Fi Zilal al-Quran — الطور 52:1 – القمر 54:55
Contents
- الطور 52:1
- الطور 52:2
- الطور 52:3
- الطور 52:4
- الطور 52:5
- الطور 52:6
- الطور 52:7
- الطور 52:8
- الطور 52:9
- الطور 52:10
- الطور 52:11
- الطور 52:12
- الطور 52:13
- الطور 52:14
- الطور 52:15
- الطور 52:16
- الطور 52:17
- الطور 52:18
- الطور 52:19
- الطور 52:20
- الطور 52:21
- الطور 52:22
- الطور 52:23
- الطور 52:24
- الطور 52:25
- الطور 52:26
- الطور 52:27
- الطور 52:28
- الطور 52:29
- الطور 52:30
- الطور 52:31
- الطور 52:32
- الطور 52:33
- الطور 52:34
- الطور 52:35
- الطور 52:36
- الطور 52:37
- الطور 52:38
- الطور 52:39
- الطور 52:40
- الطور 52:41
- الطور 52:42
- الطور 52:43
- الطور 52:44
- الطور 52:45
- الطور 52:46
- الطور 52:47
- الطور 52:48
- الطور 52:49
- النجم 53:1
- النجم 53:2
- النجم 53:3
- النجم 53:4
- النجم 53:5
- النجم 53:6
- النجم 53:7
- النجم 53:8
- النجم 53:9
- النجم 53:10
- النجم 53:11
- النجم 53:12
- النجم 53:13
- النجم 53:14
- النجم 53:15
- النجم 53:16
- النجم 53:17
- النجم 53:18
- النجم 53:19
- النجم 53:20
- النجم 53:21
- النجم 53:22
- النجم 53:23
- النجم 53:24
- النجم 53:25
- النجم 53:26
- النجم 53:27
- النجم 53:28
- النجم 53:29
- النجم 53:30
- النجم 53:31
- النجم 53:32
- النجم 53:33
- النجم 53:34
- النجم 53:35
- النجم 53:36
- النجم 53:37
- النجم 53:38
- النجم 53:39
- النجم 53:40
- النجم 53:41
- النجم 53:42
- النجم 53:43
- النجم 53:44
- النجم 53:45
- النجم 53:46
- النجم 53:47
- النجم 53:48
- النجم 53:49
- النجم 53:50
- النجم 53:51
- النجم 53:52
- النجم 53:53
- النجم 53:54
- النجم 53:55
- النجم 53:56
- النجم 53:57
- النجم 53:58
- النجم 53:59
- النجم 53:60
- النجم 53:61
- النجم 53:62
- القمر 54:1
- القمر 54:2
- القمر 54:3
- القمر 54:4
- القمر 54:5
- القمر 54:6
- القمر 54:7
- القمر 54:8
- القمر 54:9
- القمر 54:10
- القمر 54:11
- القمر 54:12
- القمر 54:13
- القمر 54:14
- القمر 54:15
- القمر 54:16
- القمر 54:17
- القمر 54:18
- القمر 54:19
- القمر 54:20
- القمر 54:21
- القمر 54:22
- القمر 54:23
- القمر 54:24
- القمر 54:25
- القمر 54:26
- القمر 54:27
- القمر 54:28
- القمر 54:29
- القمر 54:30
- القمر 54:31
- القمر 54:32
- القمر 54:33
- القمر 54:34
- القمر 54:35
- القمر 54:36
- القمر 54:37
- القمر 54:38
- القمر 54:39
- القمر 54:40
- القمر 54:41
- القمر 54:42
- القمر 54:43
- القمر 54:44
- القمر 54:45
- القمر 54:46
- القمر 54:47
- القمر 54:48
- القمر 54:49
- القمر 54:50
- القمر 54:51
- القمر 54:52
- القمر 54:53
- القمر 54:54
- القمر 54:55
الطور 52:1
یہ مختصر آیات اور زمزمہ خیز مسجع آیات اور ان آیات کے آخری الفاظ کی صوتی ہم آہنگی ، پوری سورة میں جاری ہے۔ پہلی آیت میں ایک لفظ بھر دو الفاظ ، پھر آہستہ آہستہ الفاظ کی تعداد کا بڑھتے چلے جانا ، یہاں تک کہ پیراگراف کے آخر میں الفاظ کی تعداد 21 کلمات تک پہنچ جاتی ہے اور الفاظ بدستور پر شوکت اور زور دار رہتے ہیں۔
والطور (قسم ہے طور کی) طور ہر اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس میں درخت ہوں۔ واضح قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہی کوہ طور ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں مشہور ہے اور جس پہاڑ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی تھیں۔ اس لئے کہ یہاں فضا مقدس مقامات کی ہے اور ان کی اللہ تعالیٰ قسم اٹھاتا ہے اور یہ قسم بھی ایک عظیم امر پر ہے۔
الطور 52:2
وکتب مسطور (25 : 2) فی رق منشور (25 : 3) ” ایسی کتاب کی قسم جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے “۔ زیادہ قریب بات یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت موسیٰ کی کتاب ہے جو تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ اس تفسیر کے مطابق طور کے ساتھ مناسبت پوری ہوجاتی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ مراد لوح محفوظ ہے۔ اسی لئے کہ اس کے بعد الیت المعمور کی قسم ہے اور السقف المرفوع کی قسم ہے اور یہ مفہوم بھی ممکن ہے۔
الطور 52:3
وکتب مسطور (25 : 2) فی رق منشور (25 : 3) ” ایسی کتاب کی قسم جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے “۔ زیادہ قریب بات یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت موسیٰ کی کتاب ہے جو تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ اس تفسیر کے مطابق طور کے ساتھ مناسبت پوری ہوجاتی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ مراد لوح محفوظ ہے۔ اسی لئے کہ اس کے بعد الیت المعمور کی قسم ہے اور السقف المرفوع کی قسم ہے اور یہ مفہوم بھی ممکن ہے۔
الطور 52:4
والبیت العمور (آباد گھر کی قسم) اس سے مراد کعبة اللہ بھی ہوسکتا ہے واضح یہ ہے کہ مراد وہ بیت المعمور ہے جو فرشتوں کی عبادت کی جگہ ہے کیونکہ صحیح احادیث میں اور حدیث اسرا میں آتا ہے ” اس کے بعد مجھے بیت المعمور کی طرف اٹھایا گیا۔ اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہوتا۔ “ یعنی یہ فرشتے وہاں اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور وہ اسی کا اسی طرح طواف کرتے ہیں جس طرح اہل زمین ، زمین کے کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔
الطور 52:5
والسقف المرفوع (25 : 5) ” اور قسم ہے اونچی چھت کی “ اس سے مراد آسمان ہے۔ سفیاں ثوری کی یہی رائے ہے اور ابوالاحوص نے سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے یہی رائے نقل کی ہے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی ؓ نے یہ آیت پڑھی۔
وجعلنا ........ معرضون ” اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں۔ “
الطور 52:6
والبحر المسحور (25 : 6) ” اور قسم ہے موجزن سمندر کی “ یعنی بھرے ہوئے سمندر کی۔ سمندر کا ذکر آسمان کے مقابلے میں زیادہ مناسب ہے کیونکہ وہ بہت وسیع ہے۔ بھرا ہوا ہے اور طویل و عریض ہے۔ یہ ایک ایسی نشانی ہے جس میں خوبصورتی بھی ہے اور اس میں عظمت اور خوف بھی ہے اور یہ مذکورہ بالا دوسری نشانیوں کے ساتھ زیادہ نصیحت آموز ہے۔ للمسحور کا معنی وہ جس میں آگ لگی ہوئی ہو۔ دوسری سورة میں کہا گیا۔
واذا البحار سجرت ” جب سمندروں کو بھڑکایا جائے گا “ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد یعنی۔
والبحر المسجور (25 : 6) سے مراد آگ کا کوئی سمندر ہو جیسا کہ۔
البیت المعمور سے مراد ایک غیبی عبادت گاہ ہے۔ ان عظیم چیزوں کی قسم اٹھا کر جس عظیم حقیقت کا اظہارہورہا ہے اور جس کے لئے اب ذہن تیار ہوگیا ہے وہ ہے۔
الطور 52:7
ان عذاب ربک لواقع (25 : 7) مالہ من دافع (25 : 8) ” کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے۔ “
یہ عذاب یقینا ہونے والا ہے اور اسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ ان دونوں آیات کا اثر اور ان کا سجع دونوں فیصلہ کن ہیں۔ الفاظ کے ترنم سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ واقع ہونے والا ہے اور اس میں کوئی دوسری بات ممکن نہیں ہے اور اس سے کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ جب یہ اثر انسان کے پردہ احساس پر پڑتا ہے اور براہ راست پڑتا ہے تو یہ دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی حالت بدل کر رکھ دیتا ہے۔ حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے اپنے باپ سے انہوں نے موسیٰ ابن داؤد سے ، انہوں نے صالح مری سے ، انہوں نے جعفر ابن زید عبدی سے وہ کہتے ہیں حضرت عمر ایک رات مدینہ میں گشت کے لئے نکلے ، وہ مسلمانوں کے گھروں میں سے ایک گھر کے پاس سے گزرے ، دیکھا تو ایک شخص نماز میں کھڑا ہے۔ حضرت عمر ؓ کھڑے ہوگئے اور اس کی تلاوت سننے لگے۔ اس شخص نے سورة طور پڑھنا شروع کی۔ جب یہاں تک پہنچا۔ ان عذاب ربک لواقع (25 : 7) مالہ من دافع (25 : 8) ” کہ تیرے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ حق ہے حضرت عمر ؓ اپنے گدھے سے اتر گئے اور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور کچھ دیر بیٹھے رہے۔ پھر وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ گئے۔ پورا ایک ماہ لیٹ گئے۔ لوگ ان کی عیادت کرتے لیکن معلوم نہ تھا کہ آپ کو کیا بیماری لاحق ہے۔
حضرت عمر ؓ نے تو یہ سورة اس سے پہلے بھی سنی تھی اور بار بار سنی تھی۔ انہوں نے خودبھی اسے پڑھا تھا۔ نماز میں پڑھایا تھا۔ رسول اللہ ہمیشہ مغرب کی نماز میں اسے پڑھا کرتے تھے اور حضرت عمر ؓ اسی بات کو جانتے تھے اور اس طرح آپ بھی مغرب میں اس سورة کو پڑھتے۔ اسوہ رسول پر عمل کرتے ہوئے لیکن اس دن ان پر اس کا بہت اثر ہوگیا کیونکہ ان کا دل اس تاثر کے لئے کھلا تھا۔ ان کے احساسات اس دن اثرات قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گے اس لئے ان معانی نے ان کے دل میں نفوذ کرلیا اور ان پر اس طرح اثر انداز ہوئے جس طرح اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ جب یہ آیات اپنے پورے وزن ، پوری شدت اور پوری حقیقت کے ساتھ براہ راست ان کے دل میں اتریں۔ بعض اوقات دلوں پر ایسے اثرات پڑا کرتے ہیں۔ یہ دراصل وقت کی بات ہوتی ہے۔ ایک خاص وقت میں یہ اثرات دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں اور یہ اس وقت اترتے ہیں جب وہ براہ راست دلوں کو مس کرلیں۔ ان لمحات میں دل ان آیات کو اپنے اصل سرچشمے سے لے لیتے ہیں جس طرح قلب رسول پر ان کا الہامی اثر تھا اس طرح سننے والے کے دل پر اثر ہوجاتا ہے۔ قلب رسول پر تو ہر بار یہ ہوتا تھا اور اللہ نے قلب رسول کو یہ صلاحیت دی تھی بعض اوقات دوسرے لوگوں پر بھی یہ معجزانہ اثر ہوجاتا ہے جس طرح حضرت عمر ؓ پر ہوگیا۔
الطور 52:8
ان عذاب ربک لواقع (25 : 7) مالہ من دافع (25 : 8) ” کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے۔ “
یہ عذاب یقینا ہونے والا ہے اور اسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ ان دونوں آیات کا اثر اور ان کا سجع دونوں فیصلہ کن ہیں۔ الفاظ کے ترنم سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ واقع ہونے والا ہے اور اس میں کوئی دوسری بات ممکن نہیں ہے اور اس سے کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ جب یہ اثر انسان کے پردہ احساس پر پڑتا ہے اور براہ راست پڑتا ہے تو یہ دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی حالت بدل کر رکھ دیتا ہے۔ حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے اپنے باپ سے انہوں نے موسیٰ ابن داؤد سے ، انہوں نے صالح مری سے ، انہوں نے جعفر ابن زید عبدی سے وہ کہتے ہیں حضرت عمر ایک رات مدینہ میں گشت کے لئے نکلے ، وہ مسلمانوں کے گھروں میں سے ایک گھر کے پاس سے گزرے ، دیکھا تو ایک شخص نماز میں کھڑا ہے۔ حضرت عمر ؓ کھڑے ہوگئے اور اس کی تلاوت سننے لگے۔ اس شخص نے سورة طور پڑھنا شروع کی۔ جب یہاں تک پہنچا۔ ان عذاب ربک لواقع (25 : 7) مالہ من دافع (25 : 8) ” کہ تیرے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ حق ہے حضرت عمر ؓ اپنے گدھے سے اتر گئے اور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور کچھ دیر بیٹھے رہے۔ پھر وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ گئے۔ پورا ایک ماہ لیٹ گئے۔ لوگ ان کی عیادت کرتے لیکن معلوم نہ تھا کہ آپ کو کیا بیماری لاحق ہے۔
حضرت عمر ؓ نے تو یہ سورة اس سے پہلے بھی سنی تھی اور بار بار سنی تھی۔ انہوں نے خودبھی اسے پڑھا تھا۔ نماز میں پڑھایا تھا۔ رسول اللہ ہمیشہ مغرب کی نماز میں اسے پڑھا کرتے تھے اور حضرت عمر ؓ اسی بات کو جانتے تھے اور اس طرح آپ بھی مغرب میں اس سورة کو پڑھتے۔ اسوہ رسول پر عمل کرتے ہوئے لیکن اس دن ان پر اس کا بہت اثر ہوگیا کیونکہ ان کا دل اس تاثر کے لئے کھلا تھا۔ ان کے احساسات اس دن اثرات قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گے اس لئے ان معانی نے ان کے دل میں نفوذ کرلیا اور ان پر اس طرح اثر انداز ہوئے جس طرح اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ جب یہ آیات اپنے پورے وزن ، پوری شدت اور پوری حقیقت کے ساتھ براہ راست ان کے دل میں اتریں۔ بعض اوقات دلوں پر ایسے اثرات پڑا کرتے ہیں۔ یہ دراصل وقت کی بات ہوتی ہے۔ ایک خاص وقت میں یہ اثرات دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں اور یہ اس وقت اترتے ہیں جب وہ براہ راست دلوں کو مس کرلیں۔ ان لمحات میں دل ان آیات کو اپنے اصل سرچشمے سے لے لیتے ہیں جس طرح قلب رسول پر ان کا الہامی اثر تھا اس طرح سننے والے کے دل پر اثر ہوجاتا ہے۔ قلب رسول پر تو ہر بار یہ ہوتا تھا اور اللہ نے قلب رسول کو یہ صلاحیت دی تھی بعض اوقات دوسرے لوگوں پر بھی یہ معجزانہ اثر ہوجاتا ہے جس طرح حضرت عمر ؓ پر ہوگیا۔
الطور 52:9
اب اس عظیم اور خوفناک حقیقت کے بعد ایک خوفناک منظر :
یوم تمور السماہ مورا (25 : 9) وتسیر الجبال سیرا (25 : 01) ” وہ اس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگا رہا ہوگا اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے “ یہ آسمان جو ٹھہرا ہوا ہے اور نہایت پختگی سے تعمیر شدہ ہے۔ یہ اچانک اضطراب میں مبتلا ہوگا اور اس طرح الٹ پلٹ ہوگا جس طرح سمندر میں امواج اٹھتی بیٹھتی ہیں۔ یہ امواج ادھر سے ادھر جاتی ہیں اور ان کے اندر کوئی قرار نہیں ہوتا اور پھر اس زمین پر پائے جانے والے پہاڑ جو اونچے اور پختہ جمے ہوئے ہیں یہ اس طرح ہلکے ہوجائیں گے کہ وہ اڑنے لگیں گے اور ان سے ثبات وقرار ختم ہوجائے گا۔ یہ منظر ایک ہوشربا اور پریشاں کن منظر ہے اور یہ ایک ایسے ہولناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے کہ جس میں آسمان اور پہاڑ بھی ہل جائیں تو اس قدر خوفناک منظر میں اور ہولناک صورتحال میں یہ ضعیف انسان کیا ٹھہر سکے گا۔
غرض اس قسم کے خوفناک اور ہولناک حالات میں مکذبین کو ایک ایسی بات بتائی جاتی ہے جو ان کو بہت زیادہ خائف کردینے والی ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کی جانب سے ان کو بددعا دی جاتی ہے اور اللہ کی بددعا تو گویا فیصلہ ہوتا ہے تباہی کا۔ جس بات کی بددعا دی گئی گویا وہ واقع ہوگئی۔ اللہ کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اس فیصلے سے اور یہ ہوگئی عملاً
الطور 52:10
اب اس عظیم اور خوفناک حقیقت کے بعد ایک خوفناک منظر :
یوم تمور السماہ مورا (25 : 9) وتسیر الجبال سیرا (25 : 01) ” وہ اس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگا رہا ہوگا اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے “ یہ آسمان جو ٹھہرا ہوا ہے اور نہایت پختگی سے تعمیر شدہ ہے۔ یہ اچانک اضطراب میں مبتلا ہوگا اور اس طرح الٹ پلٹ ہوگا جس طرح سمندر میں امواج اٹھتی بیٹھتی ہیں۔ یہ امواج ادھر سے ادھر جاتی ہیں اور ان کے اندر کوئی قرار نہیں ہوتا اور پھر اس زمین پر پائے جانے والے پہاڑ جو اونچے اور پختہ جمے ہوئے ہیں یہ اس طرح ہلکے ہوجائیں گے کہ وہ اڑنے لگیں گے اور ان سے ثبات وقرار ختم ہوجائے گا۔ یہ منظر ایک ہوشربا اور پریشاں کن منظر ہے اور یہ ایک ایسے ہولناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے کہ جس میں آسمان اور پہاڑ بھی ہل جائیں تو اس قدر خوفناک منظر میں اور ہولناک صورتحال میں یہ ضعیف انسان کیا ٹھہر سکے گا۔
غرض اس قسم کے خوفناک اور ہولناک حالات میں مکذبین کو ایک ایسی بات بتائی جاتی ہے جو ان کو بہت زیادہ خائف کردینے والی ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کی جانب سے ان کو بددعا دی جاتی ہے اور اللہ کی بددعا تو گویا فیصلہ ہوتا ہے تباہی کا۔ جس بات کی بددعا دی گئی گویا وہ واقع ہوگئی۔ اللہ کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اس فیصلے سے اور یہ ہوگئی عملاً
الطور 52:11
فویل یومئذ للمکذبین (25 : 11) الذین ھم فی خوض یلعبون (25 : 21) ” تباہی ہے اس روز مکذبین کے لئے جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں “ یہ تباہی اس دن آئے گی جس دن آسمان ڈگمگائے گا اور پہاڑ اڑ رہے ہوں گے۔ یہ خوفناک منظر اور یہ خوفناک بربادی۔ یہ ان جھٹلانے والوں کا حصہ ہے جو لگے ہوئے تھے اپنی حجت بازیوں میں۔
سب سے پہلے تو یہ صفت منطبق ہوتی ہے مشرکین مکہ کے افکار پر اور ان کے تصورات اور معتقدات پر جو نہایت سطحی اور بچگانہ تھے اور ان کی پوری اس زندگی پر یہ صفت منطبق ہے جو ان تصورات اور معتقدات کی اساس پر قائم تھی۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر اس پر تبصرہ کیا ہے کہ یہ ایک کھیل ہے جس میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے۔ یہ اس کھیل میں اس طرح مصروف ہیں جس طرح حوض میں لوگ نہانے کے لئے اترتے ہیں اور اچھلتے کودتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ پانی میں تیر کر کسی ہدف کی طرف بڑھیں یا کنارے پر لگ جائیں۔ ان کا مقصد صرف حوض میں اچھلنا کودنا ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم اس لفظ کا اطلاق قرانی نظریات کے علاوہ تمام نظریات پر کرتا ہے اور قرآنی طریقہ زندگی کے علاوہ تمام دوسرے اسلوب ہائے زندگی پر کرتا ہے کہ یہ کھیل تماشا ہے اور یہ ایک بڑی حقیقت ہے جو قرآن کریم نے واضح کی ہے اور اسے وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو قرآنی نظریات کے علاوہ تمام نظریات کا گہرا جائزہ لے اور وہ یہ جائزہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظریہ کائنات کی روشنی میں لے۔ کسی بھی گہرے جائزے سے معلوم ہوگا کہ تمام لوگوں کے نظریات اور معتقدات افسانے ہیں بلکہ بڑے بڑے فلسفے انسانی تاریخ کے وہ بڑے فلسفیانہ تصورات جن پر انسان ناز کرتے ہیں ، وہ بھی بچوں کا کھیل معلوم ہوتے ہیں۔ اسلامی تصور حیات اور عقائد میں جو حقائق نہایت ہی سادگی ، قوت ، صفائی اور سنجیدگی سے بیان کئے گئے اور خصوصاً وہ باتیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں وہ سب فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور وہ فطرت کے ساتھ بغیر کسی مشکل سے ملتی جلتی ہیں کیونکہ قرآن کا مطالعہ فطرت نہایت حقیقت پسندانہ ہے۔ اس سے کائنات کے عجوبے کی بھی خوبصورت تفسیر ہوتی ہے اور اس تفسیر کے مطابق اس کے خالق کائنات کے ساتھ تعلق کی بھی تشریح ہوتی ہے اور یہ سب تصورات اور تشریحات حقیقت پسندانہ بھی ہیں۔
جب میں فلاسفہ کے خیالات پڑھتا ، بڑے بڑے فلاسفہ کے خیالات دیکھتا ہوں کہ اس کائنات کے عجوبے کے حل میں وہ تھک کر چور چور ہوگئے اور وہ اس کی صحیح تفسیر نہ کرسکے نہ ہی کائنات کے مختلف حقائق کو باہم مربوط کرسکے۔ ان کے خیالات اس طرح معلوم ہوتے ہیں جس طرح ایک بچہ ریاضی کا کوئی مشکل مسئلہ حل کرنے کی سعی کرے۔ یہ اس لئے کہ میرے سامنے اس مسئلے کا قرآنی حل موجود تھا جو واضح ، صاف ، سہل فطری اور دلپذیر تھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہ تھی نہ پیچیدگی تھی اور نہ تعقید۔ قرآن نے اس کائنات کی جو تشریح کی ہے وہ اس طرح ہے جس طرح ایک شخص اپنی بنائی ہوئی مشینری کی تشریح کرتا ہے۔ رہے فلاسفہ تو وہ اس کائنات میں سے چند جزوی حقائق لے کر ان کو کل پر منطبق کرتے ہیں اس لئے وہ بری طرح فیل ہوجاتے ہیں اور ان کے تصورات تضادات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
جب ہم ان فلاسفہ کے تصورات کا مقابلہ قرآن سے کرتے ہیں تو یہ عبث کھیل ، خلط بحث کا بھونڈا نمونہ پیش کرتے ہیں اس لئے کہ قرآنی نظریات مکمل پختہ اور مطابق فطرت اور مطابق حقیقت ہوتے ہیں اور قرآن کے مقابلے میں ان کے خیالات ناپختہ ، محال اور متناقض ثابت ہوجاتے ہیں۔ جب انسان عظیم فلاسفہ کے نظریات پڑھتا ہے تو انسان کے تصورات میں تمام مسائل میں اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ کمراہانہ تصورات سے وہ متاثر ہوتا ہے۔ دراصل یہ تصورات مسئلہ کائنات کے حل کے لئے انسانی کوششیں ہیں اور اس کے بعد جب انسان قرآنی آیات پر غور کرتا ہے جو اس موضوع پر ہوتی ہیں تو اس کے ذہن میں آہستہ آہستہ روشنی داخل ہوتی ہے۔ اس کا قرار وثبات اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنی جگہ پر درست رکھی ہوئی ہے۔ ہر بات اپنی جگہ پر ہے۔ ہر حقیقت اپنی جگہ بیٹھی ہوئی ہے اور کسی چیز میں کوئی اضطراب نہیں ہے۔ انسان فی الفور محسوس کرلیتا ہے کہ وہ حقیقت تک پہنچ گیا۔ اسے آرام اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ اس کا دل آرام اور قرار پکڑتا ہے۔ عقل مطمئن ہوجاتی ہے۔ ہر قسم کی الجھنیں دور ہوجاتی ہیں۔ تمام مسائل حل ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک واضح حقیقت تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔
عقائد کے بعد جب لوگ ان عقائد پر اپنی عملی زندگی استوار کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کھیل کود میں مصروف ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی ترجیحات اسلامی ترجیحات کے مطابق بچگانہ کھیل نظر آتی ہیں۔ اسلام انسان کو جس قدر بلند ترجیحات دیتا ہے اس کے مقابلے میں یہ دوسرے فلسفے جو ترجیحات متعین کرتے ہیں وہ نہایت حقیر معمولی اور بچگانہ معلوم ہوتی ہیں۔ اسلام جب ان لوگوں کی مشغولیات کو دیکھتا ہے پھر یہ دیکھتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان مشغولیات کی اہمیت کیا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ ان میں وہ سراسر غرق ہیں اور اس سلسلے میں ان کی نظروں میں ان مشغولیات کی اہمیت کیا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ ان میں وہ سراسر غرق ہیں اور اس سلسلے میں ان کی گفتگو کو سنتا ہے جو ان کی نظروں میں ایسی ہوتی ہے جیسا کہ وہ کسی بڑے کائناتی مسئلہ پر بحث کررہے ہیں ، اسلام اس قسم کے لوگوں پر جب نظر ڈالتا ہے تو یہ لوگ اپنے بچوں کے پارک میں کھیلتے ہوئے بچے نظر آتے ہیں جو گڈیوں اور کھلونوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں جن کو وہ حقیقی اشیاء سمجھتے ہیں اور ان کھلونوں کے ساتھ وہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا وہ حقیقی اشخاص ہیں۔
اسلام جس طرح اس پوری کائنات کے بارے میں ایک ارفع اور برتر تصور دیتا ہے اس طرح وہ اس کائنات میں انسان کو اعلیٰ اور برتر ترجیحات بھی دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو بتاتا ہے کہ ان کے اور اس کائنات کے وجود کی علت اور سبب کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ وہ یہ سوالات اس طرح قدرتی طور پر حل کرتا ہے کہ ان کے جواب کو ہر شخص سمجھ سکے کیونکہ یہ سوالات ہر شخص کے ذہن میں اٹھتے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا ؟ کیوں آیا ہے اور اس نے کہا جانا ہے ؟
اسلام نے ان سوالات کا جو جواب دیا ہے اس جواب سے خود اس کا وجود اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی اس وسیع کائنات کے وجوذو کا صحیح تصور ذہن میں آتا ہے کیونکہ انسان دوسری مخلوقات سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ ان ہی مخلوقات میں سے وہ ایک مخلوق ہے جہاں سے دوسری مخلوقات آتی ہیں۔ وہاں سے وہ بھی آیا ہے۔ ان سب چیزوں کے وجود کا سبب ایک ہے۔ جہاں وہ دوسری مخلوقات جائے گی یہ بھی جائے گا لہٰذا اسلام کا جواب ایک مکمل جواب ہے اور یہ کائنات اور انسان دونوں باہم مربوط ہیں اور تمام مخلوق پھر خالق سے مربوط ہے۔
اس کائنات کی قرآنی تشریح کا عکس پھر انسانی ترجیحات پر پڑتا ہے اور یہ ترجیحات اس تصور کی سطح تک بلند ہوجاتی ہیں۔ یوں ایک مسلم کے شعور میں دوسرے لوگوں کی ترجیحات بہت ہی حقیر نظر آتی ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق اپنے اعلیٰ فرائض میں مشغول ہوتا ہے اور یہاں اپنے مقصد وجود کے مطابق کام کرتا ہے۔ ان اعلیٰ تصورات اور اعلیٰ ترجیحات کی روشنی میں ایک مسلم کو دوسرے لوگ بچوں کے کھیل میں مصروف نظر آتے ہیں۔
ایک مسلم کی زندگی ایک عظیم زندگی ہے۔ اس لئے کہ اس کے مقاصد اونچے ہیں اور یہ مسلم اس عظیم کائنات کے ساتھ مربوط ہے۔ وہ اس عظیم کائنات کے وجود میں موثر ہے۔ یہ حقیقت اس حقیقت سے زیادہ عزیز ہے کہ ایک انسان اپنی زندگی کو عبث اور بےمقصد کاموں میں ضائع کرے جس طرح دوسرے لوگ ضائع کرتے ہیں۔ مسلم کی ترجیحات کے مقابلے میں اکثر لوگوں کی ترجیحات ومصروفیات عبث نظر آتی ہیں۔ محض مقاصد زندگی کی بلندی کی وجہ سے اور اس کائنات کے تصور کی بلندی کی وجہ سے جو لوگ اس کائنات کے بارے میں ایسا تصور رکھتے ہیں جس طرح بچے کھیل رہے ہوتے ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے۔
الطور 52:12
فویل یومئذ للمکذبین (25 : 11) الذین ھم فی خوض یلعبون (25 : 21) ” تباہی ہے اس روز مکذبین کے لئے جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں “ یہ تباہی اس دن آئے گی جس دن آسمان ڈگمگائے گا اور پہاڑ اڑ رہے ہوں گے۔ یہ خوفناک منظر اور یہ خوفناک بربادی۔ یہ ان جھٹلانے والوں کا حصہ ہے جو لگے ہوئے تھے اپنی حجت بازیوں میں۔
سب سے پہلے تو یہ صفت منطبق ہوتی ہے مشرکین مکہ کے افکار پر اور ان کے تصورات اور معتقدات پر جو نہایت سطحی اور بچگانہ تھے اور ان کی پوری اس زندگی پر یہ صفت منطبق ہے جو ان تصورات اور معتقدات کی اساس پر قائم تھی۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر اس پر تبصرہ کیا ہے کہ یہ ایک کھیل ہے جس میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے۔ یہ اس کھیل میں اس طرح مصروف ہیں جس طرح حوض میں لوگ نہانے کے لئے اترتے ہیں اور اچھلتے کودتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ پانی میں تیر کر کسی ہدف کی طرف بڑھیں یا کنارے پر لگ جائیں۔ ان کا مقصد صرف حوض میں اچھلنا کودنا ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم اس لفظ کا اطلاق قرانی نظریات کے علاوہ تمام نظریات پر کرتا ہے اور قرآنی طریقہ زندگی کے علاوہ تمام دوسرے اسلوب ہائے زندگی پر کرتا ہے کہ یہ کھیل تماشا ہے اور یہ ایک بڑی حقیقت ہے جو قرآن کریم نے واضح کی ہے اور اسے وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو قرآنی نظریات کے علاوہ تمام نظریات کا گہرا جائزہ لے اور وہ یہ جائزہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظریہ کائنات کی روشنی میں لے۔ کسی بھی گہرے جائزے سے معلوم ہوگا کہ تمام لوگوں کے نظریات اور معتقدات افسانے ہیں بلکہ بڑے بڑے فلسفے انسانی تاریخ کے وہ بڑے فلسفیانہ تصورات جن پر انسان ناز کرتے ہیں ، وہ بھی بچوں کا کھیل معلوم ہوتے ہیں۔ اسلامی تصور حیات اور عقائد میں جو حقائق نہایت ہی سادگی ، قوت ، صفائی اور سنجیدگی سے بیان کئے گئے اور خصوصاً وہ باتیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں وہ سب فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور وہ فطرت کے ساتھ بغیر کسی مشکل سے ملتی جلتی ہیں کیونکہ قرآن کا مطالعہ فطرت نہایت حقیقت پسندانہ ہے۔ اس سے کائنات کے عجوبے کی بھی خوبصورت تفسیر ہوتی ہے اور اس تفسیر کے مطابق اس کے خالق کائنات کے ساتھ تعلق کی بھی تشریح ہوتی ہے اور یہ سب تصورات اور تشریحات حقیقت پسندانہ بھی ہیں۔
جب میں فلاسفہ کے خیالات پڑھتا ، بڑے بڑے فلاسفہ کے خیالات دیکھتا ہوں کہ اس کائنات کے عجوبے کے حل میں وہ تھک کر چور چور ہوگئے اور وہ اس کی صحیح تفسیر نہ کرسکے نہ ہی کائنات کے مختلف حقائق کو باہم مربوط کرسکے۔ ان کے خیالات اس طرح معلوم ہوتے ہیں جس طرح ایک بچہ ریاضی کا کوئی مشکل مسئلہ حل کرنے کی سعی کرے۔ یہ اس لئے کہ میرے سامنے اس مسئلے کا قرآنی حل موجود تھا جو واضح ، صاف ، سہل فطری اور دلپذیر تھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہ تھی نہ پیچیدگی تھی اور نہ تعقید۔ قرآن نے اس کائنات کی جو تشریح کی ہے وہ اس طرح ہے جس طرح ایک شخص اپنی بنائی ہوئی مشینری کی تشریح کرتا ہے۔ رہے فلاسفہ تو وہ اس کائنات میں سے چند جزوی حقائق لے کر ان کو کل پر منطبق کرتے ہیں اس لئے وہ بری طرح فیل ہوجاتے ہیں اور ان کے تصورات تضادات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
جب ہم ان فلاسفہ کے تصورات کا مقابلہ قرآن سے کرتے ہیں تو یہ عبث کھیل ، خلط بحث کا بھونڈا نمونہ پیش کرتے ہیں اس لئے کہ قرآنی نظریات مکمل پختہ اور مطابق فطرت اور مطابق حقیقت ہوتے ہیں اور قرآن کے مقابلے میں ان کے خیالات ناپختہ ، محال اور متناقض ثابت ہوجاتے ہیں۔ جب انسان عظیم فلاسفہ کے نظریات پڑھتا ہے تو انسان کے تصورات میں تمام مسائل میں اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ کمراہانہ تصورات سے وہ متاثر ہوتا ہے۔ دراصل یہ تصورات مسئلہ کائنات کے حل کے لئے انسانی کوششیں ہیں اور اس کے بعد جب انسان قرآنی آیات پر غور کرتا ہے جو اس موضوع پر ہوتی ہیں تو اس کے ذہن میں آہستہ آہستہ روشنی داخل ہوتی ہے۔ اس کا قرار وثبات اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنی جگہ پر درست رکھی ہوئی ہے۔ ہر بات اپنی جگہ پر ہے۔ ہر حقیقت اپنی جگہ بیٹھی ہوئی ہے اور کسی چیز میں کوئی اضطراب نہیں ہے۔ انسان فی الفور محسوس کرلیتا ہے کہ وہ حقیقت تک پہنچ گیا۔ اسے آرام اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ اس کا دل آرام اور قرار پکڑتا ہے۔ عقل مطمئن ہوجاتی ہے۔ ہر قسم کی الجھنیں دور ہوجاتی ہیں۔ تمام مسائل حل ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک واضح حقیقت تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔
عقائد کے بعد جب لوگ ان عقائد پر اپنی عملی زندگی استوار کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کھیل کود میں مصروف ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی ترجیحات اسلامی ترجیحات کے مطابق بچگانہ کھیل نظر آتی ہیں۔ اسلام انسان کو جس قدر بلند ترجیحات دیتا ہے اس کے مقابلے میں یہ دوسرے فلسفے جو ترجیحات متعین کرتے ہیں وہ نہایت حقیر معمولی اور بچگانہ معلوم ہوتی ہیں۔ اسلام جب ان لوگوں کی مشغولیات کو دیکھتا ہے پھر یہ دیکھتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان مشغولیات کی اہمیت کیا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ ان میں وہ سراسر غرق ہیں اور اس سلسلے میں ان کی نظروں میں ان مشغولیات کی اہمیت کیا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ ان میں وہ سراسر غرق ہیں اور اس سلسلے میں ان کی گفتگو کو سنتا ہے جو ان کی نظروں میں ایسی ہوتی ہے جیسا کہ وہ کسی بڑے کائناتی مسئلہ پر بحث کررہے ہیں ، اسلام اس قسم کے لوگوں پر جب نظر ڈالتا ہے تو یہ لوگ اپنے بچوں کے پارک میں کھیلتے ہوئے بچے نظر آتے ہیں جو گڈیوں اور کھلونوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں جن کو وہ حقیقی اشیاء سمجھتے ہیں اور ان کھلونوں کے ساتھ وہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا وہ حقیقی اشخاص ہیں۔
اسلام جس طرح اس پوری کائنات کے بارے میں ایک ارفع اور برتر تصور دیتا ہے اس طرح وہ اس کائنات میں انسان کو اعلیٰ اور برتر ترجیحات بھی دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو بتاتا ہے کہ ان کے اور اس کائنات کے وجود کی علت اور سبب کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ وہ یہ سوالات اس طرح قدرتی طور پر حل کرتا ہے کہ ان کے جواب کو ہر شخص سمجھ سکے کیونکہ یہ سوالات ہر شخص کے ذہن میں اٹھتے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا ؟ کیوں آیا ہے اور اس نے کہا جانا ہے ؟
اسلام نے ان سوالات کا جو جواب دیا ہے اس جواب سے خود اس کا وجود اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی اس وسیع کائنات کے وجوذو کا صحیح تصور ذہن میں آتا ہے کیونکہ انسان دوسری مخلوقات سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ ان ہی مخلوقات میں سے وہ ایک مخلوق ہے جہاں سے دوسری مخلوقات آتی ہیں۔ وہاں سے وہ بھی آیا ہے۔ ان سب چیزوں کے وجود کا سبب ایک ہے۔ جہاں وہ دوسری مخلوقات جائے گی یہ بھی جائے گا لہٰذا اسلام کا جواب ایک مکمل جواب ہے اور یہ کائنات اور انسان دونوں باہم مربوط ہیں اور تمام مخلوق پھر خالق سے مربوط ہے۔
اس کائنات کی قرآنی تشریح کا عکس پھر انسانی ترجیحات پر پڑتا ہے اور یہ ترجیحات اس تصور کی سطح تک بلند ہوجاتی ہیں۔ یوں ایک مسلم کے شعور میں دوسرے لوگوں کی ترجیحات بہت ہی حقیر نظر آتی ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق اپنے اعلیٰ فرائض میں مشغول ہوتا ہے اور یہاں اپنے مقصد وجود کے مطابق کام کرتا ہے۔ ان اعلیٰ تصورات اور اعلیٰ ترجیحات کی روشنی میں ایک مسلم کو دوسرے لوگ بچوں کے کھیل میں مصروف نظر آتے ہیں۔
ایک مسلم کی زندگی ایک عظیم زندگی ہے۔ اس لئے کہ اس کے مقاصد اونچے ہیں اور یہ مسلم اس عظیم کائنات کے ساتھ مربوط ہے۔ وہ اس عظیم کائنات کے وجود میں موثر ہے۔ یہ حقیقت اس حقیقت سے زیادہ عزیز ہے کہ ایک انسان اپنی زندگی کو عبث اور بےمقصد کاموں میں ضائع کرے جس طرح دوسرے لوگ ضائع کرتے ہیں۔ مسلم کی ترجیحات کے مقابلے میں اکثر لوگوں کی ترجیحات ومصروفیات عبث نظر آتی ہیں۔ محض مقاصد زندگی کی بلندی کی وجہ سے اور اس کائنات کے تصور کی بلندی کی وجہ سے جو لوگ اس کائنات کے بارے میں ایسا تصور رکھتے ہیں جس طرح بچے کھیل رہے ہوتے ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے۔
الطور 52:13
یوم یدعون الی نار جھنم دعا (25 : 31) ” جس دن انہیں دھکے مار مار کر جہنم کی طرف چلایا جائے گا۔ “ یہ بھی ایک نہایت ہی پر آشوب منظر ہے۔ الدع کے معنی ہوتے ہیں پیچھے کی طرف دھکیلنا۔ یہ ایک ایسی حرکت ہے جو ان لوگوں کے حالات کے عین مطابق ہے جو تصور کائنات کے بارے میں طفلانہ تصورات رکھتے ہیں جو سنجیدہ نہیں ہوتے اور جو اپنے ارد گرد میں چلنے والے معاملات پر غور نہیں کرتے۔ یوں ان کو چلایا جائے گا جہنم کی طرف مگر پیٹھ پر بھی دھکے مارمار کر۔
اس طرح دھکیل دھکیل کر جب ان کو جہنم کے کنارے پہنچا دیا جائے گا تو کہا جائے گا۔
الطور 52:14
ھذا النار ........ تکذبون (25 : 41) ” یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلاتے تھے۔ “
یہ لوگ ابھی اسی حالت میں ہوں گے ادھر سے دھکے ادھر آگ ، مجبور ومقہور تو ان کو بطور سرزنش اور گو شمالی یہ کہا جائے گا۔ اشارہ ہوگا ان کے ماضی کی طرف۔
الطور 52:15
افسحر ........ تبصرون (25 : 51) ” یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے “ یہ لوگ دنیا میں قرآن کے بارے میں کہتے تھے یہ جادو ہے۔ طنزاً کہا جاتا ہے کہ یہ آگ بھی محض جادو ہے یا حقیقت ہے اور ایک خوفناک حقیقت ہے یا صورت یہ ہے کہ تم اس آگ کو اسی طرح نہیں دیکھ رہے جس طرح تم قرآن کو نہ دیکھتے تھے۔
جب یہ مزاحیہ سرزنش اور گوشمالی ختم ہوتی ہے تو جلدی انہیں سنجیدگی سے مایوس کردیا جاتا ہے۔
الطور 52:16
اصلوھا ........ تعملون (25 : 61) ” جاؤ، اب جھلسو ، اس کے اندر تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو ، تمہارے لئے یہ یکساں ہے تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے۔ “
اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے کہ خواہ کوئی صبر کرے یا نہ کرے عذاب جاری رہے گا۔ کوئی اسے روکنے والا نہیں ہے۔ اگر صبر کرے تو درد وہی اگر نہ کرے تو درد وہی۔ جہنم میں رہنا اپنا مقدر ہے خواہ چیخے یا چپ ہوجائے۔ یہ اس لئے کہ یہاں تو جزاء وسزا اعمال پر ہے جو کچھ ہوچکا اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ ان الفاظ پر یہ منظر اب ختم ہوتا ہے اور یہاں یہ پہلا حصہ بھی ختم ہوتا ہے۔
اس سورة کا دوسرا حصہ بھی فکر انگیز ہے لیکن اس میں نرمی ، خوشحالی اور عیس و عشرت ہے خصوصاً پہلے منظر کے بعد جس میں سخت عذاب کا ذکر تھا۔
الطور 52:17
یہ منظر نعمتوں کے قریب ہے جو روز اول سے ان لوگوں کے شعور میں رچی بسی تھیں جن سے مخاطب ہے۔ لہٰذا یہ لوگوں کے لئے ان کے پاکیزہ اور حسی الذائد کے اعتبار سے بہت ہی پرکشش ہے اور یہ مناظر اس سخت اور ہولناک عذاب کے عین مقابل ہیں اور متضاد ہیں جو اوپر خشک اور طفلانہ دلوں کے بارے میں پیش کئے گئے تھے۔
ان المتقین ........ الجحیم (25 : 81) ” متقی لوگ وہاں باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ لطف لے رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کا رب انہیں دے گا اور ان کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ “ اس جہنم سے بچا لینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے جس کے مناظر ابھی ابھی پیش کئے گئے اور یہاں تو اس بچاؤ کے ساتھ نعمتیں بھی ہیں۔ جنات نعیم بھی ساتھ ہیں یہاں وہ اللہ کی نعمتوں سے لذت حاصل کریں گے۔
الطور 52:18
یہ منظر نعمتوں کے قریب ہے جو روز اول سے ان لوگوں کے شعور میں رچی بسی تھیں جن سے مخاطب ہے۔ لہٰذا یہ لوگوں کے لئے ان کے پاکیزہ اور حسی الذائد کے اعتبار سے بہت ہی پرکشش ہے اور یہ مناظر اس سخت اور ہولناک عذاب کے عین مقابل ہیں اور متضاد ہیں جو اوپر خشک اور طفلانہ دلوں کے بارے میں پیش کئے گئے تھے۔
ان المتقین ........ الجحیم (25 : 81) ” متقی لوگ وہاں باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ لطف لے رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کا رب انہیں دے گا اور ان کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ “ اس جہنم سے بچا لینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے جس کے مناظر ابھی ابھی پیش کئے گئے اور یہاں تو اس بچاؤ کے ساتھ نعمتیں بھی ہیں۔ جنات نعیم بھی ساتھ ہیں یہاں وہ اللہ کی نعمتوں سے لذت حاصل کریں گے۔
الطور 52:19
ان نعمتوں اور لذتوں کے ساتھ ساتھ پھر استقبال اور تکریم بھی۔
کلواواشربوا ........ تعملون (25 : 91) ” کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کررہے تھے “ یہ کہ عالم بالا سے ان کو پکاراجائے گا بذات خود ایک بلند مرتبہ واعزازیہ کہا جائے گا کہ تم اس کے مستحق ہو۔
الطور 52:20
متکئین ........ مصفوفة (25 : 02) ” وہ اکٹھے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے “ یہ تختے آمنے سامنے بچھے ہوں گے۔ بڑی اچھی ترتیب کے ساتھ اور اس میں دوسری لذتوں کے علاوہ اپنے بھائیوں سے وہ ملیں گے۔
وزوجنھم بحور عین (25 : 02) ” اور خوبصورت آنکھوں والی حوریں ان کو بیاہ دیں گے “ اور یہ وہ اعلیٰ ترین نعمت ہے جس کا کوئی انسان تصور کرسکتا ہے۔
اب ان کا یہ اعزاز ایک قدم اور آگے جاتا ہے۔ ان کی مومن اولاد بھی ان کے ساتھ جمع کردی جاتی ہے اور وہ بھی ان نعمتوں میں شریک ہوتے ہیں اور یہ ان پر عنایات مزید ہیں۔ اگرچہ اولاد کے اعمال معیار کے اعتبار سے ان متقین سے کم ہی ہوں لیکن اگر اولاد مومن ہے تو اسے آباء سے ملادیا جائے گا اور آباء کے درجات میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ ہر شخص وہاں اپنے اپنے اعمال کا ذمہ دار اور حقدار ہوگا۔ یہ اصول اپنی جگہ رہے گا لیکن یہ اللہ کا فضل ہوگا۔
الطور 52:21
والذین ........ رھین (25 : 12) ” جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اس اولاد کو بھی ہم ان کے ساتھ ملادیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔ ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے۔ “
یہ منظر جاری ہے۔ جنت کی نعمتوں کا بیان ہورہا ہے۔ یہ نعمتیں قسم قسم کی ہیں ، پھل آرہے ہیں ، قسم قسم کے گوشت چلے آرہے ہیں جو بھی وہ چاہیں وہ وہاں ایک دوسرے سے جام شراب لے رہے ہوگے۔ یہ شراب دنیا کی شراب نہ ہوگی جس کے استعمال کے بعد لوگ یا وہ گوئی کرتے ہیں یا فحش حرکات کرتے ہیں بلکہ یہ مصفی اور پاک شراب ہوگی۔
الطور 52:22
والذین ........ رھین (25 : 12) ” جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اس اولاد کو بھی ہم ان کے ساتھ ملادیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔ ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے۔ “
یہ منظر جاری ہے۔ جنت کی نعمتوں کا بیان ہورہا ہے۔ یہ نعمتیں قسم قسم کی ہیں ، پھل آرہے ہیں ، قسم قسم کے گوشت چلے آرہے ہیں جو بھی وہ چاہیں وہ وہاں ایک دوسرے سے جام شراب لے رہے ہوگے۔ یہ شراب دنیا کی شراب نہ ہوگی جس کے استعمال کے بعد لوگ یا وہ گوئی کرتے ہیں یا فحش حرکات کرتے ہیں بلکہ یہ مصفی اور پاک شراب ہوگی۔
الطور 52:23
لا لغو فیھا ولا تاثیم (25 : 32) ” جس میں نہ یا وہ گوئی ہوگی اور نہ بدکرداری “ وہ یہ جام شراب ایک دوسرے سے چھین رہے ہوں گے اور ایک دوسرے کو پکڑا رہے ہوں گے تاکہ زیادہ محبت ولذت حاصل ہو اور جب یہ اس قسم کی لذتوں کے اندر ہوں گے تو ان پر خوبصورت چاند جیسے مکھڑے والے لڑکے پھر رہے ہوں گے۔ پاک اور صاف اور تروتازہ۔
الطور 52:24
کانھم لؤ لؤ مکنون (25 : 42) ” ایسے خوبصورت جیسے چھپائے ہوئے موتی “ جن کی وجہ اس مجلس کا لطف روحانی اور جسمانی اعتبار سے دو چند ہوجائے گا۔ اس منظر اور مجلس کی تکمیل کے لئے ان کی باہم گفتگو بھی پیش کی جاتی ہے ۔ ان کے ماضی پر ان کا مذاکرہ بھی دیا جاتا ہے اور وہ جس مقام تک پہنچ چکے ہیں اس کے اسباب بھی گنوائیں گے کہ کس وجہ سے وہ اس امن ، رضامندی ، امن و محبت اور وسیع سامان زندگی تک پہنچے ہیں۔ یوں وہ اپنے دلوں میں وہاں بھی اپنی اس حالت کے اسباب گنوا رہے ہوں گے اور اس منظر میں اہل دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کا یہ راستہ ہے۔
الطور 52:25
واقبل ........ الرحیم (82) (25 : 52 تا 82) ” یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے۔ آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ یہ پچھلی زندگی میں اس سے دعائیں مانگتے تھے۔ وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے۔ “
راز یہ ہے کہ انہوں نے اس دن سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی۔ وہ اللہ کی ملاقات سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے سامنے حساب و کتاب کا انہیں ڈر تھا۔ وہ اپنے اہل و عیال میں تھے لیکن ڈرتے تھے۔ بظاہر وہ اس دنیا کے جھوٹے امن و عافیت میں تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو دھوکہ نہ دیا۔ اس جہاں میں لہو ولعب کا مشغلہ جاری تھا مگر وہ اس میں شریک نہ ہوئے۔
اللہ نے ان پر احسان کیا اور ان کو سخت گرم ہوا کے عذاب سے بچایا۔ اس ہوا کو السموم اس لئے کہا گیا کہ یہ سم اور زہر کی طرح جسم میں حرارت داخل کرتی تھی جو نیش زن تھی اور اس عذاب سے اللہ نے ان کو محض اپنے فضل وکرم سے بچایا کیونکہ اللہ نے جان لیا کہ یہ لوگ ڈرنے والے ، محتاط اور خضوع وخشوع والے ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ یہ ان کی صفات میں اور وہ جانتے ہیں کہ عمل کے ذریعے کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر اس کے ساتھ اللہ کا فضل وکرم نہ ہو کیونکہ عمل تو صرف یہ شہادت ہے کہ صاحب عمل نے جدوجہد کی اور اللہ کے ہاں جو انعامات ہیں ان کی خواہش کی۔ یہ بات اللہ کے فضل کی اہلیت ہے اور اللہ سے ڈرنے اور خائف ہونے کے ساتھ وہ اپنی مشکلات میں اللہ ہی کو پکارتے تھے۔
الطور 52:26
واقبل ........ الرحیم (82) (25 : 52 تا 82) ” یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے۔ آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ یہ پچھلی زندگی میں اس سے دعائیں مانگتے تھے۔ وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے۔ “
راز یہ ہے کہ انہوں نے اس دن سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی۔ وہ اللہ کی ملاقات سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے سامنے حساب و کتاب کا انہیں ڈر تھا۔ وہ اپنے اہل و عیال میں تھے لیکن ڈرتے تھے۔ بظاہر وہ اس دنیا کے جھوٹے امن و عافیت میں تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو دھوکہ نہ دیا۔ اس جہاں میں لہو ولعب کا مشغلہ جاری تھا مگر وہ اس میں شریک نہ ہوئے۔
اللہ نے ان پر احسان کیا اور ان کو سخت گرم ہوا کے عذاب سے بچایا۔ اس ہوا کو السموم اس لئے کہا گیا کہ یہ سم اور زہر کی طرح جسم میں حرارت داخل کرتی تھی جو نیش زن تھی اور اس عذاب سے اللہ نے ان کو محض اپنے فضل وکرم سے بچایا کیونکہ اللہ نے جان لیا کہ یہ لوگ ڈرنے والے ، محتاط اور خضوع وخشوع والے ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ یہ ان کی صفات میں اور وہ جانتے ہیں کہ عمل کے ذریعے کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر اس کے ساتھ اللہ کا فضل وکرم نہ ہو کیونکہ عمل تو صرف یہ شہادت ہے کہ صاحب عمل نے جدوجہد کی اور اللہ کے ہاں جو انعامات ہیں ان کی خواہش کی۔ یہ بات اللہ کے فضل کی اہلیت ہے اور اللہ سے ڈرنے اور خائف ہونے کے ساتھ وہ اپنی مشکلات میں اللہ ہی کو پکارتے تھے۔
الطور 52:27
واقبل ........ الرحیم (82) (25 : 52 تا 82) ” یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے۔ آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ یہ پچھلی زندگی میں اس سے دعائیں مانگتے تھے۔ وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے۔ “
راز یہ ہے کہ انہوں نے اس دن سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی۔ وہ اللہ کی ملاقات سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے سامنے حساب و کتاب کا انہیں ڈر تھا۔ وہ اپنے اہل و عیال میں تھے لیکن ڈرتے تھے۔ بظاہر وہ اس دنیا کے جھوٹے امن و عافیت میں تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو دھوکہ نہ دیا۔ اس جہاں میں لہو ولعب کا مشغلہ جاری تھا مگر وہ اس میں شریک نہ ہوئے۔
اللہ نے ان پر احسان کیا اور ان کو سخت گرم ہوا کے عذاب سے بچایا۔ اس ہوا کو السموم اس لئے کہا گیا کہ یہ سم اور زہر کی طرح جسم میں حرارت داخل کرتی تھی جو نیش زن تھی اور اس عذاب سے اللہ نے ان کو محض اپنے فضل وکرم سے بچایا کیونکہ اللہ نے جان لیا کہ یہ لوگ ڈرنے والے ، محتاط اور خضوع وخشوع والے ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ یہ ان کی صفات میں اور وہ جانتے ہیں کہ عمل کے ذریعے کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر اس کے ساتھ اللہ کا فضل وکرم نہ ہو کیونکہ عمل تو صرف یہ شہادت ہے کہ صاحب عمل نے جدوجہد کی اور اللہ کے ہاں جو انعامات ہیں ان کی خواہش کی۔ یہ بات اللہ کے فضل کی اہلیت ہے اور اللہ سے ڈرنے اور خائف ہونے کے ساتھ وہ اپنی مشکلات میں اللہ ہی کو پکارتے تھے۔
الطور 52:28
انا کنا من قبل ندعوہ (25 : 82) ” ہم پچھلی زندگی میں اس سے دعائیں مانگتے تھے اور اللہ کی ان صفات کو جانتے تھے کہ وہ البر اور العظیم ہے۔
انہ ھو البر الرحیم (25 : 82) ” وہ واقعی بڑا محسن اور رحیم ہے “ یہ ہے راز ان لوگوں کے جنت تک پہنچنے کا یہ مباحثہ کرتے ہیں یہ کامیاب لوگ دارالنعیم میں فی الواقع مکرم لوگ ہیں۔
اس سورة کے پہلے پیراگراف میں ہم نے اچھی طرح جان لیا کہ عذاب الٰہی کیا ہوگا اور دوسرے پیراگراف میں ہم نے اللہ کی انعامات کے بارے میں جان لیا۔ یوں حقائق معلوم کرنے کے لئے ہمارا احساس خوب تیز ہوگیا چناچہ سیاق کلام نہایت تیزی سے ، مختصر جملوں اور زور دار الفاظ میں نفس انسان کے پردہ احساس کے سامنے حقائق پیش کرنا شروع کرتا ہے۔ نفس کے اندر جو وسوسے آتے ہیں ان کا تعاقب کیا جاتا ہے اور یہ حقائق سوالات کے ذریعے ذہن انسانی پر اتارے جاتے ہیں جن کا انداز سر زنش کا ہے۔ چیلنج کا ہے اور بہت زور دار ہے۔ ان سوالات اور چیلنجوں کے سامنے انسان نہیں ٹھہر سکتا ہے۔
الطور 52:29
نبی ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے آپ یاددہانی کئے جائیں اور ان لوگوں کی بدسو کی سے متاثر نہ ہوں اور ان لوگوں کی جانب سے جو اتہامات لگائے جارہے ہیں ان کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ کبھی یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ ” کاہن “ ہیں۔ کبھی وہ کہتے تھے کہ آپ مجنون ہیں اور یوں وہ در پر وہ ایسے الزامات لگاتے تھے جو ان کے درمیان مشہور تھے کہ کاہن اور مجنون دراصل شیاطین سے ہدایات لیتے ہیں اور شیاطین بعض لوگوں کو خبط میں مبتلا کرکے مجنون کردیتے ہیں۔ گویا ان دونوں صفات کی پشت پر ان کے نزدیک شیطان کام کرتا تھا اور یہ لوگ اسی وجہ سے حضور اکرم پر یہ الزامات عائد کرتے تھے۔ پھر وہ نبی ﷺ پر ساحر اور جادو گر ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ یہ وہ اس لئے لگاتے تھے کہ وہ قرآن کریم کے فصیح وبلیغ انداز کے سامنے ششدر رہ گئے تھے۔ یہ قرآن اس قدر معجزہ تھا کہ اس قسم کا کلام کبھی انہوں نے دیکھا نہ سنا تھا۔ اپنی جگہ یہ اپنے آپ کو قادر الکلام سمجھتے تھے۔ اپنی دینی بیماری کی وجہ سے یہ لوگ چونکہ اس بات پر تلے ہوئے تھے کہ قرآن کو اللہ کا کلام تسلیم نہ کریں گے۔ اس لئے وہ اس کلام کے بارے میں کوئی نہ کوئی تاویل کرنے پر مجبور تھے۔ کبھی کہتے ہیں حضور کو یہ کلام جن سکھاتے ہیں۔ حضور کاہن ہیں جو جنوں سے یہ کلام لیتے ہیں۔ یا جادوگر ہیں جو جنوں سے جادو سیکھتے ہیں یا شاعر ہیں اور خیالات جن ان پر القاء کرتے ہیں یا آپ مجنون ہیں اور شیطان نے آپ کو چھو لیا ہے اور یہ باتیں آپ سے کراتا ہے جو عجیب ہیں۔
یہ باتیں نہایت ہی جھوٹی بری اور شرمسار کنندہ اور پریشان کن ہیں لیکن اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ذرا بھی ان کی پرواہ نہ کریں۔ آپ پرتو فضل وکرم ہے۔ آپ نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں۔
فما ........ مجنون (25 : 92) ” اپنے رب کے فضل سے آپ نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون “ اس کے بعد ان کے اس قول پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ حضور اکرم پر شاعر ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔
الطور 52:30
ام یقولون ........ المنون (25 : 03) ” کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کررہے ہیں “ انہوں نے یہ بات کہی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو یوں تسلی دیتے تھے یعنی اس تحریک کے مقابلے میں صبر کرو اور اپنے دین پر ثابت قدم رہو۔ اپنے وقت پر یہ شخص مر جائے گا۔ یوں ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ ایک دوسرے کو کہتے کہ صبر کرو کہ یہ مرجائے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ ان کو ذرا دھمکی آمیز انداز میں کہہ دیں اچھا۔
الطور 52:31
قل تربصوا ........ المتربصین (25 : 13) ” ان سے کہو اچھا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں “ اور تمہیں جلدی معلوم ہوجائے گا کہ اچھا انجام کس کا ہونے والا ہے اور کس کو فتح و کامرانی ہوتی ہے۔
قریش کے اکابر کو کہا جاتا تھا کہ یہ ذوی الاحلام ہیں اشارہ اس طرف تھا کہ یہ بہت عقلمند ہیں اور معاملات بڑی دانشمندی سے چلاتے ہیں۔ قرآن مجید ان کے ساتھ ان کی اس دانشمندی پر سنجیدہ مزح کرتا ہے کہ ان کا طرز عمل تو عقل و دانش کے سرابر منافی ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ حضرت محمد کے بارے میں ان کی رائے اور وحی و رسالت کا انکار کیا ان کی وہ دانشمندی ہے بلکہ یہ سرکش ہیں اور ان کی عقل جس بات کو تسلیم کرتی ہے یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے ہیں۔
الطور 52:32
ام تامرھم ........ طاغون (25 : 23) ” کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یادراصل یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں “ پہلے سوال میں مزاح ہے اور دوسرے سوال میں ایک ذلیل حرکت کا الزام ہے اور ان لوگوں کا جو موقف ہے اس پر ان میں سے کوئی ایک بات چسپاں ہے۔
رسول اللہ کے بارے میں ان کی زبانیں اس قدر دراز تھیں کہ انہوں نے یہ الزام لگایا کہ آپ یہ کلام اپنی جانب سے بناتے ہیں۔ اس پر بھی ایک سوال کیا جاتا ہے جو ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ اگر وہ ایسا کہتے ہیں تو یہ ان کو نہیں کہنا چاہئے۔
الطور 52:33
ام یقولون تقولہ (25 : 33) ” کیا یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ خود گھڑ لیا ہے “ اور اس کے بعد جلد ہی اصل حقیقت بتادی جاتی ہے۔
بل لا یومنون (25 : 33) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے “ ان کے دلوں کو شعور ایمان حاصل نہیں ہے۔ یہی بےشعوری ہے جو ان کے منہ سے یہ بات کہلواتی ہے اور یہ قول یہ لوگ تب ہی کہتے ہیں کہ ایمان کی نعمت سے یہ لوگ محروم ہیں۔ اگر یہ قرآن کی حقیقت کا ادراک کرلیتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ یہ انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں ہے اور اس کے حامل صادق وامین ہیں۔
الطور 52:34
فلیاتوا ........ صدقین (25 : 43) ” اگر یہ اپنے اس قول میں سچے ہیں تو اسی شان کا کلام بنالائیں “ قرآن کریم میں اس چیلنج کو بار بار دہرایا گیا ہے اور منکر اس کو قبول کرنے سے عاجز رہے ہیں بلکہ نہایت بےبس رہے ہیں اور اسی طرح قیامت تک لوگ اس سے عاجز رہیں گے۔ قرآن کریم میں ایک راز ہے جو شخص بھی اس کی آیات کو پہلی بار پڑھتا ہے وہ ان کے اندر ہر خصوصیت پاتا ہے۔ چاہے اس کو اس کے اعجاز کی وجوہات معلم ہوں یا نہ ہوں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ قرآن کی عبارت میں ایک خاص قوت ہے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ معانی اور تعبیرات کے علاوہ بھی قرآن کریم میں ایک خاص چیز ہے ۔ قرآن مجید کو سنتے ہی اس کی یہ خصوصیت ذہن پر اثر کرتی ہے۔ بعض لوگ اسے واضح طور پر پاتے ہیں اور بعض اسے ذرا اجمال اور غموض کے ساتھ لیکن ہر شخص محسوس کرتا ہے۔ قرآن کی یہ خصوصیت کیا ہے اور اس کا سرچشمہ کیا ہے ؟ اس کا تعین کرنا مشکل ہے۔ یا یہ اثر قرآن کے معانی کا ہے یا قرآن مجید کی صورتوں ومناظر کا ہے یا یہ اثر کلامی ہے کہ انہی لغات سے بنائے ہوئے دوسرے کلاموں اور قرآن میں یہ فرق ہے یا یہ سب امور مجتمع طور پر اعجاز فراہم کرتے ہیں یا یہ کوئی ایسی چیز ہے جو ان سے بھی ماوراء ہے۔
یہ ایک راز ہے جو ہر قرآنی آیت میں پوشیدہ ہے جو بھی قرآنی آیات پڑھتا ہے وہ یہ راز محسوس کرتا ہے۔ اس کے بعد ہر کوئی اپنے ظن کے مطابق اس کے اسرار و رموز تلاش کرتا ہے اور یہ تدبر اور غور وفکر سے معلوم ہوتے ہیں اور پورے قرآن میں موجود ہیں۔
مثلاً یہ اعجاز اس کامل اور صحیح تصور کے اعتبار سے بھی ہے جو قرآن عقل وخرد کو دیتا ہے۔ وجود انسانی کی حقیقت کا تصور اس کائنات میں وجود کا تصور اور اس حقیقت ” اولی “ کا تصور جس سے تمام حقائق پھوٹتے ہیں یعنی اللہ کا تصور۔
پھر اس کے طریقے اور اسلوب میں بھی اعجاز ہے جس کے مطابق قرآن مجید انسان کے تصورات کی تعمیر کرتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو فطری انداز سے خطاب کرتا ہے اور اس کا انداز تخاطب بھی مخصوص ہے۔ تمام زبانوں کے انسانی اسالیب کلام میں یہ انداز نہیں ہے۔ قرآن کریم انسانی دل اور عقل وخرد کو ہر پہلو سے پھیرتا ہے۔ اس کے اندر صالح افکار ہر جانب سے داخل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ انسان کے ساتھ اس طرح معاملہ کرتا ہے جس طرح ایک پوری طرح خبردار ذات کسی کے ساتھ کرتی ہے۔
قرآن کریم جو ہدایت دیتا ہے ان ہدایات کے اندر ایک زبردست جامعیت ہے۔ توازن ہے اور مکمل ہم آہنگی ہے اور یہ پورا کلام ایک ہی سطح اور ایک ہی معیار کا ہے۔ انسانی کلاموں میں یہ بات ہرگز نہیں پائی جاتی۔ انسانی کلام ایک حال پر نہیں ہوتے ایک سطح پر نہیں ٹھہرتے اور ہر پہلو سے معیار کو قائم نہیں رکھ سکتے اور توازن قائم کرنا تو ان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی معاملے میں کوئی زیادتی نہ ہو کوئی نقص نہ ہو۔ کوئی افراد وتفریط نہ ہو اور مکمل ہم آہنگی ہو اور کلام میں کسی جگہ تعارض یا تضاد نہ ہو نہ اصول میں نہ فروع میں۔
یہ ظاہری امور جن کا ادراک کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خفیہ معجزانہ اثر جس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا اس بات کے دلائل ہیں کہ یہ معجزانہ کلام ہے اور یہ چیزیں مل کر قرآن کو صفت اعجاز دیتی ہیں۔ قرآن کی صفت اعجاز وہ چیز ہے جس میں کوئی شخص اب کلام نہیں کرسکتا جس کے حواس بحال ہوں جو محترم ہو جو حقیقت پسند ہو اور جو قرآن کا مطالعہ قوت ، گہرائی اور وضاحت سے کرتا ہو اور قرآن مجید کا مطالعہ قلب سلیم کے ساتھ کرتا ہو۔
فلیاتوا ........ صدقین (25 : 43) ” اگر یہ اپنے اس قول میں سچے ہیں تو اس شان کا ایک کلام بنا لائیں۔ “ دوسرا سوال خود ان کے وجود کی حقیقت کے بارے میں ہے۔ خود ان کے اپنے وجود کی حقیقت تو ایک حقیقت ہے جس سے وہ انکار نہیں کرسکتے کہ وہ ہیں اور قرآن کے بغیر بھی اگر وہ عقلمند ہیں تو وہ اس کی کوئی تفسیر کریں گے۔ قرآن تو یہ کہتا ہے کہ ایک خالق ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اس کی تعبیر ہم اللہ سے کرتے ہیں۔ وہ بذاتہ موجود ہے اور یہ انسان مخلوق ہیں۔
الطور 52:35
ام خلقوا ........ الخلقون (25 : 53) ” کیا یہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں “ ان کا وجود کسی چیز کے بغیر اسی طرح ہونا فطرت کی منطق کے خلاف ہے اور اس نکتے پر کسی قلیل یا کثیر جدل وجدال کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات کہ یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں تو اس کا کوئی قائل نہ تھا نہ وہ لوگ اس کے قائل تھے اگر یہ دونوں باتیں فطری استدلال کے خلاف ہیں تو پھر تیسری صورت وہی رہ جاتی ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے کہ یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں اور اس تخلیق میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ لہٰذا ربوبیت ، عبادت اور اطاعت میں بھی اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ نہایت سادہ اور فطری حقیقت ہے۔
ان کے تصور کو ذرا آسمانوں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کیا اس وسیع کائنات کی انہوں نے تخلیق کی ہے۔ یہ کائنات خود بھی اپنی خالق نہیں ہے جس طرح یہ اپنے نفوس کے خود خالق نہیں۔
الطور 52:36
ام خلقوا ........ یوقنون (25 : 63) ” یا زمین و آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے “ یہ لوگ بھی اور ہر عقلمند شخص جو فطری انداز میں سوچتا ہو اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ زمین اور آسمانوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا یا بغیر خالق کے پیدا ہوئے یا خود انہوں نے یعنی کسی انسان نے ان کو پیدا کیا ہے۔ یہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر کسی کو دینا ہے اور ان کا حال تو یہ تھا کہ جب ان سے یہ سوال کیا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن یہ حقیقت ان کے ادراک میں اس قدر واضح نہ تھی کہ وہ ان کے دلوں اور ان کی سوچ اور ان کے طرز عمل میں کوئی تغیر پیدا کرے اور وہ کوئی واضح عقیدہ اپنائیں۔
بل لا یقنون (25 : 63) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے “ اب تخلیق سے ذرا نیچے آکر ذرا کم درجے کا سوال کیا جاتا ہے چلو تم اپنے آپ کے اس کائنات کے خالق تو نہیں ہو تو کیا تم زمین کے خزانوں کے حوالدار ہو۔ کیا تم لوگوں کے معاملات کے اختیاری ہو۔ اللہ ہی ہے جو کسی کو تھوڑا ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ وہی مدبر اور متصرف ہے اور یہی تفسیر قابل عمل ہے اور دل لگتی ہے۔ اسی صورت حالات کی جو اس جہان میں چلتی ہے جب اللہ کے خزانوں کے مالک یہ نہیں اور زمین کے معاملات ان کے اختیار میں نہیں تو پھر اللہ کے سوا اور کون ہے ؟
اب ایک درجہ اور نیچے آکر ان سے بات کی جاتی ہے۔ کیا تم قرآن کو منجانب اللہ نہیں سمجھتے تو اللہ کے ہاں تمہاری رسائی کا کوئی ذریعہ ہے جس سے تمہیں معلوم ہوگیا کہ قرآن وہاں سے نہیں ہے۔
الطور 52:37
ام خلقوا ........ یوقنون (25 : 63) ” یا زمین و آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے “ یہ لوگ بھی اور ہر عقلمند شخص جو فطری انداز میں سوچتا ہو اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ زمین اور آسمانوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا یا بغیر خالق کے پیدا ہوئے یا خود انہوں نے یعنی کسی انسان نے ان کو پیدا کیا ہے۔ یہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر کسی کو دینا ہے اور ان کا حال تو یہ تھا کہ جب ان سے یہ سوال کیا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن یہ حقیقت ان کے ادراک میں اس قدر واضح نہ تھی کہ وہ ان کے دلوں اور ان کی سوچ اور ان کے طرز عمل میں کوئی تغیر پیدا کرے اور وہ کوئی واضح عقیدہ اپنائیں۔
بل لا یقنون (25 : 63) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے “ اب تخلیق سے ذرا نیچے آکر ذرا کم درجے کا سوال کیا جاتا ہے چلو تم اپنے آپ کے اس کائنات کے خالق تو نہیں ہو تو کیا تم زمین کے خزانوں کے حوالدار ہو۔ کیا تم لوگوں کے معاملات کے اختیاری ہو۔ اللہ ہی ہے جو کسی کو تھوڑا ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ وہی مدبر اور متصرف ہے اور یہی تفسیر قابل عمل ہے اور دل لگتی ہے۔ اسی صورت حالات کی جو اس جہان میں چلتی ہے جب اللہ کے خزانوں کے مالک یہ نہیں اور زمین کے معاملات ان کے اختیار میں نہیں تو پھر اللہ کے سوا اور کون ہے ؟
اب ایک درجہ اور نیچے آکر ان سے بات کی جاتی ہے۔ کیا تم قرآن کو منجانب اللہ نہیں سمجھتے تو اللہ کے ہاں تمہاری رسائی کا کوئی ذریعہ ہے جس سے تمہیں معلوم ہوگیا کہ قرآن وہاں سے نہیں ہے۔
الطور 52:38
ام لھم ........ مبین (25 : 83) ” کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہخے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں ؟ ان میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل۔ “ حضرت محمد ﷺ کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کی طرف وحی آتی ہے اور یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں۔ کیا ان کے پاس عالم بالا کی معلومات کا کوئی ذریعہ ہے ؟ کہ محمد ﷺ کی طرف وحی نہیں کی جاتی اور سچائی اور ہے لہٰذا اس قسم کی سن گن رکھنے والا کوئی دلیل لے آئے۔ ایسی دلیل کہ وہ بذات خود اپنی قوت اپنے اندر رکھتی ہو جس کے نتیجے میں انسان تصدیق کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اس میں اشارہ ہے ان دلائل کی طرف جو قرآن دیتا ہے کہ یہ دلائل دراصل سلطان مبین ہیں اور دل و دماغ کو فوراً قبضے میں لیتے ہیں۔ اور ان کے مقابلے میں یہ لوگ عناد اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔
اب اللہ کے بارے میں ان کے اس قول کو لیا جاتا ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہ خطاب براہ راست مشرکین مکہ سے کیا جاتا ہے اور یہ ان کو زیادہ شرمندہ اور ذلیل کرنے کے لئے ہے۔
الطور 52:39
ام لہ ........ البنون (25 : 93) ” کیا اللہ کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور تم لوگوں کے لئے ہیں بیٹے “ ان کے خیال میں بیٹیاں بیٹوں سے کم درجے کی مخلوق تھیں۔ یہاں تک کہ جب کسی کو بتایا جاتا کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو وہ غم پریشانی اور ناپسندیدگی کی وجہ سے سیاہ رو ہوجاتا تھا لیکن اپنے ان خیالات کے باوجود وہ اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت میں شرم محسوس نہ کرتے تھے۔ یہاں اللہ خود ان کے رواج اور رسم کے مطابق ان پر اعتراض کرتا ہے تاکہ وہ ذرا اپنے اس دعویٰ پر شرم محسوس کریں حالانکہ ان کا یہ خیال بھی غلط اور قابل اصلاح تھا۔
نبی ﷺ ان کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اسے وہ ایک بڑا بوجھ محسوس کرتے تھے حالانکہ آپدعوت خالص فی سبیل اللہ دیتے تھے۔ کوئی اجر طلب نہ فرماتے تھے نہ ان پر کوئی ٹیکس لگانا چاہتے تھے۔ ان کو چاہئے تو یہ تھا کہ اس مفت تعلیم کی وجہ سے حضور کے ساتھ احسان کرتے اور اگر قبول نہ کرتے تھے تو بھی شریفانہ انداز میں اسے قبول نہ کرتے۔ لہٰذا ان کا رویہ بالکل بےجواز ہے۔
الطور 52:40
ام تسئلھم ........ مثقلون (25 : 04) ” کیا تم ان سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں “ یعنی یہ اس مالی بوجھ کو برداشت نہیں کرسکتے جو تم ان پر ڈال رہے ہو۔ تو اگر واقعہ یہ ہے کہ نہ تو اجرت طلب ہورہی ہے اور نہ تم پر کوئی بوجھ ڈالا جارہا ہے تو پھر تمہارا رویہ کس قدر قبیح اور ذلیلانہ ہے۔ تمہیں اپنے رویہ پر سوچ کر شرمندہ ہونا چاہئے ؟
اس کے بعد دوبارہ ان کے سامنے ان کے وجود اور اس کائنات میں ان کے حالات کو پیش کیا جاتا ہے کہ یہ بندے ہیں اور ان کے کچھ حدود ہیں۔ اس کائنات میں ان پر بہت ہی امور مخفی ہیں اور کچھ تھوڑے ہی امور ایسے ہیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں امور سب راز ہیں اور ان کو اس کائنات کا مالک ہی جانتا ہے۔ عالم غیب کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ یہ اس کے اندر نہیں جاسکتے کیونکہ یہ بندے ہیں۔
الطور 52:41
ام عندھم ........ یکتبون (25 : 14) ” کیا ان کے پاس غیب کے حقائق ہیں کہ اس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہیں “ ان کو معلوم ہے کہ ان کے پاس غیب کا علم نہیں ہے اور نہ وہ غیب کے علم سے لکھ رہے ہیں نہ ان کو اس پر قدرت ہے کہ غیب میں وہ کوئی فیصلے لکھیں۔ یہ اللہ ہی ہے جو غیب کی کتابوں میں بندوں کی تقدیر لکھتا ہے۔
جو ذات غیب جانتی ہے وہی تدبیر امور کرسکتی ہے۔ تقدیروں کے فیصلے کرسکتی ہے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ غیب نہیں جانتے اور غیب کے ذخائر میں وہ کچھ بھی ثبت نہیں کرسکتے۔ اس لئے وہ آپ کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ نہ یہ لوگ آپ کے مستقبل میں تصرف کرسکتے ہیں نہ کوئی سازش کرسکتے ہیں۔
الطور 52:42
ام یریدون ........ المکیدون (25 : 24) ” کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں اگر یہ بات ہے تو کفر والوں پر ان کی چال الٹی پڑے گی یعنی اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس کی تدبیر ان کو گھیر لے گی اور اللہ کی تدبیریں ان پر پڑیں گی کیونکہ اللہ بہت سی بہترین تدبیریں کرنے والا ہے۔
الطور 52:43
ام لھم الہ غیر اللہ (25 : 34) ” کیا اللہ کے سوا یہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں “ جو ان کو بچانے والا ہے اور اللہ کے عذاب سے وہ ان کو بچا لے گا۔
سبحن اللہ عما یشرکون (25 : 34) ” اللہ پاک ہے ، اس شرک سے جو یہ لوگ کررہے ہیں “ اللہ کے بارے میں وہ جو تصورات رکھتے ہیں وہ باطل ہیں۔
رد شرک پر اب یہ حملہ اختتام پذیر ہوتا ہے جو ایک منظم حملہ تھا اور جس کا ہر قدم دوسرے قدم پر منظم تھا جس کے ہر فقرے کا بہت بڑا اثر ہوا۔ اس حملے میں ان تمام شبہات تمام دلائل اور تمام خیالات کو رد کردیا گیا اور وہ بےبس کرکے رکھ دیئے گئے اور یہ بات ثابت کردی گئی کہ یہ لوگ حقیقت کا انکار کرنے والے ہیں ۔ عناد کرنے والے ہیں۔ واضح حق میں شک کرنے والے ہیں اور دور دراز کے شبہات کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ لوگ ہٹ دھرمی کررہے ہیں۔
الطور 52:44
وان یروا ........ مرکوم (25 : 44) ” یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے دیکھ لیں تو کہیں گے کہ یہ بادل ہیں جو امنڈے چلے آرہے ہیں “ مطلب یہ ہے کہ اگر ان پر عذاب بھیجا جائے اور یہ اسے دیکھ لیں کہ وہ ایک آسمان کے ٹکڑے کی شکل میں آرہا ہے اور ان پر گرنے ہی والا ہے اور اس سے وہ ہلاک ہونے والے ہیں تو پھر بھی یہ کہیں گے کہ سحاب مرکوم (کہ یہ بادل ہے جو امنڈتا چلا آرہا ہے) اور اس میں پانی ہے جو ان کے لئے سبب حیات ہوگا۔ یہ بطور ہٹ دھرمی ایسا کہیں گے۔ یہ کسی صورت میں بھی حق کو تسلیم کرنے والے نہیں ہیں۔ اگرچہ ان کے سروں پر تلوار لٹک رہی ہو۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں اس میں اشارہ قوم عاد کے واقعہ کی طرف ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ طوفان بادو باراں آرہا ہے تو کہا۔
عارض ممطرنا (یہ بادل ہے جو بارش برسائے گا) اور وہاں ان کو یہ جواب دیا گیا تھا۔
بل ھو ........ ربھا ” بلکہ یہ تو وہ چیز ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ایک ہوا جس کے اندر درد ناک عذاب ہے یہ اللہ کے حکم سے ہر چیز کو نیست ونابود کرنے والی ہے۔ “
ان کے عناد اور ہٹ دھرمی کی اس تصویر کشی کے بعد اگرچہ ان کے سروں پر لٹکتی ہوئی تلوار کی طرح عذاب بھی آجائے ، روئے سخن اب نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے تاکہ ان کے معاملے سے ہاتھ جھاڑ کر اس انجام سے دو چار ہونے کے لئے چھوڑ دیں جس کا ذکر اس سورة کے آغاز میں آیا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے ایک سے ایک سخت عذاب ان کے انتظار میں ہے اور اللہ کے احکام کا انتظار کریں جو زبردست ہے اور جو آپ کا نگہبان ہے اور ہر وقت آپ پر نظر رکھتا ہے اور اللہ کی تعریف کے ساتھ اس کی حمد کرو۔ صبح کے وقت جب اٹھو اور رات کے وقت جب اٹھو اور اس وقت جب ستارے غائب ہوجائیں۔
الطور 52:45
یہ مخالفین پر ایک نیا تنقیدی حملہ ہے۔ اس کا آغاز ایک شدید دھمکی اور تہدید سے ہوتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ مار گرائے جائیں گے اور یہ واقعہ حشر ونشر اور قیامت میں اٹھانے سے قدرے پہلے ہوگا۔ اس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ آج تو یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف کچھ نہ کچھ تدابیر کرتے ہیں لیکن اس دن کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ قیامت سے پہلے بھی ان پر عذاب آنے والا ہے لیکن ان کو پتہ نہیں ہے۔
اس آخری دھمکی کے بعد مکذبین کے معاملے میں یہ حملہ فارغ ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل اس سورت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور سخت حملے ان پر کئے اور آخر میں کہہ دیا کہ قریبی عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے اور دور کا عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے۔ اب روئے سخن نبی کریم ﷺ کی طرف ہے جن پر زیادتیاں کرنے والے زیادتی کرکے طرح طرح کی باتیں آپ کے خلاف بناتے تھے۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ مشکلات دور ہونے والی ہیں۔ یہ مکذبین خود عذاب سے دو چار ہونے والے ہیں دعوت کا راستہ دشوار گزار ہے اور طویل ہے اور اس پر صبر ہی کرنا طریقہ دعوت ہے۔ انجام اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ فیصلہ اسی نے کرنا ہوتا ہے۔
الطور 52:46
یہ مخالفین پر ایک نیا تنقیدی حملہ ہے۔ اس کا آغاز ایک شدید دھمکی اور تہدید سے ہوتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ مار گرائے جائیں گے اور یہ واقعہ حشر ونشر اور قیامت میں اٹھانے سے قدرے پہلے ہوگا۔ اس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ آج تو یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف کچھ نہ کچھ تدابیر کرتے ہیں لیکن اس دن کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ قیامت سے پہلے بھی ان پر عذاب آنے والا ہے لیکن ان کو پتہ نہیں ہے۔
اس آخری دھمکی کے بعد مکذبین کے معاملے میں یہ حملہ فارغ ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل اس سورت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور سخت حملے ان پر کئے اور آخر میں کہہ دیا کہ قریبی عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے اور دور کا عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے۔ اب روئے سخن نبی کریم ﷺ کی طرف ہے جن پر زیادتیاں کرنے والے زیادتی کرکے طرح طرح کی باتیں آپ کے خلاف بناتے تھے۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ مشکلات دور ہونے والی ہیں۔ یہ مکذبین خود عذاب سے دو چار ہونے والے ہیں دعوت کا راستہ دشوار گزار ہے اور طویل ہے اور اس پر صبر ہی کرنا طریقہ دعوت ہے۔ انجام اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ فیصلہ اسی نے کرنا ہوتا ہے۔
الطور 52:47
یہ مخالفین پر ایک نیا تنقیدی حملہ ہے۔ اس کا آغاز ایک شدید دھمکی اور تہدید سے ہوتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ مار گرائے جائیں گے اور یہ واقعہ حشر ونشر اور قیامت میں اٹھانے سے قدرے پہلے ہوگا۔ اس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ آج تو یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف کچھ نہ کچھ تدابیر کرتے ہیں لیکن اس دن کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ قیامت سے پہلے بھی ان پر عذاب آنے والا ہے لیکن ان کو پتہ نہیں ہے۔
اس آخری دھمکی کے بعد مکذبین کے معاملے میں یہ حملہ فارغ ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل اس سورت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور سخت حملے ان پر کئے اور آخر میں کہہ دیا کہ قریبی عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے اور دور کا عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے۔ اب روئے سخن نبی کریم ﷺ کی طرف ہے جن پر زیادتیاں کرنے والے زیادتی کرکے طرح طرح کی باتیں آپ کے خلاف بناتے تھے۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ مشکلات دور ہونے والی ہیں۔ یہ مکذبین خود عذاب سے دو چار ہونے والے ہیں دعوت کا راستہ دشوار گزار ہے اور طویل ہے اور اس پر صبر ہی کرنا طریقہ دعوت ہے۔ انجام اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ فیصلہ اسی نے کرنا ہوتا ہے۔
الطور 52:48
واصبرالحکم ربک (25 : 84) ” آپ اپنے رب کے فیصلے تک صبر کریں “ لیکن صبر کے حکم کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک زبانی اعزاز بھی دیا جاتا ہے۔ اللہ کی عنایت کے لئے آپ مستحق قرار پاتے ہیں۔ آپ کو ایسی محبت دی جاتی ہے کہ اس دست محبت سے آپ کے تمام الم اور تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور یہ فرمایا جاتا ہے کہ مشکلات پر صبر اللہ کے نزدیک بہت ہی محبوب اور پسندیدہ امر ہے اور یہی اس اعزاز کا ذریعہ اور نسبت ہے۔
واصبر لحکم ربک فانک باعیننا (25 : 84) ” اے نبی اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو ، تم ہماری نگاہ میں ہو “ کیا ہی خوبصورت تعبیر ہے اور کیا ہی بہترین تصویر ہے اور کس قدر بڑا اعزاز ہے۔
یہ وہ مقام اعزاز ہے جس تک کوئی انسان نہیں پہنچ سکا۔ پورے قرآن میں اس مقام کو اس قدر خوبصورت انداز میں نہیں دکھایا گیا یہاں تک کہ دوسرے نبیوں کے لئے ایسی ہی ہدایات کے موقع پر بھی کوئی ایسی خوبصورت تعبیر نہیں ہے۔
الطور 52:49
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا گیا :
وانا ........ یوحیٰ ” اور میں نے آپ کو چن لیا ہے لہٰذا جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اسے سنو “ اور یہ بھی کہا گیا تھا۔
والقیت ........ عینی ” اور میں نے اپنی طرف سے تم پر ایک محبت ڈال دی تاکہ تمہاری پرورش میری آنکھوں کے سامنے ہو۔ “ اور دوسری جگہ کہا گیا۔
واصطنعتک لنفسی ” میں نے تجھے اپنے لئے بنایا ہے “ یہ سب تعبیرات بتائی ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ نہایت ہی بلند تھا لیکن اس کے مقابلے میں حضور اکرم کے لئے جو الفاظ استعمال ہوئے وہ یہ ہیں :
فانک باعیننا (25 : 84) ” تم ہماری نگاہ میں ہو ” یہ ایک ایسا انداز ہے جس میں خصوصی اعزاز نظر آتا ہے۔ خصوصی محبت نظر آتی ہے۔ اس میں ایسے رنگ ہیں جو نہایت ہی لطیف اور حسین ہیں۔ انسان ایسی تعبیرات پیش کرنے سے عاجز ہے۔ ہمارے لئے یہ کافی ہے کہ ہم ان رنگوں میں زندگی بسر کریں اور صرف اس طرف اشارہ کردیں۔
اس محبت کے ساتھ دائمی ربط کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔
وسبح ........ النجوم (25 : 94) ” تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو ، رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور ستارے جب پلٹتے ہیں اس وقت بھی۔ “ رات دن ، سونے سے اٹھتے وقت ، رات کے وقت اور صبح کو جب ستارے ڈوب جاتے ہیں۔ یہ وہ اوقات ہیں جن میں اس محبت کے تعلق سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اللہ کی تسبیح ایک زاد راہ ہے۔ محبت الٰہی ہے اور دلوں کی مناجات ہے پھر محبت کرنے والے دل سے ہو تو اس کے کیا کہنے ؟
النجم 53:1
اس پیراگراف میں ہم نہایت ہی بلند روشن اور پھڑپھڑانے والے افق پر ہیں جہاں حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک نے چند خوبصورت اور نورانی لمحات عالم بالا کے ساتھ گزارے۔ ایک نہایت ہی نرم ، دھیمی موجوں پر مشتمل اور ترکیب پانے والے ترنم ہیں۔ ہم ان پر کیف لمحات کے رنگ ڈھنگ اور اشارات سنتے ہیں۔ الفاظ ان کی موسیقیت اور ماحول سب ہی پر کیف ہیں۔
یہ واردات قلب محمد ﷺ کے وہ وہ لمحات ہیں جن میں آپ کی نظروں کے سامنے سے تمام حجابات ہٹا دیئے گئے ہیں اور آپ عالم بالا سے ہدایات اور وحی لے رہے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں۔ آپ کا قلب حفظ کررہا ہے۔ یہ لمحات کیسے تھے اس کا صحیح احساس تو صیقل شدہ قلب محمد ہی کو ہوگا لیکن اللہ کا کرم کہ اس نے ہم بندوں کے لئے اس واردات کو الفاظ میں بیان کردیا۔ نہایت ہی موثر انداز میں ایسی موسیقی کے ساتھ جو پانی کی طرح بہتی ہے جس میں تلمیحات کے رنگ ڈھنگ اور ماحول اور اشارات کو ہماری طرف منتقل کیا گیا ہے۔ یہ اس صیقل شدہ دل کا سفر تھا اور عالم بالا کی وسعتوں میں تھا۔ ایک ایک قدم کی تصویر ہماری نظروں میں آرہی ہے۔ ایک ایک منظر ، ایک ایک قدم اور اس انداز میں کہ گویا ہم ابھی دیکھ رہے ہیں۔
آغاز ایک قسم سے ہوتا ہے۔
والنجم اذا ھوی (35 : 7) ” قسم ہے تارے کی جب غروب ہو “ ستارہ غروب ہوتا ہے زمین کے قریب ہو کر اس کی قسم ہے اور جس بات پر قسم ہے وہ یہ ہے کہ حضرت جبرائیل یوں تھے۔
وھو بالافق ........ ما اوحی (35 : 01) ” جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا۔ یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ فاصلے پر رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اس نے پہنچائی “ تو ستارے کی حرکت اور حضرت جبرائیل کی حرکت کے درمیان نہایت ہم آہنگی اور یکرنگی ہے۔ یوں اس منظر میں ماحول ، حرکت اور موزونیت ابتدا ہی سے چلتی ہیں۔
والنجم اذاھوی (35 : 1) ” قسم ہے ستارے کی جب غروب ہوا “ کی تفسیر میں مختلف تفسیریں نقل کی گئی ہیں۔ زیادہ فریب الفہم یہ تفسیر ہے کہ اس سے شعریٰ ستارہ مراد ہے کیونکہ بعض عرب اسے پوجتے تھے اور بعد میں اس سورة میں اس کا ذکر بھی آیا ہے۔
وانہ ھو ........ الشعری (35 : 94) ” اور وہی شعری کا رب ہے “ پرانے لوگ شعری ستارے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ یہ مشہور ہے کہ پرانے مصری یہ کہتے تھے کہ جب شعری اعلی افلاک کو عبور کرے تو نیل میں پانی کا طوفان آجاتا تھا۔ اس لئے وہ شعری کو دیکھتے رہتے تھے اور اس کی حرکت کو نوٹ کرتے تھے۔ ایرانیوں اور عربوں دونوں کی روایات میں اس کے بیشمار افسانے مشہور ہیں۔ لہٰذا یہاں ستارے سے مراد یہی شعری ہے اور یہاں قسم اور مقسم علیہ کے درمیان ہم رنگی بھی مقصود ہے جو اس ستارے کے غروب سے ظاہر ہے۔ پھر یہاں یہ اشارہ بھی دینا مقصود ہے کہ ستارہ اگر بہت بڑا ہی کیوں نہ ہو ، وہ غروب اور غائب ہونے والا ہے۔ معبود تو وہ ہونا چاہئے جسے زوال و غروب نہ ہو۔ یہ تو تھی قسم جس بات پر قسم اٹھالی گئی ہے وہ یہ ہے۔
النجم 53:2
ما ضل ........ یوحیٰ (35 : 4) ” تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل ہوجاتی ہے۔ “ تمہارا ساتھی صحیح راہ پر ہے وہ گمراہ نہیں ہوا۔ وہ صراط مستقیم پر ہے۔ کسی ٹیڑھی راہ پر نہیں چل رہا ہے۔ وہ مخلص ہے ، مطلب پرست نہیں ہے۔ وہ حق کی تبلیغ کررہا ہے نہ وہم پرست ہے نہ افترا پرداز ہے اور نہ بدعتی ہے اور نہ وہ تمہیں جو تبلیغ کررہا ہے اس میں اس کے ہوائے نفس کا کوئی دخل ہے۔ وہ وہی کچھ کہتا ہے جو وحی ہوتی ہے اور وہ صادق وامین ہے۔ اس لئے وہ سچ کی تبلیغ کرتا ہے۔
اس وحی کے حاملین معلوم ہیں اس کا طریقہ کار متعین ہے اور اس کو لانے والوں کو حضور نے خود دیکھا ہے اپنی آنکھوں سے۔ یہ محض کوئی موہوم بات نہیں ہے نہ آپ کو کسی غیبی قوت قوت نے دھوکہ دے دیا ہے۔
النجم 53:3
ما ضل ........ یوحیٰ (35 : 4) ” تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل ہوجاتی ہے۔ “ تمہارا ساتھی صحیح راہ پر ہے وہ گمراہ نہیں ہوا۔ وہ صراط مستقیم پر ہے۔ کسی ٹیڑھی راہ پر نہیں چل رہا ہے۔ وہ مخلص ہے ، مطلب پرست نہیں ہے۔ وہ حق کی تبلیغ کررہا ہے نہ وہم پرست ہے نہ افترا پرداز ہے اور نہ بدعتی ہے اور نہ وہ تمہیں جو تبلیغ کررہا ہے اس میں اس کے ہوائے نفس کا کوئی دخل ہے۔ وہ وہی کچھ کہتا ہے جو وحی ہوتی ہے اور وہ صادق وامین ہے۔ اس لئے وہ سچ کی تبلیغ کرتا ہے۔
اس وحی کے حاملین معلوم ہیں اس کا طریقہ کار متعین ہے اور اس کو لانے والوں کو حضور نے خود دیکھا ہے اپنی آنکھوں سے۔ یہ محض کوئی موہوم بات نہیں ہے نہ آپ کو کسی غیبی قوت قوت نے دھوکہ دے دیا ہے۔
النجم 53:4
ما ضل ........ یوحیٰ (35 : 4) ” تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل ہوجاتی ہے۔ “ تمہارا ساتھی صحیح راہ پر ہے وہ گمراہ نہیں ہوا۔ وہ صراط مستقیم پر ہے۔ کسی ٹیڑھی راہ پر نہیں چل رہا ہے۔ وہ مخلص ہے ، مطلب پرست نہیں ہے۔ وہ حق کی تبلیغ کررہا ہے نہ وہم پرست ہے نہ افترا پرداز ہے اور نہ بدعتی ہے اور نہ وہ تمہیں جو تبلیغ کررہا ہے اس میں اس کے ہوائے نفس کا کوئی دخل ہے۔ وہ وہی کچھ کہتا ہے جو وحی ہوتی ہے اور وہ صادق وامین ہے۔ اس لئے وہ سچ کی تبلیغ کرتا ہے۔
اس وحی کے حاملین معلوم ہیں اس کا طریقہ کار متعین ہے اور اس کو لانے والوں کو حضور نے خود دیکھا ہے اپنی آنکھوں سے۔ یہ محض کوئی موہوم بات نہیں ہے نہ آپ کو کسی غیبی قوت قوت نے دھوکہ دے دیا ہے۔
النجم 53:5
علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61)
” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “
یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر ہے اور اس راہ ورسم کے تمام منازل اور مقامات واضح ہیں۔ اعلیٰ افق پر وہ سیدھے سیدھے کھڑے تھے۔ حضور اکرم نے انہیں دیکھا۔ یہ آغاز وحی کا منظر ہے۔ جب حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اس صورت میں دیکھا جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ بہت ہی عظیم خلقت والے ہیں۔ جب حضور کو نظر آئے تہو پورے افق پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ حضور کے قریب آتے گئے۔ وہ بہت قریب آگئے۔ دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب۔ تو اس قریب کی حالت میں انہوں نے حضور کی طرف وحی فرمائی جو کچھ انہوں نے وحی کرنا تھا۔ کردیا ” جو کچھ وحی کرنا تھا “ یہ اجمال دراصل وحی کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کا ظہور تو دور افق اعلیٰ پر ہوا لیکن وحی کی تلقین انہوں نے نہایت ہی قریب آکر کی اس لئے اس کی تلقی اور اخذ میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ وہ بہت ہی یقینی حالت ہے۔ اس دیکھنے میں کوئی اشتباہ نہ تھا غلط فہمی کا کوئی احتمال تھا اور نہ شک اور بحث کی گنجائش ہے۔
النجم 53:6
علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61)
” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “
یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر ہے اور اس راہ ورسم کے تمام منازل اور مقامات واضح ہیں۔ اعلیٰ افق پر وہ سیدھے سیدھے کھڑے تھے۔ حضور اکرم نے انہیں دیکھا۔ یہ آغاز وحی کا منظر ہے۔ جب حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اس صورت میں دیکھا جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ بہت ہی عظیم خلقت والے ہیں۔ جب حضور کو نظر آئے تہو پورے افق پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ حضور کے قریب آتے گئے۔ وہ بہت قریب آگئے۔ دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب۔ تو اس قریب کی حالت میں انہوں نے حضور کی طرف وحی فرمائی جو کچھ انہوں نے وحی کرنا تھا۔ کردیا ” جو کچھ وحی کرنا تھا “ یہ اجمال دراصل وحی کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کا ظہور تو دور افق اعلیٰ پر ہوا لیکن وحی کی تلقین انہوں نے نہایت ہی قریب آکر کی اس لئے اس کی تلقی اور اخذ میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ وہ بہت ہی یقینی حالت ہے۔ اس دیکھنے میں کوئی اشتباہ نہ تھا غلط فہمی کا کوئی احتمال تھا اور نہ شک اور بحث کی گنجائش ہے۔
النجم 53:7
علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61)
” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “
یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر ہے اور اس راہ ورسم کے تمام منازل اور مقامات واضح ہیں۔ اعلیٰ افق پر وہ سیدھے سیدھے کھڑے تھے۔ حضور اکرم نے انہیں دیکھا۔ یہ آغاز وحی کا منظر ہے۔ جب حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اس صورت میں دیکھا جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ بہت ہی عظیم خلقت والے ہیں۔ جب حضور کو نظر آئے تہو پورے افق پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ حضور کے قریب آتے گئے۔ وہ بہت قریب آگئے۔ دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب۔ تو اس قریب کی حالت میں انہوں نے حضور کی طرف وحی فرمائی جو کچھ انہوں نے وحی کرنا تھا۔ کردیا ” جو کچھ وحی کرنا تھا “ یہ اجمال دراصل وحی کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کا ظہور تو دور افق اعلیٰ پر ہوا لیکن وحی کی تلقین انہوں نے نہایت ہی قریب آکر کی اس لئے اس کی تلقی اور اخذ میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ وہ بہت ہی یقینی حالت ہے۔ اس دیکھنے میں کوئی اشتباہ نہ تھا غلط فہمی کا کوئی احتمال تھا اور نہ شک اور بحث کی گنجائش ہے۔
النجم 53:8
علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61)
” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “
یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر ہے اور اس راہ ورسم کے تمام منازل اور مقامات واضح ہیں۔ اعلیٰ افق پر وہ سیدھے سیدھے کھڑے تھے۔ حضور اکرم نے انہیں دیکھا۔ یہ آغاز وحی کا منظر ہے۔ جب حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اس صورت میں دیکھا جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ بہت ہی عظیم خلقت والے ہیں۔ جب حضور کو نظر آئے تہو پورے افق پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ حضور کے قریب آتے گئے۔ وہ بہت قریب آگئے۔ دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب۔ تو اس قریب کی حالت میں انہوں نے حضور کی طرف وحی فرمائی جو کچھ انہوں نے وحی کرنا تھا۔ کردیا ” جو کچھ وحی کرنا تھا “ یہ اجمال دراصل وحی کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کا ظہور تو دور افق اعلیٰ پر ہوا لیکن وحی کی تلقین انہوں نے نہایت ہی قریب آکر کی اس لئے اس کی تلقی اور اخذ میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ وہ بہت ہی یقینی حالت ہے۔ اس دیکھنے میں کوئی اشتباہ نہ تھا غلط فہمی کا کوئی احتمال تھا اور نہ شک اور بحث کی گنجائش ہے۔
النجم 53:9
علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61)
” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “
یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر ہے اور اس راہ ورسم کے تمام منازل اور مقامات واضح ہیں۔ اعلیٰ افق پر وہ سیدھے سیدھے کھڑے تھے۔ حضور اکرم نے انہیں دیکھا۔ یہ آغاز وحی کا منظر ہے۔ جب حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اس صورت میں دیکھا جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ بہت ہی عظیم خلقت والے ہیں۔ جب حضور کو نظر آئے تہو پورے افق پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ حضور کے قریب آتے گئے۔ وہ بہت قریب آگئے۔ دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب۔ تو اس قریب کی حالت میں انہوں نے حضور کی طرف وحی فرمائی جو کچھ انہوں نے وحی کرنا تھا۔ کردیا ” جو کچھ وحی کرنا تھا “ یہ اجمال دراصل وحی کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کا ظہور تو دور افق اعلیٰ پر ہوا لیکن وحی کی تلقین انہوں نے نہایت ہی قریب آکر کی اس لئے اس کی تلقی اور اخذ میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ وہ بہت ہی یقینی حالت ہے۔ اس دیکھنے میں کوئی اشتباہ نہ تھا غلط فہمی کا کوئی احتمال تھا اور نہ شک اور بحث کی گنجائش ہے۔
النجم 53:10
علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61)
” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “
یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر ہے اور اس راہ ورسم کے تمام منازل اور مقامات واضح ہیں۔ اعلیٰ افق پر وہ سیدھے سیدھے کھڑے تھے۔ حضور اکرم نے انہیں دیکھا۔ یہ آغاز وحی کا منظر ہے۔ جب حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اس صورت میں دیکھا جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ بہت ہی عظیم خلقت والے ہیں۔ جب حضور کو نظر آئے تہو پورے افق پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ حضور کے قریب آتے گئے۔ وہ بہت قریب آگئے۔ دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب۔ تو اس قریب کی حالت میں انہوں نے حضور کی طرف وحی فرمائی جو کچھ انہوں نے وحی کرنا تھا۔ کردیا ” جو کچھ وحی کرنا تھا “ یہ اجمال دراصل وحی کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کا ظہور تو دور افق اعلیٰ پر ہوا لیکن وحی کی تلقین انہوں نے نہایت ہی قریب آکر کی اس لئے اس کی تلقی اور اخذ میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ وہ بہت ہی یقینی حالت ہے۔ اس دیکھنے میں کوئی اشتباہ نہ تھا غلط فہمی کا کوئی احتمال تھا اور نہ شک اور بحث کی گنجائش ہے۔
النجم 53:11
ماکذب الفواد مارا (11) افتمرونہ علی مایری (35 : 21) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔
پھر محمد ﷺ نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔
ولقد ........ الکبری (81) (35 : 31 تا 81) ” اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرة المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماوی ہے۔ اس وقت سدرہ پر چھارہا تھا جو کچھ چھارہا تھا نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوز ہوئی اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں “
یہ واقعہ واضح روایات کے مطابق شب معراج میں پیش آیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے قریب آئے اور وہ اس ہیئت اور خلقت میں تھے جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اس وقت یہ سدرة المنتہیٰ کے پاس تھے۔ سدرہ ایک درخت ہے۔ بیری کا درخت۔ المنتہیٰ کے معنی یہ ہیں کہ جہاں کوئی حد آکر ختم ہوتی ہے اور وہیں جنت الماوی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تک شب معراج کو آپ کی سواری گئی۔ جہاں جاکر حضور اکرم اور جبرائیل (علیہ السلام) کی رفاقت ختم ہوئی۔ جہاں جبرائیل جاکر رک گئے اور حضرت محمد ﷺ اس سے بھی آگے گئے۔ اس مقام تک جو عرش ربی کے زیادہ قریب تھا۔ بہرحال یہ سب باتیں وہ ہیں جن کا تعلق عالم بالا اور عالم غیب سے ہے۔ اس کی حقیقت اللہ کو معلوم ہے یا اللہ کے بندے المصطفیٰ کو معلوم ہے۔ بس اسی قدر ہمیں روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر کوئی روایت نہ ہو تو یہ اس سلسلے میں عقل کے گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔ اس موضوع پر انسان وہی کچھ معلوم کرسکتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ سے ملے۔ جو ملائکہ کا بھی خالق ہے جو انسان کا بھی خالق ہے اور دونوں کے خصائص کو وہ خوب جانتا ہے۔
البتہ یہاں اللہ تعالیٰ سدرة المنتہیٰ کے کچھ حالات بتادیئے ہیں تاکہ بات یقینی ہوجائے۔ اس سفر کو یقینی اور تاکیدی بنانے کے لئے۔
النجم 53:12
ماکذب الفواد مارا (11) افتمرونہ علی مایری (35 : 21) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔
پھر محمد ﷺ نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔
ولقد ........ الکبری (81) (35 : 31 تا 81) ” اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرة المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماوی ہے۔ اس وقت سدرہ پر چھارہا تھا جو کچھ چھارہا تھا نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوز ہوئی اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں “
یہ واقعہ واضح روایات کے مطابق شب معراج میں پیش آیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے قریب آئے اور وہ اس ہیئت اور خلقت میں تھے جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اس وقت یہ سدرة المنتہیٰ کے پاس تھے۔ سدرہ ایک درخت ہے۔ بیری کا درخت۔ المنتہیٰ کے معنی یہ ہیں کہ جہاں کوئی حد آکر ختم ہوتی ہے اور وہیں جنت الماوی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تک شب معراج کو آپ کی سواری گئی۔ جہاں جاکر حضور اکرم اور جبرائیل (علیہ السلام) کی رفاقت ختم ہوئی۔ جہاں جبرائیل جاکر رک گئے اور حضرت محمد ﷺ اس سے بھی آگے گئے۔ اس مقام تک جو عرش ربی کے زیادہ قریب تھا۔ بہرحال یہ سب باتیں وہ ہیں جن کا تعلق عالم بالا اور عالم غیب سے ہے۔ اس کی حقیقت اللہ کو معلوم ہے یا اللہ کے بندے المصطفیٰ کو معلوم ہے۔ بس اسی قدر ہمیں روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر کوئی روایت نہ ہو تو یہ اس سلسلے میں عقل کے گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔ اس موضوع پر انسان وہی کچھ معلوم کرسکتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ سے ملے۔ جو ملائکہ کا بھی خالق ہے جو انسان کا بھی خالق ہے اور دونوں کے خصائص کو وہ خوب جانتا ہے۔
البتہ یہاں اللہ تعالیٰ سدرة المنتہیٰ کے کچھ حالات بتادیئے ہیں تاکہ بات یقینی ہوجائے۔ اس سفر کو یقینی اور تاکیدی بنانے کے لئے۔
النجم 53:13
ماکذب الفواد مارا (11) افتمرونہ علی مایری (35 : 21) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔
پھر محمد ﷺ نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔
ولقد ........ الکبری (81) (35 : 31 تا 81) ” اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرة المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماوی ہے۔ اس وقت سدرہ پر چھارہا تھا جو کچھ چھارہا تھا نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوز ہوئی اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں “
یہ واقعہ واضح روایات کے مطابق شب معراج میں پیش آیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے قریب آئے اور وہ اس ہیئت اور خلقت میں تھے جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اس وقت یہ سدرة المنتہیٰ کے پاس تھے۔ سدرہ ایک درخت ہے۔ بیری کا درخت۔ المنتہیٰ کے معنی یہ ہیں کہ جہاں کوئی حد آکر ختم ہوتی ہے اور وہیں جنت الماوی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تک شب معراج کو آپ کی سواری گئی۔ جہاں جاکر حضور اکرم اور جبرائیل (علیہ السلام) کی رفاقت ختم ہوئی۔ جہاں جبرائیل جاکر رک گئے اور حضرت محمد ﷺ اس سے بھی آگے گئے۔ اس مقام تک جو عرش ربی کے زیادہ قریب تھا۔ بہرحال یہ سب باتیں وہ ہیں جن کا تعلق عالم بالا اور عالم غیب سے ہے۔ اس کی حقیقت اللہ کو معلوم ہے یا اللہ کے بندے المصطفیٰ کو معلوم ہے۔ بس اسی قدر ہمیں روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر کوئی روایت نہ ہو تو یہ اس سلسلے میں عقل کے گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔ اس موضوع پر انسان وہی کچھ معلوم کرسکتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ سے ملے۔ جو ملائکہ کا بھی خالق ہے جو انسان کا بھی خالق ہے اور دونوں کے خصائص کو وہ خوب جانتا ہے۔
البتہ یہاں اللہ تعالیٰ سدرة المنتہیٰ کے کچھ حالات بتادیئے ہیں تاکہ بات یقینی ہوجائے۔ اس سفر کو یقینی اور تاکیدی بنانے کے لئے۔
النجم 53:14
ماکذب الفواد مارا (11) افتمرونہ علی مایری (35 : 21) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔
پھر محمد ﷺ نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔
ولقد ........ الکبری (81) (35 : 31 تا 81) ” اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرة المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماوی ہے۔ اس وقت سدرہ پر چھارہا تھا جو کچھ چھارہا تھا نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوز ہوئی اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں “
یہ واقعہ واضح روایات کے مطابق شب معراج میں پیش آیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے قریب آئے اور وہ اس ہیئت اور خلقت میں تھے جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اس وقت یہ سدرة المنتہیٰ کے پاس تھے۔ سدرہ ایک درخت ہے۔ بیری کا درخت۔ المنتہیٰ کے معنی یہ ہیں کہ جہاں کوئی حد آکر ختم ہوتی ہے اور وہیں جنت الماوی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تک شب معراج کو آپ کی سواری گئی۔ جہاں جاکر حضور اکرم اور جبرائیل (علیہ السلام) کی رفاقت ختم ہوئی۔ جہاں جبرائیل جاکر رک گئے اور حضرت محمد ﷺ اس سے بھی آگے گئے۔ اس مقام تک جو عرش ربی کے زیادہ قریب تھا۔ بہرحال یہ سب باتیں وہ ہیں جن کا تعلق عالم بالا اور عالم غیب سے ہے۔ اس کی حقیقت اللہ کو معلوم ہے یا اللہ کے بندے المصطفیٰ کو معلوم ہے۔ بس اسی قدر ہمیں روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر کوئی روایت نہ ہو تو یہ اس سلسلے میں عقل کے گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔ اس موضوع پر انسان وہی کچھ معلوم کرسکتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ سے ملے۔ جو ملائکہ کا بھی خالق ہے جو انسان کا بھی خالق ہے اور دونوں کے خصائص کو وہ خوب جانتا ہے۔
البتہ یہاں اللہ تعالیٰ سدرة المنتہیٰ کے کچھ حالات بتادیئے ہیں تاکہ بات یقینی ہوجائے۔ اس سفر کو یقینی اور تاکیدی بنانے کے لئے۔
النجم 53:15
ماکذب الفواد مارا (11) افتمرونہ علی مایری (35 : 21) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔
پھر محمد ﷺ نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔
ولقد ........ الکبری (81) (35 : 31 تا 81) ” اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرة المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماوی ہے۔ اس وقت سدرہ پر چھارہا تھا جو کچھ چھارہا تھا نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوز ہوئی اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں “
یہ واقعہ واضح روایات کے مطابق شب معراج میں پیش آیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے قریب آئے اور وہ اس ہیئت اور خلقت میں تھے جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اس وقت یہ سدرة المنتہیٰ کے پاس تھے۔ سدرہ ایک درخت ہے۔ بیری کا درخت۔ المنتہیٰ کے معنی یہ ہیں کہ جہاں کوئی حد آکر ختم ہوتی ہے اور وہیں جنت الماوی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تک شب معراج کو آپ کی سواری گئی۔ جہاں جاکر حضور اکرم اور جبرائیل (علیہ السلام) کی رفاقت ختم ہوئی۔ جہاں جبرائیل جاکر رک گئے اور حضرت محمد ﷺ اس سے بھی آگے گئے۔ اس مقام تک جو عرش ربی کے زیادہ قریب تھا۔ بہرحال یہ سب باتیں وہ ہیں جن کا تعلق عالم بالا اور عالم غیب سے ہے۔ اس کی حقیقت اللہ کو معلوم ہے یا اللہ کے بندے المصطفیٰ کو معلوم ہے۔ بس اسی قدر ہمیں روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر کوئی روایت نہ ہو تو یہ اس سلسلے میں عقل کے گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔ اس موضوع پر انسان وہی کچھ معلوم کرسکتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ سے ملے۔ جو ملائکہ کا بھی خالق ہے جو انسان کا بھی خالق ہے اور دونوں کے خصائص کو وہ خوب جانتا ہے۔
البتہ یہاں اللہ تعالیٰ سدرة المنتہیٰ کے کچھ حالات بتادیئے ہیں تاکہ بات یقینی ہوجائے۔ اس سفر کو یقینی اور تاکیدی بنانے کے لئے۔
النجم 53:16
اذ یغشی ........ یغشیٰ (35 : 61) ” اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھارہا تھا “ اس کی تفصیلات نہیں دی گئیں اور نہ تعین کیا گیا ہے کہ وہ کیا چھا رہا تھا۔ وہ اس قدر عظیم اور ہولناک چیز تھی کہ اس کا بیان مشکل ہے اور اس کا تعین کرنا مشکل۔ غرض وہ ایک عظیم حقیقت تھی۔
النجم 53:17
اور یہ مشاہدایت بھی حق اور یقینی ہے۔
مازاغ ............35 : 71) ” نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوزہوئی “ یہ نہ تھا کہ نظر چکا چوند ہوگئی اور وہ اچھی طرح نہ دیکھ سکی۔ نہ یہ ہوا کہ نظر آگے بڑھ گئی اور ہدف کو دیکھ نہ سکی بلکہ یہ مشاہدات واضح ، صاف اور ایک حقیقت اور ٹھوس شکل میں تھے جن میں کوئی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں تھی اور ان مشاہدات میں صرف یہ باتیں نہ تھیں جو بتائی گئی ہیں بلکہ آپ کو اپنے رب کی بہت عظیم عظیم دوسری نشانیاں بھی بتائی گئیں اور اس کائنات کی حقیقت آپ کو بالکل کھول کر براہ راست دکھائی گئی۔
لہٰذا حضور ﷺ کے وحی وصول کرنے کا معاملہ ایک مشاہدہ ہے۔ حقیقی طور پر آپ نے عالم بالا کو دیکھا ہے۔ آپ یقین محکم سے یہ بات فرماتے ہیں۔ براہ راست آپ کا عالم بالا سے رابطہ ہے۔ یہ علم اور معرفت نہایت ٹھوس اور یقینی ہے۔ آپ نے حسی طور پر یہ رابطے قائم کئے ہیں۔ یہ سفر بھی حسی اور حقیقی ہے اور یہ تفصیلات جو دی جارہی ہیں یہ حقیقی ہیں تمثیلات نہیں ہیں اور تمہارے صاحب کی دعوت ایسے یقینی مشاہدات پر مبنی ہے اور تم جو انکار کررہے ہو تو ان باتوں کا کررہے ہو جو آپ کی دیکھی ہوئی ہیں اور نزول وحی میں شک کررہے ہو اور تمہارے صاحب کے بارے میں تم اچھی طرح جانتے ہو ، اسے صادق وامین مانتے ہو وہ تم میں کوئی اجنبی شخص نہیں ہیں۔ تمہارا رب قسم اٹھا کر اس کی تصدیق اور توثیق کرتا ہے اور یہ تفصیلات دیتا ہے کہ اس وحی کی کیفیت کیا رہی اور یہ پیغام کس کے ہاتھوں پہنچ رہا ہے اور کہاں جبرائیل اور محمد ﷺ کی ملاقات ہوئی اور سدرہ پر جو کچھ تھا تو وہ تھا ہی ............
غرض یہ تو یقینی امر ہے جس کی طرف محمد ﷺ بلا رہے ہیں۔ اب ذرا تم غور کرو کہ تمہارے تخیلات اور مفتریات اور الٰہ کیسے لوگ ہیں اور ان کی افسانوی حقیقت کیا ہے تم جو لات ، منات اور عزیٰ کی عبادت کرتے ہو ان کی الوہیت کا ثبوت کیا ہے۔ تم جو دعویٰ کرتے ہو کہ لات منات اور عزی ملائکہ ہیں تو ان کو کس نے دیکھا ہے ؟ کیا ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ کیا ثبوت ہے کہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش چلے گی ؟ دلیل وحجت بھی تو لاؤ ؟ آخر تمہارے ان اوہام خرافات اور کہانیوں اور افسانوں کی کیا دلیل ہے۔ کوئی عقلی یا نقلی دلیل۔
النجم 53:18
اور یہ مشاہدایت بھی حق اور یقینی ہے۔
مازاغ ............35 : 71) ” نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوزہوئی “ یہ نہ تھا کہ نظر چکا چوند ہوگئی اور وہ اچھی طرح نہ دیکھ سکی۔ نہ یہ ہوا کہ نظر آگے بڑھ گئی اور ہدف کو دیکھ نہ سکی بلکہ یہ مشاہدات واضح ، صاف اور ایک حقیقت اور ٹھوس شکل میں تھے جن میں کوئی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں تھی اور ان مشاہدات میں صرف یہ باتیں نہ تھیں جو بتائی گئی ہیں بلکہ آپ کو اپنے رب کی بہت عظیم عظیم دوسری نشانیاں بھی بتائی گئیں اور اس کائنات کی حقیقت آپ کو بالکل کھول کر براہ راست دکھائی گئی۔
لہٰذا حضور ﷺ کے وحی وصول کرنے کا معاملہ ایک مشاہدہ ہے۔ حقیقی طور پر آپ نے عالم بالا کو دیکھا ہے۔ آپ یقین محکم سے یہ بات فرماتے ہیں۔ براہ راست آپ کا عالم بالا سے رابطہ ہے۔ یہ علم اور معرفت نہایت ٹھوس اور یقینی ہے۔ آپ نے حسی طور پر یہ رابطے قائم کئے ہیں۔ یہ سفر بھی حسی اور حقیقی ہے اور یہ تفصیلات جو دی جارہی ہیں یہ حقیقی ہیں تمثیلات نہیں ہیں اور تمہارے صاحب کی دعوت ایسے یقینی مشاہدات پر مبنی ہے اور تم جو انکار کررہے ہو تو ان باتوں کا کررہے ہو جو آپ کی دیکھی ہوئی ہیں اور نزول وحی میں شک کررہے ہو اور تمہارے صاحب کے بارے میں تم اچھی طرح جانتے ہو ، اسے صادق وامین مانتے ہو وہ تم میں کوئی اجنبی شخص نہیں ہیں۔ تمہارا رب قسم اٹھا کر اس کی تصدیق اور توثیق کرتا ہے اور یہ تفصیلات دیتا ہے کہ اس وحی کی کیفیت کیا رہی اور یہ پیغام کس کے ہاتھوں پہنچ رہا ہے اور کہاں جبرائیل اور محمد ﷺ کی ملاقات ہوئی اور سدرہ پر جو کچھ تھا تو وہ تھا ہی ............
غرض یہ تو یقینی امر ہے جس کی طرف محمد ﷺ بلا رہے ہیں۔ اب ذرا تم غور کرو کہ تمہارے تخیلات اور مفتریات اور الٰہ کیسے لوگ ہیں اور ان کی افسانوی حقیقت کیا ہے تم جو لات ، منات اور عزیٰ کی عبادت کرتے ہو ان کی الوہیت کا ثبوت کیا ہے۔ تم جو دعویٰ کرتے ہو کہ لات منات اور عزی ملائکہ ہیں تو ان کو کس نے دیکھا ہے ؟ کیا ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ کیا ثبوت ہے کہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش چلے گی ؟ دلیل وحجت بھی تو لاؤ ؟ آخر تمہارے ان اوہام خرافات اور کہانیوں اور افسانوں کی کیا دلیل ہے۔ کوئی عقلی یا نقلی دلیل۔
النجم 53:19
لات ایک سفید پتھر تھا جس پر نقش ونگار تھے۔ طائف میں اس کے اوپر ایک مکان اور درگاہ بنی ہوئی تھی جو طائف میں تھی اور اس کے اوپر پجاری متعین تھے۔ اس درگاہ کے اردگرد ایک بڑی چار دیواری تھی اور اہل طائف اس کا بہت احترام کرتے تھے یعنی فخر کرتے تھے ماسوائے قریش کے کہ ان کے پاس کعبہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لات کا لفظ مونث ہے اللہ کا جو اس سے پاک ہے۔
اور عزی ایک درخت تھا جس کے اوپر بھی ایک عبادت گاہ بنی ہوئی تھی اور پردے تھے اور یہ نخلہ کے مقام پر تھی جو مکہ اور طائف کے درمیان تھی۔ اس کی تعظیم قریشی بھی کرتے تھے جس طرح احد کے دن ابوسفیان نے کہا۔
لنا العزی ولا عزی لکم ” ہمارا عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں “ تو حضور ﷺ نے فرمایا یہ جواب دو ۔
اللہ مولنا ولا مولی لکم ” اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں ہے “ اور العزی عزیز کی مونث بتلائی جاتی ہے۔
مناة کا بت قدید کے قریب مشلل میں تھا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔ خزاعہ ، اوس اور حزرج اس کی تعظیم کرتے تھے اور قدید یا مشلل سے مکہ کے لئے احرام باندھتے تھے۔ مناة کے احترام میں۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت بت تھے جن کو عرب میں پوجا جاتا تھا مگر یہ تین بڑے آستانے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ تینوں نام تین ملائکہ کے نام تھے جنہیں عرب اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور اسی وجہ سے یہ ان کی عبادت کرتے تھے اور جس طرح اصول ہے کہ چلتے چلتے یہ تینوں بذات خود معبود ہوگئے اور جمہور عوام نے اللہ کو بھلا کر ان بتوں کو بذات خود معبود مطلق سمجھ کر پوجنا شروع کردیا۔ کم ہی لوگ اس قسم کے تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ ان کی عبادت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔
ان معبودوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی تعجب انگیز انداز میں کیا جس طرح کہ عبارت سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔
افرءیتم ........ الاخری (35 : 02) ” اب ذرا بتاؤ تم نے کبھی اس لات اور اس عزی اور تیسری ایک دیوی مناة کی حقیقت پر غور کیا ہے ؟ “ تعجب لفظ افرءیتم (ذرا بتاؤ کیا تم نے سو چاہے ؟ ) سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو نہایت ہی مضحکہ خیز سمجھتا ہے لیکن اس تعجب کے اظہار کے بعد ان پر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لئے بیٹے۔
النجم 53:20
لات ایک سفید پتھر تھا جس پر نقش ونگار تھے۔ طائف میں اس کے اوپر ایک مکان اور درگاہ بنی ہوئی تھی جو طائف میں تھی اور اس کے اوپر پجاری متعین تھے۔ اس درگاہ کے اردگرد ایک بڑی چار دیواری تھی اور اہل طائف اس کا بہت احترام کرتے تھے یعنی فخر کرتے تھے ماسوائے قریش کے کہ ان کے پاس کعبہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لات کا لفظ مونث ہے اللہ کا جو اس سے پاک ہے۔
اور عزی ایک درخت تھا جس کے اوپر بھی ایک عبادت گاہ بنی ہوئی تھی اور پردے تھے اور یہ نخلہ کے مقام پر تھی جو مکہ اور طائف کے درمیان تھی۔ اس کی تعظیم قریشی بھی کرتے تھے جس طرح احد کے دن ابوسفیان نے کہا۔
لنا العزی ولا عزی لکم ” ہمارا عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں “ تو حضور ﷺ نے فرمایا یہ جواب دو ۔
اللہ مولنا ولا مولی لکم ” اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں ہے “ اور العزی عزیز کی مونث بتلائی جاتی ہے۔
مناة کا بت قدید کے قریب مشلل میں تھا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔ خزاعہ ، اوس اور حزرج اس کی تعظیم کرتے تھے اور قدید یا مشلل سے مکہ کے لئے احرام باندھتے تھے۔ مناة کے احترام میں۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت بت تھے جن کو عرب میں پوجا جاتا تھا مگر یہ تین بڑے آستانے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ تینوں نام تین ملائکہ کے نام تھے جنہیں عرب اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور اسی وجہ سے یہ ان کی عبادت کرتے تھے اور جس طرح اصول ہے کہ چلتے چلتے یہ تینوں بذات خود معبود ہوگئے اور جمہور عوام نے اللہ کو بھلا کر ان بتوں کو بذات خود معبود مطلق سمجھ کر پوجنا شروع کردیا۔ کم ہی لوگ اس قسم کے تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ ان کی عبادت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔
ان معبودوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی تعجب انگیز انداز میں کیا جس طرح کہ عبارت سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔
افرءیتم ........ الاخری (35 : 02) ” اب ذرا بتاؤ تم نے کبھی اس لات اور اس عزی اور تیسری ایک دیوی مناة کی حقیقت پر غور کیا ہے ؟ “ تعجب لفظ افرءیتم (ذرا بتاؤ کیا تم نے سو چاہے ؟ ) سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو نہایت ہی مضحکہ خیز سمجھتا ہے لیکن اس تعجب کے اظہار کے بعد ان پر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لئے بیٹے۔
النجم 53:21
الکم ............ ضیزی (35 : 22) ” کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لئے ہیں۔ یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی “ اس سے یعنی ان بتوں کے تعجب خیز ذکر کے بعد یہ تنقید بتائی ہے کہ یہ تینوں بت دراصل فرشتوں کے ناموں کے رمز تھے جن کو وہ اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے۔ ان کی حالت اپنے ہاں یہ تھی کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹیوں کی ولادت کو سخت مکروہ سمجھتے تھے لیکن اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرنے میں شرم محسوس نہ کرتے تھے حالانکہ وہ فرشتوں کے بارے میں کچھ زیادہ نہ جانتے تھے اور نہ معلومات تھیں ان کو جن کی بنا پر وہ یوں کہتے ہوں۔
اللہ تعالیٰ خود ان کے تصورات اور ان کے افسانوی عقائد کی رو سے ان پر تنقید فرماتا ہے بلکہ ان کا تمسخر اڑاتا ہے کہ کیا خوب کہی۔
الکم ............ الانثیٰ (35 : 12) ” کیا بیٹے تمہارے لئے اور بیٹیاں خدا کے لئے “ یہ تقسیم تو غیر منصفانہ ہے۔ اپنے حصہ تم نے کیا رکھا ہے اور اللہ کا حصہ کیا رکھا ہے۔
النجم 53:22
تلک اذا قسمة ضیزی (35 : 22) ” یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہے “ جبکہ حقیقت پسند نظر سے دیکھا جائے تو اس تصور کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ عقل و دانش کے زاویہ سے دیکھا جائے تو کوئی عقلی ونقلی دلیل اس پر نہیں ہے۔
النجم 53:23
ان ھی الا اسمائ ........ ربھم الھدی (35 : 32)
” دراصل یہ کچھ نہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کررہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ “
یہ نام لات ، منات اور عزی وغیرہ کو معبود کہنا ، ان کو فرشتے کہنا ، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنا یا فرشتوں کو عورتیں کہنا ، یہ سب الفاظ ہیں لیکن جن معانی کے لئے یہ لوگ ان کو بولتے ہیں وہ تو سرے سے ہیں ہی نہیں نہ اس قسم کے دعا دی پر کوئی حجت ہے۔ اللہ نے ایسی کسی بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ لہٰذا ان دعا دی پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ حقیقت کا اپنی جگہ ایک وزن ہوتا ہے۔ حقیقت کی اپنی جگہ قوت ہوتی ہے۔ رہا باطل تو وہ ضعیف اور ہلکا ہوتا ہے ، کمزور ہوتا ہے اور اس کے اندر گرفت کی قوت نہیں ہوتی۔
اس آیت کے نصف میں ان کو ان کے اوہام و خرافات میں غرق چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان سے مکالمہ ختم کردیا جاتا ہے اور ان سے نظر پھیر دی جاتی ہے۔ یوں کہ وہ گویا مکالمہ کے اندر تھے ہی نہیں۔ اب وہ غائب کردیئے جاتے ہیں اور ان پر تبصرہ ہوتا ہے۔
ان یتبعون ........ الانفس (35 : 32) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محض ظن و گمان کی پیروی کررہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں۔ “ لہٰذا ان کے پاس نہ حجت ہے نہ علم ہے اور نہ یقین ہے۔ ان کے عقائد محض ظن وتخمین پر مبنی ہیں۔ ان کی خواہشات ان کی دلیل ہیں حالانکہ عقائد ونظریات میں ظن اور خواہش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس میں حقیقت یقین اور ہوا وہوس سے پاک اور غرض اور مطلب سے دور اور پاک رویہ درکار ہے جبکہ ان کے پاس محض ظن ، خواہش اور اغراض دنیاوی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
ولقد ........ الھدی (35 : 32) ” حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے “ لہٰذا اب تو ان کے پاس یہ عذرات بھی نہیں رہے۔
معاملہ اگر خواہشات نفسانیہ تک پہنچ جائے اور خواہشات پر فیصلے ہونے لگیں تو انسان کی کوئی کل سیدھی نہیں رہ سکتی۔ پھر ہدایت کا اور تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں رہتا کیونکہ ہدایت کو رد کرنے کی وجہ یہ نہیں رہتی کہ ان کو معلوم نہ تھا بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ چاہتے یہ تھے۔ پہلے انہوں نے خواہش نفس کے تحت فیصلے کرلئے ہیں اب وجہ جواز تلاش کررہے ہیں جب نفس انسانی یہاں تک گر جائے تو پھر اس کے لئے ہدایت مفید ہی نہیں ہوتی۔ دلیل کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے اللہ سخت ناپسندیدگی کے ساتھ سوال فرماتا ہے۔
النجم 53:24
ام للانسان ماتمنی (35 : 42) ” کیا انسان جو کچھ چان ہے اس کے لئے وہی حق ہے “ یوں کہ وہ جو چاہے حقیقت بن جائے۔ اس کی خواہشات واقعہ بن جائیں لیکن معاملہ ایسا نہیں ہے۔ حق حق ہوتا ہے اور واقعہ واقعہ ہوتا ہے۔ کوئی جس قدر بھی چاہے اس کی چاہت سے واقعات اور حقائق نہیں بدل سکتے۔ انسان تباہی تمناؤں کے ہاتھ سے ہوتا ہے اور ہلاکت کے گڑھے میں پڑتا ہی خواہشات نفس سے ہے۔ اس لئے خواہشات اور تمنائیں حقیقت نفس الامری کو بدل نہیں سکتیں۔ دنیا اور آخرت کے حقائق میں تغیر وتبدل کوئی نہیں کرسکتا۔ یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جو حق ہے۔
النجم 53:25
فللہ الاخرة والاولی (35 : 52) ” دنیا وآخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے “ یہاں اللہ تعالیٰ نے دنیا سے آخرت کا ذکر پہلے کیا تاکہ لفظ اولی سورت کے انداز گفتگو اور قافیہ کے مطابق ترنم پیدا کردے جبکہ معنوی اعتبار سے بھی اہمیت آخرت کی ہے۔ قرآن کا انداز ہی ایسا ہے کہ مراعات لفظی کے نتیجے میں معنی میں فرق نہیں پڑتا کیونکہ کلام کا کمال و جمال تو اس میں ہے کہ وہ لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے مقتضی الحال کے مطابق ہو اور نہایت ہی برمحل اور موزوں ہو۔
جب آخرت اور دنیا کے تمام معاملات میں اختیار اللہ کا ہے تو مشرکین کے یہ جو خیالات ہیں کہ وہ فرشتوں کی بندگی اس لئے کرتے ہیں کہ ان کو اللہ کے قریب کردیں یہ بالکل باطل ہیں۔ فرشتوں کو تو سفارش کا اختیار ہی نہیں ہے۔ قیامت میں شفارش کا اختیار صرف ان لوگوں کو ہوگا جن کو اللہ کی طرف سے اذن ہوگا۔
النجم 53:26
وکم من ............ ویرضیٰ (35 : 62) ” آسمان میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کے لئے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے۔ “ لہٰذا ان کا دعویٰ بےبنیاد ہے اس سے پہلی آیت میں بھی ان کا بطلان ثابت کردیا گیا ہے اور عقائد کو ہر قسم کے شبہات اور ملاوٹ سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ دنیا وآخرت دونوں میں فیصلے کا اختیار اللہ کو ہے اور انسان کی تمنائیں اور خواہشات حق میں تبدیلی نہیں لاسکتیں۔ سفارش کی اجازت اللہ کے اذن کے بغیر نہ ہوگی۔ لہٰذا آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔
اس پیراگراف کے آخر میں مشرکین کے اوہام کو آخری بار رد کیا جاتا ہے کہ فرشتوں کے بارے میں مشرکین کے خیالات کسی اصل پر قائم نہیں ہیں۔
النجم 53:27
ان الذین ........ شیئا (35 : 82) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے۔ وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ “
یہ آخری تبصرہ بھی بتاتا ہے کہ لات منات اور عزی کا تعلق اس افسانہ سے تھا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کے متعلق انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ یہ ایک بےبنیاد افسانہ تھا۔ محض ظن وتخمین اور سنی سنائی باتوں پر مبنی تھا کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ علم ہی نہ تھا کہ وہ فرشتوں کی حقیقت کو سمجھیں۔ فرشتوں کی نسبت اللہ کی طرف کرنا تو باطل محض تھا۔ وہم کے سوا اس پر کوئی دلیل ہی نہ تھی اور سچائی اوہام اور افسانے سے ثابت نہیں ہوتی۔ حق اور سچائی کو وہ چھوڑ چکے ہیں لہٰذا اس متاع کم گشتہ کی جگہ اور کوئی چیز لے ہی نہیں سکتی۔
جب اہل شرک کے عقائد کو یہاں تک لے لیا گیا کہ عقائد شرکیہ اس قدر بےاصل ہیں اور جو لوگ شرک کرتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں اور فرشتوں کو بیٹیاں کہتے ہیں ان کے عقائد ظن اور وہم پر مبنی ہیں تو اب نبی ﷺ کو کہا جاتا کہ آپ ان لوگوں کو نظر انداز کردیں۔ ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کو اچھا جانتا ہے۔ وہ اہل ہدایت اور اہل ضلالت دونوں کو جزا اور سزا دے گا۔ اس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کے اختیارات ہیں۔ دنیا آخرت کے امور ہیں۔ وہ سب کے ساتھ حساب عدل سے کرے گا۔ کسی پر ظلم نہ کرے گا اور جو لوگ گناہوں پر اصرار نہیں کرتے اللہ ان کو چھوٹی موٹی غلطیاں معاف کرتا ہے۔ وہ نیتوں اور رازوں کو جانتا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا خالق ہے اور اپنی مخلوق کو وہ دوسروں کے مقابلے میں اچھا جانتا ہے۔
النجم 53:28
ان الذین ........ شیئا (35 : 82) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے۔ وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ “
یہ آخری تبصرہ بھی بتاتا ہے کہ لات منات اور عزی کا تعلق اس افسانہ سے تھا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کے متعلق انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ یہ ایک بےبنیاد افسانہ تھا۔ محض ظن وتخمین اور سنی سنائی باتوں پر مبنی تھا کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ علم ہی نہ تھا کہ وہ فرشتوں کی حقیقت کو سمجھیں۔ فرشتوں کی نسبت اللہ کی طرف کرنا تو باطل محض تھا۔ وہم کے سوا اس پر کوئی دلیل ہی نہ تھی اور سچائی اوہام اور افسانے سے ثابت نہیں ہوتی۔ حق اور سچائی کو وہ چھوڑ چکے ہیں لہٰذا اس متاع کم گشتہ کی جگہ اور کوئی چیز لے ہی نہیں سکتی۔
جب اہل شرک کے عقائد کو یہاں تک لے لیا گیا کہ عقائد شرکیہ اس قدر بےاصل ہیں اور جو لوگ شرک کرتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں اور فرشتوں کو بیٹیاں کہتے ہیں ان کے عقائد ظن اور وہم پر مبنی ہیں تو اب نبی ﷺ کو کہا جاتا کہ آپ ان لوگوں کو نظر انداز کردیں۔ ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کو اچھا جانتا ہے۔ وہ اہل ہدایت اور اہل ضلالت دونوں کو جزا اور سزا دے گا۔ اس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کے اختیارات ہیں۔ دنیا آخرت کے امور ہیں۔ وہ سب کے ساتھ حساب عدل سے کرے گا۔ کسی پر ظلم نہ کرے گا اور جو لوگ گناہوں پر اصرار نہیں کرتے اللہ ان کو چھوٹی موٹی غلطیاں معاف کرتا ہے۔ وہ نیتوں اور رازوں کو جانتا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا خالق ہے اور اپنی مخلوق کو وہ دوسروں کے مقابلے میں اچھا جانتا ہے۔
النجم 53:29
فاعرض ............ بمن التقی (23) ک (35 : 92 تا 23)
” پس اے نبی جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ ان لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے۔ یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے اور زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے۔ تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں۔ الایہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے۔ بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے۔ وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے ۔ پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے “۔
اعراض اور روگردانی کرنے کا حکم ان لورگوں کے لئے دیا گیا ہے جو اللہ کی یاد سے اعراض و روگردانی کرتے ہیں۔ آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور صرف حیات دنیا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ ان مشرکین کو چھوڑ دیں جن کے عقائد اور رویہ کا بیان اس سورة کے ابتدا میں ہوا اور جن کے اوہام و خرافات پر مبنی عقائد کا رد کیا گیا۔
رسول اللہ کے بعد یہ خطاب ہر مسلم داعی کو ہے جس کو اس قسم کے لوگوں سے واسطہ ہو جو اللہ کی یاد سے غافل ہوں جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لاتے ہوں اور جن کا نقطہ نظر محض سیکولر ہو۔ دنیا سے آگے وہ دیکھنے والے ہی نہ ہوں۔ آخرت کا حساب و کتاب ان کی نظروں میں نہ ہو اور وہ دیکھتے ہوں کہ بس ان کا مقصد وجود صرف اس دنیا کی زندگی ہے۔” بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نسبت “ اور وہ اس ۔۔۔۔ اپنی زندگی کو اسی انداز پر استوار کرتے ہوں وہ انسان کے شعور کو اس بات سے الگ کردیتے ہیں کہ ایک ایسا الہ بھی ہے جو لوگوں کے امور کا مدبر ہے اور یہ کہ وہ الہ اس دنیا کی مختصر زندگی کے بعد اعمال کا حساب و کتاب لے گا اور ہمارے دور میں مادیت اور الحاد کے پیروکار ایسے ہی لوگ ہیں۔
جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ ایسے لوگوں میں دلچسپی نہیں لے سکتے جو آخرت سے غافل ہیں اور نہ ایسے لوگوں کے ہمقدم زندگی بسر کرسکتے ہیں جو آخرت کے منکر ہیں کیونکہ دونوں قسم کے لوگوں کے منبع زندگی اس قدر متضاد ہوتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ ایک قدم بھی نہیں چل سکتے کیونکہ زندگی کے نکات میں سے وہ باہم کسی نکتے پر بھی متفق نہیں ہوسکتے۔ ان کی زندگی کی قدریں اور پیمانے ہی الگ ہوتے ہیں۔ اہداف مختلف ہوتے ہیں ، تصورات مختلف ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی نہیں کرسکتے۔ وہ اس زمین پر ایک جگہ کوئی سرگرمی نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان کی زندگی کے پیمانے ، قدریں اور مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی دوڑ دھوپ کا منہاج مختلف ہوگا اور غرض وغایت جدا ہوگی۔ جب دونوں کے درمیان کوئی یکسانیت اور یکجہتی نہیں ہے تو ایک دوسرے میں دلچسپی کیا ہوگی ؟ اگر کوئی مومن ایی سے لوگوں میں دلچسپی لیتا ہے جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑتے ہیں اور سوائے حیات دنیا کے اور کچھ نہیں چاہتے تو وہ ایک سراسر ایک عبث کام کرتا ہے اور وہ بےمصرف اپنی قوت کو خرچ کررہا ہے۔
پھر اعراض اور روگردانی سے ایک اور غرض بھی ہے یہ کہ جو لوگ اللہ پر ایمان نہ لانے پر تلے ہوئے ہوں ان کو نظر انداز کرنا ، ان کو اہمیت نہ دینا بھی اپنی جگہ ایک مقصد ہے جو لوگ صرف دنیا کے بندے ہوں ان کو اس لئے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ وہ ہیں ہی اس قابل کہ ان کو نظر انداز کیا جائے۔ وہ حق سے دور ہیں۔ حق کے ادراک کے اہل نہیں۔ یہ پردوں کے پیچھے کھڑے ہیں ان کے اور حقیقت کے درمیان حجاب ہے۔ یہ اس دنیا کے دائرے اور حدود سے باہر نکل نہیں سکتے۔
النجم 53:30
ذلک ........ العلم (35 : 03) ” ان کا مبلغ علم بس یہی ہے “ یہ پہنچ بہت ہی معمولی ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بہت بڑے پہنچ والے نظر آئیں۔ یہ کوتاہ دست ہیں۔ اگرچہ ان کے ہاتھ لمبے نظر آئیں وہ گمراہ ہیں اگرچہ تیزی سے فاصلے طے کررہے ہوں۔ اس لئے کہ جو شخص اپنے دل کے احساس اور عقل کے لحاظ سے اس دنیا میں قید ہو وہ کو لہو کے بیل کی طرح اس میں چکر کاٹے گا ، آگے نہیں بڑھ سکے گا حالانکہ ان کی نظروں کے سامنے یہ عظیم کائنات پڑی ہے۔ اس کائنات نے اپنے آپ کو پیدا نہیں کیا اور اس دنیا کا خود بخود وجود میں آنا ایک ایسا نظریہ ہے جو بداہتہً غلط ہے پھر یہ دنیا عبث بھی پیدا نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کا کوئی خالق ہے اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ یہی دنیا ہے اور یہی زندگی ہے تو اس طرح یہ تخلیق عبث ثابت ہوتی ہے لہٰذا اس دنیا پر جس حیثیت سے بھی غور کیا جائے۔ ایمان لانا لازمی قرار پاتا ہے اور ایمان کا یہ حصہ بھی لازمی قرار پاتا ہے کہ آخرت میں حشر ونشر لازمی ہے ورنہ یہ عظیم اور محیرالعقول کائنات کا عبث پیدا ہونا لازم ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ جو شخص ذکر الٰہی سے منہ موڑتا ہے اور صرف دنیا کے کاموں میں مشغول رہتا ہے اس کو نظر انداز کرنا ضروری ہے۔ یہ اعراض اس لئے ضروری ہے کہ اپنے اہتمام ، توجہ اور محنت کو بےمحل کاموں میں نہیں صرف کرنا چاہئے اور جن لوگوں کی دلچسپیاں صرف اس دنیا تک ہی محدود ہوں ان کی اہمت کو کم کرنے کے لئے بھی ان کی طرف سے منہ موڑنا ضروری ہے۔ اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ایسے لوگوں سے منہ موڑ دو اس لئے ہمیں چاہئے کہ ایسے لوگوں کو نظر انداز کردیں کیونکہ اطاعت امر ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہودیوں کی طرح ہم کہیں۔ سمعنا وعصینا اللہ ہمیں اس رویہ سے بچائے۔
ان ربک ............ اھتدی (35 : 03) ” یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے۔ “ اللہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ اس لئے اللہ نے نبی اور ان کے ساتھیوں کے لئے یہ مناسب نہ سمجھا کہ وہ اپنے آپ کو گمراہ لوگوں کے ساتھ فضول مصروف رکھیں یا ان کے ہم محفل ہوں یا ان کے دوست بنیں نہ ان کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ جانتے بھی ہوں کہ یہ شخص گمراہ ہے اور اس کی سرگرمیاں صرف دنیا تک محدود ہیں۔ وہ حقیقت کا ادراک کرنے کی کوشش یا ارادہ نہیں کرتا اور جان بوجھ کر ایمان نہیں لاتا۔ آخرت پر ایمان نہیں لاتا اور اس کی تمام دلچسپیاں اس دنیا کی مختصر زندگی تک محدود ہیں۔ ایسے شخص پر محنت کریں۔
وہ علم جو ان کوتاہ بینوں اور گمراہوں کو حاصل ہوتا ہے وہ بظاہر عوام الناس کی نظروں میں بہت بڑا نظر آتا ہے وہ لوگ جن کا دل ، قوت مدرکہ اور احساس عامی ہوتا ہے اس لئے ان کو عملی زندگی میں وہ موثر نظر آتا ہے لیکن ان لوگوں کا یہ علم ان سے گمراہی کی صفت دور نہیں کرسکتا نہ ان سے صفت جہالت اور کوتاہ بینی کو دور کرسکتا ہے۔ اس لئے کہ اس کائنات اور اس کے خالق کے درمیان رابطہ اور انسانی عمل اور اس کی جزا وسزا کے درمیان رابطہ دونوں ایسی حقیقتیں ہیں جو ہور علم کے لئے ضروری ہیں اور ان دونوں حقیقتوں سے خالی جو علم بھی ہوگا وہ سطحی ہوگا اور ورہ انسانی زندگی میں پوری طرح موثر نہ ہوگا نہ ہو اور اس کی وجہ سے ایک انسان اور انسان کے درمیان ادبی رابطہ قائم ہو۔ ورنہ تمام علوم صرف ٹیکنالوجی قرار پائیں گے۔ انسانیت کا تنزل شمار ہوں گے۔ علوم کا ٹیکنیکل پہلو جس قدر آگے بڑھتا ہے ان کا انسانی پہلو اس قدر گرتا ہے۔
انسان کا یہ شعور کہ اس کا ایک خالق ہے اور اس خالق نے اسے پیدا کیا ہے اور اس کائنات کو بھی پیدا کیا ہے اور یہ انسان اور یہ کائنات ایک ہی انداز تخلیق رکھتے ہیں۔ انسان کے شعور حیات اور شعور ماحول کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ انسان کے وجود کی ایک قیمت ٹھہرتی ہے اور انسان کا مقصد وجود زیادہ جامع اور ارفع ہوجاتا ہے اور اس کا وجود اس کے محدود خاندان سے بلند ہوجاتا ہے۔ اس کا وجود اس کی قوم سے بڑا اور ارفع ہوجاتا ہے۔ اس کا وجود اس کے وطن سے زیادہ قیمتی ہوجاتا ہے۔ انسان طبقاتی کشمکش سے بالا ہوجاتا ہے اور اس قسم کی تمام تشکیلات اور اجتماعیتوں سے بالا ہوجاتا ہے۔
پھر انسان کا یہ شعور کہ اس کا خالق آخرت میں اس سے حساب لے گا اور اس کو جزا وسزا دے گا ، انسان کے جذبات ، انسان کے مقاصد ، انسان کے پیمانے اور قدریں بدل دیتا ہے۔ انسان کے تصورات کا انداز ہی بدل جاتا ہے۔ انسان کا انجام اس کے اخلاق کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے۔ یوں انسان کی قوت اور اس کی فعالیت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی ہلاکت یا اس کی نجات اس کی نیت اور عمل میں جواب دہی کے احساس پر موقوف ہوگا۔ یوں انسانی شخصیت کے اندر ” انسانیت “ قوی ہوگی کیونکہ انسان کے اندر یہ شعور ایک نگران کی طرح بیدار ہوتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ آخری حساب و کتاب ابھی باقی ہے۔ غرض اللہ پر ایمان لانا اور آخرت پر ایمان لانا ایک بہت ہی اہم اور بڑا مسئلہ ہے اور انسانی زندگی میں اس کی بنیادی اہمیت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انسان کے لئے یہ مسئلہ روٹی ، کپڑے اور مکان سے زیادہ اہم ہے۔ اگر یہ عقیدہ او شعور ہوگا تو یہ مخلوق ” انسان “ ہوگا اگر نہ ہوگا تو یہ محض جانور ہوگا۔
جب معیار بدل جائیں ، مقاصد بدل جائیں ، ہدف بدل جائے اور زندگی کے سب تصورات بدل جائیں تو پھر انسان اور انسان کے درمیان کوئی مابہ الاشتراک امر نہیں رہتا۔ باہم تعامل اور تعاون نہیں رہتا بلکہ باہم تعارف بھی نہیں رہتا اور لوگ ایک دوسرے کو سمجھ بھی نہیں سکتے ، چہ جائیکہ وہ باہمی انصاف کرسکیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک مومن باللہ اور ایک خالص دنیا پرست ، مفاد پرست کے درمیان کوئی صحبت شرکت ، تعاون اور لین دین نہیں ہوسکتا۔ یہ تو ہے اصل اور حقیقت اس کے سوا اور جو بات بھی کوئی کرے گا وہ محض دکھاوا ہوگا اور امر الٰہی کے خلاف بات ہوگی۔
فاعرض ............ الدنیا (35 : 92) ” پس اے نبی جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں اسے اس کے حال پر چھوڑ دے۔ “
النجم 53:31
وللہ ............ بالحسنی (35 : 13) ” اور زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا “ یہ کہ اللہ زمین و آسمانوں کی تمام چیزوں کا مالک ہے۔ اس سے آخرت کے عقیدے میں قوت اور تاثیر پیدا ہوتی ہے کیونکہ جس نے آخرت پر حساب و کتاب کو مقدر کیا ہے وہی مالک ہے زمین اور آسمانوں کا۔ لہٰذا وہ جزا وسزا پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ کام صرف اسی کا ہے اور وہی ان کے اسباب کا بھی مالک ہے اور اس حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مکمل اور عادلانہ جزاء وسزا دے۔
لیجزی ............ بالحسنی (35 : 13) ” تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا “
اس کے بعد ان لوگوں کا تعین کردیا جاتا ہے جنہوں نے نیک عمل کئے اور جن کو جزائے حسن دی جانی ہے۔
النجم 53:32
الذین ............ اللمم (35 : 23) ” جو بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں اور یہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے۔ “ بڑے گناہوں سے مراد بڑی نافرمانیاں ، فواحش سے مراد بھی بڑے گناہ ہیں لیکن خصوصاً وہ جن کے اندر فحاشی ہو۔ ” اللمم “ کے بارے میں مفسرین کے احوال مختلف ہیں۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ استثنا منقطع ہے۔ (استثنا منقطع وہ ہے جہاں استثنا کردہ چیز اس مجموعے کی فرد نہ ہو جس سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ ) کیونکہ لمم چھوٹے گناہوں کو کہا جاتا ہے یعنی چھوٹے چھوٹے اعمال ، امام احمد نے روایت کی ہے ، عبدالرزاق سے انہوں نے معمر سے انہوں نے ابن طاؤس سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے لمم کے ساتھ زیادہ مشابہت کرنے والی کوئی چیز اس سے بڑھ کر نہیں دیکھی جو حضرت ابوہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔ رسول اللہ فرماتے ہیں ” جب اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا کا جرم لکھ دیا تو وہ اسے پائے گا یعنی اس کی سزا اسے لازماً ملے گی ، آنکھ کا زنا نظر ہے زبان کا زنا بات ہے اور نفس کی تمنا اور اشتہا ہوتی ہے اور انسان کے اندام نہانی اس کی تصدیق کرتے ہیں یا تکذیب “ (صحیحیں)
ابن جریر نے روایت کی ہے ، محمد ابن عبدالاعلی سے انہوں نے ابن ثور سے انہوں نے معمر سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے الوالضحی سے کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا ” آنکھ کا زنا نظر ہے ہونٹوں کا زنا بوسہ لینا ہے ، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے ، پاؤ کا زنا چل کر جانا ہے اور انسانی اعضا اس کی تکذیب کرتے ہیں یا تصدیق۔ اگر اس کا فرج آگے بڑھا تو یہ زانی ہو اور نہ لمم کا مرتکب۔ یہی بات مسروق اور شعبی نے کہی ہے۔
عبدالرحمن ابن نافع کہتے ہیں (ان کو ابن لبابہ طائفی بھی کہتے ہیں) میں نے ابوہریرہ سے ” لمم “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا بوسہ دینا ، دیکھنا ، آنکھ سے اشارہ کرنا ، ہاتھ لگانا اور جب فریقین کے اعضائے نہانی باہم مل جائیں اور غسل واجب ہوجائے تو یہ زنا ہے۔ یہ تو ہیں ایک دوسرے کے ساتھ ملتے چلتے اقوال لمم کے بارے میں لیکن کچھ دوسرے اقوال بھی ہیں۔
علی ابن طلحہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے الااللمم یعنی ماسوائے اس کے جو گزر گیا یہی قول زید ابن اسلم کا ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ابن مثنی سے وہ محمد ابن جعفر سے وہ شعبہ سے وہ منصور سے وہ مجاہد سے انہوں نے الااللمم کا معنی یہ کہا کہ وہ شخص جو گناہوں کا ارتکاب کرے اور پھر چھوڑ دے۔
ابن جریر نے روایت کی ہے سلیمان ابن جبار سے انہوں نے ابو عاصم سے انہوں نے زکریا سے انہوں نے ابن اسحاق سے انہوں نے عمر ابن دینار سے انہوں نے عطا سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے۔
الذین ............ اللمم (35 : 23) ” وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں اور یہ کہ کچھ قصور ان سے سر زد ہوجائیں ” انہوں نے کہا اس سے مراد وہ شخص ہے جو فحاشی کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر توبہ کرلیتا ہے اور رسول اللہ نے فرمایا۔
ان تعغفرالھم تغفر جما
وای عبدلک ما الما
” اے اللہ اگر آپ معاف کریں تو سب کچھ معاف کردیں اور آپ کا کون سا ایسا بندہ ہے جس نے کوئی قصور نہیں کیا “ اس طرح امام ترمذی نے روایت کی ہے احمد ابن عثمان بصری سے انہوں نے ابو عاصم النبیل سے اور اس کے بعد انہوں نے کہا یہ حدیث صحیح حسن اور غریب ہے اور صرف زکریا ابن اسحاق کے واسطہ سے ہم تک پہنچی ہے۔ بزاز نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث متصل صرف اس سند کے ساتھ ہے۔
ابن جریر نے روایت کی ، محمد ابن عبداللہ ابن بزیع سے انہوں نے یزید ابن ذریع سے انہوں نے یونس سے انہوں نے حسن سے انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے (میں سمجھتا ہوں اس نے اس روایت کو حضور تک پہنچایا) اس آیت کے بارے میں۔
الذین ............ اللمم (35 : 23) ” جو لوگ بڑے بڑے گناہوں اور کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں اور یہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے) یہاں مراد یہ ہے کہ وہ زنا کا مرتکب ہوجائے اور پھر توبہ کرے اور چھوڑ دے یا وہ چوریاں کرے اور پھر چھوڑ دے اور وہ شراب پیئے اور ترک کردے تو اسکے بعد کہا کہ یہ ہے المام اور ارتکاب۔ اس قسم کی روایت حسن سے بھی مروی ہے لیکن موقوف روایت ہے .... غرض یہ روایات کا دوسرا مجموعہ ہے او یہ لمم کا بالکل ایک دوسرا مفہوم بتاتا ہے۔
ہمارے خیال کے مطابق یہ آخری رائے اس کے بعد آنے والی آیت کے زیادہ مناسب ہے۔
ان ربک واسع المغفرة (35 : 23) ” بیشک تیرے رب کا دامن مغفرت بہت ہی وسیع ہے “ اللہ کے مغفرت کے دامن کی وسعت کے ذکر کے ساتھ مناسب یہی ہے کہ لمم سے مراد گناہ کبیرہ اور فواحش کا ارتکاب ہو۔ پھر توبہ ہوجائے اور استثنا متصل ہو اور محسنین ہی وہ لوگ ہوں جنہوں نے کبائر گناہوں کا ارتکاب کیا ہو یا فواحش کا ارتکاب کرلیا ہو اور اس کے بعد وہ جلدی سے توبہ کرکے تائب ہوگئے ہوں اور انہوں نے اصرار نہ کیا ہو جیسا دوسری جگہ آتا ہے۔
والذین ............ یعلمون (3 : 531)
” اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معا اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو اور وہ کبھی دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے۔ “ اور ان لوگوں کو قرآن کریم نے متقین کہا اور ان کے ساتھ مغفرت اور جنت کا وعدہ فرمایا جن کی وسعت زمین اور آسمانوں سے زیادہ ہے لہٰذا یہ مفہوم اللہ کی رحمت اور مغفرت کے زیادہ قریب ہے کیونکہ اللہ وسیع المغفرت ہے۔
اور خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ کی منصفانہ جزا و سزا اللہ کے وسیع علم پر مبنی ہے۔
ھو اعلم ............ امھتکم (35 : 23) ” اور وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے۔ “ تمہارے تمام ظاہری اعمال کو جانتا ہے۔ یہ علم ہر ثابت حقیقت کے ساتھ وابستہ ہے جسے یہ لوگ نہیں جانتے اور اللہ ہی ہے جو اپنی مخلوق کے بارے میں جانتا ہے۔ اللہ اس وقت بھی جانتا تھا جب یہ نہ تھے اور وہ ان کو زمین سے پیدا کررہا تھا۔ پھر جب یہ ماؤں کے پیٹوں میں جنین تھے اور اس دنیا میں انہوں نے آنکھ ہی نہ کھولی تھی۔ اللہ ظاہری علم سے پہلے حقیقی علم بھی رکھتا تھا عملاً ان کے وجود میں آنے سے بھی پہلے۔
جس ذات کے علم کی نوعیت یہ ہو تو انسان اگر اس ذات کو اپنے بارے میں کوئی معلومات دیتا ہے تو یہ نہایت گستاخی ہے کیونکہ یہ گویا اللہ کو اپنی حقیقت دکھاتا ہے اور اللہ کے سامنے یہ ہوں اور یوں۔
فلا تزکوا ............ اتقی (35 : 23) ” پس اپنے نفسوں کی پاکی نہ بیان کرو وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے۔ “
اللہ کو اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ تم اللہ کو اپنے نفوس کے بارے میں اطلاع کرو یا اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا مول تول کرو ، اللہ کا علم کامل ہے اس کی جزا وسزا منصفانہ ہے۔ اللہ کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے تمام امور اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔
اب آخری پیراگراف آتا ہے۔ یہ پیرا نہایت ہی نغمہ بیز ہے اور یہ پہلے پیراگراف کے مماثل ہے۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کے اساسی عناصر کو بیان کرتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسلامی نظریہ حیات اور دین حنیف کے لئے طے کئے تھے۔ اس میں انسانوں کا تعارف خالق تعالیٰ سے کرایا جاتا ہے او یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی میثت تمہاری زندگی میں فعال ہے۔ تخلیق کررہی ہے اور نہایت ہی موثر ہے اور اللہ کی مشیت کے آثار ایک ایک کرکے گنوائے جاتے ہیں اور نہایت ہی موثر انداز میں جو انسانی وجدان کے ساتھ پیوست ہوجاتے ہیں اور انسان اس قدر متاثر ہوتا ہے کہ کانپ اٹھتا ہے۔ جب یہ پیرا آخر میں پہنچتا ہے تو پڑھنے والے کے احساسات پوری طرح متاثر ہوتے ہیں اور انسان پر کپکپ کی طاری ہوتی ہے اور رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور وہ سرشار ہوکر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔
النجم 53:33
کون ہے یہ شخص۔
الذی ............ واکدی (35 : 43) ” جو راہ خدا سے پھر گیا اور تھوڑا سا دے کر رک گیا “ اور اللہ تعالیٰاس کی روش کو تعجب انگیز قرار دیتا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک متعین شخص تھا جس نے اللہ کی راہ میں تھوڑا سا خرچ کیا اس کے بعد وہ خرچ کرنے سے رک گیا۔ اس لئے کہ وہ فقیر نہ ہوجائے۔ کشاف میں علامہ زمحشری نے اس کا تعین کیا ہے کہ یہ حضرت عثمان ابن عفان ؓ ہیں لیکن حضرت عثمان ؓ کا جو مقام و مرتبہ تھا اور انہوں نے تحریک اسلامی کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا ، بغیر کسی توقف اور بغیر کسی حساب کے وہ معلوم ہے اور ان کا جو عقیدہ تھا وہ بھی معلوم ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور کوئی دوسرا شخص ذمہ داری نہیں لے سکتا اور جس روایت کا علامہ زمخشری نے ذکر کیا ہے وہ اسلام کے اس بنیادی اصول کے خلاف ہے۔ روایت یہ ہے کہ حضرت عثمان کار خیر میں خرچ کرتے تھے۔ عبداللہ ابن سعد ابن ابو سرح نے کہا جس طرح تم خرچ کررہے ہو اسی طرح تو تمہارے پاس کچھ نہ رہے گا۔ یہ حضرت عثمان کے رضاعی بھائی تھے۔ حضرت عثمان نے کہا کہ میں نے بہت گناہ کئے ہیں اور میں اللہ کی راہ میں خرچ کرکے معافی چاہتا ہوں تو عبداللہ نے کہا مجھے اپنی نافہ اس کے کجادے کے ساتھ دے دو اور میں تمہارے تمام گناہ اپنے سر لیتا ہوں چناچہ اس کو انہوں نے ناقہ دے دی اس سودے پر انہوں نے گہواہ بھی ٹھہرائے اور حضرت عثمان انفاق سے رک گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ روایت ظاہرا باطل ہے کیونکہ یہ قرآنی اصول کے خلاف ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایک متعین شخص ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے مراد ہو لوگوں کا ایک نمونہ جو اس قسم کے ہوتے ہیں مثلاً وہ لوگ جو اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں خرچ کریں اور پھر رک جائیں تو اللہ کے نزدیک ایسا شخص قابل تعجب ہے۔ ایسے شخص کی طرف اشارہ کرکے قرآن مجید صحیح تصورات کی توضیح کرتا ہے۔
النجم 53:34
کون ہے یہ شخص۔
الذی ............ واکدی (35 : 43) ” جو راہ خدا سے پھر گیا اور تھوڑا سا دے کر رک گیا “ اور اللہ تعالیٰاس کی روش کو تعجب انگیز قرار دیتا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک متعین شخص تھا جس نے اللہ کی راہ میں تھوڑا سا خرچ کیا اس کے بعد وہ خرچ کرنے سے رک گیا۔ اس لئے کہ وہ فقیر نہ ہوجائے۔ کشاف میں علامہ زمحشری نے اس کا تعین کیا ہے کہ یہ حضرت عثمان ابن عفان ؓ ہیں لیکن حضرت عثمان ؓ کا جو مقام و مرتبہ تھا اور انہوں نے تحریک اسلامی کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا ، بغیر کسی توقف اور بغیر کسی حساب کے وہ معلوم ہے اور ان کا جو عقیدہ تھا وہ بھی معلوم ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور کوئی دوسرا شخص ذمہ داری نہیں لے سکتا اور جس روایت کا علامہ زمخشری نے ذکر کیا ہے وہ اسلام کے اس بنیادی اصول کے خلاف ہے۔ روایت یہ ہے کہ حضرت عثمان کار خیر میں خرچ کرتے تھے۔ عبداللہ ابن سعد ابن ابو سرح نے کہا جس طرح تم خرچ کررہے ہو اسی طرح تو تمہارے پاس کچھ نہ رہے گا۔ یہ حضرت عثمان کے رضاعی بھائی تھے۔ حضرت عثمان نے کہا کہ میں نے بہت گناہ کئے ہیں اور میں اللہ کی راہ میں خرچ کرکے معافی چاہتا ہوں تو عبداللہ نے کہا مجھے اپنی نافہ اس کے کجادے کے ساتھ دے دو اور میں تمہارے تمام گناہ اپنے سر لیتا ہوں چناچہ اس کو انہوں نے ناقہ دے دی اس سودے پر انہوں نے گہواہ بھی ٹھہرائے اور حضرت عثمان انفاق سے رک گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ روایت ظاہرا باطل ہے کیونکہ یہ قرآنی اصول کے خلاف ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایک متعین شخص ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے مراد ہو لوگوں کا ایک نمونہ جو اس قسم کے ہوتے ہیں مثلاً وہ لوگ جو اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں خرچ کریں اور پھر رک جائیں تو اللہ کے نزدیک ایسا شخص قابل تعجب ہے۔ ایسے شخص کی طرف اشارہ کرکے قرآن مجید صحیح تصورات کی توضیح کرتا ہے۔
النجم 53:35
اعندہ ............ یری (35 : 53) ” کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔ “ غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ لہٰذا عالم غیب میں انسان کے لئے جو کچھ پوشیدہ ہے انسان اس سے مامون نہیں ہوسکتا۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت نیک عمل کرتا رہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور پوری زندگی میں محتاط رہے اور اپنے اعمال کو تسلسل دے۔ یہ نہ ہو کہ کچھ تھوڑا سا انفاق کرے پھر چھوڑ دے اور غیب مجہول کے دفاع میں اس کو یہی ضمانت حاصل ہے کہ وہ احتیاط کرے اپنے عمل کو جاری رکھے اور مسلسل رکھے اور اللہ کی مغفرت کا امیدوار ہو اور دعا کرے کہ اس کے اعمال قبول ہوں۔
النجم 53:36
ام لم ............ الذی وفی (35 : 73) ” کیا اسے ان باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں بیان ہوئی جس نے وفا کا حق ادا کردیا۔ “ یہ سیدھا دین وہ ہے جو تمام پیغمبروں کے ہاں ایک ہی رہا ہے اور اس کے اصول اور بنیادیں ایک ہی رہی ہیں۔ تمام رسولوں کی کتابیں اور دعوتیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اگرچہ زمانہ ومکان کا اختلاف ہے۔ یہی اصول صحف موسیٰ میں تھے۔ یہی ملت ابراہیمی کے اصول تھے۔ حضرت ابراہیم وہ تھے جنہوں نے بہت بڑی وفاداری کا ثبوت دیا۔ ہر چیز کو پوراپورا ادا کیا۔ مطلقا وفادار تھے۔ یہاں وفا کا ذکر اکدی کے مقابلے میں ہوا۔ اکدی انقطاع کو کہتے ہیں۔ اس کے مقابلے وفی کا لفظ تشدید سے آیا ہے تاکہ قافیہ اور ترنم میں فرق نہ آئے۔ سوال یہ ہے کہ صحف ابراہیم میں کیا تھا ؟
النجم 53:37
ام لم ............ الذی وفی (35 : 73) ” کیا اسے ان باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں بیان ہوئی جس نے وفا کا حق ادا کردیا۔ “ یہ سیدھا دین وہ ہے جو تمام پیغمبروں کے ہاں ایک ہی رہا ہے اور اس کے اصول اور بنیادیں ایک ہی رہی ہیں۔ تمام رسولوں کی کتابیں اور دعوتیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اگرچہ زمانہ ومکان کا اختلاف ہے۔ یہی اصول صحف موسیٰ میں تھے۔ یہی ملت ابراہیمی کے اصول تھے۔ حضرت ابراہیم وہ تھے جنہوں نے بہت بڑی وفاداری کا ثبوت دیا۔ ہر چیز کو پوراپورا ادا کیا۔ مطلقا وفادار تھے۔ یہاں وفا کا ذکر اکدی کے مقابلے میں ہوا۔ اکدی انقطاع کو کہتے ہیں۔ اس کے مقابلے وفی کا لفظ تشدید سے آیا ہے تاکہ قافیہ اور ترنم میں فرق نہ آئے۔ سوال یہ ہے کہ صحف ابراہیم میں کیا تھا ؟
النجم 53:38
الاتزرو ............ اخری (35 : 83) ” یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا نہ اپنے نفس کا بوجھ ہو ہاں ہلکا کیا جاسکے گا اور نہ دوسرے کا بوجھ لے کر اسے بری الذمہ کیا جاسکے گا۔ لہٰذا کوئی نہ کسی دوسرے کا بوجھ اٹھا سکتا ہے اور نہ دوسرے پر ڈال سکتا ہے۔
النجم 53:39
وان ............ ما سعی (35 : 93) ” اور یہ کہ انسان کے لئے کچھ نہیں مگر وہ جس کی اس نے سعی کی “ یعنی انسان کے حساب میں وہی لکھا جائے گا جو اس نے کیا۔ اس کے اعمال کے ساتھ دوسروں کے اعمال نہ لکھے جائیں گے نہ اس کے اعمال سے کمی کرکے کسی دوسرے کی کمی پوری کی جائے گی اور یہ دنیاوی زندگی فرصت عمل ہے تاکہ وہ عمل کرے اور جدوجہد کرے۔ جب مر گیا تو اس کی فرصت عمل ختم ہوجائے گی اور اس کے اعمال کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا۔ ہاں صرف وہ اعمال رہ جائیں گے جن کے بارے میں حدیث میں نص دارد ہے۔
اذامات ............ ینتفع بہ ” جب انسان مرجائے تو اس کا عمل ختم ہوجات ہے ۔ ماسوائے تین شعبوں کے اس کا صالح بیٹا ہو اور وہ اس کے لئے اس کے بعد دعا کرتا ہو۔ یا اس نے کوئی صدقہ جاریہ کیا ہو یا اس نے کوئی علمی کام کیا ہو جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہوں “ (مسلم) یہ تینوں شعبے دراصل اس شخص کے اعمال جاریہ ہیں۔ اس حدیث سے امام شافعی اور آپ کے متبعین یہ مسئلہ نکالتے ہیں کہ قرات قرآن کا ثواب مردوں کو نہیں پہنچتا کیونکہ یہ قرات ان کے عمل اور کسب سے نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں امت کو کوئی ہدایت نہیں فرمائی نہ اس کی تاکید فرمائی نہ کسی نص میں یا اشارے میں اس کی ہدایت فرمائی۔ صحابہ کرام میں سے بھی کسی صحابی سے یہ منقول نہیں ہے کہ انہوں نے قرآن پڑھ پڑھا کر ایصال ثواب کیا ہے۔ اگر ایسا ہوسکتا ہے تو وہ کس طرح اس سے پیچھے رہ سکتے تھے۔ پھر عبادات اور ایصال ثواب کے مسائل ایسے ہیں جن میں قرآن وسنت کے نصوص پر اکتفا کرنا چاہئے۔ ایسے معاملات میں رائے اور قیاس کی گنجائش نہیں ہے۔ رہی دعا و صدقہ تو اس پر اجماع ہے کہ اس کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے۔ (ابن کثیر)
النجم 53:40
وان ............ الاوفی (35 : 14) ” اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی پھر اس کی پوری جزا اسے دی جائے گی “ لہٰذا کسی انسان کی سعی ، اس کے کسی عمل اور کسب کو ضائع نہ کیا جائے گا اور کوئی چیز اللہ کے علم اور اس کے ترازو سے چھوٹ نہ جائے گی۔ ہر شخص کو اس کی جدوجہد کا پورا پورا اجر دیا جائے گا نہ کمی ہوگی اور نہ ظلم ہوگا۔
یوں انفرادی ذمہ داری کا اصول طے کردیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ یقین دہانی بھی کردی جاتی ہے کہ مکمل انصاف ہوگا۔ یوں انسان کے لئے انسانی قیمت متعین ہوگی کہ وہ ایک عقلمند ، ذمہ دار ، قابل اعتماد مخلوق ہے اور خود مختار ہے۔ یہ ایک مکرم مخلوق ہے۔ اس کے لئے عمل کی فرصت فراہم ہوگی اور پھر وہ اس موقعہ پر جو عمل کرے گا اس پر اسے جزا وسزا ہوگی اور اسی جزاء سزا میں مکمل انصاف ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ مطلق انصاف ہوگا اس میں کسی کی خواہش نفس کا دخل نہ ہوگا اور نہ کسی جہالت کی وجہ سے کوئی حقیقت شمار سے رہ جائے گی۔
النجم 53:41
وان ............ الاوفی (35 : 14) ” اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی پھر اس کی پوری جزا اسے دی جائے گی “ لہٰذا کسی انسان کی سعی ، اس کے کسی عمل اور کسب کو ضائع نہ کیا جائے گا اور کوئی چیز اللہ کے علم اور اس کے ترازو سے چھوٹ نہ جائے گی۔ ہر شخص کو اس کی جدوجہد کا پورا پورا اجر دیا جائے گا نہ کمی ہوگی اور نہ ظلم ہوگا۔
یوں انفرادی ذمہ داری کا اصول طے کردیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ یقین دہانی بھی کردی جاتی ہے کہ مکمل انصاف ہوگا۔ یوں انسان کے لئے انسانی قیمت متعین ہوگی کہ وہ ایک عقلمند ، ذمہ دار ، قابل اعتماد مخلوق ہے اور خود مختار ہے۔ یہ ایک مکرم مخلوق ہے۔ اس کے لئے عمل کی فرصت فراہم ہوگی اور پھر وہ اس موقعہ پر جو عمل کرے گا اس پر اسے جزا وسزا ہوگی اور اسی جزاء سزا میں مکمل انصاف ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ مطلق انصاف ہوگا اس میں کسی کی خواہش نفس کا دخل نہ ہوگا اور نہ کسی جہالت کی وجہ سے کوئی حقیقت شمار سے رہ جائے گی۔
النجم 53:42
وان الی ربک المنتھیٰ (35 : 24) ” اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے “ لہٰذا کوئی اور راستہ نہیں ہے جو بھی راستہ ہے اس کی انتہا اللہ کے دربار پر ہونی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور جائے پناہ نہیں۔ صرف اس کی پناہ گاہ ہے یا جنتوں میں ہے اور یا دوزخ میں ہے۔ اس حقیقت کا اثر انسانی شعور انسانی تصور اور انسانی عمل پر بہت ہی گہرا ہوتا ہے۔ جب انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ کے حضور حاضری کے سوا تو کوئی چارہ نہیں لہٰذا وہ اپنے طرف عمل اور اپنے نفس کو اس کے لئے تیار کرتا ہے اور اس معاملے میں وہ سب کچھ کرتا ہے جو اس کے استطاعت میں ہو اور اس کا قلب ونظر اپنے آخری انجام کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں اور اس کی نظریں آخری انجام پر لگی ہوتی ہے۔
انسانی سوچ کو اس آخری انجام اور آخری منزل تک پہنچا کر اسے پھر دنیا کے معاملات کی طرف واپس لایا جاتا ہے کہ اس دنیا میں بھی تمام امور اللہ کی مشیت کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ اگرچہ انسان مختا رہے اور ذمہ دار ہے۔
النجم 53:43
وانہ ............ وابکی (35 : 34) ” اور یہ کہ اس نے ہنسایا اور اسی نے رلایا “ اس آیت کے ضمن میں بہت ہی بڑے حقائق آتے ہیں اور اس آیت میں حکمت و دانش کے کئی رنگ ہیں کئی تصاویر ہیں۔ پہلا معنی تو یہ ہے کہ اللہ نے انسان کے اندر ہنسنے اور رونے کی صلاحیت رکھی۔ یہ دونوں صفات اسی انسان کی تخلیق کے رازوں میں سے راز ہیں۔ انسان کو معلوم نہیں کہ وہ کس طرح روتا ہے اور ہنستا ہے۔ انسان کی پیچیدہ تخلیق میں کس طرح ان دونوں متضاد صفات اور تاثرات کو ایک جگہ رکھ دیا گیا ہے۔ انسان کی نفسیاتی پیچیدگیاں اس کی عضویاتی پیچیدگیوں سے کم نہیں ہیں اور اس کے اندر کی عضویاتی اور نفسیاتی جذبات اور موثرات ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں اور اس کے اعضاء اور نفسیاتی عمل رونے اور ہنسنے کے عمل میں باہم اشتراک سے کام کرتے ہیں۔
اس نے ہنسایا اور رلایا یعنی بیک وقت انسان روتا بھی ہے اور ہنستا بھی اور اللہ نے اسباب فراہم کردیے اور ان دونوں صفات کو ایک پیچیدہ راز قرار دیا کہ بعض اسباب پر انسان رونے لگتا ہے اور بعض پر ہنسنے لگتا ہے۔ آج ایک چیز اسے رلاتی ہے اور کل اسی کی وجہ سے وہ ہنستا ہے اور آج وہ ہنستا ہے اور کل اسی کی وجہ سے روتا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ اسے جنون لاحق ہوتا ہے نہ وہ بھول جاتا ہے بلکہ نفسیاتی حالات ایسے ہوتے ہیں۔ نفسیاتی حالات میں تبدیلی ہوتی ہے۔ بعض اقدار ، بعض اسباب ، بعض تقریبات اور بعض محرکات ایسے ہوتے ہیں جو کبھی رلاتے ہیں اور کبھی ہنساتے ہیں اور انسانی شعور ایک ہی حالت میں نہیں رہتا۔
یہ بھی ایک رنگ ہوتا ہے کہ ایک ہی واقعہ سے ایک فریق روتا ہے اور دوسرا اس واقعہ سے ہنستا ہے۔ ایک ہی واقعہ کا اثر دونوں پر الگ الگ ہوتا ہے۔ یہ ہوتے ہیں حالات موثرات اور کسی ایک واقعہ کے بارے میں نفسیاتی رد عمل۔ ایک ہی واقعہ پر ایک ہی شخص کبھی روتا ہے کبھی ہنستا ہے۔ آج کسی واقعہ پر وہ خوش ہے ہنستا ہے لیکن کل اسی واقعہ کے برے نتائج سامنے آتے ہیں تو روتا ہے۔ اس وقت اس کی تمنا ہوتی ہے کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اس دنیا میں رات اور دن ہنستے ہیں اور قیامت میں روئیں گے۔
یہ ہیں مختلف نقشے ، مختلف حالات اور مختلف موسم اور اس آیت سے ہم ہزار ہا نفسیاتی کیفیات کا اخراج کرسکتے ہیں۔ یہ جس شعور کی بات ہے۔ جس قدر کوئی زیادہ نفسیاتی تجربے کرے گا اسے معلوم ہوگا کہ ہر تجربے کے بعد جو نفسیاتی صورت حال پیدا ہوتی ہے اس سے انسان ہنستا ہے یا روتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ وہ چند الفاظ کے اندر ایک ایسا آئینہ پیش کرتا ہے کہ اس میں جو چاہے جہاں چاہے اپنی صورت دیکھے۔
النجم 53:44
وانہ ............ واحیا (35 : 44) ” اور یہ کہ اس نے موت دی اور زندگی بخشی “ اسی طرح اس آیت سے بھی موت وحیات کی لاتعداد صورتیں نکلتی ہیں اور انسان اپنے احساس کو تیز کرکے گنوا سکتا ہے۔ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ نے موت وحیات کو پیدا کیا جیسا کہ دوسری سورت میں کہا ہے۔
خلق الموت والحیاة ” جس نے موت وحیات کو پیدا کیا “ موت وحیات دونوں کا تکرار انسانی سوسائٹی میں ہوتا رہتا ہے لہٰذا ہر کوئی موت وحیات کو جانتا ہے لیکن اگر انسان موت وحیات کا راز معلوم کرنا چاہے تو یہ بہت ہی سر بستہ راز ہوجاتے ہیں۔ موت کی حقیقت کیا ہے اور حیات کا راز کیا ہے ؟ تو انسان ان کی حقیقت کی تعبیر اپنے الفاظ میں نہیں کرسکتا نہ ان کی کوئی شکل و صورت متعین کرسکتا ہے۔ ایک زندہ انسان کے ڈھانچے میں حیات کس طرح داخل ہوگئی۔ یہ ہے کیا اور کہاں سے آتی ہے اور اس انسانی ڈھانچے کے روئیں روئیں میں کس طرح آگئی۔ یہ کس طرح اس زندہ انسان یا زندہ کائنات میں سرایت کرگئی ؟ اور موت کیا ہے ؟ کس طرح یہ زندگی نکلی اور موت آگئی۔ یہ ایک راز ہے اور پس پردہ ہے اور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس نے زندہ کیا اور مارا ، اس سے موت وحیات کی کئی ملین صورتیں سامنے آتی ہیں۔ اس زمین میں زندہ چیزوں کے کئی جہاں ہیں۔ ایک لمحے میں کئی کئی ملین چیزیں مرتی ہیں اور کئی کئی ملین زندہ ہوتی ہیں ان میں زندگی داخل ہوتی ہے اور اس راز کو آج تک صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ کئی ایسی اموات ہیں جو دوبارہ زندگیوں کا باعث اور سبب بنتی ہیں۔ صدیوں سے یہ صورتیں ظاہر ہوتی چلی آئی ہیں۔ جب انسان صدیوں کا تصور کرتا ہے۔ انسان کی پیدائش سے بھی پہلے کے زمانے سے تو یہاں موت وحیات کی کئی قسمیں جاری ہیں۔
یہ تصاویر کی لاانتہا تعداد ہے جو نمودار ہوتی ہے۔ ان مختصر کلمات سے یہ تصاویر ظاہر ہوتی ہیں اور انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انسان اپنے اوپر کنٹرول اور ضبط نہیں کرسکتا اور اس پر عجیب اثر ہوتا ہے۔
النجم 53:45
وانہ ........ والانثیٰ (35 : 54) من ........ تمنیٰ (35 : 64)
” اور اس نے نر اور مادے کا جوڑا پیدا کیا ایک بوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے۔ “ یہ بھی ایک عظیم حقیقت ہے جو اس دنیا میں ہر لمحے میں واقع ہوتی ہے چونکہ یہ عظیم واقعہ ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے انسان اسے بھول جاتا ہے حالانکہ یہ ایک ایسا معجزہ اور عجوبہ ہے جو تمام تخیلاتی عجوبوں سے زیادہ عجیب ہے۔
ایک نطفہ ، ایک بوند جو گرتی ہے جو انسانی جسم کا ایک لیسدار مادہ ہے اور یہ اسی قدر زیادہ ہے جس طرح پسینہ ، آنسو اور دوسرے مواد۔ ایک وقت گزرنے کے بعد یہ کیا سے کیا بن جاتا ہے پھر یہ مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مذکر ومونث بن جاتا ہے اور یہ معجزہ کس طرح رونما ہوتا ہے۔ اگر یہ واقع نہ ہوتا تو ہم اس کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ یہ انسان جو ایک قوی اور شیدید اور سخت باڈی رکھتا ہے۔ یہ کہاں تھا ؟ یہ اس سیال نطفے میں کہاں چھپا ہوتا تھا بلکہ اس نطفے کے کئی ملین اجزاء میں سے یہ ایک تھا۔ اس کی ہڈیاں کہاں تھیں۔ گوشت کہاں تھا جلد اور رگیں کہاں تھیں۔ بال اور ناخن کہا تھے اور اس کی خصوصیات اور صلاحیتیں کہاں تھیں اور اس کے اخلاق اور اس کا مزاج کہاں تھا۔ ایک مائیکروسکوپ سے دیکھا جانے والا خلیہ جس کے ساتھ اور کئی ملین ایسے خلیے موجود ہیں اور یہ سب ایک ہی نطفے میں ہیں جو بوند کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس خلیے میں خصوصاً مذکر و مونث کا نقشہ کیا تھا۔ آخر کار یہ نقشہ جنین کے اندر ظاہر ہوا۔
کوئی ایسا ذی عقل انسان نہیں ہوسکتا جو اس عظیم حقیقت پر تدبر کرے اور پھر وہ ششدر نہ رہ جائے۔ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ اس عظیم معجزے کا کوئی انکار کردے اور غرور سرکشی کرکے یہ کہے ” بھائی یہ اسی طرح ہوتا ہے پس جائیے والسلام “ اور یہ کام یونہی ہوگیا فقط ” اسی طرح مرد و عورت پیدا ہوگئے اور بس ہم زیادہ نہیں جانتے “ یا کوئی زیادہ تعلیم یافتہ بننے کی کوشش کرے اور کہے کہ یہ واقعات اس طرح ہوئے کیونکہ اس مواد میں ازرو ئے فطرت یہی استعداد تھی اور تمام زندہ چیزوں کے اندر تناسل کی یہ صلاحیت ہے لیکن اس کا جواب پھر سوال اور تشریح کا محتاج ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ استعداد کس نے ودیعت کردی اور یہ جذبہ کس نے ہر چیز کو دیا کہ وہ خود کار طریقے سے حفظ نوع اور تسلسل حیات کے لئے کام کرے۔ پھر یہ قوت ان چیزوں کو کس نے دی کہ وہ ایک ضعیف حالت سے تنومند حالت تک پہنچیں۔ یہ راستہ کس نے بتایا اور یہ خواہش کس نے رکھی اور ہر چیز کے اندر اس کے نوع کے خواص کس نے رکھے اور ان کے اندر اس نوع کی چیزوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے خواص کس نے رکھے۔ ظاہر ہے کہ ایک قوت مدبرہ ہے جو اپنے ارادے اور حکم اور اذن سے ان معاملات کو چلارہی ہے اور ہر چیز کو ایک متعین راہ اور طریقے پر چلاتی ہے۔
اور پھر اس پہلی پیدائش سے جو ناقابل انکار حقیقت ہے۔ اللہ انسان کو دوسری پیدائش کی طرف متوجہ فرماتا ہے۔
النجم 53:46
وانہ ........ والانثیٰ (35 : 54) من ........ تمنیٰ (35 : 64)
” اور اس نے نر اور مادے کا جوڑا پیدا کیا ایک بوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے۔ “ یہ بھی ایک عظیم حقیقت ہے جو اس دنیا میں ہر لمحے میں واقع ہوتی ہے چونکہ یہ عظیم واقعہ ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے انسان اسے بھول جاتا ہے حالانکہ یہ ایک ایسا معجزہ اور عجوبہ ہے جو تمام تخیلاتی عجوبوں سے زیادہ عجیب ہے۔
ایک نطفہ ، ایک بوند جو گرتی ہے جو انسانی جسم کا ایک لیسدار مادہ ہے اور یہ اسی قدر زیادہ ہے جس طرح پسینہ ، آنسو اور دوسرے مواد۔ ایک وقت گزرنے کے بعد یہ کیا سے کیا بن جاتا ہے پھر یہ مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مذکر ومونث بن جاتا ہے اور یہ معجزہ کس طرح رونما ہوتا ہے۔ اگر یہ واقع نہ ہوتا تو ہم اس کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ یہ انسان جو ایک قوی اور شیدید اور سخت باڈی رکھتا ہے۔ یہ کہاں تھا ؟ یہ اس سیال نطفے میں کہاں چھپا ہوتا تھا بلکہ اس نطفے کے کئی ملین اجزاء میں سے یہ ایک تھا۔ اس کی ہڈیاں کہاں تھیں۔ گوشت کہاں تھا جلد اور رگیں کہاں تھیں۔ بال اور ناخن کہا تھے اور اس کی خصوصیات اور صلاحیتیں کہاں تھیں اور اس کے اخلاق اور اس کا مزاج کہاں تھا۔ ایک مائیکروسکوپ سے دیکھا جانے والا خلیہ جس کے ساتھ اور کئی ملین ایسے خلیے موجود ہیں اور یہ سب ایک ہی نطفے میں ہیں جو بوند کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس خلیے میں خصوصاً مذکر و مونث کا نقشہ کیا تھا۔ آخر کار یہ نقشہ جنین کے اندر ظاہر ہوا۔
کوئی ایسا ذی عقل انسان نہیں ہوسکتا جو اس عظیم حقیقت پر تدبر کرے اور پھر وہ ششدر نہ رہ جائے۔ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ اس عظیم معجزے کا کوئی انکار کردے اور غرور سرکشی کرکے یہ کہے ” بھائی یہ اسی طرح ہوتا ہے پس جائیے والسلام “ اور یہ کام یونہی ہوگیا فقط ” اسی طرح مرد و عورت پیدا ہوگئے اور بس ہم زیادہ نہیں جانتے “ یا کوئی زیادہ تعلیم یافتہ بننے کی کوشش کرے اور کہے کہ یہ واقعات اس طرح ہوئے کیونکہ اس مواد میں ازرو ئے فطرت یہی استعداد تھی اور تمام زندہ چیزوں کے اندر تناسل کی یہ صلاحیت ہے لیکن اس کا جواب پھر سوال اور تشریح کا محتاج ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ استعداد کس نے ودیعت کردی اور یہ جذبہ کس نے ہر چیز کو دیا کہ وہ خود کار طریقے سے حفظ نوع اور تسلسل حیات کے لئے کام کرے۔ پھر یہ قوت ان چیزوں کو کس نے دی کہ وہ ایک ضعیف حالت سے تنومند حالت تک پہنچیں۔ یہ راستہ کس نے بتایا اور یہ خواہش کس نے رکھی اور ہر چیز کے اندر اس کے نوع کے خواص کس نے رکھے اور ان کے اندر اس نوع کی چیزوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے خواص کس نے رکھے۔ ظاہر ہے کہ ایک قوت مدبرہ ہے جو اپنے ارادے اور حکم اور اذن سے ان معاملات کو چلارہی ہے اور ہر چیز کو ایک متعین راہ اور طریقے پر چلاتی ہے۔
اور پھر اس پہلی پیدائش سے جو ناقابل انکار حقیقت ہے۔ اللہ انسان کو دوسری پیدائش کی طرف متوجہ فرماتا ہے۔
النجم 53:47
وان ........ الاخری (35 : 74) ” اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اس کے ذمہ ہے۔ “ دوسری زندی تو ایک غیب ہے لیکن پہلی زندگی دوسری پر دلیل ہے۔ دلیل یوں ہے کہ جب پہلی بار ایک قوت نے انسان کو پیدا کیا تو دوسری بار بھی وہ پیدا کرسکتی ہے۔ وہ ذات جس نے زوجین کو ایک نطفے سے پیدا کیا اور یہ تمہارا مشاہدہ ہے۔ اس بات پر قادر ہے کہ ان ہڈیوں اور مٹی کو دوبارہ جمع کرکے تمہیں اٹھا دے کیونکہ ہڈیوں اور مٹی کو جمع کرنا نطفے کے پانی کے اندر موجود ایک خلیے سے بڑھا کر پیدا کرنے سے مشکل نہیں ہے۔ یہ کام دوبارہ بھی واقع ہوسکتا ہے مثلاً وہ تدبیر جس کے نتیجے میں ایک نطفہ نہایت ہی چھوٹے جرثومے سے ایک طویل راہ سے گزر کر ایک مکمل مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اسی تدبیر کے ذریعے سے اللہ قیامت میں سب کو اٹھائے گا تاکہ ہر کسی کو اس کے کئے کے مطابق جزا وسزا دے۔ کیونکہ دوبارہ اٹھانے کا مقصد زندگی کی تکمیل ہے جو یہاں مکمل نہ تھی۔ عالم آخرت میں ہر چیز اپنے کمال کو پہنچے گی لہٰذا ضروری ہے کہ اس میں تخلیق کی ٹیکنالوجی بھی اس دنیا کی تخلیق سے زیادہ پیچیدہ ہو۔ لہٰذا پہلی تخلیق کی دلالت دوسری تخلیق پر دو طرح کی ہے ایک یہ کہ دوسری تخلیق ممکن ہے اور دوسری یہ ہے کہ وہ ضروری ہے کہ وہاں مکمل جزا وسزا مل سکے اور ادھوری زندگی مکمل ہو۔ اور اس زندگی میں اور دوسری زندگی دونوں میں اللہ جسے چاہے غنی اور مالدار بنادے۔
النجم 53:48
وانہ ........ واقنی (35 : 84) ” اور یہ کہ اس نے غنی کیا اور جائیداد بخشی “ دنیا میں جس کو چاہا مختلف پہلوؤں سے غنی بنا دیا۔ مال کے لحاظ سے غنی ، صحت کے لحاظ سے غنی ، اولاد کے لحاظ سے غنی ، فکر کے لحاظ سے غنی اور اللہ کے تعلق کے لحاظ سے غنی اور یہ سب سے بڑا غنی ہوتا ہے اور جسے وہ چاہے گا آخرت میں غنی کردے گا۔
اسی طرح جو جائیداد وہ چاہے دیدے ، یہاں دیدے یا آخرت میں دیدے۔ لوگ تو فقر اور محتاج ہیں۔ یہ غنی اور مالدار اللہ ہی کے خزانوں سے ہوسکتے ہیں۔ وہ دولت دیتا ہے اور وہی جائیداد دیتا ہے۔ یہ تو وہ بات ہے جسے وہ عملاً پاتے ہیں اور ان کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جن کو اللہ نے دیا اس لئے انہیں جگایا جاتا ہے کہ اللہ ہی کے خزانہ عامرہ کی طرف نظریں اٹھاؤ۔ اللہ کے سوا دوسرے خزانے ہیچ اور خالی ہیں۔
النجم 53:49
وانہ ........ الشعری (35 : 94) ” اور وہی شعری کا بھی رب ہے “ شعری وہ ستارہ ہے جو سورج سے بیس گناہ بڑا ہے اور ورہ سورج سے بھی دور کئی ملین دور ہے۔ عربوں میں بعض لوگ اس ستارے کو پوجتے تھے۔ بعض لوگ اسے ایک ذی شان ستارے کے طور پر دیکھتے تھے۔ لہٰذا یہاں یہ تاکید کرنا کہ اللہ شعری کا بھی رب ہے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے خصوصاً ایسی سورت میں جس میں ستارے کی قسم اٹھائی گئی ہے اور جس میں عالم بالا کے سفر کا ذکر ہو اور جس میں عقیدہ توحید اور شرک موضوع ہو۔
یہاں آکر انفس اور آفاق کا یہ طویل مطالعاتی سفر ختم ہوتا ہے اور اس کے بعد اب انسانی تاریخ کی وادی میں ہم داخل ہوتے ہیں۔ انسانی تاریخ اور اس کے عبرت آموز آثار کو تو قرآن بہت اہمیت دیتا ہے۔
النجم 53:50
وانہ ............ تتماری (55) (35 : 05 تا 55) ” یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور ثمود کو ایسا تباہ کیا کہ اس میں سے کسی کو نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کہ وہ تھے ہی سخت ظالم اور سرکش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا کر پھینکا پھر چھا دیا ان پر وہ جو (تم جانتے ہو کہ) کیا چھا دیا۔ پس اے انسان اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا۔ “
یہ ایک سرسری نظر ہے جس میں ایک ایک امت پر مختصر نگاہ ڈالی جاتی ہے اور اس کے انجام کو دکھا کر انسانی شعور کو چن کی دی جاتی ہے کہ وہ بیدار ہو۔
عاد ، ثمود اور قوم نوح کو تو قرآن کے قاری جانتے ہیں اور کئی جگہ یہ قصص مذکور ہیں۔ موتفکہ کا لفظ افک بمعنی بہتان اور ضلالت سے ہے۔ ( وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں ، لوط کی قوم کی بستیاں تھیں۔ ) ان بستیوں کے بارے میں یہ کہ ان بستیوں پر چھا گیا جو چھا گیا اس میں عذاب کو زیادہ خوفناک اور عظیم دکھانے کے لئے نام نہیں لیا گیا یعنی بربادی ، آتش فشانی کے ذریعے جو بربادی بھی آپ تصور کرسکتے ہیں وہ ان پر چھا گئی لہٰذا بیان کی ضرورت نہیں۔
النجم 53:51
وانہ ............ تتماری (55) (35 : 05 تا 55) ” یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور ثمود کو ایسا تباہ کیا کہ اس میں سے کسی کو نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کہ وہ تھے ہی سخت ظالم اور سرکش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا کر پھینکا پھر چھا دیا ان پر وہ جو (تم جانتے ہو کہ) کیا چھا دیا۔ پس اے انسان اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا۔ “
یہ ایک سرسری نظر ہے جس میں ایک ایک امت پر مختصر نگاہ ڈالی جاتی ہے اور اس کے انجام کو دکھا کر انسانی شعور کو چن کی دی جاتی ہے کہ وہ بیدار ہو۔
عاد ، ثمود اور قوم نوح کو تو قرآن کے قاری جانتے ہیں اور کئی جگہ یہ قصص مذکور ہیں۔ موتفکہ کا لفظ افک بمعنی بہتان اور ضلالت سے ہے۔ ( وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں ، لوط کی قوم کی بستیاں تھیں۔ ) ان بستیوں کے بارے میں یہ کہ ان بستیوں پر چھا گیا جو چھا گیا اس میں عذاب کو زیادہ خوفناک اور عظیم دکھانے کے لئے نام نہیں لیا گیا یعنی بربادی ، آتش فشانی کے ذریعے جو بربادی بھی آپ تصور کرسکتے ہیں وہ ان پر چھا گئی لہٰذا بیان کی ضرورت نہیں۔
النجم 53:52
وانہ ............ تتماری (55) (35 : 05 تا 55) ” یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور ثمود کو ایسا تباہ کیا کہ اس میں سے کسی کو نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کہ وہ تھے ہی سخت ظالم اور سرکش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا کر پھینکا پھر چھا دیا ان پر وہ جو (تم جانتے ہو کہ) کیا چھا دیا۔ پس اے انسان اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا۔ “
یہ ایک سرسری نظر ہے جس میں ایک ایک امت پر مختصر نگاہ ڈالی جاتی ہے اور اس کے انجام کو دکھا کر انسانی شعور کو چن کی دی جاتی ہے کہ وہ بیدار ہو۔
عاد ، ثمود اور قوم نوح کو تو قرآن کے قاری جانتے ہیں اور کئی جگہ یہ قصص مذکور ہیں۔ موتفکہ کا لفظ افک بمعنی بہتان اور ضلالت سے ہے۔ ( وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں ، لوط کی قوم کی بستیاں تھیں۔ ) ان بستیوں کے بارے میں یہ کہ ان بستیوں پر چھا گیا جو چھا گیا اس میں عذاب کو زیادہ خوفناک اور عظیم دکھانے کے لئے نام نہیں لیا گیا یعنی بربادی ، آتش فشانی کے ذریعے جو بربادی بھی آپ تصور کرسکتے ہیں وہ ان پر چھا گئی لہٰذا بیان کی ضرورت نہیں۔
النجم 53:53
وانہ ............ تتماری (55) (35 : 05 تا 55) ” یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور ثمود کو ایسا تباہ کیا کہ اس میں سے کسی کو نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کہ وہ تھے ہی سخت ظالم اور سرکش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا کر پھینکا پھر چھا دیا ان پر وہ جو (تم جانتے ہو کہ) کیا چھا دیا۔ پس اے انسان اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا۔ “
یہ ایک سرسری نظر ہے جس میں ایک ایک امت پر مختصر نگاہ ڈالی جاتی ہے اور اس کے انجام کو دکھا کر انسانی شعور کو چن کی دی جاتی ہے کہ وہ بیدار ہو۔
عاد ، ثمود اور قوم نوح کو تو قرآن کے قاری جانتے ہیں اور کئی جگہ یہ قصص مذکور ہیں۔ موتفکہ کا لفظ افک بمعنی بہتان اور ضلالت سے ہے۔ ( وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں ، لوط کی قوم کی بستیاں تھیں۔ ) ان بستیوں کے بارے میں یہ کہ ان بستیوں پر چھا گیا جو چھا گیا اس میں عذاب کو زیادہ خوفناک اور عظیم دکھانے کے لئے نام نہیں لیا گیا یعنی بربادی ، آتش فشانی کے ذریعے جو بربادی بھی آپ تصور کرسکتے ہیں وہ ان پر چھا گئی لہٰذا بیان کی ضرورت نہیں۔
النجم 53:54
وانہ ............ تتماری (55) (35 : 05 تا 55) ” یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور ثمود کو ایسا تباہ کیا کہ اس میں سے کسی کو نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کہ وہ تھے ہی سخت ظالم اور سرکش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا کر پھینکا پھر چھا دیا ان پر وہ جو (تم جانتے ہو کہ) کیا چھا دیا۔ پس اے انسان اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا۔ “
یہ ایک سرسری نظر ہے جس میں ایک ایک امت پر مختصر نگاہ ڈالی جاتی ہے اور اس کے انجام کو دکھا کر انسانی شعور کو چن کی دی جاتی ہے کہ وہ بیدار ہو۔
عاد ، ثمود اور قوم نوح کو تو قرآن کے قاری جانتے ہیں اور کئی جگہ یہ قصص مذکور ہیں۔ موتفکہ کا لفظ افک بمعنی بہتان اور ضلالت سے ہے۔ ( وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں ، لوط کی قوم کی بستیاں تھیں۔ ) ان بستیوں کے بارے میں یہ کہ ان بستیوں پر چھا گیا جو چھا گیا اس میں عذاب کو زیادہ خوفناک اور عظیم دکھانے کے لئے نام نہیں لیا گیا یعنی بربادی ، آتش فشانی کے ذریعے جو بربادی بھی آپ تصور کرسکتے ہیں وہ ان پر چھا گئی لہٰذا بیان کی ضرورت نہیں۔
النجم 53:55
فبای ............ تتماری (35 : 55) ” اپنے رب کی کن نعمتوں میں تو شک کرے گا “ کیا یہ تباہیاں اللہ کے انعامات تھے ؟ تو یہ اللہ کا فضل وکرم تھا کہ اس نے شر اور برائی کو برباد کردیا۔ حق کو باطل پر گرایا اور اس کا بھیجا نکالا اور وہ ختم ہوگیا۔ کیا بعد میں آنے والوں کے لئے اس میں عبرت نہیں ؟ وہی فضل وکرم ہے اور اس میں شک نہیں ہے اور نہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ خطاب ہر شخص کو ہے ۔ ہر دل کو ہے۔ یہ اس شخص کے لئے جو اللہ کے کاموں پر غور کرتا ہے تو اسے مصیبتوں میں بھی اللہ کا فضل وکرم نظر آتا ہے۔
انفس وآفاق کے دلائل و شواہد گنوانے کے بعد اور انسانی تاریخ کے اہم عبرت آموز واقعات کی طرف سرسری اشارہ کرنے کے بعد آخری ضرب ، عقل وخرد کے ناروں پر ، آخری مضراب لیکن ذرا سخت گویا یہ ایک سخت پکار ہے ، چلا کر کہ خطرہ قریب ہے خبردار۔
النجم 53:56
ھذا نذیر ............ کاشفة (85) (35 : 65 تا 85) ” یہ تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبہیات میں سے۔ آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اس کو ہٹانے والا نہیں۔ “ یہ رسول جس کی رسالت اور جس کے ڈراوے میں تم شک کرتے ہو۔ یہ انہیں رسولوں میں سے ہے جنہوں نے اسی طرح اپنی اقوام کو ڈرایا اور یہ سخت مصیبت اور کھڑ کھڑا دینے والی گھڑی ہے یا وہ اس دنیا ہی کا کوئی عذاب ہے اور جس کو ٹالنا ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ ٹال دے۔
النجم 53:57
ھذا نذیر ............ کاشفة (85) (35 : 65 تا 85) ” یہ تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبہیات میں سے۔ آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اس کو ہٹانے والا نہیں۔ “ یہ رسول جس کی رسالت اور جس کے ڈراوے میں تم شک کرتے ہو۔ یہ انہیں رسولوں میں سے ہے جنہوں نے اسی طرح اپنی اقوام کو ڈرایا اور یہ سخت مصیبت اور کھڑ کھڑا دینے والی گھڑی ہے یا وہ اس دنیا ہی کا کوئی عذاب ہے اور جس کو ٹالنا ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ ٹال دے۔
النجم 53:58
لیس لھا ............ کاشفة (35 : 85) ” اللہ کے سوا اس کو کوئی ہٹانے والا نہیں ہے۔ “
تم پر تو خوفناک عذاب آنے والا ہے بہت قریب ہے۔ ڈرانے والے ناصح اور صادق وامین تمہیں ڈرا رہے ہیں۔ چیخ چیخ کر لیکن تم غفلت ہی میں آگے ہی جارہے ہو تمہیں اندازہ نہیں کہ مشکل وقت ہے تم باز نہیں آتے ہو۔
النجم 53:59
افمن ................ سمدون (16) (35 : 95 تا 16) ” اب کیا یہی باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔ “ یہ تو ایک سنجیدہ گفتگو ہے اور لوگوں پر عظیم فرائض عائد کرتی ہے اور یہ گفتگو ایک مکمل نظام حیات کی گفتگو ہے تو تمہیں اس پر تعجب کیا ہورہا ہے اور تم ہنستے کیوں ہو۔ یہ تو دو ٹوک سنجیدہ بات ہے اور جس کے یہ عظیم نتائج وذمہ داریاں ہیں۔ اس زمین پر لوگوں کی جو زندگی ہے اس پر ان کو جواب دینا ہے۔ تمہیں تو اس کی فکر کرنی چاہئے۔ ہنسنے کا مقام نہیں رونے کا مقام ہے۔ ایک ہولناک اور خوفناک موقع آنے والا ہے جہاں کرب عظیم ہوگا۔ اب ایک آخری چیخ۔ ایک پوری آواز سے پکار جو دلوں کو ہلا دیتی اور کانوں کو پھاڑ دیتی ہے کہ لوگو ، جہنم سے بچو ، تدارک کرو اپنے آپ کو بچاؤ۔
النجم 53:60
افمن ................ سمدون (16) (35 : 95 تا 16) ” اب کیا یہی باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔ “ یہ تو ایک سنجیدہ گفتگو ہے اور لوگوں پر عظیم فرائض عائد کرتی ہے اور یہ گفتگو ایک مکمل نظام حیات کی گفتگو ہے تو تمہیں اس پر تعجب کیا ہورہا ہے اور تم ہنستے کیوں ہو۔ یہ تو دو ٹوک سنجیدہ بات ہے اور جس کے یہ عظیم نتائج وذمہ داریاں ہیں۔ اس زمین پر لوگوں کی جو زندگی ہے اس پر ان کو جواب دینا ہے۔ تمہیں تو اس کی فکر کرنی چاہئے۔ ہنسنے کا مقام نہیں رونے کا مقام ہے۔ ایک ہولناک اور خوفناک موقع آنے والا ہے جہاں کرب عظیم ہوگا۔ اب ایک آخری چیخ۔ ایک پوری آواز سے پکار جو دلوں کو ہلا دیتی اور کانوں کو پھاڑ دیتی ہے کہ لوگو ، جہنم سے بچو ، تدارک کرو اپنے آپ کو بچاؤ۔
النجم 53:61
افمن ................ سمدون (16) (35 : 95 تا 16) ” اب کیا یہی باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔ “ یہ تو ایک سنجیدہ گفتگو ہے اور لوگوں پر عظیم فرائض عائد کرتی ہے اور یہ گفتگو ایک مکمل نظام حیات کی گفتگو ہے تو تمہیں اس پر تعجب کیا ہورہا ہے اور تم ہنستے کیوں ہو۔ یہ تو دو ٹوک سنجیدہ بات ہے اور جس کے یہ عظیم نتائج وذمہ داریاں ہیں۔ اس زمین پر لوگوں کی جو زندگی ہے اس پر ان کو جواب دینا ہے۔ تمہیں تو اس کی فکر کرنی چاہئے۔ ہنسنے کا مقام نہیں رونے کا مقام ہے۔ ایک ہولناک اور خوفناک موقع آنے والا ہے جہاں کرب عظیم ہوگا۔ اب ایک آخری چیخ۔ ایک پوری آواز سے پکار جو دلوں کو ہلا دیتی اور کانوں کو پھاڑ دیتی ہے کہ لوگو ، جہنم سے بچو ، تدارک کرو اپنے آپ کو بچاؤ۔
النجم 53:62
فاسجدواللہ واعبدوا (35 : 26) ع (السجدة) ” جھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ “ یوں اس انداز میں یہ بلند آواز دی جاتی ہے اور ایک طویل تمہید کے بعد یہ چیخ ہے جس سے دل دہل جاتے ہیں اور سخت سے سخت اعصاب کے اندر بھی ارتعاش پیدا ہوجاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کفار نے اس کو سن کر سجدہ کرلیا۔ سجدہ ریز ہوگئے حالانکہ وہ مشرک تھے۔ وہ وحی میں شک کرتے تھے۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ہر وقت وہ جھگڑتے رہتے تھے۔
انہوں نے ان حالات میں سجدہ کیا کہ وہ اس پوری سورت کے اندر خوفناک انجام کو سن چکے تھے۔ حضور اکرم ﷺ ایک پر سوز انداز میں تلاوت فرما رہے تھے۔ حرم میں مسلم اور مشرک سب بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے سجدہ کیا۔ مسلمانوں نے سجدہ کیا تو مشرکین بھی بےساختہ گر پڑے۔ وہ اس پر تاثیر کلام الٰہی کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکے۔ شیطان بھی ان کو روک نہ سکا۔ جب ان پر سے یہ اثر ختم ہوا تو وہ اس اثر کو بھی بھول گئے اور اس بات کو بھی بھول گئے کہ انہوں نے سجدہ کیا ہے۔
روایات تواتر ہیں کہ اس سورت کو سن کر مشرکین نے سجدہ کیا۔ اس کے بعد لوگوں نے اس واقعہ کی تاویل اور تجزیہ اپنے اپنے خیال کے مطابق کیا ہے حالانکہ یہ عجیب واقعہ نہ تھا۔ یہ تو قرآن مجید کی تاثیر کا ایک نمونہ تھا جس کے سامنے ایک بار تو سخت سے سخت دل بھی گھائل ہوجاتا ہے۔
یہ واقعہ جس کے بارے میں روایات تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں ، مشرکین مکہ کے سجدے کا واقعہ ہے۔ میں بھی سمجھتا تھا کہ اس پر تبصرہ ضروری ہے اور اس کا تجزیہ کرنا چاہئے لیکن اس کے بعد مجھے اس واقعہ کا ایک شعوری تجربہ بھی ہوا اور میں نے اپنے دل میں اس پر غور کیا اور مجھے معلوم ہوا کہ اس کا اصل سبب کیا تھا۔
اور میں نے اس سے قبل یہ ذیلی روایات پڑھ رکھی تھیں جو ” حدیث غرانیق “ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ حدیث ابن سعد نے طبقات میں ، ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں اور بعض مفسرین نے آیت 22 : 25 کی تفسیر میں نقل کی ہے۔
وما ارسلنا ............ حکیم (22 : 25) ” اے نبی تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول بھیجا ہے نہ نبی کہ جب اس نے تمنا کی شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح شیطان جو کچھ خلل اندازیاں کرتا ہے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور انہی آیات کو پختہ کردیتا ہے۔ اللہ علیم ہے اور حکیم ہے۔ “ ان روایات کے بارے میں علامہ ابن کثیر نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی روایت بھی سند صحیح کے ساتھ روایت نہیں ہوئی۔ ان میں سے مفصل ترین ، رسول اللہ پر افترا میں کمتریں اور خرافات میں کم سے کم آلودہ روایت ابن ابو خاتم کی روایت ہے۔ کہتے ہیں روایت بیان کی موسیٰ ابن الاموسیٰ کو فی نے ، محمد ابن اسحاق شیبی سے ، انہوں نے محمد ابن خلیج سے انہوں نے موسیٰ ابن عقیہ سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، وہ کہتے ہیں سورت النجم نازل ہوئی ۔ مشرکین ان دنوں کہتے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے الٰہوں کا تذکرہ اچھے الفاظ میں کردے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو تسلیم کرلیں لیکن یہ شخص اپنے دین کے دوسرے مخالفوں کا مثلاً یہود ونصاریٰ کا ذکر ان الفاظ میں نہیں کرتا جن میں یہ ہمارے الٰہوں کا ذکر کرتا ہے۔ ہمیں تو یہ سب وشتم کرتا ہے۔ یہ وہ دور تھا کہ حضور اکرم اور آپ کے ساتھیوں کو سخت اذیتیں دی جارہی تھیں اور آپ ان کو گمراہی کی وجہ سے نہایت ہی پریشان رہتے تھے۔ تو آپ یہ تمنا کرتے تھے کہ یہ لوگ ہدایت پر آجائیں۔ جب اللہ نے سورت النجم نازل کی اور اس میں یہ آیت آئی۔
افرایت ........ تولی (35 : 33) واعطی ........ اکدی (35 : 43) تو شیطان نے ان آیات سے متصلا بعد اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کردیئے۔
انھن ............ لتریحی ” اور بیشک یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی سفارش کی توقع کی جاتی ہے۔ “
یہ شیطان نے اپنی جانب سے سجع ملایا تھا۔ یہ الفاظ مکہ میں ہر مشرک نے سن لئے اور ان کے دل میں بیٹھ گئے اور اس کی وجہ سے ان کی زبانیں خاموش ہوگئیں اور انہوں نے ان الفاظ کے آنے پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیں دیں اور یہ کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ رجوع کرکے اپنے سابق دین پر آگیا ہے۔ جب رسول اللہ سورت کے آخر تک پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا اور محفل میں جو مسلم اور مشرک بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے سجدہ کرلیا۔ ولید ابن معتبرہ بوڑھا آدمی تھا۔ اس نے زمین سے مٹی اٹھائی اور اس پر سجدہ کردیا۔ دونوں فریقوں نے تعجب کیا کہ حضور کے ساتھ تمام لوگ کس طرح سجدہ ریز ہوگئے۔ مسلمانوں کو تعجب یوں ہوا کہ مشرکین نے سجدہ کرلیا حالانکہ وہ ایمان نہیں لائے تھے۔ بغیر ایمان وتصدیق کے سجدہ کرلیا۔ مسلمانوں نے وہ الفاظ نہ سنے تھے جو شیطان نے ادا کردیئے تھے اور جن کو مشرکین نے سن لیا تھا۔ تو مشرکین مطمئن ہوگئے کہ شیطان حضور کی تمنا میں یہ بات ڈال دی اور مشرکین کے کانوں میں یہ بات ڈال دی کہ یہ الفاظ حضور نے پڑھے ہیں تو انہوں نے اپنے الٰہوں کی تعظیم میں سجدہ کیا۔ یہ بات لوگوں کے اندر بہت ہی مشہور ہوگئی اور شیطان نے اسے یوں پھیلا دیا کہ حبشہ تک پہنچ گئی۔ جہاں بعض مومنین آباد تھے یعنی عثمان ابن مفعون اور ان کے ساتھی۔ ان کو بتایا گیا کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں اور انہوں نے رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور ان کو یہ بات بھی پہنچی کہ ولید ابن مغیرہ نے ہاتھ میں مٹی لے کر اس پر سجدہ کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ اب مکہ میں مسلمان پر امن ہیں چناچہ حبشی مہاجرین جلدی سے لوٹے۔ اس دوران اللہ نے اس شیطانی حرکت کے (اثرات) کو منسوخ کردیا تھا اور اپنی آیات کو محکم کردیا تھا اور افترا سے بچا لیا تھا اور اللہ نے فرمایا۔
وما ارسلنا من قبلک ........ جب اللہ نے اپنا فیصلہ دیا اور شیطانی سجع کو منسوخ کردیا تو مشرکین بھی اپنی گمراہی اور دشمنی کی طرف لوٹ گئے اور انہوں نے پھر از سر نو مسلمانوں پر تشدد شروع کردیا۔
بعض روایات ایسی ہیں جن میں مذکورہ بالا عبارت (غرالفیق) کو حضور اکرم کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور یہ وجہ بیان کی ہے کہ (نعوذ باللہ) حضور چاہتے تھے کہ کسی طرح لوگ مسلمان ہوجائیں اور قریش کے ساتھ کسی طرح مصالحت ہوجائے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے پڑھتے ہی ان روایات کا انکار کیا ہے کیونکہ ان کو تسلیم کرنے کے بعد عصمت انبیاء اور وحی کی حفاظت پر یقین نہیں رہ سکتا اور یہ روایات نہایت لغو ہیں اور قرآن مجید میں تحریف کے امکان کی راہ کھولتی ہیں لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خود سورت کی عبارت بھی ان الفاظ کے متحمل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے ان الفاظ کو شیطان کے الفاظ قرار دیا ہے وہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اس سورت کے الفاظ کے ساتھ ادا ہوئے ہوں اور مشرکین نے اس سے وہ تاثر لیا ہو جس کا ان روایات میں ذکر ہے کیونکہ مشرکین عرب تھے۔ وہ عربی زبان خوب سمجھتے تھے۔ جب انہوں نے (غرالفیق) والی عبارت سنی اور اس کے بعد پھر متصلا انہوں نے یہ آیت سنی۔ الکم ا ........ من سلطن (35 : 32) ” کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لئے ؟ یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئے۔ دراصل یہ کچھ نہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں کی۔ “ کیا وہ اس عبارت کا مفہوم بھی نہ سمجھے اور اس کے بعد انہوں نے سنا۔
ان الذین ............ الحق شیئا (35 : 82) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں حالن کہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے۔ وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ کام نہیں دے سکتا۔ “ اور اس سے قبل وہ یہ بھی سنتے ہیں۔
وکم ............ ویرضی (35 : 62) ” آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں ان کی شفاعت کچھ کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دیدے جس کے لئے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے “ یہ مشرکین جو عرب تھے اور کلام کو اچھی طرح سمجھتے تھے وہ کس طرح رسول اللہ کے ساتھ سجدہ کرسکتے تھے کیونکہ اس صورت میں تو یہ کلام درست ہی نہیں رہتا۔ ان کے بتوں کی تعریف اور یہ کہ ان کی شفاعت قبول ہوگی۔ یہ تو تسلیم شدہ ہی نہیں رہتی۔ وہ اس قدر غبی تو تھے نہیں جس طرح یہ لوگ غبی تھے جنہوں نے یہ روایات نقل کی ہیں یا تصنیف کی ہیں جن کو آج کل مستشرقین ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں یا جہالت کی وجہ سے مطلب براری کے لئے۔
جہاں تک مشرکین کے سجدے کی بات ہے تو یہ درست ہے اور یہ کسی اور وجہ سے ہوا ہوگا۔ اس طرح مہاجرین بھی حبشہ سے کسی اور وجہ سے لوٹے ہوں گے۔ یہاں ہم مہاجرین کی واپسی کی تحقیق تو نہیں کرسکتے کہ وہ واپس آئے اور پھر دوبارہ حبشہ کو چلے گئے۔ ہاں یہاں مشرکین کے سجدے کی بات ضروری ہے۔
میں ایک عرصہ تک غور کرتا رہا کہ مشرکین نے یہ بےساختہ سجدہ کیوں کیا۔ میرے ذہن میں ایک احتمال یہ آتا ہے کہ ایسا ہوا ہوگا۔ روایات میں آتا ہے کہ مہاجرین حبشہ دو یا تین ماہ کے بعد حبشہ سے واپس آگئے تھے۔ یہ بھی محتاج تو جیہہ فعل ہے۔ بہرحال میں اس نکتے پر غور ہی کررہا تھا کہ مجھے ایک شعور اور عملی تجربے سے گزرنا پڑا جس کی طرف اس سے قبل میں نے اشارہ بھی کیا ہے ۔
ایک دفعہ ہم بعض دوستوں کے ساتھ رات کو گھوم رہے تھے کہ ہم نے قریب ہی ایک قاری کی قرات سنی۔ یہ سورت نجم پڑھ رہا تھا۔ ہم خاموش ہوگئے اور قرآن مجید سننے لگے۔ قاری کی آواز بھی بہت ہی خوبصورت تھی اور اس کی قرات بھی بہت ہی اچھی تھی۔
میں اس قاری کے ساتھ چلتا رہا۔ میرا تصور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عالم بالا کی سیر کرتا رہا۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) کی ملاقات جو ان فرشتوں کی اصل صورت میں تھی۔ یہ تجربہ بھی حضور اکرم کے لئے عجیب ہوگا۔ پھر ہم سدرة المنتہیٰ اور جنت المادی کی طرف گئے میں اور اپنے خیال اور تخیل کے ساتھ جارہا ہوں اور قاری صاحب تلاوت کررہے ہیں۔ یہ میرا سفر جاری ہے جہاں تک میرا تصور ، میرا خیال اور میرا شعور میرا ساتھ دے رہا ہے۔
اس کے بعد میرے احساسات ان تصورات پر مرکوز ہوگئے جو مشرکین فرشتوں کے بارے میں رکھتے تھے۔ ان کی بندگی ، ان کا خدا کی اولاد ہونا ، ان کی مونث ہونا پھر نطفے سے انسان کی تخلیق کا منظر ، ماؤں کے پیٹوں میں جنین کے مناظر اور اللہ کے علم کا احاطہ کا تصور جس قدر میرے لئے ممکن تھا۔
پھر آخری پیراگراف پڑھا گیا اور مجھ پر اثرات پے درپے تھے کہ وہ جہاں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے ایک وسیع کائنات ہے ، پھر حساب و کتاب کے مناظر ، پھر یہ منظر کہ انسان جو راہ بھی لے اس کی انتہا پر اللہ سے ملاقات ہوگی۔ اس کے بعد اس جہاں میں ہر طرف رونے والے روتے ہیں اور ساتھ ہی ہنسنے والے ہنستے ہیں۔ اربوں مخلوق زندہ ہوتی ہے تو اربوں فنا ہوتی ہے اور نطفہ یعنی مائیکرو سکوپی نقطہ کہاں سے چلتا ہے اور سفر کرتے کرتے کس طرح مذکر اور مونث کی شکل اختیار کرکے ایک قوی ہیکل انسان بن جاتا ہے پھر میرا خیال ان بستیوں میں جاتا ہے جو ہلاک کردی گئیں جو اٹھا دی گئیں اور ان پر ویرانی چھا جاتی ہے یا جو کچھ چھا جاتا ہے۔
اور پھر قاری آخری پکار تلاوت کرتا ہے۔
ھذا نذیر ............ کاشفة (35 : 85) ” یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے۔ آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اس کا ہٹانے والا نہیں ہے۔ “
اور اس کے بعد آخری آواز آتی ہے اور میرا پورا بدن کانپ اٹھتا ہے اس خوفناک لاجوابی کے بعد
افمن ھذا ............ سمدون (35 : 16) ” کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ؟ ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔ “
اور آخر میں جب میں نے قاری صاحب سے نا۔
فاسجدو اللہ واعبدو (35 : 26) (السجدة تلاوت) ” جھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ۔ “ تو میرا دل کانپ اٹھا ۔ میرے اعصاب جواب دے گئے اور میری حالت ایسی ہوگئی کہ میں جسمانی اعتبار سے نڈھال ہوگیا اور میرے اوپر کپکپی طاری ہوگئی اور میرے لئے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور باوجود کوشش کے میں آنسو روک نہ سکا۔
اس وقت مجھے یقین ہوگیا کہ مشرکین مکہ نے جو بےساختہ سجدہ کیا وہ مجبور تھے کہ ایسا کریں۔ اور اس کا سبب قرآن مجید کا وہ اثر ہے جو ہر شخص پر ہوتا ہے اور کوئی شخص اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور اس سورت کے اندر جو لفظی ترنم ہے اور جو معنوی سحر آفرینی ہے وہ جسم کے اندر زلزلہ پیدا کردیتی ہے۔
یہ پہلی بار نہ تھا کہ میں نے سورت نجم سنی ہو یا پڑھی ہو لیکن اس بار مجھ پر اس کا یہ اثر ہوا میرے اندر اس قدر رد عمل پیدا ہوا یہ ہے قرآن مجید کا راز۔ اس کے رد عمل میں کچھ لمحات ہوتے ہیں کہ ایک آیت یا سورت انسان سنتا ہے تو وہ فوراً لبیک کہتا ہے۔ یہ لمحات انتظار کرنے سے نہیں ملتے۔ کچھ لمحات ہوتے ہیں جن میں انسان قوت کے اصل سرچشمے سے مل جاتا ہے او اس وقت اس پر اثر ہوتا ہے اور وہ کیا سے کیا بن جاتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس دن سامعین قرآن کو اس قسم کے لمحات نصیب ہوگئے تھے۔ پھر پڑھنے والے حضرت محمد ﷺ تھے۔ آپ نہایت گہرے خلوص سے پڑھتے تھے۔ آپ کی ذات ان حالات کے اندر خود شریک تھی جو اس سورت میں بیان ہوئیں۔ آپ کی ذات ، آپ کی تلاوت اور آپ کا خلوص اس کے اندر گھل مل گیا تھا۔ ان سب چیزوں کے اثر میں سامعین کے اعصاب جواب دے گئے اور ورہ سجدہ ریز ہوگئے اور جب آپ نے پڑھا۔
فاسجدو اللہ واعبدوا (35 : 26) (السجدة تلاوت) تو بےساختہ سب سجدے میں گر گئے۔ آپ بھی گر گئے ، مسلمان بھی گر گئے اور کفار بھی گر گئے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ تم اپنا تجربہ اور اپنی واردات کو بیان کررہے اور تم تو مسلمان ہو۔ تم اس قرآن پر ایمان رکھتے ہو اور تمہارے دل میں قرآن کا ایک مقام واثر ہے۔ یہ مشرکین تو سرے سے مومن ہی نہ تھے اور قرآن کے منکر تھے تو انہوں نے کس طرح سجدہ کرلیا۔
لیکن دو باتیں ایسی ہیں جن سے یہ شبہ دور ہوجاتا ہے ایک تو یہ کہ سورت کی تلاوت حضرت محمد ﷺ خود فرما رہے تھے جنہوں نے اس قرآن کو براہ راست اس کے سرچشمے سے لیا تھا اور آپ کی زندگی قرآن سے عبارت تھی اور آپ کو قرآن کے ساتھ اس قدر لگاؤ تھا کہ اگر آپ کسی گھر سے قرآن کی آواز سنتے تو آپ کے قدم بوجھل ہوجاتے اور آپ سننے لگتے۔ اپنے گھر میں بھی اگر وہ سنتے تو درازے میں کھڑے ہوجاتے اور اندر تب جاتے جب تلاوت ختم ہوتی اور پھر اس سورت میں تو آپ کے وہ لمحات ذکر ہوئے جو آپ نے عالم بالا میں گزارے۔ روح الامین کے ساتھ گزارے اور آپ نے انہیں اپنی اصلی صورت میں دیکھا جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ایک قاری سے سن رہا تھا۔ اس لئے دونوں میں بہت بڑافرق ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ان مشرکین کے دل قرآن کے عظیم تاثیرات سے کس طرح بچ سکتے تھے جبکہ وہ براہ راست حضرت محمد ﷺ سے سن رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ خدا کا کلام ہے البتہ وہ محض عناد میں مبتلا تھے اور یہ ضد اور عناد بھی مصنوعی تھے۔ آنے والے دو واقعات یہ بتائیں گے کہ وہ حضرت محمد ﷺ سے بہت ہی متاثر تھے۔ آپ کی روحانی اور اخلاقی قوتوں کے معترف تھے اس لئے ان کا متاثر ہوکر سجدے میں گر جانا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔
ابن عساکر نے عتبہ ابن ابواب کے حالات زندگی میں لکھا ہے محمد ابن اسحاق سے ، انہوں نے عثمان ابن عروہ سے ، انہوں نے ابن الزبیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ہنادبن الاسود سے وہ کہتے ہیں ابولہب اور اس کے بیٹے عتبہ شام جانے کے لئے تیار ہوئے۔ میں نے بھی ان کے ساتھ تیاری کی۔ ان کے بیٹے عتبہ نے کہا خدا کی قسم میں محمد ﷺ کے پاس جاؤں گا اور اس کو اس کے رب کے بارے میں اذیت دوں گا۔ یہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد ﷺ ” میں اس شخص کو تسلیم نہیں کرتا جو قریب ہوا اور لٹکا یہاں تک وہ دو کمانوں کے برابر تھا یا قریب تھا۔ “ تو نبی ﷺ نے فرمایا ” اے اللہ اس پر اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو مسلط فرمادے “ عتبہ واپس ہوا۔ باپ نے پوچھا کہ بیٹے تم نے اسے کیا کہا۔ اس نے واقعہ دہرایا تو اس نے پھر پوچھا کہ اس نے تمہیں کیا جواب دیا۔ تو اس نے بتایا کہ انہوں نے یہ بددعا کی کہ اے اللہ اس پر اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو مسلطً کردے تو ابولہب نے کہا بیٹا خدا کی قسم میں اس کی بددعا کے بارے میں تم سے بےفکر نہیں۔ بہرحال ہم چلے یہاں تک کہ ہم ابراہ میں اترے۔ یہ سدہ میں ہے۔ ہم ایک راہب کے گرجے میں جا کر اترے۔ اس نے کہا اہل عرب تم اس راستے سے کیوں آگئے ہو یہاں تو شیر اس طرح پھرتے ہیں جس طرح بھیڑ بکریاں پھرتی ہیں۔ ابو لہب نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو میں بوڑھا ہوں اور میرا تم پر حق ہے اور اس شخص نے میرے بیٹے کے بارے میں اللہ کے ہاں بددعا کی ہے۔ میں اس سے بہت ڈرتا ہوں لہٰذا اپنے سامان کو اس گرجے میں جمع کرو اور میرے بیٹے کو سامان کے اوپر سلادو اور اس کے بعد سامان کے ارد گرد تم سوجاؤ۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ رات کو ایک شیر آیا۔ اس نے ہمارے منہ سونگھے۔ اس کو ایک شکار نہ ملا۔ یہ شیر چھلانگ لگا کر سامان کے اوپر چڑھ گیا۔ عتبہ کا منہ سونگھا اس کے بعد اسے خوب دبوچا۔ خوب دبوچا اور اس کے بعد اس کا سر پھوڑ دیا۔ ابولہب نے کہا میں نے بھی کہا تھا کہ یہ محمد ﷺ کی بددعا سے بچ نہیں سکتا۔
یہ واقعہ تو ابولہب کے ساتھ ہوا۔ کے ساتھ ہوا ، جو آپ کے شدید ترین مخالفین میں سے تھا اور مخالف ہی نہیں بلکہ مخالفین کا سرخیل تھا۔ آپ کے خلاف لوگوں کو جمع کرتا تھا۔ اور قرآن کریم میں بھی اس کے خلاف بددعا قیامت تک ثبت کردی گئی ہے۔
تبت یدا ........ مسد (5) (111 : 1 تا 5) ” ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے اور نامراد ہوگیا وہ ۔ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا۔ ضرور وہ شعلہ بار آگ میں ڈالا جائے گا اور اس کی جرو بھی لگائی بجھائی کرنے والی ، اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی “ اور یہ تھا اس کا حقیقی شعور محمد ﷺ کے بارے میں اور حضرت محمد ﷺ کی بددعا سے وہ کس قدر کانپ گیا تھا اور اسے اپنے بیٹے کے بچنے کی کوئی امید نہ رہی تھی۔
دوسرا واقعہ عتبہ ابن ابوربیعہ کا ہے اس کو قریش نے حضرت محمد ﷺ کے ہاں بھیجا کہ آپ سے بات کرے کہ اس تحریک سے باز آجائیں جس نے قریش کے اندر تفریق ڈال دی ہے اور آپ ان کے الٰہوں پر تنقید کرتے ہیں۔ قریش اس کے لئے تیار ہیں کہ اگر آپ سربراہی چاہیں ، مال چاہیں ، عورتیں چاہیں ، آپ کو دے دیں۔ جب عتبہ ابن ابو ربیعہ نے بات ختم کردی تو حضور ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تمہاری بات ختم ہوگئی تو اس نے کہا ہاں ختم ہوگئی تو حضور نے کہا پھر میری بات سنو ، تو اس نے کہا اچھا کرو تو آپ نے سورت تلاوت کی :۔
حم ........ یسمعون (14 : 4) ” یہ خدائے رحمان ورحیم کی طرف سے نازل کردہ ایسی کتاب ہے جس کی آیت خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے جو علم رکھتے ہیں بشارت دینے والی اور ڈرانے والی مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے مروگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “ آپ پڑھتے گئے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا۔
فان ............ وثمود (14 : 31) ” اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اس طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد وثمود پر نازل ہوا۔ “ اسی مقام پر عتبہ اٹھا اور حضور کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ بہت خوفزدہ ہوگیا اور حضرت نبی ﷺ سے درخواست کی کہ اپنے بھائیوں پر رحم کرو۔ یہ قریش کے پاس واپس ہوا اور ان کے سامنے یہ پورا واقعہ بیان کیا اور ان سے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ محمد ﷺ جو بات کہتا ہے وہ جھوٹ نہیں بولتا۔ اس لئے میں ڈر گیا تھا کہ تم پر عذاب نہ آجائے۔
یہ اس شخص کا حال تھا جس نے اسلام قبول نہ کیا تھا۔ اس کا خوف اور تاثر ظاہر ہے باوجود اس کے کہ یہ لوگ سخت ہٹ دھرمی اور ضد میں انکار پر تلے ہوئے تھے۔
یہی صورت اس وقت پیش آئی جب ان لوگوں نے حضرت محمد ﷺ کے منہ مبارک سے جب سورت نجم سنی تو وہ اس قدر متاثر ہوئے اور ایسے حال میں مبتلا ہوئے کہ وہ رک نہ سکے اور حضور ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ سجدہ ریز ہوگئے کیونکہ بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں کہ قرآن کا انسان پر زبردست اثر ہوتا ہے تو انہوں نے بےساختہ سجدہ کرلیا۔ اس میں نہ کوئی عرانیق کی بات تھی اور نہ کوئی اور بات تھی مثلاً شیطان کی دخل اندازی کی اور جو روایات بھی اس سلسلے میں ہیں وہ سب خود ساختہ ہیں۔
القمر 54:1
یہ ایک خوبصورت اور آنکھیں چندھیا دینے والا منظر ہے جس میں ایک عظیم کائناتی حادثہ دکھایا گیا ہے اور یہ اس سے بھی عظیم تر حادثہ کی تمہید ہے۔
اقتربت…………القمر (54: 1) ” قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند ٹکڑے ہوگیا “ امام بخاری نے روایت کی عبداللہ ابن عبدالوہاب سے انہوں نے بشر ابن مفضل سعید ابن ابوعروہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس ابن مالک سے وہ کہتے ہیں ” اہل مکہ نے رسول ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ تو آپ نے ان کو دکھایا کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور دونوں کے درمیان حرا تھا۔ “ اس روایت کو بخاری اور مسلم نے دوسری اسناد سے بھی قتادہ اور حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے حضرت جبیر بن مطعم کی روایت امام احمد نے محمد ابن کثیر سے کی ہے۔ انہوں نے سلیمان ابن کثیر سے انہوں نے حصین ابن عبدالرحمن سے ، انہوں نے محمد ابن جیرابن مطعم سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت جبیر بن مطعم سے۔ وہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر نظر آتا تھا اور دوسرا اس پہاڑ پر تو کفار نے کہا محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ اگر اس نے ہم پر جادو کیا ہے تو یہ دنیا کے سب انسانوں پر تو جادو نہیں کرسکتا۔ یہ روایت اس طریقے سے صرف امام احمد ہی نے کی ہے۔ امام بیہقی نے اپنی کتاب الدلائل میں بواسطہ محمد ابن کثیر ، اس کے بھائی سلیمان ابن کثیر سے ، اور انہوں نے حصین ابن عبدالرحمان سے روایت کی ہے اور ابن جریر اور بیہقی نے دوسرے طریقوں اور سندوں کے ساتھ حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے نقل کی ہے۔
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت امام بخاری نے روایت کی۔ یحییٰ ابن کثیر سے انہوں نے بکر سے ، انہوں نے جعفر سے ، انہوں نے عراک ابن مالک سے ، انہوں نے عبید اللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے وہ کہتے ہیں حضور اکرم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ “ امام بخاری نے اور امام مسلم نے ایک سابقہ سند کے ذریعہ بواسطہ عراک ابن عباس سے روایت کی اور امام ابن جریر نے ایک دوسری سند سے بواسطہ علی ابن ابو طلحہ ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی۔ یہ اس طرح ہوا کہ ہجرت سے قبل چاند پھٹ گیا یہاں تک کہ لوگوں نے دیکھا کہ وہ دو ٹکڑے ہے۔ عوفی نے بھی حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح نقل کیا۔ طبرانی نے ایک دوسری سند سے بواسطہ مکرمہ ، حضرت ابن عباس ؓ روایت کی۔ انہوں نے فرمایا رسول اللہ کے زمانے میں چاند تاریک ہوگیا تھا۔ “ تو اہل مکہ نے کہا…. محمد ﷺ نے چاند پر بھی جادو کردیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اقتربت…………مستمر (54: 2) حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت۔ حافظ ابوبکر بیہقی کہتے ہیں ابوعبداللہ الحافظ اور احمد ابن الحسن قاضی نے جروی سے روایت کی دونوں نے ، ابو العباس اصم سے ، انہوں نے عباس ابن محمد دوری سے ، انہوں نے وھب ابن جریرے انہوں نے شعبہ سے ، انہوں نے اعمش سے ، انہوں نے مجاہد سے ، اور انہوں نے عبداللہ ابن عمر ؓ سے ، اس آیت کی تفسیر میں۔
اقتربت…………القمر (54: 1) کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ کے زمانے میں ہوا تھا۔ یہ دو ٹکڑے ہوا تھا ایک پہاڑ سے پیچھے تھا اور ایک آگے تھا۔ “ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا۔
اللھم اشھد (اے اللہ…. گواہ رہنا) اس طرح اس روایت کو مسلم اور ترمذی نے شعبہ سے انہوں نے اعمش سے اور انہوں نے مجاہد سے نقل کیا ہے ۔
عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت امام احمد فرماتے ہیں۔ روایت کی سفیان ابن ابونحبیح نے ، مجاہد سے ، انہوں نے ابو معمر سے ، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے وہ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ کفار نے اچھی طرح اسے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اشہدوا (گواہ رہو) امام بخاری اور امام مسلم نے سفیان ابن عینیہ سے یہی روایت کی ہے اور انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے ابو معمر عبداللہ ابن سخیرہ سے ، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے ، امام بخاری کہتے ہیں کہ امام ابو داؤد طیالسی نے یہ روایت کی ، ابوعوانہ سے انہوں نے مغیرہ سے انہوں نے ابو الضحی سے ، انہوں نے مسروق سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ قریش نے کہا یہ ابن ابو کبثہ کا جادو ہے۔ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا دیکھو جو لوگ سفر پر ہیں وہ آجائیں کیونکہ محمد ﷺ پوری دنیا کے لوگوں پر تو جادو نہیں کرسکتا چناچہ اس کے بعد جو سفر پر تھے وہ آئے اور انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ امام بیہقی نے دوسرے طریقوں سے بھی اسے روایت کیا ہے مسروق سے ، انہوں نے عبداللہ ابن مسعود سے ، مفہوم اسی سے ملتا جلتا ہے۔
یہ ہیں متواتر روایات مختلف اسناد اور طریق سے کہ یہ واقعہ ہوا اور مکہ میں اس کی جگہ بھی بتادی گئی۔ ماسوائے ایک روایت کے جس میں منبی کا ذکر ہے باقی روایات مکہ کے بارے میں ہیں۔ حضور کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا اور ہجرت سے قبل پیش آیا۔ اکثر روایات میں آتا ہے کہ یہ دو ٹکڑے ہوگیا اور یہ ایک روایت میں آتا ہے کہ یہ چاند گرہن ہوگیا تھا۔ بہرحال واقعہ جو بھی ہو روایات سے ثابت ہے اور روایات زمان ومکان کی تحدید بھی کرتی ہیں اور شق قمر کی ہیئت کا تعین بھی کرتی ہیں۔
یہ ایسا واقعہ تھا کہ قرآن کریم نے اسے بطور دلیل قیامت مشرکین کے سامنے پیش کیا۔ کوئی ایسی روایت مشرکین سے منقول نہیں ہے کہ انہوں نے نفس واقعہ کا انکار کیا ہو۔ لہٰذا یہ واعقہ اسی طرح ہوا ہوگا اور اس قدر لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ ان کے لئے نفس واقعہ کو جھٹلانا ممکن نہ رہا ہوگا۔ اگرچہ بطور کبر اور غرور ہو۔ اگر ان کے لئے اس کی تکذیب کی کوئی بھی صورت ہوتی تو وہ ضرور کرتے۔ کفار سے جو روایات اور تبصرے منقول ہیں وہ یہ ہیں کہ محمد ﷺ نے جادو کردیا ہے لیکن خود ان میں سے دانشمند لوگوں نے کہا۔ ذرا تحقیق کرو اور مسافروں سے تحقیق کرنے کے بعد ان کو معلوم ہوگیا کہ یہ جھوٹ نہیں ہے کیونکہ اگر اہل مکہ کو محمد ﷺ مسحور کرسکتے تو وہ پوری دنیا کو تو مسحور نہیں کرسکتے اور جب انہوں نے مسافروں سے پوچھا جو مکہ کے باہر سے آئے تھے تو انہوں نے بھی تصدیق کی۔
اب بات یہ رہ گئی کہ آیا مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں شق قمر کا معجزہ رونما ہوگیا۔ یہ روایت دراصل قرآن کی نص صریح سے متصادم ہے۔ مدلول یہ ہے کہ نبی ﷺ کو ویسے معجزات نہیں دیئے گئے جس طرح انبیائے سابق کو دیئے گئے تھے اور اس کا ایک متعین اور خاص سبب تھا۔
وما …………الاولون ” اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ ان سے پہلے کے لوگ انہیں جھٹلا چکے ہیں “ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ حضور کو وہ معجزات نہیں دیئے گئے جن کا مطالبہ ہوا تھا۔
کفار نے جب بھی حضور ﷺ سے معجزات کا مطالبہ کیا ہے تو جواب یہی دیا گیا کہ معجزات پیش کرنا آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہے اور یہ کہ محمد ﷺ تو ایک بشر اور رسول ہیں اور ہر جگہ صرف قرآن کریم ہی کو آپ کے لئے معجزہ قرار دیا گیا اور اسی جیسی کوئی سورت یا کتاب لانے کا چیلنج دیا گیا۔
قل لئن……………. رسولا (39) (71 : 88 تا 39) ” کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر لوگ انکار ہی پر جمے رہے اور انہوں نے کہا ” ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ نہ جاری کردے یا تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا قاغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کردے یا تو آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرادے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے یا خدا اور فرشتوں کو رودررو ہمارے سامنے لے آئے یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور تیرے جڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں۔ “ اے نبی ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں “ لہٰذا یہ کہنا کہ شق قمر کا معجزہ کفار کے مطالبہ کے جواب میں آیا تھا ، قرآن مجید کی متعدد نصوص کے بھی خلاف ہے اور اس رجحان کے بھی خلاف ہے کہ اس دنیا میں آخری رسالت انسانیت کے سامنے صرف قرآن پیش کرے اور یہ کہ قرآن کا اعجاز ہی اس کا معجزہ ہو اور قرآن کے ذریعہ انسان کے دل و دماغ کو ان آیات ومعجزات کی طرف متوجہ کیا جائے جو انفس میں موجود ہیں جو آفاق میں بکثرت موجود ہیں اور جو انسانی تاریخ میں بکثرت ہیں اور سخت عبرت آموز بھی ہیں۔ باقی نبی ﷺ کے ہاتھ پر جو معجزات صادر ہوئے اور جن کی تصدیق صحیح روایات نے کی ہے تو وہ بطور اعزاز نبی ﷺ کو دیئے گئے بطور دلائل نبوت نہیں دیئے گئے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ معجزہ شق قمر صادر ہوا۔ نص قرآنی نے اس کی تصدیق کی ہے۔ روایات متواترہ میں اس کی تصدیق ہوئی اور جس جگہ اور جس زمانے میں صادر ہوا اس کا بھی تعین ہوگیا اور جس انداز میں ہوا اس کی تفصیلات بھی موجود ہیں لیکن جن روایات میں اس کی علت بیان کی گئی ہے اس کے بارے میں ہم خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ بس یہی کہتے ہیں کہ شق قمر دلالت کرتا ہے قرب قیامت پر اور اسی میں ہمارے لئے عبرت ہے کہ ہم چوکنے ہوجائیں۔ جاگیں اور اس کی تیاری کریں اس عظیم گھڑی کی۔ لہٰذا شق قمر ایک کائناتی معجزہ تھا اور قرآن نے انسانوں کو اس کی طرف متوجہ کیا ہے جس طرح قرآن مجید دوسرے تکوینی معجزات کی طرف متوجہ کرتا ہے اور جس طرح دوسرے معجزات کے مقابلے میں ان کا رویہ قابل تعجب ہے۔ اسی طرح اس معجزے سے بھی انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔
خارق عادت معجزات ، انسانیت کے ابتدائی دور ہیں۔ بیشک انسانوں کو متاثر کرتے تھے جس دور میں انسانیت نے اس قدر علمی ترقی نہ کی تھی کہ وہ اس کائنات میں قائم اور بکھرے ہوئے معجزات کو سمجھ سکیں اور ان سے متاثر ہوں۔ گزرے ہوئے نبیوں کے ہاتھوں جن معجزات کا صدور ہوا اور انسانیت ان سے متاثر ہوئی تو یہ اس دور کی بات ہے جب انسانیت عقلی بلوغ کے درجے کہ نہ پہنچی تھی لیکن آج اس کائنات میں ایسے ایسے معجزات انسانیت کو معلوم ہوچکے ہیں جو ان معجزات سے بڑے معجزات ہیں۔ اگر چہان لوگوں کو وہ متاثر نہیں کرتے جو وہی ابلدائی احساسات رکھتے ہیں اور جو عقلی بلوغ کے درجے تک نہیں پہنچے۔
فرض کیجئے کہ چاند کا دو ٹکڑے ہونا معجزہ تھا تو چاند بذات خود بھی تو ایک معجزہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے اس حجم ، موجودہ وضع ، شکل ، طبیعت ، گردش کی منازل ، دورے ، اس کے آثار ، زمین کی زندگی پر اس کے اثرات اور فضا میں اس کا اس طرح تیرنا بغیر کسی سہارے کے کیا یہ ایک عظیم معجزہ نہیں ہے جو ہر وقت قائم اور دائم اور ہمارے مشاہدے میں ہے اور ہم اس کے بارے میں ہر وقت سوچ سکتے ہیں۔ اس سے اثر لیتے ہیں۔ کیا قدرت الٰہیہ پر اس سے بڑی اور کوئی دلیل چاہئے۔ کون ہے جو نفس چاند کے معجزے سے انکار کرسکتا ہے۔ ماسوائے اس شخص کے جو ہٹ دھرم اور ضدی ہو۔
قرآن نے تو انسان کو اس کائنات کے سامنے کھڑا کردیا اور یہ مشاہدہ کرایا کہ اس کائنات کے اندر عظیم معجزات ہر وقت قائم اور دائم ہیں۔ قرآن انسان کو ان معجزات کے ساتھ دائما جوڑنا چاہتا ہے۔ یہ نہیں کہ شق قمر کی طرح کوئی چیز ہزارہا سال میں ایک بار دکھا دی جائے اور اس کو بھی ایک ہی زمانے کے لوگ دیکھ لیں۔ قرآن کہتا ہے کہ دیکھو اس کائنات کو اگر دیدہ عبرت نگاہ رکھتے ہو۔
یہ پوری کائنات معجزات کا ایک منظر نامہ ہے۔ جو آنکھوں کے سامنے رہتا ہے غائب نہیں ہوتا اور یہ سب معجزے دیکھو اور دیکھتے چلے جاؤ۔ اس میں چھوٹے معجزات بھی ہیں اور بڑے بھی اور یہ معجزات شہادت دے رہے ہیں۔ ان کی شہادت سنو۔ یہ عجیب شہادت ہے اسے ریکارڈ کرو۔ یہ نہایت ہی خوبصورت شہادت ہے اس میں جمال بھی ہے اور کمال بھی ہے اور یہ تو انسان کو نہ صرف یہ کہ فیصلے پر پہنچاتی ہے بلکہ دہشت زدہ اور ششدر کردیتی ہے اور اس کے نتیجے میں بہت ہی پختہ ایمان پیدا ہوتا ہے۔ نہایت گہرا اور سنجیدہ۔
اس سورت کے آغاز میں یہ اشارہ آتا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا ہے جس سے انسان پر گہرا اثر پڑتا ہے کیونکہ قیام قیامت اور چاند کا ٹکڑے ہونا بہت ہی بڑے واقعات ہیں۔ قرآن بتاتا ہے کہ تم نے یہ ایک عظیم حادثہ تو دیکھ ہی لیا ہے اسی طرح قیام قیامت بھی ہوگا۔
شق قمر کے بعد صرف قیامت کے بارے میں امام احمد نے روایت کی ہے حسین سے ، انہوں نے محمد ابن مطوف سے ، انہوں نے ابو حازم سے ، اور انہوں نے حضرت سہیل ابن سعد سے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ” میں اور قیامت اس طرح ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ “ آپ نے درمیان انگلی اور سبابہ کو جوڑ کر اشاہ کیا (متفق علیہ)
باوجود اس حقیقت کہ قیامت کی گھڑی قریب آلگی ہے اور نہایت ہی اثر انگیز واقعہ بھی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اور مختلف شکلوں میں انہوں نے اللہ کی نشانیاں بھی دیکھ لی ہیں لیکن ان لوگوں کے دلوں میں عناد کوٹ کوٹ بھرا ہوا تھا۔ وہ گمراہی کی راہ پر اصرار کررہے تھے۔ وہ ڈراوے سے متاثر ہوتے تھے اور نہ اس کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں سے متاثر ہوتے تھے جو نصیحت کے لئے کافی ہیں اور انسان کو جھٹلانے سے روک سکتی ہیں لیکن ان لوگوں نے ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔
القمر 54:2
وان یروا ............ تغن النذر (54:2) ” مگر ان کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ، منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ انہوں نے جھٹلادیا اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی۔ ہر معاملے کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔ ان لوگوں کے سامنے وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لئے کافی سامان عبرت ہے اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات ان پر کارگر نہیں ہوتیں “
شق قمر کو بھی دیکھ کر انہوں نے اعراض کرلیا اور انہوں نے شق قمر کے بارے میں بھی وہی بات کہی جو قرآن کی آیات کے سارے میں کہتے تھے کہ یہ نہایت ہی موثر جادو ہے۔ ایک نشانی تو وہ کہتے ہیں جادو ہے اور مسلسل نشانیوں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلسل جادو ہے جس کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ یہ لوگ نشانات الٰہیہ پر غور کرنے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ وہ نشانیوں کی دلالت اور شہادت سے بھی منہ موڑتے ہیں۔ یہ انکار وہ محض خواہش نفس سے مجبور ہوکر کرتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ ان کے پاس کوئی حجت ہے یا اسلام کے حق میں حجت نہیں کہ انہوں نے اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات پر غور کرلیا ہے۔
القمر 54:3
وکل امر مستقر (54: 3) ” ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے “ اس عظیم کائنات میں ہر چیز اپنے مقام پر رکھی ہوتی ہے اور وہ اپنی جگہ پر پختہ ہے۔ نہ ہلتی ہے اور نہ اس کے اندر اضطراب ہے۔ اس کائنات کا ہر معاملہ ثبات وقرار پر مبنی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بدلتی ہوئی خواہشات کے مطابق اصول بھی بدلتے ہیں اور بادشاہوں کی ھنازک مزاجیوں کی طرح اصول اور قوانین بھی بدل جاتے ہیں۔ یوں بھی نہیں ہے کہ یہاں معاملات بخت واتفاق کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ ہر چیز اپنی جگہ اور اپنے زمان اور وقت پر رونما ہوتی ہے۔ انسان کو دیکھنا چاہئے کہ اس کے ماحول میں زمان ومکان میں ، واقعات وحادثات میں ایک ترتیب ہے اور یہ ترتیب اور اصول ہر چیز میں نظر آتا ہے۔ آسمانوں کی گردش میں ، زندگی کے طریقوں میں ، حیوانات اور نباتات کے بڑھنے میں ، تمام اشیاء اور مواد میں بلکہ خود ان کے جسم کے وظائف وفرائض میں ان کے اعضا کی کارکردگی میں ایک ترتیب ہے اور ان کو ان چیزوں پر کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہے۔ یہ قیامت وقرار ان کو گھیرے ہوئے ہے اور ان کے گرد تمام اشیاء کو بھی اپنے لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور ان کے آگے اور پیچھے ہر طرف نظر آتا ہے ، صرف یہ انسان ہیں کہ یہ مضطرب ہیں اور اپنی خواہشات کے مطابق کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی ادھر۔
القمر 54:4
ولقد ............ مزدجر (54:4) ” ان لوگوں کے سامنے وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لئے کافی سامان عبرت ہے۔ “ ان کے پاس اس کائنات کی آیات کے بارے میں قرآن نے کافی خبریں پھیر پھیر کر بیان کی ہیں۔ ان کے پاس اہم سابقہ کے مکذبین کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ ان کے پاس مناظر قیامت کی شکل میں آخرت کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ ان سب امور میں عبرت آموزی ، رکاوٹ ، خطرے کی علامات موجود ہیں اور ان کے اندر ایسی حکیمانہ باتیں بھی ہیں جو سیدھی دل میں اترنے والی ہیں اور اچھی ہدایات ہیں لیکن جو دل اندھے ہوچکے ہیں وہ آیات کو نہیں دیکھ پاتے اور ان خبروں سے فائدہ نہیں اٹھائے نہ خبروں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ ڈراوے سے وہ ڈرتے ہیں۔
القمر 54:5
حکمة ........ النذر (54:5) ” اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات ان پر کارگر نہیں ہوتیں۔ “ ایمان ہی وہ نعمت ہے جس کی وجہ سے قلب انسانی ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
ان کی روگردانی اور کفر پر اصرار کی اس قدر تصویر کشی کرنے کے بعد اور یہ بتا دینے کے بعد کہ یہ خبروں سے بھی مستفید نہیں ہوتے ان کے لئے ڈراوے میں بھی فائدہ نہیں۔ رسول ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ بھی ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ وہ دن جلدی ہی آنے والا ہے شق قمر اس دن کی علامت تھی ، یہ دن بہت قریب ہے۔
القمر 54:6
فتول ............ عسر (54: 8) ” پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو ، جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ، لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ انہی قبروں سے اس طرف نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور وہی منکر بھی اس وقت کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ “
یہ اس دن کے مناظر میں سے ایک منظر ہے۔ اس کی ہولناک اور اس کی یہ شدت اس سورت کے موضوع ومضامین اور فضا کے مناسب ہے اور قیامت کے قریب آنے کی تمہید کے لئے بھی مناسب ہے پھر اس خبر کے بھی مناسب کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور سورت کے اندر پائے جانے والے ترنم سے بھی ہم آہنگ ہے۔
یہ منظر بہت تیز چلتا ہے اور فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ صاف نظر آنے والا اور حرکت سے بھر پو رجس کی حرکات اور انداز بھی متوازن ہیں۔ لوگ گروہ در گروہ قبروں سے نکل رہے ہیں یوں جس طرح ٹڈی دل بکھر جاتا ہے۔ یہ منظر ٹڈی دل کی نسبت سے اور بھی واضح ہوجاتا ہے۔ یہ گروہ ڈر کے مارے سہمے ہوئے ہے۔ ذلت اور خوف کے مارے نظریں نیچی نیچی ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑ رہے ہیں کہ کیا آفت آگئی ہے۔ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ سخت بےاطمینانی ہے ، انتہائی برے انجام سے دوچار ہونے کے لئے جانے والے بس یہی کہہ سکے۔
ھذا ........ عسر (54: 8) ” یہ تو بڑا کٹھن دن ہے “ اور یہ اس شخص کا قول ہے نہایت کربناک اور تھکے ہوئے شخص کی بات ہے جو گویا سولی پر چڑھنے کے لئے بوجھل قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ہے وہ دن جو آیا ہی چاہتا ہے لیکن یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ڈراوے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ حق کی تکذیب کرتے ہیں۔ اے پیغمبر آپ بھی ان سے منہ موڑ لیں اور چھوڑیں انہیں ان کے انجام کے لئے جو نہایت ہی خوفناک ہے۔
سورت کا آغاز اس قدر خوفناک انداز اور زور دار لہجے میں کرنے کے بعد اور قیامت کا ایک خوفناک منظر پیش کرنے کے بعد اب انسانی تاریخ کے کچھ مناظر دیئے جاتے ہیں۔ جن لوگوں پر اس طرح کی قیامت ٹوٹی جو اوپر کے منظر میں دکھائی گئی۔ یہ اقوام بھی ایسا ہی رویہ اختیار کئے ہوئے تھیں جس طرح اہل مکہ نے اختیار کررکھا ہے۔ آغاز قوم نوح (علیہ السلام) سے
القمر 54:7
فتول ............ عسر (54: 8) ” پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو ، جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ، لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ انہی قبروں سے اس طرف نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور وہی منکر بھی اس وقت کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ “
یہ اس دن کے مناظر میں سے ایک منظر ہے۔ اس کی ہولناک اور اس کی یہ شدت اس سورت کے موضوع ومضامین اور فضا کے مناسب ہے اور قیامت کے قریب آنے کی تمہید کے لئے بھی مناسب ہے پھر اس خبر کے بھی مناسب کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور سورت کے اندر پائے جانے والے ترنم سے بھی ہم آہنگ ہے۔
یہ منظر بہت تیز چلتا ہے اور فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ صاف نظر آنے والا اور حرکت سے بھر پو رجس کی حرکات اور انداز بھی متوازن ہیں۔ لوگ گروہ در گروہ قبروں سے نکل رہے ہیں یوں جس طرح ٹڈی دل بکھر جاتا ہے۔ یہ منظر ٹڈی دل کی نسبت سے اور بھی واضح ہوجاتا ہے۔ یہ گروہ ڈر کے مارے سہمے ہوئے ہے۔ ذلت اور خوف کے مارے نظریں نیچی نیچی ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑ رہے ہیں کہ کیا آفت آگئی ہے۔ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ سخت بےاطمینانی ہے ، انتہائی برے انجام سے دوچار ہونے کے لئے جانے والے بس یہی کہہ سکے۔
ھذا ........ عسر (54: 8) ” یہ تو بڑا کٹھن دن ہے “ اور یہ اس شخص کا قول ہے نہایت کربناک اور تھکے ہوئے شخص کی بات ہے جو گویا سولی پر چڑھنے کے لئے بوجھل قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ہے وہ دن جو آیا ہی چاہتا ہے لیکن یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ڈراوے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ حق کی تکذیب کرتے ہیں۔ اے پیغمبر آپ بھی ان سے منہ موڑ لیں اور چھوڑیں انہیں ان کے انجام کے لئے جو نہایت ہی خوفناک ہے۔
سورت کا آغاز اس قدر خوفناک انداز اور زور دار لہجے میں کرنے کے بعد اور قیامت کا ایک خوفناک منظر پیش کرنے کے بعد اب انسانی تاریخ کے کچھ مناظر دیئے جاتے ہیں۔ جن لوگوں پر اس طرح کی قیامت ٹوٹی جو اوپر کے منظر میں دکھائی گئی۔ یہ اقوام بھی ایسا ہی رویہ اختیار کئے ہوئے تھیں جس طرح اہل مکہ نے اختیار کررکھا ہے۔ آغاز قوم نوح (علیہ السلام) سے
القمر 54:8
فتول ............ عسر (54: 8) ” پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو ، جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ، لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ انہی قبروں سے اس طرف نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور وہی منکر بھی اس وقت کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ “
یہ اس دن کے مناظر میں سے ایک منظر ہے۔ اس کی ہولناک اور اس کی یہ شدت اس سورت کے موضوع ومضامین اور فضا کے مناسب ہے اور قیامت کے قریب آنے کی تمہید کے لئے بھی مناسب ہے پھر اس خبر کے بھی مناسب کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور سورت کے اندر پائے جانے والے ترنم سے بھی ہم آہنگ ہے۔
یہ منظر بہت تیز چلتا ہے اور فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ صاف نظر آنے والا اور حرکت سے بھر پو رجس کی حرکات اور انداز بھی متوازن ہیں۔ لوگ گروہ در گروہ قبروں سے نکل رہے ہیں یوں جس طرح ٹڈی دل بکھر جاتا ہے۔ یہ منظر ٹڈی دل کی نسبت سے اور بھی واضح ہوجاتا ہے۔ یہ گروہ ڈر کے مارے سہمے ہوئے ہے۔ ذلت اور خوف کے مارے نظریں نیچی نیچی ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑ رہے ہیں کہ کیا آفت آگئی ہے۔ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ سخت بےاطمینانی ہے ، انتہائی برے انجام سے دوچار ہونے کے لئے جانے والے بس یہی کہہ سکے۔
ھذا ........ عسر (54: 8) ” یہ تو بڑا کٹھن دن ہے “ اور یہ اس شخص کا قول ہے نہایت کربناک اور تھکے ہوئے شخص کی بات ہے جو گویا سولی پر چڑھنے کے لئے بوجھل قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ہے وہ دن جو آیا ہی چاہتا ہے لیکن یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ڈراوے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ حق کی تکذیب کرتے ہیں۔ اے پیغمبر آپ بھی ان سے منہ موڑ لیں اور چھوڑیں انہیں ان کے انجام کے لئے جو نہایت ہی خوفناک ہے۔
سورت کا آغاز اس قدر خوفناک انداز اور زور دار لہجے میں کرنے کے بعد اور قیامت کا ایک خوفناک منظر پیش کرنے کے بعد اب انسانی تاریخ کے کچھ مناظر دیئے جاتے ہیں۔ جن لوگوں پر اس طرح کی قیامت ٹوٹی جو اوپر کے منظر میں دکھائی گئی۔ یہ اقوام بھی ایسا ہی رویہ اختیار کئے ہوئے تھیں جس طرح اہل مکہ نے اختیار کررکھا ہے۔ آغاز قوم نوح (علیہ السلام) سے
القمر 54:9
کذبت ............ نوح (54: 9) ” ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا “ انہوں نے آیات الٰہی کو بھی جھٹلایا اور رسالت کو بھی۔
فکذبوا عبدنا (54: 9) ” انہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا “ یعنی نوح کو۔
وقالو مجنون (54: 9) ” اور کہا یہ دیوانہ ہے “ جس طرح قریش نے نبی ﷺ کو کہا کہ مجنوں ہے اور انہوں نے حضرت نوح کو دھمکی دی کہ ہم تمہیں رجم کردیں گے اور مزاح کرکے اذیت دی اور انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ ہم پر تنقید کرنے سے باز آجاؤ اور آپ کو سخت دھمکیاں اور جھڑکیاں دیں۔
وازدجر (54: 9) ” اور بری طرح جھڑکا گیا “ حالانکہ مناسب یہ تھا کہ وہ خود باز آتے اور ان کی اطاعت کرتے۔
اس نوبت تک پہنچ کر حضرت نوح رب تعالیٰ کی طرف دست بدعا ہوتے ہیں کیونکہ اللہ ہی نے ان کو اس مہم پر بھیجا تاکہ آپ اللہ کو وہ رپورٹ دے دیں کہ قوم نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے اور یہ کہ میں نے اس قدر جدوجہد کی ہے اور اب میری قوت نے جواب دے دیا ہے۔ حضرت نے اس وقت اللہ کو پکارا جب نہ کوئی حیلہ رہا اور نہ طاقت رہی۔ انہوں نے تمام حربے آزمائے۔
القمر 54:10
فدعا ربہ انی ملغوب فانتصر (54:10) ” آخر کار اس نے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوچکا ہوں اب تو ان سے انتقام لے “ میری طاقت ختم ہوگئی۔ میں نے اپنی پوری جدوجہد کردی۔ قوتیں جواب دے گئیں اور یہ تیرا کام ہے اور انکار اور کفر مجھ پر غالب آگیا۔ لہٰذا تو ہی مدد کر۔ اے اللہ اب تو ہی ان سے انتقام لے۔ اپنی دعوت کا بدلہ لے۔ سچائی کا ساتھ دے۔ اپنے نظام کی مدد تو ہی کر حکم تیرا ہے جدوجہد تیرے لئے ہے میرا کردار اب ختم ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا یہ کہنا تھا اور رسول خدا کی طرف سے معاملہ رب تعالیٰ کے سپرد کرنا تھا جو جبار وقہار ہے کہ دست قدرت نے اپنا کام شروع کردیا اور اس زمین کو ان سے صاف کردیا گیا۔ عذاب الٰہی کا چکریوں چلنا شروع ہوا کہ تمام طیبعی قوتوں نے اپنا کام شروع کردیا۔
القمر 54:11
ففتحنا ............ امر قدقدر (54:12) ” تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا اور وہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لئے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔ “
یہ ایک عظیم کائناتی حرکت ہے جو بہت ہی بھرپور ہے لیکن اس عظیم کائناتی عمل اور حرکت کی تصویر چند الفاظ میں کھینچی گئی ہے۔ الفاظ بڑی خوبصورت سے چنے گئے ہیں اور اس پو رہے عمل کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب عمل قدرت الٰہیہ کا ہے۔
ففتحنا ابواب السماء (54: 11) ” موسلادھار بارش سے “ یعنی ایسی بارش جس میں پانی بہت برس رہا ہو۔ اسی قوت اور اسی حرکت سے۔
القمر 54:12
وفجرنا الارض عیونا (54:12) ” اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا۔ “ زمین کو پھاڑنے اور چشموں کے پھوٹنے کا منظر یوں نظر آتا ہے کہ گوہر جگہ سے فوارے چھوٹ گئے۔ ہر طرف چشمے ہی چشمے نظر آنے لگے۔
اب زور زور سے آسمانوں سے گرنے والا پانی ، اور زمین سے ابلنے والا پانی آپس میں مل گئے۔
فالتقی ............ قدقدر (54:12) ” اور وہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا “ یعنی دونوں کا کام یہ تھا کہ طے شدہ کام کو پورا کرلیا جائے۔ دونوں پانی دست قدرت کے تحت کام کررہے تھے۔
اس پانی نے طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ زمین کو ڈھانپ لیا گیا اور زمین پر انسانوں کی شکل میں جو گندگی تھی اسے صاف کردیا گیا۔ اللہ کے پیغمبر تو اس تطہیر سے مایوس ہوگیا تھا۔ اس کے خیال میں یہ لوگ لاعلاج ہوگئے تھے لیکن اللہ کا مشفقانہ دست قدرت پہنچ گیا۔ رسول کی دعا قبول ہوئی۔ پوری کائنات حرکت میں آگئی اور رسول اور اس کے ساتھیوں کو نجات مل گئی۔
القمر 54:13
وحملنہ ............ کفر ” اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر سوار کردیا جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ تھا بدلہ اس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی۔ “ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑی کشتی تھی۔ یہ تختوں اور میخوں والی تھی۔ کشتی کی صفات بیان کی گئی ہیں اور موصوف کا نام نہیں لیا گیا۔ اس کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے پھر یہ کہا گیا کہ یہ کشتی اللہ کی نگرانی میں چلتی ہے۔ اس پر اللہ کی نظر ہے۔
القمر 54:14
جزاء لمن کان کفر ” اس شخص کے بدلہ کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی “ اس کی دعوت کا انکار کیا گیا بلکہ الصا اس کو جھڑکیاں دی گئی۔ ان لوگوں نے نبی پر مظالم ڈھائے۔ یہ اس کی سزا ہے۔ انہوں نے نبی کے ساتھ مذاق کیا۔ اللہ نے اسے یہ اعزاز دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے جس شخص کو اللہ کی راہ میں بےبس کردیا جائے اس کی حمایت میں اللہ کی قوتیں کس طرح کام کرتی ہیں اور جو شخص اپنا کام پورا کرکے اور اپنی پوری قوت لگا کر جب معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہے تو پھر اللہ کس طرح بدلہ لیتا ہے۔ اس کائنات کی پوری قوتیں اس کی نصرت میں اٹھ جاتی ہیں اور ان قوتوں کی پشت پر اللہ اپنی قدرت اور جبروت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔
اس ہولناک انتقام کے منظر کے اختتام پر اور اس فیصلہ کن انجام پر ان لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ ذرا ان واقعات سے عبرت لو ، یہ اس لئے کہ شاید وہ متاثر ہوکر دعوت حق کو قبول کرلیں۔
القمر 54:15
ولقد ترکنھا ............ مد کر (54:15) ” اس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا۔ پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا “ یہ واقعہ اپنے تمام حالات کے ساتھ ہم نے تاریخ کے ریکارڈ پر باقی رکھا تاکہ آنے والوں کے لئے ایک نشانی ہو۔
فھل من مد کر (54:15) ” پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا) جو نصیحت قبول کرے۔ دلوں کو جگانے کے لئے ایک سوال کہ کیا تھا عذاب اور کیا انجام ہوا ڈرائے جانے والوں کا۔
القمر 54:16
فکیف ............ ونذر (54:16) ” دیکھ لو کیا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات “ بہرحال ایسا ہی ہوا جس طرح قرآن نے تصویر کشی کی ہے۔ یہ ایک سخت تباہ کن عذاب تھا جس نے تمام مجرموں کو نیست ونابود کرکے رکھ دیا اور ڈرانے والے کا ڈراوا سچا ہوگیا یہ ہے قرآن کا انداز بیان نہایت سہل ، قابل فہم ، پڑھنے والے کے لئے خوب جازبیت کا حامل تاکہ ہر کوئی پڑھے اور تدبر کرے۔ سادہ سچائی کی جاذبیت کا حامل ، فطرت کے مطابق اور ہر طبیعت کے لئے پرجوش ، جس کے عجائبات ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ اسے بار بار پڑھئے ہر بار نیا نظر آئے گا۔ جب بھی کوئی اس پر تدبر کرے اسے ایک نیا مفہوم اور نیا نکتہ ملے گا۔ جس قدر اس کے ساتھ کوئی نفس انسانی صحبت اختیار کرے اس کی محبت میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔
القمر 54:17
ولقد ............ مد کر (45:17 ) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنایا ہے پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “
یہ ہے وہ سبق جو ہر پیراگراف کے آخر میں دہرایا جاتا ہے۔ ہر مصور منظر کے بعد ، ہر منظر کے بعد قرآن انسان دل کے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور اسے نصیحت قبول کرنے ، دانش حاصل کرنے ، تدبر کرنے کے لئے کہتا ہے۔ ہر تاریخی انجام بد کے بعد جس سے مکذبین دو چار ہوئے۔
القمر 54:18
کذبت ............ مد کر (54:18 تا 22) ” عاد نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔ پس دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ ؟
یہ دوسرا پیراگراف ہے اور اقوام سابقہ پر عذاب آنے کا دوسرا منظر ہے۔ قوم نوح کے بعد ہلاکت کا یہ بڑا واقعہ تھا۔ سب سے پہلے قوم نوح ہلاک ہوئی اور اس کے بعد قوم عاد۔
پہلے یہ بتایا جاتا ہے عاد نے بھی تکذیب کی لیکن آیت ختم ہونے سے پہلے ہی ایک خوفناک سوال کردیا جاتا ہے۔
فکیف ........ ونذر (45: 81) ” میرا عذاب کیسا تھا اور تنبیہات کیسی تھیں “ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان کا انجام یوں ہوا ، ہولناک اور خوفناک۔
القمر 54:19
انا ارسلنا ............ منقعر (45: 02) ” ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے۔ “
ریحاصرصرا (45: 91) کے معنی ہیں سخت سرد ہوا۔ الفاظ کا ترنم ہی نوعیت بتارہا ہے۔ نحس یعنی منحوس اور اس سے بڑی نحوست کس قوم کو کیا نصیب ہوگی جو عاد کو نصیب ہوئی۔ یوں منظر تھا کہ جس طرح سخت ہوا سے کھجور کے تنے جڑوں سے اکھڑ کر زمین پر آجاتے ہیں اور درخت بری طرح گرا ہوا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ میدانوں میں پڑے ہوئے تھے۔
منظر نہایت خوفناک ہے۔ ہوا سخت ہے اور یہ ہوا جو عادیوں پر بھیجی گئی تھی یہ اللہ کے لشکروں میں ایک لشکر تھا۔ اس کائنات کی قوتوں میں سے ایک قوت۔ اللہ کی تخلیق کردہ قوت ، اللہ کے قانون قدرت کے عین مطابق چلنے والی قوت ، ایسی قوت جسے اللہ جس پر چاہے مسلط کردے۔ یہ قوت صحراؤں میں چل رہی ہے اور یہ جب عاد کی بستیوں تک پہنچتی ہے تو ان کا وہ حال بنادیتی ہے جو اوپر لکھا گیا۔
القمر 54:20
انا ارسلنا ............ منقعر (45: 02) ” ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے۔ “
ریحاصرصرا (45: 91) کے معنی ہیں سخت سرد ہوا۔ الفاظ کا ترنم ہی نوعیت بتارہا ہے۔ نحس یعنی منحوس اور اس سے بڑی نحوست کس قوم کو کیا نصیب ہوگی جو عاد کو نصیب ہوئی۔ یوں منظر تھا کہ جس طرح سخت ہوا سے کھجور کے تنے جڑوں سے اکھڑ کر زمین پر آجاتے ہیں اور درخت بری طرح گرا ہوا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ میدانوں میں پڑے ہوئے تھے۔
منظر نہایت خوفناک ہے۔ ہوا سخت ہے اور یہ ہوا جو عادیوں پر بھیجی گئی تھی یہ اللہ کے لشکروں میں ایک لشکر تھا۔ اس کائنات کی قوتوں میں سے ایک قوت۔ اللہ کی تخلیق کردہ قوت ، اللہ کے قانون قدرت کے عین مطابق چلنے والی قوت ، ایسی قوت جسے اللہ جس پر چاہے مسلط کردے۔ یہ قوت صحراؤں میں چل رہی ہے اور یہ جب عاد کی بستیوں تک پہنچتی ہے تو ان کا وہ حال بنادیتی ہے جو اوپر لکھا گیا۔
القمر 54:21
فکیف کان عذابی ونذر (45: 12) ” ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ صلائے عام ہے۔
القمر 54:22
فکیف کان عذابی ونذر (45: 12) ” ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ صلائے عام ہے۔
القمر 54:23
قبیلہ ثمود جزیرہ عرب میں عاد کے بعد نمودار ہوا۔ یہ بھی عاد کی طرح قوت اور شوکت میں بےمثال تھا۔ ہاں عادی جنوب میں تھے اور ثمود شمال میں تھے۔ ثمود نے بھی رسول کی تکذیب اسی طرح کی جس طرح عاد نے کی تھی حالانکہ ثمود کو عاد کے انجام کا اچھی طرح علم تھا کیونکہ وہ جزیرہ عرب کے جنوب میں تھے۔
فقالوا ............ الاشر (45: 62) ” اور کہنے لگے ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اس کے پیچھے چلیں ؟ اس کا اتباع ہم قبول کریں تو معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے۔ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی ہے۔ “
یہ وہی شبہ ہے جو پوری تاریخ میں تمام مکذبین کے دلوں میں خلجان پیدا کرتا رہا ہے۔
ء القی ............ بیننا (45:5 2) ” کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا “ یہ ان کی کھوکھلی اور بےحقیقت کبریائی تھی اور جس شخص کے اندر اس قسم کا کبر ہو وہ کبھی حقیقت کو دیکھ ہی نہیں سکتا۔ وہ بات کو نہیں دیکھتا۔ اس کو دیکھتا ہے کہ کہنے والا کون ہے۔
ابشرامنا واحد انتبعہ (45:4 2) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اب اس کے پیچھے چلیں ؟ “
آخر اس میں کیا قباحت ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے ایک اکیلے شخص کو چن لے۔ اللہ تو خوب جانتا ہے کہ رسالت کی امانت کہاں رکھے اور پھر اس کے اوپر ذکر نازل کرے۔ اس کو ہدایات دے اور نصیحت کی باتیں اس پر نازل کرے ، اللہ خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں میں سے اس امانت کی استعداد اس نے کس کو دی ہے۔ پھر ذکر نازل کرنے والا بھی اللہ۔ یہ سوال ایک بےحقیقت سوال ہے اور واہی تباہی ہے جو نہایت گمراہ لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگ جو کسی دعوت کے بارے میں یہ نہیں سوچتے کہ اس میں صدق وسچائی کس قدر ہے۔ وہ دعوت دینے والے کو دیکھتے ہیں کہ دو بستیوں میں سے یہ کتنا بڑا آدمی ہے۔ اگر کسی چھوٹے آدمی کی بات مانی گئی تو وہ چھوٹا بڑا بن جائے گا اور یہ چھوٹے رہ جائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ یہ کہتے ہیں۔
القمر 54:24
ابشر ........ وسحر (45:4 2) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے اس کے پیچھے چلیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے یا ہم جہنم رسید ہوگئے۔ “ اگر ہم سے یہ منکر فعل واقع ہوگیا۔ جب عقل ماری جاتی ہے تو انسان ہدایت کو ضلالت سمجھتا اور سمجھتا ہے کہ وہ گویا بہت زیادہ تعداد والی جہنموں میں داخل ہوگا۔ (سعر جمع سعیر ہے) حالانکہ دعوت قبول کرکے وہ ایمان کے سایہ میں آجاتا لیکن سمجھتا ہے کہ اگر ایمان لایا تو جہنموں میں داخل ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ جس رسول کو اللہ نے ان کی رہنمائی کے لئے بھیجا تھا اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹا اور لالچی ہے۔
القمر 54:25
بل ھو کذاب اشر (45:5 2) ” بلکہ وہ جھوٹ اور لالچی ہے “ کذاب جھوٹا ، اشر شدید لالچی اور اس تبلیغ سے وہ اقتدار اور مرتبہ چاہتا ہے۔ ہر داعی پر ہمیشہ یہی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے بہانے مفادات کے حصول کے لئے جدوجہد کرتا ہے اور یہ ان اندھوں کا موقف ہوتا ہے جو نیک لوگوں کے جذبات اور ان کے قلبی محرکات سے واقف نہیں ہوتے۔
بات ابھی تک حکایتی اور قصے کے انداز سے چلتی ہے کہ اچانک معاملہ خطاب کا آجاتا ہے۔ اور یوں نظر آتا ہے کہ گویا واقعات ابھی جاری ہیں۔ اس لئے بتایا جاتا ہے کہ عنقریب کیا ہونے والا ہے اور ان کا مستقبل میں ہونے والے واقعات کی دھمکی دی جاتی ہے۔
القمر 54:26
سیعلمون ........ الاشر (45: 62) ” کل ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی کون ہے۔ “ یہ قصص کے بیان کا ایک قرآنی طریقہ ہے۔ یہ انداز قصے میں جان ڈال دیتا ہے کہ بجائے محض قصہ پارینہ کے تخیل کے زور سے اس قصے کو ایک منظر نامے کی شکل میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اب یہ قصہ نہیں رہتا بلکہ حال اور مستقبل کے واقعات بن جاتا ہے۔
سیعلمون ........ الاشر (45: 62) ” کل ہی وہ جان لیں گے کہ جھوٹا اور لالچی کون ہے “ کل یہ حقیقت کھل جائے گی اور یہ چھوٹ نہیں سکیں گے اور یہ مصیبت بتادے گی کہ کون جھوٹا ہے اور جھوٹوں کی سزا کیا ہے۔
القمر 54:27
انا مرسلوا ............ محتضر (45: 82) ” ہم اپنی اونٹنی کو ان کے لئے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کر ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ان کو جتا دے کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ “ اب پڑھنے والے انتظار میں ہیں کہ ہوتا کیا ہے۔ ناقہ بھیج دی جاتی ہے۔ یہ ان کے لئے آزمائش ہے اور ان کے لئے امتحان ہے کہ کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اور رسول وقت بھی انتظار میں ہے کہ کیا ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق وہ صبر کرتا ہے۔ اس وقت تک کہ امتحان کا نتیجہ سامنے آجائے۔ نبی کو یہ ہدایت دے دی جاتی ہے کہ پانی ان کے اور ناقہ کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ ناقہ لازماً مخصوص ناقہ تھی۔ تقسیم یوں تھی کہ ایک دن کا پورا پانی ناقہ کے لئے تھا اور دوسرے دن کا ان کے لئے۔ ناقہ اپنے دن آئے گی اور یہ لوگ اپنے دن آئیں گے۔ وہ اپنے دن پئے گی اور یہ لوگ اپنے دن پانی لیں گے۔
اب سیاق کلام پھر حکایتی اور قصے کا انداز لے لیتا ہے اور اس کے بعد یہ واقعات یوں آتے ہیں۔
القمر 54:28
انا مرسلوا ............ محتضر (45: 82) ” ہم اپنی اونٹنی کو ان کے لئے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کر ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ان کو جتا دے کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ “ اب پڑھنے والے انتظار میں ہیں کہ ہوتا کیا ہے۔ ناقہ بھیج دی جاتی ہے۔ یہ ان کے لئے آزمائش ہے اور ان کے لئے امتحان ہے کہ کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اور رسول وقت بھی انتظار میں ہے کہ کیا ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق وہ صبر کرتا ہے۔ اس وقت تک کہ امتحان کا نتیجہ سامنے آجائے۔ نبی کو یہ ہدایت دے دی جاتی ہے کہ پانی ان کے اور ناقہ کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ ناقہ لازماً مخصوص ناقہ تھی۔ تقسیم یوں تھی کہ ایک دن کا پورا پانی ناقہ کے لئے تھا اور دوسرے دن کا ان کے لئے۔ ناقہ اپنے دن آئے گی اور یہ لوگ اپنے دن آئیں گے۔ وہ اپنے دن پئے گی اور یہ لوگ اپنے دن پانی لیں گے۔
اب سیاق کلام پھر حکایتی اور قصے کا انداز لے لیتا ہے اور اس کے بعد یہ واقعات یوں آتے ہیں۔
القمر 54:29
فنادواصاحبھم ........ فعقر (45: 92) ” آخر کار انہوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔ “ اور یہ شخص ان مفسدین میں سے ایک تھا جو اس شہر میں فساد کی جڑ تھے۔ سورت نحل میں ان کے بارے میں آیا ہے۔
وکان ........ یصلحون (72 : 8 4) ” اور شہر میں نوجھتے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے تھے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔ “ اور سورت شمس میں کہا گیا۔
اذانبعث اشقھا (19 : 21) ” جب ان میں ایک بدبخت اٹھا “
بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص نے شراب پی لی تاکہ وہ اس کام کو بےباکی سے کرسکے اور اس ناقہ کو قتل کردے جو اللہ نے بطور نشانی بھیجی تھی اور رسول اللہ نے ان کو ڈرا دیا تھا اور متنبہ کردیا تھا کہ اگر تم نے اسے گزند پہنچایا تو تم پر عذاب الٰہی آجائے گا۔ اس طرح فتعاطی کے معنی بیڑا اٹھانے کی بجائے شراب پینے کے ہوں گے۔
فنادوا ............ فعقر (45: 92) ” انہوں نے اپنے آدمی کو بلایا اس نے یہ ذمہ لے لیا یا شراب پی کر اسے قتل کردیا۔ “ یہ امتحان ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہوگیا۔
القمر 54:30
فکیف ........ ونذر (45: 03) ” پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات “ یہ سوال تعجب انگیز اور خوف پیدا کرنے کے لئے ہے اور یہ عذاب کے ذکر سے بھی پہلے کیا جاتا ہے۔
القمر 54:31
انا ارسلنا ............ المختظر (45: 13) ” ہم نے ان پر بس ایک ہی دھماکہ چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھس ہوکر رہ گئے “ قرآن کریم نے اس چیخ اور دھماکے کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ اگرچہ دوسری جگہ سورت فصلت میں تفصیل آتی ہے کہ۔
فقل ............ وثمود (1 4: 31) ” تو کہہ دو کہ میں تمہیں اسی طرح اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا “ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صاعقہ صیحہ کی صفت ہو یعنی کڑاکے دار آواز۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیحہ اور صاعقہ ایک ہی حقیقت کے لئے استعمال ہوں یعنی اچانک ٹوٹ پڑنے والا عذاب اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیحہ صاعقہ کی آواز ہو یا صاعقہ آواز کا اثر ہو۔ آواز دی کس طرح اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔
بہرحال ان پر ایک کڑاکے دار اور دھماکہ خیز آعواز آئی اور ان کو ختم کرکے رکھ دیا۔ یہ اس ترح ہوگئے کھشیم المحنظر (وہ باڑ والے کی روندی ہوئی باڑ کی طرح بھس ہوکر رہ گئے) المحنظر وہ شخص جو خطیرہ یا باڑہ بناتا ہے اور یہ باڑہ وہ خشک کانٹے دار لکڑیوں سے بناتا ہے یہ لوگ اس طرح ہوگئے جس طرح خشک بوسیدہ لکڑیاں جو ٹوٹ پھوٹ کر بھس بن گئی ہوں تشبیہ یوں ہے کہ باڑے والا اپنے مویشیوں کے لئے لکڑیوں اور درختوں کی شاخیں جمع کرتا ہے کہ شاخیں مویشی کھاتے ہیں اور خشک ہوجاتی ہیں اور ان کو مویشی روندتے ہیں تو وہ بھوسے کی طرح پس جاتی ہیں تو یہ قوم اس طرح ہوگئی جس طرح باڑے والے کی جھاڑیاں کھائی ہوئی اور روندی ہوئی۔ صرف ایک ہی ربانی چیخ سے۔
یہ سخت درد ناک وخوفناک منظر ہے اور یہ ان لوگوں کے جواب میں ہے جو مفسد تھے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے چناچہ ان متکبرین کو پیس ڈالا گیا۔
اس درد ناک وخوفناک منظر کے بعد لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ اللہ کی آیات سے نصیحت حاصل کریں اور تدبر کریں اور اس مقصد کے لئے قرآن بہترین گائیڈ ہے۔
القمر 54:32
ولقد ............ مد کر (45: 23) ” ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنایا ہے۔ اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ “ اس پر پردہ گرتا ہے اور منظر پر روندا ہوا بھس پڑا ہے۔ آنکھوں کے لئے ایک منظر اور دل کے لئے ایک عبرت۔ یہ قرآن پکار پکار کر بلارہا ہے نصیحت لینے والوں اور فکر و تدبر کرنے والوں کو۔
اب جب دوبارہ پردہ اٹھتا ہے تو تاریخ کا وہ ورق الٹا جاتا ہے جو جزیرہ عرب کے قریب ہے ، قوم لوط کا منظر :
القمر 54:33
قوم لوط کا قصہ دوسرے مقامات پر مفصل مذکور ہے۔ یہاں اس قصے کی تفصیلات دینا مطلوب نہیں ہے بلکہ یہ عبرت دلانا مقصود ہے کہ تکذیب کا نتیجہ کیا ہوا کرتا ہے۔ یہ کہ اللہ کا سخت عذاب آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آغاز ہی تنبیہات الٰہیہ کی تکذب کے ذکر سے ہوتا ہے۔
کذبت ............ بالنذر (45: 33) ” قوم لوط نے تنبیہات کو جھٹلایا “ اور اس کے بعد متصلا عذاب الٰہی کا ذکر ہوتا ہے۔
القمر 54:34
انا ارسلنا ............ من شکر (45:5 3) ” اور ہم نے اس پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی۔ صرف لوط کے گھر والے اس سے محفوظ رہے۔ ان کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال لیا۔ یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اس شخص کو جو شکرگزار ہوتا ہے۔ “
الحاصب وہ ہوا جو پتھروں کو اڑا کر پھینک دیتی ہو اور دوسری جگہ آیا ہے کہ ان پر مٹی کے پتھر پھینکے گئے تھے۔ لفظ حاصب کی آواز ہی ایسی ہے جس سے پتھر پھینکے جانے کی آواز آتی ہے۔ اس میں شدت اور سختی ہے جو اس وقت منظر اور فضا کے مناسب ہے۔ اس عذاب سے صرف لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ بچے۔ ماسوائے ان کی اہلیہ کے اور بچنے والے اس لئے بچے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے اور اللہ شکر کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتا ہے۔ ان کو اللہ عذاب سے نجات دیتا ہے اور وہ خوفناک حادثات کے درمیان سے بھی بچ کر نکل آتے ہیں۔
قرآن نے یہاں تک اس قصے کے دو اطراف بیان کردیئے۔ ان کی طرف سے جھٹلانا اور اللہ کی طرف سے عذاب شدید ، یہ یہاں اصل مقصد تھا۔ اب قصے کے دونوں اطراف کے درمیان کی بعض ضروری تفصیلات۔ قرآن کریم کا یہ بھی ایک خاص انداز بیان ہے۔ اس انداز سے قرآن کریم بعض اشارات دیتا ہے اور تفصیلات یہ ہیں۔
القمر 54:35
انا ارسلنا ............ من شکر (45:5 3) ” اور ہم نے اس پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی۔ صرف لوط کے گھر والے اس سے محفوظ رہے۔ ان کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال لیا۔ یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اس شخص کو جو شکرگزار ہوتا ہے۔ “
الحاصب وہ ہوا جو پتھروں کو اڑا کر پھینک دیتی ہو اور دوسری جگہ آیا ہے کہ ان پر مٹی کے پتھر پھینکے گئے تھے۔ لفظ حاصب کی آواز ہی ایسی ہے جس سے پتھر پھینکے جانے کی آواز آتی ہے۔ اس میں شدت اور سختی ہے جو اس وقت منظر اور فضا کے مناسب ہے۔ اس عذاب سے صرف لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ بچے۔ ماسوائے ان کی اہلیہ کے اور بچنے والے اس لئے بچے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے اور اللہ شکر کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتا ہے۔ ان کو اللہ عذاب سے نجات دیتا ہے اور وہ خوفناک حادثات کے درمیان سے بھی بچ کر نکل آتے ہیں۔
قرآن نے یہاں تک اس قصے کے دو اطراف بیان کردیئے۔ ان کی طرف سے جھٹلانا اور اللہ کی طرف سے عذاب شدید ، یہ یہاں اصل مقصد تھا۔ اب قصے کے دونوں اطراف کے درمیان کی بعض ضروری تفصیلات۔ قرآن کریم کا یہ بھی ایک خاص انداز بیان ہے۔ اس انداز سے قرآن کریم بعض اشارات دیتا ہے اور تفصیلات یہ ہیں۔
القمر 54:36
ولقد ............ مستقر (45: 83) ” لوط نے اپنی قوم کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبہیات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخرکار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبہیات کا مزہ۔ صبح سویرے ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو اس منکر سے ایک طویل عرصے تک منع کیا لیکن انہوں نے یقین نہ کیا۔ ہمیشہ شک میں مبتلا رہے اور ایک دوسرے کی طرف شک ہی کو منتقل کرتے رہے اور ایک دوسرے سے شک ہی اخذ کرتے رہے اور نبی کے ساتھ جھگڑتے ہی رہے اور ان کی بدتمیزی اس حدتک پہنچ گئی کہ خود لوط (علیہ السلام) کے ہاں جب مہمان ، فرشتے آئے تو انہوں نے ان کو ان کا دفاع کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ خوش شکل لڑکے ہیں تو ان کے گندے جذبات جوش میں آگئے۔ انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو گھیر لیا اور مقصد یہ تھا کہ اس کے مہمانوں کے ساتھ بدتمیزی کریں۔ انہوں نے سنجیدگی اور شرم وحیا کے جامے تار تار کردیئے اور انہوں نے اپنے نبی کی عزت کا بھی خیال نہ رکھا حالانکہ انہوں نے ان کو بار بار اس فعل بد کے انجام بد سے ڈرایا تھا۔
اس مقام پر اب دست قدرت مداخلت کرتی ہے۔ فرشتے اس عذاب کے برپا کرنے کے لئے حرکت میں آتے ہیں جس کے لئے انہیں بھیجا گیا تھا۔
فطمسنا اعینھم (45: 73) ” ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں “ اور وہ اس طرح ہوگئے کہ نہ کسی چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ انسانوں کو۔ اب نہ وہ لوط کو گھیر سکتے ہیں نہ مہمانوں کو پکڑ سکتے ہیں۔ یہ کہ قوم لوط کو اندھا کردیا گیا تھا۔ اس کا ذکر صرف یہاں آیا ہے۔ پوری وضاحت کے ساتھ دوسری جگہ یہ ہے۔
قالوا ............ الیک ” لوط ، ہم تیرے رب کے فرستادہ ہیں یہ لوگ تیری طرف نہیں پہنچ سکتے۔ “ یہاں پر تفصیل دے دی کہ وہ فرشتوں اور لوط (علیہ السلام) تک اس لئے نہ پہنچ سکتے تھے کہ ان کو اندھا کردیا گیا تھا۔
اب تک تو بات بطور حکایت ہورہی تھی ، اچانک آنکھوں کے سامنے ایک منظر آتا ہے اور جن پر عذاب آیا ہے ان سے مخاطب ہورہا ہے۔
فذوقوا عذابی ونذر (45: 73) ” چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ “ یہ ہے وہ عذاب جس سے تمہیں ڈرایا جارہا تھا اور یہ ہیں وہ تنبیہات جن میں تم شک کررہے تھے۔
ان کی آنکھیں شام کو موند دی گئیں اور صبح تک وہ یونہی رہے کیونکہ اللہ نے ان کے لئے عذاب صبح کے وقت مقرر کیا ہوا تھا۔
ولقد ............ مستقر (45: 83) ” صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا “ اور یہ وہی عذاب تھا جس کا جلد سے تذکرہ اوپر کردیا گیا۔ یہ وہ سخت ہوا تھی جس نے مٹی کے پتھروں کی بارش ان پر کردی تھی اور اس نے زمین کو اس گندگی اور فساد سے پاک کردیا۔
اب پھر انداز بیان میں فرق آتا ہے۔ منظر کو یوں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا ابھی کا واقعہ ہے اور جن کو عذاب دیا گیا ان سے خطاب شروع ہے۔
القمر 54:37
ولقد ............ مستقر (45: 83) ” لوط نے اپنی قوم کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبہیات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخرکار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبہیات کا مزہ۔ صبح سویرے ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو اس منکر سے ایک طویل عرصے تک منع کیا لیکن انہوں نے یقین نہ کیا۔ ہمیشہ شک میں مبتلا رہے اور ایک دوسرے کی طرف شک ہی کو منتقل کرتے رہے اور ایک دوسرے سے شک ہی اخذ کرتے رہے اور نبی کے ساتھ جھگڑتے ہی رہے اور ان کی بدتمیزی اس حدتک پہنچ گئی کہ خود لوط (علیہ السلام) کے ہاں جب مہمان ، فرشتے آئے تو انہوں نے ان کو ان کا دفاع کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ خوش شکل لڑکے ہیں تو ان کے گندے جذبات جوش میں آگئے۔ انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو گھیر لیا اور مقصد یہ تھا کہ اس کے مہمانوں کے ساتھ بدتمیزی کریں۔ انہوں نے سنجیدگی اور شرم وحیا کے جامے تار تار کردیئے اور انہوں نے اپنے نبی کی عزت کا بھی خیال نہ رکھا حالانکہ انہوں نے ان کو بار بار اس فعل بد کے انجام بد سے ڈرایا تھا۔
اس مقام پر اب دست قدرت مداخلت کرتی ہے۔ فرشتے اس عذاب کے برپا کرنے کے لئے حرکت میں آتے ہیں جس کے لئے انہیں بھیجا گیا تھا۔
فطمسنا اعینھم (45: 73) ” ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں “ اور وہ اس طرح ہوگئے کہ نہ کسی چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ انسانوں کو۔ اب نہ وہ لوط کو گھیر سکتے ہیں نہ مہمانوں کو پکڑ سکتے ہیں۔ یہ کہ قوم لوط کو اندھا کردیا گیا تھا۔ اس کا ذکر صرف یہاں آیا ہے۔ پوری وضاحت کے ساتھ دوسری جگہ یہ ہے۔
قالوا ............ الیک ” لوط ، ہم تیرے رب کے فرستادہ ہیں یہ لوگ تیری طرف نہیں پہنچ سکتے۔ “ یہاں پر تفصیل دے دی کہ وہ فرشتوں اور لوط (علیہ السلام) تک اس لئے نہ پہنچ سکتے تھے کہ ان کو اندھا کردیا گیا تھا۔
اب تک تو بات بطور حکایت ہورہی تھی ، اچانک آنکھوں کے سامنے ایک منظر آتا ہے اور جن پر عذاب آیا ہے ان سے مخاطب ہورہا ہے۔
فذوقوا عذابی ونذر (45: 73) ” چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ “ یہ ہے وہ عذاب جس سے تمہیں ڈرایا جارہا تھا اور یہ ہیں وہ تنبیہات جن میں تم شک کررہے تھے۔
ان کی آنکھیں شام کو موند دی گئیں اور صبح تک وہ یونہی رہے کیونکہ اللہ نے ان کے لئے عذاب صبح کے وقت مقرر کیا ہوا تھا۔
ولقد ............ مستقر (45: 83) ” صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا “ اور یہ وہی عذاب تھا جس کا جلد سے تذکرہ اوپر کردیا گیا۔ یہ وہ سخت ہوا تھی جس نے مٹی کے پتھروں کی بارش ان پر کردی تھی اور اس نے زمین کو اس گندگی اور فساد سے پاک کردیا۔
اب پھر انداز بیان میں فرق آتا ہے۔ منظر کو یوں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا ابھی کا واقعہ ہے اور جن کو عذاب دیا گیا ان سے خطاب شروع ہے۔
القمر 54:38
ولقد ............ مستقر (45: 83) ” لوط نے اپنی قوم کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبہیات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخرکار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبہیات کا مزہ۔ صبح سویرے ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو اس منکر سے ایک طویل عرصے تک منع کیا لیکن انہوں نے یقین نہ کیا۔ ہمیشہ شک میں مبتلا رہے اور ایک دوسرے کی طرف شک ہی کو منتقل کرتے رہے اور ایک دوسرے سے شک ہی اخذ کرتے رہے اور نبی کے ساتھ جھگڑتے ہی رہے اور ان کی بدتمیزی اس حدتک پہنچ گئی کہ خود لوط (علیہ السلام) کے ہاں جب مہمان ، فرشتے آئے تو انہوں نے ان کو ان کا دفاع کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ خوش شکل لڑکے ہیں تو ان کے گندے جذبات جوش میں آگئے۔ انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو گھیر لیا اور مقصد یہ تھا کہ اس کے مہمانوں کے ساتھ بدتمیزی کریں۔ انہوں نے سنجیدگی اور شرم وحیا کے جامے تار تار کردیئے اور انہوں نے اپنے نبی کی عزت کا بھی خیال نہ رکھا حالانکہ انہوں نے ان کو بار بار اس فعل بد کے انجام بد سے ڈرایا تھا۔
اس مقام پر اب دست قدرت مداخلت کرتی ہے۔ فرشتے اس عذاب کے برپا کرنے کے لئے حرکت میں آتے ہیں جس کے لئے انہیں بھیجا گیا تھا۔
فطمسنا اعینھم (45: 73) ” ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں “ اور وہ اس طرح ہوگئے کہ نہ کسی چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ انسانوں کو۔ اب نہ وہ لوط کو گھیر سکتے ہیں نہ مہمانوں کو پکڑ سکتے ہیں۔ یہ کہ قوم لوط کو اندھا کردیا گیا تھا۔ اس کا ذکر صرف یہاں آیا ہے۔ پوری وضاحت کے ساتھ دوسری جگہ یہ ہے۔
قالوا ............ الیک ” لوط ، ہم تیرے رب کے فرستادہ ہیں یہ لوگ تیری طرف نہیں پہنچ سکتے۔ “ یہاں پر تفصیل دے دی کہ وہ فرشتوں اور لوط (علیہ السلام) تک اس لئے نہ پہنچ سکتے تھے کہ ان کو اندھا کردیا گیا تھا۔
اب تک تو بات بطور حکایت ہورہی تھی ، اچانک آنکھوں کے سامنے ایک منظر آتا ہے اور جن پر عذاب آیا ہے ان سے مخاطب ہورہا ہے۔
فذوقوا عذابی ونذر (45: 73) ” چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ “ یہ ہے وہ عذاب جس سے تمہیں ڈرایا جارہا تھا اور یہ ہیں وہ تنبیہات جن میں تم شک کررہے تھے۔
ان کی آنکھیں شام کو موند دی گئیں اور صبح تک وہ یونہی رہے کیونکہ اللہ نے ان کے لئے عذاب صبح کے وقت مقرر کیا ہوا تھا۔
ولقد ............ مستقر (45: 83) ” صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا “ اور یہ وہی عذاب تھا جس کا جلد سے تذکرہ اوپر کردیا گیا۔ یہ وہ سخت ہوا تھی جس نے مٹی کے پتھروں کی بارش ان پر کردی تھی اور اس نے زمین کو اس گندگی اور فساد سے پاک کردیا۔
اب پھر انداز بیان میں فرق آتا ہے۔ منظر کو یوں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا ابھی کا واقعہ ہے اور جن کو عذاب دیا گیا ان سے خطاب شروع ہے۔
القمر 54:39
فذوقوا ............ ونذر (45: 93) ” چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ “ اور آخر میں وہی سبق۔
القمر 54:40
ولقد یسرنا ............ من مد کر (45: 0 4) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “
یہ کڑیاں اب جزیرہ عرب کے باہر سے بھی ایک منظر پیش کرکے ختم ہوتی ہیں۔ ایک مختصر اشارہ فرعون کے انجام کی طرف۔
القمر 54:41
ولقد یسرنا ............ من مد کر (45: 0 4) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “
یہ کڑیاں اب جزیرہ عرب کے باہر سے بھی ایک منظر پیش کرکے ختم ہوتی ہیں۔ ایک مختصر اشارہ فرعون کے انجام کی طرف۔
القمر 54:42
ولقد یسرنا ............ من مد کر (45: 0 4) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “
یہ کڑیاں اب جزیرہ عرب کے باہر سے بھی ایک منظر پیش کرکے ختم ہوتی ہیں۔ ایک مختصر اشارہ فرعون کے انجام کی طرف۔
القمر 54:43
فرعون کے قصے کا آغاز و انجام اس قدر احتصار کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس ڈرانے والے آتے ہیں۔ وہ نشانیاں پیش کرتے ہیں۔ وہ ان تمام نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ نے ان کو اس طرح پکڑا جس طرح ایک حقیقی اقتدار رکھنے والا پکڑتا ہے۔ عزت اور اقتدار کی طرف اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کو نہایت ہی سختی سے پکڑا گیا اور اشارہ اسی طرف ہے کہ فرعون بڑی عزت ، قوت اور اقتدار اعلیٰ کی باتیں کرتا تھا جبکہ یہ سب امور اللہ کو حاصل ہیں۔ اللہ کے سامنے اس کی باطل عزت نہ رہی ، اس کا جھوٹا اقتدار اعلیٰ گر گیا اور حقیقی مقتدر اعلیٰ نے اسے خوب پکڑا اور بڑی شدت اور عبرت اموزی سے پکڑا جس طرح انہوں نے مصر میں سختی ، ظلم اور قہاری وجباری سے غریبوں پر ظلم شروع کررکھا تھا۔ اسی طرح اللہ نے ان کو بھی نابود کردیا۔ اب اس آخری منظر پر پردہ گرتا ہے۔ یہ فرعون جبار کا منظر اور اس کی ایک جھلک ہے۔
انسانی تاریخ میں منکرین کے عذاب کے مناظر میں سے یہ آخری منظر تھا۔ تمام منکرین کی یاد قارئین کے ذہنوں میں تازہ ہے اور سننے والوں اور دیکھنے والوں کا احساس ابھی ان نقوش سے منقش ہے کہ اہل مکہ کو خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ ان کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ تم بھی اسی طرح نیست ونابود ہوسکتے ہو اگر تم باز نہ آئے بلکہ تمہاری جو حرکتیں ہیں ان کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم پر اس سے بھی بھیانک عذاب آئے :۔
اکفارکم ................ مستطر (3 5) 45: 3 4 تا 55)
” کیا تمہارے کفار کچھ ان لوگوں سے بہتر ہیں ؟ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لئے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے ؟ یا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں ، اقنا بچاؤ کرلیں گے ؟ عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے بلکہ ان سے نمٹنے کے لئے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے۔ یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔ جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے ، اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا “۔
ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آجاتا ہے۔ تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔
یہ دنیا اور آخرت دونوں کے عذابوں سے ڈراوا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سے نکل بھاگنے کا کوئی راستہ اور سوراخ نہیں ہے اور نہ بھاگنے یا بچ جانے کی کوئی امید ہوسکتی ہے۔ نہ حساب و کتاب میں کوئی چابکدستی دکھائی جاسکتی ہے اور اس طرح سزا سے بچا جاسکتا ہے۔
تم نے دیکھ لیا امم سابقہ کے جھٹلانے والوں پر کیا گزری۔ آخر تمہارے پاس کیا گارنٹی ہے کہ تم اسی انجام سے دوچار نہ ہوگے۔
اکفار ............ اولئکم (45: 3 4) ” تمہارے کفار کچھ ان لوگوں سے بہتر ہیں “ امم سابقہ کے جو کفار اسی طرح نیست ونابود ہوئے تم ان سے کس پہلو میں اچھے ہو۔
ام لکم ............ الدبر (45: 3 4) ” یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لئے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے ’“ اور جس پر یہ منزل صحیفے گواہ ہیں کہ تم کفر اور تکذیب کے انجام سے بری الذمہ ہوجاؤ گے۔ نہ یہ بات ہے اور نہ وہ ہے۔ نہ تم ان سے اچھے ہو اور نہ ان صحیفوں میں تمہاری برات لکھی ہوئی ہے۔ بس یہی صورت ہے کہ تم بھی اسی انجام سے دو چار ہوجاؤ جس سے وہ دو چار ہوئے جس طرح اللہ نے مقدر فرمایا ہے۔
اب یہ خطاب عام کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس میں ان کے معاملے پر سخت تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے۔
القمر 54:44
ام یقولون ............ منتصر (45:44) ” یا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں اور اپنا بچاؤ کرلیں گے “ جب وہ دیکھتے تھے کہ کفار مکہ ایک بڑی جمعیت ہیں تو ان کے حوصلے بڑھ جاتے تھے اور اپنی قوت پر غرور میں مبتلا ہوکر کہتے تھے کہ ہم ہی غالب رہیں گے اور نہ ہم پر کوئی غالب ہوسکتا ہے اور نہ ہمیں کوئی قوت شکست دے سکتی ہے۔
القمر 54:45
سیھزم ............ الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “ لہٰذا ان کی جمعیت انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی۔ ان کی قوت ان کے لئے مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ یہ اعلان چونکہ اللہ قہار وجبار کا تھا اس لئے ایسا ہی ہوا اور ایسا ہی ہونا تھا۔
مسلم اور بخاری نے ابن عباس کی روایت نقل کی فرمایا کہ حضور اکرم بدر کے دن آپ کے لئے بنائے ہوئے ایک چبوترے میں تھے اور دعا کررہے تھے ، اے اللہ میں تجھ کو تیرے وعدے اور کہد کا واسطہ دیتا ہوں۔ اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری بندگی اس زمین پر نہ ہوگی “ حضرت ابوبکر ؓ نے آپ کو ہاتھ سے پکڑا اور کہا یارسول اللہ آپ کے لئے یہی کافی ہے آپ نے رب تعالیٰ کے سامنے بہت زاری کرلی ہے۔ آپ نکلے اور زرہ میں ڈوبے ہوئے تھے اور آپ کہہ رہے تھے۔
سیھزم الجمع ویوکون الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “
ابن ابو حاتم کی روایت میں مکرمہ سے نقل ہے۔ انہوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی۔
سیھزم ............ الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ کون سا جتھا یعنی کونسا جتھا شکست کھائے گا۔ عمر کہتے ہیں جب بدر کا دن آیا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ زرہ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہی آیت پڑھ رہے ہیں۔ ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ “ تو اس وقت میری سمجھ میں بات آئی کہ اس سے کونسی جمعیت مراد ہے۔ یہ تو تھی دنیا کی ہزیمت لیکن یہ آخری ہزیمت نہ تھی اور نہ ہی یہ شدید اور تلخ عذاب ہے چناچہ اس دنیاوی شکست کے بعد اب آخری شکست کی طرف بات پھرجاتی ہے۔
القمر 54:46
بل الساعة موعدھم ............ وامر (45: 6 4) ” بلکہ ان سے نمٹنے کے لئے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے۔ “ اس عذاب سے جو انہوں نے دیکھا ہے یا اس زمین کی زندگی میں دیکھیں گے یا ان تمام عذابوں سے زیادہ تلخ جو اس سورت میں بیان ہوئے ہیں مثلاً طوفانا نوح ، باد صرصر ، سخت آواز اور پتھروں کی بارش والی ہوا اور فرعون کی زبردست غرقابی۔
اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس طرح سخت شدید اور تلخ ہوگا اور تفصیلات قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں بتائی جاتی ہے :۔
القمر 54:47
ان المجرمین ............ مس سقر (45: 8 4) ” یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔ (یاگمراہی اور آگ میں ہیں) جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے۔ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔ “ یعنی وہ گمراہی میں ہیں جہاں عقل اور روح کی سزا ہوتی ہے اور جہنم میں ہیں جہاں جسم اور جلد کو سزا ہوتی ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ کہتے تھے اور ان جیسے سب لوگوں نے بھی کہا ہے۔
ابشرامنا ................ وسعر (45:4 2) ” کیا ہم میں سے ایک اکیلے شخص کی ہم تابعداری شروع کردیں۔ اگر ایسا کریں تو گویا ہم بہک گئے اور کئی آگوں میں پڑگئے۔ “ اب ان کو معلوم ہوگا کہ گمراہی اس اتباع میں ہے یا انکار میں ہے اور آگ اتباع رسول میں ہے یا مخالفت رسول میں ہے۔
نہایت ہی سختی ، حقارت سے منہ کے بل آگ میں گرادیا جائے گا۔ یہ اس لئے کہ دنیا میں وہ استکبار اور غرور کے ساتھ کام کرتے تھے اور قوت کے بل بوتے پر فیصلے کرتے تھے۔ اب یہاں جسمانی عذاب کے ساتھ ساتھ ان کو روحانی اور نفسیاتی عذاب بھی دیا جائے گا۔ یوں سرزنش کرکے۔
ذوقوا مس سقر (45: 8 4) ” چکھو جہنم کی آگ کی لپٹ “
اس خوفناک اور کپکپا دینے والے منظر کے سایہ میں اب روئے سخن تمام لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے۔ حضور نبی ﷺ کی قوم کی طرف تاکہ ان کے دلوں میں اللہ کی حکمت وتدبیر اور اللہ کی تقدیر اور فیصلوں کی حقیقت بیٹھ جائے۔
یہ دنیا ہو یا آخرت ہو ، اس دنیا کا عذاب ہو یا آخرت کا عذاب ہو ، اس سے قبل کی رسالتیں اور تنبیہات ہوں یا قرآن اور نبی آخرالزمان ہوں ، یہ پوری کائنات یا اس کا انتظام وانصرام ہو یا یہ چھوٹی چیز ہو یا بڑی چیز ہو ، یہ سب کی سب ایک اندازے اور ایک سکیم کے مطابق اللہ کی حکمت کے مطابق پیدا کئے گئے ہیں۔ کوئی چیز بھی بےمقصد ، اتفاقاً ، عبث اور بےسوچے سمجھے پیدا نہیں کی گئی۔
القمر 54:48
ان المجرمین ............ مس سقر (45: 8 4) ” یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔ (یاگمراہی اور آگ میں ہیں) جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے۔ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔ “ یعنی وہ گمراہی میں ہیں جہاں عقل اور روح کی سزا ہوتی ہے اور جہنم میں ہیں جہاں جسم اور جلد کو سزا ہوتی ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ کہتے تھے اور ان جیسے سب لوگوں نے بھی کہا ہے۔
ابشرامنا ................ وسعر (45:4 2) ” کیا ہم میں سے ایک اکیلے شخص کی ہم تابعداری شروع کردیں۔ اگر ایسا کریں تو گویا ہم بہک گئے اور کئی آگوں میں پڑگئے۔ “ اب ان کو معلوم ہوگا کہ گمراہی اس اتباع میں ہے یا انکار میں ہے اور آگ اتباع رسول میں ہے یا مخالفت رسول میں ہے۔
نہایت ہی سختی ، حقارت سے منہ کے بل آگ میں گرادیا جائے گا۔ یہ اس لئے کہ دنیا میں وہ استکبار اور غرور کے ساتھ کام کرتے تھے اور قوت کے بل بوتے پر فیصلے کرتے تھے۔ اب یہاں جسمانی عذاب کے ساتھ ساتھ ان کو روحانی اور نفسیاتی عذاب بھی دیا جائے گا۔ یوں سرزنش کرکے۔
ذوقوا مس سقر (45: 8 4) ” چکھو جہنم کی آگ کی لپٹ “
اس خوفناک اور کپکپا دینے والے منظر کے سایہ میں اب روئے سخن تمام لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے۔ حضور نبی ﷺ کی قوم کی طرف تاکہ ان کے دلوں میں اللہ کی حکمت وتدبیر اور اللہ کی تقدیر اور فیصلوں کی حقیقت بیٹھ جائے۔
یہ دنیا ہو یا آخرت ہو ، اس دنیا کا عذاب ہو یا آخرت کا عذاب ہو ، اس سے قبل کی رسالتیں اور تنبیہات ہوں یا قرآن اور نبی آخرالزمان ہوں ، یہ پوری کائنات یا اس کا انتظام وانصرام ہو یا یہ چھوٹی چیز ہو یا بڑی چیز ہو ، یہ سب کی سب ایک اندازے اور ایک سکیم کے مطابق اللہ کی حکمت کے مطابق پیدا کئے گئے ہیں۔ کوئی چیز بھی بےمقصد ، اتفاقاً ، عبث اور بےسوچے سمجھے پیدا نہیں کی گئی۔
القمر 54:49
انا کل ........ بقدر (45: 9 4) ” ہم نے ہر چیز تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔ “ ہر چیز ، چھوٹی ہو یا بڑی ہو ، بولنے والی ہو یا خاموش ، متحرک ہو یا ساکن ، گزری چیز حاضر ، معلوم چیز یا مجہول ، اللہ نے ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کیا ہے۔
یہ تقدیر اس کی حقیقت طے کرتی ہے۔ اس کی صفت طے کرتی ہے۔ اس کی مقدار طے کرتی ہے۔ اس کا زمانہ طے کرتی ہے۔ اس کا مکان طے کرتی ہے۔ اس کے ماحول کے ساتھ اس کے روابط طے کرتی ہے۔ اس کائنات میں اس کے اثرات طے کرتی ہے۔
یہ قرآنی آیت چند مختصر الفاظ پر مشتمل ہے لیکن یہ آیت ایک عظیم اور محیرالعقول حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ اس آیت کا مفہوم میں یہ پوری کائنات شامل ہے۔ اس حقیقت کو انسان کا دل تب ہی پاکستا ہے جب وہ اس پوری کائنات کو ذہن میں رکھے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ ہمقدم ہو۔ اس سے حقائق اخذ کرے اور یہ محسوس کرے کہ یہ کائنات باہم تناسب اور نہایت ہی دقت کے ساتھ باہم مربوط مخلوق ہے۔ اس کی ہر چیز ایک مقدار کے مطابق پیدا کی گئی ہے۔ تب اس حقیقت کا ایک سایہ اور ایک خاکہ ذہن میں بیٹھ جائے گا۔ صرف ایک چیز کو ذہن میں رکھنے سے یہ تصور نہیں آسکتا۔
جدید سائنس نے اس حقیقت کے بعض نہایت ہی معمولی شعبوں کا احاطہ کیا ہے۔ یہ علم جدید سائنس نے اپنے محدود وسائل کے مطابق فراہم کیا ہے۔ سائنس نے معلوم کرلیا ہے کہ ستاروں کے درمیان فاصلے ایک متعین مقدار کے مطابق ہیں۔ سیارے اور ان کے حجم اور تاروں اور سیاروں کے گروپ یعنی کہکشاں اور ان کی ایک دوسرے کے ساتھ کشش ، یہ مقداریں اور فاصلے اس قدر متعین ہوگئے ہیں کہ سائنس دانوں نے ایسے ستاروں کے فاصلے بھی متعین کردیئے ہیں جن کو انہوں نے دیکھا نہیں ہے کیونکہ کشش اور ہم آہنگی کا تقاضا یہ تھا کہ ان ستاروں کو اس قدر دور ہونا چاہئے کیونکہ جس نظام کو جس تدبیر وتقدیر کے ساتھ انہوں نے دیکھا ہے ، اس نظام کے مطابق ان کا فاصلہ اس قدر دور ہونا چاہئے۔ اس کے بعد جب انہوں نے تیز دور بینوں سے مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے تقدیر کے مطابق یعنی اندازہ کے مطابق جو فاصلے طے کئے تھے وہ درست نکلے۔ غرض ان اجرام فلکی کو اس عظیم فضا میں ایسے متعین فاصلوں سے رکھنا جن کے اندر کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہورہا ہے اور کوئی اضطراب نہیں۔ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقررہ قدر یا مقدار یا تقدیر کے ساتھ بنایا ہے۔
یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں ، اس کے اندر پائے جانے والے رزق اور تقدیر کا علم تو اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس کی موجودہ حالت اور ہیئت اور نسبت کے اندر اگر ذرا بھی تبدیلی کی جائے تو اس زمین پر جس قدر متنوع زندگی پائی جاتی ہے اس کے اندر زبردست خلل واقع ہوجانے یا سرے سے زندگی ہی ختم ہوجائے۔ اس زمین کا حجم اور اس کا ڈھیر اور اس کی سورج سے دوری اور اس کا حجم اس کا درجہ حرارت اور اپنے محور پر زمین کا جھکاؤ، اس کی گردش محوری کی رفتار ، چاند کا زمین سے فاصلہ ، چاند کا حجم اور اس کا مواد اور زمین کی تقسیم پانی اور خشکی میں اور اس کی نسبت غرض یہ اور اسی قسم کی دوسری ہزاروں نستیں ایسی ہیں جن کو دست قدرت نے برابر مقدر کیا ہے۔ ان میں اگر ذرا بھی تبدیلی ہوجائے تو تمام موجودہ نظام بدل جائے اور زمین پر سے زندگی فوراً ختم ہوجائے اور وہ ضوابط جو زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں ان کے درمیان توازن کا ادراک اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ زندہ اشیاء اور ان کے ماحول کے درمیان توازن اور تمام اشیاء کا ایک دوسرے کے ساتھ توازن اس حد تک پہنچا ہوا ہے اور انسانوں کو معلوم ہوگیا جس طرح اس آیت کے اندر پائی جانے والی حقیقت کی طرف اشارات اچھی طرح ملتے ہیں۔ چناچہ عوامل حیات اور بقائے حیات کے عوامل اور موت اور فنا کے عوامل کے درمیان نسبت بھی معاشرے میں متعین ہے اور جب کوئی زندہ مخلوق اپنے حدود سے تجاوز کرجاتی ہے تو زندگی کو کنٹرول کرنے والے قدرتی ضوابط خود اسے چیک کرتے ہیں تاکہ جس قدر زندہ مخلوق ہو ، اس کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔
یہاں اس طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ بعض زندہ اشیاء کا بعض دوسری زندہ اشیاء کے ساتھ بھی تعلق اور توازن ہے جبکہ زمین کے اندر موجود توازن کی طرف ہم اس سے قبل اشارہ کرچکے ہیں۔ (سورت فرقان)
وہ پرندے جو چھوٹے پرندوں کا شکار کرکے غذا حاصل کرتے ہیں ، وہ قلیل التعداد ہیں۔ اس لئے کہ یہ بہت کم انڈے دیتے ہیں۔ پھر بہت کم بچے دیتے ہیں اور پھر یہ محدود اور متعین علاقوں میں زندہ رہتے ہیں اور دوسرے پرندوں کے مقابلے میں ان کی عمر طویل ہوتی ہے۔ اگر طویل عمر کے ساتھ ساتھ ان کے بچے بھی زیادہ ہوتے اور یہ ہر علاقے میں زندہ رہ سکتے تو وہ دنیا سے تمام چھوٹے پرندوں کو ختم کردیتے اور چھوٹے پرندوں کی نسلیں ختم ہوجاتیں یا ان کی تعداد اس قدر قلیل ہوجاتی کہ جس مقصد کے لئے اللہ نے ان کو پیدا کیا تھا یعنی لوگوں کا شکار اور کھانا اور دوسرے بیشمار مقاصد جو زمین پر وہ سرانجام دیتے ہیں ، کسی نے کیا خوب کہا ہے :
بغاث الطیر اکثرھا فراخا
وام الصفر مقلاة نزور
(بغاث آبی پرندہ ، کے بچے بہت ہوتے ہیں لیکن شاہین کی ماں بہت کم اور تھوڑے بچے دیتی ہے۔ ) یہ بھی اللہ کی حکمت اور تقدیر ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا تاکہ قدرتی نظام بگڑ نہ جائے تاکہ پرندوں کی پیدائش اور ان کی بقا اور گوشت خور پرندوں کے ذریعہ ان کے فنا میں توازن پیدا ہو۔
مکھی کئی ملین انڈے دیتی ہے لیکن اس کی عمر صرف دو ہفتے ہوتی ہے۔ اگر یہ کئی سال تک زندہ ہوتی اور انڈے اسی نسبت سے دیتی تو مکھیاں تھوڑے ہی عرصہ میں سطح زمین کو ڈھانپ لیتیں اور کئی زندہ جانور بلکہ انسان بھی مرحوم ہوجاتے یا ان کی زندگی سطح ارض پر مشکل ہوجاتی لیکن قدرت کا نظام توازن کام کررہا ہے اور یہ توازن اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر کسی چیز کی نسل زیادہ ہے تو عمر کم رکھی گئی ہے اور اگر نسل کم ہے تو عمر زیادہ دی گئی ہے اور یہ چیز ہم حیات کے تفصیلی مکالمے میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔
وہ حیوانات جو مائیکرو سکوپ سے نظر آتے ہیں ، تمام زندہ چیزوں سے تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں اور پھیلاؤ میں بڑی کثرت سے پھیلتے ہیں اور بہت زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں لیکن یہ زندگی کو قائم رکھنے میں بہت کمزور اور عمر کے لحاظ سے بہت کم ہوتے ہیں۔ یہ ملین اور بلین کے حساب سے تو سردی سے مرجاتے ہیں۔ گرمی سے مرجاتے ہیں ، سورج کی شعاعوں سے مرجاتے ہیں ، جراثیم کش ادویات وغیرہ سے اور دوسرے اسباب وذرائع سے اور یہ چیزیں انسانوں اور حیوانوں کی ایک محدود تعداد کو نقصان دے سکتی ہیں۔ اگر یہ چیزیں طاقتور ہوتیں یا زیادہ عمر پاتیں تو زندہ چیزوں اور انسانوں کے لئے خطرہ بن جاتیں۔
اللہ نے ہر زندہ چیز کو اپنے دشمنوں سے بچاؤ کے لئے ہتھیار دیئے ہیں اور یہ ہتھیار حسب ضرورت ہر چیز کے لئے الگ ہے۔ مثلاً کسی کو تعداد میں کثرت کا اسلحہ دیا گیا ہے ، کسی کو گرفت کی قوت دی گئی ہے اور کسی کو کیا کسی کو کیا۔
چھوٹے سانپوں کو زہر دیا گیا ہے یا بڑی سرعت سے بھاگنے کا ہتھیار۔ ناگوں کو بڑے بڑے عضلاتی ہتھیار دیئے گئے۔ اس لئے ان میں زہر شاذونادرہی ہوتا ہے اور کبریلا اپنے آپ کو بچانے سے عاجز ہوتا ہے۔ اس لئے ایک ایسا مادہ دیا گیا ہے جو داغ دیتا ہے اور بدبودار ہوتا ہے ، جو بھی اسے چھوتا ہے اس پر وہ یہ مواد بکھیر دیتا ہے۔ اس طرح وہ دشمنوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔
وہ انڈہ جس میں مادہ منی کا جرثومہ داخل ہوجاتا ہے ، رحم مادر کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ یہ رحم مادر کو کھانا شروع کردیتا ہے اور اپنے ارد گرد رحم مادر میں ایک گڑھا بنا دیتا ہے جو خون سے بھر جاتا ہے اور یہ اس میں زندہ رہتا ہے اور خون کو چوستا رہتا ہے اور وہ نالی جو رحم مادر سے بچے کی ناف سے ملتی ہے ، وضع حمل تک خون دیتی رہتی ہے اور یہ اس مقصد کے لئے پیدا کی جاتی ہے۔ یہ نالی نہ لمبی ہوتی ہے اور نہ چھوٹی ہوتی ہے اور اس مقدار میں اس کی لمبائی مقدر ہے کہ مقصد کو اچھی طرح پورا کرتی ہے۔
حمل کے آخری دنوں میں پستانوں کے اندر ایک مواد بننا شروع ہوتا ہے اور وضع حمل کے بعد زردی مائل مواد (دودھ) نکلتا ہے۔ اللہ کی صنعت کی کاریگریوں کو دیکھو کہ اس کے اندر وہ مواد ہوتا ہے جو بچے کو متعدی امراض سے بچاتا ہے اور بچے کی پیدائش کے دوسرے دن دودھ نکلنا شروع ہوتا ہے اور قدرت کا انتظام دیکھئے کہ دودھ میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا ہے۔ ایک سال کے بعد یہ ڈیڑھ لیٹر تک پہنچ جاتا ہے حالانکہ ابتدائی دنوں میں اس کی مقدار کم ہوتی ہے۔ صرف یہ اعجاز نہیں ہے کہ بچے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ دودھ بھی بڑھتا ہے بلکہ دودھ کی ترکیب میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ آغاز میں یہ محض پانی اور شکر ہوتا ہے اور اس کے بعد اس میں دوسرے ضروری مادے زیادہ ہوتے جاتے ہیں اور پھر اس میں تیل بھی آتا ہے بلکہ ہر دن کا دودھ دوسرے دن سے مختلف ہوتا ہے اور یہ بچے کی ضروریات نشوونما کے مطابق۔
انسان کی نشوونما میں بیشمار مشینیں کام کرتی ہیں۔ انسان کے فرائض ، اس کے طریقہ عمل میں بہت سے عوامل لگے ہوئے ہیں جو اس کی زندگی کو بچانے اور صحت کے محافظ اور یہ فیکٹریاں جو انسانی جسم کے اندر لگی ہوئی ہیں ، ان کے بارے میں عجیب اور حیران کن معلمات حاصل ہوچکی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دست قدرت نے کس قدر باریک نظام وضع کیا ہے اور اس کی تدبیریں ہورہی ہیں اور جن سے صاف صاف نظر آرہا ہے کہ اللہ کا نظام کام کررہا ہے۔ ہر فرد ، ہر عضو کے لئے یہ عوامل کام کرتے ہیں بلکہ ہر خلیے کے لئے کام ہورہا ہے اور اللہ کی نظر سے کوئی چیز غائب نہیں ہے۔ ہم یہاں انسانی جسم کی ساخت اور اس کے پیچیدہ نظام کی تفصیلات تو نہیں دے سکتے لیکن بطور نمونہ ہم صرف ایک نظام کی طرف مختصراً اشارہ کرتے ہیں۔ یہ سخت غدودوں کا نظام ہے ” یہ جسم کے اندر چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں ہیں جو جسم کو ضروری کیمیاوی مواد فراہم کرتی ہیں۔ ان کی قوت یہ ہے کہ اس کے ایک ہزار بلین اجزاء میں سے ایک جزو بھی اس قدر مواد پیدا کرتا ہے جو جسم انسان کے لئے بہت اہم ہوتا ہے اور اس کا نظام اس طرح بنایا گیا کہ ایک غدود کا مواد دوسرے غدود کے مواد کے لئے لازمی جزو ہوتا ہے اور ان کے بارے میں آج تک جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ان کا نظام نہایت ہی پیچیدہ ہے اور اگر ان میں کسی ایک غدود میں خلل واقع ہوجائے تو انسانی جسم میں عمومی تباہی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اگرچہ یہ خلل ایک مختصر وقت کے لئے ہو۔
رہے حیوانات تو ان کی انواع اور اقسام کے اعتبار سے ان کے دفاعی نظام اور ہتھیار مختلف ہیں اور ان کو حسب ضرورت قوت دی گئی ہے۔
چیتوں ، شیروں ، درندوں اور دوسرے پھاڑ کھانے والے جانوروں کو ایسے منہ دیئے گئے ہیں جو شکار کو پکڑ سکتے ہیں۔ تمام ایسے جانور جن کا گزارہ دوسرے جانوروں کے شکار پر ہے ان کو اس مقصد کے لئے ناخن ، تیزدانت اور مضبوط جبڑے دیئے گئے ہیں اور حملہ کرنے میں چونکہ وہ اعصاب اور عضلات سے کام لیتے ہیں ، لہٰذا ان کے پاؤں کے عضلات بہت سخت ہوتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں کے ناخن بہت سخت اور مضبوط ہوتے ہیں اور ان کے معدے کے اندر اس قسم کے تیزابی لعاب ہوتے ہیں جو گوشت اور ہڈیوں کو مختصر وقت میں ہضم کرکے رکھ دیتے ہیں۔
اسی طرح چرندوں اور پالتو جانوروں کے نظام ہاضمہ کو اس کی خوراک کے مطابق بنایا گیا ہے مثلاً وہ حیوانات جو چرکر گزارہ کرتے ہیں ان کا نظام ہضم بالکل مختلف ہے۔ ان کے منہ نسبتاً کھلے ہیں اور یہ جانور قوی اور مضبوط ناخن نہیں رکھتے۔ اسی طرح ان کے پھاڑ کھانے والے قوی دانت بھی نہیں۔ اس کے مقابلے میں ان کے دانت ایسے ہیں جو گھاس کو کاٹنے والے اور پیسنے والے ہیں۔ یہ گھاس اور نباتات کو بڑی سرعت سے کھاتے ہیں اور جلد ہی اسے نگل لیتے ہیں۔ یوں وہ انسان کے لئے وہ خدمات سرانجام دیتے ہیں جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ دست قدرت نے ایک عجیب نظام ہضم دیا ہے جو گھاس کھاتے ہیں وہ بوجھ میں جمع ہوتا ہے۔ جب اس حیوان کا یومیہ کام ختم ہوتا ہے اور یہ آرام کرتا ہے تو اس کا تمام کھانا ایک خالی جگہ چلا جاتا ہے جسے ” ٹوپی “ کہا جاتا ہے۔ یہاں سے یہ دوبارہ منہ میں جاتا ہے۔ اب اسے دوبارہ خوب چبایا اور پیسا جاتا اور یہ تیسرے درجے میں جاتا ہے جسے امر تلافیف کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد چوتھے درجے میں جسے رنفجہ کہا جاتا ہے۔ یہ طویل نظام ہضم صرف حیوان کے لئے بنایا گیا ہے کیونکہ جس قدر چرنے والے اور جگالی والے حیوانات ہیں ان کا شکار کیا جاتا ہے لہٰذا ان کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ جلدی سے خوراک سٹور کرلیں اور پھر آرام سے جاکر ہضم کرلیں۔ جدید علوم نے اس بات کو دریافت کیا ہے جگالی کا عمل ان حیوانات کی زندگی کے لئے ضروری ہے کیونکہ وہ گھاس جو جلدی ہضم نہیں ہوتی اس لئے کہ نباتات کے تمام خلیوں پر سلیلوز کا پردہ ہوتا ہے اور ان کو ہضم کرنے کے لئے بہت ہی طویل وقت درکار ہوتا ہے۔ اگر جگالی کا نظام نہ ہو اور ان کے معدے میں ایک خاص سٹور نہ ہو تو ان کو چراگاہ میں طویل وقت گزارنا پڑے۔ ممکن ہے کہ ان کو پورا دن گھاس کے ہضم کرنے میں لگ جائے اور پھر بھی وہ خوراک پوری نہ کرسکتا اور پورا دن خوراک کھانے اور چبانے ہی میں لگا رہتا۔ جلدی سے گھاس کھاتا اور پھر اس کا سٹور کرلیتا اور پھر جگالی کرتا ہے جبکہ سٹور میں وہ کافی نرم ہوچکا ہوتا ہے تو اس طرح حیوانات کے کئی مقاصد پورے ہوجاتے ہیں۔ وہ اچھا کام بھی کرسکتے ہیں اور ان کی غذا بھی پوری طرح ہضم ہوجاتی ہے۔ یہ ہیں باری تعالیٰ کی تدابیر۔
وہ پرندے جو گوشت کھاتے ہیں مثلاً الو ، شکرہ ان کی چونچ کمان کی طرح ہوتی ہے اور تیز ہوتی ہے اور گوشت نوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ آبی جانور مثلاً بطخ اور مرغابی کو چوڑی چونچ دی گئی ہے تاکہ وہ پانی اور کیچڑ میں اپنی خوراک تلاش کریں اور ان کی چونچ میں ایسے چھوٹے چھوٹے ابھار ہوتے ہیں جو دانت کی طرح ہوتے ہیں اور کیڑوں وغیرہ کے کاٹنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایسے مرغیاں اور کبوتر اور باقی پرندے تو وہ زمین میں دانے اٹھا کر کھاتے ہیں اس لئے ان کو چھوٹی چونچ اور باریک سر دیئے گئے ہیں۔ وہ چھوٹے سے چھوٹا دانہ بھی اٹھا لیتے ہیں جبکہ بگلے کی چونچ طویل ہوتی ہے اور اس کے نیچے ایک تھیلا ہوتا ہے جو جراب کی طرح ہوتا ہے۔ یہ شکاری کے جال کا کام کرتا ہے کیونکہ اس کی خوراک ہی مچھلی ہوتی ہے۔
ہد ہد اور ریوفرد ان کی چونچ تیز اور لمبی ہوتی اور یہ کیڑے مکوڑے کھانے اور تلاش کرنے کے لئے موزوں ہوتی ہے کیونکہ یہ چیزیں زمین کے نیچے ہوتی ہیں۔ سائنس نے معلوم کرلیا ہے کہ کس پرندے کی چونچ پر سرسری نظر ڈالنے ہی سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اس کی خوراک کیا ہے۔
یہ بیان اب طویل ہوتا جارہا ہے۔ ہم فی ظلال القرآن کے اختیار کردہ منہاج دائرہ سے نکل رہے ہیں۔ اگر ہم تمام انواع و اقسام کے جانوروں اور مویشیوں پر کلام کریں تو بات بہت طویل ہوجائے۔ صرف ایک چیز کو لے لیں ” امیبا “ جس کا ایک خلیہ ہوتا ہے ، ذرا ملاحظہ کیجئے کہ دست قدرت نے اس کی ضرورت کو کس طرح پورا کیا ہے اور اس کے لئے بھی ضروریات کا پورا پورا انتظام کردیا ہے۔” امیبا ایک نہایت ہی باریک جسم والا حیوان ہے۔ یہ حوضوں ، نالیوں اور پانی کی تہہ میں بیٹھے ہوئے پتھروں میں ہوتا ہے۔ یہ آنکھوں سے نہیں دیکھتا ہے۔ یہ ایک ڈھیلا ڈھالا جاندار ہے۔ حالات اور ضروریات کے مطابق یہ شکل بدل دیتا ہے۔ جب یہ حرکت کرتا ہے تو یہ اپنے جسم کے بعض اجزاء مطلوب مقام تک پہنچنے کے لئے آگے پہنچنے کے لئے آگے بڑھاتا ہے۔ یہ زائد اجزاء چھوٹے پاؤں کہلاتے ہیں۔ اگر اسے کوئی غذا ملے تو وہ ان چھوٹے ایک یا دو پاؤں سے پکڑ لیتا ہے۔ اس پر یہ ہضم کرنے والا ایک سیال پھینکتا ہے اور اس کے بعد حسب ضرورت کھا لیتا ہے۔ باقی کو دور پھینک دیتا ہے۔ یہ پانی سے آکسیجن لے کر پورے جسم کے ساتھ سانس لیتا ہے۔ ذرا سوچئے کہ ایک ایسا حیوان جو سرے سے دیکھتا ہی نہیں ، وہ زندہ رہتا ہے ، حرکت کرتا ہے ، غذا حاصل کرتا ہے ، سانس لیتا ہے ، اپنے فضلات نکالتا ہے اور جب وہ جوان ہوتا ہے تو دو حصوں میں بٹ جاتا ہے اور اس سے دو مختلف قسم کے حیوان بن جاتے ہیں بالکل جدید “
نباتات میں بھی زندگی محیرالعقول ہے۔ انسان اور حیوان اور پرندے کے عجائبات سے وہ بھی کسی طرح کم نہیں ہیں اور دست قدرت کی کارستانی ان حیوانات کے مقابلے میں نباتات کے اندر کس طرح بھی کم نہیں ہے۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا۔
و خلق ............ تقدیرا ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور نہایت پورے پورے اندازہ سے پیدا کیا۔ “
یہ کہ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدر کے مطابق پیدا کیا ہے۔ یہ ایک بہت ہی عظیم اصول ہے۔ یہ بہت ہی ہمہ گیر ہے مثلاً اس کائنات کی ہر حرکت اس کے واقعات ، حادثات خواہ چھوٹے ہوں یا بثے ، وہ اللہ کی تقدیر اور تدبیر کے مطابق چلتے ہیں۔ انسانی تاریخ کی ہر حرکت ، نفس انسانی کی ہر حرکت ، سانس لینا اور خارج کرنا ، مقدر ہے۔ ہر نفس کا وقت ، مقام اور ماحول مقرر ومقدر ہے اور اس کی زندگی اس کائنات کی حرکت کے ساتھ مربوط ہے اور اسی طرح حساب و کتاب کے اندر ہے جس طرح بڑے بڑے واقعات دائرہ حساب میں ہوتے ہیں۔
دور ایک صحرا میں ایک اکیلا درخت کھڑا ہے۔ یہ تقدیر نے کھڑا کیا ہے اور اس کی کوئی ضرورت ہوگی ۔ یہ درخت بھی کوئی فریضہ ، منصبی ادا کررہا ہوگا اور یہ بھی اس پوری کائنات کے نظام کے ساتھ مربوط ہے۔ یہ چیونٹی جو زمین پر چل رہی ہے اور یہ ذرہ جو ہوا میں اڑ رہا ہے اور یہ خلیہ جو پانی میں تیر رہا ہے یہ بھی انہیں اجرام فلکی کی طرح مقدر ہے اور کسی کے حکم سے اڑ رہا ہے۔
اللہ کی تقدیر زمان میں بھی چلتی ہے ، مکان میں بھی چلتی ہے ، مقدار بھی مقدر ہے صورت بھی مقدر ہے اور تمام حالات اور تمام اصول مقدر ہیں۔
اللہ کا نظام قضا وقدر کس طرح کام کرتا ہے مثلاً حضرت یعقوب ایک دوسری عورت سے نکاح کرتے ہیں اور ان سے یوسف اور بن یامین پیدا ہوتے ہیں۔ کسی نے اس کے بارے میں خیال کیا ہے کہ یہ بظاہر ایک شخصی فیصلہ تھا لیکن اس کے پیچھے دست قدرت کام کررہا تھا تاکہ برادران یوسف ان کے ساتھ حسد کریں ، ان کو اندھے کنویں میں ڈال دیں۔ وہاں سے ان کو قافلہ پکڑلے۔ مصر میں فروخت کردے ، مصر میں عزیزمصر کا گھر ہے۔ اس کی بیوی انہیں ورغلانے کی کوشش کرے۔ آپ بلند اور برتر ثابت ہوں۔ جیل میں بھیج دیئے جائیں۔ یہ کیوں ؟ تاکہ جیل میں شاہی ملازمین سے ملیں ان کے سامنے خواب کی تعبیر بیان کریں۔ یہ کیوں ؟ ابھی تک تو ان واقعات کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔ سوال اٹھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ حضرت یوسف تو بےگنہ جیل میں عذاب جھیل رہے ہیں پھر یعقوب (علیہ السلام) کا کیا قصور ہے۔ وہ کیوں جل رہے ہیں ؟ وہ رنج والم سے کیوں بینائی کھو بیٹے ہیں اور یوسف (علیہ السلام) کو یہ تکالیف کیوں دی جارہی ہیں۔ جسمانی اور روحانی تکالیف ، پورے پچیس سال گزرنے کے بعد پہلا جواب آتا ہے کہ تقدیر اسے مصر کی حکومت کے لئے تیار کررہی تھی تاکہ مصر اور اس کے ملحقہ ممالک کو قحط سے بچایا جاسکے ، پھر کس لئے ؟ اس لئے کہ وہ اپنے والدین اور بھائیوں کو مصر بلا لائیں پھر اس لئے کہ ان کی نسل سے قوم بنی اسرائیل پروان چڑھے تاکہ فرعون ان پر مظالم ڈھائے اور ان کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا جائے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ اس کرہ ارض پر وہ واقعات رونما ہوں۔ جو حضرت یوسف کے کنویں میں ڈالنے کے بعد رونما ہوئے۔ ان واقعات کے اثرات اس دنیا میں آج بھی موجود ہیں اور دنیا کے واقعات پراثرانداز ہورہے ہیں۔
پھر ایک دوسرا واقعہ یعقوب (علیہ السلام) کے دادا ابو الانبیاء حضرت ابراھیم (علیہ السلام) مصر جاتے ہیں۔ مصری عورت ہاجرہ سے نکاح کرتے ہیں۔ یہ بھی کوئی افنرادی مسئلہ نہ تھا۔ یہ اور اس سے قبل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں جو واقعات رونما ہوئے جن کے نتیجے میں انہوں نے وطن چھوڑا ، عراق سے کنعان وہاں سے مصر وہاں سے ہاجرہ کا لانا ، اسماعیل (علیہ السلام) کا پیدا ہونا ، ان کو بیت اللہ میں آباد کرنا تاکہ حضرت محمد ﷺ پیدا ہوں۔ ابراہیم کی نسل سے ، اس جزیرہ عرب میں جو اس ارض پر بہترین مکان ہے اور دعوت اسلامی کا مرکز ہے تاکہ اس کے نتیجے میں تاریخ انسانیت میں ایک عظیم حادثہ رونما ہو۔
یہ بھی اللہ کی تقدیر ہے اور اس کا پچھلا سر دست قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ ہر حادثہ ہر واقعہ وہاں سے ہی نمودار ہوتا ہے۔ آغاز بھی وہاں سے ، انجام بھی وہاں ، ہر قدم ، ہر تغیر میں دست قدرت کا ہاتھ ہے۔.... یہ اللہ کی تقدیر کا نظام ہے ، یہ نافذ ہے ، جامع و شامل ہے ، باریک اور گہری۔
انسان اسی کے بالکل قریبی سرے کو دیکھ رہا ہے لیکن اسے اسباب کی دراز رسی کا دوسرا سرا نظر نہیں آتا اور بعض اوقات یہ رسی بہت دراز ہوجاتی ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں ، دور دراز تک ہم نکل جاتے ہیں ، ہمیں تقدیر وتدبیر کا سلسلہ نظر نہیں آتا۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ
مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ پروانے کا ناحق خون ہوگا
کس طرح ہوگا ؟ اس پر لوگ جلدی مچاتے ہیں ، شور کرتے ہیں نئی نئی تجاویز لاتے ہیں۔ یہ لوگ دراصل اپنے آپ کو عذاب میں ڈال رہے ہیں۔ نظام قضا وقدر پر دست درازی کرتے ہیں۔
اللہ صاف صاف فرماتا ہے کہ اس نے ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کررکھا ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ نتائج اس پر چھوڑ دیں جو نتائج کا مالک ہے اور آرام سے کام کریں۔ وہ اللہ کے نظام ، قضاوقدر سے ہم آہنگ ہوکر چلیں۔ نہایت انس و محبت سے اپنے حصے کا کام کریں اور نہایت ثابت قدمی اور للہ پر بھروسے کے ساتھ قدر بڑھاتے چلے جائیں۔
جہاں تک اللہ کے انقلاب کا تعلق ہے تو وہ پلک جھپکتے ہی نمودار ہوسکتا ہے۔ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
القمر 54:50
وما امرنا ............ بالبصر (45: 0 5) ” ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکائے وہ عمل میں آجاتا ہے۔ “ صرف ایک اشارہ اور ایک ہی کلمہ تمام کام مکمل کردیتا ہے۔ چھوٹا کام بھی اور بڑا انقلاب بھی۔ اللہ کے لئے تو کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہے۔ یہ انسانی تقدیرات ہیں جن میں بڑے اور چھوٹے کام ہیں۔ اللہ کے ہاں نہ زمان ہے نہ مکان ہے اور نہ پلک جھپکنا ہے۔ وہاں تو کن فیکون ہے۔ یہ انسانوں کو سمجھانے کے لئے بڑے اور چھوٹے اور مختصر وقت کی مثالیں دی گئی ہیں۔ زمان کیا ہے ، انسان کا ایک چھوٹا سا تصور جو وہ اس زمین کے گردش محوری اور سالانہ سے پیمائش کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں زمانے کا یہ تصور نہیں ہے۔ یہ تو بہت ہی محدود تصور ہے۔
ایک لفظ ۔ جو اس پوری کائنات کو جود میں لاتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو اس میں تغیرات پیدا کرتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو اس کو نابود کردے گا۔ ایک لفظ ہے جو ہر چیز کو وجود بخشتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو حیات کو پھیلاتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو موت دیتا ہے اور ایک لفظ ہوگا جو دوبارہ اٹھادے گا۔ ایک لفظ سے حشر ونشر برپا ہوگا اور حساب و کتاب ہوگا۔ ایک لفظ ایک ارادہ ، کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی کسی زمان ومکان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بس قدرت ہے تقدیر ہے اور ہر چیز اللہ کے لئے آسان ہے۔
اور یہی لفظ تھا جس کے ذریعہ ہم زمانوں کو ہلاک کرکے لپیٹ چکے ہیں ذرا تاریخ پر نگاہ ڈالو۔
القمر 54:51
ولقد ................ مستطر (45: 3 5) ” اور تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور یہ چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ یہ ہیں مکذبین کی بربادیاں جن کی طرف اسی سورت میں اشارات موجود ہیں۔ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو نصیحت حاصل کرے اور عبرت پکڑے۔
ان کی ان بربادیوں پر ہی ان کا حساب و کتاب ختم نہیں ہوگا بلکہ ایک آنے والا حساب ہے جس سے کوئی ذرہ برابر فعل بھی نہیں بچ سکتا۔
وکل ............ الزبر (45: 2 5) ” انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے دفتروں میں درج ہے۔ “ وہ دفتروں میں سطور کی شکل میں درج ہے یوم الحساب کے لئے تیار شدہ چٹھا ہے۔
وکل ................ مستطر (45: 3 5) ” ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ کوئی چیز اس میں سے بھول کر نہیں رہتی۔
اب روئے سخن متقین کی طرف پھرجاتا ہے۔ یہ صفحہ بالمقابل ہے مکذبین کا۔ نہایت ہی خوشحالی کی تصویر ہے۔ ان کی ، امن و اطمینان میں اور کیف و سرور میں اور عزت و عظمت میں۔
القمر 54:52
ولقد ................ مستطر (45: 3 5) ” اور تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور یہ چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ یہ ہیں مکذبین کی بربادیاں جن کی طرف اسی سورت میں اشارات موجود ہیں۔ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو نصیحت حاصل کرے اور عبرت پکڑے۔
ان کی ان بربادیوں پر ہی ان کا حساب و کتاب ختم نہیں ہوگا بلکہ ایک آنے والا حساب ہے جس سے کوئی ذرہ برابر فعل بھی نہیں بچ سکتا۔
وکل ............ الزبر (45: 2 5) ” انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے دفتروں میں درج ہے۔ “ وہ دفتروں میں سطور کی شکل میں درج ہے یوم الحساب کے لئے تیار شدہ چٹھا ہے۔
وکل ................ مستطر (45: 3 5) ” ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ کوئی چیز اس میں سے بھول کر نہیں رہتی۔
اب روئے سخن متقین کی طرف پھرجاتا ہے۔ یہ صفحہ بالمقابل ہے مکذبین کا۔ نہایت ہی خوشحالی کی تصویر ہے۔ ان کی ، امن و اطمینان میں اور کیف و سرور میں اور عزت و عظمت میں۔
القمر 54:53
ولقد ................ مستطر (45: 3 5) ” اور تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور یہ چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ یہ ہیں مکذبین کی بربادیاں جن کی طرف اسی سورت میں اشارات موجود ہیں۔ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو نصیحت حاصل کرے اور عبرت پکڑے۔
ان کی ان بربادیوں پر ہی ان کا حساب و کتاب ختم نہیں ہوگا بلکہ ایک آنے والا حساب ہے جس سے کوئی ذرہ برابر فعل بھی نہیں بچ سکتا۔
وکل ............ الزبر (45: 2 5) ” انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے دفتروں میں درج ہے۔ “ وہ دفتروں میں سطور کی شکل میں درج ہے یوم الحساب کے لئے تیار شدہ چٹھا ہے۔
وکل ................ مستطر (45: 3 5) ” ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ کوئی چیز اس میں سے بھول کر نہیں رہتی۔
اب روئے سخن متقین کی طرف پھرجاتا ہے۔ یہ صفحہ بالمقابل ہے مکذبین کا۔ نہایت ہی خوشحالی کی تصویر ہے۔ ان کی ، امن و اطمینان میں اور کیف و سرور میں اور عزت و عظمت میں۔
القمر 54:54
ان المتقین ............ مقتدر (55) (45:45 ۔ 55) ” نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقینا باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔ سچی عزت کی جگہ ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔ “
مجرمین تو گمراہی اور آگ میں تھے۔ تو متقین چشموں اور نہروں میں ہیں۔ مجرموں کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا تو ہیں آمیز طریقے پر اور پھر سر زنش کے طور پر کہا جائے گا۔
ذوقو ............ سفر ” چکھو آگ کا مساس “ جبکہ مومنین جنات اور نہروں میں ہیں اور عزت کی جگہوں میں ذی اقتدار بادشاہ کے پاس ہیں۔ پورا تقابل ہے دونوں کے درمیان۔
الفاظ کا استعمال بھی دلچسپ ہے۔ جنات ونہر میں ایک تو مفہوم نہایت مکمل ہے کہ باغ اور نہریں جن سے نعمتیں اور آسانیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ لفظ نہر لفظ سقر کے ساتھ ہم وزن ہونے کے ساتھ نہایت ہی نرم ادائیگی بھی رکھتا ہے یعنی نرم ، سل التلفظ لفظ سے اشارہ اس طرف مطلوب ہے کہ ان کو ہر قسم کی سہولیات میسر ہیں۔ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ معنی کے علاوہ تلفظ سے بھی مفہوم ظاہر ہوتا ہے جس طرح سقر سے سختی ظاہر ہوتی ہے۔
جسم اور زبان کی نعمتوں کے علاوہ وہاں قلب وروح کی غذا کا انتظام بھی ہوگا اور وہ ہوگا مقتدر اعلیٰ کا قرب۔
فی ............ مقتدر (45:55) ” سچی عزت کی جگہ بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔ “ یہ مستقل اطمینان کی جگہ ہے ۔ نہایت ہی قابل عزت قرب ہے۔ وہ قرب کے اندر محبت محسوس کریں گے۔ مطمئن ہوں گے۔ یہ اس لئے کہ دنیا میں یہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے ہر وقت اللہ کی مرضی کے منتظر تھے اور اللہ کا نظام یہ ہے کہ وہ کسی دل میں دو ڈر جمع نہیں کرتا کہ کوئی دنیا میں اللہ سے ڈرے اور پھر قیامت میں بھی اللہ سے ڈرے۔ جو یہاں ڈرے گا وہاں مطمئن اور مسرور ہوگا اور اس خوفناک اور ہولناک میدان میں امن و سکون محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اہل ایمان اعزازو تکریم بھی پائیں گے۔
یہاں یہ نغمہ نہایت دھیما نغمہ ختم ہوتا ہے۔ متقین یہاں پر امن سایہ میں ہیں اور یہ سورت جس کی تمام کڑیاں خوفناک دھماکے کی صورت میں تھیں ، پکڑ دھکڑ تھی ، اس کا یہ آخری منظر مومنین کے پرسکون حالات ومناظر پر ختم ہوتا ہے جس میں ان کا جسم اور قلب وروح سب کے سب پرسکون اور مطمئن نظر آتے ہیں۔ یہ ہے اندازعلیم و حکیم کا۔ جو بات کی جاتی ہے وہ دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے کیونکہ اللہ لطیف وخبیر ہے اور اسی نے ہر چیز کو ایک اندازے سے بنایا ہے اور وہ ہر چیز کے ساتھ معاملہ کرنا اچھی طرح جانتا ہے۔
القمر 54:55
ان المتقین ............ مقتدر (55) (45:45 ۔ 55) ” نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقینا باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔ سچی عزت کی جگہ ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔ “
مجرمین تو گمراہی اور آگ میں تھے۔ تو متقین چشموں اور نہروں میں ہیں۔ مجرموں کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا تو ہیں آمیز طریقے پر اور پھر سر زنش کے طور پر کہا جائے گا۔
ذوقو ............ سفر ” چکھو آگ کا مساس “ جبکہ مومنین جنات اور نہروں میں ہیں اور عزت کی جگہوں میں ذی اقتدار بادشاہ کے پاس ہیں۔ پورا تقابل ہے دونوں کے درمیان۔
الفاظ کا استعمال بھی دلچسپ ہے۔ جنات ونہر میں ایک تو مفہوم نہایت مکمل ہے کہ باغ اور نہریں جن سے نعمتیں اور آسانیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ لفظ نہر لفظ سقر کے ساتھ ہم وزن ہونے کے ساتھ نہایت ہی نرم ادائیگی بھی رکھتا ہے یعنی نرم ، سل التلفظ لفظ سے اشارہ اس طرف مطلوب ہے کہ ان کو ہر قسم کی سہولیات میسر ہیں۔ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ معنی کے علاوہ تلفظ سے بھی مفہوم ظاہر ہوتا ہے جس طرح سقر سے سختی ظاہر ہوتی ہے۔
جسم اور زبان کی نعمتوں کے علاوہ وہاں قلب وروح کی غذا کا انتظام بھی ہوگا اور وہ ہوگا مقتدر اعلیٰ کا قرب۔
فی ............ مقتدر (45:55) ” سچی عزت کی جگہ بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔ “ یہ مستقل اطمینان کی جگہ ہے ۔ نہایت ہی قابل عزت قرب ہے۔ وہ قرب کے اندر محبت محسوس کریں گے۔ مطمئن ہوں گے۔ یہ اس لئے کہ دنیا میں یہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے ہر وقت اللہ کی مرضی کے منتظر تھے اور اللہ کا نظام یہ ہے کہ وہ کسی دل میں دو ڈر جمع نہیں کرتا کہ کوئی دنیا میں اللہ سے ڈرے اور پھر قیامت میں بھی اللہ سے ڈرے۔ جو یہاں ڈرے گا وہاں مطمئن اور مسرور ہوگا اور اس خوفناک اور ہولناک میدان میں امن و سکون محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اہل ایمان اعزازو تکریم بھی پائیں گے۔
یہاں یہ نغمہ نہایت دھیما نغمہ ختم ہوتا ہے۔ متقین یہاں پر امن سایہ میں ہیں اور یہ سورت جس کی تمام کڑیاں خوفناک دھماکے کی صورت میں تھیں ، پکڑ دھکڑ تھی ، اس کا یہ آخری منظر مومنین کے پرسکون حالات ومناظر پر ختم ہوتا ہے جس میں ان کا جسم اور قلب وروح سب کے سب پرسکون اور مطمئن نظر آتے ہیں۔ یہ ہے اندازعلیم و حکیم کا۔ جو بات کی جاتی ہے وہ دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے کیونکہ اللہ لطیف وخبیر ہے اور اسی نے ہر چیز کو ایک اندازے سے بنایا ہے اور وہ ہر چیز کے ساتھ معاملہ کرنا اچھی طرح جانتا ہے۔