Fi Zilal al-Quran — الرحمن 55:1 – الحديد 57:29
Contents
- الرحمن 55:1
- الرحمن 55:2
- الرحمن 55:3
- الرحمن 55:4
- الرحمن 55:5
- الرحمن 55:6
- الرحمن 55:7
- الرحمن 55:8
- الرحمن 55:9
- الرحمن 55:10
- الرحمن 55:11
- الرحمن 55:12
- الرحمن 55:13
- الرحمن 55:14
- الرحمن 55:15
- الرحمن 55:16
- الرحمن 55:17
- الرحمن 55:18
- الرحمن 55:19
- الرحمن 55:20
- الرحمن 55:21
- الرحمن 55:22
- الرحمن 55:23
- الرحمن 55:24
- الرحمن 55:25
- الرحمن 55:26
- الرحمن 55:27
- الرحمن 55:28
- الرحمن 55:29
- الرحمن 55:30
- الرحمن 55:31
- الرحمن 55:32
- الرحمن 55:33
- الرحمن 55:34
- الرحمن 55:35
- الرحمن 55:36
- الرحمن 55:37
- الرحمن 55:38
- الرحمن 55:39
- الرحمن 55:40
- الرحمن 55:41
- الرحمن 55:42
- الرحمن 55:43
- الرحمن 55:44
- الرحمن 55:45
- الرحمن 55:46
- الرحمن 55:47
- الرحمن 55:48
- الرحمن 55:49
- الرحمن 55:50
- الرحمن 55:51
- الرحمن 55:52
- الرحمن 55:53
- الرحمن 55:54
- الرحمن 55:55
- الرحمن 55:56
- الرحمن 55:57
- الرحمن 55:58
- الرحمن 55:59
- الرحمن 55:60
- الرحمن 55:61
- الرحمن 55:62
- الرحمن 55:63
- الرحمن 55:64
- الرحمن 55:65
- الرحمن 55:66
- الرحمن 55:67
- الرحمن 55:68
- الرحمن 55:69
- الرحمن 55:70
- الرحمن 55:71
- الرحمن 55:72
- الرحمن 55:73
- الرحمن 55:74
- الرحمن 55:75
- الرحمن 55:76
- الرحمن 55:77
- الرحمن 55:78
- الواقعة 56:1
- الواقعة 56:2
- الواقعة 56:3
- الواقعة 56:4
- الواقعة 56:5
- الواقعة 56:6
- الواقعة 56:7
- الواقعة 56:8
- الواقعة 56:9
- الواقعة 56:10
- الواقعة 56:11
- الواقعة 56:12
- الواقعة 56:13
- الواقعة 56:14
- الواقعة 56:15
- الواقعة 56:16
- الواقعة 56:17
- الواقعة 56:18
- الواقعة 56:19
- الواقعة 56:20
- الواقعة 56:21
- الواقعة 56:22
- الواقعة 56:23
- الواقعة 56:24
- الواقعة 56:25
- الواقعة 56:26
- الواقعة 56:27
- الواقعة 56:28
- الواقعة 56:29
- الواقعة 56:30
- الواقعة 56:31
- الواقعة 56:32
- الواقعة 56:33
- الواقعة 56:34
- الواقعة 56:35
- الواقعة 56:36
- الواقعة 56:37
- الواقعة 56:38
- الواقعة 56:39
- الواقعة 56:40
- الواقعة 56:41
- الواقعة 56:42
- الواقعة 56:43
- الواقعة 56:44
- الواقعة 56:45
- الواقعة 56:46
- الواقعة 56:47
- الواقعة 56:48
- الواقعة 56:49
- الواقعة 56:50
- الواقعة 56:51
- الواقعة 56:52
- الواقعة 56:53
- الواقعة 56:54
- الواقعة 56:55
- الواقعة 56:56
- الواقعة 56:57
- الواقعة 56:58
- الواقعة 56:59
- الواقعة 56:60
- الواقعة 56:61
- الواقعة 56:62
- الواقعة 56:63
- الواقعة 56:64
- الواقعة 56:65
- الواقعة 56:66
- الواقعة 56:67
- الواقعة 56:68
- الواقعة 56:69
- الواقعة 56:70
- الواقعة 56:71
- الواقعة 56:72
- الواقعة 56:73
- الواقعة 56:74
- الواقعة 56:75
- الواقعة 56:76
- الواقعة 56:77
- الواقعة 56:78
- الواقعة 56:79
- الواقعة 56:80
- الواقعة 56:81
- الواقعة 56:82
- الواقعة 56:83
- الواقعة 56:84
- الواقعة 56:85
- الواقعة 56:86
- الواقعة 56:87
- الواقعة 56:88
- الواقعة 56:89
- الواقعة 56:90
- الواقعة 56:91
- الواقعة 56:92
- الواقعة 56:93
- الواقعة 56:94
- الواقعة 56:95
- الواقعة 56:96
- الحديد 57:1
- الحديد 57:2
- الحديد 57:3
- الحديد 57:4
- الحديد 57:5
- الحديد 57:6
- الحديد 57:7
- الحديد 57:8
- الحديد 57:9
- الحديد 57:10
- الحديد 57:11
- الحديد 57:12
- الحديد 57:13
- الحديد 57:14
- الحديد 57:15
- الحديد 57:16
- الحديد 57:17
- الحديد 57:18
- الحديد 57:19
- الحديد 57:20
- الحديد 57:21
- الحديد 57:22
- الحديد 57:23
- الحديد 57:24
- الحديد 57:25
- الحديد 57:26
- الحديد 57:27
- الحديد 57:28
- الحديد 57:29
الرحمن 55:1
رحمان کے انعامات کے بیان میں یہ پہلا پیرگراف ہے اور اس اعلان عام کی یہ پہلی خبر ہے اور پہلی نعمت :
علم القرآن (اس نے قرآن کی تعلیم دی) اور قرآن کی تعلیم کی شکل میں اللہ نے اپنے بندوں پر عظیم رحمت فرمائی۔ قرآن جو نوایس فطرت کا ترجمان ہے۔ یہ اہل زمین کے لئے آسمان کا منہاج ہے اور یہ منہاج اہالیان زمین کو ناموں فطرت سے ملاتا ہے اور یہ ان کے عقائد ، ان کے تصورات ، ان کے پیمانوں ، ان کی قدروں ، ان کے اداروں ، ان کے حالات کو نہایت ہی مضبوط بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ انہی بنیادوں پر جن پر یہ پوری کائنات قائم ہے ، یہ دستور ان کی سہولتیں اطمینان اور ناموس فطرت کے ساتھ مفاہمت اور ہم آہنگی عطا کرتا ہے۔
قرآن انسانوں کے حواس اور ان کے شعور کو اس پوری کائنات کے لئے کھولتا ہے کہ دیکھو کیا ہی خوبصورت ہے یہ کائنات اور قرآن ان کو اس کا مشاہدہ یوں کراتا ہے کہ گویا انسانیت نے کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ وہ دیکھتے رہے تھے لیکن یہ ایک نیا مطالعہ ہے۔ انہوں نے خود اپنی ذات کا بھی از سر نو مطالعہ کیا۔ انہوں نے اپنے ارد گرد کائنات کو پڑھنا شروع کیا بلکہ قرآن نے اس پورے کائناتی ماحول کو ایک زندگی عطا کردی اور یہ ماحول انسان کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہوگیا ہے۔ اب انسان اس کائنات کے مظاہر کا دوست بن گیا۔ ساتھی بن گیا اور وہ ہمقدم ہوکر چل رہے ہیں اور اس زمین پر انسان کا یہ سفر نہایت خوشگواری سے چلنے لگا۔
اس قرآن نے انسان کے ذہن نشین کرایا کہ انسانو ! تم اس کائنات میں اللہ کے خلفاء ہو۔ رحمان کے خلفاء ہو۔ اللہ کے نزدیک تم بہت مکرم ہو۔ تمہیں اللہ نے یہ قرآن ایک عظیم امانت دی ہے۔ وہ امانت کہ زمین و آسمانوں اور پہاڑوں نے اس کے اٹھانے سے معذرت کرلی تھی۔ قرآن تمہیں جو اعلیٰ انسانیت عطا کرتا ہے اس کی قدروقیمت کو سمجھو اور یہ فہم وادراک صرف قرآن کے ، ذریعہ ممکن ہے۔ ایمان کی راہ سے ممکن ہے۔ ایمان ہی تمہاری روح میں یہ جذبہ ، یہ ہدایت پھونک سکتا ہے اور صرف قرآن کے ذریعے سے تم اللہ کی عظیم نعمت حاصل کرسکتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اسے وجود بخشنے کی نعمتوں سے بھی پہلے تعلیم کا ذکر کیا کیونکہ علم قرآن کے ذریعہ ہی انسان انسان بن سکتا ہے۔
الرحمن 55:2
رحمان کے انعامات کے بیان میں یہ پہلا پیرگراف ہے اور اس اعلان عام کی یہ پہلی خبر ہے اور پہلی نعمت :
علم القرآن (اس نے قرآن کی تعلیم دی) اور قرآن کی تعلیم کی شکل میں اللہ نے اپنے بندوں پر عظیم رحمت فرمائی۔ قرآن جو نوایس فطرت کا ترجمان ہے۔ یہ اہل زمین کے لئے آسمان کا منہاج ہے اور یہ منہاج اہالیان زمین کو ناموں فطرت سے ملاتا ہے اور یہ ان کے عقائد ، ان کے تصورات ، ان کے پیمانوں ، ان کی قدروں ، ان کے اداروں ، ان کے حالات کو نہایت ہی مضبوط بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ انہی بنیادوں پر جن پر یہ پوری کائنات قائم ہے ، یہ دستور ان کی سہولتیں اطمینان اور ناموس فطرت کے ساتھ مفاہمت اور ہم آہنگی عطا کرتا ہے۔
قرآن انسانوں کے حواس اور ان کے شعور کو اس پوری کائنات کے لئے کھولتا ہے کہ دیکھو کیا ہی خوبصورت ہے یہ کائنات اور قرآن ان کو اس کا مشاہدہ یوں کراتا ہے کہ گویا انسانیت نے کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ وہ دیکھتے رہے تھے لیکن یہ ایک نیا مطالعہ ہے۔ انہوں نے خود اپنی ذات کا بھی از سر نو مطالعہ کیا۔ انہوں نے اپنے ارد گرد کائنات کو پڑھنا شروع کیا بلکہ قرآن نے اس پورے کائناتی ماحول کو ایک زندگی عطا کردی اور یہ ماحول انسان کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہوگیا ہے۔ اب انسان اس کائنات کے مظاہر کا دوست بن گیا۔ ساتھی بن گیا اور وہ ہمقدم ہوکر چل رہے ہیں اور اس زمین پر انسان کا یہ سفر نہایت خوشگواری سے چلنے لگا۔
اس قرآن نے انسان کے ذہن نشین کرایا کہ انسانو ! تم اس کائنات میں اللہ کے خلفاء ہو۔ رحمان کے خلفاء ہو۔ اللہ کے نزدیک تم بہت مکرم ہو۔ تمہیں اللہ نے یہ قرآن ایک عظیم امانت دی ہے۔ وہ امانت کہ زمین و آسمانوں اور پہاڑوں نے اس کے اٹھانے سے معذرت کرلی تھی۔ قرآن تمہیں جو اعلیٰ انسانیت عطا کرتا ہے اس کی قدروقیمت کو سمجھو اور یہ فہم وادراک صرف قرآن کے ، ذریعہ ممکن ہے۔ ایمان کی راہ سے ممکن ہے۔ ایمان ہی تمہاری روح میں یہ جذبہ ، یہ ہدایت پھونک سکتا ہے اور صرف قرآن کے ذریعے سے تم اللہ کی عظیم نعمت حاصل کرسکتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اسے وجود بخشنے کی نعمتوں سے بھی پہلے تعلیم کا ذکر کیا کیونکہ علم قرآن کے ذریعہ ہی انسان انسان بن سکتا ہے۔
الرحمن 55:3
خلق الانسان (55: 3) علمہ البیان (55:4) (انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا) ہم یہاں انسان کی تخلیق کی نعمت پر کلام نہیں کرتے۔ جلد ہی سورة میں یہ بیان آئے گا۔ یہاں اصل مقصود تعلیم بیان ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بات کرتا ہے۔ مافی الضمیر کی تعبیر کرتا ہے۔ بیان کرتا ہے ایک دوسرے کی بات سمجھتا ہے اور پھر انسان باہم تعاون کرتے ہیں۔ یہ کام چونکہ ہر وقت ہمارے درمیان ہوتا رہتا ہے اس لئے اللہ کی اس نعمت عظمیٰ کو ہم نے بھلا دیا ہے ورنہ ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ ایک عجوبہ ہے۔ قرآن ایسی کئی نعمتوں کی یاد دہانی کراتا ہے ہمیں جگاتا ہے۔
انسان کیا چیز ہے ؟ اس کی اصلیت کیا ہے ؟ اسے یہ بیان کس طرح سکھا دیا جاتا ہے ؟ انسان کی حیثیت تو یہ ہے کہ یہ ایک خلیہ ہے جو باپ کے مادہ منویہ میں ہوتا ہے۔ یہ رحم مادر میں ایک نہایت ہی سادہ شکل میں زندگی کا آغاز کرتا ہے۔ یہ بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے ، کمزور ہوتا ہے۔ یہ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ یہ صرف آلات کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے ، نہ یہ نظر آتا ہے اور نہ یہ اظہار کرسکتا ہے۔
یہ خلیہ جلد ہی جنین کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس جنین میں خلیوں کی تعداد پھر کئی ملین ہوجاتی ہے۔ ہڈی کے خلیے ، نرم ہڈیوں کے خلیے ، عضلات کے خلیے ، اعصاب کے خلیے اور جلد کے خلیے۔ پھر اعضا بنتے ہیں اور ان اعضاء کے حیران کن کام اور صلاحیتیں سننا ، دیکھنا ، چکھنا ، سونگھنا اور چھونا اور پھر شعور اور الہام۔ یہ سب خلیے اور یہ سب خواص اس ایک خلیے سے بن گئے جو ایک سادہ خلیہ تھا ، نہایت چھوٹا جو نہ نظر آتا تھا اور نہ اظہار کرسکتا تھا۔
یہ کیسے ہوا ؟ کہ اسے آیا ؟ یہ رحمان سے آیا ہے ، یہ رحمان کی مصنوعات میں سے ایک ہے۔
ذرا غور کیجئے کہ اس مخلوق کو اللہ نے کس طرح بین سکھایا۔
واللہ ............ ولافئدة (61 : 87) (اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔ اس نے تمہیں کان دیئے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیئے اس لئے کہ تم شکر گزار ہو)
حقیقت یہ ہے کہ بات کرنے کے اعضا ہی وہ عجوبہ ہیں جن کے عجائبات ختم نہیں ہوسکتے۔ زبان ، ہونٹ ، چہرے ، دانت ، ہوا کی نالی ، حنجرہ اور پھپھٹرے سب اس میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ تمام اعضاء آواز نکالنے میں شریک ہوتے ہیں اور اعضا کا یہ فعل بیان کی بنیاد بنتا ہے۔ اس پیچیدہ عمل میں یہ اعضاء ایک میکان کی پہلو دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر ان اعضاء کا رابطہ دماغ ، قوت سماعت اور پورے اعصابی نظام سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد عقل سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور عقل کیا چیز ہے ، اس کے بارے میں ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ اس کا نام ” عقل “ ہے۔ اس کی ماہیت اور حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہے بلکہ یہ عقل کس طرح کام کرتی ہے ہم اس کے بارے میں بھی نہیں جانتے۔
ایک بات کرنے والا جب ایک لفظ بولتا ہے تو کس طرح بولتا ہے ؟ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے کئی مراحل ، کئی درجے اور کئی آلات ہیں اور بعض چیزیں ابھی تک معلوم نہیں۔
پہلے یہ شعور سامنے آتا ہے کہ اس مقصد کے لئے یہ لفظ بولنا چاہئے۔ یہ شعور عقل ، قوت مدرکہ یا روح سے حسی آلات کی طرف آتا ہے۔ یہ کس طرح آتا ہے اس کا ہمیں علم نہیں۔ دماغ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اعصاب کے ذریعے یہ حکم دیتا ہے مذکورہ بالا آلات کو کہ اس لفظ کا تلفظ کیا جائے۔ یہ لفظ بذات خود کیا چیز ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو اللہ نے ہر انسان کو سکھائی اور اس کے معنی سکھائے۔ اب یہاں پھیپھڑے ہوا کی ایک مقدار ایک نالی کے ذریعہ ہوائی نالی کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ پھر یہ ہوا گلے کی طرف آتی ہے۔ یہاں تاروں کا وہ نظام ہے جو آواز پیدا کرتا ہے۔ یہ نظام انسانوں کے بنائے ہوئے صوتی آلات کے تاروں سے بہت ہی مختلف اور پیچیدہ ہے۔ نہ اس نظام کے ساتھ انسان کے بنائے ہوئے آلات مشابہت کرسکتے ہیں جو آواز پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حنجرہ میں آواز پیدا ہوتی ہے اور اس کے بعد جس طرح عقل چاہتی ہے اس آواز کی تشکیل ہوتی ہے۔ اونچی آواز ، نرم آواز ، دھیمی آواز ، تیز آواز ، موٹی آواز ، سخت آواز ، نرم آواز ، پتلی آواز ، غرض قسم قسم کی آواز بھی۔ پھر حنجرہ کے ساتھ زبان ، ہونٹ ، جبڑے اور دانت کام کرتے ہیں۔ مختلف اطراف کے دباؤ کے نتیجے میں پھر حروف بنتے ہیں اور جہاں سے وہ نکلتے ہیں وہ ان کا مخرج ہوتا ہے۔ زبان کے اندر یہ کمال ہے کہ وہ ہر حرف کو زبان کے ایک حصے سے نکالتی ہے جس کا خاص اثر ہوتا ہے۔ زبان دباؤ کو اس حصے پر مرکوز کردیتی ہے۔ اسی طرح حروف کی آواز میں ایک خاص ترنم پیدا ہوتا ہے۔
یہ تمام آلات صرف ایک لفظ کی ادائیگی کا انتظام کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر عبارت موضوع ، افکار ، احساسات ، سابقہ اور نئے ، غرض یہ نظام ، ” نظام بیان “ بذات خود ایک معجزہ ہے۔ یہ بیان انسانی جسم کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ رحمان کی صفت ہے اور رحمان کا فضل ہے۔
الرحمن 55:4
خلق الانسان (55: 3) علمہ البیان (55:4) (انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا) ہم یہاں انسان کی تخلیق کی نعمت پر کلام نہیں کرتے۔ جلد ہی سورة میں یہ بیان آئے گا۔ یہاں اصل مقصود تعلیم بیان ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بات کرتا ہے۔ مافی الضمیر کی تعبیر کرتا ہے۔ بیان کرتا ہے ایک دوسرے کی بات سمجھتا ہے اور پھر انسان باہم تعاون کرتے ہیں۔ یہ کام چونکہ ہر وقت ہمارے درمیان ہوتا رہتا ہے اس لئے اللہ کی اس نعمت عظمیٰ کو ہم نے بھلا دیا ہے ورنہ ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ ایک عجوبہ ہے۔ قرآن ایسی کئی نعمتوں کی یاد دہانی کراتا ہے ہمیں جگاتا ہے۔
انسان کیا چیز ہے ؟ اس کی اصلیت کیا ہے ؟ اسے یہ بیان کس طرح سکھا دیا جاتا ہے ؟ انسان کی حیثیت تو یہ ہے کہ یہ ایک خلیہ ہے جو باپ کے مادہ منویہ میں ہوتا ہے۔ یہ رحم مادر میں ایک نہایت ہی سادہ شکل میں زندگی کا آغاز کرتا ہے۔ یہ بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے ، کمزور ہوتا ہے۔ یہ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ یہ صرف آلات کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے ، نہ یہ نظر آتا ہے اور نہ یہ اظہار کرسکتا ہے۔
یہ خلیہ جلد ہی جنین کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس جنین میں خلیوں کی تعداد پھر کئی ملین ہوجاتی ہے۔ ہڈی کے خلیے ، نرم ہڈیوں کے خلیے ، عضلات کے خلیے ، اعصاب کے خلیے اور جلد کے خلیے۔ پھر اعضا بنتے ہیں اور ان اعضاء کے حیران کن کام اور صلاحیتیں سننا ، دیکھنا ، چکھنا ، سونگھنا اور چھونا اور پھر شعور اور الہام۔ یہ سب خلیے اور یہ سب خواص اس ایک خلیے سے بن گئے جو ایک سادہ خلیہ تھا ، نہایت چھوٹا جو نہ نظر آتا تھا اور نہ اظہار کرسکتا تھا۔
یہ کیسے ہوا ؟ کہ اسے آیا ؟ یہ رحمان سے آیا ہے ، یہ رحمان کی مصنوعات میں سے ایک ہے۔
ذرا غور کیجئے کہ اس مخلوق کو اللہ نے کس طرح بین سکھایا۔
واللہ ............ ولافئدة (61 : 87) (اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔ اس نے تمہیں کان دیئے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیئے اس لئے کہ تم شکر گزار ہو)
حقیقت یہ ہے کہ بات کرنے کے اعضا ہی وہ عجوبہ ہیں جن کے عجائبات ختم نہیں ہوسکتے۔ زبان ، ہونٹ ، چہرے ، دانت ، ہوا کی نالی ، حنجرہ اور پھپھٹرے سب اس میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ تمام اعضاء آواز نکالنے میں شریک ہوتے ہیں اور اعضا کا یہ فعل بیان کی بنیاد بنتا ہے۔ اس پیچیدہ عمل میں یہ اعضاء ایک میکان کی پہلو دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر ان اعضاء کا رابطہ دماغ ، قوت سماعت اور پورے اعصابی نظام سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد عقل سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور عقل کیا چیز ہے ، اس کے بارے میں ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ اس کا نام ” عقل “ ہے۔ اس کی ماہیت اور حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہے بلکہ یہ عقل کس طرح کام کرتی ہے ہم اس کے بارے میں بھی نہیں جانتے۔
ایک بات کرنے والا جب ایک لفظ بولتا ہے تو کس طرح بولتا ہے ؟ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے کئی مراحل ، کئی درجے اور کئی آلات ہیں اور بعض چیزیں ابھی تک معلوم نہیں۔
پہلے یہ شعور سامنے آتا ہے کہ اس مقصد کے لئے یہ لفظ بولنا چاہئے۔ یہ شعور عقل ، قوت مدرکہ یا روح سے حسی آلات کی طرف آتا ہے۔ یہ کس طرح آتا ہے اس کا ہمیں علم نہیں۔ دماغ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اعصاب کے ذریعے یہ حکم دیتا ہے مذکورہ بالا آلات کو کہ اس لفظ کا تلفظ کیا جائے۔ یہ لفظ بذات خود کیا چیز ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو اللہ نے ہر انسان کو سکھائی اور اس کے معنی سکھائے۔ اب یہاں پھیپھڑے ہوا کی ایک مقدار ایک نالی کے ذریعہ ہوائی نالی کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ پھر یہ ہوا گلے کی طرف آتی ہے۔ یہاں تاروں کا وہ نظام ہے جو آواز پیدا کرتا ہے۔ یہ نظام انسانوں کے بنائے ہوئے صوتی آلات کے تاروں سے بہت ہی مختلف اور پیچیدہ ہے۔ نہ اس نظام کے ساتھ انسان کے بنائے ہوئے آلات مشابہت کرسکتے ہیں جو آواز پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حنجرہ میں آواز پیدا ہوتی ہے اور اس کے بعد جس طرح عقل چاہتی ہے اس آواز کی تشکیل ہوتی ہے۔ اونچی آواز ، نرم آواز ، دھیمی آواز ، تیز آواز ، موٹی آواز ، سخت آواز ، نرم آواز ، پتلی آواز ، غرض قسم قسم کی آواز بھی۔ پھر حنجرہ کے ساتھ زبان ، ہونٹ ، جبڑے اور دانت کام کرتے ہیں۔ مختلف اطراف کے دباؤ کے نتیجے میں پھر حروف بنتے ہیں اور جہاں سے وہ نکلتے ہیں وہ ان کا مخرج ہوتا ہے۔ زبان کے اندر یہ کمال ہے کہ وہ ہر حرف کو زبان کے ایک حصے سے نکالتی ہے جس کا خاص اثر ہوتا ہے۔ زبان دباؤ کو اس حصے پر مرکوز کردیتی ہے۔ اسی طرح حروف کی آواز میں ایک خاص ترنم پیدا ہوتا ہے۔
یہ تمام آلات صرف ایک لفظ کی ادائیگی کا انتظام کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر عبارت موضوع ، افکار ، احساسات ، سابقہ اور نئے ، غرض یہ نظام ، ” نظام بیان “ بذات خود ایک معجزہ ہے۔ یہ بیان انسانی جسم کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ رحمان کی صفت ہے اور رحمان کا فضل ہے۔
الرحمن 55:5
اب اس کائنات کی نمائش گاہ میں دست قدرت کے بنائے ہوئے دو اور عجوبے۔
الشمس والقمر بحسبان (55:5) (سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں) شمس وقمر کی بناوٹ ان کی حرکت اور ہم آہنگی کو دیکھ کر انسان حیران اور ششدر رہ جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عظیم نظام ہے اور منظم کی عظمت پر دال ہے اور اس نظام کے اندر گہرے حقائق پوشیدہ ہیں اور اس سے نکلنے والے نتائج دور رس ہیں۔
سورج اجرام فلکی میں سے کوئی بہت بڑا کرہ نہیں ہے۔ اس فضا نے کائنات کے اندر جس کے حدود کا تعین انسان نہیں کرسکا ، کئی ملین ستارے ہیں جن میں سے بہت سے سورج سے بڑے ہیں اور زیادہ حرارت والے ہیں۔ زیادہ تیز روشنی والے ہیں۔ بعض تو بیس گناہ بڑے اور زیادہ گرم ہیں اور جن کی روشنی سورج کی روشنی سے پچاس گنا تیز ہے۔
شعری یمانی سورج سے بیس گناہ بھاری اور اس کی روشنی سورج کی روشنی سے پچاس گنا زیادہ ہے۔ سماک رائح سورج کے حجم سے اسی گنا بڑا حجم رکھتا ہے اور اس کی روشنی آٹھ ہزار گنا زیادہ تیز ہے۔ سہیل کا حجم سورج سے دو ہزار پانچ صد مرتبہ بڑا ہے۔ اسی طرح اور ستارے اور سیارے۔
لیکن ہمارے لئے سورج ہی زیادہ اہم ہے یعنی ہم زمین کے باشندوں کے لئے کیونکہ یہ زمین اور اس کی یہ حالت اور انسان کی زندگی سورج کی حرارت کی مرہون منت ہے اور اس میں سورج کی جاذبیت کو بھی بڑا دخل ہے۔
اس طرح چاند جو اس زمین کا ایک چھوٹا سا سیارچہ ہے لیکن اسے بھی اس زمین کی زندگی میں اہمیت حاصل ہے۔ سمندروں کے اندر مددجزر اسی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
سورج کا حجم ، اس کا درجہ حرارت ، ہم سے اس کا بعد ، اس کا اپنے مدار میں چکر لگانا ، اس طرح چاند کا حجم ، اس کی ہم سے دوری اور اپنے مدار میں گردش یہ سب امور نہایت ہی باریک حساب اور پیمانوں سے بنائے ہوئے ہیں اور زمین کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بمقابلہ دوسرے ستاروں اور سیاروں کے۔ شمس وقمر کے بعض حسابات ہم یہاں درج کرتے ہیں کہ زمین کے حوالے سے ان کے ان حسابات میں ذرا بھی فرق آئے تو دوررس نتائج نکلیں۔
سورج زمین سے 5 لاکھ 29 میل دور ہے۔ اگر یہ اس سے قریب تر ہوتا تو زمین جل جاتی اور تمام پانی بخارات میں بدل جاتا اور بخارات فضا میں بلند ہوجاتے اور اگر یہ ذرا اور دور ہوتا تو تمام چیزیں منجمد ہوجائیں۔ ہم تک سورج کی جو حرارت پہنچتی ہے ، وہ اس کی حرارت کے دو ملین حصوں میں سے ایک حصہ پہنچتی ہے اور ہماری موجودہ زندگی کے لئے یہی معمولی حرارت کافی ہے۔ اگر شعری اپنی موجودہ ضخامت اور حرارت کے ساتھ سورج کی جگہ ہوتا تو پورا کرہ ارض جل کر راکھ ہوجاتا اور پانی بخارات بن کر فضا آسمانی میں بکھر جاتا۔
اسی طرح چاند کا حجم اور ہم سے بعد ایک حساب سے رکھا گیا ہے۔ اگر یہ اس سے ذرا بھی بڑا ہوتا تو سمندر کے اندر اس قدر طوفان آتے کہ زمین بار بار ڈوبتی رہتی۔ اسی طرح اگر یہ ہم سے قریب ہوجاتا یعنی جہاں ہے تو بھی زمین پر طوفان مچا دیتا لیکن جہاں اللہ نے اسے رکھ چھوڑا ہے اس سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہوتا۔
سورج اور چاند کی جاذبیت زمین کے لئے ایک مقدار کے ساتھ متعین ہے اور ان کی رفتار کو بھی ایک نہایت ہی مضبوط حساب سے رکھا گیا ہے اور ہمارا یہ پورا کہکشاں اور مجموعہ شمسی بحساب بیس ہزار میل فی گھنٹہ ایک ہی سمت میں چل رہا ہے اور اس راہ میں وہ کسی دوسرے ستارے سے نہیں ٹکرایا اور اس رفتار کے کئی ملین سال ہوگئے ہیں اور فضائے کائنات ختم نہیں ہوئی۔
اس وسیع فضائے آسمانی کے اندر کوئی ستارہ اپنے مدار سے ایک بال برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہوتا اور ان کے درمیان جو توازن اور ہم آہنگی رکھی گئی ہے ، اپنے حجم کے لحاظ سے یا حرکت کے لحاظ سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ سچ فرمایا ذات باری نے :
الشمس والقمر بحسبان (55:5) (تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں) سابقہ اشارہ یہ تھا کہ اس کائنات کی تخلیق وتشکیل میں ایک مضبوط حساب رکھا ہوا ہے اور یہ اشارہ اسی طرف ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کی ذات کے ساتھ مربوط ہے۔ یہ کہ یہ باری تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق چلتی ہے اور اس کی مطیع فرمان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات پوری طرح اللہ کی مطیع فرمان ہے جس طرح بندہ اور غلام مطیع ہوتا ہے اور اس کے لئے خالق نے جو ضوابط رکھے ہیں ، ان کو تسلیم کرتی ہے۔ ستارے اور درخت اس بندگی اور اطاعت کا نمونہ ہیں۔ بعض نے ستارے کا یہ مفہوم لیا ہے کہ اس سے وہ ستارہ مراد ہے جو آسمان میں ہے جبکہ بعض نے شجر سے مراد وہ گھاس لی ہے جو نال پر کھڑی نہ ہو۔ مراد جو بھی ہو ، بہرحال آیت کا مفہوم وہی ہے کہ تمام چیزوں کی اطاعت اور بندگی کا رخ اللہ کی طرف ہے۔
غرض یہ کائنات ایک ایسی مخلوق ہے جس کی ایک روح اور اسی روح کی شکلیں اور مظاہر اور درجے مختلف ہوتے ہیں۔ کسی چیز میں کیسی روح ہے اور کسی میں کسی دوسری نوعیت کی روح در حقیقت روح کائنات ایک ہی ہے۔
قلب بشری نے روح کائنات کا ادراک بہت پہلے کرلیا تھا اور یہ کہ یہ پوری کائنات اپنی اس روح کے اعتبار سے خالق کی طرف متوجہ ہے۔ ہر شخص کو بذریعہ الہام لدنی اس حقیقت کا ادراک کرایا گیا تھا لیکن جب انسان نے اس روح کو اپنے حواص سے معلوم کرنے کیسعی کی تو اس حقیقت ، اس الہامی حقیقت کو غبار آلود کردیا گیا اور یہ انسانی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ جب بھی اس حقیقت کو عقل کے پائے چوبیں سے معلوم کرنے کی سعی کی گئی یہ بھاگ گئی۔
حال ہی میں انسان نے کائنات کی تخلیق میں علامات وحدت کا ایک حصہ تلاش کرلیا ہے لیکن موجودہ مادیت زدہ انسانیت روح کائنات تک نہیں پہنچ سکی جو ایک زندہ روح ہے اور اس تک روحانی انداز ہی میں پہنچنا چاہئے اور پہنچا جاسکتا ہے۔
سائنس دان اپنے کام کا آغاز اس سے کرتے ہیں کہ ذرہ تخلیق کی پہلی اکائی ہے اور وہ صرف شعاع یا نور سے مرکب ہے اور یہ کہ حرکت اصول کائنات ہے اور کائنات کے تمام اجسام اور افراد کے درمیان مابہ الاشتراک حرکت ہے۔
سوال بلکہ سوالات یہ ہیں کہ یہ کائنات حرکت کرکے جا کہاں رہی ہے۔ یہ تو کائنات کی صفت ہوئی اور خاصیت ہوئی۔ قرآن کریم یہ اطلاع دیتا ہے کہ یہ کائنات اپنے خالق کی طرف رخ کئے ہوئے ہے اور یہی حقیقی حرکت ہے۔ ظاہری حرکت دراصل روح کائنات کی حرکت کی ایک تعبیر ہے اور قرآن کریم اس روح کائنات کی حرکت کی تعبیر ایسے الفاظ میں کرتا ہے۔
الرحمن 55:6
والنجم والشجر یسجدن (55: 6) (تارے اور درخت سجدہ ریز ہیں) بعض آیات میں اس کی تعبیریوں کی گئی ہے۔
تسبیح لہ ................ تسبیحھم (71 :44) (اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیز بھی بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ ) اور دوسری جگہ ہے۔
الم تر ............ وتسبیحہ (4 2 : 1 4) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمان اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں۔ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ )
جب انسان اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ پوری کائنات سجدہ ریز ہے اور اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہے تو انسانی قلب کو حق تعالیٰ تک پہنچنے کا بہت بڑا زاد راہ ملتا ہے۔ وہ اپنے ماحول کو زندہ سمجھتا ہے ۔ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہمقدم ہوکر اللہ کی طرف فرار اختیار کرتا ہے۔ یہ سوچ روح کائنات سے یہ ہم نشینی انسان کو اس کائنات کا دوست بنادیتی ہے۔
یہ نہایت ہی دوررس اشارہ ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔
الرحمن 55:7
والسمائ ........................ المیزان (55: 9)
(آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو) یہاں آسمان کی طرف اشارہ ہے ، قرآن کے دوسرے اشارات کی طرح یہ بھی غافل دلوں کو جگانے کے لئے ہے اور اس کو اس طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے کہ آسمان کو رات اور دن تم دیکھتے ہو تم اس کی اہمیت نہ کھو دو ۔ اس پر غور کرو ، اس کی عظمت اس کے جمال اور اس کی صفت میزانیت پر غور کرو کہ اس کے مدار اور رفتار میں بال برابر فرق نہیں آتا اور اس کے ذریعہ قدرت والے کی قدرتوں کو دیکھو۔
آسمان سے مراد جو بھی ہو ، یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ ذرا اوپر کو دیکھو ، تمہارے اوپر ایک ہولناک فضا ہے۔ بہت بلند بہت دور ، بلا حدود وقیود ، اس فضا کے اندر ہزار ہا ملین عظیم الجثہ اجرام فلکی تیر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی دو آپس میں نہیں ملتے۔ ان کا کوئی مجموعہ دوسر مجموعات سے متصادم نہیں ہوتا۔ ان مجموعات کی تعداد میں ایک ایک مجموعے کی تعداد بعض اوقات ایک ہزار ملین تاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمارے نظام شمسی کو جس مجموعے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس میں ہمارے سورج جیسے اجرام بھی ہیں اور اس سے ہزار ہا گنا بڑے بھی ہیں۔ فقط ہمارے سورج کا قطر 21۔ املین کلومیٹر ہے اور یہ سب ستارے اور یہ سب کا مجموعے اس کائنات کے اندر نہایت ہی خوفناک تیزی کے ساتھ حرکت پذیر ہیں لیکن یہ سب اس عظیم اور محیرالعقول وسیع فضائے کائنات میں اس طرح ہیں جس طرح زمین کی فضا میں ذرات تیرر رہے ہیں جو ایک دوسرے سے دور دور چلتے ہیں اور ان کے اندر کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ (اور اگر ہوجائے تو ؟ )
اللہ نے اس آسمان کو جس طرح بلند کیا ہے اور ہولناک حد تک وسیع کیا ہے اور اس کے لئے ایک فطری میزان تجویز کیا ہے اسی طرح تمعہارے لئے بھی ایک میزان حق تجویز کیا ہے۔ یہ ثابت ، مضبوط اور جماہوا ہے اور یہ میزان قدروں کی پیمائش اور وزن کے لئے ہے۔ افراد کی قدر ، واقعات کی قدر ، اشیاء کی قدر تاکہ ہر کسی کا وزن اور قدر متعین ہوجائے اور ان میں خلل واقع نہ ہو اور لوگ جہالت ، عناد اور خواہشات کے مطابق اچھے برے کا فیصلہ نہ کرتے پھریں۔ اس میزان کو فطرت کے اندر بھی رکھا ہوا ہے اور دعوت اسلامی کے اندر بھی رکھا ہوا ہے جسے تمام رسول لے کر آئے ہیں اور آخر میں یہ قرآن کی شکل میں آیا ہے۔
الرحمن 55:8
اللہ نے میزان قائم کردیا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ :
الا تطغوا فی المیزان (55: 8) ” تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، کمی بیشی نہ کرو اور واقیموا ............ المیزان ” اور انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو “ میزان حق حقدار کو دینے اور انصاف کرنے کے لئے قائم ہوتا ہے لہٰذا نہ حد سے آگے جاؤ نہ پیچھے رہو۔
اس طرح زمین کے اندر موجود حق اور میزان اور انسانوں کی زندگی کے اندر موجود حقوق میں حق بحق دار رسید کے مطابق اسلامی نظام اور کائنات کے نظام کے درمیان توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ یوں آسمانوں سے نزول وحی اور آسمانوں کی رفعت اور بلندی دونوں کے درمیان اللہ کا میزان کام کرتا ہے اور یوں یہ دونوں مفہوم انسانی احساس پر سایہ فگن ہوتے ہیں۔
الرحمن 55:9
اللہ نے میزان قائم کردیا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ :
الا تطغوا فی المیزان (55: 8) ” تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، کمی بیشی نہ کرو اور واقیموا ............ المیزان ” اور انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو “ میزان حق حقدار کو دینے اور انصاف کرنے کے لئے قائم ہوتا ہے لہٰذا نہ حد سے آگے جاؤ نہ پیچھے رہو۔
اس طرح زمین کے اندر موجود حق اور میزان اور انسانوں کی زندگی کے اندر موجود حقوق میں حق بحق دار رسید کے مطابق اسلامی نظام اور کائنات کے نظام کے درمیان توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ یوں آسمانوں سے نزول وحی اور آسمانوں کی رفعت اور بلندی دونوں کے درمیان اللہ کا میزان کام کرتا ہے اور یوں یہ دونوں مفہوم انسانی احساس پر سایہ فگن ہوتے ہیں۔
الرحمن 55:10
والارض ............ الاکمام (55: 11) والحب ............ والریحان (55: 21) (زمین کو اس نے مخلوقات کے لئے بنایا۔ اس میں ہر طرح کے بکثرت پھل ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) اس زمین میں بس کر اور رہ رہ کر ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ اس زمین کے حالات واطوار کو دیکھ کر اور اپنے حالات واحوال کو ہر وقت دیکھ دیکھ کر ہم اس کی کوئی چیز انوکھی نہیں پاتے جو دراصل عجوبہ ہوتی ہے اور دست قدرت کی عجب کارستانی ہوتی ہے اور زمین پر جس طرح ہمیں سکون وقرار سے رکھا گیا ہے ، اس کی ٹیکنالوجی کا ہمیں پورا شعور نہیں ہوتا اور جس طرح ہمیں یہاں قرار سے رکھا گیا ہے اس کے معنی کو ہم نے سمجھا ہی نہیں ورنہ ہم اللہ کی قدرت اور عظمت کا کچھ تصور کرتے۔ ہاں کبھی کبھی جب آتش فشانی ہوتی ہے یا کوئی شدید زلزلہ آتا ہے تو ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین کانپتی ہے۔ تب ہمیں قدرے اضطراب ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے مطیع ہونے کا مفہوم کیا ہے۔
انسانوں کا تو یہ فریضہ ہے اور ان کے لئے یہ بات شایان شان ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کو ذرایاد رکھیں۔ یہ زمین جس کے اوپروہ چلتے دوڑتے ہیں ، اگر اس کی طرف قدرے توجہ کریں تو ان کی نظر آئے کہ یہ تو ایک ذرہ ہے جو اس ہولناک اور محیر العقول وسیع تر فضا میں تیر رہا ہے۔ یہ اس مطلق بےقید ، بےحد فضا میں ہے۔ یہ ذرہ خود اپنے گرد بھی ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے اور سورج کے گرد یہ ساٹھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے جبکہ یہ زمین یہ سورج اور اپنے مجموعہ ستار گان جو کئی ملین میں بحساب بیس ہزار میل فی گھنٹہ کسی سمت میں جارہے ہیں جس کا ہمیں علم نہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ برج جیار کی طرف جارہے ہیں۔
ہاں اگر انسان اس بات پر غور کریں کہ وہ ایک چھوٹے سے ذرے پر سوار ہیں اور یہ ذرہ اس فضا میں اس تیزی سے دوڑ رہا ہے اور یہ اس فضا میں لٹک رہا ہے اور کوئی ستون اور سہارا نہیں ہے صرف دست قدرت نے اسے یوں رکھا ہوا ہے تو وہ ہر وقت اللہ کا خوف اپنے دلوں کے اندر پائیں۔ کانپتے رہیں اور تھرتھراتے رہیں اور صرف اس ذات کی طرف متوجہ ہوں جس نے اسے ایسا رکھا ہوا ہے اور اس نہایت تیز رفتار گھوڑے پر یہ یوں چل پھر رہے ہیں۔
اللہ نے تو اس خوف کے لئے اس میں اسباب حیات مہیا کردیئے ہیں۔ یہ اس میں کھاتے پیتے ہیں جبکہ یہ انہیں لئے ہوئے اپنے گرد بھی دوڑرہی ہے اور سورج کے گرد بھی دوڑ رہی ہے اور نظام شمسی کے مجموعے کے ساتھ بھی دوڑ رہی ہے اور پھر اسی زمین کے اندر اللہ نے ہمارا رزق ، میوے اور فواکہ پیدا کر رکھے ہیں اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن کے پھل غلافوں میں بند ہوتے ہیں۔
کم اس تھیلے کو کہتے ہیں جن کے اندر سے کھجور کا پھل باہر آتا ہے کسی قدر خوبصورت ہوتا ہے وہ اور پھر دوسرے خوشے دار فصل اور دانے جن کے اوپر بھوسہ ہوتا ہے اور اسے ہٹا کر دانے نکال کر انسانوں کے لئے اور بھوسہ مویشیوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہاں ریحان کا ذکر بھی کیا جاتا ہے کہ بعض نباتات خوشبودار ہوتے ہیں اور یہ زمین کے اندر مختلف قسم کے نباتات ہوتے ہیں جو خوشبودار ہوتے ہیں اور ان خوشبودار نباتات میں سے کچھ انسانوں کی خوراک ہیں اور کچھ حیوانوں کی خوراک اور بعض محض خوشبوئیں ہیں جو انسانوں کے لئے متاع حیات ہیں۔
اللہ کے ان انعامات کے ذکر کے بعد یعنی تعلیم القرآن ، تعلیم البیان ، شمس وقمر کا منظم دوران ، آسمان کی بلندیاں اور آسمانوں کا میزان اور اہل زمین کا میزان اور زمین کا لوگوں کے لئے برقرار رکھنا اور اس کے اندر کے میوہ جات ، پھل اور خوشبوئیں ظاہر و باطن کے لحاظ سے خوبصورت ، ان انعامات و احسانات کو گنوا کر جن وانس دونوں مکلف مخلوقوں کو خطاب کیا جاتا ہے۔
الرحمن 55:11
والارض ............ الاکمام (55: 11) والحب ............ والریحان (55: 21) (زمین کو اس نے مخلوقات کے لئے بنایا۔ اس میں ہر طرح کے بکثرت پھل ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) اس زمین میں بس کر اور رہ رہ کر ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ اس زمین کے حالات واطوار کو دیکھ کر اور اپنے حالات واحوال کو ہر وقت دیکھ دیکھ کر ہم اس کی کوئی چیز انوکھی نہیں پاتے جو دراصل عجوبہ ہوتی ہے اور دست قدرت کی عجب کارستانی ہوتی ہے اور زمین پر جس طرح ہمیں سکون وقرار سے رکھا گیا ہے ، اس کی ٹیکنالوجی کا ہمیں پورا شعور نہیں ہوتا اور جس طرح ہمیں یہاں قرار سے رکھا گیا ہے اس کے معنی کو ہم نے سمجھا ہی نہیں ورنہ ہم اللہ کی قدرت اور عظمت کا کچھ تصور کرتے۔ ہاں کبھی کبھی جب آتش فشانی ہوتی ہے یا کوئی شدید زلزلہ آتا ہے تو ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین کانپتی ہے۔ تب ہمیں قدرے اضطراب ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے مطیع ہونے کا مفہوم کیا ہے۔
انسانوں کا تو یہ فریضہ ہے اور ان کے لئے یہ بات شایان شان ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کو ذرایاد رکھیں۔ یہ زمین جس کے اوپروہ چلتے دوڑتے ہیں ، اگر اس کی طرف قدرے توجہ کریں تو ان کی نظر آئے کہ یہ تو ایک ذرہ ہے جو اس ہولناک اور محیر العقول وسیع تر فضا میں تیر رہا ہے۔ یہ اس مطلق بےقید ، بےحد فضا میں ہے۔ یہ ذرہ خود اپنے گرد بھی ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے اور سورج کے گرد یہ ساٹھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے جبکہ یہ زمین یہ سورج اور اپنے مجموعہ ستار گان جو کئی ملین میں بحساب بیس ہزار میل فی گھنٹہ کسی سمت میں جارہے ہیں جس کا ہمیں علم نہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ برج جیار کی طرف جارہے ہیں۔
ہاں اگر انسان اس بات پر غور کریں کہ وہ ایک چھوٹے سے ذرے پر سوار ہیں اور یہ ذرہ اس فضا میں اس تیزی سے دوڑ رہا ہے اور یہ اس فضا میں لٹک رہا ہے اور کوئی ستون اور سہارا نہیں ہے صرف دست قدرت نے اسے یوں رکھا ہوا ہے تو وہ ہر وقت اللہ کا خوف اپنے دلوں کے اندر پائیں۔ کانپتے رہیں اور تھرتھراتے رہیں اور صرف اس ذات کی طرف متوجہ ہوں جس نے اسے ایسا رکھا ہوا ہے اور اس نہایت تیز رفتار گھوڑے پر یہ یوں چل پھر رہے ہیں۔
اللہ نے تو اس خوف کے لئے اس میں اسباب حیات مہیا کردیئے ہیں۔ یہ اس میں کھاتے پیتے ہیں جبکہ یہ انہیں لئے ہوئے اپنے گرد بھی دوڑرہی ہے اور سورج کے گرد بھی دوڑ رہی ہے اور نظام شمسی کے مجموعے کے ساتھ بھی دوڑ رہی ہے اور پھر اسی زمین کے اندر اللہ نے ہمارا رزق ، میوے اور فواکہ پیدا کر رکھے ہیں اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن کے پھل غلافوں میں بند ہوتے ہیں۔
کم اس تھیلے کو کہتے ہیں جن کے اندر سے کھجور کا پھل باہر آتا ہے کسی قدر خوبصورت ہوتا ہے وہ اور پھر دوسرے خوشے دار فصل اور دانے جن کے اوپر بھوسہ ہوتا ہے اور اسے ہٹا کر دانے نکال کر انسانوں کے لئے اور بھوسہ مویشیوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہاں ریحان کا ذکر بھی کیا جاتا ہے کہ بعض نباتات خوشبودار ہوتے ہیں اور یہ زمین کے اندر مختلف قسم کے نباتات ہوتے ہیں جو خوشبودار ہوتے ہیں اور ان خوشبودار نباتات میں سے کچھ انسانوں کی خوراک ہیں اور کچھ حیوانوں کی خوراک اور بعض محض خوشبوئیں ہیں جو انسانوں کے لئے متاع حیات ہیں۔
اللہ کے ان انعامات کے ذکر کے بعد یعنی تعلیم القرآن ، تعلیم البیان ، شمس وقمر کا منظم دوران ، آسمان کی بلندیاں اور آسمانوں کا میزان اور اہل زمین کا میزان اور زمین کا لوگوں کے لئے برقرار رکھنا اور اس کے اندر کے میوہ جات ، پھل اور خوشبوئیں ظاہر و باطن کے لحاظ سے خوبصورت ، ان انعامات و احسانات کو گنوا کر جن وانس دونوں مکلف مخلوقوں کو خطاب کیا جاتا ہے۔
الرحمن 55:12
والارض ............ الاکمام (55: 11) والحب ............ والریحان (55: 21) (زمین کو اس نے مخلوقات کے لئے بنایا۔ اس میں ہر طرح کے بکثرت پھل ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) اس زمین میں بس کر اور رہ رہ کر ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ اس زمین کے حالات واطوار کو دیکھ کر اور اپنے حالات واحوال کو ہر وقت دیکھ دیکھ کر ہم اس کی کوئی چیز انوکھی نہیں پاتے جو دراصل عجوبہ ہوتی ہے اور دست قدرت کی عجب کارستانی ہوتی ہے اور زمین پر جس طرح ہمیں سکون وقرار سے رکھا گیا ہے ، اس کی ٹیکنالوجی کا ہمیں پورا شعور نہیں ہوتا اور جس طرح ہمیں یہاں قرار سے رکھا گیا ہے اس کے معنی کو ہم نے سمجھا ہی نہیں ورنہ ہم اللہ کی قدرت اور عظمت کا کچھ تصور کرتے۔ ہاں کبھی کبھی جب آتش فشانی ہوتی ہے یا کوئی شدید زلزلہ آتا ہے تو ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین کانپتی ہے۔ تب ہمیں قدرے اضطراب ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے مطیع ہونے کا مفہوم کیا ہے۔
انسانوں کا تو یہ فریضہ ہے اور ان کے لئے یہ بات شایان شان ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کو ذرایاد رکھیں۔ یہ زمین جس کے اوپروہ چلتے دوڑتے ہیں ، اگر اس کی طرف قدرے توجہ کریں تو ان کی نظر آئے کہ یہ تو ایک ذرہ ہے جو اس ہولناک اور محیر العقول وسیع تر فضا میں تیر رہا ہے۔ یہ اس مطلق بےقید ، بےحد فضا میں ہے۔ یہ ذرہ خود اپنے گرد بھی ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے اور سورج کے گرد یہ ساٹھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے جبکہ یہ زمین یہ سورج اور اپنے مجموعہ ستار گان جو کئی ملین میں بحساب بیس ہزار میل فی گھنٹہ کسی سمت میں جارہے ہیں جس کا ہمیں علم نہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ برج جیار کی طرف جارہے ہیں۔
ہاں اگر انسان اس بات پر غور کریں کہ وہ ایک چھوٹے سے ذرے پر سوار ہیں اور یہ ذرہ اس فضا میں اس تیزی سے دوڑ رہا ہے اور یہ اس فضا میں لٹک رہا ہے اور کوئی ستون اور سہارا نہیں ہے صرف دست قدرت نے اسے یوں رکھا ہوا ہے تو وہ ہر وقت اللہ کا خوف اپنے دلوں کے اندر پائیں۔ کانپتے رہیں اور تھرتھراتے رہیں اور صرف اس ذات کی طرف متوجہ ہوں جس نے اسے ایسا رکھا ہوا ہے اور اس نہایت تیز رفتار گھوڑے پر یہ یوں چل پھر رہے ہیں۔
اللہ نے تو اس خوف کے لئے اس میں اسباب حیات مہیا کردیئے ہیں۔ یہ اس میں کھاتے پیتے ہیں جبکہ یہ انہیں لئے ہوئے اپنے گرد بھی دوڑرہی ہے اور سورج کے گرد بھی دوڑ رہی ہے اور نظام شمسی کے مجموعے کے ساتھ بھی دوڑ رہی ہے اور پھر اسی زمین کے اندر اللہ نے ہمارا رزق ، میوے اور فواکہ پیدا کر رکھے ہیں اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن کے پھل غلافوں میں بند ہوتے ہیں۔
کم اس تھیلے کو کہتے ہیں جن کے اندر سے کھجور کا پھل باہر آتا ہے کسی قدر خوبصورت ہوتا ہے وہ اور پھر دوسرے خوشے دار فصل اور دانے جن کے اوپر بھوسہ ہوتا ہے اور اسے ہٹا کر دانے نکال کر انسانوں کے لئے اور بھوسہ مویشیوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہاں ریحان کا ذکر بھی کیا جاتا ہے کہ بعض نباتات خوشبودار ہوتے ہیں اور یہ زمین کے اندر مختلف قسم کے نباتات ہوتے ہیں جو خوشبودار ہوتے ہیں اور ان خوشبودار نباتات میں سے کچھ انسانوں کی خوراک ہیں اور کچھ حیوانوں کی خوراک اور بعض محض خوشبوئیں ہیں جو انسانوں کے لئے متاع حیات ہیں۔
اللہ کے ان انعامات کے ذکر کے بعد یعنی تعلیم القرآن ، تعلیم البیان ، شمس وقمر کا منظم دوران ، آسمان کی بلندیاں اور آسمانوں کا میزان اور اہل زمین کا میزان اور زمین کا لوگوں کے لئے برقرار رکھنا اور اس کے اندر کے میوہ جات ، پھل اور خوشبوئیں ظاہر و باطن کے لحاظ سے خوبصورت ، ان انعامات و احسانات کو گنوا کر جن وانس دونوں مکلف مخلوقوں کو خطاب کیا جاتا ہے۔
الرحمن 55:13
فبای ............ تکذبن (55: 31) (پس اے جن وانس اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے) یہ سوال شہادت قائم کرنے کے لئے ہے۔ ورنہ کوئی جن اور انسان فی الواقع اللہ کی نعمتوں کی تکذیب نہیں کرسکتا۔
جن وانس پر اللہ نے اپنے احسانات اور انعامات اس کائنات کے حوالے سے تو گنوادیئے ، اب خود اپنی ذات کے حوالے سے کچھ حقائق۔ ذرا اپنی ذات ہی پر غور کرو :
الرحمن 55:14
خلق ............ کالفخار (55:4 1) وخلق ............ نار (55:5 1) فبای ........ تکذبن (55: 61) ” انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے ؟ “
پیدا کرنا اور ایجاد کرنا ، اصول نعمت میں سے ہے۔ وجود اور عدم کے درمیان جو فاصلے ہیں ان کو ان پیمانوں میں سے کسی پیمانے کے ساتھ نہیں ناپا جاسکتا جو انسان کے ادراک میں ہیں۔ اس لئے کہ انسانوں کی دسترس میں جو پیمانے ہیں یا جن کا ادراک ان کی عقلوں نے کرلیا ہے وہ ایسے پیمانے ہیں جو ایک موجود اور دوسرے موجود کے درمیان فرق کرنے کے پیمانے ہیں۔ رہی یہ بات کے موجود اور غیر موجود کے درمیان کیا فرق ہے اور کس قدر فاصلے ہیں۔ ان کو انسان نہیں جان سکتا۔ یہی حال جنوں کا بھی ہے۔ ان کے پیمانے بھی مخلوقات کے پیمانے ہیں۔
جب اللہ انسانوں اور جنوں کو یاد دلاتا ہے کہ میں تمہیں عدم سے وجود میں لایا ہوں تو یہ ایک ایسی نعمت ہے جو حد ادراک سے ماورا ہے۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسان کی تخلیق کسی مواد سے ہوئی اور جنوں کی تخلیق کسی مواد سے ہوئی۔ انسان کو اللہ نے۔
صلصال (55:4 1) سے بنایا ، صلصال (55:4 1) اس مٹی کو کہتے ہیں جو سوکھ جائے اور جب اس پر ضرب لگائی جائے تو اس سے آواز صلصلہ نکلے۔ ہوسکتا ہے کہ جس وقت انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اس کی پیدائش کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ انسان کے مادہ تخلیق اور مٹی کے مادہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
” جدید سائنس نے تو یہ بات ثابت کردی ہے کہ جسم انسانی کے اندر وہی مواد ہے جو مٹی کے اندر ہے۔ انسان کاربن ، آکسیجن ، ہائیڈروجن ، فاسفورس ، گندھک ، کیلشیم ، پوٹاشیم ، سوڈیم کلورائیڈ ، میکگنیشیم ، آئرن ، مینگنیز ، تانبے ، لیڈ ، فلورین ، کو بالٹ ، زنک ، سلیکان اور ایلومینم سے مرکب ہے اور یہی وہ عناصر ہیں جن سے زمین بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ ایک انسان اور انسان کے اندر ان کی نسبت مختلف ہوتی ہے اور انسان اور مٹی کے اندر بھی نسبت کا اختلاف ہے۔ البتہ عناصرو اصناف ایک ہی ہیں۔ “ (” اللہ اور سائنس “ صفحہ 081)
لیکن سائنس نے جو بات کی ہے یہ لازمی نہیں ہے کہ آیت کی تفسیر بھی وہی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ قرآن کی مراد یہی ہو جو سانس نے ثابت کیا ہے یا وہ ہو جو سائنس دانوں کو بھی معلوم نہ ہو اور کچھ اور ہو۔ یا اس سے دوسرے معنوں میں انسان کو خالی مخلوق کہا گیا ہو اور طین اور صلحال کے کچھ اور ہی معانی مراد ہوں۔
ہم نے جس چیز کا بڑی شدت سے انتباہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی آیت کو ان مفہومات تک محدود نہیں کرنا چاہئے جو جدید سائنس نے دریافت کئے ہیں کیونکہ انسانی انکشافات صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی ہوسکتے ہیں اور تغیر اور تبدل قبول کرتے ہیں۔ جوں جوں انسان کے وسائل علم بڑھتے ہیں انسانی نظریات میں تغیر وتبدل ہوتا رہتا ہے۔ بعض مخلص لوگ قرآنی آیات کو بہت جلد سائنسی مفہومات کے مطابق بنانے کی سعی کرتے ہیں ، خواہ یہ مفاہیم تجرباتی ہوں یا فرضی ہوں اور ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ قرآن کا اعجاز ثابت کیا جائے۔ اس لئے کہ قرآن سائنس کے خلاف ہو یا موافق ہو وہ اپنی جگہ معجزہ ہے۔ قرآن کے نصوص کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے اور اس کو کسی ایک وقت کے انکشافات تک محدود نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ انکشافات ہر وقت اپنے اندر غلطی کا احتمال رکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات سرے سے نظریات باطل ہوجاتے ہیں۔ جدید سائنسی معلومات سے ہم صرف اس قدر استفادہ کرسکتے ہیں کہ ہم ان کے ذریعہ آیات کے مفہوم ومدلول کو اپنے تصور میں وسیع کردیتے ہیں بشرطیکہ وہ ان مفہومات کی طرف اشارہ کررہی ہوں جن کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے لیکن کبھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ قرآن کا مفہوم وہی ہے جس تک ہمارے انکشافات پہنچ گئے ہیں۔ جواز اس قدر ضرور ہے کہ ہم کہیں کہ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے۔
رہی یہ بات کہ جنوں کو آگ کی لپٹ سے تخلیق کیا گیا ہے تو یہ مسئلہ انسانوں کے حدود علم سے باہر ہے۔ جنوں کے صرف وجود کی اطلاع قرآن نے دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ مارج کے معنی آگ کے شعلوں کی وہ لپٹ ہے جو زبان کی طرح ہوتی ہے اور یہ ہوا سے بنتی ہے اور جن اسی زمین پر انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں جن اور ان کی نسل کس طرح رہتی ہے اس کا ہمیں علم نہیں۔ یقینی بات یہی ہے کہ ان پر لازم ہے کہ وہ قرآن اور شریعت پر عمل کریں جیسا کہ اس سے قبل ہم نے۔
واذا ............ القران (اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تیری طرف جنوں کے کچھ افراد کو پھیر دیا اور وہ قرآن سننے لگے) کی تفسیر میں کہا ہے اور جنوں اور انسانوں دونوں کو اس آیت میں خطاب کیا گیا ہے کہ اللہ کی کن کن انعامات کی تم تکذیب کروگے۔ دونوں کی اللہ نے تخلیق کی اور تخلیق کرنا اور وجود بخشنا وہ نعمت ہے جس پر تمام نعمتوں کا دارومدار ہے۔ چناچہ اس پورے پیراگراف پر یہ شہادت قائم کی جاتی ہے۔
الرحمن 55:15
خلق ............ کالفخار (55:4 1) وخلق ............ نار (55:5 1) فبای ........ تکذبن (55: 61) ” انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے ؟ “
پیدا کرنا اور ایجاد کرنا ، اصول نعمت میں سے ہے۔ وجود اور عدم کے درمیان جو فاصلے ہیں ان کو ان پیمانوں میں سے کسی پیمانے کے ساتھ نہیں ناپا جاسکتا جو انسان کے ادراک میں ہیں۔ اس لئے کہ انسانوں کی دسترس میں جو پیمانے ہیں یا جن کا ادراک ان کی عقلوں نے کرلیا ہے وہ ایسے پیمانے ہیں جو ایک موجود اور دوسرے موجود کے درمیان فرق کرنے کے پیمانے ہیں۔ رہی یہ بات کے موجود اور غیر موجود کے درمیان کیا فرق ہے اور کس قدر فاصلے ہیں۔ ان کو انسان نہیں جان سکتا۔ یہی حال جنوں کا بھی ہے۔ ان کے پیمانے بھی مخلوقات کے پیمانے ہیں۔
جب اللہ انسانوں اور جنوں کو یاد دلاتا ہے کہ میں تمہیں عدم سے وجود میں لایا ہوں تو یہ ایک ایسی نعمت ہے جو حد ادراک سے ماورا ہے۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسان کی تخلیق کسی مواد سے ہوئی اور جنوں کی تخلیق کسی مواد سے ہوئی۔ انسان کو اللہ نے۔
صلصال (55:4 1) سے بنایا ، صلصال (55:4 1) اس مٹی کو کہتے ہیں جو سوکھ جائے اور جب اس پر ضرب لگائی جائے تو اس سے آواز صلصلہ نکلے۔ ہوسکتا ہے کہ جس وقت انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اس کی پیدائش کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ انسان کے مادہ تخلیق اور مٹی کے مادہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
” جدید سائنس نے تو یہ بات ثابت کردی ہے کہ جسم انسانی کے اندر وہی مواد ہے جو مٹی کے اندر ہے۔ انسان کاربن ، آکسیجن ، ہائیڈروجن ، فاسفورس ، گندھک ، کیلشیم ، پوٹاشیم ، سوڈیم کلورائیڈ ، میکگنیشیم ، آئرن ، مینگنیز ، تانبے ، لیڈ ، فلورین ، کو بالٹ ، زنک ، سلیکان اور ایلومینم سے مرکب ہے اور یہی وہ عناصر ہیں جن سے زمین بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ ایک انسان اور انسان کے اندر ان کی نسبت مختلف ہوتی ہے اور انسان اور مٹی کے اندر بھی نسبت کا اختلاف ہے۔ البتہ عناصرو اصناف ایک ہی ہیں۔ “ (” اللہ اور سائنس “ صفحہ 081)
لیکن سائنس نے جو بات کی ہے یہ لازمی نہیں ہے کہ آیت کی تفسیر بھی وہی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ قرآن کی مراد یہی ہو جو سانس نے ثابت کیا ہے یا وہ ہو جو سائنس دانوں کو بھی معلوم نہ ہو اور کچھ اور ہو۔ یا اس سے دوسرے معنوں میں انسان کو خالی مخلوق کہا گیا ہو اور طین اور صلحال کے کچھ اور ہی معانی مراد ہوں۔
ہم نے جس چیز کا بڑی شدت سے انتباہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی آیت کو ان مفہومات تک محدود نہیں کرنا چاہئے جو جدید سائنس نے دریافت کئے ہیں کیونکہ انسانی انکشافات صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی ہوسکتے ہیں اور تغیر اور تبدل قبول کرتے ہیں۔ جوں جوں انسان کے وسائل علم بڑھتے ہیں انسانی نظریات میں تغیر وتبدل ہوتا رہتا ہے۔ بعض مخلص لوگ قرآنی آیات کو بہت جلد سائنسی مفہومات کے مطابق بنانے کی سعی کرتے ہیں ، خواہ یہ مفاہیم تجرباتی ہوں یا فرضی ہوں اور ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ قرآن کا اعجاز ثابت کیا جائے۔ اس لئے کہ قرآن سائنس کے خلاف ہو یا موافق ہو وہ اپنی جگہ معجزہ ہے۔ قرآن کے نصوص کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے اور اس کو کسی ایک وقت کے انکشافات تک محدود نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ انکشافات ہر وقت اپنے اندر غلطی کا احتمال رکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات سرے سے نظریات باطل ہوجاتے ہیں۔ جدید سائنسی معلومات سے ہم صرف اس قدر استفادہ کرسکتے ہیں کہ ہم ان کے ذریعہ آیات کے مفہوم ومدلول کو اپنے تصور میں وسیع کردیتے ہیں بشرطیکہ وہ ان مفہومات کی طرف اشارہ کررہی ہوں جن کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے لیکن کبھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ قرآن کا مفہوم وہی ہے جس تک ہمارے انکشافات پہنچ گئے ہیں۔ جواز اس قدر ضرور ہے کہ ہم کہیں کہ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے۔
رہی یہ بات کہ جنوں کو آگ کی لپٹ سے تخلیق کیا گیا ہے تو یہ مسئلہ انسانوں کے حدود علم سے باہر ہے۔ جنوں کے صرف وجود کی اطلاع قرآن نے دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ مارج کے معنی آگ کے شعلوں کی وہ لپٹ ہے جو زبان کی طرح ہوتی ہے اور یہ ہوا سے بنتی ہے اور جن اسی زمین پر انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں جن اور ان کی نسل کس طرح رہتی ہے اس کا ہمیں علم نہیں۔ یقینی بات یہی ہے کہ ان پر لازم ہے کہ وہ قرآن اور شریعت پر عمل کریں جیسا کہ اس سے قبل ہم نے۔
واذا ............ القران (اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تیری طرف جنوں کے کچھ افراد کو پھیر دیا اور وہ قرآن سننے لگے) کی تفسیر میں کہا ہے اور جنوں اور انسانوں دونوں کو اس آیت میں خطاب کیا گیا ہے کہ اللہ کی کن کن انعامات کی تم تکذیب کروگے۔ دونوں کی اللہ نے تخلیق کی اور تخلیق کرنا اور وجود بخشنا وہ نعمت ہے جس پر تمام نعمتوں کا دارومدار ہے۔ چناچہ اس پورے پیراگراف پر یہ شہادت قائم کی جاتی ہے۔
الرحمن 55:16
فبای ........ لکذبن (55: 61) (پس اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کی تکذیب کرو گے) ان شہادتوں کے قلم بند ہوجانے کے بعد اب تکذیب کا کونسا مقام ہے !
الرحمن 55:17
یہ اشارہ انسان کو اللہ کے شعور کے فیض میں غرق کردیتا ہے جس طرف بھی کوئی توجہ کرے جس طرف بھی التفات کرے اور جس قدر بھی ہمارا مشاہدہ اس کائنات میں دور تک جاتا ہے جہاں بھی نام جائیں وہاں مشرق ہیں اور مغرب ہیں۔ اللہ کی ربوبیت ہے۔ اس کی مشیت ہے اور اس کا اقتدار اعلیٰ ہے۔ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ تیرا نور ہے۔ تیری ہدایت ہے۔
مشرکین اور مغربین یعنی ” مشرق اور مغرب “ ان سے مراد سورج کے طلوع اور غرورب ہونے کے مقامات بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ شمس وقمر کی حیثیت انعام الٰہی پہلے آچکی ہے اور اس سے مراد سورج کے مختلف مقامات طلوع اور غروب بھی ہوسکتے ہیں یعنی جو گرمیوں اور سردیوں میں چلتے رہتے ہیں۔
یہ اشارہ قلب ونظر پر جس طرح سایہ فگن ہے وہ قابل التفات ہے۔ مشرق ومغرب کی طرف متوجہ ہونا ، ان مظاہر طلوع اور غروب سے اللہ کی شان پانا ، یہ سوچنا کہ دست قدرت ان افلاک کو کس طرح گھما رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نور ربی ان آفاق میں جگہ جگہ موجود ہے۔ مشرق ومغرب کے اس تدبر اور تامل کے بعد قلب ونظر جو سبق ، جو عبرت لے کر لوٹیں گے جو شعور لے کر آئیں گے اس کے فیوض سے ہمارے جسم وروح بھر جائیں گے۔
مشرقین کی ربوبیت اور مغربین کی ربوبیت ، اللہ کے احسانات میں سے ایک اہم احسان ہے۔ مشرقین اور مغربین اللہ کی نشانیاں بھی ہیں اور نعمتیں بھی ہیں کیونکہ طلوع و غروب ہی سے زمین پر انسانوں اور جنوں کی زندگی ممکن ہے۔ اگر طلوع و غروب نہ ہوں اور یہ نظام خلل پذیر ہوجائے تو انسان اور جنات کا زندہ رہنا محال ہوجائے۔ اس لئے کہا گیا ۔
الرحمن 55:18
فبای ............ تکذبن (55: 81) (تم اپنے رب کے کن کن عجائبات قدرت کو جھٹلاؤ گے)
بالائی کائنات کی وسعتوں سے اب زمین اور اس کے اندر کی انعامات اور احسانات کی طرف ، زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے خشکی اور تری کو ایک اندازے کے مطابق بنایا ہے اور خشکی اور تری میں اللہ نے انسان کے لئے بہت کچھ پیدا کیا ہے ۔ ایک مقدار کے مطابق۔
الرحمن 55:19
مرج البحرین ............ کالاعلام (4 2) فبای الاء ربکما تکذبن (55:5 2)
” دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ بہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے ؟ ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں ، پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
یہاں جن دو دریاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ میٹھا سمندر اور کھارا سمندر ہیں۔ کھارے دریا سے مراد سمندر اور بڑے اور گہرے پانی ہیں اور میٹھے سے مراد چھوٹے دریا ہے۔ یہ باہم ملتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے حدود مقررہ سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہر ایک اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔
زمین کے اس کرہ پر پانیوں کی یہ تقسیم اتفاقاً نہیں ہوگئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر نے گہرے اور باریک اندازے سے ایسی رکھی ہے۔ کڑوا پانی سطح زمین کے 4 3 حصہ پر پھیلا ہوا ہے۔ صرف 4 1 خشکی ہے اور یہ خطے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں۔ اس قدر وسیع نمکین پانی سطح زمین کے لئے بہت ہی ضروری ہے تاکہ وہ زمین کو صاف رکھے اور زندگی کے نشوونما کے لئے وہ قابل رہے۔
” زمین سے مسلسل گیسیں نکل رہی ہیں۔ زمانوں سے نکل رہی ہیں اور ان میں سے اکثر زہریلی ہیں لیکن ہوا ان گیسوں سے ملوث نہیں ہوتی۔ نیز ہوا کے اندر پانے جانے والی وہ نسبت بھی نہیں بدلتی جو انسان کے وجود کے لئے ضروری ہے ۔ اس توازن کو برقرار رکھنے کا ضامن پانی کا وہ عظیم ذخیرہ ہے یعنی سمندر “ (1)
اس عظیم ذخیرہ آب پر جب سورج چمکتا ہے تو اس سے بخارات اٹھتے ہیں اور انہی بخارات سے بادل اور بارشیں بن کر خشکی پر میٹھے پانی کے دریا بہتے ہیں۔ سمندر ، حرارت شمسی اور اعلیٰ فضا کی سردی اور دوسرے فلکیاتی عوامل مل کر بارش بناتے ہیں اور ان سے میٹھا سمندر بنتا ہے۔
اس میٹھے پانی ہی پر انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی زندگی موقوف ہے۔ تمام دریا جاکر سمندروں میں گرتے ہیں اور زمین کا نمک بہا کر یہ سمندر میں لے جاتے ہیں لیکن یہ سمندر کے پانیوں کو خراب نہیں کرسکتے۔ جتنے بھی دریا ہیں ان کی سطح سمندر کی سطح سے بلند ہوتی ہے۔ اس لئے سمندر بھی ان دریاؤں پر کوئی دست درازی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ دریا سمندر ہی میں گرتے ہیں۔ ان دریاؤں کے چلنے کے جو راستے ہیں ان پر نمکین پانی دست درازی نہیں کرتا نہ نمکین پانی ان صاف پانیوں کو اپنے کام سے روک سکتا ہے۔ دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے لہٰذا دو سمندروں کا ذکر اور ان کے درمیان پردے کا ذکر کوئی قابل تعجب بات نہیں ہے۔” پس اے جن وانس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔ “
اس کے بعد سمندروں میں موجود اللہ کے احسانات کا ذکر ، خصوصاً وہ چیزیں جو ان کی عملی زندگی کے قریب تھیں۔
الرحمن 55:20
مرج البحرین ............ کالاعلام (4 2) فبای الاء ربکما تکذبن (55:5 2)
” دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ بہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے ؟ ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں ، پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
یہاں جن دو دریاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ میٹھا سمندر اور کھارا سمندر ہیں۔ کھارے دریا سے مراد سمندر اور بڑے اور گہرے پانی ہیں اور میٹھے سے مراد چھوٹے دریا ہے۔ یہ باہم ملتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے حدود مقررہ سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہر ایک اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔
زمین کے اس کرہ پر پانیوں کی یہ تقسیم اتفاقاً نہیں ہوگئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر نے گہرے اور باریک اندازے سے ایسی رکھی ہے۔ کڑوا پانی سطح زمین کے 4 3 حصہ پر پھیلا ہوا ہے۔ صرف 4 1 خشکی ہے اور یہ خطے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں۔ اس قدر وسیع نمکین پانی سطح زمین کے لئے بہت ہی ضروری ہے تاکہ وہ زمین کو صاف رکھے اور زندگی کے نشوونما کے لئے وہ قابل رہے۔
” زمین سے مسلسل گیسیں نکل رہی ہیں۔ زمانوں سے نکل رہی ہیں اور ان میں سے اکثر زہریلی ہیں لیکن ہوا ان گیسوں سے ملوث نہیں ہوتی۔ نیز ہوا کے اندر پانے جانے والی وہ نسبت بھی نہیں بدلتی جو انسان کے وجود کے لئے ضروری ہے ۔ اس توازن کو برقرار رکھنے کا ضامن پانی کا وہ عظیم ذخیرہ ہے یعنی سمندر “ (1)
اس عظیم ذخیرہ آب پر جب سورج چمکتا ہے تو اس سے بخارات اٹھتے ہیں اور انہی بخارات سے بادل اور بارشیں بن کر خشکی پر میٹھے پانی کے دریا بہتے ہیں۔ سمندر ، حرارت شمسی اور اعلیٰ فضا کی سردی اور دوسرے فلکیاتی عوامل مل کر بارش بناتے ہیں اور ان سے میٹھا سمندر بنتا ہے۔
اس میٹھے پانی ہی پر انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی زندگی موقوف ہے۔ تمام دریا جاکر سمندروں میں گرتے ہیں اور زمین کا نمک بہا کر یہ سمندر میں لے جاتے ہیں لیکن یہ سمندر کے پانیوں کو خراب نہیں کرسکتے۔ جتنے بھی دریا ہیں ان کی سطح سمندر کی سطح سے بلند ہوتی ہے۔ اس لئے سمندر بھی ان دریاؤں پر کوئی دست درازی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ دریا سمندر ہی میں گرتے ہیں۔ ان دریاؤں کے چلنے کے جو راستے ہیں ان پر نمکین پانی دست درازی نہیں کرتا نہ نمکین پانی ان صاف پانیوں کو اپنے کام سے روک سکتا ہے۔ دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے لہٰذا دو سمندروں کا ذکر اور ان کے درمیان پردے کا ذکر کوئی قابل تعجب بات نہیں ہے۔” پس اے جن وانس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔ “
اس کے بعد سمندروں میں موجود اللہ کے احسانات کا ذکر ، خصوصاً وہ چیزیں جو ان کی عملی زندگی کے قریب تھیں۔
الرحمن 55:21
مرج البحرین ............ کالاعلام (4 2) فبای الاء ربکما تکذبن (55:5 2)
” دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ بہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے ؟ ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں ، پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
یہاں جن دو دریاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ میٹھا سمندر اور کھارا سمندر ہیں۔ کھارے دریا سے مراد سمندر اور بڑے اور گہرے پانی ہیں اور میٹھے سے مراد چھوٹے دریا ہے۔ یہ باہم ملتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے حدود مقررہ سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہر ایک اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔
زمین کے اس کرہ پر پانیوں کی یہ تقسیم اتفاقاً نہیں ہوگئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر نے گہرے اور باریک اندازے سے ایسی رکھی ہے۔ کڑوا پانی سطح زمین کے 4 3 حصہ پر پھیلا ہوا ہے۔ صرف 4 1 خشکی ہے اور یہ خطے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں۔ اس قدر وسیع نمکین پانی سطح زمین کے لئے بہت ہی ضروری ہے تاکہ وہ زمین کو صاف رکھے اور زندگی کے نشوونما کے لئے وہ قابل رہے۔
” زمین سے مسلسل گیسیں نکل رہی ہیں۔ زمانوں سے نکل رہی ہیں اور ان میں سے اکثر زہریلی ہیں لیکن ہوا ان گیسوں سے ملوث نہیں ہوتی۔ نیز ہوا کے اندر پانے جانے والی وہ نسبت بھی نہیں بدلتی جو انسان کے وجود کے لئے ضروری ہے ۔ اس توازن کو برقرار رکھنے کا ضامن پانی کا وہ عظیم ذخیرہ ہے یعنی سمندر “ (1)
اس عظیم ذخیرہ آب پر جب سورج چمکتا ہے تو اس سے بخارات اٹھتے ہیں اور انہی بخارات سے بادل اور بارشیں بن کر خشکی پر میٹھے پانی کے دریا بہتے ہیں۔ سمندر ، حرارت شمسی اور اعلیٰ فضا کی سردی اور دوسرے فلکیاتی عوامل مل کر بارش بناتے ہیں اور ان سے میٹھا سمندر بنتا ہے۔
اس میٹھے پانی ہی پر انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی زندگی موقوف ہے۔ تمام دریا جاکر سمندروں میں گرتے ہیں اور زمین کا نمک بہا کر یہ سمندر میں لے جاتے ہیں لیکن یہ سمندر کے پانیوں کو خراب نہیں کرسکتے۔ جتنے بھی دریا ہیں ان کی سطح سمندر کی سطح سے بلند ہوتی ہے۔ اس لئے سمندر بھی ان دریاؤں پر کوئی دست درازی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ دریا سمندر ہی میں گرتے ہیں۔ ان دریاؤں کے چلنے کے جو راستے ہیں ان پر نمکین پانی دست درازی نہیں کرتا نہ نمکین پانی ان صاف پانیوں کو اپنے کام سے روک سکتا ہے۔ دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے لہٰذا دو سمندروں کا ذکر اور ان کے درمیان پردے کا ذکر کوئی قابل تعجب بات نہیں ہے۔” پس اے جن وانس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔ “
اس کے بعد سمندروں میں موجود اللہ کے احسانات کا ذکر ، خصوصاً وہ چیزیں جو ان کی عملی زندگی کے قریب تھیں۔
الرحمن 55:22
یخرج ............ والمرجان (55: 22) (ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں)
موتی (لولو) دراصل حیوان ہے۔ ” سمندر کے اندر جو موتی ہیں وہ سمندروں کی عجیب ترین چیزوں میں سے ہیں۔ یہ حیوان سیپی میں ہوتا ہے اور یہ سیپی چونے کے مواد سے بنی ہوتی ہے اور یہ سمندروں کی گہری تہوں میں اترجاتی ہے۔ یہ سیپی اسے خطرات سے بچاتی ہے۔ یہ حیوان دوسرے زندہ حیوانوں سے اپنی ساخت اور طریقہ حیات کے لحاظ سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے پاس ایک باریک جال ہوتا ہے جس طرح شکاری کا جال ہوتا ہے۔ یہ جال نہایت ہی عجیب انداز سے
(1) ” انسان اکیلا نہیں ہے “ از اے گریسی مورسون ، صدر سائنس اکیڈمی ، نیویارک
بنا ہوا ہوتا ہے۔ یہ دراصل ایک فلٹر کا کام کرتا ہے جو پانی ، ہوا اور غذا کو تو اندر جانے دیتا ہے لیکن ریت ، کنکریوں وغیرہ کو صاف کرتا جاتا ہے۔ اس جال کے نیچے اس حیوان کے منہ ہوتے ہیں۔ ہر منہ کے چار ہونٹ ہوتے ہیں۔ جب کبھی ریت کا کوئی ذرہ یا کوئی کنکر اس کے منہ میں داخل ہوجائے یا کوئی مضر حیوان اس سیپی میں داخل ہوجائے تو یہ حیوان فوراً اس پر ایک مادہ پھینکتا ہے جس سے یہ ریت کنکری یا حیوان ڈھانپ لیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ چیز ایک موتی بن جاتی ہے۔ ریت کا ذرہ یا کنکر کی مقدار جس قدر بڑی ہوگی اس قدر موتی بڑا ہوگا۔ (” اللہ اور جدید سائنس “ ص 5 01)
” مرجان (مونگا) بھی اللہ کی مخلوقات میں سے ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ سمندروں کے اندر تقریباً 5 ئ 3 میٹر کی گہرائی تک میں رہتا ہے۔ اس کا نچلا حصہ کسی پتھر یا لکڑی سے چسپاں ہوتا ہے اور اس کا منہ اس کے جسم کے بالائی حصے میں ہوتا ہے۔ اس کے جسم کے ساتھ کچھ زائد حصے بھی ہوتے ہیں جن کو وہ اپنے شکار اور خوراک میں استعمال کرتا ہے۔ جب یہ زوائد کسی شکار کو پکڑتے ہیں (یہ شکار اکثر باریک حیوانات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کے مچھر) تو شکار فوراً شل ہوجاتا ہے اور یہ مرجان کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ یہ زوائد یعنی ہاتھ پاؤں سکڑتے ہیں اور اس شکار کو منہ کی طرف قریب کرتے ہیں اور یہاں سے یہ شکار مرجان کے منہ میں داخل ہوتا ہے۔ ایک باریک نالی کے ذریعے جس طرح انسان کی خوراک کی نالی کی طرح ہوتی ہے۔ “
” یہ حیوان نسل کشی کے ذریعے بڑھتا ہے۔ یہ انڈے دیتا ہے۔ ان انڈوں سے جنین پیدا ہوتے ہیں اور یہ جنین پر پتروں اور جھاڑیوں سے چپک کر مستقبل حیوان کے طور پر بڑھتے ہیں اور یہ گویا ایک مستقل حیوان بن جاتے ہیں۔ “
” خالق کائنات کی قدرتوں کے نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ مرجان کا حیوان ایک دوسرے طریقے سے بھی پھیلتا ہیں۔ یوں مرجان کا درخت بن جاتا ہے جس کی لمبی لمبی شاخیں ہوتی ہیں اور جوں جوں یہ شاخوں کی شکل اختیار کرتے ہیں یہ شاخیں باریک ہوجاتی ہیں۔ مرجان جب درخت کی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس کی لمبائی 03 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ زندہ مرجانی جانور کئی رنگوں کے ہوتے ہیں۔ سمندر میں زرد ، نارنگی ، سرخ ، ازرق ، بھورے ، لونگ کے رنگ کے۔ “
” سرخ مرجان وہ گول اور مضبوط حصہ ہوتا ہے جو جانور کے مرجانے کے بعد رہتا ہے اور بڑی بڑی چٹانیں ان کی نوآبادیات ہوتی ہیں۔ “
” ان نو آبادیات میں سے مشہور ترین مرجانی پتھروں کا وہ سلسلہ ہے جو عظیم مرجانی پردے کے نام سے مشہور ہے جو شمالی مشرقی آسٹریلیاں میں واقع ہے اور اس چٹانی سلسلے کی لمبائی ایک ہزار تین سو پچاس میل ہے اور اس کی چوڑائی پچاس میل ہے اور یہ پردہ انہی باریک مرجانی جانوروں کا مرکب ہے۔ (2) ” اللہ اور جدید سائنس “ ص 5 01)
ان موتیوں اور مونگوں سے وہ زیورات بنائے جاتے ہیں جو نہایت شاندر اور قیمتی ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان رکھتا ہے کہ تم پر میرے یہ یہ احسانات ہیں اور ان کے ذکر کے بعد پھر یاد دہانی کا فقرہ دہرایا جاتا ہے۔
الرحمن 55:23
فبای ............ تکذبن (55: 32) (اے گروہ جن وانس ، تم اللہ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے)
الرحمن 55:24
اس کے بعد بات کشتی کی طرف آتی ہے جو سمندروں میں چلتی ہے۔ یہ کشتی بعض اوقات اتنی بڑی ہوتی ہے جیسے سمندر میں کوئی پہاڑ ہو۔
ولہ ............ کالاعلام (55:4 2) (اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندروں میں پہاڑوں کے طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں)
اور یہ اونچے اٹھے ہوئے جہاز اللہ سبحانہ تعالیٰ کی قدرت کے نمونے ہیں کیونکہ سمندروں میں یہ اللہ کی قدرت سے چلتے ہیں۔ گہرے سمندروں اور امواج کے تھپیڑوں میں انہیں صرف اللہ ہی حفاظت دیتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی نگرانی اور نگہبانی ہے کہ یہ پانیوں کے اوپر تیرتے رہتے ہیں۔ یہ جہاز اس وقت بھی اور آج بھی اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے تھے اور ہیں۔ ان جہازوں نے لوگوں کی ضروریات نقل وحمل میں ، سفر میں ، سہولیات کی منتقلی میں اور تجارت اور کمائی میں اس قدر اہم کردار ادا کیا ہے کہ اس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔
الرحمن 55:25
فبای ............ تکذبن (55:5 2) ع (پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کی تکذیب کرو گے)
اب یہاں اس دکھائی دینے والی کائنات کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے او یہ بتایا جاتا ہے تمام فنا ہونے والی مخلوقات کے صفحات لپیٹ لئے جائیں گے۔ یہ تمام انسان اور ان کی شکلیں ختم کردی جائیں گی۔ صفحہ ہستی کو تمام زندہ مخلوق سے صاف کردیا جائے گا اور صرف اللہ ذوالجلال وذوالاکرام کی ذات رہ جائے گی۔
الرحمن 55:26
کل من ........ والاکرام (72) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 82)
” ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل وکریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
اس آیت کے سایہ میں انسان کی سانس رج جاتی ہے۔ آواز دھیمی ہوجاتی ہے اور انسان کے اعضا رک جاتے ہیں۔ پوری کائنات کی ہر زندہ چیز پر سایہ چھا جاتا ہے۔ ہر قسم کی حرکت بند ہوجاتی ہے۔ زمین و آسمان کی وسعتوں پر نور ربی چھا جاتا ہے۔ انسانی نفوس اور انسانی اعضاء پر جلال ربی کا انعکاس ہوجاتا ہے۔ زمان ومکان میں اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہوتا اور پوری کائنات پر اللہ کا جلال ووقار چھا جاتا ہے۔
انسانی تعبیر اس صورت حال کے بیان سے عاجز ہے۔ قرآن نے جو کچھ کہہ دیا اس پر اضافہ ممکن نہیں ہے۔ یہ بات فضا پر ایسی خاموشی طاری کردیتی ہے جس میں خشوع اور ذات باری تعالیٰ کا خوف ہو ، اللہ کی جلالت کا سایہ ہو اور پوری فضا سہمی سہمی ہو۔ ایسی فضا جس پر فنا طاری ہو۔ موت کا سکوت ہو۔ کسی طرف کوئی حرکت نہ ہو۔ کوئی شور وشعب نہ ہو۔ حالانکہ ابھی ابھی یہ کائنات زندہ اور متحرک تھی۔ یہ آیت دائمی بقا کی تصویر کشی بھی کرتی ہے۔ یہ دائمی بقا کی ایک تصویر انسان کو دیتی ہے حالانکہ انسان دائمی بقا کے تجربے سے واقف نہیں ہے لیکن اس آیت میں اسے نہایت ہی گہری بقا بتائی جاتی ہے۔ یعنی بقائے ذوالجلال والاکرام۔
الرحمن 55:27
کل من ........ والاکرام (72) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 82)
” ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل وکریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
اس آیت کے سایہ میں انسان کی سانس رج جاتی ہے۔ آواز دھیمی ہوجاتی ہے اور انسان کے اعضا رک جاتے ہیں۔ پوری کائنات کی ہر زندہ چیز پر سایہ چھا جاتا ہے۔ ہر قسم کی حرکت بند ہوجاتی ہے۔ زمین و آسمان کی وسعتوں پر نور ربی چھا جاتا ہے۔ انسانی نفوس اور انسانی اعضاء پر جلال ربی کا انعکاس ہوجاتا ہے۔ زمان ومکان میں اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہوتا اور پوری کائنات پر اللہ کا جلال ووقار چھا جاتا ہے۔
انسانی تعبیر اس صورت حال کے بیان سے عاجز ہے۔ قرآن نے جو کچھ کہہ دیا اس پر اضافہ ممکن نہیں ہے۔ یہ بات فضا پر ایسی خاموشی طاری کردیتی ہے جس میں خشوع اور ذات باری تعالیٰ کا خوف ہو ، اللہ کی جلالت کا سایہ ہو اور پوری فضا سہمی سہمی ہو۔ ایسی فضا جس پر فنا طاری ہو۔ موت کا سکوت ہو۔ کسی طرف کوئی حرکت نہ ہو۔ کوئی شور وشعب نہ ہو۔ حالانکہ ابھی ابھی یہ کائنات زندہ اور متحرک تھی۔ یہ آیت دائمی بقا کی تصویر کشی بھی کرتی ہے۔ یہ دائمی بقا کی ایک تصویر انسان کو دیتی ہے حالانکہ انسان دائمی بقا کے تجربے سے واقف نہیں ہے لیکن اس آیت میں اسے نہایت ہی گہری بقا بتائی جاتی ہے۔ یعنی بقائے ذوالجلال والاکرام۔
الرحمن 55:28
بقاودوام اور فنا و سکون کی اس تصویر کشی کے بعد وہی تبصرہ۔
فبای ............ تکذبن (55: 82) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے “
یہ بھی ایک نعمت ہے بلکہ نعمتوں کے اساس ہے کیونکہ تمام نعمتوں کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ تمام مخلوقات اس سے اپنا وجود اور اسباب حیات پاتی ہیں اور یہ اسباب ، ناموس کائنات اور خصائص کائنات کی فراہم کردہ ہیں اور اس طرح انسانی زندگی کے مشن اور قدریں بھی اسی ذات باری کی وضع کردہ ہیں۔ وہ جی ہے اور باقی ہے اور تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ وہ محافظ ہے لہٰذا وجود اور نغمات زندگی سب کی سب اس سرچشمہ سے ماخوذ ہیں۔ اس دنیا کا نظام درست نہیں ہوسکتا جب فنائے دنیا اور بقائے ذوالجلال کی حقیقت کو تسلیم نہ کرلیا جائے۔
اللہ کے بقائے دوام اور مخلوق کے فنائے لازم کے تصور سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ تمام مخلوق اللہ کے در پر سوالی ہے اور وہ ذوالجلال دائم اور باقی کسی کا محتاد نہیں ہے۔ وہ صمد ہے۔
الرحمن 55:29
زمین اور آسمانوں میں جو مخلوقات ہیں وہ اس بقائے دوام کے سوالی ہیں کیونکہ سوال کی جگہ ہی وہ ہے۔ اس کے سوا دوسری کوئی درگاہ نہیں ہے اور اس کے سوا کسی سے کوئی سوال اس لئے عبث ہے کہ غیر خود محتاج ہے محتاج محتاج کی کیا مدد کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ہر آن کئی شان ہے۔ یہ وجود جو لاحدود ہے۔ سب کا سب اس کی مشیت ، اس کی تصویر اور اس کی تدبیر سے چل رہا ہے۔ یہ تدبیر پوری کائنات میں رواں دواں ہے اور ہر فرد علیحدہ علیحدہ بھی اس تقدیر اور مشیت میں پرویا ہوا ہے۔ پھر انسانی فرد کے اندر اس کا ایک ایک رواں بھی اس تقدیر کے دائرہ میں مقدر ہے۔ ہر چیز کو اللہ تخلیق عطا کرتا ہے۔ اسے اس کا مقصد تخلیق دیتا ہے اور پھر وہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنا فریضہ ادا کررہی ہے یا نہیں۔
یہ تقدیر ہر آنے والے پودے اور گرنے والے پتے کا پیچھا کرتی ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں دور کہیں کوئی دانہ پڑا ہے تو وہ بھی مقدر ہے۔ خشک ویا بس ، سمندر اور ان کی مچھلیاں ، کیڑے اور ان کے سوراخ ، حشرات اور ان کے ٹھکانے یہ تمام جانور ان کے مقامات رہائش غاروں میں ، گھونسلوں میں ، ہر انڈا اور ہر بچہ اور ہر پر اور ہر پر کا ایک ایک ریشہ اور ہر جسم کا ہر خلیہ مقدر ہے۔
اور صاحب تدبیر کسی ایک ہی کے اندر مصروف نہیں ہوتا اور نہ ایک کی تدبیر دوسرے سے غافل کرلیتی ہے۔ وہ بیک وقت سب کا مدبر ہے اور ان ہی حالات میں زمین کے معاملات جس میں جن وانس بھی ہیں کہ ہر وقت اس کی تم پر نظر ہے اور یہ بھی بڑی نعمت ہے۔ تقدیر بھی ایک نعمت ہے۔
الرحمن 55:30
فبای ............ تکذبن (55: 23) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “
فنا کے بعد بقا اور تمام مخلوقات کا واحد باقی کی طرف رخ کرنا ، تمام انسانوں کے معاملات کا اس کے نظام قضا وقدر کے اندر منضبط ہونے کے مسائل طے کرنے کے ساتھ ہی اس کائنات کی نعمتوں کا بیان ختم ہوتا ہے اور جن وانس کے سامنے اللہ کے انعامات و احسانات رکھنے اور گنوانے اور ثابت کرنے کے بعد اب ان کو ایک شدید دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ نہایت ہی ہولناک اور خوفناک دھمکی اور ڈراوا ہے۔ یہ خوفناک دھمکی بطور تمہید دی گئی ۔ اس کے بعد قیامت کے جو مناظر آرہے ہیں وہ بہت زیادہ ہولناک ہیں۔
الرحمن 55:31
سنفرغ ............ تنتصران (5 3) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 63 (55: 13 تا 63) ” اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں۔ (پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔ اے گروہ جن وانس اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لئے بڑا زور چاہئے۔ اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ (بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ اے جن وانس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “
سنفرغ ............ الثقلن (55: 13) (اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوجائیں گے) یہ کس قدر ہولناک دھمکی ہے ! کوئی انس اور جن اس کے مقابلے میں کیا ٹھہرے گا۔ اس دھمکی کے مقابلے میں تو پہاڑ اور چٹانیں بھی نہیں ٹھہر سکتیں۔ نہ ستارے اور افلاک ٹھہر سکتے ہیں !
اللہ جل جلالہ ، القوی القادر ، القہار والجبار ، بزرگ و برتر ، دھمکی دے رہا ہے کہ میں تم سے حساب و کتاب لینے والا ہوں اور یہ کس کو انسان اور جن جیسی ضعیف وناتواں مخلوق کو اور دھمکی نہایت ہی غضب اور انتقام کے انداز میں ہے۔
یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے۔ اس دھمکی کو اس طرح مزید خوفناک بنا دیا گیا ہے۔ صرف تصور ہی سے وجود نابود ہوجاتا ہے کیونکہ انسانی وجود تو اس ہی کلمہ سے پردہ عدم سے وجود میں آیا کن فیکون ہوگیا اور ہلاک و بربادی اور نیست ونابود کرنا تو پلک جھپکنے سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ اگر احساس ہو تو جن وانس کی حالت کیا ہوگی۔ جب ذوالجلال والاکرام ان کو یہ دھمکی دے رہا ہے غضب وانتقام کی دھمکی !
الرحمن 55:32
فبای ................ تکذبن (55: 23) (پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرو گے ؟ )
الرحمن 55:33
یمعشر ............ بسلطن (55: 33) (اے گروہ جن وانس ، اگر تم زمین اور آسمان کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ، نہیں بھاگ سکتے۔ اس لئے کہ اس کے لئے بڑا زور چاہئے) کس طرح تم نکل سکتے ہو ؟ کہاں سے تم بھاگ سکتے ہو ؟ اس کے لئے تو بڑی قوت چاہئے اور قوت اللہ کے پاس ہے اور پھر وہی سوال۔
الرحمن 55:34
فبای ................ تکذبن (55:4 3) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “
آخر ان کے پاس کیا چیز رہ گئی ہے کہ وہ جھٹلائیں ! محض زبانی کلامی بات سے کیا بنتا ہے ؟
لیکن تباہ کن حملہ جاری ہے۔ مزید دھمکی آرہی ہے اور تباہی والا انجام ان کے سامنے ہے۔
الرحمن 55:35
یرسل ............ فلا تنتصران (55:5 3) ” تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکوں گے “ اگر تم نے نکلنے کی کوشش کی بھی تو تمہاری کوشش ناکام ہوگی۔
الرحمن 55:36
فبای ................ تکذبن (55: 63) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “ یہ خوف وہراس کا وہ منظر ہے جس کا تصور انسان کر ہی نہیں سکتا۔ ہر مخلوق کے لئے یہ ناقابل برداشت ہے۔ خوف وہراس کی ایسی چند ہی مثالیں ہیں جو صرف قرآن نے دی ہیں۔ یہ انسانی تصور سے بالا ہیں۔ اے برتر از خیال و قیاس و گمان ووہم۔
قرآن نے ایک جگہ کہا۔ فذرنی ............ النعمة (چھوڑدو مجھے اور ان کھاتے پیتے جھٹلانے والوں کو) دوسری جگہ ذرنی ............ وحیدا ” چھوڑ دو مجھے اور جسے میں نے اکیلا پیدا کیا تھا “ اور یہ آیت۔
سنفرغ ............ الثقلن (55: 13) اے جن وانس ، تم زمین کا بوجھ بن چکے ہو ، ذرا مجھے فارغ ہو لینے دو “ اس قسم کی خوفناک دھمکیاں انسانی تصور سے بالا ہیں۔
اب یہاں سورة کے آخر تک قیامت کے مناظر ہیں کہ قیامت سے پہلے اس کائناتی نظام میں کیا کیا انقلاب آجائے گا۔ پھر حساب و کتاب کس طرح ہوگا اور پھر جزاء وسزا کیسی ہوگی۔
ان مناظر کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس سورة کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہیں اور ان باتوں سے جو کائنات کے بارے میں اس سورة میں کہی گئی ہیں۔
الرحمن 55:37
فاذا انشقت ............ حمیم ان فبای الاء ربکما تکذبن
وردة یعنی سرخ تیل کی طرح یعنی بہہ جائے گا۔ قیامت کے دن سے قبل کائنات میں ہونے والے تغیر کے بارے میں جس قدر آیات آئی ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ افلاک کے موجودہ نظام میں مکمل ابتری آجائے گی اور نظام سماوات پر تمام کرے موجودہ نظام کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے جیسا کہ اس آیت میں ہے اور مثلاً ۔
اذرجت ............ منبسا (6) (6 5:4 تا 6) (زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبارہ جائیں گے) اور انہی آیات میں سے یہ بھی ہے۔
فاذابرق ................ والقمر (9) 5 7 : 7 تا 9) (پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے) اور انہی میں سے۔
اذالشمس .................... سئلت (8) (18 : 1 تا 8) ” جب سورج لپیٹ لیا جائے گا ، جب تارے بکھر جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیئے جائیں اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے اور جب جانیں جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا “ اور اسی طرح۔
اذا السمائ ................ فجرت (3) (28 : 1 تا 3) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے۔ “
اذا السمائ .................................... وحقت (5) (4 8 : 1 تا 5) (جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی) یہ اور دوسری سب آیات اس عظیم حادثے کی طرف اشارہ کررہی ہیں جو اس کائنات میں واقع ہوگا اور اس کی حقیقت صرف اللہ ہی جانتا ہے یہ اور اس آیت کی مراد بھی یہی ہے۔
فاذانشقت .................... کالدھان (55: 73) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 83) ” پھر جب آسمان پھٹے گا اور سرخ ہوگا اور تیل کس طرح بہہ نکلے گا تو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “
الرحمن 55:38
فاذا انشقت ............ حمیم ان فبای الاء ربکما تکذبن
وردة یعنی سرخ تیل کی طرح یعنی بہہ جائے گا۔ قیامت کے دن سے قبل کائنات میں ہونے والے تغیر کے بارے میں جس قدر آیات آئی ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ افلاک کے موجودہ نظام میں مکمل ابتری آجائے گی اور نظام سماوات پر تمام کرے موجودہ نظام کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے جیسا کہ اس آیت میں ہے اور مثلاً ۔
اذرجت ............ منبسا (6) (6 5:4 تا 6) (زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبارہ جائیں گے) اور انہی آیات میں سے یہ بھی ہے۔
فاذابرق ................ والقمر (9) 5 7 : 7 تا 9) (پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے) اور انہی میں سے۔
اذالشمس .................... سئلت (8) (18 : 1 تا 8) ” جب سورج لپیٹ لیا جائے گا ، جب تارے بکھر جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیئے جائیں اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے اور جب جانیں جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا “ اور اسی طرح۔
اذا السمائ ................ فجرت (3) (28 : 1 تا 3) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے۔ “
اذا السمائ .................................... وحقت (5) (4 8 : 1 تا 5) (جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی) یہ اور دوسری سب آیات اس عظیم حادثے کی طرف اشارہ کررہی ہیں جو اس کائنات میں واقع ہوگا اور اس کی حقیقت صرف اللہ ہی جانتا ہے یہ اور اس آیت کی مراد بھی یہی ہے۔
فاذانشقت .................... کالدھان (55: 73) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 83) ” پھر جب آسمان پھٹے گا اور سرخ ہوگا اور تیل کس طرح بہہ نکلے گا تو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “
الرحمن 55:39
فیومئذ ................ ولاجان فبای الا ربکما تکذبن (0 4) (44: 93۔ 0 4)
” اسی روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی ، پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔ “
قیامت کے مقامات میں سے یہ بھی ایک مقام ہوگا اور اس میں مختلف مقامات ہوں گے۔ بعض جگہ بندوں سے ان کے کام کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ بعض مقامات میں کسی سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی۔ بعض جگہ مجرم اپنے بارے میں جھگڑ رہے ہوں گے اور اپنے کرتوتوں کی ذمہ داری شرکاء پر ڈالیں گے۔ بعض مقامات ایسے ہوں گے کہ وہاں بولنے کی کوئی اجازت نہ ہوگی۔ نہ جھگڑنے کی اجازت ہوگی۔ قیامت کا دن طویل ہوگا اور اس میں طرح طرح کے موقف ہوں گے۔
ایک موقف یہ ہوگا کہ اس میں کسی سے کچھ بات نہ پوچھی جائے گی جبکہ لوگوں کی صفات اور اعمال بالکل واضح ہوں گے اور ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور طے ہوگا کہ جہنمی ہے اور بعض کے چہرے سفید ہوں گے اور طے ہوگا کہ گرین چینل والا ہے اور یہ صفات ان کے چہروں اور حالات سے عیاں ہوں گی۔ کیا اس وقف کا کوئی انکار کرسکتا ہے۔
الرحمن 55:40
فیومئذ ................ ولاجان فبای الا ربکما تکذبن (0 4) (44: 93۔ 0 4)
” اسی روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی ، پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔ “
قیامت کے مقامات میں سے یہ بھی ایک مقام ہوگا اور اس میں مختلف مقامات ہوں گے۔ بعض جگہ بندوں سے ان کے کام کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ بعض مقامات میں کسی سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی۔ بعض جگہ مجرم اپنے بارے میں جھگڑ رہے ہوں گے اور اپنے کرتوتوں کی ذمہ داری شرکاء پر ڈالیں گے۔ بعض مقامات ایسے ہوں گے کہ وہاں بولنے کی کوئی اجازت نہ ہوگی۔ نہ جھگڑنے کی اجازت ہوگی۔ قیامت کا دن طویل ہوگا اور اس میں طرح طرح کے موقف ہوں گے۔
ایک موقف یہ ہوگا کہ اس میں کسی سے کچھ بات نہ پوچھی جائے گی جبکہ لوگوں کی صفات اور اعمال بالکل واضح ہوں گے اور ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور طے ہوگا کہ جہنمی ہے اور بعض کے چہرے سفید ہوں گے اور طے ہوگا کہ گرین چینل والا ہے اور یہ صفات ان کے چہروں اور حالات سے عیاں ہوں گی۔ کیا اس وقف کا کوئی انکار کرسکتا ہے۔
الرحمن 55:41
یعرف ................ تکذبن (3 4) (55: 1 4 ۔ 2 4) ” مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ اس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “
یہ ایک سخت منظر ہے اور توہین آمیز بھی کہ جب ماتھوں اور پیشانی کے بالوں سے اور پاؤں سے پکڑکر کھینچے جائیں گے یعنی ماتھے اور پاؤں اکٹھے ہوں گے اور اس حالت میں جہنم رسید۔ کیا ایسے حالات میں تکذیب ہوگی۔
یہ منظر پیش نظر ہے۔ لوگوں کو پاؤں اور سر کے بالوں سے پکڑ پکڑ کر جہنم میں پھینکا جارہا ہے اور جو لوگ اس منظر کو دیکھ رہے ہیں وہ بھی گویا جہنم کے کنارے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ ان سے بھی کہا جاتا ہے۔
الرحمن 55:42
یعرف ................ تکذبن (3 4) (55: 1 4 ۔ 2 4) ” مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ اس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “
یہ ایک سخت منظر ہے اور توہین آمیز بھی کہ جب ماتھوں اور پیشانی کے بالوں سے اور پاؤں سے پکڑکر کھینچے جائیں گے یعنی ماتھے اور پاؤں اکٹھے ہوں گے اور اس حالت میں جہنم رسید۔ کیا ایسے حالات میں تکذیب ہوگی۔
یہ منظر پیش نظر ہے۔ لوگوں کو پاؤں اور سر کے بالوں سے پکڑ پکڑ کر جہنم میں پھینکا جارہا ہے اور جو لوگ اس منظر کو دیکھ رہے ہیں وہ بھی گویا جہنم کے کنارے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ ان سے بھی کہا جاتا ہے۔
الرحمن 55:43
ھذہ جہنم ................ المجرمون (55: 2 4) ” اس وقت کہا جائے گا یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے۔ “ یہ ہے تمہاری نظروں کے سامنے ، تم دیکھ رہے ہو۔
الرحمن 55:44
یطوفون ................ حمیم ان (55:44) ” اسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے۔ “ اب یہ مجرم جہنم اور انتہائی کھولتے گرم پانی کے درمیان گردش کررہے ہیں دیکھ لو ان کو۔
الرحمن 55:45
فبای ................ تکذبن (55:54) ” پھر اپنے رب کے کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “ یہ تو تھی صورت عذاب جہنم کی اور اب ذرا جنتیوں کا ذکر بھی ہوجائے۔
الرحمن 55:46
قرآن کی جس قدر سورتیں اب تک گزری ہیں ان میں پہلی بار دو باغوں کا ذکر ہے اور یہ دو باغ بھی جنت کے اندر ہی ہوں گے جو بہت ہی وسیع اور بڑی جگہ ہوگی لیکن یہاں دو باغوں کا خصوصی ذکر محض ان کے عالیشان ہونے کے ناطے سے ہے۔ سورة واقعہ میں یہ بات آنے والی ہے کہ اہل جنت کے دو فریق ہوں گے۔ پہلے السابقون المقربون ہوں گے اور اصحاب الیمین ہوں گے۔ دونوں فریقوں کے لئے نعمتیں ہوں گی۔ یہ دو باغ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو اعلیٰ مرتبے کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کو السابقون الاولون کہا گیا ہے اور ان دو باغات سے کم درجے کے بھی دو اور باغ ہوں گے اور یہ باغ شاید السابقون اولون کے بعد کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ شاید اصحاب الیمین میں سے ہوں گے۔ بہرحال ہمیں ان دو باغوں کی طرف دیکھنا چاہئے اور ان میں کچھ دیر کے لئے رہنا چاہئے۔
الرحمن 55:47
قرآن کی جس قدر سورتیں اب تک گزری ہیں ان میں پہلی بار دو باغوں کا ذکر ہے اور یہ دو باغ بھی جنت کے اندر ہی ہوں گے جو بہت ہی وسیع اور بڑی جگہ ہوگی لیکن یہاں دو باغوں کا خصوصی ذکر محض ان کے عالیشان ہونے کے ناطے سے ہے۔ سورة واقعہ میں یہ بات آنے والی ہے کہ اہل جنت کے دو فریق ہوں گے۔ پہلے السابقون المقربون ہوں گے اور اصحاب الیمین ہوں گے۔ دونوں فریقوں کے لئے نعمتیں ہوں گی۔ یہ دو باغ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو اعلیٰ مرتبے کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کو السابقون الاولون کہا گیا ہے اور ان دو باغات سے کم درجے کے بھی دو اور باغ ہوں گے اور یہ باغ شاید السابقون اولون کے بعد کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ شاید اصحاب الیمین میں سے ہوں گے۔ بہرحال ہمیں ان دو باغوں کی طرف دیکھنا چاہئے اور ان میں کچھ دیر کے لئے رہنا چاہئے۔
الرحمن 55:48
ذواتا ............ الجنتین دان فبای الاء ربکما تکذبن (55) (55: 8 4 تا 55)
” ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیزریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “
ذواتا افنان (55: 8 4) (ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور) افنان ، اغصان ، چھوٹی ڈالیاں ، تازہ ، نرم اور سرسبز وشادات ، عینان تجربان (دو باغوں میں دو چشمے رواں) پانی بہت زیادہ اور بڑی سہولت سے لیا جاسکتا ہے۔
الرحمن 55:49
ذواتا ............ الجنتین دان فبای الاء ربکما تکذبن (55) (55: 8 4 تا 55)
” ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیزریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “
ذواتا افنان (55: 8 4) (ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور) افنان ، اغصان ، چھوٹی ڈالیاں ، تازہ ، نرم اور سرسبز وشادات ، عینان تجربان (دو باغوں میں دو چشمے رواں) پانی بہت زیادہ اور بڑی سہولت سے لیا جاسکتا ہے۔
الرحمن 55:50
ذواتا ............ الجنتین دان فبای الاء ربکما تکذبن (55) (55: 8 4 تا 55)
” ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیزریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “
ذواتا افنان (55: 8 4) (ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور) افنان ، اغصان ، چھوٹی ڈالیاں ، تازہ ، نرم اور سرسبز وشادات ، عینان تجربان (دو باغوں میں دو چشمے رواں) پانی بہت زیادہ اور بڑی سہولت سے لیا جاسکتا ہے۔
الرحمن 55:51
ذواتا ............ الجنتین دان فبای الاء ربکما تکذبن (55) (55: 8 4 تا 55)
” ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیزریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “
ذواتا افنان (55: 8 4) (ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور) افنان ، اغصان ، چھوٹی ڈالیاں ، تازہ ، نرم اور سرسبز وشادات ، عینان تجربان (دو باغوں میں دو چشمے رواں) پانی بہت زیادہ اور بڑی سہولت سے لیا جاسکتا ہے۔
الرحمن 55:52
فیھما من کل فاکھة زوجن (55: 2 5) (دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں) یعنی متنوع اور ڈبل اقسام کے پھل ، وافر مقدار میں۔ اہل جنت کس حال میں ہوں گے۔
الرحمن 55:53
فیھما من کل فاکھة زوجن (55: 2 5) (دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں) یعنی متنوع اور ڈبل اقسام کے پھل ، وافر مقدار میں۔ اہل جنت کس حال میں ہوں گے۔
الرحمن 55:54
متکئین ............ استبرق (55:45) ” جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استردبیزریشم کے ہوں گے “ استبرق ریشمی مخمل جو دبیز ہوگا۔ اگر ان کے استرای سے ہوں گے تو ان کے ظاہری غلاف تو نہایت ہی خوبصورت ہوں گے۔ وجنا الجنتین دان (55:45) ” اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی “ یعنی اگر کوئی پھل توڑنا چاہے تو اسے کسی مشقت کا سامنا کرنا نہ ہوگا۔
لیکن انہی باتوں پر جنت کی نعمتیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ اس سے بھی لطیف تر انعامات ہوں گے۔
الرحمن 55:55
متکئین ............ استبرق (55:45) ” جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استردبیزریشم کے ہوں گے “ استبرق ریشمی مخمل جو دبیز ہوگا۔ اگر ان کے استرای سے ہوں گے تو ان کے ظاہری غلاف تو نہایت ہی خوبصورت ہوں گے۔ وجنا الجنتین دان (55:45) ” اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی “ یعنی اگر کوئی پھل توڑنا چاہے تو اسے کسی مشقت کا سامنا کرنا نہ ہوگا۔
لیکن انہی باتوں پر جنت کی نعمتیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ اس سے بھی لطیف تر انعامات ہوں گے۔
الرحمن 55:56
فیھن ................ والمرجان فبای الاء ربکما تکذبن (9 5) (55: 6 5 تا 9 5)
” ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے نہ چھوا ہوگا۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “
قصرت الطرف (55: 6 5) ” شرمیلی نگاہوں والیاں “ پاکیزہ شعور رکھنے والیاں ہوں گی۔ ان کی نظریں جھکی ہوں گی اور وہ اپنے مالکوں کے سوا کسی اور کی طرف دیکھنے والیاں نہ ہوگی۔
لم یطمثھن (55: 6 5) ” ان کو چھوا نہ ہوگا “ نہ انسان نے نہ جن نے۔
الرحمن 55:57
فیھن ................ والمرجان فبای الاء ربکما تکذبن (9 5) (55: 6 5 تا 9 5)
” ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے نہ چھوا ہوگا۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “
قصرت الطرف (55: 6 5) ” شرمیلی نگاہوں والیاں “ پاکیزہ شعور رکھنے والیاں ہوں گی۔ ان کی نظریں جھکی ہوں گی اور وہ اپنے مالکوں کے سوا کسی اور کی طرف دیکھنے والیاں نہ ہوگی۔
لم یطمثھن (55: 6 5) ” ان کو چھوا نہ ہوگا “ نہ انسان نے نہ جن نے۔
الرحمن 55:58
کانھن ............ والمرجان (55: 8 5) ” ہیرے اور موتی کی طرح خوبصورت “ چمکدار اور نرم ونازک۔
یہ ہے جزاء ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب کے مقام اور مرتبے سے ڈرتے تھے اور جنہوں نے اس کی عبادت اس طرح کی جیسا کہ گویا رب کو دیکھ رہے ہوں اور اس شعور کے ساتھ کہ وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ یوں وہ مرتبہ احسان تک پہنچ گئے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی طرح وہ اپنی جزا از جانب رحمان پاگئے۔
الرحمن 55:59
کانھن ............ والمرجان (55: 8 5) ” ہیرے اور موتی کی طرح خوبصورت “ چمکدار اور نرم ونازک۔
یہ ہے جزاء ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب کے مقام اور مرتبے سے ڈرتے تھے اور جنہوں نے اس کی عبادت اس طرح کی جیسا کہ گویا رب کو دیکھ رہے ہوں اور اس شعور کے ساتھ کہ وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ یوں وہ مرتبہ احسان تک پہنچ گئے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی طرح وہ اپنی جزا از جانب رحمان پاگئے۔
الرحمن 55:60
ھل جزائ ................ الاحسان (55: 06) ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے “ انعام اور احسان کی اس نمائش گاہ کے ہر فقرے کے بعد یہ تعقیب آتی تھی “ اے جن وانس اللہ کے کن کن احسانات کا تم انکار کرو گے “ یہ احسان کا بدلہ احسان سے تھا۔
الرحمن 55:61
ھل جزائ ................ الاحسان (55: 06) ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے “ انعام اور احسان کی اس نمائش گاہ کے ہر فقرے کے بعد یہ تعقیب آتی تھی “ اے جن وانس اللہ کے کن کن احسانات کا تم انکار کرو گے “ یہ احسان کا بدلہ احسان سے تھا۔
الرحمن 55:62
اب دوسرا فریق جس کو دو باغ ملیں گے۔
ومن دونھما جنتن (55: 26) ” اور ان دو باغوں کے علاوہ وہ دو باغ اور ہوں گے “ اور ان کے اوصاف سابقہ باغوں سے ذرا کم ہوں گے۔ یہ دو باغ۔
الرحمن 55:63
اب دوسرا فریق جس کو دو باغ ملیں گے۔
ومن دونھما جنتن (55: 26) ” اور ان دو باغوں کے علاوہ وہ دو باغ اور ہوں گے “ اور ان کے اوصاف سابقہ باغوں سے ذرا کم ہوں گے۔ یہ دو باغ۔
الرحمن 55:64
مدھامتن (55:4 6) ” گھنے ، سرسبز اور شاداب باغ “ یعنی ایسے سبز جو سیاہی مائل ہوں گے کیونکہ وہ گھنے ہوں گے۔
الرحمن 55:65
مدھامتن (55:4 6) ” گھنے ، سرسبز اور شاداب باغ “ یعنی ایسے سبز جو سیاہی مائل ہوں گے کیونکہ وہ گھنے ہوں گے۔
الرحمن 55:66
فیھما عینن نضاختن (55: 66) ” ان میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوں گے “ یعنی پانی کو اوپر کی طرف پھینک رہے ہوں گے۔ چشمے سے پانی ابلنا جاری پانی سے ذرا کم درجے کا ہوتا ہے۔
الرحمن 55:67
فیھما عینن نضاختن (55: 66) ” ان میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوں گے “ یعنی پانی کو اوپر کی طرف پھینک رہے ہوں گے۔ چشمے سے پانی ابلنا جاری پانی سے ذرا کم درجے کا ہوتا ہے۔
الرحمن 55:68
فیھما ............ ورمان (55: 86) ” ان میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور نار ہوں گے “ اور مزید
الرحمن 55:69
فیھما ............ ورمان (55: 86) ” ان میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور نار ہوں گے “ اور مزید
الرحمن 55:70
فیھن ............ حسان (55: 2 5) ” ان میں خوب سیرت اور خوبصورت پریاں ہوں گی “۔
خیرت اور خیرات دونوں سے مراد اچھی سیرت ہے۔
الرحمن 55:71
فیھن ............ حسان (55: 2 5) ” ان میں خوب سیرت اور خوبصورت پریاں ہوں گی “۔
خیرت اور خیرات دونوں سے مراد اچھی سیرت ہے۔
الرحمن 55:72
حور ............ الخیام (55: 27) ” خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں ہوں گی۔ “ خیموں میں رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بدوی لوگوں کو ان کے ذوق بداوت کے مطابق سہولتیں ہوں گی۔ مقصورات کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ شرمیلی اور نظریں جھکانے والیاں ہوں گی یا وہاں ٹھہرائی ہوں گی۔
الرحمن 55:73
حور ............ الخیام (55: 27) ” خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں ہوں گی۔ “ خیموں میں رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بدوی لوگوں کو ان کے ذوق بداوت کے مطابق سہولتیں ہوں گی۔ مقصورات کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ شرمیلی اور نظریں جھکانے والیاں ہوں گی یا وہاں ٹھہرائی ہوں گی۔
الرحمن 55:74
لم ............ جان (55:4 7) ” ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے ان کو نہ چھوا ہوگا۔ “
اور ان جنتوں کے لوگ تو ان کے حالات یوں ہوں گے۔
الرحمن 55:75
لم ............ جان (55:4 7) ” ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے ان کو نہ چھوا ہوگا۔ “
اور ان جنتوں کے لوگ تو ان کے حالات یوں ہوں گے۔
الرحمن 55:76
متکئین ............ حسان (55: 67) ” وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس اور نادر فرشوں پر تکئے لگائے بیٹھیں گے۔ “
رفرف فرش عبقری عبقر کے بنے ہوئے ، مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو خصوصاً عربوں کے فریب الفہم کرنے کے لئے۔ عبقر جنوں کی وادی کو کہتے ہیں اور ہر عجیب چیز کو وہ عبقری کہتے تھے لیکن پہلے باغ والوں کے تکیوں کا استرا استبرق کے بنے ہوئے تھے۔ لہٰذا پہلے دو باغوں والوں دوسرے دو باغوں والوں کے رتبے میں فرق ہوگا اور ان تمام صفات و کمالات کے بعد یہ فقرے ” اے انس وجن تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
اس کائنات میں اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ اور مخلوقات میں اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ اور آخرت میں اللہ کی نعمتوں کا تذکر اس سورة کا موضوع تھا۔ اب اس کے آخر میں آخری سبق اور آخری نتیجہ کہ اللہ کی تسبیح کرو ، اللہ کی برکتوں کا اعتراف کرو کہ وہی ہے جو ہر زندہ کو موت دیتا ہے اور وہی اکیلا قائم رہے گا۔
الرحمن 55:77
متکئین ............ حسان (55: 67) ” وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس اور نادر فرشوں پر تکئے لگائے بیٹھیں گے۔ “
رفرف فرش عبقری عبقر کے بنے ہوئے ، مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو خصوصاً عربوں کے فریب الفہم کرنے کے لئے۔ عبقر جنوں کی وادی کو کہتے ہیں اور ہر عجیب چیز کو وہ عبقری کہتے تھے لیکن پہلے باغ والوں کے تکیوں کا استرا استبرق کے بنے ہوئے تھے۔ لہٰذا پہلے دو باغوں والوں دوسرے دو باغوں والوں کے رتبے میں فرق ہوگا اور ان تمام صفات و کمالات کے بعد یہ فقرے ” اے انس وجن تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
اس کائنات میں اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ اور مخلوقات میں اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ اور آخرت میں اللہ کی نعمتوں کا تذکر اس سورة کا موضوع تھا۔ اب اس کے آخر میں آخری سبق اور آخری نتیجہ کہ اللہ کی تسبیح کرو ، اللہ کی برکتوں کا اعتراف کرو کہ وہی ہے جو ہر زندہ کو موت دیتا ہے اور وہی اکیلا قائم رہے گا۔
الرحمن 55:78
تبرک ................ والاکرام (55: 87) ” بڑا برکت والا ہے تیرے رب جلیل وکریم کا نام۔ “
سورة رحمن کا یہ بہترین خاتمہ ہے۔
الواقعة 56:1
اس پیراگراف میں ایک نہایت ہی اہم بات ایک خوفناک انداز میں بیان کی گئی ہے اور یہ اسلوب ارادة اختیار کیا گیا ہے۔ عبارت کے الفاظ اور مفہوم کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔ دو بار بات کا آغاز اذا شرطیہ سے ہوتا ہے دونوں بار شرط ہے اور جواب شرط نہیں ہے۔ مثلاً ۔
اذوقعت ............ رافعة (3) (6 5: 1 تا 3) ” جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا ، وہ تہہ وبالا کردینے والی آفت ہوگی۔ “ یہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ واقعہ ہوگا جو سچا ہوگا اور تہہ وبالا کردینے والا ہوگا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ پھر اس وقت کیا ہوگا۔ ایک دوسری بات شروع کردی جاتی ہے کہ۔
الواقعة 56:2
اس پیراگراف میں ایک نہایت ہی اہم بات ایک خوفناک انداز میں بیان کی گئی ہے اور یہ اسلوب ارادة اختیار کیا گیا ہے۔ عبارت کے الفاظ اور مفہوم کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔ دو بار بات کا آغاز اذا شرطیہ سے ہوتا ہے دونوں بار شرط ہے اور جواب شرط نہیں ہے۔ مثلاً ۔
اذوقعت ............ رافعة (3) (6 5: 1 تا 3) ” جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا ، وہ تہہ وبالا کردینے والی آفت ہوگی۔ “ یہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ واقعہ ہوگا جو سچا ہوگا اور تہہ وبالا کردینے والا ہوگا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ پھر اس وقت کیا ہوگا۔ ایک دوسری بات شروع کردی جاتی ہے کہ۔
الواقعة 56:3
اس پیراگراف میں ایک نہایت ہی اہم بات ایک خوفناک انداز میں بیان کی گئی ہے اور یہ اسلوب ارادة اختیار کیا گیا ہے۔ عبارت کے الفاظ اور مفہوم کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔ دو بار بات کا آغاز اذا شرطیہ سے ہوتا ہے دونوں بار شرط ہے اور جواب شرط نہیں ہے۔ مثلاً ۔
اذوقعت ............ رافعة (3) (6 5: 1 تا 3) ” جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا ، وہ تہہ وبالا کردینے والی آفت ہوگی۔ “ یہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ واقعہ ہوگا جو سچا ہوگا اور تہہ وبالا کردینے والا ہوگا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ پھر اس وقت کیا ہوگا۔ ایک دوسری بات شروع کردی جاتی ہے کہ۔
الواقعة 56:4
اذا رجت .................... منبثا (6 5: 6) (6 5:4 تا 6) ” اور جب زمین یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ “ اور دوبارہ یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ ہولناک واقعہ پیش ہوگا تو پھر کیا ہوگا۔ یہ خوفناک صورتحال ایک مقدمہ ہے۔ آغاز ہے اور انجام کا ذکر ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ نتائج اس قدر ہولناک ہوں گے کہ الفاظ میں اس کا بیان ممکن نہیں ہے۔
پھر اس وقوعہ اور اس بوجھ کا پریشر ہوگا تو انسانی احساس کے اندر ارتعاش اور تزلزل پیدا ہونا متوقع ہوگا اور سباق کلام میں اس توقع کو عملی شکل عطا کرتا ہے۔
خافضة رافعة (6 5: 3) ” یہ واقعہ تہہ وبالا کرنے والا ہوگا “ یہ بعض ان قدروں کو بلند کردے گا جو دنیا میں گری ہوئی سمجھی جاتی تھیں اور ان کو نیست کردے گا جو یہاں بلند تھیں کیونکہ یہ زمین تو دارالفناء تھی۔ جہاں اقدار اور پیمانوں کا اصل حقیقی نظام ومقام کو خلل پذیر ہوجانا ہے اور پھر اللہ کے پیمانوں کے مطابق وہاں درست ہوگا۔
اس کے بعد اس زمین کے اندر ایک خوفناک بھونچال ہوگا۔ زمین کو اہل زمین ساکن اور رکی ہوئی سمجھتے ہیں یہ زمین پوری کی پوری ہلا دی جائے گی۔ اس عظیم واقعہ کو ایسے انداز میں بیان کیا گیا کہ احساسات میں اس کی جو شکل ہے تعبیر بھی ویسی ہے۔ زمین کی اس بھر پور حرکت کے بعد اب مضبوط اور اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر اڑ رہے ہیں اور یہ ریزے اور ذرے فضائے کائنات میں بکھر رہے ہیں۔
الواقعة 56:5
وبست ............ بثا (6) (54:5 تا 6) ” اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ “
اس خوف کا کیا عالم ہوگا کہ زمین مسلسل ہل رہی ہوگی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور غبار کے ذرات کی طرح فضائے آسمان میں بکھر جائیں گے۔ کتنے ہی جاہل ہیں وہ لوگ جو اپنے آپ کو اس خطرے سے دو چار کرتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ زمین اور پہاڑوں کا یہ حشر ہوگا تو انسان کیا کرسکیں گے۔
سورة کا آغاز اس خوفناک فضا میں ہوتا ہے۔ انسانی احساس و شعور پر ڈر چھا جاتا ہے۔ یہ ہوگا وہ عظیم واقعہ جس کا کافر انکار کرتے ہیں۔ مشرکین اسے جھٹلاتے ہیں۔ یہ ہے اس سورة کا پہلا منظر جس میں زمین متزلزل ، پہاڑ ریزہ ریزہ اور تمام چیزوں کو زیروزبر کردیا جائے گا۔
الواقعة 56:6
وبست ............ بثا (6) (54:5 تا 6) ” اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ “
اس خوف کا کیا عالم ہوگا کہ زمین مسلسل ہل رہی ہوگی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور غبار کے ذرات کی طرح فضائے آسمان میں بکھر جائیں گے۔ کتنے ہی جاہل ہیں وہ لوگ جو اپنے آپ کو اس خطرے سے دو چار کرتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ زمین اور پہاڑوں کا یہ حشر ہوگا تو انسان کیا کرسکیں گے۔
سورة کا آغاز اس خوفناک فضا میں ہوتا ہے۔ انسانی احساس و شعور پر ڈر چھا جاتا ہے۔ یہ ہوگا وہ عظیم واقعہ جس کا کافر انکار کرتے ہیں۔ مشرکین اسے جھٹلاتے ہیں۔ یہ ہے اس سورة کا پہلا منظر جس میں زمین متزلزل ، پہاڑ ریزہ ریزہ اور تمام چیزوں کو زیروزبر کردیا جائے گا۔
الواقعة 56:7
وکنتم ............ السبقون (01) (6 5: 7 تا 01) ” تم لوگ اس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے ، دائیں بازو والے ، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا اور بائیں بازو والے ، تو بائیں بازو والوں (کی بدنصیبی) کا کیا ٹھکانا اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ “
قیامت میں لوگوں کے تین گروہ ہوں گے۔ قرآن مجید کے دوسرے مشاہد میں لوگوں کے دو ہی اقسام اور گروہ بتائے گئے ہیں لیکن یہاں تین درجے بتائے گئے ہیں۔ پہلے دائیں بازو والے ان کا اصحاب المیمنہ کہا گیا ہے اور ان کے بارے میں محض سوال کردیا گیا۔ یہ محض ان کی گرانقدری کے لئے۔
الواقعة 56:8
فاصاحب ............ المیمنة (6 5: 8) ” دائیں بازو والے ، کیا عظیم ہیں وہ دائیں بازو والے ! “ اسی انداز میں دوسرے گروہ بائیں بازو والوں کا ذکر ہے اور اس کے بعد تیسرے فریق السابقون کا ذکر ہے اور ان السابقون کو ان کی صفات سے ذکر کیا جاتا ہے۔
الواقعة 56:9
فاصاحب ............ المیمنة (6 5: 8) ” دائیں بازو والے ، کیا عظیم ہیں وہ دائیں بازو والے ! “ اسی انداز میں دوسرے گروہ بائیں بازو والوں کا ذکر ہے اور اس کے بعد تیسرے فریق السابقون کا ذکر ہے اور ان السابقون کو ان کی صفات سے ذکر کیا جاتا ہے۔
الواقعة 56:10
والسبقون السبقون (6 5: 01) ” آگے والے تو پھر آگے ہی والے ہیں۔ “ جس طرح کہا جاتا کہ وہ تو وہ ، فلاں تو فلاں ہیں ، بس ان کا نام لینا ہی ان کے مرتبہ ومقام کا اظہار کردیتا ہے۔
اس کے بعد پھر ان کی جی بھر کر تعریف کی جاتی ہے کہ ان کے لئے عالم بالا میں کیا کیا تیاریاں کی گئی ہیں۔ اگرچہ جنت کی تیاریوں کا تصور بھی نہیں ہوسکتا لیکن اہل زمین کے تجربے کے مطابق کچھ یوں ہیں۔
الواقعة 56:11
ان پر جو انعامات الٰہیہ ہوں گی ان میں سے بڑی نعمت کے ذکر سے آغاز ہوتا ہے جو سب سے زیادہ نمایاں اور بلند ہے۔ رب تعالیٰ کے قرب کی نعمت۔
اولئک ............ النعیم (6 5: 21) ” وہی تو مقرب لوگ ، نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ “ اور اللہ کا قرب تو وہ اعزاز ہے جس کے مقابلے میں تمام جنتیں ہیچ ہیں۔ یہ تو بہت ہی قیمتی نصیبہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں کون۔
الواقعة 56:12
ان پر جو انعامات الٰہیہ ہوں گی ان میں سے بڑی نعمت کے ذکر سے آغاز ہوتا ہے جو سب سے زیادہ نمایاں اور بلند ہے۔ رب تعالیٰ کے قرب کی نعمت۔
اولئک ............ النعیم (6 5: 21) ” وہی تو مقرب لوگ ، نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ “ اور اللہ کا قرب تو وہ اعزاز ہے جس کے مقابلے میں تمام جنتیں ہیچ ہیں۔ یہ تو بہت ہی قیمتی نصیبہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں کون۔
الواقعة 56:13
ثلة ............ الاخرین (6 5:4 1) ” اگلوں میں سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے کم “ یہ محدود تعداد کے لوگ ہوں گے۔ نہایت پاک لوگ ، اگلوں میں سے یہ زیادہ ہوں گے۔ روایات میں اختلاف ہے کہ یہ لوگ کون ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ وہ ایمان کی طرف لپکنے والے عالی مقام لوگ ہیں جو اسلام سے پہلے کی امتوں میں سے کسی نبی کی دعوت پر پہلے آئے اور آخرین وہ ہوں جو اسلام کی طرف پہلے لپکے اور جنہوں نے اسلام کی راہ میں آزمائش برداشت کیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اولین اور آخرین امت محمدیہ میں سے ہیں۔ پس اولین صدر اول کے لوگ ہیں اور آخرین بعد کے ادوار میں آنے والے لوگ ہیں۔ اس قول کو علامہ ابن کثیر نے ترجیح دی ہے۔ حسن اور ابن سیرین سے بھی اس کی ترجیح کے سلسلے میں روایات نقل کی ہیں۔ ابو حاتم نے روایت کی ہے ، حسن ابن محمد ابن صباح سے انہوں نے عفان سے انہوں نے عبداللہ ابن بکر الزنی سے کہ میں نے سنا کہ حسن جب اس آیت ۔
والسبقون السبقون (01) اولئک المقربون (6 5: 11) ” اور اگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں وہی تو مقرب لوگ ہیں تلاوت کی تو انہوں نے کہا کہ سابقون تو اس جہاں سے چلے گئے ، اے اللہ میں اصحاب الیمین سے بنا دے۔ اس کے بعد انہوں نے روایت کی ، اپنے والد سے ، انہوں نے ابو الولید سے ، انہوں نے السری ابن یحییٰ سے ، کہ حسن نے پڑھا۔
والسبقون ................ الاولین (6 5: 31) تو انہوں نے فرمایا زیادہ تر وہ لوگ جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں اور روایت کی میرے سامنے میرے والد نے ، عبدالعزیز سے ، انہوں نے ابن مغیرہالمنقری سے ، انہوں نے ابوہلال سے ، انہوں نے محمد ابن سیرین سے کہ انہوں نے آیت۔
ثلة من ............ الاخرین (6 5:4 1) ” اگلوں سے بہت اور پچھلوں سے قلیل “ وہ کہتے تھے (یا یہ امید رکھتے تھے) کہ وہ سب اس امت سے ہوں گے۔
یہ تفصیلات دینے کے بعد کہ یہ لوگ کون ہوں گے ، اب ان نعمتوں کی تفصیلات دی جارہی ہیں جو جنتوں میں ان کے لئے تیار ہیں اور اللہ نے ان کو اس شکل میں دیا ہے جس میں یہ سوچ بھی سکیں اور سمجھ بھی سکیں اور لطف اندوز بھی ہوسکیں اور ان نعمتوں کے علاوہ وہاں اور نعمتیں بھی ہوں گی جن کے ادراک اور استعمال کے لئے اس وقت وہ تیار ہوں گے اور وہ ایسی نعمتیں ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں ، کسی کان نے نہیں سنیں اور کسی انسان کے دل میں ان کا تصور ہی نہیں آیا۔
الواقعة 56:14
ثلة ............ الاخرین (6 5:4 1) ” اگلوں میں سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے کم “ یہ محدود تعداد کے لوگ ہوں گے۔ نہایت پاک لوگ ، اگلوں میں سے یہ زیادہ ہوں گے۔ روایات میں اختلاف ہے کہ یہ لوگ کون ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ وہ ایمان کی طرف لپکنے والے عالی مقام لوگ ہیں جو اسلام سے پہلے کی امتوں میں سے کسی نبی کی دعوت پر پہلے آئے اور آخرین وہ ہوں جو اسلام کی طرف پہلے لپکے اور جنہوں نے اسلام کی راہ میں آزمائش برداشت کیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اولین اور آخرین امت محمدیہ میں سے ہیں۔ پس اولین صدر اول کے لوگ ہیں اور آخرین بعد کے ادوار میں آنے والے لوگ ہیں۔ اس قول کو علامہ ابن کثیر نے ترجیح دی ہے۔ حسن اور ابن سیرین سے بھی اس کی ترجیح کے سلسلے میں روایات نقل کی ہیں۔ ابو حاتم نے روایت کی ہے ، حسن ابن محمد ابن صباح سے انہوں نے عفان سے انہوں نے عبداللہ ابن بکر الزنی سے کہ میں نے سنا کہ حسن جب اس آیت ۔
والسبقون السبقون (01) اولئک المقربون (6 5: 11) ” اور اگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں وہی تو مقرب لوگ ہیں تلاوت کی تو انہوں نے کہا کہ سابقون تو اس جہاں سے چلے گئے ، اے اللہ میں اصحاب الیمین سے بنا دے۔ اس کے بعد انہوں نے روایت کی ، اپنے والد سے ، انہوں نے ابو الولید سے ، انہوں نے السری ابن یحییٰ سے ، کہ حسن نے پڑھا۔
والسبقون ................ الاولین (6 5: 31) تو انہوں نے فرمایا زیادہ تر وہ لوگ جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں اور روایت کی میرے سامنے میرے والد نے ، عبدالعزیز سے ، انہوں نے ابن مغیرہالمنقری سے ، انہوں نے ابوہلال سے ، انہوں نے محمد ابن سیرین سے کہ انہوں نے آیت۔
ثلة من ............ الاخرین (6 5:4 1) ” اگلوں سے بہت اور پچھلوں سے قلیل “ وہ کہتے تھے (یا یہ امید رکھتے تھے) کہ وہ سب اس امت سے ہوں گے۔
یہ تفصیلات دینے کے بعد کہ یہ لوگ کون ہوں گے ، اب ان نعمتوں کی تفصیلات دی جارہی ہیں جو جنتوں میں ان کے لئے تیار ہیں اور اللہ نے ان کو اس شکل میں دیا ہے جس میں یہ سوچ بھی سکیں اور سمجھ بھی سکیں اور لطف اندوز بھی ہوسکیں اور ان نعمتوں کے علاوہ وہاں اور نعمتیں بھی ہوں گی جن کے ادراک اور استعمال کے لئے اس وقت وہ تیار ہوں گے اور وہ ایسی نعمتیں ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں ، کسی کان نے نہیں سنیں اور کسی انسان کے دل میں ان کا تصور ہی نہیں آیا۔
الواقعة 56:15
علی ............ موضونة (6 5: 61) ” مرصع تختوں پر “ جن کے اندر نہایت ہی قیمتی موتی اور دھاتیں لگی ہوں گی۔
الواقعة 56:16
متکئین .................... متقبلین (6 5: 61)
” تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ “ نہایت آرام سے اور بےفکری سے۔ کوئی غم نہیں ، کوئی مشکل نہیں ، نعمتوں میں ڈوبے ہوئے نہایت اطمینان سے۔ ان نعمتوں کے چلے جانے اور ختم ہوجانے کا تو کوئی خوف نہیں اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے محو گفتگو ہوں گے۔
الواقعة 56:17
یطوف ................ مخلدون (6 5: 71) ” ان کی مجلس میں “ ابدی لڑکے “ دوڑتے پھریں گے۔ “ زمانہ ان کی صحت پر اثر انداز نہ ہوگا ، ان کی جوانی اور نہ ان کی تروتازگی پر اثر انداز ہوگا جبکہ زمین پر مرور زمانے کے ساتھ لڑکپن چلا جاتا تھا۔ اور یہ کیا لئے ہوئے پھریں گے ؟
الواقعة 56:18
باکواب ................ معین (6 5: 81) ” شراب چشمہ جاری سے لبریز پیالے اور کنٹر اور ساغر لئے “ اور یہ صاف شراب ہوگی۔
الواقعة 56:19
لا یصدعون ینزفون (6 5: 91) ” جسے نہ ان سے جدا کیا جائے گا اور نہ وہ ختم ہوگی۔ “ یعنی نہ ان کو اس سے جدا کیا جائے گا اور نہ وہ ان کے سامنے ختم ہوگی کیونکہ وہاں تو ہر چیز دوام کے لئے ہے اور کسی چیز کے ختم ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔
الواقعة 56:20
وفاکھة ............ یشتھون (6 5: 12) ” اور وہ ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے جسے چاہیں چن لیں اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے جس پرندے کا چاہیں۔ “ وہاں تو کوئی چیز نہ ممنوع ہوگی اور نہ کوئی ایسی چیز وہاں ہوگی جسے اہل جنت پسند نہ کریں۔
الواقعة 56:21
وفاکھة ............ یشتھون (6 5: 12) ” اور وہ ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے جسے چاہیں چن لیں اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے جس پرندے کا چاہیں۔ “ وہاں تو کوئی چیز نہ ممنوع ہوگی اور نہ کوئی ایسی چیز وہاں ہوگی جسے اہل جنت پسند نہ کریں۔
الواقعة 56:22
وحورعین ............ المکنون (6 5: 32) ” اور ان کے لئے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی ، ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔ “ چھپے ہوئے موتی جن کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے بوجہ قیمتی ہونے کے ان کو چھوا جاتا ہے اور نہ ان پر نظر لگتی ہے۔ اس لئے نہ کسی ہاتھ نے ان کو استعمال کیا اور نہ آنکھ نے دیکھا اور ان کھلی آنکھوں والی حوروں کی اس تعری میں حسی اور معنوی اشارات ہیں او یہ سب انعامات کیوں دیئے جارہے ہیں۔
الواقعة 56:23
وحورعین ............ المکنون (6 5: 32) ” اور ان کے لئے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی ، ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔ “ چھپے ہوئے موتی جن کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے بوجہ قیمتی ہونے کے ان کو چھوا جاتا ہے اور نہ ان پر نظر لگتی ہے۔ اس لئے نہ کسی ہاتھ نے ان کو استعمال کیا اور نہ آنکھ نے دیکھا اور ان کھلی آنکھوں والی حوروں کی اس تعری میں حسی اور معنوی اشارات ہیں او یہ سب انعامات کیوں دیئے جارہے ہیں۔
الواقعة 56:24
جزائ ................ یعملون (6 5:4 2) ” یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو دنیا میں کرتے رہے تھے۔ “ یہ بدلہ ہے اس عمل کا جو انہوں نے دارالعمل میں کیا۔ ایسا بدلہ جو نہایت ہی پورا ہے۔ کمال درجے کا ہے اور اس میں وہ تمام کمیاں پوری کردی گئی ہیں جو دارالفنا میں تھیں اور اس کے بعد وہ نہایت آرام اور سکون سے وہاں رہیں گے۔ نہایت بلندی اور پاکیزگی میں۔ کوئی لغو بات وہاں نہ ہوگی۔ کوئی بدل اور مواخذہ نہ ہوگا۔
الواقعة 56:25
لا یسمعون ................ تائیما (6 5:5 2) ” وہاں کوئی بےہودہ کلام یا گناہ کی بات وہ نہ سنیں گے جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔ “ ان کی پوری زندگی سلامتی ہوگی۔ ہر طرف سے ان پر سلام کی شبنم آئے گی۔ سلام ہی سلام ہوگا۔ اس خوبصورت ماحول میں ملائکہ کی طرف سے سلامت مبارک ہوگی اور پھر رحمان کی طرف سے سلام ہوگا۔ لہٰذا پوری فضا اسلام ہی اسلام ہوگی۔
اس برگزیدہ فریق کی بات یہاں ختم ہوتی ہے۔ اس کے بعد اصحاب الیمین۔
الواقعة 56:26
لا یسمعون ................ تائیما (6 5:5 2) ” وہاں کوئی بےہودہ کلام یا گناہ کی بات وہ نہ سنیں گے جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔ “ ان کی پوری زندگی سلامتی ہوگی۔ ہر طرف سے ان پر سلام کی شبنم آئے گی۔ سلام ہی سلام ہوگا۔ اس خوبصورت ماحول میں ملائکہ کی طرف سے سلامت مبارک ہوگی اور پھر رحمان کی طرف سے سلام ہوگا۔ لہٰذا پوری فضا اسلام ہی اسلام ہوگی۔
اس برگزیدہ فریق کی بات یہاں ختم ہوتی ہے۔ اس کے بعد اصحاب الیمین۔
الواقعة 56:27
اور دائیں بازو والے وہ ہیں جن کی طرف سورة کے آغاز میں اشارہ ہوا تھا۔ میمنہ والے۔ ان کی تواضعات کی تفصیلات ذرا موخر کردی گئیں کیونکہ پہلے سابقین اولین کی مراعات کا ذکر مطلوب تھا۔ ان کے بارے میں وہی مبالغہ اور اظہار عظمت بذریعہ اجمال ما اصحاب الیمین (کیا ہی لوگ ہیں وہ)
ان لوگوں کے لئے بھی مادی اور محسوس انعامات ، یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی بدوی معاشرے میں اہم ہوتی ہیں اور ان کے لئے قابل فہم ہوتی ہیں۔ جن کو وہ سمجھتے اور برتتے ہیں۔
یہ لوگ فی سدرمخضود (بےخار بیریوں میں ہوں گے) السدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں جس کے ساتھ کانٹے ہوں گے لیکن وہاں اس کو کانٹوں سے صاف کردیا گیا ہوگا یعنی مخضود ہوں گے وہ درخت۔
الواقعة 56:28
اور دائیں بازو والے وہ ہیں جن کی طرف سورة کے آغاز میں اشارہ ہوا تھا۔ میمنہ والے۔ ان کی تواضعات کی تفصیلات ذرا موخر کردی گئیں کیونکہ پہلے سابقین اولین کی مراعات کا ذکر مطلوب تھا۔ ان کے بارے میں وہی مبالغہ اور اظہار عظمت بذریعہ اجمال ما اصحاب الیمین (کیا ہی لوگ ہیں وہ)
ان لوگوں کے لئے بھی مادی اور محسوس انعامات ، یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی بدوی معاشرے میں اہم ہوتی ہیں اور ان کے لئے قابل فہم ہوتی ہیں۔ جن کو وہ سمجھتے اور برتتے ہیں۔
یہ لوگ فی سدرمخضود (بےخار بیریوں میں ہوں گے) السدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں جس کے ساتھ کانٹے ہوں گے لیکن وہاں اس کو کانٹوں سے صاف کردیا گیا ہوگا یعنی مخضود ہوں گے وہ درخت۔
الواقعة 56:29
وطلح منضود (6 5: 92) ” تہ بر تہ چڑھے ہوئے کیلوں “ طلح حجاز کے درختوں میں سے ایک درخت۔ (طلح کے معنی ببول ، کیکر اور کیلا تینوں آتے ہیں۔ مولانا مودودی کا ترجمہ منضود کے ساتھ زیادہ مناسب ہے جس کے معنی تہ بر تہ اور ترتیب کئے ہوئے ہیں یا ڈھیر کے ہوتے ہیں۔
کانٹے دار اور بڑا لیکن یہ درخت یہاں منضود ہے یعنی مرتب ہے یا کھانے کے لئے تیار ہے بغیر مشقت کے کھایا جاسکتا ہے۔
الواقعة 56:30
وظل ................ مسکوب (6 5: 13) ” اور دور تک پھیلی ہوئی چھاؤں اور ہر دم رواں پانی۔ “ بدوں لوگوں کے لئے یہ اہم سہولیات ہیں۔ ایک دیہاتی کے خواہشات کی دوڑ یہی تھی۔
الواقعة 56:31
وظل ................ مسکوب (6 5: 13) ” اور دور تک پھیلی ہوئی چھاؤں اور ہر دم رواں پانی۔ “ بدوں لوگوں کے لئے یہ اہم سہولیات ہیں۔ ایک دیہاتی کے خواہشات کی دوڑ یہی تھی۔
الواقعة 56:32
وفاکھة ............ ممنوعة (6 5: 33) ” اور کبھی ختم نہ ہونے والے اور بےروک ٹوک پھل۔ “ ان کو مجمل چھوڑ دیا گیا اور سابقہ انواع کی طرح متعین نہیں کیا گیا۔ جو اہل بادیہ کے ہاں مرغوب تھیں۔
الواقعة 56:33
وفاکھة ............ ممنوعة (6 5: 33) ” اور کبھی ختم نہ ہونے والے اور بےروک ٹوک پھل۔ “ ان کو مجمل چھوڑ دیا گیا اور سابقہ انواع کی طرح متعین نہیں کیا گیا۔ جو اہل بادیہ کے ہاں مرغوب تھیں۔
الواقعة 56:34
وفروش مرفوعة (6 5:4 3) ” اونچی نشست گاہیں “ یہاں ان کی نرمی اور ان کی ترتیب کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ یہاں صرف یہ ہے کہ اونچی نشست گاہیں۔
اونچے کے دو معنی ہوتے ہیں ، مادی اور معنوی ، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ اونچا مکان ہو تو وہ پاک بھی ہوگا اور وہاں گندگی نہ جمع ہوگی اور معنوی رفعت بھی ناپاکی سے دوری ہے۔ اونچی نشست گاہوں میں پھر بیٹھا ہوا کون ہے ؟ اس لئے یہاں بیویوں کا ذکر ہوتا ہے۔
الواقعة 56:35
انا ............ انشاء (6 5:5 3) ” ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر پیدا کریں گے۔ “ اگر ابتداء انہیں پیدا کیا گیا تو وہ حوریں ہیں اور اگر انہیں نئے سرے سے پیدا کیا گیا ہے تو یہ دو بیویاں ہیں جو دنیا میں تھیں اور اب جوان بنا کر اٹھالی گئی ہیں۔
الواقعة 56:36
فجعلنھن ابکارا (6 5: 63) ” اور ان کو باکرہ بنادیں گے۔ “ یعنی ان کو کسی انشان نے چھوا تک نہ ہوگا۔ عربا (شوہروں پر عاشق) شوہروں کے ساتھ محبت کرنے والیاں۔ اترابا (عمر میں ہم سن) برابر درجے کی۔ بحساب مادہ سال اور بحساب شباب اور قوت ، لا صحاب الیمین (یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لئے ہے) یعنی یہ تمام چیزیں ان کے لئے مخصوص ہیں تاکہ وہ ان کے اونچے فرشوں کے ساتھ مناسب ہوں اور یہ اصحاب الیمین کون ہیں۔
الواقعة 56:37
فجعلنھن ابکارا (6 5: 63) ” اور ان کو باکرہ بنادیں گے۔ “ یعنی ان کو کسی انشان نے چھوا تک نہ ہوگا۔ عربا (شوہروں پر عاشق) شوہروں کے ساتھ محبت کرنے والیاں۔ اترابا (عمر میں ہم سن) برابر درجے کی۔ بحساب مادہ سال اور بحساب شباب اور قوت ، لا صحاب الیمین (یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لئے ہے) یعنی یہ تمام چیزیں ان کے لئے مخصوص ہیں تاکہ وہ ان کے اونچے فرشوں کے ساتھ مناسب ہوں اور یہ اصحاب الیمین کون ہیں۔
الواقعة 56:38
فجعلنھن ابکارا (6 5: 63) ” اور ان کو باکرہ بنادیں گے۔ “ یعنی ان کو کسی انشان نے چھوا تک نہ ہوگا۔ عربا (شوہروں پر عاشق) شوہروں کے ساتھ محبت کرنے والیاں۔ اترابا (عمر میں ہم سن) برابر درجے کی۔ بحساب مادہ سال اور بحساب شباب اور قوت ، لا صحاب الیمین (یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لئے ہے) یعنی یہ تمام چیزیں ان کے لئے مخصوص ہیں تاکہ وہ ان کے اونچے فرشوں کے ساتھ مناسب ہوں اور یہ اصحاب الیمین کون ہیں۔
الواقعة 56:39
ثلة ................ الاخرین (6 5: 0 4) ” وہ اگلوں میں سے بھی بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔ “ ان کی تعداد السابقین الاولین سے زیادہ ہوگی جو مقربین ہوں گے اور یہ اس اعتبار سے جو ہم نے اولین اور آخرین کا بیان کیا ہے۔
اب یہاں بات اصحاب الشمال تک آجاتی ہے۔ اس سے پہلے سورة کے آغاز میں ان کو اصحاب المشئمہ کہا گیا ہے۔
الواقعة 56:40
ثلة ................ الاخرین (6 5: 0 4) ” وہ اگلوں میں سے بھی بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔ “ ان کی تعداد السابقین الاولین سے زیادہ ہوگی جو مقربین ہوں گے اور یہ اس اعتبار سے جو ہم نے اولین اور آخرین کا بیان کیا ہے۔
اب یہاں بات اصحاب الشمال تک آجاتی ہے۔ اس سے پہلے سورة کے آغاز میں ان کو اصحاب المشئمہ کہا گیا ہے۔
الواقعة 56:41
واصحب الشمال ............ یوم الدین (6 5) (6 5: 1 4 تا 45)
” اور بائیں بازو والے ، بائیں بازو والوں (کی کا کیا پوچھنا ، وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ کہتے تھے ” کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں ؟ “ اے نبی ان لوگوں سے کہو ، یقینا اگلے اور پچھلے سب ایک دن ضرور جمع کئے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے پھر اسے گمراہو اور جھٹلانے والو ، تم زقوم کے درخت کی غذا کھانے والے ہو۔ اسی سے تم پیٹ بھروگے اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے۔ یہ ہے (ان بائیں بازوہ والوں) کی ضیافت کا سامان روز جزا میں۔ “
واصحب الیمین (6 5: 72) لمبی چھاؤ میں اور بہتے ہوئے پانیوں کے پاس۔
واصحب ................ ولا کریم (44) (6 5: 1 4 تا 44) وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ۔ ہوا ایسی گرم ہوگی جس طرح آگ کے شعلے۔ وہ مساموں میں پہنچ کر جسم کو بھون ڈالے گی اور پانی اس قدر گرم ہوگا کہ وہ ٹھنڈک نہیں پہنچائے گا اور نہ پیاس بجھائے گا سایہ ہوگا مگر وہ دھویں کا سایہ ہوگا جس سے گلا گھٹ جائے گا اور اسے سایہ محض بطور مزاح کیا گیا ہے۔ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ ہوگا۔ یہ تو کرم سایہ ہوگا اس میں آرام اور ٹھنڈک نہ ہوگی۔ وہ اس قدر سخت ہوگا کہ اس سے گلا گھٹ جائے گا۔ آرام تو دور کی بات ہے اور یہ نان جویں ان کے لئے ٹھیک سزا ہے کیونکہ۔
الواقعة 56:42
واصحب الشمال ............ یوم الدین (6 5) (6 5: 1 4 تا 45)
” اور بائیں بازو والے ، بائیں بازو والوں (کی کا کیا پوچھنا ، وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ کہتے تھے ” کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں ؟ “ اے نبی ان لوگوں سے کہو ، یقینا اگلے اور پچھلے سب ایک دن ضرور جمع کئے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے پھر اسے گمراہو اور جھٹلانے والو ، تم زقوم کے درخت کی غذا کھانے والے ہو۔ اسی سے تم پیٹ بھروگے اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے۔ یہ ہے (ان بائیں بازوہ والوں) کی ضیافت کا سامان روز جزا میں۔ “
واصحب الیمین (6 5: 72) لمبی چھاؤ میں اور بہتے ہوئے پانیوں کے پاس۔
واصحب ................ ولا کریم (44) (6 5: 1 4 تا 44) وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ۔ ہوا ایسی گرم ہوگی جس طرح آگ کے شعلے۔ وہ مساموں میں پہنچ کر جسم کو بھون ڈالے گی اور پانی اس قدر گرم ہوگا کہ وہ ٹھنڈک نہیں پہنچائے گا اور نہ پیاس بجھائے گا سایہ ہوگا مگر وہ دھویں کا سایہ ہوگا جس سے گلا گھٹ جائے گا اور اسے سایہ محض بطور مزاح کیا گیا ہے۔ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ ہوگا۔ یہ تو کرم سایہ ہوگا اس میں آرام اور ٹھنڈک نہ ہوگی۔ وہ اس قدر سخت ہوگا کہ اس سے گلا گھٹ جائے گا۔ آرام تو دور کی بات ہے اور یہ نان جویں ان کے لئے ٹھیک سزا ہے کیونکہ۔
الواقعة 56:43
واصحب الشمال ............ یوم الدین (6 5) (6 5: 1 4 تا 45)
” اور بائیں بازو والے ، بائیں بازو والوں (کی کا کیا پوچھنا ، وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ کہتے تھے ” کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں ؟ “ اے نبی ان لوگوں سے کہو ، یقینا اگلے اور پچھلے سب ایک دن ضرور جمع کئے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے پھر اسے گمراہو اور جھٹلانے والو ، تم زقوم کے درخت کی غذا کھانے والے ہو۔ اسی سے تم پیٹ بھروگے اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے۔ یہ ہے (ان بائیں بازوہ والوں) کی ضیافت کا سامان روز جزا میں۔ “
واصحب الیمین (6 5: 72) لمبی چھاؤ میں اور بہتے ہوئے پانیوں کے پاس۔
واصحب ................ ولا کریم (44) (6 5: 1 4 تا 44) وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ۔ ہوا ایسی گرم ہوگی جس طرح آگ کے شعلے۔ وہ مساموں میں پہنچ کر جسم کو بھون ڈالے گی اور پانی اس قدر گرم ہوگا کہ وہ ٹھنڈک نہیں پہنچائے گا اور نہ پیاس بجھائے گا سایہ ہوگا مگر وہ دھویں کا سایہ ہوگا جس سے گلا گھٹ جائے گا اور اسے سایہ محض بطور مزاح کیا گیا ہے۔ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ ہوگا۔ یہ تو کرم سایہ ہوگا اس میں آرام اور ٹھنڈک نہ ہوگی۔ وہ اس قدر سخت ہوگا کہ اس سے گلا گھٹ جائے گا۔ آرام تو دور کی بات ہے اور یہ نان جویں ان کے لئے ٹھیک سزا ہے کیونکہ۔
الواقعة 56:44
واصحب الشمال ............ یوم الدین (6 5) (6 5: 1 4 تا 45)
” اور بائیں بازو والے ، بائیں بازو والوں (کی کا کیا پوچھنا ، وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ کہتے تھے ” کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں ؟ “ اے نبی ان لوگوں سے کہو ، یقینا اگلے اور پچھلے سب ایک دن ضرور جمع کئے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے پھر اسے گمراہو اور جھٹلانے والو ، تم زقوم کے درخت کی غذا کھانے والے ہو۔ اسی سے تم پیٹ بھروگے اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے۔ یہ ہے (ان بائیں بازوہ والوں) کی ضیافت کا سامان روز جزا میں۔ “
واصحب الیمین (6 5: 72) لمبی چھاؤ میں اور بہتے ہوئے پانیوں کے پاس۔
واصحب ................ ولا کریم (44) (6 5: 1 4 تا 44) وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ۔ ہوا ایسی گرم ہوگی جس طرح آگ کے شعلے۔ وہ مساموں میں پہنچ کر جسم کو بھون ڈالے گی اور پانی اس قدر گرم ہوگا کہ وہ ٹھنڈک نہیں پہنچائے گا اور نہ پیاس بجھائے گا سایہ ہوگا مگر وہ دھویں کا سایہ ہوگا جس سے گلا گھٹ جائے گا اور اسے سایہ محض بطور مزاح کیا گیا ہے۔ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ ہوگا۔ یہ تو کرم سایہ ہوگا اس میں آرام اور ٹھنڈک نہ ہوگی۔ وہ اس قدر سخت ہوگا کہ اس سے گلا گھٹ جائے گا۔ آرام تو دور کی بات ہے اور یہ نان جویں ان کے لئے ٹھیک سزا ہے کیونکہ۔
الواقعة 56:45
انھم ............ مترفین (6 5:5 3) ” یہ لوگ اس انجام کے پہنچنے سے پہلے سخت خوشحال تھے۔ “ مترفین کے لئے یہ خشک روٹی کس قدر تکلیف دہ ہوگی۔
الواقعة 56:46
وکانو ................ العظیم (6 5: 6 4) ” اور یہ گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ “ الحنث کے معنی الذنب یہاں مراد شرک ہے۔ اس میں اشارہ ہے اس حلف کی طرف جو اللہ نے انسانی فطرت سے لیا تھا کہ وہ اللہ وحدہ پر ایمان لائیں گے اب انہوں نے اس عہد کو توڑ لیا اور حانث ہوگئے۔
الواقعة 56:47
وکانو ................ الاولون (6 5: 8 4)
” اور کہتے تھے کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجررہ جائے گا تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو گزر چکے ہیں۔ “ یہ لوگ یوں تھے۔ گویا یہ دنیا اب نہیں ہے۔ یہ لوگ میدان حشر میں کھڑے ہیں۔ دنیا ماضی پارینہ ہے اور یہ اب وہاں عذاب کے سامنے کھڑے ہیں یہ اس لئے کہ دنیا کا تو ایک مختصر وقت ہے۔ اتنا ہی جتنا پلک جھپکنے کا وقت لگتا ہے۔ اصل وقت ، حاضر وقت تو آخرت کا وقت ہے جہاں دوام ہے۔
سباق کلام اب پھر ہمیں دنیا میں لاتا ہے کہ ان کے سوال کا جواب دیا جائے۔
الواقعة 56:48
وکانو ................ الاولون (6 5: 8 4)
” اور کہتے تھے کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجررہ جائے گا تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو گزر چکے ہیں۔ “ یہ لوگ یوں تھے۔ گویا یہ دنیا اب نہیں ہے۔ یہ لوگ میدان حشر میں کھڑے ہیں۔ دنیا ماضی پارینہ ہے اور یہ اب وہاں عذاب کے سامنے کھڑے ہیں یہ اس لئے کہ دنیا کا تو ایک مختصر وقت ہے۔ اتنا ہی جتنا پلک جھپکنے کا وقت لگتا ہے۔ اصل وقت ، حاضر وقت تو آخرت کا وقت ہے جہاں دوام ہے۔
سباق کلام اب پھر ہمیں دنیا میں لاتا ہے کہ ان کے سوال کا جواب دیا جائے۔
الواقعة 56:49
قل ................ معلوم (6 5: 0 5) ” اے نبی ان سے کہو یقینا اگلے اور پچھلے سب ایک دن ضرور جمع ہونے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ “
اس کے بعد اب سیاق کلام دوبارہ ان کی طرف مڑ جاتا ہے جو مکذبین تھے اور بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے عذاب کی تصویر کیا ہے۔
الواقعة 56:50
قل ................ معلوم (6 5: 0 5) ” اے نبی ان سے کہو یقینا اگلے اور پچھلے سب ایک دن ضرور جمع ہونے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ “
اس کے بعد اب سیاق کلام دوبارہ ان کی طرف مڑ جاتا ہے جو مکذبین تھے اور بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے عذاب کی تصویر کیا ہے۔
الواقعة 56:51
ثم انکم ............ زقوم (6 5: 2 5) ” پھر اے گمرا ہوا اور جھٹلانے والو ، تم زقوم کے درخت کی غذا کھانے والے ہو۔ “ اور زقوم کے درخت کے بارے میں انسان صرف اسی قدر جانتے ہیں جس قدر اللہ نے قرآن میں بتایا ہے کہ اس کا پھل اس طرح ہے جس طرح شیطان کا سر اور شیطان کا سر تو کسی نے دیکھا نہیں ہے لیکن احساس کے اندر جو بری صورت کی سری ہوسکتی ہے وہ شیطان کا سر ہے اور اس طرح یہ پھل بھی۔ لفظ زقوم کا تلفظ بھی یہ بتاتا ہے کہ وہ کرخت کانٹے دار قسم کی کوئی بدصورت اور بدذائقہ چیز ہو کہ ہاتھوں میں لیتے ہی کانٹے چبھ جائیں گے۔ حلق کو زخمی کردے گا اور یہ ہے بمقابلہ ان بیریوں کے جن کے کانٹے صاف ہے اور ان کیلوں کے جو تہ بر تہ میزوں پر رکھے ہوئے ہیں۔ اور باوجود اس کے کہ وہ رؤس شیاطین کی طرح ہوں گے۔ یہ اس کو کھائیں گے۔
الواقعة 56:52
ثم انکم ............ زقوم (6 5: 2 5) ” پھر اے گمرا ہوا اور جھٹلانے والو ، تم زقوم کے درخت کی غذا کھانے والے ہو۔ “ اور زقوم کے درخت کے بارے میں انسان صرف اسی قدر جانتے ہیں جس قدر اللہ نے قرآن میں بتایا ہے کہ اس کا پھل اس طرح ہے جس طرح شیطان کا سر اور شیطان کا سر تو کسی نے دیکھا نہیں ہے لیکن احساس کے اندر جو بری صورت کی سری ہوسکتی ہے وہ شیطان کا سر ہے اور اس طرح یہ پھل بھی۔ لفظ زقوم کا تلفظ بھی یہ بتاتا ہے کہ وہ کرخت کانٹے دار قسم کی کوئی بدصورت اور بدذائقہ چیز ہو کہ ہاتھوں میں لیتے ہی کانٹے چبھ جائیں گے۔ حلق کو زخمی کردے گا اور یہ ہے بمقابلہ ان بیریوں کے جن کے کانٹے صاف ہے اور ان کیلوں کے جو تہ بر تہ میزوں پر رکھے ہوئے ہیں۔ اور باوجود اس کے کہ وہ رؤس شیاطین کی طرح ہوں گے۔ یہ اس کو کھائیں گے۔
الواقعة 56:53
فمالؤن ............ البطون (6 5: 3 5) ” اسی سے تم پیٹ بھروگے “ اس لئے کہ بھوک سخت مجبور کرنے والی چیز ہے اور مجبوری سب کچھ کراتی ہے اور یہ کرخت کانٹے دار خوراک پھر مجبور کرتی ہے کہ پانی استعمال کرو کہ یہ نیچے اترے اور پیٹوں کو بھرے اور پانی۔
الواقعة 56:54
فشربون ............ الحمیم (6 5: 3 5) ” اوپر سے کھولتا ہوا پانی۔ “ ایسا گرم جو پیاس نہ بجھائے اور ٹھنڈک اس میں نہ ہو۔
الواقعة 56:55
فشربون ............ الھیم (6 5:55) ” تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گئے۔ “ اونٹ کو جب تونس کی بیماری لگ جاتی ہے تو وہ پانی پیتا رہتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔
الواقعة 56:56
ھذا ................ الدین (6 5: 6 5) ” یہ ہے ان کا سامان ضیافت روز جزا میں۔ “ حالانکہ قیام ونزول راحت اور آرام کے لئے ہوتا ہے لیکن اصحاب الشمال کا نزول اجلال جہنم میں ایسا ہوگا جس میں نہ راحت ہوگی اور نہ قرار ہوگا۔ یہ ہے ان کی ضیافت اس دن کی جس کے بارے میں وہ شک میں پڑے ہوئے تھے۔ اس کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے اور قرآن کی تصدیق کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ دوسری طرف شرک بھی کرتے تھے اور اس دن کے ڈراوے سے بھی نہ ڈرتے تھے۔
یہاں آکر سب فریقوں کا انجام ختم ہوجاتا ہے جبکہ یہ عظیم واقعہ ہوگا جو اوپر نیچے کردینے والا ہوگا اور اس پر اس سورة کا پہلا دور ختم ہوتا ہے۔
رہا دوسرا دور تو اس میں اسلامی نظریہ حیات کو مکمل طور پر لیا گیا ہے۔ اگرچہ اس میں واضح پہلو قضیہ حشر ونشر ہی ہے۔ اس دوسرے دور سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن انسانی فطرت کو کس خوبصورتی کے ساتھ خطاب کرتا ہے۔ دلائل کس طرح بیان کرتا ہے اور کس قدر سادگی کے ساتھ لوگوں کی نفسیات کے اندر اتر جاتا ہے حالانکہ موضوع سخن نظریات وفلاسفی کے اعلیٰ مضامین ہوتے ہیں۔
قرآن کا کمال یہ ہے کہ وہ آسمانوں کے ان امور سے جو روٹین میں چلتے رہتے ہیں ، ایسے نکات اخذ کرتا ہے جو کائنات کا عظیم مسئلہ قرار پاتے ہیں۔ وہ پا افتادہ حقائق ومناظر سے نوامیس فطرت اخذ کرتا ہے۔ ان سے ایک نظریہ حیات تشکیل کرتا ہے اور ان واقعات کو مرکز فکر ونظر بنا دیتا ہے جن سے روحانی زندگی میں ترقی و شعور کی بیداری ، حواس کی تیزی پیدا ہوتی ہے اور جن مظاہر کو انسان رات اور دن دیکھتے ہیں اور ان پر سے غافلوں کی طرح گزر جاتے ہیں ، ان کے بارے میں انسانی شعور کو پیدا کرتا ہے اور انسان کو بتاتا ہے کہ تم تو معجزات کے اندر ڈوبے ہوئے ہو جو تمہارے ارد گرد رات دن ہوتے رہتے ہیں۔
قرآن لوگوں کو چند محدود معجزات کے حوالے نہیں کرتا جو کسی محدود زمان ومکان کے اندر پائے گئے ہوں بلکہ وہ خود ان کے نفس میں معجزات ان کو دکھاتا ہے۔ ان کے ماحول میں پائے جانے والے معمول کے واقعات میں سے معجزات تلاش کرلیتا ہے۔ ان کے قریب جو کائناتی مظاہر ہیں۔ ان سے دوران کو نہیں لے جاتا کہ وہ انہیں پیچیدہ فلاسفی میں الجھاتا ہے یا محض عقلی فرائض پر کلام کرتا ہے یا ان سے سائنسی تجربات کا مطالبہ کرتا ہے جو ہر شخص نہیں کرسکتا۔ اسلام کوئی ایسا فلسفہ البیات لوگوں کے لئے نہیں تجویز کرتا۔ قرآن کا انداز مختلف ہے۔
لوگوں کے نفوس اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ لوگوں کے ارد گردجو مظاہر فطرت ہیں وہ بھی اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ اللہ نے اس جہاں میں جو جو چیز پیدا کی ہے ، وہ معجزہ ہے۔ یہ اللہ کا قرآن ہے۔ اس لئے وہ انہیں انہی معجزات کی طرف لے جاتا ہے جو ان کی ذات میں ہیں۔ جو ان کے ماحول میں ہیں۔ وہ ایسے معجزات ان کو سمجھاتا ہے جن کو وہ رات دن دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ ان کو دیکھتے ہیں لیکن ان مظاہر کا اعجاز پہلوان کی نظروں سے اوجھل ہے کیونکہ راتدن انہوں نے اس عمل کو دیکھتے دیکھتے اسے ایک معمول کا عمل سمجھ لیا ہے۔ قرآن انہی واقعات کے بارے میں ان کی آنکھیں کھولتا ہے۔ بتاتا ہے ان سب قدرت الیہ کا راز کیا ہے۔ ان کے اندر کس قدر وحدت پائی جاتی ہے اور کس طرح یہ قدرت الٰہیہ تمہارے نفسوں میں کام کررہی ہے جس طرح اس کائنات کے اندر کام کررہی ہے جو ان کے ماحول میں ہے جس کے اندر دلائل ایمان ، براہین حقیقت موجود ہیں۔ اس طرح اسلام ان چیزوں کو انسان کی فطرت کے سامنے کھولتا ہے اور ان کی فطرت کو جگاتا ہے۔
قرآن کریم اس سبق میں یہی انداز اختیار کرتا ہے۔ سب سے پہلے ان کے سامنے وہ دلائل اعجاز پیش کئے جاتے ہیں جو خود ان کی تخلیق میں ہیں۔ پھر وہ جو ان کے فصلوں میں ہیں جن کو وہ رات دن بوتے ہیں جو پانی وہ پیتے ہیں کیا یہ کم اعجاز ہے۔ یہ آگ جو وہ جلاتے ہیں۔ یہ آگ تو صبح وشام تمہارے چولہوں میں جلتی ہے پھر تمہارے سامنے تمہارے رشتہ داروں کی اموات ہوتی ہیں۔ یہ عالم آخرت کے سفر پر جاتے ہیں۔ ہر شخص کو یہ وقت پیش آنا ہے اور ہر زندہ کو قدرت قادرہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے جس سے کوئی فرار ممکن نہیں ہے۔ تمام حیلے اور تمام بہانے ختم ہوجاتے ہیں۔
قرآن نے جس انداز سے فطرت سے خطاب کیا ہے یہ انداز بذات خود دلائل اعجاز میں سے ہے کہ قرآن خالق کی طرف سے ہے۔ قرآن کا سرچشمہ وہی ہے جس سے یہ کائنات صادر ہوئی چناچہ قرآن دنیا کی زندگی کے سادہ مظاہر اور اشکال سے عظیم حقائق نکال کر فطری آواز میں انسان کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ایک ذرہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پوری کائنات کی پہلی اکائی ہے اور خلیہ جو زندگی کا پہلا مادہ ہوتا ہے۔ ذرہ بذات خود معجزہ ہے اور خلیہ حیات بذات خود معجزہ ہے۔ یہاں قرآن کریم نہایت ہی سادہ مظاہرے سے دینی عقائد اخذ کرتا ہے۔ ایسے مظاہر سے جو ہر انسان کے تجربے میں ہوتے ہیں۔ نسل انسانی ، زراعت ، پانی ، آگ ، موت ہر انسان ان اشیاء کے ساتھ عملی معاملہ رکھتا ہے۔ غار کے رہنے والے بھی جنین کی زندگی سے واقف ہیں اور تھے۔ نباتات کے اگنے سے واقف تھے۔ بارش سے واقف تھے۔ آگ جلاتے تھے اور موت کی گھڑی ان پر آتی تھی۔ ان مشاہد کے میٹریل سے قرآن ایک عظیم الہیاتی عقیدہ اور نظریہ اور فلسفہ تشکیل دیتا ہے۔ اس لئے کہ قرآن ہر انسان کی کتاب ہے اور یہ مشاہدات وہ ہیں جن سے ہر انسان دو چار ہوتا ہے۔ یہ عظیم کائناتی حقائق ہیں لیکن پیش پا افتادیہ اعلیٰ اسرار ہیں لیکن ہر شخص کے سامنے کھلے ، اس پوری بحث میں ایک اشارہ دور رس بھی ہے وہ ہے ستارے کے محل وقوع کی طرف جو مطالعہ فطرت کا موضوع ہے اور ایک عام انسان اور ایک بہت بڑے سائنس داں مواقع النجوم کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
مواقع النجوم سے مراد کائنات کی انجینئرنگ ہے اور یہ بہت بڑا راز بھی ہے اور پیش پا افتادہ بھی ہے۔ پھر حیاتیات ونباتات دونوں معجزات ہیں۔ پھر پانی تو اصل حیات ہے اور آگ اور اب بجلی تو تہذیب کی پہلی علامت ہے۔
موجود اور منظور چیزوں کو اس انداز سے دیکھنا مطالعہ کرنا اور ان سے فکر و عقیدہ اور نظریہ ونظام اخذ کرنا انسان کا طریقہ علم وتعلیم نہیں رہا ہے۔ انسانوں نے جب بھی ان مسائل پر بحث کی ہے انہوں نے ان کائناتی مواد اور مظاہر کو سامنے کبھی نہیں رکھا ہے اور جب انہوں نے کبھی اسے دیکھنے کی کوشش بھی کی ہے تو اسے پیچیدہ بنا دیا ہے اور اس قدر سادگی سے نہیں لیا جس طرح قرآن نے لیا ہے بلکہ انسان نے ان سادہ مظاہر کو بھی ایک پیچیدہ فلسفیانہ مسئلہ بنا کر اسے چیستان بنا دیا ہے اور دنیا کے عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
لیکن اللہ نے اپنی کتاب میں ایک فطری انداز اختیار کیا ہے یعنی اونچے مسائل کے لئے بھی ایسا میٹریل استعمال کیا جو عوام کے لئے قابل فہم ہو جس سے جو نتائج بھی اخذ کئے گئے وہ لوگوں کے لئے قریب الفہم ہوگئے جس طرح اللہ نے اس کائنات کی تخلیق کے اندر حیاتیاتی تسلسل نہایت سہولت سے قائم کیا ہے اسی طرح اس کائنات سے سادہ انداز میں الہ العلمین کو ثابت کیا ہے ، ذرا ملاحظہ فرمائیں۔
الواقعة 56:57
پیدائش اور موت اور انتہا ، حیات اور موت ، ایک ایسا واقعہ ہے جس کے تجربے سے ہر شخص خود بھی گزرتا ہے اور لوگوں کی زندگی میں بھی مشاہدہ کرتا ہے۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ وہ تصدیق نہ کریں کہ اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اس حقیقت کا انسان پر اس قدر دباؤ ہے کہ انسان کے لئے خدا پر ایمان لانے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں ہے۔
نحن ............................ تصدقون (6 5: 7 5) ” ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے۔ “
الواقعة 56:58
افرءیتم ................ الخلقون (6 5: 9 5) ” کبھی تم نے غور کیا ، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو ، اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں “ تخلیق یا تناسل میں انسان کا کردار یہی ہے کہ وہ نطفہ رحم زوجہ میں ڈال دے۔ پھر دونوں کا کردار ختم ہوجاتا ہے۔ (ٹیوب بےبی نے یہ بھی ختم کردیا ہے) اب یہ کمزور پانی رب تعالیٰ کے زیر نگرانی کام کرتا ہے۔ صرف دست قدرت اس کی تخلیق اور تربیت اور بڑھو تری میں کام کرتا ہے۔ اس کو شکل دیتا ہے ۔ روح دیتا ہے اور پہلے لحظہ سے لے کر تمام مراحل معجزات ہی معجزات ہیں۔ ہر مرحلے میں ایسا خارق العادت معجزہ رونما ہوتا ہے جس میں اللہ کے سوا کسی کا کوئی کردار نہیں۔ بشر تو آج تک اسی طریقہ تخلیق وتناسل کی حقیقت تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ معجزہ کیسے ہوتا ہے۔ اس میں ان کی شرکت کا تو تصور بھی نہیں ؟
اس قدر سوچ تو ہر انسان کو حاصل ہوتی ہے اور اس معجزے کو سمجھنے اور اس سے متاثر ہونے کے لئے اسی قدر کافی ہے لیکن اس خلیے کا اس قدر قصہ کہ جب یہ نطفہ رحم مادر میں رکھا گیا اور اس سے ایک مکمل انسان بن گیا۔ یہ کہانی تخیلات سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ اگر یہ قصہ عملاً وقوع پذیر نہ ہوتا رہتا اور یہ انسان اسے شب وروز دیکھتا نہ رہتا تو عقل انسانی کبھی اس کی تصدیق نہ کرتی۔
یہ خلیہ پھر تقسیم ہونا شروع ہوتا ہے۔ پھر بڑھتا رہتا ہے اور تھوڑا ہی عرصہ گزرتا ہے کہ اس ایک خلیے کی جگہ کئی ملین خلیے نمودار ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک خلیہ دوسرے خلیوں سے ممتاز خصوصیات رکھتا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک خلیہ ایک خاص پہلو تخلیق کرتا ہے۔ بعض ہڈیوں کے خلیے ہوتے ہیں۔ بعض عضلات کے خلیے ہوتے ہیں۔ بعض جلدی خلیات ہوتے ہیں۔ ان خلیوں سے آنکھیں بنتی ہیں۔ ان خلیوں سے زبان بنتی ہے اور ان خلیوں سے غدود بنتے ہیں۔ غدودوں کے خلیے زیادہ مخصوص نوعیت رکھتے ہیں۔ ہر خلیہ جانتا ہے کہ اس نے کہاں جاکر کام کرنا ہے۔ مثلاً آنکھ کے خلیے غلطی سے پیٹ میں یا پاؤں میں نہیں چلے جاتے لیکن اگر ان کو مصنوعی طور پر پشت کے اوپر لے جایا جائے تو یہ وہاں آنکھ بنادیں گے لیکن ان کو اللہ کی طرف سے جو حکم اور الہام ہوتا ہے وہ آنکھ ہی کی جگہ مجتمع ہوتے ہیں اور وہیں آنکھ بناتے ہیں۔ اسی طرح کان کے خلیے پاؤں میں نہیں جاتے تاکہ وہاں جاکر وہ کان بنادیں۔ یہ سب خلیے اللہ کے حکم اور الہام کے مطابق اس انسان کو بہترین تقدیم اور نقشے کے مطابق بناتے ہیں۔ ان کی نظروں کے نیچے اور اس تشکیل میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔
یہ ہے انسان کی ابتدائ، رہی انسان کی انتہا تو وہ بھی اس سے زیادہ عجیب و غریب ہے۔ اگرچہ انسان اسے روز دیکھتے دیکھتے اس سے اثر نہیں لیتا۔
الواقعة 56:59
افرءیتم ................ الخلقون (6 5: 9 5) ” کبھی تم نے غور کیا ، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو ، اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں “ تخلیق یا تناسل میں انسان کا کردار یہی ہے کہ وہ نطفہ رحم زوجہ میں ڈال دے۔ پھر دونوں کا کردار ختم ہوجاتا ہے۔ (ٹیوب بےبی نے یہ بھی ختم کردیا ہے) اب یہ کمزور پانی رب تعالیٰ کے زیر نگرانی کام کرتا ہے۔ صرف دست قدرت اس کی تخلیق اور تربیت اور بڑھو تری میں کام کرتا ہے۔ اس کو شکل دیتا ہے ۔ روح دیتا ہے اور پہلے لحظہ سے لے کر تمام مراحل معجزات ہی معجزات ہیں۔ ہر مرحلے میں ایسا خارق العادت معجزہ رونما ہوتا ہے جس میں اللہ کے سوا کسی کا کوئی کردار نہیں۔ بشر تو آج تک اسی طریقہ تخلیق وتناسل کی حقیقت تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ معجزہ کیسے ہوتا ہے۔ اس میں ان کی شرکت کا تو تصور بھی نہیں ؟
اس قدر سوچ تو ہر انسان کو حاصل ہوتی ہے اور اس معجزے کو سمجھنے اور اس سے متاثر ہونے کے لئے اسی قدر کافی ہے لیکن اس خلیے کا اس قدر قصہ کہ جب یہ نطفہ رحم مادر میں رکھا گیا اور اس سے ایک مکمل انسان بن گیا۔ یہ کہانی تخیلات سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ اگر یہ قصہ عملاً وقوع پذیر نہ ہوتا رہتا اور یہ انسان اسے شب وروز دیکھتا نہ رہتا تو عقل انسانی کبھی اس کی تصدیق نہ کرتی۔
یہ خلیہ پھر تقسیم ہونا شروع ہوتا ہے۔ پھر بڑھتا رہتا ہے اور تھوڑا ہی عرصہ گزرتا ہے کہ اس ایک خلیے کی جگہ کئی ملین خلیے نمودار ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک خلیہ دوسرے خلیوں سے ممتاز خصوصیات رکھتا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک خلیہ ایک خاص پہلو تخلیق کرتا ہے۔ بعض ہڈیوں کے خلیے ہوتے ہیں۔ بعض عضلات کے خلیے ہوتے ہیں۔ بعض جلدی خلیات ہوتے ہیں۔ ان خلیوں سے آنکھیں بنتی ہیں۔ ان خلیوں سے زبان بنتی ہے اور ان خلیوں سے غدود بنتے ہیں۔ غدودوں کے خلیے زیادہ مخصوص نوعیت رکھتے ہیں۔ ہر خلیہ جانتا ہے کہ اس نے کہاں جاکر کام کرنا ہے۔ مثلاً آنکھ کے خلیے غلطی سے پیٹ میں یا پاؤں میں نہیں چلے جاتے لیکن اگر ان کو مصنوعی طور پر پشت کے اوپر لے جایا جائے تو یہ وہاں آنکھ بنادیں گے لیکن ان کو اللہ کی طرف سے جو حکم اور الہام ہوتا ہے وہ آنکھ ہی کی جگہ مجتمع ہوتے ہیں اور وہیں آنکھ بناتے ہیں۔ اسی طرح کان کے خلیے پاؤں میں نہیں جاتے تاکہ وہاں جاکر وہ کان بنادیں۔ یہ سب خلیے اللہ کے حکم اور الہام کے مطابق اس انسان کو بہترین تقدیم اور نقشے کے مطابق بناتے ہیں۔ ان کی نظروں کے نیچے اور اس تشکیل میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔
یہ ہے انسان کی ابتدائ، رہی انسان کی انتہا تو وہ بھی اس سے زیادہ عجیب و غریب ہے۔ اگرچہ انسان اسے روز دیکھتے دیکھتے اس سے اثر نہیں لیتا۔
الواقعة 56:60
نحن ............ تعلمون (6 5: 16) ” ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تم جیسے اور لوگ لے آئیں اور کسی ایسے جہاں میں تمہیں دوبارہ پیدا کردیں جس کو تم نہیں جانتے۔ “
یہ موت جس تک تمام زندہ مخلوق سفر کرکے پہنچتی ہے یہ کیا ہے ؟ کس طرح واقع ہوتی ہے ؟ اس کی کس قدر طاقت ہے کہ اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اللہ کی تقدیر ہے۔ اس لئے اس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔ اس سے کوئی آگے نہیں جاسکتا۔ یہ ایک حلقہ اور کڑی ہے اس تخلیق کے سلسلے میں جس نے پورا ہونا ہے۔
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہیں اس زمین سے نابود کرکے اس کی تعمیروترقی کے لئے دوسرے لوگوں کو وہ لاسکتا ہے کیونکہ جس نے موت مقرر کی زندگی کے بارے میں بھی اسی نے طے کیا ہے۔ اس نے جن لوگوں کی موت کا فیصلہ کیا اتنے ہی لوگ اور وہ لاتا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے تاکہ قیامت تک جنہوں نے آنا ہے آئیں اور جب وقت مقرر آجائے گا تو پھر قیامت برپا ہوگی۔
وننشئکم ................ تعلمون (6 5: 16) ” اور تمہیں اس میں پیدا کریں جسے تم نہیں جانتے۔ “ ایک ایسے عالم میں جس کو تم نہیں جانتے اور اس کے بارے میں تمہاری معلومات صرف ان معلومات تک محدود ہیں جو تم کو اللہ دیتا ہے اور جب تمہیں اس نامعلوم جہاں (آخرت) میں پیدا کردیا جائے گا تو تب قافلہ انسانیت اپنے منزل مقصود تک پہنچ جائے گی ........ یہ تو ہے دوسری پیدائش اور۔
الواقعة 56:61
نحن ............ تعلمون (6 5: 16) ” ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تم جیسے اور لوگ لے آئیں اور کسی ایسے جہاں میں تمہیں دوبارہ پیدا کردیں جس کو تم نہیں جانتے۔ “
یہ موت جس تک تمام زندہ مخلوق سفر کرکے پہنچتی ہے یہ کیا ہے ؟ کس طرح واقع ہوتی ہے ؟ اس کی کس قدر طاقت ہے کہ اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اللہ کی تقدیر ہے۔ اس لئے اس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔ اس سے کوئی آگے نہیں جاسکتا۔ یہ ایک حلقہ اور کڑی ہے اس تخلیق کے سلسلے میں جس نے پورا ہونا ہے۔
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہیں اس زمین سے نابود کرکے اس کی تعمیروترقی کے لئے دوسرے لوگوں کو وہ لاسکتا ہے کیونکہ جس نے موت مقرر کی زندگی کے بارے میں بھی اسی نے طے کیا ہے۔ اس نے جن لوگوں کی موت کا فیصلہ کیا اتنے ہی لوگ اور وہ لاتا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے تاکہ قیامت تک جنہوں نے آنا ہے آئیں اور جب وقت مقرر آجائے گا تو پھر قیامت برپا ہوگی۔
وننشئکم ................ تعلمون (6 5: 16) ” اور تمہیں اس میں پیدا کریں جسے تم نہیں جانتے۔ “ ایک ایسے عالم میں جس کو تم نہیں جانتے اور اس کے بارے میں تمہاری معلومات صرف ان معلومات تک محدود ہیں جو تم کو اللہ دیتا ہے اور جب تمہیں اس نامعلوم جہاں (آخرت) میں پیدا کردیا جائے گا تو تب قافلہ انسانیت اپنے منزل مقصود تک پہنچ جائے گی ........ یہ تو ہے دوسری پیدائش اور۔
الواقعة 56:62
ولقد ................ تذکرون (6 5: 26) ” اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہی ہو ، پھر کیوں سبق نہیں لیتے ؟ “ اور یہ دوسری پیدائش بہت ہی قریب ہے اور اس میں کوئی بات قابل تعجب نہیں ہے۔
اس سادگی اور اس سہل انداز میں قرآن کریم پہلی پیدائش اور دوبارہ پیدائش کے مسئلہ کو پیش کرتا ہے۔ ہمیں ایک ایسے طریقہ استدلال سے دو چار کرتا ہے جسے ہم جانتے ہیں اور جس کا ہم کوئی انکار بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ منطق بدیہات پر مبنی ہے اور انسانوں کے مشاہدات پر مبنی ہے اور جس میں کوئی پیچیدگی اور کوئی تجرید نہیں ہے ، نہ فلسفہ ہے اور نہ ذہنی تھکاوٹ ہے اور کوئی ایسی بحث نہیں جو وجدان تک پہنچتی ہو۔
یہ ایک بالکل جدید طریقہ ہے جو بدیع السموت اور قرآن کے نازل کرنے والے اختیار کیا ہے۔
ایک بار پھر نہایت سادہ اور سہل الفہم انداز میں ، ان کے سامنے ان کے روز مرہ کی چیزیں پیش کی جاتی ہیں اور ان میں سے ان کو ایک معجزانہ پہلو دکھایا جاتا ہے۔ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اس سے غافل ہوتے ہیں۔
الواقعة 56:63
افرءیتم ............................ محرومون (76) (6 5:4 6 تا
” کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو ، ان سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو ان کھیتوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔ “
یہ زرعی پودے ان کے سامنے اگتے ہیں اور اپنی فصل دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں ان کا کردار کیا ہے۔ یہ لوگ ہل چلا کر اس میں دانے یا بیچ ڈال دیتے ہیں۔ جسے اللہ نے پیدا کیا۔ اس کے بعد ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور دست قدرت ان پر عمل پیرا ہوتی ہے اور معجزانہ انداز میں یہ پودا تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔
یہ بیج یا یہ دانہ اپنی نوع کو دہرانے کا عمل شروع کرتا ہے اور یہ اپنی راہ اس طرح طے کرتا ہے کہ گویا یہ عقلمند اور خبردار چیز ہے اور اپنی راہ پر سیدھا سیدھا گامزن ہے اور مراحل طے کر رہا ہے۔ انسان تو اپنے کام میں غلطی کرسکتا ہے لیکن یہ بیج کوئی غلطی نہیں کرتا۔ یہ اس طریق کار کے مطابق کام کرتا ہے جو اللہ نے اس کے لئے وضع کیا ہے۔ وہ کبھی اپنے مقررہ ہدف کو خطا نہیں کرتا کیونکہ اسے دست قدرت چلارہی ہوتی ہے اور یہ ایک عجیب سفر ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے کہ اگر روز وشب ہمارے سامنے دہرایا نہ جاتا تو عقل اس کی تصدیق نہ کرتی اور جہان اس کا تصور نہ کرسکتا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کون سی عقل یہ باور کرسکتی ہے کہ گندم کے اس چھوٹے سے دانہ میں ڈالی پتے اور دانے سب کچھ موجود ہیں یا کھجور کی گٹھلی میں اس قدر بلند درخت موجود ہے۔
اگر یہ چیزیں ہمارے سامنے رات دن دہرائی نہ جاتیں تو عقل انہیں تسلیم نہ کرتی اور کوئی خیال ان چیزوں کی طرف کاتا ہی نہیں لیکن چونکہ سب لوگوں کے سامنے یہ قصہ دہرایا جاتا ہے اور یہ سفر صبح وشام طے ہوتا رہتا ہے اس لئے لوگ اسے مانتے ہیں اور کون ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ ماسوائے دانہ بونے کے اس کا اس عمل میں کوئی اور کردار ہے۔
لوگ کہتے ہیں ہم نے فصل اگائی اور ہم نے اتنی پروڈکشن دی حالانکہ ان سب امور میں ان کا کردار بہت ہی محدود ہے۔ رہا وہ پورا عمل جو بیج یا دانہ طے کرتا ہے اور وہ معجزہ کہ ایک چھوٹے سے بیج کے قلب سے ایک عظیم درخت وجود میں آتا ہے تو یہ تو سب کچھ خالق کی صفت ہے۔ اگر ایسا اللہ نہ چاہتا تو کوئی دانہ یہ معجزہ نہ دکھاتا۔ یہ قصہ یوں سرے تک نہ پہنچتا اور اگر اللہ چاہتا تو قبل اس کے کہ دانہ دے اسے بھس بنا دیتا ۔ یہ تو اللہ کی مشیت ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو لوگ اس پر عبرتناک تبصرے کرتے۔ انالمغرمون (ہم پر تو چٹی چڑھ گئی) نقصان ہوگیا بلکہ یہ کہیں بل نحن محرومون (بلکہ ہم تو محروم اور بدنصیب ہیں) لیکن یہ اللہ کا فضل کہ وہ ان کو پھل دیتا ہے اور یہ دانے دورہ مکمل کرتے ہیں۔ انسانی زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ انسانی خلیہ بھی یہی کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی قدرت انسان پیدا کرتی ہے۔ کیا مشکل ہے کہ دوبارہ اللہ اسی زمین سے انسان کو برآمد نہیں کرسکتا ........ آخرت کی دوبارہ پیدائش میں آخر کیا چیز تمہیں انوکھی لگتی ہے۔
الواقعة 56:64
افرءیتم ............................ محرومون (76) (6 5:4 6 تا
” کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو ، ان سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو ان کھیتوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔ “
یہ زرعی پودے ان کے سامنے اگتے ہیں اور اپنی فصل دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں ان کا کردار کیا ہے۔ یہ لوگ ہل چلا کر اس میں دانے یا بیچ ڈال دیتے ہیں۔ جسے اللہ نے پیدا کیا۔ اس کے بعد ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور دست قدرت ان پر عمل پیرا ہوتی ہے اور معجزانہ انداز میں یہ پودا تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔
یہ بیج یا یہ دانہ اپنی نوع کو دہرانے کا عمل شروع کرتا ہے اور یہ اپنی راہ اس طرح طے کرتا ہے کہ گویا یہ عقلمند اور خبردار چیز ہے اور اپنی راہ پر سیدھا سیدھا گامزن ہے اور مراحل طے کر رہا ہے۔ انسان تو اپنے کام میں غلطی کرسکتا ہے لیکن یہ بیج کوئی غلطی نہیں کرتا۔ یہ اس طریق کار کے مطابق کام کرتا ہے جو اللہ نے اس کے لئے وضع کیا ہے۔ وہ کبھی اپنے مقررہ ہدف کو خطا نہیں کرتا کیونکہ اسے دست قدرت چلارہی ہوتی ہے اور یہ ایک عجیب سفر ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے کہ اگر روز وشب ہمارے سامنے دہرایا نہ جاتا تو عقل اس کی تصدیق نہ کرتی اور جہان اس کا تصور نہ کرسکتا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کون سی عقل یہ باور کرسکتی ہے کہ گندم کے اس چھوٹے سے دانہ میں ڈالی پتے اور دانے سب کچھ موجود ہیں یا کھجور کی گٹھلی میں اس قدر بلند درخت موجود ہے۔
اگر یہ چیزیں ہمارے سامنے رات دن دہرائی نہ جاتیں تو عقل انہیں تسلیم نہ کرتی اور کوئی خیال ان چیزوں کی طرف کاتا ہی نہیں لیکن چونکہ سب لوگوں کے سامنے یہ قصہ دہرایا جاتا ہے اور یہ سفر صبح وشام طے ہوتا رہتا ہے اس لئے لوگ اسے مانتے ہیں اور کون ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ ماسوائے دانہ بونے کے اس کا اس عمل میں کوئی اور کردار ہے۔
لوگ کہتے ہیں ہم نے فصل اگائی اور ہم نے اتنی پروڈکشن دی حالانکہ ان سب امور میں ان کا کردار بہت ہی محدود ہے۔ رہا وہ پورا عمل جو بیج یا دانہ طے کرتا ہے اور وہ معجزہ کہ ایک چھوٹے سے بیج کے قلب سے ایک عظیم درخت وجود میں آتا ہے تو یہ تو سب کچھ خالق کی صفت ہے۔ اگر ایسا اللہ نہ چاہتا تو کوئی دانہ یہ معجزہ نہ دکھاتا۔ یہ قصہ یوں سرے تک نہ پہنچتا اور اگر اللہ چاہتا تو قبل اس کے کہ دانہ دے اسے بھس بنا دیتا ۔ یہ تو اللہ کی مشیت ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو لوگ اس پر عبرتناک تبصرے کرتے۔ انالمغرمون (ہم پر تو چٹی چڑھ گئی) نقصان ہوگیا بلکہ یہ کہیں بل نحن محرومون (بلکہ ہم تو محروم اور بدنصیب ہیں) لیکن یہ اللہ کا فضل کہ وہ ان کو پھل دیتا ہے اور یہ دانے دورہ مکمل کرتے ہیں۔ انسانی زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ انسانی خلیہ بھی یہی کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی قدرت انسان پیدا کرتی ہے۔ کیا مشکل ہے کہ دوبارہ اللہ اسی زمین سے انسان کو برآمد نہیں کرسکتا ........ آخرت کی دوبارہ پیدائش میں آخر کیا چیز تمہیں انوکھی لگتی ہے۔
الواقعة 56:65
افرءیتم ............................ محرومون (76) (6 5:4 6 تا
” کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو ، ان سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو ان کھیتوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔ “
یہ زرعی پودے ان کے سامنے اگتے ہیں اور اپنی فصل دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں ان کا کردار کیا ہے۔ یہ لوگ ہل چلا کر اس میں دانے یا بیچ ڈال دیتے ہیں۔ جسے اللہ نے پیدا کیا۔ اس کے بعد ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور دست قدرت ان پر عمل پیرا ہوتی ہے اور معجزانہ انداز میں یہ پودا تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔
یہ بیج یا یہ دانہ اپنی نوع کو دہرانے کا عمل شروع کرتا ہے اور یہ اپنی راہ اس طرح طے کرتا ہے کہ گویا یہ عقلمند اور خبردار چیز ہے اور اپنی راہ پر سیدھا سیدھا گامزن ہے اور مراحل طے کر رہا ہے۔ انسان تو اپنے کام میں غلطی کرسکتا ہے لیکن یہ بیج کوئی غلطی نہیں کرتا۔ یہ اس طریق کار کے مطابق کام کرتا ہے جو اللہ نے اس کے لئے وضع کیا ہے۔ وہ کبھی اپنے مقررہ ہدف کو خطا نہیں کرتا کیونکہ اسے دست قدرت چلارہی ہوتی ہے اور یہ ایک عجیب سفر ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے کہ اگر روز وشب ہمارے سامنے دہرایا نہ جاتا تو عقل اس کی تصدیق نہ کرتی اور جہان اس کا تصور نہ کرسکتا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کون سی عقل یہ باور کرسکتی ہے کہ گندم کے اس چھوٹے سے دانہ میں ڈالی پتے اور دانے سب کچھ موجود ہیں یا کھجور کی گٹھلی میں اس قدر بلند درخت موجود ہے۔
اگر یہ چیزیں ہمارے سامنے رات دن دہرائی نہ جاتیں تو عقل انہیں تسلیم نہ کرتی اور کوئی خیال ان چیزوں کی طرف کاتا ہی نہیں لیکن چونکہ سب لوگوں کے سامنے یہ قصہ دہرایا جاتا ہے اور یہ سفر صبح وشام طے ہوتا رہتا ہے اس لئے لوگ اسے مانتے ہیں اور کون ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ ماسوائے دانہ بونے کے اس کا اس عمل میں کوئی اور کردار ہے۔
لوگ کہتے ہیں ہم نے فصل اگائی اور ہم نے اتنی پروڈکشن دی حالانکہ ان سب امور میں ان کا کردار بہت ہی محدود ہے۔ رہا وہ پورا عمل جو بیج یا دانہ طے کرتا ہے اور وہ معجزہ کہ ایک چھوٹے سے بیج کے قلب سے ایک عظیم درخت وجود میں آتا ہے تو یہ تو سب کچھ خالق کی صفت ہے۔ اگر ایسا اللہ نہ چاہتا تو کوئی دانہ یہ معجزہ نہ دکھاتا۔ یہ قصہ یوں سرے تک نہ پہنچتا اور اگر اللہ چاہتا تو قبل اس کے کہ دانہ دے اسے بھس بنا دیتا ۔ یہ تو اللہ کی مشیت ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو لوگ اس پر عبرتناک تبصرے کرتے۔ انالمغرمون (ہم پر تو چٹی چڑھ گئی) نقصان ہوگیا بلکہ یہ کہیں بل نحن محرومون (بلکہ ہم تو محروم اور بدنصیب ہیں) لیکن یہ اللہ کا فضل کہ وہ ان کو پھل دیتا ہے اور یہ دانے دورہ مکمل کرتے ہیں۔ انسانی زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ انسانی خلیہ بھی یہی کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی قدرت انسان پیدا کرتی ہے۔ کیا مشکل ہے کہ دوبارہ اللہ اسی زمین سے انسان کو برآمد نہیں کرسکتا ........ آخرت کی دوبارہ پیدائش میں آخر کیا چیز تمہیں انوکھی لگتی ہے۔
الواقعة 56:66
افرءیتم ............................ محرومون (76) (6 5:4 6 تا
” کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو ، ان سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو ان کھیتوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔ “
یہ زرعی پودے ان کے سامنے اگتے ہیں اور اپنی فصل دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں ان کا کردار کیا ہے۔ یہ لوگ ہل چلا کر اس میں دانے یا بیچ ڈال دیتے ہیں۔ جسے اللہ نے پیدا کیا۔ اس کے بعد ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور دست قدرت ان پر عمل پیرا ہوتی ہے اور معجزانہ انداز میں یہ پودا تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔
یہ بیج یا یہ دانہ اپنی نوع کو دہرانے کا عمل شروع کرتا ہے اور یہ اپنی راہ اس طرح طے کرتا ہے کہ گویا یہ عقلمند اور خبردار چیز ہے اور اپنی راہ پر سیدھا سیدھا گامزن ہے اور مراحل طے کر رہا ہے۔ انسان تو اپنے کام میں غلطی کرسکتا ہے لیکن یہ بیج کوئی غلطی نہیں کرتا۔ یہ اس طریق کار کے مطابق کام کرتا ہے جو اللہ نے اس کے لئے وضع کیا ہے۔ وہ کبھی اپنے مقررہ ہدف کو خطا نہیں کرتا کیونکہ اسے دست قدرت چلارہی ہوتی ہے اور یہ ایک عجیب سفر ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے کہ اگر روز وشب ہمارے سامنے دہرایا نہ جاتا تو عقل اس کی تصدیق نہ کرتی اور جہان اس کا تصور نہ کرسکتا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کون سی عقل یہ باور کرسکتی ہے کہ گندم کے اس چھوٹے سے دانہ میں ڈالی پتے اور دانے سب کچھ موجود ہیں یا کھجور کی گٹھلی میں اس قدر بلند درخت موجود ہے۔
اگر یہ چیزیں ہمارے سامنے رات دن دہرائی نہ جاتیں تو عقل انہیں تسلیم نہ کرتی اور کوئی خیال ان چیزوں کی طرف کاتا ہی نہیں لیکن چونکہ سب لوگوں کے سامنے یہ قصہ دہرایا جاتا ہے اور یہ سفر صبح وشام طے ہوتا رہتا ہے اس لئے لوگ اسے مانتے ہیں اور کون ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ ماسوائے دانہ بونے کے اس کا اس عمل میں کوئی اور کردار ہے۔
لوگ کہتے ہیں ہم نے فصل اگائی اور ہم نے اتنی پروڈکشن دی حالانکہ ان سب امور میں ان کا کردار بہت ہی محدود ہے۔ رہا وہ پورا عمل جو بیج یا دانہ طے کرتا ہے اور وہ معجزہ کہ ایک چھوٹے سے بیج کے قلب سے ایک عظیم درخت وجود میں آتا ہے تو یہ تو سب کچھ خالق کی صفت ہے۔ اگر ایسا اللہ نہ چاہتا تو کوئی دانہ یہ معجزہ نہ دکھاتا۔ یہ قصہ یوں سرے تک نہ پہنچتا اور اگر اللہ چاہتا تو قبل اس کے کہ دانہ دے اسے بھس بنا دیتا ۔ یہ تو اللہ کی مشیت ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو لوگ اس پر عبرتناک تبصرے کرتے۔ انالمغرمون (ہم پر تو چٹی چڑھ گئی) نقصان ہوگیا بلکہ یہ کہیں بل نحن محرومون (بلکہ ہم تو محروم اور بدنصیب ہیں) لیکن یہ اللہ کا فضل کہ وہ ان کو پھل دیتا ہے اور یہ دانے دورہ مکمل کرتے ہیں۔ انسانی زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ انسانی خلیہ بھی یہی کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی قدرت انسان پیدا کرتی ہے۔ کیا مشکل ہے کہ دوبارہ اللہ اسی زمین سے انسان کو برآمد نہیں کرسکتا ........ آخرت کی دوبارہ پیدائش میں آخر کیا چیز تمہیں انوکھی لگتی ہے۔
الواقعة 56:67
افرءیتم ............................ محرومون (76) (6 5:4 6 تا
” کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو ، ان سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو ان کھیتوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔ “
یہ زرعی پودے ان کے سامنے اگتے ہیں اور اپنی فصل دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں ان کا کردار کیا ہے۔ یہ لوگ ہل چلا کر اس میں دانے یا بیچ ڈال دیتے ہیں۔ جسے اللہ نے پیدا کیا۔ اس کے بعد ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور دست قدرت ان پر عمل پیرا ہوتی ہے اور معجزانہ انداز میں یہ پودا تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔
یہ بیج یا یہ دانہ اپنی نوع کو دہرانے کا عمل شروع کرتا ہے اور یہ اپنی راہ اس طرح طے کرتا ہے کہ گویا یہ عقلمند اور خبردار چیز ہے اور اپنی راہ پر سیدھا سیدھا گامزن ہے اور مراحل طے کر رہا ہے۔ انسان تو اپنے کام میں غلطی کرسکتا ہے لیکن یہ بیج کوئی غلطی نہیں کرتا۔ یہ اس طریق کار کے مطابق کام کرتا ہے جو اللہ نے اس کے لئے وضع کیا ہے۔ وہ کبھی اپنے مقررہ ہدف کو خطا نہیں کرتا کیونکہ اسے دست قدرت چلارہی ہوتی ہے اور یہ ایک عجیب سفر ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے کہ اگر روز وشب ہمارے سامنے دہرایا نہ جاتا تو عقل اس کی تصدیق نہ کرتی اور جہان اس کا تصور نہ کرسکتا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کون سی عقل یہ باور کرسکتی ہے کہ گندم کے اس چھوٹے سے دانہ میں ڈالی پتے اور دانے سب کچھ موجود ہیں یا کھجور کی گٹھلی میں اس قدر بلند درخت موجود ہے۔
اگر یہ چیزیں ہمارے سامنے رات دن دہرائی نہ جاتیں تو عقل انہیں تسلیم نہ کرتی اور کوئی خیال ان چیزوں کی طرف کاتا ہی نہیں لیکن چونکہ سب لوگوں کے سامنے یہ قصہ دہرایا جاتا ہے اور یہ سفر صبح وشام طے ہوتا رہتا ہے اس لئے لوگ اسے مانتے ہیں اور کون ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ ماسوائے دانہ بونے کے اس کا اس عمل میں کوئی اور کردار ہے۔
لوگ کہتے ہیں ہم نے فصل اگائی اور ہم نے اتنی پروڈکشن دی حالانکہ ان سب امور میں ان کا کردار بہت ہی محدود ہے۔ رہا وہ پورا عمل جو بیج یا دانہ طے کرتا ہے اور وہ معجزہ کہ ایک چھوٹے سے بیج کے قلب سے ایک عظیم درخت وجود میں آتا ہے تو یہ تو سب کچھ خالق کی صفت ہے۔ اگر ایسا اللہ نہ چاہتا تو کوئی دانہ یہ معجزہ نہ دکھاتا۔ یہ قصہ یوں سرے تک نہ پہنچتا اور اگر اللہ چاہتا تو قبل اس کے کہ دانہ دے اسے بھس بنا دیتا ۔ یہ تو اللہ کی مشیت ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو لوگ اس پر عبرتناک تبصرے کرتے۔ انالمغرمون (ہم پر تو چٹی چڑھ گئی) نقصان ہوگیا بلکہ یہ کہیں بل نحن محرومون (بلکہ ہم تو محروم اور بدنصیب ہیں) لیکن یہ اللہ کا فضل کہ وہ ان کو پھل دیتا ہے اور یہ دانے دورہ مکمل کرتے ہیں۔ انسانی زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ انسانی خلیہ بھی یہی کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی قدرت انسان پیدا کرتی ہے۔ کیا مشکل ہے کہ دوبارہ اللہ اسی زمین سے انسان کو برآمد نہیں کرسکتا ........ آخرت کی دوبارہ پیدائش میں آخر کیا چیز تمہیں انوکھی لگتی ہے۔
الواقعة 56:68
افرءیتم ................ تشکرون (07) (6 5: 86) ” کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا ، یہ پانی جو تم پیتے ہو ، اسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اس کے برسانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں ، پھر کیوں تم شکرگزار نہیں ہوتے ؟ “
یہ پانی تو زندگی کی اصل بنیاد ہے اور پانی کے سوا زندگی نشوونما ہی نہیں پاسکتی۔ اس طرح اللہ نے اسے مقدر کیا ہے۔ اس پانی کی تخلیق میں انسان کا کردار کیا ہے۔ اس کا کردار بس یہ ہے کہ انسان اسے حلق سے اتار دے۔ یہ کہ اس کے عناصر کس نے بنائے ، اسے بادلوں سے کس نے اتارا۔ اسے ندیوں میں کس نے بہایا۔ اسے میٹھا کس نے بنایا۔
الواقعة 56:69
افرءیتم ................ تشکرون (07) (6 5: 86) ” کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا ، یہ پانی جو تم پیتے ہو ، اسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اس کے برسانے والے ہم ہیں ؟ ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں ، پھر کیوں تم شکرگزار نہیں ہوتے ؟ “
یہ پانی تو زندگی کی اصل بنیاد ہے اور پانی کے سوا زندگی نشوونما ہی نہیں پاسکتی۔ اس طرح اللہ نے اسے مقدر کیا ہے۔ اس پانی کی تخلیق میں انسان کا کردار کیا ہے۔ اس کا کردار بس یہ ہے کہ انسان اسے حلق سے اتار دے۔ یہ کہ اس کے عناصر کس نے بنائے ، اسے بادلوں سے کس نے اتارا۔ اسے ندیوں میں کس نے بہایا۔ اسے میٹھا کس نے بنایا۔
الواقعة 56:70
لو نشائ ................ اجاجا (6 5: 07) ” اگر ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں “ بس ہوا کو یہ حکم دیتا ہے کہ بادلوں میں پانی کے ساتھ نمکیات بھی لاؤ۔ پھر وہ نہ آدمیوں کے کام آتے نہ فصلوں کے۔ کوئی پروڈکشن نہ دے۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔
قرآن کے ابتدائی مخاطین کے لئے پانی صرف بادلوں سے آتا تھا۔ براہ راست ، یہ ان کے لئے زندگی کا بڑا مواد تھا۔ وہ اس کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ اور اس کے متعلق بات سے ان کے دل کانپ اٹھتے تھے۔ بارش کے بارے میں ان کے قصائد واشعار نے ان کے اس شعور کو لازوال بنادیا ہے لیکن انسان کی تمام تر مادی ترقیات نے پانی کی قیمت میں کوئی کمی نہیں کی بلکہ وہ جس قدر علمی تحقیقات اور تجزیہ کرنے میں اس کی قدروقیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور سائنس دان محسوس کرتے ہیں کہ حیات اور اس کی نشوونما میں پانی کا بڑا کردار ہے۔ لہٰذا پانی اہم ہے چرواہے کے لئے بھی اور ایک عظیم جدید صنعت کار کے لئے بھی اور ایک سائنس دان کے نزدیک بھی۔
الواقعة 56:71
افرءیتم ................ للمقوین (37) (6 5: 17 تا 37) ” کبھی تم نے خیال کیا یہ آگ جو تم سلگاتے ہو ، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟ ہم نے اس کو یاددہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لئے سامان زیست بنایا ہے “
انسان کی زندگی میں آگ کا وجود انسان کے لئے بہت بڑی نعمت ثابت ہوئی اور انسان نے اپنی تہذیبی زندگی کا آغاز ہی آگ سے کیا ہے لیکن صبح وشام آگ جلانا اس کے لئے تو ایک معمول کی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس میں انسان کا کردار کتنا ہے۔ بس انسان آگ جلاتا ہے لیکن جلنے کا عمل کس نے پیدا کیا اور جلنے کے عمل میں استعمال ہونے والا ایندھن کس نے بنایا۔ درخت کس نے پیدا کئے۔ اس کے بارے میں اس سے قبل تفصیلی بات ہم کرچکے ہیں۔ یہاں ” اس کے درخت “ میں ایک اشارہ ہے کہ عرب ایک درخت کی شاخ کو دوسری سے رگڑ کر آگ پیدا کرتے تھے اور یہ وہ طریقہ ہے جو شاید آج بھی پسماندہ علاقوں میں رائج ہے۔ یہ انداز ان کے تجربات میں تھا اس لئے قرآن نے اس طرف اشارہ کردیا۔ رہا آگ کا معجزہ اور سائنس دانوں کے نزدیک اس کا راز تو یہ ایک دوسری اہم بحث ہے اور اس آگ کی مناسبت سے آخرت کی آگ۔
الواقعة 56:72
افرءیتم ................ للمقوین (37) (6 5: 17 تا 37) ” کبھی تم نے خیال کیا یہ آگ جو تم سلگاتے ہو ، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟ ہم نے اس کو یاددہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لئے سامان زیست بنایا ہے “
انسان کی زندگی میں آگ کا وجود انسان کے لئے بہت بڑی نعمت ثابت ہوئی اور انسان نے اپنی تہذیبی زندگی کا آغاز ہی آگ سے کیا ہے لیکن صبح وشام آگ جلانا اس کے لئے تو ایک معمول کی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس میں انسان کا کردار کتنا ہے۔ بس انسان آگ جلاتا ہے لیکن جلنے کا عمل کس نے پیدا کیا اور جلنے کے عمل میں استعمال ہونے والا ایندھن کس نے بنایا۔ درخت کس نے پیدا کئے۔ اس کے بارے میں اس سے قبل تفصیلی بات ہم کرچکے ہیں۔ یہاں ” اس کے درخت “ میں ایک اشارہ ہے کہ عرب ایک درخت کی شاخ کو دوسری سے رگڑ کر آگ پیدا کرتے تھے اور یہ وہ طریقہ ہے جو شاید آج بھی پسماندہ علاقوں میں رائج ہے۔ یہ انداز ان کے تجربات میں تھا اس لئے قرآن نے اس طرف اشارہ کردیا۔ رہا آگ کا معجزہ اور سائنس دانوں کے نزدیک اس کا راز تو یہ ایک دوسری اہم بحث ہے اور اس آگ کی مناسبت سے آخرت کی آگ۔
الواقعة 56:73
نحن ............ تذکرة (6 5: 37) ” یہ اس کو یاددہانی کا ذریعہ بنایا۔ “ یعنی آخرت کی آگ کی یاددہانی کا اور ہم نے اس کو۔
ومتاعا للمقوین (6 5: 37) ” حاجت مندوں مسافروں کے لئے سامان زیست بنایا ہے۔ “ مقوین کے معنی مسافر ہیں۔ مخاطین کے نفوس پر اس کا بہت اثر تھا کیونکہ ان کے سامنے ان کا ایک زندہ تجربہ پیش کیا گیا۔
جس اس حد تک اسرار ورموزفاش کردیئے گئے جن سے دلائل ایمان روز روشن کی طرح سامنے آگئے۔ اور لوگوں کے لئے قابل فہم ، تو اب اشارہ کرنا لازم ہوگیا کہ یہ سب کچھ فراہم کرنے والاکون ہے ؟ کیا ایک عظیم خالق اور رب کی موجودگی کا سوال تمہارے ذہنوں میں پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کی طرف فطرت متوجہ ہوتی ہے اور وہ فطرت انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی تسبیح کریں اور اس حقیقت کو زندہ کریں اور دلوں کو اس سے متاثر کریں۔
الواقعة 56:74
فسبح ........ العظیم (6 5:4 7) ” پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ “
اب روئے سخن مکذبین کی طرف پھیر کر سخت انداز میں قرآن کو اس کائنات سے مربوط کیا جاتا ہے۔
الواقعة 56:75
فلا ............ النجوم (6 5:5 7) ” پس میں قسم نہیں کھاتا تاروں کے مواقع کی۔ “ یہ بات تو بہت واضح ہے اور روشن ہے اور قسم کی محتاج نہیں ہے۔
اس دور میں مخاطین ستاروں کے مواقع اور محل وقوع کے بارے میں زیادہ نہ جانتے تھے۔ صرف اس قدر جو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس پر قسم اٹھائی۔
الواقعة 56:76
وانہ ................ عظیم (6 5: 67) ” اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے ۔ “ لیکن آج ہم کس قدر جانتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم قسم ہے۔ ہمارا علم مخاطین اول کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔ اگرچہ ہمارا موجود علم بھی بہت قلیل ہے اور ہم مواقع النجوم کی عظمت کا پورا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
ستاروں کے مواقع کے بارے میں جو قلیل علم حاصل ہوا ہے یہ ہماری نہایت ہی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعہ حاصل ہوا ہے۔ جن کی نظر کی حدود بہت ہی محدود ہیں۔ ان رصد گاہوں کے ذریعے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ ستاروں کے دوسرے مجموعے کتنے ہیں ان کی تعداد معلوم نہیں ہے اور ان کی حدود کا تعین نہیں ہے۔
” سائنس دان کہتے ہیں کہ ستارے اور سیارے جن کی تعداد کئی بلین ستاروں سے زیادہ ہے ، ان کو صرف سادہ نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان کو صرف دور بینوں اور رصدگاہوں کے ذریعے دیکھاجاسکتا ہے اور ان کو دیکھے بغیر یہ مشینیں اور آلات بھی ان کو محسوس نہیں کرسکتے۔ یہ سب اس تاریک اور نامعلوم فضائے آسمانی میں تیر رہے ہیں اور کوئی احتمال اس بات کا نہیں ہے کہ کسی ایک ستارے کے مقناطیسی دائرے کے اندر دوسرا ستارہ آجائے یا کسی دوسرے ستارے کے ساتھ متصادم ہوجائے جس طرح اس بات کا احتمال نہیں ہے کہ بحربیض میں چلنے والی کشتی بحر مردار میں چلنے والی کشتی کے ساتھ متصادم ہوجائے جبکہ وہ دونوں ایک ہی سمت میں ایک ہی سرعت کے ساتھ چل رہی ہوں۔ جس طرح یہ احتمال بعید ہے اسی طرح دو ستاروں کا ٹکرانا محال ہے۔ (اللہ اور سائنس۔ ص 33)
ہر ستارے کو اپنے قریبی ستارے سے اس فاصلے پر رکھا گیا ہے اور اس حکمت اور تدبیر سے رکھا گیا ہے اور ان تمام ستاروں کی کشش کو اس طرح متوازن رکھا گیا ہے کہ وہ اس لامتناہی فضا میں پھرنے اور تیرے والے کھربوں ستاروں کے ساتھ متوازن ہے۔ یہ تو ہے ایک پہلو عظمت محل وقوع ستارگان کا۔ لیکن اگرچہ عظمت کا ہمارا تصور اس وقت کے مخاطین قرآن سے بہت زیادہ ہے لیکن اگلی نسلوں کا جو تصور ہوگا وہ ہمارے اس وسیع تصور کو بھی محدود سمجھیں گی۔
وانہ ................ عظیم (6 5: 67) ” اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔ “ قسم کی طرف یہ اشارہ اور پھر قسم نہ کھانا ایک اسلوب ہے۔ ایک زیادہ موثر اور دل نشین انداز اور اس سے بات زیادہ پختگی سے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے کیونکہ اس پر قسم کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
الواقعة 56:77
انہ ................ العلمین (6 5: 08) ” یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ “
فی کتب مکنون (6 5: 87) ” کتاب محفوظ میں۔ “ اور اس کی تفسیر بعد کی آیت کررہی ہے۔
لا یمسہ الا المطھرون (6 5: 97) ” جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ “ مشرکین کا الزام تھا کہ اسے شیاطین نے نازل کیا ہے۔ یہ ان کے الزام کی تردید ہے کیونکہ شیطان اس کتاب کو مس نہیں کرسکتا جو اللہ کے علم میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے۔ اسے پاک فرشتے لے کر نازل ہوتے ہیں۔
اس آیت کی یہ سب سے اچھی تفسیر ہے کیونکہ (لا) نافیہ ہے یعنی یہ فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ناہیہ نہیں ہے کہ تم ایسا نہ کرو کیونکہ اس دنیا میں پاک اور نجس دونوں قرآن کو چھوتے رہتے ہیں۔ مومن اور کافر بھی چھوتے ہیں لہٰذا اس لحاظ سے نفی متحقق ہی نہیں ہے بلکہ یہ معنی زیادہ قریب ہے اور کفار کے الزام کے جواب میں یہی معنی درست ہے کہ مطہر سے مراد فرشتے ہوں کیونکہ کتب سماوی شیطان کی دسترس سے باہر ہوتی ہیں۔
اور اس کے بعد کی آیت۔
تنزیل ............ العلمین (6 5: 08) ” یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔ “ شیاطین کی نازل کردہ نہیں ہے۔ اس کی تائید کرتی ہے۔
اگر مروی احادیث اس کا دوسرا مفہوم بتاتی ہیں کہ قرآن کو کوئی نہ چھوئے مگر پاک شخص لیکن علامہ ابن کثیر نے کہا ہے ” یہ قیمتی نکتہ ہے الزھری نے اس طرح پڑھا ہے لیکن اس تفسیر کو نہیں لینا چاہیے۔ اس حدیث کو درافطنی نے عمر ابن حرم عبداللہ ابن عمر اور عثمان ابن ابوالعاص سے مسند طور پر روایت کیا ہے لیکن اس کی سب سندوں میں کلام کی گنجائش ہے۔ “
اس کے بعد اس سورة کا آخری پیرا آتا ہے۔ یہ عقل وخرد کے تاروں پر آخری مضراب ہے۔ اس میں اس لمحے کا تذکرہ ہے جس کے بارے میں سوچ کر انسان کے اعضاء کانپ جاتے ہیں۔ یہ ہے لمحہ موت جس میں کوئی کلام نہیں ہے اور پھر انسان واپس نہیں آتا ہے نہ اس لمحے سے کوئی بچ سکتا ہے۔
الواقعة 56:78
انہ ................ العلمین (6 5: 08) ” یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ “
فی کتب مکنون (6 5: 87) ” کتاب محفوظ میں۔ “ اور اس کی تفسیر بعد کی آیت کررہی ہے۔
لا یمسہ الا المطھرون (6 5: 97) ” جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ “ مشرکین کا الزام تھا کہ اسے شیاطین نے نازل کیا ہے۔ یہ ان کے الزام کی تردید ہے کیونکہ شیطان اس کتاب کو مس نہیں کرسکتا جو اللہ کے علم میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے۔ اسے پاک فرشتے لے کر نازل ہوتے ہیں۔
اس آیت کی یہ سب سے اچھی تفسیر ہے کیونکہ (لا) نافیہ ہے یعنی یہ فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ناہیہ نہیں ہے کہ تم ایسا نہ کرو کیونکہ اس دنیا میں پاک اور نجس دونوں قرآن کو چھوتے رہتے ہیں۔ مومن اور کافر بھی چھوتے ہیں لہٰذا اس لحاظ سے نفی متحقق ہی نہیں ہے بلکہ یہ معنی زیادہ قریب ہے اور کفار کے الزام کے جواب میں یہی معنی درست ہے کہ مطہر سے مراد فرشتے ہوں کیونکہ کتب سماوی شیطان کی دسترس سے باہر ہوتی ہیں۔
اور اس کے بعد کی آیت۔
تنزیل ............ العلمین (6 5: 08) ” یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔ “ شیاطین کی نازل کردہ نہیں ہے۔ اس کی تائید کرتی ہے۔
اگر مروی احادیث اس کا دوسرا مفہوم بتاتی ہیں کہ قرآن کو کوئی نہ چھوئے مگر پاک شخص لیکن علامہ ابن کثیر نے کہا ہے ” یہ قیمتی نکتہ ہے الزھری نے اس طرح پڑھا ہے لیکن اس تفسیر کو نہیں لینا چاہیے۔ اس حدیث کو درافطنی نے عمر ابن حرم عبداللہ ابن عمر اور عثمان ابن ابوالعاص سے مسند طور پر روایت کیا ہے لیکن اس کی سب سندوں میں کلام کی گنجائش ہے۔ “
اس کے بعد اس سورة کا آخری پیرا آتا ہے۔ یہ عقل وخرد کے تاروں پر آخری مضراب ہے۔ اس میں اس لمحے کا تذکرہ ہے جس کے بارے میں سوچ کر انسان کے اعضاء کانپ جاتے ہیں۔ یہ ہے لمحہ موت جس میں کوئی کلام نہیں ہے اور پھر انسان واپس نہیں آتا ہے نہ اس لمحے سے کوئی بچ سکتا ہے۔
الواقعة 56:79
انہ ................ العلمین (6 5: 08) ” یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ “
فی کتب مکنون (6 5: 87) ” کتاب محفوظ میں۔ “ اور اس کی تفسیر بعد کی آیت کررہی ہے۔
لا یمسہ الا المطھرون (6 5: 97) ” جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ “ مشرکین کا الزام تھا کہ اسے شیاطین نے نازل کیا ہے۔ یہ ان کے الزام کی تردید ہے کیونکہ شیطان اس کتاب کو مس نہیں کرسکتا جو اللہ کے علم میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے۔ اسے پاک فرشتے لے کر نازل ہوتے ہیں۔
اس آیت کی یہ سب سے اچھی تفسیر ہے کیونکہ (لا) نافیہ ہے یعنی یہ فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ناہیہ نہیں ہے کہ تم ایسا نہ کرو کیونکہ اس دنیا میں پاک اور نجس دونوں قرآن کو چھوتے رہتے ہیں۔ مومن اور کافر بھی چھوتے ہیں لہٰذا اس لحاظ سے نفی متحقق ہی نہیں ہے بلکہ یہ معنی زیادہ قریب ہے اور کفار کے الزام کے جواب میں یہی معنی درست ہے کہ مطہر سے مراد فرشتے ہوں کیونکہ کتب سماوی شیطان کی دسترس سے باہر ہوتی ہیں۔
اور اس کے بعد کی آیت۔
تنزیل ............ العلمین (6 5: 08) ” یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔ “ شیاطین کی نازل کردہ نہیں ہے۔ اس کی تائید کرتی ہے۔
اگر مروی احادیث اس کا دوسرا مفہوم بتاتی ہیں کہ قرآن کو کوئی نہ چھوئے مگر پاک شخص لیکن علامہ ابن کثیر نے کہا ہے ” یہ قیمتی نکتہ ہے الزھری نے اس طرح پڑھا ہے لیکن اس تفسیر کو نہیں لینا چاہیے۔ اس حدیث کو درافطنی نے عمر ابن حرم عبداللہ ابن عمر اور عثمان ابن ابوالعاص سے مسند طور پر روایت کیا ہے لیکن اس کی سب سندوں میں کلام کی گنجائش ہے۔ “
اس کے بعد اس سورة کا آخری پیرا آتا ہے۔ یہ عقل وخرد کے تاروں پر آخری مضراب ہے۔ اس میں اس لمحے کا تذکرہ ہے جس کے بارے میں سوچ کر انسان کے اعضاء کانپ جاتے ہیں۔ یہ ہے لمحہ موت جس میں کوئی کلام نہیں ہے اور پھر انسان واپس نہیں آتا ہے نہ اس لمحے سے کوئی بچ سکتا ہے۔
الواقعة 56:80
انہ ................ العلمین (6 5: 08) ” یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ “
فی کتب مکنون (6 5: 87) ” کتاب محفوظ میں۔ “ اور اس کی تفسیر بعد کی آیت کررہی ہے۔
لا یمسہ الا المطھرون (6 5: 97) ” جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ “ مشرکین کا الزام تھا کہ اسے شیاطین نے نازل کیا ہے۔ یہ ان کے الزام کی تردید ہے کیونکہ شیطان اس کتاب کو مس نہیں کرسکتا جو اللہ کے علم میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے۔ اسے پاک فرشتے لے کر نازل ہوتے ہیں۔
اس آیت کی یہ سب سے اچھی تفسیر ہے کیونکہ (لا) نافیہ ہے یعنی یہ فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ناہیہ نہیں ہے کہ تم ایسا نہ کرو کیونکہ اس دنیا میں پاک اور نجس دونوں قرآن کو چھوتے رہتے ہیں۔ مومن اور کافر بھی چھوتے ہیں لہٰذا اس لحاظ سے نفی متحقق ہی نہیں ہے بلکہ یہ معنی زیادہ قریب ہے اور کفار کے الزام کے جواب میں یہی معنی درست ہے کہ مطہر سے مراد فرشتے ہوں کیونکہ کتب سماوی شیطان کی دسترس سے باہر ہوتی ہیں۔
اور اس کے بعد کی آیت۔
تنزیل ............ العلمین (6 5: 08) ” یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔ “ شیاطین کی نازل کردہ نہیں ہے۔ اس کی تائید کرتی ہے۔
اگر مروی احادیث اس کا دوسرا مفہوم بتاتی ہیں کہ قرآن کو کوئی نہ چھوئے مگر پاک شخص لیکن علامہ ابن کثیر نے کہا ہے ” یہ قیمتی نکتہ ہے الزھری نے اس طرح پڑھا ہے لیکن اس تفسیر کو نہیں لینا چاہیے۔ اس حدیث کو درافطنی نے عمر ابن حرم عبداللہ ابن عمر اور عثمان ابن ابوالعاص سے مسند طور پر روایت کیا ہے لیکن اس کی سب سندوں میں کلام کی گنجائش ہے۔ “
اس کے بعد اس سورة کا آخری پیرا آتا ہے۔ یہ عقل وخرد کے تاروں پر آخری مضراب ہے۔ اس میں اس لمحے کا تذکرہ ہے جس کے بارے میں سوچ کر انسان کے اعضاء کانپ جاتے ہیں۔ یہ ہے لمحہ موت جس میں کوئی کلام نہیں ہے اور پھر انسان واپس نہیں آتا ہے نہ اس لمحے سے کوئی بچ سکتا ہے۔
الواقعة 56:81
افبھذا ................ صدقین (87) (6 5: 18 تا 78) ” پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بےاعتنائی برتتے ہو اور تم نے تکذیب کو اپنا رزق بنا لیا ہے۔ اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اس خیال میں سچے ہو تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہا ہے اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے ؟ اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے۔ “
کیا تم اس کتاب کی باتوں میں شک کرتے ہو اور اس لئے کہ یہ تمہیں یہ کہتی ہے کہ تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ تم قرآن اور اس کے بیان کردہ قصص آخرت کی تکذیب کرتے ہو اور قرآنی عقائد و تصورات کی تکذیب کرتے ہو۔
الواقعة 56:82
وتجعلون ................ تکذبون (6 5: 28) ” کہ تم تکذیب کو اپنا رزق بنا رہے ہو۔ “ اور اس کو توشہ آخرت بنا رہے ہو اور زندگی بھی تم اس تکذیب پر بسر کرتے ہو یا یہ تمہاری خوراک بن گئی ہے۔ کس قدر گندی خوراک ہے یہ۔
جب تمہاری روح حلقوم تک آجاتی ہے اور تم دنیا اور آخرت کے کنارے اور دورا ہے پر کھڑے ہوئے ہو تو تم کیا کرنے والے ہوتے ہو ، تم کر ہی کیا کرسکتے ہو .... پھر قرآن کا انداز تصویر کشی آتا ہے اور اس موقع کی بہترین تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کئی جھلکیوں کے انداز میں ہے اور مختصر جھلکیوں میں سب کچھ دکھا دیا جاتا ہے۔
الواقعة 56:83
فلو لا ................ تبصرون (5 8) (6 5: 38 تا 5 8) ” تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہا ہے۔ اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے “ یہ ایسی تصویر کشی ہے کہ ان الفاظ۔
بلغت الحلقوم (6 5: 38) ” کے اندر سے سکرات الموت کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ہمیں نظر آتا ہے چہرے کے فیچر کھیچے جارہے ہیں ، سختی اور شدت نظر آرہی ہے۔ پھر۔
الواقعة 56:84
وانتم ............ تنظرون (6 5:4 8) سے نظر آتا ہے کہ اس کے ارد گرد بھی اقرباء عاجز والا چار کھڑے ہیں۔
اب روح اس دنیا سے پرواز کرگئی ہے اور میت نے سب کچھ پیچھے دنیا میں چھوڑ دیا ہے۔ یہ جدید اور نئی دنیا میں قدم رکھ رہا ہے۔ اب اس کے پاس صرف وہی کچھ ہے جو کمکایا ہے۔ باقی خیروشر پر اب اسے کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وہاں اس جدید دنیا میں یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے لیکن پیچھے مڑ کر کسی کو کچھ بتا نہیں سکتا۔ وہ اپنے ماحول سے جدا ہوچکا ہے۔ ایک جسم پڑا ہے جسے ناظرین دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں بھی نہیں پتہ کہ اس پر کیا گزر رہی ہے۔ یہاں آکر انسان کی قدرت اور انسان کے علم کے حدود ختم ہوجاتے ہیں۔ اس مقام پر آکر انسان اعتراف کرتے ہیں کہ وہ عاجز و لاچار ہیں۔ وہ بہت ہی محدود قوت کے مالک ہیں اب کوئی جدال نہیں رہتا .... یہاں آکر اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے ، کچھ نظر نہیں آتا ، کچھ معلوم نہیں اور منظر پر کوئی حرکت نظر نہیں آتی۔
اب صرف قدرت الٰیہہ ہی ہوتی ہے۔ علم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور اس امر میں اب کوئی شبہ نہیں رہتا بلکہ شبہ کاشائبہ تک نہیں رہتا نہ جدل ہے اور نہ حیلہ۔
الواقعة 56:85
ونحن ............ تبصرون (6 5:5 8) ” اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے۔ “ یہاں اب منظر پر شان باری ہے۔ اللہ کا خوف چھا جاتا ہے۔ اللہ تو ہر وقت حاضروناظر ہے لیکن قرآن کا یہ کمال ہے کہ وہ انسان کے خوابیدہ شعور کو جگا دیتا ہے چناچہ مجلس موت پر اللہ کے شعوری حضور سے فضا زیادہ ہولناک ہوجاتی ہے جبکہ تمام لوگ ڈرے ہوئے سہمے ہوئے اور عاجز ہیں اور الوداع الوداع کا ماحول ہے۔
ایسی فضا میں ایک چیلنج آتا ہے نہایت ہی کپکپانے والی ، پر تاسف ، پر فغاں محفل میں اور سخت حسر تناک ماحول میں اللہ کی طرف سے ایک چیلنج آتا ہے۔
الواقعة 56:86
فلو لا ............ صدقین (78) (6 5: 68۔ 78) ” اب اگر تم کسی کے محوم نہیں اور اپنے خیال میں سچے ہو تو اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لاتے۔ “ اگر بات اس طرح ہے جس طرح تم کہتے ہو ، کہ کوئی جزا وسزا نہیں ہے اور تم آزاد ہو تو روح جب حلقوم کو آجائے تو وہاں سے لوٹا دو کیونکہ وہ تو حساب و کتاب دینے جارہی ہے اور تمہارے ہوتے ہوئے جارہی ہے تم بےبس کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہو وہ تو ایک بڑی ذمہ داری کا جواب دینے جارہی ہے اور تم خاموش اور بےبس کھڑے ہو۔
اب تمام صحبتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ ہر دلیل رد ہوجاتی ہے۔ ہر حیلہ اور ہر بہانہ ختم ہوتا ہے اور اس حقیقت کا دباؤ انسانی جسم اور عقل پر اور زیادہ ہوجاتا ہے اور وہ دفاع کی قوت نہیں رکھتا۔ اسے تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں رہتا الا یہ کہ وہ ہٹ دھرمی پر اترآئے۔
اب تھوڑا سا تبصرہ اس روح پر ہوتا ہے جو پرواز کرگئی ہے۔ یہ حلقوم تک آئی ، اس نے اس فانی زندگی پر آخری نظر ڈالی اور باقی رہنے والی دنیا پر نظر ٹکا دی اور اس میدان کی طرف سفر کرگئی۔ جس میں ہر شخص سے باز پرس ہوگی جس کی یہ مکذبین تکذیب کررہے ہیں :۔
الواقعة 56:87
فلو لا ............ صدقین (78) (6 5: 68۔ 78) ” اب اگر تم کسی کے محوم نہیں اور اپنے خیال میں سچے ہو تو اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لاتے۔ “ اگر بات اس طرح ہے جس طرح تم کہتے ہو ، کہ کوئی جزا وسزا نہیں ہے اور تم آزاد ہو تو روح جب حلقوم کو آجائے تو وہاں سے لوٹا دو کیونکہ وہ تو حساب و کتاب دینے جارہی ہے اور تمہارے ہوتے ہوئے جارہی ہے تم بےبس کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہو وہ تو ایک بڑی ذمہ داری کا جواب دینے جارہی ہے اور تم خاموش اور بےبس کھڑے ہو۔
اب تمام صحبتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ ہر دلیل رد ہوجاتی ہے۔ ہر حیلہ اور ہر بہانہ ختم ہوتا ہے اور اس حقیقت کا دباؤ انسانی جسم اور عقل پر اور زیادہ ہوجاتا ہے اور وہ دفاع کی قوت نہیں رکھتا۔ اسے تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں رہتا الا یہ کہ وہ ہٹ دھرمی پر اترآئے۔
اب تھوڑا سا تبصرہ اس روح پر ہوتا ہے جو پرواز کرگئی ہے۔ یہ حلقوم تک آئی ، اس نے اس فانی زندگی پر آخری نظر ڈالی اور باقی رہنے والی دنیا پر نظر ٹکا دی اور اس میدان کی طرف سفر کرگئی۔ جس میں ہر شخص سے باز پرس ہوگی جس کی یہ مکذبین تکذیب کررہے ہیں :۔
الواقعة 56:88
فاما .................... جحیم (4 9) (6 5: 88 تا 4 9) ” پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو تو اس کے لئے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے تو اصحاب الیمین میں سے ہے اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو تو اس کی تواضع کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں جھونکا جانا “
سورة کے آغاز میں مقربین کے انعامات کا ذکر ہوگیا ہے ان کے لئے روح اور راحت ہے۔ راحت ، رزق حسن اور نعمتوں والی جنت۔ ان الفاظ ہی سے ان نعمتوں کی لطافت ظاہر ہے۔ میٹھی راحت ، نرم اور نازک سہولیات اور محبت و اعزاز۔
الواقعة 56:89
فاما .................... جحیم (4 9) (6 5: 88 تا 4 9) ” پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو تو اس کے لئے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے تو اصحاب الیمین میں سے ہے اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو تو اس کی تواضع کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں جھونکا جانا “
سورة کے آغاز میں مقربین کے انعامات کا ذکر ہوگیا ہے ان کے لئے روح اور راحت ہے۔ راحت ، رزق حسن اور نعمتوں والی جنت۔ ان الفاظ ہی سے ان نعمتوں کی لطافت ظاہر ہے۔ میٹھی راحت ، نرم اور نازک سہولیات اور محبت و اعزاز۔
الواقعة 56:90
واما ان ............ الیمین (6 5: 09) ” اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو۔ “ تو ان کی طرف روئے سخن براہ راست ہوتا ہے۔ اصحاب الیمین اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور اس وقت یہ سلام کس قدر خوبصورت ہوگا۔ اس کی روح ابھی نکلی ہی نہیں کہ سلام سنائی دیتا ہے۔ ایسا جانے والا مطمئن ہوکر جاتا ہے اور آنے والے زمانہ کی طرف مشتاق ہوتا ہے۔
الواقعة 56:91
واما ان ............ الیمین (6 5: 09) ” اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو۔ “ تو ان کی طرف روئے سخن براہ راست ہوتا ہے۔ اصحاب الیمین اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور اس وقت یہ سلام کس قدر خوبصورت ہوگا۔ اس کی روح ابھی نکلی ہی نہیں کہ سلام سنائی دیتا ہے۔ ایسا جانے والا مطمئن ہوکر جاتا ہے اور آنے والے زمانہ کی طرف مشتاق ہوتا ہے۔
الواقعة 56:92
واما ان ............ جحیم (6 5:4 9) ” اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں سے ہو تو اس کی تواضح کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں جھونکا جاتا ہے۔ “ کیا ہی بری تواضع ہے۔ گرم پانی اور عذاب جہنم۔ وہ دور سے دیکھ رہا ہے کہ اسے اس جہنم میں جانا ہے۔ روح قبض ہونے کے ساتھ ہی۔
اب بات انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ خاتمہ نہایت ہی نرم دھیمے آواز میں۔ نہایت نیچی سروں میں۔
الواقعة 56:93
واما ان ............ جحیم (6 5:4 9) ” اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں سے ہو تو اس کی تواضح کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں جھونکا جاتا ہے۔ “ کیا ہی بری تواضع ہے۔ گرم پانی اور عذاب جہنم۔ وہ دور سے دیکھ رہا ہے کہ اسے اس جہنم میں جانا ہے۔ روح قبض ہونے کے ساتھ ہی۔
اب بات انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ خاتمہ نہایت ہی نرم دھیمے آواز میں۔ نہایت نیچی سروں میں۔
الواقعة 56:94
واما ان ............ جحیم (6 5:4 9) ” اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں سے ہو تو اس کی تواضح کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں جھونکا جاتا ہے۔ “ کیا ہی بری تواضع ہے۔ گرم پانی اور عذاب جہنم۔ وہ دور سے دیکھ رہا ہے کہ اسے اس جہنم میں جانا ہے۔ روح قبض ہونے کے ساتھ ہی۔
اب بات انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ خاتمہ نہایت ہی نرم دھیمے آواز میں۔ نہایت نیچی سروں میں۔
الواقعة 56:95
ان ھذا ............ العظیم (69) (6 5:5 9 تا 69) ” یہ سب کچھ قطعی حق ہے ، پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ “
یہ آخری پر سوز تلقین ہے۔ سچائی کے پلڑے میں وزن ڈالا جاتا ہے۔ قلب مومن نے حق الیقین کرلیا ہے کہ واقعہ سچ ہے اور ہونے والا ہے۔ سورة ختم ہوتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے۔” رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو “ اور اسی سے نماز میں سبحان ربی العظیم جاری ہوا۔
الواقعة 56:96
ان ھذا ............ العظیم (69) (6 5:5 9 تا 69) ” یہ سب کچھ قطعی حق ہے ، پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ “
یہ آخری پر سوز تلقین ہے۔ سچائی کے پلڑے میں وزن ڈالا جاتا ہے۔ قلب مومن نے حق الیقین کرلیا ہے کہ واقعہ سچ ہے اور ہونے والا ہے۔ سورة ختم ہوتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے۔” رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو “ اور اسی سے نماز میں سبحان ربی العظیم جاری ہوا۔
الحديد 57:1
یہ ایک طے شدہ اور نہایت ہی اشاراتی مطلع اور آغاز کلام ہے جو براہ راست دلوں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے اور انہیں خوب جھنجھوڑتا ہے ، خوب دباتا ہے اور ان کو لے کر ہر طرف گھماتا ہے۔ اس کائنات کی سیر کراتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ہر طرف اللہ ہی اللہ ہے۔ یہ دل اللہ ہی کو محسوس کرتے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ ان کی نظر نہیں آتی۔ اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نظر نہیں آتی۔ اللہ کے دائرہ علم سے وہ نہیں نکل سکتے۔ اللہ کی طرف رجوع کے سوا کوئی جائے فرار نہیں ہے اور جہاں بھی وہ جاتے ہیں اللہ کا وجہ کریم نظر آتا ہے۔
اس مطلع میں خصائص ربوبیت پر بحث کی گئی ہے جو اس کائنات میں فعال ، موثر اور اس کی خالق ہے۔ ہر چیز کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے۔ ہر چیز پر وہ محیط ہے۔ ہر چیز کی علیم ہے۔ یہ ذات اس پوری کائنات کی پدیا کرنے والی ہے۔ انسان کے دلوں کے رازوں کو جاننے والی ہے۔ دلوں کے خفیہ رازوں کو جانتی ہے اور وہ اس پوری کائنات اور پوری انسانیت کی نگران ہے۔
اس سورة کا آغاز یوں تعریف ذات باری سے ہوتا ہے اور یہ پوری کائنات اللہ کی تسبیح کرنے لگتی ہے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز گنگنارہی ہے اہر ہر دل جو ہدایت کے لئے کھلا ہے ، وہ اسے خودسن رہا ہے۔ اگر اس پر حجاب پڑا ہوا نہ ہو۔ اس آیت کو اپنے ظاہر مفہوم سے بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ کا فرمان ایسا ہی ہے اور ہم اس کائنات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ، اس لئے اللہ جو کچھ فرماتا ہے اس کائنات کے خصائص بعینہ ویسے ہیں جس طرح ہمیں اللہ نے بتائے ہیں۔
سبح للہ ............ والارض (75 : 0) تو اس کے معنی یہی ہیں کہ ” اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے “ اس لئے اس میں کوئی تبدیلی اور تغیر نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں یقین کرلینا چاہئے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اس کی ایک روح ہے اور یہ روح کائنات اپنے خالق کی تسبیح کرتی ہے اور یہی وہ مفہوم ہے جس کی تصدیق صحیح آثار و احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ جیسا کہ بعض اہل دل کے تجربات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں جس وقت یہ دل اپنی صفائی اور اشراق کی حالت میں ہوتے ہیں اور وہ اس حقیقت سے متصل اور مربوط ہوجاتے ہیں جو اشیاء میں چھپی ہوتی ہے جو ان تمام چیزوں اور ان کی شکلوں کے پیچھے ہے یعنی روح کائنات۔
قرآن کریم میں ہے۔
یا جبال ............ والطیرلہٰذا پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کے لئے یکساں تھے اور حدیث میں آیا ہے امام مسلم نے جابر ابن سمرہ کی روایت نقل فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
ان بم کہ حجراکان لیسلم علی لیالی بعثت وانی لاعرفہ الان ” مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھ پر ان دنوں سلام کہتا تھا جب مجھے نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور وہ مجھے اب بھی معلوم ہے۔ “
امام ترمذی نے اپنی سند سے ، حضرت علی ابن ابوطالب سے روایت کی ہے ” میں رسول اللہ کے ساتھ مکہ میں تھا ، ہم مکہ کے اطراف میں سے ایک طرف میں نکل گئے۔ رسول اللہ کے سامنے جو درخت اور پتھر پہاڑ بھی آیا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ “ کہا اور امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس ابن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ایک کھجور کے تنے کے پہلو میں خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب انہوں نے حضور کے لئے منبر بنا لیا اور حضور نے اس پر کھڑے ہوکر خطبہ دیا تو کھجور کے تنے نے اس طرح فریاد کی جس طرح اونٹنی فریاد کرتی ہے۔ رسول اللہ منبر سے اترے اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا۔
اس حقیقت کے اظہار میں خود قرآن کی آیات صریح ہیں۔
الم تران ............ وتسبیحہ (42 : 14) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ، اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں ؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ “ اور دوسری جگہ ہے۔
الم تران اللہ ............ من الناس (22 : 81) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سر بسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان۔ “
وان من ................ تسبیحھم ” کوئی چیز ایسی نہیں ہے اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔ “ لہٰذا اس قسم کی نصوص کی تاویل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خصوصاً اس مقصد کے لئے کہ ہم ان آیات کو ایسے اصول موضوعہ کے ساتھ موافق کردیں جو قرآن سے ماخوذ نہیں ہیں۔ اس لئے کہ اس دنیا کے تمام موضوعات کو اس قرآن کے ساتھ مطابق ہونا چاہئے جو یقینا خالق کی طرف نازل ہوا ہے اور ہمارے بنائے ہوئے اصول شکی ہیں اور ہمارے بنائے ہوئے ہیں۔
وھو ............ الحکیم (75 : 1) ( اور وہی زبردست اور دانا ہے۔ ) زمین و آسمان کی مخلوقات اس کی تسبیح اس لئے کرتی ہے کہ وہ زبردست اور دانا ہے اور اس کی حکمت انتہائی حکمت ہے فائنل ہے وہ اپنی قوت قاہرہ کے ذریعہ تمام اشیاء پر حاوی ہے اور اس نے ہر چیز کو اپنی حکمت کے مطابق تخلیق کیا ہے۔
ابھی اس افتتاحی آیت کا فیض عام جاری تھا اور ہم پوری کائنات کے ساتھ جشن تسبیح میں مصروف تھے کہ سیاق کلام میں کائنات بالا کا ایک نیا سفر شروع ہوگیا۔
الحديد 57:2
لہ ملک ............ قدیر (75 : 2) ” زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے ، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “
آسمان اور زمین کی ہر چیز نے تسبیح کی ہے اللہ کی ، جو مالک سموت والارض ہے اور اس کی ملکیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ پس یہ تسبیح ہے از جانب غلام بحق آقا۔ یہ مالک کوئی دنیاوی مالک نہیں ہے۔ یہ تو موت وحیات کا بھی مالک ہے۔ وہ موت وحیات کا بھی خالق ہے۔ اس نے ہر زندہ کے لئے حیات اور ہر مرنے والے کے لئے موت مقدر کردی ہے۔ لہٰذا حیات وممات اس کی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں۔
حیات ابھی تک تو راز ہے اس کا سرچشمہ بھی اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ آج تک کوئی اللہ کے سوا اور کوئی سرچشمہ حیات نہیں بتا سکا نہ کوئی اس کی کیفیت آمد بتا سکا ہے اور یہ تو بڑی باتیں ہیں آج تک انسان حیات وممات کی حقیقت ہی نہیں سمجھ سکے کہ یہ کیا ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ ہی حیات دیتا ہے۔ ہر زندہ چیز کو حیات اللہ ہی دیتا ہے۔ کوئی شخص آج تک اس کا انکار نہیں کرسکا اور نہ اس کی ضد کو ثابت کرسکا ہے۔ اس طرح موت بھی ایک راز ہے جس کے اوپر پردے ہیں۔ کوئی شخص موت کی طبیعت اور ماہیت کو بھی نہیں جانتا۔ کوئی شخص موت کو پیدا نہیں کرتا کیونکہ جو حیات نہیں دے سکتا وہ اسے سلب بھی نہیں کرسکتا۔ یہ سب چیزیں اللہ کی ملکیت مطلقہ ہیں۔ اس لئے زمین و آسمان میں جو چیزیں بھی ہیں ان کی حیات بھی وہی دیتا ہے اور ان کو ممات بھی وہی دیتا ہے۔
وھو .................... قدیر (75 : 2) ” اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “ وہ ہر چیز پر قادر ہے بغیر حدود وقیود کے۔ اس کی مشیت مطلق ہے کسی حدوقید کے اندر محدود ومقید نہیں ہے۔ اس کی مشیت کا رابطہ ہر چیز سے ہوتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے ، ہوتا ہے۔ انسانی عقل اللہ کی قدرت پر اگر کوئی بندش لگاتی ہے خواہ جس رنگ میں ہو اور جس قسم کی ہو ، جس انداز کی ہو وہ باطل ہے۔ وہ عقل بشری کی پیدا کردہ سوچ ہے جو بذات خود محدود ہے۔ اور اللہ کی مشیت نے اس کائنات کے لئے جو قوانین قدرت اور نوامیس فطرت مقرر کیے ہیں۔ وہ اللہ کی مشیت مطلقہ میں داخل ہیں کہ وہ بلاحدود وقیودکام کررہی ہے۔ کیونکہ اللہ کی مشیت ان نوامیس فطرت کو آزادی سے اختیار کرتی ہے۔ اور ان قوانین قدرت کو اللہ کبھی کبھی توڑتا بھی ہے۔
قرآن کریم نے اس نکتے کو بہت اہمیت دی ہے۔ بار بار اس بات کی تصریح کی جاتی ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہاں تک کہ وہ خود اپنے بنائے ہوئے قوانین قدرت کے اجراء کو بھی روک سکتا ہے۔ تاکہ یہ حقیقت واضح ہو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اس میں کسی شے کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اللہ نے اہل جنت کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور اہل جہنم کے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ وہ جہنم میں رہیں گے اور یہ وعدہ اللہ کی مشیت کے نتیجے میں صادر ہوا ہے لیکن اللہ نے اپنی آزادی کو اس عہد کے دائرے سے ہی خارج رکھا ہے اور مستثنیٰ کیا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا۔
خلدین ............ ماشاء اللہ ” وہ اس میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں الایہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ “ جہاں بھی اس قسم کی بات آئی وہاں الا ماشاء اللہ کے الفاظ آئے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ خود اپنے فیصلوں کا پابند نہیں ہے۔ اس سلسلے میں عقلی گھوڑے دوڑانا جائز نہیں ہے۔ قرآن ہی اصل سرچشمہ ہے۔
اس آیت کے ذریعہ اس پوری کائنات پر اللہ کے اقتدار اعلیٰ اور مطلق مشیت کو ثابت کیا گیا ہے چونکہ وہ قادر مطلق ہے اس لئے اس کی تسبیح بھی ہر چیز کرتی ہے۔
اللہ کے اقتدار بےقید ثبوت اور اس کے فیضان عام سے اس کائنات کے جام جام کو لبالب کردینے کے بعد اب ایک دوسری عظیم حقیقت سامنے لائی جاتی ہے۔ یہ کہ اللہ کے سوا باقی چیزوں کا وجود ہی اصلی نہیں ہے۔ موجود و حقیقی اور واجب الوجود صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی تمام عالم کو محیط ہے اور وہی ہر چیز کا علیم ہے۔
الحديد 57:3
ھوالاول ................ علیم (75 : 3) ” وہی اول بھی ہے اور آخر بھی ، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ “ وہ اول یوں ہے کہ اس سے ماقبل کوئی چیز نہیں ہے۔ آخر یوں ہے کہ اس کے بعد کوئی چیز نہ ہوگی وہ ظاہر ہے یعنی اس کے اوپر کوئی چیز نہیں ہے اور وہ باطن ہے یعنی اس سے نیچے کوئی شیئی نہیں ہے۔
اول اور آخر کے الفاظ حقیقت زمانیہ کا استیعاب کرتے ہیں اور ظاہر اور باطن حقیقت مکانیہ کا استیعاب کرتے ہیں۔ مطلقاً ہر زمانے میں وہ موجود ہے اور مطلقاً ہر مکان میں وہ موجود ہے۔ اور کسی زمان ومکان میں قید نہیں ہے۔ اس تصور کے مطابق صرف وہی ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے اور ہمارا قلب اور ہمارا تصور بھی اسی سے وجود اخذ کرتا ہے۔ لہٰذا وجود الٰہی ہی حقیقی وجود ہے اور اللہ ہی حق ہے اور اللہ ہی حقیقت ہے اور کوئی حقیقت ہے تو وہ اللہ سے مستعاد ہے۔ نہ کسی اور کے پاس ذاتی حقیقت ہے اور نہ ذاتی وجود ہے ، اس پوری کائنات میں۔
وھو ................ علیم (75 : 3) ” اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ “ وہ حقیقی اور کامل علم رکھتا ہے۔ اس لئے کہ تمام اشیاء کی حقیقت تو ادھر ہی سے آئی ہوئی ہے لہٰذا اللہ کے ذاتی علم میں ہے۔ اور اللہ کا علم ایسا ہے کہ اس کی حقیقت ، اس کی نوعیت اور اس کی صفات میں کوئی بھی شریک نہیں۔ کسی اور کے پاس ایسا علم نہیں ہے۔ چاہے مخلوق کو جس قدر ظاہری معلومات بھی ہوں۔
جب کسی دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو اسے پھر اللہ کی ذات کے سوا کسی اور چیز کی پرواہ ہی نہیں رہتی۔ کوئی چیز یہاں تک کہ انسانی قلب وعقل کوئی حقیقت اور کوئی وجود نہیں رکھتے مگر وہی جو اس حقیقت کبریٰ نے عطا کیا ہوتا ہے۔ ہر چیز وہم ہے ، جانے والی ہے۔ صرف اللہ ہی باقی رہنے والا ہے۔ اور وہی ایک حقیقی وجود ہے۔
جب کوئی دل اس حقیقت کو اپنے اندر بٹھا لے تو وہ اس حقیقت تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ وہ ایک نہایت ہی بلند مرتبہ سکون وقرار تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن جب تک وہ اس رتبہ حصول الی الحقیقت پر فائز نہیں ہوجاتا اسے چاہئے کہ وہ اس آیت پر تدبر کرتا رہے اور یہ کوشش کرتا رہے کہ وہ اس کے مدلول اور حقیقت تک پہنچ جائے ، اس آیت کا مفہوم ہی بڑی حقیقت ہے۔
اہل تصوف نے اسی حقیقت ، عظیم حقیقت کو پکڑ لیا۔ انہوں نے اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا اور اس میں انہوں نے کئی کئی راتے نکالے۔ بعض نے کہا کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز میں اللہ کو دیکھتے ہیں۔ بعض نے کہا انہوں نے دیکھا کہ ہر چیز کے پیچھے اللہ کھڑا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس نے اللہ کو دیکھا ہے اور اس کائنات میں تو اسے اللہ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر ہم الفاظ کی کمی بیشی اور الفاظ کی تنگ دامانی کو نظر انداز کردیں تو یہ سب اقوال اسی حقیقت کی طرف اشارہ کررہے ہیں ، لیکن متصوفین پر جو تنقید کی جاسکتی ہے۔ وہ صرف یہ ہے انہوں نے اس تصور کو اپنے اوپر اس قدر طاری کردیا ہے کہ عملی زندگی کو مہمل کردیا۔ جبکہ اسلام کا متوازن انداز یہ تھا کہ انسان کے دل و دماغ اس حقیقت کو اخذ کریں ، اس کے اندر رہیں اور بسیں لیکن وہ اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت بھی ادا کریں جس کے لئے اللہ نے ان کی تخلیق کی ہے۔ اور اس کے تمام تقاضے پورے کریں جن میں سے بڑی چیز یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں وہ نظام زندگی قائم کریں جو اللہ نے اس قرآن میں نازل فرمایا ہے۔ اس خیال سے کہ اس عظیم حقیقت کے تصور ہی کے مطابق اس دنیا میں انسان کو اپنی زندگی بسر کرنی ہے۔ یہ نظام فطرت انسانی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس طرح اللہ نے اسے پیدا کیا ہے اور جس طرح اس نے قرآن کو بطور ہدایت نامہ بھیجا ہے۔
اس عظیم حقیقت کو قلب میں بٹھانے کے بعد اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس حقیقت کبریٰ کا ظہور اس کائنات میں کیونکر ہوا ؟
الحديد 57:4
ھوالذی ................ الصدور (6) (75 : 4 تا 6)
” وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ وہی زمین اور آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لئے اس کی طرف رجوع کئے جاتے ہیں۔ وہی رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ “
زمین و آسمان کی تخلیق کی حقیقت ، عرش پر استوا کی حقیقت اور پوری مخلوقات کا احاطہ اور کنٹرول اور ان تمام اشیاء کا علم اور یہ حقیقت کہ اللہ ہر چیز کے ساتھ موجود ہے جہاں بھی وہ ہو۔ اور یہ کہ تمام امور کا مرجع اللہ کی طرف ہے ، اور یہ کہ وہ اس پوری کائنات میں متصرف ہے۔ اور یہ کہ وہ دلوں کے رازوں اور سوچوں کو بھی جاننے والا ہے۔ یہ سب حقائق اسی بڑی حقیقت سے نکلے ہوئے ہیں جس کا اوپر ذکر ہوا۔ لیکن ان چیزوں کو دوبارہ اس کائناتی جزئیات کے ساتھ متعلق کرکے ذکر کرنے کا قلب پر اثر ہوتا ہے اور اس پر قدرت الٰہیہ کا پر تو پڑتا ہے۔ یہ آسمان اور یہ زمین اور یہ عظیم کائنات جب انسانی سوچ کا مرکز بنتے ہیں تو اپنی عظمت اور جلالت کے باعث ، اپنی خوبصورتی اور نظام کے باعث ، اپنے پیچیدہ نظم ونسق کے باعث ، اپنی منظم حرکات کے باعث ، اپنے تسلسل کی وجہ سے یہ انسانی قلب ونظر کو بےحد متاثر کرتے ہیں۔ پھر یہ مخلوقات بھی انسانوں جیسی مخلوق ہیں لہٰذا انسانی دل ان کے ساتھ ایک قسم کا انس اور محبت رکھتا ہے ، جب انسان کا دل و دماغ اس عظیم کائنات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تو فکر ونظر کی تاروں پہ ضربات پڑتی ہیں اور ان سے نئے نئے فکری زمزمے نکلتے ہیں۔ انسان ان کی طرف کان دھرتا ہے ، بڑے غور سے سنتا ہے ، مسحور ہوجاتا ہے۔ یہ نغمے اسے کیا پیغام دیتے ہیں کہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا ہے ، اس نے اس کو بھی پیدا کیا ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی تسبیح کرتی ہیں اور انسان بھی اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ہم نے بھی اپنا وجود خالق کائنات سے لیا ہے اور تم نے بھی۔ لہٰذا اس کائنات میں صرف وہی ایک حقیقت ہے جو اہم ہے۔
یہ چھ دن کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمارے دنوں کی حقیقت ہی کیا ہے ؟ یہ تو سورج کے سامنے زمین کی گردش محوری کا نتیجہ ہیں۔ اور یہ سورج اور یہ زمین تو اللہ کے ایام کے بعد وجود میں آئے ہیں۔ لہٰذا یہ وہ ایام نہیں ہیں جن میں اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ لہٰذا اس کو بھی اللہ پر چھوڑ دیں جب چاہے گا ہمیں بتا دے گا۔
اور یہ عرش الٰہی ، ہم اس پر اس طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح اللہ نے اس کا تذکرہ کیا ہے اور اس کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے عرش پر استوا حاصل کیا تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد اس کائنات پر مکمل کنٹرول ہے۔ کیونکہ قرآن مجید نے یہ بات واضح طور پر کہہ دی ہے کہ اللہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ اس لئے کبھی ایسا نہ تھا کہ وہ کسی وقت عرش پر نہ ہو اور بعد میں متمکن ہوا ہو۔ اور یہ بات کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہمیں اس کی کیفیت معلوم نہیں ہے ، یہ ایک ایسی بات ہے جو۔
ثم استوی ............ العرش (75 : 4) ” پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا “ کی تشریح نہیں کرتا۔ لہٰذا اسے اس کائنات کے اقتدار اعلیٰ اور کنٹرول سے کنایہ کہنا چاہئے اور اس قسم کی تفسیر سے اس اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی جو ہم نے ابھی بیان کی ہے۔ کیونکہ اس کنایہ میں ہم نے اپنا کوئی خیال پیش نہیں کیا بلکہ قرآن کی ایک طے شدہ حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مبین ہے۔ اور اس تصور کی طرف اشاہ کیا ہے جو ذات باری خود دیتا ہے۔
تخلیق اور کنٹرول اور مکمل علم کے ساتھ ، یہ آیت اس حقیقت کو ایک ایسی تصویری انداز میں پیش کرتی ہے کہ قلب ونظر اس میں گم ہوجاتے ہیں ، یہ تصویر بہت وسیع ہے ، بلکہ یہ تصویر مسلسل حرکت میں ہے ، بہ حرکت کسی بھی وقت رکتی نہیں ہے۔ یہ محض تصوراتی تصویر نہیں ہے اور نہ شعلہ خیال ہے بلکہ ایک موثر اشاراتی رنگ ہے جو انسانی دل و دماغ کے ہر پہلو کو بھردیتا ہے ، اس سے انسان کے دل دھڑکتے ہیں ، خیال کی لہریں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں اور فکرکے سوتے پھوٹتے رہتے ہیں۔ ذرا غور سے پڑھئے :
یلعم ............ فیھا (75 : 4) ” اس کے علم میں ہے جو زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے ، اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے “۔ ہر لمحہ زمین کے اندر جاندار اور بےجان چیزوں کی بیشمار تعداد داخل ہوتی ہے۔ اور اسی طرح ہر لحظہ زمین سے۔ لاتعدولا نقص زندہ اور غیر زندہ اشیاء نکلتی ہیں۔ آسمان سے جو بارشیں برستی ہیں جو شعاعیں یہاں مختلف ستاروں سے پہنچتی ہیں ، شہاب ثاقب جو گرتے ہیں ، فرشتے جو اترتے ہیں راز اور اقدار جو اترتی ہیں اور جو چیزیں آسمانوں میں چڑھتی ہیں ، جو نظر آتی ہیں اور جو نظر نہیں آتیں جن کی تعداد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ غرض یہ مختصر سی آیت ایک مسلسل حرکت کی طرف خیال کو پھیرتی ہے جو کبھی منقطع نہیں ہے اور ان بڑے بڑے واقعات کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کی تعداد معلوم نہیں ہے۔ اور انسان کا خیال مسلسل اس حرکت کے ساتھ چپک جاتا ہے کیونکہ زمین میں ہر وقت چیزیں داخل ہورہی ہیں۔ اور آسمان کی طرف ہر وقت چیزیں چڑھ رہی ہیں۔ اس طرح انسان اللہ کے علم کی وسعت سے متاثر رہتا ہے۔ جب انسان ان لاتعداد چیزوں کو دیکھتا ہے اور شمار نہیں کرسکتا۔
اگر کوئی دل اس حقیقت کی طرف دائما التفات رکھے تو وہ اللہ کی معیت میں زندگی بسر کرسکتا ہے۔ وہ اس کی مملکت میں سیر کرسکتا ہے ، جبکہ اس کا جسم اپنی جگہ برقرار ہوگا ، وہ اس کائنات کی وادیوں کی سیر کرسکتا ہے اور وہ نہایت حساسیت اور صاف و شفاف سوچ کے ساتھ نہایت خوف وتقویٰ کی حالت میں ملکوت سماوات میں گھوم پھر سکتا ہے۔
ابھی پڑھنے والا ان خیالات کے ساتھ زمین و آسمان کی وادیوں میں گھوم رہا تھا کہ قرآن نے اس کا دامن پکڑ لیا کہ ذرا اپنی ذات کی وادی میں بھی سیر کرو ، جب وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ اپنی ذات کی وادیوں میں گھومتا ہے تو باری تعالیٰ کو وہاں بھی موجودپاتا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے وہ جانتا ہے اور وہ بہت قریب ہے شہ رگ سے بھی زیادہ !
وھو معکم ............ بصیر (75 : 4) ” وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ “ یہ کوئی مجاز نہیں ہے ، یہ ایک حقیقت ہے ۔ اللہ ہر کسی کے ساتھ موجود ہے۔ ہر چیز کے ساتھ موجود ہے۔ ہر وقت موجود ہے۔ ہر مکان میں موجود ہے۔ وہ بندوں کے ہر عمل سے خبردار ہے اور دیکھتا ہے اگر کوئی صرف اس حقیقت کو دل میں بٹھا لے تو یہ ایک عظیم حقیقت ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ ایک پہلو سے انسان کو سراسیمہ کردیتی ہے اور ایک پہلو سے انسان کو امید اور محبت عطا کرتی ہے۔ بس یہی ایک حقیقت اگر کسی انسان کے قلب میں بیٹھ جائے تو اسے بلند کرنے اور پاک وصاف کرنے کے لئے یہ کافی ہے۔ انسان اس دنیا کی تمام دلچسپیوں اور مطلب پرستیوں سے دامن چھڑا کر اللہ کا ہوجاتا ہے اور پھر وہ ہر معاملے میں بہت محتاط ، خشیت اور خوف خدان سے سرشار اور ہر گندگی میں پڑنے سے رک جاتا ہے کیونکہ اس کو اللہ سے حیا آتی ہے۔ اب وادی ملکوت السموات والارض کی سیر ایک دوسرے زاویہ سے۔ یہ سیر ذرا اس سیر سے مختلف قسم کی ہے جو پہلے مذکور ہوئی۔
لہ ملک ............ الامور (75 : 5) ” وہی زمین و آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لئے اس کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں۔ “ سماوات اور ارض کا ذکر پہلے تخلیق کے سلسلے میں ہوا اور حیات وممات کے نقطہ نظر سے ہوا۔ اور قضا وقدر کے زاویہ سے ہوا۔ یہاں اس زاویہ سے کہ ان کے فیصلے اللہ بادشاہ کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ جب اللہ ہی مالک ہے تو فیصلے کرنا بھی اس کے اختیار میں ہے۔
جب انسان میں یہ شعور پختہ ہوجائے تو پھر وہ ہر معاملے میں اللہ کی رضا دیکھتا ہے۔ اپنے کاموں کے آغاز میں بھی اور انتہا میں بھی وہ دیکھتا ہے کہ اللہ کی مرضی کیا ہے۔ یہ شعور انسان کو غیر اللہ سے بےنیاز کردیتا ہے۔ اور ہر معاملے میں اللہ کا نیاز مند کردیتا ہے اور اسے تنہائی میں اور سوسائٹی میں ہر جگہ اللہ کی راہ پر گامزن کردیتا ہے۔ اس کی حرکت اور سکون ، اس کا مشورہ اور اس کی سوچ سب اللہ کی نگرانی میں ہوتی ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ اسے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
اس سورة کا یہ پہلا پیراگراف ایک ایسی حرکت پر ختم ہوتا ہے جو اس کائنات میں دست قدرت کا مظہر ہے ، جو انسانی ضمیر کی گہرائیوں تک اترتی ہے۔
الحديد 57:5
ھوالذی ................ الصدور (6) (75 : 4 تا 6)
” وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ وہی زمین اور آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لئے اس کی طرف رجوع کئے جاتے ہیں۔ وہی رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ “
زمین و آسمان کی تخلیق کی حقیقت ، عرش پر استوا کی حقیقت اور پوری مخلوقات کا احاطہ اور کنٹرول اور ان تمام اشیاء کا علم اور یہ حقیقت کہ اللہ ہر چیز کے ساتھ موجود ہے جہاں بھی وہ ہو۔ اور یہ کہ تمام امور کا مرجع اللہ کی طرف ہے ، اور یہ کہ وہ اس پوری کائنات میں متصرف ہے۔ اور یہ کہ وہ دلوں کے رازوں اور سوچوں کو بھی جاننے والا ہے۔ یہ سب حقائق اسی بڑی حقیقت سے نکلے ہوئے ہیں جس کا اوپر ذکر ہوا۔ لیکن ان چیزوں کو دوبارہ اس کائناتی جزئیات کے ساتھ متعلق کرکے ذکر کرنے کا قلب پر اثر ہوتا ہے اور اس پر قدرت الٰہیہ کا پر تو پڑتا ہے۔ یہ آسمان اور یہ زمین اور یہ عظیم کائنات جب انسانی سوچ کا مرکز بنتے ہیں تو اپنی عظمت اور جلالت کے باعث ، اپنی خوبصورتی اور نظام کے باعث ، اپنے پیچیدہ نظم ونسق کے باعث ، اپنی منظم حرکات کے باعث ، اپنے تسلسل کی وجہ سے یہ انسانی قلب ونظر کو بےحد متاثر کرتے ہیں۔ پھر یہ مخلوقات بھی انسانوں جیسی مخلوق ہیں لہٰذا انسانی دل ان کے ساتھ ایک قسم کا انس اور محبت رکھتا ہے ، جب انسان کا دل و دماغ اس عظیم کائنات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تو فکر ونظر کی تاروں پہ ضربات پڑتی ہیں اور ان سے نئے نئے فکری زمزمے نکلتے ہیں۔ انسان ان کی طرف کان دھرتا ہے ، بڑے غور سے سنتا ہے ، مسحور ہوجاتا ہے۔ یہ نغمے اسے کیا پیغام دیتے ہیں کہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا ہے ، اس نے اس کو بھی پیدا کیا ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی تسبیح کرتی ہیں اور انسان بھی اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ہم نے بھی اپنا وجود خالق کائنات سے لیا ہے اور تم نے بھی۔ لہٰذا اس کائنات میں صرف وہی ایک حقیقت ہے جو اہم ہے۔
یہ چھ دن کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمارے دنوں کی حقیقت ہی کیا ہے ؟ یہ تو سورج کے سامنے زمین کی گردش محوری کا نتیجہ ہیں۔ اور یہ سورج اور یہ زمین تو اللہ کے ایام کے بعد وجود میں آئے ہیں۔ لہٰذا یہ وہ ایام نہیں ہیں جن میں اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ لہٰذا اس کو بھی اللہ پر چھوڑ دیں جب چاہے گا ہمیں بتا دے گا۔
اور یہ عرش الٰہی ، ہم اس پر اس طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح اللہ نے اس کا تذکرہ کیا ہے اور اس کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے عرش پر استوا حاصل کیا تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد اس کائنات پر مکمل کنٹرول ہے۔ کیونکہ قرآن مجید نے یہ بات واضح طور پر کہہ دی ہے کہ اللہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ اس لئے کبھی ایسا نہ تھا کہ وہ کسی وقت عرش پر نہ ہو اور بعد میں متمکن ہوا ہو۔ اور یہ بات کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہمیں اس کی کیفیت معلوم نہیں ہے ، یہ ایک ایسی بات ہے جو۔
ثم استوی ............ العرش (75 : 4) ” پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا “ کی تشریح نہیں کرتا۔ لہٰذا اسے اس کائنات کے اقتدار اعلیٰ اور کنٹرول سے کنایہ کہنا چاہئے اور اس قسم کی تفسیر سے اس اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی جو ہم نے ابھی بیان کی ہے۔ کیونکہ اس کنایہ میں ہم نے اپنا کوئی خیال پیش نہیں کیا بلکہ قرآن کی ایک طے شدہ حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مبین ہے۔ اور اس تصور کی طرف اشاہ کیا ہے جو ذات باری خود دیتا ہے۔
تخلیق اور کنٹرول اور مکمل علم کے ساتھ ، یہ آیت اس حقیقت کو ایک ایسی تصویری انداز میں پیش کرتی ہے کہ قلب ونظر اس میں گم ہوجاتے ہیں ، یہ تصویر بہت وسیع ہے ، بلکہ یہ تصویر مسلسل حرکت میں ہے ، بہ حرکت کسی بھی وقت رکتی نہیں ہے۔ یہ محض تصوراتی تصویر نہیں ہے اور نہ شعلہ خیال ہے بلکہ ایک موثر اشاراتی رنگ ہے جو انسانی دل و دماغ کے ہر پہلو کو بھردیتا ہے ، اس سے انسان کے دل دھڑکتے ہیں ، خیال کی لہریں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں اور فکرکے سوتے پھوٹتے رہتے ہیں۔ ذرا غور سے پڑھئے :
یلعم ............ فیھا (75 : 4) ” اس کے علم میں ہے جو زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے ، اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے “۔ ہر لمحہ زمین کے اندر جاندار اور بےجان چیزوں کی بیشمار تعداد داخل ہوتی ہے۔ اور اسی طرح ہر لحظہ زمین سے۔ لاتعدولا نقص زندہ اور غیر زندہ اشیاء نکلتی ہیں۔ آسمان سے جو بارشیں برستی ہیں جو شعاعیں یہاں مختلف ستاروں سے پہنچتی ہیں ، شہاب ثاقب جو گرتے ہیں ، فرشتے جو اترتے ہیں راز اور اقدار جو اترتی ہیں اور جو چیزیں آسمانوں میں چڑھتی ہیں ، جو نظر آتی ہیں اور جو نظر نہیں آتیں جن کی تعداد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ غرض یہ مختصر سی آیت ایک مسلسل حرکت کی طرف خیال کو پھیرتی ہے جو کبھی منقطع نہیں ہے اور ان بڑے بڑے واقعات کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کی تعداد معلوم نہیں ہے۔ اور انسان کا خیال مسلسل اس حرکت کے ساتھ چپک جاتا ہے کیونکہ زمین میں ہر وقت چیزیں داخل ہورہی ہیں۔ اور آسمان کی طرف ہر وقت چیزیں چڑھ رہی ہیں۔ اس طرح انسان اللہ کے علم کی وسعت سے متاثر رہتا ہے۔ جب انسان ان لاتعداد چیزوں کو دیکھتا ہے اور شمار نہیں کرسکتا۔
اگر کوئی دل اس حقیقت کی طرف دائما التفات رکھے تو وہ اللہ کی معیت میں زندگی بسر کرسکتا ہے۔ وہ اس کی مملکت میں سیر کرسکتا ہے ، جبکہ اس کا جسم اپنی جگہ برقرار ہوگا ، وہ اس کائنات کی وادیوں کی سیر کرسکتا ہے اور وہ نہایت حساسیت اور صاف و شفاف سوچ کے ساتھ نہایت خوف وتقویٰ کی حالت میں ملکوت سماوات میں گھوم پھر سکتا ہے۔
ابھی پڑھنے والا ان خیالات کے ساتھ زمین و آسمان کی وادیوں میں گھوم رہا تھا کہ قرآن نے اس کا دامن پکڑ لیا کہ ذرا اپنی ذات کی وادی میں بھی سیر کرو ، جب وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ اپنی ذات کی وادیوں میں گھومتا ہے تو باری تعالیٰ کو وہاں بھی موجودپاتا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے وہ جانتا ہے اور وہ بہت قریب ہے شہ رگ سے بھی زیادہ !
وھو معکم ............ بصیر (75 : 4) ” وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ “ یہ کوئی مجاز نہیں ہے ، یہ ایک حقیقت ہے ۔ اللہ ہر کسی کے ساتھ موجود ہے۔ ہر چیز کے ساتھ موجود ہے۔ ہر وقت موجود ہے۔ ہر مکان میں موجود ہے۔ وہ بندوں کے ہر عمل سے خبردار ہے اور دیکھتا ہے اگر کوئی صرف اس حقیقت کو دل میں بٹھا لے تو یہ ایک عظیم حقیقت ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ ایک پہلو سے انسان کو سراسیمہ کردیتی ہے اور ایک پہلو سے انسان کو امید اور محبت عطا کرتی ہے۔ بس یہی ایک حقیقت اگر کسی انسان کے قلب میں بیٹھ جائے تو اسے بلند کرنے اور پاک وصاف کرنے کے لئے یہ کافی ہے۔ انسان اس دنیا کی تمام دلچسپیوں اور مطلب پرستیوں سے دامن چھڑا کر اللہ کا ہوجاتا ہے اور پھر وہ ہر معاملے میں بہت محتاط ، خشیت اور خوف خدان سے سرشار اور ہر گندگی میں پڑنے سے رک جاتا ہے کیونکہ اس کو اللہ سے حیا آتی ہے۔ اب وادی ملکوت السموات والارض کی سیر ایک دوسرے زاویہ سے۔ یہ سیر ذرا اس سیر سے مختلف قسم کی ہے جو پہلے مذکور ہوئی۔
لہ ملک ............ الامور (75 : 5) ” وہی زمین و آسمان کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لئے اس کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں۔ “ سماوات اور ارض کا ذکر پہلے تخلیق کے سلسلے میں ہوا اور حیات وممات کے نقطہ نظر سے ہوا۔ اور قضا وقدر کے زاویہ سے ہوا۔ یہاں اس زاویہ سے کہ ان کے فیصلے اللہ بادشاہ کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ جب اللہ ہی مالک ہے تو فیصلے کرنا بھی اس کے اختیار میں ہے۔
جب انسان میں یہ شعور پختہ ہوجائے تو پھر وہ ہر معاملے میں اللہ کی رضا دیکھتا ہے۔ اپنے کاموں کے آغاز میں بھی اور انتہا میں بھی وہ دیکھتا ہے کہ اللہ کی مرضی کیا ہے۔ یہ شعور انسان کو غیر اللہ سے بےنیاز کردیتا ہے۔ اور ہر معاملے میں اللہ کا نیاز مند کردیتا ہے اور اسے تنہائی میں اور سوسائٹی میں ہر جگہ اللہ کی راہ پر گامزن کردیتا ہے۔ اس کی حرکت اور سکون ، اس کا مشورہ اور اس کی سوچ سب اللہ کی نگرانی میں ہوتی ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ اسے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
اس سورة کا یہ پہلا پیراگراف ایک ایسی حرکت پر ختم ہوتا ہے جو اس کائنات میں دست قدرت کا مظہر ہے ، جو انسانی ضمیر کی گہرائیوں تک اترتی ہے۔
الحديد 57:6
یولج اللیل ............ الصدور (75 : 6) ” وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ “ رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا ایک مسلسل حرکت ہے ، لیکن یہ نہایت ہی لطیف حرکت ہے ، بظاہر پرسکون نظر آتی ہے۔ اس کے معنی چاہے یہ ہوں کہ رات اور دن چھوٹے بڑے ہوتے رہتے ہیں ، رات کا ایک حصہ دن کو دیا جاتا ہے یا دن کا ایک حصہ چھوٹا کرکے رات کو دیا جاتا ہے ، یا طلوع و غروب کے وقت ان کا باہم تداخل مراد ہو ، لیکن یہ ایک مسلسل لطیف حرکت ہے۔ اور دلوں کے اندر ایک حرکت ہے۔ اور یہ خیال کی حرکت ہے۔ اور یہ ہر وقت دل میں ہوتی ہے۔ دلوں والی ہے ، یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ یہ انسانی شعور کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، جو رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، نہایت ہی لطیف شعور ہے اور یہ شعور کہ اللہ دلوں کے لطیف ترین اور مخفی تصورات کو بھی جانتا ہے ، ایک عظیم چیز ہے !
اس سورت کا یہ پہلا پیراگراف انسانی احساس کو اس قدر تیز کردیتا ہے کہ اب وہ ہدایات لینے کے لئے تیار ہے۔ لہٰذا اب اسلامی جماعت کو حکم دیا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ اور مناسب وقت میں انفاق فی سبیل اللہ کا مظاہرہ کرو۔ یہ ہدایت ایسے حالات میں دی جاتی ہے کہ انسان کا اندرونی اور اس کے قلب کی طرف جانے والے تمام راستوں کے دروازے کھلے ہیں ، اس کا شعور بیدار ہے ، وہ سننے کے لئے بےتاب ہے۔ چناچہ ایسی حالت میں یہ پکار آتی ہے۔ لیکن یہ بھی اپنے اندر نہایت اثر انداز ہونے والے دلائل ، اور جھنجھوڑنے والی تنبیہات کے ساتھ آتی ہے۔
الحديد 57:7
یہاں اللہ تعالیٰ اب ان دلوں سے مخاطب ہے جن کو خود اس نے پیدا کیا ہے ۔ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ ان دلوں میں بات داخل کرنے کی راہیں کیا ہیں۔ کیونکہ ان کے حالات سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے۔ خفیہ ترین خیالوں سے بھی اللہ باخبر ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ دلوں میں ایمان کس طرح بیٹھتا ہے۔ دل غیر ایمانی شوائب سے کس طرح پاک ہوتا ہے اور یہ ایمان پھر کس طرح عملی زندگی میں ایک بڑے درخت کی طرح اگتا ہے ، اور انسان انفاق فی سبیل اللہ اور اللہ کے راستے میں کس طرح بڑھ کر جان تک قربان کردیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو انسانی قوت سے بہت بڑا ہے ، اور اس کے حصول کے لئے بہت بڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ اپنی مخلوق کو تربیت دینے کے لئے اس قسم کے دلائل اور موثرات اور ہدایات دیتا ہے۔ پوری کائنات کے حقائق اس کے سامنے پیش کرتا ہے کہ حضرت انسان ان سے متاثر ہو ، اور دنیا کی تمام چیزوں کو اللہ کے ترازو سے تولے اور ناپے۔ اللہ بار بابر اور قدم قدم پر انسان کی تربیت کے لئے یہ انتظام فرماتا ہے۔ اور صرف یہ نہیں کہ سیدھا سادا حکم دے دیا جائے کہ اہل ایمان درج ذیل باتوں پر عمل کرلیں۔ قرآن نہ اس قسم کا خشک سرکلر جاری کرتا ہے نہ خشک قانون بناتا ہے بلکہ وہ ہر جگہ اطمینان بخش دلائل دیتا ہے۔ ہر وقت انسانی سوچ کی تاروں کو چھیڑتا ہے۔ انسانوں کی تربیت کے لئے قرآنی انداز اور منہاج اس قابل ہے کہ اسلامی انقلاب کے داعی اس پر بہت غور کریں ۔ اسے سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ اس سورت کے آغاز میں جو موثر دلائل اور اشارات دیئے گئے تھے وہ دلوں پر گہرے اثرات چھوڑنے والے تھے۔ ان کو پڑھ کر سخت سے سخت دل موم ہوجاتے ہیں اور نہایت ہی خوابیدہ اور مدہوس شعور بھی جاگ اٹھتا ہے۔ لیکن قرآن کریم انہیں دوسرے پیرے میں بھی ان کو مسلسل جھنجھوڑتا اور ایما اور تلقین جاری ہے۔ ہدایات اور ارشادات بھی جاری ہیں اور ساتھ ساتھ دلائل واشارات بھی جاری ہیں۔
امنو ............................ فیہ (75 : 7) ” ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے۔ “
یہاں اس آیت کے مخاطب مسلم ہیں بلکہ نہایت قدیم اور دور اول کے مومن ہیں۔ لیکن ان کو بھی کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور رسول اللہ پر۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے دلوں کے اندر حقیقت ایمانیہ پیدا کرو ، یہ ایک گہری ہدایت ہے اور گہرا نکتہ ہے کیونکہ بلایا تو اس طرف جارہا ہے کہ اللہ کی راہ میں انفاق کرو ، لیکن اس سے پہلے ہی یہ اشارہ دے دیا کہ اپنے دلوں کے اندر حقیقت ایمانی پیدا کرو ، اور اس انفاق کے حکم کے بعد بھی ایک اشارہ اور ہدایت کہ تم جو کچھ خرچ کررہے ہو وہ اپنے مال سے نہیں خرچ کررہے ، یہ تو اللہ کا مال ہے اور اس نے تمہاری نگرانی اور خلافت میں دے دیا ہے۔ کیونکہ ابھی تمہیں یہ سمجھایا گیا ہے کہ۔
لہ ملک ............ والارض ” زمین و آسمان کی بادشاہت اور ملکیت اسی کی ہے۔ “ یہ اللہ ہی ہے جس نے انسانوں کو اس زمین پر ایک محدود خلافت اور نیابت دی ہے۔ زندہ کرنے اور مارنے والا تو وہ ہے۔ یوں اس نے تمہیں زمین میں نسلابعد نسل خلیفہ بنایا ہے۔
سورت کے آغاز میں جو اصولی باتیں بیان کی گئی تھیں ، یہ ہدایات ان کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہیں۔ اور یہ سب تصورات اب مل کر اہل ایمان کو قائل کرتے ہیں کہ وہ مالک جس نے تمہیں اس زمین پر ، اس کے خزانوں پر خلیفہ بنایا ہے ، تمہیں اس نے سب کچھ دیا ہے ، بتاؤ وہ اپنی ہی دولت کا ایک حصہ تم سے مانگ رہا ہے۔ کیا خیال ہے تمہارا ، دو گے اللہ کو کچھ ، دیکھو اللہ ہی دینے والا ہے ، اس کے خزانوں میں کمی نہیں ہے۔ تم کیوں ہاتھ کھینچے ہوئے ہو ، یہ تو اسی کا ہے ؟
فقط اس پر بھی بات ختم نہیں ہے کہ دلائل دیئے ، قائل کیا اور نہایت فہمائش اور محض امید پر ، بلکہ اس کے بعد ایک موثر خطاب آتا ہے کہ اس انفاق کا ایک نہایت ہی بڑا معاوضہ بھی تمہیں ملے گا۔ اس کا فضل وکرم بھی تم پر ہوگا۔
فالذین ................ کبیر (75 : 7) ” جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لئے بڑا اجر ہے۔ “ اب کون ہے جو ایمان کا دامن چھوڑ کر پیچھے رہ سکتا ہے۔ کون ہے جو انفاق سے پیچھے رہ سکتا ہے ، اور کون ہے جو اپنے آپ کو اس فضل وکرم سے محروم کرسکتا ہے ؟
لیکن ابھی بات یہاں بھی ختم نہیں ہے اب ان چنکیوں اور دلائل ، ہدایات واشارات کے بعد ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وقت کو بھی دیکھو ، حالات کی نزاکت کا احساس بھی کرو ، اس وقت کے حالات پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ وقت کا تقاضا کیا ہے۔
الحديد 57:8
ومالکم ............ رحیم (9) (75 : 8۔ 9) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے۔ اگر تم واقعی ماننے والے ہو۔ وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کررہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ “
آخر ایمان کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے ؟ ایمان تو وہ لا چکے ہیں ایمان لانے کا حق یہاں مطلوب ہے۔ پھر دعوت ذات رسول کی طرف سے ہے ، جن کے ہاتھ پر تم بیعت کرچکے ہو ، پختہ وعدہ کرچکے ہو۔ اور پھر آسمانوں سے آیات بینات کی پے درپے موسلا دھار بارش ہورہی ہے۔ یہ آیات تمہیں اندھیروں ، شک اور یحرانی سے نکال رہی ہیں۔ ہدایت ویقین اور اطمینان کی روشنی تمہیں دی جارہی ہے ۔ ایسے حالات میں جن میں تم پر رحمتوں کی بارشیں ہورہی ہیں۔
نبی آخر الزمان کا کسی قوم میں موجود ہونا ، ان کا اللہ کی زبان و کلام میں گفتگو فرمانا کلام اللہ پڑھ پڑھ کردیتا ہے۔ اور یہ اس قدر عظیم نعمت ہے جس کا تصور نہ پہلے کسی نے کیا اور نہ بعد میں ہوسکے گا۔ آج ہم چودہ سو سال کی دوری سے جب اسے سوچتے ہیں ، تو یہ دور ، وحی کا دور ، حیات رسول کا دور فی الواقع عظیم نعمتوں کا دور تھا ، خوشیوں کا دور تھا ، نیک بختیوں کا دور تھا ، کیا ہی دور تھا ، اللہ جل جلالہ ، بذات خود رسول اللہ کی زبانی اپنے بندوں کو بتارہا ہے۔ نہایت رحمت ، محبت اور کرم کے ساتھ ، لو یہ کام کرو ، دیکھو اس سے بچو ، یہ ہے راہ اس پر چلو ، یہ دیکھو تم غلط ہوگئے ہو ، یہ ہے میری رسی اسے پکڑو اور نکل آؤ گڑھوں سے ، کنوؤں سے ، توبہ کرو ، توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔
ایں درگہ ما درگہ ناامید نیست
صدبار اگر توبہ شکستی باز آ
آؤ دور تک نہ چلے جاؤ غلط راہوں پر ، میری رحمت سے مایوس نہ ہو ، وہ تو اس قدر وسیع ہے کہ سب کائنات اس میں ڈوب جاتی ہے۔ اسے فلاں نے یہ کہا ہے ، یہ غلط ہے۔ اسے فلاں تونے یہ سوچا ہے ، یہ غلط ہے۔ یہ تو گناہ ہے۔ فلاں فلاں کاموں کا تونے ارتکاب کیا ہے یہ غلط ہے۔ آؤ، توبہ کرو اور میری رحمت میں داخل ہوجاؤ۔ اے فلاں وہ فلاں فلاں چیزیں تمہیں روک رہی ہیں ان کو اتار پھینکو ، فلاں تونے یہ سوال کیا ہے یہ ہے جواب اس کا۔ اور یہ کام جو تونے کیا ہے اس کا یہ وزن ہے۔
یہ لوگ جو اللہ کے ساتھ رہتے ہیں ، جو اس کی مخلوق ہیں ، جن کو اللہ تلقین فرماتا ہے جن کے ساتھ یوں ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ اپنے اندر تیز احساس رکھتے ہیں کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور وہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ یہ حقیقت ہے اور یہ واقعہ ہے رات کی تاریکیوں میں بھی اللہ کی فریاد سن رہا ہے۔ اور ان کو قبول کرتا ہے۔ قدم قدم پر ان کی رہنمائی کرتا ہے اور ان کی طرف متوجہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بات اس شخص کی سوچ سے بھی بلند ہے جو اس کے اندر نہ رہا ہو۔ اس لئے آج ہم بھی کہہ سکتے کہ وہ یوں تھے۔ لیکن ان آیات میں سب سے پہلے جن لوگوں کو خطاب کیا گیا وہ ایسے ہی حالات میں زندہ رہے تھے۔ اور ان لوگوں کو اس قسم کی تربیت یاد دہانی اور اکساہٹ کی ضرورت تھی۔ لیکن اب اگر کوئی اس قسم کے تصور کو اپنے ذہنوں میں جمائے اور بسائے ہوئے ہے ہمارے اس گئے گزرے دور میں تو یہ اس فضل سے بھی بڑا فضل ہے۔ یہ بات زیادہ قابل قدر ہے کہ دور صحابہ سے دور پندرہویں صدی میں یہ تصور کرتا ہو۔
بخاری شریف کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ سے کہا کہ تمہارے نزدیک کون سا مومن قابل تعجب اور صاحب فضل وکرم ہے ، تو صحابہ کرام نے فرمایا فرشتے ؟ تو حضور نے فرمایا ” وہ کیونکر ایمان نہ لائیں گے وہ ہیں ہی اپنے رب کے پاس۔ “ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ پھر ” انبیائ “۔ تو آپ نے فرمایا۔” وہ کس طرح ایمان نہ لائیں جبکہ وحی ان پر نازل ہورہی ہے “ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ پھر ” ہم لوگ “۔ تو حضور نے فرمایا : ” تم کیوں ایمان نہ لاؤ، جبکہ میں تمہارے درمیان ہوں ؟ بلکہ ایمان کے لحاظ سے افضل ترین لوگ وہ ہیں جو تمہارے بعد ہوں گے ، ان کے پاس صحیفے ہوں گے اور وہ ان کے اندر پائی جانے والی تعلیمات پر ایمان لائیں گے۔ “
رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا کہ صورت حال میں بہت فرق ہے۔ ان لوگوں کے ہاں ایمان کے اشارات ، اسباب اور دلائل بہت زیادہ تھے۔ عجیب و غریب تھے ۔ بلکہ اگر وہ ایمان نہ لاتے تو قابل تعجب بات ہوتی۔ اس کے باوجود ان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایمان کو اپنے نفوس کے اندر حقیقت بناؤ، اگر مومن ہو تو۔
اب موجبات ایمان اور دلائل ایمان سے آگے ، دلائل انفاق اور موجبات انفاق کی طرف ، مگر قدرے تاکید کے ساتھ اور تکرار کے ساتھ۔
الحديد 57:9
ومالکم ............ رحیم (9) (75 : 8۔ 9) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے۔ اگر تم واقعی ماننے والے ہو۔ وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کررہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ “
آخر ایمان کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے ؟ ایمان تو وہ لا چکے ہیں ایمان لانے کا حق یہاں مطلوب ہے۔ پھر دعوت ذات رسول کی طرف سے ہے ، جن کے ہاتھ پر تم بیعت کرچکے ہو ، پختہ وعدہ کرچکے ہو۔ اور پھر آسمانوں سے آیات بینات کی پے درپے موسلا دھار بارش ہورہی ہے۔ یہ آیات تمہیں اندھیروں ، شک اور یحرانی سے نکال رہی ہیں۔ ہدایت ویقین اور اطمینان کی روشنی تمہیں دی جارہی ہے ۔ ایسے حالات میں جن میں تم پر رحمتوں کی بارشیں ہورہی ہیں۔
نبی آخر الزمان کا کسی قوم میں موجود ہونا ، ان کا اللہ کی زبان و کلام میں گفتگو فرمانا کلام اللہ پڑھ پڑھ کردیتا ہے۔ اور یہ اس قدر عظیم نعمت ہے جس کا تصور نہ پہلے کسی نے کیا اور نہ بعد میں ہوسکے گا۔ آج ہم چودہ سو سال کی دوری سے جب اسے سوچتے ہیں ، تو یہ دور ، وحی کا دور ، حیات رسول کا دور فی الواقع عظیم نعمتوں کا دور تھا ، خوشیوں کا دور تھا ، نیک بختیوں کا دور تھا ، کیا ہی دور تھا ، اللہ جل جلالہ ، بذات خود رسول اللہ کی زبانی اپنے بندوں کو بتارہا ہے۔ نہایت رحمت ، محبت اور کرم کے ساتھ ، لو یہ کام کرو ، دیکھو اس سے بچو ، یہ ہے راہ اس پر چلو ، یہ دیکھو تم غلط ہوگئے ہو ، یہ ہے میری رسی اسے پکڑو اور نکل آؤ گڑھوں سے ، کنوؤں سے ، توبہ کرو ، توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔
ایں درگہ ما درگہ ناامید نیست
صدبار اگر توبہ شکستی باز آ
آؤ دور تک نہ چلے جاؤ غلط راہوں پر ، میری رحمت سے مایوس نہ ہو ، وہ تو اس قدر وسیع ہے کہ سب کائنات اس میں ڈوب جاتی ہے۔ اسے فلاں نے یہ کہا ہے ، یہ غلط ہے۔ اسے فلاں تونے یہ سوچا ہے ، یہ غلط ہے۔ یہ تو گناہ ہے۔ فلاں فلاں کاموں کا تونے ارتکاب کیا ہے یہ غلط ہے۔ آؤ، توبہ کرو اور میری رحمت میں داخل ہوجاؤ۔ اے فلاں وہ فلاں فلاں چیزیں تمہیں روک رہی ہیں ان کو اتار پھینکو ، فلاں تونے یہ سوال کیا ہے یہ ہے جواب اس کا۔ اور یہ کام جو تونے کیا ہے اس کا یہ وزن ہے۔
یہ لوگ جو اللہ کے ساتھ رہتے ہیں ، جو اس کی مخلوق ہیں ، جن کو اللہ تلقین فرماتا ہے جن کے ساتھ یوں ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ اپنے اندر تیز احساس رکھتے ہیں کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور وہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ یہ حقیقت ہے اور یہ واقعہ ہے رات کی تاریکیوں میں بھی اللہ کی فریاد سن رہا ہے۔ اور ان کو قبول کرتا ہے۔ قدم قدم پر ان کی رہنمائی کرتا ہے اور ان کی طرف متوجہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بات اس شخص کی سوچ سے بھی بلند ہے جو اس کے اندر نہ رہا ہو۔ اس لئے آج ہم بھی کہہ سکتے کہ وہ یوں تھے۔ لیکن ان آیات میں سب سے پہلے جن لوگوں کو خطاب کیا گیا وہ ایسے ہی حالات میں زندہ رہے تھے۔ اور ان لوگوں کو اس قسم کی تربیت یاد دہانی اور اکساہٹ کی ضرورت تھی۔ لیکن اب اگر کوئی اس قسم کے تصور کو اپنے ذہنوں میں جمائے اور بسائے ہوئے ہے ہمارے اس گئے گزرے دور میں تو یہ اس فضل سے بھی بڑا فضل ہے۔ یہ بات زیادہ قابل قدر ہے کہ دور صحابہ سے دور پندرہویں صدی میں یہ تصور کرتا ہو۔
بخاری شریف کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ سے کہا کہ تمہارے نزدیک کون سا مومن قابل تعجب اور صاحب فضل وکرم ہے ، تو صحابہ کرام نے فرمایا فرشتے ؟ تو حضور نے فرمایا ” وہ کیونکر ایمان نہ لائیں گے وہ ہیں ہی اپنے رب کے پاس۔ “ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ پھر ” انبیائ “۔ تو آپ نے فرمایا۔” وہ کس طرح ایمان نہ لائیں جبکہ وحی ان پر نازل ہورہی ہے “ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ پھر ” ہم لوگ “۔ تو حضور نے فرمایا : ” تم کیوں ایمان نہ لاؤ، جبکہ میں تمہارے درمیان ہوں ؟ بلکہ ایمان کے لحاظ سے افضل ترین لوگ وہ ہیں جو تمہارے بعد ہوں گے ، ان کے پاس صحیفے ہوں گے اور وہ ان کے اندر پائی جانے والی تعلیمات پر ایمان لائیں گے۔ “
رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا کہ صورت حال میں بہت فرق ہے۔ ان لوگوں کے ہاں ایمان کے اشارات ، اسباب اور دلائل بہت زیادہ تھے۔ عجیب و غریب تھے ۔ بلکہ اگر وہ ایمان نہ لاتے تو قابل تعجب بات ہوتی۔ اس کے باوجود ان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایمان کو اپنے نفوس کے اندر حقیقت بناؤ، اگر مومن ہو تو۔
اب موجبات ایمان اور دلائل ایمان سے آگے ، دلائل انفاق اور موجبات انفاق کی طرف ، مگر قدرے تاکید کے ساتھ اور تکرار کے ساتھ۔
الحديد 57:10
ومالکم ................ والارض (75 : 01) ” آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لئے ہے۔ “ اس میں اسی حقیقت کو دہرایا گیا ہے جو پہلے بیان ہوئی۔
لہ ملک ................ الامور ” اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اور تمام امور فیصلے کے لئے اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ “ اللہ کی میراث ، اس کا اقتدار اعلیٰ اور بادشاہت ہے اور جس کا اقتدار اعلیٰ ہے فیصلے بھی اسی کے ہیں اور جو اختیارات اللہ نے ان کے لئے دیئے ہیں وہ سب جلدی اسی کی طرف واپس ہوجائیں گے۔ اس لئے جب اللہ تمہیں دعوت انفاق دے رہا ہے اور یہ مال تو اسی کا ہے ، اور اسی نے اس میں تصرف کے اختیارات تمہیں دیئے ہیں۔ اور یہ اسی کی طرف لوٹنے والا ہے لہٰذا بخل اور کنجوسی کے لئے کوئی جواز نہیں رہتا ، اس خطاب میں بس یہی حقیقت ہے۔
مٹھی بھر السابقون الاولون نے اللہ کی راہ میں جو کچھ ان کے بس میں تھا ، خرچ کیا۔ یہ مہاجرین وانصار کے پاکیزہ لوگ تھے اور انہوں نے نہایت ہی مشکل دور میں یہ خرچ کیا۔ نہایت ہی شدید مشکلات کے دور میں انہوں نے مالی قربانی دی اور اس زمانے میں خرچ کیا جبکہ اسلام ہر طرف سے خطرات میں گھرا ہوا تھا۔ فتح مکہ یا حدیبیہ سے قبل کے زمانے میں اسلام کے دوست اور معاون قلیل تھے۔ دشمن زیادہ تھے۔ اور اس دور میں ان لوگوں نے جو خرچ کیا اس پر ان کو کوئی دنیاوی امید اور لالچ بھی نہ تھی۔ نہ وہ خرچ کسی کو دکھانے کے لئے کرتے تھے۔ یہ سب خرچ جذبہ خیر پر مبنی تھا۔ جس خیر کو انہوں نے اختیار کرلیا تھا۔ یہ خرچ وہ اپنے اس نظریہ کے لئے کررہے تھے جسے انہوں نے تمام دنیاوی مفادات کو چھوڑ کر اختیار کرلیا تھا۔ انہوں نے ڈھیر سا مال خرچ کیا۔ بعض نے اس مقدار میں مال خرچ کیا جو السابقون الاولون نے فتح سے قبل کیا تھا۔ اس پر قرآن کی آیات نازل ہوئیں ان میں تصریح کی گئی۔ مقدار کے اعتبار سے تمہارا خرچ ان کے خرچ کے برابر ہوسکتا ہے یا زیادہ بھی ہوسکتا ہے لیکن اللہ کے ترازو میں سابقون کا خرچ قابل ترجیح ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے جس ایمانی جذبہ سے خرچ کیا اس میں فرق ہے۔
لا یستوی ................ وقتلوا (75 : 01) ” تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔ جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے۔ “ ایک شخص وہ ہے جو اس وقت خرچ کرتا ہے اور جہاد کرتا ہے ، جب ہر طرف سے نظریہ پر حملے ہوتے ہیں ، اس نظریہ کے ماننے والے اور دوست قلیل ہیں۔ اور کسی منفعت کا کوئی نشان تک نہیں ہے۔ نہ اقتدار ہے اور نہ سہولیات ہیں ، اور ایک شخص اس وقت خرچ کرتا ہے اور جہاد کرتا ہے جب نظریہ حیات پرامن ہے ، اس کے انصار بہت ہیں اور نصرت ، غلبہ اور فتح اور مفادات متوقع ہیں تو دونوں کے درمیان بہت فرق ہے۔ پہلا شخص صرف اللہ سے لو لگائے ہوئے ہوتا ہے ، وہ مخلص ہے اور اس کے اخلاص میں شب ہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسے اللہ پر گہرا بھروسہ ہے اور صرف اللہ پر اطمینان ہے۔ یہ شخص اسباب ظاہری اور دنیاوی مفادات سے دور ہے۔ اس کو اس خیر اور بھلائی پر صرف اس کا عقیدہ آمادہ کررہا ہے اور یہ دوسرا شخص جو بھلائی کرتا ہے اس کے لئے اس کے نظریہ کے سوا دوسرے دواعی بھی اس نیکی پر آمادہ کرنے کے لئے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کی نیت صاف بھی ہو پھر بھی دوسرے عوامل ملحوظ ہیں۔
امام احمد نے روایت کی ہے۔ احمد ابن عبدالملک سے انہوں نے زہیر سے ، انہوں نے حمید الطویل سے ، انہوں نے انس سے کہتے ہیں کہ حضرت خالد ابن ولید اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان کچھ باتوں کا تبادلہ ہوگیا۔ خالد نے عبدالرحمن سے کہا : ” تم لوگوں پر اس لئے دست درازی کرتے ہو کہ کچھ دن تم ان سے پہلے اسلام لے آئے ہو ، ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ اس بات کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا ” میرے ان ساتھیوں کو چھوڑ دو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، کہ اگر تم احد کے برابر سونا خرچ کرو (یا کہا کہ پہاڑوں کے برابر سونا خرچ کرو) تو بھی تم ان کے اعمال تک نہیں پہنچ سکتے ........ صحیح میں ہے۔
لا تسبواصحابی فوالذی نفسی بیدہ لو انفق احمد کم مثل احد ذھبا ما بلغ مداحد ھم او نصیفہ (1) ” میرے ساتھیوں کو گالیاں نہ دو ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم میں کوئی احد جیسا سونا خرچ کرے تو نہ ان کی مد کو پہنچ سکتا اور نہ نصف مد کو (مدپیمانہ تقریباً دو کلو) (1) معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں اصحابی کا خاص مفہوم ہے۔ ان کے بارے میں حضور نے سخت تنبیہہ فرمائی ہے۔ یہ لوگ دراصل سابقون اولون ہیں۔ حضور اکرم اپنے ارد گرد صحابہ اور مومنین سے کہتے تھے۔ دعوالی اصحابی ” میرے ساتھیوں کو میرے ہی لئے چھوڑ دو “ اس سے صحبت خاصہ مراد ہے۔ ایک بار حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں کہا دعوابی صاحبی ” میرے اس ساتھی کو میرے لئے چھوڑ دو ۔ “
لیکن بعد میں آنے والوں کو بھی مایوس نہیں کیا گیا۔ سب کے لئے اونچا مقام ہے۔ اچھا وعدہ ہے۔
وکلا وعد ................ الحسنی (75 : 01) ” اور اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں۔ “ اگرچہ ان کے درمیان درجات کے اعتبار سے تفاوت تھا لیکن وہ سب اچھے اور عد دل تھے۔
لیکن یہ تفاوت ، اور سب کے لئے جزائے حسن کے وعدے سب کے سب اللہ کے علم سے مشروط ہیں سب کے احوال سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے۔ یہ اللہ ہی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ ان کے ان اعمال کے پیچھے کیا داعیہ تھا۔ حقیقی علم تو اللہ ہی رکھتا ہے۔
واللہ ............ خبیر (75 : 01) ” جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “
یہ ایک ایسا ٹچ اور ایک ایسی چٹکی ہے جس سے دل بیدار ہوجاتے ہیں کہ ظاہری اعمال اپنی جگہ پر ہیں اور دنیا کے فیصلے تو اپنی جگہ پر ہیں لیکن اللہ کے فیصلے اللہ کے علم پر ہوں گے۔ خبردار وہاں وزن اللہ کے پیمانوں سے ہوگا۔
الحديد 57:11
من ذالذی .................................... المصیر (51) (75 : 11 تا 51)
” کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض ، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ اس دن جب کہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑرہا ہوگا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ ) آج بشارت ہے تمہارے لیے جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جاؤ ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو۔ “ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے ” کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے “ ؟ مومن جواب دیں گے۔” ہاں ، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا ، موقع پرستی کی شک میں پڑے رہے ، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں ، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا ، اور آخر وقت تک وہ بڑادھوکے باز (شیطان) تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا۔ لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے ، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے۔ “
یہ رب ذوالجلال کی طرف سے ایک زبردست پکار ، ایک زبردست موثر اشارہ اللہ اپنے فقیر اور محتاج بندوں سے کہتا ہے۔
من ذالذی ........................ حسنا (75 : 11) ” کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض “ تاکہ صرف یہ تصور کہ ایک مسلم فقیر ہے اور اللہ کی طرف ہر وقت محتاج ہے اور رب ذوالجلال اس سے قرض مانگ رہا ہے ، اس بات کے لئے کافی ہے کہ وہ اڑ کر اللہ کی راہ میں خرچ کرے ، کیونکہ لوگوں کی یہ عادت ہے کہ وہ نفع بخش کاروبار میں سرمایہ لگاتے ہیں۔ لوگ چونکہ فقیر ہیں اور اللہ کو دیا ہوا قرضہ محفوظ ہے ، اس کی واپسی یقینی ہے ، پھر یہ ان کے لئے ایک باعث عزت بات بھی ہے کہ وہ اللہ کو قرض دے رہے ہیں۔ عموماً لوگ نفع بخش کاروبار میں رقم لگاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو کئی گنا بڑھا کر اسے واپس کرتا ہے۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں ہے کہ لوگ اس کاروبار میں سرمایہ نہ لگائیں۔
اللہ تعالیٰ انک صرف اچھے جذبات تک ہی نہیں لے جاتا بلکہ وعدہ فرماتا ہے کہ اس قرض حسن پر تمہیں کئی گنا اضافہ کرکے دے گا۔ بشرطیکہ وہ قرض حسن ہو اور صرف اللہ کے لئے دیا ہو اور کئی گنا اضافے کے ساتھ پھر اللہ کے ہاں مزید اجر بھی ملے گا۔
فیضعفہ .................... کریم (75 : 11) ” تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ “ اور اس اجر کا نقشہ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کرکے بنایا جاتا ہے۔ قیامت کے دن یہ اجر دیا جائے گا اور یہ بہت ہی قابل قدر اجر ہوگا۔
یہ منظر قرآن کریم کے مناظر میں سے بالکل ایک نیا منظر ہے۔ اس منظر کی تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے کہ اسے حرکت اور مکالمات سے بھر پور انداز میں بالکل ایک زندہ منظر بنا دیا گیا ہے۔ آج جب ہم قرآن کریم کو پڑھتے ہیں تو ہماری نظروں کے سامنے پوری تصویر آجاتی ہے۔ مومنین اور مومنات ہمیں سخت تاریکی میں چلتے نظر آتے ہیں لیکن ان کے سامنے اور ان کے دائیں جانب ہمیں ایک لطیف نور اور چمک نظر آتی ہے۔ یہ نور خود ان اہل ایمان کا نور ایمانی ہے اور یہ ان کے چہروں سے پھوٹ رہا ہے۔ ان مومنین اور مومنات کے اجسام سے یہ نور پھوٹ رہا ہے اور اس نور کی روشنی میں یہ اس دن کی تاریکی میں آگے بڑھ رہے ہیں ، یہ وہی نور ہے جو جاہلیت کے اندھیروں میں اللہ نے ان کو دیا تھا اور اس کی روشنی میں وہ چلتے تھے ، اب یہ نور ان کی ارواح کے ذریعہ ان کی خاکی جسم پر غالب آگیا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اجسام کے خاکی اجزا سے یہ نور چمک رہا ہو کہ جدید سائنس کی تحقیقات بھی اسی طرف جاری ہیں کہ مادہ ایٹم سے بنا ہے اور ایٹم دراصل نور اور ” شعاعیں “ ہے ۔ یوں گویا یہ نور پھر حقیقی نور ہوگا۔
اب اس منظر میں مومنین اور مومنات کو مبارک سلامت دی جاتی ہے۔
بشرکم .................... العظیم (75 : 21) ” آج ہے خوش خبری تمہارے لیے جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔
لیکن مبارک سلامت کے اس منظر پر ابھی یہ ختم نہیں ہے۔ ادھر سے منافقین اور منافقات کا گروہ بھی گرتا پڑتا چلا آرہا ہے۔ یہ حیران وپریشان اور کس مپرسی کی حالت میں ہے ، یہ لوگ مومنین اور مومنات کے ساتھ لپٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں۔
الحديد 57:12
من ذالذی .................................... المصیر (51) (75 : 11 تا 51)
” کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض ، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ اس دن جب کہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑرہا ہوگا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ ) آج بشارت ہے تمہارے لیے جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جاؤ ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو۔ “ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے ” کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے “ ؟ مومن جواب دیں گے۔” ہاں ، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا ، موقع پرستی کی شک میں پڑے رہے ، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں ، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا ، اور آخر وقت تک وہ بڑادھوکے باز (شیطان) تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا۔ لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے ، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے۔ “
یہ رب ذوالجلال کی طرف سے ایک زبردست پکار ، ایک زبردست موثر اشارہ اللہ اپنے فقیر اور محتاج بندوں سے کہتا ہے۔
من ذالذی ........................ حسنا (75 : 11) ” کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض “ تاکہ صرف یہ تصور کہ ایک مسلم فقیر ہے اور اللہ کی طرف ہر وقت محتاج ہے اور رب ذوالجلال اس سے قرض مانگ رہا ہے ، اس بات کے لئے کافی ہے کہ وہ اڑ کر اللہ کی راہ میں خرچ کرے ، کیونکہ لوگوں کی یہ عادت ہے کہ وہ نفع بخش کاروبار میں سرمایہ لگاتے ہیں۔ لوگ چونکہ فقیر ہیں اور اللہ کو دیا ہوا قرضہ محفوظ ہے ، اس کی واپسی یقینی ہے ، پھر یہ ان کے لئے ایک باعث عزت بات بھی ہے کہ وہ اللہ کو قرض دے رہے ہیں۔ عموماً لوگ نفع بخش کاروبار میں رقم لگاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو کئی گنا بڑھا کر اسے واپس کرتا ہے۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں ہے کہ لوگ اس کاروبار میں سرمایہ نہ لگائیں۔
اللہ تعالیٰ انک صرف اچھے جذبات تک ہی نہیں لے جاتا بلکہ وعدہ فرماتا ہے کہ اس قرض حسن پر تمہیں کئی گنا اضافہ کرکے دے گا۔ بشرطیکہ وہ قرض حسن ہو اور صرف اللہ کے لئے دیا ہو اور کئی گنا اضافے کے ساتھ پھر اللہ کے ہاں مزید اجر بھی ملے گا۔
فیضعفہ .................... کریم (75 : 11) ” تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ “ اور اس اجر کا نقشہ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کرکے بنایا جاتا ہے۔ قیامت کے دن یہ اجر دیا جائے گا اور یہ بہت ہی قابل قدر اجر ہوگا۔
یہ منظر قرآن کریم کے مناظر میں سے بالکل ایک نیا منظر ہے۔ اس منظر کی تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے کہ اسے حرکت اور مکالمات سے بھر پور انداز میں بالکل ایک زندہ منظر بنا دیا گیا ہے۔ آج جب ہم قرآن کریم کو پڑھتے ہیں تو ہماری نظروں کے سامنے پوری تصویر آجاتی ہے۔ مومنین اور مومنات ہمیں سخت تاریکی میں چلتے نظر آتے ہیں لیکن ان کے سامنے اور ان کے دائیں جانب ہمیں ایک لطیف نور اور چمک نظر آتی ہے۔ یہ نور خود ان اہل ایمان کا نور ایمانی ہے اور یہ ان کے چہروں سے پھوٹ رہا ہے۔ ان مومنین اور مومنات کے اجسام سے یہ نور پھوٹ رہا ہے اور اس نور کی روشنی میں یہ اس دن کی تاریکی میں آگے بڑھ رہے ہیں ، یہ وہی نور ہے جو جاہلیت کے اندھیروں میں اللہ نے ان کو دیا تھا اور اس کی روشنی میں وہ چلتے تھے ، اب یہ نور ان کی ارواح کے ذریعہ ان کی خاکی جسم پر غالب آگیا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اجسام کے خاکی اجزا سے یہ نور چمک رہا ہو کہ جدید سائنس کی تحقیقات بھی اسی طرف جاری ہیں کہ مادہ ایٹم سے بنا ہے اور ایٹم دراصل نور اور ” شعاعیں “ ہے ۔ یوں گویا یہ نور پھر حقیقی نور ہوگا۔
اب اس منظر میں مومنین اور مومنات کو مبارک سلامت دی جاتی ہے۔
بشرکم .................... العظیم (75 : 21) ” آج ہے خوش خبری تمہارے لیے جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔
لیکن مبارک سلامت کے اس منظر پر ابھی یہ ختم نہیں ہے۔ ادھر سے منافقین اور منافقات کا گروہ بھی گرتا پڑتا چلا آرہا ہے۔ یہ حیران وپریشان اور کس مپرسی کی حالت میں ہے ، یہ لوگ مومنین اور مومنات کے ساتھ لپٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں۔
الحديد 57:13
یوم یقول ............ نور کم (75 : 31) ” اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ “ مومنین اور مومنات کا گروہ جدھر بھی دیکھتا ہے ادھر نورہی نور ہے۔ جو لطیف و شفاف ہے ، لیکن اس نور سے منافق مرد اور منافق عورتوں کا گروہ کس طرح استفادہ کرسکتا ہے ، انہوں نے تو پوری زندگی جہالت کی تاریکی میں بسر کی ہے۔ ایک نامعلوم آواز اس موقعہ پر پکارتی ہے۔
قیل ارجعوا ................ نورا (75 : 31) ” مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جاؤ ، ایک نور کہیں اور تلاش کرو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آواز ان تذلیل اور ان کے ساتھ مزاح کے لئے بلند ہوگی۔ اور ان کو یہ یاد دہانی مطلوب ہوگی کہ دنیا میں تم کیا کرتے تجھے رات کے اندھیروں میں اپنی منافقانہ پالیسی تیار کرتے رہتے تھے۔ کہ واپس جاؤ دنیا میں اور وہاں اپنا نور تلاش کرو۔ واپس جاؤ کیونکہ یہ نور تو دنیا سے آیا ہے۔ دنیا کے عمل سے یہ نور حاصل ہوتا ہے۔ آج تو تم دارالجزاء میں ہو یہاں کیا تلاش کرتے ہو۔
اس مرحلے میں اچانک مومنین اور مومنات کے گروہ اور منافقین اور منافقات کے گروہ کے درمیان جدائی کردی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ جدائی کا دن ہے۔ دنیا میں تو یہ لوگ اسلامی صفوں میں گھس گئے تھے۔
فضرب .................... العذاب (75 : 31) ” پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ “ یہ ایک ایسی دیوار ہوگی جس کے اس پار نظر تو نہ آئے گا لیکن آواز سنائی دے گی۔ اب منافقین کا گوہ مومنین کو پکارے گا۔
الحديد 57:14
ینادونھم ............ معکم (75 : 41) ” وہ انہیں پکار کر کہیں گے ” کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے “ ؟ اب ہم کیوں جدا ہورہے ہیں۔ دنیا میں تو ہم تمہارے ساتھ ایک ہی جگہ زندہ رہے تھے۔ ایک ہی سطح پر اور یہاں بھی ہم ایک ہی جگہ تمہارے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔
قالو بلی (75 : 41) وہ کہیں ہاں “ معاملہ تو ایسا ہی ہے۔
ولکنکم ................ انفسکم (75 : 41) ” مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا “۔ تم نے اپنے آپ کو ہدایت سے توڑ لیا۔
وتربصتم (75 : 41) ” موقع پرستی کی “۔ تم نے عزم کرکے فیصلہ کن انداز میں حق کا راستہ اختیار نہ کیا۔
وارتبتم (75 : 41) ” شک میں پڑے رہے “۔ تمہیں یقین کی وہ دولت نہ دی گئی جس کے ذریعے تم آتش نمرود میں کود جاتے۔
وغرتکم الامانی (75 : 41) ” اور جھوٹی توقعات تمہیں دھوکہ دیتی رہیں “۔ تم نے یہ سوچا کہ اسی طرح تذبذب منافقت اور لاٹھی کو دونوں جانب سے پکڑنے میں کامیابی ہے۔
حتی جاء امر اللہ (75 : 41) ” یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا “۔
وغرکم باللہ الغرور (75 : 41) ” اور آخر تک وہ بڑا دھوکہ باز تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکہ دیتا رہا۔ “ یہ شیطان تھا۔ تمہیں نئی نئی لالچیں دیتا اور تمناؤں کی دنیا میں بساتا۔ اب مومنین ان کو مزید یاد دلاتے ہیں اور فیصلہ سناتے ہیں گویا آج فیصلہ ان کے ہاتھ میں۔
الحديد 57:15
فالیوم ........................ المصیر (75 : 51) ” لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے ، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے۔ “
یہ شاید دربار مقتدر اعلیٰ سے اعلان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جواب ہوگا۔
اس منظر کی فنی ہم آہنگی کو دیکھا جائے تو اس کے لئے نور کے انتخاب میں ایک خاص حکمت ہے۔ کیونکہ یہ بات منافقین اور منافقات کے گروہ کے بارے میں ہے اور منافقین اور منافقات کے گروہ کا اصل کردار ہی یہ ہوتا ہے کہ اپنے باطن کو چھپاتے ہیں اور ان کے ضمیروں میں جو بات چھپی ہوتی ہے اس کے مقابلے میں کچھ اور ظاہر کرتے ہیں۔ وہ نفاق کی کاروائیاں ہمیشہ اندھیروں میں کرتے ہیں۔ اندھیرا چھپاتا ہے اور روشنی دکھاتی ہے۔ گویا دو کردار بھی متضاد ہیں ایمان اور نفاق اور دورنگ بھی متضاد ہیں نور اور ظلمت۔ اور ان دونوں چیزوں سے منظر نہایت خوب بنتا ہے۔ ایمان کو روشن دکھایا گیا ہے اور نفاق کو تاریک۔ مومن نور میں سفر کررہے ہیں اور منافق اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ معانی کو منظر کی روشنیوں کے ذریعہ بھی ظاہر کیا گیا۔ “ (مشاہدے القیامہ)
کون ہے جو اس دن نور کا طلب گار نہ ہوگا اور اس کا مشتاق نہ ہوگا۔ کون ہے جو اس کے بعد بھی انفاق فی سبیل اللہ سے گریز کرے گا۔ اس قدر موثر دلائل ، مفادات اور اچھے انجام کے باوجود .... یہ ہے قرآن کا انداز تعلیم وتربیت ، قرآن نہایت تسلسل اور مستقل مزاجی سے مومنین کی تربیت کررہا ہے۔ اور ایک ماہر کی طرح اور علیم وخبیر استاد کی طرح بڑی حکمت سے ہدایات اور سبق طلبہ کے ذہن میں یوں اتارتا ہے کہ وہ فورات عمل کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرا سیشن آتا ہے اس میں بھی مسلسل پکار ہے اور اسی انداز میں اور اسی طرز پر جماعت مسلمہ کو عمل پر ابھارا جاتا ہے۔
الحديد 57:16
الم یان ................ تعقلون
یہ مولائے کریم ورحیم کی طرف نہایت ہی موثر پکار ہے کہ اب تک تو تمہارے دل اللہ کے خوف اور خشوع و خضوع سے بھر جانا چاہئے تھا۔ تم پر تو اللہ کا بہت بڑا فضل ہوچکا ہے۔ تمہارے اندر ایک رسول موجود ہے ، جو تمہیں ایمان کی طرف بلارہا ہے۔ اس رسول پر آیات بینات نازل کردی گئی ہیں تاکہ تمہیں تاریکیوں سے روشنیوں کی طرف لائیں۔ اور تمہیں اس نے اس کائنات میں اور تمہاری تخلیق میں آیات بھی بتا دی ہیں۔
یہ ایک ایسا عتاب ہے جس میں محبت ہے۔ ہمدردانہ عنایت ہے۔ جوش دلایا جاتا ہے اور شعور دیا جاتا ہے کہ اللہ بڑا جلیل القدر ہے۔ اس کا ذکر حضوع وخشوع کے ساتھ کرو ، اور اللہ کی جانب سے جو سچائی آرہی اسے نہایت عزت واحترام اور اطاعت اور سپردگی کے ساتھ لو ، البتہ سوال میں یہ تاثر نمایاں ہے کہ تماری رفتار سست ہے۔
الم یان ................ من الحق (75 : 61) ”” کیا ایمان لانے والوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور ان کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں “ اس طرح ابھارنے اور ست روی پر عناب کرنے کے ساتھ ان کو لبیک نہ کہنے اور سست روی اختیار کرنے کے برے انجام سے بھی ڈرایا جاتا ہے کہ جب دلوں کو ساتھ ساتھ صاف نہ کیا جاتا رہے تو وہ زنگ آلود ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر سنگدلی پیدا ہوجاتی ہے ، یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ ذکر الٰہی سے غافل ہوجائیں اور جب وہ حق کے سامنے جھکنا بھول جائیں :
ولا یکونوا ............ فسقون (75 : 61) ” اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی ، پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں “ جب دل سخت ہوجائیں تو پھر اگلا مرحلہ فسق اور فجور کا ہوتا ہے۔
انسانی دل بہت جلد بدل جاتا ہے۔ انسان بہت جلد بھول جاتا ہے۔ جب وہ صاف شفاف اور روشن ہوتا ہے تو اس سے نور کی لہریں اٹھتی ہیں۔ اور موتی کی طرح چمکتا ہے۔ اور جب اس پر زیادہ وقت گزر جائے یا دہانی اور تربیت ختم ہوجائے تو وہ سخت ہوجاتا ہے زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اسے مسلسل یاد دہانی اور تربیت کی ضرورت پڑتی ہے کہ اس کے اندر خضوع وخشوع پیدا ہو۔ اسے بار بارکھٹکھٹانا چاہئے تاکہ وہ نرم اور صاف ہوتا رہے اور ہر وقت بیدار رہنا چاہئے کہ وہ سنگدل اور کند نہ ہوجائے۔
لیکن اگر کوئی دل بجھ گیا ، پتھر بن گیا ، سخت ہوگیا ، کندہوگیا تو مایوسی کی ضرورت نہیں ہے ، وہ از سر نو زندہ ہوسکتا ہے ، اس میں از سر نو حیات داخل ہوسکتی ہے ، وہ از سر نو اللہ کے سامنے جھک سکتا ہے ، اللہ تو قدرتوں والا ہے ، وہ تو مردہ زمین کو از سر نو زندہ کردیتا ہے۔ ایک مردہ زمین دیکھتے دیکھتے زندگی سے بھر پور اور تروتازہ ہوجاتی ہے۔ سر سبز و شاداب ہوجاتی ہے میوہ جات اور پھل دینے لگتی ہے یہی حال دلوں کا ہے۔
الحديد 57:17
اعلموا ................ موتھا (75 : 71) ” خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے “ اور قرآن کے اندر وہ چیز ہے جو دلوں کو موت کے بعد پھر زندہ کرتی ہے۔ اس کے اندر وہ مواد موجود ہے جو غذا دیتا ہے ، جو سیراب کرتا ہے اور جو گرماتا ہے۔
قدبینا ................ تعقلون (75 : 71) ” ہم نے نشانیاں تم کو صاف دکھا دی ہیں ، شاید کہ تم عقل سے کام لو۔ “
اس زندہ کردینے والی چٹکی کے بعد ، اور اس بالواسطہ عناب کے بعد ، اور اس ڈراوے کے بعد دوبارہ انفاق فی سبیل اللہ پر ابھارا جاتا ہے۔
الحديد 57:18
صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیاں صدقہ لینے والوں پر اپنی برتری نہیں جتلاتے اور اس سودے میں یہ لوگ فریق ہی نہیں ہوتے۔ ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس سے بلند اور برتر شعور اور کیا ہوسکتی ہے کہ صدقہ دینے والا یہ سمجھے کہ وہ غنی اور حمید ذات کو قرض دے رہا ہے۔ اور وہ اس کائنات کے مالک کے ساتھ سودا کررہا ہے۔ اور یہ کہ وہ جو کچھ خرچ کررہا ہے وہ دوگنا تگنا ہوکر ملے گا۔ اور کئی گنا لوٹانے کے بعد اجر کریم بھی دیا جائے گا۔
صدیقین کا مقام بہت ہی بلند مقام ہے احادیث نبوی میں اس کی خوب تشریح کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ مقام بہت بلند ہے لیکن اس کے حصول کے مواقع ہر کسی کے لئے کھلے ہیں ، یہ چند افراد یا کسی طبقے تک محدود نہیں ہے ، جو بھی اللہ اور رسول پر صحیح ایمان پدا کرے اور اس مقام بلند کا طلب گار ہو وہ اسے پاسکتا ہے ، اللہ کے فضل پر کوئی حد بندی نہیں ہے۔
والذین .................... الصدیقون (75 : 91) ” اور جو لوگ اللہ اور رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق ہیں۔ “ یہ اس دن کی خاصیت اور امتیازی بات ہے کہ یہ سب انسانوں کے لئے ایک کھلا راستہ ہے۔ یہ ایک بلند افق ہے جس کی طرف سب کی نظریں لگی رہنی چاہیں۔ یہاں کسی کا ٹھیکہ نہیں ہے اور نہ یہ مقامات کچھ مخصوص لوگوں کو ملتے ہیں۔ اسلام میں یہ شخص عمل کرکے اعلیٰ درجات تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کسی ایسے طبقے کی گنجائش نہیں ہے۔ جسے کوئی پیدائشی برتری حاصل ہو۔
امام مالک اپنی کتاب موطا میں روایت کرتے ہیں صفوان ابن سلیم سے ، انہوں نے عطا ابن یسار سے ، انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت دیکھیں گے کہ بلند بالا خانوں والوں کو ، یہ اونچے ہوں گے ، جیسا کہ تم روشن ستارے کو دور مشرقی اور مغربی افق میں دیکھتے ہو ، اس لئے کہ بلندی درجات میں بہت فرق ہوگا۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا رسول خدا یہ انبیاء کے منازل ہوں گے جن تک کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکے گا۔ تو فرمایا ہاں ” خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ کچھ لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور جنہوں نے مرسلین کی تصدیق کی “.... یہ ہے ایمان کی چٹکی اور اللہ کے دین پر فدا ہونے کا مقام ؟ وہ بعد میں آتا ہے۔
والشھدائ ................ ونورھم (75 : 91) ” اور شہدا ہیں ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے “۔ شہدا کی بات تو قرآن میں بار بار آتی ہے۔ احادیث نبوی بھی ان کے بارے میں متواتر ہیں۔ یہ اس دین کے چوکیدار ہوتے ہیں اور کوئی دین چوکیداری کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور کسی جگہ جہاد کے بغیر دین کبھی قائم نہیں ہوسکتا۔ جہاد کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عقیدہ محفوظ ہو ، دعوت اسلامی کے لئے راہ آزاد ہو ، اہل دین اور اہل شریعت کو فساد سے محفوظ رکھا جائے ، یہی وجہ ہے کہ صرف شہداء فی سبیل اللہ ہی اس اونچے مقام کے شہداء ہیں ، وہ رب کے قریب ہوں گے۔ اور وہ رب کے پاس ہوں گے۔ عندربھم ان کا اعزاز ہے۔
” صحیحین میں روایت ہے کہ شہدا کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں جنت میں ہوتی ہیں اور وہ جہاں چاہتی ہیں چگتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ان طاقوں میں آکر ٹھہرتے ہیں۔ اللہ ان پر ظاہر ہوگا اور فرمائے گا تم کیا چاہتے ہو ، وہ کہیں گے ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں دوبارہ دنیا کی طرف لوٹایا جائے اور ہم پھر تیری راہ میں جنگ کریں جس طرح پہلی مرتبہ جنگ کی۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ یہ دنیا کی طرف نہ لوٹیں گے۔ “ اور شیخین اور دوسروں نے انس ؓ سے روایت کی ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ” جو کوئی جنت میں داخل ہوجائے وہ دنیا کی طرف لوٹنا پسند نہ کرے گا اگرچہ یہاں اس کے لئے بہت کچھ ہو ، ماسوائے شہید کے ، وہ یہ چاہے گا کہ دنیا کی طرف لوٹایا جائے اور دسیویں مرتبہ اللہ کی راہ میں قتل ہوتا رہے کیونکہ وہ شہیدوں کی عزت دیکھ چکا ہوگا۔ “
یہ باتیں سن کر دور اول کے مسلمانوں کے لئے جان کی کوئی اہمیت نہ رہتی تھی۔ وہ مسلمانجن کو مقام شہادت کا پتہ لگ جاتا تھا۔
امام مالک نے یحییٰ ابن سعید سے روایت کی ہے کہ ایک بار رسول اللہ جہاد کے لئے لوگوں کو آمادہ فرما رہے تھے۔ اور آپ جنت کا ذکر فرما رہے تھے۔ انصار کا ایک آدمی سن رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں کھجوروں کے کچھ دانے تھے جنہیں وہ کھارہا تھا۔ تو اس نے کہا ” میں تو دنیا کا لالچی ہوں گا ، اگر میں بیٹھ گیا اور یہ کھجوریں کھاتا رہا یہاں تک کہ میں ان سے فارغ ہوجاؤں۔ اس نے یہ کھجوریں پھینک دیں اور تلوار اٹھائی اور کفار پر حملہ کردیا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگیا۔ اس شخص کے نام کے بارے میں روایت ہے کہ وہ عبیرابن الحمام ؓ تھا۔ “
جب صدیقوں کا یہ مقام ہے اور شہدا کا یہ مقام ہے تو کافرین اور مکذبین کا مقام بھی بتادیا جاتا ہے۔
الحديد 57:19
والذین .................... الجحیم (75 : 91) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں “۔ کون ہے جو اس اعزاز اور اس مرتبے کو چھوڑ سکتا ہے اور یہ سند کرسکتا ہے کہ وہ جہنم والوں میں سے ہوججائے۔ اب ایک تیسری چٹکی بھری جاتی ہے۔ یہ دعوت ایمان اور دعوت انفاق اور دعوت شہادت کے بعد ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ ان مقامات بلند سے اگر کوئی چیز روک سکتی ہے تو وہ حب الدنیا ہے جبکہ دنیا نہایت حقیر ، نہایت معمولی اور نہایت ہلکی چیز ہے۔ اور اس کے مقابلے میں آخرت بہت قیمتی ہے ۔ ایک بہترین تمثیل !
الحديد 57:20
اعلموا ................ متاع الغرور (75 : 02) ” خوب جان لو یہ دنیا کی زندگی اس کے سو کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسری سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی۔ پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کی برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں “۔
اس دنیا کی زندگی کو اگر دنیا کے پیمانوں سے ناپا تولا جائے ، تو ظاہری نظروں میں وہ ایک عظیم امر نظر آتا ہے۔ اور بہت ہی بڑا مسئلہ ہے لیکن اس دنیا کو اگر پوری کائنات کے زاویہ سے دیکھا جائے اور آخرت کے میزان کے مطابق اسے تولا جائے تو وہ ایک بہت ہی معمولی چیز ہے۔ یہاں قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ دنیا آخرت کے مقابلہ بازیچہ اطفال ہے۔ کیونکہ اصل جہاں تو آخرت ہے جہاں انسانوں کو اس دنیا کے اختتام پر جانا ہے۔
کھیل ، تماشا ، زینت ، برتری جتانا ، اور ہر چیز میں کثرت حاصل کرنا دنیا کی تمام بھرپور جدوجہد اور تمام مصروفیات کے پیچھے بس یہی کچھ ہے اس دنیا کے اس تمام کھیل کو قرآن اپنے مخصوص انداز میں ایک منظر کی شکل میں پیش کرتا ہے۔
کمثل ................ نباتہ (75 : 02) ” اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشتکار خوش ہوگئے۔ “ کفار سے مراد یہاں کاشتکار ہیں۔ کفر کا لغوی معنی چھپانا ہے۔ اور لغوی اعتبار سے کاشتکار کو کفار کہا جاتا ہے کہ وہ بیج کو زمین میں چھپاتا ہے لیکن یہاں اشارہ کفر کی طرف بھی ہے کہ وہ دنیاوی زندگی پر خوش ہوتا ہے۔
ثم ................ مصفرا (75 : 02) ” پھر وہ کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ زرد ہوگئی “۔ اور کٹنے کے لئے تیار ہوگئی ۔ کیونکہ اس سرسبزی کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور بہت جلدی وہ کٹنے کے وقت کو پہنچ جاتی ہے۔
ثم ............ حطاما (75 : 02) ” پھر وہ بھسن بن کر رہ جاتی ہے۔ “ اب اسکرین پر یہ حرکت اور دوڑ دھوپ ختم ہوجاتی ہے۔ فصل کٹنے کے منظر کے ساتھ حیات دنیا کا منظر بھی ختم ہوجاتا ہے۔
رہی آخرت تو اس کی شان ہی الگ ہے۔ آخرت کی شان یہ ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے اور اسے اہمیت دی جائے۔ اور اس کو پیش نظر رکھ کر تیاری کی جائے۔
وفی الاخرة ................ ورضوان (75 : 02) ” اس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ “ آخرت اس طرح چند لمحات میں گزرنے والی نہیں ہے جس طرح یہ دنیا چند لمحات میں گزر جاتی ہے۔ یہ دنیا کی طرح نہیں ہے کہ ایک دانہ ہے۔ وہ اگا اور پھر بھس بن گیا۔ اور ختم بلکہ آخرت میں تو حساب و کتاب ہے اور پھر دوام ہے۔ لہٰذا اس کا انجام یہ ہونا چاہئے۔
ومالحیوة ................ الغرور (75 : 02) ” اور دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔ “ اس سامان زندگی کی کوئی ذاتی حقیقت نہیں ہے۔ یہ دھوکہ ہے۔ یہ انسان کو لہو ولعب میں مشغول رکھتا ہے اور اس کی زندگی بالآخر دھوکے کا شکار ہوتی ہے۔
انسان اگر سنجیدگی سے تلاش حقیقت کرنے نکلے تو یہ زندگی ایک دھوکہ ہی ہے۔ لیکن زندگی کو اسلام اور قرآن نے جس معنی میں متاع غرور کیا ہے اسے اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کا منشا یہ نہیں ہے کہ دنیا کے معاملات سے انسان لاتعلق ہوجائے اور ترک دنیا کرلے۔ نہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کی تعمیروترقی میں دلچسپی نہ لی جائے۔ اور یہاں انسان نے اللہ کے نائب ہونے کے حوالے جو ذمہ داری ادا کرنی ہے اسے ادا نہ کرے۔ بلکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ دنیا کی قدروقیمت اور اس کی حقیقت کے بارے میں انسانی شعور کو درست کیا جائے۔ اور انسان کو بتایا جائے کہ اس دنیا کی حقیقی قدر و قیمت کیا ہے۔ وہ یہ کہ دنیا ایک زائل ہونے والی اور ہر انسان سے رہ جانے والی ایک عارضی جگہ ہے۔ اس کی جاذبیت اور اس کی اہمیت بھی اسی قدر ہونا چاہئے۔ جن لوگوں سے یہ سورت مخاطب تھی وہ پہلے مومن تھے اور ان کے ذمہ کچھ ایمانی تقاضے تھے اور دنیا کے بارے میں ان کا تصور اور شعور درست کرنا ضروری تھا تاکہ وہ ایمانی فرائض سرانجام پاسکیں۔ ہر مومن اپنے عقیدے اور نظریہ کے حوالے سے اس تصور کا محتاج ہے۔ اگر مومن نے اپنے عقیدے اور نظریہ حیات کو یہاں قائم کرنا ہے تو اسے اپنے دل کو اس دنیا سے متعلق صاف کرنا ہوگا۔
چناچہ اسلام ان کو ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا ایک نیا میدان دیتا ہے۔ وہ ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا حقیقی میدان ہے۔ وہ مقصدجس کا تعلق ان کے انجام سے متعلق ہے۔ اور جس کا تعلق عالم بقا اور دار آخرت ہے۔
الحديد 57:21
سابقو الی ................ العظیم (75 : 12) ” دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے ، جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے “۔
یہ مقابلہ سامان لہو ولعب جمع کرنے میں نہیں ہے ، یہ بہت سا مال جمع کرنے کا بھی نہیں ہے یہ ان لوگوں کا مقابلہ ہے جنہوں نے اپنی گردن سے دنیا کی غلامی کا طوق اتار پھینکا ہے ، اور انہوں نے لہو ولعب کا میدان بچوں کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ اور ان کی نظریں کسی اونچے افق پر ہیں۔ اور ان کا ہدف اس دنیا سے بھی ذرا آگے ہے۔
وجنة ............ والارض (7512) ” اس جنت کی طرف جس کا عرض اور وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ “
بعض مفسرین نے ، اس زمانے میں جب اس کائنات کی وسعتوں کے بارے میں ہماری معلومات محدود تھیں یہ رائے اختیار کی تھی کہ اس آیت سے مراد مجازاً بہت زیادہ وسعت ہے ، اسی طرح ان لوگوں نے بعض احادیث نبوی کو بھی مجازاً محمول کیا تھا۔ اسی طرح وہ حدیث جس میں کہا گیا ہے کہ جنت میں بالا خانوں والوں کو اہل جنت اس قدر بلند دیکھیں گے جس طرح ایک چمکدار تارا افق پر نظر آتا ہے ، مشرق میں یا مغرب میں ، اس سے مراد بھی اہل تفسیر زبادہ بلندی لیتے تھے لیکن آج انسانوں کی بنائی ہوئی نہایت ہی چھوٹی دوربینیں اس کائنات کی جو وسعت ہمیں بتاتی ہیں وہ محیرالعقول اور سر چکرادینے والی ہے ، جنت کی وسعت کے بارے میں احادیث ، اور وہ احادیث جن میں بالاخانے افق کے ستاروں جیسے بلند نظر آئیں ، ایسے حقائق نظر آتے ہیں جو عقل کے بہت قریب بلکہ مشاہدے کے بہت ہی قریب ہیں اور اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ قرآنی آیات یا احادیث جو جنت کی وسعت کے بارے میں ہیں ان کو مجاز پر محمول کیا جائے۔
جنت میں اس طویل و عریض مملکت میں ہر وہ شخص پہنچ سکتا ہے جو اس کا ارادہ کرے۔ ہر شخص اسے آگے بڑھ کر حاصل کرسکتا ہے لیکن اس کا بیعانہ اللہ اور رسولوں پر ایمان لانا ہے۔
ذلک فضل ................ العظیم (75 : 12) ” یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “
اللہ کا فضل بےحد و حساب اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ فضل ان تمام لوگوں کے لئے کھلا ہے جو اس میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ اللہ کے اس فضل کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھیں۔ اس محدود الاطراف زمین ہی میں نہیں بلکہ اللہ کی لامحدود کائنات میں۔
ایک نظریاتی شخص کا فریضہ ہے کہ وہ اس عظیم کائنات کے ساتھ معاملہ کرے اور اپنے نفس ، اپنے نقطہ نظر ، اپنے تصور ، اپنی ترجیحات اور اپنے شعورکو اس تنگ اور محدود دنیا کے اندر محدود نہ کرے ، جب تک نظریاتی لوگ اپنے نقطہ نظر کو وسیع نہ کریں گے وہ اسلامی نظریہ حیات کی کوئی قابل قدر خدمت نہ کرسکیں گے۔ اس لئے کہ اسلامی نظریہ حیات لوگوں کی حقارتوں ، ذلتوں اور خود غرضیوں سے متصادم ہوتا ہے۔ اور وہ لوگوں کی گمراہی اور کج روی کے ساتھ بھی متصادم ہوتا ہے۔
پھر باطل قوت ہر وقت ایک نظریاتی شخص کا مقابلہ کرتی ہے اور وہ چونکہ زمین کے ایک حصے پر قابض ہوتی ہے اس لئے اس کے مقابلے میں وہی شخص کھڑا ہوسکتا ہے جس کا معاملہ ایک عظیم کائنات سے ہو اور اس زمین سے زیادہ وسیع تر نقطہ نظر رکھتا ہو۔ اور وہ اس فانی دنیا سے آگے باقی دنیا میں کچھ مقاصدواہداف رکھتا ہو ، یعنی رضائے الٰہی۔
اس زمین کے مقاصد اور معیار کبھی بھی ایک نظریاتی شخص کے لئے اعلیٰ مقاصد اور نصب العین نہیں ہوسکتے ان کی اہمیت ایک مومن کے لیے اسی قدر ہوتی ہے ، جس قدر زمین کی حیثیت بمقابلہ کائنات ہوتی ہے۔ یہ پوری زمین نہ ازلی ہے اور انہ ابدی ہے۔ زمین اور اللہ کی کائنات کے درمیان کوئی نسبت ہی نہیں ہے ، زمین چھوٹی اور اس کے مقاصد بہت چھوٹے ہیں۔
چناچہ ایک مومن کا نقطہ نظر بہت ہی وسیع اور بہت ہی بلند ہوتا ہے۔ اگرچہ زمین بہت خوب صورت طویل و عریض نظر آئے۔ اس لئے نظریاتی شخص اس حقیقت سے معاملہ کرتا ہے جو لامحدود ہوتی ہے اور زمین پر حدود وقیود وارد ہوتی ہے ، وہ اس حقیقت سے مقابلہ کرتا ہے جو ازلی اور ابدی موجود ہے۔ اور یہ عظیم حقیقت عالم آخرت کے وسیع میدان میں ہوتی ہے۔ اس دنیا کی بعض حقیر قدروں میں اگر کمی بیشی ہو بھی جائے تو ایمانی قدروں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جن لوگوں کے پیش نظر ان اعلیٰ قدروں کا حصول ہوتا ہے وہ اللہ کے مختار بندے ہوتے ہیں اور اس دنیا کی محدود قدروں سے آزاد ہوتے ہیں۔
اب چوتھی چٹکی آتی ہے۔ یہ ایک گہرا احساس دلاتی ہے ، اس بات کا اس دنیا میں جو کچھ بھی پیش آتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔
الحديد 57:22
ما اصاب .................... الحمید (42) (75 : 22 تا 42)
” کوئی مصیبت ایسی نہیں جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب ” یعنی نوشتہ تقدیر “ میں لکھ نہ رکھا ہو۔ ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان کام ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں ، جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے پر اکساتے ہیں۔ اب اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ “
اس کائنات میں جو واقعہ بھی پیش آتا ہے ، وہ اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ اللہ نے پہلے سے قلم بند کرلیا ہے۔ اور اس کائنات کے منصوبے اور نقشے میں متعین اور محسوب ہے۔ اس میں محض بخت واتفاق کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور شامل علم کے ذریعے ایسا کرلیا ہے۔ اور بہت ہی تفصیل کے ساتھ سب کچھ قلم بند کردیا ہے ، یہ اللہ کے علم میں تھا۔ اللہ کے علم میں کوئی ماضی حال اور مستقبل نہیں ہے۔ یہ زمان ومکان کے فاصلے اور حدیں اللہ کے علم پر حاوی نہیں ہیں ، یہ تو ہم اپنے محدود علم کے ذریعے ان چیزوں کو اس طرح زمان ومکان کے قید میں دیکھتے ہیں ۔ ہم تو ان حدود وقیود کے بغیر نہیں دیکھ سکتے۔ پھر ہم حقیقت مطلقہ کا ادراک ہی نہیں کرسکتے ، ہاں بعض اوقات انسانوں کی قوت مدرکہ کو ایک ایسی چمک حاصل ہوجاتی ہے جس وقت ہماری روح حقیقت مطلقہ سے جڑ جائے ، ہم اشیاء کی حقیقت کو اس عادی طریقے سے جان سکتے ہیں یعنی بذریعہ حواس ، رہا اللہ تعالیٰ جو حقیقت مطلقہ ہے اور وہ اس کائنات کی ہر چیز کو بلا حدود وقیود جانتا ہے۔ یہ کائنات اور اس کے اندر واقعات اپنی آغاز سے انتہا تک اللہ کے علم میں ہیں۔ یہ علم مطلق ہے اور بلاحدود وقیود ہے۔ اور اللہ کے نقشے میں ہر ایک چیز اور واقعہ کا ایک مقام ہے جو اللہ کے علم میں ہے ، لہٰذا ہر واقعہ جسے انسان خیر سمجھتا ہے یا شر سمجھتا ہے ، زمین پر وہ واقع ہوتا ہے۔ اور انسانوں کی زندگیوں میں وہ پیش آتا ہے یہ اللہ کی کتاب میں ثبت ہے۔
ان ذلک علی اللہ یسیر (75 : 22) ” ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ “
اس کا فائدہ کیا ہے ؟ اس حقیقت کا فائدہ یہ ہے کہ ایک انسان جسے اس دنیا کے واقعات پر خوشی بھی ہوتی ہے اور پریشانی بھی ہوتی ہے وہ اسے منجانب اللہ سمجھیں اور اس دنیا میں سکون اور اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ اگر کوئی ناگوار چیزیں دیکھیں تو حسرتوں سے اپنے آپ کو فنا نہ کردیں اور اگر کوئی فرحت بخش واقعات دیکھیں تو آپے سے باہر نہ ہوجائیں اور جس طرح حقیقت ہے یہ سمجھیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔
الحديد 57:23
لکیلا .................... اتاکم (64 : 32) ” تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو ، اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ “
لہٰذا نظر کا آفاقی ہوجانا اور اپنا معاملہ عظیم کائنات سے کرنا ، ازل اور ابد سوچنا ، اور جو کچھ پیش آتا ہے اسے کتاب تقدیر کا فیصلہ سمجھنا ، ان سب چیزوں سے نفس انسانی وسعت اختیار کرلیتی ہے انسان بڑا ہوتا ہے ، ثابت قدم ہوتا ہے ، اور واقعات وحادثات کا ڈٹ کر فیصلہ کرتا ہے اور حرکت کائنات کے دوران اسے جو کچھ پیش آتا ہے نفس انسانی اس سے کامیابی سے گزرتا ہے۔
جب انسان اپنے آپ کو اس عظیم کائنات سے علیحدہ کرلیتا ہے تو اسے پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں جزع وفزع لاحق ہوتی ہے۔ وہ نہایت ہلکے پن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ لیکن جب کوئی انسان یہ عقیدہ رکھتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن میں بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ اور یہ واقعات اور تصادم ، اسی طرح ہیں۔ جس طرح ایک عظیم کائنات میں ذرات باہم ٹکراتے بھی ہیں اور وہ اپنا مقصد بھی پورا کرتے ہیں اور ایک وسیع نقشے کے مطابق کام بھی کرتے ہیں ، اور یہ نقشہ ازل سے تیار ہے اور یہ سب افراد ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں۔ تو پھر اسے یہ اطمینان ہوجاتا ہے کہ جو برا ہوا اسے ہونا ہی تھا اس لئے نہ وہ محرومی پر پریشان ہوتا ہے اور نہ وہ کچھ ملنے پر آپے سے باہر آتا ہے۔
لیکن یہ مقام کہ کوئی بندہ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردے چند ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ رہے تمام مسلمان تو ان کو یہ عقیدہ آلام ومصائب کی تلخیوں سے نکال دیتا ہے اور اس طرح ان کو خوشحالی میں اترانے سے روکتا ہے۔ اور دونوں حالات میں ایک مومن متوازن الطبع ہوتا ہے ، حضرت عکرمہ نے کیا خوب کہا۔
” ہر آدمی خوس بھی ہوتا ہے اور مغموم بھی ، خوشی کو شکر میں بدل دو اور غم کو صبر میں۔ “
یہ ہے اسلام کا معتدل نقطہ نظر۔
واللہ لا .................... بالبخل (75 : 42) ” اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑے لوگ سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل پر اکساتے ہیں۔ “
مسئلہ تقدیر ، فخرومباہات اور بخل کے مضامین کے درمیان ربط کیا ہے ؟ یہ کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے جو کچھ پیش آتا ہے وہ اللہ کی طرف سے آتا ہے ، وہ ہرگز کبروغرور اور فخر ومباہات پیش نہیں کرتا۔ اور نہ دادوہش میں کمی کرتا ہے اور نہ بخل کرتا ہے اور نہ بخل کی دعوت دیتا ہے۔ اور جو لوگ اس حقیقت کا شعور نہیں رکھتے اور نہ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ ان کا اپنا کمال ہے ، اس لئے وہ فخر و غرور کرتے ہیں اس کے بعد وہ نیکی کی راہوں میں خرچ نہیں کرتے کیونکہ ایسا شخص یہ سوچ لیتا ہے کہ اگر یہ غریب لوگ اہل ہوتے تو وہ بھی کمالیتے۔
ومن یتول ................ الحمید (75 : 42) ” اور اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور اور ستودہ صفات ہے “ جو خرچ کرتا ہے وہ اپنے لئے ہی تشئہ آخرت تیار کرتا ہے اور جو اللہ کی بات مانے گا بھلا اس کا ہوگا۔ اللہ کہتا ہے ، وہ اپنے محتاج بندوں کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات میں محمود ہے اور بےنیاز ہے اسے نہ لوگوں کی تعریف کی ضرورت ہے اور نہ تائید کی۔
اب آخر میں سورت کا آخری پیراگراف آتا ہے۔ یہ مختصراً اس دنیا میں رسولوں کی ایک لائن کا ذکر کرتا ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کی تاریخ حضرت نوح (علیہ السلام) سے ادھر کہ اس دنیا میں اس کی غرض وغایت کیا تھی اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انجیل کا نزول اور امت عیسیٰ کے خدوحال :
الحديد 57:24
لکیلا .................... اتاکم (64 : 32) ” تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو ، اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ “
لہٰذا نظر کا آفاقی ہوجانا اور اپنا معاملہ عظیم کائنات سے کرنا ، ازل اور ابد سوچنا ، اور جو کچھ پیش آتا ہے اسے کتاب تقدیر کا فیصلہ سمجھنا ، ان سب چیزوں سے نفس انسانی وسعت اختیار کرلیتی ہے انسان بڑا ہوتا ہے ، ثابت قدم ہوتا ہے ، اور واقعات وحادثات کا ڈٹ کر فیصلہ کرتا ہے اور حرکت کائنات کے دوران اسے جو کچھ پیش آتا ہے نفس انسانی اس سے کامیابی سے گزرتا ہے۔
جب انسان اپنے آپ کو اس عظیم کائنات سے علیحدہ کرلیتا ہے تو اسے پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں جزع وفزع لاحق ہوتی ہے۔ وہ نہایت ہلکے پن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ لیکن جب کوئی انسان یہ عقیدہ رکھتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن میں بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ اور یہ واقعات اور تصادم ، اسی طرح ہیں۔ جس طرح ایک عظیم کائنات میں ذرات باہم ٹکراتے بھی ہیں اور وہ اپنا مقصد بھی پورا کرتے ہیں اور ایک وسیع نقشے کے مطابق کام بھی کرتے ہیں ، اور یہ نقشہ ازل سے تیار ہے اور یہ سب افراد ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں۔ تو پھر اسے یہ اطمینان ہوجاتا ہے کہ جو برا ہوا اسے ہونا ہی تھا اس لئے نہ وہ محرومی پر پریشان ہوتا ہے اور نہ وہ کچھ ملنے پر آپے سے باہر آتا ہے۔
لیکن یہ مقام کہ کوئی بندہ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردے چند ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ رہے تمام مسلمان تو ان کو یہ عقیدہ آلام ومصائب کی تلخیوں سے نکال دیتا ہے اور اس طرح ان کو خوشحالی میں اترانے سے روکتا ہے۔ اور دونوں حالات میں ایک مومن متوازن الطبع ہوتا ہے ، حضرت عکرمہ نے کیا خوب کہا۔
” ہر آدمی خوس بھی ہوتا ہے اور مغموم بھی ، خوشی کو شکر میں بدل دو اور غم کو صبر میں۔ “
یہ ہے اسلام کا معتدل نقطہ نظر۔
واللہ لا .................... بالبخل (75 : 42) ” اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑے لوگ سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل پر اکساتے ہیں۔ “
مسئلہ تقدیر ، فخرومباہات اور بخل کے مضامین کے درمیان ربط کیا ہے ؟ یہ کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے جو کچھ پیش آتا ہے وہ اللہ کی طرف سے آتا ہے ، وہ ہرگز کبروغرور اور فخر ومباہات پیش نہیں کرتا۔ اور نہ دادوہش میں کمی کرتا ہے اور نہ بخل کرتا ہے اور نہ بخل کی دعوت دیتا ہے۔ اور جو لوگ اس حقیقت کا شعور نہیں رکھتے اور نہ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ ان کا اپنا کمال ہے ، اس لئے وہ فخر و غرور کرتے ہیں اس کے بعد وہ نیکی کی راہوں میں خرچ نہیں کرتے کیونکہ ایسا شخص یہ سوچ لیتا ہے کہ اگر یہ غریب لوگ اہل ہوتے تو وہ بھی کمالیتے۔
ومن یتول ................ الحمید (75 : 42) ” اور اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور اور ستودہ صفات ہے “ جو خرچ کرتا ہے وہ اپنے لئے ہی تشئہ آخرت تیار کرتا ہے اور جو اللہ کی بات مانے گا بھلا اس کا ہوگا۔ اللہ کہتا ہے ، وہ اپنے محتاج بندوں کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات میں محمود ہے اور بےنیاز ہے اسے نہ لوگوں کی تعریف کی ضرورت ہے اور نہ تائید کی۔
اب آخر میں سورت کا آخری پیراگراف آتا ہے۔ یہ مختصراً اس دنیا میں رسولوں کی ایک لائن کا ذکر کرتا ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کی تاریخ حضرت نوح (علیہ السلام) سے ادھر کہ اس دنیا میں اس کی غرض وغایت کیا تھی اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انجیل کا نزول اور امت عیسیٰ کے خدوحال :
الحديد 57:25
رسالت کی حقیقت ایک ہی ہے ، تمام رسالتوں کا پیغام ایک تھا جسے رسول مختلف ادوار میں لے کر آئے۔ اکثر رسولوں کو معجزات دیئے گئے بعض رسولوں کو کتابیں دی گئیں قرآن کہتا ہے۔
وانزلنا معھم الکتب (75 : 52) ” ان کے ساتھ کتاب نازل کی “ رسول بھی ایک تھے اور کتاب بھی ایک تھی۔ اور دعوت بھی ایک تھی لہٰذا رسالت کی نوعیت ایک ہی ہے۔
یہ کتاب کے ساتھ المیزان کیا ہے ؟ ہر نبی اس لئے آیا کہ انسانوں کو ایک میزان دے جس پر وہ اپنے حسن وقبح کو تولیں۔ اور اپنے اعمال کو اس میزان کے مطابق درست کریں اعمال ، واقعات اور انسانوں کا وزن اس میزان پر ہو۔ اس کے مطابق لوگوں کی زندگی درست ہو ، مختلف خواہشات کی سمت درست ہو ، اور مختلف مزاجوں کے درمیان اعتدال پیدا ہو۔ اور باہم ٹکراؤ والی مصلحتوں کا فیصلہ ہو۔ ایک ایسا میزان ہو جو کسی کا طرفدار نہ ہو ، یہ میزان حق ہو ، کسی کے ساتھ ظلم نہ کرتا ہو ، یہ اللہ کا میزان ہو جو سب کا رب ہے۔
یہ میزان جو اللہ نے رسولوں پر اتارا یہ انسانیت کے لئے ان تمام بےاعتدالیوں کے خلاف ایک ضمانت ہے جن میں انسانیت مبتلا ہوتی رہی ہے ، تمام اضطرابات ، تمام انتشار اور تمام طوفان جس سے انسانیت دو چار ہوتی رہتی ہے۔ جہاں خواہشات کے تصادم برپا ہوتے ہیں۔ جہاں جذبات کے طوفان اٹھتے ہیں جہاں ضد وعناد کے غبار آندھیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ جہاں انسان فرعون بن جاتے ہیں۔ یہ میزان ضروری تھا کہ سب اس کے سامنے جھکیں۔ اور اس میزان کے سامنے ہر کسی کو انصاف ملے۔ عدل ملے۔
لیقوم الناس بالقسط (75 : 52) ” تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں “ غرض اس میزان کے بغیر جو اللہ کے تجویز کردہ نظام زندگی اور نظام قانون کے مطابق ہوتا ہے ، لوگ کبھی عدل و انصاف نہیں پاسکتے۔ اگر کبھی لوگ عدل پا بھی لیں وہ عدل کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ ان کی خواہشات کی وجہ سے اور ان کی جہالتوں کی وجہ سے جلدی عدل کا میزان ان کے ہاتھوں سے گر جاتا ہے۔
وانزلنا ................ قوی عزیز (75 : 52) ” اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں۔ یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ معلوم ہوجائے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “ لوہے کو آسمانوں سے اتارنے کی تعبیر ایسی ہے جیسے دوسرے مقامات پر آیا ہے۔
وانزل .................... ازواج ” اور اس نے جو مویشیوں کے آٹھ جوڑے تمہارے لئے اتارے “ دونوں جگہ مقصد یہ ہے کہ اللہ نے اشیاء کی تخلیق اس مقصد کے لئے کی ہے گویا ان کی تخلیق تقدیر الٰہی کے مطابق ہے۔ پھر یہاں آیت کی فضا کی مناسبت اور ہم آہنگی کے قیام کی وجہ سے بھی نزول کا مادہ استعمال کیا گیا کیونکہ پہلے نزول کتاب اور نزول میزان کا ذکر تھا۔ اس طرح یہاں فرمایا کہ نزول حدید بھی اس کائنات کے لئے اہم ہے۔
لوہا اتارا کہا ہے۔
فیہ باس شدید (75 : 52) ” جس میں بڑا زور ہے “ مثلاً لوہے کے اندر ہی جنگ اور سلامتی مضمر ہے۔
ومنافع للناس (75 : 52) ” لوگوں کے لئے منافع ہیں “ آج تک انسانی تہذیب و تمدن لوہے کی برکت سے ہے۔ اور پھر۔
ولیعلم .................... بالغیب (75 : 52) ” یہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے “ یہ اشارہ جہاد و قتال کی طرف ہے۔ یہ یہاں اس لئے لایا گیا ہے کہ جہاد بالمال اور جہاد بالنفس اسلحہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔
یہاں جو کہا گیا کہ اللہ ایسے لوگوں کو ظاہر کرنا چاہتا ہے جو کہ اللہ اور اس کی رسولوں کی غائبانہ مدد کرتے ہیں۔ تو بتایا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ کی نصرت کے معنی کیا ہیں۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی دعوت اور نظام کی مدد کرتے ہیں جہاں تک ذات باری تعالیٰ کا تعلق ہے تو وہ تو۔
ان اللہ قوی عزیز (75 : 52) ” اللہ ہبت ہی قوی اور غالب ہے “ یہاں کہا گیا کہ رسالت اپنی حیقت ، اپنی کتاب اور اپنی دعوت کے اعتبار سے ایک ہی ہے ، اور یہ رسالتوں کا میزان اور شریعت بھی ایک ہے۔ اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ رسول بھی ایک ہیں یہ نوح ابراہیم کی اولاد سے ہیں۔
الحديد 57:26
ولقد .................... والکتب (75 : 62) ” ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی “ رسولوں کا ایک ہی شجرہ نسب ہے جس کی شاخیں ایک ہی جڑ کے ساتھ پیوستہ ہیں۔ انسانیت کے آغاز ہی سے یہ شجرہ چلا ہے۔ نوح (علیہ السلام) سے ، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ، اور ان کے بعد پھر انسانوں کو پھیلنے کے ساتھ رسالتیں بھی پھیل گئیں۔
لیکن جن نسلوں میں یہ نبوت اور کتاب چلتی رہی وہ نسلیں ایک جیسی نہ تھیں۔
فمنھم .................... فسقون (64 : 62) ” پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہوگئے۔ “ یہ نہایت ہی مختصر تبصرہ طویل انسانی تاریخ پر۔
الحديد 57:27
اور اس طویل تاریخ کی آخری کڑی نبوت محمدی سے پہلے یہ رہی۔
ثم قفینا ................ ابن مریم (75 : 72) ” اس کے بعد ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان سب کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو مبعوث کیا “۔ یعنی نوح اور ابراہیم کی اولاد میں پے درپے رسول بھیجے اور ان میں سے آخری کڑی عیسیٰ ابن مریم کی تھی۔ یہاں حضرت عیسیٰ کے پیروکاروں کی ممتاز صفت بھی بیان کردی جاتی ہے۔
وجعلنا .................... ورحمة (75 : 72) ” اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا۔ “ یہ ترس اور رحم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا نتیجہ تھا۔ کیونکہ آپ نے لوگوں کی روحانی تربیت پر زور دیا۔ اور ظاہر ہے کہ روحانی تربیت اور روحانی صفائی کے نتیجے میں ترس اور رحم بیدار ہوجاتا ہے۔ جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات کا صحیح اتباع کیا وہ رحم دل ہوتے تھی۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی عیسائیوں کی اس صفت کی طرف اشارہ ہے۔ ابتدائی دور کے عیسائیوں نجاشی اور وفد نجران کے لوگوں کا رویہ بھی اسلام کے ساتھ ہمدردانہ رہا۔ اور اسی طرح دوسرے متفرق افراد بھی ان میں دارالاسلام آئے اور اسلام قبول کیا۔ جب تک وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحیح متبعین میں سے رہے۔
قرآن کریم یہاں مسیح (علیہ السلام) کے متبعین کی ایک دوسری صفت کو بھی بیان کرتا ہے لیکن اس پر ایک خوبصورت تنقید بھی کرتا ہے۔
ورھبانیة .................... رضوان اللہ (75 : 72) ” اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔ مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی تھی “ راجح تفسیر یہ ہے کہ تاریخ مسیحیت میں جو رہبانیت نظر آتی ہے وہ مسیح کے بعض پیروکاروں نے اختیار کرلی تھی۔ اور یہ انہوں نے اللہ کی رضا جوئی کے لئے اختیار کرلی تھی۔ یہ انہوں نے زندگی کی آلودگیوں سے دوری کے لئے اختیار کرلی تھی اللہ نے اسے ان پر فرض نہ کیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے اسے اختیار کرلیا۔ اپنے اوپر واجب کرلیا تو پھر ان کا فرض تھا کہ وہ اس کا حق ادا کرتے۔ اور پاکیزگی ، بلندی ، عفت ، قناعت اور ذکر وفکر کے جو تقاضے وہ رکھتی تھی اسے یہ پورا کرتے۔ کیونکہ انہوں نے رضائے الٰہی کے لئے اسے ایجاد کیا تھا۔
لیکن ہوا یوں کہ یہ رہبانیت محض رسم ہوکر رہ گئی اسم سے خالی ہوگئی۔ لوگوں نے اسے پیشہ بنا لیا اور حقیقی روح سے خالی ہوگئی۔ چند رہبان کے سوا کسی نے اس کا جو حق ادا نہ کیا۔
فما رعوھا ................ فسقون (75 : 72) ” اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے ان کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا ، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ “ اللہ کا قانون یہ نہیں ہے کہ لوگوں کی ظاہری شکلوں کو دیکھ کر فیصلہ کرے۔ نہ رسم و رواج کو دیکھے۔ اللہ لوگوں کی نیت کو دیکھتا ہے لوگوں کے اعمال کو دیکھتا ہے۔ وہ نیت اور عمل پر فیصلے کرتا ہے۔ اور کسی کی نیت اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو دلوں کی بات جانتا ہے۔
اب آخری پکار ان لوگوں کے نام ہے جو ایمان لائے ہیں۔ اور دین اور رسالت کی تاریخ اور امم اسلامیہ کی کڑیوں میں سے آخری کڑی ہے اور جنہوں نے اب قیامت تک انبیاء کی دعوت کا بوجھ اٹھانا ہے۔
الحديد 57:28
یا یھا الذین .................... الفضل العظیم (92) (75 : 82۔ 92) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد ﷺ) پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں رحمت کا دہرا حصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے ، اور تمہارے قصور معاف کردے گا ، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ (تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہئے) تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور وہ بڑے فضل والا ہے۔ “
یہ ایمان والوں کو آواز دی جارہی ہے۔ ان کے محبوب نام سے دی جارہی ہے۔
یایھا ............ امنوا (75 : 82) ” اے ایمان لانے والے لوگو ! “ یہ ان کے دل کی آواز ہے ، دل پر چسپاں ہونے والی آواز ہے۔ ایمان کو زندہ کرنے والی آواز ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ ایمان کا حق ادا کرو ، اور تمہارا رب جو تمہیں پکاررہا ہے اس کے ساتھ تمہارا تعلق ایمانی تعلق ہے۔ اس لئے تمہیں اس نام سے پکاررہا ہے۔ ایمان کے حوالے سے اللہ دعوت دیتا ہے کہ اس سے ڈرو اور رسول پر ایمان لاؤ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایمان کا حق کوئی خاص مفہوم مراد ہے۔ یعنی حقیقت ایمان اور آثار خود اپنے اندر پیدا کرو۔
اتقوا اللہ .................... من رحمتہ (75 : 82) ” اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد ﷺ) پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں رحمت کا دہرا حصہ عطا فرمائے گا “ یہ بھی عجیب انداز ہے۔ اللہ کی رحمت کا تجزیہ تو نہیں ہوسکتا جس کو پہنچ گئی پوری پوری پہنچ گئی۔ اس کے حصے بخرے کہاں ہوتے ہیں۔ دراصل یہاں محدود انسانی ذہن کے مطابق بات ہورہی ہے کہ تمہیں دو حصے ملیں گے۔
ویجعل ............ بہ (75 : 82) ” تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے “ یہ وہ ربانی تحفہ ہوتا ہے جو ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں۔ اور رسول پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ اس بخشش سے دل نرم ہوجاتے ہیں۔ اور پردوں کے پیچھے سے اصل حقیقت کو دیکھ لیتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنی راہ سیدھے جاتے ہیں۔ گمراہ نہیں ہوتے۔
ویغفرلکم ................ رحیم (75 : 82) ” اور تمہارے قصور معاف کردے گا ، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ “ بہرحال انسان تو انسان ہے ، جس قدر بھی نورا سے حاصل ہو اس سے غلطی سرزد ہوسکتی ہے۔ اس کو مغفرت کی ہر وقت ضرورت ہے اور اللہ غفورالرحیم ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ کی رحمت کا دہرا حصہ تمہیں ملے۔ یہ کہ یہ نور تمہیں ملے جس کی روشنی میں تم سفر زندگی طے کرو ، اور اللہ کی رحمت اور مغفرت تمہارے شامل حال ہوجائے اور تمہاری خطائیں معاف ہوں۔
الحديد 57:29
لئلا یعلم ................ من یشاء (75 : 92) ” تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے “ اہل کتاب یہ گھمنڈ رکھتے تھے کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں اور وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔
وقالوا .................... تھتدوا ” وہ کہتے ہیں کہ یہودی بن جاؤ یا نصاریٰ بن جاؤ تمہیں ہدایت مل جائے گی “ تو اللہ تعالیٰ مومنین کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ کی رحمت ، اس کی جنت ، اس کی مغفرت اور اس کے انعامات کے مستحق ہوجاؤ اور میں تم پر ان چیزوں کی بارش کروں گا تب اہل کتاب کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ تو زعم باطل میں مبتلا ہیں۔ اور ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ مسلمانوں پر ہوگیا ہے۔ یہ کسی کے اجارے میں نہیں دے دیا گیا اور نہ محدود کردیا گیا ہے۔
واللہ ................ العظیم (75 : 92) ” اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “
غرض یہ کہ ایک ایسی دعوت ہے جس میں مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی گئی۔ کہ تم تقویٰ اور طہارت اور نیکی کی راہ میں آگے بڑھ جاؤ۔ اس پر یہ سورت ختم ہوتی ہے اور سورت کا خاتمہ اور آغاز باہم مل جاتے ہیں۔ کیونکہ اس پوری سورت میں یایھا الذین امنوا کی پکار ہے۔ کہ رب کے سامنے خضوع وخشوع اختیار کرو ، رب کے احکام بجا لاؤ، مالی ، بدنی اور روحانی فرائض پورے کرو۔
قرآن کریم جس انداز میں قلب انسانی کو خطاب کرتا ہے یہ سورت اس کا بہترین نمونہ ہے۔ پر اثرانداز میں انسانوں کو نیکیوں پر ابھارا جاتا ہے ، اس سورت کا آغاز انجام اور سیاق کلام سب انسانوں کو عمل صالح پر آمادہ کرنے والے ہیں۔ اس کی تصاویر ، ماحول اور اثر آفرینیاں قابل دید ہیں ، دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں کے لئے اس میں درس عبرت ہیں۔ اس میں اشارات ہیں کہ لوگوں کو کس اسلوب میں خطاب کیا جائے اور کس انداز میں جوش دلایا جائے ........ یہ اللہ کا درس ہے۔ جس نے ہمارے دل بنائے ہیں اور جو ہر چیز کا خالق ہے۔ داعیوں کو چاہئے کہ وہ اس ربانی درسگاہ سے سیکھ کر نکلیں تاکہ ان کی دعوت کامیاب ہو۔