Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الحاقة 69:1 – المعارج 70:44

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الحاقة 69:1
  2. الحاقة 69:2
  3. الحاقة 69:3
  4. الحاقة 69:4
  5. الحاقة 69:5
  6. الحاقة 69:6
  7. الحاقة 69:7
  8. الحاقة 69:8
  9. الحاقة 69:9
  10. الحاقة 69:10
  11. الحاقة 69:11
  12. الحاقة 69:12
  13. الحاقة 69:13
  14. الحاقة 69:14
  15. الحاقة 69:15
  16. الحاقة 69:16
  17. الحاقة 69:17
  18. الحاقة 69:18
  19. الحاقة 69:19
  20. الحاقة 69:20
  21. الحاقة 69:21
  22. الحاقة 69:22
  23. الحاقة 69:23
  24. الحاقة 69:24
  25. الحاقة 69:25
  26. الحاقة 69:26
  27. الحاقة 69:27
  28. الحاقة 69:28
  29. الحاقة 69:29
  30. الحاقة 69:30
  31. الحاقة 69:31
  32. الحاقة 69:32
  33. الحاقة 69:33
  34. الحاقة 69:34
  35. الحاقة 69:35
  36. الحاقة 69:36
  37. الحاقة 69:37
  38. الحاقة 69:38
  39. الحاقة 69:39
  40. الحاقة 69:40
  41. الحاقة 69:41
  42. الحاقة 69:42
  43. الحاقة 69:43
  44. الحاقة 69:44
  45. الحاقة 69:45
  46. الحاقة 69:46
  47. الحاقة 69:47
  48. الحاقة 69:48
  49. الحاقة 69:49
  50. الحاقة 69:50
  51. الحاقة 69:51
  52. الحاقة 69:52
  53. المعارج 70:1
  54. المعارج 70:2
  55. المعارج 70:3
  56. المعارج 70:4
  57. المعارج 70:5
  58. المعارج 70:6
  59. المعارج 70:7
  60. المعارج 70:8
  61. المعارج 70:9
  62. المعارج 70:10
  63. المعارج 70:11
  64. المعارج 70:12
  65. المعارج 70:13
  66. المعارج 70:14
  67. المعارج 70:15
  68. المعارج 70:16
  69. المعارج 70:17
  70. المعارج 70:18
  71. المعارج 70:19
  72. المعارج 70:20
  73. المعارج 70:21
  74. المعارج 70:22
  75. المعارج 70:23
  76. المعارج 70:24
  77. المعارج 70:25
  78. المعارج 70:26
  79. المعارج 70:27
  80. المعارج 70:28
  81. المعارج 70:29
  82. المعارج 70:30
  83. المعارج 70:31
  84. المعارج 70:32
  85. المعارج 70:33
  86. المعارج 70:34
  87. المعارج 70:35
  88. المعارج 70:36
  89. المعارج 70:37
  90. المعارج 70:38
  91. المعارج 70:39
  92. المعارج 70:40
  93. المعارج 70:41
  94. المعارج 70:42
  95. المعارج 70:43
  96. المعارج 70:44

الحاقة 69:1

اس سورت کا موضوع اور محور ہولناک مشاہد قیامت ہیں۔ آغاز بھی قیامت کے ایک نام سے ہے اور نام بھی اس سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ نام قیامت کے واقعات کا اظہار اپنے تلفظ اور مفہوم دونوں سے کرتا ہے۔ الحاقہ اس آفت کو کہا جاتا ہے جس کا آنا ٹھہر گیا ہو۔ وہ حق ہوچکی ہو اور اس کا نزول لازمی ہوگیا ہو اور جس نے ہونا ہو اور اٹل ہو۔ یہ سب مفہوم ایسے ہیں کہ جن کے اندر قطعیت ، جزم ، شدنی کا مفہوم ہے۔ لہٰذا قیامت کے لئے اس لفظ کا استعمال سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ پھر اس لفظ کے تلفظ کے اندر بھی وہ اشارہ موجود ہے ، جو بات اس کے مفہوم میں ہے اور آگے سورت میں جو فضا بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ نیز تکذیب کرنے والوں کا دنیا وآخرت میں جو انجام ہونے والا ہے اس کے لئے لفظ الحاقہ حق ہے اور برحق ہے۔ پوری سورت کی فضا نہایت سنجیدہ اور قطعیت کی فضا ہے اور خوفناک فضا ہے۔ ایک طرف تو اس میں قدرت الٰہیہ کی ہیبت ناکیاں ہیں۔ اور دوسری جانب اس میں اس انسان کی ، اس قدرت الٰہیہ کے سامنے بےبسیاں ہیں اور پھر ان کے ساتھ اس کی خرمستیاں ہیں اور جب وہ اللہ کی شدید گرفت میں آتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے مناظر میں بھی ، اس دنیا میں اس وقت جب یہ اسلامی نظام کو رد کرکے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ، تو اللہ کی شدید پکڑ میں آتا ہے اور اس گرفت اور پکڑ کے پھر کئی رنگ ہیں اور ہر رنگ دوسرے سے خوفناک ہے۔ اس لئے کہ یہ اس دنیا میں شتر بےمہار نہیں چھوڑا گیا تھا۔ نہ اس لئے کہ یہاں یہ کچھ اور بن جائے۔ بلکہ اس کا فریضہ یہ تھا کہ رسولوں کا احترام کرے اور ان کی اطاعت کرے۔ اس پوری سورت کے الفاظ ، اپنے تلفظ ، ترنم ، اپنے مفہوم ، اپنے اجتماع اور ترکیب کے لحاظ سے یہ فضا بنانے میں شریک ہیں۔ سورت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ ایک مفرد کلمہ لایا جاتا ہے۔ یہ متبدا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔ الحاقة (96 : 1) اس کے بعد اس عظیم حادثہ کے بارے میں ایک بھر پور خوفناک اور ہولناک سوال اور استفہام ہے۔ ما الحاقة (96 : 2) ” کیا ہے ، یہ واقعہ “ تمہیں اس کا کیا پتہ ہے کہ یہ کس قدر ہولناک ہوگا۔ اس کے بعد خود ہی بتادیا جاتا ہے کہ تمہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ یہ کس قدر ہیبت ناک واقعہ ہوگا ؟ مخاطب کو لاعلم اور جاہل بنا کر اور بتا کر اس کے ہول اور خوف کو دوچند کردیا گیا اور اس کے بعد مزید خوفناک بات یہ ہے کہ کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ کوئی وضاحت ابھی نہیں کی جاتی تاکہ خوف اور ہراس کی یہ فضا ذرا دیر تک قائم رہے۔ انسان سوچے کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہے جس کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے اور نہ بتایا جارہا ہے۔ کیا ہی محیرالعقول انداز ہے ! اس سوال کو یہاں چھوڑ کر مکذبین کو لیا جاتا ہے۔ جن پر اس دنیا میں قیامت گزر گئی جو پیس کر رکھ دیئے گئے۔ بہت ہی ناقابل انکار ، سنجیدہ واقعات ، کوئی شخص ان واقعات کی تکذیب پر اصرار نہیں کرسکتا۔ الحاقة (96 : 1) کے بعد قیامت کا دوسرا نام آتا ہے القارعة۔ یہ نام الحاقة (96 : 1) سے بھی سخت۔ الحاقہ تو وہ واقعہ جو ہونی شدنی ہے اور القرع کے معنی ہیں۔ ایک سخت چیز کو دوسری اس قسم کی سخت چیز پر مارنا اور قیامت کے قیام کو القارعة اسی لئے کہا گیا ہے ، اس کی وجہ سے دلوں پر ہولناک اور خوفناک ضربات پڑیں گی اور یہ پوری کائنات توڑ پھوڑ کر شکار ہوجائے گی۔ لفظ القارعة بھی اپنے تلفظ ، اپنی سخت آواز کی وجہ سے ٹکراتا ، مارتا اور دلوں کے اندر جزع وفزع پیدا کرتا ہے۔ عاد اور ثمودنے اس ہونی شدنی کا انکار کیا ، اس کھڑکھڑاکر ٹوٹ پڑنے والی آفت یعنی قیامت کا انکار کیا۔

الحاقة 69:2

اس سورت کا موضوع اور محور ہولناک مشاہد قیامت ہیں۔ آغاز بھی قیامت کے ایک نام سے ہے اور نام بھی اس سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ نام قیامت کے واقعات کا اظہار اپنے تلفظ اور مفہوم دونوں سے کرتا ہے۔ الحاقہ اس آفت کو کہا جاتا ہے جس کا آنا ٹھہر گیا ہو۔ وہ حق ہوچکی ہو اور اس کا نزول لازمی ہوگیا ہو اور جس نے ہونا ہو اور اٹل ہو۔ یہ سب مفہوم ایسے ہیں کہ جن کے اندر قطعیت ، جزم ، شدنی کا مفہوم ہے۔ لہٰذا قیامت کے لئے اس لفظ کا استعمال سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ پھر اس لفظ کے تلفظ کے اندر بھی وہ اشارہ موجود ہے ، جو بات اس کے مفہوم میں ہے اور آگے سورت میں جو فضا بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ نیز تکذیب کرنے والوں کا دنیا وآخرت میں جو انجام ہونے والا ہے اس کے لئے لفظ الحاقہ حق ہے اور برحق ہے۔ پوری سورت کی فضا نہایت سنجیدہ اور قطعیت کی فضا ہے اور خوفناک فضا ہے۔ ایک طرف تو اس میں قدرت الٰہیہ کی ہیبت ناکیاں ہیں۔ اور دوسری جانب اس میں اس انسان کی ، اس قدرت الٰہیہ کے سامنے بےبسیاں ہیں اور پھر ان کے ساتھ اس کی خرمستیاں ہیں اور جب وہ اللہ کی شدید گرفت میں آتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے مناظر میں بھی ، اس دنیا میں اس وقت جب یہ اسلامی نظام کو رد کرکے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ، تو اللہ کی شدید پکڑ میں آتا ہے اور اس گرفت اور پکڑ کے پھر کئی رنگ ہیں اور ہر رنگ دوسرے سے خوفناک ہے۔ اس لئے کہ یہ اس دنیا میں شتر بےمہار نہیں چھوڑا گیا تھا۔ نہ اس لئے کہ یہاں یہ کچھ اور بن جائے۔ بلکہ اس کا فریضہ یہ تھا کہ رسولوں کا احترام کرے اور ان کی اطاعت کرے۔ اس پوری سورت کے الفاظ ، اپنے تلفظ ، ترنم ، اپنے مفہوم ، اپنے اجتماع اور ترکیب کے لحاظ سے یہ فضا بنانے میں شریک ہیں۔ سورت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ ایک مفرد کلمہ لایا جاتا ہے۔ یہ متبدا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔ الحاقة (96 : 1) اس کے بعد اس عظیم حادثہ کے بارے میں ایک بھر پور خوفناک اور ہولناک سوال اور استفہام ہے۔ ما الحاقة (96 : 2) ” کیا ہے ، یہ واقعہ “ تمہیں اس کا کیا پتہ ہے کہ یہ کس قدر ہولناک ہوگا۔ اس کے بعد خود ہی بتادیا جاتا ہے کہ تمہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ یہ کس قدر ہیبت ناک واقعہ ہوگا ؟ مخاطب کو لاعلم اور جاہل بنا کر اور بتا کر اس کے ہول اور خوف کو دوچند کردیا گیا اور اس کے بعد مزید خوفناک بات یہ ہے کہ کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ کوئی وضاحت ابھی نہیں کی جاتی تاکہ خوف اور ہراس کی یہ فضا ذرا دیر تک قائم رہے۔ انسان سوچے کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہے جس کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے اور نہ بتایا جارہا ہے۔ کیا ہی محیرالعقول انداز ہے ! اس سوال کو یہاں چھوڑ کر مکذبین کو لیا جاتا ہے۔ جن پر اس دنیا میں قیامت گزر گئی جو پیس کر رکھ دیئے گئے۔ بہت ہی ناقابل انکار ، سنجیدہ واقعات ، کوئی شخص ان واقعات کی تکذیب پر اصرار نہیں کرسکتا۔ الحاقة (96 : 1) کے بعد قیامت کا دوسرا نام آتا ہے القارعة۔ یہ نام الحاقة (96 : 1) سے بھی سخت۔ الحاقہ تو وہ واقعہ جو ہونی شدنی ہے اور القرع کے معنی ہیں۔ ایک سخت چیز کو دوسری اس قسم کی سخت چیز پر مارنا اور قیامت کے قیام کو القارعة اسی لئے کہا گیا ہے ، اس کی وجہ سے دلوں پر ہولناک اور خوفناک ضربات پڑیں گی اور یہ پوری کائنات توڑ پھوڑ کر شکار ہوجائے گی۔ لفظ القارعة بھی اپنے تلفظ ، اپنی سخت آواز کی وجہ سے ٹکراتا ، مارتا اور دلوں کے اندر جزع وفزع پیدا کرتا ہے۔ عاد اور ثمودنے اس ہونی شدنی کا انکار کیا ، اس کھڑکھڑاکر ٹوٹ پڑنے والی آفت یعنی قیامت کا انکار کیا۔

الحاقة 69:3

اس سورت کا موضوع اور محور ہولناک مشاہد قیامت ہیں۔ آغاز بھی قیامت کے ایک نام سے ہے اور نام بھی اس سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ نام قیامت کے واقعات کا اظہار اپنے تلفظ اور مفہوم دونوں سے کرتا ہے۔ الحاقہ اس آفت کو کہا جاتا ہے جس کا آنا ٹھہر گیا ہو۔ وہ حق ہوچکی ہو اور اس کا نزول لازمی ہوگیا ہو اور جس نے ہونا ہو اور اٹل ہو۔ یہ سب مفہوم ایسے ہیں کہ جن کے اندر قطعیت ، جزم ، شدنی کا مفہوم ہے۔ لہٰذا قیامت کے لئے اس لفظ کا استعمال سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ پھر اس لفظ کے تلفظ کے اندر بھی وہ اشارہ موجود ہے ، جو بات اس کے مفہوم میں ہے اور آگے سورت میں جو فضا بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ نیز تکذیب کرنے والوں کا دنیا وآخرت میں جو انجام ہونے والا ہے اس کے لئے لفظ الحاقہ حق ہے اور برحق ہے۔ پوری سورت کی فضا نہایت سنجیدہ اور قطعیت کی فضا ہے اور خوفناک فضا ہے۔ ایک طرف تو اس میں قدرت الٰہیہ کی ہیبت ناکیاں ہیں۔ اور دوسری جانب اس میں اس انسان کی ، اس قدرت الٰہیہ کے سامنے بےبسیاں ہیں اور پھر ان کے ساتھ اس کی خرمستیاں ہیں اور جب وہ اللہ کی شدید گرفت میں آتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے مناظر میں بھی ، اس دنیا میں اس وقت جب یہ اسلامی نظام کو رد کرکے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ، تو اللہ کی شدید پکڑ میں آتا ہے اور اس گرفت اور پکڑ کے پھر کئی رنگ ہیں اور ہر رنگ دوسرے سے خوفناک ہے۔ اس لئے کہ یہ اس دنیا میں شتر بےمہار نہیں چھوڑا گیا تھا۔ نہ اس لئے کہ یہاں یہ کچھ اور بن جائے۔ بلکہ اس کا فریضہ یہ تھا کہ رسولوں کا احترام کرے اور ان کی اطاعت کرے۔ اس پوری سورت کے الفاظ ، اپنے تلفظ ، ترنم ، اپنے مفہوم ، اپنے اجتماع اور ترکیب کے لحاظ سے یہ فضا بنانے میں شریک ہیں۔ سورت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ ایک مفرد کلمہ لایا جاتا ہے۔ یہ متبدا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔ الحاقة (96 : 1) اس کے بعد اس عظیم حادثہ کے بارے میں ایک بھر پور خوفناک اور ہولناک سوال اور استفہام ہے۔ ما الحاقة (96 : 2) ” کیا ہے ، یہ واقعہ “ تمہیں اس کا کیا پتہ ہے کہ یہ کس قدر ہولناک ہوگا۔ اس کے بعد خود ہی بتادیا جاتا ہے کہ تمہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ یہ کس قدر ہیبت ناک واقعہ ہوگا ؟ مخاطب کو لاعلم اور جاہل بنا کر اور بتا کر اس کے ہول اور خوف کو دوچند کردیا گیا اور اس کے بعد مزید خوفناک بات یہ ہے کہ کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ کوئی وضاحت ابھی نہیں کی جاتی تاکہ خوف اور ہراس کی یہ فضا ذرا دیر تک قائم رہے۔ انسان سوچے کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہے جس کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے اور نہ بتایا جارہا ہے۔ کیا ہی محیرالعقول انداز ہے ! اس سوال کو یہاں چھوڑ کر مکذبین کو لیا جاتا ہے۔ جن پر اس دنیا میں قیامت گزر گئی جو پیس کر رکھ دیئے گئے۔ بہت ہی ناقابل انکار ، سنجیدہ واقعات ، کوئی شخص ان واقعات کی تکذیب پر اصرار نہیں کرسکتا۔ الحاقة (96 : 1) کے بعد قیامت کا دوسرا نام آتا ہے القارعة۔ یہ نام الحاقة (96 : 1) سے بھی سخت۔ الحاقہ تو وہ واقعہ جو ہونی شدنی ہے اور القرع کے معنی ہیں۔ ایک سخت چیز کو دوسری اس قسم کی سخت چیز پر مارنا اور قیامت کے قیام کو القارعة اسی لئے کہا گیا ہے ، اس کی وجہ سے دلوں پر ہولناک اور خوفناک ضربات پڑیں گی اور یہ پوری کائنات توڑ پھوڑ کر شکار ہوجائے گی۔ لفظ القارعة بھی اپنے تلفظ ، اپنی سخت آواز کی وجہ سے ٹکراتا ، مارتا اور دلوں کے اندر جزع وفزع پیدا کرتا ہے۔ عاد اور ثمودنے اس ہونی شدنی کا انکار کیا ، اس کھڑکھڑاکر ٹوٹ پڑنے والی آفت یعنی قیامت کا انکار کیا۔

الحاقة 69:4

اس سورت کا موضوع اور محور ہولناک مشاہد قیامت ہیں۔ آغاز بھی قیامت کے ایک نام سے ہے اور نام بھی اس سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ نام قیامت کے واقعات کا اظہار اپنے تلفظ اور مفہوم دونوں سے کرتا ہے۔ الحاقہ اس آفت کو کہا جاتا ہے جس کا آنا ٹھہر گیا ہو۔ وہ حق ہوچکی ہو اور اس کا نزول لازمی ہوگیا ہو اور جس نے ہونا ہو اور اٹل ہو۔ یہ سب مفہوم ایسے ہیں کہ جن کے اندر قطعیت ، جزم ، شدنی کا مفہوم ہے۔ لہٰذا قیامت کے لئے اس لفظ کا استعمال سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ پھر اس لفظ کے تلفظ کے اندر بھی وہ اشارہ موجود ہے ، جو بات اس کے مفہوم میں ہے اور آگے سورت میں جو فضا بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ نیز تکذیب کرنے والوں کا دنیا وآخرت میں جو انجام ہونے والا ہے اس کے لئے لفظ الحاقہ حق ہے اور برحق ہے۔ پوری سورت کی فضا نہایت سنجیدہ اور قطعیت کی فضا ہے اور خوفناک فضا ہے۔ ایک طرف تو اس میں قدرت الٰہیہ کی ہیبت ناکیاں ہیں۔ اور دوسری جانب اس میں اس انسان کی ، اس قدرت الٰہیہ کے سامنے بےبسیاں ہیں اور پھر ان کے ساتھ اس کی خرمستیاں ہیں اور جب وہ اللہ کی شدید گرفت میں آتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے مناظر میں بھی ، اس دنیا میں اس وقت جب یہ اسلامی نظام کو رد کرکے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ، تو اللہ کی شدید پکڑ میں آتا ہے اور اس گرفت اور پکڑ کے پھر کئی رنگ ہیں اور ہر رنگ دوسرے سے خوفناک ہے۔ اس لئے کہ یہ اس دنیا میں شتر بےمہار نہیں چھوڑا گیا تھا۔ نہ اس لئے کہ یہاں یہ کچھ اور بن جائے۔ بلکہ اس کا فریضہ یہ تھا کہ رسولوں کا احترام کرے اور ان کی اطاعت کرے۔ اس پوری سورت کے الفاظ ، اپنے تلفظ ، ترنم ، اپنے مفہوم ، اپنے اجتماع اور ترکیب کے لحاظ سے یہ فضا بنانے میں شریک ہیں۔ سورت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ ایک مفرد کلمہ لایا جاتا ہے۔ یہ متبدا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔ الحاقة (96 : 1) اس کے بعد اس عظیم حادثہ کے بارے میں ایک بھر پور خوفناک اور ہولناک سوال اور استفہام ہے۔ ما الحاقة (96 : 2) ” کیا ہے ، یہ واقعہ “ تمہیں اس کا کیا پتہ ہے کہ یہ کس قدر ہولناک ہوگا۔ اس کے بعد خود ہی بتادیا جاتا ہے کہ تمہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ یہ کس قدر ہیبت ناک واقعہ ہوگا ؟ مخاطب کو لاعلم اور جاہل بنا کر اور بتا کر اس کے ہول اور خوف کو دوچند کردیا گیا اور اس کے بعد مزید خوفناک بات یہ ہے کہ کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ کوئی وضاحت ابھی نہیں کی جاتی تاکہ خوف اور ہراس کی یہ فضا ذرا دیر تک قائم رہے۔ انسان سوچے کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہے جس کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے اور نہ بتایا جارہا ہے۔ کیا ہی محیرالعقول انداز ہے ! اس سوال کو یہاں چھوڑ کر مکذبین کو لیا جاتا ہے۔ جن پر اس دنیا میں قیامت گزر گئی جو پیس کر رکھ دیئے گئے۔ بہت ہی ناقابل انکار ، سنجیدہ واقعات ، کوئی شخص ان واقعات کی تکذیب پر اصرار نہیں کرسکتا۔ الحاقة (96 : 1) کے بعد قیامت کا دوسرا نام آتا ہے القارعة۔ یہ نام الحاقة (96 : 1) سے بھی سخت۔ الحاقہ تو وہ واقعہ جو ہونی شدنی ہے اور القرع کے معنی ہیں۔ ایک سخت چیز کو دوسری اس قسم کی سخت چیز پر مارنا اور قیامت کے قیام کو القارعة اسی لئے کہا گیا ہے ، اس کی وجہ سے دلوں پر ہولناک اور خوفناک ضربات پڑیں گی اور یہ پوری کائنات توڑ پھوڑ کر شکار ہوجائے گی۔ لفظ القارعة بھی اپنے تلفظ ، اپنی سخت آواز کی وجہ سے ٹکراتا ، مارتا اور دلوں کے اندر جزع وفزع پیدا کرتا ہے۔ عاد اور ثمودنے اس ہونی شدنی کا انکار کیا ، اس کھڑکھڑاکر ٹوٹ پڑنے والی آفت یعنی قیامت کا انکار کیا۔

الحاقة 69:5

فاما ................ بالطاغیة (96 : 5) ” ثمودایک بڑے حادثہ سے ہلاک کیے گئے “۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ ثمود شمالی حجاز کے علاقہ حجر میں رہتے تھے ، حجاز اور شام کے درمیان۔ یہ ایک سخت دھماکے کی آواز سے ہلاک کیے گئے۔ دوسری جگہوں پر اس کے لئے الصیحہ کا لفظ آیا ہے ، لیکن یہاں اسے الطاغیہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ الطاغیہ کے معنی ہیں ایک ایسا حادثہ جس پر کنٹرول نہ کیا جاسکتا ہو ، اور یہاں اس سورت کی فضا میں ہوگنا کی اور خوفناکی کے اظہار کے لئے بھی لفظ الطاغیہ موزوں تھا اور جو قافیہ سابقہ آیات کا چلا آرہا تھا اس کے لئے بھی یہ تبدیلی ضروری تھی ، اس لئے الصحیہ کی جگہ الطاغیہ کا لفظ آیا۔ ثمود کا قصہ صرف اس ایک آیت سے تمام کردیا گیا۔ دفتر لپیٹ لیا گیا ، وہ ڈوب گئے اور ہوا نے ان کی خاک بھی اڑادی اور الطاغیہ نے انہیں یوں روندا کہ ان کا سایہ تک باقی نہ رہا۔ لیکن عاد کی تباہی کو ذرا تفصیل اور طوالت سے لیا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ ان کا عذاب بھی سات راتیں اور آٹھ دنوں تک مسلسل جاری رکھا گیا تھا۔ جبکہ ثمود ایک چیخ ، ایک کڑک کے ساتھ چشم زدن میں تباہ ہوگئے تھے۔

الحاقة 69:6

واما .................... عاتیة (96 : 6) ” عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے “۔ الریح الصرصر کے معنی ہیں ، سخت ٹھنڈی ہوا۔ لفظ صر صر سے ہوا کی آواز بھی ظاہر ہورہی ہے۔ اور اس ہوا کی زیادہ شدت ایک دوسرے لفظ عاتیة سے ظاہر کی گئی تاکہ عاد کی سرکشی کا علاج اس سرکش ہوا سے کیا جائے۔ مناسب عمل کی مناسب سزا۔ یہ عادی سخت جبار اور سرکش تھے۔ قرآن نے دوسری جگہ تفصیلات دی ہیں۔ یہ لوگ یمن اور حضرت موت کے درمیان احقاف میں رہتے تھے۔ یہ نہایت سخت گیر اور جبار تھے۔ یہ ہوا جو صر صر تھی اور ” عاتی “ تھی ” شدید سرد اور سرکش “۔

الحاقة 69:7

سخرھا ................ حسوما (96 : 7) ” اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کیا “۔ الحسوم کے معنی مسلسل کاٹ دینے والی۔ یہ شدید چلنے والی ، دھاڑتی چنگھارتی اور تباہی مچاتی ہوئی ، اس طویل عرصے کے لئے مسلسل جاری تھی۔ جس وقت قرآن تعین کے ساتھ کررہا ہے۔ فتری .................... خاویة (96 : 7) ” تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھڑے پڑے ہیں گویا وہ کھجور کے بوسیدہ تنے “۔ گویا یہ منظر اسکرین پر پیش ہورہا ہے یا سامنے ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ پردہ احساس پر منظر نمودار ہوجاتا ہے۔ صرعی ۔ وہ گرے پڑے اور بکھرے ہوئے۔ گویا وہ ایسے ہیں جیسے اعجاز نخل۔ (کھجور کے تنے جڑوں اور تنوں کے ساتھ) خاویہ یعنی بوسیدہ جو اندر سے خالی ہوں اور بوسیدگی کی وجہ سے جگہ جگہ گرے ہوئے ہوں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے کہ چندالفاظ میں اس کا نقشہ قرآن ہی کھینچ سکتا ہے۔ اب نہایت ہی ٹھہراﺅ ہے اور وہ منظر کہ جب ہوا چنگھاڑتی ہوئی گزر گئی ہے۔ فھل ............ باقیة (96 : 8) ” پھر کیا اب ان میں سے کوئی باقی بچا ہوا نظر آتا ہے “۔ نہیں کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ ویرانی ہی ویرانی ہے۔ یہ تو ہے عاد وثمود کا قصہ ، یہی حال ہے دوسرے مکذبین کا۔ اب فقط دو آیات میں کئی واقعات۔

الحاقة 69:8

سخرھا ................ حسوما (96 : 7) ” اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کیا “۔ الحسوم کے معنی مسلسل کاٹ دینے والی۔ یہ شدید چلنے والی ، دھاڑتی چنگھارتی اور تباہی مچاتی ہوئی ، اس طویل عرصے کے لئے مسلسل جاری تھی۔ جس وقت قرآن تعین کے ساتھ کررہا ہے۔ فتری .................... خاویة (96 : 7) ” تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھڑے پڑے ہیں گویا وہ کھجور کے بوسیدہ تنے “۔ گویا یہ منظر اسکرین پر پیش ہورہا ہے یا سامنے ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ پردہ احساس پر منظر نمودار ہوجاتا ہے۔ صرعی ۔ وہ گرے پڑے اور بکھرے ہوئے۔ گویا وہ ایسے ہیں جیسے اعجاز نخل۔ (کھجور کے تنے جڑوں اور تنوں کے ساتھ) خاویہ یعنی بوسیدہ جو اندر سے خالی ہوں اور بوسیدگی کی وجہ سے جگہ جگہ گرے ہوئے ہوں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے کہ چندالفاظ میں اس کا نقشہ قرآن ہی کھینچ سکتا ہے۔ اب نہایت ہی ٹھہراﺅ ہے اور وہ منظر کہ جب ہوا چنگھاڑتی ہوئی گزر گئی ہے۔ فھل ............ باقیة (96 : 8) ” پھر کیا اب ان میں سے کوئی باقی بچا ہوا نظر آتا ہے “۔ نہیں کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ ویرانی ہی ویرانی ہے۔ یہ تو ہے عاد وثمود کا قصہ ، یہی حال ہے دوسرے مکذبین کا۔ اب فقط دو آیات میں کئی واقعات۔

الحاقة 69:9

فرعون مصر میں تھا۔ یہ حضرت موسیٰ کے دور کا فرعون تھا۔ اس سے قبل اس کی تفصیلات نہیں آئیں۔ الموتفکت سے وہ بستیاں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں ، تباہ ہوئیں ، تلپٹ ہوئیں۔ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں تھیں ، جن کو ہلاک کیا گیا اور یوں کہ انہیں الٹ دیا گیا ۔ لفظ موتفکت کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں آتی ہیں۔ ان سب لوگوں کے کام اور بدعملی کو الخاطئہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی انہوں نے غلط فعل کا ارتکاب کیا۔ یہ الخطیئة سے ماخوذ ہے یعنی عظیم غلطی۔ یہاں فعصوارسول ربھم (96 : 01) ” ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی “۔ حالانکہ انہوں نے کئی رسولوں کی بات نہ مانی تھی۔ ایک رسول نہ تھا لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے رسول اور رسالت ایک ہی چیز ہے۔ گویا تمام رسول ایک ہی رسول ہیں۔ قرآن کریم کے یہ انوکھے اشارات میں سے ایک اشارہ ہے۔ اور اس سورت کی فضا کے مطابق ان سب کا ایک ہی ہولناک انجام ذکر کردیا جاتا ہے۔ جو فیصلہ کن انجام ہے۔ فاخذھم ................ رابیة (96 : 01) ” تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا “۔ رابیہ کے معنی ہیں : اعلیٰ ، ڈھانپنے والی ، دفن کرنے والی۔ یہ لفظ یہاں اس لئے لایا گیا ہے کہ لفظ طاغیہ کے ساتھ مناسبت پیدا ہوجائے جو ثمود پر آئی ہے۔ اور عاتیہ کے ساتھ یکساں ہوجائے جو عاد پر پڑی۔ اور اس سورت کی فضا اور ماحول سے مناسب لفظ بھی فراہم ہوجائے لیکن تفصیل اور طوالت بھی نہ ہو ، کیونکہ اس سورت میں اختصار بھی ملحوظ ہے۔ اب اس کے بعد سفینہ جاریہ کا منظر۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ حضرت نوح کا یہ امتیاز ہے کہ ان کے ساتھیوں کی نسل ہی سے موجود آبادی چلی ہے۔ لیکن انسانوں نے اس عظیم معجزے سے نہ عبرت پکڑی اور نہ خدا کا شکر ادا کیا ، کہ اس واقعہ میں اللہ نے ہمارے اجداد کو بچایا۔

الحاقة 69:10

فرعون مصر میں تھا۔ یہ حضرت موسیٰ کے دور کا فرعون تھا۔ اس سے قبل اس کی تفصیلات نہیں آئیں۔ الموتفکت سے وہ بستیاں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں ، تباہ ہوئیں ، تلپٹ ہوئیں۔ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں تھیں ، جن کو ہلاک کیا گیا اور یوں کہ انہیں الٹ دیا گیا ۔ لفظ موتفکت کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں آتی ہیں۔ ان سب لوگوں کے کام اور بدعملی کو الخاطئہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی انہوں نے غلط فعل کا ارتکاب کیا۔ یہ الخطیئة سے ماخوذ ہے یعنی عظیم غلطی۔ یہاں فعصوارسول ربھم (96 : 01) ” ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی “۔ حالانکہ انہوں نے کئی رسولوں کی بات نہ مانی تھی۔ ایک رسول نہ تھا لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے رسول اور رسالت ایک ہی چیز ہے۔ گویا تمام رسول ایک ہی رسول ہیں۔ قرآن کریم کے یہ انوکھے اشارات میں سے ایک اشارہ ہے۔ اور اس سورت کی فضا کے مطابق ان سب کا ایک ہی ہولناک انجام ذکر کردیا جاتا ہے۔ جو فیصلہ کن انجام ہے۔ فاخذھم ................ رابیة (96 : 01) ” تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا “۔ رابیہ کے معنی ہیں : اعلیٰ ، ڈھانپنے والی ، دفن کرنے والی۔ یہ لفظ یہاں اس لئے لایا گیا ہے کہ لفظ طاغیہ کے ساتھ مناسبت پیدا ہوجائے جو ثمود پر آئی ہے۔ اور عاتیہ کے ساتھ یکساں ہوجائے جو عاد پر پڑی۔ اور اس سورت کی فضا اور ماحول سے مناسب لفظ بھی فراہم ہوجائے لیکن تفصیل اور طوالت بھی نہ ہو ، کیونکہ اس سورت میں اختصار بھی ملحوظ ہے۔ اب اس کے بعد سفینہ جاریہ کا منظر۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ حضرت نوح کا یہ امتیاز ہے کہ ان کے ساتھیوں کی نسل ہی سے موجود آبادی چلی ہے۔ لیکن انسانوں نے اس عظیم معجزے سے نہ عبرت پکڑی اور نہ خدا کا شکر ادا کیا ، کہ اس واقعہ میں اللہ نے ہمارے اجداد کو بچایا۔

الحاقة 69:11

فرعون مصر میں تھا۔ یہ حضرت موسیٰ کے دور کا فرعون تھا۔ اس سے قبل اس کی تفصیلات نہیں آئیں۔ الموتفکت سے وہ بستیاں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں ، تباہ ہوئیں ، تلپٹ ہوئیں۔ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں تھیں ، جن کو ہلاک کیا گیا اور یوں کہ انہیں الٹ دیا گیا ۔ لفظ موتفکت کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں آتی ہیں۔ ان سب لوگوں کے کام اور بدعملی کو الخاطئہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی انہوں نے غلط فعل کا ارتکاب کیا۔ یہ الخطیئة سے ماخوذ ہے یعنی عظیم غلطی۔ یہاں فعصوارسول ربھم (96 : 01) ” ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی “۔ حالانکہ انہوں نے کئی رسولوں کی بات نہ مانی تھی۔ ایک رسول نہ تھا لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے رسول اور رسالت ایک ہی چیز ہے۔ گویا تمام رسول ایک ہی رسول ہیں۔ قرآن کریم کے یہ انوکھے اشارات میں سے ایک اشارہ ہے۔ اور اس سورت کی فضا کے مطابق ان سب کا ایک ہی ہولناک انجام ذکر کردیا جاتا ہے۔ جو فیصلہ کن انجام ہے۔ فاخذھم ................ رابیة (96 : 01) ” تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا “۔ رابیہ کے معنی ہیں : اعلیٰ ، ڈھانپنے والی ، دفن کرنے والی۔ یہ لفظ یہاں اس لئے لایا گیا ہے کہ لفظ طاغیہ کے ساتھ مناسبت پیدا ہوجائے جو ثمود پر آئی ہے۔ اور عاتیہ کے ساتھ یکساں ہوجائے جو عاد پر پڑی۔ اور اس سورت کی فضا اور ماحول سے مناسب لفظ بھی فراہم ہوجائے لیکن تفصیل اور طوالت بھی نہ ہو ، کیونکہ اس سورت میں اختصار بھی ملحوظ ہے۔ اب اس کے بعد سفینہ جاریہ کا منظر۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ حضرت نوح کا یہ امتیاز ہے کہ ان کے ساتھیوں کی نسل ہی سے موجود آبادی چلی ہے۔ لیکن انسانوں نے اس عظیم معجزے سے نہ عبرت پکڑی اور نہ خدا کا شکر ادا کیا ، کہ اس واقعہ میں اللہ نے ہمارے اجداد کو بچایا۔

الحاقة 69:12

یہ پانی کی پہاڑوں کی طرح موجیں اور ان پرچلنے والی کشتی کا منظر ، دونوں اس سورت کی خوفناک فضا کی خوفناک یوں میں اضافہ کرنے والے ہیں۔ اور سورت کے مناظر کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں اور جاریہ اور داعیہ کے الفاظ قافیہ کو یکساں کرتے ہیں۔ اور پھر یہ نصیحت آموز تبصرہ۔ لنجعلھا ................ واعیة (06 : 21) ” تاکہ اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک سبق آموز یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں “۔ یہ نصیحت جامد اور پتھردل پر بھی اثر کرتی ہے۔ اور یہ آواز ایسے کانوں سے بھی پار ہوجاتی ہے ، جن پر کوئی آواز اثر نہیں کرتی۔ جو ہر چیز کو سننے سے انکار کرتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔ رسولوں کا انکار اور امم سابقہ کی ہلاکتوں سے چشم پوشی سے تمام نشانات ، معجزات اور تذکروں کا انکار۔ اللہ کی نعمتوں اور ان کے آباﺅاجداد پر ہونے والی نعمتوں کا انکار۔ اب ایک عظیم ہولناک منظر آتا ہے اور اس کے سامنے یہ سب چھوٹے چھوٹے مناظر نہایت ہی چھوٹے نظر آتے ہیں۔ یہ ہے ہولناک منظر الحاقہ کا۔ القارعہ کا جس کی یہ لوگ اس کے باوجود تکذیب کرتے ہیں کہ انہوں نے ان امم سابقہ کا انجام ابھی دیکھ لیا جنہوں نے تکذیب کی تھی۔ اقوام سابقہ کی ہلاکتوں کا خوف محدود ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ بھی بہت بڑا خوف ہے ، کیونکہ قیامت سے قبل ہونے والی تباہی کے مقابلے میں یہ سب تباہیاں بہرحال محدود اور معمولی ہیں۔ اس مختصر تمہید کے بعد اب پردہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس عظیم ، ہمہ گیر تباہی اور ہولناکی کے مناظر سے۔ یہ بڑا منظر سابقہ چھوٹے مناظر کی تکملہ ہے۔

الحاقة 69:13

ہمارا ایمان ہے کہ ایک دن صور پھونکا جائے گا اور اس کے بعد پھر علی الترتیب یہ واقعات ہوں گے۔ ان واقعات کی تفصیلات اور ان کی کیفیات کو ہم یہاں قلم بند نہیں کرسکتے۔ کیونکہ یہ واقعات عالم غیب میں ہونے والے ہیں۔ اور ہمارے پاس چونکہ یہ آیات ہی ہیں جو مجمل ہیں اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے جس میں تفصیلات دی گئی ہوں۔ اور ان نصوص میں اگر تفصیلات دے بھی دی جاتیں تو اصل مقصد جو یہاں دینا مقصود تھا ، اس میں کوئی اضافہ نہ ہوتا تھا۔ لہٰذا ان تفصیلات کے پیچھے پڑنا ایک عبث بات ہے۔ محض ظنوں اور قیاسات سے شریعت نے منع کیا ہے۔

الحاقة 69:14

جب صور پہلی بار پھونکا جائے گا اور اس کے بعد یہ ہولناک حرکان وتغیرات ہوں گے۔ وحملت .................... واحدة (96 : 41) ” اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا “۔ زمین اور پہاڑوں کو یکبارگی اٹھا کر پٹخ دینا جو سب اونچ نیچ کو برابر کر دے اور یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا۔ یہ زمین جس کے اندر انسان پرامن طور پر چلتا پھرتا ہے اور اطمینان سے زندگی بسر کرتا ہے۔ اور یہ زمین انسان کے نیچے نہایت ہی سکون سے رکی ہوئی ہے۔ اور یہ اونچے ، گہرے اور مضبوط پہاڑ جن کے ثبات وفرار سے انسان کو خوف ہوتا ہے۔ اپنی اس اونچائی اور عظمت کے باوجود اٹھا کر پٹخ دیئے جائیں گے۔ جس طرح بال کو اٹھا کر مار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسان کو قدرت خداوندی کے مقابلے میں اس کی اور اس کرہ ارض کی کمزوری ، چھوٹائی اور نہایت ہی بےوزنی کا اظہار کرتا ہے۔ جب صور میں ایک بار پھونک مار دی گئی او یہ سب ہولناک واقعات ہوگئے زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ تو یہ سورت جس ہولناک امرکا اظہار کررہی ہے یہ امر اس دن وقوع پذیر ہوگا۔

الحاقة 69:15

فیومئذ ................ الواقعة (96 : 51) اور واقعہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ جس طرح الحاقہ اور القارعہ ایک نام ہے۔ واقعہ اس لئے کہ اس نے واقع ہونا ہے۔ اس کی اصل حقیقت ایک واقعہ ہی کی ہے۔ یہ اس قسم کا نام ہے جس میں ایک خاص اشارہ ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اس میں شک کرتے رہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ تو واقعہ ہے۔ اور معاملہ یہیں تک محدود نہیں ہے کہ زمین اور پہاڑوں کو ایک گیند کی طرح اٹھا کر زمین پر مار دیا جائے گا اور یہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے بلکہ آسمان میں بھی تغیرات رونما ہوں گے۔ آسمان صحیح سلامت نہ رہے گا۔

الحاقة 69:16

وانشقت ................ واھیة (96 : 61) ” اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی “۔ اور ہمیں معلوم نہیں ہے کہ اس آسمان سے کون سا آسمان مراد ہے۔ جس کے شق کا یہاں ذکر ہے۔ لیکن یہ آیات اور دوسری آیات اشارہ اس طرح کررہی ہیں کہ قیامت کے دن ہولناک فلکی تغیرات اور تضادات ہوں گے ۔ مقصد یہ ہے کہ کر ات فلکی کی چولیں کھل جائیں گی اور جس چیزنے اس نظام کو ایک منظم طریقے سے ٹکارکھا ہے ، اس کا نظم کھل جائے گا۔ اور جب یہ نظام کھل گیا تو اس کا انتشار دیدنی ہوگا۔ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج کل علمائے فلک نے آخر کار موجودنظام کے خاتمے کی جو صورت اپنے مشاہدات سے تجویز کی ہے وہ بعینہ وہی ہے ، جو قرآن تجویز کرتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ اندازے محض سائنسی مشاہدات سے لگائے ہیں۔ انہوں نے بہرحال اس کائنات کے بارے میں بہت قلیل مشاہدہ کیا ہے اور اس قلیل مشاہدے پر یہ مفروضے قائم کیے ہیں۔ لیکن ہم مومنین وہ مفروضے ان قرآنی آیات کے اندر نہایت مفصل انداز میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ نہایت مجمل آیات ہیں اور یہ متعین واقعات نہیں بلکہ اصولی اور کلی واقعات بیان کرتی ہیں۔ ہم بس صرف ان اصولی واقعات پر اکتفا کرتے ہیں ، جو قرآن نے بیان کیے۔ یہ ہمارے لئے سچی خبریں ہیں۔ کیونکہ یہ آیات اس ذات نے بیان کی ہیں جس نے قرآن بھی نازل کیا ہے اور کائنات کو بھی بنایا ہے۔ اور جو اپنی مخلوقات کو ہمارے محدود مشاہدات سے بڑھ کر بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی کائنات میں ، یہ زمین اور یہ پہاڑ اور زمین اور سورج کے ساتھ تمام کہکشاں اور ستارے ایسے ہی ہیں جیسے زمین کے اوپر غبار کے چھوٹے چھوٹے ذرات اڑتے ہیں۔ لہٰذا ہم میں سے ایک انسان جس طرح دو ذرات کو اٹھا کر پھینک سکتا ہے ، اللہ کے نزدیک زمین کو اٹھا کر پھینکنا ایسا ہی ہے تو قیامت میں جب آسمانوں کی بندش کھلے گی تو زمین و آسمان ذرات کی طرح اڑتے پھریں گے اور یہ باتیں بھی قرآن کی زندہ آیات سے معلوم ہوتی ہیں۔ اب رب ذوالجلال کا جلال منظر پہ چھا جاتا ہے ، اور صور پھونکے جانے اور زمین اور پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے اور بھونچال و انتشار کے بعد اس پوری کائنات میں ایک تھماﺅ آجاتا ہے۔ اور رب ذوالجلال اور قہار کی بزرگی اور عظمت چھا جاتی ہے۔

الحاقة 69:17

والملک ................................ ثمنیة (96 : 71) ” فرشتے ان کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے “۔ فرشتے اس کائنات وسماوات کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور اس کائنات کے اوپر عرش الٰہی ہوگا اور اس کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ آٹھ طبقات ہوں گے یا یہ آٹھ اللہ کے علم میں ہوں گے کہ وہ کیا ہوں گے ؟ یہ آٹھ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ اس کی تفصیلات کا بھی ہمیں علم نہیں ہے۔ نہ ہمیں عرش کی کیفیت کا علم ہے نہ اٹھانے کی کیفیت کا علم ہے۔ ہم ان تمام امور کو ایک طرف چھوڑ دیتے ہیں ، اس لئے کہ ان کا تعلق غیبی معاملات سے ہے جن کا تفصیلی علم ہمیں نہیں دیا گیا اور ہمیں اللہ نے ان چیزوں کے تفصیلی علم کے حصول کا نہ مکلف بنایا ہے ، نہ حصول کا حکم دیا ہے۔ ہم ان تفصیلات کو بھی اللہ کے غیبی علم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ بس اب اللہ ہی اللہ ہوگا ، سب کچھ فنا ہوگا اور یہی شعور ہے جو قرآن اور یہ سورت ہمیں دینا چاہتی ہے کہ ہم اللہ سے ڈریں ، قیامت کی جوابدہی سے ڈریں اور اللہ کی قدرت اور جلالت سے ڈریں۔

الحاقة 69:18

سب کے سب کھلے اور ننگے ہوں گے۔ جسم بھی ، ضمیر بھی ، عمل بھی اور انجام بھی۔ وہ تمام راز جو پردوں کے نیچے تھے ، کھل کر سامنے آجائیں گے۔ انسانی نفس ننگا ہوگا ، انسانی جسم ننگا ہوگا ، انسانی عیوب سامنے آجائیں گے۔ گواہ سامنے آجائیں گے۔ انسان کی مکاریاں اور فن کاریاں کافور ہوجائیں گی۔ سب حیلے تدبیریں بےاثر ہوں گی۔ اور وہ باتیں بھی کھل جائیں گی جن کو وہ اپنے آپ سے چھپاتا تھا۔ یہ کس قدر شرمندگی ہوگی کہ وہ راز طشت ازبام ہوں گے۔ لوگوں کی نظروں میں انسان کس قدر شرمندہ ہوں گے۔ رہے اللہ تو اس کے سامنے تو پہلے بھی سب کچھ کھلا تھا۔ اب بھی کھلا ہے لیکن انسان کے ذہن میں یہ بات شعور طور پر بیٹھی نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کے شعور میں زمین کے اندر ایک انسان اور انسان کے درمیان پردہ داری کا شعور ہے جبکہ قیامت کے دن فرق صرف یہ ہوگا کہ اس بےچارے انسان کے شعور میں پردے کا جو شعور تھا وہ اٹھ جائے گا۔ اور وہ سمجھے گا کہ سب پردے گر گئے ہیں۔ اس کائنات میں سب چیز کھلی ہے۔ اب جبکہ زمین اٹھا کر پٹخ دی گئی ہے تو تمام اوٹ ختم ہوگئے ہیں۔ یہ ہموار ہے ، میدان ہے۔ آسمان کی بندشیں بھی کھل گئی ہیں اور آسمانوں کے پیچھے بھی کوئی شے چھپی نہیں ہے۔ اجسام بھی ننگے ہیں ، انسان نفسیات بھی کھلی ہیں ، نہ راز ہے اور نہ نیاز ہے۔ مگر یہ ایک نہایت پریشان کن کام ہے اور یہ اس پوری زمین اور تمام پہاڑوں سے بھی بڑا کام ہے۔ اور اس سے بھی شدید ہے کہ آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوکر نیچے گر جائیں کہ انسان بالکل ننگا کھڑا ہو ، اس کی نفسیاتی کیفیات لوگوں پر کھل جائیں ، اس کا شعور بھی عیاں ہوجائے ، اس کی پوری ہسٹری سامنے آجائے ، اس کے تمام کرتوت فلم میں بند ہوجائیں اور اس کی تمام چھپی ہوئی باتیں کھل جائیں اور یہ سب امور پوری انسانیت کے بھی سامنے آجائیں۔ فرشتوں کے سامنے ، جنوں کے سامنے ، انسانوں کے سامنے اور وہ اللہ کے عرش و جلال بادشاہی کے نیچے ہوں گے اور سخت خوفزدہ ہوں گے۔ انسانی مزاج اور نفسیات نہایت پیچیدہ ہوتی ہیں۔ انسانی نفسیات کے اندر بیشمار نشیب و فراز ہوتے ہیں جس کے اندر اس کا نفس ، جس کے اندر اس کے مشاھر ، اور جس کے اندر اس کے جذبات اور میلانات ہوتے ہیں ، اچھے یا برے۔ اس کی صلاحیتیں اور اس کے پوشیدہ راز ہوتے ہیں۔ (توقعہ بامیہ ص 18) سیپی کے سمندری جانور کی طرح کہ جب سے ایک سوئی یا کانٹا بھی چبھ جائے تو وہ بڑی جلدی سے سکڑ کر اپنی سیپی کے خول میں چھپ جاتا ہے۔ اور مکمل طور پر اندر داخل ہوجاتا ہے۔ اور اپنے آپ کو پوری طرح بند کردیتا ہے۔ انسان بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ جب اسے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کوئی آنکھ اسے دیکھ رہی ہے اور اس کی تمام حرکات نوٹ ہورہی ہیں اور وہ جن چیزوں کو چھپا رہا ہے وہ تو ظاہر ہوگئی ہیں۔ تو انسان نہایت شدید تکلیف محسوس کرتا ہے کہ اس کے نہایت ہی خفیہ معاملات بھی کھل گئے ہیں۔ اب دیکھئے کہ اس قسم کا انسان اس دن ننگا ہوگا اور ہر طرح سے ننگا ہوگا ، جسم اور قلب کے لحاظ سے ننگا ہوگا۔ شعور ، نیت اور ضمیر کے لحاظ سے ننگا ہوگا۔ ہر پردے سے محروم ہوگا۔ اور وہ اللہ جبار وقہار کے تحت الحکم ہوگا اور تمام روئے زمین کے انسانوں اولین وآخرین کے سامنے ہوگا۔ یہ بہرحال ایک کڑوی صورت حال ہوگی ہر چیز سے زیادہ کڑوی اور تلخ۔ اس کے بعد نجات پانے والوں اور جہنم میں بھیجے جانے والوں کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں جیسا کہ یہ منظر آنکھوں کے سامنے ہے۔

الحاقة 69:19

یہ کہ اعمال نامہ دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں دیئے جانے اور آگے اور پیچھے سے دئے جانے کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عملاً ایسا ہوگا اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عربی زبان کے یہ محاورے میں ، اچھے سلوک کی تعبیر دائیں ہاتھ سے اور برے سلوک کی تعبیر بائیں سے کی گئی ہے یا برے سلوک کی صورت میں اعمال نامہ پیچھے سے دیا جانا تعبیر کیا گیا ہے جو بھی مفہوم ہو۔ اس لئے ہم اس بحث میں نہیں پڑتے ، اصل مقصود یہ بتاتا ہے کہ ناکام لوگوں کے ساتھ وہاں اچھا سلوک نہ ہوگا۔ جو منظر یہاں پیش کیا گیا ہے ، وہ اس شخص کا ہے جو کامیاب ہوگیا وہ دن نہایت ہی خوفناک ہوگا ، اس لئے اس منظر میں یہ شخص نہایت ہی فرحاں و شاداں ادھر ادھر دوڑ رہا ہے۔ دیکھو صفیں چیرتا ہوا دوستوں کو تلاش کررہا ہے۔ اس کے جسم کے روئیں روئیں سے خوشی ٹپک رہی ہے اور وہ خوشی کے مارے چلا اٹھتا ہے۔ ھاءم .................... واکتبیہ (96 : 91) ” دیکھو ، یہ ہے پڑھو میرا اعمال نامہ “۔ اس کے بعد وہ مزید خوشی کا اظہار یوں کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے یقین نہ تھا کہ میں نجات پاجاﺅں گا بلکہ مجھے ڈر یہ تھا کہ مجھ سے حساب لیا جائے گا۔ اور حدیث میں ہے۔ من نوقش الحساب عذب ” جس کا حساب کتاب مناقشہ کے ساتھ کیا گیا ، بس وہ عذاب دیا گیا “۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے ساتھ حساب و کتاب میں جھگڑا کیا گیا بس وہ عذاب میں مبتلا ہوا۔ میں نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فاما من ........................ مسرورا ” تو حضور ﷺ نے جواب دیا۔ اس میں تو یہ ہے کہ ہر کسی کے سامنے اس کا حساب پیش کیا جائے گا۔ قیامت کے دن عملاً آڈٹ نہ ہوگا۔ اگر کسی کے ساتھ ہوا تو مارا گیا “۔ (بخاری ، مسلم ، ابوداﺅد) ابن ابوحاتم نے روایت کی ، بسرابن بکرواسطی سے ، انہوں نے زید ابن ہارون سے ، انہوں نے عاصم ، احول سے ، انہوں نے ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں : مومن کو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ نہایت خفیہ انداز میں ، وہ اپنی کو تاہیاں اس میں پڑھے گا۔ جوں جوں وہ اپنے گناہ پڑھتا جائے گا۔ اس کا رنگ بدلتا جائے گا۔ پھر یہ اپنی نیکیاں پڑھے گا تو اس کی حالت بحال ہوگی۔ پھر وہ اچانک دیکھے گا کہ اس کی تمام بداعمالیاں نیکیوں میں بدل جائیں گی۔ اس وقت پھر یہ لوگ سے خوش ہوکر کہے گا۔ ھاءم ............ کتبیہ (96 : 91) ” یہ ہے پڑھو ، میرا اعمال نامہ “۔ حضرت عبداللہ ابن حنظلہ سے روایت ہے ، جن کا لقب غسیل ملائکہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اللہ اپنے بندے کو قیامت میں کھڑا کرے گا تو اس کی برائیاں اس کے اعمال نامے کی پشت یعنی پہلے ہی صفحے پر درج ہوں گی۔ اور اسے کہے گا تم نے یہ کیا ہے تو وہ کہے گا ہاں اے رب ، تو اللہ تعالیٰ اسے کہے گا میں نے تجھے دنیا میں شرمندہ نہیں کیا اور میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ اس وقت یہ بندہ یہ کہے گا۔ ھاءم ................ کتبیہ (96 : 91) ” یہ ہے پڑھو ، میرا اعمال نامہ “۔ اور صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث ہے جب ان سے نجویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ” میں نے رسول اللہ سے سنا : ” اللہ قیامت کے دن اپنے بندے کے قریب ہوگا۔ اس سے اس کے تمام گناہوں کا اقرار لیا جائے گا۔ جب وہ بندہ یہ یقین کرلے گا کہ بس وہ مارا گیا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے یہ باتیں دنیا میں چھپارکھی تھیں اور اب یہاں میں انہیں معاف کرتا ہوں۔ اس کے بعد اس کی اچھائیوں کی کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی۔ رہے کافر اور منافق ، تو گواہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔ خبردار اللہ کی لعنت ہو کافروں پر “۔

الحاقة 69:20

یہ کہ اعمال نامہ دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں دیئے جانے اور آگے اور پیچھے سے دئے جانے کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عملاً ایسا ہوگا اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عربی زبان کے یہ محاورے میں ، اچھے سلوک کی تعبیر دائیں ہاتھ سے اور برے سلوک کی تعبیر بائیں سے کی گئی ہے یا برے سلوک کی صورت میں اعمال نامہ پیچھے سے دیا جانا تعبیر کیا گیا ہے جو بھی مفہوم ہو۔ اس لئے ہم اس بحث میں نہیں پڑتے ، اصل مقصود یہ بتاتا ہے کہ ناکام لوگوں کے ساتھ وہاں اچھا سلوک نہ ہوگا۔ جو منظر یہاں پیش کیا گیا ہے ، وہ اس شخص کا ہے جو کامیاب ہوگیا وہ دن نہایت ہی خوفناک ہوگا ، اس لئے اس منظر میں یہ شخص نہایت ہی فرحاں و شاداں ادھر ادھر دوڑ رہا ہے۔ دیکھو صفیں چیرتا ہوا دوستوں کو تلاش کررہا ہے۔ اس کے جسم کے روئیں روئیں سے خوشی ٹپک رہی ہے اور وہ خوشی کے مارے چلا اٹھتا ہے۔ ھاءم .................... واکتبیہ (96 : 91) ” دیکھو ، یہ ہے پڑھو میرا اعمال نامہ “۔ اس کے بعد وہ مزید خوشی کا اظہار یوں کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے یقین نہ تھا کہ میں نجات پاجاﺅں گا بلکہ مجھے ڈر یہ تھا کہ مجھ سے حساب لیا جائے گا۔ اور حدیث میں ہے۔ من نوقش الحساب عذب ” جس کا حساب کتاب مناقشہ کے ساتھ کیا گیا ، بس وہ عذاب دیا گیا “۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے ساتھ حساب و کتاب میں جھگڑا کیا گیا بس وہ عذاب میں مبتلا ہوا۔ میں نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فاما من ........................ مسرورا ” تو حضور ﷺ نے جواب دیا۔ اس میں تو یہ ہے کہ ہر کسی کے سامنے اس کا حساب پیش کیا جائے گا۔ قیامت کے دن عملاً آڈٹ نہ ہوگا۔ اگر کسی کے ساتھ ہوا تو مارا گیا “۔ (بخاری ، مسلم ، ابوداﺅد) ابن ابوحاتم نے روایت کی ، بسرابن بکرواسطی سے ، انہوں نے زید ابن ہارون سے ، انہوں نے عاصم ، احول سے ، انہوں نے ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں : مومن کو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ نہایت خفیہ انداز میں ، وہ اپنی کو تاہیاں اس میں پڑھے گا۔ جوں جوں وہ اپنے گناہ پڑھتا جائے گا۔ اس کا رنگ بدلتا جائے گا۔ پھر یہ اپنی نیکیاں پڑھے گا تو اس کی حالت بحال ہوگی۔ پھر وہ اچانک دیکھے گا کہ اس کی تمام بداعمالیاں نیکیوں میں بدل جائیں گی۔ اس وقت پھر یہ لوگ سے خوش ہوکر کہے گا۔ ھاءم ............ کتبیہ (96 : 91) ” یہ ہے پڑھو ، میرا اعمال نامہ “۔ حضرت عبداللہ ابن حنظلہ سے روایت ہے ، جن کا لقب غسیل ملائکہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اللہ اپنے بندے کو قیامت میں کھڑا کرے گا تو اس کی برائیاں اس کے اعمال نامے کی پشت یعنی پہلے ہی صفحے پر درج ہوں گی۔ اور اسے کہے گا تم نے یہ کیا ہے تو وہ کہے گا ہاں اے رب ، تو اللہ تعالیٰ اسے کہے گا میں نے تجھے دنیا میں شرمندہ نہیں کیا اور میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ اس وقت یہ بندہ یہ کہے گا۔ ھاءم ................ کتبیہ (96 : 91) ” یہ ہے پڑھو ، میرا اعمال نامہ “۔ اور صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث ہے جب ان سے نجویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ” میں نے رسول اللہ سے سنا : ” اللہ قیامت کے دن اپنے بندے کے قریب ہوگا۔ اس سے اس کے تمام گناہوں کا اقرار لیا جائے گا۔ جب وہ بندہ یہ یقین کرلے گا کہ بس وہ مارا گیا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے یہ باتیں دنیا میں چھپارکھی تھیں اور اب یہاں میں انہیں معاف کرتا ہوں۔ اس کے بعد اس کی اچھائیوں کی کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی۔ رہے کافر اور منافق ، تو گواہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔ خبردار اللہ کی لعنت ہو کافروں پر “۔

الحاقة 69:21

اس کے بعد علی الاعلان بتادیا جائے گا کہ ان لوگوں کے لئے اللہ نے یہ یہ نعمتیں تیار کررکھی ہیں۔ یہاں اس کے سامنے ایسی حسی اور مادی نعمتیں گنوائی جارہی ہیں۔ جن کو عرب اچھی طرح مادی ترقی کا کمال سمجھتے تھے۔ اس وقت لوگ چونکہ دور جاہلیت سے ابھی ابھی ایک بدوی معاشرہ سے نکل کر آئے تھے ، اس لئے ان کے مزاج کے مطابق بعض پسندیدہ باتیں یہاں گنوائی جاتی ہیں۔ کیونکہ نہ تو وہ زیادہ ترقی یافتہ تھے اور نہ جنت کی نعمتوں کا کوئی تصور کرسکتا ہے۔ فھوفی ............................ الخالیة (42) (06 : 12 تا 42) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ، عالی مقام جنت میں ، جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاﺅ اور پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ نعمتیں اور پھر ان کے ساتھ ساتھ یہ اعزاز واکرم اور یہ تواضع اور پھر باری تعالیٰ کی طرف سے یہ مکالمہ ” کھاﺅ اور پیو ، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ وہ سادہ رنگ ہے جہاں تک عہد اول کے مسلمانوں کا تعلق باللہ پہنچ گیا تھا ، حالانکہ اللہ کے قرب میں اس سے بھی زیادہ انعامات ہیں۔ نیز تعلق باللہ اور جنتوں کے ان انعامات میں بعض لوگوں کے لئے قیامت تک کشش رہے گی۔ لوگوں کے بھی رنگ اور اقسام ہیں اور نعمتوں کے بھی رنگ و اقسام ہیں۔

الحاقة 69:22

اس کے بعد علی الاعلان بتادیا جائے گا کہ ان لوگوں کے لئے اللہ نے یہ یہ نعمتیں تیار کررکھی ہیں۔ یہاں اس کے سامنے ایسی حسی اور مادی نعمتیں گنوائی جارہی ہیں۔ جن کو عرب اچھی طرح مادی ترقی کا کمال سمجھتے تھے۔ اس وقت لوگ چونکہ دور جاہلیت سے ابھی ابھی ایک بدوی معاشرہ سے نکل کر آئے تھے ، اس لئے ان کے مزاج کے مطابق بعض پسندیدہ باتیں یہاں گنوائی جاتی ہیں۔ کیونکہ نہ تو وہ زیادہ ترقی یافتہ تھے اور نہ جنت کی نعمتوں کا کوئی تصور کرسکتا ہے۔ فھوفی ............................ الخالیة (42) (06 : 12 تا 42) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ، عالی مقام جنت میں ، جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاﺅ اور پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ نعمتیں اور پھر ان کے ساتھ ساتھ یہ اعزاز واکرم اور یہ تواضع اور پھر باری تعالیٰ کی طرف سے یہ مکالمہ ” کھاﺅ اور پیو ، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ وہ سادہ رنگ ہے جہاں تک عہد اول کے مسلمانوں کا تعلق باللہ پہنچ گیا تھا ، حالانکہ اللہ کے قرب میں اس سے بھی زیادہ انعامات ہیں۔ نیز تعلق باللہ اور جنتوں کے ان انعامات میں بعض لوگوں کے لئے قیامت تک کشش رہے گی۔ لوگوں کے بھی رنگ اور اقسام ہیں اور نعمتوں کے بھی رنگ و اقسام ہیں۔

الحاقة 69:23

اس کے بعد علی الاعلان بتادیا جائے گا کہ ان لوگوں کے لئے اللہ نے یہ یہ نعمتیں تیار کررکھی ہیں۔ یہاں اس کے سامنے ایسی حسی اور مادی نعمتیں گنوائی جارہی ہیں۔ جن کو عرب اچھی طرح مادی ترقی کا کمال سمجھتے تھے۔ اس وقت لوگ چونکہ دور جاہلیت سے ابھی ابھی ایک بدوی معاشرہ سے نکل کر آئے تھے ، اس لئے ان کے مزاج کے مطابق بعض پسندیدہ باتیں یہاں گنوائی جاتی ہیں۔ کیونکہ نہ تو وہ زیادہ ترقی یافتہ تھے اور نہ جنت کی نعمتوں کا کوئی تصور کرسکتا ہے۔ فھوفی ............................ الخالیة (42) (06 : 12 تا 42) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ، عالی مقام جنت میں ، جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاﺅ اور پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ نعمتیں اور پھر ان کے ساتھ ساتھ یہ اعزاز واکرم اور یہ تواضع اور پھر باری تعالیٰ کی طرف سے یہ مکالمہ ” کھاﺅ اور پیو ، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ وہ سادہ رنگ ہے جہاں تک عہد اول کے مسلمانوں کا تعلق باللہ پہنچ گیا تھا ، حالانکہ اللہ کے قرب میں اس سے بھی زیادہ انعامات ہیں۔ نیز تعلق باللہ اور جنتوں کے ان انعامات میں بعض لوگوں کے لئے قیامت تک کشش رہے گی۔ لوگوں کے بھی رنگ اور اقسام ہیں اور نعمتوں کے بھی رنگ و اقسام ہیں۔

الحاقة 69:24

اس کے بعد علی الاعلان بتادیا جائے گا کہ ان لوگوں کے لئے اللہ نے یہ یہ نعمتیں تیار کررکھی ہیں۔ یہاں اس کے سامنے ایسی حسی اور مادی نعمتیں گنوائی جارہی ہیں۔ جن کو عرب اچھی طرح مادی ترقی کا کمال سمجھتے تھے۔ اس وقت لوگ چونکہ دور جاہلیت سے ابھی ابھی ایک بدوی معاشرہ سے نکل کر آئے تھے ، اس لئے ان کے مزاج کے مطابق بعض پسندیدہ باتیں یہاں گنوائی جاتی ہیں۔ کیونکہ نہ تو وہ زیادہ ترقی یافتہ تھے اور نہ جنت کی نعمتوں کا کوئی تصور کرسکتا ہے۔ فھوفی ............................ الخالیة (42) (06 : 12 تا 42) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ، عالی مقام جنت میں ، جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاﺅ اور پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ نعمتیں اور پھر ان کے ساتھ ساتھ یہ اعزاز واکرم اور یہ تواضع اور پھر باری تعالیٰ کی طرف سے یہ مکالمہ ” کھاﺅ اور پیو ، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ وہ سادہ رنگ ہے جہاں تک عہد اول کے مسلمانوں کا تعلق باللہ پہنچ گیا تھا ، حالانکہ اللہ کے قرب میں اس سے بھی زیادہ انعامات ہیں۔ نیز تعلق باللہ اور جنتوں کے ان انعامات میں بعض لوگوں کے لئے قیامت تک کشش رہے گی۔ لوگوں کے بھی رنگ اور اقسام ہیں اور نعمتوں کے بھی رنگ و اقسام ہیں۔

الحاقة 69:25

اب یہ شخص جان چکا ہے کہ اس کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور اس کا انجام کار آخر کار جہنم رسیدگی ہے۔ یہ اس میدان میں نہایت ہی حسرتناک انجام لئے کھڑا ہے۔ نہایت درجے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اور درج بالا تبصرہ وہ کرتا ہے۔ نہایت طویل منظر ہے اس شخص کا۔ اس کی حسرت کو ذرا اطوالت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس قدر کہ ایک قاری یہی سمجھتا ہے کہ یہ بیان ختم ہی نہ ہوگا۔ لہجہ بھی مایوس کن ہے لیکن یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کہ وہ بعض مناظر ومواقف کو طوالت دیتا ہے اور بعض کو چند جملوں میں بیان کردیتا ہے۔ اور اس طرح نفس انسانی پر نہایت ہی مفید اثرات چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ حسرت اور پشیمانی کی سوچوں کو ذرا اطوالت دی جائے تاکہ لوگ ابھی سے سوچ لیں کہ وہاں کس قدر حسرت اور شرمندگی کا سامنا ہوگا۔ عذاب تو بہت بڑی چیز ہے۔ چناچہ اس منظر کو ذرا طویل کردیا گیا کیونکہ سیاق کلام میں اصل مقصود یہی تھا۔ اس میں عبادت بھی بڑی نغمہ بارے۔ یہ بدبخت شخص تمنائیں کرتا ہے کہ اے کاش یہ وقت نہ آتا۔ اسے کتاب اعمال ہی نہ دی جاتی ، اسے علم ہی نہ ہوتا کہ کیا ہوا۔ اور یہ کہ یہ قیامت کا وقت یا اس لئے جو موت آئی تھی ، وہ دائمی ہوجاتی۔ میرے وجود کے عناصر ترکیبی ہی ختم کردیئے جاتے۔ مزید افسوس اس پر کہ دنیا میں جن چیزوں پر وہ فخر کرتا تھا وہ اس کے لئے بالکل نافع نہیں ہے۔

الحاقة 69:26

اب یہ شخص جان چکا ہے کہ اس کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور اس کا انجام کار آخر کار جہنم رسیدگی ہے۔ یہ اس میدان میں نہایت ہی حسرتناک انجام لئے کھڑا ہے۔ نہایت درجے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اور درج بالا تبصرہ وہ کرتا ہے۔ نہایت طویل منظر ہے اس شخص کا۔ اس کی حسرت کو ذرا اطوالت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس قدر کہ ایک قاری یہی سمجھتا ہے کہ یہ بیان ختم ہی نہ ہوگا۔ لہجہ بھی مایوس کن ہے لیکن یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کہ وہ بعض مناظر ومواقف کو طوالت دیتا ہے اور بعض کو چند جملوں میں بیان کردیتا ہے۔ اور اس طرح نفس انسانی پر نہایت ہی مفید اثرات چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ حسرت اور پشیمانی کی سوچوں کو ذرا اطوالت دی جائے تاکہ لوگ ابھی سے سوچ لیں کہ وہاں کس قدر حسرت اور شرمندگی کا سامنا ہوگا۔ عذاب تو بہت بڑی چیز ہے۔ چناچہ اس منظر کو ذرا طویل کردیا گیا کیونکہ سیاق کلام میں اصل مقصود یہی تھا۔ اس میں عبادت بھی بڑی نغمہ بارے۔ یہ بدبخت شخص تمنائیں کرتا ہے کہ اے کاش یہ وقت نہ آتا۔ اسے کتاب اعمال ہی نہ دی جاتی ، اسے علم ہی نہ ہوتا کہ کیا ہوا۔ اور یہ کہ یہ قیامت کا وقت یا اس لئے جو موت آئی تھی ، وہ دائمی ہوجاتی۔ میرے وجود کے عناصر ترکیبی ہی ختم کردیئے جاتے۔ مزید افسوس اس پر کہ دنیا میں جن چیزوں پر وہ فخر کرتا تھا وہ اس کے لئے بالکل نافع نہیں ہے۔

الحاقة 69:27

اب یہ شخص جان چکا ہے کہ اس کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور اس کا انجام کار آخر کار جہنم رسیدگی ہے۔ یہ اس میدان میں نہایت ہی حسرتناک انجام لئے کھڑا ہے۔ نہایت درجے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اور درج بالا تبصرہ وہ کرتا ہے۔ نہایت طویل منظر ہے اس شخص کا۔ اس کی حسرت کو ذرا اطوالت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس قدر کہ ایک قاری یہی سمجھتا ہے کہ یہ بیان ختم ہی نہ ہوگا۔ لہجہ بھی مایوس کن ہے لیکن یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کہ وہ بعض مناظر ومواقف کو طوالت دیتا ہے اور بعض کو چند جملوں میں بیان کردیتا ہے۔ اور اس طرح نفس انسانی پر نہایت ہی مفید اثرات چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ حسرت اور پشیمانی کی سوچوں کو ذرا اطوالت دی جائے تاکہ لوگ ابھی سے سوچ لیں کہ وہاں کس قدر حسرت اور شرمندگی کا سامنا ہوگا۔ عذاب تو بہت بڑی چیز ہے۔ چناچہ اس منظر کو ذرا طویل کردیا گیا کیونکہ سیاق کلام میں اصل مقصود یہی تھا۔ اس میں عبادت بھی بڑی نغمہ بارے۔ یہ بدبخت شخص تمنائیں کرتا ہے کہ اے کاش یہ وقت نہ آتا۔ اسے کتاب اعمال ہی نہ دی جاتی ، اسے علم ہی نہ ہوتا کہ کیا ہوا۔ اور یہ کہ یہ قیامت کا وقت یا اس لئے جو موت آئی تھی ، وہ دائمی ہوجاتی۔ میرے وجود کے عناصر ترکیبی ہی ختم کردیئے جاتے۔ مزید افسوس اس پر کہ دنیا میں جن چیزوں پر وہ فخر کرتا تھا وہ اس کے لئے بالکل نافع نہیں ہے۔

الحاقة 69:28

ما اغنی عنی مالیہ (06 : 82) ” آج یہاں میرا مال میرے کچھ کام نہیں آیا “۔ بلکہ میرا سب کا سب اقتدار جاتا رہا ہے ، نہ مال مفید ہے اور نہ میرا اقتدار مفید رہا ہے۔ بات کی ٹون نہایت ہی حسرت اور یاس سے بھری ہوئی ہے۔ اور قرآن کریم نے اس کے لئے جو قافے چنے ہیں وہ اسے نہایت طویل کردیتے ہیں (جس طرح کوئی میت پر روتا ہے) یوں کہ آخر میں ہا۔ اور اس سے قبل یا۔ اور اس سے قبل الف۔ کتابیہ ، حسابیہ ، قاضیہ ، مالیہ اور سلطانیہ۔ الفاظ بھی ایک قسم کا مد ہے اور حسرت آمیز ہے۔ اور نہایت ہی فصیح وبلیغ انداز میں۔ یہ نہایت ہی حسرت ناک ٹون اس وقت ختم ہوتی ہے ، جب عدالت خداوندی سے ایک زور دار ڈگری کے ساتھ تعمیل کے احکام بھی صادر ہوتے ہیں۔

الحاقة 69:29

ما اغنی عنی مالیہ (06 : 82) ” آج یہاں میرا مال میرے کچھ کام نہیں آیا “۔ بلکہ میرا سب کا سب اقتدار جاتا رہا ہے ، نہ مال مفید ہے اور نہ میرا اقتدار مفید رہا ہے۔ بات کی ٹون نہایت ہی حسرت اور یاس سے بھری ہوئی ہے۔ اور قرآن کریم نے اس کے لئے جو قافے چنے ہیں وہ اسے نہایت طویل کردیتے ہیں (جس طرح کوئی میت پر روتا ہے) یوں کہ آخر میں ہا۔ اور اس سے قبل یا۔ اور اس سے قبل الف۔ کتابیہ ، حسابیہ ، قاضیہ ، مالیہ اور سلطانیہ۔ الفاظ بھی ایک قسم کا مد ہے اور حسرت آمیز ہے۔ اور نہایت ہی فصیح وبلیغ انداز میں۔ یہ نہایت ہی حسرت ناک ٹون اس وقت ختم ہوتی ہے ، جب عدالت خداوندی سے ایک زور دار ڈگری کے ساتھ تعمیل کے احکام بھی صادر ہوتے ہیں۔

الحاقة 69:30

کس قدر ہولناک احکام ہیں ، کس قدر قاتل دہشت ہے اور جلال ربی کس قدر نمایاں ہے ! ! خذوہ (96 : 03) ” پکڑوا سے “ یہ حکم اللہ العلی العظیم کی طرف سے صادر ہورہا ہے۔ اس کمزور ونحیف اور عاجز ومسکین پر پوری کائنات ٹوٹ پڑتی ہے۔ ہر طرف سے مامورین لپکتے ہیں۔ ابن ابو حاتم ، منہال ابن عمر سے روایت کرتے ہیں ” جب اللہ یہ حکم دے گا کہ ” پکڑو اسے “ تو ستر ہزار فرشتے لپکیں گے۔ ہر ایک اس کیڑے پر لپکے گا ، جبکہ یہ کافر نہایت ہی حقیر اور کرب زدہ ہے۔ فغلوہ (96 : 03) ” گردن میں طوق ڈالو اس کے “ جو بھی ان ستر ہزار میں سے پہنچے گا طوق ڈال دے گا اس کی گردن میں ؟

الحاقة 69:31

ثم ................ صلوہ (96 : 13) ” پھو اسے جہنم میں جھونک دو “۔ قریب ہے کہ جہنم میں اس کے بھی جلنے کی آواز ہم سن لیں۔

الحاقة 69:32

ثم فی .................... فاسلکوہ (96 : 32) ” پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو “۔ آگ کی زنجیروں میں سے ایک گز زنجیر بھی اس کیڑے کے لئے کافی ہے ، لیکن مزید لمبی زنجیر اسے ذلیل کرنے کے لئے اور لفظ سبعین کے استعمال کے لئے ہے۔ یوں انسانوں کو ڈرانا مقصود ہے۔ اب یہ حکم اور ڈگری صادر ہوگئی ہے۔ اس کا اجراء ہوگیا ہے اور مجرم جہنم رسید ہوگیا ہے ، تو آپ اس حکم پر دلائل دیئے جاتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس قدر سخت سزا کا یہ مستوجب کیوں ہوا ؟

الحاقة 69:33

اس کا دل ایمان اللہ سے خالی تھا۔ یہ محض انسانی لحاظ سے بھی کوئی اچھا انسان نہ تھا۔ لوگوں پر رحم نہ کرتا تھا۔ لہٰذا اس آگ کے سوا اس کے لئے کوئی اور مناسب جگہ ہی نہ تھی۔ جس آدمی کا دل ایمان سے خالی ہو ، وہ مرجاتا ہے۔ اس کا دل کھنڈر بن جاتا ہے ، برباد ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر کوئی روشنی نہیں ہوتی ، وہ مسخ ہوگیا ہے۔ وہ حیوانوں سے کم تر مخلوق جمادات سے بھی کم تر ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہر چیز مومن ہے۔ ہر چیز تسبیح کرتی ہے۔ ہر چیز اپنے وجود کے اصل مصدر سے پیوستہ ہوتی ہے۔ رہا یہ عقلمند انسان تو اپنے اصل اور سرچشمے سے یہ اپنے آپ کو کاٹ دیتا ہے۔ پھر اس کا دل انسانوں پر ترس نہیں کھاتا۔ اللہ کے بندوں میں سے مساکین تو اللہ کی رحمت کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے۔ ان کے قیام اور طعام اور لباس کا خیال رکھنا ہم انسانوں ہی کا فرض ہے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ انسانوں کی اجتماعی معاشی ضروریات سوسائٹی کے ذمہ ہیں اور ان کا تعلق ایمانیات کے ساتھ ہے۔

الحاقة 69:34

اس کا دل ایمان اللہ سے خالی تھا۔ یہ محض انسانی لحاظ سے بھی کوئی اچھا انسان نہ تھا۔ لوگوں پر رحم نہ کرتا تھا۔ لہٰذا اس آگ کے سوا اس کے لئے کوئی اور مناسب جگہ ہی نہ تھی۔ جس آدمی کا دل ایمان سے خالی ہو ، وہ مرجاتا ہے۔ اس کا دل کھنڈر بن جاتا ہے ، برباد ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر کوئی روشنی نہیں ہوتی ، وہ مسخ ہوگیا ہے۔ وہ حیوانوں سے کم تر مخلوق جمادات سے بھی کم تر ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہر چیز مومن ہے۔ ہر چیز تسبیح کرتی ہے۔ ہر چیز اپنے وجود کے اصل مصدر سے پیوستہ ہوتی ہے۔ رہا یہ عقلمند انسان تو اپنے اصل اور سرچشمے سے یہ اپنے آپ کو کاٹ دیتا ہے۔ پھر اس کا دل انسانوں پر ترس نہیں کھاتا۔ اللہ کے بندوں میں سے مساکین تو اللہ کی رحمت کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے۔ ان کے قیام اور طعام اور لباس کا خیال رکھنا ہم انسانوں ہی کا فرض ہے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ انسانوں کی اجتماعی معاشی ضروریات سوسائٹی کے ذمہ ہیں اور ان کا تعلق ایمانیات کے ساتھ ہے۔

الحاقة 69:35

فلیس لہ ............ الخاطون اس بدبخت شخص کے انجام بد کا یہ تکمیلی بیان ہے۔ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ لاتا تھا۔ مساکین کی ضروریات بھی فراہم نہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب قیامت میں اس کا کوئی دوست نہیں ہے۔ فلیس ................ حمیم (96 : 53) ” لہٰذا آج یہاں اس کا کوئی غم خوار نہیں ہے “ اور اس کے وہاں کھانے کا انتظام مساکین سے بھی بدتر ہے۔ ولا طعام ............ غسلین (96 : 63) ” زخموں کے دھو ون کے سوا اس کے لئے کوئی کھانا نہیں ہے “۔ غسلین سے مراد اہل جہنم کی پیپ اور زخموں کے پانی اور اس پانی کو کہتے ہیں جو زخموں کے دھونے سے نکلتا ہے۔ ایسے گندہ لوگوں کے لئے ، اب ایسی ہی گندی خوراک موزوں ہے۔ کیونکہ اس شخص کا دل مساکین پر رحم سے خالی تھا۔

الحاقة 69:36

فلیس لہ ............ الخاطون اس بدبخت شخص کے انجام بد کا یہ تکمیلی بیان ہے۔ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ لاتا تھا۔ مساکین کی ضروریات بھی فراہم نہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب قیامت میں اس کا کوئی دوست نہیں ہے۔ فلیس ................ حمیم (96 : 53) ” لہٰذا آج یہاں اس کا کوئی غم خوار نہیں ہے “ اور اس کے وہاں کھانے کا انتظام مساکین سے بھی بدتر ہے۔ ولا طعام ............ غسلین (96 : 63) ” زخموں کے دھو ون کے سوا اس کے لئے کوئی کھانا نہیں ہے “۔ غسلین سے مراد اہل جہنم کی پیپ اور زخموں کے پانی اور اس پانی کو کہتے ہیں جو زخموں کے دھونے سے نکلتا ہے۔ ایسے گندہ لوگوں کے لئے ، اب ایسی ہی گندی خوراک موزوں ہے۔ کیونکہ اس شخص کا دل مساکین پر رحم سے خالی تھا۔

الحاقة 69:37

لا یا ................ الخاطﺅن (96 : 73) ” جسے خطاکاروں کے سوا اور کوئی نہیں کھاتا “۔ گنہگار ، جن کی فطرت میں یہ گناہ رچے بسے ہوں۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی وجہ سے یہ شخص پکڑے جانے ، طوق پہنائے جانے ، آگ میں جلائے جانے کا مستحق ہو اور اسے اس قدر طویل بیڑیاں پہنائی گئیں۔ جہنم اور اس کے اندر بیڑیاں ، یہ جہنم کے عذاب کے درجات میں سے شدید درجہ ہے۔ یہ تو اس شخص کی حالت ہے جو مساکین کے طعام پر لوگوں کو ابھارتا نہیں ، لیکن اس ” شخص “ کا عذاب تم خود سوچو جو بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کو زندہ رکھتا ہے اور ان کے سر پرستوں کو ناحق سرکشوں اور جباروں کی طرح پکڑتا ہے اور جو ان کے ہاتھ سے لقمے اور کپڑے بھی چھین لیتا ہے اور وہ سخت سردیوں کے اندر ننگے آسمان کے نیچے ہوتے ہیں۔ ایسے ” ڈکٹیٹر “ کہاں جائیں گے جبکہ وہ زمین میں جگہ جگہ پائے جاتے ہیں۔ ذرا سوچ لو ، کہ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کیا ہوگا جبکہ صرف مسکینوں کے کھانے پر لوگوں کو نہ ابھارنے پر یہ شخت سزا رکھی گئی ہے۔ یہ سخت ، اور پرتاثیر منظر اس شدید سورت میں اس لئے لایا گیا کہ یہ ابتدائی ایام کی سورت ہے اور اس وقت عرب سوسائٹی نہایت اجذ اور سخت تھی۔ اور ان کو اسی طرح کے سخت مناظر دکھانے کی ضرورت تھی تاکہ اس سے ذرا خائف ہوجائیں اور اپنی روش میں قدرے نرمی اختیار کریں اور اس شرمندگی سے اپنے آپ کو بچانے کی سعی کریں اور جب بھی انسانیت اس قسم کے مختلف النوع معاشرتی سطح پر ہوتی ہے ، جس میں ایک طرف اس قسم کے سخت اور اجذ لوگ ہوتے ہیں دوسری طرف ایسے لوگوں کے مقابلے میں نرم خو اور اثر لینے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ یعنی جن میں لوگوں کی نفسیاتی حالت مختلف درجات پر ہوتی ہے اس لئے قرآن مجید کے انداز خطاب میں یہ سب لوگ پیش نظر ہوتے ہیں اور دعوت کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے مختلف سطح کے لوگ فائدہ اٹھاسکیں ۔ آج بھی بعض علاقوں میں سنگدل لوگ رہتے ہیں۔ ایسے مزاج کے لوگ بھی ہیں جو نہایت ہی سخت اور ان پر ایسے ہی الفاظ اثر انداز ہوسکتی ہے جو شعلہ بار ہوں ، جس طرح اس سورت میں ہیں۔ وہ ایسے ہی مناظر سے ڈرسکتے ہیں جو اس سورت میں بیان ہوئے ہیں۔ اس قسم کے سخت الفاظ اور سخت مناظر کے زیر سایہ ، جو اس سورت میں مسلسل چلے آرہے ہیں جن میں وہ مناظر بھی ہیں کہ لوگوں کو اس دنیا میں عذاب الٰہی میں گرفتار بتایا گیا ہے اور وہ مناظر بھی ہیں جن میں یہ پوری کائنات اڑتی دکھائی گئی ہے۔ پھر قیامت کے مناظر جہاں تمام انسانوں کو ننگا دکھایا گیا ہے اور وہ مناظر جن میں لوگ خوشی کے مارے اڑتے بھی دکھائے گئے ہیں۔ ان تمام مناظر کے بعد اب ایک نہایت ہی سنجیدہ ، فیصہ کن اور دو ٹوک بات آتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو بات کررہے ہیں ، اس کی حقیقت کیا ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس میں شک کرتے ہیں۔ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔

الحاقة 69:38

فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے جو نظر نہیں آتی۔ یہ کائنات انسان کے مشاہدے سے بہت زیادہ عظیم ہے بلکہ یہ اس سے بھی بہت بڑی ہے جس قدر انسان ادراک کرسکتا ہے۔ انسان اس کائنات کے نہایت ہی تھوڑے حصے کا ادراک کرسکتا ہے اور بہت ہی تھوڑے حصے کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اسی قدر طاقت دی ہے جس قدر انسان کو ضرورت ہے۔ اس زمین میں رہنے ، اس کو ترقی دینے اور یہاں اللہ کا نائب اور خلیفہ ہونے کے لئے جس قدر ضرورت ہے ورنہ اگر پوری زمین کا مقابلہ پوری کائنات سے کیا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا ذرہ ہے جو اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کائنات کے دوسرے سرے سے نظر آئے۔ اس عظیم کائنات الٰہیہ میں سے انسانوں کو نہایت ہی محدود حصے کی بصیرت و بصارت کی قدرت دی گئی ہے۔ انسان اس کے اسرار و رموز اور حالات اور قوانین قدرت کا بہت ہی تھوڑا ساحصہ ابھی تک معلوم کرسکا ہے۔ ایک بہت بڑا حصہ ہے جسے انسان نہیں دیکھ پارہا ہے۔ فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اشارہ انسانی دل و دماغ کو بہت کھول دینے والا ہے۔ جب انسان یہ پاتا ہے کہ انسانی فکر ونظر کے موجودہ دائرے سے وراء بھی کچھ پہلو ہیں۔ کچھ جہاں اور بھی ہیں ، کچھ اسرارہ رموز پوشیدہ بھی ہیں ، جو ابھی انسان کو نظر نہیں آرہے ، تو اس طرح انسانی تصور اور انسانی ادراک کے دائرے کو وسعت ملتی ہے۔ اس کائنات کے آفاق وسیع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس قرآن میں رہنے اور بسنے والا انسان اس محدود جگہ (Space) کا پابند نہیں ہوتا جس میں وہ رہتا ہے۔ نہ وہ اپنی آنکھوں کے محدود مشاہدے کا قیدی بنتا ہے ، نہ اپنی موجودہ محدود ادراک پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ کائنات ہمارے مشاہدے سے زیادہ وسیع اور یہ حقیقت ہماری قوت ادراک سے بڑی ہے۔ کیونکہ اس محدود انسان کو جو محدود مشاہدہ اور قوت مدرکہ دی گئی ہے ، وہ اس دنیا پر اس کی محدود ضروریات کے لئے دی گئی ہے۔ ہاں وہ اپنے مشاہدے اور قوت مدرکہ کو وسعت دے سکتا ہے۔ اور اپنی ان محدود قوتوں کو بھی وسعت دے سکتا ہے لیکن وہ یہ بھی اس وقت کرسکتا ہے کہ جب اس کو احساس ہو کہ کچھ حقائق اور جہاں اور بھی ہیں ، جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی ہے۔ اور پس پردہ ان جہانوں سے زیادہ وسیع جہاں ہیں جن تک ہماری رسائی ہوگئی ہے۔ یہاں آکر انسان کا رابطہ اس ذات مطلق سے پیدا ہوجاتا ہے۔ جو انسان کو نور بخشتی ہے اور اس سے براہ راست تعلق پاکر انسان پھر دوسرے جہانوں کی سیر کرتا ہے ، جو بظاہر مستور ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو ان حقائق کے اندر محدود کرتے ہیں جن کو آنکھ دیکھ سکتی ہے ، یا جن کو ہماری قوت مدرکہ پاسکتی ہے ، یہ لوگ دراصل مساکین ہیں۔ درحقیقت اس قسم کے لوگ اپنے نہایت محدود محسوسات اور مدرکات کے قیدی ہیں۔ یہ لوگ اس وسیع دنیا میں رہتے تو ہیں مگر انہوں نے اپنے آپ کو کنویں کا مینڈک بنادیا ہے جب کہ انسان کو ایک عظیم کائنات کے اندر بھیجا گیا ہے تاکہ اسے دیکھے اور عبرت لے۔ اس کائنات کے اندر اور اس زمین کے اوپر رہنے والے ، اس انسان کی تاریخ میں ، بارہا ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو ، اس طرح کنویں کا مینڈک بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے اوپر معرفت اور روشنی کے دروازے بند کیے ہیں۔ اور ایمان اور شعور کے راستے سے حقیقت کبریٰ تک پہنچنے سے اپنے آپ کو محروم کیا ہے۔ پھر وہ یہ کوشش بھی کرنے لگتے ہیں کہ روشنی کے یہ دروازے ، جس طرح انہوں نے اپنے اوپر بند کیے ، دوسروں پر بھی بند کردیں۔ کبھی وہ جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت دونوں دراصل ایک بڑے قید خانے ہیں جن کے اندر ان لوگوں نے اپنے آپ کو محصور کرلیا ہے اور معرفت اور روشنی کے حقیقی سرچشموں سے اپنے آپ کو محروم کردیا ہے۔ گزشتہ دو سوسالوں کے اندر ، مغربی سائنس نے اپنے غرور اور حماقت کی وجہ سے ، اپنے آپ کو ، ان مضبوط سلاخوں کے پیچھے بند کردیا تھا۔ لیکن اس صدی میں ، خود مغربی سائنس نے آہستہ آہستہ ان مضبوط سلاخوں کو توڑنا شروع کردیا ہے اور خود اپنے تجربات کو نور کے سرچشموں سے جوڑنا شروع کردیا۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب سائنس کا جوش و غرور ٹھنڈا ہوا اور وہ کلیسا کی حماقتوں اور اس کے خلاف جوش انتقام کی مدہوشی سے باہر نکل آئی ہے۔ (انسان ، مادیت اور اسلام کے درمیان۔ محمد قطب) اور سائنس نے معلوم کرلیا کہ اس کائنات کے اندر اس کے حدود کار ہی محدود ہیں اور اس نے تجربہ کرلیا کہ یہ محدود آلات جن کے ذریعے وہ اس کائنات کا مشاہدہ کررہی ہے ، وہ تو اسے کسی لامحدود کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔ چناچہ سائنس نے ایمان کی دعوت دینا شروع کردی ہے۔ (سائنس کی طرف سے دعوت ایمان۔ ترجمہ محمود فلکی۔ تصنیف اے۔ گریسی ) نہایت عاجزانہ انداز میں سائنس نے خوشخبری دی اور اعلان کیا کہ اب وہ اس قید خانے سے رہا ہوگئی ہے۔ جب بھی انسانیت نے اپنے آپ کو مادیت کی سلاخوں کے پیچھے بند کیا۔ اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ ڈاکٹر بلیکس کاریل ، جنہوں نے خلیہ پر تحقیقات میں تخصص حاصل کیا۔ اور جنہوں نے خون کی گردش کے نظام پر کام کیا اور عملاً پریکٹس بھی کرتے رہے۔ اور انہوں نے کئی اداروں کی سرجری اور مختلف طریقہ ہائے علاج پر کام کیا۔ اور جن کو 2191 میں نوبل انعام ملا اور دوسری عالمگیر جنگ کے دوران میں انسٹی ٹیوٹ آف ہیومنزم فرانس کے ڈائریکٹر رہے ، وہ لکھتے ہیں : ” یہ کائنات بہ توسیع ہے ، اور اس کے اندر ہمارے انسانی عقول کے علاوہ بھی کئی فعال عقل کام کرتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کی وادیوں کے نشیب و فراز میں انسانی عقل جب چاہے ، ان عقول سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ نماز ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم ان عقول تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم اس ابدی عقل سے جاملتے ہیں جس کا کنٹرول اس کائنات کی تمام تقدیروں پر ہے۔ چاہے یہ تقدیرات ہمیں نظر آرہی ہوں یا ہماری نظروں سے اوجھل ہوں۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ” تقدس کا یہ شعور اور دوسریروحانی سرگرمیاں انسانی زندگی پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ تقدس کے اس شعور اور روحانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہم ، اس عظیم روحانی دنیا سے متصل رہتے ہیں جس کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں اور جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ایک دوسرے ڈاکٹر ذی نوئے ہیں۔ انہوں نے استاد کو ری اور ان کی بیوی کے ساتھ مل کر تشریح الابدان اور طبیعیات کے میدان میں کام کیا۔ اور راکفیلر انسٹی ٹیوٹ نے ان کو اپنے ادارے کے دوسرے ممبران کے ساتھ سرجری اور اس کی خصوصیات کے موضوع پر تحقیقات کے لئے بلایا۔ وہ فرماتے ہیں : ” کئی ذہین اور نیک نیت لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کا تصور یا ادراک نہیں کرسکتے۔ حالانکہ ایک دیانت دار انسان جو اپنے نفس کو علمی تحقیقات میں لگائے رکھتا ہے ، اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اللہ کا تصور بھی کرسکے۔ جس طرح ایک ماہر طبیعیات پر لازم نہیں ہے کہ وہ بجلی کا تصور کرسکے۔ جس طرح خدا کا تصور انسان ناقص ہوگا ، اسی طرح بجلی کا تصور بھی ناقص ہوگا اور باطل ہوگا۔ اس لئے کہ بجلی کا مادی تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ بجلی ناقابل تصور ہونے کے باوجود ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور یہ لکڑی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ ثابت شدہ ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) سرآرتھرٹامسن ، اسکاٹ لینڈ کے مشہور مصنف ہیں ، کہتے ہیں : ” ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ اس میں یہ حقیقت ٹھوس اور شفاف بن گئی ہے۔ ایتھر نے اپنا مادی وجود کھو دیا ہے۔ مادی تاویلات میں غلو کرنے کی صلاحیت کے معاملے میں وہ حدیث العبد ہے۔ ایک مجموعہ مضامین بعنوان ” سائنس اور مذہب “ میں کہتے ہیں : ” دینیات کے اہل علم کو اس بات پر تاسف نہیں کرنا چاہئے کہ ایک ماہر طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر رب طبیعیات تک کیوں نہیں پہنچ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات کا رخ الہیاتی نہیں ہے۔ لیکن اگر علمائے طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر مافوق الطبیعیات میں داخل ہوگئے تو اس کے نتائج نہایت ہی عظیم ہوں گے۔ آج تک کی تحقیقات کے بعد ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ ہم اس پر خوشی کا اظہار کریں کہ سائنس دانوں نے اس سمت کام کرنے کی راہ فراہم کردی ہے کہ اب دینی جذبات سائنس میں سانس لے سکیں جبکہ ہمارے آباﺅ اجداد کے زمانے میں ، یہ ممکن نہ تھا کہ سائنس کے مضامین میں مذہب کی بات کی جاسکے۔ جس طرح مسٹر لانچڑوں ڈیفیس نے اپنی کتاب میں ، جو یہ غلط دعویٰ کیا تھا ، اس کے بالمقابل اب ہم یہ بات نہایت زور اور اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ سائنس نے اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی اعلیٰ اور نہایت بلند مرتبہ تصور کے لئے راہ ہموار کردی ہے۔ اور اب ہم اس قول کا لفظی مفہوم درست سمجھتے ہیں کہ سائنس نے انسانوں کے لئے جدید آسمان اور جدید زمین ، پیدا کردیئے ہیں اور انسان کو عقل جدوجہد میں اس قدر آگے بڑھادیا کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو امن وسلامتی صرف اس صورت میں ملے گی کہ وہ اللہ کی ذات پر یقین کرلے “۔ (دور جدید کے مفکرین کے عقائد۔ استاد عناد) اس سے قبل ہم اے ۔ گریسی مور سن ، صدر سائنس اکیڈمی نیویارک اور امریکہ میں قومی تحقیقات کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی کتاب سے یہ اقتباس نقل کرچکے ہیں۔ کتاب کا نام ہے ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “۔ ” ہم عملاً ایک وسیع عالم مجہول کے قریب جاپہنچے ہیں۔ کیونکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ مادہ دراصل عالمی دور کا ایک مظہور ہے۔ اور یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قوت ہے۔ لیکن اس بات میں شک نہیں ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے میں کسی بخت واتفاق کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ محیرالعقول عظیم کائنات ایک ضابطے کی پابند ہے “۔ ” یہ کہ یہ انسان ایک حیوان تھا جو ایک ایسے ” موجود “ کی شکل اختیار کر گیا جو باشعور ، مفکر ، اپنے وجود کو جاننے والا بن گیا ، یہ بات درست نہیں کہ یہ انسان محض مادی عوامل کی وجہ سے ایسا بن گیا اور اس کے پیچھے کسی تخلیق کرنے والے کا قصدوارادہ نہ تھا ، یہ کوئی ممکن بات نہیں ہے “۔ ” اگر قصدوارادے کو تسلیم کیا جائے تو اس کے مطابق پھر انسان ایک مشین ہوگا تو سوال یہ ہوگا کہ اس مشین کو کون چلارہا ہے ، کیونکہ چلانے کے بغیر اس سے کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ سائنس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ انسانی مشین کا مدیر کون ہے اور پھر سائنس یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتی کہ ارادہ کوئی مادی چیز ہے “۔ ” ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم کہیں کہ اللہ نے اپنے نور کا ایک حصہ انسان کو عطا کیا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ سائنس اب مادیت کے قید خانے سے اس کی سلاخیں توڑ کر اور دیواریں گرا کر باہر نکل آئی ہے۔ اور وہ اب کھلی فضا میں آزادانہ غوروفکر کرتی ہے۔ جس طرح قرآن نے فرمایا : فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اور اس قسم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض ” کیڑے “ سوچنے والے ” کیڑے “ ابھی تک سائنس کے نام پر اپنے اوپر رب تعالیٰ کے نور کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دراصل نہ سائنس دان ہیں اور نہ مومن۔ یہ جس طرح سائنس کے میدان میں پسماندہ ہیں ، اسی طرح دین کے میدان میں پسماندہ ہیں۔ اور لاشعوری طور پر یہ مادیت کے قید خانے میں مبتلا ہیں۔ اور اس مقام اور مرتبے سے پیچھے رہ گئے ہیں جو انسان جیسے مکرم مخلوق کے لائق ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں : فلا افسم .................... رب العلمین (14) (96 : 83 تا 34) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ، یہ ایک رسول کریم کا قول ہے ، کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے “۔ رسول اللہ پر اور قرآن پر جو الزامات مشرکین مکہ نے لگائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ شاعر ہیں۔ دوسرا یہ تھا کہ آپ کاہن ہیں اور یہ ان کا ایک سطحی شبہ تھا۔ اور یہ اس لئے ان کو لاحق ہوگیا تھا کہ یہ قرآن ایک لاجواب کلام تھا۔ اور عام لوگوں کے کلام سے اس کا معیار بہت بلند تھا۔ اور شاعر اس لئے کہتے تھے کہ ان کا یہ وہم تھا کہ شاعروں پر جن آتے ہیں اور وہ ان سے اس قسم کا کلام سنا کرتے ہیں۔ اسی طرح کاہنوں کو بھی وہ جنوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والے سمجھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ باتیں ان کو یہ جنات بتاتے ہیں۔ یہ شبہ بہت ہی سطحی تھا اور قرآن اور رسالت اور ذات رسول پر تدبر کرنے سے یہ جلدی ہی زائل ہوسکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ شعر میں بعض اوقات اچھی موسیقی ہوتی ہے ، اعلیٰ خیالات ہوتے ہیں ، خوبصورتی ہوتی ہے لیکن قرآن اور شاعری بالکل جدا چیزیں ہیں۔ دونوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ قرآن کریم ایک مکمل نظام زندگی عطا کرتا ہے اور یہ نظام سچائی پر مبنی ہے۔ اس کی بنیاد نظریہ توحید پر مبنی ہے۔ یہ اس کائنات کے ایک خالق پر ایمان کو ضروری سمجھتا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح اس کائنات کو ھبی زندہ اور مطیع رب سمجھتا ہے۔ جبکہ شعر چند تاثرات ، جذبات ، متفرق واقعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا نظام زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نہ ایک نظریہ پر مبنی ہوتا ہے ، جو خوشی اور غم ، آزادی اور قید اور محبت اور نفرت میں ایک ہو ، جبکہ شعر ان حالات میں یکسر بدل جاتا ہے اور مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ قرآن کریم نے جو تصور حیات پیش کیا ہے اس کی پہلی اینٹ بھی اسلام اور قرآن نے رکھی ہے۔ اس کے جزئیات ، اس کے اصول بھی ، سب کے سب قرآن نے دیئے اور اس عقیدے کے ساتھ دیئے کہ یہ سب من جانب اللہ ہے۔ اس تصور حیات کا منہاج ہی ایسا ہوتا ہے جو انسانی نہیں ہوسکتا۔ انسان کوئی ایسا جامع نظام اور تصور تجویز نہیں کرسکتا ، جس کی نہ پہلے کوئی مثال ہے اور نہ بعد میں۔ اس کے مقابلے میں انسانوں نے اس کائنات ، اس کی قوت خالقہ اور قوت مدبرہ کے بارے میں جو فلسفے گھڑے ہیں ، وہ بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جو علم فلسفہ ، علم شعر ، دوسرے فکری اور نظریاتی مکاتب میں تفصیل سے کتابوں میں موجود ہیں۔ جب ان کا تقابلی مطالعہ قرآن سے کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن بالکل کسی علیحدہ سرچشمے کا فیض ہے۔ یہ منفرد مزاج اور منفرد خصوصیات رکھتا ہے اور اس کے مقابلے میں انسانی تصورات پائے چوبیں کی طرح ہیں۔ اس طرح کہانت اور کاہنوں سے جو باتیں صادر ہوتی رہتی ہیں ، آج تک انسانی تاریخ میں کوئی کاہن ایسا نہیں گزرا جس نے ایک نظام زندگی ، فلسفہ زندگی اور نظام آخرت دیا ہو اور وہ اسی طرح کامل ، مکمل اور معقول ہو ، جس طرح قرآن کا پیش کردہ نظام معقول ہے۔ کاہنوں سے جو کچھ نقل ہوا ہے ، وہ یہ ہے کہ چند مہمل کلمات ، چند سجع اور قافیے جن میں تیر تکے لڑائے گئے ہیں اور ایک آدھ کہیں ، کوئی سنی سنائی حکمت کی بات بھی ہوتی ہوگی۔ لیکن قرآن کے اندر بعض ایسی جھلکیاں بھی ہیں جن پر غور کرنے سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کبھی اس طرح سوچ ہی نہیں سکتا۔ ہم نے فی ظلال القرآن میں ایسی بعض جھلکیاں دکھائی ہیں کہ نہ قرآن سے پہلے اور نہ بعد میں انسانوں کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہے۔ بعض آیات یہاں بھی غور کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ وعندہ .................... کتب مبین (6 : 95) ” اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحروبر میں جو کچھ ہے ، سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں ہوگا جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک وتر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے “۔ مثلا یہ تصور : یعلم مایلج ........................ تعملون بصیر (75 : 4) ” اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے ، اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے ، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے ، اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے ، جہاں بھی تم ہو اور جو کام بھی تم کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے “۔ یا مثلاً اس قسم کے خیال کی طرف۔ وما تحمل ........................ اللہ یسیر (53 : 11) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ اللہ کے لئے یہ بہت کچھ آسان کام ہے “۔ نیزنہ پہلے کسی انسان کو اس بات کا دھیان ہوا ، اور نہ بعد میں ہوگا کہ اللہ نے اس کائنات کو کس طرح تھام رکھا ہے۔ ان اللہ .................... من بعد (53 : 14) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی دوسراتھامنے والا نہیں ہے “۔ یا پھر یہ منظر کہ اس کائنات میں زندگی کس طرح پھوٹتی ہے اور خالق کائنات نے یہاں زندگی کے قیام کے لئے کس قدر انتظامات کیے ہیں اور موافق حالات بنائے ہیں : ان اللہ فالق .................................... یومنون (99) (6 : 99) ” دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ وہی زندہ کو مردے سے نکالتا ہے ، اور وہی مردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے۔ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو ؟ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کے طلوع اور غروب کا حساب مقرر کیا ہے۔ یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھہرائے ہوئے اندازے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے ایک جان سکے تم کو پیدا کیا ، پھر ہر ایک کے لئے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سوپنے جانے کی جگہ ہے۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ، اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی۔ پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے۔ پھر ان سے تہہ بہ تہہ جڑے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں۔ اور انگور ، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جدا جدا بھی۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو۔ ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ اس قسم کی جھلکیاں قرآن میں بہت زیادہ ہیں ، اور انسانی خیالات اور اسالیب کلام میں اس قسم کی باتیں نہیں ہوتیں۔ قرآن کے صرف یہی پہلو ، اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ یہ قرآن منجانب اللہ ہے۔ دوسرے دلائل سے اگر صرف نظر کردیاجائے جو خود اس کتاب کے اندر بھی ہیں اور ان حالات کے اندر بھی جن میں یہ کتاب نازل ہوئی تو اس کتاب کے اندر بعض ایسی باتیں ہیں جن کی طرف انسان خیال جاتا ہی نہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کے یہ شبہات سطحی ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا ، جس وقت قرآن کی چند سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ پورا قرآن ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت موجود تھی۔ اس کے اندر واضح اشارات تھے کہ اس کا سرچشمہ زمین پر نہیں ہے ، آسمان پر ہے۔ کبراء قریش اپنے دلوں میں یہ بات محسوس بھی کرتے تھے اور کبھی کبھار اپنے درمیان اس کا اعتراف بھی کرتے تھے۔ لیکن مفادات انسان کو اندھا کردیتے ہیں ، جن کے پیش نظر انسان ہدایت کی راہ پر آنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ایسے حالات کے بارے میں قرآن نے پیشگی کہہ دیا تھا کہ اب وہ اس قسم کے الزامات لگائیں گے کہ یہ ایک قدیم جھوٹ ہے۔ کتب سیرت میں متعدد واقعات نقل ہوئے ہیں کہ زعمائے قریش جب اپنے ہاں اس شب ہے کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو وہ خود تسلیم کرتے تھے کہ ان کی یہ بات غلط ہے۔ ابن اسحاق نے والید ابن مغیرہ اور نضر ابن الحارث اور عتبہ ابن ربیعہ کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے۔ ان میں سے پہلے شخص کے بارے میں اس نے نقل کیا ہے۔ ” پھر یہ ہوا کہ ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ جمع ہوئے۔ یہ ان میں معمر آدمی تھا ، اور موسم حج کا موسم آنے والا ہے۔ اور اس میں تمام عالم عرب سے وفود تمہارے پاس آئیں گے اور تمام عربوں نے تمہارے اس شخص کے بارے میں خبریں سن رکھی ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں اپنی آراء مجتمع کرلو اور ایک ہی بات کرو ، اور اس کے بارے میں باہم متضاد باتیں نہ کرو کہ خود تمہاری باتیں ایک دوسرے کو جھٹلادیں۔ اور تم خود اپنی تردید کرو۔ انہوں نے کہا ابو عبدالشمس سب سے پہلے تم ہی بتاﺅ اور ہمارے لئے ایک بات طے کردو ہم وہی کریں گے۔ اس نے کہا پہلے تم بتاﺅ کہ تمہاری آراء کیا ہیں ؟ بعض نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ یہ کاہن ہے۔ اس نے کہا یہ تو نہیں ، خدا کی قسم ! یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہن کو دیکھا ہے۔ اس کا کلام کاہنوں کی گنگناہٹ سے مختلف ہے۔ نہ کاہنوں جیسا سجع ہے ، اس میں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم یہ کہیں گے کہ یہ مجنون ہے۔ تو اس نے کہا مجنون بھی تو وہ نہیں ہے۔ ہم نے پاگلوں کو دیکھا ہے اور پاگلوں کو جانتے ہیں۔ نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ اسے کوئی ہم ہوا ہے ، نہ وسوسہ میں گرفتار ہے وہ۔ تو بعض نے کہا تو پھر اسے شاعر کہا جائے۔ تو اس نے کہا کہ وہ شاعر نہیں۔ ہم سب لوگ شعراء کو جانتی ہیں۔ اقسام شعر میں رجز ، ھزج ، قریض ، مقبوضہ ، مبسوط ، لہٰذا قرآن تو ان میں سے نہیں ہے۔ تو اس کے بعد کہا کہ پھر اسے ساحر اور جادوگر کہا جائے۔ تو اس نے کہا یہ تو جادو گر بھی نہیں ہے۔ جادوگروں کو ہم نے دیکھا ہوا ہے نہ یہ جادوگروں کی طرح پھونکتا ہے اور نہ یہ گانٹھیں باندھتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا : عبدالشمس تم ہب بتاﺅ کہ پھر ہم اسے کیا کہیں ؟ اس نے کہا :” خدا کی قسم اس کے کلام میں زبردست مٹھاس ہے ، اس کی جڑیں نہایت گہری ہیں اور شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور اس کی شاخوں میں پھل ہیں۔ تم ان باتوں میں سے جو بھی کہو گے عام آدمی کو معلوم ہوگا کہ یہ جھوٹ ہے۔ اور قریب ترین بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک جادو گر ہے۔ ایسا جادو لایا ہے کہ بیٹے کو باپ سے جدا کردیا ہے ، بہن کو بھائی سے الگ کردیا ہے ، خاوند کو بیوی سے جدا کردیا ہے۔ ایک شخص کو خاندان سے جدا کردیا ہے۔ وہ اس سے باتیں لے کر نکلے اور مکہ کی راہوں میں بیٹھ گئے۔ جب موسم حج میں لوگ آنے لگے تو جو بھی آتا وہ اس سے حضرت محمد ﷺ کی بات کرتے اور لوگوں کو ان سے ڈراتے۔ اور نضر ابن الحارث کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے کہا : ” اے قوم قریش ! خدا کی قسم تم پر ایک ایسی مصیبت آپڑی ہے جس کا کوئی علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ محمد تم میں ایک چھوٹا سا نو عمر بچہ تھا ، وہ تم میں سب کا محبوب تھا ، وہ تم میں سب سے سچا تھا ، وہ تم میں سب سے زیادہ امین تھا ، جب تم نے اس کے چہرے پر بڑھاپا دیکھا اور وہ بات تمہارے پاس لے کر آیا جو وہ لے کر آیا تو تم نے کہا یہ جادوگر ہے۔ نہیں خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے ، وہ جادوگر نہیں ہے۔ ہم نے جادوگروں کو دیکھا ہے۔ ان کی پھونک اور ان کی گانٹھوں کو بھی دیکھا۔ تم نے کہا کہ وہ کاہن ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! وہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ ان کے خلجانات کو بھی دیکھا ہے۔ ان کا مسجع کلام بھی سنا ہے تم کہتے ہو وہ شاعر ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! ایسا نہیں ، وہ شاعر نہیں ہے۔ ہم نے شعراء دیکھے ہیں اور شعراء کے اصناف شعر سے بھی ہم وقف ہیں۔ رجز ، ھزج وغیرہ۔ تم کہتے ہو کہ وہ مجنوں ہے۔ ہم نے مجنونوں کو دیکھا ہے ، نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ وہ وسوسوں کا شکار ہے اور نہ اس کی باتیں غلط سلط ہیں۔ اے گروہ قریش ! اپنے اس معاملے میں غور کرو ، خدا کی قسم ! میں سمجھتا ہوں تم پر ایک عظیم مصیبت آگئی ہے ....“ اس کی باتوں میں اور عتبہ کی باتوں میں پوری طرح یکسانیت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہو ، جو کبھی عتبہ کی طرف منسوب ہوگیا ہو اور کبھی نضر کی طرف۔ لیکن ، یہ بات بعید نہیں ہے کہ دونوں نے ایک ہی طرح کی بات کی ہو۔ کیونکہ دونوں قریش کے اکابر میں سے تھے۔ اور ان کے تاثرات قرآن کے بارے میں ایک ہی جیسے تھے۔ عتبہ کا جو موقف تھا اس کا قصہ اس سے قبل ہم نے سورة قلم کے ابتدائیہ میں بیان کردیا ہے۔ یہ موقف بھی حضور اکرم اور قرآن کے بارے میں ولید اور نضر کے قریب قریب تھا۔ غرض یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے کہ آپ ساحر ہیں یاکاہن ہیں ، کبھی تو یہ بطور عیاری ومکاری یوں کہتے تھے اور کبھی وہ محض مغالطہ انگیزی کے لئے کررہے تھے۔ اور اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ قرآن مجید بذات خود اس قدر واضح تھا کہ سنتے ہی لوگ اسے سمجھ لیتے تھے۔ اس لئے وہ قسم کا محتاج ہی نہ تھا کہ خدا ان چیزوں کی قسم اٹھائے جو معلوم ہویں اور جو معلوم نہیں ہیں۔ (سید قطب کے نزدیک آیات کے معنی یہ ہوں گے میں قسم نہیں اٹھاتا۔ لیکن ہندوستانی علماء کا ترجمہ درست ہے کہ (پس نہیں ، میں قسم اٹھاتا ہوں) ۔ بیشک یہ رسول کریم ﷺ کا قول ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ اور نہ کاہن کا کلام ہے۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہاں جو یہ کہا گیا کہ یہ رسول کریم کا قول ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ کلام تخلیق کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے طرز کا کلام ہے۔ شاعر اور کاہن ایسا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ ایسا کلام ایک رسول ہی پیش کرسکتا ہے۔ اللہ نے بھیجا اور اس کی طرف یہ نازل کیا اسی لئے بعدہ متصلا کہہ دیا گیا۔ تنزیل من رب العلمین (96 : 34) ” یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے “۔ اور یہ تعقیبات۔ قلیلاً ما تومنون (96 : 24) ” تم کم ایمان لاتے ہو “۔ قلیلا ما تذکرون (96 : 24) ” تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو “۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے ، اور تم نصیحت نہیں حاصل کرتے ۔ یہ انداز تعبیر مکمل نفی کے لئے عربی زبان میں عام تھا کہ مکمل نفی کو قلیل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ حدیث شریف میں آتا کہ حضور ﷺ (قلیل اللغو) تھے یعنی بالکل لغویات نہ کرتے تھے۔ یہاں مراد مکمل نفی ہے۔ ورنہ اگر کسی کا قلیل ایمان بھی ہو ، اور کوئی قلیل نصیحت بھی قرآن سے لیتا ہو ، وہ رسول اللہ کو شاعر ، کاہن نہیں کہہ سکتا بلکہ ایک کافر اور غافل ہی حضور ﷺ کے بارے میں ایسی بات کرسکتا ہے۔ اور آخر میں یہ خوفناک ڈراوا آتا ہے کہ جو بھی عقیدے کے بارے میں اللہ پر افتراء باندھے گا وہ اللہ کی گرفت میں آجائے گا۔ اور یہ تہدید اس ایک احتمال کی نفی بھی کردیتی ہے جو رہ جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے یہ اپنی طرف سے بنایا ہو۔ تو اللہ فرماتا ہے کہ آپ سچے ہیں اگر ہم پر وہ کوئی افتراء باندھتے تو ہم اسے سختی سے پکڑتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں جو قلیل تحریف بھی کرتا ہے ، وہ پکڑا جاتا ہے۔

الحاقة 69:39

فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے جو نظر نہیں آتی۔ یہ کائنات انسان کے مشاہدے سے بہت زیادہ عظیم ہے بلکہ یہ اس سے بھی بہت بڑی ہے جس قدر انسان ادراک کرسکتا ہے۔ انسان اس کائنات کے نہایت ہی تھوڑے حصے کا ادراک کرسکتا ہے اور بہت ہی تھوڑے حصے کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اسی قدر طاقت دی ہے جس قدر انسان کو ضرورت ہے۔ اس زمین میں رہنے ، اس کو ترقی دینے اور یہاں اللہ کا نائب اور خلیفہ ہونے کے لئے جس قدر ضرورت ہے ورنہ اگر پوری زمین کا مقابلہ پوری کائنات سے کیا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا ذرہ ہے جو اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کائنات کے دوسرے سرے سے نظر آئے۔ اس عظیم کائنات الٰہیہ میں سے انسانوں کو نہایت ہی محدود حصے کی بصیرت و بصارت کی قدرت دی گئی ہے۔ انسان اس کے اسرار و رموز اور حالات اور قوانین قدرت کا بہت ہی تھوڑا ساحصہ ابھی تک معلوم کرسکا ہے۔ ایک بہت بڑا حصہ ہے جسے انسان نہیں دیکھ پارہا ہے۔ فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اشارہ انسانی دل و دماغ کو بہت کھول دینے والا ہے۔ جب انسان یہ پاتا ہے کہ انسانی فکر ونظر کے موجودہ دائرے سے وراء بھی کچھ پہلو ہیں۔ کچھ جہاں اور بھی ہیں ، کچھ اسرارہ رموز پوشیدہ بھی ہیں ، جو ابھی انسان کو نظر نہیں آرہے ، تو اس طرح انسانی تصور اور انسانی ادراک کے دائرے کو وسعت ملتی ہے۔ اس کائنات کے آفاق وسیع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس قرآن میں رہنے اور بسنے والا انسان اس محدود جگہ (Space) کا پابند نہیں ہوتا جس میں وہ رہتا ہے۔ نہ وہ اپنی آنکھوں کے محدود مشاہدے کا قیدی بنتا ہے ، نہ اپنی موجودہ محدود ادراک پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ کائنات ہمارے مشاہدے سے زیادہ وسیع اور یہ حقیقت ہماری قوت ادراک سے بڑی ہے۔ کیونکہ اس محدود انسان کو جو محدود مشاہدہ اور قوت مدرکہ دی گئی ہے ، وہ اس دنیا پر اس کی محدود ضروریات کے لئے دی گئی ہے۔ ہاں وہ اپنے مشاہدے اور قوت مدرکہ کو وسعت دے سکتا ہے۔ اور اپنی ان محدود قوتوں کو بھی وسعت دے سکتا ہے لیکن وہ یہ بھی اس وقت کرسکتا ہے کہ جب اس کو احساس ہو کہ کچھ حقائق اور جہاں اور بھی ہیں ، جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی ہے۔ اور پس پردہ ان جہانوں سے زیادہ وسیع جہاں ہیں جن تک ہماری رسائی ہوگئی ہے۔ یہاں آکر انسان کا رابطہ اس ذات مطلق سے پیدا ہوجاتا ہے۔ جو انسان کو نور بخشتی ہے اور اس سے براہ راست تعلق پاکر انسان پھر دوسرے جہانوں کی سیر کرتا ہے ، جو بظاہر مستور ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو ان حقائق کے اندر محدود کرتے ہیں جن کو آنکھ دیکھ سکتی ہے ، یا جن کو ہماری قوت مدرکہ پاسکتی ہے ، یہ لوگ دراصل مساکین ہیں۔ درحقیقت اس قسم کے لوگ اپنے نہایت محدود محسوسات اور مدرکات کے قیدی ہیں۔ یہ لوگ اس وسیع دنیا میں رہتے تو ہیں مگر انہوں نے اپنے آپ کو کنویں کا مینڈک بنادیا ہے جب کہ انسان کو ایک عظیم کائنات کے اندر بھیجا گیا ہے تاکہ اسے دیکھے اور عبرت لے۔ اس کائنات کے اندر اور اس زمین کے اوپر رہنے والے ، اس انسان کی تاریخ میں ، بارہا ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو ، اس طرح کنویں کا مینڈک بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے اوپر معرفت اور روشنی کے دروازے بند کیے ہیں۔ اور ایمان اور شعور کے راستے سے حقیقت کبریٰ تک پہنچنے سے اپنے آپ کو محروم کیا ہے۔ پھر وہ یہ کوشش بھی کرنے لگتے ہیں کہ روشنی کے یہ دروازے ، جس طرح انہوں نے اپنے اوپر بند کیے ، دوسروں پر بھی بند کردیں۔ کبھی وہ جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت دونوں دراصل ایک بڑے قید خانے ہیں جن کے اندر ان لوگوں نے اپنے آپ کو محصور کرلیا ہے اور معرفت اور روشنی کے حقیقی سرچشموں سے اپنے آپ کو محروم کردیا ہے۔ گزشتہ دو سوسالوں کے اندر ، مغربی سائنس نے اپنے غرور اور حماقت کی وجہ سے ، اپنے آپ کو ، ان مضبوط سلاخوں کے پیچھے بند کردیا تھا۔ لیکن اس صدی میں ، خود مغربی سائنس نے آہستہ آہستہ ان مضبوط سلاخوں کو توڑنا شروع کردیا ہے اور خود اپنے تجربات کو نور کے سرچشموں سے جوڑنا شروع کردیا۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب سائنس کا جوش و غرور ٹھنڈا ہوا اور وہ کلیسا کی حماقتوں اور اس کے خلاف جوش انتقام کی مدہوشی سے باہر نکل آئی ہے۔ (انسان ، مادیت اور اسلام کے درمیان۔ محمد قطب) اور سائنس نے معلوم کرلیا کہ اس کائنات کے اندر اس کے حدود کار ہی محدود ہیں اور اس نے تجربہ کرلیا کہ یہ محدود آلات جن کے ذریعے وہ اس کائنات کا مشاہدہ کررہی ہے ، وہ تو اسے کسی لامحدود کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔ چناچہ سائنس نے ایمان کی دعوت دینا شروع کردی ہے۔ (سائنس کی طرف سے دعوت ایمان۔ ترجمہ محمود فلکی۔ تصنیف اے۔ گریسی ) نہایت عاجزانہ انداز میں سائنس نے خوشخبری دی اور اعلان کیا کہ اب وہ اس قید خانے سے رہا ہوگئی ہے۔ جب بھی انسانیت نے اپنے آپ کو مادیت کی سلاخوں کے پیچھے بند کیا۔ اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ ڈاکٹر بلیکس کاریل ، جنہوں نے خلیہ پر تحقیقات میں تخصص حاصل کیا۔ اور جنہوں نے خون کی گردش کے نظام پر کام کیا اور عملاً پریکٹس بھی کرتے رہے۔ اور انہوں نے کئی اداروں کی سرجری اور مختلف طریقہ ہائے علاج پر کام کیا۔ اور جن کو 2191 میں نوبل انعام ملا اور دوسری عالمگیر جنگ کے دوران میں انسٹی ٹیوٹ آف ہیومنزم فرانس کے ڈائریکٹر رہے ، وہ لکھتے ہیں : ” یہ کائنات بہ توسیع ہے ، اور اس کے اندر ہمارے انسانی عقول کے علاوہ بھی کئی فعال عقل کام کرتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کی وادیوں کے نشیب و فراز میں انسانی عقل جب چاہے ، ان عقول سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ نماز ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم ان عقول تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم اس ابدی عقل سے جاملتے ہیں جس کا کنٹرول اس کائنات کی تمام تقدیروں پر ہے۔ چاہے یہ تقدیرات ہمیں نظر آرہی ہوں یا ہماری نظروں سے اوجھل ہوں۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ” تقدس کا یہ شعور اور دوسریروحانی سرگرمیاں انسانی زندگی پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ تقدس کے اس شعور اور روحانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہم ، اس عظیم روحانی دنیا سے متصل رہتے ہیں جس کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں اور جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ایک دوسرے ڈاکٹر ذی نوئے ہیں۔ انہوں نے استاد کو ری اور ان کی بیوی کے ساتھ مل کر تشریح الابدان اور طبیعیات کے میدان میں کام کیا۔ اور راکفیلر انسٹی ٹیوٹ نے ان کو اپنے ادارے کے دوسرے ممبران کے ساتھ سرجری اور اس کی خصوصیات کے موضوع پر تحقیقات کے لئے بلایا۔ وہ فرماتے ہیں : ” کئی ذہین اور نیک نیت لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کا تصور یا ادراک نہیں کرسکتے۔ حالانکہ ایک دیانت دار انسان جو اپنے نفس کو علمی تحقیقات میں لگائے رکھتا ہے ، اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اللہ کا تصور بھی کرسکے۔ جس طرح ایک ماہر طبیعیات پر لازم نہیں ہے کہ وہ بجلی کا تصور کرسکے۔ جس طرح خدا کا تصور انسان ناقص ہوگا ، اسی طرح بجلی کا تصور بھی ناقص ہوگا اور باطل ہوگا۔ اس لئے کہ بجلی کا مادی تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ بجلی ناقابل تصور ہونے کے باوجود ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور یہ لکڑی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ ثابت شدہ ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) سرآرتھرٹامسن ، اسکاٹ لینڈ کے مشہور مصنف ہیں ، کہتے ہیں : ” ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ اس میں یہ حقیقت ٹھوس اور شفاف بن گئی ہے۔ ایتھر نے اپنا مادی وجود کھو دیا ہے۔ مادی تاویلات میں غلو کرنے کی صلاحیت کے معاملے میں وہ حدیث العبد ہے۔ ایک مجموعہ مضامین بعنوان ” سائنس اور مذہب “ میں کہتے ہیں : ” دینیات کے اہل علم کو اس بات پر تاسف نہیں کرنا چاہئے کہ ایک ماہر طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر رب طبیعیات تک کیوں نہیں پہنچ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات کا رخ الہیاتی نہیں ہے۔ لیکن اگر علمائے طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر مافوق الطبیعیات میں داخل ہوگئے تو اس کے نتائج نہایت ہی عظیم ہوں گے۔ آج تک کی تحقیقات کے بعد ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ ہم اس پر خوشی کا اظہار کریں کہ سائنس دانوں نے اس سمت کام کرنے کی راہ فراہم کردی ہے کہ اب دینی جذبات سائنس میں سانس لے سکیں جبکہ ہمارے آباﺅ اجداد کے زمانے میں ، یہ ممکن نہ تھا کہ سائنس کے مضامین میں مذہب کی بات کی جاسکے۔ جس طرح مسٹر لانچڑوں ڈیفیس نے اپنی کتاب میں ، جو یہ غلط دعویٰ کیا تھا ، اس کے بالمقابل اب ہم یہ بات نہایت زور اور اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ سائنس نے اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی اعلیٰ اور نہایت بلند مرتبہ تصور کے لئے راہ ہموار کردی ہے۔ اور اب ہم اس قول کا لفظی مفہوم درست سمجھتے ہیں کہ سائنس نے انسانوں کے لئے جدید آسمان اور جدید زمین ، پیدا کردیئے ہیں اور انسان کو عقل جدوجہد میں اس قدر آگے بڑھادیا کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو امن وسلامتی صرف اس صورت میں ملے گی کہ وہ اللہ کی ذات پر یقین کرلے “۔ (دور جدید کے مفکرین کے عقائد۔ استاد عناد) اس سے قبل ہم اے ۔ گریسی مور سن ، صدر سائنس اکیڈمی نیویارک اور امریکہ میں قومی تحقیقات کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی کتاب سے یہ اقتباس نقل کرچکے ہیں۔ کتاب کا نام ہے ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “۔ ” ہم عملاً ایک وسیع عالم مجہول کے قریب جاپہنچے ہیں۔ کیونکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ مادہ دراصل عالمی دور کا ایک مظہور ہے۔ اور یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قوت ہے۔ لیکن اس بات میں شک نہیں ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے میں کسی بخت واتفاق کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ محیرالعقول عظیم کائنات ایک ضابطے کی پابند ہے “۔ ” یہ کہ یہ انسان ایک حیوان تھا جو ایک ایسے ” موجود “ کی شکل اختیار کر گیا جو باشعور ، مفکر ، اپنے وجود کو جاننے والا بن گیا ، یہ بات درست نہیں کہ یہ انسان محض مادی عوامل کی وجہ سے ایسا بن گیا اور اس کے پیچھے کسی تخلیق کرنے والے کا قصدوارادہ نہ تھا ، یہ کوئی ممکن بات نہیں ہے “۔ ” اگر قصدوارادے کو تسلیم کیا جائے تو اس کے مطابق پھر انسان ایک مشین ہوگا تو سوال یہ ہوگا کہ اس مشین کو کون چلارہا ہے ، کیونکہ چلانے کے بغیر اس سے کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ سائنس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ انسانی مشین کا مدیر کون ہے اور پھر سائنس یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتی کہ ارادہ کوئی مادی چیز ہے “۔ ” ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم کہیں کہ اللہ نے اپنے نور کا ایک حصہ انسان کو عطا کیا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ سائنس اب مادیت کے قید خانے سے اس کی سلاخیں توڑ کر اور دیواریں گرا کر باہر نکل آئی ہے۔ اور وہ اب کھلی فضا میں آزادانہ غوروفکر کرتی ہے۔ جس طرح قرآن نے فرمایا : فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اور اس قسم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض ” کیڑے “ سوچنے والے ” کیڑے “ ابھی تک سائنس کے نام پر اپنے اوپر رب تعالیٰ کے نور کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دراصل نہ سائنس دان ہیں اور نہ مومن۔ یہ جس طرح سائنس کے میدان میں پسماندہ ہیں ، اسی طرح دین کے میدان میں پسماندہ ہیں۔ اور لاشعوری طور پر یہ مادیت کے قید خانے میں مبتلا ہیں۔ اور اس مقام اور مرتبے سے پیچھے رہ گئے ہیں جو انسان جیسے مکرم مخلوق کے لائق ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں : فلا افسم .................... رب العلمین (14) (96 : 83 تا 34) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ، یہ ایک رسول کریم کا قول ہے ، کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے “۔ رسول اللہ پر اور قرآن پر جو الزامات مشرکین مکہ نے لگائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ شاعر ہیں۔ دوسرا یہ تھا کہ آپ کاہن ہیں اور یہ ان کا ایک سطحی شبہ تھا۔ اور یہ اس لئے ان کو لاحق ہوگیا تھا کہ یہ قرآن ایک لاجواب کلام تھا۔ اور عام لوگوں کے کلام سے اس کا معیار بہت بلند تھا۔ اور شاعر اس لئے کہتے تھے کہ ان کا یہ وہم تھا کہ شاعروں پر جن آتے ہیں اور وہ ان سے اس قسم کا کلام سنا کرتے ہیں۔ اسی طرح کاہنوں کو بھی وہ جنوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والے سمجھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ باتیں ان کو یہ جنات بتاتے ہیں۔ یہ شبہ بہت ہی سطحی تھا اور قرآن اور رسالت اور ذات رسول پر تدبر کرنے سے یہ جلدی ہی زائل ہوسکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ شعر میں بعض اوقات اچھی موسیقی ہوتی ہے ، اعلیٰ خیالات ہوتے ہیں ، خوبصورتی ہوتی ہے لیکن قرآن اور شاعری بالکل جدا چیزیں ہیں۔ دونوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ قرآن کریم ایک مکمل نظام زندگی عطا کرتا ہے اور یہ نظام سچائی پر مبنی ہے۔ اس کی بنیاد نظریہ توحید پر مبنی ہے۔ یہ اس کائنات کے ایک خالق پر ایمان کو ضروری سمجھتا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح اس کائنات کو ھبی زندہ اور مطیع رب سمجھتا ہے۔ جبکہ شعر چند تاثرات ، جذبات ، متفرق واقعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا نظام زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نہ ایک نظریہ پر مبنی ہوتا ہے ، جو خوشی اور غم ، آزادی اور قید اور محبت اور نفرت میں ایک ہو ، جبکہ شعر ان حالات میں یکسر بدل جاتا ہے اور مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ قرآن کریم نے جو تصور حیات پیش کیا ہے اس کی پہلی اینٹ بھی اسلام اور قرآن نے رکھی ہے۔ اس کے جزئیات ، اس کے اصول بھی ، سب کے سب قرآن نے دیئے اور اس عقیدے کے ساتھ دیئے کہ یہ سب من جانب اللہ ہے۔ اس تصور حیات کا منہاج ہی ایسا ہوتا ہے جو انسانی نہیں ہوسکتا۔ انسان کوئی ایسا جامع نظام اور تصور تجویز نہیں کرسکتا ، جس کی نہ پہلے کوئی مثال ہے اور نہ بعد میں۔ اس کے مقابلے میں انسانوں نے اس کائنات ، اس کی قوت خالقہ اور قوت مدبرہ کے بارے میں جو فلسفے گھڑے ہیں ، وہ بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جو علم فلسفہ ، علم شعر ، دوسرے فکری اور نظریاتی مکاتب میں تفصیل سے کتابوں میں موجود ہیں۔ جب ان کا تقابلی مطالعہ قرآن سے کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن بالکل کسی علیحدہ سرچشمے کا فیض ہے۔ یہ منفرد مزاج اور منفرد خصوصیات رکھتا ہے اور اس کے مقابلے میں انسانی تصورات پائے چوبیں کی طرح ہیں۔ اس طرح کہانت اور کاہنوں سے جو باتیں صادر ہوتی رہتی ہیں ، آج تک انسانی تاریخ میں کوئی کاہن ایسا نہیں گزرا جس نے ایک نظام زندگی ، فلسفہ زندگی اور نظام آخرت دیا ہو اور وہ اسی طرح کامل ، مکمل اور معقول ہو ، جس طرح قرآن کا پیش کردہ نظام معقول ہے۔ کاہنوں سے جو کچھ نقل ہوا ہے ، وہ یہ ہے کہ چند مہمل کلمات ، چند سجع اور قافیے جن میں تیر تکے لڑائے گئے ہیں اور ایک آدھ کہیں ، کوئی سنی سنائی حکمت کی بات بھی ہوتی ہوگی۔ لیکن قرآن کے اندر بعض ایسی جھلکیاں بھی ہیں جن پر غور کرنے سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کبھی اس طرح سوچ ہی نہیں سکتا۔ ہم نے فی ظلال القرآن میں ایسی بعض جھلکیاں دکھائی ہیں کہ نہ قرآن سے پہلے اور نہ بعد میں انسانوں کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہے۔ بعض آیات یہاں بھی غور کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ وعندہ .................... کتب مبین (6 : 95) ” اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحروبر میں جو کچھ ہے ، سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں ہوگا جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک وتر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے “۔ مثلا یہ تصور : یعلم مایلج ........................ تعملون بصیر (75 : 4) ” اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے ، اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے ، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے ، اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے ، جہاں بھی تم ہو اور جو کام بھی تم کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے “۔ یا مثلاً اس قسم کے خیال کی طرف۔ وما تحمل ........................ اللہ یسیر (53 : 11) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ اللہ کے لئے یہ بہت کچھ آسان کام ہے “۔ نیزنہ پہلے کسی انسان کو اس بات کا دھیان ہوا ، اور نہ بعد میں ہوگا کہ اللہ نے اس کائنات کو کس طرح تھام رکھا ہے۔ ان اللہ .................... من بعد (53 : 14) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی دوسراتھامنے والا نہیں ہے “۔ یا پھر یہ منظر کہ اس کائنات میں زندگی کس طرح پھوٹتی ہے اور خالق کائنات نے یہاں زندگی کے قیام کے لئے کس قدر انتظامات کیے ہیں اور موافق حالات بنائے ہیں : ان اللہ فالق .................................... یومنون (99) (6 : 99) ” دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ وہی زندہ کو مردے سے نکالتا ہے ، اور وہی مردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے۔ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو ؟ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کے طلوع اور غروب کا حساب مقرر کیا ہے۔ یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھہرائے ہوئے اندازے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے ایک جان سکے تم کو پیدا کیا ، پھر ہر ایک کے لئے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سوپنے جانے کی جگہ ہے۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ، اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی۔ پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے۔ پھر ان سے تہہ بہ تہہ جڑے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں۔ اور انگور ، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جدا جدا بھی۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو۔ ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ اس قسم کی جھلکیاں قرآن میں بہت زیادہ ہیں ، اور انسانی خیالات اور اسالیب کلام میں اس قسم کی باتیں نہیں ہوتیں۔ قرآن کے صرف یہی پہلو ، اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ یہ قرآن منجانب اللہ ہے۔ دوسرے دلائل سے اگر صرف نظر کردیاجائے جو خود اس کتاب کے اندر بھی ہیں اور ان حالات کے اندر بھی جن میں یہ کتاب نازل ہوئی تو اس کتاب کے اندر بعض ایسی باتیں ہیں جن کی طرف انسان خیال جاتا ہی نہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کے یہ شبہات سطحی ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا ، جس وقت قرآن کی چند سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ پورا قرآن ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت موجود تھی۔ اس کے اندر واضح اشارات تھے کہ اس کا سرچشمہ زمین پر نہیں ہے ، آسمان پر ہے۔ کبراء قریش اپنے دلوں میں یہ بات محسوس بھی کرتے تھے اور کبھی کبھار اپنے درمیان اس کا اعتراف بھی کرتے تھے۔ لیکن مفادات انسان کو اندھا کردیتے ہیں ، جن کے پیش نظر انسان ہدایت کی راہ پر آنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ایسے حالات کے بارے میں قرآن نے پیشگی کہہ دیا تھا کہ اب وہ اس قسم کے الزامات لگائیں گے کہ یہ ایک قدیم جھوٹ ہے۔ کتب سیرت میں متعدد واقعات نقل ہوئے ہیں کہ زعمائے قریش جب اپنے ہاں اس شب ہے کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو وہ خود تسلیم کرتے تھے کہ ان کی یہ بات غلط ہے۔ ابن اسحاق نے والید ابن مغیرہ اور نضر ابن الحارث اور عتبہ ابن ربیعہ کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے۔ ان میں سے پہلے شخص کے بارے میں اس نے نقل کیا ہے۔ ” پھر یہ ہوا کہ ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ جمع ہوئے۔ یہ ان میں معمر آدمی تھا ، اور موسم حج کا موسم آنے والا ہے۔ اور اس میں تمام عالم عرب سے وفود تمہارے پاس آئیں گے اور تمام عربوں نے تمہارے اس شخص کے بارے میں خبریں سن رکھی ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں اپنی آراء مجتمع کرلو اور ایک ہی بات کرو ، اور اس کے بارے میں باہم متضاد باتیں نہ کرو کہ خود تمہاری باتیں ایک دوسرے کو جھٹلادیں۔ اور تم خود اپنی تردید کرو۔ انہوں نے کہا ابو عبدالشمس سب سے پہلے تم ہی بتاﺅ اور ہمارے لئے ایک بات طے کردو ہم وہی کریں گے۔ اس نے کہا پہلے تم بتاﺅ کہ تمہاری آراء کیا ہیں ؟ بعض نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ یہ کاہن ہے۔ اس نے کہا یہ تو نہیں ، خدا کی قسم ! یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہن کو دیکھا ہے۔ اس کا کلام کاہنوں کی گنگناہٹ سے مختلف ہے۔ نہ کاہنوں جیسا سجع ہے ، اس میں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم یہ کہیں گے کہ یہ مجنون ہے۔ تو اس نے کہا مجنون بھی تو وہ نہیں ہے۔ ہم نے پاگلوں کو دیکھا ہے اور پاگلوں کو جانتے ہیں۔ نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ اسے کوئی ہم ہوا ہے ، نہ وسوسہ میں گرفتار ہے وہ۔ تو بعض نے کہا تو پھر اسے شاعر کہا جائے۔ تو اس نے کہا کہ وہ شاعر نہیں۔ ہم سب لوگ شعراء کو جانتی ہیں۔ اقسام شعر میں رجز ، ھزج ، قریض ، مقبوضہ ، مبسوط ، لہٰذا قرآن تو ان میں سے نہیں ہے۔ تو اس کے بعد کہا کہ پھر اسے ساحر اور جادوگر کہا جائے۔ تو اس نے کہا یہ تو جادو گر بھی نہیں ہے۔ جادوگروں کو ہم نے دیکھا ہوا ہے نہ یہ جادوگروں کی طرح پھونکتا ہے اور نہ یہ گانٹھیں باندھتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا : عبدالشمس تم ہب بتاﺅ کہ پھر ہم اسے کیا کہیں ؟ اس نے کہا :” خدا کی قسم اس کے کلام میں زبردست مٹھاس ہے ، اس کی جڑیں نہایت گہری ہیں اور شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور اس کی شاخوں میں پھل ہیں۔ تم ان باتوں میں سے جو بھی کہو گے عام آدمی کو معلوم ہوگا کہ یہ جھوٹ ہے۔ اور قریب ترین بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک جادو گر ہے۔ ایسا جادو لایا ہے کہ بیٹے کو باپ سے جدا کردیا ہے ، بہن کو بھائی سے الگ کردیا ہے ، خاوند کو بیوی سے جدا کردیا ہے۔ ایک شخص کو خاندان سے جدا کردیا ہے۔ وہ اس سے باتیں لے کر نکلے اور مکہ کی راہوں میں بیٹھ گئے۔ جب موسم حج میں لوگ آنے لگے تو جو بھی آتا وہ اس سے حضرت محمد ﷺ کی بات کرتے اور لوگوں کو ان سے ڈراتے۔ اور نضر ابن الحارث کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے کہا : ” اے قوم قریش ! خدا کی قسم تم پر ایک ایسی مصیبت آپڑی ہے جس کا کوئی علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ محمد تم میں ایک چھوٹا سا نو عمر بچہ تھا ، وہ تم میں سب کا محبوب تھا ، وہ تم میں سب سے سچا تھا ، وہ تم میں سب سے زیادہ امین تھا ، جب تم نے اس کے چہرے پر بڑھاپا دیکھا اور وہ بات تمہارے پاس لے کر آیا جو وہ لے کر آیا تو تم نے کہا یہ جادوگر ہے۔ نہیں خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے ، وہ جادوگر نہیں ہے۔ ہم نے جادوگروں کو دیکھا ہے۔ ان کی پھونک اور ان کی گانٹھوں کو بھی دیکھا۔ تم نے کہا کہ وہ کاہن ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! وہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ ان کے خلجانات کو بھی دیکھا ہے۔ ان کا مسجع کلام بھی سنا ہے تم کہتے ہو وہ شاعر ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! ایسا نہیں ، وہ شاعر نہیں ہے۔ ہم نے شعراء دیکھے ہیں اور شعراء کے اصناف شعر سے بھی ہم وقف ہیں۔ رجز ، ھزج وغیرہ۔ تم کہتے ہو کہ وہ مجنوں ہے۔ ہم نے مجنونوں کو دیکھا ہے ، نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ وہ وسوسوں کا شکار ہے اور نہ اس کی باتیں غلط سلط ہیں۔ اے گروہ قریش ! اپنے اس معاملے میں غور کرو ، خدا کی قسم ! میں سمجھتا ہوں تم پر ایک عظیم مصیبت آگئی ہے ....“ اس کی باتوں میں اور عتبہ کی باتوں میں پوری طرح یکسانیت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہو ، جو کبھی عتبہ کی طرف منسوب ہوگیا ہو اور کبھی نضر کی طرف۔ لیکن ، یہ بات بعید نہیں ہے کہ دونوں نے ایک ہی طرح کی بات کی ہو۔ کیونکہ دونوں قریش کے اکابر میں سے تھے۔ اور ان کے تاثرات قرآن کے بارے میں ایک ہی جیسے تھے۔ عتبہ کا جو موقف تھا اس کا قصہ اس سے قبل ہم نے سورة قلم کے ابتدائیہ میں بیان کردیا ہے۔ یہ موقف بھی حضور اکرم اور قرآن کے بارے میں ولید اور نضر کے قریب قریب تھا۔ غرض یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے کہ آپ ساحر ہیں یاکاہن ہیں ، کبھی تو یہ بطور عیاری ومکاری یوں کہتے تھے اور کبھی وہ محض مغالطہ انگیزی کے لئے کررہے تھے۔ اور اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ قرآن مجید بذات خود اس قدر واضح تھا کہ سنتے ہی لوگ اسے سمجھ لیتے تھے۔ اس لئے وہ قسم کا محتاج ہی نہ تھا کہ خدا ان چیزوں کی قسم اٹھائے جو معلوم ہویں اور جو معلوم نہیں ہیں۔ (سید قطب کے نزدیک آیات کے معنی یہ ہوں گے میں قسم نہیں اٹھاتا۔ لیکن ہندوستانی علماء کا ترجمہ درست ہے کہ (پس نہیں ، میں قسم اٹھاتا ہوں) ۔ بیشک یہ رسول کریم ﷺ کا قول ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ اور نہ کاہن کا کلام ہے۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہاں جو یہ کہا گیا کہ یہ رسول کریم کا قول ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ کلام تخلیق کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے طرز کا کلام ہے۔ شاعر اور کاہن ایسا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ ایسا کلام ایک رسول ہی پیش کرسکتا ہے۔ اللہ نے بھیجا اور اس کی طرف یہ نازل کیا اسی لئے بعدہ متصلا کہہ دیا گیا۔ تنزیل من رب العلمین (96 : 34) ” یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے “۔ اور یہ تعقیبات۔ قلیلاً ما تومنون (96 : 24) ” تم کم ایمان لاتے ہو “۔ قلیلا ما تذکرون (96 : 24) ” تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو “۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے ، اور تم نصیحت نہیں حاصل کرتے ۔ یہ انداز تعبیر مکمل نفی کے لئے عربی زبان میں عام تھا کہ مکمل نفی کو قلیل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ حدیث شریف میں آتا کہ حضور ﷺ (قلیل اللغو) تھے یعنی بالکل لغویات نہ کرتے تھے۔ یہاں مراد مکمل نفی ہے۔ ورنہ اگر کسی کا قلیل ایمان بھی ہو ، اور کوئی قلیل نصیحت بھی قرآن سے لیتا ہو ، وہ رسول اللہ کو شاعر ، کاہن نہیں کہہ سکتا بلکہ ایک کافر اور غافل ہی حضور ﷺ کے بارے میں ایسی بات کرسکتا ہے۔ اور آخر میں یہ خوفناک ڈراوا آتا ہے کہ جو بھی عقیدے کے بارے میں اللہ پر افتراء باندھے گا وہ اللہ کی گرفت میں آجائے گا۔ اور یہ تہدید اس ایک احتمال کی نفی بھی کردیتی ہے جو رہ جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے یہ اپنی طرف سے بنایا ہو۔ تو اللہ فرماتا ہے کہ آپ سچے ہیں اگر ہم پر وہ کوئی افتراء باندھتے تو ہم اسے سختی سے پکڑتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں جو قلیل تحریف بھی کرتا ہے ، وہ پکڑا جاتا ہے۔

الحاقة 69:40

فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے جو نظر نہیں آتی۔ یہ کائنات انسان کے مشاہدے سے بہت زیادہ عظیم ہے بلکہ یہ اس سے بھی بہت بڑی ہے جس قدر انسان ادراک کرسکتا ہے۔ انسان اس کائنات کے نہایت ہی تھوڑے حصے کا ادراک کرسکتا ہے اور بہت ہی تھوڑے حصے کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اسی قدر طاقت دی ہے جس قدر انسان کو ضرورت ہے۔ اس زمین میں رہنے ، اس کو ترقی دینے اور یہاں اللہ کا نائب اور خلیفہ ہونے کے لئے جس قدر ضرورت ہے ورنہ اگر پوری زمین کا مقابلہ پوری کائنات سے کیا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا ذرہ ہے جو اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کائنات کے دوسرے سرے سے نظر آئے۔ اس عظیم کائنات الٰہیہ میں سے انسانوں کو نہایت ہی محدود حصے کی بصیرت و بصارت کی قدرت دی گئی ہے۔ انسان اس کے اسرار و رموز اور حالات اور قوانین قدرت کا بہت ہی تھوڑا ساحصہ ابھی تک معلوم کرسکا ہے۔ ایک بہت بڑا حصہ ہے جسے انسان نہیں دیکھ پارہا ہے۔ فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اشارہ انسانی دل و دماغ کو بہت کھول دینے والا ہے۔ جب انسان یہ پاتا ہے کہ انسانی فکر ونظر کے موجودہ دائرے سے وراء بھی کچھ پہلو ہیں۔ کچھ جہاں اور بھی ہیں ، کچھ اسرارہ رموز پوشیدہ بھی ہیں ، جو ابھی انسان کو نظر نہیں آرہے ، تو اس طرح انسانی تصور اور انسانی ادراک کے دائرے کو وسعت ملتی ہے۔ اس کائنات کے آفاق وسیع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس قرآن میں رہنے اور بسنے والا انسان اس محدود جگہ (Space) کا پابند نہیں ہوتا جس میں وہ رہتا ہے۔ نہ وہ اپنی آنکھوں کے محدود مشاہدے کا قیدی بنتا ہے ، نہ اپنی موجودہ محدود ادراک پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ کائنات ہمارے مشاہدے سے زیادہ وسیع اور یہ حقیقت ہماری قوت ادراک سے بڑی ہے۔ کیونکہ اس محدود انسان کو جو محدود مشاہدہ اور قوت مدرکہ دی گئی ہے ، وہ اس دنیا پر اس کی محدود ضروریات کے لئے دی گئی ہے۔ ہاں وہ اپنے مشاہدے اور قوت مدرکہ کو وسعت دے سکتا ہے۔ اور اپنی ان محدود قوتوں کو بھی وسعت دے سکتا ہے لیکن وہ یہ بھی اس وقت کرسکتا ہے کہ جب اس کو احساس ہو کہ کچھ حقائق اور جہاں اور بھی ہیں ، جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی ہے۔ اور پس پردہ ان جہانوں سے زیادہ وسیع جہاں ہیں جن تک ہماری رسائی ہوگئی ہے۔ یہاں آکر انسان کا رابطہ اس ذات مطلق سے پیدا ہوجاتا ہے۔ جو انسان کو نور بخشتی ہے اور اس سے براہ راست تعلق پاکر انسان پھر دوسرے جہانوں کی سیر کرتا ہے ، جو بظاہر مستور ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو ان حقائق کے اندر محدود کرتے ہیں جن کو آنکھ دیکھ سکتی ہے ، یا جن کو ہماری قوت مدرکہ پاسکتی ہے ، یہ لوگ دراصل مساکین ہیں۔ درحقیقت اس قسم کے لوگ اپنے نہایت محدود محسوسات اور مدرکات کے قیدی ہیں۔ یہ لوگ اس وسیع دنیا میں رہتے تو ہیں مگر انہوں نے اپنے آپ کو کنویں کا مینڈک بنادیا ہے جب کہ انسان کو ایک عظیم کائنات کے اندر بھیجا گیا ہے تاکہ اسے دیکھے اور عبرت لے۔ اس کائنات کے اندر اور اس زمین کے اوپر رہنے والے ، اس انسان کی تاریخ میں ، بارہا ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو ، اس طرح کنویں کا مینڈک بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے اوپر معرفت اور روشنی کے دروازے بند کیے ہیں۔ اور ایمان اور شعور کے راستے سے حقیقت کبریٰ تک پہنچنے سے اپنے آپ کو محروم کیا ہے۔ پھر وہ یہ کوشش بھی کرنے لگتے ہیں کہ روشنی کے یہ دروازے ، جس طرح انہوں نے اپنے اوپر بند کیے ، دوسروں پر بھی بند کردیں۔ کبھی وہ جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت دونوں دراصل ایک بڑے قید خانے ہیں جن کے اندر ان لوگوں نے اپنے آپ کو محصور کرلیا ہے اور معرفت اور روشنی کے حقیقی سرچشموں سے اپنے آپ کو محروم کردیا ہے۔ گزشتہ دو سوسالوں کے اندر ، مغربی سائنس نے اپنے غرور اور حماقت کی وجہ سے ، اپنے آپ کو ، ان مضبوط سلاخوں کے پیچھے بند کردیا تھا۔ لیکن اس صدی میں ، خود مغربی سائنس نے آہستہ آہستہ ان مضبوط سلاخوں کو توڑنا شروع کردیا ہے اور خود اپنے تجربات کو نور کے سرچشموں سے جوڑنا شروع کردیا۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب سائنس کا جوش و غرور ٹھنڈا ہوا اور وہ کلیسا کی حماقتوں اور اس کے خلاف جوش انتقام کی مدہوشی سے باہر نکل آئی ہے۔ (انسان ، مادیت اور اسلام کے درمیان۔ محمد قطب) اور سائنس نے معلوم کرلیا کہ اس کائنات کے اندر اس کے حدود کار ہی محدود ہیں اور اس نے تجربہ کرلیا کہ یہ محدود آلات جن کے ذریعے وہ اس کائنات کا مشاہدہ کررہی ہے ، وہ تو اسے کسی لامحدود کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔ چناچہ سائنس نے ایمان کی دعوت دینا شروع کردی ہے۔ (سائنس کی طرف سے دعوت ایمان۔ ترجمہ محمود فلکی۔ تصنیف اے۔ گریسی ) نہایت عاجزانہ انداز میں سائنس نے خوشخبری دی اور اعلان کیا کہ اب وہ اس قید خانے سے رہا ہوگئی ہے۔ جب بھی انسانیت نے اپنے آپ کو مادیت کی سلاخوں کے پیچھے بند کیا۔ اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ ڈاکٹر بلیکس کاریل ، جنہوں نے خلیہ پر تحقیقات میں تخصص حاصل کیا۔ اور جنہوں نے خون کی گردش کے نظام پر کام کیا اور عملاً پریکٹس بھی کرتے رہے۔ اور انہوں نے کئی اداروں کی سرجری اور مختلف طریقہ ہائے علاج پر کام کیا۔ اور جن کو 2191 میں نوبل انعام ملا اور دوسری عالمگیر جنگ کے دوران میں انسٹی ٹیوٹ آف ہیومنزم فرانس کے ڈائریکٹر رہے ، وہ لکھتے ہیں : ” یہ کائنات بہ توسیع ہے ، اور اس کے اندر ہمارے انسانی عقول کے علاوہ بھی کئی فعال عقل کام کرتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کی وادیوں کے نشیب و فراز میں انسانی عقل جب چاہے ، ان عقول سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ نماز ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم ان عقول تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم اس ابدی عقل سے جاملتے ہیں جس کا کنٹرول اس کائنات کی تمام تقدیروں پر ہے۔ چاہے یہ تقدیرات ہمیں نظر آرہی ہوں یا ہماری نظروں سے اوجھل ہوں۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ” تقدس کا یہ شعور اور دوسریروحانی سرگرمیاں انسانی زندگی پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ تقدس کے اس شعور اور روحانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہم ، اس عظیم روحانی دنیا سے متصل رہتے ہیں جس کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں اور جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ایک دوسرے ڈاکٹر ذی نوئے ہیں۔ انہوں نے استاد کو ری اور ان کی بیوی کے ساتھ مل کر تشریح الابدان اور طبیعیات کے میدان میں کام کیا۔ اور راکفیلر انسٹی ٹیوٹ نے ان کو اپنے ادارے کے دوسرے ممبران کے ساتھ سرجری اور اس کی خصوصیات کے موضوع پر تحقیقات کے لئے بلایا۔ وہ فرماتے ہیں : ” کئی ذہین اور نیک نیت لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کا تصور یا ادراک نہیں کرسکتے۔ حالانکہ ایک دیانت دار انسان جو اپنے نفس کو علمی تحقیقات میں لگائے رکھتا ہے ، اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اللہ کا تصور بھی کرسکے۔ جس طرح ایک ماہر طبیعیات پر لازم نہیں ہے کہ وہ بجلی کا تصور کرسکے۔ جس طرح خدا کا تصور انسان ناقص ہوگا ، اسی طرح بجلی کا تصور بھی ناقص ہوگا اور باطل ہوگا۔ اس لئے کہ بجلی کا مادی تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ بجلی ناقابل تصور ہونے کے باوجود ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور یہ لکڑی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ ثابت شدہ ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) سرآرتھرٹامسن ، اسکاٹ لینڈ کے مشہور مصنف ہیں ، کہتے ہیں : ” ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ اس میں یہ حقیقت ٹھوس اور شفاف بن گئی ہے۔ ایتھر نے اپنا مادی وجود کھو دیا ہے۔ مادی تاویلات میں غلو کرنے کی صلاحیت کے معاملے میں وہ حدیث العبد ہے۔ ایک مجموعہ مضامین بعنوان ” سائنس اور مذہب “ میں کہتے ہیں : ” دینیات کے اہل علم کو اس بات پر تاسف نہیں کرنا چاہئے کہ ایک ماہر طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر رب طبیعیات تک کیوں نہیں پہنچ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات کا رخ الہیاتی نہیں ہے۔ لیکن اگر علمائے طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر مافوق الطبیعیات میں داخل ہوگئے تو اس کے نتائج نہایت ہی عظیم ہوں گے۔ آج تک کی تحقیقات کے بعد ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ ہم اس پر خوشی کا اظہار کریں کہ سائنس دانوں نے اس سمت کام کرنے کی راہ فراہم کردی ہے کہ اب دینی جذبات سائنس میں سانس لے سکیں جبکہ ہمارے آباﺅ اجداد کے زمانے میں ، یہ ممکن نہ تھا کہ سائنس کے مضامین میں مذہب کی بات کی جاسکے۔ جس طرح مسٹر لانچڑوں ڈیفیس نے اپنی کتاب میں ، جو یہ غلط دعویٰ کیا تھا ، اس کے بالمقابل اب ہم یہ بات نہایت زور اور اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ سائنس نے اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی اعلیٰ اور نہایت بلند مرتبہ تصور کے لئے راہ ہموار کردی ہے۔ اور اب ہم اس قول کا لفظی مفہوم درست سمجھتے ہیں کہ سائنس نے انسانوں کے لئے جدید آسمان اور جدید زمین ، پیدا کردیئے ہیں اور انسان کو عقل جدوجہد میں اس قدر آگے بڑھادیا کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو امن وسلامتی صرف اس صورت میں ملے گی کہ وہ اللہ کی ذات پر یقین کرلے “۔ (دور جدید کے مفکرین کے عقائد۔ استاد عناد) اس سے قبل ہم اے ۔ گریسی مور سن ، صدر سائنس اکیڈمی نیویارک اور امریکہ میں قومی تحقیقات کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی کتاب سے یہ اقتباس نقل کرچکے ہیں۔ کتاب کا نام ہے ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “۔ ” ہم عملاً ایک وسیع عالم مجہول کے قریب جاپہنچے ہیں۔ کیونکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ مادہ دراصل عالمی دور کا ایک مظہور ہے۔ اور یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قوت ہے۔ لیکن اس بات میں شک نہیں ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے میں کسی بخت واتفاق کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ محیرالعقول عظیم کائنات ایک ضابطے کی پابند ہے “۔ ” یہ کہ یہ انسان ایک حیوان تھا جو ایک ایسے ” موجود “ کی شکل اختیار کر گیا جو باشعور ، مفکر ، اپنے وجود کو جاننے والا بن گیا ، یہ بات درست نہیں کہ یہ انسان محض مادی عوامل کی وجہ سے ایسا بن گیا اور اس کے پیچھے کسی تخلیق کرنے والے کا قصدوارادہ نہ تھا ، یہ کوئی ممکن بات نہیں ہے “۔ ” اگر قصدوارادے کو تسلیم کیا جائے تو اس کے مطابق پھر انسان ایک مشین ہوگا تو سوال یہ ہوگا کہ اس مشین کو کون چلارہا ہے ، کیونکہ چلانے کے بغیر اس سے کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ سائنس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ انسانی مشین کا مدیر کون ہے اور پھر سائنس یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتی کہ ارادہ کوئی مادی چیز ہے “۔ ” ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم کہیں کہ اللہ نے اپنے نور کا ایک حصہ انسان کو عطا کیا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ سائنس اب مادیت کے قید خانے سے اس کی سلاخیں توڑ کر اور دیواریں گرا کر باہر نکل آئی ہے۔ اور وہ اب کھلی فضا میں آزادانہ غوروفکر کرتی ہے۔ جس طرح قرآن نے فرمایا : فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اور اس قسم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض ” کیڑے “ سوچنے والے ” کیڑے “ ابھی تک سائنس کے نام پر اپنے اوپر رب تعالیٰ کے نور کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دراصل نہ سائنس دان ہیں اور نہ مومن۔ یہ جس طرح سائنس کے میدان میں پسماندہ ہیں ، اسی طرح دین کے میدان میں پسماندہ ہیں۔ اور لاشعوری طور پر یہ مادیت کے قید خانے میں مبتلا ہیں۔ اور اس مقام اور مرتبے سے پیچھے رہ گئے ہیں جو انسان جیسے مکرم مخلوق کے لائق ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں : فلا افسم .................... رب العلمین (14) (96 : 83 تا 34) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ، یہ ایک رسول کریم کا قول ہے ، کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے “۔ رسول اللہ پر اور قرآن پر جو الزامات مشرکین مکہ نے لگائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ شاعر ہیں۔ دوسرا یہ تھا کہ آپ کاہن ہیں اور یہ ان کا ایک سطحی شبہ تھا۔ اور یہ اس لئے ان کو لاحق ہوگیا تھا کہ یہ قرآن ایک لاجواب کلام تھا۔ اور عام لوگوں کے کلام سے اس کا معیار بہت بلند تھا۔ اور شاعر اس لئے کہتے تھے کہ ان کا یہ وہم تھا کہ شاعروں پر جن آتے ہیں اور وہ ان سے اس قسم کا کلام سنا کرتے ہیں۔ اسی طرح کاہنوں کو بھی وہ جنوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والے سمجھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ باتیں ان کو یہ جنات بتاتے ہیں۔ یہ شبہ بہت ہی سطحی تھا اور قرآن اور رسالت اور ذات رسول پر تدبر کرنے سے یہ جلدی ہی زائل ہوسکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ شعر میں بعض اوقات اچھی موسیقی ہوتی ہے ، اعلیٰ خیالات ہوتے ہیں ، خوبصورتی ہوتی ہے لیکن قرآن اور شاعری بالکل جدا چیزیں ہیں۔ دونوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ قرآن کریم ایک مکمل نظام زندگی عطا کرتا ہے اور یہ نظام سچائی پر مبنی ہے۔ اس کی بنیاد نظریہ توحید پر مبنی ہے۔ یہ اس کائنات کے ایک خالق پر ایمان کو ضروری سمجھتا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح اس کائنات کو ھبی زندہ اور مطیع رب سمجھتا ہے۔ جبکہ شعر چند تاثرات ، جذبات ، متفرق واقعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا نظام زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نہ ایک نظریہ پر مبنی ہوتا ہے ، جو خوشی اور غم ، آزادی اور قید اور محبت اور نفرت میں ایک ہو ، جبکہ شعر ان حالات میں یکسر بدل جاتا ہے اور مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ قرآن کریم نے جو تصور حیات پیش کیا ہے اس کی پہلی اینٹ بھی اسلام اور قرآن نے رکھی ہے۔ اس کے جزئیات ، اس کے اصول بھی ، سب کے سب قرآن نے دیئے اور اس عقیدے کے ساتھ دیئے کہ یہ سب من جانب اللہ ہے۔ اس تصور حیات کا منہاج ہی ایسا ہوتا ہے جو انسانی نہیں ہوسکتا۔ انسان کوئی ایسا جامع نظام اور تصور تجویز نہیں کرسکتا ، جس کی نہ پہلے کوئی مثال ہے اور نہ بعد میں۔ اس کے مقابلے میں انسانوں نے اس کائنات ، اس کی قوت خالقہ اور قوت مدبرہ کے بارے میں جو فلسفے گھڑے ہیں ، وہ بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جو علم فلسفہ ، علم شعر ، دوسرے فکری اور نظریاتی مکاتب میں تفصیل سے کتابوں میں موجود ہیں۔ جب ان کا تقابلی مطالعہ قرآن سے کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن بالکل کسی علیحدہ سرچشمے کا فیض ہے۔ یہ منفرد مزاج اور منفرد خصوصیات رکھتا ہے اور اس کے مقابلے میں انسانی تصورات پائے چوبیں کی طرح ہیں۔ اس طرح کہانت اور کاہنوں سے جو باتیں صادر ہوتی رہتی ہیں ، آج تک انسانی تاریخ میں کوئی کاہن ایسا نہیں گزرا جس نے ایک نظام زندگی ، فلسفہ زندگی اور نظام آخرت دیا ہو اور وہ اسی طرح کامل ، مکمل اور معقول ہو ، جس طرح قرآن کا پیش کردہ نظام معقول ہے۔ کاہنوں سے جو کچھ نقل ہوا ہے ، وہ یہ ہے کہ چند مہمل کلمات ، چند سجع اور قافیے جن میں تیر تکے لڑائے گئے ہیں اور ایک آدھ کہیں ، کوئی سنی سنائی حکمت کی بات بھی ہوتی ہوگی۔ لیکن قرآن کے اندر بعض ایسی جھلکیاں بھی ہیں جن پر غور کرنے سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کبھی اس طرح سوچ ہی نہیں سکتا۔ ہم نے فی ظلال القرآن میں ایسی بعض جھلکیاں دکھائی ہیں کہ نہ قرآن سے پہلے اور نہ بعد میں انسانوں کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہے۔ بعض آیات یہاں بھی غور کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ وعندہ .................... کتب مبین (6 : 95) ” اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحروبر میں جو کچھ ہے ، سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں ہوگا جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک وتر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے “۔ مثلا یہ تصور : یعلم مایلج ........................ تعملون بصیر (75 : 4) ” اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے ، اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے ، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے ، اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے ، جہاں بھی تم ہو اور جو کام بھی تم کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے “۔ یا مثلاً اس قسم کے خیال کی طرف۔ وما تحمل ........................ اللہ یسیر (53 : 11) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ اللہ کے لئے یہ بہت کچھ آسان کام ہے “۔ نیزنہ پہلے کسی انسان کو اس بات کا دھیان ہوا ، اور نہ بعد میں ہوگا کہ اللہ نے اس کائنات کو کس طرح تھام رکھا ہے۔ ان اللہ .................... من بعد (53 : 14) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی دوسراتھامنے والا نہیں ہے “۔ یا پھر یہ منظر کہ اس کائنات میں زندگی کس طرح پھوٹتی ہے اور خالق کائنات نے یہاں زندگی کے قیام کے لئے کس قدر انتظامات کیے ہیں اور موافق حالات بنائے ہیں : ان اللہ فالق .................................... یومنون (99) (6 : 99) ” دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ وہی زندہ کو مردے سے نکالتا ہے ، اور وہی مردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے۔ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو ؟ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کے طلوع اور غروب کا حساب مقرر کیا ہے۔ یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھہرائے ہوئے اندازے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے ایک جان سکے تم کو پیدا کیا ، پھر ہر ایک کے لئے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سوپنے جانے کی جگہ ہے۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ، اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی۔ پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے۔ پھر ان سے تہہ بہ تہہ جڑے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں۔ اور انگور ، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جدا جدا بھی۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو۔ ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ اس قسم کی جھلکیاں قرآن میں بہت زیادہ ہیں ، اور انسانی خیالات اور اسالیب کلام میں اس قسم کی باتیں نہیں ہوتیں۔ قرآن کے صرف یہی پہلو ، اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ یہ قرآن منجانب اللہ ہے۔ دوسرے دلائل سے اگر صرف نظر کردیاجائے جو خود اس کتاب کے اندر بھی ہیں اور ان حالات کے اندر بھی جن میں یہ کتاب نازل ہوئی تو اس کتاب کے اندر بعض ایسی باتیں ہیں جن کی طرف انسان خیال جاتا ہی نہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کے یہ شبہات سطحی ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا ، جس وقت قرآن کی چند سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ پورا قرآن ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت موجود تھی۔ اس کے اندر واضح اشارات تھے کہ اس کا سرچشمہ زمین پر نہیں ہے ، آسمان پر ہے۔ کبراء قریش اپنے دلوں میں یہ بات محسوس بھی کرتے تھے اور کبھی کبھار اپنے درمیان اس کا اعتراف بھی کرتے تھے۔ لیکن مفادات انسان کو اندھا کردیتے ہیں ، جن کے پیش نظر انسان ہدایت کی راہ پر آنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ایسے حالات کے بارے میں قرآن نے پیشگی کہہ دیا تھا کہ اب وہ اس قسم کے الزامات لگائیں گے کہ یہ ایک قدیم جھوٹ ہے۔ کتب سیرت میں متعدد واقعات نقل ہوئے ہیں کہ زعمائے قریش جب اپنے ہاں اس شب ہے کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو وہ خود تسلیم کرتے تھے کہ ان کی یہ بات غلط ہے۔ ابن اسحاق نے والید ابن مغیرہ اور نضر ابن الحارث اور عتبہ ابن ربیعہ کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے۔ ان میں سے پہلے شخص کے بارے میں اس نے نقل کیا ہے۔ ” پھر یہ ہوا کہ ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ جمع ہوئے۔ یہ ان میں معمر آدمی تھا ، اور موسم حج کا موسم آنے والا ہے۔ اور اس میں تمام عالم عرب سے وفود تمہارے پاس آئیں گے اور تمام عربوں نے تمہارے اس شخص کے بارے میں خبریں سن رکھی ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں اپنی آراء مجتمع کرلو اور ایک ہی بات کرو ، اور اس کے بارے میں باہم متضاد باتیں نہ کرو کہ خود تمہاری باتیں ایک دوسرے کو جھٹلادیں۔ اور تم خود اپنی تردید کرو۔ انہوں نے کہا ابو عبدالشمس سب سے پہلے تم ہی بتاﺅ اور ہمارے لئے ایک بات طے کردو ہم وہی کریں گے۔ اس نے کہا پہلے تم بتاﺅ کہ تمہاری آراء کیا ہیں ؟ بعض نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ یہ کاہن ہے۔ اس نے کہا یہ تو نہیں ، خدا کی قسم ! یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہن کو دیکھا ہے۔ اس کا کلام کاہنوں کی گنگناہٹ سے مختلف ہے۔ نہ کاہنوں جیسا سجع ہے ، اس میں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم یہ کہیں گے کہ یہ مجنون ہے۔ تو اس نے کہا مجنون بھی تو وہ نہیں ہے۔ ہم نے پاگلوں کو دیکھا ہے اور پاگلوں کو جانتے ہیں۔ نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ اسے کوئی ہم ہوا ہے ، نہ وسوسہ میں گرفتار ہے وہ۔ تو بعض نے کہا تو پھر اسے شاعر کہا جائے۔ تو اس نے کہا کہ وہ شاعر نہیں۔ ہم سب لوگ شعراء کو جانتی ہیں۔ اقسام شعر میں رجز ، ھزج ، قریض ، مقبوضہ ، مبسوط ، لہٰذا قرآن تو ان میں سے نہیں ہے۔ تو اس کے بعد کہا کہ پھر اسے ساحر اور جادوگر کہا جائے۔ تو اس نے کہا یہ تو جادو گر بھی نہیں ہے۔ جادوگروں کو ہم نے دیکھا ہوا ہے نہ یہ جادوگروں کی طرح پھونکتا ہے اور نہ یہ گانٹھیں باندھتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا : عبدالشمس تم ہب بتاﺅ کہ پھر ہم اسے کیا کہیں ؟ اس نے کہا :” خدا کی قسم اس کے کلام میں زبردست مٹھاس ہے ، اس کی جڑیں نہایت گہری ہیں اور شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور اس کی شاخوں میں پھل ہیں۔ تم ان باتوں میں سے جو بھی کہو گے عام آدمی کو معلوم ہوگا کہ یہ جھوٹ ہے۔ اور قریب ترین بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک جادو گر ہے۔ ایسا جادو لایا ہے کہ بیٹے کو باپ سے جدا کردیا ہے ، بہن کو بھائی سے الگ کردیا ہے ، خاوند کو بیوی سے جدا کردیا ہے۔ ایک شخص کو خاندان سے جدا کردیا ہے۔ وہ اس سے باتیں لے کر نکلے اور مکہ کی راہوں میں بیٹھ گئے۔ جب موسم حج میں لوگ آنے لگے تو جو بھی آتا وہ اس سے حضرت محمد ﷺ کی بات کرتے اور لوگوں کو ان سے ڈراتے۔ اور نضر ابن الحارث کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے کہا : ” اے قوم قریش ! خدا کی قسم تم پر ایک ایسی مصیبت آپڑی ہے جس کا کوئی علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ محمد تم میں ایک چھوٹا سا نو عمر بچہ تھا ، وہ تم میں سب کا محبوب تھا ، وہ تم میں سب سے سچا تھا ، وہ تم میں سب سے زیادہ امین تھا ، جب تم نے اس کے چہرے پر بڑھاپا دیکھا اور وہ بات تمہارے پاس لے کر آیا جو وہ لے کر آیا تو تم نے کہا یہ جادوگر ہے۔ نہیں خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے ، وہ جادوگر نہیں ہے۔ ہم نے جادوگروں کو دیکھا ہے۔ ان کی پھونک اور ان کی گانٹھوں کو بھی دیکھا۔ تم نے کہا کہ وہ کاہن ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! وہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ ان کے خلجانات کو بھی دیکھا ہے۔ ان کا مسجع کلام بھی سنا ہے تم کہتے ہو وہ شاعر ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! ایسا نہیں ، وہ شاعر نہیں ہے۔ ہم نے شعراء دیکھے ہیں اور شعراء کے اصناف شعر سے بھی ہم وقف ہیں۔ رجز ، ھزج وغیرہ۔ تم کہتے ہو کہ وہ مجنوں ہے۔ ہم نے مجنونوں کو دیکھا ہے ، نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ وہ وسوسوں کا شکار ہے اور نہ اس کی باتیں غلط سلط ہیں۔ اے گروہ قریش ! اپنے اس معاملے میں غور کرو ، خدا کی قسم ! میں سمجھتا ہوں تم پر ایک عظیم مصیبت آگئی ہے ....“ اس کی باتوں میں اور عتبہ کی باتوں میں پوری طرح یکسانیت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہو ، جو کبھی عتبہ کی طرف منسوب ہوگیا ہو اور کبھی نضر کی طرف۔ لیکن ، یہ بات بعید نہیں ہے کہ دونوں نے ایک ہی طرح کی بات کی ہو۔ کیونکہ دونوں قریش کے اکابر میں سے تھے۔ اور ان کے تاثرات قرآن کے بارے میں ایک ہی جیسے تھے۔ عتبہ کا جو موقف تھا اس کا قصہ اس سے قبل ہم نے سورة قلم کے ابتدائیہ میں بیان کردیا ہے۔ یہ موقف بھی حضور اکرم اور قرآن کے بارے میں ولید اور نضر کے قریب قریب تھا۔ غرض یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے کہ آپ ساحر ہیں یاکاہن ہیں ، کبھی تو یہ بطور عیاری ومکاری یوں کہتے تھے اور کبھی وہ محض مغالطہ انگیزی کے لئے کررہے تھے۔ اور اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ قرآن مجید بذات خود اس قدر واضح تھا کہ سنتے ہی لوگ اسے سمجھ لیتے تھے۔ اس لئے وہ قسم کا محتاج ہی نہ تھا کہ خدا ان چیزوں کی قسم اٹھائے جو معلوم ہویں اور جو معلوم نہیں ہیں۔ (سید قطب کے نزدیک آیات کے معنی یہ ہوں گے میں قسم نہیں اٹھاتا۔ لیکن ہندوستانی علماء کا ترجمہ درست ہے کہ (پس نہیں ، میں قسم اٹھاتا ہوں) ۔ بیشک یہ رسول کریم ﷺ کا قول ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ اور نہ کاہن کا کلام ہے۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہاں جو یہ کہا گیا کہ یہ رسول کریم کا قول ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ کلام تخلیق کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے طرز کا کلام ہے۔ شاعر اور کاہن ایسا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ ایسا کلام ایک رسول ہی پیش کرسکتا ہے۔ اللہ نے بھیجا اور اس کی طرف یہ نازل کیا اسی لئے بعدہ متصلا کہہ دیا گیا۔ تنزیل من رب العلمین (96 : 34) ” یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے “۔ اور یہ تعقیبات۔ قلیلاً ما تومنون (96 : 24) ” تم کم ایمان لاتے ہو “۔ قلیلا ما تذکرون (96 : 24) ” تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو “۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے ، اور تم نصیحت نہیں حاصل کرتے ۔ یہ انداز تعبیر مکمل نفی کے لئے عربی زبان میں عام تھا کہ مکمل نفی کو قلیل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ حدیث شریف میں آتا کہ حضور ﷺ (قلیل اللغو) تھے یعنی بالکل لغویات نہ کرتے تھے۔ یہاں مراد مکمل نفی ہے۔ ورنہ اگر کسی کا قلیل ایمان بھی ہو ، اور کوئی قلیل نصیحت بھی قرآن سے لیتا ہو ، وہ رسول اللہ کو شاعر ، کاہن نہیں کہہ سکتا بلکہ ایک کافر اور غافل ہی حضور ﷺ کے بارے میں ایسی بات کرسکتا ہے۔ اور آخر میں یہ خوفناک ڈراوا آتا ہے کہ جو بھی عقیدے کے بارے میں اللہ پر افتراء باندھے گا وہ اللہ کی گرفت میں آجائے گا۔ اور یہ تہدید اس ایک احتمال کی نفی بھی کردیتی ہے جو رہ جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے یہ اپنی طرف سے بنایا ہو۔ تو اللہ فرماتا ہے کہ آپ سچے ہیں اگر ہم پر وہ کوئی افتراء باندھتے تو ہم اسے سختی سے پکڑتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں جو قلیل تحریف بھی کرتا ہے ، وہ پکڑا جاتا ہے۔

الحاقة 69:41

فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے جو نظر نہیں آتی۔ یہ کائنات انسان کے مشاہدے سے بہت زیادہ عظیم ہے بلکہ یہ اس سے بھی بہت بڑی ہے جس قدر انسان ادراک کرسکتا ہے۔ انسان اس کائنات کے نہایت ہی تھوڑے حصے کا ادراک کرسکتا ہے اور بہت ہی تھوڑے حصے کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اسی قدر طاقت دی ہے جس قدر انسان کو ضرورت ہے۔ اس زمین میں رہنے ، اس کو ترقی دینے اور یہاں اللہ کا نائب اور خلیفہ ہونے کے لئے جس قدر ضرورت ہے ورنہ اگر پوری زمین کا مقابلہ پوری کائنات سے کیا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا ذرہ ہے جو اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کائنات کے دوسرے سرے سے نظر آئے۔ اس عظیم کائنات الٰہیہ میں سے انسانوں کو نہایت ہی محدود حصے کی بصیرت و بصارت کی قدرت دی گئی ہے۔ انسان اس کے اسرار و رموز اور حالات اور قوانین قدرت کا بہت ہی تھوڑا ساحصہ ابھی تک معلوم کرسکا ہے۔ ایک بہت بڑا حصہ ہے جسے انسان نہیں دیکھ پارہا ہے۔ فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اشارہ انسانی دل و دماغ کو بہت کھول دینے والا ہے۔ جب انسان یہ پاتا ہے کہ انسانی فکر ونظر کے موجودہ دائرے سے وراء بھی کچھ پہلو ہیں۔ کچھ جہاں اور بھی ہیں ، کچھ اسرارہ رموز پوشیدہ بھی ہیں ، جو ابھی انسان کو نظر نہیں آرہے ، تو اس طرح انسانی تصور اور انسانی ادراک کے دائرے کو وسعت ملتی ہے۔ اس کائنات کے آفاق وسیع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس قرآن میں رہنے اور بسنے والا انسان اس محدود جگہ (Space) کا پابند نہیں ہوتا جس میں وہ رہتا ہے۔ نہ وہ اپنی آنکھوں کے محدود مشاہدے کا قیدی بنتا ہے ، نہ اپنی موجودہ محدود ادراک پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ کائنات ہمارے مشاہدے سے زیادہ وسیع اور یہ حقیقت ہماری قوت ادراک سے بڑی ہے۔ کیونکہ اس محدود انسان کو جو محدود مشاہدہ اور قوت مدرکہ دی گئی ہے ، وہ اس دنیا پر اس کی محدود ضروریات کے لئے دی گئی ہے۔ ہاں وہ اپنے مشاہدے اور قوت مدرکہ کو وسعت دے سکتا ہے۔ اور اپنی ان محدود قوتوں کو بھی وسعت دے سکتا ہے لیکن وہ یہ بھی اس وقت کرسکتا ہے کہ جب اس کو احساس ہو کہ کچھ حقائق اور جہاں اور بھی ہیں ، جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی ہے۔ اور پس پردہ ان جہانوں سے زیادہ وسیع جہاں ہیں جن تک ہماری رسائی ہوگئی ہے۔ یہاں آکر انسان کا رابطہ اس ذات مطلق سے پیدا ہوجاتا ہے۔ جو انسان کو نور بخشتی ہے اور اس سے براہ راست تعلق پاکر انسان پھر دوسرے جہانوں کی سیر کرتا ہے ، جو بظاہر مستور ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو ان حقائق کے اندر محدود کرتے ہیں جن کو آنکھ دیکھ سکتی ہے ، یا جن کو ہماری قوت مدرکہ پاسکتی ہے ، یہ لوگ دراصل مساکین ہیں۔ درحقیقت اس قسم کے لوگ اپنے نہایت محدود محسوسات اور مدرکات کے قیدی ہیں۔ یہ لوگ اس وسیع دنیا میں رہتے تو ہیں مگر انہوں نے اپنے آپ کو کنویں کا مینڈک بنادیا ہے جب کہ انسان کو ایک عظیم کائنات کے اندر بھیجا گیا ہے تاکہ اسے دیکھے اور عبرت لے۔ اس کائنات کے اندر اور اس زمین کے اوپر رہنے والے ، اس انسان کی تاریخ میں ، بارہا ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو ، اس طرح کنویں کا مینڈک بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے اوپر معرفت اور روشنی کے دروازے بند کیے ہیں۔ اور ایمان اور شعور کے راستے سے حقیقت کبریٰ تک پہنچنے سے اپنے آپ کو محروم کیا ہے۔ پھر وہ یہ کوشش بھی کرنے لگتے ہیں کہ روشنی کے یہ دروازے ، جس طرح انہوں نے اپنے اوپر بند کیے ، دوسروں پر بھی بند کردیں۔ کبھی وہ جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت دونوں دراصل ایک بڑے قید خانے ہیں جن کے اندر ان لوگوں نے اپنے آپ کو محصور کرلیا ہے اور معرفت اور روشنی کے حقیقی سرچشموں سے اپنے آپ کو محروم کردیا ہے۔ گزشتہ دو سوسالوں کے اندر ، مغربی سائنس نے اپنے غرور اور حماقت کی وجہ سے ، اپنے آپ کو ، ان مضبوط سلاخوں کے پیچھے بند کردیا تھا۔ لیکن اس صدی میں ، خود مغربی سائنس نے آہستہ آہستہ ان مضبوط سلاخوں کو توڑنا شروع کردیا ہے اور خود اپنے تجربات کو نور کے سرچشموں سے جوڑنا شروع کردیا۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب سائنس کا جوش و غرور ٹھنڈا ہوا اور وہ کلیسا کی حماقتوں اور اس کے خلاف جوش انتقام کی مدہوشی سے باہر نکل آئی ہے۔ (انسان ، مادیت اور اسلام کے درمیان۔ محمد قطب) اور سائنس نے معلوم کرلیا کہ اس کائنات کے اندر اس کے حدود کار ہی محدود ہیں اور اس نے تجربہ کرلیا کہ یہ محدود آلات جن کے ذریعے وہ اس کائنات کا مشاہدہ کررہی ہے ، وہ تو اسے کسی لامحدود کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔ چناچہ سائنس نے ایمان کی دعوت دینا شروع کردی ہے۔ (سائنس کی طرف سے دعوت ایمان۔ ترجمہ محمود فلکی۔ تصنیف اے۔ گریسی ) نہایت عاجزانہ انداز میں سائنس نے خوشخبری دی اور اعلان کیا کہ اب وہ اس قید خانے سے رہا ہوگئی ہے۔ جب بھی انسانیت نے اپنے آپ کو مادیت کی سلاخوں کے پیچھے بند کیا۔ اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ ڈاکٹر بلیکس کاریل ، جنہوں نے خلیہ پر تحقیقات میں تخصص حاصل کیا۔ اور جنہوں نے خون کی گردش کے نظام پر کام کیا اور عملاً پریکٹس بھی کرتے رہے۔ اور انہوں نے کئی اداروں کی سرجری اور مختلف طریقہ ہائے علاج پر کام کیا۔ اور جن کو 2191 میں نوبل انعام ملا اور دوسری عالمگیر جنگ کے دوران میں انسٹی ٹیوٹ آف ہیومنزم فرانس کے ڈائریکٹر رہے ، وہ لکھتے ہیں : ” یہ کائنات بہ توسیع ہے ، اور اس کے اندر ہمارے انسانی عقول کے علاوہ بھی کئی فعال عقل کام کرتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کی وادیوں کے نشیب و فراز میں انسانی عقل جب چاہے ، ان عقول سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ نماز ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم ان عقول تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم اس ابدی عقل سے جاملتے ہیں جس کا کنٹرول اس کائنات کی تمام تقدیروں پر ہے۔ چاہے یہ تقدیرات ہمیں نظر آرہی ہوں یا ہماری نظروں سے اوجھل ہوں۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ” تقدس کا یہ شعور اور دوسریروحانی سرگرمیاں انسانی زندگی پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ تقدس کے اس شعور اور روحانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہم ، اس عظیم روحانی دنیا سے متصل رہتے ہیں جس کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں اور جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ایک دوسرے ڈاکٹر ذی نوئے ہیں۔ انہوں نے استاد کو ری اور ان کی بیوی کے ساتھ مل کر تشریح الابدان اور طبیعیات کے میدان میں کام کیا۔ اور راکفیلر انسٹی ٹیوٹ نے ان کو اپنے ادارے کے دوسرے ممبران کے ساتھ سرجری اور اس کی خصوصیات کے موضوع پر تحقیقات کے لئے بلایا۔ وہ فرماتے ہیں : ” کئی ذہین اور نیک نیت لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کا تصور یا ادراک نہیں کرسکتے۔ حالانکہ ایک دیانت دار انسان جو اپنے نفس کو علمی تحقیقات میں لگائے رکھتا ہے ، اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اللہ کا تصور بھی کرسکے۔ جس طرح ایک ماہر طبیعیات پر لازم نہیں ہے کہ وہ بجلی کا تصور کرسکے۔ جس طرح خدا کا تصور انسان ناقص ہوگا ، اسی طرح بجلی کا تصور بھی ناقص ہوگا اور باطل ہوگا۔ اس لئے کہ بجلی کا مادی تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ بجلی ناقابل تصور ہونے کے باوجود ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور یہ لکڑی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ ثابت شدہ ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) سرآرتھرٹامسن ، اسکاٹ لینڈ کے مشہور مصنف ہیں ، کہتے ہیں : ” ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ اس میں یہ حقیقت ٹھوس اور شفاف بن گئی ہے۔ ایتھر نے اپنا مادی وجود کھو دیا ہے۔ مادی تاویلات میں غلو کرنے کی صلاحیت کے معاملے میں وہ حدیث العبد ہے۔ ایک مجموعہ مضامین بعنوان ” سائنس اور مذہب “ میں کہتے ہیں : ” دینیات کے اہل علم کو اس بات پر تاسف نہیں کرنا چاہئے کہ ایک ماہر طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر رب طبیعیات تک کیوں نہیں پہنچ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات کا رخ الہیاتی نہیں ہے۔ لیکن اگر علمائے طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر مافوق الطبیعیات میں داخل ہوگئے تو اس کے نتائج نہایت ہی عظیم ہوں گے۔ آج تک کی تحقیقات کے بعد ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ ہم اس پر خوشی کا اظہار کریں کہ سائنس دانوں نے اس سمت کام کرنے کی راہ فراہم کردی ہے کہ اب دینی جذبات سائنس میں سانس لے سکیں جبکہ ہمارے آباﺅ اجداد کے زمانے میں ، یہ ممکن نہ تھا کہ سائنس کے مضامین میں مذہب کی بات کی جاسکے۔ جس طرح مسٹر لانچڑوں ڈیفیس نے اپنی کتاب میں ، جو یہ غلط دعویٰ کیا تھا ، اس کے بالمقابل اب ہم یہ بات نہایت زور اور اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ سائنس نے اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی اعلیٰ اور نہایت بلند مرتبہ تصور کے لئے راہ ہموار کردی ہے۔ اور اب ہم اس قول کا لفظی مفہوم درست سمجھتے ہیں کہ سائنس نے انسانوں کے لئے جدید آسمان اور جدید زمین ، پیدا کردیئے ہیں اور انسان کو عقل جدوجہد میں اس قدر آگے بڑھادیا کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو امن وسلامتی صرف اس صورت میں ملے گی کہ وہ اللہ کی ذات پر یقین کرلے “۔ (دور جدید کے مفکرین کے عقائد۔ استاد عناد) اس سے قبل ہم اے ۔ گریسی مور سن ، صدر سائنس اکیڈمی نیویارک اور امریکہ میں قومی تحقیقات کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی کتاب سے یہ اقتباس نقل کرچکے ہیں۔ کتاب کا نام ہے ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “۔ ” ہم عملاً ایک وسیع عالم مجہول کے قریب جاپہنچے ہیں۔ کیونکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ مادہ دراصل عالمی دور کا ایک مظہور ہے۔ اور یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قوت ہے۔ لیکن اس بات میں شک نہیں ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے میں کسی بخت واتفاق کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ محیرالعقول عظیم کائنات ایک ضابطے کی پابند ہے “۔ ” یہ کہ یہ انسان ایک حیوان تھا جو ایک ایسے ” موجود “ کی شکل اختیار کر گیا جو باشعور ، مفکر ، اپنے وجود کو جاننے والا بن گیا ، یہ بات درست نہیں کہ یہ انسان محض مادی عوامل کی وجہ سے ایسا بن گیا اور اس کے پیچھے کسی تخلیق کرنے والے کا قصدوارادہ نہ تھا ، یہ کوئی ممکن بات نہیں ہے “۔ ” اگر قصدوارادے کو تسلیم کیا جائے تو اس کے مطابق پھر انسان ایک مشین ہوگا تو سوال یہ ہوگا کہ اس مشین کو کون چلارہا ہے ، کیونکہ چلانے کے بغیر اس سے کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ سائنس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ انسانی مشین کا مدیر کون ہے اور پھر سائنس یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتی کہ ارادہ کوئی مادی چیز ہے “۔ ” ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم کہیں کہ اللہ نے اپنے نور کا ایک حصہ انسان کو عطا کیا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ سائنس اب مادیت کے قید خانے سے اس کی سلاخیں توڑ کر اور دیواریں گرا کر باہر نکل آئی ہے۔ اور وہ اب کھلی فضا میں آزادانہ غوروفکر کرتی ہے۔ جس طرح قرآن نے فرمایا : فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اور اس قسم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض ” کیڑے “ سوچنے والے ” کیڑے “ ابھی تک سائنس کے نام پر اپنے اوپر رب تعالیٰ کے نور کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دراصل نہ سائنس دان ہیں اور نہ مومن۔ یہ جس طرح سائنس کے میدان میں پسماندہ ہیں ، اسی طرح دین کے میدان میں پسماندہ ہیں۔ اور لاشعوری طور پر یہ مادیت کے قید خانے میں مبتلا ہیں۔ اور اس مقام اور مرتبے سے پیچھے رہ گئے ہیں جو انسان جیسے مکرم مخلوق کے لائق ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں : فلا افسم .................... رب العلمین (14) (96 : 83 تا 34) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ، یہ ایک رسول کریم کا قول ہے ، کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے “۔ رسول اللہ پر اور قرآن پر جو الزامات مشرکین مکہ نے لگائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ شاعر ہیں۔ دوسرا یہ تھا کہ آپ کاہن ہیں اور یہ ان کا ایک سطحی شبہ تھا۔ اور یہ اس لئے ان کو لاحق ہوگیا تھا کہ یہ قرآن ایک لاجواب کلام تھا۔ اور عام لوگوں کے کلام سے اس کا معیار بہت بلند تھا۔ اور شاعر اس لئے کہتے تھے کہ ان کا یہ وہم تھا کہ شاعروں پر جن آتے ہیں اور وہ ان سے اس قسم کا کلام سنا کرتے ہیں۔ اسی طرح کاہنوں کو بھی وہ جنوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والے سمجھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ باتیں ان کو یہ جنات بتاتے ہیں۔ یہ شبہ بہت ہی سطحی تھا اور قرآن اور رسالت اور ذات رسول پر تدبر کرنے سے یہ جلدی ہی زائل ہوسکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ شعر میں بعض اوقات اچھی موسیقی ہوتی ہے ، اعلیٰ خیالات ہوتے ہیں ، خوبصورتی ہوتی ہے لیکن قرآن اور شاعری بالکل جدا چیزیں ہیں۔ دونوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ قرآن کریم ایک مکمل نظام زندگی عطا کرتا ہے اور یہ نظام سچائی پر مبنی ہے۔ اس کی بنیاد نظریہ توحید پر مبنی ہے۔ یہ اس کائنات کے ایک خالق پر ایمان کو ضروری سمجھتا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح اس کائنات کو ھبی زندہ اور مطیع رب سمجھتا ہے۔ جبکہ شعر چند تاثرات ، جذبات ، متفرق واقعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا نظام زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نہ ایک نظریہ پر مبنی ہوتا ہے ، جو خوشی اور غم ، آزادی اور قید اور محبت اور نفرت میں ایک ہو ، جبکہ شعر ان حالات میں یکسر بدل جاتا ہے اور مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ قرآن کریم نے جو تصور حیات پیش کیا ہے اس کی پہلی اینٹ بھی اسلام اور قرآن نے رکھی ہے۔ اس کے جزئیات ، اس کے اصول بھی ، سب کے سب قرآن نے دیئے اور اس عقیدے کے ساتھ دیئے کہ یہ سب من جانب اللہ ہے۔ اس تصور حیات کا منہاج ہی ایسا ہوتا ہے جو انسانی نہیں ہوسکتا۔ انسان کوئی ایسا جامع نظام اور تصور تجویز نہیں کرسکتا ، جس کی نہ پہلے کوئی مثال ہے اور نہ بعد میں۔ اس کے مقابلے میں انسانوں نے اس کائنات ، اس کی قوت خالقہ اور قوت مدبرہ کے بارے میں جو فلسفے گھڑے ہیں ، وہ بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جو علم فلسفہ ، علم شعر ، دوسرے فکری اور نظریاتی مکاتب میں تفصیل سے کتابوں میں موجود ہیں۔ جب ان کا تقابلی مطالعہ قرآن سے کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن بالکل کسی علیحدہ سرچشمے کا فیض ہے۔ یہ منفرد مزاج اور منفرد خصوصیات رکھتا ہے اور اس کے مقابلے میں انسانی تصورات پائے چوبیں کی طرح ہیں۔ اس طرح کہانت اور کاہنوں سے جو باتیں صادر ہوتی رہتی ہیں ، آج تک انسانی تاریخ میں کوئی کاہن ایسا نہیں گزرا جس نے ایک نظام زندگی ، فلسفہ زندگی اور نظام آخرت دیا ہو اور وہ اسی طرح کامل ، مکمل اور معقول ہو ، جس طرح قرآن کا پیش کردہ نظام معقول ہے۔ کاہنوں سے جو کچھ نقل ہوا ہے ، وہ یہ ہے کہ چند مہمل کلمات ، چند سجع اور قافیے جن میں تیر تکے لڑائے گئے ہیں اور ایک آدھ کہیں ، کوئی سنی سنائی حکمت کی بات بھی ہوتی ہوگی۔ لیکن قرآن کے اندر بعض ایسی جھلکیاں بھی ہیں جن پر غور کرنے سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کبھی اس طرح سوچ ہی نہیں سکتا۔ ہم نے فی ظلال القرآن میں ایسی بعض جھلکیاں دکھائی ہیں کہ نہ قرآن سے پہلے اور نہ بعد میں انسانوں کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہے۔ بعض آیات یہاں بھی غور کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ وعندہ .................... کتب مبین (6 : 95) ” اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحروبر میں جو کچھ ہے ، سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں ہوگا جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک وتر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے “۔ مثلا یہ تصور : یعلم مایلج ........................ تعملون بصیر (75 : 4) ” اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے ، اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے ، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے ، اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے ، جہاں بھی تم ہو اور جو کام بھی تم کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے “۔ یا مثلاً اس قسم کے خیال کی طرف۔ وما تحمل ........................ اللہ یسیر (53 : 11) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ اللہ کے لئے یہ بہت کچھ آسان کام ہے “۔ نیزنہ پہلے کسی انسان کو اس بات کا دھیان ہوا ، اور نہ بعد میں ہوگا کہ اللہ نے اس کائنات کو کس طرح تھام رکھا ہے۔ ان اللہ .................... من بعد (53 : 14) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی دوسراتھامنے والا نہیں ہے “۔ یا پھر یہ منظر کہ اس کائنات میں زندگی کس طرح پھوٹتی ہے اور خالق کائنات نے یہاں زندگی کے قیام کے لئے کس قدر انتظامات کیے ہیں اور موافق حالات بنائے ہیں : ان اللہ فالق .................................... یومنون (99) (6 : 99) ” دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ وہی زندہ کو مردے سے نکالتا ہے ، اور وہی مردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے۔ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو ؟ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کے طلوع اور غروب کا حساب مقرر کیا ہے۔ یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھہرائے ہوئے اندازے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے ایک جان سکے تم کو پیدا کیا ، پھر ہر ایک کے لئے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سوپنے جانے کی جگہ ہے۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ، اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی۔ پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے۔ پھر ان سے تہہ بہ تہہ جڑے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں۔ اور انگور ، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جدا جدا بھی۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو۔ ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ اس قسم کی جھلکیاں قرآن میں بہت زیادہ ہیں ، اور انسانی خیالات اور اسالیب کلام میں اس قسم کی باتیں نہیں ہوتیں۔ قرآن کے صرف یہی پہلو ، اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ یہ قرآن منجانب اللہ ہے۔ دوسرے دلائل سے اگر صرف نظر کردیاجائے جو خود اس کتاب کے اندر بھی ہیں اور ان حالات کے اندر بھی جن میں یہ کتاب نازل ہوئی تو اس کتاب کے اندر بعض ایسی باتیں ہیں جن کی طرف انسان خیال جاتا ہی نہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کے یہ شبہات سطحی ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا ، جس وقت قرآن کی چند سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ پورا قرآن ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت موجود تھی۔ اس کے اندر واضح اشارات تھے کہ اس کا سرچشمہ زمین پر نہیں ہے ، آسمان پر ہے۔ کبراء قریش اپنے دلوں میں یہ بات محسوس بھی کرتے تھے اور کبھی کبھار اپنے درمیان اس کا اعتراف بھی کرتے تھے۔ لیکن مفادات انسان کو اندھا کردیتے ہیں ، جن کے پیش نظر انسان ہدایت کی راہ پر آنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ایسے حالات کے بارے میں قرآن نے پیشگی کہہ دیا تھا کہ اب وہ اس قسم کے الزامات لگائیں گے کہ یہ ایک قدیم جھوٹ ہے۔ کتب سیرت میں متعدد واقعات نقل ہوئے ہیں کہ زعمائے قریش جب اپنے ہاں اس شب ہے کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو وہ خود تسلیم کرتے تھے کہ ان کی یہ بات غلط ہے۔ ابن اسحاق نے والید ابن مغیرہ اور نضر ابن الحارث اور عتبہ ابن ربیعہ کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے۔ ان میں سے پہلے شخص کے بارے میں اس نے نقل کیا ہے۔ ” پھر یہ ہوا کہ ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ جمع ہوئے۔ یہ ان میں معمر آدمی تھا ، اور موسم حج کا موسم آنے والا ہے۔ اور اس میں تمام عالم عرب سے وفود تمہارے پاس آئیں گے اور تمام عربوں نے تمہارے اس شخص کے بارے میں خبریں سن رکھی ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں اپنی آراء مجتمع کرلو اور ایک ہی بات کرو ، اور اس کے بارے میں باہم متضاد باتیں نہ کرو کہ خود تمہاری باتیں ایک دوسرے کو جھٹلادیں۔ اور تم خود اپنی تردید کرو۔ انہوں نے کہا ابو عبدالشمس سب سے پہلے تم ہی بتاﺅ اور ہمارے لئے ایک بات طے کردو ہم وہی کریں گے۔ اس نے کہا پہلے تم بتاﺅ کہ تمہاری آراء کیا ہیں ؟ بعض نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ یہ کاہن ہے۔ اس نے کہا یہ تو نہیں ، خدا کی قسم ! یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہن کو دیکھا ہے۔ اس کا کلام کاہنوں کی گنگناہٹ سے مختلف ہے۔ نہ کاہنوں جیسا سجع ہے ، اس میں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم یہ کہیں گے کہ یہ مجنون ہے۔ تو اس نے کہا مجنون بھی تو وہ نہیں ہے۔ ہم نے پاگلوں کو دیکھا ہے اور پاگلوں کو جانتے ہیں۔ نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ اسے کوئی ہم ہوا ہے ، نہ وسوسہ میں گرفتار ہے وہ۔ تو بعض نے کہا تو پھر اسے شاعر کہا جائے۔ تو اس نے کہا کہ وہ شاعر نہیں۔ ہم سب لوگ شعراء کو جانتی ہیں۔ اقسام شعر میں رجز ، ھزج ، قریض ، مقبوضہ ، مبسوط ، لہٰذا قرآن تو ان میں سے نہیں ہے۔ تو اس کے بعد کہا کہ پھر اسے ساحر اور جادوگر کہا جائے۔ تو اس نے کہا یہ تو جادو گر بھی نہیں ہے۔ جادوگروں کو ہم نے دیکھا ہوا ہے نہ یہ جادوگروں کی طرح پھونکتا ہے اور نہ یہ گانٹھیں باندھتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا : عبدالشمس تم ہب بتاﺅ کہ پھر ہم اسے کیا کہیں ؟ اس نے کہا :” خدا کی قسم اس کے کلام میں زبردست مٹھاس ہے ، اس کی جڑیں نہایت گہری ہیں اور شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور اس کی شاخوں میں پھل ہیں۔ تم ان باتوں میں سے جو بھی کہو گے عام آدمی کو معلوم ہوگا کہ یہ جھوٹ ہے۔ اور قریب ترین بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک جادو گر ہے۔ ایسا جادو لایا ہے کہ بیٹے کو باپ سے جدا کردیا ہے ، بہن کو بھائی سے الگ کردیا ہے ، خاوند کو بیوی سے جدا کردیا ہے۔ ایک شخص کو خاندان سے جدا کردیا ہے۔ وہ اس سے باتیں لے کر نکلے اور مکہ کی راہوں میں بیٹھ گئے۔ جب موسم حج میں لوگ آنے لگے تو جو بھی آتا وہ اس سے حضرت محمد ﷺ کی بات کرتے اور لوگوں کو ان سے ڈراتے۔ اور نضر ابن الحارث کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے کہا : ” اے قوم قریش ! خدا کی قسم تم پر ایک ایسی مصیبت آپڑی ہے جس کا کوئی علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ محمد تم میں ایک چھوٹا سا نو عمر بچہ تھا ، وہ تم میں سب کا محبوب تھا ، وہ تم میں سب سے سچا تھا ، وہ تم میں سب سے زیادہ امین تھا ، جب تم نے اس کے چہرے پر بڑھاپا دیکھا اور وہ بات تمہارے پاس لے کر آیا جو وہ لے کر آیا تو تم نے کہا یہ جادوگر ہے۔ نہیں خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے ، وہ جادوگر نہیں ہے۔ ہم نے جادوگروں کو دیکھا ہے۔ ان کی پھونک اور ان کی گانٹھوں کو بھی دیکھا۔ تم نے کہا کہ وہ کاہن ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! وہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ ان کے خلجانات کو بھی دیکھا ہے۔ ان کا مسجع کلام بھی سنا ہے تم کہتے ہو وہ شاعر ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! ایسا نہیں ، وہ شاعر نہیں ہے۔ ہم نے شعراء دیکھے ہیں اور شعراء کے اصناف شعر سے بھی ہم وقف ہیں۔ رجز ، ھزج وغیرہ۔ تم کہتے ہو کہ وہ مجنوں ہے۔ ہم نے مجنونوں کو دیکھا ہے ، نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ وہ وسوسوں کا شکار ہے اور نہ اس کی باتیں غلط سلط ہیں۔ اے گروہ قریش ! اپنے اس معاملے میں غور کرو ، خدا کی قسم ! میں سمجھتا ہوں تم پر ایک عظیم مصیبت آگئی ہے ....“ اس کی باتوں میں اور عتبہ کی باتوں میں پوری طرح یکسانیت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہو ، جو کبھی عتبہ کی طرف منسوب ہوگیا ہو اور کبھی نضر کی طرف۔ لیکن ، یہ بات بعید نہیں ہے کہ دونوں نے ایک ہی طرح کی بات کی ہو۔ کیونکہ دونوں قریش کے اکابر میں سے تھے۔ اور ان کے تاثرات قرآن کے بارے میں ایک ہی جیسے تھے۔ عتبہ کا جو موقف تھا اس کا قصہ اس سے قبل ہم نے سورة قلم کے ابتدائیہ میں بیان کردیا ہے۔ یہ موقف بھی حضور اکرم اور قرآن کے بارے میں ولید اور نضر کے قریب قریب تھا۔ غرض یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے کہ آپ ساحر ہیں یاکاہن ہیں ، کبھی تو یہ بطور عیاری ومکاری یوں کہتے تھے اور کبھی وہ محض مغالطہ انگیزی کے لئے کررہے تھے۔ اور اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ قرآن مجید بذات خود اس قدر واضح تھا کہ سنتے ہی لوگ اسے سمجھ لیتے تھے۔ اس لئے وہ قسم کا محتاج ہی نہ تھا کہ خدا ان چیزوں کی قسم اٹھائے جو معلوم ہویں اور جو معلوم نہیں ہیں۔ (سید قطب کے نزدیک آیات کے معنی یہ ہوں گے میں قسم نہیں اٹھاتا۔ لیکن ہندوستانی علماء کا ترجمہ درست ہے کہ (پس نہیں ، میں قسم اٹھاتا ہوں) ۔ بیشک یہ رسول کریم ﷺ کا قول ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ اور نہ کاہن کا کلام ہے۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہاں جو یہ کہا گیا کہ یہ رسول کریم کا قول ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ کلام تخلیق کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے طرز کا کلام ہے۔ شاعر اور کاہن ایسا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ ایسا کلام ایک رسول ہی پیش کرسکتا ہے۔ اللہ نے بھیجا اور اس کی طرف یہ نازل کیا اسی لئے بعدہ متصلا کہہ دیا گیا۔ تنزیل من رب العلمین (96 : 34) ” یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے “۔ اور یہ تعقیبات۔ قلیلاً ما تومنون (96 : 24) ” تم کم ایمان لاتے ہو “۔ قلیلا ما تذکرون (96 : 24) ” تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو “۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے ، اور تم نصیحت نہیں حاصل کرتے ۔ یہ انداز تعبیر مکمل نفی کے لئے عربی زبان میں عام تھا کہ مکمل نفی کو قلیل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ حدیث شریف میں آتا کہ حضور ﷺ (قلیل اللغو) تھے یعنی بالکل لغویات نہ کرتے تھے۔ یہاں مراد مکمل نفی ہے۔ ورنہ اگر کسی کا قلیل ایمان بھی ہو ، اور کوئی قلیل نصیحت بھی قرآن سے لیتا ہو ، وہ رسول اللہ کو شاعر ، کاہن نہیں کہہ سکتا بلکہ ایک کافر اور غافل ہی حضور ﷺ کے بارے میں ایسی بات کرسکتا ہے۔ اور آخر میں یہ خوفناک ڈراوا آتا ہے کہ جو بھی عقیدے کے بارے میں اللہ پر افتراء باندھے گا وہ اللہ کی گرفت میں آجائے گا۔ اور یہ تہدید اس ایک احتمال کی نفی بھی کردیتی ہے جو رہ جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے یہ اپنی طرف سے بنایا ہو۔ تو اللہ فرماتا ہے کہ آپ سچے ہیں اگر ہم پر وہ کوئی افتراء باندھتے تو ہم اسے سختی سے پکڑتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں جو قلیل تحریف بھی کرتا ہے ، وہ پکڑا جاتا ہے۔

الحاقة 69:42

فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے جو نظر نہیں آتی۔ یہ کائنات انسان کے مشاہدے سے بہت زیادہ عظیم ہے بلکہ یہ اس سے بھی بہت بڑی ہے جس قدر انسان ادراک کرسکتا ہے۔ انسان اس کائنات کے نہایت ہی تھوڑے حصے کا ادراک کرسکتا ہے اور بہت ہی تھوڑے حصے کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اسی قدر طاقت دی ہے جس قدر انسان کو ضرورت ہے۔ اس زمین میں رہنے ، اس کو ترقی دینے اور یہاں اللہ کا نائب اور خلیفہ ہونے کے لئے جس قدر ضرورت ہے ورنہ اگر پوری زمین کا مقابلہ پوری کائنات سے کیا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا ذرہ ہے جو اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کائنات کے دوسرے سرے سے نظر آئے۔ اس عظیم کائنات الٰہیہ میں سے انسانوں کو نہایت ہی محدود حصے کی بصیرت و بصارت کی قدرت دی گئی ہے۔ انسان اس کے اسرار و رموز اور حالات اور قوانین قدرت کا بہت ہی تھوڑا ساحصہ ابھی تک معلوم کرسکا ہے۔ ایک بہت بڑا حصہ ہے جسے انسان نہیں دیکھ پارہا ہے۔ فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اشارہ انسانی دل و دماغ کو بہت کھول دینے والا ہے۔ جب انسان یہ پاتا ہے کہ انسانی فکر ونظر کے موجودہ دائرے سے وراء بھی کچھ پہلو ہیں۔ کچھ جہاں اور بھی ہیں ، کچھ اسرارہ رموز پوشیدہ بھی ہیں ، جو ابھی انسان کو نظر نہیں آرہے ، تو اس طرح انسانی تصور اور انسانی ادراک کے دائرے کو وسعت ملتی ہے۔ اس کائنات کے آفاق وسیع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس قرآن میں رہنے اور بسنے والا انسان اس محدود جگہ (Space) کا پابند نہیں ہوتا جس میں وہ رہتا ہے۔ نہ وہ اپنی آنکھوں کے محدود مشاہدے کا قیدی بنتا ہے ، نہ اپنی موجودہ محدود ادراک پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ کائنات ہمارے مشاہدے سے زیادہ وسیع اور یہ حقیقت ہماری قوت ادراک سے بڑی ہے۔ کیونکہ اس محدود انسان کو جو محدود مشاہدہ اور قوت مدرکہ دی گئی ہے ، وہ اس دنیا پر اس کی محدود ضروریات کے لئے دی گئی ہے۔ ہاں وہ اپنے مشاہدے اور قوت مدرکہ کو وسعت دے سکتا ہے۔ اور اپنی ان محدود قوتوں کو بھی وسعت دے سکتا ہے لیکن وہ یہ بھی اس وقت کرسکتا ہے کہ جب اس کو احساس ہو کہ کچھ حقائق اور جہاں اور بھی ہیں ، جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی ہے۔ اور پس پردہ ان جہانوں سے زیادہ وسیع جہاں ہیں جن تک ہماری رسائی ہوگئی ہے۔ یہاں آکر انسان کا رابطہ اس ذات مطلق سے پیدا ہوجاتا ہے۔ جو انسان کو نور بخشتی ہے اور اس سے براہ راست تعلق پاکر انسان پھر دوسرے جہانوں کی سیر کرتا ہے ، جو بظاہر مستور ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو ان حقائق کے اندر محدود کرتے ہیں جن کو آنکھ دیکھ سکتی ہے ، یا جن کو ہماری قوت مدرکہ پاسکتی ہے ، یہ لوگ دراصل مساکین ہیں۔ درحقیقت اس قسم کے لوگ اپنے نہایت محدود محسوسات اور مدرکات کے قیدی ہیں۔ یہ لوگ اس وسیع دنیا میں رہتے تو ہیں مگر انہوں نے اپنے آپ کو کنویں کا مینڈک بنادیا ہے جب کہ انسان کو ایک عظیم کائنات کے اندر بھیجا گیا ہے تاکہ اسے دیکھے اور عبرت لے۔ اس کائنات کے اندر اور اس زمین کے اوپر رہنے والے ، اس انسان کی تاریخ میں ، بارہا ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو ، اس طرح کنویں کا مینڈک بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے اوپر معرفت اور روشنی کے دروازے بند کیے ہیں۔ اور ایمان اور شعور کے راستے سے حقیقت کبریٰ تک پہنچنے سے اپنے آپ کو محروم کیا ہے۔ پھر وہ یہ کوشش بھی کرنے لگتے ہیں کہ روشنی کے یہ دروازے ، جس طرح انہوں نے اپنے اوپر بند کیے ، دوسروں پر بھی بند کردیں۔ کبھی وہ جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت دونوں دراصل ایک بڑے قید خانے ہیں جن کے اندر ان لوگوں نے اپنے آپ کو محصور کرلیا ہے اور معرفت اور روشنی کے حقیقی سرچشموں سے اپنے آپ کو محروم کردیا ہے۔ گزشتہ دو سوسالوں کے اندر ، مغربی سائنس نے اپنے غرور اور حماقت کی وجہ سے ، اپنے آپ کو ، ان مضبوط سلاخوں کے پیچھے بند کردیا تھا۔ لیکن اس صدی میں ، خود مغربی سائنس نے آہستہ آہستہ ان مضبوط سلاخوں کو توڑنا شروع کردیا ہے اور خود اپنے تجربات کو نور کے سرچشموں سے جوڑنا شروع کردیا۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب سائنس کا جوش و غرور ٹھنڈا ہوا اور وہ کلیسا کی حماقتوں اور اس کے خلاف جوش انتقام کی مدہوشی سے باہر نکل آئی ہے۔ (انسان ، مادیت اور اسلام کے درمیان۔ محمد قطب) اور سائنس نے معلوم کرلیا کہ اس کائنات کے اندر اس کے حدود کار ہی محدود ہیں اور اس نے تجربہ کرلیا کہ یہ محدود آلات جن کے ذریعے وہ اس کائنات کا مشاہدہ کررہی ہے ، وہ تو اسے کسی لامحدود کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔ چناچہ سائنس نے ایمان کی دعوت دینا شروع کردی ہے۔ (سائنس کی طرف سے دعوت ایمان۔ ترجمہ محمود فلکی۔ تصنیف اے۔ گریسی ) نہایت عاجزانہ انداز میں سائنس نے خوشخبری دی اور اعلان کیا کہ اب وہ اس قید خانے سے رہا ہوگئی ہے۔ جب بھی انسانیت نے اپنے آپ کو مادیت کی سلاخوں کے پیچھے بند کیا۔ اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ ڈاکٹر بلیکس کاریل ، جنہوں نے خلیہ پر تحقیقات میں تخصص حاصل کیا۔ اور جنہوں نے خون کی گردش کے نظام پر کام کیا اور عملاً پریکٹس بھی کرتے رہے۔ اور انہوں نے کئی اداروں کی سرجری اور مختلف طریقہ ہائے علاج پر کام کیا۔ اور جن کو 2191 میں نوبل انعام ملا اور دوسری عالمگیر جنگ کے دوران میں انسٹی ٹیوٹ آف ہیومنزم فرانس کے ڈائریکٹر رہے ، وہ لکھتے ہیں : ” یہ کائنات بہ توسیع ہے ، اور اس کے اندر ہمارے انسانی عقول کے علاوہ بھی کئی فعال عقل کام کرتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کی وادیوں کے نشیب و فراز میں انسانی عقل جب چاہے ، ان عقول سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ نماز ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم ان عقول تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم اس ابدی عقل سے جاملتے ہیں جس کا کنٹرول اس کائنات کی تمام تقدیروں پر ہے۔ چاہے یہ تقدیرات ہمیں نظر آرہی ہوں یا ہماری نظروں سے اوجھل ہوں۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ” تقدس کا یہ شعور اور دوسریروحانی سرگرمیاں انسانی زندگی پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ تقدس کے اس شعور اور روحانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہم ، اس عظیم روحانی دنیا سے متصل رہتے ہیں جس کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں اور جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ایک دوسرے ڈاکٹر ذی نوئے ہیں۔ انہوں نے استاد کو ری اور ان کی بیوی کے ساتھ مل کر تشریح الابدان اور طبیعیات کے میدان میں کام کیا۔ اور راکفیلر انسٹی ٹیوٹ نے ان کو اپنے ادارے کے دوسرے ممبران کے ساتھ سرجری اور اس کی خصوصیات کے موضوع پر تحقیقات کے لئے بلایا۔ وہ فرماتے ہیں : ” کئی ذہین اور نیک نیت لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کا تصور یا ادراک نہیں کرسکتے۔ حالانکہ ایک دیانت دار انسان جو اپنے نفس کو علمی تحقیقات میں لگائے رکھتا ہے ، اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اللہ کا تصور بھی کرسکے۔ جس طرح ایک ماہر طبیعیات پر لازم نہیں ہے کہ وہ بجلی کا تصور کرسکے۔ جس طرح خدا کا تصور انسان ناقص ہوگا ، اسی طرح بجلی کا تصور بھی ناقص ہوگا اور باطل ہوگا۔ اس لئے کہ بجلی کا مادی تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ بجلی ناقابل تصور ہونے کے باوجود ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور یہ لکڑی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ ثابت شدہ ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) سرآرتھرٹامسن ، اسکاٹ لینڈ کے مشہور مصنف ہیں ، کہتے ہیں : ” ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ اس میں یہ حقیقت ٹھوس اور شفاف بن گئی ہے۔ ایتھر نے اپنا مادی وجود کھو دیا ہے۔ مادی تاویلات میں غلو کرنے کی صلاحیت کے معاملے میں وہ حدیث العبد ہے۔ ایک مجموعہ مضامین بعنوان ” سائنس اور مذہب “ میں کہتے ہیں : ” دینیات کے اہل علم کو اس بات پر تاسف نہیں کرنا چاہئے کہ ایک ماہر طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر رب طبیعیات تک کیوں نہیں پہنچ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات کا رخ الہیاتی نہیں ہے۔ لیکن اگر علمائے طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر مافوق الطبیعیات میں داخل ہوگئے تو اس کے نتائج نہایت ہی عظیم ہوں گے۔ آج تک کی تحقیقات کے بعد ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ ہم اس پر خوشی کا اظہار کریں کہ سائنس دانوں نے اس سمت کام کرنے کی راہ فراہم کردی ہے کہ اب دینی جذبات سائنس میں سانس لے سکیں جبکہ ہمارے آباﺅ اجداد کے زمانے میں ، یہ ممکن نہ تھا کہ سائنس کے مضامین میں مذہب کی بات کی جاسکے۔ جس طرح مسٹر لانچڑوں ڈیفیس نے اپنی کتاب میں ، جو یہ غلط دعویٰ کیا تھا ، اس کے بالمقابل اب ہم یہ بات نہایت زور اور اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ سائنس نے اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی اعلیٰ اور نہایت بلند مرتبہ تصور کے لئے راہ ہموار کردی ہے۔ اور اب ہم اس قول کا لفظی مفہوم درست سمجھتے ہیں کہ سائنس نے انسانوں کے لئے جدید آسمان اور جدید زمین ، پیدا کردیئے ہیں اور انسان کو عقل جدوجہد میں اس قدر آگے بڑھادیا کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو امن وسلامتی صرف اس صورت میں ملے گی کہ وہ اللہ کی ذات پر یقین کرلے “۔ (دور جدید کے مفکرین کے عقائد۔ استاد عناد) اس سے قبل ہم اے ۔ گریسی مور سن ، صدر سائنس اکیڈمی نیویارک اور امریکہ میں قومی تحقیقات کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی کتاب سے یہ اقتباس نقل کرچکے ہیں۔ کتاب کا نام ہے ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “۔ ” ہم عملاً ایک وسیع عالم مجہول کے قریب جاپہنچے ہیں۔ کیونکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ مادہ دراصل عالمی دور کا ایک مظہور ہے۔ اور یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قوت ہے۔ لیکن اس بات میں شک نہیں ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے میں کسی بخت واتفاق کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ محیرالعقول عظیم کائنات ایک ضابطے کی پابند ہے “۔ ” یہ کہ یہ انسان ایک حیوان تھا جو ایک ایسے ” موجود “ کی شکل اختیار کر گیا جو باشعور ، مفکر ، اپنے وجود کو جاننے والا بن گیا ، یہ بات درست نہیں کہ یہ انسان محض مادی عوامل کی وجہ سے ایسا بن گیا اور اس کے پیچھے کسی تخلیق کرنے والے کا قصدوارادہ نہ تھا ، یہ کوئی ممکن بات نہیں ہے “۔ ” اگر قصدوارادے کو تسلیم کیا جائے تو اس کے مطابق پھر انسان ایک مشین ہوگا تو سوال یہ ہوگا کہ اس مشین کو کون چلارہا ہے ، کیونکہ چلانے کے بغیر اس سے کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ سائنس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ انسانی مشین کا مدیر کون ہے اور پھر سائنس یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتی کہ ارادہ کوئی مادی چیز ہے “۔ ” ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم کہیں کہ اللہ نے اپنے نور کا ایک حصہ انسان کو عطا کیا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ سائنس اب مادیت کے قید خانے سے اس کی سلاخیں توڑ کر اور دیواریں گرا کر باہر نکل آئی ہے۔ اور وہ اب کھلی فضا میں آزادانہ غوروفکر کرتی ہے۔ جس طرح قرآن نے فرمایا : فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اور اس قسم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض ” کیڑے “ سوچنے والے ” کیڑے “ ابھی تک سائنس کے نام پر اپنے اوپر رب تعالیٰ کے نور کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دراصل نہ سائنس دان ہیں اور نہ مومن۔ یہ جس طرح سائنس کے میدان میں پسماندہ ہیں ، اسی طرح دین کے میدان میں پسماندہ ہیں۔ اور لاشعوری طور پر یہ مادیت کے قید خانے میں مبتلا ہیں۔ اور اس مقام اور مرتبے سے پیچھے رہ گئے ہیں جو انسان جیسے مکرم مخلوق کے لائق ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں : فلا افسم .................... رب العلمین (14) (96 : 83 تا 34) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ، یہ ایک رسول کریم کا قول ہے ، کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے “۔ رسول اللہ پر اور قرآن پر جو الزامات مشرکین مکہ نے لگائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ شاعر ہیں۔ دوسرا یہ تھا کہ آپ کاہن ہیں اور یہ ان کا ایک سطحی شبہ تھا۔ اور یہ اس لئے ان کو لاحق ہوگیا تھا کہ یہ قرآن ایک لاجواب کلام تھا۔ اور عام لوگوں کے کلام سے اس کا معیار بہت بلند تھا۔ اور شاعر اس لئے کہتے تھے کہ ان کا یہ وہم تھا کہ شاعروں پر جن آتے ہیں اور وہ ان سے اس قسم کا کلام سنا کرتے ہیں۔ اسی طرح کاہنوں کو بھی وہ جنوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والے سمجھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ باتیں ان کو یہ جنات بتاتے ہیں۔ یہ شبہ بہت ہی سطحی تھا اور قرآن اور رسالت اور ذات رسول پر تدبر کرنے سے یہ جلدی ہی زائل ہوسکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ شعر میں بعض اوقات اچھی موسیقی ہوتی ہے ، اعلیٰ خیالات ہوتے ہیں ، خوبصورتی ہوتی ہے لیکن قرآن اور شاعری بالکل جدا چیزیں ہیں۔ دونوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ قرآن کریم ایک مکمل نظام زندگی عطا کرتا ہے اور یہ نظام سچائی پر مبنی ہے۔ اس کی بنیاد نظریہ توحید پر مبنی ہے۔ یہ اس کائنات کے ایک خالق پر ایمان کو ضروری سمجھتا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح اس کائنات کو ھبی زندہ اور مطیع رب سمجھتا ہے۔ جبکہ شعر چند تاثرات ، جذبات ، متفرق واقعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا نظام زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نہ ایک نظریہ پر مبنی ہوتا ہے ، جو خوشی اور غم ، آزادی اور قید اور محبت اور نفرت میں ایک ہو ، جبکہ شعر ان حالات میں یکسر بدل جاتا ہے اور مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ قرآن کریم نے جو تصور حیات پیش کیا ہے اس کی پہلی اینٹ بھی اسلام اور قرآن نے رکھی ہے۔ اس کے جزئیات ، اس کے اصول بھی ، سب کے سب قرآن نے دیئے اور اس عقیدے کے ساتھ دیئے کہ یہ سب من جانب اللہ ہے۔ اس تصور حیات کا منہاج ہی ایسا ہوتا ہے جو انسانی نہیں ہوسکتا۔ انسان کوئی ایسا جامع نظام اور تصور تجویز نہیں کرسکتا ، جس کی نہ پہلے کوئی مثال ہے اور نہ بعد میں۔ اس کے مقابلے میں انسانوں نے اس کائنات ، اس کی قوت خالقہ اور قوت مدبرہ کے بارے میں جو فلسفے گھڑے ہیں ، وہ بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جو علم فلسفہ ، علم شعر ، دوسرے فکری اور نظریاتی مکاتب میں تفصیل سے کتابوں میں موجود ہیں۔ جب ان کا تقابلی مطالعہ قرآن سے کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن بالکل کسی علیحدہ سرچشمے کا فیض ہے۔ یہ منفرد مزاج اور منفرد خصوصیات رکھتا ہے اور اس کے مقابلے میں انسانی تصورات پائے چوبیں کی طرح ہیں۔ اس طرح کہانت اور کاہنوں سے جو باتیں صادر ہوتی رہتی ہیں ، آج تک انسانی تاریخ میں کوئی کاہن ایسا نہیں گزرا جس نے ایک نظام زندگی ، فلسفہ زندگی اور نظام آخرت دیا ہو اور وہ اسی طرح کامل ، مکمل اور معقول ہو ، جس طرح قرآن کا پیش کردہ نظام معقول ہے۔ کاہنوں سے جو کچھ نقل ہوا ہے ، وہ یہ ہے کہ چند مہمل کلمات ، چند سجع اور قافیے جن میں تیر تکے لڑائے گئے ہیں اور ایک آدھ کہیں ، کوئی سنی سنائی حکمت کی بات بھی ہوتی ہوگی۔ لیکن قرآن کے اندر بعض ایسی جھلکیاں بھی ہیں جن پر غور کرنے سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کبھی اس طرح سوچ ہی نہیں سکتا۔ ہم نے فی ظلال القرآن میں ایسی بعض جھلکیاں دکھائی ہیں کہ نہ قرآن سے پہلے اور نہ بعد میں انسانوں کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہے۔ بعض آیات یہاں بھی غور کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ وعندہ .................... کتب مبین (6 : 95) ” اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحروبر میں جو کچھ ہے ، سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں ہوگا جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک وتر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے “۔ مثلا یہ تصور : یعلم مایلج ........................ تعملون بصیر (75 : 4) ” اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے ، اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے ، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے ، اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے ، جہاں بھی تم ہو اور جو کام بھی تم کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے “۔ یا مثلاً اس قسم کے خیال کی طرف۔ وما تحمل ........................ اللہ یسیر (53 : 11) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ اللہ کے لئے یہ بہت کچھ آسان کام ہے “۔ نیزنہ پہلے کسی انسان کو اس بات کا دھیان ہوا ، اور نہ بعد میں ہوگا کہ اللہ نے اس کائنات کو کس طرح تھام رکھا ہے۔ ان اللہ .................... من بعد (53 : 14) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی دوسراتھامنے والا نہیں ہے “۔ یا پھر یہ منظر کہ اس کائنات میں زندگی کس طرح پھوٹتی ہے اور خالق کائنات نے یہاں زندگی کے قیام کے لئے کس قدر انتظامات کیے ہیں اور موافق حالات بنائے ہیں : ان اللہ فالق .................................... یومنون (99) (6 : 99) ” دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ وہی زندہ کو مردے سے نکالتا ہے ، اور وہی مردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے۔ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو ؟ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کے طلوع اور غروب کا حساب مقرر کیا ہے۔ یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھہرائے ہوئے اندازے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے ایک جان سکے تم کو پیدا کیا ، پھر ہر ایک کے لئے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سوپنے جانے کی جگہ ہے۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ، اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی۔ پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے۔ پھر ان سے تہہ بہ تہہ جڑے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں۔ اور انگور ، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جدا جدا بھی۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو۔ ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ اس قسم کی جھلکیاں قرآن میں بہت زیادہ ہیں ، اور انسانی خیالات اور اسالیب کلام میں اس قسم کی باتیں نہیں ہوتیں۔ قرآن کے صرف یہی پہلو ، اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ یہ قرآن منجانب اللہ ہے۔ دوسرے دلائل سے اگر صرف نظر کردیاجائے جو خود اس کتاب کے اندر بھی ہیں اور ان حالات کے اندر بھی جن میں یہ کتاب نازل ہوئی تو اس کتاب کے اندر بعض ایسی باتیں ہیں جن کی طرف انسان خیال جاتا ہی نہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کے یہ شبہات سطحی ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا ، جس وقت قرآن کی چند سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ پورا قرآن ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت موجود تھی۔ اس کے اندر واضح اشارات تھے کہ اس کا سرچشمہ زمین پر نہیں ہے ، آسمان پر ہے۔ کبراء قریش اپنے دلوں میں یہ بات محسوس بھی کرتے تھے اور کبھی کبھار اپنے درمیان اس کا اعتراف بھی کرتے تھے۔ لیکن مفادات انسان کو اندھا کردیتے ہیں ، جن کے پیش نظر انسان ہدایت کی راہ پر آنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ایسے حالات کے بارے میں قرآن نے پیشگی کہہ دیا تھا کہ اب وہ اس قسم کے الزامات لگائیں گے کہ یہ ایک قدیم جھوٹ ہے۔ کتب سیرت میں متعدد واقعات نقل ہوئے ہیں کہ زعمائے قریش جب اپنے ہاں اس شب ہے کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو وہ خود تسلیم کرتے تھے کہ ان کی یہ بات غلط ہے۔ ابن اسحاق نے والید ابن مغیرہ اور نضر ابن الحارث اور عتبہ ابن ربیعہ کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے۔ ان میں سے پہلے شخص کے بارے میں اس نے نقل کیا ہے۔ ” پھر یہ ہوا کہ ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ جمع ہوئے۔ یہ ان میں معمر آدمی تھا ، اور موسم حج کا موسم آنے والا ہے۔ اور اس میں تمام عالم عرب سے وفود تمہارے پاس آئیں گے اور تمام عربوں نے تمہارے اس شخص کے بارے میں خبریں سن رکھی ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں اپنی آراء مجتمع کرلو اور ایک ہی بات کرو ، اور اس کے بارے میں باہم متضاد باتیں نہ کرو کہ خود تمہاری باتیں ایک دوسرے کو جھٹلادیں۔ اور تم خود اپنی تردید کرو۔ انہوں نے کہا ابو عبدالشمس سب سے پہلے تم ہی بتاﺅ اور ہمارے لئے ایک بات طے کردو ہم وہی کریں گے۔ اس نے کہا پہلے تم بتاﺅ کہ تمہاری آراء کیا ہیں ؟ بعض نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ یہ کاہن ہے۔ اس نے کہا یہ تو نہیں ، خدا کی قسم ! یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہن کو دیکھا ہے۔ اس کا کلام کاہنوں کی گنگناہٹ سے مختلف ہے۔ نہ کاہنوں جیسا سجع ہے ، اس میں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم یہ کہیں گے کہ یہ مجنون ہے۔ تو اس نے کہا مجنون بھی تو وہ نہیں ہے۔ ہم نے پاگلوں کو دیکھا ہے اور پاگلوں کو جانتے ہیں۔ نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ اسے کوئی ہم ہوا ہے ، نہ وسوسہ میں گرفتار ہے وہ۔ تو بعض نے کہا تو پھر اسے شاعر کہا جائے۔ تو اس نے کہا کہ وہ شاعر نہیں۔ ہم سب لوگ شعراء کو جانتی ہیں۔ اقسام شعر میں رجز ، ھزج ، قریض ، مقبوضہ ، مبسوط ، لہٰذا قرآن تو ان میں سے نہیں ہے۔ تو اس کے بعد کہا کہ پھر اسے ساحر اور جادوگر کہا جائے۔ تو اس نے کہا یہ تو جادو گر بھی نہیں ہے۔ جادوگروں کو ہم نے دیکھا ہوا ہے نہ یہ جادوگروں کی طرح پھونکتا ہے اور نہ یہ گانٹھیں باندھتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا : عبدالشمس تم ہب بتاﺅ کہ پھر ہم اسے کیا کہیں ؟ اس نے کہا :” خدا کی قسم اس کے کلام میں زبردست مٹھاس ہے ، اس کی جڑیں نہایت گہری ہیں اور شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور اس کی شاخوں میں پھل ہیں۔ تم ان باتوں میں سے جو بھی کہو گے عام آدمی کو معلوم ہوگا کہ یہ جھوٹ ہے۔ اور قریب ترین بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک جادو گر ہے۔ ایسا جادو لایا ہے کہ بیٹے کو باپ سے جدا کردیا ہے ، بہن کو بھائی سے الگ کردیا ہے ، خاوند کو بیوی سے جدا کردیا ہے۔ ایک شخص کو خاندان سے جدا کردیا ہے۔ وہ اس سے باتیں لے کر نکلے اور مکہ کی راہوں میں بیٹھ گئے۔ جب موسم حج میں لوگ آنے لگے تو جو بھی آتا وہ اس سے حضرت محمد ﷺ کی بات کرتے اور لوگوں کو ان سے ڈراتے۔ اور نضر ابن الحارث کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے کہا : ” اے قوم قریش ! خدا کی قسم تم پر ایک ایسی مصیبت آپڑی ہے جس کا کوئی علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ محمد تم میں ایک چھوٹا سا نو عمر بچہ تھا ، وہ تم میں سب کا محبوب تھا ، وہ تم میں سب سے سچا تھا ، وہ تم میں سب سے زیادہ امین تھا ، جب تم نے اس کے چہرے پر بڑھاپا دیکھا اور وہ بات تمہارے پاس لے کر آیا جو وہ لے کر آیا تو تم نے کہا یہ جادوگر ہے۔ نہیں خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے ، وہ جادوگر نہیں ہے۔ ہم نے جادوگروں کو دیکھا ہے۔ ان کی پھونک اور ان کی گانٹھوں کو بھی دیکھا۔ تم نے کہا کہ وہ کاہن ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! وہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ ان کے خلجانات کو بھی دیکھا ہے۔ ان کا مسجع کلام بھی سنا ہے تم کہتے ہو وہ شاعر ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! ایسا نہیں ، وہ شاعر نہیں ہے۔ ہم نے شعراء دیکھے ہیں اور شعراء کے اصناف شعر سے بھی ہم وقف ہیں۔ رجز ، ھزج وغیرہ۔ تم کہتے ہو کہ وہ مجنوں ہے۔ ہم نے مجنونوں کو دیکھا ہے ، نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ وہ وسوسوں کا شکار ہے اور نہ اس کی باتیں غلط سلط ہیں۔ اے گروہ قریش ! اپنے اس معاملے میں غور کرو ، خدا کی قسم ! میں سمجھتا ہوں تم پر ایک عظیم مصیبت آگئی ہے ....“ اس کی باتوں میں اور عتبہ کی باتوں میں پوری طرح یکسانیت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہو ، جو کبھی عتبہ کی طرف منسوب ہوگیا ہو اور کبھی نضر کی طرف۔ لیکن ، یہ بات بعید نہیں ہے کہ دونوں نے ایک ہی طرح کی بات کی ہو۔ کیونکہ دونوں قریش کے اکابر میں سے تھے۔ اور ان کے تاثرات قرآن کے بارے میں ایک ہی جیسے تھے۔ عتبہ کا جو موقف تھا اس کا قصہ اس سے قبل ہم نے سورة قلم کے ابتدائیہ میں بیان کردیا ہے۔ یہ موقف بھی حضور اکرم اور قرآن کے بارے میں ولید اور نضر کے قریب قریب تھا۔ غرض یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے کہ آپ ساحر ہیں یاکاہن ہیں ، کبھی تو یہ بطور عیاری ومکاری یوں کہتے تھے اور کبھی وہ محض مغالطہ انگیزی کے لئے کررہے تھے۔ اور اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ قرآن مجید بذات خود اس قدر واضح تھا کہ سنتے ہی لوگ اسے سمجھ لیتے تھے۔ اس لئے وہ قسم کا محتاج ہی نہ تھا کہ خدا ان چیزوں کی قسم اٹھائے جو معلوم ہویں اور جو معلوم نہیں ہیں۔ (سید قطب کے نزدیک آیات کے معنی یہ ہوں گے میں قسم نہیں اٹھاتا۔ لیکن ہندوستانی علماء کا ترجمہ درست ہے کہ (پس نہیں ، میں قسم اٹھاتا ہوں) ۔ بیشک یہ رسول کریم ﷺ کا قول ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ اور نہ کاہن کا کلام ہے۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہاں جو یہ کہا گیا کہ یہ رسول کریم کا قول ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ کلام تخلیق کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے طرز کا کلام ہے۔ شاعر اور کاہن ایسا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ ایسا کلام ایک رسول ہی پیش کرسکتا ہے۔ اللہ نے بھیجا اور اس کی طرف یہ نازل کیا اسی لئے بعدہ متصلا کہہ دیا گیا۔ تنزیل من رب العلمین (96 : 34) ” یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے “۔ اور یہ تعقیبات۔ قلیلاً ما تومنون (96 : 24) ” تم کم ایمان لاتے ہو “۔ قلیلا ما تذکرون (96 : 24) ” تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو “۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے ، اور تم نصیحت نہیں حاصل کرتے ۔ یہ انداز تعبیر مکمل نفی کے لئے عربی زبان میں عام تھا کہ مکمل نفی کو قلیل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ حدیث شریف میں آتا کہ حضور ﷺ (قلیل اللغو) تھے یعنی بالکل لغویات نہ کرتے تھے۔ یہاں مراد مکمل نفی ہے۔ ورنہ اگر کسی کا قلیل ایمان بھی ہو ، اور کوئی قلیل نصیحت بھی قرآن سے لیتا ہو ، وہ رسول اللہ کو شاعر ، کاہن نہیں کہہ سکتا بلکہ ایک کافر اور غافل ہی حضور ﷺ کے بارے میں ایسی بات کرسکتا ہے۔ اور آخر میں یہ خوفناک ڈراوا آتا ہے کہ جو بھی عقیدے کے بارے میں اللہ پر افتراء باندھے گا وہ اللہ کی گرفت میں آجائے گا۔ اور یہ تہدید اس ایک احتمال کی نفی بھی کردیتی ہے جو رہ جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے یہ اپنی طرف سے بنایا ہو۔ تو اللہ فرماتا ہے کہ آپ سچے ہیں اگر ہم پر وہ کوئی افتراء باندھتے تو ہم اسے سختی سے پکڑتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں جو قلیل تحریف بھی کرتا ہے ، وہ پکڑا جاتا ہے۔

الحاقة 69:43

فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے جو نظر نہیں آتی۔ یہ کائنات انسان کے مشاہدے سے بہت زیادہ عظیم ہے بلکہ یہ اس سے بھی بہت بڑی ہے جس قدر انسان ادراک کرسکتا ہے۔ انسان اس کائنات کے نہایت ہی تھوڑے حصے کا ادراک کرسکتا ہے اور بہت ہی تھوڑے حصے کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اسی قدر طاقت دی ہے جس قدر انسان کو ضرورت ہے۔ اس زمین میں رہنے ، اس کو ترقی دینے اور یہاں اللہ کا نائب اور خلیفہ ہونے کے لئے جس قدر ضرورت ہے ورنہ اگر پوری زمین کا مقابلہ پوری کائنات سے کیا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا ذرہ ہے جو اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کائنات کے دوسرے سرے سے نظر آئے۔ اس عظیم کائنات الٰہیہ میں سے انسانوں کو نہایت ہی محدود حصے کی بصیرت و بصارت کی قدرت دی گئی ہے۔ انسان اس کے اسرار و رموز اور حالات اور قوانین قدرت کا بہت ہی تھوڑا ساحصہ ابھی تک معلوم کرسکا ہے۔ ایک بہت بڑا حصہ ہے جسے انسان نہیں دیکھ پارہا ہے۔ فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اشارہ انسانی دل و دماغ کو بہت کھول دینے والا ہے۔ جب انسان یہ پاتا ہے کہ انسانی فکر ونظر کے موجودہ دائرے سے وراء بھی کچھ پہلو ہیں۔ کچھ جہاں اور بھی ہیں ، کچھ اسرارہ رموز پوشیدہ بھی ہیں ، جو ابھی انسان کو نظر نہیں آرہے ، تو اس طرح انسانی تصور اور انسانی ادراک کے دائرے کو وسعت ملتی ہے۔ اس کائنات کے آفاق وسیع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس قرآن میں رہنے اور بسنے والا انسان اس محدود جگہ (Space) کا پابند نہیں ہوتا جس میں وہ رہتا ہے۔ نہ وہ اپنی آنکھوں کے محدود مشاہدے کا قیدی بنتا ہے ، نہ اپنی موجودہ محدود ادراک پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ کائنات ہمارے مشاہدے سے زیادہ وسیع اور یہ حقیقت ہماری قوت ادراک سے بڑی ہے۔ کیونکہ اس محدود انسان کو جو محدود مشاہدہ اور قوت مدرکہ دی گئی ہے ، وہ اس دنیا پر اس کی محدود ضروریات کے لئے دی گئی ہے۔ ہاں وہ اپنے مشاہدے اور قوت مدرکہ کو وسعت دے سکتا ہے۔ اور اپنی ان محدود قوتوں کو بھی وسعت دے سکتا ہے لیکن وہ یہ بھی اس وقت کرسکتا ہے کہ جب اس کو احساس ہو کہ کچھ حقائق اور جہاں اور بھی ہیں ، جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی ہے۔ اور پس پردہ ان جہانوں سے زیادہ وسیع جہاں ہیں جن تک ہماری رسائی ہوگئی ہے۔ یہاں آکر انسان کا رابطہ اس ذات مطلق سے پیدا ہوجاتا ہے۔ جو انسان کو نور بخشتی ہے اور اس سے براہ راست تعلق پاکر انسان پھر دوسرے جہانوں کی سیر کرتا ہے ، جو بظاہر مستور ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو ان حقائق کے اندر محدود کرتے ہیں جن کو آنکھ دیکھ سکتی ہے ، یا جن کو ہماری قوت مدرکہ پاسکتی ہے ، یہ لوگ دراصل مساکین ہیں۔ درحقیقت اس قسم کے لوگ اپنے نہایت محدود محسوسات اور مدرکات کے قیدی ہیں۔ یہ لوگ اس وسیع دنیا میں رہتے تو ہیں مگر انہوں نے اپنے آپ کو کنویں کا مینڈک بنادیا ہے جب کہ انسان کو ایک عظیم کائنات کے اندر بھیجا گیا ہے تاکہ اسے دیکھے اور عبرت لے۔ اس کائنات کے اندر اور اس زمین کے اوپر رہنے والے ، اس انسان کی تاریخ میں ، بارہا ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو ، اس طرح کنویں کا مینڈک بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے اوپر معرفت اور روشنی کے دروازے بند کیے ہیں۔ اور ایمان اور شعور کے راستے سے حقیقت کبریٰ تک پہنچنے سے اپنے آپ کو محروم کیا ہے۔ پھر وہ یہ کوشش بھی کرنے لگتے ہیں کہ روشنی کے یہ دروازے ، جس طرح انہوں نے اپنے اوپر بند کیے ، دوسروں پر بھی بند کردیں۔ کبھی وہ جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت دونوں دراصل ایک بڑے قید خانے ہیں جن کے اندر ان لوگوں نے اپنے آپ کو محصور کرلیا ہے اور معرفت اور روشنی کے حقیقی سرچشموں سے اپنے آپ کو محروم کردیا ہے۔ گزشتہ دو سوسالوں کے اندر ، مغربی سائنس نے اپنے غرور اور حماقت کی وجہ سے ، اپنے آپ کو ، ان مضبوط سلاخوں کے پیچھے بند کردیا تھا۔ لیکن اس صدی میں ، خود مغربی سائنس نے آہستہ آہستہ ان مضبوط سلاخوں کو توڑنا شروع کردیا ہے اور خود اپنے تجربات کو نور کے سرچشموں سے جوڑنا شروع کردیا۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب سائنس کا جوش و غرور ٹھنڈا ہوا اور وہ کلیسا کی حماقتوں اور اس کے خلاف جوش انتقام کی مدہوشی سے باہر نکل آئی ہے۔ (انسان ، مادیت اور اسلام کے درمیان۔ محمد قطب) اور سائنس نے معلوم کرلیا کہ اس کائنات کے اندر اس کے حدود کار ہی محدود ہیں اور اس نے تجربہ کرلیا کہ یہ محدود آلات جن کے ذریعے وہ اس کائنات کا مشاہدہ کررہی ہے ، وہ تو اسے کسی لامحدود کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔ چناچہ سائنس نے ایمان کی دعوت دینا شروع کردی ہے۔ (سائنس کی طرف سے دعوت ایمان۔ ترجمہ محمود فلکی۔ تصنیف اے۔ گریسی ) نہایت عاجزانہ انداز میں سائنس نے خوشخبری دی اور اعلان کیا کہ اب وہ اس قید خانے سے رہا ہوگئی ہے۔ جب بھی انسانیت نے اپنے آپ کو مادیت کی سلاخوں کے پیچھے بند کیا۔ اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ ڈاکٹر بلیکس کاریل ، جنہوں نے خلیہ پر تحقیقات میں تخصص حاصل کیا۔ اور جنہوں نے خون کی گردش کے نظام پر کام کیا اور عملاً پریکٹس بھی کرتے رہے۔ اور انہوں نے کئی اداروں کی سرجری اور مختلف طریقہ ہائے علاج پر کام کیا۔ اور جن کو 2191 میں نوبل انعام ملا اور دوسری عالمگیر جنگ کے دوران میں انسٹی ٹیوٹ آف ہیومنزم فرانس کے ڈائریکٹر رہے ، وہ لکھتے ہیں : ” یہ کائنات بہ توسیع ہے ، اور اس کے اندر ہمارے انسانی عقول کے علاوہ بھی کئی فعال عقل کام کرتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کی وادیوں کے نشیب و فراز میں انسانی عقل جب چاہے ، ان عقول سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ نماز ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم ان عقول تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم اس ابدی عقل سے جاملتے ہیں جس کا کنٹرول اس کائنات کی تمام تقدیروں پر ہے۔ چاہے یہ تقدیرات ہمیں نظر آرہی ہوں یا ہماری نظروں سے اوجھل ہوں۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ” تقدس کا یہ شعور اور دوسریروحانی سرگرمیاں انسانی زندگی پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ تقدس کے اس شعور اور روحانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہم ، اس عظیم روحانی دنیا سے متصل رہتے ہیں جس کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں اور جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ایک دوسرے ڈاکٹر ذی نوئے ہیں۔ انہوں نے استاد کو ری اور ان کی بیوی کے ساتھ مل کر تشریح الابدان اور طبیعیات کے میدان میں کام کیا۔ اور راکفیلر انسٹی ٹیوٹ نے ان کو اپنے ادارے کے دوسرے ممبران کے ساتھ سرجری اور اس کی خصوصیات کے موضوع پر تحقیقات کے لئے بلایا۔ وہ فرماتے ہیں : ” کئی ذہین اور نیک نیت لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کا تصور یا ادراک نہیں کرسکتے۔ حالانکہ ایک دیانت دار انسان جو اپنے نفس کو علمی تحقیقات میں لگائے رکھتا ہے ، اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اللہ کا تصور بھی کرسکے۔ جس طرح ایک ماہر طبیعیات پر لازم نہیں ہے کہ وہ بجلی کا تصور کرسکے۔ جس طرح خدا کا تصور انسان ناقص ہوگا ، اسی طرح بجلی کا تصور بھی ناقص ہوگا اور باطل ہوگا۔ اس لئے کہ بجلی کا مادی تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ بجلی ناقابل تصور ہونے کے باوجود ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور یہ لکڑی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ ثابت شدہ ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) سرآرتھرٹامسن ، اسکاٹ لینڈ کے مشہور مصنف ہیں ، کہتے ہیں : ” ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ اس میں یہ حقیقت ٹھوس اور شفاف بن گئی ہے۔ ایتھر نے اپنا مادی وجود کھو دیا ہے۔ مادی تاویلات میں غلو کرنے کی صلاحیت کے معاملے میں وہ حدیث العبد ہے۔ ایک مجموعہ مضامین بعنوان ” سائنس اور مذہب “ میں کہتے ہیں : ” دینیات کے اہل علم کو اس بات پر تاسف نہیں کرنا چاہئے کہ ایک ماہر طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر رب طبیعیات تک کیوں نہیں پہنچ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات کا رخ الہیاتی نہیں ہے۔ لیکن اگر علمائے طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر مافوق الطبیعیات میں داخل ہوگئے تو اس کے نتائج نہایت ہی عظیم ہوں گے۔ آج تک کی تحقیقات کے بعد ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ ہم اس پر خوشی کا اظہار کریں کہ سائنس دانوں نے اس سمت کام کرنے کی راہ فراہم کردی ہے کہ اب دینی جذبات سائنس میں سانس لے سکیں جبکہ ہمارے آباﺅ اجداد کے زمانے میں ، یہ ممکن نہ تھا کہ سائنس کے مضامین میں مذہب کی بات کی جاسکے۔ جس طرح مسٹر لانچڑوں ڈیفیس نے اپنی کتاب میں ، جو یہ غلط دعویٰ کیا تھا ، اس کے بالمقابل اب ہم یہ بات نہایت زور اور اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ سائنس نے اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی اعلیٰ اور نہایت بلند مرتبہ تصور کے لئے راہ ہموار کردی ہے۔ اور اب ہم اس قول کا لفظی مفہوم درست سمجھتے ہیں کہ سائنس نے انسانوں کے لئے جدید آسمان اور جدید زمین ، پیدا کردیئے ہیں اور انسان کو عقل جدوجہد میں اس قدر آگے بڑھادیا کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو امن وسلامتی صرف اس صورت میں ملے گی کہ وہ اللہ کی ذات پر یقین کرلے “۔ (دور جدید کے مفکرین کے عقائد۔ استاد عناد) اس سے قبل ہم اے ۔ گریسی مور سن ، صدر سائنس اکیڈمی نیویارک اور امریکہ میں قومی تحقیقات کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی کتاب سے یہ اقتباس نقل کرچکے ہیں۔ کتاب کا نام ہے ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “۔ ” ہم عملاً ایک وسیع عالم مجہول کے قریب جاپہنچے ہیں۔ کیونکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ مادہ دراصل عالمی دور کا ایک مظہور ہے۔ اور یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قوت ہے۔ لیکن اس بات میں شک نہیں ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے میں کسی بخت واتفاق کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ محیرالعقول عظیم کائنات ایک ضابطے کی پابند ہے “۔ ” یہ کہ یہ انسان ایک حیوان تھا جو ایک ایسے ” موجود “ کی شکل اختیار کر گیا جو باشعور ، مفکر ، اپنے وجود کو جاننے والا بن گیا ، یہ بات درست نہیں کہ یہ انسان محض مادی عوامل کی وجہ سے ایسا بن گیا اور اس کے پیچھے کسی تخلیق کرنے والے کا قصدوارادہ نہ تھا ، یہ کوئی ممکن بات نہیں ہے “۔ ” اگر قصدوارادے کو تسلیم کیا جائے تو اس کے مطابق پھر انسان ایک مشین ہوگا تو سوال یہ ہوگا کہ اس مشین کو کون چلارہا ہے ، کیونکہ چلانے کے بغیر اس سے کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ سائنس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ انسانی مشین کا مدیر کون ہے اور پھر سائنس یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتی کہ ارادہ کوئی مادی چیز ہے “۔ ” ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم کہیں کہ اللہ نے اپنے نور کا ایک حصہ انسان کو عطا کیا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ سائنس اب مادیت کے قید خانے سے اس کی سلاخیں توڑ کر اور دیواریں گرا کر باہر نکل آئی ہے۔ اور وہ اب کھلی فضا میں آزادانہ غوروفکر کرتی ہے۔ جس طرح قرآن نے فرمایا : فلا .................... لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اور اس قسم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض ” کیڑے “ سوچنے والے ” کیڑے “ ابھی تک سائنس کے نام پر اپنے اوپر رب تعالیٰ کے نور کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دراصل نہ سائنس دان ہیں اور نہ مومن۔ یہ جس طرح سائنس کے میدان میں پسماندہ ہیں ، اسی طرح دین کے میدان میں پسماندہ ہیں۔ اور لاشعوری طور پر یہ مادیت کے قید خانے میں مبتلا ہیں۔ اور اس مقام اور مرتبے سے پیچھے رہ گئے ہیں جو انسان جیسے مکرم مخلوق کے لائق ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں : فلا افسم .................... رب العلمین (14) (96 : 83 تا 34) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ، یہ ایک رسول کریم کا قول ہے ، کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے “۔ رسول اللہ پر اور قرآن پر جو الزامات مشرکین مکہ نے لگائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ شاعر ہیں۔ دوسرا یہ تھا کہ آپ کاہن ہیں اور یہ ان کا ایک سطحی شبہ تھا۔ اور یہ اس لئے ان کو لاحق ہوگیا تھا کہ یہ قرآن ایک لاجواب کلام تھا۔ اور عام لوگوں کے کلام سے اس کا معیار بہت بلند تھا۔ اور شاعر اس لئے کہتے تھے کہ ان کا یہ وہم تھا کہ شاعروں پر جن آتے ہیں اور وہ ان سے اس قسم کا کلام سنا کرتے ہیں۔ اسی طرح کاہنوں کو بھی وہ جنوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والے سمجھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ باتیں ان کو یہ جنات بتاتے ہیں۔ یہ شبہ بہت ہی سطحی تھا اور قرآن اور رسالت اور ذات رسول پر تدبر کرنے سے یہ جلدی ہی زائل ہوسکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ شعر میں بعض اوقات اچھی موسیقی ہوتی ہے ، اعلیٰ خیالات ہوتے ہیں ، خوبصورتی ہوتی ہے لیکن قرآن اور شاعری بالکل جدا چیزیں ہیں۔ دونوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ قرآن کریم ایک مکمل نظام زندگی عطا کرتا ہے اور یہ نظام سچائی پر مبنی ہے۔ اس کی بنیاد نظریہ توحید پر مبنی ہے۔ یہ اس کائنات کے ایک خالق پر ایمان کو ضروری سمجھتا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح اس کائنات کو ھبی زندہ اور مطیع رب سمجھتا ہے۔ جبکہ شعر چند تاثرات ، جذبات ، متفرق واقعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا نظام زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نہ ایک نظریہ پر مبنی ہوتا ہے ، جو خوشی اور غم ، آزادی اور قید اور محبت اور نفرت میں ایک ہو ، جبکہ شعر ان حالات میں یکسر بدل جاتا ہے اور مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ قرآن کریم نے جو تصور حیات پیش کیا ہے اس کی پہلی اینٹ بھی اسلام اور قرآن نے رکھی ہے۔ اس کے جزئیات ، اس کے اصول بھی ، سب کے سب قرآن نے دیئے اور اس عقیدے کے ساتھ دیئے کہ یہ سب من جانب اللہ ہے۔ اس تصور حیات کا منہاج ہی ایسا ہوتا ہے جو انسانی نہیں ہوسکتا۔ انسان کوئی ایسا جامع نظام اور تصور تجویز نہیں کرسکتا ، جس کی نہ پہلے کوئی مثال ہے اور نہ بعد میں۔ اس کے مقابلے میں انسانوں نے اس کائنات ، اس کی قوت خالقہ اور قوت مدبرہ کے بارے میں جو فلسفے گھڑے ہیں ، وہ بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جو علم فلسفہ ، علم شعر ، دوسرے فکری اور نظریاتی مکاتب میں تفصیل سے کتابوں میں موجود ہیں۔ جب ان کا تقابلی مطالعہ قرآن سے کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن بالکل کسی علیحدہ سرچشمے کا فیض ہے۔ یہ منفرد مزاج اور منفرد خصوصیات رکھتا ہے اور اس کے مقابلے میں انسانی تصورات پائے چوبیں کی طرح ہیں۔ اس طرح کہانت اور کاہنوں سے جو باتیں صادر ہوتی رہتی ہیں ، آج تک انسانی تاریخ میں کوئی کاہن ایسا نہیں گزرا جس نے ایک نظام زندگی ، فلسفہ زندگی اور نظام آخرت دیا ہو اور وہ اسی طرح کامل ، مکمل اور معقول ہو ، جس طرح قرآن کا پیش کردہ نظام معقول ہے۔ کاہنوں سے جو کچھ نقل ہوا ہے ، وہ یہ ہے کہ چند مہمل کلمات ، چند سجع اور قافیے جن میں تیر تکے لڑائے گئے ہیں اور ایک آدھ کہیں ، کوئی سنی سنائی حکمت کی بات بھی ہوتی ہوگی۔ لیکن قرآن کے اندر بعض ایسی جھلکیاں بھی ہیں جن پر غور کرنے سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کبھی اس طرح سوچ ہی نہیں سکتا۔ ہم نے فی ظلال القرآن میں ایسی بعض جھلکیاں دکھائی ہیں کہ نہ قرآن سے پہلے اور نہ بعد میں انسانوں کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہے۔ بعض آیات یہاں بھی غور کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ وعندہ .................... کتب مبین (6 : 95) ” اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحروبر میں جو کچھ ہے ، سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں ہوگا جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک وتر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے “۔ مثلا یہ تصور : یعلم مایلج ........................ تعملون بصیر (75 : 4) ” اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے ، اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے ، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے ، اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے ، جہاں بھی تم ہو اور جو کام بھی تم کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے “۔ یا مثلاً اس قسم کے خیال کی طرف۔ وما تحمل ........................ اللہ یسیر (53 : 11) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ اللہ کے لئے یہ بہت کچھ آسان کام ہے “۔ نیزنہ پہلے کسی انسان کو اس بات کا دھیان ہوا ، اور نہ بعد میں ہوگا کہ اللہ نے اس کائنات کو کس طرح تھام رکھا ہے۔ ان اللہ .................... من بعد (53 : 14) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی دوسراتھامنے والا نہیں ہے “۔ یا پھر یہ منظر کہ اس کائنات میں زندگی کس طرح پھوٹتی ہے اور خالق کائنات نے یہاں زندگی کے قیام کے لئے کس قدر انتظامات کیے ہیں اور موافق حالات بنائے ہیں : ان اللہ فالق .................................... یومنون (99) (6 : 99) ” دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ وہی زندہ کو مردے سے نکالتا ہے ، اور وہی مردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے۔ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو ؟ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کے طلوع اور غروب کا حساب مقرر کیا ہے۔ یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھہرائے ہوئے اندازے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے ایک جان سکے تم کو پیدا کیا ، پھر ہر ایک کے لئے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سوپنے جانے کی جگہ ہے۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ، اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی۔ پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے۔ پھر ان سے تہہ بہ تہہ جڑے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں۔ اور انگور ، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جدا جدا بھی۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو۔ ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ اس قسم کی جھلکیاں قرآن میں بہت زیادہ ہیں ، اور انسانی خیالات اور اسالیب کلام میں اس قسم کی باتیں نہیں ہوتیں۔ قرآن کے صرف یہی پہلو ، اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ یہ قرآن منجانب اللہ ہے۔ دوسرے دلائل سے اگر صرف نظر کردیاجائے جو خود اس کتاب کے اندر بھی ہیں اور ان حالات کے اندر بھی جن میں یہ کتاب نازل ہوئی تو اس کتاب کے اندر بعض ایسی باتیں ہیں جن کی طرف انسان خیال جاتا ہی نہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کے یہ شبہات سطحی ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا ، جس وقت قرآن کی چند سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ پورا قرآن ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت موجود تھی۔ اس کے اندر واضح اشارات تھے کہ اس کا سرچشمہ زمین پر نہیں ہے ، آسمان پر ہے۔ کبراء قریش اپنے دلوں میں یہ بات محسوس بھی کرتے تھے اور کبھی کبھار اپنے درمیان اس کا اعتراف بھی کرتے تھے۔ لیکن مفادات انسان کو اندھا کردیتے ہیں ، جن کے پیش نظر انسان ہدایت کی راہ پر آنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ایسے حالات کے بارے میں قرآن نے پیشگی کہہ دیا تھا کہ اب وہ اس قسم کے الزامات لگائیں گے کہ یہ ایک قدیم جھوٹ ہے۔ کتب سیرت میں متعدد واقعات نقل ہوئے ہیں کہ زعمائے قریش جب اپنے ہاں اس شب ہے کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو وہ خود تسلیم کرتے تھے کہ ان کی یہ بات غلط ہے۔ ابن اسحاق نے والید ابن مغیرہ اور نضر ابن الحارث اور عتبہ ابن ربیعہ کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے۔ ان میں سے پہلے شخص کے بارے میں اس نے نقل کیا ہے۔ ” پھر یہ ہوا کہ ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ جمع ہوئے۔ یہ ان میں معمر آدمی تھا ، اور موسم حج کا موسم آنے والا ہے۔ اور اس میں تمام عالم عرب سے وفود تمہارے پاس آئیں گے اور تمام عربوں نے تمہارے اس شخص کے بارے میں خبریں سن رکھی ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں اپنی آراء مجتمع کرلو اور ایک ہی بات کرو ، اور اس کے بارے میں باہم متضاد باتیں نہ کرو کہ خود تمہاری باتیں ایک دوسرے کو جھٹلادیں۔ اور تم خود اپنی تردید کرو۔ انہوں نے کہا ابو عبدالشمس سب سے پہلے تم ہی بتاﺅ اور ہمارے لئے ایک بات طے کردو ہم وہی کریں گے۔ اس نے کہا پہلے تم بتاﺅ کہ تمہاری آراء کیا ہیں ؟ بعض نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ یہ کاہن ہے۔ اس نے کہا یہ تو نہیں ، خدا کی قسم ! یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہن کو دیکھا ہے۔ اس کا کلام کاہنوں کی گنگناہٹ سے مختلف ہے۔ نہ کاہنوں جیسا سجع ہے ، اس میں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم یہ کہیں گے کہ یہ مجنون ہے۔ تو اس نے کہا مجنون بھی تو وہ نہیں ہے۔ ہم نے پاگلوں کو دیکھا ہے اور پاگلوں کو جانتے ہیں۔ نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ اسے کوئی ہم ہوا ہے ، نہ وسوسہ میں گرفتار ہے وہ۔ تو بعض نے کہا تو پھر اسے شاعر کہا جائے۔ تو اس نے کہا کہ وہ شاعر نہیں۔ ہم سب لوگ شعراء کو جانتی ہیں۔ اقسام شعر میں رجز ، ھزج ، قریض ، مقبوضہ ، مبسوط ، لہٰذا قرآن تو ان میں سے نہیں ہے۔ تو اس کے بعد کہا کہ پھر اسے ساحر اور جادوگر کہا جائے۔ تو اس نے کہا یہ تو جادو گر بھی نہیں ہے۔ جادوگروں کو ہم نے دیکھا ہوا ہے نہ یہ جادوگروں کی طرح پھونکتا ہے اور نہ یہ گانٹھیں باندھتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا : عبدالشمس تم ہب بتاﺅ کہ پھر ہم اسے کیا کہیں ؟ اس نے کہا :” خدا کی قسم اس کے کلام میں زبردست مٹھاس ہے ، اس کی جڑیں نہایت گہری ہیں اور شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور اس کی شاخوں میں پھل ہیں۔ تم ان باتوں میں سے جو بھی کہو گے عام آدمی کو معلوم ہوگا کہ یہ جھوٹ ہے۔ اور قریب ترین بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک جادو گر ہے۔ ایسا جادو لایا ہے کہ بیٹے کو باپ سے جدا کردیا ہے ، بہن کو بھائی سے الگ کردیا ہے ، خاوند کو بیوی سے جدا کردیا ہے۔ ایک شخص کو خاندان سے جدا کردیا ہے۔ وہ اس سے باتیں لے کر نکلے اور مکہ کی راہوں میں بیٹھ گئے۔ جب موسم حج میں لوگ آنے لگے تو جو بھی آتا وہ اس سے حضرت محمد ﷺ کی بات کرتے اور لوگوں کو ان سے ڈراتے۔ اور نضر ابن الحارث کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے کہا : ” اے قوم قریش ! خدا کی قسم تم پر ایک ایسی مصیبت آپڑی ہے جس کا کوئی علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ محمد تم میں ایک چھوٹا سا نو عمر بچہ تھا ، وہ تم میں سب کا محبوب تھا ، وہ تم میں سب سے سچا تھا ، وہ تم میں سب سے زیادہ امین تھا ، جب تم نے اس کے چہرے پر بڑھاپا دیکھا اور وہ بات تمہارے پاس لے کر آیا جو وہ لے کر آیا تو تم نے کہا یہ جادوگر ہے۔ نہیں خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے ، وہ جادوگر نہیں ہے۔ ہم نے جادوگروں کو دیکھا ہے۔ ان کی پھونک اور ان کی گانٹھوں کو بھی دیکھا۔ تم نے کہا کہ وہ کاہن ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! وہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ ان کے خلجانات کو بھی دیکھا ہے۔ ان کا مسجع کلام بھی سنا ہے تم کہتے ہو وہ شاعر ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! ایسا نہیں ، وہ شاعر نہیں ہے۔ ہم نے شعراء دیکھے ہیں اور شعراء کے اصناف شعر سے بھی ہم وقف ہیں۔ رجز ، ھزج وغیرہ۔ تم کہتے ہو کہ وہ مجنوں ہے۔ ہم نے مجنونوں کو دیکھا ہے ، نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ وہ وسوسوں کا شکار ہے اور نہ اس کی باتیں غلط سلط ہیں۔ اے گروہ قریش ! اپنے اس معاملے میں غور کرو ، خدا کی قسم ! میں سمجھتا ہوں تم پر ایک عظیم مصیبت آگئی ہے ....“ اس کی باتوں میں اور عتبہ کی باتوں میں پوری طرح یکسانیت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہو ، جو کبھی عتبہ کی طرف منسوب ہوگیا ہو اور کبھی نضر کی طرف۔ لیکن ، یہ بات بعید نہیں ہے کہ دونوں نے ایک ہی طرح کی بات کی ہو۔ کیونکہ دونوں قریش کے اکابر میں سے تھے۔ اور ان کے تاثرات قرآن کے بارے میں ایک ہی جیسے تھے۔ عتبہ کا جو موقف تھا اس کا قصہ اس سے قبل ہم نے سورة قلم کے ابتدائیہ میں بیان کردیا ہے۔ یہ موقف بھی حضور اکرم اور قرآن کے بارے میں ولید اور نضر کے قریب قریب تھا۔ غرض یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے کہ آپ ساحر ہیں یاکاہن ہیں ، کبھی تو یہ بطور عیاری ومکاری یوں کہتے تھے اور کبھی وہ محض مغالطہ انگیزی کے لئے کررہے تھے۔ اور اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ قرآن مجید بذات خود اس قدر واضح تھا کہ سنتے ہی لوگ اسے سمجھ لیتے تھے۔ اس لئے وہ قسم کا محتاج ہی نہ تھا کہ خدا ان چیزوں کی قسم اٹھائے جو معلوم ہویں اور جو معلوم نہیں ہیں۔ (سید قطب کے نزدیک آیات کے معنی یہ ہوں گے میں قسم نہیں اٹھاتا۔ لیکن ہندوستانی علماء کا ترجمہ درست ہے کہ (پس نہیں ، میں قسم اٹھاتا ہوں) ۔ بیشک یہ رسول کریم ﷺ کا قول ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ اور نہ کاہن کا کلام ہے۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہاں جو یہ کہا گیا کہ یہ رسول کریم کا قول ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ کلام تخلیق کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے طرز کا کلام ہے۔ شاعر اور کاہن ایسا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ ایسا کلام ایک رسول ہی پیش کرسکتا ہے۔ اللہ نے بھیجا اور اس کی طرف یہ نازل کیا اسی لئے بعدہ متصلا کہہ دیا گیا۔ تنزیل من رب العلمین (96 : 34) ” یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے “۔ اور یہ تعقیبات۔ قلیلاً ما تومنون (96 : 24) ” تم کم ایمان لاتے ہو “۔ قلیلا ما تذکرون (96 : 24) ” تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو “۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے ، اور تم نصیحت نہیں حاصل کرتے ۔ یہ انداز تعبیر مکمل نفی کے لئے عربی زبان میں عام تھا کہ مکمل نفی کو قلیل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ حدیث شریف میں آتا کہ حضور ﷺ (قلیل اللغو) تھے یعنی بالکل لغویات نہ کرتے تھے۔ یہاں مراد مکمل نفی ہے۔ ورنہ اگر کسی کا قلیل ایمان بھی ہو ، اور کوئی قلیل نصیحت بھی قرآن سے لیتا ہو ، وہ رسول اللہ کو شاعر ، کاہن نہیں کہہ سکتا بلکہ ایک کافر اور غافل ہی حضور ﷺ کے بارے میں ایسی بات کرسکتا ہے۔ اور آخر میں یہ خوفناک ڈراوا آتا ہے کہ جو بھی عقیدے کے بارے میں اللہ پر افتراء باندھے گا وہ اللہ کی گرفت میں آجائے گا۔ اور یہ تہدید اس ایک احتمال کی نفی بھی کردیتی ہے جو رہ جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے یہ اپنی طرف سے بنایا ہو۔ تو اللہ فرماتا ہے کہ آپ سچے ہیں اگر ہم پر وہ کوئی افتراء باندھتے تو ہم اسے سختی سے پکڑتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں جو قلیل تحریف بھی کرتا ہے ، وہ پکڑا جاتا ہے۔

الحاقة 69:44

ولو تقول .................... حجزین ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ خود تمہارے اقوال کے مطابق بھی صادق وامین ہیں۔ اور اگر انہوں نے اس کلام سے کوئی بات اپنی طرف سے بنائی ہوتی تو ہم اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور چونکہ آپ پر خدا کی پکڑ نہیں آئی ، اس لئے لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سچے ہیں۔ یہ تو تھا ایک مثبت استدلالی نظریہ اور ثبوت ، لیکن جس انداز میں یہ بات کی گئی ہے وہ ایک مکمل اور متحرک منظر کا انداز ہے۔ مثلاً یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ایک قوی تر انسان باز پرس کے لئے کسی کو پکڑ لے اپنے دائیں ہاتھ سے ، اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دے۔ یہ بھی نہایت ہی سخت اور متاثر کردینے والا منظر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت کس قدر عظیم ہے اور اس کے سامنے انسان کس قدر عاجز ہے۔ سب کے سب انسان اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ، اسلامی عقائد ، دین سے استدلالی اور تمام دینی مباحث ، نہایت ذمہ داری کا کام ہے۔ اور اس میں ہر شخص کو ذمہ داری سے اقدام و کلام کرنا چاہئے ، جبکہ حضرت محمد ﷺ کو یہ دھمکی دی گئی ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ، جو اسلام کے بارے میں لاپرواہ ہوکر کلام کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہایت خوف ، ڈر اور احتیاط اور خضوع وخشوع کا مقام ہے اور محتاط رہنے کا کلام ہے۔

الحاقة 69:45

ولو تقول .................... حجزین ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ خود تمہارے اقوال کے مطابق بھی صادق وامین ہیں۔ اور اگر انہوں نے اس کلام سے کوئی بات اپنی طرف سے بنائی ہوتی تو ہم اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور چونکہ آپ پر خدا کی پکڑ نہیں آئی ، اس لئے لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سچے ہیں۔ یہ تو تھا ایک مثبت استدلالی نظریہ اور ثبوت ، لیکن جس انداز میں یہ بات کی گئی ہے وہ ایک مکمل اور متحرک منظر کا انداز ہے۔ مثلاً یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ایک قوی تر انسان باز پرس کے لئے کسی کو پکڑ لے اپنے دائیں ہاتھ سے ، اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دے۔ یہ بھی نہایت ہی سخت اور متاثر کردینے والا منظر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت کس قدر عظیم ہے اور اس کے سامنے انسان کس قدر عاجز ہے۔ سب کے سب انسان اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ، اسلامی عقائد ، دین سے استدلالی اور تمام دینی مباحث ، نہایت ذمہ داری کا کام ہے۔ اور اس میں ہر شخص کو ذمہ داری سے اقدام و کلام کرنا چاہئے ، جبکہ حضرت محمد ﷺ کو یہ دھمکی دی گئی ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ، جو اسلام کے بارے میں لاپرواہ ہوکر کلام کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہایت خوف ، ڈر اور احتیاط اور خضوع وخشوع کا مقام ہے اور محتاط رہنے کا کلام ہے۔

الحاقة 69:46

ولو تقول .................... حجزین ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ خود تمہارے اقوال کے مطابق بھی صادق وامین ہیں۔ اور اگر انہوں نے اس کلام سے کوئی بات اپنی طرف سے بنائی ہوتی تو ہم اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور چونکہ آپ پر خدا کی پکڑ نہیں آئی ، اس لئے لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سچے ہیں۔ یہ تو تھا ایک مثبت استدلالی نظریہ اور ثبوت ، لیکن جس انداز میں یہ بات کی گئی ہے وہ ایک مکمل اور متحرک منظر کا انداز ہے۔ مثلاً یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ایک قوی تر انسان باز پرس کے لئے کسی کو پکڑ لے اپنے دائیں ہاتھ سے ، اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دے۔ یہ بھی نہایت ہی سخت اور متاثر کردینے والا منظر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت کس قدر عظیم ہے اور اس کے سامنے انسان کس قدر عاجز ہے۔ سب کے سب انسان اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ، اسلامی عقائد ، دین سے استدلالی اور تمام دینی مباحث ، نہایت ذمہ داری کا کام ہے۔ اور اس میں ہر شخص کو ذمہ داری سے اقدام و کلام کرنا چاہئے ، جبکہ حضرت محمد ﷺ کو یہ دھمکی دی گئی ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ، جو اسلام کے بارے میں لاپرواہ ہوکر کلام کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہایت خوف ، ڈر اور احتیاط اور خضوع وخشوع کا مقام ہے اور محتاط رہنے کا کلام ہے۔

الحاقة 69:47

ولو تقول .................... حجزین ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ خود تمہارے اقوال کے مطابق بھی صادق وامین ہیں۔ اور اگر انہوں نے اس کلام سے کوئی بات اپنی طرف سے بنائی ہوتی تو ہم اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور چونکہ آپ پر خدا کی پکڑ نہیں آئی ، اس لئے لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سچے ہیں۔ یہ تو تھا ایک مثبت استدلالی نظریہ اور ثبوت ، لیکن جس انداز میں یہ بات کی گئی ہے وہ ایک مکمل اور متحرک منظر کا انداز ہے۔ مثلاً یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ایک قوی تر انسان باز پرس کے لئے کسی کو پکڑ لے اپنے دائیں ہاتھ سے ، اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دے۔ یہ بھی نہایت ہی سخت اور متاثر کردینے والا منظر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت کس قدر عظیم ہے اور اس کے سامنے انسان کس قدر عاجز ہے۔ سب کے سب انسان اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ، اسلامی عقائد ، دین سے استدلالی اور تمام دینی مباحث ، نہایت ذمہ داری کا کام ہے۔ اور اس میں ہر شخص کو ذمہ داری سے اقدام و کلام کرنا چاہئے ، جبکہ حضرت محمد ﷺ کو یہ دھمکی دی گئی ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ، جو اسلام کے بارے میں لاپرواہ ہوکر کلام کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہایت خوف ، ڈر اور احتیاط اور خضوع وخشوع کا مقام ہے اور محتاط رہنے کا کلام ہے۔

الحاقة 69:48

اب آخری اختتامیہ آتا ہے۔ اس میں فیصلہ کن بات بیان کردی جاتی ہے اس دین کی حقیقت کیا ہے ؟ وانہ .................... لحق الیقین ” یہ قرآن صرف ان دلوں کو نصیحت دے سکتا ہے جن کے اندر جو ابدہی کا کسی قدر خوف ہو یعنی جس حقیقت کو قرآن لے کر آیا ہے ، وہ ان کے دلوں کے اندر موجود ہو۔ اور قرآن ان کو یاد دلائے کہ اسے بھی یاد کرو ، اور دلوں کو اس پر ابھارے۔ رہے وہ لوگ جو سرے سے ڈرتے ہی نہیں تو ان کے دل غافل اور اندھے ہیں ، مسخ شدہ ہیں۔ وہ نور معرفت اور نصیحت سے محروم ہیں اور نہ قرآن ان کے لئے مفید ہے۔

الحاقة 69:49

وانا .................... مکذبین (96 : 94) ” اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں “۔ لیکن بعض لوگوں کے جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدل جاتی ۔ اس طرح تمہارا یہ فعل حقائق کو نہیں بدل سکتا۔

الحاقة 69:50

وانہ .................... الکفرین (96 : 05) ” ایسے کافروں کے لئے یہ یقینا موجب حسرت ہے “۔ اس لئے کہ یہ قرآن اہل ایمان کی تو شان بلند کرتا ہے جبکہ تکذیب کرنے والوں کی حیثیت کو گراتا ہے اور آخر کار تو حق نے غالب ہونا ہے۔ اور مکذبین نے ذلیل ہونا ہے۔ عنقریب ایسا ہوگا اور پھر ان کے لئے یہ موجب حسرت ہوگا اور قیامت کے دن بھی ان پر یہ حجت ہوگا اور موجب حسرت ہوگا کیونکہ تکذیب کی وجہ سے ان کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ لہٰذا دنیا اور آخرت دونوں میں ان کے لئے موجب حسرت ہوگا۔

الحاقة 69:51

وانہ ............ الیقین (96 : 15) ” اور یہ بالکل یقینی حق ہے “۔ جھٹلانے والوں کے جھٹلانے کے باوجود یہ حق ہے۔ یقینی ہے۔ صرف یقینی نہیں بلکہ حق الیقین ہے۔ حق الیقین ایک خاص انداز کی تاکید ہے جو لفظاً بھی زور دار ہے اور معناً بھی تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سچائی میں یہ گہرا ہے۔ یقین میں نہایت گہرا ہے اور جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے یہ حق اور سچائی ہے۔ ایک ایک آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا سرچشمہ خدا تعالیٰ ہے۔ یہ ہے اس دین کا مزاج اور طبیعت اور یقینی نتیجہ۔ نہ یہ شاعری ہے نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے۔ نہ یہ اللہ پر افتراء ہے۔ بلکہ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے اور یہ متقی لوگوں کے لئے تذکرہ اور یاد دہانی ہے۔ اور حق الیقین ہے۔

الحاقة 69:52

اب آخر میں رسول کریم ﷺ کو آخری ہدایات دی جاتی ہیں۔ گزشتہ مباحث کے بعد اس قسم کی تلقین کا بہترین اور مناسب وقت ہے۔ لہٰذا یہ نہایت ہی بروقت ہدایت ہے۔ فسبح .................... العظیم ” ۔ ایسی تسبیح جس میں اللہ کی پاکی بھی ہو اور اللہ کی بڑائی بھی۔ جس میں اعتراف حق بھی ہو اور تحقیق حق بھی ہو۔ جس میں عبودیت بھی ہوا اور خضوع وخشوع بھی ہو۔ اس طویل بحث و مباحثہ کے بعد جس میں اللہ کی عظیم قدرتوں کا بیان ہوا ، اور رب کریم کی عظمت کا بیان کیا گیا ہے۔ دلوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جاتا ہے کہ اللہ رب عظیم ہے۔

المعارج 70:1

مشرکین عرب کے نزدیک حقیقت آخرت کو سمجھنا نہایت ہی مشکل کام تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ نے ان کے سامنے یہ حقیقت پیش فرمائی تو انہوں نے اس کے مقابلے میں سخت نفسیاتی رد عمل کا اظہار کیا۔ یہ لوگ اسے نہایت تعجب انگیز ، عجیب و غریب اور ایک خوفناک قسم کا نظریہ سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بڑی سختی سے اس کا انکار کیا۔ اور مختلف انداز میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چیلنج کیا کہ آپ یہ دن لاکر دکھائیں۔ کبھی کہا اس کا وقت ہی بتا دیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے عذاب قیامت لانے کے بارے میں سوال کیا تھا ، وہ نضر ابن حارث تھا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ کفار کی طرف سے سوال تھا کہ لاﺅ عذاب اور اللہ نے فرمایا مانگنے کی ضرورت نہیں ہے وہ تو کفار پر آنے ہی والا ہے۔ بہرحال کوئی تھا جس نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آجائے قیامت اور ہوجائے ان کو عذاب۔ تو اللہ نے فرمایا کہ یہ بہت جلد آنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ نے اسے مقدر کردیا ہے تم اسے بعید سمجھتے ہو ، لیکن ہے یہ قریب ، اور کوئی اسے دفع نہیں کرسکتا اور نہ روک سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے بارے میں مطالبہ کرنا جبکہ وہ واقع ہونے ہی والا ہے ، سوال کرنے والے کی بدنصیبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ سوال کرنے والا ایک ہو یا بہت سے سوال کرنے والے ہوں ، بہرحال سوال کیا گیا تھا۔ کافرین مطلقاً عذاب کے مستحق ہیں ، چاہے وہ قیامت کے بارے میں سوال کریں یا نہ کریں اور یہ عذاب وقوع پذیر ہونے والا ہے ، اس اللہ کی طرف سے ، جو عروج کے زینوں کا مالک ہے ، جو ہر قسم کی برتری کا مستحق ہے اور جو بڑے درجوں والا اور صاحب عرش عظیم ہے۔ اس افتتاحی فقرے کے بعد ، جس میں عذاب کے موضوع پر فیصلہ کن بات کردی گئی کہ یہ واقع ہوگا ، فلاں فلاں اس کے مستحق ہوں گے ، یہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا ، جو نہایت ہی بلند اور قوتوں والا ہے ، اور اس کے بارے میں جو فیصلہ ہے وہ نافذ ہونے والا ہے ، کوئی قوت اسے رد کرنے والی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ عالم بالا کا ہے ، اب اس یوم العذاب کی تفصیلات اور اس دن کے واقعات پائے جاتے ہیں ، جس کے بارے میں یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں۔ یہر قریب ہے لیکن اللہ کے ہاں زمانوں کا حساب انسانوں کے زمانوں کے حساب سے بہت ہی مختلف ہے۔ اللہ کے اندازوں اور انسانوں کے اندازوں کے درمیان بہت فرق ہے۔ اللہ کے معیار اور انسان کے معیار مختلف ہیں۔

المعارج 70:2

مشرکین عرب کے نزدیک حقیقت آخرت کو سمجھنا نہایت ہی مشکل کام تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ نے ان کے سامنے یہ حقیقت پیش فرمائی تو انہوں نے اس کے مقابلے میں سخت نفسیاتی رد عمل کا اظہار کیا۔ یہ لوگ اسے نہایت تعجب انگیز ، عجیب و غریب اور ایک خوفناک قسم کا نظریہ سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بڑی سختی سے اس کا انکار کیا۔ اور مختلف انداز میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چیلنج کیا کہ آپ یہ دن لاکر دکھائیں۔ کبھی کہا اس کا وقت ہی بتا دیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے عذاب قیامت لانے کے بارے میں سوال کیا تھا ، وہ نضر ابن حارث تھا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ کفار کی طرف سے سوال تھا کہ لاﺅ عذاب اور اللہ نے فرمایا مانگنے کی ضرورت نہیں ہے وہ تو کفار پر آنے ہی والا ہے۔ بہرحال کوئی تھا جس نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آجائے قیامت اور ہوجائے ان کو عذاب۔ تو اللہ نے فرمایا کہ یہ بہت جلد آنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ نے اسے مقدر کردیا ہے تم اسے بعید سمجھتے ہو ، لیکن ہے یہ قریب ، اور کوئی اسے دفع نہیں کرسکتا اور نہ روک سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے بارے میں مطالبہ کرنا جبکہ وہ واقع ہونے ہی والا ہے ، سوال کرنے والے کی بدنصیبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ سوال کرنے والا ایک ہو یا بہت سے سوال کرنے والے ہوں ، بہرحال سوال کیا گیا تھا۔ کافرین مطلقاً عذاب کے مستحق ہیں ، چاہے وہ قیامت کے بارے میں سوال کریں یا نہ کریں اور یہ عذاب وقوع پذیر ہونے والا ہے ، اس اللہ کی طرف سے ، جو عروج کے زینوں کا مالک ہے ، جو ہر قسم کی برتری کا مستحق ہے اور جو بڑے درجوں والا اور صاحب عرش عظیم ہے۔ اس افتتاحی فقرے کے بعد ، جس میں عذاب کے موضوع پر فیصلہ کن بات کردی گئی کہ یہ واقع ہوگا ، فلاں فلاں اس کے مستحق ہوں گے ، یہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا ، جو نہایت ہی بلند اور قوتوں والا ہے ، اور اس کے بارے میں جو فیصلہ ہے وہ نافذ ہونے والا ہے ، کوئی قوت اسے رد کرنے والی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ عالم بالا کا ہے ، اب اس یوم العذاب کی تفصیلات اور اس دن کے واقعات پائے جاتے ہیں ، جس کے بارے میں یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں۔ یہر قریب ہے لیکن اللہ کے ہاں زمانوں کا حساب انسانوں کے زمانوں کے حساب سے بہت ہی مختلف ہے۔ اللہ کے اندازوں اور انسانوں کے اندازوں کے درمیان بہت فرق ہے۔ اللہ کے معیار اور انسان کے معیار مختلف ہیں۔

المعارج 70:3

مشرکین عرب کے نزدیک حقیقت آخرت کو سمجھنا نہایت ہی مشکل کام تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ نے ان کے سامنے یہ حقیقت پیش فرمائی تو انہوں نے اس کے مقابلے میں سخت نفسیاتی رد عمل کا اظہار کیا۔ یہ لوگ اسے نہایت تعجب انگیز ، عجیب و غریب اور ایک خوفناک قسم کا نظریہ سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بڑی سختی سے اس کا انکار کیا۔ اور مختلف انداز میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چیلنج کیا کہ آپ یہ دن لاکر دکھائیں۔ کبھی کہا اس کا وقت ہی بتا دیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے عذاب قیامت لانے کے بارے میں سوال کیا تھا ، وہ نضر ابن حارث تھا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ کفار کی طرف سے سوال تھا کہ لاﺅ عذاب اور اللہ نے فرمایا مانگنے کی ضرورت نہیں ہے وہ تو کفار پر آنے ہی والا ہے۔ بہرحال کوئی تھا جس نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آجائے قیامت اور ہوجائے ان کو عذاب۔ تو اللہ نے فرمایا کہ یہ بہت جلد آنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ نے اسے مقدر کردیا ہے تم اسے بعید سمجھتے ہو ، لیکن ہے یہ قریب ، اور کوئی اسے دفع نہیں کرسکتا اور نہ روک سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے بارے میں مطالبہ کرنا جبکہ وہ واقع ہونے ہی والا ہے ، سوال کرنے والے کی بدنصیبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ سوال کرنے والا ایک ہو یا بہت سے سوال کرنے والے ہوں ، بہرحال سوال کیا گیا تھا۔ کافرین مطلقاً عذاب کے مستحق ہیں ، چاہے وہ قیامت کے بارے میں سوال کریں یا نہ کریں اور یہ عذاب وقوع پذیر ہونے والا ہے ، اس اللہ کی طرف سے ، جو عروج کے زینوں کا مالک ہے ، جو ہر قسم کی برتری کا مستحق ہے اور جو بڑے درجوں والا اور صاحب عرش عظیم ہے۔ اس افتتاحی فقرے کے بعد ، جس میں عذاب کے موضوع پر فیصلہ کن بات کردی گئی کہ یہ واقع ہوگا ، فلاں فلاں اس کے مستحق ہوں گے ، یہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا ، جو نہایت ہی بلند اور قوتوں والا ہے ، اور اس کے بارے میں جو فیصلہ ہے وہ نافذ ہونے والا ہے ، کوئی قوت اسے رد کرنے والی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ عالم بالا کا ہے ، اب اس یوم العذاب کی تفصیلات اور اس دن کے واقعات پائے جاتے ہیں ، جس کے بارے میں یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں۔ یہر قریب ہے لیکن اللہ کے ہاں زمانوں کا حساب انسانوں کے زمانوں کے حساب سے بہت ہی مختلف ہے۔ اللہ کے اندازوں اور انسانوں کے اندازوں کے درمیان بہت فرق ہے۔ اللہ کے معیار اور انسان کے معیار مختلف ہیں۔

المعارج 70:4

تعرج الملئکة ........................ قریبا (7) (08 : 4 تا 7) ” اور روح اس کے حضور ﷺ چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ پس اے نبی صبر کرو ، شائستہ صبر۔ یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ راجح بات یہ ہے کہ جس دن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، وہ قیامت کا دن ہے کیونکہ سیاق کلام میں یہ معنی متعین نہیں ہیں۔ اس دن ملائکہ اور روح اللہ کی طرف چڑھتے ہیں اور روح سے مراد راجح روایت کے مطابق حضرت جبرئیل ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر ان کو اسی نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ ملائکہ کے بعد خصوصاً ان کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اہم مرتبہ ہے اور اس دن کے حوالے سے یہ ذکر کو ملائکہ اور روح الامین اس دن اوپر جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم دن ہوگا۔ اور اس کی یہ خصوصیت ہوگی۔ اور وہ اس دن اس کے انتظامات اور معاملات کے بارے میں اوپر جائیں گے اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں اللہ نے اس کا مکلف بنایا ہے کہ ہم جانیں کہ ان کی یہ دوڑ دھوپ کن معاملات کے لئے ہوگی اور نہ یہ کہ یہ فرشتے کس طرح چڑھیں گے اور کہاں جائیں گے چڑھ کر ؟ یہ عالم غیب سے متعلق امور ہیں اور اس آیت کے مفہوم میں ان سے کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اور کوئی دلیل بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ بس یہ کہ وہ بہت ہی اہم دن ہوگا ، جس میں اس قدر اہم لوگ بہت ہی زیادہ مشغول ہوں گے۔ رہی یہ تعبیر۔ کان مقدارہ ................ سنة (08 : 4) تو اس سے مراد طویل زمانہ بھی ہوسکتا ہے اور عربی اسالیب میں یہ استعمال عام ہے ، اور اس سے مراد کوئی متعین وقت بھی ہوسکتا ہے او یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فی الواقعہ دنیا کے سالوں کی طرح یہ پچاس ہزار سال کا ایک طویل دن ہو۔ ہمارے زمانے میں یہ حقیقت قریب الفہم ہوگئی ہے کیونکہ ہمارا دن تو زمین کی گردش محوری سے بنتا ہے اور یہ گردش چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوجاتی ہے اور ایسے ستارے بھی ہیں جن کی گردش محور ہمارے اس ستارے زمین کی گردش سے کئی ہزار گنا زیادہ وقت میں مکمل ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ گویا ستر ہزار سالوں یا پچاس ہزار سالوں سے مراد کوئی متعین زمانہ ہے بلکہ اس سے مراد ایک معیار ہے اللہ کے معیاروں میں ہے۔ اور اللہ کے ایام میں سے ایک دن اگر پچاس ہزار سال کے برابر ہے تو قیامت کے عذاب کو یہ لوگ جو دور دیکھتے ہیں ، وہ اللہ کے نزدیک قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ صبر جمیل سے کام لیں اور ان کی تکذیب اور عذاب آخرت کے بارے میں شتابی سے پریشان نہ ہوں۔

المعارج 70:5

فاصبر .................... قریبا (7) (07 : 5 تا 7) ” (پس صبر کرو شائستہ صبر ، یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ صبر کی ہدایت پر دعوت ہر داعی کو دی جاتی رہی ہے۔ ہر رسول کو یہی ہدایت کی گئی کہ صبر کریں اور رسولوں کے متبعین مومنین کو بھی صبر جمیل کی ہدایت کی گئی۔ یہ راہ جس قدر دشوار گزار ہے اور یہ دعوت جس قدر بھاری ہے ، اور اس میں کمزور نفس انسانی کو لغزشوں سے بچانے کی جس قدر ضرورت ہے ، اس کی اہمیت عیاں ہے کیونکہ اسلامی انقلاب کا ہدف دورنظر آتا ہے اور مقصد اور منزل افق میں بہت دور اور بلندی پر ہوتی ہے۔ صبر جمیل سے مراد وہ صبر ہے جس سے صبر کرنے والا مطمئن ہو ، اس کے دوران صبر کرنے والا مصیبت ، بےچینی اور شک کا احساس نہ رکھتا ہو۔ اسے یقین ہو کہ اس کے ساتھ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ سچا ہے۔ صبر کرنے والے کی کیفیت یہ ہو کہ اس کا انجام بہتر ہونے والا ہے ، جو اللہ کی تقدیر پر راضی ہو اور جو ابتلاء آرہی ہے ، وہ یقین رکھتا ہو کہ اس میں حکمت الٰہی مضمر ہے۔ اور صبر کرنے والا یہ سمجھتا ہو کہ جو مصیبت بھی اس پر آنی ہے وہ اللہ کی طرف سے آرہی ہے۔ اور اسے اس کا اجر دیا جائے گا۔ یہی وہ صبر ہے جسے صبر جمیل کہا گیا ہے۔ اور یہی صبر ایک داعی کو زیب دیتا ہے کیونکہ وہ اللہ کی طرف بلاتا ہے ، اللہ کی دعوت دیتا ہے۔ اس میں اس کا اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس دعوت کے ساتھ اس کے ذاتی مفادات وابستہ نہیں۔ اس لئے اس پر جو مصائب آرہے ہیں وہ اللہ کی راہ میں ہیں اور اس کے بارے میں جو فیصلے ہوتے ہیں وہ اللہ کے فیصلے ہیں۔ اس لئے صبر جمیل وہ ہے جو حقیقت پسندانہ اور شائستہ ہو۔ اور اس صبر کرنے والے کو ان امور کا گہرا شعور ہو۔ یہ دعوت جس کے مقابلے میں مکذبین کھڑے ہوجاتے ہیں ، اور اس کی راہ روکتے ہیں ، یہ اللہ کی دعوت ہے اور قیامت جس کی وہ تکذیب کرتے ہیں اور اس کے برپا ہونے کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ یہ بھی اس کی دعوت ہے اور وہی ہے جو اپنی تدبیر اور حکمت کے مطابق اس کے قیام کے وقت کا تعین کرتا ہے۔ لیکن لوگ اس تدبیر اور تقدیر کو سمجھ نہیں پاتے۔ اور جلدی مچاتے ہیں۔ اور جب وقت زیادہ گزر جائے تو وہ اس میں شک کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو خود داعی سخت بےچینی محسوس کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں بھی یہ رغبت اور خواہش پیدا ہوجاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ جلدی ہی سامنے آجائے اور ایسے ہی اوقات میں داعی کو ایسی ہدایت کی جاتی ہے۔ فاصبر ............ جمیلا (08 : 7) ” صبر کرو ، شائستہ صبر “۔ یہاں خطا رسول اللہ ﷺ کو ہے ، تاکہ آپ کا قلب مبارک مخالفت اور تکذیب کے دکھ کو برداشت کرلے۔ اور اس کے ساتھ دوسری حقیقت کو سمجھ لے کہ واقعات ومعاملات کے پیمانے اللہ کے ہاں اور ہوتے ہیں اور لوگوں کے ہاں اور۔

المعارج 70:6

انھم ........................ قریبا (08 : 7) ” یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ اس کے بعد اس دن کے مناظر پیش کیے جاتے ہیں ، جس میں واقع ہونے والا عذاب آئے گا ، جسے وہ بعید سمجھتے ہیں اور اللہ اسے قریب سمجھتا ہے۔ یہ مناظر اس کائنات میں ہیں اور انسان کی نفسیاتی دنیا کے اندر بھی۔ یہ اس قدر ہولناک ہوں گے کہ انسان کے اوسان خطا ہوجائیں گے اور اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر زلزلہ برپا ہوگا۔

المعارج 70:7

انھم ........................ قریبا (08 : 7) ” یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ اس کے بعد اس دن کے مناظر پیش کیے جاتے ہیں ، جس میں واقع ہونے والا عذاب آئے گا ، جسے وہ بعید سمجھتے ہیں اور اللہ اسے قریب سمجھتا ہے۔ یہ مناظر اس کائنات میں ہیں اور انسان کی نفسیاتی دنیا کے اندر بھی۔ یہ اس قدر ہولناک ہوں گے کہ انسان کے اوسان خطا ہوجائیں گے اور اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر زلزلہ برپا ہوگا۔

المعارج 70:8

یوم تکون ................ کالعھن (07 : 9) ” جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔ مہل کے معنی ہیں خام معدنیات کو پگھلانا مثلا تیل کی تلجھٹ ، اور العہن کے معنی ہیں اون کا منقش کپڑا۔ قرآن کریم مختلف مقامات میں یہ اطلاع دیتا ہے کہ اس دن عظیم واقعات رونما ہوں گے۔ ان کی وجہ سے اس دنیا کے اجرام فلکی کی موجودہ حالت نہیں رہے گی۔ ان کے اوصاف ، حالات اور شکل بدل جائے گی اور ان میں سے ایک یہ آسمان یوں ہوجائے گا جس طرح پگھلی ہوئی معدنیات۔ اور جو لو علوم طبیعیہ پر تحقیقات کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ ان آیات پر غور کریں۔ ان کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ تمام فلکی اجرام دراصل پگھلے ہوئے مادے سے منجمد ہوئے ہیں ، یہاں تک کہ یہ مادہ گیس کی شکل میں تھا اور گیس کا درجہ پگھلنے اور سیال ہونے کی حالت کے بعد بھی آتا ہے۔ شاید یہ تمام مادہ قیامت کے دن بجھ جائے گا۔ جس طرح کہا گیا۔ واذا ............ انکدرت ” اور جب ستارے تاریک ہوجائیں گے “۔ اور ٹھنڈے ہوکر سیال ہوجائیں گے ، یوں ان کی گیس کی طبیعت میں تبدیلی ہوجائے گی۔ بہرحال یہ تو ایک احتمال ہے اور اس زاویہ سے تحقیقات کرنے والوں کی دلچسپی اس میں ہوسکتی ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں جو آیت کا مفہوم ہے۔ اور جس میں یہ خوفناک نقشہ کھینچا گیا ہے کہ آسمان پگھلے ہوئے مواد کی طرح ہوں گے ۔ اور پہاڑ دھنکے ہوئے متلون اون کی طرح ہوں گے۔ اور نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا جس کی تعبیر قرآن اس خوفناک الفاظ میں کررہا ہے۔

المعارج 70:9

یوم تکون ................ کالعھن (07 : 9) ” جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔ مہل کے معنی ہیں خام معدنیات کو پگھلانا مثلا تیل کی تلجھٹ ، اور العہن کے معنی ہیں اون کا منقش کپڑا۔ قرآن کریم مختلف مقامات میں یہ اطلاع دیتا ہے کہ اس دن عظیم واقعات رونما ہوں گے۔ ان کی وجہ سے اس دنیا کے اجرام فلکی کی موجودہ حالت نہیں رہے گی۔ ان کے اوصاف ، حالات اور شکل بدل جائے گی اور ان میں سے ایک یہ آسمان یوں ہوجائے گا جس طرح پگھلی ہوئی معدنیات۔ اور جو لو علوم طبیعیہ پر تحقیقات کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ ان آیات پر غور کریں۔ ان کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ تمام فلکی اجرام دراصل پگھلے ہوئے مادے سے منجمد ہوئے ہیں ، یہاں تک کہ یہ مادہ گیس کی شکل میں تھا اور گیس کا درجہ پگھلنے اور سیال ہونے کی حالت کے بعد بھی آتا ہے۔ شاید یہ تمام مادہ قیامت کے دن بجھ جائے گا۔ جس طرح کہا گیا۔ واذا ............ انکدرت ” اور جب ستارے تاریک ہوجائیں گے “۔ اور ٹھنڈے ہوکر سیال ہوجائیں گے ، یوں ان کی گیس کی طبیعت میں تبدیلی ہوجائے گی۔ بہرحال یہ تو ایک احتمال ہے اور اس زاویہ سے تحقیقات کرنے والوں کی دلچسپی اس میں ہوسکتی ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں جو آیت کا مفہوم ہے۔ اور جس میں یہ خوفناک نقشہ کھینچا گیا ہے کہ آسمان پگھلے ہوئے مواد کی طرح ہوں گے ۔ اور پہاڑ دھنکے ہوئے متلون اون کی طرح ہوں گے۔ اور نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا جس کی تعبیر قرآن اس خوفناک الفاظ میں کررہا ہے۔

المعارج 70:10

ولا یسئل ............................ ینجیہ (41) (07 : 01 تا 41) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔ لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک مدہوس کردینے والا خوف ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگوں کے تمام روابط منقطع ہوں گے اور ہر شخص اپنے مسائل اور اپنی پریشانی میں گھرا ہوگا۔ وہ ایک دوسرے پر پیش کیے جائیں گے اور ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور عمداً ایسا کیا جائے گا لیکن ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی۔ ہر ضمیر کا اپنا شغل ہوگا۔ لہٰذا دوست دوست کو نہ پوچھے گا ، نہ کوئی کسی سے مدد طلب کرسکے گا۔ اور مجرم کا حال کیا ہوگا ؟ اس کی جان خوف کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس کا احساس ہی جاتا رہے گا اور وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنی عزیز ترین متاع دینے کے لئے تیار ہوگا۔ جبکہ اس زندگی میں وہ اس متاع پر جان چھڑکتا تھا ، اور اس کی پوری زندگی ان کے لئے تھی۔ مثلاً اولاد ، بیوی ، بھائی ، خاندان جو حامی و مددگار ہوتا ہے۔ بلکہ اس دن اپنی جان کو بچانے کے لئے تو وہ اس پوری دنیا کے اموال واقتدار کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوگا ، کہ کسی طرح نجات پاجائے۔ رنج والم کی یہ کس قدر بھیانک تصویر ہے۔ یہ شخص نیم مدہوش ہے اور پوری کائنات بخشنے کے لئے تیار ہے۔ یہ انداز تعبیر قرآن کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ ہے مجرم کی حالت ، یہ ہیں اس کی تمنائیں کہ اس حالت میں وہ ایسے حالات دیکھتا ہے کہ امید کی آخری چنگاری بھی بجھ جاتی ہے ، جھوٹی تمنائیں ختم ہوجاتی ہیں اور اصل اور حقیقی صورت حالات سامنے آتی ہے۔

المعارج 70:11

ولا یسئل ............................ ینجیہ (41) (07 : 01 تا 41) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔ لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک مدہوس کردینے والا خوف ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگوں کے تمام روابط منقطع ہوں گے اور ہر شخص اپنے مسائل اور اپنی پریشانی میں گھرا ہوگا۔ وہ ایک دوسرے پر پیش کیے جائیں گے اور ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور عمداً ایسا کیا جائے گا لیکن ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی۔ ہر ضمیر کا اپنا شغل ہوگا۔ لہٰذا دوست دوست کو نہ پوچھے گا ، نہ کوئی کسی سے مدد طلب کرسکے گا۔ اور مجرم کا حال کیا ہوگا ؟ اس کی جان خوف کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس کا احساس ہی جاتا رہے گا اور وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنی عزیز ترین متاع دینے کے لئے تیار ہوگا۔ جبکہ اس زندگی میں وہ اس متاع پر جان چھڑکتا تھا ، اور اس کی پوری زندگی ان کے لئے تھی۔ مثلاً اولاد ، بیوی ، بھائی ، خاندان جو حامی و مددگار ہوتا ہے۔ بلکہ اس دن اپنی جان کو بچانے کے لئے تو وہ اس پوری دنیا کے اموال واقتدار کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوگا ، کہ کسی طرح نجات پاجائے۔ رنج والم کی یہ کس قدر بھیانک تصویر ہے۔ یہ شخص نیم مدہوش ہے اور پوری کائنات بخشنے کے لئے تیار ہے۔ یہ انداز تعبیر قرآن کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ ہے مجرم کی حالت ، یہ ہیں اس کی تمنائیں کہ اس حالت میں وہ ایسے حالات دیکھتا ہے کہ امید کی آخری چنگاری بھی بجھ جاتی ہے ، جھوٹی تمنائیں ختم ہوجاتی ہیں اور اصل اور حقیقی صورت حالات سامنے آتی ہے۔

المعارج 70:12

ولا یسئل ............................ ینجیہ (41) (07 : 01 تا 41) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔ لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک مدہوس کردینے والا خوف ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگوں کے تمام روابط منقطع ہوں گے اور ہر شخص اپنے مسائل اور اپنی پریشانی میں گھرا ہوگا۔ وہ ایک دوسرے پر پیش کیے جائیں گے اور ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور عمداً ایسا کیا جائے گا لیکن ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی۔ ہر ضمیر کا اپنا شغل ہوگا۔ لہٰذا دوست دوست کو نہ پوچھے گا ، نہ کوئی کسی سے مدد طلب کرسکے گا۔ اور مجرم کا حال کیا ہوگا ؟ اس کی جان خوف کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس کا احساس ہی جاتا رہے گا اور وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنی عزیز ترین متاع دینے کے لئے تیار ہوگا۔ جبکہ اس زندگی میں وہ اس متاع پر جان چھڑکتا تھا ، اور اس کی پوری زندگی ان کے لئے تھی۔ مثلاً اولاد ، بیوی ، بھائی ، خاندان جو حامی و مددگار ہوتا ہے۔ بلکہ اس دن اپنی جان کو بچانے کے لئے تو وہ اس پوری دنیا کے اموال واقتدار کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوگا ، کہ کسی طرح نجات پاجائے۔ رنج والم کی یہ کس قدر بھیانک تصویر ہے۔ یہ شخص نیم مدہوش ہے اور پوری کائنات بخشنے کے لئے تیار ہے۔ یہ انداز تعبیر قرآن کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ ہے مجرم کی حالت ، یہ ہیں اس کی تمنائیں کہ اس حالت میں وہ ایسے حالات دیکھتا ہے کہ امید کی آخری چنگاری بھی بجھ جاتی ہے ، جھوٹی تمنائیں ختم ہوجاتی ہیں اور اصل اور حقیقی صورت حالات سامنے آتی ہے۔

المعارج 70:13

ولا یسئل ............................ ینجیہ (41) (07 : 01 تا 41) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔ لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک مدہوس کردینے والا خوف ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگوں کے تمام روابط منقطع ہوں گے اور ہر شخص اپنے مسائل اور اپنی پریشانی میں گھرا ہوگا۔ وہ ایک دوسرے پر پیش کیے جائیں گے اور ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور عمداً ایسا کیا جائے گا لیکن ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی۔ ہر ضمیر کا اپنا شغل ہوگا۔ لہٰذا دوست دوست کو نہ پوچھے گا ، نہ کوئی کسی سے مدد طلب کرسکے گا۔ اور مجرم کا حال کیا ہوگا ؟ اس کی جان خوف کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس کا احساس ہی جاتا رہے گا اور وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنی عزیز ترین متاع دینے کے لئے تیار ہوگا۔ جبکہ اس زندگی میں وہ اس متاع پر جان چھڑکتا تھا ، اور اس کی پوری زندگی ان کے لئے تھی۔ مثلاً اولاد ، بیوی ، بھائی ، خاندان جو حامی و مددگار ہوتا ہے۔ بلکہ اس دن اپنی جان کو بچانے کے لئے تو وہ اس پوری دنیا کے اموال واقتدار کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوگا ، کہ کسی طرح نجات پاجائے۔ رنج والم کی یہ کس قدر بھیانک تصویر ہے۔ یہ شخص نیم مدہوش ہے اور پوری کائنات بخشنے کے لئے تیار ہے۔ یہ انداز تعبیر قرآن کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ ہے مجرم کی حالت ، یہ ہیں اس کی تمنائیں کہ اس حالت میں وہ ایسے حالات دیکھتا ہے کہ امید کی آخری چنگاری بھی بجھ جاتی ہے ، جھوٹی تمنائیں ختم ہوجاتی ہیں اور اصل اور حقیقی صورت حالات سامنے آتی ہے۔

المعارج 70:14

ولا یسئل ............................ ینجیہ (41) (07 : 01 تا 41) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔ لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک مدہوس کردینے والا خوف ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگوں کے تمام روابط منقطع ہوں گے اور ہر شخص اپنے مسائل اور اپنی پریشانی میں گھرا ہوگا۔ وہ ایک دوسرے پر پیش کیے جائیں گے اور ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور عمداً ایسا کیا جائے گا لیکن ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی۔ ہر ضمیر کا اپنا شغل ہوگا۔ لہٰذا دوست دوست کو نہ پوچھے گا ، نہ کوئی کسی سے مدد طلب کرسکے گا۔ اور مجرم کا حال کیا ہوگا ؟ اس کی جان خوف کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس کا احساس ہی جاتا رہے گا اور وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنی عزیز ترین متاع دینے کے لئے تیار ہوگا۔ جبکہ اس زندگی میں وہ اس متاع پر جان چھڑکتا تھا ، اور اس کی پوری زندگی ان کے لئے تھی۔ مثلاً اولاد ، بیوی ، بھائی ، خاندان جو حامی و مددگار ہوتا ہے۔ بلکہ اس دن اپنی جان کو بچانے کے لئے تو وہ اس پوری دنیا کے اموال واقتدار کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوگا ، کہ کسی طرح نجات پاجائے۔ رنج والم کی یہ کس قدر بھیانک تصویر ہے۔ یہ شخص نیم مدہوش ہے اور پوری کائنات بخشنے کے لئے تیار ہے۔ یہ انداز تعبیر قرآن کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ ہے مجرم کی حالت ، یہ ہیں اس کی تمنائیں کہ اس حالت میں وہ ایسے حالات دیکھتا ہے کہ امید کی آخری چنگاری بھی بجھ جاتی ہے ، جھوٹی تمنائیں ختم ہوجاتی ہیں اور اصل اور حقیقی صورت حالات سامنے آتی ہے۔

المعارج 70:15

کلا انھا .................... فاوعی (81) (07 : 51 تا 81) ” ہرگز نہیں ، وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی ، پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ یہ ایک منظر ہے کہ جسے دیکھ کر انسان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں جبکہ اس منظر سے قبل رنج والم کی وجہ سے یہ مدہوش تھا۔ کلا ، یہ نہایت سختی سے تردید اور جھڑکی کا لفظ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ باطل خواہشات ہیں کہ کوئی بیٹوں ، بیوی ، خاوند ، بھائی ، بہن اور خاندان اور روئے زمین کی جائیداد کا فدیہ دے سکے گا ، ہر گز نہیں۔ انھا لظی (07 : 61) ” وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی “۔ نزاعة للشوی (07 : 61) ” جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی “۔ چہرے اور سر کے گوشت کو ، اور پھر یہ بلا کی شکل میں ہوگی۔ زندہ چلتی ہوئی۔ اور اس خوفناکی میں وہ قصداً اضافہ کررہی ہوگی۔

المعارج 70:16

کلا انھا .................... فاوعی (81) (07 : 51 تا 81) ” ہرگز نہیں ، وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی ، پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ یہ ایک منظر ہے کہ جسے دیکھ کر انسان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں جبکہ اس منظر سے قبل رنج والم کی وجہ سے یہ مدہوش تھا۔ کلا ، یہ نہایت سختی سے تردید اور جھڑکی کا لفظ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ باطل خواہشات ہیں کہ کوئی بیٹوں ، بیوی ، خاوند ، بھائی ، بہن اور خاندان اور روئے زمین کی جائیداد کا فدیہ دے سکے گا ، ہر گز نہیں۔ انھا لظی (07 : 61) ” وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی “۔ نزاعة للشوی (07 : 61) ” جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی “۔ چہرے اور سر کے گوشت کو ، اور پھر یہ بلا کی شکل میں ہوگی۔ زندہ چلتی ہوئی۔ اور اس خوفناکی میں وہ قصداً اضافہ کررہی ہوگی۔

المعارج 70:17

تدعوا .................... فاوعی (07 : 81) ” پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ یہ اس کو اسی طرح بلائے گی جس طرح اسے اس سے قبل دنیا میں راہ ہدایت کی طرف بلایا جاتا تھا۔ اور یہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا تھا۔ لیکن آج جبکہ اسے یہ بلارہی ہے تو اس قابل نہیں ہے کہ پیٹھ پھیر کر چلا جائے۔ اس سے قبل یہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں مال جمع کرنے میں لگا ہوا تھا اور اس مال کو وہ برتنوں اور تجوریوں میں محفوظ کرکے رکھتا تھا۔ اور آج یہ دعوت بلائے جہنم کی طرف سے ہے۔ نہ یہ اسے رد کرسکتا ہے نہ مال دے کر جان کو چھڑا سکتا ہے۔ اس سورت ، اس سے پہلی سورت اور سورة قلم میں بھی تاکید اس بات کی تھی کہ ان کے جرم میں یہ بات بھی شامل تھی یہ لوگ مال جمع کرتے تھے اور مساکین کے کھانے پر لوگوں کو نہ ابھارتے تھے۔ یعنی کفر ، شرک اور تکذیب کے ساتھ ساتھ ان کا یہ جرم بھی تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر ، گمراہی اور تکذیب کے ساتھ ساتھ مکہ میں تحریک کو یہ مشکل بھی درپیش تھی کہ لوگ بخیل تھے اور دولت پرست تھے اور غریبوں کا خیال نہ رکھتے تھے۔ اس لئے بار بار ان امور کی طرف بھی اشارہ کیا کہ فقیروں ، مسکینوں کو نظر انداز کرنا اور بہت زیادہ دولت پرست و مادہ پرست ہونا موجب عذاب ہے۔ اس سورت میں دوسرے اشارات بھی ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت دعوت اسلامی کا آغاز جس مکی معاشرے میں ہوا تھا ، اس کے خدوخال کیا تھے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں لوگ مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ تجارت اور سود خواری ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ قریش کے سردار تجارتی کوٹھیوں کے مالک تھے اور ہر ایک کے اپنے اپنے قافلے ہوتے تھے۔ جو یہ گرمیوں اور سردیوں میں چلاتے تھے۔ دولت پر لوگ ہر طرف سے ٹوٹ پڑتے تھے۔ ہر شخص بےحد بخیل تھا۔ فقراء اور مساکین محروم تھے۔ یتیم اور لاچار بھوکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاشی ناہمواری کو دور کرنے کے لئے قرآن کریم نے بار بار بتکرار احکامات صادر کیے ، بار بار حرص کی مذمت کی۔ انسانی نفوس کے اندر اتر کر بخل اور حرص کو جڑوں سے نکالا۔ اور یہ کام اسلام نے فتح سے قبل نظریاتی طور پر کیا اور فتح کے بعد عملی طور پر کیا۔ مثلاً رہا کی ممانعت کی گئی۔ لوگوں کے اموال باطل طریقوں سے کھانے کی ممانعت کی گئی۔ یتیموں کے مال کے کھانے کو آگکھانا بتایا گیا ، اور یتیموں کے مال میں اسراف سے اور ظلم سے روکا گیا۔ یتیموں کے نکاح کو اس لئے روکنے کی ممانعت کی گئی کہ ان کا مال کھاتے رہیں یا یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے کی رغبت اس لئے رکھی جائے کہ ان کا مال ہڑپ کرلیں۔ غرض جو اقدامات ، ہدایات اور تنبیہات کی گئیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت لوگوں کی معاشی صورت حالات کیا تھی اور یہ کہ اسلام کی ابدی معاشی پالیسی کیا ہے۔ کسی اسلامی معاشرے کے لئے دائمی ہدایات یہی ہیں کہ بخل ، حسد اور حرص سے بچو اور مادیت اور دولت کے بندھنوں سے اپنے آپ کو آزاد کرو اور یہ پالیسی پورے قرآن میں جاری رکھی گئی۔ اس سے قبل قیامت کے ہولناک مناظر دکھائے جاچکے ، خوف اور عذاب کی صورت میں۔ اب بتایا جاتا ہے کہ خوشی اور غم کے مختلف مواقع پر نفس انسانی کا رد عمل کیسا ہوتا ہے۔ ایمان کی حالت میں انسان مختلف حالات کے مقابلے میں کیا رد عمل کرتا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایمان کی حالت میں رد عمل کیا ہوتا ہے۔ اور ایمان نہ ہونے کی صورت میں کیا ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مومنین کا انجام کیا ہے اور کافرین کا انجام کیا ہے ؟

المعارج 70:18

تدعوا .................... فاوعی (07 : 81) ” پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ یہ اس کو اسی طرح بلائے گی جس طرح اسے اس سے قبل دنیا میں راہ ہدایت کی طرف بلایا جاتا تھا۔ اور یہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا تھا۔ لیکن آج جبکہ اسے یہ بلارہی ہے تو اس قابل نہیں ہے کہ پیٹھ پھیر کر چلا جائے۔ اس سے قبل یہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں مال جمع کرنے میں لگا ہوا تھا اور اس مال کو وہ برتنوں اور تجوریوں میں محفوظ کرکے رکھتا تھا۔ اور آج یہ دعوت بلائے جہنم کی طرف سے ہے۔ نہ یہ اسے رد کرسکتا ہے نہ مال دے کر جان کو چھڑا سکتا ہے۔ اس سورت ، اس سے پہلی سورت اور سورة قلم میں بھی تاکید اس بات کی تھی کہ ان کے جرم میں یہ بات بھی شامل تھی یہ لوگ مال جمع کرتے تھے اور مساکین کے کھانے پر لوگوں کو نہ ابھارتے تھے۔ یعنی کفر ، شرک اور تکذیب کے ساتھ ساتھ ان کا یہ جرم بھی تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر ، گمراہی اور تکذیب کے ساتھ ساتھ مکہ میں تحریک کو یہ مشکل بھی درپیش تھی کہ لوگ بخیل تھے اور دولت پرست تھے اور غریبوں کا خیال نہ رکھتے تھے۔ اس لئے بار بار ان امور کی طرف بھی اشارہ کیا کہ فقیروں ، مسکینوں کو نظر انداز کرنا اور بہت زیادہ دولت پرست و مادہ پرست ہونا موجب عذاب ہے۔ اس سورت میں دوسرے اشارات بھی ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت دعوت اسلامی کا آغاز جس مکی معاشرے میں ہوا تھا ، اس کے خدوخال کیا تھے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں لوگ مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ تجارت اور سود خواری ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ قریش کے سردار تجارتی کوٹھیوں کے مالک تھے اور ہر ایک کے اپنے اپنے قافلے ہوتے تھے۔ جو یہ گرمیوں اور سردیوں میں چلاتے تھے۔ دولت پر لوگ ہر طرف سے ٹوٹ پڑتے تھے۔ ہر شخص بےحد بخیل تھا۔ فقراء اور مساکین محروم تھے۔ یتیم اور لاچار بھوکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاشی ناہمواری کو دور کرنے کے لئے قرآن کریم نے بار بار بتکرار احکامات صادر کیے ، بار بار حرص کی مذمت کی۔ انسانی نفوس کے اندر اتر کر بخل اور حرص کو جڑوں سے نکالا۔ اور یہ کام اسلام نے فتح سے قبل نظریاتی طور پر کیا اور فتح کے بعد عملی طور پر کیا۔ مثلاً رہا کی ممانعت کی گئی۔ لوگوں کے اموال باطل طریقوں سے کھانے کی ممانعت کی گئی۔ یتیموں کے مال کے کھانے کو آگکھانا بتایا گیا ، اور یتیموں کے مال میں اسراف سے اور ظلم سے روکا گیا۔ یتیموں کے نکاح کو اس لئے روکنے کی ممانعت کی گئی کہ ان کا مال کھاتے رہیں یا یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے کی رغبت اس لئے رکھی جائے کہ ان کا مال ہڑپ کرلیں۔ غرض جو اقدامات ، ہدایات اور تنبیہات کی گئیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت لوگوں کی معاشی صورت حالات کیا تھی اور یہ کہ اسلام کی ابدی معاشی پالیسی کیا ہے۔ کسی اسلامی معاشرے کے لئے دائمی ہدایات یہی ہیں کہ بخل ، حسد اور حرص سے بچو اور مادیت اور دولت کے بندھنوں سے اپنے آپ کو آزاد کرو اور یہ پالیسی پورے قرآن میں جاری رکھی گئی۔ اس سے قبل قیامت کے ہولناک مناظر دکھائے جاچکے ، خوف اور عذاب کی صورت میں۔ اب بتایا جاتا ہے کہ خوشی اور غم کے مختلف مواقع پر نفس انسانی کا رد عمل کیسا ہوتا ہے۔ ایمان کی حالت میں انسان مختلف حالات کے مقابلے میں کیا رد عمل کرتا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایمان کی حالت میں رد عمل کیا ہوتا ہے۔ اور ایمان نہ ہونے کی صورت میں کیا ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مومنین کا انجام کیا ہے اور کافرین کا انجام کیا ہے ؟

المعارج 70:19

” اس “ انسان کی تصویر ذرا دیکھئے ، یہ ایمان سے محروم انسان ہے۔ قرآن کریم اس کی کس قدر سچی تصویر کھینچتا ہے۔ اور اس تصویر میں ایک غیر مومن انسان کے خدوخال اور فیچرز کس قدر نمایاں ہیں۔ ان تمام خدوخال سے انسان تب ہی محفوظ ہوتا ہے ، جب وہ مومن ہوتا ہی۔ ایک مومن پر اگر کوئی مصیبت آجائے تو وہ صبر جمیل کا پیکر ہوتا ہے اور مطمئن ہوتا ہے۔ جزع وفزع سے دور ، اور اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو وہ نہ بخل کرتا ہے نہ اتراتا ہے۔ ان الانسان .................... منوعا (12) (07 : 91 تا 12) ”” انسان تھرڈلاپیدا کیا گیا ہے ، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک ایک لفظ مصور قدرت کا ایک رنگ ہے اور وہ انسان کے چہرے اور اس کی خصوصیات کو صاف بتارہا ہے۔ یہاں تک کہ جب انسان یہ نہایت ہی مختصر سی تین آیات پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ان میں چند ہی کلمات استعمال ہوئے ہیں ، تو اسے ایمان سے خالی انسان کی ایک نہایت چمکدار اور واضح تصویر نظر آتی ہے۔ اس کے تمام فیچرز نمایاں ہیں۔ ھلوع ، جزوع اور منوع اس انسان کو اگر کوئی مصیبت پیش آجائے یا حقائق حیات کا کوئی ڈنگ لگ جائے تو یہ آہ وفغاں کرنے لگتا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ بس وہ اب اسی حالت میں رہے گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب تو وہ ہمیشہ کے لئے اس مصیبت میں پھنس گیا ہے ، اور کوئی نہیں ہے جو اس کو اس مصیبت سے نکال دے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ گویا مصیبت کی یہ گھڑی دائمی ہے۔ اس وقت یہ شخص اوہام میں بندھ جاتا ہے اور مصیبت اور مشقت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے تصور میں بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ اس مشکل کے بعد کوئی آسانی بھی آسکتی ہے۔ وہ اللہ سے کسی قسم کی رحمت اور مہربانی کا مامیدوار نہیں ہوتا۔ چناچہ یہ جزع فزع اس کو کھا جاتی ہے۔ اس کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ اور اس صورت کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک قوی ذات کی پناہ میں نہیں ہوتا۔ اس کا کوئی مضبوط سہارا نہیں ہوتا ، جس سے اس کو کوئی امید ہے۔ اور اس کے برعکس اگر وہ خوشحال ہو ، عافیت میں ہو ، تو وہ نیکی کا کوئی کام کرنے سے رکنے والا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سہولیات اس کو اس کی محنت اور مشقت کی وجہ سے حاصل ہیں ، اس لئے یہ ان کو اپنے لئے مخصوص کرلیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے چھپا لیتا ہے اور بلکہ یہ اپنی مملوکات کا غلام ہوجاتا ہے۔ اور اپنی جائیداد اور مال پر مرمٹنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رزق کی حقیقت کیا ہے اور یہ کہ رزق کے ملنے میں خود انسان کا کردار کیا ہے۔ یہ شخص یہ امید نہیں رکھتا کہ اگر ہے ، دونوں حالتوں میں تھرڈلا ہے۔ حالت خیر میں بھی اور حالت شر میں بھی۔ یہ ایک انسان کی بہت ہی بری تصویر ہے۔ لیکن اس انسان کی جس کا دل نور ایمانی سے خالی ہو۔ لہٰذا اللہ پر ایمان لانا دراصل بڑا اہم مسئلہ ہے۔ یہ محض ایک لفظ نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیا جائے۔ اور نہ ہی یہ چند مذہبی رسومات عبادات سے متعلق ہے۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی حالت ہے اور یہ ایک مکمل نظام حیات ہے اور حالات وواقعات کے لئے یہ ایک معیار ہے۔ اور انسان کا دل اگر ایمان سے خالی ہوجائے تو وہ اس قدر ہلکا ہوجاتا ہے جس طرح پرندوں کا ایک پر جسے ہوا کے جھونکے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر اڑا کر گھماتے ہیں اس کا کوئی وزن اور پیمانہ نہیں ہوتا۔ اس قسم کا انسان ہمیشہ قلق اور خوف کا شکار رہتا ہے۔ اگ را سے کسی مصیبت سے دو چار ہونا پڑے تو وہ جزع فزع کرتا ہے۔ اگر اسے کوئی بھلائی نصیب ہو تو بخیل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کا ظرف ایمان سے بھر اہوا ہو ، تو وہ نہایت اطمینان ، عافیت میں ہوتا ہے ، اس لئے کہ اس کا ربط ایک حقیقی سرچشمے سے ہوتا ہے۔ جہاں سے تمام واقعات و حالات کنٹرول ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی تقدیر پر مطمئن ہوتا ہے ، چاہے خیر ہو یا شر ہو۔ اگر خیر ہو تو وہ مطمئن ہوتا ہے۔ اللہ کی رحمت کا شعور رکھتا ہے۔ اللہ کی آزمائشوں میں وہ ہمیشہ شمع امید روشن رکھتا ہے۔ کہ مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ وہ امید رکھتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ اسے اگر خیر ملتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کچھ فرائض ہیں۔ اس کے لئے خرچ کرتا ہے اور اسے اس کی جزاء آخرت میں ملے گی۔ بلکہ دنیا وآخرت دونوں میں اسے جزاء ملے گی۔ لہٰذا ایمان دنیا میں ایک ایسی کمائی ہے جس کی جزاء آخرت میں ملے گی اور اس کی وجہ سے انسان کو راحت ، اطمینان اور ثبات وقرار ملتا ہے۔ اور پوری زندگی میں وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اہل ایمان کو اس صورت حال سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔

المعارج 70:20

” اس “ انسان کی تصویر ذرا دیکھئے ، یہ ایمان سے محروم انسان ہے۔ قرآن کریم اس کی کس قدر سچی تصویر کھینچتا ہے۔ اور اس تصویر میں ایک غیر مومن انسان کے خدوخال اور فیچرز کس قدر نمایاں ہیں۔ ان تمام خدوخال سے انسان تب ہی محفوظ ہوتا ہے ، جب وہ مومن ہوتا ہی۔ ایک مومن پر اگر کوئی مصیبت آجائے تو وہ صبر جمیل کا پیکر ہوتا ہے اور مطمئن ہوتا ہے۔ جزع وفزع سے دور ، اور اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو وہ نہ بخل کرتا ہے نہ اتراتا ہے۔ ان الانسان .................... منوعا (12) (07 : 91 تا 12) ”” انسان تھرڈلاپیدا کیا گیا ہے ، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک ایک لفظ مصور قدرت کا ایک رنگ ہے اور وہ انسان کے چہرے اور اس کی خصوصیات کو صاف بتارہا ہے۔ یہاں تک کہ جب انسان یہ نہایت ہی مختصر سی تین آیات پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ان میں چند ہی کلمات استعمال ہوئے ہیں ، تو اسے ایمان سے خالی انسان کی ایک نہایت چمکدار اور واضح تصویر نظر آتی ہے۔ اس کے تمام فیچرز نمایاں ہیں۔ ھلوع ، جزوع اور منوع اس انسان کو اگر کوئی مصیبت پیش آجائے یا حقائق حیات کا کوئی ڈنگ لگ جائے تو یہ آہ وفغاں کرنے لگتا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ بس وہ اب اسی حالت میں رہے گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب تو وہ ہمیشہ کے لئے اس مصیبت میں پھنس گیا ہے ، اور کوئی نہیں ہے جو اس کو اس مصیبت سے نکال دے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ گویا مصیبت کی یہ گھڑی دائمی ہے۔ اس وقت یہ شخص اوہام میں بندھ جاتا ہے اور مصیبت اور مشقت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے تصور میں بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ اس مشکل کے بعد کوئی آسانی بھی آسکتی ہے۔ وہ اللہ سے کسی قسم کی رحمت اور مہربانی کا مامیدوار نہیں ہوتا۔ چناچہ یہ جزع فزع اس کو کھا جاتی ہے۔ اس کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ اور اس صورت کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک قوی ذات کی پناہ میں نہیں ہوتا۔ اس کا کوئی مضبوط سہارا نہیں ہوتا ، جس سے اس کو کوئی امید ہے۔ اور اس کے برعکس اگر وہ خوشحال ہو ، عافیت میں ہو ، تو وہ نیکی کا کوئی کام کرنے سے رکنے والا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سہولیات اس کو اس کی محنت اور مشقت کی وجہ سے حاصل ہیں ، اس لئے یہ ان کو اپنے لئے مخصوص کرلیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے چھپا لیتا ہے اور بلکہ یہ اپنی مملوکات کا غلام ہوجاتا ہے۔ اور اپنی جائیداد اور مال پر مرمٹنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رزق کی حقیقت کیا ہے اور یہ کہ رزق کے ملنے میں خود انسان کا کردار کیا ہے۔ یہ شخص یہ امید نہیں رکھتا کہ اگر ہے ، دونوں حالتوں میں تھرڈلا ہے۔ حالت خیر میں بھی اور حالت شر میں بھی۔ یہ ایک انسان کی بہت ہی بری تصویر ہے۔ لیکن اس انسان کی جس کا دل نور ایمانی سے خالی ہو۔ لہٰذا اللہ پر ایمان لانا دراصل بڑا اہم مسئلہ ہے۔ یہ محض ایک لفظ نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیا جائے۔ اور نہ ہی یہ چند مذہبی رسومات عبادات سے متعلق ہے۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی حالت ہے اور یہ ایک مکمل نظام حیات ہے اور حالات وواقعات کے لئے یہ ایک معیار ہے۔ اور انسان کا دل اگر ایمان سے خالی ہوجائے تو وہ اس قدر ہلکا ہوجاتا ہے جس طرح پرندوں کا ایک پر جسے ہوا کے جھونکے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر اڑا کر گھماتے ہیں اس کا کوئی وزن اور پیمانہ نہیں ہوتا۔ اس قسم کا انسان ہمیشہ قلق اور خوف کا شکار رہتا ہے۔ اگ را سے کسی مصیبت سے دو چار ہونا پڑے تو وہ جزع فزع کرتا ہے۔ اگر اسے کوئی بھلائی نصیب ہو تو بخیل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کا ظرف ایمان سے بھر اہوا ہو ، تو وہ نہایت اطمینان ، عافیت میں ہوتا ہے ، اس لئے کہ اس کا ربط ایک حقیقی سرچشمے سے ہوتا ہے۔ جہاں سے تمام واقعات و حالات کنٹرول ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی تقدیر پر مطمئن ہوتا ہے ، چاہے خیر ہو یا شر ہو۔ اگر خیر ہو تو وہ مطمئن ہوتا ہے۔ اللہ کی رحمت کا شعور رکھتا ہے۔ اللہ کی آزمائشوں میں وہ ہمیشہ شمع امید روشن رکھتا ہے۔ کہ مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ وہ امید رکھتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ اسے اگر خیر ملتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کچھ فرائض ہیں۔ اس کے لئے خرچ کرتا ہے اور اسے اس کی جزاء آخرت میں ملے گی۔ بلکہ دنیا وآخرت دونوں میں اسے جزاء ملے گی۔ لہٰذا ایمان دنیا میں ایک ایسی کمائی ہے جس کی جزاء آخرت میں ملے گی اور اس کی وجہ سے انسان کو راحت ، اطمینان اور ثبات وقرار ملتا ہے۔ اور پوری زندگی میں وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اہل ایمان کو اس صورت حال سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔

المعارج 70:21

” اس “ انسان کی تصویر ذرا دیکھئے ، یہ ایمان سے محروم انسان ہے۔ قرآن کریم اس کی کس قدر سچی تصویر کھینچتا ہے۔ اور اس تصویر میں ایک غیر مومن انسان کے خدوخال اور فیچرز کس قدر نمایاں ہیں۔ ان تمام خدوخال سے انسان تب ہی محفوظ ہوتا ہے ، جب وہ مومن ہوتا ہی۔ ایک مومن پر اگر کوئی مصیبت آجائے تو وہ صبر جمیل کا پیکر ہوتا ہے اور مطمئن ہوتا ہے۔ جزع وفزع سے دور ، اور اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو وہ نہ بخل کرتا ہے نہ اتراتا ہے۔ ان الانسان .................... منوعا (12) (07 : 91 تا 12) ”” انسان تھرڈلاپیدا کیا گیا ہے ، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک ایک لفظ مصور قدرت کا ایک رنگ ہے اور وہ انسان کے چہرے اور اس کی خصوصیات کو صاف بتارہا ہے۔ یہاں تک کہ جب انسان یہ نہایت ہی مختصر سی تین آیات پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ان میں چند ہی کلمات استعمال ہوئے ہیں ، تو اسے ایمان سے خالی انسان کی ایک نہایت چمکدار اور واضح تصویر نظر آتی ہے۔ اس کے تمام فیچرز نمایاں ہیں۔ ھلوع ، جزوع اور منوع اس انسان کو اگر کوئی مصیبت پیش آجائے یا حقائق حیات کا کوئی ڈنگ لگ جائے تو یہ آہ وفغاں کرنے لگتا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ بس وہ اب اسی حالت میں رہے گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب تو وہ ہمیشہ کے لئے اس مصیبت میں پھنس گیا ہے ، اور کوئی نہیں ہے جو اس کو اس مصیبت سے نکال دے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ گویا مصیبت کی یہ گھڑی دائمی ہے۔ اس وقت یہ شخص اوہام میں بندھ جاتا ہے اور مصیبت اور مشقت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے تصور میں بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ اس مشکل کے بعد کوئی آسانی بھی آسکتی ہے۔ وہ اللہ سے کسی قسم کی رحمت اور مہربانی کا مامیدوار نہیں ہوتا۔ چناچہ یہ جزع فزع اس کو کھا جاتی ہے۔ اس کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ اور اس صورت کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک قوی ذات کی پناہ میں نہیں ہوتا۔ اس کا کوئی مضبوط سہارا نہیں ہوتا ، جس سے اس کو کوئی امید ہے۔ اور اس کے برعکس اگر وہ خوشحال ہو ، عافیت میں ہو ، تو وہ نیکی کا کوئی کام کرنے سے رکنے والا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سہولیات اس کو اس کی محنت اور مشقت کی وجہ سے حاصل ہیں ، اس لئے یہ ان کو اپنے لئے مخصوص کرلیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے چھپا لیتا ہے اور بلکہ یہ اپنی مملوکات کا غلام ہوجاتا ہے۔ اور اپنی جائیداد اور مال پر مرمٹنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رزق کی حقیقت کیا ہے اور یہ کہ رزق کے ملنے میں خود انسان کا کردار کیا ہے۔ یہ شخص یہ امید نہیں رکھتا کہ اگر ہے ، دونوں حالتوں میں تھرڈلا ہے۔ حالت خیر میں بھی اور حالت شر میں بھی۔ یہ ایک انسان کی بہت ہی بری تصویر ہے۔ لیکن اس انسان کی جس کا دل نور ایمانی سے خالی ہو۔ لہٰذا اللہ پر ایمان لانا دراصل بڑا اہم مسئلہ ہے۔ یہ محض ایک لفظ نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیا جائے۔ اور نہ ہی یہ چند مذہبی رسومات عبادات سے متعلق ہے۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی حالت ہے اور یہ ایک مکمل نظام حیات ہے اور حالات وواقعات کے لئے یہ ایک معیار ہے۔ اور انسان کا دل اگر ایمان سے خالی ہوجائے تو وہ اس قدر ہلکا ہوجاتا ہے جس طرح پرندوں کا ایک پر جسے ہوا کے جھونکے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر اڑا کر گھماتے ہیں اس کا کوئی وزن اور پیمانہ نہیں ہوتا۔ اس قسم کا انسان ہمیشہ قلق اور خوف کا شکار رہتا ہے۔ اگ را سے کسی مصیبت سے دو چار ہونا پڑے تو وہ جزع فزع کرتا ہے۔ اگر اسے کوئی بھلائی نصیب ہو تو بخیل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کا ظرف ایمان سے بھر اہوا ہو ، تو وہ نہایت اطمینان ، عافیت میں ہوتا ہے ، اس لئے کہ اس کا ربط ایک حقیقی سرچشمے سے ہوتا ہے۔ جہاں سے تمام واقعات و حالات کنٹرول ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی تقدیر پر مطمئن ہوتا ہے ، چاہے خیر ہو یا شر ہو۔ اگر خیر ہو تو وہ مطمئن ہوتا ہے۔ اللہ کی رحمت کا شعور رکھتا ہے۔ اللہ کی آزمائشوں میں وہ ہمیشہ شمع امید روشن رکھتا ہے۔ کہ مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ وہ امید رکھتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ اسے اگر خیر ملتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کچھ فرائض ہیں۔ اس کے لئے خرچ کرتا ہے اور اسے اس کی جزاء آخرت میں ملے گی۔ بلکہ دنیا وآخرت دونوں میں اسے جزاء ملے گی۔ لہٰذا ایمان دنیا میں ایک ایسی کمائی ہے جس کی جزاء آخرت میں ملے گی اور اس کی وجہ سے انسان کو راحت ، اطمینان اور ثبات وقرار ملتا ہے۔ اور پوری زندگی میں وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اہل ایمان کو اس صورت حال سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔

المعارج 70:22

پھر ان کی صفات کیا ہیں۔ انسان کی ان عام صفات سے جن کا اوپر ذکر ہوا ، ایک مومن کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ مثلاً : الا المصلین (22) الذین ................ دآئمون (32) (07 : 22 تا 32) ” مگر وہ لوگ جو نماز پڑھنے والے ہیں ، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں “۔ نماز بنیادی طور پر رکن اسلام اور علامت ایمان ہے ، لیکن اس کی حکمت یہ ہے کہ یہ درحقیقت اللہ کے ساتھ ذریعہ اتصال ہے۔ اور یہ ایک ایسے تعلق کا مظہر ہے جس میں صرف بندہ اور اس کا رب آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ بندہ مقام بندگی کے اعلیٰ مرتبے پر اور رب تعالیٰ مقام ربوبیت اور معبودیت کے اعلیٰ مرتبے پر ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ایمان کی صفت دائمہ صلوة ہے۔

المعارج 70:23

الذین ھم ................ دآئمون (07 : 32) ” جو اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں “۔ نماز کے ساتھ تسلسل اور دوام ایک لازمی صفت ہے۔ گنڈے دار قسم کی نماز ، سستی سے پڑھی جانے والی نماز مکمل نماز نہیں ہے۔ نماز کے بارے میں سستی روی اور غفلت معیوب ہے۔ نماز چونکہ بندے اور رب کے درمیان رابطہ ہے اس لئے اس میں دوام لابدی ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب کوئی عبادت کرتے تو آپ اس پر دوام اختیار فرماتے۔ حدیث شریف میں ہے ” اللہ کے نزدیک اعمال میں سے محبوب ترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔ اگرچہ وہ قلیل ہو ، لہٰذا اللہ کے ساتھ تعلق کا یہ مقدس رابطہ دائمی ہونا چاہئے۔ اسے مزاح نہ ہونا چاہئے کہ کبھی ہو اور کبھی نہ ہو۔ جس طرح جی نے چاہا کرلیا۔

المعارج 70:24

والذین .................... والمحروم (52) (07 : 42۔ 52) ” جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے “۔ یعنی وہ صدقات جو معلوم اور متعین ہیں ، وہ مومنین کے اموال میں غرباء کا حق ہیں اور ” حق معلوم “ کا اس سے بھی زیادہ جامع مفہوم یہ ہے کہ وہ خود اپنے اموال میں ایک متعین حق مساکین کے لئے مقرر کرتے ہیں اور وہ اپنے جذبہ سے کہتے ہیں کہ یہ ان کا حق ہے۔ اس طرح وہ بخل اور کنجوسی کے جذبہ پر قابو پاتے ہیں۔ اور اسی طرح یہ شعور ابھرتا ہے کہ اہل معاشرہ پر ناداروں کے حوالے سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ خصوصاً اسلامی امت تو باہم متکافل امت ہے۔ سائل وہ ہے جو سوال کرتا ہے اور محرم ونادار جو سوال نہیں کرتا۔ اور اپنی ضرورت کا اظہار کسی کے سامنے نہیں کرتا ، یوں وہ محروم رہتا ہے۔ یا محروم وہ شخص ہے جس پر کوئی مصیبت آئی ہو اور اسے نعمتوں سے محروم کردیا گیا ہو اور اس نے سوال کرنے سے اجتناب کیا ہو۔ یہ شعور کہ محتاجوں اور محروم لوگوں کا بھی دولت میں حصہ ہے ایک زاویہ سے تو اللہ کے فضل کا شعور ہے اور دوسری جانب سے انسانی اخوت کا شعور ہے جبکہ نفسیاتی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان بخل اور کنجوسی کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور یہ ایک اجتماعی ضمانت میں بھی ہے۔ لہٰذا معاشرے کے مالی حقوق ادا کرنے میں بہت فائدے ہیں۔ غرض زکوٰة وصدقات میں نفسانی ، ذاتی اور معاشرتی فائدے ہیں۔ اور یہاں اس کا ذکر انسان کے نفسیاتی علاج کے حوالے سے ہے۔

المعارج 70:25

والذین .................... والمحروم (52) (07 : 42۔ 52) ” جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے “۔ یعنی وہ صدقات جو معلوم اور متعین ہیں ، وہ مومنین کے اموال میں غرباء کا حق ہیں اور ” حق معلوم “ کا اس سے بھی زیادہ جامع مفہوم یہ ہے کہ وہ خود اپنے اموال میں ایک متعین حق مساکین کے لئے مقرر کرتے ہیں اور وہ اپنے جذبہ سے کہتے ہیں کہ یہ ان کا حق ہے۔ اس طرح وہ بخل اور کنجوسی کے جذبہ پر قابو پاتے ہیں۔ اور اسی طرح یہ شعور ابھرتا ہے کہ اہل معاشرہ پر ناداروں کے حوالے سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ خصوصاً اسلامی امت تو باہم متکافل امت ہے۔ سائل وہ ہے جو سوال کرتا ہے اور محرم ونادار جو سوال نہیں کرتا۔ اور اپنی ضرورت کا اظہار کسی کے سامنے نہیں کرتا ، یوں وہ محروم رہتا ہے۔ یا محروم وہ شخص ہے جس پر کوئی مصیبت آئی ہو اور اسے نعمتوں سے محروم کردیا گیا ہو اور اس نے سوال کرنے سے اجتناب کیا ہو۔ یہ شعور کہ محتاجوں اور محروم لوگوں کا بھی دولت میں حصہ ہے ایک زاویہ سے تو اللہ کے فضل کا شعور ہے اور دوسری جانب سے انسانی اخوت کا شعور ہے جبکہ نفسیاتی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان بخل اور کنجوسی کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور یہ ایک اجتماعی ضمانت میں بھی ہے۔ لہٰذا معاشرے کے مالی حقوق ادا کرنے میں بہت فائدے ہیں۔ غرض زکوٰة وصدقات میں نفسانی ، ذاتی اور معاشرتی فائدے ہیں۔ اور یہاں اس کا ذکر انسان کے نفسیاتی علاج کے حوالے سے ہے۔

المعارج 70:26

والذین ................ الدین (07 : 62) ” جو روز جزاء کو برحق مانتے ہیں “۔ یہ صفت تو اس سورت کے محور سے براہ راست متعلق ہے ، کیونکہ سورت کا محور اور موضوع قیامت ہے۔ لیکن یہاں ان آیات میں ایک مومن کی نفسیاتی حالت سے بحث ہے۔ قیامت کی تصدیق ایمانیات کا اہم حصہ ہے اور کسی نظام زندگی کی تشکیل میں اس کا شعوری اور عملی اثر ہوتا ہے کیونکہ جو شخص قیامت کی تصدیق کرتا ہے اس کی قدریں اور پیمانے اور ہوتے ہیں اور جو قیامت کی تصدیق نہیں کرتا اس کے بارے میں شک میں ہوتا ہے ، اس کی قدریں بالکل جدا ہوتی ہیں ، چاہے ان کا تعلق نظریات سے ہو یا اعمال سے ہو یا زندگی کے اہم حادثات سے ہو۔ قیامت پر یقین رکھنے والا آسمانوں (خدا) کے میزان اور نظام کے مطابق کام کرتا ہے۔ وہ آخرت کے حساب و کتاب کے لئے تیاری کرتا ہے۔ صرف دنیا پر نظریں مرکوز نہیں کرتا۔ اور اسے زندگی میں جن حادثات اور جن واقعات سے دو چار ہونا پڑے خواہ اچھے ہوں یا برے ، اس کے بارے میں اس کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ یہ تو دنیا کے عارضی حالات ہیں ، اصل جہاں تو اور ہے۔ لہٰذا وہ اپنی قیامت کو درست کرتا ہے اور جو آخرت کی تکذیب کرتا ہے اس کا سب کچھ اسی دنیا کے لئے ہوتا ہے۔ اگر وہ یہاں کسی چیز سے محروم ہوگیا تو اس کے نزدیک گویا وہ سب چیزوں سے محروم ہوگیا۔ کیونکہ اس کی تمام سرگرمیاں اس جہاں کے لئے ہوتی ہیں۔ چناچہ اس کے حساب و کتاب کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں اور وہ ہر معاملے میں ایک غلط نتیجے تک پہنچتا ہے۔ اور وہ اپنے آپ کو اس محدود دنیا کے مختصر وقت کے اندر محدود کردیتا ہے۔ چناچہ یہ بدبخت ، مسکین ، ہر وقت عذاب میں مبتلا اور قلق میں گرفتار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس دنیا کے بارے میں اس کے تمام اندازے غلط ہوتے ہیں۔ وہ کبھی مطمئن اور خوش نہیں ہوتا۔ کبھی عادلانہ اور منصفانہ فیصلے نہیں کرتا۔ اس لئے کہ اس کے فیصلے دنیا کے محدود دائرے میں محدود ہوتے ہیں ، لہٰذا یہ خود بھی پریشان ہوتا ہے اور اپنے ماحول کو بھی پریشان کرتا ہے۔ آزردہ دل آزردہ کمند الجمنے را .... غرض وہ اس دنیا میں بھی کوئی اعلیٰ اقدار پر مشتمل زندگی نہیں پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں یوم الاخرت پر یقین کو اسلامی نظریہ حیات کا جز بنایا گیا ہے۔

المعارج 70:27

والذین .................... مامون (82) (07 : 72۔ 82) ” جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بےخوف ہو “۔ مجرد تصدیق قیامت سے یہ ایک آگے کا درجہ ہے۔ یہ قیامت کے بارے میں زیادہ حساسیت اور اللہ کی نگہبانی کا تازہ احساس اور اللہ کے دربار میں تقصیر کا شعور ہے اور زیادہ عبادت گزاری ہے۔ اور یہ خوف ہے کہ کسی وقت بھی اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ اس لئے ایسے لوگوں کے سامنے ہر وقت غضب الٰہی کا خوف رہتا ہے اور وہ اللہ کی حمایت اور بچاﺅ کے طلبگار رہتے ہیں۔ حضرت نبی ﷺ اللہ کے عذاب سے خوف کھاتے تھے۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک آپ کا جو مرتبہ تھا ، وہ معلوم ہے اور آپ کو اچھی طرح معلوم بھی تھا کہ آپ برگزیدہ ہیں اور اللہ کی آپ پر مہربانیاں ہیں۔ چناچہ آپ کو یہ یقین تھا کہ صرف اللہ کا فضل ہی آپ کو جنت میں داخل کرسکتا ہے۔ اس لئے آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ” کسی کا عمل اسے ہرگز جنت میں داخل نہیں کرسکتا “۔ اس پر صحابہ کرام ؓ نے پوچھا رسول اللہ کیا آپ پر بھی اسی اصول کا اطلاق ہے ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اور میں بھی ! الایہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے “۔ (بخاری ومسلم)

المعارج 70:28

ان عذاب ........................ مامون (07 : 82) ” کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بےخوف ہو “۔ اس میں اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے۔ اور اس سے کسی لحظہ بھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔ بعض اوقات غفلت کے اوقات میں ایسے امور سرزد ہوجاتے ہیں جو سبب عذاب ہوتے ہیں۔ لہٰذا غفلت بہت ہی خطرناک ہے۔ اور اللہ کی غرض بھی یہ ہے کہ لوگ ہر وقت حساس رہیں اور بیدار رہیں۔ اور اس کے باوجود اگر ان سے کوئی کمزوری سرزد ہوگئی ہو تو اللہ کی رحمت وسیع ہے اور اس کی مغفرت حاضر ہے۔ اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے وہ بند نہیں ہے۔ یہ ہے اسلام کا سیدھا موقف ، جو غفلت اور قلق کے درمیان درمیان ہے کہ انسان کا دل اللہ سے مربوط بھی رے اور وہ ڈرتا بھی رہے اور اس کی رحمت کا امیدوار بھی رہے۔ اور اس کی رحمت پر مطمئن بھی رہے۔

المعارج 70:29

والذین .................... ھم العدون (13) (07 : 92 تا 13) ” جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں .... بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملو کہ عورتوں کے ، جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں “۔ لہٰذا وہ اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ لونڈیوں کے ساتھ پاکیزہ تعلق قائم کرسکتے ہیں اور یہ تعلق پاکیزہ بھی ہو اور قانونی بھی ہو۔ اور اسلام لونڈیوں کا واحد قانونی راستہ اس طرح تجویز کرتا ہے کہ جو عورتیں جنگی قیدی کے طور پر آئیں اور ان کو فدیہ اور احسان کے طور پر چھوڑنے کا فیصلہ اسلامی حکومت نے نہ کیا ہو۔ اس سلسلے میں سورة محمد کی یہ آیت اصول طے کرتی ہے : فاذا ............................ اوزارھا ” پس جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ، اس کے بعد احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرو تاکہ آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے “۔ لیکن بعض اوقات کسی قیدی کا تبادلہ نہیں ہوتا ، فدیہ بھی نہیں ملتا ، اور حکومت اسلامی بطور احسان چھوڑنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتی تو اس صورت میں قیدی مرد یا عورت غلام ہوں گے جب تک دوسرا فریق مسلمان قیدیوں کو غلام بناتا ہے۔ اگرچہ دشمن قوم غلامی کا کوئی اور نام رکھ دے۔ یوں اس ناگزیر صورت میں اسلام نے لونڈیوں کے ساتھ صرف ان کے مالکوں کو معاشرت کی جازت دی ہے اور ان غلاموں کی آزادی کا بندوبست اسلام نے پھر ان صورتوں میں کسی ایک کے ذریعے کیا جو اس نے غلاموں کی آزادی کے لئے تجویز کیں۔ غلاموں کی آزادی کا بندوبست قرآن نے متعدد ذرائع سے کیا۔ اس طرح اسلام نے قدی عورتوں کو معاشرے میں کھپانے کا ایک واضح بندوبست کیا تاکہ وہ معاشرے کی اندر شتر بےمہار کی طرح پھر کر گندگی نہ پھیلائیں ، یوں ان کو معاشرے میں آزاد کردیا جائے کہ جو چاہئیں کریں۔

المعارج 70:30

والذین .................... ھم العدون (13) (07 : 92 تا 13) ” جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں .... بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملو کہ عورتوں کے ، جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں “۔ لہٰذا وہ اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ لونڈیوں کے ساتھ پاکیزہ تعلق قائم کرسکتے ہیں اور یہ تعلق پاکیزہ بھی ہو اور قانونی بھی ہو۔ اور اسلام لونڈیوں کا واحد قانونی راستہ اس طرح تجویز کرتا ہے کہ جو عورتیں جنگی قیدی کے طور پر آئیں اور ان کو فدیہ اور احسان کے طور پر چھوڑنے کا فیصلہ اسلامی حکومت نے نہ کیا ہو۔ اس سلسلے میں سورة محمد کی یہ آیت اصول طے کرتی ہے : فاذا ............................ اوزارھا ” پس جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ، اس کے بعد احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرو تاکہ آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے “۔ لیکن بعض اوقات کسی قیدی کا تبادلہ نہیں ہوتا ، فدیہ بھی نہیں ملتا ، اور حکومت اسلامی بطور احسان چھوڑنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتی تو اس صورت میں قیدی مرد یا عورت غلام ہوں گے جب تک دوسرا فریق مسلمان قیدیوں کو غلام بناتا ہے۔ اگرچہ دشمن قوم غلامی کا کوئی اور نام رکھ دے۔ یوں اس ناگزیر صورت میں اسلام نے لونڈیوں کے ساتھ صرف ان کے مالکوں کو معاشرت کی جازت دی ہے اور ان غلاموں کی آزادی کا بندوبست اسلام نے پھر ان صورتوں میں کسی ایک کے ذریعے کیا جو اس نے غلاموں کی آزادی کے لئے تجویز کیں۔ غلاموں کی آزادی کا بندوبست قرآن نے متعدد ذرائع سے کیا۔ اس طرح اسلام نے قدی عورتوں کو معاشرے میں کھپانے کا ایک واضح بندوبست کیا تاکہ وہ معاشرے کی اندر شتر بےمہار کی طرح پھر کر گندگی نہ پھیلائیں ، یوں ان کو معاشرے میں آزاد کردیا جائے کہ جو چاہئیں کریں۔

المعارج 70:31

فمن .................... العدون (08 : 13) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں “ یوں اسلام ہر قسم کی جنسی گندگی کے سامنے یہ بندباندھ دیتا ہے۔ ان دو واضح صورتوں کے علاوہ جنسی تعلق حرام ہے۔ اسلام نفس جنسی تعلق میں کوئی گندگی محسوس نہیں کرتا لیکن ان دو جائز صورتوں کے علاوہ سب تعلقات کو حرام قرار دیتا ہے۔ اسلام ایک صاف ستھرا اور واضح اور کھلا معاشرتی نظام چاہتا ہے۔

المعارج 70:32

والذین .................... رعون (07 : 23) ” جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں “۔ یہ وہ اخلاقی قدریں ہیں جن پر اسلام اپنے معاشرے کی بنیاداٹھاتا ہے۔ معاشرے میں امانتوں کی رعایت و حفاظت اور عہد کی حفاظت کا تصور اس امانت کبریٰ کی رعایت اور حفاظت سے اٹھتا ہے جو اللہ نے زمین اور پہاڑوں پر پیش کی۔ اور انہوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا اور یہ انکار اس خوف کی وجہ سے ہوا کہ یہ بہت بڑا بھاری بوجھ ہے ، لیکن انسان نے اسے اٹھالیا۔ یہ تھی ، اسلامی نظریہ حیات کی امانت۔ عقیدہ توحید کی امانت اور یہ انسان نے اختیاراً قبول کی ، مجبوراً نہیں۔ یہ امانت جو انسانوں نے قبول کی جب وہ اپنے والد کی پشت میں تھے اور اس پر وہ گواہ ہوئے اور ان کی پیدائش اس پر گواہ ہوئی ، اسی امانت ودیانت سے یہ لازم آیا کہ دنیا میں تمام عہد پورے کرو ، چناچہ اسلام نے عہد پورا کرنے میں بہت سختی سے کام لیا اور اس کی تاکیدات کی گئیں تاکہ اسلامی معاشرہ نہایت ہی پختہ اصولوں پر قائم ہو۔ اور امانت ودیانت اور رعایت عہدہ کو نفس مومنہ کی خصوصیت قرار دیا اور خیانت اور وعدہ خلافی کفار کی صفت قرار دیا۔ اور اس کو قرآن کریم میں بار بار دہرایا اور تاکیدات فرمائیں تاکہ اس میں شک نہ رہے کہ امانت اور وفائے عہد اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔

المعارج 70:33

والذین ................ قائمون (07 : 33) ” جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں “۔ اللہ نے ادائے شہادت کے ساتھ بیشمار حقوق وابستہ کیے ہیں۔ بلکہ شہادت پر اللہ کی حدود کا قیام موقوف ہے۔ اگر شہادت قائم نہ ہو تو حدود قائم نہیں ہوسکتیں۔ یہ کہ کسی کو شہادت ادا نہ کرنے کا گناہ نہ کرنا چاہئے اور جب کسی سے شہادت مانگی جائے تو وہ اسے کبھی بھی نہ چھپائے۔ اور شہادت کو صحیح طرح ادا کرنا چاہئے اس میں ادھر ادھر کی بات نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہادت کو اس شخص کی شہادت قرار دیا ہے تاکہ اسے اللہ کی اطاعت کے ساتھ واسطہ کیا جائے۔ دوسری جگہ ہے : واقیموا ............ للہ ” اور شہادت اللہ کے لئے قائم کرو “۔ اور یہاں اسے صفات مومنین میں سے ایک صفت قرار دیا۔ اور یہ شہادت بھی امانات میں سے ایک امانت ہے یہاں اسے علیحدہ بھی ذکر کیا کیونکہ یہ بہت اہم فریضہ ہے۔

المعارج 70:34

اور صفات مومنین کا آغاز بھی نماز سے اور خاتمہ بھی نماز سے۔ والذین .................... یحافظون (07 : 43) ” اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں “۔ صفات مومنین کے آغاز میں جو صفت بیان کی گئی تھی ، وہاں کہا تھا کہ وہ نماز پر دوام اختیار کرتے ہیں اور یہاں ذکر ہے کہ وہ نماز کی حفاظت کرتے ہیں یعنی نماز کے فرائض ، اس کے اوقات ، اس کے سنن ، اس کی ہیئت اور اس کی روح کی حفاظت کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ اسے مہمل طور پر اور سستی کرکے نہیں ادا کرتے۔ اور اسے یوں ضائع نہیں کرتے کہ صحیح طرح نہ پڑھیں اور آغاز و انجام دونوں جگہ نماز کا فکر کرکے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلام میں نماز کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ اسی پر مومنین کی صفات ختم ہوتی ہیں۔

المعارج 70:35

اب یہاں ان کا انجام بھی دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے فریق کا انجام اس سے قبل بتادیا گیا تھا۔ اولئک ................ مکرمون (07 : 53) ” یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے “۔ یہ مختصر ترین آیت حسی مزے اور معنوی مزے دونوں کو ایک جگہ جمع کردیتی ہے۔ یہ باغات میں ہوں گے اور باعزت طور پر ہوں گے۔ یوں لذت بھی پائیں گے اور عزت بھی پائیں گے۔ اور یہ ان کے ایمان ایقان اور نیکی کی وجہ سے ، ان کا امتیاز ہوگا۔

المعارج 70:36

اب آخر میں دعوت اسلامی کا ایک منظر۔ یہ مکی منظر ہے ۔ ایک جگہ رسول کریم ﷺ کھڑے دعوت دے رہے ہیں۔ قرآن پڑھ رہے ہیں اور مشرکین ہر طرف سے امنڈتے چلے آرہے ہیں : فمال ........................ عزین مھطع اس شخص کو کہتے ہیں جو گردن لمبی کرتے ہوئے تیز تیز چلتا ہے۔ گویا رسی گلے میں ڈال کر کھینچا جارہا ہو ، اور عزین جمع عزہ کی اور اس کا وزن اور معنی دونوں لفظ۔ فئة کی طرح ہے ، یعنی گروہ۔ اس میں ان کی اس مشکوک حرکت پر ایک مزاح بھی ہے اور اس ہیئت اور حرکت کی ایک تصویر بھی۔ ان پر تعجب کیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہوگیا ہے تمہیں ؟ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف اس لئے نہیں بھاگ رہے کہ آپ کی باتیں سنیں یا آپ سے ہدایات لیں۔ بلکہ وہ نہایت حواس بافتہ انداز میں معلوم کرنے کے لئے دوڑتے ہیں کہ آپ کیا کہتے ہیں اور پھر واپس بھاگتے ہیں۔ اور اپنے اپنے ہاں جاکر حلقوں میں بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ ................ آپ کے خلاف کیا سازشیں کریں ؟

المعارج 70:37

اب آخر میں دعوت اسلامی کا ایک منظر۔ یہ مکی منظر ہے ۔ ایک جگہ رسول کریم ﷺ کھڑے دعوت دے رہے ہیں۔ قرآن پڑھ رہے ہیں اور مشرکین ہر طرف سے امنڈتے چلے آرہے ہیں : فمال ........................ عزین مھطع اس شخص کو کہتے ہیں جو گردن لمبی کرتے ہوئے تیز تیز چلتا ہے۔ گویا رسی گلے میں ڈال کر کھینچا جارہا ہو ، اور عزین جمع عزہ کی اور اس کا وزن اور معنی دونوں لفظ۔ فئة کی طرح ہے ، یعنی گروہ۔ اس میں ان کی اس مشکوک حرکت پر ایک مزاح بھی ہے اور اس ہیئت اور حرکت کی ایک تصویر بھی۔ ان پر تعجب کیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہوگیا ہے تمہیں ؟ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف اس لئے نہیں بھاگ رہے کہ آپ کی باتیں سنیں یا آپ سے ہدایات لیں۔ بلکہ وہ نہایت حواس بافتہ انداز میں معلوم کرنے کے لئے دوڑتے ہیں کہ آپ کیا کہتے ہیں اور پھر واپس بھاگتے ہیں۔ اور اپنے اپنے ہاں جاکر حلقوں میں بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ ................ آپ کے خلاف کیا سازشیں کریں ؟

المعارج 70:38

ایطمع .................... نعیم ” اور وہ اپنے موجودہ حال میں ہوتے ہوئے بھی جنتی ہوں گے بلکہ ایسے مجرمین تو آگ کی لپیٹ میں ہوں گے۔ شاید لوگ اپنے آپ کو اللہ کے نزدیک کوئی بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس لئے یہ کفر کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو اذیت بھی دیتے ہیں۔ قرآن سنتے ہیں اور پھر خفیہ سازشیں کرتے ہیں اور پھر بھی یہ توقع کرتے ہیں کہ جنت نعیم میں داخل ہوں گے اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے نزدیک بڑی چیز سمجھتے ہیں۔

المعارج 70:39

کلا انا ................ یعلمون یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ان کی اس تمنا اور خوش فہمی کو نہایت حقارت کے ساتھ رد کیا جاتا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ ہم نے ان کو ایک حقیر پانی کی بوند سے پیدا کیا ہے۔ قرآن کریم ان کو اپنی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ یوں ان کے اندر جو کبرو غرور اور تکبر وعلو تھا اسے ملیامیٹ کردیا جاتا ہے اور ان کے غزور کی عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے۔ اور یہ صرف ایک لفظ کے ذریعہ۔ ایک اشارہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم نے ان کو کس چیز سے پیدا کیا ہے۔ انسان کی کمزوری ، ناتوانی اور بےوزنی کی بہترین تصویر ہے۔ تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ کس طرح یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں جبکہ ان کے افعال ایسے ہیں۔ پھر وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ ان کو دیکھنا چاہئے کہ ان کے مدارج تخلیق کیا ہیں۔ اللہ کے ہاں ان کی اہمیت ، ان کے اس کفر کی وجہ سے ، مچھر کے برابر بھی نہیں ہے۔ ان کو تو ان کے کفر کی وجہ سے جہنم کی آگ کی لپیٹ میں جانا ہے۔ یہ کس طرح اللہ کی نعمتوں کی توقع کرتے ہیں۔ ان کے معاملے کو غیر اہم سمجھتے ہوئے اور ان کی اہمیت کو کم دکھاتے ہوئے اور ان کی بڑائی کے بت توڑتے ہوئے اللہ اپنے اس فیصلے کا اعلان کرتا ہے کہ اگر یہ ہدایت نہیں حاصل کرتے تو اللہ ان کے مقابلے میں اچھے لوگوں کو پیدا کردے گا۔ یہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ اپنے اسی انجام تک جا پہنچیں گے جس کے وہ مستحق ہیں۔

المعارج 70:40

فلا اقسم .................... بمسبوقین اس معاملے پر قسم اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ مشرقوں اور مغربوں کے رب کی طرف اشارہ کرکے اللہ کی عظمت کو بتایا گیا۔ مشارق ومغارب سے کبھی تو ستاروں کے مقامات طلوع مراد ہوتے ہیں جو بہت زیادہ ہیں جو اس طویل و عریض کائنات میں بہت زیادہ ہیں اور اس سے یہ مفہوم بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ وہ مشرق جو مختلف علاقوں میں مسلسل آتے رہتے ہیں اور یہ مشرق بروقت رہتے ہیں کیونکہ جب زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے تو دنیا کی کوئی نہ کوئی جگہ مشرق ہوتی ہے اور کوئی نہ کوئی جگہ مغرب ہوتی ہے۔ بہرحال مشارق ومغارب کا جو مفہوم بھی ہو ، اس سے اس کائنات کی ضخامت معلوم ہوتی ہے۔ اور خالق کائنات کی عظمت کا تصور ابھرتا ہے۔ کیا ان بےوقعت وبے قیمت لوگوں کا معاملہ ، جن کو ہم نے جس چیز سے پیدا کیا ہے اسے یہ جانتے ہیں ، اس بات کا محتاج ہے کہ رب المشارق اور رب المغارب کے نام کی قسم اٹھائی جائے۔ جبکہ وہ ان جیسے دوسرے لوگوں اٹھانے پر قادر ہے۔ اور وہ اس کے مقابلے میں نہیں آسکتے ، اس سے بچ نہیں سکتے۔ اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ جب سیاق کلام اس مقطع تک پہنچتا ہے او یہ بتادیا جاتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس قدر ہولناک ہے اور اس دن کافروں کی کیا ذلت ہوگی اور مومنین کی کیا عزت ہوگی ، تو اب رسول اللہ ﷺ کی طرف روئے سخن پھرجاتی ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں اور ان لوگوں کو چھوڑ دیں کہ وہ اسی دن کے عذاب کے لئے آگے بڑھیں۔ اس موقعہ پر پھر اس عذاب کے منظر کو یہاں بیان کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ کس قدر کربناک منظر ہے یہ۔

المعارج 70:41

فذرھم ............................ یوعدون آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہ نہایت بےوقعت لوگ ہیں اور ان کا انجام نہایت ہی خوفناک ہے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے حال اور کسمپری کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے وہ اپنی جگہ بہت ہی خوفناک ہے جبکہ اس نقشہ کشی اور تصویر سازی میں حقارت آمیز اور مضحکہ خیزی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور یہ اس حال کے جواب میں ہے جس میں یہاں دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔ یہ لوگ جب قبروں سے نکلیں گے ، تو گھبراہٹ میں اس تیزی سے بھاگیں گے جیسے یہ اپنے آستانوں کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ دنیا میں جس طرح ان کی چال ہوتی تھی اس کی طرف تہکمانہ اور توہین آمیز اشارہ ہے۔ یہ اپنے میلوں ٹھیلوں میں استخانوں کی طرف بھاگا کرتے تھے۔ اور ان بتوں کے گرد جمع ہوتے تھے۔ یہ لوگ آج بھی تیزی سے بھاگ رہے ہیں لیکن اس بھگدڑ اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

المعارج 70:42

فذرھم ............................ یوعدون آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہ نہایت بےوقعت لوگ ہیں اور ان کا انجام نہایت ہی خوفناک ہے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے حال اور کسمپری کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے وہ اپنی جگہ بہت ہی خوفناک ہے جبکہ اس نقشہ کشی اور تصویر سازی میں حقارت آمیز اور مضحکہ خیزی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور یہ اس حال کے جواب میں ہے جس میں یہاں دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔ یہ لوگ جب قبروں سے نکلیں گے ، تو گھبراہٹ میں اس تیزی سے بھاگیں گے جیسے یہ اپنے آستانوں کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ دنیا میں جس طرح ان کی چال ہوتی تھی اس کی طرف تہکمانہ اور توہین آمیز اشارہ ہے۔ یہ اپنے میلوں ٹھیلوں میں استخانوں کی طرف بھاگا کرتے تھے۔ اور ان بتوں کے گرد جمع ہوتے تھے۔ یہ لوگ آج بھی تیزی سے بھاگ رہے ہیں لیکن اس بھگدڑ اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

المعارج 70:43

فذرھم ............................ یوعدون آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہ نہایت بےوقعت لوگ ہیں اور ان کا انجام نہایت ہی خوفناک ہے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے حال اور کسمپری کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے وہ اپنی جگہ بہت ہی خوفناک ہے جبکہ اس نقشہ کشی اور تصویر سازی میں حقارت آمیز اور مضحکہ خیزی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور یہ اس حال کے جواب میں ہے جس میں یہاں دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔ یہ لوگ جب قبروں سے نکلیں گے ، تو گھبراہٹ میں اس تیزی سے بھاگیں گے جیسے یہ اپنے آستانوں کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ دنیا میں جس طرح ان کی چال ہوتی تھی اس کی طرف تہکمانہ اور توہین آمیز اشارہ ہے۔ یہ اپنے میلوں ٹھیلوں میں استخانوں کی طرف بھاگا کرتے تھے۔ اور ان بتوں کے گرد جمع ہوتے تھے۔ یہ لوگ آج بھی تیزی سے بھاگ رہے ہیں لیکن اس بھگدڑ اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

المعارج 70:44

اس کے بعد ان کی حالت کی تصویریوں کھینچی جاتی ہے : خاشعة .................... ذلة (07 : 44) ” ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی ، ذلت ان پر چھارہی ہوگی “۔ ان الفاظ سے ان کی ہیئت کذائی کی خوب تصویر کھینچی گئی ہے۔ اور وہ نہایت تھکے ماندے اور ذلیل و خوار نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل دنیا میں ان کی دوڑ دھوپ ، سستی اور کھیل کود کی تھی اور اب یہ ذلیل و خوار ہوکر ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔ ذلک ................ یوعدون (07 : 44) ” یہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا تھا “۔ اور یہ اس میں شک کرتے تھے ، تکذیب کرتے تھے اور جلدی مچاتے تھے۔ یوں سورت کا آغاز اور انجام ایک ہوجاتا ہے۔ اور بعث بعدالموت کے مسئلہ کا یہ حلقہ بھی اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ اور یوں زندگی کے جاہلی تصور اور اسلامی تصور کے مابین یہ معرکہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔