Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — المجادلة 58:1 – الجمعة 62:11

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. المجادلة 58:1
  2. المجادلة 58:2
  3. المجادلة 58:3
  4. المجادلة 58:4
  5. المجادلة 58:5
  6. المجادلة 58:6
  7. المجادلة 58:7
  8. المجادلة 58:8
  9. المجادلة 58:9
  10. المجادلة 58:10
  11. المجادلة 58:11
  12. المجادلة 58:12
  13. المجادلة 58:13
  14. المجادلة 58:14
  15. المجادلة 58:15
  16. المجادلة 58:16
  17. المجادلة 58:17
  18. المجادلة 58:18
  19. المجادلة 58:19
  20. المجادلة 58:20
  21. المجادلة 58:21
  22. المجادلة 58:22
  23. الحشر 59:1
  24. الحشر 59:2
  25. الحشر 59:3
  26. الحشر 59:4
  27. الحشر 59:5
  28. الحشر 59:6
  29. الحشر 59:7
  30. الحشر 59:8
  31. الحشر 59:9
  32. الحشر 59:10
  33. الحشر 59:11
  34. الحشر 59:12
  35. الحشر 59:13
  36. الحشر 59:14
  37. الحشر 59:15
  38. الحشر 59:16
  39. الحشر 59:17
  40. الحشر 59:18
  41. الحشر 59:19
  42. الحشر 59:20
  43. الحشر 59:21
  44. الحشر 59:22
  45. الحشر 59:23
  46. الحشر 59:24
  47. الممتحنة 60:1
  48. الممتحنة 60:2
  49. الممتحنة 60:3
  50. الممتحنة 60:4
  51. الممتحنة 60:5
  52. الممتحنة 60:6
  53. الممتحنة 60:7
  54. الممتحنة 60:8
  55. الممتحنة 60:9
  56. الممتحنة 60:10
  57. الممتحنة 60:11
  58. الممتحنة 60:12
  59. الممتحنة 60:13
  60. الصف 61:1
  61. الصف 61:2
  62. الصف 61:3
  63. الصف 61:4
  64. الصف 61:5
  65. الصف 61:6
  66. الصف 61:7
  67. الصف 61:8
  68. الصف 61:9
  69. الصف 61:10
  70. الصف 61:11
  71. الصف 61:12
  72. الصف 61:13
  73. الصف 61:14
  74. الجمعة 62:1
  75. الجمعة 62:2
  76. الجمعة 62:3
  77. الجمعة 62:4
  78. الجمعة 62:5
  79. الجمعة 62:6
  80. الجمعة 62:7
  81. الجمعة 62:8
  82. الجمعة 62:9
  83. الجمعة 62:10
  84. الجمعة 62:11

المجادلة 58:1

جاہلیت کا یہ قانون تھا کہ مرد کسی وجہ سے بیوی سے ناراض ہوجاتا تو اسے یہ کہہ دیتا ” تو میرے لئے اس طرح ہے جس طرح میری ماں کی پیٹھ “۔ اس فقرے سے نہ عورت طلاق ہوتی تھی اور نہ وہ اس کے ساتھ تعلق زناشوئی قائم کرسکتا تھا۔ یوں یہ عورت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معلق رہ جاتی تھی۔ یہ دوسرے مظالم کے علاوہ ایک ظلم تھا جس میں کوئی عورت زمانہ جاہلیت میں مبتلا ہوجاتی تھی۔ جب اسلام ظہور پذیر ہوا تو اسلامی سوسائٹی میں اظہار کا یہ پہلا واقعہ پیش آیا جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ ابھی تک اسلامی قانون اظہار نافذ نہ ہوا تھا۔ امام احمد روایت کرتے ہیں۔ سعد ابن ابراہیم اور یعقوب سے ، یہ دونوں ابی سے ، وہ محمد ابن اسحاق سے ، وہ معمرابن عبداللہ ابن حنظلہ سے ، وہ یوسف ابن عبداللہ ابن سلام سے ، وہ خویلہ بنت ثعلبہ ؓ سے وہ کہتی ہیں : ” خدا کی قسم سورة مجادلہ کی ابتدائی آیات میرے اور اوس ابن الصامت کے بارے میں نازل ہوئیں۔ میں ان کی بیوی تھی۔ یہ بہت بوڑھے اور سخت مزاج تھے۔ ایک دن وہ آئے میں نے کسی معاملے میں ان کے ساتھ تکرار کرلیا۔ انہیں بہت غصہ آیا تو انہوں نے مجھے کہا تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ۔ اس کے بعد وہ چلے گئے۔ اور لوگوں کی محفل میں کچھ دیر تک رہے۔ پھر واپس آگئے۔ تو کیا دیکھتی ہوں کہ یہ میرے ساتھ تعلق زنا شوئی کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں خویلہ کی جان ہے ، تم میرے قریب نہیں آسکتے۔ تم نے جو کچھ کہا ہے وہ تو کہہ دیا ہے۔ اب یہ معاملہ رسول اللہ کے پاس جائے گا۔ اور جب تک اللہ اور رسول اللہ کا کوئی حکم نہیں آجاتا تم میرے قریب نہیں آسکتے۔ تو انہوں نے مجھ پر حملہ کردیا اور میں نے انہیں روکا جس طرح ایک عورت بوڑھے شخص کو رک لیتی ہے۔ غرض میں انہیں اپنے سے پرے پھینک دیا۔ اس کے بعد میں اپنی بعض پڑوسنوں کے پاس گئی اور ان سے کپڑے عاریتاً مانگے۔ پھر میں رسول اللہ کے پاس پہنچ گئی۔ میں آپ کے سامنے بیٹھ گئی۔ تو میں نے آپ کے سامنے پورا ماجرہ سنایا اور میں نے سو ہر کی بداخلاقی کی شکایت بھی کی۔ تو رسول اللہ فرمانے لگے ” وہ تمہارا چچازاد بوڑھا ہے اس کے بارے میں اللہ سے ڈرو “ خدا کی قسم میں اصرار کرتی ہی رہی یہاں تک کہ قرآن مجید نازل ہوگیا۔ رسول اللہ پر فوراً ایک حالت طاری ہوگئی۔ جو عموماً آپ پر نہ ہوتی تھی۔ اس کے بعد آپ سے یہ حالت دور ہوگئی تو مجھے آپ نے فرمایا ” خویلہ ، اللہ نے تمہارے اور تمہارے خاوند کے بارے میں قرآن نازل کردیا ہے۔ “ اس کے بعد آپ نے مجھے یہ آیات سنائیں۔ قد سمع اللہ .................................... عذاب الیم (4) (75 : 1 تا 4) ” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے ، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کرتے ہیں کہ ان کی بیویاں ان کی مائیں بہنیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی ، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ حکم اس لئے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی مقرر کی گئی ہوئی حدیں ہیں ، اور کافروں کے لئے درد ناک سزا ہے۔ “ کہتی ہیں مجھے رسول اللہ نے بتایا کہ اس کو حکم دیں کہ وہ ایک غلام آزاد کردے۔ تو میں نے حضور سے عرض کی ” اس کے پاس کیا ہے کہ وہ غلام آزاد کرے “ تو آپ نے فرمایا “ پھر وہ مسلسل دو ماہ تک روزے رکھے۔ “ تو میں نے کہا کہ : ” خدا کی قسم وہ تو بڑھا آدمی ہے۔ وہ دو ماہ کے مسلسل روزے نہیں رکھ سکتا۔ “ تو آپ نے فرمایا ” پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے فی مسکین ایک وسق کھجوریں دے۔ “ کہتی ہیں میں نے کہا رسول خدا ، خدا کی قسم اس کے پاس یہ بھی نہیں ہے۔ تو رسول اللہ نے فرمایا کہ ” میں اسے کھجور کی ایک ” عرق “ (ساٹھ صاع) دے دوں گا۔ “ تو میں نے کہا ” حضور ﷺ ایک عرق میں دے دوں گی “۔ تو اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ” تونے ٹھیک رویہ اختیار کیا اور احسان کیا ، لہٰذا جاؤ اور اس کی طرف سے صدقہ کرو ، اور اس کے بعد اپنے چچا زاد کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرو۔ “ کہتی ہیں ” میں نے ایسا ہی کیا۔ “ (اس روایت کو امام ابوداؤد نے کتاب الطلاق میں نقل کیا ہے) ۔ یہ حالات تھے جن میں حضور اکرم اور ایک عورت کے درمیان گفتگو ہوئی اور اس بارے میں پھر سات آسمانوں کے اوپر سے حکم آیا تاکہ اس عورت کو اس کا حق دیا جائے اور اس کے اور اس کے خاوند کے دلوں کو سکون دیا جائے اور اس قسم کے معاملات ، روز مرہ معاملات میں مسلمانوں کے لئے ضابطہ وضع کردیا جائے۔ یہ وہ حالات ہیں ، جن سے قرآن کی ایک سورت کا آغاز ہورہا ہے۔ قرآن اللہ کی ایک دائمی اور لازوال کتاب ہے اور اس کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے ایک ایک لفظ کے ساتھ پوری کائنات ہم رکاب ہوجاتی ہے۔ سورت کا آغاز یوں ہوتا ہے۔ قد سمع .................... زوجھا (85 : 1) ” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی تھی “ تو اللہ مسلمانوں کی ایک عام عورت کے معاملات کی طرف بھی متوجہ ہے۔ اس عظیم کائنات ، ناپیدا کنار کائنات کے انتظام وانصرام نے اللہ کو ان معاملات سے مشغول نہ کردیا تھا ، نہ کسی اہم معاملے نے اللہ کو اس سے باز رکھا۔ یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے کہ اس طرح کے ایک چھوٹے سے روزہ مرہ کے معاملے میں اللہ کی مداخلت ہوجائے اور پوری جامعت مسلمہ یہ شعور لے کر اللہ ان کے ساتھ ہے ، ان کے حالات میں ، ان کے معاملات میں کسی بڑے معاملے میں یا چھوٹے معاملے میں ، روز مرہ کے معاملے میں یا دائمی اور بڑے مسئلے اور مسائل میں۔ حالانکہ اللہ بہت ہی بڑا ، برتر ، جلیل القدر ، جبار اور متکبر ہے۔ تمام آسمان اور زمین اسی کے ہیں اور وہ غنی ہے اور اپنی ذات میں محمود ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : تعریفیں ہیں اس ذات کے لئے جو تمام آوازوں کو سنتا ہے ، رسول اللہ سے تکرار کرنے والی کا نام خولہ تھا ، وہ آئی گھر کے ایک کونے میں وہ رسول اللہ سے بات کررہی تھی اور میں اس کی باتیں نہ سن سکتی تھی ، اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ قدسمع ........................ الی اللہ (85 : 1) ” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کررہی تھی اور اللہ سے فریاد کئے جاتی تھی۔ “ (بخاری) خولہ کی روایت میں ، جسے خویلہ تصغیر اور تذلیل کے لئے کہا گیا ہے ، یہ بات ہے کہ یہ حادثہ ، اس میں اس عورت کی کاروائی ، رسول اللہ تک پہنچنا ، تکرار کرنا ، قرآن کا نازل ہونا ، ان سب باتوں سے اس زندگی کا ایک نقشہ سامنے آجاتا ہے جو انسانی تاریخ کی یہ منفرد سوسائٹی گزار رہی تھی۔ یہ عجیب دور تھا ، لوگوں کا رابطہ براہ راست عالم بالا سے قائم تھا۔ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کی ہدایات کے منتظر رہتے تھے۔ گویا سب لوگ عیال اللہ تھے۔ لوگوں کی نظریں عالم بالا پر اس طرح لگی ہوئی تھیں جس طرح ایک بچہ ہر وقت ماں باپ کی طرف دیکھتارہتا ہے۔ قرآن کے اندر اس واقعہ کی جو روایت ہے اس سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ عالم بالا کی طرف سے مسلسل ہدایت اور تربیت بھی ہورہی ہے اور ساتھ ساتھ قانون سازی بھی۔ قرآن اپنے اسلوب کے مطابق قانون بنارہا تھا۔ یہ بصورت ایک خشک قانون سازی نہیں ہے۔ قد سمع .................... سمیع بصیر (85 : 1) ” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کررہی تھی اور اللہ سے فریاد کیے جاتی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے اور وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ “ یہ نہایت ہی موثر آغاز ہے۔ دیکھو تم دونوں جو باتیں کررہے ہو ، اکیلے نہیں ہو۔ تمہارے ساتھ اللہ موجود ہے۔ وہ سن رہا ہے ۔ اس نے عورت کی بات سن لی۔ اپنے خاوند کے بارے میں تکرار اور اللہ سے شکایت۔ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے ، وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔ یہ تھے حالات اس حادثہ کے جس میں دونوں کے ساتھ ثالث اللہ تھا .... یہ سب باتیں چٹکیاں اور دل کے تاروں پر مضراب ہیں۔ اور اس کے بعد اصل مسئلے کو لیا جاتا ہے :

المجادلة 58:2

الذین ........................ لعفو غفور (85 : 2) ” تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کرتے ہیں کہ ان کی بیویاں ان کی مائیں بہنیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ “ مسئلے کا حل نہایت ہی گہرائی سے کردیا گیا۔ ایام جاہلیت میں ظہار کا جو قانون مروج تھا وہ تھا ہی بےبنیاد ، بیوی ماں تو ہوتی نہیں کہ وہ ماں کی طرح حرام ہوجائے۔ ماں تو صرف وہ ہوتی ہے جس نے جنا۔ ایک لفظ کہنے سے نہ بیوی ماں بن جاتی ہے جو حرام ہوجاتی ہے۔ یہ نہایت ہی ناپسندیدہ کلمہ ہے۔ حقیقت اس کی منکر ہے۔ سچائی اس کی منکر ہے ، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ سوشل معاملات واضح اور متعین ہوں۔ مجمل ، مضطرب اور پیچیدہ نہ ہوں اور سابقہ معاملات اور حادثات اللہ نے معاف کردیئے۔ وان اللہ لعفو غفور (85 : 2) اصل مسئلے کے سلسلے میں فیصلہ دینے کے بعد اب قانون سازی یوں کی جاتی ہے :

المجادلة 58:3

والذین .................... خبیر (85 : 3) ” جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی ، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے کئی کفاروں میں غلام کی آزادی کی تجویز رکھی ہے۔ یہ اسلام نے دنیا سے غلامی کو ختم کرنے کے لئے ایک تدبیر کی تھی۔ کیونکہ اس دور میں جنگ کے بین الاقوامی قوانین میں غلامی کو جائز رکھا گیا تھا۔ اسلام نے بہرحال اس کے ختم کرنے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کیں۔ یہاں آیت۔ ثم یعودون لمام قالوا (85 : 3) ” پھر وہ اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی۔ “ کے مفہوم میں بہت سے اقوال وارد ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دوبارہ مجامعت کا ارادہ کرلیں جسے انہوں نے بذریعہ ظہار اپنے اوپر حرام کردیا ہے ، یہ مفہوم سیاق کلام کے زیادہ قریب ہے۔ لہٰذا غلام کا آزاد کرنا ، اس مجامعت سے قبل ہوگا۔ اس پر نصیحت۔ ذلکم توعظون بہ (85 : 3) ” اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے “۔ کفارہ ایک قسم کی یاد دہانی اور تازیانہ عبرت ہے کہ دوبارہ یہ حرکت نہ کرو ، کیونکہ یہ رسم نہ حق ہے اور نہ معروف طریقہ ہے۔ واللہ بما تعملون خبیر (85 : 3) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “ اللہ کو اس کی حقیقت معلوم ہے۔ واقعات سے بھی وہ خبردار ہے اور تمہاری معاشرت سے بھی وہ خبردار ہے۔ یہ نصیحت اور عبرت آموزی قانون ظہار کی تکمیل سے پہلے آگئی۔ نفوس کی تربیت کے لئے اور اس لیے کہ اللہ جو قانون بنارہا ہے وہ اپنے علم اور اپنی حکمت کے مطابق بنارہا ہے۔ وہ ظاہر سے بھی خبردار ہے اور باطن سے بھی۔ اب اس کے بعد حکم کو مکمل کیا جاتا ہے۔

المجادلة 58:4

فمن لم ................ مسکینا (85 : 4) ” اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ “ اب اس قانون کے توضیحی بیان اور مسلمانوں کو ہدایت کے لئے تبصرہ آتا ہے۔ ذلک لتومنو باللہ ورسولہ (85 : 4) ” یہ حکم اس لئے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ “ وہ تو پہلے سے مومن ہیں ؟ لیکن یہ بیان کہ یہ کفارات اور جرمانے اور ان کے حالات کو اللہ کے احکام وقوانین سے مربوط کرنے سے ایمان میں قوت اور اضافہ ہوتا ہے۔ عملی زندگی ایمان کے ساتھ مربوط ہوتی ہے اور عملی زندگی پر ایمان کا کنٹرول قائم ہوتا ہے۔ وتلک ........................ الیم (85 : 4) ” یہ اللہ کی مقرر کی گئی ہوئی حدیں ہیں ، اور کافروں کے لئے درد ناک سزا ہے۔ “ یہ حدیں اللہ نے اس لئے قائم کی ہیں کہ لوگ ان حدوں سے آگے نہ بڑھ جائیں۔ اور جو شخص ان کا خیال نہیں رکھتا اور ان سے ادھر ہی رک کر نہیں رہتا اس کے غضب کا مستحق ہوتا ہے۔ وللکفرین عذاب الیم (85 : 4) ” اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “ کیونکہ وہ ظلم کرتے ہیں ، اللہ کو چیلنج کرتے ہیں ، ایمان نہیں لاتے۔ اللہ کی حدود پر نہیں رکھتے ، جس طرح اہل ایمان رکتے ہیں۔ یہ آخری عبارت وللکفرین عذاب الیم (85 : 4) ” اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “ سابقہ آیت کے خاتمے کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور آنے والی آیت کا سابق آیت کے ساتھ رابطہ بھی قائم کردیتی ہے۔ جس کا موضوع یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرتے ہیں وہ ذلیل ہوکر رہیں گے۔

المجادلة 58:5

پہلے پیراگراف میں یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ اہل اسلام کے ساتھ کس قدر مہربانی کرنے والا ہے اور جماعت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کے لئے وہ ہر وقت تیار ہے۔ یہ دوسرا پیراگراف کافروں کی سرکوبی کے لئے ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور رسول اللہ کی دشمنی پر اتر آئے ہیں یعنی وہ مسلمانوں کی حدود پر متضاد اور مخالفانہ موقف اختیار کرتے ہیں اور محاذ آرائی کرتے ہیں۔ پہلے چونکہ حدود اللہ کا ذکر ہے اور حدود پر جو جھگڑتا ہے وہ دشمن ہوتا ہے یعنی سرحدوں پر جو لڑتا ہے اس لئے یہاں ایسے دشمنان اسلام کا ذکر کردیا گیا۔ جو رسول اللہ کے مقابلے میں حد پر کھڑے ہیں اور مقابلے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اس سے دو مقابل فریقوں کی ایک تصویر دی گئی جو حدود پر لڑتے ہیں۔ اس سے کافروں کے اس فعل کی قباحت اور گھناؤنے پن کا اظہار مقصود ہے۔ اس لئے کہ یہ لوگ اپنے خالق اور رازق سے لڑنے نکل آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کی حدوں پر اپنی شیطانی افواج جمع کررکھی ہیں۔ کبتوا .................... قبلھم (85 : 5) ” اسی طرح ذلیل و خوار کردیئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے جاچکے ہیں۔ “ راجح بات یہ ہے کہ یہ ایسے لوگوں کے لئے بددعا ہے اور اللہ کی طرف سے بددعا دراصل حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ کیوں کہ اللہ تو فعال لما یرید ہے۔ کبت کے معنی قہر نازل ہونے اور ذلیل کرنے کے ہیں۔ پہلے لوگوں سے مراد یا تو وہ ہیں جو گزر چکے ، انبیائے سابقہ کی امتیں۔ جن کو اللہ نے اسی جرم میں پکڑ لیا ان سے مراد وہ مشرکین اور یہود ہیں جن کو مسلمانوں کے ذریعہ اللہ نے ذلیل کردیا تھا ، ان آیات کے نزول سے پہلے ، مثلاً غزوہ بدر میں۔ وقد .................... بینت (85 : 5) ” ہم نے تو صاف صاف آیات نازل کردی ہیں۔ “ اس آیت میں ان لوگوں کے انجام کو مفصل اور جدا کرکے بیان کیا ہے جو اللہ اور رسول سے دشمنی کرتے ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ اس لئے کہ یہ انجام جو ان آیات میں بیان ہوا ہے وہ لوگ اس انجام تک کسی جہالت کی وجہ سے نہیں پہنچ رہے یا اس لئے اس انجام تک نہیں پہنچ گئے کہ ان کی سمجھ میں بات نہیں آئی۔ بلکہ ان کو بات بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھادی گئی تھی۔ اس کے بعد ان کا اخروی انجام نہایت ہی سبق آموز انداز میں لایا جاتا ہے تاکہ اہل ایمان کی اصلاح اور تربیت ہو۔ وللکفرین .................... شھید (85 : 6) ” اور کافروں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ اس دن (یہ ذلت کا عذاب ہونا ہے) جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کرکے اٹھائے گا۔ اور انہیں بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں مگر اللہ نے ان کا سب کیا دھڑاگن گن کر محفوظ کررکھا ہے اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے۔ “ یہاں تو توہین آمیز عذاب ، ان کے تکبر کے بدلے ، ان کو دیا جائے گا۔ جب لوگوں کو اللہ اٹھائے گا تو ان نام نہاد بڑوں کو اللہ عوام کے سامنے توہین آمیز عذاب دے گا۔ یہ وہ عذاب ہوگا جو حق پر دیا جائے گا۔ اور ان کا مفصل اعمال نامہ اس کی پشت پر ہوگا جسے یہ اس دن بڑی بےپرواہی سے بھول جائیں گے۔ حالانکہ اللہ نے اسے یوں تیار کیا ہوگا کہ اس میں سے کوئی چیز بھی باقی نہ رہی ہوگی کیونکہ اللہ تو سب کچھ جانتا ہے۔ وللہ .................... شھید (85 : 6) ” اور اللہ ہر ایک چیز پر گواہ ہے۔ “ یہاں رعایت اور فضل وکرم اور جنگ اور انتقام کی دونوں تصاویر آمنے سامنے ہیں۔ اللہ کا علم اور موجود گی ہر جگہ ہے۔ وہ رعایت امداد اور مہربانی کے لئے بھی حاضر ہے اور وہ جنگ اور انتقام اور دشمنوں کو عذاب دینے کے لئے بھی حاضر ہے۔ لہٰذا اللہ کے حضوری اور موجودگی پر اہل ایمان مطمئن ہوجائیں اور کافر اور دشمن خوفزدہ ہوجائیں۔ یہ کہ اللہ ہر چیز پر شاہد ہے۔ اب یہاں اس کی ایک زندہ تصویر پیش کی جاتی ہے۔ یہ اس قدر موثر ہے کہ قلب و شعور کی تاروں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

المجادلة 58:6

پہلے پیراگراف میں یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ اہل اسلام کے ساتھ کس قدر مہربانی کرنے والا ہے اور جماعت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کے لئے وہ ہر وقت تیار ہے۔ یہ دوسرا پیراگراف کافروں کی سرکوبی کے لئے ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور رسول اللہ کی دشمنی پر اتر آئے ہیں یعنی وہ مسلمانوں کی حدود پر متضاد اور مخالفانہ موقف اختیار کرتے ہیں اور محاذ آرائی کرتے ہیں۔ پہلے چونکہ حدود اللہ کا ذکر ہے اور حدود پر جو جھگڑتا ہے وہ دشمن ہوتا ہے یعنی سرحدوں پر جو لڑتا ہے اس لئے یہاں ایسے دشمنان اسلام کا ذکر کردیا گیا۔ جو رسول اللہ کے مقابلے میں حد پر کھڑے ہیں اور مقابلے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اس سے دو مقابل فریقوں کی ایک تصویر دی گئی جو حدود پر لڑتے ہیں۔ اس سے کافروں کے اس فعل کی قباحت اور گھناؤنے پن کا اظہار مقصود ہے۔ اس لئے کہ یہ لوگ اپنے خالق اور رازق سے لڑنے نکل آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کی حدوں پر اپنی شیطانی افواج جمع کررکھی ہیں۔ کبتوا .................... قبلھم (85 : 5) ” اسی طرح ذلیل و خوار کردیئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے جاچکے ہیں۔ “ راجح بات یہ ہے کہ یہ ایسے لوگوں کے لئے بددعا ہے اور اللہ کی طرف سے بددعا دراصل حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ کیوں کہ اللہ تو فعال لما یرید ہے۔ کبت کے معنی قہر نازل ہونے اور ذلیل کرنے کے ہیں۔ پہلے لوگوں سے مراد یا تو وہ ہیں جو گزر چکے ، انبیائے سابقہ کی امتیں۔ جن کو اللہ نے اسی جرم میں پکڑ لیا ان سے مراد وہ مشرکین اور یہود ہیں جن کو مسلمانوں کے ذریعہ اللہ نے ذلیل کردیا تھا ، ان آیات کے نزول سے پہلے ، مثلاً غزوہ بدر میں۔ وقد .................... بینت (85 : 5) ” ہم نے تو صاف صاف آیات نازل کردی ہیں۔ “ اس آیت میں ان لوگوں کے انجام کو مفصل اور جدا کرکے بیان کیا ہے جو اللہ اور رسول سے دشمنی کرتے ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ اس لئے کہ یہ انجام جو ان آیات میں بیان ہوا ہے وہ لوگ اس انجام تک کسی جہالت کی وجہ سے نہیں پہنچ رہے یا اس لئے اس انجام تک نہیں پہنچ گئے کہ ان کی سمجھ میں بات نہیں آئی۔ بلکہ ان کو بات بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھادی گئی تھی۔ اس کے بعد ان کا اخروی انجام نہایت ہی سبق آموز انداز میں لایا جاتا ہے تاکہ اہل ایمان کی اصلاح اور تربیت ہو۔ وللکفرین .................... شھید (85 : 6) ” اور کافروں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ اس دن (یہ ذلت کا عذاب ہونا ہے) جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کرکے اٹھائے گا۔ اور انہیں بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں مگر اللہ نے ان کا سب کیا دھڑاگن گن کر محفوظ کررکھا ہے اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے۔ “ یہاں تو توہین آمیز عذاب ، ان کے تکبر کے بدلے ، ان کو دیا جائے گا۔ جب لوگوں کو اللہ اٹھائے گا تو ان نام نہاد بڑوں کو اللہ عوام کے سامنے توہین آمیز عذاب دے گا۔ یہ وہ عذاب ہوگا جو حق پر دیا جائے گا۔ اور ان کا مفصل اعمال نامہ اس کی پشت پر ہوگا جسے یہ اس دن بڑی بےپرواہی سے بھول جائیں گے۔ حالانکہ اللہ نے اسے یوں تیار کیا ہوگا کہ اس میں سے کوئی چیز بھی باقی نہ رہی ہوگی کیونکہ اللہ تو سب کچھ جانتا ہے۔ وللہ .................... شھید (85 : 6) ” اور اللہ ہر ایک چیز پر گواہ ہے۔ “ یہاں رعایت اور فضل وکرم اور جنگ اور انتقام کی دونوں تصاویر آمنے سامنے ہیں۔ اللہ کا علم اور موجود گی ہر جگہ ہے۔ وہ رعایت امداد اور مہربانی کے لئے بھی حاضر ہے اور وہ جنگ اور انتقام اور دشمنوں کو عذاب دینے کے لئے بھی حاضر ہے۔ لہٰذا اللہ کے حضوری اور موجودگی پر اہل ایمان مطمئن ہوجائیں اور کافر اور دشمن خوفزدہ ہوجائیں۔ یہ کہ اللہ ہر چیز پر شاہد ہے۔ اب یہاں اس کی ایک زندہ تصویر پیش کی جاتی ہے۔ یہ اس قدر موثر ہے کہ قلب و شعور کی تاروں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

المجادلة 58:7

آیت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ اللہ کا علم اس کائنات کے بارے میں جامع ومانع ہے اور ہر چیز کو شامل ہے۔ انسانی فکر اس پوری کائنات کے اندر ، آسمان کی دوریوں میں اور زمین کے اطراف میں ہر چیز تک چھوٹی ہو یا بڑی ظاہر ہو یا خفیہ معلوم ہو یا مجہول ہو ، نہیں پہنچ سکتی جبکہ ہر چیز اللہ کے علم میں ہوتی ہے۔ یہ آیت انسانی فکر کو یوں دور تک لے جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر ہماری فکر خود مخاطیں کے قلوب تک جاپہنچی ہے۔ ہر شخص کا قلب خزاہ خیالات ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے خفیہ ترین مشورے دو ، تین ، چار یا پانچ یا کم وبیش آدمی جہاں اور جس محفل میں ہوں ، وہاں تک لے جائی جاتی ہے۔ مایکون .................... ماکانوا (85 : 7) ” کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو ، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو۔ خفیہ بات کرنے والے خواہ اس سے کم ہوں یا زیادہ ، جہاں کہیں بھی وہ ہیں ، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ “ یہ بذات خود حقیقت ہے لیکن جن خبوصورت الفاظ میں اسے بیان کیا گیا ہے ان کی وجہ سے وہ بہت زیادہ موثر ہوجاتی ہے۔ ایسے انداز میں کہ کبھی تو انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے اور کبھی اسے نہایت اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ جل جلالہ بھی ہمارے ساتھ موجود ہے۔ جب بھی کوئی تین افراد الگ ہوئے کہ کوئی بات کریں تو فوراً یہ شعور ان کے اندر زندہ ہوجائے گا کہ ہمارے اندر اللہ چہارم ہے اور جب بھی کوئی پانچ جمع ہوں گے تو وہ محسوس کریں گے چھٹا اللہ ہے۔ غرض دو ہوں یا اور زیادہ ، اللہ موجودہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے کہ انسان کا دل اس کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہوسکتا ، کانپ اٹھتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اہل ایمان کے لئے یہ ایک مانوس بات ہے ، یہ ان کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ اہل ایمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ حاضروناظر ہے لیکن یہ منظر نہایت خوفناک بھی ہے۔ ھو معھم این ماکانوا (85 : 7) ” اللہ ان کے ساتھ ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔ “ ثم ینبئھم ................ القیمة (85 : 7) ” پھر قیامت کے روز وہ ان کو بتا دے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ “ یہ ایک دوسری متنزلزل کرنے والی چٹکی ہے ، محض اللہ کا موجود ہونا اور تمام باتوں کو سننا بھی ایک خوفناک بات ہے لیکن یہ کہ ان باتوں کا بعد میں حساب و کتاب بھی دینا ہے ، یہ اور زیادہ ہولناک بات ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ نجویٰ کرنے والوں کا مقصد یہ ہو کہ ان کا نجویٰ خفیہ رہ جائے۔ قیامت میں اس نجوی کی کاروائی کھلی عدالت میں پیش ہوگی اور سب لوگ وہاں حاضر ہوں گے کیونکہ وہ تو یوم المشہود ہے۔ اب خاتمہ بھی اسی بات پر ہوتا ہے ، جس سے آغاز ہوا تھا۔ ان اللہ ................ علیم (85 : 7) ” اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ “ یوں علم الٰہی کی حقیقت اور جامعیت دلوں میں بٹھائی جاتی ہے۔ ایک ہی آیت میں مختلف اسالیب سے یہ کام ہوتا ہے اور یہ اسالیب اس حقیقت کو دلوں میں بہت گہرا کردیتے ہیں اور اسی بات کو دل کے اندر مختلف راہوں اور دروازوں سے بٹھاتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ اللہ حاضر وناظر ہے اور مذکور بالا آیات میں اس کو دلوں میں نہایت ہی خوفناک طریقے سے بٹھایا گیا۔ یہ دراصل منافقین کو ایک سخت دھمکی دینے کے لئے بطور تمہیدلائی گئی ہے۔ یہ منافقین رسول اللہ اور جماعت مسلمہ کے خلاف رفت دن نجویٰ کرتے رہتے تھے ، سازشیں تیار کرتے تھے۔ مدینہ میں ان کی کثرت تھی ، دھمکی کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان کا موقف بہت عجیب ہے۔

المجادلة 58:8

الم ترالی .................... المصیر (85 : 8) ” کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟ یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں ، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری ان باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ ان کے لئے جہنم ہی کافی ہے۔ اسی کا وہ ایندھن بنیں گے۔ بڑا ہی برا انجام ہے ان کا۔ “ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں منافقین کے بارے میں حضور ﷺ کا منصوبہ نہایت روادارانہ اور ان کے ساتھ آپ کا رویہ نہایت ہی ہمدردانہ تھا۔ آپ ان کو یہی نصیحت فرماتے ہیں کہ اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کرلیں۔ اور آپ ان کو بار بار نجویٰ ، سازشوں اور خفیہ تدابیر سے روکتے تھے۔ اور منافقین یہ کام یہودیوں کے ساتھ مل کر کرتے تھے۔ بلکہ یہ تمام کام مشرکین اور منافقین یہودیوں کے اشاروں پر کرتے تھے۔ لیکن حضور ﷺ کے مخلصانہ رویہ کے باوجود انہوں نے اپنی ان سازشوں اور خفیہ تدابیر اور نجویٰ کے کام کو اور تیز کردیا۔ اور اس کے لئے انہوں نے ایسے ذرائع اور تدابیر بھی شروع کردیں کہ حضور ﷺ کے احکام کی نافرمانی کی جائے۔ اور مسلمانوں کے معاملات اور اسلامی نظام میں فساد برپا کرکے خلل ڈالا جائے۔ یہ لوگ اپنے کام میں اس قدر تیز اور جری ہوگئے تھے کہ انہوں نے اسلامی حکومت کے احکامات میں فساد ڈالنے کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کے ساتھ علیک سلیک کے اندر بھی فساد پیدا کردیا تھا۔ اور السلام علیکم کے معنی میں بھی تبدیلی کردی تھی۔ واذا جائ ........................ بہ اللہ (85 : 8) ” اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے “۔ یہ منافقین اور یہودی السلام علیکم کی جگہ السام علیکم کہتے تھے۔ یعنی یہ کہ تم پر موت آجائے۔ اسی طرح انہوں نے کچھ دوسرے الفاظ بھی گڑھ لئے تھے جن کا ظاہر تو اچھا تھا مگر باطن میں وہ ان سے غلط مراد لیتے تھے اور پھر وہ کہتے تھے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اسے ہماری ان باتوں کا علم ہوتا یا ان مجالس کا علم ہوتا جن میں ہم اس کے خلاف تدابیر اور سازشیں کرتے ہیں۔ اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے نبی ﷺ کو سب کچھ بتا دیا تھا۔ وہ بھی جو یہ اپنے دلوں میں سوچتے تھے اور وہ بھی جو سازشیں وہ اپنی مجلسوں میں کرتے تھے۔ کیونکہ سورت کے آغاز میں بتا دیا گیا کہ جو عورت اپنے خاوند کے بارے میں تکرار کررہی تھی اس کی باتیں اللہ نے سن لیں۔ اور یہ کہ اگر تین آدمی نجویٰ کریں تو چوتھا اللہ ہوتا ہے ، اگر چار کریں تو پانچواں اللہ ہوتا ہے نیز ان کے نفوس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی اللہ کو معلوم ہے۔ اور اس کے بعد ان کی باتوں کی یہ تردید کردی گئی۔ حسبھم .................... المصیر (85 : 8) ” ان کے لئے جہنم ہی کافی ہے۔ اسی کا وہ ایندھن بنیں گے۔ بڑا ہی برا انجام ہے ان کا۔ “ ان کی خفیہ سازشوں کا انکشاف ، ان کے نجویٰ کا انکشاف خصوصاً جبکہ حضور کی جانب سے ممانعت کے باوجود انہوں نے کیا ، پھر وہ جو دلوں میں کہتے تھے کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو اسے ہماری یہ کاروائیاں معلوم ہونی چاہئیں ۔ ان باتوں کا انکشاف ، غرض یہ سب انکشافات اس بات کی دلیل ہیں کہ زمین و آسمان کی ہر بات کا اللہ کو علم ہے اور اللہ پر نجویٰ میں موجود ہیں ، وہ خفیہ اجماع کا شاہد ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں منافقین کے لئے تو خوفناک تھیں کہ ان کے تمام امور طشت ازبام ہوچکے ہیں جبکہ اہل ایمان کے لئے اطمینان اور بھروسے کا باعث بنیں۔ اب خطاب اہل ایمان کو ہورہا ہے ” اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، کہ تم منافقین کی طرح نجویٰ نہ کرو ، گناہ کی باتوں میں ، دشمنی کی باتوں میں ، رسول کی نافرمانی میں ، بلکہ جو بات بھی کرو خدا خوفی کے ساتھ کرو ، اس قسم کا نجویٰ دراصل شیطان کے اشارے سے ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ شیطان مومنین کو پریشان کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا نجویٰ مومنین کے لائق نہیں ہے۔

المجادلة 58:9

یایھا الذین .................... المومنون (01) (85 : 9۔ 01) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے۔ کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ بےاذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “ معلوم ہوتا ہے ابتدائی زمانے میں جب کہ لوگوں میں ابھی تک اسلامی جماعت کا صحیح شعور اور احساسات پیدا نہ ہوئے تھے ، بعض مسلمان اجتماعی معاملات میں اپنی قیادت کے ساتھ مشورہ کیے بغیر ہی ، باہم اجتماعی مشورہ شروع کردیتے تھے۔ یہ لوگ ابھی اسلامی تنظیم کی روح سے واقف نہ تھے ، جس کے مطابق سب سے پہلے ہر مشورہ وبصورت تجویز پہلے قیادت کے سامنے آنا چاہئے اور اسلامی قیادت کے علاوہ کوئی نجویٰ نہیں ہونا چاہئے۔ معلوم ہوتا ہے اس دور میں بعض مسلمان اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ، جب ایسے مشورے کرتے تھے تو اس سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں اور اس سے جماعت مسلمہ کو تکلیف پہنچتی تھی اگر چہ مشورہ کرنے والوں کی ایسی نیت نہ ہوتی تھی۔ لیکن ان لوگوں کی طرف سے محض ایسے مسائل اٹھا دینا ہی جماعت کے لئے ایذا کا باعث بن جاتا اور اس سے اجتماعی پالیسی کی نافرمانی ہوجاتی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان کو لقب ایمان سے پکارا جاتا ہے ، جو ان کی جدید اجتماعیت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یایھا ................ امنوا (85 : 9) ” اے لوگ ، جو ایمان لائے ہو “ ایسے مشورے نہ کرو جو گناہوں ، اور حدود سے متجاوز ہوں ، اور جن سے رسول اللہ ﷺ کی معصیت لازم آتی ہو۔ اور یہ بھی بیان کردیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کن امور پر مشورہ کرسکتے ہیں۔ وتنا ................ والتقوٰی (85 : 9) ” بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتوں پر مشورہ کرو۔ “ نیکی اور تقویٰ کے بارے میں وسائل وتدابیر اختیار کرنے کے لئے بیشک تم مشورے کرو ، البر : یعنی عام بھلائی ، التقوی : بیداری اور اللہ کو حاضروناظر سمجھتے ہوئے ڈرنا۔ اس قسم کا تقویٰ صرف بھلائی ہی سکھاتا ہے۔ پھر صراحت کے ساٹھ ان کو کہا جاتا ہے کہ ، اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم نے پلٹ کر جانا ہے۔ وہ وہاں تمہارے سب کیے پر تم سے حساب لے گا۔ وہ اس پورے ریکارڈ کو تیار کرنے والا اور اس پر گواہ بھی ہوگا۔ چاہے جس قدر بھی تم چھپاؤ اور خفیہ رکھو۔ امام احمد نے روایت کی ہے بہز اور عفان سے ، ان دونوں نے ھمام سے ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے صفوان ابن محرز سے ، یہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، کہ ا کی شخص نے ان سے پوچھا : ” تم نے نجویٰ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا کہ قیامت میں اس کے بارے میں کیا ہوگا ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے یہ کہتے سنا کہ : ” اللہ ایک مومن کے قریب ہوگا۔ اس پر اپنے دونوں ہاتھ یوں رکھے گا کہ وہ لوگوں سے چھپ جائے گا۔ اور اس کے گناہوں کا اس سے اقرار لے گا اور کہے گا تمہیں فلاں فلاں گناہ معلوم ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کے پورے گناہ اسے یاد دلادیئے اور اقرار لے لیا ، اور اس شخص نے یہ سوچ لیا کہ اب تو وہ مارا گیا تو اس کے بعد اللہ فرمائے گا اچھا ، دنیا میں تو میں نے ان گناہوں کو چھپا دیا تھا اور آج میں تمہارے لئے ان سب کو معاف کرتا ہوں۔ اس کے بعد اللہ اس کو اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دے گا۔ رہے کفار اور منافقین تو ان کے علاوہ پیش ہونے والے گواہ کہیں گے ، اے رب یہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا ، لعنت ہے ظالموں پر۔ (بخاری) اس کے بعد مومنین کو نجویٰ ، افواہیں پھیلانے اور خفیہ سازشوں سے منع کیا جاتا ہے۔ جماعت سے الگ خفیہ طور پر کوئی مشورہ نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ اہل ایمان اس جماعت کا حصہ ہیں ، ان کی مصلحت اور جماعت کی مصلحت ایک ہے۔ ان کو کسی معاملے میں جماعت سے جدا نہیں ہونا چاہئے۔ اور ان سے کہا جاتا ہے کہ مومنین جب دیکھیں کہ کچھ لوگ الگ کانا پھوسی کررہے ہیں ، اور الگ مشورے ہورہے ہیں تو اس طرح اہل ایمان کو شک ، پریشانی اور حزن وملال ہوگا اور بداعتمادی کی فضا پیدا ہوگی۔ شیطانی کاوش ہی یہ ہے کہ وہ اس قسم کے نجویٰ کرنے والوں کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے تا کہ وہ نجویٰ کرکے جماعت مسلمہ کو پریشان کریں حالانکہ وہ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ انما ........................ المومنون (85 : 01) ” کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ بےاذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “ کوئی مومن اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتا۔ کیونکہ اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ اور نہ کوئی ایسی ہستی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ ایسے حالات میں کانا پھوسی نہیں کرنا چاہئے جس کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہوں اور مسلمانوں کا باہم اعتماد مجروح ہو اور دلوں کے اندیشے پیدا ہوں۔ اعمق حضرت عبداللہ ابن مسعود حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں :” اگر تم سے کوئی دو تیسرے کے سوا الگ ہو کر مشورہ نہ کرے ، کیونکہ اس بات سے وہ دل گیر ہوگا “ یہ اسلامی جماعت کے بہترین آداب ہیں۔ اور اگر ایسے آداب کو ملحظو رکھا جائے تو شکوک و شبہات کی گنجائش ہی نہ رہے گی۔ ہاں اگر راز رکھنے کی مصلحت درپیش ہو ، یا کسی کی پردہ داری مطلوب ہو ، یا کسی مخصوص شخص کے معاملات میں بات ہورہی ہو یا کسی عمومی بحث میں پردہ داری مطلوب ہو تو پھر بند کمرے میں بات کرنے کی کوئی ممانعت بھی نہیں ہے۔ اور ایسی صورت مشروہ جماعت کے قائدین کے درمیان ہوا کرتی ہے۔ لیکن کوئی اکٹھ ایسا نہ ہو کہ جسے جماعت اندر جماعت کہا جاسکے یا جو جماعت کے علم کے بغیر ہو ۔ اس قسم کے نجویٰ سے قرآن اور سنت نے منع کیا ہے اور اس قسم کے نجویٰ سے جماعتوں کے اندر افتراق اور ان کی صفوں میں شکوک پیدا ہوتے ہیں اور یہ وہ بیماری ہے جس کو شیطان بڑے اہتمام سے پھیلاتا ہے تاکہ ایمان والوں کے درمیان عدم اطمینان پھیلا دے۔ اور اللہ نے یہاں فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جماعت مسلمہ کو کبھی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس لئے کہ مومنین کی جماعت کا نگران ، نگہبان اور چوکیدار اللہ بذات خود ہے اور اللہ ہر نجویٰ میں حاضر وموجود ہوتا ہے۔ اور ایسے مشوروں میں جو سازشیں ہوتی ہیں اللہ ان کو مومنین کے لئے بےضرر بنا دیتا ہے۔ الا باذن اللہ (85 : 01) ” اللہ کے اذن کے سوا “۔ جہاں بھی کوئی حتمی اور جزمی وعدہ اور فیصلہ ہو وہاں اس قسم کی استثنا ہوتی ہے ، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ خود اپنے فیصلوں کا پابند نہیں ہے۔ لہٰذا اللہ جو چاہے کرے ، اگر اللہ چاہے کہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ وعلی ................ المومنون (85 : 01) ” اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ “ اللہ ہی بچانے والا اور حامی ہے۔ وہی قوی اور عزیز ہے ، وہی علیم وخبیر ہے ، وہی شاہد اور حاضر ہے ، اور اس کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اور اللہ نے یہ وعدہ کرلیا ہے کہ وہ مومنوں کو بچائے گا تو اس کے بعد مومنوں کے لئے کیا شک رہ جاتا ہے اس لئے وہ بےفکر ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان کو ایک دوسرا اجتماعی ادب سکھایا جاتا ہے۔

المجادلة 58:10

یایھا الذین .................... المومنون (01) (85 : 9۔ 01) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے۔ کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ بےاذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “ معلوم ہوتا ہے ابتدائی زمانے میں جب کہ لوگوں میں ابھی تک اسلامی جماعت کا صحیح شعور اور احساسات پیدا نہ ہوئے تھے ، بعض مسلمان اجتماعی معاملات میں اپنی قیادت کے ساتھ مشورہ کیے بغیر ہی ، باہم اجتماعی مشورہ شروع کردیتے تھے۔ یہ لوگ ابھی اسلامی تنظیم کی روح سے واقف نہ تھے ، جس کے مطابق سب سے پہلے ہر مشورہ وبصورت تجویز پہلے قیادت کے سامنے آنا چاہئے اور اسلامی قیادت کے علاوہ کوئی نجویٰ نہیں ہونا چاہئے۔ معلوم ہوتا ہے اس دور میں بعض مسلمان اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ، جب ایسے مشورے کرتے تھے تو اس سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں اور اس سے جماعت مسلمہ کو تکلیف پہنچتی تھی اگر چہ مشورہ کرنے والوں کی ایسی نیت نہ ہوتی تھی۔ لیکن ان لوگوں کی طرف سے محض ایسے مسائل اٹھا دینا ہی جماعت کے لئے ایذا کا باعث بن جاتا اور اس سے اجتماعی پالیسی کی نافرمانی ہوجاتی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان کو لقب ایمان سے پکارا جاتا ہے ، جو ان کی جدید اجتماعیت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یایھا ................ امنوا (85 : 9) ” اے لوگ ، جو ایمان لائے ہو “ ایسے مشورے نہ کرو جو گناہوں ، اور حدود سے متجاوز ہوں ، اور جن سے رسول اللہ ﷺ کی معصیت لازم آتی ہو۔ اور یہ بھی بیان کردیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کن امور پر مشورہ کرسکتے ہیں۔ وتنا ................ والتقوٰی (85 : 9) ” بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتوں پر مشورہ کرو۔ “ نیکی اور تقویٰ کے بارے میں وسائل وتدابیر اختیار کرنے کے لئے بیشک تم مشورے کرو ، البر : یعنی عام بھلائی ، التقوی : بیداری اور اللہ کو حاضروناظر سمجھتے ہوئے ڈرنا۔ اس قسم کا تقویٰ صرف بھلائی ہی سکھاتا ہے۔ پھر صراحت کے ساٹھ ان کو کہا جاتا ہے کہ ، اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم نے پلٹ کر جانا ہے۔ وہ وہاں تمہارے سب کیے پر تم سے حساب لے گا۔ وہ اس پورے ریکارڈ کو تیار کرنے والا اور اس پر گواہ بھی ہوگا۔ چاہے جس قدر بھی تم چھپاؤ اور خفیہ رکھو۔ امام احمد نے روایت کی ہے بہز اور عفان سے ، ان دونوں نے ھمام سے ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے صفوان ابن محرز سے ، یہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، کہ ا کی شخص نے ان سے پوچھا : ” تم نے نجویٰ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا کہ قیامت میں اس کے بارے میں کیا ہوگا ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے یہ کہتے سنا کہ : ” اللہ ایک مومن کے قریب ہوگا۔ اس پر اپنے دونوں ہاتھ یوں رکھے گا کہ وہ لوگوں سے چھپ جائے گا۔ اور اس کے گناہوں کا اس سے اقرار لے گا اور کہے گا تمہیں فلاں فلاں گناہ معلوم ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کے پورے گناہ اسے یاد دلادیئے اور اقرار لے لیا ، اور اس شخص نے یہ سوچ لیا کہ اب تو وہ مارا گیا تو اس کے بعد اللہ فرمائے گا اچھا ، دنیا میں تو میں نے ان گناہوں کو چھپا دیا تھا اور آج میں تمہارے لئے ان سب کو معاف کرتا ہوں۔ اس کے بعد اللہ اس کو اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دے گا۔ رہے کفار اور منافقین تو ان کے علاوہ پیش ہونے والے گواہ کہیں گے ، اے رب یہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا ، لعنت ہے ظالموں پر۔ (بخاری) اس کے بعد مومنین کو نجویٰ ، افواہیں پھیلانے اور خفیہ سازشوں سے منع کیا جاتا ہے۔ جماعت سے الگ خفیہ طور پر کوئی مشورہ نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ اہل ایمان اس جماعت کا حصہ ہیں ، ان کی مصلحت اور جماعت کی مصلحت ایک ہے۔ ان کو کسی معاملے میں جماعت سے جدا نہیں ہونا چاہئے۔ اور ان سے کہا جاتا ہے کہ مومنین جب دیکھیں کہ کچھ لوگ الگ کانا پھوسی کررہے ہیں ، اور الگ مشورے ہورہے ہیں تو اس طرح اہل ایمان کو شک ، پریشانی اور حزن وملال ہوگا اور بداعتمادی کی فضا پیدا ہوگی۔ شیطانی کاوش ہی یہ ہے کہ وہ اس قسم کے نجویٰ کرنے والوں کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے تا کہ وہ نجویٰ کرکے جماعت مسلمہ کو پریشان کریں حالانکہ وہ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ انما ........................ المومنون (85 : 01) ” کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ بےاذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “ کوئی مومن اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتا۔ کیونکہ اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ اور نہ کوئی ایسی ہستی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ ایسے حالات میں کانا پھوسی نہیں کرنا چاہئے جس کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہوں اور مسلمانوں کا باہم اعتماد مجروح ہو اور دلوں کے اندیشے پیدا ہوں۔ اعمق حضرت عبداللہ ابن مسعود حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں :” اگر تم سے کوئی دو تیسرے کے سوا الگ ہو کر مشورہ نہ کرے ، کیونکہ اس بات سے وہ دل گیر ہوگا “ یہ اسلامی جماعت کے بہترین آداب ہیں۔ اور اگر ایسے آداب کو ملحظو رکھا جائے تو شکوک و شبہات کی گنجائش ہی نہ رہے گی۔ ہاں اگر راز رکھنے کی مصلحت درپیش ہو ، یا کسی کی پردہ داری مطلوب ہو ، یا کسی مخصوص شخص کے معاملات میں بات ہورہی ہو یا کسی عمومی بحث میں پردہ داری مطلوب ہو تو پھر بند کمرے میں بات کرنے کی کوئی ممانعت بھی نہیں ہے۔ اور ایسی صورت مشروہ جماعت کے قائدین کے درمیان ہوا کرتی ہے۔ لیکن کوئی اکٹھ ایسا نہ ہو کہ جسے جماعت اندر جماعت کہا جاسکے یا جو جماعت کے علم کے بغیر ہو ۔ اس قسم کے نجویٰ سے قرآن اور سنت نے منع کیا ہے اور اس قسم کے نجویٰ سے جماعتوں کے اندر افتراق اور ان کی صفوں میں شکوک پیدا ہوتے ہیں اور یہ وہ بیماری ہے جس کو شیطان بڑے اہتمام سے پھیلاتا ہے تاکہ ایمان والوں کے درمیان عدم اطمینان پھیلا دے۔ اور اللہ نے یہاں فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جماعت مسلمہ کو کبھی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس لئے کہ مومنین کی جماعت کا نگران ، نگہبان اور چوکیدار اللہ بذات خود ہے اور اللہ ہر نجویٰ میں حاضر وموجود ہوتا ہے۔ اور ایسے مشوروں میں جو سازشیں ہوتی ہیں اللہ ان کو مومنین کے لئے بےضرر بنا دیتا ہے۔ الا باذن اللہ (85 : 01) ” اللہ کے اذن کے سوا “۔ جہاں بھی کوئی حتمی اور جزمی وعدہ اور فیصلہ ہو وہاں اس قسم کی استثنا ہوتی ہے ، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ خود اپنے فیصلوں کا پابند نہیں ہے۔ لہٰذا اللہ جو چاہے کرے ، اگر اللہ چاہے کہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ وعلی ................ المومنون (85 : 01) ” اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ “ اللہ ہی بچانے والا اور حامی ہے۔ وہی قوی اور عزیز ہے ، وہی علیم وخبیر ہے ، وہی شاہد اور حاضر ہے ، اور اس کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اور اللہ نے یہ وعدہ کرلیا ہے کہ وہ مومنوں کو بچائے گا تو اس کے بعد مومنوں کے لئے کیا شک رہ جاتا ہے اس لئے وہ بےفکر ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان کو ایک دوسرا اجتماعی ادب سکھایا جاتا ہے۔

المجادلة 58:11

” بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول کا بھی منافقین کے ساتھ تعلق ہے۔ ان سے پھر ان آیات اور ماقبل کی آیات کے درمیان ربط واضح ہوجاتا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ آیات مجالس ذکر کے بارے نازل ہوئی ہیں۔ منافقین کا رویہ یہ تھا کہ جب یہ کسی شخص کو مجلس رسول میں آتا دیکھتے تو اپنی جگہ جم کر بیٹھ جاتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ نئے آنے والوں کو مجلس میں جگہ دیا کرو۔ مقاسل ابن حبان نے کہا کہ یہ جمعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس دن حضور ﷺ صفہ میں تھے ، جگہ تنگ تھی۔ حضور ﷺ مہاجرین اور انصار میں سے اہل بدر کا بہت اکرام کرتے تھے۔ اہل بدر میں سے کچھ لوگ آئے اور ان سے پہلے جگہ بھر چکی تھی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ارد گرد کھڑے ہوگئے اور کہا : السلام علیکم ایھا النبی ورحمة اللہ وبرکاتہ نبی ﷺ نے سلام کا جواب دیا۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو سلام کیا۔ انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا۔ یہ لوگ کھڑے رہے کہ شاید یہ لوگ ان کے لئے مجلس میں وسعت پیدا کریں گے تو حضور ﷺ نے معلوم کرلیا کہ وہ کیوں کھڑے ہیں ؟ یہ بات نبی ﷺ کو بہت ناگوار گزری۔ تو آپ کے ارد گرد مہاجرین وانصار میں سے جو غیر بدری لوگ تھے ، حضور ﷺ نے ان سے فرمایا فلاں تم اٹھ جاؤ، فلاں تم اٹھ جاؤ، یوں ہی حضور ﷺ ان کو اٹھاتے رہے جب تک تمام بدریوں کے بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوگئی۔ یہ بات ان لوگوں پر بہت ہی گراں گزری جو اٹھائے گئے تھے۔ ان کے چہروں پر حضور ﷺ نے یہ کراہت دیکھ لی۔ اس پر منافقین نے کہا کہ کیا تم کو یہ یقین نہیں ہے کہ تمہارے ” صاحب “ لوگوں کے درمیان انصاف کرتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا ہمیں تو اس طرح کا اٹھانا منصفانہ معلوم نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں نے نبی کا قرب چاہا اور قریب بیٹھ گئے۔ اور آپ ﷺ نے ان کو اٹھا دیا اور پھر دیر تک بیٹھے رہے۔ ہم تک یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے اس شخص پر رحم کیا جس نے اپنے بھائی کے لئے مجلس میں جگہ بنائی۔ اس کے بعد اگر کوئی آتا تو وہ لوگ جگہ دینے کے لئے جلدی سے اٹھ جاتے۔ اور لوگ ایک دوسرے کے لئے مجالس میں جگہ بناتے اور یہ آیت جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ اگر یہ روایت درست ہے تو یہ ان احادیث کے منافی نہیں ہے جن میں یہ آیا ہے کہ مجلس سے کسی شخص کو اٹھا کر دوسرے کو نہ بٹھایا جائے۔ جیسا کہ صحیحین کی روایت میں ہے ” کوئی شخص کسی شخص کو مجلس سے اس لئے نہ اٹھائے کہ اس کی جگہ خود بیٹھ جائے لیکن یہ ہے کہ مجالس کے اندر وسعت اور کشادگی پیدا کرو “ اور اسی طرح دوسری احادیث کے بھی یہ خلاف نہیں ہے جن کا مضمون یہ ہے کہ بعد میں آنے والا وہاں بیٹھ جائے جہاں مجلس ختم ہوتی ہے اور لوگوں کی گردنوں کے اوپر چڑھ کر آگے نہ بڑھے تاکہ وہ ممتاز جگہ بیٹھ جائے۔ آیت کا مضمون یہ ہے کہ پہلے بیٹھے ہوئے لوگ آنے والے کے لئے جگہ بنائیں۔ جس طرح آیت میں یہ بھی ہے کہ اگر منتظمین کسی کو کہیں کہ وہ اپنی نشست چھوڑ دے تو اسے چاہیے کہ وہ چھوڑ دے۔ لیکن یہ حکم منتظم اور قیادت سے صادر ہونا چاہئے ، باہر سے آنے والے کی جانب سے نہیں۔ غرض یہاں یہ ہے کہ انسانی نفوس کے اندر وسعت پیدا کی جائے قبل اس کے کہ مجالس کے اندر وسعت پیدا کی جائے۔ اگر دل کے اندر وسعت پیدا ہوجائے تو پھر وہ برداشت کرے گا اور مجلس میں آنے والے بھائیوں کو نہایت ہی محبت اور نہایت ہی خوش اخلاقی کے ساتھ بٹھائے گا اور ان کا استقبال کرے گا اور نہایت خوشی اور رضامندی سے ان کے لئے جگہ بنائے گا۔ لیکن اگر قیادت یہ سمجھتی ہو کہ کسی خصوصیت یا مخصوص حالات کی وجہ سے جگہ خالی کرنا ضروری ہے تو طیب نفس اور خوشی خوشی سے جگہ خالی کردینا چاہئے۔ لیکن اصول اپنی جگہ وہی رہے گا کہ پیچھے آنے والا پیچھے رہے ، گردونوں پر سوار ہو کر آگے نہ بڑھے۔ یا کسی دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ خود نہ بیٹھے۔ یہ تو رواداری ہے اور انتظامی حکم ہے جو فیصلہ کن ہے اور اسلام بہرحال بہترین آداب سکھاتا ہے۔ ہر حکم دینے کے بعد اسلامی نظام تربیت کا یہ اصول ہے کہ وہ لوگوں کے شعور کی اصلاح کرتا ہے۔ یہاں بھی کہا جاتا ہے کہ اگر تم مجالس میں اور دلوں میں وسعت پیدا کرو گے تو اللہ تمہارے لئے وسعت پیدا کردے گا۔ فافسحوا ................ لکم (85 : 11) ” تو جگہ کشاد کردیا کرو ، اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا “ اور وہ لوگ جو اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں اور رسول اللہ یا قیادت کی اطاعت کرتے ہیں تو اللہ ان کو رفعت مقام عطا کرے گا۔ واذاقیل ........................ درجت (85 : 11) ” اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے ، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا “ یہ ہوگی ان کی تواضع کی جزاء اور تعمیل حکم اور ڈسپلن کا اجر۔ حضور ﷺ کی مجلس میں قریب مقام حاصل کرنا بھی دراصل حصول علم کے لئے ہوا کرتا تھا۔ چناچہ یہ آیت ان کو سکھاتی ہے کہ جو ایمان وسعت قلبی سکھائے ، اطاعت امر سکھائے ، اور وہ علم جو دل کی تہذیب عطا کرے ، اور وہ دل وسیع ہوجائے اور مطیع فرمان ہوجائے تو ایسے علم اور متعلم کے درجات اللہ کے ہاں بلند ہوجاتے ہیں اور یہ جو درجہ عطا ہوا یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے رسول کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے مجلس میں اپنا درجہ چھوڑ دیا۔ لہٰذا اللہ نے اپنے ہاں درجہ دے دیا۔ واللہ ............ خبیر (85 : 11) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ کو اس کی خبر ہے “۔ لہٰذا اللہ علم اور معرفت کی بنا پر ہر کام پر مناسب جزا دے گا اور اللہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ تمہارے کاموں کے پیچھے کیا داعیہ رکھا ہے۔ یوں قرآن کریم انسانی نفوس کی تہذیب اور اخلاقی تربیت کرتا ہے اور انسانوں کو وسعت قلبی ، رواداری ، اطاعت امر سکھاتا ہے۔ اس طرح کہ وہ ناگوار کام کو بھی ذوق وشوق سے کریں۔ دین اسلام محض خشک دفعات پر مشتمل کوئی قانون نہیں ہے۔ یہ تو ایک شعور ، ایک نظریہ ، ایک احساس اور ضمیر کے اندر ایک ملکہ ہے جو عمل پر ابھارتا ہے۔ اب قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ایک دوسرا ادب اہل ایمان کو سکھاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے تنہائی میں گفتگو کرنے والوں کب بہت کثرت ہوگئی تھی اور ہر فرد اپنے انفرادی معاملات میں حضور اکرم ﷺ سے گفتگو چاہتا تھا۔ اور اس کے ذاتی معاملات میں ہدایات اور مشورے چاہتا تھا۔ اور اس دور میں رسول اللہ ﷺ کی اجتماعی ذمہ داریاں بڑھ گئی تھیں اور آپ کا وقت بہت ہی قیمتی تھا۔ اور آپ کے ساتھ تنہائی میں گفتگو ایک بہت ہی اہم اور سنجیدہ مسئلہ بن گیا تھا۔ یہ تو کسی نہایت ہی اہم مسئلے ہی میں ہو سکتا تھا ، لیکن لوگ تھے کہ اس اعزاز کے لئے ٹوٹ پڑے تھے۔ چناچہ اللہ نے تنہائی میں وقت کا مطالبہ کرنے والوں کو کنٹرول کرنے کے لئے مالی تاوان عائد کردیا۔ اور یہ مالی تاوان جماعت کے اجتماعی کاموں کے لئے تھا۔ یوں حضور اکرم ﷺ اپنے وقت کا ایک حصہ ایسے لوگوں کو دے دیتے کیونکہ آپ کا پورا وقت اجتماعی معاملات کے لئے وقف تھا۔ یہ تاوان یوں ہوتا کہ جو شخص تنہائی میں وقت چاہتا وہ پہلے صدقہ کرے۔

المجادلة 58:12

یایھا الذین .................... غفور رحیم (85 : 21) ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ، جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلس میں کشادگی پیدا کرو ، اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ کو اس کی خبر ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو ، یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے ۔ البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لئے کچھ نہ پاؤ تو اللہ غفور ورحیم ہے۔ “ اس آیت پر حضر علی ؓ نے عمل کیا۔ آپ کے پاس ایک دینار تھا۔ آپ نے اسے روپوں میں تبدیل کیا ۔ آپ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ جس وقت الگ کوئی مشورہ کرتے تو ایک درہم کا صدقہ کردیتے لیکن مسلمانوں پر یہ امر بہت ہی شاق گزرا۔ اللہ کو تو پہلے سے معلوم تھا۔ جو مقصد اس امر سے تھا وہ پورا ہوگیا تھا۔ لوگوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ حضور اکرم ﷺ کے اوقات کس قدر قیمتی ہیں۔ اس لئے اللہ نے یہ حکم واپس لے لیا۔ دوسری آیت آگئی۔ اور ان کو متوجہ کردیا کہ عبادات اور اللہ کی فرمانبرداری کرو۔

المجادلة 58:13

ءاشفقتم ................ بما تعملون (85 : 31) ” کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے ؟ اچھا ، اگر تم ایسا نہ کرو ........ اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا ........ تو نماز قائم کرتے رہو ، زکوة دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو ۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس بےباخبر ہے۔ “ ان دونوں آیات اور ان کے شان نزول میں وارد احادیث کے فلسفے سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے بڑے معاملات میں مسلمانوں کی تربیت کے لئے اور اسلامی جماعت کو تیار کرنے کے لئے کس قدر جدوجہد کی گئی۔ اب سیاق کلام منافقین کی طرف پھرتا ہے۔ یہ لوگ یہودیوں کے ساتھ گہری دوستی اور راہ ورسم رکھتے تھے ۔ ان کے بعض حالات کھولے جاتے ہیں اور ان کو دھمکی دی جاتی ہے کہ تمہارے سب کرتوت اب چھپے نہیں رہے اور تمہارا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ دعوت اسلامی تمہاری تمام سازشوں کے باوجود اب کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔

المجادلة 58:14

الم ترالی ........................................ ھم المفلحون یہ منا یقین پر ایک تنقیدی حملہ ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ ایک ایسی قوم سے دوستی کررہے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقین مسلمانوں کے خلاف نہایت گہری چالیں چلتے تھے اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمنوں یعنی یہودیوں کے ساتھ مل کر یہ سازشیں تیار کرتے تھے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اقتدار مستحکم ہوگیا تھا۔ کیونکہ جب ان پر رسول اللہ اور مسلمان تنقید کرتے تھے اور ان سے باز پرس کرتے تھے تو یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ حالانکہ رسول اللہ اور مسلمان جو بات کرتے تھے وہ اللہ کی طرف سے فراہم کردہ انکشافات پر مبنی ہوتی تھی۔ جب وہ حلف اٹھاتے تھے تو وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ وہ اپنی قسموں کی آڑ میں اپنے آپ کو اس مواخذے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ ان کی تمام سازشیں اسلامی حکومت کی طرف سے قابل مواخذہ تھیں۔ اتخذوا ................ جنة (85 : 61) ” انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ “ اس طرح وہ اپنی سازشیں جاری رکھی ہوئے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ ان آیات کے درمیان اللہ نے ان کو بار بار دھمکی دی۔

المجادلة 58:15

اعداللہ .................... یعملون (85 : 51) ” اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے ، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو یہ کررہے ہیں۔ “ اور آگے ہے : فلھم ........ مھین (85 : 61) ” اس پر ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے “۔ آگے ہے :

المجادلة 58:16

اعداللہ .................... یعملون (85 : 51) ” اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے ، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو یہ کررہے ہیں۔ “ اور آگے ہے : فلھم ........ مھین (85 : 61) ” اس پر ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے “۔ آگے ہے :

المجادلة 58:17

لن تغنی .................... خلدون (85 : 71) ” اللہ سے بچانے کے لئے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد۔ وہ دوزخ کے یار ہیں ، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور ان آیات میں روز قیامت ان کی جو تصویر کھینچی گئی ہے وہ بہت ہی بھدی اور توہین آمیز ہے۔ وہ جس طرح دنیا میں جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں اسی طرح وہ اللہ کے ہاں بھی قسمیں اٹھاتے نظر آتے ہیں۔

المجادلة 58:18

یوم یبعثھم ................ لکم (85 : 81) ” جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق ان کی گھٹی میں پڑگیا ہے۔ قیامت میں بھی یہ ان کے ساتھ رہے گا۔ اور اللہ ذوالجلال کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں اٹھانے کی جرات کریں گے۔ حالانکہ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے۔ ویحسبون ................ شیئ (85 : 81) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے ج کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا “۔ حالانکہ وہ ہوا میں لٹک رہے ہیں ان کے پاؤں تلے تو زمین نہیں ہے .... حقیقی جھوٹے ہیں یہ لوگ۔ الا انھم ............ الکذبون (85 : 81) ” وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں “۔ ان کی ان حرکان کا سبب یہ ہے کہ شیطان ان پر پوری طرح چھایا گیا ہے۔ فانسھم ذکر اللہ (85 : 91) ” اس نے اللہ کی اد ان کے دل سے بھلا دی ہے “۔ اور جو دل اللہ کو بھلا دیتا ہے وہ بگڑ جاتا ہے اور شر کے لئے خالص ہوجاتا ہے۔ اولئک حزب الشیطن (85 : 91) ” یہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں “۔ اور شیطان کی پارٹی خالص اس کے لئے کام کرتی ہے ، اس کے جھنڈے تلے چلتی ہے۔ اس کے نام سے کام کرتی ہے۔ اس کے مقاصد پورے کرتی ہے۔ یہ پارٹی خالص شر ہے اور خالص خسارے میں پڑے گی۔ الا ان ................ الخسرون (85 : 91) ” خبردار رہو ، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ بہت ہی شدید اور سخت تنقیدی حملہ ہے جو ان منافقین پر کیا گیا۔ یہ طویل تنقیدی حملہ اس لئے کیا گیا کہ وہ رات دن نہایت ہی خطرناک سازشوں میں مصروف تھے۔ رات دن یہودیوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف تدابیر سوچتے تھے۔ اس تنقیدی حملے سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو خوب اطمینان ہوا ہوگا اور آئندہ بھی ہوگا کہ ان کی جانب سے اللہ خود تدابیر کرتا ہے۔ یہ منافقین یہودیوں کے ہاں پناہ لیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہودی ایک قابل لحاظ قوت ہیں ، ان سے لوگ ڈرتے ہیں اور امیدیں بھی انہی سے وابستہ ہیں۔ اور یہ لوگ اسی غرض سے ان سے مشورہ اور معاونت طلب کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ ان کو یہودیوں سے مایوس فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ ان یہودیوں پر تو ذلت اور شکست لکھ دی گئی ہے۔ اور اللہ بھی غالب ہے اور اس کا رسول بھی غالب رہے گا۔

المجادلة 58:19

یوم یبعثھم ................ لکم (85 : 81) ” جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق ان کی گھٹی میں پڑگیا ہے۔ قیامت میں بھی یہ ان کے ساتھ رہے گا۔ اور اللہ ذوالجلال کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں اٹھانے کی جرات کریں گے۔ حالانکہ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے۔ ویحسبون ................ شیئ (85 : 81) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے ج کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا “۔ حالانکہ وہ ہوا میں لٹک رہے ہیں ان کے پاؤں تلے تو زمین نہیں ہے .... حقیقی جھوٹے ہیں یہ لوگ۔ الا انھم ............ الکذبون (85 : 81) ” وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں “۔ ان کی ان حرکان کا سبب یہ ہے کہ شیطان ان پر پوری طرح چھایا گیا ہے۔ فانسھم ذکر اللہ (85 : 91) ” اس نے اللہ کی اد ان کے دل سے بھلا دی ہے “۔ اور جو دل اللہ کو بھلا دیتا ہے وہ بگڑ جاتا ہے اور شر کے لئے خالص ہوجاتا ہے۔ اولئک حزب الشیطن (85 : 91) ” یہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں “۔ اور شیطان کی پارٹی خالص اس کے لئے کام کرتی ہے ، اس کے جھنڈے تلے چلتی ہے۔ اس کے نام سے کام کرتی ہے۔ اس کے مقاصد پورے کرتی ہے۔ یہ پارٹی خالص شر ہے اور خالص خسارے میں پڑے گی۔ الا ان ................ الخسرون (85 : 91) ” خبردار رہو ، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ بہت ہی شدید اور سخت تنقیدی حملہ ہے جو ان منافقین پر کیا گیا۔ یہ طویل تنقیدی حملہ اس لئے کیا گیا کہ وہ رات دن نہایت ہی خطرناک سازشوں میں مصروف تھے۔ رات دن یہودیوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف تدابیر سوچتے تھے۔ اس تنقیدی حملے سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو خوب اطمینان ہوا ہوگا اور آئندہ بھی ہوگا کہ ان کی جانب سے اللہ خود تدابیر کرتا ہے۔ یہ منافقین یہودیوں کے ہاں پناہ لیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہودی ایک قابل لحاظ قوت ہیں ، ان سے لوگ ڈرتے ہیں اور امیدیں بھی انہی سے وابستہ ہیں۔ اور یہ لوگ اسی غرض سے ان سے مشورہ اور معاونت طلب کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ ان کو یہودیوں سے مایوس فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ ان یہودیوں پر تو ذلت اور شکست لکھ دی گئی ہے۔ اور اللہ بھی غالب ہے اور اس کا رسول بھی غالب رہے گا۔

المجادلة 58:20

ان الذین ........................ قوی عزیز (12) (85 : 02۔ 12) ” یقینا ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوکر رہیں گے۔ فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے “۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو سچا ہوکر رہا ہے۔ اور آئندہ بھی سچا ہوکر رہے گا۔ اگرچہ بظاہر اس سچے وعدے کے حالات مخالف نظر آئیں۔ عملاً جو جزیرة العرب میں جو ہوا ، وہ یہی تھا کہ ایمان اور توحید غالب آگئے۔ کفر اور شرک مغلوب ہوئے اور جزیرة العرب میں اسلامی نظریہ حیات غالب ہوگیا۔ اور کفر اور شرک کے ساتھ ایک طویل کشمکش کے بعد اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد پوری انسانیت عقیدہ توحید کے سامنے سرنگوں ہوئی۔ اگرچہ دنیا کے بعض علاقوں میں شرک اور کفر نے ایک عارضی وقت کے لئے غلبہ حاصل کرلیا۔ جس طرح آج ملحد اور بت پرست حکومتوں میں شرکیہ عقائد کا کسی نہ کسی جگہ غلبہ ہے لیکن عقیدہ توحید پوری دنیا میں غالب رہا ہے۔ نیز الحاد اور شرک مسلسل زوال پذیر ہیں۔ اس لئے کہ شرک اپنے مختلف مظاہر کے ساتھ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ دنیا میں باقی رہے۔ اور جدید سائنس نے انسانیت کو عقیدہ توحید پر بہت سے جدید دلائل بھی فراہم کردیئے ہیں لہٰذا ایمان اور توحید مسلسل ترقی میں ہے۔ اور شرکیہ عقائد ونظریات سکڑ رہے ہیں۔ ایک مومن تو اللہ کے وعدے کو ایک حقیقت سمجھتا ہے۔ اگر کسی زمانے میں ایک محدود نسل یا محدود قطعہ زمین اس کے خلاف نظر آئے تو اسے یقین کرنا چاہئے کہ وہ صورت حال عارضی ہے اور بدلنے والی ہے۔ اور یہ عارضی غلبہ کفر بھی کسی حکمت کے تحت ہوگا۔ اور شاید اس لئے کہ اہل ایمان اسے اپنی ایمانی غیرت کے لئے ایک چیلنج سمجھیں اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اللہ کے وعدے کے مطابق مغلوب ہو۔ آج ہمارے دور میں ایمان کے دشمن ، ہر طرف سے اہل ایمان کے خلاف جنگ آزما ہیں اور ہر طرف سے حملہ آور ہیں اور انہوں نے ایمان کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع کررکھی ہے۔ ہر طرف سے پکڑ دھکڑ ، سازشیں اور مسلسل اور متنوع سازشیں اسلام اور ایمان کے خلاف ہورہی ہیں۔ اس طرح کہ مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، ملک بدر کیا جارہا ہے ، ان کو قسم قسم کی اذیتیں دی جارہی ہیں ، ان کے ذرائع رزق بند کیے جارہے ہیں ، اور ان پر ہر قسم کی ذلت مسلط کررکھی ہیں اس کے باوجود اہل ایمان کے دل ایمان سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کو گرنے سے بچایا جاتا ہے اور وہ غالب اقوام کے اندر پگھل کر ضم نہیں ہوتے۔ اور وہ یہ مشکلات برداشت کرکے بھی ایسے مواقع کے انتظار میں ہیں کہ کفر پر حملہ آور ہوں اور اسے پاش پاش کرکے رکھ دیں۔ ایک طویل عرصے سے مسلمان اس صورت حال سے دو چار ہیں لیکن ان کا ایمان مضبوط ہے اور وہ جدوجہد میں مصروف ہیں تو اس سے نظر آتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول غالب ہوکر رہیں گے اور اس سلسلے میں ان کو کوئی طویل انتظار بھی نہ کرنا پڑے گا۔ لہٰذا مومن کو اپنے دل میں یہ شک نہیں لانا چاہئے کہ ایمان غالب رہے گا۔ اللہ کا وعدہ ایک حقیقت ہے اور اس نے جلد یا بدیر حقیقت کا روپ اختیار کرنا ہے اور جو لوگ اللہ و رسول اللہ اور اسلام کے دشمن ہیں وہ ذلیل ہوکر رہیں گے اور اللہ اور رسول ہی غالب رہیں گے۔ یہ بات ہوتی ہے اور ہوکر رہے گی۔ لیکن بظاہر حالات ایسے ہوا کرتے ہیں ، جو اس کے خلاف نظر آتے ہیں۔ اور آخر میں وہ اصول جس پر مسلمانوں کو جم کر رہنا چاہئے۔ یہ اصل اصول ہے اور یہ ایمان کے سچے ہونے اور جھوٹے دعوائے ایمان کے لئے ایک ترازو ہے۔

المجادلة 58:21

ان الذین ........................ قوی عزیز (12) (85 : 02۔ 12) ” یقینا ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوکر رہیں گے۔ فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے “۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو سچا ہوکر رہا ہے۔ اور آئندہ بھی سچا ہوکر رہے گا۔ اگرچہ بظاہر اس سچے وعدے کے حالات مخالف نظر آئیں۔ عملاً جو جزیرة العرب میں جو ہوا ، وہ یہی تھا کہ ایمان اور توحید غالب آگئے۔ کفر اور شرک مغلوب ہوئے اور جزیرة العرب میں اسلامی نظریہ حیات غالب ہوگیا۔ اور کفر اور شرک کے ساتھ ایک طویل کشمکش کے بعد اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد پوری انسانیت عقیدہ توحید کے سامنے سرنگوں ہوئی۔ اگرچہ دنیا کے بعض علاقوں میں شرک اور کفر نے ایک عارضی وقت کے لئے غلبہ حاصل کرلیا۔ جس طرح آج ملحد اور بت پرست حکومتوں میں شرکیہ عقائد کا کسی نہ کسی جگہ غلبہ ہے لیکن عقیدہ توحید پوری دنیا میں غالب رہا ہے۔ نیز الحاد اور شرک مسلسل زوال پذیر ہیں۔ اس لئے کہ شرک اپنے مختلف مظاہر کے ساتھ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ دنیا میں باقی رہے۔ اور جدید سائنس نے انسانیت کو عقیدہ توحید پر بہت سے جدید دلائل بھی فراہم کردیئے ہیں لہٰذا ایمان اور توحید مسلسل ترقی میں ہے۔ اور شرکیہ عقائد ونظریات سکڑ رہے ہیں۔ ایک مومن تو اللہ کے وعدے کو ایک حقیقت سمجھتا ہے۔ اگر کسی زمانے میں ایک محدود نسل یا محدود قطعہ زمین اس کے خلاف نظر آئے تو اسے یقین کرنا چاہئے کہ وہ صورت حال عارضی ہے اور بدلنے والی ہے۔ اور یہ عارضی غلبہ کفر بھی کسی حکمت کے تحت ہوگا۔ اور شاید اس لئے کہ اہل ایمان اسے اپنی ایمانی غیرت کے لئے ایک چیلنج سمجھیں اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اللہ کے وعدے کے مطابق مغلوب ہو۔ آج ہمارے دور میں ایمان کے دشمن ، ہر طرف سے اہل ایمان کے خلاف جنگ آزما ہیں اور ہر طرف سے حملہ آور ہیں اور انہوں نے ایمان کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع کررکھی ہے۔ ہر طرف سے پکڑ دھکڑ ، سازشیں اور مسلسل اور متنوع سازشیں اسلام اور ایمان کے خلاف ہورہی ہیں۔ اس طرح کہ مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، ملک بدر کیا جارہا ہے ، ان کو قسم قسم کی اذیتیں دی جارہی ہیں ، ان کے ذرائع رزق بند کیے جارہے ہیں ، اور ان پر ہر قسم کی ذلت مسلط کررکھی ہیں اس کے باوجود اہل ایمان کے دل ایمان سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کو گرنے سے بچایا جاتا ہے اور وہ غالب اقوام کے اندر پگھل کر ضم نہیں ہوتے۔ اور وہ یہ مشکلات برداشت کرکے بھی ایسے مواقع کے انتظار میں ہیں کہ کفر پر حملہ آور ہوں اور اسے پاش پاش کرکے رکھ دیں۔ ایک طویل عرصے سے مسلمان اس صورت حال سے دو چار ہیں لیکن ان کا ایمان مضبوط ہے اور وہ جدوجہد میں مصروف ہیں تو اس سے نظر آتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول غالب ہوکر رہیں گے اور اس سلسلے میں ان کو کوئی طویل انتظار بھی نہ کرنا پڑے گا۔ لہٰذا مومن کو اپنے دل میں یہ شک نہیں لانا چاہئے کہ ایمان غالب رہے گا۔ اللہ کا وعدہ ایک حقیقت ہے اور اس نے جلد یا بدیر حقیقت کا روپ اختیار کرنا ہے اور جو لوگ اللہ و رسول اللہ اور اسلام کے دشمن ہیں وہ ذلیل ہوکر رہیں گے اور اللہ اور رسول ہی غالب رہیں گے۔ یہ بات ہوتی ہے اور ہوکر رہے گی۔ لیکن بظاہر حالات ایسے ہوا کرتے ہیں ، جو اس کے خلاف نظر آتے ہیں۔ اور آخر میں وہ اصول جس پر مسلمانوں کو جم کر رہنا چاہئے۔ یہ اصل اصول ہے اور یہ ایمان کے سچے ہونے اور جھوٹے دعوائے ایمان کے لئے ایک ترازو ہے۔

المجادلة 58:22

لا تجدوقوما ............................ المفلحون (85 : 22) ” تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے ، خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو ، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاں پانے والے ہیں۔ “ یہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان مکمل جدائی ہے۔ تمام تعلقات اور تمام کششوں کو چھوڑ کر جماعت مسلمہ کے لئے یکسوہوجانا چاہئے۔ اور ایک ہی رسی ، ایمانی رسی کو پکڑ کر باہم مضبوط ہوجانا چاہئے۔ لا تجد .................... رسولہ (85 : 22) ” تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے “۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے دل میں دو دل نہیں رکھے۔ کوئی انسان اپنے دل میں دو محبتیں نہیں رکھ سکتا۔ یعنی اللہ اور رسول کی محبت بھی ہو اور اللہ اور رسول کے دشمنوں کی محبت بھی ہو۔ یا تو ایمان ہوگا ” لایمان “ ہوگا۔ یہ دونوں ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ ولو کانو .................... عشیرتھم (85 : 22) ” خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان ہوں “۔ جب ایمان کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں تو پھر خون اور رشتہ داری کے روابط کٹ جاتے ہیں۔ اگر دو جھنڈوں کے درمیان کشمکش نہ ہو تو پھر خون اور رشتہ داری کے روابط رکھے جاسکتے ہیں۔ اور دو جھنڈون سے مراد اللہ کا جھنڈا اور شیطان کا جھنڈا ہیں۔ اگر حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان جنگ برپا نہ ہو اور حالت جنگ میں والدین اور رشتہ دار حزب الشیطان کے طرفدار نہ ہوں تو شریعت والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھے روابطہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ لیکن اگر جنگ دشمنی اور مقابلہ اور مخاصمت جاری ہو تو پھر اسلام حکم دیتا ہے کہ تمام رشتے کاٹ دو ۔ اور صرف ایک ہی رسی اور مضبوط رسی کو تھام لو یعنی ایمان کی رسی۔ ابوعبیدہ نے بدر کے دن اپنے باپ کو قتل کردیا۔ ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمن کے قتل کا ارادہ کرلیا تھا۔ مصعب ابن عمیر نے اپنے بھائی عبیدابن عمر کو قتل کردیا۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت عبیدہ اور حارث نے اپنی قریبی رشتہ داروں اور خاندان کے لوگوں کو قتل کردیا۔ انہوں نے خون اور رشتہ داری کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اور دین اور نظریہ کی اہمیت دی۔ یہ وہ اعلیٰ معیار تھا جس تک اسلام نے نظریاتی روابط کو پہنچایا۔ اولئک .................... الایمان (85 : 66) ” یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے “۔ یہ ان کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو مضبوط کردیا۔ رحمان نے اپنے ہاتھ سے ان کے دلوں میں لکھ دیا ، لہٰذا اب یہ ان کے دلوں سے نہ مٹ سکتا ہے اور نہ اسے زوال ہوسکتا ہے۔ نہ بجھ سکتا ہے اور نہ اس کے اندر کوئی پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ وایدھم ............ منہ (85 : 22) ” اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی۔ “ انہوں نے راہ ایمان اور اسلامی انقلاب لانے کا جو عزم کررکھا ہے وہ اسی روحانی قوت سے ہی کیا اور ان کی روح جس طرح منور ہوئی وہ اسی قوت اشراق اور تائید ایزدی سے منور ہوئی۔ یہی روح ان کو اس نور اور اشراق کے اصل سرچشمے سے جوڑتی ہے۔ ویدخلھم ........................ فیھا (85 : 22) ” وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور یہ ہے جزاء اس بات کی کہ وہ اللہ کے لئے خالص ہوگئے اور اپنے روابط انہوں نے صرف ایمان کے تعلق پر قائم کیے اور انہوں نے اس فانی دنیا کے تمام اغراض اور تمام دشمنیوں کو پس پشت ڈال دیا۔ ؓ .................... عنہ (85 : 22) ” اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے “۔ یہ نہایت ہی روشن ، خوبصورت ، راضی اور مطمئن تصویر ہے ، جس کے ذریعہ ایک سچے مومن کو ، ایک نہایت ہی بلندمقام پر رکھا گیا ہے ، وہ نہایت ہی پسندیدہ اور محبت آمیز تصویر کہ ان کا رب ان سے راضی ہے ، وہ رب سے راضی ہیں۔ تمام دنیا سے کٹ کر وہ اللہ کے ساتھ ہوگئے ہیں ، اللہ نے انہیں اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ ان کے لئے وسیع باغات تیار کرلئے ہیں ، ان کو بتا دیا ہے کہ وہ ان سے راضی ہے ، اس لئے اس قرب کی وجہ سے ان کو بھی انس و اطمینان حاصل ہوگیا ہے۔ اولئک حزب اللہ (85 : 22) ” وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں “۔ یہ اللہ کی پارٹی ہیں۔ یہ اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوئے ہیں ، یہ اللہ کی قیادت میں جمع شدہ ہیں۔ اللہ کی ہدایت کے مطابق گامزن ہیں۔ اس کے نظام کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ کا دست قدرت ان کے ذریعہ کام کرتا ہے ، اور یہ اللہ کی تقدیر ہیں۔ الا ان ................ المفلحون (85 : 22) ” خبردار رہو ، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاں پانے والے ہیں۔ “ سوال یہ ہے کہ اللہ کا مددگار فلاح نہیں پائے گا تو اور کون ہے جو فلاح پائے گا۔ یوں پوری انسانیت دو پارٹیوں میں تقسیم ہے۔ ایک حزب اللہ اور دوسری حزب الشیطان۔ دو ہی جھنڈے ہیں۔ اللہ کا جھنڈا ، شیطان کا جھنڈا۔ اگر کوئی اللہ کی پارٹی میں ہوگا تو اللہ کے جھنڈے کے نیچے ہوگا اور اگر شیطان کے جھنڈے کے نیچے ہوگا تو وہ شیطان کی پارٹی میں ہوگا۔ اور باطل پرست ہوگا۔ یہ دو متضاد صفات اور متضاد پارٹیاں ہیں۔ کوئی نسب نہیں ہے ، کوئی رشتہ دار نہیں ہے ، کوئی رشتہ دار اور قرابت دار نہیں ، کوئی وطن اور نسل نہیں ہے۔ کوئی عصبیت اور قومیت نہیں ہے۔ بس صرف عقیدہ ، عقیدہ اور ایمان ہے۔ جو شخص حزب اللہ کی طرف مائل ہوگیا ، اور حق کے جھنڈوں کے نیچے کھڑا ہوگیا ، وہ اور تمام لوگ جو اس جھنڈے کے نیچے کھڑے ہیں اللہ کی راہ میں بھائی بھائی ہیں۔ وہ مختلف اوطان میں ہیں ۔ مختلف اقوام وقبائل میں ہیں۔ مختلف نسلوں اور قبیلوں میں ہیں لیکن وہ بھائی بھائی ہیں کیونکہ وہ اللہ کی پارٹی ہیں ۔ اور حزب اللہ ایک ایسا رابطہ ہے جس کے تحت تمام امتیازات پگھل جاتے ہیں۔ اور جس پر شیطان مسلط ہوا اور وہ باطل کے جھنڈے تلے کھڑا ہوگیا تو وہ حزب اللہ کے افراد میں سے کسی کا بھائی اور رشتہ دار نہیں ہے۔ نہ کسی زمین میں ، نہ کسی نسل میں ، نہ کسی قوم میں ، نہ کسی رنگ میں ، نہ کسی رشتہ داری میں۔ کیونکہ اہل حق کے درمیان پہلا رابطہ قائم ہوگیا جو عقیدے کا رابطہ ہے ، یہ دوسرے رابطے تو اس کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اس آیت کے اشارات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں ایسے لوگ تھے جو خون ، قرابت داری ، مفادات اور دوستی کے رشتوں کو اہمیت دیتے تھے۔ اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کی تربیت کی کوشش کی گئی ہے۔ چناچہ اس آیت میں فیصلہ کن اور دو ٹوک اسلامی رشتوں کے استوار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبکہ یہی آیت یہ بتاتی ہے کہ اسلامی جماعت کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے پہلے ہی ان دنیاوی رشتوں کو کاٹ دیا تھا۔ وہ اسلامی رابطوں ہی کے قائل تھے اور اسلام کے ہدف کو انہوں نے پورا کرلیا تھا۔ اور یہ اس سورت کا مناسب خاتمہ ہے ، جس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ اللہ اپنی اس جماعت کے افراد کی ایک ایک ضرورت کو پورا کررہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک نہایت ہی غریب اور فقیر گھرانے کے مسائل بھی وہ حل کرتا ہے۔ ایک غریب عورت جو حضور اکرم کے ساتھ تکرار کررہی تھی اور اپنے بارے میں اور اپنے خاوند کے بارے میں شکایات کررہی تھی۔ اللہ نے اس کے مسائل حل کیے۔ لہٰذا اس جماعت کا تمام روابط سے کٹ کر اللہ کا ہوجانا ایک قدرتی امر ہے جو ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کو پوری کرتا ہے ، ایک قدرتی اور مناسب بات ہے۔ نیز ایک ایسی جماعت جسے اللہ اپنی حزب کہتا ہے ، اور جسے اس کائنات میں اللہ نے ایک نہایت ہی اہم کردار کے لئے اٹھایا ہے اس کا یوں اللہ کے لئے کٹ جانا ایک طبیعی امر ہے۔

الحشر 59:1

سورت کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے اور یہ ایک عظیم ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور یہ اللہ کی پاکی اور بڑائی بیان کرتے ہوئے اس ایک اللہ کی طرف توجہ ہے۔ یہ ان لوگوں کے افراد کی کہانی جنہوں نے اہل کتاب ہونے کے باوجود کفر کیا۔ نقص عہد کیا۔ ذرا دیکھو ، کس طرح ان کے گھروں سے اس ذات نے ان کو نکالا۔ اور جو لوگ رات اور دن اللہ کی تمہید کرتے ہیں وہ سب کچھ ان کو عطا کردیا۔ اور فی الواقعہ۔ وھوالعزیز الحکیم (95 : 1) ” وہی غالب و حکیم ہے “۔ وہ اس قسم کے اسباب فراہم کرتا ہے جن سے اس کے دوستوں کی امداد ہوتی ہے اور ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ دشمن اپنے ہاتھوں تباہ ہوتے ہیں۔ وہ تقدیر وتدبیر کرنے میں بہت بڑا حکیم ہے۔ اس کے بعد اس حادثہ کا بیان یوں ہوتا ہے :

الحشر 59:2

ھوالذی ........................ شدید العقاب (4) (95 : 2 تا 4) ” وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے ، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچا لیں گی۔ مگر ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے۔ پس عبرت حاصل کرو اے دیدہ بینار رکھنے والو ! اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا ، اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا ، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کی سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ ہی تھا جس نے پہلے حشر یا ہلے میں اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے نکال دیا۔ در حقیقت ہر چیز کا فاعل اللہ ہی ہوتا ہے لیکن اس آیت میں براہ راست نسبت بھی اللہ ہی کی طرف کی گئی ہے۔ اور پردہ احساس پر یہ بات آئی ہے کہ اس مہم کی قیادت ہی اللہ کررہا تھا۔ اور گویا اس مہم میں دست قدرت کسی پردے میں نہ تھا۔ اور ان نکالے ہوئے لوگوں کو ایسی سر زمین کے لئے نکالا کہ جہاں سے ان کو اٹھایا جائے گا۔ لہٰذا یہ لوگ مدینہ کی طرف اب کبھی واپس نہ ہوں گے اور ان کا حشر ہی اب جلاوطنی کی سر زمین سے ہوگا۔ اللہ کا براہ راست ان کو نکالنا اور ان کو دوسری سر زمین کی طرف پھیلانا درج ذیل آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ ماظننتم .................... من اللہ (95 : 2) ” مگر اللہ ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ “ اللہ ان پر ان کے دلوں کے اندر سے حملہ آور ہوا۔ ان کے قلعے جیسے تھے ویسے ہی رہے۔ ان کے دلوں میں اللہ نے خوف ڈال دیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے قعلوں کے دروازے کھول دیئے۔ اللہ کی قدرت نے دکھایا کہ وہ اپنے آپ پر بھی کنٹرول نہیں رکھتے۔ ان کے دل بھی ان کے کنٹرول میں نہیں اور وہ اپنے ارادوں اور اپنے منصوبوں کے بھی مالک نہیں رہے۔ ارادوں اور منصوبوں پر بھی قائم نہ رہ سکے۔ چہ جائیکہ وہ قلعوں میں بندر ہیں۔ انہوں نے باقی تو ہر قسم کے دفاعی انتظامات کر رکھے تھے ، البتہ ایک انتظام رہ گیا تھا کہ ان کے دل بھی مضبوط ہوں۔ اس طرف سے وہ غافل تھے۔ اللہ نے ان کی ہمتوں کو پاش پاش کردیا۔ یہی ہوتا ہے کہ جب اللہ کسی کام کو کرتا ہے۔ اللہ کو معلوم تھا کہ کہاں سے حملہ کیا جائے۔ وہ ہر چیز کا عالم ہے اور وہ ہر چیز پر خبردار ہے۔ لہٰذا نہ کسی سبب کی ضرورت پیش آئی اور نہ کسی ظاہری وسیلے کی ضرورت پیش آئی جو عوام الناس کے ذہنوں میں ہوتے ہیں۔ اسباب ووسائل بھی تو اللہ کے مہیا کردہ ہوتے ہیں۔ جب اللہ کوئی چیز چاہتا ہے تو اس کے اسبب چشم زون میں سامنے آجاتے ہیں۔ جس طرح نتائج اور انجام اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی طرح اسباب ووسائل بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ کے لئے نہ اسباب ووسائل مشکل ہیں اور نہ نتائج اور انجام۔ وہ تو عزیز و حکیم ہے۔ اہل کتاب کے کافر اپنے قلعوں میں خود قلعہ بند ہوئے لیکن اللہ نے ایسے زاویہ سے حملہ کیا جس کی وہ توقع ہی نہ کرتے تھے اور اس نوبت کی۔ انہوں نے قلعہ بندی کی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے گھروں اور قلعوں کے دفاع کا انتظام کیا تھا مگر ہوا یوں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے گھروں اور قلعوں کو خراب کرتے رہے ، اور مومنین کو بھی وہ موقعہ دیتے تھے کہ ان کو خراب کریں۔ یخربون ................ المومنین (95 : 2) ” وہ اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو خراب کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کررہے تھے “۔ اس آیت پر ان اہل کتاب کافروں کی کہانی ختم ہوگئی۔ کس قدر عبرت آموز انداز میں اور کس قدر تصویر کشی کے انداز میں اور نظر بھی ایسا کہ حرکت سے بھرپور۔ اللہ ان پر ان کے قلعوں کے پیچھے سے حملہ آور ہوتا ہے اور وہ خود اپنے قلعوں کو گرانا شروع کردیتے ہیں اور مومنین بھی خراب کرتے ہیں اور وہ بھی خراب کرتے ہیں۔ اب اس منظرنامے پر پہلا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں : فاعتبر وا ................ الابصار (95 : 2) ” پس عبرت حاصل کرو اے دیدہ بینا رکھنے والو “۔ یہ تبصرہ نہایت ہی بر محل ہے ، اس کے لئے دل بالکل تیار ہیں اور ہر پڑھنے والا بھی حیران ہے کہ اس قدر منصوبے اور یہ دفاع ! اگلی آیت میں یہ بات بتائی جاتی ہے کہ اللہ نے یہ فیصلہ کرالیا تھا کہ آخرت سے پہلے ، اس دنیا ہی میں ، ان کو ذلیل و خوار کیا جائے گا۔ ان کے بچنے کی کوئی صورت تھی ہی نہیں۔

الحشر 59:3

ولولا .................... النار (95 : 3) ” اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا ، اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی “۔ لہٰذا اللہ کا عذاب ان پر آنا ہی تھا۔ جس طرح کہ ان پر آگیا اگر یہ صورت اللہ نے لکھ نہ دی ہوتی تو دوسری صورت میں آتا۔ یہ عذاب دنیا بھی ان کے لئے طے تھا اور قیامت کا عذاب تو بہرحال مقدر ہے ، کیوں ؟

الحشر 59:4

ذلک ................ العقاب (95 : 4) ” یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا ، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کی سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔ المشاقہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ کی طرف اور اس کی سائیڈ لینے کی بجائے جانب مخالف میں چلے گئے ہیں۔ اللہ کی جانب یہ تھی کہ وہ رسول اللہ کی طرف ہوجاتے۔ کیونکہ یہی اللہ کی طرف تھی۔ آیت کے آخر میں یہ کہا کہ جو اللہ کے مقابلہ کرتا ہے تو اس میں ضمنار سول کا مقابلہ بھی آجاتا ہے۔ یہ عجیب اور مضحکہ خیز منظر ہے کہ کمزور بندے رب ذوالجلال کے مقابلے پر اتر آئیں اور اللہ کے مقابلے میں قلعہ بند ہوں۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ انسانوں میں کمزور مخلوق اللہ کے غضب کو دعوت دے۔ اللہ تو شدید غضب والا ہے۔ یہاں ایک اہم بات ہے بنی نضیر کے بارے میں۔ الذین ................ الکتب (95 : 2) ” وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے کافرہوتے ہیں “۔ اور اس سورت میں اس بار بار تکرار آئی ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے دین کا انکار کردیا ہے جو اللہ نے حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا تھا۔ یہودی حضرت محمد ﷺ کے آنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ یہاں ان کے لئے کفر کی صفت کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ یہی کفر ان کی اس سزا کا سبب تھا اور یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ مسلمان ان کے خلاف جو ایکشن لے رہے ہیں اس کا اخلاقی جواز موجود ہے کہ یہ بھی دوسرے کافروں کی طرح کافر ہیں۔ اور اس وجہ سے ان پر عذاب آیا۔ لہٰذا۔ الذین .................... الکتب (95 : 2) کا فقرہ بہت ہی بامقصد ہے۔ اس کے بعد اہل ایمان کو بعض واقعات پر مطمئن کیا جاتا ہے ، کہ ایک تو یہ کفر کرنے والے تھے ، دوسرے یہ رسول اور اللہ سے دشمنی کرنے والے تھے ، اس لئے جنگی ایکشن کے دوران ان کے جو باغات کاٹے گئے یا جلائے گئے یا چھوڑے گئے ، تو اس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ اللہ کے حکم سے ایسا ہوا۔ اور یہودی اس سلسلے میں جو پروپیگنڈہ کرتے ہیں مومنین کو اس سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔

الحشر 59:5

لینہ (95 : 5) کھجور کے بہترین درختوں کو کہتے ہیں۔ یہ اس وقت کی بہترین قسم تھے جسے سب جانتے تھے۔ مسلمانوں نے یہودیوں کے باغات میں سے بعض کو کاٹا تھا۔ بعض کو چھوڑدیا تھا۔ ان کے دلوں میں ایک خلجان تھا ، یعنی کاٹنے پر ، اور چھوڑنے پر۔ جبکہ اس سے قبل اور اس کے بعد مسلمانوں کے لئے جنگی ضابطہ یہی رہا کہ تحریق اور بربادی سے گریز کیا جائے۔ اس لئے اس واقعہ میں جو کچھ ہوا اس کی استثنائی حالت کے لئے یہ آیت آئی تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہوجائیں۔ آیت نے کہہ دیا کہ اگر باغات جلانے کو تم نے چھوڑا ہے اور اس سے اجتناب کیا ہے تو یہ بھی اللہ کا اذن تھا اور اگر کاٹ کر جلایا ہے تو یہ بھی اذن الٰہی تھا۔ کیونکہ اس مہم کی نگرانی اللہ براہ راست کررہا تھا۔ اس لئے اللہ نے مسلمان لشکروں سے ایسا کروایا۔ ان کے ہاتھوں تعذیر کو ظاہر کیا۔ لہٰذا یہ سب کاروائیاں اس کی مرضی سے ہوئیں۔ ان سے اللہ ان فاسقوں کو ذلیل کرنا چاہتا تھا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیارے باغات گر رہے تھے اور جل رہے تھے اور جو چھوڑے گئے تھے وہ بھی ان کے لئے باعث حسرت تھے کہ چھوڑ کر جارہے تھے۔ اللہ کی منشا تھی کہ دونوں طرح ان کو حسرت سے دو چار کرے۔ جن مومنین کے دل میں خلجان تھا کہ یہ تخریب وتحریق کیوں ہوئی ، ان کو اطمینان ہوا ، ان کو تسلی ہوگئی کہ یہ تو اللہ کی منشا تھی۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ تو دست قدرت کے آلات محض تھے۔ اس سورة کا یہ دوسرا پیراگراف بھی ایک نہایت ہی اہم مسئلے کو لیتا ہے کہ اس واقعہ میں جو اموال ہاتھ لگے اور حضور کی طرف پلٹے یا ایسے ہی واقعات بعد کے زمانے میں پیش آئیں تو ان کا حکم کیا ہے۔ یعنی وہ اموال جو جنگ اور قتال کے بغیر ہاتھ آجائیں۔ یا ایسے واقعات جن میں قدرت الٰہیہ نے مسلمانوں کے لئے اموال فراہم کیے۔ اور مسلمانوں نے اس میں کوئی زیادہ جنگی کاروائی نہ کی ہو۔

الحشر 59:6

وما افاء اللہ .................................... رحیم (01) (95 : 6 تا 01) ” اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیئے ، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے ، تسلط عطا فرما دیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (نیز وہ مال) ان غریب مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں (اور وہ ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔ یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (اور وہ ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو ان اگلوں کے بعد آئے ہیں ، جو کہتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ، ہمارے رب ، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ “ ان آیات میں فے کا حکم بیان ہوا یا فے جیسے دوسرے اموال کا۔ نیز ان آیات میں امت مسلمہ اور اسلامی سوسائٹی کی ایک نہایت ہی اہم صفت اور اس کی دائمی حالت کو بیان کیا گیا ہے جو امت مسلمہ کی امتیازی صفت رہی ہے اور امت کی پوری تاریخ میں اس کی امتیازی شان رہی ہے۔ یہ امت کی وہ خصوصیت رہی ہے جس کو اس نے مضبوطی سے پکڑے رکھا ہے۔ کسی دور میں بھی خدا کے فضل سے امت سے یہ صفت جدا نہیں ہوئی ہے۔ یہ صفت امت مسلمہ کی کسی نسل ، کسی قوم ، کسی شخص مسلم سے ایک طویل اسلامی تاریخ میں کبھی جدا نہیں ہوئی ہے۔ پھر اس دنیا میں جن جن علاقوں میں مسلمان ہیں ان میں سے کسی علاقے میں بھی مسلمانوں سے یہ صفت الگ نہیں ہوئی ہے اور یہ وہ عظیم حقیقت ہے اور اس پر گہرا غور کرنا چاہیے۔ وما آفاء ........................ شیء قدیر (95 : 6) ” اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیئے ، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے ، تسلط عطا فرما دیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اوجفتم (95 : 6) ایجاف سے ہے۔ ایجاف کے معنی ہیں گھوڑے کو تیزی سے دوڑانا۔ رکاب کے معنی اونٹ کے ہیں۔ مسلمانوں کو بتایا جاتا ہے کہ بنو نضیر نے اپنے پیچھے جو مال چھوڑے ہیں انہوں نے اس پر گھوڑے نہیں دوڑائے اور نہ اونٹوں پر تیز سفر کرکے انہوں نے اسے حاصل کیا ہے۔ لہٰذا ان اموال کا حکم مال غنیمت کا نہیں ہے۔ مال غنیمت میں تو مجاہدین کا 5/4 حصہ ہوتا ہے اور 5/1 حصہ اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا ہوتا ہے۔ جب کہ جنگ بدر کے اموال عنائم کے بارے میں اللہ نے فیصلہ کیا۔ اس فے کا حکم یہ ہے کہ یہ سب کا سب اللہ رسول اللہ ، رشتہ داروں ، یتیموں ، مساکین اور مسافروں کا ہے۔ اور اس میں تصرف حضور اکرم ﷺ کریں گے اور آیت میں جن رشتہ داروں کا ذکر ہے ، ان سے مراد رسول اللہ کے قرابت دار ہیں۔ اس لئے کہ صدقات ان کے لئے جائز نہ تھے اور زکوٰة میں ان کا حصہ نہ تھا اور نبی ﷺ کی کوئی دولت نہ تھی جسے ورثاء پالیتے اور ان میں فقراء بھی تھے ، جن کی کوئی آمدن نہ تھی۔ اس لئے ان کے لئے عنائم کے خمس میں حصہ رکھا گیا تھا جیسا کہ فے اور فے کی قسم کے اموال میں ان کا حصہ رکھا گیا تھا۔ رہے دوسرے لوگ تو ان کے احکام معروف ومعلوم ہیں اور یہ فنڈز حضور اکرم ﷺ کے تصرف خاص میں تھے۔ یہ تو تھا فے کا حکم جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن ان آیات میں اس حکم اور ان حالات پر اکتفا نہیں کیا گیا جن میں یہ حکم جاری ہوا بلکہ یہاں ایک دوسری حقیقت کا بھی اظہار کردیا گیا ہے۔ ولکن اللہ .................... من یشاء (95 : 6) ” بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا کرتا ہے “۔ لہٰذا یہ اللہ کی تقدیر کا ایک حصہ ہے۔ جس کا ظہور ہوگیا۔ واللہ ........................ قدیر (95 : 6) ” اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ یوں رسولوں کا معاملہ تقدیر الٰہی کا اظہار قرار پاتا ہے اور اللہ کی تقدیر کے چکروں میں رسولوں کا مقام بھی متعین کیا جاتا ہے کہ رسولوں کا ظہور اور غلبہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہوتی۔ دست قدرت یہ کام کرتا ہے۔ اگرچہ رسول بشر ہیں لیکن وہ اللہ کے ساتھ براہ راست مربوط ہوتے ہیں۔ اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اپنے نظام قضاوقدر کا ظہور کرتا ہے اور رسول جو کام کرتے ہیں وہ اذن الٰہی سے کرتے ہیں اور اللہ کے ہاں وہ مقدر ہوتا ہے۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق حرکت بھی نہیں کرتے۔ وہ کوئی کام اپنی مرضی یا اپنے مفادات سے نہیں کرتے۔ وہ جنگ ، جہاد یا امن ، مصالحت یا مخاصمت صرف اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اور وہ اللہ کی تقدیر کا ظہور ہوتا ہے اور اللہ کی تقدیر ان کے تصرفات اور ان کی حرکات سے ظاہر ہوتی ہے۔ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ اللہ کا فعل ہوتا ہے اور اللہ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔

الحشر 59:7

ما افاء اللہ .................... العقاب (95 : 7) ” جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہ آیت اس حکم کو بتارہی جس کا ذکر ہم نے پہلے کردیا ہے۔ اس حکم کی علت بیان کرتے ہوئے اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ دراصل اسلام کے نظام اقتصادی کا ایک عظیم اصول ہے۔ کئی لا یکون ........................ منکم (95 : 7) ” تاکہ وہ تمہارے مالداروں کے درمیان میں گردش نہ کرتا رہے “۔ اور اس کی علت کے بیان میں سالام کے دستوری نظام کا ایک دوسرا اعلیٰ ترین اصول بیان کردیا۔ وما اتکم .................... فانتھوا (95 : 7) ” جو کچھ رسول تمہیں دے ، وہ لے لو ، اور جس چیز سے وہ تمہیں روک دے اس سے رک جاؤ “۔ اگرچہ یہ دو اصول فے کی تقسیم کے ضمن میں وارد ہیں لیکن اسلام کے اقتصادی نظام اور اسلام کے دستوری نظام میں یہ بہت اہم اصول ہیں اور ان دونوں ہی پر دراصل اسلام کا اقتصادی اور دستوری نظام قائم ہے۔ پہلا قاعدہ اسلام کا اقتصادی اصل الاصول ہے اور اسلام کے اقتصادی نظریات اس پر مبنی ہیں۔ اسلام انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے لیکن انفرادی ملکیت پر یہ ایک پابندی اور چیک ہے۔ یعنی اسلام انفرادی ملکیت کو اس قدر وسیع آزادی نہیں دیتا کہ کچھ محدود مالدار لوگ ہی دراصل تمام دولت اور مفادات کو اپنی طرف سرمایہ کے زور سے کھینچ لیں۔ اور مال چند چوٹی کے لوگوں کے درمیان گردش کرے۔ اس لئے ہر وہ صورت حال جس کے اندر دولت صرف امراء کے درمیان گردش کرتی وہ اسلام کے نظریہ اقتصاد کے خلاف ہے۔ اور یہ اجتماعی عدل کے بھی خلاف ہے۔ اسلامی سوسائٹی کے اندر اجتماعی اور معاشی روابط اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ اس میں دولت چند محدود لوگوں ہی کے اندر گردش نہیں کرتی۔ اسلام نے اپنا اقتصادی نظام ان اصولوں کی بنیاد پر قائم کیا۔ اس نے زکوٰة فرض کی ، یہ اڑھائی فیصد اصل سرمایہ اور منافع دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ اور 011 یا 021 تمام زرعی پیداواروں پر عائد ہوتا ہے۔ اسی طرح مویشیوں میں اور ان خزانوں میں جو زمین سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ شرح دراصل بہت ہی بڑی شرح ہے۔ پھر مجاہدین کے لئے 54 حصہ رکھا ہے خواہ فقیر ہوں یا غنی ہوں ، جبکہ فے صرف فقراء کے لئے رکھا ہے۔ اسی طرح اسلام نے زمین کی پیداوار کے اندر مالک اور مضارع کو شریک قرار دیا ہے اور امام کو یہ اختیار دیا کہ وہ لوگوں کی ضرورت سے زائد اموال ان سے لے کر فقراء میں تقسیم کردے۔ اور اگر بیت المال کو ضرورت ہو تو لوگوں کے اموال میں بیت المال کا حصہ مقرر کردے۔ پھر اسلام نے ذخیرہ اندوزی کو حرام قرار دیا ، ربا کو حرام قرار دیا اور ربا اور ذخیرہ اندوزی دونوں ہی اصل ذرائع ارتکاز دولت ہیں۔ غرض اسلام کا اقتصادی نظام اسی عظیم قاعدے پر قائم ہے کہ دولت چند اغنیاء کے اندر ہی گردش نہ کرے بلکہ تمام فقراء تک اس کا پھیلاؤ ہو۔ اور یہ قاعدہ انفرادی ملکیت پر حاوی ہے۔ اس طرح اسلام انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ سرمایہ دارانہ نظام نہیں ہے۔ نہ سرمایہ دارانہ نظام اسلامی نظام سے ماخوذ ہے کیونکہ رہا اور ذخیرہ اندوزی کے سوا کوئی سرمایہ دارانہ نظام نہیں ہوتا۔ اسلامی نظام ایک خاص نظام ہے جو اللہ علیم وخبیر کی طرف سے ہے۔ یہ الگ پیدا ہوا ، الگ چلا ، اور آج بھی وہ تمام دوسرے اقتصادی نظاموں سے الگ تھلگ ہے۔ یہ ایک منفرد ، متوازن ، عادلانہ اور تمام حقوق وواجبات کا خیال رکھنے والا نظام ہے۔ اور یہ نظام اس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ اس لئے کہ اس کائنات کا خالق اللہ ہے ، انسان کا خالق اللہ ہے اور اس اقتصادی نظام کا خالق بھی اللہ ہے۔ دوسرا اصول اسلام کے دستوری نظام کا ہے کہ شریعت کا ماخذ خدا اور رسول اور قرآن اور سنت ہیں۔ وما اتکم .................... فانتھوا (95 : 7) ” جو کچھ رسول تمہیں دے ، وہ لے لو ، اور جس چیز سے وہ تمہیں روکے اس سے رک جاؤ “۔ اسلامی دستور اور قوانین کا یہ اصل الاصول ہے۔ اسلام کا قانونی نظام اس سے لیا گیا ہے کہ شریعت من جانب اللہ ہے اور اللہ کی جانب سے رسول لے کر آیا ہے۔ اور یہ قرآن اور سنت سے عبارت ہے۔ پوری امت مسلمہ معہ امام وقت مل کر بھی ان تعلیمات کی خلاف ورزی کے مجاز نہیں جو قرآن وسنت میں ہیں۔ اگر کوئی خلاف قرآن اور سنت قانون بنائے گا تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہوگی کیونکہ اس قسم کا قانون اپنے پہلے جواز ہی کو کھو بیٹھتا ہے ۔ یہ نظریہ تمام انسانی ودساتیر اور قانون سازی کے نظریات سے یکسر مختلف ہے۔ کیونکہ ان نظریات کے مطابق قوم قانون سازی کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ یوں کہ کوئی قوم جو قانون چاہے ، اپنے لئے بنا سکتی ہے۔ اور جو قوم جو چاہے دستور و قانون بنا دے۔ لہٰذا اسلامی دستور نظام اقتدار کا سرچشمہ قرآن وسنت ہیں۔ جن کو رسول اللہ ﷺ نے پیش فرمایا ہے۔ امام امت کا نائب ہے۔ نہ امام اور نہ قوم رسول اللہ کی لائی ہوئی شریعت محمدی کی مخالفت کے مجاز ہیں۔ اب اگر کوئی مسئلہ قرآن وسنت میں نہ ہو تو اسے قرآن وسنت کے دوسرے اصولوں کی روشنی میں یوں حل کیا جائے گا کہ اس سے قرآن وسنت میں موجود کسی اصول کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ یہ اصول شریعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایک شرعی اصول ہے۔ لہٰذا ہر صورت میں سرچشمہ قانون قرآن اور سنت ہیں۔ اور دوسرے قوانین وقواعد اسی وقت معتبر ہوں گے جب وہ قرآن اور سنت کے کسی مسلمہ قاعدے کے خلاف نہ ہوں۔ امت کا اقتدار اس قاعدے کے اندر محدود ہے۔ یاد رہے کہ امام امت بھی اسی قاعدے کا پابند ہے۔ یہ ایک منفرد نظام قانون ہے اور کسی انسانی سوسائٹی کے ہاں اس قسم کا کوئی قانون نظام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں قانونی نظام بھی نظام کائنات کی طرح ایک فطری نظام ہوتا ہے۔ جس طرح کائنات کے لئے اللہ نے نظام فطرت وضع کیا ہے۔ اسی طرح انسانوں کے لئے اللہ نے نظام شریعت وضع کیا ہے تاکہ انسان کا بنایا ہوا قانون نظام فطرت سے ٹکرانہ جائے اور جو قانون بھی آج تک انسانوں کے بنائے ہیں وہ نظام فطرت سے ٹکرائے ہیں۔ ان دونوں اصولوں کو اس آیت میں اللہ سے مربوط کیا گیا ہے اور لوگوں کو دعوت دی ہے کہ ان اطاعت میں وہ اللہ سے ڈریں۔ واتقو ................ العقاب (95 : 7) ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہ وہ بڑی ضمانت ہے جو اسلامی قانون کو حاصل ہے ، اس لئے اسے توڑنے کی کوئی بھی کوشش نہیں کرتا۔ نہ اس سے بھاگنے کی کوئی گنجائش ہے۔ کیونکہ مومنین کو علم ہے کہ اللہ تو دیکھتا ہے۔ اعمال سے خبردار ہے۔ تمام لوگوں کو اسی طرف لوٹنا ہے ، اور اگر خلاف ورزی کی گئی تو وہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ مال کو پھیلانا ہے اور اسے دولتمندوں کے درمیان ہی گردش نہیں دینا ہے۔ اور شریعت کے جو احکام خدا اور رسول نے دیئے ہیں انہوں نے انہیں لینا ہے اور جس چیز سے منع کیا ہے اس سے منع ہونا ہے اور اس سلسلے میں کوئی سستی اور کوئی تسابل نہیں کرنا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ اب رسول اللہ نے اس فے کو مہاجرین میں تقسیم کیا اور صرف دو غریب انصاریوں کو اس میں شریک فرمایا۔ یہ ایک خاص اقدام تھا اور اس کا مقصد یہی تھا کہ دولت صرف دولت مندوں میں جمع نہ ہوجائے۔ کئی لا یکون .................... منکم (95 : 7) ” تاکہ وہ مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے “۔ حکم تو عام تھا کہ وہ فقراء کے لئے ہے خواہ مہاجر ہوں یا انصار یا بعد میں آنے والے ہوں ، چناچہ اگلی آیات میں اس پر بات ہوتی ہے۔ قرآن کریم احکام محض ایک خشک ایکٹ کی طرح بیان نہیں کرتا۔ وہ اسے زندہ اور عام بیان کے انداز میں دیتا ہے۔ وہ ایک زندہ حکم ہوتا ہے زندہ انسانوں پر نافذ ہوتا ہے اور حکم کے اندر ہی اس کے اخلاقی پہلو اور اسباب بھی دیئے جاتے ہیں۔

الحشر 59:8

للفقرائ ........................ الصدقون (95 : 8) ” ان غریب مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمربستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں “۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس میں مہاجرین کے خدوخال اچھی طرح ثبت کردیئے گئے ہیں وہ اپنے گھروں اور مال سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ ان کی مشرکین کی اذیت اور ان کی سختی نیز رشتہ داروں اور اہل خاندان کی طرف سے سرد مہری کی وجہ سے گھر بار چھوڑنا پڑا اور ان کا کوئی قصور اس کے سوا نہ تھا کہ وہ کلمہ طیبہ کے قائل تھے اور صرف اللہ کو رب جانتے تھے۔ یبتغون .................... ورضوانا (95 : 8) ” یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں “۔ ان کا اعتماد صرف اللہ پر ہے۔ صرف اس کے بھروسہ پر جی رہے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ اور اس کے باوجود وہ حضور ﷺ کے دفاع میں لگے ہوئے ہیں۔ وینصرون ................ ورسولہ (95 : 8) ” اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمر بستہ ہیں “۔ اپنے دلوں کے ساتھ ، اپنی تلواروں کے ساتھ۔ اور پھر نہایت ہی مشکل حالات میں انہوں نے یہ فریضہ سرانجام دیا۔ اولئک ھم الصدقون (95 : 8) ” یہی راست باز لوگ ہیں “۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زبان سے کلمہ ایمان ادا کیا اور پھر اپے عمل سے اس کی تصدیق کی۔ وہ اللہ کے ساتھ سچے تھے کہ انہوں نے اللہ کو اختیار کیا۔ رسول اللہ کے ساتھ سچے تھے کہ انہوں نے ان کی اطاعت کی۔ اور سچائی کے ساتھ بھی مخلص تھے کیونکہ ان کی صورت میں سیچائی چلتی پھرتی نظر آتی تھی۔

الحشر 59:9

والذین ........................ المفلحون (95 : 9) ” جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔ یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں “۔ یہ ہے انصار کی ایک خوبصورت تصویر جس کے اندر ان کے اہم خدوخال نہایت ہی نمایا کرکے دکھائے گئے ہیں یہ مجموعہ صفات اگر عملاً مدینہ میں واقع نہ ہوا تھا اور عملاً اپنے انتہاؤں تک نہ گیا ہوتا تو لوگ اسے افسانہ سمجھتے اور لوگ کہتے یہ بہترین تخیل ہے۔ والذین ................ من قبلھم (95 : 9) ” جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے “۔ یعنی مدینة الرسول (ﷺ) ۔ میں یہ انصار تھے جو ایمان لاکر یہاں مقیم تھے۔ اسی طرح انہوں نے ایمان کو بھی یہاں مقیم کردیا تھا۔ گویا مدینہ منزل ایمان ویقین تھا۔ یہ ایک نہایت ہی خوبصورت اشارتی تعبیر ہے۔ انصار نے ایمان کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا یہ اس کی بہترین تصویر ہے۔ یہ ایمان کا گھر تھا ، یہ ایمان کا وطن تھا ، یہاں مومنین کے دل اٹکے ہوئے تھے اور یہاں ان کے قلوب اور روح کو سکون ملتا تھا۔ یہاں لوٹ کر وہ مطمئن ہوتے تھے جس طرح ایک شخص گھر آکر مطمئن ہوتا ہے لہٰذا مدینہ دار الایمان تھا۔ یحبون .................... اوتوا (95 : 9) ” یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے “۔ تاریخ انسانی میں کوئی ایسا اجتماعی واقعہ نہیں ہے کہ کسی قوم نے مہاجرین کا اس طرح استقبال کیا ہو جس طرح انصار نے مدینہ میں مہاجرین کا کیا۔ نہایت محبت ، ایثار ، سخاوت ، مروت کے ساتھ۔ انہوں نے ان کو اپنے مال میں شریک کیا۔ مکانوں میں ٹھہرایا اور ان کی تمام ذمہ داریاں قبول کیں۔ روایات میں آتا ہے کہ کوئی مہاجر کسی انصاری کے گھر بذریعہ نامزدگی نہیں ٹھہرا بلکہ ہر شخص پر قرعہ اندازی ہوئی۔ کیونکہ جب کوئی مہاجر آتا تو کئی لوگ آجاتے کہ ہمارے ہاں ٹھہرے گا۔ ونا یجدون ................ اوتوا (95 : 9) ” جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے “۔ یعنی جن صورتوں کے اندر مہاجرین کو زیادہ دیا گیا۔ یہاں فے سب کا سب ان کے لئے مخصوص کردیا گیا تو اس کی وجہ سے وہ اپنے دلوں میں حاجت محسوس نہیں کرتے۔ یہاں تنگی یا حسد کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اس سے ان کے دلوں کی پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے دلوں کے اندر کوئی ضرورت ، حاجت یا کوئی چیز بھی وہ نہیں محسوس کرتے۔ ویوثرون ................ خصاصة (95 : 9) ” اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں “۔ دل کی تنگی ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ یہ ہر بھلائی کے دروازے کو بند کردیتی ہے کیونکہ کسی نہ کسی صورت میں مالی تاوان کا مطالبہ کرتی ہے۔ جذبات کو دبانے کا مطالبہ کرتی ہے اور محنت صرف کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور بعض اوقات بھلائی کے راستے میں جان تک دینے کا مطالبہ ہوا کرتا ہے۔ کوئی بخیل کبھی نیکی کا کام نہیں کرسکتا ، وہ تو ہر وقت لینے کی فکر میں ہوتا ہے۔ دنیا کچھ بھی نہیں ہے اور جو شخص دل کی تنگی سے بچ گیا ، اس کے سامنے سے گویا ایک بڑی رکاوٹ دور کردی گئی اور وہ نیکی کے کاموں میں خرچ کرتے ہوئے۔ دادودہش کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

الحشر 59:10

والذین .................... رءوف رحیم (95 : 01) ” جو ان اگلوں کے بعد آئے ہیں ، جو کہتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ، ہمارے رب ، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ “ یہ تیسری تصویر ہے جو نہایت پاکیزہ ، راضی رضا اور سمجھنے والے لوگوں کی تصویر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مہاجرین وانصار کے بعد آئے۔ اس آیت کے نزول کے وقت وہ تو مدینہ میں موجود نہ تھے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ازلی علم میں آچکے تھے جو زمان ومکان کے حدود سے وراء ہے اور یہ دنیا میں بعد میں آنے والے تھے۔ اللہ نے پیشگی ان کی صفات بیان کردی کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ سلف صالحین کے لئے طلب مغفرت کرتے ہیں اور وہ تمام مومنین کے لئے اپنے دل صاف رکھنے والے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ان کے دل صاف ہوں۔ کیونکہ دونوں کے درمیان ایمانی رشتہ موجود ہے۔ وہ دونوں پر اللہ کی رحمت ہوئی ہے کہ ان کو مومن بنایا ہے۔ اور اللہ تو رؤف رحیم ہے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کا چہرہ کس قدر روشن ہے اور وہ اس کائنات میں کس قدر روشنی بکھیرنے والی امت ہے۔ اس کا رشتہ ایمانی اس قدر مضبوط ہے کہ اس کا آغاز اس کے انجام سے منسلک ہے اور بندھا ہوا ہے۔ اور اس کا آخری حصہ اول حصے سے بندھا ہوا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ضامن ، کفیل ، محب اور رحم کرنے والے ہیں۔ اور بلالحاظ قوم ونسب ، اور بلالحاظ دوری زمان ومکان وہ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ امت مسلمہ مسلمانوں کے شعور پر مسلسل چھائی رہی۔ یوں اہل ایمان قیامت تک گزشتہ لوگوں۔ الذین ................ بالایمان (95 : 01) کو یاد کرتے رہیں اور اس امت کو مسلمان اس طرح یاد کرتے ہیں جس طرح کوئی اپنے بھائیوں کو یاد کرتا ہے ، نہایت اعزاز ، عزت اور محبت میں ، قدماء نے آنے والوں کا خیال رکھا اور آنے والے اگلوں کو یاد کرتے ہیں۔ یہ سب ایک صف ہیں ، ایک ہی رجمنٹ ہیں ، اور زمانے گزر گئے ہیں۔ ایک ہی جھنڈا ہے۔ ایک ہی ہدف ہے۔ ایک ہی افق ہے۔ اور ان کا ایک ہی رب ہے جو رؤف ورحیم ہے۔ یہ اسی روشن تصویر ہے جس سے آنکھیں چندھیاجاتی ہیں۔ لیکن وہ ایک زندہ حقیقت کی طرح کھڑی ہے۔ اور یہ امت انسانیت کے لئے ایک بہترین مثال ہے۔ ایک نہایت شریفانہ کریمانہ مثال پوری انسانیت کے لئے۔ ایسی خوبصورت مثال جس حد تک کوئی تصور کرسکتا ہے۔ یہ تصویر اس وقت بہت ہی خوبصورت لگتی ہے جب ہم اپنے دور کی ایک امت کے ساتھ اس کا تقابلی مطالعہ کریں۔ ہمارے دور کی یہ امت کارل مارکس کی انجیل ” کیپٹل “ کی اساس پر وجود میں آئی ہے۔ یہ ایک ایسی امت ہے جس کے دلوں میں بغض وعداوت جوش مارتی ہے۔ طبقات ایک دوسرے کے خلاف لڑتے اور کشت وخون کرتے نظر آتے ہیں اس امت کے تصور کے مطابق انسانی تاریخ جنگ اور کشمکش اور نفرت کی تصویر ہے اور پھر اس امت کو تمام اہل دین کے ساتھ نفرت ہے۔ ذرا دوبارہ امت محمدیہ اور امت کارل مارکس کے درمیان تقابل کیجئے۔ امت محمدیہ انسانیت کو اس کے اعلیٰ مراتب تک بلند کرتی ہے ۔ جبکہ یہ دوسری امت انسانیت کو ذلت کی انتہائی پستیوں تک گراتی ہے۔ امت محمدیہ کی تصویر یہ ہے کہ زمان ومکان کی حدود سے ماوراء ، نسل اور وطن کی حد بندیوں سے آزاد نسب اور خاندان کے محدد دائروں سے باہر ، تمام انسانوں کو ایک دوسرے کا ضامن ، کفیل ، دوست اور واقف کار بناتی ہے اور سب کو ایک اونچے ہدف کی طرف بلند کرتی ہے اور ہدف ہے اللہ کی بندگی .... ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز .... جن کے دل صاف ہیں اور بگلوں پچھلوں کے درمیان کوئی دشمنی نہیں ہے ایک دوسرے کے ہمدرد ہیں اور ایک دوسرے کے حوالے سے دل صاف ہیں۔ جبکہ دوسری تصویر یہ ہے کہ اس میں لوگ ایک دوسرے کو ذبح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، بعض دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں ، ان کا استحصال کرتے ، سازشیں کرتے ہیں اس کے مقابلے میں دوسرے ان سے بغض ، حسد اور نفرت کرتے ہیں۔ پوری انسانی تاریخ عبارت ہے ، اظہار نفرت سے۔ یہاں تک کہ عبادت گاہوں میں بھی نفرت ہے۔ ان کے نزدیک نماز بھی دراصل ایک جال ہے۔ اور مذہب ایک دھوکہ ہے جس کے ذریعہ مالدار لوگ غریبوں کا استحصال کرتے ہیں۔ اور ان دو تصاویر کو دیکھتے ہوئے اس آیت کو پھر پڑھئے : ربنا اغفرلنا ................ رءوف رحیم (95 : 01) ” اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ، اے ہمارے رب ، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے “۔ یہ ہے قافلہ ایمان اور یہ ہے دعائے اہل ایمان۔ یہ نہایت ہی معزز قافلہ ہے اور یہ نہایت ہی کشادہ آدمی کی دعا ہے۔ اس خوبصورت تصویر کشی اور اسے نہایت ہی بلند مقام پر نور کے فریم میں نصب کرنے کے بعد ، اب مضمون اس موضوع پر آتا ہے جس کے بارے میں یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ اب یہاں ایک دوسرے گروہ کی کریمہ تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ ہے گروہ منافقین :

الحشر 59:11

یہاں ان باتوں کا ایک ریکارڈ پیش کردیا جاتا ہے جو اس واقعہ کے بارے میں یہودیوں اور منافقین مدینہ کے درمیان ہوتی رہیں۔ منافقین نے ان کے ساتھ جو جو معاہدے کیے وہ پورے نہ کیے اور یہودیوں کو اس طرح ذلیل کرکے رکھ دیا۔ اللہ ان پر حملہ آور ہوا اور ان کو اس قدر مرعوب کردیا کہ انہوں نے وہ کام اپنے ہاتھوں سے کیا جو مومنین نے کرنا تھا۔ لیکن قرآن کریم اس ریکارڈ کو پیش کرتے وقت ہر آیت میں ایک عظیم حقیقت سے بھی مسلمانوں کو آگاہ کرتا ہے۔ جوان کے دل میں بیٹھ جاتی ہے ، جو ان کے دلوں کے اندر ایک گہراتاثر پیدا کرتی ہے ، اور ان کے دل و دماغ میں ایمان گہرا ہوجاتا ہے۔ ان کے علم میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کے اخلاقی تربیت پختہ ہوجاتی ہے۔ پہلی حقیقت یہ فلم بندی کی گئی کہ یہودی اور منافقین بھائی بھائی ہیں۔ الم ترالی ................ الکتب (95 : 11) ”” تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے ؟ یہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں “۔ تو یہ اہل کتاب کافر تھے اور منافقین ان کے بھائی تھے۔ اگرچہ انہوں نے اسلام کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔

الحشر 59:12

پھر منافقین کی یہ تاکید شدید جو انہوں نے اپنے بھائیوں سے کی۔ لئن اخرجتم ................ لننصرنکم (95 : 11) ” ” اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے ، اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہرگز نہ مانیں گے ، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے “۔ لیکن اللہ ان کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ وہ ان کی قرار داد سے بالکل مختلف قرار دیتا ہے اور ان کی تاکیدات کے برعکس موکد حقیقت بتاتا ہے۔ وللہ یشھد ................ ینصرون (21) (95 : 11۔ 21) ” مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہیں۔ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ ہرگز نہ نکلیں گے ، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی ہرگز مدد نہ کریں گے اور اگر یہ ان کی مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے اور پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے “۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جس کی شہادت اللہ نے دی تھی۔ انہوں نے جو فیصلے کیے تھے اور جن کا اعلان کیا تھا ان میں سے ایک پر بھی عمل نہ کیا۔ اس کے بعد اللہ مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے جو ان منافقین اور ان اہل کتاب کافروں کے دلوں میں خوب بیٹھی ہوئی ہے۔

الحشر 59:13

لانتم .................... یفقھون (95 : 31) ” ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے ، اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے “۔ ان کی حالت یہ ہے کہ یہ اللہ کے مقابلے میں مومنین سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ اگر یہ اللہ سے ڈرتے تو پھر اللہ کے کسی بندے سے نہ ڈرتے کیونکہ خوف اور خشیت تو ایک ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی اللہ سے بھی ڈرے اور لوگوں سے بھی ڈرے۔ عزت صرف اللہ کی ہے۔ اور تمام دوسری مخلوق اللہ کے مقابلے میں کوئی عزت اور غلبہ نہیں رکھتی۔ تمام دوسری مخلوقات اللہ کے احکام کے تابع ہے۔ قرآن کہتا ہے۔ وما من ................ بنا صیتھا ” زمین میں جو چیز بھی چلنے والی ہے اس کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “ اس لئے جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی اور سے نہیں ڈرتا۔ لیکن جو لوگ اس حقیقت کو نہیں پاتے وہ ماسوائے اللہ سے ڈرتے ہیں اور وہ دوسری قوتوں سے اللہ کی نسبت زیادہ ڈرتے ہیں۔ ذلک .................... یفقھون (95 : 31) ” یہای سے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے “۔ اس کے بعد ان کے دلوں میں قائم ایک دوسری حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے جو سابقہ حقیقت ہی کا نتیجہ ہے یعنی مسلمانوں کے خوف کا۔ یہ حقیقت بھی ان منافقین اور کافرین کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔

الحشر 59:14

لا یقاتلونکم ................ یعقلون (95 : 41) ” یہ کبھی اکٹھے ہوکر (کھلے میدان میں) تمہارا مقابلہ نہ کریں گے ، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ یہ آپس میں مخالفت میں بڑے سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ حال اس لئے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں “۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ منافقین اور اہل کتاب کی جو تصویر قرآن کریم نے کھینچی ہے وہ ابھی تک سچی ہے۔ منافقین اور کافر اہل کتاب جب بھی جہاں بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے ہیں تو یہ صورت سامنے ہوکر آگئی۔ حال ہی میں اخوان اہل ایمان اور یہودیوں کے درمیان فلسطین کی سر زمین پر جو جھڑپیں ہوئیں ان میں یہودی کسی جگہ بھی کھل کر میدان میں نہ آئے اور وہ اپنی آبادیوں اور حلقوں میں چھپ کر ہی لڑتے رہے اور جب کبھی وہ تھوڑی دیر کے لئے باہر آئے تو وہ چوہوں کی طرح پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ یوں نظر آتا تھا کہ شاید یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ سبحان اللہ .................... الخبیر ” ان حقائق کے علاوہ ان کی نفسیاتی جھلکیاں بھی عجیب ہیں۔ باسھم ................ شدید (95 : 41) ” یہ آپس کی مخالف میں شدید ہیں۔ “ تحسبھم ................ شتیٰ (95 : 41) ” تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو اور ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ “ جبکہ اس کے مقابلے میں مومنین کی حالت یہ ہے کہ وہ صدیوں کے آنے والے اپنے سابقہ لوگو کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ زمان ومکان کی دوریوں کے باوجود وہ ایمان کی رسی میں بندھے ہوئے ہیں۔ اور اس راہ میں جنس وطن اور خاندان رکاوٹ نہیں۔ ذلک بانھم ................ یعقلون (95 : 41) ” ان کا یہ حال اس لئے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ “ بعض اوقات ظاہری حالات دھوکہ دیتے ہیں۔ اہل کتاب آپس میں نہایت متحد ومتفق نظر آتے ہیں اور ایک دوسرے کے کفیل و مددگار نظر آتے ہیں اور حمایت بھی کرتے ہیں جس طرح منافقین ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوجاتے ہیں۔ لیکن آسمان سے سچی خبر آتی ہے کہ کواکب ایسے نہیں ہیں جیسے نظر آتے ہیں۔ یہ محض ان کا خارجی منظر ہے کبھی کبھی ان کا یہ پردہ اتر جاتا ہے اور ان کی حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ یہ اندر سے کس قدر پھٹے ہوئے ہیں۔ اور قرآن کریم کی سچائی ثابت ہوتی ہے ۔ ایک ہی محاذ اور ایک ہی بلاک کے اندر وہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ہیں۔ دراصل یہ اپنی اپنی مصلحتوں کے لئے جدوجہد کررہے ہوتے ہیں۔ متضاد خواہشات رکھتے ہیں ، ان کی پالیسیاں باہم متصادم ہوتی ہیں۔ جب بھی مومنین نے صداقت سے کام کیا اور جب بھی ان کے دل اللہ کی ذات پر جممع ہوئے ہیں ، ان کے مقابلے میں کفار اور منافقین کے محاذ میں دراڑیں پڑگئی ہیں اور ان کے دل باہم بکھر گئے ہیں۔ اور بظاہر ان کا اتحاد خواب پریشاں بن گیا ہے اور جب بھی مومنین نے صبر کیا ہے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا تو انہوں نے دیکھا کہ کافروں کے درمیان جو ظاہری اتحاد اور بندش نظر آتی ہے وہ کھل گئی ہے اور ان کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے اور نظر آگیا ہے کہ ان کے درمیان شدید اختلافات ہیں ، شدید دشمنی ہے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں اور دشمنیاں کررہے ہیں۔ اور ان کے دل ایک دوسرے سے بالکل جدا (شتی) ۔ ہیں۔ کفار اور منافقین کو مسلمانوں پر اس وقت غلبہ ہوجاتا ہے اور وہ نقصان بھی پہنچا دیتے ہیں جب مسلمانوں کے دل ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں۔ اس وقت پھر وہ مسلمانوں کی تمثیل نہیں پیش کرتے جو سابقہ آیت میں ذکر ہوتی ہے بلکہ وہ نام کے مسلمان ہوتے ہیں ورنہ مومنین کے مقابلے میں منافقین کے بارے میں قرآن نے کہا۔ باسھم ................ شدید (95 : 41) ” آپ میں ان کی مخالفت شدید ہے “۔ تحسبھم ................ شتی (95 : 41) ” تم انہیں اکٹھے سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں “۔ قرآن کریم مومنین کے دلوں میں یہ حقیقت اچھی طرح بٹھاتا ہے تاکہ ان کے دلوں میں سے کافروں کا رعب نکل جائے۔ اور وہ ان سے نہ ڈریں کیونکہ ان کی حقیقت واقعی یہی ہے اور ایسی ہی ہے۔ اس لئے یہ مسلمانوں کی تربیت ہے اور یہ ایک ثابت حقیقت پر مبنی ہے۔ اگر مسلمان قرآنی تعلیمات کو سنجیدگی سے لیں تو ان کے دشمنوں کے معاملات ان کے لئے آسان ہوجائیں اور ان کے دل متحد ہوجائیں۔ اور ان کے مقابلے میں دنیا کی کوئی قوت ہی نہ ٹھہرسکے۔ جو لوگ اللہ پر صحیح طرح ایمان لاچکے ہیں ان کو چاہئے کہ اپنی حقیقت اور اپنے دشمنوں کی طبیعت کو اچھی طرح سمجھیں۔ اور اگر انہوں نے اپنی حقیقت کو پالیا تو نصف معرکہ سر ہوگیا۔ اور اس حقیقت کی طرف قرآن کریم ایک واقعہ کی شکل میں اشارہ کرتا ہے اور یہ حقیقت قرآن نے بطور تمثیل اور سبق ذکر کی ہے۔ اور اس کے بعد پھر اس واقعہ کا تجزیہ کیا اور دلائل دیئے تاکہ وہ لوگ جنہوں نے وہ واقعہ دیکھا تھا وہ عبرت پکڑیں۔ اور بعد کے آنے والوں کے لئے بھی وہ ایک عبرت آموز واقعہ بن جائے۔ قرآن نے یہ اشارہ ان لوگوں کے سامنے کیا ہے جو اس حقیقت سے باخبر تھے۔ واقعہ بنی نضیر پہلا واقعہ نہ تھا۔ اس سے قبل بنی قینقاع کا واقعہ ہوگیا تھا۔ اسی کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے :

الحشر 59:15

کمثل ................ عذاب الیم (95 : 51) ” یہ انہی لوگوں کے مانند ہیں جو ان سے تھوڑی ہی مدت پہلے اپنے کیے کا مزا چکھ چکے ہیں۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے “۔ واقعہ بنی قینقاع غزوہ بدر سے قبل ہوا تھا۔ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان عہد تھا۔ جب مسلمان نے بدر میں مشرکین پر غلبہ پالیا تو یہودیوں کو یہ بات بہت ہی بری لگی۔ اور انہوں نے مسلمانوں کی اس عظیم فتح کو دل سے قبول نہ کیا اور جل بھن گئے۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ مدینہ میں مسلمان جس قدر قوت پکڑتے ہیں اس قدر ان کی اہمیت گھٹتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ جو باتیں کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کو ان کی رپورٹیں ملتی رہتی تھیں کہ یہ کسی شرکا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو حضور اکرم ﷺ نے ان کو بارہا نصیحت کی اور غداری کے انجام سے ڈرایا۔ تو انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی نصیحت کا بڑا سخت جواب دیا جس کے اندر ایک دھمکی مضمر تھی۔ انہوں نے کہا ” محمد ، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم تمہاری قوم قریش کی طرح ہیں۔ تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے ایک ایسی قوم سے جنگ کی جن کو جنگ کا تجربہ نہ تھا اور تم نے ان کو مار لیا۔ ہم ایسے ہیں کہ اگر خدا کی قسم تم نے ہم سے لڑائی کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم کیسے لوگ ہیں “۔ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک عرب خاتون کچھ سامان لے کر آئی اور اسے فروخت کیا۔ یہ سامان اس نے بازار بنی قینقاع میں فروخت کیا۔ اس کے بعد وہ ایک سنار کے پاس بیٹھ گئی تو انہوں نے کے ساتھ برائی کا ارادہ کرلیا اور کہا کہ وہ چہرہ کھولے ، اس نے انکار کردیا۔ سنار نے شرارت کرکے اس کی چادر کا پچھلا حصہ اس کی پیٹھ کے ساتھ باندھ دیا۔ جب وہ اٹھی تو اس کی شرمگاہ ننگی ہوگئی۔ یہ اس کے ساتھ ہنسے۔ اس نے فریاد کی۔ ایک مسلمان شخص اٹھا اور اس نے سنار کو قتل کردیا۔ تمام یہودی جمع ہوئے اور انہوں نے مسلمان کو قتل کردیا۔ چناچہ مسلمانوں نے مسلمانوں کو پکارا۔ اس پر مسلمانوں کو بہت ہی غصہ آیا۔ چناچہ ان کے اور بنی قینقاع کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیئے کہ آپ جو فیصلہ کریں ، اس پر رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول ان کی طرفداری میں کھڑا ہوگیا۔ کیونکہ بنی قینقاع اور خزرج کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔ لیکن اصل حقیقت یہ تھی کہ منافقین دراصل کفار اہل کتاب کے بھائی تھے۔ بڑی کشمکش کے بعد رسول اللہ ﷺ ہوگئے کہ ان کو قتل کرنے بجائے جلاوطن کردیا جائے اور یہ کہ وہ اپنے ساتھ اموال اور سامان لے جائیں ماسوائے اسلحہ کے۔ اور یہ لوگ شام کو چلے گئے۔ یہ واقعہ تھا جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ یہ بنی نضیر بھی بنی قینقاح کی طرح ہیں اور منافقین ان کے بھائی ہیں اور ان کے بھی بھائی تھے۔ منافقین نے اپنے بھائی کافر اہل کتاب کو دھوکہ دیا کہ وہ مقابلہ کریں ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن ان کا یہ انجام ہوا اور انہوں نے کوئی ساتھ بھی نہ دیا۔ یہاں ان کی ایک دائمی تمثیل دی جاتی ہے کہ منافقین جو کچھ کرتے ہیں بعینہ وہی شیطان کرتا ہے اور جو لوگ شیطان کی سنتے ہیں ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔

الحشر 59:16

کمثل الشیطن .................... الظلمین (71) ” ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر ، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں ، مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں ، اور ظالموں کی یہی جزا ہے “۔ شیطان انسانوں کے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہی سلوک منافقین اہل کتاب کافروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن انسان ہیں کہ پھر اس کے کہے پر چلتے ہیں۔ یہ ایک دائمی حقیقت ہے اور قرآن کریم اس عارضی واقعہ کے حوالے سے اسے یہاں بیان کردیتا ہے کہ اس طرح اس جزئی واقعہ سے بھی ایک دائمی اور کلی نصیحت و حکمت اخذ کی جائے اور یوں بات کا دائرہ وسیع ہوجائے۔ اور بات صرف ایکجزئی واقعہ تک محدود نہ رہے۔ قرآن کا یہ اندازہ ہے کہ قرآن دائمی ، اور اعلیٰ حقائق کو بھی ایک جزء کے حوالے سے بیان کرتا ہے۔ کیونکہ محض کلی اور اصولی باتیں خشک فلسفہ بن جاتی ہیں۔ اور انسانی شعور اور دل و دماغ پر ان کا وہ اثر نہیں ہوتا جس طرح ایک مثال اور واقعہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ ہے فرق قرآن کے انداز بیان کا اور فلاسفہ اور مدرسین کے انداز بیان کا۔ فلاسفہ صرف فارمولوں کی شکل میں بات کرتے ہیں۔ اس مثال پر بنی نضیر کا قصہ ختم ہوتا ہے اور اس قصے کے درمیان قرآن نے اس قدر حقائق ہدایات اور تصاویر بیان کیں اور ان کی وجہ سے اس جزوی قصے کو آفاقی بنادیا گیا یا اعلیٰ حقائق کو اس قصے کی شکل میں پیش کیا گیا۔ اور یہ واقعہ ادھر زمین پر چلتا رہا اور ادھر انسانی ضمیر کی اصلاح کا کام کرتا رہا۔ یوں یہ واقعہ ایک واقعہ سے زیادہ درس حکمت اور موجب ہدایت اور عبرت بن گیا۔ انداز بیان اس واقعہ اور ان حقائق کا اللہ کی کتاب میں کچھ اور ہے اور انسان اسے جس طرح بیان کرتے ہیں وہ کچھ اور ہے۔ بنی نظیر کے واقعہ کا یہ بیان ، اس پر تبصرے اور اس کے ضمن میں عظیم حقائق کا بیان اور ہدایات کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اس پیارے لفظ اور پیاری صفت سے کیا جاتا ہے ” اے اہل ایمان “ تاکہ وہ اسے جلدی سے قبول کرلیں۔ سہولت سے عمل پیرا ہوں۔ ان سے کہا جاتا ہے تقویٰ کی راہ اختیار کرو ، یہ دیکھو کہ کل یوم الحشر کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے ، اللہ کو بھول نہ جاؤ جس طرح پہلے لوگوں نے بھلا دیا ، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ اور ان کا برانجام ہوا اور وہ جہنمی ہوگئے۔

الحشر 59:17

کمثل الشیطن .................... الظلمین (71) ” ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر ، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں ، مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں ، اور ظالموں کی یہی جزا ہے “۔ شیطان انسانوں کے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہی سلوک منافقین اہل کتاب کافروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن انسان ہیں کہ پھر اس کے کہے پر چلتے ہیں۔ یہ ایک دائمی حقیقت ہے اور قرآن کریم اس عارضی واقعہ کے حوالے سے اسے یہاں بیان کردیتا ہے کہ اس طرح اس جزئی واقعہ سے بھی ایک دائمی اور کلی نصیحت و حکمت اخذ کی جائے اور یوں بات کا دائرہ وسیع ہوجائے۔ اور بات صرف ایکجزئی واقعہ تک محدود نہ رہے۔ قرآن کا یہ اندازہ ہے کہ قرآن دائمی ، اور اعلیٰ حقائق کو بھی ایک جزء کے حوالے سے بیان کرتا ہے۔ کیونکہ محض کلی اور اصولی باتیں خشک فلسفہ بن جاتی ہیں۔ اور انسانی شعور اور دل و دماغ پر ان کا وہ اثر نہیں ہوتا جس طرح ایک مثال اور واقعہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ ہے فرق قرآن کے انداز بیان کا اور فلاسفہ اور مدرسین کے انداز بیان کا۔ فلاسفہ صرف فارمولوں کی شکل میں بات کرتے ہیں۔ اس مثال پر بنی نضیر کا قصہ ختم ہوتا ہے اور اس قصے کے درمیان قرآن نے اس قدر حقائق ہدایات اور تصاویر بیان کیں اور ان کی وجہ سے اس جزوی قصے کو آفاقی بنادیا گیا یا اعلیٰ حقائق کو اس قصے کی شکل میں پیش کیا گیا۔ اور یہ واقعہ ادھر زمین پر چلتا رہا اور ادھر انسانی ضمیر کی اصلاح کا کام کرتا رہا۔ یوں یہ واقعہ ایک واقعہ سے زیادہ درس حکمت اور موجب ہدایت اور عبرت بن گیا۔ انداز بیان اس واقعہ اور ان حقائق کا اللہ کی کتاب میں کچھ اور ہے اور انسان اسے جس طرح بیان کرتے ہیں وہ کچھ اور ہے۔ بنی نظیر کے واقعہ کا یہ بیان ، اس پر تبصرے اور اس کے ضمن میں عظیم حقائق کا بیان اور ہدایات کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اس پیارے لفظ اور پیاری صفت سے کیا جاتا ہے ” اے اہل ایمان “ تاکہ وہ اسے جلدی سے قبول کرلیں۔ سہولت سے عمل پیرا ہوں۔ ان سے کہا جاتا ہے تقویٰ کی راہ اختیار کرو ، یہ دیکھو کہ کل یوم الحشر کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے ، اللہ کو بھول نہ جاؤ جس طرح پہلے لوگوں نے بھلا دیا ، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ اور ان کا برانجام ہوا اور وہ جہنمی ہوگئے۔

الحشر 59:18

یایھا الذین ........................ الفائزون (02) (95 : 81 تا 02) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو ، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ یقینا تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا ، یہی لوگ فاسق ہیں۔ دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے ۔ جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔ “ تقویٰ کیا چیز ہے ؟ یہ ایک قلبی حالت ہے جس کی طرف اس لفظ کا پرتو ہی اشارہ کررہا ہے۔ لیکن الفاظ کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ تقویٰ کی حالت کی تصویر کشی کرسکیں۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں دل بیدار اور حساس ہوتا ہے ، اور اللہ کا تیز شعور رکھتا ہے ، اور یہ شعور ہر حالت میں ہوتا ہے۔ انسان اللہ سے خائف ، بہت محتاط اور اس بات سے حیا کرنے والا ہوتا ہے کہ اللہ اسے ایسے حال میں پائے جو اللہ کو پسند نہیں ہے کیونکہ اللہ تو ہر لمحہ دیکھ رہا ہوتا ہے اس لئے اللہ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ ولتنظر .................... لغد (95 : 81) ” ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے “۔ یہ ایسی تعبیر ہے جس کا مفہوم اس کے الفاظ سے بہت زیادہ وسیع ہے اور ان الفاظ کو سن کر ہی انسانی تصور کے سامنے ایک کتاب کے صفحات کھلنے لگتے ہیں۔ جس کے اندر اس کے پورے اعمال درج ہیں ، ان میں تمام اعمال چھوٹے بڑے درج ہیں تو انسان سوچتا ہے کہ اس نے اس کتاب کے صفحات میں اندراج کے لئے کیا تیاریاں کی ہیں۔ بس یہ تصور ہی اس کے سامنے اپنی کمزوریاں لے آتا ہے اور کئی تقصیرات اور معاصی اس کے سامنے آجاتے ہیں ، اگرچہ اس نے نیکیاں ہی کی ہوں ، اور راہ حق میں جدوجہد بھی کی ہے۔ لیکن اگر اس کی نیکیاں کم ہوگئیں تو کیا ہوگا۔ بہرحال یہ چند الفاظ اگر انسان کے پیش نظر رہیں تو وہ کبھی بھی غافل نہیں ہوسکتا۔ وہ ہر وقت اپنے اعمال پر نظر رکھے گا۔ یہ شعور دینے کے بعد مومنین کو مزید بیدار کیا جاتا ہے۔ واتقوا اللہ ................ تعملون (95 : 81) ” اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ یقینا تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے “۔ اسی طرح قلب مومن کا احساس تیز ہوجاتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے اور معصیت کرتے ہوئے اللہ سے حیا کرتا ہے کیونکہ اللہ تو انسان کے تمام اعمال سے خبردار ہے “۔ اس آیت میں جس یاد دہانی اور بیداری کی دعوت دی گئی ، اس کی مناسبت سے اگلی آیت میں ان کو ڈرمایا جاتا ہے کہ وہ اس طرح نہ ہوں۔

الحشر 59:19

کالذین ............ فانسھم (95 : 91) ” ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا “۔ یہ عجیب حالت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بھلا دے لیکن یہ ہے حقیقت۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ کو بھلا دیتا ہے ، وہ اس دنیا میں اس طرح ہوتا ہے جس طرح حیوان چرتے پھرتے ہیں۔ یوں وہ اپنی حیثیت انسانی کو بھلا دیتا ہے ، اور اس حقیقت سے پھر ایک دوسرے حقیقت لازم آتی ہے۔ وہ یوں کہ وہ اپنے آپ کو بھلا کر اپنی طویل زندگی کے لئے کوئی سامان نہیں تیار کرتا۔ اور کل کے لئے اس کی کوئی تیاری نہیں ہوتی۔ اولئک ھم الفسقون (95 : 91) ” یہی لوگ فاسق ہیں “۔ یہ جادہ حق سے منحرف اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس لئے اگلی آیت میں آتا ہے کہ ایسے لوگ جہنمی ہیں۔ اور مومنین چونکہ اہل جنت ہیں اس لئے ان کو چاہئے کہ وہ ان لوگوں کے راستے کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کریں کیونکہ دونوں کے راستے ہی جدا ہیں۔

الحشر 59:20

لا یستوی .................... الفائزون (95 : 02) ” دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے ۔ جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں “۔ نہ دونوں کے حالات برابر ہوں لے نہ مزاج برابر ہوگا۔ نہ راستہ اور نہ راستے پرچلنے کا طریقہ۔ نہ جہت اور نہ منزل۔ غرض ان کی کوئی چیز یکساں نہیں ہوسکتی۔ ان کے راستے ہی جدا ہیں اور یہ راستے اس طرح جدا ہیں کہ کسی مقام پر باہم نہیں ملتے۔ ان کی سمت جدا ہے ، اس کا خط جدا ہے ، نہ سیاست میں ، نہ صف میں اور نہ دنیا اور نہ آخرت میں۔ اصحب ............ الفائزون (95 : 02) ” جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں “۔ یہاں اہل جنت کا انجام بتادیا جاتا ہے اور اہل جہنم کو بھلا دیا جاتا ہے کہ ان کا انجام تو معلوم ہے ، گویا وہ بھلا دیئے گئے ، کم ہوگئے۔ اب قلب ونظر کی تاروں پر آخری اور شدید ضرب جس سے انسان کپکپا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اے دل مومن اگر پہاڑوں پر یہ قرآن اتارا جاتا تو وہ بھی پاش پاش ہوجاتے۔

الحشر 59:21

یہ ایک تمثیل ہے لیکن ایک حقیقت کو بطول مثال پیش کیا گیا ہے۔ یہ قرآن ایک عظیم وزن رکھتا ہے۔ اس کے اندر بہت بڑی قوت ہے ، بےپناہ اثر کا مالک ہے ، اور اس کے مقابلے میں کوئی چیز ثابت قدم نہیں رہ سکتی۔ جس پر اس کا وزن پڑے تو متزلزل ہوجاتا ہے ، پاش پاش ہوجاتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے جب پہلی مرتبہ اسے پڑھا تو وہ پاش پاش ہوگئے اور جب وہ ایک رات سننے والے سے سن رہے تھے۔ والطور ........................ ربک لواقع (7) (25 : 1 تا 7) ” قسم ہے طور کی اور ایک ایسی کھلی کتاب کی جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے اور آباد گھر کی ، اور اونچی چھت کی ، اور موجزن سمندر کی ، کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔ تو حضرت عمر ؓ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد وہ گھر کو واپس آئے اور اس قدر غم زدہ ہوگئے کہ لوگ ایک ماہ تک ان کی عبادت کرتے رہے۔ بعض ایسے لمحات آتے ہیں کہ انسان کا دل قرآنی معارف کے لئے کھل جاتا ہے تو قرآن کا اثر اس قدر تیز ہوتا ہے کہ انسان ہلامارا جاتا ہے اور اس پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور انسان کے اندر اس قدر تغیرات اور تبدیلیاں آجاتی ہیں جس طرح مقناطیس اور بجلی کا اثر لوہے اور جسم پر ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی شدید اثر ہوتا ہے۔ اللہ خالق الجبال بھی ہے اور منزل القرآن بھی۔ اللہ کا فرمان ہے۔ لو انزلنا ................ خشیة اللہ (95 : 12) ” اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتاردیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے “۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کی اس نوعیت کے اثرات کو اپنے جسم میں محسوس کیا ہے وہی اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں لیکن ان کا ذوق اور ان کا احساس الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اور اس سورت کے آخر میں خدائے رحمن ورحیم کی تعریف اور تسبیح آتی ہے ، جب انسان کی ذات پر قرآن کریم کا کسی قدر اثر ہوجاتا ہے تو وہ تسبیح کرنے لگتا ہے اور یہ اسمائے حسنیٰ ایسے ہیں جن کے آثار کائنات میں واضح نظر آتے ہیں کیونکہ اللہ کے اسمائے صفات کائنات کے مظاہر اور اس کی حرکت میں نظر آتے ہیں :

الحشر 59:22

ھواللہ .................... العزیز الحکیم (42) (95 : 22 تا 42) ” وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ، وہی رحمن اور رحیم ہے ۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس ، سراسر سلامتی ، امن دینے والا ، نگہبان ، سب پر غالب ، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا ، اور بڑا ہی ہوکر رہنے والا۔ پاک ہے ، اللہ اس شرک سے جو لوگ کررہے ہیں وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے۔ اس کے لئے بہترین نام ہیں۔ ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کررہی ہے ، اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ اللہ کی تسبیح کے تین ٹکڑے ہیں اور ہر ایک کا آغاز عقیدہ توحید سے ہوتا ہے۔ ھواللہ لا الہ الا ھو یا ھواللہ سے ہوتا ہے۔ اللہ کے اسماء میں سے ہر اسم کا اثر اس کائنات میں صاف نظر آتا ہے یا انسانی زندگی میں نظر آتا ہے۔ دکھانا یہ ہے کہ اللہ کی ذات فعال ہے۔ اور اللہ کی فعالیت کا تعلق اس کائنات اور انسانوں کی زندگیوں سے ہے۔ یہ کوئی منفی صفات نہیں اور نہ اس زندگی کے عملی پہلو سے جدا ہیں۔ یہ صفات ہمارے ماحول ، ہمارے احوال اور ہمارے مظاہر میں ہمارے ساتھ ہیں۔

الحشر 59:23

ھواللہ الذی لا الہ الا ھو (95 : 22) ” اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے “۔ لہٰذا اسی کے الٰہہ ہونے کا عقیدہ رکھو ، اسی کی عبادت کرو ، اور اسی کی طرف رخ کرکے پکارو۔ تخلیق سے لے کر موت تک تمہاری زندگی کے اندر وہی موثر اور فعال ہے اور اسی عقیدے پر مکمل اسلامی نظام فکر اور نظام عمل قائم ہے۔ لوگوں کے آپس کے تعلقات ، لوگوں کے عام زندہ مخلوق کے ساتھ تعلق اور لوگوں کے اس کائنات کے ساتھ تعلق کو عقیدہ توحید کی اساس پر استوار کیا گیا ہے۔ علم ............ والشھادة (95 : 22) ” غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ہے “۔ اس سے یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ ظاہر اور خفیہ سب اس پر ظاہر ہے۔ تو انسان کو یہ شعور تازہ رکھنا چاہئے کہ وہ دیکھ رہا ہے اس کے بعد جو کچھ بھی کرنا چاہے ، کرے۔ کیونکہ انسان یہاں اکیلا زندہ نہیں رہ رہا ہے۔ اگرچہ انسان تنہائی میں ہو۔ اگر انسان اپنے اندر یہ کیفیت پیدا کرے تو اس کا قلب نہ غافل ہوسکتا ہے نہ سو سکتا ہے۔ ھوالرحمن الرحیم (95 : 22) ” وہی رحمن ورحیم ہے “۔ ان صفات کے تصور سے انسان مطمئن اور خوش ہوتا ہے اور خوف کے ساتھ امید بھی ہوتی ہے۔ ہیبت کے ساتھ طمانیت بھی آتی ہے۔ مومنین کے تصورات کے مطابق اللہ ہر وقت انسانوں کا پیچھا ہی نہیں کرہا ہے بلکہ نگرانی بھی کررہا ہے۔ وہ ہر وقت لوگوں کو سزا اور عذاب ہی نہیں دے رہا بلکہ ان کو ہدایت بھی دے رہا ہے۔ ان کو شتر بےمہار نہیں چھوڑا دیا گیا بلکہ اللہ ان کی رہنمائی کرتا ہے اور معاونت بھی کرتا ہے۔ ھواللہ ............ الا ھو (95 : 32) ” وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں “۔ اس دوسری تسبیح میں بھی اس عقیدے یا کلمہ شہادت کو دہرایا گیا کیونکہ یہاصل الاصول ہے۔ الملک (95 : 32) ” وہ بادشاہ ہے “۔ یہی معبود جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے یہی بادشاہ بھی ہے۔ جب بادشاہ بھی وہی ہے تو پھر لازم ہے کہ سارے معاملات میں صرف اسی کی طرف رجوع ہو۔ کوئی اور بادشاہ پھر نہ ہوگا۔ لہٰذا کوئی شخص دو بادشاہوں کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اللہ نے کسی آدمی کے اندر بیک وقت دو دل پیدا نہیں کیے۔ القدوس (95 : 32) ” نہایت مقدس “۔ یہ لفظ انتہائی پاکی کو ظاہر کرتا ہے۔ طہارت مطلقہ۔ اللہ قدوس ہے تو اللہ کے بندوں کا دل بھی پاک ہونا چاہیے تاکہ اس کے اندر اللہ کی پاک تعلیمات بیٹھ سکیں اور وہ فیوض وبرکات کے نزول کے اہل ہوسکے۔ اور وہ اللہ کی پاکی بیان کرسکے۔ السلم (95 : 32) ” سراسر سلامتی “۔ السلام سے امن ، سلامتی ، اور اطمینان کا نزول ہوتا ہے اور یہ پوری کائنات سلامتی سے بھر جاتی ہے۔ قلب مومن اپنے رب کی طرف سے مطمئن ہوجاتا ہے۔ ایک اللہ کے جوار رحمت میں امن سے ہوتا ہے۔ پھر اس کائنات میں وہ آفات وبلیات سے بھی اپنے آپ کو امن میں پاتا ہے۔ اس کی بےاطمینانیاں ، بےچینیاں اور تمام تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور وہ اس کائنات کی ہر چیز کا دوست بن جاتا ہے۔ المومن (95 : 32) ” امن دینے والا “۔ امن وسلامتی دیتا ہے۔ اس صفت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی اہمیت کیا ہے ، مومن ہوکر انسان اللہ کی صفات میں سے ایک صفت میں شریک ہوجاتا ہے ، یوں صفت ایمان کے بعد وہ زمین کی مخلوق نہیں رہتا بلکہ عالم بالا کی طرف بلند ہوجاتا ہے۔ المھیمن (95 : 32) ” نگہبان “۔ اللہ کی صفات کے تصور کا یہ نیازوایہ ہے۔ سابقہ صفات القدوس السلام المومن ایسی صفات ہیں جو ذات سے متعلق ہیں لیکن مہیمن کی صفت پوری کائنات سے متعلق ہے اور اس سے اللہ کی نگرانی اور بادشاہت کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح اگلی صفات۔ العزیز الجبار المتکبر (95 : 32) ” سب پر غالب ، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا ، بڑا ہوکر رہنے والا “۔ یہ ایسی صفات ہیں جس سے اللہ کی گرفت ، غلبے اور جبر کا اظہار ہوتا ہے۔ جس سے ایسی برتری ، قوت ، غلو کا اظہار ہوتا ہے جس کے اور کوئی شریک نہ ہو۔ اور درحقیقت اللہ کی ذات وصفات میں کوئی شریک بھی نہیں ہے۔ صرف وہی عزیز ہے ، صرف وہی جبار ہے ، صرف وہی متکبر ہے۔ ان صفات کا اطلاق اس کے سوا کسی پر نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سورت کا اختتام یوں ہے : سبحن اللہ عما یشرکون (95 : 32) ” پاک ہے اللہ شرک سے جو لوگ کررہے ہیں “۔

الحشر 59:24

اور آخری تسبیح ہی طویل ہے : ھواللہ (95 : 43) ” وہی ہے معبود “ اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ الخالق الباری (95 : 42) ” تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اسے نافذ کرنے والا “۔ خلق کا مفہوم ہے : منصوبہ بنانا اور پورا نظام تقدیر تیار کرنا۔ اور باری کے معنی پھر اس منصوبے کو مسلسل نافذ کرتے چلے جانا۔ یہ دونوں صفات باہم متصل ہیں۔ ان میں فرق بھی لطیف ہے۔ المصور (95 : 42) ” صورت گری کرنے والا “۔ یہ صفت بھی سابقہ دونوں صفات سے مربوط ہے۔ یعنی منصوبہ ، پھر تخلیق اور پھر تصور اور خدوخال کا تعین۔ ہر چیز کی صورت اور سیرت کا تعین۔ ہر چیز کو اس کے خواص عطا کرنا۔ یہاں ان صفات کا مسلسل لانا ، جن کے اندر بہت کم فرق ہے اور جو تخلیق ہی کے مختلف مراحل ہیں ، یہ اشارہ دیتا ہے کہ کسی بھی تخلیق کے کام میں یہی تدریج کار فرما ہوتی ہے۔ یہ اشارہ انسانوں کو دیا جارہا ہے۔ انسانی تصورات کے مطابق پہلے نقشہ تخلیق ، پھر تخلیق اور پھر تصور ہوتی ہے ورنہ اللہ کے ہاں تو نہ درجات ہیں اور نہ مراحل ہیں۔ وہاں تو کن فیکون ہے۔ ہم انسان ان امور کو اپنے دائرہ ضرورت میں لاکر سمجھتے ہیں اور ہماری قدرت اور طاقت بہت چھوٹی ہے۔ لہ الاسماء الحسنی (95 : 42) ” اس کے بہترین نام ہیں “۔ یہ نام بذات خود اچھے ہیں۔ ان کو اچھا کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی اچھا کہے تو اچھے ہوں۔ یہ اسمائے حسنی انسانوں کے دلوں پر حسن کے فیوض کرتے ہیں۔ ان پر غوروتدبر کرکے اور ان صفات کو اپنے اندر پیدا اور ان سے ہدایت لے کر انسان کمال حاصل کرسکتا ہے کیونکہ اللہ ان صفات کے ساتھ متصف ہونا پسند کرتا ہے تو یہ پسندیدہ صفات ہیں ، اوصاف حمیدہ ہیں۔ لہٰذا انسان کو ان درجات میں بلند ہوتے رہنا چاہئے۔ اسمائے حسنی کے ساتھ اللہ کی تسبیح ، پاکی اور یاد کا یہ طویل سلسلہ اب اس پوری کائنات کی وسعتوں میں پھیل جاتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز یہ فیوض لے رہی ہے لہٰذا تم بھی ان تسبیحات سے اشارات لو اور فیوض حاصل کرو۔ یسبح لہ ........................................ العزیز الحکیم (95 : 42) ” ہر چیز جو آسمان اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کررہی ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ یہ ہے وہ منظر جو ان صفات کے ذکر کے بعد ایک متوقع منظر ہے۔ تمام اشیاء اس میں شریک ہیں۔ سورت کا آغاز واختتام بھی باہم مل جاتا ہے اور آغاز میں بھی اللہ کی پاکی اور انجام میں اس کی تسبیح سبحان اللہ وبحمدہ۔

الممتحنة 60:1

سورت کا آغاز نہایت ہی محبوب آواز سے ہوتا ہے جہاں بھی اس آواز سے مسلمانوں کو خطاب کیا جاتا ہے اس کے اندر گہرے اشارات ہوتے ہیں۔ یایھا الذین امنوا (06 : 1) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو “۔ یہ آواز اس رب کی جانب سے ہے جس پر وہ ایمان لاچکے ہیں۔ ان کو اہل ایمان کے نام سے پکارا جاتا ہے ، کہ تمہارے ایمان کے کچھ تقاضے ہیں۔ تم نہایت ہی خطرناک موڑ پر کھڑے ہو ، تمہارے ارد گرد دشمن سازشوں کے جال بن رہے ہیں۔ اور تم پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے .... اپنائیت کے انداز میں۔ اللہ اپنے دشمنوں کو ان کا دشمن اور ان کے دشمنوں کو اپنے دشمن سے تعبیر کرتا ہے ، تاکہ مسلمانوں کے اندر یہ شعور ہو کہ وہ اللہ کے سپاہی ہیں۔ اسی کی طرف ہی ان کو جانا ہے۔ اللہ کا دشمن ان کا دشمن ہے۔ لا تتخذو .................... بالمودة (06 : 1) ” میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ کہ تم ان کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو “۔ یہاں مومنین کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ وہ میرے ہیں اور میری طرف آنے والے ہیں۔ اس لئے میں تمہارے دشمنوں کا دشمن ہوں۔ لہٰذا وہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی طرف منسوب ہیں ، جو اس زمین پر اللہ کے جھنڈے بلند کرنے والے ہیں۔ وہ اللہ کے محبوب اور دوست ہیں۔ لہٰذا ان کے شایان شان یہ بات نہیں ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کریں۔ یہاں ان کو یاد دلایا کہ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ دشمن تمہارے خلاف کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ تمہارے دین اور تمہارے رسول کے بارے میں ان کا رویہ کیا رہا ہے۔ یہ جنون کی حد تک تم پر مظالم کرتے رہے۔ وقد کفروا ............................ باللہ ربکم (0 : 1) ” حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس کو ماننے سے وہ انکار کرچکے ہیں اور ان کی روش یہ ہے کہ رسول کو اور خود تم کو صرف اس قصور پر جلاوطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب ، اللہ پر ایمان لائے ہو “۔ آخر ان جرائم کے بعد ان کے ساتھ دوستی اور محبت کی کیا بنیاد رہ گئی ہے۔ انہوں نے سچائی سے کفر کیا۔ رسول اللہ کو اپنے گھر اور شہر سے نکالا۔ مومنین کو نکالا اور ان کا اس کے سوا کوئی جرم نہ تھا کہ وہ اللہ رب العالمین پر ایمان لائے تھے۔ مسلمانوں کو وہ باتیں یاددلائی جارہی ہیں جن کا تعلق ان کے عقیدے سے ہے۔ اس عقیدے ہی کی وجہ سے ان کے ساتھ مشرکین نے جنگ کی تھی اور اس عقیدے کے سوا اس مسلسل جنگ کی اور کوئی وجہ نہ تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مسئلہ ہی ایمان کا تھا۔ جس پر اس قدر جنگیں اور دشمنیاں ہوئیں۔ یہ عقائد کی جنگ ہے ، نظریات کی جنگ ہے۔ صرف یہ مسئلہ ہے کہ انہوں نے سچائی سے انکار کیا ، انہوں نے رسول کو اور ایمان کی وجہ سے مسلمانوں کو نکالا جب یہ مسئلہ واضح ہے اور ظاہر ہے تو ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اب تو ان کے ساتھ مروت و محبت کا کوئی جو ازہی نہیں ہے۔ بشرطیکہ تم صرف اس مقصد کے لئے آئے ہو ، اگر کسی کا کوئی اور مقصد ہے تو وہ یایھا الذین امنوا (06 : 1) سے مخاطب نہیں ہے۔ ان کنتم .................... مرضاتی (06 : 1) ” اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لئے اور میری رضا جوئی کی خاطر نکلے ہو “۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک شخص جہاد کے لئے آیا ہو اور اللہ کی رضا کی خاطر مہاجر ہوا ہو اور پھر اسے اس کے ایمان کی وجہ سے نکالا گیا ہو اور وہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جنہوں نے اسے نکالا ہو اور وہ اس کے اور اللہ کے دشمن ہوں۔ اس کے بعد ان کو اس بات سے ڈرایا جاتا ہے جو ان کے دلوں میں خفیہ طور پر بیٹھی ہوئی ہے۔ یہ کہ وہ اللہ کے دشمنوں کی محبت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ، حالانکہ اللہ سے تو کوئی امر پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو خفیہ اور علانیہ سب چیزوں کو جانتا ہے۔ تشرون ........................ وما اعلنتم (06 : 1) ” تم چھپا کر ان کو دومستانہ پیغام بھیجتے ہو ، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو ، ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں “۔ اس کے بعد ان کو ذرا شدید انداز میں دھمکی دی جاتی ہے۔ اس قدر شدید کہ ایک مومن کا دل دہل جاتا ہے۔ ومن .................... السبیل (06 : 1) ” جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے وہ یقینا راہ راست سے بھٹک گیا “۔ مومن نے سب قربانیاں تو ایمان کی خاطر دی ہیں۔ اگر ایمان ہی کو خطرہ لاحق ہوگیا تو اس کے سوا اس کے لئے کیا اور خطرہ ہوسکتا ہے ؟ ان دونوں تخویفات اور تنبیہات کے بعد دوبارہ اہل ایمان کو بتایا جاتا ہے کہ کفار تمہارے بارے میں کیا کچھ سوچتے ہیں اور منصوبے بناتے ہیں۔

الممتحنة 60:2

ان یثقفوکم .................... بالسوء (0 : 2) ” ان کا رویہ تو یہ ہے کہ اگر تم پر قابو پاجائیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آزار دیں “۔ وہ جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی موقعہ پاتے ہیں ، اپنے کمینے اور دشمنی کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ جس قدر اذیت مومنین کو دے سکتے ہیں ، دیتے ہیں۔ یہ ہاتھوں سے اذیت ہو ، یا زبانوں سے اذیت ہو ، ہر طریقے اور ہر سبیل سے وہ اس کام کے لئے تیار ہیں .... اور سب سے بڑی بات اور سب سے خوفناک بات یہ ہے : وودوا لوتکفرون (06 : 2) ” وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ “۔ صحیح مومنین کے لیے یہ تمام اذیتوں سے بڑی اذیت ہے۔ ہر جسمانی ، لسانی اور روحانی اذیت سے ان کے لئے یہ بڑی اذیت ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعہ ان کے ہاتھ سے نہایت ہی قیمتی خزانہ چلا جائے گا۔ ایمان کا خزانہ اور وہ مرتد ہوجائیں گے اور یہ ان کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی ہوگی۔ اس خزانے کی قدروقیمت اسی شخص کو معلوم ہے ، جو کفر کے بعد مومن ہوا ہے ، جس نے گمراہی کے بعد نورہدایت دیکھا ہو۔ اور اب وہ اپنے تصورات ، اپنے افکار ، اپنے شعور کے ساتھ ایمانی زندگی بسر کررہا ہو ، نہایت اطمینان کے ساتھ۔ ایسا شخص کسی صورت میں بھی اپنی سابقہ حالت کی طرف نہیں لوٹ سکتا۔ ایسا شخص کفر کو اس طرح ناپسند کرتا ہے جس طرح وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے۔ پس مومنین کا دشمن وہ ہے جو انہیں دوبارہ کفر کی جہنم میں ڈال دینا چاہتا ہے جبکہ اللہ نے ان کو توفیق دے دی ہے کہ وہ جنت ایمانی میں زندگی بسر کریں۔ یہ ایمانی زندگی کو بھر پور اور بامعنی بنا دیتا ہے جبکہ کفر کی زندگی خالی اور بےمعنی ہوتی ہے۔ یوں قرآن کریم تدریج کے ساتھ بتاتا ہے کہ مسلمانوں اور اللہ کے دشمن اہل ایمان کو دوبارہ کافر بنانا چاہتے ہیں ، یہ ان کی اصولی اسکیم ہے ، اور اسی لئے تو تم مکہ سے بھاگ نکلے ہو۔ یادرکھو۔ وودوا لوتکفرون (06 : 2) ” اور وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح دوبارہ کافر ہوجاؤ “۔ یہ تھا پہلا دور ، جس کے اندر متعدد حقائق ہدایات اور بیداری کے لئے تیز چٹکیاں تھیں۔ اس کے بعد ایک دور جس کے اندر ایک ہی تیز احساس دے دیا گیا ہے کہ یہ قرابت داریاں ، جو انسان کو خفیہ دوستی پر مجبور کرتی ہیں ، اور دو ٹوک نظریاتی موقف کو بھلا دیتی ہیں یہ بالکل مفید نہیں ہیں۔

الممتحنة 60:3

لن تنفعکم .................... بصیر (06 : 3) ” قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں کسی کام آئیں گی نہ تمہاری اولاد۔ اس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے “۔ مومن نیکی کرتا ہے اور آخرت کام اجر چاہتا ہے۔ وہ دنیا میں بوتا ہے اور آخرت میں کاٹے گا۔ اور اس پر یہ بات اثرانداز ہوتی ہے کہ جب آخرت میں ایمان اور عقیدے کا تعلق نہ ہوگا تو رشتہ داری کا تعلق بھی کٹ جائے گا ، تو اس طرح اس دنیا کی مختصر زندگی میں اس کے دل سے اس رشتہ داری اور قرابت داری کے تعلقات کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ اور وہ ایسے تعلق کو اہمیت دینے لگتا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں مفیدہوتا ہے اور قائم رہتا ہے اور وہ نظریاتی اور ایمانی تعلق ہوتا ہے۔ لن تنفعکم .................... اولادکم (0 : 3) ” قیامت کے دن تمہاری رشتہ داریاں اور اولاد تمہارے کسی کام نہ آئے گی “۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی طرف تم لپکتے ہو اور تمہارے دل ان سے متعلق ہیں اور یہ تعلقات تمہیں مجبور کرتے ہیں کہ تم اپنے دشمنوں کے ساتھ دوستی کرو ، تاکہ تم ان تعلقات کو بچا سکو۔ جب کہ حضرت حاطب نے اپنی اولاد اور مال کی خاطر یہ کیا۔ جس طرحدوسروں کے دل اپنی اولاد اور مال کے لئے جوش مارتے ہیں ، تو یہ چیزیں بھی تمہیں کوئی نفع نہ دیں گی۔ قیامت کے دن تو یفصل بینکم ” اس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی کردے گا “۔ کیونکہ رشتہ داری اور قرابت دار کی رسی اس دن ٹوٹ جائے گی ، اس دن صرف اللہ کی رسی کام کرے گی۔ واللہ ............ بصیر (06 : 3) ” اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے “۔ وہ ظاہر ، باطن اور نیت تک سے واقف ہے۔ اب تیسرا پیراگراف آتا ہے۔ اس میں امت مسلمہ کو اس امت کے سرچشمے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے جایا جاتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم سے ادھر ایک ہی قافلہ ہے ، اور ایک ہی امت ہے ، تاریخ کی طویل وادیوں میں یہ چلا آرہا ہے۔ اس قافلے کا سامان ، سامان ایمان ہے۔ یہ قافلہ ہر قسم کے تعلقات سے برات کرتا ہے ، ماسوائے تعلقات عقیدہ کے۔ یہی امت ہے جو حضرت ابراہیم سے چلی۔ یہ ابو الانبیاء تھے اور دین حنیف کے داعی۔ وہ قابل تقلید ہیں ، نہ صرف عقیدے میں ، بلکہ سیرت اور انداز تبلیغ میں بھی۔ ان کو بھی یہی قرابت داری اور رشتہ داری کا مسئلہ درپیش تھا۔ چناچہ حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھی مومنین ان رشتہ داریوں اور علاقوں کو چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے صرف اپنا عقیدہ اپنا لیا۔

الممتحنة 60:4

انہی لوگوں کے طرفز عمل میں تمہارے لئے ہر اس شخص کے لئے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو۔ اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔ ایک مسلم جب تاریخ پر نظر ڈالتا ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی ایک طویل تاریخی نسب نامہ اور شجرہ ایمان ہے۔ یہ ماضی کی تاریخ میں بہت دور تک پھیلا ہوا ہے ، دور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک۔ نہ صرف یہ کہ وہ اپنے عقائد ونظریات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا پیروکار ہے بلکہ اہل ایمان اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دعوتی تجربات بھی ایک ہی جیسے ہیں اس لئے ایک مومن یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کے پاس تجربات کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ نہ صرف وہ تجربات جن سے وہ گزر رہا ہے بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تجربات بھی اس میں شامل ہیں۔ قافلہ ایمان جو اب مکہ میں ہے ، یہ تو ماضی کی تاریخ زمان ومکان میں بہت دور تک چلا ہے۔ کئی وادیاں اس نے طے کی ہیں۔ یہ صرف اسی جھنڈے تلے چلتا رہا ہے اور ایسے ہی حالات سے گزرا ہے جن سے وہ گزر رہے ہیں ، یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے کہ گویا صرف تم ان مشقتوں سے دو چار ہوگئے ہو۔ آج اگر مومنین کا تعلق اپنے دشمنوں سے کٹ گیا تو کیا بات ہے۔ وہ ایک ایسے نظریہ کی ایک شاخ ہے جس کی نہایت ہی سایہ دار شاخیں تاریخ کی فضا میں ، دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ وہ درخت ہے جس کا پودا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لگایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس تجربے سے گزرے تھے ، جس سے مدینہ میں مسلمان گزر رہے تھے اور حضرت ابراہیم میں الہ ایمان کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ اذ قالو ........................ وحدہ (0 : 4) ”” تم لوگوں کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں میں اچھا نمونہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا “۔ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو ، قطعی بیزار ہیں۔ ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے عداوت ہوگئی اور بیر پڑگیا۔ جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ “۔ اس میں انہوں نے اپنی قوم ، ان کے معبودوں ، اور ان کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کردیا۔ دوسرے الفاظ میں ان کا کفر کیا اور اللہ پر ایمان لائے اور یہ عداوت اور بغض اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ اللہ وحدہ پر ایمان نہ لائے۔ یہ دو ٹوک ، فیصلہ کن اور پختہ قطع تعلق تھا ، جس کے بعد فریقین کے درمیان سے ہر قسم کے روابط کٹ گئے ، ماسوائے تعلق ایمان کے۔ یہی فیصلہ اہل ایمان کا فیصلہ ہے اور یہی قرار داد ان اہل ایمان کی ہے جو مدینہ میں ہیں۔ اور ایسا ہی ہونا چاہئے جس طرح امت ابراہیمی نے فیصلہ کیا۔ بعض مومنین یہ دیکھتے تھے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے باوجود قطع تعلق کے اپنے والد کے لئے استغفار کیا حالانکہ وہ مسرک تھے۔ اس میں بعض مسلمانوں کے لئے دبے ہوئے جذبات ابھرانے کی راہ تھی۔ جو وہ اپنے مشرک بھائیوں کے لئے رکھتے تھے۔ چناچہ قرآن نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس استغفار کی توضیح کردی۔ کیونکہ انہوں نے باپ سے کہا تھا۔ لا ستغفرن لک (06 : 4) ” میں تمہارے لئے ضروری استغفار کروں گا “۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کہہ دی ، جب ان کے والد نے شرک پر اصرار نہ کیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت اپنے والد کے ایمان کے بارے میں توقع رکھتے تھے۔ فلما .................... منہ ” جب یہ بات کھل گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے بیزاری کا اعلان کردیا “۔ جیسا کہ دوسری سورت میں آیا ہے۔ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سارا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا تھا اور توکل اور یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ وما املک .................... المصیر (06 : 4) ” اور اللہ سے آپ کے لئے کچھ حاصل کرلینا میرے بس میں نہیں ہے “ (اور ابراہیم (علیہ السلام) واصحاب ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا یہ تھی کہ) ” اے ہمارے رب ، تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کرلیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے “۔ یوں اللہ کے سامنے مطلق سپردگی کا اعلان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت کا خاصہ ہے۔ اور اس کی طرف یہاں اہل ایمان کے دلوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کیونکہ قرآن کا یہ انداز ہے کہ وہ کسی بھی قصے کی ایک ہی کڑی کو لے کر اس کا تجزیہ کرتا ہے اور اہل ایمان کو اس طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور اس کڑی کے اندر مسلمانوں کے لئے جو سبق ، نصیحت ، حکمت اور دانائی کی قابل تقلید مثال ہوتی ہے ، اسے واضح کردیتا ہے۔

الممتحنة 60:5

اس قصے کے دوران حضرت ابراہیم کی دعا کا یہ حصہ بھی اہم ہے۔ ربنا لا ........................ کفروا (06 : 5) ” اے ہمارے رب ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا دے “ ان کافروں کو ہم پر مسلط نہ کر ، کہ یہ تسلط ان کافروں کے لئے فتنہ ہوجائے ، وہ یہ کہیں کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے اور ان کا ایمان ان کو بچا سکتا ، تو ہم ان پر کس طرح غالب ہوجاتے۔ اور یہی شبہات ہر دور میں اہل ایمان کے دلوں میں بھی پیدا ہوتے ہیں ، جب اہل باطل اور اہل کفر اہل ایمان پر غالب ہوجاتے ہیں۔ اور باغی اور سرکشی اہل ایمان پر غالب ہوتے ہیں اور اس میں بھی اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ اور یہ غلبہ ایک وقت کے لئے ہوتا ہے۔ مومن ان ابتلاؤں پر صبر کرتا ہے۔ لیکن ایسے حالات میں بھی اہل ایمان کو دعا کرنا چاہئے کہ وہ ان کو ایسی آزمائشوں میں نہ ڈالے۔ واغفرلنا ربنا (0 : 5) ” اے ہمارے رب ، ہمارے قصوروں سے درگزر فرما “۔ یہ دعا حضرت ابراہیم خلیل اللہ کررہے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی بندگی کا جو اعلیٰ مقام ہے۔ اس تک پہنچنا مشکل ہے اور اللہ کی نعمتوں اور احسانات کے برابر اللہ کی بندگی کوئی بشر نہیں کرسکتا جو اللہ کی پاکی اور جلالت شان کے برابر ہو۔ اس لئے آپ یہ دعا کرتے ہیں کہ آپ کے بعد آنے والوں کے لئے یہ نمونہ ہو۔ آپ کی دعا ، آپ کا رجوع الی اللہ ، آپ کے استغفار ، آپ کی تعریف رب کا خاتمہ یوں ہے : انک انت .................... الحکیم (06 : 5) ” بیشک تو ہی زبردست اور دانا ہے “۔ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور تیرے سب کام حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کے اس طرز عمل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں تمہارے لئے ایک بہترین نمونہ ہے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں رجوع الی اللہ کیا اور اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔

الممتحنة 60:6

لقد کان .................... الحمید (06 : 6) ” انہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لئے اور ہر اس شخص کے لئے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو۔ اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔ لہٰذا ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی صری اس شخص کے لئے نمونہ ہیں جو اللہ سے امیدوار ہو اور آخر ت کی جواب دہی کے لئے فکر مند ہو۔ صرف ایسے ہی لوگوں کے دلوں میں حضرت ابراہیم کے تجربات کی قدر ہوسکتی ہے۔ اور وہ ان کے لئے نمونہ اور اسوہ ہوسکتے ہیں۔ اور ان کو دیکھ کر کوئی رہنمائی پاسکتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کے مقاصد اللہ اور آخرت ہوں وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نمونے کو دیکھیں۔ یہ اشارہ ہے اہل ایمان کو۔ لیکن جو اسلامی نظام کی پرواہ نہیں کرتے اور جو قافلہ ابراہیمی کے راستے سے ادھر ادھر جانا چاہتے ہیں۔ جو شخص اس شجرہ نسب سے دور جانا چاہتا ہے ، تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ فان اللہ ............ الحمید (0 : 6) ” اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔ اس سفر سے اب ہم واپس ہورہے ہیں ، اہل ایمان نے اپنی تاریخ کا مطالعہ کرلیا۔ اب وہ زمین پر اپنی یادیں لے کر واپس ہوگئے۔ امم سابقہ میں ان کے لئے جو سبق آموز تجربات تھے وہ انہوں نے جمع کرلیے اور امم سابقہ میں سے جو لوگ ایسے ہی حالات سے گزرے تھے انہوں نے کیا فیصلے کیے تھے اور انہوں نے پالی کہ جس راہ پر وہ چل رہے تھے یہ تو ایسی راہ ہے جس پر پہلے بھی لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ پہلے لوگ نہیں ہیں جنہوں نے یہ کام کیا۔ قرآن کریم اس تصور کو قافلہ اہل اسلام کے دلوں میں خوب بٹھارہا ہے تاکہ یہ قافلہ چلتا رہے۔ اور وہ یہ محسوس نہ کرے کہ وہ اکیلا ہے یا انوکھا ہے۔ اگرچہ موجودہ نسل میں وہ اکیلا ہے۔ یوں اسے سہارا ملتا ہے اور اس راہ پر چلنے میں مشقت کم ہوجاتی ہے۔ یواں کہ راہ اگرچہ دسوار گزار ہے۔ لیکن کئی لوگ پہلے بھی چلتے رہے ہیں اور انہی گھاٹیوں سے ہوکر گزرے ہیں۔ مکہ و مدینہ کے درمیان جو جنگی صورت حالات جاری تھی اور جس کے اندر بھائی بھائی سے کٹ گیا تھا اور لوگ اس صورت حال کو بہت ہی بھاری سمجھتے تھے۔ اب ان کی امید کی ایک کرن دکھائی جاتی ہے کہ یہ صورت حالات اہل مکہ کی ضد کی وجہ سے ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ بالآخر یہ لوگ بھی اس قافلہ میں شریک ہوجائیں گے۔ اسی جھنڈے کو اٹھالیں۔ یوں ممکن ہوگا کہ بھائی بھائی کا باہم تعلق بھی بحال ہوجائے گا اور اب مزید تخفیف کی جاتی ہے اور ایک بین الاقوامی قانون کا مستقبل قاعدہ بیان کردیا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان مقاطعت اور عداوت اور دشمنی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اسلام کے دشمن ہیں۔ اور اگر کوئی اسلام کی دشمنی ترک کردے تو پھر ہر مسلمان کو اجازت ہے کہ جس کے ساتھ نیکی کرنا چاہے اور وہ مستحق ہے اس کے ساتھ نیکی کرے۔ اور باہم منصفانہ اور عادلانہ روابط قائم کیے جائیں۔

الممتحنة 60:7

اسلام سلامتی کا دین ہے ، محبت کا عقیدہ ہے۔ وہ ایک ایسا نظام ہے جو پوری دنیا کو اپنے سایہ عاطفت میں لینا چاہتا ہے۔ اور پوری دنیا اپنا منہاج قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے جھنڈوں کے نیچے جمع کرتا ہے اور ان کو باہم متعارف بھائی بناتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کے دشمن اپنی معاندانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ وہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں۔ اگر مخالفین اسلام ، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی ترک کردیں تو اسلام کو کسی کے ساتھ دشمنی میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام از خود کوئی دشمنی پیدا نہیں کرتا۔ وہ دشمنی اور جنگی حالت میں بھی انسانی نفوس کے اندر انس و محبت کے اسباب قطع نہیں کرتا۔ وہ منصفانہ معاملہ کرتا ہے اور ہر وقت اس امید میں رہتا ہے کہ تمام لوگ اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجائیں۔ اسلام کبھی بھی کسی کو ہدایت اور راہ راست پر آجانے سے مایوس نہیں کرتا۔ اس قطعے کی پہلی آیت میں اس امید کا ذکر ہے ، جو کبھی بھی ناامیدی سے مغلوب نہیں ہوتی۔ یہ آیت ان لوگوں کے دلوں کے لئے مرہم ہے جن پر اسلام اور کفر اس جنگ کو مسلط کیا گیا تھا اور مجبوراً ان کو اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ بائیکاٹ کرنا پڑ رہا تھا۔ عسی .................... مودة (06 : 7) ” بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے “۔ اللہ کی طرف سے امید کا اظہار گویا قطعی اشارہ ہے کہ جلد ہی یہ دشمنی ختم ہوجائے گی۔ جن مومنین نے اسے سنا ہوگا ان کو یقین ہوگیا ہوگا۔ اس کے بعد جلد ہی مکہ فتح ہوگیا تھا اور سب اہل مکہ مسلمان ہوگئے تھے اور سب ایک جھنڈے کے نیچے آگئے تھے۔ اور ان تمام ، دشمنیوں اور عنادوں کے دفاتر لپیٹ لئے گئے تھے اور اہل مکہ اور اہل مدینہ بھائی بھائی بن گئے تھے۔ واللہ قدیر (06 : 7) ” اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے “۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ واللہ ............ رحیم (06 : 7) ” اور وہ غفور ورحیم ہے “۔ جو سابقہ زمانے میں اور حالت کفر میں کسی سے شرک ہوگیا ، اس کو بخشنے والا ہے۔ سابقہ زمانے کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ جب تک اللہ کا وعدہ پورا نہیں ہوجاتا ، جس کے بارے میں اوپر کی آیت میں امید دلائی گئی تھی ، اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ تعلقات مودت قائم کرنے کی اجازت دے دی ، جو دین کے معاملے میں مسلمانوں سے برسر جنگ نہیں تھے ، جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نہیں نکالا تھا ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے پر جو پابندی سمجھی جاتی تھی اسے رفع کردیا گیا کہ ایسے کفار کے ساتھ بھی عدل کرو اور ان کا کوئی حق اگر تمہارے دائرہ اختیار میں ہے تو اسے ادا کرو ، لیکن جو لوگ دین کے معاملے میں تم سے لڑ رہے ہیں ، انہوں نے تمہیں گھروں سے نکالا ہے ، یا تمہارے نکالنے میں معاونت کی ہے ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی موالات نہیں ہے ، اور جو لوگ ایسے لوگوں سے موالات کرتے ہیں وہ شالم ہیں۔ ظلم کے معانی میں سے ایک معنی شرک بھی ہے۔ آیت۔ ان الشرک لظلم عظیم پیش نظر ہونی چاہئے۔ مومنین کے لئے یہ شدید تہدید ہے۔ اس لئے انہیں اس قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا چاہئے کہ کہیں سب کچھ نہ گنوادیں۔ یہ اصول جو غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں وضع کیا گیا ہے ، یہ اس دین کے مزاج کے مطابق ہے اور نہایت ہی منصفانہ الاقوامی قانون ہے۔ یہ خالص انسانی نقطہ نظر سے ہے بلکہ اس کو اس پوری کائنات کے نظام کو پیش نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات ایک ہی الٰہ واحد کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ پوری کائنات رب واحد کی طرف متوجہ ہے اور پوری کائنات اللہ کے منصوبے اور نظام اور نقشے کے مطابق چل رہی ہے۔ اگرچہ اس میں لوگوں کے درمیان اختلافات ہیں اور وہ باہم منقسم ہیں۔ یہ اصول اسلام کے بین الاقوامی قانون کا اساسی اصول ہے جس کے مطابق لوگوں کے درمیان امن وسلامتی کی حالت اصلی اور مستقل حالت ہے ، اور اس حالت کے اندر تغیر جارحیت اور دفاع جارحیت کی وجہ سے آجاتا ہے۔ یا اس وجہ سے آتا ہے کہ دو اقوام کے درمیان معاہدہ ہو ، اور ان میں سے ایک معاہدے کو توڑ دے یا خیانت کے امکانات پیدا ہوجائیں یا کوئی قوت آزادی اعتقاد یا آزادی اظہار رائے اور دعوت اسلامی کی راہ میں مزاحم ہوجائے۔ اور یہ بھی دراصل ایک جارحیت ہے۔ ان حالات کے علاوہ اسلام امن وسلامتی ، محبت ، نیکی اور عدل کے احکام دیتا ہے۔ یہ قاعدہ اسلامی نظریہ حیات کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ اسلام انسان اور انسان کے درمیان فرق و امتیاز صرف عقیدے کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ایک مومن اگر کسی دوسری قوم کے ساتھ جنگ کرتا ہے تو محض اپنے عقیدے کی وجہ سے کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔ الام صرف دعوت کی آزادی اور رائے کی آزادی کے لئے لڑتا ہے۔ اس کے علاوہ فقط وہ اسلامی نظام کے قیام اور اعلائے کلمة اللہ کے لئے لڑتا ہے۔ یہ توجیہہ اور تفسیر اس پوری سورت کے رخ کے ساتھ بھی موافق ہے جس کے اندر عقائد ونظریات کی اہمیت سے بحث ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان صرف نظریاتی جھنڈے کے نیچے لڑ سکتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اس محاذ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا تو وہ ان میں سے ہے۔ اور جس نے اس نکتے پر ان سے جنگ کی تو وہ ان کا دشمن ہے۔ جس شخص نے ان کے ساتھ امن کی حالت کو برقرار رکھا اور ان کو ان کے عقائد پر چھوڑ دیا کہ وہ اپنے عقائد کی طرف لوگوں کو بلائیں اور ان کی راہ روکنے کی کوشش نہ کی اور لوگوں کو زبردستی اسلامی عقائد قبول کرنے سے روکا تو وہ مسالم ہے اور اسلام ان کے ساتھ نیکی اور سماجی تعلق قائم کرنے سے نہیں روکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک مسلم اس کرہ ارض پر اپنے عقیدے کی خاطر زندہ ہوتا ہے۔ اس کا مسئلہ اس کا نظریہ اور اس کے ماحول کے ساتھ اس مسئلہ بھی یہی نظریہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے مصلحت اور مفادات پر کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ وہ کسی عصبیت کے لئے جہاد نہیں کرتا مثلاً رنگ ، نسل ، زبان اور علاقے کی عصبیت۔ اسلام میں جنگ اگر ہے تو صرف نظریات کے لئے ہے۔ اس لئے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو ، اور اسلامی نظام کے لئے جنگ ہے۔ اس کے بعد سورة توبہ نازل ہوئی۔ جس میں ہے۔ براءة من اللہ ................ المشرکین (9 : 1) ” اللہ اور رسول کی طرف سے مشرکین سے بیزاری کا اعلان ہوتا ہے “۔ اس کے ذریعہ جزیرة العرب میں مشرکین کے ساتھ معاہدات ختم کردیئے گئے۔ جن لوگوں کے معاہدے میں میعاد مقرر نہ تھی ان کو چار ماہ کی مہلت دے دی گئی اور جن کے ساتھ میعاد مقرر تھی ان کے ساتھ معاہدے کی مدت طے کی گئی۔ لیکن امن کے وہ معاہدات جو جزیرة العرب کے مشرکین کے ساتھ تھے اور جنہیں منسوخ کیا گیا وہ اس لئے کہ مشرکین عرب بار بار معاہدے توڑ رہے تھے۔ جب انہیں فائدہ ہوتا تو معاہدے پر عمل کرتے ، اور جب نقصان ہوتا تو توڑ دیتے۔ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے اسلام نے ایک دوسرابین الاقوامی قاعدہ بنایا۔ واما تخافن ........................ الخاء نین ” اگر تمہیں کسی قوم سے خیانت کا خطرہ ہو تو اعلانیہ ان کا معاہدہ ان کے سامنے پھینک دو ، بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتا “۔ اور یہ ضرورت اس وقت اس لئے بھی پیش آئی تھی تاکہ اسلام کے پایہ تخت اور مرکز کو محفوظ کردیا جائے۔ اس وقت مرکز اسلام جزیرة العرب تھا۔ اور اس کو ان لوگوں سے پاک کرنا ضروری تھا ، جو مسلمانوں کے بارے میں ہر وقت انتظار میں رہتے تھے ، کہ کوئی موقعہ ملے اور وہ حملہ آور ہوں۔ مشرکین اور اہل کتاب معاہدین بار بار عہد توڑے تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ چونکہ دشمنی کی حالت ہوا کرتی ہے ، اس لئے ایسے حالات میں اگر فریقین حالت جنگ پر ہوں تو دونوں کے لئے مفید ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ قیصر وکسریٰ عظیم مملکتوں نے اسلامی مملکت کے خلاف افواج جمع کرنا شروع کردی تھیں۔ اور دونوں نے اسلام کو اپنے لئے خطرہ سمجھ لیا تھا۔ دونوں نے جزیرة العرب کے ساتھ ساتھ عربی ریاستوں کا رخ جزیرة العرب کی طرف پھیر دیا تھا۔ لہٰذا اسلامی بلاک کی اندرونی تطہیر ضروری ہوگئی تھی تاکہ متوقع بیرونی جارحیت کا موثر مقابلہ کیا جاسکے۔ یہ نوٹ یہاں کافی ہے۔

الممتحنة 60:8

اسلام سلامتی کا دین ہے ، محبت کا عقیدہ ہے۔ وہ ایک ایسا نظام ہے جو پوری دنیا کو اپنے سایہ عاطفت میں لینا چاہتا ہے۔ اور پوری دنیا اپنا منہاج قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے جھنڈوں کے نیچے جمع کرتا ہے اور ان کو باہم متعارف بھائی بناتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کے دشمن اپنی معاندانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ وہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں۔ اگر مخالفین اسلام ، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی ترک کردیں تو اسلام کو کسی کے ساتھ دشمنی میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام از خود کوئی دشمنی پیدا نہیں کرتا۔ وہ دشمنی اور جنگی حالت میں بھی انسانی نفوس کے اندر انس و محبت کے اسباب قطع نہیں کرتا۔ وہ منصفانہ معاملہ کرتا ہے اور ہر وقت اس امید میں رہتا ہے کہ تمام لوگ اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجائیں۔ اسلام کبھی بھی کسی کو ہدایت اور راہ راست پر آجانے سے مایوس نہیں کرتا۔ اس قطعے کی پہلی آیت میں اس امید کا ذکر ہے ، جو کبھی بھی ناامیدی سے مغلوب نہیں ہوتی۔ یہ آیت ان لوگوں کے دلوں کے لئے مرہم ہے جن پر اسلام اور کفر اس جنگ کو مسلط کیا گیا تھا اور مجبوراً ان کو اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ بائیکاٹ کرنا پڑ رہا تھا۔ عسی .................... مودة (06 : 7) ” بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے “۔ اللہ کی طرف سے امید کا اظہار گویا قطعی اشارہ ہے کہ جلد ہی یہ دشمنی ختم ہوجائے گی۔ جن مومنین نے اسے سنا ہوگا ان کو یقین ہوگیا ہوگا۔ اس کے بعد جلد ہی مکہ فتح ہوگیا تھا اور سب اہل مکہ مسلمان ہوگئے تھے اور سب ایک جھنڈے کے نیچے آگئے تھے۔ اور ان تمام ، دشمنیوں اور عنادوں کے دفاتر لپیٹ لئے گئے تھے اور اہل مکہ اور اہل مدینہ بھائی بھائی بن گئے تھے۔ واللہ قدیر (06 : 7) ” اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے “۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ واللہ ............ رحیم (06 : 7) ” اور وہ غفور ورحیم ہے “۔ جو سابقہ زمانے میں اور حالت کفر میں کسی سے شرک ہوگیا ، اس کو بخشنے والا ہے۔ سابقہ زمانے کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ جب تک اللہ کا وعدہ پورا نہیں ہوجاتا ، جس کے بارے میں اوپر کی آیت میں امید دلائی گئی تھی ، اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ تعلقات مودت قائم کرنے کی اجازت دے دی ، جو دین کے معاملے میں مسلمانوں سے برسر جنگ نہیں تھے ، جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نہیں نکالا تھا ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے پر جو پابندی سمجھی جاتی تھی اسے رفع کردیا گیا کہ ایسے کفار کے ساتھ بھی عدل کرو اور ان کا کوئی حق اگر تمہارے دائرہ اختیار میں ہے تو اسے ادا کرو ، لیکن جو لوگ دین کے معاملے میں تم سے لڑ رہے ہیں ، انہوں نے تمہیں گھروں سے نکالا ہے ، یا تمہارے نکالنے میں معاونت کی ہے ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی موالات نہیں ہے ، اور جو لوگ ایسے لوگوں سے موالات کرتے ہیں وہ شالم ہیں۔ ظلم کے معانی میں سے ایک معنی شرک بھی ہے۔ آیت۔ ان الشرک لظلم عظیم پیش نظر ہونی چاہئے۔ مومنین کے لئے یہ شدید تہدید ہے۔ اس لئے انہیں اس قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا چاہئے کہ کہیں سب کچھ نہ گنوادیں۔ یہ اصول جو غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں وضع کیا گیا ہے ، یہ اس دین کے مزاج کے مطابق ہے اور نہایت ہی منصفانہ الاقوامی قانون ہے۔ یہ خالص انسانی نقطہ نظر سے ہے بلکہ اس کو اس پوری کائنات کے نظام کو پیش نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات ایک ہی الٰہ واحد کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ پوری کائنات رب واحد کی طرف متوجہ ہے اور پوری کائنات اللہ کے منصوبے اور نظام اور نقشے کے مطابق چل رہی ہے۔ اگرچہ اس میں لوگوں کے درمیان اختلافات ہیں اور وہ باہم منقسم ہیں۔ یہ اصول اسلام کے بین الاقوامی قانون کا اساسی اصول ہے جس کے مطابق لوگوں کے درمیان امن وسلامتی کی حالت اصلی اور مستقل حالت ہے ، اور اس حالت کے اندر تغیر جارحیت اور دفاع جارحیت کی وجہ سے آجاتا ہے۔ یا اس وجہ سے آتا ہے کہ دو اقوام کے درمیان معاہدہ ہو ، اور ان میں سے ایک معاہدے کو توڑ دے یا خیانت کے امکانات پیدا ہوجائیں یا کوئی قوت آزادی اعتقاد یا آزادی اظہار رائے اور دعوت اسلامی کی راہ میں مزاحم ہوجائے۔ اور یہ بھی دراصل ایک جارحیت ہے۔ ان حالات کے علاوہ اسلام امن وسلامتی ، محبت ، نیکی اور عدل کے احکام دیتا ہے۔ یہ قاعدہ اسلامی نظریہ حیات کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ اسلام انسان اور انسان کے درمیان فرق و امتیاز صرف عقیدے کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ایک مومن اگر کسی دوسری قوم کے ساتھ جنگ کرتا ہے تو محض اپنے عقیدے کی وجہ سے کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔ الام صرف دعوت کی آزادی اور رائے کی آزادی کے لئے لڑتا ہے۔ اس کے علاوہ فقط وہ اسلامی نظام کے قیام اور اعلائے کلمة اللہ کے لئے لڑتا ہے۔ یہ توجیہہ اور تفسیر اس پوری سورت کے رخ کے ساتھ بھی موافق ہے جس کے اندر عقائد ونظریات کی اہمیت سے بحث ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان صرف نظریاتی جھنڈے کے نیچے لڑ سکتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اس محاذ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا تو وہ ان میں سے ہے۔ اور جس نے اس نکتے پر ان سے جنگ کی تو وہ ان کا دشمن ہے۔ جس شخص نے ان کے ساتھ امن کی حالت کو برقرار رکھا اور ان کو ان کے عقائد پر چھوڑ دیا کہ وہ اپنے عقائد کی طرف لوگوں کو بلائیں اور ان کی راہ روکنے کی کوشش نہ کی اور لوگوں کو زبردستی اسلامی عقائد قبول کرنے سے روکا تو وہ مسالم ہے اور اسلام ان کے ساتھ نیکی اور سماجی تعلق قائم کرنے سے نہیں روکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک مسلم اس کرہ ارض پر اپنے عقیدے کی خاطر زندہ ہوتا ہے۔ اس کا مسئلہ اس کا نظریہ اور اس کے ماحول کے ساتھ اس مسئلہ بھی یہی نظریہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے مصلحت اور مفادات پر کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ وہ کسی عصبیت کے لئے جہاد نہیں کرتا مثلاً رنگ ، نسل ، زبان اور علاقے کی عصبیت۔ اسلام میں جنگ اگر ہے تو صرف نظریات کے لئے ہے۔ اس لئے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو ، اور اسلامی نظام کے لئے جنگ ہے۔ اس کے بعد سورة توبہ نازل ہوئی۔ جس میں ہے۔ براءة من اللہ ................ المشرکین (9 : 1) ” اللہ اور رسول کی طرف سے مشرکین سے بیزاری کا اعلان ہوتا ہے “۔ اس کے ذریعہ جزیرة العرب میں مشرکین کے ساتھ معاہدات ختم کردیئے گئے۔ جن لوگوں کے معاہدے میں میعاد مقرر نہ تھی ان کو چار ماہ کی مہلت دے دی گئی اور جن کے ساتھ میعاد مقرر تھی ان کے ساتھ معاہدے کی مدت طے کی گئی۔ لیکن امن کے وہ معاہدات جو جزیرة العرب کے مشرکین کے ساتھ تھے اور جنہیں منسوخ کیا گیا وہ اس لئے کہ مشرکین عرب بار بار معاہدے توڑ رہے تھے۔ جب انہیں فائدہ ہوتا تو معاہدے پر عمل کرتے ، اور جب نقصان ہوتا تو توڑ دیتے۔ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے اسلام نے ایک دوسرابین الاقوامی قاعدہ بنایا۔ واما تخافن ........................ الخاء نین ” اگر تمہیں کسی قوم سے خیانت کا خطرہ ہو تو اعلانیہ ان کا معاہدہ ان کے سامنے پھینک دو ، بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتا “۔ اور یہ ضرورت اس وقت اس لئے بھی پیش آئی تھی تاکہ اسلام کے پایہ تخت اور مرکز کو محفوظ کردیا جائے۔ اس وقت مرکز اسلام جزیرة العرب تھا۔ اور اس کو ان لوگوں سے پاک کرنا ضروری تھا ، جو مسلمانوں کے بارے میں ہر وقت انتظار میں رہتے تھے ، کہ کوئی موقعہ ملے اور وہ حملہ آور ہوں۔ مشرکین اور اہل کتاب معاہدین بار بار عہد توڑے تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ چونکہ دشمنی کی حالت ہوا کرتی ہے ، اس لئے ایسے حالات میں اگر فریقین حالت جنگ پر ہوں تو دونوں کے لئے مفید ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ قیصر وکسریٰ عظیم مملکتوں نے اسلامی مملکت کے خلاف افواج جمع کرنا شروع کردی تھیں۔ اور دونوں نے اسلام کو اپنے لئے خطرہ سمجھ لیا تھا۔ دونوں نے جزیرة العرب کے ساتھ ساتھ عربی ریاستوں کا رخ جزیرة العرب کی طرف پھیر دیا تھا۔ لہٰذا اسلامی بلاک کی اندرونی تطہیر ضروری ہوگئی تھی تاکہ متوقع بیرونی جارحیت کا موثر مقابلہ کیا جاسکے۔ یہ نوٹ یہاں کافی ہے۔

الممتحنة 60:9

اسلام سلامتی کا دین ہے ، محبت کا عقیدہ ہے۔ وہ ایک ایسا نظام ہے جو پوری دنیا کو اپنے سایہ عاطفت میں لینا چاہتا ہے۔ اور پوری دنیا اپنا منہاج قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے جھنڈوں کے نیچے جمع کرتا ہے اور ان کو باہم متعارف بھائی بناتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کے دشمن اپنی معاندانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ وہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں۔ اگر مخالفین اسلام ، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی ترک کردیں تو اسلام کو کسی کے ساتھ دشمنی میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام از خود کوئی دشمنی پیدا نہیں کرتا۔ وہ دشمنی اور جنگی حالت میں بھی انسانی نفوس کے اندر انس و محبت کے اسباب قطع نہیں کرتا۔ وہ منصفانہ معاملہ کرتا ہے اور ہر وقت اس امید میں رہتا ہے کہ تمام لوگ اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجائیں۔ اسلام کبھی بھی کسی کو ہدایت اور راہ راست پر آجانے سے مایوس نہیں کرتا۔ اس قطعے کی پہلی آیت میں اس امید کا ذکر ہے ، جو کبھی بھی ناامیدی سے مغلوب نہیں ہوتی۔ یہ آیت ان لوگوں کے دلوں کے لئے مرہم ہے جن پر اسلام اور کفر اس جنگ کو مسلط کیا گیا تھا اور مجبوراً ان کو اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ بائیکاٹ کرنا پڑ رہا تھا۔ عسی .................... مودة (06 : 7) ” بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے “۔ اللہ کی طرف سے امید کا اظہار گویا قطعی اشارہ ہے کہ جلد ہی یہ دشمنی ختم ہوجائے گی۔ جن مومنین نے اسے سنا ہوگا ان کو یقین ہوگیا ہوگا۔ اس کے بعد جلد ہی مکہ فتح ہوگیا تھا اور سب اہل مکہ مسلمان ہوگئے تھے اور سب ایک جھنڈے کے نیچے آگئے تھے۔ اور ان تمام ، دشمنیوں اور عنادوں کے دفاتر لپیٹ لئے گئے تھے اور اہل مکہ اور اہل مدینہ بھائی بھائی بن گئے تھے۔ واللہ قدیر (06 : 7) ” اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے “۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ واللہ ............ رحیم (06 : 7) ” اور وہ غفور ورحیم ہے “۔ جو سابقہ زمانے میں اور حالت کفر میں کسی سے شرک ہوگیا ، اس کو بخشنے والا ہے۔ سابقہ زمانے کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ جب تک اللہ کا وعدہ پورا نہیں ہوجاتا ، جس کے بارے میں اوپر کی آیت میں امید دلائی گئی تھی ، اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ تعلقات مودت قائم کرنے کی اجازت دے دی ، جو دین کے معاملے میں مسلمانوں سے برسر جنگ نہیں تھے ، جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نہیں نکالا تھا ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے پر جو پابندی سمجھی جاتی تھی اسے رفع کردیا گیا کہ ایسے کفار کے ساتھ بھی عدل کرو اور ان کا کوئی حق اگر تمہارے دائرہ اختیار میں ہے تو اسے ادا کرو ، لیکن جو لوگ دین کے معاملے میں تم سے لڑ رہے ہیں ، انہوں نے تمہیں گھروں سے نکالا ہے ، یا تمہارے نکالنے میں معاونت کی ہے ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی موالات نہیں ہے ، اور جو لوگ ایسے لوگوں سے موالات کرتے ہیں وہ شالم ہیں۔ ظلم کے معانی میں سے ایک معنی شرک بھی ہے۔ آیت۔ ان الشرک لظلم عظیم پیش نظر ہونی چاہئے۔ مومنین کے لئے یہ شدید تہدید ہے۔ اس لئے انہیں اس قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا چاہئے کہ کہیں سب کچھ نہ گنوادیں۔ یہ اصول جو غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں وضع کیا گیا ہے ، یہ اس دین کے مزاج کے مطابق ہے اور نہایت ہی منصفانہ الاقوامی قانون ہے۔ یہ خالص انسانی نقطہ نظر سے ہے بلکہ اس کو اس پوری کائنات کے نظام کو پیش نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات ایک ہی الٰہ واحد کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ پوری کائنات رب واحد کی طرف متوجہ ہے اور پوری کائنات اللہ کے منصوبے اور نظام اور نقشے کے مطابق چل رہی ہے۔ اگرچہ اس میں لوگوں کے درمیان اختلافات ہیں اور وہ باہم منقسم ہیں۔ یہ اصول اسلام کے بین الاقوامی قانون کا اساسی اصول ہے جس کے مطابق لوگوں کے درمیان امن وسلامتی کی حالت اصلی اور مستقل حالت ہے ، اور اس حالت کے اندر تغیر جارحیت اور دفاع جارحیت کی وجہ سے آجاتا ہے۔ یا اس وجہ سے آتا ہے کہ دو اقوام کے درمیان معاہدہ ہو ، اور ان میں سے ایک معاہدے کو توڑ دے یا خیانت کے امکانات پیدا ہوجائیں یا کوئی قوت آزادی اعتقاد یا آزادی اظہار رائے اور دعوت اسلامی کی راہ میں مزاحم ہوجائے۔ اور یہ بھی دراصل ایک جارحیت ہے۔ ان حالات کے علاوہ اسلام امن وسلامتی ، محبت ، نیکی اور عدل کے احکام دیتا ہے۔ یہ قاعدہ اسلامی نظریہ حیات کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ اسلام انسان اور انسان کے درمیان فرق و امتیاز صرف عقیدے کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ایک مومن اگر کسی دوسری قوم کے ساتھ جنگ کرتا ہے تو محض اپنے عقیدے کی وجہ سے کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔ الام صرف دعوت کی آزادی اور رائے کی آزادی کے لئے لڑتا ہے۔ اس کے علاوہ فقط وہ اسلامی نظام کے قیام اور اعلائے کلمة اللہ کے لئے لڑتا ہے۔ یہ توجیہہ اور تفسیر اس پوری سورت کے رخ کے ساتھ بھی موافق ہے جس کے اندر عقائد ونظریات کی اہمیت سے بحث ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان صرف نظریاتی جھنڈے کے نیچے لڑ سکتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اس محاذ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا تو وہ ان میں سے ہے۔ اور جس نے اس نکتے پر ان سے جنگ کی تو وہ ان کا دشمن ہے۔ جس شخص نے ان کے ساتھ امن کی حالت کو برقرار رکھا اور ان کو ان کے عقائد پر چھوڑ دیا کہ وہ اپنے عقائد کی طرف لوگوں کو بلائیں اور ان کی راہ روکنے کی کوشش نہ کی اور لوگوں کو زبردستی اسلامی عقائد قبول کرنے سے روکا تو وہ مسالم ہے اور اسلام ان کے ساتھ نیکی اور سماجی تعلق قائم کرنے سے نہیں روکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک مسلم اس کرہ ارض پر اپنے عقیدے کی خاطر زندہ ہوتا ہے۔ اس کا مسئلہ اس کا نظریہ اور اس کے ماحول کے ساتھ اس مسئلہ بھی یہی نظریہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے مصلحت اور مفادات پر کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ وہ کسی عصبیت کے لئے جہاد نہیں کرتا مثلاً رنگ ، نسل ، زبان اور علاقے کی عصبیت۔ اسلام میں جنگ اگر ہے تو صرف نظریات کے لئے ہے۔ اس لئے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو ، اور اسلامی نظام کے لئے جنگ ہے۔ اس کے بعد سورة توبہ نازل ہوئی۔ جس میں ہے۔ براءة من اللہ ................ المشرکین (9 : 1) ” اللہ اور رسول کی طرف سے مشرکین سے بیزاری کا اعلان ہوتا ہے “۔ اس کے ذریعہ جزیرة العرب میں مشرکین کے ساتھ معاہدات ختم کردیئے گئے۔ جن لوگوں کے معاہدے میں میعاد مقرر نہ تھی ان کو چار ماہ کی مہلت دے دی گئی اور جن کے ساتھ میعاد مقرر تھی ان کے ساتھ معاہدے کی مدت طے کی گئی۔ لیکن امن کے وہ معاہدات جو جزیرة العرب کے مشرکین کے ساتھ تھے اور جنہیں منسوخ کیا گیا وہ اس لئے کہ مشرکین عرب بار بار معاہدے توڑ رہے تھے۔ جب انہیں فائدہ ہوتا تو معاہدے پر عمل کرتے ، اور جب نقصان ہوتا تو توڑ دیتے۔ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے اسلام نے ایک دوسرابین الاقوامی قاعدہ بنایا۔ واما تخافن ........................ الخاء نین ” اگر تمہیں کسی قوم سے خیانت کا خطرہ ہو تو اعلانیہ ان کا معاہدہ ان کے سامنے پھینک دو ، بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتا “۔ اور یہ ضرورت اس وقت اس لئے بھی پیش آئی تھی تاکہ اسلام کے پایہ تخت اور مرکز کو محفوظ کردیا جائے۔ اس وقت مرکز اسلام جزیرة العرب تھا۔ اور اس کو ان لوگوں سے پاک کرنا ضروری تھا ، جو مسلمانوں کے بارے میں ہر وقت انتظار میں رہتے تھے ، کہ کوئی موقعہ ملے اور وہ حملہ آور ہوں۔ مشرکین اور اہل کتاب معاہدین بار بار عہد توڑے تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ چونکہ دشمنی کی حالت ہوا کرتی ہے ، اس لئے ایسے حالات میں اگر فریقین حالت جنگ پر ہوں تو دونوں کے لئے مفید ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ قیصر وکسریٰ عظیم مملکتوں نے اسلامی مملکت کے خلاف افواج جمع کرنا شروع کردی تھیں۔ اور دونوں نے اسلام کو اپنے لئے خطرہ سمجھ لیا تھا۔ دونوں نے جزیرة العرب کے ساتھ ساتھ عربی ریاستوں کا رخ جزیرة العرب کی طرف پھیر دیا تھا۔ لہٰذا اسلامی بلاک کی اندرونی تطہیر ضروری ہوگئی تھی تاکہ متوقع بیرونی جارحیت کا موثر مقابلہ کیا جاسکے۔ یہ نوٹ یہاں کافی ہے۔

الممتحنة 60:10

اب سیاق سورت کی طرف آتے ہیں۔ اب مومنات مہاجرات کی بات۔ یایھا الذین .................................... بہ مومنون (0 : 11) 06 : 01۔ 11) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کرلو ، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال۔ ان کے کفار شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔ یہ الہل کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو۔ اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو “۔ ان آیات کے شان نزول کے بارے میں آیا ہے کہ صلح حدیبیہ کی عبارت یوں تھی :” یہ کہ نہیں آئے گا ہم سے کوئی شخص تمہاری طرف جو تمہارے دین پہ ہو ، تو تم اسے ہماری طرف لوٹاؤ گے “۔ جب رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ابھی حدیبیہ کے نشیبی علاقے میں تھے کہ کچھ مومن عورتیں آئیں ، یہ ہجرت کا مطالبہ کررہی تھیں اور دارالاسلام آنا چاہتی تھیں۔ قریش آگئے ، کہ ان کو مطابق معاہد واپس کریں۔ معاہدہ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں عورتوں کے بارے میں کچھ بھی نہ تھا۔ یہ تو آیات نازل ہوئیں ، جنہوں مہاجر عورتوں کو لوٹانے سے منع کردیا۔ کیونکہ عورتیں کمزور تھیں اور ان کو ان کے دین کے بارے میں فتنے میں مبتلا کیا جاسکتا تھا۔ ان کی ہجرت کے ساتھ ہی اس سلسلے کے بین الاقوامی احکام بھی نافذ ہوگئے۔ یہ قانون سازی بھی نہایت ہی منصفانہ انداز پر کی گئی اور اس میں فریق مخالف کی زیادتیوں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ کیونکہ اسلام داخلی اور خارجی معاملات میں کوئی قانون انتقامی جذبات پر نہیں بناتا۔ اس سلسلے میں اسلام نے پہلے اقدام یہ کیا کہ ان عورتوں کے حالات کو دیکھا جائے کہ آیا وہ کس مقصد کے لئے ہجرت کررہی ہیں ؟ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے سابق خاوندوں سے جان چھڑانا چاہتی ہوں ، یا کسی منفعت کی طلب گار ہوں ، یا یہ نہ ہو کہ وہ دارا الاسلام میں کسی محبوب کے پیچھے تو نہیں جارہی ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ان سے حلف لیا جاتا تھا کہ وہ خاوند کی دشمنی میں تو نہیں نکل آئیں۔ یہ بھی حلف لیا جاتا تھا کہ مکہ سے تنگ آکر مدینہ کی زمین کی طرف تو نکل آنا نہیں چاہتیں۔ یہ حلف لیا جاتا تھا کہ دنیا کے کسی اور مفاد کے لئے تو نہیں آگئیں۔ اور یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کی محبت کے سوا کسی اور جذبہ کے تحت تو نہیں آگئیں ؟ اور یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کی محبت کے سوا کسی اور جذبہ کے تحت تو نہیں آگئیں ؟ حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ حلف میں یہ بھی تھا کہ تم صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں آرہی ہو ، مسلمانوں میں سے کسی شخص کے ساتھ تمہیں محبت تو نہیں ہے ، یا تم اپنے خاوند سے بھاگنا تو نہیں چاہتی ہو ؟ یہ ہوتا تھا ان کا امتحان۔ ان کے ظاہری حالات پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے حلیفہ بیان پر اکتفا کیا جاتا تھا۔ رہا یہ معاملہ کہ ان کے دلوں میں کیا ہے تو اس سے صرف اللہ خبردار ہے۔ انسان کے لئے کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کے راز جان سکے۔ اللہ اعلم بایمانھن (06 : 01) ” ان کی حقیقت ایمان تو اللہ ہی جانتا ہے “۔ اگر وہ اس مضمون کا اقرار بذریعہ بیان حلفی کردیں تو پھر۔ فلا ترجعو ........................ لھن (06 : 01) ” تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال “۔ اصل میں اعلیٰ تعلق آگیا ہے۔ ایمانی تعلق اور اس نے تمام دوسرے تعلقات کاٹ دیئے ہیں۔ اس لئے اب کوئی ایسا تعلق باقی نہیں رہا ہے کہ اس جدانی کو جوڑ سکے۔ میاں بیوی کا تعلق تو ایسا تعلق ہے کہ اس میں دو افراد ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں ، جڑ جاتے ہیں اور ایک مستقل اور دائمی تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ جب زوجین کے درمیان ایمانی اتحاد نہ ہو تو زوجیت کے حقوق پورے کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایمان دل کی اعلیٰ زندگی کا نام ہے اور اس کی جگہ کوئی جذبہ قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ اگر ایمان کا تعلق نہ ہو تو میاں بیوی کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی ممکن نہیں ہے۔ نہ فریقین کے درمیان انس پیدا ہوسکتا ہے نہ یگانگت۔ جبکہ میاں بیوی کے درمیان محبت ، باہم شفقت اور انس و سکون ضروری ہے۔ ابتدائی زمانہ ہجرت میں یہ حکم نہ آیا تھا۔ مومنہ عورت اور کافر مرد کے درمیان تفریق نہ کی جاتی تھی۔ نہ مومن مرد اور کافرہ عورت کے درمیان تفریق کی جاتی تھی۔ اس لئے کہ اس دور میں اسلامی نظام معاشرت اور اسلامی سوسائٹی ابھی مستحکم نہ تھی۔ لیکن صلح حدیبیہ یا فتح حدیبیہ کے بعد ، زیادہ تر روایات کے مطابق یہ فیصلہ کردیا گیا کہ اب مومن اور کافر کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ رہے۔ ازدواجی تعلق صرف مومن اور مومنات کے درمیان ہو۔ جیسا کہ عملی صورت یہ ہوگئی تھی کہ صرف ایمان کا رابطہ رہ گیا تھا اور مدینہ طیبہ میں صرف ایمانی تعلق تھا۔ اللہ اور رسول کا تعلق رہ گیا تھا ، باقی تمام قسم کے تعلقات کاٹ دیئے گئے تھے۔ بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے تھے۔ لیکن اس تفریق کے بعد پھر نقصان رسیدہ فریق کے لئے منصفانہ قانون سازی کی گئی۔ اگر کسی کافر خاوند کی بیوی کی جدائی کا حکم صادر ہوتا ہے تو اس نے بیوی کو جو مہر دیا تھا ، یا دوسرے اخراجات اٹھائے تھے وہ واپس کرنے ہوتے تھے۔ اسی طرح اگر کسی کافر عورت کو مسلم مرد سے جدا کیا تو مسلم مرد نے جو مہر دیا اور نفقہ دیا وہ اسے واپس کردیا جاتا تھا۔ اب مومنات مہاجرات کے ساتھ مومنین کا نکاح جائز قرار دیا گیا بشرطیکہ وہ ان کو مہر ادا کردیں۔ اس میں ایک فقہی اختلاف ہے کہ آیا ان عورتوں کو عدت گزارنی تھی یا نہیں۔ صرف حاملہ عورتوں کو عدت گزارنی تھی یعنی جب تک وضع حمل نہ ہوجائے۔ اگر عدت ہے تو کیا یہ مطلقہ عورت کی عدت ہے یعنی تین طہریا ینی۔ یا یہ کہ ایک حیض آنے کے ساتھ اور رحم پاک ہونے کا تیقن کافی ہے۔ (کتب فقہ دیکھیں) واتوھم ما ................ ماانفقوا (06 : 01) ” ان کے کافر شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں “۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان تمام احکام پر عمل کا ضامن اور چوکیدار مقرر کرتا ہے جو ہر مسلم کے دل میں ہے۔ کہ اللہ دیکھ رہا ہے ، اللہ سے ڈرو۔ ذلکم .................... حکیم (06 : 01) ” یہ اللہ کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے “۔ یہ واحد ضمانت ہے جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ کوئی دھوکہ ، حلیہ یا نقص عہد نہ کرے گا ، کیونکہ اللہ کے احکام تو علیم وخبیر کے احکام ہیں۔ اور یہ اس حاکم کے احکام ہیں جو دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ یہ احکام نہایت قوی اور قدرتوں والے حاکم کے ہیں۔ ایک مسلمان کے ضمیر میں بس یہی رابطہ کافی ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ حکم کہاں سے آیا ہے اس لئے وہ ان احکام پر چلتا ہے اور ان کا خیال رکھتا ہے۔ کیونکہ مومن کو یقین ہوتا ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ اب اگر مسلمانوں نے اپنی بیویوں کو مہر وغیرہ دیا ہو اور وہ بیویاں دارالکفر میں رہ گئی ہوں جہاں وہ اس قانون کے مطابق جدا ہوگئی ہوں اور ان کے اہل خانہ یا اولیاء نے مومن مسلمانوں کے حق کو واپس نہ کیا ہو ، جیسا کہ بعض حالات میں عملاً ایسا ہوا۔ تو امام وقت ان کے نقصان کی تلاف اس فنڈ سے کردے گا جو ان کافروں کی ملکیت ہوگا جن کی بیویاں دارالاسلام کو آگئی ہوں یا ان رقومات سے ادائیگی کردی جائے گی جو کفار کے ہاں سے مال غنیمت مسلمانوں کو ملا۔ وان فاتکم .................... ما انفقوا (06 : 11) ” اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو “۔ اور اس حکم اور اس پر عمل کرنے کو بھی ایمان سے جوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ اسلام میں ہر حکم اللہ سے مربوط ہے۔ واتقوا ................ بہ مومنون (06 : 11) ” اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو “۔ اللہ پر ایمان لانے والوں کے لئے یہ بہت ہی موثر یاد دہانی ہے۔ یوں یہ احکام زوجین کے درمیان ایک حقیقت پسندانہ فسخ نکاح کرتے ہیں۔ اور یہ جدائی اسلامی تصور حیات کے مطابق ہے۔ اسلام ازدواجی رشتوں کے لئے ایک الگ تصور رکھتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اسلامی صفیں دوسری صفوف سے مکمل طور پر جدا اور ممتاز ہوں۔ اور اسلام کی پوری زندگی اسلامی نظریہ حیات پر استوار ہو۔ اور ایمان کے محور کے ساتھ وہ مربوط ہو۔ اور ایک ایسی انسانی سوسائٹی تشکیل پائے جس کے اندر نسل ، رنگ ، زبان ، نسب اور زمین اور علاقوں کی بنیادوں پر کوئی اجتماعی نظام نہ ہو۔ اور صرف ایک ہی جھنڈا ہو جس کے مطابق لوگوں کے درمیان تفریق ہو۔ یعنی وہ پارٹی جو اللہ والوں کی ہے۔ وہ حزب اللہ ہے اور وہ پارٹی جو شیطان کی ہے جسے حزب الشیطان کہا جاتا ہے۔

الممتحنة 60:11

اب سیاق سورت کی طرف آتے ہیں۔ اب مومنات مہاجرات کی بات۔ یایھا الذین .................................... بہ مومنون (0 : 11) 06 : 01۔ 11) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کرلو ، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال۔ ان کے کفار شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔ یہ الہل کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو۔ اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو “۔ ان آیات کے شان نزول کے بارے میں آیا ہے کہ صلح حدیبیہ کی عبارت یوں تھی :” یہ کہ نہیں آئے گا ہم سے کوئی شخص تمہاری طرف جو تمہارے دین پہ ہو ، تو تم اسے ہماری طرف لوٹاؤ گے “۔ جب رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ابھی حدیبیہ کے نشیبی علاقے میں تھے کہ کچھ مومن عورتیں آئیں ، یہ ہجرت کا مطالبہ کررہی تھیں اور دارالاسلام آنا چاہتی تھیں۔ قریش آگئے ، کہ ان کو مطابق معاہد واپس کریں۔ معاہدہ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں عورتوں کے بارے میں کچھ بھی نہ تھا۔ یہ تو آیات نازل ہوئیں ، جنہوں مہاجر عورتوں کو لوٹانے سے منع کردیا۔ کیونکہ عورتیں کمزور تھیں اور ان کو ان کے دین کے بارے میں فتنے میں مبتلا کیا جاسکتا تھا۔ ان کی ہجرت کے ساتھ ہی اس سلسلے کے بین الاقوامی احکام بھی نافذ ہوگئے۔ یہ قانون سازی بھی نہایت ہی منصفانہ انداز پر کی گئی اور اس میں فریق مخالف کی زیادتیوں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ کیونکہ اسلام داخلی اور خارجی معاملات میں کوئی قانون انتقامی جذبات پر نہیں بناتا۔ اس سلسلے میں اسلام نے پہلے اقدام یہ کیا کہ ان عورتوں کے حالات کو دیکھا جائے کہ آیا وہ کس مقصد کے لئے ہجرت کررہی ہیں ؟ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے سابق خاوندوں سے جان چھڑانا چاہتی ہوں ، یا کسی منفعت کی طلب گار ہوں ، یا یہ نہ ہو کہ وہ دارا الاسلام میں کسی محبوب کے پیچھے تو نہیں جارہی ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ان سے حلف لیا جاتا تھا کہ وہ خاوند کی دشمنی میں تو نہیں نکل آئیں۔ یہ بھی حلف لیا جاتا تھا کہ مکہ سے تنگ آکر مدینہ کی زمین کی طرف تو نکل آنا نہیں چاہتیں۔ یہ حلف لیا جاتا تھا کہ دنیا کے کسی اور مفاد کے لئے تو نہیں آگئیں۔ اور یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کی محبت کے سوا کسی اور جذبہ کے تحت تو نہیں آگئیں ؟ اور یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کی محبت کے سوا کسی اور جذبہ کے تحت تو نہیں آگئیں ؟ حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ حلف میں یہ بھی تھا کہ تم صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں آرہی ہو ، مسلمانوں میں سے کسی شخص کے ساتھ تمہیں محبت تو نہیں ہے ، یا تم اپنے خاوند سے بھاگنا تو نہیں چاہتی ہو ؟ یہ ہوتا تھا ان کا امتحان۔ ان کے ظاہری حالات پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے حلیفہ بیان پر اکتفا کیا جاتا تھا۔ رہا یہ معاملہ کہ ان کے دلوں میں کیا ہے تو اس سے صرف اللہ خبردار ہے۔ انسان کے لئے کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کے راز جان سکے۔ اللہ اعلم بایمانھن (06 : 01) ” ان کی حقیقت ایمان تو اللہ ہی جانتا ہے “۔ اگر وہ اس مضمون کا اقرار بذریعہ بیان حلفی کردیں تو پھر۔ فلا ترجعو ........................ لھن (06 : 01) ” تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال “۔ اصل میں اعلیٰ تعلق آگیا ہے۔ ایمانی تعلق اور اس نے تمام دوسرے تعلقات کاٹ دیئے ہیں۔ اس لئے اب کوئی ایسا تعلق باقی نہیں رہا ہے کہ اس جدانی کو جوڑ سکے۔ میاں بیوی کا تعلق تو ایسا تعلق ہے کہ اس میں دو افراد ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں ، جڑ جاتے ہیں اور ایک مستقل اور دائمی تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ جب زوجین کے درمیان ایمانی اتحاد نہ ہو تو زوجیت کے حقوق پورے کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایمان دل کی اعلیٰ زندگی کا نام ہے اور اس کی جگہ کوئی جذبہ قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ اگر ایمان کا تعلق نہ ہو تو میاں بیوی کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی ممکن نہیں ہے۔ نہ فریقین کے درمیان انس پیدا ہوسکتا ہے نہ یگانگت۔ جبکہ میاں بیوی کے درمیان محبت ، باہم شفقت اور انس و سکون ضروری ہے۔ ابتدائی زمانہ ہجرت میں یہ حکم نہ آیا تھا۔ مومنہ عورت اور کافر مرد کے درمیان تفریق نہ کی جاتی تھی۔ نہ مومن مرد اور کافرہ عورت کے درمیان تفریق کی جاتی تھی۔ اس لئے کہ اس دور میں اسلامی نظام معاشرت اور اسلامی سوسائٹی ابھی مستحکم نہ تھی۔ لیکن صلح حدیبیہ یا فتح حدیبیہ کے بعد ، زیادہ تر روایات کے مطابق یہ فیصلہ کردیا گیا کہ اب مومن اور کافر کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ رہے۔ ازدواجی تعلق صرف مومن اور مومنات کے درمیان ہو۔ جیسا کہ عملی صورت یہ ہوگئی تھی کہ صرف ایمان کا رابطہ رہ گیا تھا اور مدینہ طیبہ میں صرف ایمانی تعلق تھا۔ اللہ اور رسول کا تعلق رہ گیا تھا ، باقی تمام قسم کے تعلقات کاٹ دیئے گئے تھے۔ بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے تھے۔ لیکن اس تفریق کے بعد پھر نقصان رسیدہ فریق کے لئے منصفانہ قانون سازی کی گئی۔ اگر کسی کافر خاوند کی بیوی کی جدائی کا حکم صادر ہوتا ہے تو اس نے بیوی کو جو مہر دیا تھا ، یا دوسرے اخراجات اٹھائے تھے وہ واپس کرنے ہوتے تھے۔ اسی طرح اگر کسی کافر عورت کو مسلم مرد سے جدا کیا تو مسلم مرد نے جو مہر دیا اور نفقہ دیا وہ اسے واپس کردیا جاتا تھا۔ اب مومنات مہاجرات کے ساتھ مومنین کا نکاح جائز قرار دیا گیا بشرطیکہ وہ ان کو مہر ادا کردیں۔ اس میں ایک فقہی اختلاف ہے کہ آیا ان عورتوں کو عدت گزارنی تھی یا نہیں۔ صرف حاملہ عورتوں کو عدت گزارنی تھی یعنی جب تک وضع حمل نہ ہوجائے۔ اگر عدت ہے تو کیا یہ مطلقہ عورت کی عدت ہے یعنی تین طہریا ینی۔ یا یہ کہ ایک حیض آنے کے ساتھ اور رحم پاک ہونے کا تیقن کافی ہے۔ (کتب فقہ دیکھیں) واتوھم ما ................ ماانفقوا (06 : 01) ” ان کے کافر شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں “۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان تمام احکام پر عمل کا ضامن اور چوکیدار مقرر کرتا ہے جو ہر مسلم کے دل میں ہے۔ کہ اللہ دیکھ رہا ہے ، اللہ سے ڈرو۔ ذلکم .................... حکیم (06 : 01) ” یہ اللہ کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے “۔ یہ واحد ضمانت ہے جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ کوئی دھوکہ ، حلیہ یا نقص عہد نہ کرے گا ، کیونکہ اللہ کے احکام تو علیم وخبیر کے احکام ہیں۔ اور یہ اس حاکم کے احکام ہیں جو دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ یہ احکام نہایت قوی اور قدرتوں والے حاکم کے ہیں۔ ایک مسلمان کے ضمیر میں بس یہی رابطہ کافی ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ حکم کہاں سے آیا ہے اس لئے وہ ان احکام پر چلتا ہے اور ان کا خیال رکھتا ہے۔ کیونکہ مومن کو یقین ہوتا ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ اب اگر مسلمانوں نے اپنی بیویوں کو مہر وغیرہ دیا ہو اور وہ بیویاں دارالکفر میں رہ گئی ہوں جہاں وہ اس قانون کے مطابق جدا ہوگئی ہوں اور ان کے اہل خانہ یا اولیاء نے مومن مسلمانوں کے حق کو واپس نہ کیا ہو ، جیسا کہ بعض حالات میں عملاً ایسا ہوا۔ تو امام وقت ان کے نقصان کی تلاف اس فنڈ سے کردے گا جو ان کافروں کی ملکیت ہوگا جن کی بیویاں دارالاسلام کو آگئی ہوں یا ان رقومات سے ادائیگی کردی جائے گی جو کفار کے ہاں سے مال غنیمت مسلمانوں کو ملا۔ وان فاتکم .................... ما انفقوا (06 : 11) ” اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو “۔ اور اس حکم اور اس پر عمل کرنے کو بھی ایمان سے جوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ اسلام میں ہر حکم اللہ سے مربوط ہے۔ واتقوا ................ بہ مومنون (06 : 11) ” اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو “۔ اللہ پر ایمان لانے والوں کے لئے یہ بہت ہی موثر یاد دہانی ہے۔ یوں یہ احکام زوجین کے درمیان ایک حقیقت پسندانہ فسخ نکاح کرتے ہیں۔ اور یہ جدائی اسلامی تصور حیات کے مطابق ہے۔ اسلام ازدواجی رشتوں کے لئے ایک الگ تصور رکھتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اسلامی صفیں دوسری صفوف سے مکمل طور پر جدا اور ممتاز ہوں۔ اور اسلام کی پوری زندگی اسلامی نظریہ حیات پر استوار ہو۔ اور ایمان کے محور کے ساتھ وہ مربوط ہو۔ اور ایک ایسی انسانی سوسائٹی تشکیل پائے جس کے اندر نسل ، رنگ ، زبان ، نسب اور زمین اور علاقوں کی بنیادوں پر کوئی اجتماعی نظام نہ ہو۔ اور صرف ایک ہی جھنڈا ہو جس کے مطابق لوگوں کے درمیان تفریق ہو۔ یعنی وہ پارٹی جو اللہ والوں کی ہے۔ وہ حزب اللہ ہے اور وہ پارٹی جو شیطان کی ہے جسے حزب الشیطان کہا جاتا ہے۔

الممتحنة 60:12

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو بتایا جاتا ہے کہ یہ عورتیں جو مہاجر ہوگئی ہیں ان سے کن باتوں پر بیعت لی جائے گی۔ یہ عورتیں یا وہ عورتیں جو اسلام میں داخل ہونا چاہتی ہیں ان کی بیعت یہ ہوگی : یایھا النبی ............................ غفور رحیم (06 : 21) ” اے نبی جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ کریں گی ، چوری نہ کریں گی ، زنانہ کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی ، اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی ، اور کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی ، تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو ، یقینا اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے “۔ یہ باتیں جن پر عورتوں سے بعیت لی گئی ہے ، یہ اسلامی نظریہ حیات کے بنیادی عناصر ہیں اور اجتماعی زندگی کے بھی یہ اساسی اصول ہیں۔ 1۔ یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ مطلقاً کسی کو شریک نہ کریں گی۔ 2۔ سرقہ نہ کریں گی۔ 3۔ زنا سے اجتناب کریں گی۔ 4۔ اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ جاہلیت میں رواج تھا کہ عورتوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ نیز اس میں جنین کو قتل کرنا بھی شامل ہے۔ جس کا سبب کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جنین کی امین ہیں۔ ولا یاتین ................ وارجلھن (06 : 21) ” اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی “۔ اس کا مفہوم حضرت ابن عباس نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے خاوندوں کے علاوہ کسی اور کی اولاد کو ان خاوندوں کے ساتھ نہ ملائیں گی۔ یہی رائے مقاتل کی ہے۔ یہ تحفظزنا سے ارتکاب سے بچنے کی بیعت کے بعد ایک لازمی ہدایت ہے۔ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ عورتیں کئی مردوں سے تعلقات زناشوئی قائم کرتی تھیں۔ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تھا وہ اسے اس شخص کو قرار دے دیتیں جس کے ساتھ وہ مشابہت رکھتا۔ بعض اوقات یہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ بچے کا الحاق کر ادیتیں حالانکہ ان کو اس کا باپ معلوم ہوتا تھا۔ لیکن آیت کے عمومی الفاظ میں تمام ایسے حالات آتے ہیں جن میں بہتان تراشی ہوتی ہو۔ ابن عباس اور مقاتل نے اسے جو مخصوص کیا ہے تو اس لئے کہ اس وقت ایسے حالات موجود تھے جو حرامت زنا کے حکم سے ختم ہورہے تھے لیکن موجود حاملہ عورتوں کو تو بچوں کے الحاق کا فیصلہ بہرحال کرنا ہی تھا۔ ولا یعصینک ................ معروف (06 : 21) ” اور کسی معرف امر میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی “۔ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے۔ ہر اس معاملے میں جو آپ ان سے کہیں اور ظاہر ہے کہ حضور تو معروف کا حکم ہی دیں گے۔ لیکن یہاں معروف کے لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ ایک دستوری دفعہ ہے ۔ اسلامی دستور میں یہ بنیادی قاعدہ ہے کہ حکمرانوں کی اطاعت کے دائرے کے اندر محدود ہے۔ صرف ان کاموں میں حکمرانوں کی اطاعت لازمی ہے جو شریعت اسلامیہ کے مطابق ہوں۔ اسلام میں مطلق اطاعت کا کوئی اصول نہیں ہے۔ اسلامی دستور کے مطابق قانون سازی اور حکمرانی کے اختیارات کا سرچشمہ اسلامی شریعت ہے۔ امام وقت کا ارادہ نہیں ہے نہ قوم کا ارادہ نہ اکثریتی یا اجتماعی کسی اصول کو قانون کا درجہ دے سکتا ہے جو شریعت کے خلاف ہو۔ لہٰذا قوم اور قوم کا امام دونوں اسلامی شریعت کے پابند ہیں۔ جب ان عورتوں نے بیعت کرلی تو تب وہ مومنات ہوں گی۔ اور تب ان کے حق میں رسول اللہ ﷺ مغفرت کی دعا کریں گے کہ اللہ ان کے سابقہ گناہوں کو معاف کرے۔ ان اللہ ............ رحیم (06 : 21) ” بیشک اللہ درگزرنے والا اور رحیم ہے “۔ وہ کوتاہیوں کو معاف کرنے والا ہے۔

الممتحنة 60:13

آخر میں اثر انگیر تبصرہ : یا یھا الذین .................... القبور (06 : 31) ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، ان لوگوں کو دوست نہ بنایو ، جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے ، جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں “۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قوم سے مراد یہودی ہیں ، جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ قرآن کریم میں کئی جگہ اس قوم کے لئے یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، لیکن یہ آیت عام بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے مفہوم میں وہ لوگ بھی آجائیں جو مشرکین ہیں اور جن کا تذکرہ اس پوری سورت میں ہوا ہے اور اللہ کے تمام دشمن اس سے مراد ہوں۔ کیونکہ اللہ کے سب دشمن آخرت سے مایوس ہیں اور وہ آخرت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اور ان کو تشبیہ ان کفار سے دی گئی ہے جو قبروں میں ہیں۔ ان کو تو معلوم ہوچکا ہے کہ انہوں نے کفر اور شرک کا ارتکاب کیا۔ اب وہ دائمی جہنمی ہیں۔ دنیا کی مہلت ختم ہے۔ اب حشر میں صرف حساب ہونا ہے اور انہوں نے جہنم میں گرنا ہے۔ یہ آخری پکار پوری سورت کی پکاروں کو اور پوری سورت کی دعوتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ اس طرح سورت کا خاتمہ اور آغاز ایک ہی مضمون سے ہوا کہ مغضوب علیھم کو دوست نہ بناؤ اور اس خاتمے کے اندر سورت کی تمام آواز کو جمع کردیا گیا۔

الصف 61:1

اللہ عزیز و حکیم کی تسبیح پوری کائنات کررہی ہے۔ سورت کے آغاز میں یہ بات لاکر اہل ایمان کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تمہارا دین اس پوری کائنات کا دین ہے۔ اور یہ دین توحید ہے۔ اور تم اس کے امین ہو۔ اور کافرین اور مشرکین کا موقف غلط ہے اور وہ اس دین کی روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں۔ اللہ تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ اس دین اور اس رسول کی نصرت کرو اور اللہ نے اس دین کا غلبہ مقرر کر رکھا ہے۔ اگرچہ کافر اور مشرک تو اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں ، لیکن اللہ نے فیصلہ کردیا ہے کہ ان کے علی الرغم اسے غالب کرنا چاہتا ہے۔ اس آغاز کا مفہوم یہ ہے کہ یہ پوری کائنات کا دین ہے اور پوری کائنات کی امانت ہے۔ اور جس نظریہ کے لئے تم نے جہاد کرنا ہے وہ پوری کائنات کا نظریہ ہے اور اس دین کا ظہور اور غلبہ دراصل ایک قدرتی امر ہے ، اور اللہ عزیز و حکیم کی منشا اور تقدیر ہے۔ اس کے بعد بعض مومنین کی جانب سے کمزوری کے اظہار پر عتاب کیا جاتا ہے ، کہ دین کے معاملے میں جہاد سے جو شخص منہ موڑے گا ، اسے اللہ بہت ہی ناپسند کرتا ہے اور اسے قابل شرم قرار دیتا ہے ، خصوصاً ان لوگوں کی جانب سے جو ایمان لائے ہیں جب کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اللہ بہت پسند کرتا ہے۔

الصف 61:2

یایھا الذین ................ مرصوص (4) (16 : 2 تا 4) ”” اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔ علی ابن طلحہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ مسلمانوں میں سے بعض لوگ ایسے تھے کہ فرضیت جہاد سے پہلے کہتے تھے کہ اللہ ہمیں کوئی ایسا عمل بتادے ، جو اسے بہت ہی محبوب ہو ، ہم اس پر عمل کریں۔ اللہ نے نبی ﷺ کو یہ اطلاع دی کہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل تو بیشک ایمان لانا ہے لیکن اس کے بعدان لوگوں کے خلاف جہاد کرنا اللہ کو محبوب ہے جو ایمان نہیں لاتے اور اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور ایمان کا اقرار نہیں کرتے۔ جب جہاد کا یہ حکم نازل ہوا تو بعض مسلمانوں نے اسے پسند نہ کیا اور اسے انہوں نے ایک بھاری حکم سمجھا . تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یایھا الذین .................... تفعلون (3) (16 : 2۔ 3) ”” اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو “۔ امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس قول کو اختیار کیا ہے۔ لیکن امام ابن کثیر نے کہا : جمہور نے کہا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں نے یہ تمنا کی کہ جہاد فرض ہوجائے ، جب جہاد فرض ہوگیا تو بعض لوگوں نے اسے پسند نہ کیا اور دوسری جگہ بھی اس کے بارے میں آیا ہے۔ الم ترالی ................................ مشیدة (87) (4 : 77۔ 87) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو ، اور زکوٰة دو ، اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسے ڈر رہے ہیں جیسا کہ خدا سے ڈرنا چاہئے ، یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر ، کہتے ہیں خدایا ، یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا ؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی ؟ ان سے کہو ، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا۔ رہی موت تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی ، خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو “۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا کہ یہ ان لوگوں کی سرزنش کے لئے نازل ہوئی ہے جو کہتے تھے کہ ہم نے قتل کیا ، تیرمارا ، تلوار چلائی ، اور یہ یہ کیا اور دراصل انہوں نے ایسا نہ کیا تھا۔ آیت کے سیاق کلام اور اس میں قتال کے ذکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جمہور مفسرین کی بات درست ہے۔ یہی رائے ابن جریر نے بھی اختیار کی ہے۔ لیکن قرآنی آیات کا مفہوم بالعموم شان نزول کے واقعات سے وسیع ہوتا ہے ۔ بلکہ بہت وسیع ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے ہم عمومی مفہوم لیتے ہیں۔ خصوصی واقعہ نزول کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ہاں جس واقعہ میں آیت نازل ہوئی اس کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے .... آغاز یوں ہوتا ہے کہ کسی واقعہ یا واقعات پر عتاب ہے۔ یا یھا الذین ................ تفعلون (16 : 2) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں “۔ اور اس کی انتہا اس پر ہوتی ہے کہ اللہ کے نزدیک یہ فعل بہت ہی برا ہے۔

الصف 61:3

کبر مقتا .................... تفعلون (16 : 2) ” اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں “۔ القت وہ ناپسندیدہ بات جو اللہ کے نزدیک بہت ہی ناپسندیدہ ہے۔ وہ اس کو بہت برا سمجھتا ہے اور یہ اللہ کہتا ہے جو تمہارا رب ہے۔ اور تیسری آیت میں وہ بات واضح طور پر بتادی جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم کریں گے مگر پھر بھی انہوں نے اس سلسلے میں کوتاہی کی۔ اور وہ ہے جہاد و قتال۔ اور قرار دیا جاتا ہے کہ جو لوگ صف بستہ قتال کرتے ہیں وہ بہت ہی محبوب لوگ ہیں۔

الصف 61:4

ان اللہ .................... مرصوص (16 : 4) ” اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔ صرف قتال ہی نہیں ، بلکہ قتال اللہ کی راہ میں ہو ، اور یہ قتال منظم ہو ، سوسائٹی کی صفوں کے اندر تنظیم کے بعدہو اور یہ قتال ہو بھی نہایت ہی جم کر لڑنے کی صورت میں۔ جیسا کہ ہم نے اس پارے کی متعدد سورتوں میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ قرآن کریم کے پیش نظر یہ بات تھی کہ ایک ایسی امت کی تعمیر کی جائے جو اس زمین پر قرآن کی امانت کی حامل ہو۔ قرانی منہاج زندگی قائم کرنا اس کی منشا ہو ، اور قرآنی شریعت کو ایک مکمل نظام کی شکل میں پیش کرے۔ اس مقصد کے لئے ایک جماعت اور ایک سوسائٹی بنانا ضروری تھا۔ اور اسی جماعت کو ایک عملی جماعت بنانا ضروری تھا ، اور یہ سب کام ایک ساتھ کرنے ضروری تھے۔ یاد رہے کہ اسلامی نظام کا مزاج یہ ہے کہ اس میں فرد کی قیمت جماعت میں ہے ، تنہا کچھ نہیں۔ اسلام اپنے وجود کو ایک باہم مربوط اور منظم جماعت کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے ، جس کا ایک نظام ہو ، جس کا ایک ہدف ہو ، اور اس ہدف کے ارد گرد اس کے تمام افراد گھومتے ہوں۔ یوں کہ یہ نظام ہر ایک کے ضمیر میں ، ہر ایک کے عمل میں ، پھر اس کرہارض پر کسی امت کی عملی شکل میں نافذ ہو اور زمین کے ابوپر اس عملی سوسائٹی کی شکل میں ، ایک ایسی سوسائٹی ایک ، ایسی امت جو عملاً متحرک ہو اور اپنے تمام کام اس نظام کے حدود اور فریم ورک میں کرتی ہو۔ اسلام ، اگرچہ فرد کی اصلاح اور ایک فرد کی نیت کی اصلاح اور ضمیر کی اصلاح پر بہت زور دیتا ہے اور انفرادی ذمہ داری کا اصول بھی اسلام ہی نے عطا کیا ہے ، لیکن اسلام افراد کا دین نہیں ہے ، کہ ایک ایک عبادت خانے میں جاکر اپنی اپنی عبادت کرے۔ اس طرح اسلام کسی ایک فرد کی ذات میں حقیقت نہیں بن سکتا ، نہ کسی ایک منفرد شخص کی ذات میں بھی حقیقت نہیں بن سکتا۔ نہ اسلام اس صورت میں آیا ہے کہ وہ ایک شخص کی زندگی میں گوشہ نشین ہوکر رہے ، بلکہ اسلام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کی زندگی پر حکمران ہو ، زندگی کے اندر تصرف کرے ، اس پر کنٹرول کرے ، اور لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اور سرگرمیوں پر حاوی ہو۔ اس لئے کہ انسان انفرادی طور پر زندہ نہیں رہتے بلکہ اجتماعی طور پر زندہ رہتے ہیں اور اسلام چونکہ انسانوں پر حکمرانی کے لئے آیا ہے اس لئے وہ ایک اجتماعی نظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے آداب ، اس کے قواعد ، اس کے ارادے ، یہاں تک کہ اس کی عبادات بھی اجتماعی ہیں۔ اگر اسلام کا کوئی حکم کسی فرد کے لئے ہے تو بھی وہ ایک ایسے انسان کے لئے ہے جو سوشل ہے اور ایک جماعت کے اندررہتا ہے ، اس میں اٹھتا بیٹھتا ہے اور اس جماعت میں اپنے دین کا امین ہے ، ایک نظام کا حامل ہے ، اور اس کا فرض ہے کہ اس نظام کو لوگوں کے اندر نافذ کرے۔ جب سے نبی ﷺ نے دعوت کا آغاز کیا ، اسلامی معاشرہ قائم ہونا شروع ہوگیا۔ اسلامی جماعت کی تشکیل شروع ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ اس جماعت کے قائد قرار پائے۔ یہ جماعت ایسی تھی جس کی جماعتی ذمہ داریاں تھیں ، جو اپنے ماحول سے بالکل ممتاز تھی۔ اس کو ایسے آداب سکھائے جاتے تھے کہ ان کا ایک سرا اگر ایک فرد انسان کے ضمیر میں ہوتا تھا تو دوسرا سرایک جماعت سے متعلق ہوتا تھا اور یہ اسلامی اجتماعی سوسائٹی اس وقت بھی تھی جب ابھی مدینہ میں اسلامی حکومت قائم نہ ہوئی تھی بلکہ مدینہ کی اسلامی حکومت قائم بھی مکہ کی اسلامی جماعت کے ذریعہ سے ہوئی تھی۔ ہم جب ان آیات پر غور کرتے ہیں تو دینی عقائد کے اوپر جو اخلاقی نظام ان میں استوار کیا جاتا ہے وہ ایک اجتماعی ضرورت بھی ہے اور یہ اخلاق ایک اجتماعی نظام ہی کی شکل میں ظاہر ہوسکے ہیں اور یہ نظام ایسا ہے کہ اسے نافذ کرنے کے لئے ایک انتظامیہ کی ضرورت ہے۔ پہلی دو آیات میں اس بات پر گرفت کی گئی ہے کہ یہ بات ایک مسلمان اور مومن کی شایان شان نہیں ہے کہ وہ ایک بات کہے اور پھر اس پر عمل نہ کرے۔ یہ ایک مسلمان اور مومن کی شخصیت کی بنیادی صفت ہے۔ سچائی اور استقامت اور راست بازی۔ اس کا باطن اور ظاہر ایک ہو۔ اس کا قول اور فعل یکساں ہوں اور یہ بات صرف مسئلہ جہاد تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک مومن کو ہر معاملے میں ایسا ہونا چاہئے۔ یہ کہ مسلم کا ظاہر و باطن ایک ہونا چاہئے اور قول وفعل یکساں ہونا چاہئے۔ ایک ایسی بات ہے جس پر قرآن نے بہت ہی تاکید کی ہے اور اس مضمون کو بار بار بیان کیا ہے۔ یہودیوں کے بارے میں کہا گیا۔ اتامرون ........................ تعقلون (2 : 44) ” تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے “۔ اور منافقین پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے : ومن الناس ............................ الفساد (502) (2 : 402) ” انسانوں میں سے کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے ، مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن حق ہوتا ہے۔ جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے ، تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دوپ اس لئے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے ، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے۔ حالانکہ اللہ فساد کو ہر گز پسند نہیں کرتا “۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” منافق کی علامتیں تین ہیں ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے ، اور جب اس پر امانت کا اعتماد کیا جائے تو خیانت کرے “۔ (متفق علیہ) اس مضمون کی احادیث بہت ہیں ، آگے جو حدیث ہم ذکر کررہے ہیں ، وہ اس سلسلے میں شدید ترین اور سخت ترین ہدایت ہے۔ امام احمد نے عبداللہ ابن عامر ابن ربیعہ سے روایت کی۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر آئے۔ اس وقت میں بچہ تھا۔ میں گھر سے باہر جانے لگا کہ کھیلوں۔ میری ماں نے مجھے کہا عبداللہ ! ادھر آؤ میں تمہیں کچھ دیتی ہوں۔ میری ماں سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ تو اس نے کہا کھجور کا دانہ۔ تو حضور نے فرمایا : اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تمہارے خلاف ایک جھوٹ لکھ دیا جائے گا۔ اور یہی وجہ ہے کہ امام احمد ابن عقیل سفر کرکے ایک شخص کے پاس ایک حدیث نقل کرنے لگے اور یہ سفر کافی طویل تھا تو آپ نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ تھیلی پکڑے ہوئے ہے اور اپنے خچر کو یہ باور کر ارہا ہے کہ اس میں خوراک ہے ، حالانکہ وہ خالی تھی تو امام احمد نے اس شخص سے روایت کرنا مناسب نہ سمجھا ، کیونکہ اس نے اپنے خچر کے ساتھ جھوٹ بولا۔ یہ تھی اسلام کی اخلاقی تعمیر ۔ اور یہ تھا ایک مسلمان کے لئے اخلاقی معیار۔ اور یہ تھے وہ لوگ جن کو اسلامی نظام حیات کا امین بنایا گیا تھا۔ یہی معیار ہے جسے قائم کرنا اس سورت کا مقصد و محور ہے اور یہ اسلامی جماعت کی تربیت کا ایک اہم نکتہ ہے جسے اللہ اسلامی منہاج کو درست کرنے کے لئے اٹھاتا ہے۔ جب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں جو اس سورت کا محور اور موضوع ہے یعنی جہاد فی سبیل اللہ۔ تو اس سے پہلے ہم کئی موضوعات اپنے سامنے پاتے ہیں تاکہ ہم ان پر غور کریں اور اس سے عبرت لیں۔ سب سے پہلے تو ہمارے سامنے حضرت انسان کا نفس آتا ہے اور اس نفس پر ضعف کے لمحات آتے ہیں۔ صرف اللہ ہی اسے اس ضعف سے بچا سکتا ہے اور دائمی یاد دہانی اور دائمی تربیت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ نہایت ہی ابتدائی مہاجرین میں سے کچھ لوگ تھے جن کی خواہش تھی کہ ان کو قتال کی اجازت دی جائے۔ یہ لوگ اہل مکہ میں تھے اور ان کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ مکہ ہی میں لڑنا چاہتے تھے لیکن اس وقت ان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ہاتھوں کو روکے رکھیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں۔ لیکن جب ان پر جہاد فرض کیا گیا اور وہ بھی مدینہ میں اور مناب وقت پر ، تو ان میں سے بعض لوگ ایسے تھے کہ وہ لوگوں سے ایسے ڈرنے لگے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ڈرنے لگے۔ اور انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ۔ وقالوا ................ اجل قریب (4 : 77) ” اے اللہ تونے ہم پر قتال کیوں فرض کردیا۔ ذرا اور ہمیں مہلت دی ہوتی “۔ یا یہ مدینہ ہی کی ایک جماعت تھی اور محبوب ترین اعمال کے بارے میں پوچھتی تھی اور جب بتایا گیا کہ محبوب ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔ یہی ایک واقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کہ نفس انسانی بہت کمزور ہے اور اسے رات دن مسلسل تربیت وتذیکر اور یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ خصوصاً جکبہ اس کو مشکل ترین ٹارگٹ دیا جارہا ہو۔ یہ تربیت اس لئے ضروری ہے کہ یہ اپنی راہ پر درست چلتی رہے ، اپنی کمزوریوں پر قابو پائے اور دور افق بلند پر اس کی نظریں ہوں۔ نیز اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کبھی بھی کوئی مشکل ٹارگٹ لینے کے لئے ایک مسلم کو بےتاب نہیں ہونا چاہئے۔ جبکہ چاہت دین ہو تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اگر ہم اللہ کے سامنے تجاویز پیش کریں اور اللہ وہ حالات پیش کردے تو شاید ہم ثابت قدم نہ رہ سکیں۔ دیکھئے یہ مسلمانوں کی پہلی جماعت ہے اور اس میں بھی ایسے لوگ ہیں جن پر گرفت ہورہی ہے کہ کیوں تم ایسی باتیں کرتے ہو جن پر عمل نہیں کرتے۔ یہ سخت عتاب ہے اور خوفناک گرفت ہے۔ دوسری بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے ، جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں ، اس طرح جس طرح وہ بنیان مرصوص ہیں۔ اللہ اپنے راستے میں لڑنے کے لئے کس قدر زور دار انداز سے مسلمانوں کو آمادہ کرتا ہے لیکن ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ یہ تاکید بعض لوگوں کی اس نفسیاتی حالت کو دور کرنے کے لئے کہی گئی جو جنگ کو پسند نہ کرتے تھے اور اسے اور موخر کرنا چاہتے تھے۔ اور جنگ سے پسپائی اختیار کررہے تھے۔ اس لئے یہاں ان کو سختی سے آمادہ کیا گیا۔ لیکن اس مخصوص سبب نزول کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ آیت مخصوص حالات کے لئے ہے بلکہ اسلام کی یہ عام پالیسی ہے کہ لوگوں کو بروقت جنگی حالات کے لئے آمادہ رکھا جائے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اسلام خواہ مخواہ جنگی جنون پیدا کرنا نہیں چاہتا اور نہ ہی وہ جنگ کو ایک محبوب چیز سمجھتا ہے۔ اسلام جنگ کو اس لئے فرض قرار دیتا ہے کہ حالات اسے مجبور کردیتے ہیں۔ پھر اسلام جن مقاصد کے لئے جنگ کرتا ہے وہ بلند مقاصد ہیں۔ اسلامی جنگ اس لئے ہوتی ہے کہ اسلامی ممالک کے اندر اللہ کے آخری منہاج زندگی کو نافذ اور قائم کیا جائے۔ یہ اسلامی منہاج زندگی اگرچہ ایک فطری منہاج ہے لیکن اسلام انسانی نفوس پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس منہاج کے معیار تک بلند کریں تاکہ اس اعلیٰ معیار پر یہ نظام قائم رہ سکے۔ لیکن یہ بھی ایک عملی حقیقت ہے کہ ہمیشہ اس کرہ ارض پر ایسی قوتیں رہی ہیں جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی اس دنیا میں قدم نہ جماسکے۔ اس لئے کہ دنیا کے جس قدر غیر اسلامی نظام ہیں ان کے کچھ مفادات وامتیازات ہوتے ہیں ، یہ نظام بعض کھوٹی اور جھوٹی قدروں پر قائم ہوتے ہیں ، جب بھی دنیا میں اسلامی نظام قائم ہوا ہے ایسی قوتوں کے مفادات ختم ہوگئے ہیں۔ یہ باطل نظامہائے زندگی انسانی نفوس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور انسانوں کو انسانی سطح سے نیچے گر اکر اور ان کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا کرکے ، اور ان کو حقیقت سے جاہل رکھ کر اسلامی نظام کی مخالفت میں لاکرکھڑا کردیتے ہیں۔ اور یوں عوام الناس اپنی جہالت کی وجہ سے اسلام کی راہ روکنے لگتے ہیں۔ شرکا زور ہوتا ہے اور باطل پھولا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اور شیطان کی چالیں بہت گہری ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حاملین ایمان اور اسلامی منہاج حیات کے محافظین اور پاسداروں کے لئے اعلیٰ اخلاقی معیار تجویز کرتا ہے تاکہ وہ شر اور شیطان کے ایجنٹوں کا اچھی طرح مقابلہ کرسکیں۔ ان کی اخلاقی حالت مضبوط ہو ، وہ دشمنوں کے خلاف لڑسکیں۔ اور وہ ہر وقت ایسی جنگ کے لئے تیار ہوں جو ان پر اسلام کے دشمن مسلط کردیں۔ یہی ایک ضمانت ہے جس کی وجہ سے دعوت اسلامی کی راہ نہیں رکتی۔ جس کے ذریعہ سے اسلامی نظام قائم رہتا ہے۔ لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی ملتی ہے۔ اور وہ اپنی مرضی کا نظام قائم کرسکتے ہیں۔ پھر یہ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد و قتال کرتے ہیں نہ اپنی ذات کے لئے لڑتے ہیں اور نہ ہی کسی رنگ کی عصبیت کے لئے لڑتے ہیں۔ نہ نسلی ، نہ لسانی ، نہ علاقائی اور نہ خاندانی عصبیت کے لئے۔ صرف اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ اس لئے لڑتے ہیں کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” وہ جو صرف اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو تو وہ اللہ کے راستے میں لڑتا ہے “۔ کلمة اللہ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے احکام ومقاصد کے لئے اور اللہ کا ارادہ بھی یہی ہے کہ جس طرح یہ پوری کائنات اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور اللہ کے قانون قدرت کے مطابق چلتی ہے اسی طرح انسان بھی اللہ کے بھیجے ہوئے آخری اور مکمل نظام زندگی اور شریعت الٰہیہ کے مطابق چلے۔ اور یوں یہ پوری کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے سب انسان اللہ کے قانون کے مطابق چلیں۔ اور اللہ کے سوا کسی کا قانون اور شریعت نہ چلے۔ یہ ضروری تھا کہ بعض افراد نظام شریعت کی راہ روکیں ، بعض طبقات اسلامی نظام کو قائم ہونے نہ دیں۔ بعض حکومتیں اسے اپنے لئے خطرہ سمجھیں اور اس کے سوا بھی چارہ نہ تھا کہ اسلام ان رکاوٹوں کو عبور کرے اور ان کا مقابلہ کرے۔ اور یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں پر جہاد و قتال فرض کیا گیا تاکہ اسلامی نظام کو قائم کیا جاسکے اور اسے قائم رکھا جاسکے۔ اور زمین کے اوپر اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ ان لوگوں کو محبوب سمجھتا ہے ، جو اس کے راستے میں صف بندی سے لڑتے ہیں ، گویا وہ بنیان مرصوص ہیں۔ یہ ہے وہ حالت جس پر ہمیں بہت زیادہ غور کرنا چاہئے۔ الذین ........................ مرصوص (16 : 4) ” جو اللہ کی راہ میں صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔ اگر مجاہدین اس حالت میں نہ ہوں تو شاید محبوب نہ ہوں۔ یہ ہر قرد کو بھی حکم ہے اور اجتماعی لحاظ سے بھی حکم ہے۔ یعنی ان کو اس طرح ہونا چاہئے کہ ان کی ایک مضبوط نظام والی جماعت ہو۔ اس لئے کہ جو قوتیں اسلام کی راہ میں روکتی ہیں وہ جماعتی اور اجتماعی قوت کی شکل میں ہوتی ہیں۔ اور اس کے خلاف پوری قوتوں کو جمع کرتی ہیں۔ لہٰذا اسلامی قوتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں جمع کر نکلیں اور ملت واحد کی شکل میں آئیں۔ ایک پختہ دیوار کی شکل میں اور نہایت ہی منظم شکل میں نکلیں۔ ہم آہنگی سے نکلیں۔ لہٰذا یہ صورت کہ ایک انسان اکیلا اللہ کی بندگی کرے ، اکیلا جہاد کرے ، اکیلا زندگی بسر کرے ، یہ ایسی صورت ہے ، جو اس دین کے مزاج ہی کے خلاف ہے ، حالت جہاد کے جو تقاضے ہوتے ہیں ان کے خلاف ہے اور اس کے بعد پوری زندگی کو کنٹرول کرنے کی جو صورت ہوتی ہے ، اس کے خلاف ہے۔ یہ تصویر جو مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ یہاں پیش فرماتا ہے یہ دراصل مسلمانوں کے دین کی تصویر ہے۔ یہ تصویر دکھاتی ہے کہ مسلمانوں کے نشانات راہ کیا ہیں اور قرآن کریم ان کے لئے اجتماعی نظام کفالت وحمایت کس طرح تجویز کرتا ہے۔ صفا ................ مرصوص (16 : 4) ” ایک صف کی شکل میں ، گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں “۔ ایک ایسی دیوار جس کی اینٹیں ملی ہوئی ہیں ، باہم پیوست ہیں اور ہر اینٹ اپنا فریضہ ادا کررہی ہے اور ہر اینٹ اپنے مقام پر کھڑی ہے اور اپنا فریضہ ادا کررہی ہے۔ اگر ایک اینٹ بھی نکال لی جائے تو پوری عمارت گر سکتی ہے۔ اسی طرح اگر اینٹ آگے ہوجائے ، پیچھے ہوجائے یا اوپر والی اینٹ نیچے والی اینٹ سے جدا ہوجائے تو دیوار میں سوراخ ہوسکتا ہے۔ یہ سب باتیں جماعت کے افراد کے باہمی ربط کو متعین کری ہیں۔ جو ایک ہی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یعنی وہ شعوری طور پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں ، فکر ونظر میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہمقدم ہوں ، نظام میں بھی منظم ہوں جس طرح تسبیح کے دانے اور ہدف بھی ایک ہو۔

الصف 61:5

اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ اسلامی انقلاب کا منہاج تمام دعوتوں میں ایک ہی رہا ہے۔ آدم (علیہ السلام) سے ادھر : بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ کو ایذا دینا ، جبکہ آپ ان کو اور اس ملت کو فرعون کے مظالم سے چھڑانے والے تھے ، آپ ان کے رسول اور قائد تھے اور معلم تھے ، ایک ایسی داستان کی طرف اشارہ ہے جو مسلسل ان کو دی جانے والی ایذا پر مشتمل ہے۔ آپ نے اس قوم کو درست کرنے کے لئے جو مشقتیں اٹھائیں اور دشوار گزار مراحل سے گزرے ، وہ انتھک جدوجہد ہے۔ اور قرآن کریم نے اس کی خوب تفصیلات دی ہیں ، جن کو پڑھ کر ایک شخص تسلیم کرلیتا ہے کہ یہ ان تھک جدوجہد تھی اور آپ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے۔ ان کی حالت یہ تھی یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو ذلت سے نجات دینے کی جدوجہد کررہے تھے اور فرعون کی گرفت اور جباری وقہاری کا مقابلہ کررہے تھے لیکن یہ لوگ اس ذات میں بھی امن وچین سے رہنا پسند نہیں کرتے تھے ، اس حالت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تنقید کرتے تھے۔ وہ اس ان تھک جدوجہد پر یہ تبصرہ کرتے تھے۔ اوذینا ........................ ماجئتنا (7 : 921) ” ہمیں اذیت دی گئی قبل اس کے کہ آپ ہمارے پاس آئیں اور اس کے بعد بھی جب کہ آپ آگئے “۔ گویا وہ آپ کی رسالت میں اپنے لئے کوئی خیر نہیں دیکھ رہے تھے بلکہ وہ اپنی اذیت کی وجہ اس رسالت کو سمجھتے تھے۔ لیکن جونہی اللہ نے فرعون کو غرق کیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی اور یہ سب منظر انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، نجات پاتے ہی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت توحید کو ترک کرنے کا ارادہ کرلیا اور قوم فرعون کی طرح ، شرک کرنے کا ارادہ کیا۔ فاتوا .................... الھة ” پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر ان کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے ” اے موسیٰ ہمارے لئے بھی کوئی ایسا معبود بنادے جیسے ان کے لئے معبود ہیں “۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے لئے پہاڑ پر گئے جہاں سے انہیں تورات کی تختیاں دی گئیں ، ان کے جاتے ہی سامری نے انہیں گمراہ کردیا۔ فاخرج .................... فنسی (06 : 88) ” اور ان کے لئے سامری نے ایک بچھڑے کی مورت بناکر نکال لایا جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی ۔ لوگ پکاراٹھے یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰ کا خدا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اسے بھول گیا “۔ پھر انہوں نے اس طعام پر اعتراضات شروع کردیئے جو انہیں صحرا میں من اور سلویٰ کی شکل میں ملتا تھا اور کہا۔ یموسیٰ.................... وبصلھا (2 : 16) ” اے موسیٰ﴿﴿﴿ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کرسکتے۔ اپنے رب سے دعا کر کہ ہمارے لئے زمین کی پیداوار ساگ ، ترکاری ، گیہوں ، لہسن پیاز اور دال وغیرہ پیدا کرے “۔ اس کے بعد جب ان کو گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو وبہانہ سازی اور گستاخی کرنے لگے۔ یہ گستاخی نبی کے حق میں بھی تھی اور رب تعالیٰ کے حق میں بھی۔ کہنے لگے : اپنے رب کو پکارو کہ وہ کیسی ہو ، اس کا رنگ کیسا ہو۔ فذبحوھا .................... یفعلون (2 : 17) ” پھر انہوں نے اسے ذبح کیا ورنہ وہ ایسا کرتے نہ معلوم ہوتے تھے “۔ اس کے بعد انہوں نے سبت کو بطور یومتعطیل خود مطالبہ کیا اور پھر اس کی خلاف ورزی کی۔ پھر ان کو حکم دیا گیا کہ اس مقدس سر زمین میں داخل ہوجاﺅ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے۔ تو انہوں نے ذلیل و خوار ہوکر ارض مقدس میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ قالوا یموسیٰ.................... دخلون (5 : 22) ” انہوں نے کہا اے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں۔ ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے ، جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ، ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لئے تیار ہیں اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اصرار کیا تو ان کا جواب یہ تھا : قالو ................ قعدون (5 : 22) ” اے موسیٰ ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ، جب تک وہ وہاں موجود ہیں۔ بس تم اور تمہارا رب دونوں جاﺅ اور لڑو۔ ہم یہیں بیٹھے ہیں “۔ اس کے علاوہ بار بار کی نافرمانیوں ، سوالات سے ، سرکشی اور ذاتی تہمتوں کے ذریعہ ان لوگوں نے بار بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دی۔ جن کی تفصیلات احادیث میں آتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول نقل کرتا ہے جو محبت بھرے لہجے میں ان سے ایک گلہ ہے۔ یقوم لم ................ الیکم (16 : 5) ” اے میری قوم کے لوگو ، تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں “۔ اور ان کو اس بارے میں شک نہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن ان کی یہ بات گلہ ہے جس میں عتاب بھی ہے اور نصیحت بھی ہے۔ لیکن جب انہوں نے اصلاح و استقامت کی تمام کوششوں کو نظر انداز کردیا تو اللہ نے ان کے دلوں کو مزید ٹیڑھا کردیا۔ اور ان کے یہ دل ہدایت کے لئے قابل ہی نہ رہے۔ یہ گمراہ ہوگئے اور اللہ نے بھی ان کے لئے ضلالت لکھ دی۔ واللہ ............ الفسقین (16 : 5) ” اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا “۔ یوں دین پر ان کی استقامت ختم ہوگئی اور ان سے محافظین دین کا منصب چلا گیا اور وہ اسی طرح ٹیڑھی راہ اور گمراہی پر رہے۔

الصف 61:6

اس کے بعد عیسیٰ ابن مریم تشریف لائے اور انہوں نے بنی اسرائیل سے کہا : یبنی اسراء یل .................... الیکم (16 : 6) ” اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں “۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں اللہ ہوں ، اور نہ یہ کہا میں اللہ کا بیٹا ہوں ، نہ یہ کہا کہ وہ اللہ کے اقانیم میں سے ایک اقنوم ہیں۔ مصدقالما .................... احمد (16 : 6) ” تصدیق کرنے والا اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا “۔ یوں صریح الفاظ میں رسالت کی تصویر پیش کی جاتی ہے کہ سلسلہ رسالت ایک ہی ہے اور ہر رسول کے بعد جو دوسرا رسول آتا ہے وہ سابقہ رسول کی رسالت کی تصدیق کرتا ہے۔ یوں میں ایک ہی رسالت کے حلقے زمین و آسمان کے درمیان اور زمین کی طویل تاریخ کے اوپر پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یہی تصویر اللہ کے منہاج حق کے لائق ہے۔ یہ ایک ہی دین اور ایک ہی منہاج ہے۔ اور اس شکل و صورت مختلف لوگوں کے لئے مختلف رہی ہے کیونکہ انسان مختلف ادوار میں علم ، تجربات اور استعداد کے لحاظ سے مختلف رہا ، اس لئے شریعت کی شکل بھی مختلف رہی ہے ، لیکن نبی آخرالزمان ﷺ کو عقلی اعتبار سے ایک بالغ ہمت دی گئی ، اس لئے آپ کو ایک آخری اور مکمل شریعت دی گئی۔ ایک پختہ عقل امت کو مکمل شریعت دی گئی۔ اس دین نے انسانی عقل سے اپیل کی۔ اور عقل کے کام کے لئے ایک وسیع دائرہ عمل چھوڑ دیا تاکہ اس کے اندر وہ کام کرے ، لیکن پوری انسانیت کے لئے ایک دائرہ کار بہرحال متعین کردیا گیا تاکہ اس کے اندر وہ کام کرے اور اس دائرے کا تعین انسان کی قوت اور استعداد کو دیکھتے ہوئے خالق کائنات نے خود کیا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے انجیل میں احمد کی پیشن گوئی موجود تھی۔ آج جو اناجیل رائج ہیں ان میں ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ یہ بات ثابت ہوگی ہے کہ موجودہ اناجیل ، بعد کے ادوار میں لکھی گئی ہیں ، اور جن حالات میں لکھی گئی ہیں وہ بھی معلوم ہیں۔ قرآن کریم جب جزیرة العرب میں نازل ہوا اور یہودو نصاریٰ نے بھی پڑھا۔ جس میں تھا۔ النبی الامی ........................ وانانجیل ” نبی امی جسے وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں “۔ تو ان میں سے بعض مخلص علماء نے اس کا اقرار بھی کیا جیسا کہ عبداللہ ابن سلام نے۔ اس لئے کہ یہ لوگ اس آیت کے چھپانے کا سخت اہتمام کرتے تھے۔ پھر تاریخی روایات متواتر ہیں کہ یہودی اس نبی آخرالزمان ﷺ کا انتظار کرتے تھے اور وہ یہ بھی یقین رکھتے تھے کہ اس کا زمانہ قریب آگیا ہے ۔ اسی طرح نصاریٰ میں سے بعض اہل توحید جو جزیرة العرب میں ادھر ادھر بکھرے ہوئے موجود تھے ، انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ لیکن یہودی یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ یہ نبی آخرالزمان ان میں سے ہوگا جب اللہ نے اسے حضرت ابراہیم کی اولاد کی دوسری شاخ بنی اسماعیل سے بھیج دیا ، انہوں نے اس کو بہت ناپسند کیا۔ اور اس کے ساتھ جنگ شروع کردی۔ بہرحال نص قرآنی بذات خود اس معاملے میں قطعی ہے۔ اور قرآن ہی ایک معتمد علیہ ذریعہ ہے ، جس کے اندر کوئی تحریف نہیں ہوتی ، جبکہ تورات اور انجیل کا حال تو سب کو معلوم ہے۔ چناچہ اکثر تفسیری اقوال کے مطابق درج ذیل آیات اس بارے میں ہیں کہ یہود ونصاریٰ نے اس پیغمبر کا استقبال کس طرح کیا جس کی بشارت سے خود ان کی کتابوں میں دی گئی تھی۔ ان آیات میں ان کے رویے کی سخت مذمت کی گئی ، کہ انہوں نے اس دین کا استقبال کرنے کے بجائے ، اس کے خلاف سازشیں شروع کردیں حالانکہ اللہ کا فیصلہ یہی ہے کہ یہ دین تمام ادیان پر غالب ہوگا اور یہی آخری دین ہے۔ فلما جاء ھم ........................ المشرکون (9) (16 : 6 تا 9) ” مگر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے۔ اب بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے ، حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سراطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جارہی ہو ؟ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ بنی اسرائیل اس دین جدید کے مقابلے میں صف آرا ہوگئے۔ دشمنی ، سازشیں اور گمراہ کن پروپیگنڈا شروع کردیا اور ہر قسم کے اوچھے ہتھیار اس کے مقابلے میں لے کر آگئے اور اس دین کے خلاف انہوں نے جو جنگ شروع کی وہ آج تک ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے سب سے پہلے اس پر یہ الزام لگایا۔ فلما جاء ھم ................ مبین (16 : 6) ” جب وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح جادو ہے۔ “ جس طرح ان لوگوں نے کہا جو کتابوں کو نہ جانتے تھے ، نہ بشارتوں کو جانتے تھے۔ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا۔ بلکہ اہل کتاب اسلامی محاذ کے اندر بھی سازشیں شروع کردیں۔ مہاجرین اور انصار کو لڑانے کی کوشش کی۔ اور انصار کے دو قبائل اوس اور خزرج کو لڑانے کی کوشش کی۔ کبھی انہوں نے مشرکین مکہ سے ایکا کرکے اس نئے دین کے خلاف جنگ کی اور کبھی انہوں نے منافقین مدینہ کے ساتھ اتحاد کے اس کے خلاف لڑنے کی سعی کی۔ اور انہوں نے مدینہ اور عالم اسلام پر ہر حملہ آور کی مدد کی۔ مثلاً غزوہ احزاب میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے جھوٹے الزامات لگا کر بھی اس میں حصہ لیا۔ جبکہ افک کے واقعہ کو انہوں نے عبداللہ ابن ابی ابن سلول کے ذریعہ خوب اچھالا اور فتنہ عثمان میں بھی انہوں نے عبداللہ ابن سبا کے ذریعہ کام کیا۔ پھر سیرت کی کتابوں میں انہوں نے منظم سازش کے ذریعہ اسرائیلیات کو داخل کیا۔ جب وہ قرآن کے اندر جعلی آیات داخل ہونے سے عاجز ہوگئے تو انہوں نے تفسیر ، سیرت اور احادیث کے اندر وضعی احادیث داخل کرنے کی سعی تھی۔ یہ جنگ اسلام کے خلاف ، آج تک ختم نہیں ہوئی۔ آج تک عالمی یہودیت ، عالمی عیسائیت اور صیہونیت اسلام کے خلاف رات دن سازشوں میں مصروف ہے۔ یہ ہر طرف سے اسلام پر حملہ آور ہورہے ہیں اور لوگوں کو بھی اسلام کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے ہیں۔ اس جنگ میں چودہ سو سال سے نہ جنگ بندی ہوئی ، نہ صلح ہوئی ہے ، کسی دور میں بھی نہیں۔ مشرق میں جاکر انہوں نے صلیبی جنگیں لڑیں۔ مغرب میں اندلس میں انہوں نے مسلمانوں کا نام ونشان مٹا دیا۔ اور شرق اوسط میں انہوں نے ہمیشہ اسلامی خلافت کے خلاف جنگ کی۔ یہاں تک کہ ترکی کی خلافت کو انہوں نے تباہ کیا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد بھی ان کی یہ جنگ ختم نہ ہوئی اور انہوں نے جعلی ” ہیرو “ اسلام اور عالم اسلام کے لئے پیدا کیے اور ان کے ذریعہ انہوں نے اسلام کے خلاف اپنی انتقامی پیاس کو بجھایا۔ جب انہوں نے اسلام کی آخری نشانی خلافت اسلامیہ ترکیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہا تو انہوں نے ترکی میں ایک عظیم ہیرو پیدا کیا اور اس کے اندر اس قدر ہوا بھری کہ وہ بہت بڑا زھیم بن گیا۔ اس کے بعد اس کے مقابلے میں اتحادیوں کی فوجوں نے پسپائی اختیار کی ، جنہوں نے آستانہ کو فتح کرلیا تھا تاکہ اس شخص کو بہت بڑا فاتح بنا کر پیش کیا جاسکے۔ ایک ایسا فاتح جو خلافت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرسکے۔ اس نے ترکی کو عالم اسلام سے جدا کیا۔ اس نے اعلان کیا کہ ترکی لادینی ریاست ہے۔ اس کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب بھی یہودی اسلام پر ضرب لگانا چاہیں وہ عالم اسلام کے لئے اس قسم کے لیڈر پیدا کرتے ہیں۔ جب بھی وہ صحیح اسلامی تحریکات پر ضرب لگاتے ہیں ، وہ مسلمان ممالک میں اس قسم کے لیڈر پیدا کرتے ہیں ان کے ذریعہ یہ ان ممالک میں اسلامی حمیت اور اسلامی عصبیت کے علاوہ ہر عصبیت پیدا کرتے ہیں ، اسلامی جھنڈوں کے علاوہ ہر جھنڈا بلند کرتے ہیں۔

الصف 61:7

اس کے بعد عیسیٰ ابن مریم تشریف لائے اور انہوں نے بنی اسرائیل سے کہا : یبنی اسراء یل .................... الیکم (16 : 6) ” اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں “۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں اللہ ہوں ، اور نہ یہ کہا میں اللہ کا بیٹا ہوں ، نہ یہ کہا کہ وہ اللہ کے اقانیم میں سے ایک اقنوم ہیں۔ مصدقالما .................... احمد (16 : 6) ” تصدیق کرنے والا اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا “۔ یوں صریح الفاظ میں رسالت کی تصویر پیش کی جاتی ہے کہ سلسلہ رسالت ایک ہی ہے اور ہر رسول کے بعد جو دوسرا رسول آتا ہے وہ سابقہ رسول کی رسالت کی تصدیق کرتا ہے۔ یوں میں ایک ہی رسالت کے حلقے زمین و آسمان کے درمیان اور زمین کی طویل تاریخ کے اوپر پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یہی تصویر اللہ کے منہاج حق کے لائق ہے۔ یہ ایک ہی دین اور ایک ہی منہاج ہے۔ اور اس شکل و صورت مختلف لوگوں کے لئے مختلف رہی ہے کیونکہ انسان مختلف ادوار میں علم ، تجربات اور استعداد کے لحاظ سے مختلف رہا ، اس لئے شریعت کی شکل بھی مختلف رہی ہے ، لیکن نبی آخرالزمان ﷺ کو عقلی اعتبار سے ایک بالغ ہمت دی گئی ، اس لئے آپ کو ایک آخری اور مکمل شریعت دی گئی۔ ایک پختہ عقل امت کو مکمل شریعت دی گئی۔ اس دین نے انسانی عقل سے اپیل کی۔ اور عقل کے کام کے لئے ایک وسیع دائرہ عمل چھوڑ دیا تاکہ اس کے اندر وہ کام کرے ، لیکن پوری انسانیت کے لئے ایک دائرہ کار بہرحال متعین کردیا گیا تاکہ اس کے اندر وہ کام کرے اور اس دائرے کا تعین انسان کی قوت اور استعداد کو دیکھتے ہوئے خالق کائنات نے خود کیا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے انجیل میں احمد کی پیشن گوئی موجود تھی۔ آج جو اناجیل رائج ہیں ان میں ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ یہ بات ثابت ہوگی ہے کہ موجودہ اناجیل ، بعد کے ادوار میں لکھی گئی ہیں ، اور جن حالات میں لکھی گئی ہیں وہ بھی معلوم ہیں۔ قرآن کریم جب جزیرة العرب میں نازل ہوا اور یہودو نصاریٰ نے بھی پڑھا۔ جس میں تھا۔ النبی الامی ........................ وانانجیل ” نبی امی جسے وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں “۔ تو ان میں سے بعض مخلص علماء نے اس کا اقرار بھی کیا جیسا کہ عبداللہ ابن سلام نے۔ اس لئے کہ یہ لوگ اس آیت کے چھپانے کا سخت اہتمام کرتے تھے۔ پھر تاریخی روایات متواتر ہیں کہ یہودی اس نبی آخرالزمان ﷺ کا انتظار کرتے تھے اور وہ یہ بھی یقین رکھتے تھے کہ اس کا زمانہ قریب آگیا ہے ۔ اسی طرح نصاریٰ میں سے بعض اہل توحید جو جزیرة العرب میں ادھر ادھر بکھرے ہوئے موجود تھے ، انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ لیکن یہودی یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ یہ نبی آخرالزمان ان میں سے ہوگا جب اللہ نے اسے حضرت ابراہیم کی اولاد کی دوسری شاخ بنی اسماعیل سے بھیج دیا ، انہوں نے اس کو بہت ناپسند کیا۔ اور اس کے ساتھ جنگ شروع کردی۔ بہرحال نص قرآنی بذات خود اس معاملے میں قطعی ہے۔ اور قرآن ہی ایک معتمد علیہ ذریعہ ہے ، جس کے اندر کوئی تحریف نہیں ہوتی ، جبکہ تورات اور انجیل کا حال تو سب کو معلوم ہے۔ چناچہ اکثر تفسیری اقوال کے مطابق درج ذیل آیات اس بارے میں ہیں کہ یہود ونصاریٰ نے اس پیغمبر کا استقبال کس طرح کیا جس کی بشارت سے خود ان کی کتابوں میں دی گئی تھی۔ ان آیات میں ان کے رویے کی سخت مذمت کی گئی ، کہ انہوں نے اس دین کا استقبال کرنے کے بجائے ، اس کے خلاف سازشیں شروع کردیں حالانکہ اللہ کا فیصلہ یہی ہے کہ یہ دین تمام ادیان پر غالب ہوگا اور یہی آخری دین ہے۔ فلما جاء ھم ........................ المشرکون (9) (16 : 6 تا 9) ” مگر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے۔ اب بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے ، حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سراطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جارہی ہو ؟ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ بنی اسرائیل اس دین جدید کے مقابلے میں صف آرا ہوگئے۔ دشمنی ، سازشیں اور گمراہ کن پروپیگنڈا شروع کردیا اور ہر قسم کے اوچھے ہتھیار اس کے مقابلے میں لے کر آگئے اور اس دین کے خلاف انہوں نے جو جنگ شروع کی وہ آج تک ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے سب سے پہلے اس پر یہ الزام لگایا۔ فلما جاء ھم ................ مبین (16 : 6) ” جب وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح جادو ہے۔ “ جس طرح ان لوگوں نے کہا جو کتابوں کو نہ جانتے تھے ، نہ بشارتوں کو جانتے تھے۔ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا۔ بلکہ اہل کتاب اسلامی محاذ کے اندر بھی سازشیں شروع کردیں۔ مہاجرین اور انصار کو لڑانے کی کوشش کی۔ اور انصار کے دو قبائل اوس اور خزرج کو لڑانے کی کوشش کی۔ کبھی انہوں نے مشرکین مکہ سے ایکا کرکے اس نئے دین کے خلاف جنگ کی اور کبھی انہوں نے منافقین مدینہ کے ساتھ اتحاد کے اس کے خلاف لڑنے کی سعی کی۔ اور انہوں نے مدینہ اور عالم اسلام پر ہر حملہ آور کی مدد کی۔ مثلاً غزوہ احزاب میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے جھوٹے الزامات لگا کر بھی اس میں حصہ لیا۔ جبکہ افک کے واقعہ کو انہوں نے عبداللہ ابن ابی ابن سلول کے ذریعہ خوب اچھالا اور فتنہ عثمان میں بھی انہوں نے عبداللہ ابن سبا کے ذریعہ کام کیا۔ پھر سیرت کی کتابوں میں انہوں نے منظم سازش کے ذریعہ اسرائیلیات کو داخل کیا۔ جب وہ قرآن کے اندر جعلی آیات داخل ہونے سے عاجز ہوگئے تو انہوں نے تفسیر ، سیرت اور احادیث کے اندر وضعی احادیث داخل کرنے کی سعی تھی۔ یہ جنگ اسلام کے خلاف ، آج تک ختم نہیں ہوئی۔ آج تک عالمی یہودیت ، عالمی عیسائیت اور صیہونیت اسلام کے خلاف رات دن سازشوں میں مصروف ہے۔ یہ ہر طرف سے اسلام پر حملہ آور ہورہے ہیں اور لوگوں کو بھی اسلام کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے ہیں۔ اس جنگ میں چودہ سو سال سے نہ جنگ بندی ہوئی ، نہ صلح ہوئی ہے ، کسی دور میں بھی نہیں۔ مشرق میں جاکر انہوں نے صلیبی جنگیں لڑیں۔ مغرب میں اندلس میں انہوں نے مسلمانوں کا نام ونشان مٹا دیا۔ اور شرق اوسط میں انہوں نے ہمیشہ اسلامی خلافت کے خلاف جنگ کی۔ یہاں تک کہ ترکی کی خلافت کو انہوں نے تباہ کیا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد بھی ان کی یہ جنگ ختم نہ ہوئی اور انہوں نے جعلی ” ہیرو “ اسلام اور عالم اسلام کے لئے پیدا کیے اور ان کے ذریعہ انہوں نے اسلام کے خلاف اپنی انتقامی پیاس کو بجھایا۔ جب انہوں نے اسلام کی آخری نشانی خلافت اسلامیہ ترکیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہا تو انہوں نے ترکی میں ایک عظیم ہیرو پیدا کیا اور اس کے اندر اس قدر ہوا بھری کہ وہ بہت بڑا زھیم بن گیا۔ اس کے بعد اس کے مقابلے میں اتحادیوں کی فوجوں نے پسپائی اختیار کی ، جنہوں نے آستانہ کو فتح کرلیا تھا تاکہ اس شخص کو بہت بڑا فاتح بنا کر پیش کیا جاسکے۔ ایک ایسا فاتح جو خلافت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرسکے۔ اس نے ترکی کو عالم اسلام سے جدا کیا۔ اس نے اعلان کیا کہ ترکی لادینی ریاست ہے۔ اس کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب بھی یہودی اسلام پر ضرب لگانا چاہیں وہ عالم اسلام کے لئے اس قسم کے لیڈر پیدا کرتے ہیں۔ جب بھی وہ صحیح اسلامی تحریکات پر ضرب لگاتے ہیں ، وہ مسلمان ممالک میں اس قسم کے لیڈر پیدا کرتے ہیں ان کے ذریعہ یہ ان ممالک میں اسلامی حمیت اور اسلامی عصبیت کے علاوہ ہر عصبیت پیدا کرتے ہیں ، اسلامی جھنڈوں کے علاوہ ہر جھنڈا بلند کرتے ہیں۔

الصف 61:8

یریدون ................ الکفرون (16 : 8) ” یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ قرآن کی یہ آیت اس عظیم حقیقت کا اظہار کررہی ہے۔ اور اس حقیقت کو ایک ایسی تصویر انداز میں پیش کیا گیا جس سے انسانکو ان لوگوں کی حالت پر بےاختیار ہنسی آتی ہے وہ اپنے منہ سے یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ کھلاجادو ہے ، اور اس کے خلاف یہ سازشیں کرتے تھے اور خفیہ منصوبے بنا کر اسے ختم کرنا چاہتے تھے اور اس جدید دین کا قصہ ہی تمام کرنا چاہتے تھے ، اس لئے اللہ نے ان کے منصوبوں کے مقابلے میں ان کی یہ مایوس کن تصویر کھینچی کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ اللہ کا نور اور یہ ضعیف اور حقیر ! ! واللہ .................... الکفرون (16 : 8) ؟ ؟ اور اللہ اپنے نور کو پوری طرح پھیلا کررہے گا ، اگر یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے “۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوا۔ اللہ نے نبی ﷺ کی زندگی میں اپنے نور کو پوری طرح پھیلادیا۔ اس نے ایک اسلامی جماعت ، نہایت ہی زندہ وتابندہ اسلامی جماعت کھڑی کردی۔ اور اسے اسلامی نظام زندگی نہایت ہی واضح نشانات کے ساتھ دیا۔ اور اس کے حدود اور قیود متعین کیے۔ نسلوں تک یہ نظریہ لوگوں کی عملی زندگی میں زندہ اور متحرک رہا ، صرف کتابوں میں نہیں ، اللہ نے اسے عالم واقعہ میں غالب کیا۔ اللہ پاک نے اس نور کو مکمل کیا ، مسلمانوں کا دین مکمل ہوا ، مسلمانوں پر اپنی نعمتوں کو تمام کیا۔ اور ان کے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔ ان کے لئے اس دین کو محبوب بنادیا ، وہ اس کے لئے لڑتے رہے ، حالت یوں ہوگئی کہ اگر کسی مسلمان کو آگ میں ڈال دیاجائے تو وہ اسے پسند کرے گا مگر کفر کی طرف لوٹنا پسند نہ کرتا تھا۔ چناچہ دین کی صورت لوگوں کے دلوں میں مکمل ہوگئی۔ اور آپ کے بعد بھی یہ صورت حال کبھی کبھی پیدا ہوتی رہی ہے اور قائم رہی ہے۔ باوجود کہ اس کے کہ ہر طرف سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ، حملے اور پکڑ دھکڑ شروع ہے۔ باوجود ہر طرف کے حملوں کے اسلام ہر کربلا کے بعد زندہ ہوتا ہے اس لئے کہ اسلام اللہ کا نور ہے اور اللہ کے نور کو انسانی کوششیں ختم نہیں کرسکتیں۔ نہ آگ اور لوہا اس کو ختم کرسکتا ہے۔ اگرچہ عالم اسلام کے مصنوعی لیڈر جو یہودیہوں اور نصرانیوں کے خود ساختہ لیڈر ہیں۔ بعض اوقات یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسلام کو ختم کردیا ہے اور اس کا نور بجھا دیا ہے۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ نور خدا پھیل جائے اور دین غالب ہو۔

الصف 61:9

ھوالذی .................... المشرکون (16 : 9) ” وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کہ پورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اسلامی نظام زندگی ہدایت ہے اور دین حق ہے۔ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اللہ کا ارادہ پورا ہوگیا اور یہ دین تمام ادیان پر غالب ہوگیا ہے۔ یہ دین اپنی ذات اور اپنی تشکیل کے لحاظ سے واحد دین ہے ، اس کے مقابل کا کوئی دین نہیں ہے۔ مثلاً دنیا کے بت پرستانہ ادیان کے اندر تو مقابلے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ رہے کتابی دین تو یہ اسی سلسلے کا آخری اور مکمل دین ہے ، اور اللہ کے نظام کا یہ آخری ایڈیشن ہے۔ یہ اپنی مکمل اور اعلیٰ صورت میں ہے۔ سابقہ کتب سماوی کے اندر بیشمار تحریفات کردی گئی ہیں ، ان کی شکل بدل گئی ہے اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ہیں اور ان میں وہ اضافے ہوگئے ہیں جو ان میں نہ تھے۔ ان کے اندر کانٹ چھانٹ کردی گئی ہے۔ پھر وہ اس حالت تک پہنچ گئی ہیں کہ وہ آج جدید دور کی زندگی کی کوئی رہنمائی نہیں کرسکتیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ان کے اندر تحریف نہیں ہوئی تو بھی وہ سابقہ ایڈیشن ہیں جبکہ دین اسلام اللہ کے نظام کا آخری اور تازہ ترین نسخہ ہے جس کے اندر جدید ترقی یافتہ زندگی کے تمام مسائل حل کردیئے گئے ہیں۔ سابقہ ادیان اللہ کی اسکیم کے مطابق ایک محدود وقت کے لئے آئے تھے۔ اللہ کا یہ وعدہ نفس دین اور اس کی نوعیت اور اس کے احکام ومواد کے اعتبار سے تو پورا ہوا کہ دین اسلام کے مقابلے کا کوئی دین نہیں ہے لیکن یہ نظام عملی زندگی میں بھی ایک غالب نظام رہا ہے۔ ایک بار تو یہ دین غالب ہوکر رہا ہے۔ یہ اس کرہ ارض پر اس قدر غالب ہوا کہ تمام ادیان ، تمام اقوام تقریباً ایک سو سال تک اس کے زیر نگیں رہے۔ اس کے بعد بھی یہ دین وسط ایشیا اور وسط افریقہ میں سیلاب کی طرح پھیل گیا ۔ یہاں تک کہ ابتدائی جہادی جدوجہد کے ذریعہ اس کے اندر جس قدر لوگ داخل ہوئے اس کے بعد محض تبلیغی جدوجہد کے ذریعہ اپنی ذاتی قوت سے یہ دین پانچ گنا علاقے اور آبادی میں پھیل گیا۔ آج بھی یہ دین بغیر حکومتی قوتوں کے پھیل رہا ہے۔ حالانعہ یہودی اور صیہونی سازش نے اہل دین کے سیاسی نظام ، نظام خلافت کو ختم کردیا ہے۔ یہ نظام ان لوگوں نے ترکی میں اس ہیرو کے ہاتھوں ختم کرایا جسے اس مقصد کے لئے انہوں نے خودگھڑا تھا۔ اور باوجود اس کے کہ پورے عالم اسلام میں اس دین کے خلاف رات دن سازشیں ہورہی ہیں اور پورے عالم اسلام میں یہودیوں کے ہاتھوں ھنصب کردہ ” ہیرو “ عالم اسلام میں اٹھنے والی اسلامی تحریکات کچل رہے ہیں لیکن یہ اللہ کا چراغ ہے اور پھونکوں سے اسے بجھایا نہیں جاسکتا۔ غرض باوجود اپنوں اور غیروں کی سازشوں کے یہ دین انسانی ، تاریخ میں اب بھی اہم کردار سرانجام دے رہا ہے اور پہلے بھی اس نے ادا کیا ہے ۔ اور انسانی سازشیں اس کی راہ نہیں روک سکتیں۔ کیونکہ اللہ کے مقابلے میں انسان کی قوت کوئی قوت نہیں ہے۔ اگرچہ وہ بہت گہری چال چلیں کیونکہ اللہ بھی گہری چال چلتا ہے۔ یہ آیات اس وقت اہل ایمان کے حوصلے بڑھارہی تھیں جب قرآن کی ابتدائی سامعین یہود ونصاریٰ کی کوششوں اور سازشوں کے علی الرغم غلبہ دین کی جدوجہد کررہے تھے اس وقت بھی دین کو اللہ غالب کررہا تھا ، مسلمان تو دست قدرت کے لئے ایک پردہ اور بہانہ تھے۔ اور آج بھی یہ آیات ان لوگوں کے لئے ایک حوصلہ پیدا کررہی ہیں جو غلبہ دین کا کام کررہے ہیں اور آئندہ بھی غلبہ دین کے لئے اٹھنے والی تحریکات کے لئے یہ آیات مشعل راہ ہوں گی اور وہ دن دور نہیں ہے کہ ایک بار پھر یہ دین غالب ہوکر رہے گا۔ اسلامی نظریہ حیات کے تسلسل کے بیان کے بعد ، اور اس وعدے کے بعد کہ اس دین کو غالب ہوکر رہنا ہے۔ اگرچہ کافر اس کے خلاف سازشیں کریں ، اب روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔ اس وقت کے مسلمانوں کو بھی خطاب ہے۔ اور اس کے بعد قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو بھی یہ خطاب ہے کہ مسلمانو ، اس دین کی رو سے ایک بہترین تجارت تمہیں بتائی جارہی ہے ، یہ تجارت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

الصف 61:10

یا یھا الذین ................................ المﺅمنین (31) (61 : 01 تا 31) ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، میں بتاﺅں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچادے ؟ ایمان لاﺅ اللہ اور اس کے رسول پر ، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا ، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو “۔ ذرا انداز تعبیر پر غور فرمائیں۔ بعض چیزوں کو باہم ملایا گیا ، بعض کو اپنی جگہ سے دور رکھا گیا ہے ۔ استفہام اور جواب استفہام کے درمیان ایک فاصلہ رکھا گیا ہے۔ بعض چیزوں کو مقدم کیا گیا ہے اور بعض کو موخر کردیا گیا ہے ، ان سب امور کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ پکار اور یہ آواز اچھی طرح لوگوں کے دلوں کے اندر اتر جائے اور اسالیب تعبیر کے تمام ذرائع استعمال کرکے بات کو دلوں تک بلکہ دلوں کی تہوں تک اتارا جائے۔ دیکھئے پکار کا آغاز۔ یایھا الذین امنوا (16 : 01) سے ہے ، اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اور اس کے بعد اللہ ان سے پوچھتا ہے کہبتاﺅں تمہیں ایسی تجارت ؟ اس سے سامعین کے دلوں میں بھر پور شوق پیدا کیا جاتا ہے۔ ھل ادلکم ........................ عذاب الیم (16 : 01) ” میں بتاﺅں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچادے ؟ “ اب کون ہے جو اس قسم کی تجارت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بےتاب نہ ہوگا۔ لیکن یہاں آیت ختم ہوجاتی ہے اور درمیان میں فصل آجاتی ہے۔ استفہام اور جواب استفہام کے درمیان آیت ختم ہوکر وقف آجاتا ہے اور سامع کے دل میں اگلی آیت سننے کے لئے بےتابی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد جواب آتا ہے جبکہ سامعین بےتاب تھے۔

الصف 61:11

تومنون ................ ورسولہ (16 : 11) ” ایمان لاﺅ اللہ اور اس کے رسول پر “۔ وہ تو اللہ اور رسول پر ایمان لاچکے تھے۔ اور وہ جب جواب سنتے ہیں تو ان کے دل روشن ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ جواب شرط تو پہلے سے ان کے اندر موجود ہے۔ وتجاھدون ........................ وانفسکم (16 : 11) ” اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے “۔ اور یہی اس صورت کا مضمون اور محور ہے۔ اس انداز میں یہ آتارہا ہے ، بار بار تکرار کے ساتھ ، اس طرح اسے مضمون کے اندر بار بار دہرایا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان کو تربیت دینے کے لئے بار بار کی یاددہانی کی ضرورت ہے۔ مختلف انواع و دلائل اور مختلف قسم کی تائید وتاکید کے ساتھ تاکہ اس قدر پر مشقت فرائض کی ادائیگی کے لئے نفس انسانی تیار ہوجائے۔ کیونکہ اس قسم کے پر مشقت فرائض کی ادائیگی کے بغیر نہ اسلامی منہاج یہاں زندہ رہ سکتا ہے اور نہ اس کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد اس تجارت پر مزید تبصرہ کیا جاتا ہے اور اس تجارت کی تعریف وتحسین کی جاتی ہے۔ ذلکم .................... تعلمون (16 : 11) ” یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو “۔ اس لئے کہ انسان کسی بھلائی کی طرف تب ہی لپکتا ہے جب اسے علم ہو کہ بھلائی یہ ہے۔ اس کے بعد اگلی آیات میں اس بھلائی اور تجارت کی مزید تفصیلات دی جاتی ہیں۔ کیونکہ اجمال کے بعد تفصیلات کا اثر بہت ہوتا ہے۔ اس طرح بات احساس میں مسقلا بیٹھ جاتی ہے۔

الصف 61:12

یغفرلکم ذونوبکم (16 : 21) ” اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا “۔ اس تجارت اور بھلائی کی یہ ایک بات ہی کافی ہے۔ اگر اس کے بعد کوئی اور کیا چاہے گا کہ اس کے گناہ معاف ہوجائیں یا اپنے لئے اور کیا ذخیرہ کرے گا۔ لیکن اللہ کے فضل وکرم کی حدود نہیں ہوتیں اس لئے۔ ویدخلکم فی جنت ” اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا “۔ اس سے بڑی تجارت اور کیا ہے کہ ایک مجاہد اپنی اس مختصر زندگی میں جہاد کرے ، وہ اپنی جان دے دے اور اس کے عوض اسے یہ باغات اور ابدی زندگی ملے اور بہترین مکانات اور نعیم مقیم میں رہے۔ اور یہ عظیم حقیقت ہے کہ یہی بڑی کامیابی ہے۔ ذلک الفوز العظیم (16 : 21) ” یہ ہے عظیم کامرانی “ یہاں آکر اس نہایت ہی نفع بخش تجارت کا سودا ختم ہوگیا۔ فی الواقعہ یہ تو بہت بڑا نفع ہے۔ کہ ایک مومن مختصر دنیا دے کر ابدی آخرت لے لے۔ اگر کوئی ایک روپے کی تجارت کرکے دس کمالے تو بازار میں اس کا چرچا ہوجاتا ہے ، لیکن اس شخص کا حال کیا ہوگا کہ وہ اس دنیا کی محدود زندگی میں جہاد کرے اور دنیا کا محدود متاع دے دے اور آخرت کا لامحدود زمانہ مزے کرے اور آخرت کا متاع وعیش حاصل کرے ، جو لا محدود اور لا مقلوع ہے۔ یہ سودا حضرت محمد ﷺ اور حضرت عبداللہ ابن رواحہ ؓ کے درمیان ہوا تھا۔ یہ عقبہ کی رات کو ہوا تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ آپ ﷺ اپنے لئے جو چاہیں ، شرائط رکھ لیں۔ تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ رب کے لئے میں یہ شرائط عائد کرتا ہوں کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور اپنے لئے میں یہ شرط عائد کرتا ہوں کہ تم میرا دفاع اس طرح کرو گے جس طرح تم اپنے مال اور جان کا دفاع کرتے ہو “۔ تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمیں کیا ملے گا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (الجنة) تو انہوں نے کہا اس سودے میں بہت بڑا فائدہ ہوگیا ہمیں ، نہ ہم اس سودے کو منسوخ کرتے ہیں اور نہ فریق دوئم کی درخواست اس سلسلے میں مانتے ہیں۔ لیکن اللہ کا فضل تو بہت عظیم ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ انسانی نفوس اس جہاں میں بھی کچھ چاہتے ہیں۔ انسان کی محدود ساخت چاہتی ہے کہ اس جہاں میں بھی کچھ مزا ملے تو اللہ عتالیٰ ان کو خوشخبری دیتا ہے کہ اس جہاں میں بھی تمہیں فتح مبین اور غلبہ دین حاصل ہوگا۔ اور اسلامی نظام زندگی قائم ہوکر رہے گا۔ اور تمہاری نسل کے اندر ہوکر رہے گا۔

الصف 61:13

واخری ........................ المومنین (16 : 31) ” اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو “۔ یہ سواد یہاں شرح منافع کی انتہاﺅں کو چھو لیتا ہے۔ اور یہ منافع اللہ ہی دے سکتا ہے۔ وہ اللہ جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے ، وہ اللہ جس کی رحمت کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ رحمتیں کیا ہیں ، مغفرت گناہ ، باغات ، بہترین مکانات ، جن کے اندر نہ ختم ہونے والی نعمتیں ہوں گی اور اس سودے کا منافع صرف آخرت ہی میں نہیں بلکہ ان کی ایک قسط یہاں دنیا میں بھی دے جائے گی۔ اللہ کی نصرت اور غلبہ دین اور فتح مبین۔ کون ہے جو ایسی تجارت نہ کرے گا یا اس میں تامل کرے گا۔ یا اس سے پہلو تہی کرے گا۔ اس ترغیب اور تلقین کے بعد نفس انسانی کے تصور کا منظر آتا ہے۔ یہ تصور انسان کے لئے بہت اہم ہے۔ جو شخص اس کائنات اور اس کے اندر اس زندگی کا ایمانی تصور رکھتا ہو ، اور وہ اپنے دل میں یہ تصور رکھتے ہوئے زندگی بسر کررہا وہ ، اس تصور کے وسیع آفاق اور حدود بھی رکھتا ہو ، اس کے بعد یہ شخص اگر ایسی زندگی کے بارے میں سوچے جو ایمان سے خالی ہے۔ جو نہایت ہی محدود تنگ اور چھوٹی زندگی ہے ، جس کی سطح بہت گری ہوئی ہے۔ جس کی اہم ترین باتیں نہایت ہی حقیر ہیں۔ تو اس قسم کا دل جس نے ایمانی کی یہ وسعتیں دیکھی ہوئی ہیں وہ اس قدر محدود اور حقیر زندگی میں ایک منٹ کے لئے بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ ایک منٹ بھی اس جہاد اور جدوجہد میں شرکت سے تاخیر نہ کرے گا ، جس کا مقصد اس طرح کی وسعت والی زندگی کو اس کرہ ارض پر قائم کرنا ہے ، تاکہ اس میں وہ بھی زندہ رہے ، اور لوگ بھی زندہ رہیں۔ اور پھر صورت یہ ہے کہ وہ اس جہاد اور جدوجہد پر کئی اجر بھی طلب نہ کرتا ہو۔ کیونکہ یہ زندگی اور یہ نظام بذات خود ہی ایک مقصد اور اجر ہے۔ یہ نظر یہ جہاد جو دل کو خوشی اور فرحت سے بھر دیتا ہے ، اسے کون ترک کرسکتا ہے اور اس کے سوا کون زندہ رہ سکتا ہے۔ ایسا شخص دوڑ کر اس جہاد میں کود پڑتا ہے۔ آتش نمرود ہو تو بھی کود پڑتا ہے ، جو بھی نتیجہ ہو ، کود پڑتا ہے۔ لیکن دیکھئے اللہ کو معلوم ہے کہ نفس انسانی بہت ضعیف ہے ، کسی وقت بھی اس کے جوش و خروش میں کمی آسکتی ہے۔ اور یہ کہ جہاد میں تیزی کسی بھی وقت کند ہوسکتی ہے اور امن کو شی اور سلاست پسندی انسان کو کبھی گری ہوئی زندگی گزارنے پر آمادہ کرسکتی ہے۔ اس لئے قرآن کریم ایک ہی اسلوب پر بات کرکے ختم نہیں کردیتا۔ وہ نفس انسانی کو تیار کرنے کے لئے ہر پہلو سے سعی کرتا ہے۔ ہر قسم کے موثرات ، دلائل ، شواہد اور مثالیں دیتا ہے۔ بار بار پکارتا ہے اور انسان کو صرف ایمان اور افراد کے حوالے نہیں کردیتا ، نہ ہی صرف ایک بار حکم دے دیتا ہے جس طرح ایک سرکاری افسر سرکلرجاری کردیتا ہے۔

الصف 61:14

چناچہ سورت کا خاتمہ ایک نئی پکار سے ہوتا ہے ۔ اس پکار کا نیارنگ ہے ۔ ایک جدید دلیل ، ایک موثر مثال اور ایک نئے پہلو سے آمادگی اور اکسانا۔ یایھا الذین ................................ ظھرین (16 : 41) ” لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ کی مددگار بنو ، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں کو خطاب کرکے کہا تھا :” کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار ؟ “ اور حواریوں نے جواب دیا تھا : ” ہم ہیں اللہ کے مددگار “۔ اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہوکر رہے “۔ حواری کون تھے ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے شاگرد۔ یہ تعداد میں 21 تھے۔ یہ ہر وقت آپ کے ساتھ ہوتے تھے اور آپ سے تعلیمات لیتے تھے۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کے اٹھائے جانے کے بعد آپ کی وصیتوں اور آپ کی تعلیمات کو پھیلایا۔ آیت کا مقصد ان کے حالات زندگی بیان کرنا نہیں ہے بلکہ انہوں نے دعوت کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا ، اسے پیش کرنا ہے ، لہٰذا ہم بھی یہاں اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ یایھا الذین ........................ انصار اللہ (15 : 41) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ کی مددگار بنو “۔ کس قدر بلند مقام تک اللہ نے اپنے مجاہد بندوں کو لے جاتا ہے۔ انسان کے لئے اس سے بڑا مقام اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ کا معاون ہوجائے۔ اس صفت میں اتنی بڑی عزت افزائی ہے جو جنت اور اس کی نعمتوں سے بھی بڑی ہے۔ اللہ کے انصار بن جاﺅ! کما قال ............................ انصار اللہ (16 : 41) ” جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں کو خطاب کرکے کہا تھا :” کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار ؟ “ اور حواریوں نے جوا دیا تھا :” ہم ہیں اللہ کے مددگار “۔ تو انہوں نے جواب آپ کو اس کام کے لئے وقف کردیا اور یہ مقام عزت پایا۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرائض منصبی میں یہ بات شامل تھی کہ آپ نبی آخرالزماں ﷺ کے بارے میں بشارت دیں اور دین آخیر کے بارے میں خوشخبری دیں۔ لہٰذا حضرت محمد ﷺ کے متبعین اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس کام کے لئے آگے بڑھیں۔ جس طرح حواریوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ یہی اس حوالے میں آمادہ کرنے اور اکسانے والی بات ہے۔ اور پھر کیا ہوا انجام ؟ فامنت طائفة ........................ ظھرین (16 : 41) ” اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہوکر رہے “۔ اس آیت کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ حضرت مسیح کی نفس رسالت پر ایمان لائے تھے۔ یعنی مسیحی چاہے ان کے عقائد درست ہوں یا بعد میں مشرک ہوگئے ہوں اور ان کے عقائد میں شدید انحرافات آگئے ہوں ، ان کو اللہ نے ان لوگوں پر غالب کردیا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی راسلت ہی کو نہ مانتے تھے۔ یعنی یہودیوں پر جس طرح تاریخ شاہد ہے اور دوسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ وہ لوگ جو ان کی رسالت پر ایمان لائے اور عقیدہ توحید اور بشریت رسول پر بھی قائم رہے تو اللہ نے ان اہل توحید کی حجت اور برہان کے لحاظ سے تائید کی بمقابلہ ان لوگوں کے جو مشرک ہوگئے اور جنہوں نے حضرت مسیح کہ الٰہ مانا ، ان کی والدہ کو الٰہیہ مانا یا روح القدس کو الٰہ مانا ، اور پھر ان اہل توحید کی تائید دین اسلام کے عقیدہ توحید سے بھی ہوئی اور دین مسیح ، دین اسلام کی شکل میں غالب ہوگیا ، تو یہ دوسری تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ اس اشارہ اور اس واقعہ سے مراد عبرت یہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی۔ یہ کہ مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار کرنا جو اس سورت کا محور ہے۔ کیونکہ مومنین ہی اللہ کے دین کے قیام کے ذمہ دار ہیں۔ یہی وارث ہیں رسالت آخرہ کے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اس عظیم مقصد کے لئے نکالا گیا ہے۔ ان کو چاہئے کہ وہ انہیں اور اپنا فریضہ حیات پورا کریں۔” جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے خطاسب کرتے ہوئے کہا تھا : کون ہے اللہ کی طرف بلانے میں میرا مددگار۔ اور حواریوں نے جواب دیا تھا : ” ہم ہیں اللہ کے مددگار “۔ اور آخرت کی نصرت اور فتح انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو اللہ کے مددگار اور اس کے دین کے خادم ہوتے ہیں۔ یہ اس سورت کی آخری پکار ہے۔ آخری چٹکی اور آخری اکساہٹ ہے۔ اس کا اپنا رنگ اور الگ ذائقہ ہے۔ اور یہ مثال اس سورت کے مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ ایک تاریخی مثال اور تاریخی رنگ۔

الجمعة 62:1

اس آغاز میں بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کررہی ہے۔ لیکن یہ کائنات جو تسبیح کررہی ہے اس میں سے جن چیزوں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اور اس کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہیں۔ سورت کا نام جمعہ ہے۔ اس میں یہ تعلیم ہے کہ جمعہ کی اہمیت کیا ہے ، اس دن تمام امور سے فارغ ہوکر اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور جمعہ کی نماز کے وقت لہو ولعب اور محنت وتجارت چھوڑ کر ، اللہ کے ذکر کی طرف آنا چاہئے۔ لوگ جمعہ کو چھوڑ کر اور خطبہ جمعہ چھوڑ کر جس مال تجارت کی طرف بھاگے ہیں ، اس کا مالک تو اللہ ہے ، جو بادشاہ مطلق ہے۔ دنیا کا یہ مال اس کے اختیار میں ہے اور وہ ” القدوس “ ہے۔ وہ مقدس ہے اور پاک ہے اور پوری کائنات اس کی پاکی اور تقدیس بیان کررہی ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس کی تقدیس چھوڑ کر لہو ولعب اور تجارت کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ وہ ” العزیز “ ہے ، یہودیوں کو جو دعوت مباہلہ دے رہا ہے ، وہی غالب ہے ، وہ سب لوگوں کو اٹھا کر ان سے حساب و کتاب کا انتظام کرتا ہے۔ اور وہ ” الحکیم “ ہے۔ جس نے عربوں جیسی ناخواندہ قوم سے ایک رسول اٹھایا جو آیات پڑھ کر سناتا ہے ، علم و دانش سکھاتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم خطبہ جمعہ کا مقصود ہے۔ غرض جو صفات یہاں آغاز میں لائی گئی ہیں ، سورت کا مضمون بھی انہی کی سمت پر ہے۔

الجمعة 62:2

کہا گیا ہے کہ عربوں کو امی اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ لوگ بالعموم لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے۔ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ مہینہ تو یوں ہے ، یوں ہے اور یوں ہے اور دس انگلیوں کے ساتھ تین بار اشارہ کیا اور فرمایا ہم ایک امی امت ہیں ، ہم حساب اور کتاب نہیں کرتے “۔ (جصاص) یہ بھی کہا گیا ہے جو لکھا پڑھا نہیں ہے اسے امی اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اس حال میں ہے جس طرح ماں سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ لکھنا پڑھنا تو بعد میں سیکھنے سے ہوتا ہے۔ اور ممکن ہے امی اس لئے کہا گیا ہو کہ یہودی دوسری اقوام کو ” گویم “ کہتے تھے۔ عبرانی زبان میں گویم اقوام کو کہتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ہم تو اللہ کی پسندیدہ قوم ہیں اور دوسرے لوگ عام اقوام یعنی امم ہیں۔ یوں وہ عربوں کو امی کہتے تھے۔ امی کا یہ مفہوم کہ وہ امہ کی طرف منسوب ہے زیادہ موزوں نظر آتا ہے بجائے اس کے کہ وہ ام کی طرف منسوب ہیں۔ یہودیوں کا یہ پختہ خیال تھا کہ نبی آخرالزمان ﷺ ان سے مبوث ہوگا اور ان کے اندر ، جو اختلافات ہیں ، ان کو وہ ختم کردے گا۔ اور دنیا میں جو دوسری اقوام کے مقابلے میں شکست کھاگئے ہیں ان کو فتح نصیب ہوگی اور ذلت کے مقابلے میں ان کی عزت حاصل ہوگی اور وہ اس نبی کی برکت سے عربوں پر فتح کی دعا کیا کرتے تھے۔ حکمت ربانی کا تقاضا یہ ہوا کہ نبی آخرالزمان ﷺ عربوں سے پیدا ہو۔ یعنی امبین غیر الیسود میں پوری انسانی قیادت کے لئے درکار تھی ، جیسا کہ اس سورت کے دوسرے پیرگراف میں آرہا ہے۔ اور جس طرح سورة صف میں گزرا کہ یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں۔ اور انہوں نے فکرونظر کی کوتاہی اور ٹیڑھ پن کو اپنا لیا تھا۔ اور انہوں نے اپنی طویل تاریخ میں اللہ کی امانت کے حوالے سے جو کچھ کیا اس کے پیش نظراب وہ اس قابل نہیں ہے کہ آخری امانت ان کے سپرد کی جائے۔ اس علاقے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ایک مرکز دعوت بنایا تھا اور دعوت کا آغاز بیت اللہ کے سایہ میں حضرت خلیل اللہ اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے فرمایا تھا۔ واذ یرفع ........................ العزیز الحکیم (921) (2 : 721۔ 921) ” اور یاد کرو ، ابراہیم اور اسماعیل کو جب اس گھر کی دیوار میں اٹھا رہے تھے ، تو دعا کرتے جاتے تھے۔ اے ہمارے رب ، ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے۔ تو سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اے رب ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اور اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک رسول اٹھائیو ! جو انہیں تیری آیات سنائے ، ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوار دے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے “۔ غیب کے پردوں کے پیچھے یہ دعا موجود تھی ، صدیاں پیچھے ، اللہ کے ہاں محفوظ تھی ، یہ درخواست ضائع نہیں ہوئی تھی اور یہ اس لئے رکھی گئی تھی کہ اللہ نے اس کے لئے اپنی حکمت کے مطابق جو وقت مقرر کیا تھا ، وہ ابھی نہ آیا تھا۔ جب اس کی حکمت کے مطابق مقرر کردہ وقت آگیا تو اللہ نے دعا منظور فرمائی اور رسول بھی آیا اور دعا کی منظوری بھی ہوگئی کیونکہ اللہ کے نظام قضا وقدر میں ہر کام اپنے وقت پر ہوتا ہے ، نہ آگے ہوتا ہے اور نہ پیچھے ہوتا ہے۔ غرض یہ درخواست اللہ کے نظام قضا وقدر کے مطابق حقیقت بن گئی۔ یہ درخواست انہی الفاظ میں یہاں منظور کی جاتی ہے جن میں حضرت ابراہیم نے کی تھی۔ حضرت ابراہیم کے الفاظ تھے : رسولا منھم .................... والحکمة (26 : 2) یہاں تک کہ حضرت ابراہیم نے اللہ کی حمد اور صفت میں یہ فرمایا تھا۔ انک انت ................ الحکیم یہی الفاظ یہاں بھی دہرائے گئے۔ وھوالعزیز الحکیم (26 : 3) رسول اللہ ﷺ سے خود ان کے بارے میں جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں۔ اور جب میری ماں کو حمل ٹھہرا تو انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا ہے ، جس کی وجہ سے شام کے علاقہ بصری کے محلات روشن ہوگئے “۔ (روایت ابن اسحاق جس کی سند کو ابن کثیر نے جید کہا ہے) ھوالذی .................... ضلل مبین (26 : 2) ”” وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اٹھای ، جو انہی اس کی آیات سناتا ہے ، ان کی زندگی سنورتا ہے ، انکو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے “۔ اور یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے امیوں میں خود انہی میں سے ایک رسول اٹھایا اور اسے کتاب دے کر انہیں بھی اہل کتاب بنا دیا۔ ان میں سے ایک رسول بنایا اور اس کی وجہ سے ان کا مقام و مرتبہ بھی بلند ہوگیا۔ انہیں امیت اور اممیت سے نکالا۔ یعنی ان پڑھ ہونے کے بجائے تعلیم یافتہ بنادیا اور عوامی قوم (گویم) ہونے کے بجائے ممتاز قوم بنادیا۔ ان کے حالات بدل دیئے اور وہ پوری دنیا کے ممتاز لوگ بن گئے۔ ویزکیھم (26 : 2) ” ان کی زندگیوں کو پاک کرتا ہے “۔ اسلام جو کچھ انہیں سکھاتا تھا وہ تزکیہ اور تطہیر ہی تھی۔ ضمیر و شعور کی تطہیر ، عمل اور طرز عمل کی تطہیر ، خاندانی زندگی کی تطہیر ، اجتماعی زندگی کی تطہیر ، اور نظریات کی ایسی تطہیر کہ تمام شرکیہ عقائد نکال کر صرف ایک عقیدہ توحید دے دیا۔ تمام باطل تصورات ختم کرکے صرف صحیح اور برحق عقیدہ توحید عطا کردیا۔ افسانوی افکار و عقائد کے بجائے واضح اور یقینی عقائد دے دیئے۔ اسی طرح اخلاقی طوائف الملوکی سے نجات دے کر ایمانی اخلاق کی سطح پر ان کو پہنچادیا۔ معیشت سے ناپاک سودی نظام کی جگہ عادلانہ رزق حلال کا طریقہ بتایا۔ غرض ایک ہمہ گیر تطہیر کا انتظام کیا ۔ اور ایک فرد ، ایک جماعت اور ظاہروباطن سب کی تطہیر کردی۔ انسان کو اس زمینی زندگی اور زمینی تصورات سے بلند کرکے ایک ایسے نورانی مقام تک بلند کردیا جو ربانی مقام ہے۔ اس مقام پر انسان کا معاملہ اللہ سے ہوگیا۔ یوں انسان اپنے آپ کو زمین کی ایک عاجز مخلوق سمجھنے کے بجائے ایک علوی مخلوق بن گیا۔ یویعلمھم ............ والحکمة (26 : 2) ” اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے “۔ یہ رسول ان کو کتاب کی تعلیم دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ امی بھی اہل کتاب ہوگئے۔ انہیں حکمت سکھاتا ہے اور اس پوری دنیا کے حقائق سے آگاہ کرتا ہے۔ چناچہ وہ تمام اشیا کی قیمت متعین کرنے میں صحیح اندازہ کرتے ہیں ، ان کی روح صحیح فیصلے کرتی ہے۔ وہ صحیح عمل اختیار کرتے ہیں اور اس سے بڑی دانائی اور نہیں ہے۔ وان کانوا .................... مبین (26 : 2) ” حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے “۔ ایسی جاہلیت جس کی تعریف حضرت جعفر ابن ابوطالب نے حبشہ کے نجاشی کو بتایا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قریش مکہ نے نجاشی کے پاس ایک سفارت بھیجی ، جو عمر ابن العاص اور عبداللہ ابن ابو ربیعہ پر مشتمل تھی۔ تاکہ وہ اس کے سامنے مہاجرین مسلمانوں کی بھیانک تصویر کھینچی اور اس کے ہاں اس کے موقف کو غلط رنگ میں پیش کریں تاکہ وہ ان کو اپنی مہمانی اور اپنے ہاں امانت سے نکال دے ، تو اس موقعہ پر حضرت جعفر نے فرمایا : ” بادشاہ وقت ! ہم ایک جاہل قوم تھے ، بتوں کو پوجتے تھے ، مردار کھاتے تھے ، فحاشی کرتے تھے ، صلہ رحمی نہ کرتے تھے ، پڑوسیوں کا کوئی خیال نہ رکھتے تھے ، ہم میں سے زور آور کمزور کو کھا جاتا تھا ، ایسے حالات میں تھے کہ اللہ نے ہم میں ایک رسول بھیج دیا۔ اس نے دعوت دی کہ ہم ایک ہی خدا کو پکاریں اور اس کی بندگی کریں ، ہم اس کے نسب کو جانتے ہیں ، اس کی صداقت سے واقف ہیں ، اس کی امانت اور عفت کے معترف ہیں۔ اس نے دعوت دی کہ ہم صرف اللہ وحدہ کو پکاریں اور اس کے علاوہ ہم جو پتھروں ، بتوں کی بندگی کرتے تھے ، انہیں ترک کردیں۔ وہ کہتا ہے تم سچ کہو ، امانت ادا کرو ، صلہ رحمی کرو ، پڑوسی کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرو ، اور حرام چیزوں اور خون ریزی سے بچو ، اس نے ہمیں ہر قسم کے فواحش سے روک دیا ہے ، جھوٹ سے روک دیا ہے۔ تیم کا مال کھانے سے روک دیا ہے۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے روک دیا ہے۔ حکم دیا ہے اللہ کی بندگی کریں اور کسی اور کو اس کے ساتھ شریک نہ کریں۔ وہ ہمیں نماز ، روزہ اور زکوة کا حکم دیتا ہے “۔ باوجود اس کے کہ وہ جاہلیت اور گمراہی میں کانوں تک ڈوبے ہوئے تھے اللہ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ اس نظریہ کے اٹھانے کے قابل ہیں۔ اس کے امین ہوں گے اور ان کے اندر صلاحیتیں موجود ہیں اور جدید دعوت کے لئے ضروری صلاحیت وہ رکھتے ہیں۔ جبکہ یہودیوں کی فطرت میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے اور مصر کی غلامی نے ان کو ناقابل اصلاح بنادیا ہے۔ ان کی نفسیات میں الجھن کجی اور انحراف پیدا ہوگیا ہے۔ اس لئے اب ان کی اصلاح ممکن نہیں ہے۔ نہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں درست ہوئے اور نہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہ لوگ درست ہوئے ، یہاں تک کہ اللہ نے ان پر لعنت اور غضب لکھ دیا اور وہ اس دنیا میں اللہ کے دین کے حامل نہ رہے اور قیامت تک ان سے یہ اعزاز چھن گیا۔ پھر اللہ کو اس بات کا بھی علم تھا کہ اس زمانے میں جزیرة العرب ہی دعوت اسلامی کے لئے بہترین مرکز کا کام کرسکتا تھا۔ اور پوری انسانیت کو جاہلیت کی گمراہی سے نجات دے سکتا تھا۔ کیونکہ دونوں بڑی شہنشاہوں نے تہذیب و تمدن کو بگاڑ دیا تھا۔ ان کی حکومت کو گھن لگ گیا لھا اور اندر سے ان کو کھوکھلا کردیا تھا اور حالت یہ تھی جس پر ڈیٹسن پر تبصرہ کرتا ہے۔ ” پانچویں اور چھٹی صدی میں دین دار دنیا ہلاکت اور بربادی کے قریب جاپہنچی تھی کیونکہ وہ عقائد ونظریات جو کسی تہذیب و تمدن کو جنم دیا کرتے ہیں وہ گر گئے تھے ، اور ان گرے ہوئے نظریات کی جگہ لینے کے لئے کوئی دینی نظریہ موجود نہ تھا۔ یوں نظر آتا تھا کہ جس تہذیب و تمدن کی تعمیر میں ، انسانیت کو چار ہزار سال تک محنت کرنی پڑی ، وہ ٹوٹنے والا ہے اور اس کا شیرازہ بکھرنے ہی والا ہے۔ اور انسانیت ایک بار پھر جہالت کے دور میں واپس جانے والی ہے۔ کیونکہ پوری دنیا میں قبائل ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے نظر آتے تھے۔ پوری دنیا میں کوئی قانون اور کوئی نظام نہ تھا۔ انسانی تمدن ایک وسیع درخت کی طرح تھا جس کی وسیع شاخیں پوری دنیا پر سایہ فگن تھیں لیکن یہ درخت جھک گیا تھا اور گھن نے اسے کھوکھلا کردیا تھا۔ ایسے ہی ہمہ گیر فساد کے اندر ایک ایسا شخص پیدا ہوا جس نے تمام انسانیت کو پھر سے مجتمع کردیا “۔ یہ شخص تھے حضرت محمد ﷺ ، اور یہ صورت حال انسانیت کی ، تو ایک یورپین مصنف کے نقطہ نظر سے تھی ، لیکن اسلامی زاویہ نگاہ سے وقت اس سے تاریک تر تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بلا شبہ جزیرة العرب سے اس بدوی امت کو اٹھایا۔ وہ قرآن وسنت لے کر اٹھی ، اس کے اندر صلاحیت موجود تھی۔ سب سے پہلے اس نے اپنی اصلاح کی ، اور پھر پوری دنیا کی تقدیر بدل دی۔ اللہ نے اس بدوی قوم کو رسول دیا۔ کتاب دی ، رسول اور کتاب نے ان کو پاک کردیا اور ان کو حکمت اور دانائی دی ، اگرچہ پہلے وہ گمراہ تھے۔

الجمعة 62:3

واخرین .................... الحکیم (26 : 3) ” اور ان دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں ، اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ یہ آخر ون کون ہیں ان کے بارے میں متعدد روایات آئی ہیں۔ امام بخاری نے روایت کی ہے ، عبدالعزیز ابن عبداللہ سے ، انہوں نے سلیمان ابن بلال سے ، انہوں نے ثور سے ، انہوں نے ابو الغیث سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ فرماتے ہیں ” ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر سورة جمعہ نازل ہوئی۔ واخرین ................ بھم (26 : 3) ” اور ان دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں “۔ تو صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اللہ کے رسول وہ کون تو حضور نے ان کے سوال کا جواب نہ دیا ، یہاں تک کہ تین بار آپ سے پوچھا گیا۔ ہم میں سلمان فارسی بھی موجود تھے۔ تو حضور نے اپنا دست مبارک سلمان فارسی پر رکھا اور پھر کہا ، ” اگر ایمان ثریا کے اندر بھی ہو تو ان لوگوں سے بعض لوگ یا ایک شخص اسے پالے گا “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں اہل ایران شامل ہیں۔ اس لئے مجاہد کہتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگوں میں وہ سب ہیں ، جنہوں نے نبی ﷺ کی تصدیق کی۔ ابن ابو حاتم نے روایت کی ہے ، اپنے والد سے ، انہوں نے ابراہیم ابن علاء زبیری سے ، انہوں نے ولید ابن مسلم سے ، انہوں نے ابو محمد عیسیٰ ابن موسیٰ سے ، انہوں نے ابوحازم سے ، انہوں نے سہل ابن سعد ساعدی سے ، وہ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا میری امت کے بعض لوگوں کی پشتوں کی پشتوں میں اسے مرد اور عورتیں ہوں گی جو جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے اور اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ واخرین ................ بھم (26 : 3) یعنی محمد ﷺ کے بعد آئندہ آنے والے لوگ۔ دونوں اقوال کی گنجائش ہے یعنی وہ لوگ جو عرب کے علاوہ ہیں اور وہ لوگ جو مسلمان ہوگئے تھے ، حضور ﷺ کے دور میں اور ان کی اولاد جو بعد میں پیدا ہوگی۔ ان آیات اور روایات میں اشارہ ہے کہ یہ امت آئندہ زمانوں اور زمین کے تمام حصوں میں مسلسل رہنے والی امت ہے ، اور اس نے اس ذمہ داری کو قیامت تک پورا کرنا ہے۔ اس آخری دین کی حامل یہ امت آخر زمانے تک رہے گی۔ وھوالعزیز الحکیم (26 : 3) ” اور اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ وہ قوی ہے ، اور کسی امت کو مختار بنانے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ حکیم ہے اور اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کس منصب کے لئے چنے گئے۔ اور متقدمین اور متاخرین میں سے لوگوں کو درجے دینا بھی اس کا فضل وکرم ہے۔

الجمعة 62:4

ذلک فضل .................... العظیم (26 : 4) ” یہ اس کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے “۔ اللہ کی جانب سے کسی امت ، کسی جماعت ، کسی فرد کو اس کام کے لئے چن لینا کہ وہ اس عظیم امانت کا حامل ہو ، اور اللہ کے نور اور فیض کا سرچشمہ ہو ، اور ایسا مرکز ہو ، جس پر زمین و آسمان ملتے ہوں ، یہ اختیارو انتخاب اللہ کا بہت بڑا فضل وکرم ہوتا ہے۔ اس سے بڑا فضل کہ اگر مومن اپنی جان اور مال اور اس دنیا کا سب کچھ بھی دے دے تو وہ اس سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس سے بڑا فضل کہ اگر مومن اپنی جان اور مال اور اس دنیا کا سب کچھ بھی دے دے تو وہ اس سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس راہ میں جدوجہد ، مشکلات ، جہاد غرض سب مشقتوں سے زیادہ قیمتی اور اہم۔ اللہ تعالیٰ مدینہ کی اسلامی جماعت اور ان کے بعد آنے والے لوگوں ، اور اسی راہ پر چلنے والوں کو یاد دلاتا ہے کہ یہ بہت بڑا فضل وکرم ہے تم پر ، کہ اس نے تمہیں اس عظیم مقصد کے لئے منتخب کیا ہے۔ تمہارے اندر رسول بھیجا ہے ، جو تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور علم و حکمت کا یہ سرمایہ آنے والی نسلوں کے لئے جمع کرتا ہے ، جو تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور علم و حکمت کا یہ سرمایہ آنے والی نسلوں کے لئے جمع کرتا ہے ، اور پہلی جماعت اسلامی کے کارہائے نمایاں بطور نمونہ اور مثال قائم کرتا ہے۔ اللہ مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے کہ یہ ہے عظیم فضل الٰہی جس کے مقابلے میں تمام دنیاوی واخروی انعامات ہیچ ہیں ، جبکہ اس کے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہر قسم کی مالی اور جانی قربانیاں بھی ہیچ ہیں بمقابلہ اس اعزاز اور فضل کبیر کے۔ اس کے بعد اللہ ان کو یقین دہانی کراتا ہے کہ یہودیوں کا دور اس کرہ ارض پر سے ختم ہوگیا ہے۔ اب وہ حاملین امانت الٰہیہ نہیں رہے۔ نہ ان کے دلوں میں یہ بات ہے اور نہ ان کے کردار میں یہ بات ہے کیونکہ اس امانت کو اٹھانے والے دل فقیہ ، صاحب ادراک ، مخلص اور باعمل دل ہوتے ہیں۔

الجمعة 62:5

مثل الذین ............ القوم الظلمین (26 : 5) ” جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا ، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا ہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا “۔ بنی اسرائیل کو توریت دی گئی اور وہ نظریہ اور شریعت کی امانت کے حامل بنے۔ لیکن انہوں نے۔ لم یحملوھا (26 : 5) ” انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا “۔ کیونکہ اس امانت کو ادراک تفقہ اور فہم و فراست اور حکمت و دانائی کے ساتھ اٹھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ضمیر کی دنیا میں اور عمل کی دنیا میں اس ذمہ داری کو قبول کرنا چھوڑ دیا تھا اور قرآن نے جس طرح بنی اسرائیل کی سیرت کا ریکارڈ پیش کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس امانت کی کوئی قدر نہ کی۔ وہ صرف ایک بوجھ اٹھا رہے تھے۔ اسامانت اور دین کے مقاصد پورے نہ کررہے تھے۔ یہ نہایت ہی حقیر تصویر ہے ، ان کو جو یہاں قرآن کریم نے کھینچی ہے ، لیکن یہ تصویر ان کی حقیقت کا اظہار نہایت ہی عمدہ طریقے سے کرتی ہے۔ بئس مثل .................... الظلمین (26 : 5) ” اس سے بھی زیادہ بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ، ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہی دیتا “۔ اور جن لوگوں کو یہ آخری امانت دی گئی ہے ، وہ اگر یہی رویہ اختیار کرتے ہیں تو ان کی مثال بھی ایسی ہی ہے وہ سب لوگ جن کو دینی امانت دی گئی اور وہ اس کا حق ادا نہیں کرتے۔ ان کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ مسلمان جن پر صدیاں گزر گئیں اور وہ مسلمانوں کے صرف نام اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کے اندر مسلمانوں کے اعمال نہیں ہیں ، خصوصاً وہ لوگ جو قرآن اور کتب اسلامی کو پڑھتے ہیں اور وہ فرائض ادا نہیں کرتے جو ان میں ہیں۔ یہ سب لوگ ایسے ہی ہیں جس طرح گدھے پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ ہمارے دور میں ایسے لوگ بہت ہیں۔ مسئلہ کتابوں اور تدریس وتعلیم کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ عمل اور ذمہ داریاں اٹھانے کا ہے۔ یہودیوں کا زعم یہ تھا اور اب بھی ان کے اندر یہ زعم موجود ہے کہ وہ اللہ کی مختار قوم ہیں ، پسندیدہ اور برگزیدہ ! اور یہ کہ وہ اللہ کے محبوب ہیں بمقابلہ تمام دوسری اقوام کے۔ جبکہ دوسری اقوام گویم ہیں یا امی ہیں یا اممی ہیں۔ لہٰذا ان پر اپنے دن کے احکام پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے۔ یہ گویم کے لئے ہے۔ وقالوا لیس ................ سبیل اگر ہم دوسری اقوام کے لوگوں پر کوئی زیادتی کریں تو ہم پر مواخذے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے دعوے وہ کرتے تھے۔ جن پر کوئی دلیل نہ تھی۔ یہاں اللہ ان کو دعوت مباہلہ دیتا ہے۔ دعوت مباہلہ ان کو بھی دی گئی اور نصاریٰ کو بھی۔

الجمعة 62:6

قل یایھا الذین .................... کنتم تعملون (8) (26 : 6 تا 8) ” ان سے کہو ، ” اے لوگو جو یہودی بن گئے ہو ، اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمناکرو۔ اگر تم اپنے اس زعم میں سچے ہو “۔ لیکن یہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے اپنے ان کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کرچکے ہیں ، اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ ان سے کہو ” جس موت سے تم بھاگتے ہو ، وہ تو تمہیں آکر رہے گی۔ پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاﺅ گے جو پوشیدہ وظاہر کا جاننے والا ہے ، اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو “۔ مباہلہ کے معنی یہ ہیں کہ فریقین آمنے سامنے کھڑے ہوجائیں اور دونوں مل کر دعا کریں کہ اے اللہ ہم دونوں میں سے جو برسرباطل ہے ، اسے ہلاک کردے۔ رسول اللہ ﷺ نے جن جن لوگوں کو مباہلہ کے لئے دعوت دی وہ ڈر کر سامنے نہیں آئے۔ کسی نے بھی حضور اکرم کی دعوت مباہلہ قبول نہیں کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے دل ہی دل میں اسلام کی حقانیت کے قائل تھے۔ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ سچے ہیں اور یہ دین حقیقی دین ہے۔ امام احمد نے روایت کی ہے اسماعیل ابن یزید زرقی سے ، انہوں نے ابو یزید سے ، انہوں نے فرات سے ، انہوں نے عبدالکریم ابن مالک جزری سے ، انہوں نے عکرمہ سے ، انہوں نے ابن عباس ؓ سے کہ ابوجہل ملعون نے یہ کہا کہ اگر میں نے محمد کو خانہ کعبہ میں دیکھا تو میں اس پر حملہ کردوں گا یہاں تک کہ میں اس کی گردن دبادوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اس نے ایسا کیا ہوتا تو فرشتے اسے اعلانیہ پکڑ لیتے اور اگر یہودی موت کی تمنا کرتے تو وہ مرجاتے۔ اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے کہ جہنم میں ان کے مقامات کیا ہیں اور جن لوگوں کو رسول اللہ ﷺ نے دعوت مباہلہ دی تھی اگر وہ نکلتے تو جب واپس آتے تو نہ ان کا مال ہوتا اور نہ ان کے اہل و عیال موجود ہوتے۔ (بخاری ، ترمذی) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آیت ان کے لئے مباہلے کا چیلنج نہ ہو ، محض چیلنج ہو۔ کیونکہ ان کا زعم تھا کہ وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اللہ کے محبوب اور دوست ہیں تو کیوں نہیں جلدی کرتے کہ اللہ کے ہاں انعامات پائیں۔ دوست تو دوست کی ملاقات کے لئے بےتاب ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان کے اس دعوے پر تبصرہ کیا گیا کہ یہ جھوٹے ہیں اور جو دعویٰ کر رے ہیں ان میں وہ سچے نہیں ہیں۔ ان کو یہ یقین نہیں ہے کہ انہوں نے دنیا میں آخرت کے لئے کوئی اچھا عمل کیا ہے ، جس پر ان کو اجروثواب ملنے والا ہے۔ انہوں نے تو برے کام ہی آگے بھیجے ہیں ، جن کی وجہ سے وہ موت سے بہت ڈرتے ہیں۔ اور جس شخص کے پاس زاد راہ نہ ہو ، وہ سفر پر نہیں نکلتا۔

الجمعة 62:7

ولا یتمنونہ ................ بالظلمین (26 : 7) ” لیکن یہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے اپنے ان کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کرچکے ہیں ، اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے “۔ اب آخری دور میں موت کی حقیقت ان کو بتادی جاتی ہے۔ یہ جو موت سے ڈرتے ہیں اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ موت تو ایک قطعی امر ہے اور اس سے کوئی ڈر نہیں ہے۔ کوئی مضر نہیں ہے ، موت کے بعد تو اللہ کی طرف جانا ہے ، اور پھر اللہ کے ہاں حساب و کتاب دینا ہے ، جس میں کوئی شک نہیں ہے۔

الجمعة 62:8

قل ان .................... تعملون (26 : 8) ” ان سے کہو ، ” جس موت سے تم بھاگتے ہو ، وہ تو تمہیں آکر رہے گی۔ پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاﺅ گے جو پوشیدہ وظاہر کا جاننے والا ہے ، اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو “۔ یہ ایک توجہ دلاﺅ نوٹس ہے ، مسلمانوں کو ، اور غیر مسلموں سب کو کہ ایک حقیقت کو اپنے دل و دماغ میں تازہ کرلو۔ اور لوگ اس اٹل حقیقت کو بھول جاتے ہیں ، یا بھلانے کی کوشش کرتے ہیں ، موت تو آنے والی ہے۔ یہ زندگی ختم ہونے والی ہے۔ اس دنیا میں تم جس قدر اس سے بھاگو ، تم موت کے منہ میں پہنچ جاﺅ گے۔ لہٰذا کوئی جائے پناہ اللہ کے سوا نہیں ہے ، وہاں حساب و کتاب دینے سے کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ طبری نے اپنے معجم میں معاذ ابن محمد ھذلی کی حدیث روایت کی ہے۔ یونس سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے حضرت سمرة سے ، مرفوع صورت میں کہ ” جو شخص موت سے بھاگتا ہے ، اس کی مثال لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ مانگ رہی تھی ، تو وہ بھاگنے لگی یہاں تک کہ بھاگتے بھاگتے تھک گئی اور اس کے لئے بھاگنا ممکن نہ رہا تو وہ اپنے سوراخ میں جا گھسی تو وہاں زمین نے اس سے کہا : ” اے لومڑی میرا قرضہ ؟ “ اب اس سورت کا آخری مقطع آتا ہے او یہ جمعہ کی نماز کے بارے میں ہے ، یہ اس موقعہ کی نسبت سے جو واقعہ ہوا شاید ایسا واقعہ ایک سے زائد مرتہ ہوتا ہوگا کیونکہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہوتا رہتا تھا۔

الجمعة 62:9

جمعہ کی نماز بغیر جماعت کے نہیں ہوسکتی ، اس میں یہ بات لازمی ہے کہ مسلمان اس میں جمع ہوں اور خطبہ جمعہ سنیں اور اس خطبے میں مسلمانوں کو دینی تعلیم دی جائے۔ یہ مسلمانوں کا ایک دینی اور تنظیمی اجتماع ہے ، جس میں دین اور دنیا اور آخرت سب کو ایک ہی سلسلہ اجتماع میں جمع کردیا گیا ہے اور یہ سب امور عبادت کا حصہ ہیں۔ نماز جمعہ سے اسلام کا اجتماعی نظریہ اور نظام بڑی خوبی سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں بیشمار احادیث وارد ہیں جن میں جمعہ کی فضیلت ، اس کی تیاری ، غسل ، کپڑوں کی صفائی اور خوشبو لگانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اذا جاء احدکم الجمعة فلیغتسل ” جب تم میں کوئی جمعہ کو آئے تو اسے چاہئے کہ وہ غسل کرے “۔ اصحاب سنن اربعہ نے اوس ابن اوس ثقفی کی حدیث نقل کی ہے۔ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے نا اور جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوشبو لگائی ، اگر اس کو دستیاب ہو ، اور اچھے کپڑے پہنے ، پھر وہ مسجد کی طرف نکلا اور اگر نماز (نفل) پڑھنا چاہا ، پڑھے اور مسجد میں کسی کو اذیت نہ دی۔ اس کے بعد وہ مسجد میں بیٹھا ، یہاں تک کہ امام نکلا اور اس نے نماز پڑھائی تو یہ جمعہ اگلے جمعے تک کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔ “ یایھا الذین .................... ذروا البیع (26 : 9) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، جب پکارا جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو “۔ یعنی زندگی کی تمام سرگرمیاں بند کردو ، اور ذکر الٰہی میں مصروف ہوجاﺅ۔ “ ذلکم ................ تعلمون (26 : 9) ” یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔ “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ زندگی کی تمام دلچسپیوں کو ترک کرکے ذکر الٰہی میں تھوڑا سا وقت گزارو ، یہاں معاشی سرگرمیاں چھوڑ کر۔ واسعوا الی ذکر اللہ (26 : 9) ” اللہ کے ذکر کی طرف سعی کرو “ کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ سے پہلے ذکروفکر میں مشغول ہوجاﺅ۔ خالص ذکر الٰہی۔ اور اپنا تعلق اس وقت میں عالم بالا کے ساتھ جوڑ دو ۔ اس طرح تمہیں قلبی تطہیر نصیب ہوگی اور اس ذکر کے نتیجے میں دل پر عالم بالا کی معطر خوشبو اور معطر باد نسیم کے جھونکے اثر چھوڑیں گے۔ اور پھر تلاش معاش میں بھی ذکر الٰہی اور فضل الٰہی :

الجمعة 62:10

فاذ قضیت ........................ تفلحون (26 : 01) ” پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاﺅ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے “۔ یہ ہے اسلامی نظام کا توازن۔ یعنی زمین ضر ضروریات زندگی کا توازن۔ مثلاً کام کاج اور تلاش معاش اور روح کا ذکر الٰہی میں مشغول کرنا اور ایک وقت کے لئے تلاش معاش کی سرگرمیوں سے نکل کر عزات نشیں ہوکر ذکر وفکر میں مشغول ہونا ، قلبی زندگی کے لئے یہ ضروری ہے اور اس قلبی اور روحانی بالیدگی کے بغیر کوئی شخص اس عظیم امانت کا حق ادا نہیں کرسکتا جو ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے اور ذکر الٰہی تلاشمعاش کے دوران بھی ضروری ہے۔ اور تلاش معاش کے اندر بھی اگر ذکر وفکر ہو تو یہ تلاش معاش عبادت بن جاتا ہے لیکن تلاش معاش کے دوران ذکر وفکر کے علاوہ ایک وقت صرف ذکر وفکر کے لئے خالص بھی ضروری ہے۔ جس میں اور کوئی کام نہ ہو جس طرح ان دو آیات میں اشارہ ہے۔ حضرت عراک ابن مالک ؓ جب جمعہ کی نماز پڑھتے تھے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر یہ فرماتے ہیں۔ اے اللہ میں نے آپ کی پکار کی تعمیل کردی اور فرض نماز ادا کردیا اور اب میں مسجد سے نکل رہا ہوں جس طرح تو نے حکم دیا ہے ، اے اللہ مجھے اپنا فضل نصیب کر۔ آپ خیرالرازقین ہیں (ابن ابو حاتم) ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ حکم الٰہی کو کس سنجیدگی سے لیا کرتے تھے۔ کس قدر سادگی سے ، کیونکہ ان کے دل میں شعور تھا کہ ، قرآن اللہ کے احکام پر مشتمل ہے اور مسلمانوں نے اس کی تعمیل کرنی ہے۔ صحابہ کرام کا یہ سادہ ادراک ، سنجیدہ طرز عمل اور نہایت ہی سادگی سے رب تعالیٰ سے ہمکلامی ہی وہ عوامل تھے جن کی وجہ سے وہ اس قدر بلند مقام تک پرواز کرگئے ، حالانکہ وہ جاہلیت سے نکل کر آئے تھے ، اور جاہلیت کی عادات اور میلانات ان کو ہر وقت اپنی طرف کھینچتے تھے۔ اور جاہلیت کی ایک عادت کا نمونہ اس سورت کی آخری آیات میں پیش کیا جاتا ہے۔

الجمعة 62:11

واذاراو ........................ الرزقین (26 : 11) ” اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا۔ ان سے کہو ، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ سب سے بہتررزق دینے والا ہے “۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ ایک بار جب ہم نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک قافلہ آگیا ، جس میں کھانے کا سامان تھا۔ لوگ قافلے کی طرف لپک گئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو آدمی رہ گئے۔ ان میں حضرت ابوبکر اور عمر ؓ تھے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ واذا ........................ وترکوک قائما (26 : 11) اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا “۔ آیت میں اشارہ ہے کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے ، وہ اس لہو اور تجارت سے بہتر ہے اور یہ بھی یہاں صراحت کے ساتھ بتایا کہ اللہ بہترین رزق دینے والوں میں سے ہے۔ واللہ خیر الرزقین (26 : 11) ” اللہ بہتر رزق دینے والا ہے “۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بدوی عربی معاشرے کی تعلیم وتربیت کے لئے اسلام نے کس قدر جدوجہد کی ، اور کس طرحان لوگوں سے صحابہ کی وہ جماعت تیار کردی جس نے انسانی تاریخ میں ایک ریکارڈ کردیا۔ پوری انسانی تاریخ میں جس کی مثال نہیں ہے اور ان کی زندگیوں میں ان لوگوں کے لئے ایک نمونہ ہے جو زمانہ مابعد میں دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے کس قدر صبرومصابرت سے کام لیا ، اور اسلامی انقلاب کی راہ میں پیش آنے والی کمزوریوں ، نقائص ، واماندگیوں اور لغزشوں پر کس طرح صبر کیا اور ان کو دور کیا۔ آج ہم بھی اسی طرح اپنی اصلاح کرسکتے ہیں۔ یہ نفس انسانی اپنے اندر خیر کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور شر کی بھی۔ اس کے اندر یہ صلاحیت بھی ہے کہ روحانی قوت اور روحانی اور قلبی صفائی کے اعلیٰ ترین مدارج تک پہنچ جائے جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ لیکن اس کے لئے صبروثبات ، فہم وادراک ، ثابت قدمی اور استقامت اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ گھبرا کر انسان نصف راستے سے واپس ہوجائے۔ واللہ المستعان علی ماتصفون۔