Fi Zilal al-Quran — المنافقون 63:1 – القلم 68:52
Contents
- المنافقون 63:1
- المنافقون 63:2
- المنافقون 63:3
- المنافقون 63:4
- المنافقون 63:5
- المنافقون 63:6
- المنافقون 63:7
- المنافقون 63:8
- المنافقون 63:9
- المنافقون 63:10
- المنافقون 63:11
- التغابن 64:1
- التغابن 64:2
- التغابن 64:3
- التغابن 64:4
- التغابن 64:5
- التغابن 64:6
- التغابن 64:7
- التغابن 64:8
- التغابن 64:9
- التغابن 64:10
- التغابن 64:11
- التغابن 64:12
- التغابن 64:13
- التغابن 64:14
- التغابن 64:15
- التغابن 64:16
- التغابن 64:17
- التغابن 64:18
- الطلاق 65:1
- الطلاق 65:2
- الطلاق 65:3
- الطلاق 65:4
- الطلاق 65:5
- الطلاق 65:6
- الطلاق 65:7
- الطلاق 65:8
- الطلاق 65:9
- الطلاق 65:10
- الطلاق 65:11
- الطلاق 65:12
- التحريم 66:1
- التحريم 66:2
- التحريم 66:3
- التحريم 66:4
- التحريم 66:5
- التحريم 66:6
- التحريم 66:7
- التحريم 66:8
- التحريم 66:9
- التحريم 66:10
- التحريم 66:11
- التحريم 66:12
- الملك 67:1
- الملك 67:2
- الملك 67:3
- الملك 67:4
- الملك 67:5
- الملك 67:6
- الملك 67:7
- الملك 67:8
- الملك 67:9
- الملك 67:10
- الملك 67:11
- الملك 67:12
- الملك 67:13
- الملك 67:14
- الملك 67:15
- الملك 67:16
- الملك 67:17
- الملك 67:18
- الملك 67:19
- الملك 67:20
- الملك 67:21
- الملك 67:22
- الملك 67:23
- الملك 67:24
- الملك 67:25
- الملك 67:26
- الملك 67:27
- الملك 67:28
- الملك 67:29
- الملك 67:30
- القلم 68:1
- القلم 68:2
- القلم 68:3
- القلم 68:4
- القلم 68:5
- القلم 68:6
- القلم 68:7
- القلم 68:8
- القلم 68:9
- القلم 68:10
- القلم 68:11
- القلم 68:12
- القلم 68:13
- القلم 68:14
- القلم 68:15
- القلم 68:16
- القلم 68:17
- القلم 68:18
- القلم 68:19
- القلم 68:20
- القلم 68:21
- القلم 68:22
- القلم 68:23
- القلم 68:24
- القلم 68:25
- القلم 68:26
- القلم 68:27
- القلم 68:28
- القلم 68:29
- القلم 68:30
- القلم 68:31
- القلم 68:32
- القلم 68:33
- القلم 68:34
- القلم 68:35
- القلم 68:36
- القلم 68:37
- القلم 68:38
- القلم 68:39
- القلم 68:40
- القلم 68:41
- القلم 68:42
- القلم 68:43
- القلم 68:44
- القلم 68:45
- القلم 68:46
- القلم 68:47
- القلم 68:48
- القلم 68:49
- القلم 68:50
- القلم 68:51
- القلم 68:52
المنافقون 63:1
یہ رسول اللہ کے پاس آتے تھے۔ آپ کے سامنے یہ لوگ آپ کی رسالت پر ایمان کی شہادت دیتے تھے ، لیکن دل سے یہ شہادت نہ ہوتی۔ بطور تقیہ یہ شہادت دیتے ، تاکہ ان کی حقیقت مسلمانوں سے چھپ جائے ، لیکن درحقیقت یہ جھوٹی شہادت دے رہے تھے۔ محض دھوکے کے لئے آتے۔ یہ اس کے ذریعہ اپنے آپ کو چھپاتے۔ چناچہ اللہ فرماتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ لیکن اس موقعہ پر اللہ حضور کی رسالت کی تصدیق خود فرماتا ہے اور منافقین کی جھوٹ کی شہادت دیتا ہے۔
واللہ ................ لرسولہ (36 : 1) ” اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو “۔ اور واللہ .................... لکذبون (36 : 1) ” اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں “۔
یہاں انداز تعبیر میں نہایت احتیاط ملحوظ رکھی گئی ہے۔ منافقین کے قول کی تکذیب سے پہلے رسالت محمدی کی تصدیق فرماتا ہے۔ اگر یوں نہ ہوتا تو صرف یہ بات آتی کہ منافقین کی شہادت جھوٹی ہے۔ اور شہادت تو رسالت سے متعلق فرماتا ہے۔ اور قرآن کا مقصد یہ نہ تھا۔” ان کی شہادت سچی ہے لیکن وہ اپنی شہادت میں جھوٹے ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ شہادت سچی ہے لیکن وہ اقرار رسالت میں جھوٹے ہیں۔ ضمیر کے مطابق شہادت نہیں دے رہے۔
المنافقون 63:2
اتخذو ................ جنة (36 : 2) ” انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایمان کے بارے میں جب ذرا بھی شبہ پیدا ہوتا تو وہ قسمیں اٹھانا شروع کردیتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب معلوم ہوتا کہ انہوں نے فلاں فلاں سازش میں حصہ لیا۔ یا جب ان کی کوئی تنقید مسلمانوں تک پہنچ جاتی۔ جب بھی ان کی کوئی ایسی بات کھلتی وہ قسمیں شروع کردیتے۔ یوں وہ اپنی صفائی بیان کردیتے۔ اور اس ڈھال کے پیچھے اپنے آپ کو بچا لیتے ، تاکہ آئندہ وہ اپنی سازشیں اور خفیہ تدابیر جاری رکھ سکیں اور ان میں جو بیوقوف تھے ان کو مزید دھوکہ دے سکیں۔
فصدوا ................ اللہ (36 : 2) ” اس طرح وہ اللہ کے راستے سے رکتے اور روکتے ہیں “۔ یعنی خود اپنے نفوس کو بھی روکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ اور سچائی کے ساتھ یقین نہیں کرتے۔ اور اس سلسلے میں جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔
انھم .................... یعملون (36 : 2) ” یعنی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔ آخر جھوٹ ، فریب اور گمراہ کرنے سے بڑھ کر اور کیا برائی ہوگی۔
المنافقون 63:3
سوال یہ ہے کہ یہ لوگ یہ کام کرتے ہیں ؟ جھوٹی شہادت ، جھوٹی قسمیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا عمل نامشکور کیوں کرتے ہیں ؟ یہ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا ہے۔ یعنی اسلام کو اچھی طرح جاننے اور دیکھنے کے بعد انہوں نے کفر پر چلنے کا ارادہ کرلیا ہے۔
ذلک بانھم ................ یفقھون (36 : 3) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لاکر پھر کفر کیا ، اس لئے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے “۔
انہوں نے اسلام کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔ لیکن اعلان کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کوئی سمجھ دار ، باذوق اور زندہ دل انسان یہ نہیں کرسکتا ایمان لانے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جائے۔ کون ایسا ہوسکتا ہے جو ذوق رکھتا ہو ، معرفت رکھتا ہو۔ جو اس کائنات کے ایمانی تصور سے واقف ہو ، جس نے ایمانی زندگی کا مزہ چکھا ہو ، اور ایمان کی پاکیزہ فضا میں زندگی بسر کی ہو ، ایمان کی روشنی میں سیدھی راہ چلاہو ، جو ایمان کے سایوں میں رہاہو ، اور پھر وہ کفر کی سیاہ رات اور کفر کی گرم اور جھلسادینے والی فضاﺅں میں جانا پسند کرے۔ یہ حرکت وہی شخص کرسکتا ہے جس کا ذوق نہ ہو ، جس کا دل حسد سے بھرا ہوا ہو۔ جس کے اندر کوئی احساس و شعور نہ ہو اور جو سیاہ سفید میں تمیز نہ کرسکتا ہو۔
فطبع ................ یفقھون (36 : 3) ” اس لئے ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی ہے ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے “۔
اس کے بعد ان کی ایک نہایت منفرد تصویر پیش کی جاتی ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کر حقارت ، نفرت پر بےاختیار ہنسی آتی ہے کہ یہ عجیب کندہ ناتراش ہیں۔ اندھے اور بہرے ہیں۔ بےعقل ، خالی الدماغ ، اندھے ، بزدل ، سخت بخیل اور حاسد بلکہ وہ کندہ ناتراش کی طرح ایک دیوار کے ساتھ چنے ہوئے ہیں۔
المنافقون 63:4
واذا ........................ یوفکون (36 : 4) ” انہیں دیکھو تو ان کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے ہو مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیئے گئے ہوں۔ ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ پکے دشمن ہیں ، ان سے بچ کر رہو ، اللہ کی مار ان پر ، یہ کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں “۔
یہ اس طرح ہیں جس طرح مضحکہ خیز حثے ہوتے ہیں۔ انسان معلوم ہی نہیں ہوتے۔ جب یہ خاموش ہوتے ہیں تو کندہ ناتراش نظر آتے ہیں اور جب یہ بولتے ہیں تو ان کے الفاظ ہر قسم کے مفہوم ، احساس ، اثر یا حقیقت سے خالی ہوتے ہیں ، تم ان کی بات سنتے ہو ، یوں نظر آتے ہیں کہ گویا لکڑیاں ہیں جن کو دیوار کے سہارے سے کھڑا کردیا گیا ہے (یعنی یہ بےجان ہیں اور ماسوائے آواز کے ان میں زندگی کی کوئی علامت نہیں) ۔
ایک طرف تو وہ ایسے جامد ، نافہم اور بےروح ہیں اور دوسری طرف سے یہ اسی قدر چوکنے ہیں اور ڈرپوک ہیں اور ہر وقت کانپتے ہی رہتے ہیں اور انہیں ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں راز فاش نہ ہوجائے۔
یحسبون .................... علیھم (36 : 4) ” ہر زور کی آواز یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں “۔ ان کو تو علم ہے کہ وہ منافق ہیں۔ اور ان کے اوپر نفاق کا مہین پردہ پڑا ہوا ہے ، جو چالاکی ، قسموں اور احتیاطوں کی وجہ سے ابھی تک فاش نہیں ہوا۔ ہر وقت وہ سہمے رہتے ہیں کہ یہ پردہ چاک ہی نہ ہوجائے اور راز فاش ہی نہ ہوجائے ۔ تصویر ایسی کھینچی گئی ہے کہ ہر وقت ادھر ادھر دیکھتے رہتے ہیں۔ ہر حرکت ، ہر آواز اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر حرکت ان پر دار ہے ، اور ہر آواز ان کی پکار ہے۔ یہ عجیب تصویر ہے ان کی اگر معاملہ فہم وادراک کا ہو ، تو وہ لکڑی کے بت ہیں۔ کوئی سمجھ ، کوئی روح ، کوئی شعور اور ایمان کا اثر ان پر نہیں ہے۔ اور اگر معاملہ ثابت قدمی اور خوف کا ہو تو وہ اس باریک ٹہنی کی طرح ہیں جو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ جھلکتی رہتی ہے۔ ہر وقت کپکپاتی رہتی ہے۔ اور اپنی ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ وہ رسول اللہ کے دشمن نمبر ایک ہیں۔
ھم العدو فاحذرھم (36 : 4) ” یہ پکے دشمن ہیں ان سے بچ کر رہو “۔ یہ اسلامی محاذ کے اندر گھسے ہوئے خفیہ دشمن ہیں۔ اسلامی صفوں کے اندر ہیں ، اس لئے یہ خارجی دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔
فاحذرھم (36 : 4) ” ان سے بچ کر رہو “۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود حضور اکرم ﷺ کو حکم نہیں دیا گیا کہ ان کو قتل کرو ، ان کو دوسرے انداز سے پکڑنا مطلوب تھا۔ اور اس میں حکمت ، یقین ، رواداری کے ساتھ ان کی سازشوں سے بچنا مطلوب تھا۔ (اس کا ایک نمونہ ابھی آرہا ہے)
قتلھم ................ یوفکون (36 : 4) ” اللہ کی مار ان پر یہ کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں “۔ یہ جہاں بھی جائیں اللہ ہی ان کے ساتھ جنگ کرنے والا ہے۔ اور اللہ جس کے خلاف دعا کرے ، تو یہ حکم تصور ہوتا ہے کہ گویا فیصلہ ہوگیا کہ یہ ختم ہوگئے ، قتل ہوگئے۔ اور یہی ہوا پہلے مدینہ اور پھر جزیرة العرب میں۔
مزید بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی اندرونی حالت کیا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف خفیہ طور پر کیا سازشیں کرتے ہیں اور آپ کے سامنے کس طرح جھوٹ بولتے ہیں ان کی اہم صفات یہ ہیں :
المنافقون 63:5
سلف صالحین میں بیشمار لوگوں کی رائے یہ ہے کہ یہ آیات عبدالہل ابن ابی ابن سلول کے بارے میں ہیں۔ علامہ ابن اسحاق نے غزوہ بنی الصطلق کے ذیل میں اس کی تفصیلات دی ہیں۔ یہ کو اقعہ بنی المصطلق کے پانی کے چشمے المریسیع پر سن 6 ہجری میں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پانی پر نزول فرمایا تھا ، غزوہ کے واقعات کے بعد واقعہ یوں ہوا کہ لوگ پانی بھرنے کے لئے اس پانی پر جمع ہوگئے۔ حضرت عمر ؓ کے ساتھ ایک شخص ملازم تھا جو بنی غفار قبیلے کا تھا اور اس کا نام جبجا ابن مسعود تھا۔ یہ آپ کے گھوڑے کو چلاتا تھا۔ یہ جبجا اور ایک دوسرے شخص سنان ابن وبر الجہنی بنی عون ابن الخزرج کا حلیف ایک دوسرے سے آگے ہونے کی وجہ سے پانی پر لڑ پڑے۔ جہنی نے آواز دی ” اے قوم انصار “۔ اور جبجاہ نے آواز دی ” اے مہاجرین “۔ اس پر عبداللہ ابن ابی ابن سلول سخت غصے میں آگیا۔ اس وقت اس کی قوم کے کچھ لوگ اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں حضرت زید بن رقم ایک نوجوان لڑکے بھی تھے۔ عبداللہ ابن ابی ابن سلول نے کہا اچھا ، یہاں تک بات پہنچ گئی ، اب یہ لوگ ہمارے علاقے میں زیادہ ہوکر ہمیں یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ خدا کی قسم قریش کے ان گرے پڑے لوگوں اور ہماری مثال ایسی ہے جیسے کسی نے کہا : کتے کو پالو کہ وہ تمہیں کاٹے ، خدا کی قسم اگر ہم مدینہ گئے تو ہم میں سے جو زیادہ عزت دار ہوگا وہ ذلیل کو نکال دے گا۔ اس کے بعد اس نے حاضرین مجلس سے خطاب کرکے کہا۔ یہ تو کام تو تم نے اپنے ساتھ خود کیا ہے ۔ تم نے ان کو اپنے علاقے میں آنے دیا۔ تم نے ان کے ساتھ اپنے مال تقسیم کیے۔ خدا کی قسم اگر تم نے ان سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے ہوتے تو وہ دوسرے علاقوں کا رخ کرتے۔ یہ باتیں زید ابن ارقم نے سن لیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور یہ پوری باتیں آپ کو سنائیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ رسول اللہ اپنے دشمنوں سے فارغ ہوگئے تھے۔ جب حضور کے سامنے یہ بات کی گئی تو حضرت عمر ؓ موجود تھے۔ تو حضرت عمر ؓ نے کہا حضور عبادا بن بشر کو حکم دیں کہ اسے قتل کردے۔ اس پر حضور نے فرمایا : ” عمر اس پر تو لوگ یہ کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرنے لگا ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا البتہ فوراً کوچ کا اعلان کردو “۔ یہ ایسا وقت تھا کہ اس میں رسول اللہ کبھی سفر نہ فرماتے تھے۔ لوگ نکل پڑے۔ عبداللہ ابن ابی ابن سلول حضور اکرم کے پاس گیا۔ یہ اس وقت جب اسے معلوم ہوگیا کہ زید ابن ارقم نے پوری بات حضور اکرم ﷺ تک پہنچا دی ہے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ نہ میں نے یہ بات کی ہے اور نہ اس بارے میں کوئی لفظ کہا ہے۔ یہ عبداللہ ابن ابی اپنی قوم میں بڑا معزز اور ذی مرتبہ تھا۔ اس کے ساتھ جو صحابہ کرام انصار سے آئے تھے۔ انہوں نے کہا رسول خدا ممکن ہے یہ لڑکا بات کو پوری طرح نہ سمجھا ہو ، یا وہم سے اس نے ایک بات سے کچھ اور سمجھا ہو۔ اور بات اسے پوری طرح یاد نہ رہی ہو۔ یہ لوگ عبداللہ ابن ابی ابن سلول پہ مہربان تھے اور اس کے طرفدار تھے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب حضور نے کوچ کیا اور چل پڑے تو اسید ابن حضیر آئے اور رسول اللہ ﷺ کو نبوت کا سلام کیا ، اور پھر کہا اللہ کے نبی آپ تو ایک ایسے وقت میں کوچ کررہے ہیں جو ایک نیاوقت ہے۔ ایسے اوقات میں آپ نے کبھی کوچ کا حکم نہیں دیا۔ رسول اللہ نے فرمایا کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے ساتھی نے کیا کہا۔ تو انہوں نے کہا ” حضور وہ کون ساتھی ہے تو آپ نے فرمایا (عبداللہ ابن ابی) ۔ تو انہوں نے کہا اس نے کیا کہا ہے ؟ تو حضور نے فرمایا کہ ” اس کا خیال ہے کہ جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت دار آدمی ذلیل لوگوں کو نکال دے “۔ تو انہوں نے کہا رسول اللہ تو پھر آپ اسے مدینہ سے نکال دیں گے۔ اگر آپ چاہیں گے۔ خدا کی قسم وہ ذلیل ہے اور آپ معزز ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ رسول اللہ اس کے ساتھ نرمی فرمائیں ، خدا کی قسم اللہ نے آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے اور اس کی قوم اس کے لئے موتی تلاش کررہی تھی کہ ان سے تاج بنا کر اسے پہنا دے۔ اس کا خیال یہ ہے کہ آپ نے اس سے ایک مملکت چھین لی ہے۔
اس کے بعد حضور اس دن پورا دن لوگوں کو لے کر چلے ، شام ہوگئی ، پھر ساری رات چلے کہ صبح ہوگئی ، اور دوسرے دن بھی سورج نکل آیا اور وہ ان کو اذیت دینے لگا۔ اس کے بعد حضور نے حکم دیا کہ پڑاﺅ کرو ۔ جونہی لوگ اتر کر زمین پر پڑے سوگئے اور حضور نے یہ کام اس لئے کیا کہ لوگوں کو کل کی بات پر کوئی چہ میگوئی کرنے کا موقعہ ہی نہ ملے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں اس وقت سورة منافقون نازل ہوئی۔ یہ ابن ابی کے بارے میں نازل ہوئی اور ان لوگوں کے بارے میں جو اس جیسے تھے۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو حضور نے زید ابن ارقم کو کان سے پکڑا۔” یہ شخص ہے جس نے اللہ کے لئے اپنے کانوں سے کام کیا “۔ اور عبداللہ ابن عبداللہ ابن ابی ابن سلول کو پتہ چل گیا کہ اس کے والد نے کیا کیا ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے عاصم ابن عمر ابن قتادہ نے بتایا کہ یہ عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ یارسول اللہ ﷺ ........ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ میرے والد عبداللہ ابن ابی کو قتل کرنا چاہتے ہیں ؟ اگر آپ لازماً یہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ مجھے حکم دیں میں اس کا سر لاکر حاضر کردوں گا۔ کیونکہ خزرج کو معلوم ہے کہ اپنے والد کے ساتھ اچھا برتاﺅ کرنے والا میرے مقابلے میں کوئی نہیں ہے۔ مجھے یہ خطرہ ہے کہ آپ کسی اور کو حکم دیں گے وہ میرے والد کو قتل کردے۔ میرا نفس مجھے اجازت نہ دے گا کہ عبداللہ ابن ابی کا قاتل مدینہ میں لوگوں کے اندر پھرے اور میں مجبور ہوجاﺅں کہ ایک کافر کے بدلے مومن کو قتل کردوں اور ہمیشہ کے لئے جہنمی ہوجاﺅں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” نہیں ہم اس کے ساتھ نرمی کریں گے اور اس کی ملاقات بھی اچھے طریقے سے کریں گے جب تک وہ ہمارے اندر زندہ ہے “۔
اس کا اثر یہ ہوا کہ اس کے بعد جب بھی وہ کوئی ایسی حرکت کرتا ، اس کی قوم اس پر اس کی سخت گرفت کرتی۔ اسے پکڑتے اور اس کے ساتھ لوگ سختی کرتے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے کہا۔ حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ اس کی قوم اس سے نفرت کرنے لگی ہے۔ ” عمر ؓ تمہاری اب کیا رائے ہے ؟ کہ جس دن تم نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں اسے قتل کردوں ، اگر میں اسے اس دن قتل کردیتا تو اس کی وجہ سے شورش پیدا ہوجاتی اور آج اگر میں خود اس کے قبیلے کو حکم دوں تو وہ اسے قتل کردیں “۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : خدا کی قسم مجھے اب معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی رائے میری رائے سے بہت زیادہ برکت والی ہے۔
عکرمہ اور ابن زید وغیرہ نے ذکر فرمایا ہے کہ لوگ جب واپس مدینہ پہنچے تو حضرت عبداللہ ابن عبداللہ ابن ابی ابن السلول ؓ مدینہ کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے تلوار نکال لی ، لوگ اس کے پاس سے گزرتے رہے ، جب اس کے والد رئیس المنافقین آئے تو انہوں نے باپ سے کہا : ” پیچھے کھڑے ہوجاﺅ“۔ خدا کی قسم ، تم اس جگہ سے ادھر نہیں آسکتے۔ جب تک رسول اللہ ﷺ اجازت نہ دے دیں۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ معزز ہیں۔ اور تم ذلیل ہو ، جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ اس وقت قافلے کے ” ساقہ “ کے طور پر آرہے تھے (ساقہ قافلے کے پیچھے چلنے والا افسر جو دیکھے کہ کسی نے راہ گم کردیا ہو یا کوئی ضرورت مند ہوگیا ہو) تو رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی ابن سلول نے حضور ﷺ سے اپنے بیٹے کی شکایت کی تو عبداللہ ؓ نے کہا حضور یہ اس وقت تک شہر کے اندر نہیں جاسکتا جب تک آپ اجازت نہ دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو اجازت دی۔ اور بیٹے سے کہا : اب جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اجازت دے دی ہے تو آپ جاسکتے ہیں “۔
یہاں آکر ہم کبھی ان واقعات کو دیکھتے ہیں ، کبھی صحابہ کرام کو دیکھتے ہیں اور کبھی نصوص قرآنی کو دیکھتے ہیں ، یوں ہم نبی ﷺ کی سیرت ، اللہ تعالیٰ کے نظام تربیت اور اللہ کے دست قدرت اور نظام قضا وقدر کو دیکھتے ہیں۔ تو حیران رہ جاتے ہیں .... مسلمانوں کی صفوں کے اندر منافقین نہایت دور تک گھسے ہوئے ہیں۔ یہ منایق تقریباً دس سال سے یہاں رہ رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ ان کو چن کر اپنی صفوں سے نکالتے نہیں ہیں اور ان منافقین کے ناموں اور اشخاص کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو صرف اپنی وفات سے چندایام قبل ہی اطلاع دیتا ہے۔ اگرچہ حضور ﷺ ان کی چاپلوسی ، چالاکی اور عیاری کی وجہ سے انہیں خوب جانتے تھے۔ اسی طرح دوسری علامات کی وجہ سے بھی کہ جب کوئی بات ہوتی ان کے چہرے کا رنگ بدل جاتا تھا۔ اور اللہ نے یہ حکم اس لئے دیا کہ اللہ کسی شخص کے دل کو کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں دیتا۔ دلوں کا مالک صرف اللہ ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو دلوں کے بھیدوں پر محاسبہ کرسکتا ہے۔ لوگوں کا تعلق لوگوں کے ساتھ ظاہری اقرار اور حالات پر ہوگا۔ اور محض شک کی بنا پر کسی کو پکڑا نہ جائے گا بلکہ شک کی بنا پر چھوڑا جائے گا۔ محض عقل کی بنیاد پر کسی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ جب اللہ نے رسول کو اطلاع دے دی کہ آخر تک بعض لوگ نفاق پر قائم ہیں اور نام بھی بتادیئے تب بھی حضور ﷺ نے ان کو جماعت سے نہ نکالا۔ جب تک کہ وہ اسلام کا اقرار کرتے اور اسلامی فرائض وواجبات ادا کرتے رہے اور حضور ﷺ نے صرف حذیفہ ابن الیمان ؓ کو اطلاع دی تھی اور انہوں نے مسلمانوں کے اندر اس راز کو نہیں پھیلایا۔ یہاں تک کہ حضرت ابن عمر ؓ حضرت عذیفہ کے پاس آتے تھے اور اپنے بارے میں ان سے اطمینان حاصل کرتے کہ بتاﺅ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تو منافقین میں شمار نہیں کیا۔ تو حضرت حذیفہ فرماتے ، عمر ؓ تم ان میں سے نہیں ہو اور اس سے زیادہ کچھ نہ کہتے اور رسول اللہ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ان میں سے اگر کوئی مرجائے تو اس کا نماز جنازہ نہ پڑھائیں۔ جب ان میں سے کوئی مرجاتا تو رسول اللہ ﷺ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھاتے۔ یوں معلوم ہوجاتا کہ یہ منافق ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے تو حضرت حذیفہ ؓ ان لوگوں کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوتے تھے۔ اور حضرت عمر ؓ کسی نماز جنازہ میں نہ جاتے تھے ، جن میں حضرت حذیفہ نہ گئے ہوں۔ جب وہ دیکھتے کہ حضرت حذیفہ موجود ہیں تو معلوم کرلیتے کہ منافقین میں سے نہیں ہے۔ اور اگر حذیفہ نہ ہوتے تو حضرت عمر ؓ نماز نہ پڑھتے لیکن منہ سے کچھ نہ کہتے۔
اس طرح یہ واقعات آگے بڑھتے رہے ، اللہ کی تقدیر اور حکمت کے مطابق۔ اللہ کی مقرر کردہ حکمتوں اور مقاصد کے حصول کے لئے تربیت ، عبرت اور اخلاقی اور تنظیمی تربیت کی خاطر .... یہ واقعہ جس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں ، اس کے اندر کس قدر عبرتیں ہیں ؟
ذرا عبداللہ ابن ابی ابن سلول کو دیکھیں۔ یہ مسلمانوں کے اندر رہ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے قریب رہتا ہے ۔ اس دین کی حقانیت کے واقعات و احادیث اور نشانات و علامات اس کے ماحول میں ، اس کے سامنے پے درپے ظاہرہو رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسے توفیق ایمان نہیں دے رہا ہے۔ کیونکہ اللہ کے نظام قضا وقدر میں اس طرح لکھا ہی نہ گیا تھا۔ اثر آفرینی اور ضوپاشی کا یہ سیلاب اس تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوا ، اس لئے کہ اس کے دل میں اس دین کی دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ یوں کہ وہ اوس اور خزرج کا بادشاہ نہ بن سکا۔ اس نے یہ کھیل تیار کرلیا تھا ، مگر اسلام اور حضور اکرم ﷺ جب مدینہ میں داخل ہوئے تو یہ کھیل خراب ہوگیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے ہدایت قبول نہ کی۔ حالانکہ ہدایت کے دلائل ہر طرف سے آرہے تھے۔ اور اسلام میں ہر طرف وسعت ہورہی تھی۔
لیکن دوسری طرف ان کے بیٹے ہیں ، ان کا نام بھی حضرت عبداللہ ؓ ہے۔ یہ ایک مسلم اور مخلص مسلم کا بلندترین نمونہ ہیں۔ یہ باپ ان کے لئے مصیبت ہے ، یہ باپ کے کارناموں سے تنگ آچکے ہیں۔ باپ جو موقف اختیار کرتا ہے ، وہ ان کے لئے شرمندگی کا سبب ہے۔ لیکن باپ جو بھی کرے وہ اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے سعادت مند بیٹے ہیں۔ یہ سنتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تو شاید اس شخص کو اب قتل ہی کرادیں۔ ان کے دل میں جذبات اور رد عمل کا واضح طوفان اٹھتا ہے۔ اور ورہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ان کا اظہار صاف صاف کردیتے ہیں۔ وہ اسلام سے محبت کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے مطیع فرمان بھی ہیں۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے باپ ہی کے خلاف حکم دیں تو میں تعمیل کروں گا۔ لیکن وہ اس بات کو برداشت نہیں کرتے کہ کوئی اور آگے بڑھے اور ان کے باپ کی گردن اڑادے۔ وہ زمین کے اوپر زندہ پھرے اور لوگ انہیں دیکھیں۔ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ شاید میرا نفس اس منظر کو برداشت نہ کرسکے۔ شیطان مجھے بدلہ لینے پر مجبور کردے۔ تو وہ حضور ﷺ کے سامنے اپنے یہ خلجانات پیش کرکے مسئلے کے حل کی درخواست کرتے ہیں۔ اور خود ہی تجویز پیش کرتے ہیں کہ اگر آپ نے لازماً یہ کام کرنا ہی ہے تو مجھے حکم دیں۔ میں اس کا سر آپ کے سامنے پیش کردوں گا تاکہ کوئی غیر اس کام کو نہ کرے اور میں اپنے کافر والد کے بدلے ایک مسلمان کو قتل کردوں اور جہنم رسید ہوجاﺅں۔
انسانی فکر و خیال کو جس میدان میں بھی جو لانی دی جائے ، اور جس پہلو سے بھی اس واقعہ پر نظر دوڑائی جائے اس میں حسن و جمال ہی نظر آتا ہے۔ ایک مومن کے دل میں ایمان کس قدر خوبصورت نظر آتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ تجویز رکھتا ہے کہ دنیا کا مشکل ترین کام یعنی خوداپنے باپ کے قتل کا حکم مجھے دیجئے۔ اور یہ ڈیوٹی وہ صداقت سے لے رہا ہے۔ اور نور ایمان اور حکمت ایمانی کا جمال دیکھئے کہ اس پیشکش کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو کسی حکمت سے اس سے بھی بڑی مصیبت سے بچاتا ہے۔ یہ کہ وہ انسانی جذبات سے مغلوب ہوکر ایک کافر باپ کے بدلے مومن کو قتل کردے اور وہ مومن کو جنت میں پائے اور اپنے آپ کو دوزخ میں۔ اور اسی مومن کی صداقت اور سچائی دیکھئے کہ وہ اپنی کمزوری کا بھی صاف صاف اظہار کرتا ہے اور وہ کہتا ہے ” خدا کی قسم خزرج کو معلوم ہے کہ میرے مقابلے میں والد کے بارے میں احسان کرنے والا جوان نہیں ہے “۔ چناچہ وہ حضور اکرم ﷺ سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں اس مشکل سے نکالا جائے۔ یہ مومن اپنے کیس کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ نہ حکم عدولی ہوتی ہے اور نہ آپ کی دل شکنی ہوتی ہے۔ کیونکہ حکم رسول کو ماننے کے لئے وہ تیار ہیں۔ اشارے کی ضرورت ہے۔ بشرطیکہ حضور حکم دیں اور وہ والد کا سر پیش کردیں۔
رسول اللہ ﷺ معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ سچا مومن کس قدر مشکل صورت حال میں پھنس گیا ہے حضور ﷺ نہایت ہی شریفانہ انداز میں ان کی ہر مشکل دور فرمادیتے ہیں۔ بلکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں ” ہم اس کے ساتھ نرمی کریں گے اور اس کے ساتھ محفل میں اچھا سلوک کریں گے جب تک کہ وہ زندہ ہے “۔ اور اس سے قبل جب حضرت عمر ؓ نے اس کے قتل کی تجویز پیش کی تو آپ نے ان کی تجویز یہ کہہ کر رد کردی کہ لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔
پھر اس واقعہ میں حضرت نبی ﷺ کے جو تصرفات واقدامات ہیں وہ بھی قابل ملاحظہ اور قابل تقلید ہیں۔ آپ ایک ایسے قائد کی طرح کام کرتے نظر آتے جو الہام کی روشنی میں کام کرتا ہے۔ آپ نے لشکر کو حکم دیا کہ کوچ کرو ، حالانکہ آپ کی ایسے اوقات میں کوچ کرنے کی عادت نہتھی۔ اور آپ نے اس سفر کو اس قدر طویل وقت کے لئے جاری رکھا کہ لوگ تھک کر چور ہوگئے تاکہ لوگوں کے اندر عصبیت جاہلیہ کے جذبات پھیلائے جانے کا کوئی موقعہ ہی کسی کو نہ ملے۔ کیونکہ دو افراد نے اپنی جنگ میں عصبیت کا سہارا لیا تھا۔ ایک نے کہا اے انصاریو ! ، دوسرے نے کہا اے مہاجرو ! اور پھر اس موقعہ پر رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی ابن سلول جو فتنہ انگیزی کرنا چاہتا تھا اسے بھی حضور ﷺ نے دبا دیا۔ اس کی اسکیم یہ تھی کہ مہاجرین اور انصار کے درمیان جو اخوت اور محبت ہے ، اس کو جلا کر رکھ دے۔ حالانکہ یہ اخوت و محبت کا وہ نادر نمونہ تھا جس کی مثال انسان کی ہزاروں سالوں کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے بعد اسید ابن حضیر کے ساتھ حضور کی گفتگو اور اس کے اندر پائی جانے والی روحانی تیاری ، جو اس فتنے کے مقابلے میں حضور فرما رہے تھے اور پھر اس فتنے کے سرغنے کو پکڑنے کا جوش جبکہ وہ اپنی قوم میں اب تک بھی بااثر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سب سے آخر میں رجل مومن عبداللہ ابن عبداللہ کا کردار نہایت ہی روشن اور خوبصورت ہے کہ وہ مدینہ کے باہر تلوار لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے باپ کو شہر کے اندر داخل نہیں ہونے دیتے ، جب تک حضور اکرم ﷺ اجازت نہ دیں۔ اور یہ ہے مظاہرہو اس بات کا کہ۔
لیخرجن ................ الاذل (36 : 8) ” اس معزز شخص ذلیل شخص کو نکال باہر کرے گا “۔ اور اس پر بھی رجل مومن نے یہ کام اس لئے کیا کہ لوگ جان لیں کہ رسول اللہ ﷺ کی عزت دار ہیں اور ان کا باپ ذلیل ہے۔ آخر کار رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے ہیں اور اس ذلیل شخص کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ اور سائنسی تجربہ بتا دیتا ہے کہ عزیز کون ہے اور ذلیل کون ؟ اسی واقعہ میں اور اسی وقت میں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بلند ترین چوٹی ہے جہاں تک یہ مومنین پہنچ چکے تھے۔ ایمان نے ان کو ان مقامات بلند اور مراتب بلند تک پہنچا دیا تھا لیکن وہ تھے انسان۔ ان میں بشری کمزوریاں تھیں ، ان میں جذبات تھے ، ان کے دلوں میں خلجانات آتے تھے ، یہ ہے اس دین کا نہایت ہی نمایاں وصف ، بشرطیکہ لوگ اسے اس کی حقیقت کے مطابق سمجھیں۔ اور لوگ ان لوگوں کو ایک انسان کی طرح رکھ کر سمجھیں۔ کہ یہ لوگ مکہ اور مدینہ کی سرزمین پر بطور انسان رہے ، کھانا کھاتا رہے اور بازاروں میں پھرتے رہے اور پھر بھی اس مقام تک پہنچ گئے۔
اب وہ آیات جو ان واقعات کے بارے میں نازل ہوئیں ، مناسب ہے کہ قدرے ان کے ساتھ بھی رہیں :
واذا قیل ........................ مستکبرون (36 : 5) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگو تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لئے مغفرت کی دعا کرے تو سر جھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رکتے ہیں “۔ یہ لوگ یہ فعل کرتے ہیں ، اور اس قسم کی باتیں منہ سے نکالتے ہیں ، جب ان کو معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ تک یہ باتیں پہنچ گئی ہیں تو پھر یہ فوراً ڈر جاتے ہیں۔ ذلیل ہوکر جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں اور ان جھوٹی قسموں کے سہارے زندہ رہ رہا ہے اور اگر وہ امن کی حالت میں ہوں ، کوئی ان سے کہے کہ آﺅ رسول اللہ سے درخواست کرو کہ تمہاری بخشش کے لئے رسول اللہ دعا کریں تو سرجھٹکتے ہیں اور نہایت ہی تکبر میں حضور کے پاس آنے سے رک جاتے ہیں۔ یہ منافقین کی دونوں باہم متضاد صفات ہیں۔ اگرچہ یہ اپنی قوم میں ، باعزت اور بامقام لوگ ہوں۔ یہ دل میں اپنے اندر سے اس قدر کھوکھلے اور ڈرپوک ہوتے ہیں کہ یہ تکبر کرتے ہیں ، اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ سر جھٹک کر پھیر دیتے ہیں ، جب ان کو خوف نہ ہو ، لیکن جب یہ خوف ہو کہ رسول اللہ کے سامنے جانا ہے تو پھر قسمیں اٹھاتے ہیں۔
چناچہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا ہے ، لہٰذا اب آپ ان کے بارے میں استغفار کریں یا نہ کریں ، استغفار کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
المنافقون 63:6
سواء علیھم .................... الفسقین (36 : 6) ” اے نبی ! تم چاہے ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو ، ان کے لئے یکساں ہے ، اللہ ہرگز انہیں معاف نہ کرے گا ، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا “۔
ان کے فسق وفجور کی ایک جھلک ملاحظہ ہو ، جس کی وجہ سے اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا ہے کہ انہیں ہدایت نصیب نہ ہوگی۔
المنافقون 63:7
ھم الذین .................... ینفضوا (36 : 7) ”” یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کرو تاکہ یہ منتشر ہوجائیں “۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے کہنے والے کا خبث باطن عیاں ہے اور یہ شخص نہایت ہی ذلیل انسان ہے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جو اہل باطل روز اول سے اہل ایمان کے خلاف آزماتے ہیں۔ زمان ومکان کی قید کے سوا ہر جگہ اور ہر دور میں اہل باطل نے یہ نسخہ آزمایا ہے جیسا کہ اگلوں پچھلوں نے مشورہ کرکے یہ طے کردیا ہے کہ اہل دین اور اہل نظر یہ لوگوں پر رزق کے دروازے بند کردو۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ اس قدر ذلیل ہوتے ہیں کہ یہ لوگ ہر بات ہر فیصلہ پیٹ کے نقطہ نظر سے کرتے ہیں۔ چناچہ اہل ایمان کے خلاف شیطان نے یہی نسخہ آزمانے کی تجویز کی۔
یہی نسخہ قریش نے بنی ہاشم کے خلاف آزمایا اور ان کو شعب بن طالب میں محصور کردیا اور راشن اور ضروریات زندگی ان پر بند کردیں تاکہ بنو ہاشم رسول اللہ کی حمایت چھوڑ دیں اور رسول اللہ کو مشرکین کے سپرد کردیں۔
اور یہی منصوبہ منافقین مدینہ کے رئیس نے پیش کیا کہ تم ان لوگوں پر انفاق بند کردو ، یہ سب بھاگ کر چلے جائیں گے۔ تنگی حالات اور بھوک و افلاس سے مجبور ہوکر۔
اور یہی نسخہ کمیونسٹوں نے اپنے علاقے میں ان اہل دین کے خلاف استعمال کیا کہ ان پر ضروریات زندگی بند کردیں تاکہ بھوک سے مرجائیں یا دین اور خدا کا انکار کریں۔ اور نماز و روزہ چھوڑ دیں۔
آج ہمارے دور میں پوری دنیا میں احیاء اسلام کی جو تحاریک چل رہی ہیں ان کے ساتھ بھی ان کے مخالفین یہی سلوک کررہے ہیں۔ ان کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں ، انہیں افلاس سے مار رہے ہیں اور ان پر ملازمتوں کے دروازے بند کررہے ہیں۔
غرض تمام دشمنان اسلام نے بالاتفاق اس ذلیل ذریعہ کو اہل ایمان کے خلاف آزمایا ہے۔ اور یہ طریقہ قدیم زمانوں سے آج تک یونہی چلا آرہا ہے۔ لیکن ان دشمنان اسلام نے اس حقیقت کو بھلایا ہے۔
وللہ خزائن ................................ لایفقھون (36 : 7) ” حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہے ، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں “۔ حالانکہ زمین و آسمان کے خزانوں ہی سے اللہ ان لوگوں کو رزق دے رہا ہے جو مسلمانوں کا رزق بند کررہے ہیں۔ کیونکہ نہ یہ لوگ خود اپنا رزق پیدا کررہے ہیں اور نہ مومنین کا رزق بند کرسکتے ہیں لیکن یہ لوگ غبی ہیں اور یہ اس واضح حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ وہ خود اپنی روزی کے مالک نہیں اور بند کرنا چاہتے ہیں دوسروں کا رزق۔
یوں اللہ تعالیٰ مومنین کو ثابت قدم اور ان کے دلوں کو مضبوط فرماتے ہیں تاکہ وہ دشمنان اسلام کے اس ذلیل منصوبے کا مقابلہ کریں۔ کیونکہ اللہ کے دشمنوں کے پاس اب اور کوئی ہتھیار نہیں رہا ہے۔ اس لئے وہ اچھے ہتھیاروں پر ائر آئے ہیں۔ اللہ ان کو مطمئن کرتا ہے کہ زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ اگرچہ دشمنوں کو بھی دیتا ہے لیکن دوستوں کو بھی نہیں بھلاتا۔ اللہ کی رحمت کا قانون یہ ہے کہ وہ دشمنوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ کسی کو بھی بھوک سے نہیں مارتا۔ ان لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اللہ ان کا رزق کاٹ دے تو یہ لوگ کچھ بھی نہ پائیں گے۔ اس لئے اللہ اپنے بندوں کو ایسے حالات کے سپرد نہیں کرتا کہ وہ روزی سے محروم ہوجائیں۔ وہ تو بہت بڑا کریم ہے۔ کیونکہ کسی پر رزق کے دروازے بند کرنے کا کام وہ شخص ہی کرسکتا ہے جو بہت ذلیل اور پرلے درجے کا خصیں ہو۔
المنافقون 63:8
اور اس کے بعد ان کا یہ قول :
یقولون .................... الاذل (36 : 8) ” یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا “۔ اس سے قبل ہم بتا چکے ہیں کہ اس حقیقت کو عبداللہ ابن عبداللہ ابن ابی نے کس طرح حقیقت کرکے پیش کیا اور کس طرح ذلیل آدمی عزت دار آدمی کی اجازت سے شہر میں داخل ہوا۔
وللہ العزة ............................ لا یعلمون (36 : 8) ” حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے ، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں “۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ اور مومنین کو اپنے ساتھ ایک صف میں شامل کرکے ان کو بھی معزز بنایا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ اپنے رسول اور مومنین کو اپنے پہلو میں کھڑا کردے۔ اور کہے ” ہم ہیں معزز اور یہ ہیں ذلیل۔ اللہ نے بالکل سچ کہا ، کہ اس نے قلب مومن میں ایمان کو عزت کے مساوی قرار دیا اور مومن کو عزت حاصل ہوئی اللہ کی عزت سے ، ایسی جو نہ ہلکی ہوتی ہے ، نہ اس میں سستی آتی ہے ، نہ جھلکتی ہے ، اور نہ نرم ہوتی ہے۔ اور یہ عزت نفس انسان مومن کو بہت ہی متزلزل حالات میں بھی ، ایمان کے حوالے سے کمزور ہونے نہیں دیتی۔ اس طرح جب کسی کے دل میں ایمان اچھی طرح قرار پکڑ لیتا ہے اور پختہ ہوجاتا ہے تو اس شخص کے دل میں عزت بھی نہایت مضبوط اور جڑ پکڑ لیتی ہے۔
ولکن .................... لایعلمون (36 : 8) ” مگر منافق جانتے نہیں “۔ وہ کیا جانیں ، انہوں نے نہ تو عزت نفس کا ذوق پایا اور نہ اس کے پاس اس کا سرچشمہ ہے۔
المنافقون 63:9
اب اللہ تعالیٰ ان مومنین کو آخری بار پکارتا ہے ، وہ مومنین جن کے رسول کو اور خود ان کو اللہ نے اپنی عزت سے معزز بنایا ، اللہ کی طرف سے ان کی طرف اب اس سورت میں آخری ندا آتی ہے کہ وہ عزت اور شرف کے اس مقام تک بلند ہوجائیں اور منافقین کی تمام صفات اپنے اندر سے نکال دیں۔ اور مال اور اولاد سے بلند ہوکر شرف کا یہ مقام حاصل کریں ، دیکھو دنیا کا کوئی مفاد ، چاہے مال ہو یا اولاد ہو ، تمہیں روک نہ دے۔
اگر انسان کا قلب زندہ نہ ہو تو مال اور اولاد انسان کو غافل کردینے والے بن جاتے ہیں۔ یہ سامان لہو ولعب ہیں۔ قلب زندہ ہوگا تو معلوم ہوگا کہ انسان کا مقصد وجود کیا ہے۔ اسے معلوم ہوگا کہ اللہ نے اسے پیدا کیا ہے اور اس کے اندر اپنی روح پھونکی ہے۔ اس کی روح کے اندر ایک ایسا روحانی شوق پیدا کیا جو انسان کو ، انسانی طاقت کی حدود کے اندر ، صفات الٰہیہ کا عکس دیتا ہے۔ یہ مال واولاد تو دنیا کے عارضی انتظام اور دنیا میں رہنے کی حد تک ، محدود ذمہ داریاں ہیں ، جو انسان پر ڈالی گئی ہیں۔ اس لئے نہیں کہ یہ انسان کو آخرت کی اصل باقی اور دائمی زندگی سے غافل کردیں اور انسان اللہ اور اللہ تک پہنچنے کے اعلیٰ مقصد کو بھلا ہی دے اور انسان وہ سبق بھلا دے جو عالم بالا سے اسے ملتا ہے۔ یوں وہ غافل ہوکر خسارے میں پڑجائے۔
فاولئک ھم الخسرون (36 : 9) ” جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ “ یوں ان کو پہلا خسارہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ انسانی صفات بھلا دیتے ہیں۔ کیونکہ انسان مکمل انسان تب ہی بنتا ہے کہ اسے عالم بالا سے اتصال حاصل ہو اور جو شخص انسانیت ہی گنوادے ، اس نے گویا سب کچھ گنوادیا۔ اس نے گویا اموال واولاد کو بھی گنوادیا۔
المنافقون 63:10
ایک ہی آیت میں انفاق کے لئے بیشمار موثر اکساہٹیں
وانفقو ................ رزقنکم (36 : 01) ” جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو “۔ یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تمہارے ہاں رزق اور وسائل رزق جو آتے ہیں وہ کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ اس اللہ کے ہاں سے آتے ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو ، اور جو تمہیں انفاق کا حکم دیتا ہے۔
من قبل .................... الموت (36 : 01) ” قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے “۔ بس اس سے سب کچھ رہ جائے اور یہ اسکی اولاد یا دوسروں کے پاس چلا جائے۔ اور اگلے جہاں میں جب وہ تلاش کرے تو اسے آگے بھیجا ہوا کچھ نظر نہ آئے۔ یہ سب سے بڑی حماقت اور سب سے بڑا خسارہ ہے۔ پھر وہاں یہ تمنائیں کرے گا کہ اسے دوبارہ مہلت دی جائے اور وہ دوبارہ صالحین میں سے بن جائے گا۔ لیکن یہ تو محض تمنا ہی ہوگی۔
المنافقون 63:11
ولن یوخر ........................ تعملون (36 : 11) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے “۔ غرض ایک ہی آیت میں یہ مختلف قسم کی یاد دہانیاں ہیں۔ اور منافقین کی خصوصیات اور مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشوں کو بیان کرنے کے بعد یہ ہدایات برمحل تھیں۔ اب جبکہ مسلمان اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی صف میں اہل عزت کے ساتھ یکجا کھڑے ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے پورے کریں۔ اللہ کو یاد کریں اللہ کی قوت امن کا سرچشمہ ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قرآن کے ذریعہ تربیت دیتا ہے۔
التغابن 64:1
زمین اور آسمانوں میں ، جو مخلوق بھی ہے ، وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہے۔ اس کی تسبیح اور تعریف کررہی ہے۔ گویا اس پوری کائنات کی روح مومن ہے۔ اور اس پوری کائنات کا دل مومن ہے۔ اللہ اس پوری کائنات کا مالک ہے۔ اور اس کائنات کی ہر چیز میں اس کا شعور بھی ہے۔ اللہ اپنی ذات میں بھی ستودہ صفات ہے اور اس مخلوقات کے اندر بھی اس کی تعریف اور تمجید ہوتی ہے۔ اب اگر اس وسیع کائنات کے سمندر میں ایک اکیلا انسان کافر بن جائے اور اس کی روح اور اس کا قلب غافل اور منکر ہو ، وہ سرکش اور نافرمان ہو ، اللہ کی تسبیح نہ کرے ، اس کی طرف متوجہ نہ ہو تو یہ بالکل شاذ ہوگا ، اور انوکھا ہوگا ، اور عجیب ہوگا اور نمایاں طور پر الگ ہوگا۔ اس طرح جس طرح کسی کو یہ پوری کائنات دھتکار دے۔
وھو علی ................ قدیر (36 : 1) ” اور وہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اللہ کی قدرت بےقید اور لامحدود ہے۔ قلب مومن میں قرآن اس حقیقت کو طبع کرتا ہے۔ یوں انسان اس حقیقت کو جانتا ہے اور اس کے مدلول سے متاثر ہوتا ہے۔ اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ قدرت جو چاہے اس کے ساتھ کرے۔ وہ اپنے آپ کو قدرت کے سپرد کردیتا ہے کہ قدرت اس معاملات کے اندر جو چاہے تصرف کرے۔
قدرت الٰہیہ کا یہ جامع تصور کہ ہر شے اس کی تسبیح کرتی ہے ، اس کی تعریف کرتی ہے اور اس کی طرف متوجہ ہے ، یہ اسلام کے اس عظیم جامع تصور کا ایک اہم پہلو ہے۔
دوسری چٹکی خود قلب انسانی کے اندر۔ انسان کا یہ چھوٹا سا دل اس عظیم کائنات کے سمندر کے اندر ہے۔ یہ پوری کائنات تسبیح الٰہی اور حمد الٰہی میں رطب اللسان ہے۔ یہ چھوٹا سا دل کبھی مومن بن جاتا ہے اور کبھی کافر۔ اس چھوٹے انسان کا چھوٹا قلب ہی اس کائنات میں ایسا موقف اختیار کرتا ہے ۔ کائنات کی کوئی شے اس کفر میں اس کا ساتھ نہیں دیتی۔
التغابن 64:2
ھوالذی .................... مومن (46 : 2) ” وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن “۔ یہ انسان اللہ کی قدرت اور اللہ کے ارادے سے وجود میں آیا ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کے اندر کفر کے رجحان کے امکانیات اور ایمان کے رجحان کے امکانیات رکھے۔ اس حضرت انسان کے اندر مختلف الجہات استعدادیں بیک وقت ودیعت کردیں اور پھر اللہ نے اسے نیک وبد کی تمیز بھی عطا کی۔ اور اسی استعداد کے مطابق اس انسان کے اندر ایمان پیدا ہوا۔ ایمان اللہ کی طرف سے ایک بڑی امانت ہے اور اس کی بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے اسے دین و شریعت بھی عطا کی جس کے مطابق وہ اپنے ایمان اور عمل کو وزن کرتا ہے۔ یہ دین اس نے رسولوں پر نازل فرمایا اور یوں اللہ تعالیٰ نے انسان کی معاونت کی کہ وہ اس امانت کو اٹھائے اور دوسرے انسانوں کی اس میں داخل ہونے کے لئے مدد دے۔
واللہ ................ بصیر (46 : 2) ” اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو “۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ انسان کر کیا رہا ہے ؟ وہ انسانوں کی نیت اور رجحان سے واقف ہے لہٰذا انسان کو عمل بھی کرنا چاہئے اور ڈرنا بھی چاہئے کیونکہ نگران علیم وبصیر ہے ، کہیں سویا ہوا نہیں ہے۔
انسان کی حقیقت اور اس جہاں میں اس کے مقام وموقف کے بارے میں یہ تصور ، اس کائنات کے بارے میں اسلام کے واضح سیدھے تصور کا ایک حصہ ہے کہ انسان کو یہاں استعداد واختیار دیا گیا ہے اور وہ اپنے خالق کے سامنے اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور خالق علیم وبصیر ہے۔
التغابن 64:3
خلق السموت .................... المصیر (46 : 3) ” اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے ، اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے ، اور اسی کی طرف آخر کار تمہیں پلٹنا ہے “۔
آیت کا پہلا حصہ یہ ہے کہ ” اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا “۔ اس سے ایک مومن کو یہ شعور ملتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق اور تدبیر میں حق ایک بنیادی عنصر ہے۔ یہ کوئی عارضی یا غیر ضروری چیز نہیں ہے۔ اس کائنات کی تشکیل ہی حق پر ہے اور جو ذات یہ حقیقت بیان کررہی ہے وہ وہی ہے جس نے زمین و آسمان اور اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسے معلوم ہے کہ یہ کائنات کس بنیاد پر قائم ہے۔ کسی شخص کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے تو جب اس کا سچائی پر اعتماد بحال ہوتا ہے تو اس کا اپنے دین پر بھی اعتماد بحال ہوتا ہے۔ کیونکہ دین اسلام بھی حق پر قائم ہے اور دین حق ہے۔ اور یہ کائنات بھی حق پر قائم ہے جو انسان کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہے۔ لہٰذا حق غالب ہوگا۔ حق باقی رہے گا اور جب باطل کی جھاگ بیٹھ جائے گی تو حق نمودار ہوتا ہے۔
اور آیت کے آخری حصہ میں ایک دوسری حقیقت بیان کی گئی ہے۔
وصورکم ............ صورکم (46 : 3) ” اور نے تمہاری صورت بنائی اور بہت عمدہ بنائی “۔ انسان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک تم مکرم ہو اور اللہ نے تمہیں بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔ تمہاری اخلاقی تصویر بھی اچھی ہے اور تمہاری شعوری تصویر بھی اچھی ہے اور پیدائشی تصویر بھی بہت حسین ہے۔ انسان انپی جسمانی ساخت کے اعتبار سے بھی زندہ اشیاء سے زیادہ مکمل جسم کا مالک ہے۔ اور روحانی ، وشعوری اور قابلیتوں کے لحاظ سے بھی وہ مکمل ہے ، یہی وجہ ہے کہ زمین پر خلافت کا منصب انسان کو دیا گیا ہے اور انسان کے لحاظ سے اس وسیع جگہ یعنی زمین پر اسے بسایا گیا ہے۔
اگر انسان کی جسمانی ساخت اور اس کے نقشے پر ذرا گہری نظر ڈالی جائے یا انسانی جسم کے نظام کے کسی بھی حصے پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے۔
وصورکم ................ صورکم (46 : 3) ” اس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی “۔ یہ ایک ایسا نقشہ ہے جس کے اندر کمال و جمال دونوں پائے جاتے ہیں اور پھر ہر انسان کے اندر خوبصورتی میں تفاوت ہے لیکن جہاں تک مجموعی نقشے کا تعلق ہے وہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ اور کامل ہے اور انسانی ضروریات تمام زندہ چیزوں کی ضروریات کے مقابلے میں بطریق احسن پوری کرتا ہے۔
والیہ المصیر (46 : 3) ” اور اس کی طرف آخر کار تمہیں پلٹنا ہے “۔ ہر چیز کا انجام ، ہر مخلوق کا مرجع اور ہر معاملے کا آخری فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس پوری کائنات کا مرجع بھی وہ ہے۔ اس انسان کے لوٹنے کی جگہ بھی وہ ہے۔ اللہ کے ارادے ہی سے ان چیزوں نے وجود پایا۔ اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پیدائش بھی اس سے حاصل کی اور فنا اور انجام بھی اسی کی طرف ہے۔ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے ، ہر چیز پر محیط ہے۔ آغاز بھی وہ اور انجام بھی وہ اور وہ لامحدود ہے۔
اور چوتھا تیز احساس جو اس آیت میں دیا گیا ہے ، وہ ہے اللہ کے جامع اور شامل اور محیط علم کی ایک ایسی تصویر ، جو انسان کے خفیہ رازوں کو جاننے والا ہے ، راز سے بھی خفیہ چیز ، جو دل میں آتی ہے ، جسے ” بذات الصدور “ کہتے ہیں جن کی گرفت میں دل ہوتا ہے ، انہیں بھی جانتا ہے۔
التغابن 64:4
یعلم مافی ............................................ الصدور (46 : 4) ” زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اسے علم ہے ، جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو ، سب اس کو معلوم ہے ، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے “۔
اس حقیقت کا ایک مومن کے دل میں بیٹھنا ، اسے معرفت رب عطا کرتا ہے۔ اس طرح اپنے رب کی معرفت حاصل ہونے کے بعد اس کے آفاقی اور کائناتی ایمان کا یہ پہلو بہت مضبوط ہوجاتا ہے۔ وہ یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ اللہ کی نظروں میں ہے۔ کوئی ایسا راز نہیں ہے جو اس پر مخفی ہو۔ اس کے ضمیر میں کوئی گہری سوچ بھی ایسی نہیں ہے جس سے اللہ باخبر نہ ہو۔
یہ تین آیات ہی انسان کے لئے اس قدر رہنمائی فراہم کردیتی ہیں کہ انسان اپنی حقیقت کو سمجھے ، اس کائنات کو سمجھے اور اس کائنات اور اپنے خالق کی ساتھ اپنا تعلق جوڑے۔ اللہ سے ڈرے۔ ہر حرکت اور ہر رخ میں۔
اب ہم آتے ہیں اس سورت کے دوسرے پیراگراف کی طرف۔ اس میں ان اقوام ماضیہ کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی۔ جن کا بڑا اعتراض یہ تھا کہ ایک بشر کو کس طرح رسول بنایا گیا ؟ مشرکین مکہ بھی یہی سوال دہراتے تھے اور اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ اور آپ کی تعلیمات کی تکذیب کرتے تھے۔
التغابن 64:5
الم بالکم ............................ حمید (46 : 6) (46 : 5۔ 6) ” کیا تمہیں ان لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنی شامت اعمال کا مزہ چکھ لیا ؟ اور آگے ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے۔ اس انجام کے مستحق وہ اس لئے ہوئے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے ، مگر انہوں نے کہا ” کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ “ اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کردیا اور منہ پھیرلیا ، تب اللہ بھی ان سے بےپرواہ ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود۔ “
یہ خطاب تمام مشرکین کو ہے کہ اس سے قبل جن لوگوں نے تکذیب کی ان کا جو انجام ہوا ، اس پر ذرا غور کرلو۔ استفہام تو کبھی اس لئے ہوتا ہے کو اقوام سابقہ کے حالات ان مشرکین کو بتا دیئے جانے کے بعد بھی یہ کفر کرتے ہیں تو ان کا یہ رویہ قابل مذمت ہے اور کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ دیکھو اور اس طرح توجہ کرو کہ جو کچھ تم کررہے ہو اس کا انجام یوں بھی ہوتا ہے (یعنی مذمت اور توجہ مبذول کرانے کے لئے) یہ لوگ تو امم سابقہ کے احوال سے واقف تھے ، قصے ان کے ہاں مشہور تھے۔ مثلاً عاد ، ثمود اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں تو عرب واقف تھے۔ ان کھنڈرات پر سے وہ گزرتے تھے جب وہ شمال اور جنوب کے سفروں پر جاتے تھے۔
دنیا میں ان کا جو انجام ہوا تو ہو اور تو زبان زد عام ہے ، قرآن اس پر یہ اضافہ کرتا ہے۔
ولھم عذاب الیم (46 : 5) ” اور آگے ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے “۔ یہ آخرت کا عذاب ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے۔
التغابن 64:6
ذلک بانہ .................... یھدوننا (46 : 6) ” اس انجام کے مستحق وہ اس لئے ہوئے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے ، مگر انہوں نے کہا ” کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ “ اور یہ وہی اعتراض تھا جو مشرکین مکہ نبی ﷺ پر کرتے تھے۔ یہ بہت ہی گرا پڑا اعتراض ہے اور خالص جہالت پر مبنی ہے۔ یہ لوگ منصب رسالت کو سمجھے ہی نہیں اور اس بات کو سمجھے ہی نہیں کہ رسول اور رسالت نے انسانوں کے سامنے اللہ کی شریعت اور نظام پیش کرنا ہوتا ہے ، لہٰذا ضروری ہے کہ اس نظام کو ایک بشر اپنے اوپرنافذ کرکے لوگوں کو دکھائے۔ یوں رسول کا بشر ہونا انوکھا نہیں بلکہ ضروری تھا۔ یہ رسول ہی ہوتا ہے جو اسلامی شریعت اور قانون پر عمل کرکے دکھاتا ہے ، اگر رسول اور لوگوں کی جنس ہی الگ ہو تو لوگ رسالت کی ایک عملی صورت سے محروم ہوجائیں گے اور ان کے لئے یہ ممکن ہی نہ ہوگا کہ اس کی اطاعت کریں۔ اپنی ذات ، اپنے اخلاق اور اپنی انداز معیشت میں۔ پھر ان کی یہ رائے خود انسان کی حقیقت سے جہالت پر مبنی ہے کہ اللہ نے انسان کو یہ صلاحیت عطا کی کہ وہ عالم علوی سے ہدایت اخذ کرنے کے قابل ہو ، اور اس کے لئے کسی فرشتے کو رسول بنانے کی ضرورت ہی نہ ہو۔ انسان کے اندر تو اللہ کی روح پھونکی ہوئی ہے اور انسان کی اسی روحانیت کی وجہ سے وہ اللہ سے براہ راست رسالت اخذ کرتا ہے۔ اور اس کے فرائض اللہ کی منشا کے مطابق ادا کرتا ہے۔ یہ انسانوں کے لئے ایک ایسا اعزاز ہے جس سے انکار کوئی جاہل ہی کرسکتا ہے جس کو انسان کے مقام و مرتبہ کا علم نہ ہو۔ اگر کوئی جاہل نہیں ہے تو پھر وہ متکبر اور مغرور ہے۔ اور اپنے کبرغرور کی وجہ سے رسول اللہ کی اطاعت نہیں کرتا۔ گویا یہ اعتراض کرنے والے یا جاہل ہیں یا متکبر اور مغرور ہے۔ اور اپنے کبروغرور کی وجہ سے رسول اللہ کی اطاعت نہیں کرتا۔ گویا یہ اعتراض کرنے والے یا جاہل ہیں یا متکبر ہیں اور نظر انداز کرنے کے قابل ہیں۔ ان کے نزدیک یہ تو جائز ہے کہ جنس انسان کے علاوہ کوئی جنس فرشتے وغیرہ آئیں تو ان کی رسالت کو تو یہ ماننے کے لئے تیار ہیں مگر اپنے میں سے ایک انسان کو یہ رسول ماننے کے لئے تیار نہیں۔
صرف یہی وجہ ہے جس کی بنا پر تاریخ میں لوگوں نے رسولوں کا انکار کیا ، حالانکہ ان کے ساتھ دلائل ومعجزات تھے ، اور اعلیٰ تعلیمات تھیں۔ اس جہالت اور کبر کی وجہ سے لوگوں نے کفر وشرک تو اختیار کیا مگر رسالتوں کا انکار کرتے رہے۔
واستغنی ................ حمید (46 : 6) ” تب اللہ بھی ان سے بےپرواہ ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بےنیاز اور اپنی ذات میں محمود “۔ اللہ ان کے ایمان اور ان کی اطاعت سے مستغنی ہوگیا۔ اللہ کو ان چیزوں کی ضرورت کیا ہے ۔ اللہ تو ان چیزوں کا اصلا محتاج ہی نہیں ہے ، وہ غنی ہے اور اپنی ذات ہی میں محمود ہے۔ یہ تو تھے وہ لوگ جنہوں نے کفر اور شرک پر اصرار کررہے ہی۔ کیا یہ بھی اسی انجام کو پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔
تیسرا پیراگراف دوسرے پیراگراف کا تتمہ ہے کہ رسالت پر اعتراض کے ساتھ یہ لوگ بعث بعد الموت کے بھی منکر ہیں۔ یہ لوگ مکہ اور مدینہ کے مشرک تھے ، جن کے سامنے رسول اللہ کی دعوت پیش کی جارہی تھی۔ اس پیراگراف میں رسول اللہ کو ہدایت فرمائی جاتی ہے کہ آپ بطور تاکید مزید ان تک یہ بات پہنچا دیں کہ مزاح نہ سمجھو تم نے ایک دن اٹھنا ہے۔ پھر اس دن کا ایک منظر بھی پیش کیا جاتا ہے جس میں مکذبین اور مصدقین کا انجام بتایا جاتا ہے۔ آخر میں ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ ایمان لاﺅ اور ہر معاملے میں رسول کی اطاعت کرو اور ہر معاملے کو اللہ کے سپرد کردو۔
التغابن 64:7
مشرکین اور کافرین کے اس قول کو کہ ہمیں دوبارہ نہ اٹھایا جائے گا ، آغاز ہی سے زعم باطل کہا اور یہ بتادیا کہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا کہ آپ ان سے سخت ترین الفاظ میں کہہ دیں کہ تمہیں اٹھایا جائے گا۔ اور اس تاکید کو اپنے رب کے نام سے حلف اٹھا کر مزید موکد کردیں۔ آخر رسول جب اپنے رب کے نام کی قسم اٹھا کر کوئی بات کرے تو اس سے مزید تاکید اور کیا ہوسکتی ہے۔
قل بلیٰ وربی لتبعثن (46 : 7) ” ان سے کہو میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاﺅ گے “۔ اور نہ صرف یہ کہ اٹھائے جاﺅ گے بلکہ۔
ثم لتنبون بما عملتم (46 : 7) ” پھر تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے کیا کچھ کیا ہے “۔ اس میں سے کوئی چیز بھی چھوٹی ہوئی نہ ہوگی۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہوگا ، اس لئے وہ قیامت کے دن بتادے گا۔
وذلک علی اللہ یسیر (46 : 7) ” اور ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان ہے “۔ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے ، وہ ظاہری اور خفیہ سب چیزوں کو جانتا ہے۔ وہ ان رازوں سے واقف ہے جو دلوں کے راز ہیں۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے جیسا کہ سورت کے آغاز میں بطور تمہید یہی فقرہ آیا۔
التغابن 64:8
ان تاکیدوں کی روشنی میں ان کو دعوت دی جاتی ہے ، کہ اللہ اور رسول پر ایمان لاﺅ اور اللہ نے رسول پر جو تعلیمات اتاری ہیں ان کو تسلیم کرو ، وہ تو نئی روشنی ہے۔ یہ قرآن دراصل علم کی روشنی ہے ، اور قرآن جو دین و شریعت پیش کرتا ہے ، وہ بھی روشنی ہے۔ یہ تعلیم اپنی حقیقت میں نور ہیں ، کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ نور السموات والارض ہے۔ پھر یہ تعلیمات اپنے آثار کے اعتبار سے بھی نور ہیں۔ اور اپنی ذات کے لحاظ سے بھی نور ہیں۔ اس روشنی میں انسان اپنی حقیقت پالیتا ہے اور اس جہاں کے حقائق کو اس کائنات کے حقائق سے دیکھتا ہے۔
دعوت ایمان دینے کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کا سب کچھ اللہ پر ظاہر ہے۔ اس سے کوئی شے مخفی نہیں رہی۔
بما تعملون خبیر (46 : 8) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے “۔
اس کے باتیا جاتا ہے کہ ذرا دیکھو جس بعث بعد الموت کی تیاری کی تمہیں دعوت دی جاتی ہے۔ وہ کیسی ہوگی ؟
التغابن 64:9
یوم یجمعکم ........................ التغابن (46 : 9) ” جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا۔ وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا “۔ یوم الجمع تو اس لئے ہوگا کہ تمام اگلے پچھلے انسانوں کو جمع کیا جائے گا۔ اور تمام ملائکہ کو بھی اس دن حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگی۔ انسانی تصور کے قریب کرنے کے لئے حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوذر سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے۔ اور میں وہ کچھ سن رہا ہوں جو تم نہیں سن سکتے۔ آسمان بوجھ کی وجہ سے چڑ چڑایا اور اس کا حق ہے کہ وہ چڑچڑائے۔ کیونکہ آسمان میں چار انگلیوں کی جگہ بھی نہ ہوگی جہاں ایک فرشتہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو۔ خدا کی قسم اگر تم وہ کچھ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور روتے ہی رہتے۔ اور تم اپنے بستروں پر اپنی بیویوں سے لذت اندوز نہ ہوتے اور تم اونچے مقامات پر چڑھ کر ، اللہ کے سامنے روتے کہ اے اللہ ، کاش میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ لیا جاتا “۔ (ترمذی)
آسمان جہاں چار انگلیوں کی جگہ پر بھی ایک فرشتہ سجدہ ریز ہوگا ، کس قدر وسیع ہے ؟ یہ ناقابل تصور وسیع فضا ہے۔ انسان نے ابھی تک اس کی حدود کو معلوم نہیں کیا ؟ اور اس میں ہمارے سورج جیسے کئی سورج اس طرح ہیں جس طرح ایک ذرہ فضا میں اڑ رہا ہے۔ تو کیا اس سے یہ بات انسانی تصور کے قریب ہوگئی کہ یوم الجمع یعنی قیامت کے دن کس قدر فرشتے جمع ہوں گے ؟
اس عظیم اجتماع میں تغابن ہوگا۔ یہ غبن سے باب مفاعلہ سے ہے۔ یہ ایک تصویر ہے کہ مومنین کس قدر کامیاب ہوں گے اور کافرین کس قدر محوم ہوں گے۔ یہ جہنم میں جاکر ہر چیز سے محروم ہوجائیں گے اور مومنین جنت میں جاکر سب کچھ پالیں گے۔ دونوں کا نصیب بہت ہی مختلف ہے۔ یوں کہ گویا کامیابی کا ایک مقابلہ منعقد ہے اور ایک طرف ہر قسم کی کامیابی ہے اور دوسری طرف ہر قسم کی ناکامی ہے اہر ہر فریق اپنے مقابل کو غبن کررہا ہے۔ اس مقابلے میں مومن کامیاب ہوئے اور انہوں نے سب کچھ جیت لیا کافر ہار گئے اور سب کچھ ہار گئے۔ اس معنی میں یہ یوم التغابن ہے اور اس کی تفسیر یہ آیات کررہی ہیں :
ومن یومن ............................ المصیر (01) (46 : 9۔ 01) ” جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے ، اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے۔ وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گی اور وہ بدترین ٹھکانا ہے “۔
اس سے قبل کہ ان کا ایمان کو طرف بلایاجائے۔ ایمان کا ایک بنیادی قاعدہ یہاں متعین کردیا جاتا ہے یعنی ایمان باللہ اور لابرسالت کے بعد۔
التغابن 64:10
یوم یجمعکم ........................ التغابن (46 : 9) ” جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا۔ وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا “۔ یوم الجمع تو اس لئے ہوگا کہ تمام اگلے پچھلے انسانوں کو جمع کیا جائے گا۔ اور تمام ملائکہ کو بھی اس دن حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگی۔ انسانی تصور کے قریب کرنے کے لئے حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوذر سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے۔ اور میں وہ کچھ سن رہا ہوں جو تم نہیں سن سکتے۔ آسمان بوجھ کی وجہ سے چڑ چڑایا اور اس کا حق ہے کہ وہ چڑچڑائے۔ کیونکہ آسمان میں چار انگلیوں کی جگہ بھی نہ ہوگی جہاں ایک فرشتہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو۔ خدا کی قسم اگر تم وہ کچھ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور روتے ہی رہتے۔ اور تم اپنے بستروں پر اپنی بیویوں سے لذت اندوز نہ ہوتے اور تم اونچے مقامات پر چڑھ کر ، اللہ کے سامنے روتے کہ اے اللہ ، کاش میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ لیا جاتا “۔ (ترمذی)
آسمان جہاں چار انگلیوں کی جگہ پر بھی ایک فرشتہ سجدہ ریز ہوگا ، کس قدر وسیع ہے ؟ یہ ناقابل تصور وسیع فضا ہے۔ انسان نے ابھی تک اس کی حدود کو معلوم نہیں کیا ؟ اور اس میں ہمارے سورج جیسے کئی سورج اس طرح ہیں جس طرح ایک ذرہ فضا میں اڑ رہا ہے۔ تو کیا اس سے یہ بات انسانی تصور کے قریب ہوگئی کہ یوم الجمع یعنی قیامت کے دن کس قدر فرشتے جمع ہوں گے ؟
اس عظیم اجتماع میں تغابن ہوگا۔ یہ غبن سے باب مفاعلہ سے ہے۔ یہ ایک تصویر ہے کہ مومنین کس قدر کامیاب ہوں گے اور کافرین کس قدر محوم ہوں گے۔ یہ جہنم میں جاکر ہر چیز سے محروم ہوجائیں گے اور مومنین جنت میں جاکر سب کچھ پالیں گے۔ دونوں کا نصیب بہت ہی مختلف ہے۔ یوں کہ گویا کامیابی کا ایک مقابلہ منعقد ہے اور ایک طرف ہر قسم کی کامیابی ہے اور دوسری طرف ہر قسم کی ناکامی ہے اہر ہر فریق اپنے مقابل کو غبن کررہا ہے۔ اس مقابلے میں مومن کامیاب ہوئے اور انہوں نے سب کچھ جیت لیا کافر ہار گئے اور سب کچھ ہار گئے۔ اس معنی میں یہ یوم التغابن ہے اور اس کی تفسیر یہ آیات کررہی ہیں :
ومن یومن ............................ المصیر (01) (46 : 9۔ 01) ” جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے ، اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے۔ وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گی اور وہ بدترین ٹھکانا ہے “۔
اس سے قبل کہ ان کا ایمان کو طرف بلایاجائے۔ ایمان کا ایک بنیادی قاعدہ یہاں متعین کردیا جاتا ہے یعنی ایمان باللہ اور لابرسالت کے بعد۔
التغابن 64:11
ما اصاب ........................ علیم (46 : 11) ” کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اذن ہی سے آتی ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو ، اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے ، اللہ کو ہر چیز کا علم ہے “۔ اس پیرگراف میں چونکہ لوگوں کو ایمان کی طرف بلایا گیا تھا ، اس لئے اس کے ساتھ اس حقیقت کا ذکر بھی مناسب سمجھا گیا کیونکہ یہ ایمان کے متعلق امور میں سے ہے کہ انسان ہر چیز کو اللہ کی طرف لوٹا دے۔ اور یہ عقیدہ رکھے کہ خیروشر اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ ایمان کی تفصیلات ہیں اور ان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ عملی زندگی میں اس عقیدے کے سوا ایمانی شعور کا تصور نہیں ہوسکتا۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ آیات کے نزول کے وقت کوئی ایسی صورت حال بھی ہو جس میں لوگوں کو یہ تسلی دی گئی کہ خیروشر اللہ کی طرف سے ہے مثلاً مومنین اور مشرکین کے درمیان کوئی خاص واقعہ اس سورت اور اس واقعہ کے نزول کے وقت ہو۔
بہرحال یہ بات کہ نفع ونقصان اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ ایمان کا بہت ہی اہم پہلو ہے۔ اس طرح اللہ پر ایمان لانے والے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو کچھ پیش آتا ہے اللہ کی طرف سے ہے۔ ہر حرکت اور حادثہ سے بھی اللہ کا ہاتھ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور مومن کو جو خوشی یا غم پیش آتا ہے وہ اس پر مطمئن ہوتا ہے۔ غم پر صبر کرتا ہے اور خوشی کا شکر ادا کرتا ہے اور کبھی کبھار تو بعض مومنین اسے سے بھی اوپر چلے جاتے ہیں۔ وہ خوشی اور غم دونوں میں شکر ادا کرتے ہیں اور ہر حال کو ، وہ اللہ کا فضل سمجھتے ہیں ، یوں کہ غم میں ان کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور حسنات میں اضافہ ہوتا ہے۔
متفق علیہ حدیث ہے۔ مومنین کے مزے ہیں کہ اللہ جو فیصلہ کرتا ہے ان کے لئے اس میں خیر ہی ہوتی ہے۔ اگر مصیبت آئے تو وہ صبر کرتے ہیں تو ان کو ثواب ملتا ہے۔ اور اگر ان کو خوشی ملے تو شکر کرتے ہیں تو بھی اس کے لئے خیر ہوتی ہے اور یہ صرف مومنین کے لئے ہے “۔
واللہ بکل شیء علیم (46 : 11) ” اللہ کو ہر چیز کا علم ہے “۔ یہ تعقیب اسی لئے آئی کہ اللہ کا علم کلی ہے اور اس شخص کو بھی اس قسم کی کلی ہدایت مل جاتی ہے۔ اور یہ علم ، اللہ اس کو دیتا ہے جس کو وہ ہدایت کرنا چاہے۔ جب کسی کا ایمان صحیح ہوتا ہے تو اس کے سامنے سے کئی پردے اٹھ جاتے ہیں اور کئی اسرار اس پر واشگاف ہوجاتے ہیں۔ ایک مقدار کے مطابق۔
التغابن 64:12
آگے دعوت ایمان کے سلسلے میں ان کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔
واطیعواللہ .................... المبین (46 : 21) ” اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول پر صاف صاف حق پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ اس سے قبل ان کو لوگوں کا انجام بتایاجاچکا ہے جو منہ موڑتے ہیں۔ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ رسول کا کام تبلیغ پر ختم ہوجاتا ہے۔ اگر اس نے بات پہنچادی تو وہ اپنے فریضے سے سبکدوش ہوگیا۔ اور اس طرح لوگوں پر حجت تمام ہوگئی اور اب لوگ اس معصیت اور منہ موڑنے کے انجام کا انتظار کریں جو انہیں ابھی ابھی سنا دیا گیا ہے۔
اس کے بعد یہ پیرگراف عقیدہ توحید کے قرار داد پر ختم ہوتا ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے اور تکذیب کرتے تھے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے مومنین کا تعلق اللہ کے ساتھ کیسا ہوتا ہے۔
التغابن 64:13
اللہ لا .................... المومنون (46 : 31) ” اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “
توحید کی حقیقت ہی ایمان کی اساس ہے۔ اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو صرف اللہ پر بھروسہ ہو ، صرف اللہ پر بھروسہ کرنا صحیح عقیدہ توحید کے اثرات میں سے ایک اثر ہے جو دل میں موجود ہوتا ہے۔ اس دعوت ایمان سے آگے پھر اہل ایمان کو خطاب شروع ہوتا ہے۔ گویا یہ آیت پچھلے پیرگراف اور آنے والے کے درمیان پل کا کام دے رہی ہے۔
اب مومنین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ بیویاں ، اولاد اور مال ایک بہت بڑا فتنہ اور آزمائش ہوتے ہیں۔ اور اس آزمائش میں کامیاب وہی ہوسکتا ہے جو خدا کا خوف رکھتا ہو۔ سمع ، طاعت اور انفاق ہی کے ذریعہ انسان ان فتنوں پر قابو پاسکتا ہے اور مومنین کو نفسیاتی کنجوسی سے بھی متنبہ کیا جاتا ہے اور سخاوت اور انفاق کے بدلے میں اجر ، مغفرت اور فلاح اخروی کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ حاضر وناظر ہے۔ اس کی قدرت غالب ہے۔ اور وہ زبردست حکیم ہے۔
التغابن 64:14
ان آیات کے بارے میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ پہلی آیت کے بارے میں ان سے کسی نے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ مکہ کے کچھ لوگ تھے جو اسلام لے آئے تھے۔ انہوں نے ارادہ کرلیا کہ وہ ہجرت کرکے رسول اللہ کے پاس آجائیں ، لیکن ان کی بیویوں اور ان کی اولاد نے ، اس سے انکار کردیا۔ اور ان کو نہ چھوڑا۔ پھر بعد میں جب وہ رسول اللہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ تعلیم دین کے میدان میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ تو انہوں نے ارادہ کرلیا کہ ان بیویوں اور اولاد کو سزا دیں۔ اللہ نے یہ آیات نازل کی :
وان تعفوا ........................ غفور رحیم (46 : 41) ” اگر تم عفو و درگزر سے کام لو اور معاف کردو تو اللہ غفور ورحیم ہے “۔ امام ترمذی نے اسے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اسناد حسن صحیح ہے۔ یہی عکرمہ مولی ابن عباس کی رائے ہے۔ لیکن آیت کی عبارت اور نص عام ہے۔ اور اس جزئی واقعہ تک اس کے مفہوم کو محدود نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تنبیہ بھی اس طرح ہے جس طرح اگلی آیت میں مال اور اولاد سے متنبہ کیا گیا ہے۔
التغابن 64:15
انما ........................ فتنة (46 : 51) ” تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں “۔ تنبیہ یہ ہے کہ بعض اوقات مال اور اولاد دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ بات انسانی زندگی کی ایک نہایت ہی بڑی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ زندگی کے اندر بعض اوقات روابط اور تعلقات اس قدر متنوع اور مختلف سمتوں سے دامن کش ہوتے ہیں کہ انسان آزمائش میں پڑجاتا ہے۔ ازواج اور اولاد کبھی انسان کو ذکر الٰہی سے غافل کردیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ایمان کے مشکل ترین تقاضے پورے کرنے کی راہ میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مثلاً فریضہ جہاد فی سبیل اللہ میں دنیاوی نقصانات اٹھانے پڑتے ہی۔ بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ انسان اور اس کی اولاد اور اہل خاندان تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انسان اپنی ذات پر سختی برداشت کرسکتا ہے لیکن بیوی بچوں پر سختیاں اور تشدد برداشت نہیں کرسکتا۔ یوں انسان جدوجہد اور جہاد میں بزدلی اختیار کرتا ہے کہ بچوں اور بیوی کو کے آرام اور آسائشوں میں خلل نہ ہو۔ اور وہ اس کے دشمن نہ ہوجائیں اور یوں دراصل وہ دشمن ہوجاتے ہیں اور اسے راہ راست سے روک دیتے ہیں۔ یوں ایک مومن اعلیٰ مقاصد اور بلند مراتب کے حصول سے نیچے رہ جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ازواج واولاد ٹھیک کھڑے ہوکر راہ روک دیتے ہیں اور مومن اپنے فرائض سرانجام دینے سے رک جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ مومن کے نظریاتی مخالف ہوتے ہیں۔ اور مومن کے لئے ان سے صاف صاف قطع تعلق بھی ممکن نہیں ہوتا۔ غرض یہ اور بیشمار دوسری صورتیں اس دشمنی اور آزمائش کی پیش آسکتی ہیں۔
اس لئے اللہ نے اولاد ، بیوی اور مال کے فتنوں اور آزمائشوں کے بارے میں یہاں سختی کے ساتھ متنبہ کیا کہ ان کے بارے میں مومن کے دل میں ایک احتیاط اور ایک شعور موجود ہو اور اس کا دل بیدار ہو اور برداشت کرنے کی تیاری میں اگر کوئی دباﺅ آئے تو وہ مقابلہ کرے۔
اس کے بعد مال اور اولاد کی دشمنی کو ایک دوسرے رنگ میں تکرار کرکے پیش کیا کہ یہ فتنہ بھی ہوتے ہیں۔ لفظ فتنہ کے دو معنی ہوتے ہیں : ایک یہ کہ اللہ تمہیں مال اور اولاد کے ذریعہ آزماتا ہے ، لہٰذا چوکنے رہو ، احتیاط کرو کہ تم اس آزمائش میں پاس ہوجاﺅ۔ اور خلوص اور تجرد اختیار کرو۔ فتنے کے معنی یہ ہیں کہ سنار سونے کو آگ میں ڈال کر پگھلاتا ہے تاکہ اس سے کھوٹ نکال دے۔ یہ عمل فتنہ کہلاتا ہے۔
دوسرے معنی یہ ہیں کہ مال واولاد خود فتنہ ہیں اور یہ شیطان کے ہتھیار ہیں۔ یہ تمہیں دین کی مخالفت اور معصیت میں ڈالتے ہیں۔ لہٰذا اس معنی میں دشمن ہیں ان سے بچو ، کہ وہ تمہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔ یہ دونوں معنی قریب قریب ہیں۔
امام احمد نے روایت کی ہے۔ عبداللہ ابن بریدہ سے ، انہوں نے ابوبردہ سے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے حسن اور حسین آئے۔ انہوں نے سرخ قمیض پہن رکھے تھے۔ یہ چلتے تھے اور گرتے پڑتے آرہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ منبر سے اترے۔ ان کو اٹھایا۔ اپنے سامنے بٹھایا۔ اور پھر فرمایا : ” اللہ اور اللہ کے رسول نے سچ کہا کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے آزمائش ہے۔ میں نے دونوں بچوں کو دیکھا کہ چل رہے ہیں اور گرتے پڑتے آرہے ہیں۔ مجھ سے نہ رہا گیا ، میں نے خطبہ چھوڑ کر ان کو اٹھالیا “۔ اصل سنت نے واقد سے اسے روایت کیا ہے۔ یہ ہیں رسول اور یہ ہیں آپ کے نواسے۔ لہٰذا اولاد کا معاملہ بہت ہی نازک اور اہم ہے اور خطرہ ہے اور ان کے بارے میں تنبیہ ضروری تھی۔ اللہ نے اسے ضروری سمجھا اور یہ تنبیہ کی۔ اللہ تعالیٰ ، جو لوگوں کا خالق ہے ، ان کے جذبات اور شعور کا بھی خالق ہے۔ اور یہ جذبات اور میلانات اولاد کے بارے میں اسی نے حضرت انسان میں رکھے ہیں۔ اللہ نے ضروری سمجھا کہ لوگ افراط وتفریط سے بچیں اور کہیں ان کی اولاد ان کی ہلاکت کا باعث نہ بن جائے۔ اللہ جانتا تھا کہ یہ محبتیں بعض اوقات دشمن سے بھی زیادہ نقصان دے سکتی ہیں۔ اور بعض اوقات یہ ایسی سازش کرسکتی ہیں جس طرح ایک گہرا دشمن چال چلتا ہے۔
انسان کو مال واولاد کے فتنے سے ڈراکر ، اور ان کی جانب سے نہایت ہی گہری دشمنی سے خبردار کرکے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فتنہ ہیں۔
واللہ .................... عظیم (46 : 51) ” اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے “۔
التغابن 64:16
اب اہل ایمان کو ان کی طاقت اور استطاعت کے مطابق ، اللہ سے ڈرنے اور سمع و اطاعت کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
فاتقوا .................... واطیعوا (46 : 61) ” لہٰذاجہاں تک تمہارے بس میں ہو ، اللہ سے ڈرتے رہو اور سنو اور اطاعت کرو “۔ یہ شرط کہ ” جہاں تک تمہارے بس میں ہو “۔ یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں پر بہت بڑا رحم وکرم ہے۔ اللہ کو علم ہے کہ بندے کے اندر کتنی طاقت ہے۔ کس قدر تقویٰ اور اطاعت وہ کرسکتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اس کی تعمیل اس حد تک کرو جس حد تک تمہارے بس میں ہو۔ لیکن میں جس بات سے منع کردوں تو پوری طرح رک جاﺅ“۔ اطاعت امر کی تو حدود نہیں اس لئے اس میں حکم بقدر استطاعت ہے۔ رہی نہی تو اس پر پورا پورا عمل کرنا ہوگا ، بغیر نقصان کے اور بغیر کمی کے۔
اس کے بعدان کو انفاق فی سبیل اللہ پر آمادہ کیا جاتا ہے۔
وانفقوا خیر الا نفسکم (46 : 61) ” اور اپنے مال خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے “۔ یہ جو کوئی خرچ کرتا ہے تو یہ دراصل اپنے لئے کرتا ہے۔ یہ حکم دیتا ہے کہ اس کام کو اپنے لئے کرو ، گویا وہ خود اپنے اوپر خرچ کرتے ہی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اس کا تمہیں اجر ملے گا۔ گویا یہ بھی تم اپنے اوپر خرچ کرتے ہو۔
اب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو بتاتا ہے کہ انفاق کی راہ میں رکاوٹ بخیلی اور دل کی تنگی ہے اور یہ ایک ایسی مصیبت ہے جو انسان کے ساتھ لگی رہتی ہے۔ سعادت مند وہ ہے جو اس بخل سے نجات پا گیا۔ اور جو اس سے بچا لیا گیا وہ سمجھ جائے کہ اس پر فضل وکرم ہوگیا ہے اور وہ کامیاب ہوگیا ہے۔ ومن یوق شح نفسہ .................... المفلحون (46 : 61) ” جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاں پانے والے ہیں “۔
اس کے بعدان کو انفاق اور اللہ کی راہ میں مزید خرچ کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے اور ان کے دلوں میں انفاق کو محبوب بنانے کے لئے ، انفاق کو قرض حسن سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور قرض حسن بھی ایک غلام سے اس کا آقا مانگ رہا ہے۔ قرض لے کر وہ کئی گنا کرکے دیتا ہے۔ اور قرض دینے والے کا شکر بھی ادا کرتا ہے اور تمہاری کوتاہیوں کو بھی معاف کرتا ہے۔ اور اللہ انسان کو کوتاہیوں کو دیکھ کر بہت ہی حلم سے کام لیتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اللہ ہی تو ہے۔
التغابن 64:17
ان تقرضوا .................... حلیم (46 : 71) ” اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کردے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا ، اللہ بڑا قدردان اور بردبار ہے “۔ اللہ بہت ہی برکت والا اور عظیم ہے۔ کتنا بڑا کریم ہے ، کتنا بڑا ہے۔ وہ بندے کو پیدا کرتا ہے ، اسے رزق دیتا ہے ، پھر اس سے قرضہ مانگتا ہے قرض حسن۔ پھر صرف قرض ہی نہیں لوٹاتا بلکہ اسے کئی گناکرکے لوٹاتا ہے۔ پھر اللہ اپنے بندے کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اور اس کے ساتھ نہایت ہی حلم سے معاملہ کرتا ہے۔ اللہ اور اپنے غلام کا شکر ، یا اللہ یہ تیرا ہی کام ہے ! اور ایک عظیم انعام ہے !
اللہ ہمیں اپنے صفات سے آگاہ کرتا ہے کہ ہم اپنے نقائص اور اپنی کمزوریوں پر کس طرح قابو پائیں اور ہم ہمیشہ اللہ کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھیں اور ہم اللہ جل شانہ کی تقلید زمین پر کریں۔ اپنی محدود طاقت کے مطابق۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ میں نے انسان کے اندر اپنی روح پھونکی ہے۔ اس روح کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اللہ کی صفات کی تقلید کریں۔ اپنی طاقت کے مطابق کریں۔ انسان کے سامنے یہ بلند آفاق ہر وقت کھلے ہیں کہ یہ جس قدر ان میں بلندیوں تک جاسکتا ہے ، جاسکے۔ ان بلندیوں تک وہ درجہ بدرجہ بلند ہو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تک جب پہنچے تو ایسی حالت میں ہو کہ اللہ اسے پسند کرے۔ اور اس سے راضی ہو۔
التغابن 64:18
اب اس سورت کا خاتمہ ایک ایسی صفت الٰہی پر ہوتا ہے کہ جس سے ہمارے دل کے اندر خوف وتقویٰ پیدا ہوتا ہے۔
علم الغیب ........................ الحکیم (46 : 81) ” اللہ حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے ، زبردست اور دانا ہے “۔ اس کے علم کے سامنے سب کچھ کھلا ہے۔ اس کی سلطنت کے سامنے سب کچھ جھکا ہوا ہے۔ وہ اپنی حکمت سے اس پوری کائنات کی تدبیر کررہا ہے۔ یوں کہ لوگ زندہ ہیں اور یوں رہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ اس کی مکمل حکومت ان پر نافذ ہے۔ ہر حاضر اور غائب کو اس کا دست قدرت چلارہا ہے۔ جب یہ تصور قلب مومن میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ اللہ کے سامنے خلوص اور اطاعت کرتے جاتا ہے۔ اور اللہ کے احکام کی اطاعت نہایت آمادگی سے کرتا ہے۔
الطلاق 65:1
یہ پہلا مرحلہ ہے اور یہ پہلا حکم ہے کہ خطاب تو صرف حضور اکرم ﷺ کو ہے لیکن حکم تمام مومنین کے لئے ہے۔ کیونکہ خطاب۔
یایھا النبی (56 : 1) سے ہے اور حکم یوں شروع ہوتا ہے :
اذا ............ النسائ (56 : 1) ” جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو “۔ معلوم ہوا کہ اس حکم کی خدا کے نزدیک بہت بڑی اہمیت ہے اور اس لئے یہ تاثر دیا گیا کہ اسے نہایت سنجیدگی سے لیا جائے۔ یہ اہم حکم ہے۔ اللہ اپنے نبی کو خصوصی طور پر خطاب فرماتا ہے کہ یہ حکم لیجئے اور اسے لوگوں تک پہنچائے۔ یہ ایک نفسیاتی انداز ہے اور نہایت ہی اونچے درجے کا اہتمام کا۔
اذا طلقتم ................ لعدتھن (56 : 1) ” جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لئے طلاق دو “۔ اس آیت کا مفہوم کے تعین میں بخاری شریف کی ایک صحیح حدیث وارد ہے۔ یحییٰ ابن بکیر سے ، لیث سے ، انہوں نے عقیل سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم سے ، انہوں نے عبداللہ ابن عمر ؓ سے وہ کہتے ہیں کہ میری ایک بیوی تھی جسے میں نے طلاق دے دی۔ اس وقت وہ حائضہ تھی۔ حضرت عمر ؓ نے اس کا ذکر رسول اللہ سے فرمایا۔ رسول اللہ کو بہت غصہ آیا ۔ پھر آپ نے فرمایا : ” اسے چاہئے کہ اس سے رجوع کرے۔ پھر اسے بیوی بنا کر رکھے جب تک کہ وہ حیض سے پاک نہ ہوجائے اور اس کے بعد وہ دوبارہ حائضہ ہوجائے اور پھر حیض کی مدت ختم ہونے پر پاک ہوجائے۔ اب اگر وہ اسے طلاق دینا چاہتا ہے تو دے دے۔ ایسی حالت میں کہ وہ پاک ہو اور قبل اس کے کہ اس نے ہاتھ لگایا ہو۔ یہ ہے وہ عدت جس کا حکم اللہ نے دیا ہے “۔ مسلم نے بھی اس کی روایت کیا ہے۔ البتہ ان کے الفاظ یہ ہیں : ” یہ ہے وہ عدت جس کے لئے اللہ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے “۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق واقع ہونے کا ایک متعین وقت ہے۔ لہٰذا مرد کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ جس وقت چاہے عورت کو طلاق دے دے الایہ کہ اس کی بیوی پہلے سے حالت طہر میں ہو اور اس طہر میں اس نے اپنی بیوی کو ہاتھ نہ لگایا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ایک دوسری صورت بھی ہے جس میں طلاق دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ عورت واضح طور پر حاملہ ہو۔ اس میں حکمت الٰہیہ یہ ہے کہ طلاق اس طرح ایک متعین وقت کے لئے موخر ہوجائے گی۔ اور جس وقت مرد طلاق دینے کے لئے آمادہ ہوتا ہے ، فوراً نہ دی جاسکے گی۔ عملاً طلاق موخر ہوجائے گی اور فائدہ یہ ہوگا کہ اگر کوئی فوری غیض وغضب کا معاملہ ہو تو وہ ٹھنڈا ہوجائے۔ اور اس دوران فریقین کے درمیان تعلقات درست ہوجائیں۔ نیز اگر حاملہ ہے تو حمل کی تفتیش میں بھی وقت گزرسکتا ہے۔ بعض اوقات ہوسکتا ہے کہ ایک شخص حمل ہی کی وجہ سے طلاق سے رک جائے۔ جب حمل معلوم ہوجائے ، اس صورت میں اگر وہ طلاق دے گا تو معلوم ہوجائے گا کہ وہ سوچ سمجھ کر طلاق دینے کا فیصلہ کرچکا ہے۔” یہ کہ طہر میں طلاق دی جائے جس میں عورت کے پاس نہ گیا ہو “۔ یہ اس لئے کہ اس صورت میں حمل کا امکان کم ہوتا ہے۔ اور یہ شرط کہ ” وہ پہلے یہ تفتیش کرائے کہ حمل نہیں ہے “۔ یہ اس لئے کہ اسے معلوم ہو کہ بیوی حاملہ ہے۔
یہ پہلی کوشش ہے کہ خاندان کے خلے پر دار کرنے سے خاوند کو روکا جاتا ہے اور اس عمارت کو گرانے کے لئے مارے جانے والے کدال کو روک دیا جاتا ہے یا روکنے کی سعی کی جاتی ہے۔
لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر کوئی شخص ان شرعی ہدایات کی پرواہ کیے بغیر طلاق دیتا ہے تو واقع نہیں ہوتی۔ جس وقت بھی کوئی طلاق دے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن اس طرح دینا مکروہ ہے۔ اللہ اور رسول سے ایسے شخص پر غضب کا نزول ہوگا۔ (اور اسے طلاق بدعی) کہتے ہیں اور ایک سچے مومن کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اس سے بچے اور اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرے۔
واجصوا العدة (56 : 1) ” عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو “۔ تاکہ اس کے عدم شمار میں عدت گزارنے والی عورت پر مدت زیادہ نہ ہوجائے اور عدت گزارنے کے بعد اگر وہ دوسرا خاوند کرنا چاہتی ہے تو اسے بلاضرورت دیر نہ کرنا پڑے۔ یا اگر مدت کم شمار ہو تو اس سے مدت کے جو مقاصد ہیں وہ پورے نہ ہوں۔ یعنی نسب کی حفاظت کے لئے رحم مادر کی پاکی کا یقین ہونا۔ اس کے بعد عدت گزارنے کے بارے میں مفصل احکام۔ اور معاملے کو اللہ کی نگرانی اور خدا خوفی کے حوالے کیا جاتا ہے۔
واتقواللہ .................... مبینة (56 : 1) ” اور للہ سے ڈرو ، جو تمہارے رب ہے۔ نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو ، اور نہ وہ خود نکلیں ، الایہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں “۔ یہ پہلی پکار کے بعد پہلی تنبیہ ہے۔ اور عورتوں کو گھروں سے نکالنے یا ان کے خود نکلنے کو خدا خوفی کے حوالے کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں خدا سے ڈرو۔ یہ کہا گیا ہے کہ ” ان کو ان کے گھروں “ سے نہ نکالو حالانکہ گھر تو خاوند کے ہیں ، لیکن چونکہ ان کو وہاں رہنے کا استحقاق ہے اور ان کا وہاں رہنا اللہ نے فرض قرار دیا ہے ، اس لئے ان خاوندوں کے گھروں کو ان کے گھر کہا گیا ہے۔ ہاں صرف ایک صورت میں وہ گھروں سے نکل سکتی ہیں ، یا نکالی جاسکتی ہے کہ ان سے کسی کھلی فحاظی کا ارتکاب ہو ، اگر وہ زنا کا ارتکاب کریں تو حد کے لئے نکالا جائے گا۔ یا یہ کہ خاوند کے رشتہ داروں کے لئے وہ ایذا کا سبب ہوں۔ یا بعض اوقات خاوند کے ساتھ نافرمانی اور بدکلامی بھی ہوسکتی ہے ، کیونکہ عورت کو خاوند کے ھگر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے لئے ایسے مواقع فراہم ہوں کہ وہ رجوع کے لئے آمادہ ہوسکیں۔ اور محبت جذبات کو کام کرنے کے مواقع فراہم ہوں۔ مشترکہ زندگی کی یادیں اپنا کام کرسکیں ، یوں کہ عورت جسمانی لحاظ سے خاوند سے دور ہوگی اور اس کی نظروں کے سامنے ہوگی۔ اس حالت میں دونوں کے درمیان معاملات کی درستگی کے امکانات موجود ہوں گے۔ اگر وہ خاوند کے گھر رہتے ہوئے ، زنا کا ارتکاب کرتی ہے ، یا فحاشی اور بدکلامی کرتی ہے ، یا اس کو اور اس کے اہل خانہ کو ایذا دیتی ہے ، تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ٹھہرانے سے جو مقاصد پیش نظر تھے ان کے حصول کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لہٰذا اب اس کا یہاں رہنا مزید بدمزگی کا باعث ہوگا۔ فریقین میں مزیدکشیدگی ہوگی۔
وتلک .................... نفسہ (56 : 1) ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں ، اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا “۔ یہ دوسرا ڈراوا ہے جو اسلام کے قانون طلاق پر عمل نہ کرنے والوں کو دیا گیا ہے۔ کیونکہ اپنے احکام کی تعمیل کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے والا اللہ بذات خود ہے۔ اگر کوئی مومن ہے تو وہ حدوں کو ہرگز عبور نہیں کرسکتا جن کا نگران اللہ ہے۔ یہ تو کھلی ہلاکت اور تباہی ہے۔” جو اللہ کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا “۔ اس لئے کہ اللہ کی حدود پر اللہ کی فوجیں کھڑی ہیں ، پھر یہ شخص اپنی بیوی پر ظلم کرکے خود اپنے ساتھ ظلم کررہا ہے کہ دوتوں ایک ہی نفس سے پیدا کردہ ہیں۔
لا تدری .................... امرا (56 : 1) ” تم نہیں جانتے ، شاید اس کے بعد اللہ (موافقت) کی کوئی صورت پیدا کردے “۔ یہ نہایت موثر احساس دلانا ہے۔ کوئی ہے جو مستقبل کے پردے کے پیچھے پوشیدہ امور کو جانتا ہو۔ یا کون ہے جو اللہ کی تقدیر کو جانتا ہے اور اس حکمت کو جانتا ہے کہ عدت کیوں مقرر کی گئی ہے اور یہ کیوں مقرر کیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں۔ یہ ان کی امید اور اچھی امید کی یقین دہانی ہے۔ بعض اوقات اس سے بہت بڑی خیر نکل آتی ہے۔ بعض اوقات اچانک حالات تبدیل ہوجاتے ہیں ، غلط فہمی دور ہوکر رضامندی پیدا ہوجاتی ہے۔ اللہ کی تقدیر تو ہر وقت حرکت میں رہتی ہے۔ اس کے اندر ہر وقت تغیر ہوتا رہتا ہے۔ نئے نئے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں لہٰذا اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم کرنا ہی بہتر طریقہ ہے اور اللہ سے ڈرنے ہی میں خیر ہے۔
نفس انسانی پر بعض اوقات وقتی حالات چھا جاتے ہیں۔ اور موجود حالات کے ہاتھوں وہ مجبور ہوجاتا ہے۔ اور مستقبل کی رہا ہیں اس پر مسدود وہ جاتی ہیں۔ چناچہ وہ موجود حالات کی گندگی میں مجبوراً پڑا رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ مجھے اب یونہی رہنا ہے۔ یہی صورت باقی رہے گی۔ اور موجودہ حالات ہمیشہ اس کے رفیق رہیں گے اور موجودہ سائے اس کا پیچھا کرتے ہی رہیں گے۔ یہ ایک نفسیاتی جیل خانہ ہوتا ہے جس میں کوئی شخص خود اپنے ہاتھوں قید ہوجاتا ہے اور بعض اوقات اعضاء شکن ہوتا ہے۔
لیکن حقیقت یوں نہیں ہوتی۔ اللہ کی تقدیر تو حالات پر خندہ زن ہوتی ہے۔ حالات تو بدلتے رہتے ہیں۔ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ بعض اوقات مشکلات کے بعد ایسے حالات پیش آجاتے ہیں کہ لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ مشکل کے بعد ہمیشہ آسانیاں ہوتی ہیں۔ تنگی کے بعد کشادگی ہوتی ہے اور اللہ کی ہر روز نئی شان ہوتی ہے۔ تمام تخلیق اس کے ہاتھ میں ہے۔
اللہ یہ چاہتا ہے کہ لوگوں کے شعور میں یہ فکر مستقلاً ہو ، تاکہ وہ پر امید رہیں اور اللہ کی طرف نظریں لگائے ہوئے ہوں ، کہ وہ کسی بھی وقت ، مشکلات کو دور کردے گا۔ اور حالات کے بدلنے میں کوئی دیر نہیں لگتی ، لہٰذا انسانی ذہن کو بھی اپنے دروازے اس کے لئے کھلے رکھنے چاہئیں اور مایوس ہوکر وہ ذہن کو بند نہ کردے۔ آنے والی گھڑی میں انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔
لاتدری ........................ امرا (56 : 1) ” تم نہیں جانتے کہ اللہ اس کے بعد کوئی صورت مصالحت پیدا کردے “۔
الطلاق 65:2
فاذا بلغن ............................ قدرا (56 : 3) (56 : 2۔ 3) ”” اے نبی ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لئے طلاق دیا کرو اور ، پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو ، یا بھلے طریقے پر ان سے جدا ہوجاﺅ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لئے ادا کرو۔ یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ، ہر اس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لئے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک تقدیر مقرر کررکھی ہے “۔
یہ دوسرا مرحلہ اور اس کا حکم ہے۔ عدت پوری ہوجاتی ہے ، اور جب تک عورت عدت سے خارج نہیں ہوجاتی ، خاوند کو رجوع کا حق رہتا ہے اور محض رجوع کرنے سے وہ اس کی بیوی بن جاتی ہے۔ یاد رہے کہ عدت کی مختلف میعادیں ہم نے پہلے بتادی ہیں۔ یہ ہے امساک یعنی روک لینا۔ یا اگر وہ (دوسری یا تیسری) طلاق نہیں دیتا اور عورت بائن ہوجاتی ہی یعنی عورت ایک یا دوطلاقوں ہی سے جدا ہوجاتی ہے تو پھر وہ آزادہ ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اگر خاوند چاہے تو اس کی مرضی سے جدید نکاح کرسکتا ہے لیکن اگر وہ رجوع کرتا ہے یا عورت کو جدا کرتا ہے ، حکم یہ ہے کہ اس کے ساتھ معروف طریقے کے مطابق برتاﺅ کرے۔ یہ بھی منع ہے کہ اسے محض تنگ کرنے کے لئے رجوع کرے۔ مثلاً یہ کہ عورت کو ایک طلاق دے۔ پھر وہ پوری عدت گزارنے سے قبل رجوع کرے ، پھر اس کو طلاق دے اور پھر وہ تین مہینے کی عدت شروع کرے اور ختم ہونے سے قبل پھر رجوع کرے اور پھر طلاق دے دے۔ یوں اس کی عدت نو ماہ تک چلی جائے۔ یہ ہے عورت کو محض اذیت دینا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر رکھنا ہے تو رجوع کرے۔ اور اس طرح بھی نہ ہو کہ رجوع کرکے اسے معلق رکھ دے کہ وہ بےچاری مالی تاوان دینے پر مجبور ہوجائے۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو اس وقت عرب معاشرہ میں ایسی صورتیں ہورہی تھیں اور ہمیشہ ایسا ہوتا ہے جب انسان دلوں سے اللہ کا خوف نکل جاتا ہے۔ معاشرت اور جدائی دونوں حالتوں میں خوف خدا ہی بہترین ضامن ہوتا ہے۔ نیز عورت کو جدا کرتے وقت سب وشتم ، سختی ، سخت کلامی یا مارپیٹ معروف طریقہ نہیں ہے۔ معروف طریقہ یہ ہے کہ شرافت سے رخصت کیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں کو پھر ایک جگہ رہنا پڑے۔ اور اس صورت میں بری یادیں بیچ میں حائل نہ ہوں۔ اس طرح بری اور ناخوش گوار یادیں ، یہ برے الفاظ یا طنز وتشنیع دوبارہ تعلقات قائم ہونے کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ یہ اسلام کا عظیم تادہی سبق ہے کہ ایسے مشکل اور تلخ حالات میں بھی انسان کو شریفانہ طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
ہاں اب جدائی ہو یا رجوع دونوں حالات میں شہادت کا قیام ضروری ہے۔ دو عادل گواہ اس پر قائم ہوں تاکہ شک کسی معاملے میں نہ ہو کہ لوگوں کو طلاق کے بارے میں تو معلوم ہو اور رجوع کرنے کے بارے میں معلوم نہ ہو۔ لوگوں میں شکوک پھیل جائیں اور لوگ باتیں بنائیں کہ فلاں کی بیوی تو مطلقہ ہے۔ جبکہ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ میاں بوی کے متعلق لوگوں کے دل بھی صاف ہوں اور ان کی زبانیں بھی صاف ہوں۔ فقہاء کی اکثریت کا خیال ہے کہ رجوع یا فراق کے لئے شہادت کا قیام ضروری نہیں۔ بعض فقہاء اسے ضروری خیال کرتے ہیں لیکن دونوں کا خیال یہی ہے کہ شہادت ضرور قائم کی جائے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔ اور لوگوں کو باتیں بنانے کا موقعہ نہ ملے۔ چناچہ اس بیان کے بعد متعدد ہدایات دی جاتی ہیں اور یاد دہانیاں کرائی جاتی ہیں :
واقیموا ................ للہ (56 : 2) ” اور شہادت قائم کرو اللہ کے لئے “۔ کیونکہ یہ ایک اہم معاملہ ہے۔ اور اس میں اللہ کے لئے شہادت دینا گواہ پر لازم ہے۔ اللہ اس کے قیام کا حکم دیتا ہے۔ وہی اس کی ادائیگی کا بھی حکم دیتا ہے۔ اور اس پر اجر بھی وہ دے گا۔ اس میں معاملہ خدا کے ساتھ ہے ، نہ خاوند کے ساتھ ، نہ بیوی کے ساتھ ، اور نہ لوگوں کے ساتھ ہے۔
ذلکم ........................ الاخر (56 : 2) ” یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ، ہر اس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو “۔ ان آیات کے مخاطب مومنین تھے اور وہ سب کے سب اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے تھے۔ اللہ ان کو کہتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم معاملات ہیں۔ اگر انہوں نے سچے دل سے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے تو پھر انہیں ان احکام الٰہی کا احترام کرنا چاہئے۔ یہ ان کے ایمان کے لئے معیار تصور ہوگا اور دعوائے ایمان کا یہ نہ پیمانہ ہوگا۔
الطلاق 65:3
ومن .................... یحتسب (56 : 3) ” جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو “۔ وہ دنیا اور آخرت کی تنگیوں سے انہیں نکال دے گا۔ اور رزق ایسے ذرائع سے اسے دے گا جدھر کا اسے گمان بھی نہ ہوگا۔ یہ ایک عام فیصلہ اور دائمی حقیقت ہے۔ لیکن یہاں ان اصولوں کو احکام طلاق پر منطبق کیا جاتا ہے۔ اشارہ یہ ہے کہ ان احکام پر پورا پورا عمل کرو۔ خدا خوفی ایک ایسا ضابطہ ہے جو ایسے معاملات میں سب سے زیادہ کارگر ہے۔ خوف خدا ہی انسان کے لئے ایک اچھا نگراں ہے ورنہ قانونی ضوابط میں سے لوگ اپنے لئے راہیں نکال لیتے ہیں صرف تقویٰ ہی انسان کو صحیح عمل پر گامزن کرسکتا ہے۔
ومن یتوکل ............................ لاغ امرہ (56 : 3) ” جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لئے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے “۔ اس معاملے میں سازشوں کی بڑی گنجائش ہوتی ہے ، اور بعض اوقات سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے سازش کرنی پڑتی ہے ، یہاں کہا جاتا ہے کہ ایسی سازشیں نہ کرو ، اللہ پر بھروسہ کرو ، اور جو لوگ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں وہ ان کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اللہ اپنے کام کرکے رہتا ہے ، وہ جو فیصلے کرچکا ہے وہ واقع ہوکر رہتا ہیں۔ لہٰذا اللہ اور اس کے فیصلوں پر بھروسہ کرنا ، جبکہ وہ بڑی قوت ہے اور جو چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔ کامیابی کا بڑا ذریعہ ہے۔
یہ آیت عام ہے۔ مقصد یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان اور بھروسے کی صحیح کیفیت پیدا کی جائے۔ اللہ کے ارادے اور اللہ کی تقدیر کے حوالے سے۔ لیکن یہاں چونکہ یہ عام بات طلاق کے حوالے سے آئی ہے تو اس کا یہاں خاص طلاق کی طرف بھی اشارہ ہے ، کیونکہ یہ بھی اللہ کے فیصلوں میں سے ایک فیصلہ ہے۔
قد جعل ................ قدرا (56 : 3) ” اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک تقدیر مقرر کررکھی ہے۔ “۔ ہر چیز اس کی مقدر ہے ، اس کے زیر نگین ہے ، ہر واقعہ کی ایک جگہ ، ایک مقام ہے۔ اس کے حالات ، اس کے اسباب اور نتائج اس کے پیدا کردہ ہوتے ہیں۔ کوئی چیز از خود وجود میں نہیں آتی۔ نہ یہ معاملات یونہی چلتے ہیں جس طرح کوئی چلائے۔ یہ پوری کائنات ، نفس انسانی اور اس کی زندگی کے تمام واقعات ، اسی عظیم حقیقت کے نتیجے میں نمودار ہوتے ہیں یعنی مطابق تقدیر الٰہی۔ (اس پر ہم نے آیت۔ )
وخلق ................ تقدیرا کے ضمن میں تفصیل سے بات کی ہے دیکھئے سورة الفرقان : 2) یہاں مقصد یہ ہے کہ یہ طلاق اور یہ رجوع ، عدت ، شہادت ، ادائیگی شہادت وغیرہ سب احکام اللہ کے ہاں مقدر ہیں۔ اور یہ اس طرح ہوتے چلے جاتے ہیں جس طرح کائنات میں سنت الٰہیہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس طرح انسان ان معاملات کو یوں سمجھتا ہے جس طرح اللہ کے ہاں فیصلے ہوتے ہیں۔
الطلاق 65:4
والئی ............................ لہ اجرا (5) (56 : 4 تا 5) ” اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ ) ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور یہی حکم ان کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے۔ جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کردیتا ہے یہ اللہ کا حکم ہے۔ جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دو رکردے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا “۔
ان آیات میں ان عورتوں کی مدت عدت کی تحدید کی گئی ہے جن کو حیض نہیں آتا اور وہ حاملہ بھی نہیں ہیں۔ یعنی وہ عورتیں جن کو حیض آنا بند ہوگیا ہو ، یا ان کو ایام بیماری کی وجہ سے یا صفر سنی کی وجہ سے آتے ہی نہ ہوں۔ کیونکہ اس سے قبل سورة بقرہ میں عدت کی جو مدت بتائی گئی تھی وہ ان عورتوں کے لئے تھی جن کو حیض آتا ہو۔ چاہے لفظ قروء سے مراد تین ایام ماہواری لئے جائیں یا تین ایام فراغت لی جائے۔ یہ فقہی اختلاف ہے۔ رہی وہ عورتیں جن کے ایام آنا بند گئے ہوں یا آتے ہی نہ ہوں یا شروع ہی نہ ہوئے ہوں تو ان کا معاملہ مجمل تھا کہ وہ کس طرح عدت گزاریں۔ چناچہ یہ ایام ماہواری کے ساتھ ایک جیسی ہوجائے۔ رہی وہ عورتیں جو حاملہ ہیں تو ان کی مدت وضع حمل ہے۔ طلاق کے بعد یہ مدط طویل ہو یا مختصر ، اگرچہ نفاس سے طہارت کے لئے چالیس ایام کی مدت ہے۔ لیکن عدت کو اس لئے مقرر کیا گیا تھا کہ یہ دیکھا جائے کہ عورت کے ہاں بچہ تو نہیں ہے۔ اب حاملہ مطلقہ تو وضع حمل کے ساتھ ہی خاوند سے جدا ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اس کے بعد انتظار کی ضرورت نہیں ہے اور وضع حمل کے بعد اس کے ساتھ رجوع نہیں ہوسکتا ، صرف نیا نکاح ہی ہوسکتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک میزان مقرر کردیا ہے لہٰذا ہر حکم کے پیچھے حکمت ہے۔
یہ تو تھا حکم ، اب نصیحت ، عبرت اور حکمتیں۔
ومن یتق ................ یسرا (56 : 4) ” جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کردیتا ہے “۔ انسان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ معاملات میں اس کے ساتھ نرمی ہو۔ اور یہ بہت بڑا نعام ہے کہ اللہ اپنے امور میں سے کچھ میں لوگوں کے لئے سہولت پیدا کردے۔ یوں ان کو کوئی مشکل ، کوئی عذاب ، اذیت اور تنگی اور مشقت نہ ہو۔ اور وہ اپنے اندازے اور اپنے شعور کے مطابق سہولت محسوس کرے۔ حرکت وعمل میں معاملات کو آسان پاتا ہو۔ کام کرنے اور اس کے نتائج حاصل کرنے میں وہ اس کو آسان پائے اور وہ ایسی ہی حالت میں رہے اور اللہ کے ساتھ اس کی ملاقات ہوجائے۔ اور یہ طلاق بھی ان معاملات میں سے ہے جن میں اللہ نے سہولت پیدا کی ہے۔ (عیسائیت اور ہندو مذہب میں طلاق تھی ہی نہیں)
الطلاق 65:5
ذلک .................... الیکم (56 : 5) ” یہ اللہ کا حکم ہے۔ جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے “۔ یہ ایک دوسرا احساس ہے۔ متنبہ کیا جاتا ہے کہ ذرا سنجیدہ ہوجاﺅ۔ یہ حکم اللہ کا ہے ۔ یہ اللہ نے اتارا ہے ان لوگوں پر جو مومن ہیں۔ لہٰذا اس کی تعمیل تقاضائے ایمان ہے۔ اور اس حکم کی تعمیل کا تعلق اللہ سے ہے۔
دوبارہ لوگوں کو خدا خوفی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جس پر اس سورت میں بہت زور دیا گیا ہے حالانکہ یہ احکام کی سورت ہے۔
ومن یتقق ................ اجرا (56 : 5) ” اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دو رکردے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا “۔ پہلی بات یہ تھی کہ اللہ سہولیات پیدا کردے گا اور اب یہ کہ اس کے گناہ معاف ہوں گے اور اجر زیادہ ہوگا۔ چناچہ یہ دوطرفہ فیض ہے اور انسان پراثر انداز ہونے والا فائدہ ہے۔ یہ عام حکم ہے اور طلاق اور تمام دوسری امور پر منطبق ہونے والا امر ہے لیکن یہاں اس کا سابہ طلاق کے معاملات پر ڈالنا مقصود ہے تاکہ لوگ اللہ کی نگرانی کے شعور سے سرشار ہوں اور اللہ کے فضل کا احساس کریں کہ اگر کوئی کام انہیں مشکل بھی نظر آئے تو اللہ اس کو آسان بنادے گا اور اس میں اگر کوئی کوتاہی ہوگئی تو مغفرت کردے گا۔
الطلاق 65:6
اسکنوھن من ....................................
یہ آخری بیان ہے جس میں گھروں میں رہائش کے مسئلے کو لیا گیا ہے اور عدت کے دوران نفقہ کے مسئلہ کو لیا گیا ہے جو بھی عدت کی مدت قرار پائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس قسم کی رہائش بھی ہو ، خاوند کو چاہئے کہ وہ بیوی کو فراہم کرے۔ جس طرح کی رہائش میں وہ خود رہتا ہے اور جس قدر وہ اپنی مالی پوزیشن کے مطابق فراہم کرسکتا ہے ۔ باہم برتاﺅ میں نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ ہو۔ نہ مکان میں تنگی کی جائے ، نہ عزت میں کمی کی جائے ، اور نہ دوسرے معاملات میں مثلاً گفتگو وغیرہ میں۔ حاملہ عورتوں کے نفقے کو مخصوص طور پر ذکر کیا گیا حالانکہ ہر قسم کی عدت گزارنے والی عورتوں کے لئے نفقہ واجب ہے۔ کیونکہ حمل میں مدت بعض اوقات طویل ہوجاتی ہے اور یہ خیال ہوسکتا ہے کہ تین مہینے ہی نفقہ واجب ہے یا حمل اگر طلاق کے بعد صرف مختصر ترین وقت وضع ہوجائے تو پھر یہ وہم ہوسکتا ہے کہ شاید زیادہ مدت کے لئے نفقہ دیتا ہوگا۔ لہٰذا اس کا تعین کردیا گیا یعنی جب تک قانونی مدت عدت ختم نہیں ہوجاتی خواہ مختصر ہو یا طویل۔
اس کے بعد دودھ پلانے کے مسئلہ کی تفصیلات دی گئیں۔ دودھ پلانا بغیر معاوضہ کے ماں کی ذمہ داری نہیں قرار دی گئی۔ جب تک وہ دونوں کے مشترکہ بچے کو دودھ پلارہی ہے تو اس کا حق ہے کہ اسے اس خدمت کا معاوضہ ملے کہ وہ زندہ رہ سکے اور بچے کے لئے دودھ بھی جاری ہو۔ یہ ہیں اسلامی نظام قانون کی وہ رعائتیں جو ماں کو دی گئیں۔ ان رعائیتوں کے ساتھ دونوں کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ اس بچے کے معاملات کو باہم مشورہ سے طے کریں۔ اور بچے کی مصلحت کو پیش نظر رکھیں کہ وہ دونوں کے درمیان ایک امانت ہے۔ یہ نہ ہو کہ دونوں کی مشترکہ زندگی کی ناکامی اس بچے کے ئے مصیبت بن جائے۔ جس کا کوئی قصور نہیں ہے۔
یہ ہے وہ حسن سلوک جس کی طرف دونوں کو دعوت دی جاتی ہے۔ اگر انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا اور رضاعت اور اس کے اجر کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق نہ ہوسکا تو بچے کو تو بہرحال دودھ پلانا ہے ، کوئی اور پلائے گی۔
فسترضع لہ اخری (56 : 6) ” تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلائے گی “۔ نہ ماں کا اعتراض ہوگا اور نہ بچے کو دودھ سے محروم کرکے مار دیا جائے گا کیونکہ ان کی مشرکہ زندگی تحلیل ہوئی اور پھر انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سختی کی ، بچے کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔
الطلاق 65:7
اس کے بعد نفقہ کے اصول کا تعین کردیا جاتا ہے۔ اسمیں ایک دوسرے کو سہولت دینا ہے ، تعاون اور عدل و احسان سے کام لینا ہے۔ اس میں سختی اور ہٹ دھرمی جائز نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو اللہ نے وسعت دی ہے تو وہ وسعت کے مطابق خرچ کرے ، سکونت اور معیشت دونوں میں اور رضاعت کی اجرت میں اور جس کی مالی حالت اچھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے کہ اس سے محدود اجرت لی جائے۔ کیونکہ اللہ کسی سے اسی قدر مطالبہ کرتا ہے جس قدر اسے اللہ نے دیا ہے اور کوئی شخص بھی اپنے مال وسائل سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ دولت تو وہی ہے جو اللہ کسی کو دیتا ہے۔
لایکلف ............................ ما اتھا (56 : 7) ” اللہ نے جس کو جتنا دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اسے مکلف نہیں کرتا “۔
رضاعت کے دوران دونوں کو یہ امیددلائی جاتی ہے ، کہ اللہ ہی سے اچھے حالات کی امید اور خواہش رکھیں :
سیجعل ................ عسر یسرا (56 : 7) ” بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے “۔ تنگی کے بعد آسانی اور مشکلات کے بعد فراخی یہ سب اللہ کا کام ہے۔ اس لئے ان دونوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ ہی سے امیدیں وابستہ کریں ، وہی داتا ہے ، وہی کشادگی عطا کرنے والا ہے اور تنگی و کشادگی مشکلات اور سہولیات ، سختی اور نرمی سب اسی کے اختیار میں ہے۔
یہاں تک طلاق کے تمام احکام اور طلاق کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کے قانونی انتظامات بیان کیے اور تمام آثار کے بارے میں واضح حل بتایا گیا۔ اور اس منہدم گھرانے کا تمام ملبہ ، اس کے غبار تک کو ٹھکانے لگا دیا گیا تاکہ دل غبار آلود نہ ہوں ، دلوں پر سے کدورتیں دور ہوجائیں ، اور زوجین ماضی کو بھلا کر از سر نو نئی زندگی شروع کردیں ، سابقہ عداوت کو پوری طرح مٹادیاجائے ، دلوں کے اندر جو قلق تھا ، اسے ختم کردیا تاکہ کوئی اضطراب ازسر نو پیدانہ ہو۔
دلوں سے وسوسے اور گراوٹیں دور کردیں۔ اور فریقین کو اس قابل بنادیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ از سر نو سماجی تعلقات قائم کرسکیں۔ خاوند اگر اپنی مطلقہ بیوی یا خود اپنے بچے پر کچھ فراخدلانہ خرچ کرتا ہے تو اسے بتا دیا گیا کہ اس خرچ کی وجہ سے وہ فقیر نہ ہوگا اور بیوی کو بھی کہا گیا کہ وہ پھر اگر بچے کو دودھ پلانے کا کوئی کم معاوضہ لے تو اس سے وہ زیادہ امیر نہ ہوگی ، لہٰذا اسے بھی چاہئے کہ اپنے سابق شوہر اور خود اپنے بچے کے معاملے میں کوئی سخت رویہ اختیار نہ کرے۔ اللہ ہی ہے جو مشکلات کے بعد کشادگی دینے والا ہے۔ دنیا کے رزق سے آخرت کا رزق زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
طلاق کے نتیجے میں جو کدورتیں اور بدمزگیاں پیدا ہوجاتی ہیں ان کے بارے یہ حکم دیا گیا کہ ان کو بھلا دیا جائے اور اللہ سے بہتر مستقبل کی امید رکھی جائے جو کچھ ہوچکا وہ مقدر تھا۔ اب آئندہ ایک دوسرے کے ساتھ معروف انداز میں معاملہ کیا جائے اور خدا کا خوف رکھا جائے۔
یہ مکمل علاج ہے ، یہ موثر نصائح ، یہ مکرر ، سہ کر رتاکیدات کہ معروف کے ساتھ معاملہ کرو سب کی سب اس ناخوشگوار واقعہ کے اثرات کو دور کرنے کی بہترین ضمانت ہیں۔ ضمیر کے احساس اور خدا خوفی کے سوا کوئی اور چیز مسلمانوں کے درمیان اصلاح ذات السین کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ اگر خدا خوفی کو ہٹاکر فریقین کے درمیان صرف قانونی جنگ چھڑ جائے تو اس کا انجام تلخی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ بعض احکام اس قدر نرم ہیں کہ خودان سے تلخیاں دور ہوجاتی ہیں۔ جن کو کسی قانون کے ذریعہ گنوایا نہیں جاسکتا۔ چناچہ اس اخلاقی حکم کے ذریعہ بتایا گیا کہ عورتوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے۔ اس سلسلے میں خدا کا خوف اختیار کیا جائے۔ اللہ ہی ہے جو ہر خفیہ اور ظاہری چیز کو جاننے والا ہے۔ اور متقین کو دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ اجر دینے والا ہے۔ خصوصاً رزق کا معاملہ تو ہے ہی اللہ کے ہاتھ میں جس کا اس سورت میں بار بار تذکرہ ہوا۔ کیونکہ رزق اور مفاد ہی وہ اصل بات ہے جس پر تنازعہ ہوتا ہے ، اور طلاق کے بعد زیادہ تر جھگڑا مالی معاملات ومفادات پر ہوتا ہے۔
طلاق کے معاملات کے اختتام کے بعد اب پورے دین کے معاملہ میں ایک تاریخی رویہ کو ذکر کیا جاتا ہے ، کہ اگر تم طلاق کے قوانین کی خلاف ورزی کروگے تو تاریخ میں کئی اقوام نے ، رسولوں کی رسالت اور ان کے پیش کردہ دین سے منہ موڑا لیکن ان کا انجام اچھا نہ ہوا۔ اب بھی یہ دین اور یہ شریعت اس صورت کی شکل میں تمہیں دیا جارہا ہے جو ایک نعمت ہے ، اس کی قدر کرو۔
الطلاق 65:8
وکاین من قریة ........................ رزقا (11) (56 : 8 تا 11) ” کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی۔ انہوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور ان کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے ، اللہ نے (آخرت میں) ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے۔ پس اللہ سے ڈرو۔ اے صاحب عقل لوگو ، جو ایمانلائے ہو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کردی ہے ، ایک ایسا رسول جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لئے بہترین رزق رکھا ہے “۔
یہ ایک طویل ڈراوا ہے ، جس کی تفصیلی مناظر ہیں۔ پھر جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کو ایمان کی روشنی نصیب ہوئی ہے ان کو بتایا گیا کہ یہ تم پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے اور اس کا بدلہ تمہیں قیامت میں ملے گا اور قیامت کا بدلہ ہی دراصل رزق حسن ہے۔
تاریخ جن لوگوں نے رسالت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور نافرمانی کی ہے تو اللہ کی یہ سنت رہی ہے کہ نافرمانوں کو اس نے پکڑا ہے۔
وکاین .................... عذابا نکرا (56 : 8) ” کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی “۔ ان کی پکڑ کی تفصیل اور سخت حساب اور سخت عذاب اور برے انجام کی تصویر یہ تھی۔
الطلاق 65:9
فذاقت .................... خسرا (56 : 9) ” انہوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور ان کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے “۔ اللہ نے (آخرت میں) ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے۔ اور اس عذاب کی تصویر یہ تھی۔
الطلاق 65:10
اعداللہ ................ شدیدا (56 : 01) ” اللہ نے (آخرت میں) ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے “۔ اس عذاب اور برے انجام کی یہ تفصیلات اس لئے دی ہیں کہ اللہ کے کے احکام کی نافرمانی کی سزا کا خوف دیر تک انسانی اعصاب پر رہے۔ یہ قرآن کا انداز ہے کہ وہ عذاب الٰہی کے مناظر کو نہایت ہی مفصل اور طوالت سے بیان کرتا ہے۔
اس ڈراوے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ باری باری نافرمانی اقوام کو پکڑا گیا اور اس پکڑ کا ذکر یہاں احکام وقوانین کی نافرمانی کے ضمن میں آرہا ہے۔ گویا طلاق کے احکام قوانین کا تعلق بھی سنت الٰہیہ سے ہے۔ اس سے یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ قوانین طلاق محض ایک سوال لاء ہی نہیں بلکہ ان کا تعلق امت مسلمہ کے اجتماعی نظام سے ہے۔ اس سلسلے میں پوری امت بھی مسﺅل ہوگی اور اگر ان قوانین کی خلاف ورزی ہوئی تو پوری امت پر عذاب الٰہی آئے گا۔ احکام طلاق اور اسلامی نظام کے دوسرے احکام کی مخالفت کے انجام سے پوری امت مسﺅل ہے۔ کیونکہ اسلامی نظام اور اسلامی منہاج کے چلانے کی ذمہ داری اجتماعی ہے۔ صرف وہ لوگ ہی عذاب الٰہی کے مستحق نہ ہوں گے جو خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ پورا گاﺅں اور پوری امت مسﺅل ہوگی ، جو اپنے نظام زندگی کی تنظیم میں خلاف ورزی کو برداشت کرتی ہے۔ یہ دین اسی لئے آیا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ، اسے نافذ کیا جائے۔ یہ پوری زندگی پر حاوی ہو۔ اس طرح یہاں پوری امت نافرمان قرار دی گئی ، اگر اسلامی نظام کے قیام کی مسﺅلیت شخصی ہوتی تو پوری امت کو ہلاک نہ کیا جاتا۔
یہ بستیاں نافرمان قرار دی گئیں اور انہوں نے وبال کو چکھا۔ اور آخر کار خسارے میں مبتلا ہوئیں۔ اور یہ سز ان کو اسی دنیا میں دی گئی۔ بستیوں ، اقوام اور ملل کو یہ سزا دی گئی جنہوں نے اسلامی منہاج سے انکار کیا ہے۔ ہم بھی شہادت دیتے ہیں اور ہمارے اسلاف بھی شہادت دیتے ہیں کہ احکام نکاح و طلاق کی نافرمانی کرنے والی اقوام کو عذاب دیا گیا۔ وہ فساد ، انتشار ، غربت ، قحط ، ظلم ، بےچینی اور نہایت ہی بدامنی اور ڈر کی زندگی گزارتی رہیں جس میں کوئی اطمینان اور سکون نہ تھا اور آج بھی ہم اس کرہ ارض پر ایسی کئی اقوام کو دیکھ رہے ہیں۔
یہ سزا اس کے علاوہ ہے جو ان نافرمانوں کے انتظار میں ہے جنہوں نے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور جنہوں نے اسلامی نظام سے بغاوت کی۔ اللہ فرماتا ہے :
اعداللہ .................... شدیدا (56 : 01) اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے “۔ اور اللہ بہت ہی سچا ہے۔
یہ دین ایک منہاج حیات ہے اور اس کا ایک اجتماعی نظام زندگی ہے ، جس کی تفصیلات ہم نے سورة صف میں دی ہیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ ایک ایسی جماعت تشکیل دے جس کا ایک نظام ہو۔ اس جماعت اور سوسائٹی کی زندگی کو بدل کر رکھ دے لہٰذا یہ پوری جماعت اس دین کے بارے میں مسﺅل ہوگی۔ اور یہ جماعت ان احکام کی خلاف ورزی نہ کرے گی کہ اس پر یہ دھمکی صادق آجائے ، جو امم سابقہ کو دی گئی ، جنہوں نے امر الٰہی سے نافرمانی کی۔
اس ڈراوے اور اس کے طویل مناظر میں عقلمند لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے ، جو ایمان لاتے ہیں ، اور ان کی عقلمندی کا ثبوت ہی یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئے کہ اس اللہ سے ڈرو جس نے تم پر یہ یاد دہانی نازل کی ہے۔
قد انزل .................... ذکرا (56 : 01) ” اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کی ہے “۔ اور یہ ذکر مشخص تمہارے پاس موجود ہے۔ رسول مجسمہ ذکر ہیں۔ پوری ذات رسول کی نحوی اعتبار سے الذکر کا بدل کرکے لایا گیا ہے۔
الطلاق 65:11
رسولا .................... مبینت (56 : 11) ” ایک رسول جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے “۔
یہ نہایت ہی گہرا قابل توجہ نکتہ ہے اور اس کے اوپر کئی دلائل ہیں۔ یہ ذکر جو رسول لوگوں تک پہنچانے کے لئے لائے ہیں وہ رسول اللہ کی شخصیت کے اندر سے وکر ان تک پہنچا ہے۔ آپ صادق وامین تھے اور آپ نے پورا ذکر ان تک پہنچا دیا گویا یہ ذکر خا سے براہ راست ان تک پہنچ گیا۔ اور رسول کی ذات نے اس کا کوئی حصہ چھپایا نہیں تھا۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ آیت ذات رسول کو ذکر بتاتی ہے کہ رسول کی ذات پوری کی پوری ذکر ہوگی۔ رسول گویا مجسمہ ذکر ہیں اور وہ زندہ قرآن ہیں۔ اور حضرت عائشہ ؓ نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ :
کان خلقہ القرآن ” آپ کے اخلاق قرآن تھے “۔ آپ کے دل میں قرآن تھا اور آپ عملی زندگی میں قرآن پیش کرتے تھے۔
ذکر کے علاوہ اہل ایمان کو نور ، ہدایت ، صالحیت اور جنتوں کی نعمتوں کا وعدہ بھی کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ جنتوں میں جو رزق ملیں گے۔ وہ دنیا کے ارزاق کے مقابلے میں بہت ہی مکرم رزق ہیں ، بہت ہی احسن ہیں۔
ایک بار پھر رزق کی بات ہوتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دنیا کا رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے۔ اصل رزق تو رزق آخرت ہے ، جبکہ مومنین کے لئے دنیا میں بھی رزق حسن کا وعدہ ہے۔
اور آخر میں پھر پوری کائنات کا زمزمہ جو بہت ہی محیرالعقول حد تک وسیع ہے۔ یوں اس پوری سورت کے موضوع کو یعنی قوانین طلاق کو ، اللہ کے نظام قضاوقدر اور اس وسیع کائنات میں اللہ کے قانون قدرت کے ساتھ ملادیا جاتا ہے۔
الطلاق 65:12
اللہ الذی ............................ شیء علما (56 : 21) ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہی کے مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہنا ہے۔ (یہ بات تمہیں اس لئے بتائی جارہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے “۔
سات آسمانوں کے بارے میں ہمیں ابھی تک پورا علم حاصل نہیں ہوا ہے کہ ان کی دوریاں اور فاصلے کتنے ہیں۔ اسی طرح سات زمینوں کا بھی ہمیں علم نہیں ہے۔ یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں ان میں سے ایک ہوگی اور باقی اللہ کے علم میں ہوں گی اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ زمین آسمانوں ہی کے جنس سے ہے۔ اپنی ترکیب اور اپنے خصائص کے اعتبار سی ، ان آیات کو ابھی ہم اپنے سائنسی معلومات پر منطبق کرنا نہیں چاہتے۔ ہمارے علم نے ابھی تک اس کائنات کے بہت ہی تھوڑے حصے کا احاطہ کیا ہے۔ اس لئے یہ تحقیق کے طور پر نہیں کہہ سکتے کہ قرآن کا مفہوم یہ ہے اور انسان یہ بات اس وقت تک نہیں کہہ سکتا جب تک اسے اس کائنات کا تمام علم حاصل نہ ہوجائے۔ لہٰذا ہم اس آیت کے نفسیاتی پہلو تہی پر اکتفاء کرتے ہیں کہ اللہ کے احکام پوری کائنات پر حاوی ہیں۔
اسی پوری کائنات کی طرف یہ اشارہ ۔
سبع ................ مثلھن (56 : 21) ” سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہی کے مانند “۔ جب انسان اس پر غور کرتا ہے تو اس کے سامنے اس کائنات کا ہولناک اور محیرالعقول وسیع منظر آجاتا ہے۔ اللہ کی مملکت کی وسعت ، اللہ کی قدرت کے عظیم مشاہد ، جن کے مقابلے میں یہ زمین ، رائی کے دانے جیسی حقیر نظر آتی ہے ، اور اس کے اندر جو مخلوق ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اس سے حقیر تر ہے۔ اور اس کے حادثات پھر مزید حقیر تر ہیں ، اللہ کی کائنات میں اگر پوری زمین ایک حقیر سی گیند ہے تو اس کے اندر چند ٹکوں کی کیا حقیقت ہے جو ایک خاوند خرچ کرتا ہے اور ایک بیوی وصول کرتی ہے ؟
اس ہولناک طور پر وسیع اور محیرالعقول طور پر عظیم کائنات کے اندر اللہ کے احکام واوامرچلتے ہیں نکاح و طلاق تو اللہ کے اوامر کا ایک حصہ ہیں۔ خود انسانی علم کے زاویہ سے بھی اللہ کے احکام جو اس کائنات میں نازل ہوتے ہیں ، خود انسانی تصورات کے پیمانوں سے بھی بہت عظیم ہیں۔ اللہ کے کسی حکم کی مخالفت گویا پوری کائنات کی مخالفت کو دعوت دیتا ہے۔ زمین و آسمان کی مخالفت کو دعوت دینا اور یہ مخالفت بہت ہی جسارت ہے۔ کوئی عقلمند آدمی اس جسارت کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ جبکہ رسول آگیا ہے ، وہ کھلی آیات سنا رہا ہے اور لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لارہا ہے۔
زمین اور آسمان میں اللہ کے احکام کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ قلب مومن میں یہ تصور بٹھایا جائے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ جو چاہتا ہے اسے کوئی چیز اس سے عاجز نہیں کرسکتی۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے ۔ اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ ہر چیز اس کی بادشاہت میں ہے اور وہ دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔
اس بات کے یہاں دو پہلو ہیں : ایک یہ کہ جو اللہ یہاں عائلی احکام دے رہا ہے ، وہ وسیع علم رکھتا ہے۔ اللہ تمام حالات ، تمام مصلحتوں اور انسان کی استعداد کی حدود سے واقف ہے ، لہٰذا لوگوں کو اللہ کے احکام سے سرموسرتابی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ علیم و محیط کا بنایا ہوا قانون ہے۔
دوسرا یہ کہ یہ احکام اور ان پر تعمیل تمہارے دلوں اور تمہارے ضمیر پر چھوڑ دی گئی ہے اور تمہارے ضمیر اور شعور کا بھی اللہ کو علم ہے۔ لہٰذا اپنے دل کی گہرائیوں سے ان احکام پر صدق دل کے ساتھ عمل کرو ، اللہ دنیا کے قوانین کے مقستین کی طرح نہیں ہے کہ جو جانتے نہیں۔ وہ تو علیم بذات الصدور ہے۔
اس آخری زمزمے اور وسعت علم الٰہی کے زمزمے پر اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ انسان سوچ کر ہی خائف ہوجاتا ہے اور اس کے سامنے سرجھکانے ، اطاعت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ سبحان اللہ ، اللہ ہی تو دلوں کا خالق ہے ، وہ ان دلوں کی وادیوں کے نشیب و فراز سے ہی واقف ہے۔
التحريم 66:1
یہ دراصل ایک عتاب ہے کیونکہ کوئی مومن اپنے اوپر اس چیز کو حرام نہیں کرسکتا جو اللہ نے حلال کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ” شہد “ یا ” ماریہ “ کے پاس جانے کو ازروئے قانون اور شریعت تو حرام نہ کیا تھا۔ صرف اپنے بارے میں فیصلہ کیا تھا کہ میں اس کام کو دوبارہ نہیں کروں گا۔ اس پر یہ جھڑکی آئی کہ جن چیزوں کو اللہ نے حلال کیا ہے ، کسی کو خوش کرنے کے لئے ان سے اپنے آپ کو محروم کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا۔
واللہ غفور رحیم (66 : 1) ” اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ فعل قابل مواخذہ ہے۔ اور اس کا علاج یہ ہے کہ اللہ کی مغفرت طلب کی جائے اور اللہ کی رحمت شامل حال ہوجائے۔ یہ نہایت ہی لطیف اشارہ ہے۔
قرآن جس حلف کی طرف اشارہ کررہا ہے ، جو رسول اللہ نے کرلیا تھا کہ دوبارہ ایسا نہیں کروں گا تو اللہ نے فرمایا کہ اس قسم سے نکل آﺅ، یعنی کفارہ ادا کرکے اور قسم اگر کسی اچھے کام سے رکنے کے لئے ہو تو اس کا توڑنا اور کفارہ دینا فرض ہے۔
واللہ مولکم (66 : 2) ” اللہ تمہارا مولیٰ ہے “۔ اللہ تمہاری کمزوریوں پر تمہاری معاونت کرتا ہے اور اس معاملے میں بھی تمہاری معاونت کرتا ہے جو تمہارے لئے گراں گزرے۔ اور یہ قسموں کو حلال کرنا اور ان سے کفارہ ادا کرکے نل آنے کا طریقہ اسی لئے تو اللہ نے فرض کیا ہے۔
وھوالعلیم الحکیم (66 : 2) ” وہی علیم و حکیم ہے “۔ وہ تمہارے لئے جو قوانین بناتا ہے ، وہ علم و حکمت سے بتاتا ہے۔ اور تمہارے لئے جو احکام دیتا ہے وہ ایسے ہوتے ہیں کہ تم ان پر عمل کرسکتے ہو اور وہ تمہارے لئے مفید ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہی چیزوں کو حرام کرو جو اللہ نے حرام کیں۔ اور جو اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو۔ یہ مناسب نتیجہ ہے۔
اس کے بعد روئے سخن اس بات کی طرف ہے جو آپ نے فرمائی تھی لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ کیونکہ نفس بات اس قدر اہم نہ تھی۔ اور نہ کوئی ایسی بات تھی جس کا قیامت تک تاریخی ریکارڈ پہ لانا ضروری تھا۔ بس جس چیز کو باقی رکھنا مطلوب تھا ، وہ اس بات کے آثار ونتائج تھے۔
التحريم 66:2
یہ دراصل ایک عتاب ہے کیونکہ کوئی مومن اپنے اوپر اس چیز کو حرام نہیں کرسکتا جو اللہ نے حلال کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ” شہد “ یا ” ماریہ “ کے پاس جانے کو ازروئے قانون اور شریعت تو حرام نہ کیا تھا۔ صرف اپنے بارے میں فیصلہ کیا تھا کہ میں اس کام کو دوبارہ نہیں کروں گا۔ اس پر یہ جھڑکی آئی کہ جن چیزوں کو اللہ نے حلال کیا ہے ، کسی کو خوش کرنے کے لئے ان سے اپنے آپ کو محروم کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا۔
واللہ غفور رحیم (66 : 1) ” اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ فعل قابل مواخذہ ہے۔ اور اس کا علاج یہ ہے کہ اللہ کی مغفرت طلب کی جائے اور اللہ کی رحمت شامل حال ہوجائے۔ یہ نہایت ہی لطیف اشارہ ہے۔
قرآن جس حلف کی طرف اشارہ کررہا ہے ، جو رسول اللہ نے کرلیا تھا کہ دوبارہ ایسا نہیں کروں گا تو اللہ نے فرمایا کہ اس قسم سے نکل آﺅ، یعنی کفارہ ادا کرکے اور قسم اگر کسی اچھے کام سے رکنے کے لئے ہو تو اس کا توڑنا اور کفارہ دینا فرض ہے۔
واللہ مولکم (66 : 2) ” اللہ تمہارا مولیٰ ہے “۔ اللہ تمہاری کمزوریوں پر تمہاری معاونت کرتا ہے اور اس معاملے میں بھی تمہاری معاونت کرتا ہے جو تمہارے لئے گراں گزرے۔ اور یہ قسموں کو حلال کرنا اور ان سے کفارہ ادا کرکے نل آنے کا طریقہ اسی لئے تو اللہ نے فرض کیا ہے۔
وھوالعلیم الحکیم (66 : 2) ” وہی علیم و حکیم ہے “۔ وہ تمہارے لئے جو قوانین بناتا ہے ، وہ علم و حکمت سے بتاتا ہے۔ اور تمہارے لئے جو احکام دیتا ہے وہ ایسے ہوتے ہیں کہ تم ان پر عمل کرسکتے ہو اور وہ تمہارے لئے مفید ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہی چیزوں کو حرام کرو جو اللہ نے حرام کیں۔ اور جو اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو۔ یہ مناسب نتیجہ ہے۔
اس کے بعد روئے سخن اس بات کی طرف ہے جو آپ نے فرمائی تھی لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ کیونکہ نفس بات اس قدر اہم نہ تھی۔ اور نہ کوئی ایسی بات تھی جس کا قیامت تک تاریخی ریکارڈ پہ لانا ضروری تھا۔ بس جس چیز کو باقی رکھنا مطلوب تھا ، وہ اس بات کے آثار ونتائج تھے۔
التحريم 66:3
واذا ................................ حدیثا (66 : 3) ”(اور یہ معاملہ بھی قابل توجہ ہے کہ) نبی نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی “۔
عجیب زمانہ تھا یہ کہ لوگوں کی روز مرہ کی زندگی میں بھی عالم بالا سے برملا مداخلت ہورہی تھی۔ معلوم یہ ہوا کہ اللہ نے نبی ﷺ کو بتادیا کہ جو راز ایک بیوی کے حوالے کیا گیا تھا ، اس تاکید کے ساتھ کہ کسی اور کو پتہ نہ چلے ، وہ اس نے دوسری کو بتادیا ہے۔ اور نبی ﷺ نے جب اس راز دار بیوی سے بات کی تو صرف اشارہ کردیا گیا کہ تم نے راز کو راز نہیں رکھا۔ پوری تفصیل نہ بتائی کہ تم نے یہ باتیں دوسری بیوی سے کیں اور یہ آپ کے مکارم اخلاق کا تقاضا تھا کہ کسی کو زیادہ شرمندہ نہ کیا جائے۔ آپ نے یہ بتادیا کہ مجھے عالم بالا سے خبر آگئی ہے۔
واذاسرالنبی ................................ العلیم الخبیر (66 : 3) ” پھر جب اس بیوی نے (کسی اور پر) وہ راز ظاہر کردیا ، اور اللہ نے نبی کو اس (افشائے راز) کی اطلاع دے دی ، تو نبی نے اس پر کسی حد تک (اس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حدتتک اس سے درگزر کیا۔ پھر جب نبی نے اسے (افشائے راز کی) یہ بات بتائی تو اس نے پوچھا آپ کو اسکی کس نے خبر دی ؟ نبی نے کہا :” مجھے اس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے “۔
یہ خبر چونکہ دو بیویوں کے درمیان کی جتھ بندی کی وجہ سے پھیلی ہوئی تھی ، تو خبر پھیلانے والی بیوی کو شرمندہ کرنے کے لئے بس اشارہ ہی کافی تھا۔ ایسے مواقع میں اللہ کے علم اور اللہ کی خبردادی کی طرف اشارہ بہت ضروری ہے کیونکہ ایسی غلطی تب ہی سرزد ہوتی ہے کہ انسان اللہ کے علم وخبرداری سے غافل ہوجائے یا اسے بھول جائے۔ اس لئے قرآن مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے۔ کہ تمہاری نادانیاں اللہ کے علم میں بہرحال ہیں۔
التحريم 66:4
اب یہاں انداز کلام حاکیت سے خطاب کی طرف آجاتا ہے ، اور جن دو ازواج نے یہ کام کیا تھا ، ان سے خطاب کیا جاتا ہے۔ گویا بات ان کے سامنے ہورہی ہے۔
ان تتوبا ........................ ذلک ظھیر (66 : 4) ” اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔ اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے جتھ بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اس کا مولیٰ ہے اور اس کے بعد جبرائیل اور تمام صالح اہل ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں “۔
آغاز خطاب میں ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ توبہ کریں تاکہ ان کے دل اللہ کی طرف مائل ہوجائیں کیونکہ ان کے دل اللہ سے دور ہوگئے تھے۔ جب یہ دعوت دے دی جاتی ہے تو پھر ان پر ایک خوفناک تنقید کی جاتی ہے۔ نہایت رعب دار آواز میں :
اس زبردست تنقید سے معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ اور واقعہ جو بھی تھا مگر رسول اللہ کے قلب مبارک پر اس کا گہرا اثر تھا۔ چناچہ اللہ کو اعلان کرنا پڑا کہ اللہ ، ملائکہ اور صالح مومنین اس کے لئے کافی طرفدار ہیں۔ اس اعلان سے ، حضور اکرم ﷺ کا غبار خاطر دور ہوجاتا ہے اور آپ مطمئن ہوجاتے ہیں۔
معلوم یہ ہوتا ہے کہ واقعہ جو بھی ہو ، لیکن حضور ﷺ پر اس واقعہ کا گہرا اثر تھا۔ حضور اپنے گھروں میں اس قسم کے ماحول کی توقع نہ کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے پڑوسی انصاری نے ، اس واقعہ کی جو رپورٹ دی ، ہ اس قدر خوفناک تھی کہ اس کے قول کے مطابق غسانیوں کے حملے سے بھی بڑی بات ہوگئی ہے۔ غسانیوں کی اس وقت شام پر حکومت تھی۔ اور وہ سلطنت روم کے موالی تھے۔ ان کے ان کے ساتھی دوستی کے معاہدے تھے۔ اس دور میں مدینہ پر غسانیوں کا حملہ آور ہونا بہت خطرناک بات تھی۔ لیکن مسلمانوں کے لئے رسول اللہ کا پریشان اور بےقرار ہونا غسانیوں کے حملے سے بھی بڑی بات تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کے گھرنے کی سلامتی سب سے بڑی بات تھی۔ اور آپ کا اضطراب لوگوں کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خیر القرون کے یہ لوگ معاملات کو کس زاویہ سے دیکھتے تھے۔ جس طرح اس انصاری نے اس واقعہ کو ایک عظیم واقعہ سمجھا۔ اسی طرح اللہ نے بھی اسے سمجھا ان حضرات کی سوچ خدا اور رسول کی سوچ کی سمت اختیار کرچکی تھی۔
التحريم 66:5
پھر اگلی آیت میں ان کو نہایت ہی صراحت کے ساتھ بتایا گیا کہ نبی کریم ﷺ کے لئے اور آپ کے گھرانے کے لائق کیسی خواتین درکار ہیں۔ اگر تمہیں طلاق دے دی گئی تو تم سے بہتر اور ان صفات والی خواتین تمہاری جگہ لیں گی :
عسیٰ ربہ .................... وابکارا (66 : 5) ” بعید نہیں کہ اگر نبی تم سب بیویوں کو طلاق دے دے تو اللہ اسے ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرمادے جو تم سے بہتر ہوں۔ سچی مسلمان ، باایمان ، اطاعت گزار ، توبہ گزار ، عبادت گزار اور روزہ دار ، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ “۔
اشارتاً ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہیں تو ایسا ہونا چاہئے ، یعنی تمہیں ایسا مسلمان ہونا چاہئے کہ تم اطاعت شعار بنو اور دین کے احکام کو قائم کرو تمہارا ایمان ایسا ہو جو کاسہ دل کو ایمان ویقین سے لبالب کردے اور تم دل سے خدا اور رسول کی اطاعت کرو۔ اور توبہ کرو جس کے معنی یہ ہیں کہ جو ہوچکا اس سر نادم ہوجاﺅ اور آئندہ کے لئے اطاعت شعار ہوجاﺅ، بروقت عبادت میں مشغول رہو ، سیاحت اور سائحلت کا مطلب یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کی بڑائی اور کبریائی میں غور کیا جائے۔ اور ان صفات کے ساتھ ساتھ وہ شوہر دیدہ بھی ہوں گی اور باکرہ بھی ہوں گی۔ جس طرح کہ موجودہ ازواج مطہرات میں دونوں قسم کی خواتین ہیں۔
یہ ان کے لئے ایک زبردست تادیبی سرزنش تھی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جتھ بندی کی۔ یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ معمولی باتوں پر غصہ نہ فرماتے تھے۔
ان آیات کے نزول سے حضور ﷺ کو تسلی ہوگئی۔ خود رب تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے اہل بیت کو خطاب فرمایا۔ اور اس زلزلہ کے بعد تو اہل بیت کے اندر بھی سخت پشیمانی ہوگئی اور اللہ کی ہدایت کے بعد سب کچھ درست ہوگیا اور یہ اس گھرانے کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا کہ اللہ تعالیٰ خود اس کو مخاطب کرے ، کیونکہ یہ کوئی معمولی گھرانا تو تھا نہیں ، اس کی تو ہر بات بعد میں آنے والوں کے لئے منہاج حیات تھی۔ ضابطہ اخلاق اور قانون تھی۔
یہ اس ذات کے گھریلو حالات تھے جو ایک امت کی تربیت کررہا تھا۔ ایک مملکت کی بنیاد رکھ رہا تھا اور یہ ایسی مملکت تھی جسکی کوئی مثال گزری ہوئی تاریخ میں نہ تھی۔ اس جیسا نظام امم سابقہ میں نہ تھا۔ ایک ایسی امت تشکیل پارہی تھی۔ جو الٰہی نظریہ حیات کو آخری شکل میں پیش کررہی تھی۔ ایک ربانی معاشرہ وجود میں لایا جارہا تھا اور ایسا معاشرہ جو قیامت تک کے لئے اسوہ بن رہا تھا۔
پھر ان آیات میں ایک عظیم ، جلیل القدر ، بلند کردار اور کریم انسان کی تصویر ہے۔ ایک ہی وقت میں وہ اپنا انسانی کردار بھی ادا کررہا ہے اور نبوی کردار بھی ادا کررہا ہے۔ دونوں کے اندر کوئی بارڈر لائن متعین نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اللہ تقدیر الٰہی کا فیصلہ یہ تھا کہ تمام رسول بشر ہوں گے۔ اور اس بشر رسول نے انسانیت کو آخری نظام زندگی عطا کرنا تھا ، جو قیامت تک کے لئے انسانیت کا منہاج قرار پانا تھا۔
یہ ایک کامل رسالت تھی ، جسے ایک کامل رسول لے کر آیا تھا۔ اور اس کا کمال یہ تھا کہ یہ رسالت انسان کو انسان بنارہی تھی۔ وہ انسانی قوتوں میں سے کسی قوت کو دبا نہیں رہی تھی۔ نہ انسان کی تعمیری قوتوں میں سے کسی قوت کو نظر انداز کررہی تھی۔ انسانی صلاحیتوں میں سے کسی صلاحیت کی بیخ کئی کرنا ، اس رسالت کا منشا تھا بلکہ یہ انسانی قوتوں کو زیادہ مہذب ، زیادہ تربیت یافتہ اور زیادہ بلند کرتی تھی۔ یہ تھی آخری رسالت۔
اسلام کو جن لوگوں نے سمجھا اور اپنے آپ کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا ، اسلام نے ان کو اسی طرح چار چاند لگا دیئے کہ یہ لوگ اسلام کا صحیح ایڈیشن بن گئے۔ اور اسی طرح ان کے نبی کی سیرت اور اس کی عملی زندگی جس میں ، انسانی تجربات بھی تھے ، انسانی سعی بھی تھی ، انسانی نانوانیاں بھی تھیں ، انسانی قوتیں بھی تھیں۔ قرآنی دعوت اور ہدایات کے ساتھ مل کر ان لوگوں کو قدم بقدم آگے بڑھایا جس طرح آپ کے اہل خانہ اور ان لوگوں کی زندگیوں میں قیامت تک آنے والوں کے لئے نمونہ لیکن صرف ایسے لوگوں کے لئے ، جو اسے دیکھنا چاہیں ، اور جو عملی دنیا میں رہنے والے ہوں ، صرف اپنے خول اور اپنے خیالات کے محدود دائروں کے اندر بند نہ ہوں ، جنہوں نے اپنی آنکھیں بند نہ کی ہوں۔
اس آخری رسالت کو کامل اور مکمل شکل میں نازل کرکے قدرت الٰہیہ نے اسے ایک ایسے رسول کی زندگی میں عملی شکل دی ، جو اس رسالت کو آسمان سے اخذ کرتا تھا ، اور زندہ صورت میں اس کا ترجمہ کرتا تھا۔ یوں قدرت الٰہیہ نے اس رسول آخرالزمان کی زندگی کو ، ایک کتاب مفتوح بنایا کہ آپ کی زندگی سے آنے والی نسلیں بہترین نمونہ اور اسوہ اخذ کریں۔
التحريم 66:6
اس واقعہ کی روشنی میں ، جس کے سبب مسلمانوں کی زندگی پر گہری اثرات مرتب ہوگئے تھے ، اب قرآن کریم مسلمانوں کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل اولاد کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاﺅ۔ چناچہ قیامت کا ایک نہایت ہی موثر منظر بھی ان کے سامنے پیش کیا جاتا کہ وہاں کفار کی حالت کیا ہوگی۔ جس طرح اس واقعہ میں زواج کو دعوت دی تھی کہ توبہ کرو اسی طرح یہاں اہل ایمان کی دعوت دی جاتی ہے کہ توبہ کرو اور توبہ کرنے والوں کے لئے اللہ نے جو باغات تیار کر رکھے ہیں وہ بھی بتادیئے جاتے ہیں۔ اور جھلک دکھادی جاتی ہے۔ اور نبی ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو۔ یہ ہے اس سورت کا دوسرا پیراگراف :
یایھا الذین ........................ وبئس المصیر
اپنے نفس اور اپنے اہل و عیال کے بارے میں مومن پر عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ قیامت کے دن کی آگ موجود ہے۔ اور اس نے اس سے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو بچانا ہے۔ یہ ایسی دہکتی ہوئی آگے ہے۔
وقودھا .................... والحجارة (66 : 6) ” جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے “۔ لوگ اس میں اس طرح ہوں گے جس طرح پتھر پڑے ہوتے ہیں ، سنگ راہ کی طرح کوئی ان کی طرف توجہ نہ کرے گا۔ کس قدر سخت آگ ہوگی کہ اس میں پتھر جلیں گے اور کس قدر سخت عذاب ہوگا اور اہل جہنم کس قدر بےوقعت ہوں گے۔ جہنم کا سب ماحول نہایت شدید اور خوفناک ہوگا۔
علیھا ................ شداد (66 : 6) ” جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے ہوں گے “۔ ان کا مزاج اس عذاب کی سختی کی طرح سخت ہوگا۔
لا یعصون .................... یومرون (66 : 6) ” جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں “۔ ان کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں ، اور ان کی خصوصیت یہ ہے کہ جو بھی حکم ان کو دیا جاتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں ، اور وہ اپنی اس قوت اور مضبوطی کی وجہ سے اس آگ پر متعین ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ اس آگ سے اپنے نفس اور دین کی بجائے اور قبل اس کے فرصت کی گھڑیاں ختم ہوں وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال اور آگ کے درمیان پردے حائل کردے۔
التحريم 66:7
دیکھو وہاں اہل کفر جب اس کے دہانے پر پہنچیں گے ، تو وہ عذرات پیش کریں گے ، اور کوئی عذر نہ سنا جائے گا ، بلکہ ان کو وہاں سخت مایوسی ہوگی ، جب سب عذرات رد کردیئے جائیں گے۔
یایھا ........................ تعملون (66 : 7) ” اے کافرو ! آج معذرتیں پیش نہ کرو ، تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے “۔ آج عذرات پیش نہ کرو ، کیونکہ آج عذرات کا دن نہیں ہے۔ آج ہر کسی کو اپنے کیے کا پھل مل رہا ہے۔ اور تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ آج تمہیں کس چیز کا پھل مل رہا ہے ؟
التحريم 66:8
سوال یہ ہے کہ مومنین اپنے نفس کو اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے کس طرح بچائیں۔ ان کو راستہ بتایا جاتا ہے اور امید دلائی جاتی ہے :
یایھا الذین ........................ شیء قدیر (66 : 8) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے توبہ کرو ، خالص توبہ ، بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں دور کردے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ نے اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ، رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑرہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کردے اور ہم سے درگزر فرما ، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔
یہ ہے طریقہ ، خالص توبہ کا۔ توبہ ، جو قلب کو پاک وصاف کردے ، اور اس کے بعد کوئی دھوکہ نہ ہو۔ گناہوں سے توبہ یوں ہوتا ہے کہ آدمی نے جو گناہ کیے ہیں ، ان پر نادم ہوجائے اور اس کے بعد ان کی جگہ ندامت لے لے۔ یہ توبہ قلب کو پاک کردیتی ہے اور اس پر معاصی کا جو رنگ ہوتا ہے یا میل ہوتی ہے ، وہ دور ہوجاتی ہے۔ اور اس کے بعد پھر یہ دل انسان کو عمل صالح پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ ہوتا ہے توبة النصوح۔ یعنی ایسی توبہ جو قلب کو یاد دہانی کراتی رہتی ہے اور دوبارہ اسے معاصی کا ارتکاب کرنے نہیں دیتی۔ (مسلسل نصیحت کرنے والی) ۔
اگر کوئی اس قسم کی توبہ کرلے تو اس کے بعد اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ اس توبہ کی وجہ سے سابقہ معاصی بھی معاف ہوجائیں گے ، اور توبہ کرنے والا جنتوں میں داخل ہوجائے گا۔ اس دن جب کہ کفار سخت شرمندہ ہوں گے اور اس دن نبی ﷺ اور اہل ایمان شرمندہ نہ ہوں گے۔
یہاں اللہ نے مومنین کو نبی ﷺ کے ساتھ ضم کیا ہے یہ اس لئے کہ ان کو توبہ پر آمادہ کیا جائے کہ ” دیکھو اس دن تمہارے لئے اس قدر حوصلہ افزائی ہوگی کہ تم حضرت نبی کریم ﷺ کی صف میں کھڑے ہوگے اور تمہاری عزت ہوگی اور تمہیں شرمندہ نہ کیا جائے گا۔ اور اس دن تمہارے آگے آگے ایک نور جارہا ہوگا “۔
نورھم ................ بایمانھم (66 : 8) ” ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑرہا ہوگا “۔ اس دن وہ اس نور کے ساتھ پہچانے جائیں گے یہ دن تو بہت ہی خوفناک ، طوفانی اور دل دہلا دینے والا ہوگا۔ جس میں ہر طرف اژدحام ہی اژدحام ہوگا اور ان کو یہ اعزاز ہوگا کہ جنت میں داخل کے وقت ان کے آگے آگے اور دائیں جانب ایک نور جارہا ہوگا۔ اس نور کے ساتھ وہ جنت میں جائیں گے ، جہاں نور علی نور ہوگا۔
اہل ایمان اگرچہ اس شدید اور خوفناک مقام میں ہوں گے ، لیکن ان کو وہاں یہ دعا اور عرضداشت اللہ کے سامنے پیش کرنے کی ہمت ہوگی۔
یقولون ................ شیء قدیر (66 : 8) ” اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کردے ، اور ہم سے درگزر فرما ، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ اس وقت جب زبانیں گنگ ہوں گی اور دل بیٹھ رہے ہوں گے ، اس خوفناک موقف میں ایسی دعا اہل ایمان کو سکھانا ہی اس بات کی علامت ہے کہ یہ منظور ہوگی۔ یہ تو سکھائی ہی اس لئے گئی کہ منظور ہو۔ کیونکہ یہ دعاء بھی اللہ ان کو بطور احسان سکھارہا ہے ، جس طرح نور اس کی عزت افزائی کے لئے دوڑ رہا ہوگا۔
وہ عذاب اور یہ ثواب دراصل ایک مومن کی ذمہ داری کا تعین کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو اور خاندان کو بچانے کے سلسلے میں مومن پر کس قدر عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ خصوصاً جبکہ یہ ہدایات اس واقعہ کے ضمن میں دی جارہی ہیں جو نبی ﷺ کے گھر میں پیش آیا کہ ایک مومن اپنے خاندان کی ہدایت اور تربیت کا ذمہ دار ہے۔ جس طرح وہ اپنی اصلاح کا مکلف ہے اپنے اہل و عیال کی اصلاح کا بھی مکلف ہے۔
یاد رہے کہ اسلام ایک خاندانی نظام ہے ، جیسا کہ ہم نے سورة طلاق میں کہا : مومن پر اس کے گھرانے کی اصلاح کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ ایک مومن گھرانہ اسلامی جماعت کا پہلا خلیہ ہے۔ اور اس خلے سے پھر اسلامی جماعت میں دوسرے زندہ خلے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر ایک گھر اسلامی نظریہ حیات کا حلقہ یا مورچہ ہے۔ یہ حلقہ اپنی بناوٹ میں بہت ہی مضبوط ہونا چاہئے۔ اس حلقے کا ہر فرد سرحدوں پر دفاع میں مصروف ہونا چاہئے۔ اگر یہ مورچہ مضبوط نہ ہوگا تو دشمن اندر گھس آئے گا اور کوئی دفاع ممکن نہ ہوگا۔
مومن داعی کا فرض ہے کہ وہ اپنی دعوت پہلے اپنے گھر سے شروع کرے۔ اور اندر سے یہ قلعہ مضبوط ہو ، اور اس قلعے سے باہر نکلنے سے پہلے وہ گھر کے اندر کے قلعے کے تمام سوراخ بند کردے۔ ایک گھرانے کی حفاظت تب ہی ہوسکتی ہے جب کسی گھر میں ماں بھی مسلمہ ہو ، صرف باپ اس قلعے کی حفاظت نہیں کرسکتا۔ ماں اور باپ دونوں مل کر لڑکے لڑکیوں کو درست کرسکتے ہیں۔ اس لئے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ میں صرف مردوں سے اسلامی سوسائٹی تشکیل دینا چاہتا ہوں تو یہ ممکن نہیں ہے۔ اسلامی انقلاب کے لئے مومن عورتوں کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ آنے والی نسل کی تربیت اسلامی خطوط پر کرسکیں۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن جس رطح مردوں کے لئے نازل ہوا ، اسی طرح عورتوں کے لئے نازل ہوا۔ وہ مردوں کی تنظیم کے ساتھ گھرانوں کی تنظیم بھی کررہا تھا۔ گھرانوں کو اسلامی منہاج پر استوار کررہا تھا۔ اس لئے اس نے ایک مسلمان پر اس کی دینی ہدایت اور اہل و عیال کی ہدایت کی ذمہ داری عائد کی۔
یایھا الذین .................... نارا (66 : 6) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے نفس اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاﺅ“۔
یہ وہ نکتہ ہے کہ اس کو وہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں جو لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اصلاح کے کام کا آغاز اپنی بیوی سے شروع کرنا چاہئے۔ ماں سے ، اس کے بعد اولاد کی طرف بڑھنا چاہئے اور پھر اپنے تمام رشتہ داروں تک۔ نہایت کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ایک مسلم خاتون پیدا کرلیں ، جس سے مسلمان پیدا ہوں ، جو شخص ایک مسلم گھرانا تعمیر کرنا چاہتا ہے ، اس کا فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے ایک مسلم خاتون تلاش کرے ، اگر ہم گھر کی مالکہ مسلم پیدا نہ کرسکے ، تو یاد رہے کہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کی تشکیل میں بہت دیر لگے گی۔ اور ہماری جماعت کی اساسوں اور بنیادوں کے اندر کمزوریاں ہوں گی۔
پہلی جماعت اسلامی کے اندر تو یہ کام بہت ہی آسان تھا کیونکہ مدینہ میں ایک ایسا اسلامی معاشریہ وجود میں آگیا تھا ، سوسائٹی پر پاکیزہ خیالات غالب تھے۔ اسلامی شریعت کے ساتھ ساتھ نفاذ ہورہا تھا۔ اور مرد اور عورتیں سب کے سب اللہ اور رسول کی طرف اپنے مسائل لے کر رجوع کرتے تھے۔ اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم پر کان دھرتے تھے۔ اور جب کوئی حکم نازل ہوتا تھا تو وہ آخری فیصلہ ہوتا تھا۔ اس وقت اسلامی سوسائٹی موجود تھی پھر غالب تھی اور ان حالات میں عورت کے لئے بھی یہ بات آسان تھی کہ وہ اپنے آپ کو اسلامی خطوط پر ڈھال لے۔ خاوندوں کے لئے بھی آسان تھا کہ وہ ان کو نصیحت کریں اور بچوں کی تربیت کریں۔
لیکن ہم تو نہایت ہی بدلے ہوئے حالات میں ہیں۔ ہم ایک مکمل جاہلی معاشرے میں زندہ رہے ہیں۔ قانون جاہلی کا غالب ہے۔ اخلاق جاہلیت ، علم و ثقافت جاہلی ہیں۔ اور آج عورت بھی اس جاہلی معاشرے میں کام کررہی ہے۔ آج جب عورت اسلام کی دعوت پر لبیک کہنے کا ارادہ بھی کرلے تو وہ اس میں بہت بڑا بوجھ محسوس کرتی ہے ، چاہے وہ خود اسلام کی طرف بڑھنا چاہے یا اس کا خاوند اور باپ اسے اسلام کی طرف بڑھانے کی ہدایت کریں۔
قرن اول میں مرد عورت اور معاشرے ایک ہی تصور کے زیر نگیں تھے۔ ان پر اسلام کی حکمرانی تھی ، شکل ایک تھی اور اسلام عمل میں موجود اور نافذ تھا۔ آج مرد مومن کی حالت یہ ہے کہ وہ ایسے اشمانی تصور کی حکمرانی چاہتا ہے جو عملاً موجود نہیں ہے۔ اور معاشرہ عملاً جاہلیت کا معاشرہ ہے۔ اس معاشرے کا دباﺅ مرد کے مقابلے میں عورت پر زیادہ ہے۔ جدید معاشرہ عورت کو بڑی تیزی سے گمراہ کررہا ہے۔
اس نکتے پر آکر پھر مرد کی ذمہ داری بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس لئے اسے خود اپنے آپ کو بھی بچانا ہے اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچانا ہے ، پھر ایسے حالات میں کہ بیوی اور بچے ایسے ماحول میں گھرے ہوئے ہیں کہ ان پر ہر طرف سے جاہلیت کا حملہ ہے۔
اس لئے آج کے مسلمان کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اس کو اصلاح کے لئے قرن اول کی جماعت مسلمہ کے مقابلے میں ہزار ہا گنا زیادہ جدوجہد کرنی ہوگی ، اس لئے جو شخص آج کے دور میں کوئی اسلامی قلعہ تعمیر کرنا چاہتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ ایک ایسا گھر تعمیر کرنے کے ارادے سے پہلے اپنے لئے اس قلعے کا ایسا چوکیدار تلاش کرے ، جس کے تصورات اور نظریات ویسے ہی ہوں جیسے اس کے اپنے تصورات ہوں۔ اس سلسلے میں ایک انقلابی خاوند کو پھر کچھ قربانیاں دینی ہوں گی۔ پہلی قربانی یہ ہوگی کہ وہ خوبصورت کی تلاش نہ کرے ، مالدار کی تلاش نہ کرے ، جھوٹی ملمع کاری پر خوش نہ ہو۔ اسے چاہئے کہ وہ دین دار عورت کی تلاش کرے جو اس کے ساتھ مل کر ، ایک مسلم گھرانے کی تشکیل کرے اور ایک مسلم قلعے کی تعمیر کرے۔ اور بچوں کے جو باپ ہیں ان کا بھی فرض ہے کہ وہ جو قلعے بناتے ہیں وہ بھی اپنی اولاد اور اہل و عیال کی طرف متوجہ ہوں۔ کسی دوسرے کو دعوت دینے سے پہلے اپنے بچوں ، بیٹوں ، بیٹیوں اور پوتیوں کی طرف توجہ کریں۔ اور اللہ جو پکار کر کہہ رہا ہے ، اس پر عمل کریں۔
یایھا الذین ........................ نارا (66 : 6) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اپنے نفس اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاﺅ“۔
ایک بار پھر میں اس بات کی طرف آتا ہوں کہ اسلام ایک ایسی سوسائٹی تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کے اوپر اسلام کی حکمرانی ہو ، جس کے اندر اسلام کا واقعی وجود ہو۔ اس کا طریق کار اسلام نے یہ اختیار کیا ہے کہ ایک ایسی جماعت ہو جس کا عقیدہ اسلام ہو ، جس کا نظام اسلام ہو ، جس کا قانون اسلامی ہو ، جس کا منہاج زندگی اسلامی ہو ، اور وہ اپنے تمام تصورات تعلیمات اسلام سے اخذ کرے۔
اسلامی تصور حیات کی کا خزانہ یہ جماعت ہوتی ہے۔ یہ اس کی محافظ ہوتی ہے اور یہ اسے دوسروں تک منتقل کرتی ہے۔ اور ہر قسم کے جاہلی دباﺅ کے مقابلے میں یہ اس کا دفاع کرتی ہے اور اس جماعت کو اس اذیت سے بچاتی ہے۔
لہٰذا ایک اسلامی جماعت یا اسلامی سوسائٹی کا قیام ضروری ہے ، جس کے اندر ایک مسلمہ زندہ رہے اور اس پر اس کے ماحول کی جاہلیت کا اثر نہ ہو ، دباﺅ نہ ہو ، اس طرح یہ عورت اسلامی تقاضوں اور جاہلیت کے مطالبات کی کشمکش سے باہر نکل آئے گی۔ ایسے حالات میں اگر ایک مسلم مرد نوجوان اور یہ مسلمہ مل کر ایک اسلامی قلعہ تعمیر کریں تو ایسے قلعوں سے اسلامی بلاک اور اسلامی محاذ تشکیل پاسکتا ہے۔
یہ ایک ضرورت ہے ، فرض ہے ، محض نفل نہیں ہے کہ ایک ایسی اسلامی سوسائٹی قائم ہو ، جو باہم ایک دوسرے کو حق اور اسلام کی نصیحت کرے ، اپنی فکر کو نشوونمادے ، اپنے اخلاق وآداب کو عملاً جاری کرے اور اس سوسائٹی کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ اسلامی رنگ میں زندہ رہیں۔ اسلام کے لئے زندہ ہوں ، اسلام کے محافظ ہوں ، اسلام کے داعی ہوں۔ اور اہل جاہلیت میں سے جن کو وہ اپنی سوسائٹی کی طرف بلائیں ان کو نظر آئے کہ ان لوگوں کی جماعت اور ان کی سوسائٹی کے اندر ایک زندہ اسلام ہے تاکہ وہ اندھیروں سے اللہ کے حکم سے نور کی طرف نکل آئیں اور یہ سوسائٹی اسی طرح بڑھتی رے کہ اللہ اسلامی انقلاب برپا کردے اور پھر آئندہ اسلامی انقلاب کے رنگ میں اس جماعت اور اس کے زیر تربیت آئندہ نسلیں تیار ہوں۔
التحريم 66:9
مدینہ میں مسلمانوں نے ایسی ہی جماعت بنائی تھی ، اور ایسا ہی انقلاب برپا کردیا تھا ، اس لئے یہاں اس کے بچانے کی ہدایت کی جاتی ہے ، کیونکہ کفار اور منافقین اس کو ختم کرنا چاہتے تھے۔
یایھا النبی .................... المصیر (66 : 9) ” اے نبی کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آﺅ۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے “۔ پہلے یہ حکم دیا گیا کہ مسلمان اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچائیں ، خالص توبہ کریں جس کی وجہ سے ان کے گناہ معاف ہوں گے۔ اور وہ جنتوں میں داخل ہوں گے ، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ اب حکم یہ ہے کہ کفار ومنافقین کے ساتھ جنگ کرو ، اس لئے کہ وہ اس قسم کی اسلامی سوسائٹی کے قیام سے خائف ہیں ، جس میں اسلام کے شیدائی تیار ہوں۔ وہ اس قسم کی سوسائٹی پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مدینہ میں بھی کفار اور منافقین کا یہی ہدف تھا اور آج بھی یہی ہے اور آئندہ بھی یہی ہوگا۔
یہاں کفار اور منافقین دونوں کے ساتھ جہاد اور سختی کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ دونوں اسلامی سوسائٹی کے انہدام کے لئے ایک ہی جیسے مقاصد رکھتے ہیں۔ لہٰذا دونوں پر سختی کی ضرورت ہے۔
وماوھم ................ المصیر (66 : 9) ” ان کا ٹھانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے “۔ یوں ان دونوں باتوں کے درمیان ربط ہوجاتا ہے۔
التحريم 66:10
اس کے بعد اب تیسرا دور آتا ہے۔ اس سورت کا یہ آخری دور ہے۔ اور یہ تیسرا دور بھی پہلے کا تکمیلی دور ہے۔ یہ انبیاء کے گھروں میں کافر عورتوں اور کفار کے گھروں میں مومن عورتوں کی بات کرتا ہے۔
ضرب اللہ ................................ من القنتین
حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کے بارے میں جو یہ آیا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی ، اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خاوندوں کی دعوت کے خلاف کام کیا۔ یہ نہ تھا کہ وہ کسی فحاشی کی مرتکب ہوئی تھیں۔ نوح (علیہ السلام) کی بیوی بھی دوسرے مزاح کرنے والوں کے ساتھ اپنے شوہر کے ساتھ مزاح کرتی تھی۔ اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے ان کے مہمانوں کو اطلاع اوباشوں کو دی ، حالانکہ اس کو معلوم تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس بدفعلی کے خلاف ہیں۔
فرعون کی عوتر کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ یہ مومنہ تھی۔ شاید یہ ایشیائی ہوگی اور دین موسیٰ کو ماننے والی ہوگی۔ تاریخ میں آتا ہے کہ بادشاہ مصر امنخوتب چہارم کی والدہ ایشیائی تھیں اور یہ مصریوں کے دین پر نہ تھیں۔ یہ وہی بادشاہ تھا ، جس نے مصریوں کے لئے ایک خدا تجویز کیا اور سورج کی ٹکیہ کو اس کے لئے رمز بنایا اور اس نے اپنے آپ کو اخناتون کا لقب دیا۔ بہرحال یہ عورت مراد ہے ، یا موسیٰ (علیہ السلام) کا جو فرعون تھا اس کی بیوی مراد ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون امنخوتب نہ تھا۔
یہاں ہمیں فرعون کی عورت کی تاریخی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن کریم نے جو اشارہ کردیا ہے وہ کافی ہے۔ نام یا اشخاص تو اصولوں کے لئے مثال ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نام اور اشخاص اکثر ترک کرتا ہے۔ یہ حکم دینے کے بعد کہ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو بچانے کی سعی کرو ، یہ اصول بہرحال دہرایا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے کیے کا ذمہ دار خود ہے۔ ازواج مطہرات اور ازواج مومنین سے کہا جاتا ہے ، اپنے انجام کی فکر کرو ، محض اس لئے کسی کو نہ چھوڑاجائے گا کہ وہ نبی کا بیٹا ہے یا وہ نبی کی بیوی ہے یا کسی صالح شخص کا بیٹا ہے یا بیوی ہے۔
ذرا دیکھو نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کو۔
کانتا ........................ الداخلین (66 : 01) ” وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیت میں تھیں ، مگر انہوں نے اپنے ان شوہروں سے خیانت کی اور وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی نہ کام آسکے۔ دونوں سے کہہ دیا گیا کہ جاﺅ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاﺅ “۔ کفر کے معاملے میں کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہے اور نہ کفر و ایمان میں کوئی سفارش چلتی ہے۔ اگر اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ کوئی خیانت کرے گا تو وہ نبی کی بیوی کیوں نہ ہو ، جہنم رسید ہوگی۔
التحريم 66:11
دیکھئے فرعون کی بیوی کو ، کفر کا طوفان متاثر نہ کرسکا حالانکہ وہ اس طوفان میں زندگی بسر کررہی تھی ، فرعون کے محل میں۔ وہ اس سے نجات طلب کرتی تھی اور حقیر فرعون کے مقابلے میں جنت میں محل چاہتی تھی۔ اور وہ فرعون کے کفر کے ساتھ نہ تھی ، اس سے نجات طلب کررہی تھی ، اور اس کی خواہشات یہ تھیں :
اذ قالت .................... الظلمین (66 : 11) ” جب کہ اس نے کہا کہ ” اے میرے رب ! میرے لئے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے “۔
فرعون کی مومنہ بیوی کی دعا ایک مثال ہے اس بات کی کہ جب ایمان راسخ ہوجاتا ہے تو ایک مومنہ دنیا کی اعلیٰ ترین زندگی پر لات مار دیتی ہے۔ فرعون مصر اپنے دور میں دنیا کے بڑے بادشاہوں میں شمار ہوا کرتا تھا۔ اور قصر فرعون میں ایک عورت سب سے اونچا سازو سامان پاتی ہے۔ لیکن ایمان کی وجہ سے وہ اس سے بھی اونچی پرواز کرتی ہے۔ وہ اسے عیش و عشرت نہیں سمجھتی بلکہ ایک گندگی سمجھتی ہے۔ اور اس زندگی سے پناہ مانگتی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ اس سے نجات پائے۔
یہ ایک نہایت ہی عظیم مملکت کی خاتون اول ہے۔ اور یہ اس کی عظیم امتیازی خصوصیت ہے ، کیونکہ عورت ہمیشہ معاشرتی دباﺅ اور اثر کو قبول کرتی ہے لیکن یہ اکیلی عورت اس عظیم دباﺅ کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی ہے۔ اس پر معاشرے کا دباﺅ ہے ، اس پر محل کا دباﺅ ہے ، اس پر مملکت کا دباﺅ ہے ، اس پر بادشاہ کے وزراء اور حاشیہ نشینوں کا دباﺅ ہے ، اور اس پر بادشاہ کی ملکہ ہونے کے منصب کا دباﺅ ہے ، لیکن اس ہمہ جہت دباﺅ کے مقابلے میں ، یہ عظیم عورت اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے ہے ، اور کفر کے اس عظیم سمندر کے اندر ایک چھوٹے سے تختے پر بیٹھی ہے اور اس کا دامن ان تمام آلودگیوں سے تر نہیں ہورہا ہے۔ کس قدر عظیم ہے وہ ! !
التحريم 66:12
اللہ کے لئے خالص ہوجانے کی یہ ایک نہایت ہی اعلیٰ مثال ہے ، کہ وہ تمام موثرات کا مقابلہ کررہی ہے۔ تمام تعلقات کا مقابلہ کررہی ہے ، تمام رکاوٹوں کو عبور کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی لازوال کتاب میں وہ اپنا نام لکھواگئی۔ اور جب اس کتاب کے نزول کے وقت اس عورت کا نام پکارا جارہا ہوگا کہ اس عظیم کائنات کی لامحدود وادیوں میں اس کی گونج مچی ہوگی۔
ومریم ابنت عمرن (66 : 21) ” عمران کی بیٹی مریم “۔ یہ بھی آغاز ہی سے پارسا خاتون تھیں۔ قرآن کریم نے دوسری سورتوں میں ان کی تعریف کی ہے۔ یہاں ان کی پاکیزگی کی سیرت کی بات ہے۔
التی ............ فرجھا (66 : 21) ” جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی “۔ یہودی آپ پر الزامات عائد کرتے تھے ، قرآن کریم آپ کی برات کا اعلان کرتا ہے۔
فنفخنا ............ روحنا (66 : 21) ” پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی “۔ اور اس روح کے نتیجے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے ، جیسا کہ سورة مریم میں اس کی تفصیلات گزر گئی ہیں۔ یہاں ان کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہاں مقصد صرف آپ کی طہارت اور آپ کے ایمان کامل کو ثابت کرنا ہے۔
وصدقت ................ من القنتین (66 : 21) ” اور اس نے اپنے رب کے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی “۔
یہاں امراة فرعون کا علیحدہ ذکر کرنا ، پھر اس کو حضرت مریم (علیہ السلام) کے ساتھ برابری کی سطح پر ذکر کرنا ، اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے نزدیک فرعون کی بیوی کا مرتبہ بھی بہت بلند تھا ، کیونکہ وہ نہایت ہی مشکل حالات میں راہ ایمان پر جمی ہوئی تھی۔ بہرحال نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے سامنے یہ دو نمونے رکھے جاتے ہیں کہ آپ لوگوں کا کردار اس قدر بلند ہونا چاہئے اور اہل ایمان کو قیامت تک یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی کو قائم کرنا ہے تو اس کے لئے باکردار اور مسلم خواتین پیدا کرو۔
بہرحال آخر میں ہم دوبارہ اس طرف قارئین کی توجہ مبذول کراتے ہیں کہ یہ سورت اور یہ پورا پارہ بہترین اور زندہ مثال ہے نبی کریم کی سیرت کی۔ اور ان سورتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام اور صحابیات کی جو جماعت تیار کی ، تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ہے۔ پھر قرآن کریم نے سیرت النبی کے واقعات کو جس انداز میں بیان کیا ہے وہ قرآن کا منفرد انداز ہے۔ ایک جزوی واقعہ کو مخصوص حالات سے نکال کر اور زمان ومکان کا رنگ اڑاکر قرآن اس کو ایک ابدی اصول کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ کام قرآن ہی کرسکتا ہے۔ پڑھنے والا اسے ایک واقعہ کے پس منظر میں پڑھ کر سمجھتا ہے ، لیکن قرآن اس سے جو نتائج اخذ کرتا ہے ، وہ کلی ہوتے ہیں۔
الملك 67:1
اس سورت کے آغاز میں اللہ کب برکات پر مشتمل یہ سپاس نامہ اس بات پر دال ہے کہ اللہ کی برکتیں اور اللہ کے کرم ، اور اللہ کے فیوض کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اللہ کی برکتیں اللہ کی سلطنت میں ہیں اور اس کی بادشاہت میں کوئی کمی نہیں۔ اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات کی برکات کا فیض عام اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے اور یہ پوری کائنتا اس کی حمد گا رہی ہے اور اس لاانتہا وجود کی وادیوں میں اس کی گونج ہے۔ قلب مومن ان برکتوں سے لبالب ہے اور یہ کائنات اس کتاب الٰہی کے ذریعہ قلب مومن پر نازل ہوتی ہے اور اس پوری کائنات میں ان کا ظہور ہے۔
بیدہ الملک (76 : 1) ” جس کے ہاتھ میں سلطنت ہے “۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے ، اس کا اس نے احاطہ کررکھا ہے۔ اس کی چوٹی کے بال اس کے ہاتھ میں ہیں ، وہ اس میں متصرف ہے۔ یہ ہے اصل حقیقت کہ اس پوری کائنات کا بادشاہ وہی ہے جب یہ حقیت انسانی ضمیر میں بیٹھ جاتی ہے تو یہ اپنی راہ خود بخود متعین کردیتی ہے اور اس کے بعد پھر کوئی بھی اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کے لئے فارغ نہیں ہوتا۔ پھر وہ ایک ہی آقا ، ایک معبود اور ایک ہی بادشاہ کا قائل ہوتا ہے۔
وھو علی ............ قدیر (76 : 1) ” اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ کوئی چیز اس پر غالب نہیں ہے ، کوئی چیز اس کے ارادے کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتی ، اس مشیت کی حدود وقیود سے باہر ، جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے ، جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو چاہے کرسکتا ہے ، جو حکم دے اس کی تعمیل کرواسکتا ہے۔ اس کی قدرت بےحدو بےقید ہے۔ جب یہ حقیقت ذہن میں بیٹھ جائے تو ہمارے احساسات ، تصورات اور عقل میں کسی قوت کے لئے کوئی سوچ جاتی ہے تو اس کی نفی ہوجاتی ہے۔ انسان جو کچھ بھی سوچ سکتا ہے اس کی قدرت اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ انسان کا تصور بہت ہی محدود ہے کیونکہ انسان کی ذات اور اس کی فکری کائنات محدود ہے۔ انسان اپنے ماحولیات اور معلومات کے محدود دائرے میں سوچنے کا عادی ہے جو بہت ہی محدود ہوتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ انسان کو اس محدود دائرے سے نکالتی ہے۔ انسان یقین کرتا ہے کہ اللہ کی قدرت لامحدود ہے تو انسان اپنے آپ کو اس کے حوالے کرتا ہے اور یوں وہ اس محدود سوچ سے لامحدود سوچ کی طرف نکل جاتا ہے ورنہ انسان حاضر وموجود کے محدود تصور ہی کا غلام ہوتا ہے۔
الملك 67:2
یہ کہ وہ قادر مطلق ہے اور اپنی مملکت میں ہر قسم کے تصرفات کرتا ہے ، تو اس کے آثار قدرت اور نمونہ تصرفات ملاحظہ فرمائیں کہ اس نے موت وحیات کی تخلیق کی۔ موت میں وہ حالت بھی شامل ہے جو کسی زندہ چیز کو حیات دینے سے پہلے ہوتی ہے۔ اور وہ حالت بھی شامل ہے ، جو حیات واپس لینے کے بعد طاری ہوتی ہے۔ اور حیات میں بھی پہلی زندگی شامل ہے اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے والی زندگی بھی شامل ہے۔ یہ سب حالات اللہ کی تخلیقات میں آتے ہیں۔ ذہن انسانی میں یہ حقیقت بٹھانے کا مقصد یہ ہے کہ اے انسان تجھے بےمقصد نہیں پیدا کیا گیا تو ایک ذمہ دار مخلوق ہے۔ یہ نہیں ہے کہ بس یونہی اتفاقاً تو آگیا ہے اور بس یونہی ایک دن مرکر مٹی ہوجائے گا۔ اور یہ کام اور یہ عظیم تخلیقی عمل بےمقصد نہیں ہے بلکہ یہ انسانوں کو آزمانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ اللہ کے علم میں جن انسانوں کو جو مظاہرہ کرنا تھا وہ سامنے آجائے ، جس کا اللہ کو پہلے سے علم تھا۔ اور وہ اپنے اعمال پر مناسب جزاء وسزا کے حقدار ہوجائیں۔
لیبلوکم ................ عملاً (76 : 2) ” تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے “۔ جب یہ عقیدہ ذہن میں بیٹھ جائے تو انسان بیدار ، محتاط ، چوکنا اور سمجھدار ہوجاتا ہے۔ وہ دل میں چھوٹے بڑے کاموں کے بارے میں سوچنا ہے اور پوشیدہ اور ظاہری باتوں کے بارے میں غور کرتا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو غفلت میں نہیں چھوڑتا۔ نہ مطمئن اور بےفکر چھوڑتا ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
وھوالعزیز الغفور (76 : 2) ” اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی “۔ اس اختتامیہ سے یہ اطمیانان دلانا مطلوب ہے کہ بیشک اللہ قدیر ہے اور زبردست ہے لیکن وہ غفور بھی ہے۔ وہ بندوں پر سختی نہیں کرتا۔ جب انسان کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ میرا امتحان ہے تو وہ ہر وقت خائف رہتا ہے کہ کیا نتیجہ نکلے گا لیکن جب وہ یہ سوچے گا کہ اللہ تو غفور ورحیم ہے تو اسے امید بندھ جائے گی اور وہ ثبات وقرار کے ساتھ صراط مستقیم پر چلے گا۔
اسلام نے انسانوں کے سامنے خدا کا جو تصور پیش کیا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ جو ہر وقت انسانوں کا پیچھا کرتا ہے ، نہ ایسا ہے کہ اسے عذاب دینے میں مزا آتا ہے ، وہ عذاب دینے کو پسند کرتا ہے بلکہ اللہ ہر وقت یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ تمہارا ایک مقصد وجود ہے ، اس کو نظروں سے اوجھل ہونے نہ دو ، اپنی حقیقت کے مقام تک اپنے آپ کو بلند کرو ، اور جس طرح اللہ نے اپنی روح تم میں پھونک کر تمہیں ایک بلند مرتبہ دیا۔ اس پر فائز ہو کر اللہ کی مخلوقات سے اپنے آپ کو افضل ثابت کرو ، جب لوگ اس مقصد کو پالیں تو پھر ان پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ قدم قدم پر ان کی معاونت کی جاتی ہے اور حساب و کتاب میں عفو و درگزر سے کام لیا جاتا ہے۔
یہ کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اسی نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ لوگوں کو آزمائے تو اس حقیقت کا مطالعہ ایک طرف اس پوری کائنات کے میدان میں کرایا جاتا ہے اور دوسری طرف حشر کے میدان میں اس کے مظاہردکھائے جاتے ہیں۔
الملك 67:3
” ان شیطان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کررکھی ہے۔ جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے لئے جہنم کا عذاب اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھارہی ہوگی ، شدت غضب سے پھٹی جاتی ہوگی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے ” کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ “ وہ جواب دیں گے ” ہاں ! خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیات تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو “۔ اور کہیں گے ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے “۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔
ان آیات میں جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ پہلی آیت کا مفہوم ہیں اور اس کی مثالیں ہیں۔ اللہ اپنی بادشاہت کو جس طرح چلاتا ہے اس کے مظاہر ہیں اور اللہ کی بےقید قدرت کے آثار ہیں۔ اور پھر تفصیلات میں انسان کی آزمائش اور جزاوسزا کی۔ تہہ بہ تہہ سات آسمانوں کا مطلب ہم موجودہ فلکی نظریات سے اخذ نہیں کرسکتے کیونکہ فلکی نظریات ، جوں جوں ہمارے آلات مشاہدہ آگے بڑھتے ہیں ، بدلتے رہتے ہیں۔ آیت سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ فقط اس قدر ہے کہ اوپر کی کائنات کے سات ایسے طبقے ہیں جو ایک دوسرے سے ایک فاصلے پر ہیں ، اس لئے انہیں طبقات کہا گیا ہے۔
قرآن مجید ہماری نظر کو زمین و آسمان کی تخلیق کی طرف مبذول کرتا ہے اور انسانوں کو یہ چیلنج کرتا ہے کہ ذرا زمین و آسمان کے اس نظام کو دیکھو ، اس میں کوئی نقص بھی ہے۔ تمہارا مشاہدہ تھک تھکا کر عاجز رہ جائے گا اور اسے کوئی نقص نظر نہ آئے گا۔
ماتری .................... تفوت (76 : 3) ” تم رحمن کی تخلیق میں کسی قسم کی بےربطی نہ پاﺅ گے “۔ اللہ کی مخلوقات میں نہ کہیں خلل ہے ، نہ نقص ہے اور نہ اضطراب ہے۔
فارجع البصر (76 : 3) فارجع ” پھر پلٹ کر دیکھو “۔ دوبارہ کوشش کرو ، اچھی طرح معلوم کرنے کی کوشش کرو۔
ھل تری من فطور (76 : 3) ” کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے “۔ کیا تمہاری نظروں نے کوئی شگاف دیکھا ، کوئی نقص اور کوئی خلل دیکھا ؟
الملك 67:4
ثم ارجع البصر کرتین (76 : 4) ” بار بار نگاہ دوڑاﺅ“۔ شاید کوئی چیز دیکھنے سے رہ گئی ہو ، اور تم معلوم نہ کرسکے ہو ، لہٰذا پھر بھی نگاہ ڈالو۔
ینقلب .................... حسیر (76 : 4) ” تمہاری نگاہ تھک کرنا مراد پلٹ آئے گی “۔ یہاں چیلنج یہ ہے کہ ان آسمانوں اور اللہ تمام کی تمام مخلوقات کو ذرا گہری نظر سے دیکھو ، اس کائنات کا سنجیدہ مطالعہ کرو ، اور اس میں تامل و تدبر کرو ، اور اس چیز اور اس صفت ہی کو دراصل قرآن کریم انسانوں میں عام کرنا چاہتا ہے کہ تم اس کائنات کا گہرا مشاہدہ کرو۔ یہ کائنات دراصل بہت عجیب و غریب اور نہایت ہی خوبصورت ہے اور اس کے اندر معجزات و کمالات موجود ہیں لیکن ہم اس کے اندر اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ اس کا انوکھا پن ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ اور اس کی عظیم خوبصورتی ہمیں کوئی خوبصورتی نظر نہیں آتی۔ حالانکہ یہ اس قدر خوبصورت ہے کہ نظر اس کی خوبصورتی کو دیکھ دیکھ کر سیر ہی نہ ہو اور اس کے اندر جو سبق اور اشارات ہیں ہمارے قلب ونظر کو اس سے سیر ہی نہ ہو۔ اور عقل تدبر کرتی ہی رہ جائے اور اس کے نظام کی بوقلمونیاں ختم ہی نہ ہوں۔ اس نقطہ نظر سے اگر انسان اس کائنات کا مطالعہ کرے تو اسے یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ اور سجائی ہوئی حسین و جمیل نمائش گاہ نظر آئے ، جس کا انوکھا پن اور جس کی خوبصورتی کبھی پرانی نہ ہو کیونکہ اس طرح عقل ونظر کے لئے اس کی خوبصورتی ہر روز نئی ہوگی۔
جو لوگ اس کائنات کی حقیقت سے قدرے واقف ہیں اور وہ جدید سائنسی علوم کے مطابق اس کے بعض پہلوﺅں کے حالات اور اس کے نظام کو کام کرتا ہوا دیکھتے ہیں وہ تو حیران رہ جاتے ہیں اور ان کی عقل چکرانے لگتی ہے۔ لیکن اس کائنات کی خوبصورتی کے مشاہدے کے لئے کسی بڑی مقدار علم کی ضرورت نہیں ہے۔ انسان پر اللہ کا یہ کرم ہے کہ اس کو اللہ نے ایسی صلاحیت دی ہے کہ وہ معمولی مشاہدے اور غوروفکر کے ساتھ اس کائنات کے ہمقدم اس طرح چل سکتا ہے جس طرح ایک زندہ آدمی دوسرے زندہ آدمی کے ساتھ چلتا ہے۔ انسان کا قلب براہ راست اس کائنات کے پیغام کو پاتا ہے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھتا ہے ، بشرطیکہ وہ آنکھیں اوپر کرکے دیکھے اور دل کھول کر کچھ اخذ کرے۔ اور وہ اس کائنات کو ایک زندہ مخلوق سمجھ کر اس کا رفیق بن جائے ، قبل اس کے کہ وہ اپنے نور فکر اور اپنی صد گاہوں سے اس عظیم اور عجیب کائنات کے رازوں کو افشا کرے۔
چناچہ قرآن مجید لوگوں کو اس کائنات کے حوالے کرتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں کائنات کی کھلی کتاب پکڑاتا ہے ، کہ اس کائنات کی آواز سنو ، اس کے تناظر اور عجائبات کی سیر کرو ، اس لئے کہ قرآن مجید کے مخاطب صرف سائنس دان نہیں ہیں ، بلکہ ہر دور اور ہر سطح کے انسان ہیں۔ قرآن کو ایک جنگلی اور صحراوی بھی پڑھتا ہے اور شہر میں بسنے والا اور سمندروں میں سفر کرنے والا بھی پڑھتا ہے ۔ وہ ایک ان پڑھ سے بھی مخاطب ہے ، جس نے ایک حرف بھی نہیں پڑھا۔ اور اسی طرح وہ باہر علم نجوم وفلکیات سے بھی مخاطب ہے۔ وہ ماہر طبیعیات سے بھی ہمکلام ہے اور ماہ رفلسفی سے بھی۔ ہر ایک کو قرآن میں عجائبات ملتے ہیں ، جن میں وہ تامل کرتا ہے اور قرآن ان سب کے غوروفکر کی قوتوں کو بیدار کرتا ہے۔
الملك 67:5
کمال کی طرح اس کائنات کی ہر چیز میں جمال بھی مقصود بالذات ہے بلکہ کمال اور جمال ایک ہی حقیقت کے دو نام یا دو پہلو ہیں ، کسی چیز میں کمال ہی اس کی خوبصورتی کا اعلیٰ درجہ ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن نے پہلے آسمانوں کی خوبصورتی کی طرف متوجہ کیا اور اس کے بعد کمال کی طرف۔
ولقد .................... بمصابیح (76 : 5) ” اور ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے “۔ یہ سمائے دنیا کہلاتا ہے۔ شایدہ یہ وہ بلندی ہے جو زمین کے مکان اور قرآن کے مخاطب انسانوں کے فہم کے قریب ہے۔ مصابیح اور چراغوں سے مراد ستارے اور سیارے ہیں جو ہمیں نظر آتے ہیں ، جن انسانوں سے قرآن مخاطب تھا وہ آسمانوں کو دیکھ کر یہی سمجھتے تھے کیونکہ ان کے پاس رصد گاہیں نہیں تھیں اور اس وقت بھی اور آج بھی کوئی آنکھوں سے آسمان کو دیکھے تو اس میں ستارے روشن چراغ نظر آتے ہیں۔
یہ منظر کس قدر خوبصورت ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں۔ اس قدر خوبصورت کہ انسان کے دل کو کھینچ لیتا ہے۔ اس منظر کے کئی رنگ ہیں۔ صبح وشام اس کا الگ الگ نظارہ ۔ طلوع اور غروب کا الگ نظارہ ہے۔ تاریک رات اور چاندنی ہے۔ گھڑی بھر میں مناظر بدلتے رہتے ہیں۔ جگہ کی تبدیلی سے مناظر بدلتے ہیں۔ زاویہ کی تبدیلی سے بدلتے ہیں لیکن جو منظر بھی سامنے آئے ذہن کو گرفت میں لے لیتا ہے۔
یہ اکیلا ستارہ جو دور افق پر چمک رہا ہے گویا وہ خوبصورت آنکھ ہے ، نہایت محبت سے پکارتی ہے۔ پھر وہ دو ستارے جو الگ نظر آتے ہیں ، یہ اژدحام سے دور محو گفتگو ہیں۔ اور وہ ستاروں کا جھرمٹ جو جگہ جگہ نظر آتا ہے وہ کائنات کے میلے کا ایک حلقہ یاراں ہے جو کبھی یہاں جمع ہوتا ہے تو کبھی وہاں !
یہ باریک چاند جو ایک رات ایک شاخ کی طرح ہوتا ہے اور ایک رات اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر معدوم ہوجاتا ہے اور دوبارہ وہ ولادت پاتا ہے۔ ہر رات کو اس کا نیا روپ ہوتا ہے۔
یہ وسیع فضائے کائنات جس کی لمبائیوں اور دوریوں تک بینائی ساتھ نہیں دیتی۔ اور خوبصورت اس قدر کہ آنکھیں دیکھتی رہ جائیں۔ یہ ہے حقیقی خوبصورتی ، جس کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا ، لیکن انسان اگر ان خوبصورتیوں کو الفاظ کا جامہ پہنانا چاہے تو ممکن نہیں۔ انسانی عبارات اس سے قاصر ہیں۔
قرآن کریم انسانوں کو اس آسمان اور اس پوری کائنات کے جمال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کیونکہ جمال کائنات کا ادراک ہی ایک ذریعہ ہے جس کی وساطت سے انسان خالق کائنات کے جمال کا تصور کرسکتا ہے۔ اور یہی ادراک انسان کو اس بلند مقام تک پہنچاتا ہے ، جس تک انسان کبھی پہنچنے کی تمنا کرسکتا ہے کیونکہ اس یونٹ تک پہنچ جاتا ہے جہاں سے آگے وہ ابدی حیات پاسکتا ہے۔ اب وہ ایک خوبصورت آزاد اور لازوال دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ زندگی اس دنیا کی آلودگیوں سے پاک ہوتی ہے اور انسانی زندگی کے وہ لمحات لازوال لمحات ہوتے ہیں جن میں کوئی انسان اس کائنات کے لازوال حسن کا ادراک کرلے ، ایسے ہی حالت میں وہ ذات باری کے قریب ترہوجاتا ہے اور ذات باری کے کمالات کا تصور کرسکتا ہے۔
اور اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسان کے یہ خوبصورت ستارے ایک دوسرا کام بھی کرتے ہیں۔ یہ شہاب ثاقی بن کر شیطانوں پر بمباری بھی کرتے ہیں۔
وجعلنھا ................ للشیطین (65 : 5) ” اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا “۔ ہم نے ” فی ظلال القرآن “ میں یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ غیبی امور کے بارے میں بات کو اسی حد میں رکھیں جس حد تک قرآن کریم نے کہہ دی ہے۔ اس معاملے میں قرآن نے جو پہلو بتایا ہے اسی تک محدود رہیں۔ جس قدر قرآن نے کہہ دیا ہے وہ ایک مکمل بات ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ ایک مخلوق ہے ، جس کا نام شیطان اور شیاطین ہے ، قرآن میں ان شیطانوں کی بعض صفات وارد ہیں۔ ظلال القرآن میں اس موضوع پر پہلے بات ہوچکی ہے۔ اس پر مزید اضافے کی ضرورت نہیں ہے ، اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ یہ شیطان جب عالم بالا میں جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انکو شہاب ثاقب بھگاتے ہیں ، دوسری جگہ آیا ہے۔
وحفظا ................ مارد (7).................... الا من ........ شھاب ثاقب (73 : 01) ” اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کردیا .... تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے “۔
یہ شہاب ثاقب کس طرح پیچھا کرتا ہے۔ یہ شہاب کس قدر بڑا ہے۔ اس کی شکل کیا ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں اللہ نے تفصیلات ہمیں نہیں بتائی اور کوئی دوسرا ذریعہ علم انسانوں کے پاس نہیں ہے ، جس سے کوئی بات پوچھی جاسکے۔ بس جس قدر قرآن نے کہہ دیا اس پر اکتفا کرنا چاہئے۔ اور یہی یہاں مقصود ہے۔ اگر اس سے زیادہ بتانا مقصود ہوتا تو اللہ بتا دیتا۔ اس لئے جس چیز کو اللہ نے ہمارے لئے موجب خیروبرکت نہیں سمجھا ، اس کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ شیاطین کا رجم بھی اسیے ہی معاملات میں سے ہے ، جس کا تفصیلی علم ہمیں نہیں دیا گیا۔ اور دنیا میں شہاب ثاقب کی سزا کے علاوہ آخرت میں ان کے لئے اور سزا ہے۔
واعتدنا ................ السعیر (86 : 5) ” اور ان شیطانوں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کررکھی ہے “۔ یہ بمباری دنیا اور آگ کا عذاب آخرت میں۔
الملك 67:6
وللذین ............................ المصیر (76 : 6) ” اور جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے لئے جہنم کا عذاب اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے “۔ اس کے بعد جہنم کے ایک منظر کی تفصیلات دی جاتی ہیں جس میں جہنم نہایت ہی غیض وغضب اور نہایت انتقامی حالت میں نظر آتی ہے۔
الملك 67:7
اذا القوا .................... الغیظ (76 : 8) ” جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھارہی ہوگی ، شدت غضب سے پھٹی جاتی ہوگی “۔ ذرا جہنم کو دیکھو ، یہ زندہ مخلوق کی طرح ہے۔ اسے غصہ آرہا ہے اور وہ اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے اور اس کی سانس پھول رہی ہے اور اس طرح اس کی سانس شدت غضب سے پھنکار کی شکل اختیار کررہی ہے۔ اس پر اس کے غصے ، کراہت اور نفرت کی وجہ سے اس قدر دباﺅ ہے کہ قریب ہے کہ وہ پھٹ پڑے۔
بظاہر تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انداز بیان ایک مجازی تصویر کشی کا انداز ہے لیکن ہم اس کائنات کا جس قدرگہرا مطالعہ کریں گے ، معلوم ہوگا کہ اللہ کی مخلوقات میں سے ہر مخلوق زندہ ہے اور اس کی ایک مخصوص روح ہے۔ اور ہر مخلوق اپنے رب کو جانتی ہے۔ اور اس کی حمدوثنا کرتی ہے اور اللہ کی ہر مخلوق جب دیکھتی ہے کہ انسان رب تعالیٰ کا کفر کرتا ہے تو تمام مخلوقات خوفزدہ ہوجاتی ہیں کیونکہ ہر چیز کو اپنے خالق کی معرفت حاصل ہے اور ہر چیزمطیع فرمان ہے ، لہٰذا ہر چیز کو نافرمان مخلوق پر غصہ آتا ہے اور مخلوقات کی روح تمام منکرین سے نفرت کرتی ہے۔
قرآن کریم میں آتا ہے۔
تمسبح لہ………….. تسبیحھم (71 : 44) ” اس کی پاکی کو ساتوں آسمان و زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کررہی ہیں جو آسمان اور زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو ، مگر تم اس کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو “۔ اور اسی طرح حضرت داﺅد (علیہ السلام) کے بارے میں ہے۔
یجبال……………. والطیر (43 : 01) ”(ہم نے حکم دیا) اے پہاڑو ! اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو دیا “۔
اور دوسری جگہ بھی صراحت کے ساتھ وارد ہے :
ثم استوی………….. طائعین (14 : 11) ” پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھواں تھا ، اس نے آسمان اور زمین سے کہا وجود میں آجاﺅ تم چاہو یا نہ چاہو ، دونوں نے کہا : ہم آگئے فرماں برداروں کی طرح “۔
یہ تمام چیزیں ، جس حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہیں وہ یہ ہے کہ ہر چیز رب تعالیٰ پر ایمان لاتی ہے ، اس کی تسبیح کرتی ہے ، تعریف کرتی ہے اور جب یہ چیزیں دیکھتی ہیں کہ انسان خالق کائنات کی نافرمانی کرتا ہے تو یہ دہشت زدہ ہوجاتی ہیں۔ جب انسان ایک مختلف رویہ اختیار کرتا ہے تو یہ چیزیں غضب الٰہی کے خوف سے کانپ اٹھتی ہیں۔ اور ان کو اس قدر غصہ آتا ہے کہ شدت غضب کی وجہ سے قریب ہے کہ یہ ایک دھماکے کے ساتھ انسان پر حملہ آور ہوجائیں۔ جس طرح کوئی کسی شریف اور عزت نفس رکھنے والے شخص کو برا بھلا کہے۔ غضب کے مارے اس کا گلا گھٹ جاتا ہے اور سانس پھول جاتی ہے اور وہ بڑی مشکل سے اپنے آپ پر قابو پاتا ہے اور اسی طرح کی حالت جہنم کی بتائی گئی۔
وھی ……………. من الغیظ (76 : 8) ” وہ جوش کھارہی ہوگی اور شدت غضب سے پھٹی جارہی ہوگی “۔
الملك 67:8
اور جہنم کے نگرانوں کی حالت بھی یہی ہوگی۔
کلما .................... نذیر (76 : 8) ” ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے ” کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ “ یہ بات واضح ہے کہ جہنم میں ان سے یہ سوال محض معلومات حاصل کرنے کے لئے نہ ہوگا ، یہ ان کی سرزنش کرنے اور ان کو دلیل کرنے کے لئے ہوگا ، گویا جہنم کے کارندے بھی جہنم کے ساتھ اس غیظ وغضب میں شریک ہوں گے ۔ جس طرح وہ دونوں ان کو عذاب دینے میں شریک ہیں اور کسی مصیبت زدہ اور پریشان شخص پر اگر سرزنش اور دھتکار کے کوڑے بھی لگیں تو اس کی تلخی کی تو حد ہی نہ ہوگی لیکن ذرا ان لوگوں کا جواب سنیں کہ یہ لوگ کس پدر ذلیل و خوار ہوگئے ہیں۔ اب وہ برخورداروں کی طرح اپنی غفلت اور حماقت کا اقرار کرتے ہیں ، جبکہ وہ پہلے بڑے غرور کے ساتھ رسولوں کو گمراہ کہتے تھے۔
الملك 67:9
قالو .................... السعیر (76 : 11) ” وہ جواب دیں گے ” ہاں ! خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیات تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو “۔ اور کہیں گے ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے “۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔
جو سنتا ہے اور عقل سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے آپ کو اس پوزیشن میں نہیں ڈالتا۔ اور اس طرح انکار نہیں کرتا جو ان بدبختوں نے کیا۔ اور وہ رسولان برحق کو جھٹلانے کی جسارت نہیں کرتا اور نہ اس قدر بھونڈے انداز کی ساتھ ان پر گمراہی کا الزام لگاتا ہے ، بغیر کسی معقول وجہ کے ، الٹا یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اللہ نے کچھ نازل نہیں کیا ، تم جھوٹ بول رہے ہو ، جیسا کہ گویا وہ ابھی اللہ کے پاس سے آیا ہے۔
الملك 67:10
قالو .................... السعیر (76 : 11) ” وہ جواب دیں گے ” ہاں ! خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیات تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو “۔ اور کہیں گے ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے “۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔
جو سنتا ہے اور عقل سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے آپ کو اس پوزیشن میں نہیں ڈالتا۔ اور اس طرح انکار نہیں کرتا جو ان بدبختوں نے کیا۔ اور وہ رسولان برحق کو جھٹلانے کی جسارت نہیں کرتا اور نہ اس قدر بھونڈے انداز کی ساتھ ان پر گمراہی کا الزام لگاتا ہے ، بغیر کسی معقول وجہ کے ، الٹا یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اللہ نے کچھ نازل نہیں کیا ، تم جھوٹ بول رہے ہو ، جیسا کہ گویا وہ ابھی اللہ کے پاس سے آیا ہے۔
الملك 67:11
فاعترفوا .................... السعیر (76 : 11) ” اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔ سحق کے معنی بعد کے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے بددعا ہے۔ جب انہوں نے اعتراف کرلیا اور یہ اعتراف ، اس وقت کیا جب وہ منظر ان کے سامنے آگیا ، جس کے وقوع کا وہ انکار کررہے تھے۔ اور اللہ جس کے لئے بددعا کردے تو گویا ان کی بربادی کا فیصلہ ہوگیا۔ یہ لوگ رحمت خداوندی سے دور ہوگئے ، اب ان کو اللہ کی مغفرت کی کوئی امید نہیں رہی ہے۔ نہ عذاب سے چھوٹنے کی کوئی امید ہے۔ اب تو وہ دوزخ کے ساتھی ہیں۔ کیا ہی بری صحبت ہے اور کیا ہی بری ہم نشینی ہے ان کی اور کیا ہی برانجام !
یہ عذاب ، جہنم کا عذاب ، جو پھٹکاریں ماررہی ہے ، ایک شدید عذاب ہے۔ خوفناک عذاب ہے۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نفس کے اندر اللہ نے ایمان کی حقیقت اور ایمان کے دلائل رکھ دیئے ہیں اس کے باوجود بھی اگر کو ئی نفس کے اندر اللہ نے ایمان کی حقیقت اور ایمان کے دلائل رکھ دیئے ہیں اس کے باوجود بھی اگر کوئی نفس اللہ کا انکار کرتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم ہے۔ اسی طرح وہ اپنے وجود اور شخصیت کی تمام بنیادی صفات کا بھی وزن کھوبیٹھتی ہے۔ وہ اسی طرح ہے جس طرح جہنم میں پتھروں کو جلایا جائے۔ اس کی شخصیت نے اپنے آپ کو اپنے مکان سے گرا کر اس آگ میں ڈالا ہے حالانکہ اس کا فرض یہ تھا کہ وہ اس سے بھاگتی۔
جو متنفس اللہ کا انکار کرتا ہے وہ آگے بڑھنے کے بجائے الٹے پاﺅں پھرتا ہے اور اوندھے منہ گرتا ہے اور وہ زندگی کے ہر دوڑ میں گرتا ہی چلا جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ انتہائی بری ، پسماندہ اور قابل نفرت شکل اختیار کرلیتا ہے۔ آخرکار وہ ایک مکروہ جہنمی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ وہ اس قدر بدشکل ہوجاتا ہے کہ اس جہاں کی کوئی چیز بھی اس قدر کریہہ المنظر نہیں ہوتی۔ جس طرح کوئی چیز مسخ ہوجائے۔ تو ایسے متنفس کے سوا تمام جہاں ایک طرف ہوتی ہے۔ ہر چیز مومن ہے۔ اللہ کی ثناخواں ہے ، اور ہر چیز میں خیر موجود ہے اور تمام اشیاء کے اندر ایمان ایک رابطہ ہے۔ ماسوائے ان نفوس انسانی وشیطانی کے جو کفر اختیار کرتے ہیں۔ ان منکر اور بھٹکے ہوئے افراد کا ہر قسم کا تعلق جہاں بھی وہ ہوں ، ہر چیز سے کٹ جاتا ہے ، ماسوائے جہنم کے وہو کسی کام کے نہیں ہوتے۔ ان کے اندر کوئی معنی کوئی حقانیت اور کوئی عزت نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ نفوس جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ صفات بالمقابل پیش کرتا ہے۔ جس طرح جہنم والوں کے مناظر دکھائے گئے۔ اس کے بالمقابل مومنین کے حالات بھی دکھائے جاتے ہیں۔ اور یہ پورے قرآن کریم کا انداز ہے۔ چناچہ یہاں بھی آیات۔
الملك 67:12
ان الذین ................ اجرکبیر
غیب سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں اور اس سے ڈرتے ہیں ، اور یہ مراد بھی ہے کہ اس حالت میں بھی رب سے ڈرتے ہیں جب انہیں کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ ایک انسان جب چھپے ہوئے بھی برائی نہیں کرتا تو اس کا ضمیر زندہ ہوتا ہے اور وہ خدا کا صحیح طرح مومن ہوتا ہے۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے ، طالوت ابن عباد سے ، انہوں نے حارث ابن عبید سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے انس سے وہ کہتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اے رسول خدا .... ہم آپ کے پاس ایک حال میں ہوتے ہیں لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمارا حال اور ہوتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا تم اور تمہارے رب کے ساتھ تعلق کیسا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رب تو تنہائی میں اور محفل میں ہر جگہ ہمارا رب ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ ” نفاق نہیں ہے “۔ لہٰذا اللہ کے ساتھ رابطہ حقیقی رابطہ ہے۔ جب اللہ پر یقین ہو تو ایسا شخص مومن ہے۔
یہ مذکورہ بالا آیت مضمون ماقبل اور مضمون مابعد دونوں کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ کہ اللہ کو ہر حالت کا علم ہے خواہ کوئی ظاہر ہو یا خفیہ ، تنہائیوں میں ہو۔ اللہ تعالیٰ پکار کر لوگوں کو کہتا ہے کہ میں نے تمہیں پیدا کیا اور میں تمہارے ظاہر و باطن دونوں سے واقف ہوں مجھے اپنی مخلوق کی تمام صلاحیتوں کا علم ہے۔
الملك 67:13
واسروا .................... الخبیر
تم کوئی بات خفیہ کرو یا جہرا کرو ، اللہ کو تو علم ہے۔ وہ جہر ، خفی اور دل کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔
انہ علیم ............................ الصدور (76 : 31) ” وہ دلوں کا حال جانتا ہے “۔ وہ بات جو ابھی دل کو چھوڑ کر منہ پر نہیں آئی۔ کیونکہ ان باتوں کو دلوں کے اندر اس نے تو پیدا کیا ہے جس طرح دلوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔
الملك 67:14
الا یعلم من خلق (76 : 41) ” کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا “۔
وھو ................ الخبیر (76 : 41) ” حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے “۔ اس کا علم بہت ہی باریکی اور تاریکی تک پہنچا ہواہوتا ہے۔ ہر خقی ومستور بھی اس کے علم میں ہے۔
جو لوگ اپنی کوئی حرکت اللہ سے چھپاتے ہیں ، یا باتیں اللہ سے چھپاتے ہیں ، یا دل کی نیت کے بارے میں یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو نیت ہے ، وہ ایک مضحکہ خیز سوچ رکھتے ہیں۔ جس ضمیر میں وہ بات چھپاتے ہیں وہکس کے ہاتھ میں ہے ؟ وہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اس کے اندر ابھرنے والی سوچ کی تمام لہروں کو وہ جانتا ہے۔ نیت و ارادہ بھی اللہ کی مخلوقات کا حصہ ہے۔ اور اس کو بھی وہ جانتا ہے کہ کون کیا ارادہ رکھتا ہے۔ لوگ کیا چھپاتے ہیں اور کیا نہیں چھپاتے۔
قرآن انسان قلب میں یہ حقیقت بٹھانا چاہتا ہے اس لئے کہ اس طرح وہ حقیقت کبریٰ کا صحیح ادراک کرسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ان کے اندر بیداری اور تقویٰ کا احساس بڑھتا ہے ، جس کا تعلق اس عظیم ذمہ داری کے ساتھ ہے ، جو انہوں نے اس جہاں میں اٹھائی ہے یعنی دنیا میں صحیح نظریہ حیات پھیلانا ، عدالت کا قیام ، اور نیت اور عمل میں خلوص کا حصول اور یہ مقام کوئی انسان اس وقت تک نہیں پاسکتا جب تک وہ ظاہر و باطن میں خدا سے نہ ڈرتا ہو ، اور اللہ بہت ہی لطیف وخبیر ہے۔
جب ایک مومن اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ خفیہ نیت میں بھی اللہ سے ڈرتا ہے اور دل میں پوشیدہ وسوسہ کے بارے میں بھی ڈرتا ہے اور ظاہری قول اور قعل سے بھی ڈرتا ہے اگر وہ اللہ کی مرضی کے خلاف ہو ، کیونکہ اللہ تو وسوسہ سے خبردار ہے۔
اس کے بعد اب روئے سخن انسان کے نفوس اور ان کی نگرانی کے موضوع سے ، زمین کی طرف پھرتا ہے کہ اس کی تخلیق انسان کے لئے ہوئی ہے اور اس زمین کو تمہارے زیر نگیں بنایا گیا اور سب چیزیں تمہارے لئے پیدا کی ہیں۔
الملك 67:15
ھوالذی .................... النشور
” لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اس زمین پر رہتے رہتے اور اس زمین پر ان کو ہر قسم کی رہائشی سہولتیں ہونے کی وجہ سے ، اس میں چلنے پھرنے کی قدرت اور اس کی مٹی ، پانی ، ہوا اور دوسرے خزانوں پر دسترس کی وجہ سے اور اس کی تمام پیداوار استعمال کرنے کی وجہ سے ، لوگ یہاں کی زندگی کے عادی ہوگئے ہیں اور یہ بات تک بھول گئے ہیں کہ اللہ نے اس کو ان کے لئے مسخر کردیا ہے اور ان کی دسترس میں دے دیا ہے۔ قرآن کریم بار بار ان کو یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ ذرا اس پر غور کرو اور دیکھو۔ چناچہ ہر دور میں لوگوں نے اپنے اپنے علم کے مطابق تسخیر کائنات کے مفہوم کو سمجھا۔
ایک مسخر زمین ، ابتدائی دور کے سننے والوں کے ذہن میں صرف یہ مفہوم رکھتی تھی کہ اس زمین کے اوپر ہم چل سکتے ہیں۔ پیدل یا گھوڑوں پر سوار ہوکر ، یا کشتی پر سوار ہوکر جو سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہے۔ اور اس میں زراعت کرسکتے ہیں اور اس کے اندر جو کچھ زندہ و مردہ مخلوقات ہے ، اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ پانی ، ہوا اور زمین اور ہر قسم کے نباتات وغیرہ۔
یہی مجمل مفہومات تھے جن کو اب سائنس نے ذرا مزید مفصل بنادیا ہے ، جہاں تک آج ہمارا علم آگے بڑھا ہے اور ہمارے اس علم کی وجہ سے اس نص قرآنی کا مفہوم بھی مزید وسیع ہوگیا ہے آئندہ نسلیں اس سے زیادہ سمجھیں گی۔
اب جدید علوم کے مطابق اس کا مفہوم کس قدر وسیع ہے۔ یہ لفص ذلول بالعموم ایک جانور کے لئے استعمال ہوتا ہے جو سدھایا ہوا ہو۔ یعنی جو سواری کے لئے اچھا ہو ، مطیع ہو ، زمین پر اس لفظ کا اطلاق اب ہم اچھی طرح سمجھے ہیں کہ یہ زمین بھی درصال ایک سواری ہے ، اگر یہ ٹھہری ہوگی ، پر سکون اور جمی ہوئی ہے ، لیکن دراصل یہ متحرک سواری ہے بلکہ نہایت ہی تیز رفتار سواری ہے۔ اللہ نے اسے ایسا تابع جانور بنایا ہے کہ سوار کو اٹھا کر پھینک نہیں دیتی اور نہ اسے ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ نہ اس کے اوپر انسان کے قدم ڈگمگاتے ہیں اور نہ یہ انسان کو گھڑے یا اونٹ پر سوار ہونے والے کی طرح ہلاتی ہے ، جھٹکے دیتی ہے ، اچھالتی ہے ، جس طرح ایک غیر ” ذلول “ جانور ایسا کرتا ہے۔ پھر یہ ایک ایسا جانور ہے کہ تابع جانور کی طرح دودھ دینے والی بھی ہے۔
یہ جانور یا یہ گولا جس کے اوپر ہم سوار ہیں ، یہ اپنے ارد گرد ایک ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے چکر لگارہی ہے اور اس محوری رفتار کے ساتھ ساتھ یہ سورج کے گرد 56 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی دوڑ رہی ہے۔ پھر یہ زمین یہ سورج اور سورج کی پوری کہکشاں 02 ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے آسمان کے برج جبار (VAST ORBTTA) کی سمت چلتے ہیں جس کا ایک چکر 62 کروڑ سال میں پورا ہوتا ہے۔ ان تمام رفتاروں کے باوجود ، ان تمام دوڑوں کے باوجود ہم بڑے آرام سے اس گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے ہوتے ہیں اور یہ گھوڑا بہت بڑا ” ذلول “ ہے۔ اس قدر سکون سے جارہا ہے کہ رفتار کا احساس بھی ہیں ہورہا ہے۔ بڑے سکون سے بیٹھا ہے۔ اس کے اعصاب پر کوئی دباﺅ نہیں ہے اور یہ نہیں ہورہا کہ اس سے گر کر اس کی بوٹی بوٹی اس کائنات میں بکھر جائے۔ اور اس گھوڑے کے اوپر سے انسان کبھی بھی نہیں گرتا۔
پھر یہ تین مختلف الاطراف حرکتوں میں یہ گھوڑا جتا ہوا ہے۔ ان میں دو حرکتوں ، یعنی حرکت محوری اور حرکت شمسی کے اثرات کو تو ہم جانتے ہیں۔ انسانوں پر بھی ان کا اثر ہے ، زمین پر بھی ان کا اثر ہے اور اس زمین پر پائی جانے والی زندگی پر بھی ان کا اثر ہوتا ہے۔ زمین کی گردش کی محوری کی وجہ سے لیل ونہار پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہمیشہ رات ہوتی تو سردی کی وجہ سے تمام چیزیں جم جاتیں ، اور سورج کے گرد اس کا جو دورہ ہے اس سے موسم اور مختلف فصلوں کے اوقات کا تعین ہوتا ہے۔ اور اگر ایک ہی موسم رہتا تو زمین کی موجودہ شکل نہ ہوتی۔ رہی تیسری حرکت تو ابھی ہمیں اس کی حکمت کا علم نہیں ہوسکا اور یہ ضروری ہے کہ اس عظیم کائنات کے کسی عظیم تر نظام سے اس کا کوئی تعلق ہو۔ واللہ اعلم !
یہ گھوڑاجو بیک وقت ان مختلف اطراف میں یہ حرکات کررہا ہے اپنی اس حرکت کے دوران اپنی جگہ جما ہوا ہے یا جما ہو نظر آتا ہے۔ اور یہ اپنے محور پر 5 ئ 23 درجہ جھکا ہوا ہے۔ اور اس جھکاﺅ کے نتیجے ہی میں چار مختلف موسم پیدا ہوتے ہیں۔ یہ موسم زمین کی گردش شمسی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اس حرکت میں ذرا بھی خلل آجائے تو ہمارا تمام موسمی نظام ، بارشوں کا نظام اور فصلیں اگنے کا نظام اور ماہ وسال کا نظام ختم ہوجائے ، بلکہ ممکن ہے کہ زمین پر سے زندگی ہی ناپید ہوجائے۔
اللہ نے زمین کو اس رطح انسان کے لئے سدھایا ہوا ہے کہ اس کے اندر جاذبیت کی ایسی مقداررکھی ہے کہ زمین انسان کو اپنے اوپر چپکائے رکھتی ہے اور تمام حرکات کے دوران انسان اس کے اوپر ادھر ادھر نہیں لڑھکتے۔ اسی طرح اس کے اوپر فضا کے دباﺅ کا نظام قائم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے انسان بسبولت اس کے اوپر چل سکتا ہے۔ اگرچہ موجودہ فضائی دباﺅ ذرا بھی زیادہ ہوتا تو انسان کے لئے زمین کے اوپر چلنا ممکن ہی نہ رہتا یا چلنا ممکن بہت ہی مشکل ہوتا۔ زیادہ دباﺅ کی وجہ سے انسان چپک جاتا یا چلنے کے قابل نہ ہوتا۔ اور اگر موجود دباﺅ سے بھی اسے قدرے کم کردیا جاتا تو انسان فضا میں چھلانگیں لگاتا پھرتا اور اس کے قدم مضطرب ہوجاتے۔ یا اس کا پیٹ اندرونی دباﺅ سے پھٹ جاتا۔ کانوں کے پردے پھٹ جاتے۔ جس طرح ان لوگوں کو پیش آتا ہے جو بالائی فضا میں چلے جاتے ہیں اور ان کو موجودہ فضائی دباﺅ مصنوعی طور پر فراہم نہیں کیا جاتا۔
پھر اللہ نے موجودہ زمین کو مسخر کردیا۔ اس نے زمین کی سطح کو ہموار کردیا ہے اور اوپر سے اس پر نرم مٹی فراہم کردی ہے۔ اگر یہ زمین ایک مضبوط صحرا کی طرح ہوتی جس طرح سائنس دانوں نے یہ مقروضہ کیا ہے کہ یہ ٹھنڈی ہوکر ایک چٹان بن گئی تھی۔ تو اس پر چلنا بھی مشکل ہوتا اور اس کے اندر کوئی روئیدگی بھی نہ ہوتی ، لیکن فضائی عوامل ، ہوا ، گرمی ، سردی اور سارشوں نے ان سخت پتھروں کو توڑاپھوڑا اور اس طرح زمین پر یہ مٹی پیدا ہوئی ، جس کے اندر ہر قسم کی پیداوار ممکن ہوتی ہے ( اور اسی سے انسان بھی بنایا گیا) یوں اس سوار یکے سوار اس کا دودھ بھی پیتے ہیں۔
اور اللہ نے زمین کو اس طرح مسخر بنایا کہ اس کے اوپر جو ہوا جمع کی اس کے اندر انسان اور دوسری زندگی کی تمام ضروریات جمع کردیں۔ اور یہ ضروریات اس طرح باریک بینی کے ساتھ اس ہوا کے اندر رکھ دیں کہ اگر ان عناصر میں سے کوئی چیز ذرا بھی کم وبیش کردی جائے تو کرہ ارض کے اوپر سے تمام زندگی ختم ہوجائے۔ ہوا میں آکسیجن کی نسبت 12 ہے اور نائٹروجن 87 % ہے اور باقی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے اور دوسری گیسیں ہیں۔ اور یہ نسبت زمین پر زندگی کے قیام کے لئے لازمی ہے۔
پھر اللہ نے زمین کو انسانی زندگی کی ہزارہا ضروریات کے لئے موزوں قرار دیا۔ ان میں زمین کا موجودہ حجم ، سورج کا موجودہ حجم اور چاند کا موجودہ حجم سب کے سب سازگار ہیں۔ پھر شمس وقمر سے زمین کی موجودہ دوری ، سورج کا درجہ حرارت ، اور زمین کے چھلکے کا موجودہ موٹاپا اور زمین کی موجودہ رفتار ، زمین کا اپنے محور پر ایک طرف جھکا ہوا ہونا اور پھر خشکی اور تری کی موجودہ نسبت اور ہوا کی موجودہ کثافت اور یہ اس قسم کی دوسری چیزیں سب مل کر زمین کو انسان کے لئے مسخر کرتی ہے اور ذلول بناتی ہیں اور انہی چیزوں کی وجہ سے انسانوں کا رزق فراہم ہوا ہے اور ان سے مختلف حیوانات اور پھر انسان کو زندگی ملی ہے۔
یہ قرآنی آیت ان امور کی طرف اشارہ کررہی ہے تاکہ اسے ہر دور کا آدمی اپنی علمی استطاعت کے مطابق سمجھ سکے۔ جس قدر انسانی مشاہدہ آگے بڑھے گا۔ آیت کا مفہوم وسیع ہوتا جائے گا اور انسان یہ شعور تازہ کرتا رہے گا کہ سب بادشاہی اللہ کے ہاتھ ہی میں ہے۔ وہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔ انسان کے پورے ماحول میں ہر چیز کا بھی نگہبان ہے۔ یہ زمین انسان کے لئے مسخرکردی گئی ہے۔ انسان کی حفاظت بھی اللہ کررہا ہے اور اگر کسی وقت اس کی نگہبانی اٹھ جائے تو یہ پورے کا پورا نظام یکلخت بگڑ جائے۔
جب انسانی ضمیر میں یہ بات بیٹھ گئی ، تو اللہ رحمن اور رحیم نے حکم دیا کہ اس زمین کی چھاتی پر گھومو پھرو اور اس کے اندر جو ارزاق رکھے ہوئے ہیں ان کو استعمال کرو۔
فامشوا .................... من رزقہ (76 : 51) ” چلو اس کی چھاتی پر اور کھاﺅ خدا کا رزق “۔ مناکب کے معنی ہیں اس کی بلندیاں یا اس کی پہلو۔ جب اللہ نے زمین کی بلندیوں اور پہلوﺅں کی اجازت دے دی تو اس کے میدان اور اس کی وادیوں میں پھرنے کی اجازت بھی اس میں آگئی اور اس کے اندر جو بھی رزق ہے وہ اللہ کا پیدا کردہ ہے۔ وہ کسی کا مال نہیں ہے ، جو کسی کے ہاتھ میں ہو ، یہ سب اس کی ملکیت میں ہے۔ اور اس کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے ، اس سے جو بالعموم لوگوں کے ذہن میں آتا ہے ، لفظ رزق سے۔ اس سے صرف وہ مال مراد نہیں ہے و کسی کے قبضے میں ہوتا کہ وہ اس سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ اس رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو انسان کے لئے رزق کے اسباب ہیں اور جو اس زمین کے اندر ودیعت کی ہوئی ہیں۔ وہ تمام عناصر جن سے یہ زمین بنائی گئی ہے اور وہ تمام عناصر جن کے استعمال کے لئے اللہ نے نباتات ، حیوانات اور انسانوں کو اہل بنایا۔ اس رزق کی تشریح جدید علوم ناے خوب کردی ہے مختصراً اس کی نوعیت یوں ہے :
” ہر پودے کی زندگی ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کے چھوٹے ذرات مالیکیولزئزوزرات پر موقوف ہے جو ہوا میں ہوتے ہیں۔ جن کو یہ پودا سانس لے کر کذب کرتا ہے۔ یہ ایک کیمیاوی عمل ہے جو سورج کی روشنی میں مکمل ہوتا ہے ، یوں سمجھنا چاہئے کہ درختوں کے پتے دراصل درختوں کے پھیپھڑے ہیں۔ سورج کی روشنی میں پودے اس قابل ہوتے ہیں کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کریں اور کاربن کو آکسیجن سے علیحدہ کردیں اور آکسیجن کو واپس کردیں اور کاربن کو ہائیڈروجن کے ساتھ ملا کر ، جسے جڑوں کے ذریعہ پودا پانی کی شکل میں اخذ کرتا ہے ، (جہاں پانی کی آکسیجن اور ہائیڈرون کی علیحدگی ہوجاتی ہے) اور پھر نہایت ہی حیران کن انداز سے قدرت ان عناصر سے شکر اور نامیاتی ریشے اور متعدد دوسرے کیمیاوی مواد تیار کرتی ہے ، جس سے پھل اور پھول تیار ہوتے ہیں اور جس مواد سے پودا اپنی غذا بھی لیتا ہے اور روئے زمین کے تمام دوسرے حیوانات کے لئے غذا تیار بھی کرتا ہے ، اور اس دوران یہ پودا جو آکسیجن سانس کے ذریعہ کھینچتا ہے اسے نکال دیتا ہے ، جس کے بغیر پانچ سیکنڈ کے اندر اندر زندگی ختم ہوجاتی ہے “۔
” اسی طرح معلوم ہوتا ہے تمام نباتات ، تمام جنگلات ، تمام جھاڑیاں پانی پر پائی جانے والی کائی ، تمام فصلیں دراصل کاربن اور پانی سے تشکیل پاتی ہیں۔ حیوانات اور انسان کاربن ڈائی آکسائیڈ سے نکالتے ہیں اور نباتات آکسیجن نکالتے ہیں۔ اگر یہ تبادلہ نہ ہوتا تو انسان زندگی اور حیوانی زندگی سب آکسیجن اور سب کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آخر کار ختم کردیتے اور جب یہ توازن ختم ہوجاتا تو پودے جھلس جاتے اور انسان مرجاتے۔ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ایک قلیل مقدار حیوانات کی زندگی کے لئے ضروری ہے جبکہ نباتات کو بھی آکسیجن کی قلیل مقدار کی ضرورت ہوتی ہے “۔
” اگرچہ ہم ہائیڈروجن کو سانس کے ذریعے نہیں جذب کرتے۔ لیکن اس کا وجود بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر پانی موجود نہیں ہوتا اور پانی انسانی اور حیوانی زندگی کے لئے نباتات کے لئے اس قدر ضروری ہے کہ اس کے بغیر انسانوں اور حیوانوں کی زندگی ممکن ہی نہیں “۔ (” سائنس ایمان کی دعوت دیتی ہے “ ترجمہ محمود صالح فلکی ص 02 ، 12) ۔
اسی طرح نائٹروجن کا بھی زمین کے رزق کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔
” نائٹروجن کے بغیر کوئی غذائی پودا نشوونما نہیں پاسکتا۔ اسے کسی نہ کسی طرح نائٹروجن ملنا چاہئے۔ زرعی زمین میں نائٹروجن کے داخل ہونے کے دو طریقے ہیں۔ یہ کہ ایک خاص قسم کا بیکٹریا یعنی (جراثیم) سبزی نما نباتات کی جڑوں میں رہتے ہیں۔ شفتل ، چنا ، لوبیا وغیرہ کی جڑوں میں۔ یہ جراثیم خالص نائٹروجن حاصل کرتے ہیں مثلاً ہوا اسے اور ان کو مرکب شکل میں زمین میں چھوڑتے ہیں اور پھر پودا اس کو اپنے اندر جذب کرسکتا ہے۔ جب یہ پودا مرجاتا ہے تو یہ مرکب نائٹروجن زمین کے اندر ہی رہ جاتا ہے “۔
” ایک طریقہ دوسرا بھی ہے ، جس کے ذریعہ نائٹروجن زمین میں داخل ہوجاتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب ایسی ہوائیں چلتی ہیں جن میں بجلی چمکتی ہے۔ ہواﺅں کے اندر جب بھی چمکتی ہے تو کسی آکسیجن اور نائٹروجن کو متحد کردیتی ہے۔ اور بارش اسے زمین پر ایک مرکب نائٹروجن کے طور پر پھینک دیتی ہے۔ اس صورت میں کہ پودے ان کو جذب کرسکیں “۔
کیونکہ پودے خالص نائٹروجن کو اپنے اندر جذب نہیں کرسکتے۔ اس لئے کہ ہوا میں اس کی نسبت 87 % ہوتی ہے “۔ (” سائنس ایمان کی دعوت دیتی ہے “ ترجمہ محمود صالح فلکی ص 02 ، 12) ۔
اور زمین کے اندر جو جامد اور سیال رزق موجود ہے یہ سب زمین اس کے حالات رزق کے ساتم متعلق ہے۔
یہاں اندر کے ارزاق کی تشریحات کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ الفظ رزق کا مفہوم یہاں بہت ہی وسیع ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔ اور جب اللہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ تم زمین میں پھرو اور رزق تلاش کرو کہ تمہارے لئے زمین کو مسخر کیا گیا ہے تو یہ سب اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں اور ہمیں اجازت ہے۔ جس قدر انسان اس سے استعفادہ کرسکے۔
فامشوا ............................ من رزقہ (76 : 51) ” چلو اس کی چھاتی پر اور کھاﺅ خدا کا رزق “۔
لیکن یہ اجازت ایک متعین وقت تک کے لئے ہے اور وقت کا تعین کردیا گیا ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ اللہ کی تدبیر کائنات کے مطابق ہے۔ زندگی اور موت کے عرصہ ابتلا تک کھاﺅ لیکن اس کے بعد۔
والیہ النشور (76 : 51) ” اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہوکر جانا ہے “۔ اسی کی طرف جانا اور اگر تم نہیں مانتے تو بتاﺅ کس کی طرف جانا ہے ؟ اس کے سوا جائے پناہ تو کہیں بھی نہیں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ابھی انسان اس زمین کی پشت پر اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہی ہورہا تھا اور اللہ کے حکم سے زمین پر چل کر نعمتیں سمیٹ رہا تھا کہ اچانک اس سدھائی ہوئی تابعداد زمین کے اندر ایک جنبش پیدا ہوتی ہے اور اس کا یہ توازن اور رفتار یکدم ختم ہوجاتی ہے۔ اب یہی پر سکون زمین ان پر بمباری کررہی ہے اور پہاڑ گرارہی ہے۔ ان کے احساس اور تصورات میں ایک زلزلہ برپا کردیا جاتا ہے تاکہ یہ لوگ زمین کے قرار و سکون اور نعمتوں سے لطف اندوز ہونے میں ہی مگن نہ ہوجائیں اور ذرا اس بادشاہ کی طف بھی دیکھیں جس نے اس نظام کو قائم کررکھا ہے ، اپنے دلوں اور سوچوں کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھیں۔
الملك 67:16
ء امنتم ........................ نکیر
یہ انسان جو اس سدھائی ہوئی مطیع فرمان سواری پر سوار ہوکر مزے لوٹ رہا ہے اور اس سواری کے اندر ہی اپنا رزق دودھ کی شکل میں حاصل کرتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ یہ مطیع فرمان سواری ایک دن بگڑ جائے گی اور جب اللہ کا حکم ہوگا تو یہ ایسی نہ رہے گی۔ یہ ذرا سا جھٹکا ہی دے گی کہ اس کے اوپر کی تمام چیزیں ادھر ادھر بکھر جائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح لرز جائیں گے اور یہ اس قدر تیز جھکولے کھانے لگے گی اور ایسے حالات بڑے زلزلوں اور بڑی بڑی آتش نشانیوں کے وقت بھی ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رکی ہوئی اور تابع زمین کے اندر کس قدر سرکشی ہے جو ناقابل کنٹرول ہے۔ اس کی زمام تو اللہ نے پکڑ رکھی ہے۔ اس لئے یہ جھٹکے نہیں کھاتی ہے اور جب یہ چند سیکنڈ یا ایک منٹ کے لئے بھی جھٹکے دے تو زمین کے اوپر انسانوں نے جس قدر پختہ سے پختہ قلعے تعمیر کیے ہوئے ہیں ، سب مسمار ہوجاتے ہیں۔ اور یہ بستیوں کی بستیاں اس کے پیٹ کے اندر دھنس جاتی ہیں اور جب انسان اس کے اندر جارہے ہوں تو کوئی چیز بھی انہیں بچا نہ سکے۔
زلزلوں ، آتش فشانی اور دھنسنے کے وقت یہ فرعون انسان پھر چوہوں کی طرح ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ جس طرح چوہے پنجرے میں بند ہوں اور وہ نکلنے کے لئے ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ ایک منٹ پہلے تو یہ غافل ، مست ، سرکش اور اس ذات عالی مقام سے غافل تھے جس نے اس سرکش سواری کی زمان کو تھام رکھا تھا اور اب ہر طرف بھگڈر ہے۔
انسان اس دنیا میں ایسی آندھیاں بھی دیکھتے ہیں جو بادوباراں کے ساتھ پتھر بھی برسارہی ہوتی ہیں اور جس جس بستی سے گزرتی ہیں ، درختوں ، خیموں اور مکانات کو اڑاتی چلی جاتی ہیں۔ جنگلات کو جلا کر بھسم کردیتی ہیں اور لوگ دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ بےبس دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا علم اور ان کی قوت اور ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ یہ طوفان ہزاروں میل کی رفتار سے چلتے ہیں اور پتھر اڑاتے اور سمندروں کو خشکیوں پر چڑھاتے چلے جاتے ہیں تو انسان ان کے سامنے ایک مچھر اور چیونٹی کے برابر رہ جاتا ہے ، لیکن یہ اللہ کی قوت ہی ہوتی ہے جو اپنی افواج کو روکتی ہے اور پھر یہ زمین اور یہ سواری قرار پکڑتی ہے۔
قرآن کریم انسانوں کو یاد دلاتا ہے کہ یہ سواری جو تمہارے لئے سدھائی ہے اور بڑی سلامتی سے چل رہی ہے ، تم کہیں دھوکہ نہ کھا جاﺅ، یہ تو خالق کائنات کے کنٹرول میں ہے اور اسی نے اسے تمہارے لئے سدھایا ہے ، اس کی سرکشیاں جب شروع ہوں گی تو تم پھر اپنے آپ کو کسی صورت میں بچا نہ سکو گے۔ یہ زمین جھکولے کھاسکتی ہے اور تیز رفتاری اختیار کرسکتی ہے۔ یہ اپنے اندر سے گرم گرم لاوا بھی اگل سکتی ہے ، یہ تمہیں زمین کے اندر بھی دھنسا سکتی ہے ، پتھروں کی بارش بھی ہوسکتی ہے۔ کوئی انسانی طاقت اس کو نہیں روک سکتی۔ اور نہ کوئی انسانی طاقت اسے تباہی و بربادی سے دور کرسکتی ہے۔ اللہ اس قدر ڈراتا ہے کہ دل دہل جاتے ہیں اور اعصاب شل ہوجاتے ہیں اور اعضا تھرتھرانے لگتے ہیں۔
فستعلمون ................ نذیر (76 : 71) ” پھر تمہیں معلوم ہوجائے کہ میری تنبیہہ کیسی ہوتی ہے “۔ اب ان کے سامنے تاریخی واقعات کی طرف ایک مجمل اشارہ پیش کیا جاتا ہے کہ ازمنہ ماضیہ میں بعض منکرین کا عبرتناک انجام تمہارے سامنے ہے۔
الملك 67:17
ء امنتم ........................ نکیر
یہ انسان جو اس سدھائی ہوئی مطیع فرمان سواری پر سوار ہوکر مزے لوٹ رہا ہے اور اس سواری کے اندر ہی اپنا رزق دودھ کی شکل میں حاصل کرتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ یہ مطیع فرمان سواری ایک دن بگڑ جائے گی اور جب اللہ کا حکم ہوگا تو یہ ایسی نہ رہے گی۔ یہ ذرا سا جھٹکا ہی دے گی کہ اس کے اوپر کی تمام چیزیں ادھر ادھر بکھر جائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح لرز جائیں گے اور یہ اس قدر تیز جھکولے کھانے لگے گی اور ایسے حالات بڑے زلزلوں اور بڑی بڑی آتش نشانیوں کے وقت بھی ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رکی ہوئی اور تابع زمین کے اندر کس قدر سرکشی ہے جو ناقابل کنٹرول ہے۔ اس کی زمام تو اللہ نے پکڑ رکھی ہے۔ اس لئے یہ جھٹکے نہیں کھاتی ہے اور جب یہ چند سیکنڈ یا ایک منٹ کے لئے بھی جھٹکے دے تو زمین کے اوپر انسانوں نے جس قدر پختہ سے پختہ قلعے تعمیر کیے ہوئے ہیں ، سب مسمار ہوجاتے ہیں۔ اور یہ بستیوں کی بستیاں اس کے پیٹ کے اندر دھنس جاتی ہیں اور جب انسان اس کے اندر جارہے ہوں تو کوئی چیز بھی انہیں بچا نہ سکے۔
زلزلوں ، آتش فشانی اور دھنسنے کے وقت یہ فرعون انسان پھر چوہوں کی طرح ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ جس طرح چوہے پنجرے میں بند ہوں اور وہ نکلنے کے لئے ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ ایک منٹ پہلے تو یہ غافل ، مست ، سرکش اور اس ذات عالی مقام سے غافل تھے جس نے اس سرکش سواری کی زمان کو تھام رکھا تھا اور اب ہر طرف بھگڈر ہے۔
انسان اس دنیا میں ایسی آندھیاں بھی دیکھتے ہیں جو بادوباراں کے ساتھ پتھر بھی برسارہی ہوتی ہیں اور جس جس بستی سے گزرتی ہیں ، درختوں ، خیموں اور مکانات کو اڑاتی چلی جاتی ہیں۔ جنگلات کو جلا کر بھسم کردیتی ہیں اور لوگ دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ بےبس دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا علم اور ان کی قوت اور ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ یہ طوفان ہزاروں میل کی رفتار سے چلتے ہیں اور پتھر اڑاتے اور سمندروں کو خشکیوں پر چڑھاتے چلے جاتے ہیں تو انسان ان کے سامنے ایک مچھر اور چیونٹی کے برابر رہ جاتا ہے ، لیکن یہ اللہ کی قوت ہی ہوتی ہے جو اپنی افواج کو روکتی ہے اور پھر یہ زمین اور یہ سواری قرار پکڑتی ہے۔
قرآن کریم انسانوں کو یاد دلاتا ہے کہ یہ سواری جو تمہارے لئے سدھائی ہے اور بڑی سلامتی سے چل رہی ہے ، تم کہیں دھوکہ نہ کھا جاﺅ، یہ تو خالق کائنات کے کنٹرول میں ہے اور اسی نے اسے تمہارے لئے سدھایا ہے ، اس کی سرکشیاں جب شروع ہوں گی تو تم پھر اپنے آپ کو کسی صورت میں بچا نہ سکو گے۔ یہ زمین جھکولے کھاسکتی ہے اور تیز رفتاری اختیار کرسکتی ہے۔ یہ اپنے اندر سے گرم گرم لاوا بھی اگل سکتی ہے ، یہ تمہیں زمین کے اندر بھی دھنسا سکتی ہے ، پتھروں کی بارش بھی ہوسکتی ہے۔ کوئی انسانی طاقت اس کو نہیں روک سکتی۔ اور نہ کوئی انسانی طاقت اسے تباہی و بربادی سے دور کرسکتی ہے۔ اللہ اس قدر ڈراتا ہے کہ دل دہل جاتے ہیں اور اعصاب شل ہوجاتے ہیں اور اعضا تھرتھرانے لگتے ہیں۔
فستعلمون ................ نذیر (76 : 71) ” پھر تمہیں معلوم ہوجائے کہ میری تنبیہہ کیسی ہوتی ہے “۔ اب ان کے سامنے تاریخی واقعات کی طرف ایک مجمل اشارہ پیش کیا جاتا ہے کہ ازمنہ ماضیہ میں بعض منکرین کا عبرتناک انجام تمہارے سامنے ہے۔
الملك 67:18
ولقد کذب .................... نکیر (76 : 81) ” ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی “۔ نکسیر کا مفہوم ہے غصہ اور سرزنش اور اس کے نتیجے میں آنے والی سزا۔ ان کو وہ واقعات معلوم ہیں کہ اللہ نے امم سابقہ کو پکڑا۔ انہی سے پوچھا جاتا ہے کہ تم ہی بتاﺅ کہ پکڑ کیسے رہی۔
فکیف کان نکیر (76 : 81) ” کیونکہ آثار ان کے سامنے تھے۔ لہذا وہ جانتے کہ عذاب کیسا رہا۔
یہاں اللہ ان کی جس بےخوفی پر تنبیہ فرماتا ہے وہ ایسی بےخوفی ہے ، جس میں انسان اللہ سے غافل ہوجائے۔ ایسا امان ہے جس کے نتیجے میں انسان کے دل سے اللہ کی قدرت کا ڈر نکل جائے اور اللہ کی عظمت کا خیال نہ رہے۔ اس بےخوفی سے مراد وہ امن و اطمینان کی حالت نہیں ہے جو ذکر الٰہی کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ جو اللہ کی رحمت اور اس کی نگہبان کے یقین سے نصیب ہوتا ہے۔ مومن اللہ کی رحمت اور فضل کا امیدوار ہوتا ہے۔ لیکن غافل نہیں ہوتا۔ اللہ کو یاد کرنے والا مومن تو ہر وقت اس کی طرف نظریں اٹھائے ہوئے ہوتا ہے۔ اس سے حیا کرتا ہے ، اس کے غضب سے ڈرتا ہے۔ اور ہر وقت دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تیری تقدیر میں میرے لئے جو مشکل لکھی ہے اس سے بچا اور عافیت نصیب کر۔ وہ ہر وقت ڈرتا ہے۔
امام احمد نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ” میں نے رسول اللہ کو کھبی بےفکری کی حالت میں یوں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کی حلق کا کوا نظرآتا ہو۔ آپ صرف تبسم فرماتے۔ اور رسول اللہ ﷺ یوں تھے کہ جب کوئی بادل دیکھتے یا تند ہوا دیکھتے تو آپ کے چہرے پر اثر ہوجاتا۔ تو میں نے کہا کہ اے رسول خدا لوگ جب بادل دیکھتے ہیں یا ہوا دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اس امید پر کہ اس میں بارش ہوگی۔ اور میں دیکھتی ہوں کہ آپ جب ان چیزوں کو دیکھتے تو آپ کے چہرے پر کراہیت کے آثار نظر آتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اے عائشہ .... اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اس میں عذاب الٰہی نہ ہو ، بعض اقوام کو ہوا سے عذاب دیا گیا ، ” ایک قوم نے عذاب دیکھا اور کہا یہ ہے بادل جو ہم پر بارش کردے گا “۔ (صحیحین)
یہ ہے دائمی جاگتا احساس ، اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے نظام قضاوقدر کے بارے میں اور احادیث میں آپ کی سیرت سے بھی نقل ہوا ہے ، یہ احساس اللہ کی رحمت پر اطمینان اور اللہ کے فضل کی امیدواری کے خلاف نہیں ہے۔
یوں آیات میں بتایا جاتا ہے کہ تمام ظاہر اسباب کا ایک مسبب الاسباب ہے۔ تمام اسباب اول کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اور وہ ذات باری ہے ، جس کے ہاتھ میں پوری بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ لہٰذا کسی گاﺅں کو زمین میں دھنسا دینا ، کسی کو آتش فشاں کی زد میں لانا ، کسی بستی کو زلزلے سے تباہ کردینا ، اور کسی بستی کو تیز ہواﺅں کی زد میں لانا صرف اللہ کی قدرت میں ہے۔ اور ان کے علاوہ یہ تمام کائناتی قوتیں اور یہ تمام طبیعیاتی قوتیں کیا کسی انسان کے ہاتھ میں ہیں۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ ان کے بارے میں جو اسباب گنواتے ہیں۔ وہ تو محض مفروضے ہیں جن کے ذریعہ انسان ان واقعات کی کوئی معقول تشریح کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان واقعات میں ان کا دخل وعمل کوئی نہیں ہوتا۔ اور نہ اپنے آپ کو ان واقعات سے بچا سکتے ہیں۔ اور انسان اس زمین کی پشت پر جو تبدیلیاں لاتے ہیں وہ ایک ہی جھٹکے سے نیست ونابود ہوجاتی ہیں۔ ایک آندھی اٹھتی ہے جس میں آگ ہوتی ہے تو وہ بھسم کرکے رکھ دیتی ہے۔ گویا کہ یہ کاغذی کھیل تھا۔ لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ ہر معاملے کو صرف خالق کائنات کی طرف لوٹائیں اور اسے ہی تما حادثات کا سبب اول سمجھیں ، اسے ہی ان قوانین قدرت کا جاری کرنے والا سمجھیں جن کے مطابق کائنات چلائی جاتی ہے۔ اور وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ آسمان ہی علامت بلندی ہے۔ اور یوں اللہ کو یاد کریں جس کے ہاتھ میں سب بادشاہیاں ہیں اور وہ سب چیزوں پر قاد رہے۔
انسان کے اندر جو قوت ہے وہ وہی ہے جو اسے خالق نے بخشی ہے۔ اس کے پاس وہی علم ہے جو خالق نے اسے دیا ہے۔ لیکن اس پوری کائنات کی زمام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اس کائنات کے قوانین اس اللہ کے بنائے ہوئے ہیں۔ اور اس کے اندر جو قوتیں ہیں وہ اللہ کی مدد کی وجہ سے ہیں۔ اور یہ قوتیں اللہ کے نظام قضا وقدر کے مطابق چلتی ہیں ان سے جو تکلیف انسان کو پہنچتی ہے ، ان سے جو نعمتیں انسان کو پہنچتی ہیں اور وقتاً فوقتاً جو واقعات وحادثات اس کائنات میں انسان کو پیش آتے رہتے ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہیں اور جو بڑے بڑے حادثات انسان کو اس دنیا میں پیش آتے ہیں اور جن کے سامنے انسان بےبس کھڑا ہوتا ہے اور نہایت ہی بڑا نقصان اٹھاتا ہے ان کے جواب میں انسان صرف یہ کرسکتا ہے کہ وہ اللہ خالق کائنات کو یاد کرے اور اس کے سامنے دست بدعا ہو۔ جس نے ان قوتوں کو انسان کے لئے مسخر کیا ہے اور صرف اللہ سے معاونت طلب کرے کہ وہ ان قوتوں کو انسان کے لئے مسخر کردے۔
اور انسان جب اس حقیقت کو بھول جاتا ہے اور غرے میں مبتلا ہوکر دھوکہ کھا جاتا ہے اور اکڑتا ہے کہ اس نے تو اس کائنات کی بعض قوتوں کو مسخر کرلیا ہے ، تو ایسا شخص دراصل حقیقی علم سے دور ہوجاتا ہے اور اس کا رابطہ اب حقیقی علم سے کٹ جاتا ہے حالانکہ یہ حقیقی علم اسے اعلیٰ سرچشمے تک بلند کرتا ہے۔ اس طرح وہ مسخ ہوکر زمین پر گر جاتا ہے جبکہ حقیقی علم رکھنے والا شخص جو سچا مومن ہوتا ہے ، وہ سرنگوں ہوتا ہے لیکن وہ اس کائنات کے وسیع میلے تک رسائی حاصل کرلیتا ہے ، اس کا رابطہ باری تعالیٰ تک ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے وہ رحمت خداوندی جس کا مزا وہی شخص لے سکتا ہے جس پر یہ رحمت ہوئی ہو اور یہ رحمت خداوندی اس شخص پر ہوتی ہے جس کے لئے اللہ لکھ دے۔
لیکن انسان جس پدر چاہے غرور کرے ، اس کائنات کی قوتیں اسے مجبور کردیتی ہیں کہ وہ عجز و انکسار کے ساتھ اپنی بےبسی کا اعتراف کرلے ، چاہے وہ حقیقی علم سے لذت آشنا ہو یا نہ ہو۔ وہ نئے نئے انکشافات کرتا ہے اور نئی نئی طبعی قوتیں کی تسخیر کرتا ہے ، اس کے بعد جب وہ کائناتی سرکش قوتوں کا کبھی سامنا کرتا ہے تو وہ اپنی عاجزی تسلیم کرلیتا ہے اور نہایت ذلت کے ساتھ تسلیم کرتا ہے۔ ٹھیک ہے کہ کبھی وہ تندطوفان سے کسی پناہ گاہ میں چھپ جاتا ہے لیکن یہ طوفان نہایت سرکشی سے اس کے اوپر سے گزرتا ہے اور یہ اس کی راہ نہیں روک سکتا۔ زیادہ سے زیادہ وہ جو کرسکتا ہے ، وہ یہ ہے کہ طوفان کی زد سے بچ سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی کبھی کبھار۔ بعض اوقات یہ قوتیں اس قدر سرکش ہوتی ہیں کہ دیواروں سے پیچھے اور تہہ خانوں کے اندر اسے ہلاک کردیتی ہیں اور کبھی جب اس کو سمندر کی سرکشی سے واسطہ پڑتا ہے تو اس بڑے جہاز موجوں اور بگولوں کے اندر آکر غرق ہوجاتے ہیں اور یوں نظر آتے ہیں جس طرح بچوں کا کوئی کھیل تھا۔ رہے زلزلے اور آتش فشاں تو وہ تو اول روز سے آج تک ناقابل کنٹرول ہیں۔ یہ صرف عقل کا اندھا پن ہے جو کسی انسان کو یہ باور کراسکتا ہے کہ وہ اللہ کے سوا اکیلا بھی یہاں رہ سکتا ہے یا یہ کہ وہ اس کائنات کا مالک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان اس زمین میں خدا کا نائب اور خلیفہ ہے۔ اور اسے علم ، قوت اور قدرت اسی قدر دی گئی جس قدر اللہ نے چاہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں اس کا محافظ اور نگہبان اللہ ہی ہے۔ وہ رازق بھی ہے اور معطی بھی ہے۔ اگر اللہ کا دست قدرت ایک لحظہ کے لئے بھی اس کی نگہبانی چھوڑ دے تو اس دنیا کی طبیعی قوتیں اسے ایک سیکنڈ کے اندر پیس کر رکھ دیں۔ بلکہ صرف مکھیاں اور چیونٹیاں ہی اسے کھا جائیں۔ لیکن وہ اللہ کے حکم سے یہاں محفوظ ہے اور معزز ہے۔ لہٰذا اسے معلوم ہونا چاہئے کہ یہ شرف وکرم کہاں سے اخذ کرتا ہے ، یہ تو اللہ کا فضل ہے جو اسے دیا گیا ہے۔
اب ڈراوے اور تنبیہ کے بعد اسے دوبارہ غور وفکر کی دعوت دی جاتی ہے۔ اور یہ ایک ایسے منظر میں جسے وہ بہت دیکھتا رہتا ہے ، ہر وقت دیکھتا رہتا ہے لیکن یہ انسان اس پر کم ہی غور کرتا ہے۔ حالانکہ وہ منظر قدرت الٰہی کا ایک بہت بڑا مظہر ہے اور اگر وہ اس پر غور کرے تو بہت کچھ اس سے سیکھ سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کی قدرت کے آثار میں سے ایک عجیب اثر ہے۔
الملك 67:19
اولم یروا .................... بصیر
یہ خارق العادت معجزہ جو ہر وقت واقع ہوتا رہتا ہے۔ یہ چونکہ بار بار واقع ہوتا ہے اس لئے ہم اسے اہم نہیں سمجھتے۔ اور اس کے اندر اللہ کی جو قدرت کام کررہی ہے اسے بھی ہم بھول جاتے ہیں۔ خصوصاً جبکہ وہ صف بندی میں اڑتے ہیں اور پروں کو پھیلاتے ہیں اور سکیڑ لیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں وہ سف بستہ اڑتے ہیں۔ اور یہ پرندے بعض اوقات ایسے کرتب دکھاتے ہیں ، جن سے ان کی تخلیق کی خوبصورتی ظاہر ہوتی ہے۔ انسان دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ اللہ کی عجیب و غریب مخلوقات کا یہ ایک عجیب تماشا ہے۔ جس کے اندر کمال اور جمال باہم یکجا نظر آتے ہیں۔ اس منظر کی طرف قرآن کا اشارہ یہ ہے !
اولم .................... ویقبضن (76 : 91) ”” کیا یہ لوگ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے ؟ “ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کو کس نے ڈیزائن کیا ہے ؟۔
ما یمسکھن الا الرحمن (76 : 91) ” رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو ؟ “۔ اور رحمن نے ان کو ہوا میں ان قوانین قدرت کے مطابق رکھا ہوا ہے جو ہوا کے بارے میں اللہ نے یہاں رکھے ہوئے ہیں اور ان قوانین کے اندر ایک عجیب ترتیب ہے اور ان قوانین کے مطابق اللہ ان پرندوں کی تخلیق کی ہے جس میں ایک ایک خلیے اور ایک ایک ذرے کا حساب محلوظ ہے۔ یہ وہ قوانین ہیں جن کے مطابق فضا کے اندر ہزاروں مساواتی فارمولے چلتے ہیں تاکہ ہوا میں پرندوں کی اڑان کا عمل مکمل ہو۔ اور یونہی انتظام کے ساتھ چلتا رہے۔
اور رحمن نے ان پرندوں کو اس حالت میں اپنی قدرت قادرہ کے ذریعے یوں رکھا ہوا ہے اور ان پر اس کی نظر اور نگرانی ہر وقت حاضر ہے اور کسی بھی وقت دور نہیں ہوتی۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جو ان قوانین اور فارمولوں کو اس جہاں میں ہر وقت قائم ، متوازن اور منظم رکھتا ہے۔ یہ اصول کسی بھی وقت ٹوٹتے نہیں۔ ان میں کبھی خلل نہیں آتا۔ کبھی ان میں اضطراب نہیں آتا۔ ایک پلک جھپکنے کے لئے بھی ، ہر وقت۔
ما یمسکھن الا الرحمن (76 : 91) ” صرف رحمان ہی انہیں اس طرح تھامے ہوئے ہے “۔ کہ ہر پرندے اور ہر پر کو اللہ نے تھام رکھا ہے۔ اور یہ پرندہ جب ہوا میں پروں کو سیکڑلیتا ہے تو پھر فضا میں معلق ہوتا ہے ، اللہ اسے وہاں رکھ رہا ہوتا ہے۔
انہ بکل ................ بصیر (76 : 91) ” وہی ہر چیز کا نگہبان ہے “۔ وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے ، ہر چیز کی خبر رکھتا ہے۔ اس کے لئے حالات زندگی تیار رکھتا ہے ، اسے قوت دیتا ہے اور ہر لمحہ اس کی ضروریات ، روز مرہ کی ضروریات مہیا رکھتا ہے۔ جس طرح کوئی خبیر وبصیر رکھتا ہے۔ پرندوں کو فضا میں اسی طرح رکھتا ہے جس طرح تمام حیوانات کو زمین پر رکھتا ہے ، جو فضا میں اڑتے ہیں۔ جس طرح اس فضائے کائنات میں اس نے بڑے بڑے اجرام فلکی روک رکھے ہیں۔ جنہیں یوں روکنے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ لیکن قرآن کریم لوگوں کو پکڑ کر ان کی آنکھوں اور دلوں کو ان تمام مناظر کی طرف کھینچ کر لاتا ہے جن کو وہ دیکھ سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر ان مناظر کے اشارات اور اثرات بٹھاتا ہے۔ ورنہ اللہ کی ہر صنعت میں اعجاز ہے اور اللہ کی ہر مخلوق میں اس کے آثار ہیں۔ اور ہر تن اور ہر نسل اس سے اپنی عقل کے مطابق دیکھ سکتی ہے۔ ایک بدوی کہتا تھا :
البعرة تدل علی البعیر ” اونٹ کی مینگنی دلالت کرتی ہے کہ اونٹ گزرا ہے “۔ اور آ کا انسان اپنے مشاہدات کے ذریعہ توفیق الٰہی سے سب کچھ جانتا ہے یا بہت کچھ جانتا ہے۔
اب قرآن دوبارہ ان کو ان کے ان حالات کی طرف لاتا ہے جن میں وہ بےبس ہوتا ہے ، طوفان ، زلزلوں ، آتش فشانی میں اور سنگ باری میں۔ فضا میں تیرنے والے پرندے کو دیکھ لیں کہ وہ تو فضائے کائنات میں اللہ کی توفیق سے امن میں ہیں تو دوبارہ ان کو ان کے مشکل لمحات یاد دلائے جاتے ہیں اور اسکی تکرار کا بہت اثر ہوتا ہے۔
الملك 67:20
امن ھذا ................................ فی غرور
” اللہ نے اس سے پہلے انسانوں کو خسف سے ڈرایا ، جبکہ اس سے قبل کئی مکذبین کو یہ سزا دی گئی ، پھر سنگباری سے ڈرایا جبکہ کئی پر سنگباری کی گئی۔ اور اسی طرح دوسرے مکذبین کی مختلف ہلاکتوں سے ڈرایا تھا۔ یہاں دوبارہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کون ہے جو ان کی امداد کرتا ہے اور اس قسم کی مختلف ہلاکتوں سے تمہیں بچاتا ہے ؟ اللہ کو پکڑ کر رحمن کے سوا کون روکے ہوئے ہیں ؟۔
ان الکفرون الا فی غرور (76 : 02) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ دھوکہ ان کو اس بات پر مطمئن کردیتا ہے کہ وہ امن میں ہیں۔ کسی کی ضمانت اور اطمینان میں ہیں ، حالانکہ وہ اللہ کے غضب اور عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ ایمان لائے ہیں اور نہ عمل صالح کررہے ہیں ، جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور اللہ کا عذاب واقع نہیں ہوتا ہے۔
اور ایک چٹکی پھر دوبارہ ، ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ یہ رزق الٰہی جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے اگر اللہ کی طرف سے بند کردیا جائے تو پھر کون ہے جو اس قدر عظیم انتظام کرسکتا ہے۔
الملك 67:21
امن ھذا ................ نفور
” جیسا کہ اوپر گزر گیا۔ ہر انسان اللہ کے پیدا کردہ اسباب کا مرہون منت ہے۔ اللہ ان اسباب میں سے کسی ایک سبب کو کھینچ لے تو بھول سے لوگ مرجائیں۔ اور یہ رزق اللہ نے اس کائنات کی اسکیم میں بطور سلسلہ اسباب رکھا ہوا ہے۔ یہ اسباب سب کے سب ایسے ہیں جو انسان کی قدرت میں نہیں ہیں۔ اور یہ تمام انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ یہ سب اسباب انسان کے وجود سے بھی پہلے پیدا کردیئے گئے تھے۔ اور یہ اسباب اپنی طبیعی قوت اور طاقت کے اعتبار سے انسان سے بہت ہی بڑے ہیں اور ایسے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک سبب بھی دست قدرت کی طرف سے محو کردیا جائے تو انسان سب کے سب صفحہ ہستی سے مٹ جائیں۔
اگر اللہ پانی ختم کردے ، ہوا کو بند کردے یا وہ عناصر ختم کردے جس سے اشیاء بنی ہیں ، تو کون ہے جو لاسکتا ہے۔ زمین سے ہزار گنا بڑے ستارے موجود ہیں لیکن حیات اور اسباب حیات سے خالی ہیں۔
اس گہرے وسیع اور عظیم مفہوم کے اندر لفظ رزق کے تمام مفہوم سما جاتے ہیں۔ جس رزق کے بارے میں انسان یہ زعم رکھتا ہے کہ اسے وہ کماتا ہے ، مثلاً محنت کرکے ایجاد کرکے ، پیداوار حاصل کرکے ، جبکہ یہ تمام کام بعض اسباب وعناصر پر موقوف ہیں اور دوسری جانب سے اللہ نے جن اقوام کو وہ اسباب دیئے ہیں ان پر بھی موقوف ہیں۔ کیونکہ ایک کام کرنے والا جو سانس بھی لیتا ہے اور جو حرکت بھی کرتا ہے ، وہ اللہ کے رزق ہی کی وجہ سے کرتا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے اس عامل کو پیدا کیا۔ اسے قدرت اور طاقت بخشی۔ اسے ایک نفس دیا ، جو اس دنیا میں سانس لیتا ہے ، پھر اس کے جسم کے اندر جو مواد چلتا ہے ، اس کے ذریعہ اسے قوت حاصل ہوتی ہے اور وہ حرکت کرتا ہے ، اور جو عقلی کام وہ کرتا ہے وہ بھی اس عقلی قوت کی وجہ سے کرپاتا ہے جو اللہ نے اس کے دماغ میں رکھی ہے اور صانع اور موجد جو بھی ایجاد کرتا ہے اس میں اللہ ہی کا پیدا کردہ میٹریل استعمال کرتا ہے۔ اور اس عمل میں بھی انسان اور کائناتی اسباب استعمال کرتا ہے جو اللہ کا رزق اور عطیہ ہیں۔
امن ھذا ........................ رزقہ (76 : 12) ” پھر بتاﺅ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے۔ اگر رحمن اپنا رزق روک لے “۔
بل ............ ونفور (76 : 12) ” دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں۔ “ یہ طے کرنے کے بعد کہ رزق صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے ، یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ روگردانی اور سرکشی کرتے ہیں اور نہایت ہی تکبر میں دعوت اسلامی سے نفرت کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ کے رزق پر پل رہے ہیں ، لہٰذا اللہ کا رزق کھا کر سرکشی کرنا اور غرور میں دین سے گریز کرنا نہایت قبیح اور گھٹیا فعل ہے کیونکو ان کی تمام ضروریات اللہ کی طرف سے فضل وکرم پر مشتمل ہے۔ اور پھر یہ بھی روگردانی اور تکبر کرتے ہیں۔
یہ ان لوگوں کی تصویر ہے جو اللہ کی دعوت کا انکار کرتے ہیں ، کبروسرکشی کی حالت میں اور سخت تکبرانہ نفرت کے ساتھ ، یہ بھولے ہوئے ہیں کہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ کے فضل وکرم پر زندہ رہے ہیں اور وہ اپنے وجود ، اپنی زندگی کی ضروریات کے مالک بھی نہیں ہیں۔
اپنے ان حالات کے باوجودالٹا وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں یہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ گمراہ لوگ ہیں۔ اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے تھے۔ اور ہر دور میں خدا کی طرف بلانے والوں کے بارے میں یہی سمجھا جاتا ہے ، چناچہ ایسے مدعیان اور اہل ایمان کی اصل حقیقت کو ایک تمثیل یا ایک منظر کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
الملك 67:22
افمن .................... مستقیم
” جو شخص اوندھا چلتا ہے وہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ کہ وہ پاﺅں پر سیدھا نہیں چلتا بلکہ منہ کے بل چلتا ہے ، حالانکہ اللہ نے چلنے کے لئے پاﺅں پیدا کئے ہیں ، یا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ راہ میں گرتا پڑتا ہے اور پھر اٹھ کر چلتا ہے۔ اور پھر منہ کے بل گرتا ہے ، اور اسے سیدھی چال نصیب نہیں ہے۔ یہ اس بدبخت شخص کی حالت ہے جو مشقت برداشت کرتا ہے ، تکلیفیں اٹھاتا ہے ، گرتا پڑتا جاتا اور منزل مقصود سے بھی محروم رہتا ہے ، اس کے مقابلے میں ایک مومن سیدھا شاہراہ پر ایک متوازن رفتار سے جارہا ہے ، راستہ بھی واضح ہے ، جاری راستہ ہے اور یقینا منزل تک پہنچانے والا راستہ ہے۔
پہلا حال ایک بدبخت ، گمراہ اور سرکش انسان کا ہے۔ یہ اللہ کی راہ سے محروم ہے ، اللہ کی ہدایت سے محروم ہے۔ یہ اللہ کے قوانین قدرت سے محروم ہے ، یہ فطرت کے اصولوں سے ٹکراتا ہے ، مخلوق خدا سے متصادم ہے۔ اس لئے کہ یہ غلط راہ پر چلتا ہے اور سیدھی راہ نہیں لیتا۔ یہ غلط پگڈنڈیوں پر جارہا ہے جن میں نشیب و فراز اور پتھریلی راہ ہے۔ یہ گرتا جاتا ہے اور سخت مشقت میں راہ طے کررہا ہے اور دائمی گمراہی میں ہے۔
اور دوسرا وہ شخص ہے جو نیک بخت ، سنجیدہ ، راہ خدا سے واقف ، اس پر چلنے والا ، اللہ کے قوانین قدرت کے مطابق صحیح رفتار رکھتا ہے ، سیدھی جاری راہ پر ہے جس پر قافلہ ایمان اپنے لاﺅ لشکر اور سازو سامان کے ساتھ رواں دواں ہے جس پر اس پوری کائنات کا قافلہ مخلوقات رواں دواں ہے۔ خواہ زندہ مخلوق ہے یا غیر زندہ !
ایمان کی زندگی درصل یسر ہے ، آسانی ہے ، استقامت ہے ، سیدھی راہوں پر چین ہے ، اور کفر کی زندگی سختی ہے ، گرنا پڑنا ہے ، اوندھا چلنا ہے اور غلط راہوں پر چلنا ہے۔
پھر ہر شخص غور کرے کہ ان دونوں میں سے کون سی راہ درست ہے ، کیا اس کے جواب کی ضرورت ہے۔ نہیں اس سوال کے اندر جواب موجود ہے۔ یہ تصدیقی اور تقریری سوال ہے کہ بات یہی ہے۔
یہ سوال و جواب یوں ختم ہوتا ہے جب ہمارا تخیل ان دو افراد کی تصویر اور تمثیل کے پیچھے دوڑتا ہے۔ ایک گروہ ہے کہ اپنے منہ کے بل چتا ہے ، گرتا ہے ، اٹھتا ہے ، پھر گرتا ہے ، پتھریلی راہ ہے۔ ٹیڑھی راہ ، خاردار راہ ہے۔ منزل مقصود معلوم نہیں ہے ، صرف گرتا ، اٹھتا ہے۔ ہر کوئی اپنے طور پر بھاگ رہا ہے جبکہ دوسری ایک جماعت ہے جو ایک قافلے کی شکل میں ہمقدم چل رہی ہے۔ جس عے قدم سیدھے نہیں ، راہ سیدھی ہے ، جاری رہا ہے بلکہ شاہراہ ، اور منزل مقصود یعنی کہ سب لوگ ادھر جارہے ہیں۔
یہ ہے قرآنی انداز گفتگو کہ معنوی اور فلسفیانہ حقائق کو نہایت ہی مجسم اور مشخص انداز میں ہماری نظروں کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ معانی چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔
مکبا علی ................ اھدی (76 : 22) ہدایت وضلالت کے ذکر کے بعد ، اب ان کو وہ وسائل دکھائے جاتے ہیں جو اللہ نے ہدایت وضلالت کے سلسلے میں ان کو دے رکھے ہیں ، یعنی وہ قدرتی قوتیں جن کے ذریعے وہ حقائق کا ادراک کرسکتے ہیں۔ جن سے وہ فائدہ نہ اٹھاتے تھے اور جن کا وہ شکر بھی ادا نہ کرتے تھے۔
الملك 67:23
قل ھوا .................... تشکرون
” یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ ہی نے انسان کو پیدا کیا ، اور اسے دیکھنے سننے اور سوچنے کی قوتیں بھی اللہ ہی نے دیں اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں سے انسان اعلیٰ ارفع مخلوق ہے۔ اور وہ اس جہاں میں موجود ہے۔ اس نے خود اپنے آپ کو نہیں پیدا کیا ، لہٰذا اس سے اعلیٰ وارفع اور زیادہ علم والا موجود ہوگا۔ اور وہی خالق ہے ، کوئی شخص خالق کے اعتراف سے نہیں بھاگ سکتا ، کیونکہ خود انسان کا محض وجود ہی تقاضا کرتا ہے کہ کوئی ارفع قوت موجود ہے اور اس میں بحث وجدال کرنا اور شک کرنا محض ہٹ دھرمی ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کو یہاں اس لئے لاتا ہے کہ وہ بتائے کہ اللہ نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی قوتیں دی ہیں۔
وجعل .................... والا فئدة (76 : 32) ” تم کو سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی طاقتیں دیں “۔ اور انسان نے اللہ کے یہ انعامات پاکر کیا کیا ؟ یہ سمع ، یہ بصارت اور یہ عقل کی قوت ؟ اور انسان کا طرز عمل دیکھئے !
قلیلاً ما تشکرون (76 : 32) ” مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو “۔
سننے کی قوت اور دیکھنے کی قوت انسان کے نفس کے اندر دو عجیب معجزے ہیں۔ انسان نے ان کے بعض پہلو معلوم کر لئے ہیں۔ اور والافئدة سے قرآن سوچنے کی قوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ تو اعجب العجائب ہے۔ انسان کی عقلی قوت کے بارے میں ابھی تک انسان پوری معلومات نہیں حاصل کرسکا۔ عقل انسان کے اندر اللہ کا ایک منفرد معجزہ ہے۔
جدید علوم نے سننے کی قوت کے بارے میں بعض حیران کن باتوں کو دریافت کرلیا ہے ، مناسب ہے ان میں سے بعض چیزوں کا یہاں ذکر کردیا جائے۔
” ہمارے سننے کی حس بیرونی کان سے کام شروع کرتی ہے اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ اس کی انتہا کہاں ہوتی ہے ؟ سائنس دان کہتے ہیں کہ کہ آواز ہوا کے اندر جو لہریں پیدا کرتی ہے یہ لہریں کان تک جاتی ہیں۔ یہ کان ان کے اندر داخل کرنے کے لئے منظم کرتا ہے ، تاکہ یہ کان کے پردے کے اوپر پڑیں اور یوں یہ آواز کام کے پردے کی دوسری طرف گہرائی تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ گہرائی ایسی ہے کہ اس میں اسپرنگ کی طرح گول نالیاں ہیں اور یہ نصف دائرے کی شکل میں ہیں۔ اس گول نالیوں کے حصے میں چار ہزار قوس ہیں ، جو سر کے آلہ سماعت کے ساتھ پیوست ہیں “۔
” سوال یہ ہے کہ ہر ایک قوس کا طول کیا ہے اور اس کا حجم کیا ہے اور یو قوس کس طرح بنائے گئے ہیں ، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے اور یہ کس قدر چھوٹی جگہ میں رکھ دیئے گئے ہیں جبکہ ان کے علاوہ اور کئی ہڈیاں ہیں جو موجوں کی طرح متحرک ہوتی ہیں۔ اور یہ تمام سامان کان کے پردے کے پیچھے ایک چھوٹی سی کھلی جگہ میں ہے ! کان میں ایک سو ہزار (ایک لاکھ) سماعتی خلیات ہیں ! اور سماعت کے اعصاب کے آخر میں باریک ترین ریشے ہیں ، جن کی باریکی ہی محیرالعقول ہے اور اس کے تصور ہی سے سر چکرانے لگتا ہے “۔ (اللہ اور جدید علوم ، عبدالرزاق نوفل ، ص 75)
” انسانی حاسہ بصارت کو ذرا دیکھئے ، اس کے مرکز میں روشنی کا استقبال کرنے والوں کی 031 ملین (31 لاکھ) سیل ہیں۔ یہ استقبال کرنے والی آنکھیں اعصاب کے سرے ہیں اور آنکھ کے اہم حصے صلبہ قرنیہ (Cornea) جھلی (Plancenta) جالی (Ratina) یہ اہم اعضا ، ہزارہا اعصاب اور مراکز کے علاوہ ہیں۔ (حوالہ بالا ص 85) ۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کرکے یہ خصوصیات اسے عبث نہیں دیں۔ اور نہ بغیر کسی ارادے منصوبے کے یونہی اتفاقاً یہ کام ہوگیا ہے۔ بلکہ یہ اس لئے دی گئی ہیں کہ انسان اس زمین پر زندگی بسر کرسکے۔ اور یوم الجزاء میں پھر اس سے زندگی کا حساب لے کر اسے جزاء وسزا دی جائے۔
الملك 67:24
قل ھو ................ تحشرون
” الذرء کا عربی میں مفہوم ہے کہ کسی چیز کا بڑھنا۔ اور بڑھانے کے ساتھ ساتھ پھیلانا بھی اس کے مفہوم میں ہے اور الحشر کے معنی جمع کرنا ، یعنی پھیلانے کے بعد جمع کرنا۔ ” تصوراتی اعتبار سے یہ دونوں مخالف یا مختلف حرکتیں ہیں اور معنوی اعتبار سے باہم مقابل ہے۔ ایک کے مفہوم میں بڑھانا ، زمین میں پھیلانا اور بکھیرنا اور دوسرے مفہوم کا منظر ہے جمع کرنا اور اٹھانا ، ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ دونوں مناظر کو جمع فرما دیتا ہے تاکہ انسانی احساس میں دونوں مناظر آجائیں۔ یہ قرآن کا تصور ہے۔ انسان جو زمین کے اندر منتشر ہوتے اور پھیلتے جاتے ہیں ان کو یادرکھنا چاہئے کہ ایک دن تمہارے جمع کا بھی ہے۔ جہاں جمع کرکے تمہیں ایک ہی میدان میں اٹھایا جائے گا اور اس حیات اور اس موت کے بعد یہ بہت ہی بڑا معاملہ ہے۔
الملك 67:25
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اس بڑے معاملے میں تم شک میں پڑے ہو ؟ اور سوالات کرتے ہو ؟
ویقولون .................... صدقین
” یہ ایک خلجان آلود سوال ہے اور اس کے اندر ہٹ دھرمی اور تکبر کی بو بھی۔
اس وعدے اور قیام قیامت کے وقت کا علم ہمیں اس قدر ہے کہ وہ اپنے وقت سے مقدم وموخر نہیں ہوسکتا۔ اس کا وقت ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ یوم الجزاء ہے۔ ہمارے لئے اس میں کیا فرق ہے کہ وہ کل آجائے یا کئی ملین سال بعد آجائے ، ہماری زندگی تو مختصر زندگی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ آنے والی ہے اور اس کے لئے تیاری کرنا ضروری ہے۔ تمہیں اس میں بہرحال اٹھایا جائے گا اور جزاء وسزا ہوگی۔
اس لئے اللہ نے اس کے وقت کی اطلاع کسی کو نہیں دی ۔ کیونکہ قیامت کا وقت کسی کو معلوم ہوجانے میں کوئی فائدہ ہی کیا ہے۔ انسان کی عملی زندگی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ان احکامات کے ساتھ اس کا تعلق ہے ، جو انسان کو دیئے گئے ہیں۔ بلکہ مصلحت تو اس میں ہے کہ عام لوگوں کو اس کے وقوع کے وقت کا پتہ نہ ہو ، صرف اللہ کو پتہ ہو۔
الملك 67:26
قل انما ................ مبین
” یہاں خالق اور مخلوق کے درمیان پورا فرق ہوجاتا ہے۔ اللہ کی ذات علیحدہ اور ممتاز ہوجاتی ہے ، نہ اس کا کوئی شبیہ رہتا ہے اور نہ شریک۔ اور علم خالص اسی کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے اور تمام مخلوق رسول ، ملائکہ اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہ جاتے ہیں۔” کہو اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو بس صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں “۔ جس طرح حدیث جبرائیل میں آتا ہے۔
مالمسﺅل عنھا باعلم من السائل ” کہ مسﺅل عنہ سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا “۔ یہ علم نہ رسولوں کے پاس ہے اور نہ فرشتوں کے پاس ہے ، رسول کا کام فقط ڈرانا ہے۔
یہ لوگ شک کے انداز میں قیامت کے بارے میں سوالات کرتے تھے اور اللہ کی طرف سے ان کو نہایت قطعی انداز میں جواب دیا جارہا تھا ، قرآن کریم اپنے مخصوص انداز میں یہ تخیل دیتا ہے کہ گویا یہ دن آہی گیا ہے اور یہ لوگ حشر کے میدان میں ہیں اور قیامت درپیش ہے اور اب وہاں یہ ہورہا ہے۔
الملك 67:27
فلما راوہ .................... تدعون
” جب انہوں نے اسے دیکھ لیا اور وہ ان کے سامنے ہے۔ ان کو توقع ہی نہ تھی کہ ان کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اب تو ان کے چہروں کی شکل بگڑ رہی ہے۔ غم کے بادل ہیں ان چہروں پر۔ اب ان کو یوں سرزنش کی جاتی ہے۔
ھذا الذی ................ تدعون (76 : 72) ” یہی ہے وہ چیز جس کے لئے تم تقاضے کرتے تھے “۔ یہ ہے حاضر اور قریب۔ اور دعویٰ تمہارا یہ تھا کہ قیامت کہاں ہے ؟
یہ انداز کہ ہونے والے واقعات کو قرآن اس طرح پیش کرتا ہے کہ گویا ہوگئے ، یہ ان کے شکوک و شبہات کے جواب میں کیا ہی خوب انداز ہے۔ ان کو ایک شعوری جھٹکا دیا جاتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت تو برپا ہے۔ اور تکذیب کرنے والا اور شک کرنے والا کلام ربانی کے سامنے مبہوت رہ جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ منکر ہے بلکہ منظر کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔
اور یہ تصویر کشی اثر انداز اس لئے ہوئی ہے کہ اللہ کے علم میں ہیں وہ ہونے والے مناظر ، گویا فی الواقعہ وہ مناظر قائم ہیں ، کیونکہ اللہ کا علم زمان ومکان کے قید کے اندر محدود نہیں۔ یہ ماضی ، حال اور مستقبل تو انسان کے لئے ہیں۔ آج اگر اللہ حکم دے تو یہ شاید ہم اسی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح اچانک منکرین مخاطبین کو دنیا سے آخرت میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اور شک وشبہ کی بجائے ان کا سامانا کرادیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کے سامنے ان کو لایا جاتا ہے جو اللہ کے علم میں قائم ہے ، اگر پردہ اٹھادے تو ہم بھی دیکھ لیں ، لیکن اللہ یہاں صرف اس کی تصویر دکھاتا ہے۔
مشرکین مکہ اس قدر احمق ، خوش فہم اور معاند تھے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور مٹھی بھر مومنین کے بارے میں یہ تمنائیں کرتے تھے کہ وہ ہلاک ہوجائیں اور یہ مومنین سے بےغم ہوجائیں۔ اور وہ ایک دوسرے کو بھی نصیحت کیا کرتے تھے کہ بھائی صبر کرو ، چند لوگ ہیں مرکھپ جائیں گے۔ اس لئے یہ انتشار خود بخود ختم ہوجائے گا جو قریش کی صفوں میں انہوں نے برپا کردیا اور بعض اوقات تو وہ اس زعم میں مبتلا ہوجاتے تھے کہ اللہ عنقریب محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کردے گا۔ اس لئے کہ وہ صابی اور گمراہ ہیں کیونکہ یہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ اب حشرونشر کے اس میدان کے بعد ان کو کہا جاتا ہے تمہاری یہ تمنائیں تو اپنی جگہ ، لیکن اگر محمد ﷺ اور ان کے ساتھی ہلاک کردیئے گئے تو تم عذاب الیم سے کس طرح بچ جاﺅ گے۔ تم اپنے رویہ اور اپنے عقائد اور اپنے اعمال پر غور کرو ۔ اگر یہ پیغمبر اور اس کے مٹھی بھر ساتھی ہلاک ہوگئے تو اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوگا ؟
الملك 67:28
قل ارئیتم ............................ عذاب الیم
” یہ ایسا سوال ہے ، جو انہیں سنجیدہ غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور یہ دعوت ہے کہ اپنے معاملات پر ذرا غور کرو ، تمہارے لئے بہتر یہ ہے۔ اگر نبی اور اس کے مٹھی بھر ساتھی ہلاک بھی ہوجائیں تو تمہیں کیا فائدہ ہوگا۔ اللہ تو باقی ہے۔ نبی اور اس کے ساتھی اللہ کے دائرہ رحم میں ہیں۔ لیکن تمہیں تو اس کے سامنے جانا ہے۔ اس نے تمہیں پیدا کیا اور اسی کی طرف جانا ہے۔ تمہاری تیاری کیا ہے ؟
یہ سیاق کلام میں۔
من ................ الکفرین (76 : 82) ؟ ؟ کہا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ تم کافر ہو ، بلکہ یہ کہ جو کافر ہوں گے ان کو کون بچائے گا۔ اشارہ یہ ہے کہ عذاب کافروں کے لئے ہے۔
فمن ........................ الیم (76 : 82) ” کافروں کو درد ناک عذاب سے کون بچائے گا “۔ یہ دعوت کا حکیمانہ اسلوب ہے۔ ایک طرف انہیں ڈرایا جاتا ہے دوسری جانب اشارہ دیا جاتا ہے کہ واپس ہوجاﺅ حماقت کا راستہ اختیار کرکے منہ آتے۔ اور براہ راست اقدام کی وجہ سے عناد میں مبتلا ہوجاتے۔
بعض اوقات اشاراتی انداز صریح انداز سے زیادہ اثر کرتا ہے۔” نہ ہم سمجھے کہ تم آئے کہیں سے “۔ ایسا انداز بہت موثر ہوتا ہے۔
اب اس اشارہ کے بعد دونوں موقف برابر نہیں ہیں۔ مومنین کو اپنے رب پر بھروسہ ہے۔ وہ توکل علی اللہ کرکے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، اور اپنے ایمان پر وہ مطمئن ہیں ، وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت پر ہیں اور دراصل کھلی گمراہی میں تو ان کا فریق مخالف مبتلا ہے۔
الملك 67:29
قل ھو ................ مبین
” یہاں اللہ کی جگہ رحمن کی صفت اس لئے لائی گئی ہے کہ اللہ نبی اور اس کے مٹھی بھر ساتھیوں کو ہلاک نہیں کرتا بلکہ وہ ان پر رحیم وکریم ہے ، جس طرح کہ تمہاری تمنائیں ہیں۔
نبی ﷺ اور ساتھیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے موجودہ تعلق کو مضبوط کرو ، اعلان کردو۔
امنا بہ (76 : 92) ” ہم اس پر ایمان لائے ہیں “۔ صرف اللہ پر۔ انداز کلام اس کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ مسلمانوں کے بہت ہی قریب ہے۔ ان کے درمیان اعتماد کا تعلق ہے۔
وعلیہ توکگنا (76 : 92) ” اور اس پر ہمارا بھروسہ ہے “ صرف اس پر۔ اللہ تعالیٰ نبی کو حکم دیتا ہے کہ اس فضل وکرم کا اعلان کردیں۔ آپ کو گویا کہا جاتا ہے کہ ان کفار کی تمناﺅں اور اقوال سے نو ڈریں۔ میں تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ساتھ ہوں۔ لہٰذا یہ اعلان کردیں اور یہ اللہ کی جانب سے نبی اور دوستان نبی کے ساتھ دوستی کا اعلان ہے۔ جس میں ان کے لئے اعزاز ہے۔
اور فریق مخالف کو بالاواسطہ دھمکی دی جاتی ہے۔
فستعلمون ................ مبین (76 : 92) ” عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے “۔
یہ بھی ایک انداز ہے جو ہٹ دھرمی اور اصرار کے قلعوں میں دراڑیں ڈال دیتا ہے اور مخاطب کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن پر غور کرے کہ کہیں وہ خود تو گمراہ نہیں ہے۔ کہیں وہ خود تو عذاب کا مستحق نہیں ہورہا ہے۔
فمن یجیر .................... الیم (76 : 92) ” کون ہوگا جو کافروں کو عذاب الیم سے پناہ دے گا “۔ لیکن اس پوری گفتگو میں اللہ ان کو یہ نہیں کہتا کہ تم کافر ہوتا کہ وہ ضد میں نہ آجائیں۔ یہ دعوت کا اسلوب ہے جو زیادہ تر حالات میں مفید رہتا ہے۔
اور اب عقل وخر کی تاروں پر آخری شدید ضرب جن سے زمزمہ اٹھتا ہے۔ یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ خبردار یہ تو ہے اخروی عذاب۔ لیکن اللہ نافرمانوں کو اس دنیا میں بھی عذاب دیا کرتا ہے۔ آج ہی اگر اللہ پانی بند کردے تو سوچو تمہاری حالت کیا ہوجائے۔
الملك 67:30
قل ارءیتم .................... معین
” ماﺅکم غورا (76 : 03) ” کے معنی اس پانی کے ہیں جو زمین کی رگوں میں دور تک چلاجائے اور اسے واپس لانے کی کوئی سبیل نہ ہو۔
معین (76 : 03) وہ چشمہ جو زمین سے ابل کر پانی لارہا ہو۔ یہ مناظر وہ دیکھتے رہتے تھے۔ اگرچہ وہ اس دن اس میں شک کرتے تھے۔ لیکن زمین و آسمان کی بادشاہت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ جس وقت چاہے ان چشموں کو خشک کردے۔ اگر اللہ ان کی زندگی کے اس سبب کو ہی کشید کرلے تو نتائج کیا ہوں۔ اس کے بعد ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ذرا اس پر بھی غور کرلو۔
یوں اس سورت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ یہ دلائل ، تاثرات ، ملکوت سماوات اور ارض کی سیر ، ہر آیت ایسی کہ بذات خود فکر انگیز ، قلب ونظر اور فکر و خیال کی جولانی۔
یہ بہت ہی زیادہ فکر انگیز سورت ہے۔ حجم اگرچہ کم ہے لیکن تصورات ، ہدایات آفاق کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ اشاراتی تیر ہیں جو بہت ہی دور تک فکر و خیال کو لے جاتے ہیں اور کائنات کی سیر کراتے ہیں۔
یہ سورت اسلامی تصور حیات کی بنیادیں رکھ دیتی ہے۔ یہ ضمیر کے اندر بٹھاتی ہے کہ تمام فیصلے ازل میں ہوچکے ہیں۔ تمام کائنات پر اللہ کا مکمل کنٹرول ہے ، انسانوں کو یہاں آزمائش اور امتحان کے لئے بھیجا گیا جس کا نتیجہ حشر ونشر کے دن نکلے گا۔ اللہ کی مخلوقات میں کمال و جمال انتہاﺅں پر ہے۔ اللہ کا علم ظاہر و باطن پر محیط ہے ، رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ مخلوقات کا محافظ ہے ، وہ مخلوقات کے ساتھ ہے ، ایک مسلم کا تصور اب کیا ہے ، پھر اس کائنات کا اللہ کے ساتھ کیا تعلق ہے ، یہ وہ مجموعہ تصورات ہے جس کے اوپر اسلامی نظام حیات کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ مومن کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ، مومن کا تعلق اپنے نفس کے ساتھ ، مومن کا تعلق اپنے بھائیوں اور انسانوں کے ساتھ ، مومن کا تعلق تمام زندہ مخلوقات کے ساتھ ، مومن کا تعلق روئے زمین کے اشیاء کے ساتھ۔ یہ تصورات انسان کے ضمیر میں ان تعلقات کو اس تفصیلی کیفیات عطا کرتے ہیں۔ اس سے ایک مسلم کی زندگی کی اقدار اور پیمانے واضع ہوتے ہیں۔
القلم 68:1
نٓ والقلم ........................ علی الخرطوم
اللہ یہاں ن ، قلم اور کتابت کی قسم اٹھاتا ہے اور حرف نون ایک منفرد حرف ہے۔ اس میں اور قلم و کتابت میں تعلق واضح ہے۔ ان چیزوں کی قسم کیوں اٹھائی ہے ؟ اس لئے کہ اسلام میں لکھنے پڑھنے کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اس سے یہ ہدایت مقصود ہے کہ اس کام کی طرف توجہ کرو ، کیونکہ عرب امی تھے اور وہ لکھنے پڑھنے کی طرف متوجہ نہ تھے۔ بہت ہی کم لوگ عربوں میں لکھنا پڑھنا جانتے تھے جبکہ امت محمدیہ نے آئندہ انسانوں میں جو اہم کردار ادا کرنا تھا ، اس کے لئے لکھنا پڑھنا بہت ہی ضروری تھا۔ اور قرات اور کتابت کا پھیلانا اسلامی پالیسی کا بنیادی نکتہ تھا تاکہ یہ نظریہ اور اس کے اوپر جو نظام برپا کیا جانا تھا ، اسے پوری دنیا میں پھیلایا جاسکے اور یہ امت انسانیت کی قیادت کرسکے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس مقصد کے لئے لکھنا پڑھنا ایک بنیادی ضرورت تھی۔
اس بات کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وحی کا آغاز یوں ہوا :
اقراباسم .................... مالم یعلم (5) (69 : 1 تا 5) ” پڑھو اے نبی اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “۔ اور پھر یہ حکم دیا نبی امی کو جس کے بارے میں اللہ نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ امی ہیں اور اس کی خاصی حکمت تھی۔ لیکن جب وحی آئی تو اس ہدایت کے ساتھ کہ پڑھو اور لکھو۔ یہاں نون کے ذریعہ اس کی مزید تاکید کی۔ اور قلم اور سطروں کی قسم اٹھائی۔ یہ ایک انداز تھا اس امت کی تربیت کا۔ جس نے اس کائنات میں ایک عظیم کردار ادا کرنا تھا۔
غرض یہاں قسم ہے حرف تہجی نون کی اور پھر قلم کی اور پھر سطروں کی۔ ایک اس بات کے لئے کہ قرات اور کتابت اسلام کی بنیادی پالیسی اور بہت اہم ہے۔
القلم 68:2
دوسرے اس بات کی تردید کے لئے جو کفار الزام لگاتے تھے کہ حضور اکرم مجنون ہیں تو اللہ تعالیٰ یہاں تردید کرتا ہے کہ رب کے فضل وکرم سے آپ مجنون نہیں ہیں۔
ماانت ............ بمجنون (86 : 2) ” تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو “۔ ایک مختصر سی آیت میں ایک بات کو ثابت کیا جاتا ہے اور ایک کی نفی کردی جاتی ہے۔ ثابت یہ کیا جاتا ہے کہ آپ پر اللہ کا فضل وکرم ہے۔ اور نفی اس بات کی جاتی ہے کہ آپ مجنون نہیں ہیں۔ اور اثبات رحمت نہایت ہی اپنائیت کے ساتھ ہے۔
ربک یعنی تمہارے رب کے فضل وکرم سے۔
جب انسان قبل نبوت کی سیرت کے واقعات پڑھتا ہے تو وہ متعجب ہوتا ہے کہ اس شخص پر یہ لوگ ایسا الزام لگاتے ہیں جس کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ وہ بہت بڑا دانا شخص ہے۔ نبوت سے کئی سال پہلے جب ان کے درمیان حجر اسود کے نصب کرنے پر اختلاف ہوگیا تو آپ نے بڑی عقلمندی سے مسئلہ کو حل کردیا۔ پھر انہوں نے آپ کو امین کا لقب دیا۔ اور آپ کے پاس وہ اپنی امانتیں رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ہجرت کے وقت تک امانتیں آپ کے پاس رکھی جاتی تھیں۔ سخت دشمنی کی حالت میں بھی ان کا اعتماد تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہجرت کے بعد ایک زمانہ تک مکہ میں رہے تاکہ لوگوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیں جو آپ کے پاس رکھی ہوئی تھیں۔ پھر یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے کبھی جھوٹ نہ سنا تھا۔ جب ہر قل نے ابوسفیان سے پوچھا کیا نبوت سے پہلے تم نے کبھی اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ؟ ابوسفیان ارچہ آپ کا سخت دشمن تھا مگر اس نے کہا ” نہیں “۔ تو اس پر ہرقل نے کہا جو شخص تم میں سے کسی پر جھوٹ نہیں باندھتا وہ خدا پر کس طرح جھوٹ باندھ سکتا ہے کہ لوگوں سے سچ کرے اور خدا سے جھوٹ۔
انسان حیران رہ جاتا ہے کہ مکہ کے لوگوں نے حضور اکرم ﷺ کے بارے میں یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں کرنے کی جرات کی۔ حالانکہ آپ بہت بلند اخلاق ، مہربان ، سچے اور ان کے درمیان نہایت ہی عقلمند مشہور تھے۔ لیکن محبت ونفرت انسان کو اندھا اور بہرہ کردیتی ہیں۔ اور انسان اپنے مقاصد کے لئے جھوٹ بولنے پر بھی آمادہ ہوجاتا ہے۔ اور ہر شخص جانتا ہے کہ کہنے والا کذاب ہے۔
ماانت ................ بمجنون (86 : 2) ” تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو “۔ یوں نہایت محبت اور ہمدردی کے ساتھ آپ پر سے اس الزام کی نفی کی جاتی ہے۔ اور آپ کو اس سے باعزت طور پر بری قرار دیا جاتا ہے۔ اور ان کے کافرانہ عناد اور مذموم الزام کو رد کردیا جاتا ہے۔
القلم 68:3
وان لک ................ ممنون (86 : 3) ” اور یقینا تمہارے لئے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ “ یعنی آپ کے لئے دائمی اور مسلسل اجر کا انتظام ہے۔ یہ سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا ، نہ انتہا کو پہنچے گا۔ تمہارے رب نے تجھے نبوت عطا کی ہے اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ ایک نہایت بڑی اور حقیقی تسلی ہے اور نہایت ہی بھرپور ہے۔ اس کے بعد انسان کوئی محرومی ، کوئی ظلم ، کسی بہتان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ جب رب تعالیٰ یہ فرمارہا ہے کہ تمہارے لئے ایسا مسلسل اجر ہے ، جس کا سلسلہ منقطع ہونے والا نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ پھر انسان اس راہ میں آنے والی کسی مشکل کی کوئی پرواہ نہیں کرتا خصوصاً جبکہ رب تعالیٰ کی طرف سے اپنائیت اور اعزازو تکریم کے ساتھ یہ یقین دہانی ہو۔
القلم 68:4
اس کے بعد ایک عظیم شہادت آپ کے حق میں آتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔
وانک ................ عظیم (86 : 4) ” اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو “۔ نبی کریم ﷺ پر اس تعریف وثنا میں پوری کائنات شریک ہوجاتی ہے اور اس پوری کائنات کی روح کے اندر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آپ خلق عظیم کے مالک تھے۔
کسی قلم میں یہ قوت نہیں ہے کہ وہ آپ کے مناقب بیان کرسکے ، کسی شخص میں یہ قوت نہیں ہے کہ وہ آپ کے اخلاق کا تصور کرسکے۔ اور اس عظیم سرٹیفکیٹ کی تشریح کرسکے۔ یہ عظیم کلمات رب عظیم کی طرف سے ہیں۔ اور رب تعالیٰ اپنی اس عظیم شہادت کی تشریح کرسکتا ہے۔ اللہ کے ہاں عظمت کے کیا پیمانے ہیں ، اس کا بندہ کس قدر عظیم ہے ، یہ وہی جانتا ہے ۔ جس نے کہا :
وانک لعلی ................ عظیم (86 : 4) ” اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو “۔ یہ خلق عظیم وہ ہے جس کا تصور کسی انسان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنی محدود عقل وادراک سے اس کا تصور کرسکے۔ لیکن مختلف پہلوﺅں سے آپ کے اخلاق ” عظیم “ تھے۔
سب سے پہلا پہلو تو یہ ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے۔ رب تعالیٰ آپ کو خلق عظیم کا لقب عطا فرمارہا ہے۔ اس میں اللہ کی مخلوق اور اس کی ناپیداکنار کائنات بھی شامل ہے۔ اور ملاء اعلیٰ کی تمام مخلوقات جو رب تعالیٰ کی کائنات کے کارندے ہیں ، سب اس میں شامل ہیں۔
آپ کے خلق عظیم کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ نے یہ ربانی شہادت حاصل کی۔ اپنے رب کی طرف سے حاصل کی۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس عظیم کائنات کا عظیم باری تعالیٰ یہ کہہ رہا ہے ” یہ ایک بہت اعزاز ہے “۔ ان کلمات کا ایک عظیم مفہوم ہے ، ان کی ایک وسعت ہے ، ان کی ایک بلند گونج ہے۔ آپ جانتے تھے کہ کس عظیم ذات کی ہے یہ شہادت اور یہ شہادت کیس قدر عظیم ہے۔
یہ محمد ﷺ ہی کا ظرف تھا جو اس عظیم شہادت کو قبول کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔ صرف آپ ہی کا حوصلہ تھا کہ اس عظیم مصدر سے یہ شہادت پائے اور سنجیدگی کے ساتھ اپنی جگہ اور مقام پر قائم رہے۔ اور اس عظیم شہادت کے دباﺅ اور اثر کو برداشت کرسکے۔ یہ ایک تعریف تھی لیکن آپ کی ذات کے اندر کوئی حرکت ، کوئی اضطراب پیدا نہ ہوا۔ نہایت اطمینان ، نہایت توازن اور سنجیدگی کے ساتھ آپ نے یہ اعزاز لیا۔ اور آپ کی عظمت کی بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ نے اس عظیم خطاب کے بوجھ کو اٹھا لیا۔
آپ کے خلق عظیم کی روایات سے سیرت کی کتب بھری ہیں۔ آپ کے صحابی اس مضمون پر رطب اللسان ہیں اور خودآپ کا برتاﺅ ہی ایک بڑی شہادت ہے ، اس بات کی۔ لیکن رب تعالیٰ کی طرف سے یہ عظیم اعزاز عظیم تر ہے۔ یہ علی کبیر اور رب متعال کی طرف سے ہے۔ اور پھر اس سے بھی عظیم تر یہ بات ہے کہ خالق کائنات کی طرف سے یہ عظیم شہادت پاکر آپ سنجیدہ ، مطمئن ، مضبوط اور اپنے مقام پر جمے رہے۔ آپ نے انسانوں پر اپنی برتری نہیں جتائی ، آپ نے علو اختیار نہیں کیا ، بڑائی اختیار نہیں کی اور آپ نے اسے ہضم کرلیا اور آپ کا انکسار وہی رہا۔ حالانکہ یہ بہت ہی عظیم اعزاز تھا۔
اللہ جانتا ہے کہ وہ کس کو رسول بنارہا ہے۔ حضرت محمد ﷺ اپنی اس عظمت کے باوجود .... رسول تھے اور اپنی اس کائناتی عظمت کے باوجود رسالت کی ذمہ داریاں اٹھا رہے تھے اور لوگوں کے سامنے ایک انسان کی طرح عظمت اخلاق کا نمونہ پیش فرماتے تھے۔
یہ آخری رسالت جس قدر کامل اور جمیل ہے ، جس پدر عظیم اور جامع ہے ، جس قدر حق اور سچی ہے ، اس کا حامل وہی شخص ہوسکتا تھا ، جس کو خالق کائنات یہ لقب دے کہ تم خلق عظیم پر ہو۔ اور پھر آپ کی شخصیت کو بھی یہ قوت دی گئی کہ وہ اس عظمت کو وصول کرسکے۔ اور متوازن اور سنجیدہ رہے۔ ایک عظیم انسان کی طرح مطمئن رہے۔ ایک عظیم شخص ہی اس عظمت کو اٹھاسکتا ہے جو ان الفاظ میں دی گئی ہے۔ اس عظیم ثنا اور تعریف کے بعد قرآن میں بعض اوقات آپ پر عتاب بھی آیا ہے ، لیکن آپ نے اسے بھی نہایت ہی عظمت کے ساتھ سنا ہے۔ نہایت توازن اور اطمینان کے ساتھ۔ جس طرح آپ کو اس عظمت کا اعلان ہوا۔ اسی طرح آپ کو تنبیہ کرنے والی آیات کو بھی اس لازوال کتاب میں جگہ دی گئی ہے۔ اللہ نے کوئی بات چھپا کر نہیں رکھی۔ اور دونوں حالات میں نبی آخرالزمان عظیم رہے۔ آپ نے دونوں باتوں کو عظمت کے ساتھ لیا۔
نفس محمدی کی حقیقت دراصل رسالت محمدی کے اندر پوشیدہ ہے ، اور عظمت محمد ﷺ کا پیمانہ رسالت محمدیہ کی عظمت ہے۔ اور حقیقت محمدیہ یہ حقیقت دین اسلام کی طریح انسان کے ادراک سے اور انسان کے مشاہدے سے اس طرح دور ہے جس طرح اس کائنات میں کوئی کہکشاں دور ہے۔ ایک شخص رصدگاہ میں بیٹھ کر دور سے اس کی طرف اشارہ تو کرسکتا ہے لیکن کسی کے لئے حقیقت محمدیہ کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت انسان کے مشاہدے اور ادراک سے بہت دور ہے۔ انسان ایک کہکشاں کی طرح دور سے اس کی طرف اشارہ تو کرسکتا ہے لیکن وہ اس کے بارے میں پوری بات نہیں کرسکتا۔
میں ایک بار پھر یہ نکتہ اٹھاتا ہوں اور اس سوچ میں پڑا ہوں کہ حقیقت محمدیہ نے کس قدر عظیم اعزاز پایا اور اسے اپنایا اور آپ کی شخصیت متوازن ، ثابت قدم اور مطمئن رہی۔ آپ بہرحال انسان تو تھے۔ کبھی جب آپ اپنے کسی رفیق کی تعریف فرماتے تو آپ کا وہ رفیق اور اس کے دوست یار خوشی کے مارے پھولے نہ سماتے۔ اس کا ان پر اس قدر اثر ہوتا کہ قریب تھا کہ ان کی شادی مرگ سے دو چار ہونا پڑے۔ باوجود اسکے کہ آپ بشر تھے۔ آپ کے ساتھی جانتے تھے کہ آپ بشر ہیں۔ اور آپ نبی ہیں اور نبوت کا ایک معلوم دائرہ ہوتا ہے۔ نبی بشر ہوتا ہے لیکن حضور اکرم ﷺ کا معاملہ اور ہے۔ آپ کے حق میں تو شہادت رب کائنات دے رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ رب کائنات کس قدر عظیم ہے۔ اور اگر کوئی نہیں جانتا تو حقیقت محمدیہ تو رب کائنات کی عظمت کو خوب جانتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ اس عظیم شہادت کو نہایت سنجیدگی سے ہی لیتے ہیں اور اپنی روش میں کوئی فرق آنے نہیں دیتے۔ یہ ہے اصل عظمت اور یہ ہے وہ بات ، جوہر اندازے سے بلند ہے۔
حضرت محمد ﷺ وحدہ اس مقام تک پہنچے ہیں ، اس عظمت کے مقام تک۔ یہ عظمت و کمال کی بلند چوٹی ہے جس کو آپ نے صرف آپ نے سر کیا ہے۔ اس مقام تک کوئی اور انسان نہیں پہنچ سکا اور یہ حقیقت محمدیہ تھی جو اس رسالت کے اٹھانے کے اہل ہوئی جو کائناتی رسالت ہے ، ابدی رسالت ہے ، اور عالمی انسانی رسالت ہے۔ یہ رسالت آپ کی شخصیت میں مشخص ہوئی اور عملی شکل میں انسانیت کو ملی۔ یہ آخری رسالت اسی طرح آئی کہ مکہ اور مدینہ میں انسانی شکل میں پھرتی رہی۔ یہ تھے محمد ﷺ۔ اس مقام کے اہل اور اللہ ہی جانتا تھا کہ اس مقام کا اہل اس کی مخلوق میں سے کون ہے ؟ اس لئے اس نے اعلان فرمایا کہ
وانک ................ عظیم (86 : 4) ” اللہ نے بذات خود یہ اعلان کیا اور اعلان فرمایا کہ اللہ خود حضرت محمد ﷺ پر صلوٰة وسلام بھیجتا ہے۔ اور یہ اللہ ہی کی بخشش ہے جو کسی انسان کو عطا کرتا ہے۔ یہ رتبہ بلند ہے جس کو مل گیا۔
پھر اس شہادت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے ، اور وہ یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے انسانی نظام کے اندر اخلاق کی اہمیت کیا ہے۔ اسلامی نظام حیات میں حسن اخلاق ہر معاملے میں ایک بنیادی عنصر ہے۔
اسلامی نظریہ حیات کا مطالعہ کریں یا نبی آخرالزمان کی سیرت کا مطالعہ کریں ، نظر آئے گا کہ ان میں بنیادی عنصر اسلامی اخلاق کا ہے۔ اسی اخلاقی عنصر پر اسلام کا تہذیبی اور قانونی نظام قائم ہے۔ اس نظام میں طہارت ، نظافت ، امانت ، سچائی ، عدل ، رحم دلی ، نیکی ، وعدہ وفائی ، قول وفعل کے درمیان مطابقت ، نیت اور ضمیر کے درمیان مطابقت ، ظلم اور زیادتی کی مخالفت ، ظلم اور دھوکہ بازی کی ممانعت ، لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانے کی ممانعت ، لوگوں کی عزت پر حملے کی ممانعت ، فحاشی کے ارتکاب اور فحاشی کی اشاعت کی ممانعت ، خواہ وہ جس شکل میں بھی ہو۔ اور اس نظام میں جس قدر قانون سازی بھی کی گئی ہے وہ ان اخلاقیات میں سے کسی نہ کسی اخلاق کی حفاظت کے لئے کی گئی ہے اور اس قانون سازی کے ذریعہ لوگوں کے سلوک ، ان کے شعور اور طرز عمل میں اخلاقی قدریں پیدا کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اور یہ اخلاقیات بیک وقت انفرادی ، اجتماعی اور بین الاقوامی طرز عمل میں ملحوظ رکھے گئے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : ” مجھے اس لئے بھیجا گیا کہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کردوں “۔ آپ نے اپنی بعثت کا مقصد اخلاقی تطہیر کے اندر محدود کردیا۔ اور احادیث کا ایک زمزمہ بہہ رہا ہے کہ خلق حسن اختیار کرو ، کریمانہ انداز اپناﺅ، آپ کی سیرت طیبہ اس کی ایک مثال ہے اور ایک صاف صفحہ ہے۔ اور ایک اعلیٰ تصویر ہے مکارم اخلاق کی۔ اور فی الواقعہ آپ اس بات کے مستحق تھے کہ خالق کائنات یہ شہادت دے کہ وانک ................ عظیم (86 : 4) جس طرح حضور اکرم ﷺ خلق عظیم کے اعلیٰ درجے پر ہیں اسی طرح آپ کا پیش کردہ اسلامی نظام حیات بھی اعلیٰ اخلاقی قدروں کا حامل ہے۔ اس اخلاق کے ذریعہ زمین کی بستیوں کو آسمانوں سے ملا دیا گیا اور لوگوں کے دلوں کو خدا سے جوڑ دیا گیا اور یہ بتادیا گیا کہ اللہ کن کن باتوں پر راضی ہوتا ہے۔
یہ پہلو اسلام کے اخلاقی نظام میں ایک ممتاز پہلو ہے۔ کیونکہ اسلامی اخلاقیات کسی سوسائٹی کی پیداوار نہیں ہیں ، یہ زمینی اور مادی اصولوں سے ماخوذ نہیں ہیں ، نہ یہ کسی رسم و رواج ، عزت ، مصلحت اور باہمی روابط وتعلقات سے ماخوذ ہیں۔ ان اخلاقیات کا دارومدار رضائے الٰہی پر ہے۔ اس دعوت پر ہے کہ لوگو ، اللہ کی طرف بلند ہوجاﺅ، اللہ کی صفات حمیدہ کو اپنے اندر پیدا کرو ، تاکہ تمہاری انسانیت کے آفاق آسمانوں سے مل جائیں ، تاکہ تم اخروی زندگی کو بہتر کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پاﺅ۔ اور تم اللہ کے ہاں۔
فی مقعد .................... مقتدر (45 : 55) ” ایک مقتدر بادشاہ کے ہاں سچی مجلس میں “ بیٹھنے کے قابل ہوجاﺅ۔ اس لئے اسلامی اخلاقیات کسی مادی تصور کے اندر محدود نہیں ہیں۔ یہ لامحدود اخلاقیات ہیں۔ اور یہ ان انتہائی بلندیوں پر ہیں جہاں تک کوئی انسان پہنچنے کا تصور نہیں کرسکتا ہے۔ کیونکہ یہ اخلاقیات اللہ کی صفات کی پیروی پر مبنی ہیں ، گرے ہوئے مادی اصولوں سے ماخوذ نہیں ہیں۔
پھر اسلامی اخلاقیات ، مفرد اخلاقیات نہیں ہیں۔ صدق ، امانت ، عدل ، رحم ، نیکی ، یہ سب ایسی اخلاقیات ہیں ، جن میں ایک سے زیادہ انسانوں کا بہم تعلق پیش نظر ہوتا ہے۔ یہ ایک نظام کے ساتھ متعلق اخلاقیات ہیں۔ باہم تعاون ، باہم معاملہ ، تقسیم کار اور تقسیم حقوق اور اجتماعی تنظیم سے متعلق امور ہیں۔ ان کا تعلق زندگی کے ایک تصور سے ہے اور ان کا ماخذ ذات باری ہے۔ اس لئے یہ ربیانیت یا ذاتی اذن پر مبنی بھی نہیں ہیں اور مادی مفادات اور زمین کے اعتبارات ان کا ماخذ نہیں ہے بلکہ اللہ کی رضا ان کا اصل ماخذ ہے۔
یہ اخلاقیات اپنے کمال ، جمال ، توازن ، سیدھے پن ، تسلسل اور ثبات کے پہلو سے حضرت محمد ﷺ میں مکمل طور پر منفکس ہوئیں اور اس وجہ سے حضور ﷺ سے کہا گیا۔
وانک ................ عظیم (86 : 4) ” اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو “۔ اس تعریف عظیم کے بعد فرمایا جاتا ہے کہ آپ کا مستقبل نہایت تابناک ہے۔ مشرکین سے کہہ دیں کہ تم اپنے برے انجام کا انتظار کرو ، تم خلق عظیم کے مالک پر ایسے الزامات عائد کرتے ہو تنبیہ کی جاتی ہے کہ تمہارے دعوﺅں کی حقیقت تم پر جلد ہی کھل جائے گی کہ مجنون کون ہے ؟
القلم 68:5
فستبصر ............................ بالمھتد (7) (86 : 5 تا 7) ” عنقریب تم بھی دیکھ لوگے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون گمراہی میں مبتلا ہے۔ تمہارا رب ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں ، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں “۔
المفتون (86 : 6) سے مراد ہے گمراہ۔ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی جانتا ہے اور گمراہوں کو بھی۔ یا اس کے معنی ہیں وہ شخص جو آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے اور جس کا نتیجہ نکلنے والا ہے۔ دونوں مفہوم قریب قریب ہیں۔ اس وعدے میں رسول اللہ اور مومنین کے لئے اطمینان ہے جبکہ مخالفین کے لئے دھمکی ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر جنون کا الزام لگایا تھا۔ اس جنون سے ان کی مراد یہ نہ تھی کہ آپ کی عقل چلی گئی ہے کیونکہ واقعی صورت حال اس کی تکذیب کررہی تھی بلکہ اس سے مراد لیتے تھے کہ آپ پر جنون کا اثر ہوگیا ہے اور اس میں ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ہر شاعر کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے ، جو اس پر شعر وحی کرتا ہے۔ اشارتاً وہ نبی ﷺ کی طرف اس بات کو منسوب کرتے تھے جبکہ نبی ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ، ان کا تعلق نہ شعر سے تھا اور جنون کی باتوں سے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ تسلی دیتا ہے کہ مستقبل نبی ﷺ کی حقیقت کو بھی ظاہر کردے گا اور آپ کی تکذیب کرنے والوں کی حقیقت کو بھی۔ اور معلوم ہوجائے گا کہ دونوں میں سے کون گمراہ ہے ؟ اور مزید اطمینان کے لئے کہا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ تو جانتا ہے کہ کون گمراہ ہے اور کون راہ راست پر ہے۔ یہ کلام تو وہی وحی کررہا ہے۔ لہٰذا اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ ایسی بات ہے جس کی وجہ سے آپ دشمنوں کی ہر زیادتی کو برداشت کرلیتے تھے اور اس کے نتیجے میں آپ کے دشمن پریشان ہوجاتے تھے اور آپ کی ثابت قدمی کی وجہ سے ان کے اندر قلق اور تزلزل پیدا ہوجاتا تھا ، جیسا کہ اگلی آیات میں آتا ہے۔
اگلی آیت میں آپ کو بتایا جاتا ہے کہ اندر سے ان لوگوں کا حال بہت پتلا ہے۔ ان کی سوچ اندر سے کھوکھلی ہوچکی ہے۔ بظاہر تو وہ مخاصمت کرتے ہیں ، جھگڑتے ہیں ، حق کا انکار کرتے ہیں ، آپ ہر طرح کے الزامات لگاتے ہیں ، لیکن اندر سے ان کے اندر تزلزل پیدا ہوگیا ہے۔ وہ ہل گئے ہیں اور جن عقائد پر وہ جمے ہوئے نظر آتے ہیں ، درحقیقت ان کے ایک بڑے حصے پر خود ان کو اعتماد نہیں ہے۔ یہ سودا بازی کے لئے تیار ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ کچھ آپ نرم ہوں اور کچھ یہ نرم ہوں لیکن جن لوگوں نے نظریاتی انقلاب لانا ہوتا ہے وہ تب ہی لاسکتے ہیں جب وہ اپنے اخلاقی نظریات پر جم جائیں۔ ان لوگوں کے جو عقائد ہیں یہ ان کے بارے میں کچھ زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے چند ظاہری رسول کو پکڑا ہوا ہے جن کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہیں۔ لہٰذا ان کی کوئی بات نہ مانو۔
القلم 68:6
فستبصر ............................ بالمھتد (7) (86 : 5 تا 7) ” عنقریب تم بھی دیکھ لوگے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون گمراہی میں مبتلا ہے۔ تمہارا رب ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں ، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں “۔
المفتون (86 : 6) سے مراد ہے گمراہ۔ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی جانتا ہے اور گمراہوں کو بھی۔ یا اس کے معنی ہیں وہ شخص جو آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے اور جس کا نتیجہ نکلنے والا ہے۔ دونوں مفہوم قریب قریب ہیں۔ اس وعدے میں رسول اللہ اور مومنین کے لئے اطمینان ہے جبکہ مخالفین کے لئے دھمکی ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر جنون کا الزام لگایا تھا۔ اس جنون سے ان کی مراد یہ نہ تھی کہ آپ کی عقل چلی گئی ہے کیونکہ واقعی صورت حال اس کی تکذیب کررہی تھی بلکہ اس سے مراد لیتے تھے کہ آپ پر جنون کا اثر ہوگیا ہے اور اس میں ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ہر شاعر کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے ، جو اس پر شعر وحی کرتا ہے۔ اشارتاً وہ نبی ﷺ کی طرف اس بات کو منسوب کرتے تھے جبکہ نبی ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ، ان کا تعلق نہ شعر سے تھا اور جنون کی باتوں سے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ تسلی دیتا ہے کہ مستقبل نبی ﷺ کی حقیقت کو بھی ظاہر کردے گا اور آپ کی تکذیب کرنے والوں کی حقیقت کو بھی۔ اور معلوم ہوجائے گا کہ دونوں میں سے کون گمراہ ہے ؟ اور مزید اطمینان کے لئے کہا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ تو جانتا ہے کہ کون گمراہ ہے اور کون راہ راست پر ہے۔ یہ کلام تو وہی وحی کررہا ہے۔ لہٰذا اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ ایسی بات ہے جس کی وجہ سے آپ دشمنوں کی ہر زیادتی کو برداشت کرلیتے تھے اور اس کے نتیجے میں آپ کے دشمن پریشان ہوجاتے تھے اور آپ کی ثابت قدمی کی وجہ سے ان کے اندر قلق اور تزلزل پیدا ہوجاتا تھا ، جیسا کہ اگلی آیات میں آتا ہے۔
اگلی آیت میں آپ کو بتایا جاتا ہے کہ اندر سے ان لوگوں کا حال بہت پتلا ہے۔ ان کی سوچ اندر سے کھوکھلی ہوچکی ہے۔ بظاہر تو وہ مخاصمت کرتے ہیں ، جھگڑتے ہیں ، حق کا انکار کرتے ہیں ، آپ ہر طرح کے الزامات لگاتے ہیں ، لیکن اندر سے ان کے اندر تزلزل پیدا ہوگیا ہے۔ وہ ہل گئے ہیں اور جن عقائد پر وہ جمے ہوئے نظر آتے ہیں ، درحقیقت ان کے ایک بڑے حصے پر خود ان کو اعتماد نہیں ہے۔ یہ سودا بازی کے لئے تیار ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ کچھ آپ نرم ہوں اور کچھ یہ نرم ہوں لیکن جن لوگوں نے نظریاتی انقلاب لانا ہوتا ہے وہ تب ہی لاسکتے ہیں جب وہ اپنے اخلاقی نظریات پر جم جائیں۔ ان لوگوں کے جو عقائد ہیں یہ ان کے بارے میں کچھ زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے چند ظاہری رسول کو پکڑا ہوا ہے جن کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہیں۔ لہٰذا ان کی کوئی بات نہ مانو۔
القلم 68:7
فستبصر ............................ بالمھتد (7) (86 : 5 تا 7) ” عنقریب تم بھی دیکھ لوگے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون گمراہی میں مبتلا ہے۔ تمہارا رب ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں ، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں “۔
المفتون (86 : 6) سے مراد ہے گمراہ۔ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی جانتا ہے اور گمراہوں کو بھی۔ یا اس کے معنی ہیں وہ شخص جو آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے اور جس کا نتیجہ نکلنے والا ہے۔ دونوں مفہوم قریب قریب ہیں۔ اس وعدے میں رسول اللہ اور مومنین کے لئے اطمینان ہے جبکہ مخالفین کے لئے دھمکی ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر جنون کا الزام لگایا تھا۔ اس جنون سے ان کی مراد یہ نہ تھی کہ آپ کی عقل چلی گئی ہے کیونکہ واقعی صورت حال اس کی تکذیب کررہی تھی بلکہ اس سے مراد لیتے تھے کہ آپ پر جنون کا اثر ہوگیا ہے اور اس میں ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ہر شاعر کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے ، جو اس پر شعر وحی کرتا ہے۔ اشارتاً وہ نبی ﷺ کی طرف اس بات کو منسوب کرتے تھے جبکہ نبی ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ، ان کا تعلق نہ شعر سے تھا اور جنون کی باتوں سے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ تسلی دیتا ہے کہ مستقبل نبی ﷺ کی حقیقت کو بھی ظاہر کردے گا اور آپ کی تکذیب کرنے والوں کی حقیقت کو بھی۔ اور معلوم ہوجائے گا کہ دونوں میں سے کون گمراہ ہے ؟ اور مزید اطمینان کے لئے کہا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ تو جانتا ہے کہ کون گمراہ ہے اور کون راہ راست پر ہے۔ یہ کلام تو وہی وحی کررہا ہے۔ لہٰذا اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ ایسی بات ہے جس کی وجہ سے آپ دشمنوں کی ہر زیادتی کو برداشت کرلیتے تھے اور اس کے نتیجے میں آپ کے دشمن پریشان ہوجاتے تھے اور آپ کی ثابت قدمی کی وجہ سے ان کے اندر قلق اور تزلزل پیدا ہوجاتا تھا ، جیسا کہ اگلی آیات میں آتا ہے۔
اگلی آیت میں آپ کو بتایا جاتا ہے کہ اندر سے ان لوگوں کا حال بہت پتلا ہے۔ ان کی سوچ اندر سے کھوکھلی ہوچکی ہے۔ بظاہر تو وہ مخاصمت کرتے ہیں ، جھگڑتے ہیں ، حق کا انکار کرتے ہیں ، آپ ہر طرح کے الزامات لگاتے ہیں ، لیکن اندر سے ان کے اندر تزلزل پیدا ہوگیا ہے۔ وہ ہل گئے ہیں اور جن عقائد پر وہ جمے ہوئے نظر آتے ہیں ، درحقیقت ان کے ایک بڑے حصے پر خود ان کو اعتماد نہیں ہے۔ یہ سودا بازی کے لئے تیار ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ کچھ آپ نرم ہوں اور کچھ یہ نرم ہوں لیکن جن لوگوں نے نظریاتی انقلاب لانا ہوتا ہے وہ تب ہی لاسکتے ہیں جب وہ اپنے اخلاقی نظریات پر جم جائیں۔ ان لوگوں کے جو عقائد ہیں یہ ان کے بارے میں کچھ زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے چند ظاہری رسول کو پکڑا ہوا ہے جن کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہیں۔ لہٰذا ان کی کوئی بات نہ مانو۔
القلم 68:8
فلا تطع .................... فیدھنون (86 : 9) ” تم جھٹلانے والوں کے دباﺅ میں ہرگز نہ آﺅ۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں “۔ دراصل اندر سے یہ لوگ سودا بازی کے لئے تیار ہیں۔ چاہتے ہیں کہ نصف نصف سودا طے ہوجائے جس طرح تاجر لوگ مول تول کرلیتے ہیں۔ لیکن ان کو معلوم ہے کہ نظریات اور تجارت میں فرق ہوتا ہے۔ ایک نظریاتی شخص اپنے عقائد اور نظریات میں کبھی سودا بازی کے لئے تیار نہیں ہوا کرتا۔ کیونکہ نظریات میں چھوٹی بات بھی بڑی بات کی طرح قیمتی ہوتی ہے بلکہ نظریات میں چھوٹی اور بڑی بات ہوتی ہی نہیں ہے۔ نظریہ ایک مکمل اکائی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی کسی کی نہ اطاعت کرتا ہے اور نہ اپنے نظریات کے کسی حصے سے دستبردار ہوتا ہے۔
اس بارے میں بیشمار روایات وارد ہیں کہ وہ کیا معاملات تھے جن پر مشرکین مکہ نبی ﷺ کے ساتھ سودا بازی کے لئے تیار تھے کہ آپ نرمی کریں تو وہ بھی کریں یہ کہہ حضور ﷺ ان کے الہوں کو برا بھلا کہنا ترک کردیں اور یہ بھی نہ کہیں کہ ان بتوں کی عبادت کرنا ایک احمقانہ فعل ہے۔ یا یہ کہ حضور اکرم کچھ باتیں ان کے دین کی مان لیں اور کچھ باتیں وہ مان لیں گے۔ یوں جمہور عرب کے سامنے ان کی لاج رہ جائے گی۔ جس طرح ہمیشہ مصالحت کرنے والوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ نصف نصف پر فیصلہ کرلیتے ہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کا رویہ تودو ٹوک تھا۔ آپ اس میں نہ مداہنت کرتے تھے اور نہ نرمی فرماتے تھے لیکن دین اسلام کے اصولوں کے علاوہ آپ تمام معاملات میں ، نہایت ہی نرم رویہ اختیار فرماتے تھے۔ معاملات میں نہایت ہی اچھے تھے ، معاشرت میں نہایت ہی خوش اخلاق تھے اور لوگوں کے ساتھ نہایت ہی اچھا رویہ رکھتے تھے۔ رہا دین کا معاملہ تو وہ خدا سے متعلق تھا۔ اور خدا کی ہدایت یہ تھی۔
فلا تطع المکذبین (86 : 8) ” لہٰذا تم ان جھٹلانے والوں کی کوئی بات نہ مانو “۔ چناچہ حضور اکرم ﷺ نے مکہ میں ایسے حالات میں بھی دین کے معاملے میں کوئی سودا بازی نہیں کی جئ کہ آپ نہایت ہی مشکل حالات میں تھے۔ آپ کی تحریک محاصرے میں تھی۔ آپ کے چند ساتھی تھے۔ ہر طرف سے ان پر مظالم ہورہے تھے۔ اچک لئے جاتے تھے۔ شدید ترین اذیتیں دی جاتی تھیں لیکن وہ صبر کرتے تھے۔ البتہ وہ بڑے سے بڑے جبار کے سامنے کلمہ توحید پڑھنے سے کبھی باز نہ آتے تھے۔ نہ وہ ان کے تالیف قلب کے لئے اور نہ ان کی اذیت سے جان چھڑانے کے لئے۔ نہ وہ کسی ایسی حقیقت کی وضاحت سے چوکتے تھے جس کا ان کے ایمان سے کوئی دور کا بھی تعلق ہوتا تھا۔
ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ابن اسحاق سے روایت کی ہے : ” رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کے سامنے اسلام کا اظہار اور علانیہ دعوت شروع کردی تو انہوں نے آپ کے دین کا کوئی رد یا جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ آپ نے ان کے الہوں کا ذکر شروع کردیا اور ان کی عبادت کو احمقانہ فعل بنایا۔ جب حضور ﷺ نے یہ کہا تو انہوں نے اسے ایک عظیم جرم سمجھا اور اس پر بہت برا منایا۔ یہ لوگ آپ کے خلاف جمع ہوگئے اور دشمنی شروع کردی۔ ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ اسلام میں لے آیا تھا۔ لیکن یہ بہت ہی قلیل اور کمزور تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب نے آپ کی حمایت کی اور آپ کا دفاع کیا ، اور آپ کے محافظ کے طور پر آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ اپنا کام کرتے رہے۔ خوب اظہار خیال کرتے رہے اور کوئی آپ کو اپنی باتوں سے روک نہ سکتا تھا۔
جب قریش کو معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ ان باتوں سے باز نہیں آتے جن کو وہ برا سمجھتے ہیں اور یہ کہ ان کی صفوں میں تفرقہ پڑگیا اور وہ بدستور ان کے الہوں پر تنقید کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ان کے چچا ان کی حمایت پر تلے ہوئے ہیں اور وہ ان کو قریش کے سپرد نہیں کرتے۔ تو قریش کے اشراف کا ایک وفد ابوطالب کے پاس گیا۔ ان میں عتبہ اور شیبہ پسران ربیعہ ، ابوسفیان ابن حرب ابن امیہ ، ابوالیحتری العاص ابن ہشام ، اسود ابن مطلب ابن اسد ، ابوجہل (اس کا نام ابوالحکم عمر ابن ہشام تھا) ، ولید ابن مغیرہ ، نبیہ اور منبہ پسران حجاج ابن عامر اور دوسرے لوگ جو ان کے ساتھ گئے تھے۔ انہوں نے کہا ابوطالب ” یہ کہ تمہارے بھتیجے نے ہمارے الہوں کو گالیاں دیں اور ہمارے دین میں عیب نکالے اور ہمارے خیالات کو احمقانہ کہا۔ ہمارے آباﺅ اجداد کو گمراہ کہا ، اب تمہارے سامنے دوراستے ہیں یا تو اسے ان باتوں سے روک دو یا ہمارے اور اس کے درمیان سے ہٹ جاﺅ، کیونکہ جس طرح ہم اس کے دین کو نہیں مانتے تم بھی نہیں مانتے۔ ہم اس کا علاج کردیں گے “۔ ابوطالب نے ان کے ساتھ نہایت ہی نرم باتیں کیں اور انہیں اچھے طریقے سے رخصت کردیا۔ یہ لوگ واپس ہوگئے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنا کار جاری رکھا۔ آپ اپنے دین کا اظہار فرماتے اور لوگوں کو اس کی طرف بلاتے۔ لیکن اس کے بعد آپ کے اور قریش کے درمیان اختلافات شدید ہوگئے۔ دشمنی میں دور تک چلے گئے اور لوگوں کی آتش عناد تیز ہوگئی اور جگہ جگہ آپ کے خلاف باتیں ہونے لگیں۔ اور لوگ آپ کے خلاف ایک دوسرے کو اکسانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھو ، اس شخص کے خلاف۔ یہ لوگ دوبارہ ابوطالب کے پاس گئے اور کہا ابو طالب تم ہم میں سب بےمعمر ہو ، عزت دار ہو ، اور شریف ہو۔ ہم نے تم سے درخواست کی تھی کہ اپنے بھتیجے کو اس کام سے روکو مگر تم نے اسے نہ روکا۔ خدا کی قسم ! ہم اس صورت حال کو برداشت نہیں کرسکتے کہ وہ ہمارے آباﺅاجداد کو گالیاں دے ، ہمارے عقائد کو احمقانہ بتلائے اور ہمارے الہوں کی عیب جوئی کرے۔ یا تو آپ اسے روکیں یا پھر اس کی حمایت سے ہاتھ اٹھالیں ورنہ ہمارے اور تمہارے درمیان جنگ ہوگی جو فریق بھی ہلاک ہوگیا۔ یا اس طرح کی سخت باتیں انہوں نے کہیں اور چلے گئے۔ ابوطالب پر قوم کے درمیان یہ جھگڑا ذرا گراں گزرا۔ اور انہوں نے پوری قوم کی عداوت کو بھاری سمجھا۔ اور یہ بھی وہ نہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو ان کے حوالے کردیں اور شرمندگی اٹھائیں۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے یعقوب ابن عتبہ ابن مغیرہ ابن اخنس نے بتایا کہ جب قریش نے ابوطالب سے یہ باتیں کیں تو انہوں نے حضرت نبی ﷺ کو بلایا۔ ان سے کہا بھتیجے ! تمہاری قوم میرے پاس آئی اور انہوں نے یہ کہا اور یہ کہا۔ اس لئے تم مجھ پر اور اپنے آپ پر ذرا رحم کرو اور مجھ پر اس قدر بوجھ نہ ڈالو جس کے اٹھانے کی مجھے طاقت نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سمجھا کہ شاید ابوطالب کی رائے اس معاملے میں بدل گئی ہے۔ اور یہ کہ آپ بھی اب ساتھ چھوڑنے والے ہیں اور مجھے قریش کے حوالے کرنے والے ہیں اور یہ کہ ابو طالب بھی اب حمایت اور نصرت سے دسکش ہورہے ہیں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا : ” چچا ! خدا کی قسم اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دیں اور یہ مطالبہ کریں کہ یہ کام چھوڑ دو تو یہ نہیں ہوسکتا ، میں یہ کام کرتارہوں گا جب تک یہ دین غالب نہیں ہوجاتا یا میں ہلاک نہیں ہوجاتا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی آواز روندھ گئی اور آپ روپڑے اور اٹھ کر چلے گئے۔ جب آپ چلے گئے تو ابو طالب نے آواز دی : بھتیجے ! ادھر آﺅ، رسول اللہ ﷺ واپس ہوئے تو انہوں نے کہا ” جاﺅ جو چاہو کرو ، خدا کی قسم میں تمہیں کسی قیمت پر ان کے حوالے نہ کروں گا “۔
یہ ہے تصویر حضور اکرم ﷺ کی کہ آپ اس وقت بھی اپنی دعوت پر جمے ہوئے تھے جبکہ آپ کے چچا محترم بھی دستکش ہونے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ جو آپ کے حامی اور محافظ تھے اور یہ آخری قلعہ تھے ، جس میں آپ اس کرہارض پر اپنے دشمنوں کے مقابلے میں پناہ لے سکتے تھے۔
یہ تو تھی ایک نہایت ہی روشن اور قوی تصویر۔ یہ اپنی نوعیت اور حقیقت کے اعتبار سے بالکل ایک انوکھی تصویر تھی۔ اس کا رنگ اور پر تو سب ہی انوکھے تھے۔ اس کی عبارت اور مکالمات بھی اپنی نوعیت کے تھے۔ نہایت نئے اور سنجیدہ موقف کی ایک تصویر اس طرح روشن ، جس طرح یہ عقیدہ روشن ہے۔ اور اس میں سرٹیفکیٹ اور شہادت کا مصادق اور مفہوم موجود۔
وانک .................... عظیم (86 : 4) ” اور بیشک آپ عظیم اخلاق کے نہایت ہی بلند مرتبے پر ہیں “۔ اور ان اخلاق عالیہ کی ایک دوسری تصویر بھی خود ابن اسحاق نے نقل کی ہے۔ کہتے ہیں روایت بیان کی یزید ابن اسحاق نے ، محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا گیا کہ عتبہ ابن ربیعہ ایک سردار تھا۔ یہ ایک دن قریش کی ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اس نے تجویز پیش کی ، جبکہ حضور اکرم ﷺ مسجد حرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے ، کیا مناسب نہیں ہے کہ میں محمد ﷺ سے بات کروں اور ان کے سامنے کچھ باتیں رکھوں شاید وہ اسے قبول کرلیں۔ اس طرح کہ ان کے جو مطالبات ہوں ہم انہیں دے دیں اور وہ ہمارے خداﺅں سے باز آجائیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ اسلام قبول کرچکے تھے اور قریش نے دیکھ لیا تھا کہ حضور ﷺ کے حامیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا : ابو الولید جاﺅ اور ان سے بات کرو ، عتبہ اٹھا اور آیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے کہا بھتیجے ! ہمارے اندر تمہاری جو حیثیت ہے ، وہ تم جانتے ہو۔ تمہارا بہت اونچا درجہ ہے اور تمہارا نسب بھی بہت اونچا ہے اور تم نے اپنی قوم کو ایک بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ جماعت کے اندر تفریق پیدا ہوگئی ہے۔ تم نے ہمارے نظریات کا مذاق اڑایا ہے ، ہمارے دین اور الہوں پر تنقید کی ہے اور تم نے ہمارے آباﺅ اجداد کو کافر کہا۔ تم میری بات سنو ۔ میں تمہارے سامنے کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ تم ان پر غور کرو گے۔ شاید ان میں سے بعض کو تم منظور کرلو۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ابوالولید کہو۔ میں سنتا ہوں “ اس نے کہا : ” بھتیجے ! تم جو دین پیش کرتے ہو اگر اس سے تمہارا مقصد بہت زیادہ مال جمع کرنا ہے ، تو ہم تمہارے لئے اس قدر مال جمع کرتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہوجاﺅ گے۔ اور اگر تم اونچا مقام چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا سردار بناتے ہیں ، ہم تمہارے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں گے۔ اگر تم بادشاہت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں۔ اور اگر تم پر کوئی دورہ پڑتا ہے جس کا دفعیہ تم نہیں کرسکتے تو ہم تمہارے علاج کا انتظام کرتے ہیں۔ اس پر ہم سے جو ہوسکا ، خرچ کریں گے یہاں تک کہ تم تندرست ہوجاﺅ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی چیز لگ جاتی ہے اور اس کو اس کا علاج کرنا پڑتا ہے “۔ یہ اور ایسی اور باتیں جو اس نے کیں۔ عتبہ ان باتوں سے فارغ ہوا اور رسول اللہ یہ باتیں سنتے رہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا : ابو الولید تم کہہ چکے ؟ اس نے کہا : ” ہاں “۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا اب میری بات سنو۔ اس نے کہا : ہاں ” کہو “۔ اس پر حضور ﷺ نے پڑھنا شروع کیا :
حٰم ................................ ویل للمشرکین (6) (14 : 1 تا 6) ” ح م۔ یہ خدائے رحمن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے ، ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ عربی زبان کا قرآن ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے۔ کہتے ہیں ” جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لئے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے تو اپنا کام کر ہم اپنا کام کیے جائیں گے “۔ اے نبی ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے ، لہٰذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو۔ اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے مشرکوں کے لئے ....“
حضور ﷺ اس کے بعد بھی سورة حم سجدہ پڑھتے رہے۔ جب عتبہ نے اسے سنا تو خاموش ہوگیا اور اپنے ہاتھ پشت کے پیچھے زمین پر لگا کر ٹیک لی اور سنتا رہا۔ اب رسول اللہ ﷺ سجدہ تک پہنچ گئے اور آپ نے سجدہ کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا ابو الولید تم نے سنا جو سنا بس یہ ہے جواب تم جانو اور تمہارا کام “۔ عتبہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا ۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ” ہم خدا کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ یہ شخص جو چہرہ لے کر گیا تھا اس کے ساتھ واپس نہیں آیا۔ جب یہ جاکر ان کی محفل میں بیٹھا تو انہوں نے پوچھا ابوالولید کیا خبر لائے ہو ؟ تو اس نے کہا خبر یہ ہے کہ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے خدا کی قسم میں نے ایسا کوئی کلام کبھی نہیں سنا۔ یہ نہ تو شعر ہے نہ جادو ہے ، نہ کہانت ہے۔ اے اہل قریش میری بات مانوں اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، یہ شخص جو کچھ کرنا چاہتا ہے اسے کرنے دو اور اس کی راہ نہ روکو۔ اس کو الگ چھوڑ دو ، خدا کی قسم اس کی جو بات میں نے سنی ہے اس کی شہ سرخی لگنے والی ہے۔ اگر اس کو عربوں نے ختم کردیا تو تمہارا کام وہ کردیں گے اور تمہیں اسے مارنے کی ضرورت نہ ہوگی اور اگر یہ عربوں پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی۔ اور تم اس کی وجہ سے نہایت ہی نیک بخت ہوگئے ، انہوں نے کہا ابوالولید خدا کی قسم اس نے اپنی زبان سے تمہیں مسحور کردیا۔ اس نے کہا : اس کے بارے میں یہ میری حقیقی رائے ہے۔ اب تمہاری مرضی ہے جو چاہو کرتے رہو۔
دوسری روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو کلام الٰہی سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے۔
فان ........................ وثمود (14 : 31) ” اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اس طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا تھا “ تو ابوالولید خوفزدہ ہکر اٹھا اور آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا : ” محمد (ﷺ ) میں تمہیں خدا کا اور رحم کا واسطہ دیتا ہوں “۔ یہ اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں فی الواقع یہ عذاب نازل نہ ہوجائے۔ اس کے بعد وہ قوم کے پاس گیا اور ان سے وہ بات کہی جس کا اوپرتذکرہ ہوا۔
بہرحال یہ قریش کی طرف سے سودے بازی کی دوسری کوشش تھی۔ یہ بھی حضور اکرم ﷺ کی خلق عظیم کی ایک تصویر ہے۔ اس سے آپ کے آداب اچھی طرح معلوم ہوتے ہیں کہ آپ عتبہ کی بات نہایت تحمل سے سنتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجاتا ہے حالانکہ اس کی باتیں نہایت بےمعنی ہیں۔ ان باتوں کا تعلق صرف اس زمین سے ہے۔ لیکن آپ کے اخلاق کریمانہ تھے کہ آپ نہ اس کی بات کاٹتے ہیں نہ جلدی کرتے ہیں اور نہ غصے میں آتے ہیں اور اس کو جھڑکتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ شخص اپنی بیہودہ باتوں سے فارغ ہوجاتا ہے اور آپ پوری توجہ سے سنتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نہایت نرمی سے پوچھتے ہیں۔ ابوالولید آپ کی بات ختم ہوئی ، اور یہ تاکید مزید کے لئے کہ وہ یہ نہ کہے کہ میری بات رہتی ہے۔ یہ ہے سچا اطمینان ، اور حقیقی ادب کہ آپ پوری پوری بات سنتے ہیں۔ یہ بھی آپ کے خلق عظیم کا ایک پہلو ہے۔ بیہودہ باتیں بھی تحمل سے سنتے ہیں۔
اور ایک تیسری سودا بازی بھی مروی ہے۔ ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے کہ اسود ابن المطلب ابن اسد ابن عبدالعزی ، ولید ابن مغیرہ ، امیہ ابن خلف اور عاص ابن وائل سہمی نے آپ کو روکا اور یہ لوگ اپنے قبائل میں نہایت معتبر لوگ تھے۔ انہوں نے کہا : ” محمد ﷺ ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کو تم کرتے ہو ، اور تم ان الہوں کی عبادت کرو جن کی ہم کرتے ہیں۔ ہم اور تم شریک ہوجائیں گے۔ اگر جس خدا کی تم عبادت کرتے ہو وہ اچھا ہوا تو ہمارا بھی اس میں حصہ ہوگا اور ہم جن کی عبادت کرتے ہیں اگر وہ اچھے ہوئے تو تم نے بھی اپنا حصہ اس بھلائی سے لیا ہوگا۔ ان کے بارے میں اللہ نے یہ سورت نازل کی۔
قل یایھا الکفرون ................ تعبدون (901 : 2) ” اے کافرو ! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم کرتے ہو “۔ اس سودا بازی کو دو ٹوک انداز میں ختم کردیا گیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ سورت سنا دی جس طرح اللہ کا حکم تھا۔
القلم 68:9
فلا تطع .................... فیدھنون (86 : 9) ” تم جھٹلانے والوں کے دباﺅ میں ہرگز نہ آﺅ۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں “۔ دراصل اندر سے یہ لوگ سودا بازی کے لئے تیار ہیں۔ چاہتے ہیں کہ نصف نصف سودا طے ہوجائے جس طرح تاجر لوگ مول تول کرلیتے ہیں۔ لیکن ان کو معلوم ہے کہ نظریات اور تجارت میں فرق ہوتا ہے۔ ایک نظریاتی شخص اپنے عقائد اور نظریات میں کبھی سودا بازی کے لئے تیار نہیں ہوا کرتا۔ کیونکہ نظریات میں چھوٹی بات بھی بڑی بات کی طرح قیمتی ہوتی ہے بلکہ نظریات میں چھوٹی اور بڑی بات ہوتی ہی نہیں ہے۔ نظریہ ایک مکمل اکائی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی کسی کی نہ اطاعت کرتا ہے اور نہ اپنے نظریات کے کسی حصے سے دستبردار ہوتا ہے۔
اس بارے میں بیشمار روایات وارد ہیں کہ وہ کیا معاملات تھے جن پر مشرکین مکہ نبی ﷺ کے ساتھ سودا بازی کے لئے تیار تھے کہ آپ نرمی کریں تو وہ بھی کریں یہ کہہ حضور ﷺ ان کے الہوں کو برا بھلا کہنا ترک کردیں اور یہ بھی نہ کہیں کہ ان بتوں کی عبادت کرنا ایک احمقانہ فعل ہے۔ یا یہ کہ حضور اکرم کچھ باتیں ان کے دین کی مان لیں اور کچھ باتیں وہ مان لیں گے۔ یوں جمہور عرب کے سامنے ان کی لاج رہ جائے گی۔ جس طرح ہمیشہ مصالحت کرنے والوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ نصف نصف پر فیصلہ کرلیتے ہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کا رویہ تودو ٹوک تھا۔ آپ اس میں نہ مداہنت کرتے تھے اور نہ نرمی فرماتے تھے لیکن دین اسلام کے اصولوں کے علاوہ آپ تمام معاملات میں ، نہایت ہی نرم رویہ اختیار فرماتے تھے۔ معاملات میں نہایت ہی اچھے تھے ، معاشرت میں نہایت ہی خوش اخلاق تھے اور لوگوں کے ساتھ نہایت ہی اچھا رویہ رکھتے تھے۔ رہا دین کا معاملہ تو وہ خدا سے متعلق تھا۔ اور خدا کی ہدایت یہ تھی۔
فلا تطع المکذبین (86 : 8) ” لہٰذا تم ان جھٹلانے والوں کی کوئی بات نہ مانو “۔ چناچہ حضور اکرم ﷺ نے مکہ میں ایسے حالات میں بھی دین کے معاملے میں کوئی سودا بازی نہیں کی جئ کہ آپ نہایت ہی مشکل حالات میں تھے۔ آپ کی تحریک محاصرے میں تھی۔ آپ کے چند ساتھی تھے۔ ہر طرف سے ان پر مظالم ہورہے تھے۔ اچک لئے جاتے تھے۔ شدید ترین اذیتیں دی جاتی تھیں لیکن وہ صبر کرتے تھے۔ البتہ وہ بڑے سے بڑے جبار کے سامنے کلمہ توحید پڑھنے سے کبھی باز نہ آتے تھے۔ نہ وہ ان کے تالیف قلب کے لئے اور نہ ان کی اذیت سے جان چھڑانے کے لئے۔ نہ وہ کسی ایسی حقیقت کی وضاحت سے چوکتے تھے جس کا ان کے ایمان سے کوئی دور کا بھی تعلق ہوتا تھا۔
ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ابن اسحاق سے روایت کی ہے : ” رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کے سامنے اسلام کا اظہار اور علانیہ دعوت شروع کردی تو انہوں نے آپ کے دین کا کوئی رد یا جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ آپ نے ان کے الہوں کا ذکر شروع کردیا اور ان کی عبادت کو احمقانہ فعل بنایا۔ جب حضور ﷺ نے یہ کہا تو انہوں نے اسے ایک عظیم جرم سمجھا اور اس پر بہت برا منایا۔ یہ لوگ آپ کے خلاف جمع ہوگئے اور دشمنی شروع کردی۔ ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ اسلام میں لے آیا تھا۔ لیکن یہ بہت ہی قلیل اور کمزور تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب نے آپ کی حمایت کی اور آپ کا دفاع کیا ، اور آپ کے محافظ کے طور پر آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ اپنا کام کرتے رہے۔ خوب اظہار خیال کرتے رہے اور کوئی آپ کو اپنی باتوں سے روک نہ سکتا تھا۔
جب قریش کو معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ ان باتوں سے باز نہیں آتے جن کو وہ برا سمجھتے ہیں اور یہ کہ ان کی صفوں میں تفرقہ پڑگیا اور وہ بدستور ان کے الہوں پر تنقید کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ان کے چچا ان کی حمایت پر تلے ہوئے ہیں اور وہ ان کو قریش کے سپرد نہیں کرتے۔ تو قریش کے اشراف کا ایک وفد ابوطالب کے پاس گیا۔ ان میں عتبہ اور شیبہ پسران ربیعہ ، ابوسفیان ابن حرب ابن امیہ ، ابوالیحتری العاص ابن ہشام ، اسود ابن مطلب ابن اسد ، ابوجہل (اس کا نام ابوالحکم عمر ابن ہشام تھا) ، ولید ابن مغیرہ ، نبیہ اور منبہ پسران حجاج ابن عامر اور دوسرے لوگ جو ان کے ساتھ گئے تھے۔ انہوں نے کہا ابوطالب ” یہ کہ تمہارے بھتیجے نے ہمارے الہوں کو گالیاں دیں اور ہمارے دین میں عیب نکالے اور ہمارے خیالات کو احمقانہ کہا۔ ہمارے آباﺅ اجداد کو گمراہ کہا ، اب تمہارے سامنے دوراستے ہیں یا تو اسے ان باتوں سے روک دو یا ہمارے اور اس کے درمیان سے ہٹ جاﺅ، کیونکہ جس طرح ہم اس کے دین کو نہیں مانتے تم بھی نہیں مانتے۔ ہم اس کا علاج کردیں گے “۔ ابوطالب نے ان کے ساتھ نہایت ہی نرم باتیں کیں اور انہیں اچھے طریقے سے رخصت کردیا۔ یہ لوگ واپس ہوگئے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنا کار جاری رکھا۔ آپ اپنے دین کا اظہار فرماتے اور لوگوں کو اس کی طرف بلاتے۔ لیکن اس کے بعد آپ کے اور قریش کے درمیان اختلافات شدید ہوگئے۔ دشمنی میں دور تک چلے گئے اور لوگوں کی آتش عناد تیز ہوگئی اور جگہ جگہ آپ کے خلاف باتیں ہونے لگیں۔ اور لوگ آپ کے خلاف ایک دوسرے کو اکسانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھو ، اس شخص کے خلاف۔ یہ لوگ دوبارہ ابوطالب کے پاس گئے اور کہا ابو طالب تم ہم میں سب بےمعمر ہو ، عزت دار ہو ، اور شریف ہو۔ ہم نے تم سے درخواست کی تھی کہ اپنے بھتیجے کو اس کام سے روکو مگر تم نے اسے نہ روکا۔ خدا کی قسم ! ہم اس صورت حال کو برداشت نہیں کرسکتے کہ وہ ہمارے آباﺅاجداد کو گالیاں دے ، ہمارے عقائد کو احمقانہ بتلائے اور ہمارے الہوں کی عیب جوئی کرے۔ یا تو آپ اسے روکیں یا پھر اس کی حمایت سے ہاتھ اٹھالیں ورنہ ہمارے اور تمہارے درمیان جنگ ہوگی جو فریق بھی ہلاک ہوگیا۔ یا اس طرح کی سخت باتیں انہوں نے کہیں اور چلے گئے۔ ابوطالب پر قوم کے درمیان یہ جھگڑا ذرا گراں گزرا۔ اور انہوں نے پوری قوم کی عداوت کو بھاری سمجھا۔ اور یہ بھی وہ نہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو ان کے حوالے کردیں اور شرمندگی اٹھائیں۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے یعقوب ابن عتبہ ابن مغیرہ ابن اخنس نے بتایا کہ جب قریش نے ابوطالب سے یہ باتیں کیں تو انہوں نے حضرت نبی ﷺ کو بلایا۔ ان سے کہا بھتیجے ! تمہاری قوم میرے پاس آئی اور انہوں نے یہ کہا اور یہ کہا۔ اس لئے تم مجھ پر اور اپنے آپ پر ذرا رحم کرو اور مجھ پر اس قدر بوجھ نہ ڈالو جس کے اٹھانے کی مجھے طاقت نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سمجھا کہ شاید ابوطالب کی رائے اس معاملے میں بدل گئی ہے۔ اور یہ کہ آپ بھی اب ساتھ چھوڑنے والے ہیں اور مجھے قریش کے حوالے کرنے والے ہیں اور یہ کہ ابو طالب بھی اب حمایت اور نصرت سے دسکش ہورہے ہیں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا : ” چچا ! خدا کی قسم اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دیں اور یہ مطالبہ کریں کہ یہ کام چھوڑ دو تو یہ نہیں ہوسکتا ، میں یہ کام کرتارہوں گا جب تک یہ دین غالب نہیں ہوجاتا یا میں ہلاک نہیں ہوجاتا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی آواز روندھ گئی اور آپ روپڑے اور اٹھ کر چلے گئے۔ جب آپ چلے گئے تو ابو طالب نے آواز دی : بھتیجے ! ادھر آﺅ، رسول اللہ ﷺ واپس ہوئے تو انہوں نے کہا ” جاﺅ جو چاہو کرو ، خدا کی قسم میں تمہیں کسی قیمت پر ان کے حوالے نہ کروں گا “۔
یہ ہے تصویر حضور اکرم ﷺ کی کہ آپ اس وقت بھی اپنی دعوت پر جمے ہوئے تھے جبکہ آپ کے چچا محترم بھی دستکش ہونے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ جو آپ کے حامی اور محافظ تھے اور یہ آخری قلعہ تھے ، جس میں آپ اس کرہارض پر اپنے دشمنوں کے مقابلے میں پناہ لے سکتے تھے۔
یہ تو تھی ایک نہایت ہی روشن اور قوی تصویر۔ یہ اپنی نوعیت اور حقیقت کے اعتبار سے بالکل ایک انوکھی تصویر تھی۔ اس کا رنگ اور پر تو سب ہی انوکھے تھے۔ اس کی عبارت اور مکالمات بھی اپنی نوعیت کے تھے۔ نہایت نئے اور سنجیدہ موقف کی ایک تصویر اس طرح روشن ، جس طرح یہ عقیدہ روشن ہے۔ اور اس میں سرٹیفکیٹ اور شہادت کا مصادق اور مفہوم موجود۔
وانک .................... عظیم (86 : 4) ” اور بیشک آپ عظیم اخلاق کے نہایت ہی بلند مرتبے پر ہیں “۔ اور ان اخلاق عالیہ کی ایک دوسری تصویر بھی خود ابن اسحاق نے نقل کی ہے۔ کہتے ہیں روایت بیان کی یزید ابن اسحاق نے ، محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا گیا کہ عتبہ ابن ربیعہ ایک سردار تھا۔ یہ ایک دن قریش کی ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اس نے تجویز پیش کی ، جبکہ حضور اکرم ﷺ مسجد حرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے ، کیا مناسب نہیں ہے کہ میں محمد ﷺ سے بات کروں اور ان کے سامنے کچھ باتیں رکھوں شاید وہ اسے قبول کرلیں۔ اس طرح کہ ان کے جو مطالبات ہوں ہم انہیں دے دیں اور وہ ہمارے خداﺅں سے باز آجائیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ اسلام قبول کرچکے تھے اور قریش نے دیکھ لیا تھا کہ حضور ﷺ کے حامیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا : ابو الولید جاﺅ اور ان سے بات کرو ، عتبہ اٹھا اور آیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے کہا بھتیجے ! ہمارے اندر تمہاری جو حیثیت ہے ، وہ تم جانتے ہو۔ تمہارا بہت اونچا درجہ ہے اور تمہارا نسب بھی بہت اونچا ہے اور تم نے اپنی قوم کو ایک بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ جماعت کے اندر تفریق پیدا ہوگئی ہے۔ تم نے ہمارے نظریات کا مذاق اڑایا ہے ، ہمارے دین اور الہوں پر تنقید کی ہے اور تم نے ہمارے آباﺅ اجداد کو کافر کہا۔ تم میری بات سنو ۔ میں تمہارے سامنے کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ تم ان پر غور کرو گے۔ شاید ان میں سے بعض کو تم منظور کرلو۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ابوالولید کہو۔ میں سنتا ہوں “ اس نے کہا : ” بھتیجے ! تم جو دین پیش کرتے ہو اگر اس سے تمہارا مقصد بہت زیادہ مال جمع کرنا ہے ، تو ہم تمہارے لئے اس قدر مال جمع کرتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہوجاﺅ گے۔ اور اگر تم اونچا مقام چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا سردار بناتے ہیں ، ہم تمہارے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں گے۔ اگر تم بادشاہت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں۔ اور اگر تم پر کوئی دورہ پڑتا ہے جس کا دفعیہ تم نہیں کرسکتے تو ہم تمہارے علاج کا انتظام کرتے ہیں۔ اس پر ہم سے جو ہوسکا ، خرچ کریں گے یہاں تک کہ تم تندرست ہوجاﺅ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی چیز لگ جاتی ہے اور اس کو اس کا علاج کرنا پڑتا ہے “۔ یہ اور ایسی اور باتیں جو اس نے کیں۔ عتبہ ان باتوں سے فارغ ہوا اور رسول اللہ یہ باتیں سنتے رہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا : ابو الولید تم کہہ چکے ؟ اس نے کہا : ” ہاں “۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا اب میری بات سنو۔ اس نے کہا : ہاں ” کہو “۔ اس پر حضور ﷺ نے پڑھنا شروع کیا :
حٰم ................................ ویل للمشرکین (6) (14 : 1 تا 6) ” ح م۔ یہ خدائے رحمن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے ، ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ عربی زبان کا قرآن ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے۔ کہتے ہیں ” جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لئے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے تو اپنا کام کر ہم اپنا کام کیے جائیں گے “۔ اے نبی ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے ، لہٰذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو۔ اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے مشرکوں کے لئے ....“
حضور ﷺ اس کے بعد بھی سورة حم سجدہ پڑھتے رہے۔ جب عتبہ نے اسے سنا تو خاموش ہوگیا اور اپنے ہاتھ پشت کے پیچھے زمین پر لگا کر ٹیک لی اور سنتا رہا۔ اب رسول اللہ ﷺ سجدہ تک پہنچ گئے اور آپ نے سجدہ کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا ابو الولید تم نے سنا جو سنا بس یہ ہے جواب تم جانو اور تمہارا کام “۔ عتبہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا ۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ” ہم خدا کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ یہ شخص جو چہرہ لے کر گیا تھا اس کے ساتھ واپس نہیں آیا۔ جب یہ جاکر ان کی محفل میں بیٹھا تو انہوں نے پوچھا ابوالولید کیا خبر لائے ہو ؟ تو اس نے کہا خبر یہ ہے کہ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے خدا کی قسم میں نے ایسا کوئی کلام کبھی نہیں سنا۔ یہ نہ تو شعر ہے نہ جادو ہے ، نہ کہانت ہے۔ اے اہل قریش میری بات مانوں اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، یہ شخص جو کچھ کرنا چاہتا ہے اسے کرنے دو اور اس کی راہ نہ روکو۔ اس کو الگ چھوڑ دو ، خدا کی قسم اس کی جو بات میں نے سنی ہے اس کی شہ سرخی لگنے والی ہے۔ اگر اس کو عربوں نے ختم کردیا تو تمہارا کام وہ کردیں گے اور تمہیں اسے مارنے کی ضرورت نہ ہوگی اور اگر یہ عربوں پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی۔ اور تم اس کی وجہ سے نہایت ہی نیک بخت ہوگئے ، انہوں نے کہا ابوالولید خدا کی قسم اس نے اپنی زبان سے تمہیں مسحور کردیا۔ اس نے کہا : اس کے بارے میں یہ میری حقیقی رائے ہے۔ اب تمہاری مرضی ہے جو چاہو کرتے رہو۔
دوسری روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو کلام الٰہی سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے۔
فان ........................ وثمود (14 : 31) ” اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اس طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا تھا “ تو ابوالولید خوفزدہ ہکر اٹھا اور آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا : ” محمد (ﷺ ) میں تمہیں خدا کا اور رحم کا واسطہ دیتا ہوں “۔ یہ اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں فی الواقع یہ عذاب نازل نہ ہوجائے۔ اس کے بعد وہ قوم کے پاس گیا اور ان سے وہ بات کہی جس کا اوپرتذکرہ ہوا۔
بہرحال یہ قریش کی طرف سے سودے بازی کی دوسری کوشش تھی۔ یہ بھی حضور اکرم ﷺ کی خلق عظیم کی ایک تصویر ہے۔ اس سے آپ کے آداب اچھی طرح معلوم ہوتے ہیں کہ آپ عتبہ کی بات نہایت تحمل سے سنتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجاتا ہے حالانکہ اس کی باتیں نہایت بےمعنی ہیں۔ ان باتوں کا تعلق صرف اس زمین سے ہے۔ لیکن آپ کے اخلاق کریمانہ تھے کہ آپ نہ اس کی بات کاٹتے ہیں نہ جلدی کرتے ہیں اور نہ غصے میں آتے ہیں اور اس کو جھڑکتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ شخص اپنی بیہودہ باتوں سے فارغ ہوجاتا ہے اور آپ پوری توجہ سے سنتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نہایت نرمی سے پوچھتے ہیں۔ ابوالولید آپ کی بات ختم ہوئی ، اور یہ تاکید مزید کے لئے کہ وہ یہ نہ کہے کہ میری بات رہتی ہے۔ یہ ہے سچا اطمینان ، اور حقیقی ادب کہ آپ پوری پوری بات سنتے ہیں۔ یہ بھی آپ کے خلق عظیم کا ایک پہلو ہے۔ بیہودہ باتیں بھی تحمل سے سنتے ہیں۔
اور ایک تیسری سودا بازی بھی مروی ہے۔ ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے کہ اسود ابن المطلب ابن اسد ابن عبدالعزی ، ولید ابن مغیرہ ، امیہ ابن خلف اور عاص ابن وائل سہمی نے آپ کو روکا اور یہ لوگ اپنے قبائل میں نہایت معتبر لوگ تھے۔ انہوں نے کہا : ” محمد ﷺ ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کو تم کرتے ہو ، اور تم ان الہوں کی عبادت کرو جن کی ہم کرتے ہیں۔ ہم اور تم شریک ہوجائیں گے۔ اگر جس خدا کی تم عبادت کرتے ہو وہ اچھا ہوا تو ہمارا بھی اس میں حصہ ہوگا اور ہم جن کی عبادت کرتے ہیں اگر وہ اچھے ہوئے تو تم نے بھی اپنا حصہ اس بھلائی سے لیا ہوگا۔ ان کے بارے میں اللہ نے یہ سورت نازل کی۔
قل یایھا الکفرون ................ تعبدون (901 : 2) ” اے کافرو ! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم کرتے ہو “۔ اس سودا بازی کو دو ٹوک انداز میں ختم کردیا گیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ سورت سنا دی جس طرح اللہ کا حکم تھا۔
القلم 68:10
اب رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک متعین شخص بڑاچرب زبان ہے ، اس کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا نام نہیں لیا ، لیکن اس کی تمام گھٹیا صفات کو گنوادیا گیا ، جو اس شخص کے اندر پائی جاتی تھیں۔ اس شخص کو نہایت ذلت اور حقارت کے ساتھ دھمکی دی جاتی ہے :
ولا تطع .................... الخرطوم (61) (86 : 01 تا 61) ” ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے ، جفاکار ہے اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے ، اس بنا پر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے۔ جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے “۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ولید ابن مغیرہ ہے ، اور اسی کے بارے میں سورة مدثر کی یہ آیات بھی نازل ہوئیں :
ذرنی ................................ ساصلیہ سقر (62) (47 : 11 تا 62) ” چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ، بہت سا مال اس کو دیا ، اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے اس کو دیئے ، اور اس کے لئے ریاست کی راہ ہموار کی ، پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ہرگز نہیں ، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے۔ میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواﺅں گا۔ اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی ۔ ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بتانے کی کوشش کی۔ پھر لوگوں کی طرف دیکھا۔ پھر پیشانی سکیڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔ آخر کار بولا یہ کچھ نہیں ، مگر ایک جادو ، جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یہ تو ایک انسانی کالم ہے۔ عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا “۔
اس شخص کے بارے میں بہت سی روایات میں آتا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہر وقت سازشوں میں لگا رہتا تھا۔ آپ کے ساتھیوں کو ڈراتا تھا۔ دعوت اسلامی کی راہ روکتا تھا۔ اور رات دن لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتا تھا۔ نیز بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ سورة القلم کی آیات انفنس ابن شریق اور ولید بن مغیرہ کے بارے میں ہیں۔ یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے سخت مخالف تھے۔ یہ ہر وقت آپ سے برسرپیکار رہتے تھے۔ اور لوگوں کو آپ کے خلاف اکساتے تھے۔
یہ سخت تہدیدی جملہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں جو اس دور میں نازل ہوئیں ، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور میں حالات بہت شدید تھے اور یہ شخص جو مسلمانوں اور تحریک اسلامی کے خلاف سرگرم تھا ، خواہ ولید تھا یا انس تھا (پہلا قول راجح ہے) تحریک اسلامی کی راہ روکنے میں اس کا بہت بڑا دخل تھا۔ نیز ان تنقیدی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بہت بدفطرت شخص تھا اور اس کے نفس میں بھلائی کی کوئی رمق نہ تھی۔
یہ کس قسم کا آدمی تھا ، قرآن نے اس کی 9 صفات بیان کی ہیں اور سب کی سب مذموم صفات ہیں :
1۔ حلاف (86 : 01) (بہت قسمیں کھانے والا) زیادہ قسمیں وہی اٹھاتا ہے جو سچا نہیں ہوتا ، اس کے شعور میں یہ بات ہوتی ہے کہ لوگ اس پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ شخص قسمیں اٹھاتا ہے اور بہت زیادہ قسمیں اٹھا کر اپنے جھوٹ کو چھپاتا ہے اور اس طرح لوگوں کا اعتماد حاصل کرتا ہے۔
2۔ مھین (86 : 01) (بےوقعت) اپنی نظروں میں خود ہلکا ، لوگوں کی نظروں میں ناقابل اعتبار۔ زیادہ قسمیں اٹھانے کی ضرورت ہی اسے اس لئے پیش آتی ہے کہ وہ ہلکا ہے۔ خود اسے اپنے اوپر اعتماد نہیں۔ نہ لوگوں کو ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ دولتمند ہے ، جتھے دار ہے۔ لہٰذا ایک بادشاہ ، ایک مالدار اور ایک قوی اور جبار شخص بھی ہلکا ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ اہانت اور عزت دونوں نفسیاتی صفات ہیں۔ یہ کبھی انسانی شخصیت سے دور نہیں ہوتیں۔ ایک شریف انسان باوزن ہوتا ہے۔ اگرچہ دنیا کے دوسرے پہلوﺅں سے وہ کوئی بڑا آدمی نہ ہو۔
3۔ ھماز (86 : 11) (طعنے دینے والا) یہ شخص اقوال واشارات سے لوگوں کے عیب بیان کرتا ہے ، ان کے سامنے بھی اور ان کے پس پشت بھی۔ ایسے شخص کو اسلام بہت برا خیال کرتا ہے جو لوگوں کے عیب نکالتا ہے۔ یہ بات مروت کے خلاف ہے۔ اعلیٰ آداب کے بھی خلاف ہے ، نیز لوگوں کے ساتھ برتاﺅ لوگوں کے اکرام کے خلاف ہے ، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے ہوں۔ اس صفت کو قرآن کریم نے متعدد مقامات میں لیا ہے۔ اور اس کی سخت ممانعت کی ہے۔
ایک جگہ کہا گیا۔ ویل ................ لمزة (401 : 1) ” تباہی ہے ہر اس شخص کے لئے جو لوگوں پر طعن کرے اور برائیاں کرنے کا خوگر ہو “۔ اور دوسری جگہ ہے۔
یایھا الذین ............................ الایمان (94 : 11) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو نہ مرددوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ، ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے “۔ یہ سب بدخونی اور چغل خوری کی اقسام ہیں۔
4۔ مشاء بنمیم (86 : 11) (چغلیاں کھاتا پھرتا ہے) وہ لوگوں کے درمیان ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن سے ان کے دل میلے ہوں ، تعلقات ختم ہوں ، محبت ختم ہو ، یہ ایک ذلیل حرکت ہے اور ہلکے لوگ ایسا کام کیا کرتے ہیں۔ کوئی خوددار شخص اس قسم کی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا کرتا جو یہ توقع کرتا ہو کہ لوگ اسے اچھی نظروں سے دیکھیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اس قسم کے شخص کی باتیں سنتے ہیں وہ بھی اسے اچھا نہیں سمجھتے۔ دل سے یہ لوگ بھی اسے برا سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ کاش یہ شخص یہ بری بات انہیں نہ بتاتا۔
حضور اکرم ﷺ اس بات کو پسند نہ فرماتے تھے کہ آپ کو ایسی بات بتائی جائے جس سے آپ کا دل اپنے کسی صحابی سے خفا ہو۔ آپ فرماتے : ” کوئی شخص مجھے میرے ساتھی کی ایسی بات نہ بتائے کیونکہ میں پسند کرتا ہوں کہ میں تمہارے پاس نکلوں اور میرا دل تمہارے بارے میں صاف ہو “۔ (ابوداﺅ وغیرہ) صحیحین میں ہے : ” رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا یہ دونوں عذاب میں مبتلا ہیں اور یہ کسی بڑے جرم میں سزاوار نہیں ہیں۔ ایک تو اس لئے کہ یہ پیشاب سے اپنے آپ کو بچاتا نہ تھا اور دوسرا چغل خور تھا “۔
امام احمد نے حضرت حذیفہ کی یہ حدیث نقل کی ہے ” جنت میں چغلی کھانے والا داخل نہ ہوگا “۔ (ابن ماجہ)
امام احمد نے بریدہ ابن الحکم کی روایت نقل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا بتاﺅں میں کہ تم میں سے اچھا کون ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ ! ” وہ لوگ جب ان کو دیکھا جائے تو خدا یاد آجائے “۔ پھر فرمایا کہ بتاﺅں کہ برے لوگ کون ہیں ؟ “۔ وہ جو چغلی کھاتے ہیں ، جو دوستوں کے درمیان دشمنی پیدا کرتے ہیں جو پاک دامن لوگوں میں ، عیب تلاش کرتے ہیں “۔
اسلام کے لئے اس قسم کی بری خصلت کی مذمت بہت ضروری تھی ، کیونکہ یہ خصلت مذموم ، گری ہوئی اور سوسائٹی میں فساد ڈالنے والی ہے ، جس طرح دوستوں میں فساد پیدا کرتی ہے اور اس قسم کے شخص کو ننگا کرنا ضروری تھا ، قبل اس کے کہ وہ اسلامی سوسائٹی کے اندر فساد پیدا کردے ، لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے بھر دے ، اور قبل اس سے کہ وہ سوسائٹی کی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔ ایسے لوگ اکثر اوقات بےگناہ لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
5۔ مناع للخیر (86 : 21) (بھلائی سے روکنے والا) یعنی وہ بھلائی سے اپنے آپ کو بھی محروم کرتا ہے اور دوسروں کو بھی۔ یہ شخص لوگوں کو ایمان روکتا تھا ، حالانکہ ایمان بھلائی کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ اس شخص کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ شخص اپنی اولاد اور اہل خاندان سے کہا کرتا تھا : ” اگر تم میں سے کسی نے دین محمد کو قبول کیا تو میں اسے کبھی بھی نفع نہ پہنچاﺅں گا “۔ جس کے بارے میں اسے شک ہوتا کہ وہ دین اسلام کی طرف مائل ہے۔ یوں ان کو وہ اس طرح دھمکی دے کر ڈراتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس کی اس حرکت کو بھی ریکارڈ کردیا کہ وہ بھلائی سے روکنے والا ہے۔
6۔ معتد (86 : 21) (ظلم و زیادتی میں حد سے گزرنے والا ہے) حق اور عدل سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ نبی ﷺ پر یہ شخص تعدی کرتا ، مسلمانوں پر ظلم کرتا ، اپنے خاندان والوں پر ظلم کرتا ، اور ان کو ہدایت اور دین حق سے روکتا۔ کسی پر ظلم کرنا بہت ہی بری حرکت ہے اور قرآن وسنت میں اس کی شخت ممانعت کی گئی ہے۔ اسلام ظلم کی ہر صورت کی بیخ کنی چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ کھانے اور پینے میں بھی۔
کلوا ................ تطغوا ” جو رزق ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاﺅ اور حد سے نہ گزرو “۔ عدل اور اعتدال اسلام کا بنیادی اصول اور اسلام کی نشانی ہے۔
7۔ اثیم (86 : 21) (بداعمال ہے) وہ برے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے گویا اثم کی صفت اس کے ساتھ لازم ہوگئی ہے۔ پس یہ گنہگار ہے ، اور ہر قسم کے معاصی کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ صفت اس کے ساتھ لازم ہے۔ گویا اس کا مزاج ہی ایسا ہے کہ ہر برائی کا ارتکاب کرے۔
8۔ عتل (86 : 31) (جفاکار) یہ ایک لفظ ہے جو اپنے تلفظ اور مفہوم کی رنگارنگی کی وجہ سے کئی معانی دیتا ہے ، یہ ایک ایسا جامع مفہوم دیتا ہے کہ کئی الفاظ اس کو ادا نہیں کرسکتے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عتل کے معنی شخت اور خشک کے ہیں ، یعنی ظالم۔ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ بہت کھانے اور پینے والا ہے۔ اور سخت وحشی اور روکنے والا ہے ، اپنی مذموم طبیعت میں بیگانہ ہے۔ معاملات میں برا ہے۔
حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے : ” عتل ، بڑے پیٹ والا ، کج خلق ، بہت کھانے والا ، بہت پینے والا ، دولت جمع کرنے والا ، اور بخیل وکنجوس ہوتا ہے “۔ لیکن لفظ عتل میں یہ سب مفہوم اس کی کرخت آواز ہی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو مکارم اخلاق کے ہر پہلو سے کریمہ المنظر ہو۔
9۔ زنیم (86 : 31) ” بےاصل “ یہ اخلاق ذمیمہ کا خاتمہ ہے۔ یہ اسلام کے دشمنوں میں سے ایک دشمن کی صفات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے دشمن ایسے ہی مکروہ لوگ ہوسکتے ہیں۔ زنیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی قوم کے ساتھ لاحق ہوگیا ہو اور وہ دراصل ان میں سے نہ ہو ، یا یہ کہ ان میں اس کی نسب مشکوک ہو اور اس کے مفاہم میں یہ بھی ہے کہ جو شخص لوگوں میں خباثت ، ذلت اور شرارتوں میں بہت ہی مشہور ہو ، اسے بھی زنیم کہا جاتا ہے۔ دوسرا مفہوم زیادہ قریب ہے اور ولید ابن مغیرہ زیادہ فٹ آتا ہے۔ اگرچہ اس لفظ کا اطلاق اس پر ایسی صفت چسپاں کرتا ہے کہ قوم میں وہ ہلکا ہو جبکہ وہ زیادہ فخر کرنے والا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا ہو۔
القلم 68:11
اب رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک متعین شخص بڑاچرب زبان ہے ، اس کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا نام نہیں لیا ، لیکن اس کی تمام گھٹیا صفات کو گنوادیا گیا ، جو اس شخص کے اندر پائی جاتی تھیں۔ اس شخص کو نہایت ذلت اور حقارت کے ساتھ دھمکی دی جاتی ہے :
ولا تطع .................... الخرطوم (61) (86 : 01 تا 61) ” ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے ، جفاکار ہے اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے ، اس بنا پر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے۔ جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے “۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ولید ابن مغیرہ ہے ، اور اسی کے بارے میں سورة مدثر کی یہ آیات بھی نازل ہوئیں :
ذرنی ................................ ساصلیہ سقر (62) (47 : 11 تا 62) ” چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ، بہت سا مال اس کو دیا ، اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے اس کو دیئے ، اور اس کے لئے ریاست کی راہ ہموار کی ، پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ہرگز نہیں ، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے۔ میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواﺅں گا۔ اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی ۔ ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بتانے کی کوشش کی۔ پھر لوگوں کی طرف دیکھا۔ پھر پیشانی سکیڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔ آخر کار بولا یہ کچھ نہیں ، مگر ایک جادو ، جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یہ تو ایک انسانی کالم ہے۔ عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا “۔
اس شخص کے بارے میں بہت سی روایات میں آتا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہر وقت سازشوں میں لگا رہتا تھا۔ آپ کے ساتھیوں کو ڈراتا تھا۔ دعوت اسلامی کی راہ روکتا تھا۔ اور رات دن لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتا تھا۔ نیز بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ سورة القلم کی آیات انفنس ابن شریق اور ولید بن مغیرہ کے بارے میں ہیں۔ یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے سخت مخالف تھے۔ یہ ہر وقت آپ سے برسرپیکار رہتے تھے۔ اور لوگوں کو آپ کے خلاف اکساتے تھے۔
یہ سخت تہدیدی جملہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں جو اس دور میں نازل ہوئیں ، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور میں حالات بہت شدید تھے اور یہ شخص جو مسلمانوں اور تحریک اسلامی کے خلاف سرگرم تھا ، خواہ ولید تھا یا انس تھا (پہلا قول راجح ہے) تحریک اسلامی کی راہ روکنے میں اس کا بہت بڑا دخل تھا۔ نیز ان تنقیدی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بہت بدفطرت شخص تھا اور اس کے نفس میں بھلائی کی کوئی رمق نہ تھی۔
یہ کس قسم کا آدمی تھا ، قرآن نے اس کی 9 صفات بیان کی ہیں اور سب کی سب مذموم صفات ہیں :
1۔ حلاف (86 : 01) (بہت قسمیں کھانے والا) زیادہ قسمیں وہی اٹھاتا ہے جو سچا نہیں ہوتا ، اس کے شعور میں یہ بات ہوتی ہے کہ لوگ اس پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ شخص قسمیں اٹھاتا ہے اور بہت زیادہ قسمیں اٹھا کر اپنے جھوٹ کو چھپاتا ہے اور اس طرح لوگوں کا اعتماد حاصل کرتا ہے۔
2۔ مھین (86 : 01) (بےوقعت) اپنی نظروں میں خود ہلکا ، لوگوں کی نظروں میں ناقابل اعتبار۔ زیادہ قسمیں اٹھانے کی ضرورت ہی اسے اس لئے پیش آتی ہے کہ وہ ہلکا ہے۔ خود اسے اپنے اوپر اعتماد نہیں۔ نہ لوگوں کو ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ دولتمند ہے ، جتھے دار ہے۔ لہٰذا ایک بادشاہ ، ایک مالدار اور ایک قوی اور جبار شخص بھی ہلکا ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ اہانت اور عزت دونوں نفسیاتی صفات ہیں۔ یہ کبھی انسانی شخصیت سے دور نہیں ہوتیں۔ ایک شریف انسان باوزن ہوتا ہے۔ اگرچہ دنیا کے دوسرے پہلوﺅں سے وہ کوئی بڑا آدمی نہ ہو۔
3۔ ھماز (86 : 11) (طعنے دینے والا) یہ شخص اقوال واشارات سے لوگوں کے عیب بیان کرتا ہے ، ان کے سامنے بھی اور ان کے پس پشت بھی۔ ایسے شخص کو اسلام بہت برا خیال کرتا ہے جو لوگوں کے عیب نکالتا ہے۔ یہ بات مروت کے خلاف ہے۔ اعلیٰ آداب کے بھی خلاف ہے ، نیز لوگوں کے ساتھ برتاﺅ لوگوں کے اکرام کے خلاف ہے ، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے ہوں۔ اس صفت کو قرآن کریم نے متعدد مقامات میں لیا ہے۔ اور اس کی سخت ممانعت کی ہے۔
ایک جگہ کہا گیا۔ ویل ................ لمزة (401 : 1) ” تباہی ہے ہر اس شخص کے لئے جو لوگوں پر طعن کرے اور برائیاں کرنے کا خوگر ہو “۔ اور دوسری جگہ ہے۔
یایھا الذین ............................ الایمان (94 : 11) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو نہ مرددوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ، ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے “۔ یہ سب بدخونی اور چغل خوری کی اقسام ہیں۔
4۔ مشاء بنمیم (86 : 11) (چغلیاں کھاتا پھرتا ہے) وہ لوگوں کے درمیان ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن سے ان کے دل میلے ہوں ، تعلقات ختم ہوں ، محبت ختم ہو ، یہ ایک ذلیل حرکت ہے اور ہلکے لوگ ایسا کام کیا کرتے ہیں۔ کوئی خوددار شخص اس قسم کی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا کرتا جو یہ توقع کرتا ہو کہ لوگ اسے اچھی نظروں سے دیکھیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اس قسم کے شخص کی باتیں سنتے ہیں وہ بھی اسے اچھا نہیں سمجھتے۔ دل سے یہ لوگ بھی اسے برا سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ کاش یہ شخص یہ بری بات انہیں نہ بتاتا۔
حضور اکرم ﷺ اس بات کو پسند نہ فرماتے تھے کہ آپ کو ایسی بات بتائی جائے جس سے آپ کا دل اپنے کسی صحابی سے خفا ہو۔ آپ فرماتے : ” کوئی شخص مجھے میرے ساتھی کی ایسی بات نہ بتائے کیونکہ میں پسند کرتا ہوں کہ میں تمہارے پاس نکلوں اور میرا دل تمہارے بارے میں صاف ہو “۔ (ابوداﺅ وغیرہ) صحیحین میں ہے : ” رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا یہ دونوں عذاب میں مبتلا ہیں اور یہ کسی بڑے جرم میں سزاوار نہیں ہیں۔ ایک تو اس لئے کہ یہ پیشاب سے اپنے آپ کو بچاتا نہ تھا اور دوسرا چغل خور تھا “۔
امام احمد نے حضرت حذیفہ کی یہ حدیث نقل کی ہے ” جنت میں چغلی کھانے والا داخل نہ ہوگا “۔ (ابن ماجہ)
امام احمد نے بریدہ ابن الحکم کی روایت نقل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا بتاﺅں میں کہ تم میں سے اچھا کون ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ ! ” وہ لوگ جب ان کو دیکھا جائے تو خدا یاد آجائے “۔ پھر فرمایا کہ بتاﺅں کہ برے لوگ کون ہیں ؟ “۔ وہ جو چغلی کھاتے ہیں ، جو دوستوں کے درمیان دشمنی پیدا کرتے ہیں جو پاک دامن لوگوں میں ، عیب تلاش کرتے ہیں “۔
اسلام کے لئے اس قسم کی بری خصلت کی مذمت بہت ضروری تھی ، کیونکہ یہ خصلت مذموم ، گری ہوئی اور سوسائٹی میں فساد ڈالنے والی ہے ، جس طرح دوستوں میں فساد پیدا کرتی ہے اور اس قسم کے شخص کو ننگا کرنا ضروری تھا ، قبل اس کے کہ وہ اسلامی سوسائٹی کے اندر فساد پیدا کردے ، لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے بھر دے ، اور قبل اس سے کہ وہ سوسائٹی کی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔ ایسے لوگ اکثر اوقات بےگناہ لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
5۔ مناع للخیر (86 : 21) (بھلائی سے روکنے والا) یعنی وہ بھلائی سے اپنے آپ کو بھی محروم کرتا ہے اور دوسروں کو بھی۔ یہ شخص لوگوں کو ایمان روکتا تھا ، حالانکہ ایمان بھلائی کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ اس شخص کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ شخص اپنی اولاد اور اہل خاندان سے کہا کرتا تھا : ” اگر تم میں سے کسی نے دین محمد کو قبول کیا تو میں اسے کبھی بھی نفع نہ پہنچاﺅں گا “۔ جس کے بارے میں اسے شک ہوتا کہ وہ دین اسلام کی طرف مائل ہے۔ یوں ان کو وہ اس طرح دھمکی دے کر ڈراتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس کی اس حرکت کو بھی ریکارڈ کردیا کہ وہ بھلائی سے روکنے والا ہے۔
6۔ معتد (86 : 21) (ظلم و زیادتی میں حد سے گزرنے والا ہے) حق اور عدل سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ نبی ﷺ پر یہ شخص تعدی کرتا ، مسلمانوں پر ظلم کرتا ، اپنے خاندان والوں پر ظلم کرتا ، اور ان کو ہدایت اور دین حق سے روکتا۔ کسی پر ظلم کرنا بہت ہی بری حرکت ہے اور قرآن وسنت میں اس کی شخت ممانعت کی گئی ہے۔ اسلام ظلم کی ہر صورت کی بیخ کنی چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ کھانے اور پینے میں بھی۔
کلوا ................ تطغوا ” جو رزق ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاﺅ اور حد سے نہ گزرو “۔ عدل اور اعتدال اسلام کا بنیادی اصول اور اسلام کی نشانی ہے۔
7۔ اثیم (86 : 21) (بداعمال ہے) وہ برے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے گویا اثم کی صفت اس کے ساتھ لازم ہوگئی ہے۔ پس یہ گنہگار ہے ، اور ہر قسم کے معاصی کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ صفت اس کے ساتھ لازم ہے۔ گویا اس کا مزاج ہی ایسا ہے کہ ہر برائی کا ارتکاب کرے۔
8۔ عتل (86 : 31) (جفاکار) یہ ایک لفظ ہے جو اپنے تلفظ اور مفہوم کی رنگارنگی کی وجہ سے کئی معانی دیتا ہے ، یہ ایک ایسا جامع مفہوم دیتا ہے کہ کئی الفاظ اس کو ادا نہیں کرسکتے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عتل کے معنی شخت اور خشک کے ہیں ، یعنی ظالم۔ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ بہت کھانے اور پینے والا ہے۔ اور سخت وحشی اور روکنے والا ہے ، اپنی مذموم طبیعت میں بیگانہ ہے۔ معاملات میں برا ہے۔
حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے : ” عتل ، بڑے پیٹ والا ، کج خلق ، بہت کھانے والا ، بہت پینے والا ، دولت جمع کرنے والا ، اور بخیل وکنجوس ہوتا ہے “۔ لیکن لفظ عتل میں یہ سب مفہوم اس کی کرخت آواز ہی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو مکارم اخلاق کے ہر پہلو سے کریمہ المنظر ہو۔
9۔ زنیم (86 : 31) ” بےاصل “ یہ اخلاق ذمیمہ کا خاتمہ ہے۔ یہ اسلام کے دشمنوں میں سے ایک دشمن کی صفات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے دشمن ایسے ہی مکروہ لوگ ہوسکتے ہیں۔ زنیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی قوم کے ساتھ لاحق ہوگیا ہو اور وہ دراصل ان میں سے نہ ہو ، یا یہ کہ ان میں اس کی نسب مشکوک ہو اور اس کے مفاہم میں یہ بھی ہے کہ جو شخص لوگوں میں خباثت ، ذلت اور شرارتوں میں بہت ہی مشہور ہو ، اسے بھی زنیم کہا جاتا ہے۔ دوسرا مفہوم زیادہ قریب ہے اور ولید ابن مغیرہ زیادہ فٹ آتا ہے۔ اگرچہ اس لفظ کا اطلاق اس پر ایسی صفت چسپاں کرتا ہے کہ قوم میں وہ ہلکا ہو جبکہ وہ زیادہ فخر کرنے والا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا ہو۔
القلم 68:12
اب رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک متعین شخص بڑاچرب زبان ہے ، اس کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا نام نہیں لیا ، لیکن اس کی تمام گھٹیا صفات کو گنوادیا گیا ، جو اس شخص کے اندر پائی جاتی تھیں۔ اس شخص کو نہایت ذلت اور حقارت کے ساتھ دھمکی دی جاتی ہے :
ولا تطع .................... الخرطوم (61) (86 : 01 تا 61) ” ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے ، جفاکار ہے اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے ، اس بنا پر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے۔ جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے “۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ولید ابن مغیرہ ہے ، اور اسی کے بارے میں سورة مدثر کی یہ آیات بھی نازل ہوئیں :
ذرنی ................................ ساصلیہ سقر (62) (47 : 11 تا 62) ” چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ، بہت سا مال اس کو دیا ، اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے اس کو دیئے ، اور اس کے لئے ریاست کی راہ ہموار کی ، پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ہرگز نہیں ، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے۔ میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواﺅں گا۔ اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی ۔ ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بتانے کی کوشش کی۔ پھر لوگوں کی طرف دیکھا۔ پھر پیشانی سکیڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔ آخر کار بولا یہ کچھ نہیں ، مگر ایک جادو ، جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یہ تو ایک انسانی کالم ہے۔ عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا “۔
اس شخص کے بارے میں بہت سی روایات میں آتا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہر وقت سازشوں میں لگا رہتا تھا۔ آپ کے ساتھیوں کو ڈراتا تھا۔ دعوت اسلامی کی راہ روکتا تھا۔ اور رات دن لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتا تھا۔ نیز بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ سورة القلم کی آیات انفنس ابن شریق اور ولید بن مغیرہ کے بارے میں ہیں۔ یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے سخت مخالف تھے۔ یہ ہر وقت آپ سے برسرپیکار رہتے تھے۔ اور لوگوں کو آپ کے خلاف اکساتے تھے۔
یہ سخت تہدیدی جملہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں جو اس دور میں نازل ہوئیں ، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور میں حالات بہت شدید تھے اور یہ شخص جو مسلمانوں اور تحریک اسلامی کے خلاف سرگرم تھا ، خواہ ولید تھا یا انس تھا (پہلا قول راجح ہے) تحریک اسلامی کی راہ روکنے میں اس کا بہت بڑا دخل تھا۔ نیز ان تنقیدی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بہت بدفطرت شخص تھا اور اس کے نفس میں بھلائی کی کوئی رمق نہ تھی۔
یہ کس قسم کا آدمی تھا ، قرآن نے اس کی 9 صفات بیان کی ہیں اور سب کی سب مذموم صفات ہیں :
1۔ حلاف (86 : 01) (بہت قسمیں کھانے والا) زیادہ قسمیں وہی اٹھاتا ہے جو سچا نہیں ہوتا ، اس کے شعور میں یہ بات ہوتی ہے کہ لوگ اس پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ شخص قسمیں اٹھاتا ہے اور بہت زیادہ قسمیں اٹھا کر اپنے جھوٹ کو چھپاتا ہے اور اس طرح لوگوں کا اعتماد حاصل کرتا ہے۔
2۔ مھین (86 : 01) (بےوقعت) اپنی نظروں میں خود ہلکا ، لوگوں کی نظروں میں ناقابل اعتبار۔ زیادہ قسمیں اٹھانے کی ضرورت ہی اسے اس لئے پیش آتی ہے کہ وہ ہلکا ہے۔ خود اسے اپنے اوپر اعتماد نہیں۔ نہ لوگوں کو ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ دولتمند ہے ، جتھے دار ہے۔ لہٰذا ایک بادشاہ ، ایک مالدار اور ایک قوی اور جبار شخص بھی ہلکا ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ اہانت اور عزت دونوں نفسیاتی صفات ہیں۔ یہ کبھی انسانی شخصیت سے دور نہیں ہوتیں۔ ایک شریف انسان باوزن ہوتا ہے۔ اگرچہ دنیا کے دوسرے پہلوﺅں سے وہ کوئی بڑا آدمی نہ ہو۔
3۔ ھماز (86 : 11) (طعنے دینے والا) یہ شخص اقوال واشارات سے لوگوں کے عیب بیان کرتا ہے ، ان کے سامنے بھی اور ان کے پس پشت بھی۔ ایسے شخص کو اسلام بہت برا خیال کرتا ہے جو لوگوں کے عیب نکالتا ہے۔ یہ بات مروت کے خلاف ہے۔ اعلیٰ آداب کے بھی خلاف ہے ، نیز لوگوں کے ساتھ برتاﺅ لوگوں کے اکرام کے خلاف ہے ، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے ہوں۔ اس صفت کو قرآن کریم نے متعدد مقامات میں لیا ہے۔ اور اس کی سخت ممانعت کی ہے۔
ایک جگہ کہا گیا۔ ویل ................ لمزة (401 : 1) ” تباہی ہے ہر اس شخص کے لئے جو لوگوں پر طعن کرے اور برائیاں کرنے کا خوگر ہو “۔ اور دوسری جگہ ہے۔
یایھا الذین ............................ الایمان (94 : 11) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو نہ مرددوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ، ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے “۔ یہ سب بدخونی اور چغل خوری کی اقسام ہیں۔
4۔ مشاء بنمیم (86 : 11) (چغلیاں کھاتا پھرتا ہے) وہ لوگوں کے درمیان ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن سے ان کے دل میلے ہوں ، تعلقات ختم ہوں ، محبت ختم ہو ، یہ ایک ذلیل حرکت ہے اور ہلکے لوگ ایسا کام کیا کرتے ہیں۔ کوئی خوددار شخص اس قسم کی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا کرتا جو یہ توقع کرتا ہو کہ لوگ اسے اچھی نظروں سے دیکھیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اس قسم کے شخص کی باتیں سنتے ہیں وہ بھی اسے اچھا نہیں سمجھتے۔ دل سے یہ لوگ بھی اسے برا سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ کاش یہ شخص یہ بری بات انہیں نہ بتاتا۔
حضور اکرم ﷺ اس بات کو پسند نہ فرماتے تھے کہ آپ کو ایسی بات بتائی جائے جس سے آپ کا دل اپنے کسی صحابی سے خفا ہو۔ آپ فرماتے : ” کوئی شخص مجھے میرے ساتھی کی ایسی بات نہ بتائے کیونکہ میں پسند کرتا ہوں کہ میں تمہارے پاس نکلوں اور میرا دل تمہارے بارے میں صاف ہو “۔ (ابوداﺅ وغیرہ) صحیحین میں ہے : ” رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا یہ دونوں عذاب میں مبتلا ہیں اور یہ کسی بڑے جرم میں سزاوار نہیں ہیں۔ ایک تو اس لئے کہ یہ پیشاب سے اپنے آپ کو بچاتا نہ تھا اور دوسرا چغل خور تھا “۔
امام احمد نے حضرت حذیفہ کی یہ حدیث نقل کی ہے ” جنت میں چغلی کھانے والا داخل نہ ہوگا “۔ (ابن ماجہ)
امام احمد نے بریدہ ابن الحکم کی روایت نقل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا بتاﺅں میں کہ تم میں سے اچھا کون ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ ! ” وہ لوگ جب ان کو دیکھا جائے تو خدا یاد آجائے “۔ پھر فرمایا کہ بتاﺅں کہ برے لوگ کون ہیں ؟ “۔ وہ جو چغلی کھاتے ہیں ، جو دوستوں کے درمیان دشمنی پیدا کرتے ہیں جو پاک دامن لوگوں میں ، عیب تلاش کرتے ہیں “۔
اسلام کے لئے اس قسم کی بری خصلت کی مذمت بہت ضروری تھی ، کیونکہ یہ خصلت مذموم ، گری ہوئی اور سوسائٹی میں فساد ڈالنے والی ہے ، جس طرح دوستوں میں فساد پیدا کرتی ہے اور اس قسم کے شخص کو ننگا کرنا ضروری تھا ، قبل اس کے کہ وہ اسلامی سوسائٹی کے اندر فساد پیدا کردے ، لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے بھر دے ، اور قبل اس سے کہ وہ سوسائٹی کی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔ ایسے لوگ اکثر اوقات بےگناہ لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
5۔ مناع للخیر (86 : 21) (بھلائی سے روکنے والا) یعنی وہ بھلائی سے اپنے آپ کو بھی محروم کرتا ہے اور دوسروں کو بھی۔ یہ شخص لوگوں کو ایمان روکتا تھا ، حالانکہ ایمان بھلائی کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ اس شخص کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ شخص اپنی اولاد اور اہل خاندان سے کہا کرتا تھا : ” اگر تم میں سے کسی نے دین محمد کو قبول کیا تو میں اسے کبھی بھی نفع نہ پہنچاﺅں گا “۔ جس کے بارے میں اسے شک ہوتا کہ وہ دین اسلام کی طرف مائل ہے۔ یوں ان کو وہ اس طرح دھمکی دے کر ڈراتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس کی اس حرکت کو بھی ریکارڈ کردیا کہ وہ بھلائی سے روکنے والا ہے۔
6۔ معتد (86 : 21) (ظلم و زیادتی میں حد سے گزرنے والا ہے) حق اور عدل سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ نبی ﷺ پر یہ شخص تعدی کرتا ، مسلمانوں پر ظلم کرتا ، اپنے خاندان والوں پر ظلم کرتا ، اور ان کو ہدایت اور دین حق سے روکتا۔ کسی پر ظلم کرنا بہت ہی بری حرکت ہے اور قرآن وسنت میں اس کی شخت ممانعت کی گئی ہے۔ اسلام ظلم کی ہر صورت کی بیخ کنی چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ کھانے اور پینے میں بھی۔
کلوا ................ تطغوا ” جو رزق ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاﺅ اور حد سے نہ گزرو “۔ عدل اور اعتدال اسلام کا بنیادی اصول اور اسلام کی نشانی ہے۔
7۔ اثیم (86 : 21) (بداعمال ہے) وہ برے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے گویا اثم کی صفت اس کے ساتھ لازم ہوگئی ہے۔ پس یہ گنہگار ہے ، اور ہر قسم کے معاصی کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ صفت اس کے ساتھ لازم ہے۔ گویا اس کا مزاج ہی ایسا ہے کہ ہر برائی کا ارتکاب کرے۔
8۔ عتل (86 : 31) (جفاکار) یہ ایک لفظ ہے جو اپنے تلفظ اور مفہوم کی رنگارنگی کی وجہ سے کئی معانی دیتا ہے ، یہ ایک ایسا جامع مفہوم دیتا ہے کہ کئی الفاظ اس کو ادا نہیں کرسکتے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عتل کے معنی شخت اور خشک کے ہیں ، یعنی ظالم۔ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ بہت کھانے اور پینے والا ہے۔ اور سخت وحشی اور روکنے والا ہے ، اپنی مذموم طبیعت میں بیگانہ ہے۔ معاملات میں برا ہے۔
حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے : ” عتل ، بڑے پیٹ والا ، کج خلق ، بہت کھانے والا ، بہت پینے والا ، دولت جمع کرنے والا ، اور بخیل وکنجوس ہوتا ہے “۔ لیکن لفظ عتل میں یہ سب مفہوم اس کی کرخت آواز ہی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو مکارم اخلاق کے ہر پہلو سے کریمہ المنظر ہو۔
9۔ زنیم (86 : 31) ” بےاصل “ یہ اخلاق ذمیمہ کا خاتمہ ہے۔ یہ اسلام کے دشمنوں میں سے ایک دشمن کی صفات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے دشمن ایسے ہی مکروہ لوگ ہوسکتے ہیں۔ زنیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی قوم کے ساتھ لاحق ہوگیا ہو اور وہ دراصل ان میں سے نہ ہو ، یا یہ کہ ان میں اس کی نسب مشکوک ہو اور اس کے مفاہم میں یہ بھی ہے کہ جو شخص لوگوں میں خباثت ، ذلت اور شرارتوں میں بہت ہی مشہور ہو ، اسے بھی زنیم کہا جاتا ہے۔ دوسرا مفہوم زیادہ قریب ہے اور ولید ابن مغیرہ زیادہ فٹ آتا ہے۔ اگرچہ اس لفظ کا اطلاق اس پر ایسی صفت چسپاں کرتا ہے کہ قوم میں وہ ہلکا ہو جبکہ وہ زیادہ فخر کرنے والا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا ہو۔
القلم 68:13
اب رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک متعین شخص بڑاچرب زبان ہے ، اس کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا نام نہیں لیا ، لیکن اس کی تمام گھٹیا صفات کو گنوادیا گیا ، جو اس شخص کے اندر پائی جاتی تھیں۔ اس شخص کو نہایت ذلت اور حقارت کے ساتھ دھمکی دی جاتی ہے :
ولا تطع .................... الخرطوم (61) (86 : 01 تا 61) ” ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے ، جفاکار ہے اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے ، اس بنا پر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے۔ جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے “۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ولید ابن مغیرہ ہے ، اور اسی کے بارے میں سورة مدثر کی یہ آیات بھی نازل ہوئیں :
ذرنی ................................ ساصلیہ سقر (62) (47 : 11 تا 62) ” چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ، بہت سا مال اس کو دیا ، اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے اس کو دیئے ، اور اس کے لئے ریاست کی راہ ہموار کی ، پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ہرگز نہیں ، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے۔ میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواﺅں گا۔ اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی ۔ ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بتانے کی کوشش کی۔ پھر لوگوں کی طرف دیکھا۔ پھر پیشانی سکیڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔ آخر کار بولا یہ کچھ نہیں ، مگر ایک جادو ، جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یہ تو ایک انسانی کالم ہے۔ عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا “۔
اس شخص کے بارے میں بہت سی روایات میں آتا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہر وقت سازشوں میں لگا رہتا تھا۔ آپ کے ساتھیوں کو ڈراتا تھا۔ دعوت اسلامی کی راہ روکتا تھا۔ اور رات دن لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتا تھا۔ نیز بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ سورة القلم کی آیات انفنس ابن شریق اور ولید بن مغیرہ کے بارے میں ہیں۔ یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے سخت مخالف تھے۔ یہ ہر وقت آپ سے برسرپیکار رہتے تھے۔ اور لوگوں کو آپ کے خلاف اکساتے تھے۔
یہ سخت تہدیدی جملہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں جو اس دور میں نازل ہوئیں ، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور میں حالات بہت شدید تھے اور یہ شخص جو مسلمانوں اور تحریک اسلامی کے خلاف سرگرم تھا ، خواہ ولید تھا یا انس تھا (پہلا قول راجح ہے) تحریک اسلامی کی راہ روکنے میں اس کا بہت بڑا دخل تھا۔ نیز ان تنقیدی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بہت بدفطرت شخص تھا اور اس کے نفس میں بھلائی کی کوئی رمق نہ تھی۔
یہ کس قسم کا آدمی تھا ، قرآن نے اس کی 9 صفات بیان کی ہیں اور سب کی سب مذموم صفات ہیں :
1۔ حلاف (86 : 01) (بہت قسمیں کھانے والا) زیادہ قسمیں وہی اٹھاتا ہے جو سچا نہیں ہوتا ، اس کے شعور میں یہ بات ہوتی ہے کہ لوگ اس پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ شخص قسمیں اٹھاتا ہے اور بہت زیادہ قسمیں اٹھا کر اپنے جھوٹ کو چھپاتا ہے اور اس طرح لوگوں کا اعتماد حاصل کرتا ہے۔
2۔ مھین (86 : 01) (بےوقعت) اپنی نظروں میں خود ہلکا ، لوگوں کی نظروں میں ناقابل اعتبار۔ زیادہ قسمیں اٹھانے کی ضرورت ہی اسے اس لئے پیش آتی ہے کہ وہ ہلکا ہے۔ خود اسے اپنے اوپر اعتماد نہیں۔ نہ لوگوں کو ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ دولتمند ہے ، جتھے دار ہے۔ لہٰذا ایک بادشاہ ، ایک مالدار اور ایک قوی اور جبار شخص بھی ہلکا ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ اہانت اور عزت دونوں نفسیاتی صفات ہیں۔ یہ کبھی انسانی شخصیت سے دور نہیں ہوتیں۔ ایک شریف انسان باوزن ہوتا ہے۔ اگرچہ دنیا کے دوسرے پہلوﺅں سے وہ کوئی بڑا آدمی نہ ہو۔
3۔ ھماز (86 : 11) (طعنے دینے والا) یہ شخص اقوال واشارات سے لوگوں کے عیب بیان کرتا ہے ، ان کے سامنے بھی اور ان کے پس پشت بھی۔ ایسے شخص کو اسلام بہت برا خیال کرتا ہے جو لوگوں کے عیب نکالتا ہے۔ یہ بات مروت کے خلاف ہے۔ اعلیٰ آداب کے بھی خلاف ہے ، نیز لوگوں کے ساتھ برتاﺅ لوگوں کے اکرام کے خلاف ہے ، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے ہوں۔ اس صفت کو قرآن کریم نے متعدد مقامات میں لیا ہے۔ اور اس کی سخت ممانعت کی ہے۔
ایک جگہ کہا گیا۔ ویل ................ لمزة (401 : 1) ” تباہی ہے ہر اس شخص کے لئے جو لوگوں پر طعن کرے اور برائیاں کرنے کا خوگر ہو “۔ اور دوسری جگہ ہے۔
یایھا الذین ............................ الایمان (94 : 11) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو نہ مرددوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ، ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے “۔ یہ سب بدخونی اور چغل خوری کی اقسام ہیں۔
4۔ مشاء بنمیم (86 : 11) (چغلیاں کھاتا پھرتا ہے) وہ لوگوں کے درمیان ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن سے ان کے دل میلے ہوں ، تعلقات ختم ہوں ، محبت ختم ہو ، یہ ایک ذلیل حرکت ہے اور ہلکے لوگ ایسا کام کیا کرتے ہیں۔ کوئی خوددار شخص اس قسم کی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا کرتا جو یہ توقع کرتا ہو کہ لوگ اسے اچھی نظروں سے دیکھیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اس قسم کے شخص کی باتیں سنتے ہیں وہ بھی اسے اچھا نہیں سمجھتے۔ دل سے یہ لوگ بھی اسے برا سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ کاش یہ شخص یہ بری بات انہیں نہ بتاتا۔
حضور اکرم ﷺ اس بات کو پسند نہ فرماتے تھے کہ آپ کو ایسی بات بتائی جائے جس سے آپ کا دل اپنے کسی صحابی سے خفا ہو۔ آپ فرماتے : ” کوئی شخص مجھے میرے ساتھی کی ایسی بات نہ بتائے کیونکہ میں پسند کرتا ہوں کہ میں تمہارے پاس نکلوں اور میرا دل تمہارے بارے میں صاف ہو “۔ (ابوداﺅ وغیرہ) صحیحین میں ہے : ” رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا یہ دونوں عذاب میں مبتلا ہیں اور یہ کسی بڑے جرم میں سزاوار نہیں ہیں۔ ایک تو اس لئے کہ یہ پیشاب سے اپنے آپ کو بچاتا نہ تھا اور دوسرا چغل خور تھا “۔
امام احمد نے حضرت حذیفہ کی یہ حدیث نقل کی ہے ” جنت میں چغلی کھانے والا داخل نہ ہوگا “۔ (ابن ماجہ)
امام احمد نے بریدہ ابن الحکم کی روایت نقل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا بتاﺅں میں کہ تم میں سے اچھا کون ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ ! ” وہ لوگ جب ان کو دیکھا جائے تو خدا یاد آجائے “۔ پھر فرمایا کہ بتاﺅں کہ برے لوگ کون ہیں ؟ “۔ وہ جو چغلی کھاتے ہیں ، جو دوستوں کے درمیان دشمنی پیدا کرتے ہیں جو پاک دامن لوگوں میں ، عیب تلاش کرتے ہیں “۔
اسلام کے لئے اس قسم کی بری خصلت کی مذمت بہت ضروری تھی ، کیونکہ یہ خصلت مذموم ، گری ہوئی اور سوسائٹی میں فساد ڈالنے والی ہے ، جس طرح دوستوں میں فساد پیدا کرتی ہے اور اس قسم کے شخص کو ننگا کرنا ضروری تھا ، قبل اس کے کہ وہ اسلامی سوسائٹی کے اندر فساد پیدا کردے ، لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے بھر دے ، اور قبل اس سے کہ وہ سوسائٹی کی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔ ایسے لوگ اکثر اوقات بےگناہ لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
5۔ مناع للخیر (86 : 21) (بھلائی سے روکنے والا) یعنی وہ بھلائی سے اپنے آپ کو بھی محروم کرتا ہے اور دوسروں کو بھی۔ یہ شخص لوگوں کو ایمان روکتا تھا ، حالانکہ ایمان بھلائی کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ اس شخص کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ شخص اپنی اولاد اور اہل خاندان سے کہا کرتا تھا : ” اگر تم میں سے کسی نے دین محمد کو قبول کیا تو میں اسے کبھی بھی نفع نہ پہنچاﺅں گا “۔ جس کے بارے میں اسے شک ہوتا کہ وہ دین اسلام کی طرف مائل ہے۔ یوں ان کو وہ اس طرح دھمکی دے کر ڈراتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس کی اس حرکت کو بھی ریکارڈ کردیا کہ وہ بھلائی سے روکنے والا ہے۔
6۔ معتد (86 : 21) (ظلم و زیادتی میں حد سے گزرنے والا ہے) حق اور عدل سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ نبی ﷺ پر یہ شخص تعدی کرتا ، مسلمانوں پر ظلم کرتا ، اپنے خاندان والوں پر ظلم کرتا ، اور ان کو ہدایت اور دین حق سے روکتا۔ کسی پر ظلم کرنا بہت ہی بری حرکت ہے اور قرآن وسنت میں اس کی شخت ممانعت کی گئی ہے۔ اسلام ظلم کی ہر صورت کی بیخ کنی چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ کھانے اور پینے میں بھی۔
کلوا ................ تطغوا ” جو رزق ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاﺅ اور حد سے نہ گزرو “۔ عدل اور اعتدال اسلام کا بنیادی اصول اور اسلام کی نشانی ہے۔
7۔ اثیم (86 : 21) (بداعمال ہے) وہ برے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے گویا اثم کی صفت اس کے ساتھ لازم ہوگئی ہے۔ پس یہ گنہگار ہے ، اور ہر قسم کے معاصی کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ صفت اس کے ساتھ لازم ہے۔ گویا اس کا مزاج ہی ایسا ہے کہ ہر برائی کا ارتکاب کرے۔
8۔ عتل (86 : 31) (جفاکار) یہ ایک لفظ ہے جو اپنے تلفظ اور مفہوم کی رنگارنگی کی وجہ سے کئی معانی دیتا ہے ، یہ ایک ایسا جامع مفہوم دیتا ہے کہ کئی الفاظ اس کو ادا نہیں کرسکتے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عتل کے معنی شخت اور خشک کے ہیں ، یعنی ظالم۔ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ بہت کھانے اور پینے والا ہے۔ اور سخت وحشی اور روکنے والا ہے ، اپنی مذموم طبیعت میں بیگانہ ہے۔ معاملات میں برا ہے۔
حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے : ” عتل ، بڑے پیٹ والا ، کج خلق ، بہت کھانے والا ، بہت پینے والا ، دولت جمع کرنے والا ، اور بخیل وکنجوس ہوتا ہے “۔ لیکن لفظ عتل میں یہ سب مفہوم اس کی کرخت آواز ہی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو مکارم اخلاق کے ہر پہلو سے کریمہ المنظر ہو۔
9۔ زنیم (86 : 31) ” بےاصل “ یہ اخلاق ذمیمہ کا خاتمہ ہے۔ یہ اسلام کے دشمنوں میں سے ایک دشمن کی صفات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے دشمن ایسے ہی مکروہ لوگ ہوسکتے ہیں۔ زنیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی قوم کے ساتھ لاحق ہوگیا ہو اور وہ دراصل ان میں سے نہ ہو ، یا یہ کہ ان میں اس کی نسب مشکوک ہو اور اس کے مفاہم میں یہ بھی ہے کہ جو شخص لوگوں میں خباثت ، ذلت اور شرارتوں میں بہت ہی مشہور ہو ، اسے بھی زنیم کہا جاتا ہے۔ دوسرا مفہوم زیادہ قریب ہے اور ولید ابن مغیرہ زیادہ فٹ آتا ہے۔ اگرچہ اس لفظ کا اطلاق اس پر ایسی صفت چسپاں کرتا ہے کہ قوم میں وہ ہلکا ہو جبکہ وہ زیادہ فخر کرنے والا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا ہو۔
القلم 68:14
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان ذاتی صفات کے علاوہ اس نے دین اسلام کے خلاف یہ موقف جو اختیار کررکھا ہے یہ اس لئے ہے کہ اللہ نے اس کو مال و دولت اور اولاد دی ہے۔
ان کان .................... الاولین (51) (86 : 41۔ 51) ” اس بنا پر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے “۔ جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ کیا ہی بری بات ہے کہ ایک انسان کو اللہ مال و دولت دے اور وہ اس کے بدلے میں ، اللہ کی آیات کے ساتھ استہزا کرے۔ اور اللہ کے رسول کے ساتھ مذاق کرے۔ اور اللہ کے دین پر دست درازی کرے صرف یہی ایک صفت مذکورہ بالا تو صفات سے زیادہ بھاری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سخت توہین آمیز تہدید آتی ہے۔ یہ جبار وقہار کی تہدید ہے۔ یہ اپنے آپ کو بڑا اور طاقتور سمجھتا ہے۔ مال اور اولاد پر فخر کرتا ہے۔ اپنے مقام ، مرتبے اور نسب اور شرارتوں پر فخر کرتا ہے۔ اگر یہ طاقتور ہے تو۔
القلم 68:15
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان ذاتی صفات کے علاوہ اس نے دین اسلام کے خلاف یہ موقف جو اختیار کررکھا ہے یہ اس لئے ہے کہ اللہ نے اس کو مال و دولت اور اولاد دی ہے۔
ان کان .................... الاولین (51) (86 : 41۔ 51) ” اس بنا پر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے “۔ جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ کیا ہی بری بات ہے کہ ایک انسان کو اللہ مال و دولت دے اور وہ اس کے بدلے میں ، اللہ کی آیات کے ساتھ استہزا کرے۔ اور اللہ کے رسول کے ساتھ مذاق کرے۔ اور اللہ کے دین پر دست درازی کرے صرف یہی ایک صفت مذکورہ بالا تو صفات سے زیادہ بھاری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سخت توہین آمیز تہدید آتی ہے۔ یہ جبار وقہار کی تہدید ہے۔ یہ اپنے آپ کو بڑا اور طاقتور سمجھتا ہے۔ مال اور اولاد پر فخر کرتا ہے۔ اپنے مقام ، مرتبے اور نسب اور شرارتوں پر فخر کرتا ہے۔ اگر یہ طاقتور ہے تو۔
القلم 68:16
سنسمہ ............ الخرطوم (86 : 61) ” ہم اس کی اس سونڈ پر داغ لگائیں گے “۔ خرطوم کے معانی میں سے ایک یہ ہے کہ خرطوم خنزیر کی ناک کے کنارے کو کہتے ہیں۔ شاید یہی یہاں مراد ہے اور عربی میں انف عزت کو کہا جاتا ہے ۔ اونچی ناک والا۔ اور غم الانف ناک کا خاک آلود ہونا ذلت کے معنی میں آتا ہے۔ کہا جاتا ہے ورم انفہ ، حمی فنہ ، یعنی غضبناک ہوا اس سے الانطة (عزت نفس) ہے۔ خرطوم پر داغ لگانے کے معنی ہے اسے ذلیل کیا جائے گا۔ ایک تو اس پر داغ لگادیا جائے گا جس طرح غلاموں پر داغ لگائے جاتے تھے اور دوسرے یوں کہ اس کی ناک کو خنزیر کی ناک کی طرح بنایا جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ولید پر یہ آیات بم کی طرح آکر گریں ہوں گی کیونکہ وہ ایک ایسی قوم سے تھا جس میں شاعروں کی ہجو سے بھی ، شریف لوگ بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن یہاں تو خالق سموات نے اس پر ایسی سنگباری کی اور اس انداز سے کی جس کی مثال نہیں ہے۔ اور پھر اس ہجو کو ایک ایسے نوشتے میں ریکارڈ کردیا گیا ، جس کے ایک ایک لفظ کو اس پوری کائنات میں پڑھا اور تلاوت کیا جاتا ہے اور یہ اس پوری کائنات میں قرار پکڑتا ہے اور اسے دوام نصیب ہوتا ہے۔
یہ تھی رب ذوالجلال کی طرف سے سنگباری ، اس ذلیل شخص پر جو اس کے دین کا دشمن تھا ، جو رسول کریم کا دشمن تھا ۔ وہ رسول کریم جو خلق عظیم کے مالک تھے اور یہ دشمن اسلام جو بھی ہو ، وہ اس کا مستحق تھا۔
مال اور اولاد کے اشارے کی مناسبت سے اور تکذیب کرنے والوں کی سرکشی اور دست درازیوں کے حوالے سے ایک ایسی کہانی کی طرف یہاں اشارہ کیا جاتا ہے جو ان کے ہاں معروف تھی۔ اور عوام کے اندر اس کا بہت چرچا تھا۔ نعمت خداوندی پر ناشکری کی سزا اسے اللہ خبردار کرتا ہے۔ جو لوگ دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتے ، بھلائی سے منع کرتے ہیں۔
مناع للخیر (86 : 21) ہیں ، ان کو خبردا کیا جاتا ہے کہ یہ مال واولاد تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بھی ایک آزمائش ہے ، جس طرح باغ والے آزمائش میں تھے۔ ہر چیز کا ایک انجام ہے اور ہر کوئی ایک حالت میں نہیں ہوتا۔
القلم 68:17
انا بلونھم ................ یعلمون
ہوسکتا ہے کہ یہ قصہ اہل مکہ کے درمیان معروف ہو۔ لیکن یہاں مقصود یہ ہے کہ اس دنیا کے تمام کام دست قدرت میں ہیں۔ اور یہاں کوئی خوشحال ہے یا بدحال ہے ، وہ اللہ کی آزمائش میں ہے۔ اور یہی اس قصے سے یہاں مقصود ومطلوب ہے۔
اس قصے کے کرداروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت ہی پسماندہ قسم کے سادہ لوح لوگ ہیں۔ جس طرح دیہات کے سادہ لوح باشندے ہوتے ہیں۔ زیادہ گہرے افکار سے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ اور سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں۔ اس دور میں جب یہ آیات اتررہی تھیں تو قرآن کے مخاطب اکثر ایسے ہی سادہ لوگ تھے۔ جو اسلام سے دشمنی رکھتے تھے اور اسلام کا انکار کرتے تھے ، لیکن ان کے دماغ زیادہ پیچیدہ نہ تھے اور نہ فلسفیانہ افکار وہ رکھتے تھے۔ اکثر لوگ سادہ لوح اور سیدھے تھے۔
جہاں تک اس قصے کی طرزادا کا تعلق ہے تو یہ قرآن کے انداز بیان کا ایک نمونہ ہے۔ اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جو کسی قصے میں اچانک نمودار ہوتی ہیں اور پڑھنے اور معلوم کرنے کا شوق بڑھاتی ہیں اور اس میں انسانی تدابیر اور ان کے فیل ہونے کے مناظر بھی ہیں کہ انسان کس طرح اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے مگر ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اور یہ قصہ یوں بیان ہوتا ہے کہ گویا کردار ہمارے سامنے یہ سب کچھ کررہے ہیں۔ ذرا اسے دیکھئے خود قرآن کے الفاظ میں۔
اب ہم باغ والوں کے سامنے ہیں۔ یہ دنیا کی جنت ہے ، آخرت کی جنت نہیں ہے۔ یہ اس باغ کے بارے میں رات فیصلہ کرتے ہیں ، بالعموم جب باغ توڑا جاتا ہے تو ہر معاشرہ میں مساکین بھی اس دن حاضر ہوتے ہیں اور وہ بھی پیداوار میں سے اپنا حصہ پاتے ہیں۔ اور اس باغ کے سلسلے میں بھی یہی معمول تھا۔ لیکن اس باغ کے وراثت میں پانے والے موجودہ مالکان نے ، یہ اسکیم بنائی ہے کہ مساکین کو محروم کردیا جائے۔ واقعات یوں آگے بڑھتے ہیں۔
انا بلونھم .................... یستثنون (81) (86 : 71۔ 81) ”” ہم نے ان (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا ، جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور وہ کوئی استثناء نہیں کررہے تھے “۔ انہوں نے یہ طے کیا کہ صبح تڑکے باغ کا پھل توڑ لائیں لیکن اس قرارداد کے بعد انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا۔ یا یہ نہ طے کیا کہ مساکین کے لئے بھی کچھ چھوڑیں گے اور اس پر انہوں نے قسم بھی اٹھائی کہ ایسا ضرور کریں گے اور اس امر کا فیصلہ کرلیا ۔ اور رات کو انہوں نے یہ شریر فیصلہ کیا۔ انہوں نے جو سازش کی یہ انہی کے دلوں میں رہی اور ان کو پتہ ہی نہ چلا کہ رات کی تاریکی میں باغ کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اس کا انہیں تصور بھی نہ تھا۔ یہ تو سوگئے لیکن اللہ تو نہیں سوتا۔ اللہ نے وہ کام کیا جو ان کی تدبیر کے برعکس تھا۔ اور یہ بطور سزا ہوا کہ انہوں نے نعمت کا شکر ادا کرنے کی بجائے سرکشی کی اور مساکین اور فقراء کا حصہ کاٹنے کا فیصلہ کیا حالانکہ وہ پہلے سے چلاآرہا تھا۔ یہ اک اچانک آفت ہے جو اس مرحلے پر سامنے آتی ہے۔ رات کی تاریکی میں دست قدرت کے بھیجے ہوئے کچھ سائے حرکت میں آتے ہیں۔ لوگ سوئے ہوئے ہیں۔
القلم 68:18
انا بلونھم ................ یعلمون
ہوسکتا ہے کہ یہ قصہ اہل مکہ کے درمیان معروف ہو۔ لیکن یہاں مقصود یہ ہے کہ اس دنیا کے تمام کام دست قدرت میں ہیں۔ اور یہاں کوئی خوشحال ہے یا بدحال ہے ، وہ اللہ کی آزمائش میں ہے۔ اور یہی اس قصے سے یہاں مقصود ومطلوب ہے۔
اس قصے کے کرداروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت ہی پسماندہ قسم کے سادہ لوح لوگ ہیں۔ جس طرح دیہات کے سادہ لوح باشندے ہوتے ہیں۔ زیادہ گہرے افکار سے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ اور سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں۔ اس دور میں جب یہ آیات اتررہی تھیں تو قرآن کے مخاطب اکثر ایسے ہی سادہ لوگ تھے۔ جو اسلام سے دشمنی رکھتے تھے اور اسلام کا انکار کرتے تھے ، لیکن ان کے دماغ زیادہ پیچیدہ نہ تھے اور نہ فلسفیانہ افکار وہ رکھتے تھے۔ اکثر لوگ سادہ لوح اور سیدھے تھے۔
جہاں تک اس قصے کی طرزادا کا تعلق ہے تو یہ قرآن کے انداز بیان کا ایک نمونہ ہے۔ اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جو کسی قصے میں اچانک نمودار ہوتی ہیں اور پڑھنے اور معلوم کرنے کا شوق بڑھاتی ہیں اور اس میں انسانی تدابیر اور ان کے فیل ہونے کے مناظر بھی ہیں کہ انسان کس طرح اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے مگر ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اور یہ قصہ یوں بیان ہوتا ہے کہ گویا کردار ہمارے سامنے یہ سب کچھ کررہے ہیں۔ ذرا اسے دیکھئے خود قرآن کے الفاظ میں۔
اب ہم باغ والوں کے سامنے ہیں۔ یہ دنیا کی جنت ہے ، آخرت کی جنت نہیں ہے۔ یہ اس باغ کے بارے میں رات فیصلہ کرتے ہیں ، بالعموم جب باغ توڑا جاتا ہے تو ہر معاشرہ میں مساکین بھی اس دن حاضر ہوتے ہیں اور وہ بھی پیداوار میں سے اپنا حصہ پاتے ہیں۔ اور اس باغ کے سلسلے میں بھی یہی معمول تھا۔ لیکن اس باغ کے وراثت میں پانے والے موجودہ مالکان نے ، یہ اسکیم بنائی ہے کہ مساکین کو محروم کردیا جائے۔ واقعات یوں آگے بڑھتے ہیں۔
انا بلونھم .................... یستثنون (81) (86 : 71۔ 81) ”” ہم نے ان (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا ، جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور وہ کوئی استثناء نہیں کررہے تھے “۔ انہوں نے یہ طے کیا کہ صبح تڑکے باغ کا پھل توڑ لائیں لیکن اس قرارداد کے بعد انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا۔ یا یہ نہ طے کیا کہ مساکین کے لئے بھی کچھ چھوڑیں گے اور اس پر انہوں نے قسم بھی اٹھائی کہ ایسا ضرور کریں گے اور اس امر کا فیصلہ کرلیا ۔ اور رات کو انہوں نے یہ شریر فیصلہ کیا۔ انہوں نے جو سازش کی یہ انہی کے دلوں میں رہی اور ان کو پتہ ہی نہ چلا کہ رات کی تاریکی میں باغ کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اس کا انہیں تصور بھی نہ تھا۔ یہ تو سوگئے لیکن اللہ تو نہیں سوتا۔ اللہ نے وہ کام کیا جو ان کی تدبیر کے برعکس تھا۔ اور یہ بطور سزا ہوا کہ انہوں نے نعمت کا شکر ادا کرنے کی بجائے سرکشی کی اور مساکین اور فقراء کا حصہ کاٹنے کا فیصلہ کیا حالانکہ وہ پہلے سے چلاآرہا تھا۔ یہ اک اچانک آفت ہے جو اس مرحلے پر سامنے آتی ہے۔ رات کی تاریکی میں دست قدرت کے بھیجے ہوئے کچھ سائے حرکت میں آتے ہیں۔ لوگ سوئے ہوئے ہیں۔
القلم 68:19
فطاف ............................ کالصریم (02) (86 : 91۔ 02) ” رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ میں پھر گئی اور اس کا ایسا حال ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو “۔ یعنی اس بلانے رات کو اس کے تمام پھل ختم کردیئے۔ لیکن اس باغ کا منظر اب نظروں سے ہٹا لیجئے .... اب ان لوگوں کا منظر سامنے آتا ہے جنہوں نے رات کو تدبیر کی تھی اور حلفیہ فیصلہ کیا تھا۔ یہ لوگ صبح سویرے ایک دوسرے پر آوازیں بھی دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کریں۔
القلم 68:20
فطاف ............................ کالصریم (02) (86 : 91۔ 02) ” رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ میں پھر گئی اور اس کا ایسا حال ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو “۔ یعنی اس بلانے رات کو اس کے تمام پھل ختم کردیئے۔ لیکن اس باغ کا منظر اب نظروں سے ہٹا لیجئے .... اب ان لوگوں کا منظر سامنے آتا ہے جنہوں نے رات کو تدبیر کی تھی اور حلفیہ فیصلہ کیا تھا۔ یہ لوگ صبح سویرے ایک دوسرے پر آوازیں بھی دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کریں۔
القلم 68:21
فتنادوا ................ صرمین (86 : 22) (86 : 12۔ 22) ” صبح سویرے انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو “۔ صبح وہ ایک دوسرے کو اٹھاتے جگاتے ہیں اور رات کے فیصلے کو یاد دلاتے ہیں اور چپکے چپکے یہ عمل ہورہا ہے۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ان کے ساتھ ایک مذاق بھی ہوتا ہے۔ ان کے اٹھنے اٹھانے ، چلنے اور باہم گفتگو کی تصویر خوب کھینچی جاتی ہے۔ یہ نہایت دھیمی آواز سے بات کرتے ہیں تاکہ ان کی تدبیر پوری طرح کامیاب ہو ، تاکہ پورا پھل توڑلیں اور مساکین کو پوری طرح محروم کردیں۔
القلم 68:22
فتنادوا ................ صرمین (86 : 22) (86 : 12۔ 22) ” صبح سویرے انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو “۔ صبح وہ ایک دوسرے کو اٹھاتے جگاتے ہیں اور رات کے فیصلے کو یاد دلاتے ہیں اور چپکے چپکے یہ عمل ہورہا ہے۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ان کے ساتھ ایک مذاق بھی ہوتا ہے۔ ان کے اٹھنے اٹھانے ، چلنے اور باہم گفتگو کی تصویر خوب کھینچی جاتی ہے۔ یہ نہایت دھیمی آواز سے بات کرتے ہیں تاکہ ان کی تدبیر پوری طرح کامیاب ہو ، تاکہ پورا پھل توڑلیں اور مساکین کو پوری طرح محروم کردیں۔
القلم 68:23
فانطلقوا .................... مسکین (42) (86 : 32۔ 42” چناچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے “۔ اب حالت یہ ہے کہ ہم جو قرآن پڑھ رہے ہیں ہمیں تو معلوم ہے کہ آگے کیا آرہا ہے لیکن ان چاروں کو تہ پتہ نہیں ہے کہ آگے وہ کیا دیکھنے جارہے ہیں۔ ہم نے تو یہ منظر دیکھ لیا ہے کہ رات کو دست قدرت اپنا کام کر گیا ہے۔ باغ میں تو اب کچھ نہیں توڑنے کے لئے۔ باغ یوں ہے کہ گویا کسی نے اس کے تمام پھل توڑ لئے ہیں اور وہاں کچھ بھی باقی نہ ہو۔ اور خفیہ ہاتھ نے یہ کام کردیا۔ اب ہماری سانس رک رہی ہے کہ یہ لوگ کس صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں۔ ان کی تمام تدابیر ان پر الٹ گئی ہیں۔
القلم 68:24
فانطلقوا .................... مسکین (42) (86 : 32۔ 42” چناچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے “۔ اب حالت یہ ہے کہ ہم جو قرآن پڑھ رہے ہیں ہمیں تو معلوم ہے کہ آگے کیا آرہا ہے لیکن ان چاروں کو تہ پتہ نہیں ہے کہ آگے وہ کیا دیکھنے جارہے ہیں۔ ہم نے تو یہ منظر دیکھ لیا ہے کہ رات کو دست قدرت اپنا کام کر گیا ہے۔ باغ میں تو اب کچھ نہیں توڑنے کے لئے۔ باغ یوں ہے کہ گویا کسی نے اس کے تمام پھل توڑ لئے ہیں اور وہاں کچھ بھی باقی نہ ہو۔ اور خفیہ ہاتھ نے یہ کام کردیا۔ اب ہماری سانس رک رہی ہے کہ یہ لوگ کس صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں۔ ان کی تمام تدابیر ان پر الٹ گئی ہیں۔
القلم 68:25
سیاق کلام مزید مذاق کررہا ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ۔
وغدوا ................ قدرین (86 : 52) ” وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل منع کرنے پر) قادر ہیں “۔ وہ اس ارادے سے چلے کہ وہ مساکین سے پھل روکنے اور انہیں منع کرنے پر قادر ہیں۔ اب پہلی مرتبہ وہ ایک ایسی صورت حال سے دو چار ہوتے ہیں جس کی توقع وہ نہ کرتے تھے۔ اب مزاح کی جگہ سنجیدگی آجاتی ہے۔
القلم 68:26
فلما .................... لضالون (86 : 62) ” مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے ، ” ہم راستہ بھول گئے ہیں “۔ یہ تو ہمارا باغ ہی نظر نہیں آتا۔ ہمارا باغ تو پھل سے لدا تھا۔ شاید ہم راستہ بھول کر کسی دوسری جگہ آگئے ہیں۔ لیکن جب معلوم ہوتا ہے کہ راستہ تو نہیں بھولے وہی معروف راستہ ہے جس سے آئے۔
القلم 68:27
بل نحن محرومون (86 : 72) ” نہیں ، بلکہ ہم محروم رہ گئے “۔ اور یہ ہے اصل حقیقت۔ اب سازش اور مکاری کے انجام نے انہیں گھیر لیا تھا۔ سرکشی اور دوسروں کے حقوق مارنے کا انجام انہوں نے دیکھا۔ اب ان میں سے معتدل ، عقلمند اور صالح آدمی یہ تبصرہ کرتا ہے :
معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ اس حرکت کا فیصلہ کررہے تھے تو اس نے ان کو غریبوں کی اس حق تلفی سے منع کیا تھا۔ اس نے چونکہ اپنی رائے پر اصرار نہ کیا تھا اس لئے اسے بھی دوسروں کے ساتھ نقصان میں شریک ہونا پڑا۔ لیکن وہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ تم نے میری بات نہ سنی۔
القلم 68:28
بل نحن محرومون (86 : 72) ” نہیں ، بلکہ ہم محروم رہ گئے “۔ اور یہ ہے اصل حقیقت۔ اب سازش اور مکاری کے انجام نے انہیں گھیر لیا تھا۔ سرکشی اور دوسروں کے حقوق مارنے کا انجام انہوں نے دیکھا۔ اب ان میں سے معتدل ، عقلمند اور صالح آدمی یہ تبصرہ کرتا ہے :
معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ اس حرکت کا فیصلہ کررہے تھے تو اس نے ان کو غریبوں کی اس حق تلفی سے منع کیا تھا۔ اس نے چونکہ اپنی رائے پر اصرار نہ کیا تھا اس لئے اسے بھی دوسروں کے ساتھ نقصان میں شریک ہونا پڑا۔ لیکن وہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ تم نے میری بات نہ سنی۔
القلم 68:29
بل نحن محرومون (86 : 72) ” نہیں ، بلکہ ہم محروم رہ گئے “۔ اور یہ ہے اصل حقیقت۔ اب سازش اور مکاری کے انجام نے انہیں گھیر لیا تھا۔ سرکشی اور دوسروں کے حقوق مارنے کا انجام انہوں نے دیکھا۔ اب ان میں سے معتدل ، عقلمند اور صالح آدمی یہ تبصرہ کرتا ہے :
معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ اس حرکت کا فیصلہ کررہے تھے تو اس نے ان کو غریبوں کی اس حق تلفی سے منع کیا تھا۔ اس نے چونکہ اپنی رائے پر اصرار نہ کیا تھا اس لئے اسے بھی دوسروں کے ساتھ نقصان میں شریک ہونا پڑا۔ لیکن وہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ تم نے میری بات نہ سنی۔
القلم 68:30
فاقبل ................ یتلاومون (86 : 03) ” پھر ان میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا “۔ لیکن آخر کار وہ جان لیتے ہیں کہ سب کی غلطی ہے ، اب نادم ہوتے ہیں۔ اور توبہ کے بعد امید کرتے ہیں کہ شاید اللہ ان کو یہ باغ دوبارہ عطا کردے۔ دوبارہ اسے باردار کردے کیونکہ اب وہ مساکین کے خلاف سازش اور بخل سے باز آنے کا عزم کرچکے ہیں۔
القلم 68:31
قالوا ........................ رغبون (23) (86 : 13۔ 23) ” آخر کار انہوں نے کہا ” افسوس ہمارے حال پر ، بیشک ہم سرکش ہوگئے تھے۔ بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے ، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں “۔ اور قبل اس کے کہ اس منظر پر سے پردہ گر جائے ، ہم یہ نصیحت سنتے ہیں :
القلم 68:32
قالوا ........................ رغبون (23) (86 : 13۔ 23) ” آخر کار انہوں نے کہا ” افسوس ہمارے حال پر ، بیشک ہم سرکش ہوگئے تھے۔ بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے ، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں “۔ اور قبل اس کے کہ اس منظر پر سے پردہ گر جائے ، ہم یہ نصیحت سنتے ہیں :
القلم 68:33
کذلک .................... یعلمون (86 : 33) ” ایسا ہوتا ہے عذاب۔ اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے ، کاش یہ لوگ اس کو جانتے “۔ یوں ہوتی ہے نعمتوں میں بھی آزمائش۔ اس لئے اہل مکہ کو معلوم ہونا چاہئے۔
انا بلونھم ................ الجنة (86 : 71) ” ہم نے ان کو اسی طرح آزمائش میں ڈال دیا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمایا تھا “۔ لہٰذا ان کو دیکھنا چاہئے کہ ان کی بھلائی کس میں ہے۔ اور یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دنیا کی آزمائش اور عذاب تو مختصر ہوتا ہے۔ اس کی تلافی ہوجاتی ہے۔
ولعذاب ................ یعلمون (86 : 33) ” لیکن آخرت کا عذاب اس سے بہت بڑا ہے ، کاش یہ لوگ جانتے “۔
یوں قریشی کے سامنے خود ان کے بدوی معاشرے کا ایک مشہور واقعہ رکھا جاتا ہے۔ چناچہ بتایا جاتا ہے کہ یہ پرانا واقعہ پھر دہرایا جاسکتا ہے۔ ان کو چاہئے کہ اپنی دولت کو دین اسلام پر ظلم کے لئے استعمال نہ کریں۔ ورنہ اللہ اس کو ضائع کرسکتا ہے۔ اور اہل ایمان کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ کبراء قریش کو جو مال و دولت اور جاہ و مرتبہ دیا گیا ہے اور وہ اسے غلط استعمال کررہے ہیں ، یہ سخت آزمائش میں ہیں۔ بہت جلد نتائج سامنے آجائیں گے۔ اور اگر یہ باز آجائیں تو ان کے لئے بہتر ہے ، کاش کہ وہ ہوش کے ناخن لیتے۔
والعذاب .................... یعلمون (86 : 33) ” لیکن آخرت کا عذاب اس سے بہت بڑا ہے ، کاش یہ لوگ جانتے “۔ رہے وہ لوگ جو ڈرنے والے ہیں اور چوکنے ہیں تو ان کے لئے درجات ہیں۔
القلم 68:34
ان للمتقین ................ النعیم
” یہ ہے دونوں کے انجام کا فرق۔ اور یہ ہے دونوں کے طرز عمل اور حقیقت کا فرق۔ دونوں کی راہ الگ ہے تو یقینا دونوں کا انجام بھی الگ الگ ہوگا۔
اب اس کے بعد قرآن کریم ان کے ساتھ ایک ایسا مکالمہ کرتا ہے جو بالکل قابل فہم ہے اور سورت کے ماقبل کے مضامین نے اسے واضح کردیا ہے۔ اور ان پر اب سوال پر سوال کیا جاتا ہے۔ ایسا سوال جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اس لئے وہ جواب نہیں دے سکتے۔ کیونکہ ان سوالات کا واحد جواب ہے جو کڑوا ہے۔ اس کے سوا یہ کوئی جواب نہیں دے سکتے اور آخرت میں ان کے لئے ایک خوفناک منظر ہے۔ اور دنیا میں ان کے ساتھ رب تعالیٰ کا اعلان جنگ ہے۔
القلم 68:35
افنجعل ............................ فھم یکتبون
اس مکالمے اور تحدیات کے درمیان یہ دھمکی بھی آتی ہے کہ آخرت میں تو ان کے لئے عذاب ہے ہی لیکن دنیا میں بھی ان کے خلاف جنگ ہوگی۔ یوں مکالمے میں گرمی پیدا ہوجاتی ہے اور چیلنج زور دار ہوجاتا ہے۔
چناچہ اہل مکہ کو چیلنج کے انداز میں کہا جاتا ہے۔
فنجعل ............ کالمجرمین (86 : 53) ”” فرمانبرداروں کا حال مجرموں کا سا کردیں ؟ “ یہ سوال آیات سابقہ میں پائے جانے والے لوگوں کے حوالے سے ہے جو مجرم تھے اور اس کا جواب صرف ایک ہے کہ مسلمین مجرمین کی طرح نہیں ہوسکتے۔ مسلمین رب کے سامنے جھکنے والے ہیں۔ یہ کبھی بھی ان لوگوں کی طرح نہیں ہوا کرتے جو جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ، جن کی اوصاف آیات سابقہ میں بیان کردی گئی ہیں اور جو اہل مکہ پر چسپاں ہوتی ہیں۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے۔ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مجرموں اور مسلموں کا انجام ایک طرح کا نہ ہو۔ چناچہ دوسرا سوال کیا جاتا ہے۔ یہ بھی سرزنش کا سوال ہے۔
القلم 68:36
مالکم ............ تحکمون (86 : 63) ” تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے تم کیسے حکم لگاتے ہو “۔ یعنی آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے ، تمہاری عقل کیوں کام نہیں کررہی ہے۔ تم فیصلے کن دلائل پر کرتے ہو ؟ آخر حسن وقبح کے پیمانے تمہارے ہاں کیا ہیں ؟ کہ تمہارے میزان کے مطابق ایک مسلم اور مجرم برابر ہے .... اس سرزنش اور استکاری سوالات کے بعد اب قرآن کے ساتھ مزاحیہ انداز اختیار کرتا ہے کہ یہ کسی سنجیدہ گفتگو کے قابل ہی نہیں۔
القلم 68:37
ام لکم ............................ تخیرون (83) (86 : 73۔ 83) ” کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لئے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ کس کتاب سے یہ علم لے کر آئے ہو ، کیونکہ عقل وعدل کا کوئی معیار تمہارے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اس لئے کہ تمہارے فیصلے کا خلاصہ تو یہ ہے کہ مسلموں اور مجرموں کا ایک ہی انجام ہے۔ پھر یہ عجیب مضحکہ خیز کتاب ہوگی جو تمہاری خواہشات اور تمہاری مرغوبات کے مطابق فیصلے کرتی ہے کہ جو تم چاہتے ہو ، وہی فیصلے اس میں درج ہیں۔ حق اور عدل پر مبنی نہیں ہیں۔ نہ معقول ومعروف کے کسی اصول پر مبنی ہیں۔
القلم 68:38
ام لکم ............................ تخیرون (83) (86 : 73۔ 83) ” کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لئے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ کس کتاب سے یہ علم لے کر آئے ہو ، کیونکہ عقل وعدل کا کوئی معیار تمہارے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اس لئے کہ تمہارے فیصلے کا خلاصہ تو یہ ہے کہ مسلموں اور مجرموں کا ایک ہی انجام ہے۔ پھر یہ عجیب مضحکہ خیز کتاب ہوگی جو تمہاری خواہشات اور تمہاری مرغوبات کے مطابق فیصلے کرتی ہے کہ جو تم چاہتے ہو ، وہی فیصلے اس میں درج ہیں۔ حق اور عدل پر مبنی نہیں ہیں۔ نہ معقول ومعروف کے کسی اصول پر مبنی ہیں۔
القلم 68:39
ام لکم .................... تحکمون (86 : 93) ” یا پھر کیا تمہارے لئے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہدوپیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاﺅ“۔ اگر کتاب نہیں ہے تو پھر اللہ کا کوئی عہد تمہارے ساتھ ہوگا پھم ؟ اور یہ عہد قیامت تک کے لئے ہوگا۔ اور اس کے مطابق تمہارا یہ حق تسلیم کرلیا گیا ہوگا ، کہ تمہارے نفس کے بارے میں تمہارا اپنا اختیار ہے تم جو چاہو ، کرو لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے ، اللہ کے ہاں ایسا عہد کسی کے ساتھ نہیں ہے۔ آخر وہ کس بنیاد پر ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کی دلیل کیا ہے ؟
القلم 68:40
سلھم ................ زعیم (86 : 04) ” ان سے پوچھو تم میں سے کون اس کا ضامن ہے “۔ یعنی اس معاہدے کے اوپر کوئی ہے دستخط کرنے والا اور اس پر عمل کروانے کی ضمانت دینے والا کہ اللہ کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ ہوا ہے اور جو قیامت تک کے لئے قابل عمل اور قابل نفاذ ہے۔ یہ اس قسم کا مزاح ہے ، اس قدر فصیح وبلیغ مزاح ہے کہ اسے سن کر ایک معقول آدمی تو پانی پانی ہوکر رہ جاتا ہے کیونکہ اسے ایک نہایت ہی کھلی اور روشن حقیقت کا سامنا ہوتا ہے۔
القلم 68:41
ام لھم ................ صدقین (86 : 14) ” یا پھر ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اس کا ذمہ لیا ہو) ؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے ان شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں “۔ یہ لوگ اللہ کے ساتھ کئی الہوں کو شریک ٹھہراتے تھے ، لیکن قرآن مجید ان کو اپنا شریک نہیں کہتا ، ان کا شریک کہتا ہے۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ اللہ کا شریک تو اللہ کو معلوم نہیں ہے۔ اور چیلنج دیتا ہے کہ یہ جو سمجھتے ہیں کہ ہیں تولے آئیں تاکہ ان کو دیکھا جائے ، لیکن کہاں سے لائیں ؟
القلم 68:42
یوم یکشف ................................ وھم سلمون (34) (86 : 24۔ 34) ” جس روز سخت وقت آپڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لئے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے ، ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ، ذلت ان پر چھارہی ہوگی۔ یہ جب صحیح وسالم تھے ، اس وقت انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے) “۔ یوں یہ لوگ قیامت کے اس منظر کے سامنے ہیں۔ گویا قیامت برپا ہے اور ان کو بلایا جارہا ہے ، کہ لاﺅ شریکوں کو جن کا تم دعویٰ کرتے تھے۔ اور اللہ کے علم میں تو یہ دن حقیقتاً حاضر ہے۔ کیونکہ اللہ کے علم میں ماضی ، حال اور مستقبل نہیں ہے۔ یوں اللہ کے علم کو پیش کرنا ، نہایت گہرا اثر ڈالتا ہے اور قرآن مجید کا مخصوص انداز بیان ہے۔
یکشف عن ساق ” جب پنڈلی کھل جائے گی “۔ یہ عربی محاورے میں سختی اور کرب کے لئے آتا ہے۔ یعنی مشکل وقت میں انسان آستین چڑھاتا ہے اور پائنچے اٹھاتا ہے اور پنڈلی کھل جاتی ہے۔ بالعموم مشکل وقت میں انسان ایسا کرتا ہے ، اور اس وقت ان کو دعوت دی جائے گی کہ اللہ کے سامنے سجدہ کرو ، یہ نہ کرسکیں گی ، کیونکہ وقت چلا گیا ہوگا اور یا اس لئے کہ اس وقت جس طرح دوسری جگہ کہا گیا :
مھطعین ............ روسھم ” سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے “ حالت یہ ہوگی کہ ان کے اعصاب اور اجسام خوف کے مارے اکڑے ہوئے ہوں اور وہ غیر ارادی طور پر سجدہ نہ کرسکیں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی خوفزدہ پریشان ہوں گے۔ مزید ہیئت کذائی یہ ہوگی۔
القلم 68:43
خاشعة ............ ذلة (86 : 34) ” ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ، رات ان پر چھائی ہوئی ہوگی “۔ یہ متکبر اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے والے اس دن یوں ہوں گے۔ نیچی نظر اور ذلیل حالت یہ دو حالتیں ان کی بداعمالیوں کا بدلہ ہیں۔ سورت کے آغاز میں جو ڈراوا آیا تھا کہ اس کی سونڈ پر ہم داغ لگائیں گے یہاں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گہری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے اور ذلیل و خوار ہوں گے۔
یہ ایسے حالات میں ہیں شکستہ دریختہ کہ ان کو ڈرایا دلایا جاتا ہے کہ اس حالت تک وہ کس وجہ سے پہنچے ، کیونکہ یہ لوگ حق سے منہ موڑتے تھے اور تکبر کرتے تھے۔ اور جب صحیح سالم تھے اور ان کو سجدوں کے لئے بلایا جاتا تھا ، تو یہ تکبر کرتے تھے۔ اب اس وجہ سے یہ لوگ اس ذلیل موقف میں ہیں اور اس مختصر دنیا کہ تو یہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ آج انہیں بلایا جاتا ہے مگر ان کے اندر سکت ہی نہیں ہے۔
وقد .................... سلمون (86 : 34) ” جب صحیح وسالم تھے اس وقت انہیں جسدے کے لئے بلایا جاتا تھا “ مگر یہ انکار کرتے تھے۔ اور آج بلایا جاتا ہے ، کرنا چاہتے ہیں ، مگر طاقت نہیں ہے یا موقعہ نہیں۔ ایسی ہی حالت میں ایک دوسری تہدید دلوں کو ہلا مارنے والی جبکہ وہ پہلے سے کرب اور بےچینی میں ہیں اور حواس باختہ ہیں۔
القلم 68:44
فذرنی ............ الحدیث (86 : 55) “ پس اے نبی ! تم اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو “۔ مارگئے۔ یہ خوفناک دھمکی ہے اللہ جبار وقہار کی طرف سے ، جو قوی اور مضبوط ہے۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ چھوڑ دیجئے ان نٹ پونجیوں کو جو اس عظیم کلام کی تکذیب کرتے ہیں۔ میں ان سے لڑوں گا۔ یہ کون تھا جو تکذیب کرتا تھا ؟ یہ وہی انسان ہے جس کی قوت ایک چیونٹی سے بھی کم ہے۔ بلکہ اس پوری کائنات کی نسبت سے یہ تو ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے جو ہوا میں اڑرہا ہے۔ اللہ قہار وجبار کی قوت کے مقابلے میں ، اس کی عظمت کے مقابلے میں انسان بیچارہ ہے کیا ؟
محمد (ﷺ) تم ان کو میرے لئے چھوڑدو ، آپ اور اہل ایمان آرام و اطمینان سے بیٹھیں ، یہ جنگ میرے ساتھ ہے ، میرے دین کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ میرے دشمن ہیں۔ میں ان کے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے رہا ہوں ، ان کو معلوم ہوجائے گا۔ آپ لوگ آرام و اطمینان سے بیٹھ جائیں۔ کس قدر خوفناک دھمکی ہے۔ اور کس قدر باوثوق یقین دہانی ہے ، ان لوگوں کو جو اس وقت نہایت ہی کمزور پوزیشن میں ہیں۔ اور یہ محض یقین دہانی ہی نہیں ہے۔ اللہ جبار وقہار بتلا دیتا ہے کہ ان کے خلاف کیا سٹریجی اختیار کی جائے گی۔ یہ تو بہت ہی کمزور ہیں اور ضعیف ہیں۔
سنستدرجھم ................ متین (54) (86 : 44۔ 54) “ ہم ایسے طریقہ سے ان کو بتدریج تباہی کی طرف سے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ میں ان کی رسی دراز کررہا ہوں ، میری چال بڑی زبردست ہے “۔ ان مکذبین اور تمام روئے زمین کے باشندے اس سے فروتر ہیں کہ اللہ ان کے بارے میں کوئی تدبیر کرے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کو اپنی قوتوں سے ڈراتا ہے کہ وہ اللہ کے غضب کو دعوت نہ دیں۔ اور وقت کے چلے جانے سے پہلے ہی ، اپنے آپ کو درست کرلیں ، اور یہ جان لیں کہ یہ ظاہری عافیت جس میں وہ ہیں ، یہ بھی ان کے لئے بڑی فتح ہے جس پر وہ غرور کررہے ہیں۔ اور یہ کہ ان کو جو ظلم کرنے ، سرکشی کرنے ، دین اسلام سے منہ موڑنے ، اور گمراہی اختیار کرنے کی جو مہلت دے دی گئی ہے ، یہ دراصل مزید برے انجام کی تدبیر ہے۔ یہ اللہ کی تدبیر ہے کہ یہ لوگ اپنے بوجھ پورے کے پورے اٹھائیں اور قیامت میں جب آئیں تو گناہوں سے لدے ہوئے ہوں اور شرمندگی ، سرزنش اور عذاب میں ڈالے جانے کے مستحق ہوچکے ہوں۔
اللہ نے جو تدبیر کی ہوئی ہے ، اس میں بھی اللہ نہایت ہی عارلانہ اور رحیمانہ انداز اپناتا ہے کہ ان کو پہلے سے بتا دیتا ہے ، حالانکہ وہ اس کے دین کے دشمن ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے دشمن ہیں تاکہ وہ غور کرلیں اور اگر چاہیں تو راہ راست پر آجائیں۔
اللہ تعالیٰ مہلت تو دیتا ہے لیکن یونہی شتر بےمہار نہیں چھوڑتا۔ جب وہ ظالموں کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ سے پھر کوئی بچ نہیں سکتا۔ یہاں اللہ اپنے طریقے ، اپنی سنت اور اپنی مشیت بتاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو بتاتا ہے کہ جو لوگ اس کلام کا انکار کرتے ہیں ان کو ذرا چھوڑیں کہ میں کس طرح انجام تک پہنچاتا ہوں۔ یہ لوگ مال ، اولاد اور مرتبہ ومقام پر اتراتے ہیں۔ میں ان کو مہلت دیتا ہوں۔ یہ نعمتیں ہی ان کے لئے باعث عذاب ہوں گی۔ یوں رسول اللہ ﷺ کو مطمئن کردیا جاتا ہے اور ان کو عذاب کے منہ میں جانے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ انداز تعبیر نہایت معنی خیز ، خوفناک اور عجیب ہے۔
فذرنی ................ الحدیث (86 : 44) چھوڑ دو مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کرتے ہیں “۔ میرے اور ان احمقوں کے درمیان اب گویا جنگ شروع ہوگئی ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ اللہ کی جنگ رہی ہے۔ اس اعلان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھاتا ہے کہ معرکہ ایمان وکفر ، معرکہ حق و باطل میں ، دراصل تم فریق نہیں ہو۔ ایک فریق یہ احمق ہیں اور دوسرا اللہ ہے۔ اس جنگ کی کمان اللہ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔
اور یہ بات دراصل ہے بھی حقیقت ، اگرچہ بظاہر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ معرکہ حق و باطل میں اہم کردار نظر آتے ہیں ، ان کا جو کردار ہے وہ بھی سنت الٰہیہ اور تقدیر الٰہی کی تدبیر کا ایک حصہ ہے۔ رسول اللہ اور مسلمان تو دست قدرت کے آلات کار تھے ، یہ اللہ ہی تھا جو انہیں استعمال کرتا تھا۔ وہ فعال لمایرید ہے جو چاہتا ہے ، کرتا ہے اور کراتا ہے۔ کام اللہ خود کرتا ہے۔
جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ مکہ میں تھے اور مکہ کے بھی ابتدائی ایام تھے۔ مسلمان نہایت ہی قلیل تعداد میں تھے ، ضعیف تھے۔ یوں اللہ نے ان کے کاسہ دل کو اطمینان سے بھر دیا اور یوں ان لوگوں کو خوفزدہ کردیا جو قوت ، مال ، مرتبے اور اولاد کی وجہ سے غرے میں مبتلا تھے۔ اس کے بعد جب حضور ﷺ مدینہ گئے تو وہاں ظاہری حالات بدل گئے۔ اللہ نے یہ چاہا کہ رسول اللہ اور مسلمانوں کا اس معرکہ میں ایک ظاہری کردار بھی ہو۔ لیکن اصل حقیقت اللہ نے ہمیشہ دو ٹوک الفاظ میں بتائی جہاں وہ مکہ میں ضعیف تھے ، تب بھی اور مدینہ میں وہ بظاہر کامیاب اور طاقتور تھے تب بھی۔ بدر میں کہا۔
فلم تقتلوھم ................ سمیع علیم (8 : 71) ” پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے نبی تونے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لئے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے ، یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے “ تاکہ ان کے دلوں میں یہ حقیقت بیٹھ جائے کہ جنگ کا فریق دراصل اللہ ہے۔ اور یہ جنگ اس کی جنگ ہے ، تاکہ اس آزمائش میں اللہ کے لئے اجر لکھ دے۔ رہی اصل جنگ تو وہ اللہ کی ہے اور رہی فتح تو وہ بھی اللہ عطا کرتا ہے ، مسلمانوں کے بغیر بھی یہ فتح اللہ عطا کرسکتا ہے۔ رہے یہ لوگ جو اس میں شریک ہوتے ہیں تو یہ دست قدرت کے آلات ہوتے ہیں۔ اور اللہ کی افواج صرف مومنین تک محدود نہیں ہیں۔
بہرحال قرآنی آیات میں اس حقیقت کو بالکل واضح کرکے بیان کیا ہے ، خواہ بظاہر مسلمان کمزور ہوں یا مضبوط ، نیز اللہ کے نظام قضا وقدر کے ساتھ بھی یہی بات متفق ہے۔ اللہ کی سنت اور اللہ کی مشیت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ رہے مسلمان اور اسلامی افواج تو وہ محض آلات اور اسباب ہیں۔
یہ وہ حقیقت ہے جو مومن کو حالت قوت اور ضعف دونوں میں مطمئن کردیتی ہے بشرطیکہ قلب مومن مخلص ہو ، اور جہاد میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہو ، کیونکہ کفر واسلام کے معرکوں میں مسلمانوں کی قوت فیصلہ کن نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی نصرت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اللہ نصرت کا ضامن بن جاتا ہے۔ اگر مسلمان ضعیف بھی ہوں تو بھی فتح پاتے ہیں کیونکہ ان کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ ہاں اللہ دشمنوں کو مہلت دیتا ہے۔ ان کی رسی دراز کرتا ہے۔ اور اپنی مشیت ، حکمت ، اور عدل اور رحمت کے مطابق اپنے مناسب وقت پر اپنے دشمنوں کو شکست دیتا ہے۔
نیز یہ ایک ایسی حقیقت بھی ہے جس سے اللہ کے دشمنوں کے دل بھی تھر تھر کانپتے ہیں۔ چاہے مسلمان حالت ضعف میں ہوں یا حالت قوت میں ہوں۔ اس لئے کہ دشمن اسلام بھی جانتا ہے کہ ہمارا مقابلہ مسلمانوں سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اس خدا سے جو اپنے نبی سے کہہ رہا ہے۔
فذرنی .................... الحدیث (86 : 44) ” چھوڑدو مجھے اور اس شخص کو جو اس کلام کی تکذیب کرتا ہے “۔ تم الگ ہوجاﺅ اور اس بد بخت کو میرے لئے چھوڑ دو لیکن اللہ کی چال زبردست اور اس کا جال نظر فریب ہوتا ہے۔ یہ اس میں اس طرح پھنس جائیں گے کہ پتہ بھی نہ چلے گا۔ اگر چہ یہ طاقتور ہوں۔ یہ ان لوگوں کی توقت جس کی وجہ سے یہ غرے میں مبتلا ہیں یہی ان کے لئے موجب شکست ہوگی۔
القلم 68:45
واملی .................... مثین (86 : 54) ” میں ان کی رسی دراز کررہا ہوں میری چال زبردست ہے “۔ رہی یہ بات کہ فتح کب ہوگی ، تو اس کا علم اللہ کو ہے۔ کوئی اللہ کی چال اور جال سے بچ کر نہیں نکل کستا۔ اس سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو فسق وفجور میں بہت دور چلے جاتے ہیں۔
ایسے حالات میں آخر نبی ﷺ کو صرف یہی کہنے کی ضرورت ہے کہ آپ وقت آنے تک صبر کریں۔ مشکلات برداشت کریں ، رسالت اور دعوت کی ذمہ داریاں پوری کریں ، نفس کی خواہشات پر صبر کریں۔ ان کی ایذارسانیوں پر صبر کریں۔ یہاں تک کہ اللہ کے مقابلے کا وقت آجائے۔ یہاں دعوت اسلامی کی تاریخ سے ایک واقعہ بتایا جاتا ہے کہ جلد بازی نہ کریں اللہ نظام کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور حضرت یونس (علیہ السلام) نے بےصبری کی تھی تو اللہ کے فضل ہی نے ان کی مدد کی۔
القلم 68:46
اس خوفناک منظر اور اس خوفناک تہدید کی فضا میں یہ مکالمہ یوں اختتام پذیر ہوتا ہے ، ان کے موقف پر تعجب کیا جاتا ہے اور چیلنج دیا جاتا ہے۔
ام تسئلھم ................ مثقلون (86 : 64) ” کیا تم ان سے کوئی اجر طلب کررہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جارہے ہوں ؟ “ کیا اسلام میں داخل کرنے کی کوئی بڑی فیس ہے جس سے یہ لوگ ڈر رہے ہیں اور بوجھ کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اور منہ موڑ رہے ہیں۔ اور اس لئے مجبور ہیں کہ یہ برا انجام ہی اختیار کریں۔ محض اس لئے کہ ادائیگی مشکل ہے۔
القلم 68:47
ام عندھم .................... یکتبون (86 : 74) ” یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ؟ “ ان کو یقین ہے کہ وہ سچی راہ پر ہیں۔ اور وہ ڈرتے نہیں۔ ان کو یہ غیبی تائید حاصل ہے اور یہ علم انہوں نے لکھ رکھا ہے اور ان کو یقین ہے یا انہوں نے خودا سے لکھ لیا ہے اور ان کو یقین ہے کہ یہ درست ہے۔ کچھ بھی ان کے پاس نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان کو کوئی یقین حاصل ہے اور نہ ہی آپ کوئی فیس طلب کرتے ہیں۔
القلم 68:48
فاصبر ........................ من الصلحین
مچھلی والے حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے واقعہ کی تفصیلات سورة صافات میں گزر گئی ہیں ۔ ان کے تجربہ کا خلاصہ یہ ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے ، کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو اللہ نے ایک گاﺅں کی طرف بھیجا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موصل کے قریب نینویٰ نامی گاﺅں تھا۔ ان لوگوں نے ایمان لانے میں دیر کردی۔ آپ کو ان کی یہ حرکت ناگوار گزری۔ غصے میں آپ نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ اپنے دل میں کہا کہ اللہ نے مجھ پر یہ لازم نہیں کیا کہ ان ہٹ دھرموں اور معاندین کے درمیان بیٹھا رہوں جبکہ یہ نہیں مان رہے ہیں ، تو میں کسی دوسری قوم میں کام کرسکتا ہوں یا اللہ مجھے دوسری جگہ بھیج سکتا ہے۔ اس غصے کی حالت میں آپ ساحل کے کنارے تک چلے گئے۔ ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ جب یہ سمندر کے درمیان گئے تو کشتی بھاری ہوگئی اور غرق ہونے لگی۔ انہوں نے قرعہ پھینکا کہ کشتی کو ہلکا کرنے کے لئے ایک آدمی کو کم کیا جائے۔ قرعہ آپ کا نکلا۔ لوگوں نے آپ کو سمندر میں پھینک دیا۔ مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت حضرت یونس (علیہ السلام) نے اللہ کو پکارا جب کہ وہ سخت مشکل میں تھے اور قریب المرگ تھے۔ سمندر کے اندر مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ تاریکیوں پر تاریکیاں تھیں۔ اور موجوں پر موجیں تھیں۔ یہاں انہوں نے پکارا۔
لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین ” نہیں ہے کوئی الٰہ مگر تو ، تو پاک ہے اور میں ظالموں میں سے تھا “۔ اس وقت اللہ کا فضل وکرم آپہنچا ، مچھلی نے انہیں حکم الٰہی کے مطابق ساحل پر اگل دیا۔ اور اس وقت ان کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ وہ گوشت کالوتھڑا رہ گئے تھے۔ مچھلی کے معدے کی کیمیاوی عمل ان کی جلد کو رقیق بنا دیا تھا جبکہ ابھی تک اللہ نے ان کو زندہ رکھا۔ معجزانہ انداز میں اور اللہ خود اپنے بنائے ہوئے قوانین حیات کا پابند نہیں ہے۔
یہاں اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا تو مچھلی انہیں اس حالت میں پھینکتی کہ وہ مذموم ہوتے۔ یعنی رب تعالیٰ کی طرف سے مذموم ہوتے۔ کہ وہ اپنے مقام دعوت سے ذرا جلدی چلے گئے۔ اللہ نے ان کی اس تسبیح کو قبول کیا اور ان کے اعتراف اور عذر کو قبول کرلیا اور ان پر رحم وکرم کردیا۔
القلم 68:49
فاصبر ........................ من الصلحین
مچھلی والے حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے واقعہ کی تفصیلات سورة صافات میں گزر گئی ہیں ۔ ان کے تجربہ کا خلاصہ یہ ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے ، کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو اللہ نے ایک گاﺅں کی طرف بھیجا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موصل کے قریب نینویٰ نامی گاﺅں تھا۔ ان لوگوں نے ایمان لانے میں دیر کردی۔ آپ کو ان کی یہ حرکت ناگوار گزری۔ غصے میں آپ نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ اپنے دل میں کہا کہ اللہ نے مجھ پر یہ لازم نہیں کیا کہ ان ہٹ دھرموں اور معاندین کے درمیان بیٹھا رہوں جبکہ یہ نہیں مان رہے ہیں ، تو میں کسی دوسری قوم میں کام کرسکتا ہوں یا اللہ مجھے دوسری جگہ بھیج سکتا ہے۔ اس غصے کی حالت میں آپ ساحل کے کنارے تک چلے گئے۔ ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ جب یہ سمندر کے درمیان گئے تو کشتی بھاری ہوگئی اور غرق ہونے لگی۔ انہوں نے قرعہ پھینکا کہ کشتی کو ہلکا کرنے کے لئے ایک آدمی کو کم کیا جائے۔ قرعہ آپ کا نکلا۔ لوگوں نے آپ کو سمندر میں پھینک دیا۔ مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت حضرت یونس (علیہ السلام) نے اللہ کو پکارا جب کہ وہ سخت مشکل میں تھے اور قریب المرگ تھے۔ سمندر کے اندر مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ تاریکیوں پر تاریکیاں تھیں۔ اور موجوں پر موجیں تھیں۔ یہاں انہوں نے پکارا۔
لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین ” نہیں ہے کوئی الٰہ مگر تو ، تو پاک ہے اور میں ظالموں میں سے تھا “۔ اس وقت اللہ کا فضل وکرم آپہنچا ، مچھلی نے انہیں حکم الٰہی کے مطابق ساحل پر اگل دیا۔ اور اس وقت ان کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ وہ گوشت کالوتھڑا رہ گئے تھے۔ مچھلی کے معدے کی کیمیاوی عمل ان کی جلد کو رقیق بنا دیا تھا جبکہ ابھی تک اللہ نے ان کو زندہ رکھا۔ معجزانہ انداز میں اور اللہ خود اپنے بنائے ہوئے قوانین حیات کا پابند نہیں ہے۔
یہاں اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا تو مچھلی انہیں اس حالت میں پھینکتی کہ وہ مذموم ہوتے۔ یعنی رب تعالیٰ کی طرف سے مذموم ہوتے۔ کہ وہ اپنے مقام دعوت سے ذرا جلدی چلے گئے۔ اللہ نے ان کی اس تسبیح کو قبول کیا اور ان کے اعتراف اور عذر کو قبول کرلیا اور ان پر رحم وکرم کردیا۔
القلم 68:50
فاجتبہ ........................ الصلحین (86 : 05) ” آخر کار اس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اسے صالح بندوں میں شامل کردیا “۔
یہ تجربہ خاتم النبین کے لئے پیش کیا گیا تاکہ آپ اپنے فرائض رسالت کی ادائیگی میں اس سے استفادہ کریں۔ کیونکہ آپ نے آخری رسالت کا کام تمام سابقہ تجربات کی روشنی میں کرنا تھا۔ تمام نصیحتیں ، تمام عبرتیں اور تمام تجربات کی فصل آپ نے کاٹنی تھی تاکہ آپ کے لئے اپنے کام میں فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔ اور آپ یہ بوجھ اچھی طرح اٹھاسکیں۔ تاکہ آنے والے زمانے میں ، جدید سے جدید تر حالات میں بھی زندگی کی گاڑی ان اصولوں کے مطابق چلائی جاسکے اور جب مستقبل کوئی نیا مسئلہ لے کر آئے تو اس دعوت اور رسالت کے اصولوں میں اس کا حل موجود ہو۔
یہ تجربہ جس سے حضرت یونس (علیہ السلام) گزرے ، یہ نبی ﷺ کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کہ انہی کی طرح لوگ ہٹ دھرمی ، تکذیب اور سرکشی پر اترے ہوئے ہیں اور یہ نصیحت آپ کو اس وقت کی گئی جب حق و باطل کے معرکے کی ذمہ داری سے آپ کو سبکدوش کردیا گیا۔ یہ ذمہ داری اللہ نے لے لی۔ جس طرح چاہے گا ، جنگ کرے گا ، جس وقت چاہے گا ، کرے گا۔ آپ کو یہ حکم دے دیا کہ آپ صبر اور ثابت قدمی سے اپنا کام یعنی ابلاغ کرتے رہیں ، چاہے اس راہ میں جو مشکلات بھی آئیں ، تمام فیصلے وقت پر ہوں گے۔ مقام دعوت نہ چھوڑیں نہ جلدی کریں۔
دعوت اسلامی کی مشکلات اور مشقتوں میں سے سب سے بڑی مشقت صبر کرنا ہے۔ اور اس وقت کا انتظار کرنا ہے کہ جب اللہ اپنا آخری فیصلہ صادر کردے کیونکہ دعوت کامیابی کے وقت کا فیصلہ اللہ کے پاس ہے اور یہ فیصلہ اللہ اپنی حکمت کے مطابق صار فرماتا ہے۔ اس فیصلے کی گھڑی کے آنے سے پہلے اس راہ میں بڑی مشقتیں آتی رہتی ہیں ، لوگ جھٹلاتے ہیں ، پھر تشدد کرتے ہیں۔ چالیں چلتے ہیں اور سخت عناد رکھتے ہیں۔ باطل اپنی قوت کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ اسے اس طرح بڑھا کر پیش کرتا ہے جس طرح غبارے میں ہوا بھردی جاتی ہے۔ اور وہ خوفناک نظر آتا ہے ، لوگ ظاہری کامیابی اور باطل کی چلت پھرت سے مرعوب ہوکر اس کے پیچھے ہو لیتے ہیں ، پھر مشکل ترین مشقت یہ ہوتی ہے کہ داعی نہایت ثابت قدمی ، استقلال ، سنجیدگی کے ساتھ جم کر کام کرتا رہے اور وعدہ حق کی آمد کا انتظار کرے۔ کوئی شک نہ کرے ، کوئی تردد اسے نہ ہو ، سیدھی راہ پر جارہا ہو ، اگرچہ راہ میں رکاوٹیں آئیں تو گویا وقت کے آنے کا انتظار بڑی مشقت ہے۔ رہا اصل معرکہ تو یہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ وہی اس معرکے میں فریق ہے ، وہی تدبیر کررہا ہے۔ وہ ظالموں کی رسی دراز کررہا ہے۔ اور اس میں حکمت پوشیدہ ہے۔ یہی وعدہ ان مشکل حالات میں نبی کریم ﷺ سے ہوا اور بعد کے حالات نے اس کی تصدیق کی۔
آخر میں کافروں کے ایک دوسرے منظر کو یہاں لایا جاتا ہے۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی دعوت اور تبلیغ سن کر سخت غصے میں آتے تھے اور جل بھن جاتے تھے اور ان کے دل میں سخت عناد اور حسد پیدا ہوتا ہے ، جس کا اظہار ان کی نظروں سے ہوتا ۔ زہر آلود اور قہر آمیز نظروں سے یہ لوگ آپ کو گھورتے ہیں۔ قرآن کریم ان کو نہایت ہی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جس پر اضافہ ممکن نہیں۔
القلم 68:51
وان یکاد .................................... للعلمین
یہ ممکن تھا کہ یہ خشمگیں نظریں حضور اکرم ﷺ کے قدم ہلادیں اور آپ پھسل جائیں۔ اور آپ ڈگمگانے لگیں۔ ان کی نظروں میں جس قدر قہر ، غضب ، شرارت ، جوش انتقام اور حسد اور گرمی تھی ، قرآن کریم نے اسے بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ اور ان نظروں کے ساتھ وہ سب وشتم اور اتہام والزام بھی لگاتے اور کہتے۔
انہ لمجنون (86 : 15) ” یہ تو ایک مجنون ہے “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جسے دست قدرت کا قلم ہی رقم کرسکتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی اس ابتدائی دور میں کس قدر مشکل حالات سے گزر رہی تھی۔ اس وقت مکہ کے مخالفین کا حلقہ بااثر مجرمین کا ایک وسیع حلقہ تھا۔ ان کے دل جل رہے تھے اور آنکھیں مارے غضب کے پھٹ رہی تھیں۔ لیکن اللہ فرماتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر احمق ہیں کہ مکہ کے اس چھوٹے سے شہر میں جل بھن رہے ہیں یہ تو ایک عالمی پروگرام ہے۔
القلم 68:52
وما ھوا ................ للعلمین (86 : 25) ” حالانکہ یہ تجہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے “۔ صرف مکہ والوں کے لئے نہیں ہے اور پھر یہ جو الزام لگاتے ہیں وہ کس قدر احمقانہ ہے کہ کیا دیوانے عالمی اصلاح کا کوئی پروگرام پیش کرتے ہیں۔ صدق اللہ العظیم !
یہاں مناسب ہے کہ لفظ العالمین پر بات ہوجائے۔ ابھی یہ دعوت مکہ میں ہے ، چند ماننے والے ہیں اور رسول کو خشمگیں نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ اور مشرکین مکہ اس کے خلاف جنگ میں اپنے پورے وسائل استعمال کررہے ہیں۔ اس ابتدائی دور میں ، اس مشکل وقت میں بھی اعلان کردیا جاتا ہے کہ یہ عالمی تحریک ہے۔ جس طرح کہ اس کی حقیقت تھی۔ لہٰذا مدینہ میں جب اس تحریک نے عالمی انداز اختیار کیا تو یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ جس طرح آج کل مغربی افتراء پرداز یہ الزام لگاتے ہیں کہ دعوت اسلامی نے عالمی رنگ صرف مدینہ کی کامیابی کے بعد اختیار کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ پہلے دن سے ایک عالمی دعوت تھی۔ یہی اللہ کا ارادہ تھا اور یونہی یہ دعوت زمانہ آخر تک رہے گی۔ یہ اللہ کا ارادہ ہے۔ یہ دعوت اللہ کی ہے اور وہی اس کا محافظ ہے۔ وہ اس کا حامی اور ناصر ہے۔ وہی اس کی جانب سے لڑنے والا ہے۔ اور اس کے حاملین کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اس پر جم جائیں۔ وہ سب سے اچھے فیصلے کرنے والا ہے۔