Fi Zilal al-Quran — نوح 71:1 – القيامة 75:40
Contents
- نوح 71:1
- نوح 71:2
- نوح 71:3
- نوح 71:4
- نوح 71:5
- نوح 71:6
- نوح 71:7
- نوح 71:8
- نوح 71:9
- نوح 71:10
- نوح 71:11
- نوح 71:12
- نوح 71:13
- نوح 71:14
- نوح 71:15
- نوح 71:16
- نوح 71:17
- نوح 71:18
- نوح 71:19
- نوح 71:20
- نوح 71:21
- نوح 71:22
- نوح 71:23
- نوح 71:24
- نوح 71:25
- نوح 71:26
- نوح 71:27
- نوح 71:28
- الجن 72:1
- الجن 72:2
- الجن 72:3
- الجن 72:4
- الجن 72:5
- الجن 72:6
- الجن 72:7
- الجن 72:8
- الجن 72:9
- الجن 72:10
- الجن 72:11
- الجن 72:12
- الجن 72:13
- الجن 72:14
- الجن 72:15
- الجن 72:16
- الجن 72:17
- الجن 72:18
- الجن 72:19
- الجن 72:20
- الجن 72:21
- الجن 72:22
- الجن 72:23
- الجن 72:24
- الجن 72:25
- الجن 72:26
- الجن 72:27
- الجن 72:28
- المزمل 73:1
- المزمل 73:2
- المزمل 73:3
- المزمل 73:4
- المزمل 73:5
- المزمل 73:6
- المزمل 73:7
- المزمل 73:8
- المزمل 73:9
- المزمل 73:10
- المزمل 73:11
- المزمل 73:12
- المزمل 73:13
- المزمل 73:14
- المزمل 73:15
- المزمل 73:16
- المزمل 73:17
- المزمل 73:18
- المزمل 73:19
- المزمل 73:20
- المدثر 74:1
- المدثر 74:2
- المدثر 74:3
- المدثر 74:4
- المدثر 74:5
- المدثر 74:6
- المدثر 74:7
- المدثر 74:8
- المدثر 74:9
- المدثر 74:10
- المدثر 74:11
- المدثر 74:12
- المدثر 74:13
- المدثر 74:14
- المدثر 74:15
- المدثر 74:16
- المدثر 74:17
- المدثر 74:18
- المدثر 74:19
- المدثر 74:20
- المدثر 74:21
- المدثر 74:22
- المدثر 74:23
- المدثر 74:24
- المدثر 74:25
- المدثر 74:26
- المدثر 74:27
- المدثر 74:28
- المدثر 74:29
- المدثر 74:30
- المدثر 74:31
- المدثر 74:32
- المدثر 74:33
- المدثر 74:34
- المدثر 74:35
- المدثر 74:36
- المدثر 74:37
- المدثر 74:38
- المدثر 74:39
- المدثر 74:40
- المدثر 74:41
- المدثر 74:42
- المدثر 74:43
- المدثر 74:44
- المدثر 74:45
- المدثر 74:46
- المدثر 74:47
- المدثر 74:48
- المدثر 74:49
- المدثر 74:50
- المدثر 74:51
- المدثر 74:52
- المدثر 74:53
- المدثر 74:54
- المدثر 74:55
- المدثر 74:56
- القيامة 75:1
- القيامة 75:2
- القيامة 75:3
- القيامة 75:4
- القيامة 75:5
- القيامة 75:6
- القيامة 75:7
- القيامة 75:8
- القيامة 75:9
- القيامة 75:10
- القيامة 75:11
- القيامة 75:12
- القيامة 75:13
- القيامة 75:14
- القيامة 75:15
- القيامة 75:16
- القيامة 75:17
- القيامة 75:18
- القيامة 75:19
- القيامة 75:20
- القيامة 75:21
- القيامة 75:22
- القيامة 75:23
- القيامة 75:24
- القيامة 75:25
- القيامة 75:26
- القيامة 75:27
- القيامة 75:28
- القيامة 75:29
- القيامة 75:30
- القيامة 75:31
- القيامة 75:32
- القيامة 75:33
- القيامة 75:34
- القيامة 75:35
- القيامة 75:36
- القيامة 75:37
- القيامة 75:38
- القيامة 75:39
- القيامة 75:40
نوح 71:1
انا ارسلنا ................................ کنتم تعلمون
سورت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ رسالت اور نبوت کا سرچشمہ کیا ہے اور یہ نظریہ اور عقیدہ کہاں سے آرہا ہے۔
انا ارسلنا ............ قومہ (17 : 1) ” ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا “۔ گویا سرچشمہ ہدایت و رسالت ذات باری تعالیٰ ہے۔ تمام انبیاء اپنے عقائد اور ہدایات اللہ سے لیتے ہیں ، اللہ انسانوں کا بھی خالق ہے۔ اس کائنات کا بھی خالق ہے اور اللہ ہی ہے جس نے افسانوں کی فطرت کے اندر معرفت رب کی استعداد رکھی ۔ اور جب بھی انسانوں نے راہ فطرت اور اللہ کی ہدایت سے منہ موڑا ، اللہ نے کوئی نہ کوئی رسول بھیج دیا۔ اور تمام رسول ہمیشہ گم کردہ راہ انسانیت کو راہ راست کی طرف موڑتے رہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سلسلہ رسل کی پہلی کڑی تھے۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد۔ قرآن کریم نے حضرت آدم کی رسالت کا ذکر نہیں فرمایا کہ انہوں نے انسانوں کی ہدایت کے لئے یہ یہ کام کیا ، اس لئے کہ حضرت آدم صرف اپنے بیٹوں اور پوتوں کی ہدایت پر مامور تھے۔ اور حضرت آدم کے پوتے اور اولاد آپ کی وفات کے بعد ایک عرصے کے بعد گمراہ ہوئی اور اپنے لئے بت گھڑ لیے۔ اور ان کی پوجا کرنے لگی۔ پہلے تو وہ ان کو مقدس قوتوں کے لئے بطور مزواشارہ استعمال کرتے تھے بعد میں انہوں نے ان بتوں ہی کی پوجا اختیار کرلی۔ اور ان بتوں میں سے مشہور وہ پانچ بت تھے ، جن کا ذکر اس سورت میں آرہا ہے۔ چناچہ جب یہ لوگ گمراہ ہوگئے تو اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ارسال فرمایا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو عقیدہ توحید کی طرف واپس لانے کی طویل جدوجہد کی۔ اور ان کے عقائد کو درست کرنے کی سعی کی۔ کتب سابقہ میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کو سب سے پہلے نبی کے طور پر ذکر کیا گیا۔ یعنی حرضت نوح (علیہ السلام) سے بھی پہلے۔ لیکن کتب سابقہ کے مندرجات ہمارے لئے حجت نہیں ہیں ، اس لئے کہ ان کے اندر باربار تحریف ہوتی رہی ہے اور ان میں بار بار حذف واضافہ ہوتا رہا ہے۔
قرآن کریم کے قصص کے مطالعے سے یہی تاثر ملتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سب سے پہلے نبی ہیں اور ان کو بالکل انسانیت کے ابتدائی دور میں بھیجا گیا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کی۔ اس دور کے لوگوں کی یہ طویل عمر بھی یہ بتاتی ہے کہ یہ لوگ بہت ہی ابتدائی دور کے لوگ تھے اور پھر اس دور میں انسانوں کی تعداد بھی بہت کم تھی اور انسانوں کی نسل ابھی تک اس طرح نہ پھیلی تھی جس طرح زمانہ مابعد میں پھیل گئی۔ حیاتیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اشیاء کی تعداد کم ہو تو عمر زیادہ ہوتی ہے۔ اللہ ہی حقیقت سے واقف ہے۔ یہ سنن الٰہی کے مطالعہ پر مبنی ہمارا قیاس ہے۔
اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی رسالت کے مشن اور ہدف کی طرف مختصراشارہ آتا ہے۔ یہ کہ اے نوح (علیہ السلام) تم اپنی قوم کو ڈراﺅ:
ان انذر .................... الیم (17 : 1) ” کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کردے قبل اس کے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آئے “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم جس حالت تک پہنچ چکی تھی اور جس طرح وہ آپ کی ہدایات اور تبلیغ سے منہ موڑ رہی تھی ، تکبر کررہی تھی اور نہایت ہی ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھی ، اس کے لئے یہاں یہ کہنا مناسب ہے کہ بس تم ان کو انجام بد سے ڈراﺅ، چناچہ انہوں نے اپنی تقریر کا آغازیوں کیا کہ لوگو ، دنیا وآخرت کے عذاب سے ڈرو ، تم اپنے آپ کو اس عذاب کا مستحق بنا رہے ہو۔
فریضہ رسالت کے تعین کے بعد فوراً یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) تبلیغ شروع کرچکے ہیں۔ آپ کا خطاب یوں ہے کہ لوگوں تم اگرچہ نہایت گھناﺅنے جرائم کا ارتکاب کرچکے ہو لیکن باز آجاﺅ، توبہ کرو ، تمہارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور تمہارا حساب قیامت تک کے لئے ملتوی کردیا جائے گا۔ ورنہ تم تو فوری ہلاکت اور پکڑ کے مستحق ہو۔ ساتھ ساتھ اصول دعوت کا ذکر بھی کردیا گیا کہ اللہ وحدہ کی بندگی کرو ، تمام معاملات میں میری سنت کی پیروی کرو۔
نوح 71:2
قال یقوم .................................... تعلمون (4) (17 : 2 تا 4) ” اس نے کہا : ” اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لئے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں۔ (تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا ، کاش تمہیں اس کا علم ہو “۔
قال یقوم ............................ مبین (17 : 2) ” اے میری قوم کے لوگو ، میں تمہارے لئے صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں “۔ آپ اپنی دعوت میں جس بات کی وضاحت کرتے ہیں وہ ڈراوا ہے۔ اور اس ڈراوے کو آپ نہایت ہی وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔ مجمل بات نہیں کرتے نہ پیچیدہ کرکے اور لپیٹ کر محض اشارات وکنایات سے بات کرتے ہیں نہ آپ اپنی دعوت کے سلسلے میں شف شف کرتے ہیں۔ اور قوم نوح جس انجام سے دوچار ہونے والی تھی وہ بھی آپ نے صاف صاف بتادیا کہ اگر تم باز آجاﺅ تو دنیا کا عذاب موخر ہوسکتا ہے۔
نوح 71:3
حضرت نوح (علیہ السلام) جو دعوت پیش کررہے تھے ، وہ بھی سادہ اور سیدھی ہے۔
ان اعبدو .................... واطیعون (17 : 3) ” کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو “۔ یعنی اللہ وحدہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو ، تمہارے شعور و سلوک پر یہ بات چھائی ہوئی ہو ، اور رسول اللہ کی اطاعت وہ بات ہے جس سے نظام زندگی پھوٹتا ہے اور زندگی کے تفصیلی قواعد وضع ہوتے ہیں جس کی تعبیر سنت رسول سے کی جاتی ہے۔
بس تمام ادیان سماوی کے یہی خطوط ہیں۔ اللہ کا حکم اور رسول اللہ کی اطاعت۔ انہی خطوط پر دین استوار ہوتا ہے۔ تفصیلات ہر دور کے حالات کے مطابق ہوتی ہیں۔ انسانیت کے تفصیلی سوالات ، اس کا تصور وجود اور اس کائنات کے اندر پائے جانے والے مختلف سوالات جو مختلف ادوار میں ہوتے ہیں ان کے جوابات کے نتیجے میں ادیان کی تفصیلات اور فروعات میں اختلاف ہوتا ہے۔
اللہ کی پوری بندگی کرنا ہی دراصل ایک مکمل نظام ہوتا ہے۔ اللہ کی بندگی میں تصور الٰہ ، اس کی اطاعت کی تفصیلات خالق و مخلوق کے درمیان تعلق کی نوعیت ، اس کائنات میں حسن وقبح کے اصول ۔ لوگوں کی زندگیوں میں حسن وقبح کے اصول۔ اس طرح اللہ کی بندگی کے اصول سے ایک مکمل نظام زندگی قائم ہوجاتا ہے۔ زندگی گزارنے کا ایک منہاج سامنے آجاتا ہے۔ یہ ایک ربانی منہاج حیات ہوتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندگی اور خدائی کا باہم تعلق کیا ہوتا ہے ؟ اور وہ کیا قدریں ہیں ، جو زندہ اور غیر زندہ اشیاء کے متعلق اللہ نے تجویز فرمائی ہیں۔ اور ” خدا کا خوف “ وہ ضامن ہے جو اس نظام زندگی اور منہاج حیات کو قائم رکھتا ہے۔ جس قوم کے دل میں خدا کا خوف ہو وہ اس منہاج سے ادھر ادھر نہیں جاتی۔ نہ اس میں حیلے اور بہانے تلاش کرتی ہے۔ نیز تقویٰ کے بدولت انسان کے اندر اخلاق فاضلہ بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ انسان کا طرز عمل حقیقی ہوتا ہے ، بغیر کسی ظاہرداری اور دکھاوے کے۔
اطاعت رسول سے دراصل راستے کی حدود کا تعین ہوتا ہے اور انسان اس سیدھی راہ پر چلنے کے لئے تفصیلی ہدایات اخذ کرتا ہے اور براہ راست رب تعالیٰ اور عالم بالا سے مربوط رہتا ہے۔
یہ تھے وہ خطوط جن پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے آغاز انسانیت سے لوگوں کے لئے راہ ہدایت اور منہاج حیات استوار کیا۔ اور از منہ مابعد کی تمام دعوتیں انہی خطوط پر استوار ہوتی رہیں اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم سے وعدہ کیا کہ اگر تم نے توبہ کرلی اور لوٹ آئے تو اللہ معاف کردے گا۔
نوح 71:4
یغفرلکم ........................ اجل مسمی (17 : 4) ” اور تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا “۔ اور یہ باقی رکھنا ، اس بات کے عوض میں ہوگا کہ تم اللہ کی بندگی کرو گے ، اللہ سے ڈرو گے اور رسول خدا کی اطاعت کرو گے ، اور اس کے بدلے اللہ مزید یہ کرے گا کہ تمہارے سابقہ گناہ بھی معاف کردے گا اور تمہارا حساب و کتاب اس وقت تک موخر ہوجائے گا جو اللہ نے مقرر کررکھا ہے یعنی یوم الاخرت تک۔ اور اس طرح دنیا میں تم پر جو تباہ کن عذاب آنے والا ہے ، وہ موخر ہوجائے گا۔ (عنقریب حضرت نوح (علیہ السلام) پیش کریں گے کہ اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ اور بھی وعدے فرمائے تھے) ۔
اس کے بعد یہ فرمایا گیا کہ قیام قیامت حتمی ہے اور وہ اپنے وقت پر ضرور آئے گی۔ اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوسکتی۔ جس طرح دنیا کے عذاب میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ چناچہ قیامت کے بارے میں عقیدے کو یوں درست کردیا جاتا ہے۔
ان اجل ........................ تعلمون (17 : 4) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا ، کاش تمہیں اس کا علم ہو “۔ اس سے مراد قیامت بھی ہوسکتی ہے اور ہر وہ دوسرا وقت بھی ہوسکتا ہے جو اللہ کسی واقعہ کے وقوع کے لئے مقرر کردے۔ بہرحال یہاں یہ عام عقیدہ ذہنوں میں بٹھانا مقصود ہے کہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ٹالا نہیں جاسکتا۔ ہاں اگ ریہ لوگ اطاعت کرلیں اور توبہ کرلیں تو اللہ دنیا میں تباہ کردینے کی بجائے قیام قیامت تک کے لئے ان کا عذاب ٹال دے گا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی مساعی جاری رکھے ہوئے ہیں ، اور اپنی قوم کو ہدایت کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ کسی مصلحت کی پرواہ نہیں کرتے ، کسی مفاد کا لحاظ نہیں کررہے۔ وہ اس عظیم مقصد کے لئے وہ سب کچھ برداشت کررہے ہیں۔ لوگ اعتراض کررہے ہیں ، منہ موڑ رہے ہیں اور مذاق کررہے ہیں۔ لیکن آپ ہیں کہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ساڑھے نو سو سال اس جدوجہد میں گزرجاتے ہیں۔ چند لوگ ہی دعوت قبول کرتے ہیں جبکہ قوم کی طرف سے منہ موڑنے ، گمراہی پر اصرار کرنے اور مذاق کرنے میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ ٹھیک ساڑھے نو سو سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ اس طویل عرصے میں جو کچھ پیش آیا ، وہ عرض کردیتے ہیں ، جبکہ رب تعالیٰ کو تو پہلے سے معلوم ہے۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) بھی جانتے ہیں کہ رب کو معلوم ہے ، لیکن شکوہ شکایت یونہی دہرائی جاتی ہے اور انبیائے کرام کا شکوہ تو اللہ ہی سے ہوسکتا ہے۔ وہ اللہ کے ہاں ہی اپنی فریاد پیش کرسکتے ہیں۔ اور وہ مومنین جن کو حقیقت ایمان تک رسائی حاصل ہوتی ہے وہ بھی صرف اللہ ہی سے شکایت کرتے ہیں۔
نوح 71:5
قال رب انی ............................ سبلا فجاجا
یہ تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کارکردگی اور یہ رہی ان کی رپورٹ۔ اس طویل عرصہ کارکردگی میں وہ اپنے رب کے سامنے اپنا حساب پیش فرماتے ہیں۔ آپ کی رپورٹ میں جو چیز نمایاں ہے ، وہ آپ کی جہد مسلسل ہے۔
انی دعوت .................... ونھارا (17 : 5) ” اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا “۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری ، وقفہ نہیں کیا ، اور وہ لوگوں کو مسلسل اعراض اور اصرار کے باوجود مایوس نہیں ہوئے لیکن
فلم یزدھم ................ فرار (17 : 6) ” لیکن میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا “۔ یعنی وہ داعی الی اللہ سے بھاگتے رہے اور شیطان کے پیچھے پڑے رہے۔ حالانکہ اللہ ان کا خالق تھا ، جن انعامات میں وہ مزے سے رہ رہے تھے ، وہ اللہ کی تخلیق کردہ تھیں۔ یہ ہدایت بھی اللہ ہی کی طرف سے آرہی تھی ، اور داعی نہ اجر کا طلبگار تھا اور نہ فیس عائد کررہا تھا۔ اور جس ذات سے وہ بھاگ رہے تھے وہ ان کو اس لئے بلارہی تھی کہ آﺅ تمہیں بخش دیا جائے ، آﺅ تمہیں ان گناہوں کے انجام سے بچایا جائے اور معصیت اور ضلال سے بچایا جائے۔
وہ تو بھاگتے رہے لیکن داعی حق ان کو گھیرتے رہے اور ہر طرح ان کے کانوں تک کلمہ حق پہنچاتے رہے لیکن انہوں نے نہ اس بات کو برداشت کیا کہ ان کے کانوں میں کلمہ حق پڑے اور نہ اس بات کو پسند کیا کہ پیغمبر پر ان کی نظریں پڑیں ، اس لئے انہوں نے گمراہی پر بےحد اصرار اور کلمہ حق کے قبول کرنے سے بڑا تکبر کیا۔
نوح 71:6
قال رب انی ............................ سبلا فجاجا
یہ تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کارکردگی اور یہ رہی ان کی رپورٹ۔ اس طویل عرصہ کارکردگی میں وہ اپنے رب کے سامنے اپنا حساب پیش فرماتے ہیں۔ آپ کی رپورٹ میں جو چیز نمایاں ہے ، وہ آپ کی جہد مسلسل ہے۔
انی دعوت .................... ونھارا (17 : 5) ” اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا “۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری ، وقفہ نہیں کیا ، اور وہ لوگوں کو مسلسل اعراض اور اصرار کے باوجود مایوس نہیں ہوئے لیکن
فلم یزدھم ................ فرار (17 : 6) ” لیکن میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا “۔ یعنی وہ داعی الی اللہ سے بھاگتے رہے اور شیطان کے پیچھے پڑے رہے۔ حالانکہ اللہ ان کا خالق تھا ، جن انعامات میں وہ مزے سے رہ رہے تھے ، وہ اللہ کی تخلیق کردہ تھیں۔ یہ ہدایت بھی اللہ ہی کی طرف سے آرہی تھی ، اور داعی نہ اجر کا طلبگار تھا اور نہ فیس عائد کررہا تھا۔ اور جس ذات سے وہ بھاگ رہے تھے وہ ان کو اس لئے بلارہی تھی کہ آﺅ تمہیں بخش دیا جائے ، آﺅ تمہیں ان گناہوں کے انجام سے بچایا جائے اور معصیت اور ضلال سے بچایا جائے۔
وہ تو بھاگتے رہے لیکن داعی حق ان کو گھیرتے رہے اور ہر طرح ان کے کانوں تک کلمہ حق پہنچاتے رہے لیکن انہوں نے نہ اس بات کو برداشت کیا کہ ان کے کانوں میں کلمہ حق پڑے اور نہ اس بات کو پسند کیا کہ پیغمبر پر ان کی نظریں پڑیں ، اس لئے انہوں نے گمراہی پر بےحد اصرار اور کلمہ حق کے قبول کرنے سے بڑا تکبر کیا۔
نوح 71:7
وانی کلما ........................ استکبار (17 : 7) ” اور جب بھی میں ان نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کردے ، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا “۔ یہ ہے انداز داعی حق کا کہ وہ اپنی دعوت پر اصرار کرتا ہے او جونہی اور جب بھی اسے موقعہ ملے وہ کلمہ حق کہہ دیتا ہے جبکہ اہل کفر کے اصرار کی بھی یہ ایک مثال ہے کہ جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئیں تو منہ بھی چھپالیتے ہیں۔ اس دعوت اور اس انکار سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ایام میں جبکہ بشریت عہد طفولیت میں تھی۔ دعوت کے شب وروز کیا تھے کہ لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے اور سروں کو چادروں میں چھپا لیتے تھے۔ انداز تعبیر سے لوگوں کا کافرانہ طرز عمل ظاہر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ یہ انگلیوں کو کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں۔ پوری انگلیاں تو کانوں میں نہیں ٹھونسی جاتیں مگر یہ مبالغہ کے لئے کہا گیا کہ وہ کانوں کو یوں بند کررہے ہیں کہ آواز کسی طرح بھی ان کے کانوں تک نہ پہنچ سکے۔ گویا یہ کوشش کررہے تھے کہ پوری انگلی کو کانوں میں ٹھونس لیں۔ یہ سخت اصرار اور ہٹ دھرمی کی شکل ہے اور ابتدائی ادوار میں یہی صورت حالات تھی۔
نوح 71:8
وانی کلما ........................ استکبار (17 : 7) ” اور جب بھی میں ان نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کردے ، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا “۔ یہ ہے انداز داعی حق کا کہ وہ اپنی دعوت پر اصرار کرتا ہے او جونہی اور جب بھی اسے موقعہ ملے وہ کلمہ حق کہہ دیتا ہے جبکہ اہل کفر کے اصرار کی بھی یہ ایک مثال ہے کہ جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئیں تو منہ بھی چھپالیتے ہیں۔ اس دعوت اور اس انکار سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ایام میں جبکہ بشریت عہد طفولیت میں تھی۔ دعوت کے شب وروز کیا تھے کہ لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے اور سروں کو چادروں میں چھپا لیتے تھے۔ انداز تعبیر سے لوگوں کا کافرانہ طرز عمل ظاہر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ یہ انگلیوں کو کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں۔ پوری انگلیاں تو کانوں میں نہیں ٹھونسی جاتیں مگر یہ مبالغہ کے لئے کہا گیا کہ وہ کانوں کو یوں بند کررہے ہیں کہ آواز کسی طرح بھی ان کے کانوں تک نہ پہنچ سکے۔ گویا یہ کوشش کررہے تھے کہ پوری انگلی کو کانوں میں ٹھونس لیں۔ یہ سخت اصرار اور ہٹ دھرمی کی شکل ہے اور ابتدائی ادوار میں یہی صورت حالات تھی۔
نوح 71:9
مسلسل دعوت دیتے چلے جانے ، ہر موقعہ سے فائدہ اٹھانے اور ان تھک جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعوت اسلامی کے لئے ہر انداز بھی اختیار کیا۔ کبھی انہوں نے ببانگ دہل دعوت دی۔ کبھی انہوں نے خفیہ تحریک چلائی۔
ثم انی .................... اسرارا (17 : 9) ” پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی۔ پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا “۔
اس دعوت کے دوران حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو یہ بھی بتایا کہ اگر تم میری دعوت قبول کرلو تو تمہیں دنیا اور آخرت دونوں جہانوں کی کامیابی نصیب ہوگی۔ اور یہ بھی بتایا کہ اگر تم لوگ اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرو تو وہ تمہیں بخش دے گا ، کیونکہ وہ تو بہت بخشنے والا ہے۔
نوح 71:10
فقلت .................... غفارا (17 : 01) ” میں نے کہا : ” اپنے رب سے معافی مانگو ، بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے “۔ اور ان کو یہ لالچ بھی دیا کہ اللہ تمہیں وافر رزق بھی دے گا ، بارشوں کے ذریعہ نہریں بہادے گا ، اولاد دے گا ، اموال دے گا ، جو تمہیں بہت عزیز ہیں۔
نوح 71:11
یرسل .................... مدرارا (17 : 11) ویمدد ................ انھرا (17 : 21) ” وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا “۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے استغفار اور عظائے رزق جہاں کو باہم یکجا کردیا اور قرآن میں بیشمار مواقع پر ایمان ، ہدایت اور صلاح اور تقویٰ اور خوشحالی اور وافر رزق کو ایک دوسرے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔ دوسری جگہ آتا ہے :
ولو ان .................... یکسبون (7 : 69) ” اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم آسمان و زمین سے ان پر نعمتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑا “۔
اور دوسری جگہ ہے :
ولو ان ............................ ارجلھم (66) (5 : 56۔ 66) ” اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کردیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کردیتے ، اگر وہ توریت ، انجیل اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا ان کے رب کی طرف سے ، ان کو قائم کرتے ، تو وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پاﺅں کے نیچے سے کھاتے “۔
اور دوسری جگہ ہے :
الا تعبدوا .................... فضل فضلہ (3) (11 : 2۔ 3) ” یہ کہ عبادت نہ کرو مگر اللہ کی میں تم کو اس کی طرف سے ڈر اور خوشخبری سناتا ہوں اور یہ کہ گناہ بخشواﺅ اپنے رب سے اور اس کی طرف رجوع کرو ، وہ تم کو بہت اچھا فائدہ پہنچائے گا۔ ایک مقرر وقت تک اور دے دے گا ہر صاحب فضل کو اس کا فضل “۔
یہ اصول جس کا ذکر قرآن کریم متفرق مقامات پر کرتا ہے ایک صحیح اصول ہے او یہ اللہ اپنے وعدے پر قائم ہے اور ان سنن حیات پر قائم ہے جو اللہ نے اس کائنات میں جاری کیے ہیں اور انسانوں کی عملی تاریخ اس پر شاہد عادل ہے۔ یہ قاعدہ اقوام کے لئے ہے افراد کے لئے نہیں ہے۔ اس جہاں میں جب بھی کسی قوم نے شریعت پر اپنا نظام استوار کیا ہے اور عمل صالح اختیار کرکے خدا خوفی کا رویہ اپنایا ہے اور اللہ سے ڈر کر اپنی کوتاہیوں سے معافی طلب کی ہے ، اللہ نے اسے مادی ترقی بھی دی ہے۔ غرض جب بھی کسی قوم نے تقویٰ اختیار کرکے اللہ کی بندگی اختیار کی ہے اور شریعت کو نافذ کیا ہے ، اور لوگوں کے درمیان عدل کا نظام رائج کیا ہے تو اس کائنات کی قدرتی قوتوں نے اس کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اللہ نے اسے زمین پر تمکین عطا کی ہے اور وہ دنیاوی ترقی کے اعتبار سے بھی عروج تک پہنچی ہے۔
بعض اوقات ہم اس کرہ ارض پر ایسی اقوام دیکھتے ہیں جو اللہ سے نہیں ڈرتیں اور جو اللہ کی شریعت کے مطابق عمل پیرا نہیں ہوتیں ، لیکن اس کے باوجود ان کو وافر رزق ملتا ہے۔ اور اس زمین کے اوپر ان کو اقتدار اعلیٰ بھی ملا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے۔
وتبلوکم ................ فتنة ” اور ہم تمہیں خیروشر کے ذریعہ سے آزماتے ہیں “۔ پھر یہ خوشحالی ایک سڑی ہوئی خوشحالی ہوتی ہے اور اسے اجتماعی بیماریاں ، اخلاقی کر اوٹ ، ظلم اور زیادتی ، انسانی شرافت کا فقدان جیسی خرابیاں لاحق ہوتی ہیں اور ان کا مزہ کر کرا ہوتا ہے۔ آج ہمارے سامنے دو بڑی حکومتیں ہیں جن کو اللہ نے رزق میں وہ وسعت دی ہے۔ زمین کے ایک بڑے حصے پر ان کا اقتدار ملا ہوا ہے۔ ایک سرمایہ دار ہے اور ایک اشتراکی ہے۔ (سید قطب ، آپ کو اللہ نے اطلاع دے دی ہوگی کہ یہ نابود ہوچکی ہے) جہاں تک پہلی کا تعلق ہے اس کی اخلاقی حالت حیوانوں سے بھی زیادہ گری ہوئی ہے۔ اور ان کی زندگی کی مجموعی حالت یہ ہے کہ یہ صرف ڈالر پر قائم ہے اور ڈالر کے سوا وہاں کوئی اخلاقی قدر نہیں ہے۔ اور دوسری حکومت میں انسان ایک غلام سے بھی گرا ہوا ہے اور اس کا جاسوسی نظام اس قدر خوفناک ہے کہ ہر شخص ایک دائمی خوف میں زندگی بسر کرتا ہے۔ کوئی شخص رات کو اس حال میں نہیں سوتا کہ اسے صبح گرفتاری کا ڈر نہ ہو۔ یہ دونوں ممالک انسانی معیاروں کے لحاظ سے گرے ہوئے ہیں۔ (صرف سٹالن نے 3 کروڑ انسان تہ تیغ کیے۔ مترجم)
نوح 71:12
یرسل .................... مدرارا (17 : 11) ویمدد ................ انھرا (17 : 21) ” وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا “۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے استغفار اور عظائے رزق جہاں کو باہم یکجا کردیا اور قرآن میں بیشمار مواقع پر ایمان ، ہدایت اور صلاح اور تقویٰ اور خوشحالی اور وافر رزق کو ایک دوسرے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔ دوسری جگہ آتا ہے :
ولو ان .................... یکسبون (7 : 69) ” اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم آسمان و زمین سے ان پر نعمتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑا “۔
اور دوسری جگہ ہے :
ولو ان ............................ ارجلھم (66) (5 : 56۔ 66) ” اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کردیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کردیتے ، اگر وہ توریت ، انجیل اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا ان کے رب کی طرف سے ، ان کو قائم کرتے ، تو وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پاﺅں کے نیچے سے کھاتے “۔
اور دوسری جگہ ہے :
الا تعبدوا .................... فضل فضلہ (3) (11 : 2۔ 3) ” یہ کہ عبادت نہ کرو مگر اللہ کی میں تم کو اس کی طرف سے ڈر اور خوشخبری سناتا ہوں اور یہ کہ گناہ بخشواﺅ اپنے رب سے اور اس کی طرف رجوع کرو ، وہ تم کو بہت اچھا فائدہ پہنچائے گا۔ ایک مقرر وقت تک اور دے دے گا ہر صاحب فضل کو اس کا فضل “۔
یہ اصول جس کا ذکر قرآن کریم متفرق مقامات پر کرتا ہے ایک صحیح اصول ہے او یہ اللہ اپنے وعدے پر قائم ہے اور ان سنن حیات پر قائم ہے جو اللہ نے اس کائنات میں جاری کیے ہیں اور انسانوں کی عملی تاریخ اس پر شاہد عادل ہے۔ یہ قاعدہ اقوام کے لئے ہے افراد کے لئے نہیں ہے۔ اس جہاں میں جب بھی کسی قوم نے شریعت پر اپنا نظام استوار کیا ہے اور عمل صالح اختیار کرکے خدا خوفی کا رویہ اپنایا ہے اور اللہ سے ڈر کر اپنی کوتاہیوں سے معافی طلب کی ہے ، اللہ نے اسے مادی ترقی بھی دی ہے۔ غرض جب بھی کسی قوم نے تقویٰ اختیار کرکے اللہ کی بندگی اختیار کی ہے اور شریعت کو نافذ کیا ہے ، اور لوگوں کے درمیان عدل کا نظام رائج کیا ہے تو اس کائنات کی قدرتی قوتوں نے اس کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اللہ نے اسے زمین پر تمکین عطا کی ہے اور وہ دنیاوی ترقی کے اعتبار سے بھی عروج تک پہنچی ہے۔
بعض اوقات ہم اس کرہ ارض پر ایسی اقوام دیکھتے ہیں جو اللہ سے نہیں ڈرتیں اور جو اللہ کی شریعت کے مطابق عمل پیرا نہیں ہوتیں ، لیکن اس کے باوجود ان کو وافر رزق ملتا ہے۔ اور اس زمین کے اوپر ان کو اقتدار اعلیٰ بھی ملا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے۔
وتبلوکم ................ فتنة ” اور ہم تمہیں خیروشر کے ذریعہ سے آزماتے ہیں “۔ پھر یہ خوشحالی ایک سڑی ہوئی خوشحالی ہوتی ہے اور اسے اجتماعی بیماریاں ، اخلاقی کر اوٹ ، ظلم اور زیادتی ، انسانی شرافت کا فقدان جیسی خرابیاں لاحق ہوتی ہیں اور ان کا مزہ کر کرا ہوتا ہے۔ آج ہمارے سامنے دو بڑی حکومتیں ہیں جن کو اللہ نے رزق میں وہ وسعت دی ہے۔ زمین کے ایک بڑے حصے پر ان کا اقتدار ملا ہوا ہے۔ ایک سرمایہ دار ہے اور ایک اشتراکی ہے۔ (سید قطب ، آپ کو اللہ نے اطلاع دے دی ہوگی کہ یہ نابود ہوچکی ہے) جہاں تک پہلی کا تعلق ہے اس کی اخلاقی حالت حیوانوں سے بھی زیادہ گری ہوئی ہے۔ اور ان کی زندگی کی مجموعی حالت یہ ہے کہ یہ صرف ڈالر پر قائم ہے اور ڈالر کے سوا وہاں کوئی اخلاقی قدر نہیں ہے۔ اور دوسری حکومت میں انسان ایک غلام سے بھی گرا ہوا ہے اور اس کا جاسوسی نظام اس قدر خوفناک ہے کہ ہر شخص ایک دائمی خوف میں زندگی بسر کرتا ہے۔ کوئی شخص رات کو اس حال میں نہیں سوتا کہ اسے صبح گرفتاری کا ڈر نہ ہو۔ یہ دونوں ممالک انسانی معیاروں کے لحاظ سے گرے ہوئے ہیں۔ (صرف سٹالن نے 3 کروڑ انسان تہ تیغ کیے۔ مترجم)
نوح 71:13
اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی طویل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اپنی قوم کو انفس وآفاق میں پائے جانے والے دلائل ایمان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ اس کے جواب میں قوم ان کو کس طرح رد کرتی ہے ، نہایت گستاخانہ رویہ اپناتی ہے۔ آپ اس رویہ پر ان کی سرزنش کرتے ہیں۔
مالکم ................ وقارا (17 : 31) وقد ............ اطوارا (17 : 41) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے “۔ یہ اطوار کیا تھے ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ان کو اچھی طرح سمجھتی تھی یا اس کا کوئی ایسا مفہوم تھا جو وہ لوگ اس وقت اچھی طرح سمجھتے تھے اور یہ طور اور تفریق کا ان کے ذہنوں پر بہت ہی اچھا اثر تھا۔ اس پر غور کرنے سے وہ راہ راست پر آسکتے تھے۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ مراد جنین کے مختلف اطوار ہیں۔ نطفہ ، علقہ ، مضغہ اور موجودہ ہیکل انسانی۔ اور اس حقیقت کو وہ لوگ بھی سمجھتے تھے اور ہم بھی۔ کیونکہ وہ جو جنین کامل ہونے سے قبل ہی گر جاتے ہوں گے ، ان کے مشاہدے سے وہ انسانی اطوار کو سمجھتے ہوں گے۔ بہرحال اس آیت کے ممکنہ معنوں میں سے یہ ایک مفہوم ہے۔ یہ بھی ممکن ہے اس سے مراد جنین کے اطوار ہوں کہ آغاز میں وہ ایک خلیے کا حیوان ہوجاتا ہے۔ پھر متعدد خلیوں والا بن جاتا ہے ، پھر پانی کے حیوانات کی طرح ، پھر پستانوں والے حیوانات کی طرح اور آکر کار موجودہ شکل انسانی کی طرح۔ لیکن یہ اطوار قوم نوح (علیہ السلام) کے لئے قریب انفہم نہ تھے کیونکہ یہ اطوار حال ہی میں مشاہدے میں آئے ہیں۔ اور اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے جو دوسری آیات کا ہے۔
ثم انشانا .................... الخالقین ” پھر اٹھاکھڑا کیا اس کو ایک نئی صورت میں ، تو اللہ برکتوں والا ہے سب سے بہتر بنانے والا “۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان دونوں آیات کا اس کے سوا بھی کوئی اور مفہوم ہو۔ جسے ابھی تک ہم نہ سمجھ سکے ہوں اور آئندہ کسی وقت سمجھ لیں۔
بہرحال نوح (علیہ السلام) نے ان کو مطالعہ ذات کی طرف متوجہ کیا اور اس بات پر سخت گرفت کی کہ دیکھو تو سہی کہ اللہ نے تم کو کس طریقے سے پیدا کیا ہے اور پھر بھی لوگ خالق کو نہیں پہچانتے حالانکہ وہ دیکھتے ہیں کہ تمام مخلوقات میں سے انسان محیر العقول مخلوق ہے۔ اور اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو کائنات کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
نوح 71:14
اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی طویل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اپنی قوم کو انفس وآفاق میں پائے جانے والے دلائل ایمان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ اس کے جواب میں قوم ان کو کس طرح رد کرتی ہے ، نہایت گستاخانہ رویہ اپناتی ہے۔ آپ اس رویہ پر ان کی سرزنش کرتے ہیں۔
مالکم ................ وقارا (17 : 31) وقد ............ اطوارا (17 : 41) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے “۔ یہ اطوار کیا تھے ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ان کو اچھی طرح سمجھتی تھی یا اس کا کوئی ایسا مفہوم تھا جو وہ لوگ اس وقت اچھی طرح سمجھتے تھے اور یہ طور اور تفریق کا ان کے ذہنوں پر بہت ہی اچھا اثر تھا۔ اس پر غور کرنے سے وہ راہ راست پر آسکتے تھے۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ مراد جنین کے مختلف اطوار ہیں۔ نطفہ ، علقہ ، مضغہ اور موجودہ ہیکل انسانی۔ اور اس حقیقت کو وہ لوگ بھی سمجھتے تھے اور ہم بھی۔ کیونکہ وہ جو جنین کامل ہونے سے قبل ہی گر جاتے ہوں گے ، ان کے مشاہدے سے وہ انسانی اطوار کو سمجھتے ہوں گے۔ بہرحال اس آیت کے ممکنہ معنوں میں سے یہ ایک مفہوم ہے۔ یہ بھی ممکن ہے اس سے مراد جنین کے اطوار ہوں کہ آغاز میں وہ ایک خلیے کا حیوان ہوجاتا ہے۔ پھر متعدد خلیوں والا بن جاتا ہے ، پھر پانی کے حیوانات کی طرح ، پھر پستانوں والے حیوانات کی طرح اور آکر کار موجودہ شکل انسانی کی طرح۔ لیکن یہ اطوار قوم نوح (علیہ السلام) کے لئے قریب انفہم نہ تھے کیونکہ یہ اطوار حال ہی میں مشاہدے میں آئے ہیں۔ اور اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے جو دوسری آیات کا ہے۔
ثم انشانا .................... الخالقین ” پھر اٹھاکھڑا کیا اس کو ایک نئی صورت میں ، تو اللہ برکتوں والا ہے سب سے بہتر بنانے والا “۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان دونوں آیات کا اس کے سوا بھی کوئی اور مفہوم ہو۔ جسے ابھی تک ہم نہ سمجھ سکے ہوں اور آئندہ کسی وقت سمجھ لیں۔
بہرحال نوح (علیہ السلام) نے ان کو مطالعہ ذات کی طرف متوجہ کیا اور اس بات پر سخت گرفت کی کہ دیکھو تو سہی کہ اللہ نے تم کو کس طریقے سے پیدا کیا ہے اور پھر بھی لوگ خالق کو نہیں پہچانتے حالانکہ وہ دیکھتے ہیں کہ تمام مخلوقات میں سے انسان محیر العقول مخلوق ہے۔ اور اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو کائنات کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
نوح 71:15
الم تروا ............................ سراجا (17 : 61) ” کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ “۔ سات آسمانوں کے مفوم کا تعین ہم ان سائنسی نظریات کے مطابق نہیں کرسکتے ، جو سائنس دان اس کائنات کے بارے میں گھڑتے رہتے ہیں۔ کیونکہ سائنسی نظریات تو مفروضات ہوتے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کو سات آسمانوں کی طرف متوجہ کیا اور اللہ نے ان کو بتایا کہ یہ سات ہیں۔ اور ان آسمانوں میں شمس وقمر اس طرح ہیں کہ ایک نور ہے اور دوسرا چراغ ہے۔ لوگ آسمانوں کو بھی دیکھ رہے تھے ، اور شمس وقمر کو بھی دیکھ رہے تھے۔ آسمان اس فضا سے عبارت ہے جو نیلگوں ہے۔ یہ ہے کیا ؟ اس کی حقیقت نہ وہ معلوم کرسکتے تھے اور نہ ان سے مطلوب تھا۔ نہ آج تک ان کی حقیقت معلوم ہوسکی ہے۔ اس حد تک وضاحت اس بات کے لئے کافی ہے کہ انسان اس ہولناک کائنات پر غور وفکر کرے اور دیکھے کہ قدرت الٰیہ نے کس قدر عجیب تخلیق کی ہے اور یہی مقصد تھا حضرت نوح (علیہ السلام) کا۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ نے تمہیں کس طرح زمین سے پیدا کیا اور کس طرح دوبارہ زمین کی طرف لوٹایا۔ پھر اس سے تمہیں نکالے گا۔
نوح 71:16
الم تروا ............................ سراجا (17 : 61) ” کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ “۔ سات آسمانوں کے مفوم کا تعین ہم ان سائنسی نظریات کے مطابق نہیں کرسکتے ، جو سائنس دان اس کائنات کے بارے میں گھڑتے رہتے ہیں۔ کیونکہ سائنسی نظریات تو مفروضات ہوتے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کو سات آسمانوں کی طرف متوجہ کیا اور اللہ نے ان کو بتایا کہ یہ سات ہیں۔ اور ان آسمانوں میں شمس وقمر اس طرح ہیں کہ ایک نور ہے اور دوسرا چراغ ہے۔ لوگ آسمانوں کو بھی دیکھ رہے تھے ، اور شمس وقمر کو بھی دیکھ رہے تھے۔ آسمان اس فضا سے عبارت ہے جو نیلگوں ہے۔ یہ ہے کیا ؟ اس کی حقیقت نہ وہ معلوم کرسکتے تھے اور نہ ان سے مطلوب تھا۔ نہ آج تک ان کی حقیقت معلوم ہوسکی ہے۔ اس حد تک وضاحت اس بات کے لئے کافی ہے کہ انسان اس ہولناک کائنات پر غور وفکر کرے اور دیکھے کہ قدرت الٰیہ نے کس قدر عجیب تخلیق کی ہے اور یہی مقصد تھا حضرت نوح (علیہ السلام) کا۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ نے تمہیں کس طرح زمین سے پیدا کیا اور کس طرح دوبارہ زمین کی طرف لوٹایا۔ پھر اس سے تمہیں نکالے گا۔
نوح 71:17
واللہ ................ اخراجا (17 : 81) ” اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا ، پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا “۔
انسان کی تخلیق کے عمل کو یہاں ” اگانے “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ایک عجیب انداز تعبیر ہے۔ قرآن کریم میں کئی جگہ یہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً ۔
والبلد ................ الا نکدا ” ایک پاکیزہ زمین اپنے نباتات اپنے رب کے اذن سے نکالتی ہے اور جو خبیث ہے وہ صرف کم پیداوار نکالتی ہے “۔ اس آیت میں انسانوں کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے۔ اور انسان کی پیدائش کے ساتھ نباتات کی پیدائش کا ذکر تو کئی جگہ آتا ہے۔ سورة حج میں بعث بعدالموت پر دلیل دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے :
یایھا الناس .................... زوج بھیج (33 : 5) ” اے لوگو ، تمہیں قیامت میں زندہ ہوکر اٹھنے میں شبہ ہے تو ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے ، جو مختلف تھی بنی ہوئی اور غیر بنی ہوئی ، تاکہ تم کو بتا دیں اور ارحام میں ہم ٹھہراتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مقرر وقت تک ، پھر تمہیں طفل کی شکل میں نکالتے ہیں تاکہ تم جوانی تک پہنچو ، پھر تم میں سے بعض کو موت آلیتی ہے اور بعض ذلیل عمر تک لوٹ جاتے ہیں ، تاکہ اس طرح وہ علم کے بعد کچھ نہ جائیں اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خراب پڑی ہے۔ جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ تازہ ہوجاتی ہے۔ اور ابھرتی ہے۔ اور وہ ہر قسم کی پررونق چیز اگاتی ہے “۔ اور سورة مومنون میں پیدائش کے مختلف مدارج بتلانے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے۔
فانشانا ................ واعناب ” پھر ہم اس کے ذریعے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات اگاتے ہیں “۔ اور اسی طرح دوسرے مقامات پر بھی۔
یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو قابل نظر ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ روئے زمین پر اللہ نے حیات ونبات کے لئے تقریباً ایک ہی جیسے اصول رکھے ہیں۔ انسان کی تخلیق بھی اسی طرح ہے جس طرح نباتات کی تخلیق ہے۔ جن عناصر سے انسان پیدا ہوتا ہے انہی سے حیوانات ونباتات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ دونوں انہی عناصر سے غذا اخذ کرتے ہیں۔ انسان حیوان بھی زمین کے نباتات میں سے ایک نبات ہیں۔ جس طرح اللہ نے نباتات کو رنگارنگی دی ہے ، اسی طرح حیوانات اور انسانوں کو بھی تنوع اور رنگارنگی دی ہے۔ دونوں زمین سے ہیں ، دونوں زمین سے غذا لیتے ہیں اور دونوں زمین میں فنا ہوتے ہیں۔
یوں ایمان کے ذریعہ ایک مومن کے شعور میں اس زمین کی زندہ اگنے والی مخلوق کے بارے میں صحیح تصور پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک زندہ اور لعمی شعور ہے کیونکہ اس کی اساس شعوری ایمان پر ہے اور یہ قرآنی علوم کا مخصوص امتیاز ہے۔
جو لوگ زمین سے پیدا کیے گئے ہیں وہ دوبارہ اس زمین کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ جس طرح اللہ نے ان کو زمین سے نکالا ، دوبارہ زمین کی طرف لوٹائے گا۔ چناچہ اس طرح ان کی ہڈیاں اور بوسیدہ اجزائے وجود زمین کے ذرات کو زمین سے نکالے گا۔ اور یہ اسی طرح ہوگا جس طرح پہلی مرتبہ ہوا۔ یہ نہایت ہی سہل کام ہے اللہ کے لئے۔ یہ کام اللہ ایک لمحہ اور ایک لحظہ میں کردے گا۔ یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ بشرطیکہ لوگ قرآنی زاویہ سے اس حقیقت پر غور کریں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا تاکہ ان کو معلوم ہو کہ اللہ قدرتوں والا ہے کہ اس نے تمہیں اس زمین سے اگایا ہے اور دوبارہ بھی وہ تمہیں اسی طرح اگالے گا۔ جب یہ شعور انسان کے اندر بیٹھ گیا تو پھر انسان خوف آخرت کرنے لگتا ہے۔ اور اس کی تیاری کرتا ہے کیونکہ یہ قیامت تو اسی طرح آسانی سے قائم ہوجائے گی جس طرح اس زمین پر نباتات اگتے ہیں۔ نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ۔ جس کے اندر کوئی معقول انسان ، کوئی قبل وقال نہیں کرسکتا۔
نوح 71:18
واللہ ................ اخراجا (17 : 81) ” اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا ، پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا “۔
انسان کی تخلیق کے عمل کو یہاں ” اگانے “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ایک عجیب انداز تعبیر ہے۔ قرآن کریم میں کئی جگہ یہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً ۔
والبلد ................ الا نکدا ” ایک پاکیزہ زمین اپنے نباتات اپنے رب کے اذن سے نکالتی ہے اور جو خبیث ہے وہ صرف کم پیداوار نکالتی ہے “۔ اس آیت میں انسانوں کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے۔ اور انسان کی پیدائش کے ساتھ نباتات کی پیدائش کا ذکر تو کئی جگہ آتا ہے۔ سورة حج میں بعث بعدالموت پر دلیل دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے :
یایھا الناس .................... زوج بھیج (33 : 5) ” اے لوگو ، تمہیں قیامت میں زندہ ہوکر اٹھنے میں شبہ ہے تو ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے ، جو مختلف تھی بنی ہوئی اور غیر بنی ہوئی ، تاکہ تم کو بتا دیں اور ارحام میں ہم ٹھہراتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مقرر وقت تک ، پھر تمہیں طفل کی شکل میں نکالتے ہیں تاکہ تم جوانی تک پہنچو ، پھر تم میں سے بعض کو موت آلیتی ہے اور بعض ذلیل عمر تک لوٹ جاتے ہیں ، تاکہ اس طرح وہ علم کے بعد کچھ نہ جائیں اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خراب پڑی ہے۔ جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ تازہ ہوجاتی ہے۔ اور ابھرتی ہے۔ اور وہ ہر قسم کی پررونق چیز اگاتی ہے “۔ اور سورة مومنون میں پیدائش کے مختلف مدارج بتلانے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے۔
فانشانا ................ واعناب ” پھر ہم اس کے ذریعے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات اگاتے ہیں “۔ اور اسی طرح دوسرے مقامات پر بھی۔
یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو قابل نظر ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ روئے زمین پر اللہ نے حیات ونبات کے لئے تقریباً ایک ہی جیسے اصول رکھے ہیں۔ انسان کی تخلیق بھی اسی طرح ہے جس طرح نباتات کی تخلیق ہے۔ جن عناصر سے انسان پیدا ہوتا ہے انہی سے حیوانات ونباتات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ دونوں انہی عناصر سے غذا اخذ کرتے ہیں۔ انسان حیوان بھی زمین کے نباتات میں سے ایک نبات ہیں۔ جس طرح اللہ نے نباتات کو رنگارنگی دی ہے ، اسی طرح حیوانات اور انسانوں کو بھی تنوع اور رنگارنگی دی ہے۔ دونوں زمین سے ہیں ، دونوں زمین سے غذا لیتے ہیں اور دونوں زمین میں فنا ہوتے ہیں۔
یوں ایمان کے ذریعہ ایک مومن کے شعور میں اس زمین کی زندہ اگنے والی مخلوق کے بارے میں صحیح تصور پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک زندہ اور لعمی شعور ہے کیونکہ اس کی اساس شعوری ایمان پر ہے اور یہ قرآنی علوم کا مخصوص امتیاز ہے۔
جو لوگ زمین سے پیدا کیے گئے ہیں وہ دوبارہ اس زمین کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ جس طرح اللہ نے ان کو زمین سے نکالا ، دوبارہ زمین کی طرف لوٹائے گا۔ چناچہ اس طرح ان کی ہڈیاں اور بوسیدہ اجزائے وجود زمین کے ذرات کو زمین سے نکالے گا۔ اور یہ اسی طرح ہوگا جس طرح پہلی مرتبہ ہوا۔ یہ نہایت ہی سہل کام ہے اللہ کے لئے۔ یہ کام اللہ ایک لمحہ اور ایک لحظہ میں کردے گا۔ یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ بشرطیکہ لوگ قرآنی زاویہ سے اس حقیقت پر غور کریں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا تاکہ ان کو معلوم ہو کہ اللہ قدرتوں والا ہے کہ اس نے تمہیں اس زمین سے اگایا ہے اور دوبارہ بھی وہ تمہیں اسی طرح اگالے گا۔ جب یہ شعور انسان کے اندر بیٹھ گیا تو پھر انسان خوف آخرت کرنے لگتا ہے۔ اور اس کی تیاری کرتا ہے کیونکہ یہ قیامت تو اسی طرح آسانی سے قائم ہوجائے گی جس طرح اس زمین پر نباتات اگتے ہیں۔ نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ۔ جس کے اندر کوئی معقول انسان ، کوئی قبل وقال نہیں کرسکتا۔
نوح 71:19
آخر میں حضرت نوح (علیہ السلام) لوگوں کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے زمین کے اندر تمہارے لئے کیا کیا سہولیات پیدا کی ہیں۔ اس زمین کو تمہارے لئے مسخر کیا ، سدھایا۔ اس میں تمہارے زندہ رہنے کے لئے تمام سہولیات رکھ دیں۔
واللہ جعل ................ فجاجا (17 : 02) ” اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو “۔
یہ حقیقت جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کے سامنے پیش کی اور ان کے سامنے موجود تھی ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی باتوں سے وہ تو بھاگتے تھے لیکن ان میں جو حقائق تھے ، ان سے ان کے لئے فرار مشکل تھا۔ یہ زمین ان کے سامنے بچھی ہوئی تھی۔ یہ پہاڑ موجود تھے ، یہ وادیاں موجود تھیں اور ان وادیوں کی راہوں پر ہی وہ چلتے تھے۔ پیدل بھی چلتے ، سوار ہوکر بھی چلتے اور تیر کر بھی چلتے۔ اور اس کے اندر اللہ کے جو فضل وکرم بکھرے ہوئے تھے ان سے وہ استفادہ کرتے تھے اور نہایت ہی آسانی سے وہ استفادہ کرتے تھے۔
یہ حقائق وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ، اس سلسلے میں کسی گہری علمی تحقیق کی ضرورت نہ تھی۔ یہ اصول فطرت تھے اور ان کے مشاہدے اور تجربے میں تھے۔ اور ان حقائق کے اندر وہ زندہ رہ رہے تھے۔ ہاں جوں جوں انسان نے علمی ترقی کی اس نے ان حقائق کے مزید پہلو معلوم کرلیے۔ جس کے بارے میں قرآن کی ہدایت بھی ہے کہ تم زمین میں پھرو اور نصیحت حاصل کرو۔
ھوالذی ................................ النشور ( سورة ملک)
یوں حضرت نوح (علیہ السلام) نے کوشش کی کہ اپنی قوم کے کانوں میں کسی نہ کسی طرح کلمہ حکمت ڈال دیں ، مختلف طریقوں اور مختلف اسالیب کے ذریعہ اور اس کے لئے انہوں نے مختلف انداز اختیار کیے اور طویل عرصہ اس کام میں لگایا۔ صبر جمیل کے ساتھ اور ان تھک جدوجہد کے ساتھ ، ساڑھے نو سو سال مسلسل ! اس کے بعد اب حضرت نوح (علیہ السلام) رب تعالیٰ کی طرف لوٹتے ہیں ، جس رب تعالیٰ نے ان کو یہ مشن دیا تھا۔ رپورٹ پیش کرتے ہیں نہایت تفصیلی رپورٹ ہے یہ ۔ یہ رپورٹ نہایت ہی درد ناک لہجے میں ہے اور نہایت موثر الفاظ میں ہے۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کس قدر جدوجہد کی۔ انہوں نے گم کردہ راہ انسانیت کو راہ ہدایت پر لانے کے لئے کیا کچھ کیا ۔ لیکن یہ تو سلسلہ رسالت کی ایک ہی کڑی ہے۔
نوح 71:20
قال نوح ............................ الا ضلاً
حضرت نوح (علیہ السلام) کی فریاد کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم نے اس طویل جدوجہد ومسلسل جہاد کے باوجود ان کو پوری طرح مسترد کردیا۔ حقیقت کو اچھی طرح پیش کرنے اور حقائق پر اچھی طرح روشنی ڈالنے کے باوجود لوگوں نے منہ موڑ لیا۔ ان کو ڈرایا بھی گیا ، مال دولت اور اقتدار واولاد کے وعدے بھی ان کے ساتھ کیے گئے۔ ترقی اور خوشحالی کا لالچ بھی دیا گیا۔ یہ لوگ چونکہ گمراہ قیادتوں کے پیچھے چلتے تھے ، اور گمراہ قیادتیں ہمیشہ اپنے عوام کو دھوکہ دیتی ہیں ، اس لئے کہ گمراہ قیادتوں کے ہاتھ میں مالی وسائل اور جاہ واقتدار ہوتا ہے ، تو لوگ انہی کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔
واتبعوا .................... خسارا (17 : 12) ” اور ان (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نامراد ہوگئے ہیں “۔ اس مال اور اولاد نے انہیں دھوکہ دے کر مزید گمراہ کردیا ۔ لہٰذا مال واولاد کے نتیجے میں انہیں بدبختی اور خسارہ ہی ملا۔
نوح 71:21
قال نوح ............................ الا ضلاً
حضرت نوح (علیہ السلام) کی فریاد کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم نے اس طویل جدوجہد ومسلسل جہاد کے باوجود ان کو پوری طرح مسترد کردیا۔ حقیقت کو اچھی طرح پیش کرنے اور حقائق پر اچھی طرح روشنی ڈالنے کے باوجود لوگوں نے منہ موڑ لیا۔ ان کو ڈرایا بھی گیا ، مال دولت اور اقتدار واولاد کے وعدے بھی ان کے ساتھ کیے گئے۔ ترقی اور خوشحالی کا لالچ بھی دیا گیا۔ یہ لوگ چونکہ گمراہ قیادتوں کے پیچھے چلتے تھے ، اور گمراہ قیادتیں ہمیشہ اپنے عوام کو دھوکہ دیتی ہیں ، اس لئے کہ گمراہ قیادتوں کے ہاتھ میں مالی وسائل اور جاہ واقتدار ہوتا ہے ، تو لوگ انہی کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔
واتبعوا .................... خسارا (17 : 12) ” اور ان (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نامراد ہوگئے ہیں “۔ اس مال اور اولاد نے انہیں دھوکہ دے کر مزید گمراہ کردیا ۔ لہٰذا مال واولاد کے نتیجے میں انہیں بدبختی اور خسارہ ہی ملا۔
نوح 71:22
ان لوگوں نے صرف گمراہی پر اکتفا نہ کیا ، بلکہ۔
ومکروا مکرا کبارا (17 : 22) ” ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا کر رکھ دیا “۔ یعنی اس قدر عظیم سازش کی کہ اس سے آگے کوئی بڑی سازش نہ ہو۔ انہوں نے دعوت اسلامی کے تمام راستے بند کرنے کے لئے مکاری کی۔ لوگوں کے دلوں کو دوسرے کاموں میں مشغول کردیا اور ان کے دلوں کے اندر دعوت اترنے کے مواقع ہی ختم کردیئے۔ کفر ، گمراہی اور جاہلیت کو ان کے لئے حسین بنادیا۔ اور لوگ جاہلیت ہی میں بھٹکتے رہے۔ ان کی بڑی مکاری یہ تھی کہ یہ لوگوں کو ان الہوں کی عبادت میں لگائے رکھتے تھے جن کو انہوں نے الٰہہ کہہ رکھا تھا۔ عوام الناس کے دلوں میں ان بتوں کی حمیت اور غیرت پیدا کردی تھی۔
نوح 71:23
وقالوا ................ الھتکم (17 : 32) ” انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑ دو اپنے الہوں کو “۔ ان الہوں کو انہوں نے ” تمہارے الٰہ “ کہہ کر پکاراتا تاکہ ان کو جوش آئے۔ جھوٹی حمیت اور گناہ پر آمادہ کرنے والی غیرت جاگے۔ پھر انہوں ان بتوں میں سے جو زیادہ معزز اور مشہور تھے ، ان کا خصوصیت کے ساتھ تذکرہ کیا تاکہ عوام ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں۔
ولا تذرن ........................ ونسرا (17 : 32) ” نہ چھوڑو ود اور سواع کو ، اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو “۔ یہ نسر تو ان کا بڑا بت تھا جو حضور ﷺ کے دور جاہلیت میں بھی پوجا جاتا تھا۔
ہمیشہ گمراہ قیادتیں عوام الناس کی پوجا کے لئے بت گھڑتی ہیں ، ان کے نام اور شکلیں ہی مختلف اوقات میں مختلف ہوتی ہیں ، لیکن عوام الناس کو ان کے ارد گرد گھمایا جاتا ہے۔ عوام کے دلوں میں ان بتوں کی جاہلانہ محبت پیدا ہوجاتی ہے تاکہ وہ عوام کو ہلاکت کے جس گڑھے میں چاہیں ، لے جاکر گرادیں۔ اور ان کو اس گمراہی پر قائم رکھیں اور اس گمراہ قیادت کی قید میں رہیں۔
نوح 71:24
وقد .................... کثیرا (17 : 42) ” انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا “۔ ہر گمراہ قیادت اسی قسم کے بتوں کے سامنے عوام کو جمع کرتی ہے ، یہ بت پتھروں کی شکل میں بھی ہوتے ہیں ، افراد کی شکل میں بھی ہوتے ہیں اور افکار کی شکل میں بھی ہوتے ہیں۔ او یہ سب کے سب بت ہوتے ہیں ، سب کے سب دعوت اسلامی کی راہ روکتے ہیں ۔ عوام کو داعیان حق سے دور رکھتے ہیں۔ بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ان سازشوں پر اصرار کرتے ہیں۔
اس مقام پر اس نبی کریم کے دل سے ان گمراہوں ، مکاروں ، گمراہ کرنے والوں اور ان کے متبغین کے لئے بددعا نکلتی ہے۔
ولا تزد .................... ضللا (17 : 42) ” اے اللہ تو بھی ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے “۔ یہ ایک ایسے دل کی بددعا ہے جس نے ایک طویل عرصہ تک جدوجہد کی۔ ایک طویل عرصہ تک مشقتیں برداشت کیں۔ یہ بددعا تب نکلی کہ تمام ذرائع ختم ہوگئے اور معلوم ہوگیا کہ ان ظالم باغی اور سرکش دلوں میں اب بھلائی کا رمق بھی باقی نہیں ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ دل رب کی ہدایت اور نجات کے مستحق ہی نہیں رہے۔
قبل اس کے حضرت نوح (علیہ السلام) کی پوری بددعا یہاں نقل کی جائے ، ظالموں اور خطاکاروں کا انجام نقل کیا جاتا ہے۔ ان کا وہ انجام بھی جو یہاں ہوا اور وہ بھی جو آخرت میں ہوا۔ کیونکہ اللہ کے علم کے نقطہ نظر سے آخرت بھی حاضرو موجود ہے اور زاویہ سے بھی کہ اس کا وقوع اس قدر یقینی ہے کہ گویا واقع ہوگیا۔
نوح 71:25
مما خطیئتہم ........................ انصارا
ان کی خطاکاریوں ، ان کے گناہوں اور ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوئے۔ یہاں فائے تعطیب بالارادہ لائی گئی ہے۔ کیونکہ ان کے غرق ہوتے ہی ان کو جہنم رسید بھی کردیا گیا اور ان کے غرق ہونے اور جہنم کے داخل ہونے کے درمیان جو زمانی فاصلہ ہے وہ گویا ہے ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ کے میزان اور معیار میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ گویا اس دنیا میں ان کا غرق کیا جانا اور آخرت میں ان کا دوزخ میں داخل کیا جانا گویا باہم قریب ومتصل ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر کا عرصہ ہو جو نہایت ہی مختصر ہے۔
فلم ........................ انصارا (17 : 52) ” پھر انہوں نے اپنے لئے اللہ سے بچانے والا کو مددگار نہ پایا “۔ نہ اولاد ، نہ مال ، نہ مرتبہ ، نہ دوست اور نہ ان کے نام نہاد الٰہہ۔
ان دو چھوٹی سی آیات میں ان سرکشوں کا قصہ تمام ہوگیا اور ان کا قصہ حیات ختم ہوا۔ لیکن ابھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا ختم نہیں ہوئی کہ اے اللہ ان کو فنا کردے۔ یوں کہ ان کا وجود تک نہ رہے۔ یہاں ان کی غرقابی اور طوفان کے قصے کی تفصیلات نہیں دی گئیں ، اس لئے کہ اس مقام پر نہایت شتابی کے ساتھ ان کا قصہ تمام کرکے دکھانا مطلوب تھا۔ یہاں تک کہ غرقابی اور داخلہ جہنم کے درمیان کے طویل فاصلے کو صرف فائے تعقیب کے ذریعہ لپیٹ لیا گیا۔
نوح 71:26
وقال نوح ........................ الاتبارا
حضرت نوح (علیہ السلام) کے قلب مبارک پر یہ الہام آگیا تھا کہ اس ناپاک زمین کو غسل دینا مقصود ہے اور ظالموں اور سرکشوں نے اس کو شروفساد سے بھر دیا ہے۔ یہ شر اس قدر غالب ہوگیا ہے اور اس قدر جم گیا ہے کہ اس نے دعوت دین کو جامد کرکے رکھ دیا ہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کے لوگ اب ناقابل اصلاح ہوگئے ہیں اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی وقت اہل زمین ناقابل اصلاح ہوجائیں تو ان پر عام تباہی آتی ہے اور اس طرح اللہ زمین کی تطہیر فرما دیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تک حضرت نوح (علیہ السلام) پہنچ چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ، ان لوگوں کو ختم کردے ، ظالموں کو بیخ وبن سے اکھاڑ دے ، کوئی زندہ وجود باقی نہ رہے ، اور انہوں نے دلیل بھی دے دی۔
نوح 71:27
انک ................ عبادک (17 : 72) ” اگر تونے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے “۔ عبادک سے مراد یہاں اہل ایمان ہیں یعنی لوگ تو ایمان لائیں گے لیکن یہ بااثر اور سرکش مقتدر لوگ اپنے اقتدار اور قوت کے بل بوتے پر ان کو گمراہ کردیں گے۔ اور اس سے مراد عام انسان بھی ہوسکتے ہیں۔ پھر معنی یہ ہوگا کہ یہ عوام الناس کو اپنے مرتبے اور بلند مقام کی وجہ سے متاثر کریں گے اور اللہ سے دور کردیں گے۔
پھر ان لوگوں نے ایک ایسی فضا پیدا کردی ہے ، جس میں سے صرف کفار ہی پیدا ہوتے ہیں۔ جو بچے بھی پیدا ہوتے ہیں ، ان کی پیدائش کے نتیجے میں کفار نسل تیار ہوتی ہے۔ کیونکہ ظالموں نے جو فضا تیار کررکھی ہے اس میں ظالم اور گمراہ نسل ہی تیار ہوتی ہے۔ جو نور ایمان سے محروم ہوتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف حضرت نوح (علیہ السلام) نے اشارہ فرمایا اور قرآن کریم نے آپ کی زبانی نقل کیا۔
ولایلدوا .................... کفارا (17 : 72) ” اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا ، بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا “۔ کیونکہ وہ اپنی سوسائٹی میں ئرے اور گمراہ کن حالات ، طریقے اور افکار شائع کرتے ہیں۔ اور انہوں نے اپنی سوسائٹی اور نظام کو ایسا بنا دیا ہے کہ اس کے اندر فاسق وفاجر ہی پیدا ہوسکتے ہیں۔
چناچہ آپ نے دوبارہ ان بیخ کنی کے لئے دعا کی۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کرلیا اور رﺅے زمین کو ان کی گندگی سے صاف کردیا۔ ان پر ایسا سیلاب آیا جو سب کچھ بہا لے گیا۔ اور اس قسم کا تباہ کن سیلاب اللہ جبار وقہار ہی لاسکتا ہے۔
نوح 71:28
ایک طرف حضرت نوح (علیہ السلام) نے کفار کے بارے میں دعا فرمائی کہ ان کو نیست ونابود کردیا جائے۔
ولا تزد ................ الاتبارا (17 : 82) ” اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر “۔ اور دوسری جانب انہوں نے اپنے لئے دعا فرمائی :
رب اغفرلی ............................ المومنت (17 : 82) ” میرے رب ، مجھے اور میرے والدین کو ، اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے ، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرمادے “۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ کو اپنی مغفرت کے لئے بھی پکارا۔ اور یہ ہیں انبیاء کے آداب بارگاہ رب تعالیٰ میں۔ اللہ کے سامنے بندے کو اس طرح عاجزی سے بات کرنا چاہئے جس طرح نوح (علیہ السلام) کررہے ہیں۔ وہ اس طرح دعا کر رہے ہیں جس طرح ایک انسان دعا کرتا ہے۔ انسان سے غلطی بھی ہوتی ہے ، تقصیرات بھی ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایک نبی غایت درجہ مطیع رب ہوتا ہے ، جس طرح حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی جنت میں رب کریم کے فضل کے سوا داخل نہیں ہوسکتا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نبی ہیں۔ انہوں نے طویل عرصہ اعصاب شکن جدوجہد کی ، پھر بھی وہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ ، جو تقصیرات ہوئی ہیں معاف کردی جائیں۔
پھر وہ اپنے والدین کے لئے دعا کرتے ہیں۔ ایک نبی اپنے والدین کا احترام کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مومن ہوں گے۔ اگر مومن نہ ہوتے تو اللہ آپ کو اس کی اجازت نہ دیتا جس طرح اللہ نے آپ کی بات اپنے بیٹے کے بارے میں نہ سنی جو کافر تھا۔
پھر آپ کی دعا ان لوگوں کے بارے میں ہے جو آپ کے گھرانے میں اور آپ کی سوسائٹی میں بطور مومن بیٹھیں۔
یہ ایک مومن کی دوسرے مومن کے ساتھ نیکی ہے۔ ایک مومن اپنے لئے جو چیز پسند کرتا ہے وہی دوسرے مومن کے لئے بھی پسند کرتا ہے۔ گھر کا ذکر یہاں اس لئے ہوا کہ اس طوفان میں تمام مومنین کے لئے احکام تھے کہ وہ آپ کے گھر میں داخل ہوجائیں اور آپ ان کو سفینہ میں لے کر نکلیں گے۔
اس کے بعد عام مومنین اور مومنات کے لئے دعا ہے۔ یہ بھی ایک نبی کا رویہ ہے کہ وہ تمام اہل ایمان کے لئے نیک خواہشات رکھتا ہے۔ چاہے یہ مومنین اس کے دور کے ہوں ، اس سے پہلے گزرے ہوں یا بعد کے ادوار میں آنے والے ہوں۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کا ایک راز ہے کہ اس نظریہ کے ساتھ منسلک ہونے والے لوگوں کا آپس میں بہت ہی گہرارابط ، تعلق اور محبت اور برادرانہ جذبات ہوتے ہیں۔ اور یہ خصوصیت صرف اسلامی نظریہ حیات ہی کو حاصل ہے۔ اس محبت کے مقابلے میں پھر کافروں کے ساتھ دشمنی اور کراہیت۔
ولاتزد ................ الاتبارا (17 : 82) ” اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر “۔ یہاں یہ سورت ختم ہوتی ہے جس میں ایک طرف ایک شریف نبی کی ان تھک جدوجہد کی تصویر کشی ہے اور دوسری طرف سرکشوں اور معاندین کی تصویر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعیان حق کو کس قدر عظیم جدوجہد کرنی چاہئے اور یہ کہ اس راہ میں کس قدر مشکلات ہوا کرتی ہیں۔ اور کس قدر عظیم قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے ، تحریک دعوت اسلامی ؟ اور یہ عظیم جدوجہد اس لئے ضروری ہے کہ کوئی انسانی سوسائٹی دعوت اسلامی اور اسلام نظام کے سوا ، نہ ہی دنیا میں اور آخرت میں ترقی اور کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ غرض ترقی کا راز اور انسانیت کے عروج کا ذریعہ دعوت اسلامی اور اسلامی نظام کے قیام میں ہے۔
الجن 72:1
قل اوحی ........................ احد
نفر اور رھط کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے جبکہ جنوں کے بارے میں روایت ہے کہ یہ نو تھے۔ جس انداز سے یہاں اس واقعہ کا آغاز کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ یوں تھا کہ حضور ﷺ نے قرآن کی تلاوت فرمائی اور جنوں نے قرآن کو سنا اور پھر اپنی قوم کے پاس جاکر انہوں نے تبلیغ کی اور اس کا علم حضور اکرم ﷺ نے قرآن کی تلاوت فرمائی اور جنوں نے قرآن کو سنا اور پھر اپنی قوم کے پاس جاکر انہوں نے تبلیغ کی اور اس کا علم حضور اکرم ﷺ کہ نہ تھا ، اس تمام واقعہ کی اطلاع اللہ نے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی دی اور یہ پہلا واقعہ تھا اور اس کے بعد بھی کئی واقعات ہوئے ہوں گے کہ حضور ﷺ نے قرآن پڑھا اور جنوں نے سنا ہوگا۔ اور اس بات کا اظہار حضور ﷺ کی قرات کے بارے میں وارد احادیث سے بھی ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے یہ جانتے ہوئے اسے پڑھا کہ جن بھی سنتے ہیں۔ امام ترمذی نے حضرت جابر ابن عبداللہ سے روایت کی ہے : ” حضور اکرم ﷺ نکلے اور اپنے ساتھیوں کے سامنے سورة رحمان کی تلاوت فرمائی ، اول سے آخر تک ، سب لوگ خاموش ہوگئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ سورت میں جنوں پر تلاوت کی ہے ، وہ اس کا تم سے اچھا جواب دینے والے تھے۔ جب بھی میں پڑھتا۔
فبای ................ تکذبن ، تو وہ جواب میں کہتے۔
لا بشئی ................ الحمد ” اے ہمارے رب ، ہم تیری نعمتوں میں سے کسی چیز کی تکذیب نہیں کرتے لہٰذا سب تعریفیں تیرے لئے ہیں “۔ اس روایت سے ابن مسعود کی روایت کی تائید ہوتی ہے ، جس کو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔
یہ پہلا موقعہ ہے جس میں جنوں کے سماعت قرآن کی بات کی گئی ہے۔ اسی موقعہ کے بارے میں سورة احقاف کی آیات میں بھی بات کی گئی ہے۔
واذصرفنا ............................ ضلل مبین (64 : 92 تا 23) ” جس وقت متوجہ کیا ہم نے آپ کو طرف جنوں میں سے کچھ لوگ ، جو سننے لگے قرآن مجید کو ، پھر وہ جب وہاں پہنچ گئے ، بولے ، چپ رہو ، پھر جب تلاوت خیم ہوئی تو واپس ہوئے اپنی قوم کی طرف ان کو ڈراتے ہوئے ، کہنے لگے اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اتری ہے ، یہ اگلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ سچائی کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔ ایک سیدھے راستے کی طرف ، اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف بلانے والے کو مان لو ، ایمان لاﺅ اس پر ، اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں عذاب الیم سے نجات دے گا۔ اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے کی بات مانے گا تو وہ اس بات کو زمین میں روک نہ سکے گا اور اللہ کے سوا اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا اور ایسے لوگ کھلی گمراہی میں ہوں گے۔ “
انا سمعنا ............ عجبا (27 : 1) ” ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے “۔ قرآن کریم کی جو پہلی خصوصیت ان کو اضح نظر آئی وہ یہ تھی کہ یہ عجیب اور غیر مالوف ہے اور اس کو سن کر دلوں کے اندر خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ جو شخص بھی قرآن مجید کو تیز احساس اور کھلے دل کے ساتھ پڑھے گا ، دل کی کشادگی اور معتدل ذوق کے ساتھ پڑھے گا یا سنے گا ، وہ اس سے مرعوب ہوجائے گا۔ اور اسے نظر آئے گا کہ یہ ایک عجیب چیز ہے۔ اس کے اندر قوت استدلال ہے۔ اس کے اندر بےپناہ جاذبیت ہے۔ اور اس کے اثرات اس قدر شدید ہیں کہ قلب وضمیر کے تاروں کے اندر ایک زبردست ارتعاش اور نغمہ پیدا کردیتا ہے۔ یہ عملاً بھی عجیب ہے۔ اس پر جنات کا رد عمل شاہد ہے کہ انہوں نے اسے ایسا پایا اور فوراً عمل کے لئے تیار ہوگئے۔
الجن 72:2
یھدی الی الرشد (27 : 2) ” جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے “۔ یہ قرآن مجید کی دوسری ممتاز بد یہی صفت ہے ، جنوں کے اس گروہ نے بادی النظر میں اسے محسوس کرلیا۔ اور انہوں نے جب قرآن کی حقیقت کو اپنے دلوں کے اندر پالیا تو انہوں نے معلوم کرلیا کہ یہ کتاب کتاب ہدایت ہے۔ پھر ہدایت کے بجائے انہوں نے ارشاد کا لفظ استعمال کیا جو ہدایت سے زیادہ وسیع المفہوم ہے۔ یعنی یہ کتاب ہدایت کرتی ہے اور حق وصواب کی راہ دکھاتی ہے۔ اور رسد کے لفظ میں ایک اور مفہوم بھی ہے یعنی سنجیدگی ، اعتدال اور علم ومعرفت تو گویا یہ کتاب علم ومعرفت ، سنجیدگی اور اعتدال کے ساتھ راہ صواب کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اور اس کا انداز عالمانہ ہے۔ اور اس مطالعے سے ان حقائق تک پہنچنے کا ملکہ حاصل ہوجاتا ہے۔ گویا یہ نتائج اس کتاب کے ذاتی اثرات ونتائج ہیں۔
قرآن رشد وہدایت کا سرچشمہ ہے۔ یوں کہ یہ دلوں کے اندر احساس اور کشادگی پیدا کردیتا ہے ، ادراک اور معرفت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اللہ کے ساتھ رابطہ پیدا کرتا ہے ، جو نور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ پھر یہ کتاب اس پوری کائنات کے اندر جاری قوانین فطرت کے ساتھ انسان کو جوڑ دیتی ہے اور پھر عملی زندگی میں یہ کتاب زندگی کا ایک عملی نظام تجویز کرتی ہے۔ اور اس نظام کے نتیجے میں انسانیت کو وہ عروج نصیب ہوتا ہے جو اس کے سوا کبھی کسی اور نظام میں نصیب نہیں ہوتا۔ اور یہ کتاب پھر ایک ممتاز تہذیب و تمدن کو جود میں لاتی ہے۔ جس کے اندر زندگی بسر کرنے والے لوگ فکری ، تصوراتی ، اخلاقی ، قانونی اور عملی اعتبار سے نہایت ہی ممتاز اور ترقی یافتہ لوگ ہوتے ہیں۔
فامنا بہ (27 : 2) اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں “۔ قرآن سننے کے بعد یہ ایک قدرتی اور فطری رد عمل ہے کہ انسان اسے تسلیم کرلے ، اس کو سمجھ لے۔ اور اس سے حقیقی تاثر حاصل کرلے ۔ اللہ تعالیٰ جنات کا یہ تبصرہ مشرکین مکہ کی غیر آموزی کے لئے نقل کرتے ہیں کہ تم عرصے سے قرآن سن رہے ہو اور مان کر نہیں دیتے۔ اور تم اس کتاب کو جنات کی طرف منسوب کرتے ہو۔ اس طرح کبھی کہتے ہو کاہن ہے ، کبھی کہتے ہو شاعر ہے اور کبھی کہتے ہو مجنون ہے ۔ اور ان تینوں کا جنات سے تعلق ہوتا تھا۔ لیکن ذرا جنوں کی حالت دیکھو کہ وہ قرآن سن کر مدہوش ہوگئے ، انہوں نے اسے سمجھ لیا اور اس دعوت کو لے کر اپنی قوم میں پھیل گئے۔ ایک منٹ بھی انہوں نے دیر نہ کی۔ نہ اپنے آپ کو روک سکے ، فوراً اس دعوت اور تاثر کو لے کر نکل گئے۔ انہوں نے حق کہ پہچان لیا اسے قبول کرلیا ، یقین کرلیا اور اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ اور کوئی مکروفریب نہ کیا اور کوئی بغض وعناد نہ کیا جس طرح مشرکین مکہ کررہے تھے۔
ولن ................ احدا (27 : 2) ” اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے “۔ یہ خالص ، صریح اور صحیح ایمان ہے ، اس میں نہ شرک شامل ہے ، نہ وہم کا دخل ہے۔ اور نہ خرافات کے لئے کوئی راہ ہے۔ یہ امان حقیقت قرآن کے ادراک کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے اور اس حقیقت کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے جس کی طرف قرآن داعی ہے۔ یعنی خالص توحید بغیر شائبہ شرک۔
الجن 72:3
وانہ .................... ولدا (27 : 3) ” اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ وارفع ہے اس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے “۔ الجد کے معنی حصہ اور نصیب کے ہوتے ہیں۔ یعنی قدر اور مقام ، عظمت اور اقتدار۔ یہ سب امور لفظ ” جد “ میں شامل ہیں اور اس کے پرتو ہیں۔ لیکن اجمالی مفہوم یہ ہے کہ اللہ بہت ہی بلند مرتبے والا ہے۔ وہ بہت عظیم اور جلیل القدر ہے۔ اس لئے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا ہے اور نہ بیٹا بنایا ہے۔
عربوں میں یہ غلط خیال تھا کہ ملائکہ اللہ کی لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکیاں اس طرح پیدا ہوئیں کہ اللہ کی بیوی جن تھی۔ خود جنوں کی زبانی اس کہانی اور افسانے کی تردید کردی گئی کہ اللہ ان چیزوں سے پاک وصاف ہے۔ اور انہوں نے بڑی کراہت کے ساتھ اس کی طرف اس غلط نسبت کی نفی کردی کہ نہ اس قسم کی کوئی رشتہ داری ہے اور نہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ گویا یہ اللہ کی بہت بڑی توہین ہے۔ اس قسم کے تمام تصورات اور اس سے ملتے جلتے تصورات غلط اور مشرکانہ ہیں ، چاہے وہ کسی شکل و صورت میں ہوں۔ مشرکانہ کہانیاں ہوں ، یا اقانیم کے افسانے ہوں یا کوئی اور صورت ہو۔
الجن 72:4
وانہ کان ........................ کذبا (27 : 5) ” اور یہ کہ ہمارے نادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلاف حق باتیں کہتے رہتے ہیں “ اور یہ کہ ” ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے “۔ جن اس بات کو دہرا رہے کہ ہمارے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں خلاف حق تصورات رکھتے تھے اور اللہ کے لئے بیوی اور اولاد کا اعتقاد رکھتے تھے۔ اور قرآن کریم سننے کے بعد ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کے یہ عقائد درست نہ تھے اور جنوں میں سے جو لوگ اس بات کے قائل تھے وہ بڑے جاہل اور احمق تھے۔ اس قدر جاہل کہ وہ یہ تصور کرتے تھے کہ انسانوں اور جنوں میں سے کوئی شخص اللہ پر جھوٹ کیسے باندھ سکتا ہے ؟ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی جھوٹ نہیں باندھ سکتا تھا۔ اس لئے جب بعض احمقوں نے یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ کی بیوی اور اولاد ہے تو انہوں نے بھی اس بات کو مان لیا ، کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے اللہ پر کوئی افتراء کیسے باندھ سکتا ہے ۔ لیکن یہی شعور ان کے لئے موجب ایمان بن گیا کیونکہ ان کے دل میں یہ پاک خیات تھا۔ ادھر کسی نے اللہ پر جھوٹ باندھا نہیں ادھر اللہ نے اس کی گردن دبوچی نہیں۔ ان جنوں پر گمراہی کا یہ غبار ان کی جہالت کی وجہ سے آگیا تھا۔ جونہی ان کو حق ملا انہوں نے گمراہی کے غبار کو جھاڑ دیا۔ حقیقت کو پالیا۔ اصل حقیقت کو چکھ لیا اور وہ بول اٹھے :
انا سمعنا ........................ ولدا (27 : 1 تا 3) ” ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے “۔ ” اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ وارفع ہے اس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے “۔
اور یہ جھاڑ اور صفائی اس وجہ سے ان کو نصیب ہوئی کہ وہ حق تک پہنچ گئے اور یہ حقیقت اس قابل تھی جس پر کبرائے قریش کے اکثر بر خود غلط دماغ اس پر غور کرتے ، جو یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ کی بیوی ہے اور بیٹیاں ہیں اور اس حقیقت سے ان کے دلوں میں خدا خوفی اور احتیاط پیدا ہوجاتی اور وہ اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے جو حضرت محمد ﷺ ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ اور کبرائے قریش کے جو احمقانہ عقائد تھے ، ان کی صداقت میں شک وشبہ پیدا ہوجاتا ، لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ اس قصے کو یہاں لانے کا مقصد بھی یہ تھا کہ کبرائے قریش کے عقائد کی تردید کی جائے۔ قرآن کریم اور کبرائے قریش کے درمیان جو نظریاتی جنگ برپا تھی ، یہ سورت اس کی ایک جھڑپ کا نمونہ تھی۔ اور یہ سورت دراصل ان بیماریوں کا ایک دیرپا علاج کررہی تھی جو زمانہ جاہلیت سے باقی رہ گئی تھیں۔ اور ابھی تک لوگوں کے دلوں پر چھارہی تھیں۔ لوگ سادہ لوح تھے اور وہ ان عقائد سے بری الذمہ تھے ، لیکن گمراہ اور برخود غلط قیادت کی طرف سے ان کو اسی راہ پر چلایا جارہا تھا اور زمانہ جاہلیت کے خرافات کو دین بنا کر ان کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔
الجن 72:5
وانہ کان ........................ کذبا (27 : 5) ” اور یہ کہ ہمارے نادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلاف حق باتیں کہتے رہتے ہیں “ اور یہ کہ ” ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے “۔ جن اس بات کو دہرا رہے کہ ہمارے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں خلاف حق تصورات رکھتے تھے اور اللہ کے لئے بیوی اور اولاد کا اعتقاد رکھتے تھے۔ اور قرآن کریم سننے کے بعد ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کے یہ عقائد درست نہ تھے اور جنوں میں سے جو لوگ اس بات کے قائل تھے وہ بڑے جاہل اور احمق تھے۔ اس قدر جاہل کہ وہ یہ تصور کرتے تھے کہ انسانوں اور جنوں میں سے کوئی شخص اللہ پر جھوٹ کیسے باندھ سکتا ہے ؟ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی جھوٹ نہیں باندھ سکتا تھا۔ اس لئے جب بعض احمقوں نے یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ کی بیوی اور اولاد ہے تو انہوں نے بھی اس بات کو مان لیا ، کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے اللہ پر کوئی افتراء کیسے باندھ سکتا ہے ۔ لیکن یہی شعور ان کے لئے موجب ایمان بن گیا کیونکہ ان کے دل میں یہ پاک خیات تھا۔ ادھر کسی نے اللہ پر جھوٹ باندھا نہیں ادھر اللہ نے اس کی گردن دبوچی نہیں۔ ان جنوں پر گمراہی کا یہ غبار ان کی جہالت کی وجہ سے آگیا تھا۔ جونہی ان کو حق ملا انہوں نے گمراہی کے غبار کو جھاڑ دیا۔ حقیقت کو پالیا۔ اصل حقیقت کو چکھ لیا اور وہ بول اٹھے :
انا سمعنا ........................ ولدا (27 : 1 تا 3) ” ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے “۔ ” اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ وارفع ہے اس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے “۔
اور یہ جھاڑ اور صفائی اس وجہ سے ان کو نصیب ہوئی کہ وہ حق تک پہنچ گئے اور یہ حقیقت اس قابل تھی جس پر کبرائے قریش کے اکثر بر خود غلط دماغ اس پر غور کرتے ، جو یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ کی بیوی ہے اور بیٹیاں ہیں اور اس حقیقت سے ان کے دلوں میں خدا خوفی اور احتیاط پیدا ہوجاتی اور وہ اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے جو حضرت محمد ﷺ ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ اور کبرائے قریش کے جو احمقانہ عقائد تھے ، ان کی صداقت میں شک وشبہ پیدا ہوجاتا ، لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ اس قصے کو یہاں لانے کا مقصد بھی یہ تھا کہ کبرائے قریش کے عقائد کی تردید کی جائے۔ قرآن کریم اور کبرائے قریش کے درمیان جو نظریاتی جنگ برپا تھی ، یہ سورت اس کی ایک جھڑپ کا نمونہ تھی۔ اور یہ سورت دراصل ان بیماریوں کا ایک دیرپا علاج کررہی تھی جو زمانہ جاہلیت سے باقی رہ گئی تھیں۔ اور ابھی تک لوگوں کے دلوں پر چھارہی تھیں۔ لوگ سادہ لوح تھے اور وہ ان عقائد سے بری الذمہ تھے ، لیکن گمراہ اور برخود غلط قیادت کی طرف سے ان کو اسی راہ پر چلایا جارہا تھا اور زمانہ جاہلیت کے خرافات کو دین بنا کر ان کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔
الجن 72:6
وانہ کان .................... رھقا (27 : 6) ” اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے ، اس طرح انہوں نے انسانوں کی بےچینی کو اور زیادہ بڑھا دیا “۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف جو ایام جاہلیت میں متعارف تھا اور آج بھی کئی معاشروں میں یہ بات متعارف ہے کہ جنوں کو زمین اور انسانوں پر اقتدار حاصل ہے اور یہ کہ وہ انسانوں کو نفع نقصان بھی پہنچا سکتے تھے۔ اور یہ کہ بعض اراضی اور سمندروں اور فضا میں یہ جن محکوم ہیں ، اور ان کے سردار ان پر حکمران ہیں۔ چناچہ جب یہ لوگ کسی ، غیر آباد جگہ جاتے یا کسی جنگل اور پہاڑ میں ہوتے تو یہ اس علاقے کے سردار جن کی پناہ مانگ لیتے کہ اس کے زبردست جن کہیں اسے نقصان نہ پہنچا دیں۔ یہ پناہ مانگنے کے بعد ، وہاں شب باشی کرتے۔
شیطان کو یہ طاقت دے دی گئی ہے کہ وہ انسانوں کے قلوب پر اثر اندازہو ، (ماسوائے ان لوگوں کے جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں ، ایسے لوگ اس کی دسترس سے بچے رہتے ہیں) لیکن انسانوں میں سے جو شخص شیطان کی طرف جھکتا ہے تو وہ اسے کوئی نفع نہیں دیتا۔ اس لئے کہ شیطان انسانوں کا دشمن ہے۔ یہ دراصل انسان کو گمراہ کرتا ہے ، اور اسے اذیت دیتا ہے۔ چناچہ یہ گروہ جن اس حقیقت واقعہ کو یوں بیان کرتا ہے۔
وانہ کان .................... رھقا (27 : 6) ” اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے انسانوں کی بےچینی اور زیادہ کردیا “۔ اور یہاں رھق کے معنی گمراہی ، قلق ، حیرت کے ہیں اور یہ ان دلوں میں پیدا ہوجاتی ہے جو شخص اپنے دشمن کے سامنے جھک جاتا ہے اور اس پر بھروسہ کرتا ہے۔ اور جو اللہ پر بھروسہ نہیں کرتا اور نہ اللہ سے پناہ مانگتا ہے۔ اہل قریش ایسا ہی کرتے تھے حالانکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے ادھر تمام انسانوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔
انسانی قلب جی غیر اللہ کے ہاں نفع کی امید سے پناہ مانگتا ہے یا اس امید سے کہ غیر اللہ ضرر رفع کردے گا۔ ایسا شخص قلق ، حیرت اور بےثباتی اور بےاطمینانی کے سوا کچھ نہیں پاتا۔ اور یہ رھق کی بدترین صورت ہے۔ یعنی ایسی بےچینی جس کے اندر قلب کوئی آرام اور امن محسوس نہ کرے۔
اللہ کے سوا ہر چیز بدلنے والی ، ہر چیز زائل ہونے والی ہے اور ہر چیز فنا ہونے والی ہے ، جب کوئی دل اللہ کے سوا کسی اور چیز سے متعلق ہوجائے تو وہ ڈگمگاتا رہتا ہے ، وہ حیران وپریشان رہتا ہے۔ اور اس لئے کہ وہ جس چیز کے ساتھ متعلق ہے ، اس کا رخ جدھر ہوگا ، اس کا رخ بھی ادھر ہوگا۔ اللہ وحدہ باقی ہے۔ زوال پذیر نہیں ہے ، زندہ ہے ، مرنے والی ذات نہیں ہے۔ دائم ہے متغیر نہیں ہے۔ اس لئے جو شخص اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرے گا وہ گویا ایک مستقل محور کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کردے گا اور اس کے اندر بھی ایک قسم کا استقلال پیدا ہوجائے گا۔
الجن 72:7
وانھم ................ احدا (27 : 7) ” اور یہ کہ انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمہارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہ بھیجے گا “۔ جن قوم سے گفتگو کرتے ہیں کہ جس طرح بعض انسان جنوں کی پناہ مانگتے تھے اسی طرح وہ بھی یہ گمان رکھتے تھے جس طرح تم گمان رکھتے ہو کہ اللہ رسول نہ بھیجے گا۔ لیکن دیکھ لو اللہ نے تو رسول بھیج دیا اور رسول کو یہ قرآن بھی دے دیا ہے جو رشد وہدایت کا سامان فراہم کررہا ہے یا مفہوم یہ ہے کہ ان کے عقائد یہ تھے جس طرح تمہارے ہیں کہ اللہ قیامت میں کسی کو نہ اٹھائے گا لہٰذا انہوں نے قیامت کے لئے کوئی تیاری نہ کی اور رسول خدا نے جس انجام سے ڈرایا تھا اس کی پرواہ نہ کی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اللہ کسی کو نہیں اٹھائے گا۔
یہ دونوں ظن و گمان حقیقت کے مطابق نہ تھے۔ یہ جاہلانہ خیالات پر مبنی تھے۔ اور اس پوری کائنات کی حکمت و تخلیق سے بیخبر ی پر مبنی تھے۔ اللہ نے تمام مخلوق کو یوں پیدا کیا ہے کہ اس کے اندر خیر کی صلاحیت بھی تھی اور شر کی صلاحیت بھی تھی۔ (جس طرح اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کو بھی دوہری صلاحیت دی گئی ہے۔ خیر کی بھی اور شر کی بھی ، ہاں ان میں سے بعض نے اپنے آپ کو شر مجسم کرلیا مثلاً ابلیس ، جس نے اپنے آپ کو رحمت خداوندی سے محروم کرلیا اور خالص شرین گیا) اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیج کر خیر کی معاونت کی۔ رسولوں کا مشن قرار پایا کہ وہ انسانوں کے اندر پائی جانے والی خیر کی صلاحیت کو ابھاریں اور ان کی فطرت میں جو خیر کی استعداد ہے اسے جلا دیں ، لہٰذا یہ عقیدہ بالکل غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کو نہ بھیجے گا۔
یہ تو اس صورت میں ہے جب ہم آیت میں بعث سے مراد ” رسولوں کا بھیجنا “ لیں۔ اگر بعث سے مراد آخرت میں اٹھانا ہے تو پھر بھی یہ بات حکمت تخلیق کے خلاف ہے کیونکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انسانوں کی نیکی اور بدی کا حساب و کتاب اس دنیا میں پورا نہیں ہوجاتا۔ لہٰذا اللہ کی حکمت تخلیق اور عدل کے تقاضے کے مطابق بھی ضروری ہے کہ ایسا جہاں ہو جہاں مظلوموں کے ساتھ انصاف کیا جائے ، نیکوکاروں کو انعام اور بدکاروں کو سزا دی جائے اور حساب و کتاب بےباک ہو۔ اور جو جس مقام کا حیات دنیا کا مطابق ، اہل بنتا ہو ، اس میں جائے۔ لہٰذا اس بات کا کوئی موقعہ ومقام نہیں ہے کہ اللہ کسی کو دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ یہ اعتقاد حکمت الٰہیہ کے خلاف ہے۔ عدل و انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
چناچہ اس انداز میں جنوں نے اپنی قوم کے غلط خیالات کو درست کرنے کی سعی کی اور قرآن نے یہ بات مشرکین عرب کے غور کے لئے نقل کی کہ جن تو خود اپنے خیالات پر نظرثانی کررہے ہیں تم کیا کررہے ہو۔
اس آخری رسالت کے اثرات اس پوری کائنات پر مرتب ہوگئے ہیں ، کائنات کے اطراف میں قوائے طیبعیہ بھی بدل گئی ہیں۔ زمین و آسمان میں انتظامی تبدیلیاں آگئی ہیں تاکہ وہ اپنی وہ تمام کاروائیاں ترک کردیں جو اس آخری رسالت کے ساتھ متفق نہیں ہیں۔ ہر قسم کی غیب دانی کا دعویٰ ترک کردیں اور یہ کہ وہ اعلان کردیں کہ اس کائنات میں وہ کچھ قوت بھی نہیں رکھتے۔
الجن 72:8
وانا لمسنا ............................ ربھم رشدا
یہ واقعات جو جنوں کے ذریعہ قرآن نے نقل کیے ہیں ، بتاتے ہیں کہ اس آخری رسالت سے قبل کے زمانے میں ، جس میں رسول نہ تھا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کے دور میں ، جنوں کا یہ مشغلہ تھا کہ وہ عالم بالا کی طرف جاتے تھے اور عالم بالا میں اس زمین اور کائنات کے بارے میں جو احکام صادر ہوئے تھے یا فرشتوں کے درمیان زیر بحث آتے تھے ، مثلاً اللہ تعالیٰ فرشتوں کو جو احکام برائے نفاذ صادر کرتا تھا ، یہ جن عالم بالا میں بعض مقامات تک پہنچ کر گن سن لے لیتے تھے اور پھر ان سچی معلومات کے ساتھ بہت سی غلط معلومات جمع کرکے ، یہ جن دنیا میں کاہنوں ، قیافہ دانوں اور دوسرے مذہبی رہنماﺅں کو دیتے اور یہ لوگ ان حقیقی معلومات کو شیطانوں کے آمیزے کے ساتھ مزید اپنے مفاد کی چیزیں ملا کر لوگوں میں پھیلاتے ، ان کو گمراہ کرتے اور اس طرح شیطانی منصوبہ چلتا رہتا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور حضور ﷺ سے قبل یہ نظام کس طرح چلتا تھا ، اس کی تفصیلات قرآن نے نہیں دی ہیں اور نہ یہ تفصیلات جاننے کی کوئی ضرورت ہے۔
چناچہ جنوں کا یہ گروہ کہتا ہے کہ اب عالم بالا سے یہ گن سن ممکن نہیں رہی ہے۔ اب جب وہ یہ کوشش کرتے ہیں جسے وہ ” لمس سمائ “ سے تعبیر کرتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ ہر طرف شدید پہرے لگے ہوئے ہیں اور جو جن بھی ایک حد سے اوپر جاتا ہے آگے سے شہاب ثاقب کی بمباری ہوتی ہے۔ جو بھی ایسی کوشش کرتا ہے شہاب گر کر اسے ختم کردیتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم تو غیب نہیں جانتے کہ ان نئے انتظامات کے مقاصد کیا ہیں اور اللہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے :
الجن 72:9
وانا لمسنا ............................ ربھم رشدا
یہ واقعات جو جنوں کے ذریعہ قرآن نے نقل کیے ہیں ، بتاتے ہیں کہ اس آخری رسالت سے قبل کے زمانے میں ، جس میں رسول نہ تھا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کے دور میں ، جنوں کا یہ مشغلہ تھا کہ وہ عالم بالا کی طرف جاتے تھے اور عالم بالا میں اس زمین اور کائنات کے بارے میں جو احکام صادر ہوئے تھے یا فرشتوں کے درمیان زیر بحث آتے تھے ، مثلاً اللہ تعالیٰ فرشتوں کو جو احکام برائے نفاذ صادر کرتا تھا ، یہ جن عالم بالا میں بعض مقامات تک پہنچ کر گن سن لے لیتے تھے اور پھر ان سچی معلومات کے ساتھ بہت سی غلط معلومات جمع کرکے ، یہ جن دنیا میں کاہنوں ، قیافہ دانوں اور دوسرے مذہبی رہنماﺅں کو دیتے اور یہ لوگ ان حقیقی معلومات کو شیطانوں کے آمیزے کے ساتھ مزید اپنے مفاد کی چیزیں ملا کر لوگوں میں پھیلاتے ، ان کو گمراہ کرتے اور اس طرح شیطانی منصوبہ چلتا رہتا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور حضور ﷺ سے قبل یہ نظام کس طرح چلتا تھا ، اس کی تفصیلات قرآن نے نہیں دی ہیں اور نہ یہ تفصیلات جاننے کی کوئی ضرورت ہے۔
چناچہ جنوں کا یہ گروہ کہتا ہے کہ اب عالم بالا سے یہ گن سن ممکن نہیں رہی ہے۔ اب جب وہ یہ کوشش کرتے ہیں جسے وہ ” لمس سمائ “ سے تعبیر کرتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ ہر طرف شدید پہرے لگے ہوئے ہیں اور جو جن بھی ایک حد سے اوپر جاتا ہے آگے سے شہاب ثاقب کی بمباری ہوتی ہے۔ جو بھی ایسی کوشش کرتا ہے شہاب گر کر اسے ختم کردیتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم تو غیب نہیں جانتے کہ ان نئے انتظامات کے مقاصد کیا ہیں اور اللہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے :
الجن 72:10
وانا لا لندری ................................ رشدا (27 : 01) ” اور یہ کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی برامعاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب انہیں راہ راست دکھانا چاہتا ہے “۔ یہ تمام غیبی امور صرف اللہ کے علم کے حوالے ہیں ، جن کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ پس پردہ تقدیر سے کیا چیز نمودار ہوتی ہے۔ آیا انسانوں پر کوئی مصیبت آرہی ہے اور وہ گمراہی میں مزید آگے جائیں گے یا ان کے لئے ہدایت اور رحمت کے دروازے کھل گئے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کو شر کے مقابلے میں ذکر کیا گویا حقیقی خبر ہے ہی ہدایت۔
جب وہ ذریعہ ہی اس بات کی تردید کردے ، جس کی طرف کاہن اپنا یہ دعویٰ منسوب کرتے تھے کہ وہ اپنے مزعومہ افکار وہاں سے لیتے ہیں ، تو پھر کاہنوں کے مزعومہ دعوﺅں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ جنوں نے یہ کہہ دیا کہ وہ تو علم غیب نہیں جانتے۔ لہٰذا بات ختم ہوگئی ، ہر قسم کے زعم باطل قرار پائے اور کاہنوں اور عرافوں کے دعوﺅں کا اعتبار جاتا رہا۔ یہ بات ثابت ہوگئی کہ غیب صرف اللہ جانتا ہے۔ لہٰذا نہ کوئی غیب کا دعویٰ کرسکتا ہے اور نہ پیشن گوئی کرسکتا ہے۔ یوں قرآن کریم نے انسانی عقل کو ہر قسم کے اوہام و خرافات سے پاک کردیا اور ان تمام مزعومات کے دروازے بند کر دئیے ، جو کیے جاسکتے تھے اور اعلان کردیا کہ اب انسانی عقل سن رشد کو پہنچ گئی ہے اور انسانی افکار کے اندر اوہام و خرافات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
آسمانوں کے یہ پہریدار کس طرح کھڑے ہیں ، یہ شیاطین کو کس طرح روکتے ہیں ؟ شہاب ثاقب کس طرح فائر کرتے ہیں۔ تو اس بارے میں نہ قرآن نے ہمیں کچھ بتایا ہے اور نہ صحیح احادیث میں اس کی تفصیلات ہیں اگر قرآن وسنت اس کی ضرورت محسوس کرتے کہ اس میں انسانوں کے لئے کوئی خیر ہے تو ضرور بتلادیتے۔ جب اللہ نے کچھ بتایا تو یہ کوشش ہی عبث ہے۔ اس سے ہماری زندگی اور ہمارے علم میں کوئی تعمیری اضافہ نہیں ہوسکتا۔
شہابوں کے بارے میں بھی کسی جدل ومباحثے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ شہاب دراصل اس کائنات کے نظام کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی ایسے تھے ۔ اور بعد میں بھی اور ان کا ضابطہ عمل وہی ہے جس کو سائنس دان اب معلوم کرنے کی سعی کررہے ہیں جن کی سوچ کبھی درست نکلتی ہے اور کبھی غلط ہوکر ترمیم پذیر ہوجاتی ہے۔ اگر سائنس دان اب معلوم کرنے کی سعی کررہے ہیں جن کی سوچ کبھی درست نکلتی ہے اور کبھی غلط ہوکر ترمیم پذیر ہوجاتی ہے۔ اگر سائنس دانوں کے موجودہ نظریات درست بھی ہوں تو اس سے قرآن کے فرمان کی نفی نہیں ہوتی۔ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ اور ممکن ہے کہ یہ شہاب شیطانوں کے لئے رجم ہوں اور یہ کام اللہ کی حیثیت کے مطابق ہوتا ہو جس کا ابھی تک ہمیں پورا علم نہیں ہے۔
جن لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ ایک تمثیل ہے ، جس میں بتایا گیا ہے کہ کلام الٰہی میں کوئی التباس نہیں ہوسکتا اور اس میں باطل کی آمیزش کرنے والے نہیں کرسکتے اور یہ کہ اس آیت کو اپنے ظاہری مفہوم میں نہیں لیا جاسکتا ، تو ان بےچاروں کی حالت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے سائنسی نظریات پر قطعی ایمان لاکر قرآن کے پاس آتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں یہ نظریات جدید سائنسی نظریات سے آتے ہیں۔ پھر یہ قرآن کی تفسیر ان مزعومہ نظریات کے مطابق کرنے بیٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ ملائکہ کو قوائے خیر اور قوائے مطیعہ کی تفسیر و تمثیل قرار دیتے ہیں ، شیاطین کو قوائے شر اور قوائے مفسدہ کی تمثیل کہتے ہیں اور رجوم شیاطین کو تمثیل حفظ قرآن قرار دیتے ہیں اس لئے کہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کوئی موجودہ ہو اور مشاہدے سے باہر ہو ، وہ ملائکہ ، جنات اور شیاطین کے وجود کو اس طرح مشاہدہ کرسکیں کہ جس طرح وہ انسانوں اور دوسرے طبیعی اجسام کو دیکھتے ہیں۔ اس لئے وہ ان غیر مرئی اجسام اور موجودات کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن اگر انہی سے پوچھا جائے کہ تمہارے ان مزعومات کی حقیقت کیا ہے ، جن کے اوپر تم قرآن وسنت کو پرکھتے ہو تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر اور اسلامی تصور کی تشکیل اور تشریح کا صحیح طریقہ ہی یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن سے پہلے تمام افکار و تصورات نکال دے اور قرآن کو کسی سابقہ تحفظ کے بغیر مطالعہ کرے۔ یہ سابقہ تصورات ، عقلی ہوں ، شعوری ہوں یا نفسیاتی ہوں اور قرآن کا مطالعہ کرکے اپنے تصورات اور افکار کی تشکیل قرآن کے مطابق کرے۔ اور اس کائنات کے حقائق کی روشنی میں ، سنت نبوی کے حدود کے اندر کرے۔ یہ نہ ہو کہ قرآن اور سنت کی بیرونی افکار ونظریات کے کٹھرے لاکر کھڑا کردیا جائے اور ان پر محاکمہ کیا جائے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ہرگز کسی ایسی چیز کا انکار نہ کریں جسے قرآن ثابت کرتا ہے۔ نہ ان میں تاویلات کریں۔ نہ ایسے امور کو قطعی سمجھیں جن کا قرآن انکار کرتا ہے۔ ہاں قرآن وسنت کی منفلیت اور ثابت شدہ حقائق کے دائرے سے باہر انسان آزاد ہے کہ اپنی عقلی اور سائنسی جدوجہد کے ذریعہ جو چاہے نظریات قائم کرے۔
یہ بات ہم قرآن کے بارے میں ، اہل ایمان کی عمومی روش کے پیش نظر کہہ رہے ہیں ، جو قرآن کی نصوص کی تاویلات اپنے ذہنی افکار کے مطابق کرتے ہیں کیونکہ وہ اس دنیا کو اپنے افکار کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں ، میں خوداپنے آپ کو اس روش سے بری الزمہ قرار نہیں دے سکتا ، ظلال القرآن کے ابتدائی حصوں میں ، میں خودبھی غیر شعوری طور پر اس طرف جھک گیا ہوں گا ، لیکن اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی تو آئندہ ایڈیشنوں میں اس قسم کے رجحان کی اصلاح کر دوں گا۔ یہاں میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یہی حق ہے ، اور یہ اللہ کی طرف سے میرے لئے خاص عنایت اور ہدایت ہے۔
رہے وہ لوگ جو سرے سے قرآن پر ایمان ہی نہیں لاتے ، اور ان حقائق کے انکار میں ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں اور محض اس لئے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ ابھی تک انہوں نے ان کا ادراک نہیں کیا ہے ، تو ایسے لوگوں کا طرز عمل مضحکہ خیز ہے۔ کیونکہ سائنسی ابھی تک ان حقائق کا بھی پوری طرح ادراک نہیں کرسکی۔ جو اس کے سامنے موجود ہیں۔ ان حقائق پر ابھی سائنس تجربہ کررہی ہے۔ لہٰذا ان حقائق کے عدم ادراک سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ موجود نہیں۔ نیز حقیقی سائنس دانوں نے اہل دین کی طرح رب عالم مجہول کو تسلیم کرنا شروع کردیا ہے ، اگر وہکتب سماوی کے طریقے پر کسی چیزکو تسلیم نہیں کرتے تو کسی چیز کا انکار بھی نہیں کرتے۔ کیونکہ انہوں نے سائنسی تجربات کے ذریعے معلوم کرلیا ہے کہ انسان دراصل عالم الغیب کی ایک وسیع دنیا کے دروازے پر کھڑا ہے۔ جبکہ کچھ عرصہ پہلے وہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے تمام حقائق دریافت کرلیے ہیں۔ چناچہ اب سائنس دانوں نے بھی اپنی علم کم مائیگی کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ اور ان کا انداز اب ان مدعیان علوم سائنس کا سا نہیں ہے جہ سماوی حقائق ، نامعلوم حقائق کا انکار بطور فیشن کرتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی اس وسیع و عریض کائنات میں نامعلوم حقائق اور اسرار کے انبار لگے ہوئے ہیں اس کائنات کے اندر بےپناہ قوتیں ہیں اور یہ سورت ہمیں اس کائنات کا ایک حصہ بتاتی ہے۔ چناچہ ان نامعلوم حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کائنات کے بارے میں ہم صحیح اور متوازن تصورات ذہنوں میں رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح اس جہاں کا مادی قوتوں ، روحانی موجودات ، ارواح ، حیوانات ، ہمارے ماحول طبیعی کے حقائق ، ہماری زندگی ، ہماری ذات اور ہمارے افعال کے بارے میں ہماری سوچ درست ہوجاتی ہے۔ یہ متوازن سوچ ہی ایک مسلم کو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اچھی طرح نکھار کر ممتاز کردیتی ہے۔ نہ وہ اوہام و خرافات کو تسلیم کرتا ہے ، اور نہ وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اس کائنات کے تمام حقائق پر عبور حاصل کرلیا ہے۔ اور اس متوازن سوچ کا ماخذ ، قرآن اور سنت ہیں۔ چناچہ ایک مسلم اپنی سوچ کو قرآن اور سنت کی کسوٹی پر پرکھتا ہے اور تمام حقائق کو قرآن وسنت کے مطابق جانچتا ہے۔ خواہ وہ اخلاقی حقائق ہو یا طبیعی۔
عالم نامعلوم کے میدانوں میں اترنے کے لئے اور عقل انسانی کی ترک تازیوں کے لئے متعین راستے موجود ہیں۔ اسلام عقل انسانی کو ان میدانوں میں اترنے کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ لیکن ان متعین راستوں اور میدانوں سے آگے کچھ ایسے جہاں بھی ہیں جہاں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے عقل کے اندر کوئی قوت نہیں ہے۔ یہ میدان عقل سے ماوراء ہیں۔ پھر عقل انسانی کو ان جہانوں تک پہنچنے کی ضرورت بھی نہیں ہے ، کیونکہ اس زمین پر قدرت نے انسانوں کے لئے جو فریضہ منصبی متعین کیا ہے اور جس کے لئے انسان کی تخلیق ہوئی ہے ، یعنی انسان بطور خلیفة اللہ فی الارض ، تو اس زاویہ سے انسانوں کو ان نامعلوم جہانوں کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ کیونکہ جس قدر علم کی اسے ضرورت تھی اللہ نے قرآن وسنت کے ذریعہ اسے یہ علم دے دیا ہے ، تاکہ انسان اس جہاں میں ، اس زمین پر اپنے مقام اور حیثیت اور اپنے ماحول کو جان سکے ، کیونکہ یہ علوم حاصل کرنا انسان کی قدرت ہی میں نہیں ہے اور غیوبات یعنی ملائکہ ، فرشتوں ، جنات اور شیاطین سب اس زمرہ میں آتے ہیں۔ اسی طرح روح انسان ، انسان کی تخلیق اور اس کا انجام اسی دائرے میں آتے ہیں۔ یہ ایسے میدان ہیں جہاں عقل انسانی صرف وحی پر بھروسہ کرسکتی ہے۔
رہے وہ لوگ جو سنت الٰہیہ کی ہدایت کی روشنی میں چلتے ہیں۔ وہ ان میدانوں کے حدود پر جاکر رک جاتے ہیں جو خدا اور رسول نے انسان کو بتادیئے ہیں۔ اللہ اور رسول ﷺ نے ان غائب جہانوں کے بارے میں انسان کو یہ شعور دیا ہے کہ یقین کرلو کہ اللہ بہت ہی عظیم ہے اور وہ بہت بڑا حکیم ہے اور یہ کہ اس جہاں میں انسان کا منصب کیا ہے ؟ اور اس کی حیثیت کیا ہے ؟ اس سلسلے میں انسان کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پہنچ کے دائرے میں ، اپنے ماحول کے اندر ہی غور وفکر کرے ، اور جس قدر اس کی طاقت میں ہے وہ کام کرے۔ اور اپنی طاقت کے حدود کے اندر جس قدر ٹیکنالوجی وہ دریافت کرلے ، اسے اس جہاں میں پیداوار کے اضافے اور سہولیات حیات کی فراہمی کے لئے استعمال کرے اور یہاں اللہ کے نائب ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے۔ اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرے ، اللہ کی طرف اپنا رخ کرتے ہوئے چلے ، اور اس قدر بلندی اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھے ، جس قدر اللہ نے اس کے لئے پسند کیا ہے۔
رہے وہ لوگ جو اللہ کی ہدایات کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ دو بڑے گروہوں کی شکل میں موجود ہیں۔ ایک گروہ تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو معلوم کرنے کے لئے صرف اپنی عقل کے ہتھیار کو کام میں لاتا ہے ۔ حالانکہ عقل انسانی محدود ہے اور ذات باری لامحدود ہے۔ یہ گروہ غیبی حقائق کو کتب منزلہ کی روشنی میں نہیں بلکہ اپنی عقل کے زور پر معلوم کرنا چاہتا ہے۔ یہ گروہ فلاسفہ ہے ، جنہوں نے اس کائنات اور اس کے رابطوں کی عقلی توجیہ کی ہے۔ ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ بچے ایک ایسے عظیم پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے لئے نکلیں جس کی بلندی کا علم ہی نہ ہو اور وہ گرتے پڑتے آگے بڑھ رہے ہیں یا چند بچے ہوں جنہوں نے ابھی تک حروف تہجی بھی نہ سیکھے ہوں ، لیکن وہ اس کائنات کے وجود کو دریافت کرنے کی سعی کررہے ہوں۔ انہی لوگوں میں یونان کے بڑے بڑے فلسفی شمار ہوتے ہیں اور خود مسلمانوں میں سے وہ فلسفی اور منطقی بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ جو یونانی فلاسفہ کی لائن پر سوچتے رہے ہیں۔ اور اسی زمرے میں وہ جدید فلاسفہ بھی آتے ہیں جو اسلامی لائن پر نہیں سوچتے۔ یہ تو رہا ، ایک گروہ۔
دوسرا گروہ وہ ہے جو اس انداز فکر سے مایوس ہوگیا۔ اس گروہ نے اپنے آپ کو تجربے پر مبنی علم تک محدود کردیا۔ اور یہ طبقہ تمام مجہولات سے صرف نظر کرتا ہے۔ اس کی علمی دنیا میں ان میدانوں تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اور اس سلسلے میں یہ طبقہ بھی قرآن وسنت سے کوئی ہدایت لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یہ طبقہ خدا اور رسول کی ہدایت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار اس لئے نہیں ہوتا کہ یہ سمجھتا ہے کہ انسان کے لئے خدا کا تجرباتی ادراک ممکن نہیں ہے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی علمی دنیا پر یہ طبقہ چھایا رہا۔ لیکن بیسویں صدی کے آغاز سے اس طبقے نے معلوم کرلیا کہ اس کا یہ علمی غرور بھی لاعلمی پر مبنی ہے۔ اس لئے کہ اس طبقے کے لوگ اس مادے پر تجرباتی کام کرتے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ مادہ بھی دراصل ایک نور اور چمک سے قریب ہے اور نور اور چمک کا بھی ابھی تک حقیقی ادراک نہیں کرسکے۔ اور نور کا قانون اور اس کی حقیقت بھی دراصل انسان کے دائرہ ادراک سے ماوراء ہے۔ اس لئے بیسویں صدی کے طبیعی سائنس دانوں کو بھی اپنی تنگ دامانی کا اچھی طرح ادراک ہوگیا ہے۔
اس کے بعد یہ جنات اللہ کی ہدایت کے حوالے سے ، اپنا حال اور موقف بیان کرتے ہیں۔ یہ کہ وہ بھی بعینہ انسانوں کی طرح ، ہدایت وضلالت کی استعداد رکھتے ہیں اور انسانوں کی طرح ذمہ دار مخلوق ہیں۔ یہاں وہ رب تعالیٰ کے بارے میں اپنا عقیدہ بتاتے ہیں کہ ہم جو ایمان لائے ہیں وہ یہ ہے اور وہ اپنا نظریہ ہدایت وضلالت واضح طور پر پیش کرتے ہیں۔
الجن 72:11
وانا منا .................... حطبا
یہ تو ضیحات کہ جنوں میں سے بعض لوگ اچھے ہیں اور بعض برے ہیں ، بعض مسلم ہیں اور بعض منکر ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ جن بھی دوہری شخصیت کے مالک ہیں ، جس طرح انسان دوہری شخصیت کا مالک ہے ، جو نیکی اور بدی دونوں کی استعداد رکھتا ہے ، ہاں جنوں میں سے بعض لوگ خالص شر اور خالص بدی کے مجسم ہوگئے ، مثلا ابلیس اور اس کے قبیلے کے لوگ ، ان توضیحات کی بڑی اہمیت ہے اور ان کی وجہ سے اس مخلوق کے بارے میں ہمارے خیالات درست ہوجاتے ہیں ، کیونکہ اکثر لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جن صرف شرارت کی فطرت رکھتے ہیں اور صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جس کے اندر خشروشر کے دونوں پہلو ہیں۔ اور انسانوں کے یہ خیالات اس لئے تھے کہ ان کو قرآن کی فکری اصلاح پر غور کرنے کا موقعہ نہ ملا تھا لیکن قرآن کی ان توضیحات کے بعد تو انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خیالات کو درست کرلیں۔
جنوں کے اس گروہ کا قول ہے :
وانا منا .................... ذلک (27 : 11) ” اور یہ کہ ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں “۔ اور اپنا عمومی حال وہ یوں بیان کرتے ہیں۔
کنا طرائق قددا (27 : 11) ” ہم مختلف طریقوں سے بنے ہوئے ہیں “۔ یعنی ہر شخص نے اپنے لئے ایسا طریقہ اپنا لیا ہے جو دوسرے سے مختلف ہے اور کٹا ہوا ہے اور وہ ایمان لانے سے پہلے کے اپنے عقائد یوں بیان کرتے ہیں۔
الجن 72:12
وانا ............................ ھربا (27 : 21) ” اور یہ کہ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں “۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ کو اس زمین میں ان پر پوری پوری قدرت حاصل ہے۔ یہ بھی وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ سے بھاگ بھی نہیں سکتے۔ یعنی بندہ رب کے سامنے بہت ضعیف ہے۔ اور تمام مخلوق کا مقابلہ نہیں کرسکتی یعنی اسلام لانے سے پہلے بھی یہ گروہ اللہ کی قدرت اقتدار اور غلبے کا شعور اٹھتا تھا۔
یہ تھے وہ جن ، جن کے ہاں بعض انسان دور جاہلیت میں پناہ لیتے تھے۔ اور مشرکین عرب تو اپنی حاجات میں جنوں کو پکارتے تھے اور انہوں نے ان جنوں اور رب تعالیٰ کے درمیان رشتہ داری کا عقیدہ بھی تصنیف کرلیا تھا۔ جبکہ یہ جنات اپنی عاجزی ، اور اللہ کی قدرت کا اقرار کرتے ہیں۔ یہ اپنی ضعیفی اور اللہ کے اقتدار کی بات کرتے ہیں۔ یہ اپنی عاجزی اور اللہ کی قہاری وجباری کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہ بات وہ صرف اپنی قوم سے ہی نہیں کہتے بلکہ مشرکین مکہ سے بھی کہتے تھے کہ حقیقی قوت صرف اللہ کے پاس ہے جو اس کائنات کو تھامے ہوئے ہے۔
الجن 72:13
اور اب وہ ہدایت کا پیغام سننے اور سمجھنے کے بعدیہ کہتے ہیں :
وانا لما ................ امنا بہ (27 : 31) ” اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جب کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لے آئے “۔ اور ہدایت کا پیغام سننے والے ہر شخص کا فریضہ یہی ہے۔ یہ لوگ قرآن کو یہاں ہدایت کا نام دیتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کی اصل ماہیت ہدایت ہی ہے اور اس کا نتیجہ بھی ہدایت ہے .... اور ان کو اپنے رب پر پورا اعتماد بھی ہے۔ جس طرح ہر ایمان لانے والے کو اپنے آقا پر ہونا چاہئے۔
فمن یومن ........................ رھقا (27 : 31) ” اب جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا ، اسے کسی حق تلفی یا ظلم (یعنی طاقت سے زیادہ کام دینے) کا خوف نہ ہوگا “۔ ایک مومن ایمان کے بعد اللہ پر پورا پورا بھروسہ کرنے لگتا ہے۔ اور اسے اللہ کے عدل پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور یہی ہے ایمان کی حقیقت کہ اللہ عادل ہے۔ وہ کسی مومن کا حق نہیں مارتا۔ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ نہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ ڈیوٹی دیتا ہے۔ اللہ مومن بندے کو اس کے استحقاق سے ذرہ بھر بھی محروم نہیں کرتا۔ اور اللہ اپنے بندے کو رھق سے بھی بچاتا ہے۔ رھق کے معنی ہیں طاقت سے زیادہ جہدومشقت میں ڈالنا۔ لہٰذا کوئی اور شخص بھی ایک مومن پر ظلم کرنے کی جرات نہ کرسکے گا کیونکہ مومن اللہ کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ایک مومن بعض اوقات اس دنیا کی سہولیات سے محروم رہتا ہے لیکن یہ محرومیاں ” نحس “ کے مفہوم میں نہیں آتیں۔ بعض اوقات ایک مومن کو اذیتیں بھی دی جاتی ہیں اور یہ اس زمین کی بعض چھوٹی قوتوں کی طرف سے ہوتی ہیں۔ لیکن یہ اذیتیں رھق کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں کیونکہ اللہ کو معلوم ہے کہ کون کس قدر مشقت برداشت کرنے کا اہل ہے اور کون کس قدر سہولیات کا اہل ہے۔ اور اللہ بعض بندوں کو مشقتوں میں ڈال کر ان کو اپنے قریب کرتا ہے۔ اور یہ ان کے لئے مفید ہوتی ہیں۔
لہٰذا ایک مومن نفسیاتی لحاظ سے حق تلفی اور قوت برداشت سے زیادہ مشقت اٹھانے سے محفوظ ہوتا ہے۔ اس لئے اسے۔ فلا یخاف ................ رھقا (27 : 31) ” کسی حق تلفی سے بھی نہیں ڈرنا چاہئے اور یہ خیال بھی نہیں کرنا چاہئے کہ اس پر اس کی قوت برداشت سے زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ یہ تصور انسان کے اندر اطمینان ، آرام اور سکون پیدا کردیتا ہے۔ انسان قلق ، چبھن اور بےچینی محسوس کرتا ۔ یہاں تک کہ وہ اگر مشقت میں ہو پھر بھی جزع فزع نہیں کرتا ، نہ ڈرتا ہے ، نہ اپنے اوپر دروازے بند کرتا ہے۔ وہ مشقت کو آزمائش سمجھتا ہے۔ صبر کرتا ہے اور اللہ سے فراخی کی امید رکھتا ہے۔ اور اس پر بھی اسے اجر ملتا ہے۔ لہٰذا امارت وغربت اور ضعف وقوت دونوں حالتوں میں وہ فائدے میں رہتا ہے۔ اور اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اور جنوں کے اس گروہ نے اس حقیقت کو بہت ہی اچھے انداز سے ذہن نشین کرایا اس کے بعد یہ لوگ اب ہدایت وضلالت کی حقیقت ذہن نشین کراتے ہیں اور ہدایت وضلالت پر جزاء وسزا کا ذکر کرتے ہیں۔
الجن 72:14
وانا منا ................ رشدا (41) واما .................... حطبا (27 : 51) ” اور یہ کہ ” ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کی اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف۔ تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کرلیا ” انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈلی اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والا ہیں “۔ قاسط کے معنی ظالم اور حق سے ایک طرف ہونے والے عدل و نیکی سے منحرف ہونے والے کے ہیں۔ جنوں نے ان کو مسلمانوں کے مقابل لاکر ذکر کیا ہے اور اس کے اندر ایک لطیف اشارہ ہے ، کہ ایک مسلمان عادل اور مصلح ہوتا ہے اور اس کا فریق مقابل ظالم اور مفسد ہوتا ہے۔
فمن اسلم .................... رشدا (27 : 41) ” جس نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کرلیا ” انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈلی “۔ یہاں ان کے اس فعل کو لفظ ” تحروا “ سے تعبیر کیا۔ نہایت گہری سوچ سے راہ ہدایت تلاش کرنا۔ اور اس کے بالمقابل ہے گمراہی اور ضلالت۔ ” تحری “ کے معنی ہوتے ہیں نہایت دقت سے راہ صواب کو اختیار کرنا اچھی طرح سوچ کر اور اچھی چھان بین کرکے۔ یہ نہیں کہ جدھر منہ ہوا ادھر چل دیا۔ بغیر سوچ سمجھ کے ، یعنی اسلام قبول کرتے ہی وہ راہ صواب تک پہنچ گئے۔ اسارہ اس طرف ہے کہ اسلام عین راہ نجات ہے اور یہ بہت ہی خوبصورت اشارہ ہے۔
الجن 72:15
واما .................... حطبا (2751) ” جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والا ہیں “۔ یعنی ان کے جہنمی ہونے کا فیصلہ ہوگیا ہے اور جب یہ جہنم میں پھینکے جائیں گے تو جہنم کی آگ ان کی وجہ سے اس طرح تیز ہوگی جس طرح خشک ایندھن کی وجہ سے آگ زیادہ مشتعل ہوجاتی ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنات کو بھی جہنم کا عذاب ہوگا۔ اور یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ نیک جن جنت کے بھی مستحق ہوں گے۔ یہی حقیقت ہے ، کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کے سوا کسی اور چیز کا عقیدہ اختیار کرے۔ اگر کوئی کرتا ہے تو وہ باطل ہوگا اور جو کچھ قرآن کہتا ہے بلاجدال درست ہوگا۔ لہٰذا جو بات جنوں پر صادق ہے وہی انسانوں کا انجام بھی ہوگا۔
یہاں تک تو قرآن نے جنوں کی باتیں ان کے اپنے الفاظ میں نقل کیں۔ لیکن اب باری تعالیٰ کی طرف سے ان کے مقالات کا خلاصہ پیش ہوتا ہے کہ وہ یوں بھی کہتے ہیں کہ جو مخلوق بھی راہ استقامت اختیار کرے گی اللہ کا اس کے ساتھ یہی سلوک ہوگا۔
الجن 72:16
وان .................................... صعد
اللہ فرماتا ہے کہ جن ہمارے متعلق یہ کہتے تھے کہ اگر لوگ یا ظالم اور کافر لوگ راہ راست پر آجائیں تو ہم ان کو خوب سیراب کریں۔ اور یوں ان کے رزق میں اضافہ ہو ، تاکہ ” ہم “ ان کو آزمائیں کہ شکر ادا کرتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔
طرز ادا میں یہ تبدیلی کہ جنوں کے قول کو نقل کرنے کے بجائے جنوں کے قول کا مفوم قرآنی الفاظ میں ادا کیا گیا اور جنوں کی بات تو اس طرح قرآن کریم میں کئی جگہ آتی ہے اور اس سے کلام میں تاکید مزید پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہے اور قاری اس طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔
توجہ مبذول کرانے کے اس نوٹ میں کئی حقائق ہیں ، جن کے مطابق ایک مومن کا ایمان تشکیل پاتا ہے اور ان کے مطابق وہ معاملات کے فیصلے کرتا ہے اور واقعات کے باہم روابط متعین کرتا ہے۔
پہلی حقیقت یہ ہے کہ اقوام اور سوسائٹیاں اور معاشرے کس طرح صراط مستقیم پر قائم رہ کر اللہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اور پھر وصول الی اللہ اور پیداوار میں اضافہ اور اور خوشحالی کے حصول کے درمیان ربط کیا ہے جبکہ خوشحالی کا سبب اول آبپاشی کا انتظام اور کثرت ہے جہاں تک زندگی کا تعلق ہے وہ تو پانی سے تشکیل پاتی ہے۔ آج ہمارے صنعتی دور میں بھی خوشحالی کا دارومدار بہرحال پانی اور سیرابی پر ہے۔ اگرچہ صرف زراعت پر زندگی موقوف نہیں رہی ہے۔ لیکن پھر بھی تعمیر و ترقی کا مدار پانی ہی پر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ راہ راست پر قائم رہے تو نہ صرف وہ ترقی یافتہ اور خوش حال ہوجاتا ہے بلکہ ایسے لوگوں کو زمین پر اقتدار اعلیٰ بھی حاصل ہوتا ہے ، امت عربیہ۔
اس کی واضح مثال ہے کہ ایام جاہلیت میں جزیرة العرب کے درمیان یہ نہایت پسماندہ زندگی بسر کرتے تھے۔ لیکن جب وہ راہ راست پر چل پڑے تو ان کے لئے ایسی زمینوں کے دروازے کھل گئے جہاں پانی بڑی مقدار میں مہیا تھا اور جب یہی عرب بدعمل ہوگئے اور انہوں نے راہ راست سے انحراف اختیار کیا تو وہ دوبارہ پسماندہ ہوگئے اور اس لئے وہ اس وقت بدحال ہیں۔ اور یہ اس وقت تک بدحال رہیں گے جب تک یہ دوبارہ راہ راست پر نہیں آجاتے۔ اور جب بھی یہ آئے ان پر خوشحالی آجائے گی اور ان کو زمین میں تمکن حاصل ہوگا۔
اگر ایسی اقوام کہیں موجود ہوں جو راہ راست پر نہ ہوں اور پھر بھی وہ باد سائل ہوں ، تو اللہ ان پر دوسرے عذاب مسلط کردے گا اور وہ کئی آفات وبلیات سے دوچار ہوں گی۔ ایسی اقوام انسانیت ، اقدار ، انسانی شرف اور کرامت کے اعتبار سے گر جائیں گی۔ یوں ان کی یہ خوشحالی اور مادی ترقی بےمعنی ہوکر رہ جائے گی۔ اور ان کی زندگی تلخ ، اور پر مشقت ہوگی۔ ایسی اقوام انسانی شرف سے محروم ہوں گی۔ اور ان کی زندگی میں کوئی اطمینان نہ ہوگا۔ اس مضمون کی تشریحات ہم سورة نوح میں کر آئے ہیں۔
اور اس نوٹ سے جو دوسری حقیقت ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خوشحالی اور تمکین فی الارض بھی دراصل ایک ابتلا ہے ، ایک آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو اچھے اور برے حالات کے ذریعہ آزماتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خوشحالی میں اللہ کا شکر ادا کرنا بہت مشکل کام ہے بہ نسبت اس کے کہ کوئی بدحالی پر صبر کرے ، جبکہ بادی النظر میں انسان کی توجہ ایک طرف ہوجاتی ہے ، اس کی مدافعانہ قوتیں مجتمع ہوجاتی ہیں۔ اور وہ اپنی پوری قوتوں کو صورت حالات کی مدافعت میں لگا دیتا ہے۔ مثلاً وہ اللہ کو یاد کرتا ہے ، اللہ سے دعا کرتا ہے ، اور اللہ سے ان مشکل حالات میں مدد طلب کرتا ہے جبکہ تمام دنیاوی سہارے ختم ہوتے ہیں تو انسان اللہ کا سہارا لیتا ہے۔ رہی خوشحالی تو وہ انسان کو غافل کردیتی ہے ، انسان فضولیات میں مشغول ہوجاتا ہے۔ انسانی اعضا سست ہوجاتے ہیں ، قوت مدافعت سو جاتی ہے اور انسان کے لئے غفلت اور بےراہ روی کے اسباب مہیا ہوجاتے ہیں۔ اور انسان بڑی سہولت سے شیطان کے پھندے میں پھنس جاتا ہے۔
جب انسان پر خوشحالی اور نعمتوں کی کثرت کی آزمائش آجائے تو اسے ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مال و دولت بسا اوقات انسان کو سرکشی میں مبتلا کردیتے ہیں۔ انسان اللہ کا شکر نہیں کرتا ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بخیل ہوجاتا ہے اور دنیاوی اخراجات میں اسراف کرنے لگتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں زندگی کے توازن کے لئے عذاب بن جاتی ہیں۔ اسی طرح اقتدار کی قوت بھی اکثر اوقات انسان کو اندھا کردیتی ہے ، وہ ظالم اور سرکش ہوجاتا ہے ، وہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے ، اور حدود سے آگے بڑھتا ہے۔ لوگوں پر دست درازی کے بعد ایسا شخص پھر اللہ کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے۔ اسی طرح مال و جمال کے فتنے انسان کو کبروغرور اور بےراہ روی اور بدعملی اور بدکرداری اور فسق وفجور میں مبتلا کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی ذکی اور ذہین ہے تو وہ دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے اور برخود غلط ہوجاتا ہے اور وہ اعلیٰ قدروں کو پامال کرتا ہے۔ غرض ہر نعمت آزمائش ہے الایہ کہ کوئی بروقت اللہ کو یاد کرے اور اللہ کی پناہ طلب کرے۔
تیسری حقیقت یہ ہے کہ ذکر الٰہی سے اعراض کے نتیجے میں ایک طرف انسان خوشحالی میں آزمایا جاتا ہے تو دوسری طرف وہ عذاب اخروی میں بھی مبتلا ہوگا۔ قرآن کریم اس کی تصریح کرتا ہے۔
یسل کہ عذابا صعدا (27 : 71) ” اس کا رب اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا “۔ یعنی یہ عذاب بہت شدید ہوگا ، جس طرح ایک آدمی چڑھائی چڑھ رہا ہو تو وہ مشکل محسوس کرتا ہے۔ جوں جوں چڑھتا ہے اس کے لئے رفتار مشکل ہوتی جاتی ہے۔ قرآن کریم نے کئی جگہ شدت عذاب کی تعبیر چڑھائی چڑھنے کے ساتھ کی ہے۔ ایک دوسری جگہ ہے۔
فمن یرد ................................ السماء (6 : 521) ” پس جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے۔ اور ایسا بھینچتا ہے کہ اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا وہ آسمانوں کی طرف چڑھ رہا ہے “۔ اور دوسری جگہ ہے۔
سارھقہ صعود (المدثر۔ 71) ” میں عنقریب اسے ایک کٹھن چڑھائی چڑھاﺅں گا “۔
یہ تیسری آیت ہوسکتی ہے کہ یہ جنوں کے قول کی حکایت ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ کا کلام ہو۔
الجن 72:17
وان .................................... صعد
اللہ فرماتا ہے کہ جن ہمارے متعلق یہ کہتے تھے کہ اگر لوگ یا ظالم اور کافر لوگ راہ راست پر آجائیں تو ہم ان کو خوب سیراب کریں۔ اور یوں ان کے رزق میں اضافہ ہو ، تاکہ ” ہم “ ان کو آزمائیں کہ شکر ادا کرتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔
طرز ادا میں یہ تبدیلی کہ جنوں کے قول کو نقل کرنے کے بجائے جنوں کے قول کا مفوم قرآنی الفاظ میں ادا کیا گیا اور جنوں کی بات تو اس طرح قرآن کریم میں کئی جگہ آتی ہے اور اس سے کلام میں تاکید مزید پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہے اور قاری اس طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔
توجہ مبذول کرانے کے اس نوٹ میں کئی حقائق ہیں ، جن کے مطابق ایک مومن کا ایمان تشکیل پاتا ہے اور ان کے مطابق وہ معاملات کے فیصلے کرتا ہے اور واقعات کے باہم روابط متعین کرتا ہے۔
پہلی حقیقت یہ ہے کہ اقوام اور سوسائٹیاں اور معاشرے کس طرح صراط مستقیم پر قائم رہ کر اللہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اور پھر وصول الی اللہ اور پیداوار میں اضافہ اور اور خوشحالی کے حصول کے درمیان ربط کیا ہے جبکہ خوشحالی کا سبب اول آبپاشی کا انتظام اور کثرت ہے جہاں تک زندگی کا تعلق ہے وہ تو پانی سے تشکیل پاتی ہے۔ آج ہمارے صنعتی دور میں بھی خوشحالی کا دارومدار بہرحال پانی اور سیرابی پر ہے۔ اگرچہ صرف زراعت پر زندگی موقوف نہیں رہی ہے۔ لیکن پھر بھی تعمیر و ترقی کا مدار پانی ہی پر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ راہ راست پر قائم رہے تو نہ صرف وہ ترقی یافتہ اور خوش حال ہوجاتا ہے بلکہ ایسے لوگوں کو زمین پر اقتدار اعلیٰ بھی حاصل ہوتا ہے ، امت عربیہ۔
اس کی واضح مثال ہے کہ ایام جاہلیت میں جزیرة العرب کے درمیان یہ نہایت پسماندہ زندگی بسر کرتے تھے۔ لیکن جب وہ راہ راست پر چل پڑے تو ان کے لئے ایسی زمینوں کے دروازے کھل گئے جہاں پانی بڑی مقدار میں مہیا تھا اور جب یہی عرب بدعمل ہوگئے اور انہوں نے راہ راست سے انحراف اختیار کیا تو وہ دوبارہ پسماندہ ہوگئے اور اس لئے وہ اس وقت بدحال ہیں۔ اور یہ اس وقت تک بدحال رہیں گے جب تک یہ دوبارہ راہ راست پر نہیں آجاتے۔ اور جب بھی یہ آئے ان پر خوشحالی آجائے گی اور ان کو زمین میں تمکن حاصل ہوگا۔
اگر ایسی اقوام کہیں موجود ہوں جو راہ راست پر نہ ہوں اور پھر بھی وہ باد سائل ہوں ، تو اللہ ان پر دوسرے عذاب مسلط کردے گا اور وہ کئی آفات وبلیات سے دوچار ہوں گی۔ ایسی اقوام انسانیت ، اقدار ، انسانی شرف اور کرامت کے اعتبار سے گر جائیں گی۔ یوں ان کی یہ خوشحالی اور مادی ترقی بےمعنی ہوکر رہ جائے گی۔ اور ان کی زندگی تلخ ، اور پر مشقت ہوگی۔ ایسی اقوام انسانی شرف سے محروم ہوں گی۔ اور ان کی زندگی میں کوئی اطمینان نہ ہوگا۔ اس مضمون کی تشریحات ہم سورة نوح میں کر آئے ہیں۔
اور اس نوٹ سے جو دوسری حقیقت ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خوشحالی اور تمکین فی الارض بھی دراصل ایک ابتلا ہے ، ایک آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو اچھے اور برے حالات کے ذریعہ آزماتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خوشحالی میں اللہ کا شکر ادا کرنا بہت مشکل کام ہے بہ نسبت اس کے کہ کوئی بدحالی پر صبر کرے ، جبکہ بادی النظر میں انسان کی توجہ ایک طرف ہوجاتی ہے ، اس کی مدافعانہ قوتیں مجتمع ہوجاتی ہیں۔ اور وہ اپنی پوری قوتوں کو صورت حالات کی مدافعت میں لگا دیتا ہے۔ مثلاً وہ اللہ کو یاد کرتا ہے ، اللہ سے دعا کرتا ہے ، اور اللہ سے ان مشکل حالات میں مدد طلب کرتا ہے جبکہ تمام دنیاوی سہارے ختم ہوتے ہیں تو انسان اللہ کا سہارا لیتا ہے۔ رہی خوشحالی تو وہ انسان کو غافل کردیتی ہے ، انسان فضولیات میں مشغول ہوجاتا ہے۔ انسانی اعضا سست ہوجاتے ہیں ، قوت مدافعت سو جاتی ہے اور انسان کے لئے غفلت اور بےراہ روی کے اسباب مہیا ہوجاتے ہیں۔ اور انسان بڑی سہولت سے شیطان کے پھندے میں پھنس جاتا ہے۔
جب انسان پر خوشحالی اور نعمتوں کی کثرت کی آزمائش آجائے تو اسے ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مال و دولت بسا اوقات انسان کو سرکشی میں مبتلا کردیتے ہیں۔ انسان اللہ کا شکر نہیں کرتا ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بخیل ہوجاتا ہے اور دنیاوی اخراجات میں اسراف کرنے لگتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں زندگی کے توازن کے لئے عذاب بن جاتی ہیں۔ اسی طرح اقتدار کی قوت بھی اکثر اوقات انسان کو اندھا کردیتی ہے ، وہ ظالم اور سرکش ہوجاتا ہے ، وہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے ، اور حدود سے آگے بڑھتا ہے۔ لوگوں پر دست درازی کے بعد ایسا شخص پھر اللہ کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے۔ اسی طرح مال و جمال کے فتنے انسان کو کبروغرور اور بےراہ روی اور بدعملی اور بدکرداری اور فسق وفجور میں مبتلا کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی ذکی اور ذہین ہے تو وہ دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے اور برخود غلط ہوجاتا ہے اور وہ اعلیٰ قدروں کو پامال کرتا ہے۔ غرض ہر نعمت آزمائش ہے الایہ کہ کوئی بروقت اللہ کو یاد کرے اور اللہ کی پناہ طلب کرے۔
تیسری حقیقت یہ ہے کہ ذکر الٰہی سے اعراض کے نتیجے میں ایک طرف انسان خوشحالی میں آزمایا جاتا ہے تو دوسری طرف وہ عذاب اخروی میں بھی مبتلا ہوگا۔ قرآن کریم اس کی تصریح کرتا ہے۔
یسل کہ عذابا صعدا (27 : 71) ” اس کا رب اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا “۔ یعنی یہ عذاب بہت شدید ہوگا ، جس طرح ایک آدمی چڑھائی چڑھ رہا ہو تو وہ مشکل محسوس کرتا ہے۔ جوں جوں چڑھتا ہے اس کے لئے رفتار مشکل ہوتی جاتی ہے۔ قرآن کریم نے کئی جگہ شدت عذاب کی تعبیر چڑھائی چڑھنے کے ساتھ کی ہے۔ ایک دوسری جگہ ہے۔
فمن یرد ................................ السماء (6 : 521) ” پس جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے۔ اور ایسا بھینچتا ہے کہ اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا وہ آسمانوں کی طرف چڑھ رہا ہے “۔ اور دوسری جگہ ہے۔
سارھقہ صعود (المدثر۔ 71) ” میں عنقریب اسے ایک کٹھن چڑھائی چڑھاﺅں گا “۔
یہ تیسری آیت ہوسکتی ہے کہ یہ جنوں کے قول کی حکایت ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ کا کلام ہو۔
الجن 72:18
وان المسجد .................... احد
” اس کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ بھی صرف اللہ کے لئے ہے اور مقامات سجود ، مساجد بھی اللہ کی ملکیت ہیں۔ لہٰذا اسلام مکمل توحید کا قائل ہے۔ اللہ کے سوا کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کسی کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ اور اللہ کی توحید کے سوا تمام اعتبارات اور تمام حیشلیت ہیچ ہیں۔ لہٰذا کسی کے ہاں کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ اور نہ کسی سے طلب کرنا چاہئے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنے قلب میں استحضار دینا جائز ہے۔ اگر یہ آیت جنوں کا مقولہ ہے تو پھر یہ جنوں کی اس بات کی تاکید ہے۔
ولن ................ احدا (28 : 2) ” اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے “ ۔ خصوصاً عبادت اور ذکر وفکر کے مقام میں بالخصوص سجدہ ریزی میں۔ اور اگر یہ ابتداء ہی سے کلام الٰہی ہے تو پھر موقعہ کی مناسبت سے اللہ کی طرف سے ہدایت ہے اور یہ قرآن کا انداز ہے کہ وہ بر محل ہدایت دے دیتا ہے اور اسی طرح اگلی آیت :
الجن 72:19
وانہ ........................ لبدا
” یعنی سب جمع ہوکر اور جتھا بنا کر اس وقت اس پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار ہوگئے جب وہ اللہ کو پکارنے کے لئے یعنی اللہ کے سامنے نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوا۔ نماز یعنی صلوة کے معنی دعا کے ہیں۔ صلوة کے اصلی معنی ہی دعا کے ہیں۔ اگر یہ آیت جنوں کا قول ہو تو اللہ کی جانب سے ان کی بات کی حکایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوتے اور تلاوت کرتے تو مشرکین مکہ آپ کے ارد گرد جمع ہوجاتے جیسا کہ سورة المعارج میں ہے۔
فمال .................... عزین (73) (07 : 63۔ 73) ” پس اے نبی کیا بات ہے ، کہ یہ منکر دائیں اور بائیں سے گروہ در گروہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں “۔ اور نہایت حیرانی سے قرآن سنتے ہیں اور قبول نہیں کرتے۔ یا وہ ادھر ادھر سے آپ پر حملہ آور ہونے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ آپ کو ان سے بچاتا ہے اور ایسے مواقع بارہا پیش آئے۔ اگر یہ جنوں کا قول ہے تو وہ اپنی قوم کے سامنے مشرکین مکہ کے رویہ پر تعجب کا اظہار کررہے ہیں اور اگر ابتداء ہی سے کلام الٰہی ہے کلام سنتے ہیں ، تعجب کرتے ہیں اور یہ رسول اللہ کے ارد گرد اس طرح جمع ہوتے ہیں جس طرح اونی کپڑے کے بنے ہوئے بال ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ مفہوم اس تعجب ، حیرانی اور دہشت کے زیادہ مناسب ہے جو جنات کے پورے کلام کے دوران موجود رہی ہے۔ کیونکہ جنات کا پوراکلام درحقیقت اظہار تعجب اور اچھنبے کا نمونہ ہے۔ واللہ اعلم !
اسلامی دعوت اور قرآن کے کلام کے بارے میں جب جنوں کا کلام یہاں آکر ختم ہوتا ہے ، جس میں جنوں نے اپنے تعجب کا اظہار کیا ، جس میں ان کے شعور اور ان کی سوچ میں ارتعاش پیدا ہوا اور انہوں نے دیکھا کہ ارض وسما اور جنات وفرشتے اور ستارے اور سیارے سب کے سب اس عظیم دعوت اور اس عظیم کلام کے حوالے سے متحرک ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم نظام بھی اس کی وجہ سے متاثر ہوگیا ہے اور یہ ایک نہایت اہم اور سنجیدہ تحریک ہے۔ تو اس کے ساتھ ہی روئے سخن اب نبی ﷺ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کہ نہایت ہی دو ٹوک ، فیصلہ کن اور اٹل ہدایات دی جاتی ہیں کہ آپ تبلیغ کے لئے خالص ہوجائیں اور یہ کہہ دیں کہ میں کسی کے نفع ونقصان کا مالک نہیں ہوں۔ نہ میں غیب دانی کا مدعی ہوں ، نہ میں لوگوں کی تقدیر بدل سکتا ہوں۔ یہ بات نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ اور شکایت کا انداز میں کی جاتی ہے۔ نہایت سختی اور فیصلہ کن انداز میں :
الجن 72:20
قل انما ............................ شیء عددا
اے محمد آپ یہ اعلان کردیں۔
انما .................... احد (27 : 02) ” میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا “۔ یہ اعلان اس وقت آتا ہے جب جنات بھی اپنی قوم کے سامنے یہ اعلان کرتے ہیں۔
ولن ................ احد (27 : 2) ” اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے “۔ یوں اس اعلان کا بہت اثر ہوگا۔ اور یہ اعلان بیک وقت وقت جن وانس کا اعلان ہوجائے گا۔ اور یہ اعلان دونوں کی شناخت ہوگا۔ اور جو شخص اس اعلان سے برات کرے گا وہ گویا جن وانس دونوں سے اپنے آپ کو علیحدہ کردے گا۔ وہ دونوں جہانوں اور دونوں آبادیوں سے دور ہوگا۔
قل انی .................... رشدا (27 : 12) ” کہو ، ” میں تم لوگوں کے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا “۔ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ خالص اللہ کے لئے ہوجائیں اور ہر قسم کے دعوے سے دستبردار ہوجائیں اور صاف صاف اعلان کردیں کہ اللہ کی خصوصیات میں سے کوئی خصوصیت بھی مجھے حاصل نہیں ہے بلکہ یہ کہ میں بندہ ہوں اور اللہ کے لئے کوئی شریک نہیں ٹھہراتا۔ یہ صرف اللہ ہے جو انسانوں کے نفع ونقصان کا مالک ہے۔ یہاں قرآن مجید ضرر اور مضرت کے مقابل رشد وہدایت کو لایا اور یہی بات جنات نے بھی کہی تھی۔
وانا لا ندری .................................... رشدا (27 : 01) ” اور یہ کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ زمین والوں کے ساتھ کوئی بڑا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب انہیں راہ راست دکھانا چاہتا ہے ؟ “ یوں دونوں آیات اور دونوں اقوال کے درمیان مناسبت پیدا ہوگئی۔ الفاظ میں بھی اور مفہوم میں بھی اور یہ مناسبت قصے اور اس پر تبصرے دونوں مقصود ہے۔
یہاں قرآن کریم جنات سے بھی اس بات کی نفی کردیتا ہے کہ وہ کسی کو نفع یا نقصان دے سکتا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بھی یہ تردید کردی جاتی ہے کہ آپ کسی کو نفع یا نقصان دے سکتا ہیں اور نفع ونقصان دینا اللہ کی خصوصیت قرار پاتا ہے۔ یوں اسلامی عقیدہ اور اسلامی تصور حیات صاف ستھرا ہوکر سامنے آجاتا ہے۔
الجن 72:21
قل انی .................... ملتحد (22) الا بلغا ............ اللہ ورسلتہ (27 : 32) ” کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں “۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا معاملہ کس قدر نازک اور سنجیدہ ہے۔ رسالت اور دعوت اسلامی نہایت حساس امور ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کردیں کہ مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ، بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ میں تبلیغ کروں میرے پاس اللہ کی جو امانت ہے اسے پہنچا دوں۔ یہی ایک معاملہ ہے جس کی گارنٹی دے دی گئی ہے۔ اس معاملے میں میرے اختیارات نہیں۔ میں تو صرف تبلیغ پر مامور ہوں اور اس کے سوا میرے لئے کوئی اور صورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تو لازمی سروس ہے۔ اور میں اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ نہ کوئی جائے پناہ ہے۔ ایسی پناہ گاہ جہاں میں بچ سکوں۔ میرے لئے صرف یہ صورت ہے کہ میں اپنا فریضہ ادا کرتا رہوں۔
ذرا غور کیجئے کس قدر نازک ، سنجیدہ اور خوفناک معاملہ ہے رسالت اور دعوت کا۔ یہ کوئی رضاکارانہ معاملہ نہیں ہے کہ کوئی چاہے تو دعوت پیش کرے اور کوئی نہ چاہے تو چھوڑ دے۔ یہ ایک لازمی سروس کی ڈیوٹی ہے۔ نہایت حساس ڈیوٹی ہے۔ اللہ دیکھ رہا ہے اور اللہ سے کوئی کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ یہ کوئی ذاتی شغل اور ہابی (Hobby) بھی نہیں ہے کہ کوئی ذاتی خوشی اور حصول لذت کے لئے یہ کام کرے تو یہ حاکم مطلق کا حکم ہے۔ اور اس سے روگردانی نہیں کی جاسکتی ۔ نہ اس میں کوئی تردد کرسکتا ہے ، یوں دعوت اسلامی کی نوعیت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ رسول کے بعد کے انسانوں میں آنے والے داعی بھی از سر نو اس کی حیثیت کو سمجھیں کہ یہ ایک لازمی فریضہ ہے اور نہایت حساس ، سنجیدہ معاملہ ہے اور اللہ جو کبیر اور متعال ہے ، خود اس کا نگران ہے۔
ومن ................ ابدا (32) حتی اذا .................... عدد (27 : 42) ” اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ (یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔
یہ ظاہری اور درپردہ دونوں انداز میں ایک خوفناک شہدید اور ڈراوا ہے ، ان لوگوں کے لئے جن کے پاس یہ پیغام پہنچ جائے اور وہ اس سے روگردانی کریں جبکہ اس سے قبل ان لوگوں کو سخت تنبیہ کردی گئی کہ جو قبول کرلیں پھر وہ دوسروں تک نہ پہنچائیں۔
اگر مشرکین کو یہ ناز ہے کہ وہ قوت رکھتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہے اور وہ اس کا مقابلہ حضرت محمد ﷺ اور صحابہ کرام کی کمزور قوت اور قلت تعداد سے کرتے ہیں تو ان کو جلد ہی اپنی قوت کا اندازہ ہوجائے گا ، جب وہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ یا تو دنیا ہی میں دیکھ لیں اور یا آخرت میں دیکھ لیں گے کہ۔
من اضعف ................ عددا (27 : 42) ” کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے “۔ کوئی ضعیف ، ناتواں اور بےوقار ہے۔ اور کون زور آور ہے۔
اب ذرا پیچھے لوٹیئے کہ جنات نے کیا کہا تھا :
وانا ظننا ........................ ھربا (27 : 21) ” اور یہ کہ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں “۔ یوں اس قصے پر تبصرہ کے الفاظ قصے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ گویا اس پورے قصے کا مقصد ہی یہ تھا کہ اس پر یہ تبصرہ کیا جائے کہ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔
الجن 72:22
قل انی .................... ملتحد (22) الا بلغا ............ اللہ ورسلتہ (27 : 32) ” کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں “۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا معاملہ کس قدر نازک اور سنجیدہ ہے۔ رسالت اور دعوت اسلامی نہایت حساس امور ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کردیں کہ مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ، بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ میں تبلیغ کروں میرے پاس اللہ کی جو امانت ہے اسے پہنچا دوں۔ یہی ایک معاملہ ہے جس کی گارنٹی دے دی گئی ہے۔ اس معاملے میں میرے اختیارات نہیں۔ میں تو صرف تبلیغ پر مامور ہوں اور اس کے سوا میرے لئے کوئی اور صورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تو لازمی سروس ہے۔ اور میں اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ نہ کوئی جائے پناہ ہے۔ ایسی پناہ گاہ جہاں میں بچ سکوں۔ میرے لئے صرف یہ صورت ہے کہ میں اپنا فریضہ ادا کرتا رہوں۔
ذرا غور کیجئے کس قدر نازک ، سنجیدہ اور خوفناک معاملہ ہے رسالت اور دعوت کا۔ یہ کوئی رضاکارانہ معاملہ نہیں ہے کہ کوئی چاہے تو دعوت پیش کرے اور کوئی نہ چاہے تو چھوڑ دے۔ یہ ایک لازمی سروس کی ڈیوٹی ہے۔ نہایت حساس ڈیوٹی ہے۔ اللہ دیکھ رہا ہے اور اللہ سے کوئی کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ یہ کوئی ذاتی شغل اور ہابی (Hobby) بھی نہیں ہے کہ کوئی ذاتی خوشی اور حصول لذت کے لئے یہ کام کرے تو یہ حاکم مطلق کا حکم ہے۔ اور اس سے روگردانی نہیں کی جاسکتی ۔ نہ اس میں کوئی تردد کرسکتا ہے ، یوں دعوت اسلامی کی نوعیت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ رسول کے بعد کے انسانوں میں آنے والے داعی بھی از سر نو اس کی حیثیت کو سمجھیں کہ یہ ایک لازمی فریضہ ہے اور نہایت حساس ، سنجیدہ معاملہ ہے اور اللہ جو کبیر اور متعال ہے ، خود اس کا نگران ہے۔
ومن ................ ابدا (32) حتی اذا .................... عدد (27 : 42) ” اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ (یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔
یہ ظاہری اور درپردہ دونوں انداز میں ایک خوفناک شہدید اور ڈراوا ہے ، ان لوگوں کے لئے جن کے پاس یہ پیغام پہنچ جائے اور وہ اس سے روگردانی کریں جبکہ اس سے قبل ان لوگوں کو سخت تنبیہ کردی گئی کہ جو قبول کرلیں پھر وہ دوسروں تک نہ پہنچائیں۔
اگر مشرکین کو یہ ناز ہے کہ وہ قوت رکھتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہے اور وہ اس کا مقابلہ حضرت محمد ﷺ اور صحابہ کرام کی کمزور قوت اور قلت تعداد سے کرتے ہیں تو ان کو جلد ہی اپنی قوت کا اندازہ ہوجائے گا ، جب وہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ یا تو دنیا ہی میں دیکھ لیں اور یا آخرت میں دیکھ لیں گے کہ۔
من اضعف ................ عددا (27 : 42) ” کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے “۔ کوئی ضعیف ، ناتواں اور بےوقار ہے۔ اور کون زور آور ہے۔
اب ذرا پیچھے لوٹیئے کہ جنات نے کیا کہا تھا :
وانا ظننا ........................ ھربا (27 : 21) ” اور یہ کہ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں “۔ یوں اس قصے پر تبصرہ کے الفاظ قصے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ گویا اس پورے قصے کا مقصد ہی یہ تھا کہ اس پر یہ تبصرہ کیا جائے کہ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔
الجن 72:23
قل انی .................... ملتحد (22) الا بلغا ............ اللہ ورسلتہ (27 : 32) ” کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں “۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا معاملہ کس قدر نازک اور سنجیدہ ہے۔ رسالت اور دعوت اسلامی نہایت حساس امور ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کردیں کہ مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ، بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ میں تبلیغ کروں میرے پاس اللہ کی جو امانت ہے اسے پہنچا دوں۔ یہی ایک معاملہ ہے جس کی گارنٹی دے دی گئی ہے۔ اس معاملے میں میرے اختیارات نہیں۔ میں تو صرف تبلیغ پر مامور ہوں اور اس کے سوا میرے لئے کوئی اور صورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تو لازمی سروس ہے۔ اور میں اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ نہ کوئی جائے پناہ ہے۔ ایسی پناہ گاہ جہاں میں بچ سکوں۔ میرے لئے صرف یہ صورت ہے کہ میں اپنا فریضہ ادا کرتا رہوں۔
ذرا غور کیجئے کس قدر نازک ، سنجیدہ اور خوفناک معاملہ ہے رسالت اور دعوت کا۔ یہ کوئی رضاکارانہ معاملہ نہیں ہے کہ کوئی چاہے تو دعوت پیش کرے اور کوئی نہ چاہے تو چھوڑ دے۔ یہ ایک لازمی سروس کی ڈیوٹی ہے۔ نہایت حساس ڈیوٹی ہے۔ اللہ دیکھ رہا ہے اور اللہ سے کوئی کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ یہ کوئی ذاتی شغل اور ہابی (Hobby) بھی نہیں ہے کہ کوئی ذاتی خوشی اور حصول لذت کے لئے یہ کام کرے تو یہ حاکم مطلق کا حکم ہے۔ اور اس سے روگردانی نہیں کی جاسکتی ۔ نہ اس میں کوئی تردد کرسکتا ہے ، یوں دعوت اسلامی کی نوعیت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ رسول کے بعد کے انسانوں میں آنے والے داعی بھی از سر نو اس کی حیثیت کو سمجھیں کہ یہ ایک لازمی فریضہ ہے اور نہایت حساس ، سنجیدہ معاملہ ہے اور اللہ جو کبیر اور متعال ہے ، خود اس کا نگران ہے۔
ومن ................ ابدا (32) حتی اذا .................... عدد (27 : 42) ” اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ (یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔
یہ ظاہری اور درپردہ دونوں انداز میں ایک خوفناک شہدید اور ڈراوا ہے ، ان لوگوں کے لئے جن کے پاس یہ پیغام پہنچ جائے اور وہ اس سے روگردانی کریں جبکہ اس سے قبل ان لوگوں کو سخت تنبیہ کردی گئی کہ جو قبول کرلیں پھر وہ دوسروں تک نہ پہنچائیں۔
اگر مشرکین کو یہ ناز ہے کہ وہ قوت رکھتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہے اور وہ اس کا مقابلہ حضرت محمد ﷺ اور صحابہ کرام کی کمزور قوت اور قلت تعداد سے کرتے ہیں تو ان کو جلد ہی اپنی قوت کا اندازہ ہوجائے گا ، جب وہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ یا تو دنیا ہی میں دیکھ لیں اور یا آخرت میں دیکھ لیں گے کہ۔
من اضعف ................ عددا (27 : 42) ” کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے “۔ کوئی ضعیف ، ناتواں اور بےوقار ہے۔ اور کون زور آور ہے۔
اب ذرا پیچھے لوٹیئے کہ جنات نے کیا کہا تھا :
وانا ظننا ........................ ھربا (27 : 21) ” اور یہ کہ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں “۔ یوں اس قصے پر تبصرہ کے الفاظ قصے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ گویا اس پورے قصے کا مقصد ہی یہ تھا کہ اس پر یہ تبصرہ کیا جائے کہ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔
الجن 72:24
قل انی .................... ملتحد (22) الا بلغا ............ اللہ ورسلتہ (27 : 32) ” کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں “۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا معاملہ کس قدر نازک اور سنجیدہ ہے۔ رسالت اور دعوت اسلامی نہایت حساس امور ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کردیں کہ مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ، بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ میں تبلیغ کروں میرے پاس اللہ کی جو امانت ہے اسے پہنچا دوں۔ یہی ایک معاملہ ہے جس کی گارنٹی دے دی گئی ہے۔ اس معاملے میں میرے اختیارات نہیں۔ میں تو صرف تبلیغ پر مامور ہوں اور اس کے سوا میرے لئے کوئی اور صورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تو لازمی سروس ہے۔ اور میں اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ نہ کوئی جائے پناہ ہے۔ ایسی پناہ گاہ جہاں میں بچ سکوں۔ میرے لئے صرف یہ صورت ہے کہ میں اپنا فریضہ ادا کرتا رہوں۔
ذرا غور کیجئے کس قدر نازک ، سنجیدہ اور خوفناک معاملہ ہے رسالت اور دعوت کا۔ یہ کوئی رضاکارانہ معاملہ نہیں ہے کہ کوئی چاہے تو دعوت پیش کرے اور کوئی نہ چاہے تو چھوڑ دے۔ یہ ایک لازمی سروس کی ڈیوٹی ہے۔ نہایت حساس ڈیوٹی ہے۔ اللہ دیکھ رہا ہے اور اللہ سے کوئی کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ یہ کوئی ذاتی شغل اور ہابی (Hobby) بھی نہیں ہے کہ کوئی ذاتی خوشی اور حصول لذت کے لئے یہ کام کرے تو یہ حاکم مطلق کا حکم ہے۔ اور اس سے روگردانی نہیں کی جاسکتی ۔ نہ اس میں کوئی تردد کرسکتا ہے ، یوں دعوت اسلامی کی نوعیت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ رسول کے بعد کے انسانوں میں آنے والے داعی بھی از سر نو اس کی حیثیت کو سمجھیں کہ یہ ایک لازمی فریضہ ہے اور نہایت حساس ، سنجیدہ معاملہ ہے اور اللہ جو کبیر اور متعال ہے ، خود اس کا نگران ہے۔
ومن ................ ابدا (32) حتی اذا .................... عدد (27 : 42) ” اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ (یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔
یہ ظاہری اور درپردہ دونوں انداز میں ایک خوفناک شہدید اور ڈراوا ہے ، ان لوگوں کے لئے جن کے پاس یہ پیغام پہنچ جائے اور وہ اس سے روگردانی کریں جبکہ اس سے قبل ان لوگوں کو سخت تنبیہ کردی گئی کہ جو قبول کرلیں پھر وہ دوسروں تک نہ پہنچائیں۔
اگر مشرکین کو یہ ناز ہے کہ وہ قوت رکھتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہے اور وہ اس کا مقابلہ حضرت محمد ﷺ اور صحابہ کرام کی کمزور قوت اور قلت تعداد سے کرتے ہیں تو ان کو جلد ہی اپنی قوت کا اندازہ ہوجائے گا ، جب وہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ یا تو دنیا ہی میں دیکھ لیں اور یا آخرت میں دیکھ لیں گے کہ۔
من اضعف ................ عددا (27 : 42) ” کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے “۔ کوئی ضعیف ، ناتواں اور بےوقار ہے۔ اور کون زور آور ہے۔
اب ذرا پیچھے لوٹیئے کہ جنات نے کیا کہا تھا :
وانا ظننا ........................ ھربا (27 : 21) ” اور یہ کہ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں “۔ یوں اس قصے پر تبصرہ کے الفاظ قصے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ گویا اس پورے قصے کا مقصد ہی یہ تھا کہ اس پر یہ تبصرہ کیا جائے کہ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔
الجن 72:25
اب نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ طاقت کے علاوہ اپنے بارے میں علم غیب کی بھی نفی کردیں۔
قل ان .................... امدا (27 : 52) ” کہو ، ” میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے “۔ دعوت کے معاملات میں آپ کا کوئی اختیار نہیں اور نہ اس میں آپ کا کوئی ذاتی حق ہے۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ تبلیغ کریں۔ اور اپنے آپ کو اس طرح محفوظ خطے میں داخل کردیں اور محفوظ خطے میں وہی شخص داخل ہوسکتا ہے جو تبلیغ کا حق ادا کردے۔ اور تکذیب اور نافرمانی پر اللہ جس برے انجام سے ڈراتا ہے وہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ آپ کو اس میں بھی دلی اختیار حاصل نہیں ہے۔ نہ آپ کو اس کا کوئی وقت وقوع معلوم ہے کہ وہ قریب ہے یا دور ہے ؟ یہ سب غیبی امور ہیں اور ان کے علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ حضور اکرم ﷺ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ان امور کا علم اللہ کے لئے مخصوص ہے۔
الجن 72:26
علم الغیب ................ احدا (27 : 62) ” وہ عالم الغیب ہے ، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا “۔ یوں نبی ﷺ سے اولوہیت کی تمام صفات کی نفی کردی جاتی ہے اور آپ صرف بندہ مختار رہ جاتے ہیں اور کسی انسان کے لئے بندگی سے بڑا کوئی وصف اور اعزاز نہیں ہوسکتا۔ بندگی اور عبودیت انسان کے مراتب درجات میں سے اعلیٰ مرتبہ اور درجہ ہوتا ہے۔ چناچہ اس طرح نبی ﷺ کو الوہیت کی تمام صفات سے مبرا کردیا جاتا ہے اور حکم دے دیا جاتا ہے کہ آپ تبلیغ کریں۔ ” کہو ، میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے ، وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے۔ وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا “۔
اس سے فقط ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کسی غیب کے بارے میں اجازت دے دے اور اس سے کسی رسول کو مطلع کردیا جائے۔ اور یہ بھی ان معاملات کے بارے میں جن کا تعلق آپ کو دعوت کے فرائض سے ہے کیونکہ نبی ﷺ کی طرف جن باتوں کا پیغام آتا تھا تو وہ بھی غیبی امور ہی تھے۔ اپنے وقت میں حضور پر ایک مقدار کے مطابق احکام آتے تھے اور پھر رسولوں کی بھی آگے پیچھے سے نگرانی کی جاتی تھی کہ ان پر جو غیب آیا ہے انہوں نے اس کی تبلیغ کردی ہے یا نہیں۔ حضور اکرم کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اس بات کا اعلان بھی کردیں اور نہایت صراحت اور سنجیدگی کے ساتھ اور نہایت ہی خشوع کے ساتھ کردیں۔
الجن 72:27
الا من ................ رصدا (72) لیعلم ................ شیء عددا (27 : 82) ” سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو ، تو اس کے ٓگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے ، اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ پس وہ رسول جن کو وہ اپنی دعوت کے پہنچانے کے لئے چن لیتا ہے ان کو اللہ اپنے عالم غیب میں سے کچھ پہلو بتا دیتا ہے اور وہ پہلو وہی ہے جو وحی پر مشتمل ہے۔ یعنی وحی کے موضوعات ، اس کا طریقہ یعنی وہ فرشتے ، جو وحی اٹھا کر لاتے ہیں اور وہ سرچشمہ جس سے وہ لاتے ہیں یعنی لوح محفوظ اور اس کا نظام حفاظت جس کا ذکر ہو اور وہ دوسرے امور جن کا تعلق رسول کی رسالت اور دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ تمام امور غیبی امور ہیں اور انسانوں میں سے کوئی ان کے بارے میں نہیں جانتا۔ (لہٰذا رسول کو جو غیب دیا جاتا ہے وہ وحی الٰہی سے متعلق ہوتا ہے)
اور اس کے ساتھ ساتھ رسولوں کے ارد گرد اللہ کے نگراں مقرر کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ نگران ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور ان کے کام کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ یہ نگران ان کو شیطان کے وسوسوں سے بھی بچاتے ہیں ، شیطانوں کی مداخلتوں سے بھی بچاتے ہیں ، اور شیطان کی خواہشات اور تمناﺅں سے بھی بچاتے ہیں۔ یہ ان کو ان بشری کمزوریوں سے بھی بچاتے ہیں کہ وہ رسالت و دعوت میں کوئی سستی نہ کریں ، کسی بات کو بھلا نہ دیں ، راست سے منحرف نہ ہوجائیں اور ان کو دوسرے بشری نقائص اور ناتوانیوں سے بچاتے ہیں۔
لیکن انبیاء کے اس حفاظتی نظام میں ایک قسم کا خوف اور حساسیت پائی جاتی ہے۔ ذرا انداز بیان پر غور کریں۔
فانہ یسلک ................ رصد (27 : 72) ” تو اس کے آگے اور پیچھے دو محافظ لگا دیتا ہے “۔ تو ہر رسول کی مسلسل نگرانی ہوا کرتی ہے کہ آیا وہ اپنا فریضہ ادا کررہا ہے یا نہیں۔
لیعلم ................ ربھم (27 : 82) ” تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچادیئے “۔ اللہ تو پہلے سے جانتا ہے لیکن اللہ چاہتا ہے کہ ان سے عمل تبلیغ عملاً صادر ہوجائے اور وہ نظر آجائے اور اللہ کا علم اس سے متعلق ہو۔
واحاط بما لدیھم (27 : 82) ” اور وہ ان کے پورے ماحول کو احاطہ کیے ہوئے ہے “۔ ان کے نفوس ، ان کی زندگی جو کچھ بھی ہے اور ان کے ماحول میں جو کچھ بھی ہے اسے اللہ جانتا ہے۔ اللہ کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ہوتی۔
واحصی کل شیء عدادا (27 : 82) ” اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ نہ صرف یہ کہ جو رسولوں سے متعلق ہے ، بلکہ اس کا احاطہ اور اس کا شمار ہر چیز کو شامل ہے۔ ذرے ذرے کو بھی شامل ہے۔
ذرا اس حالت کا تصور کیجئے !
ایک رسول تبلیغ کررہا ہے اور اس کے آگے پیچھے نگراں لگے ہوئے ہیں۔ یہ محافظ بھی ہیں اور رقیب بھی ہیں اور اللہ رسولوں کے پورے ماحول سے براہ راست رابطہ رکھتا ہے۔ لہٰذا رسول کا فریضہ اور آپ کی سروس ایک لازمی فوجی سروس ہے۔ اور آپ کو یہ فریضہ ادا کرنا ہے۔ رسول اپنا کام کررہا ہے۔ خود مختار نہیں ہے ، نہ وہ کمزوری دکھا سکتا ہے ، نہ اپنی خواہش کی پیروی کرسکتا ہے۔ نہ اپنی پسند کے پیچھے جاسکتا ہے بلکہ ایک نہایت ہی حساس ، سنجیدہ اور سخت ڈیوٹی ہے جس کی نگرانی ہورہی ہے۔ ہر رسول اس بات کو جانتا ہے اور اس طرح اپنا فریضہ ادا کرتا چلا جاتا ہے۔ اور ادھر ادھر دیکھتا بھی نہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی سخت نگرانی ہورہی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ہر فعل اللہ کے علم میں ہے اور برملا ہے۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جس کو دیکھ کر ہر شخص کے دل میں رسول سے نہایت گہری ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے اور ہمدردی کے ساتھ ایک خوف اور دہشت بھی اس کے دامن گیر ہوجاتی ہے کہ دعوت دین کا معاملہ کس قدر حساس ہے۔
اس خوفناک اور مرعوب کن ہدایت پر یہ سورت ختم ہوجاتی ہے ، جس کا آغاز بھی اسی قسم کے ماحول سے ہوا تھا ، جسے جنوں کے طویل اقتباس سے شروع کیا گیا تھا اور جس میں جنوں کے کپکپادینے والے واقعات بیان ہوئے تھے۔
یہ سورت جس کی کل آیا 12 سے زیادہ نہیں ہیں ، اسلامی نظریہ حیات سے متعلق بیشمار حقائق کو طے کرتی ہے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد کا ایک نہایت ہی متوازن اور سیدھا راستہ تجویز کرتی ہے جس کے اندر کوئی غلو نہیں ہے اور نہ افراط وتفریط ہے۔ یہ سورت عالم کے بارے میں بھی نہایت معتدل لائن دیتی ہے۔ انسانوں کے سامنے عالم غیب کے دروازے بھی بند نہیں کرتی اور نہ انسانوں کو عالم غیب کے بارے میں افسانے اور خرافات گھڑنے کی اجازت دیتی ہے۔ اور جنوں کا یہ تبصرہ اس سورت میں نہایت ہی قیمتی ہے۔
انا سمعنا ........ عجبا (27 : 1) یھدی الی ................ بہ (27 : 2) ” ہم نے قرآن سنا جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے “۔
الجن 72:28
الا من ................ رصدا (72) لیعلم ................ شیء عددا (27 : 82) ” سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو ، تو اس کے ٓگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے ، اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ پس وہ رسول جن کو وہ اپنی دعوت کے پہنچانے کے لئے چن لیتا ہے ان کو اللہ اپنے عالم غیب میں سے کچھ پہلو بتا دیتا ہے اور وہ پہلو وہی ہے جو وحی پر مشتمل ہے۔ یعنی وحی کے موضوعات ، اس کا طریقہ یعنی وہ فرشتے ، جو وحی اٹھا کر لاتے ہیں اور وہ سرچشمہ جس سے وہ لاتے ہیں یعنی لوح محفوظ اور اس کا نظام حفاظت جس کا ذکر ہو اور وہ دوسرے امور جن کا تعلق رسول کی رسالت اور دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ تمام امور غیبی امور ہیں اور انسانوں میں سے کوئی ان کے بارے میں نہیں جانتا۔ (لہٰذا رسول کو جو غیب دیا جاتا ہے وہ وحی الٰہی سے متعلق ہوتا ہے)
اور اس کے ساتھ ساتھ رسولوں کے ارد گرد اللہ کے نگراں مقرر کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ نگران ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور ان کے کام کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ یہ نگران ان کو شیطان کے وسوسوں سے بھی بچاتے ہیں ، شیطانوں کی مداخلتوں سے بھی بچاتے ہیں ، اور شیطان کی خواہشات اور تمناﺅں سے بھی بچاتے ہیں۔ یہ ان کو ان بشری کمزوریوں سے بھی بچاتے ہیں کہ وہ رسالت و دعوت میں کوئی سستی نہ کریں ، کسی بات کو بھلا نہ دیں ، راست سے منحرف نہ ہوجائیں اور ان کو دوسرے بشری نقائص اور ناتوانیوں سے بچاتے ہیں۔
لیکن انبیاء کے اس حفاظتی نظام میں ایک قسم کا خوف اور حساسیت پائی جاتی ہے۔ ذرا انداز بیان پر غور کریں۔
فانہ یسلک ................ رصد (27 : 72) ” تو اس کے آگے اور پیچھے دو محافظ لگا دیتا ہے “۔ تو ہر رسول کی مسلسل نگرانی ہوا کرتی ہے کہ آیا وہ اپنا فریضہ ادا کررہا ہے یا نہیں۔
لیعلم ................ ربھم (27 : 82) ” تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچادیئے “۔ اللہ تو پہلے سے جانتا ہے لیکن اللہ چاہتا ہے کہ ان سے عمل تبلیغ عملاً صادر ہوجائے اور وہ نظر آجائے اور اللہ کا علم اس سے متعلق ہو۔
واحاط بما لدیھم (27 : 82) ” اور وہ ان کے پورے ماحول کو احاطہ کیے ہوئے ہے “۔ ان کے نفوس ، ان کی زندگی جو کچھ بھی ہے اور ان کے ماحول میں جو کچھ بھی ہے اسے اللہ جانتا ہے۔ اللہ کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ہوتی۔
واحصی کل شیء عدادا (27 : 82) ” اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ نہ صرف یہ کہ جو رسولوں سے متعلق ہے ، بلکہ اس کا احاطہ اور اس کا شمار ہر چیز کو شامل ہے۔ ذرے ذرے کو بھی شامل ہے۔
ذرا اس حالت کا تصور کیجئے !
ایک رسول تبلیغ کررہا ہے اور اس کے آگے پیچھے نگراں لگے ہوئے ہیں۔ یہ محافظ بھی ہیں اور رقیب بھی ہیں اور اللہ رسولوں کے پورے ماحول سے براہ راست رابطہ رکھتا ہے۔ لہٰذا رسول کا فریضہ اور آپ کی سروس ایک لازمی فوجی سروس ہے۔ اور آپ کو یہ فریضہ ادا کرنا ہے۔ رسول اپنا کام کررہا ہے۔ خود مختار نہیں ہے ، نہ وہ کمزوری دکھا سکتا ہے ، نہ اپنی خواہش کی پیروی کرسکتا ہے۔ نہ اپنی پسند کے پیچھے جاسکتا ہے بلکہ ایک نہایت ہی حساس ، سنجیدہ اور سخت ڈیوٹی ہے جس کی نگرانی ہورہی ہے۔ ہر رسول اس بات کو جانتا ہے اور اس طرح اپنا فریضہ ادا کرتا چلا جاتا ہے۔ اور ادھر ادھر دیکھتا بھی نہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی سخت نگرانی ہورہی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ہر فعل اللہ کے علم میں ہے اور برملا ہے۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جس کو دیکھ کر ہر شخص کے دل میں رسول سے نہایت گہری ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے اور ہمدردی کے ساتھ ایک خوف اور دہشت بھی اس کے دامن گیر ہوجاتی ہے کہ دعوت دین کا معاملہ کس قدر حساس ہے۔
اس خوفناک اور مرعوب کن ہدایت پر یہ سورت ختم ہوجاتی ہے ، جس کا آغاز بھی اسی قسم کے ماحول سے ہوا تھا ، جسے جنوں کے طویل اقتباس سے شروع کیا گیا تھا اور جس میں جنوں کے کپکپادینے والے واقعات بیان ہوئے تھے۔
یہ سورت جس کی کل آیا 12 سے زیادہ نہیں ہیں ، اسلامی نظریہ حیات سے متعلق بیشمار حقائق کو طے کرتی ہے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد کا ایک نہایت ہی متوازن اور سیدھا راستہ تجویز کرتی ہے جس کے اندر کوئی غلو نہیں ہے اور نہ افراط وتفریط ہے۔ یہ سورت عالم کے بارے میں بھی نہایت معتدل لائن دیتی ہے۔ انسانوں کے سامنے عالم غیب کے دروازے بھی بند نہیں کرتی اور نہ انسانوں کو عالم غیب کے بارے میں افسانے اور خرافات گھڑنے کی اجازت دیتی ہے۔ اور جنوں کا یہ تبصرہ اس سورت میں نہایت ہی قیمتی ہے۔
انا سمعنا ........ عجبا (27 : 1) یھدی الی ................ بہ (27 : 2) ” ہم نے قرآن سنا جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے “۔
المزمل 73:1
یایھا المزمل (1:73) قم ........(2:73) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے کھڑے ہوجاؤ ........“ آسمانوں کی پکار ، اللہ اور کبیر اور متعال کا حکم ” تم “ کھڑے ہوجاؤ۔ اس عظیم کام کے لئے کھڑے ہوجاؤ جو ایک عرصہ سے تمہارے انتظار میں ہے۔ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور یہ تمہارے لئے ہے۔ اٹھو اور اس راہ میں جدوجہد کرو۔ ان تھک جدوجہد کرو ، اٹھو نیند اور آرام کا وقت اب گیا۔ تیاریاں کرو اس عظیم جدوجہد اور اس چومکھی لڑائی کے لئے ۔
یہ ایک عظیم حکم ہے ، ایک خوفناک حکم ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ گرم ونرم بستر کو چھوڑ دو ۔ آرام دہ اور پر سکون گھر کو چھوڑ دو ۔ غرض اس حکم کے ذریعہ آپ کو ایک عظیم کشمکش اور عظیم جدوجہد کے سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور پھر یہ کشمکش خشکیوں میں ، سمندروں اور انسانوں کی عملی زندگی میں اور انسانی ضمیر میں ہر جگہ برپا ہوتی ہے۔
جو شخص صرف اپنے لئے زندگی بسر کرتا ہے بعض اوقات وہ بڑی خوشگوار زندگی بسر کرتا ہے ، لیکن وہ نہایت صغیر و حقیر زندگی بسر کرتا ہے اور ایک معمولی انسان کی طرح مرتا ہے۔ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو بڑی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ لہٰذا ایسے بڑے آدمی کے لئے سونا ممکن ہی نہیں رہتا ، اسے آرام نصیب ہی نہیں ہوتا ، اسے گرم بستر کم ہی نصیب ہوتے ہیں ، اسے عیش و عشرت سے کوئی واسطہ ہی نہیں رہتا۔ اسے سازو سامان فراہم کرنے کی فرصت ہی نہیں رہتی۔ حضور اکرم ﷺ نے حقیقت کو پالیا تھا ، اس لئے آپ نے حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا جبکہ وہ آپ ﷺ کو مطمئن کررہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ سو جائیں۔ ” خدیجہ ........ سونے کا زمانہ تو گیا “۔ ہاں وہ دور چلا گیا۔ اب تو جاگنے کا دور ہے ، مسلسل بیدار رہنے کا زمانہ ہے۔ اب تو جدوجہد ہے یا جہاد ہے۔ اور طویل مشقتیں ہیں۔
یایھا المزل (1)........ قلیلا (2) نصفہ ............ قلیلا (3) اوزد ........ .... ترتیلا (4) (73:1 تا 4) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم ، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلو ، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو ، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو “۔
یہ ایک عظیم مہم کے لئے منجانب اللہ تربیت تھی اور اس تربیت میں ایسے ذرائع استعمال کیے گئے جن کی کامیابی کی ضمانت من جانب اللہ دی گئی تھی۔ قیام اللیل ، جس کی زیادہ سے زیادہ حد نصف رات یا دوتہائی رات سے کم یا ایک تہائی ہے۔ اس میں صرف ترتیل قرآن اور نماز ہوتی ہے۔ ترتیل قرآن کا مطلب ہے قرآن کو تجوید کے ساتھ قرآن کے اصولوں کے مطابق پڑھنا ، جلدی جلدی بھی نہ ہو اور محض گانے بجانے کا انداز بھی نہ ہو۔
نبی ﷺ سے صحیح روایات وارد ہیں کہ آپ نے قیام اللیل کے دوران گیارہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھا تھا لیکن ان گیارہ رکعات میں رات کے دو تہائی حصے سے قدرے کم وقت گزارتے تھے اور آپ قرآن مجید کو خوب رک رک تجوید کے ساتھ پڑھتے تھے۔
امام احمد نے اپنی سند میں روایت کی ہے ، یحییٰ ابن سعید سے (یہابن عروبہ ہیں) انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ ابن اوفی سے ، انہوں نے سعید ابن ہشام سے کہ وہ حضرت ابن عباس کے پاس آئے اور ان سے وتروں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمام اہل زمین سے حضور ﷺ کے وتروں کے بارے میں زیادہ جانتا ہے ؟ فرمایا عائشہ ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ اور پوچھ کر ان کا جو جواب ہو ، وہ مجھے بھی بتا دو ۔ سعید ابن ہشام کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : اے ام المومنین۔ مجھے بتائیے کہ حضور ﷺ کے اخلاق کیسے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا : کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا پڑھتا ہوں۔ انہوں نے کہا بس رسول اللہ کا اخلاق قرآن تھا۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ میں اٹھ کھڑا ہوں۔ پھر مجھے خیال آیا کہ حضور ﷺ کے قیام اللیل کے بارے میں پوچھوں تو میں نے کہا ام المومنین رسول اللہ قیام اللیل کس طرح فرماتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم سورة المزمل نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا ہاں پڑھتا ہوں۔ اللہ نے اس سورت کے پہلے حصے میں قیام اللیل فرض فرمایا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی ایک سال تک قیام اللیل پر عمل پیرا رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں پھول گئے اور اللہ نے اس کا اختتام آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا۔ اس کے بعد اس سورت کے آخری حصے میں تخفیف نازل فرمائی ، اس کے بعد قیام اللیل نفلی ہوگیا جبکہ پہلے فرض تھا۔ میں نے پھر ارادہ کرلیا کہ اٹھ کر چلا جاؤں تو مجھے حضور ﷺ کے وتر کے بارے میں خیال آگیا۔ میں نے پوچھا ام المومنین مجھے حضور ﷺ کے وتر کے بارے میں بتائیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہم آپ کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار کرتے تھے۔ تو اللہ رات کو آپ کو اٹھاتا تھا ، جس وقت اللہ اٹھانا چاہتا۔ آپ پہلے مسواک کرتے ، پھر وضو فرماتے ، پھر آپ آٹھ رکعات پڑھتے اور ان میں نہ بیٹھتے ، صرف آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھتے۔ آپ بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ، دعا کرتے ، پھر سلام پھیرے بغیر آٹھویں رکعت کے بعد اٹھتے تاکہ نویں رکعت پڑھیں۔ پھر بیٹھتے اور اللہ وحدہ کو یاد کرتے ، پھر دعا کرتے اور پھر سلام پھیرتے اور ہم سلام پھیرنے کی آواز سنتے۔ اس کے بعد آپ بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے۔ یہ سلام پھیرنے کے بعد پڑھنے بیٹھتے۔ یہ گیارہ رکعات ہوگئے۔ جب حضور ﷺ معمر ہوگئے اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو ساتویں رکعت وتر ہوتی۔ پھر ساتویں کے بعد دو رکعات بیٹھ کر پڑھتے۔ اس طرح نوررکعتیں ہوتی ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی یہ عادت تھی کہ آپ جو نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اس پر مداومت کریں اور جب کبھی حضور ﷺ جاگ نہ سکتے ، یا کسی درد یا بیماری کی وجہ سے رات کو نہ اٹھتے تو دن کو بارہ رکعات ادا فرماتے۔ اور مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ رسول خدا نے ایک ہی رات میں تمام قرآن مجید کو پڑھ کر ختم کیا اور یہ بھی میرے علم میں نہیں ہے کہ ماسوائے رمضان کے آپ نے کبھی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں۔ (امام مسلم نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے ، دیکھئے ، زادالمعاد ، ابن قیم مفصلا) رسول اللہ ﷺ کی یہ تربیت اس لئے کی جارہی تھی کہ ایک بھاری ذمہ داری آپ کے سپرد کی جانے والی تھی۔
المزمل 73:2
یایھا المزمل (1:73) قم ........(2:73) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے کھڑے ہوجاؤ ........“ آسمانوں کی پکار ، اللہ اور کبیر اور متعال کا حکم ” تم “ کھڑے ہوجاؤ۔ اس عظیم کام کے لئے کھڑے ہوجاؤ جو ایک عرصہ سے تمہارے انتظار میں ہے۔ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور یہ تمہارے لئے ہے۔ اٹھو اور اس راہ میں جدوجہد کرو۔ ان تھک جدوجہد کرو ، اٹھو نیند اور آرام کا وقت اب گیا۔ تیاریاں کرو اس عظیم جدوجہد اور اس چومکھی لڑائی کے لئے ۔
یہ ایک عظیم حکم ہے ، ایک خوفناک حکم ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ گرم ونرم بستر کو چھوڑ دو ۔ آرام دہ اور پر سکون گھر کو چھوڑ دو ۔ غرض اس حکم کے ذریعہ آپ کو ایک عظیم کشمکش اور عظیم جدوجہد کے سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور پھر یہ کشمکش خشکیوں میں ، سمندروں اور انسانوں کی عملی زندگی میں اور انسانی ضمیر میں ہر جگہ برپا ہوتی ہے۔
جو شخص صرف اپنے لئے زندگی بسر کرتا ہے بعض اوقات وہ بڑی خوشگوار زندگی بسر کرتا ہے ، لیکن وہ نہایت صغیر و حقیر زندگی بسر کرتا ہے اور ایک معمولی انسان کی طرح مرتا ہے۔ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو بڑی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ لہٰذا ایسے بڑے آدمی کے لئے سونا ممکن ہی نہیں رہتا ، اسے آرام نصیب ہی نہیں ہوتا ، اسے گرم بستر کم ہی نصیب ہوتے ہیں ، اسے عیش و عشرت سے کوئی واسطہ ہی نہیں رہتا۔ اسے سازو سامان فراہم کرنے کی فرصت ہی نہیں رہتی۔ حضور اکرم ﷺ نے حقیقت کو پالیا تھا ، اس لئے آپ نے حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا جبکہ وہ آپ ﷺ کو مطمئن کررہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ سو جائیں۔ ” خدیجہ ........ سونے کا زمانہ تو گیا “۔ ہاں وہ دور چلا گیا۔ اب تو جاگنے کا دور ہے ، مسلسل بیدار رہنے کا زمانہ ہے۔ اب تو جدوجہد ہے یا جہاد ہے۔ اور طویل مشقتیں ہیں۔
یایھا المزل (1)........ قلیلا (2) نصفہ ............ قلیلا (3) اوزد ........ .... ترتیلا (4) (73:1 تا 4) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم ، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلو ، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو ، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو “۔
یہ ایک عظیم مہم کے لئے منجانب اللہ تربیت تھی اور اس تربیت میں ایسے ذرائع استعمال کیے گئے جن کی کامیابی کی ضمانت من جانب اللہ دی گئی تھی۔ قیام اللیل ، جس کی زیادہ سے زیادہ حد نصف رات یا دوتہائی رات سے کم یا ایک تہائی ہے۔ اس میں صرف ترتیل قرآن اور نماز ہوتی ہے۔ ترتیل قرآن کا مطلب ہے قرآن کو تجوید کے ساتھ قرآن کے اصولوں کے مطابق پڑھنا ، جلدی جلدی بھی نہ ہو اور محض گانے بجانے کا انداز بھی نہ ہو۔
نبی ﷺ سے صحیح روایات وارد ہیں کہ آپ نے قیام اللیل کے دوران گیارہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھا تھا لیکن ان گیارہ رکعات میں رات کے دو تہائی حصے سے قدرے کم وقت گزارتے تھے اور آپ قرآن مجید کو خوب رک رک تجوید کے ساتھ پڑھتے تھے۔
امام احمد نے اپنی سند میں روایت کی ہے ، یحییٰ ابن سعید سے (یہابن عروبہ ہیں) انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ ابن اوفی سے ، انہوں نے سعید ابن ہشام سے کہ وہ حضرت ابن عباس کے پاس آئے اور ان سے وتروں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمام اہل زمین سے حضور ﷺ کے وتروں کے بارے میں زیادہ جانتا ہے ؟ فرمایا عائشہ ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ اور پوچھ کر ان کا جو جواب ہو ، وہ مجھے بھی بتا دو ۔ سعید ابن ہشام کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : اے ام المومنین۔ مجھے بتائیے کہ حضور ﷺ کے اخلاق کیسے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا : کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا پڑھتا ہوں۔ انہوں نے کہا بس رسول اللہ کا اخلاق قرآن تھا۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ میں اٹھ کھڑا ہوں۔ پھر مجھے خیال آیا کہ حضور ﷺ کے قیام اللیل کے بارے میں پوچھوں تو میں نے کہا ام المومنین رسول اللہ قیام اللیل کس طرح فرماتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم سورة المزمل نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا ہاں پڑھتا ہوں۔ اللہ نے اس سورت کے پہلے حصے میں قیام اللیل فرض فرمایا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی ایک سال تک قیام اللیل پر عمل پیرا رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں پھول گئے اور اللہ نے اس کا اختتام آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا۔ اس کے بعد اس سورت کے آخری حصے میں تخفیف نازل فرمائی ، اس کے بعد قیام اللیل نفلی ہوگیا جبکہ پہلے فرض تھا۔ میں نے پھر ارادہ کرلیا کہ اٹھ کر چلا جاؤں تو مجھے حضور ﷺ کے وتر کے بارے میں خیال آگیا۔ میں نے پوچھا ام المومنین مجھے حضور ﷺ کے وتر کے بارے میں بتائیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہم آپ کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار کرتے تھے۔ تو اللہ رات کو آپ کو اٹھاتا تھا ، جس وقت اللہ اٹھانا چاہتا۔ آپ پہلے مسواک کرتے ، پھر وضو فرماتے ، پھر آپ آٹھ رکعات پڑھتے اور ان میں نہ بیٹھتے ، صرف آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھتے۔ آپ بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ، دعا کرتے ، پھر سلام پھیرے بغیر آٹھویں رکعت کے بعد اٹھتے تاکہ نویں رکعت پڑھیں۔ پھر بیٹھتے اور اللہ وحدہ کو یاد کرتے ، پھر دعا کرتے اور پھر سلام پھیرتے اور ہم سلام پھیرنے کی آواز سنتے۔ اس کے بعد آپ بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے۔ یہ سلام پھیرنے کے بعد پڑھنے بیٹھتے۔ یہ گیارہ رکعات ہوگئے۔ جب حضور ﷺ معمر ہوگئے اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو ساتویں رکعت وتر ہوتی۔ پھر ساتویں کے بعد دو رکعات بیٹھ کر پڑھتے۔ اس طرح نوررکعتیں ہوتی ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی یہ عادت تھی کہ آپ جو نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اس پر مداومت کریں اور جب کبھی حضور ﷺ جاگ نہ سکتے ، یا کسی درد یا بیماری کی وجہ سے رات کو نہ اٹھتے تو دن کو بارہ رکعات ادا فرماتے۔ اور مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ رسول خدا نے ایک ہی رات میں تمام قرآن مجید کو پڑھ کر ختم کیا اور یہ بھی میرے علم میں نہیں ہے کہ ماسوائے رمضان کے آپ نے کبھی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں۔ (امام مسلم نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے ، دیکھئے ، زادالمعاد ، ابن قیم مفصلا) رسول اللہ ﷺ کی یہ تربیت اس لئے کی جارہی تھی کہ ایک بھاری ذمہ داری آپ کے سپرد کی جانے والی تھی۔
المزمل 73:3
یایھا المزمل (1:73) قم ........(2:73) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے کھڑے ہوجاؤ ........“ آسمانوں کی پکار ، اللہ اور کبیر اور متعال کا حکم ” تم “ کھڑے ہوجاؤ۔ اس عظیم کام کے لئے کھڑے ہوجاؤ جو ایک عرصہ سے تمہارے انتظار میں ہے۔ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور یہ تمہارے لئے ہے۔ اٹھو اور اس راہ میں جدوجہد کرو۔ ان تھک جدوجہد کرو ، اٹھو نیند اور آرام کا وقت اب گیا۔ تیاریاں کرو اس عظیم جدوجہد اور اس چومکھی لڑائی کے لئے ۔
یہ ایک عظیم حکم ہے ، ایک خوفناک حکم ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ گرم ونرم بستر کو چھوڑ دو ۔ آرام دہ اور پر سکون گھر کو چھوڑ دو ۔ غرض اس حکم کے ذریعہ آپ کو ایک عظیم کشمکش اور عظیم جدوجہد کے سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور پھر یہ کشمکش خشکیوں میں ، سمندروں اور انسانوں کی عملی زندگی میں اور انسانی ضمیر میں ہر جگہ برپا ہوتی ہے۔
جو شخص صرف اپنے لئے زندگی بسر کرتا ہے بعض اوقات وہ بڑی خوشگوار زندگی بسر کرتا ہے ، لیکن وہ نہایت صغیر و حقیر زندگی بسر کرتا ہے اور ایک معمولی انسان کی طرح مرتا ہے۔ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو بڑی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ لہٰذا ایسے بڑے آدمی کے لئے سونا ممکن ہی نہیں رہتا ، اسے آرام نصیب ہی نہیں ہوتا ، اسے گرم بستر کم ہی نصیب ہوتے ہیں ، اسے عیش و عشرت سے کوئی واسطہ ہی نہیں رہتا۔ اسے سازو سامان فراہم کرنے کی فرصت ہی نہیں رہتی۔ حضور اکرم ﷺ نے حقیقت کو پالیا تھا ، اس لئے آپ نے حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا جبکہ وہ آپ ﷺ کو مطمئن کررہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ سو جائیں۔ ” خدیجہ ........ سونے کا زمانہ تو گیا “۔ ہاں وہ دور چلا گیا۔ اب تو جاگنے کا دور ہے ، مسلسل بیدار رہنے کا زمانہ ہے۔ اب تو جدوجہد ہے یا جہاد ہے۔ اور طویل مشقتیں ہیں۔
یایھا المزل (1)........ قلیلا (2) نصفہ ............ قلیلا (3) اوزد ........ .... ترتیلا (4) (73:1 تا 4) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم ، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلو ، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو ، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو “۔
یہ ایک عظیم مہم کے لئے منجانب اللہ تربیت تھی اور اس تربیت میں ایسے ذرائع استعمال کیے گئے جن کی کامیابی کی ضمانت من جانب اللہ دی گئی تھی۔ قیام اللیل ، جس کی زیادہ سے زیادہ حد نصف رات یا دوتہائی رات سے کم یا ایک تہائی ہے۔ اس میں صرف ترتیل قرآن اور نماز ہوتی ہے۔ ترتیل قرآن کا مطلب ہے قرآن کو تجوید کے ساتھ قرآن کے اصولوں کے مطابق پڑھنا ، جلدی جلدی بھی نہ ہو اور محض گانے بجانے کا انداز بھی نہ ہو۔
نبی ﷺ سے صحیح روایات وارد ہیں کہ آپ نے قیام اللیل کے دوران گیارہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھا تھا لیکن ان گیارہ رکعات میں رات کے دو تہائی حصے سے قدرے کم وقت گزارتے تھے اور آپ قرآن مجید کو خوب رک رک تجوید کے ساتھ پڑھتے تھے۔
امام احمد نے اپنی سند میں روایت کی ہے ، یحییٰ ابن سعید سے (یہابن عروبہ ہیں) انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ ابن اوفی سے ، انہوں نے سعید ابن ہشام سے کہ وہ حضرت ابن عباس کے پاس آئے اور ان سے وتروں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمام اہل زمین سے حضور ﷺ کے وتروں کے بارے میں زیادہ جانتا ہے ؟ فرمایا عائشہ ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ اور پوچھ کر ان کا جو جواب ہو ، وہ مجھے بھی بتا دو ۔ سعید ابن ہشام کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : اے ام المومنین۔ مجھے بتائیے کہ حضور ﷺ کے اخلاق کیسے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا : کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا پڑھتا ہوں۔ انہوں نے کہا بس رسول اللہ کا اخلاق قرآن تھا۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ میں اٹھ کھڑا ہوں۔ پھر مجھے خیال آیا کہ حضور ﷺ کے قیام اللیل کے بارے میں پوچھوں تو میں نے کہا ام المومنین رسول اللہ قیام اللیل کس طرح فرماتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم سورة المزمل نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا ہاں پڑھتا ہوں۔ اللہ نے اس سورت کے پہلے حصے میں قیام اللیل فرض فرمایا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی ایک سال تک قیام اللیل پر عمل پیرا رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں پھول گئے اور اللہ نے اس کا اختتام آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا۔ اس کے بعد اس سورت کے آخری حصے میں تخفیف نازل فرمائی ، اس کے بعد قیام اللیل نفلی ہوگیا جبکہ پہلے فرض تھا۔ میں نے پھر ارادہ کرلیا کہ اٹھ کر چلا جاؤں تو مجھے حضور ﷺ کے وتر کے بارے میں خیال آگیا۔ میں نے پوچھا ام المومنین مجھے حضور ﷺ کے وتر کے بارے میں بتائیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہم آپ کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار کرتے تھے۔ تو اللہ رات کو آپ کو اٹھاتا تھا ، جس وقت اللہ اٹھانا چاہتا۔ آپ پہلے مسواک کرتے ، پھر وضو فرماتے ، پھر آپ آٹھ رکعات پڑھتے اور ان میں نہ بیٹھتے ، صرف آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھتے۔ آپ بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ، دعا کرتے ، پھر سلام پھیرے بغیر آٹھویں رکعت کے بعد اٹھتے تاکہ نویں رکعت پڑھیں۔ پھر بیٹھتے اور اللہ وحدہ کو یاد کرتے ، پھر دعا کرتے اور پھر سلام پھیرتے اور ہم سلام پھیرنے کی آواز سنتے۔ اس کے بعد آپ بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے۔ یہ سلام پھیرنے کے بعد پڑھنے بیٹھتے۔ یہ گیارہ رکعات ہوگئے۔ جب حضور ﷺ معمر ہوگئے اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو ساتویں رکعت وتر ہوتی۔ پھر ساتویں کے بعد دو رکعات بیٹھ کر پڑھتے۔ اس طرح نوررکعتیں ہوتی ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی یہ عادت تھی کہ آپ جو نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اس پر مداومت کریں اور جب کبھی حضور ﷺ جاگ نہ سکتے ، یا کسی درد یا بیماری کی وجہ سے رات کو نہ اٹھتے تو دن کو بارہ رکعات ادا فرماتے۔ اور مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ رسول خدا نے ایک ہی رات میں تمام قرآن مجید کو پڑھ کر ختم کیا اور یہ بھی میرے علم میں نہیں ہے کہ ماسوائے رمضان کے آپ نے کبھی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں۔ (امام مسلم نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے ، دیکھئے ، زادالمعاد ، ابن قیم مفصلا) رسول اللہ ﷺ کی یہ تربیت اس لئے کی جارہی تھی کہ ایک بھاری ذمہ داری آپ کے سپرد کی جانے والی تھی۔
المزمل 73:4
یایھا المزمل (1:73) قم ........(2:73) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے کھڑے ہوجاؤ ........“ آسمانوں کی پکار ، اللہ اور کبیر اور متعال کا حکم ” تم “ کھڑے ہوجاؤ۔ اس عظیم کام کے لئے کھڑے ہوجاؤ جو ایک عرصہ سے تمہارے انتظار میں ہے۔ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور یہ تمہارے لئے ہے۔ اٹھو اور اس راہ میں جدوجہد کرو۔ ان تھک جدوجہد کرو ، اٹھو نیند اور آرام کا وقت اب گیا۔ تیاریاں کرو اس عظیم جدوجہد اور اس چومکھی لڑائی کے لئے ۔
یہ ایک عظیم حکم ہے ، ایک خوفناک حکم ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ گرم ونرم بستر کو چھوڑ دو ۔ آرام دہ اور پر سکون گھر کو چھوڑ دو ۔ غرض اس حکم کے ذریعہ آپ کو ایک عظیم کشمکش اور عظیم جدوجہد کے سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور پھر یہ کشمکش خشکیوں میں ، سمندروں اور انسانوں کی عملی زندگی میں اور انسانی ضمیر میں ہر جگہ برپا ہوتی ہے۔
جو شخص صرف اپنے لئے زندگی بسر کرتا ہے بعض اوقات وہ بڑی خوشگوار زندگی بسر کرتا ہے ، لیکن وہ نہایت صغیر و حقیر زندگی بسر کرتا ہے اور ایک معمولی انسان کی طرح مرتا ہے۔ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو بڑی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ لہٰذا ایسے بڑے آدمی کے لئے سونا ممکن ہی نہیں رہتا ، اسے آرام نصیب ہی نہیں ہوتا ، اسے گرم بستر کم ہی نصیب ہوتے ہیں ، اسے عیش و عشرت سے کوئی واسطہ ہی نہیں رہتا۔ اسے سازو سامان فراہم کرنے کی فرصت ہی نہیں رہتی۔ حضور اکرم ﷺ نے حقیقت کو پالیا تھا ، اس لئے آپ نے حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا جبکہ وہ آپ ﷺ کو مطمئن کررہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ سو جائیں۔ ” خدیجہ ........ سونے کا زمانہ تو گیا “۔ ہاں وہ دور چلا گیا۔ اب تو جاگنے کا دور ہے ، مسلسل بیدار رہنے کا زمانہ ہے۔ اب تو جدوجہد ہے یا جہاد ہے۔ اور طویل مشقتیں ہیں۔
یایھا المزل (1)........ قلیلا (2) نصفہ ............ قلیلا (3) اوزد ........ .... ترتیلا (4) (73:1 تا 4) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم ، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلو ، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو ، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو “۔
یہ ایک عظیم مہم کے لئے منجانب اللہ تربیت تھی اور اس تربیت میں ایسے ذرائع استعمال کیے گئے جن کی کامیابی کی ضمانت من جانب اللہ دی گئی تھی۔ قیام اللیل ، جس کی زیادہ سے زیادہ حد نصف رات یا دوتہائی رات سے کم یا ایک تہائی ہے۔ اس میں صرف ترتیل قرآن اور نماز ہوتی ہے۔ ترتیل قرآن کا مطلب ہے قرآن کو تجوید کے ساتھ قرآن کے اصولوں کے مطابق پڑھنا ، جلدی جلدی بھی نہ ہو اور محض گانے بجانے کا انداز بھی نہ ہو۔
نبی ﷺ سے صحیح روایات وارد ہیں کہ آپ نے قیام اللیل کے دوران گیارہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھا تھا لیکن ان گیارہ رکعات میں رات کے دو تہائی حصے سے قدرے کم وقت گزارتے تھے اور آپ قرآن مجید کو خوب رک رک تجوید کے ساتھ پڑھتے تھے۔
امام احمد نے اپنی سند میں روایت کی ہے ، یحییٰ ابن سعید سے (یہابن عروبہ ہیں) انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ ابن اوفی سے ، انہوں نے سعید ابن ہشام سے کہ وہ حضرت ابن عباس کے پاس آئے اور ان سے وتروں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمام اہل زمین سے حضور ﷺ کے وتروں کے بارے میں زیادہ جانتا ہے ؟ فرمایا عائشہ ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ اور پوچھ کر ان کا جو جواب ہو ، وہ مجھے بھی بتا دو ۔ سعید ابن ہشام کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : اے ام المومنین۔ مجھے بتائیے کہ حضور ﷺ کے اخلاق کیسے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا : کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا پڑھتا ہوں۔ انہوں نے کہا بس رسول اللہ کا اخلاق قرآن تھا۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ میں اٹھ کھڑا ہوں۔ پھر مجھے خیال آیا کہ حضور ﷺ کے قیام اللیل کے بارے میں پوچھوں تو میں نے کہا ام المومنین رسول اللہ قیام اللیل کس طرح فرماتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم سورة المزمل نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا ہاں پڑھتا ہوں۔ اللہ نے اس سورت کے پہلے حصے میں قیام اللیل فرض فرمایا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی ایک سال تک قیام اللیل پر عمل پیرا رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں پھول گئے اور اللہ نے اس کا اختتام آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا۔ اس کے بعد اس سورت کے آخری حصے میں تخفیف نازل فرمائی ، اس کے بعد قیام اللیل نفلی ہوگیا جبکہ پہلے فرض تھا۔ میں نے پھر ارادہ کرلیا کہ اٹھ کر چلا جاؤں تو مجھے حضور ﷺ کے وتر کے بارے میں خیال آگیا۔ میں نے پوچھا ام المومنین مجھے حضور ﷺ کے وتر کے بارے میں بتائیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہم آپ کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار کرتے تھے۔ تو اللہ رات کو آپ کو اٹھاتا تھا ، جس وقت اللہ اٹھانا چاہتا۔ آپ پہلے مسواک کرتے ، پھر وضو فرماتے ، پھر آپ آٹھ رکعات پڑھتے اور ان میں نہ بیٹھتے ، صرف آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھتے۔ آپ بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ، دعا کرتے ، پھر سلام پھیرے بغیر آٹھویں رکعت کے بعد اٹھتے تاکہ نویں رکعت پڑھیں۔ پھر بیٹھتے اور اللہ وحدہ کو یاد کرتے ، پھر دعا کرتے اور پھر سلام پھیرتے اور ہم سلام پھیرنے کی آواز سنتے۔ اس کے بعد آپ بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے۔ یہ سلام پھیرنے کے بعد پڑھنے بیٹھتے۔ یہ گیارہ رکعات ہوگئے۔ جب حضور ﷺ معمر ہوگئے اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو ساتویں رکعت وتر ہوتی۔ پھر ساتویں کے بعد دو رکعات بیٹھ کر پڑھتے۔ اس طرح نوررکعتیں ہوتی ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی یہ عادت تھی کہ آپ جو نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اس پر مداومت کریں اور جب کبھی حضور ﷺ جاگ نہ سکتے ، یا کسی درد یا بیماری کی وجہ سے رات کو نہ اٹھتے تو دن کو بارہ رکعات ادا فرماتے۔ اور مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ رسول خدا نے ایک ہی رات میں تمام قرآن مجید کو پڑھ کر ختم کیا اور یہ بھی میرے علم میں نہیں ہے کہ ماسوائے رمضان کے آپ نے کبھی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں۔ (امام مسلم نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے ، دیکھئے ، زادالمعاد ، ابن قیم مفصلا) رسول اللہ ﷺ کی یہ تربیت اس لئے کی جارہی تھی کہ ایک بھاری ذمہ داری آپ کے سپرد کی جانے والی تھی۔
المزمل 73:5
انا سنلقی ............ ثقیلا (73:5) ” ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں “۔ اس سے مراد یہ قرآن ہے ، اور قرآن مجید سے آگے پھر مزید احکامات ہیں۔ قرآن مجید کلامی اعتبار سے ثقیل نہیں ہے ، یہ تو آسان ہے۔ اور اس سے نصیحت حاصل کرنا بھی بہت سہل ہے لیکن سچائی کے ترازو میں یہ بہت ہی وزن دار ہے اور اس کے اثرات بہت دور رس ہیں اور اس نظام کے قیام کی ذمہ داریاں بھاری ہیں۔
لو انزلنا .................... خشیة اللہ (59:12) ” اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ جھک جاتے اور اللہ کے ڈر سے ریزہ ریزہ ہوجاتے “۔ اس لئے اللہ نے اس قرآن کو ایک ایسے دل پر نازل فرمایا جو پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط تھا۔ اس لئے اس نے اس کو اخذ کرلیا۔
پھر قرآن کی روشنی کو اخذ کرنا ، اس کی حقیقت کو جاننا اور اس کا استیعاب حاصل کرنا بہت بھاری ہے اور اس کے لئے بہت طویل تیاری اور تربیت کی ضرورت ہے۔ عالم بالا سے رابطہ قائم کرنا ، اس کائنات کی روح تک پہنچ جانا ، اور اس کائنات کے زندہ اور جامد ارواح تک پہنچ جانا ، جس طرح رسول اللہ ﷺ کو اس تک رسائی حاصل ہونی ، ایک طویل اور ثقیل ذمہ داری ہے اور اس کے لئے طویل جہدو تربیت کی ضرورت ہے۔
پھر اسلام کے جاوہ مستقیم پر بلاتردد اور بلاشک قائم ہوجانا اور ادھر ادھر نہ دیکھنا اور دنیا کے میلانات وجاذبیتوں سے متاثر نہ ہونا اور اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں ، ان کو عبور کرتے چلے جانا اور جو مشکلات آئیں ان کو برداشت کرنا ، بہت ہی بھاری ذمہ داری ہے اور اس کے لئے بھی طویل تیاری اور جہد کی ضرورت ہے۔
راتوں کو جاگنا جب کہ لوگ سو رہے ہیں ، اور روز مرہ کی زندگی کی کدورتوں سے دور ہونا اور دنیاوی جھمیلوں سے ہاتھ جھاڑ کر اللہ کا ہوجانا اور اللہ کی روشنی اور اللہ کے فیوض وصول کرنا اور وحدت مطلقہ سے مانوس ہونا اور اس کے لئے خالص ہوجانا اور رات کے سکون اور ٹھہراؤ کے ماحول میں ترتیل قرآن ، ایی ترتیل کہ گویا یہ قرآن ابھی نازل ہورہا ہے اور یہ پوری کائنات اس قرآن کے ساتھ رواں دواں ہے۔ انسانی الفاظ اور عبارات کے سوا ہی یہ پوری کائنات قرآن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ قیام اللیل میں انسان قرآن کے نور کی شعاعیں ، اس کے اشارات ، نہایت پر سکون ماحول میں حاصل کرتا ہے او یہ سب اس دشوار گزار راستے کا سازو سامان ہے۔ کیونکہ اس کٹھن راستے کی مشکلات رسول اللہ ﷺ کے انتظار میں تھیں اور یہ ہراس شخص کا انتظار کرتی ہیں ، جو بھی اس دعوت کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔ جو شخص بھی جس دور میں دعوت اسلامی کا کام کرتا ہے ، شیطانی وساوس اور اس راہ کے تاریک ترین لمحات میں یہی زادراہ کسی داعی کے کام آتا ہے اور اس سے اس کی راہ روشن ہوتی ہے۔
المزمل 73:6
ان ناشئة .................... قیلا (73:6) ” درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لئے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں ہے “۔ اور قرآن کو ٹھیک ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں وے۔ اس سے مراد عشاء کے بعد اٹھنا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ رات کے وقت اٹھنا جسم کے لئے باعث مشقت ہے اور۔
اقوام قیلا (73:6) ” یعنی بھلائی میں مضبوط طریقہ ہے (مجاہد) کیونکہ دن کی جدوجہد کے بعد تھکاوٹ کا غلبہ ہوتا ہے اور نرم بستر بہت جاذبیت رکھتا ہے۔ یہ جسم کو روندنے کے لئے بہت ہی موثر ہے۔ لیکن جو شخص یہ عمل کرتا ہے ، وہ گویا اعلان کرتا ہے کہ اس پر روحانیت غالب ہے ، اور اس نے اللہ کی دعوت پر لبیک کہہ دیا ہے۔ اور وہ دعوت پر سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رات کو قرآن کریم بھی اچھی طرح پڑھا جاسکتا ہے ، رات کے وقت اللہ کے ذکر میں مٹھاس ہوتی ہے اور نماز تو نہایت ہی خضوع وخشوع کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہے اور رات کے وقت اللہ کے سامنے عرض ومعذرت اچھی طرح ہوسکتی ہے۔ انسان کے دل میں محبت الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ انسان کو آرام ملتا ہے اور انس و محبت حاصل ہوتی ہے ، دل میں سکون ، خوشی اور نورانیت پیدا ہوتی ہے۔ جبکہ دن کی نمازوں میں یہ مقام حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ جس نے یہ دل پیدا کیا ہے ، وہ اس دل کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔ اللہ کو معلوم ہے اس میں کیا چیز اثر سکتی ہے اور کس چیز کا اس پر اثر ہوتا ہے۔ اور کن اوقات میں دل زیادہ اثر لیتا ہے اور اچھے اثرات لینے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ اور کیا اسباب ہیں جو اس پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔
اللہ اپنے بندے اور رسول کو ایک عظیم جدوجہد کے لئے تیار کررہا تھا اور ان پر عظیم فرائض نازل ہونے والے تھے۔ اس لئے اللہ نے ان پر قیام اللیل فرض کیا کیونکہ نفس کو قابو کرنے کے لئے یہ موزوں ترین طریقہ ہے۔ اس سے نفس اچھی طرح روند ڈالا جاتا ہے اور پھر اس سے قرآن کی تلاوت اور اس کی حکمت سمجھنے میں زیادہ مدد ملتی ہے۔ نیز دن کے وقت ہر شخص کی بیشمار مصروفیات ہوتی ہیں اور یہ مصروفیات بہت سا وقت لیتی ہیں اور مختلف اطراف میں انسانی توجہ مبذول رہتی ہے۔ اور اس میں انسانی قوت کا ایک بڑا حصہ صرف ہوجاتا ہے۔
المزمل 73:7
ان لک .................... طویلا (73:7) ” دن کے اوقات میں تو تمہارے لئے بہت مصروفیات ہیں “۔ لہٰذا دن کو ان مصروفیات میں گزرنا چاہئے اور رات کو اللہ کے لئے مختص کرنا چاہئے اور نماز اور ذکر میں مصروف رہنا چاہئے۔
المزمل 73:8
واذکر .................... تبتیلا (73:8) ” اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو “۔ اللہ کے نام کے ذکر سے مراد صرف یہ نہیں کہ کوئی صرف اللہ کا نام ہی جپتا رہے۔ اور سو دانوں یا ہزار دانوں کی تسبیح رولتا رہے ، بلکہ اس بےیہ ذکر مراد ہے کہ زبان پر اللہ کا نام ہو اور دل میں اللہ کی شان حاضر ہو۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھو جس میں اللہ کا ذکر ہی ذکر ہے اور تلاوت قرآن ہے اور تبتل کے معنی ہیں اللہ کے سوا ہر چیز سے کٹ جانا اور پوری طرح عبادت اور ذکر میں مشغول ہوجانا ہر شغل اور ہر تصور سے ایک طرف ہوجانا ، اور اپنے مشاعر اور تصورات کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
جب تبتل کا ذکر ہوا جس کا مفہوم ہے اللہ کے سوا ہر چیز سے کٹ جانا ، تو اس کے ساتھ اس بات کی تصریح ضروری ہوگئی کہ یہ واضح کردیا جائے کہ اللہ کے سوا کوئی اس کا اہل ہی نہیں ہے۔ اللہ ہی فقط اس بات کا مستحق ہے کہ انسان اس کی طرف متوجہ ہو۔
المزمل 73:9
رب المشرق .................... وکیلا (73:9) ” وہ مشرق ومغرب کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، لہٰذا اسی کو اپنا وکیل بنالو “۔ وہ ہر متوجہ ہونے والے کا رب ہے۔ مشرق ومغرب کا رب ہے ، وہ واحد الٰہ ہے اور اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اور جو شخص اللہ کا ہوجائے ، وہ دراصل اس اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اس کے ذہن میں یہ عقیدہ خود بخود آجاتا ہے کہ اللہ اس کائنات کے شرق وغرب اور پوری کائنات پر قادر مطلق ہے۔ اور رسول اکرم ﷺ جن سے یہ کہا جارہا ہے کہ اٹھو کہ تم نے اس جہاں میں ایک بھاری ذمہ داری اٹھائی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تم اللہ کے ہوجاؤ اور پوری کائنات کی طرف پشت کرکے اللہ کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ کیونکہ اس کام کے لئے قوت ، طاقت ، سازوسامان اسی سرچشمے سے ملتا ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ کی قوم کی طرف سے آپ کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا جارہا ہے ، لوگ منہ موڑ رہے ہیں ، الزامات لگاتے ہیں اور دوسروں کو راہ راست سے دور کرتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔ ان مکذبین کو مجھ پر چھوڑیں ، میں ان سے نمٹ لوں گا کیونکہ میں نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کررکھا ہے اور ان سے میں سخت انتقام لوں گا۔
المزمل 73:10
اگر یہ روایت صحیح ہو کہ اس سورت کی ابتدائی آیات آغاز بعثت میں نازل ہوئیں تو پھر یہ دوسرا حصہ یقینا قدرے بعد کے زمانے میں نازل ہوا ، جبکہ حضور ﷺ نے علانیہ دعوت کا آغاز کردیا تھا اور مکذبین اور تحریک کے کارکنوں پر دست درازیاں کرنے والے میدان میں آگئے تھے اور یہ لوگ رسول اللہ اور اہل اسلام کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ اور اگر دوسری روایت ہو تو پھر پہلا حصہ بھی اس وقت نازل ہوا جب حضور اکرم ﷺ کو مشرکین اور مکذبین نے دیکھ دینا شروع کردیا اور یہ لوگ دعوت اسلامی کا راستہ روکنے کے لئے سرگرم تھے۔
بہرحال جو صورت بھی ہو ، قیام اللیل اور ذکر وفکر کے ساتھ صبر کی تلقین کرنا (اور یہ دونوں باتیں بالعموم جمع ہوتی ہیں) تحریک اسلامی کے لئے ایک بہترین زادراہ ہے۔ اور اس راہ کی مشکلات کو صرف انہی ہتھیاروں اور تدابیر کے ذریعے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ راہ بہت طویل اور صبر آزما ہے۔ خواہ انسانی افکار کے میدان کی کشمکش ہو یا میدان جنگ کی ضرب وحرب ہو۔ دونوں مشکل کام ہیں۔ دونوں میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔
واصبر ................ یقولون (73:10) ” جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو “۔ کیونکہ یہ لوگ اشتعال انگیز کاروائیاں کرتے تھے اور ناقابل برداشت حد تک ہٹ دھرمی کرتے تھے۔
واھجر ............ جمیلا (73:10) ” اور شرافت کے ساتھ ان سے الگ ہوجاؤ “۔ نہ کوئی عتاب ہو اور نہ آپ ان پر غصہ ہوں ، نہ بائیکاٹ ہو اور نہ دشمنی ہو۔ یہ تھا منصوبہ دعوت اسلامی کا پوری مکی زندگی میں۔ خصوصاً مکہ کے ابتدائی زمانے میں۔ محض قلب وضمیر اور دل و دماغ کو اپیل کی جاتی تھی۔ نہایت نرمی سے تبلیغ کی جانی تھی اور صرف کھول کھول کر حقائق بیان کیے جاتے تھے۔
اور ان لوگوں کی دست درازیوں اور تکذیب کا دفاع ذکر الٰہی کے بعد صبر جمیل ہی سے کیا جاسکتا تھا ، اللہ نے ہر رسول کو صبر کا حکم دیا ہے ، اور بار بار دیا ہے۔ پھر اللہ نے ہر رسول کے ساتھیوں اور بعد میں آنے والے مومنین کو بھی صبر کا حکم دیا ہے۔ رسولوں کے زمانوں کے بعد میں بھی جس شخص نے دعوت اسلامی کا بیڑا اٹھایا ہے ، اس کا زادہ راہ صبر ہی رہا ہے۔ اس کا اسلحہ اور سازو سامان صبر ہی رہا ہے۔ صبر بہترین ڈھال اور بہترین اسلحہ ہے۔ صبر ہی بہترین قلعہ اور پناہ گاہ ہے۔ یہ نفس اور اس کی خواہشات کے ساتھ جہاد ہے۔ یہ نفس کی بےراہ رویوں اور خواہشات کے خلاف جہاد ہے۔ یہ نفس کی سرکشی ، جلد بازی اور مایوسی کے خلاف بھی ایک جدوجہد ہے۔ اور دعوت اسلامی کے دشمنوں ، ان کی ریشہ دورانیوں اور اذیتوں کے خلاف بہترین دفاع اور ہتھیار ہے۔ اور یہ بالعموم نفس انسانی کے خلاف بھی ہتھیا رہے۔ یہ نفس بالعموم دعوت اسلامی کی تکالیف اور ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کی تدابیر کرتا ہے۔ نفس انسانی مختلف رنگوں اور لباسوں میں اس دعوت کی ذمہ داریوں سے جان چھڑانا چاہتا ہے اور سیدھی راہ پر چلنا نہیں چاہتا۔ اور داعی کے لئے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ ان تمام باتوں پر صبر کرے۔ اور ذکر وصبر دونوں ایک ساتھ چلتے ہیں۔ ہر موقعہ پر جہاں صبر کرنا ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی یاد کے ساتھ ہی ممکن ہے۔
اور اے پیغمبر یہ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر صبر جمیل اختیار کرو اور ان کو نہایت ہی شریفانہ انداز میں چھوڑ دو ، ان مکذبین کے لئے مجھے چھوڑدو۔ میں ان کا انتظام خود کرلوں گا۔
المزمل 73:11
وذرنی .................... قلیلا (73:11) ” ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑدو اور انہیں ذرا کچھ دیر اسی حالت پر رہنے دو “۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو ہمیشہ جبار وقہار اور مضبوط قوت والے کہا کرتے ہیں۔ یہ جھٹلانے والے تو ابن آدم میں سے ہیں اور دھمکی دینے والی ذات وہ ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور جس ذات نے اس عظیم اور وسیع کائنات کو پیدا کیا ہے اس نے اس تمام جہاں کو صرف لفظ کن کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
مجھے ذرا چھوڑ دو کہ میں ان مکذبین کے کام سے نمٹ لوں ، یہ دعوت تو میری دعوت ہے ، تمہارے ذمہ تو صرف تبلیغ ہے۔ انہیں جھٹلانے دو اور تم ان کو شریفانہ انداز میں چھوڑ دو ۔ ان کے ساتھ جنگ میں خود کروں گا۔ تم اس کے بارے میں پریشان نہ ہو۔
اور یہ تو پیس کر رکھ دینے والی ایک تباہی ہوگی ، جب اللہ جبار وقہار کی ذات ان کی طرف متوجہ ہوجائے گی تو ان کی قوت کو ہلا کر رکھ دے گی اور پاش پاش ہوجائیں گے اور یہ لوگ جو اپنے آپ کو ” صاحبان نعمت “ سمجھتے ہیں نیست ونابود ہوں گے۔
ومھلھم قلیلا (73:11) اگر پوری دنیا کی زندگی کی مہلت بھی ان کو دے دی جائے تو بھی یہ ایک وقت قلیل ہے۔ اللہ کے حساب میں تو یہ ایک دن کا بھی ایک حصہ ہے۔ اور خود ان لوگوں کے اندازے کے مطابق بھی پوری زندگی ساعت قلیل ہے۔ قیامت میں یہ خود بھی یہی اندازہ کریں گے کہ ہم ایک دن یا دن کا کوئی حصہ ہی دنیا میں رہے ہیں۔ بہرحال بظاہر کفار کو مہلت جس قدر لمبی دے دی جائے وہ قلیل ہی ہے۔ اگر اس دنیا میں ان پر اللہ کی گرفت نہ آئی تو قیامت بہت ہی قریب ہے۔
المزمل 73:12
ان لدینا ............ وجحیما (12) وطعاما .................... الیما (73:13) ” ہمارے پاس (ان کے لئے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھرکٹی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور درد ناک عذاب “۔
انکال کے معنی بیڑیاں ہیں۔ جحیم جہنم ہے اور طعام ذاغصہ ، وہ جو اس قدر پھنسنے والا ہے جو خلق کو توڑ دے اور یہ صاحبات نعمت کے لئے مناسب جزاء ہے۔ جنہوں نے نعمتوں کی کوئی رعایت نہیں کی اور نہ نعمتوں کا شکر ادا کیا۔ اے محمد صبر کرو ، صبر جمیل کرو ، اور ان سے نمٹنے کا کام ہمارے ذمہ چھوڑ دو ۔ ہمارے پاس ان کے لئے بہت کچھ سامان ہے ۔ پہلے بڑی بڑی بیڑیاں ہیں جو ان کے لئے باعث اذیت ہوں گی ، اور پھر جہنم ہے جو انہیں خوب تپائے گی اور گرمائے گی۔ پھر ان کے لئے ایک ایسا کھانا ہے جو حلق میں پھنس کر اسے زخمی کردے گا۔ اور پھر مزید یہ کہ سخت عذاب ہوگا اور یہ عذاب ان کو ایک خوفناک دن میں دیا جائے گا۔
المزمل 73:13
ان لدینا ............ وجحیما (12) وطعاما .................... الیما (73:13) ” ہمارے پاس (ان کے لئے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھرکٹی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور درد ناک عذاب “۔
انکال کے معنی بیڑیاں ہیں۔ جحیم جہنم ہے اور طعام ذاغصہ ، وہ جو اس قدر پھنسنے والا ہے جو خلق کو توڑ دے اور یہ صاحبات نعمت کے لئے مناسب جزاء ہے۔ جنہوں نے نعمتوں کی کوئی رعایت نہیں کی اور نہ نعمتوں کا شکر ادا کیا۔ اے محمد صبر کرو ، صبر جمیل کرو ، اور ان سے نمٹنے کا کام ہمارے ذمہ چھوڑ دو ۔ ہمارے پاس ان کے لئے بہت کچھ سامان ہے ۔ پہلے بڑی بڑی بیڑیاں ہیں جو ان کے لئے باعث اذیت ہوں گی ، اور پھر جہنم ہے جو انہیں خوب تپائے گی اور گرمائے گی۔ پھر ان کے لئے ایک ایسا کھانا ہے جو حلق میں پھنس کر اسے زخمی کردے گا۔ اور پھر مزید یہ کہ سخت عذاب ہوگا اور یہ عذاب ان کو ایک خوفناک دن میں دیا جائے گا۔
المزمل 73:14
یوم ترجف ........................ مھیلا (73:14) ” یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے او پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جارہے ہیں “۔ یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر بکھرے جارہے ہیں “۔ یہ ہے اس دن کی ہولناکی ، اس کی زد میں یہ وسیع زمین بھی آرہی ہے۔ یہ زمین لرز رہی ہے ، ٹکڑے ٹکڑے ہورہی ہے ، یہ انسان تو نہایت ہی کمزور اور حقیر ہیں۔ بڑے بڑے کر ات ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔
اب رخ ذرا ان صاحبان نعمت کی طرف ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ فرعون بڑا جبار تھا ، لیکن اس کا جو انجام ہوا وہ تمہارے سامنے ہے۔ قیامت کا ہول تو تم نے دیکھ لیا اور ذرا فرعون کے اس دنیاوی انجام کو بھی دیکھ لو۔
المزمل 73:15
انا رارسلنا ............................ رسولا (15) فعصی ................ وبیلا (73:16) ” ہم نے تمہارے پاس اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے ، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا ، فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اسے بڑی سختی سے پکڑ لیا “۔ یوں اختصار کے ساتھ ان کے دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کیا جاتا ہے اور ان کو اپنے سخت موقف سے اکھارنے کی سعی کی جاتی ہے جبکہ اس سے قبل پہاڑ کے زلزلہ اور ریزہ ریزہ کردینے کا منظر گزر گیا ہے۔ وہ ہے آخرت کا عذاب اور پکڑ اور یہ ہے دنیاوی پکڑ۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں جو پکڑ بھی ہو تم اس سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ خصوصاً قیامت کی پکڑ تو اس قدر شدید ہوگی :
المزمل 73:16
انا رارسلنا ............................ رسولا (15) فعصی ................ وبیلا (73:16) ” ہم نے تمہارے پاس اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے ، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا ، فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اسے بڑی سختی سے پکڑ لیا “۔ یوں اختصار کے ساتھ ان کے دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کیا جاتا ہے اور ان کو اپنے سخت موقف سے اکھارنے کی سعی کی جاتی ہے جبکہ اس سے قبل پہاڑ کے زلزلہ اور ریزہ ریزہ کردینے کا منظر گزر گیا ہے۔ وہ ہے آخرت کا عذاب اور پکڑ اور یہ ہے دنیاوی پکڑ۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں جو پکڑ بھی ہو تم اس سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ خصوصاً قیامت کی پکڑ تو اس قدر شدید ہوگی :
المزمل 73:17
فکیف .................... شیبا (73:17) ن السمائ ................ بہ (73:18) ” اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اس دن کیسے بچ جاﺅ گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جارہا ہوگا ؟ “۔ یہ اس قدر ہولناک صورت حالات ہوگی کہ آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگا ، اس سے عمل زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی ہوگی اور پھر جب اس دن جو بچے بھی ہوں گے وہ غم کے مارے بوڑھے ہوجائیں گے۔ یہ ہولناکی اب انسانی ذات کے اندر آجاتی ہے۔ زندہ انسانوں کی حالت کیا ہوگی ؟ یہ لڑکے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگوں کے احساس کو اس طرف پھیرا جاتا ہے اور پھر بطور تاکید کہا جاتا ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔
کان ................ مفعولا (73:18) ” اللہ کا وعدہ پورا ہوکر ہی رہتا ہے “۔ یہ ایک واقعہ ہوگا ، کیونکہ یہ اللہ کی مشیت ہوگی اور اللہ کی مشیت کے مطابق واقعات رونما ہوتے ہیں۔
یہ ہولناکی جو زمین کے لرزہ ، قیام قیامت اور نفس انسانی کی خوفزدگی کی شکل میں سامنے آئی ، اس کے بعد اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے ؟
المزمل 73:18
فکیف .................... شیبا (73:17) ن السمائ ................ بہ (73:18) ” اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اس دن کیسے بچ جاﺅ گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جارہا ہوگا ؟ “۔ یہ اس قدر ہولناک صورت حالات ہوگی کہ آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگا ، اس سے عمل زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی ہوگی اور پھر جب اس دن جو بچے بھی ہوں گے وہ غم کے مارے بوڑھے ہوجائیں گے۔ یہ ہولناکی اب انسانی ذات کے اندر آجاتی ہے۔ زندہ انسانوں کی حالت کیا ہوگی ؟ یہ لڑکے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگوں کے احساس کو اس طرف پھیرا جاتا ہے اور پھر بطور تاکید کہا جاتا ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔
کان ................ مفعولا (73:18) ” اللہ کا وعدہ پورا ہوکر ہی رہتا ہے “۔ یہ ایک واقعہ ہوگا ، کیونکہ یہ اللہ کی مشیت ہوگی اور اللہ کی مشیت کے مطابق واقعات رونما ہوتے ہیں۔
یہ ہولناکی جو زمین کے لرزہ ، قیام قیامت اور نفس انسانی کی خوفزدگی کی شکل میں سامنے آئی ، اس کے بعد اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے ؟
المزمل 73:19
ان ھذا .................... سبیلا
” یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے ، اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے “۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی طرف جانے کا راستہ بہت ہی آسان ہے۔ ان راستوں کے مقابلے میں جو مشکوک ہیں ، جو ہولناک اور خوفناک ہیں کیونکہ وہ راہ مستقیم ہے۔
یہاں ایک طرف تو اسلام کے ہٹ دھرم مکذبین کے دلوں کے اندر خوف اور زلزلہ پیدا کیا گیا ، دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک اور ضعیف اور قلیل اہل ایمان کی ڈھارس بندھائی گئی ہے کہ اطمینان رکھو اور یقین کرو ، تمہارا رب تمہارے ساتھ ہے ، وہ تمہارے اعدا سے خود نمٹ لے گا۔ بس ان کے لئے ایک قلیل مہلت مقرر ہے ، یہ ایک معلوم وقت ہے ۔ اس کے بعد حق و باطل کا فیصلہ ہوگا ، جب اس فیصلے کا وقت آجائے گا چاہے اس دنیا میں ہو یا آختر میں اور اللہ پھر اپنے دشمنوں سے انتقام لے گا ۔ ان کو فرعون کی طرح غرق کردے گا یا قیامت میں بیڑیاں پہنا کر عذاب جہنم تپائے گا اور سخت عذاب ہوگا۔ یادرکھو کہ اللہ اپنے دوستوں کو بےیارومددگار نہیں چھوڑتا اور اگر دشمنوں کو مہلت دیتا ہے تو وہ بھی ایک وقت تک دیتا ہے۔
اب سورت کا دوسرا حصہ آتا ہے اور یہ پورا حصہ ایک طویل آیت کی صورت میں ہے۔ روایات کے مطابق سورت کے پہلے حصے کے پورے ایک سال بعد نازل ہوا ہے۔
المزمل 73:20
ان ربک ........................ غفور رحیم
یہ ایک خوبصورت رعایت ہے۔ اس پر مشقت ، داماندہ اور تھکے ہارے شخص کے لئے خوشخبری کہ چلو چھٹی مل گئی۔ اللہ کی طرف سے نبی اور مومنین کے لئے نہایت ہی مناسب تخفیف اور چھوٹ کا اعلان ہے۔ اللہ کو معلوم تھا کہ وہ مخلص ہیں اور وہ نہایت تندہی سے احکام بجا لارہے ہیں۔ رات کے طویل قیام کی وجہ سے ان کے پاﺅں پھول گئے ہیں اور رات کا بڑا حصہ تلاوت قرآن اور نماز میں بسرہورہا ہے۔ اللہ کا مقصد یہ نہ تھا کہ قرآن کے ذریعہ لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا جائے بلکہ مقصد یہ تھا کہ جو عظیم ذمہ داری نبی اور مسلمانوں پر عائد ہورہی ہے ، اس کے لئے ان کو تیار کیا جائے۔ اور یہ ذمہ داری چونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ادا کرنی تھی اس لئے ان کے لئے اس ٹریننگ کا انتظام ضروری تھا۔
یہاں جس انداز میں بات کی گئی ہے ، وہ نہایت ہی اطمینان بخش ہے۔
ان ربک ........................ معک (73:20) ” اے نبی ! تمہارا رب جانتا ہے کہ تم کبھی دوتہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادل میں کھڑے رہتے ہو ، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ بھی “۔ اللہ نے تمہارا قیام اللیل دیکھ لیا ۔ اور تمہارے ساتھیوں کو بھی دیکھ لیا۔ اور اللہ نے تمہاری اس عبادت کو قبول کرلیا ہے۔ اللہ نے جان لیا کہ تمہارے اور ان کے پہلو گرم ونرم بستروں سے علیحدہ ہوتے ہیں۔ تم لوگوں نے ان نرم بستروں کی پکار کو نہ سنا اور اللہ کی پکار کو سنا۔ اب اللہ تم پر مہربانی فرماتا ہے۔ اور تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر قدرے تخفیف فرماتا ہے۔
واللہ ............ والنھار (73:20) ” اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے “۔ یوں کہ کبھی رات زیادہ لمبی ہوتی ہے اور کبھی دن۔ اور تم اور تمہارے ساتھی رات کی ایک تہائی ، نصف رات یا دوتہائی رات عبادت کرتے رہتے ہو۔ پھر اللہ تمہاری طاقت کی حدود سے بھی واقف ہے۔ اور اللہ کا مقصد تمہیں تھکانا اور عذاب دینا نہیں ہے۔ اللہ تو تمہیں ایک مقصد کے لئے تیار کررہا ہے۔ جب تم تیار ہوگئے تو پھر تخفیف کردیتو تم بھی اپنے نفوس پر تخفیف کرو ، اور اب اس کام پر اس قدر سختی نہ کرو۔
فاقرء ................ القرآن (73:20) ” اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو ، پڑھ لیا کرو “۔ یعنی رات کے وقت نماز میں۔ لیکن اپنے آپ کو مشقت اور تنگی میں نہ ڈالو۔ اور یہاں بعض امور ایسے بھی بتا دیئے جاتے ہیں جن میں مستقبل میں اہل اسلام نے مشغول ہونا تھا اور ان ڈیوٹیوں کے ساتھ قیام اللیل ذرا زیادہ مشکل تھا۔
علم ان ................ مرضی (73:20) ” اسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہوں گے “۔ ان پر قیام اللیل کا فریضہ پر مشقت ہوگا۔
واخرون .................... فضل اللہ (73:20) ” کچھ دوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں “۔ یعنی تلاش معاش میں سفر اور سفر کی مشقتیں۔ کیونکہ معاشی جدوجہد بھی ضروریات زندگی میں سے ہے۔ الہل کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تم دنیا کی زندگی کی ضروریات کے لئے جدوجہد ترک کرو اور رھبان بن جاﺅ۔
واخرون ................ سبیل اللہ (73:20) ” کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں “۔ اللہ کو علم تھا کہ عنقریب وہ ظلم کے مقابلے میں جہاد کی اجازت دے دے گا ، اسلام کے جھنڈے بلند ہوں گے اور باغیوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔ لہٰذا اس مقابلے کے لئے اب یہ تخفیف کی جاتی ہے۔ اب بغیر مشقت کے جس قدر ممکن ہو پڑھو۔
فاقرئ .................... منہ (73:20) ” لہٰذا قرآن جس قدر تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو ، پڑھ لو “۔ بغیر مشقت اور تنگی کے۔ اور باقی دینی فرائض پر پوری طرح جم جاﺅ۔
واقیموا ................................ الزکوة (73:20) ” اور نماز پڑھو اور زکوٰة دو “۔ اور اس کے بعد قرض حسن بھی دو ۔
واقرضوا ........................ اعظم اجرا (73:20) ” اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔ جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاﺅ گے ، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے “۔ اور اللہ کی طرف اس طرح متوجہ ہوتے جاﺅ کہ استغفار کرتے رہو ، اپنی تقصیرات کی معافی چاہو ، انسان سے قصور سرزد ہوتے ہیں ، وہ خطا کا ارتکاب کرتا ہے۔ اگرچہ وہ کوشش کرے اور درست فعال کرنے کی سعی کرے۔
واستغفروا ................ رحیم (73:20) ” اور اللہ سے مغفرت مانگتے رہو ، بیشک اللہ بڑا غفور ورحیم ہے “۔ یہ رحمت ، شفقت اور تیسیر کی ایک چٹکی ہے اور ایک سال قیام کے بعد اب یہ سہولت نازل ہوتی ہے۔ اللہ نے مسلمانوں پر تخفیف فرمائی ہے۔ اب قیام اللیل نفلی ہوگیا لیکن رسول اللہ ﷺ پھر بھی اپنی روش ہی پر قائم رہے۔ ثلث اللیل سے آپ کا قیام اللیل کبھی کم نہ ہوا۔ یہ اللہ کے ساتھ مناجات تھی۔ رات کی تنہائیوں میں ، دنیا کے شوروشغب سے دور۔ یوں آپ اس مناجات سے زادراہ لیتے رہے۔ اور پوری زندگی میں یہ جدوجہد جاری رہی۔ لیکن سوتے میں بھی آپ کی آنکھیں بندہوجاتیں تو آپ کا دل بیدار ہی رہتا تھا۔ آپ کا قلب مبارک ہر وقت اللہ کو یاد کرتا رہتا تھا۔ آپ ہر وقت سوتے یا جاگتے اللہ کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ غرض آپ دنیا کی تمام آلودگیوں سے علیحدہ ہوکر رب کے ہوگئے تھے۔ اور اس راہ میں جس قدر بوجھ آپ برداشت کرسکتے تھے۔ آپ نے برداشت کیا۔
المدثر 74:1
یہ عالم بالا کی بہت ہی اہم آواز ہے۔ اور اس نہایت ہی اہم معاملے کے بارے میں ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ انسانوں کو ڈرانا ہے ، ان کو جگانا اور بیدار کرنا ہے اور دنیا میں ان کو شر و فساد سے بچانا ہے اور آخرت میں آگ سے بچانا ہے۔ اور وقت ختم ہونے سے قبل ہی نجات کا طریقہ اور امتحان میں کامیابی کی حکمت بتانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی بڑی ذمہ داری ہے خصوصاً جبکہ یہ ذمہ داری ایک فرد بشر کے کاندھوں پر ڈال دی جائے۔ اگرچہ یہ فردو بشر نبی اور رسول ہو ، کیونکہ انسان اس قدر گمراہ ، سرکش ، باغی ، نافرمان ، معاند ، کج رو اور اپنے روبہ پر اصرار کرنے والا ہے کہ کسی انسان کے لئے اس کی اصلاح کا کام بہت ہی مشکل کام ہے۔ دنیا کے مشکل سے مشکل کام کے مقابلے میں بھی یہ زیادہ مشکل تر کام ہے۔
یایھا المدثر (1) قم فانذر (74:2) ” اے اوڑھ لپیٹ کرلیٹنے والے ، اٹھو اور خبردار کرو “۔ رسالت کے فرائض میں سب سے بڑا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو برے انجام سے ڈرایا جائے۔ اور ان کو متنبہ کیا جائے کہ خطرہ بہت قریب ہے۔ اور عذاب ان لوگوں کے لئے گھات میں بیٹھا ہوا ہے جو غافل ہیں اور جو بری راہوں پر سرپٹ دوڑ رہے ہیں اور ان کو خطرے کا کوئی شعور اور احساس نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے بندوں سے کس قدر زیادہ ہمدردی ہے اور وہ کس قدر رحیم ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اگر سب کے سب انسان گمراہ ہوجائیں تو وہ اللہ کی بادشاہت میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے اور اگر یہ سب کے سب ہدایت پر آجائیں تو اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ اللہ کا رحم وکرم ہے کہ وہ ان کو آخرت کے درد ناک عذاب سے بچانے کے لئے اب قدر انتظامات کرتا ہے۔ دنیا میں لوگوں کو شر سے بچاتا ہے۔ اور رسولوں کو بھیجتا ہے کہ آﺅ میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل کردوں۔
المدثر 74:2
یہ عالم بالا کی بہت ہی اہم آواز ہے۔ اور اس نہایت ہی اہم معاملے کے بارے میں ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ انسانوں کو ڈرانا ہے ، ان کو جگانا اور بیدار کرنا ہے اور دنیا میں ان کو شر و فساد سے بچانا ہے اور آخرت میں آگ سے بچانا ہے۔ اور وقت ختم ہونے سے قبل ہی نجات کا طریقہ اور امتحان میں کامیابی کی حکمت بتانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی بڑی ذمہ داری ہے خصوصاً جبکہ یہ ذمہ داری ایک فرد بشر کے کاندھوں پر ڈال دی جائے۔ اگرچہ یہ فردو بشر نبی اور رسول ہو ، کیونکہ انسان اس قدر گمراہ ، سرکش ، باغی ، نافرمان ، معاند ، کج رو اور اپنے روبہ پر اصرار کرنے والا ہے کہ کسی انسان کے لئے اس کی اصلاح کا کام بہت ہی مشکل کام ہے۔ دنیا کے مشکل سے مشکل کام کے مقابلے میں بھی یہ زیادہ مشکل تر کام ہے۔
یایھا المدثر (1) قم فانذر (74:2) ” اے اوڑھ لپیٹ کرلیٹنے والے ، اٹھو اور خبردار کرو “۔ رسالت کے فرائض میں سب سے بڑا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو برے انجام سے ڈرایا جائے۔ اور ان کو متنبہ کیا جائے کہ خطرہ بہت قریب ہے۔ اور عذاب ان لوگوں کے لئے گھات میں بیٹھا ہوا ہے جو غافل ہیں اور جو بری راہوں پر سرپٹ دوڑ رہے ہیں اور ان کو خطرے کا کوئی شعور اور احساس نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے بندوں سے کس قدر زیادہ ہمدردی ہے اور وہ کس قدر رحیم ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اگر سب کے سب انسان گمراہ ہوجائیں تو وہ اللہ کی بادشاہت میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے اور اگر یہ سب کے سب ہدایت پر آجائیں تو اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ اللہ کا رحم وکرم ہے کہ وہ ان کو آخرت کے درد ناک عذاب سے بچانے کے لئے اب قدر انتظامات کرتا ہے۔ دنیا میں لوگوں کو شر سے بچاتا ہے۔ اور رسولوں کو بھیجتا ہے کہ آﺅ میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل کردوں۔
المدثر 74:3
رسول اللہ ﷺ کو یہ عظیم ڈیوٹی سپرد کرنے کے بعد اب آپ کی ذات کے بارے میں خصوصی ہدایات دی جاتی ہیں۔
(1) پہلے یہ کہ اپنے رب کی بڑائی کرو۔
وربک فکبر (74:3) ” اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو “۔ یعنی اللہ وحدہ کی بڑائی کا اعلان کردو۔ کیونکہ درحقیقت بڑا صرف اللہ ہے۔ اور صرف وہی مستحق ہے کہ اس کا نعرہ تکبیر بلند کیا جائے۔ اس ہدایت میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں الٰہ اور توحید کے مفوم کے اندر یہ بات شامل ہے کہ اللہ وحدہ بڑا ہے۔
ہر فرد ، ہر شے ، ہر قدر ، اور ہر حقیقت اللہ کے مقابلے میں صغیروحقیر ہے۔ اور اللہ وحد کبیر اور متعال ہے۔ اللہ کے جلالی کبریائی میں تمام اجرام فلکی ، تمام حجم ، تمام قوتیں ، قدریں ، تمام واقعات ، تمام حالات ، تمام معانی اور تمام صورتیں ناپید اور غائب ہوجاتی ہیں۔ اور اللہ عظیم اور بلند اور بلند تر ہوجاتا ہے۔
نبی ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اس بلند تصور اور علو عقیدہ کے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر ، دنیا کو ڈرانے اور متنبہ کرنے اور ہوشیار وخبردار کرنے کا فریضہ اپنے ذمہ لیں اور حالات اور مشکلات کا مقابلہ کریں اور اس کی سختیاں اور بوجھ برداشت کریں۔ لہٰذا اس تصور کے مقابلے میں مخالفین کی تمام سازشیں جھوٹی ہوں گی ، تمام قوتیں ہیچ ہوں گی ، تمام رکاوٹیں دور ہوں گی۔ اگر داعی یہ سچا تصور رکھتا ہو کہ وہ جس رب کی دعوت لے کر اٹھا ہے ، وہ سب سے بڑا ہے تو اس کے سامنے کوئی مشکل کھڑی نہیں ہوسکتی۔ دعوت اسلامی کی سختیاں اور مشکلیں یہ تقاضا کرتی ہیں کہ انسان کے ذہن میں اللہ کی کبریائی اور کبریائی کا عقیدہ مستحضر ہو۔
المدثر 74:4
(2) دوسری ہدایت یہ دی جاتی ہے :
وثیابک فطھر (74:4) ” اور اپنے کپڑے پاک رکھو “۔ یہ کنایہ ہے ، قلبی ، اخلاقی اور عملی پاکیزگی سے۔ شخصیت کی پاکیزگی ، جس میں ظاہری طہارت بھی شامل ہے اور وہ تمام معاملات بھی شامل ہیں جن کا کسی نہ کسی طریقے سے ذات نبی سے تعلق ہے اور روحانی اور اخلاقی پاکیزگی ہی میں انسان عالم بالا سے اشارات اخذ کرسکتا ہے۔ اور رسالت کے مزاج ہی میں پاکیزگی ہوتی ہے ، اس لئے یہاں پاکیزگی کا حکم دیا گیا۔ پھر فریضہ رسالت اور لوگوں تک پیغام پہنچانے اور ان کو ڈرانے اور مختلف قسم کے لوگوں ، مختلف قسم کی خواہشات اور مختلف قسم کے نشیب و فراز میں دعوت اسلامی کے کام کے لئے یہ ضروری تھا کہ آپ کا دامن ہر داغ اور دھبے سے پاک ہو۔ نیز فریضہ رسالت سپرد ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ہر قسم کے لوگوں میں جانا تھا۔ جن میں گندے لوگ بھی تھے اور غلیظ بھی۔ جو گندگی اور غلاظتوں میں ڈوبے ہوئے تھے اور آپ کا حکم یہ تھا کہ ان گندگیوں اور غلاظتوں میں ملوث ہوئے بغیر دعوت اسلامی کا فریضہ آپ نے سر انجام دینا ہے۔ یہ نہایت ہی اہم اور گہرا اشارہ ہے ، ان تمام لوگوں کے لئے جو دعوت اسلامی کا کام لے کر اٹھتے ہیں ، اور جو وارثین انبیاء کے مقام پر ہوتے ہیں اور جنہوں نے ہر قسم کے لوگوں کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔ ہر قسم کے حالات میں کام کرنا ہوتا ہے ، ہر قسم کے معاشروں اور سوسائٹیوں میں کام کرنا ہوتا ہے۔
المدثر 74:5
(3) آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ شرک ترک کردیں اور تمام وہ افعال ترک کردیں جو آخرت میں عذاب کا موجب ہوں گے۔
والرجز فاھجر (74:5) ” اور گندگی سے دور ہوجاﺅ“۔ حضور اکرم ﷺ تو پہلے سے ہر قسم کے شرک اور ان باتوں سے اجتناب کررہے تھے جو آخرت میں عذال کے موجب تھے اور منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے ہی آپ اس ہدایت پر عمل پیرا تھے ، کیونکہ آپ نے اللہ کے حکم سے پہلے اپنی فطرت سلیمہ کے تقاضے کے مطابق ان برائیوں کو ترک کردیا تھا۔ تمام نظریاتی ، اخلاقی ، رواجی اور عملی جاہلیت سے آپ پہلے سے مجتنب تھے۔ کسی روایت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ آپ نے کسی جاہلی رسم اور شرکیہ عمل میں شرکت کی ہو۔ پس یہ ہدایت دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ آپ ان سے دور رہیں اور یہ چیزیں اسلام سے لگا نہیں کھاتیں۔ کوئی اسلامی روش ان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔ اس لئے آپ کو بطور تاکید ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ان چیزوں سے دور رہیں۔ ” رجز “ کے معنی عذاب کے ہوتے ہیں ، اس کے بعد اس کا اطلاق ان باتوں پر بھی ہوا جو عذاب کے اسباب تھے یعنی ان چیزوں کو چھویں بھی نہیں۔
المدثر 74:6
(4) یہ ہدایت بھی آپ کو دی جاتی ہے کہ نبوت کے کام سے اپنے ذاتی مفادات کو دور رکھیں اور آپ جو عظیم کام کررہے ہیں اس پر احسان نہ جتلائیں۔
ولا تمنن تستکثر (74:6) ” اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے “۔ حضور اکرم ﷺ نے دعوت کی زندگی میں بہت کچھ صرف کرنا تھا ، اپنی پوری مادی اور اخلاقی اور جسمانی قوت اس راہ میں صرف کرنی تھی اور قربانیاں دینی تھیں لیکن رب تعالیٰ کا مطالبہ آپ سے یہ تھا کہ اس عظیم جدوجہد کو عظیم نہ سمجھیں اور کسی پر احسان نہ جتلائیں۔ دعوت اسلامی کی راہ میں اگر کسی کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے کہ میں نے بہت کچھ کیا ہے تو وہ ہرگز داعی نہیں رہ سکتا۔ اس راہ میں جدوجہد اس وقت عظمت کا رنگ لیتی ہے ، جس اسے بھلا دیا جائے ، بلکہ نفس انسانی کے اندر یہ شعور اچھی طرح بیٹھ جائے کہ اس راہ میں جو کچھ صرف ہورہا ہے وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے ہمیں اس مقصد کے لئے چنا ، توفیق دی اور وسائل دیئے اور ہم اس کے اہل ہوئے۔ بس یہ اللہ کا کرم ، اس کا چناﺅ اور اس کی تکریم ہے اور عزت افزائی ہے جو اس نے ہمیں اس کام کے لئے توفیق دی۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اللہ کے اس دین پر اس کا شکر ادا کریں نہ یہ کہ ، کسی پر احسان جتلائیں۔
المدثر 74:7
(5) آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ جو بھی پیش آئے ، آپ صبر کریں۔
ولربک فاصبر (74:7) ” اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو “۔ قرآن کریم میں دعوت اسلامی کے سلسلے میں اللہ بار بار صبر کی تلقین فرماتا ہے ، اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ میں صبر ہی اصل سازو سامان ہے۔ یہ ایک چومجھی لڑائی ہوتی ہے ، ایک طرف خوداپنی خواہشات اور میلانات کے خلاف جنگ کرنا ہوتی ہے ، دوسری جانب دعوت اسلامی کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنا ہوتی ہے۔ یہ دشمن شیطانوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور مفادات و خواہشات کے لئے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ پھر طویل جدوجہد اور قلت وسائل اور اجر سب کا سب اخروی ہوتا ہے۔ اس دنیا کا کوئی مفاد اس جہد سے وابستہ نہیں ہوتا۔ ان حالات کے ساتھ بھی لڑنا پڑتا ہے۔ خالص رضائے الٰہی کے لئے۔
جب نبی کریم ﷺ کہ یہ اہم ہدایات دے دی گئیں تو اب بتایا جاتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جس سے آپ نے لوگوں کو ڈرانا ہے۔ ایک چٹکی میں اس بات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ وہ خوفناک دن ان کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے جس سے آپ نے لوگوں کو ڈرانا ہے۔
المدثر 74:8
فاذا ........................ الناقور (74:8) ” کے معنی بھی بگل میں پھونکنے کے ہیں لیکن نقر کے معنی میں آواز کی سختی بھی ہے اور آواز کی اس سختی سے اشارہ مقصود ہے ، اس دن کی سختی کی طرف۔ گویا ناقور میں آواز ٹھونکی جاتی ہے اور اس سے سخت آواز نکلتی ہے اور یہ آواز کانوں پر فائر کی طرح لگتی ہے۔ اس لئے یہ دن کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا اور اس میں ان کے لئے کوئی سہولت نہ ہوگی۔
المدثر 74:9
فاذا ........................ الناقور (74:8) ” کے معنی بھی بگل میں پھونکنے کے ہیں لیکن نقر کے معنی میں آواز کی سختی بھی ہے اور آواز کی اس سختی سے اشارہ مقصود ہے ، اس دن کی سختی کی طرف۔ گویا ناقور میں آواز ٹھونکی جاتی ہے اور اس سے سخت آواز نکلتی ہے اور یہ آواز کانوں پر فائر کی طرح لگتی ہے۔ اس لئے یہ دن کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا اور اس میں ان کے لئے کوئی سہولت نہ ہوگی۔
المدثر 74:10
علی ................ یسیر (74:10) ” کافروں کے لئے ہلکانہ ہوگا “۔ یہ دن سب کا سب سخت ہوگا۔ اس قدر سخت کہ اس میں کوئی نرمی نہ ہوگی ، لہٰذا یہ سمجھو کہ اس دن بےحد کرب ہوگا ، سخت تنگی ہوگی ، لہٰذا اس کے بارے میں محتاط ہوجاﺅ۔ اور صور سے بچنے سے پہلے تیاریاں کرلو۔ یوں ان کے سامنے اس دن کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔
اب روئے سخن ایک مخصوص مکذب اور جھٹلانے والے معاند کی طرف پھرجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص دعوت اسلامی کا ایک خاص معاند تھا اور دعوت کے خلاف تمام تدابیر یہ کرتا تھا۔ چناچہ اسے سخت دھمکی دی جاتی ہے اور اس کی ایسی تصویر کھینچی جاتی ہے کہ سننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کون ہے ؟ اس شخص کے پورے خدوخال اس قلمی تصور میں دے دیئے گئے ہیں اور یہ شخصیت صاف صاف الفاظ کے اندر متحرک نظر آتی ہے۔ ذرا ملاحظہ کریں :
المدثر 74:11
متعدد روایات میں یہ بات وارد ہے کہ ان آیات سے مراد ولید ابن مغیرہ مخزومی ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ، ابن عبدالاعلیٰ سے ، وہ محمد ابن ثورہ سے ، وہ معمر سے ، وہ عبادہ ابن منصور سے ، وہ عکرمہ سے ، کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا۔ اس کا دل نرم ہوگیا۔ یہ بات ابوجہل ابن ہشام کو پہنچی۔ یہ اس کے پاس آیا اور کہا ” تمہاری قوم چاہتی ہے کہ تمہارے مال جمع کرے “۔ اس نے کہا : کس لیے : اس نے کہا کہ یہ مال وہ تمہیں دینا چاہتے ہیں کیونکہ تم محمد کے پاس گئے اور تم پر اس کا اثر ہوگیا ہے۔ (ابوجہل نے اس کی عزت نفس کے احساس سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ ایک غیرت مند شخص ہے) ولید نے کہا قریش کو معلوم ہے کہ میں ان کا مالدار شخص ہوں۔ ابوجہل نے کہا ، لہٰذا تم اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہہ دو تاکہ لوگ سمجھیں کہ تم اس کے اقوال کو ناپسند کرتے ہو اور محمد کی باتوں کے منکر ہو۔ تو ولید نے کہا کہ میں ان کے بارے میں کیا کہوں ،” خدا کی قسم تم میں سے کوئی شخص محمد جیسا ادب اور شعر میں ماہر نہیں ہے۔ میں اشعار کی تمام اقسام سے واقف ہوں ، رجز ، قصیدہ اور اشعار تک جانتا ہوں۔ اس کا کلام ان میں سے کسی کے مماثل نہیں ہے بلکہ اس کے کلام میں ایک مٹھاس ہے ، اس کے سامنے جو آتا ہے ، پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اور اس سے جو بلند ہونا چاہے یہ اس سے بلند ہوتا ہے۔ تو ابوجہل نے کہا خدا کی قسم تمہاری قوم ہرگز اس وقت تک تم سے راضی نہ ہوگی جب تک تم اس کے بارے میں کچھ نہ عو۔ تو اس پر اس نے کہا ذرا مجھے سوچنے دو ، جب اس نے سوچا تو اس نے کہا ، یہ کلام ایک ایسا جادو ہے جو اگلے وقتوں سے چلاآرہا ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں :
ذرنی ........................ وحید (74:11).... علیھا تسعة عشر (74:30) تک۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ ولید کی ملاقات کے بعد قریش نے کہا کہ اگر ولید بےدین ہوگیا تو تمام قبیلہ قریش بےدین ہوجائے گا۔ تو ابوجہل نے کہا کہ ولید کو میں ٹھیک کردوں گا۔ اس کے بعد ابوجہل ولید کے پاس آیا۔ اور طویل غوروفکر کے بعد اس نے کہا۔” یہ پرانا جادو ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ ایک آدمی اور اس کے گھرانے کے درمیان جدائی کردیتا ہے۔ باپ کو بیٹے سے جدا کردیتا ہے اور مالک اور غلام کے درمیان جدائی پیدا کرتا ہے “۔
یہ ہے واقعہ جس طرح روایات میں آتا ہے۔ لیکن قرآن اس کو نہایت ہی زندہ وتابندہ الفاظ میں پیش کرتا ہے۔ انداز نہایت ہی موثر ہے۔ اس طرح آغاز ہوتا ہے
ذرنی .................... وحیدا (74:11) ” چھوڑ دو مجھے اور شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا “۔ یہ خطاب نبی ﷺ کو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جسے میں نے اکیلا پیدا کیا تھا اور اس وقت اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ تھی جن پر اہل دنیا فخر کرتے ہیں۔ مال و دولت اور اولاد اور دوسری اشیاء مثلاً معاشرے میں عزت واحترام ، یہ چیزیں میں نے اسے دیں اور اب یہ ان پر اترا کر تحریک اسلامی کے خلاف جنگ کرتا ہے ، سازشیں کرتا ہے ، اس کو میرے ذمہ چھوڑ دو ۔ میں اس سے نمٹ لوں گا۔ اس مقام پر جب انسان قدرے غور کرتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ اس بدبخت کے خلاف علیم وخبیر کی بےپناہ قدرت اور قوت نے کام شروع کردیا ہے۔ اللہ جبار وقہاری کی قوت ہے۔ یہ قوت اس حقیر وناتواں کو تو پیس کر رکھ دے گی اور اس کا کیا حال ہوگا۔
اس آیت نے اس شخص کے خدوخال ذرا نہایت ہی طوالت سے بیان کیے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی وہ تفصیلات بھی دی ہیں ، جو اللہ نے اس شخص کو دی تھیں۔ یہ تفصیلات اس کے اعراض اور اس کی سازشوں کے ذکر سے بھی پہلے دی گئی ہیں کہ میں نے اسے اکیلا پیدا کیا ، اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، یہاں تک کہ بدن پر کپڑے بھی نہ تھے۔ اس کے بعد اللہ نے اسے بہت وسیع دولت دی۔ اور اس کو ڈھیر سے بیٹے دیئے جو اس کے ارد گرد ہر وقت موجود رہتے تھے۔ اور ان کی وجہ سے وہ نہایت ہی معزز سمجھا جاتا تھا۔ اور اللہ نے اس کے لئے زندگی کا ہر سامان فراہم کیا اور ہر موڑ کو آسان کیا۔
المدثر 74:12
متعدد روایات میں یہ بات وارد ہے کہ ان آیات سے مراد ولید ابن مغیرہ مخزومی ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ، ابن عبدالاعلیٰ سے ، وہ محمد ابن ثورہ سے ، وہ معمر سے ، وہ عبادہ ابن منصور سے ، وہ عکرمہ سے ، کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا۔ اس کا دل نرم ہوگیا۔ یہ بات ابوجہل ابن ہشام کو پہنچی۔ یہ اس کے پاس آیا اور کہا ” تمہاری قوم چاہتی ہے کہ تمہارے مال جمع کرے “۔ اس نے کہا : کس لیے : اس نے کہا کہ یہ مال وہ تمہیں دینا چاہتے ہیں کیونکہ تم محمد کے پاس گئے اور تم پر اس کا اثر ہوگیا ہے۔ (ابوجہل نے اس کی عزت نفس کے احساس سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ ایک غیرت مند شخص ہے) ولید نے کہا قریش کو معلوم ہے کہ میں ان کا مالدار شخص ہوں۔ ابوجہل نے کہا ، لہٰذا تم اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہہ دو تاکہ لوگ سمجھیں کہ تم اس کے اقوال کو ناپسند کرتے ہو اور محمد کی باتوں کے منکر ہو۔ تو ولید نے کہا کہ میں ان کے بارے میں کیا کہوں ،” خدا کی قسم تم میں سے کوئی شخص محمد جیسا ادب اور شعر میں ماہر نہیں ہے۔ میں اشعار کی تمام اقسام سے واقف ہوں ، رجز ، قصیدہ اور اشعار تک جانتا ہوں۔ اس کا کلام ان میں سے کسی کے مماثل نہیں ہے بلکہ اس کے کلام میں ایک مٹھاس ہے ، اس کے سامنے جو آتا ہے ، پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اور اس سے جو بلند ہونا چاہے یہ اس سے بلند ہوتا ہے۔ تو ابوجہل نے کہا خدا کی قسم تمہاری قوم ہرگز اس وقت تک تم سے راضی نہ ہوگی جب تک تم اس کے بارے میں کچھ نہ عو۔ تو اس پر اس نے کہا ذرا مجھے سوچنے دو ، جب اس نے سوچا تو اس نے کہا ، یہ کلام ایک ایسا جادو ہے جو اگلے وقتوں سے چلاآرہا ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں :
ذرنی ........................ وحید (74:11).... علیھا تسعة عشر (74:30) تک۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ ولید کی ملاقات کے بعد قریش نے کہا کہ اگر ولید بےدین ہوگیا تو تمام قبیلہ قریش بےدین ہوجائے گا۔ تو ابوجہل نے کہا کہ ولید کو میں ٹھیک کردوں گا۔ اس کے بعد ابوجہل ولید کے پاس آیا۔ اور طویل غوروفکر کے بعد اس نے کہا۔” یہ پرانا جادو ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ ایک آدمی اور اس کے گھرانے کے درمیان جدائی کردیتا ہے۔ باپ کو بیٹے سے جدا کردیتا ہے اور مالک اور غلام کے درمیان جدائی پیدا کرتا ہے “۔
یہ ہے واقعہ جس طرح روایات میں آتا ہے۔ لیکن قرآن اس کو نہایت ہی زندہ وتابندہ الفاظ میں پیش کرتا ہے۔ انداز نہایت ہی موثر ہے۔ اس طرح آغاز ہوتا ہے
ذرنی .................... وحیدا (74:11) ” چھوڑ دو مجھے اور شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا “۔ یہ خطاب نبی ﷺ کو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جسے میں نے اکیلا پیدا کیا تھا اور اس وقت اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ تھی جن پر اہل دنیا فخر کرتے ہیں۔ مال و دولت اور اولاد اور دوسری اشیاء مثلاً معاشرے میں عزت واحترام ، یہ چیزیں میں نے اسے دیں اور اب یہ ان پر اترا کر تحریک اسلامی کے خلاف جنگ کرتا ہے ، سازشیں کرتا ہے ، اس کو میرے ذمہ چھوڑ دو ۔ میں اس سے نمٹ لوں گا۔ اس مقام پر جب انسان قدرے غور کرتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ اس بدبخت کے خلاف علیم وخبیر کی بےپناہ قدرت اور قوت نے کام شروع کردیا ہے۔ اللہ جبار وقہاری کی قوت ہے۔ یہ قوت اس حقیر وناتواں کو تو پیس کر رکھ دے گی اور اس کا کیا حال ہوگا۔
اس آیت نے اس شخص کے خدوخال ذرا نہایت ہی طوالت سے بیان کیے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی وہ تفصیلات بھی دی ہیں ، جو اللہ نے اس شخص کو دی تھیں۔ یہ تفصیلات اس کے اعراض اور اس کی سازشوں کے ذکر سے بھی پہلے دی گئی ہیں کہ میں نے اسے اکیلا پیدا کیا ، اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، یہاں تک کہ بدن پر کپڑے بھی نہ تھے۔ اس کے بعد اللہ نے اسے بہت وسیع دولت دی۔ اور اس کو ڈھیر سے بیٹے دیئے جو اس کے ارد گرد ہر وقت موجود رہتے تھے۔ اور ان کی وجہ سے وہ نہایت ہی معزز سمجھا جاتا تھا۔ اور اللہ نے اس کے لئے زندگی کا ہر سامان فراہم کیا اور ہر موڑ کو آسان کیا۔
المدثر 74:13
متعدد روایات میں یہ بات وارد ہے کہ ان آیات سے مراد ولید ابن مغیرہ مخزومی ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ، ابن عبدالاعلیٰ سے ، وہ محمد ابن ثورہ سے ، وہ معمر سے ، وہ عبادہ ابن منصور سے ، وہ عکرمہ سے ، کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا۔ اس کا دل نرم ہوگیا۔ یہ بات ابوجہل ابن ہشام کو پہنچی۔ یہ اس کے پاس آیا اور کہا ” تمہاری قوم چاہتی ہے کہ تمہارے مال جمع کرے “۔ اس نے کہا : کس لیے : اس نے کہا کہ یہ مال وہ تمہیں دینا چاہتے ہیں کیونکہ تم محمد کے پاس گئے اور تم پر اس کا اثر ہوگیا ہے۔ (ابوجہل نے اس کی عزت نفس کے احساس سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ ایک غیرت مند شخص ہے) ولید نے کہا قریش کو معلوم ہے کہ میں ان کا مالدار شخص ہوں۔ ابوجہل نے کہا ، لہٰذا تم اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہہ دو تاکہ لوگ سمجھیں کہ تم اس کے اقوال کو ناپسند کرتے ہو اور محمد کی باتوں کے منکر ہو۔ تو ولید نے کہا کہ میں ان کے بارے میں کیا کہوں ،” خدا کی قسم تم میں سے کوئی شخص محمد جیسا ادب اور شعر میں ماہر نہیں ہے۔ میں اشعار کی تمام اقسام سے واقف ہوں ، رجز ، قصیدہ اور اشعار تک جانتا ہوں۔ اس کا کلام ان میں سے کسی کے مماثل نہیں ہے بلکہ اس کے کلام میں ایک مٹھاس ہے ، اس کے سامنے جو آتا ہے ، پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اور اس سے جو بلند ہونا چاہے یہ اس سے بلند ہوتا ہے۔ تو ابوجہل نے کہا خدا کی قسم تمہاری قوم ہرگز اس وقت تک تم سے راضی نہ ہوگی جب تک تم اس کے بارے میں کچھ نہ عو۔ تو اس پر اس نے کہا ذرا مجھے سوچنے دو ، جب اس نے سوچا تو اس نے کہا ، یہ کلام ایک ایسا جادو ہے جو اگلے وقتوں سے چلاآرہا ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں :
ذرنی ........................ وحید (74:11).... علیھا تسعة عشر (74:30) تک۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ ولید کی ملاقات کے بعد قریش نے کہا کہ اگر ولید بےدین ہوگیا تو تمام قبیلہ قریش بےدین ہوجائے گا۔ تو ابوجہل نے کہا کہ ولید کو میں ٹھیک کردوں گا۔ اس کے بعد ابوجہل ولید کے پاس آیا۔ اور طویل غوروفکر کے بعد اس نے کہا۔” یہ پرانا جادو ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ ایک آدمی اور اس کے گھرانے کے درمیان جدائی کردیتا ہے۔ باپ کو بیٹے سے جدا کردیتا ہے اور مالک اور غلام کے درمیان جدائی پیدا کرتا ہے “۔
یہ ہے واقعہ جس طرح روایات میں آتا ہے۔ لیکن قرآن اس کو نہایت ہی زندہ وتابندہ الفاظ میں پیش کرتا ہے۔ انداز نہایت ہی موثر ہے۔ اس طرح آغاز ہوتا ہے
ذرنی .................... وحیدا (74:11) ” چھوڑ دو مجھے اور شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا “۔ یہ خطاب نبی ﷺ کو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جسے میں نے اکیلا پیدا کیا تھا اور اس وقت اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ تھی جن پر اہل دنیا فخر کرتے ہیں۔ مال و دولت اور اولاد اور دوسری اشیاء مثلاً معاشرے میں عزت واحترام ، یہ چیزیں میں نے اسے دیں اور اب یہ ان پر اترا کر تحریک اسلامی کے خلاف جنگ کرتا ہے ، سازشیں کرتا ہے ، اس کو میرے ذمہ چھوڑ دو ۔ میں اس سے نمٹ لوں گا۔ اس مقام پر جب انسان قدرے غور کرتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ اس بدبخت کے خلاف علیم وخبیر کی بےپناہ قدرت اور قوت نے کام شروع کردیا ہے۔ اللہ جبار وقہاری کی قوت ہے۔ یہ قوت اس حقیر وناتواں کو تو پیس کر رکھ دے گی اور اس کا کیا حال ہوگا۔
اس آیت نے اس شخص کے خدوخال ذرا نہایت ہی طوالت سے بیان کیے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی وہ تفصیلات بھی دی ہیں ، جو اللہ نے اس شخص کو دی تھیں۔ یہ تفصیلات اس کے اعراض اور اس کی سازشوں کے ذکر سے بھی پہلے دی گئی ہیں کہ میں نے اسے اکیلا پیدا کیا ، اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، یہاں تک کہ بدن پر کپڑے بھی نہ تھے۔ اس کے بعد اللہ نے اسے بہت وسیع دولت دی۔ اور اس کو ڈھیر سے بیٹے دیئے جو اس کے ارد گرد ہر وقت موجود رہتے تھے۔ اور ان کی وجہ سے وہ نہایت ہی معزز سمجھا جاتا تھا۔ اور اللہ نے اس کے لئے زندگی کا ہر سامان فراہم کیا اور ہر موڑ کو آسان کیا۔
المدثر 74:14
متعدد روایات میں یہ بات وارد ہے کہ ان آیات سے مراد ولید ابن مغیرہ مخزومی ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ، ابن عبدالاعلیٰ سے ، وہ محمد ابن ثورہ سے ، وہ معمر سے ، وہ عبادہ ابن منصور سے ، وہ عکرمہ سے ، کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا۔ اس کا دل نرم ہوگیا۔ یہ بات ابوجہل ابن ہشام کو پہنچی۔ یہ اس کے پاس آیا اور کہا ” تمہاری قوم چاہتی ہے کہ تمہارے مال جمع کرے “۔ اس نے کہا : کس لیے : اس نے کہا کہ یہ مال وہ تمہیں دینا چاہتے ہیں کیونکہ تم محمد کے پاس گئے اور تم پر اس کا اثر ہوگیا ہے۔ (ابوجہل نے اس کی عزت نفس کے احساس سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ ایک غیرت مند شخص ہے) ولید نے کہا قریش کو معلوم ہے کہ میں ان کا مالدار شخص ہوں۔ ابوجہل نے کہا ، لہٰذا تم اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہہ دو تاکہ لوگ سمجھیں کہ تم اس کے اقوال کو ناپسند کرتے ہو اور محمد کی باتوں کے منکر ہو۔ تو ولید نے کہا کہ میں ان کے بارے میں کیا کہوں ،” خدا کی قسم تم میں سے کوئی شخص محمد جیسا ادب اور شعر میں ماہر نہیں ہے۔ میں اشعار کی تمام اقسام سے واقف ہوں ، رجز ، قصیدہ اور اشعار تک جانتا ہوں۔ اس کا کلام ان میں سے کسی کے مماثل نہیں ہے بلکہ اس کے کلام میں ایک مٹھاس ہے ، اس کے سامنے جو آتا ہے ، پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اور اس سے جو بلند ہونا چاہے یہ اس سے بلند ہوتا ہے۔ تو ابوجہل نے کہا خدا کی قسم تمہاری قوم ہرگز اس وقت تک تم سے راضی نہ ہوگی جب تک تم اس کے بارے میں کچھ نہ عو۔ تو اس پر اس نے کہا ذرا مجھے سوچنے دو ، جب اس نے سوچا تو اس نے کہا ، یہ کلام ایک ایسا جادو ہے جو اگلے وقتوں سے چلاآرہا ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں :
ذرنی ........................ وحید (74:11).... علیھا تسعة عشر (74:30) تک۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ ولید کی ملاقات کے بعد قریش نے کہا کہ اگر ولید بےدین ہوگیا تو تمام قبیلہ قریش بےدین ہوجائے گا۔ تو ابوجہل نے کہا کہ ولید کو میں ٹھیک کردوں گا۔ اس کے بعد ابوجہل ولید کے پاس آیا۔ اور طویل غوروفکر کے بعد اس نے کہا۔” یہ پرانا جادو ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ ایک آدمی اور اس کے گھرانے کے درمیان جدائی کردیتا ہے۔ باپ کو بیٹے سے جدا کردیتا ہے اور مالک اور غلام کے درمیان جدائی پیدا کرتا ہے “۔
یہ ہے واقعہ جس طرح روایات میں آتا ہے۔ لیکن قرآن اس کو نہایت ہی زندہ وتابندہ الفاظ میں پیش کرتا ہے۔ انداز نہایت ہی موثر ہے۔ اس طرح آغاز ہوتا ہے
ذرنی .................... وحیدا (74:11) ” چھوڑ دو مجھے اور شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا “۔ یہ خطاب نبی ﷺ کو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جسے میں نے اکیلا پیدا کیا تھا اور اس وقت اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ تھی جن پر اہل دنیا فخر کرتے ہیں۔ مال و دولت اور اولاد اور دوسری اشیاء مثلاً معاشرے میں عزت واحترام ، یہ چیزیں میں نے اسے دیں اور اب یہ ان پر اترا کر تحریک اسلامی کے خلاف جنگ کرتا ہے ، سازشیں کرتا ہے ، اس کو میرے ذمہ چھوڑ دو ۔ میں اس سے نمٹ لوں گا۔ اس مقام پر جب انسان قدرے غور کرتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ اس بدبخت کے خلاف علیم وخبیر کی بےپناہ قدرت اور قوت نے کام شروع کردیا ہے۔ اللہ جبار وقہاری کی قوت ہے۔ یہ قوت اس حقیر وناتواں کو تو پیس کر رکھ دے گی اور اس کا کیا حال ہوگا۔
اس آیت نے اس شخص کے خدوخال ذرا نہایت ہی طوالت سے بیان کیے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی وہ تفصیلات بھی دی ہیں ، جو اللہ نے اس شخص کو دی تھیں۔ یہ تفصیلات اس کے اعراض اور اس کی سازشوں کے ذکر سے بھی پہلے دی گئی ہیں کہ میں نے اسے اکیلا پیدا کیا ، اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، یہاں تک کہ بدن پر کپڑے بھی نہ تھے۔ اس کے بعد اللہ نے اسے بہت وسیع دولت دی۔ اور اس کو ڈھیر سے بیٹے دیئے جو اس کے ارد گرد ہر وقت موجود رہتے تھے۔ اور ان کی وجہ سے وہ نہایت ہی معزز سمجھا جاتا تھا۔ اور اللہ نے اس کے لئے زندگی کا ہر سامان فراہم کیا اور ہر موڑ کو آسان کیا۔
المدثر 74:15
ثم یطمع ان ازید (74:15) ” پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں “۔ یعنی موجود دولت پر قانع نہیں ہے۔ مزید بھی چاہتا ہے لیکن نہ قناعت کرتا ہے ، اور نہ شکر بجا لاتا ہے۔ یا وہ یہ طمع کرتا ہے کہ اس پر بھی وحی نازل ہو اور اسے کتاب دی جائے جس طرح سورت کے آخر میں آتا ہے۔
بل یرید .................... منشرة (74:52) ” بلکہ ان میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں “۔ یہ شخص ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت محمد ﷺ سے حسد کرتا تھے کہ آپ کیوں نبی ہوگئے۔
المدثر 74:16
یہاں اس کی سرزنش کی جاتی ہے اور اس پر سخت عتاب آتا ہے۔
انہ کان ................ عنیدا (74:12) ” وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا تھا “۔ اس نے عناد کی وجہ سے حق کے دلائل کو رد کردیا اور ان اشارات کو قبول نہ کیا جو ایمان کی طرف جاتے تھے۔ یہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں آکھڑا ہوا۔ رسول اللہ سے جنگ شروع کردی ، لوگوں کو اسلام سے روکا اور اس کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا۔
اس کے بعد ، اس سخت ترین سرزنش کے بعد اب اسے دھمکی دی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے اب اس کو حاصل سہولیات مشکلات میں بدل جاتی ہیں۔ اور آسانیوں کی جگہ دشواریاں لیتی ہیں۔
المدثر 74:17
سارھقہ صعودا (74:17) ” عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواﺅں گا “۔ مشقت اور دشواری کی یہ بہترین تمثیل وتصویر ہے۔ چڑھائی چڑھنا نہایت مشقت کا عمل ہوتا ہے اور انسان کے لئے سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔ اور اگر یہ کام کسی سے زبردستی لیا جائے اور چڑھنے والے کی کوئی ذاتی دلچسپی نہ ہو تو یہ عمل پھر مزید دشوار ہوجاتا ہے۔ یہ تمثیل اور تصویر ایک حقیقی تعبیر بھی ہے۔ کیونکہ جو شخص ایمان کے سیدھے ، ہموار اور خوشگکوار راہ سے منحرف ہوجاتا ہے تو اسے انحراف کی راہ میں مشکلات پیش آتی۔ بیشمار ناہمواریاں اور مشکلات ایسے شخص کی زندگی قلق اور بےچینی میں گزرتی ہے۔ وہ ہمیشہ حیران وپریشان رہتا ہے ، گویا اسے زبردست آسمان پر اور سولی پر چڑھایا جارہا ہو ، اس کی زندگی میں نہ تروتازگی ہوتی ہے ، نہ راحت ، نہ خوشی ، اور نہ سکون اور نہ یہ امید کہ اس پر مشقت سفر کے نتیجے میں وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔
اب اس شخص کی ذہنی کیفیت اور اندرونی نفسیات کی وہ بھدی تصویر کھینچی جاتی ہے جس میں ہر شخص خود اپنے تاثرات اور احساسات کی تکذیب کرتا ہے۔ یہ اپنے اعصاب پر دباﺅ ڈالتا ہے ، ماتھے پر شکن آتی ہے اور منہ بناتا ہے۔ اور یہ تمام ذہنی اور فکری زور اس بات کے لئے لگاتا ہے کہ قرآن اور صاحب قرآن کے اندر کوئی عیب نکال لائے۔
المدثر 74:18
انہ فکر .................... البشر (74:18 تا 25) ” اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔ آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے “۔
انداز تعبیر ایسا ہے کہ ایک ایک لمحے ، ایک ایک سوچ اور ایک ایک حرکت کی تصویر کشی کی جارہی ہے۔ گویا ایک ماہر عکاس کی قلم ہے جو تصویر بناتی جاتی ہے ، الفاظ نہیں بلکہ رنگ بھرے جارہے ہیں۔ نہیں گویا ایک ریل چل رہی ہے اور ایک ایک منظر نظروں کے سامنے آرہا ہے۔ جو لمحہ بہ لمحہ بدل رہا ہے۔
ایک تصویر میں یوں نظرآتا ہے کہ ہر شخص سخت غور وفکر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس منظر میں اسے ایک بددعا بھی دی جاتی ہے۔
المدثر 74:19
فقتل (74:19) ” یہ مارا جائے “ پھر ایک شدید استہزاء ہے۔
کیف قدر (74:19) ” کیسی بات بنانے کی کوشش کی اس نے “۔ اس کے بعد دوبارہ بددعا دی جاتی۔
المدثر 74:20
ثم قتل ........ قدر (74:20) ” پھر خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی “۔
پھر اگلی تصویر میں وہ ، ادھر ادھر دیکھتا ہے ، منہ بناتا ہے ، پیشانی سیکڑتا ہے اور مضحکہ خیر صورت بناتا ہے۔ جس کے اندر نہایت درجہ مصنوعیت ہے۔
اس کی یہ تمام بناوٹ اور سوچ اسے کوئی معقول نتیجہ نہیں دیتی۔ پس وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ روز روشن کو رات کہے اور حق کو باطل کہے۔
المدثر 74:21
ثم قتل ........ قدر (74:20) ” پھر خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی “۔
پھر اگلی تصویر میں وہ ، ادھر ادھر دیکھتا ہے ، منہ بناتا ہے ، پیشانی سیکڑتا ہے اور مضحکہ خیر صورت بناتا ہے۔ جس کے اندر نہایت درجہ مصنوعیت ہے۔
اس کی یہ تمام بناوٹ اور سوچ اسے کوئی معقول نتیجہ نہیں دیتی۔ پس وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ روز روشن کو رات کہے اور حق کو باطل کہے۔
المدثر 74:22
ثم قتل ........ قدر (74:20) ” پھر خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی “۔
پھر اگلی تصویر میں وہ ، ادھر ادھر دیکھتا ہے ، منہ بناتا ہے ، پیشانی سیکڑتا ہے اور مضحکہ خیر صورت بناتا ہے۔ جس کے اندر نہایت درجہ مصنوعیت ہے۔
اس کی یہ تمام بناوٹ اور سوچ اسے کوئی معقول نتیجہ نہیں دیتی۔ پس وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ روز روشن کو رات کہے اور حق کو باطل کہے۔
المدثر 74:23
ثم قتل ........ قدر (74:20) ” پھر خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی “۔
پھر اگلی تصویر میں وہ ، ادھر ادھر دیکھتا ہے ، منہ بناتا ہے ، پیشانی سیکڑتا ہے اور مضحکہ خیر صورت بناتا ہے۔ جس کے اندر نہایت درجہ مصنوعیت ہے۔
اس کی یہ تمام بناوٹ اور سوچ اسے کوئی معقول نتیجہ نہیں دیتی۔ پس وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ روز روشن کو رات کہے اور حق کو باطل کہے۔
المدثر 74:24
ثم قتل ........ قدر (74:20) ” پھر خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی “۔
پھر اگلی تصویر میں وہ ، ادھر ادھر دیکھتا ہے ، منہ بناتا ہے ، پیشانی سیکڑتا ہے اور مضحکہ خیر صورت بناتا ہے۔ جس کے اندر نہایت درجہ مصنوعیت ہے۔
اس کی یہ تمام بناوٹ اور سوچ اسے کوئی معقول نتیجہ نہیں دیتی۔ پس وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ روز روشن کو رات کہے اور حق کو باطل کہے۔
المدثر 74:25
ان ھذا ........................ البشر (74:25) ” یہ کچھ نہیں مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے “۔
یہ زندہ لمحات ہیں جن کو قرآن مجید الفاظ کی شکل دیتا ہے۔ یہ اس قدر قومی اور واضح تخیل دیتے ہیں کہ تصویر سے زیادہ واضح ہے ، اور متحرک قلم سے زیادہ اثر انگیز اور سحر آفریں ہے۔ جس شخص کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اسے قیامت تک اضحوکہ اور قابل نفرت اور نہایت ہی بدنما تصویر دے دی جاتی ہے۔ جسے نسلوں تک لوگوں نے دیکھا پڑھا اور دیکھیں گے اور پڑھیں گے۔ اس تصویر کشی کے بعد اب اس شخص کو ایک خوفناک دھمکی دی جاتی ہے۔
المدثر 74:26
ساصلیہ سقر (74:26) ” اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟ “ یہ بہت ہی خوفناک چیز ہے۔ ہماری قوت مدرکہ سے وراء ہے۔ اور اس اجمال اور عدم علم کے بعد دوزخ کی بعض شدید خصوصیات بتائی جاتی ہیں۔
لا تبقی ولا تذر (74:27) ” نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے “۔ جھاڑو دے کر سب کچھ نکل جانے والی ہے اور سب کچھ مٹا دینے والی ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے سامنے کھڑے نہیں رہ سکتی۔ اور نہ اس سے کوئی چیزرہتی ہے۔ اور نہ اس سے کوئی چیز زیادہ ہوتی ہے ، وہ سب کچھ فنا کردیتی ہے۔
اب انسان کے ساتھ اس کا سلوک کیا ہے۔
المدثر 74:27
ساصلیہ سقر (74:26) ” اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟ “ یہ بہت ہی خوفناک چیز ہے۔ ہماری قوت مدرکہ سے وراء ہے۔ اور اس اجمال اور عدم علم کے بعد دوزخ کی بعض شدید خصوصیات بتائی جاتی ہیں۔
لا تبقی ولا تذر (74:27) ” نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے “۔ جھاڑو دے کر سب کچھ نکل جانے والی ہے اور سب کچھ مٹا دینے والی ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے سامنے کھڑے نہیں رہ سکتی۔ اور نہ اس سے کوئی چیزرہتی ہے۔ اور نہ اس سے کوئی چیز زیادہ ہوتی ہے ، وہ سب کچھ فنا کردیتی ہے۔
اب انسان کے ساتھ اس کا سلوک کیا ہے۔
المدثر 74:28
ساصلیہ سقر (74:26) ” اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟ “ یہ بہت ہی خوفناک چیز ہے۔ ہماری قوت مدرکہ سے وراء ہے۔ اور اس اجمال اور عدم علم کے بعد دوزخ کی بعض شدید خصوصیات بتائی جاتی ہیں۔
لا تبقی ولا تذر (74:27) ” نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے “۔ جھاڑو دے کر سب کچھ نکل جانے والی ہے اور سب کچھ مٹا دینے والی ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے سامنے کھڑے نہیں رہ سکتی۔ اور نہ اس سے کوئی چیزرہتی ہے۔ اور نہ اس سے کوئی چیز زیادہ ہوتی ہے ، وہ سب کچھ فنا کردیتی ہے۔
اب انسان کے ساتھ اس کا سلوک کیا ہے۔
المدثر 74:29
لواحہ للبشر (29:74) ” کھال جھلس دینے والی ہے “۔ جس طرح سورة معارج میں کہا گیا۔
تدعوا ................ وتولی (70:17) ” یہ ہر اس شخص کو بلاتی ہے جو پیٹھ پھیر کر جائے اور منہ موڑے “۔ وہ سب کو اپنی طرف بلانے والی ہے اور اس کا منظر بہت ہی خوفناک ہے .... پھر اس کے اوپر چوکیدار اور نگران کھڑے ہیں :
المدثر 74:30
علیھا ............ عشر (74:30) ” اس کے اوپر انیس کارکن مقرر ہیں “۔ یہ نگران ملائکہ ہیں۔ جو نہایت ہی شدید القوت ہیں یا ملائکہ کی صفت کی کوئی اور مخلوق ہے۔ یا ملائکہ کی ایک نوع ہے۔ بہرحال ، اللہ نے یہ بتایا کہ انیس ہیں۔ ہمارا اس پر ایمان ہے۔
جہاں تک اہل ایمان کا تعلق ہے وہ چونکہ ذات باری تعالیٰ پر پختہ یقین رکھتے تھے تو انہوں نے کلام الٰہی سنتے ہی یقین کرلیا۔ اور ایسا رویہ اختیار کیا جس طرح بندے کو رب تعالیٰ کے ساتھ اختیار کرنا چاہئے۔ اس لئے انہوں نے کوئی شک نہ کیا۔ رہے مشرک تو انہوں نے فرشتوں کی اس تعداد کو ایک فتنہ بنا دیا۔ کیونکہ ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ ان کے دلوں میں ذات باری تعالیٰ کا مناسب احترام نہ تھا۔ وہ اس عظیم معاملے میں سنجیدہ ہی نہ تھے۔ اس لئے یہ سنتے ہی وہ طنز ومذاب کرنے لگے اور انہوں نے اسے عجیب شے سمجھ کر مذاق شروع کردیا۔ بعض نے کہا کیا تم میں سے دس آدمی ان انیس میں سے ایک کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ بعض نے کہا صرف دو کا مقابلہ تم کرلو باقی کو میرے ذمہ چھوڑ دو ۔ میں ان کا بندوبست کرلوں گا۔ اس قسم کی اندھی ، تنگ نظر اور ہٹ دھرم روح کے ساتھ انہوں نے اس کتاب عظیم کو لیا۔
آنے والی آیات اس بارے میں نازل ہوئیں۔ ان میں اس بات کی تشریح کی گئی ہے کہ اللہ کے غیب کے خفیہ خزانوں میں سے ایک نکتے کا علم کیوں ظاہر کیا گیا۔ اور یہ کہ انیس کی تعداد کیوں مقرر کی گئی ہے اور اس معاملے کو اللہ کے علم غیب کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ جہنم اور اس کے فرشتوں اور کارکنوں کی تعداد کے ذکر سے کیا مطلوب اور مقصود ہے۔
المدثر 74:31
آیت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ یہ فرشتے انیس ہیں اور مشرکین اس تعداد میں شک کرتے ہیں۔
وما جعلنا ............................ ملئکة (74:31) ” ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں “۔ تو یہ کارکن ان فرشتوں میں سے ہیں جو نہایت ہی قدرت والے ہیں اور ان کی طبیعت اور مزاج کو اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ نہایت ہی قوی ہیں اور ان کے بارے اللہ نے فرمایا ہے۔
لا یعصون .................... یومرون ” وہ ان احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور ان کو جو کچھ حکم دیا جاتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں “۔ یعنی وہ اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور ان کے اندر اس بات کی طاقت ہے کہ اللہ جو حکم دے وہ اس کی تعمیل کریں ۔ اللہ نے ان کو ایسی قوت دے رکھی ہے کہ وہ ان کو جو حکم دے ، اس کی تعمیل وہ فوراً کردیں۔ اگر اللہ نے ان کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ آگ کے اندر اللہ کے احکام کی تعمیل کریں تو اللہ نے ان کو قدرت دی ہے کہ وہ ایسے حالات میں کام کرسکیں۔ جس طرح اللہ نے ان کو سکھایا۔ لہٰذا ان فرشتوں کے ساتھ یہ بیچارے کب پنجہ آزمائی کرسکتے ہیں ، ان لوگوں نے جو یہ کہا کہ ان فرشتوں کو وہ قابو کرلیں گے تو یہ محض جہالت کی وجہ سے کہا ، ان لوگوں کو دراصل اللہ کی قوتوں اور اللہ کی فوجوں کی طات کا کوئی پتہ ہی نہیں۔ اور یہ معلوم ہی نہیں کہ اپنے معاملات کو کس طرح چلاتا ہے۔
وما جعلنا ................ کفروا (74:31) ” اور ہم نے ان کی تعداد کو کافروں کے لئے فتنہ بنادیا ہے “۔ یہ کافر دراصل ان فرشتوں کی تعداد پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ مقامات کیا ہیں جہاں تسلیم کے بغیر بات نہیں بنتی اور وہ مقامات کیا ہیں جہاں جدل وجدال اور بحث ومباحثے کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہ معاملہ غسیلت کا ہے۔ اور اس میں تسلیم ورضا کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان غیبی شعبوں اور موضوعات پر انسان کے پاس نہ قلیل علم ہے اور نہ کثیر علم ہے۔ جب الہل نے اپنے نبی کے ذریعہ یہ اطلاع کردی اور نبی سچا ہے اور اللہ سچا ہے تو پھر بحث و مباحثہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ انسان کا مقام یہ ہے کہ بس نبی کی بات تسلیم کرے اور یہ اطمینان رکھے کہ جس قدر خبر اللہ نے بتا دی اسی قدر بتانے میں خیر ہے اور اس میں مباحثے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ انسان مناقشہ اس موضوع پر کرسکتا ہے جس کے بارے میں اس کے پاس کوئی سابقہ علم ہو اور جدید علم کے بارے میں وہ اعتراض کرتا ہو۔ تو فرشتوں کی تعداد کے بارے میں انسان کے پاس سرے سے کوئی سابقہ علم ہی نہیں ہے اور یہ کہ ” وہ “ انیس ہیں تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے کہ وہ کیا ہیں اور انیس کیوں ہیں ؟ تو اعتراض کرنے والے بیس پر بھی اعتراض کرسکتے ہیں۔ آخر آسمان سات کیوں بنائے ہیں ، اس پر بھی اعتراض ہوسکتا ہے اور انسان کو موجودہ شکل میں کیوں بنایا اور سوکھی مٹی سے کیوں بنایا اور جنوں کو آگ کے شعلہ سے کیوں بنایا ؟ اور انسان کیوں ماں کے پیٹ میں 9 ماہ رہتا ہے اور کچھوے کیوں ہزار ہا سال زندہ رہتے ہیں اور یہ کیوں ؟ اور یہ کیوں ؟ جواب صرف یہی ہے کہ یہ اللہ کی مرضی ہے اور یہی حقیقی جواب ہے ایسے معاملات کا۔
لیستیقن ............................ والمومنون (74:31) ” تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے ، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں “۔ اور یہ دونوں فریق دوزخ کے نگرانوں کی تعداد میں یقین کا مواد پائیں گے اور اہل ایمان کا تو ایمان زیادہ ہوگا۔ رہے اہل کتاب ، تو ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی علم ضرور ہوگا۔ اور جب وہ سنیں گے کہ قرآن کریم بھی اس بات کی تصدیق کررہا ہے تو وہ بات درست ہے کیونکہ قرآن کریم کتب سابقہ کی تصدیق کرنے والا ہے۔ رہے اہل ایمان ، تو ان کا ایمان تو ہر نئی آیت کے بعد زیادہ ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے دل کھلے ہیں اور عالم بالا سے ان کا بذریعہ رسول ہر وقت رابطہ رہتا ہے۔ اور جو حقائق بھی وارد ہوتے ان کے ایمان میں اضافے کا موجب بنتے ہیں۔ ان کے دلوں میں عنقریب یہ حکمت بیٹھ جائے گی کہ کیوں اللہ نے انیس فرشتے مقرر کیے ہیں ، کیونکہ اللہ کے نظام تخلیق وتدبیر میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے اور ان دونوں کے ذہن میں جب یہ حقیقت بیٹھ جائے گی تو یہ دونوں فریق شک نہ کریں گے کیونکہ یہ بات اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔
ولیقول ............ مثلا (74:31) ” اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے “۔ یوں اس ایک ہی حقیقت کا اثر مختلف دلوں میں مختلف ہوتا ہے ، جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ یقین کرتے ہیں اور جو مومن ہیں ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور جن لوگوں کے دل میں بیماری ہے اور جو ضعیف الایمان اور منافق ہیں وہ حسرت واستعجاب میں پوچھتے ہیں :
ماذارا ............ مثلا (74:31) ” اللہ کا اس بات سے مطلب کیا ہے ؟ “۔ کیونکہ اس تعداد کی حکمت وہ نہیں سمجھتے۔ اور نہ وہ اصولاً اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خالق کائنات کی تمام باتوں میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔ وہ خدا اور رسول اللہ ﷺ کی خبروں کی تصدیق پیش کرتے ہیں اور نہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے ہر کام میں خیر اور حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔
کذلک .................... من یساء (74:31) ” اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخش دیتا ہے “۔” اسی طرح “ یعنی حقائق کے بیان کے ذریعہ اور آیات قرآنیہ کے بیان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مختلف دلوں کو مختلف انداز میں متاثر کرتا ہے۔ ایک گروہ اللہ کی مشیت کے مطابق ان سے ہدایت لیتا ہے اور دوسرا گروہ اللہ کے نظام مشیت کے تحت گمراہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر امر کا آخری سبب اللہ کا ارادہ مطلقہ ہوتا ہے۔ ان انسانوں کو قدرت الٰہیہ نے دونوں طرز کی صلاحتیں دی ہیں۔ ان کے اندر ہدایت کی صلاحیت بھی ہے اور گمراہی کی صلاحیت بھی ہے۔ اور یہ صلاحیت اللہ کے نظام مشیت کے اندر ہے۔ پس جو گمراہ ہو ، وہ بھی مشیت کے اندر ہے اور جو ہدایت پائے وہ بھی اس دائرے کے اندر ہے ، کیونکہ ان کی تخلیق کے اندر دونوں قسم کی صلاحیتیں رکھ دی گئی ہیں۔ دونوں راستے ان کے لئے آسان کردیئے گئے ہیں ، جو کوئی جس راستہ کو اختیار کرتا ہے ، اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے اور یہ دائرہ اللہ کی گہری حکمت پر مبنی ہے۔
یہ تصور کہ اللہ کی مشیت مطلق اور بےقید ہے اور اس کائنات میں جو امر واقع ہوتا ہے وہ اس مشیت کے دائرہ کے اندر ہوتا ہے۔ یہ ایک وسیع تصور ہے اور یہ متکلمین کی ان محدود بحثوں سے وسیع تر ہے جو وہ انسان کی جبریت اور اختیار کے بارے میں کرتے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی بحث ہے جس کا کسی فیصلہ کن انجام تک پہنچنا ہی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جبرواختیار کی مباحث نہایت ہی تنگ زاویہ سے کی جاتی ہیں۔
یہ بحثیں انسان کی محدود سوچ ، محدود طرز استدلال کے انداز میں اور انسان کے محدود تصورات کے اندر کی جاتی ہیں جبکہ اللہ کے نظام مشیت کا تعلق اللہ کی غیر محدود الوہیت کے نظام سے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ہدایت اور ضلالت کا راستہ بتا دیا اور وہ منہاج بھی بتادیا جس پر چل کر ہم سعادت اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اور وہ طریقے بھی بتادیئے جن کے ذریعہ انسان گمراہ ہوتے ہیں اور برے انجام تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے ہمیں مکلف نہیں بنایا کہ اس سے زیادہ بھی ہم جان لیں ، نہ اللہ نے اس سے زیادہ ہمیں قدرت اور طاقت دی ہے۔ اللہ کا کہنا یہ ہے کہ میرا ارادہ بےقید ہے اور میں جو کچھ چاہتا ہوں وہی ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے فہم اور ادراک کے مطابق اللہ کی بےقید مشیت اور ارادہ مطلق کو سمجھنا چاہئے اور اس کے مطابق چلنا چاہئے۔ ہمیں اس منہاج پر چلنا چاہئے جس کے نتیجے میں ہدایت ملتی ہے اور اس منہاج سے بچنا چاہئے جس سے ہم گمراہ ہوتے ہیں اور ان سائل پر ہمیں فضول اور لاحاصل بحث نہیں کرنا چاہئے جن تک انسانی قوائے مدرکہ کی رسائی ممکن ہی نہیں ہے۔ اس اصول کے مطابق متکلمین مسئلہ قدرواختیار کے موضوعات پر جو مباحث کیے ہیں وہ لا حاصل ہیں۔
ہم اس حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے کہ اللہ کی مشیت ہمارے بارے میں کیا کرتی ہے۔ البتہ ہم اس حقیقت کو پاسکتے ہیں کہ انسان اللہ کے فضل وکرم کے مستحق کس طرح ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی قوتیں ان کاموں میں صرف کریں جن کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اور اللہ کے پوشیدہ اور مشتبہ امور کو اللہ پر چھوڑدیں۔ جب اللہ کی مشیت ظاہر ہوجاتی ہے تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ کی مشیت تھی اور ایسا ہوگیا۔ مشیت کے ظہور سے قبل ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ہر مشیت کے پیچھے ایک حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور یہ حکمت بھی اللہ جانتا ہے ، صرف اللہ وحدہ۔ یہ تو ہے ایک سچے مومن کا طریقہ کار۔
وما یعلم ................ الا ھو (47 : 13) ” اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا “۔ اس لئے اللہ کی افواج ، ان کی حقیقت ان کے وظائف اور ان کی قوت کا ہمیں علم نہیں ہے ، کیونکہ یہ اللہ کے غیبی امور میں سے ہیں۔ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ ان امور میں سے کسی چیز کا انکشاف کردے۔ اور اللہ جو بات کردے وہ فیصلہ کن اور اٹل ہوتی ہے۔ اللہ کے قول کے بعد کوئی مجادلہ نہیں کرسکتا ، کسی کو کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ کسی بات کے معلوم کرنے کی اجازت ہے۔ کیونکہ یہ کام کوئی کر ہی نہیں سکتا۔
وماھی ................ للبشر (74:31) ” اور اس دوزخ کا ذکر اس کے سوا کسی غرض کے لئے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو “۔ ھی کی ضمیر یا تو اللہ کے ” جنود “ کی طرف راجح ہے یا جہنم کی طرف۔ اور اس پر جو فرشتے ہیں ان کی طرف۔ اور یہ بھی اللہ کی افواج میں سے ہیں۔ اور ان کا ذکر لوگوں کو متنبہ کرنے اور ڈرانے کے لئے کیا گیا ہے۔ محض جدل وجدال کے لئے نہیں۔ اللہ کے کلام سے صرف اہل ایمان ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، رہے گمراہ دل ، تو وہ ان چیزوں کو محض جدل وجدال کا ذریعہ بناتے ہیں۔
اس غیبی حقیقت کی وضاحت اور ہدایت لینے اور گمراہ ہونے کے طریقے اور اسباب بتانے کے بعد اب حقیقت آخرت حقیقت جہنم اور رب تعالیٰ کی خفیہ قوتوں کو اس کائنات کے ظاہری مشاہد اور نشانیوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ان ظاہری نشانیوں کو تو انسان دیکھتے ہوئے بھی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ غیبی حقائق معلوم کرنے کے لئے تیر تکے چلاتے ہیں ، حالانکہ ان ظاہری امور اور نشانات سے اللہ کے ارادے اور قوتیں اچھی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور ان ظاہری نشانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے بڑا مقصد اور ایک طاقتور ارادہ ہے۔
المدثر 74:32
چاند کے مناظر ، رات کے مناظر جب وہ ختم ہوتی ہے اور صبح نمودار ہوتی ہے ، یہ زبردست مشاہد اور مناظر ہوتے ہی۔ یہ آنکھیں کھول دینے والے مناظر ہیں اور انسانی دل و دماغ پر ان کے بیشمار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور انسان ان پر اگر غور کرے تو اس پر کئی راز کھلتے ہیں اور انسانی دل و دماغ پر ان کے بیشمار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور اس ان ان پر اگر غور کرے تو اس پر کئی راز کھلتے ہیں۔ کئی گہرے تصورات انسان کے پردہ خیال پر آتے ہیں اور اسے پختہ شعور ملتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو ان مظاہر کی طرف متوجہ کرکے انسان کے دل میں ان تصورات کو بٹھاتا ہے۔ اور ان احساسات کو اچھی طرح جانتا ہے۔
جب چاند طلوع ہوتا ہے ، فضائے کائنات میں چلتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔ اگر انسان اس پر غور کرے تو وہ انسان کے کان میں اس کائنات کے کچھ نہ کچھ راز ضرور ڈال دیتا ہے اور بعض اوقات تو چاند کی روشنی میں کھڑے ہوکر غوروفکر کرنے سے انسان پر یہ اثر ہوتا ہے کہ گویا اس نے نور کا غسل کرلیا ہے۔
اور رات کے جانے کا منظر بھی عجیب ہوتا ہے ، صبح کی نموداری کے وقت اور سورج کے طلوع سے پہلے کے ان پر سکون لمحات میں ، اگر انسان چشم بینا سے دیکھے تو اس کو نظر آتا ہے کہ ایک شعوری ارادہ اور دست قدرت کا ایک صورت حال کو ہٹا کر دوسری حالت کو بڑھا دیا ہے۔ اس منظر میں جس طرح دنیا آہستہ آہستہ منور ہوتی ہے ، قلب بینا بھی منور ہوتا چلا جاتا ہے۔ غرض صرف چشم بینا کی ضرورت ہے اور احساس و شعور کی۔
اللہ تعالیٰ انسان قلب ونظر کا خالق ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ مناظر انسانی احساسات پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اور بعض اوقات تو یہ اثرات اس قدر گہرے ہوتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا کہ وہ از سر نو پیدا کردیا گیا ہے اور پہلی مرتبہ یہ دیکھ رہا ہے۔
اور ان موثرات ، اشراقات اور تاثرات کے استقبال کے پیچھے ، شمس وقمر اور لیل ونہار اور نموداری صبح میں ایک دوسری عظیم حقیقت بھی پوشیدہ ہے جس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کررہا ہے۔ انسانی قلب ونظر کو آمادہ کررہا ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے کہ ان مظاہر میں اللہ کی قدرت تخلیق ، اللہ کی حکمت تدبیر اور اس کائنات کے زبردست نظم ونسق کے نشانات ہیں اور یہ کہ یہ کائنات اس قدر دقیق اور پیچیدہ نظم کے ساتھ چل رہی ہے کہ اسے دیکھ کر انسانی عقل حیرت زدہ ہوجاتی ہے۔
ان عظیم کائناتی حقائق کے ساتھ قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ غفلت میں ڈوبے ہئے لوگوں کو جگاتا ہے کہ اللہ کی عظیم قدروں کو ذرا سمجھنے کی کوشش کرو ، اور ان کے اندر جو آثار ونشانات ہیں ان سے عبرت لو۔ یہ کہ جہنم اور اس کے اوپر متعین افواج الٰہیہ اور آخرت اور اس کی ہولناکیاں دراصل ان عظیم امور میں سے ہیں جو عجیب بھی ہیں اور خوفناک بھی ہیں اور یہ واقعات نہایت ہی پر خطر ہیں۔ انہیں سنجیدگی سے لو۔
المدثر 74:33
چاند کے مناظر ، رات کے مناظر جب وہ ختم ہوتی ہے اور صبح نمودار ہوتی ہے ، یہ زبردست مشاہد اور مناظر ہوتے ہی۔ یہ آنکھیں کھول دینے والے مناظر ہیں اور انسانی دل و دماغ پر ان کے بیشمار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور انسان ان پر اگر غور کرے تو اس پر کئی راز کھلتے ہیں اور انسانی دل و دماغ پر ان کے بیشمار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور اس ان ان پر اگر غور کرے تو اس پر کئی راز کھلتے ہیں۔ کئی گہرے تصورات انسان کے پردہ خیال پر آتے ہیں اور اسے پختہ شعور ملتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو ان مظاہر کی طرف متوجہ کرکے انسان کے دل میں ان تصورات کو بٹھاتا ہے۔ اور ان احساسات کو اچھی طرح جانتا ہے۔
جب چاند طلوع ہوتا ہے ، فضائے کائنات میں چلتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔ اگر انسان اس پر غور کرے تو وہ انسان کے کان میں اس کائنات کے کچھ نہ کچھ راز ضرور ڈال دیتا ہے اور بعض اوقات تو چاند کی روشنی میں کھڑے ہوکر غوروفکر کرنے سے انسان پر یہ اثر ہوتا ہے کہ گویا اس نے نور کا غسل کرلیا ہے۔
اور رات کے جانے کا منظر بھی عجیب ہوتا ہے ، صبح کی نموداری کے وقت اور سورج کے طلوع سے پہلے کے ان پر سکون لمحات میں ، اگر انسان چشم بینا سے دیکھے تو اس کو نظر آتا ہے کہ ایک شعوری ارادہ اور دست قدرت کا ایک صورت حال کو ہٹا کر دوسری حالت کو بڑھا دیا ہے۔ اس منظر میں جس طرح دنیا آہستہ آہستہ منور ہوتی ہے ، قلب بینا بھی منور ہوتا چلا جاتا ہے۔ غرض صرف چشم بینا کی ضرورت ہے اور احساس و شعور کی۔
اللہ تعالیٰ انسان قلب ونظر کا خالق ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ مناظر انسانی احساسات پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اور بعض اوقات تو یہ اثرات اس قدر گہرے ہوتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا کہ وہ از سر نو پیدا کردیا گیا ہے اور پہلی مرتبہ یہ دیکھ رہا ہے۔
اور ان موثرات ، اشراقات اور تاثرات کے استقبال کے پیچھے ، شمس وقمر اور لیل ونہار اور نموداری صبح میں ایک دوسری عظیم حقیقت بھی پوشیدہ ہے جس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کررہا ہے۔ انسانی قلب ونظر کو آمادہ کررہا ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے کہ ان مظاہر میں اللہ کی قدرت تخلیق ، اللہ کی حکمت تدبیر اور اس کائنات کے زبردست نظم ونسق کے نشانات ہیں اور یہ کہ یہ کائنات اس قدر دقیق اور پیچیدہ نظم کے ساتھ چل رہی ہے کہ اسے دیکھ کر انسانی عقل حیرت زدہ ہوجاتی ہے۔
ان عظیم کائناتی حقائق کے ساتھ قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ غفلت میں ڈوبے ہئے لوگوں کو جگاتا ہے کہ اللہ کی عظیم قدروں کو ذرا سمجھنے کی کوشش کرو ، اور ان کے اندر جو آثار ونشانات ہیں ان سے عبرت لو۔ یہ کہ جہنم اور اس کے اوپر متعین افواج الٰہیہ اور آخرت اور اس کی ہولناکیاں دراصل ان عظیم امور میں سے ہیں جو عجیب بھی ہیں اور خوفناک بھی ہیں اور یہ واقعات نہایت ہی پر خطر ہیں۔ انہیں سنجیدگی سے لو۔
المدثر 74:34
چاند کے مناظر ، رات کے مناظر جب وہ ختم ہوتی ہے اور صبح نمودار ہوتی ہے ، یہ زبردست مشاہد اور مناظر ہوتے ہی۔ یہ آنکھیں کھول دینے والے مناظر ہیں اور انسانی دل و دماغ پر ان کے بیشمار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور انسان ان پر اگر غور کرے تو اس پر کئی راز کھلتے ہیں اور انسانی دل و دماغ پر ان کے بیشمار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور اس ان ان پر اگر غور کرے تو اس پر کئی راز کھلتے ہیں۔ کئی گہرے تصورات انسان کے پردہ خیال پر آتے ہیں اور اسے پختہ شعور ملتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو ان مظاہر کی طرف متوجہ کرکے انسان کے دل میں ان تصورات کو بٹھاتا ہے۔ اور ان احساسات کو اچھی طرح جانتا ہے۔
جب چاند طلوع ہوتا ہے ، فضائے کائنات میں چلتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔ اگر انسان اس پر غور کرے تو وہ انسان کے کان میں اس کائنات کے کچھ نہ کچھ راز ضرور ڈال دیتا ہے اور بعض اوقات تو چاند کی روشنی میں کھڑے ہوکر غوروفکر کرنے سے انسان پر یہ اثر ہوتا ہے کہ گویا اس نے نور کا غسل کرلیا ہے۔
اور رات کے جانے کا منظر بھی عجیب ہوتا ہے ، صبح کی نموداری کے وقت اور سورج کے طلوع سے پہلے کے ان پر سکون لمحات میں ، اگر انسان چشم بینا سے دیکھے تو اس کو نظر آتا ہے کہ ایک شعوری ارادہ اور دست قدرت کا ایک صورت حال کو ہٹا کر دوسری حالت کو بڑھا دیا ہے۔ اس منظر میں جس طرح دنیا آہستہ آہستہ منور ہوتی ہے ، قلب بینا بھی منور ہوتا چلا جاتا ہے۔ غرض صرف چشم بینا کی ضرورت ہے اور احساس و شعور کی۔
اللہ تعالیٰ انسان قلب ونظر کا خالق ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ مناظر انسانی احساسات پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اور بعض اوقات تو یہ اثرات اس قدر گہرے ہوتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا کہ وہ از سر نو پیدا کردیا گیا ہے اور پہلی مرتبہ یہ دیکھ رہا ہے۔
اور ان موثرات ، اشراقات اور تاثرات کے استقبال کے پیچھے ، شمس وقمر اور لیل ونہار اور نموداری صبح میں ایک دوسری عظیم حقیقت بھی پوشیدہ ہے جس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کررہا ہے۔ انسانی قلب ونظر کو آمادہ کررہا ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے کہ ان مظاہر میں اللہ کی قدرت تخلیق ، اللہ کی حکمت تدبیر اور اس کائنات کے زبردست نظم ونسق کے نشانات ہیں اور یہ کہ یہ کائنات اس قدر دقیق اور پیچیدہ نظم کے ساتھ چل رہی ہے کہ اسے دیکھ کر انسانی عقل حیرت زدہ ہوجاتی ہے۔
ان عظیم کائناتی حقائق کے ساتھ قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ غفلت میں ڈوبے ہئے لوگوں کو جگاتا ہے کہ اللہ کی عظیم قدروں کو ذرا سمجھنے کی کوشش کرو ، اور ان کے اندر جو آثار ونشانات ہیں ان سے عبرت لو۔ یہ کہ جہنم اور اس کے اوپر متعین افواج الٰہیہ اور آخرت اور اس کی ہولناکیاں دراصل ان عظیم امور میں سے ہیں جو عجیب بھی ہیں اور خوفناک بھی ہیں اور یہ واقعات نہایت ہی پر خطر ہیں۔ انہیں سنجیدگی سے لو۔
المدثر 74:35
انھا ........ الکبر (35) نذیر للبشر (74:36) ” یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے ، انسانوں کے لئے ڈراوا “۔ یہ قسم اور اس کے مشمولات اور وہ بات جس پر اس انداز میں قسم اٹھائی جارہی ہے۔ یہ سب باتیں انسانی قلب ونظر کو جھنجھوڑنے والی ہیں اور انسان کو بڑی شدت سے جھٹکے دینے والی ہیں اور یہ بات اپنے مضمون اور صوتی ہم آہنگی کے اعتبار سے ، صور میں پھونکے جانے (القرفی الناقور) کے نیز سورت کے آغاز میں مدثر کے نام سے پکارنے اور نہایت ہی سخت حکم بلکہ کاشن۔
قم فانذر (74:2) کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ گویا حالات خطرناک ہیں ، فضا پر خوف طاری ہے اور ہنگامی حالت کا ہائے وہوبرپا ہے۔
اب ان شدید جھٹکوں اور تنبیہات اور نہایت ہی اگر انگیز نداﺅں کی روشنی میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہر نفس اپنے کیے کا حق دار اور ذمہ دار ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ جو راہ وہ اختیار کرتا ہے ، پوری پوری ذمہ داری کے ساتھ اختیار کرے۔ یہ کہ ہر نفس خود مختار ہے اور وہ اپنے لئے جو انجام چاہے اختیار کرلے۔ وہ اپنے اعمال اور کسب کا ذمہ دار ہے۔ ہر شخص اپنے حق کا حقدار ہوگا اور اپنے گناہوں کا بوجھ خود اٹھائے گا۔
المدثر 74:36
انھا ........ الکبر (35) نذیر للبشر (74:36) ” یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے ، انسانوں کے لئے ڈراوا “۔ یہ قسم اور اس کے مشمولات اور وہ بات جس پر اس انداز میں قسم اٹھائی جارہی ہے۔ یہ سب باتیں انسانی قلب ونظر کو جھنجھوڑنے والی ہیں اور انسان کو بڑی شدت سے جھٹکے دینے والی ہیں اور یہ بات اپنے مضمون اور صوتی ہم آہنگی کے اعتبار سے ، صور میں پھونکے جانے (القرفی الناقور) کے نیز سورت کے آغاز میں مدثر کے نام سے پکارنے اور نہایت ہی سخت حکم بلکہ کاشن۔
قم فانذر (74:2) کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ گویا حالات خطرناک ہیں ، فضا پر خوف طاری ہے اور ہنگامی حالت کا ہائے وہوبرپا ہے۔
اب ان شدید جھٹکوں اور تنبیہات اور نہایت ہی اگر انگیز نداﺅں کی روشنی میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہر نفس اپنے کیے کا حق دار اور ذمہ دار ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ جو راہ وہ اختیار کرتا ہے ، پوری پوری ذمہ داری کے ساتھ اختیار کرے۔ یہ کہ ہر نفس خود مختار ہے اور وہ اپنے لئے جو انجام چاہے اختیار کرلے۔ وہ اپنے اعمال اور کسب کا ذمہ دار ہے۔ ہر شخص اپنے حق کا حقدار ہوگا اور اپنے گناہوں کا بوجھ خود اٹھائے گا۔
المدثر 74:37
ہر شخص اپنے نفس کا ذمہ دار ہے ، جس حالت میں اسے چاہے ، رکھ دے ، جو بوجھ چاہے اٹھالے ، جو قدم چاہے اٹھائے۔ اچھائی کی طرف آگے بڑھے ، یا پیچھے رہ جائے۔ اپنے آپ کو عزت دے یا ذلیل کرے۔ ہر نفس اپنی کمائی کے ہاتھ رہن ہے اور اپنے اعمال کے ہاں قید ہے۔ اللہ نے ہر شخص کو راہ ہدایت بھی بتادی ہے اور راہ ضلالت بھی دکھا دی ہے اور اس کائنات کے ان مناظر کی روشنی میں اور جہنم کی منظر کشی کے بعد وہ ہر اس چیز کو فنا کردینے والی ہے ، جو اس کے دائرے کے اندر آجائے۔
اس منظر کے بعد کہ ہر نفس اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور جو کچھ اس نے کیا اس کا مرہون ہے۔ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اصحاب الیمین ان جکڑ بندیوں اور ان پابندیوں سے آزاد ہوں گے اور وہ حساب و کتاب کے بعد رہائی پالیں گے۔ اور اس کامیابی کے بعد اب وہ مجرمین سے پوچھیں گے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے وہ اس انجام سے دوچار ہوئے۔
المدثر 74:38
ہر شخص اپنے نفس کا ذمہ دار ہے ، جس حالت میں اسے چاہے ، رکھ دے ، جو بوجھ چاہے اٹھالے ، جو قدم چاہے اٹھائے۔ اچھائی کی طرف آگے بڑھے ، یا پیچھے رہ جائے۔ اپنے آپ کو عزت دے یا ذلیل کرے۔ ہر نفس اپنی کمائی کے ہاتھ رہن ہے اور اپنے اعمال کے ہاں قید ہے۔ اللہ نے ہر شخص کو راہ ہدایت بھی بتادی ہے اور راہ ضلالت بھی دکھا دی ہے اور اس کائنات کے ان مناظر کی روشنی میں اور جہنم کی منظر کشی کے بعد وہ ہر اس چیز کو فنا کردینے والی ہے ، جو اس کے دائرے کے اندر آجائے۔
اس منظر کے بعد کہ ہر نفس اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور جو کچھ اس نے کیا اس کا مرہون ہے۔ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اصحاب الیمین ان جکڑ بندیوں اور ان پابندیوں سے آزاد ہوں گے اور وہ حساب و کتاب کے بعد رہائی پالیں گے۔ اور اس کامیابی کے بعد اب وہ مجرمین سے پوچھیں گے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے وہ اس انجام سے دوچار ہوئے۔
المدثر 74:39
اصحاب الیمین کی رہائی اور قیدوبند سے ان کے چھوٹ جانے کا واقعہ کیونکر پیش آیا کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی نیکیوں کو دوگنا کردیا اور ایسے مشکل حالات میں ان کی رہائی اور کامیابی کا اعلان دلوں کو گرما دیتا ہے اور انسان اللہ کی رحمتوں کے یقین سے سرشار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس بات کا اثر مجرموں اور تکذیب کرنے والوں پر بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو سخت ترین حالات میں محصور پاتے ہیں۔ نہایت ہی اہانت آمیزی کے ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اور ایک طویل بیان ریکارڈ کراتے ہیں ، جبکہ وہ اہل ایمان جن کو وہ اس دنیا میں کچھ چیز ہی نہ سمجھتے تھے اور ان کو ذرہ برابر اہمیت بھی نہ دیتے تھے ، وہ اب عزت و تکریم کی بلندیوں پر ہیں۔ اور وہ ان سے اس انداز میں سوال کرتے ہیں جس طرح کوئی نہایت ہی شکست خوردہ شخص سے کرتا ہے۔ ذرا سوال دیکھیں :
المدثر 74:40
اصحاب الیمین کی رہائی اور قیدوبند سے ان کے چھوٹ جانے کا واقعہ کیونکر پیش آیا کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی نیکیوں کو دوگنا کردیا اور ایسے مشکل حالات میں ان کی رہائی اور کامیابی کا اعلان دلوں کو گرما دیتا ہے اور انسان اللہ کی رحمتوں کے یقین سے سرشار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس بات کا اثر مجرموں اور تکذیب کرنے والوں پر بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو سخت ترین حالات میں محصور پاتے ہیں۔ نہایت ہی اہانت آمیزی کے ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اور ایک طویل بیان ریکارڈ کراتے ہیں ، جبکہ وہ اہل ایمان جن کو وہ اس دنیا میں کچھ چیز ہی نہ سمجھتے تھے اور ان کو ذرہ برابر اہمیت بھی نہ دیتے تھے ، وہ اب عزت و تکریم کی بلندیوں پر ہیں۔ اور وہ ان سے اس انداز میں سوال کرتے ہیں جس طرح کوئی نہایت ہی شکست خوردہ شخص سے کرتا ہے۔ ذرا سوال دیکھیں :
المدثر 74:41
اصحاب الیمین کی رہائی اور قیدوبند سے ان کے چھوٹ جانے کا واقعہ کیونکر پیش آیا کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی نیکیوں کو دوگنا کردیا اور ایسے مشکل حالات میں ان کی رہائی اور کامیابی کا اعلان دلوں کو گرما دیتا ہے اور انسان اللہ کی رحمتوں کے یقین سے سرشار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس بات کا اثر مجرموں اور تکذیب کرنے والوں پر بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو سخت ترین حالات میں محصور پاتے ہیں۔ نہایت ہی اہانت آمیزی کے ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اور ایک طویل بیان ریکارڈ کراتے ہیں ، جبکہ وہ اہل ایمان جن کو وہ اس دنیا میں کچھ چیز ہی نہ سمجھتے تھے اور ان کو ذرہ برابر اہمیت بھی نہ دیتے تھے ، وہ اب عزت و تکریم کی بلندیوں پر ہیں۔ اور وہ ان سے اس انداز میں سوال کرتے ہیں جس طرح کوئی نہایت ہی شکست خوردہ شخص سے کرتا ہے۔ ذرا سوال دیکھیں :
المدثر 74:42
ماسلککم فی سقر (74:42) ” تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی ؟ “ اور اس صورت حال کا اہل ایمان کے دل پر گہرا اثر ہوتا ہے ، جو ان مجرمین کے ہاتھوں اس جہاں میں سخت اذیتیں جھیل رہے تھے۔ آج وہ عالم آخرت میں اپنے آپ کو نہایت ہی اعلیٰ مقام میں پاتے ہیں ، جبکہ ان کو دق کرنے والے اس توہین آمیز پوزیشن میں ہیں ، یہ منظر اس قدر دلکش اور پرتاثیر ہے کہ فریقین اپنے آپ کو قیامت کے دن حاضر وموجود پاتے ہیں۔ گویا اس دنیا کا صفحہ لپیٹ لیا گیا ہے اور ہم قیامت کے میدان میں حاضر وموجود ہیں۔
اور اب ذرا اس طویل اعتراف جرم کو پڑھیں جو ان مکذبین اور متکبرین نے اللہ اور مومنین کی موجودگی میں کیا اور نہایت ہی ذلت اور خواری کے ساتھ کیا۔
المدثر 74:43
قالو ................ المصلین (74:43) ” وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے “۔
اشارہ یہ ہے کہ ہم ایمان لاکر اس گروہ میں شامل نہ ہوئے جو نمازیوں کا گروہ تھا ، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نماز کی اہمیت کیا ہے ۔ یہ گویا ایمان اور فلاح کی دلیل ہے اور نماز کا انکار دراصل کفر ہے اور جو شخص نماز نہیں پڑھتا۔ وہ صفت ایمان سے محروم ہوجاتا ہے۔
المدثر 74:44
ولم ............ المسکین (74:44) ” اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے “۔ یہ دوسری صفت ہے۔ نماز اللہ کی بندگی کی صفات میں سے ہے جس کا تعلق ذات باری سے ہے جبکہ اطعام مساکین وہ عبادت ہے جس کا تعلق انسانوں کی ذوات سے ہے۔ قرآن کریم میں انسانوں کے رزق کے انتظام کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور اس پر بار بار زور دیا گیا ہے۔ عرب معاشرہ ، جہاں فخر ومباہات پر وہ سب کچھ لٹا دیتے تھے۔ وہاں غرباء اور مساکین بھوک سے مرتے تھے اور کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ قرآن اس مسئلہ کی طرف خالص انسانی بنیادوں پر متوجہ کرتا ہے اور صرف رضائے الٰہی کے لئے اطعام مساکین کو عبارت قرار دیتا ہے۔
المدثر 74:45
وکنا ................ الخائضین (74:45) ” اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے “۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقیدہ کے بارے میں کس قدر بےباک تھے اور وہ اسلامی عقیدے کو محض گپ شپ سمجھتے تھے۔ اور ایمان ان کے لئے طنز و مزاح کا موضوع تھا۔ حالانکہ ایمان اور عقیدہ ایک نہایت ہی سنجیدہ ، خطرناک اور خوفناک نتائج کا حامل معاملہ تھا۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جس میں ان کو چاہئے تھا کہ نہایت غوروخوض کے بعد کوئی فیصلہ کرتے۔ زندگی کے تمام معاملات سے قبل اس بارے میں فیصلہ ضروری تھا۔ اس کا تصور ، اس کا شعور ، اس کی قدروقیمت اور اس کی حقیقت کے تعین پر تمام حیات کا تعین موقوف ہے۔ لہٰذا اس موضوع پر سنجیدگی اور غوروفکر کے ساتھ فیصلہ نہ کرنا ایک احمقانہ قدم تھا اور ہم سے اس حماقت کا صدور ہوچکا ہے کہ ہم اس قدر اہم معاملے کو گپ شپ سمجھتے رہے۔
المدثر 74:46
وکنا ........................ الدین (74:46) ” اور روز جزاء کو جھوٹ قرار دیتے تھے “۔ یہ ہے اس مصیبت کی اصل بنیاد ، جو شخص قیام قیامت کا منکر ہوتا ہے اس کی زندگی کی تمام قدریں اور پیمانے خلل پذیر ہوجاتے ہیں اور اس کی تمام اقدار مضطرب ہوتی ہیں۔ اس کے احساسات میں زندگی کا دائرہ بہت ہی محدود اور تنگ ہوکر رہ جاتا ہے۔ اس کی پوری سوچ اس زمین کی مختصر عمر تک محدود ہوجاتی ہے اور وہ انہی نتائج کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ جو اس مختصر زندگی میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ ان نتائج پر کبھی مطمئن نہیں ہوتا اور آخرت کا کوئی حساب و کتاب اس کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے تمام معیارات اور تمام قیاسات فساد پذیر ہوتے ہیں۔ اس کے دنیاوی امور میں بھی فساد برپا ہوتا ہے اور اس کے تمام امور شریر منتج ہوتے ہیں۔
مجرم یہ کہتے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے احوال کچھ یوں تھے کہ ہم نماز نہ پڑھتے تھے ، مساکین کو کھانا نہ کھلاتے تھے اور محض گپ شپ اور غیر سنجیدہ گفتگو میں لگے رہتے تھے اور قیامت کی تکذیب کرتے تھے۔
المدثر 74:47
حتی اتنا الیقین (74:47) ” یہاں تک کہ ہمیں اس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا “۔ یعنی ہم موت سے دوچار ہوگئے جو تمام شکوک و شبہات کو ختم کردیتی ہے۔ اور معاملہ کا فیصلہ کردیتی ہے اور یہ فیصلہ اس قدر یقینی ہوتا ہے کہ کوئی اسے رد نہیں کرسکتا۔ اب نہ ندامت مفید ہوتی ہے اور نہ توبہ قبول ہوتی ہے۔ اور نہ عمل صالح کا وقت رہتا ہے۔ اور اب یقینی صورت حالات پیش آتی ہے۔
یہاں اس برے موقف پر ایک تبصرہ ہوتا ہے کہ اب تو تمام امیدیں کٹ گئی ہیں اور یہ لوگ اس انجام تک آپہنچے ہیں۔
المدثر 74:48
” اس وقت سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی “۔ اب تو فیصلہ ہوچکا اور بات سچ ہوگئی۔ سب کا فیصلہ ہوگیا ، اور یہ فیصلہ اور یہ انجام مجرمین کا حقیقی انجام تھا۔ اب ان مجرموں کو کسی کی کوئی سفارش فائدہ نہ دے گی اور اگر فرض کرلیا جائے کہ کوئی سفارش ہوگی تو بھی یہ سفارش کام نہ آئے گی۔
اس توہین آمیز اور مابوس کن صورت حالات کی تصویر دکھا کر اب پھر ان لوگوں کو ، متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ان کے لئے جو مواقع فراہم کردیئے گئے ہیں ، ان کو چاہئے کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھائی لیکن وہ اس ہدایت سے منہ موڑ رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے ہیں بلکہ وہ ہدایت اور خیر سے دور بھاگتے ہیں۔ اور ان وسائل سے دور بھاگتے ہیں جو زندگی ، ابدی زندگی کے حقیقی وسائل ہیں۔ چناچہ یہ لگ جس صورت حال میں ڈوبے ہوئے ہیں اس کی ایک مضحکہ خیز جھلک دکھائی جاتی ہے۔
المدثر 74:49
فمالھم ............................ قسورة
جنگلی گدھے بہت ہی ڈرپوک ہوتے ہیں ، جب یہ شیر کی دھاڑ کی آواز سنتے ہیں تو یہ جدھر منہ ہوتا ہے ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ عرب اس قسم کے مناظر سے واقف تھے۔ جب انسانوں کو ان خوفزدہ گدھوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تو یہ منظر نہایت ہی مضحکہ خیزہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکرہ اور نصیحت سے ان کی نفرت اور فرار نہیں انسانوں کی بجائے گدھے بنا دیتا ہے۔ سا لئے نہیں کہ انہیں کوئی خوف درپیش ہے بلکہ اس لئے کہ ایک یاددہانی کرانے والا ان کو اپنے رب کی طرف بلارہا ہے اور انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے کہ یہ لوگ اس خوفناک انجام سے دو چار ہونے سے بچ جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دست قدر کی محیر العقول عکاسی ہے جس نے اس تشبیہ کو یوں ریکارڈ کیا تاکہ قیامت تک لوگ اسے پڑھتے رہیں اور ان لوگوں کا رویہ قابل نفرت نظر آتا رہے اور لوگ ایسے روئیے سے بچتے رہیں اور جن لوگوں نے یہ رویہ اختیار کیا وہ شرمساری سے منہ چھپاتے پھریں۔
یہ تو تھی ان لوگوں کی بیرونی تصویر کہ ” وہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کے ڈر سے بھاگ پڑے ہیں “۔ لیکن ان کی داخلی نفسیاتی تصور کیا ہے اور ان کا شعوری خلجان کیا ہے۔
المدثر 74:50
فمالھم ............................ قسورة
جنگلی گدھے بہت ہی ڈرپوک ہوتے ہیں ، جب یہ شیر کی دھاڑ کی آواز سنتے ہیں تو یہ جدھر منہ ہوتا ہے ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ عرب اس قسم کے مناظر سے واقف تھے۔ جب انسانوں کو ان خوفزدہ گدھوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تو یہ منظر نہایت ہی مضحکہ خیزہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکرہ اور نصیحت سے ان کی نفرت اور فرار نہیں انسانوں کی بجائے گدھے بنا دیتا ہے۔ سا لئے نہیں کہ انہیں کوئی خوف درپیش ہے بلکہ اس لئے کہ ایک یاددہانی کرانے والا ان کو اپنے رب کی طرف بلارہا ہے اور انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے کہ یہ لوگ اس خوفناک انجام سے دو چار ہونے سے بچ جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دست قدر کی محیر العقول عکاسی ہے جس نے اس تشبیہ کو یوں ریکارڈ کیا تاکہ قیامت تک لوگ اسے پڑھتے رہیں اور ان لوگوں کا رویہ قابل نفرت نظر آتا رہے اور لوگ ایسے روئیے سے بچتے رہیں اور جن لوگوں نے یہ رویہ اختیار کیا وہ شرمساری سے منہ چھپاتے پھریں۔
یہ تو تھی ان لوگوں کی بیرونی تصویر کہ ” وہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کے ڈر سے بھاگ پڑے ہیں “۔ لیکن ان کی داخلی نفسیاتی تصور کیا ہے اور ان کا شعوری خلجان کیا ہے۔
المدثر 74:51
فمالھم ............................ قسورة
جنگلی گدھے بہت ہی ڈرپوک ہوتے ہیں ، جب یہ شیر کی دھاڑ کی آواز سنتے ہیں تو یہ جدھر منہ ہوتا ہے ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ عرب اس قسم کے مناظر سے واقف تھے۔ جب انسانوں کو ان خوفزدہ گدھوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تو یہ منظر نہایت ہی مضحکہ خیزہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکرہ اور نصیحت سے ان کی نفرت اور فرار نہیں انسانوں کی بجائے گدھے بنا دیتا ہے۔ سا لئے نہیں کہ انہیں کوئی خوف درپیش ہے بلکہ اس لئے کہ ایک یاددہانی کرانے والا ان کو اپنے رب کی طرف بلارہا ہے اور انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے کہ یہ لوگ اس خوفناک انجام سے دو چار ہونے سے بچ جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دست قدر کی محیر العقول عکاسی ہے جس نے اس تشبیہ کو یوں ریکارڈ کیا تاکہ قیامت تک لوگ اسے پڑھتے رہیں اور ان لوگوں کا رویہ قابل نفرت نظر آتا رہے اور لوگ ایسے روئیے سے بچتے رہیں اور جن لوگوں نے یہ رویہ اختیار کیا وہ شرمساری سے منہ چھپاتے پھریں۔
یہ تو تھی ان لوگوں کی بیرونی تصویر کہ ” وہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کے ڈر سے بھاگ پڑے ہیں “۔ لیکن ان کی داخلی نفسیاتی تصور کیا ہے اور ان کا شعوری خلجان کیا ہے۔
المدثر 74:52
بل یرید .................... منشرة
یہ شعور وہ نبی ﷺ کے ساتھ حسد کی وجہ سے رکھتے تھے کہ حضور ﷺ کو یہ منصب کیوں عطا ہوا ؟ ہر کہ ومنہ یہ چاہتا تھا کہ یہ منصب اسے دیا جائے اور ہر شخص کے اوپر کھلے صحیفے اترتے نظر آئیں۔ یہ اشارہ ہے ان کبرائے قریش کی طرف جو اس بات پر جل بھن گئے تھے کہ محمد (ﷺ) ابن عبداللہ پر یہ کلام کیوں نازل ہوا۔
لو لا ................................ عظیم ” یہ قرآن دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟ “ لیکن اللہ نے فرمایا کہ وہ چاہتا ہے کہ منصب رسالت کا اہل کون ہے اور اس عظیم کام کے لئے اس نے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ یہی بات تھی جس کی وجہ سے یہ لوگ اسلامی نظریہ حیات سے نفرت کرتے تھے اور قبولیت پر آمادہ نہ تھے۔
ان لوگوں کے نفوس کی اندرونی تصویر کشی جاری ہے ، چناچہ اس طمع اور لالچ اور حسد سے بھر پور ایک دوسرا سبب بھی سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس بےجا حسد اور لالچ میں کیوں مبتلا ہوگئے ہیں تو اس سے بھی دور رس سبب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ اس وجہ سے اللہ کے اس فضل وکرم سے محروم ہوگئے ہیں۔
المدثر 74:53
کلا .................... الاخرة
ان کی یہ بےخوفی اور لاابالی پن ہی ہے جو انہیں اس نصیحت و حکمت سے دور کررہا ہے اور دعوت اسلامی سے یہ دور بھاگ رہے ہیں۔ اگر ان کے دلوں میں آخرت کا شعور ہوتا تو ان کی صورت حال یہ نہ ہوتی کہ یہ ہر معاملے میں شک میں گرفتار ہیں۔
اس کے بعد ایک بار پھر ان کو تنبیہ کی جاتی ہے۔ اب آخری بات کہہ دی جاتی ہے اور ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب جو چاہیں کریں اور جو انجام چاہیں ، قبول کریں۔
المدثر 74:54
کلا انہ ............................ ذکرہ
یہ قرآن جس کے سننے سے یہ لوگ منہ موڑ رہے ہیں اور اس طرح بھاگ رہے ہیں جس طرح جنگلی گدھے بھاگتے ہیں۔ جبکہ ان کے دل حسد اور لالچ سے بھرے ہیں۔ اور آخرت کے بارے میں یہ لوگ لاپرواہ ہیں۔ یہ تو ایک تذکرہ اور تنبیہ اور نصیحت ہے۔ جو چاہے یہ نصیحت حاصل کرے۔ جو نہ چاہے نہ کرے۔ نفع نقصان ہر کسی کا اپنا ہے۔ جو چاہے عزت اور جنت حاصل کرے اور جو چاہے ذلت اور جہنم حاصل کرے۔
یہ بات کہنے کے بعد کہ لوگ نیک وبد کے اختیار کرنے میں آزاد ومختار ہیں۔ یہ حقیقت بھی سامنے لائی جاتی ہے کہ ان کی یہ آزادی اور اختیار دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور انجام کار تمام امور اللہ کے دائرہ اختیار ہی میں ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن ہر موقعہ ومناسبت میں واضح کرتا ہے تاکہ انسان یہ نہ سمجھ لے کہ اللہ کی مشیت محدود ہے۔ مطلب یہ کہ انسانی اختیار بھی دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے اور تمام واقعات اللہ کے حکم ومشیت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
المدثر 74:55
کلا انہ ............................ ذکرہ
یہ قرآن جس کے سننے سے یہ لوگ منہ موڑ رہے ہیں اور اس طرح بھاگ رہے ہیں جس طرح جنگلی گدھے بھاگتے ہیں۔ جبکہ ان کے دل حسد اور لالچ سے بھرے ہیں۔ اور آخرت کے بارے میں یہ لوگ لاپرواہ ہیں۔ یہ تو ایک تذکرہ اور تنبیہ اور نصیحت ہے۔ جو چاہے یہ نصیحت حاصل کرے۔ جو نہ چاہے نہ کرے۔ نفع نقصان ہر کسی کا اپنا ہے۔ جو چاہے عزت اور جنت حاصل کرے اور جو چاہے ذلت اور جہنم حاصل کرے۔
یہ بات کہنے کے بعد کہ لوگ نیک وبد کے اختیار کرنے میں آزاد ومختار ہیں۔ یہ حقیقت بھی سامنے لائی جاتی ہے کہ ان کی یہ آزادی اور اختیار دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور انجام کار تمام امور اللہ کے دائرہ اختیار ہی میں ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن ہر موقعہ ومناسبت میں واضح کرتا ہے تاکہ انسان یہ نہ سمجھ لے کہ اللہ کی مشیت محدود ہے۔ مطلب یہ کہ انسانی اختیار بھی دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے اور تمام واقعات اللہ کے حکم ومشیت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
المدثر 74:56
ومایذکرون .................... المغفرة
اس کائنات میں جو چیز بھی واقع ہوتی ہے اللہ کے عظیم تر نظام مشیت میں بندھی ہوتی ہے۔ اللہ کے ارادے اور مشیت ہی کے رخ پر اور اس کے وسیع دائرے کے اندر واقعات چلتے ہیں۔ لہٰذا کسی انسان سے کوئی فعل اللہ کی مشیت کے بغیر سر زد نہیں ہوسکتا۔ زمین کی تمام قدروں کی مشیت الٰہیہ اپنے دائرے کے اندر لیے ہوئے ہوتی ہے۔ کیونکہ تمام قدریں اللہ کی مشیت کی پیدا کردہ ہیں اور انسان اور نوامیس فطرت اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ اس کائنات میں جو واقعات چلتے ہیں وہ مشیت الٰہیہ کی ریل کے اندر ہی چلتے ہیں جس پر کوئی حد اور قید نہیں ہے۔ اس ریل کے اندر ہر انسان آزاد بھی ہے اور بند بھی۔
تذکر اور نصیحت آموزی تو اللہ کی توفیق کے مطابق ہوتی ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون اس کا مستحق ہے۔ دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ اللہ جس طرح چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔ اگر اللہ جان لے کہ یہ شخص اچھی نیت کا مالک ہے تو اللہ اسے اچھائی کی طرف پھیر دیتا ہے۔
لیکن انسان کو کوئی پتہ نہیں ہے کہ اللہ کیا چاہتا ہے ؟ اللہ کی چاہت تو پردہ غیب میں ہے۔ البتہ اس کو یہ معلوم ہے کہ اللہ کی رضا کیا ہے ؟ کس میں ہے ؟ اور یہ بات اللہ نے قرآن میں بتادی ہے کہ اللہ کی رضا کس میں ہے ؟ جب انسان اللہ کی مرضی کے راستے کی طرف بڑھتا ہے تو اللہ اسے مزید آگے بڑھنے کی توفیق دیتا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ ایک مومن کے احساس کے اندر جس چیز کو اچھی طرح بٹھانا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور یہ کہ اللہ کی مشیت اسے گھیرے ہوئے ہے ، تاکہ ایک مخلص بندے کی تمام تر توجہ اللہ کی ذات پر مرکوز رہے۔ اور ایک مسلم پوری طرح اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کیے رکھے۔ یہ ہے وہ بنیادی حقیقت جسے ذہن نشین کئے بغیر اسلام کسی انسانکے دل میں جاگزیں نہیں ہوسکتا۔ اور جب یہ کیفیت ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے اور انسانی قلب ونظر اس میں سرشار ہوجائیں اور انسان زندگی کے تمام واقعات اور حادثات کی تعبیر اس تصور کے مطابق کرنے لگے تو وہ صحیح طرح مسلم ہوتا ہے۔ یہی مقصد ہے اللہ کی مشیت کے بےقید ہونے کا اور اللہ کی مشیت کا یہ اطلاق قرآن میں ہر فیصلے کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ چاہے جنت اور دوزخ کا فیصلہ ہو ، چاہے کسی شخص کی ہدایت وضلالت کا فیصلہ ہو۔
رہا وہ تاریخی اور کلامی مجادلہ و مباحثہ جو انسان کے جبرواختیار کے بارے میں چلا ، تو وہ پوری حقیقت کو ظاہر نہیں کرتا ، وہ دراضل کلی حقیقت کے ایک جزء کو لیتا ہے اور اس کیو جہ سے فکر انسانی کسی تشقی بخش قول تک کبھی نہیں پہنچ سکا۔ کیونکہ یہ مباحثہ ومجادلہ قرآن کے صحیح اور سادہ راہوں سے ہٹ کر نہایت ہی پیچیدہ راہوں پر جانکلا اور جس قدر یہ مباحثہ آگے بڑھا ، فکر انسانی کی تگ وتازی کی راہیں تنگ ہوتی رہیں۔
وما یذکرون ................ اللہ (74:56) ” اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے۔ الایہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے “۔ کیونکہ وہ اللہ کی مشیت کے نظام سے متصادم نہیں ہوسکتے۔ اور نہ وہ کسی حیثیت میں کوئی مخالفانہ حرکت کرتے ہیں۔ انسان کی حرکت اور انسان کا ارادہ بھی وسیع تر دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے۔
ھواھل التقوی (56:74) ” وہ اس کا حقدار ہے کہ اس سے تقویٰ کیا جائے “۔ اللہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے بندے اس سے ڈریں ، اس لئے ان سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اللہ سے ڈریں۔
واھل المغفرة (74:56) ” اور وہ اس بات کا اہل ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو بخش دے “۔
اور یہ کرم وہ جن بندوں پر چاہتا ہے کرتا ہے اور اللہ کا کرم اس کے نظام مشیت کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ تقویٰ ہی انسان کو مغفرت کا اہل بناتا ہے۔ اور اللہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
ھواھل ........................ المغفرة (74:56) ” وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس سے تقویٰ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے تقویٰ کرنے والوں کو بخش دے “۔
٭٭٭٭٭
القيامة 75:1
قسم کی طرف اشارہ کرنا اور قسم نہ کھانا زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور یہی اثر آفرینی یہاں مقصود ہے۔ اور اس انداز سے یہ مقصد اچھی طرح حاصل ہوتا ہے اور یہ انداز قرآن کریم میں بار بار دہرایا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر حقیقت قیامت اور ملامت کرنے والے نفس کی حقیقت بیان کی جاتی ہے۔
قیامت کی حقیقت کے بارے میں اس سورت میں مکرر بات کی گئی ہے۔ لیکن نفس لوامہ کیا ہے ؟ اس کے بارے میں تفاسیر ماثورہ میں کئی اقوال مذکور ہیں۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : کہ تم جب بھی دیکھو ایک سچا آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو ملامت کرے گا کہ میری بات کا کیا مطلب تھا ؟ میرے کھانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور میری بات کا فائدہ کیا ہے ؟ رہا فاجر تو اپنی راہ پر آگے ہی بڑھتا ہے اور اپنے آپ کو کسی مرحلے پر بھی ملامت نہیں کرتا۔ اور حضرت حسن سے روایت ہے کہ زمین و آسمان کے باشندوں میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا ، جو اپنے آپ کو قیامت کے دن ملامت نہ کرے گا۔ حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ تم خیر اور شر دونوں پر ایک دوسرے کو ملامت کرو گے کہ اے کاش کہ میں ایسا ایسا کرتا۔ اور یہی روایت سعید ابن جبیر سے ہے اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اس سے نفس لوم مراد ہے۔ اور ان ہی سے روایت ہے کہ وہ ملامت زدہ نفس جو کسی مذموم بات پر ملامت کیا جائے اور مجاہد سے روایت ہے کہ ہر نفس جو ان امور پر نادم ہو جو فوت ہوگئے ہوں اور اپنے آپ کو ملامت کرے۔ قتادہ کہتے ہیں لوامہ وہ نفس ہے ، جو فجور کا ارتکاب کرے۔ ابن جریر کہتے ہیں یہ سب اقوال قریب المعنی ہیں اور زیادہ قریب یہ مفہوم ہے کہ نفس لوامہ سے وہ نفس مراد ہے جو اپنے آپ کو خیر اور شر پر ملامت کرے اور جو خیر رہ جائے اس پر نادم ہو۔
ہمارے خیال میں حسن بصری کا قول زیادہ بہتر ہے کہ نفس لوامہ وہ ہے جو ملامت کرتا ہے کہ ” خدا کی قسم ایک مومن کو جب بھی تم دیکھو وہ اپنے آپ کو ملامت ہی کرتا ہے کہ میں نے جو بات کی اس کا کیا مقصد ہے ؟ میں نے جو کھایا اس کا کیا مقصد ہے ، اور میں نے جو کچھ سوچا اس کا کیا مقصد ہے۔ اور فاسق وفاجر بس آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ اپنی کسی بات پر اپنے آپ کو ملامت کرتا “۔
تو نفس لوامہ وہ ہے جو بیدار ہے ، خدا کا خوف رکھنے والا ہے ، ہر وقت محتاط اور اپنا حساب رکھنے والا ، جو اپنے ماحول پر نظر رکھتا ہو ، وہ اپنی خواہشات پر نظر رکھتا ہو اور ہر وقت اس بات سے محتاط ہو کہ کہیں دھوکہ نہ کھاجائے۔ یہ نفس اللہ کے فاجرہ کے بالمقابل ہوتا ہے۔ نفس فاجرہ وہ ہوتا ہے جو آگے بڑھتا رہتا ہے۔ فسق وفجور میں گم ہوتا ہے ، جس کی صفات یہ ہوتی ہیں کہ وہ جھوٹ بولتا ہے ، روگردانی کرتا ہے ، اور نہایت غرور سے اپنے اہالی وموالی کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنا محاسبہ نہیں کرتا۔
لا اقسم ............................ اللوامة (75:1 ۔ 2) ”” میں قسم نہیں کھاتا ہوں قیامت کے دن کی ، اور میں قسم نہیں کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی “۔ یعنی وقوع قیامت پر قسم نہیں اٹھاتا ، یہاں اللہ نے قسم اٹھانے کی بھی نفی کی اور اس بات کو بھی حذف کردیا کہ کس بات پر قسم نہیں اٹھائی جارہی لیکن جس بات کی قسم اٹھائی جارہی ہے اس کا ذکر ایک دوسرے انداز میں کردیا گیا۔ گویا یہ نئی بات ہے اور قسم کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔
القيامة 75:2
قسم کی طرف اشارہ کرنا اور قسم نہ کھانا زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور یہی اثر آفرینی یہاں مقصود ہے۔ اور اس انداز سے یہ مقصد اچھی طرح حاصل ہوتا ہے اور یہ انداز قرآن کریم میں بار بار دہرایا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر حقیقت قیامت اور ملامت کرنے والے نفس کی حقیقت بیان کی جاتی ہے۔
قیامت کی حقیقت کے بارے میں اس سورت میں مکرر بات کی گئی ہے۔ لیکن نفس لوامہ کیا ہے ؟ اس کے بارے میں تفاسیر ماثورہ میں کئی اقوال مذکور ہیں۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : کہ تم جب بھی دیکھو ایک سچا آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو ملامت کرے گا کہ میری بات کا کیا مطلب تھا ؟ میرے کھانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور میری بات کا فائدہ کیا ہے ؟ رہا فاجر تو اپنی راہ پر آگے ہی بڑھتا ہے اور اپنے آپ کو کسی مرحلے پر بھی ملامت نہیں کرتا۔ اور حضرت حسن سے روایت ہے کہ زمین و آسمان کے باشندوں میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا ، جو اپنے آپ کو قیامت کے دن ملامت نہ کرے گا۔ حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ تم خیر اور شر دونوں پر ایک دوسرے کو ملامت کرو گے کہ اے کاش کہ میں ایسا ایسا کرتا۔ اور یہی روایت سعید ابن جبیر سے ہے اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اس سے نفس لوم مراد ہے۔ اور ان ہی سے روایت ہے کہ وہ ملامت زدہ نفس جو کسی مذموم بات پر ملامت کیا جائے اور مجاہد سے روایت ہے کہ ہر نفس جو ان امور پر نادم ہو جو فوت ہوگئے ہوں اور اپنے آپ کو ملامت کرے۔ قتادہ کہتے ہیں لوامہ وہ نفس ہے ، جو فجور کا ارتکاب کرے۔ ابن جریر کہتے ہیں یہ سب اقوال قریب المعنی ہیں اور زیادہ قریب یہ مفہوم ہے کہ نفس لوامہ سے وہ نفس مراد ہے جو اپنے آپ کو خیر اور شر پر ملامت کرے اور جو خیر رہ جائے اس پر نادم ہو۔
ہمارے خیال میں حسن بصری کا قول زیادہ بہتر ہے کہ نفس لوامہ وہ ہے جو ملامت کرتا ہے کہ ” خدا کی قسم ایک مومن کو جب بھی تم دیکھو وہ اپنے آپ کو ملامت ہی کرتا ہے کہ میں نے جو بات کی اس کا کیا مقصد ہے ؟ میں نے جو کھایا اس کا کیا مقصد ہے ، اور میں نے جو کچھ سوچا اس کا کیا مقصد ہے۔ اور فاسق وفاجر بس آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ اپنی کسی بات پر اپنے آپ کو ملامت کرتا “۔
تو نفس لوامہ وہ ہے جو بیدار ہے ، خدا کا خوف رکھنے والا ہے ، ہر وقت محتاط اور اپنا حساب رکھنے والا ، جو اپنے ماحول پر نظر رکھتا ہو ، وہ اپنی خواہشات پر نظر رکھتا ہو اور ہر وقت اس بات سے محتاط ہو کہ کہیں دھوکہ نہ کھاجائے۔ یہ نفس اللہ کے فاجرہ کے بالمقابل ہوتا ہے۔ نفس فاجرہ وہ ہوتا ہے جو آگے بڑھتا رہتا ہے۔ فسق وفجور میں گم ہوتا ہے ، جس کی صفات یہ ہوتی ہیں کہ وہ جھوٹ بولتا ہے ، روگردانی کرتا ہے ، اور نہایت غرور سے اپنے اہالی وموالی کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنا محاسبہ نہیں کرتا۔
لا اقسم ............................ اللوامة (75:1 ۔ 2) ”” میں قسم نہیں کھاتا ہوں قیامت کے دن کی ، اور میں قسم نہیں کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی “۔ یعنی وقوع قیامت پر قسم نہیں اٹھاتا ، یہاں اللہ نے قسم اٹھانے کی بھی نفی کی اور اس بات کو بھی حذف کردیا کہ کس بات پر قسم نہیں اٹھائی جارہی لیکن جس بات کی قسم اٹھائی جارہی ہے اس کا ذکر ایک دوسرے انداز میں کردیا گیا۔ گویا یہ نئی بات ہے اور قسم کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔
القيامة 75:3
ایحسب ........................ بنانہ (57 : 3۔ 4) ” کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے ؟ کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ مشرکین مکہ اس شعوری خلجان میں مبتلا تھے کہ پرانی ہڈیوں کو کس طرح یکجا کرکے انسان بنادیا جائے گا جبکہ یہ ریزہ ریزہ ہوکر مٹی میں مل گئی ہوں اور زمین میں بکھر گئی ہوں ، کس طرح انسان کو بعینہ اسی طرح دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور یہ خلجان آج تک بعض دلوں میں موجود ہے۔ قرآن کریم اس کی تردید نہایت تاکید کے ساتھ کرتا ہے کہ ہاں ایسا ہی ہوگا اور لازماً ہوگا۔
القيامة 75:4
بلی قدرین .................... بنانہ (75:4) ” کیوں نہیں ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ بنان انگلیوں کے اگلے سرے کو کہتے ہیں۔ مفہوم کے اندر تاکید یوں پیدا کی جاتی ہے کہ ہڈیوں کو ہم تو پورے پورے تک بنادیں گے اور جب کوئی ایک ایک پورا بناسکتا ہے اس کے لئے ہڈیاں جمع کرنا کیا مشکل ہے۔ مقصد ہے کہ انسان کے ایک ایک جزء کو دوبارہ جمع کردیا جائے گا اور کوئی جز نہ رہ جائے گا۔ پورے کا پورا آموجود ہوگا ، خواہ چھوٹا حصہ ہو یا بڑا۔
یہاں تو یہ کہہ دیا ، لیکن سورت کے آخر میں دوبارہ تخلیق پر ایک دوسری دلیل بھی لائی گئی ہے۔ یہاں تو صرف ان کے خلجان اور اس کے ظاہری سبب کا اظہار کردیا گیا کہ یہ لوگ ہڈیوں کے جمع ہونے کی توقع نہیں رکھتے۔ انسان دراصل فسق وفجور کی خواہش رکھتا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ اس فسق وفجور میں آگے ہی جاتا رہے۔ اور کوئی چیز اسے روکنے والی نہ ہو اور نہ اس کو حساب و کتاب کا سامنا کرنا پڑے اور نہ جزاء وسزا کا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وقوع قیامت کو مستعبد سمجھتا ہے اور قیامت کے وقوع سے فرار کی راہ ڈھونڈتا ہے۔
القيامة 75:5
بل یرید ............................ القیمة (75:5 ۔ 6) ” مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے : ” آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟ “۔ یہاں سوال لفظ ” ایان “ سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ مشدود اور مترنم ہے۔ اور اس شد اور ترنم سے دراصل اشارہ ہے۔ اس طرف کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور یہ سوچ ان لوگوں کو اس لئے کہ یہ فسق وفجور میں آگے ہی بڑھتے رہیں اور بعث بعد الموت اور جواب دہی کا تصور انہیں نہ روک سکے۔ اور نہان کی زندگی کو مکدر کرسکے۔ درحقیقت تصور آخرت ہی وہ چیز ہے جو اس قسم کے احساس کو لگام دے سکتا ہے۔ اور محبان فسق وفجور کو روک سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس قسم کی رکاوٹوں اور فسق وفجور کی بندشوں کو بلا روک وٹوک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
قیامت کے قوع کے بارے میں ہٹ دھرمی اور اسے مستبعد سمجھنے کا جواب یہاں نہایت شتابی کے ساتھ ، فیصلہ کن انداز میں دیا گیا اور یوں دیا گیا کہ اس میں شک ہی نہ رہے۔ اس جواب میں انسانی حواس ، انسانی شعور اور کائناتی مشاہد پیش کیے گئے۔
القيامة 75:6
بل یرید ............................ القیمة (75:5 ۔ 6) ” مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے : ” آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟ “۔ یہاں سوال لفظ ” ایان “ سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ مشدود اور مترنم ہے۔ اور اس شد اور ترنم سے دراصل اشارہ ہے۔ اس طرف کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور یہ سوچ ان لوگوں کو اس لئے کہ یہ فسق وفجور میں آگے ہی بڑھتے رہیں اور بعث بعد الموت اور جواب دہی کا تصور انہیں نہ روک سکے۔ اور نہان کی زندگی کو مکدر کرسکے۔ درحقیقت تصور آخرت ہی وہ چیز ہے جو اس قسم کے احساس کو لگام دے سکتا ہے۔ اور محبان فسق وفجور کو روک سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس قسم کی رکاوٹوں اور فسق وفجور کی بندشوں کو بلا روک وٹوک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
قیامت کے قوع کے بارے میں ہٹ دھرمی اور اسے مستبعد سمجھنے کا جواب یہاں نہایت شتابی کے ساتھ ، فیصلہ کن انداز میں دیا گیا اور یوں دیا گیا کہ اس میں شک ہی نہ رہے۔ اس جواب میں انسانی حواس ، انسانی شعور اور کائناتی مشاہد پیش کیے گئے۔
القيامة 75:7
فاذا ............................................ المفر (75:7 تا 10) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے۔ اس وقت یہی انسان کہے گا ” کہاں بھاگ کر جاﺅں ؟ “۔ جب بجلی چمکتی ہے تو نظر چندھیاجاتی ہے اور جلدی لوٹ آتی ہے۔ اور جب سورج خسف کا شکار ہوتا ہے تو بےنور ہوجاتا ہے اور سورج اور چاند دور ہیں لیکن یہ باہم مل جائیں گے اور اس طرح تمام فلکی انتظام مختل ہوجائے گا اور ایک خوفناک اور انقلابی صورت حالات ہوگی اس وقت ہر انسان پاہم ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
القيامة 75:8
فاذا ............................................ المفر (75:7 تا 10) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے۔ اس وقت یہی انسان کہے گا ” کہاں بھاگ کر جاﺅں ؟ “۔ جب بجلی چمکتی ہے تو نظر چندھیاجاتی ہے اور جلدی لوٹ آتی ہے۔ اور جب سورج خسف کا شکار ہوتا ہے تو بےنور ہوجاتا ہے اور سورج اور چاند دور ہیں لیکن یہ باہم مل جائیں گے اور اس طرح تمام فلکی انتظام مختل ہوجائے گا اور ایک خوفناک اور انقلابی صورت حالات ہوگی اس وقت ہر انسان پاہم ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
القيامة 75:9
فاذا ............................................ المفر (75:7 تا 10) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے۔ اس وقت یہی انسان کہے گا ” کہاں بھاگ کر جاﺅں ؟ “۔ جب بجلی چمکتی ہے تو نظر چندھیاجاتی ہے اور جلدی لوٹ آتی ہے۔ اور جب سورج خسف کا شکار ہوتا ہے تو بےنور ہوجاتا ہے اور سورج اور چاند دور ہیں لیکن یہ باہم مل جائیں گے اور اس طرح تمام فلکی انتظام مختل ہوجائے گا اور ایک خوفناک اور انقلابی صورت حالات ہوگی اس وقت ہر انسان پاہم ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
القيامة 75:10
این المفر (75:10) ” بھاگنے کی جگہ کہاں ہے “۔ اور انسان اس جزع فزع میں پھر ہر طرف بھاگتا پھرے گا۔ جس طرح چوہا پنجرے میں بند ہوجاتا ہے اور ہر طرف بھاگتا رہتا ہے۔ اب نہ جائے فرار ہے ، نہ جائے پناہ ہے ، نہ آگے جاسکتے ہیں اور نہ پیچھے۔
القيامة 75:11
کلا لا .................... المسقر (75:12) ” ہرگز نہیں ، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ، اس روز تیرے رب ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا ہوگا “۔
اس دن یہ صورت حالات نہ ہوگی جو انسان چاہتا ہے کہ بلا حساب و کتاب وہ فسق وفجور کے راستے پر آگے بڑھے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو ، بلکہ اس دن تو پورا پورا محاسبہ ہوگا اور اس نے اپنے جو اعمال بھولے ہوں گے ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ اور جب وہ یاد کرے گا تو پھر جزاء وسزا ہوگی۔
القيامة 75:12
کلا لا .................... المسقر (75:12) ” ہرگز نہیں ، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ، اس روز تیرے رب ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا ہوگا “۔
اس دن یہ صورت حالات نہ ہوگی جو انسان چاہتا ہے کہ بلا حساب و کتاب وہ فسق وفجور کے راستے پر آگے بڑھے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو ، بلکہ اس دن تو پورا پورا محاسبہ ہوگا اور اس نے اپنے جو اعمال بھولے ہوں گے ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ اور جب وہ یاد کرے گا تو پھر جزاء وسزا ہوگی۔
القيامة 75:13
ینبؤ ................ واخر (75:13) ” اس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتادیا جائے گا “۔ یعنی وہ اعمال جو اس نے اپنی وفات سے پہلے کہے اور وہ آثار جو اس نے مرنے کے بعد چھوڑے۔ خواہ اچھے آثار ہوں یا برے آثار ہوں کیونکہ انسان کے بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جن کے آثار باقی رہتے ہیں اور وہ اس کے اعمال میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔
پھر وہاں انسان جو عذرات بھی پیش کرے گا ، اس کا کوئی عذر بھی قبول نہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ نفس انسانی کو اللہ نے خیروشر کی ہدایت کردی ہے۔ اگر نفس انسان کو خیر تک لے جائے تو اچھا انجام ہوگا اور اگر شر تک لے جائے تو اس کا محاسہ ہوگا۔
القيامة 75:14
بل الانسان ................ معاذیرہ (75:15) ” بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے “۔ یہاں یہ بات نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ اس سورة میں ہر چیز نہایت تیز رفتاری سے چل رہی ہے۔ فقرے ، قافئے ، موسیقی اور ترنم ، مناظر اور چمک دمک ، اسی طرح حساب و کتاب بھی سرعت سے ہوگا۔ مقدم اور موخر سب کچھ سامنے ہوگا اور یہ اس لئے کہ وہ ایان سے سوال کرکے قیامت کو بہت دور اور بہت ناممکن سمجھتے تھے۔
القيامة 75:15
بل الانسان ................ معاذیرہ (75:15) ” بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے “۔ یہاں یہ بات نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ اس سورة میں ہر چیز نہایت تیز رفتاری سے چل رہی ہے۔ فقرے ، قافئے ، موسیقی اور ترنم ، مناظر اور چمک دمک ، اسی طرح حساب و کتاب بھی سرعت سے ہوگا۔ مقدم اور موخر سب کچھ سامنے ہوگا اور یہ اس لئے کہ وہ ایان سے سوال کرکے قیامت کو بہت دور اور بہت ناممکن سمجھتے تھے۔
القيامة 75:16
اب چار آیات آتی ہیں جو قرآن مجید کے بارے میں آپ کو ہدایات دے دی ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہیں۔
لا تحرک ........................ بیانہ
ان آیات کے بارے میں ہم نے سورت کے مقدمہ میں جو کچھ کہہ دیا ہے اس پر اس قدر اضافہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کے حفظ و حفاظت کا کام اللہ نے مطلقاً اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اللہ اس بات کا ضامن ہے کہ قرآن زندہ رہے گا ، محفوظ رہے گا ، جمع وتدوین مکمل ہوگی اور اس کی تشریح بھی اللہ کرے گا۔ مکمل ذمہ داری اللہ پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ آپ اسے اٹھائیں اور لوگوں تک پہنچادیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ حضور اکرم ﷺ اخذ وحی کے لئے بیتاب ہوجاتے تھے اور آپ جلدی سے سب کے سب قرآن کا اخذ اور حفظ چاہتے تھے۔ اور اس بارے میں بےحد سنجیدہ تھے کہ اس کا کوئی کلمہ رہ نہ جائے۔ اس لئے آپ جلدی جلدی دہراتے تھے ، تو آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ آپ زبان سے دہرانے کی کوشش نہ کریں ، حفاظت اللہ کی ذمہ داری ہے۔
یہ بات قرآن کے اندر کئی جگہ ریکارڈ کی گئی ہے ، اس لئے کہ خدا تعالیٰ یہ بات مسلمانوں کے ذہن میں بٹھانا چاہتا تھا کہ قرآن کا حفظ اور جمع بہت اہم ہے۔ جس کی طرف ہم نے سورت کے مقدمہ میں اشارات کیے ہیں۔
اس جملہ معترضہ کے بعد اب سورت میں قیامت کے مناظر آتے ہیں کہ نفس لوامہ کا اس میں کیا حال ہوگا۔ ان مناظر میں یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ اس دنیا کے بارے میں تمہارے نفوس کے اندر کیا کیا امنگیں آتی ہیں ، کس طرح تم دنیا کے اندر مگن ہو اور آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔ اور آخرت کی پرواہ ہی نہیں کرتے ہو۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ وہاں تمہاری کیا گت بننے والی ہے۔ ایک نہایت ہی زندہ اور متحرک منظر میں اس حالت کو انسانوں کے سامنے رکھا جاتا ہے جو نہایت ہی موثر اور اشارتی ہے۔
القيامة 75:17
اب چار آیات آتی ہیں جو قرآن مجید کے بارے میں آپ کو ہدایات دے دی ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہیں۔
لا تحرک ........................ بیانہ
ان آیات کے بارے میں ہم نے سورت کے مقدمہ میں جو کچھ کہہ دیا ہے اس پر اس قدر اضافہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کے حفظ و حفاظت کا کام اللہ نے مطلقاً اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اللہ اس بات کا ضامن ہے کہ قرآن زندہ رہے گا ، محفوظ رہے گا ، جمع وتدوین مکمل ہوگی اور اس کی تشریح بھی اللہ کرے گا۔ مکمل ذمہ داری اللہ پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ آپ اسے اٹھائیں اور لوگوں تک پہنچادیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ حضور اکرم ﷺ اخذ وحی کے لئے بیتاب ہوجاتے تھے اور آپ جلدی سے سب کے سب قرآن کا اخذ اور حفظ چاہتے تھے۔ اور اس بارے میں بےحد سنجیدہ تھے کہ اس کا کوئی کلمہ رہ نہ جائے۔ اس لئے آپ جلدی جلدی دہراتے تھے ، تو آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ آپ زبان سے دہرانے کی کوشش نہ کریں ، حفاظت اللہ کی ذمہ داری ہے۔
یہ بات قرآن کے اندر کئی جگہ ریکارڈ کی گئی ہے ، اس لئے کہ خدا تعالیٰ یہ بات مسلمانوں کے ذہن میں بٹھانا چاہتا تھا کہ قرآن کا حفظ اور جمع بہت اہم ہے۔ جس کی طرف ہم نے سورت کے مقدمہ میں اشارات کیے ہیں۔
اس جملہ معترضہ کے بعد اب سورت میں قیامت کے مناظر آتے ہیں کہ نفس لوامہ کا اس میں کیا حال ہوگا۔ ان مناظر میں یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ اس دنیا کے بارے میں تمہارے نفوس کے اندر کیا کیا امنگیں آتی ہیں ، کس طرح تم دنیا کے اندر مگن ہو اور آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔ اور آخرت کی پرواہ ہی نہیں کرتے ہو۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ وہاں تمہاری کیا گت بننے والی ہے۔ ایک نہایت ہی زندہ اور متحرک منظر میں اس حالت کو انسانوں کے سامنے رکھا جاتا ہے جو نہایت ہی موثر اور اشارتی ہے۔
القيامة 75:18
اب چار آیات آتی ہیں جو قرآن مجید کے بارے میں آپ کو ہدایات دے دی ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہیں۔
لا تحرک ........................ بیانہ
ان آیات کے بارے میں ہم نے سورت کے مقدمہ میں جو کچھ کہہ دیا ہے اس پر اس قدر اضافہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کے حفظ و حفاظت کا کام اللہ نے مطلقاً اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اللہ اس بات کا ضامن ہے کہ قرآن زندہ رہے گا ، محفوظ رہے گا ، جمع وتدوین مکمل ہوگی اور اس کی تشریح بھی اللہ کرے گا۔ مکمل ذمہ داری اللہ پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ آپ اسے اٹھائیں اور لوگوں تک پہنچادیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ حضور اکرم ﷺ اخذ وحی کے لئے بیتاب ہوجاتے تھے اور آپ جلدی سے سب کے سب قرآن کا اخذ اور حفظ چاہتے تھے۔ اور اس بارے میں بےحد سنجیدہ تھے کہ اس کا کوئی کلمہ رہ نہ جائے۔ اس لئے آپ جلدی جلدی دہراتے تھے ، تو آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ آپ زبان سے دہرانے کی کوشش نہ کریں ، حفاظت اللہ کی ذمہ داری ہے۔
یہ بات قرآن کے اندر کئی جگہ ریکارڈ کی گئی ہے ، اس لئے کہ خدا تعالیٰ یہ بات مسلمانوں کے ذہن میں بٹھانا چاہتا تھا کہ قرآن کا حفظ اور جمع بہت اہم ہے۔ جس کی طرف ہم نے سورت کے مقدمہ میں اشارات کیے ہیں۔
اس جملہ معترضہ کے بعد اب سورت میں قیامت کے مناظر آتے ہیں کہ نفس لوامہ کا اس میں کیا حال ہوگا۔ ان مناظر میں یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ اس دنیا کے بارے میں تمہارے نفوس کے اندر کیا کیا امنگیں آتی ہیں ، کس طرح تم دنیا کے اندر مگن ہو اور آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔ اور آخرت کی پرواہ ہی نہیں کرتے ہو۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ وہاں تمہاری کیا گت بننے والی ہے۔ ایک نہایت ہی زندہ اور متحرک منظر میں اس حالت کو انسانوں کے سامنے رکھا جاتا ہے جو نہایت ہی موثر اور اشارتی ہے۔
القيامة 75:19
اب چار آیات آتی ہیں جو قرآن مجید کے بارے میں آپ کو ہدایات دے دی ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہیں۔
لا تحرک ........................ بیانہ
ان آیات کے بارے میں ہم نے سورت کے مقدمہ میں جو کچھ کہہ دیا ہے اس پر اس قدر اضافہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کے حفظ و حفاظت کا کام اللہ نے مطلقاً اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اللہ اس بات کا ضامن ہے کہ قرآن زندہ رہے گا ، محفوظ رہے گا ، جمع وتدوین مکمل ہوگی اور اس کی تشریح بھی اللہ کرے گا۔ مکمل ذمہ داری اللہ پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ آپ اسے اٹھائیں اور لوگوں تک پہنچادیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ حضور اکرم ﷺ اخذ وحی کے لئے بیتاب ہوجاتے تھے اور آپ جلدی سے سب کے سب قرآن کا اخذ اور حفظ چاہتے تھے۔ اور اس بارے میں بےحد سنجیدہ تھے کہ اس کا کوئی کلمہ رہ نہ جائے۔ اس لئے آپ جلدی جلدی دہراتے تھے ، تو آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ آپ زبان سے دہرانے کی کوشش نہ کریں ، حفاظت اللہ کی ذمہ داری ہے۔
یہ بات قرآن کے اندر کئی جگہ ریکارڈ کی گئی ہے ، اس لئے کہ خدا تعالیٰ یہ بات مسلمانوں کے ذہن میں بٹھانا چاہتا تھا کہ قرآن کا حفظ اور جمع بہت اہم ہے۔ جس کی طرف ہم نے سورت کے مقدمہ میں اشارات کیے ہیں۔
اس جملہ معترضہ کے بعد اب سورت میں قیامت کے مناظر آتے ہیں کہ نفس لوامہ کا اس میں کیا حال ہوگا۔ ان مناظر میں یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ اس دنیا کے بارے میں تمہارے نفوس کے اندر کیا کیا امنگیں آتی ہیں ، کس طرح تم دنیا کے اندر مگن ہو اور آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔ اور آخرت کی پرواہ ہی نہیں کرتے ہو۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ وہاں تمہاری کیا گت بننے والی ہے۔ ایک نہایت ہی زندہ اور متحرک منظر میں اس حالت کو انسانوں کے سامنے رکھا جاتا ہے جو نہایت ہی موثر اور اشارتی ہے۔
القيامة 75:20
انداز بیان میں جو پہلی بات نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے لئے عاجلہ کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس لفظ کے مفہوم میں ایک بات تو یہ ملحوظ ہے کہ یہ دنیا جلدی ختم ہونے والی چیز ہے ۔ اور اصل مقصود یہی بتانا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لفظ اس لئے بھی لایا ہے کہ اس سے قبل قرآن کے بارے میں جملہ معترضہ میں بھی یہ بات کہی گئی تھی۔
لا تجرک ................ بہ (75:16) د ’ وحی جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو “۔ اس دنیا اور اس کے ہر کام میں عجلت دراصل اس دنیا کی خصوصیت ہے۔ اور دنیا میں مفادات کے لئے شتابی اور قرآن کو جلد یاد کرنے کے عجلت دونوں اس دنیا کے رنگ ہیں۔ یہ قرآن کریم کا نہایت ہی لطیف اور گہرا اشارتی ہم آہنگی ہے اور یہ قرآنی انداز کلام ہے۔
القيامة 75:21
انداز بیان میں جو پہلی بات نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے لئے عاجلہ کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس لفظ کے مفہوم میں ایک بات تو یہ ملحوظ ہے کہ یہ دنیا جلدی ختم ہونے والی چیز ہے ۔ اور اصل مقصود یہی بتانا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لفظ اس لئے بھی لایا ہے کہ اس سے قبل قرآن کے بارے میں جملہ معترضہ میں بھی یہ بات کہی گئی تھی۔
لا تجرک ................ بہ (75:16) د ’ وحی جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو “۔ اس دنیا اور اس کے ہر کام میں عجلت دراصل اس دنیا کی خصوصیت ہے۔ اور دنیا میں مفادات کے لئے شتابی اور قرآن کو جلد یاد کرنے کے عجلت دونوں اس دنیا کے رنگ ہیں۔ یہ قرآن کریم کا نہایت ہی لطیف اور گہرا اشارتی ہم آہنگی ہے اور یہ قرآنی انداز کلام ہے۔
القيامة 75:22
اب قرآن کریم کا پیش کردہ مصور منظر جو قرآن کا منفرد اسلوب ہے۔
وجوہ ........................ ناضرة (22) الی ربھا ناظرة (75:23) ” اس روز کچھ چہرے تروہ تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “ یہ آیت ایک ایسی حالت کی طرف ایک جھلک کی شکل میں تیز اشارہ کررہی ہے کہ الفاظ کے اندر کسی انسان کے لئے ایسا اشارہ ممکن نہیں ہے۔ نہ انسان اس حالت کا حقیقی ادراک ہی کرسکتا ہے۔ کامیاب اور نیک بخت لوگوں کی حالت کی یہ ایسی تصویر ہے جس کی حالاتی تصویر کشی ممکن ہی نہیں ہے بلکہ اس حالت کے مقابلے میں جنت کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہی۔ حالانکہ وہ نعمتوں کے انواع و اقسام سے بھری ہوئی ہے۔ یہ حالت کہ یہ چہرے تروتازہ ہوں گے ، اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ رب کی طرف دیکھ رہے ہوں اور خوش اور مطمئن ہوں۔ یہ ہے بلند ترین مقام سعادت مندی !
اس جہاں میں انسان بعض اوقات اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے حسن و جمال سے بےحد لط اندوز ہوتا ہے۔ انسان مثلاً چاندنی رات میں گم ہوتا ہے۔ اگر چاندنی نہ ہو تو اندھیری رات کا بھی ایک لطف ہوتا ہے۔ پھر نمودسپیدہ صبح کیا خوبصورتی دکھاتا ہے۔ درختوں کے طویل اور گہرے سائے ، سمندر کی پے درپے موجیں ، صحراﺅں کی درویاں ، باغات کی سرسبزیاں ، خوبصورت پھل اور پھول فرحاں و شاداں دل ، پختہ ایمانی لمحات ، مشکلات کو انگیز کرنا اور دوسری خوبصورتیاں جن سے یہ جہاں پر ہے اور انسان ان سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے اور تصور اور نور کے پروں کے ساتھ اس جہاں میں دوڑتا اور اڑتا پھرتا ہے۔ اور اس قدر خوشی اور سرور پاتا ہے کہ زندگی کے درد اور دکھ بھول جاتا ہے اور مادی اور جسمانی خوشیوں کو بھول جاتا ہے۔ خواہشات نفس اور مادی شوق اور لذت ایک لمحے کے لئے ذہن سے دور ہوجاتے ہیں۔
لیکن اس کی خوشیوں کا عالم ہی کیا ہوگا جب وہ اللہ کے تخلیق کردہ کمال و جمال کے بھی آگے بڑھ کر ذات باری کے کمالات کو دیکھ رہا ہو اور اللہ کی طرف اس کی نظریں ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام تب حاصل ہوتا ہے جب اللہ کی خاص مدد شامل حال ہو ، پھر یہ تب حاصل ہوتا ہے کہ جب کسی کو اللہ کی جانب سے ثابت قدمی حاصل ہو۔ انسانوں کو اپنے اوپر کنٹرول حاصل ہو ، وہ استقامت کا مالک ہو اور اخروی سعادت مندی سے لطف اندوز ہورہا ہو ، وہ سعادت مندی جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ اور جس کی حقیقت کو پوری طرح سمجھنا ہی مشکل ہے۔
وجوہ ............ ناضرة (22) الی ربھا ناظرة (75:23) ” بعض چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ وہ تروتازہ کیوں نہ ہوں جبکہ وہ رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
انسان اس دنیا میں اللہ کی تخلیقات کا نظارہ کرتا ہے ، خوبصورت پھل ، عجیب و غریب پھول ، خوش رنگ اور خوبصورت پرندے اور ان کے بال ویر ، خوبصورت روحیں اور اچھے کام اور ان چیزوں کو دیکھ کر اس کارواں رواں خوش ہوتا ہے۔ اور اس کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی ہوتی ہے اور چہرہ ترو تازہ ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر انسان اللہ کے مال اور جمال اور نورذات کی طرف دیکھ رہا ہو تو اس کی خوشی اور خوش بختی کے کیا کہنے۔ انسان اس مقام تک تب ہی پہنچ سکتا ہے جب وہ ان تمام رکاوٹوں کو ایک جھٹکے کے ساتھ دور پھینک دے جو اس مقام بلند تک پہنچنے سے روک رہی ہوتی ہیں۔ یہ مقام تب ہی حاصل ہوسکتا ہے کہ انسان اپنی ذات اور اپنے ماحول سے تمام نقائص دور کردے۔ اور وہ اللہ کے سوا کسی چیز کی طرف دیکھ ہی نہ رہا ہو۔
انسان اللہ کی طرف کس طرح دیکھے گا ؟ کس عضو سے دیکھے گا ؟ کیا آلہ بینائی اسے حاصل ہوگا ؟ کیا ذریعہ ہوگا اللہ کے دیکھنے کا ؟ تو یہ وہ بات ہے جو ہمارے تصور سے ماوراء ہے۔ یہ ایک تصور ہے جو قلب مومن کو دیا جارہا ہے۔ ایک فیض ہے جس سے روح مومن فیض یاب ہوگی۔ یہ دنیا کی آلودگیوں سے پاک اور شفاف فیض سعادت ہے ، جو مومن کو حاصل ہوگا۔
رہے عقلیت پسند تو وہ اس سے خوشی اور سرور حاصل کرنے کے بجائے ایسی آیات مجادلہ شروع کردیتے ہیں۔ ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ، جس طرح وہ خوشی اور اطمینان سے محروم ہوتے ہیں۔ اسی طرح فہم وادراک سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ اس جہاں کی باتیں دنیا کی مالوف عقل سے نہیں ، ایمان کی قوت مدرکہ سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔
انسانی شخصیت کا ارتقاء اور اس کو محدود زمینی شخصیت سے علیحدہ اور بلند کرنا ہی اسے قیامت کے روز لامحدود شخصیت اور ذات برتر وبالا سے ملاسکتا ہے۔ اس کے بغیر انسان کے لئے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ لامحدود کے ساتھ کیسے مل سکتا ہے۔ لہٰذا معتزلہ اور اہل سنت کے درمیان رویت باری کے بارے میں جو طویل بحثیں چلیں وہ بالکل لا حاصل تھیں ، کیونکہ انسان کی اس زمینی شخصیت اور اخروی شخصیت کے درمیان فرق ہوگا۔
کلمات الٰہیہ کا ہم وہی مفہوم سمجھ سکتے ہیں جو ہماری محدودذات کے اندر سماتا ہے ، جب ہماری شخصیت ہی بدل جائے اور ان محدود تصورات سے بالا ہوجائے تو پھر ان کلمات کا مزاج اور مفہوم ہی بدل جائے گا۔ کلمات تو دراصل رمز ہوتے ہیں ان مفہومات کے لئے جو انسانی تصور میں ہوتے ہیں۔ جب انسانی تصورت کے حدود وقیود بدل جائیں تو کلمات کے کے مفہوم بھی بدل جائیں گے۔ جب انسانی شخصیت بدل گئی ، اس کی قوت مدرکہ کی طاقت بدل گئی تو اس کے ساتھ ساتھ کلمات اور تصورات دونوں بدل جائیں گے۔ اس دنیا میں ان کلمات کا ہم وہ مفہوم سمجھتے ہیں جو ہمارے حال ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ایسے مفاہیم میں نہیں الجھنا چاہئے جو ہم ان کلمات سے اخذ نہیں کرسکتے۔
بس ہمیں اس سعادت مندی اور اس مقدس خوشی اور سرور کی امید رکھنا چاہئے جس کا ہم اس دنیا کے مفاہیم کے اعتبار سے تصور کرسکتے ہیں۔ اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس قسم کے فیوض کے لئے اپنی نظریں عالم بالا کی طرف بلند رکھیں۔ اور اس سے بڑا سرور اور کوئی نہیں۔
القيامة 75:23
اب قرآن کریم کا پیش کردہ مصور منظر جو قرآن کا منفرد اسلوب ہے۔
وجوہ ........................ ناضرة (22) الی ربھا ناظرة (75:23) ” اس روز کچھ چہرے تروہ تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “ یہ آیت ایک ایسی حالت کی طرف ایک جھلک کی شکل میں تیز اشارہ کررہی ہے کہ الفاظ کے اندر کسی انسان کے لئے ایسا اشارہ ممکن نہیں ہے۔ نہ انسان اس حالت کا حقیقی ادراک ہی کرسکتا ہے۔ کامیاب اور نیک بخت لوگوں کی حالت کی یہ ایسی تصویر ہے جس کی حالاتی تصویر کشی ممکن ہی نہیں ہے بلکہ اس حالت کے مقابلے میں جنت کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہی۔ حالانکہ وہ نعمتوں کے انواع و اقسام سے بھری ہوئی ہے۔ یہ حالت کہ یہ چہرے تروتازہ ہوں گے ، اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ رب کی طرف دیکھ رہے ہوں اور خوش اور مطمئن ہوں۔ یہ ہے بلند ترین مقام سعادت مندی !
اس جہاں میں انسان بعض اوقات اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے حسن و جمال سے بےحد لط اندوز ہوتا ہے۔ انسان مثلاً چاندنی رات میں گم ہوتا ہے۔ اگر چاندنی نہ ہو تو اندھیری رات کا بھی ایک لطف ہوتا ہے۔ پھر نمودسپیدہ صبح کیا خوبصورتی دکھاتا ہے۔ درختوں کے طویل اور گہرے سائے ، سمندر کی پے درپے موجیں ، صحراﺅں کی درویاں ، باغات کی سرسبزیاں ، خوبصورت پھل اور پھول فرحاں و شاداں دل ، پختہ ایمانی لمحات ، مشکلات کو انگیز کرنا اور دوسری خوبصورتیاں جن سے یہ جہاں پر ہے اور انسان ان سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے اور تصور اور نور کے پروں کے ساتھ اس جہاں میں دوڑتا اور اڑتا پھرتا ہے۔ اور اس قدر خوشی اور سرور پاتا ہے کہ زندگی کے درد اور دکھ بھول جاتا ہے اور مادی اور جسمانی خوشیوں کو بھول جاتا ہے۔ خواہشات نفس اور مادی شوق اور لذت ایک لمحے کے لئے ذہن سے دور ہوجاتے ہیں۔
لیکن اس کی خوشیوں کا عالم ہی کیا ہوگا جب وہ اللہ کے تخلیق کردہ کمال و جمال کے بھی آگے بڑھ کر ذات باری کے کمالات کو دیکھ رہا ہو اور اللہ کی طرف اس کی نظریں ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام تب حاصل ہوتا ہے جب اللہ کی خاص مدد شامل حال ہو ، پھر یہ تب حاصل ہوتا ہے کہ جب کسی کو اللہ کی جانب سے ثابت قدمی حاصل ہو۔ انسانوں کو اپنے اوپر کنٹرول حاصل ہو ، وہ استقامت کا مالک ہو اور اخروی سعادت مندی سے لطف اندوز ہورہا ہو ، وہ سعادت مندی جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ اور جس کی حقیقت کو پوری طرح سمجھنا ہی مشکل ہے۔
وجوہ ............ ناضرة (22) الی ربھا ناظرة (75:23) ” بعض چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ وہ تروتازہ کیوں نہ ہوں جبکہ وہ رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
انسان اس دنیا میں اللہ کی تخلیقات کا نظارہ کرتا ہے ، خوبصورت پھل ، عجیب و غریب پھول ، خوش رنگ اور خوبصورت پرندے اور ان کے بال ویر ، خوبصورت روحیں اور اچھے کام اور ان چیزوں کو دیکھ کر اس کارواں رواں خوش ہوتا ہے۔ اور اس کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی ہوتی ہے اور چہرہ ترو تازہ ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر انسان اللہ کے مال اور جمال اور نورذات کی طرف دیکھ رہا ہو تو اس کی خوشی اور خوش بختی کے کیا کہنے۔ انسان اس مقام تک تب ہی پہنچ سکتا ہے جب وہ ان تمام رکاوٹوں کو ایک جھٹکے کے ساتھ دور پھینک دے جو اس مقام بلند تک پہنچنے سے روک رہی ہوتی ہیں۔ یہ مقام تب ہی حاصل ہوسکتا ہے کہ انسان اپنی ذات اور اپنے ماحول سے تمام نقائص دور کردے۔ اور وہ اللہ کے سوا کسی چیز کی طرف دیکھ ہی نہ رہا ہو۔
انسان اللہ کی طرف کس طرح دیکھے گا ؟ کس عضو سے دیکھے گا ؟ کیا آلہ بینائی اسے حاصل ہوگا ؟ کیا ذریعہ ہوگا اللہ کے دیکھنے کا ؟ تو یہ وہ بات ہے جو ہمارے تصور سے ماوراء ہے۔ یہ ایک تصور ہے جو قلب مومن کو دیا جارہا ہے۔ ایک فیض ہے جس سے روح مومن فیض یاب ہوگی۔ یہ دنیا کی آلودگیوں سے پاک اور شفاف فیض سعادت ہے ، جو مومن کو حاصل ہوگا۔
رہے عقلیت پسند تو وہ اس سے خوشی اور سرور حاصل کرنے کے بجائے ایسی آیات مجادلہ شروع کردیتے ہیں۔ ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ، جس طرح وہ خوشی اور اطمینان سے محروم ہوتے ہیں۔ اسی طرح فہم وادراک سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ اس جہاں کی باتیں دنیا کی مالوف عقل سے نہیں ، ایمان کی قوت مدرکہ سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔
انسانی شخصیت کا ارتقاء اور اس کو محدود زمینی شخصیت سے علیحدہ اور بلند کرنا ہی اسے قیامت کے روز لامحدود شخصیت اور ذات برتر وبالا سے ملاسکتا ہے۔ اس کے بغیر انسان کے لئے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ لامحدود کے ساتھ کیسے مل سکتا ہے۔ لہٰذا معتزلہ اور اہل سنت کے درمیان رویت باری کے بارے میں جو طویل بحثیں چلیں وہ بالکل لا حاصل تھیں ، کیونکہ انسان کی اس زمینی شخصیت اور اخروی شخصیت کے درمیان فرق ہوگا۔
کلمات الٰہیہ کا ہم وہی مفہوم سمجھ سکتے ہیں جو ہماری محدودذات کے اندر سماتا ہے ، جب ہماری شخصیت ہی بدل جائے اور ان محدود تصورات سے بالا ہوجائے تو پھر ان کلمات کا مزاج اور مفہوم ہی بدل جائے گا۔ کلمات تو دراصل رمز ہوتے ہیں ان مفہومات کے لئے جو انسانی تصور میں ہوتے ہیں۔ جب انسانی تصورت کے حدود وقیود بدل جائیں تو کلمات کے کے مفہوم بھی بدل جائیں گے۔ جب انسانی شخصیت بدل گئی ، اس کی قوت مدرکہ کی طاقت بدل گئی تو اس کے ساتھ ساتھ کلمات اور تصورات دونوں بدل جائیں گے۔ اس دنیا میں ان کلمات کا ہم وہ مفہوم سمجھتے ہیں جو ہمارے حال ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ایسے مفاہیم میں نہیں الجھنا چاہئے جو ہم ان کلمات سے اخذ نہیں کرسکتے۔
بس ہمیں اس سعادت مندی اور اس مقدس خوشی اور سرور کی امید رکھنا چاہئے جس کا ہم اس دنیا کے مفاہیم کے اعتبار سے تصور کرسکتے ہیں۔ اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس قسم کے فیوض کے لئے اپنی نظریں عالم بالا کی طرف بلند رکھیں۔ اور اس سے بڑا سرور اور کوئی نہیں۔
القيامة 75:24
ووجوہ ........................ فاقرة (75:25) ” اور کچھ چہرے اس دن اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ برتاﺅ ہونے والا ہے “۔ یہ کون سے چہرے ہوں گے ، جو پریشان ، بدبخت اور سیاہ ردہوں گے۔ یہ اللہ کی نظرکرم سے محروم اور ناامید ہوں گے۔ اور یہ محرومی خود ان کی اپنی غلطیوں اور پسماندگیوں کی وجہ سے ہوگی۔ ان کی مادیت اور بےبصیرتی کی وجہ سے ہوگی۔ ان کے چہروں پر رنج والم اور حزن وملال چھپایا ہوا ہوگا اور رنج وملال کی وجہ سے چہروں پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ کیونکہ ان کو یہ شدید خطرہ لاحق ہوگا کہ وہ بہت جلد ایسے حادثے سے دو چار ہونے والے ہیں جوان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔ فاقرہ ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں۔ یہاں مراد خوف ، ڈر ، بےچینی ، چہرے کی سیاہی ، پریشانی اور رنج والم ہے۔
یہ ہے نقشہ آخرت کا جسے یہ لوگ پس پشت ڈال رہے ہیں اور مہمل چھوڑ رہے ہیں ، اور دنیا کی اس مختصر زندگی کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، جسے وہ بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ جو دن آرہا ہے وہ بہت اہم ہے۔ اصل انجام کا وہاں فیصلہ ہوگا اور اس دنیا اور آخرت کی اہمیت میں بہت بڑا فرق ہے۔ قیامت میں بعض چہرے تروتازہ ہوں گے اور رب تعالیٰ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے جب کہ کچھ چہرے پژمردہ ہوں گے اور انہیں یہ شدید خطرہ لاحق ہوگا کہ ان کو کمر توڑ حادثہ پیش آنے والا ہے۔
مشاہد قیامت یوں تھے کہ وہاں دیدے پتھراجائیں گے ، چاند بےنور ہوگا اور شمس وقمر اکٹھے کردیئے جائیں گے اور انسان بےاختیار پکار اٹھے گا کہ کہاں جاﺅں اور پھر وہاں لوگوں کے انجام بہت مختلف ہوں گے ، اور جنتیوں اور دوزخیوں کے انجام کے درمیان طویل فاصلے ہوں گے۔ جنتیوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے ، وہ رب کی طرف نظریں جمائے ہوں گے ، جبکہ دوزخیوں کے چہرے سیاہ ہوں گے اور وہ شدید خطرے سے دوچار ہونے والے ہوں گے۔
یہ وہ مناظر ہیں جو بےحد قوی الاثر ہیں اور ان کی اثر آفرینی کی اصل قوت ان کے اسلوب بیان میں ہے۔ جو اک شخص اور مصور اور زندہ اسلوب ہے ، تو ان مناظر اور مشاہد کو آگے بڑھاتے ہوئے اب ایک ایسا منظر سامنے لایا جاتا ہے جو روز مرہ کا منظر ہے اور جسے ہم روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک بھاری اور ناگوار منظر ہوتا ہے مگر یہ ہونی شدنی ہے اور ہر جگہ اور ہر گھر میں واقع ہوجاتا ہے۔
یہ منظر ، موت کا منظر ہے۔ وہ موت جسے ہر زندہ کو دو چار ہونا ہوتا ہے۔ جس کو کوئی شخص نے اپنے آپ سے دور رکھ سکتا ہے اور نہ کسی اور کو اس سے بچا سکتا ہے۔ یہ موت دوجگری دوستوں کو جدا کردیتی ہے۔ یہ اپنے راستے پر جاتی ہے اور جاری وساری ہے۔ کسی بھی وقت اس کے وقوع میں وقفہ نہیں ہوتا۔ کسی کا رونا اور کسی کی چیخ و پکار کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ نہ جدا ہونے والوں کی حسرتوں کا اس پراثر ہوتا ہے۔ نہ کسی کی چاہت کا اس پر اثر ہوتا ہے اور نہ کسی کے ڈرکا اس پر اثر ہوتا ہے۔ یہ موت جباروں اور قہاروں کو بھی اسی طرح دبوچ لیتی ہے جس طرح ایک کیڑے کو دبوچ لیتی ہے۔ امراء وغربائ، غلاموں اور ڈکٹیٹروں سب کو نابود کردیتی ہے۔ یہ موت جس کے مقابلے میں انسان کے لئے کوئی حیلہ اور چارہ نہیں ہے لیکن اے افسوس کہ لوگ اس کے بارے میں کم ہی سوچتے ہیں کہ موت کس قدر عظیم قوت قاہرہ رکھتی ہے۔
القيامة 75:25
ووجوہ ........................ فاقرة (75:25) ” اور کچھ چہرے اس دن اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ برتاﺅ ہونے والا ہے “۔ یہ کون سے چہرے ہوں گے ، جو پریشان ، بدبخت اور سیاہ ردہوں گے۔ یہ اللہ کی نظرکرم سے محروم اور ناامید ہوں گے۔ اور یہ محرومی خود ان کی اپنی غلطیوں اور پسماندگیوں کی وجہ سے ہوگی۔ ان کی مادیت اور بےبصیرتی کی وجہ سے ہوگی۔ ان کے چہروں پر رنج والم اور حزن وملال چھپایا ہوا ہوگا اور رنج وملال کی وجہ سے چہروں پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ کیونکہ ان کو یہ شدید خطرہ لاحق ہوگا کہ وہ بہت جلد ایسے حادثے سے دو چار ہونے والے ہیں جوان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔ فاقرہ ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں۔ یہاں مراد خوف ، ڈر ، بےچینی ، چہرے کی سیاہی ، پریشانی اور رنج والم ہے۔
یہ ہے نقشہ آخرت کا جسے یہ لوگ پس پشت ڈال رہے ہیں اور مہمل چھوڑ رہے ہیں ، اور دنیا کی اس مختصر زندگی کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، جسے وہ بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ جو دن آرہا ہے وہ بہت اہم ہے۔ اصل انجام کا وہاں فیصلہ ہوگا اور اس دنیا اور آخرت کی اہمیت میں بہت بڑا فرق ہے۔ قیامت میں بعض چہرے تروتازہ ہوں گے اور رب تعالیٰ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے جب کہ کچھ چہرے پژمردہ ہوں گے اور انہیں یہ شدید خطرہ لاحق ہوگا کہ ان کو کمر توڑ حادثہ پیش آنے والا ہے۔
مشاہد قیامت یوں تھے کہ وہاں دیدے پتھراجائیں گے ، چاند بےنور ہوگا اور شمس وقمر اکٹھے کردیئے جائیں گے اور انسان بےاختیار پکار اٹھے گا کہ کہاں جاﺅں اور پھر وہاں لوگوں کے انجام بہت مختلف ہوں گے ، اور جنتیوں اور دوزخیوں کے انجام کے درمیان طویل فاصلے ہوں گے۔ جنتیوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے ، وہ رب کی طرف نظریں جمائے ہوں گے ، جبکہ دوزخیوں کے چہرے سیاہ ہوں گے اور وہ شدید خطرے سے دوچار ہونے والے ہوں گے۔
یہ وہ مناظر ہیں جو بےحد قوی الاثر ہیں اور ان کی اثر آفرینی کی اصل قوت ان کے اسلوب بیان میں ہے۔ جو اک شخص اور مصور اور زندہ اسلوب ہے ، تو ان مناظر اور مشاہد کو آگے بڑھاتے ہوئے اب ایک ایسا منظر سامنے لایا جاتا ہے جو روز مرہ کا منظر ہے اور جسے ہم روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک بھاری اور ناگوار منظر ہوتا ہے مگر یہ ہونی شدنی ہے اور ہر جگہ اور ہر گھر میں واقع ہوجاتا ہے۔
یہ منظر ، موت کا منظر ہے۔ وہ موت جسے ہر زندہ کو دو چار ہونا ہوتا ہے۔ جس کو کوئی شخص نے اپنے آپ سے دور رکھ سکتا ہے اور نہ کسی اور کو اس سے بچا سکتا ہے۔ یہ موت دوجگری دوستوں کو جدا کردیتی ہے۔ یہ اپنے راستے پر جاتی ہے اور جاری وساری ہے۔ کسی بھی وقت اس کے وقوع میں وقفہ نہیں ہوتا۔ کسی کا رونا اور کسی کی چیخ و پکار کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ نہ جدا ہونے والوں کی حسرتوں کا اس پراثر ہوتا ہے۔ نہ کسی کی چاہت کا اس پر اثر ہوتا ہے اور نہ کسی کے ڈرکا اس پر اثر ہوتا ہے۔ یہ موت جباروں اور قہاروں کو بھی اسی طرح دبوچ لیتی ہے جس طرح ایک کیڑے کو دبوچ لیتی ہے۔ امراء وغربائ، غلاموں اور ڈکٹیٹروں سب کو نابود کردیتی ہے۔ یہ موت جس کے مقابلے میں انسان کے لئے کوئی حیلہ اور چارہ نہیں ہے لیکن اے افسوس کہ لوگ اس کے بارے میں کم ہی سوچتے ہیں کہ موت کس قدر عظیم قوت قاہرہ رکھتی ہے۔
القيامة 75:26
یہ موت کا منظر ہے اور یہ نص قرآنی اسے یوں پیش کررہا ہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ منظر آنکھوں کے سامنے یوں آرہا ہے جس طرح مصور کے قلم سے رنگ نکلتے ہی تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
کلا اذا ................ التراقی (75:26) ” ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے “۔ جب روح حلق تک آجائے تو اس وقت انسان کی زندگی کے آخری لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں انسان پر ذہول اور مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ انسان پر شدت کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ نظریں ٹکٹی باندھ لیتی ہیں اور جس کی موت وقاع ہورہی ہوتی ہے ، اس کے ارد گرد دوست و رشتہ دار جمع ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو بچانے کے لئے ہر حیلہ اور ہر وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔
وقیل من راق (75:27) ” کہا جائے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا “۔ شاید بطور آخری چارہ کار یہ دم درود اور جھاڑ پھونک ہی مفیدہوجائے اور جس شخص پر موت کی حالت طاری ہے شاید یہ اس سے واپس آجائے اور آخری حالت۔
القيامة 75:27
یہ موت کا منظر ہے اور یہ نص قرآنی اسے یوں پیش کررہا ہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ منظر آنکھوں کے سامنے یوں آرہا ہے جس طرح مصور کے قلم سے رنگ نکلتے ہی تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
کلا اذا ................ التراقی (75:26) ” ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے “۔ جب روح حلق تک آجائے تو اس وقت انسان کی زندگی کے آخری لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں انسان پر ذہول اور مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ انسان پر شدت کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ نظریں ٹکٹی باندھ لیتی ہیں اور جس کی موت وقاع ہورہی ہوتی ہے ، اس کے ارد گرد دوست و رشتہ دار جمع ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو بچانے کے لئے ہر حیلہ اور ہر وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔
وقیل من راق (75:27) ” کہا جائے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا “۔ شاید بطور آخری چارہ کار یہ دم درود اور جھاڑ پھونک ہی مفیدہوجائے اور جس شخص پر موت کی حالت طاری ہے شاید یہ اس سے واپس آجائے اور آخری حالت۔
القيامة 75:28
یہ موت کا منظر ہے اور یہ نص قرآنی اسے یوں پیش کررہا ہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ منظر آنکھوں کے سامنے یوں آرہا ہے جس طرح مصور کے قلم سے رنگ نکلتے ہی تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
کلا اذا ................ التراقی (75:26) ” ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے “۔ جب روح حلق تک آجائے تو اس وقت انسان کی زندگی کے آخری لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں انسان پر ذہول اور مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ انسان پر شدت کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ نظریں ٹکٹی باندھ لیتی ہیں اور جس کی موت وقاع ہورہی ہوتی ہے ، اس کے ارد گرد دوست و رشتہ دار جمع ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو بچانے کے لئے ہر حیلہ اور ہر وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔
وقیل من راق (75:27) ” کہا جائے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا “۔ شاید بطور آخری چارہ کار یہ دم درود اور جھاڑ پھونک ہی مفیدہوجائے اور جس شخص پر موت کی حالت طاری ہے شاید یہ اس سے واپس آجائے اور آخری حالت۔
القيامة 75:29
والتفت الساق بالساق (75:29) ” پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے “۔ ہر حیلہ اور ہر وسیلہ فیل ہوجائے اور یہ بات طے ہوجائے کہ آپ بیمارنے جانا ہی ہے جس طرح ہر زندہ نے آخر کار جانا ہوتا ہے۔
القيامة 75:30
الی ............ المساق (75:30) ” وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا “۔ یہ منظر اس قدر زندہ اور متحرک ہے کہ انسان کو ریل پر چلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور ہر لفظ ایک حرکت کو مصور کررہا ہے۔ ہر لمحہ اور ہر قفرہ دوڑ دھوپ اور حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ جوں جوں موت قریب آتی ہے لوگوں کی حرکت اور جزع فزع میں تیزی آتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس کی طرف پورا مجمع بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تمام علاج ناکام ہوگئے ہیں۔ اور آخری منظر آتا ہے۔
الی ربک .................... المساق (75:30) ” یہ تو تیرے رب کی طرف چلنے کا دن ہے “۔ اب پردہ گرتا ہے ، لیکن ہمارے تخیل کے پردے پر تصویر جمی ہوئی ہے۔ ہمارے احساسات پر انمٹ نقوش بیٹھے ہیں۔ اب فضا پر مہیب خاموشی ہے۔ کہیں کہیں رونے کی آواز آرہی ہے۔
اس زندہ ، حقیقی اور ناقابل دفاع منظر کے سامنے اب جھٹلانے والوں اور مدہوس اور غافل لوگوں کا بھی ایک نقشہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عمل اور اطاعت نہ کرنے کی وجہ سے سعادت سے محروم ہیں۔ ان کے دامن میں معاصی اور نافرمانیاں ہی ہیں اور یہ لوگ لہو ولعب میں مصروف ہیں اور اپنے اس حال میں مگن ہیں۔
القيامة 75:31
روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ایک مخصوص شخص کے حق میں نازل ہوئیں ، بعض روایات میں اس شخص کا نام بھی لیا گیا کہ یہ عمرو ابن ہشام ابوجہل تھا۔ یہ شخص بعض اوقات رسول اللہ کے پاس آتا تھا اور قرآن کریم سنتا تھا۔ لیکن پھر چلا جاتا تھا اور ایمان نہ لاتا تھا۔ اور نہ آپ کی اطاعت کرتا تھا۔ نہ اللہ سے ڈرتا تھا۔ اور نہ مودبانہ رویہ اختیار کرتا تھا۔ بلکہ یہ حضور اکرم ﷺ کو مزید اذیت دینے لگتا تھا۔ آپ کو برا بھلا کہتا اور لوگوں کو دین اسلام میں آنے سے روکتا۔ پھر یہ اپنی ان کاروائیوں پر اتراتا ، اور اپنے کارناموں پر فخر کرتا جیسا کہ اس آیت میں کہا گیا۔
قرآن کریم یہاں اس شخص کے ساتھ مزح کرتا ہے اور نہایت ہی حقارت آمیز تبصرہ کرتا ہے۔ قرآن کریم اس شخص کے غرور کی حرکت کو لفظ یتمطی (75:33) کے ساتھ تعبیر کرتا ہے۔ یعنی اپنی پیٹھ کو اکڑاتا ہوا۔ اور نہایت ہی بوجھل قسم کے تعجب کا اظہار کرتا ہوا جس میں کراہیت کے آثار نمایاں ہیں۔
کسی مخصوص شخص کی بات چھوڑئیے ، ہر دور میں حق کے مقابلے میں ایک ابوجہل ہوتا ہے جو سنتا ہے ، سمجھتا ہے ، لیکن منہ موڑ لیتا ہے اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو ہٹانے میں بڑی بڑی فن کاریوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اور داعیان حق کو اذیت دیتا ہے۔ اور بڑی بڑی مکاریاں کرتا ہے۔ وہ منہ موڑتا ہے اور اپنی شرانگیزیوں پر فخر کرتا ہے حالانکہ دراصل یہ شخص زمین میں فساد پھیلاتا ہے اور حق ، سچائی اور اصلاح کی راہ روکتا ہے۔
القيامة 75:32
روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ایک مخصوص شخص کے حق میں نازل ہوئیں ، بعض روایات میں اس شخص کا نام بھی لیا گیا کہ یہ عمرو ابن ہشام ابوجہل تھا۔ یہ شخص بعض اوقات رسول اللہ کے پاس آتا تھا اور قرآن کریم سنتا تھا۔ لیکن پھر چلا جاتا تھا اور ایمان نہ لاتا تھا۔ اور نہ آپ کی اطاعت کرتا تھا۔ نہ اللہ سے ڈرتا تھا۔ اور نہ مودبانہ رویہ اختیار کرتا تھا۔ بلکہ یہ حضور اکرم ﷺ کو مزید اذیت دینے لگتا تھا۔ آپ کو برا بھلا کہتا اور لوگوں کو دین اسلام میں آنے سے روکتا۔ پھر یہ اپنی ان کاروائیوں پر اتراتا ، اور اپنے کارناموں پر فخر کرتا جیسا کہ اس آیت میں کہا گیا۔
قرآن کریم یہاں اس شخص کے ساتھ مزح کرتا ہے اور نہایت ہی حقارت آمیز تبصرہ کرتا ہے۔ قرآن کریم اس شخص کے غرور کی حرکت کو لفظ یتمطی (75:33) کے ساتھ تعبیر کرتا ہے۔ یعنی اپنی پیٹھ کو اکڑاتا ہوا۔ اور نہایت ہی بوجھل قسم کے تعجب کا اظہار کرتا ہوا جس میں کراہیت کے آثار نمایاں ہیں۔
کسی مخصوص شخص کی بات چھوڑئیے ، ہر دور میں حق کے مقابلے میں ایک ابوجہل ہوتا ہے جو سنتا ہے ، سمجھتا ہے ، لیکن منہ موڑ لیتا ہے اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو ہٹانے میں بڑی بڑی فن کاریوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اور داعیان حق کو اذیت دیتا ہے۔ اور بڑی بڑی مکاریاں کرتا ہے۔ وہ منہ موڑتا ہے اور اپنی شرانگیزیوں پر فخر کرتا ہے حالانکہ دراصل یہ شخص زمین میں فساد پھیلاتا ہے اور حق ، سچائی اور اصلاح کی راہ روکتا ہے۔
القيامة 75:33
روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ایک مخصوص شخص کے حق میں نازل ہوئیں ، بعض روایات میں اس شخص کا نام بھی لیا گیا کہ یہ عمرو ابن ہشام ابوجہل تھا۔ یہ شخص بعض اوقات رسول اللہ کے پاس آتا تھا اور قرآن کریم سنتا تھا۔ لیکن پھر چلا جاتا تھا اور ایمان نہ لاتا تھا۔ اور نہ آپ کی اطاعت کرتا تھا۔ نہ اللہ سے ڈرتا تھا۔ اور نہ مودبانہ رویہ اختیار کرتا تھا۔ بلکہ یہ حضور اکرم ﷺ کو مزید اذیت دینے لگتا تھا۔ آپ کو برا بھلا کہتا اور لوگوں کو دین اسلام میں آنے سے روکتا۔ پھر یہ اپنی ان کاروائیوں پر اتراتا ، اور اپنے کارناموں پر فخر کرتا جیسا کہ اس آیت میں کہا گیا۔
قرآن کریم یہاں اس شخص کے ساتھ مزح کرتا ہے اور نہایت ہی حقارت آمیز تبصرہ کرتا ہے۔ قرآن کریم اس شخص کے غرور کی حرکت کو لفظ یتمطی (75:33) کے ساتھ تعبیر کرتا ہے۔ یعنی اپنی پیٹھ کو اکڑاتا ہوا۔ اور نہایت ہی بوجھل قسم کے تعجب کا اظہار کرتا ہوا جس میں کراہیت کے آثار نمایاں ہیں۔
کسی مخصوص شخص کی بات چھوڑئیے ، ہر دور میں حق کے مقابلے میں ایک ابوجہل ہوتا ہے جو سنتا ہے ، سمجھتا ہے ، لیکن منہ موڑ لیتا ہے اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو ہٹانے میں بڑی بڑی فن کاریوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اور داعیان حق کو اذیت دیتا ہے۔ اور بڑی بڑی مکاریاں کرتا ہے۔ وہ منہ موڑتا ہے اور اپنی شرانگیزیوں پر فخر کرتا ہے حالانکہ دراصل یہ شخص زمین میں فساد پھیلاتا ہے اور حق ، سچائی اور اصلاح کی راہ روکتا ہے۔
القيامة 75:34
یہ ایک عام اصطلاحی انداز تعبیر ہے ، عربی روز مرہ کے مطابق ، مگر اس کے اندر تہدید اور ڈوراوا بھی ہوتا ہے۔ ایک بار حضور اکرم ﷺ نے ابوجہل کو گلے سے پکڑا اور کہا :
اولی لک ................ فاولی (57 : 53) تو اللہ کے اس دشمن نے کہا : ” محمد کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو ؟ خدا کی قسم نہ تم اور نہ تمہارا رب میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو اور میں ان تمام لوگوں سے زیادہ معزز ہوں جو مکہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کبھی چلے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن اسے پکڑا اور یوں حضرت محمد ﷺ اور رب محمد ﷺ نے اس کا سب کھیل بگاڑ دیا۔ اور ابوجہل سے قبل فرعون نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا۔
ماعلمت .................... غیری ” میں تمہارے لئے اپنے مقابلے میں کوئی دوسرا حاکم نہیں پاتا “۔ اور کہا۔
الیس .................... من تحتی ” کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں ہے اور یہ نہریں میرے ماتحت نہیں چل رہی ہیں “۔ کئی ابوجہل گزرے ہیں جنہوں نے اسلامی دعوتوں کے مقابلے میں اپنے قبائل ، اپنی قوت اور اپنی قوم کے بل بوتے پر جرائم کا ارتکاب کیا اور اپنے آپ کو کچھ چیز سمجھتے تھے ، اور انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تھا لیکن اللہ نے ان کو مچھروں اور مکھیوں کے ذریعہ ہلاک اور برباد کردیا۔ بہرحال ہر فرعون کی تباہی کی ایک میعاد ہوتی ہے جس میں کوئی تقدیم وتاخیر نہیں ہوتی۔
آخر میں لوگوں کی زندگی سے ایک اور اہم حقیقت کو سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی حیات بعد موت پر دلالت کرتی ہے۔ جس کا وہ شدت سے انکار کرتے تھے۔ اور اس سے خود ان کی اس زندگی کی نشوونما کی تدبیر اور تقدیر اور تعجب خیز اور عبرت آموز ٹیکنالوجی بھی معلوم ہوتی ہے جو خدا کی پیدا کردہ ہے اور یہ تقاضا کرتی ہے کہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور خود مطالعہ حیات وقوع حشرونشر کو لابدی قرار دیتا ہے بشرطیکہ کوئی اسے چشم بینا سے مطالعہ کرے۔
القيامة 75:35
یہ ایک عام اصطلاحی انداز تعبیر ہے ، عربی روز مرہ کے مطابق ، مگر اس کے اندر تہدید اور ڈوراوا بھی ہوتا ہے۔ ایک بار حضور اکرم ﷺ نے ابوجہل کو گلے سے پکڑا اور کہا :
اولی لک ................ فاولی (57 : 53) تو اللہ کے اس دشمن نے کہا : ” محمد کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو ؟ خدا کی قسم نہ تم اور نہ تمہارا رب میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو اور میں ان تمام لوگوں سے زیادہ معزز ہوں جو مکہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کبھی چلے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن اسے پکڑا اور یوں حضرت محمد ﷺ اور رب محمد ﷺ نے اس کا سب کھیل بگاڑ دیا۔ اور ابوجہل سے قبل فرعون نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا۔
ماعلمت .................... غیری ” میں تمہارے لئے اپنے مقابلے میں کوئی دوسرا حاکم نہیں پاتا “۔ اور کہا۔
الیس .................... من تحتی ” کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں ہے اور یہ نہریں میرے ماتحت نہیں چل رہی ہیں “۔ کئی ابوجہل گزرے ہیں جنہوں نے اسلامی دعوتوں کے مقابلے میں اپنے قبائل ، اپنی قوت اور اپنی قوم کے بل بوتے پر جرائم کا ارتکاب کیا اور اپنے آپ کو کچھ چیز سمجھتے تھے ، اور انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تھا لیکن اللہ نے ان کو مچھروں اور مکھیوں کے ذریعہ ہلاک اور برباد کردیا۔ بہرحال ہر فرعون کی تباہی کی ایک میعاد ہوتی ہے جس میں کوئی تقدیم وتاخیر نہیں ہوتی۔
آخر میں لوگوں کی زندگی سے ایک اور اہم حقیقت کو سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی حیات بعد موت پر دلالت کرتی ہے۔ جس کا وہ شدت سے انکار کرتے تھے۔ اور اس سے خود ان کی اس زندگی کی نشوونما کی تدبیر اور تقدیر اور تعجب خیز اور عبرت آموز ٹیکنالوجی بھی معلوم ہوتی ہے جو خدا کی پیدا کردہ ہے اور یہ تقاضا کرتی ہے کہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور خود مطالعہ حیات وقوع حشرونشر کو لابدی قرار دیتا ہے بشرطیکہ کوئی اسے چشم بینا سے مطالعہ کرے۔
القيامة 75:36
یہ آخری مقطع ہے جو نہایت اثر آفرین ہے اور اس میں گہرے حقائق کی طرف اشارہ ہیں۔ ان حقائق کے بارے میں اس وقت کے سامعین نے کبھی غور ہی نہ کیا تھا۔ ان حقائق میں سے زیادہ انسان کی تخلیق اور اس دنیا میں اس کی حیات کے نشوونما کے لئے تدابیر کی طرف اشارات ہیں۔
ایحسب ........................ سدی (36:75) ” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسے یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ “ اہل عرب کے نزدیک زندگی ایک ایسی حرکت تھی جس کا نہ کوئی سبب تھا اور نہ کوئی علت تھی۔ نہ کوئی مقصد اور نہ غایت تھی۔ لوگ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے تھے اور قبروں میں جاتے تھے۔ اور پیدائش اور موت کے درمیان کا عرصہ لہو ولعب کے لئے مخصوص تھا۔ زندگی زینت اور زیبائش اور باہم فخر ومباہات سے عبارت تھی۔ لوگ زندگی اسی طرح گزارتے تھے جس طرح حیوانات گزارتے ہیں یہ کہ اس کائنات میں کوئی ناموس فطرت ہے اور زندگی کا کوئی مقصد ہے اور وہ ایک حکمت کے تحت وجود میں لائی گئی ہے۔ یہ باتیں ان کی سمجھ سے دور تھیں۔ وہ یہ نہ سمجھتے تھے کہ انسان ایک متعین تقدیر کے مطابق پیدا کیا گیا ہے اور یہ کہ وہ کوئی ذمہ دار مخلوق ہے اور اس کی تخلیق کے پیچھے کوئی جزاء وسزا کا نظام بھی موجود ہے۔ اور زندگی کا یہ سفر ایک آزمائش ہے۔ رہا یہ تصور کہ یہ زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اس کی پشت پر ایک قادر مطلق ذات ہے جو الٰہ العالمین ہے ، اور اس نے ہر چیز کو ایک اندازے اور ایک حکمت کے مطابق پیدا کیا ہے اور ہر چیز ایک انجام کو پہنچنے والی ہے تو یہ تصورات ان کی سوچ میں نہ تھے ، بلکہ یہ لوگ ان تصورات سے کوسوں دور تھے۔ اسلام سے قبل کے زمانے میں عربوں کی ایسی ہی حالت تھی۔
حالانکہ انسان اور حیوان کے درمیان فرق ہی اس شعور کی وجہ سے ہے کہ واقعات ایک مقصد کے تحت وقوع پذیر ہوتے ہیں ، ان کے اہداف اور مقاصد متعین ہیں۔ جس طرح یہ پوری کائنات بامقصد ہے اسی طرح اس کے اندر حضرت انسان بھی بامقصد ہے۔ جوں جوں انسان کا یہ شعور ترقی کرتا رہا ہے ، انسانیت نے ترقی کی ہے ، اس شعور کے تحت انسان کی زندگی باہم مربوط ہوتی ہے۔ اس تصور کے تحت انسان اپنی زندگی کے لمحات کا حساب کرتا ہے۔ تمام حادثات وواقعات پر غور کرتا ہے۔ حال اور مستقبل کو ماضی سے مربوط رکھتا ہے۔ پھر اس پوری زندگی کو اس کائنات کے نظام کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور پھر انسان اور پوری کائنات کو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ جوڑتا ہے کہ یہ انسان اور اس کی زندگی اور یہ جہاں عبث نہیں پیدا کیے گئے۔
یہ ہے وہ عظیم تصورحیات جس کی طرف قرآن نے لوگوں کو پہنچایا۔ یہ ایک عظیم انقلاب تصور تھا۔ اس وقت انساوں کے اندر جو سوچ بالعموم موجود تھی اس پر اگر غور کیا جائے تو اس کے مقابلہ میں یہ بہت ہی انقلابی سوچ تھی۔ نیز اس وقت دنیا میں جو فلسفے اور خیالات رائج اور مشاہد تھے ان کے مقابلے میں یہ تصور اور عقیدہ ایک انقلابی تصور اور سوچ تھی۔ (دیکھئے میری کتاب اسلام کائنات اور زندگی اور انسان) ۔
یہ چٹکی کہ۔
ایحسب ................ سدی (36:75) ” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھو ڑدیا جائے گا ؟ “۔ یہ دراصل ان چند قرآنی اشارات میں سے ہے جو انسان کو اس کائنات کے ساتھ روابط اور تعلقات قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس جہاں اور انسان دونوں کے لئے غرض وغایت اور ایک مقصد متعین کرتے ہیں۔ واقعات کے لئے علل واسباب متعین کرتے ہیں اور کچھ چیزوں کو کچھ کے نتائج قرار دیتے ہیں۔ یوں یہ پوری کائنات اور اس کے اندر انسان بامقصد اور باہم مربوط ہوجاتے ہیں۔
یہاں اس تصور پر نہایت ہی سادہ اور سیدھے دلائل لائے جاتے ہیں ، جن کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ انسان شتر بےمہار اور بےمقصد نہیں ہے۔
القيامة 75:37
الم یک ................ یمنی (37) ثم ................ فسوی (38) فجعل ........................(39) (37:75 تا 39) ”” کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر وہ ایک لو تھڑا بنا ، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے ، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔
یہ انسان کیا ہے ؟ یہ کس سے بنایا گیا ہے ؟ کس طرح تھا اور کس طرح ہوگیا۔ اور زندگی کا یہ سفر اس نے کہاں سے شروع کیا اور کہاں تک پہنچا۔ اس کرہ ارض پر وہ کیسے پہنچا جو ایک چھوٹا سا ستارہ ہے۔
کیا وہ پانی کا چھوٹا سا نطفہ نہیں تھا ، پانی کی ایک بوند جو ٹپکتی ہے۔ کیا انسان ایک نہایت ہی خوردبینی نکتہ نہ تھا۔ پھر وہ ایک خلیہ بن گیا۔ پھر وہ خون کا ایک مخصوص لوتھڑا بن گیا۔ یہ لو تھڑا رحم مادر میں بڑھتا رہا۔ پہلے یہ رحم کی دیواروں کے ساتھ معلق رہا اور اس کے خون سے اپنی غذا اخذ کرتارہا۔ یہ تمام مراحل سفرا سے کس نے سکھائے ؟ اور یہ طاقت اسے کس نے دی اور یہ راستہ اسے کس نے بتایا ؟
اس کے بعد کس نے اسے ایک جنین کی شکل دی۔ جس کی قوتوں کے اندراعتدال اور جس کے اعضا باہم ہم آہنگ اور متناسب بن گئے۔ پھر کس طرح یہ ایک خلیہ اب کئی ملین خلیوں کی شکل اختیار کر گیا۔ حالانکہ پہلے یہ ایک خلیہ تھا اور ایک خوردبینی انڈا تھا۔ وہ سفر اور تغیر پذیری جو اس خلیے نے ایک جنین تک طے کی ، یہ پیدائش سے موت تک کے مراحل سے طویل تھی۔ سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اسے ان طویل تغیرات کے لئے تیار کررہا ہے۔ حالانکہ آغاز میں وہ ایک نہایت ہی چھوٹی مخلوق تھی۔ نہ عقل اور نہ قوائے ادراک اس کے اندر تھیں۔ اور نہ دنیاوی تجربات اسے حاصل تھے۔
پھر ایک ہی مخلوق سے اللہ نے کس طرح مرد اور عورت پیدا کیے۔ کیا یہ مخلوق خود اپنے آپ کو مرد اور عورت کی شکل میں ڈھالتی ہے۔ کیا یہ مخلوق خود مذکر مونث ہونے کا فیصلہ کرتی ہے یا یہ کوئی دوسری قوت ہے جو ان تاریکیوں میں اسے مذکر ومونث بناتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسی ذات کے تصور کے سوا اس جہاں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا جو قادر مطلق ہے۔ جو مدبر ہے ، جو تمام واقعات اور حادثات کا سبب اول ہے۔ جو قدرت مطلقہ رکھتی ہے۔ یہ وہی ذات ہے جو انسان کو ایک خوردبینی ذرے سے یہاں تک لاتی ہے۔
القيامة 75:38
الم یک ................ یمنی (37) ثم ................ فسوی (38) فجعل ........................(39) (37:75 تا 39) ”” کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر وہ ایک لو تھڑا بنا ، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے ، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔
یہ انسان کیا ہے ؟ یہ کس سے بنایا گیا ہے ؟ کس طرح تھا اور کس طرح ہوگیا۔ اور زندگی کا یہ سفر اس نے کہاں سے شروع کیا اور کہاں تک پہنچا۔ اس کرہ ارض پر وہ کیسے پہنچا جو ایک چھوٹا سا ستارہ ہے۔
کیا وہ پانی کا چھوٹا سا نطفہ نہیں تھا ، پانی کی ایک بوند جو ٹپکتی ہے۔ کیا انسان ایک نہایت ہی خوردبینی نکتہ نہ تھا۔ پھر وہ ایک خلیہ بن گیا۔ پھر وہ خون کا ایک مخصوص لوتھڑا بن گیا۔ یہ لو تھڑا رحم مادر میں بڑھتا رہا۔ پہلے یہ رحم کی دیواروں کے ساتھ معلق رہا اور اس کے خون سے اپنی غذا اخذ کرتارہا۔ یہ تمام مراحل سفرا سے کس نے سکھائے ؟ اور یہ طاقت اسے کس نے دی اور یہ راستہ اسے کس نے بتایا ؟
اس کے بعد کس نے اسے ایک جنین کی شکل دی۔ جس کی قوتوں کے اندراعتدال اور جس کے اعضا باہم ہم آہنگ اور متناسب بن گئے۔ پھر کس طرح یہ ایک خلیہ اب کئی ملین خلیوں کی شکل اختیار کر گیا۔ حالانکہ پہلے یہ ایک خلیہ تھا اور ایک خوردبینی انڈا تھا۔ وہ سفر اور تغیر پذیری جو اس خلیے نے ایک جنین تک طے کی ، یہ پیدائش سے موت تک کے مراحل سے طویل تھی۔ سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اسے ان طویل تغیرات کے لئے تیار کررہا ہے۔ حالانکہ آغاز میں وہ ایک نہایت ہی چھوٹی مخلوق تھی۔ نہ عقل اور نہ قوائے ادراک اس کے اندر تھیں۔ اور نہ دنیاوی تجربات اسے حاصل تھے۔
پھر ایک ہی مخلوق سے اللہ نے کس طرح مرد اور عورت پیدا کیے۔ کیا یہ مخلوق خود اپنے آپ کو مرد اور عورت کی شکل میں ڈھالتی ہے۔ کیا یہ مخلوق خود مذکر مونث ہونے کا فیصلہ کرتی ہے یا یہ کوئی دوسری قوت ہے جو ان تاریکیوں میں اسے مذکر ومونث بناتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسی ذات کے تصور کے سوا اس جہاں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا جو قادر مطلق ہے۔ جو مدبر ہے ، جو تمام واقعات اور حادثات کا سبب اول ہے۔ جو قدرت مطلقہ رکھتی ہے۔ یہ وہی ذات ہے جو انسان کو ایک خوردبینی ذرے سے یہاں تک لاتی ہے۔
القيامة 75:39
فجعل ........................ والانثی (39:75) پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔
یہ حقیقت جو انسانی شعور کے ساتھ چپک جاتی ہے پھر پوری سورت کی تلخیص یوں کی جاتی ہے اور ان تمام حقائق سے نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے۔
الیس .................... الموتی (40:75) ” کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے “۔ ہاں بیشک اللہ قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے۔ ہاں اللہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ حشرونشر کے دن سب کو اٹھائے۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ انسان مجبور ہے کہ عقیدہ آخرت پر ایمان لائے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اس پر شاہد ہے۔
یوں یہ سورت ایک زور دار فقرے پر ختم ہوتی ہے۔ جس کا اثر فکر واحساس کے پردوں پر نہایت گہرا اور فیصلہ کن ہوتا ہے اور انسان اس کائنات ، اس کی حقیقت اور اس کی پشت پر کام کرنے والی ذات مدبرہ کے قریب چلا جاتا ہے۔
القيامة 75:40
فجعل ........................ والانثی (39:75) پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔
یہ حقیقت جو انسانی شعور کے ساتھ چپک جاتی ہے پھر پوری سورت کی تلخیص یوں کی جاتی ہے اور ان تمام حقائق سے نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے۔
الیس .................... الموتی (40:75) ” کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے “۔ ہاں بیشک اللہ قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے۔ ہاں اللہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ حشرونشر کے دن سب کو اٹھائے۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ انسان مجبور ہے کہ عقیدہ آخرت پر ایمان لائے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اس پر شاہد ہے۔
یوں یہ سورت ایک زور دار فقرے پر ختم ہوتی ہے۔ جس کا اثر فکر واحساس کے پردوں پر نہایت گہرا اور فیصلہ کن ہوتا ہے اور انسان اس کائنات ، اس کی حقیقت اور اس کی پشت پر کام کرنے والی ذات مدبرہ کے قریب چلا جاتا ہے۔