسائٹی کی ضرورت ہوگی اور صرف اس طرح اسلامی اصولوں کے خواب کی سچی تعبیر وجود میں آسکے گی۔ ومما رزقنھم ینفقون (42 : 38) “ اور ہم نے ان کو جو رزق دیا اس سے خرچ کرتے ہیں ” یہ آیت بھی حکم فرضیت زکوٰۃ سے پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ زکوٰۃ دو ہجری میں فرض ہوئی لیکن انفاق فی سبیل اللہ عام حکم اسلامی جماعت کے لئے پہلے سے تھا۔ بلکہ اسلامی سوسائٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ حکم وجود میں آگیا تھا۔ دعوت اسلامی کے عمل کے لئے مال کی ضرورت ہے اور یہ مال بذریعہ انفاق حاصل ہوگا۔ انفاق کے ذریعہ انسانوں کے دل کنجوسی کی بری خصلت سے پاک ہوتے ہیں جب انسانی جذبہ مال پر قابو پا لیتا ہے اور اپنی مملوکات کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہے ، ایمان کے مفہوم کے نکھار کے لئے یہ سب امور ضروری ہیں۔ اور یہ بات تو اپنی جگہ ہے کہ انفاق کے بغیر کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دعوت تو ایک جدو جہد ہے اور جدو جہد میں کارکنوں کی کفالت ضروری ہے تا کہ اجماعی ضروریات پوری ہوں اور نتائج برآمد ہوں۔ بعض اوقات یہ تکافل ہمہ گیر ہوجاتا ہے کہ کیس کے لئے انفرادی دولت رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ جب مہاجرین مکہ سے نکلے اور مدینہ میں انصار کے ساتھ مل کر جو نظام قائم ہوا یہ سب اسی اصول کے تحت تھا لیکن جب حالات معمول پر آگئے تو پھر زکوٰۃ کو رائج کر کے موافات کے نظام کو منسوخ کردیا گیا جو کلی تکافل تھا۔ بہرحال انفاق فی سبیل اللہ اس جماعت کی ممتاز خصوصیت ہے جسے اس مقصد کے لئے چنا گیا ہو یا اسے اس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہو کہ وہ کسی خطے میں اسلامی انقلاب برپا کرے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ مکی سورتوں میں اس صفت کا ذکر اپنے اندر خاص معنی رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت مسلمہ کے اندر یہ طبیعی صفت ہوتی ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا مقابلہ کرنا ایک اہم فریضہ ہے کیونکہ اگر کوئی ظالم کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو ظالم اور جری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ظالم کا مقابلہ کرنا بہت ضروی ہے۔ اور ایک ایسی ملت جسے اٹھایا ہی اس لیے گیا ہو کہ لوگوں کے حقوق کی پاسبانی کرے ، امر بالمعروف اس کا مشن ہو اور “ نہی عن المنکر اس کا فریضہ ہو ، اس کے لئے تو برائی کا مقابلہ کرنا بہت ہی اہم ہے کیونکہ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی پر چھا جانے اور اس کے اندر سچائی کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرے۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین “ اور عزت اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہے ”۔ لہٰذا اسلامی جماعت کا مزاج ، اس کے فرائض کی نوعیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرے اور اس پر جو دست درازیاں کی جا رہی ہیں ان کی مدافعت کرے۔ مکہ میں حکم یہ تھا کہ رک جاؤ اور ہاتھ روک لو اور صبر کرو۔ نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو ، وہاں یہ احکام مکہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے تھے اور ابتدائے عرب مسلمانوں کی قدرے تربیت بھی مطلوب تھی کیونکہ عرب مزاجاً منتقم المزاج تھے ، یہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کے لئے مستقل احکام نہ تھے۔ مکہ میں بعض خصوصی اسباب کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہر قیمت پر بقائے باہمی کے لئے امن اور سلامتی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ 1۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف سختی اور زیادتی کسی منظم حکومت ادارے کی طرف سے نہ تھی جو اس وقت کی جماعت پر حکمران ہو ، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سیاسی صورت حال غیر منظم قبائل انداز کی تھی۔ وہاں مسلمانوں پر جو تشدد کیا جاتا ہے تھا ، اگر کوئی مسلمان کسی قبیلے کا فرد تھا تو اس پر یہ تشدد قبیلہ کرتا تھا اور قبیلے میں بھی اس کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کوئی جرات نہ کرسکتا تھا۔ مسلمانوں پر بحیثیت جماعت کوئی تشدد نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات آقا اپنے مسلمان غلاموں پر تشدد کرتے تھے اور مسلمان انہیں خرید کر آزاد کردیتے تھے۔ اس لیے کوئی بھی اپنے غلاموں پر زیادہ تشدد کی جرات نہ کرتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نہ چاہتے تھے کہ مکہ میں گھر گھر کے اندر لڑائی شروع ہوجائے۔ ایک ہی گھر کے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں وہ غیر مسلموں سے لڑنا شروع کردیں۔ پھر مکہ میں نرمی دوسرے لوگوں کے دلوں کو زیادہ نرم کردیتی تھی بسنبت سختی کے۔ پھر عرب معاشرہ ایک خوددار اور جوانمرد معاشرہ تھا۔ اس میں مظلوم کی تمایت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ مسلمان جب اذیت برداشت کرتے تھے اور اپنے عقیدے پر جم جاتے تھے تو عربوں کی جوانمردی کے جذبات ان کے حق میں اٹھتے تھے۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران بالعموم اسی جذبے نے مسلمانوں کی مدد کی ، جس میں بنی ہاشم سب محصور کر دئیے گئے تھے۔ اس محاصرے کے خلاف لوگوں کی ہمدردیاں ، مسلمانوں کے حق میں ہوگئیں اور لوگوں نے اس معاہدے کے پرزے پرزے کر دئیے جو صحیفے میں تھا اور یوں یہ ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا۔ پھر عربوں کے اندر یہ رواج تھا کہ وہ بات بات پر تلوار سونت لیتے تھے۔ وہ بڑے جذباتی تھے اور کسی نظم و نسق کے پابند نہ تھے ۔ اسلامی جماعت میں جو تنظیم مطلوب تھی اس کا تقاضا تھا کہ اس جذباتیت کو ذرا دبایا جائے اور اسے کسی ہدف کا پابند کیا جائے۔ اور لوگوں کو اعصابی ضبط اور صبر کا عادی بنایا جائے۔ اور لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ نظریہ اور نصب العین ہر جذبے اور ہر مفاد پر مقدم ہیں۔ لہٰذا مکہ میں صبر اور مسلسل صبر کی تلقین کرنا اسلام کے منہاج تربیت کے لیے بہت ضروری تھا۔ اس طرح ایک مسلم کی شخصیت میں مطلویہ توازن پیدا ہوگیا اور وہ صبر وثبات کے ساتھ اپنے مقصد کے لئے آگے بڑھتے رہے۔۔۔۔ غرض یہ اور اس طرح کے دوسرے اسباب تھے جن کو اللہ اور رسول جانتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں ، صبر کی تلقین ہوتی رہی لیکن اصلی ہدف تحریک اسلامی کا یہی تھا۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ وہ لوگ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ مقابلہ کرتے ہیں ”۔ اس اصول کو زندگی کا ایک دوسرا اصول عملاً رائج کرتا ہے ، وہ ہے : وجذء سیئۃ سیئۃ مثلھا (42 : 40) “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔ سزا کا یہ اصول ہے کہ جیسا جرم ہو ، ویسی ہی سزا دی جائے تا کہ سرکشی اختیار نہ کرے۔ اگر کسی سرکش انسان کو کوئی روکنے والا نہ ہو تو وہ سر کشی اور ظلم میں بڑے اطمینان سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ تو ہے مظلوم کا حق اور اصول عامہ۔ لیکن اگر کوئی اپنے اصلاح نفس یا جزائے خیر اور اخروی اجر کے لئے کسی کو معاف کرتا ہے یا جماعت مسلمہ کے خلاف اٹھنے والے جذبات کی وجہ سے معاف کرتا ہے تو اس قاعدے میں استثناء موجود ہے۔ لیکن معافی کو اس وقت معانی تصور کیا جائے گا جب کوئی شخص برائی کا جواب برائی کے ساتھ دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ اس وقت عفو کا وزن بھی ہوگا اور دست درازی کرنے والے کی اصلاح بھی ہوگی کیونکہ دست درازی کرنے والا جب یہ سوچے گا کہ عفو اور در گزر محض احسان کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس میں معاف کرنے والے کی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ شرمندگی محسوس کرے گا ، نادم ہوگا اور آئندہ حیا کرے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ میرے مخالف نے میرے ساتھ شریفانہ سلوک کیا ہے۔ وہ اونچا آدمی ہے اور جو شخص انتقام لینے پر قادر ہو اور معاف کر دے تو اس کا دل بھی صاف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات میں عفو و درگزر دونوں کے لئے مفید ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص انتقام لینے سے عاجز ہو اور معاف کردے تو پھر صورت یہ ہوگی ، گداگر تواضع کند خوئے اوست۔ لہٰذا ایسے عفو کو عفو کہنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ وہاں عفو نہیں ہے ، مجبوری ہے۔ اور یہ صورت حال ایک شر انگیز صورت حال ہے ۔ اس کے نتیجے میں ظلم کرنے والا اور جری ہوتا ہے۔ اور فساد اور پھیلتا ہے ، یہ آیت مفہوم ۔ فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (42 : 40) “ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ پر ہے ”۔ انہ لا یحب الظلمین (42 : 40) “ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ”۔ یہ پہلے قاعدے کی تاکید ہے کہ “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یا تو معاف کر دو یا اگر بدلہ لینا ہے تو برابر بدلہ لو اس میں حدت نہ بڑھو۔۔۔۔ ایک دوسری تاکید اسی قاعدے گی : ولمن انتصر بعد ۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 42) انما السبیل علی الذین ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (42 : 42) “ اور جو لوگ ظلم کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ”۔ لہٰذا جو شخص ظلم کے بعد مدافعت کرتا ہے اور برائی کا بدلہ اس کے مساوی لینا ہے ، تعدی نہیں کرتا تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ تو اپنا قانون حق استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کسی کے پاس کوئی حجت نہیں ہے۔ نہ کسی کے لئے جائز ہے کہ اس کی راہ روکے۔ راہ تو ان لوگوں کی روکنی چاہئے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، اور زمین میں بغیر استحقاق کے زیادتیاں کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی ایسے ملک کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب اس میں ایک ظالم لوگوں پر ظلم کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ اس میں باغی ہو جو لوگوں پر مظالم ڈھا رہا ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس کا ہاتھ روکے یا اس سے قصاص دلواسکے۔ اللہ تعالیٰ بہرحال اس قسم کے ظالموں کو عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگوں کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ پکڑیں۔ آخر میں پھر انفرادی حالات اور طاقت انتقام کے باوجود ، تو ازن ، اعتدال ، ضبط نفس ، صبر اور احسان کا رویہ اپنانے پر متوجہ کیا جاتا ہے۔ جب صبر اور احسان فی الواقعہ ایک درگزر ہو ، ذلت نہ ہو ، کوئی احسان ہو ، مجبور نہ کردیا گیا ہو۔ ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور (42 : 43) “ البتہ جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے ”۔ اس پیراگراف کی تمام ہدایات و احکام نہایت ہی اعتدال اور میانہ روی پر مبنی ہیں۔ نفس انسانی کو ایک طرف کینہ اور غصے سے بچانے کی سعی کی گئی ہے ، اور دوسری جانب کمزوری ، ذلت اور ظلم و زیادتی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ہر حال میں اللہ کی رضا مندی کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ صبر بہرحال زاد راہ ہے۔ اور مومنین کی جو صفات یہاں دی گئی ہیں وہ اس انقلابی جماعت کی خصوصیات ہیں ، جس نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی ہے ، اور جس کے پیش نظر انعام اخروی اور رضائے الٰہی ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں اور رب پر توکل کریں۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ صفات مومنین یہ ہیں اور ان کے لئے جو اخروی اجر ہے ، وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اب بطور تقابل تصویر کا دوسرا رخ بعض ظالموں کا انجام بھی یہاں دے دیا جاتا ہے۔ اور ان کے لئے ذلت اور خسران کا اعلان کیا گیا ہے۔

الشورى 42:38

آیت نمبر 36 تا 43 اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف کیا ان کے بعدجب کوئی کتاب ان کی اگلی نسلوں کو ملی تو ان اختلافات کی وجہ سے وہ سرے سے کتابوں کے بارے میں شک میں پڑگئے۔ جب اہل کتاب اور اہل دین سماوی کا یہ حال ہوگیا تھا تو جن اقوام کے پاس کوئی کتاب یا کوئی دین ہی نہ تھا ، ظاہر ہے کہ ان کی حالت تو ان سے بھی بدتر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کو ایک صالح قیادت کی ضرورت تھی تا کہ وہ انسانوں کو ان اندھی جاہلیتوں سے نکالے اور ان کی رہنمائی کر کے ان کو ایک مضبوط رسی میں باندھ دے۔ اور ان کی رہنمائی ایک ایسے راستے کی طرف کرے جو اللہ تک پہنچاتا ہو جو اس وجود کا رب ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ آخری کتاب عربی زبان میں اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر اتاری تا کہ ام القریٰ ، مکہ مکرمہ اور اس کے ماحول میں رہنے والوں سے دعوت کا آغاز کرے اور ان کے اندر وہی دین قائم کرے جس کی سخت تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی تھی تا کہ تمام ادیان حقہ کی کڑیاں باہم مل جائیں اور آغاز تاریخ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی نہج ، ایک منہاج ، ایک ہی دین اور ایک ہی شریعت ہو اور ایک ایسی جماعت یہاں قائم کی جائے جو اس تاریخی دعوت کی محافظ ہو ، اس کی قیادت کرے اور اس کرۂ ارض پر اس دعوت کو اللہ کی منشا کے مطابق برپا کر کے یہاں اس منہاج کو قائم کرے۔ اور یہ کام اس شکل و صورت میں ہو جو اللہ کو پسند ہو۔ لہٰذا زیر بحث آیات میں اس جماعت کے خدوخال بیان ہو رہے ہیں۔ جس نے یہ عظیم فریضہ سر انجام دینا ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ آیات مکی ہیں اور مدینہ میں اسلامی نظام حکومت کے قیام سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ہم مکہ میں بھی تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت دیکھتے ہیں۔ وامرھم شوری بینھم (42 : 38) “ اور اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت کا قیام اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اسلامی جماعت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ جماعتی نظام شوریٰ پر قائم ہوتا ہے۔ یہی نظام جماعت سے آگے بڑھ کر پھر مملکت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی اسلامی معاشرے کی جان شورائیت ہے اور یہ اس کے اندر پھیلتی جاتی ہے۔ اس طرح اس جماعت کی دوسری خصوصیت یہ بتائی گئی ہے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ باوجود اس کے کہ مکہ میں حکم یہی تھا کہ صبر کرو ، اور زیادتی کا بدلہ زیادتی سے نہ دو ، اور یہ حکم اس وقت تک کے لئے تھا جب ہجرت کے بعد قتال کی اجازت دے دی گئی اور یہ کہا گیا ۔ اذن للذین ۔۔۔۔۔ نصرھم لقدیر (22 : 39) “ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ”۔ تو اس صفت کا ان مکی آیات میں ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ تحریک اسلامی کا مزاج یہی ہے کہ وہ زیادتی کے خلاف سینہ سپر ہوجاتی ہے اور اس سے پہلے اور بعد کے جو احکام ہیں وہ صبر کرنے اور رکے رہنے کے لئے ہیں۔ اور استثنائی احکام ہیں اور ایک متبعین وقت تک کے لئے ہیں۔ یہاں اس مکی سورت میں چونکہ جماعت مسلمہ کی بنیادی صفات قلم بند کی جا رہی تھیں اس لیے یہاں ذکر کردیا کہ اگرچہ فی الوقت انتصار کی ممانعت تھی لیکن یہ صفت اہل ایمان کی بنیادی صفات میں سے ہے۔ بہرحال جماعت مسلمہ کی صفات کے ضمن میں ایسے امور کا ذکر جن پر عمل نہ ہو رہا تھا اور نہ جماعت کے ہاتھ میں کسی ملک کی عملی قیادت تھی اور جماعت ابھی مکہ میں مصائب برداشت کر رہی تھی ، یہ اس لیے ہوا کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی تھی اور اسے اس لیے برپا کیا گیا تھا کہ وہ پوری انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور اسلام میں لائے گی۔ لہٰذا جماعت مسلمہ کے اندر ان صفات کا پیدا ہونا اور جماعت کے لئے ان مقاصد کے لئے تیار کرنا ضروری تھا۔ یہاں ان باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تا کہ جب اس کے ہاتھ میں اقتدار آئے تو وہ اس کی اہل ہو۔ لہٰذا ان صفات پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ یہ کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور انسانی معاشرے میں ان کی اہمیت کیا ہے۔ یہ ہیں ایک اسلامی جماعت کی صفات۔ ایمان ، توکل ، اجتناب کبائر اور فواحش ، غصے کے وقت معافی ، اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ، اقامت صلوٰۃ ، ہر معاملے میں مشاورت ، انفاق فی سبیل اللہ ، ظلم و زیادتی کا مقابلہ ، عفو ، اصلاح اور صبر۔ یہ کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ان کی اہمیت کیا ہے۔ مناسب ہے کہ ان صفات کو قرآنی ترتیب کے مطابق بیان کریں۔ قرآن کریم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طے کردہ ، مستحکم اور دائمی میزان کے سامنے کھڑا کردیتا ہے تا کہ وہ دائمی اور مستقل قدروں اور عارضی اور بدلنے والے حالات کے درمیان فرق و امتیاز کرسکیں۔ اور ان کی سوچ میں فرق نہ ہو ورنہ ان کی نگاہ میں ہر چیز کی حقیقی قدرو قیمت صحیح نہ رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات کے بیان سے پہلے ایک مستقبل میزان اور پیمانہ بیان کردیا کہ ایک مسلم جماعت کی صفات کے لئے یہ پیمانہ ہے۔ فما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ خیر وابقیٰ (42 : 36) “ جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی اور پائیدار بھی ”۔ اس زمین کا سازو سامان بہت ہی پرکشش اور زرق وبرق ہے۔ کھانے پینے کے سامان ، اولاد ، شہوات ، لذائذ ، مرتبہ اور اقتدار وغیرہ اور بعض نعمتیں وہ ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو زمین میں بطور مہربانی دی ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے خالص بخشش ہیں۔ ان کو اللہ نے اس دنیا میں معصیت اور طاعت پر موقوف نہیں کیا ہے۔ اگرچہ اطاعت شعار کی اس قلیل بخشش میں برکت ہوتی ہے اور بدکار کے ہاتھ میں اگر بہت کچھ ہو تب بھی اس سے برکت چھن جاتی ہے۔ لیکن یہ سب امور باقی اقدار نہیں ہیں۔ یہ متاع اور اس زندگی کا سروسامان ہے۔ یہ سرو سامان محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ نہ کسی کا مرتبہ بلند کرتا ہے ، نہ گراتا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک نہ شرافت و عزت کی دلیل ہے اور نہ کراہت اور ناپسندیدگی کی دلیل ہے۔ نہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے اللہ راضی ہے اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اللہ ناراض ہے۔ بس یہ اس زندگی ، فانی زندگی کا سامان ہے اور اس کے مقابلے میں۔ وما عند اللہ خیر وابقی (42 : 36) “ جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ”۔ بہتر ہے اپنی قیمت کے اعتبار سے اور پائیداریوں کہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ لہٰذا اس فانی دنیا کا سازو سامان بمقابلہ آخرت کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت ہی محدود اور کم قیمت ہے اور چند روزہ ہے۔ ایک فرد کے لئے صرف اسی کی زندگی میں کار آمد ہے اور پھر ہر شخص سوچ لے کہ وہ کتنی عمر لے کر آیا ہے اور کتنی رہ گئی ہے۔ اور بمقابلہ ایام اللہ یہ تو بہت کم بلکہ لمحات ہیں جس طرح چشم زدن۔ اس تمہیدی بیان اور اصل معیار نیک و بد کے بیان کے بعد اب اللہ ان مومنین کی صفات بیان فرماتا ہے جن کے لئے اللہ نے بہتر اور پائیدار انجام اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے۔ وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا (42 : 36) “ اور اللہ کے ہاں جو ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں ”۔ ایمان وہ حقیقت ہے کہ جب یہ ذہن میں بیٹھ جائے تب ہی جا کر اس کے ذریعہ انسانوں کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز کی اصل “ قدر ” معلوم کرسکیں۔ صرف ایمان کے ذریعہ ہم اس کائنات کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں کہ اس کائنات کو الٰہ العالمین نے بتایا ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہی کوئی شخص اس کائنات کے ساتھ کوئی معاملہ کرسکتا ہے۔ اس طرح انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرلیتا ہے۔ اس کے اندر پائے جانے والے قوانی قدرت کا حقیقی ادراک کرسکتا ہے اور اس طرح یہ انسان اپنی حرکت کو اس کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ پھر انسان اس کائنات کے کلی قوانین قدرت سے انحراف نہ کرے گا کیونکہ اس طرح یہ ہم آہنگی ختم ہوجائے گی اور یہ ہم آہنگی اس قدر اہم ہے کہ اس کے ساتھ انسان اس دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرسکے گا۔ اور اس عظیم وجود کے ساتھ مل کر اپنے باری تعالیٰ اور خالق کی اطاعت اور تابعداری میں زندگی بسر کرسکے گا۔ یہ صفت ہر انسان کے لئے لازمی صفت ہے کہ وہ مومن ہو ، لیکن جس جماعت نے پوری انسانیت کے اس سفر کی قیادت کرنی ہے اور جس نے پوری انسانیت کو خالق کائنات تک پہنچا نا ہے اس کے اندر اس صفت کا بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے۔ اس ایمان کے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ مومن کو نفسیاتی اطمینان اور نصب العین کا تعین حاصل ہوجاتا ہے۔ تردد ، حیرت ، خوف اور مایوسی اس کے قریب نہیں لگتی اور اس کرۂ ارض پر عام زندگی گزارنے کے لئے بھی یہ صفات اشد ضروری ہیں۔ لیکن یہ صفات اس جماعت کے لئے تو لابدی ہیں جس نے اس کٹھن راہ میں دوسرے انسانوں کی رہنمائی کرنی ہے۔ ایمان کو اہم قدروں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن خواہشات نفسانیہ ، ذاتی اغراض ، ذاتی مصلحتوں ، مفادات کے حصول سے پاک ہو۔ تب جا کر وہ کسی اونچے مقاصد کے لئے کام کرسکے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ اس کام میں اس کی ذات کی کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ یہ تو صرف دعوت الی اللہ کی ڈیوٹی ہے۔ یہ عند اللہ اجر پا چکا ہے۔ اللہ کے ساتھ سودا ہوچکا ہے اور یہ شعور اس شخص کے لئے تو بہت ہی لازمی ہے جو قائد تحریک ہو ، تا کہ وہ اس وقت مایوس نہ ہو جب ایک خود سر گروہ اس سے الگ ہوجائے یا اسے دعوت کی وجہ سے ایذا دی گئی ہو ، اور اگر تمام عوام اس کے گرویہ ہوجائیں اس کے مطیع ہوجائیں تو وہ مغرور نہ ہوجائے کیونکہ وہ تو ایک مزدور ہے ، اس نے اجرت اللہ سے پہلے ہی لے لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا پہلا گروہ ، جماعت صحابہ کے اندر اس قسم کا ایمان پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے ایمان نے ان کے نفوس ، ان کے اخلاق ، ان کے طرز عمل میں ایک عجیب انقلاب پید کردیا تھا۔ ان کے دور میں پوری انسانیت کے اندر ایمان کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ ایمان دب گیا تھا ، بلکہ ایمان کا لوگوں کے اخلاق ، ان کے طرزعمل اور ان کی نفسیات پر کوئی اثر ہی نہ رہا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے ایمان کی ایک زندہ ، موثر ، فعال صورت دی۔ اور اس نے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی جماعت پیدا کردی جنہوں نے اسلامی انقلاب کا بیڑا اٹھایا۔ ٭٭٭ سید ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب “ مسلمانوں کے زوال کے عالمی اثرات ” میں فرماتے ہیں : “ یہ ہے وہ ایمان جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں ایمان کو اس جماعت کی صفت اول بتایا گیا ہے جو پوری انسانیت کی قیادت کے لئے اٹھائی گئی ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے انسانیت کی قیادت کرتی ہے۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مومن صرف اللہ پر توکل کرے ”۔ لیکن قرآن مجید تو کل علی اللہ کو بطور ایک مستقل عنوان ذکر کرتا ہے۔ وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) “ اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ”۔ یہاں سیدھے سارے فقرے یتوکلون علی ربھم کی بجائے وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) کہا۔ یعنی بعد کے الفاظ کو مقدم یعنی جار مجرور کو مقدم کرنے سے حصر کے معنی پیدا ہوئے یعنی صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور کسی پر نہیں کرتے۔ یہ بھی عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اللہ پر بھروسہ ہو۔ مومن کا اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان ہوتا ہے۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مشیت سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ کوئی کام یہاں اللہ کے اذن کے بغیر واقع ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مومن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ کسی کام کے کرنے یا کسی کام کے نہ کرنے میں مومن صرف اللہ پر توکل کرتا ہے۔ ہر شخص کے لئے یہ شعور اس کی عملی زندگی میں لابدی ہے ۔ کیونکہ اس طرح وہ ہر کسی کے سامنے سر اٹھا کے چلے گا۔ اور اس کا سر کسی کے سامنے نہ جھکے گا۔ وہ بہت مطمئن ہوگا ، نہ کسی سے کوئی امید رکھے گا نہ اسے کسی کا خوف ہوگا اگر مشکلات آجائیں تو پرجوش اور ثابت قدم ہوگا اور اچھے دن ہوں تو سنجیدہ رہے گا۔ نہ خوشحالی اور نہ ہی بدحالی اسے اپنی جگہ سے ہلا سکے گی۔ لیکن یہ شعور اسلامی انقلاب کے قائد کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ وہ اس راہ کے نشیب و فراز میں جم جانے اور اسلامی انقلاب لانے والی جماعت کے ہر فرد میں بھی یہ صفت ضروری ہے۔ والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش (42 : 37) “ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ” ۔ قلب کی طہارت ، طرز عمل کا شفاف ہونا ، خصوصاً بڑے گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے ، اسلامی معاشرے کی اساسی خصوصیت ہے اور یہ ایمان کے نمایاں آثار میں سے ہے۔ اور کسی صحیح قائد اور خصوصاً اسلامی دعوت کے لئے اٹھنے والی جماعت کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری صفت ہے۔ کوئی دل اور شفاف نہیں رہ سکتا ، اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہو اور فحاشی کے کاموں میں حصہ دار ہو اور ان چیزوں سے اجتناب کرنے والا نہ ہو ، اور کوئی فرد اور کوئی جماعت قیادت کے قابل نہیں ، اگر اس کا دل صاف نہ ہو ، اور معصیت اور فحاشی نے اس کے ایمان کو خود ختم کردیا ہو اور اس کی شکل ہی بگڑی ہوئی ہو۔ پہلی جماعت مسلمہ کے دل میں ایمان اس قدر تیز احساس کے ساتھ ، اس درجے تک بلند ہوگیا تھا ، جس کی طرف محولہ بالا ص میں 22 میں اشارہ کیا گیا اور اس طرح اس جماعت کو اس کے ایمان نے انسانی قیادت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔ اور انہوں نے ایسی قیادت کی کہ اس کی مثال نہ سابقہ قدیم تاریخ میں ملتی ہے اور نہ نئی تاریخ میں۔ اس قیادت کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک تیز ہو اور جو ستارے کی طرف اشارہ کرتا ہو ، اس جہان میں جہاں خواہشات کی جنگ برپا ہو اور نفسا نفسی کا عالم ہو۔ اللہ اس انسانی مخلوق کی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قیادت کے لئے شرائط بھی معقول حد کے اندر رکھی ہیں۔ جن پر کوئی قیادت عمل کرسکے اور اس پر وہ اللہ کے ہاں موہود اجر پاسکے۔ اللہ نے جو معیار تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت اور اس کی لیڈر شپ کبائر گناہوں اور فواحش سے مجتنب ہو۔ رہے چھوڑے گناہوں کا ارتکاب تو وہ اللہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ انسانوں کی طاعت کی حدود وقیود سے خوب واقف ہے۔ یہ اللہ کا فضل ، اس کی مہربانی اور رحمت ہے ، جو اس نے اس انسان پر کیا۔ مناسب ہے کہ ہم اللہ سے شرم کریں کیونکہ مہربانی سے انسان کے اندر حیا کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عفو درگزر کی وجہ سے عزت و احترام پیدا ہوتا ہے۔ واذا ما غضبوا ھم یغفرون (42 : 37) “ اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں ” ۔ یہ صفت اس کے بعد متصلا آئی جب اس سے قبل اشارہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے چھوٹے گناہ معاف کر کے درگزر فرماتا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس میں مہربانی اور درگزر کا سلوک روا رکھیں۔ چناچہ مومنین کی صفات میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ جب ان کو غصہ آئے تو وہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔ اس معاملے میں بھی اسلام نفس انسانی کے ساتھ نہایت ہی احسان کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ غصہ ایک ایسا انسانی رد عمل ہے جو انسان کی فطرت سے اٹھتا ہے۔ اور یہ غصہ سرا سر شر بھی نہیں ہے۔ اللہ کے لئے ، اللہ کے دین کی خاطر ، سچائی کے لئے اور انصاف کی خاطر تو غصہ مطلوب ہے۔ اور اس میں خیر ہے۔ لہٰذا اسلام نفس غصے کو جرم قرار نہیں دیتا۔ نہ اسے غلطی قرار دیتا ہے بلکہ اسلام انسانی مزاج اور فطرت میں غصے کو قبول کرتا ہے۔ اس لیے اسلام انسان اور اس کی فطرت کے درمیان کسی دینی حکم کی وجہ سے جدائی اور تفریق نہیں کرتا۔ ہاں اسلام یہ ہدایت ضرور دیتا ہے کہ انسان کو اپنے غصے پر قابو پانا چاہئے۔ اسے چاہئے کہ حتی الوسع عفو و درگزر سے کام لے اور یہ اس کی ایمانی صفات میں سے ایک مثالی صفت ہوگی۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ آپ کبھی بھی ذاتی معاملات میں غصہ نہیں ہوئے۔ آپ کا غصہ اللہ کے لئے ہوتا تھا اور پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی طاقت ٹھہر نہ سکتی تھی۔ خیر یہ تو مقام محمدی ﷺ کے درجات و کمالات ہیں۔ عام مسلمانوں کو اللہ ان کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے ۔ اگرچہ وہ اس میں ان کو آزماتا ہے اور صرف یہ حکم دیتا ہے کہ اگر غصہ آجائے تو معاف کردیں ، اور اگر ممکن ہو سکے تو معاف کردیں اور انتقام کے جذبات پر قابو پالیں بشرطیکہ معاملہ ذاتی حدود کے اندر ہو۔ اور دو افراد کے درمیان ہو۔ والذین استجابوا لربھم (42 : 38) “ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ”۔ وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں اور نفس انسانی سے وہ باتیں محو کرتے ہیں جو توجہ الی اللہ سے مانع ہوں ، یہ رکاوٹیں نفسانی خواہشات ، جذبات و میلانات اور وہ رکاوٹیں جو انسان کے وجود اور اس کی ذات سے لگی ہوئی ہیں ، جب انسان ذاتی خواہشات پر قابو پالے اور شخصی رکاوٹوں کو دور کرے تو پھر اس کے اور اس کے رب کے درمیان راستہ صاف ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ رب کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے سامنے ذاتی خواہشات کی کوئی رکاوٹ ، رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی یہ عمومی صفت ہے لیکن احکام الٰہی میں سے بعض کا یہاں خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ واقاموا الصلوٰۃ (42 : 38) “ نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اسلام میں نماز کو ایک بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ کلمہ طیبہ کے اقرار کے بعد پہلا حکم نماز کا آتا ہے۔ گویا نماز اللہ کے احکام کی پیروی کا آغاز ہوتا ہے۔ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا نام نماز ہے۔ پھر یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام میں محمود وایاز ایک ہی صفت میں کھڑے ہوں گے۔ کسی کا سر دوسرے کے مقابلے میں بلند نہ ہوگا ، کوئی کسی سے آگے نہ ہوگا۔ اور یہی پہلو ہے یعنی مساوات کا پہلو کہ نماز کے بعد بالعموم زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے لیکن یہاں زکوٰۃ سے پہلے وامرھم شوری (42 : 38) کا ذکر کیا تا کہ معلوم ہو کہ رائے ہر شخص کی برابر شمار ہوگی۔ وامرھم شوریٰ بینھم (42 : 38) “ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ان کے تمام امور مشورے کے نتیجے میں ہوتے ہیں گویا ان کی پوری زندگی مشورے کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ ایک مکی آیت ہے اور یہ حکم اسلامی حکومت کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ رنگ گویا صرف حکومتی امور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسلامی سوسائٹی کا عمومی طرز عمل ہے۔ اگرچہ حکومت اس وقت قائم ہی نہ ہوئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی تنظیم دراصل اسلامی سوسائٹی کے خدو خال کا ایک منظم ظہور ہی ہے اور اسلامی سوسائٹی میں اسلامی حکومت بھی آتی ہے۔ لہٰذا اسلامی سوسائٹی ، اسلامی حکومت کو بھی اسی نہج پر چلاتی ہے۔ جس طرح اس کے عمومی امور چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں آغاز ہی سے مشورے کا عمل جاری تھا۔ اور اس مشورے کا دائرہ حکومت اور حکومتی احکام سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ یہ دراصل اسلامی سوسائٹی کی صفت ہے اور اس جماعت کی تو ممتاز صفات میں سے ہے جسے اللہ نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے برپا کیا ہے۔ اور قیادت کے لئے تو یہ بہت ہی اہم ہے۔ شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہونی چاہئے تو اسلام نے اس کے لئے کوئی فولادی قالب نہیں تیار کیا۔ ہر زمان و مکان کے حالات میں اس کی مختلف شکل و صورت تیار ہو سکتی ہے تا کہ یہ صفت یعنی شو رائیت اسلامی سوسائٹی میں بھی رائج ہو۔ اسلامی اداروں میں بھی مروج ہو ، لیکن اس کی کوئی جامد شکل نہ ہو بلکہ شوریٰ کی روح ہر جگہ موجود ہو۔ یعنی یہ شورائیت دراصل الفاظ اور اشکال کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک صفت ہے جو ایمان کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی میں شورائی شعور اور طرز عمل پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگ ایسے اسلامی اداروں کی بات کرتے ہیں جن کی تہہ میں ایمان نہ ہو یا ایمان کا ہونا ضروری نہ ہو تو وہ ایک فضول کام کر رہے ہیں۔ اور یہ کوئی سطحی بات نہیں ہے جس طرح پہلی نظر میں نظر آئے گی اور خصوصاً ان لوگوں کو نظر آئے گی جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات میں ایمان کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اسلامی نظریہ حیات اداروں اور تنظیمات میں منتقل ہونے سے قبل ، اس کے اندر ایسی عقلی اور نفسیاتی حقیقتیں ہوتی ہیں جو انسانی سوچ اور انسان کی ذات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد اسلام کے اجتماعی اداروں میں وہ اصول بن کر ایک متبعین شکل اختیار کر کے سامنے آتی ہیں اور اس کے بعد پھر نصوص آتے ہیں اور وہ ان اشکال اور حالات کی طرف اشارہ کردیتے ہیں ۔ نصوص ان اصولوں کو منظم کردیتے ہیں ، ان کی تخلیق نہیں کرتے ، ان کی تخلیق تو ایمان کی وجہ سے ہوچکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلامی نظریہ حیات کی کسی شکل و صورت کے ظہور کے لئے کسی ملک میں اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کا وجود ضروری ہے۔ اور ان مسلمانوں کا ایمان فعال اور بااثر ہو۔ اگر مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہو تو محض اداروں کے قیام سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ محض ادارے ضروریات پوری نہ کرسکیں گے اور اس صورت میں کوئی ایسا نظام وجود میں نہ آسکے گا جسے اسلامی کہا جاسکے۔ جب مسلمان صحیح معنوں میں پائے جائیں گے اور ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے وجود میں آجائے گا تو اسلامی نظام بذات خود وجود میں آجائے گا اور اس کی ایک اداراتی شکل خودبخود وجود میں آجائے گی جو ان مسلمانوں کی ضرورت ہوگی اور ان کی سوسائٹی کی ضرورت ہوگی اور صرف اس طرح اسلامی اصولوں کے خواب کی سچی تعبیر وجود میں آسکے گی۔ ومما رزقنھم ینفقون (42 : 38) “ اور ہم نے ان کو جو رزق دیا اس سے خرچ کرتے ہیں ” یہ آیت بھی حکم فرضیت زکوٰۃ سے پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ زکوٰۃ دو ہجری میں فرض ہوئی لیکن انفاق فی سبیل اللہ عام حکم اسلامی جماعت کے لئے پہلے سے تھا۔ بلکہ اسلامی سوسائٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ حکم وجود میں آگیا تھا۔ دعوت اسلامی کے عمل کے لئے مال کی ضرورت ہے اور یہ مال بذریعہ انفاق حاصل ہوگا۔ انفاق کے ذریعہ انسانوں کے دل کنجوسی کی بری خصلت سے پاک ہوتے ہیں جب انسانی جذبہ مال پر قابو پا لیتا ہے اور اپنی مملوکات کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہے ، ایمان کے مفہوم کے نکھار کے لئے یہ سب امور ضروری ہیں۔ اور یہ بات تو اپنی جگہ ہے کہ انفاق کے بغیر کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دعوت تو ایک جدو جہد ہے اور جدو جہد میں کارکنوں کی کفالت ضروری ہے تا کہ اجماعی ضروریات پوری ہوں اور نتائج برآمد ہوں۔ بعض اوقات یہ تکافل ہمہ گیر ہوجاتا ہے کہ کیس کے لئے انفرادی دولت رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ جب مہاجرین مکہ سے نکلے اور مدینہ میں انصار کے ساتھ مل کر جو نظام قائم ہوا یہ سب اسی اصول کے تحت تھا لیکن جب حالات معمول پر آگئے تو پھر زکوٰۃ کو رائج کر کے موافات کے نظام کو منسوخ کردیا گیا جو کلی تکافل تھا۔ بہرحال انفاق فی سبیل اللہ اس جماعت کی ممتاز خصوصیت ہے جسے اس مقصد کے لئے چنا گیا ہو یا اسے اس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہو کہ وہ کسی خطے میں اسلامی انقلاب برپا کرے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ مکی سورتوں میں اس صفت کا ذکر اپنے اندر خاص معنی رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت مسلمہ کے اندر یہ طبیعی صفت ہوتی ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا مقابلہ کرنا ایک اہم فریضہ ہے کیونکہ اگر کوئی ظالم کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو ظالم اور جری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ظالم کا مقابلہ کرنا بہت ضروی ہے۔ اور ایک ایسی ملت جسے اٹھایا ہی اس لیے گیا ہو کہ لوگوں کے حقوق کی پاسبانی کرے ، امر بالمعروف اس کا مشن ہو اور “ نہی عن المنکر اس کا فریضہ ہو ، اس کے لئے تو برائی کا مقابلہ کرنا بہت ہی اہم ہے کیونکہ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی پر چھا جانے اور اس کے اندر سچائی کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرے۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین “ اور عزت اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہے ”۔ لہٰذا اسلامی جماعت کا مزاج ، اس کے فرائض کی نوعیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرے اور اس پر جو دست درازیاں کی جا رہی ہیں ان کی مدافعت کرے۔ مکہ میں حکم یہ تھا کہ رک جاؤ اور ہاتھ روک لو اور صبر کرو۔ نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو ، وہاں یہ احکام مکہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے تھے اور ابتدائے عرب مسلمانوں کی قدرے تربیت بھی مطلوب تھی کیونکہ عرب مزاجاً منتقم المزاج تھے ، یہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کے لئے مستقل احکام نہ تھے۔ مکہ میں بعض خصوصی اسباب کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہر قیمت پر بقائے باہمی کے لئے امن اور سلامتی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ 1۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف سختی اور زیادتی کسی منظم حکومت ادارے کی طرف سے نہ تھی جو اس وقت کی جماعت پر حکمران ہو ، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سیاسی صورت حال غیر منظم قبائل انداز کی تھی۔ وہاں مسلمانوں پر جو تشدد کیا جاتا ہے تھا ، اگر کوئی مسلمان کسی قبیلے کا فرد تھا تو اس پر یہ تشدد قبیلہ کرتا تھا اور قبیلے میں بھی اس کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کوئی جرات نہ کرسکتا تھا۔ مسلمانوں پر بحیثیت جماعت کوئی تشدد نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات آقا اپنے مسلمان غلاموں پر تشدد کرتے تھے اور مسلمان انہیں خرید کر آزاد کردیتے تھے۔ اس لیے کوئی بھی اپنے غلاموں پر زیادہ تشدد کی جرات نہ کرتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نہ چاہتے تھے کہ مکہ میں گھر گھر کے اندر لڑائی شروع ہوجائے۔ ایک ہی گھر کے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں وہ غیر مسلموں سے لڑنا شروع کردیں۔ پھر مکہ میں نرمی دوسرے لوگوں کے دلوں کو زیادہ نرم کردیتی تھی بسنبت سختی کے۔ پھر عرب معاشرہ ایک خوددار اور جوانمرد معاشرہ تھا۔ اس میں مظلوم کی تمایت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ مسلمان جب اذیت برداشت کرتے تھے اور اپنے عقیدے پر جم جاتے تھے تو عربوں کی جوانمردی کے جذبات ان کے حق میں اٹھتے تھے۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران بالعموم اسی جذبے نے مسلمانوں کی مدد کی ، جس میں بنی ہاشم سب محصور کر دئیے گئے تھے۔ اس محاصرے کے خلاف لوگوں کی ہمدردیاں ، مسلمانوں کے حق میں ہوگئیں اور لوگوں نے اس معاہدے کے پرزے پرزے کر دئیے جو صحیفے میں تھا اور یوں یہ ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا۔ پھر عربوں کے اندر یہ رواج تھا کہ وہ بات بات پر تلوار سونت لیتے تھے۔ وہ بڑے جذباتی تھے اور کسی نظم و نسق کے پابند نہ تھے ۔ اسلامی جماعت میں جو تنظیم مطلوب تھی اس کا تقاضا تھا کہ اس جذباتیت کو ذرا دبایا جائے اور اسے کسی ہدف کا پابند کیا جائے۔ اور لوگوں کو اعصابی ضبط اور صبر کا عادی بنایا جائے۔ اور لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ نظریہ اور نصب العین ہر جذبے اور ہر مفاد پر مقدم ہیں۔ لہٰذا مکہ میں صبر اور مسلسل صبر کی تلقین کرنا اسلام کے منہاج تربیت کے لیے بہت ضروری تھا۔ اس طرح ایک مسلم کی شخصیت میں مطلویہ توازن پیدا ہوگیا اور وہ صبر وثبات کے ساتھ اپنے مقصد کے لئے آگے بڑھتے رہے۔۔۔۔ غرض یہ اور اس طرح کے دوسرے اسباب تھے جن کو اللہ اور رسول جانتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں ، صبر کی تلقین ہوتی رہی لیکن اصلی ہدف تحریک اسلامی کا یہی تھا۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ وہ لوگ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ مقابلہ کرتے ہیں ”۔ اس اصول کو زندگی کا ایک دوسرا اصول عملاً رائج کرتا ہے ، وہ ہے : وجذء سیئۃ سیئۃ مثلھا (42 : 40) “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔ سزا کا یہ اصول ہے کہ جیسا جرم ہو ، ویسی ہی سزا دی جائے تا کہ سرکشی اختیار نہ کرے۔ اگر کسی سرکش انسان کو کوئی روکنے والا نہ ہو تو وہ سر کشی اور ظلم میں بڑے اطمینان سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ تو ہے مظلوم کا حق اور اصول عامہ۔ لیکن اگر کوئی اپنے اصلاح نفس یا جزائے خیر اور اخروی اجر کے لئے کسی کو معاف کرتا ہے یا جماعت مسلمہ کے خلاف اٹھنے والے جذبات کی وجہ سے معاف کرتا ہے تو اس قاعدے میں استثناء موجود ہے۔ لیکن معافی کو اس وقت معانی تصور کیا جائے گا جب کوئی شخص برائی کا جواب برائی کے ساتھ دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ اس وقت عفو کا وزن بھی ہوگا اور دست درازی کرنے والے کی اصلاح بھی ہوگی کیونکہ دست درازی کرنے والا جب یہ سوچے گا کہ عفو اور در گزر محض احسان کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس میں معاف کرنے والے کی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ شرمندگی محسوس کرے گا ، نادم ہوگا اور آئندہ حیا کرے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ میرے مخالف نے میرے ساتھ شریفانہ سلوک کیا ہے۔ وہ اونچا آدمی ہے اور جو شخص انتقام لینے پر قادر ہو اور معاف کر دے تو اس کا دل بھی صاف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات میں عفو و درگزر دونوں کے لئے مفید ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص انتقام لینے سے عاجز ہو اور معاف کردے تو پھر صورت یہ ہوگی ، گداگر تواضع کند خوئے اوست۔ لہٰذا ایسے عفو کو عفو کہنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ وہاں عفو نہیں ہے ، مجبوری ہے۔ اور یہ صورت حال ایک شر انگیز صورت حال ہے ۔ اس کے نتیجے میں ظلم کرنے والا اور جری ہوتا ہے۔ اور فساد اور پھیلتا ہے ، یہ آیت مفہوم ۔ فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (42 : 40) “ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ پر ہے ”۔ انہ لا یحب الظلمین (42 : 40) “ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ”۔ یہ پہلے قاعدے کی تاکید ہے کہ “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یا تو معاف کر دو یا اگر بدلہ لینا ہے تو برابر بدلہ لو اس میں حدت نہ بڑھو۔۔۔۔ ایک دوسری تاکید اسی قاعدے گی : ولمن انتصر بعد ۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 42) انما السبیل علی الذین ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (42 : 42) “ اور جو لوگ ظلم کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ”۔ لہٰذا جو شخص ظلم کے بعد مدافعت کرتا ہے اور برائی کا بدلہ اس کے مساوی لینا ہے ، تعدی نہیں کرتا تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ تو اپنا قانون حق استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کسی کے پاس کوئی حجت نہیں ہے۔ نہ کسی کے لئے جائز ہے کہ اس کی راہ روکے۔ راہ تو ان لوگوں کی روکنی چاہئے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، اور زمین میں بغیر استحقاق کے زیادتیاں کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی ایسے ملک کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب اس میں ایک ظالم لوگوں پر ظلم کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ اس میں باغی ہو جو لوگوں پر مظالم ڈھا رہا ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس کا ہاتھ روکے یا اس سے قصاص دلواسکے۔ اللہ تعالیٰ بہرحال اس قسم کے ظالموں کو عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگوں کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ پکڑیں۔ آخر میں پھر انفرادی حالات اور طاقت انتقام کے باوجود ، تو ازن ، اعتدال ، ضبط نفس ، صبر اور احسان کا رویہ اپنانے پر متوجہ کیا جاتا ہے۔ جب صبر اور احسان فی الواقعہ ایک درگزر ہو ، ذلت نہ ہو ، کوئی احسان ہو ، مجبور نہ کردیا گیا ہو۔ ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور (42 : 43) “ البتہ جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے ”۔ اس پیراگراف کی تمام ہدایات و احکام نہایت ہی اعتدال اور میانہ روی پر مبنی ہیں۔ نفس انسانی کو ایک طرف کینہ اور غصے سے بچانے کی سعی کی گئی ہے ، اور دوسری جانب کمزوری ، ذلت اور ظلم و زیادتی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ہر حال میں اللہ کی رضا مندی کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ صبر بہرحال زاد راہ ہے۔ اور مومنین کی جو صفات یہاں دی گئی ہیں وہ اس انقلابی جماعت کی خصوصیات ہیں ، جس نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی ہے ، اور جس کے پیش نظر انعام اخروی اور رضائے الٰہی ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں اور رب پر توکل کریں۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ صفات مومنین یہ ہیں اور ان کے لئے جو اخروی اجر ہے ، وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اب بطور تقابل تصویر کا دوسرا رخ بعض ظالموں کا انجام بھی یہاں دے دیا جاتا ہے۔ اور ان کے لئے ذلت اور خسران کا اعلان کیا گیا ہے۔

الشورى 42:39

آیت نمبر 36 تا 43 اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف کیا ان کے بعدجب کوئی کتاب ان کی اگلی نسلوں کو ملی تو ان اختلافات کی وجہ سے وہ سرے سے کتابوں کے بارے میں شک میں پڑگئے۔ جب اہل کتاب اور اہل دین سماوی کا یہ حال ہوگیا تھا تو جن اقوام کے پاس کوئی کتاب یا کوئی دین ہی نہ تھا ، ظاہر ہے کہ ان کی حالت تو ان سے بھی بدتر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کو ایک صالح قیادت کی ضرورت تھی تا کہ وہ انسانوں کو ان اندھی جاہلیتوں سے نکالے اور ان کی رہنمائی کر کے ان کو ایک مضبوط رسی میں باندھ دے۔ اور ان کی رہنمائی ایک ایسے راستے کی طرف کرے جو اللہ تک پہنچاتا ہو جو اس وجود کا رب ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ آخری کتاب عربی زبان میں اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر اتاری تا کہ ام القریٰ ، مکہ مکرمہ اور اس کے ماحول میں رہنے والوں سے دعوت کا آغاز کرے اور ان کے اندر وہی دین قائم کرے جس کی سخت تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی تھی تا کہ تمام ادیان حقہ کی کڑیاں باہم مل جائیں اور آغاز تاریخ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی نہج ، ایک منہاج ، ایک ہی دین اور ایک ہی شریعت ہو اور ایک ایسی جماعت یہاں قائم کی جائے جو اس تاریخی دعوت کی محافظ ہو ، اس کی قیادت کرے اور اس کرۂ ارض پر اس دعوت کو اللہ کی منشا کے مطابق برپا کر کے یہاں اس منہاج کو قائم کرے۔ اور یہ کام اس شکل و صورت میں ہو جو اللہ کو پسند ہو۔ لہٰذا زیر بحث آیات میں اس جماعت کے خدوخال بیان ہو رہے ہیں۔ جس نے یہ عظیم فریضہ سر انجام دینا ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ آیات مکی ہیں اور مدینہ میں اسلامی نظام حکومت کے قیام سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ہم مکہ میں بھی تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت دیکھتے ہیں۔ وامرھم شوری بینھم (42 : 38) “ اور اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت کا قیام اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اسلامی جماعت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ جماعتی نظام شوریٰ پر قائم ہوتا ہے۔ یہی نظام جماعت سے آگے بڑھ کر پھر مملکت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی اسلامی معاشرے کی جان شورائیت ہے اور یہ اس کے اندر پھیلتی جاتی ہے۔ اس طرح اس جماعت کی دوسری خصوصیت یہ بتائی گئی ہے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ باوجود اس کے کہ مکہ میں حکم یہی تھا کہ صبر کرو ، اور زیادتی کا بدلہ زیادتی سے نہ دو ، اور یہ حکم اس وقت تک کے لئے تھا جب ہجرت کے بعد قتال کی اجازت دے دی گئی اور یہ کہا گیا ۔ اذن للذین ۔۔۔۔۔ نصرھم لقدیر (22 : 39) “ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ”۔ تو اس صفت کا ان مکی آیات میں ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ تحریک اسلامی کا مزاج یہی ہے کہ وہ زیادتی کے خلاف سینہ سپر ہوجاتی ہے اور اس سے پہلے اور بعد کے جو احکام ہیں وہ صبر کرنے اور رکے رہنے کے لئے ہیں۔ اور استثنائی احکام ہیں اور ایک متبعین وقت تک کے لئے ہیں۔ یہاں اس مکی سورت میں چونکہ جماعت مسلمہ کی بنیادی صفات قلم بند کی جا رہی تھیں اس لیے یہاں ذکر کردیا کہ اگرچہ فی الوقت انتصار کی ممانعت تھی لیکن یہ صفت اہل ایمان کی بنیادی صفات میں سے ہے۔ بہرحال جماعت مسلمہ کی صفات کے ضمن میں ایسے امور کا ذکر جن پر عمل نہ ہو رہا تھا اور نہ جماعت کے ہاتھ میں کسی ملک کی عملی قیادت تھی اور جماعت ابھی مکہ میں مصائب برداشت کر رہی تھی ، یہ اس لیے ہوا کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی تھی اور اسے اس لیے برپا کیا گیا تھا کہ وہ پوری انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور اسلام میں لائے گی۔ لہٰذا جماعت مسلمہ کے اندر ان صفات کا پیدا ہونا اور جماعت کے لئے ان مقاصد کے لئے تیار کرنا ضروری تھا۔ یہاں ان باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تا کہ جب اس کے ہاتھ میں اقتدار آئے تو وہ اس کی اہل ہو۔ لہٰذا ان صفات پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ یہ کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور انسانی معاشرے میں ان کی اہمیت کیا ہے۔ یہ ہیں ایک اسلامی جماعت کی صفات۔ ایمان ، توکل ، اجتناب کبائر اور فواحش ، غصے کے وقت معافی ، اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ، اقامت صلوٰۃ ، ہر معاملے میں مشاورت ، انفاق فی سبیل اللہ ، ظلم و زیادتی کا مقابلہ ، عفو ، اصلاح اور صبر۔ یہ کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ان کی اہمیت کیا ہے۔ مناسب ہے کہ ان صفات کو قرآنی ترتیب کے مطابق بیان کریں۔ قرآن کریم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طے کردہ ، مستحکم اور دائمی میزان کے سامنے کھڑا کردیتا ہے تا کہ وہ دائمی اور مستقل قدروں اور عارضی اور بدلنے والے حالات کے درمیان فرق و امتیاز کرسکیں۔ اور ان کی سوچ میں فرق نہ ہو ورنہ ان کی نگاہ میں ہر چیز کی حقیقی قدرو قیمت صحیح نہ رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات کے بیان سے پہلے ایک مستقبل میزان اور پیمانہ بیان کردیا کہ ایک مسلم جماعت کی صفات کے لئے یہ پیمانہ ہے۔ فما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ خیر وابقیٰ (42 : 36) “ جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی اور پائیدار بھی ”۔ اس زمین کا سازو سامان بہت ہی پرکشش اور زرق وبرق ہے۔ کھانے پینے کے سامان ، اولاد ، شہوات ، لذائذ ، مرتبہ اور اقتدار وغیرہ اور بعض نعمتیں وہ ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو زمین میں بطور مہربانی دی ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے خالص بخشش ہیں۔ ان کو اللہ نے اس دنیا میں معصیت اور طاعت پر موقوف نہیں کیا ہے۔ اگرچہ اطاعت شعار کی اس قلیل بخشش میں برکت ہوتی ہے اور بدکار کے ہاتھ میں اگر بہت کچھ ہو تب بھی اس سے برکت چھن جاتی ہے۔ لیکن یہ سب امور باقی اقدار نہیں ہیں۔ یہ متاع اور اس زندگی کا سروسامان ہے۔ یہ سرو سامان محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ نہ کسی کا مرتبہ بلند کرتا ہے ، نہ گراتا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک نہ شرافت و عزت کی دلیل ہے اور نہ کراہت اور ناپسندیدگی کی دلیل ہے۔ نہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے اللہ راضی ہے اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اللہ ناراض ہے۔ بس یہ اس زندگی ، فانی زندگی کا سامان ہے اور اس کے مقابلے میں۔ وما عند اللہ خیر وابقی (42 : 36) “ جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ”۔ بہتر ہے اپنی قیمت کے اعتبار سے اور پائیداریوں کہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ لہٰذا اس فانی دنیا کا سازو سامان بمقابلہ آخرت کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت ہی محدود اور کم قیمت ہے اور چند روزہ ہے۔ ایک فرد کے لئے صرف اسی کی زندگی میں کار آمد ہے اور پھر ہر شخص سوچ لے کہ وہ کتنی عمر لے کر آیا ہے اور کتنی رہ گئی ہے۔ اور بمقابلہ ایام اللہ یہ تو بہت کم بلکہ لمحات ہیں جس طرح چشم زدن۔ اس تمہیدی بیان اور اصل معیار نیک و بد کے بیان کے بعد اب اللہ ان مومنین کی صفات بیان فرماتا ہے جن کے لئے اللہ نے بہتر اور پائیدار انجام اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے۔ وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا (42 : 36) “ اور اللہ کے ہاں جو ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں ”۔ ایمان وہ حقیقت ہے کہ جب یہ ذہن میں بیٹھ جائے تب ہی جا کر اس کے ذریعہ انسانوں کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز کی اصل “ قدر ” معلوم کرسکیں۔ صرف ایمان کے ذریعہ ہم اس کائنات کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں کہ اس کائنات کو الٰہ العالمین نے بتایا ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہی کوئی شخص اس کائنات کے ساتھ کوئی معاملہ کرسکتا ہے۔ اس طرح انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرلیتا ہے۔ اس کے اندر پائے جانے والے قوانی قدرت کا حقیقی ادراک کرسکتا ہے اور اس طرح یہ انسان اپنی حرکت کو اس کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ پھر انسان اس کائنات کے کلی قوانین قدرت سے انحراف نہ کرے گا کیونکہ اس طرح یہ ہم آہنگی ختم ہوجائے گی اور یہ ہم آہنگی اس قدر اہم ہے کہ اس کے ساتھ انسان اس دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرسکے گا۔ اور اس عظیم وجود کے ساتھ مل کر اپنے باری تعالیٰ اور خالق کی اطاعت اور تابعداری میں زندگی بسر کرسکے گا۔ یہ صفت ہر انسان کے لئے لازمی صفت ہے کہ وہ مومن ہو ، لیکن جس جماعت نے پوری انسانیت کے اس سفر کی قیادت کرنی ہے اور جس نے پوری انسانیت کو خالق کائنات تک پہنچا نا ہے اس کے اندر اس صفت کا بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے۔ اس ایمان کے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ مومن کو نفسیاتی اطمینان اور نصب العین کا تعین حاصل ہوجاتا ہے۔ تردد ، حیرت ، خوف اور مایوسی اس کے قریب نہیں لگتی اور اس کرۂ ارض پر عام زندگی گزارنے کے لئے بھی یہ صفات اشد ضروری ہیں۔ لیکن یہ صفات اس جماعت کے لئے تو لابدی ہیں جس نے اس کٹھن راہ میں دوسرے انسانوں کی رہنمائی کرنی ہے۔ ایمان کو اہم قدروں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن خواہشات نفسانیہ ، ذاتی اغراض ، ذاتی مصلحتوں ، مفادات کے حصول سے پاک ہو۔ تب جا کر وہ کسی اونچے مقاصد کے لئے کام کرسکے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ اس کام میں اس کی ذات کی کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ یہ تو صرف دعوت الی اللہ کی ڈیوٹی ہے۔ یہ عند اللہ اجر پا چکا ہے۔ اللہ کے ساتھ سودا ہوچکا ہے اور یہ شعور اس شخص کے لئے تو بہت ہی لازمی ہے جو قائد تحریک ہو ، تا کہ وہ اس وقت مایوس نہ ہو جب ایک خود سر گروہ اس سے الگ ہوجائے یا اسے دعوت کی وجہ سے ایذا دی گئی ہو ، اور اگر تمام عوام اس کے گرویہ ہوجائیں اس کے مطیع ہوجائیں تو وہ مغرور نہ ہوجائے کیونکہ وہ تو ایک مزدور ہے ، اس نے اجرت اللہ سے پہلے ہی لے لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا پہلا گروہ ، جماعت صحابہ کے اندر اس قسم کا ایمان پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے ایمان نے ان کے نفوس ، ان کے اخلاق ، ان کے طرز عمل میں ایک عجیب انقلاب پید کردیا تھا۔ ان کے دور میں پوری انسانیت کے اندر ایمان کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ ایمان دب گیا تھا ، بلکہ ایمان کا لوگوں کے اخلاق ، ان کے طرزعمل اور ان کی نفسیات پر کوئی اثر ہی نہ رہا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے ایمان کی ایک زندہ ، موثر ، فعال صورت دی۔ اور اس نے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی جماعت پیدا کردی جنہوں نے اسلامی انقلاب کا بیڑا اٹھایا۔ ٭٭٭ سید ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب “ مسلمانوں کے زوال کے عالمی اثرات ” میں فرماتے ہیں : “ یہ ہے وہ ایمان جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں ایمان کو اس جماعت کی صفت اول بتایا گیا ہے جو پوری انسانیت کی قیادت کے لئے اٹھائی گئی ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے انسانیت کی قیادت کرتی ہے۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مومن صرف اللہ پر توکل کرے ”۔ لیکن قرآن مجید تو کل علی اللہ کو بطور ایک مستقل عنوان ذکر کرتا ہے۔ وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) “ اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ”۔ یہاں سیدھے سارے فقرے یتوکلون علی ربھم کی بجائے وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) کہا۔ یعنی بعد کے الفاظ کو مقدم یعنی جار مجرور کو مقدم کرنے سے حصر کے معنی پیدا ہوئے یعنی صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور کسی پر نہیں کرتے۔ یہ بھی عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اللہ پر بھروسہ ہو۔ مومن کا اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان ہوتا ہے۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مشیت سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ کوئی کام یہاں اللہ کے اذن کے بغیر واقع ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مومن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ کسی کام کے کرنے یا کسی کام کے نہ کرنے میں مومن صرف اللہ پر توکل کرتا ہے۔ ہر شخص کے لئے یہ شعور اس کی عملی زندگی میں لابدی ہے ۔ کیونکہ اس طرح وہ ہر کسی کے سامنے سر اٹھا کے چلے گا۔ اور اس کا سر کسی کے سامنے نہ جھکے گا۔ وہ بہت مطمئن ہوگا ، نہ کسی سے کوئی امید رکھے گا نہ اسے کسی کا خوف ہوگا اگر مشکلات آجائیں تو پرجوش اور ثابت قدم ہوگا اور اچھے دن ہوں تو سنجیدہ رہے گا۔ نہ خوشحالی اور نہ ہی بدحالی اسے اپنی جگہ سے ہلا سکے گی۔ لیکن یہ شعور اسلامی انقلاب کے قائد کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ وہ اس راہ کے نشیب و فراز میں جم جانے اور اسلامی انقلاب لانے والی جماعت کے ہر فرد میں بھی یہ صفت ضروری ہے۔ والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش (42 : 37) “ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ” ۔ قلب کی طہارت ، طرز عمل کا شفاف ہونا ، خصوصاً بڑے گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے ، اسلامی معاشرے کی اساسی خصوصیت ہے اور یہ ایمان کے نمایاں آثار میں سے ہے۔ اور کسی صحیح قائد اور خصوصاً اسلامی دعوت کے لئے اٹھنے والی جماعت کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری صفت ہے۔ کوئی دل اور شفاف نہیں رہ سکتا ، اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہو اور فحاشی کے کاموں میں حصہ دار ہو اور ان چیزوں سے اجتناب کرنے والا نہ ہو ، اور کوئی فرد اور کوئی جماعت قیادت کے قابل نہیں ، اگر اس کا دل صاف نہ ہو ، اور معصیت اور فحاشی نے اس کے ایمان کو خود ختم کردیا ہو اور اس کی شکل ہی بگڑی ہوئی ہو۔ پہلی جماعت مسلمہ کے دل میں ایمان اس قدر تیز احساس کے ساتھ ، اس درجے تک بلند ہوگیا تھا ، جس کی طرف محولہ بالا ص میں 22 میں اشارہ کیا گیا اور اس طرح اس جماعت کو اس کے ایمان نے انسانی قیادت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔ اور انہوں نے ایسی قیادت کی کہ اس کی مثال نہ سابقہ قدیم تاریخ میں ملتی ہے اور نہ نئی تاریخ میں۔ اس قیادت کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک تیز ہو اور جو ستارے کی طرف اشارہ کرتا ہو ، اس جہان میں جہاں خواہشات کی جنگ برپا ہو اور نفسا نفسی کا عالم ہو۔ اللہ اس انسانی مخلوق کی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قیادت کے لئے شرائط بھی معقول حد کے اندر رکھی ہیں۔ جن پر کوئی قیادت عمل کرسکے اور اس پر وہ اللہ کے ہاں موہود اجر پاسکے۔ اللہ نے جو معیار تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت اور اس کی لیڈر شپ کبائر گناہوں اور فواحش سے مجتنب ہو۔ رہے چھوڑے گناہوں کا ارتکاب تو وہ اللہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ انسانوں کی طاعت کی حدود وقیود سے خوب واقف ہے۔ یہ اللہ کا فضل ، اس کی مہربانی اور رحمت ہے ، جو اس نے اس انسان پر کیا۔ مناسب ہے کہ ہم اللہ سے شرم کریں کیونکہ مہربانی سے انسان کے اندر حیا کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عفو درگزر کی وجہ سے عزت و احترام پیدا ہوتا ہے۔ واذا ما غضبوا ھم یغفرون (42 : 37) “ اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں ” ۔ یہ صفت اس کے بعد متصلا آئی جب اس سے قبل اشارہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے چھوٹے گناہ معاف کر کے درگزر فرماتا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس میں مہربانی اور درگزر کا سلوک روا رکھیں۔ چناچہ مومنین کی صفات میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ جب ان کو غصہ آئے تو وہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔ اس معاملے میں بھی اسلام نفس انسانی کے ساتھ نہایت ہی احسان کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ غصہ ایک ایسا انسانی رد عمل ہے جو انسان کی فطرت سے اٹھتا ہے۔ اور یہ غصہ سرا سر شر بھی نہیں ہے۔ اللہ کے لئے ، اللہ کے دین کی خاطر ، سچائی کے لئے اور انصاف کی خاطر تو غصہ مطلوب ہے۔ اور اس میں خیر ہے۔ لہٰذا اسلام نفس غصے کو جرم قرار نہیں دیتا۔ نہ اسے غلطی قرار دیتا ہے بلکہ اسلام انسانی مزاج اور فطرت میں غصے کو قبول کرتا ہے۔ اس لیے اسلام انسان اور اس کی فطرت کے درمیان کسی دینی حکم کی وجہ سے جدائی اور تفریق نہیں کرتا۔ ہاں اسلام یہ ہدایت ضرور دیتا ہے کہ انسان کو اپنے غصے پر قابو پانا چاہئے۔ اسے چاہئے کہ حتی الوسع عفو و درگزر سے کام لے اور یہ اس کی ایمانی صفات میں سے ایک مثالی صفت ہوگی۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ آپ کبھی بھی ذاتی معاملات میں غصہ نہیں ہوئے۔ آپ کا غصہ اللہ کے لئے ہوتا تھا اور پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی طاقت ٹھہر نہ سکتی تھی۔ خیر یہ تو مقام محمدی ﷺ کے درجات و کمالات ہیں۔ عام مسلمانوں کو اللہ ان کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے ۔ اگرچہ وہ اس میں ان کو آزماتا ہے اور صرف یہ حکم دیتا ہے کہ اگر غصہ آجائے تو معاف کردیں ، اور اگر ممکن ہو سکے تو معاف کردیں اور انتقام کے جذبات پر قابو پالیں بشرطیکہ معاملہ ذاتی حدود کے اندر ہو۔ اور دو افراد کے درمیان ہو۔ والذین استجابوا لربھم (42 : 38) “ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ”۔ وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں اور نفس انسانی سے وہ باتیں محو کرتے ہیں جو توجہ الی اللہ سے مانع ہوں ، یہ رکاوٹیں نفسانی خواہشات ، جذبات و میلانات اور وہ رکاوٹیں جو انسان کے وجود اور اس کی ذات سے لگی ہوئی ہیں ، جب انسان ذاتی خواہشات پر قابو پالے اور شخصی رکاوٹوں کو دور کرے تو پھر اس کے اور اس کے رب کے درمیان راستہ صاف ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ رب کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے سامنے ذاتی خواہشات کی کوئی رکاوٹ ، رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی یہ عمومی صفت ہے لیکن احکام الٰہی میں سے بعض کا یہاں خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ واقاموا الصلوٰۃ (42 : 38) “ نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اسلام میں نماز کو ایک بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ کلمہ طیبہ کے اقرار کے بعد پہلا حکم نماز کا آتا ہے۔ گویا نماز اللہ کے احکام کی پیروی کا آغاز ہوتا ہے۔ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا نام نماز ہے۔ پھر یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام میں محمود وایاز ایک ہی صفت میں کھڑے ہوں گے۔ کسی کا سر دوسرے کے مقابلے میں بلند نہ ہوگا ، کوئی کسی سے آگے نہ ہوگا۔ اور یہی پہلو ہے یعنی مساوات کا پہلو کہ نماز کے بعد بالعموم زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے لیکن یہاں زکوٰۃ سے پہلے وامرھم شوری (42 : 38) کا ذکر کیا تا کہ معلوم ہو کہ رائے ہر شخص کی برابر شمار ہوگی۔ وامرھم شوریٰ بینھم (42 : 38) “ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ان کے تمام امور مشورے کے نتیجے میں ہوتے ہیں گویا ان کی پوری زندگی مشورے کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ ایک مکی آیت ہے اور یہ حکم اسلامی حکومت کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ رنگ گویا صرف حکومتی امور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسلامی سوسائٹی کا عمومی طرز عمل ہے۔ اگرچہ حکومت اس وقت قائم ہی نہ ہوئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی تنظیم دراصل اسلامی سوسائٹی کے خدو خال کا ایک منظم ظہور ہی ہے اور اسلامی سوسائٹی میں اسلامی حکومت بھی آتی ہے۔ لہٰذا اسلامی سوسائٹی ، اسلامی حکومت کو بھی اسی نہج پر چلاتی ہے۔ جس طرح اس کے عمومی امور چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں آغاز ہی سے مشورے کا عمل جاری تھا۔ اور اس مشورے کا دائرہ حکومت اور حکومتی احکام سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ یہ دراصل اسلامی سوسائٹی کی صفت ہے اور اس جماعت کی تو ممتاز صفات میں سے ہے جسے اللہ نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے برپا کیا ہے۔ اور قیادت کے لئے تو یہ بہت ہی اہم ہے۔ شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہونی چاہئے تو اسلام نے اس کے لئے کوئی فولادی قالب نہیں تیار کیا۔ ہر زمان و مکان کے حالات میں اس کی مختلف شکل و صورت تیار ہو سکتی ہے تا کہ یہ صفت یعنی شو رائیت اسلامی سوسائٹی میں بھی رائج ہو۔ اسلامی اداروں میں بھی مروج ہو ، لیکن اس کی کوئی جامد شکل نہ ہو بلکہ شوریٰ کی روح ہر جگہ موجود ہو۔ یعنی یہ شورائیت دراصل الفاظ اور اشکال کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک صفت ہے جو ایمان کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی میں شورائی شعور اور طرز عمل پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگ ایسے اسلامی اداروں کی بات کرتے ہیں جن کی تہہ میں ایمان نہ ہو یا ایمان کا ہونا ضروری نہ ہو تو وہ ایک فضول کام کر رہے ہیں۔ اور یہ کوئی سطحی بات نہیں ہے جس طرح پہلی نظر میں نظر آئے گی اور خصوصاً ان لوگوں کو نظر آئے گی جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات میں ایمان کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اسلامی نظریہ حیات اداروں اور تنظیمات میں منتقل ہونے سے قبل ، اس کے اندر ایسی عقلی اور نفسیاتی حقیقتیں ہوتی ہیں جو انسانی سوچ اور انسان کی ذات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد اسلام کے اجتماعی اداروں میں وہ اصول بن کر ایک متبعین شکل اختیار کر کے سامنے آتی ہیں اور اس کے بعد پھر نصوص آتے ہیں اور وہ ان اشکال اور حالات کی طرف اشارہ کردیتے ہیں ۔ نصوص ان اصولوں کو منظم کردیتے ہیں ، ان کی تخلیق نہیں کرتے ، ان کی تخلیق تو ایمان کی وجہ سے ہوچکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلامی نظریہ حیات کی کسی شکل و صورت کے ظہور کے لئے کسی ملک میں اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کا وجود ضروری ہے۔ اور ان مسلمانوں کا ایمان فعال اور بااثر ہو۔ اگر مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہو تو محض اداروں کے قیام سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ محض ادارے ضروریات پوری نہ کرسکیں گے اور اس صورت میں کوئی ایسا نظام وجود میں نہ آسکے گا جسے اسلامی کہا جاسکے۔ جب مسلمان صحیح معنوں میں پائے جائیں گے اور ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے وجود میں آجائے گا تو اسلامی نظام بذات خود وجود میں آجائے گا اور اس کی ایک اداراتی شکل خودبخود وجود میں آجائے گی جو ان مسلمانوں کی ضرورت ہوگی اور ان کی سوسائٹی کی ضرورت ہوگی اور صرف اس طرح اسلامی اصولوں کے خواب کی سچی تعبیر وجود میں آسکے گی۔ ومما رزقنھم ینفقون (42 : 38) “ اور ہم نے ان کو جو رزق دیا اس سے خرچ کرتے ہیں ” یہ آیت بھی حکم فرضیت زکوٰۃ سے پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ زکوٰۃ دو ہجری میں فرض ہوئی لیکن انفاق فی سبیل اللہ عام حکم اسلامی جماعت کے لئے پہلے سے تھا۔ بلکہ اسلامی سوسائٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ حکم وجود میں آگیا تھا۔ دعوت اسلامی کے عمل کے لئے مال کی ضرورت ہے اور یہ مال بذریعہ انفاق حاصل ہوگا۔ انفاق کے ذریعہ انسانوں کے دل کنجوسی کی بری خصلت سے پاک ہوتے ہیں جب انسانی جذبہ مال پر قابو پا لیتا ہے اور اپنی مملوکات کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہے ، ایمان کے مفہوم کے نکھار کے لئے یہ سب امور ضروری ہیں۔ اور یہ بات تو اپنی جگہ ہے کہ انفاق کے بغیر کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دعوت تو ایک جدو جہد ہے اور جدو جہد میں کارکنوں کی کفالت ضروری ہے تا کہ اجماعی ضروریات پوری ہوں اور نتائج برآمد ہوں۔ بعض اوقات یہ تکافل ہمہ گیر ہوجاتا ہے کہ کیس کے لئے انفرادی دولت رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ جب مہاجرین مکہ سے نکلے اور مدینہ میں انصار کے ساتھ مل کر جو نظام قائم ہوا یہ سب اسی اصول کے تحت تھا لیکن جب حالات معمول پر آگئے تو پھر زکوٰۃ کو رائج کر کے موافات کے نظام کو منسوخ کردیا گیا جو کلی تکافل تھا۔ بہرحال انفاق فی سبیل اللہ اس جماعت کی ممتاز خصوصیت ہے جسے اس مقصد کے لئے چنا گیا ہو یا اسے اس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہو کہ وہ کسی خطے میں اسلامی انقلاب برپا کرے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ مکی سورتوں میں اس صفت کا ذکر اپنے اندر خاص معنی رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت مسلمہ کے اندر یہ طبیعی صفت ہوتی ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا مقابلہ کرنا ایک اہم فریضہ ہے کیونکہ اگر کوئی ظالم کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو ظالم اور جری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ظالم کا مقابلہ کرنا بہت ضروی ہے۔ اور ایک ایسی ملت جسے اٹھایا ہی اس لیے گیا ہو کہ لوگوں کے حقوق کی پاسبانی کرے ، امر بالمعروف اس کا مشن ہو اور “ نہی عن المنکر اس کا فریضہ ہو ، اس کے لئے تو برائی کا مقابلہ کرنا بہت ہی اہم ہے کیونکہ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی پر چھا جانے اور اس کے اندر سچائی کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرے۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین “ اور عزت اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہے ”۔ لہٰذا اسلامی جماعت کا مزاج ، اس کے فرائض کی نوعیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرے اور اس پر جو دست درازیاں کی جا رہی ہیں ان کی مدافعت کرے۔ مکہ میں حکم یہ تھا کہ رک جاؤ اور ہاتھ روک لو اور صبر کرو۔ نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو ، وہاں یہ احکام مکہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے تھے اور ابتدائے عرب مسلمانوں کی قدرے تربیت بھی مطلوب تھی کیونکہ عرب مزاجاً منتقم المزاج تھے ، یہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کے لئے مستقل احکام نہ تھے۔ مکہ میں بعض خصوصی اسباب کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہر قیمت پر بقائے باہمی کے لئے امن اور سلامتی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ 1۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف سختی اور زیادتی کسی منظم حکومت ادارے کی طرف سے نہ تھی جو اس وقت کی جماعت پر حکمران ہو ، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سیاسی صورت حال غیر منظم قبائل انداز کی تھی۔ وہاں مسلمانوں پر جو تشدد کیا جاتا ہے تھا ، اگر کوئی مسلمان کسی قبیلے کا فرد تھا تو اس پر یہ تشدد قبیلہ کرتا تھا اور قبیلے میں بھی اس کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کوئی جرات نہ کرسکتا تھا۔ مسلمانوں پر بحیثیت جماعت کوئی تشدد نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات آقا اپنے مسلمان غلاموں پر تشدد کرتے تھے اور مسلمان انہیں خرید کر آزاد کردیتے تھے۔ اس لیے کوئی بھی اپنے غلاموں پر زیادہ تشدد کی جرات نہ کرتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نہ چاہتے تھے کہ مکہ میں گھر گھر کے اندر لڑائی شروع ہوجائے۔ ایک ہی گھر کے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں وہ غیر مسلموں سے لڑنا شروع کردیں۔ پھر مکہ میں نرمی دوسرے لوگوں کے دلوں کو زیادہ نرم کردیتی تھی بسنبت سختی کے۔ پھر عرب معاشرہ ایک خوددار اور جوانمرد معاشرہ تھا۔ اس میں مظلوم کی تمایت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ مسلمان جب اذیت برداشت کرتے تھے اور اپنے عقیدے پر جم جاتے تھے تو عربوں کی جوانمردی کے جذبات ان کے حق میں اٹھتے تھے۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران بالعموم اسی جذبے نے مسلمانوں کی مدد کی ، جس میں بنی ہاشم سب محصور کر دئیے گئے تھے۔ اس محاصرے کے خلاف لوگوں کی ہمدردیاں ، مسلمانوں کے حق میں ہوگئیں اور لوگوں نے اس معاہدے کے پرزے پرزے کر دئیے جو صحیفے میں تھا اور یوں یہ ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا۔ پھر عربوں کے اندر یہ رواج تھا کہ وہ بات بات پر تلوار سونت لیتے تھے۔ وہ بڑے جذباتی تھے اور کسی نظم و نسق کے پابند نہ تھے ۔ اسلامی جماعت میں جو تنظیم مطلوب تھی اس کا تقاضا تھا کہ اس جذباتیت کو ذرا دبایا جائے اور اسے کسی ہدف کا پابند کیا جائے۔ اور لوگوں کو اعصابی ضبط اور صبر کا عادی بنایا جائے۔ اور لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ نظریہ اور نصب العین ہر جذبے اور ہر مفاد پر مقدم ہیں۔ لہٰذا مکہ میں صبر اور مسلسل صبر کی تلقین کرنا اسلام کے منہاج تربیت کے لیے بہت ضروری تھا۔ اس طرح ایک مسلم کی شخصیت میں مطلویہ توازن پیدا ہوگیا اور وہ صبر وثبات کے ساتھ اپنے مقصد کے لئے آگے بڑھتے رہے۔۔۔۔ غرض یہ اور اس طرح کے دوسرے اسباب تھے جن کو اللہ اور رسول جانتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں ، صبر کی تلقین ہوتی رہی لیکن اصلی ہدف تحریک اسلامی کا یہی تھا۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ وہ لوگ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ مقابلہ کرتے ہیں ”۔ اس اصول کو زندگی کا ایک دوسرا اصول عملاً رائج کرتا ہے ، وہ ہے : وجذء سیئۃ سیئۃ مثلھا (42 : 40) “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔ سزا کا یہ اصول ہے کہ جیسا جرم ہو ، ویسی ہی سزا دی جائے تا کہ سرکشی اختیار نہ کرے۔ اگر کسی سرکش انسان کو کوئی روکنے والا نہ ہو تو وہ سر کشی اور ظلم میں بڑے اطمینان سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ تو ہے مظلوم کا حق اور اصول عامہ۔ لیکن اگر کوئی اپنے اصلاح نفس یا جزائے خیر اور اخروی اجر کے لئے کسی کو معاف کرتا ہے یا جماعت مسلمہ کے خلاف اٹھنے والے جذبات کی وجہ سے معاف کرتا ہے تو اس قاعدے میں استثناء موجود ہے۔ لیکن معافی کو اس وقت معانی تصور کیا جائے گا جب کوئی شخص برائی کا جواب برائی کے ساتھ دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ اس وقت عفو کا وزن بھی ہوگا اور دست درازی کرنے والے کی اصلاح بھی ہوگی کیونکہ دست درازی کرنے والا جب یہ سوچے گا کہ عفو اور در گزر محض احسان کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس میں معاف کرنے والے کی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ شرمندگی محسوس کرے گا ، نادم ہوگا اور آئندہ حیا کرے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ میرے مخالف نے میرے ساتھ شریفانہ سلوک کیا ہے۔ وہ اونچا آدمی ہے اور جو شخص انتقام لینے پر قادر ہو اور معاف کر دے تو اس کا دل بھی صاف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات میں عفو و درگزر دونوں کے لئے مفید ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص انتقام لینے سے عاجز ہو اور معاف کردے تو پھر صورت یہ ہوگی ، گداگر تواضع کند خوئے اوست۔ لہٰذا ایسے عفو کو عفو کہنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ وہاں عفو نہیں ہے ، مجبوری ہے۔ اور یہ صورت حال ایک شر انگیز صورت حال ہے ۔ اس کے نتیجے میں ظلم کرنے والا اور جری ہوتا ہے۔ اور فساد اور پھیلتا ہے ، یہ آیت مفہوم ۔ فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (42 : 40) “ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ پر ہے ”۔ انہ لا یحب الظلمین (42 : 40) “ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ”۔ یہ پہلے قاعدے کی تاکید ہے کہ “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یا تو معاف کر دو یا اگر بدلہ لینا ہے تو برابر بدلہ لو اس میں حدت نہ بڑھو۔۔۔۔ ایک دوسری تاکید اسی قاعدے گی : ولمن انتصر بعد ۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 42) انما السبیل علی الذین ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (42 : 42) “ اور جو لوگ ظلم کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ”۔ لہٰذا جو شخص ظلم کے بعد مدافعت کرتا ہے اور برائی کا بدلہ اس کے مساوی لینا ہے ، تعدی نہیں کرتا تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ تو اپنا قانون حق استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کسی کے پاس کوئی حجت نہیں ہے۔ نہ کسی کے لئے جائز ہے کہ اس کی راہ روکے۔ راہ تو ان لوگوں کی روکنی چاہئے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، اور زمین میں بغیر استحقاق کے زیادتیاں کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی ایسے ملک کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب اس میں ایک ظالم لوگوں پر ظلم کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ اس میں باغی ہو جو لوگوں پر مظالم ڈھا رہا ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس کا ہاتھ روکے یا اس سے قصاص دلواسکے۔ اللہ تعالیٰ بہرحال اس قسم کے ظالموں کو عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگوں کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ پکڑیں۔ آخر میں پھر انفرادی حالات اور طاقت انتقام کے باوجود ، تو ازن ، اعتدال ، ضبط نفس ، صبر اور احسان کا رویہ اپنانے پر متوجہ کیا جاتا ہے۔ جب صبر اور احسان فی الواقعہ ایک درگزر ہو ، ذلت نہ ہو ، کوئی احسان ہو ، مجبور نہ کردیا گیا ہو۔ ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور (42 : 43) “ البتہ جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے ”۔ اس پیراگراف کی تمام ہدایات و احکام نہایت ہی اعتدال اور میانہ روی پر مبنی ہیں۔ نفس انسانی کو ایک طرف کینہ اور غصے سے بچانے کی سعی کی گئی ہے ، اور دوسری جانب کمزوری ، ذلت اور ظلم و زیادتی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ہر حال میں اللہ کی رضا مندی کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ صبر بہرحال زاد راہ ہے۔ اور مومنین کی جو صفات یہاں دی گئی ہیں وہ اس انقلابی جماعت کی خصوصیات ہیں ، جس نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی ہے ، اور جس کے پیش نظر انعام اخروی اور رضائے الٰہی ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں اور رب پر توکل کریں۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ صفات مومنین یہ ہیں اور ان کے لئے جو اخروی اجر ہے ، وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اب بطور تقابل تصویر کا دوسرا رخ بعض ظالموں کا انجام بھی یہاں دے دیا جاتا ہے۔ اور ان کے لئے ذلت اور خسران کا اعلان کیا گیا ہے۔

الشورى 42:40

آیت نمبر 36 تا 43 اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف کیا ان کے بعدجب کوئی کتاب ان کی اگلی نسلوں کو ملی تو ان اختلافات کی وجہ سے وہ سرے سے کتابوں کے بارے میں شک میں پڑگئے۔ جب اہل کتاب اور اہل دین سماوی کا یہ حال ہوگیا تھا تو جن اقوام کے پاس کوئی کتاب یا کوئی دین ہی نہ تھا ، ظاہر ہے کہ ان کی حالت تو ان سے بھی بدتر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کو ایک صالح قیادت کی ضرورت تھی تا کہ وہ انسانوں کو ان اندھی جاہلیتوں سے نکالے اور ان کی رہنمائی کر کے ان کو ایک مضبوط رسی میں باندھ دے۔ اور ان کی رہنمائی ایک ایسے راستے کی طرف کرے جو اللہ تک پہنچاتا ہو جو اس وجود کا رب ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ آخری کتاب عربی زبان میں اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر اتاری تا کہ ام القریٰ ، مکہ مکرمہ اور اس کے ماحول میں رہنے والوں سے دعوت کا آغاز کرے اور ان کے اندر وہی دین قائم کرے جس کی سخت تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی تھی تا کہ تمام ادیان حقہ کی کڑیاں باہم مل جائیں اور آغاز تاریخ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی نہج ، ایک منہاج ، ایک ہی دین اور ایک ہی شریعت ہو اور ایک ایسی جماعت یہاں قائم کی جائے جو اس تاریخی دعوت کی محافظ ہو ، اس کی قیادت کرے اور اس کرۂ ارض پر اس دعوت کو اللہ کی منشا کے مطابق برپا کر کے یہاں اس منہاج کو قائم کرے۔ اور یہ کام اس شکل و صورت میں ہو جو اللہ کو پسند ہو۔ لہٰذا زیر بحث آیات میں اس جماعت کے خدوخال بیان ہو رہے ہیں۔ جس نے یہ عظیم فریضہ سر انجام دینا ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ آیات مکی ہیں اور مدینہ میں اسلامی نظام حکومت کے قیام سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ہم مکہ میں بھی تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت دیکھتے ہیں۔ وامرھم شوری بینھم (42 : 38) “ اور اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت کا قیام اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اسلامی جماعت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ جماعتی نظام شوریٰ پر قائم ہوتا ہے۔ یہی نظام جماعت سے آگے بڑھ کر پھر مملکت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی اسلامی معاشرے کی جان شورائیت ہے اور یہ اس کے اندر پھیلتی جاتی ہے۔ اس طرح اس جماعت کی دوسری خصوصیت یہ بتائی گئی ہے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ باوجود اس کے کہ مکہ میں حکم یہی تھا کہ صبر کرو ، اور زیادتی کا بدلہ زیادتی سے نہ دو ، اور یہ حکم اس وقت تک کے لئے تھا جب ہجرت کے بعد قتال کی اجازت دے دی گئی اور یہ کہا گیا ۔ اذن للذین ۔۔۔۔۔ نصرھم لقدیر (22 : 39) “ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ”۔ تو اس صفت کا ان مکی آیات میں ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ تحریک اسلامی کا مزاج یہی ہے کہ وہ زیادتی کے خلاف سینہ سپر ہوجاتی ہے اور اس سے پہلے اور بعد کے جو احکام ہیں وہ صبر کرنے اور رکے رہنے کے لئے ہیں۔ اور استثنائی احکام ہیں اور ایک متبعین وقت تک کے لئے ہیں۔ یہاں اس مکی سورت میں چونکہ جماعت مسلمہ کی بنیادی صفات قلم بند کی جا رہی تھیں اس لیے یہاں ذکر کردیا کہ اگرچہ فی الوقت انتصار کی ممانعت تھی لیکن یہ صفت اہل ایمان کی بنیادی صفات میں سے ہے۔ بہرحال جماعت مسلمہ کی صفات کے ضمن میں ایسے امور کا ذکر جن پر عمل نہ ہو رہا تھا اور نہ جماعت کے ہاتھ میں کسی ملک کی عملی قیادت تھی اور جماعت ابھی مکہ میں مصائب برداشت کر رہی تھی ، یہ اس لیے ہوا کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی تھی اور اسے اس لیے برپا کیا گیا تھا کہ وہ پوری انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور اسلام میں لائے گی۔ لہٰذا جماعت مسلمہ کے اندر ان صفات کا پیدا ہونا اور جماعت کے لئے ان مقاصد کے لئے تیار کرنا ضروری تھا۔ یہاں ان باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تا کہ جب اس کے ہاتھ میں اقتدار آئے تو وہ اس کی اہل ہو۔ لہٰذا ان صفات پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ یہ کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور انسانی معاشرے میں ان کی اہمیت کیا ہے۔ یہ ہیں ایک اسلامی جماعت کی صفات۔ ایمان ، توکل ، اجتناب کبائر اور فواحش ، غصے کے وقت معافی ، اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ، اقامت صلوٰۃ ، ہر معاملے میں مشاورت ، انفاق فی سبیل اللہ ، ظلم و زیادتی کا مقابلہ ، عفو ، اصلاح اور صبر۔ یہ کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ان کی اہمیت کیا ہے۔ مناسب ہے کہ ان صفات کو قرآنی ترتیب کے مطابق بیان کریں۔ قرآن کریم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طے کردہ ، مستحکم اور دائمی میزان کے سامنے کھڑا کردیتا ہے تا کہ وہ دائمی اور مستقل قدروں اور عارضی اور بدلنے والے حالات کے درمیان فرق و امتیاز کرسکیں۔ اور ان کی سوچ میں فرق نہ ہو ورنہ ان کی نگاہ میں ہر چیز کی حقیقی قدرو قیمت صحیح نہ رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات کے بیان سے پہلے ایک مستقبل میزان اور پیمانہ بیان کردیا کہ ایک مسلم جماعت کی صفات کے لئے یہ پیمانہ ہے۔ فما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ خیر وابقیٰ (42 : 36) “ جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی اور پائیدار بھی ”۔ اس زمین کا سازو سامان بہت ہی پرکشش اور زرق وبرق ہے۔ کھانے پینے کے سامان ، اولاد ، شہوات ، لذائذ ، مرتبہ اور اقتدار وغیرہ اور بعض نعمتیں وہ ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو زمین میں بطور مہربانی دی ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے خالص بخشش ہیں۔ ان کو اللہ نے اس دنیا میں معصیت اور طاعت پر موقوف نہیں کیا ہے۔ اگرچہ اطاعت شعار کی اس قلیل بخشش میں برکت ہوتی ہے اور بدکار کے ہاتھ میں اگر بہت کچھ ہو تب بھی اس سے برکت چھن جاتی ہے۔ لیکن یہ سب امور باقی اقدار نہیں ہیں۔ یہ متاع اور اس زندگی کا سروسامان ہے۔ یہ سرو سامان محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ نہ کسی کا مرتبہ بلند کرتا ہے ، نہ گراتا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک نہ شرافت و عزت کی دلیل ہے اور نہ کراہت اور ناپسندیدگی کی دلیل ہے۔ نہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے اللہ راضی ہے اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اللہ ناراض ہے۔ بس یہ اس زندگی ، فانی زندگی کا سامان ہے اور اس کے مقابلے میں۔ وما عند اللہ خیر وابقی (42 : 36) “ جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ”۔ بہتر ہے اپنی قیمت کے اعتبار سے اور پائیداریوں کہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ لہٰذا اس فانی دنیا کا سازو سامان بمقابلہ آخرت کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت ہی محدود اور کم قیمت ہے اور چند روزہ ہے۔ ایک فرد کے لئے صرف اسی کی زندگی میں کار آمد ہے اور پھر ہر شخص سوچ لے کہ وہ کتنی عمر لے کر آیا ہے اور کتنی رہ گئی ہے۔ اور بمقابلہ ایام اللہ یہ تو بہت کم بلکہ لمحات ہیں جس طرح چشم زدن۔ اس تمہیدی بیان اور اصل معیار نیک و بد کے بیان کے بعد اب اللہ ان مومنین کی صفات بیان فرماتا ہے جن کے لئے اللہ نے بہتر اور پائیدار انجام اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے۔ وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا (42 : 36) “ اور اللہ کے ہاں جو ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں ”۔ ایمان وہ حقیقت ہے کہ جب یہ ذہن میں بیٹھ جائے تب ہی جا کر اس کے ذریعہ انسانوں کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز کی اصل “ قدر ” معلوم کرسکیں۔ صرف ایمان کے ذریعہ ہم اس کائنات کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں کہ اس کائنات کو الٰہ العالمین نے بتایا ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہی کوئی شخص اس کائنات کے ساتھ کوئی معاملہ کرسکتا ہے۔ اس طرح انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرلیتا ہے۔ اس کے اندر پائے جانے والے قوانی قدرت کا حقیقی ادراک کرسکتا ہے اور اس طرح یہ انسان اپنی حرکت کو اس کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ پھر انسان اس کائنات کے کلی قوانین قدرت سے انحراف نہ کرے گا کیونکہ اس طرح یہ ہم آہنگی ختم ہوجائے گی اور یہ ہم آہنگی اس قدر اہم ہے کہ اس کے ساتھ انسان اس دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرسکے گا۔ اور اس عظیم وجود کے ساتھ مل کر اپنے باری تعالیٰ اور خالق کی اطاعت اور تابعداری میں زندگی بسر کرسکے گا۔ یہ صفت ہر انسان کے لئے لازمی صفت ہے کہ وہ مومن ہو ، لیکن جس جماعت نے پوری انسانیت کے اس سفر کی قیادت کرنی ہے اور جس نے پوری انسانیت کو خالق کائنات تک پہنچا نا ہے اس کے اندر اس صفت کا بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے۔ اس ایمان کے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ مومن کو نفسیاتی اطمینان اور نصب العین کا تعین حاصل ہوجاتا ہے۔ تردد ، حیرت ، خوف اور مایوسی اس کے قریب نہیں لگتی اور اس کرۂ ارض پر عام زندگی گزارنے کے لئے بھی یہ صفات اشد ضروری ہیں۔ لیکن یہ صفات اس جماعت کے لئے تو لابدی ہیں جس نے اس کٹھن راہ میں دوسرے انسانوں کی رہنمائی کرنی ہے۔ ایمان کو اہم قدروں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن خواہشات نفسانیہ ، ذاتی اغراض ، ذاتی مصلحتوں ، مفادات کے حصول سے پاک ہو۔ تب جا کر وہ کسی اونچے مقاصد کے لئے کام کرسکے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ اس کام میں اس کی ذات کی کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ یہ تو صرف دعوت الی اللہ کی ڈیوٹی ہے۔ یہ عند اللہ اجر پا چکا ہے۔ اللہ کے ساتھ سودا ہوچکا ہے اور یہ شعور اس شخص کے لئے تو بہت ہی لازمی ہے جو قائد تحریک ہو ، تا کہ وہ اس وقت مایوس نہ ہو جب ایک خود سر گروہ اس سے الگ ہوجائے یا اسے دعوت کی وجہ سے ایذا دی گئی ہو ، اور اگر تمام عوام اس کے گرویہ ہوجائیں اس کے مطیع ہوجائیں تو وہ مغرور نہ ہوجائے کیونکہ وہ تو ایک مزدور ہے ، اس نے اجرت اللہ سے پہلے ہی لے لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا پہلا گروہ ، جماعت صحابہ کے اندر اس قسم کا ایمان پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے ایمان نے ان کے نفوس ، ان کے اخلاق ، ان کے طرز عمل میں ایک عجیب انقلاب پید کردیا تھا۔ ان کے دور میں پوری انسانیت کے اندر ایمان کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ ایمان دب گیا تھا ، بلکہ ایمان کا لوگوں کے اخلاق ، ان کے طرزعمل اور ان کی نفسیات پر کوئی اثر ہی نہ رہا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے ایمان کی ایک زندہ ، موثر ، فعال صورت دی۔ اور اس نے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی جماعت پیدا کردی جنہوں نے اسلامی انقلاب کا بیڑا اٹھایا۔ ٭٭٭ سید ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب “ مسلمانوں کے زوال کے عالمی اثرات ” میں فرماتے ہیں : “ یہ ہے وہ ایمان جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں ایمان کو اس جماعت کی صفت اول بتایا گیا ہے جو پوری انسانیت کی قیادت کے لئے اٹھائی گئی ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے انسانیت کی قیادت کرتی ہے۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مومن صرف اللہ پر توکل کرے ”۔ لیکن قرآن مجید تو کل علی اللہ کو بطور ایک مستقل عنوان ذکر کرتا ہے۔ وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) “ اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ”۔ یہاں سیدھے سارے فقرے یتوکلون علی ربھم کی بجائے وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) کہا۔ یعنی بعد کے الفاظ کو مقدم یعنی جار مجرور کو مقدم کرنے سے حصر کے معنی پیدا ہوئے یعنی صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور کسی پر نہیں کرتے۔ یہ بھی عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اللہ پر بھروسہ ہو۔ مومن کا اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان ہوتا ہے۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مشیت سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ کوئی کام یہاں اللہ کے اذن کے بغیر واقع ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مومن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ کسی کام کے کرنے یا کسی کام کے نہ کرنے میں مومن صرف اللہ پر توکل کرتا ہے۔ ہر شخص کے لئے یہ شعور اس کی عملی زندگی میں لابدی ہے ۔ کیونکہ اس طرح وہ ہر کسی کے سامنے سر اٹھا کے چلے گا۔ اور اس کا سر کسی کے سامنے نہ جھکے گا۔ وہ بہت مطمئن ہوگا ، نہ کسی سے کوئی امید رکھے گا نہ اسے کسی کا خوف ہوگا اگر مشکلات آجائیں تو پرجوش اور ثابت قدم ہوگا اور اچھے دن ہوں تو سنجیدہ رہے گا۔ نہ خوشحالی اور نہ ہی بدحالی اسے اپنی جگہ سے ہلا سکے گی۔ لیکن یہ شعور اسلامی انقلاب کے قائد کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ وہ اس راہ کے نشیب و فراز میں جم جانے اور اسلامی انقلاب لانے والی جماعت کے ہر فرد میں بھی یہ صفت ضروری ہے۔ والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش (42 : 37) “ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ” ۔ قلب کی طہارت ، طرز عمل کا شفاف ہونا ، خصوصاً بڑے گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے ، اسلامی معاشرے کی اساسی خصوصیت ہے اور یہ ایمان کے نمایاں آثار میں سے ہے۔ اور کسی صحیح قائد اور خصوصاً اسلامی دعوت کے لئے اٹھنے والی جماعت کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری صفت ہے۔ کوئی دل اور شفاف نہیں رہ سکتا ، اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہو اور فحاشی کے کاموں میں حصہ دار ہو اور ان چیزوں سے اجتناب کرنے والا نہ ہو ، اور کوئی فرد اور کوئی جماعت قیادت کے قابل نہیں ، اگر اس کا دل صاف نہ ہو ، اور معصیت اور فحاشی نے اس کے ایمان کو خود ختم کردیا ہو اور اس کی شکل ہی بگڑی ہوئی ہو۔ پہلی جماعت مسلمہ کے دل میں ایمان اس قدر تیز احساس کے ساتھ ، اس درجے تک بلند ہوگیا تھا ، جس کی طرف محولہ بالا ص میں 22 میں اشارہ کیا گیا اور اس طرح اس جماعت کو اس کے ایمان نے انسانی قیادت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔ اور انہوں نے ایسی قیادت کی کہ اس کی مثال نہ سابقہ قدیم تاریخ میں ملتی ہے اور نہ نئی تاریخ میں۔ اس قیادت کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک تیز ہو اور جو ستارے کی طرف اشارہ کرتا ہو ، اس جہان میں جہاں خواہشات کی جنگ برپا ہو اور نفسا نفسی کا عالم ہو۔ اللہ اس انسانی مخلوق کی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قیادت کے لئے شرائط بھی معقول حد کے اندر رکھی ہیں۔ جن پر کوئی قیادت عمل کرسکے اور اس پر وہ اللہ کے ہاں موہود اجر پاسکے۔ اللہ نے جو معیار تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت اور اس کی لیڈر شپ کبائر گناہوں اور فواحش سے مجتنب ہو۔ رہے چھوڑے گناہوں کا ارتکاب تو وہ اللہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ انسانوں کی طاعت کی حدود وقیود سے خوب واقف ہے۔ یہ اللہ کا فضل ، اس کی مہربانی اور رحمت ہے ، جو اس نے اس انسان پر کیا۔ مناسب ہے کہ ہم اللہ سے شرم کریں کیونکہ مہربانی سے انسان کے اندر حیا کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عفو درگزر کی وجہ سے عزت و احترام پیدا ہوتا ہے۔ واذا ما غضبوا ھم یغفرون (42 : 37) “ اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں ” ۔ یہ صفت اس کے بعد متصلا آئی جب اس سے قبل اشارہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے چھوٹے گناہ معاف کر کے درگزر فرماتا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس میں مہربانی اور درگزر کا سلوک روا رکھیں۔ چناچہ مومنین کی صفات میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ جب ان کو غصہ آئے تو وہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔ اس معاملے میں بھی اسلام نفس انسانی کے ساتھ نہایت ہی احسان کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ غصہ ایک ایسا انسانی رد عمل ہے جو انسان کی فطرت سے اٹھتا ہے۔ اور یہ غصہ سرا سر شر بھی نہیں ہے۔ اللہ کے لئے ، اللہ کے دین کی خاطر ، سچائی کے لئے اور انصاف کی خاطر تو غصہ مطلوب ہے۔ اور اس میں خیر ہے۔ لہٰذا اسلام نفس غصے کو جرم قرار نہیں دیتا۔ نہ اسے غلطی قرار دیتا ہے بلکہ اسلام انسانی مزاج اور فطرت میں غصے کو قبول کرتا ہے۔ اس لیے اسلام انسان اور اس کی فطرت کے درمیان کسی دینی حکم کی وجہ سے جدائی اور تفریق نہیں کرتا۔ ہاں اسلام یہ ہدایت ضرور دیتا ہے کہ انسان کو اپنے غصے پر قابو پانا چاہئے۔ اسے چاہئے کہ حتی الوسع عفو و درگزر سے کام لے اور یہ اس کی ایمانی صفات میں سے ایک مثالی صفت ہوگی۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ آپ کبھی بھی ذاتی معاملات میں غصہ نہیں ہوئے۔ آپ کا غصہ اللہ کے لئے ہوتا تھا اور پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی طاقت ٹھہر نہ سکتی تھی۔ خیر یہ تو مقام محمدی ﷺ کے درجات و کمالات ہیں۔ عام مسلمانوں کو اللہ ان کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے ۔ اگرچہ وہ اس میں ان کو آزماتا ہے اور صرف یہ حکم دیتا ہے کہ اگر غصہ آجائے تو معاف کردیں ، اور اگر ممکن ہو سکے تو معاف کردیں اور انتقام کے جذبات پر قابو پالیں بشرطیکہ معاملہ ذاتی حدود کے اندر ہو۔ اور دو افراد کے درمیان ہو۔ والذین استجابوا لربھم (42 : 38) “ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ”۔ وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں اور نفس انسانی سے وہ باتیں محو کرتے ہیں جو توجہ الی اللہ سے مانع ہوں ، یہ رکاوٹیں نفسانی خواہشات ، جذبات و میلانات اور وہ رکاوٹیں جو انسان کے وجود اور اس کی ذات سے لگی ہوئی ہیں ، جب انسان ذاتی خواہشات پر قابو پالے اور شخصی رکاوٹوں کو دور کرے تو پھر اس کے اور اس کے رب کے درمیان راستہ صاف ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ رب کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے سامنے ذاتی خواہشات کی کوئی رکاوٹ ، رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی یہ عمومی صفت ہے لیکن احکام الٰہی میں سے بعض کا یہاں خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ واقاموا الصلوٰۃ (42 : 38) “ نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اسلام میں نماز کو ایک بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ کلمہ طیبہ کے اقرار کے بعد پہلا حکم نماز کا آتا ہے۔ گویا نماز اللہ کے احکام کی پیروی کا آغاز ہوتا ہے۔ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا نام نماز ہے۔ پھر یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام میں محمود وایاز ایک ہی صفت میں کھڑے ہوں گے۔ کسی کا سر دوسرے کے مقابلے میں بلند نہ ہوگا ، کوئی کسی سے آگے نہ ہوگا۔ اور یہی پہلو ہے یعنی مساوات کا پہلو کہ نماز کے بعد بالعموم زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے لیکن یہاں زکوٰۃ سے پہلے وامرھم شوری (42 : 38) کا ذکر کیا تا کہ معلوم ہو کہ رائے ہر شخص کی برابر شمار ہوگی۔ وامرھم شوریٰ بینھم (42 : 38) “ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ان کے تمام امور مشورے کے نتیجے میں ہوتے ہیں گویا ان کی پوری زندگی مشورے کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ ایک مکی آیت ہے اور یہ حکم اسلامی حکومت کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ رنگ گویا صرف حکومتی امور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسلامی سوسائٹی کا عمومی طرز عمل ہے۔ اگرچہ حکومت اس وقت قائم ہی نہ ہوئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی تنظیم دراصل اسلامی سوسائٹی کے خدو خال کا ایک منظم ظہور ہی ہے اور اسلامی سوسائٹی میں اسلامی حکومت بھی آتی ہے۔ لہٰذا اسلامی سوسائٹی ، اسلامی حکومت کو بھی اسی نہج پر چلاتی ہے۔ جس طرح اس کے عمومی امور چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں آغاز ہی سے مشورے کا عمل جاری تھا۔ اور اس مشورے کا دائرہ حکومت اور حکومتی احکام سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ یہ دراصل اسلامی سوسائٹی کی صفت ہے اور اس جماعت کی تو ممتاز صفات میں سے ہے جسے اللہ نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے برپا کیا ہے۔ اور قیادت کے لئے تو یہ بہت ہی اہم ہے۔ شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہونی چاہئے تو اسلام نے اس کے لئے کوئی فولادی قالب نہیں تیار کیا۔ ہر زمان و مکان کے حالات میں اس کی مختلف شکل و صورت تیار ہو سکتی ہے تا کہ یہ صفت یعنی شو رائیت اسلامی سوسائٹی میں بھی رائج ہو۔ اسلامی اداروں میں بھی مروج ہو ، لیکن اس کی کوئی جامد شکل نہ ہو بلکہ شوریٰ کی روح ہر جگہ موجود ہو۔ یعنی یہ شورائیت دراصل الفاظ اور اشکال کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک صفت ہے جو ایمان کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی میں شورائی شعور اور طرز عمل پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگ ایسے اسلامی اداروں کی بات کرتے ہیں جن کی تہہ میں ایمان نہ ہو یا ایمان کا ہونا ضروری نہ ہو تو وہ ایک فضول کام کر رہے ہیں۔ اور یہ کوئی سطحی بات نہیں ہے جس طرح پہلی نظر میں نظر آئے گی اور خصوصاً ان لوگوں کو نظر آئے گی جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات میں ایمان کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اسلامی نظریہ حیات اداروں اور تنظیمات میں منتقل ہونے سے قبل ، اس کے اندر ایسی عقلی اور نفسیاتی حقیقتیں ہوتی ہیں جو انسانی سوچ اور انسان کی ذات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد اسلام کے اجتماعی اداروں میں وہ اصول بن کر ایک متبعین شکل اختیار کر کے سامنے آتی ہیں اور اس کے بعد پھر نصوص آتے ہیں اور وہ ان اشکال اور حالات کی طرف اشارہ کردیتے ہیں ۔ نصوص ان اصولوں کو منظم کردیتے ہیں ، ان کی تخلیق نہیں کرتے ، ان کی تخلیق تو ایمان کی وجہ سے ہوچکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلامی نظریہ حیات کی کسی شکل و صورت کے ظہور کے لئے کسی ملک میں اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کا وجود ضروری ہے۔ اور ان مسلمانوں کا ایمان فعال اور بااثر ہو۔ اگر مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہو تو محض اداروں کے قیام سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ محض ادارے ضروریات پوری نہ کرسکیں گے اور اس صورت میں کوئی ایسا نظام وجود میں نہ آسکے گا جسے اسلامی کہا جاسکے۔ جب مسلمان صحیح معنوں میں پائے جائیں گے اور ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے وجود میں آجائے گا تو اسلامی نظام بذات خود وجود میں آجائے گا اور اس کی ایک اداراتی شکل خودبخود وجود میں آجائے گی جو ان مسلمانوں کی ضرورت ہوگی اور ان کی سوسائٹی کی ضرورت ہوگی اور صرف اس طرح اسلامی اصولوں کے خواب کی سچی تعبیر وجود میں آسکے گی۔ ومما رزقنھم ینفقون (42 : 38) “ اور ہم نے ان کو جو رزق دیا اس سے خرچ کرتے ہیں ” یہ آیت بھی حکم فرضیت زکوٰۃ سے پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ زکوٰۃ دو ہجری میں فرض ہوئی لیکن انفاق فی سبیل اللہ عام حکم اسلامی جماعت کے لئے پہلے سے تھا۔ بلکہ اسلامی سوسائٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ حکم وجود میں آگیا تھا۔ دعوت اسلامی کے عمل کے لئے مال کی ضرورت ہے اور یہ مال بذریعہ انفاق حاصل ہوگا۔ انفاق کے ذریعہ انسانوں کے دل کنجوسی کی بری خصلت سے پاک ہوتے ہیں جب انسانی جذبہ مال پر قابو پا لیتا ہے اور اپنی مملوکات کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہے ، ایمان کے مفہوم کے نکھار کے لئے یہ سب امور ضروری ہیں۔ اور یہ بات تو اپنی جگہ ہے کہ انفاق کے بغیر کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دعوت تو ایک جدو جہد ہے اور جدو جہد میں کارکنوں کی کفالت ضروری ہے تا کہ اجماعی ضروریات پوری ہوں اور نتائج برآمد ہوں۔ بعض اوقات یہ تکافل ہمہ گیر ہوجاتا ہے کہ کیس کے لئے انفرادی دولت رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ جب مہاجرین مکہ سے نکلے اور مدینہ میں انصار کے ساتھ مل کر جو نظام قائم ہوا یہ سب اسی اصول کے تحت تھا لیکن جب حالات معمول پر آگئے تو پھر زکوٰۃ کو رائج کر کے موافات کے نظام کو منسوخ کردیا گیا جو کلی تکافل تھا۔ بہرحال انفاق فی سبیل اللہ اس جماعت کی ممتاز خصوصیت ہے جسے اس مقصد کے لئے چنا گیا ہو یا اسے اس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہو کہ وہ کسی خطے میں اسلامی انقلاب برپا کرے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ مکی سورتوں میں اس صفت کا ذکر اپنے اندر خاص معنی رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت مسلمہ کے اندر یہ طبیعی صفت ہوتی ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا مقابلہ کرنا ایک اہم فریضہ ہے کیونکہ اگر کوئی ظالم کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو ظالم اور جری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ظالم کا مقابلہ کرنا بہت ضروی ہے۔ اور ایک ایسی ملت جسے اٹھایا ہی اس لیے گیا ہو کہ لوگوں کے حقوق کی پاسبانی کرے ، امر بالمعروف اس کا مشن ہو اور “ نہی عن المنکر اس کا فریضہ ہو ، اس کے لئے تو برائی کا مقابلہ کرنا بہت ہی اہم ہے کیونکہ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی پر چھا جانے اور اس کے اندر سچائی کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرے۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین “ اور عزت اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہے ”۔ لہٰذا اسلامی جماعت کا مزاج ، اس کے فرائض کی نوعیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرے اور اس پر جو دست درازیاں کی جا رہی ہیں ان کی مدافعت کرے۔ مکہ میں حکم یہ تھا کہ رک جاؤ اور ہاتھ روک لو اور صبر کرو۔ نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو ، وہاں یہ احکام مکہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے تھے اور ابتدائے عرب مسلمانوں کی قدرے تربیت بھی مطلوب تھی کیونکہ عرب مزاجاً منتقم المزاج تھے ، یہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کے لئے مستقل احکام نہ تھے۔ مکہ میں بعض خصوصی اسباب کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہر قیمت پر بقائے باہمی کے لئے امن اور سلامتی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ 1۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف سختی اور زیادتی کسی منظم حکومت ادارے کی طرف سے نہ تھی جو اس وقت کی جماعت پر حکمران ہو ، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سیاسی صورت حال غیر منظم قبائل انداز کی تھی۔ وہاں مسلمانوں پر جو تشدد کیا جاتا ہے تھا ، اگر کوئی مسلمان کسی قبیلے کا فرد تھا تو اس پر یہ تشدد قبیلہ کرتا تھا اور قبیلے میں بھی اس کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کوئی جرات نہ کرسکتا تھا۔ مسلمانوں پر بحیثیت جماعت کوئی تشدد نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات آقا اپنے مسلمان غلاموں پر تشدد کرتے تھے اور مسلمان انہیں خرید کر آزاد کردیتے تھے۔ اس لیے کوئی بھی اپنے غلاموں پر زیادہ تشدد کی جرات نہ کرتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نہ چاہتے تھے کہ مکہ میں گھر گھر کے اندر لڑائی شروع ہوجائے۔ ایک ہی گھر کے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں وہ غیر مسلموں سے لڑنا شروع کردیں۔ پھر مکہ میں نرمی دوسرے لوگوں کے دلوں کو زیادہ نرم کردیتی تھی بسنبت سختی کے۔ پھر عرب معاشرہ ایک خوددار اور جوانمرد معاشرہ تھا۔ اس میں مظلوم کی تمایت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ مسلمان جب اذیت برداشت کرتے تھے اور اپنے عقیدے پر جم جاتے تھے تو عربوں کی جوانمردی کے جذبات ان کے حق میں اٹھتے تھے۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران بالعموم اسی جذبے نے مسلمانوں کی مدد کی ، جس میں بنی ہاشم سب محصور کر دئیے گئے تھے۔ اس محاصرے کے خلاف لوگوں کی ہمدردیاں ، مسلمانوں کے حق میں ہوگئیں اور لوگوں نے اس معاہدے کے پرزے پرزے کر دئیے جو صحیفے میں تھا اور یوں یہ ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا۔ پھر عربوں کے اندر یہ رواج تھا کہ وہ بات بات پر تلوار سونت لیتے تھے۔ وہ بڑے جذباتی تھے اور کسی نظم و نسق کے پابند نہ تھے ۔ اسلامی جماعت میں جو تنظیم مطلوب تھی اس کا تقاضا تھا کہ اس جذباتیت کو ذرا دبایا جائے اور اسے کسی ہدف کا پابند کیا جائے۔ اور لوگوں کو اعصابی ضبط اور صبر کا عادی بنایا جائے۔ اور لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ نظریہ اور نصب العین ہر جذبے اور ہر مفاد پر مقدم ہیں۔ لہٰذا مکہ میں صبر اور مسلسل صبر کی تلقین کرنا اسلام کے منہاج تربیت کے لیے بہت ضروری تھا۔ اس طرح ایک مسلم کی شخصیت میں مطلویہ توازن پیدا ہوگیا اور وہ صبر وثبات کے ساتھ اپنے مقصد کے لئے آگے بڑھتے رہے۔۔۔۔ غرض یہ اور اس طرح کے دوسرے اسباب تھے جن کو اللہ اور رسول جانتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں ، صبر کی تلقین ہوتی رہی لیکن اصلی ہدف تحریک اسلامی کا یہی تھا۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ وہ لوگ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ مقابلہ کرتے ہیں ”۔ اس اصول کو زندگی کا ایک دوسرا اصول عملاً رائج کرتا ہے ، وہ ہے : وجذء سیئۃ سیئۃ مثلھا (42 : 40) “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔ سزا کا یہ اصول ہے کہ جیسا جرم ہو ، ویسی ہی سزا دی جائے تا کہ سرکشی اختیار نہ کرے۔ اگر کسی سرکش انسان کو کوئی روکنے والا نہ ہو تو وہ سر کشی اور ظلم میں بڑے اطمینان سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ تو ہے مظلوم کا حق اور اصول عامہ۔ لیکن اگر کوئی اپنے اصلاح نفس یا جزائے خیر اور اخروی اجر کے لئے کسی کو معاف کرتا ہے یا جماعت مسلمہ کے خلاف اٹھنے والے جذبات کی وجہ سے معاف کرتا ہے تو اس قاعدے میں استثناء موجود ہے۔ لیکن معافی کو اس وقت معانی تصور کیا جائے گا جب کوئی شخص برائی کا جواب برائی کے ساتھ دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ اس وقت عفو کا وزن بھی ہوگا اور دست درازی کرنے والے کی اصلاح بھی ہوگی کیونکہ دست درازی کرنے والا جب یہ سوچے گا کہ عفو اور در گزر محض احسان کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس میں معاف کرنے والے کی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ شرمندگی محسوس کرے گا ، نادم ہوگا اور آئندہ حیا کرے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ میرے مخالف نے میرے ساتھ شریفانہ سلوک کیا ہے۔ وہ اونچا آدمی ہے اور جو شخص انتقام لینے پر قادر ہو اور معاف کر دے تو اس کا دل بھی صاف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات میں عفو و درگزر دونوں کے لئے مفید ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص انتقام لینے سے عاجز ہو اور معاف کردے تو پھر صورت یہ ہوگی ، گداگر تواضع کند خوئے اوست۔ لہٰذا ایسے عفو کو عفو کہنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ وہاں عفو نہیں ہے ، مجبوری ہے۔ اور یہ صورت حال ایک شر انگیز صورت حال ہے ۔ اس کے نتیجے میں ظلم کرنے والا اور جری ہوتا ہے۔ اور فساد اور پھیلتا ہے ، یہ آیت مفہوم ۔ فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (42 : 40) “ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ پر ہے ”۔ انہ لا یحب الظلمین (42 : 40) “ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ”۔ یہ پہلے قاعدے کی تاکید ہے کہ “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یا تو معاف کر دو یا اگر بدلہ لینا ہے تو برابر بدلہ لو اس میں حدت نہ بڑھو۔۔۔۔ ایک دوسری تاکید اسی قاعدے گی : ولمن انتصر بعد ۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 42) انما السبیل علی الذین ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (42 : 42) “ اور جو لوگ ظلم کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ”۔ لہٰذا جو شخص ظلم کے بعد مدافعت کرتا ہے اور برائی کا بدلہ اس کے مساوی لینا ہے ، تعدی نہیں کرتا تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ تو اپنا قانون حق استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کسی کے پاس کوئی حجت نہیں ہے۔ نہ کسی کے لئے جائز ہے کہ اس کی راہ روکے۔ راہ تو ان لوگوں کی روکنی چاہئے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، اور زمین میں بغیر استحقاق کے زیادتیاں کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی ایسے ملک کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب اس میں ایک ظالم لوگوں پر ظلم کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ اس میں باغی ہو جو لوگوں پر مظالم ڈھا رہا ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس کا ہاتھ روکے یا اس سے قصاص دلواسکے۔ اللہ تعالیٰ بہرحال اس قسم کے ظالموں کو عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگوں کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ پکڑیں۔ آخر میں پھر انفرادی حالات اور طاقت انتقام کے باوجود ، تو ازن ، اعتدال ، ضبط نفس ، صبر اور احسان کا رویہ اپنانے پر متوجہ کیا جاتا ہے۔ جب صبر اور احسان فی الواقعہ ایک درگزر ہو ، ذلت نہ ہو ، کوئی احسان ہو ، مجبور نہ کردیا گیا ہو۔ ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور (42 : 43) “ البتہ جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے ”۔ اس پیراگراف کی تمام ہدایات و احکام نہایت ہی اعتدال اور میانہ روی پر مبنی ہیں۔ نفس انسانی کو ایک طرف کینہ اور غصے سے بچانے کی سعی کی گئی ہے ، اور دوسری جانب کمزوری ، ذلت اور ظلم و زیادتی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ہر حال میں اللہ کی رضا مندی کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ صبر بہرحال زاد راہ ہے۔ اور مومنین کی جو صفات یہاں دی گئی ہیں وہ اس انقلابی جماعت کی خصوصیات ہیں ، جس نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی ہے ، اور جس کے پیش نظر انعام اخروی اور رضائے الٰہی ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں اور رب پر توکل کریں۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ صفات مومنین یہ ہیں اور ان کے لئے جو اخروی اجر ہے ، وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اب بطور تقابل تصویر کا دوسرا رخ بعض ظالموں کا انجام بھی یہاں دے دیا جاتا ہے۔ اور ان کے لئے ذلت اور خسران کا اعلان کیا گیا ہے۔

الشورى 42:41

آیت نمبر 36 تا 43 اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف کیا ان کے بعدجب کوئی کتاب ان کی اگلی نسلوں کو ملی تو ان اختلافات کی وجہ سے وہ سرے سے کتابوں کے بارے میں شک میں پڑگئے۔ جب اہل کتاب اور اہل دین سماوی کا یہ حال ہوگیا تھا تو جن اقوام کے پاس کوئی کتاب یا کوئی دین ہی نہ تھا ، ظاہر ہے کہ ان کی حالت تو ان سے بھی بدتر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کو ایک صالح قیادت کی ضرورت تھی تا کہ وہ انسانوں کو ان اندھی جاہلیتوں سے نکالے اور ان کی رہنمائی کر کے ان کو ایک مضبوط رسی میں باندھ دے۔ اور ان کی رہنمائی ایک ایسے راستے کی طرف کرے جو اللہ تک پہنچاتا ہو جو اس وجود کا رب ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ آخری کتاب عربی زبان میں اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر اتاری تا کہ ام القریٰ ، مکہ مکرمہ اور اس کے ماحول میں رہنے والوں سے دعوت کا آغاز کرے اور ان کے اندر وہی دین قائم کرے جس کی سخت تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی تھی تا کہ تمام ادیان حقہ کی کڑیاں باہم مل جائیں اور آغاز تاریخ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی نہج ، ایک منہاج ، ایک ہی دین اور ایک ہی شریعت ہو اور ایک ایسی جماعت یہاں قائم کی جائے جو اس تاریخی دعوت کی محافظ ہو ، اس کی قیادت کرے اور اس کرۂ ارض پر اس دعوت کو اللہ کی منشا کے مطابق برپا کر کے یہاں اس منہاج کو قائم کرے۔ اور یہ کام اس شکل و صورت میں ہو جو اللہ کو پسند ہو۔ لہٰذا زیر بحث آیات میں اس جماعت کے خدوخال بیان ہو رہے ہیں۔ جس نے یہ عظیم فریضہ سر انجام دینا ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ آیات مکی ہیں اور مدینہ میں اسلامی نظام حکومت کے قیام سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ہم مکہ میں بھی تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت دیکھتے ہیں۔ وامرھم شوری بینھم (42 : 38) “ اور اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت کا قیام اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اسلامی جماعت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ جماعتی نظام شوریٰ پر قائم ہوتا ہے۔ یہی نظام جماعت سے آگے بڑھ کر پھر مملکت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی اسلامی معاشرے کی جان شورائیت ہے اور یہ اس کے اندر پھیلتی جاتی ہے۔ اس طرح اس جماعت کی دوسری خصوصیت یہ بتائی گئی ہے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ باوجود اس کے کہ مکہ میں حکم یہی تھا کہ صبر کرو ، اور زیادتی کا بدلہ زیادتی سے نہ دو ، اور یہ حکم اس وقت تک کے لئے تھا جب ہجرت کے بعد قتال کی اجازت دے دی گئی اور یہ کہا گیا ۔ اذن للذین ۔۔۔۔۔ نصرھم لقدیر (22 : 39) “ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ”۔ تو اس صفت کا ان مکی آیات میں ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ تحریک اسلامی کا مزاج یہی ہے کہ وہ زیادتی کے خلاف سینہ سپر ہوجاتی ہے اور اس سے پہلے اور بعد کے جو احکام ہیں وہ صبر کرنے اور رکے رہنے کے لئے ہیں۔ اور استثنائی احکام ہیں اور ایک متبعین وقت تک کے لئے ہیں۔ یہاں اس مکی سورت میں چونکہ جماعت مسلمہ کی بنیادی صفات قلم بند کی جا رہی تھیں اس لیے یہاں ذکر کردیا کہ اگرچہ فی الوقت انتصار کی ممانعت تھی لیکن یہ صفت اہل ایمان کی بنیادی صفات میں سے ہے۔ بہرحال جماعت مسلمہ کی صفات کے ضمن میں ایسے امور کا ذکر جن پر عمل نہ ہو رہا تھا اور نہ جماعت کے ہاتھ میں کسی ملک کی عملی قیادت تھی اور جماعت ابھی مکہ میں مصائب برداشت کر رہی تھی ، یہ اس لیے ہوا کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی تھی اور اسے اس لیے برپا کیا گیا تھا کہ وہ پوری انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور اسلام میں لائے گی۔ لہٰذا جماعت مسلمہ کے اندر ان صفات کا پیدا ہونا اور جماعت کے لئے ان مقاصد کے لئے تیار کرنا ضروری تھا۔ یہاں ان باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تا کہ جب اس کے ہاتھ میں اقتدار آئے تو وہ اس کی اہل ہو۔ لہٰذا ان صفات پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ یہ کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور انسانی معاشرے میں ان کی اہمیت کیا ہے۔ یہ ہیں ایک اسلامی جماعت کی صفات۔ ایمان ، توکل ، اجتناب کبائر اور فواحش ، غصے کے وقت معافی ، اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ، اقامت صلوٰۃ ، ہر معاملے میں مشاورت ، انفاق فی سبیل اللہ ، ظلم و زیادتی کا مقابلہ ، عفو ، اصلاح اور صبر۔ یہ کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ان کی اہمیت کیا ہے۔ مناسب ہے کہ ان صفات کو قرآنی ترتیب کے مطابق بیان کریں۔ قرآن کریم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طے کردہ ، مستحکم اور دائمی میزان کے سامنے کھڑا کردیتا ہے تا کہ وہ دائمی اور مستقل قدروں اور عارضی اور بدلنے والے حالات کے درمیان فرق و امتیاز کرسکیں۔ اور ان کی سوچ میں فرق نہ ہو ورنہ ان کی نگاہ میں ہر چیز کی حقیقی قدرو قیمت صحیح نہ رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات کے بیان سے پہلے ایک مستقبل میزان اور پیمانہ بیان کردیا کہ ایک مسلم جماعت کی صفات کے لئے یہ پیمانہ ہے۔ فما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ خیر وابقیٰ (42 : 36) “ جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی اور پائیدار بھی ”۔ اس زمین کا سازو سامان بہت ہی پرکشش اور زرق وبرق ہے۔ کھانے پینے کے سامان ، اولاد ، شہوات ، لذائذ ، مرتبہ اور اقتدار وغیرہ اور بعض نعمتیں وہ ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو زمین میں بطور مہربانی دی ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے خالص بخشش ہیں۔ ان کو اللہ نے اس دنیا میں معصیت اور طاعت پر موقوف نہیں کیا ہے۔ اگرچہ اطاعت شعار کی اس قلیل بخشش میں برکت ہوتی ہے اور بدکار کے ہاتھ میں اگر بہت کچھ ہو تب بھی اس سے برکت چھن جاتی ہے۔ لیکن یہ سب امور باقی اقدار نہیں ہیں۔ یہ متاع اور اس زندگی کا سروسامان ہے۔ یہ سرو سامان محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ نہ کسی کا مرتبہ بلند کرتا ہے ، نہ گراتا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک نہ شرافت و عزت کی دلیل ہے اور نہ کراہت اور ناپسندیدگی کی دلیل ہے۔ نہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے اللہ راضی ہے اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اللہ ناراض ہے۔ بس یہ اس زندگی ، فانی زندگی کا سامان ہے اور اس کے مقابلے میں۔ وما عند اللہ خیر وابقی (42 : 36) “ جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ”۔ بہتر ہے اپنی قیمت کے اعتبار سے اور پائیداریوں کہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ لہٰذا اس فانی دنیا کا سازو سامان بمقابلہ آخرت کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت ہی محدود اور کم قیمت ہے اور چند روزہ ہے۔ ایک فرد کے لئے صرف اسی کی زندگی میں کار آمد ہے اور پھر ہر شخص سوچ لے کہ وہ کتنی عمر لے کر آیا ہے اور کتنی رہ گئی ہے۔ اور بمقابلہ ایام اللہ یہ تو بہت کم بلکہ لمحات ہیں جس طرح چشم زدن۔ اس تمہیدی بیان اور اصل معیار نیک و بد کے بیان کے بعد اب اللہ ان مومنین کی صفات بیان فرماتا ہے جن کے لئے اللہ نے بہتر اور پائیدار انجام اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے۔ وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا (42 : 36) “ اور اللہ کے ہاں جو ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں ”۔ ایمان وہ حقیقت ہے کہ جب یہ ذہن میں بیٹھ جائے تب ہی جا کر اس کے ذریعہ انسانوں کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز کی اصل “ قدر ” معلوم کرسکیں۔ صرف ایمان کے ذریعہ ہم اس کائنات کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں کہ اس کائنات کو الٰہ العالمین نے بتایا ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہی کوئی شخص اس کائنات کے ساتھ کوئی معاملہ کرسکتا ہے۔ اس طرح انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرلیتا ہے۔ اس کے اندر پائے جانے والے قوانی قدرت کا حقیقی ادراک کرسکتا ہے اور اس طرح یہ انسان اپنی حرکت کو اس کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ پھر انسان اس کائنات کے کلی قوانین قدرت سے انحراف نہ کرے گا کیونکہ اس طرح یہ ہم آہنگی ختم ہوجائے گی اور یہ ہم آہنگی اس قدر اہم ہے کہ اس کے ساتھ انسان اس دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرسکے گا۔ اور اس عظیم وجود کے ساتھ مل کر اپنے باری تعالیٰ اور خالق کی اطاعت اور تابعداری میں زندگی بسر کرسکے گا۔ یہ صفت ہر انسان کے لئے لازمی صفت ہے کہ وہ مومن ہو ، لیکن جس جماعت نے پوری انسانیت کے اس سفر کی قیادت کرنی ہے اور جس نے پوری انسانیت کو خالق کائنات تک پہنچا نا ہے اس کے اندر اس صفت کا بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے۔ اس ایمان کے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ مومن کو نفسیاتی اطمینان اور نصب العین کا تعین حاصل ہوجاتا ہے۔ تردد ، حیرت ، خوف اور مایوسی اس کے قریب نہیں لگتی اور اس کرۂ ارض پر عام زندگی گزارنے کے لئے بھی یہ صفات اشد ضروری ہیں۔ لیکن یہ صفات اس جماعت کے لئے تو لابدی ہیں جس نے اس کٹھن راہ میں دوسرے انسانوں کی رہنمائی کرنی ہے۔ ایمان کو اہم قدروں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن خواہشات نفسانیہ ، ذاتی اغراض ، ذاتی مصلحتوں ، مفادات کے حصول سے پاک ہو۔ تب جا کر وہ کسی اونچے مقاصد کے لئے کام کرسکے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ اس کام میں اس کی ذات کی کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ یہ تو صرف دعوت الی اللہ کی ڈیوٹی ہے۔ یہ عند اللہ اجر پا چکا ہے۔ اللہ کے ساتھ سودا ہوچکا ہے اور یہ شعور اس شخص کے لئے تو بہت ہی لازمی ہے جو قائد تحریک ہو ، تا کہ وہ اس وقت مایوس نہ ہو جب ایک خود سر گروہ اس سے الگ ہوجائے یا اسے دعوت کی وجہ سے ایذا دی گئی ہو ، اور اگر تمام عوام اس کے گرویہ ہوجائیں اس کے مطیع ہوجائیں تو وہ مغرور نہ ہوجائے کیونکہ وہ تو ایک مزدور ہے ، اس نے اجرت اللہ سے پہلے ہی لے لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا پہلا گروہ ، جماعت صحابہ کے اندر اس قسم کا ایمان پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے ایمان نے ان کے نفوس ، ان کے اخلاق ، ان کے طرز عمل میں ایک عجیب انقلاب پید کردیا تھا۔ ان کے دور میں پوری انسانیت کے اندر ایمان کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ ایمان دب گیا تھا ، بلکہ ایمان کا لوگوں کے اخلاق ، ان کے طرزعمل اور ان کی نفسیات پر کوئی اثر ہی نہ رہا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے ایمان کی ایک زندہ ، موثر ، فعال صورت دی۔ اور اس نے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی جماعت پیدا کردی جنہوں نے اسلامی انقلاب کا بیڑا اٹھایا۔ ٭٭٭ سید ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب “ مسلمانوں کے زوال کے عالمی اثرات ” میں فرماتے ہیں : “ یہ ہے وہ ایمان جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں ایمان کو اس جماعت کی صفت اول بتایا گیا ہے جو پوری انسانیت کی قیادت کے لئے اٹھائی گئی ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے انسانیت کی قیادت کرتی ہے۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مومن صرف اللہ پر توکل کرے ”۔ لیکن قرآن مجید تو کل علی اللہ کو بطور ایک مستقل عنوان ذکر کرتا ہے۔ وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) “ اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ”۔ یہاں سیدھے سارے فقرے یتوکلون علی ربھم کی بجائے وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) کہا۔ یعنی بعد کے الفاظ کو مقدم یعنی جار مجرور کو مقدم کرنے سے حصر کے معنی پیدا ہوئے یعنی صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور کسی پر نہیں کرتے۔ یہ بھی عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اللہ پر بھروسہ ہو۔ مومن کا اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان ہوتا ہے۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مشیت سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ کوئی کام یہاں اللہ کے اذن کے بغیر واقع ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مومن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ کسی کام کے کرنے یا کسی کام کے نہ کرنے میں مومن صرف اللہ پر توکل کرتا ہے۔ ہر شخص کے لئے یہ شعور اس کی عملی زندگی میں لابدی ہے ۔ کیونکہ اس طرح وہ ہر کسی کے سامنے سر اٹھا کے چلے گا۔ اور اس کا سر کسی کے سامنے نہ جھکے گا۔ وہ بہت مطمئن ہوگا ، نہ کسی سے کوئی امید رکھے گا نہ اسے کسی کا خوف ہوگا اگر مشکلات آجائیں تو پرجوش اور ثابت قدم ہوگا اور اچھے دن ہوں تو سنجیدہ رہے گا۔ نہ خوشحالی اور نہ ہی بدحالی اسے اپنی جگہ سے ہلا سکے گی۔ لیکن یہ شعور اسلامی انقلاب کے قائد کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ وہ اس راہ کے نشیب و فراز میں جم جانے اور اسلامی انقلاب لانے والی جماعت کے ہر فرد میں بھی یہ صفت ضروری ہے۔ والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش (42 : 37) “ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ” ۔ قلب کی طہارت ، طرز عمل کا شفاف ہونا ، خصوصاً بڑے گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے ، اسلامی معاشرے کی اساسی خصوصیت ہے اور یہ ایمان کے نمایاں آثار میں سے ہے۔ اور کسی صحیح قائد اور خصوصاً اسلامی دعوت کے لئے اٹھنے والی جماعت کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری صفت ہے۔ کوئی دل اور شفاف نہیں رہ سکتا ، اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہو اور فحاشی کے کاموں میں حصہ دار ہو اور ان چیزوں سے اجتناب کرنے والا نہ ہو ، اور کوئی فرد اور کوئی جماعت قیادت کے قابل نہیں ، اگر اس کا دل صاف نہ ہو ، اور معصیت اور فحاشی نے اس کے ایمان کو خود ختم کردیا ہو اور اس کی شکل ہی بگڑی ہوئی ہو۔ پہلی جماعت مسلمہ کے دل میں ایمان اس قدر تیز احساس کے ساتھ ، اس درجے تک بلند ہوگیا تھا ، جس کی طرف محولہ بالا ص میں 22 میں اشارہ کیا گیا اور اس طرح اس جماعت کو اس کے ایمان نے انسانی قیادت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔ اور انہوں نے ایسی قیادت کی کہ اس کی مثال نہ سابقہ قدیم تاریخ میں ملتی ہے اور نہ نئی تاریخ میں۔ اس قیادت کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک تیز ہو اور جو ستارے کی طرف اشارہ کرتا ہو ، اس جہان میں جہاں خواہشات کی جنگ برپا ہو اور نفسا نفسی کا عالم ہو۔ اللہ اس انسانی مخلوق کی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قیادت کے لئے شرائط بھی معقول حد کے اندر رکھی ہیں۔ جن پر کوئی قیادت عمل کرسکے اور اس پر وہ اللہ کے ہاں موہود اجر پاسکے۔ اللہ نے جو معیار تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت اور اس کی لیڈر شپ کبائر گناہوں اور فواحش سے مجتنب ہو۔ رہے چھوڑے گناہوں کا ارتکاب تو وہ اللہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ انسانوں کی طاعت کی حدود وقیود سے خوب واقف ہے۔ یہ اللہ کا فضل ، اس کی مہربانی اور رحمت ہے ، جو اس نے اس انسان پر کیا۔ مناسب ہے کہ ہم اللہ سے شرم کریں کیونکہ مہربانی سے انسان کے اندر حیا کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عفو درگزر کی وجہ سے عزت و احترام پیدا ہوتا ہے۔ واذا ما غضبوا ھم یغفرون (42 : 37) “ اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں ” ۔ یہ صفت اس کے بعد متصلا آئی جب اس سے قبل اشارہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے چھوٹے گناہ معاف کر کے درگزر فرماتا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس میں مہربانی اور درگزر کا سلوک روا رکھیں۔ چناچہ مومنین کی صفات میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ جب ان کو غصہ آئے تو وہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔ اس معاملے میں بھی اسلام نفس انسانی کے ساتھ نہایت ہی احسان کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ غصہ ایک ایسا انسانی رد عمل ہے جو انسان کی فطرت سے اٹھتا ہے۔ اور یہ غصہ سرا سر شر بھی نہیں ہے۔ اللہ کے لئے ، اللہ کے دین کی خاطر ، سچائی کے لئے اور انصاف کی خاطر تو غصہ مطلوب ہے۔ اور اس میں خیر ہے۔ لہٰذا اسلام نفس غصے کو جرم قرار نہیں دیتا۔ نہ اسے غلطی قرار دیتا ہے بلکہ اسلام انسانی مزاج اور فطرت میں غصے کو قبول کرتا ہے۔ اس لیے اسلام انسان اور اس کی فطرت کے درمیان کسی دینی حکم کی وجہ سے جدائی اور تفریق نہیں کرتا۔ ہاں اسلام یہ ہدایت ضرور دیتا ہے کہ انسان کو اپنے غصے پر قابو پانا چاہئے۔ اسے چاہئے کہ حتی الوسع عفو و درگزر سے کام لے اور یہ اس کی ایمانی صفات میں سے ایک مثالی صفت ہوگی۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ آپ کبھی بھی ذاتی معاملات میں غصہ نہیں ہوئے۔ آپ کا غصہ اللہ کے لئے ہوتا تھا اور پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی طاقت ٹھہر نہ سکتی تھی۔ خیر یہ تو مقام محمدی ﷺ کے درجات و کمالات ہیں۔ عام مسلمانوں کو اللہ ان کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے ۔ اگرچہ وہ اس میں ان کو آزماتا ہے اور صرف یہ حکم دیتا ہے کہ اگر غصہ آجائے تو معاف کردیں ، اور اگر ممکن ہو سکے تو معاف کردیں اور انتقام کے جذبات پر قابو پالیں بشرطیکہ معاملہ ذاتی حدود کے اندر ہو۔ اور دو افراد کے درمیان ہو۔ والذین استجابوا لربھم (42 : 38) “ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ”۔ وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں اور نفس انسانی سے وہ باتیں محو کرتے ہیں جو توجہ الی اللہ سے مانع ہوں ، یہ رکاوٹیں نفسانی خواہشات ، جذبات و میلانات اور وہ رکاوٹیں جو انسان کے وجود اور اس کی ذات سے لگی ہوئی ہیں ، جب انسان ذاتی خواہشات پر قابو پالے اور شخصی رکاوٹوں کو دور کرے تو پھر اس کے اور اس کے رب کے درمیان راستہ صاف ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ رب کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے سامنے ذاتی خواہشات کی کوئی رکاوٹ ، رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی یہ عمومی صفت ہے لیکن احکام الٰہی میں سے بعض کا یہاں خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ واقاموا الصلوٰۃ (42 : 38) “ نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اسلام میں نماز کو ایک بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ کلمہ طیبہ کے اقرار کے بعد پہلا حکم نماز کا آتا ہے۔ گویا نماز اللہ کے احکام کی پیروی کا آغاز ہوتا ہے۔ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا نام نماز ہے۔ پھر یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام میں محمود وایاز ایک ہی صفت میں کھڑے ہوں گے۔ کسی کا سر دوسرے کے مقابلے میں بلند نہ ہوگا ، کوئی کسی سے آگے نہ ہوگا۔ اور یہی پہلو ہے یعنی مساوات کا پہلو کہ نماز کے بعد بالعموم زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے لیکن یہاں زکوٰۃ سے پہلے وامرھم شوری (42 : 38) کا ذکر کیا تا کہ معلوم ہو کہ رائے ہر شخص کی برابر شمار ہوگی۔ وامرھم شوریٰ بینھم (42 : 38) “ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ان کے تمام امور مشورے کے نتیجے میں ہوتے ہیں گویا ان کی پوری زندگی مشورے کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ ایک مکی آیت ہے اور یہ حکم اسلامی حکومت کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ رنگ گویا صرف حکومتی امور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسلامی سوسائٹی کا عمومی طرز عمل ہے۔ اگرچہ حکومت اس وقت قائم ہی نہ ہوئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی تنظیم دراصل اسلامی سوسائٹی کے خدو خال کا ایک منظم ظہور ہی ہے اور اسلامی سوسائٹی میں اسلامی حکومت بھی آتی ہے۔ لہٰذا اسلامی سوسائٹی ، اسلامی حکومت کو بھی اسی نہج پر چلاتی ہے۔ جس طرح اس کے عمومی امور چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں آغاز ہی سے مشورے کا عمل جاری تھا۔ اور اس مشورے کا دائرہ حکومت اور حکومتی احکام سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ یہ دراصل اسلامی سوسائٹی کی صفت ہے اور اس جماعت کی تو ممتاز صفات میں سے ہے جسے اللہ نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے برپا کیا ہے۔ اور قیادت کے لئے تو یہ بہت ہی اہم ہے۔ شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہونی چاہئے تو اسلام نے اس کے لئے کوئی فولادی قالب نہیں تیار کیا۔ ہر زمان و مکان کے حالات میں اس کی مختلف شکل و صورت تیار ہو سکتی ہے تا کہ یہ صفت یعنی شو رائیت اسلامی سوسائٹی میں بھی رائج ہو۔ اسلامی اداروں میں بھی مروج ہو ، لیکن اس کی کوئی جامد شکل نہ ہو بلکہ شوریٰ کی روح ہر جگہ موجود ہو۔ یعنی یہ شورائیت دراصل الفاظ اور اشکال کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک صفت ہے جو ایمان کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی میں شورائی شعور اور طرز عمل پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگ ایسے اسلامی اداروں کی بات کرتے ہیں جن کی تہہ میں ایمان نہ ہو یا ایمان کا ہونا ضروری نہ ہو تو وہ ایک فضول کام کر رہے ہیں۔ اور یہ کوئی سطحی بات نہیں ہے جس طرح پہلی نظر میں نظر آئے گی اور خصوصاً ان لوگوں کو نظر آئے گی جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات میں ایمان کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اسلامی نظریہ حیات اداروں اور تنظیمات میں منتقل ہونے سے قبل ، اس کے اندر ایسی عقلی اور نفسیاتی حقیقتیں ہوتی ہیں جو انسانی سوچ اور انسان کی ذات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد اسلام کے اجتماعی اداروں میں وہ اصول بن کر ایک متبعین شکل اختیار کر کے سامنے آتی ہیں اور اس کے بعد پھر نصوص آتے ہیں اور وہ ان اشکال اور حالات کی طرف اشارہ کردیتے ہیں ۔ نصوص ان اصولوں کو منظم کردیتے ہیں ، ان کی تخلیق نہیں کرتے ، ان کی تخلیق تو ایمان کی وجہ سے ہوچکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلامی نظریہ حیات کی کسی شکل و صورت کے ظہور کے لئے کسی ملک میں اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کا وجود ضروری ہے۔ اور ان مسلمانوں کا ایمان فعال اور بااثر ہو۔ اگر مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہو تو محض اداروں کے قیام سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ محض ادارے ضروریات پوری نہ کرسکیں گے اور اس صورت میں کوئی ایسا نظام وجود میں نہ آسکے گا جسے اسلامی کہا جاسکے۔ جب مسلمان صحیح معنوں میں پائے جائیں گے اور ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے وجود میں آجائے گا تو اسلامی نظام بذات خود وجود میں آجائے گا اور اس کی ایک اداراتی شکل خودبخود وجود میں آجائے گی جو ان مسلمانوں کی ضرورت ہوگی اور ان کی سوسائٹی کی ضرورت ہوگی اور صرف اس طرح اسلامی اصولوں کے خواب کی سچی تعبیر وجود میں آسکے گی۔ ومما رزقنھم ینفقون (42 : 38) “ اور ہم نے ان کو جو رزق دیا اس سے خرچ کرتے ہیں ” یہ آیت بھی حکم فرضیت زکوٰۃ سے پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ زکوٰۃ دو ہجری میں فرض ہوئی لیکن انفاق فی سبیل اللہ عام حکم اسلامی جماعت کے لئے پہلے سے تھا۔ بلکہ اسلامی سوسائٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ حکم وجود میں آگیا تھا۔ دعوت اسلامی کے عمل کے لئے مال کی ضرورت ہے اور یہ مال بذریعہ انفاق حاصل ہوگا۔ انفاق کے ذریعہ انسانوں کے دل کنجوسی کی بری خصلت سے پاک ہوتے ہیں جب انسانی جذبہ مال پر قابو پا لیتا ہے اور اپنی مملوکات کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہے ، ایمان کے مفہوم کے نکھار کے لئے یہ سب امور ضروری ہیں۔ اور یہ بات تو اپنی جگہ ہے کہ انفاق کے بغیر کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دعوت تو ایک جدو جہد ہے اور جدو جہد میں کارکنوں کی کفالت ضروری ہے تا کہ اجماعی ضروریات پوری ہوں اور نتائج برآمد ہوں۔ بعض اوقات یہ تکافل ہمہ گیر ہوجاتا ہے کہ کیس کے لئے انفرادی دولت رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ جب مہاجرین مکہ سے نکلے اور مدینہ میں انصار کے ساتھ مل کر جو نظام قائم ہوا یہ سب اسی اصول کے تحت تھا لیکن جب حالات معمول پر آگئے تو پھر زکوٰۃ کو رائج کر کے موافات کے نظام کو منسوخ کردیا گیا جو کلی تکافل تھا۔ بہرحال انفاق فی سبیل اللہ اس جماعت کی ممتاز خصوصیت ہے جسے اس مقصد کے لئے چنا گیا ہو یا اسے اس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہو کہ وہ کسی خطے میں اسلامی انقلاب برپا کرے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ مکی سورتوں میں اس صفت کا ذکر اپنے اندر خاص معنی رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت مسلمہ کے اندر یہ طبیعی صفت ہوتی ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا مقابلہ کرنا ایک اہم فریضہ ہے کیونکہ اگر کوئی ظالم کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو ظالم اور جری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ظالم کا مقابلہ کرنا بہت ضروی ہے۔ اور ایک ایسی ملت جسے اٹھایا ہی اس لیے گیا ہو کہ لوگوں کے حقوق کی پاسبانی کرے ، امر بالمعروف اس کا مشن ہو اور “ نہی عن المنکر اس کا فریضہ ہو ، اس کے لئے تو برائی کا مقابلہ کرنا بہت ہی اہم ہے کیونکہ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی پر چھا جانے اور اس کے اندر سچائی کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرے۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین “ اور عزت اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہے ”۔ لہٰذا اسلامی جماعت کا مزاج ، اس کے فرائض کی نوعیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرے اور اس پر جو دست درازیاں کی جا رہی ہیں ان کی مدافعت کرے۔ مکہ میں حکم یہ تھا کہ رک جاؤ اور ہاتھ روک لو اور صبر کرو۔ نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو ، وہاں یہ احکام مکہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے تھے اور ابتدائے عرب مسلمانوں کی قدرے تربیت بھی مطلوب تھی کیونکہ عرب مزاجاً منتقم المزاج تھے ، یہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کے لئے مستقل احکام نہ تھے۔ مکہ میں بعض خصوصی اسباب کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہر قیمت پر بقائے باہمی کے لئے امن اور سلامتی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ 1۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف سختی اور زیادتی کسی منظم حکومت ادارے کی طرف سے نہ تھی جو اس وقت کی جماعت پر حکمران ہو ، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سیاسی صورت حال غیر منظم قبائل انداز کی تھی۔ وہاں مسلمانوں پر جو تشدد کیا جاتا ہے تھا ، اگر کوئی مسلمان کسی قبیلے کا فرد تھا تو اس پر یہ تشدد قبیلہ کرتا تھا اور قبیلے میں بھی اس کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کوئی جرات نہ کرسکتا تھا۔ مسلمانوں پر بحیثیت جماعت کوئی تشدد نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات آقا اپنے مسلمان غلاموں پر تشدد کرتے تھے اور مسلمان انہیں خرید کر آزاد کردیتے تھے۔ اس لیے کوئی بھی اپنے غلاموں پر زیادہ تشدد کی جرات نہ کرتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نہ چاہتے تھے کہ مکہ میں گھر گھر کے اندر لڑائی شروع ہوجائے۔ ایک ہی گھر کے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں وہ غیر مسلموں سے لڑنا شروع کردیں۔ پھر مکہ میں نرمی دوسرے لوگوں کے دلوں کو زیادہ نرم کردیتی تھی بسنبت سختی کے۔ پھر عرب معاشرہ ایک خوددار اور جوانمرد معاشرہ تھا۔ اس میں مظلوم کی تمایت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ مسلمان جب اذیت برداشت کرتے تھے اور اپنے عقیدے پر جم جاتے تھے تو عربوں کی جوانمردی کے جذبات ان کے حق میں اٹھتے تھے۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران بالعموم اسی جذبے نے مسلمانوں کی مدد کی ، جس میں بنی ہاشم سب محصور کر دئیے گئے تھے۔ اس محاصرے کے خلاف لوگوں کی ہمدردیاں ، مسلمانوں کے حق میں ہوگئیں اور لوگوں نے اس معاہدے کے پرزے پرزے کر دئیے جو صحیفے میں تھا اور یوں یہ ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا۔ پھر عربوں کے اندر یہ رواج تھا کہ وہ بات بات پر تلوار سونت لیتے تھے۔ وہ بڑے جذباتی تھے اور کسی نظم و نسق کے پابند نہ تھے ۔ اسلامی جماعت میں جو تنظیم مطلوب تھی اس کا تقاضا تھا کہ اس جذباتیت کو ذرا دبایا جائے اور اسے کسی ہدف کا پابند کیا جائے۔ اور لوگوں کو اعصابی ضبط اور صبر کا عادی بنایا جائے۔ اور لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ نظریہ اور نصب العین ہر جذبے اور ہر مفاد پر مقدم ہیں۔ لہٰذا مکہ میں صبر اور مسلسل صبر کی تلقین کرنا اسلام کے منہاج تربیت کے لیے بہت ضروری تھا۔ اس طرح ایک مسلم کی شخصیت میں مطلویہ توازن پیدا ہوگیا اور وہ صبر وثبات کے ساتھ اپنے مقصد کے لئے آگے بڑھتے رہے۔۔۔۔ غرض یہ اور اس طرح کے دوسرے اسباب تھے جن کو اللہ اور رسول جانتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں ، صبر کی تلقین ہوتی رہی لیکن اصلی ہدف تحریک اسلامی کا یہی تھا۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ وہ لوگ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ مقابلہ کرتے ہیں ”۔ اس اصول کو زندگی کا ایک دوسرا اصول عملاً رائج کرتا ہے ، وہ ہے : وجذء سیئۃ سیئۃ مثلھا (42 : 40) “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔ سزا کا یہ اصول ہے کہ جیسا جرم ہو ، ویسی ہی سزا دی جائے تا کہ سرکشی اختیار نہ کرے۔ اگر کسی سرکش انسان کو کوئی روکنے والا نہ ہو تو وہ سر کشی اور ظلم میں بڑے اطمینان سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ تو ہے مظلوم کا حق اور اصول عامہ۔ لیکن اگر کوئی اپنے اصلاح نفس یا جزائے خیر اور اخروی اجر کے لئے کسی کو معاف کرتا ہے یا جماعت مسلمہ کے خلاف اٹھنے والے جذبات کی وجہ سے معاف کرتا ہے تو اس قاعدے میں استثناء موجود ہے۔ لیکن معافی کو اس وقت معانی تصور کیا جائے گا جب کوئی شخص برائی کا جواب برائی کے ساتھ دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ اس وقت عفو کا وزن بھی ہوگا اور دست درازی کرنے والے کی اصلاح بھی ہوگی کیونکہ دست درازی کرنے والا جب یہ سوچے گا کہ عفو اور در گزر محض احسان کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس میں معاف کرنے والے کی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ شرمندگی محسوس کرے گا ، نادم ہوگا اور آئندہ حیا کرے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ میرے مخالف نے میرے ساتھ شریفانہ سلوک کیا ہے۔ وہ اونچا آدمی ہے اور جو شخص انتقام لینے پر قادر ہو اور معاف کر دے تو اس کا دل بھی صاف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات میں عفو و درگزر دونوں کے لئے مفید ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص انتقام لینے سے عاجز ہو اور معاف کردے تو پھر صورت یہ ہوگی ، گداگر تواضع کند خوئے اوست۔ لہٰذا ایسے عفو کو عفو کہنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ وہاں عفو نہیں ہے ، مجبوری ہے۔ اور یہ صورت حال ایک شر انگیز صورت حال ہے ۔ اس کے نتیجے میں ظلم کرنے والا اور جری ہوتا ہے۔ اور فساد اور پھیلتا ہے ، یہ آیت مفہوم ۔ فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (42 : 40) “ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ پر ہے ”۔ انہ لا یحب الظلمین (42 : 40) “ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ”۔ یہ پہلے قاعدے کی تاکید ہے کہ “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یا تو معاف کر دو یا اگر بدلہ لینا ہے تو برابر بدلہ لو اس میں حدت نہ بڑھو۔۔۔۔ ایک دوسری تاکید اسی قاعدے گی : ولمن انتصر بعد ۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 42) انما السبیل علی الذین ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (42 : 42) “ اور جو لوگ ظلم کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ”۔ لہٰذا جو شخص ظلم کے بعد مدافعت کرتا ہے اور برائی کا بدلہ اس کے مساوی لینا ہے ، تعدی نہیں کرتا تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ تو اپنا قانون حق استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کسی کے پاس کوئی حجت نہیں ہے۔ نہ کسی کے لئے جائز ہے کہ اس کی راہ روکے۔ راہ تو ان لوگوں کی روکنی چاہئے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، اور زمین میں بغیر استحقاق کے زیادتیاں کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی ایسے ملک کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب اس میں ایک ظالم لوگوں پر ظلم کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ اس میں باغی ہو جو لوگوں پر مظالم ڈھا رہا ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس کا ہاتھ روکے یا اس سے قصاص دلواسکے۔ اللہ تعالیٰ بہرحال اس قسم کے ظالموں کو عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگوں کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ پکڑیں۔ آخر میں پھر انفرادی حالات اور طاقت انتقام کے باوجود ، تو ازن ، اعتدال ، ضبط نفس ، صبر اور احسان کا رویہ اپنانے پر متوجہ کیا جاتا ہے۔ جب صبر اور احسان فی الواقعہ ایک درگزر ہو ، ذلت نہ ہو ، کوئی احسان ہو ، مجبور نہ کردیا گیا ہو۔ ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور (42 : 43) “ البتہ جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے ”۔ اس پیراگراف کی تمام ہدایات و احکام نہایت ہی اعتدال اور میانہ روی پر مبنی ہیں۔ نفس انسانی کو ایک طرف کینہ اور غصے سے بچانے کی سعی کی گئی ہے ، اور دوسری جانب کمزوری ، ذلت اور ظلم و زیادتی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ہر حال میں اللہ کی رضا مندی کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ صبر بہرحال زاد راہ ہے۔ اور مومنین کی جو صفات یہاں دی گئی ہیں وہ اس انقلابی جماعت کی خصوصیات ہیں ، جس نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی ہے ، اور جس کے پیش نظر انعام اخروی اور رضائے الٰہی ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں اور رب پر توکل کریں۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ صفات مومنین یہ ہیں اور ان کے لئے جو اخروی اجر ہے ، وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اب بطور تقابل تصویر کا دوسرا رخ بعض ظالموں کا انجام بھی یہاں دے دیا جاتا ہے۔ اور ان کے لئے ذلت اور خسران کا اعلان کیا گیا ہے۔