Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الحجرات 49:1 – الذاريات 51:60

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الحجرات 49:1
  2. الحجرات 49:2
  3. الحجرات 49:3
  4. الحجرات 49:4
  5. الحجرات 49:5
  6. الحجرات 49:6
  7. الحجرات 49:7
  8. الحجرات 49:8
  9. الحجرات 49:9
  10. الحجرات 49:10
  11. الحجرات 49:11
  12. الحجرات 49:12
  13. الحجرات 49:13
  14. الحجرات 49:14
  15. الحجرات 49:15
  16. الحجرات 49:16
  17. الحجرات 49:17
  18. الحجرات 49:18
  19. ق 50:1
  20. ق 50:2
  21. ق 50:3
  22. ق 50:4
  23. ق 50:5
  24. ق 50:6
  25. ق 50:7
  26. ق 50:8
  27. ق 50:9
  28. ق 50:10
  29. ق 50:11
  30. ق 50:12
  31. ق 50:13
  32. ق 50:14
  33. ق 50:15
  34. ق 50:16
  35. ق 50:17
  36. ق 50:18
  37. ق 50:19
  38. ق 50:20
  39. ق 50:21
  40. ق 50:22
  41. ق 50:23
  42. ق 50:24
  43. ق 50:25
  44. ق 50:26
  45. ق 50:27
  46. ق 50:28
  47. ق 50:29
  48. ق 50:30
  49. ق 50:31
  50. ق 50:32
  51. ق 50:33
  52. ق 50:34
  53. ق 50:35
  54. ق 50:36
  55. ق 50:37
  56. ق 50:38
  57. ق 50:39
  58. ق 50:40
  59. ق 50:41
  60. ق 50:42
  61. ق 50:43
  62. ق 50:44
  63. ق 50:45
  64. الذاريات 51:1
  65. الذاريات 51:2
  66. الذاريات 51:3
  67. الذاريات 51:4
  68. الذاريات 51:5
  69. الذاريات 51:6
  70. الذاريات 51:7
  71. الذاريات 51:8
  72. الذاريات 51:9
  73. الذاريات 51:10
  74. الذاريات 51:11
  75. الذاريات 51:12
  76. الذاريات 51:13
  77. الذاريات 51:14
  78. الذاريات 51:15
  79. الذاريات 51:16
  80. الذاريات 51:17
  81. الذاريات 51:18
  82. الذاريات 51:19
  83. الذاريات 51:20
  84. الذاريات 51:21
  85. الذاريات 51:22
  86. الذاريات 51:23
  87. الذاريات 51:24
  88. الذاريات 51:25
  89. الذاريات 51:26
  90. الذاريات 51:27
  91. الذاريات 51:28
  92. الذاريات 51:29
  93. الذاريات 51:30
  94. الذاريات 51:31
  95. الذاريات 51:32
  96. الذاريات 51:33
  97. الذاريات 51:34
  98. الذاريات 51:35
  99. الذاريات 51:36
  100. الذاريات 51:37
  101. الذاريات 51:38
  102. الذاريات 51:39
  103. الذاريات 51:40
  104. الذاريات 51:41
  105. الذاريات 51:42
  106. الذاريات 51:43
  107. الذاريات 51:44
  108. الذاريات 51:45
  109. الذاريات 51:46
  110. الذاريات 51:47
  111. الذاريات 51:48
  112. الذاريات 51:49
  113. الذاريات 51:50
  114. الذاريات 51:51
  115. الذاريات 51:52
  116. الذاريات 51:53
  117. الذاريات 51:54
  118. الذاريات 51:55
  119. الذاريات 51:56
  120. الذاريات 51:57
  121. الذاريات 51:58
  122. الذاريات 51:59
  123. الذاريات 51:60

الحجرات 49:1

سورت کا آغاز ہی نہایت ہی محبوب آواز سے ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا (49 : 1) ” اے ایمان والو “ یہ اللہ کی طرف سے پکار ہے ، ان لوگوں کو جو اللہ پر ایمان بالغیب لانے والے ہیں اور یہ پکار کر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا فرماتا ہے ، کیونکہ اللہ سے مومنین کا تعلق ، تعلق ایمان ہے۔ اہل ایمان کے اندر یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں اور اس چھوٹے سے سیارے پر یہ لوگ اللہ کے بندے ، اللہ کے کارکن اور اس کی فوج ہیں اور ان کو اللہ نے یہاں کسی مقصد کے لئے بھیجا ہے اور اسی لیے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کردی ہے اور ایمان کو ان کے لئے محبوب بنا دیا ہے اور اس فوج میں اللہ نے ان کو بھرتی کر کے ان پر احسان کیا ہے ۔ لہٰذا ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ اس موقف پر کھڑے رہیں جہاں اللہ نے ان کے کھڑے کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ کے سامنے وہ یوں کھڑے ہوں جس طرح عدالت میں ایک شخص فیصلے کے انتظار میں کھڑا ہوتا ہے یا ایک ماتحت فوجی اپنے افسر سے ہدایات کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ وہی کرتا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور اس کام کے لئے تیار ہوتا ہے جس کا اسے حکم دیا جاتا ہے۔ پوری طرح سر تسلیم خم کرتے ہوئے۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ ان اللہ سمیع علیم (49 : 1) ” اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو ، اور اللہ سے ڈرو ، اور وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے “۔ اے ایمان والو ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی مرضی کی تجاویز نہ پیش کرو ، نہ اپنے نفوس کے بارے میں نہ اپنے ماحول کی زندگی کے بارے میں اور اللہ اور رسول ﷺ کا فیصلہ کرنے سے قبل کسی معاملہ پر اپنا فیصلہ خود صادر نہ کرو ، اور کسی معاملے میں اللہ اور رسول ﷺ کا فیصلہ ہو تو اس میں اپنے فیصلے صادر نہ کرو۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اپنی ان خواہشات اور تجاویز کا اظہار کرتے تھے کہ کیا ہی اچھا ہو کہ فلاں فلاں معاملے میں احکام آجائیں۔ اگر اس طرح ہوجائے تو بہت بہتر ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی ان تجاویز کو ناپسند فرمایا۔ عوفی کہتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے باتیں کرنے سے روک دیا گیا۔ مجاہد کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے خواہ مخواہ فتویٰ نہ مانگا کرو ، خود اللہ جو چاہے نازل فرمادے۔ ضحاک کہتے ہیں ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ اور اصول دین اور قوانین شریعت کو چھوڑ کر اپنے فیصلے نہ کرو ، اور علی بن طلحہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف نہ کہو۔ یہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں فکری اور نظریاتی آداب ہیں۔ اللہ سے ہدایات اخذ کرنے اور نافذ کرنے کے یہ آداب ہیں کہ جو حکم آئے اس کی تعمیل کرو اور باقی کے بارے میں خاموش رہو۔ یہی اصول دین اور شریعت کا بہترین رویہ ہے ۔ یہ خدا خوفی اور اس کی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ اللہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہ سب باتیں اس مختصر سی آیت میں بتا دی گئی ہیں۔ یوں مسلمانوں کا اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعلق تھا۔ کوئی شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی تجویز نہ دیتا تھا۔ کوئی رسول اللہ ﷺ کے سامنے کسی رائے کا اظہار نہ کرتا تھا۔ جب تک آپ ﷺ رائے طلب نہ فرمائے۔ کوئی بھی کسی معاملے یا حکم میں فیصلہ کا اس وقت تک نہ کرتا تھا جب تک وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی طرف رجوع نہ لیتا ۔ امام احمد ، ابو داؤد ، اور ترمذی نیز ابن ماجہ نے نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ جب حضرت معاذ ابن جبل کو یمن کا گورنر بنا کر بھیج رہے تھے تو ان سے پوچھا کہ تم فیصلہ کس طرح کرو گے انہوں نے عرض کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ تو فرمایا کہ اگر اللہ کی کتاب میں حکم نہ ہو تو عرض کیا کہ سنت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ، آپ ﷺ نے فرمایا اگر سنت میں بھی کوئی ہدایت نہ پاؤ تو انہوں نے کہا کہ اپنے رائے کے مطابق اجتہادی فیصلہ کروں گا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے ان کے سینے پر ضرب لگائی اور فرمایا خدا کا شکر ہے کہ اللہ نے رسول خدا کے نمائندے کو وہ توفیق دی جو رسول اللہ ﷺ کی خواش تھی۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ ان سے پوچھ رہے تھے کہ آج کون سا دن ہے جس میں تم ہو۔ اور وہ جگہ کون سی جہاں تم ہو ۔ وہ سب جانتے تھے لیکن وہ سب جانتے تھے لیکن وہ سب جواب دیتے ہیں کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ جانتے ہیں اور یہ وہ اس لیے کہتے تھے کہ کہیں ان کا قول اللہ اور رسول ﷺ سے پیش قدمی نہ ہوجائے۔ ابوبکرہ نقیع ابن الحارث ؓ کی حدیث میں آتا ہے کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر حضور اکرم ﷺ نے پوچھا یہ کو مہینہ ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور رسول اللہ زیادہ جانتے ہیں۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے اور ہم نے یہ خیال کیا شاید مہینے کا نام بدل گیا ہے اور حضور ﷺ کوئی دوسرا نام لیں گے تو حضور ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ہم نے کہا ہاں ، رسول خدا ﷺ یہ ذوالحجہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور رسول خدا ﷺ زیادہ جانتے ہیں تو حضور ﷺ خاموش ہوگئے اور ہمارا خیال ہوا کہ شاید حضور بلد حرام کا نام بدل گے۔ آپ نے فرمایا کیا یہ بلد حرام نہیں ہے ؟ تو ہم نے کہا کہ ہاں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کون سا دن ہے ؟ تو ہم نے کہا اللہ اور رسول اللہ ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہوگئے اور ہم نے کہا کہ شاید حضور ﷺ اس کا نام بدل دیں گے آپ نے فرمایا کیا یہ یوم الخر نہیں ہے ؟ ہم نے کہا ہاں۔۔۔ یہ تھی صورت حال جناب بنوی ﷺ میں صحابہ کرام ؓ کے ادب اور احترام کی۔ نہایت احتیاط ، تقویٰ ، خشیت ۔ یہ آیات نازل ہونے کے بعد ان کے اندر یہ ادب اور احترام پیدا ہوا تھا ۔ کیونکہ ان آیات میں کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ سمیع وعلیم ہے۔ دوسرا ادب و احترام یہ تھا کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو میں آداب نبوت کو ملحوظ رکھو۔ نہایت احترام سے اور دلی احترام سے بات کرو۔ تمہاری حرکات اور تمہاری آواز سے احترام ظاہر ہو۔ آپ کی شخصیت اور آپ کی مجلس اور گفتگو نہایت ہی ممتاز ہو۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی پسندیدہ انداز میں ان کو ڈراتا ہے۔

الحجرات 49:2

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (49 : 2) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آوازنبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ” ایمان لانے والوں سے خطاب کر کے اس بات کا اظہار کردیا کہ تمہارا وقار ایمان سے ہے اور ایمان تمہیں حضرت محمد ﷺ نے سکھایا ہے۔ نبی کی بارگاہ میں ذرا بھی بےاحتیاطی سے اعمال غارت ہوجائیں گے اور تمہارے اعمال اسی طرح اسی طرح بےاثر ہوجائیں جس طرح ہٹا کٹا جانور زہریلی گھاس سے آنافانا ختم ہوجاتا ہے تمہیں پتہ بھی ہوگا اور اعمال ضائع ہوچکے ہوں گے ۔ صحابہ کرام ؓ کے دلوں کے اندر اس محبوب اور پیاری آواز نے وہ اثر کرلیا تھا جس کی مثال نہیں ملتی۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں : بشر ابن صفوان سے ، انہوں نے نافع ابن عمر سے انہوں نے ، ابن ابو ملیکہ سے وہ کہتے ہیں کہ قریب تھا کہ صحابہ میں سے دو برتر مقام کے لوگ ابوبکر اور عمر ہلاک ہوجائیں ۔ انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے باہم تکرار کی جب بنو تمیم کا وفد آیا تھا ۔ یہ نویں ہجری کی بات ہے ایک نے کہا کہ اقرع ابن حابس کو امیر بنائیں یہ اشجع کے موالی میں سے تھا ، دوسرے صاحب نے ایک دوسرے شخص کے بارے میں کہا ، مجھے نام یاد نہیں ہے (دوسری روایت میں ، قعقاع ابن معبد آیا ہے) حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا ، تم تو میرے خلاف ہی کرتے ہو ۔ حضرت عمر ؓ نے کہا میرا ارادہ آپ کی مخالفت کا نہ تھا۔ اس معاملے میں ان کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ یایھا الذین امنوا لاترفعوا ۔۔۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (49 : 2) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ” ۔ ابن الزبیر ؓ کہتے کہ اس کے بعد حضرت عمر ؓ سے اس قدر آہستہ بات کرتے کہ آپ کو پوری طرح نہ سناتے اور حضور ﷺ ان سے دوبارہ پوچھتے۔ اور حضرت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے رسول خدا میں آپ سے صرف کانا پھوسی میں بات کروں گا ۔ امام احمد روایت کرتے ہیں سلیمان ابن مغیرہ سے انہوں نے ثا بت سے انہوں نے حضرت انس ابن مالک سے وہ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی۔ یایھا الذین امنوا لاترفعوا ۔۔۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (49 : 2) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ” ۔ تو ثابت ابن قیس بن الشماس نہایت اونچی آواز والے تھے وہ کہنے لگے “ میں ہی تھا جو رسول اللہ ﷺ پر اپنی آواز بلند کرتا تھا۔ میں ہی جہنمی ہوں اور میرے ہی اعمال گئے ” وہ گھر میں نہایت ہی مغموم ہو کر بیٹھ گئے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے محسوس کیا یہ شخص نہیں آرہے ہیں۔ بعض لوگ ان کے پاس ہوگئے کہ آپ کی غیر حاضری کو رسول اللہ ﷺ نے محسوس کیا ہے۔ آپ کو کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی آواز سے تو میری آواز بلند ہوتی ہے اور میں ہی اونچی آواز سے باتیں کیا کرتا تھا۔ میرے تو اعمال ہی ضائع ہوگئے۔ لازماً میں جہنمی ہوں یہ لوگ حضور ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ کو اطلاع دی کہ وہ تو یہ کہتے ہیں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا نہیں “ وہ تو اہل جنت میں سے ہیں ”۔ حضرت انس فرماتے ہیں وہ ہم میں پھرتے اور ہم یہ سمجھتے کہ یہ جا رہا ہے جنتی ! غرض “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ” کے محبت آمیز انداز گفتگو کے ساتھ مومنین کو جو کال دی گئی اس سے وہ کانپ اٹھے اور آئندہ کے لئے جناب رسالت میں نہایت خاموشی سے سہم کر بیٹھتے کہ کہیں ان کے اعمال ضائع نہ ہوجائیں۔ اور ان کو اس کا شعور ہی نہ ہو کیونکہ شعوری طور پر تو وہ بہت محتاط تھے لیکن ان کو زیادہ ڈر اس بات کا تھا کہ غیر شعوری حالت میں ان کا نقصان نہ ہوجائے اس لیے وہ بہت ڈر گئے تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی خدا خوفی اور رسول اللہ ﷺ کے ہاں ان کے ان آداب کا اظہار نہایت ہی عجیب پیرائے میں کیا ہے۔

الحجرات 49:3

ان الذین یغضون اصواتھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واجر عظیم (49 : 3) “ جو لوگ رسول خدا کے ہاں بات کرتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے ۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے ”۔ تقویٰ اور خدا خوفی اللہ کی ایک عظیم بخشش ہے۔ اللہ ہی اس اعزاز اور نعمت کے لئے دلوں کا انتخاب کرتا ہے ۔ اس امتحان اور اختیار اور خلوص اور طہارت قلبی کے بعد پھر ان دلوں کو تقویٰ دیا جاتا ہے ، لہٰذا یہ نعمت انہی دلوں کو دی جاتی ہے جو اس کے لئے تیار ہوں اور یہ ثابت ہوجائے کہ یہ دل تقویٰ کے مستحق ہیں اور جو لوگ اپنی آوازیں رسول اللہ ﷺ کے ہاں نیچی رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو تقویٰ کے لئے منتخب کیا گیا اور اس انعام کے ساتھ یعنی تقویٰ عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو مغفرت بھی دی جاتی ہے۔ انتہائی ڈراوے کے بعد یہ ایک گہری ترغیب ہے ۔ اس طرح اللہ اپنے مختار بندوں کے دلوں کو تربیت فرماتا ہے اور ان کو اس عظیم کام کے لئے تیار کرتا ہے اور اسی انداز تربیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے آغاز میں جماعت صحابہ کو تیار فرمایا تھا۔ یہ لوگ ہدایت پر تھے اور روشنی کے حامل تھے ۔ امیر المومنین عمر ابن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے مسجد نبوی ﷺ میں دو آدمیوں کی آواز سنی ، ان کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ وہ آئے اور انہوں نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کہاں ہو ؟ اس کے بعد ان سے کہا تم کہاں سے آئے ہو ، انہوں نے کہا ہم اہل طائف سے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا اگر تم اہل مدینہ سے ہوتے تو میں تمہاری خوب خبر لیتا۔ علمائے امت نے اس بات کو سمجھا اور فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی قبر مبارک کے پاس بلند آواز سے بات کرنا منع ہے جبکہ آپ کی زندگی میں مسجد نبوی میں اونچی آواز سے بات کرنا ممنوع تھی۔ ہر حال میں ممنوع تھا بوجہ احترام ۔ اس کے بعد ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا جو 9 ہجری کو پیش آیا۔ فتح مکہ کے بعد ہر طرف سے وفود آ رہے تھے۔ بنی تمیم کا ایک وفد نبی ﷺ سے ملنے آیا۔ یہ لوگ خالص خشک دیہاتی تھے ۔ انہوں نے نبی ﷺ کے حجرات کے سامنے جن میں ازواج مطہرات بھی تھیں ، کھڑے ہو کر پکارا ، محمد ؐ، ذرا باہر آئیے۔ نبی ﷺ نے ان کے اس طریقے کو ناپسند فرمایا کیونکہ یہ طریقہ نہایت اجڈ اور پریشان کن تھا۔

الحجرات 49:4

ان الذین ینادونک ۔۔۔۔۔۔۔ لا یعقلون (49 : 4) ولو انھم ۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم (49 : 5) “ اے نبی ؐ جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لئے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے اکثر عقلمند نہیں ہیں ۔ اور ان کی اس حرکت کو ان کے لئے مکروہ کردیا کیونکہ وہ اسلامی آداب کے خلاف تھی اور نبی ﷺ کی ذات اور آپ کے مقام کے ساتھ جس قدر احترام کا تعلق ہونا چاہئے تھا ، یہ اس کے خلاف تھا ۔ آپ مسلمانوں کے قائد اور مربی تھے اور خدا کے نبی تھے۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ ان کے لئے مناسب تھا کہ صبر کرتے اور انتظار کرتے تا آنکہ حضور ﷺ اپنے معمول کے مطابق باہر نکل آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو توبہ و استغفار کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کی ترغیب دی ۔ مسلمانوں نے ان آداب کو خوب سمجھا۔ انہوں نے رسول اللہ کی شخصیت سے آگے بڑھ کر ہر استاد اور ہر عالم دین کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا۔ ایسی شخصیات کو انہوں نے گھروں کے اندر پریشان نہ کیا۔ اور ان کے نکلنے کا انتظار کیا۔ کبھی اساتذہ کے گھروں کے اندر گھسنے کی کوشش نہ کی۔ ایک اور مشہور راوی اور عالم ابو عبید کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے کسی عالم کا دروازہ کبھی نہیں کھٹکھٹایا ۔ ہمیشہ انتظار کیا کہ وہ نکل آئیں۔

الحجرات 49:5

ان الذین ینادونک ۔۔۔۔۔۔۔ لا یعقلون (49 : 4) ولو انھم ۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم (49 : 5) “ اے نبی ؐ جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لئے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے اکثر عقلمند نہیں ہیں ۔ اور ان کی اس حرکت کو ان کے لئے مکروہ کردیا کیونکہ وہ اسلامی آداب کے خلاف تھی اور نبی ﷺ کی ذات اور آپ کے مقام کے ساتھ جس قدر احترام کا تعلق ہونا چاہئے تھا ، یہ اس کے خلاف تھا ۔ آپ مسلمانوں کے قائد اور مربی تھے اور خدا کے نبی تھے۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ ان کے لئے مناسب تھا کہ صبر کرتے اور انتظار کرتے تا آنکہ حضور ﷺ اپنے معمول کے مطابق باہر نکل آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو توبہ و استغفار کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کی ترغیب دی ۔ مسلمانوں نے ان آداب کو خوب سمجھا۔ انہوں نے رسول اللہ کی شخصیت سے آگے بڑھ کر ہر استاد اور ہر عالم دین کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا۔ ایسی شخصیات کو انہوں نے گھروں کے اندر پریشان نہ کیا۔ اور ان کے نکلنے کا انتظار کیا۔ کبھی اساتذہ کے گھروں کے اندر گھسنے کی کوشش نہ کی۔ ایک اور مشہور راوی اور عالم ابو عبید کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے کسی عالم کا دروازہ کبھی نہیں کھٹکھٹایا ۔ ہمیشہ انتظار کیا کہ وہ نکل آئیں۔

الحجرات 49:6

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ فعلتم ندمین (49 : 6) “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پشیمان ہو ”۔ اہل ایمان کو پہلی پکار یہ تھی کہ تم نے رہنمائی کہاں سے لینی ہے اور تمہاری قیادت کہاں ہے ۔ دوسری پکار۔ یایھا الذین امنوا کے ساتھ یہ تھی کہ اس قیادت کے حقوق اور ملنے کے آداب یہ ہیں۔ یہ دونوں باتیں تو اس سورت کی بیشتر ہدایات اور آداب اور قوانین کی بنیاد تھیں۔ کیونکہ مسلمانوں کو یہ بتانا بھی ضروری تھا کہ ہدایت و ارشاد کا سر چشمہ کہاں ہے۔ اور یہ بھی بتانا ضروری تھا کہ مرشد اور قائد کا احترام اور مقام کیا ہے تا کہ قائد کا بھی احترام ہو اور جو ہدایات وہ دیتا ہے ان کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے۔ یہ تیسری پکار اور ہدایت اس لیے ہے کہ اس جدید سوسائٹی میں خبروں کے سلسلے میں پالیسی کیا ہوگی اور خبر سن کر ایک عام آدمی کا رد عمل کیا ہونا چاہئے ؟ تو یہ کہا گیا کہ یہ خبر بھی قائد کے پاس جانی چاہئے اور ہر خبر کی تفتیش اور تحقیق ہونی چاہئے۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ فعلتم ندمین (49 : 6) “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پشیمان ہو ”۔ یہاں فاسق کی تخصیص اس لیے کی گئی ہے کہ فاسق پر بدگمانی کی جاسکتی ہے اور یہ تخصیص اس لیے کردی گئی کہ لوگ اسلامی جماعت میں قابل اعتماد لوگوں کے تصرفات و اقداما ات پر بھی شک نہ کریں۔ اور معلومات کے سلسلے میں اعتبار کے بجائے شک ایک اصول نہ بن جائے کیونکہ ایک اسلامی جماعت میں اصول تو یہی ہوگا کہ اس کے ارکان کی خبروں پر اعتبار کیا جائے گا اور ان پر عمل ہوگا۔ رہا وہ شخص جو فاسق ہے تو اس کی خبروں کی تصدیق ضروری ہوگی کیونکہ اس پر شبہ کیا جاسکتا ہے یوں ایک اسلامی جماعت میں خبروں کے اعتبار اور عدم اعتبار لینے یا نہ لینے کے بارے میں ایک معتدل قاعدہ بن جائے گا۔ کسی فاسق کی خبر پر فوراً عمل نہ ہوگا۔ یہ نہ ہو کہ کسی پر کوئی زیادتی ہوجائے ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ جلد بازی کی وجہ سے ہوجائے گی۔ اور بعد میں اسلامی سوسائٹی کو نادم ہونا پڑے۔ ایسا کام کرلیا جائے جس سے اللہ ناراض ہو ، کیونکہ یہ ایک ایسے فعل کا مصدر ہوجائے گا جو حق اور عدل کے پیمانوں پر پورا نہ اترتا ہو۔ ابن کثیر نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ولید ابن عقیل ابن ابو معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ ان کو رسول اللہ ﷺ نے بنی المصطلق کے پاس زکوٰۃ کی وصول کے لئے بھیجا ۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ مجاہد اور قتادہ نے یوں کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولید ابن عقبہ کو بنی المصطلق کی طرف بھیجا کہ ان کو صدقہ دیں۔ انہوں نے اسے قبول کیا۔ وہ واپس آئے اور کہا کہ بنی المصلطق جمع ہو رہے ہیں کہ آپ ﷺ سے جنگ کریں اور بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ اسلام سے بھی مرتد ہوگئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے خالد ابن ولید ؓ کو بھیجا اور حکم دیا کہ معاملے کی تحقیق کریں اور جلد بازی نہ کریں۔ وہ گئے اور ان کی آبادی کے قریب رات کو پہنچے ۔ انہوں نے اپنے جاسوس بھیجے جب وہ واپس آئے تو انہوں نے اطلاع دے دی کہ یہ لوگ تو پختہ مسلمان ہیں اور انہوں نے اذان دی اور نماز پڑھی۔ صبح کے وقت ان کے پاس حضرت خالد بن ولید ؓ آئے تو انہوں نے وہ بات دیکھی جس پر انہیں تعجب ہوا۔ حضرت خالد واپس ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ قتادہ کہتے ہیں حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں “ تحقیق اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے ”۔ نیز دوسرے سلف صالحین نے بھی یہ لکھا ہے ، مثلاً ابن ابو لیلیٰ ، یزید ابن روحان ، ضحاک ، مقاتل ابن حیان وغیرہ نے کہ یہ آیت ولید ان عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ، واللہ اعلم ! (اختتام اقتباس از ابن کثیر) لیکن آیت کا مفہوم عام ہے۔ اصول یہ ہے کہ فاسق آدمی کی بات کی تحقیق و تفتیش کی جائے گی۔ رہے صالح لوگ تو ان کی باتوں پر عمل ہوگا کیونکہ ایک مومن جماعت کے اندر یہ اصول ہے کہ ہر شخص کی بات پر اعتبار ہوگا ماسوائے فاسق کے۔ اور صالح آدمی کی بات پر اعتبار ہی تفتیش و تحقیق کا ذریعہ ہے ۔ رہی یہ بات کہ ہر معاملے میں شک کیا جائے اور ہر خبر کو چھوٹا تصور کیا جائے الا یہ کہ وہ ثابت ہوجائے تو یہ اسلامی سوسائٹی کا اصول نہیں ہے ورنہ کسی بھی سوسائٹی میں کوئی اجتماعی کام چل ہی نہ سکے گا ۔ رہے صالح لوگ تو ان کی باتوں پر عمل ہوگا کیونکہ ایک مومن جماعت کے اندر یہ اصول ہے کہ ہر شخص کی بات پر اعتبار ہوگا ماسوائے فاسق کے۔ اور صالح آدمی کی بات پر اعتبار ہی تفتیش و تحقیق کا ذریعہ ہے۔ رہی یہ بات کہ ہر معاملے میں شک کیا جائے اور ہر خبر کو چھوٹا تصور کیا جائے الا یہ کہ وہ ثابت ہوجائے تو یہ اسلامی سوسائٹی کا اصول نہیں ہے ورنہ کسی بھی سوسائٹی میں کوئی اجتماعی کام چل ہی نہ سکے گا۔ اسلام زندگی کو معمول کے مطابق چلنے دیتا ہے۔ وہ احتیاطی تدابیر بیشک اختیار کرتا ہے مگر اس لیے کہ زندگی کا معمول چلتا رہے۔ اس لیے نہیں کہ زندگی معطل ہو کر رہ جائے۔ یہ ہے نمونہ اسلامی اصول کا کہ خبروں کے اخذ ورد میں اس کا اصول کیا ہے ۔ یہ ممکن ہے کہ ولید ابن عقبہ نے ابتداء میں جو اطلاعات فراہم کیں ، ان کے نتیجے میں بعض لوگوں نے بنی المصلطق کو سخت سزا دینے کی تجویز کی ہوگی ۔ یہ اس لیے کہ اس وقت دین اسلام کے لئے بےحد جوش اور جذبہ جاتا ہے اور اس لیے بھی کہ زکوٰۃ کا انکار کردینا بہت بڑا جرم تھا۔ چناچہ اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تمہارے اندر رسول اللہ ﷺ ابھی موجود ہیں اور رسول اللہ کی موجودگی کو ذرا سمجھنے کی کوشش کرو کیونکہ آپ ﷺ کا تو خدا سے رابطہ قائم ہے ۔

الحجرات 49:7

واعلموا ان فیکم رسول اللہ (49 : 7) “ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ”۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضور ﷺ اس وقت موجود تھے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ ایک عظیم حقیقت ہے ۔ کیا کوئی یہ بات تصور کرسکتا ہے کہ آسمان کا زمین کے ساتھ دائمی رابطہ ہوجائے اور یہ رابطہ ہر وقت بحال رہے اور لوگوں کو نظر آئے۔ اور ہم یہ کہیں کہ ارادۂ الٰہی اہل زمین کے لئے متوجہ ہے ۔ لوگوں کو ان کے حالات بتائے جارہے ہیں۔ ان کی خفیہ باتیں ان کو بتائی جارہی ہیں۔ ان کی ظاہری باتوں سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے اور ان کی غلطیوں کو فوراً درست کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنے دل کی بات چھپاتا ہو لیکن آسمان سے اطلاع آجاتی ہے کہ یہ سوچا جارہا ہے۔ اللہ رسول اللہ ﷺ کو فوراً بتا دیتا ہے اور ہدایت کردیتا ہے کہ یہ ہدایات میرے بندوں کو دے دو ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے ۔ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے اور یہ ایک عظیم حقیقت ہے۔ بعض اوقات ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ کو اپنے درمیان چلتا پھرتا پاکر ، بعض لوگ اس طرف متوجہ نہ ہوں ۔ اس لیے ان کو متوجہ کیا جا رہا ہے ۔ واعلموا ان فیکم رسول اللہ (49 : 7) “ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان رسول اللہ موجود ہیں ”۔ اس کو جانو ، اور اس کی قدر کرو ، یہ تو ایک عظیم معاملہ ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی موجودگی کو جانو ، اس کے تقاضے یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے کوئی فیصلہ آنے سے پہلے ہی فیصلے نہ کرتے پھرو۔ کیونکہ رسول اللہ کے فیصلے وحی والہام پر مبنی ہیں۔ اور اللہ کی ہدایات پر رسول اللہ ﷺ جو فیصلے فرماتے ہیں انہی میں خیروبرکت ہے۔ اور اگر رسول اللہ ﷺ تمہاری ہی باتوں کے پیچھے چلیں تو تم اپنی نادانی سے اپنے آپ کو مشکلات میں مبتلا کردوگے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے اللہ کے الہام پر مبنی ہیں۔ اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ بندوں کی بہتری اس میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی تو بڑی رحمت ہے۔ آپ ﷺ کی تدبیر اللہ کی تدبیر ہے اور آپ ﷺ کا کہا ، اللہ کا کہا ہے۔ اس کے بعد ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم کو ایمان کی جو نعمت دی گئی ہے ، اس کی قدر کرو ، یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنایا ، تمہارے دلوں میں ایمان کو خوبصورت بنا دیا ، تم نے اسے قیمتی جانا ، تمہارے دل اس سے لگ گئے ، اور کفر کو تمہارے دلوں کے لئے مکروہ بنا دیا۔ فسق و معصیت کو تم ناپسند کرنے لگے۔ یہ اللہ کی بڑی ہی رحمت اور کرم تھا۔ ولکن اللہ حبب الیکم ۔۔۔۔۔ ھم الرشدون (49 : 7) فضلاً من اللہ ۔۔۔۔ علیم حکیم (49 : 8) “ مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے لیے دل پسند بنا دیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا ۔ ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راست رد ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے ”۔ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کے دلوں کو ایمان کے لئے کھول دینا ، ان کے دلوں کو ایمان کے ساتھ متحرک کردینا ، ان کے دلوں کے لئے ایمان کو حسین بنا دینا کہ وہ اس کی طرف لپکیں ، اور ایمان کے کمالات و جمالات دیکھ سکیں ، یہ دراصل ان بندوں پر بہت ہی بڑا فضل و کرم ہے اور بہت ہی بڑی نعمت ہے ۔ اس کے مقابلے میں ہر نعمت ہیچ ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی زندگی اور اس کا وجود بھی ہیچ ہے۔ انسان کا وجود اور اس کی پوری زندگی بھی ایمان کے مقابلے میں کم قیمت اور ادنیٰ ہے۔ عنقریب یہ آیت آنے والی ہے۔ بل اللہ یمن علیکم ان ھدکم للایمان (49 : 17) “ بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ تمہیں اس نے ایمان کی طرف ہدایت کی ”۔ مفصل بات وہاں آئے گی ، انشاء اللہ ! جو بات یہاں فکر و نظر کے لئے دامن کش ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو یاد دلایا رہا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے اس بھلائی کا ارادہ کیا۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے دلوں سے یہ شر نکالا ۔ یعنی کفر ، فسق اور معصیت کا شر۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے تمہیں راہ راست پر لگایا ہے۔ اور یہ سب کام اللہ نے اپنے علم و حکمت کی بنا پر کیا اور یہ اطمینان دلایا کہ اس کے نتیجے میں تمہارے لیے خیر اور برکت ہوگی۔ اس لیے تم جلد بازی نہ کرو ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے تجاویز نہ رکھو اور حکم سے پہلے جوش و خروش نہ دکھاؤ کیونکہ اللہ ہی تمہارے لیے بہتر فیصلے کرتا ہے۔ اور ابھی تک تو رسول تمہارے اندر موجود ہیں۔ لہٰذا اپنے معاملات ان کی موجودگی میں اپنے ہاتھ میں نہ لو۔ یہی مقصد ہے اس تبصرے سے جو اس حکم پر کیا گیا کہ تم اپنے لیے مشکلات پیدا کرلو گے۔ انسان بہت ہی جلد بازی کرتا ہے۔ اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے اقدامات سے آگے کیا ہے۔ انسان اپنے نفس اور دوسروں کی بھلائی کے لئے تجاویز مرتب کرتا رہتا ہے لیکن اس کا علم اس قدر محدود ہے کہ وہ یہ نہیں جانتا کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔ ویدع الانسان بالشر دعاء ہ بالخیر وکاین الانسان عجولا “ اور انسان شر کی دعا اس طرح کرتا ہے جس طرح کہ خیر کہ دعا کی جاتی ہے اور انسان بہت بڑا جلد باز ہے ”۔ اگر انسان اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور اسلام میں پورا پورا داخل ہوجائے ، اللہ کی پسند کو اپنی پسند بنا لے اور اس بات پر مطمئن ہوجائے کہ اس کے لئے اللہ جس چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کی اپنی پسند سے افضل ہے۔ وہ اس کے لئے زیادہ مفید اور خیر و برکت لانے و الی ہے ، تو انسان راحت اور سکون محسوس کرے۔ اور اس زمین پر اس کی یہ مختصر زندگی نہایت ہی اطمینان اور خوشی سے گزرے لیکن یہ اللہ کا ایک عظیم احسان ہوتا ہے ۔ اور وہ جس پر چاہتا ہے یہ احسان کرتا ہے۔

الحجرات 49:8

واعلموا ان فیکم رسول اللہ (49 : 7) “ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ”۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضور ﷺ اس وقت موجود تھے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ ایک عظیم حقیقت ہے ۔ کیا کوئی یہ بات تصور کرسکتا ہے کہ آسمان کا زمین کے ساتھ دائمی رابطہ ہوجائے اور یہ رابطہ ہر وقت بحال رہے اور لوگوں کو نظر آئے۔ اور ہم یہ کہیں کہ ارادۂ الٰہی اہل زمین کے لئے متوجہ ہے ۔ لوگوں کو ان کے حالات بتائے جارہے ہیں۔ ان کی خفیہ باتیں ان کو بتائی جارہی ہیں۔ ان کی ظاہری باتوں سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے اور ان کی غلطیوں کو فوراً درست کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنے دل کی بات چھپاتا ہو لیکن آسمان سے اطلاع آجاتی ہے کہ یہ سوچا جارہا ہے۔ اللہ رسول اللہ ﷺ کو فوراً بتا دیتا ہے اور ہدایت کردیتا ہے کہ یہ ہدایات میرے بندوں کو دے دو ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے ۔ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے اور یہ ایک عظیم حقیقت ہے۔ بعض اوقات ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ کو اپنے درمیان چلتا پھرتا پاکر ، بعض لوگ اس طرف متوجہ نہ ہوں ۔ اس لیے ان کو متوجہ کیا جا رہا ہے ۔ واعلموا ان فیکم رسول اللہ (49 : 7) “ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان رسول اللہ موجود ہیں ”۔ اس کو جانو ، اور اس کی قدر کرو ، یہ تو ایک عظیم معاملہ ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی موجودگی کو جانو ، اس کے تقاضے یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے کوئی فیصلہ آنے سے پہلے ہی فیصلے نہ کرتے پھرو۔ کیونکہ رسول اللہ کے فیصلے وحی والہام پر مبنی ہیں۔ اور اللہ کی ہدایات پر رسول اللہ ﷺ جو فیصلے فرماتے ہیں انہی میں خیروبرکت ہے۔ اور اگر رسول اللہ ﷺ تمہاری ہی باتوں کے پیچھے چلیں تو تم اپنی نادانی سے اپنے آپ کو مشکلات میں مبتلا کردوگے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے اللہ کے الہام پر مبنی ہیں۔ اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ بندوں کی بہتری اس میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی تو بڑی رحمت ہے۔ آپ ﷺ کی تدبیر اللہ کی تدبیر ہے اور آپ ﷺ کا کہا ، اللہ کا کہا ہے۔ اس کے بعد ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم کو ایمان کی جو نعمت دی گئی ہے ، اس کی قدر کرو ، یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنایا ، تمہارے دلوں میں ایمان کو خوبصورت بنا دیا ، تم نے اسے قیمتی جانا ، تمہارے دل اس سے لگ گئے ، اور کفر کو تمہارے دلوں کے لئے مکروہ بنا دیا۔ فسق و معصیت کو تم ناپسند کرنے لگے۔ یہ اللہ کی بڑی ہی رحمت اور کرم تھا۔ ولکن اللہ حبب الیکم ۔۔۔۔۔ ھم الرشدون (49 : 7) فضلاً من اللہ ۔۔۔۔ علیم حکیم (49 : 8) “ مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے لیے دل پسند بنا دیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا ۔ ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راست رد ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے ”۔ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کے دلوں کو ایمان کے لئے کھول دینا ، ان کے دلوں کو ایمان کے ساتھ متحرک کردینا ، ان کے دلوں کے لئے ایمان کو حسین بنا دینا کہ وہ اس کی طرف لپکیں ، اور ایمان کے کمالات و جمالات دیکھ سکیں ، یہ دراصل ان بندوں پر بہت ہی بڑا فضل و کرم ہے اور بہت ہی بڑی نعمت ہے ۔ اس کے مقابلے میں ہر نعمت ہیچ ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی زندگی اور اس کا وجود بھی ہیچ ہے۔ انسان کا وجود اور اس کی پوری زندگی بھی ایمان کے مقابلے میں کم قیمت اور ادنیٰ ہے۔ عنقریب یہ آیت آنے والی ہے۔ بل اللہ یمن علیکم ان ھدکم للایمان (49 : 17) “ بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ تمہیں اس نے ایمان کی طرف ہدایت کی ”۔ مفصل بات وہاں آئے گی ، انشاء اللہ ! جو بات یہاں فکر و نظر کے لئے دامن کش ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو یاد دلایا رہا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے اس بھلائی کا ارادہ کیا۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے دلوں سے یہ شر نکالا ۔ یعنی کفر ، فسق اور معصیت کا شر۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے تمہیں راہ راست پر لگایا ہے۔ اور یہ سب کام اللہ نے اپنے علم و حکمت کی بنا پر کیا اور یہ اطمینان دلایا کہ اس کے نتیجے میں تمہارے لیے خیر اور برکت ہوگی۔ اس لیے تم جلد بازی نہ کرو ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے تجاویز نہ رکھو اور حکم سے پہلے جوش و خروش نہ دکھاؤ کیونکہ اللہ ہی تمہارے لیے بہتر فیصلے کرتا ہے۔ اور ابھی تک تو رسول تمہارے اندر موجود ہیں۔ لہٰذا اپنے معاملات ان کی موجودگی میں اپنے ہاتھ میں نہ لو۔ یہی مقصد ہے اس تبصرے سے جو اس حکم پر کیا گیا کہ تم اپنے لیے مشکلات پیدا کرلو گے۔ انسان بہت ہی جلد بازی کرتا ہے۔ اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے اقدامات سے آگے کیا ہے۔ انسان اپنے نفس اور دوسروں کی بھلائی کے لئے تجاویز مرتب کرتا رہتا ہے لیکن اس کا علم اس قدر محدود ہے کہ وہ یہ نہیں جانتا کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔ ویدع الانسان بالشر دعاء ہ بالخیر وکاین الانسان عجولا “ اور انسان شر کی دعا اس طرح کرتا ہے جس طرح کہ خیر کہ دعا کی جاتی ہے اور انسان بہت بڑا جلد باز ہے ”۔ اگر انسان اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور اسلام میں پورا پورا داخل ہوجائے ، اللہ کی پسند کو اپنی پسند بنا لے اور اس بات پر مطمئن ہوجائے کہ اس کے لئے اللہ جس چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کی اپنی پسند سے افضل ہے۔ وہ اس کے لئے زیادہ مفید اور خیر و برکت لانے و الی ہے ، تو انسان راحت اور سکون محسوس کرے۔ اور اس زمین پر اس کی یہ مختصر زندگی نہایت ہی اطمینان اور خوشی سے گزرے لیکن یہ اللہ کا ایک عظیم احسان ہوتا ہے ۔ اور وہ جس پر چاہتا ہے یہ احسان کرتا ہے۔

الحجرات 49:9

وان طائفتین من المؤمنین ۔۔۔۔۔ یحب المقسطین (9) انما المؤمنون اخوۃ ۔۔۔۔۔ لعلکم ترحمون (10) (49 : 9 تا 10) “ اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑجائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو ، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ”۔ یہ ایک عملی قانون ہے اور یہ خود اسلامی معاشرے کو جھگڑوں ، خصوصیات اور خانہ جنگی سے بچانے کے لئے بنایا گیا ہے۔ یہ نہ ہو کہ لوگ ذاتی مفادات اور محض جذبات کے تحت لڑائیاں شروع کردیں۔ اور یہ قانون اس مناسبت سے بنایا گیا ہے کہ اس سے قبل ایک فاسق کی خبر کے نتیجے میں خود ومومنین میں سے ایک گروہ کے خلاف جنگ کے مواقع پیدا کیے گئے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ تنازعات سے قبل بھی تفتیش کی جائے کہ غلط خبروں پر تنازعہ نہ شروع ہو اور اگر ہوجائے تو پھر یہ قانون ہے۔ بعض روایات میں اس آیت کے نزول کا سبب بھی متعین حادثہ بتایا جاتا ہے یا یہ کہ بغیر کسی مخصوص واقعہ کے اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات کے لئے قانون بنا دیا ہو۔ بہرحال اسلامی سوسائٹی کو بچانے کے لئے یہ نہایت ہی مضبوط قانون ہے۔ اس کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی اور اسلامی حکومت انتشار اور فرقہ بندی اور خانہ جنگی سے محفوظ رہتی ہے اور اجتماع تصادم کے وقت عدل و انصاف کے قیام کی راہ تجویز کی گئی ہے کہ اصلاح اور انصاف کے ذریعہ اس قسم کے مسائل کو حل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اور اس میں بھی خدا خوفی ، اللہ کی رحمت کی طلب کو اصل مقصد بنایا گیا ہے۔ ہر آیت کسی مخصوص واقعہ کے سبب نازل ہوئی ہے۔ یا محض فرضی حالت کے لئے یہ قانون بنایا گیا ہو ، بہرحال دونوں فریقوں کے برسر پیکار ہونے کے باوجود دونوں کو مومن کہا گیا ہے اور اس میں احتمال کے باوجود یہ کہا گیا ہے کہ ان میں سے ایک دورے پر دست درازی کرنے والا ہو۔ بلکہ اس احتمال کے باوجود کہ بعض اوقات دونوں دست درازی کرنے والے ہوں۔ اس صورت میں جو لوگ غیر جانبدار ہوں ان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ دونوں کے درمیان اصلاح کریں۔ اگر اصلاح کے بعد بھی زیادتی کرنے والا گروہ باز نہ آئے اور حق بات یا حق کے فیصلے کے آگے نہ جھکے یا دونوں کی زیادتی کا تعین ہونے کے باوجود دونوں حکم تسلیم نہ کریں یا صلح کو رد کریں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ باغی اور نافرمان گروہ کے خلاف یا دونوں کے خلاف لڑیں اور ان کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھیں جب تک کہ دونوں اللہ کے حکم سے سامنے سر تسلیم خم نہیں کردیتے۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اہل ایمان کے درمیان کسی صورت میں بھی جھگڑا نہ ہو۔ اور جن باتوں میں ان کا اختلاف ہو اور جن کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی ہو ان میں وہ اللہ کے احکام کے سامنے جھکیں۔ اگر باغی اللہ کے حکم کو قبول کریں ، اور مومنین دونوں کے درمیان مصالحت کرا لیں اور یہ عدل اور انصاف پر مبنی ہو اور اللہ کی اطاعت کی طلب ، رضا کے حصول کے لئے ہو تو : ان اللہ یحب المقسطین (49 : 9) “ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ” ۔ اور اس قانون کے بعد یہ نصیحت و تبصرہ کہ سب مومن بھائی ہیں کہ اہل ایمان کے درمیان اخوت اور رابطہ قائم ہونا چاہئے ۔ یہ اسلامی اخوت ہی ہے جس نے تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا کیا ہے اور صدیوں کی لڑائیوں کے بعد تمہیں باہم الفت بخشی ہے۔ اس لیے اللہ سے ڈرو۔ اس وجہ سے تم رحمت خداوندی کے سزاوار ہو سکتے ہو۔

الحجرات 49:10

انما المؤمنون اخوۃ ۔۔۔۔۔۔ لعلکم ترحمون (49 : 10) “ مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو ، اور اللہ سے ڈرو امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ”۔ اس اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ جماعت مسلمہ کے درمیان محبت ، سلامتی ، تعاون اور اتحاد اصل الاصول ہو اور خلاف و اختلاف اور جنگ وجدال شاذو نادر ہی ہوں اور اس اصول کے قیام کے لئے دوسرے مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر زیادتی کرنے والے مومنین کے خلاف لڑیں یہاں تک کہ وہ انصاف کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ یہ اسلامی سوسائٹی کا اصل الاصول ہے۔ یہ ایک نہایت ہی اہم اقدام ہے اور فیصلہ کن انداز میں ہے۔ اس اصول کا تقاضا یہ ہے کہ جب مسلمان باغیوں کے خلاف جنگ کریں گے تو کسی زخمی کو قتل نہ کریں گے ، کسی قیدی کو قتل نہ کریں گے۔ اور معرکہ ترک کئے جانے اور اسلحہ پھینک دینے کے بعد کسی کو سزا نہ دی جائے گی۔ اور باغیوں کے اموال غنیمت میں نہ لئے جائیں گے۔ کیونکہ باغی فریق کے خلاف جنگ کا مقصد یہ ہے کہ انہیں انصاف کے اصولوں پر کئے جانے والے فیصلوں کا پابند کرنا اور اخوت اسلامی کا قیام بحال کرنا ہے۔ اسلامی دستور کا اصل الاصول تو یہ ہے کہ تمام اسلامی علاقوں میں ایک ہی امامت یا خلاف ہو ، اور اگر کسی ایک امام کی بیعت ہوجائے تو دوسرے کو قتل کرنا لازمی ہے۔ اور دوسرے امام اور اس کے ساتھیوں کو باغی تصور کیا جانا چاہئے۔ اور تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ پہلے امام کی طرف سے لڑیں گے۔ اس اصول پر حضرت علی ؓ نے واقعہ جمل میں اور واقعہ صفین میں باغیوں کے ساتھ جنگ کی اور آپ کے ساتھ صحابہ میں سے جلیل القدر صحابیوں نے حصہ لیا۔ بعض صحابہ کرام ؓ نے اس معرکہ میں شرکت نہ کی۔ مثلاً سعد ، محمد ابن سلمہ ، اسامہ ابن زید اور ابن عمر ؓ یا تو اس لئے کہ ان کے ذہنوں میں حق واضح نہ تھا۔ یعنی اس واقعہ میں خود ان کا اپنا ذہن صاف نہ تھا کہ حق کدھر ہے ۔ اس لیے انہوں نے اسے فتنہ سمجھا یا اس لیے جس طرح امام جصاص فرماتے ہیں “ یا اس لیے کہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ امام کے ساتھ جو فوج ہے ، وہ کافی ہے۔ اس کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے جائز سمجھا کہ وہ بیٹھ جائیں ”۔ پہلا احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ، اور اس پر ان کے وہ اقوال بھی دلالت کرتے ہیں ، جو ان سے مروی ہیں ، جیسا کہ بعد میں حضرت ابن عمر ؓ کی ایک روایت بتاتی ہے کہ وہ سخت نادم تھے کہ انہوں نے امام کے ساتھ مل کر جنگ نہ کی۔ اس اصول کے اپنی جگہ ہوتے ہوئے بھی ہر قسم کے حالات میں اس قرآنی قاعدے پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایسے استثنائی حالات جن میں عالم اسلام کے مختلف دور دراز علاقوں میں مختلف امامتیں قائم ہوں۔ ایسے حالات استثنائی ہوتے ہیں اور اسلام کے قانون ضرورت کے تحت متعدد امامتیں تصور ہوتی ہیں تو مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر ایک امام کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑیں اگر یہ باغی امام کے خلاف بغاوت کریں یا اگر کوئی ایک گروہ دوسرے گروہ کے ساتھ ایک حکومت کے اندر لڑے اور حکومت کو دونوں تسلیم کرتے ہوں۔ اسی طرح مسلمانوں کا یہ بھی فرض ہے کہ اگر باغیوں نے اپنی امامت قائم کرلی ہو جبکہ متعدد امامتیں برائے ضرورت موجود ہوں تو وہ امام کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑیں۔ اور اس باغی گروہ کے خلاف سب اکٹھے ہوجائیں۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کے سامنے جھک جائے۔ اس طرح یہ آیت ہر قسم کے حالات میں اپنا فیصلہ دیتی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ یہ نظام جو یہاں تجویز کیا گیا ہے تحکیم اور ثالثی کا نظام ہے بھی بنائے ہیں ان سب میں کئی قسم کے عیب اور غلطیاں ہیں۔ اسلام نے جو نظام تجویز کیا ہے ، وہ پاکیزہ ، منصفانہ اور نہایت اصولی ہے کیونکہ اس نظام کے تحت فیصلے اللہ کے قانون کے مطابق کئے جاتے ہیں۔ اس میں کسی کی غرض یا کوئی ذاتی خواہش کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نہ اس میں کوئی نقص اور قصور ہے۔ لیکن بدبخت انسانیت اب بھی ٹھوکریں کھاتی ، گرتی پڑتی غلط راہوں پر جارہی ہے حالانکہ اس کے سامنے شاہراہ موجود ہے۔

الحجرات 49:11

قرآن کریم اسلامی نظام حیات کے ذریعہ جو فاضلانہ سوسائٹی قائم کرنا چاہتا ہے اس کے اندر بہت ہی بلند معیار کے آداب و اخلاق ہوتے ہیں۔ اس میں ہر فرد کو عزت نفس حاصل ہوتی ہے اور کوئی فرد کسی فرد کی ہتک عزت نہیں کرسکتا ۔ فرد کی یہ عزت سوسائٹی کی عزت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ ایک فرد کی ہتک عزت پوری انسانی سوسائٹی کی ہتک عزت ہے۔ اس لئے کہ انسانی جماعت نفس واحد ہے اور اس کی عزت ایک ہی عزت ہے۔ ایک انسان کی تذلیل پوری انسانیت کی تذلیل ہے۔ اس آیت میں قرآن کریم ، انہی میٹھے بولوں سے ، مسلمانوں کو پکارتا ہے۔ “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ”۔ پھر ان کو اس بات سے منع کرتا ہے کہ کوئی گروہ دوسرے گروہ سے مزاح کرے۔ نہ مرد دوسرے مردوں سے مزاح کریں۔ ہو سکتا ہے جن سے مزاح کیا جاتا ہے وہ دوسروں سے اچھے ہوں۔ نہ عورتیں اور دوسری عورتوں سے مزاح کریں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جن سے مزاح کیا جا رہا ہے ، اللہ کے پیمانوں میں وہ مزاح کرنے والیوں سے بہتر ہوں۔ اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ دنیا کی ظاہری قدریں اور بھلائیاں اور برتریاں جو بعض مرد یا بعض عورتیں اپنے اندر رکھتے ہیں۔ یہ دراصل حقیقی برتریاں نہیں ہیں جن کے ساتھ اللہ کے ہاں لوگوں کو تولا جاتا ہے۔ اللہ کے ہاں کچھ اور قدریں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ مزاح کرنے والوں کی نظروں سے وہ اوجھل ہوں ، صرف اللہ انہیں جانتا ہو اور ان کے ساتھ اللہ ان بندوں کا وزن مقرر کرتا ہو۔ بعض اوقات امراء فقراء سے مزاح کرتے ہیں ، ایک قوی ضعیف سے ، ایک مضبوط نوجوان ایک ضعیف سے ، ایک ذہین ایک غبی سے ، ایک صاحب اولاد بےاولاد سے ، ایک مضبوط یتیم سے ، ایک خوبصورت عورت بدصورت سے ، ایک جوان عورت بوڑھی سے ، ایک معتدل عورت بگڑی ہوئی شکل والی سے ، ایک خوبصورت عورت بد صورت سے ، ایک جوان عورت بوڑھی سے ، ایک معتدل اور عورت بگڑی ہوئی شکل والی سے ، ایک امیر عورت غریب سے ، لیکن یہ چیزیں تو اس عارضی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ اللہ کے ترازو میں یہ چیزیں بالکل بےوزن ہیں۔ لیکن قرآن کریم صرف ان ہدایات و اشارات پر ہی اکتفاء نہیں کرتا۔ بلکہ ایمانی اخوت کے جذبہ کو بھی ابھارتا ہے کہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں وہ ایک ہی جسم و جان ہیں ، ان میں سے کوئی دوسرے پر طعن کرتا ہے تو وہ خود اپنے اوپر طعن کرتا ہے۔ ولا تلمزوا انفسکم (49 : 11) “ اور اپنے ہی نفوس پر طعن نہ کرو ”۔ لمزعیب جوئی کو کہتے ہیں لیکن لمز کے تلفظ میں ایک ترنم اور ایک رنگ ہے۔ یہ معنوی عیب جوئی نہیں بلکہ جسمانی ما رہے اور آنکھوں سے بھی اشارہ ہے۔ لوگوں کو ایسے ناموں سے پکارنا جن کو وہ پسند نہیں کرتے اور ان ناموں کے ساتھ پکارے جانے کو مزاح سمجھتے ہیں۔ اس سے بھی اسلام منع کرتا ہے۔ مومن کا مومن پر یہ حق ہے کہ وہ اسے اس نام سے نہ پکارے جسے وہ پسند نہ کرے یا اسے ہتک سمجھے۔ مومنین کے آداب میں یہ شامل ہے کہ وہ دوسرے مومنین کو ایسے ناموں سے نہ پکاریں ۔ نبی ﷺ نے جاہلیت کے زمانے کے کئی نام اور لقب بدل دئیے تھے۔ حضور ﷺ نے اپنے تیز احساس سے اور اپنے مہربان دل سے محسوس کیا کہ یہ لوگ ان ناموں کو پسند نہیں کرتے ، جن کے معنی خراب تھے یا جن سے مذمت نکلتی تھی۔ اس آیت نے پہلے تو یہ اشارہ کیا کہ اللہ کے ترازو میں حقیقی وزن کن باتوں کا ہے۔ اس کے بعد اسلامی اخوت کے شعور کو اجاگر کیا بلکہ اسلامی وحدت کے شعور کو جوش دلایا۔ اس کے بعد اب ایمانی شعور کو ابھارا گیا اور مومنین کو ڈرایا گیا کہ تم سے کہیں ایمان شعور گم نہ ہوجائے۔ مزاح ، طعن وتشنیع اور برے ناموں سے ایک دوسرے کو پکارنے سے تم فاسق نہ بن جاؤ۔ بئس الاسم الفسوق بعد الایمان (49 : 11) “ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے ”۔ ان آداب کو ملحوظ نہ رکھنا ایک قسم کا ارتداد ہے اور یہ ظلم ہے اور ظلم شرک ایک ہی چیزہوتے ہیں۔ ومن لم یتب فاولئک ھم الظلمون (49 : 11) “ اور جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں ”۔ یہ ہیں اسلام کے فاضلانہ معاشرے کے آداب و اخلاق اور اس کے خدو خال۔

الحجرات 49:12

یایھا الذین امنوا اجتنبوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان اللہ تواب رحیم (49 : 12) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس نہ کرو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا ؟ دیکھو ، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ بڑا توبہ کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ یہ آیت اس فاضلانہ معاشرہ کی حفاظت کے لئے ایک دوسری باڑ ہے۔ جس میں ایک فرد کی آزادی اور اس کی عزت محفوظ ہوتی ہے ، اسی طرح ان کو یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے شعور اور اپنے ضمیر کا اظہار کس طرح کریں گے۔ اور دوسروں کے بارے ان کی سوچ آئندہ کیا ہوگی۔ یہ نہایت ہی موثر انداز میں بیان ہوا ہے۔ اس کا آغاز بھی اس پیاری آواز سے ہوتا ہے “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ”۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ دوسروں کے بارے میں بہت زیادہ گمان اور برے گمان کرنے سے باز رہو۔ کسی کے بارے میں اپنے فیصلے شکوک و شبہات پر نہ کرو ۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے۔ ان بعض الظن اثم (49 : 12) “ کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ” ۔ زیادہ زور بعض الظن پر ہے۔ یعنی بعض گمان گناہ ہوتے ہیں یعنی بد گمانی گناہ ہے۔ کیونکہ کوئی یہ معلوم تو نہیں کرسکتا کہ میرا کون سا ظن صحیح اور کون سا غلط ہے لہٰذا کسی پر کوئی بد گمانی نہیں کرنا چاہئے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان ہی رکھنا چاہئے اور ہر قسم کے شکوک و شبہات سے دلوں کو صاف رکھنا چاہئے ۔ اور جس سوسائٹی میں ایک دوسرے کے خلاف شکوک و شبہات نہ ہوں اس میں لوگوں کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوتے ہیں۔ کوئی کسی پر شک ، نہیں کرتا۔ ہر شخص دوسرے سے مطمئن ہوتا ہے اور ایسے معاشرے میں زندگی کس قدر خوشی سے گزرتی ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اسلام کے روشن معاشرے میں یہ اصول صرف انفرادی تعامل ہی میں مروج نہیں ہے ، بلکہ یہ اجتماعی معاملات میں بھی ایک اہم اصول ہے۔ اور اس سے لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے۔ اسلام کے پاکیزہ معاشرے میں کسی کو محض شک اور شب ہے کی بنیاد پر نہیں پکڑا جاتا ، نہ شبہات کی بنیاد پر مقدمے قائم کئے جاتے ہیں۔ شک کی بنا پر لوگوں کو جیلوں میں نہیں ٹھونسا جاتا۔ بلکہ شک کی بنیاد پر کسی کو دائرہ تفتیش میں لانا بھی جرم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “ اگر تم نے بدگمانی شروع کردی تو پھر کوئی تفتیش نہیں ہے ”۔ (طبرانی) یعنی اگر کوئی تفتیش بھی کرتا ہے تو لوگوں کو بےگناہ سمجھ کر تفتیش شروع کرو ، ان کی آزادی بحال ہو ، ان کے حقوق محفوظ ہوں۔ ان کا اعتبار و وقار بحال ہو۔ کسی کو اس وقت پکڑا جائے جب اچھی طرح معلوم ہو کہ اس نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ محض تفتیش اور شک کے لئے کسی کو ہراساں نہیں کیا جاسکتا۔ سبحان اللہ ، کیا مقام بلند ہے جہاں تک یہ آیت انسانی آزادیوں ، انسانی حقوق ، انسانی اعتماد و اعتبار ، اور انسانی وقار کو پہنچاتی ہے۔ اس مقام تک آج کے نام نہاد مہذب اور جمہوری معاشرے بھی نہیں پہنچ سکتے جہاں تک اسلام نے عملاً ایک سوسائٹی کے ضمیر کو پہنچایا ، پھر یہ معیار عملاً ایک سوسائٹی میں قائم کیا اور آج سے چودہ سو سال قبل۔ اسی اصول کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے شک کے دائرے کو اور محدود کیا جاتا ہے۔ ولا تجسسوا (49 : 12) “ تجسس نہ کرو ”۔ بسا اوقات تجسس بدگمانی ہی کے نتیجے میں ہوتا ہے اور بعض اوقات لوگوں کے راز معلوم کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اور لوگوں کی کمزوریاں معلوم کرنے کے لئے۔ قرآن کریم اس گھٹیا حرکت کو اخلاقی نقطہ نظر سے لیتا ہے۔ اور لوگوں کے دلوں کو اس قسم کے برے خیالات سے پاک کرتا ہے کہ کوئی کسی کے خفیہ حالات معلوم کرے اور اس کی کمزوریوں کے ٹوہ میں لگا رہے کیونکہ اخلاقی تطمیر میں اس کے مقاصدیہی ہیں کہ لوگوں کی پوشیدہ کمزوریوں کو نہ اچھالا جائے۔ لیکن یہ اصول محض اخلاقی ضابطے سے بھی آگے جاتا ہے۔ اس کا تعلق اجتماعی پاکیزگی اور قانونی اور انتظامی معاملات سے بھی ہے۔ اسلام میں لوگوں کی بعض آزادیاں ، بعض عزتیں اور بعض شرافتیں ایسی ہیں کہ ان پر کسی صورت میں دست درازی جائز نہیں ہے۔ اسلام کے فا ضلانہ معاشرے میں لوگوں کی جان ، ان کی چار دیواری ، ان کے راز ، ان کی خفیہ کمزوریاں محفوظ ہوتے ہیں۔ کسی وجہ سے بھی کوئی کسی کی جان ، کسی کے گھر ، کسی کے رازوں اور کسی کی کمزوریوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ یہاں تک کہ اسلام میں ادارۂ تحقیق و تفتیش جرائم کو بھی یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ تجسس کرے۔ اسلام لوگوں کے ساتھ ان کے ظاہری حالات کے مطابق برتاؤ کرتا ہے اور کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے گھر کے اندر گھس کر اندرونی حالت معلوم کرے۔ اسلام ظاہری جرائم اور خلاف ورزیوں ہی پر پکڑتا ہے۔ کسی کو ظن یا توقع پر نہیں پکڑا جاتا کہ ان لوگوں نے جرم کیا ہے یا کرنے والے ہیں۔ اسلام میں پکڑ دھکڑ ، ارتکاب جرم کے بعد ہے۔ اس طرح گرفتاری کے لئے دوسرے تحفظات ہیں جو ہر جرم کے لئے علیحدہ ہیں۔ امام ابو داؤد نے روایت کی ہے ، ابوبکر ابن شیبہ سے انہوں نے ابو معاویہ سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے زید ابن وہب سے ، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود آئے۔ ان سے کہا گیا یہ فلاں ہے اور اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے گر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہمیں تو تجسس سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں اگر کوئی چیز ہم پر ظاہر ہوگئی کہ اس کا ارتکاب کیا گیا ہے تو ہم پکڑتے ہیں۔ اور مجاہد نے کہا کہ تجسس نہ کرو ، لوگون کو ان کے ظاہری افعال پر پکڑو۔ جو بات اللہ نے چھپا دی ہے اسے چھپا رہنے دو ۔ امام احمد نے دجین کاتب عقبہ سے روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عقبہ سے کہا کہ ہمارے بعض پڑوسی شراب پیتے ہیں۔ میں ان کے خلاف پولیس کو بلانے والا ہوں کہ ان کو پکڑ لیں تو حضرت عقبہ نے کہا کہ ایسا نہ کرو ، بلکہ ان کو نصیحت کرو اور دھمکی دو ۔ کہتے ہیں انہوں نے ایسا کیا ، وہ باز نہ آئے تو دجین پھر ان کے پاس آئے کہ میں نے تو انہیں روکا وہ نہ روکے۔ اب تو میں ان کے لئے پولیس بلانے ہی والا ہوں۔ اس کو عقبہ نے کہا ، تم ہلاک ہوجاؤ ! ایسا نہ کرو ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے “ جس نے ایک مومن کی پردہ پوشی کی اس نے گویا ایک زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کو قبر سے نکال لیا ”۔ (ابو داؤد سجستانی ) سفیان ثوری نے راشد ابن سعد سے ، انہوں نے حضرت معاویہ ابن ابو سفیان سے ، روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو یہ کہتے سنا “ تم اگر لوگوں کی خفیہ باتوں کی ٹوہ میں لگو گے تو ان کو برباد کر دو گے یا قریب ہے کہ ان کو برباد کر دو ”۔ اس پر حضرت ابو الدرداء نے کہا یہ ایک بات ہے جو حضرت معاویہ ؓ نے حضور ﷺ سے سنی ، اللہ اسے اس کے ذریعہ نفع دے۔ (ابو داؤد) اس طرح قرآن کریم کی یہ آیت اسلام کے سیاسی نظام کی ایک دستوری دفعہ بن گئی اور محض اخلاقی اور روحانی اصلاح پر مشتمل ایک وعظ ہی نہ رہی بلکہ یہ لوگوں کے بنیادی حقوق اور ان کی شخصی آزادیوں کے لئے ایک تحفظ بن گئی اور اسلامی قانون اور دستور میں ان کے حقوق کا ایسا تحفظ کیا گیا کہ دور اور قریب سے اور کسی بھی بہانے سے ان پر دست درازی ممکن ہی نہ رہی۔ یہ دور رس حقوق کہاں ؟ یہ بلند افق کہاں ؟ اور وہ حقوق کہاں جن پر آج کی مغربی جمہوری حکومتیں بغلیں بجاتی ہیں ۔ وہ کہاں ؟ اور وہ بھی چودہ سو سال کے بعد۔ اس کے بعد ایک عجیب انداز گفتگو میں اور نہایت ہی انسانی اور اخلاقی اسلوب میں قرآن کریم غیبت اور بدگوئی کی ممانعت کرتا ہے۔ ولا یغتب بعضکم ۔۔۔۔۔ فکرھتموہ (49 : 12) “ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا ؟ دیکھو ، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو ” ۔ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ اس کے بعد ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے نہایت سنگدل آدمی بھی متاثر ہوجاتا ہے۔ ایک بھائی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کا کھا رہا ہے۔ یہ منظر دکھا کر کہا جاتا ہے۔ اگر تم نے اس منظر کو ناپسند کیا ہے تو پھر تم نے غیبت کو بھی ناپسند کیا۔ اس آیت میں جو جو چیزیں ممنوع قرار دی گئیں ان پر ایک جامع تبصرہ ۔ یعنی بدگمانی ، تجسس اور غیبت کہ خدا سے ڈرو اور اشارہ اس طرف کہ اگر کسی نے اپنی غلطی کی ہے تو معافی مانگو اور طلب مغفرت کرو۔ واتقو اللہ ان اللہ تواب رحیم (49 : 12) “ اللہ سے ڈرو ، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ یہ آیت جماعت مسلمہ کی زندگی میں خون کی طرح دوڑتی ہے اور اس سوسائٹی میں تمام بنیادی حقوق کی محافظ بن جاتی ہے۔ اور انسانی خیالات و تصورات کے لئے ایک انداز فکر بن جاتی ہے۔ اور اسلامی اخلاق کے لئے طرز عمل بن جاتی ہے اور قرآن ہی کے انداز میں حضور اکرم ﷺ بدظنی ، تجسس اور غیبت کے تصور اور تخیل ہی سے لوگوں کو ڈراتے ہیں۔ امام ابوداؤد نے روایت کی ہے قعبی سے انہوں نے عبد العزیز ابن محمد سے انہوں نے عبد سے ، انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ، وہ کہتے ہیں ، کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ غیبت کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : “ تم اپنے بھائی کا تذکرہ اس طرح کرو کہ وہ اسے ناپسند کرے ” تو کہا گیا کہ اگر میں ایسی بات کروں جو اس میں فی الواقعہ ہو ، تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر اس میں وہ بات ہے جو تم کرتے ہو تو تم نے غیبت کی اور اگر اس میں وہ بات نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا (ترمذی ، احمد) امام ابو داؤد نے روایت کی ، مسدد سے ، انہوں نے یحییٰ سے ، انہوں نے سفیان سے ، انہوں نے علی ابن اقمر سے ، انہوں نے ابو حذیفہ سے ، اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ، وہ کہتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ سے کہا ، آپ کے لئے صفیہ کی یہ یہ باتیں کافی ہیں (مسدود نے کہا ان کا مقصد ان کی کوتاہیوں سے تھا) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : “ تم نے ایسی بات کی ہے اگر تم اسے سمندر میں ملاؤ تو اس کا رنگ بدل جائے ”۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا “ اور میں نے ان کے سامنے ایک انسانی کی باتیں کیں تو آپ ﷺ نے فرمایا “ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں کسی انسان کی حکایت کروں اور مجھے یہ ، یہ ملے ”۔ امام اوداؤد نے حضرت انس ابن مالک سے روایت کی ہے ، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “ جب مجھے معراج کا سفر کرایا گیا تو میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا ، ان کے ناخن تانبے کے ہیں جن سے وہ اپنے منہ اور سینے نوچ رہے ہیں۔ میں نے کہا : “ یہ کون لوگ ہیں جبرائیل (علیہ السلام) ! فرمایا ، یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں اور ان کی بےعزتی کرتے ہیں ”۔ جب ماعز اور غامدیہ نے زنا کا اعتراف کرلیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے رجم کے احکام دے دئیے ، کیونکہ انہوں نے اقرار کیا ، پھر اقرار پر اصرار کیا اور کہا کہ ہمیں پاک کردیں۔ حضور ﷺ نے ایک شخص کو سنا جو دوسرے سے کہہ رہا تھا۔ کیا تو نے ان دونوں کو نہیں دیکھا کہ ان دونوں کے گناہ کو اللہ نے چھپایا لیکن ان کے نفوس نے ان کو تب چھوڑا کہ کتوں کی طرح پتھروں سے ہلاک کر دئیے گئے۔ اس کے بعد حضور ﷺ آگے گئے۔ راستے میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی تھی آپ نے فرمایا کہ “ فلاں فلاں کہاں ہیں ؟ ” ان دونوں سے کہا اترو ، اور اس مردار گوشت کو کھاؤ ”۔ تو انہوں نے کہا ، رسول خدا اللہ آپ کو معاف کرے کیا مردار گدھے کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ یہ تم نے جو اپنے بھائی کا گوشت کھایا ، ابھی ، یہ تو اس سے مشکل کام تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ شخص تو اس وقت جنت کی نہروں میں ڈبکیاں لے رہا ہے ”۔ (ابن کثیر) اس قسم کی مسلسل تربیت کے ذریعے ہی اسلامی سوسائٹی کی تطہیر کی جاتی رہی اور وہ پاک ہو کر ایک بلند مقام تک پہنچی ۔ یہ ایک انسانی خواب تھا جو اسلامی تاریخ ہی میں حقیقت بنا۔ ٭٭٭ اہل ایمان کو اس میٹھی آواز سے بار بار پکارنے کے بعد ، اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، ان کو انسانیت کے روشن افق پر ، انسان کے نفسیاتی آداب کے زاویہ سے ، اجتماعی آداب کے حوالے سے بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے انسانی عزت ، آبرو ، آزادی کی ضمانتوں اور گاڑنٹی کے حوالے سے نہایت ہی بلندیوں تک پہنچا کر ، ان کی حساسیت کو نہایت تیز کر کے اور خدا خوفی اور خشیت الٰہی کے ہتھیاروں سے لیس کرنے کے بعد اب روئے سخن پوری انسانیت کی طرف ہے۔ پوری انسانیت ، مختلف رنگوں ، مختلف نسلوں ، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں کے لوگوں کی طرف دیکھو تمہاری اصل تو ایک ہے ، تمہاری اصل قدریں بھی ایک ہیں۔ اور انہی قدروں کی بدولت صحابہ کرام ؓ کی یہ جماعت ان بلندیوں تک پہنچی۔

الحجرات 49:13

یایھا الناس انا ۔۔۔۔ علیم خبیر (49 : 13) “ لوگو ، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے ”۔ اے لوگو ، مختلف اقوام اور مختلف رنگ کے لوگو ! مختلف اقوام و قبائل کے لوگو ! تمہاری اصلیت تو ایک ہے۔ لہٰذا آپس میں اختلافات نہ کرو ، آپس میں جھگڑے نہ کرو اور الگ الگ راہوں پر نہ چلو۔ اے لوگو ، تمہیں جو پکار رہا ہے وہ تو وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ تمہیں اس نے ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ وہ تمہیں بتاتا ہے کہ اس نے کیوں تم کو اقوام وقبائل میں تقسیم کیا ہے ؟ یہ اس لیے نہیں کہ تم ایک دوسرے کے گلے کاٹو اور جنگیں لڑو ، یہ تو محض تعارف اور جوڑ کے لئے ہے ، رہا زبان اور رنگ کا اختلاف ، طبیعت اور مزاج کا اختلاف ، قابلیت اور استعداد کا اختلاف تو یہ ایسے اختلافات اور ایسی رنگا رنگی ہے جن کی وجہ سے نزاع اور جنگ بلا جواز ہے بلکہ ان چیزوں کو باہم ذمہ داریاں سر انجام دینے کے لئے موجب تعاون ہونا چاہئے ۔ نیز ان اختلافات کے ذریعہ سوسائٹی کی تمام ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ اللہ کے ترازو میں تو رنگ و نسل ، زبان اور وطن کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔ اسلام میں تو واحد میزان میں تمام قدروں کو لایا جاتا ہے اور اسی کے مطابق حسن و قبح کے اصولوں کا تعین کیا جاتا ہے وہ یہ ہے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقکم (49 : 13) “ تم میں سے عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ” ۔ اور معزز درحقیقت ہے ہی وہی شخص جو اللہ کے نزدیک معزز ہے۔ اللہ اپنے علم اور خبرداری کی بنا پر تمہارا وزن کرتا ہے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقکم (49 : 13) “ تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ”۔ اور معزز درحقیقت ہے ہی وہی شخص جو اللہ کے نزدیک معزز ہے۔ اللہ اپنے علم اور خبرداری کی بنا پر تمہارا وزن کرتا ہے۔ ان اللہ علیم خبیر (49 : 13) “ اے شک اللہ علیم وخبیر ہے ”۔ یوں تمام امتیازات ختم کر دئیے جاتے ہیں ، تمام جھوٹی قدریں ختم کردی جاتی ہیں۔ ایک ہی پیمانہ ایک ہی قدر کے ساتھ رہ جاتا ہے کہ انسانیت کی میزان اور خدا خوفی کی قدر اور ان کے سوا سب کچھ ہیچ۔ یوں اس کرۂ ارض پر یہ سب نزاع اور جھگڑے مٹ جاتے ہیں اور وہ تمام گھٹیا مقاصد اور اہداف ختم کر دئیے جاتے ہیں جن کے اوپر لوگ اس طرح جھپٹتے ہیں جس طرح کتے ہڈی پر۔ اس طرح لوگوں کے درمیان الفت و محبت کے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں۔ اللہ سب کا الٰہ قرار پاتا ہے۔ تمام ایک ہی اصل سے پیدا ہوتے ہیں اور ایک ہی انسانی جھنڈا رہ جاتا ہے۔ جس کے نیچے تمام لوگ کھڑے رہ جاتے ہیں یعنی اللہ ۔۔۔۔۔ میں اور اسلام نے یہ جھنڈا واحد انسانی جھنڈا ، آج سے چودہ سو سال قبل اس لیے بلند کیا ہے تا کہ انسانیت کو رنگ ، نسل ، قوم اور وطن کے شیطانی جھنڈوں سے نجات دی جاسکے۔ رنگ کی عصبیت ، نسل کی عصبیت ، زمین کی عصبیت ، قبیلے کی عصبیت اور خاندان کی عصبیت سے نجات دی جائے۔ یہ سب عصبیتیں جاہلیت سے نکلی ہیں اور جاہلیت کے فروغ کے لئے ہیں۔ یہ مختلف رنگوں اور لباسوں میں آتی ہیں اور یہ مختلف ناموں سے آتی ہیں لیکن یہ سب ننگی جاہلیت کی اقسام ہیں۔ ان پر کوئی اسلامی لباس نہیں ہے۔ اسلام نے عصبیت جاہلیت کی تمام اقسام کے خلاف جہاد کیا تا کہ وہ اپنا عالمی انسانی نظام رب العالمین کے جھنڈے کے نیچے ، نہ نسل کے جھنڈ کے نیچے قائم کرے۔ یہ سب کھوٹے جھنڈے ہیں اسلام ان کو نہیں پہچانتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کی تخلیق مٹی سے کی گئی ہے ، جو لوگ اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرتے ہیں۔ وہ اس حرکت سے باز آجائیں ورنہ اللہ کے لئے یہ بات بہت آسان ہے کہ تمہیں گبریلے سے ہلکا کر دے۔ (البزار) اور عصبیت جاہلیہ کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا “ اسے چھوڑ دو یہ گندہ ہے ”۔ (مسلم) یہ ہے وہ اصول جس پر اسلامی نظام قائم ہے جو ایک عالمی انسانی نظام ہے اور جو عالمی انسانی سوسائٹی بناتا ہے۔ اسلام نے یہ سوسائٹی اور نظام آج سے چودہ سو سال قبل قائم کیا جبکہ انسانیت ابھی تک اس کی نقل اتارنے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ انسانیت نے ابھی تک اس معاشرے کی طرف اسلام کے صراط مستقیم سے چلنا نہیں شروع کیا۔ یعنی اللہ رب العالمین کے جھنڈے کے نیچے کھڑی ہو کر۔ یہی وہ واحد جھنڈا ہے عقیدۂ توحید کا جھنڈا جس کے نیچے پوری انسانیت کھڑی ہو سکتی ہے۔

الحجرات 49:14

اب اس سورت کے آخر میں ایمان کی حقیقت اور اس کی اہمیت بیان کی جاتی ہے اور یہ ان اعراب کی تردید میں بیان کی جاتی ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ پر احسان جتلاتے تھے کہ ہم مسلمان ہوئے ہیں اور اس احسان کے بارے میں نہ سوچتے تھے کہ اللہ نے دعوت ایمان بھیج کر لوگوں پر کس قدر احسان کیا۔ یہ آیات بنو اسد کے دیہاتی مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم “ ایمان لائے ” ہیں۔ یہ انہوں نے اس وقت کہا جب وہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات بھی کہی کہ حضور ﷺ ہم نے تو اسلام قبول کرلیا لیکن آپ ﷺ کے ساتھ ہم کبھی نہیں لڑے جبکہ دوسرے عربوں نے آپ کے ساتھ لڑائیاں لڑیں تو اللہ نے ان کو بتایا کہ تمہارے ذہنوں کے اندر جو بات بیٹھی ہوئی ہے ، وہ غلط ہے کہ تم نے اسلام قبول کرلیا۔ اسلامی حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہے ، لیکن ابھی تمہارے دل مرتبہ ایمان تک نہیں پہنچے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقت ایمان ابھی ان کے دلوں میں نہیں بیٹھی تھی۔ اور ان کی ارواح نے ابھی جام ایمان نوش نہیں کیا تھا۔ قل لم تؤمنوا ولکن ۔۔۔۔۔۔ فی قلوبکم (49 : 14) “ ان سے کہو ، تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے۔ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے ”۔ لیکن اس کے باوجود اللہ نے فرمایا کہ تمہارے اعمال پر تمہیں پوری پوری جزاء دی جائے گی اور تمہارے اعمال کا کوئی حصہ ضائع نہ ہوگا۔ یہ اسلام ابھی تک دلوں کے اندر داخل ہو کر قلوب کے اندر نہیں پہنچا کہ وہ پختہ اور قابل اطمینان ایمان بن جائے ، یہ اس بات کے لئے کافی ہے کہ ان اچھے اعمال پر انہیں جزائے خیروی جائے اور وہ کفار کے اعمال کی طرح ضائع نہ ہوں۔ اور اللہ کے ہاں ایسے مسلمانوں کے اجر میں کمی نہ ہوگی جب تک وہ مطیع فرمان اور سر تسلیم خم کرنے والے رہتے ہیں۔ وان تطیعوا اللہ ورسولہ لا یلتکم من اعمالکم شیئا (49 : 14) “ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمان برداری اختیار کرلو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے ”۔ کیونکہ اللہ بہت ہی رحیم و کریم ہے۔ وہ اپنے بندوں سے اسلام اور ایمان کی راہ میں پہلا قدم ہی قبول کرتا ہے۔ اطاعت اور تسلیم ہی سے راضی ہوجاتا ہے اور اس کے بعد دل میں خود بخود ایمان اور اطمینان آجاتا ہے۔ ان اللہ غفور رحیم (49 : 14) “ بیشک اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اس کے بعد حقیقی ایمان بتا دیا۔

الحجرات 49:15

انما المؤمنون الذین ۔۔۔۔۔ ھم الصدقون (49 : 15) “ حقیقت میں مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے۔ پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، وہی سچے لوگ ہیں ”۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور رسول پر دل سے یقین ہوجائے۔ ایسا یقین جس کے ساتھ دل میں کوئی شک اور خلجان باقی نہ رہے۔ ایسا یقین جو مستحکم ہو ، جس کے اندر کوئی تزلزل اور اضطراب نہ ہو ، جس کے اندر کوئی خلش یا شک نہ ہو۔ جس میں قلب و شعور میں کوئی تزلزل نہ ہو ، اور جس کے نتیجے میں جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کے اعمال پیدا ہوں ، دل جب ایمان کی شیرینی کو چکھ لے اور اس پر مطمئن اور پختہ ہوجائے ، تو اس کا اخراج اعمال وجوارح سے ہوتا ہے۔ عملی دنیا میں اس کا ظہور ہوتا ہے۔ مومن کی سعی یہ ہوتی ہے کہ وہ ایمان جو اس کے احساس و شعور کے اندر اور اس کے باطن میں بیٹھا ہے وہ انسان کے اردگرد ماحول کے معاملات میں بھی ظاہر ہو۔ ایمان کی جو حسی تصویر انسان کے قلب میں ہوتی ہے اور اس کی عملی صورت جو مومن کے ماحول میں ہوتی ہے ان کے درمیان تو فرق و امتیاز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسی صورت ہو تو پھر ایک شخص کے مومن کو ہر وقت اذیت ہوتی رہتی ہے۔ اس لئے وہ جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کے لئے میدان میں آجاتا ہے اور یہ مومن کے انفرادی ایمان کا ظہور اور طوفان ہے جو عملی شکل اختیار کرتا ہے اس لیے کہ مومن اس طرح اپنے دین کی تصویر کو عمل میں لانا چاہتا ہے تا کہ یہ تصویر واقعی تصویر بن جائے۔ اس لیے مومن کی جنگ اس کے ماحول سے ایک مومن کا خالص ذاتی معاملہ ہے۔۔۔۔ مومن کے دین میں کچھ اور ہو اور اس کے ماحول میں کچھ اور ہو ، یہ دہری زندگی وہ برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ بھی اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا ہے کہ ایمان کو دل سے نکال دے اور جدھر ہوا چلتی ہے ادھر چلنے لگے۔ اس لئے ایک شخص کے مومن ہوتے ہی اس کی اس کے ماحول کے ساتھ جنگ شروع ہوجاتی ہے جسے جہاد کہا جاتا ہے۔ اور یہ جہاد اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک مومن کے گرد پھیلی ہوئی اس جاہلیت کو ختم نہیں کردیا جاتا۔ اولئک ھم الصدقون (49 : 15) “ ایسے ہی لوگ سچے ہیں ”۔ یہ اپنے عقیدے اور نظریہ میں سچے ہیں اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل کا ایمان مسلح ہو کر ان کے ماحول کے ساتھ نہیں ٹکراتا جو زندگی کی عملی صورت میں ایمان سے متضاد ہے تو سمجھو کہ ایمان نہیں ہے۔ عقیدے اور نظریات میں ایسا شخص سچا نہیں ہے۔ اس آیت میں لفظ انما کے ساتھ حصر قابل ملاحظہ ہے۔ انما المؤمنون الذین امنوا باللہ ورسولہ ثم لم یرتابوا (49 : 15) “ حقیقت میں تو مومن وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے۔ پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا ”۔ غرض ایمان صرف عبادت ہی نہیں ہے۔ ایمان مجرد شعوری حالت کا نام بھی نہیں ہے اور یہ اس حالت کے اندر کوئی ردو بدل بھی نہیں ہے جو نفس کے اندر ہوتی ہے۔ ایمان کے بعد لم یرتابوا (49 : 15) “ پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا ”۔ اور اس کے ساتھ اس آیت کی حصر بھی درج ذیل آیت کے مشابہ ہے۔ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ وہ لوگ جنہوں نے کہا ، ہمارا رب اللہ ہے اور اس کے بعد انہوں نے استقامت اختیار کی ”۔ یہ کہنے کے بعد کہ اللہ ہمارا رب ہے ، کوئی شک نہ کرنا اور استقامت اختیار کرنا ، اس طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات نفس مومن پر ، مختلف تجربات اور مختلف مشکلات کے نتیجے میں اور بعض شدید آزمائشوں کے نتیجے میں ، شکوک و اضطرابات پیدا ہوجاتے ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز میں بعض اوقات انسانوں پر سخت شدائد آتے ہیں لیکن ایک سچے مومن کے دل میں کوئی اضطراب اور کوئی شک پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ ثابت قدم رہتا ہے۔ اور اس کے اندر کوئی تزلز پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا اپنے خدا پر پورا پورا بھروسہ ہوتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر پوری استقامت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور وہ آگے ہی بڑھتا رہتا ہے۔ اس انداز میں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان کو اس بات پر متنبہ کردیا جائے کہ اس راہ میں بہت سی مشکلات ، مقامات لغزش اور مقامات خطرہ موجود ہیں تا کہ ایک مومن اپنے عزم کو پختہ کرلے ، اپنی تیاری خوب کرے اور سیدھا سیدھا چلے ۔ اور جب افق پر دھند چھا جائے تو اسے شک نہ ہونے لگے اور وہ طوفانوں اور آندھیوں کی نذر نہ ہوجائے۔

الحجرات 49:16

اس کے بعد یہی بیان جاری رکھتے ہوئے ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ تو تمہارے دلوں اور نیتوں سے بھی واقف ہے ۔ یہ تو اللہ ہی ہے جو تمہیں تمہارے دلوں کی باتیں بناتا ہے اور اللہ تم سے علم حاصل نہیں کرتا۔ قل اتعلمون اللہ ۔۔۔۔۔۔ بکل شییء علیم (49 : 16) “ اے نبی ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔ انسان اپنے علم کے بارے میں لمبے چوڑے دعوے کرتا ہے حالانکہ وہ خود اپنے نفس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ وہ اپنے آپ کی شعوری دنیا کے بارے میں بھی پوری معلومات نہیں رکھتا۔ اور نہ اسے اپنے نفس کی پوری حقیقت معلوم ہے اور نہ شعور اور لاشعور کی۔ انسان یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کی عقل کس طرح کام کرتی ہے۔ کیونکہ انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو اس وقت وہ خود اپنے دماغ کا ملاحظہ (observation) نہیں کرسکتا۔ اور جب وہ اپنے نفس کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کا وہ کام رک جاتا ہے جو وہ کر رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا ملاحظہ کے لئے کوئی چیز ہی نہیں رہتی۔ اور جب انسان کسی کام میں لگا ہوتا ہے اس وقت وہ نگرانی نہیں کرسکتا۔ اس لیے انسان خود اپنی ذات کی حقیقی معرفت سے بھی عاجز ہے۔ اور اس کے معلوم کرنے سے بھی عاجز ہے کہ انسانی دماغ کس طرح کام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی تو وہ چیز ہے جس پر انسان نازاں ہے۔ واللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض (49 : 16) “ حالانکہ اللہ زمین اور آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے ”۔ حقیقی علم اللہ کے پاس ہے ہم تو صرف ظاہری علم جانتے ہیں ، جبکہ اللہ ہر چیز کی ماہیت اور حقیقت سے واقف ہے۔ اور اللہ کا علم شامل ، محیط اور لا محدود ہے اور ازلی اور ابدی ہے۔ واللہ بکل شییء علیم (49 : 16) “ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔ یعنی ہر چیز جس پر چیز کا اطلاق ہوتا ہے۔ وہ علم محیط رکھتا ہے۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ تم ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکے ہو اور نہ تم نے اس کی حقیقت کا ادراک کیا ہے ، روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے کہ یہ لوگ آپ پر اپنے اسلام کا احسان رکھتے ہیں ان کا احسان جتلانا ہی اس بات کی شہادت ہے کہ وہ حقیقت ایمان کا ادراک نہیں کرسکے۔ اور انہوں نے ابھی تک ایمان کی مٹھاس کو چکھا نہیں ہے۔

الحجرات 49:17

یمنون علیک ان ۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (49 : 17) “ یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ، ان سے کہو اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر واقعی تم سچے ہو ”۔ انہوں نے یہ احسان جتلایا تھا کہ وہ اسلام لائے ہیں اور ان کا زعم یہ تھا کہ وہ مومن ہیں ، جواب یہ آیا کہ اپنے اسلام کا احسان نہ جتلاؤ ۔ اگر تم دعوائے اسلام و ایمان میں سچے ہو تو احسان اللہ کی جانب سے ہے۔ یہ جو اللہ نے ان کی تردید میں آیت نازل کی ہے یہ ایک عظیم حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ جس سے بڑے بڑے لوگ غافل ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اس پر قدرے غور کریں۔ بعض اہل ایمان بھی اس سے غافل ہوتے ہیں۔ اہل زمین پر اللہ نے بڑے احسانات کئے ہیں ان میں سے ایمان سب سے بڑا احسان ہے۔ سب سے بڑا احسان تو خود انسان کا وجود اور اس ۔۔۔ ۔ سمجھا جاسکتا ہے۔ نیز انسان کی زندگی کے لوازمات اور مقدمات اور ضروریات کو سمجھا جاسکتا ہے مثلاً صحت ، سازوسامان اور زندگی لیکن ایمان ان میں سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہ وہ احسان ہے جو انسان کی پوری زندگی کو بامقصد ، بامعنی اور ممتاز بنا دیتا ہے اور ایمان کی وجہ سے انسان کا کردار اس زمین میں بہت ہی حقیقی اور ممتاز ہوجاتا ہے۔ ایمان کی وجہ سے انسان کے اندر پہلی تبدیلی یہ واقع ہوتی ہے ، بشرطیکہ ایمان کی حقیقت انسان کے ذہن میں بیٹھ جائے کہ ایک مومن انسان کا تصور کائنات بہت ہی وسیع ہوجاتا ہے کیونکہ اس تصور کی وجہ سے انسان اس کائنات کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور اس کے اندر انسان کا ایک کردار متعین ہوجاتا ہے اور اس کے ماحول میں جو بھی چیزیں ہیں ، انسان اشخاص واقعات ان سب کی قدریں اس کے ہاں متعین ہوجاتی ہیں اور وہ اس سیارۂ زمین پر اپنے اس مختصر سے سفر کو نہایت ہی اطمینان سے طے کرتا ہے اور اللہ تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات سے مایوس ہوتا ہے اور اپنے خالق کے ساتھ مانوس ہوتا ہے ، جو اس کا بھی خالق ہے اور اس کائنات کا بھی خالق ہے ، اسے اپنی اہمیت اور عظمت کا بھی شعور ہوتا ہے اور یہ کہ وہ اپنے کردار اس طرح ادا کرسکتا ہے کہ اللہ اس سے راضی ہو ، اور وہ اس کائنات کی مخلوقات اور انسانوں کے لئے باعث خیروبرکت بن سکتا ہے۔ انسان کے تصور میں ایک دوسرے پہلو سے بھی وسعت آتی ہے کہ وہ زمان و مکان کے حدود سے باہر نکل جاتا ہے۔ اپنی چھوٹی سی ذات کے حدود سے بھی باہر آجاتا ہے اور اس کائنات کی وسعتوں میں چلا جاتا ہے۔ جس کے اندر اللہ نے بےپناہ قوتیں رکھی ہوئی ہیں۔ اور بےحد اسرار چھپے ہوئے ہیں اور انسان اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ وہ بھی ایک طرح لا محدود ہوجاتا ہے۔ چونکہ انسان اپنی جنس کے اعتبار سے انسانیت کا ایک فرد ہوتا ہے ، وہ ایک ہی اصل کی طرف لوٹتا ہے اس لیے انسان نے ابتداء میں اپنی انسانیت اللہ کی روح سے لی ہے اور یہ اسے خدا نے اپنی روح ایک مٹی کے ڈھانچے میں پھونک کر عطا کی ہے اور اسی نفخ روح کی وجہ سے یہ انسان عالم بالا کے نور کے ساتھ جڑ جاتا ہے اور یہ نور زمین و آسمان کے حدود کے اندر محدود نہیں ہے۔ یہ ان سے بھی وراء ہے جس کی نہ انتہا ہے اور نہ ابتدا ہے اور مکان و زمان کے حدود میں مقید نہیں ہے۔ یہی نور اور روح ہے جس کی وجہ سے انسان ، انسان ہے۔ جب ایک انسان کے نفس کے اندر یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو سب سے پہلے کوئی انسان خود اپنی ہی نظر میں بلند ہوجاتا ہے۔ یہ تصور انسان کو خود اس کے اپنے احساسات کے اندر مکرم بناتا ہے اور اسے نہایت ہی روشنی اور آفاقیت کا شعور دیتا ہے۔ اس کے قدم تو زمین پر چلتے ہیں لیکن اس کی روح ، اس کے سرچشمے سے جا ملنے کے لئے پھڑ پھڑاتی ہے جس نے اسے ابتدا میں روح اور نور سے نوازا اور جس نے اسے یہ عجیب رنگ حیات دیا۔ اور یہ شخص اپنی امت اور گروہ کے اعتبار سے امت مسلمہ کا ایک فرد ہوتا ہے۔ یہی وہ واحد امت ہے جو تاریخ کے نشیب و فراز میں زمانوں سے ایک معزز قافلے کی صورت میں جادو پیما ہے۔ اس کی قیادت کبھی نوح ، کبھی ابراہیم ، کبھی موسیٰ ، کبھی عیسیٰ اور کبھی محمد (علیہم السلام) کے ہاتھ میں رہی۔ انسان کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ وہ اس پاک شجر کی ایک شاخ ہے جس کی جڑیں تاریخ کی گہرائیوں میں دور دور تک چلی گئی ہیں اور جس کی شاخیں آسمانوں کے اندر بہت دور تک جا چکی ہیں۔ یہی تصور ہی انسان کو ایک بلند ذوق حیات عطا کرنے کے لئے کافی ہے ، جسے یہ مل جائے وہ زندگی کے نئے احساسات لے لیتا ہے اور اس کی اس زندگی کے اندر ایک دوسری زندگی پیدا ہوجاتی ہے ، اور اس کو یہ زندگی اس کے اس نظریاتی نسب نامہ سے ملتی ہے۔ نہیں ، ابھی انسانی تصور رک نہیں گیا ، یہ اپنی ذات ، اپنی امت ، اپنی انسانیت سے بھی آگے بڑھ کر اپنی روح کے اندر اس پوری کائنات کو بھی سمیٹ لیتا ہے کہ یہ تو اس ذات نے تخلیق کی ہے جس نے انسان کو بنایا ہے ، جس نے اسے روح بخشی ہے۔ اور جس کی وجہ سے وہ کائنات کا دولہا بن گیا ہے۔ پھر اس کا ایمان اسے بتاتا ہے کہ یہ کائنات بھی ایک زندہ وجود رکھتی ہے۔ یہ زندہ ایٹم سے پیدا شدہ ہے ۔ اس کی ہر چیز میں ایک روح ہے۔ اس پوری کائنات کی بھی روح ہے۔ اور انسانوں کی ارواح اور اس کائنات کی عظیم روح دراصل دونوں باری تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں۔ یہ سب کی سب اللہ کو پکارتی ہیں۔ اس کی تسبیح کرتی ہیں ، اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی اطاعت میں لگی ہوئی ہیں اور پوری طرح اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں ، یوں انسان اس عظیم کائنات کے کل کا ایک جز وبن جاتا ہے۔ یہ نہ اس سے جدا ہے اور نہ اس سے الگ ہے۔ یہ اللہ سے صادر ہے اور اپنی روح سے اس کی طرف متوجہ ہے۔ اور آخرت میں بھی اس نے اسی کی طرف جانا ہے۔ لہٰذا یہ انسان اپنی محدود ذات سے بڑا ہے۔ وہ اس قدر بڑا ہے جس قدر وہ اس کائنات کی بڑائی کا تصور ذہن میں جما سکتا ہے ۔ وہ اپنے ماحول کی تمام ارواح سے مانوس ہے۔ اور پھر وہ اس روح سے مانوس ہے جو اللہ نے اس کے اندر پھونکی ہے اس نکتے پر آکر وہ سوچتا ہے کہ وہ اس پوری کائنات سے متحد ہو سکتا ہے خواہ وہ کائنات کس قدر طویل و عریض کیوں نہ ہو اور اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ اس میں کارہائے نمایاں سر انجام دے۔ اور بڑے بڑے واقعات کا سبب بنے اور ہر چیز کو متاثر کرے اور اس سے متاثر ہو۔ پھر اس کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اس قوت سے استفادہ کرے جس نے اس کی تخلیق کی ، اور اس کے پورے ماحول میں پھیلی ہوئی کائنات کی تخلیق کی۔ وہ عظیم قوت جو نہ کمزور ہوتی ہے ، نہ کم ہوتی ہے اور نہ غائب ہوتی ہے۔ یعنی اللہ الکبیر المتعال ۔ اسی وسیع تصور کے پیمانے میں ، پھر یہ انسان تمام اشیاء ، تمام واقعات ، تمام اشخاص ، تمام اقدار ، تمام اہتمامات ، تمام مقاصد ، اور تمام منازل کو ایک بالکل جدید پیمانے کے ساتھ تولتا ہے ، اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات میں اس کا حقیقی کردار کیا ہے۔ اس کائنات میں اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ اور اس کائنات میں وہ اللہ کی اقدار میں سے ایک قدر ہے۔ اس لیے اللہ جس طرف چاہے اسے موڑ دے جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ یوں وہ پھر اسی سفر زندگی کو ، اس سیارے پر طے کرتا ہے ، ثابت قدمی کے ساتھ ، واضح بصیرت کے ساتھ اور مانوس ضمیر کے ساتھ۔ جب انسان اس زاویہ سے اپنے ماحول میں پائے جانے والی اس کائنات کی حقیقت کو پالیتا ہے ۔ پھر وہ یہ بات متعین کرلیتا ہے کہ اس دنیا میں اس کا کردار کیا ہے ؟ اور اس کردار کو ادا کرنے کے لئے اسے یہاں کیا کیا قوتیں دی گئی ہیں تو اس علم و معرفت سے اسے اطمینان ، سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔ کہ اس کے ماحول میں جو کچھ ہو رہا ہے ، اور اسے جو کچھ پیش کر رہا ہے ، اس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ اس کا محرک کون ہے یا خود وہ کہاں سے آرہا ہے ؟ اور کیوں آیا ہے ؟ کہاں جا رہا ہے ؟ اور وہاں اسے کیا ملنے والا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کا مقصد زندگی کیا ہے ، اور اسے جو کچھ پیش آ رہا ہے وہ اس کا مقصدر ہے۔ اور ہو کر رہنا ہے۔ اور یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اور یہ کہ چھوٹے بڑے کاموں پر اسے جزا ملے گی ۔ وہ عبث نہیں پیدا کیا گیا۔ نہ وہ شتر بےمہار ہے ، نہ وہ اکیلا جائے گا۔ اس تصور اور شعور سے انسانی زندگی قلق ، بےچینی ، حیرت ، استعجاب اور لا علمی (بابت آغاز و انجام ) کی پریشانی سے نجات پا لیتی ہے۔ نہ اسے راستے کی بےچینی ہوتی ہے اور نہ وہ اپنے آنے اور جانے سے پریشان ہوتا ہے۔ ذرا عمر خیام کو سنئے وہ پریشان ہے : “ مجھے جامہ حیات ، میرے پوچھے بغیر پہنا دیا گیا ، اس حیات کے دوران میں مختلف باتیں سوچتا رہا ، عنقریب جامہ حیات مجھ سے اتار لیا جائے گا اور مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں کیوں آیا اور مجھے جانا کہاں ہے ؟” پس ایک مومن نہایت ہی قلبی اطمینان سے یہ یقین رکھتا ہے اور بڑی خوشی دلی سے یہ اطمینان رکھتا ہے اور ایک ہشاش و بشاش چہرے کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ اسے عمر کا جامہ دست قدرت نے پہنایا ہے ۔ وہ دست قدرت علیم و قدیر کے طور پر اس کائنات میں متصرف ہے۔ اور وہ ہاتھ جس نے اسے جامہ حیات پہنایا ہے وہ زیادہ محکم اور رحیم و کریم ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ کسی مشورے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ انسان وہ سوچ پیش نہیں کرسکتا جس قدر علیم قدیر سوچ سکتا ہے اور انسان کو علیم و قدیر نے جامہ حیات اس مقصد کے لئے پہنایا ہے کہ اس نے اس کائنات میں ایک کردار ادا کرنا ہے۔ یہ اس کائنات کے اندر موجود چیزوں سے متاثر ہوگا اور ان کو متاثر کرے گا اور اس نے جو کر دار ادا کرنا ہے وہ اس کردار سے ہم آہنگ ہے جو اس دنیا میں تمام اشیاء ادا کر رہی ہیں۔ زندہ ہوں یا غیر زندہ ، ابتداء سے انتہا تک۔ پس ایک مومن جانتا ہے کہ وہ کیوں آیا ہے ، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس نے جانا کہاں ہے ؟ اور وہ کسی فکری انتشار میں گرفتار نہیں ہوتا ۔ بلکہ وہ اپنا یہ سفر اور اپنا یہ کردار نہایت اطمینان سے ادا کرتا ہے۔ نہایت یقین کے ساتھ ، نہایت وثوق کے ساتھ ۔ کبھی تو یہ مومن درجہ ایمان میں اس قدر ترقی کرجاتا ہے کہ وہ اپنے یہ کردار اس قدر خوشی اور انبساط کے ساتھ ادا کرتا ہے کہ اس تحفہ حیات کی خوبصورتی کا شعور رکھتا ہے ، اور اسے ایک عظیم عطیہ سمجھتا ہے۔ اور اس عمر اور جامہ عمر کو خلعت شاہی سمجھتا ہے۔ وہ بادشاہ جو لطیف وخبیر اور جو جمیل اور ودودورحیم ہے اور جو کردار یہاں ادا کرنا ہے ، چاہے جس قدر مشقت کا باعث بن جائے وہ اسے ادا کر کے رب ذوالجلال کے ہاں پہنچ سکتا ہے۔ اور اس قسم کے پریشان کن شعور صرف ایمان کی وجہ سے غائب ہوجاتا ہے ، اس قسم کے شعور کے اندر میں بھی ایک عرصے تک گرفتار رہا ہوں۔ نہایت ہی کربناک پریشانیوں میں ، اس زمانے میں جب مجھے قرآن کے سایہ عاطفت میں آنے کی توفیق نہ ملی تھی۔ اور اس زمانے میں کہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر ابھی اپنے سایہ عاطفت کے اندر مجھے داخل نہ کردیا تھا۔ یہ شعور میری روح میں موجود تھا اور میں نے “ آزردہ دل ، آزردہ کند ۔۔۔۔۔ را ” کے بموجب یہ شعور پوری کائنات کو اڑھا دیا تھا۔ وقف الکون حائرا ابن یمضی ولماذا وکیف لو شائ یمضی عبث ضائع وجھد غبین ومصیر مقنع لیس یرضی ( یہ پوری کائنات انگشت بدنداں ہے کہ یہ کہاں جا رہی ہے ، کیوں جار ہی ہے اور کس طرح جا رہی ہے ، اگر وہ جانا چاہے تو عبث جدو جہد ہے اور فانی دنیا ہے اور جب موت کا نقارہ بج جائے تو چاہے نہ چاہے ، جانا ہے) ۔ آج میں جانتا ہوں ، اور اللہ کے فضل وکرم سے جانتا ہوں کہ کوئی جدو جہد ضائع نہیں ہے ، یہ کیے کی جزاء وسزا ہے۔ کوئی جدو جہد اکارت نہیں جاتی ہے۔ اور انجام مرضی کے مطابق ہے اور عادل اللہ اور شفیق و رحیم رب کے پاس جانا ہے۔ اور یہ کہ یہ کائنات یہاں رکی نہیں رہے گی۔ اس کائنات کی روح رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہے اور اس کی حمد وثناء کر رہی ہے اور یہ اس کی مرضی کے مطابق چل رہی ہے۔ اور اس کے اس قانون کے مطابق چل رہی ہے جو اس کے لئے اس نے تیار کیا ہے اور نہایت ہی تسلیم و رضا ہے اور اطاعت امر کے ساتھ جارہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں فکر و شعور کی دنیا میں بھی انسان کے لئے یہ بہت بڑی دولت ہے اور جسمانی اور اعصابی لحاظ سے بھی اور حسن کارکردگی ، جدو جہد اور تاثیر اور تاثر اس کے علاوہ ہیں۔ ایمان جس طرح انسانی جسم و روھ کے لئے ایک قوت مجسمہ ہے ، اسی طرح وہ ایک اقدامی قوت بھی ہے۔ جو نہی کسی دل میں ایمان جاگزیں ہوتا ہے وہ عملی جدو جہد کی شکل میں پھر جسم سے باہر آتا ہے ایمان کی جو صورت ذہن میں ہوتی ہے ۔ وہ ایمان کی اس صورت کے ساتھ ہمقدم ہوتی ہے جو خارج میں عملی دنیا میں ہوتی ہے اور انسان کی قوائے متحرکہ پر ایمان قابض ہوجاتا ہے اور اسے ایمان راستے کی طرف بڑھاتا ہے۔ “ یہ ہے وہ راز جس کی وجہ سے نفس کے اندر عقیدے کی قوت مضمر ہے اسی طرح ایک مومن ہونے کی وجہ سے نفسیاتی قوتوں میں اضافے کا راز بھی یہی ہے ۔ نظریہ کی وجہ سے دنیا میں جو عجائبات و معجزات صادر ہوتے ہیں اور ہوتے رہے ہیں ان کا راز یہی ہے ان معجزات کی وجہ آئے دن زندگی کا چہرہ بدل جاتا ہے۔ یہ ایمان اور نظریہ ہی ہے جس کے لئے لوگ یہ فانی زندگی بھی قربان کردیتے ہیں اور اس زندگی میں قدم رکھتے ہیں جو کبھی فانی نہیں ہوتی اور ایک نہایت ہی ضعیف اور چھوٹا شخص بھی ایک بادشاہ ، ایک ڈکٹیٹر کے سامنے سر اٹھا کر چلتا ہے اور آگ اور لوہے کی قوتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اور پھر وہ وقت آتا ہے کہ ایمان کے سامنے بارود شکست کھاجاتی ہے۔ یہ صرف ایک انسان نہیں ہوتا جو ان عظیم قوتوں کو شکست دے دیتا ہے بلکہ وہ ایک عقیدہ ہوتا ہے جو ان قوتوں کو پاش پاش کردیتا ہے بلکہ یہ وہ عظیم ایمان قوت کا سرچشمہ ہے جس سے انسانی روح قوت حاصل کرتی ہے۔ یہ سرچشمہ کبھی خشک نہیں ہوتا ، کبھی اس میں کمی نہیں آتی ، یہ کبھی کمزور نہیں ہوتا ”۔ “ یہ معجزانہ تغیرات جو ایک نظریہ ، ایک فرد اور ایک سوسائٹی کے اندر رونما کرتا ہے ، کوئی ایسا نظریہ نہیں کرسکتا جو خرافات اور افسانوں پر قائم ہوتا ہے ، جو ناقابل فہم ہو یا محض خوف اور حیرانگی اور تخیلاتی ہو بلکہ وہ عقیدہ کرسکتا ہے جو قابل فہم اور مضبوط اصولوں پر مبنی ہو۔ حقیقی دینی عقیدہ وہ ہوتا ہے جو انسان کو اس کائنات کی ظاہری اور باطنی قوتوں کے ساتھ یکجا کر دے اور انسان کی روح کے اندر اعتماد اور اطمینان پیدا کر دے۔ اور اس کے اندر ایک ایسی قوت پیدا کر دے جس کے ساتھ وہ تمام ناپائیدار اور زائل ہونے والی باطل قوتوں کا مقابلہ کرے اور اسے یقین ہو کہ آخر کار وہ فتح یاب ہوگا۔ یہ اعتماد اسے اللہ کی ذات سے حاصل ہو۔ اور یہ عقیدہ ایسا ہو جو انسان کو یہ بتاتا ہو کہ وہ اپنے ماحول کے واقعات سے ، ماحول کی تمام چیزوں اور تمام لوگوں کے ساتھ متعلق ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو اس کی منزل بھی دکھائے اور اس کا انجام بھی بتائے۔ اس کی پوری قوتوں کو مجتمع کرے اور ایک رخ پر ڈال دے۔ یہ ہے عقیدے کی قوت کا راز۔ کہ وہ تمام قوتوں کو مجتمع کر کے ایک محور کے گرد گھما دیتا ہے۔ ان کو ایک سمت عطا کرتا ہے۔ انسانوں کو ان کا ہدف معلوم ہوتا ہے اور وہ اپنے اس نصب العین کی طرف نہایت قوت ، یقین اور اعتماد سے بڑھتے ہیں۔ غرض عقیدے اور نظریات کی قوت میں یوں بھی اضافہ ہوجاتا ہے کہ یہ اس طرف جاتے ہیں جس طرف یہ پوری کائنات جاتی ہے۔ پوری کائناتی قوتیں جاتی ہیں ، ظاہری یا باطنی ہوں ۔ کیونکہ کائنات کے اندر جتنی بھی قوتیں ہیں وہ ایمان کے راستے پر چل رہی ہیں۔ یوں ایک مومن کے لئے یہ کائناتی قوتیں رفیق سفر ہوتی ہیں اور اس طرح یہ ایمانی قوت اور کائناتی قوتیں مل کر باطل پر حملہ آور ہوتی ہیں ، اگرچہ باطل بظاہر بڑی قوت نظر آئے اور آنکھوں کی چکا چوند کردینے والی ہو لیکن ایمانی قوت سے وہ پاش پاش ہو کر رہے گی۔ اللہ نے ہم سے کہا : یمنون علیک ان ۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (49 : 17) “ یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان سے کہو ، اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی ، اگر تم واقعی سچے ہو ”۔ یہ ہے وہ عظیم دولت جس کا مالک بھی اللہ ہے اور جس کا بخشنے والا بھی اللہ ہے۔ اور اللہ دولت ایمان اسی کے حوالے کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہوتا ہے کہ یہ اس فضل عظیم کا مستحق ہے۔ اللہ نے سچ کہا ، جو شخص ان حقائق و علوم کے ساتھ دوستی کرلے اور یہ معانی اور یہ شعور اسے حاصل ہوجائے اور ان کے اندر وہ زندہ ہو اور وہ اس کے اندر اس چھوٹے سے سیارے پر معمولی حالات میں مختصر زندگی گزار رہا ہو اس نے گویا کچھ بھی نہیں کھویا اور جو شخص اس دولت سے محروم ہوگیا ، وہ اگر ناز ونعم کی زندگی بھی بسر کرے ، اس طرح زیادہ کھائے پئے جس طرح مویشی بہت سا کھاتے اور پیتے ہیں ، تو وہ جان لے کہ اس سے یہ مویشی اچھے ہیں جو اپنی فطرت کے اعتبار سے خالق کریم کے مطیع فرمان ہیں۔

الحجرات 49:18

ان اللہ یعلم ۔۔۔۔۔ بما تعملون (49 : 18) “ اللہ زمین و آسمان کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو ، وہ اس کی نگاہ میں ہے ”۔ جو اللہ زمین و آسمانوں کے غیب سے واقف ہے ، جو ضمیروں کی بات جانتا ہے ، جو انسانی شعور سے بھی واقف ہے ، جو دیکھ رہا ہے کہ لوگ کرتے کیا ہیں۔ وہ صرف وہ باتیں ہی نہیں جانتا جو لوگوں کی زبان سے نکلتی ہیں بلکہ ان شعوری جذبات سے بھی واقف ہے جو دلوں میں جوش مارتے ہیں ، ان اعمال سے بھی واقف ہے جو ان دلی جذبات کے نیتجے میں عمل میں آتے ہیں۔ یہ ہے گیارہ آیات پر مشتمل یہ عظیم سورت ، یہ مومنین کے لئے نہایت ہی اہم نشانات راہ تجویز کرتی ہے اور نہایت ہی اعلیٰ اور پاکیزہ نشانات نیز انسانی شعور و ضمیر کی گہرائیوں میں نہایت ہی عظیم اصول اور حقائق کی نشاندہی کرتی ہے۔

ق 50:1

درس نمبر 247 ایک نظر میں یہ اس سورت کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع مسئلہ بعث بعد الموت ہے۔ مشرکین مکہ اس کا انکار کرتے تھے بلکہ جو لوگ بعث بعد الموت کے قائل تھے وہ ان کی جانب سے یہ عقیدہ رکھنے پر تعجب کرتے تھے۔ لیکن قرآن صرف ان کے اس غلط خیال ہی کو موضوع بحث نہیں بناتا۔۔۔۔ ۔ انکار پر بحیثیت مجموعی تنقید کرتا ہے اور ان کی اصلاح کر کے اور ان کی کج فکری کو درست کر کے ان کو سچائی کی راہ کی طرف لوٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن کریم کی سعی یہ ہے کہ ان کے غافل دلوں کو جھنجھوڑے اور خوب جگائے تا کہ وہ اس کائنات کے اندر جو عظیم حقائق ہیں ، ان کو سمجھنے کے لئے اپنے دل کے دروازے کھولیں ۔ اس لیے قرآن کریم محض منطقی انداز مناظرہ میں ان کے ساتھ موضوع بعث بعد الموت پر کوئی مباحثہ نہیں کرتا ۔ وہ صرف ان کے مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ ان کے زنگ آلود دماغ کو صیقل کرتا ہے کہ وہ غور وفکر سے کام لیں۔ وہ ان کے وجدان کو چھوتا ہے تا کہ اس کے اندر احساس تیز ہو اور وہ اپنے ماحول کے اندر پائے جانے والے حقائق سے براہ راست متاثر ہو سکے۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جس سے وہ لوگ خوب استفادہ کرسکتے ہیں جن کا کام دلوں کی اصلاح کرنا ہو۔ سورت کا آغاز حرف ق اور قرآن مجید کی قسم سے ہوتا ہے ، مطلب یہ کہ یہ قرآن مجید تو ایسے ہی حروف سے مرکب ہے اور لفظ قرآن کا پہلا حرف ہی قاف ہے۔ ٭٭٭٭٭ یہاں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ کس بات پر قسم اٹھائی جا رہی ہے۔ یہ قسم کلام کے آغاز میں ہے۔ اس کا پہلا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے کلام کا آغاز قسم سے کر رہا ہے ، لہٰذا بیدار ہوجاؤ، معاملہ غیر معمولی ہے۔ اللہ اور قسم ، لہٰذا معاملہ خطرناک ہے۔ شاید اس آغاز کا مقصد یہی ہے کیونکہ بجائے اس کے کہ بعد میں وہ بات ذکر کی جائے جس کے لئے قسم اٹھائی جا رہی ہے ، حرف اضراب “ بل ” کو لایا گیا ہے۔ کیونکہ قسم نے مخاطب پر خوب اثر ڈال دیا۔ اس لیے اب ان کے تعجب اور بعث بعد موت کو ایک “ انہونی بات سمجھنے ” کے موضوع کو لیا جاتا ہے ، اس اندز میں کہ گویا مشرکین کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ اٹھائے جانے کی بات کی تو انہوں نے اس کا یوں انکار کردیا گویا کفار کے نزدیک یہ ایک نئی بات ہے۔

ق 50:2

بل عجبوا ان ۔۔۔۔۔ شییء عجیب (2) ء اذا متنا ۔۔۔۔۔۔ رجع بعید (50 : 2 تا 3) “ بلکہ ان لوگوں کو تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود انہی میں سے ان کے پاس آگیا۔ پھر منکرین کہنے لگے : “ یہ تو عجیب بات ہے ، کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہوجائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے) ؟ یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے ”۔ کیا یہ بات قابل تعجب ہو سکتی ہے کہ ایک ڈرانے والا ان میں سے آگیا ۔ اس میں تو کوئی تعجب نہیں بلکہ یہ تو بالکل ایک قدرتی بات ہے اور فطرت سلیمہ اسے بڑی سادگی اور خوشی خوشی قبول کرتی ہے۔ یہ نہایت ہی معقول بات ہے کہ لوگوں کا مصلح اپنی قوم میں سے ہو ، لوگون کے احساسات میں ، ان کے ساتھ شریک ہو ، انہی جیسا شعور رکھتا ہو ، ان کی زبان بولتا ہو ، ان کی زندگی اور ان کی دوڑ دھوپ اور غم درد میں شریک ہو ، ان کے میلانات اور جذبات کو جانتا ہو ، ان کی طاقت اور حد برداشت سے واقف ہوتا کہ وہ انہیں بتلائے کہ جس شرک ، ظلم اور بد عملی میں وہ مبتلا ہیں ، اس کے نتیجے میں بہت ہی برا انجام ان کے انتظار میں ہے اور تا کہ ان کو سکھائے کہ انہوں نے کس طرح سیدھا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اور جدید دعوت کو اگر وہ قبول کرلیں تو انہیں اپنے اندر کیا کیا تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ اور ان تبدیلیوں اور فرائض اور ذمہ داریوں میں وہ پہلا شخص ہوگا اور ان کے ساتھ شامل ہوگا۔ ان کو خود رسالت پر تعجب تھا۔ پھر جو رسول آیا اس نے اپنی دعوت میں سے عقیدہ بعث بعد الموت پر زیادہ زور دینا شروع کردیا۔ کیونکہ اسلامی نظام کا دارومدار ہی آخرت کی جواب دہی کے عقیدے پر ہے۔ آخرت کی جوابدہی کے عقیدے ہی کے تمام مطلوبہ اعمال تقاضے ہیں۔ مسلم کا پہلا فریضہ ہی یہ ہے کہ وہ حق پر قائم ہو اور باطل کو نیچا دکھائے۔ وہ خیر کو لے کر اٹھے اور شرکا خاتمہ کر دے۔ اس کی پوری سرگرمی اللہ کی بندگی ہو۔ وہ ہر حرکت میں اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور تمام اعمال پر اس کے لئے جزاء ضروری ہے۔ کبھی تو یہ جزاء دنیا ہی میں ملتی ہے لیکن پوری جزاء صرف آخرت ہی میں مل سکتی ہے۔ ہر انسان کا آخری حساب و کتاب آخرت میں ہوگا۔ لہٰذا عالم آخرت نہایت منطقی اور ضروری ہے۔ لوگوں کو اٹھایا جانا ضروری ہے کہ وہ زندگی کا حساب دیں۔ جب کسی کے ذہن سے آخرت کی جوابدہی کا احساس ہی ختم ہوجائے تو اس شخص کی زندگی سے وہ تمام اعمال و اخلاق ناپید ہوجاتے ہیں جو اس عقیدے پر مبنی ہوں۔ ایسا شخص کم از کم ایک مسلمان ہرگز نہیں ہو سکتا۔ لیکن ان لوگوں نے اس مسئلے کو اس زاویہ سے نہیں دیکھا ۔ انہوں نے بالکل ایک دوسرے زاویہ سے اور بالکل ایک سادہ نقطہ نظر سے دیکھا ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے موت وحیات کی حقیقت پر بالکل غور نہیں کیا اور نہ انہوں نے اللہ کے نظام قضا وقدر کے کسی پہلو پر غور کیا۔ اس لئے وہ اس کے قائل ہوئے ۔

ق 50:3

ء اذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید (50 : 3) ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک ہوجائیں گے ! یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے “۔ ان کی نظروں کی میں مسئلہ یہ ہے کہ مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد زندگی کا دوبارہ پیدا ہونا مستعبد ہے اور یہ ایک نہایت ہی سادہ نظریہ ہے۔ کیونکہ ایک دفعہ جب مردہ مٹی میں زندگی ڈال دی گئی ہے تو دوبارہ مٹی میں اسی طرح زندگی ڈالنا کیا مشکل کام ہے جبکہ یہ معجزہ ان کے سامنے ہر لحظہ رو بعمل ہوتا رہتا ہے۔ اور اس کائنات کے ہر پہلو میں ہو رہا ہے۔ اس سورت میں قرآن کریم نے ان کو اس نکتے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ زندگی کی اس نمائش گاہ کے بارے میں ہم قرآن مجید کے اشارات اور تکوینی دلائل پر کوئی بات کریں۔ مناسب ہے کہ مرنے اور مٹی ہونے کی طرف انہوں نے جو اشارہ کیا اور جسے قرآن نے نقل کر کے اس پر تبصرہ کیا ، اس پر ذرا غور کریں۔ ء اذا متنا وکنا ترابا (50 : 3) ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک ہوجائیں گے “۔ ہاں ہم مر جائیں اور مٹی بھی ہوجائیں گے جو بھی قرآن کے ان الفاظ کو پڑھتا ہے جو قرآن نے کفار کے منہ سے لیے ہیں ، وہ اپنی ذات پر نگاہ ڈالتا ہے اپنے اردگرد دوسرے زندہ اشیاء کو دیکھتا ہے۔ اور وہ موت اور مٹی ہونے کے عمل پر ضرور غور کرتا ہے بلکہ جب وہ زندہ ہوتا ہے اور پھر رہا ہوتا ہے تو بھی وہ محسوس کرتا ہے کہ شاید مٹی ہونے کا عمل اس کے جسم میں جاری ہوچکا ہے۔ غرض موت کے سوا اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا تصور انسان کا دل ہلانہ دیتا ہو اور پھر قبر میں مٹی ہوجانے کے تصور ہی سے انسان کانپنے لگتا ہے۔

ق 50:4

اس پر جو تبصرہ قرآن کرتا ہے وہ اس اثر کو مزید گہرا کردیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ زمین اس جسم کو آہستہ آہستہ کھاتی ہے۔ قد علمنا ما۔۔۔۔۔ کتب حفیظ (50 : 4) ” ( حالانکہ ) زمین ان کے جسم میں سے جو چکھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے “۔ انداز تعبیر ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ زمین کو زندہ اور متحرک کردیا گیا ہے اور وہ ان اجسام کو کھا رہی ہے جو اس کے منہ میں آہستہ آہستہ غائب ہو رہے ہیں۔ اور یہ زمین ان اجسام کو کھا رہی ہے ، نہایت آہستگی کے ساتھ۔ اور پھر ان کے اجسام کو یوں دکھایا گیا ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ کھائے جا رہے ہیں۔ زمین ان کے جسم کے جس حصے کو کھاتی ہے ، اسے اللہ جانتا ہے اور وہ لکھا جا رہا ہے کہ وہ حصہ کہا ہے۔ اس لئے ان کے جسم کے ذرے ، مرنے کے بعد کہیں گم نہیں ہوجاتے۔ رہی یہ بات کہ اس مٹی میں روح کس طرح ڈال دی جائے گی تو یہ بات تو ایک بار ہوچکی ہے ۔ اور ان کے اردگرد جو لاتعداد زندہ اشیاء پیدا کی جا رہی ہیں اور جن کی کوئی انتہا نہیں ہے ان کو تو وہ دیکھ رہے ہیں۔ یوں دلوں کو اس قدر تیز احساس دلایا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ دل پگھل جاتے ہیں اور نرم ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر احساس کو اس قدر تیز احساس دلایا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ دل پگھل جاتے ہیں اور نرم ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر احساس کو اس قدر تیز کردیا جاتا ہے کہ وہ بات کو جلدی مانتے ہیں۔ یہ بطور تمہید اصل مقصود بالذات بات کہنے سے پہلے کیا جاتا ہے۔

ق 50:5

اس کے بعد ان کی شخصیت کا تجزیہ کر کے بتایا جاتا ہے اور وہ اصل سبب بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ وہی اعتراضات وہ کرتے ہیں یہ کہ انہوں نے سچائی کا مضبوط پلیٹ فارم چھوڑ دیا ہے ، ان کے پاؤں کے نیچے زمین ہی نہیں ہے۔ اس لیے یہ کسی موقف پر جم ہی نہیں سکتے۔ بل کذبوا بالحق لما جاءھم فھم فی امر مریج (50 : 5) “ بلکہ ان لوگوں نے تو جس وقت حق ان کے پاس آیا اسی وقت اسے صاف جھٹلا دیا۔ اسی وجہ سے اب یہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ بھی ایک نہایت منفرد انداز تعبیر ہے۔ جو لوگ مستقل سچائی کو ترک کرتے ہیں تو پھر ان کے قدم کسی جگہ نہیں جم سکتے۔ سچائی ایک ایسا نقطہ ہے جس پر وہ شخص قائم ہوتا ہے جو سچائی پر ایمان لاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے قدموں میں کوئی لغزش نہیں ہوتی ۔ اس روش میں اضطراب نہیں ہوتا کیونکہ اس کے قدموں کے نیچے زمین مضبوط ہوتی ہے۔ اس میں کوئی زلزلہ نہیں آتا اور نہ اس کا کوئی حصہ زمین میں دھنستا ہے جبکہ اس کے ماحول کے دوسرے افراد ڈانواں ڈول ، مضطرب ، بےثبات اور دولت یقین سے محروم ہوتے ہیں۔ نہ ان میں کوئی مضبوط کردار ہوتا ہے اور نہ وہ مشکلات برداشت کرسکتے ہیں۔ جس نے بھی حق سے تجاوز کرلیا اور ادھر ادھر ہوگیا ، وہ پھسل گیا۔ اور ثبات وقرار سے محروم ہوگیا۔ اور اسے کبھی اطمینان نہ ہوگا۔ وہ ہر وقت شک ، پریشانی اور بےچینی میں مبتلا رے گا۔ پھر جو شخص سچائی کو چھوڑ دے تو ہر طرف سے خواہشات نفس کی آندھیاں چلنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ میلانات و خواہشات ، بدلتی ہوئی خواہشات ، اسے کسی ایک جگہ ٹکنے نہیں دیتیں ۔ حیران و پریشان ، افتاں و خیزاں کبھی ادھر دوڑتا ہے ، کبھی ادھر بھاگتا ہے۔ جہاں کھڑا ہوتا ہے وہاں مطمئن نہیں ہوتا۔ پاگلوں کی طرح کبھی دائیں ، کبھی بائیں ، کبھی آگے کبھی پیچھے دوڑتا رہتا ہے۔ اس کے لئے کوئی جائے امن وقرار نہیں ہوتی۔ یہ ایک عجیب انداز بیان ہے کہ وہ ” امر مریج “ میں پھنسا ہوا ہے ۔ ایسی حالت میں جس میں الجھن ہو اور وہ فیصلہ نہ کرسکتا ہو اور دائمی خلجان میں گرفتار ہو۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ایسے شخص کی اندرونی کیفیات کو اس کی حرکات ظاہر کر رہی ہیں اور لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔

ق 50:6

مضمون یہ چل رہا تھا کہ یہ لوگ بعث بعد الموت اور حشر ونشر کے قائل نہ تھے۔ اس کے لئے بتایا گیا تھا کہ اس کے لئے یہی ثبوت کافی ہے کہ اس کائنات کی بنیاد حق پر ہے جو اس کے اندر جما ہوا ہے اور پہاڑ کی طرح بلند نظر آتا ہے۔ لہٰذا اب یہاں اس کائنات کے اندر پائے جانے والے حق کے بعض مناظر پیش کئے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ذرا آسمانوں اور زمین پر غور کرو ، زمین کے اندر جمے ہوئے پہاڑوں کو دیکھو۔ آسمانوں سے برسنے والی بارشوں کو دیکھو ، بلندیوں تک بڑھنے والے کھجور کے درختوں کو دیکھو ، با غات و نباتات کو دیکھو ، یہ سب حق کی علامات ہیں۔ جس طرح یہ چیزیں مستقل ہیں ، حق بھی مستقل ہے۔ نہایت ہی خوبصورت انداز میں تعبیر میں سچائی کی یہ مثالیں۔ افلم ینظروا الی ۔۔۔۔۔۔۔ من فروج (50 : 6) “ اچھا ، تو کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا ، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے “۔ یہ آسمان اس کائنات کی کتاب کا ایک صفحہ ہے۔ یہ کتاب اس سچائی پر گواہ ہے جس کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں۔ یہ دیکھتے نہیں کہ اس کائنات میں کس قدر بلندی ، ثبات اور قرار ہے ۔ اور پھر ان آسمانوں میں زیب وزینت اور کمال و جمال ہے اور ان کے نظام میں کوئی خلل اور کوئی اضطراب نہیں ہے۔ ثبات اور کمال و جمال آسمان کی صفت ہے اور یہ صفات یہاں انداز بیان کے اندر بھی ایک ہم آہنگی پیدا کرتی ہے کیونکہ حق میں بھی کمال و جمال اور ثبات وقرار ہوتا ہے۔ چناچہ آسمانوں کے لئے جمیعت ، خوبصورتی ، دوام اور سوراخوں اور دراڑوں سے پاک ہونے کی صفات لائی گئی ہیں۔

ق 50:7

ایسی ہی صفات زمین کے لئے استعمال ہوئی ہیں کیونکہ زمین بھی اس کائنات کی کتب کا ایک سور ہے۔ اور اسے ثبات اور کمال و جمال اور قرار حاصل ہے۔ زمین کو آسمانوں کے بالمقابل لایا گیا۔ والارض مددنھا ۔۔۔۔۔ کل زوج بھیج (50 : 7) ” اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگادیں ”۔ زمین کا بچھایا ہوا ہونا ، پہاڑوں کا جما ہوا ہونا اور نباتات کا خوبصورت ہونا ، تمام صفات کمال و جمال دکھانے والی چیزیں ہیں اور بادی النظر میں یہ صفات نظر آتی ہیں۔ آسمان کی خوبصورت اور طویل و عریض تعمیر ، اور بچھی ہوئی زمین اور بلند وبالا پہاڑوں کے مناظر دکھا کر ان لوگوں کے دل و دماغ کو ایک نکتے کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔

ق 50:8

تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لئے جو (حق کی طرف ) رجوع کرنے والا ہو ”۔ یہ بصیرت عطا کرنے والی باتیں ہیں۔ بصارت دینے والی باتیں ہیں اور دلوں کو قبولیت حق کے لئے کھولنے والی باتیں ہیں۔ اس مطالعہ سے انسانی دل و دماغ اور انسانی روح اس کائنات کے ساتھ جڑ جاتی ہے اور اس حکمت ، تربیت اور کمال تخلیق کو پا لیتی ہے جو اس کے اندر موجود ہے اور پھر جن لوگوں کا دل اپنے معبود کی طرف مائل ہوتا ہے وہ اپنے رب کے کمالات کو دیکھ کر لوٹ جاتا ہے۔ یوں انسانی دل اور اس عظیم اور خوبصورت کائنات کے درمیان اتحادو اتصال پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان کتاب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کائنات سے متعارف ہوتا ہے اور انسانی دل اور انسانی سوچ پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی پر یہ تعلق اور رابطہ اثر انداز ہوتا ہے اور یہ وہ روابطہ ہے جو قرآن سائنس اور معرفت الٰہی کے درمیان پیدا کرتا ہے۔ یعنی اس معرفت کے درمیان جو انسان رکھتا ہے اور اس حقیقت کے درمیان جو سائنسی علم رکھتا ہے اور ہمارے دور میں علم کا جو سائنسی منہاج مروج ہے اس میں یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ رابطہ نہیں ہے۔ یوں اللہ نے انسانوں اور اس کائنات کے درمیان جس کے اندر وہ رہتے ہیں ایک تعلق پیدا کیا تھا اور جدید دور کے اہل علم اور سائنس دانوں نے یہ تعلق کاٹ دیا ہے۔ انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور جب تک وہ اس کائنات کا ہمدم نہیں ہوگا اس وقت تک اس کی زندگی نہ مستحکم ہو سکتی ہے نہ مستقیم ۔ اور جب تک اس کے دل کی دھڑکن اور اس کائنات کی حرکت کے اندر ہم آہنگی نہ ہوگی ، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ستاروں اور سیارو ، آسمانوں اور فضاؤں ، نباتات اور حیوانات اس کائنات اور اس کی وسعتوں کے اندر انسان جس قدر بھی نئی دریافت کرے۔ وہ دریافت دل سے ہم آہنگ ہو۔ اور انسان اس نئی دریافت کردہ دنیا کا دوست ہو اور اس طرح وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ انسان اور اس کائنات کا آخری خالق اور سبب اللہ تعالیٰ ہے۔ جب تک علم ، دریافت اور معرفت کی آخری منزل ، خالق کی منزل تک نہ پہنچ سکے اسے سمجھاجائے کہ وہ علم ناقص ہے۔ ایسی ہر تحقیق اور ایسی ہر تحقیق کے ہر نتیجہ بانجھ ہے ، بےمقصد ہے اور انسان کے لئے غیر مفید ہے۔ یہ کائنات سچائی کی کھلی کتاب ہے جسے ہر زبان میں پڑھا جانا ہے اور ہر ذریعہ سے اس کا ادراک کیا جاتا ہے۔ اسے ایک خیمے اور جھونپڑی کا باشندہ بھی پڑھ سکتا ہے اور نہایت ہی تعلیم یافتہ اور محلات میں رہنے والا بھی پڑھ سکتا ہے۔ ہر شخص اپنے قوت ادراک کے مطابق اسے پڑھتا ہے۔ ” ہر کسے از غن خود شد یاد من “ اسے اپنی صلاحیت کے مطابق اس کے اندر حق نظر آتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اسے اس نیت سے پڑھ رہا ہو کہ وہ حق اور سچائی تک پہنچ جائے۔ یہ کتاب ہر حال میں قائم ہے اور ہر کسی کے سامنے کھلی ہے۔ تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور نصیحت دینے والی ہر اس شخص کے لئے جو سچائی کا متلاشی ہو ”۔ لیکن جدید سائنسی علوم کو اس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ ان سے یہ تبصرہ اور آنکھیں کھول دینے کی صلاحیت کو ختم کردیا گیا ہے ۔ انسان کے دل اور اس کی روح کا تعلق اس کائنات سے کاٹ دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ علم ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے دل اندھے ہیں۔ اور ان کے سروں پر نام نہاد سائنسی انداز فکر سوار ہے۔ اور یہ سائنسی اندازیہ ہے کہ کائنات کا تعلق انسان کی روح سے کاٹ دیا جائے۔ لیکن کائنات کا ایمانی مطالعہ ان لوگوں کے نام نہاد سائنسی انداز میں بہرحال کوئی کمی نہیں کرتا بلکہ وہ اس پر یہ وظیفہ کرتا ہے کہ یہ کائناتی حقائق ایک دوسرے سے بھی مربوط ہیں اور پھر یہ حقائق ایک حقیقت کبریٰ سے بھی مربوط ہیں اور ان حقائق کو اس حقیقت کبریٰ سے مربوط کر کے پھر تمام حقائق کو انسانی ادراک اور انسانی شعور اور انسانی روح کے ساتھ یوں پیوست کرتا ہے کہ یہ انسان کو متاثر کریں۔ انسان کی زندگی کو متاثر کریں۔ یہ محض خشک معلومات ہی نہ ہوں جو ذہنوں میں دفن ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کوئی مقصد نہ ہوگا بلکہ ان کو عملی زندگی پر ایمان کے راستے سے اثر انداز ہونا چاہئے اور ہماری تمام تحقیقات اور انکشافات کو ایمان کے راستے سے حقیقت کبریٰ سے جڑ کر انسان کی عملی زندگی پر اثر انداز ہونا چاہئے۔ اس طرح اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے بعد اب بحث اس کتاب کائنات کے اندر آگے بڑھتی ہے۔ پیش نظر یہی مضمون ہے کہ موت کے بعد حشر ونشر ہوگا اور حساب و کتاب ہوگا۔

ق 50:9

تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لئے جو (حق کی طرف ) رجوع کرنے والا ہو ”۔ یہ بصیرت عطا کرنے والی باتیں ہیں۔ بصارت دینے والی باتیں ہیں اور دلوں کو قبولیت حق کے لئے کھولنے والی باتیں ہیں۔ اس مطالعہ سے انسانی دل و دماغ اور انسانی روح اس کائنات کے ساتھ جڑ جاتی ہے اور اس حکمت ، تربیت اور کمال تخلیق کو پا لیتی ہے جو اس کے اندر موجود ہے اور پھر جن لوگوں کا دل اپنے معبود کی طرف مائل ہوتا ہے وہ اپنے رب کے کمالات کو دیکھ کر لوٹ جاتا ہے۔ یوں انسانی دل اور اس عظیم اور خوبصورت کائنات کے درمیان اتحادو اتصال پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان کتاب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کائنات سے متعارف ہوتا ہے اور انسانی دل اور انسانی سوچ پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی پر یہ تعلق اور رابطہ اثر انداز ہوتا ہے اور یہ وہ روابطہ ہے جو قرآن سائنس اور معرفت الٰہی کے درمیان پیدا کرتا ہے۔ یعنی اس معرفت کے درمیان جو انسان رکھتا ہے اور اس حقیقت کے درمیان جو سائنسی علم رکھتا ہے اور ہمارے دور میں علم کا جو سائنسی منہاج مروج ہے اس میں یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ رابطہ نہیں ہے۔ یوں اللہ نے انسانوں اور اس کائنات کے درمیان جس کے اندر وہ رہتے ہیں ایک تعلق پیدا کیا تھا اور جدید دور کے اہل علم اور سائنس دانوں نے یہ تعلق کاٹ دیا ہے۔ انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور جب تک وہ اس کائنات کا ہمدم نہیں ہوگا اس وقت تک اس کی زندگی نہ مستحکم ہو سکتی ہے نہ مستقیم ۔ اور جب تک اس کے دل کی دھڑکن اور اس کائنات کی حرکت کے اندر ہم آہنگی نہ ہوگی ، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ستاروں اور سیارو ، آسمانوں اور فضاؤں ، نباتات اور حیوانات اس کائنات اور اس کی وسعتوں کے اندر انسان جس قدر بھی نئی دریافت کرے۔ وہ دریافت دل سے ہم آہنگ ہو۔ اور انسان اس نئی دریافت کردہ دنیا کا دوست ہو اور اس طرح وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ انسان اور اس کائنات کا آخری خالق اور سبب اللہ تعالیٰ ہے۔ جب تک علم ، دریافت اور معرفت کی آخری منزل ، خالق کی منزل تک نہ پہنچ سکے اسے سمجھاجائے کہ وہ علم ناقص ہے۔ ایسی ہر تحقیق اور ایسی ہر تحقیق کے ہر نتیجہ بانجھ ہے ، بےمقصد ہے اور انسان کے لئے غیر مفید ہے۔ یہ کائنات سچائی کی کھلی کتاب ہے جسے ہر زبان میں پڑھا جانا ہے اور ہر ذریعہ سے اس کا ادراک کیا جاتا ہے۔ اسے ایک خیمے اور جھونپڑی کا باشندہ بھی پڑھ سکتا ہے اور نہایت ہی تعلیم یافتہ اور محلات میں رہنے والا بھی پڑھ سکتا ہے۔ ہر شخص اپنے قوت ادراک کے مطابق اسے پڑھتا ہے۔ ” ہر کسے از غن خود شد یاد من “ اسے اپنی صلاحیت کے مطابق اس کے اندر حق نظر آتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اسے اس نیت سے پڑھ رہا ہو کہ وہ حق اور سچائی تک پہنچ جائے۔ یہ کتاب ہر حال میں قائم ہے اور ہر کسی کے سامنے کھلی ہے۔ تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور نصیحت دینے والی ہر اس شخص کے لئے جو سچائی کا متلاشی ہو ”۔ لیکن جدید سائنسی علوم کو اس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ ان سے یہ تبصرہ اور آنکھیں کھول دینے کی صلاحیت کو ختم کردیا گیا ہے ۔ انسان کے دل اور اس کی روح کا تعلق اس کائنات سے کاٹ دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ علم ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے دل اندھے ہیں۔ اور ان کے سروں پر نام نہاد سائنسی انداز فکر سوار ہے۔ اور یہ سائنسی اندازیہ ہے کہ کائنات کا تعلق انسان کی روح سے کاٹ دیا جائے۔ لیکن کائنات کا ایمانی مطالعہ ان لوگوں کے نام نہاد سائنسی انداز میں بہرحال کوئی کمی نہیں کرتا بلکہ وہ اس پر یہ وظیفہ کرتا ہے کہ یہ کائناتی حقائق ایک دوسرے سے بھی مربوط ہیں اور پھر یہ حقائق ایک حقیقت کبریٰ سے بھی مربوط ہیں اور ان حقائق کو اس حقیقت کبریٰ سے مربوط کر کے پھر تمام حقائق کو انسانی ادراک اور انسانی شعور اور انسانی روح کے ساتھ یوں پیوست کرتا ہے کہ یہ انسان کو متاثر کریں۔ انسان کی زندگی کو متاثر کریں۔ یہ محض خشک معلومات ہی نہ ہوں جو ذہنوں میں دفن ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کوئی مقصد نہ ہوگا بلکہ ان کو عملی زندگی پر ایمان کے راستے سے اثر انداز ہونا چاہئے اور ہماری تمام تحقیقات اور انکشافات کو ایمان کے راستے سے حقیقت کبریٰ سے جڑ کر انسان کی عملی زندگی پر اثر انداز ہونا چاہئے۔ اس طرح اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے بعد اب بحث اس کتاب کائنات کے اندر آگے بڑھتی ہے۔ پیش نظر یہی مضمون ہے کہ موت کے بعد حشر ونشر ہوگا اور حساب و کتاب ہوگا۔

ق 50:10

آسمانوں سے جو پانی نازل ہوتا ہے وہ مردہ زمین کو زندہ کرنے سے بھی پہلے مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور اس کا نزول ہی دلوں پر بہت ہی اچھا اثر ڈالتا ہے ۔ نہ صرف یہ کہ چھوٹے بچے ہی بارش سے خوش ہوتے ہیں اور اس کے لئے دوڑتے ہیں اس میں اچھلتے کودتے ہیں بلکہ معمر ہوگ جن کے اندر احساس جمال ہو وہ بھی بارش کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور ان کے دل بھی بارش میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ بچے تو ہوتے ہیں چھوٹے ہیں۔ یہاں بارش کے پانی کو ماء مبارک کہا گیا ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مختلف قسم کے پھلوں کے باغات اور کٹنے والی کھیتیاں تیار فرماتا ہے اور اسی کے ذریعہ کھجوروں کے اونچے درخت اور ان کے پختہ پھلوں اور خوبصورت درختوں کو اگایا جاتا ہے۔ والنحل بسقت لھا طلع نضید (50 : 10) ” بلند وبالا کھجور کے درخت پیدا کر دئیے ہیں جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہ بہ تہ لگتے ہیں “۔ خوشوں کے لئے تہ بہ تہ کی صفت لائی گئی ۔ اس سے بلند وبالا درخت کی خوبصورت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس کے اوپر تہ بہ تہ خوشے لگے ہوئے نظر آئیں۔ مضمون اور معنی کے اعتبار سے بھی یہ الفاظ مناسب ہیں کیونکہ بات حق و سچائی کی ہو رہی ہے۔ حق بلند وبالا بھی ہوتا ہے اور خوبصورت بھی اور اس کا بول بھی بالا ہونا چاہئے۔ اور انسان پر یہ مہربانیاں کر کے ، انسانی دل کے اندر ممنونیت پیدا کی جا رہی ہے کہ دیکھو یہ شفاف پانی ، یہ باغ و راغ ، یہ کھیت اور حیوانات اور یہ آسمانوں سے باتیں کرنے والے پھلوں سے لدے کھجور کے درخت ، یہ سب کچھ۔

ق 50:11

رزقا للعباد (50 : 11) ” یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے گا “۔ اس رزق کے اسباب اللہ کہاں سے چلا کر لاتا ہے۔ پھر نباتات اگاتا ہے ، پھر ثمرات لگاتا ہے ، یہ سب کچھ بندوں کے لئے۔ اور اللہ ہی صحیح آقا ہے اور اس کا پورا پورا شکر ادا کرنے کی قدرت ہی یہ بندے نہیں رکھتے۔ اور اب یہ کہ یہ پوری کائنات اس ہدف کی طرف بڑھ رہی ہے۔ واحیینا بہ بلدۃ میتتا کذلک الخروج (50 : 11) ” اور اس پانی سے ہم ایک مردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے نکلنا بھی اسی طرح ہوگا “۔ یہ عمل تمہارے ماحول میں رات دن دہرایا جا رہا ہے ، تم اس کے عادی ہوگئے ہو۔ دیکھتے ہو لیکن یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے اور پھر بھی تم اعتراض کرتے ہو۔ اگر تم غور کرتے تو تمہیں اپنا اعتراض عجیب لگتا۔ جس طرح موجودہ زمین پر لوگ پیدا ہورہے ہیں۔ اسی سہولت سے دوبارہ اٹھا لیے جائیں گے۔ قرآن کا انداز کیا ہی شاندار ہے۔ پہلے دلائل دے کر بعد دعویٰ ، کہ کائنات سے مختلف قسم کے دلائل اور موثرات کی ایک طویل فہرست دے کر آخر میں کہتا ہے کہ ” یوں “ ۔ اور اس انداز سے انسان بہت متاثر ہوتا ہے۔

ق 50:12

اب انسانی تاریخ کے طویل ریکارڈ سے کچھ عبرتیں اور نصیحتیں ، اس سے قبل پورے دلائل دئیے گئے تھے وہ اس کائنات کی کھلی کتاب سے تھے۔ اب کتاب تاریخ کے اوراق الٹئے ! اور دیکھئے کہ جن لوگوں نے آخرت کی جوابدہی کا انکار کیا ان کا انجام کیا ہوا۔ اپنے رویے پر ذرا غور کرو۔ انہوں نے بھی اسی طرح تکذیب کی جس طرح تم کر رہے ہو اور ان پر جو عذاب آیا کیا تم پر ایسا عذاب نہیں آسکتا ؟ کذبت قبلھم ۔۔۔ وثمود (12) وعاد وفرعون واخوان لوط (13) واصحب الایکۃ ۔۔۔۔۔۔ فحق وعید (14) افعیینا بالحلق ۔۔۔۔۔ جدید (50 : 12 تا 14) ” ان سے پہلے نوح کی قوم ، اور اصحاب الرس اور ثمود اور عاد ، اور فرعون ، اور لوط کے بھائی ، اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعید ان پر چسپاں ہوگئی۔ کیا پہلی بات کی تخلیق سے ہم عاجز تھے ؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اس کے معنی ہیں کنواں ، وہ کنواں جس کا من پتھروں سے بنا ہوا ہو ، اور ایکہ کے معنی ہیں درختوں کا جھنڈ۔ اصحاب الایکہ غالبا قوم شعیب ہے۔ اصحاب الراس کی تفصیلات قرآن میں وارد نہیں ہیں۔ تبع حمیری بادشاہوں کا لقب ہے۔ اور باقی اقوام جن کی طرف اشارہ کیا ہے وہ مشہور ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ یہاں اس سرسری اشارے سے مقصد ان اقوام کی تفصیلات دینا نہیں ہے۔ بلکہ صرف یہ بیان کرنا ہے کہ ان کو ہلاک کیا گیا۔ جب انہوں نے رب العالمین کے رسولوں کی تکذیب کی۔ قابل توجہ یہ فقرہ ہے۔

ق 50:13

اب انسانی تاریخ کے طویل ریکارڈ سے کچھ عبرتیں اور نصیحتیں ، اس سے قبل پورے دلائل دئیے گئے تھے وہ اس کائنات کی کھلی کتاب سے تھے۔ اب کتاب تاریخ کے اوراق الٹئے ! اور دیکھئے کہ جن لوگوں نے آخرت کی جوابدہی کا انکار کیا ان کا انجام کیا ہوا۔ اپنے رویے پر ذرا غور کرو۔ انہوں نے بھی اسی طرح تکذیب کی جس طرح تم کر رہے ہو اور ان پر جو عذاب آیا کیا تم پر ایسا عذاب نہیں آسکتا ؟ کذبت قبلھم ۔۔۔ وثمود (12) وعاد وفرعون واخوان لوط (13) واصحب الایکۃ ۔۔۔۔۔۔ فحق وعید (14) افعیینا بالحلق ۔۔۔۔۔ جدید (50 : 12 تا 14) ” ان سے پہلے نوح کی قوم ، اور اصحاب الرس اور ثمود اور عاد ، اور فرعون ، اور لوط کے بھائی ، اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعید ان پر چسپاں ہوگئی۔ کیا پہلی بات کی تخلیق سے ہم عاجز تھے ؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اس کے معنی ہیں کنواں ، وہ کنواں جس کا من پتھروں سے بنا ہوا ہو ، اور ایکہ کے معنی ہیں درختوں کا جھنڈ۔ اصحاب الایکہ غالبا قوم شعیب ہے۔ اصحاب الراس کی تفصیلات قرآن میں وارد نہیں ہیں۔ تبع حمیری بادشاہوں کا لقب ہے۔ اور باقی اقوام جن کی طرف اشارہ کیا ہے وہ مشہور ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ یہاں اس سرسری اشارے سے مقصد ان اقوام کی تفصیلات دینا نہیں ہے۔ بلکہ صرف یہ بیان کرنا ہے کہ ان کو ہلاک کیا گیا۔ جب انہوں نے رب العالمین کے رسولوں کی تکذیب کی۔ قابل توجہ یہ فقرہ ہے۔

ق 50:14

کل کذب الرسل فحق وعید (50 : 14) ” ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا آخر کار میری وعید ان چسپاں ہوگئی “ ۔ اس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ رسول بھی ایک ہیں۔ ان کے منصب کی نوعیت بھی ایک ہے اور ان کا مقصد بھی ایک رہا ہے حالانکہ سب کے سب نے رسولوں کو نہ جھٹلایا تھا۔ بلکہ ایک رسول کو جھٹلایا لیکن ایک رسول کو جھٹلانا بھی دراصل سب کو جھٹلانا ہے۔ رسول سب بھائی ہیں اور رسالت ایک ہی شجرۂ نسب ہے جس کی جڑیں دور تک تاریخ میں چلی گئی ہیں اور اس شجرے کی ہر شاخ دراصل اس کی خصوصیات کی تلخیص ہے۔ اور اس کی ایک صورت ہے۔ ۔۔ جس نے ایک شاخ کو چھوڑ دیا اس نے پورے سلسلے کو پکڑ لیا۔ فحق وعید (50 : 14) ” پس ان پر میری وعید چسپاں ہوگئی ” ۔ جس کی تفصیلات سامعین کو معلوم ہیں۔ ان اقوام پر عذاب الٰہی تکذیب کی وجہ سے آیا اور تکذیب انہوں نے قیامت کی ، کی تھی ۔ تو اللہ کا سوال۔

ق 50:15

افعیینا بالخلق الاول (50 : 15) ” کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے “۔ یعنی ان کے سامنے کیا یہ شہادت موجود نہ تھی ، تخلیق چونکہ موجود تھی اس لیے جواب نہ دیا۔ بل ھم فی لبس من خلق جدید (50 : 15) ” بلکہ ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے تھے “ ۔ یہ دیکھتے نہ تھے کہ ان کے سامنے یہ عمل موجود ہے۔ شہادت موجود ہے لہٰذا ان کا علاج ہی یہی تھا جو ہوا۔

ق 50:16

درس نمبر 248 ایک نظر میں یہ اس سورت کا دوسرا سبق ہے۔ اس میں بھی بعث بعد الموت کی بحث ہے جس طرح پہلے حصے کا موضوع بھی یہی تھا۔ تکذیب کرنے والوں کے سامنے کچھ مزید موثر دلائل رکھے گئے ہیں۔ لیکن یہ دلائل ذرا دھمکی آمیز انداز میں ہیں اور خوفناک مناظر پر مشتمل ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے جس طرح سورت کے آغاز میں تھا۔ پھر سکرات موت کا ذکر ہے ، پھر حساب و کتاب اور ہر کسی کے اعمال نامے کی پیشی کا ذکر ہے اور پھر جہنم کا منہ کھلا ہوگا اور جب بھی اس میں اس کی انسانی خوراک کی کوئی قسط پھینکی جائے گی تو وہ منہ چاٹ کر اور اسے چکھ کر کہے گی۔ ھل من مزید (50 : 30) ” کیا اور بھی ہے “۔ غرض یہ ایک ہی سفر ہے ، پیدائش سے شروع ہوتا ہے۔ موت کے سکرات سے گزرتا ہے اور حساب و کتاب پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ زندگی کا طویل سفر ہے ، باہم متصل اور مربوط ۔ اور اس منظر میں اسے مسلسل کڑیوں کی شکل میں قلم بند کیا گیا ہے جس کے اندر کوئی کڑی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہے۔ نہ کوئی کسی کڑی یا مرحلے سے بچ کر نہیں نکل سکتا ہے۔ اور انسان اس سفر کے آغاز سے انتہا تک اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کسی جگہ یا مرحلے میں وہ اللہ سے آزاد نہیں ہے۔ ہر وقت اللہ کی نگرانی میں ہے۔ اس سورت میں اس سفر کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ خوفناک بھی ہے اور حیران کن بھی کہ ایک انسان اللہ قہار و جبار کے قبجہ قدرت میں سفر کے مراحل طے کر رہا ہے ، وہ اللہ جو دلوں کے تمام بھیدوں کو جاننے والا ہے۔ انسان کیا کرسکتا ہے جب اسے بلانے والا وحدہ لا شریک ہے ، نہ بھولتا ہے ، نہ سو تا ہے اور نہ کسی چیز سے غافل رہتا ہے۔ انسان تو اس وقت بھی بےحد ہراساں ہوجاتا ہے جب اسے احساس ہو کہ اس کے پیچھے کسی ارضی حکومت کی سی آئی ڈی لگی ہوئی ہے۔ زمین والوں کی حکومت کیا ہوگی اور ان کے جاسوس کیا ہوں گے۔ اگر کوئی خفیہ پولیس نگری کر بھی رہی ہے تو انسان کی ظاہری حرکت کی نگرانی کر رہی ہے۔ وہ اس پولیس سے گھر میں چھپ جاتا ہے جب وہ اپنے گھر کے اندر آکر اپنے پیچھے دروازہ بند کرے یا وہ اپنے منہ بند کر دے اور منہ سے لفظ تک نہ نکالے۔ لیکن اللہ جبار وقہار کی نگرانی بڑی سخت ہے۔ انسان جہاں بھی ہو ، جس حال میں بھی ہو اس کے کارندے ہر وقت لکھ رہے ہیں اور وہ دلوں کے بھیدوں تک کو جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی نگرانی کڑی نگرانی ہے۔ آیت کے آغاز میں ہے۔ ولقد خلقنا الانسان (50 : 16) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے “۔ یہاں اس عبارت کے ایک ضمنی مفہوم کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ یہ کہ کسی بھی چیز مشینری یا آلے کا بنانے والا اس کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔ حالانکہ وہ اس کا خالق نہیں ہوتا کیونکہ آلات اور مشینری کا مادہ تو اس نے نہیں بنایا اور اس کی تشکیل اور ترکیب میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا۔ جبکہ اللہ خالق بھی ہے موجد بھی اور انسان کو جوڑنے والا بھی ہے۔ یہ آغاز سے انتہا تک اللہ کے دست قدرت سے نکلا ہوا ہے۔ اس لیے اللہ کی اس حقیقت اور اس کے اسرارو رموز سے خوب واقف ہے۔ اس کے ماضی ، حال اور مآل سے وہ آگاہ ہے۔ ونعلم ما توسوس بہ نفسہ (50 : 16) ” اور اس کے دل میں ابھرنے والے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں “۔ یوں انسان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی ہر چیز اللہ کے سامنے ظاہر ہے۔ اس کے اور خالق کے درمیان پردہ نہیں ہے۔ اس کے دل کی خفیہ ترین امنگوں سے بھی خالق واقف ہے۔ اور یوم الحساب کے لئے تو ہر طرح کی تیاری ہو رہی ہے جس کا وہ منکر ہے۔ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید (50 : 16) ” اور ہم اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں “۔ اس شہ رگ سے جس میں اس کا خون دوڑ رہا ہے۔ یہ اللہ کے قبضہ ملکیت کی ایک تصویر ہے۔ اور اللہ کی براہ راست نگرانی ہے۔ جب انسان اس حقیقت کا تصور کرتا ہے تو اس کارواں روان کانپ اٹھتا ہے۔ اگر انسان صرف اسی آیت کے مفہوم کو مستحضر رکھے تو وہ کبھی ایسی بات نہ کرے جس سے اللہ ناراض ہو بلکہ انسان غیر پسندیدہ خیالات کو اپنے دل ہی میں نہ لائے۔ صرف یہی آیت اس بات کے لئے کافی ہے کہ انسان ہر وقت محتاط رہے ، ہر وقت خائف رہے اور ہر وقت حساب و کتاب کے لئے بیدار رہے۔ قرآن کریم مزید اس نگرانی کی تشریح یوں کرتا ہے کہ انسان کی پوری زندگی ، ہر حرکت ، سونا کھانا ، پینا ، خاموش رہنا ، بات کرنا ، غرض سفر زندگی پورے کا پورا دو فرشتوں کے درمیان کٹ رہا ہے۔ یہ فرشتے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ اس کے ہر لفظ کو اس کے منہ سے نکلتے ہی ریکارڈ رکر لیتے ہیں۔

ق 50:17

اذ یتلقی المتلقین عن الیمین وعن الشمال قعید (50 : 17) ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (50 : 18) ” دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہیں۔ ہر چیز ثبت کر رہے ہیں ۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لئے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو “ ۔ یعنی جو نگران ہے وہ حاضر باش ہے۔ یعنی عتید رقیب کی صفت ہے۔ یہ مفہوم نہیں ہے جس طرح ذہن میں آتا ہے کہ دو نگرانوں میں سے ایک کا نام رقیب ہے اور دوسرے کا عتید ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح ریکارڈ کرتے ہیں ؟ اس سلسلے میں انسان کو اپنے تخیلات پیش نہ کرنا چاہئے ۔ یہ غیبی امور ہیں اور ان کو اسی طرح قبول کرنا چاہئے جس طرح قرآن میں مذکور ہیں۔ مفہوم پر ہمارا ایمان ہے اور کیفیت کا ہمیں پتہ نہیں ہے۔ اگر کیفیت کا پتہ لگ بھی جائے تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پھر بعض کیفیات ہمارے تجربات کے دائرے ہی میں نہیں ہوتیں اور ہم ان کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ آج کے دور جدید میں ریکارڈنگ کے وہ طریقے ہم نے دیکھ لیے ہیں جن کا تصور بھی ہمارے آباء و اجداد نہ کرسکتے تھے۔ ان طریقوں سے انسان کی ہر حرکت اور ہر لفظ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ آڈیو ، وڈیو ، ٹیپ ، سینما کی ریل ، اور ٹیلی ویژن کے ٹیپ (اور اب کمپیوٹر اور اس کا نیٹ ورک) یہ تو وسعت آگئی ہے انسانی دائرہ ریکارڈ میں۔ جہاں اللہ اور اس کے عملے کا تعلق ہے تو ان کے پاس ایسے ذرائع اور ایسے طریقے ہوسکتے ہیں جن کا ہم ابھی تک تصور ہی نہیں کرسکتے۔ بس اللہ نے جو اطلاع کردی ہے اس پر یقین کرو۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس حقیقت کے دائرے کے اندر زندہ رہیں جس کی تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ اور اس شعور کو تازہ کریں کہ ہم جو بات بھی کرتے ہیں جس فعل کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔ ہمارے دائیں بائیں اللہ کے کارندے بیٹھے ہوئے ہیں اور لکھ رہے ہیں تا کہ یہ ریکارڈ قیامت میں ہمارے خلاف پیش ہو یا ہمارے حق میں پیش ہو۔ اور یہ حساب ایسا ہے کہ اس سے کوئی بات نہیں چھوٹتی۔ اور ہمیں چاہئے کہ اس حقیقت کو ذہن میں تازہ رکھتے ہوئے زندگی بسر کریں۔ بس یہی ہمارے لئے کافی ہے اس کی کیفیت ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو۔ جس شکل و صورت میں بھی ہو یہ ریکارڈ تیار ہو رہا ہے۔ اور ہم کسی طرح اس سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ اللہ نے پیشگی اطلاع ہمیں دے دی ہے تا کہ ہم اس کا خیال رکھیں۔ رہی یہ بات کہ اس کی کیفیت کیا ہے تو یہ ایک عبث جدو جہد ہوگی۔ جن لوگوں نے اس قرآن اور اس کے حقائق اور حضرت محمد ﷺ کی ہدایات سے فائدہ اٹھایا ، ان کا انداز اور طریقہ یہی تھا کہ شعور کو پختہ کرو اور عمل کرو فقط۔ امام احمد نے روایت کی ، ابو معاویہ سے ، انہوں نے محمد ابن عمر ابن علقمہ لیثی سے انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ان کے دادا سے اور انہوں نے حضرت بلال ابن حارث مزنی سے ، کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ایک آدمی ایک لفظ بولتا ہے جو اللہ کی رضا مندی کا لفظ ہوتا ہے۔ اسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ اس لفظ پر اللہ اس سے اپنی رضا مندی لکھ دیتا ہے تاقیامت۔ اور ایک دوسرا شخص ایک لفظ بولتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب ہوتا ہے اور اس کو یقین نہیں ہوتا کہ یہ لفظ کہاں تک پہنچ گیا ۔ اللہ قیامت تک اس شخص سے ناراضگی لکھ دیتا ہے “۔ کہتے ہیں کہ علقمہ کہا کرتے تھے کہ کتنی ایسی باتیں ہیں جن کے کہنے سے میں بلال ابن حارث کی حدیث کی وجہ سے رک گیا۔ (ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ) ۔ امام احمد سے روایت ہے کہ وہ سکرات الموت میں فریاد کر رہے تھے انہوں نے سنا کہ یہ فریاد بھی لکھی جا رہی ہے تو خاموش ہوگئے اور ان کی روح پرواز کرگئی۔ یوں یہ حضرات قرآنی ہدایات کو لیتے تھے۔ اور یوں تھی ان کی زندگی۔

ق 50:18

اذ یتلقی المتلقین عن الیمین وعن الشمال قعید (50 : 17) ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (50 : 18) ” دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہیں۔ ہر چیز ثبت کر رہے ہیں ۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لئے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو “ ۔ یعنی جو نگران ہے وہ حاضر باش ہے۔ یعنی عتید رقیب کی صفت ہے۔ یہ مفہوم نہیں ہے جس طرح ذہن میں آتا ہے کہ دو نگرانوں میں سے ایک کا نام رقیب ہے اور دوسرے کا عتید ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح ریکارڈ کرتے ہیں ؟ اس سلسلے میں انسان کو اپنے تخیلات پیش نہ کرنا چاہئے ۔ یہ غیبی امور ہیں اور ان کو اسی طرح قبول کرنا چاہئے جس طرح قرآن میں مذکور ہیں۔ مفہوم پر ہمارا ایمان ہے اور کیفیت کا ہمیں پتہ نہیں ہے۔ اگر کیفیت کا پتہ لگ بھی جائے تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پھر بعض کیفیات ہمارے تجربات کے دائرے ہی میں نہیں ہوتیں اور ہم ان کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ آج کے دور جدید میں ریکارڈنگ کے وہ طریقے ہم نے دیکھ لیے ہیں جن کا تصور بھی ہمارے آباء و اجداد نہ کرسکتے تھے۔ ان طریقوں سے انسان کی ہر حرکت اور ہر لفظ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ آڈیو ، وڈیو ، ٹیپ ، سینما کی ریل ، اور ٹیلی ویژن کے ٹیپ (اور اب کمپیوٹر اور اس کا نیٹ ورک) یہ تو وسعت آگئی ہے انسانی دائرہ ریکارڈ میں۔ جہاں اللہ اور اس کے عملے کا تعلق ہے تو ان کے پاس ایسے ذرائع اور ایسے طریقے ہوسکتے ہیں جن کا ہم ابھی تک تصور ہی نہیں کرسکتے۔ بس اللہ نے جو اطلاع کردی ہے اس پر یقین کرو۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس حقیقت کے دائرے کے اندر زندہ رہیں جس کی تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ اور اس شعور کو تازہ کریں کہ ہم جو بات بھی کرتے ہیں جس فعل کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔ ہمارے دائیں بائیں اللہ کے کارندے بیٹھے ہوئے ہیں اور لکھ رہے ہیں تا کہ یہ ریکارڈ قیامت میں ہمارے خلاف پیش ہو یا ہمارے حق میں پیش ہو۔ اور یہ حساب ایسا ہے کہ اس سے کوئی بات نہیں چھوٹتی۔ اور ہمیں چاہئے کہ اس حقیقت کو ذہن میں تازہ رکھتے ہوئے زندگی بسر کریں۔ بس یہی ہمارے لئے کافی ہے اس کی کیفیت ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو۔ جس شکل و صورت میں بھی ہو یہ ریکارڈ تیار ہو رہا ہے۔ اور ہم کسی طرح اس سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ اللہ نے پیشگی اطلاع ہمیں دے دی ہے تا کہ ہم اس کا خیال رکھیں۔ رہی یہ بات کہ اس کی کیفیت کیا ہے تو یہ ایک عبث جدو جہد ہوگی۔ جن لوگوں نے اس قرآن اور اس کے حقائق اور حضرت محمد ﷺ کی ہدایات سے فائدہ اٹھایا ، ان کا انداز اور طریقہ یہی تھا کہ شعور کو پختہ کرو اور عمل کرو فقط۔ امام احمد نے روایت کی ، ابو معاویہ سے ، انہوں نے محمد ابن عمر ابن علقمہ لیثی سے انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ان کے دادا سے اور انہوں نے حضرت بلال ابن حارث مزنی سے ، کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ایک آدمی ایک لفظ بولتا ہے جو اللہ کی رضا مندی کا لفظ ہوتا ہے۔ اسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ اس لفظ پر اللہ اس سے اپنی رضا مندی لکھ دیتا ہے تاقیامت۔ اور ایک دوسرا شخص ایک لفظ بولتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب ہوتا ہے اور اس کو یقین نہیں ہوتا کہ یہ لفظ کہاں تک پہنچ گیا ۔ اللہ قیامت تک اس شخص سے ناراضگی لکھ دیتا ہے “۔ کہتے ہیں کہ علقمہ کہا کرتے تھے کہ کتنی ایسی باتیں ہیں جن کے کہنے سے میں بلال ابن حارث کی حدیث کی وجہ سے رک گیا۔ (ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ) ۔ امام احمد سے روایت ہے کہ وہ سکرات الموت میں فریاد کر رہے تھے انہوں نے سنا کہ یہ فریاد بھی لکھی جا رہی ہے تو خاموش ہوگئے اور ان کی روح پرواز کرگئی۔ یوں یہ حضرات قرآنی ہدایات کو لیتے تھے۔ اور یوں تھی ان کی زندگی۔

ق 50:19

یہ تو ہیں کتاب زندگی کے صفحات اور آخری صفحہ اس دنیا کی زندگی کا الٹایا جا رہا ہے۔ وجاءت سکرۃ ۔۔۔۔۔ منہ تحید (50 : 19) ” پھر دیکھو ، وہ موت کی جان کنی حق لے کر آپہنچی ، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا “۔ موت وہ حقیقت ہے جس سے اللہ کی تمام مخلوقات ڈرتی ہے۔ اور ہر شخص موت کا تصور اپنے ذہن سے محو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن یہ کس طرح ممکن ہے۔ موت ایک ایسا طلبگار ہے جو مطالبے سے تھکتا نہیں۔ یہ اپنی رفتار سے انسان کے قریب ہوتی رہتی ہے۔ اور اس کے قدموں کی رفتار کبھی سست نہیں پڑتی ۔ اور اس کے مقررہ وقت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ موت کے آخری لمحات جنہیں سکرات الموت کہا جاتا ہے۔ اس کے تصور ہی سے انسان کے اعجا کانپ اٹھتے ہیں۔ یہ موت کا منظر اسکرین پر ابھی پیش ہو رہا ہے کہ سوال ہوتا ہے۔ ذلک ما کنت منہ تحید (50 : 19) ” وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا “۔ انسان ابھی تک تو زندہ ہے اس دنیا میں ہے لیکن وہ اس سوال کو سن رہا ہے۔ لیکن جب وہ حقیقتاً جان کنی کے لمحات میں ہوگا اور اس وقت وہ یہ سوال سنے گا تو کیا حالت ہوگی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب آپ ﷺ پر سکرات الموت طاری ہوئے تو آپ ﷺ اپنے چہرۂ مبارک سے پسینہ پونچھ رہے تھے اور فرماتے تھے۔ ” سبحان اللہ فی الواقعہ جان کنی کے لمحات ہوتے ہیں “ ۔ آپ یہ کہہ رہے تھے حالانکہ آپ الرفیق الاعلیٰ کی طرف رواں تھے اور اللہ کے لقاء کے مشتاق تھے دوسروں کی حالت کیا ہوگی ؟ یہاں آیت میں ایک لفظ قابل توجہ ہے۔ وجاءت سکرۃ الموت بالحق (50 : 19) ” اور موت کی جان کنی حق لے کر آپہنچی “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب آخری لمحات میں ہوتا ہے تو اسے عالم آخرت نظر آجاتا ہے ۔ تمام حجابات ہٹ جاتے ہیں ، اب یہ جن باتوں سے جاہل تھا وہ اسے معلوم ہوجاتی ہیں۔ وہ بھی اس کے سامنے آجاتی ہیں جن کا وہ انکار کیا کرتا تھا۔ لیکن اب تو وقت گزر جاتا ہے۔ اب دیکھا تو مفید نہیں رہتا۔ اب علم و فضل اور حقائق کا ادراک کس کام کا ! کیونکہ اب توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ ایمان لانا اب مفید نہیں ہے۔ یہ وہ سچائی تھی جس کی وہ تکذیب کرتے تھے اور اس کے بارے میں سخت خلجان میں تھے۔ اب جبکہ انہوں نے اسے پا لیا ہے اور تصدیق کر رہے ہیں تو یہ ادراک اور تصدیق ان کے کسی کام کی نہیں ہے۔

ق 50:20

اب سکرات الموت سے ذرا آگے میدان حشر میں حساب و کتاب کی ہولناکیاں ! یہ ایک ایسا منظر ہے کہ اس کا ذہن میں تازہ کرنا ہی کافی ہے۔ اگر یہ تازہ کرلیا جائے تو اس زمین کی پوری زندگی احتیاط ، ڈر اور انتظار میں کٹ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کس طرح عیش کرسکتا ہوں جب کہ سینگ والے نے سینگ منہ کے ساتھ لگایا ہوا ہے اور اپنے ماتھے کو جھکایا ہوا اور انتظار میں ہے کہ اسے حکم دیا جائے۔ صحابہ کرام ؓ نے فرمایا پس ہم کیا کہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، کہو۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل لوگوں نے کہنا شروع کردیا۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل (ترمذی)

ق 50:21

وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (50 : 21) ” ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا “۔ وہ آیا ، وہ جس کا حساب کی جا رہا ہے ، جسے سزا ہونے والی ہے۔ ایک چلا کر لانے والا ہے اور ایک شہادت دینے والا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں لکھنے والے اور دنیا میں اس کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اور فرشتے ہوں۔ لیکن پہلی تفسیر راجح ہے۔ عدالت میں پیشی کا یہ بہترین طریقہ ہے لیکن یہ اللہ جبار کی عدالت ہے۔ ایسے مشکل وقت میں اسے یہ کہا جائے گا۔

ق 50:22

لقد کنت فی ۔۔۔۔ الیوم حدید (50 : 22) ” اس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا۔ ہم نے پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا ، اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے “ ۔ آج تیری نظر بڑی تیز ہے اور پردوں کو پار کر کے بھی دیکھ رہی ہے ۔ کام کرنے کی جگہ میں تو نے غفلت برتی۔ تو نے اس وقت کا خیال ہی نہ رکھا ۔ یہ ہے وہ انجام جس کی تو توقع ہی نہ رکھتا تھا۔ آج دیکھتا جاتا۔ آج تیری نظر تیز ہے۔ اب اس کا ساتھی آگے بڑھتا ہے۔ راجح یہ ہے کہ یہ وہ گواہ ہے جس کے پاس اس کا اعمال نامہ ہے۔

ق 50:23

وقال قرینۃ ھذا ما لدی عتید (50 : 23) ” اس کے ساتھی نے عرض کیا ، یہ جو میری سپردگی میں تھا حاضر ہے تیار “۔ عتید کے معنی ہیں حاضر ، تیار۔ یعنی اب کوئی نئی چیز تیار نہیں کرتی ہے پہلے سے تیار ہے۔ یہاں اب اس ریکارڈ کو پڑھا نہیں جاتا ہے پس عدالت سے جلدی کے ساتھ ڈگری صادر ہوتی ہے اور نافذ ہوتی ہے۔ فوراً بارگاہ رب العزت سے اس سابق اور شہید کو حکم دیا جاتا ہے۔

ق 50:24

القیا فی جھنم کل کفار عنید (50 : 24) مناع اللخیر معتد مریب (50 : 25) الذی جعل ۔۔۔۔ العذاب الشدید ۔ (50 : 26) ” حکم دیا گیا ، پھینک دو جہنم میں ہر کٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا ۔ خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا ، شک میں پڑا ہوا تھا اور اللہ کے سوا کسی دوسرے کو خدا بنائے بیٹھا تھا ، ڈال دو اسے سخت عذاب میں “۔ ان صفات کے ذکر سے ، اس مشکل وقت کی مشکلات میں گرفتار لوگوں کے خوف و ہراس میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ پہلے سے مشکل میں گرفتار مجرموں پر اللہ جبار وقہار کے غضب کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام صفات اس بات کی مستحق ہیں کہ مجرم کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ سخت کافر ، عناد رکھنے والا ہر بھلائی سے روکنے والا ، ہر معاملے میں حد سے گزرنے والا اور غایب درجے کا شکی جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ بنا رکھے ہیں اور ان صفات کو گنوانے کے بعد پھر تاکید امر فالقیہ فی العذاب الشدید (50 : 26) ” ڈال دو اسے سخت عذاب میں “ یعنی جہنم کے عذاب میں جو شدید ہی ہوگا۔

ق 50:25

القیا فی جھنم کل کفار عنید (50 : 24) مناع اللخیر معتد مریب (50 : 25) الذی جعل ۔۔۔۔ العذاب الشدید ۔ (50 : 26) ” حکم دیا گیا ، پھینک دو جہنم میں ہر کٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا ۔ خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا ، شک میں پڑا ہوا تھا اور اللہ کے سوا کسی دوسرے کو خدا بنائے بیٹھا تھا ، ڈال دو اسے سخت عذاب میں “۔ ان صفات کے ذکر سے ، اس مشکل وقت کی مشکلات میں گرفتار لوگوں کے خوف و ہراس میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ پہلے سے مشکل میں گرفتار مجرموں پر اللہ جبار وقہار کے غضب کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام صفات اس بات کی مستحق ہیں کہ مجرم کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ سخت کافر ، عناد رکھنے والا ہر بھلائی سے روکنے والا ، ہر معاملے میں حد سے گزرنے والا اور غایب درجے کا شکی جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ بنا رکھے ہیں اور ان صفات کو گنوانے کے بعد پھر تاکید امر فالقیہ فی العذاب الشدید (50 : 26) ” ڈال دو اسے سخت عذاب میں “ یعنی جہنم کے عذاب میں جو شدید ہی ہوگا۔

ق 50:26

القیا فی جھنم کل کفار عنید (50 : 24) مناع اللخیر معتد مریب (50 : 25) الذی جعل ۔۔۔۔ العذاب الشدید ۔ (50 : 26) ” حکم دیا گیا ، پھینک دو جہنم میں ہر کٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا ۔ خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا ، شک میں پڑا ہوا تھا اور اللہ کے سوا کسی دوسرے کو خدا بنائے بیٹھا تھا ، ڈال دو اسے سخت عذاب میں “۔ ان صفات کے ذکر سے ، اس مشکل وقت کی مشکلات میں گرفتار لوگوں کے خوف و ہراس میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ پہلے سے مشکل میں گرفتار مجرموں پر اللہ جبار وقہار کے غضب کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام صفات اس بات کی مستحق ہیں کہ مجرم کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ سخت کافر ، عناد رکھنے والا ہر بھلائی سے روکنے والا ، ہر معاملے میں حد سے گزرنے والا اور غایب درجے کا شکی جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ بنا رکھے ہیں اور ان صفات کو گنوانے کے بعد پھر تاکید امر فالقیہ فی العذاب الشدید (50 : 26) ” ڈال دو اسے سخت عذاب میں “ یعنی جہنم کے عذاب میں جو شدید ہی ہوگا۔

ق 50:27

اس مقام پر اس شخص کے ساتھ بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور کانپ اٹھتے ہیں اور جلدی سے اپنے بارے میں کسی الزام کے سائے کو رد کرتے ہیں ، محض اس بنا پر کہ یہ اس جہنمی کا ساتھی تھا۔ قال قرینہ ۔۔۔۔۔ ضلل بعید (50 : 27) ” اس کے ساتھ نے عرض کیا خدا وندا ، میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا “۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ساتھ وہ نہ ہو جس کا ذکر پہلے ہوا۔ جس نے اس مجرم کے کاغذات پیش کئے ۔ بلکہ اس سے مراد وہ شیطان ہو وج اس کے ساتھ اسے گمراہ کرنے کے لئے لگا ہوا تھا۔ اور اب وہ یہاں اپنے آپ کو بری الذمہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور پورے قرآن مجید میں ایسے مشاہد اور مکالمے موجود ہیں جن میں گمراہ کرنے والے شیاطین اپنی برات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسا کہ یہاں ہے لہٰذا یہ بھی بعید از امکان نہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ قرین سے مراد اعمال نامہ تیار کرنے والا فرشتہ ہو اور اس ہولناک احکام الٰہی سے ڈر گیا ہو اور اپنی برات کا اظہار کر رہا ہو اور یہ بیان کر رہا ہو کہ بیشک میں تو اس بدبخت کا ساتھی تھا ، لیکن ان کی گمراہی میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے ، اس طرح اس بری الذمہ شخص کا اپنی برات ظاہر کرنا اس بات پر دلالت ہوگی کہ اس خوفناک اور کربناک منظر کو دیکھ کر فرشتے ساتھی نے یہ کہا۔ غرض اب آخری حکم آجاتا ہے اور بات ختم ہوجاتی ہے : قال لا تختصموا ۔۔۔۔۔ بالوعید (50 : 27) ما یبدل بظلام للعبید (50 : 29) ” ارشاد ہوگا ، میرے حضور جھگڑا نہ کرو میں تم کو پہلے ہی انجام بد سے خبردار کرچکا تھا “۔ میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں “۔ لہٰذا یہ جھگڑنے کی جگہ نہیں ہے ۔ اسے قبل تمہیں باربار خبردار کردیا گیا تھا کہ ہر عمل پر جزاء و سزا ملے گی ، تمام اعمال لکھ دئیے گئے ہیں۔ اب ان کے اندر کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ہر کسی کو اس کے اعمال نامے کے مطابق بدلہ ملے گا۔ کسی پر ظلم نہ ہوگا کیونکہ جزا دینے والا حاکم عادل ہے۔ اس پر حساب و کتاب کا یہ منظر اپنی تمام ہولناکیوں اور شدت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے لیکن ابھی یہ بحث ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا ایک خوفناک پہلو ابھی باقی ہے۔

ق 50:28

اس مقام پر اس شخص کے ساتھ بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور کانپ اٹھتے ہیں اور جلدی سے اپنے بارے میں کسی الزام کے سائے کو رد کرتے ہیں ، محض اس بنا پر کہ یہ اس جہنمی کا ساتھی تھا۔ قال قرینہ ۔۔۔۔۔ ضلل بعید (50 : 27) ” اس کے ساتھ نے عرض کیا خدا وندا ، میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا “۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ساتھ وہ نہ ہو جس کا ذکر پہلے ہوا۔ جس نے اس مجرم کے کاغذات پیش کئے ۔ بلکہ اس سے مراد وہ شیطان ہو وج اس کے ساتھ اسے گمراہ کرنے کے لئے لگا ہوا تھا۔ اور اب وہ یہاں اپنے آپ کو بری الذمہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور پورے قرآن مجید میں ایسے مشاہد اور مکالمے موجود ہیں جن میں گمراہ کرنے والے شیاطین اپنی برات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسا کہ یہاں ہے لہٰذا یہ بھی بعید از امکان نہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ قرین سے مراد اعمال نامہ تیار کرنے والا فرشتہ ہو اور اس ہولناک احکام الٰہی سے ڈر گیا ہو اور اپنی برات کا اظہار کر رہا ہو اور یہ بیان کر رہا ہو کہ بیشک میں تو اس بدبخت کا ساتھی تھا ، لیکن ان کی گمراہی میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے ، اس طرح اس بری الذمہ شخص کا اپنی برات ظاہر کرنا اس بات پر دلالت ہوگی کہ اس خوفناک اور کربناک منظر کو دیکھ کر فرشتے ساتھی نے یہ کہا۔ غرض اب آخری حکم آجاتا ہے اور بات ختم ہوجاتی ہے : قال لا تختصموا ۔۔۔۔۔ بالوعید (50 : 27) ما یبدل بظلام للعبید (50 : 29) ” ارشاد ہوگا ، میرے حضور جھگڑا نہ کرو میں تم کو پہلے ہی انجام بد سے خبردار کرچکا تھا “۔ میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں “۔ لہٰذا یہ جھگڑنے کی جگہ نہیں ہے ۔ اسے قبل تمہیں باربار خبردار کردیا گیا تھا کہ ہر عمل پر جزاء و سزا ملے گی ، تمام اعمال لکھ دئیے گئے ہیں۔ اب ان کے اندر کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ہر کسی کو اس کے اعمال نامے کے مطابق بدلہ ملے گا۔ کسی پر ظلم نہ ہوگا کیونکہ جزا دینے والا حاکم عادل ہے۔ اس پر حساب و کتاب کا یہ منظر اپنی تمام ہولناکیوں اور شدت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے لیکن ابھی یہ بحث ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا ایک خوفناک پہلو ابھی باقی ہے۔

ق 50:29

اس مقام پر اس شخص کے ساتھ بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور کانپ اٹھتے ہیں اور جلدی سے اپنے بارے میں کسی الزام کے سائے کو رد کرتے ہیں ، محض اس بنا پر کہ یہ اس جہنمی کا ساتھی تھا۔ قال قرینہ ۔۔۔۔۔ ضلل بعید (50 : 27) ” اس کے ساتھ نے عرض کیا خدا وندا ، میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا “۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ساتھ وہ نہ ہو جس کا ذکر پہلے ہوا۔ جس نے اس مجرم کے کاغذات پیش کئے ۔ بلکہ اس سے مراد وہ شیطان ہو وج اس کے ساتھ اسے گمراہ کرنے کے لئے لگا ہوا تھا۔ اور اب وہ یہاں اپنے آپ کو بری الذمہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور پورے قرآن مجید میں ایسے مشاہد اور مکالمے موجود ہیں جن میں گمراہ کرنے والے شیاطین اپنی برات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسا کہ یہاں ہے لہٰذا یہ بھی بعید از امکان نہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ قرین سے مراد اعمال نامہ تیار کرنے والا فرشتہ ہو اور اس ہولناک احکام الٰہی سے ڈر گیا ہو اور اپنی برات کا اظہار کر رہا ہو اور یہ بیان کر رہا ہو کہ بیشک میں تو اس بدبخت کا ساتھی تھا ، لیکن ان کی گمراہی میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے ، اس طرح اس بری الذمہ شخص کا اپنی برات ظاہر کرنا اس بات پر دلالت ہوگی کہ اس خوفناک اور کربناک منظر کو دیکھ کر فرشتے ساتھی نے یہ کہا۔ غرض اب آخری حکم آجاتا ہے اور بات ختم ہوجاتی ہے : قال لا تختصموا ۔۔۔۔۔ بالوعید (50 : 27) ما یبدل بظلام للعبید (50 : 29) ” ارشاد ہوگا ، میرے حضور جھگڑا نہ کرو میں تم کو پہلے ہی انجام بد سے خبردار کرچکا تھا “۔ میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں “۔ لہٰذا یہ جھگڑنے کی جگہ نہیں ہے ۔ اسے قبل تمہیں باربار خبردار کردیا گیا تھا کہ ہر عمل پر جزاء و سزا ملے گی ، تمام اعمال لکھ دئیے گئے ہیں۔ اب ان کے اندر کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ہر کسی کو اس کے اعمال نامے کے مطابق بدلہ ملے گا۔ کسی پر ظلم نہ ہوگا کیونکہ جزا دینے والا حاکم عادل ہے۔ اس پر حساب و کتاب کا یہ منظر اپنی تمام ہولناکیوں اور شدت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے لیکن ابھی یہ بحث ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا ایک خوفناک پہلو ابھی باقی ہے۔

ق 50:30

یہ پورا منظر ہی سوال و جواب کا منظر ہے ، یہاں مکالمے کے لئے جہنم کو پیش کیا جاتا ، یوں یہ عجیب و غریب اور خوفناک منظر ہے۔ تمام کفار معاند ، بھلائی سے روکنے والے ، حد سے گزر نے والے اور قیامت میں شک کرنے والے موجود ہیں۔ یہ سب جہنم میں کثرت سے پھینکے جا رہے ہیں اور جہنم میں ان کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد جہنم سے کہا جاتا ہے کہ کیا تم بھر گئی ہو اور کیا یہ لوگ تمہارے لیے کافی ہے لیکن وہ بڑی سختی سے جوش میں آکر اور جلتے ہوئے کہے گی۔ ھل من مزید (50 : 30) (کیا اور کچھ ہے ؟ ) اس طرح جس طرح بھوکا خونخوار منہ کھولے ہوئے کوئی درندہ ہوتا ہے۔ کیا ہی خوفناک منظر ہے یہ !

ق 50:31

اور دوسری طرف ایک دوسرا خوبصورت منظر ہے ، پر محبت جس میں ہر کوئی راضی ہے ، سب متقی ایک جگہ جمع ہیں ، جنت ان کے قریب کردی گئی ہے اور ہر طرف سے مرحبا مرحبا کی صدائیں ہیں۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید (31) ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (32) من خشی ۔۔۔۔ بقلب منیب (33) ادخلوھا ۔۔۔۔۔ الخلود (34) لھم ما یشاءون فیھا ولدینا مزید (50 : 31 تا 35) ” اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی ، کچھ بھی دور نہ ہوگی۔ ارشاد ہوگا ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ، ہر اس شخص کے لئے جو بہت رجوع کرنے والا ، اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا ، اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ۔ وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا۔ وہاں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ان کے لئے ہے “۔ اس منظر کے مکالمات میں ہر کلمے میں تکریم اور عزت افزائی ہے۔ جنت کو اہل ایمان کے قریب کردیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس تک پہنچنے کے لئے ان کو کوئی سفر نہیں کرنا پڑتا بلکہ جنت خود چل کر آتی ہے ان کے قدموں میں۔ غیر بعید (50 : 31) ” کچھ دور نہ ہوگی “ ۔ اور دوسری نعمتوں کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ہوگی اور کہا جائے گا۔

ق 50:32

ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (50 : 32) من خشی ۔۔۔۔۔ بقلب منیب (50 : 33) ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے “۔ تو عالم بالا سے ان کی یہ تعریف کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اللہ کے پیمانے کے مطابق یہ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور اپنے نفس کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ، یہ رحمان سے ڈرنے والے ہیں اور انہوں نے اسے کبھی دیکھا نہ تھا۔ اللہ کی طرف ان کے دل لگے ہوئے ہیں اور وہ اس کے مطیع فرمان ہیں۔

ق 50:33

ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (50 : 32) من خشی ۔۔۔۔۔ بقلب منیب (50 : 33) ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے “۔ تو عالم بالا سے ان کی یہ تعریف کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اللہ کے پیمانے کے مطابق یہ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور اپنے نفس کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ، یہ رحمان سے ڈرنے والے ہیں اور انہوں نے اسے کبھی دیکھا نہ تھا۔ اللہ کی طرف ان کے دل لگے ہوئے ہیں اور وہ اس کے مطیع فرمان ہیں۔

ق 50:34

اس کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ اور کبھی بھی اس سے تم نے نکلنا نہیں ہے۔ ادخلوھا بسلم ذلک یوم الخلود (50 : 34) ” داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ “۔ وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا۔ پھر عالم بالا میں ان کی عزت افزائی کے لئے اعلان ہوگا کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کے لئے ان کے رب کے نزدیک اور بہت کچھ ہے اور وہ غیر محدود ہے۔

ق 50:35

لھم م یشاءون فیھا ولدینا مزید (50 : 35) ” وہاں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ہے ان کے لئے “۔ وہ جس قدر چاہیں اللہ کے انعامات کی انتہا تک نہیں جاسکتے اور اللہ کے ہاں جو مزید ہے وہ لامحدود ہے ۔

ق 50:36

درس نمبر 249 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ۔ گویا یہ آخری زمزمہ ہے اور نہایت ہی زور دار آواز میں بتایا جاتا ہے کہ سنو انسانی تاریخ میں امم سابقہ کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ اس میں کائنات کی ایک جھلک بھی ہے اور حشر ونشر کے بارے میں بھی ایک منظر پیش کیا گیا ہے اور قرآن کے بارے میں بھی ہدایت ہے کہ آپ کام جاری رکھیں۔ قلب و نظر کے لئے بھی کئی ہدایات ہیں ، اس سبق میں۔ یہ تمام جھلکیاں اس پوری سورت میں بھی گزری ہیں لیکن آخر میں یہ ایک نئے ٹچ کے ساتھ دہرائی گئی ہیں ۔ نہایت تیزی کے ساتھ نکتہ وار ، انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے لیکن ایک نئے ذوق اور نئے انداز میں اور یہی قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ ایک بات کو جب ایک ہی سورت میں دہراتا ہے تو وہ نئی معلوم ہوتی ہے۔ پہلے کیا گیا۔ کذبت قبلھم ۔۔۔۔ وثمود (50 : 12) وعاد وفرعون واخوان لوط (50 : 13) واصحب الیکۃ ۔۔۔۔ فحق وعید (50 : 14) ” ان سے پہلے نوح کی قوم ، اصحاب الرس اور ثمود ، اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ جھٹلا چکے ہیں ، ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعید ان پر چسپاں ہوگئی “ ۔ اور یہاں کہا گیا : جس حقیقت کی طرف اشارہ مطلوب تھا وہ یہ ہے لیکن یہاں بالکل جدید انداز میں ہے اور پہلی آیت میں جو انداز ہے اس سے بالکل مختلف۔ یہاں اقوام کی ایک صفت کا اضافہ کردیا گیا کہ انہوں نے پوری دنیا میں نقب لگاکر اسے چھان مارا تھا۔ وہ ہر طرف دوڑے پھرتے تھے۔ اسباب حیات تلاش کرتے تھے لیکن جب ان کو پکرا گیا تو پھر کیا کوئی جائے فرار تھی ؟ ھل من محیص (50 : 36) ” پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پا سکے “ ۔ نہیں ! پیش ہے ایک اضافہ اور جس سے بات اور جاندار ہوجاتی ہے :

ق 50:37

امم سابقہ کے عروج وزوال میں بہت بڑی نصیحت ہے لیکن یہ صرف اس شخص کے لئے ہے جو دل و دماغ رکھتا ہو ، تاریخ امم جس دل کو حرکت نہیں دے سکتی وہ مردہ ہے ، یا وہ شخص دل و دماغ رکھتا ہی نہیں ہے۔ بلکہ نصیحت حاصل کرنے اور عبرت لینے کے لئے تو یہ بھی کافی ہے کہ انسان خاموشی سے داستان عروج وزوال امم سن لے۔ یہ داستان خود ہی بتا دے گی۔ سچ یہ ہے کہ یہ ایک عظیم حقیقت ہے۔ نفس انسانی پر امم ماضیہ کے قصص کا بہت ہی بڑا اثر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں معمولی سی بیداری اور معمولی سی قلبی کشادگی ہی یادوں اور تصورات سے اثر لیتی ہے اور انسان پر بہت اثر ہوتا ہے اور اس میں بہت سی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ اس سے قبل اس کائنات کی کتاب سے یہ صفحہ الٹا گیا تھا۔ افلم ینظروا ۔۔۔۔۔ من فروج (50 : 6) والارض مددنھا ۔۔۔۔۔ کل زوج بھیج (50 : 7) ” کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اس کے اندر ہر طرح کے خوش منظر نباتات اگا دیں “۔ اور یہاں یوں ہے۔

ق 50:38

ولقد خلقنا السموت ۔۔۔۔۔ من لغوب (50 : 38) ” ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کردیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہو “۔ تو پہلی بات پر یہاں ایک مزید حقیقت کا اضافہ کردیا گیا۔ وما مسنا من لغوب (50 : 38) ” اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی “۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ نے اس عظیم کائنات کو نہایت آسانی کے ساتھ پیدا کردیا۔ مردوں کا زندہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ان ہولناک آسمانوں کے مقابلے میں تو یہ ایک بہت چھوٹا کام ہے۔ ایک مزید ہدایت بطور سبق آموزی۔

ق 50:39

فاصبر علی ما یقولون ۔۔۔۔۔۔ قبل الغروب (39) ومن الیل ۔۔۔۔ السجود (50 : 39 تا 40) ” پس اے نبی ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو ، اور پنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی “۔ سورج کا طلوع و غروب اور غروب کے بعد رات کا منظر ، یہ سب آسمان اور زمین کے مناظر اور حرکات کے ساتھ منسلک ہیں۔ تسبیح و ثنا اور رکوع و سجود کو ان کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور تلقین یہ کی گئی ہے کہ ان لوگوں کی باتوں پر صبر کرو ، کیونکہ یہ ناحق حشر ونشر اور دوبارہ زندہ کرنے کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں گویا رات اور دن کے تکرار میں ایک نئی بات داخل کی گئی ۔ حمدو ثنا اور کو ع اور سجود کو بھی اس کائنات کے مناظر سے منسلک کیا گیا ہے ۔ یوں جب بھی رکوع و سجود ہوگا یہ کائناتی مناظر بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ سورج کے طلوع و غروب اور رات آنے کے مناظر۔

ق 50:40

فاصبر علی ما یقولون ۔۔۔۔۔۔ قبل الغروب (39) ومن الیل ۔۔۔۔ السجود (50 : 39 تا 40) ” پس اے نبی ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو ، اور پنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی “۔ سورج کا طلوع و غروب اور غروب کے بعد رات کا منظر ، یہ سب آسمان اور زمین کے مناظر اور حرکات کے ساتھ منسلک ہیں۔ تسبیح و ثنا اور رکوع و سجود کو ان کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور تلقین یہ کی گئی ہے کہ ان لوگوں کی باتوں پر صبر کرو ، کیونکہ یہ ناحق حشر ونشر اور دوبارہ زندہ کرنے کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں گویا رات اور دن کے تکرار میں ایک نئی بات داخل کی گئی ۔ حمدو ثنا اور کو ع اور سجود کو بھی اس کائنات کے مناظر سے منسلک کیا گیا ہے ۔ یوں جب بھی رکوع و سجود ہوگا یہ کائناتی مناظر بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ سورج کے طلوع و غروب اور رات آنے کے مناظر۔

ق 50:41

ایک دوسرا ٹچ جو اس کائنات کے صفحات کے ساتھ مربوط ہے۔ یعنی صبر کرو ، تسبیح کرو اور سجدے کرو اس حال میں کہ آپ ﷺ ایک عظیم حادثہ اور ایک عظیم واقعہ کے انتظار میں ہوں۔ جو گردش لیل و نہار کے کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ اور اس سے غافل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ وہ بات ہے جو اس سورت کا عمود اور محور ہے اور اصلی موضوع۔ واستمع یوم ۔۔۔۔۔ قریب (41) یوم یسمعون ۔۔۔۔ الخروج (42) انا نحن ۔۔۔۔ المصیر (43) یوم تشقق ۔۔۔۔ علینا یسیر (50 : 41 تا 44) ” اور سنو ، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا ، جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے ، وہ زمین کے مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔ ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہماری طرف ہی اس دن سب کو پلٹنا ہے جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کر تیز تیز بھاگے جا رہے ہوں گے۔ یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے “۔ یہ ایک نیا اور پر تاثیر منظر ہے۔ اس دن کا منظر جو بہت ہی مشکل دن ہوگا۔ ایک دوسری جگہ اس منظر کی تعبیر ایک دوسرے انداز میں کی گئی۔ ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید (50 : 20) وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (50 : 21) ” اور پھر صور پھونکا گیا یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا۔ ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے “ اور یہاں نفخ صور کے ساتھ ایک چیخ کا ذکر بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی خروج کا منظر سامنے آتا ہے۔ اور پھر زمین پھٹ رہی ہے اور لوگ اس سے نکلے چلے آرہے ہیں۔ یہ تمام مخلوقات جو آغاز حیات سے اس سفر کے انتہا تک اس زمین میں دفن ہوئے تھے۔ یہ سب قبریں پھٹ پڑیں گی اور جن میں جو بھی جس قدر لوگ بھی دفن ہوئے تھے ، نکلے چلے آئیں گے۔ معری کہتا ہے : رب قبر صار قبرا مرارا ضاحک من تزاحم الاضداد دفین علی بقایا دفین فی طویل الاجال والاماد (کتنی ہی قبریں ہیں ، جو بار بار قبریں بنی ہیں ان کے اندر جو متضاد قسم کے لوگ دفن ہوتے چلے آرہے ہیں ان پر وہ مسکرا رہی ہیں۔ ایک مردے کو دوسرے کے جسم کے بقایا جات پر دفن کیا جاتا ہے ، طویل زمانوں سے اور قدیم زمانوں سے “۔ تمام چیزیں زمین کے پھٹنے کے بعد خود بخود نکلتی چلی آئیں گی۔ ٹوٹے ہوئے جسم ، ہڈیاں ، ذرات جو زمین کی فضاؤ میں ہوں یا زمین کی وادیوں میں بہہ کر جہاں بھی ٹھہرے ہوں جن کی جگہ اللہ ہی جانتا ہے ، جمع ہوتے چلے آئیں گے ، یہ ایک ایسا منظر ہے کہ ہمارے خیال کی گرفت سے برتر ہے۔ اس پر تاثیر منظر کے سایہ ہی میں اس حقیقت کو سامنے لایا جا رہا ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے۔

ق 50:42

ایک دوسرا ٹچ جو اس کائنات کے صفحات کے ساتھ مربوط ہے۔ یعنی صبر کرو ، تسبیح کرو اور سجدے کرو اس حال میں کہ آپ ﷺ ایک عظیم حادثہ اور ایک عظیم واقعہ کے انتظار میں ہوں۔ جو گردش لیل و نہار کے کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ اور اس سے غافل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ وہ بات ہے جو اس سورت کا عمود اور محور ہے اور اصلی موضوع۔ واستمع یوم ۔۔۔۔۔ قریب (41) یوم یسمعون ۔۔۔۔ الخروج (42) انا نحن ۔۔۔۔ المصیر (43) یوم تشقق ۔۔۔۔ علینا یسیر (50 : 41 تا 44) ” اور سنو ، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا ، جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے ، وہ زمین کے مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔ ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہماری طرف ہی اس دن سب کو پلٹنا ہے جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کر تیز تیز بھاگے جا رہے ہوں گے۔ یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے “۔ یہ ایک نیا اور پر تاثیر منظر ہے۔ اس دن کا منظر جو بہت ہی مشکل دن ہوگا۔ ایک دوسری جگہ اس منظر کی تعبیر ایک دوسرے انداز میں کی گئی۔ ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید (50 : 20) وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (50 : 21) ” اور پھر صور پھونکا گیا یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا۔ ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے “ اور یہاں نفخ صور کے ساتھ ایک چیخ کا ذکر بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی خروج کا منظر سامنے آتا ہے۔ اور پھر زمین پھٹ رہی ہے اور لوگ اس سے نکلے چلے آرہے ہیں۔ یہ تمام مخلوقات جو آغاز حیات سے اس سفر کے انتہا تک اس زمین میں دفن ہوئے تھے۔ یہ سب قبریں پھٹ پڑیں گی اور جن میں جو بھی جس قدر لوگ بھی دفن ہوئے تھے ، نکلے چلے آئیں گے۔ معری کہتا ہے : رب قبر صار قبرا مرارا ضاحک من تزاحم الاضداد دفین علی بقایا دفین فی طویل الاجال والاماد (کتنی ہی قبریں ہیں ، جو بار بار قبریں بنی ہیں ان کے اندر جو متضاد قسم کے لوگ دفن ہوتے چلے آرہے ہیں ان پر وہ مسکرا رہی ہیں۔ ایک مردے کو دوسرے کے جسم کے بقایا جات پر دفن کیا جاتا ہے ، طویل زمانوں سے اور قدیم زمانوں سے “۔ تمام چیزیں زمین کے پھٹنے کے بعد خود بخود نکلتی چلی آئیں گی۔ ٹوٹے ہوئے جسم ، ہڈیاں ، ذرات جو زمین کی فضاؤ میں ہوں یا زمین کی وادیوں میں بہہ کر جہاں بھی ٹھہرے ہوں جن کی جگہ اللہ ہی جانتا ہے ، جمع ہوتے چلے آئیں گے ، یہ ایک ایسا منظر ہے کہ ہمارے خیال کی گرفت سے برتر ہے۔ اس پر تاثیر منظر کے سایہ ہی میں اس حقیقت کو سامنے لایا جا رہا ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے۔

ق 50:43

انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر (50 : 43) ” ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہمارے طرف ہی ان سب کو پلٹنا ہے “۔ اور :

ق 50:44

ذلک حشر علینا یسیر (50 : 44) ” اور یہ حشر ہمارے لئے بہت آسان ہے “۔ اور اس حقیقت کے اظہار کا یہ بہترین وقت و مقام تھا۔

ق 50:45

اسی منظر کے زیر سایہ حضرت نبی ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ ثابت قدمی سے اپنے کام کو جاری رکھیں۔ ان کے جدال اور جھگڑوں ، ہٹ دھرمی اور جھٹلانے کی پرواہ نہ کریں۔ جو حقیقت ان کے سامنے پیش کی جارہی ہے ، وہ واضح ہے اور اگر چشم بصیرت ہو تو دیکھی جاسکتی ہے۔ نحن اعلم بما ۔۔۔۔۔۔۔۔ یخاف وعید (50 : 45) ” اے نبی ﷺ جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں ، اور تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے۔ بس تم اس قرآن کے ذریعہ سے ہر اس شخص کو نصیحت کردو جو میری تنبیہہ سے ڈرے “۔ جو باتیں یہ بنا رہے ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں اور تمہاری تسلی کے لئے بس یہی کافی ہے کہ ہم جانتے ہیں اور ہمارے جاننے کے کچھ نتائج بھی ہوں گے۔ یہ بہت ہی خوفناک دھمکی ہے۔ وما انت علیھم بجبار (50 : 45) ” تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے “۔ کہ آپ ایمان اور تصدیق پر کسی کو مجبور کردیں ۔ اس میں آپ کا کوئی اختیار نہیں ہے “۔ اختیارات ہمارے پاس ہیں ۔ ہم نگرانی کر رہے اور ان کے ذمہ دار ہیں۔ فذکر با القرآن من یخاف وعید (50 : 45) ” پس تم اس قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کو نصیحت کرو ، جو میری تنبیہہ سے ڈرے “۔ قرآن بذات خود ایک عظیم قوت ہے۔ یہ دلوں کو ہلا مارتا ہے۔ ذہنی دنیا میں زلزلہ برپا کردیتا ہے۔ اس کے سامنے سنگ دل سے سنگدل شخص نہیں ٹھہر سکتا۔ قرآن کے حقائق کا سامنا کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ قرآن عجیب انداز میں اثر انداز ہوتا ہے۔ جب ایسی سورتیں لوگوں پر پڑھنے کے لئے اور پیش کرنے کے لئے موجود ہیں تو کسی جبار کی کیا ضرورت ہے جو لوگوں کی گردنیں مروڑ کر مسلمان بنائے۔ قرآن کے اندر وہ قوت ہے جو بڑے بڑے جباروں کے اندر نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ دلوں پر وہ ضربات لگ سکتی ہیں ، جو ڈکٹیٹروں اور جباروں کے کوڑوں کے ذریعہ نہیں لگائی جاسکتی (۔۔۔۔ العظیم) نوٹ :۔ پارہ 26 کی نظر ثانی رہ گئی تھی۔ یہ نظر ثانی آج مورخہ 30 نومبر 1996 ء بوقت 52۔ 4 شب ختم ہوئی ، اس طرح تقریباً بتیس سال کے عرصے میں یہ کام ختم ہوا۔ اے اللہ اسے اپنے دین کی سر بلندی کے لئے مفید بنا دے اور میرے لیے موجب اجر بنا دے۔ آمین ۔ سید معروف شاہ شیرازی

الذاريات 51:1

یہ سرسری اور مختصر آیات وضربات ہیں۔ ایسے الفاظ کے ساتھ جن کا مفہوم واضح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا پردہ احساس پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ دل کو ایک نہایت ہی اہم بات سے جوڑ دیتی ہیں اور ایسے معاملے کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو توجہ کا مستحق ہے۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو حضور اکرم ﷺ کی زبان سے سنا ان کو بھی ان الفاظ کا مفہوم ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کا مفہوم کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ، شعبہ ابن الحجاج نے روایت کی ، سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے سنا نیز روایت کی شعبہ نے قاسم ابوبزہ سے ، انہوں نے ابو طفیل سے ، انہوں نے بھی حضرت علی ؓ سے سنا اور ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں کے ذریعہ حضرت ابن ابوطالب ؓ سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ کوٹہ میں ممبر پر چڑھے اور کہا ، تم قرآن کی کسی آیت کے بارے میں مجھ سے پوچھو یا سنت رسول کے بارے میں مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ ابن کو اء کھڑا ہوا اور دریافت کیا امیر المومنین کہ اللہ کے کلام الذاریات ذروا .... کے کیا معنی ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” ہوا “ تو اس نے پوچھا فالحاملات وقرا کے معنی ؟ تو انہوں نے فرمایا ” بادل “ تو اس نے پوچھا فالجاریات یسرا کے معنی تو آپ نے فرمایا ” کشتیاں “ اس نے کہا فالمقسمات امرا ؟ تو انہوں نے فرمایا ” فرشتے “۔ ایک شخص صیع ابن عسل تمیمی حضرت عمر ابن الخطاب ؓ کے پاس آئے اور حضرت عمر سے ان الفاظ کے معنی پوچھے ، تو حضرت عمر نے بھی حضرت علی ؓ کی طرح جواب دیا۔ حضرت عمر ؓ نے محسوس کیا کہ شاید وہ دشمنی اور عناد کی بنا پر سوال کررہا ہے تو آپ نے اسے سزا دی اور حکم دیا کہ وہ لوگوں کے پاس نہ بیٹھے۔ یہاں تک کہ اس نے توبہ کی اور سخت قسموں کے ساتھ حلف اٹھیا کہ آپ نے جو محسوس کیا ہے میرے دل میں وہ بات نہ تھی اس سے معلوم ہوا کہ ان الفاظ کے مدلول اور معنی کا اجمال اہل عناد اور دشمنان اسلام کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ ان کے بارے میں لوگوں سے سوال کرتے پھریں۔ اگر کوئی محسوس کرتا تو وہ کہتے ہم تو صرف معنی پوچھتے تھے۔ یہی تفسیر ابن عباس اور ابن عمر ؓ سے منقول ہے۔ مجاہد ، سعید ابن جیر ، حسن ، قتادہ ، سدی وغیرہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ابن جریر اور ابن ابو حاتم نے اس کے علاوہ کوئی اور تفسیر نقل نہیں کی۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کی قسم اٹھاتا ہے جو گرد اڑاتی ہیں جو بیجوں کو ادھر ادھر اڑاتی ہیں اور جو پھولوں پر گرد کو اڑاتی ہیں اور بادلوں کو اڑاتی ہیں۔ نیز دوسری چیزوں کو اڑاتی ہیں جو انسان کے علم میں ہوں یا نہ ہوں اور پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور پھر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے برس جاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی قسم جو بڑی سہولت سے چلتی ہیں۔ یہ سطح سمندر پر تیر رہی ہوتی ہیں کہ ان کے مواد میں اور پانی میں اللہ نے ایسی خصوصیات ودیعت کی ہیں اور اس کائنات میں اللہ نے ایسی خصوصیات رکھ دی ہیں جو ان کشتیوں کی رفتار کو آسان کرتی ہیں پھر ملائکہ کی قسم جو اللہ کے احکام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے پیغام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کا پیغام اس کی مرضی سے تقسیم کرتے ہیں۔ یہ پیغامات مختلف معاملات کے متعلق ہوتے ہیں اور پوری کائنات میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ہوا ، بادل ، سفینے اور فرشتے اللہ کی مخلوقات میں سے مخلوق ہیں۔ اللہ ان کو اپنی قدرت کا سبب اور الہ بنایا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا ایک پردہ ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ زمین پر اپنی مرضی چلاتا ہے۔ اللہ ان چیزوں کے ساتھ قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم چیزیں ہیں اور انسانوں کو اس اس طرف متوجہ ہونا چاہئے اور ان کے پیچھے جو قوتیں کام کرتی ہیں ان پر غور کریں اور پھر انسان ان چیزوں پر غور کریں کہ اللہ نے کس طرح ان کو پیدا کیا ہے وہ ان کے ذریعے سے اس دنیا میں کیا کیا تصرفات کرتا ہے اور اپنی اس تقدیر کو پردے سے باہر لاتا جاتا ہے جو اس سے پہلے سے طے کر رکھی ہے۔ یہاں اس سورة میں ان چیزوں کا تذکرہ ایک مخصوص انداز میں کیا گیا ہے اور اس لئے کیا گیا ہے کہ انسانی دل و دماغ ان کے اسرار و رموز کو جان سکیں اور پھر ان چیزوں کو کرشمہ قدرت قرار دے کر تعلق باللہ قائم کریں۔ پھر ان چیزوں کا رزق کے ساتھ ایک گونہ تعلق بھی ہے اور اس سورة کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انسان کو اس رزق سے بالکل ظاہر ہے۔ اب فرشتے جو رزق تقسیم کرتے ہیں تو من جملہ اور احکام کے وہ احکام رزق بھی تقسیم کرتے ہیں لہذا ان تمام چیزوں کا تعلق رزق سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے جس کا تذکرہ اس سورة میں کئی جگہ آیا جس غرض کے لئے اللہ ان چار امور پر قسم اٹھاتا ہے وہ یہ ہے کہ : انما ........ لواقع (15 : 6) ” جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔ “ اللہ نے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ احسان کے بدلے احسان کرے گا اور برائی کا بدلہ برائی سے دے گا۔ اس دنیا میں تو اس نے تمہیں مہلت حساب دی ہے لیکن آخرت میں کوئی مہلت نہ ہوگی لہٰذا وہاں حساب لازمی ہوگا۔ وان .... لواقع (15 : 6) ” جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے “ لہٰذا یہ وعدہ سچا ہے دنیا کا ہو یا آخرت کا۔ اور جو وعدہ اس نے کئے ہیں ان میں رزق کا بھی وعدہ ہے۔ رزق وہ دے گا کسی کو زیادہ کسی کو تھوڑا۔ اپنی مشیت کے مطابق۔ یہ وعدہ بھی سچا ہے جس طرح اللہ تمام معاملات میں سچا ہے۔ لہٰذا اللہ نے لوگوں کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے اور وہ پورا ہوگا جس طرح اللہ چاہتا ہے اور جس وقت وہ چاہے گا ایسا ہوگا۔ اللہ کی جانب سے اس پر کسی قسم کی ضرورت نہ تھی لیکن اللہ اپنی بعض مخلوقات کی قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ لوگ ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوں جیسا کہ پہلے بھی کیا گیا ، اور ان چیزوں کے اندر جو کمال تخلیق ہے اور ان کی تدبیر میں قدرت الٰہیہ جس طرح کام کررہی ہے اس پر غور وفکر کریں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کریں کہ اللہ کا وعدہ حشرونشر برحق ہے کیونکہ اللہ کی اس تخلیق اور اس کے اس نظام کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ حشر ونشر ہو اور اس میں اچھائی اور برائی اور صلاح اور فساد پر لوگوں کا محاسبہ ہو کیونکہ اس کائنات کی ساخت کا یہ تقاضا ہے کہ یہ عبث نہیں ہے۔ نہ اتفاقاً وجود میں آگئی ہے۔ یوں یہ مخلوق جس کی قسم اٹھالی گئی ہے یہ اس قسم کی وجہ سے حشرونشر پر ایک دلیل وبرہان بن جاتی ہے اور انسان اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور انسانی احساس و شعور اس پر غور کرتا ہے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم وتربیت کا ایک انداز ہے۔ قرآن مجید انسانی فطرت کا کائناتی زبان میں براہ راست خطاب کرتا ہے اور یہ خطاب نہایت موثر ہوتا ہے۔

الذاريات 51:2

یہ سرسری اور مختصر آیات وضربات ہیں۔ ایسے الفاظ کے ساتھ جن کا مفہوم واضح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا پردہ احساس پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ دل کو ایک نہایت ہی اہم بات سے جوڑ دیتی ہیں اور ایسے معاملے کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو توجہ کا مستحق ہے۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو حضور اکرم ﷺ کی زبان سے سنا ان کو بھی ان الفاظ کا مفہوم ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کا مفہوم کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ، شعبہ ابن الحجاج نے روایت کی ، سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے سنا نیز روایت کی شعبہ نے قاسم ابوبزہ سے ، انہوں نے ابو طفیل سے ، انہوں نے بھی حضرت علی ؓ سے سنا اور ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں کے ذریعہ حضرت ابن ابوطالب ؓ سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ کوٹہ میں ممبر پر چڑھے اور کہا ، تم قرآن کی کسی آیت کے بارے میں مجھ سے پوچھو یا سنت رسول کے بارے میں مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ ابن کو اء کھڑا ہوا اور دریافت کیا امیر المومنین کہ اللہ کے کلام الذاریات ذروا .... کے کیا معنی ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” ہوا “ تو اس نے پوچھا فالحاملات وقرا کے معنی ؟ تو انہوں نے فرمایا ” بادل “ تو اس نے پوچھا فالجاریات یسرا کے معنی تو آپ نے فرمایا ” کشتیاں “ اس نے کہا فالمقسمات امرا ؟ تو انہوں نے فرمایا ” فرشتے “۔ ایک شخص صیع ابن عسل تمیمی حضرت عمر ابن الخطاب ؓ کے پاس آئے اور حضرت عمر سے ان الفاظ کے معنی پوچھے ، تو حضرت عمر نے بھی حضرت علی ؓ کی طرح جواب دیا۔ حضرت عمر ؓ نے محسوس کیا کہ شاید وہ دشمنی اور عناد کی بنا پر سوال کررہا ہے تو آپ نے اسے سزا دی اور حکم دیا کہ وہ لوگوں کے پاس نہ بیٹھے۔ یہاں تک کہ اس نے توبہ کی اور سخت قسموں کے ساتھ حلف اٹھیا کہ آپ نے جو محسوس کیا ہے میرے دل میں وہ بات نہ تھی اس سے معلوم ہوا کہ ان الفاظ کے مدلول اور معنی کا اجمال اہل عناد اور دشمنان اسلام کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ ان کے بارے میں لوگوں سے سوال کرتے پھریں۔ اگر کوئی محسوس کرتا تو وہ کہتے ہم تو صرف معنی پوچھتے تھے۔ یہی تفسیر ابن عباس اور ابن عمر ؓ سے منقول ہے۔ مجاہد ، سعید ابن جیر ، حسن ، قتادہ ، سدی وغیرہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ابن جریر اور ابن ابو حاتم نے اس کے علاوہ کوئی اور تفسیر نقل نہیں کی۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کی قسم اٹھاتا ہے جو گرد اڑاتی ہیں جو بیجوں کو ادھر ادھر اڑاتی ہیں اور جو پھولوں پر گرد کو اڑاتی ہیں اور بادلوں کو اڑاتی ہیں۔ نیز دوسری چیزوں کو اڑاتی ہیں جو انسان کے علم میں ہوں یا نہ ہوں اور پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور پھر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے برس جاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی قسم جو بڑی سہولت سے چلتی ہیں۔ یہ سطح سمندر پر تیر رہی ہوتی ہیں کہ ان کے مواد میں اور پانی میں اللہ نے ایسی خصوصیات ودیعت کی ہیں اور اس کائنات میں اللہ نے ایسی خصوصیات رکھ دی ہیں جو ان کشتیوں کی رفتار کو آسان کرتی ہیں پھر ملائکہ کی قسم جو اللہ کے احکام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے پیغام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کا پیغام اس کی مرضی سے تقسیم کرتے ہیں۔ یہ پیغامات مختلف معاملات کے متعلق ہوتے ہیں اور پوری کائنات میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ہوا ، بادل ، سفینے اور فرشتے اللہ کی مخلوقات میں سے مخلوق ہیں۔ اللہ ان کو اپنی قدرت کا سبب اور الہ بنایا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا ایک پردہ ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ زمین پر اپنی مرضی چلاتا ہے۔ اللہ ان چیزوں کے ساتھ قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم چیزیں ہیں اور انسانوں کو اس اس طرف متوجہ ہونا چاہئے اور ان کے پیچھے جو قوتیں کام کرتی ہیں ان پر غور کریں اور پھر انسان ان چیزوں پر غور کریں کہ اللہ نے کس طرح ان کو پیدا کیا ہے وہ ان کے ذریعے سے اس دنیا میں کیا کیا تصرفات کرتا ہے اور اپنی اس تقدیر کو پردے سے باہر لاتا جاتا ہے جو اس سے پہلے سے طے کر رکھی ہے۔ یہاں اس سورة میں ان چیزوں کا تذکرہ ایک مخصوص انداز میں کیا گیا ہے اور اس لئے کیا گیا ہے کہ انسانی دل و دماغ ان کے اسرار و رموز کو جان سکیں اور پھر ان چیزوں کو کرشمہ قدرت قرار دے کر تعلق باللہ قائم کریں۔ پھر ان چیزوں کا رزق کے ساتھ ایک گونہ تعلق بھی ہے اور اس سورة کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انسان کو اس رزق سے بالکل ظاہر ہے۔ اب فرشتے جو رزق تقسیم کرتے ہیں تو من جملہ اور احکام کے وہ احکام رزق بھی تقسیم کرتے ہیں لہذا ان تمام چیزوں کا تعلق رزق سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے جس کا تذکرہ اس سورة میں کئی جگہ آیا جس غرض کے لئے اللہ ان چار امور پر قسم اٹھاتا ہے وہ یہ ہے کہ : انما ........ لواقع (15 : 6) ” جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔ “ اللہ نے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ احسان کے بدلے احسان کرے گا اور برائی کا بدلہ برائی سے دے گا۔ اس دنیا میں تو اس نے تمہیں مہلت حساب دی ہے لیکن آخرت میں کوئی مہلت نہ ہوگی لہٰذا وہاں حساب لازمی ہوگا۔ وان .... لواقع (15 : 6) ” جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے “ لہٰذا یہ وعدہ سچا ہے دنیا کا ہو یا آخرت کا۔ اور جو وعدہ اس نے کئے ہیں ان میں رزق کا بھی وعدہ ہے۔ رزق وہ دے گا کسی کو زیادہ کسی کو تھوڑا۔ اپنی مشیت کے مطابق۔ یہ وعدہ بھی سچا ہے جس طرح اللہ تمام معاملات میں سچا ہے۔ لہٰذا اللہ نے لوگوں کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے اور وہ پورا ہوگا جس طرح اللہ چاہتا ہے اور جس وقت وہ چاہے گا ایسا ہوگا۔ اللہ کی جانب سے اس پر کسی قسم کی ضرورت نہ تھی لیکن اللہ اپنی بعض مخلوقات کی قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ لوگ ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوں جیسا کہ پہلے بھی کیا گیا ، اور ان چیزوں کے اندر جو کمال تخلیق ہے اور ان کی تدبیر میں قدرت الٰہیہ جس طرح کام کررہی ہے اس پر غور وفکر کریں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کریں کہ اللہ کا وعدہ حشرونشر برحق ہے کیونکہ اللہ کی اس تخلیق اور اس کے اس نظام کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ حشر ونشر ہو اور اس میں اچھائی اور برائی اور صلاح اور فساد پر لوگوں کا محاسبہ ہو کیونکہ اس کائنات کی ساخت کا یہ تقاضا ہے کہ یہ عبث نہیں ہے۔ نہ اتفاقاً وجود میں آگئی ہے۔ یوں یہ مخلوق جس کی قسم اٹھالی گئی ہے یہ اس قسم کی وجہ سے حشرونشر پر ایک دلیل وبرہان بن جاتی ہے اور انسان اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور انسانی احساس و شعور اس پر غور کرتا ہے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم وتربیت کا ایک انداز ہے۔ قرآن مجید انسانی فطرت کا کائناتی زبان میں براہ راست خطاب کرتا ہے اور یہ خطاب نہایت موثر ہوتا ہے۔

الذاريات 51:3

یہ سرسری اور مختصر آیات وضربات ہیں۔ ایسے الفاظ کے ساتھ جن کا مفہوم واضح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا پردہ احساس پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ دل کو ایک نہایت ہی اہم بات سے جوڑ دیتی ہیں اور ایسے معاملے کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو توجہ کا مستحق ہے۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو حضور اکرم ﷺ کی زبان سے سنا ان کو بھی ان الفاظ کا مفہوم ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کا مفہوم کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ، شعبہ ابن الحجاج نے روایت کی ، سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے سنا نیز روایت کی شعبہ نے قاسم ابوبزہ سے ، انہوں نے ابو طفیل سے ، انہوں نے بھی حضرت علی ؓ سے سنا اور ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں کے ذریعہ حضرت ابن ابوطالب ؓ سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ کوٹہ میں ممبر پر چڑھے اور کہا ، تم قرآن کی کسی آیت کے بارے میں مجھ سے پوچھو یا سنت رسول کے بارے میں مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ ابن کو اء کھڑا ہوا اور دریافت کیا امیر المومنین کہ اللہ کے کلام الذاریات ذروا .... کے کیا معنی ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” ہوا “ تو اس نے پوچھا فالحاملات وقرا کے معنی ؟ تو انہوں نے فرمایا ” بادل “ تو اس نے پوچھا فالجاریات یسرا کے معنی تو آپ نے فرمایا ” کشتیاں “ اس نے کہا فالمقسمات امرا ؟ تو انہوں نے فرمایا ” فرشتے “۔ ایک شخص صیع ابن عسل تمیمی حضرت عمر ابن الخطاب ؓ کے پاس آئے اور حضرت عمر سے ان الفاظ کے معنی پوچھے ، تو حضرت عمر نے بھی حضرت علی ؓ کی طرح جواب دیا۔ حضرت عمر ؓ نے محسوس کیا کہ شاید وہ دشمنی اور عناد کی بنا پر سوال کررہا ہے تو آپ نے اسے سزا دی اور حکم دیا کہ وہ لوگوں کے پاس نہ بیٹھے۔ یہاں تک کہ اس نے توبہ کی اور سخت قسموں کے ساتھ حلف اٹھیا کہ آپ نے جو محسوس کیا ہے میرے دل میں وہ بات نہ تھی اس سے معلوم ہوا کہ ان الفاظ کے مدلول اور معنی کا اجمال اہل عناد اور دشمنان اسلام کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ ان کے بارے میں لوگوں سے سوال کرتے پھریں۔ اگر کوئی محسوس کرتا تو وہ کہتے ہم تو صرف معنی پوچھتے تھے۔ یہی تفسیر ابن عباس اور ابن عمر ؓ سے منقول ہے۔ مجاہد ، سعید ابن جیر ، حسن ، قتادہ ، سدی وغیرہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ابن جریر اور ابن ابو حاتم نے اس کے علاوہ کوئی اور تفسیر نقل نہیں کی۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کی قسم اٹھاتا ہے جو گرد اڑاتی ہیں جو بیجوں کو ادھر ادھر اڑاتی ہیں اور جو پھولوں پر گرد کو اڑاتی ہیں اور بادلوں کو اڑاتی ہیں۔ نیز دوسری چیزوں کو اڑاتی ہیں جو انسان کے علم میں ہوں یا نہ ہوں اور پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور پھر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے برس جاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی قسم جو بڑی سہولت سے چلتی ہیں۔ یہ سطح سمندر پر تیر رہی ہوتی ہیں کہ ان کے مواد میں اور پانی میں اللہ نے ایسی خصوصیات ودیعت کی ہیں اور اس کائنات میں اللہ نے ایسی خصوصیات رکھ دی ہیں جو ان کشتیوں کی رفتار کو آسان کرتی ہیں پھر ملائکہ کی قسم جو اللہ کے احکام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے پیغام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کا پیغام اس کی مرضی سے تقسیم کرتے ہیں۔ یہ پیغامات مختلف معاملات کے متعلق ہوتے ہیں اور پوری کائنات میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ہوا ، بادل ، سفینے اور فرشتے اللہ کی مخلوقات میں سے مخلوق ہیں۔ اللہ ان کو اپنی قدرت کا سبب اور الہ بنایا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا ایک پردہ ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ زمین پر اپنی مرضی چلاتا ہے۔ اللہ ان چیزوں کے ساتھ قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم چیزیں ہیں اور انسانوں کو اس اس طرف متوجہ ہونا چاہئے اور ان کے پیچھے جو قوتیں کام کرتی ہیں ان پر غور کریں اور پھر انسان ان چیزوں پر غور کریں کہ اللہ نے کس طرح ان کو پیدا کیا ہے وہ ان کے ذریعے سے اس دنیا میں کیا کیا تصرفات کرتا ہے اور اپنی اس تقدیر کو پردے سے باہر لاتا جاتا ہے جو اس سے پہلے سے طے کر رکھی ہے۔ یہاں اس سورة میں ان چیزوں کا تذکرہ ایک مخصوص انداز میں کیا گیا ہے اور اس لئے کیا گیا ہے کہ انسانی دل و دماغ ان کے اسرار و رموز کو جان سکیں اور پھر ان چیزوں کو کرشمہ قدرت قرار دے کر تعلق باللہ قائم کریں۔ پھر ان چیزوں کا رزق کے ساتھ ایک گونہ تعلق بھی ہے اور اس سورة کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انسان کو اس رزق سے بالکل ظاہر ہے۔ اب فرشتے جو رزق تقسیم کرتے ہیں تو من جملہ اور احکام کے وہ احکام رزق بھی تقسیم کرتے ہیں لہذا ان تمام چیزوں کا تعلق رزق سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے جس کا تذکرہ اس سورة میں کئی جگہ آیا جس غرض کے لئے اللہ ان چار امور پر قسم اٹھاتا ہے وہ یہ ہے کہ : انما ........ لواقع (15 : 6) ” جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔ “ اللہ نے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ احسان کے بدلے احسان کرے گا اور برائی کا بدلہ برائی سے دے گا۔ اس دنیا میں تو اس نے تمہیں مہلت حساب دی ہے لیکن آخرت میں کوئی مہلت نہ ہوگی لہٰذا وہاں حساب لازمی ہوگا۔ وان .... لواقع (15 : 6) ” جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے “ لہٰذا یہ وعدہ سچا ہے دنیا کا ہو یا آخرت کا۔ اور جو وعدہ اس نے کئے ہیں ان میں رزق کا بھی وعدہ ہے۔ رزق وہ دے گا کسی کو زیادہ کسی کو تھوڑا۔ اپنی مشیت کے مطابق۔ یہ وعدہ بھی سچا ہے جس طرح اللہ تمام معاملات میں سچا ہے۔ لہٰذا اللہ نے لوگوں کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے اور وہ پورا ہوگا جس طرح اللہ چاہتا ہے اور جس وقت وہ چاہے گا ایسا ہوگا۔ اللہ کی جانب سے اس پر کسی قسم کی ضرورت نہ تھی لیکن اللہ اپنی بعض مخلوقات کی قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ لوگ ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوں جیسا کہ پہلے بھی کیا گیا ، اور ان چیزوں کے اندر جو کمال تخلیق ہے اور ان کی تدبیر میں قدرت الٰہیہ جس طرح کام کررہی ہے اس پر غور وفکر کریں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کریں کہ اللہ کا وعدہ حشرونشر برحق ہے کیونکہ اللہ کی اس تخلیق اور اس کے اس نظام کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ حشر ونشر ہو اور اس میں اچھائی اور برائی اور صلاح اور فساد پر لوگوں کا محاسبہ ہو کیونکہ اس کائنات کی ساخت کا یہ تقاضا ہے کہ یہ عبث نہیں ہے۔ نہ اتفاقاً وجود میں آگئی ہے۔ یوں یہ مخلوق جس کی قسم اٹھالی گئی ہے یہ اس قسم کی وجہ سے حشرونشر پر ایک دلیل وبرہان بن جاتی ہے اور انسان اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور انسانی احساس و شعور اس پر غور کرتا ہے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم وتربیت کا ایک انداز ہے۔ قرآن مجید انسانی فطرت کا کائناتی زبان میں براہ راست خطاب کرتا ہے اور یہ خطاب نہایت موثر ہوتا ہے۔

الذاريات 51:4

یہ سرسری اور مختصر آیات وضربات ہیں۔ ایسے الفاظ کے ساتھ جن کا مفہوم واضح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا پردہ احساس پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ دل کو ایک نہایت ہی اہم بات سے جوڑ دیتی ہیں اور ایسے معاملے کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو توجہ کا مستحق ہے۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو حضور اکرم ﷺ کی زبان سے سنا ان کو بھی ان الفاظ کا مفہوم ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کا مفہوم کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ، شعبہ ابن الحجاج نے روایت کی ، سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے سنا نیز روایت کی شعبہ نے قاسم ابوبزہ سے ، انہوں نے ابو طفیل سے ، انہوں نے بھی حضرت علی ؓ سے سنا اور ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں کے ذریعہ حضرت ابن ابوطالب ؓ سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ کوٹہ میں ممبر پر چڑھے اور کہا ، تم قرآن کی کسی آیت کے بارے میں مجھ سے پوچھو یا سنت رسول کے بارے میں مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ ابن کو اء کھڑا ہوا اور دریافت کیا امیر المومنین کہ اللہ کے کلام الذاریات ذروا .... کے کیا معنی ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” ہوا “ تو اس نے پوچھا فالحاملات وقرا کے معنی ؟ تو انہوں نے فرمایا ” بادل “ تو اس نے پوچھا فالجاریات یسرا کے معنی تو آپ نے فرمایا ” کشتیاں “ اس نے کہا فالمقسمات امرا ؟ تو انہوں نے فرمایا ” فرشتے “۔ ایک شخص صیع ابن عسل تمیمی حضرت عمر ابن الخطاب ؓ کے پاس آئے اور حضرت عمر سے ان الفاظ کے معنی پوچھے ، تو حضرت عمر نے بھی حضرت علی ؓ کی طرح جواب دیا۔ حضرت عمر ؓ نے محسوس کیا کہ شاید وہ دشمنی اور عناد کی بنا پر سوال کررہا ہے تو آپ نے اسے سزا دی اور حکم دیا کہ وہ لوگوں کے پاس نہ بیٹھے۔ یہاں تک کہ اس نے توبہ کی اور سخت قسموں کے ساتھ حلف اٹھیا کہ آپ نے جو محسوس کیا ہے میرے دل میں وہ بات نہ تھی اس سے معلوم ہوا کہ ان الفاظ کے مدلول اور معنی کا اجمال اہل عناد اور دشمنان اسلام کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ ان کے بارے میں لوگوں سے سوال کرتے پھریں۔ اگر کوئی محسوس کرتا تو وہ کہتے ہم تو صرف معنی پوچھتے تھے۔ یہی تفسیر ابن عباس اور ابن عمر ؓ سے منقول ہے۔ مجاہد ، سعید ابن جیر ، حسن ، قتادہ ، سدی وغیرہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ابن جریر اور ابن ابو حاتم نے اس کے علاوہ کوئی اور تفسیر نقل نہیں کی۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کی قسم اٹھاتا ہے جو گرد اڑاتی ہیں جو بیجوں کو ادھر ادھر اڑاتی ہیں اور جو پھولوں پر گرد کو اڑاتی ہیں اور بادلوں کو اڑاتی ہیں۔ نیز دوسری چیزوں کو اڑاتی ہیں جو انسان کے علم میں ہوں یا نہ ہوں اور پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور پھر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے برس جاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی قسم جو بڑی سہولت سے چلتی ہیں۔ یہ سطح سمندر پر تیر رہی ہوتی ہیں کہ ان کے مواد میں اور پانی میں اللہ نے ایسی خصوصیات ودیعت کی ہیں اور اس کائنات میں اللہ نے ایسی خصوصیات رکھ دی ہیں جو ان کشتیوں کی رفتار کو آسان کرتی ہیں پھر ملائکہ کی قسم جو اللہ کے احکام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے پیغام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کا پیغام اس کی مرضی سے تقسیم کرتے ہیں۔ یہ پیغامات مختلف معاملات کے متعلق ہوتے ہیں اور پوری کائنات میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ہوا ، بادل ، سفینے اور فرشتے اللہ کی مخلوقات میں سے مخلوق ہیں۔ اللہ ان کو اپنی قدرت کا سبب اور الہ بنایا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا ایک پردہ ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ زمین پر اپنی مرضی چلاتا ہے۔ اللہ ان چیزوں کے ساتھ قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم چیزیں ہیں اور انسانوں کو اس اس طرف متوجہ ہونا چاہئے اور ان کے پیچھے جو قوتیں کام کرتی ہیں ان پر غور کریں اور پھر انسان ان چیزوں پر غور کریں کہ اللہ نے کس طرح ان کو پیدا کیا ہے وہ ان کے ذریعے سے اس دنیا میں کیا کیا تصرفات کرتا ہے اور اپنی اس تقدیر کو پردے سے باہر لاتا جاتا ہے جو اس سے پہلے سے طے کر رکھی ہے۔ یہاں اس سورة میں ان چیزوں کا تذکرہ ایک مخصوص انداز میں کیا گیا ہے اور اس لئے کیا گیا ہے کہ انسانی دل و دماغ ان کے اسرار و رموز کو جان سکیں اور پھر ان چیزوں کو کرشمہ قدرت قرار دے کر تعلق باللہ قائم کریں۔ پھر ان چیزوں کا رزق کے ساتھ ایک گونہ تعلق بھی ہے اور اس سورة کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انسان کو اس رزق سے بالکل ظاہر ہے۔ اب فرشتے جو رزق تقسیم کرتے ہیں تو من جملہ اور احکام کے وہ احکام رزق بھی تقسیم کرتے ہیں لہذا ان تمام چیزوں کا تعلق رزق سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے جس کا تذکرہ اس سورة میں کئی جگہ آیا جس غرض کے لئے اللہ ان چار امور پر قسم اٹھاتا ہے وہ یہ ہے کہ : انما ........ لواقع (15 : 6) ” جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔ “ اللہ نے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ احسان کے بدلے احسان کرے گا اور برائی کا بدلہ برائی سے دے گا۔ اس دنیا میں تو اس نے تمہیں مہلت حساب دی ہے لیکن آخرت میں کوئی مہلت نہ ہوگی لہٰذا وہاں حساب لازمی ہوگا۔ وان .... لواقع (15 : 6) ” جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے “ لہٰذا یہ وعدہ سچا ہے دنیا کا ہو یا آخرت کا۔ اور جو وعدہ اس نے کئے ہیں ان میں رزق کا بھی وعدہ ہے۔ رزق وہ دے گا کسی کو زیادہ کسی کو تھوڑا۔ اپنی مشیت کے مطابق۔ یہ وعدہ بھی سچا ہے جس طرح اللہ تمام معاملات میں سچا ہے۔ لہٰذا اللہ نے لوگوں کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے اور وہ پورا ہوگا جس طرح اللہ چاہتا ہے اور جس وقت وہ چاہے گا ایسا ہوگا۔ اللہ کی جانب سے اس پر کسی قسم کی ضرورت نہ تھی لیکن اللہ اپنی بعض مخلوقات کی قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ لوگ ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوں جیسا کہ پہلے بھی کیا گیا ، اور ان چیزوں کے اندر جو کمال تخلیق ہے اور ان کی تدبیر میں قدرت الٰہیہ جس طرح کام کررہی ہے اس پر غور وفکر کریں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کریں کہ اللہ کا وعدہ حشرونشر برحق ہے کیونکہ اللہ کی اس تخلیق اور اس کے اس نظام کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ حشر ونشر ہو اور اس میں اچھائی اور برائی اور صلاح اور فساد پر لوگوں کا محاسبہ ہو کیونکہ اس کائنات کی ساخت کا یہ تقاضا ہے کہ یہ عبث نہیں ہے۔ نہ اتفاقاً وجود میں آگئی ہے۔ یوں یہ مخلوق جس کی قسم اٹھالی گئی ہے یہ اس قسم کی وجہ سے حشرونشر پر ایک دلیل وبرہان بن جاتی ہے اور انسان اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور انسانی احساس و شعور اس پر غور کرتا ہے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم وتربیت کا ایک انداز ہے۔ قرآن مجید انسانی فطرت کا کائناتی زبان میں براہ راست خطاب کرتا ہے اور یہ خطاب نہایت موثر ہوتا ہے۔

الذاريات 51:5

یہ سرسری اور مختصر آیات وضربات ہیں۔ ایسے الفاظ کے ساتھ جن کا مفہوم واضح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا پردہ احساس پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ دل کو ایک نہایت ہی اہم بات سے جوڑ دیتی ہیں اور ایسے معاملے کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو توجہ کا مستحق ہے۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو حضور اکرم ﷺ کی زبان سے سنا ان کو بھی ان الفاظ کا مفہوم ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کا مفہوم کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ، شعبہ ابن الحجاج نے روایت کی ، سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے سنا نیز روایت کی شعبہ نے قاسم ابوبزہ سے ، انہوں نے ابو طفیل سے ، انہوں نے بھی حضرت علی ؓ سے سنا اور ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں کے ذریعہ حضرت ابن ابوطالب ؓ سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ کوٹہ میں ممبر پر چڑھے اور کہا ، تم قرآن کی کسی آیت کے بارے میں مجھ سے پوچھو یا سنت رسول کے بارے میں مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ ابن کو اء کھڑا ہوا اور دریافت کیا امیر المومنین کہ اللہ کے کلام الذاریات ذروا .... کے کیا معنی ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” ہوا “ تو اس نے پوچھا فالحاملات وقرا کے معنی ؟ تو انہوں نے فرمایا ” بادل “ تو اس نے پوچھا فالجاریات یسرا کے معنی تو آپ نے فرمایا ” کشتیاں “ اس نے کہا فالمقسمات امرا ؟ تو انہوں نے فرمایا ” فرشتے “۔ ایک شخص صیع ابن عسل تمیمی حضرت عمر ابن الخطاب ؓ کے پاس آئے اور حضرت عمر سے ان الفاظ کے معنی پوچھے ، تو حضرت عمر نے بھی حضرت علی ؓ کی طرح جواب دیا۔ حضرت عمر ؓ نے محسوس کیا کہ شاید وہ دشمنی اور عناد کی بنا پر سوال کررہا ہے تو آپ نے اسے سزا دی اور حکم دیا کہ وہ لوگوں کے پاس نہ بیٹھے۔ یہاں تک کہ اس نے توبہ کی اور سخت قسموں کے ساتھ حلف اٹھیا کہ آپ نے جو محسوس کیا ہے میرے دل میں وہ بات نہ تھی اس سے معلوم ہوا کہ ان الفاظ کے مدلول اور معنی کا اجمال اہل عناد اور دشمنان اسلام کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ ان کے بارے میں لوگوں سے سوال کرتے پھریں۔ اگر کوئی محسوس کرتا تو وہ کہتے ہم تو صرف معنی پوچھتے تھے۔ یہی تفسیر ابن عباس اور ابن عمر ؓ سے منقول ہے۔ مجاہد ، سعید ابن جیر ، حسن ، قتادہ ، سدی وغیرہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ابن جریر اور ابن ابو حاتم نے اس کے علاوہ کوئی اور تفسیر نقل نہیں کی۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کی قسم اٹھاتا ہے جو گرد اڑاتی ہیں جو بیجوں کو ادھر ادھر اڑاتی ہیں اور جو پھولوں پر گرد کو اڑاتی ہیں اور بادلوں کو اڑاتی ہیں۔ نیز دوسری چیزوں کو اڑاتی ہیں جو انسان کے علم میں ہوں یا نہ ہوں اور پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور پھر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے برس جاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی قسم جو بڑی سہولت سے چلتی ہیں۔ یہ سطح سمندر پر تیر رہی ہوتی ہیں کہ ان کے مواد میں اور پانی میں اللہ نے ایسی خصوصیات ودیعت کی ہیں اور اس کائنات میں اللہ نے ایسی خصوصیات رکھ دی ہیں جو ان کشتیوں کی رفتار کو آسان کرتی ہیں پھر ملائکہ کی قسم جو اللہ کے احکام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے پیغام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کا پیغام اس کی مرضی سے تقسیم کرتے ہیں۔ یہ پیغامات مختلف معاملات کے متعلق ہوتے ہیں اور پوری کائنات میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ہوا ، بادل ، سفینے اور فرشتے اللہ کی مخلوقات میں سے مخلوق ہیں۔ اللہ ان کو اپنی قدرت کا سبب اور الہ بنایا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا ایک پردہ ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ زمین پر اپنی مرضی چلاتا ہے۔ اللہ ان چیزوں کے ساتھ قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم چیزیں ہیں اور انسانوں کو اس اس طرف متوجہ ہونا چاہئے اور ان کے پیچھے جو قوتیں کام کرتی ہیں ان پر غور کریں اور پھر انسان ان چیزوں پر غور کریں کہ اللہ نے کس طرح ان کو پیدا کیا ہے وہ ان کے ذریعے سے اس دنیا میں کیا کیا تصرفات کرتا ہے اور اپنی اس تقدیر کو پردے سے باہر لاتا جاتا ہے جو اس سے پہلے سے طے کر رکھی ہے۔ یہاں اس سورة میں ان چیزوں کا تذکرہ ایک مخصوص انداز میں کیا گیا ہے اور اس لئے کیا گیا ہے کہ انسانی دل و دماغ ان کے اسرار و رموز کو جان سکیں اور پھر ان چیزوں کو کرشمہ قدرت قرار دے کر تعلق باللہ قائم کریں۔ پھر ان چیزوں کا رزق کے ساتھ ایک گونہ تعلق بھی ہے اور اس سورة کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انسان کو اس رزق سے بالکل ظاہر ہے۔ اب فرشتے جو رزق تقسیم کرتے ہیں تو من جملہ اور احکام کے وہ احکام رزق بھی تقسیم کرتے ہیں لہذا ان تمام چیزوں کا تعلق رزق سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے جس کا تذکرہ اس سورة میں کئی جگہ آیا جس غرض کے لئے اللہ ان چار امور پر قسم اٹھاتا ہے وہ یہ ہے کہ : انما ........ لواقع (15 : 6) ” جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔ “ اللہ نے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ احسان کے بدلے احسان کرے گا اور برائی کا بدلہ برائی سے دے گا۔ اس دنیا میں تو اس نے تمہیں مہلت حساب دی ہے لیکن آخرت میں کوئی مہلت نہ ہوگی لہٰذا وہاں حساب لازمی ہوگا۔ وان .... لواقع (15 : 6) ” جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے “ لہٰذا یہ وعدہ سچا ہے دنیا کا ہو یا آخرت کا۔ اور جو وعدہ اس نے کئے ہیں ان میں رزق کا بھی وعدہ ہے۔ رزق وہ دے گا کسی کو زیادہ کسی کو تھوڑا۔ اپنی مشیت کے مطابق۔ یہ وعدہ بھی سچا ہے جس طرح اللہ تمام معاملات میں سچا ہے۔ لہٰذا اللہ نے لوگوں کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے اور وہ پورا ہوگا جس طرح اللہ چاہتا ہے اور جس وقت وہ چاہے گا ایسا ہوگا۔ اللہ کی جانب سے اس پر کسی قسم کی ضرورت نہ تھی لیکن اللہ اپنی بعض مخلوقات کی قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ لوگ ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوں جیسا کہ پہلے بھی کیا گیا ، اور ان چیزوں کے اندر جو کمال تخلیق ہے اور ان کی تدبیر میں قدرت الٰہیہ جس طرح کام کررہی ہے اس پر غور وفکر کریں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کریں کہ اللہ کا وعدہ حشرونشر برحق ہے کیونکہ اللہ کی اس تخلیق اور اس کے اس نظام کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ حشر ونشر ہو اور اس میں اچھائی اور برائی اور صلاح اور فساد پر لوگوں کا محاسبہ ہو کیونکہ اس کائنات کی ساخت کا یہ تقاضا ہے کہ یہ عبث نہیں ہے۔ نہ اتفاقاً وجود میں آگئی ہے۔ یوں یہ مخلوق جس کی قسم اٹھالی گئی ہے یہ اس قسم کی وجہ سے حشرونشر پر ایک دلیل وبرہان بن جاتی ہے اور انسان اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور انسانی احساس و شعور اس پر غور کرتا ہے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم وتربیت کا ایک انداز ہے۔ قرآن مجید انسانی فطرت کا کائناتی زبان میں براہ راست خطاب کرتا ہے اور یہ خطاب نہایت موثر ہوتا ہے۔

الذاريات 51:6

اور یہی مفہوم اور مقصد ہے دوسری قسم کا : والسمائ ........ من افک یہاں اللہ آسمان کی قسم اٹھاتا ہے جس کی بناوٹ محکم اور مرتب ہے۔ اس طرح جس طرح زرہ کے حلقے نہایت ترتیب سے بنے ہوئے ہوتے ہیں بعض اوقات آسمانوں میں بادلوں کی یہی صورت ہوتی ہے کہ یہ بادل زرہ کی طرح بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرح پیچدار نظر آتے ہیں جس طرح پانی کی لہریں جن پر ہوا ایک ہی رفتار سے چل رہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں کے اندر جتنے مدار ہیں وہ مراد ہوں کیونکہ یہ مدار ایسے ہیں کہ اگر ان کو رنگ دار لکیروں سے ظاہر کیا جائے تو وہ زرہ کے حلقوں کی طرح نظر آئیں۔ اس نہایت ہی اچھے طریقے سے بنے ہوئے آسمان کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے بارے میں تمہاری باتیں یکساں نہیں۔ تمہارے دلائل میں اضطراب ہے۔ ان میں نہ مضبوطی ہے اور نہ قرار ہے بلکہ یہ تمہاری باتیں حیرانی اور پریشانی کی عکاسی کرتی ہیں جو چاہے ان باتوں سے بھر جائے اور جو چاہے ان پر جما رہے۔ نہ صرف یہ کہ ان میں کوئی قرار وثبات نہیں بلکہ ہمیشہ حیرت اور قلق اور بےیقینی پر مشتمل باتیں ہیں اور باطل موقف ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ متزلزل اور متغیر اور آئے دن بدلنے والا۔ باطل ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے۔ اس کے سامنے نہ نشانات راہ ہوتے ہیں اور نہ روشنی ہوتی ہے جس میں وہ راہ پر صحیح طرح چل سکے۔ پھر باطل کا کوئی اصول بھی نہیں ہوتا۔ وہ ڈولتا ہے کیونکہ اس کی کوئی مضبوط اساس نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی متعین پیمانہ ہوتا ہے۔ اگر اہل باطل کبھی کسی بات پر مجتمع ہوجائیں تو بھی ایک عرصے کے بعد وہ باہم لڑپڑتے ہیں اور ان کے درمیان اختلافات اور دشمنیاں قائم رہتی ہیں۔ اہل باطل کا اضطراب ، ان کا اختلاف اور ان کے متذبذب خیالات اس وقت اور اچھی طرح ہوجاتے ہیں جب ان کو نظام سماوی کے رنگ میں دیکھا جائے جو نہایت ہی مضبوط ہے اور جس کے حلقے ایک دوسرے سے پیوست ہیں اور مرتب ہیں۔ یہی بیان آگے جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ محض ظن وتخمین بلکہ وہم کی دنیا میں بستے ہیں۔ آخرت کے بارے میں ان کے خیالات حق ویقین سے ماخوذ نہیں ہیں۔ حق تو بالکل عیاں ہے لین اس موضوع پر ان کے افکار پریشاں ہیں۔ اس کے بعد ان کے افکار پریشان کا ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جسے آنکھیں اس طرح دیکھ رہی ہیں جس طرح اسکرین پر چل رہا ہو۔

الذاريات 51:7

اور یہی مفہوم اور مقصد ہے دوسری قسم کا : والسمائ ........ من افک یہاں اللہ آسمان کی قسم اٹھاتا ہے جس کی بناوٹ محکم اور مرتب ہے۔ اس طرح جس طرح زرہ کے حلقے نہایت ترتیب سے بنے ہوئے ہوتے ہیں بعض اوقات آسمانوں میں بادلوں کی یہی صورت ہوتی ہے کہ یہ بادل زرہ کی طرح بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرح پیچدار نظر آتے ہیں جس طرح پانی کی لہریں جن پر ہوا ایک ہی رفتار سے چل رہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں کے اندر جتنے مدار ہیں وہ مراد ہوں کیونکہ یہ مدار ایسے ہیں کہ اگر ان کو رنگ دار لکیروں سے ظاہر کیا جائے تو وہ زرہ کے حلقوں کی طرح نظر آئیں۔ اس نہایت ہی اچھے طریقے سے بنے ہوئے آسمان کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے بارے میں تمہاری باتیں یکساں نہیں۔ تمہارے دلائل میں اضطراب ہے۔ ان میں نہ مضبوطی ہے اور نہ قرار ہے بلکہ یہ تمہاری باتیں حیرانی اور پریشانی کی عکاسی کرتی ہیں جو چاہے ان باتوں سے بھر جائے اور جو چاہے ان پر جما رہے۔ نہ صرف یہ کہ ان میں کوئی قرار وثبات نہیں بلکہ ہمیشہ حیرت اور قلق اور بےیقینی پر مشتمل باتیں ہیں اور باطل موقف ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ متزلزل اور متغیر اور آئے دن بدلنے والا۔ باطل ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے۔ اس کے سامنے نہ نشانات راہ ہوتے ہیں اور نہ روشنی ہوتی ہے جس میں وہ راہ پر صحیح طرح چل سکے۔ پھر باطل کا کوئی اصول بھی نہیں ہوتا۔ وہ ڈولتا ہے کیونکہ اس کی کوئی مضبوط اساس نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی متعین پیمانہ ہوتا ہے۔ اگر اہل باطل کبھی کسی بات پر مجتمع ہوجائیں تو بھی ایک عرصے کے بعد وہ باہم لڑپڑتے ہیں اور ان کے درمیان اختلافات اور دشمنیاں قائم رہتی ہیں۔ اہل باطل کا اضطراب ، ان کا اختلاف اور ان کے متذبذب خیالات اس وقت اور اچھی طرح ہوجاتے ہیں جب ان کو نظام سماوی کے رنگ میں دیکھا جائے جو نہایت ہی مضبوط ہے اور جس کے حلقے ایک دوسرے سے پیوست ہیں اور مرتب ہیں۔ یہی بیان آگے جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ محض ظن وتخمین بلکہ وہم کی دنیا میں بستے ہیں۔ آخرت کے بارے میں ان کے خیالات حق ویقین سے ماخوذ نہیں ہیں۔ حق تو بالکل عیاں ہے لین اس موضوع پر ان کے افکار پریشاں ہیں۔ اس کے بعد ان کے افکار پریشان کا ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جسے آنکھیں اس طرح دیکھ رہی ہیں جس طرح اسکرین پر چل رہا ہو۔

الذاريات 51:8

اور یہی مفہوم اور مقصد ہے دوسری قسم کا : والسمائ ........ من افک یہاں اللہ آسمان کی قسم اٹھاتا ہے جس کی بناوٹ محکم اور مرتب ہے۔ اس طرح جس طرح زرہ کے حلقے نہایت ترتیب سے بنے ہوئے ہوتے ہیں بعض اوقات آسمانوں میں بادلوں کی یہی صورت ہوتی ہے کہ یہ بادل زرہ کی طرح بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرح پیچدار نظر آتے ہیں جس طرح پانی کی لہریں جن پر ہوا ایک ہی رفتار سے چل رہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں کے اندر جتنے مدار ہیں وہ مراد ہوں کیونکہ یہ مدار ایسے ہیں کہ اگر ان کو رنگ دار لکیروں سے ظاہر کیا جائے تو وہ زرہ کے حلقوں کی طرح نظر آئیں۔ اس نہایت ہی اچھے طریقے سے بنے ہوئے آسمان کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے بارے میں تمہاری باتیں یکساں نہیں۔ تمہارے دلائل میں اضطراب ہے۔ ان میں نہ مضبوطی ہے اور نہ قرار ہے بلکہ یہ تمہاری باتیں حیرانی اور پریشانی کی عکاسی کرتی ہیں جو چاہے ان باتوں سے بھر جائے اور جو چاہے ان پر جما رہے۔ نہ صرف یہ کہ ان میں کوئی قرار وثبات نہیں بلکہ ہمیشہ حیرت اور قلق اور بےیقینی پر مشتمل باتیں ہیں اور باطل موقف ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ متزلزل اور متغیر اور آئے دن بدلنے والا۔ باطل ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے۔ اس کے سامنے نہ نشانات راہ ہوتے ہیں اور نہ روشنی ہوتی ہے جس میں وہ راہ پر صحیح طرح چل سکے۔ پھر باطل کا کوئی اصول بھی نہیں ہوتا۔ وہ ڈولتا ہے کیونکہ اس کی کوئی مضبوط اساس نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی متعین پیمانہ ہوتا ہے۔ اگر اہل باطل کبھی کسی بات پر مجتمع ہوجائیں تو بھی ایک عرصے کے بعد وہ باہم لڑپڑتے ہیں اور ان کے درمیان اختلافات اور دشمنیاں قائم رہتی ہیں۔ اہل باطل کا اضطراب ، ان کا اختلاف اور ان کے متذبذب خیالات اس وقت اور اچھی طرح ہوجاتے ہیں جب ان کو نظام سماوی کے رنگ میں دیکھا جائے جو نہایت ہی مضبوط ہے اور جس کے حلقے ایک دوسرے سے پیوست ہیں اور مرتب ہیں۔ یہی بیان آگے جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ محض ظن وتخمین بلکہ وہم کی دنیا میں بستے ہیں۔ آخرت کے بارے میں ان کے خیالات حق ویقین سے ماخوذ نہیں ہیں۔ حق تو بالکل عیاں ہے لین اس موضوع پر ان کے افکار پریشاں ہیں۔ اس کے بعد ان کے افکار پریشان کا ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جسے آنکھیں اس طرح دیکھ رہی ہیں جس طرح اسکرین پر چل رہا ہو۔

الذاريات 51:9

اور یہی مفہوم اور مقصد ہے دوسری قسم کا : والسمائ ........ من افک یہاں اللہ آسمان کی قسم اٹھاتا ہے جس کی بناوٹ محکم اور مرتب ہے۔ اس طرح جس طرح زرہ کے حلقے نہایت ترتیب سے بنے ہوئے ہوتے ہیں بعض اوقات آسمانوں میں بادلوں کی یہی صورت ہوتی ہے کہ یہ بادل زرہ کی طرح بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرح پیچدار نظر آتے ہیں جس طرح پانی کی لہریں جن پر ہوا ایک ہی رفتار سے چل رہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں کے اندر جتنے مدار ہیں وہ مراد ہوں کیونکہ یہ مدار ایسے ہیں کہ اگر ان کو رنگ دار لکیروں سے ظاہر کیا جائے تو وہ زرہ کے حلقوں کی طرح نظر آئیں۔ اس نہایت ہی اچھے طریقے سے بنے ہوئے آسمان کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے بارے میں تمہاری باتیں یکساں نہیں۔ تمہارے دلائل میں اضطراب ہے۔ ان میں نہ مضبوطی ہے اور نہ قرار ہے بلکہ یہ تمہاری باتیں حیرانی اور پریشانی کی عکاسی کرتی ہیں جو چاہے ان باتوں سے بھر جائے اور جو چاہے ان پر جما رہے۔ نہ صرف یہ کہ ان میں کوئی قرار وثبات نہیں بلکہ ہمیشہ حیرت اور قلق اور بےیقینی پر مشتمل باتیں ہیں اور باطل موقف ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ متزلزل اور متغیر اور آئے دن بدلنے والا۔ باطل ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے۔ اس کے سامنے نہ نشانات راہ ہوتے ہیں اور نہ روشنی ہوتی ہے جس میں وہ راہ پر صحیح طرح چل سکے۔ پھر باطل کا کوئی اصول بھی نہیں ہوتا۔ وہ ڈولتا ہے کیونکہ اس کی کوئی مضبوط اساس نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی متعین پیمانہ ہوتا ہے۔ اگر اہل باطل کبھی کسی بات پر مجتمع ہوجائیں تو بھی ایک عرصے کے بعد وہ باہم لڑپڑتے ہیں اور ان کے درمیان اختلافات اور دشمنیاں قائم رہتی ہیں۔ اہل باطل کا اضطراب ، ان کا اختلاف اور ان کے متذبذب خیالات اس وقت اور اچھی طرح ہوجاتے ہیں جب ان کو نظام سماوی کے رنگ میں دیکھا جائے جو نہایت ہی مضبوط ہے اور جس کے حلقے ایک دوسرے سے پیوست ہیں اور مرتب ہیں۔ یہی بیان آگے جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ محض ظن وتخمین بلکہ وہم کی دنیا میں بستے ہیں۔ آخرت کے بارے میں ان کے خیالات حق ویقین سے ماخوذ نہیں ہیں۔ حق تو بالکل عیاں ہے لین اس موضوع پر ان کے افکار پریشاں ہیں۔ اس کے بعد ان کے افکار پریشان کا ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جسے آنکھیں اس طرح دیکھ رہی ہیں جس طرح اسکرین پر چل رہا ہو۔

الذاريات 51:10

قتل ........ تسعجلون خرص کے معنی ظن ، گمان ، اندازے کے ہیں ، یعنی ایسی سوچ جو کسی گہرے اور یقینی معیار پر مبنی نہ ہو اور جس کا کوئی صغری کبری نہ ہو۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ بددعا فرماتا ہے کہ وہ قتل ہوں اور اللہ کی طرف سے بددعا کے معنی ہیں ” بس قتل ہوئے۔ “ قتل الخرصون (51 : 01) ” مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے “ اور ان کی ذرا مزید وضاحت کی جاتی ہے۔

الذاريات 51:11

الذین ........ ساھون (51 : 11) ” جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں “ ان کے افکار باطل خیالات سے لبالب ہیں اور یہ ادہام میں مدہوش ہیں ، نہ ہوش میں آتے ہیں اور نہ جاگتے ہیں۔ انداز تعبیر ایک خاص رنگ اور تصور دے رہا ہے۔ ان کی تصویر کچھ ایسی بنتی ہے۔ وہ غفلت میں سوئے ہوئے ہیں یا بےہوش ہیں ، مست پڑے ہیں اور انہیں اپنے ماحول کے بارے میں کوئی احساس نہیں ہے اور وہ کوئی فکر بھی نہیں کرتے اور ان کے ذہن اور دماغ کام نہیں کررہے جس طرح نشے میں ہوں۔ اس لئے کہ ایک واضح بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ایسی کہ ہر ہوشمند شخص اسے دیکھتے ہی سمجھ لے اور ان کی حالت یہ ہے۔

الذاريات 51:12

یسئلون ایان یوم الدین (51 : 21) ” پوچھتے ہیں آخر وہ روز جزاء کب آئے گا “ وہ جس طرح پوچھتے ہیں اس سے ان کا مقصد طلب علم یا طلب معرفت نہیں ہیں بلکہ وہ منکر ہیں ، جھٹلاتے ہیں اور اسے ایک ناممکن بات سمجھ کر پوچھتے ہیں کیونکہ ” ایان “ کے لفظ کو ایسے ہی مواقع پر بولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اپنے انداز میں قیامت کی ایک جھلک جلدی سے دکھا دیتا ہے کہ دیکھو یہ ہے جس کو تم ناممکن سمجھتے ہو۔ وہ اس طرح اس میں جل جاتے ہیں جس طرح کسی دھات کو جلاکر اس کی حقیقت معلوم کی جاتی ہے۔

الذاريات 51:13

یوم ھم علی النار یفتنون (51 : 31) ” جب یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے “ اور پھر اس منظر ہی میں انہیں شرمندہ بھی کیا جاتا ہے جس سے ان کے رنج میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ وہ تو پہلے سے مشکل میں ہیں۔

الذاريات 51:14

ذوقوا ........ تستعجلون (51 : 41) ” اب چکھو مزا اپنے فتنے کا ، یہ وہی چیز ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “.... اس سوال کا مناسب جواب یہی تھا اور مدہوشی اور گہری نیند میں سوئے ہوئے غافلوں کے لئے اس منظر میں یہ سختی نہایت ہی موزوں اور مطابق حال ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کے لئے بددعا کی ، نہایت سخت انداز میں لہٰذا مارے گئے اور آگ پر ان کو اس طرح تپایا جائے گا جس طرح کسی دھات کو تپایا جاتا ہے کہ اس سے کھوٹ نکالا جائے۔ اب ذرا فریق مقابل ، ذرا دوسرے پلیٹ فارم پر جائیں اور کتاب کا دوسرا صفحہ الٹیں ، وہاں دوسرا فریق کھڑا ہے جو وہم و گمان کی بات نہیں کرتا جس کی باتوں میں تزلزل نہیں ہے۔ یہ متقی ہیں متکبر نہیں۔ یہ جاگ رہے ہیں ، عبادت گزار ہیں ، استعفار کرنے والے ہیں اور اپنی عمر مدہوشیوں میں ضائع نہیں کرتے۔

الذاريات 51:15

یہ گروہ گروہ متقین ہے۔ یہ جاگنے والے ہیں۔ یہ شدید احساس رکھتے ہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنے نفس کے بارے میں بھی حساس ہیں۔ یہ لوگ۔ فی جنت وعیون (15 : 15) ” باغوں اور چشموں میں ہوں گے “ اور۔

الذاريات 51:16

اخذین ما اتھم ربھم (51 : 61) ” جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے “ رب کے فضل ، اس کے انعامات وہ لے رہے ہوں گے ان اعمال کے بدلے جو انہوں نے حیات دنیا میں کئے۔ انہوں نے اس کی عبادت اس طرح کی گویا اسے دیکھ رہے ہیں اور یہ یقین کرتے ہوئے کہ وہ دیکھ رہا ہے اور۔ انھم کانوا قبل ذلک محسنین (51 : 61) ” وہ اس دن کے آنے سے پہلے نیکوکار تھے اور ان کی نیکی کی تصویر بھی بڑی دلکش ہے ، نہایت ہی چمکدار اور حساس :

الذاريات 51:17

کانوا…….. یستغفرون (51 : 81) ” راتوں کو کم سوتے تھے ، پھر وہ رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے “ وہ رات کے پچھلے حصے میں جاگ رہے ہوتے ہیں جبکہ لوگ سوتے ہیں۔ وہ اپنے رب کی طرف توبہ و استغفار کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں ، اللہ سے رحم کی درخواست کرتے ہیں ، وہ بہت کم اونگھتے ہیں اور بہت کم سوتے ہیں۔ رات کے اندھیروں میں وہ اپنے رب کے ساتھ ہمکلام ہوتے ہیں۔ ان کے پہلو اپنے بستروں سے دور ہوجاتے ہیں اور اللہ کی طرف دیکھنے کا شوق انہیں ہلکا کردیتا ہے اور نیند ان کے جسم کو بوجھل نہیں کرسکتی۔ امام حسن بصری کہتے ہیں : کانو ........ مایھجعون (15 : 71) ” یعنی وہ مشقت سے قیام لیل کرتے ہیں ، وہ رات کو کم سوتے ہیں اور انہوں نے عمل میں رات بسر کی اور اپنے قیام کو صبح تک طویل کیا۔ یہاں تک کہ استغفار صبح کے وقت ہوا۔ فتادہ احنف ابن قیس سے نقل کرتے ہیں۔ کانو ........ یھجعون (51 : 81) یعنی وہ کم سوتے تھے اور پھر انہوں نے کہا کہ میں اس آیت والوں میں سے نہیں ہوں۔ حسن بصری فرماتے ہیں کہ احنف بن قیس فرمایا کرتے تھے میرے اعمال اہل جنت کے اعمال کے مقابلے میں پیش کئے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے اور ہمارے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ چونکہ ہم ان کے اعمال تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ وہ لوگ تھے جو رات کو کم سوتے تھے اور میں نے اپنے اعمال جہنمیوں کے اعمال پر پیش کئے تو اہل جہنم میں کوئی بھلائی نہ تھی۔ انہوں نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا۔ حشرونشر کو جھٹلایا ، میں نے دیکھا کہ وہ لوگ بھی ہم سے اچھے ہیں جنہوں نے کچھ تو اچھے کام کئے تھے اور کچھ برے کئے تھے۔ عبدالرحمن ابن زید ابن اسلم نے کہا بنی تمیم کے ایک شخص نے میرے باپ سے کہا : ” ابو اسامہ ، ایک صفت ہے جو ہم میں نہیں ہے اللہ نے ایک ایسی قوم کا ذکر کیا ہے۔ کانوا ........ ما یھجعون (51 : 81) ” جو راتوں کو کم سوتے تھے “ آرزو مند ہیں اور وہ اپنے آپ کو اس فر فروتر سمجھتے ہیں۔ بہرحال امت میں کچھ لوگ اللہ کے نے اس مقام کے لئے چن رکھے ہیں جو ان آیات کا حق ادا کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے وہ اللہ کے ہاں محسنین کی لسٹ میں درج ہیں۔ یہ تو ہے ان کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ، لوگوں کے ساتھ ان کا تعلق کیا ہے ، وہی تعلق جو ایک نیک آدمی کے لائق ہے۔

الذاريات 51:18

کانوا…….. یستغفرون (51 : 81) ” راتوں کو کم سوتے تھے ، پھر وہ رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے “ وہ رات کے پچھلے حصے میں جاگ رہے ہوتے ہیں جبکہ لوگ سوتے ہیں۔ وہ اپنے رب کی طرف توبہ و استغفار کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں ، اللہ سے رحم کی درخواست کرتے ہیں ، وہ بہت کم اونگھتے ہیں اور بہت کم سوتے ہیں۔ رات کے اندھیروں میں وہ اپنے رب کے ساتھ ہمکلام ہوتے ہیں۔ ان کے پہلو اپنے بستروں سے دور ہوجاتے ہیں اور اللہ کی طرف دیکھنے کا شوق انہیں ہلکا کردیتا ہے اور نیند ان کے جسم کو بوجھل نہیں کرسکتی۔ امام حسن بصری کہتے ہیں : کانو ........ مایھجعون (15 : 71) ” یعنی وہ مشقت سے قیام لیل کرتے ہیں ، وہ رات کو کم سوتے ہیں اور انہوں نے عمل میں رات بسر کی اور اپنے قیام کو صبح تک طویل کیا۔ یہاں تک کہ استغفار صبح کے وقت ہوا۔ فتادہ احنف ابن قیس سے نقل کرتے ہیں۔ کانو ........ یھجعون (51 : 81) یعنی وہ کم سوتے تھے اور پھر انہوں نے کہا کہ میں اس آیت والوں میں سے نہیں ہوں۔ حسن بصری فرماتے ہیں کہ احنف بن قیس فرمایا کرتے تھے میرے اعمال اہل جنت کے اعمال کے مقابلے میں پیش کئے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے اور ہمارے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ چونکہ ہم ان کے اعمال تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ وہ لوگ تھے جو رات کو کم سوتے تھے اور میں نے اپنے اعمال جہنمیوں کے اعمال پر پیش کئے تو اہل جہنم میں کوئی بھلائی نہ تھی۔ انہوں نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا۔ حشرونشر کو جھٹلایا ، میں نے دیکھا کہ وہ لوگ بھی ہم سے اچھے ہیں جنہوں نے کچھ تو اچھے کام کئے تھے اور کچھ برے کئے تھے۔ عبدالرحمن ابن زید ابن اسلم نے کہا بنی تمیم کے ایک شخص نے میرے باپ سے کہا : ” ابو اسامہ ، ایک صفت ہے جو ہم میں نہیں ہے اللہ نے ایک ایسی قوم کا ذکر کیا ہے۔ کانوا ........ ما یھجعون (51 : 81) ” جو راتوں کو کم سوتے تھے “ آرزو مند ہیں اور وہ اپنے آپ کو اس فر فروتر سمجھتے ہیں۔ بہرحال امت میں کچھ لوگ اللہ کے نے اس مقام کے لئے چن رکھے ہیں جو ان آیات کا حق ادا کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے وہ اللہ کے ہاں محسنین کی لسٹ میں درج ہیں۔ یہ تو ہے ان کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ، لوگوں کے ساتھ ان کا تعلق کیا ہے ، وہی تعلق جو ایک نیک آدمی کے لائق ہے۔

الذاريات 51:19

وفی ........ والمحروم (51 : 91) ” اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لئے “ وہ اپنے اموال میں اس سائل کا حصہ بھی رکھتے ہیں جو مانگتا ہے اور دے دیا جاتا ہے اور اس محروم کا بھی حق مقرر کرتے ہیں جو خاموش رہتا ہے ، حیا کرتا ہے اور محروم رہ جاتا ہے۔ وہ ان دونوں قسم کے لوگوں کے لئے اپنے اموال میں حق رکھتے ہیں۔ وہ خود اس حق کو اپنے اوپر فرض کرلیتے ہیں اور یہ حق غیر محدود ہے متعین نہیں۔ یہ اشارہ سورة کے محور کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ رزق آسمانوں میں ہے تاکہ انسانوں کا دل کنجوسی ، بخل اور رات اور دن جمع مال میں مشغولیت سے ذرا آزاد ہوجائے اور یہ سورة کے اس اہم حصے کے لئے تمہید ہے جبکہ یہ متقین اور محسنین کی تصویر کا آخری رنگ بھی ہے۔

الذاريات 51:20

اس آیت کے ذریعے انفس وآفاق میں موجود نشانیوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ تمہارے لئے رزق کے جو ذرائع مقرر کردیئے ہیں وہ آسمان سے مقرر ہیں اور اللہ اپنی ذات کی قسم اٹھا کر فرماتا ہے یہاں ذات باری کو رب سماء اور ارض کہا گیا جن کا ذکر اس سبق میں ہوچکا ہے اور جو اب قسم یہی اہم سوال ہے یعنی حشرونشر۔ وفی الارض ........ للموقنین (51 : 02) وفی ........ تبصرون (51 : 12) ” زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لئے اور خود تمہارے وجود میں ہیں کیا تم کو سوجھتا نہیں “ یہ چھوٹا سا سیارہ جس کے اوپر ہم رہتے ہیں یہ ایک بہت بڑی نمائش گاہ ہے۔ ان آیات وعجائبات کے لئے جو اس میں اللہ نے رکھے ہیں۔ اس نمائش گاہ میں اس دنیا کے عجائبات میں سے بہت ہی کم ابھی تک نمائش کے لئے رکھے جاسکے ہیں۔ آئے دن نئے نئے انکشافات ہوتے رہتے ہیں اور نئے نئے عجائبات ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔ اسی قسم کی ایک نمائش گاہ خود ہماری ذات ہے۔ نفس انسانی ، اس کی پراسرار نفسیاتی دنیا ، اس حضرت انسان کے اندر بھی اس کائنات کے اسرار موجود ہیں۔ صرف زمین کے اسرار نہیں بلکہ پوری کائنات کے اسرار۔ ان دو نمائش گاہوں کی طرف ان آیات میں مختصر اشارہ ہے کہ ان دونوں نمائش گاہوں کے دروازے تمہارے لئے کھولے جارہے ہیں لیکن فائدہ اسی شخص کو ہوگا جو ان کو دیکھنا چاہے اور جو یقین کرنا چاہے اور اپنی زندگی کی نعمتوں اور خوشیوں سے بھرنا چاہے جو علم ومعرفت اور دانائی اور عبرت حاصل کرنا چاہے جن سے اس کا دل زندہ ہوگا اور عمر زیادہ ہوگی۔ اللہ نے اپنا یہ کلام اس طرح بنایا ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے ہر سطح کے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ہر صورت حال اور ہر قسم کے معاشروں کے لئے وہ رہنما ہے۔ ہر شخص ، ہر نفس اور ہر سطح کی عقل وادراک کے لئے اس کلام میں ہدایت اور دلچسپی اور علم ہے۔ ہر شخص اپنی عقلی قوت ہاضمہ کے مطابق اس سے استفادہ کرسکتا ہے۔ جوں جوں انسان علم ومعرفت میں ارتقائی منازل طے کرتا ہے ، جوں جوں اس کا دائرہ ادراک وسیع ہوتا ہے ، اس کی معلومات بڑھتی ہیں ، اس کے تجربات آگے بڑھتے ہیں اور وہ نفس اور کائنات کے اسرار حاصل کرتا ہے تو اس کا حصہ اس قرآن میں بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علوم قرآنی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس کی زاد راہ اور اس کا رزق اس قرآن میں بڑھ جاتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے ” جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے اور زیادہ استعمال سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔ “ یہ وہ الفاظ ہیں جو اس کے بارے حضور اکرم نے فرمائے کیونکہ اس کے اسرار و رموز سے زیادہ واقف حضور ہی ہیں۔ یہ زندہ تجربہ تھا جو آپ کو قرآن کے بارے میں ہوا اور جس کو آپ نے ان الفاظ میں بیان کیا ﷺ جن لوگوں نے پہلی مرتبہ قرآن کو سنا تھا انہوں نے اس کائنات میں پائے جانے والے دلائل ونشانات کو اور خود ان کے نفوس کے اندر جو دلائل ونشانات تھے ان کو اس وقت کے علم ومعرفت کے مطابق سمجھا تھا۔ ان کے بعد آنے والی نسلوں نے بھی اپنے علم ومعرفت اور اپنے تجربات کے مطابق ان آیات کو سمجھا اور بیان کیا۔ آج ہم بھی اپنا حصہ پا رہے ہیں جس قدر علم ومعرفت اور جس قدر تجربات وانکشافات ہمارے سامنے آج تک آچکے ہیں ، آج ہم تک جو علوم اور تجربات پہنچے ہیں وہ اس عظیم کائنات اور انسان کے پر پیچ نفس کے آیات ونشانات میں سے بہت ہی قلیل حصہ ہیں۔ ہم سے بعد میں آنے والی نسلوں کو ہمارے مقابلے میں زیادہ آیات ونشانات ملیں گے۔ اس کائنات میں بھی اور نفس انسانی میں بھی اور قیامت تک اس نمائش گاہ عالم اور نمائش گاہ نفس انسانی میں نئے نئے عجائبات برائے نمائش رکھے جاتے رہیں گے۔ یہ زمین ، زندگی کے لئے تیار شدہ سیارہ ، جو زندگی کا گہوارہ ہے اور جسے زندگی کی تمام ضروریات سے لیس کیا گیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس عظیم اور ہولناک کائنات میں یہ واحد سیارہ ہے جسے حیات کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں ایک جگہ رکے ہوئے ستارے بھی ہیں اور مداروں میں چلنے والے سیارے بھی ہیں۔ ان میں سے جو ہمیں معلوم ہیں ان کی تعداد اربوں میں ہے اور یہ یادرکھنا چاہئے کہ اس کائنات کا جو حصہ معلوم ہے وہ نسبتاً بہت ہی کم ہے۔ اس میں کئی ملین کہکشاں ہیں اور ہر کہکشاں کے کروڑ ہا ستارے ہیں اور ان کے کواکب ہیں جو ان ستاروں کے ارد گرد چکر لگاتے رہتے ہیں۔ ان سیاروں میں سے صرف یہ زمین ہی ایک سیارہ ہے جسے اس پر موجود زندگی کے لئے عجیب خصوصیات دی گئی ہیں۔ ان میں سے ہر خصوصیت ایک نشانی ہے۔ اگر ان خصوصیات میں سے ایک خصوصیت بھی ختم ہوجائے یا اس کے اندر کچھ ردوبدل ہوجائے تو زمین کے اوپر سے ہر قسم کی زندگی کا وجود ہی خطم ہوجائے۔ اگر اس زمین کا حجم بدل جائے ، ٹیٹرھی ہوجائے یا چھوٹی ، اگر سورج سے اس کا فاصلہ بدل جائے ، کم ہوجائے یا زیادہ ، اگر سورج کا حجم بدل جائے اور اس کا درجہ حرارت بدل جائے اور یہ زمین اپنے محور پر جس طرح جھکی ہوئی ہے اگر اس کے اس جھکاؤ میں کوئی تغیر واقع ہوجائے اگر اس کی گردش محوری یا سورج کے گرد اس کی سالانہ گردش میں کمی بیشی آجائے اگر چاند کا حجم متغیر ہوجائے یا زمین سے قریب یا دور ہوجائے۔ اگر زمین کے اندر تری اور خشکی کی نسبت بدل جائے ، غرض اگر ، اگر ، اگر .... اور ہزار ہا اگر ، اگر ان ہزارہا موافقات اور سہولیات میں سے کوئی ایک بھی بدل جائے تو اس سیارے پر سے اس خوبصورت زندگی کا نام ونشان ہی ختم ہوجائے۔ کیا یہ ایک چیز نشانی نہیں ، کیا یہ سب چیزیں نشانات نہیں جو بتاتی ہیں کہ ایک ذات ہے جس نے ان کو منظم کیا ہے ، فراہم کیا ہے۔ اور خوراک اور رزق کی مختلف اقسام جو اس زمین پر رہنے والی اور بسنے والی مخلوقات کے لئے اللہ نے فراہم کی ہیں۔ یہ مخلوقات سطح زمین کے اوپر رہتی ہوں ، فضا میں تیررہی ہوں ، یا پانی میں تیررہی ہوں یا زمین کے غاروں میں رہتی ہوں یا اس کے پہاڑوں میں رہتی ہوں یا اس کی وادیوں اور بستیوں میں اندر رہتی ہوں ، سب کے لئے خوراک تیار ہے۔ بعض کی مرکب ہے اور بعض کی بسیط شکل میں ہے۔ بہرحال یہ ان زندہ چیزوں کے وجود کے لئے قابل قبول ہے اور ان لاتعداد زندہ اشیاء کی ضروریات پوری کرتی ہے جس طرح زندہ مخلوقات لاتعداد انواع و اقسام کی ہیں اسی طرح ان کی خوراک بھی لاتعداد و انواع و اقسام کی ہے۔ یہ انواع خوراک جو زمین کے اندر ہیں جو بہتی اور چلتی ہیں جو ہوا میں ہیں جو سطح زمین پر اگتی ہیں جو سورج سے آرہی ہیں جو دوسرے جہانوں سے آرہی ہیں جو تمہیں معلوم ہی نہیں لیکن یہ ہر قسم کی خوراک ان زندہ اشیاء کے لئے ہر طرف سے چلی آرہی ہے اور بڑی مقدار میں چلی آرہی ہے۔ اللہ کی مشیت اور اس کی تدبیر کے مطابق یہ ایک عظیم خزانہ اور اسٹو رہے جو ان لاتعداد انواع و اقسام کے کھانے والوں کے لئے سپلائی پوری کراتا ہے۔ یہ ہے ربانی سٹورالرزاق کا انتظام۔ پھر اس زمین کے مناظر ومشاہد کی رنگارنگی ، جہاں تک بھی نظر جاسکتی ہو جہاں جہاں بھی قدم جاسکے ہوں یہ بھی اپنی جگہ عجائبات ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ یہ تنگ گڑھے اور کشادہ نالے ، وادیاں اور پہاڑ ، سمندر اور بحیرے ، نہریں اور نالیاں اور باغات کے ٹکڑے ٹکڑے ، انگور اور کھجور ، اکہرے اور دوہرے ، یہ سب مناظر اور مشاہد ایسے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بنانے والے کے کمالات کا یہ عجوبہ ہیں۔ ان میں مسلسل تغیرات ہوتے رہتے ہیں اور یہ کسی وقت بھی ایک حالت میں نہیں ہوتے۔ انسان ایک زمین پر گزرتا ہے تو وہ خشک اور قحط زدہ نظر آتی ہے یہ بھی ایک منطر ہے اور پھر کیا دیکھتا ہے کہ وہ سر سبز اور نعمتوں اور چارہ سے بھری ہوتی ہے تو یہ بھی ایک منظر ہے۔ کبھی نہایت ہی سر سبزی اور شاداں ہوتی ہے۔ یہ ایک منظر ہے۔ کبھی وہ دیکھتا ہے کہ تمام زمین زرد اور خشک ہوگئی اور فصل کٹنے والی ہے۔ یہ بھی ایک منظر ہوتا ہے اور وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوتا ہے بالکل ادھر ادھر نہیں گیا ہوتا ہے۔ وہ تمام مخلوقات جو اس زمین کو آباد کررہی ہیں مثلاً زندہ مخلوقات نباتات وحیوانات ، مچھلیاں اور پرندے چوپائے اور حشرات اور انسان قرآن نے ان کا تذکرہ ایک ہی آیت میں کیا ہے۔ یہ مخلوقات جن کے انواع و اقسام کی تعداد کا بھی پوری طرح ہمیں علم نہیں ہے یہ تو دور کی بات ہے کہ ایک نوع کے افراد گنے جاسکیں۔ یہ تو محال ہے۔ ان میں سے ہر نوع کی مخلوقات ایک امت ہے اور ان کا ہر ایک فرد ایک عجوبہ ہے۔ ہر حیوان ، ہر پرندہ ، ہر چرندہ اور ہر کیڑا ، ہر پودا نہیں بلکہ ہر پودے کی ہر شاخ اور ہر شاخ کا ہر پتہ اور ہر شاخ کا ہر پھول اور ہر پھول کی ہر پتی یہ اللہ کی ایک نمائش گاہ ہے جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اگر انسان بیان کرنے لگے بلکہ تمام انسان بیک وقت بیان کرنے لگیں وہ غور کریں اور لکھیں اور بیان کریں کہ اس زمین میں کیا کیا نشانات الٰہیہ ہیں اور کیا کیا عجائبات ہیں تو نہ ان کی بات ختم ہو اور نہ ہی عجائبات واشارات ختم ہوں۔ قرآن کی یہ آیت تو صرف اس قدر بیان کرتی ہے کہ انسان کا دل و دماغ غور وفکر کے لئے بیدار ہوجائے اور اس عظیم الشان نمائش میں جو چیزیں قدرت نے رکھی ہیں ان کو دیکھیں اور روشنی میں لائیں سمجھیں اور سمجھائیں۔ ہنسیں اور ہنسائیں اور یوں اس کرہ ارض پر اپنے اس مختصر سفر کو خوشگوار بنائیں۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ ان عجائبات کا ادراک وہی کرسکتا ہے اور ان کے ذریعے زندگی کے اس مختصر سفر کو وہی خوشگوار بنا سکتا ہے جس کا دل یقین سے بھر چکا ہو۔ وفی الارض ایت للموقنین (51 : 02) ” اور زمین میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین کرتے ہیں “ یہ یقین ہی ہے جو آنکھوں کو بینائی فراہم کرتا ہے تو وہ دیکھتی ہیں۔ یہ ایمان ہی ہے جو زمین کے ان مظاہر قدرت کو زندگی دیتا ہے اور وہ اپنے اسرار اور موز بتاتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ ان کی پشت پر دست قدرت کی کیا کیا کارستانیاں ہیں۔ بغیر ایمان کے یہ سب مناظر ومشاہد مردہ پڑے رہتے ہیں۔ جامد ہوجاتے ہیں اور مفہوم سے خالی ہوتے ہیں۔ یہ ایمان سے خالی دل سے ہمکلام نہیں ہوتے۔ وہ اس کے ساتھ ہمقدم ہوکر نہیں چلتے۔ کئی ایسے انسان ہیں جو اللہ کی اس نمائش گاہ میں چلتے پھرتے ہیں لیکن انہیں اس میں نظر کچھ نہیں آتا۔ ان کو یہ کائنات زندہ اور گویا نظر نہیں آتی۔ وہ اس کی زبان نہیں سمجھتے کیونکہ ان کے دلوں کو ایمان کے لمس سے زندگی نہیں بخشی۔ ان کے لئے ان کا ماحول زندہ نہیں ہے۔ بعض ایسے لوگوں میں بڑے بڑے علماء اور سائنس دان بھی ہوسکتے ہیں۔ یعلمون ........ الدنیا ” مگر وہ اس دنیا کی زندگی کے صرف چھلکے کے عالم ہیں “ رہی اس دنیا کی اندرونی حقیقت تو وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہے کیونکہ کوئی بھی دل اس کائنات کی حقیقت کو ایمان کی کنجی سے کھول سکتا ہے کوئی بھی آنکھ صرف ایمان کی روشنی سے ان حقائق کو دیکھ سکتی ہے۔ صدق اللہ العظیم ........

الذاريات 51:21

اب ان عجائبات میں سے دوسرا عجوبہ۔ وفی ........ تبصرون (51 : 12) ” اور خود تمہارے وجود میں ہیں کیا تمہیں سوجھتا نہیں “ یہ حضرت انسان تو عجائبات عالم میں سے ایک عظیم عجوبہ ہے لیکن اس کی قسمت کیا ہے۔ اس کا مقام کیا ہے اور اس کی ذات کے اندر کیا اسرار و رموز ہیں۔ اس سے وہ غافل ہے اور غافل اس وجہ سے ہے کہ وہ ایمان ویقین کی نعمت سے محروم ہے۔ یہ انسان اپنی جسمانی ساخت میں بھی عجوبہ ہے۔ جسم کے اسرار میں عجوبہ ہے۔ روحانی دنیا میں عجوبہ ہے۔ نفسیات کا تو عالم ہی جدا ہے۔ غرض اپنے ظاہر میں اور اپنے باطن میں عجوبہ ہے۔ یہ انسان اس کائنات کا عناصر کا نمونہ ہے اور پوری کائنات کے اسرار و رموز اس کے اندر پوشیدہ ہیں۔ وتزعم انک جرم صغیر و فیک انطوی العالم الاکبر ” تو سمجھتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جرثومہ ہے .... لیکن تیرے اندر ایک عظیم جہاں آباد ہے۔ “ جب انسان خود اپنی ذات اور اپنے نفس کے عجائبات دیکھتا ہے تو حیران اور ششدررہ جاتا ہے۔ اس کے اعضاء کی تشکیل اور تقسیم ، پھر اس کے اعضاء کے فرائض اور ان کے اندر عمل ، مثلاً اور خوراک حاصل کرنے کا عمل ، سانس لینے کا عمل اور جلانے کا عمل ، دل اور شریانوں میں خون دوڑنے کا عمل ، اعصابی نظام اور اس کا پورے جسم کو چلانا ، غدود اور ان کا جسم کو چلانا اور بڑھانا ، پھر ان تمام چیزوں کا باہم اتحاد واتفاق اور ہم آہنگی اور ان کا پوری طرح ہمسفر اور ہمقدم ہونا ، پھر عجائبات کے اندر جو تفصیلی عجائبات ہیں اور ہر جز کے اندر جو خارق ، عادت معجزات ہیں ان میں سے ہر ایک محیرالعقول ہے۔ پھر انسان کی روحانی طاقتیں ، جن میں سے کچھ تو معلوم ہیں اور کچھ مجہول ہیں۔ اس کا اشیاء کا ادراک کرنا اور پھر ادراک کا میکانزم ، پھر مدرکات کا حفظ کرنا اور اس کے بعد ان کو یاد کرلینا ، یہ معلومات اور ذہن کے خزانوں میں ان کی تصاویر ، یہ کہاں ہوتی ہیں اور کس طرح محفوظ ہوتی ہیں۔ یہ تصاویر اور یہ تمثیلات اور یہ مشاہد اور ان کے نقوش یہ کس طرح نقش ہوتے ہیں اور کس طرح یہ تصاویر بنائی جاتی ہیں۔ یہ تو ہیں ان قوتوں کے وہ پہلو جو ہمیں معلوم ہیں۔ ایسی وہ قوتیں جو ہمیں معلوم نہیں تو وہ بہت ہی بڑی ہیں۔ بہت ہی بڑی۔ کبھی کبھی ان کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھی ذہن انسانی پر ایک ایسا اشراق اور ایک ایسی روشنی ڈالی جاتی ہے اور اس کے اندر ایک ایسی چمک پیدا ہوتی ہے کہ انسان پر عالم غیب دور تک کھل جاتا ہے لیکن یہ لمحات کم ہوتے ہیں۔ پھر جنس انشان کے وہ اسرار وہ رموز جو اس کے قواعد تناسل کے سلسلے کے اندر پائے جاتے ہیں۔ ایک نہایت ہی چھوٹا خلیہ جس کے اندر جنس انسانی کے تمام خصائص موجود ہوتے ہیں اور اس کے اندر ماں اور باپ اور دونوں اطراف کے قریبی اجزاء کے خصائص بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ تمام خصائص اس نہایت ہی چھوٹے سے خلئے کے اندر کہاں اور کس طرح رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور کس طرح یہ ہر خلیہ ان تمام خصائص کے ساتھ خود کار انداز میں اپنی زندگی کا سفر کا آغاز کرتا ہے کہ اس کے اندر جنس انسانی کے تمام خصائص موجود ہوتے ہیں اور یہ پوری طرح جنس انسانی کا اعادہ ایک دوسرے فرد کی شکل میں کرنا ہے ؟ ! ! وہ لمحات جن میں ایک بچہ اس زمین پر زندگی شروع کرتا ہے ، ماں سے جدا ہوتا ہے اور اپنے نفس پر اعتماد کرکے زندگی بسر کرنا شروع کرتا ہے اور اس کے قلب اور پھیپھڑوں کو حرکت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ان لمحات پر قدرے غور کرنے ہی سے انسان حیران کیا وھشت زدہ ہوجاتا ہے اور عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ نفس انسانی حیرت واستعجاب سے بھی بھر جاتا ہے اور پھر ایمان بھی بھر جاتا ہے۔ یہ ایک ایسامنظر ہے کہ انسان کے دل و دماغ حیرت کے باعث کام چھوڑ دیتے ہیں۔ انسان ششدر رہ جاتا ہے۔ پھر وہ وقت بھی دیکھنے کے قابل ہوتا ہے کہ بچہ ٹوٹی پھوٹی زبان میں باتیں شروع کرتا ہے پھر کلمات وعبارات بناتا ہے بلکہ صرف گفتگو پر غور کیجئے۔ اس زبان سے ٹکڑے آوازیں نکالنا اور پھر گلے سے آوازیں یہ بھی ایک عجوبہ ہے۔ اس چیز کا انوکھا پن ہمیں اس لئے نظر نہیں آتا کہ یہ ہر وقت یہ باتیں کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اگر انسان ایک لحظہ اس پر غور کرے تو محض انسان کی یہ قدرت کہ وہ اظہار مافی الضمیر کرتا ہے۔ یہی ایک عجوبہ ہے اور قدرت الٰہیہ پر ایک بد یہی اور ایک کافی دلیل ہے۔ غرض انسان کی زندگی کا کوئی جزوی واقعہ بھی ایک معجزہ ہے اور انسان اس سے متعجب ہوسکتا ہے اور یہی مراد درج ذیل فقرے سے۔ وفی انفسکم افلا تبصرون (15 : 12) ” اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی کیا تمہیں سوجھتا نہیں “ جنس انسان کا ایک ایک فرد بھی ایک جہاں ہے۔ ہر فرد ایک آئینہ ہے جس میں یہ تمام عالم نظر آتا ہے اور ہر فرد کے وجود میں گویا اس پوری دنیا کا ظہور بار بار ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے ابنائے جنس میں اپنی شکل اپنے خدوخال ، اپنی عقل ، اپنے علم ، اپنے مدرکات ، اپنی روح اور اپنے شعور کے اعتبار سے بالکل جدا ہے۔ ہر شخص کے ذہن میں اس کائنات کا جو تصور ہے وہ دوسرے افراد سے مختلف ہے۔ اب دیکھئے کہ اس خدائی نمائش گاہ میں لاکھوں افراد ہیں اور ہر فرد ایک علیحدہ نمونہ ہے اور ہر فرد کا مزاح بالکل الگ ہے اور ویسا شخص دوبارہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس شخص کے اندر یہ پوری کائنات گزر جاتی ہے اور اس کی صورت کی نقل نہیں کی جاسکتی۔ یہاں تک کہ انگلیوں کی لکیریں بھی دنیا میں ہر شخص کی جدا ہوتی ہیں اور انہیں دہرایا نہیں جاسکتا۔ گزرے ہوئے زمانوں میں بھی جو لوگ گز رے ہیں ان میں سے بھی کسی شخص کی انگلیوں کی لکیریں دہرائی نہیں جاسکتیں۔ جنس انسانی کے عجائبات میں سے بہت سے عجائبات ایسے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور ہماری آنکھیں ان کو دیکھ رہی ہیں۔ وفی انفسکم افلا تبصرون (51 : 12) ” اور تمہارے اپنے وجود میں بھی کیا تم دیکھتے نہیں “ اور انسانی آنکھیں جن عجائبات کو بھی دیکھیں یہ عالم غیب کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہم نشانات ہیں ایک بنانے والے خالق کے۔ نفس انسانی کے اندر جو عجائبات اور معجزات ہیں ان کو ایک کتاب میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ آج تک جو عجائبات ہمیں معلم ہوچکے ہیں اور جن کا انکشاف ہوگیا ہے ان کے لئے بھی کئی جلدیں درکار ہیں اور اس سلسلے میں جو مجہول ہیں ، ماضی کے تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت زیادہ ہیں۔ قرآن کریم نے ان کو گنوایا نہیں ہے۔ ہاں قرآن کریم نے دل و دماغ کو جھنجھوڑا ضرور ہے کہ جاگو اور غور وفکر کرو ، احساس کرو اور اللہ کے اس عجائب گھر میں آنکھیں کھول کر چلو ، غور وفکر کرو اور اس کائنات سے بھی پہلے اپنے نفس میں غور وفکر کرو ، تم جس طر آفاق سے غافل ہو اس طرح اپنی ذات سے بھی غافل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے خوشگوار لمحات وہی ہوتے ہیں جن میں انسان اپنی تخلیق اپنی خصوصیات اپنے خدوخال اپنی حرکات اور اپنی عادات پر غور کرے اور ایک عابد بندے کی طرح اللہ کے اس عجائب گھر کی سیر کرے اور دیکھے کہ اللہ کس قدر برکت والا ہے لیکن انسان ہے کہ ایک طویل عمر اس عجائب گھر میں گزار رہا ہے اور بغیر احساس کے گزار رہا ہے۔ اس طرح احساس عطا کرکے قرآن مجید انسان کو بالکل ایک نئی زندگی عطا کرتا ہے ۔ ایک جدید شعور ، ایک جدید سوچ ، ایک جدید زندگی اور یہ شعور پسندیدہ متاع حیات ہے کہ اس دنیا کی کوئی بھی نعمت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ تامل اور ادراک کے اس اسلوب کے ساتھ قرآن انسان کی تربیت کرتا ہے لیکن اس تربیت کا بنیادی نکتہ ایمانی ہے۔ اگر ایمان نہ ہو تو قرآن جو کچھ انسان کو دینا چاہتا ہے وہ اسے اخذ نہیں کرسکتا۔ ایمان ہی انسان کو اس متاع حیات کے اہل بناتا ہے۔ یہ نہایت ہی اونچا اور برتر اور عالم بالا کا متاع حیات ہے۔ انسان کے پاؤں زمین پر ہوتے ہیں اور اس کا شعور عالم بالا میں ہوتا ہے۔ پہلے انسان کو اس کائنات کی جھلک دکھائی گئی ، پھر اسے اس کے نفس کے عجائبات کی ایک جھلک دکھائی گئی ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ انسان کا رزق اس کی تقسیم اور اس کا حصہ رسدی بھی آسمانوں سے تقسیم ہوتا ہے اور تمہاری آخری منزل بھی آسمانوں ہی میں ہے۔

الذاريات 51:22

وفی السمائ ........ توعدون (51 : 22) ” آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔ “ بظاہر یہ ایک عجیب ہدایت اور توجہ مبذول کرنے کا ایک اشارہ ہے کہ باوجود اس کے کہ اسباب رزق زمین میں ہیں انسان ان اسباب کے اندر جدوجہد کرتا اور اس سعی اور جہد کے نتیجے میں بھی رزق کا انتظام کرتا ہے لیکن قرآن انسان کی نظروں کو آسمانوں کی طرف پھیرتا ہے۔ عالم ظاہر سے عالم غیب کی طرف لے جاتا ہے تاکہ وہ وہاں اپنے نصیبہ رزق کی امید کرے۔ رہی یہ بات کہ زمین اور اس کے اندر اسباب رکھے گئے تو یہ تو یقین کرنے والوں کے لئے آیات ہیں۔ ان آیات ونشانات کو دیکھ کر انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تاکہ اللہ سے بہتر رزق کا امیدوار ہو اور زمین کے بوجھ اور زمین کی پستیوں سے وہ آزاد ہو۔ اس طرح رزق کے اسباب ظاہرہ سے بھی آزاد ہو۔ یہ نہ ہو کہ یہ ظاہری اسباب انسان اور خالق الاسباب کے درمیان حائل ہوجائیں اور وہ ان ظاہری اسباب ہی کے اندر گم ہوجائے۔ دل مومن اس ہدایت کو ایک حقیقت کے طور پر لیتا ہے۔ اسے سمجھتا بھی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس ہدایت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ زمین اور زمین کے اسباب سے صرف نظر کردیا جائے۔ اس لئے کہ انسان زمین کے اسباب کو کام میں لانے اور یہاں زمین کے اوپر فریضہ خلافت الٰہیہ کے تقاضے پورے کرنے کا مکلف ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ دل کو اسباب ارض کے ساتھ نہ باندھ دے اور اس زمین کی تعمیر اور ترقی میں مصروف ہوکر خدا کو نہ بھلا دے بلکہ اس کا رویہ یہ ہو کہ وہ زمین میں کام کررہا ہو اور اس کی نظریں آسمانوں پر ہوں۔ وہ اسباب کو کام میں لائے مگر یقین یہ کرے کہ وہ اسباب اس کے فرائض نہیں ہیں بلکہ رازق آسمانوں میں ہے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے اور ہوتا وہی ہے جو اللہ نے فرمایا۔ یوں ایک مومن کا دل ان اسباب کی گرفت سے آزاد ہوجاتا ہے جو زمین میں ہیں بلکہ وہ ان اسباب کے ذریعے ہی آسمانوں کی بادشاہت تک پہنچتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ ان اسباب کے اندر بھی عجائبات ہیں جو خالق اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں تو وہ انہی کے ذریعہ خدا تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ اگر چہ اس کے پاؤں زمین پر انہی اسباب کے اندر ہوتے ہیں لیکن اس کی نظریں آسمان پر ہوتی ہیں۔ یہی طریقہ ہے جو اللہ نے انسان کے لئے پسند کیا ہے اور یہی طریقہ اللہ نے اپنے ان بندوں کے لئے تجویز کیا ہے جن کو اس نے مٹی سے پیدا کیا۔ ان میں اپنی روح پھونکی اور انہیں اس جہاں کی تمام مخلوقات پر فضیلت دے دی۔ ایمان ایک وسیلہ اور سبب ہے اس بات کا کہ انسان بہترین حالات زندگی میں ہو جب انسان ایمان کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ اس حالت میں ہوتا ہے جس میں اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ یہ اللہ کی اس فطرت پر ہوتا ہے جس پر اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ انسان پر حالت فساد اور حالت گمراہی بعد میں طاری ہوتی ہے۔ ان تین جھلکیوں کی طرف متوجہ کرنے کے بعد یعنی زمین کی نشانیوں ، نفس کی نشانیوں اور آسمانوں کی نشانیوں کی طرف متوجہ کرنے کے بعد اللہ اپنی ذات کی قسم اٹھا کر یقین دلاتا ہے کہ یہ باتیں اسی طرح سچ ہیں جس طرح تمہاری باتیں۔

الذاريات 51:23

فو رب ........ تنطقون (51 : 32) ” پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی ، یہ بات حق ہے ، ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو۔ “ یہ بات کہ وہ بیٹھے ہوئے مصروف گفتگو ہیں ، ایک حقیقت ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے نہ اس میں کوئی کلام ہے۔ اسی طرح یہ کلام ایک یقینی کلام ہے اور اللہ سب سے زیادہ سچائی والا ہے۔ اصمعی نے ایک عجیب بات نقل کی ہے اور علامہ زمحشری نے کشاف میں اسے نقل کیا ہے۔ روایت کی صحت کے بارے میں تحفظ رکھتے ہوئے ہم اسے یہاں اس لئے نقل کرتے ہیں کہ بات بڑی عجب ہے۔ کہتے ہیں ” میں بصرہ کی جامع مسجد سے واپس آرہا تھا کہ ایک دیہاتی اپنے سواری کے اونٹ پر نمودار ہوا۔ اس نے کہا ” تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے “ میں نے کہا ” بنی اصمع سے “ اس نے کہا ” تم کہاں سے آئے ہو “ میں نے کہا ” ایک ایسی جگہ سے جس میں رحمان کا کلام پڑھا جاتا ہے۔ “ اس نے کہا تو مجھ پر پڑھئے تو میں نے پڑھا۔ والذاریات ............ جب میں یہاں تک پہنچا۔ وفی السمائ ........ توعدون (51 : 22) ” آسمانوں ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔ “ اس نے کہا بس یہ کافی ہے۔ وہ کھڑا ہوا اور اپنے اونٹ کو ذبح کردیا اور راستے پر جو آتا جاتا ان پر تقسیم کرتا جاتا۔ اس نے اپنی تلوار اور تیر کو زمین پر دے مارا اور توڑ دیا اور چلا گیا۔ جب میں ہارون الرشید کے ساتھ صبح کے وقت طواف کرنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہی شخص میرے ساتھ نرم آواز سے گفتگو کررہا ہے۔ میں نے اسے پہچان لیا کہ یہ تو وہی اعرابی ہے۔ یہ دبلا پتلا اور زرد رنگ کا ہے۔ تو اس نے سلام کیا جب میں اس جگہ تک پہنچا۔ وما توعدون (51 : 22) تک تو اس نے پکار کر کہا۔ حقیقت ہے کہ ہمارے رب نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے پا لیا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ اس کے سوا اور بھی کوئی بات ہے تو میں نے پڑھا۔ فوارب ........ لحق (51 : 32) ” پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی یہ بات حق ہے۔ “ اس شخص نے آواز بلند کی اور کہا یا سبحان اللہ ! کون تھا جس نے رب ذوالجلال کو اس قدر غصہ دلایا کہ اس نے حلف اٹھایا ؟ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بات کی تصدیق نہ کی۔ یہاں تک کہ رب کو قسم اٹھانے پر مجبور کیا۔ یہ بات اس نے تین بار کہی اور اس کی روح پرواز کرگئی۔ “ یہ ایک عجیب کہانی ہے۔ صحیح ہوگی یا نہ ہوگی لیکن ہم نے اسے یہاں اس لئے نقل کیا ہے کہ رب ذوالجلال کی قسم کی وجہ سے اس بات کی اہمیت اور زیادہ ہوتی ہے جس پر قسم اٹھائی گئی جبکہ بغیر حلف اور قسم کے بھی وہ عظیم حقیقت ہے۔ یہ تو تھا اس سورة کا پہلا حصہ ، دوسرے حصے میں حضرت ابراہیم ، حضرت لوط ، حضرت موسیٰ ، عاد قوم ہود ، ثمود قوم صالح اور حضرت نوح (علیہم السلام) کے قصص کی طرف مختصر اشارات ہیں۔ یہ حصہ بھی ماقبل اور مابعد سے مربوط ہے۔

الذاريات 51:24

اس دوسرے حصے میں بھی نبیوں کی تاریخ سے آیات الٰہیہ کا ذکر ہے جس طرح پہلے حصے میں آیات تکوینی اور آیات ونفس کا ذکر ہوا تھا اور یہ بھی اللہ کے سچے وعدے تھے اور انہوں نے حقیقت کا روپ اختیار کیا جس طرح پہلے حصے میں اللہ کے سچے وعدے کا ذکر تھا۔ بات کا آغاز حضرت ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں ایک سوال سے ہوتا ہے۔ ھل اتک حدیث ضیف ابراھیم المکرمین (51 : 42) ” اے نبی کیا ابراہیم .... کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے ؟ “ اس سوال میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذہنوں کو اس حکایت کے لئے تیار اور متوجہ کرنا ہے اور مہمانوں کے لئے ” مکرمین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یا تو وہ اللہ کے نزدیک مکرم اور معزز تھے یا اس طرف اشارہ ہے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمان تھے اور انہوں نے ان کی تکریم کی۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر کریم اور تخی تھے اور کس طرح مہمان نوازی پر مال لٹاتے تھے۔ ادھر سے مسلمان آتے ہیں ان کو سلام کرتے ہیں اور وہ بھی سلام کرتے ہیں۔ آپ ان مہمانوں کو پہچانتے نہیں اور علیک سلیک کے بعد اہلیہ کو جاکر کھانا تیار کرنے کا حکم دیتے ہیں اور یہ کھانا بھی آناً فاناً تیار ہوتا ہے اور جلدی ایک وافر مقدار میں ایک بھنا ہوا بچھڑا مہمانوں کے سامنے حاضر ہے جو دسیوں آدمیوں کے لئے کافی ہے۔

الذاريات 51:25

اس دوسرے حصے میں بھی نبیوں کی تاریخ سے آیات الٰہیہ کا ذکر ہے جس طرح پہلے حصے میں آیات تکوینی اور آیات ونفس کا ذکر ہوا تھا اور یہ بھی اللہ کے سچے وعدے تھے اور انہوں نے حقیقت کا روپ اختیار کیا جس طرح پہلے حصے میں اللہ کے سچے وعدے کا ذکر تھا۔ بات کا آغاز حضرت ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں ایک سوال سے ہوتا ہے۔ ھل اتک حدیث ضیف ابراھیم المکرمین (51 : 42) ” اے نبی کیا ابراہیم .... کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے ؟ “ اس سوال میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذہنوں کو اس حکایت کے لئے تیار اور متوجہ کرنا ہے اور مہمانوں کے لئے ” مکرمین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یا تو وہ اللہ کے نزدیک مکرم اور معزز تھے یا اس طرف اشارہ ہے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمان تھے اور انہوں نے ان کی تکریم کی۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر کریم اور تخی تھے اور کس طرح مہمان نوازی پر مال لٹاتے تھے۔ ادھر سے مسلمان آتے ہیں ان کو سلام کرتے ہیں اور وہ بھی سلام کرتے ہیں۔ آپ ان مہمانوں کو پہچانتے نہیں اور علیک سلیک کے بعد اہلیہ کو جاکر کھانا تیار کرنے کا حکم دیتے ہیں اور یہ کھانا بھی آناً فاناً تیار ہوتا ہے اور جلدی ایک وافر مقدار میں ایک بھنا ہوا بچھڑا مہمانوں کے سامنے حاضر ہے جو دسیوں آدمیوں کے لئے کافی ہے۔

الذاريات 51:26

فراغ الی ........ الیھم (15 : 72) ” پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور ایک بھنا ہوا موٹا تازہ بچھڑا مہمانوں کے آگے پیش کیا۔ “ حالانکہ روایات کے مطابق ان کی تعداد تین تھی۔ ان کے لئے تو ایک بازہ ہی کافی تھا۔

الذاريات 51:27

قال الا تاکلوان (15 : 72) ” اس نے کہا آپ حضرات کھاتے نہیں ؟ “ یہ سوال انہوں نے تب کیا جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے اور نہ کوئی ایسے آثار ہیں کہ وہ کھانا کھائیں گے۔

الذاريات 51:28

فاوجس منھم خیفة (15 : 82) ” پھر وہ دل میں ان سے ڈرا “ یا تو اس لئے کہ آنے والا اجنبی اگر کھانا نہیں کھاتا تو اس کی نیت خراب ہے۔ وہ کوئی شریا خیانت کرنے کی نیت سے آیا ہے یا یہ کہ حضرت ابراہیم نے ان فرشتوں کے اندر کوئی عجیب علامات دیکھ لیں۔ جب انہوں نے ان کے چہرے خوف کے آثار دیکھے تو انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ ان کو اطمینان دلایا اور آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دی۔ قالوا ........ علیم (15 : 82) ؟ ؟ انہوں نے کہا ڈرو نہیں اور اسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا “ یہ بشارت حضرت اسحاق کے بارے میں تھی جو ان کی بانجھ بیوی سے پیدا ہوئے تھے۔

الذاريات 51:29

فاقبلت ........ عقیم (15 : 92) ” یہ سن کر ان کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی بوڑھی بانجھ “ اس نے یہ خوشخبری سن لی تھی۔ اچان کہ یہ خوشخبری اس کی تو چیخ نکل گئی اور عورتوں کی عادت کے مطابق اس نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور یہ کہہ دیا میں بوڑھی ہوں بانجھ ہوں تو یہ سب امور اس کے لئے خوشگوار حیرت کے باعث ہوئے اور در حقیقت وہ بانجھ تھی اور یہ خبر اس کے لئے اچانک خوشی کی خبر تھی جس کی وہ کسی طرح توقع نہ کرتی تھی لیکن وہ یہ بات بھول گئی کہ یہ خوشخبری تو فرشتے دے رہے ہیں تو فرشتوں نے اسے متوجہ کیا کہ یہ تو قدرت الٰہیہ ہے اور جہاں میں تمام امور علم الٰہی کے مطابق رونما ہوتے ہیں۔

الذاريات 51:30

قالوا ........ العلیم (15 : 03) ” انہوں نے کہا ” یہی کچھ فرمایا ہے تیرے رب نے وہ حکیم ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ “ یعنی اللہ جس چیز کو کہہ دے کہ ہوجا تو ہوجاتی ہے اور اللہ نے ایسا کہہ دیا ہے تو اس کے بعد اب شک کی گنجائش کیا ہے۔ کسی کام کا عادی ہونا اور اس کام کا آنکھوں کے سامنے ہوتے رہنا ایسی باتیں ہیں جو انسانی اور اک کو بیڑیاں پہنا دیتا ہے اور اشیاء کے بارے میں انسان کا تصور محدود ہوجاتا ہے۔ پھر جب انسان اس عادی اور روٹین کے طریق کار سے کوئی مختلف بات دیکھتا ہے تو وہ ششدر رہ جاتا ہے اور وہ تعجب کرتا ہے کہ یہ کیسے ہوگیا۔ بعض اوقات پھر وہ کبر کرتے ہوئے اس کا انکار کردیتا ہے لیکن اللہ کی مشیت تو اپنی راہ لیتی ہے۔ وہ لوگوں کی مالوفات کی پابند نہیں ہے۔ انسان کا دائرہ ادراک اور اس کا دائرہ امور عادیہ بہت محدود ہے جبکہ اللہ کی قدرتیں بہت ممدود (پھیلی ہوئی) ہیں۔

الذاريات 51:31

جب حضرت ابراہیم نے اپنے مہمانوں کی حقیقت معلوم کرلی تو وہ پوچھنے لگے کہ ان کا مشن کیا ہے۔ قال انا ارسلنا الی قوم مجرمین (15 : 13) ” انہوں نے کہا اے فرستادگان الٰہی آپ کو کیا مہم درپیش ہے۔ “ تو انہوں نے جواب دیا ۔

الذاريات 51:32

قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین (15 : 23) ” ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یہ قوم لوط کے لوگ تھے جیسا کہ دوسری سورتوں میں تصریح ہے۔

الذاريات 51:33

لنرسل ........ للمسرفین (15 : 43) ” تاکہ اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لئے نشان زدہ ہیں۔ “ یہ مٹیالے پتھر ، تیار شدہ اور نشان زدہ تھے اور اللہ نے ان کو مسرفین کے لئے تیار کیا تھا اور یہ مسرف قوم لوط کے لوگ تھے جنہوں نے حدود سے تجاوز کرلیا تھا۔ وہ فطرت کی راہ سے تجاوز کرکے غیر فطری عمل کرتے تھے۔ جو حق اور دین کے خلاف راستہ تھا۔ ان پتھروں کے بارے میں کوئی بات اس سے مانع نہیں ہے کہ وہ آتش فشانی کے عمل کے نتیجے میں برسنے والوے پتھر ہوں کیونکہ گرم لاوا جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پتھر بن جاتا ہے اور یہ رب تعالیٰ کی طرف سے مسلط ہوتا ہے اور اس کے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کے مطابق کام کرتا ہے اور اسی شخص پر جاکر پڑتا ہے جس کے بارے میں حکم الٰہی ہو اور ہر پتھر کے لئے اللہ نے اپنے علم سے زمان ومکان مقرر کردیا ہے کہ اس نے اس جگہ فلاں کو گھیر لینا ہے اور ہر پتھر کو فرشتوں کے ذریعہ اللہ نے پھینکنا طے کردیا ہے پھر ہمیں فرشتوں کی حقیقت کا بھی تو پوری طرح علم نہیں ہے اور یہ بھی ہمیں معلوم نہیں کہ اس کائنات کے ساتھ فرشتوں کا تعلق کیا ہے پھر جن قوتوں کو ہم جانتے ہیں اور جن کے انکشافات ہمارے سامنے ہوتے رہتے ہیں اور ہم ان قوتوں کے اپنی جانب سے نام رکھتے رہتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے ؟ ہماری کیا مجال ہے کہ ہم اللہ کی اس اطلاع پر اعتراض کریں کہ اس نے اپنی بعض قوتوں کو بعض مسرفین پر مسلط کردیا اور کسی خاص جگہ ایسا کردیا۔ ہمیں بہرحال اللہ تعالیٰ کی اس اطلاع پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کائنات کے بارے میں ہماری معلومات بہت ہی محدود ہیں اور مفروضوں پر مبنی ہیں بلکہ وہ نظریات ہیں اور بالکل ان چیزوں کی سطحی تاویلات ہیں۔ ابھی تک بہت کم معلومات ہیں جو حقائق بن سکے ہیں۔ غرض یہ آتش فشانی کے عمل میں پتھر ہوں یا اور پتھر ہوں۔ بہرحال وہ دست قدرت کا کرشمہ تھے۔ ان کی تخلیق کا عمل تھے اور وہ کیسے تھے یہ بھی ایک غیب ہے۔

الذاريات 51:34

لنرسل ........ للمسرفین (15 : 43) ” تاکہ اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لئے نشان زدہ ہیں۔ “ یہ مٹیالے پتھر ، تیار شدہ اور نشان زدہ تھے اور اللہ نے ان کو مسرفین کے لئے تیار کیا تھا اور یہ مسرف قوم لوط کے لوگ تھے جنہوں نے حدود سے تجاوز کرلیا تھا۔ وہ فطرت کی راہ سے تجاوز کرکے غیر فطری عمل کرتے تھے۔ جو حق اور دین کے خلاف راستہ تھا۔ ان پتھروں کے بارے میں کوئی بات اس سے مانع نہیں ہے کہ وہ آتش فشانی کے عمل کے نتیجے میں برسنے والوے پتھر ہوں کیونکہ گرم لاوا جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پتھر بن جاتا ہے اور یہ رب تعالیٰ کی طرف سے مسلط ہوتا ہے اور اس کے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کے مطابق کام کرتا ہے اور اسی شخص پر جاکر پڑتا ہے جس کے بارے میں حکم الٰہی ہو اور ہر پتھر کے لئے اللہ نے اپنے علم سے زمان ومکان مقرر کردیا ہے کہ اس نے اس جگہ فلاں کو گھیر لینا ہے اور ہر پتھر کو فرشتوں کے ذریعہ اللہ نے پھینکنا طے کردیا ہے پھر ہمیں فرشتوں کی حقیقت کا بھی تو پوری طرح علم نہیں ہے اور یہ بھی ہمیں معلوم نہیں کہ اس کائنات کے ساتھ فرشتوں کا تعلق کیا ہے پھر جن قوتوں کو ہم جانتے ہیں اور جن کے انکشافات ہمارے سامنے ہوتے رہتے ہیں اور ہم ان قوتوں کے اپنی جانب سے نام رکھتے رہتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے ؟ ہماری کیا مجال ہے کہ ہم اللہ کی اس اطلاع پر اعتراض کریں کہ اس نے اپنی بعض قوتوں کو بعض مسرفین پر مسلط کردیا اور کسی خاص جگہ ایسا کردیا۔ ہمیں بہرحال اللہ تعالیٰ کی اس اطلاع پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کائنات کے بارے میں ہماری معلومات بہت ہی محدود ہیں اور مفروضوں پر مبنی ہیں بلکہ وہ نظریات ہیں اور بالکل ان چیزوں کی سطحی تاویلات ہیں۔ ابھی تک بہت کم معلومات ہیں جو حقائق بن سکے ہیں۔ غرض یہ آتش فشانی کے عمل میں پتھر ہوں یا اور پتھر ہوں۔ بہرحال وہ دست قدرت کا کرشمہ تھے۔ ان کی تخلیق کا عمل تھے اور وہ کیسے تھے یہ بھی ایک غیب ہے۔

الذاريات 51:35

فاخرجنا ........ المومنین (15 : 53) ” پھر ہم نے ان سب لوگوں کو نکال لیا جو اس بستی میں مومن تھے “ تاکہ وہ نجات پالیں ، ان کے لئے یہ اللہ کی حمایت تھی۔

الذاريات 51:36

فما ........ المسلمین (15 : 63) ” اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا “ یہ نبی زمان حضرت لوط کا گھر تھا جیسا کہ دوسری جگہ تفصیلات آتی ہیں۔ ماسواء اہلیہ لوط (علیہ السلام) باقی لوگ نجات پاگئے۔

الذاريات 51:37

وترکنا ........ الالیم (15 : 73) ” اس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے تھے “ جو لوگ عذاب سے ڈرتے ہیں وہی نشانیاں بھی دیکھ سکتے ہیں اور ان کو سمجھ سکتے ہیں اور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ رہے دوسرے لوگ تو وہ اندھے ہوتے ہیں۔ ان کو اس پوری کائنات میں اللہ کی نشانیاں نہیں آتیں نہ زمین میں نہ ان کے نفوس میں اور نہ تاریخ میں۔ اب دوسری نشانی قصہ حضرت موسیٰ میں۔ اس قصے کی طرف بھی ایک سر سری اشارہ ہے کیونکہ یہاں انبیاء کی تاریخ سے نشانات راہ گنوا کر بتاتے ہیں۔

الذاريات 51:38

وہ صریح دلیل اور سند جس کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا ، وہ صریح اور قاطع دلیل تھی اور وہ عظیم الشان رعب تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت میں تھا اور موسیٰ اور ہارون کے ساتھ ذات باری تھی جو سنتی تھی اور دیکھتی تھی لیکن فرعون غرور کرکے منہ پھیر گیا اور اس نے واضح سچائی دیکھتے ہوئے بھی اور قاطع دلیل دیکھتے ہوئے بھی پہلو تہی سے کام لیا۔ اس نے حضرت موسیٰ خدا کے نبی کو کہا کہ وہ ساحر اور مجنون ہے حالانکہ انہوں نے اس کو ایسے معجزات دکھا دیئے تھے جن کے سامنے وہ لوگ لاجواب ہوگئے تھے۔ اس طرز عمل سے معلوم ہوگیا کہ جب کوئی ہدایت کے لئے تیار نہ ہو تو اسے بڑے سے بڑا معجزہ ہدایت پر لانے کے لئے کارگر نہیں ہوسکتا اور نہ کسی ایسی زبان کو خاموش کرایا جاسکتا ہے جو باطل پر مصر ہو۔ یہاں سیاق کلام میں اس قصے کی تفصیلات نہیں دی جاتیں بلکہ یہاں اس کا فقط انجام دے دیا جاتا ہے جو اس قصے سے بطور نشانی اور تاریخی سبق ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی ہے۔

الذاريات 51:39

وہ صریح دلیل اور سند جس کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا ، وہ صریح اور قاطع دلیل تھی اور وہ عظیم الشان رعب تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت میں تھا اور موسیٰ اور ہارون کے ساتھ ذات باری تھی جو سنتی تھی اور دیکھتی تھی لیکن فرعون غرور کرکے منہ پھیر گیا اور اس نے واضح سچائی دیکھتے ہوئے بھی اور قاطع دلیل دیکھتے ہوئے بھی پہلو تہی سے کام لیا۔ اس نے حضرت موسیٰ خدا کے نبی کو کہا کہ وہ ساحر اور مجنون ہے حالانکہ انہوں نے اس کو ایسے معجزات دکھا دیئے تھے جن کے سامنے وہ لوگ لاجواب ہوگئے تھے۔ اس طرز عمل سے معلوم ہوگیا کہ جب کوئی ہدایت کے لئے تیار نہ ہو تو اسے بڑے سے بڑا معجزہ ہدایت پر لانے کے لئے کارگر نہیں ہوسکتا اور نہ کسی ایسی زبان کو خاموش کرایا جاسکتا ہے جو باطل پر مصر ہو۔ یہاں سیاق کلام میں اس قصے کی تفصیلات نہیں دی جاتیں بلکہ یہاں اس کا فقط انجام دے دیا جاتا ہے جو اس قصے سے بطور نشانی اور تاریخی سبق ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی ہے۔

الذاريات 51:40

فاخذنہ ........ ملیم (15 : 04) ” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہوکر رہ گیا “ یعنی اس نے جو سرکشی اور حق کو جھٹلایا اس کی وجہ سے وہ ملامت کا مستحق ہوکر رہ گیا۔ انداز تعبیر میں واضح طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کو اور اس کے لشکروں کو براہ راست اللہ نے پکڑا اور دریا میں پھینک دیا۔ یہ پہلو اس لئے اجاگر کیا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں نشانی کا پہلو ظاہر ہوجائے کیونکہ یہاں آفاق وانفس اور تاریخ سے اللہ کی نشانیوں کو گنوایا جارہا ہے۔ تاریخ سے رسولوں کے قصص دراصل نشانات راہ ہیں۔

الذاريات 51:41

اور پھر ایک دوسری تاریخی نشانی قوم عاد پر ایک نظر : وفی عاد ........ العقیم (14) ما تذر ........ کالرمیم (15 : 24) ” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) عاد میں ، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بےخیر ہوا بھیج دی کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔ “ اور قوم عاد پر جو ہوا بھیجی گئی اسے یہاں عقیم (بانجھ) کہا گیا ہے ۔ یہ اس لئے کہ اس ہوا میں نہ پانی تھا نہ خیر کی کوئی چیز جو سبب حیات ہو جیسا کہ اس ہوا سے قوم عاد توقع کرتی تھی۔ اس کے برعکس اس میں تباہی اور ہلاکت ہی تھی۔ یہ ہوا جس چیز کو بھی لگتی اسے مردہ کردیتی تھی۔ اس طرح جس طرح کوئی مردہ بوسیدہ ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔ ہوا ان کائناتی قوتوں میں سے ایک قوت ہے اور یہ اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے اور اللہ کے لشکروں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ان لشکروں کو اللہ اپنی مشیت اور ناموس کے دائرے کے اندر بھیجتا ہے اور ان لشکروں کے کام کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ یہ لشکر جس پر جاتے ہیں اللہ کے ارادے سے اس کے مقرر وقت پر جاتے ہیں کسی کو ہلاک وتباہ کردیتے ہیں اور کسی کو زندہ وتابندہ کردیتے ہیں لہٰذا ایسے مقامات پر کسی کو ان سطحی اور سادہ اعتراضات کا کوئی حق نہیں ہے کہ ہوا تو کائناتی نظام کے مطابق چلتی ہے اور یہ ادھر اور ادھر طبیعاتی عوامل واسباب کے مطابق چلتی ہے ہم کہتے ہیں کہ یہ طبعی نظام اور کائناتی عوامل بھی خالق ہی چلاتا ہے وہ اپنی تدبیر اور تقدیر کے ساتھ کسی کو تباہ اور کسی کو زندہ کردیتا ہے۔ یہ عوامل اس نے پیدا کئے اور اسباب اسی کے ہیں اور طبعیاتی اصول اسی نے وضع کئے ہیں اور انہیں کے ساتھ وہ ان عوامل کو کسی پر مسلط کرتا ہے ، اگر کوئی خالق کائنات کو مانتا ہے تو پھر ایسے اعتراضات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

الذاريات 51:42

اور پھر ایک دوسری تاریخی نشانی قوم عاد پر ایک نظر : وفی عاد ........ العقیم (14) ما تذر ........ کالرمیم (15 : 24) ” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) عاد میں ، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بےخیر ہوا بھیج دی کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔ “ اور قوم عاد پر جو ہوا بھیجی گئی اسے یہاں عقیم (بانجھ) کہا گیا ہے ۔ یہ اس لئے کہ اس ہوا میں نہ پانی تھا نہ خیر کی کوئی چیز جو سبب حیات ہو جیسا کہ اس ہوا سے قوم عاد توقع کرتی تھی۔ اس کے برعکس اس میں تباہی اور ہلاکت ہی تھی۔ یہ ہوا جس چیز کو بھی لگتی اسے مردہ کردیتی تھی۔ اس طرح جس طرح کوئی مردہ بوسیدہ ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔ ہوا ان کائناتی قوتوں میں سے ایک قوت ہے اور یہ اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے اور اللہ کے لشکروں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ان لشکروں کو اللہ اپنی مشیت اور ناموس کے دائرے کے اندر بھیجتا ہے اور ان لشکروں کے کام کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ یہ لشکر جس پر جاتے ہیں اللہ کے ارادے سے اس کے مقرر وقت پر جاتے ہیں کسی کو ہلاک وتباہ کردیتے ہیں اور کسی کو زندہ وتابندہ کردیتے ہیں لہٰذا ایسے مقامات پر کسی کو ان سطحی اور سادہ اعتراضات کا کوئی حق نہیں ہے کہ ہوا تو کائناتی نظام کے مطابق چلتی ہے اور یہ ادھر اور ادھر طبیعاتی عوامل واسباب کے مطابق چلتی ہے ہم کہتے ہیں کہ یہ طبعی نظام اور کائناتی عوامل بھی خالق ہی چلاتا ہے وہ اپنی تدبیر اور تقدیر کے ساتھ کسی کو تباہ اور کسی کو زندہ کردیتا ہے۔ یہ عوامل اس نے پیدا کئے اور اسباب اسی کے ہیں اور طبعیاتی اصول اسی نے وضع کئے ہیں اور انہیں کے ساتھ وہ ان عوامل کو کسی پر مسلط کرتا ہے ، اگر کوئی خالق کائنات کو مانتا ہے تو پھر ایسے اعتراضات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

الذاريات 51:43

اور تیسری نشانی قوم ثمود کی : وفی ثمود ........ منتصرین (54) (15 : 14 تا 54) ” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) ثمود میں جب ان سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کرلو مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی۔ آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا۔ پھر نہ ان میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرسکتے تھے۔ “ اذ قیل لھم تمتعوا حتی حین (15 : 34) ” ایک خاص وقت تک مزے کرلو “ سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کو تین دنوں کی مہلت دی گئی تھی یعنی ناقہ کے بعدذ جیسا کہ دوسری جگہ ہے۔ قال تمتعوا ........ ایام ” پھر صالح نے ان کو خبردار کردیا کہ بس اب تین دن دن اپنے گھروں میں اور رہ لو “ اور اس سے مراد وہ وقت بھی ہوسکتا ہے یعنی رسالت کرنے سے قتل ناقہ تک کا وقت جبکہ انہوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے ناقہ کو قتل کردیا اور ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوگیا۔ قوم لوط پر پتھروں کی بارش ہوئی ان کے بارے میں ہم نے جو کچھ کہا ہے وہی بات اس ہوا کے بارے میں بھی ہے جو قوم عاد پر بھیجی گئی اور وہی بات اس چیخ کے بارے میں بھی ہے جو قوم ثمود پر آئی۔ یہ تمام کائناتی قوتیں ہیں جو اللہ کی تدبیر سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ یہ اللہ کی مشیت اور اس کے قوانین کے مطابق چلتی ہیں اور اپنے قوانین کے دائرے کے اندر اللہ جس قوم پر چاہتا ہے ان کو بطور عذاب مسلط کردیتا ہے۔ لہٰذا یہ قوتیں وہی کام کرتی ہیں جو اللہ ان کے حوالے کرتا ہے اور اللہ کے لشکر لاتعداد اور بےمثال ہیں۔

الذاريات 51:44

اور تیسری نشانی قوم ثمود کی : وفی ثمود ........ منتصرین (54) (15 : 14 تا 54) ” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) ثمود میں جب ان سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کرلو مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی۔ آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا۔ پھر نہ ان میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرسکتے تھے۔ “ اذ قیل لھم تمتعوا حتی حین (15 : 34) ” ایک خاص وقت تک مزے کرلو “ سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کو تین دنوں کی مہلت دی گئی تھی یعنی ناقہ کے بعدذ جیسا کہ دوسری جگہ ہے۔ قال تمتعوا ........ ایام ” پھر صالح نے ان کو خبردار کردیا کہ بس اب تین دن دن اپنے گھروں میں اور رہ لو “ اور اس سے مراد وہ وقت بھی ہوسکتا ہے یعنی رسالت کرنے سے قتل ناقہ تک کا وقت جبکہ انہوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے ناقہ کو قتل کردیا اور ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوگیا۔ قوم لوط پر پتھروں کی بارش ہوئی ان کے بارے میں ہم نے جو کچھ کہا ہے وہی بات اس ہوا کے بارے میں بھی ہے جو قوم عاد پر بھیجی گئی اور وہی بات اس چیخ کے بارے میں بھی ہے جو قوم ثمود پر آئی۔ یہ تمام کائناتی قوتیں ہیں جو اللہ کی تدبیر سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ یہ اللہ کی مشیت اور اس کے قوانین کے مطابق چلتی ہیں اور اپنے قوانین کے دائرے کے اندر اللہ جس قوم پر چاہتا ہے ان کو بطور عذاب مسلط کردیتا ہے۔ لہٰذا یہ قوتیں وہی کام کرتی ہیں جو اللہ ان کے حوالے کرتا ہے اور اللہ کے لشکر لاتعداد اور بےمثال ہیں۔

الذاريات 51:45

وقوم ........ فسقین (15 : 64) ” اور ان سب سے پہلے ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے۔ “ یہ قصہ نوح کی طرف نہایت ہی سرسری اشارہ ہے۔ بغیر تفصیلات کے اور بغیر اضافوں کے کہ ذرا قوم نوح کو بھی یاد کرلو ، جہاں قوم نوح کے قصے میں (فی نوح) کی بجائے (قوم نوح) کے الفاظ آئے ہیں اصل عبارت یوں ہے۔ اذکرقوم نوح کہ قوم نوح کا تذکرہ بھی کردے اور اس کے بعد آیات کا آغاز ہوتا ہے۔

الذاريات 51:46

والسماء بنیناھا کو اس پر عطف کیا گیا ہے تو قوم نوح کی نشانی ایک تاریخی نشانی ہے اور آسمان کی نشانی تکوینی نشانی ہے۔ یہاں دونوں کو باہم حرف عطف کے ذریعے مربوط کردیا گیا اور ان دونوں کے ذریعے اس پیراگراف کو اس سورة کے تیسرے پیراگراف سے مربوط کردیا گیا۔

الذاريات 51:47

اب روئے سخن پر اس کائنات کی نمائش گاہ کی طرف لوٹ جاتا ہے جس کے ساتھ اس سورة کا افتتاح ہوا تھا۔ اس کائنات میں قلب ونظر کے جلا کے لئے کئی تصاویر ہیں تو اب اس کائنات کے البم سے ایک نئی تصویر آپ کے سامنے لائی جاتی ہے اور اس کے ذریعے اس نمائش گاہ کائنات میں اللہ کی نشانیوں کو تلاش کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یوں حضرت نوح کے قصے کی نشانی اب زمین و آسمان کی تصویری کہانیوں کے ساتھ مل جاتی ہے اور اس کے بعد پھر انسانوں کو بلند آواز سے پکارا جاتا ہے کہ دوڑو اللہ کی طرف ! خالص نظریہ توحید کے ساتھ۔ والسمائ ........ لموسعون (15 : 74) ” آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا اور ہم بہت ہی وسعت رکھتے ہیں۔ “ الاید سے مراد قوت ہے۔ ہولناک وسیع اور عریض آسمانوں کی تخلیق اور ان کو ضبط میں رکھنے ہی سے اللہ کی عظیم قوت ظاہر ہے۔ آپ آسمان کے لفظ سے جو بھی مراد لیں خواہ آپ اس سے سیاروں کے مدارات لیں یا اس سے آپ مراد ستاروں کے مجموعے کہکشاں کو لیں جس میں کئی ملین ستارے ہوتے ہیں یا آپ اس سے مراد بلند فضاؤں کے وہ طبقات لیں جن کے اندر یہ ستارے اور سیارے بکھرے ہوئے ہیں یا اس کے علاوہ اس لفظ کا کوئی بھی مفہوم لیں بہرحال یہ کرشمہ قدرت الیہ ہے۔ اسی طرح وسعت سے مراد بھی یہی سیارے ہیں جو بڑے بڑے حجم والے ہیں اور ملین کی تعداد ہیں اور یہ اس ہولناک اور سرچکرانے والی وسیع فضائے کائنات میں بکھرے پڑے ہیں جس طرح ذرات بکھرے ہوئے ہیں بس یہی وسعت ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وسعت سے مراد وہ خزانے ہوں جو اللہ نے انسانوں کے رزق اور خوراک کے لئے رکھے ہوئے ہیں اور یہ خزانے آسمانوں میں ہیں۔ اس سورة میں یہاں آسمان سے مراد صرف وہ ہوگا جو اللہ کے ہاں ہے لیکن قرآن کا انداز تعبیر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اندر کسی لفظ کے مفہوم کی طرف ایک اشارہ ہوتا ہے۔ تعبیر پر اس مفہوم کا سایہ ڈالا جاتا ہے اور یہ بالاارادہ ہوتا ہے تاکہ انسانی شعور اس سے تاثر لے۔

الذاريات 51:48

ایک اشارہ یہاں بچھائی ہوئی زمین کی طرف بھی آتا ہے۔ والارض ........ المھدون (15 : 84) ” اور زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بہت اچھے ہموار کرنے والے ہیں “ اللہ نے اس زمین کو تیار کیا کہ یہ زندگی کے لئے ایک گہوارہ ثابت ہو جس طرح اس سے قبل ہم نے تفصیل دے دی ہے۔ فرش انسان کے لئے آرام اور راحت کا سبب ہوتا ہے۔ زمین کو اس طرح تیار کردہ ، ہموار کردہ اور سہولتوں کا اور زندگی کا گہوارہ بنایا گیا ہے۔ اس لئے فرش سے تعبیر کیا گیا۔ اس کی ہر چیز کو نہایت ہی گہرائی سے زندگی کی کفالت کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ فنعم المھدون (15 : 84) ” ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں۔ “

الذاريات 51:49

ومن ........ تذکرون (15 : 94) ” اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے شاید کہ تم اس سے سبق لو۔ “ یہ ایک عجیب حقیقت ہے جو اس زمین کی تخلیق کا بنیادی اصول بتاتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہی اصول پوری کائنات میں بھی کار فرما ہو کیونکہ انداز تعبیر میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ صرف زمین اندر ہی یہ اصول کار فرما ہے۔ یہ اصول تخلیق میں زوجیت اور جوڑے کا اصول ، زندہ چیزوں میں زوجیت کا اصول تو بالکل ظاہر و باہر ہے لیکن ” شئی “ کے لفظ کا اطلاق دوسری چیزوں پر بھی ہوتا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ تمام اشیاء بھی زوجیت کے اصول پر تخلیق کردہ ہیں۔ جب ہم اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم چودہ سو سال سے اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور زوجیت کے اصول کی اس قدر ہمہ گیری کا تصور اس وقت نہ تھا جو اب ہوگیا ہے ، اس وقت تو زندہ چیزوں میں بھی یہ اصول اس قدر ہمہ گیر متصور نہ تھا چہ جائیکہ کوئی تمام اشیاء کے اندر زوجیت کا تصور کرتا ہے۔ اگر ہم یہ حقیقت سوچ لیں تو پھر ہمارے سامنے ایک عجوبہ آجاتا ہے اور یہ ہمیں بتایا ہے کہ اس پوری کائنات کی ہر چیز زوجیت کے اصول پر ہے۔ یہ آیت ہمیں حقیقت بھی بتاتی ہے کہ دور جدید کے تمام انکشافات ہمیں حقیقت کبریٰ کے بہت قریب کرتے جارہے ہیں۔ تمام تحقیقات اس پر متفق ہوتی جارہی ہیں کہ کائنات کی تخلیق ذرے سے ہوتی ہے اور ذرہ دو کہربائی جوڑوں سے مرکب ہے۔ مثبت اور منفی لہٰذا جدید طبعی تحقیقات اس حقیقت کے ثبوت کی طرف جارہی ہیں۔ عبارت اور الفاظ کے لحاظ سے چھوٹے اور مختصر اور مفہوم کے اعتبار سے بڑے اور محیرالعقول اشارات کی روشنی میں آسمان کی دوریوں ، زمین کے اطراف واکناف اور مخلوقات کے انفس کے مکالمے اور مشاہدے کی روشنی میں اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو نہایت ہی بلند آواز سے پکارتا ہے کہ دوڑو خالق ارض وسماء کی طرف ، خالص ہوکر ، تمام بوجھ اپنے کاندھوں سے پرے پھینک کر ، ہلکی روح ، بےقید دل کے ساتھ اور توحید کے جھنڈے ہاتھوں میں لئے ہوئے دوڑ پڑو۔

الذاريات 51:50

ومن ........ تذکرون (15 : 94) ” اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے شاید کہ تم اس سے سبق لو۔ “ یہ ایک عجیب حقیقت ہے جو اس زمین کی تخلیق کا بنیادی اصول بتاتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہی اصول پوری کائنات میں بھی کار فرما ہو کیونکہ انداز تعبیر میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ صرف زمین اندر ہی یہ اصول کار فرما ہے۔ یہ اصول تخلیق میں زوجیت اور جوڑے کا اصول ، زندہ چیزوں میں زوجیت کا اصول تو بالکل ظاہر و باہر ہے لیکن ” شئی “ کے لفظ کا اطلاق دوسری چیزوں پر بھی ہوتا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ تمام اشیاء بھی زوجیت کے اصول پر تخلیق کردہ ہیں۔ جب ہم اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم چودہ سو سال سے اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور زوجیت کے اصول کی اس قدر ہمہ گیری کا تصور اس وقت نہ تھا جو اب ہوگیا ہے ، اس وقت تو زندہ چیزوں میں بھی یہ اصول اس قدر ہمہ گیر متصور نہ تھا چہ جائیکہ کوئی تمام اشیاء کے اندر زوجیت کا تصور کرتا ہے۔ اگر ہم یہ حقیقت سوچ لیں تو پھر ہمارے سامنے ایک عجوبہ آجاتا ہے اور یہ ہمیں بتایا ہے کہ اس پوری کائنات کی ہر چیز زوجیت کے اصول پر ہے۔ یہ آیت ہمیں حقیقت بھی بتاتی ہے کہ دور جدید کے تمام انکشافات ہمیں حقیقت کبریٰ کے بہت قریب کرتے جارہے ہیں۔ تمام تحقیقات اس پر متفق ہوتی جارہی ہیں کہ کائنات کی تخلیق ذرے سے ہوتی ہے اور ذرہ دو کہربائی جوڑوں سے مرکب ہے۔ مثبت اور منفی لہٰذا جدید طبعی تحقیقات اس حقیقت کے ثبوت کی طرف جارہی ہیں۔ عبارت اور الفاظ کے لحاظ سے چھوٹے اور مختصر اور مفہوم کے اعتبار سے بڑے اور محیرالعقول اشارات کی روشنی میں آسمان کی دوریوں ، زمین کے اطراف واکناف اور مخلوقات کے انفس کے مکالمے اور مشاہدے کی روشنی میں اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو نہایت ہی بلند آواز سے پکارتا ہے کہ دوڑو خالق ارض وسماء کی طرف ، خالص ہوکر ، تمام بوجھ اپنے کاندھوں سے پرے پھینک کر ، ہلکی روح ، بےقید دل کے ساتھ اور توحید کے جھنڈے ہاتھوں میں لئے ہوئے دوڑ پڑو۔

الذاريات 51:51

ولا تجعلوا ........ مبین (15 : 15) ” اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ، میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔ “ اللہ کی طرف آنے کو فرار سے تعبیر کرنا درحقیقت ایک عجیب اور معنی خیز تعبیر ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ اس زمین میں انسانوں کو کس طرح ناجائز طور پر برباد کردیا گیا۔ کس طرح اسے پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے کس طرح اسے بیڑیاں پہنا کر جیلوں کے گڑھوں میں بند کردیا گیا ہے جنہوں نے انسانوں کو اس زمین کے ساتھ چپکا دیا ہے ، اس پر گرادیا ہے اور اس کو قسم قسم کے بندھنوں سے باندھ دیا گیا ہے۔ خصوصاً رزق اور مال و دولت کی لالچ کے ذریعے اور اپنے حصے کا رزق حاصل کرنے کے لئے ظاہری اسباب رزق میں انسانوں کو منہمک کردیا گیا ہے۔ اس لئے انسانوں کو ان بندھنوں سے چھڑانے کے لئے بھی نہایت ہی زور دار دعوت اور بلند آواز کے ساتھ پکار کی ضرورت تھی اور الفاظ کے استعمال میں بھی ایسا لفظ لیا گیا کہ شدت سے بھاگو ، اور بھاگو بھی اللہ کی طرف بغیر کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے اور حجت تمام کرنے کے لئے کہا گیا۔ انی لکم منہ نذیر مبین (15 : 15) ” میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں “ دونوں آیات کے اندر اس بات کا تکرار تاکید مزید بردلالت ہے۔ پہلی آیت میں بھی کہا گیا۔ انی لکم منہ نذیر مبین (15 : 15) یہ تکوینی آیات اور نشانات آسمانوں کی نشانیوں ، زمین کی نشانیوں ، تخلیق کی نشانیوں اور ان کے ساتھ رسولوں کی تاریخ کے نشانات یہ ایک مسلسل بیان تھا نشانات الجہ کے لئے اور ۔ والسماء بنینھا (15 : 74) بھی انہی کا نتیجہ تھا۔ اس لئے اب رسولوں کی تاریخی نشانیوں پر ایک تبصرہ آتا ہے اور آپ کو تسلی دی جاتی ہے۔

الذاريات 51:52

کذلک ما ........ بملوم (25) وذکر ........ المؤمنین (55) (15 : 25 تا 55) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو تم پر کچھ ملامت نہیں۔ البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے “۔ تمام رسولوں کے مخالفین اور مکذبین کی فطرت ایک ہی رہی ہے۔ گمراہوں نے ہمیشہ رسولوں کی دعوت کے مقابلے میں یکساں رد عمل کا اظہار کیا۔ کذلک ........ او مجنون (15 : 25) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون “۔ جس طرح مشرکین مکہ کہہ رہے ہیں۔ گویا اگلے پچھلے کافروں نے آپس میں مشورہ کرلیا ہو۔ انہوں نے آپس میں مشورہ تو نہیں کیا مگر سرکشی ، گمراہی ، ظلم کا مزاج ہی ایک ہوتا ہے۔ اس لئے اگلے پچھلے اس روش پر جمع ہوگئے ہیں۔ منکرین کے مسلسل ایک ہی موقف سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہی ہے کہ رسول ﷺ ان لوگوں کی تکذیب کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ ان لوگوں نے اس رویہ پر گویا اتفاق کرلیا ہے لہٰذا رسول ﷺ اس پر ملامت زدہ نہیں ہیں۔ ان کو چاہئے کہ کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ تو محض یاد دہانی کرانے والے ہیں اور یاد دہانی وہ جاری رکھیں۔ اگرچہ لوگ اعتراض کریں اور منہ موڑیں۔

الذاريات 51:53

کذلک ما ........ بملوم (25) وذکر ........ المؤمنین (55) (15 : 25 تا 55) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو تم پر کچھ ملامت نہیں۔ البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے “۔ تمام رسولوں کے مخالفین اور مکذبین کی فطرت ایک ہی رہی ہے۔ گمراہوں نے ہمیشہ رسولوں کی دعوت کے مقابلے میں یکساں رد عمل کا اظہار کیا۔ کذلک ........ او مجنون (15 : 25) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون “۔ جس طرح مشرکین مکہ کہہ رہے ہیں۔ گویا اگلے پچھلے کافروں نے آپس میں مشورہ کرلیا ہو۔ انہوں نے آپس میں مشورہ تو نہیں کیا مگر سرکشی ، گمراہی ، ظلم کا مزاج ہی ایک ہوتا ہے۔ اس لئے اگلے پچھلے اس روش پر جمع ہوگئے ہیں۔ منکرین کے مسلسل ایک ہی موقف سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہی ہے کہ رسول ﷺ ان لوگوں کی تکذیب کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ ان لوگوں نے اس رویہ پر گویا اتفاق کرلیا ہے لہٰذا رسول ﷺ اس پر ملامت زدہ نہیں ہیں۔ ان کو چاہئے کہ کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ تو محض یاد دہانی کرانے والے ہیں اور یاد دہانی وہ جاری رکھیں۔ اگرچہ لوگ اعتراض کریں اور منہ موڑیں۔

الذاريات 51:54

کذلک ما ........ بملوم (25) وذکر ........ المؤمنین (55) (15 : 25 تا 55) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو تم پر کچھ ملامت نہیں۔ البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے “۔ تمام رسولوں کے مخالفین اور مکذبین کی فطرت ایک ہی رہی ہے۔ گمراہوں نے ہمیشہ رسولوں کی دعوت کے مقابلے میں یکساں رد عمل کا اظہار کیا۔ کذلک ........ او مجنون (15 : 25) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون “۔ جس طرح مشرکین مکہ کہہ رہے ہیں۔ گویا اگلے پچھلے کافروں نے آپس میں مشورہ کرلیا ہو۔ انہوں نے آپس میں مشورہ تو نہیں کیا مگر سرکشی ، گمراہی ، ظلم کا مزاج ہی ایک ہوتا ہے۔ اس لئے اگلے پچھلے اس روش پر جمع ہوگئے ہیں۔ منکرین کے مسلسل ایک ہی موقف سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہی ہے کہ رسول ﷺ ان لوگوں کی تکذیب کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ ان لوگوں نے اس رویہ پر گویا اتفاق کرلیا ہے لہٰذا رسول ﷺ اس پر ملامت زدہ نہیں ہیں۔ ان کو چاہئے کہ کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ تو محض یاد دہانی کرانے والے ہیں اور یاد دہانی وہ جاری رکھیں۔ اگرچہ لوگ اعتراض کریں اور منہ موڑیں۔

الذاريات 51:55

وذکر ........ المومنین (15 : 55) ” البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے۔ “ اور دوسروں کے لئے نافع نہیں ہے کیونکہ انہوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تذکیر اور دعوت رسول کے فرائض میں سے ہے اور ایمان لانا نہ لانا رسول کے فرائض سے باہر ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے جو آسمان اور زمین اور انسانوں کا خالق ہے۔ اب اس سورة میں عقل وخرد کے تاروں پر آخری ضرب لگائی جاتی ہے اور اس میں فرار الی اللہ کے معنی کی وضاحت کی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ زمین کے بوجھوں اور گرادنوں سے نجات کس طرح مل سکتی ہے۔ وہ یوں کہ انسان اور جن جس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ فریضہ ادا کریں۔

الذاريات 51:56

وما خلقت ........ المتین (85) (15 : 65 تا 85) ” میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تو خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست “۔ یہ چھوٹی سی آیت دراصل ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے۔ یہ اس کائنات کی وہ عظیم حقیقت ہے کہ جہاں انسان کی زندگی اس پر عمل کرنے کے سوا درست نہیں ہوسکتی۔ خواہ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی ہو یا عالمی زندگی اور ہر دور میں یہ حقیقت اپنی جگہ سچی رہی ہے اور رہے گی۔ یہ عظیم حقیقت عالم انسانیت کے نہایت اہم گوشے اور خفیہ معانی پر کھلتی ہے اور یہ معانی اور گوشے وہ ہیں جن پر پوری اجتماعی زندگی قائم ہے۔ اس کا پہلا پہلو یہ ہے کہ جن وانس کے وجود کا خاص مقصد ہی یہ ہے اللہ کی بندگی کی جائے۔ اس مقصد کے لئے اللہ نے چند فرائض مقرر فرمائے ہیں جس نے یہ فرائض ادا کئے گویا اس نے مقصد زندگی پالیا اور جس کسی نے ان فرائض میں کوتاہی کی یا ان سے منہ موڑا تو اس نے گویا مقصد زندگی ہی گم کردیا اور وہ شخص ہے مقصد اور بےکار ہوگیا اور اس کی زندگی بےمعنی ہوگئی اور اس کی کوئی قدروقیمت نہ رہی کیونکہ صرف اسی مقصد کے ذریعے ہی زندگی بامعنی ہوسکتی ہے۔ یہ شخص اس ناموس فطرت سے نکل آیا جس کے لئے اسے اللہ نے پیدا کیا تھا اور یہ گویا بالکل ضائع ہوگیا جس طرح ہر وہ چیز جو اپنا فرض ¾ منصبی ادا کرنا چھوڑ دے وہ بےکار ہوجاتی ہے کیونکہ مقصد زندگی ہی درحقیقت کسی شخص کے بقاء کا ضامن ہوتا ہے۔ مقصد وجود پورا نہ کرنے والی چیز اگر زندہ رہے یا موجود بھی وہ ردی ہوجاتی ہے۔ یہ مقصد زندگی جو جن وانس کو ناموس فطرت سے مربوط کرتا ہے وہ کیا ہے ؟ یہ عبادت اللہ کی بندگی یعنی ایک بندہ ہوگا اور ایک اس کا رب ہوگا۔ بندہ بندگی کرے گا اور اس کا رب معبود ہوگا اور بندے کی پوری زندگی کو اس مقصد کے مطابق استوار ہونا ضروری ہے۔ گویا عبد نے معبود کی مکمل بندگی کرنی ہے۔ یہاں آکر پھر اس عظیم حقیقت کا دوسرا پہلو ہمارے سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ بندگی سے مراد پوری زندگی میں بندگی ہے اور بندگی سے مراد صرف مراسم عبودیت یا پرستش کے طریقے نہیں ہیں بلکہ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے کیونکہ جن اور انسان اپنی پوری زندگی رات اور دن صرف عبادت میں نہیں گزارتے۔ اللہ نے لوگوں کو اس بات کا مکلف نہیں بنایا کہ وہ رات اور دن بندگی اور پرستش کریں بلکہ اللہ نے ان کو مختلف قسم کی زندگی گزارنے کا مکلف بنایا ہے۔ جنوں کی سرگرمیوں کا تو ہمیں علم نہیں ہے لیکن انسانوں کی سرگرمیوں کا ہمیں علم ہے۔ قرآن مجید نے انسان کی تخلیق کی سکیم بتائی ہے۔ واذقال ........ خلیفة۔” جب اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ میں انہیں میں خلیفہ بنانے والا ہوں “ لہٰذا زمین میں فریضہ خلافت ادا کرنا بھی انسان کی ذمہ داری ہے اور خلافت کی ذمہ داری میں مختلف قسم کی سرگرمیاں شامل ہیں یعنی زمین کی قوتوں میں تصرف کرنا ، اس کے اندر پوشیدہ ذخائر کو تلاش کرکے انسانیت کی خدمت کے لئے استعمال کرنا ، زمین کے اوپر انسانی زندگی کو ترقی دینا ، اس طرح خلافت کی ذمہ داریوں میں سے یہ بھی ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوں وہ اللہ کی شریعت قائم کرلیں اور جس طرح کائنات میں اللہ کی مرضی چلتی ہے اسی طرح انسان کی اختیاری زندگی میں بھی اللہ کی مرضی کو نافذ کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فعل عبادت جو انسان کا مقصد زندگی ہے وہ زیادہ وسیع اور جامع مفہوم رکھتا ہے اور اس سے مراد صرف مراسم عبودیت نہیں ہیں اور زمین پر اللہ کی خلافت کے فرائض سرانجام دینا بھی عبادت میں شامل ہے لہٰذا اسلامی عبادت کے دو پہلو ہیں۔ 1۔ پہلا یہ کہ اللہ کی بندگی کا مفہوم ذہن میں پوری طرح بیٹھ جائے۔ یہ شعوری اقرار کہ ایک بندہ ہے جو بندگی کرتا ہے اور ایک رب ہے جس کی بندگی کی جاتی ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک طرف سے بندگی اور غلامی ہے اور دوسری جانب آقا و خالق ہے۔ ادھر عبدادھر معبود ہے۔ رب واحد ہے اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں اور اس کے سوا جس قدر مخلوق ہے وہ سب کے سب عابد اور غلام ہیں۔ 2۔ دوسرا پہلو اس حقیقت عظمیٰ کا یہ ہے کہ انسان اپنی ہر قلبی حرکت اور توجہ اور اپنی جسمانی حرکت اور اس کا رخ زندگی کے ہر موڑ میں اللہ کی طرف پھیر دے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہو اور اللہ کے سوا ہر شعور کو اپنے دل سے نکال دے اور اللہ کی بندگی کے سوا ہر حرکت اپنی زندگی سے خارج کردے۔ ان دو پہلوؤں سے عبادت کا مفہوم پوری طرح وجود میں آتا ہے اور ہر عمل ایک عبادت بن جاتا ہے اور بندگی کے مراسم اس طرح بن جاتے ہیں جس طرح کوئی اس زمین کی تعمیروترقی میں مصروف ہو اور پھر زمین کی تعمیروترقی کا کام جہاد فی سبیل اللہ بن جائے گا اور جہاد فی سبیل اللہ یوں ہوتا ہے جس طرح ایک انسان مشکلات میں صبر کرے۔ (یعنی زندگی کی ہر حرکت اور ہر کام عبادت بن جاتا ہے۔ ) اور یہ تمام کام وہ مقصد پورا کررہے ہوں گے جس کے لئے اللہ نے جن وانس کو پیدا کیا ہے اور جس مقصد کو پوری کائنات پورا کررہی ہے۔ جب یہ نظریہ اور عقیدہ کسی ذہن میں بیٹھ جائے تو یہ یقین کرلیتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ وہ اس لئے یہاں آیا ہے کہ زندگی کے اس مختصر حصے میں وہ اس فریضہ کو ادا کرے۔ اللہ کی بندگی ، اللہ کی پرستش اور بس اس کے سوا اس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ اسے اس بات پر اطمینان ہو۔ وہ اپنے عمل اور اپنے حالات پر مطمئن ہو کہ اللہ اس سے راضی ہے۔ رہی افرادی جزا تو وہ اللہ کا ایک فضل وکرم ہوگا۔ اگر ایک شخص اس مقام تک پہنچ جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ در حقیقت وہ اللہ کی طرف دوڑ گیا ہے۔ اس نے اس زمین کی گراوٹوں ، اس کی رکاوٹوں اور اس کی تمام دامن گیریوں کو عبور کرکے اور ہر چیز سے اپنے آپ کو چھڑا کر اللہ کی طرف فرار اختیار کرلیا ہے۔ وہ اس آزادی کے ذریعے زمین کی تمام پابندیوں سے آزاد ہوگیا اور اللہ کے لئے وقف ہوگیا اور وہ اس کائنات کے اصل مقام پر پہنچ گیا یعنی اللہ کی بندگی کے مقام پر جس کے لئے اللہ نے اسے پیدا کیا تھا۔ اب یہ اپنے صحیح مقام پر جاکر کھڑا ہوگیا۔ اس نے اپنا مقصد وجود پورا کردیا۔ لہٰذا عبادت الٰہی کے تقاضوں میں سے یہ تقاضا بھی ہے کہ انسان اس زمین کے اوپر فرائض خلافت ارض بھی پورے کرے۔ یہاں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ اس زمین کے ثمرات سے آخری حد تک استفادہ کرے لیکن اس حال میں کہ وہ ان سے اپنے ہاتھ بھی جھاڑ رہا ہو اور اس کا دل اس زمین کی دھوکہ دینے والی اور پرکشش چیزوں سے آزاد وبے نیاز ہو۔ یوں کہ اس دنیا کے ثمرات اور لذات وہ صرف اپنی ذات کے لئے نہ سمیٹ رہا ہو بلکہ اسے فریضہ حیات کے طور پر عبادت کے طور پر اور فرار الی اللہ کے طور پر کررہا ہو اور بقدر ضرورت کررہا ہو۔ اس تصور اور اس عظیم حقیقت کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ ہے کہ انسان اعمال کے نتائج پر نظر نہیں رکھتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ یہ اعمال کس نیت سے کررہا ہے۔ نتائج چاہے جو ہوں انسان نتائج کا ذمہ دار نہیں ہے۔ وہ تو صرف امتثال امر اور عبادت کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس کا اجر اس کے اعمال کے نتائج نہیں بلکہ اس کا اجر یہ ہے کہ وہ بندگی کررہا ہے یا نہیں کررہا۔ اس حقیقت عظمیٰ کو پالینے کے بعد فرائض ، واجبات اور اعمال کے بارے میں انسان کا نقطہ نظر یکلخت بدل جاتا ہے۔ وہ ہر کام میں یہ دیکھتا ہے کہ وہ فریضہ عبادت پورا کررہا ہے یا نہیں۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس نے عبادت کرلی تو اس کا کام ختم ہوگیا۔ اب نتائج چاہے جو ہوں سو ہوں کیونکہ کاموں کے نتائج اس کے فرائض میں داخل نہیں ہوتے نہ اس کی طاقت میں یہ بات ہے کہ وہ نتائج پیدا کرسکے کیونکہ نتائج تو اللہ کی مشیت اور تقدیر کے مطابق نکلنے ہیں۔ وہ اس کی جدوجہد اس کی نیت اس کا عمل تو تقدیر الٰہی کا ظہور ہوتے ہیں۔ جب انسان اس معنی میں جدوجہد کرے اور نتائج سے ہاتھ جھاڑ لے اور یہ شعور پالے کہ اس نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے اور یہ کہ اس کی جز اللہ پر ہے کیونکہ اس کا کام تو یہ تھا کہ اللہ کے حکم کو مانو۔ لہٰذا اب اس دنیا کے حوالے سے اس کی کوئی آرزو ہی نہیں رہتی۔ وہ اس دنیا میں کسی مقصد کے لئے کسی سے کوئی پر خاش نہیں رکھتا اور نہ اس دنیا کی اغراض میں سے کسی غرض کے لئے اس کے دل میں کوئی چاہت ہوتی ہے۔ اس نے اپنی طاقت کے مطابق جدوجہد کرلی۔ اس دنیا میں اپنی ذمہ داریاں ادا کردیں اور اپنے حصے کے فرائض پورے کردیئے اور اس دنیا کے نتائج اور اغراض سے بھی اپنے ہاتھ جھاڑ لئے اور اپنی جدوجہد کے ثمرات کے حصول کی آرزو بھی دل سے نکال دی کیونکہ جب اس نے بندگی کردی تو اس کا ثمرا سے حاصل ہوگیا۔ رہے ذاتی مفادات تو یہ اس کا مقصد ہی نہ تھا۔ قرآن کریم اس قسم کے احساسات کو غذا دیتا ہے۔ ایسے تصورات کو تقویت دیتا ہے۔ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ رزق کا غم مت کرو ، رزق کی ذمہ دار اللہ پر ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں کے رزق کی ذمہ داری لی ہوتی ہے۔ اللہ خود بھی کسی رزق اور طعام کا محتاج نہیں ہے۔ اس نے یہ انتظامات بندوں کے لئے تو کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو محتاجوں اور غریبوں پر انفاق کے جو احکام دیتا ہے وہ بھی خود ان کے مفاد میں ہیں۔

الذاريات 51:57

ما ارید ........ المتین (15 : 85) ” میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “ اس دنیا میں فرائض خلافت ادا کرتے ہوئے ایک مومن کے اندر صرف حصول رزق کا داعیہ نہیں ہوتا بلکہ یہ داعیہ اللہ کی بندگی کا داعیہ ہوتا ہے اور عبادت تب پوری ہوتی ہے جب انسان اس جہاں میں امرالٰہی کو تسلیم کرتے ہوئے پوری جدوجہد کرے۔ اس لئے یہاں ایک مومن کی جدوجہد کے پیچھے اللہ کی بندگی اور اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور اس جذبے میں اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی مفاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس دنیا میں اونچے مقاصد کے لئے جدوجہد ایک عظیم بلند فعل ہے اور یہ کسی بلند تصور اور جذبہ کے تحت ہی ہوسکتا ہے۔ آج انسانیت اگر اس رزق بلند سے محروم ہے تو وہ اس لئے محروم ہے کہ جس طرح دور اول کے مسلمان قرآن کی تعلیمات کے سایہ میں زندگی بسر کرتے تھے یہ لوگ نہیں کررہے اور انہوں نے اپنے اصول زندگی قرآنی دستور سے اخذ نہیں کئے۔ جب کوئی انسان اور کوئی سوسائٹی اس افق تک بلند ہوجاتی ہے یعنی بندگی اور غلامی کے افق تک اور اس پر جم جاتی ہے تو اس کی عزت نفس کسی بھی خسیس ذریعہ سے کوئی بلند مقصد حاصل کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ اگرچہ یہ مقصد اسلام کی سربلندی ہو اور اسلام کے غلبہ کا مقصد ہو کیونکہ خسیس ذرائع اللہ کی بندگی کے پاک مقصد کو ختم کردیتے ہیں۔ نیز جب کوئی اس مقام تک پہنچ جائے تو وہ نفس کو منزل تک پہنچانے کی فکر نہیں کرتا بلکہ وہ اس فکر میں مبتلا ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا فریضہ پورا کردیا ہے یا نہیں۔ یعنی اللہ کی بندگی کے مفہوم اور حقیقت کبریٰ کو پاتے ہوئے۔ جہاں تک حصول مقاصد کا تعلق ہے تو یہ تو اللہ کے حوالے ہیں۔ اللہ نے اپنی تقدیر میں جس طرح نتائج طے کر رکھے ہیں وہ پس پردہ تقدیر ظاہر ہوجائیں گے۔ لہٰذا ہمیں یہ نہیں چاہئے کہ ہم نتائج حاصل کرنے کے لئے غلط ذرائع اختیار کریں جبکہ نتائج کا ظہور اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک مومن کے ذمہ داری میں نہیں ہے جو صرف اللہ کی بندگی کرنے والا ہے۔ بندہ عبادت گزار کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے ، اس کا نفس برقرار ہوتا ہے۔ اس کا دل تمام حالات میں صحیح و سلامت ہوتا ہے۔ چاہے اسے اپنے عمل کے ثمرات نظر آرہے ہوں یا نہ آرہے ہوں۔ یہ نتائج اس کی نیت اور عمل کے مطابق ہوں یا اس کے برعکس نکل رہے ہوں کیونکہ عبادت کے اس مفہوم کے مطابق اس نے اپنا کام کردیا ہے۔ اس کی جزاء کی ضمانت اللہ نے دے دی ہے۔ اب وہ خوش وخرم ہے۔ اس کے بعد عملاً کیا ہوتا ہے یہ اس کے دائرہ فرائض سے خارج ہے کیونکہ اس نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ بندہ ہے لہٰذا وہ اپنے شعور اور فکر کے اعتبار سے یا اپنی تجاویز اور مطالبات کے لحاظ سے عبدیت کی حدود سے آگے نہیں جاسکتا۔ اس کو معلوم ہوگیا ہے کہ اللہ رب ہے۔ اس لئے یہ ان کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا جو رب العلمین کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ اس کے جذبات یہاں اگر رک جاتے ہیں تو اللہ اس سے راضی ہوجاتا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوجاتا ہے۔ یہ ہیں بعض پہلو اس عظیم حقیقت کے جس کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نہایت ہی مختصر آیت ہے۔ وما خلقت ........ لیعبدون (15 : 65) ” میں نے جن وانس کو اس کے سوا کسی اور کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔ “ یہ حقیقت اگر کسی کے دل و دماغ میں بیٹھ جائے تو وہ اس شخص کی زندگی کا نقشہ بدل دیتی ہے۔ آخر میں اس حقیقت کی روشنی میں ظالموں کو ڈرایا جاتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ، قیامت کی تکذیب کرتے ہیں اور ان کے آنے میں شتابی کرتے ہیں۔ اس زبردست ڈراوے پر سورت ختم ہوتی ہے۔

الذاريات 51:58

ما ارید ........ المتین (15 : 85) ” میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “ اس دنیا میں فرائض خلافت ادا کرتے ہوئے ایک مومن کے اندر صرف حصول رزق کا داعیہ نہیں ہوتا بلکہ یہ داعیہ اللہ کی بندگی کا داعیہ ہوتا ہے اور عبادت تب پوری ہوتی ہے جب انسان اس جہاں میں امرالٰہی کو تسلیم کرتے ہوئے پوری جدوجہد کرے۔ اس لئے یہاں ایک مومن کی جدوجہد کے پیچھے اللہ کی بندگی اور اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور اس جذبے میں اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی مفاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس دنیا میں اونچے مقاصد کے لئے جدوجہد ایک عظیم بلند فعل ہے اور یہ کسی بلند تصور اور جذبہ کے تحت ہی ہوسکتا ہے۔ آج انسانیت اگر اس رزق بلند سے محروم ہے تو وہ اس لئے محروم ہے کہ جس طرح دور اول کے مسلمان قرآن کی تعلیمات کے سایہ میں زندگی بسر کرتے تھے یہ لوگ نہیں کررہے اور انہوں نے اپنے اصول زندگی قرآنی دستور سے اخذ نہیں کئے۔ جب کوئی انسان اور کوئی سوسائٹی اس افق تک بلند ہوجاتی ہے یعنی بندگی اور غلامی کے افق تک اور اس پر جم جاتی ہے تو اس کی عزت نفس کسی بھی خسیس ذریعہ سے کوئی بلند مقصد حاصل کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ اگرچہ یہ مقصد اسلام کی سربلندی ہو اور اسلام کے غلبہ کا مقصد ہو کیونکہ خسیس ذرائع اللہ کی بندگی کے پاک مقصد کو ختم کردیتے ہیں۔ نیز جب کوئی اس مقام تک پہنچ جائے تو وہ نفس کو منزل تک پہنچانے کی فکر نہیں کرتا بلکہ وہ اس فکر میں مبتلا ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا فریضہ پورا کردیا ہے یا نہیں۔ یعنی اللہ کی بندگی کے مفہوم اور حقیقت کبریٰ کو پاتے ہوئے۔ جہاں تک حصول مقاصد کا تعلق ہے تو یہ تو اللہ کے حوالے ہیں۔ اللہ نے اپنی تقدیر میں جس طرح نتائج طے کر رکھے ہیں وہ پس پردہ تقدیر ظاہر ہوجائیں گے۔ لہٰذا ہمیں یہ نہیں چاہئے کہ ہم نتائج حاصل کرنے کے لئے غلط ذرائع اختیار کریں جبکہ نتائج کا ظہور اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک مومن کے ذمہ داری میں نہیں ہے جو صرف اللہ کی بندگی کرنے والا ہے۔ بندہ عبادت گزار کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے ، اس کا نفس برقرار ہوتا ہے۔ اس کا دل تمام حالات میں صحیح و سلامت ہوتا ہے۔ چاہے اسے اپنے عمل کے ثمرات نظر آرہے ہوں یا نہ آرہے ہوں۔ یہ نتائج اس کی نیت اور عمل کے مطابق ہوں یا اس کے برعکس نکل رہے ہوں کیونکہ عبادت کے اس مفہوم کے مطابق اس نے اپنا کام کردیا ہے۔ اس کی جزاء کی ضمانت اللہ نے دے دی ہے۔ اب وہ خوش وخرم ہے۔ اس کے بعد عملاً کیا ہوتا ہے یہ اس کے دائرہ فرائض سے خارج ہے کیونکہ اس نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ بندہ ہے لہٰذا وہ اپنے شعور اور فکر کے اعتبار سے یا اپنی تجاویز اور مطالبات کے لحاظ سے عبدیت کی حدود سے آگے نہیں جاسکتا۔ اس کو معلوم ہوگیا ہے کہ اللہ رب ہے۔ اس لئے یہ ان کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا جو رب العلمین کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ اس کے جذبات یہاں اگر رک جاتے ہیں تو اللہ اس سے راضی ہوجاتا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوجاتا ہے۔ یہ ہیں بعض پہلو اس عظیم حقیقت کے جس کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نہایت ہی مختصر آیت ہے۔ وما خلقت ........ لیعبدون (15 : 65) ” میں نے جن وانس کو اس کے سوا کسی اور کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔ “ یہ حقیقت اگر کسی کے دل و دماغ میں بیٹھ جائے تو وہ اس شخص کی زندگی کا نقشہ بدل دیتی ہے۔ آخر میں اس حقیقت کی روشنی میں ظالموں کو ڈرایا جاتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ، قیامت کی تکذیب کرتے ہیں اور ان کے آنے میں شتابی کرتے ہیں۔ اس زبردست ڈراوے پر سورت ختم ہوتی ہے۔

الذاريات 51:59

ما ارید ........ المتین (15 : 85) ” میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “ اس دنیا میں فرائض خلافت ادا کرتے ہوئے ایک مومن کے اندر صرف حصول رزق کا داعیہ نہیں ہوتا بلکہ یہ داعیہ اللہ کی بندگی کا داعیہ ہوتا ہے اور عبادت تب پوری ہوتی ہے جب انسان اس جہاں میں امرالٰہی کو تسلیم کرتے ہوئے پوری جدوجہد کرے۔ اس لئے یہاں ایک مومن کی جدوجہد کے پیچھے اللہ کی بندگی اور اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور اس جذبے میں اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی مفاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس دنیا میں اونچے مقاصد کے لئے جدوجہد ایک عظیم بلند فعل ہے اور یہ کسی بلند تصور اور جذبہ کے تحت ہی ہوسکتا ہے۔ آج انسانیت اگر اس رزق بلند سے محروم ہے تو وہ اس لئے محروم ہے کہ جس طرح دور اول کے مسلمان قرآن کی تعلیمات کے سایہ میں زندگی بسر کرتے تھے یہ لوگ نہیں کررہے اور انہوں نے اپنے اصول زندگی قرآنی دستور سے اخذ نہیں کئے۔ جب کوئی انسان اور کوئی سوسائٹی اس افق تک بلند ہوجاتی ہے یعنی بندگی اور غلامی کے افق تک اور اس پر جم جاتی ہے تو اس کی عزت نفس کسی بھی خسیس ذریعہ سے کوئی بلند مقصد حاصل کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ اگرچہ یہ مقصد اسلام کی سربلندی ہو اور اسلام کے غلبہ کا مقصد ہو کیونکہ خسیس ذرائع اللہ کی بندگی کے پاک مقصد کو ختم کردیتے ہیں۔ نیز جب کوئی اس مقام تک پہنچ جائے تو وہ نفس کو منزل تک پہنچانے کی فکر نہیں کرتا بلکہ وہ اس فکر میں مبتلا ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا فریضہ پورا کردیا ہے یا نہیں۔ یعنی اللہ کی بندگی کے مفہوم اور حقیقت کبریٰ کو پاتے ہوئے۔ جہاں تک حصول مقاصد کا تعلق ہے تو یہ تو اللہ کے حوالے ہیں۔ اللہ نے اپنی تقدیر میں جس طرح نتائج طے کر رکھے ہیں وہ پس پردہ تقدیر ظاہر ہوجائیں گے۔ لہٰذا ہمیں یہ نہیں چاہئے کہ ہم نتائج حاصل کرنے کے لئے غلط ذرائع اختیار کریں جبکہ نتائج کا ظہور اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک مومن کے ذمہ داری میں نہیں ہے جو صرف اللہ کی بندگی کرنے والا ہے۔ بندہ عبادت گزار کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے ، اس کا نفس برقرار ہوتا ہے۔ اس کا دل تمام حالات میں صحیح و سلامت ہوتا ہے۔ چاہے اسے اپنے عمل کے ثمرات نظر آرہے ہوں یا نہ آرہے ہوں۔ یہ نتائج اس کی نیت اور عمل کے مطابق ہوں یا اس کے برعکس نکل رہے ہوں کیونکہ عبادت کے اس مفہوم کے مطابق اس نے اپنا کام کردیا ہے۔ اس کی جزاء کی ضمانت اللہ نے دے دی ہے۔ اب وہ خوش وخرم ہے۔ اس کے بعد عملاً کیا ہوتا ہے یہ اس کے دائرہ فرائض سے خارج ہے کیونکہ اس نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ بندہ ہے لہٰذا وہ اپنے شعور اور فکر کے اعتبار سے یا اپنی تجاویز اور مطالبات کے لحاظ سے عبدیت کی حدود سے آگے نہیں جاسکتا۔ اس کو معلوم ہوگیا ہے کہ اللہ رب ہے۔ اس لئے یہ ان کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا جو رب العلمین کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ اس کے جذبات یہاں اگر رک جاتے ہیں تو اللہ اس سے راضی ہوجاتا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوجاتا ہے۔ یہ ہیں بعض پہلو اس عظیم حقیقت کے جس کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نہایت ہی مختصر آیت ہے۔ وما خلقت ........ لیعبدون (15 : 65) ” میں نے جن وانس کو اس کے سوا کسی اور کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔ “ یہ حقیقت اگر کسی کے دل و دماغ میں بیٹھ جائے تو وہ اس شخص کی زندگی کا نقشہ بدل دیتی ہے۔ آخر میں اس حقیقت کی روشنی میں ظالموں کو ڈرایا جاتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ، قیامت کی تکذیب کرتے ہیں اور ان کے آنے میں شتابی کرتے ہیں۔ اس زبردست ڈراوے پر سورت ختم ہوتی ہے۔

الذاريات 51:60

فان للذین ........ یوعدون (15 : 06) ” پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اس کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا انہی جیسے لوگوں کو ان کے حصے کامل چکا ہے ، اس کے لئے یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔ آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لئے اس روز جس کا انہیں خوف دلایا جارہا ہے۔ “