Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الإنسان 76:1 – عبس 80:42

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الإنسان 76:1
  2. الإنسان 76:2
  3. الإنسان 76:3
  4. الإنسان 76:4
  5. الإنسان 76:5
  6. الإنسان 76:6
  7. الإنسان 76:7
  8. الإنسان 76:8
  9. الإنسان 76:9
  10. الإنسان 76:10
  11. الإنسان 76:11
  12. الإنسان 76:12
  13. الإنسان 76:13
  14. الإنسان 76:14
  15. الإنسان 76:15
  16. الإنسان 76:16
  17. الإنسان 76:17
  18. الإنسان 76:18
  19. الإنسان 76:19
  20. الإنسان 76:20
  21. الإنسان 76:21
  22. الإنسان 76:22
  23. الإنسان 76:23
  24. الإنسان 76:24
  25. الإنسان 76:25
  26. الإنسان 76:26
  27. الإنسان 76:27
  28. الإنسان 76:28
  29. الإنسان 76:29
  30. الإنسان 76:30
  31. الإنسان 76:31
  32. المرسلات 77:1
  33. المرسلات 77:2
  34. المرسلات 77:3
  35. المرسلات 77:4
  36. المرسلات 77:5
  37. المرسلات 77:6
  38. المرسلات 77:7
  39. المرسلات 77:8
  40. المرسلات 77:9
  41. المرسلات 77:10
  42. المرسلات 77:11
  43. المرسلات 77:12
  44. المرسلات 77:13
  45. المرسلات 77:14
  46. المرسلات 77:15
  47. المرسلات 77:16
  48. المرسلات 77:17
  49. المرسلات 77:18
  50. المرسلات 77:19
  51. المرسلات 77:20
  52. المرسلات 77:21
  53. المرسلات 77:22
  54. المرسلات 77:23
  55. المرسلات 77:24
  56. المرسلات 77:25
  57. المرسلات 77:26
  58. المرسلات 77:27
  59. المرسلات 77:28
  60. المرسلات 77:29
  61. المرسلات 77:30
  62. المرسلات 77:31
  63. المرسلات 77:32
  64. المرسلات 77:33
  65. المرسلات 77:34
  66. المرسلات 77:35
  67. المرسلات 77:36
  68. المرسلات 77:37
  69. المرسلات 77:38
  70. المرسلات 77:39
  71. المرسلات 77:40
  72. المرسلات 77:41
  73. المرسلات 77:42
  74. المرسلات 77:43
  75. المرسلات 77:44
  76. المرسلات 77:45
  77. المرسلات 77:46
  78. المرسلات 77:47
  79. المرسلات 77:48
  80. المرسلات 77:49
  81. المرسلات 77:50
  82. النبأ 78:1
  83. النبأ 78:2
  84. النبأ 78:3
  85. النبأ 78:4
  86. النبأ 78:5
  87. النبأ 78:6
  88. النبأ 78:7
  89. النبأ 78:8
  90. النبأ 78:9
  91. النبأ 78:10
  92. النبأ 78:11
  93. النبأ 78:12
  94. النبأ 78:13
  95. النبأ 78:14
  96. النبأ 78:15
  97. النبأ 78:16
  98. النبأ 78:17
  99. النبأ 78:18
  100. النبأ 78:19
  101. النبأ 78:20
  102. النبأ 78:21
  103. النبأ 78:22
  104. النبأ 78:23
  105. النبأ 78:24
  106. النبأ 78:25
  107. النبأ 78:26
  108. النبأ 78:27
  109. النبأ 78:28
  110. النبأ 78:29
  111. النبأ 78:30
  112. النبأ 78:31
  113. النبأ 78:32
  114. النبأ 78:33
  115. النبأ 78:34
  116. النبأ 78:35
  117. النبأ 78:36
  118. النبأ 78:37
  119. النبأ 78:38
  120. النبأ 78:39
  121. النبأ 78:40
  122. النازعات 79:1
  123. النازعات 79:2
  124. النازعات 79:3
  125. النازعات 79:4
  126. النازعات 79:5
  127. النازعات 79:6
  128. النازعات 79:7
  129. النازعات 79:8
  130. النازعات 79:9
  131. النازعات 79:10
  132. النازعات 79:11
  133. النازعات 79:12
  134. النازعات 79:13
  135. النازعات 79:14
  136. النازعات 79:15
  137. النازعات 79:16
  138. النازعات 79:17
  139. النازعات 79:18
  140. النازعات 79:19
  141. النازعات 79:20
  142. النازعات 79:21
  143. النازعات 79:22
  144. النازعات 79:23
  145. النازعات 79:24
  146. النازعات 79:25
  147. النازعات 79:26
  148. النازعات 79:27
  149. النازعات 79:28
  150. النازعات 79:29
  151. النازعات 79:30
  152. النازعات 79:31
  153. النازعات 79:32
  154. النازعات 79:33
  155. النازعات 79:34
  156. النازعات 79:35
  157. النازعات 79:36
  158. النازعات 79:37
  159. النازعات 79:38
  160. النازعات 79:39
  161. النازعات 79:40
  162. النازعات 79:41
  163. النازعات 79:42
  164. النازعات 79:43
  165. النازعات 79:44
  166. النازعات 79:45
  167. النازعات 79:46
  168. عبس 80:1
  169. عبس 80:2
  170. عبس 80:3
  171. عبس 80:4
  172. عبس 80:5
  173. عبس 80:6
  174. عبس 80:7
  175. عبس 80:8
  176. عبس 80:9
  177. عبس 80:10
  178. عبس 80:11
  179. عبس 80:12
  180. عبس 80:13
  181. عبس 80:14
  182. عبس 80:15
  183. عبس 80:16
  184. عبس 80:17
  185. عبس 80:18
  186. عبس 80:19
  187. عبس 80:20
  188. عبس 80:21
  189. عبس 80:22
  190. عبس 80:23
  191. عبس 80:24
  192. عبس 80:25
  193. عبس 80:26
  194. عبس 80:27
  195. عبس 80:28
  196. عبس 80:29
  197. عبس 80:30
  198. عبس 80:31
  199. عبس 80:32
  200. عبس 80:33
  201. عبس 80:34
  202. عبس 80:35
  203. عبس 80:36
  204. عبس 80:37
  205. عبس 80:38
  206. عبس 80:39
  207. عبس 80:40
  208. عبس 80:41
  209. عبس 80:42

الإنسان 76:1

یہ استفہام تقریری ہے ، یعنی کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت کی اطلاع دینا مقصود ہے کہ ایسا ضرور تھا۔ لیکن سوالیہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا کہ انسان کو خود اس حقیقت کے بارے میں سوال کرنا چاہئے ، اور سوچنا چاہئے کہ وہ کسی وقت کوئی قابل ذکر شے نہ تھا اور جب وہ اب ایک قابل ذکر شے ہے تو اسے دست قدرت کا کسی قدر تو شعور ہونا چاہئے جو اسے عدم سے وجود میں لائی اور تاریکیوں سے روشنی کی طرف لائی۔ جہاں یہ اس دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ بہرحال استفہامیہ اور سوالیہ انداز میں ، اس مقام پر چند حقائق کی طرف اشارے کیے گئے ہیں۔ یہ نہایت ہی اونچے درجے کے اشارات ہیں۔ گہرے حقائق ہیں اور ان کو پیش نظر رکھ کر قابل غور نکات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ ذرا اپنے وجود میں آنے سے قبل اور آغاز وجود کے زمانے اور حالات پر غور کرو ، کہ یہ دنیا ایسی ہی تھی اور اس پر انسان آباد نہ تھا۔ ذرا غور کرو کہ اس وقت یہ دنیا کیسی لگ رہی ہوگی ؟ انسان اللہ کی ایک مخلوق ہے ، لیکن اپنے آپ کو ایک بڑی چیز سمجھتا ہے اور مغرور ہے۔ لیکن وہ نہیں سوچتا کہ یہ دنیا اس کے وجود میں آنے سے بھی پہلے زمانوں سے ایسی ہی تھی۔ بلکہ اس کائنات کی مخلوق انسان کی تخلیق کی توقع ہی نہ رکھتی تھی۔ لیکن اللہ کا ارادہ ہو اور اس نے انسان کی تخلیق فرمائی۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ ذرا ان لمحات پر غور کرو جن میں یہ مخلوق انسانی وجود میں آئی۔ ان لمحات کے بارے میں انسان تو ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے جبکہ تخلیق انسان کے آغاز کا علم تو خالق کائنات ہی کو ہوسکتا ہے۔ یہ تو خالق ہی جانتا ہے کہ اس کائنات اور دنیا میں حضرت انسان کا اضافہ کس طرح ہوا۔ اس کائنات کی طویل تایرخ میں اللہ ہی نے انسان کے لئے مخصوص کردار متعین کیا ہے۔ ایک نکتہ یہ ہے اس ذات انسان کو ، کائنات کے اس اسٹیج پر ، دست قدرت نے کس طرح لاکر کھڑا کیا اور ایک ذمہ داری اور ایک کردار اس کے سپرد کیا ؟ اس کے لئے اسے تیار کیا۔ اس کے کردار کا تانا بانا اس پوری کائنات کے خطوط کے ساتھ ملایا۔ اور وہ حالات اس کے لئے مہیا کیے جن کے اندر اس کے لئے وہ کردار ادا کرنا ممکن اور آسان ہو۔ جو اس کے سپرد کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد قدم قدم پر اس کے لئے سہولیات فراہم کیں۔ یوں یہ حضرت انسان اس کائنات کی ہر چیز کے ساتھ وابستہ وپیوستہ ہوگیا۔ بہت سے اشارات ہیں اور بہت سے قابل غور نکات ہیں جو یہ آیات قلب انسانی کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ جن سے انسانی سوچ اور انسانی فکر ، انسان کے مقصد وجود ، اس کے ارادوں اور آغاز سے انجام تک ہر مرحلے پر اس کے نظام تقدیر کے نکات اخذ کرتی ہے۔ یہ تو تھے نکات انسان کے آغاز تخلیق کے متعلق۔ رہا وہ نظام جو نسل انسانی کے بقائے دوام کے لئے اور تاقیامت تسلسل کے لئے وضع کیا گیا تو وہ نظام بالکل مختلف ہے اور اس کا ایک اپنا قصہ ہے۔

الإنسان 76:2

انا خلقنا ............................ بصیرا (2:76) ” ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لئے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا “۔ امشاج کے معنی ہیں مخلوط۔ یہ اشارہ ہے اس حالت کی طرف جب مرد کا خلیہ عورت کے ہیضے میں داخل ہوکر اس کے ساتھ خلط ہوجاتا ہے اور اس میں مرد اور عورت کی موروثی خصوصیات کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے ، جن کو علمائے حیاتیات ” جینز “ کہتے ہیں۔ یہ وہ خصائص ہیں جو جنس انسانی کو دوسرے زندہ اجناس سے ممیز کرتے ہیں ، پھر اس کے ذریعہ خاندانی موروثی خصائص بھی بچے میں منتقل ہوتے ہیں۔ اور انسانی نطفہ انسانی جنین کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اور دوسرے حیوانات سے مختلف شکل اختیار کرتا ہے اور یہی مخلوط نطفہ ہے جس کی طرف مرد اور عورت کی وراثتی خصوصیات منسوب کی جاتی ہیں بلکہ یہ مخلوط نطفہ کئی مختلف وراثتی خصوصیات کا محزن ہوتا ہے۔ یوں اللہ نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا۔ یہ نہ اتفاقاً پیدا ہوا ہے۔ اور نہ اس کی تخلیق ایک بےمقصد اور عبث ہے۔ اسے کھیل کے طور پر پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ انسان کو ایک ذمہ دار مخلوق کے طور پر امتحان اور آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ آزمائش کیا ہے ؟ کیا امتحان ہے ؟ اور اس امتحان کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ البتہ انسان دنیا کے اسٹیج پر جو ڈرامہ کرتا ہے ، یہ محض نتیجے کے اظہار کے لئے ہے تاکہ یہ نتیجہ کھلی عدالت میں پیش ہو اور اس کے اوپر جزا وسزا مرتب ہوں۔ اور لوگ اپنے اچھے اور برے انجام تک پہنچیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انسان کو سمیع وبصیر بنایا ہے۔ یعنی اسے ادراک کے وسائل دیئے ہیں کہ وہ نیک وبد کو سمجھ سکے اور جان سکے ۔ اور اس دنیا کے افعال واشیاء کی حقیقت کو اچھی طرح پاسکے اور اس امتحان کو اچھی طرح پاس کرسکے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انسان کے سلسلہ توالد وتناسل کو چلانے کا جو ارادہ کیا اور اس کے لئے جو نظام متعین فرمایا وہ نطفہ مخلوط سے اس کی تخلیق کا نظام ہے۔ اور اس میں گہری حکمت اور گہری مقصدیت ہے۔ یہ کوئی اتفاقی اور بےسوچے سمجھے کا سلسلہ نہیں ہے۔ اور یہ حکمت اور مقصد اس انسان کو آزمانا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس ذات کے اندر ہدایت کے اخذ کرنے اور حق کی قبولیت کی استعداد رکھی۔ اور پھر اسے علم ومعرفت اور قدرت واختیار عطا کیا گیا اور یہ تمام صلاحیتیں ، علم وادراک اور اخذ ہدایت اور تربیت کی اللہ نے ایک نہایت ہی متعین وزن اور مقدار کے ساتھ اسے عطا کیں۔ پھر علم ومعرفت اور فہم وادراک کے ساتھ ساتھ اسے یہ قدرت اور اختیار بھی دیا کہ وہ راہ حق کو اختیار کرے۔ چناچہ اسے حق و باطل کی تمیز دے کر چھوڑ دیا کہ جو راہ چاہے اختیار کرے۔ خواہ اللہ کی راہ اختیار کرے یا اس کے سوا کوئی اور راہ اختیار کرے۔

الإنسان 76:3

انا ھدینہ ............................ کفورا (3:76) ” اور ہم نے اسے راستہ دکھادیا ، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا “۔ یہاں اللہ نے راہ ہدایت کی تعبیر شکر نعمت سے کی ہے۔ کیونکہ جب کسی کو ہدایت عطا کردی جاتی ہے تو اس کے پردہ شعور پر سب سے پہلے شکر کا احساس نمودار ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ وہ قابل ذکر چیز نہ تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے انسانیت عطا کرکے ایک قابل ذکر چیز بنایا۔ پھر اسے سمع وبصر کرکے دوسرے حیوانات سے ممتاز کیا اور یوں وہ علم ومعرفت پر قادر ہوا ، پھر اسے ازروئے فطرت اور بذریعہ انبیاء ہدایت عطا فرمائی اور آزاد چھوڑ دیا کہ وہ راہ ہدایت اختیار کرکے مشکور بنے یا راہ ضلالت اختیار کرکے کفور اور ناشکرا بنے۔ لفظ کفور کے مفہوم میں ہے کہ ناشکری میں وہ غلو کرے۔ ان تین توجہ مبذول کرنے والی چٹکیوں اور تنبیہات کے بعد اب انسان محسوس کرلیتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار اور بامقصد مخلوق ہے اور وہ آزاد نہیں ہے بلکہ ایک محور کے گرد بندھا ہوا ہے۔ اور گھوم رہا ہے۔ اور اسے جو صلاحیتیں دی گئی ہیں ان پر اس سے حساب کیا جارہا ہے اور یہ جہاں اس کے لئے دارالامتحان ہے۔ یہاں اسے آزمائشی طور پر رکھا گیا ہے۔ یہاں اسے کھیل کے میدان میں نہیں اتارا گیا بلکہ امتحان کے کمزرہ میں بٹھایا گیا ہے۔ غرض ان مختصرتین آیات سے فکرونظر کا بےبہا خزانہ نکلتا ہے اور بلند افکار اور تصورات اور گہری حکمت کے جوہر ظاہر ہوتے ہیں جبکہ ان تمام نکات کے نتیجے میں انسان پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور شعور کی پختگی اور طرز عمل میں سنجیدگی اور وقار حاصل ہوتا ہے۔ یہ مختصر آیات انسان کا نظریہ حیات متعین کردیتی ہیں۔ اس کے وجود کا مقصد بتاتی ہیں اور زندگی کا شعور عطا کرتی ہیں۔ اور ان کی روشنی میں انسان اپنی زندگی اور اس کی قدروں کا تعین کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان آیات کے بعد متصلایہ بتادیا جاتا ہے کہ اس آزمائش اور ابتلا کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ اور انسان اگر شکر کی راہ لے گا تو نتیجہ کیا ہوگا اور اگر انسان کفر اور کفران کی راہ لے گا تو انجام کیا ہوگا ؟ جو کفر اور ناشکری کی راہ لیں گے ، ان کا انجام نہایت ہی اختصار کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ پوری سورت کی فضا اور اس کا انداز نرم ونازک اور سہولتوں اور خوشیوں اور جنتوں کی دائمی نعمتوں کا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ عذاب جہنم کی تفصیلات دے کر اس سورت کی فضا کو مکدر کرنا نہیں چاہتے۔ نہایت اختصار کے ساتھ فرماتے ہیں :

الإنسان 76:4

انا اعتدنا ........................................ سعیرا ” کفر کرنے والوں کے لئے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کررکھی ہے “۔ زنجریں ان کے پاﺅں میں ہوں گی ، طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے ، یہ لوگ زنجیروں میں بندھے ہوئے اور ہتھ کڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم میں گرائے جائیں گے۔ لیکن اس مختصر ذکر کے بعد اب جنت کی نعمتوں کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے اور نہایت سرعت کے ساتھ اور قدرے تفصیل کے ساتھ۔

الإنسان 76:5

ان الابرار .................................... تفجیرا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک لوگوں کا مشروب ایسا ہوگا کہ اس میں کافور کی ملاوٹ ہوگی ، یہ مشروب ایک ایسے چشمے سے بھر کردیا جائے گا ، جو ان کے لئے خصوصی طور پر بہایا گیا ہوگا۔ یعنی وہ نہر کی طرح وافر اور کثیر مقدار میں ہوگا۔ عربوں کی یہ عادت تھی کہ شراب میں کبھی کافور اک بھی زنجبیل (سونٹھ) کا آمیزہ کرتے تھے۔ اور اس طرح شراب کو زیادہ لذیذ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں انہیں بتایا جاتا ہے کہ جنت میں بھی پاک اور صاف مشروب ہوگا ، جس میں کافور کا آمیزہ ہوگا اور یہ شراب بڑی وافر مقدار میں ہوگی۔ اس کا معیار کیا ہوگا ، یہ دنیا کی شراب کے مقابلے میں بہت خوش ذائقہ ہوگی اور اس کی لذت اس قدر زیادہ ہوگی کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ تو درحقیقت قریب الفہم بنانے کے لئے ان اصطلاحات کے اندر کہا جارہا تھا تاکہ لوگ سمجھ سکیں ورنہ جنت کی نعمتیں عالم غیب میں ہیں۔ ان کا صحیح تصور اور ان کی تصحیح تعبیر ہم نہیں کرسکتے۔ اہل جنت کو پہلی آیت میں الابرار کہا گیا ہے اور دوسری میں عباد اللہ کہا گیا ہے۔ یہ محض قرب و محبت کے اظہار کے لئے اور فضل وکرم کے اعلان کے لئے ہے اللہ کے یہ بندے اللہ کے قریب ہوں گے۔ اور ان کے اوصاف اور خدوخال یہ ہوں گے :

الإنسان 76:6

ان الابرار .................................... تفجیرا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک لوگوں کا مشروب ایسا ہوگا کہ اس میں کافور کی ملاوٹ ہوگی ، یہ مشروب ایک ایسے چشمے سے بھر کردیا جائے گا ، جو ان کے لئے خصوصی طور پر بہایا گیا ہوگا۔ یعنی وہ نہر کی طرح وافر اور کثیر مقدار میں ہوگا۔ عربوں کی یہ عادت تھی کہ شراب میں کبھی کافور اک بھی زنجبیل (سونٹھ) کا آمیزہ کرتے تھے۔ اور اس طرح شراب کو زیادہ لذیذ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں انہیں بتایا جاتا ہے کہ جنت میں بھی پاک اور صاف مشروب ہوگا ، جس میں کافور کا آمیزہ ہوگا اور یہ شراب بڑی وافر مقدار میں ہوگی۔ اس کا معیار کیا ہوگا ، یہ دنیا کی شراب کے مقابلے میں بہت خوش ذائقہ ہوگی اور اس کی لذت اس قدر زیادہ ہوگی کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ تو درحقیقت قریب الفہم بنانے کے لئے ان اصطلاحات کے اندر کہا جارہا تھا تاکہ لوگ سمجھ سکیں ورنہ جنت کی نعمتیں عالم غیب میں ہیں۔ ان کا صحیح تصور اور ان کی تصحیح تعبیر ہم نہیں کرسکتے۔ اہل جنت کو پہلی آیت میں الابرار کہا گیا ہے اور دوسری میں عباد اللہ کہا گیا ہے۔ یہ محض قرب و محبت کے اظہار کے لئے اور فضل وکرم کے اعلان کے لئے ہے اللہ کے یہ بندے اللہ کے قریب ہوں گے۔ اور ان کے اوصاف اور خدوخال یہ ہوں گے :

الإنسان 76:7

یہ نہایت روشن اور شفاف تصویر ہے اور یہ ان مخلصین اور سچے لوگوں کی شکل ہے جو اللہ کے احکام اور اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے بندوں پر غایت درجہ مہربان ہوتے ہیں۔ اور اپنے مقابلے میں دوسرے بندگان خدا کو ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کا ڈر اور خوف ان پر طاری رہتا ہے ، وہ اللہ کی رضامندی کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اور ان پر اسلام کے حوالے جو بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے وہ اللہ کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے ہیں۔ یوفون بالنذر (v:76) ” وہ نذر پوری کرتے ہیں “۔ یعنی جو عبادات اور نیک کام خود اپنے اوپر لازم کرتے ہیں ، ان کی وفا کرتے ہیں یعنی وہ دین اسلام کے معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہیں۔ وہ ان ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے کی سعی نہیں کرتے اور نہ ذمہ داری قبول کرکے اور اس کا حلف اٹھانے کے بعد اسے نظرانداز کرتے ہیں۔ یہی ہے معنی اس بات کا کہ وہ نذر پوری کرتے ہیں۔ یہ ہے مفہوم یوفون بالنذر کا۔ اس کا مفہوم فقہی اور معروف نذر ونیاز سے زیادہ وسیع ہے۔ جس میں اجتماعی اور دینی ذمہ داریاں بھی داخل ہیں۔ ویخافون .................... مستطیرا (7:76) ” اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی “۔ وہ اس دن کی حالت اور صفت کا نقشہ ان کے ذہن میں بڑی خوبی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے ، جس کی مصیبت عام ہوگی اور تمام قصور واروں اور بدکاروں تک اس دن کی مصیبت پہنچے گی۔ لہٰذا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اس دن کے عام اور وسیع شر کے زد میں کہیں وہ نہ آجائیں۔ یہ ہے حالت ان کے موقف اور تقویٰ کی۔ وہ اس بھاری ذمہ داری اور دین کے عظیم فرائض کا شدید احساس رکھتے ہیں اور کوتاہیوں اور قصوروں سے ڈرتے ہیں۔ اگرچہ وہ عبادت گزار اور اطاعت شعار ہوں۔

الإنسان 76:8

ویطعمون .................... واسیرا (8:76) ” اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدکو کھانا کھلاتے ہیں “۔ یہ ان کی نیکی ، مہربانی اور بھلائی کا شعور ہے لیکن اس کا اظہار مساکین وغیرہ کو کھانا کھلانے کی شکل میں کیا گیا ہے۔ باوجود اس کے کہ ان کو اس کھانے کی خود اشد ضرورت ہے ، کیونکہ ایسے لوگوں کے بارے میں نہیں کہا جاسکتا کہ یہ لوگ اس کھانے سے محبت کرتے ہیں ، الایہ کہ وہ خود اس کی طرف محتاج ہوں ، لیکن اس احتیاج کے باوجود وہ ایثار کرتے ہیں اور یہ کھانا دوسروں پر خرچ کرتے ہیں۔ اس صفت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے اندر موجود مشرک معاشرے میں معاشی صورت حال کیا تھی ، یہاں غرباء اور محتاجوں پر اتفاق کا کوئی رواج نہ تھا۔ فخر ومباہات اور نمائش کے لئے تو وہ بہت کچھ لٹا دیتے تھے لیکن غریبوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہ تھی۔ اس خود غرضی اور کنجوسی کے میدان میں اسلام کے پرور دہ یہ نیک لوگ ہی غرباء کے لئے سایہ دار درخت تھے۔ وہ اپنی ذاتی محتاجی کے باوجود لوگوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ خلوص اور محبت کے جذبات کے ساتھ اور اللہ کی رضامندی کی خاطر وہ یہ نیکی کرتے تھے۔ چناچہ ان کی نیت اور ان کے مقصد کو بھی یہاں ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ کس طرح اور کیونکر خرچ کرتے تھے۔

الإنسان 76:9

انما نطعمکم .................................... قمطریرا (9:76 تا 10) ” ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ ، ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا “۔ یہ گویا بلند پایہ قلوب کے اندر رحمت اور محبت کی موجیں ہیں۔ اور یہ محض اللہ کی رضامندی کے حصول کے لئے ہیں۔ ان مہربانیوں سے وہ کوئی جزاء اور کوئی معاوضہ بلکہ شکریہ تک نہیں چاہتے۔ نہ کبرو غرور کا اظہار کرتے ہیں اور نہ غرباء پر اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بس وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس فعل کی وجہ سے سخت مصیبت کے دن کی تکالیف سے بچ جائیں ، کیونکہ صدقہ کی وجہ سے مصیبت ٹلتی ہے اور اہل ایمان کو حضور اکرم ﷺ نے بتایا ہے۔ اتق .................... تمرہ ” آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے دانے کی ایک پھاڑی کے ساتھ “۔ اطعام مساکین دراصل اس اعلیٰ جذبے کا اظہار تھا جو یہ لوگ اپنے اندر رکھتے تھے۔ یوں وہ محتاجوں کی بنیادی ضروریات کا انتظام کرتے تھے ، لیکن غریبوں اور محتاجوں کی امداد کی شکل و صورت مختلف معاشروں میں مختلف ہوسکتی ہے ، لہٰذا ضروری نہیں ہے کہ غریبوں اور محتاجوں کے طعام کی شکل و صورت وہی ہو جو ابتدائی دور میں مروج تھی۔ اصل بات وہ جذبہ ہے جو اطعام المساکین کی تہہ میں کام کررہا ہوتا ہے۔ ہر معاشرے میں اہل ثروت کو اسے زندہ رکھنا چاہئے اور اس معاملے میں ان کے دلوں کو حساس ہونا چاہئے۔ جذبات زندہ ہوں اور دلوں کے اندر جذبہ خیر موجزن ہو ، اور بھلائی کے اس جذبے کے تحت ماسوائے رضائے الٰہی کے اور کوئی دنیاوی مقصد نہ ہو کہ کوئی دنیاوی نفع مقصود ہو یہاں تک کہ شکریہ کی توقع تک پیش نظر نہ ہو۔ دور جدید میں منظم ٹیکس نافذ کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کے ذمہ فرائض عائد کیے جاتے ہیں اور حکومتیں اجتماعی کفالت کے لئے بجٹ عائد کرتی ہیں۔ اور محتاجوں کی امداد بھی کی جاتی ہے لیکن ان آیات میں اسلامی نظام نے جو ہدایات دی ہیں ، ان اقدامات کے ذریعہ ان کا ایک پہلو ہی پورا ہوتا ہے اور جسے فریضہ زکوٰة کے ذریعہ پورا کیا گیا ہے۔ لیکن یہ ایک پہلو ہے یعنی محتاجوں کی ضروریات کو پ ورا کرنا ، جبکہ اسلامی نظام کے پیش نظر یہ بھی ہے کہ دہندگان کو بھی روحانی پاکیزگی حاصل ہو اور وہ بھی اعلیٰ سطح تک بلند ہوں ، محتاجوں کی مدد کرنے والوں کی تہذیب اور تربیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ بعض لوگ غرباء کی امداد کو ایک برا فعل تصور کرتے ہیں کہ اس طرح غرباء ذلیل ہوتے ہیں اور دینے والوں کا بھی مزاج بگڑ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام دلوں کا عقیدہ ہے ، وہ ایک نظام تربیت ہے ، اگر جذبہ انفاق درست ہو تو اس کے ذریعہ انفاق کرنے والے کی بھی اصلاح ہوتی ہے اور غرباء کو بھی نفع ہوتا ہے۔ یوں انفاق سے دو فائدے ہوتے ہیں ، جو اس دین کے پیش ہیں۔

الإنسان 76:10

انما نطعمکم .................................... قمطریرا (9:76 تا 10) ” ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ ، ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا “۔ یہ گویا بلند پایہ قلوب کے اندر رحمت اور محبت کی موجیں ہیں۔ اور یہ محض اللہ کی رضامندی کے حصول کے لئے ہیں۔ ان مہربانیوں سے وہ کوئی جزاء اور کوئی معاوضہ بلکہ شکریہ تک نہیں چاہتے۔ نہ کبرو غرور کا اظہار کرتے ہیں اور نہ غرباء پر اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بس وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس فعل کی وجہ سے سخت مصیبت کے دن کی تکالیف سے بچ جائیں ، کیونکہ صدقہ کی وجہ سے مصیبت ٹلتی ہے اور اہل ایمان کو حضور اکرم ﷺ نے بتایا ہے۔ اتق .................... تمرہ ” آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے دانے کی ایک پھاڑی کے ساتھ “۔ اطعام مساکین دراصل اس اعلیٰ جذبے کا اظہار تھا جو یہ لوگ اپنے اندر رکھتے تھے۔ یوں وہ محتاجوں کی بنیادی ضروریات کا انتظام کرتے تھے ، لیکن غریبوں اور محتاجوں کی امداد کی شکل و صورت مختلف معاشروں میں مختلف ہوسکتی ہے ، لہٰذا ضروری نہیں ہے کہ غریبوں اور محتاجوں کے طعام کی شکل و صورت وہی ہو جو ابتدائی دور میں مروج تھی۔ اصل بات وہ جذبہ ہے جو اطعام المساکین کی تہہ میں کام کررہا ہوتا ہے۔ ہر معاشرے میں اہل ثروت کو اسے زندہ رکھنا چاہئے اور اس معاملے میں ان کے دلوں کو حساس ہونا چاہئے۔ جذبات زندہ ہوں اور دلوں کے اندر جذبہ خیر موجزن ہو ، اور بھلائی کے اس جذبے کے تحت ماسوائے رضائے الٰہی کے اور کوئی دنیاوی مقصد نہ ہو کہ کوئی دنیاوی نفع مقصود ہو یہاں تک کہ شکریہ کی توقع تک پیش نظر نہ ہو۔ دور جدید میں منظم ٹیکس نافذ کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کے ذمہ فرائض عائد کیے جاتے ہیں اور حکومتیں اجتماعی کفالت کے لئے بجٹ عائد کرتی ہیں۔ اور محتاجوں کی امداد بھی کی جاتی ہے لیکن ان آیات میں اسلامی نظام نے جو ہدایات دی ہیں ، ان اقدامات کے ذریعہ ان کا ایک پہلو ہی پورا ہوتا ہے اور جسے فریضہ زکوٰة کے ذریعہ پورا کیا گیا ہے۔ لیکن یہ ایک پہلو ہے یعنی محتاجوں کی ضروریات کو پ ورا کرنا ، جبکہ اسلامی نظام کے پیش نظر یہ بھی ہے کہ دہندگان کو بھی روحانی پاکیزگی حاصل ہو اور وہ بھی اعلیٰ سطح تک بلند ہوں ، محتاجوں کی مدد کرنے والوں کی تہذیب اور تربیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ بعض لوگ غرباء کی امداد کو ایک برا فعل تصور کرتے ہیں کہ اس طرح غرباء ذلیل ہوتے ہیں اور دینے والوں کا بھی مزاج بگڑ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام دلوں کا عقیدہ ہے ، وہ ایک نظام تربیت ہے ، اگر جذبہ انفاق درست ہو تو اس کے ذریعہ انفاق کرنے والے کی بھی اصلاح ہوتی ہے اور غرباء کو بھی نفع ہوتا ہے۔ یوں انفاق سے دو فائدے ہوتے ہیں ، جو اس دین کے پیش ہیں۔

الإنسان 76:11

یہاں نہایت تیزی کے ساتھ یہ اعلان کردیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس دن کے شر سے بچا لیے جائیں گے جس سے وہ بہت ڈرتے ہیں تاکہ دنیا میں بھی یہ لوگ مطمئن ہوجائیں کیونکہ یہاں وہ قرآن کریم کی ہدایات اخذ کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں ، اس لئے وہاں ان کو اللہ کی جانب سے تروتازگی اور مسرت حاصل ہوگی۔ ان کو سخت مصیبت والے دن کا وہاں احساس ہی نہ ہوگا کیونکہ یہاں وہ خوف کھاتے تھے اور اللہ کے سامنے جانے سے ڈرتے تھے۔ چناچہ قیامت میں ان کے دل تروتازہ اور ان کا شعور مسرت آمیز ہوگا۔

الإنسان 76:12

اس کے بعد جنت کی نعمتوں کا مزید ذکر اور تفصیلات :۔ وجزھم .................... وحریرا ” اور ان کے صبر کے بدلے میں انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا “۔ اس جنت میں ان کی مستقل رہائش ہوگی اور ریشمی لباس ہوگا جسے وہ پہنیں گے۔

الإنسان 76:13

متکئین ........................ زمھریرا گویا وہاں ان کی محفلیں منعقد ہوتی رہیں گی جن میں وہ اطمینان کے ساتھ بیٹھیں گے اور سب کے سب خوشحال اور نعمتوں اور آسائشوں میں ڈوبے ہوئے ، خوشگوار موسموں میں ہوں گے جہاں نہ گرمی کی شدت ہوگی اور نہ سردیوں کی منجمد کرنے والی سردی ہوگی۔ بہرحال وہ ایک دوسرا جہاں ہوگا ۔ جس میں ہمارے جہاں والے شمس وقمرنہ ہوں گے۔ ایک نئی دنیا ہوگی یہی ہم کہہ سکتے ہیں۔

الإنسان 76:14

ودانیة ............................ تذلیلا ۔ یہ کہ چھاﺅں بھی قریب ہوگی اور جنت کے درختوں کے پھل بھی ان پر جھکے ہوں گے ، تو اس سے زیادہ خوشی اور مسرت اور عیش و عشرت کیا ہوسکتی ہے۔ یہ اعلیٰ ترین تصور ہے ، خوشحالی اور فارغ البالی کا۔ یہ تو ہے اس جنت کی عمومی صورت حال جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے تیار کیا ہے ، جن کے لئے یہ صورت بیان کی گئی ہے ، جو نہایت ہی خوبصورت ہے اور روشن ہے تاکہ دنیا میں کتاب الٰہی میں پڑھ کر وہ خوش ہوں۔ ان نعمتوں اور سہولیات کی مزید تفصیلات :۔

الإنسان 76:15

ویطاف ........................ سلسبیلا یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک ایسے جاری چشمے سے بھر کر لایا جائے گا جسے سلسبیل کہا جائے گا اور یہ نہایت ہی میٹھا اور خوشگوار ہوگا۔ اب خوشی میں مزید اضافے کے طور پر جو لوگ یہ چاندی کے برتنوں میں شراب طہور پیش کررہے ہوں گے وہ نہایت ہی خوبصورت لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ ایسے لڑکے رہیں گے اور روشن چہرے والے ہوں گے۔ یہ وقت گزر جانے کے ساتھ بوڑھے نہ ہوں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ لڑکوں کی طرح تروتازہ اور خوبصورت چہروں والے ہوں گے۔ وہ یوں نظر آئیں گے جیسے موتی جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔

الإنسان 76:16

ویطاف ........................ سلسبیلا یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک ایسے جاری چشمے سے بھر کر لایا جائے گا جسے سلسبیل کہا جائے گا اور یہ نہایت ہی میٹھا اور خوشگوار ہوگا۔ اب خوشی میں مزید اضافے کے طور پر جو لوگ یہ چاندی کے برتنوں میں شراب طہور پیش کررہے ہوں گے وہ نہایت ہی خوبصورت لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ ایسے لڑکے رہیں گے اور روشن چہرے والے ہوں گے۔ یہ وقت گزر جانے کے ساتھ بوڑھے نہ ہوں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ لڑکوں کی طرح تروتازہ اور خوبصورت چہروں والے ہوں گے۔ وہ یوں نظر آئیں گے جیسے موتی جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔

الإنسان 76:17

ویطاف ........................ سلسبیلا یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک ایسے جاری چشمے سے بھر کر لایا جائے گا جسے سلسبیل کہا جائے گا اور یہ نہایت ہی میٹھا اور خوشگوار ہوگا۔ اب خوشی میں مزید اضافے کے طور پر جو لوگ یہ چاندی کے برتنوں میں شراب طہور پیش کررہے ہوں گے وہ نہایت ہی خوبصورت لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ ایسے لڑکے رہیں گے اور روشن چہرے والے ہوں گے۔ یہ وقت گزر جانے کے ساتھ بوڑھے نہ ہوں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ لڑکوں کی طرح تروتازہ اور خوبصورت چہروں والے ہوں گے۔ وہ یوں نظر آئیں گے جیسے موتی جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔

الإنسان 76:18

ویطاف ........................ سلسبیلا یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک ایسے جاری چشمے سے بھر کر لایا جائے گا جسے سلسبیل کہا جائے گا اور یہ نہایت ہی میٹھا اور خوشگوار ہوگا۔ اب خوشی میں مزید اضافے کے طور پر جو لوگ یہ چاندی کے برتنوں میں شراب طہور پیش کررہے ہوں گے وہ نہایت ہی خوبصورت لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ ایسے لڑکے رہیں گے اور روشن چہرے والے ہوں گے۔ یہ وقت گزر جانے کے ساتھ بوڑھے نہ ہوں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ لڑکوں کی طرح تروتازہ اور خوبصورت چہروں والے ہوں گے۔ وہ یوں نظر آئیں گے جیسے موتی جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔

الإنسان 76:19

ویطاف ........................ سلسبیلا یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک ایسے جاری چشمے سے بھر کر لایا جائے گا جسے سلسبیل کہا جائے گا اور یہ نہایت ہی میٹھا اور خوشگوار ہوگا۔ اب خوشی میں مزید اضافے کے طور پر جو لوگ یہ چاندی کے برتنوں میں شراب طہور پیش کررہے ہوں گے وہ نہایت ہی خوبصورت لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ ایسے لڑکے رہیں گے اور روشن چہرے والے ہوں گے۔ یہ وقت گزر جانے کے ساتھ بوڑھے نہ ہوں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ لڑکوں کی طرح تروتازہ اور خوبصورت چہروں والے ہوں گے۔ وہ یوں نظر آئیں گے جیسے موتی جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔

الإنسان 76:20

اس کے بعد قرآن مجید ایک نگاہ میں پورے لفظ کو نہایت مختصر الفاظ میں پیش کرتا ہے اور دعوت نظارہ دیتا ہے۔ واذا رایت ................................ کبیرا ہر طرف نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک عظیم مملکت کا سازو سامان ہوگا ، جس میں ابرار عیش کریں گے جو اللہ کے مقرب بندے ہوں گے اور یہ تو تھی جنت کی اجمالی حالت۔ یہاں بعض چیزوں کا خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے جو اس عظیم حکومتی انتظام کا مظہر ہیں گویا یہ حکومتی نظام کا نمونہ ہیں۔

الإنسان 76:21

علیھم ............................ طھورا سندس نہایت باریک ریشم کو کہتے ہیں اور استبرق موٹے ریشم کے کپڑوں کو کہتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب وہ سب زینت کیے ہوئے ہوں اور خوب عیش و عشرت کررہے ہوں ، ان کا رب ان کے لئے یہ انتظام فرمارہا ہوگا ، جو نہایت ہی کریم عطا کنندہ ہے۔ اور اس سے ان انتظامات کی قدر و قیمت اور بڑھ جاتی ہے کہ یہ انتظام رب تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔ اور ان بہترین انتظامات کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اعزاز میں یہ کلمات بھی کہے جائیں گے۔

الإنسان 76:22

ان ھذا ........................ مشکورا عالم بالا سے یہ تقریر ان کے اعزاز میں ہوگی ، چناچہ ان کلمات کی وجہ سے ان انعامات کی قدروقیمت دوچند ہوجاتی ہے۔ ان الفاظ پر انعامات جنت کی یہ تفصیلات ختم ہوتی ہیں۔ اور یوں لوگوں کو پکارا جاتا ہے کہ قیدوبند اور آگ وسلاسل سے بھاگو اور ان نعمتوں میں داخل ہوجاﺅ۔ ابھی وقت ہے اور دونوں راستے تمہارے لئے کھلے ہیں۔ جنت کی طرف اس پکار کی انتہا پر اور جنت کی خوشگوار نعمتوں کے ذکر کے بعد ، اب ان مشرکین کے حالات کو لیا جاتا ہے ، جو عناد میں مبتلا ہیں اور تکذیب پر اصرار کررہے ہیں ، جو دعوت اسلامی کی حقیقت کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے۔ اور وہ دعوت اسلامی کے معاملے میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ سودا بازی کرنا چاہتے ہیں۔ یا وہ چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی بعض ایسی باتوں کو ترک کردیں جن سے ان کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ ایک طرف یہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ سودا بازی کرتے ہیں اور دوسری طرف اہل ایمان پر تشدد کرتے ہیں۔ ان کو ایذائیں دیتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور خود بھلائی ، جنت اور نعیم میں مقیم سے منہ موڑتے ہیں۔ ان حالات میں اس سورت کا یہ آخری حصہ آتا ہے اور ان مسائل پر قرآن کے مخصوص انداز پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔

الإنسان 76:23

انا نحن ................................ طویلا ان چار آیات آیات میں دعوت اسلامی کے حوالے سے ایک عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو داعیان حق کی زندگی میں اچھی طرح رچ اور بس جائے اور وہ ایک طویل عرصہ تک اس حالت میں رہیں اور اس میں غوروفکر کریں اور اس کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کے حقیقی مفہوم ، اس کی عملی شکل اور اس کے ایمانی اور نفسیاتی تقاضوں کو پورا کریں۔ حضور اکرم ﷺ کی دعوت کا بنیادی نکتہ عقیدہ توحید تھا اور آپ ایک عرصہ تک مشرکین مکہ کے سامنے اسے پیش کرتے رہے تھے۔ آپ عقیدہ توحید کو محض ایک عقیدے کے طور پر ان کے سامنے نہ پیش کرتے تھے۔ اگر آپ صرف ایک عقیدے کا اظہار کرتے تو اس کا برداشت کرنا ان کے لئے آسان ہوتا ، کیونکہ عقیدہ شرک جس کے اوپر وہ لوگ جمے ہوئے تھے ، وہ کوئی ٹھوس قوت اور ثبات والا عقیدہ نہ تھا کہ وہ اس کے ذریعہ عقیدہ توحید کا مقابلہ کرسکتے ، کیونکہ اسلامی عقیدہ توحید نہایت قوی ، سادہ اور ٹھوس عقیدہ تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلامی دعوت اور اسلامی عقیدہ توحید کے ساتھ کچھ حالات ایسے تھے جن کی وجہ سے یہ لوگ عناد اور دشمنی پر اتر آئے۔ اور وہ تاریخی کشمکش برپا ہوئی جس کا ذکر قرآن نے بھی جا بجا کیا ہے۔ شرک کے عقیدے کی وجہ سے دراصل قریش کو ایک اجتماعی قیادت کا مقام حاصل تھا۔ اور اس عقیدے کے ارد گرد اعلیٰ خداﺅں کا جو تانا بانا بنا گیا تھا ، اور پھر ان خداﺅں کے ساتھ ان کے جو اجتماعی مفادات وابستہ ہوگئے تھے یہی وہ باتیں تھیں جن کی وجہ سے قریش دعوت اسلامی کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ حالانکہ ان کا موقف بظاہر بالکل باطل تھا۔ اور اس باطل عقیدے کو یہ لوگ لے کر اسلام کے ظاہر ، سادہ اور قوی عقیدے کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ جاہلی زندگی کی عیاشی ، لذت کوشی اور شہوت رانی اور اباحیت ان کو مجبور کررہی تھی کہ اس نئے عقیدہ اور نظام کا مقابلہ کیا جائے۔ کیونکہ اس نظام میں قانونی ، اخلاقی پابندیاں ہیں اور اعلیٰ انسانی قدروں پر زور دیا گیا ہے اور جس میں فحاظی اور آزاد شہوت رانی پر پابندیاں تھیں ، جبکہ وہ ایسی زندگی گزار رہے تھے جو اخلاقی بندھنوں سے آزاد تھی۔ یہ اسباب خواہ ان کا تعلق اجتماعی قیادت وسیادت سے ہو یا اقتدار اور مصالح سے ہو یا عادات ، عرف عام ، رسم و رواج اور موروثی تقالید سے ہو ، یا جن کا تعلق اخلاقی حدود وقیود کی آزادی سے ہو۔ جو پہلی دعوت اسلامی کے مقابلے میں اس وقت کے لوگوں کو اٹھا لائے تھے۔ یہی اسباب آج بھی قائم ہیں اور آج بھی ہر ملک اور ہر سر زمین کی دعوت اسلامی کا مقابلہ انہی اسباب ووجوہات سے کیا جارہا ہے۔ یہ نظریاتی دعوت کا مقابلہ انہی اسباب کی وجہ سے کیا جاتا ہے ، جس کی وجہ دعوت اسلامی کا کام پر مشقت ، مشکل اور دشوار ہوتا ہے۔ لہٰذاداعیان حق کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت پر طویل وقت تک غور وفکر کریں اور ان حقائق میں زندہ رہیں جوان آیات میں بیان ہوئے ہیں ، چاہے یہ داعیان جس زمان ومکان میں ہوں کیونکہ دعوت اسلامی خواہ جس زمان ومکان میں ہو ، اسے انہی حالات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جو حضور اکرم ﷺ کو پیش آئے۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کی جانب سے یہ پیغام ملا کہ آپ لوگوں کو برے انجام سے ڈرائیں اور آپ سے کہا گیا۔ یایھا .................... فانذر (2:74) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے اٹھو اور ڈراﺅ“۔ جب آپ نے دعوت کا آغاز کیا تو یہ اسباب آپ کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوگئے۔ قوم پوری کی پوری دعوت جدید کی راہ روکن کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ جن حالت پر وہ قائم ہیں ان کو جوں کا توں رکھیں ، باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ ان کا عقیدہ کمزور اور ناقابل قیام ہے۔ پہلے ان کے اندر عناد کا جذبہ پیدا ہوا ، پھر انہوں نے اپنے ان کمزور اور بودے عقائد کا دفاع شروع کردیا۔ اور ان کی جو اجتماعی حالت تھی۔ زندگی کے جو رسم و رواج تھے ، جو آزادی اور بےقیدی تھی اور جو عریانی اور فحاشی رائج تھی اس کے دفاع میں یہ لوگ دعوت اسلامی کی راہ روکنے لگے کیونکہ یہ جدید دعوت ان کے لئے خطرہ تھی۔ دعوت اسلامی کا مقابلہ یوں شروع ہوتا ہے کہ ابتداء میں دعوت پر چند سعید روحیں لبیک کہتی ہیں۔ ان کو اذیت دی جاتی ہے اور دھمکیوں اور اذیتوں کے ذریعہ اس کو اس دین سے پھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد دعوت کے خلاف ایسا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں دعوت کی غلط تصور بیٹھ جائے۔ مختلق قسم کے بےبنیاد الزامات عائد کیے جاتے ہیں تاکہ جو لوگ داخل ہوگئے ہوں وہ اگر باز نہیں آئے تو اور لوگ داخل نہ ہوں۔ کیونکہ جو لوگ دعوت اسلامی کو سمجھ چکے ہوتے ہیں ان کو دعوت سے روکنے اور واپس لانے کے مقابلے میں نئے لوگوں کو روکنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ یہ وسائل اختیار کرنے کے بعد انہوں نے حضرت نبی ﷺ پر دھمکیوں اور تشدد کے علاوہ دوسرے تمام دباﺅ بھی ڈالنا شروع کیے کہ آپ ان کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کا طریقہ اختیار کرلیں۔ اور آپ ان کے عقائد ، ان کے رسم و رواج اور بتوں کے خلاف باتیں بند کریں وہ بھی آپ کے ساتھ چھیڑچھاڑ نہیں کریں گے۔ یہ سودا بازی بعینہ ایسی تھی جیسا کہ دنیاوی معاملات کے بارے میں لوگ مصالحت کے لئے درمیانی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی وہ مراحل ہیں جو ہر اس شخص کو پیش آتے جو کھبی زمان ومکان میں منہاج النبوة پر دعوت اسلامی کا کام کرتا ہے۔ نبی ﷺ تو اللہ کے رسول تھے۔ اللہ نے ان کو فتنوں اور دشمنوں سے بچا لیا۔ لیکن آپ بہرحال انسان جانتا تھا کہ آپ بشر ہیں اور آپ کے ساتھی ضعیف ہیں اس لئے اللہ نے ان کو دشمنوں کے حوالے نہیں فرمایا اور ان کی مدد فرمائی۔ اور قدم قدم پر نشانات راہ بتلائے گئے .... چناچہ ان آیات میں اسی امداد کا ذکر ہے اور اس رہنمائی کا ذکر ہے جو اس مشکل مرحلے میں کی گئی۔ انا نحن .................... تنزیلا (23:76) ”” اے نبی ! ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے “۔ یہ پہلا نکتہ توجہ طلب ہے ، بتایا جاتا ہے کہ اس دعوت کا سرچشمہ اور ماخذ کیا ہے۔ یہ دعوت اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف ہے۔ اور اللہ ہی اس کا سرچشمہ ہے۔ اسی نے قرآن نازل کیا ہے۔ اللہ کے سوا اس کے اندر کسی اور کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ اللہ کی دعوت کی سوا کسی اور کی دعوت اس کے ساتھ مل سکتی ہے۔ اس کی ہدایات صرف اللہ سے لی جاتی ہیں۔ اس کی کوئی فکر کسی اور ذریعہ سے نہیں پیش جاتی۔ اللہ ہی نے قرآن کریم نازل فرمایا ہے ، اللہ ہی حضرت نبی ﷺ کو حکم دیا ہے لہٰذا یہ دعوت اللہ کی ہدایت کے مطابق چل رہی ہے اور اس کے بتائے ہوئے نشانات پر جارہی ہے۔ کیونکہ اس دعوت کا ماخذ قرآن ہے جو نازل ہی اللہ نے کیا ہے۔ لیکن باطل نہایت مغرور اور سرکش ہوتا ہے اور شربظاہر پھولا ہوا نظر آتا ہے ، اس لئے مومنین کو اذیت دی جاتی ہے۔ ہر قسم کا شر اور فتنہ ان کی راہ میں ہے۔ دعوت اسلامی کے دشمن صرف یہ کرسکتے ہیں کہ وہ لوگوں کو دعوت اسلامی کو قبول کرنے سے روکیں اور اس پر وہ اصرار کرتے رہیں۔ اس پر مزید یہ کہ وہ اپنے عقائد ، رسم و رواج اور فتنہ انگیزیوں پر جمے ہوتے ہیں۔ شر و فساد اور فتنہ انگیزی کے اس دور میں یہ لوگ مصالحت اور میانہ روی کی پیش کش کرتے ہیں ، معاملات کو نصف نصف تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ان مشکل حالات میں ایک پرکشش پیشکش ہے۔ اور ایسے حالات میں اس قسم کی پیشکش کو رد کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ لیکن ایسے حالات میں ایک دوسری تنبیہ آتی ہے اور اس اہم معاملے کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے۔

الإنسان 76:24

فاصبر لحکم ........................ اوکفورا (24:76) ” لہٰذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو ، اور ان میں سے کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو “۔ کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی۔ نہ تمہارے درمیان کوئی پل ہے ، جس کے اوپر سے خیالات ، نظریات ادھر ادھر جاسکیں۔ کیونکہ تمہارے منہاج اور جاہلیت کے منہاج کے درمیان وسیع خلا ہے۔ اس کائنات کے بارے میں تمہارا تصور ان کے تصورات سے جدا ہے۔ تم حق پر ہو اور وہ کفر پر ہیں۔ تم ایمان پر ہو اور وہ باطل پر ہیں۔ تم نور پر ہو اور وہ اندھیرے میں ہیں۔ تم علم ومعرفت پر ہو اور وہ جاہلیت پر ہیں۔ پھر معاملات تمام اللہ کے احکام کے مطابق ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ اللہ کا حکم اور نظام یہ ہے کہ وہ باطل کو بھی موقعہ اور مہلت دیتا ہے۔ شر کو بھی موقعہ دیتا ہے اور بعض اوقات اہل ایمان کو دیر تک آزمائشوں میں ڈال کر ان کو پاک اور خالص کرتا ہے۔ یہ تمام احکام اللہ کی حکمت کے مطابق صادر ہوتے ہیں ، اللہ کی تقدیر اور حکمت دنیا کو چلاتی ہے۔ لہٰذا۔ فاصبر ............ ربک (24:76) ” رب کے حکم پر صبر کرو “۔ اس وقت تک جب وقت آجائے۔ اذیت پر بھی صبر کرو ، مشکلات پر بھی صبر کرو ، باطل اگر غالب ہو تو بھی صبر کرو۔ شہ رگ پھولی ہوئی ہو تو صبر کرو ، آپ حق کے حامل ہیں۔ اور قرآن آپ کے پاس ہے جو حق پر مشتمل ہے اس لئے آپ حق پر جم جائیں ، صبر کریں اور ان کی پیش کشوں کو نظر انداز کردیں۔ یہ لوگ کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔ کچھ اپنی باتوں منوانا چاہتے ہیں۔ ولا تطع .................... اوکفورا (24:76) ” اور ان میں کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو “۔ کیونکہ یہ لوگ آپ کو اللہ کی عبادت ، اللہ کی اطاعت اور حق پر چلنے نہیں دینا چاہتے۔ کیونکہ یہ لوگ بدکردار اور کفار ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ آپ بھی کسی قدر کفر اور شرک کا ارتکاب کریں تاکہ معاملے کا فیصلہ نصف نصف پر ہوجائے۔ کچھ اچھی باتیں وہ مانیں ، کچھ بری باتیں آپ مان لیں۔ اس طرح وہ آپ کو دھوکہ دے کر راضی کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کی جسمانی خواہشات پوری کرتے ہیں۔ چناچہ وہ آپ کو سربراہی کا منصب پیش کرتے ہیں۔ اور آپ کو دولت کی پیشکش بھی کرتے ہیں۔ عتبہ ابن ربیعہ آپ سے کہتا ہے ” اس کام کو چھوڑ دیجئے ، میں اپنی بیٹی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ میری بیٹیاں قریش کی خوبصورت ترین لڑکیاں ہیں “۔ غرض ہر دور اور ہر زمان ومکان میں داعیان حق کو انہی ذرائع سے ورغلایا گیا ہے۔ صبر کریں اگرچہ طویل عرصہ تک آپ کو جدوجہد کرنی پڑے۔ اگرچہ قریش کا تشدد سخت ہوجائے اور راستہ طویل ہوجائے لیکن صبر تو بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور اس کے لئے سخت تیاری اور ریاضت کی ضرورت ہے اور وہ تیاری یہ ہے۔

الإنسان 76:25

واذکراسم ........................ طویلا (25:76 تا 26) ” اپنے رب کا نام صبح وشام یاد کرو ، رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے زادراہ ۔ صبح وشام اللہ کا نام لینا اور طویل راتوں میں اللہ کی پاکی بیان کرنا ، اس سرچشمے سے رابطہ بحال رکھنا جہاں سے قرآن کریم کا نزول ہورہا ہے۔ جہاں سے دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی برپا کرنے کا حکم صادر ہوا ہے۔ یہی سرچشمہ قوت کا بھی سرچشمہ ہے۔ یہی اس راہ کے سازو سامان کا بھی ماخذ ہے۔ اور اس کے ساتھ رابطے کا طریقہ ذکروفکر ، تسبیح وتہلیل اور دعاء و عبادت ہے۔ خصوصاً طویل راتوں کے اوقات میں۔ اس لئے کہ یہ راہ طویل ہے۔ اور یہ بوجھ بھاری ہے۔ لہٰذا اس راہ کے لئے بہت ہی بڑی مقدار میں زادراہ کی ضرورت ہے۔ اور طویل راتوں کی تنہائیوں میں صرف بندے اور رب کی ملاقات تنہائی میں رہتی ہے۔ نہایت پر امیدی اور محبت کی فضا میں۔ اس ملاقات سے تمام تھکاوٹیں اور تمام الجھنیں حل ہوجاتی ہیں۔ اور ضعیفی اور قلت وسائل کی کمی دور ہوجاتی ہے۔ اور تمام تھکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اور انسان دیکھ لیتا ہے کہ جس مقصد کے لئے وہ کام کررہا ہے وہ ایک عظیم مقصد ہے اور پھر اس کے مقابلے میں جدوجہد اور قربانیاں اور راہ کی مشکلات اور قربانیاں بہت کم نظر آتی ہیں۔ اللہ رحیم وکریم ہے ، اس نے اپنے بندوں کو دعوت کا ذمہ دار بنایا ، اس پر قرآن نازل فرمایا ، انہیں بتایا گیا کہ ان ذمہ داریوں کا بوجھ کیا ہے ، اور راہ کی مشکلات کیا ہیں۔ لہٰذا اللہ نے اپنے نبی کو بےسہارا نہیں چھوڑا۔ اس کی نصرت فرمائی اور یہ تربیت اور راہ کی ان مشکلات کے مقابلے کے لئے تیاری کروانا بھی دراصل اللہ کی مدد اور نصرت ہے۔ اصحاب دعوت اور احیائے اسلام کے لئے کام کرنے والوں کا یہی زادراہ ہے۔ ہر دور میں اور ہر جگہ .... یہ دعوت ایک ہے۔ اس کا طریق کار بھی ایک ہے اور حالات اور واقعات بھی ایک ہیں۔ اہل باطل نہ ہمیشہ اس کے خلاف ایک ہی راستہ اختیار کیا ہے۔ جو وسائل نبی ﷺ کے بر خلاف باطل نے اختیار کیے وہی ہر باطل ہر حق کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ ہمیشہ باطل ایک ہی قسم کے اسباب و وسائل لے کر حق کے مقابلے میں آتا ہے۔ لہٰذا حق کے اسباب اور وسائل بھی وہی ہونے چاہئیں۔ جو اللہ نے اختیار کیے ہیں۔ وہ حقائق کیا ہیں جن کے اندر داعیان حق کو رہنا چاہئے ؟ یہ وہی ہیں جو داعی اول نبی ﷺ کو سکھائے گئے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ دعوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ کام اللہ کا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہ حق جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ اس کے ساتھ باطل کا آمیزہ نہیں ہوسکتا۔ نہ اہل حق اور اہل باطل کے درمیان باہم تعاون ہوسکتا ہے۔ یا کچھ لو اور کچھ دو پر سودا بازی ہوسکتی ہے۔ اس لئے کہ دونوں کے منہاج باہم مختلف ہیں ، دونوں کے راستے جدا ہیں۔ اگر کسی وقت باطل اپنی قوت اور دبدبے کی وجہ سے غالب ہوتا ہے تو اس میں بھی اللہ کی رضا اور حکمت ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں اہل ایمان کے لئے صبر ضروری ہوتا ہے اور اس میں اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ اور اہل حق کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ صبر ، نماز اور تسبیح اور تہلیل اور ذکر وفکر کے ذریعہ مشکلات پر قابو پائیں .... یہ ہے وہ عظیم حقیقت جس کا ادراک ان تمام لوگوں کو اچھی طرح کرلینا چاہئے جو دعوت دین لے کر اٹھتے ہیں۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے منہاج اور طریق کار کے درمیان جو جاہلیت کا منہاج ہے۔ اور اسلامی منہاج اور طریق کار کے درمیان جو خدائی منہاج ہے۔ مکمل جدائی اور فرق ہے۔ یہ لوگ اپنا بھلا نہیں چاہتے ، ان کے اغراض ومقاصد نہایت گرے پڑے ہیں اور ان کی سوچ بہت ہی چھوٹی ہے۔ کیا فرق ہے دونوں میں ؟

الإنسان 76:26

واذکراسم ........................ طویلا (25:76 تا 26) ” اپنے رب کا نام صبح وشام یاد کرو ، رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے زادراہ ۔ صبح وشام اللہ کا نام لینا اور طویل راتوں میں اللہ کی پاکی بیان کرنا ، اس سرچشمے سے رابطہ بحال رکھنا جہاں سے قرآن کریم کا نزول ہورہا ہے۔ جہاں سے دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی برپا کرنے کا حکم صادر ہوا ہے۔ یہی سرچشمہ قوت کا بھی سرچشمہ ہے۔ یہی اس راہ کے سازو سامان کا بھی ماخذ ہے۔ اور اس کے ساتھ رابطے کا طریقہ ذکروفکر ، تسبیح وتہلیل اور دعاء و عبادت ہے۔ خصوصاً طویل راتوں کے اوقات میں۔ اس لئے کہ یہ راہ طویل ہے۔ اور یہ بوجھ بھاری ہے۔ لہٰذا اس راہ کے لئے بہت ہی بڑی مقدار میں زادراہ کی ضرورت ہے۔ اور طویل راتوں کی تنہائیوں میں صرف بندے اور رب کی ملاقات تنہائی میں رہتی ہے۔ نہایت پر امیدی اور محبت کی فضا میں۔ اس ملاقات سے تمام تھکاوٹیں اور تمام الجھنیں حل ہوجاتی ہیں۔ اور ضعیفی اور قلت وسائل کی کمی دور ہوجاتی ہے۔ اور تمام تھکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اور انسان دیکھ لیتا ہے کہ جس مقصد کے لئے وہ کام کررہا ہے وہ ایک عظیم مقصد ہے اور پھر اس کے مقابلے میں جدوجہد اور قربانیاں اور راہ کی مشکلات اور قربانیاں بہت کم نظر آتی ہیں۔ اللہ رحیم وکریم ہے ، اس نے اپنے بندوں کو دعوت کا ذمہ دار بنایا ، اس پر قرآن نازل فرمایا ، انہیں بتایا گیا کہ ان ذمہ داریوں کا بوجھ کیا ہے ، اور راہ کی مشکلات کیا ہیں۔ لہٰذا اللہ نے اپنے نبی کو بےسہارا نہیں چھوڑا۔ اس کی نصرت فرمائی اور یہ تربیت اور راہ کی ان مشکلات کے مقابلے کے لئے تیاری کروانا بھی دراصل اللہ کی مدد اور نصرت ہے۔ اصحاب دعوت اور احیائے اسلام کے لئے کام کرنے والوں کا یہی زادراہ ہے۔ ہر دور میں اور ہر جگہ .... یہ دعوت ایک ہے۔ اس کا طریق کار بھی ایک ہے اور حالات اور واقعات بھی ایک ہیں۔ اہل باطل نہ ہمیشہ اس کے خلاف ایک ہی راستہ اختیار کیا ہے۔ جو وسائل نبی ﷺ کے بر خلاف باطل نے اختیار کیے وہی ہر باطل ہر حق کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ ہمیشہ باطل ایک ہی قسم کے اسباب و وسائل لے کر حق کے مقابلے میں آتا ہے۔ لہٰذا حق کے اسباب اور وسائل بھی وہی ہونے چاہئیں۔ جو اللہ نے اختیار کیے ہیں۔ وہ حقائق کیا ہیں جن کے اندر داعیان حق کو رہنا چاہئے ؟ یہ وہی ہیں جو داعی اول نبی ﷺ کو سکھائے گئے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ دعوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ کام اللہ کا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہ حق جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ اس کے ساتھ باطل کا آمیزہ نہیں ہوسکتا۔ نہ اہل حق اور اہل باطل کے درمیان باہم تعاون ہوسکتا ہے۔ یا کچھ لو اور کچھ دو پر سودا بازی ہوسکتی ہے۔ اس لئے کہ دونوں کے منہاج باہم مختلف ہیں ، دونوں کے راستے جدا ہیں۔ اگر کسی وقت باطل اپنی قوت اور دبدبے کی وجہ سے غالب ہوتا ہے تو اس میں بھی اللہ کی رضا اور حکمت ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں اہل ایمان کے لئے صبر ضروری ہوتا ہے اور اس میں اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ اور اہل حق کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ صبر ، نماز اور تسبیح اور تہلیل اور ذکر وفکر کے ذریعہ مشکلات پر قابو پائیں .... یہ ہے وہ عظیم حقیقت جس کا ادراک ان تمام لوگوں کو اچھی طرح کرلینا چاہئے جو دعوت دین لے کر اٹھتے ہیں۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے منہاج اور طریق کار کے درمیان جو جاہلیت کا منہاج ہے۔ اور اسلامی منہاج اور طریق کار کے درمیان جو خدائی منہاج ہے۔ مکمل جدائی اور فرق ہے۔ یہ لوگ اپنا بھلا نہیں چاہتے ، ان کے اغراض ومقاصد نہایت گرے پڑے ہیں اور ان کی سوچ بہت ہی چھوٹی ہے۔ کیا فرق ہے دونوں میں ؟

الإنسان 76:27

ان ھؤلآئ ........................ ثقیلا ” یہ لوگ تو جلدی حاصل کرنے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کردیتے ہیں “۔ یہ لوگ جن کی امیدیں نہایت ہی قریبی ہیں ، جو نہایت ہی چھوٹی چیزوں کو بڑی اور اہم سمجھتے ہیں ، جن کی سوچ اور جن کے مطالبے بہت ہی چھوٹے ہیں۔ یہ چھوٹے لوگ ہیں اور یہ اس دنیا ہی میں گم ہیں ، دنیا کے شب وروز ہی ان کے لئے اہم ہیں۔ اور وہ عظیم اور ثقیل دن اور بھاری ذمہ داریوں کا دن ان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ حالانکہ وہ بہت ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی اطاعت کسی چیز میں نہیں کی جاسکتی۔ جن کا اتباع کسی راہ پر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مومنین کے ساتھ کسی دورا ہے پر ملتے ہی نہیں ، کسی نکتے پر ہم مقصد نہیں۔ ان کی نظریں دنیا پر ہیں ، دنیا کے اقتدار اور مال واسباب پر ہیں ، جو نہایت ہی حقیر وقلیل قدروقیمت کی حامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اصل چیز سے غافل ہیں۔ یہ لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز کو حاصل کرتے ہیں اور وہ بھاری نتائج کا دن جب یہ زنجیروں اور طوق وسلاسل میں کجڑے ہوں گے اور سخت حساب و کتاب ہوگا۔ اسے یہ بھولے ہوئے ہیں۔ اس آیت میں روئے سخن تو نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی طرف ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں اور ان کے ساتھ سلوک ایسا ہونا چاہئے لیکن بالواسطہ یہ ان لوگوں کی ایک قسم کی دھمکی ہے جو دنیا پرست ہیں اور دنیا کے اہتمامات میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ایسے دنیا پرست لوگ درحقیقت اسلامی تحریک کے کام کے نہیں۔ اب یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ ہی نے ان کو یہ حالات دیئے ہیں ، یہ قوت ، یہ مقام ، یہ شوکت ، ان کو اللہ ہی نے دی ہے۔ اور اللہ اس پر قادر ہے کہ ان لوگوں کو ضعیف وناتواں بنادے اور ان سے ان کی یہ حالت چھین لے لیکن اللہ کے کام گہری حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اس دنیا کو ایک طویل عرصے سے اپنی حکمتوں کے مطابق چلاتا آرہا ہے۔

الإنسان 76:28

نحن خلقنھم .................... تبدیلا یہ ذرا ان لوگوں کو تنبیہہ اور تذکیر ہے جو اپنی قوتوں پر مغرور ہیں کہ تمہاری قوت بلکہ تمہارے وجود کا سرچشمہ بھی درحقیقت ہم ہیں۔ اور اس کے بعد مومنین کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اگرچہ تم قلیل و ضعیف ہو لیکن تم جس ذات کی دعوت لے کر اٹھے ہو وہ نہایت ہی قوت والی ذات ہے۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ تمام واقعات اللہ کی قدرت سے وجود میں آتے ہیں اور ان کی پشت پر اللہ کی قدرت کار فرما ہوتی ہے۔ اور تمام امور اس کی حکمت کے مطابق سرانجام پاتے ہیں اور وہ احکم الحاکمین ہے۔ واذا شئنا ................ تبدیلا (18:76) ” اور جب ہم چاہیں ان کو بدل کر رکھ دیں “۔ اللہ کے مقابلے میں یہ کچھ نہیں کرسکتے۔ اللہ نے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔ یو قوت اللہ ہی نے ان کو دی ہے۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کے مقابلے میں ایک دوسری قوم اٹھا دے جو ان کی جگہ لے لے۔ اللہ نے جو ابھی تک ان کو مہلت دی ہے اور ان کی جگہ دوسری قوت نہیں اٹھائی تو یہ اللہ کا فضل وکرم ہے اور اس کا فیصلہ اور حکمت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں بھی رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور آپ کے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اہل ایمان کے موقف اور دوسروں کے موقف کی وضاحت کی گئی ہے۔ اور ان لوگوں کو تنبیہہ کی گئی ہے جو اس دنیا کے معاملات میں غرق ہیں ، جو اپنی قوت پر مغرور ہیں کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں ، یا نہ کریں کہ شکر ادا کرنے کی بجائے وہ اللہ کی نعمتوں کو ذریعہ غرور بنائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ نعمتیں اور یہ مہلت دراصل آزمائش ہے۔ جس طرح سورت کے آغاز میں تصریح کی گئی تھی۔ اس کے بعد ان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم کو جو مہلت دی گئی ہے اس کی ایک ایک گھڑی تمہارے لئے بہت قیمتی ہے ، قرآن کریم اللہ کی رحمت ہے۔ یہ مسلسل نازل ہورہا ہے اور یہ سورت بھی ایک تذکرہ ہے۔

الإنسان 76:29

ان ھذہ .................... سبیلا اور اس کے بعد یہ تصریح بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور ہر چیز اللہ کی مشیت کے مطابق ظہور پذیر ہوتی ہے۔ تاکہ لوگوں کی آخری توجہ اللہ کی طرف ہو۔ اور آخر کار سب لوگ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ انسان اپنی قوت پر مغرور ہونے کی بجائے اللہ کی قوت پر بھروسہ کرے۔ اور یہ عقیدہ رکھے کہ حقیقی قوت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے یعنی پوری طرح اللہ کے آگے جھک جائے۔

الإنسان 76:30

وما تشاءون .................... حکیما یہ اس لئے تاکہ انسانوں کے دل یہ جان لیں کہ فاعل مختار دراصل اللہ ہے۔ وہی متصرف اور زبردستی کنٹرول کرنے والا ہے تاکہ سب دل اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جو ان آیات میں بیان کی گئی ہے کہ اصل فاعل مختار اللہ ہے لیکن اللہ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ حق و باطل کو سمجھ سکے اور اللہ کی مشیت کے مطابق سچائی یا باطل کی طرف اپنا رخ کرسکے۔ اس کے لئے اللہ نے انسان کو علم ومعرفت بھی عطا کیا۔ اور رسول بھیج کر انسانوں کو حق و باطل کا راستہ بھی اچھی طرح سمجھایا۔ اور قرآن اور دوسری کتابیں اتار کر راستے کی نشاندہی بھی کردی۔ لیکن یہ سب امور اللہ کی قدرت اور مشیت کے دائرے کے اندر ہوتے ہیں۔ پس جو شخص اللہ کی طرف اپنا رخ کرتا ہے۔ اللہ اسے راہ راست کی طرف آنے کی توفیق دیتا ہے۔ جب وہ اپنا رخ اللہ کی طرف نہ کرے اور اللہ کے سامنے دست بدعا نہ ہو تو وہ ہدایت و فلاح سے محروم ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو توفیق نہیں ہوتی۔

الإنسان 76:31

یدخل ............................ الیما غرض اللہ کی مشیت بےقید ہے ، جس طرح چاہے فیصلہ کردے ۔ اگر اللہ چاہے تو کسی کو بھی اپنی رحمت میں داخل کردے۔ انسانوں میں سے ہو ، جو بھی اس کی رحمت میں داخل ہونے کی التجا کرے۔ اس کی اطاعت پر اللہ کی مدد طلب کریں۔ ہدایت کی توفیق کے طلبگار ہوں جبکہ ظالموں کے لئے اس نے عذاب تیار کررکھا ہے ، جو بہت درد ناک ہے اور اللہ نے ان کو اس جہاں میں مہلت دے رکھی ہے تاکہ وہ عذاب الیم تک جا پہنچیں۔ سورت کا یہ خاتمہ اس کے آغاز سے ہم آہنگ ہے۔ اس میں آزمائش کا آخری انجام بتلایا گیا ہے۔ جس کے لئے اللہ نے انسان کو نطفہ امشاج (مخلوط نطفے) سے پیدا کیا ہے جس کے لئے اللہ نے انسان کو سمع وبصر عطا کیا۔ اور جنت اور دوزخ کا راستہ بتلایا ہے۔

المرسلات 77:1

والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان کی زندگی اور اس کے اعمال کا دارومدار اسی عقیدے پر ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو صرف اس عقیدے کے ذریعہ ہی درست کیا جاسکتا ہے۔ اور انسان کے لئے صحیح قیامت کی جوابدہی کے تصور ہی سے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس عقیدے کو عربوں کے ذہن میں بٹھانے کے لئے اس قدر طویل جدوجہد کی تاکہ وہ اس پر اچھی طرح یقین پیدا کرلیں۔ سورت کے آغاز میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہے کہ آخرت کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ اور قسم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور پر اللہ نے قسم اٹھائی ہے وہ بھی غیبی حقائق ہیں۔ ایسی قوتیں ہی پوشیدہ ہیں اور اس کائنات کے نظام میں وہ بہت ہی موثر ہیں جس طرح انسانی زندگی کے اندر بھی موثر ہیں۔ سلف صالحین نے ان کے مفہوم کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ان تمام الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں ، بعض نے کہا کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض نے کہا کہ بعض الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں اور بعض سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مفہوم اور مدلول بہرحال مجمل اور پوشیدہ ہے۔ اور یہاجمال ، غموض اور عدم وضاحت اس حقیقت کے زیادہ مناسب ہے۔ جس پر قسم اٹھائی جارہی ہے کیونکہ وہ بھی غیبی حقیقت ہے اور جس طرح وہ چیزیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے ، خواہ فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں ، انسانی زندگی میں موثر ہیں۔ اسی طرح قیامت بھی انسانی زندگی میں موثر ہوگی۔ والمرسلت عرفا (1:77) ” قسم ہے ان کی جو پے درپے بھیجے جاتے ہیں “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ مسروق ، ابوالضحیٰ ، مجاہد سے ایک روایت کے مطابق : سدی ، ربیع ابن انس ابو صالح (ایک روایت کے مطابق) سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جن کو احکامات الٰہیہ کے ساتھ پے درپے بھیجا جاتا ہے۔ جس طرح گھوڑے کی گردن کے بال (ایال) لمبے اور مسلسل ہوتے ہیں۔ ایک لائن میں اسی طرح یہ فرشتے پے درپے آتے ہیں۔ یہی بات انہوں نے عاصفات ، ناشرات ، فارقات اور ملقلیت کے بارے میں کہی ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ اور حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ المرسلات عرفا سے مراد ہوئیں ہیں ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ وہ مسلسل اور پے درپے چلتی ہیں جس طرح گھوڑے کے ایال چلتے ہیں۔ یہی رائے انکی عاصفات اور ناشرات کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ اور ابوصالح نے (ایک روایت کے مطابق) بھی اس کی تائید کی۔ ابن جریر نے المرسلات کے بارے میں توقف کیا ہے کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں یا ہوائیں اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن عاصفات سے انہوں نے قطعاً مراد ہوائیں لی ہیں۔ یہی بات انہوں نے ناشرات کے بارے میں کہی کہ یہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو بکھیرتی ہیں۔ اور حضرت ابن مسعود سے روایت ہے (الفارقات فرقا ، الملقیات ذکرا ، عذرا ونذرا) سے مراد فرشتے ہیں۔ یہی رائے حضرت ابن عباس ، مسروق ، مجاہد ، قتادہ ربیع ابن انس ، سدی اور ثوری سے منقول ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے احکام لے کر رسولوں پر آتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ رسولوں پر وحی کا القا کرتے ہیں ، جس کے اندر لوگوں کے لئے ذرا اوالورا تمام حجت ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ان الفاظ یا ان کے اس مفہوم کو ارادتاً مجہول رکھا گیا ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے مثلاً (الذاریات ذروا) اور (النازغات غرقا) کے مفہوم کو ارادتاً مجمل رکھا گیا ہے۔ نیز متقدمین نے ان کے مفہوم میں جو اختلاف کیا ہے یہ بھی دلیل ہے اس امرپر کہ ان الفاظ کے مفہوم مقسم بہ کو مہم رکھا گیا ہے اور ان مقامات پر ابہام اصل مقصود تھا۔ لہٰذا اشاراتی انداز ہی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔ یہ الفاظ اور ان کی مبہم اشارات اور ان کا تسلسل اور ترنم اور ان کی پدا کردہ فضا انسانی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ اور یہ ارتعاش اور کام ابھارنا اس سورت کے موضوع اور سورت کے رخ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ اس سورت کا ہر مقطع دراصل انسان کو ایک شدید جھٹکا دیتا اور جھنجھوڑتا ہے کہ باز آجاﺅ ان بداعمالیوں سے اور اللہ کی ظاہر اور باہر اور حقیقی آیات ونشانات کا انکار نہ کرو۔ اور اگر تم باز نہیں آتے تو پھر تکذیب پر اصرار کرنے والوں کے متعین انجام کے لئے تیار ہوجاﺅ۔ ویل ............................ للمکذبین ” اس دن انکار کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے “۔ اس کے بعد انسانی فکر ونظر اور شعور کو ایک شدید جھٹکا دیا جاتا ہے کہ جب وہ دن آئے گا جس کا تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ جس دن تمام رسول اپنی کارکردگی پیش کریں گے اور جس دن لوگوں کی اعمال کے فیصلے ہوں گے تو وہ کیسا دن ہوگا۔

المرسلات 77:2

والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان کی زندگی اور اس کے اعمال کا دارومدار اسی عقیدے پر ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو صرف اس عقیدے کے ذریعہ ہی درست کیا جاسکتا ہے۔ اور انسان کے لئے صحیح قیامت کی جوابدہی کے تصور ہی سے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس عقیدے کو عربوں کے ذہن میں بٹھانے کے لئے اس قدر طویل جدوجہد کی تاکہ وہ اس پر اچھی طرح یقین پیدا کرلیں۔ سورت کے آغاز میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہے کہ آخرت کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ اور قسم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور پر اللہ نے قسم اٹھائی ہے وہ بھی غیبی حقائق ہیں۔ ایسی قوتیں ہی پوشیدہ ہیں اور اس کائنات کے نظام میں وہ بہت ہی موثر ہیں جس طرح انسانی زندگی کے اندر بھی موثر ہیں۔ سلف صالحین نے ان کے مفہوم کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ان تمام الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں ، بعض نے کہا کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض نے کہا کہ بعض الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں اور بعض سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مفہوم اور مدلول بہرحال مجمل اور پوشیدہ ہے۔ اور یہاجمال ، غموض اور عدم وضاحت اس حقیقت کے زیادہ مناسب ہے۔ جس پر قسم اٹھائی جارہی ہے کیونکہ وہ بھی غیبی حقیقت ہے اور جس طرح وہ چیزیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے ، خواہ فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں ، انسانی زندگی میں موثر ہیں۔ اسی طرح قیامت بھی انسانی زندگی میں موثر ہوگی۔ والمرسلت عرفا (1:77) ” قسم ہے ان کی جو پے درپے بھیجے جاتے ہیں “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ مسروق ، ابوالضحیٰ ، مجاہد سے ایک روایت کے مطابق : سدی ، ربیع ابن انس ابو صالح (ایک روایت کے مطابق) سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جن کو احکامات الٰہیہ کے ساتھ پے درپے بھیجا جاتا ہے۔ جس طرح گھوڑے کی گردن کے بال (ایال) لمبے اور مسلسل ہوتے ہیں۔ ایک لائن میں اسی طرح یہ فرشتے پے درپے آتے ہیں۔ یہی بات انہوں نے عاصفات ، ناشرات ، فارقات اور ملقلیت کے بارے میں کہی ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ اور حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ المرسلات عرفا سے مراد ہوئیں ہیں ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ وہ مسلسل اور پے درپے چلتی ہیں جس طرح گھوڑے کے ایال چلتے ہیں۔ یہی رائے انکی عاصفات اور ناشرات کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ اور ابوصالح نے (ایک روایت کے مطابق) بھی اس کی تائید کی۔ ابن جریر نے المرسلات کے بارے میں توقف کیا ہے کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں یا ہوائیں اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن عاصفات سے انہوں نے قطعاً مراد ہوائیں لی ہیں۔ یہی بات انہوں نے ناشرات کے بارے میں کہی کہ یہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو بکھیرتی ہیں۔ اور حضرت ابن مسعود سے روایت ہے (الفارقات فرقا ، الملقیات ذکرا ، عذرا ونذرا) سے مراد فرشتے ہیں۔ یہی رائے حضرت ابن عباس ، مسروق ، مجاہد ، قتادہ ربیع ابن انس ، سدی اور ثوری سے منقول ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے احکام لے کر رسولوں پر آتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ رسولوں پر وحی کا القا کرتے ہیں ، جس کے اندر لوگوں کے لئے ذرا اوالورا تمام حجت ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ان الفاظ یا ان کے اس مفہوم کو ارادتاً مجہول رکھا گیا ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے مثلاً (الذاریات ذروا) اور (النازغات غرقا) کے مفہوم کو ارادتاً مجمل رکھا گیا ہے۔ نیز متقدمین نے ان کے مفہوم میں جو اختلاف کیا ہے یہ بھی دلیل ہے اس امرپر کہ ان الفاظ کے مفہوم مقسم بہ کو مہم رکھا گیا ہے اور ان مقامات پر ابہام اصل مقصود تھا۔ لہٰذا اشاراتی انداز ہی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔ یہ الفاظ اور ان کی مبہم اشارات اور ان کا تسلسل اور ترنم اور ان کی پدا کردہ فضا انسانی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ اور یہ ارتعاش اور کام ابھارنا اس سورت کے موضوع اور سورت کے رخ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ اس سورت کا ہر مقطع دراصل انسان کو ایک شدید جھٹکا دیتا اور جھنجھوڑتا ہے کہ باز آجاﺅ ان بداعمالیوں سے اور اللہ کی ظاہر اور باہر اور حقیقی آیات ونشانات کا انکار نہ کرو۔ اور اگر تم باز نہیں آتے تو پھر تکذیب پر اصرار کرنے والوں کے متعین انجام کے لئے تیار ہوجاﺅ۔ ویل ............................ للمکذبین ” اس دن انکار کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے “۔ اس کے بعد انسانی فکر ونظر اور شعور کو ایک شدید جھٹکا دیا جاتا ہے کہ جب وہ دن آئے گا جس کا تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ جس دن تمام رسول اپنی کارکردگی پیش کریں گے اور جس دن لوگوں کی اعمال کے فیصلے ہوں گے تو وہ کیسا دن ہوگا۔

المرسلات 77:3

والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان کی زندگی اور اس کے اعمال کا دارومدار اسی عقیدے پر ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو صرف اس عقیدے کے ذریعہ ہی درست کیا جاسکتا ہے۔ اور انسان کے لئے صحیح قیامت کی جوابدہی کے تصور ہی سے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس عقیدے کو عربوں کے ذہن میں بٹھانے کے لئے اس قدر طویل جدوجہد کی تاکہ وہ اس پر اچھی طرح یقین پیدا کرلیں۔ سورت کے آغاز میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہے کہ آخرت کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ اور قسم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور پر اللہ نے قسم اٹھائی ہے وہ بھی غیبی حقائق ہیں۔ ایسی قوتیں ہی پوشیدہ ہیں اور اس کائنات کے نظام میں وہ بہت ہی موثر ہیں جس طرح انسانی زندگی کے اندر بھی موثر ہیں۔ سلف صالحین نے ان کے مفہوم کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ان تمام الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں ، بعض نے کہا کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض نے کہا کہ بعض الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں اور بعض سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مفہوم اور مدلول بہرحال مجمل اور پوشیدہ ہے۔ اور یہاجمال ، غموض اور عدم وضاحت اس حقیقت کے زیادہ مناسب ہے۔ جس پر قسم اٹھائی جارہی ہے کیونکہ وہ بھی غیبی حقیقت ہے اور جس طرح وہ چیزیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے ، خواہ فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں ، انسانی زندگی میں موثر ہیں۔ اسی طرح قیامت بھی انسانی زندگی میں موثر ہوگی۔ والمرسلت عرفا (1:77) ” قسم ہے ان کی جو پے درپے بھیجے جاتے ہیں “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ مسروق ، ابوالضحیٰ ، مجاہد سے ایک روایت کے مطابق : سدی ، ربیع ابن انس ابو صالح (ایک روایت کے مطابق) سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جن کو احکامات الٰہیہ کے ساتھ پے درپے بھیجا جاتا ہے۔ جس طرح گھوڑے کی گردن کے بال (ایال) لمبے اور مسلسل ہوتے ہیں۔ ایک لائن میں اسی طرح یہ فرشتے پے درپے آتے ہیں۔ یہی بات انہوں نے عاصفات ، ناشرات ، فارقات اور ملقلیت کے بارے میں کہی ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ اور حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ المرسلات عرفا سے مراد ہوئیں ہیں ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ وہ مسلسل اور پے درپے چلتی ہیں جس طرح گھوڑے کے ایال چلتے ہیں۔ یہی رائے انکی عاصفات اور ناشرات کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ اور ابوصالح نے (ایک روایت کے مطابق) بھی اس کی تائید کی۔ ابن جریر نے المرسلات کے بارے میں توقف کیا ہے کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں یا ہوائیں اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن عاصفات سے انہوں نے قطعاً مراد ہوائیں لی ہیں۔ یہی بات انہوں نے ناشرات کے بارے میں کہی کہ یہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو بکھیرتی ہیں۔ اور حضرت ابن مسعود سے روایت ہے (الفارقات فرقا ، الملقیات ذکرا ، عذرا ونذرا) سے مراد فرشتے ہیں۔ یہی رائے حضرت ابن عباس ، مسروق ، مجاہد ، قتادہ ربیع ابن انس ، سدی اور ثوری سے منقول ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے احکام لے کر رسولوں پر آتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ رسولوں پر وحی کا القا کرتے ہیں ، جس کے اندر لوگوں کے لئے ذرا اوالورا تمام حجت ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ان الفاظ یا ان کے اس مفہوم کو ارادتاً مجہول رکھا گیا ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے مثلاً (الذاریات ذروا) اور (النازغات غرقا) کے مفہوم کو ارادتاً مجمل رکھا گیا ہے۔ نیز متقدمین نے ان کے مفہوم میں جو اختلاف کیا ہے یہ بھی دلیل ہے اس امرپر کہ ان الفاظ کے مفہوم مقسم بہ کو مہم رکھا گیا ہے اور ان مقامات پر ابہام اصل مقصود تھا۔ لہٰذا اشاراتی انداز ہی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔ یہ الفاظ اور ان کی مبہم اشارات اور ان کا تسلسل اور ترنم اور ان کی پدا کردہ فضا انسانی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ اور یہ ارتعاش اور کام ابھارنا اس سورت کے موضوع اور سورت کے رخ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ اس سورت کا ہر مقطع دراصل انسان کو ایک شدید جھٹکا دیتا اور جھنجھوڑتا ہے کہ باز آجاﺅ ان بداعمالیوں سے اور اللہ کی ظاہر اور باہر اور حقیقی آیات ونشانات کا انکار نہ کرو۔ اور اگر تم باز نہیں آتے تو پھر تکذیب پر اصرار کرنے والوں کے متعین انجام کے لئے تیار ہوجاﺅ۔ ویل ............................ للمکذبین ” اس دن انکار کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے “۔ اس کے بعد انسانی فکر ونظر اور شعور کو ایک شدید جھٹکا دیا جاتا ہے کہ جب وہ دن آئے گا جس کا تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ جس دن تمام رسول اپنی کارکردگی پیش کریں گے اور جس دن لوگوں کی اعمال کے فیصلے ہوں گے تو وہ کیسا دن ہوگا۔

المرسلات 77:4

والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان کی زندگی اور اس کے اعمال کا دارومدار اسی عقیدے پر ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو صرف اس عقیدے کے ذریعہ ہی درست کیا جاسکتا ہے۔ اور انسان کے لئے صحیح قیامت کی جوابدہی کے تصور ہی سے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس عقیدے کو عربوں کے ذہن میں بٹھانے کے لئے اس قدر طویل جدوجہد کی تاکہ وہ اس پر اچھی طرح یقین پیدا کرلیں۔ سورت کے آغاز میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہے کہ آخرت کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ اور قسم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور پر اللہ نے قسم اٹھائی ہے وہ بھی غیبی حقائق ہیں۔ ایسی قوتیں ہی پوشیدہ ہیں اور اس کائنات کے نظام میں وہ بہت ہی موثر ہیں جس طرح انسانی زندگی کے اندر بھی موثر ہیں۔ سلف صالحین نے ان کے مفہوم کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ان تمام الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں ، بعض نے کہا کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض نے کہا کہ بعض الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں اور بعض سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مفہوم اور مدلول بہرحال مجمل اور پوشیدہ ہے۔ اور یہاجمال ، غموض اور عدم وضاحت اس حقیقت کے زیادہ مناسب ہے۔ جس پر قسم اٹھائی جارہی ہے کیونکہ وہ بھی غیبی حقیقت ہے اور جس طرح وہ چیزیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے ، خواہ فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں ، انسانی زندگی میں موثر ہیں۔ اسی طرح قیامت بھی انسانی زندگی میں موثر ہوگی۔ والمرسلت عرفا (1:77) ” قسم ہے ان کی جو پے درپے بھیجے جاتے ہیں “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ مسروق ، ابوالضحیٰ ، مجاہد سے ایک روایت کے مطابق : سدی ، ربیع ابن انس ابو صالح (ایک روایت کے مطابق) سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جن کو احکامات الٰہیہ کے ساتھ پے درپے بھیجا جاتا ہے۔ جس طرح گھوڑے کی گردن کے بال (ایال) لمبے اور مسلسل ہوتے ہیں۔ ایک لائن میں اسی طرح یہ فرشتے پے درپے آتے ہیں۔ یہی بات انہوں نے عاصفات ، ناشرات ، فارقات اور ملقلیت کے بارے میں کہی ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ اور حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ المرسلات عرفا سے مراد ہوئیں ہیں ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ وہ مسلسل اور پے درپے چلتی ہیں جس طرح گھوڑے کے ایال چلتے ہیں۔ یہی رائے انکی عاصفات اور ناشرات کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ اور ابوصالح نے (ایک روایت کے مطابق) بھی اس کی تائید کی۔ ابن جریر نے المرسلات کے بارے میں توقف کیا ہے کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں یا ہوائیں اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن عاصفات سے انہوں نے قطعاً مراد ہوائیں لی ہیں۔ یہی بات انہوں نے ناشرات کے بارے میں کہی کہ یہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو بکھیرتی ہیں۔ اور حضرت ابن مسعود سے روایت ہے (الفارقات فرقا ، الملقیات ذکرا ، عذرا ونذرا) سے مراد فرشتے ہیں۔ یہی رائے حضرت ابن عباس ، مسروق ، مجاہد ، قتادہ ربیع ابن انس ، سدی اور ثوری سے منقول ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے احکام لے کر رسولوں پر آتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ رسولوں پر وحی کا القا کرتے ہیں ، جس کے اندر لوگوں کے لئے ذرا اوالورا تمام حجت ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ان الفاظ یا ان کے اس مفہوم کو ارادتاً مجہول رکھا گیا ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے مثلاً (الذاریات ذروا) اور (النازغات غرقا) کے مفہوم کو ارادتاً مجمل رکھا گیا ہے۔ نیز متقدمین نے ان کے مفہوم میں جو اختلاف کیا ہے یہ بھی دلیل ہے اس امرپر کہ ان الفاظ کے مفہوم مقسم بہ کو مہم رکھا گیا ہے اور ان مقامات پر ابہام اصل مقصود تھا۔ لہٰذا اشاراتی انداز ہی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔ یہ الفاظ اور ان کی مبہم اشارات اور ان کا تسلسل اور ترنم اور ان کی پدا کردہ فضا انسانی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ اور یہ ارتعاش اور کام ابھارنا اس سورت کے موضوع اور سورت کے رخ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ اس سورت کا ہر مقطع دراصل انسان کو ایک شدید جھٹکا دیتا اور جھنجھوڑتا ہے کہ باز آجاﺅ ان بداعمالیوں سے اور اللہ کی ظاہر اور باہر اور حقیقی آیات ونشانات کا انکار نہ کرو۔ اور اگر تم باز نہیں آتے تو پھر تکذیب پر اصرار کرنے والوں کے متعین انجام کے لئے تیار ہوجاﺅ۔ ویل ............................ للمکذبین ” اس دن انکار کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے “۔ اس کے بعد انسانی فکر ونظر اور شعور کو ایک شدید جھٹکا دیا جاتا ہے کہ جب وہ دن آئے گا جس کا تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ جس دن تمام رسول اپنی کارکردگی پیش کریں گے اور جس دن لوگوں کی اعمال کے فیصلے ہوں گے تو وہ کیسا دن ہوگا۔

المرسلات 77:5

والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان کی زندگی اور اس کے اعمال کا دارومدار اسی عقیدے پر ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو صرف اس عقیدے کے ذریعہ ہی درست کیا جاسکتا ہے۔ اور انسان کے لئے صحیح قیامت کی جوابدہی کے تصور ہی سے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس عقیدے کو عربوں کے ذہن میں بٹھانے کے لئے اس قدر طویل جدوجہد کی تاکہ وہ اس پر اچھی طرح یقین پیدا کرلیں۔ سورت کے آغاز میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہے کہ آخرت کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ اور قسم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور پر اللہ نے قسم اٹھائی ہے وہ بھی غیبی حقائق ہیں۔ ایسی قوتیں ہی پوشیدہ ہیں اور اس کائنات کے نظام میں وہ بہت ہی موثر ہیں جس طرح انسانی زندگی کے اندر بھی موثر ہیں۔ سلف صالحین نے ان کے مفہوم کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ان تمام الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں ، بعض نے کہا کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض نے کہا کہ بعض الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں اور بعض سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مفہوم اور مدلول بہرحال مجمل اور پوشیدہ ہے۔ اور یہاجمال ، غموض اور عدم وضاحت اس حقیقت کے زیادہ مناسب ہے۔ جس پر قسم اٹھائی جارہی ہے کیونکہ وہ بھی غیبی حقیقت ہے اور جس طرح وہ چیزیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے ، خواہ فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں ، انسانی زندگی میں موثر ہیں۔ اسی طرح قیامت بھی انسانی زندگی میں موثر ہوگی۔ والمرسلت عرفا (1:77) ” قسم ہے ان کی جو پے درپے بھیجے جاتے ہیں “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ مسروق ، ابوالضحیٰ ، مجاہد سے ایک روایت کے مطابق : سدی ، ربیع ابن انس ابو صالح (ایک روایت کے مطابق) سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جن کو احکامات الٰہیہ کے ساتھ پے درپے بھیجا جاتا ہے۔ جس طرح گھوڑے کی گردن کے بال (ایال) لمبے اور مسلسل ہوتے ہیں۔ ایک لائن میں اسی طرح یہ فرشتے پے درپے آتے ہیں۔ یہی بات انہوں نے عاصفات ، ناشرات ، فارقات اور ملقلیت کے بارے میں کہی ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ اور حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ المرسلات عرفا سے مراد ہوئیں ہیں ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ وہ مسلسل اور پے درپے چلتی ہیں جس طرح گھوڑے کے ایال چلتے ہیں۔ یہی رائے انکی عاصفات اور ناشرات کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ اور ابوصالح نے (ایک روایت کے مطابق) بھی اس کی تائید کی۔ ابن جریر نے المرسلات کے بارے میں توقف کیا ہے کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں یا ہوائیں اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن عاصفات سے انہوں نے قطعاً مراد ہوائیں لی ہیں۔ یہی بات انہوں نے ناشرات کے بارے میں کہی کہ یہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو بکھیرتی ہیں۔ اور حضرت ابن مسعود سے روایت ہے (الفارقات فرقا ، الملقیات ذکرا ، عذرا ونذرا) سے مراد فرشتے ہیں۔ یہی رائے حضرت ابن عباس ، مسروق ، مجاہد ، قتادہ ربیع ابن انس ، سدی اور ثوری سے منقول ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے احکام لے کر رسولوں پر آتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ رسولوں پر وحی کا القا کرتے ہیں ، جس کے اندر لوگوں کے لئے ذرا اوالورا تمام حجت ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ان الفاظ یا ان کے اس مفہوم کو ارادتاً مجہول رکھا گیا ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے مثلاً (الذاریات ذروا) اور (النازغات غرقا) کے مفہوم کو ارادتاً مجمل رکھا گیا ہے۔ نیز متقدمین نے ان کے مفہوم میں جو اختلاف کیا ہے یہ بھی دلیل ہے اس امرپر کہ ان الفاظ کے مفہوم مقسم بہ کو مہم رکھا گیا ہے اور ان مقامات پر ابہام اصل مقصود تھا۔ لہٰذا اشاراتی انداز ہی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔ یہ الفاظ اور ان کی مبہم اشارات اور ان کا تسلسل اور ترنم اور ان کی پدا کردہ فضا انسانی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ اور یہ ارتعاش اور کام ابھارنا اس سورت کے موضوع اور سورت کے رخ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ اس سورت کا ہر مقطع دراصل انسان کو ایک شدید جھٹکا دیتا اور جھنجھوڑتا ہے کہ باز آجاﺅ ان بداعمالیوں سے اور اللہ کی ظاہر اور باہر اور حقیقی آیات ونشانات کا انکار نہ کرو۔ اور اگر تم باز نہیں آتے تو پھر تکذیب پر اصرار کرنے والوں کے متعین انجام کے لئے تیار ہوجاﺅ۔ ویل ............................ للمکذبین ” اس دن انکار کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے “۔ اس کے بعد انسانی فکر ونظر اور شعور کو ایک شدید جھٹکا دیا جاتا ہے کہ جب وہ دن آئے گا جس کا تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ جس دن تمام رسول اپنی کارکردگی پیش کریں گے اور جس دن لوگوں کی اعمال کے فیصلے ہوں گے تو وہ کیسا دن ہوگا۔

المرسلات 77:6

والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان کی زندگی اور اس کے اعمال کا دارومدار اسی عقیدے پر ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو صرف اس عقیدے کے ذریعہ ہی درست کیا جاسکتا ہے۔ اور انسان کے لئے صحیح قیامت کی جوابدہی کے تصور ہی سے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس عقیدے کو عربوں کے ذہن میں بٹھانے کے لئے اس قدر طویل جدوجہد کی تاکہ وہ اس پر اچھی طرح یقین پیدا کرلیں۔ سورت کے آغاز میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہے کہ آخرت کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ اور قسم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور پر اللہ نے قسم اٹھائی ہے وہ بھی غیبی حقائق ہیں۔ ایسی قوتیں ہی پوشیدہ ہیں اور اس کائنات کے نظام میں وہ بہت ہی موثر ہیں جس طرح انسانی زندگی کے اندر بھی موثر ہیں۔ سلف صالحین نے ان کے مفہوم کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ان تمام الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں ، بعض نے کہا کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض نے کہا کہ بعض الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں اور بعض سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مفہوم اور مدلول بہرحال مجمل اور پوشیدہ ہے۔ اور یہاجمال ، غموض اور عدم وضاحت اس حقیقت کے زیادہ مناسب ہے۔ جس پر قسم اٹھائی جارہی ہے کیونکہ وہ بھی غیبی حقیقت ہے اور جس طرح وہ چیزیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے ، خواہ فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں ، انسانی زندگی میں موثر ہیں۔ اسی طرح قیامت بھی انسانی زندگی میں موثر ہوگی۔ والمرسلت عرفا (1:77) ” قسم ہے ان کی جو پے درپے بھیجے جاتے ہیں “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ مسروق ، ابوالضحیٰ ، مجاہد سے ایک روایت کے مطابق : سدی ، ربیع ابن انس ابو صالح (ایک روایت کے مطابق) سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جن کو احکامات الٰہیہ کے ساتھ پے درپے بھیجا جاتا ہے۔ جس طرح گھوڑے کی گردن کے بال (ایال) لمبے اور مسلسل ہوتے ہیں۔ ایک لائن میں اسی طرح یہ فرشتے پے درپے آتے ہیں۔ یہی بات انہوں نے عاصفات ، ناشرات ، فارقات اور ملقلیت کے بارے میں کہی ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ اور حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ المرسلات عرفا سے مراد ہوئیں ہیں ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ وہ مسلسل اور پے درپے چلتی ہیں جس طرح گھوڑے کے ایال چلتے ہیں۔ یہی رائے انکی عاصفات اور ناشرات کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ اور ابوصالح نے (ایک روایت کے مطابق) بھی اس کی تائید کی۔ ابن جریر نے المرسلات کے بارے میں توقف کیا ہے کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں یا ہوائیں اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن عاصفات سے انہوں نے قطعاً مراد ہوائیں لی ہیں۔ یہی بات انہوں نے ناشرات کے بارے میں کہی کہ یہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو بکھیرتی ہیں۔ اور حضرت ابن مسعود سے روایت ہے (الفارقات فرقا ، الملقیات ذکرا ، عذرا ونذرا) سے مراد فرشتے ہیں۔ یہی رائے حضرت ابن عباس ، مسروق ، مجاہد ، قتادہ ربیع ابن انس ، سدی اور ثوری سے منقول ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے احکام لے کر رسولوں پر آتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ رسولوں پر وحی کا القا کرتے ہیں ، جس کے اندر لوگوں کے لئے ذرا اوالورا تمام حجت ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ان الفاظ یا ان کے اس مفہوم کو ارادتاً مجہول رکھا گیا ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے مثلاً (الذاریات ذروا) اور (النازغات غرقا) کے مفہوم کو ارادتاً مجمل رکھا گیا ہے۔ نیز متقدمین نے ان کے مفہوم میں جو اختلاف کیا ہے یہ بھی دلیل ہے اس امرپر کہ ان الفاظ کے مفہوم مقسم بہ کو مہم رکھا گیا ہے اور ان مقامات پر ابہام اصل مقصود تھا۔ لہٰذا اشاراتی انداز ہی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔ یہ الفاظ اور ان کی مبہم اشارات اور ان کا تسلسل اور ترنم اور ان کی پدا کردہ فضا انسانی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ اور یہ ارتعاش اور کام ابھارنا اس سورت کے موضوع اور سورت کے رخ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ اس سورت کا ہر مقطع دراصل انسان کو ایک شدید جھٹکا دیتا اور جھنجھوڑتا ہے کہ باز آجاﺅ ان بداعمالیوں سے اور اللہ کی ظاہر اور باہر اور حقیقی آیات ونشانات کا انکار نہ کرو۔ اور اگر تم باز نہیں آتے تو پھر تکذیب پر اصرار کرنے والوں کے متعین انجام کے لئے تیار ہوجاﺅ۔ ویل ............................ للمکذبین ” اس دن انکار کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے “۔ اس کے بعد انسانی فکر ونظر اور شعور کو ایک شدید جھٹکا دیا جاتا ہے کہ جب وہ دن آئے گا جس کا تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ جس دن تمام رسول اپنی کارکردگی پیش کریں گے اور جس دن لوگوں کی اعمال کے فیصلے ہوں گے تو وہ کیسا دن ہوگا۔

المرسلات 77:7

والمرسلت ........................................ لواقع مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان کی زندگی اور اس کے اعمال کا دارومدار اسی عقیدے پر ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو صرف اس عقیدے کے ذریعہ ہی درست کیا جاسکتا ہے۔ اور انسان کے لئے صحیح قیامت کی جوابدہی کے تصور ہی سے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس عقیدے کو عربوں کے ذہن میں بٹھانے کے لئے اس قدر طویل جدوجہد کی تاکہ وہ اس پر اچھی طرح یقین پیدا کرلیں۔ سورت کے آغاز میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہے کہ آخرت کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ اور قسم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور پر اللہ نے قسم اٹھائی ہے وہ بھی غیبی حقائق ہیں۔ ایسی قوتیں ہی پوشیدہ ہیں اور اس کائنات کے نظام میں وہ بہت ہی موثر ہیں جس طرح انسانی زندگی کے اندر بھی موثر ہیں۔ سلف صالحین نے ان کے مفہوم کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ان تمام الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں ، بعض نے کہا کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض نے کہا کہ بعض الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں اور بعض سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مفہوم اور مدلول بہرحال مجمل اور پوشیدہ ہے۔ اور یہاجمال ، غموض اور عدم وضاحت اس حقیقت کے زیادہ مناسب ہے۔ جس پر قسم اٹھائی جارہی ہے کیونکہ وہ بھی غیبی حقیقت ہے اور جس طرح وہ چیزیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے ، خواہ فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں ، انسانی زندگی میں موثر ہیں۔ اسی طرح قیامت بھی انسانی زندگی میں موثر ہوگی۔ والمرسلت عرفا (1:77) ” قسم ہے ان کی جو پے درپے بھیجے جاتے ہیں “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ مسروق ، ابوالضحیٰ ، مجاہد سے ایک روایت کے مطابق : سدی ، ربیع ابن انس ابو صالح (ایک روایت کے مطابق) سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جن کو احکامات الٰہیہ کے ساتھ پے درپے بھیجا جاتا ہے۔ جس طرح گھوڑے کی گردن کے بال (ایال) لمبے اور مسلسل ہوتے ہیں۔ ایک لائن میں اسی طرح یہ فرشتے پے درپے آتے ہیں۔ یہی بات انہوں نے عاصفات ، ناشرات ، فارقات اور ملقلیت کے بارے میں کہی ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ اور حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ المرسلات عرفا سے مراد ہوئیں ہیں ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ وہ مسلسل اور پے درپے چلتی ہیں جس طرح گھوڑے کے ایال چلتے ہیں۔ یہی رائے انکی عاصفات اور ناشرات کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ اور ابوصالح نے (ایک روایت کے مطابق) بھی اس کی تائید کی۔ ابن جریر نے المرسلات کے بارے میں توقف کیا ہے کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں یا ہوائیں اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن عاصفات سے انہوں نے قطعاً مراد ہوائیں لی ہیں۔ یہی بات انہوں نے ناشرات کے بارے میں کہی کہ یہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو بکھیرتی ہیں۔ اور حضرت ابن مسعود سے روایت ہے (الفارقات فرقا ، الملقیات ذکرا ، عذرا ونذرا) سے مراد فرشتے ہیں۔ یہی رائے حضرت ابن عباس ، مسروق ، مجاہد ، قتادہ ربیع ابن انس ، سدی اور ثوری سے منقول ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے احکام لے کر رسولوں پر آتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ رسولوں پر وحی کا القا کرتے ہیں ، جس کے اندر لوگوں کے لئے ذرا اوالورا تمام حجت ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ان الفاظ یا ان کے اس مفہوم کو ارادتاً مجہول رکھا گیا ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے مثلاً (الذاریات ذروا) اور (النازغات غرقا) کے مفہوم کو ارادتاً مجمل رکھا گیا ہے۔ نیز متقدمین نے ان کے مفہوم میں جو اختلاف کیا ہے یہ بھی دلیل ہے اس امرپر کہ ان الفاظ کے مفہوم مقسم بہ کو مہم رکھا گیا ہے اور ان مقامات پر ابہام اصل مقصود تھا۔ لہٰذا اشاراتی انداز ہی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔ یہ الفاظ اور ان کی مبہم اشارات اور ان کا تسلسل اور ترنم اور ان کی پدا کردہ فضا انسانی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ اور یہ ارتعاش اور کام ابھارنا اس سورت کے موضوع اور سورت کے رخ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ اس سورت کا ہر مقطع دراصل انسان کو ایک شدید جھٹکا دیتا اور جھنجھوڑتا ہے کہ باز آجاﺅ ان بداعمالیوں سے اور اللہ کی ظاہر اور باہر اور حقیقی آیات ونشانات کا انکار نہ کرو۔ اور اگر تم باز نہیں آتے تو پھر تکذیب پر اصرار کرنے والوں کے متعین انجام کے لئے تیار ہوجاﺅ۔ ویل ............................ للمکذبین ” اس دن انکار کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے “۔ اس کے بعد انسانی فکر ونظر اور شعور کو ایک شدید جھٹکا دیا جاتا ہے کہ جب وہ دن آئے گا جس کا تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ جس دن تمام رسول اپنی کارکردگی پیش کریں گے اور جس دن لوگوں کی اعمال کے فیصلے ہوں گے تو وہ کیسا دن ہوگا۔

المرسلات 77:8

فاذا النجوم ............................ للمکذبین جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور ان کی روشنی چلی جائے گی۔ اور جب آسمان میں دراڑیں پڑجائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑادیئے جائیں گے۔ اس قسم کے مناظر اور مشاہد کو قرآن کی مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ نظر آنے والی کائنات ایسی نہ رہے گی اور اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ یہ کر ات سماوی ریزہ ریزہ ہوں گے۔ بہت عظیم دھماکے ہوں گے ، یہ عظیم دھماکے ایسے ہی ہوں گے جس طرح کے دھماکے معمولی پیمانے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے معمولی پیمانے کے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے ، آتش فشانی کے واقعات بہت بڑے پیمانے پر ہوں گے۔ جس طرح عید اور شب قدر کے موقعہ پر بچے آتش فشانی کرتے ہیں یا مثلاً ایٹمی دھماکے اور ہائیڈروجن کے دھماکے۔ لیکن پوری کائنات کے کر ات کے باہم ٹکرانے سے جو ہولناکیاں پیدا ہوں گی وہ بہت عظیم ہوں گے۔ وہ انسانی تصور سے بالا ہیں اور ان دھماکوں کے بعد پھر انسانوں کا زندہ موجود رہنا اور تماشے دیکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان دھماکوں اور ہولناکیوں کے بعد پھر یہ سورت بتاتی ہے کہ ایک دوسرا عظیم واقعہ ہوگا اور وہ یہ کہ رسولوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے فریضہ رسالت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں۔ آدم (علیہ السلام) سے حضرت محمد ﷺ تک رسولوں کی حاضری کا وقت آجائے گا۔ اور یہ حساب و کتاب اس قدر عظیم ہوگا جس کے لئے اس پوری کائنات کے اندر زلزلہ برپا کرکے میدان ہموار کیا گیا۔ زمینی زندگی کے تمام فیصلے اب ہوں گے۔ اور ہر فیصلے اللہ کے احکام کے تحت ہوں گے۔ اور تمام نسلوں کے انجام کا آخری فیصلہ کردیا جائے گا۔ قرآن کریم نے اس مسئلے کو نہایت ہی ہولناک انداز میں پیش کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی عظیم حقیقت ہے۔ اس قدر عظیم کہ انسان اچھی طرح اس کا اور اک بھی نہیں کرسکتا۔

المرسلات 77:9

فاذا النجوم ............................ للمکذبین جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور ان کی روشنی چلی جائے گی۔ اور جب آسمان میں دراڑیں پڑجائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑادیئے جائیں گے۔ اس قسم کے مناظر اور مشاہد کو قرآن کی مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ نظر آنے والی کائنات ایسی نہ رہے گی اور اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ یہ کر ات سماوی ریزہ ریزہ ہوں گے۔ بہت عظیم دھماکے ہوں گے ، یہ عظیم دھماکے ایسے ہی ہوں گے جس طرح کے دھماکے معمولی پیمانے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے معمولی پیمانے کے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے ، آتش فشانی کے واقعات بہت بڑے پیمانے پر ہوں گے۔ جس طرح عید اور شب قدر کے موقعہ پر بچے آتش فشانی کرتے ہیں یا مثلاً ایٹمی دھماکے اور ہائیڈروجن کے دھماکے۔ لیکن پوری کائنات کے کر ات کے باہم ٹکرانے سے جو ہولناکیاں پیدا ہوں گی وہ بہت عظیم ہوں گے۔ وہ انسانی تصور سے بالا ہیں اور ان دھماکوں کے بعد پھر انسانوں کا زندہ موجود رہنا اور تماشے دیکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان دھماکوں اور ہولناکیوں کے بعد پھر یہ سورت بتاتی ہے کہ ایک دوسرا عظیم واقعہ ہوگا اور وہ یہ کہ رسولوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے فریضہ رسالت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں۔ آدم (علیہ السلام) سے حضرت محمد ﷺ تک رسولوں کی حاضری کا وقت آجائے گا۔ اور یہ حساب و کتاب اس قدر عظیم ہوگا جس کے لئے اس پوری کائنات کے اندر زلزلہ برپا کرکے میدان ہموار کیا گیا۔ زمینی زندگی کے تمام فیصلے اب ہوں گے۔ اور ہر فیصلے اللہ کے احکام کے تحت ہوں گے۔ اور تمام نسلوں کے انجام کا آخری فیصلہ کردیا جائے گا۔ قرآن کریم نے اس مسئلے کو نہایت ہی ہولناک انداز میں پیش کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی عظیم حقیقت ہے۔ اس قدر عظیم کہ انسان اچھی طرح اس کا اور اک بھی نہیں کرسکتا۔

المرسلات 77:10

فاذا النجوم ............................ للمکذبین جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور ان کی روشنی چلی جائے گی۔ اور جب آسمان میں دراڑیں پڑجائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑادیئے جائیں گے۔ اس قسم کے مناظر اور مشاہد کو قرآن کی مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ نظر آنے والی کائنات ایسی نہ رہے گی اور اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ یہ کر ات سماوی ریزہ ریزہ ہوں گے۔ بہت عظیم دھماکے ہوں گے ، یہ عظیم دھماکے ایسے ہی ہوں گے جس طرح کے دھماکے معمولی پیمانے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے معمولی پیمانے کے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے ، آتش فشانی کے واقعات بہت بڑے پیمانے پر ہوں گے۔ جس طرح عید اور شب قدر کے موقعہ پر بچے آتش فشانی کرتے ہیں یا مثلاً ایٹمی دھماکے اور ہائیڈروجن کے دھماکے۔ لیکن پوری کائنات کے کر ات کے باہم ٹکرانے سے جو ہولناکیاں پیدا ہوں گی وہ بہت عظیم ہوں گے۔ وہ انسانی تصور سے بالا ہیں اور ان دھماکوں کے بعد پھر انسانوں کا زندہ موجود رہنا اور تماشے دیکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان دھماکوں اور ہولناکیوں کے بعد پھر یہ سورت بتاتی ہے کہ ایک دوسرا عظیم واقعہ ہوگا اور وہ یہ کہ رسولوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے فریضہ رسالت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں۔ آدم (علیہ السلام) سے حضرت محمد ﷺ تک رسولوں کی حاضری کا وقت آجائے گا۔ اور یہ حساب و کتاب اس قدر عظیم ہوگا جس کے لئے اس پوری کائنات کے اندر زلزلہ برپا کرکے میدان ہموار کیا گیا۔ زمینی زندگی کے تمام فیصلے اب ہوں گے۔ اور ہر فیصلے اللہ کے احکام کے تحت ہوں گے۔ اور تمام نسلوں کے انجام کا آخری فیصلہ کردیا جائے گا۔ قرآن کریم نے اس مسئلے کو نہایت ہی ہولناک انداز میں پیش کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی عظیم حقیقت ہے۔ اس قدر عظیم کہ انسان اچھی طرح اس کا اور اک بھی نہیں کرسکتا۔

المرسلات 77:11

واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “ اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔

المرسلات 77:12

واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “ اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔

المرسلات 77:13

واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “ اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔

المرسلات 77:14

واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “ اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔

المرسلات 77:15

ویل ................ للمکذبین (15:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اور یہ ڈراوا اللہ عزیز اور جبار کی طرف سے ہے اور ان حالات کے بعد ہے جو اس کائنات پر طاری کردیئے گئے۔ اور رسول حاضر ہوگئے اور ان سے بھی کارکردگی کی رپورٹ طلب ہونے لگی۔ اور وہ ایک ایک کرکے حساب پیش کرنے لگے ، تو ایسے حالات میں یہ ڈراوا بہرحال بےحد موثر ہوتا ہے۔ اور واقعی ایک احساس انسا پر مارے خوف کے غشی آنے لگتی ہے۔ اب یوم الفصل اور یوم الحساب کی ان خوفناکیوں سے کھینچ کر انسان کو خود اس دنیا کی انسانی تاریخ کی طرف لایا جاتا ہے کہ اسے مبہوت انسان ذرا اپنی تاریخ پر غور کرو۔

المرسلات 77:16

الم نھلک ........................ للمکذبین یوں ایک ہی چوٹ میں اقوام وملل سابقین کی ہلاکتوں کی ایک جھلک دکھادی جاتی ہے۔ اور بعد میں آنے والوں کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ حالانکہ تاریخ بعید اور تاریخ قریب میں ہلاک شدہ اقوام کی مثالیں بیشمار ہیں۔ دور دور تک اور قریب قریب کے زمانوں میں اقوام کی لاشیں ہی لاشیں نظر آتی ہیں۔ اور زبان حال سے سنت الٰہی کی گونج نظر آتی ہے اور سنائی دیتی ہے۔

المرسلات 77:17

الم نھلک ........................ للمکذبین یوں ایک ہی چوٹ میں اقوام وملل سابقین کی ہلاکتوں کی ایک جھلک دکھادی جاتی ہے۔ اور بعد میں آنے والوں کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ حالانکہ تاریخ بعید اور تاریخ قریب میں ہلاک شدہ اقوام کی مثالیں بیشمار ہیں۔ دور دور تک اور قریب قریب کے زمانوں میں اقوام کی لاشیں ہی لاشیں نظر آتی ہیں۔ اور زبان حال سے سنت الٰہی کی گونج نظر آتی ہے اور سنائی دیتی ہے۔

المرسلات 77:18

کذلک ................ مین (18:77) ” مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں “۔ یہ تو اللہ کی سنت جاریہ ہے۔ کبھی رکتی نہیں ، کبھی اپنا راستہ بدلتی نہیں۔ جب مجرمین جان لیتے ہیں کہ ان کا انجام ان دور کے مجرمین اور قریب کے مجرمین والا ہونے والا ہے تو ان پر ہلاکت کی بددعا آتی ہے اور اللہ کی طرف سے بددعا تو حکم ہلاکت ہوتی ہے۔

المرسلات 77:19

ویل ............ للمکذبین (19:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اب ہمارا سفر پھر ایک موڑ لیتا ہے۔ بربادیوں اور ہلاکتوں اور لاشوں کے مشاہدے سے بالکل مختلف تخلیق اور تعمیر کا سفر کہ اللہ کا نظام تخلیق اور نظام ربوبیت اور نظام تدبیر کس طرح کام کرتا ہے۔

المرسلات 77:20

الم نخلقکم ............................ للمکذبین اس سے مراد جنین کا طویل اور عجیب سفر ہے۔ اس طویل نامیاتی سفر کو قرآن کریم چند جھلکیوں کے اندر بیان کردیتا ہے۔ ایک حقیر پانی کی بوند ، پھر قرار مکین اور محفوظ جگہ میں رکھنا ، ایک متعین وقت تک ایک واضح نظام اور اندازے کے مطابق ، اور اس نظام اور اندازے کے بارے میں یہ تبصرہ۔

المرسلات 77:21

الم نخلقکم ............................ للمکذبین اس سے مراد جنین کا طویل اور عجیب سفر ہے۔ اس طویل نامیاتی سفر کو قرآن کریم چند جھلکیوں کے اندر بیان کردیتا ہے۔ ایک حقیر پانی کی بوند ، پھر قرار مکین اور محفوظ جگہ میں رکھنا ، ایک متعین وقت تک ایک واضح نظام اور اندازے کے مطابق ، اور اس نظام اور اندازے کے بارے میں یہ تبصرہ۔

المرسلات 77:22

الم نخلقکم ............................ للمکذبین اس سے مراد جنین کا طویل اور عجیب سفر ہے۔ اس طویل نامیاتی سفر کو قرآن کریم چند جھلکیوں کے اندر بیان کردیتا ہے۔ ایک حقیر پانی کی بوند ، پھر قرار مکین اور محفوظ جگہ میں رکھنا ، ایک متعین وقت تک ایک واضح نظام اور اندازے کے مطابق ، اور اس نظام اور اندازے کے بارے میں یہ تبصرہ۔

المرسلات 77:23

فقدرنا .................... القدرون (23:77) ” ہم قادر تھے پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں “۔ یہ قدرت اور یہ اندازہ اس قدر دقیق ہے کہ اس کا کوئی مرحلہ اور کوئی اندازہ غلط نہیں ہوتا۔ اور اس پر آخری تبصرہ۔

المرسلات 77:24

ویل ........................ للمکذبین (24:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اس کے بعد اس زمین کا مطالعاتی سفر ، یہ سفر انسانی زندگی کے بارے میں ہے۔ اور زمین کے اندر اس زندگی کے لئے تمام ضروریات کا مقرر کرنا اور اس کا مطالعہ۔

المرسلات 77:25

الم نجعل ............................ للمکذبین یعنی زمین کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے دامن میں زندہ اور مردہ سب چیزوں کو لپیٹ کر رکھتی ہے اور اس میں ہم نے بلند وبالا پہاڑ جما دیئے ہیں جو ہبت اونچے اور جمے ہوئے ہیں۔ اور ان کے اوپر ہر وقت بادل چھائے رہتے ہیں اور ان سے میٹھا پانی بہتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی عظیم قدرت اور ٹھیک ٹھیک اندازوں کا مظہر ہے۔ اور گہری حکمت پر دلالت کرتا ہے ، لہٰذا مکذبین کے لئے کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ جھٹلائیں۔ اب ان مشاہد قدرت اور گہرے حکیمانہ قوانین فطرت کے پیش کرنے اور انسانی شعور کو تاثرات اور احساسات سے بھر دینے کے بعد اب روئے سخن حساب و کتاب اور روز جزاء کی طرف پھرجاتا ہے۔ ایک نہایت ہی مرعوب کرنے والا حکم ہم سنتے ہیں جس میں مکذبین سے کہا جاتا ہے کہ اٹھو اور راستہ لو اس عذاب کا جس کا تم انکار کرتے تھے۔ یہ حکم نہایت ہی سرزنش اور تکلیف دہ انداز میں دیا جاتا ہے۔

المرسلات 77:26

الم نجعل ............................ للمکذبین یعنی زمین کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے دامن میں زندہ اور مردہ سب چیزوں کو لپیٹ کر رکھتی ہے اور اس میں ہم نے بلند وبالا پہاڑ جما دیئے ہیں جو ہبت اونچے اور جمے ہوئے ہیں۔ اور ان کے اوپر ہر وقت بادل چھائے رہتے ہیں اور ان سے میٹھا پانی بہتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی عظیم قدرت اور ٹھیک ٹھیک اندازوں کا مظہر ہے۔ اور گہری حکمت پر دلالت کرتا ہے ، لہٰذا مکذبین کے لئے کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ جھٹلائیں۔ اب ان مشاہد قدرت اور گہرے حکیمانہ قوانین فطرت کے پیش کرنے اور انسانی شعور کو تاثرات اور احساسات سے بھر دینے کے بعد اب روئے سخن حساب و کتاب اور روز جزاء کی طرف پھرجاتا ہے۔ ایک نہایت ہی مرعوب کرنے والا حکم ہم سنتے ہیں جس میں مکذبین سے کہا جاتا ہے کہ اٹھو اور راستہ لو اس عذاب کا جس کا تم انکار کرتے تھے۔ یہ حکم نہایت ہی سرزنش اور تکلیف دہ انداز میں دیا جاتا ہے۔

المرسلات 77:27

الم نجعل ............................ للمکذبین یعنی زمین کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے دامن میں زندہ اور مردہ سب چیزوں کو لپیٹ کر رکھتی ہے اور اس میں ہم نے بلند وبالا پہاڑ جما دیئے ہیں جو ہبت اونچے اور جمے ہوئے ہیں۔ اور ان کے اوپر ہر وقت بادل چھائے رہتے ہیں اور ان سے میٹھا پانی بہتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی عظیم قدرت اور ٹھیک ٹھیک اندازوں کا مظہر ہے۔ اور گہری حکمت پر دلالت کرتا ہے ، لہٰذا مکذبین کے لئے کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ جھٹلائیں۔ اب ان مشاہد قدرت اور گہرے حکیمانہ قوانین فطرت کے پیش کرنے اور انسانی شعور کو تاثرات اور احساسات سے بھر دینے کے بعد اب روئے سخن حساب و کتاب اور روز جزاء کی طرف پھرجاتا ہے۔ ایک نہایت ہی مرعوب کرنے والا حکم ہم سنتے ہیں جس میں مکذبین سے کہا جاتا ہے کہ اٹھو اور راستہ لو اس عذاب کا جس کا تم انکار کرتے تھے۔ یہ حکم نہایت ہی سرزنش اور تکلیف دہ انداز میں دیا جاتا ہے۔

المرسلات 77:28

الم نجعل ............................ للمکذبین یعنی زمین کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے دامن میں زندہ اور مردہ سب چیزوں کو لپیٹ کر رکھتی ہے اور اس میں ہم نے بلند وبالا پہاڑ جما دیئے ہیں جو ہبت اونچے اور جمے ہوئے ہیں۔ اور ان کے اوپر ہر وقت بادل چھائے رہتے ہیں اور ان سے میٹھا پانی بہتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی عظیم قدرت اور ٹھیک ٹھیک اندازوں کا مظہر ہے۔ اور گہری حکمت پر دلالت کرتا ہے ، لہٰذا مکذبین کے لئے کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ جھٹلائیں۔ اب ان مشاہد قدرت اور گہرے حکیمانہ قوانین فطرت کے پیش کرنے اور انسانی شعور کو تاثرات اور احساسات سے بھر دینے کے بعد اب روئے سخن حساب و کتاب اور روز جزاء کی طرف پھرجاتا ہے۔ ایک نہایت ہی مرعوب کرنے والا حکم ہم سنتے ہیں جس میں مکذبین سے کہا جاتا ہے کہ اٹھو اور راستہ لو اس عذاب کا جس کا تم انکار کرتے تھے۔ یہ حکم نہایت ہی سرزنش اور تکلیف دہ انداز میں دیا جاتا ہے۔

المرسلات 77:29

یعنی جاﺅ، اب تم آزادہو ، قیامت کے طویل دن کے فیصلے اب ہوچکے ، لیکن یہ آزادی اب دائمی قید ہے ، جہنم کے اندر۔ انطلقو .................... بہ تکذبون (29:77) ” چلو اب اسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہ چیز اب تمہارے سامنے حاضر موجود ہے ۔ وہ کیا ہے۔

المرسلات 77:30

انطلقوا .................... شعب (30:77) ” چلو اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے “۔ یہ جہنم کا دھواں ہے۔ جس کی شاخیں اور بڑھ کر تین حصوں میں پھیل گئی ہیں۔ لیکن یہ بہرحال آگ کے شعلے سے زیادہ بہتر ہے لیکن

المرسلات 77:31

لا ضلیل ................ الھب (31:77) ” یہ ٹھنڈک پہنچانے والا نہ آگ کے شعلے سے بچانے والا “۔ یہ بظاہر ساشہ ہے لیکن اس میں دم گھٹتا ہے ، سخت گرم ہے اور آگ کے شعلے کی طرح ہے اور اس کو سایہ محض مزاح کے طور پر کہا گیا ہے۔ بلکہ یوں ان کے دلوں کے اندر تمنا پیدا کی گئی ہے کہ کاش کوئی سایہ ہو جس میں وہ پناہ لے سکیں۔ چلو ، لیکن تم جانتے ہو کہ تمہیں اب کہاں چلنا ہے اور جو فیصلہ ہوا ہے اسکی روشنی میں تم اپنی منزل کو جانتے ہوں لہٰذا تصریح وتشریح کی ضرورت نہیں ہے۔ اور جہاں تم جاﺅ گے ” وہ “ کیا کررہی ہے۔

المرسلات 77:32

انھا ترمی .................... صفر (33:77) ” وہ محل جیسی بڑی چنگاریاں پھینکے گی گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں “۔ شرارے یوں نکل رہے ہوں گے کہ گویا بڑے بڑے پتھروں کے محلات آگے پیچھے آکر گر رہے ہیں۔ (عرب پتھرون کے بنے ہوئے مکانات کو محلات کہتے تھے۔ ضروری نہیں ہے کہ مراد آج کے دیوہیکل محلات ہوں) اور یہ شرارے آگے پیچھے یوں لگ رہے ہوں گے جیسے زرد اونٹ۔ یہ تو ہوں گے اس آگ کے شرارے۔ اب آگ کیسی ہوگی ، اللہ ہی اس سے بچائے۔ اس خوفناک حالت میں مکرر تبصرہ آرہا ہے۔

المرسلات 77:33

انھا ترمی .................... صفر (33:77) ” وہ محل جیسی بڑی چنگاریاں پھینکے گی گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں “۔ شرارے یوں نکل رہے ہوں گے کہ گویا بڑے بڑے پتھروں کے محلات آگے پیچھے آکر گر رہے ہیں۔ (عرب پتھرون کے بنے ہوئے مکانات کو محلات کہتے تھے۔ ضروری نہیں ہے کہ مراد آج کے دیوہیکل محلات ہوں) اور یہ شرارے آگے پیچھے یوں لگ رہے ہوں گے جیسے زرد اونٹ۔ یہ تو ہوں گے اس آگ کے شرارے۔ اب آگ کیسی ہوگی ، اللہ ہی اس سے بچائے۔ اس خوفناک حالت میں مکرر تبصرہ آرہا ہے۔

المرسلات 77:34

ویل ........................ للمکذبین (34:77) تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ یہ خوفناک خاموشی بتارہی ہوگی کہ کس قدر خوف میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ کس قدر دباﺅ ہے ان پر ، کس قدر ہیبت ناک عاجزی ہے ، نہ بات کرسکتے ہیں اور نہ عذرات پیش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ بات اور عذرات کا وقت ہی گزر گیا۔ آج تو۔ ویل یومئذ للمکذبین (37:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ بعض دوسرے مناظر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ وہ حسرت اور افسوس کریں گے ، قسمیں اٹھائیں گے ، معذرتیں پیش کریں گے لیکن اب ان پر تو طویل دن آپڑا ہے۔ اس میں کبھی وہ مہیب سکوت میں ہوں گے اور کبھی چلاتے بھی رہیں گے ، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ البتہ اس سورت کی فضا کی مناسبت سے ان کی حالت سکوت اور حالت دباﺅ کو لایا گیا ہے۔

المرسلات 77:35

ویل ........................ للمکذبین (34:77) تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ یہ خوفناک خاموشی بتارہی ہوگی کہ کس قدر خوف میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ کس قدر دباﺅ ہے ان پر ، کس قدر ہیبت ناک عاجزی ہے ، نہ بات کرسکتے ہیں اور نہ عذرات پیش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ بات اور عذرات کا وقت ہی گزر گیا۔ آج تو۔ ویل یومئذ للمکذبین (37:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ بعض دوسرے مناظر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ وہ حسرت اور افسوس کریں گے ، قسمیں اٹھائیں گے ، معذرتیں پیش کریں گے لیکن اب ان پر تو طویل دن آپڑا ہے۔ اس میں کبھی وہ مہیب سکوت میں ہوں گے اور کبھی چلاتے بھی رہیں گے ، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ البتہ اس سورت کی فضا کی مناسبت سے ان کی حالت سکوت اور حالت دباﺅ کو لایا گیا ہے۔

المرسلات 77:36

ویل ........................ للمکذبین (34:77) تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ یہ خوفناک خاموشی بتارہی ہوگی کہ کس قدر خوف میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ کس قدر دباﺅ ہے ان پر ، کس قدر ہیبت ناک عاجزی ہے ، نہ بات کرسکتے ہیں اور نہ عذرات پیش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ بات اور عذرات کا وقت ہی گزر گیا۔ آج تو۔ ویل یومئذ للمکذبین (37:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ بعض دوسرے مناظر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ وہ حسرت اور افسوس کریں گے ، قسمیں اٹھائیں گے ، معذرتیں پیش کریں گے لیکن اب ان پر تو طویل دن آپڑا ہے۔ اس میں کبھی وہ مہیب سکوت میں ہوں گے اور کبھی چلاتے بھی رہیں گے ، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ البتہ اس سورت کی فضا کی مناسبت سے ان کی حالت سکوت اور حالت دباﺅ کو لایا گیا ہے۔

المرسلات 77:37

ویل ........................ للمکذبین (34:77) تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ یہ خوفناک خاموشی بتارہی ہوگی کہ کس قدر خوف میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ کس قدر دباﺅ ہے ان پر ، کس قدر ہیبت ناک عاجزی ہے ، نہ بات کرسکتے ہیں اور نہ عذرات پیش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ بات اور عذرات کا وقت ہی گزر گیا۔ آج تو۔ ویل یومئذ للمکذبین (37:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ بعض دوسرے مناظر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ وہ حسرت اور افسوس کریں گے ، قسمیں اٹھائیں گے ، معذرتیں پیش کریں گے لیکن اب ان پر تو طویل دن آپڑا ہے۔ اس میں کبھی وہ مہیب سکوت میں ہوں گے اور کبھی چلاتے بھی رہیں گے ، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ البتہ اس سورت کی فضا کی مناسبت سے ان کی حالت سکوت اور حالت دباﺅ کو لایا گیا ہے۔

المرسلات 77:38

آج تو فیصلے کا دن ہے۔ عذرات پیش کرنے کا دن نہیں ہے۔ آج تو اولیں اور آخریں جمع ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے۔ اگر کوئی تدبیر خلاصی کی ہے تو چلو آزمالو ۔ اگر تم کوئی تدبیر یا کوئی طاقت وقدرت رکھتے ہو ؟ لیکن اللہ کے مقابلے میں تدبیر کہاں اور طاقت کہاں ؟ بس خاموشی ہی خاموشی ہے۔ اور درد ناک سرزنش۔

المرسلات 77:39

آج تو فیصلے کا دن ہے۔ عذرات پیش کرنے کا دن نہیں ہے۔ آج تو اولیں اور آخریں جمع ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے۔ اگر کوئی تدبیر خلاصی کی ہے تو چلو آزمالو ۔ اگر تم کوئی تدبیر یا کوئی طاقت وقدرت رکھتے ہو ؟ لیکن اللہ کے مقابلے میں تدبیر کہاں اور طاقت کہاں ؟ بس خاموشی ہی خاموشی ہے۔ اور درد ناک سرزنش۔

المرسلات 77:40

ویل .................... للمکذبین (40:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔

المرسلات 77:41

یہ لوگ چھاﺅں میں ہوں گے ، اب یہ حقیقی چھاﺅں ہے ، یہ دھوئیں کی چھاﺅں نہیں ہے۔ جس کے تین شعبے ہیں۔ نہ ٹھنڈی ہے اور نہ آگ کے شعلوں سے بچانے والی ہے۔ یہ لوگ چشموں میں ہوں گے ، گلہ گھونٹنے والے دھوئیں میں نہیں۔

المرسلات 77:42

وفوا کہ مما یشتھون (43:77) ” ایسے پھلوں میں جو وہ چاہیں گے “۔ ان مادی انعامات اور سہولیات کے علاوہ ان کو روحانی انعام بھی دیا جائے گا کہ علی رﺅس الاشہاد کہا جائے گا۔ نہایت ہی اعزاز کے ساتھ۔

المرسلات 77:43

کلوا واشربوا ........................ المحسنین (44:77) ” کھاﺅ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمان کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ یہ ایک عظیم اعزاز ہے کہ ان کے بارے میں شاہی نوٹیفیکیشن جاری ہوگا۔ اور آخری تبصرہ۔

المرسلات 77:44

کلوا واشربوا ........................ المحسنین (44:77) ” کھاﺅ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمان کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ یہ ایک عظیم اعزاز ہے کہ ان کے بارے میں شاہی نوٹیفیکیشن جاری ہوگا۔ اور آخری تبصرہ۔

المرسلات 77:45

ویل یومئذ للمکذبین (45:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اور یہ تبصرہ ان انعامات کے بالمقابل ہے۔ یہاں ، سیاق کلام اب سرسری اشارہ بلکہ ایک جھلک دکھائی جاتی ہے۔ اس دنیا کی زندگی کے حالات کی جسے اب قیامت کے دن لپیٹ لیا گیا ہے۔ ہم اسکرین پر اس کا نقشہ اور ایک جھلک پھر دیکھتے ہیں ، جس میں مکذبین کی ذلت اور خواری دکھائی جاتی ہے۔

المرسلات 77:46

یوں گویا ہم آخرت کے میدان میں دنیا کی فلم دیکھ رہے ہیں اور یہ جھلک ہمیں صرف دو فقروں میں دکھائی جاتی ہے۔ گویا ہم اپنی آنکھوں سے یہ جھلکیاں دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ دنیا وآخرت میں طویل عرصے ہیں ، آخرت میں یہ خطاب متقین کو تھا ، جبکہ دنیا میں یہ مجرمین کے لئے ہے اور زبان حال سے یہ کہا جارہا ہے کہ دیکھو کس قدر فرق ہوگا دونوں کے حالات میں ۔ کہ ایک گروہ اس مختصر زمانے میں خوب کھاپی رہا ہے اور طویل زمانوں کے لئے پھر محروم ہوگا۔

المرسلات 77:47

ویل یومئذ للمکذبین (47:77) ” آج قیامت میں جھٹلانے والوں کے لئے تباہی ہے “۔ اور قیامت کے بعد زمانے ختم نہ ہوں گے۔ اب تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے مخاطبین قرآن پر کہ انہیں ایسی دعوت دی جارہی ہے اور یہ قبول نہ کرتے۔

المرسلات 77:48

حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں اور انہیں اس خوبصورتی کے ساتھ سمجھایا اور ڈرایا جارہا ہے۔ اگر یہ اس انداز کلام سے متاثر نہیں ہوتے جس سے پہاڑ بھی ہل جاتے ہیں اور جمادات کے اندر بھونچال برپا ہوجاتا ہے۔ تو اس کے بعد ان پر کوئی کلام کار گر نہیں ہوسکتا۔ گویا یہ لوگ نہایت شقی ، بدبخت اور برے انجام تک پہنچنے والے ہیں۔ اور ان کی قسمت میں ہلاکت لکھی ہوئی ہے۔ اور ان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہے۔ یہ پوری سورت اپنے مضامین ، اپنے انداز تعبیر ، اپنے الفاظ کے ترنم ، اپنے خوفناک مشاہد ومناظر اور اپنے چبھنے والے تیز اشارات کی وجہ سے اس قدر موثر ہے کہ کوئی دل اس کے مقابلے میں اپنی جگہ ٹھہر نہیں سکتا۔ کوئی وجود متاثر ہوئے بغیر ہیں رہ سکتا۔ سخت سے سخت دل بھی پگھل جاتا ہے۔ لیکن ان لوگوں پر اگر یہ سورت بھی کارگر نہیں تو پھر ان کا خدا ہی حافظ ! سبحان اللہ ، کیا کلام ہے یہ قرآن ! کس قدر مضبوط گرفت ہے اس کی۔ کس قدر قوت ہے اس میں ! ! ٭٭٭٭٭

المرسلات 77:49

حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں اور انہیں اس خوبصورتی کے ساتھ سمجھایا اور ڈرایا جارہا ہے۔ اگر یہ اس انداز کلام سے متاثر نہیں ہوتے جس سے پہاڑ بھی ہل جاتے ہیں اور جمادات کے اندر بھونچال برپا ہوجاتا ہے۔ تو اس کے بعد ان پر کوئی کلام کار گر نہیں ہوسکتا۔ گویا یہ لوگ نہایت شقی ، بدبخت اور برے انجام تک پہنچنے والے ہیں۔ اور ان کی قسمت میں ہلاکت لکھی ہوئی ہے۔ اور ان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہے۔ یہ پوری سورت اپنے مضامین ، اپنے انداز تعبیر ، اپنے الفاظ کے ترنم ، اپنے خوفناک مشاہد ومناظر اور اپنے چبھنے والے تیز اشارات کی وجہ سے اس قدر موثر ہے کہ کوئی دل اس کے مقابلے میں اپنی جگہ ٹھہر نہیں سکتا۔ کوئی وجود متاثر ہوئے بغیر ہیں رہ سکتا۔ سخت سے سخت دل بھی پگھل جاتا ہے۔ لیکن ان لوگوں پر اگر یہ سورت بھی کارگر نہیں تو پھر ان کا خدا ہی حافظ ! سبحان اللہ ، کیا کلام ہے یہ قرآن ! کس قدر مضبوط گرفت ہے اس کی۔ کس قدر قوت ہے اس میں ! ! ٭٭٭٭٭

المرسلات 77:50

حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں اور انہیں اس خوبصورتی کے ساتھ سمجھایا اور ڈرایا جارہا ہے۔ اگر یہ اس انداز کلام سے متاثر نہیں ہوتے جس سے پہاڑ بھی ہل جاتے ہیں اور جمادات کے اندر بھونچال برپا ہوجاتا ہے۔ تو اس کے بعد ان پر کوئی کلام کار گر نہیں ہوسکتا۔ گویا یہ لوگ نہایت شقی ، بدبخت اور برے انجام تک پہنچنے والے ہیں۔ اور ان کی قسمت میں ہلاکت لکھی ہوئی ہے۔ اور ان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہے۔ یہ پوری سورت اپنے مضامین ، اپنے انداز تعبیر ، اپنے الفاظ کے ترنم ، اپنے خوفناک مشاہد ومناظر اور اپنے چبھنے والے تیز اشارات کی وجہ سے اس قدر موثر ہے کہ کوئی دل اس کے مقابلے میں اپنی جگہ ٹھہر نہیں سکتا۔ کوئی وجود متاثر ہوئے بغیر ہیں رہ سکتا۔ سخت سے سخت دل بھی پگھل جاتا ہے۔ لیکن ان لوگوں پر اگر یہ سورت بھی کارگر نہیں تو پھر ان کا خدا ہی حافظ ! سبحان اللہ ، کیا کلام ہے یہ قرآن ! کس قدر مضبوط گرفت ہے اس کی۔ کس قدر قوت ہے اس میں ! ! ٭٭٭٭٭

النبأ 78:1

آغاز کلام ہی ان نام نہاد سوال کرنے والوں کے سوالات پر سرزنش سے ہوتا ہے۔ تعجب اس پر کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس قدر ظاہروباہر بات کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے سوالات دراصل قیام قیامت کے بارے میں تھے اور یہی موضوع تھا جس کے بارے میں وہ نہایت ہی شک اور خلجان میں مبتلا تھے اور سخت مجادلہ اور مباحثہ کرتے تھے۔ ان لوگوں کے تصور میں یہ بات نہ آتی تھی کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ، حالانکہ ایسا لازمی ہونا چاہئے اور قیام قیامت بالکل ایک منطقی امر ہے۔ عم یتساءلون (1:78) ” یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے ہیں “۔ اور کس چیز کے بارے میں یہ مباحثے کررہے ہیں اور اس کے بعد خود اس کا جواب دے دیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سوال برائے استفہام نہ تھا۔ نہ کچھ معلومات مطلوب تھیں۔ سوال محض ان کے حال پر تعجب کرنے کے لئے کیا گیا ہے اور متصلایہ تھا کہ ان لوگوں کی حالت قابل تعجب ہے کیونکہ ان کے سوالات ایک نہایت ہی عظیم معاملے کے بارے میں ہیں ، جس کے بارے میں یہ شک میں ہیں اور اس کی حقیقت یہ ہے۔

النبأ 78:2

عن النبا ............................ مختلفون (3:78) ” کیا اس بڑی خبر کے سارے میں جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں “۔ یہاں اس عظیم حقیقت کا نام نہیں لیا گیا ، صرف اسے نباء عظیم کہا گیا ، جو اس کی صفت ہے ۔ اس لئے کہ تعجب اور مبالغے کے انداز کو جاری رکھا جائے۔ اس دن کے بارے میں ، اختلافات اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان تھے۔ ان لوگوں کے درمیان جو اس پر ایمان لائے تھے اور ایسے لوگوں کے درمیان جو اس کا انکار کرتے تھے ، سوالات دراصل انکار کرنے والوں ہی کی طرف سے تھے۔ پھر اس سوال اور قیل وقال کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا ہے اور نہ اس بات کی تصریح کی جاتی ہے کہ یہ سوال و جواب کس امر کے بارے میں ہے۔ یہاں صرف اس امر عظیم کی صفت عظیم کا ذکر دیا جاتا ہے اور ایک ملفوف اور بالواسطہ دھمکی دینے پر ہی اکتفاء کردیا جاتا ہے اور یہ بالواسطہ دھمکی ڈائریکٹ جواب سے زیادہ موثر ہے۔ اور زیادہ خوفزدہ کردینے والی ہے۔

النبأ 78:3

عن النبا ............................ مختلفون (3:78) ” کیا اس بڑی خبر کے سارے میں جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں “۔ یہاں اس عظیم حقیقت کا نام نہیں لیا گیا ، صرف اسے نباء عظیم کہا گیا ، جو اس کی صفت ہے ۔ اس لئے کہ تعجب اور مبالغے کے انداز کو جاری رکھا جائے۔ اس دن کے بارے میں ، اختلافات اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان تھے۔ ان لوگوں کے درمیان جو اس پر ایمان لائے تھے اور ایسے لوگوں کے درمیان جو اس کا انکار کرتے تھے ، سوالات دراصل انکار کرنے والوں ہی کی طرف سے تھے۔ پھر اس سوال اور قیل وقال کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا ہے اور نہ اس بات کی تصریح کی جاتی ہے کہ یہ سوال و جواب کس امر کے بارے میں ہے۔ یہاں صرف اس امر عظیم کی صفت عظیم کا ذکر دیا جاتا ہے اور ایک ملفوف اور بالواسطہ دھمکی دینے پر ہی اکتفاء کردیا جاتا ہے اور یہ بالواسطہ دھمکی ڈائریکٹ جواب سے زیادہ موثر ہے۔ اور زیادہ خوفزدہ کردینے والی ہے۔

النبأ 78:4

کلا سیعلمون .................... سیعلمون (5:78) ” ہرگز نہیں ! عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ، ہاں ، ہرگز نہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ لفظ کلازجر آمیز اور سخت توبیخ کے ساتھ انکار کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں جس قسم کی فضا پیدا کرنا مطلوب ہے ، اس کے لئے یہ لفظ نہایت موزوں ہے۔ لفظ کلا کے تکرار اور لفظ سیعلمون دونوں کے تکرار میں سخت تہدید اور ڈراوا ہے۔ اب بظاہر نظر آتا ہے کہ روئے سخن اس عظیم خبر سے پھر کر کسی دوسرے موضوع کی طرف منقل ہوگیا ہے تاکہ تھوڑے وقفے کے بعد اسے براہ راست لیا جائے ، روئے سخن دراصل ہمارے پیش پا افتادہ کائنات کے اندر موجود بعض حقائق ، مظاہر ، مناظر اور شواہد کی طرف پھرجاتا ہے۔ جن کو اگر چشم بینا سے دیکھا جائے اور ان پر غور کیا جائے تو وہ انسانی فکرونظر میں ایک بھونچال پیدا کردیتے ہیں اور فکر انگیز ہیں۔

النبأ 78:5

کلا سیعلمون .................... سیعلمون (5:78) ” ہرگز نہیں ! عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ، ہاں ، ہرگز نہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ لفظ کلازجر آمیز اور سخت توبیخ کے ساتھ انکار کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں جس قسم کی فضا پیدا کرنا مطلوب ہے ، اس کے لئے یہ لفظ نہایت موزوں ہے۔ لفظ کلا کے تکرار اور لفظ سیعلمون دونوں کے تکرار میں سخت تہدید اور ڈراوا ہے۔ اب بظاہر نظر آتا ہے کہ روئے سخن اس عظیم خبر سے پھر کر کسی دوسرے موضوع کی طرف منقل ہوگیا ہے تاکہ تھوڑے وقفے کے بعد اسے براہ راست لیا جائے ، روئے سخن دراصل ہمارے پیش پا افتادہ کائنات کے اندر موجود بعض حقائق ، مظاہر ، مناظر اور شواہد کی طرف پھرجاتا ہے۔ جن کو اگر چشم بینا سے دیکھا جائے اور ان پر غور کیا جائے تو وہ انسانی فکرونظر میں ایک بھونچال پیدا کردیتے ہیں اور فکر انگیز ہیں۔

النبأ 78:6

یہ سفر اس عظیم اور طویل و عریض کائنات کے اطراف و جوانب میں ہے ، اس سفر میں ہم بیشمار مناظر دیکھتے ہیں ، اور مشاہدے کرتے ہیں۔ یہ طویل مناظر اور بیشمار تخیلاتی تصاویر ہمارے سامنے نہایت ہی محدود اور مختصر الفاظ کے ذریعہ پیش کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہایت ہی محدود وقت میں ، محدود الفاظ کے ذریعہ جب یہ مناظر پردہ تخیل پر گزرتے ہیں تو فکر ونظر پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ عقل وخرد کی تاروں پر مضراب اپنا کام نہایت تیزی اور تسلسل کے ساتھ کررہا ہے۔ یہ سب تصورات ایک اثباتی استفہام کے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ایک طاقتور ہاتھ ، نہایت ہی غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو جگارہا ہے۔ جو ان کے قلب ونظر کو اللہ کی اس گوناگوں مخلوقات کے مشاہدے کی طرف متوجہ کررہا ہے۔ اور یہ دعوت دے رہا ہے کہ اس نظام کے پیچھے کام کرنے والی قوت مدبرہ پر ذرا غور کرو کہ کس طرح ہر چیز کو اس نے ایک مقدار کے مطابق رکھا ہوا ہے۔ کس طرح یہ کائنات پیدا کی گئی ہے ، پیدا ہورہی ہے۔ کیا کوئی عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ یہ مخلوقات یونہی چھوڑ دی جائے گی اور کوئی حساب و کتاب نہ ہوگا بلکہ حساب و کتاب ہوگا اور یہ جب واقعہ ہوگا تو یہ وقت کی عظیم خبر ہوگی اور اس کی شہ سرخی لگے گی۔ مگر افسوس کہ اس عظیم حقیقت کے بارے میں بہ لوگ اختلاف رائے رکھتے ہیں ۔ اس سفر کے کئی مراحل ہیں ، پہلا مرحلہ اس زمین کے مطالعے کا ہے۔ الم نجعل .................... اوتادا (7:78) ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا ، اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا “۔ مہاد کے معنی ہیں سیروسیاحت کے لئے تیار کردہ۔ نیز گہوارے کی طرح نرم۔ دونوں مفہوم لفظ مہاد سے نکلتے ہیں اور باہم قریب ہیں۔ انسان علم ومعرفت کے جس مقام پر بھی ہو اور تہذیب و تمدن کے جس مرحلے میں بھی ہو ، وہ اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ زمین اس کے لئے گہوارہ ہے بطور حقیقت واقعہ اس چیز کو سمجھنے کے لئے کسی بڑی مقدار علم کی ضرورت نہیں۔ پہاڑوں کا میخ کی طرح مضبوطی سے جما ہوا ہونا بھی انسان کو ہمیشہ نظر آتا ہے۔ اگرچہ وہ پتھر کے دور میں ہو یا زمانہ حال کی علمی ترقی کے دور کا ہو ، یہ حقائق محسوسات ہیں۔ معمولی توجہ سے دریافت ہوسکتے ہیں۔ البتہ جس حقیقت کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ پتھر کے دور کے انسان کے ابتدائی احساسات سے ذرا گہری ہے۔ انسان نے جوں جوں علم ومعرفت میں ترقی کی ، وہ اس کائنات کے حقائق کی گہرائیوں تک جاپہنچا۔ اور یہ حقائق انسان کی نفسیات پرچھاتے رہے۔ اور انسان نے اس بات کا ادراک کرلیا کہ اس کائنات کی پشت پر ایک گہری حکمت اور تدبیر کام کررہی ہے۔ اور اس کے اندر ایک پیچیدہ ٹیکنالوجی رکھ دی گئی ہے اور تمام مخلوقات اور موجودات باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اور ایک دوسرے کی ضروریات پوری کررہے ہیں۔ اور یہ کہ اس زمین کو خصوصاً انسانی زندگی کے لئے ممدومعاون اور گہوارہ بنایا گیا ہے۔ اور یہ انسان اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اس کے اور ان کائناتی قوتوں کے درمیان ایک قسم کی مفاہمت ہے۔ زمین کو خصوصیت کے ساتھ انسانی حیات کے لئے گہوارہ بنایا گیا ہے ، اور یہ ایک ایسا ثبوت ہے جس کی حقانیت میں شک نہیں کیا جاسکتا ہے ، بشرطیکہ دیکھنے والا عقل وخرد سے بےبہرہ نہ ہو اور وہ اس ظاہری کائنات کی پشت پر بھی جھانک کر دیکھ سکتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اس زمین میں جو قوتیں پیدا کی ہیں ، اگر ان کی نسبت ترکیب کے اندر معمولی ردوبدل بھی کردیا جائے ، اور زمین کے ظروف واحوال وہ نہ رہیں جو ہیں ، یا اگر زمین کی تخلیق کے اندر ملحوظ عناصر کے درمیان میں سے کسی ایک عنصر ہی کو غائب کرکے اس مرکب کی نسبتوں کے اندر ذرا سا بھی اختلال واقع ہوجائے تو زمین جس کو انسان کے لئے گہوارہ بنایا گیا ہے ، انسان کے لئے موت کا کنواں بن جائے اور اس کے اندر سے وہ صفت مفقود ہوجائے جس کی طرف قرآن یہاں اشارہ کررہا ہے۔ قرآن نے تو اس بات کی طرف یہاں مجمل اشارہ فرمایا ہے۔ تفصیلات انسان پر چھوڑ دی ہیں تاکہ انسان اپنی عقل وخرد اور علم و تجربہ کے مطابق تفصیلات کا مطالعہ کرے۔ اور اللہ نے پہاڑوں کو زمین کے اندر میخوں کی طرح گاڑدیا۔ ہر انسان ایک سرسری نظر سے اس بات کو ظاہراً پاتا ہے کہ پہاڑ زمین کے اندر میخوں کی طرح گاڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح جس طرح خیمے کی میخیں ہوتی ہیں ، اور پہاڑ خیموں کی طرح نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت کیا ہے ، تو قرآن سے ہم یہ پاتے ہیں اور اس بات کا ادراک کرتے ہیں کہ یہ زمین کو مضبوط کرنے اور اس کا توازن قائم کرنے اور اسے قائم رکھنے کے لئے ازحد ضروری ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ پہاڑ اس لئے قائم کیے گئے ہوں تاکہ زمین پر سمندروں کی گہرائیوں اور پہاڑوں کی بلندیوں کی وجہ سے ایک توازن قائم ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی وجہ سے زمین کے اندرونی سکیڑ اور سطحی سکیڑ کے درمیان توازن قائم کیا گیا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان پہاڑوں کی وجہ سے زمین کے بعض حساس مقامات پر زلزلوں اور آتش فشانیوں کو روکا گیا ہو ، اور ان وجوہات کے علاوہ بعض دوسری نامعلوم وجوہات کے ناطے پہاڑوں کو میخیں کہا گیا ہو۔ جن کا ابھی تک انسان کو علم ہی نہ ہوا ہو ، کیونکہ قرآن نے کئی نامعلوم حقائق کی طرف اشارات اور واضح اشارات کیے تھے اور انسانوں نے ان کا ایک نہایت ہی محدود حصہ صدیوں بعد معلوم کیا ہے۔ دوسرا سفر دراصل انسانی نفسیات کی وادیوں میں ہے۔ نفس انسانی کے بعض پہلوﺅں کو لیا گیا ہے۔

النبأ 78:7

یہ سفر اس عظیم اور طویل و عریض کائنات کے اطراف و جوانب میں ہے ، اس سفر میں ہم بیشمار مناظر دیکھتے ہیں ، اور مشاہدے کرتے ہیں۔ یہ طویل مناظر اور بیشمار تخیلاتی تصاویر ہمارے سامنے نہایت ہی محدود اور مختصر الفاظ کے ذریعہ پیش کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہایت ہی محدود وقت میں ، محدود الفاظ کے ذریعہ جب یہ مناظر پردہ تخیل پر گزرتے ہیں تو فکر ونظر پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ عقل وخرد کی تاروں پر مضراب اپنا کام نہایت تیزی اور تسلسل کے ساتھ کررہا ہے۔ یہ سب تصورات ایک اثباتی استفہام کے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ایک طاقتور ہاتھ ، نہایت ہی غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو جگارہا ہے۔ جو ان کے قلب ونظر کو اللہ کی اس گوناگوں مخلوقات کے مشاہدے کی طرف متوجہ کررہا ہے۔ اور یہ دعوت دے رہا ہے کہ اس نظام کے پیچھے کام کرنے والی قوت مدبرہ پر ذرا غور کرو کہ کس طرح ہر چیز کو اس نے ایک مقدار کے مطابق رکھا ہوا ہے۔ کس طرح یہ کائنات پیدا کی گئی ہے ، پیدا ہورہی ہے۔ کیا کوئی عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ یہ مخلوقات یونہی چھوڑ دی جائے گی اور کوئی حساب و کتاب نہ ہوگا بلکہ حساب و کتاب ہوگا اور یہ جب واقعہ ہوگا تو یہ وقت کی عظیم خبر ہوگی اور اس کی شہ سرخی لگے گی۔ مگر افسوس کہ اس عظیم حقیقت کے بارے میں بہ لوگ اختلاف رائے رکھتے ہیں ۔ اس سفر کے کئی مراحل ہیں ، پہلا مرحلہ اس زمین کے مطالعے کا ہے۔ الم نجعل .................... اوتادا (7:78) ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا ، اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا “۔ مہاد کے معنی ہیں سیروسیاحت کے لئے تیار کردہ۔ نیز گہوارے کی طرح نرم۔ دونوں مفہوم لفظ مہاد سے نکلتے ہیں اور باہم قریب ہیں۔ انسان علم ومعرفت کے جس مقام پر بھی ہو اور تہذیب و تمدن کے جس مرحلے میں بھی ہو ، وہ اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ زمین اس کے لئے گہوارہ ہے بطور حقیقت واقعہ اس چیز کو سمجھنے کے لئے کسی بڑی مقدار علم کی ضرورت نہیں۔ پہاڑوں کا میخ کی طرح مضبوطی سے جما ہوا ہونا بھی انسان کو ہمیشہ نظر آتا ہے۔ اگرچہ وہ پتھر کے دور میں ہو یا زمانہ حال کی علمی ترقی کے دور کا ہو ، یہ حقائق محسوسات ہیں۔ معمولی توجہ سے دریافت ہوسکتے ہیں۔ البتہ جس حقیقت کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ پتھر کے دور کے انسان کے ابتدائی احساسات سے ذرا گہری ہے۔ انسان نے جوں جوں علم ومعرفت میں ترقی کی ، وہ اس کائنات کے حقائق کی گہرائیوں تک جاپہنچا۔ اور یہ حقائق انسان کی نفسیات پرچھاتے رہے۔ اور انسان نے اس بات کا ادراک کرلیا کہ اس کائنات کی پشت پر ایک گہری حکمت اور تدبیر کام کررہی ہے۔ اور اس کے اندر ایک پیچیدہ ٹیکنالوجی رکھ دی گئی ہے اور تمام مخلوقات اور موجودات باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اور ایک دوسرے کی ضروریات پوری کررہے ہیں۔ اور یہ کہ اس زمین کو خصوصاً انسانی زندگی کے لئے ممدومعاون اور گہوارہ بنایا گیا ہے۔ اور یہ انسان اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اس کے اور ان کائناتی قوتوں کے درمیان ایک قسم کی مفاہمت ہے۔ زمین کو خصوصیت کے ساتھ انسانی حیات کے لئے گہوارہ بنایا گیا ہے ، اور یہ ایک ایسا ثبوت ہے جس کی حقانیت میں شک نہیں کیا جاسکتا ہے ، بشرطیکہ دیکھنے والا عقل وخرد سے بےبہرہ نہ ہو اور وہ اس ظاہری کائنات کی پشت پر بھی جھانک کر دیکھ سکتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اس زمین میں جو قوتیں پیدا کی ہیں ، اگر ان کی نسبت ترکیب کے اندر معمولی ردوبدل بھی کردیا جائے ، اور زمین کے ظروف واحوال وہ نہ رہیں جو ہیں ، یا اگر زمین کی تخلیق کے اندر ملحوظ عناصر کے درمیان میں سے کسی ایک عنصر ہی کو غائب کرکے اس مرکب کی نسبتوں کے اندر ذرا سا بھی اختلال واقع ہوجائے تو زمین جس کو انسان کے لئے گہوارہ بنایا گیا ہے ، انسان کے لئے موت کا کنواں بن جائے اور اس کے اندر سے وہ صفت مفقود ہوجائے جس کی طرف قرآن یہاں اشارہ کررہا ہے۔ قرآن نے تو اس بات کی طرف یہاں مجمل اشارہ فرمایا ہے۔ تفصیلات انسان پر چھوڑ دی ہیں تاکہ انسان اپنی عقل وخرد اور علم و تجربہ کے مطابق تفصیلات کا مطالعہ کرے۔ اور اللہ نے پہاڑوں کو زمین کے اندر میخوں کی طرح گاڑدیا۔ ہر انسان ایک سرسری نظر سے اس بات کو ظاہراً پاتا ہے کہ پہاڑ زمین کے اندر میخوں کی طرح گاڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح جس طرح خیمے کی میخیں ہوتی ہیں ، اور پہاڑ خیموں کی طرح نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت کیا ہے ، تو قرآن سے ہم یہ پاتے ہیں اور اس بات کا ادراک کرتے ہیں کہ یہ زمین کو مضبوط کرنے اور اس کا توازن قائم کرنے اور اسے قائم رکھنے کے لئے ازحد ضروری ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ پہاڑ اس لئے قائم کیے گئے ہوں تاکہ زمین پر سمندروں کی گہرائیوں اور پہاڑوں کی بلندیوں کی وجہ سے ایک توازن قائم ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی وجہ سے زمین کے اندرونی سکیڑ اور سطحی سکیڑ کے درمیان توازن قائم کیا گیا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان پہاڑوں کی وجہ سے زمین کے بعض حساس مقامات پر زلزلوں اور آتش فشانیوں کو روکا گیا ہو ، اور ان وجوہات کے علاوہ بعض دوسری نامعلوم وجوہات کے ناطے پہاڑوں کو میخیں کہا گیا ہو۔ جن کا ابھی تک انسان کو علم ہی نہ ہوا ہو ، کیونکہ قرآن نے کئی نامعلوم حقائق کی طرف اشارات اور واضح اشارات کیے تھے اور انسانوں نے ان کا ایک نہایت ہی محدود حصہ صدیوں بعد معلوم کیا ہے۔ دوسرا سفر دراصل انسانی نفسیات کی وادیوں میں ہے۔ نفس انسانی کے بعض پہلوﺅں کو لیا گیا ہے۔

النبأ 78:8

وخلقنکم ازواجا (8:78) ” اور ہم نے تمہیں مرد اور عورت کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا “۔ یہ بھی اس دنیا کی ایک نہایت کھلی حقیقت ہے ، جسے انسان نہایت ہی سادگی کے ساتھ پاتا ہے کہ انسانوں کو مرد اور عورت کی شکل میں پیدا کیا گیا ہے ۔ پھر ان کو جوڑا بنایا گیا اور ان کے ملاپ سے سلسلہ حیات کو جاری رکھا گیا۔ ہر انسان اس حقیقت اور اس نظارے کو دیکھتا ہے اور پھر وہ دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ اس نظام کے اندر کس قدر لطف ، مزہ ، خوشی اور آرام رکھا گیا ہے اور ان امور کو سمجھنے کے لئے کسی وسیع علم کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے اللہ نے انسانوں کے سامنے یہ حقیقت رکھی ، ہر تہذیب و تمدن کا بیٹا بھی اسے سمجھتا ہے اور ہر بدوی اور پہاڑی بھی اس کو محسوس کرکے اس کو برتتا ہے اور اس کے مطابق زندگی کو منظم کرتا ہے۔ اس گہری حقیقت کے اس اجمالی شعور سے آگے کچھ مزید قابل غور باتیں بھی ہیں ، ان تک صرف ان لوگوں کو رسائی حاصل ہوتی ہے جو علم ومعرفت میں ذرا گہرائی تک چلے جاتے ہیں ، مثلاً انسانی جرثومے اور نطفے سے مذکر اور مونث بنا دینا حالانکہ اس جرثومے کے اندر مذکر ومونث کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جو کسی نطفے کو تذکیر کی طرف لے جاتا ہے اور کسی نطفے کو تانیت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ صرف دست قدرت کے کارنامے ہیں۔ اللہ کی تخلیق اور اللہ کی ہدایت جس نطفے میں جو خصائص چاہے ڈال دے تاکہ انسان ایک جوڑے کی شکل میں پیدا ہوں اور زندگی کی گاڑی آگے بڑھے۔

النبأ 78:9

وجعلنا ........................ معاشا (9:78 تا 11) ” اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا “۔ اللہ کی مہربانیوں پر ذرا غور کریں کہ اس نے انسانوں کو سکون اور تازگی عطا کرنے کے لئے نیند کی تخلیق کی۔ یہ نیند جب انسان پر طاری ہوتی ہے تو ایک وقت کے لئے اس کی قوت مدرکہ اور قوت عمل کو موقوف کردیتی ہے۔ اس وقفے میں انسان ایک ایسی حالت میں چلا جاتا ہے کہ جسے نہ حالت موت کہا جاسکتا ہے اور نہ حالت حیات۔ اس حالت میں جانے سے انسانی جسم اور اعصاب کی تمام تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور وہ تازہ دم ہوکر اور از سرنو پیدا ہوکر زندگی کی جدوجہد اور مشغولیات اپنا لیتا ہے۔ حالت نوم کس طرح طاری ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک انسان کس طرح تازہ دم ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کام میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ انسان اس بات کو جانتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کام میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ انسان اس بات کو جانتا ہے کہ یہ تازگی اس کے جسم میں کس طرح سرایت کرجاتی ہے۔ کیونکہ جب وہ جاگ اٹھتا ہے تو وہ نیند کی حالت کا تصور نہیں کرسکتا۔ اور نیند کی حالت میں بھی اس کی قوت مدرکہ معطل ہوتی ہے۔ یہ ہے ہر زندہ چیز سے متعلق ایک کھلے راز کی بات جسے صرف وہ ذات جانتی ہے جس نے ان زندہ مخلوقات کو پیدا کیا اور انسانی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو سونے اور نیند پر موقوف کیا۔ کیونکہ ہر زندہ مخلوق ایک محدود وقت تک ہی نیند کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے ، اور اگر اسے مجبوراً دیر تک مصنوعی طریقے سے بیدار رکھا جائے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن نیند میں جسمانی اور اعصابی ضروریات کے علاوہ بھی کچھ راز ہیں۔ یہ روح کے لئے بھی سکون کا ذریعہ ہے۔ روح کو بھی زندگی کی سخت کشمکش سے ہٹا کر اس کے لئے سکون کا ذریعہ ہے۔ یوں جس طرح ایک فوجی اسلحہ اتار کر قدرے سستاتا ہے اور امن و سکون کی حالت میں چلا جاتا ہے لیکن نیند کی حالت میں اسے جانا پڑتا ہے۔ وہ چاہے یا نہ چاہے کیونکہ نیند انسان کی ایک ایسی ضرورت ہے جس طرح کھانا پینا ، اس کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات نیند کے نتیجے میں ایسی تبدیلی آتی ہے جو معجزات سے کم نہیں ہوتی۔ انسان روحانی تھکاوٹ میں مبتلا ہوتا ہے ، اعصاب چور چور ہوتے ہیں ، روح متزلزل ہوتی ہے ، اور دل پریشانی سے بھرا ہوتا ہے۔ اچانک ایک اونگھ سی طاری ہوتی ہے ، اور بعض اوقات یہ اونگھ چند لمحات سے زیادہ نہیں ہوتی۔ لیکن ایک فرد کے جسم اور روح پر تازگی طاری ہوجاتی ہے اور اس کی حالت میں ایک انقلاب آجاتا ہے اور چند لمحات کے اندر انسان اپنے آپ کو تروتازہ بلکہ ایک نیا انسان محسوس کرتا ہے۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں تھکے ہارے مسلمانوں پر اللہ نے ایسی ہی اونگھ طاری کردی تھی جسے نعاس امنہ کہا گیا۔ اذ یغشیکم ............ امنة (11:8) ” اس وقت کو یاد کرو جب تمہیں ایک ایسی اونگھ نے ڈھانپ لیا ، سکون طاری کرنے کے لئے صرف اللہ کی طرف سے “۔ اور سورة آل عمران میں۔ ثم انزل ................................ منکم (154:3) ” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے “۔ اور بعض اوقات بعض دوسرے لوگوں پر بھی ایسے حالات طاری کردیئے جاتے ہیں۔ یہ ” سبات “ یعنی زندگی کی سرگرمیوں اور عقل وروح کی تمام سرگرمیوں سے رک جانا ، ہر زندہ مخلوق کی ضرورت ہے ، اور دست قدرت اور خالق کائنات کے رازوں میں سے ایک راز ہے ، اور ایک ایسی نعمت ہے جو خالص اللہ کی داد دہش اور عطا اور مہربانی کا نتیجہ ہے۔ قرآن کریم انسان کے عقل وادراک کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ اے انسان ذرا اپنی ذاتی خواص پر بھی غور کرو ، اور جس دست قدرت نے یہ خواص رکھے ہیں اس پر بھی قدرے تامل اور تدبر کرو اور اس کی معرفت حاصل کرو۔ اور ذات باری کی قدرتوں میں سے ایک اہم قدرت اور تدبیر یہ ہے کہ اس نے اس کائنات کی حرکت کو بھی مخلوق کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ جس طرح انسان کے اندر نیند رکھ کر اسے سکون دیا گیا ہے کہ زندگی کی کشمکش کے بعد وہ قدرے سکون میں رے۔ تو کائنات کے اندر اللہ نے رات کا ماحول پیدا کرکے انسان کے لئے نیند اور سکون کا سازگار ماحول پیدا کردیا ہے۔ یوں اللہ کی مخلوق کے اندر باہم سازگار ماحول پیدا ہوا۔ اور یہ پوری دنیا زندہ مخلوقات کا ایک خاندان بن گئی۔ زندہ اشیاء کی یہ فیملی ان خصائص کے مطالبات پر لبیک کہتی ہے ، جو اس کائنات کے اندر رکھ دیئے گئے ہیں ، اور ان زندہ مخلوقات کی تمام اقسام کے اندر ایسی حرکت اور ایسی ضروریات رکھ دی گئی ہیں جو بعینہ اس پوری کائنات کے اندر رکھی گئی ہیں ، اور یہ تمام امور دست قدرت نے سرانجام دیئے ہیں اور یوں اس کائنات اور اس پوری زندہ مخلوق کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور موافقت پیدا کردی گئی ہے۔ اور ان آیات میں تیسرا رنگ یہ دکھایا گیا ہے ، دور کے آسمانوں اور بلندیوں کا قریب کی زمین کے ساتھ رابطہ ہے۔

النبأ 78:10

وجعلنا ........................ معاشا (9:78 تا 11) ” اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا “۔ اللہ کی مہربانیوں پر ذرا غور کریں کہ اس نے انسانوں کو سکون اور تازگی عطا کرنے کے لئے نیند کی تخلیق کی۔ یہ نیند جب انسان پر طاری ہوتی ہے تو ایک وقت کے لئے اس کی قوت مدرکہ اور قوت عمل کو موقوف کردیتی ہے۔ اس وقفے میں انسان ایک ایسی حالت میں چلا جاتا ہے کہ جسے نہ حالت موت کہا جاسکتا ہے اور نہ حالت حیات۔ اس حالت میں جانے سے انسانی جسم اور اعصاب کی تمام تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور وہ تازہ دم ہوکر اور از سرنو پیدا ہوکر زندگی کی جدوجہد اور مشغولیات اپنا لیتا ہے۔ حالت نوم کس طرح طاری ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک انسان کس طرح تازہ دم ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کام میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ انسان اس بات کو جانتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کام میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ انسان اس بات کو جانتا ہے کہ یہ تازگی اس کے جسم میں کس طرح سرایت کرجاتی ہے۔ کیونکہ جب وہ جاگ اٹھتا ہے تو وہ نیند کی حالت کا تصور نہیں کرسکتا۔ اور نیند کی حالت میں بھی اس کی قوت مدرکہ معطل ہوتی ہے۔ یہ ہے ہر زندہ چیز سے متعلق ایک کھلے راز کی بات جسے صرف وہ ذات جانتی ہے جس نے ان زندہ مخلوقات کو پیدا کیا اور انسانی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو سونے اور نیند پر موقوف کیا۔ کیونکہ ہر زندہ مخلوق ایک محدود وقت تک ہی نیند کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے ، اور اگر اسے مجبوراً دیر تک مصنوعی طریقے سے بیدار رکھا جائے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن نیند میں جسمانی اور اعصابی ضروریات کے علاوہ بھی کچھ راز ہیں۔ یہ روح کے لئے بھی سکون کا ذریعہ ہے۔ روح کو بھی زندگی کی سخت کشمکش سے ہٹا کر اس کے لئے سکون کا ذریعہ ہے۔ یوں جس طرح ایک فوجی اسلحہ اتار کر قدرے سستاتا ہے اور امن و سکون کی حالت میں چلا جاتا ہے لیکن نیند کی حالت میں اسے جانا پڑتا ہے۔ وہ چاہے یا نہ چاہے کیونکہ نیند انسان کی ایک ایسی ضرورت ہے جس طرح کھانا پینا ، اس کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات نیند کے نتیجے میں ایسی تبدیلی آتی ہے جو معجزات سے کم نہیں ہوتی۔ انسان روحانی تھکاوٹ میں مبتلا ہوتا ہے ، اعصاب چور چور ہوتے ہیں ، روح متزلزل ہوتی ہے ، اور دل پریشانی سے بھرا ہوتا ہے۔ اچانک ایک اونگھ سی طاری ہوتی ہے ، اور بعض اوقات یہ اونگھ چند لمحات سے زیادہ نہیں ہوتی۔ لیکن ایک فرد کے جسم اور روح پر تازگی طاری ہوجاتی ہے اور اس کی حالت میں ایک انقلاب آجاتا ہے اور چند لمحات کے اندر انسان اپنے آپ کو تروتازہ بلکہ ایک نیا انسان محسوس کرتا ہے۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں تھکے ہارے مسلمانوں پر اللہ نے ایسی ہی اونگھ طاری کردی تھی جسے نعاس امنہ کہا گیا۔ اذ یغشیکم ............ امنة (11:8) ” اس وقت کو یاد کرو جب تمہیں ایک ایسی اونگھ نے ڈھانپ لیا ، سکون طاری کرنے کے لئے صرف اللہ کی طرف سے “۔ اور سورة آل عمران میں۔ ثم انزل ................................ منکم (154:3) ” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے “۔ اور بعض اوقات بعض دوسرے لوگوں پر بھی ایسے حالات طاری کردیئے جاتے ہیں۔ یہ ” سبات “ یعنی زندگی کی سرگرمیوں اور عقل وروح کی تمام سرگرمیوں سے رک جانا ، ہر زندہ مخلوق کی ضرورت ہے ، اور دست قدرت اور خالق کائنات کے رازوں میں سے ایک راز ہے ، اور ایک ایسی نعمت ہے جو خالص اللہ کی داد دہش اور عطا اور مہربانی کا نتیجہ ہے۔ قرآن کریم انسان کے عقل وادراک کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ اے انسان ذرا اپنی ذاتی خواص پر بھی غور کرو ، اور جس دست قدرت نے یہ خواص رکھے ہیں اس پر بھی قدرے تامل اور تدبر کرو اور اس کی معرفت حاصل کرو۔ اور ذات باری کی قدرتوں میں سے ایک اہم قدرت اور تدبیر یہ ہے کہ اس نے اس کائنات کی حرکت کو بھی مخلوق کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ جس طرح انسان کے اندر نیند رکھ کر اسے سکون دیا گیا ہے کہ زندگی کی کشمکش کے بعد وہ قدرے سکون میں رے۔ تو کائنات کے اندر اللہ نے رات کا ماحول پیدا کرکے انسان کے لئے نیند اور سکون کا سازگار ماحول پیدا کردیا ہے۔ یوں اللہ کی مخلوق کے اندر باہم سازگار ماحول پیدا ہوا۔ اور یہ پوری دنیا زندہ مخلوقات کا ایک خاندان بن گئی۔ زندہ اشیاء کی یہ فیملی ان خصائص کے مطالبات پر لبیک کہتی ہے ، جو اس کائنات کے اندر رکھ دیئے گئے ہیں ، اور ان زندہ مخلوقات کی تمام اقسام کے اندر ایسی حرکت اور ایسی ضروریات رکھ دی گئی ہیں جو بعینہ اس پوری کائنات کے اندر رکھی گئی ہیں ، اور یہ تمام امور دست قدرت نے سرانجام دیئے ہیں اور یوں اس کائنات اور اس پوری زندہ مخلوق کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور موافقت پیدا کردی گئی ہے۔ اور ان آیات میں تیسرا رنگ یہ دکھایا گیا ہے ، دور کے آسمانوں اور بلندیوں کا قریب کی زمین کے ساتھ رابطہ ہے۔

النبأ 78:11

وجعلنا ........................ معاشا (9:78 تا 11) ” اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا “۔ اللہ کی مہربانیوں پر ذرا غور کریں کہ اس نے انسانوں کو سکون اور تازگی عطا کرنے کے لئے نیند کی تخلیق کی۔ یہ نیند جب انسان پر طاری ہوتی ہے تو ایک وقت کے لئے اس کی قوت مدرکہ اور قوت عمل کو موقوف کردیتی ہے۔ اس وقفے میں انسان ایک ایسی حالت میں چلا جاتا ہے کہ جسے نہ حالت موت کہا جاسکتا ہے اور نہ حالت حیات۔ اس حالت میں جانے سے انسانی جسم اور اعصاب کی تمام تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور وہ تازہ دم ہوکر اور از سرنو پیدا ہوکر زندگی کی جدوجہد اور مشغولیات اپنا لیتا ہے۔ حالت نوم کس طرح طاری ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک انسان کس طرح تازہ دم ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کام میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ انسان اس بات کو جانتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کام میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ انسان اس بات کو جانتا ہے کہ یہ تازگی اس کے جسم میں کس طرح سرایت کرجاتی ہے۔ کیونکہ جب وہ جاگ اٹھتا ہے تو وہ نیند کی حالت کا تصور نہیں کرسکتا۔ اور نیند کی حالت میں بھی اس کی قوت مدرکہ معطل ہوتی ہے۔ یہ ہے ہر زندہ چیز سے متعلق ایک کھلے راز کی بات جسے صرف وہ ذات جانتی ہے جس نے ان زندہ مخلوقات کو پیدا کیا اور انسانی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو سونے اور نیند پر موقوف کیا۔ کیونکہ ہر زندہ مخلوق ایک محدود وقت تک ہی نیند کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے ، اور اگر اسے مجبوراً دیر تک مصنوعی طریقے سے بیدار رکھا جائے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن نیند میں جسمانی اور اعصابی ضروریات کے علاوہ بھی کچھ راز ہیں۔ یہ روح کے لئے بھی سکون کا ذریعہ ہے۔ روح کو بھی زندگی کی سخت کشمکش سے ہٹا کر اس کے لئے سکون کا ذریعہ ہے۔ یوں جس طرح ایک فوجی اسلحہ اتار کر قدرے سستاتا ہے اور امن و سکون کی حالت میں چلا جاتا ہے لیکن نیند کی حالت میں اسے جانا پڑتا ہے۔ وہ چاہے یا نہ چاہے کیونکہ نیند انسان کی ایک ایسی ضرورت ہے جس طرح کھانا پینا ، اس کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات نیند کے نتیجے میں ایسی تبدیلی آتی ہے جو معجزات سے کم نہیں ہوتی۔ انسان روحانی تھکاوٹ میں مبتلا ہوتا ہے ، اعصاب چور چور ہوتے ہیں ، روح متزلزل ہوتی ہے ، اور دل پریشانی سے بھرا ہوتا ہے۔ اچانک ایک اونگھ سی طاری ہوتی ہے ، اور بعض اوقات یہ اونگھ چند لمحات سے زیادہ نہیں ہوتی۔ لیکن ایک فرد کے جسم اور روح پر تازگی طاری ہوجاتی ہے اور اس کی حالت میں ایک انقلاب آجاتا ہے اور چند لمحات کے اندر انسان اپنے آپ کو تروتازہ بلکہ ایک نیا انسان محسوس کرتا ہے۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں تھکے ہارے مسلمانوں پر اللہ نے ایسی ہی اونگھ طاری کردی تھی جسے نعاس امنہ کہا گیا۔ اذ یغشیکم ............ امنة (11:8) ” اس وقت کو یاد کرو جب تمہیں ایک ایسی اونگھ نے ڈھانپ لیا ، سکون طاری کرنے کے لئے صرف اللہ کی طرف سے “۔ اور سورة آل عمران میں۔ ثم انزل ................................ منکم (154:3) ” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے “۔ اور بعض اوقات بعض دوسرے لوگوں پر بھی ایسے حالات طاری کردیئے جاتے ہیں۔ یہ ” سبات “ یعنی زندگی کی سرگرمیوں اور عقل وروح کی تمام سرگرمیوں سے رک جانا ، ہر زندہ مخلوق کی ضرورت ہے ، اور دست قدرت اور خالق کائنات کے رازوں میں سے ایک راز ہے ، اور ایک ایسی نعمت ہے جو خالص اللہ کی داد دہش اور عطا اور مہربانی کا نتیجہ ہے۔ قرآن کریم انسان کے عقل وادراک کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ اے انسان ذرا اپنی ذاتی خواص پر بھی غور کرو ، اور جس دست قدرت نے یہ خواص رکھے ہیں اس پر بھی قدرے تامل اور تدبر کرو اور اس کی معرفت حاصل کرو۔ اور ذات باری کی قدرتوں میں سے ایک اہم قدرت اور تدبیر یہ ہے کہ اس نے اس کائنات کی حرکت کو بھی مخلوق کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ جس طرح انسان کے اندر نیند رکھ کر اسے سکون دیا گیا ہے کہ زندگی کی کشمکش کے بعد وہ قدرے سکون میں رے۔ تو کائنات کے اندر اللہ نے رات کا ماحول پیدا کرکے انسان کے لئے نیند اور سکون کا سازگار ماحول پیدا کردیا ہے۔ یوں اللہ کی مخلوق کے اندر باہم سازگار ماحول پیدا ہوا۔ اور یہ پوری دنیا زندہ مخلوقات کا ایک خاندان بن گئی۔ زندہ اشیاء کی یہ فیملی ان خصائص کے مطالبات پر لبیک کہتی ہے ، جو اس کائنات کے اندر رکھ دیئے گئے ہیں ، اور ان زندہ مخلوقات کی تمام اقسام کے اندر ایسی حرکت اور ایسی ضروریات رکھ دی گئی ہیں جو بعینہ اس پوری کائنات کے اندر رکھی گئی ہیں ، اور یہ تمام امور دست قدرت نے سرانجام دیئے ہیں اور یوں اس کائنات اور اس پوری زندہ مخلوق کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور موافقت پیدا کردی گئی ہے۔ اور ان آیات میں تیسرا رنگ یہ دکھایا گیا ہے ، دور کے آسمانوں اور بلندیوں کا قریب کی زمین کے ساتھ رابطہ ہے۔

النبأ 78:12

وبنینا فوقکم ........................ الفافا (12:78 تا 16) ” اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کیے اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا ، اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی تاکہ اس کے ذریعے سے غلہ سبزی اور گھنے باغ اگائیں “۔ اور وہ وسیع شداد جو انسان کے اوپر کھڑے کیے گئے وہ سات آسمان ہیں اور دوسری جگہ ان کو سات راستے کہا گیا ہے۔ ان سے حقیقی طور پر مقصود کیا ہے۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ سات کہکشانی ہے بھی ہوسکتے ہیں ، یہ کہکشانی مجموعے اس قدر بڑے ہیں کہ ان میں سے ایک ہی کہکشانی گروپ میں ستاروں کی تعداد ایک سو ملین کے لگ بھگ ہے۔ اور ان سات مجموعوں کا ہماری زمین اور ہمارے مجموعہ شمسی سے تعلق ہے اور ان ” وسیع شدا “ کا کوئی اور مفہوم بھی ہوسکتا ہے۔ اور اس بات کو للہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ اس کائنات کے بارے میں ہمارا موجودہ علم بہت زیادہ دکھائی دینے کے باوجود بہت ہی قلیل ہے۔ اس آیت میں جو کچھ بتایا گیا وہ یہ ہے کہ یہ سات آسمان نہایت مضبوط ہیں۔ ان کی عمارت نہایت پختہ ہے۔ اور اس قدر مضبوطی کے ساتھ باہم وگرپیوست کردیئے گئے ہیں کہ ان کے سنچے میں کسی جگہ ٹوٹ پھوٹ اور انفکاک ممکن نہیں ہے۔ اور یہ وہی ہیں جن کو ہم اس فضائے کائناتی میں مشاہدہ کرتے ہیں اور جن پر آسمانوں کا لفظ بولا جاتا ہے اور لوگ سمجھ لیتے ہیں اور دوسری چیز یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ سات مضبوط آسمان زمین سے بھی مربوط ہیں اور انسان اور تمام دوسری زندہ مخلوقات سے بھی مربوط ہیں۔ اس لئے ان سات مضبوط چیزوں کا ذکر انسان کی زندگی اور اس کے قیام وانصرام کی تدابیر کے ضمن میں کیا گیا۔

النبأ 78:13

وجعلنا .................... وھاجا (13:78) ” اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ بنالیا “۔ اور یہ روشن اور گرم چراغ سورج ہے جس کی روشنی تیز ہے اور اس کے اندر بےپناہ گرمی ہے۔ جس کی وجہ سے زمین اور اس کے اوپر زندگی ممکن ہوتی ہے جو سمندر کے پانیوں کو گرم کرکے ان سے اس وسیع زمین پر آبپاشی کا بندوبست کرتا ہے۔ وہ بادلوں کو اٹھاتا ہے۔ ان کی بلندی کی اعلیٰ سطح تک لے جاتا ہے اور پھر ان بادلوں کو نچوڑ کر بارش برسائی جاتی ہے۔

النبأ 78:14

وانزلنا .................... ثجاجا (14:78) ” اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی “۔ یعنی قوانین قدرت سے ان بادلوں کو نچوڑتے ہیں اور ان کا پانی زمین پر گرتا ہے۔ یہ پانی کس طرح نچوڑا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہواﺅں کے ذریعہ بادلوں سے پانی نچوڑا جاتا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بادلوں کے باہم ٹکرانے سے بجلی کی پیدائش کے عمل سے پانی نکل آتا ہو ، لیکن ان تمام اسباب کے پیچھے کوئی تو مسبب الاسباب ہے جو ان تمام اسباب اور اثرات ڈالنے والی چیزوں کا خالق ہے۔ اس سورج کو چراغ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی ہوتی ہے اور یہی کام سورج کے اندر ہورہا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی بکھیرنے کا عمل ہورہا ہے۔ لہٰذا سورج اور چراغ پوری طرح ایک ہی عمل کررہے ہیں۔ اللہ کے روشن چراغ سے ہم پر گرم شعاعوں اور روشنی کی بارش ہوتی ہے اور بادلوں سے لگاتار بارش نچوڑی جاتی ہے۔ اور یہ بجلی کی کڑک کے عمل سے بار بار برستی ہے اور اس بارش اور اس گرمی ہی سے اس کرہ ارض پر ہر قسم کے نباتات پیدا ہوتے ہیں اور ان نباتات سے وہ تمام نباتات پیدا ہوتے جن کو انسان استعمال کرتے ہیں اور وہ تمام گھنے باغات پیدا ہوتے ہیں۔ الفاف سے مراد وہ گھنے درخت جو ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے ہوئے ہوں اور ایک درخت کی ٹہنی دوسرے میں گھسی ہوئی ہو۔ اس کائنات کی تخلیق میں یہ اہم آہنگی ، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک حکیمانہ ہاتھ کام کررہا ہے۔ نہایت حکمت کے ساتھ اس کی ہر چیز اندازے کے ساتھ بنائی گئی ہے۔ اور یہی ارادہ اس کو چلارہا ہے اور اس حقیقت کو ہر انسان پاتا ہے ، اگر وہ اپنی عقل اور اپنے شعور کو اس طرف متوجہ کرے ، لیکن دور جدید میں جب انسان نے علم ومعرفت میں ترقی کرلی ، تو اس نے معلوم کیا کہ اس کائنات کی تخلیق میں کیا کیا تدابیر اختیار کی گئی ہیں اور اس کی ہر ہر چیز کس طرح ایک فارمولے کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہ فارمولے اس قدر عجیب اور حیران کن ہیں کہ ان کو دیکھ کر عقل چکرانے لگتی ہے۔ اور علم ومعرفت رکھنے والا جدید انسان اور سائنس دان اس بات کو احمقانہ تصور کرتا ہے کہ یہ کائنات یونہی بخت واتفاق سے پیدا ہوگئی ہے اور جو لوگ اس کائنات کے کسی مدبر اور خالق کو تسلیم کرنے سے فرار اختیار کرتے ہیں۔ وہ لوگ دراصل محض ہٹ دھرمی اور ضد میں مبتلا ہیں۔ اور ان کے اس رویے کو اب احترام کی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے۔ اور اس کائنات کے پیچھے ایک قوت مدبرہ کام کررہی ہے جس نے ہر چیز کو نہایت ہی حساس سکیل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور کائنات کی تمام قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور پیوست ہیں۔ اور قرآن کریم نے اس آیت میں اسی تنظیم ، ہم آہنگی اور تقدیر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زمین کو گہوارہ بنایا ہے اور پہاڑوں کو میخوں کی شکل دی ہے اور لوگوں کو جوڑے جوڑے بنایا ، نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو سب کے لئے چھپنے اور آرام کرنے کا ذریعہ بنایا ، اور سورج کے ذریعہ گرمی اور روشنی کا انتظام کیا۔ اور ہواﺅں اور بادلوں کے ذریعہ بارشوں کا انتظام کیا ، جن کے نتیجے میں سبزیاں ، حیوانات اور پھل نکالے گئے۔ یہ تمام حقائق جس انداز سے بیان کیے گئے ہیں۔ سائنسی زاویہ سے بھی یہ باہم متوافق اور ہم آہنگ ہیں اور ان کے اندر گہرا تعلق سبب اور مسبب کا ہے۔ اور یہ تعلق ہی بتاتا ہے کہ اس کائنات کا ایک ایسا خالق ہے جو اس کے نظام کو نہایت ہی خوبصورتی اور حکمت سے ملارہا ہے اور وہ حکیم وقدیر ہے۔ ان سائنسی اور مشاہداتی حقائق کو اگر کھلی آنکھوں سے پڑھاجائے تو اس سے انسان کو حکمت و دانش کا ایک بہت بڑا پیغام ملتا ہے اور اس کے بعد پھر وہ ایک عظیم پیغام پاتا ہے اور اس کی یہ شہ سرخی لگتی ہے کہ ایک فیصلے کا دن آنے والا ہے۔ یہ تمام مخلوقات یہاں تمہارے استفادے کے لئے ہیں ، کھاﺅ اور پیو اور عیش کرو ، مگر ایک دن بھی آنے والا ہے ، یہ دن یوم الفصل ہے ، یہ دن فیصلوں کا دن ہے۔

النبأ 78:15

وانزلنا .................... ثجاجا (14:78) ” اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی “۔ یعنی قوانین قدرت سے ان بادلوں کو نچوڑتے ہیں اور ان کا پانی زمین پر گرتا ہے۔ یہ پانی کس طرح نچوڑا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہواﺅں کے ذریعہ بادلوں سے پانی نچوڑا جاتا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بادلوں کے باہم ٹکرانے سے بجلی کی پیدائش کے عمل سے پانی نکل آتا ہو ، لیکن ان تمام اسباب کے پیچھے کوئی تو مسبب الاسباب ہے جو ان تمام اسباب اور اثرات ڈالنے والی چیزوں کا خالق ہے۔ اس سورج کو چراغ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی ہوتی ہے اور یہی کام سورج کے اندر ہورہا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی بکھیرنے کا عمل ہورہا ہے۔ لہٰذا سورج اور چراغ پوری طرح ایک ہی عمل کررہے ہیں۔ اللہ کے روشن چراغ سے ہم پر گرم شعاعوں اور روشنی کی بارش ہوتی ہے اور بادلوں سے لگاتار بارش نچوڑی جاتی ہے۔ اور یہ بجلی کی کڑک کے عمل سے بار بار برستی ہے اور اس بارش اور اس گرمی ہی سے اس کرہ ارض پر ہر قسم کے نباتات پیدا ہوتے ہیں اور ان نباتات سے وہ تمام نباتات پیدا ہوتے جن کو انسان استعمال کرتے ہیں اور وہ تمام گھنے باغات پیدا ہوتے ہیں۔ الفاف سے مراد وہ گھنے درخت جو ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے ہوئے ہوں اور ایک درخت کی ٹہنی دوسرے میں گھسی ہوئی ہو۔ اس کائنات کی تخلیق میں یہ اہم آہنگی ، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک حکیمانہ ہاتھ کام کررہا ہے۔ نہایت حکمت کے ساتھ اس کی ہر چیز اندازے کے ساتھ بنائی گئی ہے۔ اور یہی ارادہ اس کو چلارہا ہے اور اس حقیقت کو ہر انسان پاتا ہے ، اگر وہ اپنی عقل اور اپنے شعور کو اس طرف متوجہ کرے ، لیکن دور جدید میں جب انسان نے علم ومعرفت میں ترقی کرلی ، تو اس نے معلوم کیا کہ اس کائنات کی تخلیق میں کیا کیا تدابیر اختیار کی گئی ہیں اور اس کی ہر ہر چیز کس طرح ایک فارمولے کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہ فارمولے اس قدر عجیب اور حیران کن ہیں کہ ان کو دیکھ کر عقل چکرانے لگتی ہے۔ اور علم ومعرفت رکھنے والا جدید انسان اور سائنس دان اس بات کو احمقانہ تصور کرتا ہے کہ یہ کائنات یونہی بخت واتفاق سے پیدا ہوگئی ہے اور جو لوگ اس کائنات کے کسی مدبر اور خالق کو تسلیم کرنے سے فرار اختیار کرتے ہیں۔ وہ لوگ دراصل محض ہٹ دھرمی اور ضد میں مبتلا ہیں۔ اور ان کے اس رویے کو اب احترام کی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے۔ اور اس کائنات کے پیچھے ایک قوت مدبرہ کام کررہی ہے جس نے ہر چیز کو نہایت ہی حساس سکیل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور کائنات کی تمام قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور پیوست ہیں۔ اور قرآن کریم نے اس آیت میں اسی تنظیم ، ہم آہنگی اور تقدیر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زمین کو گہوارہ بنایا ہے اور پہاڑوں کو میخوں کی شکل دی ہے اور لوگوں کو جوڑے جوڑے بنایا ، نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو سب کے لئے چھپنے اور آرام کرنے کا ذریعہ بنایا ، اور سورج کے ذریعہ گرمی اور روشنی کا انتظام کیا۔ اور ہواﺅں اور بادلوں کے ذریعہ بارشوں کا انتظام کیا ، جن کے نتیجے میں سبزیاں ، حیوانات اور پھل نکالے گئے۔ یہ تمام حقائق جس انداز سے بیان کیے گئے ہیں۔ سائنسی زاویہ سے بھی یہ باہم متوافق اور ہم آہنگ ہیں اور ان کے اندر گہرا تعلق سبب اور مسبب کا ہے۔ اور یہ تعلق ہی بتاتا ہے کہ اس کائنات کا ایک ایسا خالق ہے جو اس کے نظام کو نہایت ہی خوبصورتی اور حکمت سے ملارہا ہے اور وہ حکیم وقدیر ہے۔ ان سائنسی اور مشاہداتی حقائق کو اگر کھلی آنکھوں سے پڑھاجائے تو اس سے انسان کو حکمت و دانش کا ایک بہت بڑا پیغام ملتا ہے اور اس کے بعد پھر وہ ایک عظیم پیغام پاتا ہے اور اس کی یہ شہ سرخی لگتی ہے کہ ایک فیصلے کا دن آنے والا ہے۔ یہ تمام مخلوقات یہاں تمہارے استفادے کے لئے ہیں ، کھاﺅ اور پیو اور عیش کرو ، مگر ایک دن بھی آنے والا ہے ، یہ دن یوم الفصل ہے ، یہ دن فیصلوں کا دن ہے۔

النبأ 78:16

وانزلنا .................... ثجاجا (14:78) ” اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی “۔ یعنی قوانین قدرت سے ان بادلوں کو نچوڑتے ہیں اور ان کا پانی زمین پر گرتا ہے۔ یہ پانی کس طرح نچوڑا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہواﺅں کے ذریعہ بادلوں سے پانی نچوڑا جاتا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بادلوں کے باہم ٹکرانے سے بجلی کی پیدائش کے عمل سے پانی نکل آتا ہو ، لیکن ان تمام اسباب کے پیچھے کوئی تو مسبب الاسباب ہے جو ان تمام اسباب اور اثرات ڈالنے والی چیزوں کا خالق ہے۔ اس سورج کو چراغ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی ہوتی ہے اور یہی کام سورج کے اندر ہورہا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی بکھیرنے کا عمل ہورہا ہے۔ لہٰذا سورج اور چراغ پوری طرح ایک ہی عمل کررہے ہیں۔ اللہ کے روشن چراغ سے ہم پر گرم شعاعوں اور روشنی کی بارش ہوتی ہے اور بادلوں سے لگاتار بارش نچوڑی جاتی ہے۔ اور یہ بجلی کی کڑک کے عمل سے بار بار برستی ہے اور اس بارش اور اس گرمی ہی سے اس کرہ ارض پر ہر قسم کے نباتات پیدا ہوتے ہیں اور ان نباتات سے وہ تمام نباتات پیدا ہوتے جن کو انسان استعمال کرتے ہیں اور وہ تمام گھنے باغات پیدا ہوتے ہیں۔ الفاف سے مراد وہ گھنے درخت جو ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے ہوئے ہوں اور ایک درخت کی ٹہنی دوسرے میں گھسی ہوئی ہو۔ اس کائنات کی تخلیق میں یہ اہم آہنگی ، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک حکیمانہ ہاتھ کام کررہا ہے۔ نہایت حکمت کے ساتھ اس کی ہر چیز اندازے کے ساتھ بنائی گئی ہے۔ اور یہی ارادہ اس کو چلارہا ہے اور اس حقیقت کو ہر انسان پاتا ہے ، اگر وہ اپنی عقل اور اپنے شعور کو اس طرف متوجہ کرے ، لیکن دور جدید میں جب انسان نے علم ومعرفت میں ترقی کرلی ، تو اس نے معلوم کیا کہ اس کائنات کی تخلیق میں کیا کیا تدابیر اختیار کی گئی ہیں اور اس کی ہر ہر چیز کس طرح ایک فارمولے کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہ فارمولے اس قدر عجیب اور حیران کن ہیں کہ ان کو دیکھ کر عقل چکرانے لگتی ہے۔ اور علم ومعرفت رکھنے والا جدید انسان اور سائنس دان اس بات کو احمقانہ تصور کرتا ہے کہ یہ کائنات یونہی بخت واتفاق سے پیدا ہوگئی ہے اور جو لوگ اس کائنات کے کسی مدبر اور خالق کو تسلیم کرنے سے فرار اختیار کرتے ہیں۔ وہ لوگ دراصل محض ہٹ دھرمی اور ضد میں مبتلا ہیں۔ اور ان کے اس رویے کو اب احترام کی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے۔ اور اس کائنات کے پیچھے ایک قوت مدبرہ کام کررہی ہے جس نے ہر چیز کو نہایت ہی حساس سکیل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور کائنات کی تمام قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور پیوست ہیں۔ اور قرآن کریم نے اس آیت میں اسی تنظیم ، ہم آہنگی اور تقدیر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زمین کو گہوارہ بنایا ہے اور پہاڑوں کو میخوں کی شکل دی ہے اور لوگوں کو جوڑے جوڑے بنایا ، نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو سب کے لئے چھپنے اور آرام کرنے کا ذریعہ بنایا ، اور سورج کے ذریعہ گرمی اور روشنی کا انتظام کیا۔ اور ہواﺅں اور بادلوں کے ذریعہ بارشوں کا انتظام کیا ، جن کے نتیجے میں سبزیاں ، حیوانات اور پھل نکالے گئے۔ یہ تمام حقائق جس انداز سے بیان کیے گئے ہیں۔ سائنسی زاویہ سے بھی یہ باہم متوافق اور ہم آہنگ ہیں اور ان کے اندر گہرا تعلق سبب اور مسبب کا ہے۔ اور یہ تعلق ہی بتاتا ہے کہ اس کائنات کا ایک ایسا خالق ہے جو اس کے نظام کو نہایت ہی خوبصورتی اور حکمت سے ملارہا ہے اور وہ حکیم وقدیر ہے۔ ان سائنسی اور مشاہداتی حقائق کو اگر کھلی آنکھوں سے پڑھاجائے تو اس سے انسان کو حکمت و دانش کا ایک بہت بڑا پیغام ملتا ہے اور اس کے بعد پھر وہ ایک عظیم پیغام پاتا ہے اور اس کی یہ شہ سرخی لگتی ہے کہ ایک فیصلے کا دن آنے والا ہے۔ یہ تمام مخلوقات یہاں تمہارے استفادے کے لئے ہیں ، کھاﺅ اور پیو اور عیش کرو ، مگر ایک دن بھی آنے والا ہے ، یہ دن یوم الفصل ہے ، یہ دن فیصلوں کا دن ہے۔

النبأ 78:17

لوگ عبث پیدا نہیں کیے گئے اور نہ ہی وہ شتر بےمہار ہیں۔ ان کی زندگی کے اندازے اور نظام ، جس کا ذکر آیات ماقبل میں کیا گیا ہے ، اور پھر اس کائنات کا نظام جس میں وہ رہ رہے ہیں ، دونوں نظام پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ، ان پر اچھی طرح غور کرنے کے بعد ہر دانش مند آدمی اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ انسان مہمل اور غیر ذمہ دار نہیں ہیں کہ زمین پر اچھے کام کریں یا برے کام کریں اور پھر مرکر مٹی ہوجائیں۔ راہ ہدایت پر ہوں یا راہ ضلالت پر ہوں ، ان سے پوچھنے والا کوئی نہ ہو ، زمین پر عدل کرلیا ، یا ظلم ، کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ بہرحال ایک دن فیصلے کا ضرور ہے ، جس دن تمام گزرے ہوئے معاملات کے فیصلے ہوں گے۔ یہ طے شدہ ، متعین دن ہے ، جس کے رسم اور قواعد طے شدہ ہیں اور اس کا وقت بھی اللہ کے ہاں طے شادہ ہے ۔ اور مقرر و متعین ہے۔ ان یوم .................... میقاتا (17:78) ” بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے “۔ اس دن اس کائنات کا نظام بدل جائے گا اور اس نظام کی بندش کھل جائے گی۔

النبأ 78:18

یوم ینفخ ................................ سرابا (18:78 تا 20) ” جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی ، تم فوج در فوج نکل آﺅ گے۔ اور آسمان کھول دیا جائے گا ، حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔ صور سے مراد بگل ہے۔ ہم صرف اس کے نام سے واقف ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ اس میں پھونک ماری جائے گی۔ اس کی کیفیت کیا ہوگی تو اس میں ہمیں نہیں پڑنا چاہئے۔ اگر ہم اس کی تفصیلی کیفیت معلوم بھی کرلیں تو اس سے ہمارے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اللہ نے ہماری قوت فہم وادراک کو ایسے لاحاصل موضوعات پر کھپانے سے بچایا ہے اور جس قدر علم کی ضرورت تھی وہ ہمیں بتادیا ہے۔ پس ہم یہی سوچتے ہیں کہ ایک آواز ہوگی اور اس کے نتیجے میں سب انسان قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ہمارے ذہنوں میں یہ منظر آتا ہے کہ انسانی نسلیں فوج در فوج چلی آرہی ہوں گی۔ حالانکہ دنیا میں اللہ نے ایسا نظام قائم کیا تھا کہ اگلی نسلیں جاتی رہتی تھیں اور نئی نسلیں ان کی جگہ لیتی تھیں تاکہ یہ نہ ہو کہ زمین پر لوگوں کے رہنے کی جگہ ہی نہ رہے ، بہرحال ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ فوج درفوج ہر نشیب و فراز سے چلے آرہے ہوں گے۔ ایک ہی میدان میں ہوں گے۔ یہ چیونٹیوں کی طرح قبروں سے نکل رہے ہوں گے اور یہ اس قدر لوگ ہوں گے کہ نہ ان کا پہلا سرا معلوم ہوگا اور نہ آخری۔ اور یہ عظیم اجتماع دلوں کے اندر ایک خوف پیدا کررہا ہوگا کیونکہ کسی نے کبھی اس قدر عظیم اجتماع نہ دیکھا ہوگا اور نہ سوچا ہوگا اس لئے کہ یہ اجتماع قیامت کے دن ہی ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اس کا ہمیں علم ہیں ہے۔ کیونکہ کائنات کا یہ نظام تو تباہ کردیا جائے گا۔ عظیم حادثات اور انقلابات ہوچکے ہوں گے۔

النبأ 78:19

وفتحت .................... سرابا (20:78) ” اور آسمان کھول دیا جائے گا ، حتیٰ کے دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔ یہ مضبوط آسمان کھول دیا جائے گا۔ یہ دروازے ہی دروازے ہوگا یعنی پھٹ کر اس میں دراڑیں پڑجائیں گی جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہوگی جس کا ہم پوری طرح تصور نہیں کرسکتے۔ بڑے بڑے پہاڑ چل پڑیں گے اور سراب بن جائیں گے۔ یعنی باہم فکر اگر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور ہوا میں بکھر جائیں گے۔ اور یوں نظر آئے گا جس طرح سراب۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ جس طرح سراب کا وجود نہیں ہوگا۔ اسی طرح پہاڑ غبار بن کر معدوم ہوجائیں گے اور یہ ذرات اس طرح روشنی کو منعکس کریں گے جس طرح سراب میں روشنی منعکس ہوتی ہے اور پانی نظرآتا ہے۔ غرض اس کائنات میں ہولناک تبدیلیاں ہوں گی۔ اور یہ انقلاب نفخ صور کے بعد ہوگا۔ یہ ہے فیصلے کا دن ، یہ مقدر ہے اور اللہ کی حکمت وتدبیر سے اس میں سب واقعات ہوں گے۔ اب نفخ صور کے متصلا رونما ہونے والے واقعات سے قدرے بعد میں آنے والے کچھ واقعات نیکوکاروں اور بدکاروں کے فیصلے کی ایک جھلک۔ لیکن پہلے ان لوگوں کا فیصلہ سنایا جاتا ہے جو بدکار ہیں۔

النبأ 78:20

وفتحت .................... سرابا (20:78) ” اور آسمان کھول دیا جائے گا ، حتیٰ کے دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔ یہ مضبوط آسمان کھول دیا جائے گا۔ یہ دروازے ہی دروازے ہوگا یعنی پھٹ کر اس میں دراڑیں پڑجائیں گی جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہوگی جس کا ہم پوری طرح تصور نہیں کرسکتے۔ بڑے بڑے پہاڑ چل پڑیں گے اور سراب بن جائیں گے۔ یعنی باہم فکر اگر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور ہوا میں بکھر جائیں گے۔ اور یوں نظر آئے گا جس طرح سراب۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ جس طرح سراب کا وجود نہیں ہوگا۔ اسی طرح پہاڑ غبار بن کر معدوم ہوجائیں گے اور یہ ذرات اس طرح روشنی کو منعکس کریں گے جس طرح سراب میں روشنی منعکس ہوتی ہے اور پانی نظرآتا ہے۔ غرض اس کائنات میں ہولناک تبدیلیاں ہوں گی۔ اور یہ انقلاب نفخ صور کے بعد ہوگا۔ یہ ہے فیصلے کا دن ، یہ مقدر ہے اور اللہ کی حکمت وتدبیر سے اس میں سب واقعات ہوں گے۔ اب نفخ صور کے متصلا رونما ہونے والے واقعات سے قدرے بعد میں آنے والے کچھ واقعات نیکوکاروں اور بدکاروں کے فیصلے کی ایک جھلک۔ لیکن پہلے ان لوگوں کا فیصلہ سنایا جاتا ہے جو بدکار ہیں۔

النبأ 78:21

جہنم کو پیدا کردیا گیا ہے ، یہ موجود اور تیار ہے اور ایک انسان کی طرح گھات میں بیٹھی انتظار کررہی ہے اور یہ لوگ آتے ہیں اور اس میں گرتے ہیں اور وہ برابر ان کا استقبال کررہی ہے ، گویا زمین پر ان کی زندگی ایک سفر ہے اور یہ لوگ لوٹ رہے ہیں ، اپنی اصلی جائے رہائش کی طرف ، اور اس مرجع اور ماویٰ میں انہوں نے اب ابدالاباد تک رہنا ہے۔ یہ ایک طویل زندگی ہوگی اور زمانوں پر زمانے گزرتے چلے جائیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی۔

النبأ 78:22

جہنم کو پیدا کردیا گیا ہے ، یہ موجود اور تیار ہے اور ایک انسان کی طرح گھات میں بیٹھی انتظار کررہی ہے اور یہ لوگ آتے ہیں اور اس میں گرتے ہیں اور وہ برابر ان کا استقبال کررہی ہے ، گویا زمین پر ان کی زندگی ایک سفر ہے اور یہ لوگ لوٹ رہے ہیں ، اپنی اصلی جائے رہائش کی طرف ، اور اس مرجع اور ماویٰ میں انہوں نے اب ابدالاباد تک رہنا ہے۔ یہ ایک طویل زندگی ہوگی اور زمانوں پر زمانے گزرتے چلے جائیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی۔

النبأ 78:23

جہنم کو پیدا کردیا گیا ہے ، یہ موجود اور تیار ہے اور ایک انسان کی طرح گھات میں بیٹھی انتظار کررہی ہے اور یہ لوگ آتے ہیں اور اس میں گرتے ہیں اور وہ برابر ان کا استقبال کررہی ہے ، گویا زمین پر ان کی زندگی ایک سفر ہے اور یہ لوگ لوٹ رہے ہیں ، اپنی اصلی جائے رہائش کی طرف ، اور اس مرجع اور ماویٰ میں انہوں نے اب ابدالاباد تک رہنا ہے۔ یہ ایک طویل زندگی ہوگی اور زمانوں پر زمانے گزرتے چلے جائیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی۔

النبأ 78:24

لا یذوقون ................ شرابا (24:78) ” اس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ نہ چکھیں گے “۔ ہاں پینے کے لئے انہیں کچھ ملے گا ضرور۔ وہ کیا ہوگا ؟ بہت ہی تلخ اور مکروہ۔

النبأ 78:25

الا حمیما وغساقا (25:78) ” کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوﺅن “۔ سخت گرم پانی جس سے ان کے حلق اور پیٹ جل بھن جائیں گے۔ یہ ان کے لئے ” ٹھنڈک “ ہے اور غساق وہ پانی جو جلے ہوئے لوگوں کے زخموں سے بہتا ہے یہ ہے ان کا مشروب۔

النبأ 78:26

جزآء وفاقا (26:78) ” بھرپور بدلہ “۔ انہوں نے جو کچھ کمایا اور جو کچھ قیامت کے لئے ذخیرہ کرکے بھیجا اس کا پورا پورا بدلہ۔

النبأ 78:27

انھم .................... حسابا (27:78) ” وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے “۔ اور نہ نیک وبد کے انجام کے واقع ہونے میں یقین رکھتے تھے۔

النبأ 78:28

وکذبو .................... کذابا (28:78) ” اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھٹلادیا تھا “۔ ان الفاظ کے ترنم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تکذیب میں شدید تھے اور تکذیب پر مصر تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا ریکارڈ تیار کررہا تھا۔ اور یہ اس قدر کامل و شامل ریکارڈ تھا کہ اس سے کوئی بڑی چھوٹی چیز چوک نہ سکتی تھی۔

النبأ 78:29

وکل .................... کتبا (29:78) ” اور حال یہ تھا کہ ہم ہر چیز گن گن کر لکھ رہے تھے “۔ اس لئے اب یہاں ان کو سخت ملامت کی جاتی ہے۔

النبأ 78:30

فذوقوا .................... عذابا (30:78) ” اب چکھو مزہ ، ہم تمہارے لئے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے “۔ اب مقابل کا منظر پیش ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ اور ان نعمتوں کا منظر ہے جس میں وہ مزے سے رہ رہے ہیں۔ باغیوں اور نافرمانوں کے بعد یہ بھی ضروری تھا کہ ایک جھلک ان کی بھی دکھادی جائے۔

النبأ 78:31

پہلے منظر میں جہنم آراستہ و پیراستہ تھی۔ کفار کے ٹھکانے کے طور پر اور وہ یوں گھات میں تیار بیٹھی تھی جس طرح ایک شکاری گھات میں بیٹھتا ہے۔ اور ایک ایک شکار کرتا ہے۔ اسی طرح جہنم سے بھی کوئی بچ کر نہ نکل سکتا تھا۔ اس منظر میں یوں نظر آتا ہے کہ اہل جنت نجات اور کامیابی کے مقام پر فائز ہوچکے ہیں۔ اور یہ نجات اور کامیابی کی جگہ۔

النبأ 78:32

حدآئق واعنابا (32:78) ” باغ اور انگور “۔ کی صورت میں ہے ۔ اور انگور کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے لیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب اس سے اچھی طرح واقف تھے۔ کو اعب کے معنی ہیں ایسی نوخیز نوجوان لڑکیاں جن کی پستان گول ہوں اور اتراب کے معنی حسن و جمال اور مادہ سال کے لحاظ سے ہم سن۔

النبأ 78:33

حدآئق واعنابا (32:78) ” باغ اور انگور “۔ کی صورت میں ہے ۔ اور انگور کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے لیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب اس سے اچھی طرح واقف تھے۔ کو اعب کے معنی ہیں ایسی نوخیز نوجوان لڑکیاں جن کی پستان گول ہوں اور اتراب کے معنی حسن و جمال اور مادہ سال کے لحاظ سے ہم سن۔

النبأ 78:34

وکاسا دھاقا (34:78) ” اور جھلکتے ہوئے جام “ یعنی لبریز۔ ان انعامات کی ظاہری شکل و صورت حسی ہے اور ان کا ذکر جن چیزوں کا نام لے کر کیا گیا ہے وہ اس لئے تاکہ مفہوم لوگوں کے فہم کے قریب آجائے۔ رہی ان کی حقیقت تو اہل زمین کے لئے اس کا ادراک ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لئے کہ ان کی فہم وادراک زمین کے تصورات کے اندر مقید ہے اور ان کے عمومی اور معنوی حالات اسلامی ذوق وضمیر کے مطابق ہوں گے۔ ایک مسلمان ان کا شعور رکھتا ہے کہ۔

النبأ 78:35

لا یسمعون ................ کذبا (35:78) ” وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے “۔ یعنی دو ایسی زنگی بسر کررہے ہوں گے کہ اس میں کوئی لغو بات نہ ہوگی۔ اور اس میں کوئی جھوٹ نہ ہوگا کیونکہ جھوٹ پر بالعموم جنگ وجدال کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے وہاں حقائق کھلے ہوں گے اور کسی کو بحث ومباحثے کا موقعہ نہ ہوگا۔ نہ ایسی باتیں وہاں ہوں گی جو بےفائدہ ہوں اور ان میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ یہ صورت حالات اس جہان کے لئے مناسب ہے جو دارالخلد ہے۔

النبأ 78:36

جزآء ................ حسابا (32:78) ” جزاء اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے “۔ یہاں انداز تعبیر کی رعنائی اور پر ترنم آواز اور جزاء اور عطا کی تقسیم قابل ملاحظہ ہے۔ اور فواصل اور قوافی میں شدت اور صوتی ہم آہنگی اس پورے پارے میں ایک مخصوص انداز ہے اور بہت ہی خوبصورت۔ اس دن کے مناظر جس کے بارے میں سوال کرنے والے سوال کرتے ہیں جس کے بارے میں اختلاف کرنے والے اختلاف کرتے ہیں اب ختم ہوتے ہیں اور ان کے خاتمے پر لفظی اور معنوی اعتبار سے خوبصورت منظر ملاحظہ کیجئے ، جس میں جبرئیل (علیہ السلام) اور دوسرے فرشتے صف بستہ کھڑے ہیں۔ یہ سب رحمن کے سامنے کھڑے ہیں ، ان میں سے صرف وہی بات کرسکتا ہے جسے اجازت ہو۔ ایک ہیبت ناک اور خوفناک موقف ہے۔

النبأ 78:37

یہ جزاء وسزا جو اہل تقویٰ اور اہل ضلالت کے لئے ، اس سے قبل مفصل طور پر بیان ہوئی ، یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ اور رب السموت ........................ الرحمن (37:78) ہے (اس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے) اس آخری ٹچ اور اس عظیم حقیقت کے بیان کے لئے اب یہ مناسب وقت ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کی ربوبیت زمین و آسمانوں پر حاوی ہے ، اس کے اندر یہ دنیا بھی ہے اور آخرت بھی ہے۔ یہ اہل تقویٰ کو جزاء دیتی ہے اور اہل ضلالت اور بدکاروں کو سزا دیتی ہے اور دنیا وآخرت کے تمام فیصلے اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہی۔ پھر یہ ربوبیت نہایت رحیمانہ ہے۔ یہ جزاء بھی اس کی رحمت کا نتیجہ ہے اور سزا بھی اس کی رحمت کا تقاضا ہے۔ یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ سرکشوں کو جہنم میں جلایا جائے۔ کیونکہ یہ عین رحمت ہے کہ شر کو سزا ملے اور خیروشر برابر نہ ہوں ورنہ یہ تو ظلم ہوگا۔ پھر یہ رحمت اپنے اندر جلال لئے ہوئے ہے۔ اس خوفناک دن میں اس دربار رحمت میں کوئی بات نہ کرسکے گا۔ جبرائیل (علیہ السلام) اور دوسرے سربرآور دو فرشتے بھی صف بستہ خاموش کھڑے ہوں گے۔ صرف اجازت سے کچھ عرض کرنا ہوگا اور بات ہوگی۔ لیکن بات بھی درست ہوگی ورنہ رحمن تو دل کی بات جانتا ہے ، بری بات کہنے کی اجازت ہی نہ ہوگی۔ یہ منظر کہ بےگناہ لوگ اور سرکردہ فرشتے بھی اس بارگاہ میں خاموش کھڑے ہی ، کوئی شخص بات بھی نہیں کرتا ، سا ہواکھڑا ہے ، فضا پر رعب ، خوف ، جلالت اور وقار کے گہرے بادل پھیلا دیتا ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ خوف کے بادل چھائے ہوئے ہوں ، دنیا کے غافلوں اور بری راہوں پر سرپٹ بھاگنے والوڈ کو ایک بار پھر ڈرایا جاتا ہے ، ایک زبردست چیخ آتی ہے اور مدہوش لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

النبأ 78:38

یہ جزاء وسزا جو اہل تقویٰ اور اہل ضلالت کے لئے ، اس سے قبل مفصل طور پر بیان ہوئی ، یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ اور رب السموت ........................ الرحمن (37:78) ہے (اس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے) اس آخری ٹچ اور اس عظیم حقیقت کے بیان کے لئے اب یہ مناسب وقت ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کی ربوبیت زمین و آسمانوں پر حاوی ہے ، اس کے اندر یہ دنیا بھی ہے اور آخرت بھی ہے۔ یہ اہل تقویٰ کو جزاء دیتی ہے اور اہل ضلالت اور بدکاروں کو سزا دیتی ہے اور دنیا وآخرت کے تمام فیصلے اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہی۔ پھر یہ ربوبیت نہایت رحیمانہ ہے۔ یہ جزاء بھی اس کی رحمت کا نتیجہ ہے اور سزا بھی اس کی رحمت کا تقاضا ہے۔ یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ سرکشوں کو جہنم میں جلایا جائے۔ کیونکہ یہ عین رحمت ہے کہ شر کو سزا ملے اور خیروشر برابر نہ ہوں ورنہ یہ تو ظلم ہوگا۔ پھر یہ رحمت اپنے اندر جلال لئے ہوئے ہے۔ اس خوفناک دن میں اس دربار رحمت میں کوئی بات نہ کرسکے گا۔ جبرائیل (علیہ السلام) اور دوسرے سربرآور دو فرشتے بھی صف بستہ خاموش کھڑے ہوں گے۔ صرف اجازت سے کچھ عرض کرنا ہوگا اور بات ہوگی۔ لیکن بات بھی درست ہوگی ورنہ رحمن تو دل کی بات جانتا ہے ، بری بات کہنے کی اجازت ہی نہ ہوگی۔ یہ منظر کہ بےگناہ لوگ اور سرکردہ فرشتے بھی اس بارگاہ میں خاموش کھڑے ہی ، کوئی شخص بات بھی نہیں کرتا ، سا ہواکھڑا ہے ، فضا پر رعب ، خوف ، جلالت اور وقار کے گہرے بادل پھیلا دیتا ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ خوف کے بادل چھائے ہوئے ہوں ، دنیا کے غافلوں اور بری راہوں پر سرپٹ بھاگنے والوڈ کو ایک بار پھر ڈرایا جاتا ہے ، ایک زبردست چیخ آتی ہے اور مدہوش لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

النبأ 78:39

یہ ایک شدید جھٹکا ہے ، ان لوگوں کو نہایت شدت سے جھنجھوڑا جاتا ہے جو اس حق دن کے بارے میں شک میں مبتلا تھے اور تشکیک پر مشتمل سوالات کرتے تھے۔ ذلک الیوم الحق (39:78) ” وہ دن برحق ہے “۔ لہٰذا اس کے بارے میں شکی سوالات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لوگو ! ابھی فرصت کے اوقات موجود ہیں ، مہلت ملی ہوئی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاﺅ۔ فمن شآء اتخذالی ربہ مابا (39:78) ” جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے “۔ قبل اس کے کہ جہنم گھات لگا کر بیٹھے اور تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے۔ یہ سخت ڈراوا ہے ۔ اگر کوئی خواب خرگوش میں بھی ہو ، وہ بھی بیدار ہوسکتا ہے۔

النبأ 78:40

انا ................ قریبا (40:78) ” ہم نے تم لوگوں کو اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آلگا ہے “۔ وہ دور نہیں ہے۔ یہ جہنم کا عذاب ہے جو تمہارے انتظار میں ہے۔ جیسا کہ اس منظر میں تم نے دیکھ لیا۔ یہ دنیا تو ایک مختصر سفر ہے اور عمر کی کشتی ساحل پر لگنے ہی والی ہے۔ یہ اس قدر شدید عذاب ہوگا کہ کافر اپنے وجود ہی سے بیزار ہوگا اور اس بات کو پسند کرے گا کہ اے کاش اسے معدوم ہی کردیا جائے۔ یوم ینظر .................... ترابا (40:78) ” جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش وہ خاک ہوتا “۔ یہ وہ نہایت تنگ دل اور مایوسی کہے گا۔ اب فضا پر خوف اور ندامت کے بادل چھا جاتے ہیں کہ زندہ انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ معدوم ہوجائے اور خاک و غبار بن جائے۔ وہ اپنے معدوم ہونے ہی کی صورت میں اپنے آپ کو اس خوفناک عذاب سے بچا سکتا ہے۔ یہ ہوگا ان لوگوں کا موقف جو آج اس عظیم حقیقت اور شہ سرخیوں والی حقیقت کے بارے میں تشکیک پر مشتمل سوالات کرتے ہیں اور شبہات اٹھاتے ہیں۔

النازعات 79:1

ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض تیز ہیں اور بعض سست۔ لہٰذا ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور دست قدرت نے ازروئے فطرت ان کو جو احکامات دیئے ہیں وہ سر انجام دیتے ہیں ، اور زمین اور اس کے باشندوں کو متاثر کرتے ہیں ، یوں وہ اس زمین کا انتظام وانصرام کرتے ہیں۔ بعض تفاسیر کے مطابق نازعات ، ناشطات ، سابحات اور سابقات سے مراد ستارے ہیں اور مدبرات فرشتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نازعات ، ناشطات اور سابحات سے مراد ستارے ہیں اور سابقات اور مدبرات سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان آیات وکلمات کا مفہوم جو بھی ہو ، لیکن قرآنی فضا میں زندگی بسر کرتے ہوئے میرا احساس یہ ہے کہ اس پیرائے میں گفتگو اور ان الفاظ کے لانے سے مراد انسانی احساس کو بیدار کرنا ، انسانی شعور کے اندر تجسس اور آنے والے پرخطر اور ہنگامہ خیز حالات کے بارے میں خبردار اور بیدار کرنا ہے۔ یہ الفاظ اور یہ مفہوم ہمیں اس بات کے لئے تیار کرتے ہیں کہ آگے جو بات آرہی ہے وہ ایک عظیم واقعہ ہے ، جسے الطامتہ الکبریٰ راجفہ اور رادفہ کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ہم ان الفاظ کے تفصیلی معانی میں نہ الجھیں کہ ان سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ تو اس طرح ہم قرآن کریم کے فطری انداز پر اکتفا کرکے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا حقیقی ہدیف یہ ہے کہ وہ دلوں کو ہلائے اور گرمائے اور اس مقصد کے لئے قرآن کریم موثر سے موثر اسلوب اختیار کرتا ہے۔ ہمارے ساتھ حضرت عمر ؓ کا انداز مطالعہ بھی ہے۔ آس سورة عبس وتولیٰ پڑھ رہے تھے جب وفاکھة وابا (31:80) ” تک پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ ” فاکھہ “ تو ہمیں معلوم ہے لیکن “ ابا “ کیا ہے۔ اور اس کے بعد کہا ، اے عمر تیری جان کی قسم ، یہ محض تکلف ہوگا۔ اگر تم اللہ کی کتاب کے مفہوم میں سے کسی بات کو نہ سمجھو تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اور ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ہم جانتے ہیں۔ اگر ہم ” اب “ کا مفہوم نہ جانیں تو کیا ہے ؟ اس کے بعد انہوں نے اس عصا کو توڑ دیا جو ان کے ہاتھ میں تھا ، اور ھپر کہا عمر یہ تو محض تکلف ہے عمر کی ماں کے بیٹے کیا ہوجائے گا اگر تو ” اب “ کے مفہوم کو نہ جانے۔ ” لوگو ! قرآن میں سے جو تم جانتے ہو ، اس پر عمل کرو اور جو نہیں جانتے اسے چھوڑ دو “۔ یہ ایسی بات ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کریم کے سامنے کس قدر سہمے رہتے تھے اور کس قدر احترام کرتے تھے۔ جس طرح ایک بندہ اپنے مالک کے احکام کا احترام کرتا ہے اور فوراً تعملیل کرتا ہے۔ قرآن کریم کے کچھ کلمات اگر منعلق اور غامض ہوں تو بھی ان کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ مطلع میں جن باتوں پر قسم اٹھائی گئی ہے اس کا جواب درج ذیل آیات ہے یعنی جو اب قسم کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے۔

النازعات 79:2

ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض تیز ہیں اور بعض سست۔ لہٰذا ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور دست قدرت نے ازروئے فطرت ان کو جو احکامات دیئے ہیں وہ سر انجام دیتے ہیں ، اور زمین اور اس کے باشندوں کو متاثر کرتے ہیں ، یوں وہ اس زمین کا انتظام وانصرام کرتے ہیں۔ بعض تفاسیر کے مطابق نازعات ، ناشطات ، سابحات اور سابقات سے مراد ستارے ہیں اور مدبرات فرشتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نازعات ، ناشطات اور سابحات سے مراد ستارے ہیں اور سابقات اور مدبرات سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان آیات وکلمات کا مفہوم جو بھی ہو ، لیکن قرآنی فضا میں زندگی بسر کرتے ہوئے میرا احساس یہ ہے کہ اس پیرائے میں گفتگو اور ان الفاظ کے لانے سے مراد انسانی احساس کو بیدار کرنا ، انسانی شعور کے اندر تجسس اور آنے والے پرخطر اور ہنگامہ خیز حالات کے بارے میں خبردار اور بیدار کرنا ہے۔ یہ الفاظ اور یہ مفہوم ہمیں اس بات کے لئے تیار کرتے ہیں کہ آگے جو بات آرہی ہے وہ ایک عظیم واقعہ ہے ، جسے الطامتہ الکبریٰ راجفہ اور رادفہ کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ہم ان الفاظ کے تفصیلی معانی میں نہ الجھیں کہ ان سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ تو اس طرح ہم قرآن کریم کے فطری انداز پر اکتفا کرکے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا حقیقی ہدیف یہ ہے کہ وہ دلوں کو ہلائے اور گرمائے اور اس مقصد کے لئے قرآن کریم موثر سے موثر اسلوب اختیار کرتا ہے۔ ہمارے ساتھ حضرت عمر ؓ کا انداز مطالعہ بھی ہے۔ آس سورة عبس وتولیٰ پڑھ رہے تھے جب وفاکھة وابا (31:80) ” تک پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ ” فاکھہ “ تو ہمیں معلوم ہے لیکن “ ابا “ کیا ہے۔ اور اس کے بعد کہا ، اے عمر تیری جان کی قسم ، یہ محض تکلف ہوگا۔ اگر تم اللہ کی کتاب کے مفہوم میں سے کسی بات کو نہ سمجھو تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اور ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ہم جانتے ہیں۔ اگر ہم ” اب “ کا مفہوم نہ جانیں تو کیا ہے ؟ اس کے بعد انہوں نے اس عصا کو توڑ دیا جو ان کے ہاتھ میں تھا ، اور ھپر کہا عمر یہ تو محض تکلف ہے عمر کی ماں کے بیٹے کیا ہوجائے گا اگر تو ” اب “ کے مفہوم کو نہ جانے۔ ” لوگو ! قرآن میں سے جو تم جانتے ہو ، اس پر عمل کرو اور جو نہیں جانتے اسے چھوڑ دو “۔ یہ ایسی بات ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کریم کے سامنے کس قدر سہمے رہتے تھے اور کس قدر احترام کرتے تھے۔ جس طرح ایک بندہ اپنے مالک کے احکام کا احترام کرتا ہے اور فوراً تعملیل کرتا ہے۔ قرآن کریم کے کچھ کلمات اگر منعلق اور غامض ہوں تو بھی ان کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ مطلع میں جن باتوں پر قسم اٹھائی گئی ہے اس کا جواب درج ذیل آیات ہے یعنی جو اب قسم کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے۔

النازعات 79:3

ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض تیز ہیں اور بعض سست۔ لہٰذا ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور دست قدرت نے ازروئے فطرت ان کو جو احکامات دیئے ہیں وہ سر انجام دیتے ہیں ، اور زمین اور اس کے باشندوں کو متاثر کرتے ہیں ، یوں وہ اس زمین کا انتظام وانصرام کرتے ہیں۔ بعض تفاسیر کے مطابق نازعات ، ناشطات ، سابحات اور سابقات سے مراد ستارے ہیں اور مدبرات فرشتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نازعات ، ناشطات اور سابحات سے مراد ستارے ہیں اور سابقات اور مدبرات سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان آیات وکلمات کا مفہوم جو بھی ہو ، لیکن قرآنی فضا میں زندگی بسر کرتے ہوئے میرا احساس یہ ہے کہ اس پیرائے میں گفتگو اور ان الفاظ کے لانے سے مراد انسانی احساس کو بیدار کرنا ، انسانی شعور کے اندر تجسس اور آنے والے پرخطر اور ہنگامہ خیز حالات کے بارے میں خبردار اور بیدار کرنا ہے۔ یہ الفاظ اور یہ مفہوم ہمیں اس بات کے لئے تیار کرتے ہیں کہ آگے جو بات آرہی ہے وہ ایک عظیم واقعہ ہے ، جسے الطامتہ الکبریٰ راجفہ اور رادفہ کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ہم ان الفاظ کے تفصیلی معانی میں نہ الجھیں کہ ان سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ تو اس طرح ہم قرآن کریم کے فطری انداز پر اکتفا کرکے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا حقیقی ہدیف یہ ہے کہ وہ دلوں کو ہلائے اور گرمائے اور اس مقصد کے لئے قرآن کریم موثر سے موثر اسلوب اختیار کرتا ہے۔ ہمارے ساتھ حضرت عمر ؓ کا انداز مطالعہ بھی ہے۔ آس سورة عبس وتولیٰ پڑھ رہے تھے جب وفاکھة وابا (31:80) ” تک پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ ” فاکھہ “ تو ہمیں معلوم ہے لیکن “ ابا “ کیا ہے۔ اور اس کے بعد کہا ، اے عمر تیری جان کی قسم ، یہ محض تکلف ہوگا۔ اگر تم اللہ کی کتاب کے مفہوم میں سے کسی بات کو نہ سمجھو تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اور ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ہم جانتے ہیں۔ اگر ہم ” اب “ کا مفہوم نہ جانیں تو کیا ہے ؟ اس کے بعد انہوں نے اس عصا کو توڑ دیا جو ان کے ہاتھ میں تھا ، اور ھپر کہا عمر یہ تو محض تکلف ہے عمر کی ماں کے بیٹے کیا ہوجائے گا اگر تو ” اب “ کے مفہوم کو نہ جانے۔ ” لوگو ! قرآن میں سے جو تم جانتے ہو ، اس پر عمل کرو اور جو نہیں جانتے اسے چھوڑ دو “۔ یہ ایسی بات ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کریم کے سامنے کس قدر سہمے رہتے تھے اور کس قدر احترام کرتے تھے۔ جس طرح ایک بندہ اپنے مالک کے احکام کا احترام کرتا ہے اور فوراً تعملیل کرتا ہے۔ قرآن کریم کے کچھ کلمات اگر منعلق اور غامض ہوں تو بھی ان کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ مطلع میں جن باتوں پر قسم اٹھائی گئی ہے اس کا جواب درج ذیل آیات ہے یعنی جو اب قسم کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے۔

النازعات 79:4

ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض تیز ہیں اور بعض سست۔ لہٰذا ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور دست قدرت نے ازروئے فطرت ان کو جو احکامات دیئے ہیں وہ سر انجام دیتے ہیں ، اور زمین اور اس کے باشندوں کو متاثر کرتے ہیں ، یوں وہ اس زمین کا انتظام وانصرام کرتے ہیں۔ بعض تفاسیر کے مطابق نازعات ، ناشطات ، سابحات اور سابقات سے مراد ستارے ہیں اور مدبرات فرشتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نازعات ، ناشطات اور سابحات سے مراد ستارے ہیں اور سابقات اور مدبرات سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان آیات وکلمات کا مفہوم جو بھی ہو ، لیکن قرآنی فضا میں زندگی بسر کرتے ہوئے میرا احساس یہ ہے کہ اس پیرائے میں گفتگو اور ان الفاظ کے لانے سے مراد انسانی احساس کو بیدار کرنا ، انسانی شعور کے اندر تجسس اور آنے والے پرخطر اور ہنگامہ خیز حالات کے بارے میں خبردار اور بیدار کرنا ہے۔ یہ الفاظ اور یہ مفہوم ہمیں اس بات کے لئے تیار کرتے ہیں کہ آگے جو بات آرہی ہے وہ ایک عظیم واقعہ ہے ، جسے الطامتہ الکبریٰ راجفہ اور رادفہ کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ہم ان الفاظ کے تفصیلی معانی میں نہ الجھیں کہ ان سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ تو اس طرح ہم قرآن کریم کے فطری انداز پر اکتفا کرکے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا حقیقی ہدیف یہ ہے کہ وہ دلوں کو ہلائے اور گرمائے اور اس مقصد کے لئے قرآن کریم موثر سے موثر اسلوب اختیار کرتا ہے۔ ہمارے ساتھ حضرت عمر ؓ کا انداز مطالعہ بھی ہے۔ آس سورة عبس وتولیٰ پڑھ رہے تھے جب وفاکھة وابا (31:80) ” تک پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ ” فاکھہ “ تو ہمیں معلوم ہے لیکن “ ابا “ کیا ہے۔ اور اس کے بعد کہا ، اے عمر تیری جان کی قسم ، یہ محض تکلف ہوگا۔ اگر تم اللہ کی کتاب کے مفہوم میں سے کسی بات کو نہ سمجھو تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اور ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ہم جانتے ہیں۔ اگر ہم ” اب “ کا مفہوم نہ جانیں تو کیا ہے ؟ اس کے بعد انہوں نے اس عصا کو توڑ دیا جو ان کے ہاتھ میں تھا ، اور ھپر کہا عمر یہ تو محض تکلف ہے عمر کی ماں کے بیٹے کیا ہوجائے گا اگر تو ” اب “ کے مفہوم کو نہ جانے۔ ” لوگو ! قرآن میں سے جو تم جانتے ہو ، اس پر عمل کرو اور جو نہیں جانتے اسے چھوڑ دو “۔ یہ ایسی بات ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کریم کے سامنے کس قدر سہمے رہتے تھے اور کس قدر احترام کرتے تھے۔ جس طرح ایک بندہ اپنے مالک کے احکام کا احترام کرتا ہے اور فوراً تعملیل کرتا ہے۔ قرآن کریم کے کچھ کلمات اگر منعلق اور غامض ہوں تو بھی ان کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ مطلع میں جن باتوں پر قسم اٹھائی گئی ہے اس کا جواب درج ذیل آیات ہے یعنی جو اب قسم کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے۔

النازعات 79:5

ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض تیز ہیں اور بعض سست۔ لہٰذا ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور دست قدرت نے ازروئے فطرت ان کو جو احکامات دیئے ہیں وہ سر انجام دیتے ہیں ، اور زمین اور اس کے باشندوں کو متاثر کرتے ہیں ، یوں وہ اس زمین کا انتظام وانصرام کرتے ہیں۔ بعض تفاسیر کے مطابق نازعات ، ناشطات ، سابحات اور سابقات سے مراد ستارے ہیں اور مدبرات فرشتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نازعات ، ناشطات اور سابحات سے مراد ستارے ہیں اور سابقات اور مدبرات سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان آیات وکلمات کا مفہوم جو بھی ہو ، لیکن قرآنی فضا میں زندگی بسر کرتے ہوئے میرا احساس یہ ہے کہ اس پیرائے میں گفتگو اور ان الفاظ کے لانے سے مراد انسانی احساس کو بیدار کرنا ، انسانی شعور کے اندر تجسس اور آنے والے پرخطر اور ہنگامہ خیز حالات کے بارے میں خبردار اور بیدار کرنا ہے۔ یہ الفاظ اور یہ مفہوم ہمیں اس بات کے لئے تیار کرتے ہیں کہ آگے جو بات آرہی ہے وہ ایک عظیم واقعہ ہے ، جسے الطامتہ الکبریٰ راجفہ اور رادفہ کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ہم ان الفاظ کے تفصیلی معانی میں نہ الجھیں کہ ان سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ تو اس طرح ہم قرآن کریم کے فطری انداز پر اکتفا کرکے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا حقیقی ہدیف یہ ہے کہ وہ دلوں کو ہلائے اور گرمائے اور اس مقصد کے لئے قرآن کریم موثر سے موثر اسلوب اختیار کرتا ہے۔ ہمارے ساتھ حضرت عمر ؓ کا انداز مطالعہ بھی ہے۔ آس سورة عبس وتولیٰ پڑھ رہے تھے جب وفاکھة وابا (31:80) ” تک پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ ” فاکھہ “ تو ہمیں معلوم ہے لیکن “ ابا “ کیا ہے۔ اور اس کے بعد کہا ، اے عمر تیری جان کی قسم ، یہ محض تکلف ہوگا۔ اگر تم اللہ کی کتاب کے مفہوم میں سے کسی بات کو نہ سمجھو تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اور ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ہم جانتے ہیں۔ اگر ہم ” اب “ کا مفہوم نہ جانیں تو کیا ہے ؟ اس کے بعد انہوں نے اس عصا کو توڑ دیا جو ان کے ہاتھ میں تھا ، اور ھپر کہا عمر یہ تو محض تکلف ہے عمر کی ماں کے بیٹے کیا ہوجائے گا اگر تو ” اب “ کے مفہوم کو نہ جانے۔ ” لوگو ! قرآن میں سے جو تم جانتے ہو ، اس پر عمل کرو اور جو نہیں جانتے اسے چھوڑ دو “۔ یہ ایسی بات ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کریم کے سامنے کس قدر سہمے رہتے تھے اور کس قدر احترام کرتے تھے۔ جس طرح ایک بندہ اپنے مالک کے احکام کا احترام کرتا ہے اور فوراً تعملیل کرتا ہے۔ قرآن کریم کے کچھ کلمات اگر منعلق اور غامض ہوں تو بھی ان کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ مطلع میں جن باتوں پر قسم اٹھائی گئی ہے اس کا جواب درج ذیل آیات ہے یعنی جو اب قسم کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے۔

النازعات 79:6

پہلے جھٹکے سے مراد زمین پر طاری ہونے والا جھٹکا ہے کیونکہ دوسری جگہ رجف کی نسبت صراحتہ زمین کی طرف کی گئی ہے۔ یوم ترجف .................... والجبال ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے “۔ رادفہ سے مراد ، مطابق روایات آسمان کا لرزنا ہے۔ یعنی زمین کے لرزاٹھنے کے بعد آسمان بھی لرز اٹھے گا۔ یہ پھٹ جائے گا ، اور اس کے ستارے بکھر جائیں گے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ راجفہ سے مراد پہلا صور ہے۔ پہلا صور جب سخت آواز نکالے گا تو زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے ، زمین کے اوپر درندے چرندے انسان سب لرز اٹھیں گے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی تمام مخلوق بےہوش ہوجائے گی۔ اور رادفہ سے مراد دوسرا صور ہے ، جس کے نتیجے میں تمام مخلوق زندہ ہوکر زمین سے اگ پڑے گی اور میدان حشر برپا ہوجائے گا جس طرح سورة زمر آیت 68 میں آیا ہے۔ بہرحال جو مفہوم بھی ہو ، انسانی شعور کے پردہ پر ایک زلزلہ برپا ہوتا ہے اور انسان پر اس تصویر کشی سے ایک خوف اور اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ اور مارے خوف کے انسان تھر تھر کانپنے لگتا ہے۔ یوں انسانی شعور اس دن کے خوف وہراس کو سمجھنے کے قریب ہوجاتا ہے کہ اس دن اس قدر خوف اور اضطراب ہوگا کہ مضبوط سے مضبوط شخص کے قدم اکھڑ جائیں گے اور وہ بےقرار ہوجائے گا۔ انسان اس بات کو پالیتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے۔ قلوب ................ خاشعة (9:79) ” کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے ، نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی “۔ کیونکہ یہ دل شدید اضطراب میں مبتلا ہوں گے ، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ خوف ، دہشت اور ٹوٹ پھوٹ کے آثار ان پر نمایاں ہوں گے۔ زلزلہ ہوگا اور تباہی کا سماں ہر طرف نمایاں ہوگا۔ اور ایسا ہی ٹوٹ پھوٹ اس دن زمین اور آسمان کے نظام میں ہوگا۔ یوم .................................... الرادفة (7:79) اور یہی سماں اور یہی منظر ان الفاظ کلمات سے بھی ظاہر ہوتا ہے جن کے ساتھ قسم کھائی گئی۔ والنزعت ............................ امرا (1:79 تا 5) ” یہ تمام مناظر (دل کی دنیا کے ، اس زمین و آسمان کے اور ان قسمیہ کلمات کے) سب کی فضا ، اور اثرات ہم رنگ اور ہم آہنگ ہیں۔ غرض یہ پوری سورست ایک ہنگامہ عظیم کے انداز میں ہے۔ اب اس منظر کے بارے میں خود ان کے تاثرات یہاں نقل کیے جاتے ہیں کہ جب دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد یہ ناگہاں اٹھیں گے اور سخت حیراں ہوجائیں گے۔

النازعات 79:7

پہلے جھٹکے سے مراد زمین پر طاری ہونے والا جھٹکا ہے کیونکہ دوسری جگہ رجف کی نسبت صراحتہ زمین کی طرف کی گئی ہے۔ یوم ترجف .................... والجبال ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے “۔ رادفہ سے مراد ، مطابق روایات آسمان کا لرزنا ہے۔ یعنی زمین کے لرزاٹھنے کے بعد آسمان بھی لرز اٹھے گا۔ یہ پھٹ جائے گا ، اور اس کے ستارے بکھر جائیں گے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ راجفہ سے مراد پہلا صور ہے۔ پہلا صور جب سخت آواز نکالے گا تو زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے ، زمین کے اوپر درندے چرندے انسان سب لرز اٹھیں گے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی تمام مخلوق بےہوش ہوجائے گی۔ اور رادفہ سے مراد دوسرا صور ہے ، جس کے نتیجے میں تمام مخلوق زندہ ہوکر زمین سے اگ پڑے گی اور میدان حشر برپا ہوجائے گا جس طرح سورة زمر آیت 68 میں آیا ہے۔ بہرحال جو مفہوم بھی ہو ، انسانی شعور کے پردہ پر ایک زلزلہ برپا ہوتا ہے اور انسان پر اس تصویر کشی سے ایک خوف اور اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ اور مارے خوف کے انسان تھر تھر کانپنے لگتا ہے۔ یوں انسانی شعور اس دن کے خوف وہراس کو سمجھنے کے قریب ہوجاتا ہے کہ اس دن اس قدر خوف اور اضطراب ہوگا کہ مضبوط سے مضبوط شخص کے قدم اکھڑ جائیں گے اور وہ بےقرار ہوجائے گا۔ انسان اس بات کو پالیتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے۔ قلوب ................ خاشعة (9:79) ” کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے ، نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی “۔ کیونکہ یہ دل شدید اضطراب میں مبتلا ہوں گے ، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ خوف ، دہشت اور ٹوٹ پھوٹ کے آثار ان پر نمایاں ہوں گے۔ زلزلہ ہوگا اور تباہی کا سماں ہر طرف نمایاں ہوگا۔ اور ایسا ہی ٹوٹ پھوٹ اس دن زمین اور آسمان کے نظام میں ہوگا۔ یوم .................................... الرادفة (7:79) اور یہی سماں اور یہی منظر ان الفاظ کلمات سے بھی ظاہر ہوتا ہے جن کے ساتھ قسم کھائی گئی۔ والنزعت ............................ امرا (1:79 تا 5) ” یہ تمام مناظر (دل کی دنیا کے ، اس زمین و آسمان کے اور ان قسمیہ کلمات کے) سب کی فضا ، اور اثرات ہم رنگ اور ہم آہنگ ہیں۔ غرض یہ پوری سورست ایک ہنگامہ عظیم کے انداز میں ہے۔ اب اس منظر کے بارے میں خود ان کے تاثرات یہاں نقل کیے جاتے ہیں کہ جب دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد یہ ناگہاں اٹھیں گے اور سخت حیراں ہوجائیں گے۔

النازعات 79:8

پہلے جھٹکے سے مراد زمین پر طاری ہونے والا جھٹکا ہے کیونکہ دوسری جگہ رجف کی نسبت صراحتہ زمین کی طرف کی گئی ہے۔ یوم ترجف .................... والجبال ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے “۔ رادفہ سے مراد ، مطابق روایات آسمان کا لرزنا ہے۔ یعنی زمین کے لرزاٹھنے کے بعد آسمان بھی لرز اٹھے گا۔ یہ پھٹ جائے گا ، اور اس کے ستارے بکھر جائیں گے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ راجفہ سے مراد پہلا صور ہے۔ پہلا صور جب سخت آواز نکالے گا تو زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے ، زمین کے اوپر درندے چرندے انسان سب لرز اٹھیں گے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی تمام مخلوق بےہوش ہوجائے گی۔ اور رادفہ سے مراد دوسرا صور ہے ، جس کے نتیجے میں تمام مخلوق زندہ ہوکر زمین سے اگ پڑے گی اور میدان حشر برپا ہوجائے گا جس طرح سورة زمر آیت 68 میں آیا ہے۔ بہرحال جو مفہوم بھی ہو ، انسانی شعور کے پردہ پر ایک زلزلہ برپا ہوتا ہے اور انسان پر اس تصویر کشی سے ایک خوف اور اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ اور مارے خوف کے انسان تھر تھر کانپنے لگتا ہے۔ یوں انسانی شعور اس دن کے خوف وہراس کو سمجھنے کے قریب ہوجاتا ہے کہ اس دن اس قدر خوف اور اضطراب ہوگا کہ مضبوط سے مضبوط شخص کے قدم اکھڑ جائیں گے اور وہ بےقرار ہوجائے گا۔ انسان اس بات کو پالیتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے۔ قلوب ................ خاشعة (9:79) ” کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے ، نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی “۔ کیونکہ یہ دل شدید اضطراب میں مبتلا ہوں گے ، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ خوف ، دہشت اور ٹوٹ پھوٹ کے آثار ان پر نمایاں ہوں گے۔ زلزلہ ہوگا اور تباہی کا سماں ہر طرف نمایاں ہوگا۔ اور ایسا ہی ٹوٹ پھوٹ اس دن زمین اور آسمان کے نظام میں ہوگا۔ یوم .................................... الرادفة (7:79) اور یہی سماں اور یہی منظر ان الفاظ کلمات سے بھی ظاہر ہوتا ہے جن کے ساتھ قسم کھائی گئی۔ والنزعت ............................ امرا (1:79 تا 5) ” یہ تمام مناظر (دل کی دنیا کے ، اس زمین و آسمان کے اور ان قسمیہ کلمات کے) سب کی فضا ، اور اثرات ہم رنگ اور ہم آہنگ ہیں۔ غرض یہ پوری سورست ایک ہنگامہ عظیم کے انداز میں ہے۔ اب اس منظر کے بارے میں خود ان کے تاثرات یہاں نقل کیے جاتے ہیں کہ جب دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد یہ ناگہاں اٹھیں گے اور سخت حیراں ہوجائیں گے۔

النازعات 79:9

پہلے جھٹکے سے مراد زمین پر طاری ہونے والا جھٹکا ہے کیونکہ دوسری جگہ رجف کی نسبت صراحتہ زمین کی طرف کی گئی ہے۔ یوم ترجف .................... والجبال ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے “۔ رادفہ سے مراد ، مطابق روایات آسمان کا لرزنا ہے۔ یعنی زمین کے لرزاٹھنے کے بعد آسمان بھی لرز اٹھے گا۔ یہ پھٹ جائے گا ، اور اس کے ستارے بکھر جائیں گے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ راجفہ سے مراد پہلا صور ہے۔ پہلا صور جب سخت آواز نکالے گا تو زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے ، زمین کے اوپر درندے چرندے انسان سب لرز اٹھیں گے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی تمام مخلوق بےہوش ہوجائے گی۔ اور رادفہ سے مراد دوسرا صور ہے ، جس کے نتیجے میں تمام مخلوق زندہ ہوکر زمین سے اگ پڑے گی اور میدان حشر برپا ہوجائے گا جس طرح سورة زمر آیت 68 میں آیا ہے۔ بہرحال جو مفہوم بھی ہو ، انسانی شعور کے پردہ پر ایک زلزلہ برپا ہوتا ہے اور انسان پر اس تصویر کشی سے ایک خوف اور اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ اور مارے خوف کے انسان تھر تھر کانپنے لگتا ہے۔ یوں انسانی شعور اس دن کے خوف وہراس کو سمجھنے کے قریب ہوجاتا ہے کہ اس دن اس قدر خوف اور اضطراب ہوگا کہ مضبوط سے مضبوط شخص کے قدم اکھڑ جائیں گے اور وہ بےقرار ہوجائے گا۔ انسان اس بات کو پالیتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے۔ قلوب ................ خاشعة (9:79) ” کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے ، نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی “۔ کیونکہ یہ دل شدید اضطراب میں مبتلا ہوں گے ، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ خوف ، دہشت اور ٹوٹ پھوٹ کے آثار ان پر نمایاں ہوں گے۔ زلزلہ ہوگا اور تباہی کا سماں ہر طرف نمایاں ہوگا۔ اور ایسا ہی ٹوٹ پھوٹ اس دن زمین اور آسمان کے نظام میں ہوگا۔ یوم .................................... الرادفة (7:79) اور یہی سماں اور یہی منظر ان الفاظ کلمات سے بھی ظاہر ہوتا ہے جن کے ساتھ قسم کھائی گئی۔ والنزعت ............................ امرا (1:79 تا 5) ” یہ تمام مناظر (دل کی دنیا کے ، اس زمین و آسمان کے اور ان قسمیہ کلمات کے) سب کی فضا ، اور اثرات ہم رنگ اور ہم آہنگ ہیں۔ غرض یہ پوری سورست ایک ہنگامہ عظیم کے انداز میں ہے۔ اب اس منظر کے بارے میں خود ان کے تاثرات یہاں نقل کیے جاتے ہیں کہ جب دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد یہ ناگہاں اٹھیں گے اور سخت حیراں ہوجائیں گے۔

النازعات 79:10

یقولون ............................ نخرة (11:79 ) ” یہ لوگ کہیں گے ” کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے گئے ہیں ؟ جب کہ ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے تھے ؟ “۔ یہ گفتگو وہ اس وقت کررہے ہوگے ، جب پہلے پہل حشر کے میدان میں اٹھیں گے۔ کہا جاتا ہے۔ رجع فی حافرنہ ” یعنی اس راستے سے گیا جس سے آیا تھا “۔ یہ گفتگو وہ مدہوسی اور حیرانی میں کریں گے کہ آیا وہ دوبارہ اسی زندگی میں آگئے ہیں۔ وہ حیران ہوں گے کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہونے کے باوجود کس طرح اندہ انسان بن گئے۔ نخرة (11:79) ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو اندر سے خالی ہوگئی ہوں اور ان کے اندر جب ہوا چلتی ہے تو سرسر کی آواز آرہی ہو۔ لیکن جب وہ ذرا ہوش میں آئیں گے اور ان کے حواس بحال ہوں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ وہ تو فی الواقعہ زندہ کردیئے گئے ہیں لیکن یہ تو اخروی زندگی ہے۔ اب ان کو اپنے خسارے اور نقصان کا اندازہ ہوجائے گا۔ اب ان کا تبصرہ یہ ہوگا۔

النازعات 79:11

یقولون ............................ نخرة (11:79 ) ” یہ لوگ کہیں گے ” کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے گئے ہیں ؟ جب کہ ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے تھے ؟ “۔ یہ گفتگو وہ اس وقت کررہے ہوگے ، جب پہلے پہل حشر کے میدان میں اٹھیں گے۔ کہا جاتا ہے۔ رجع فی حافرنہ ” یعنی اس راستے سے گیا جس سے آیا تھا “۔ یہ گفتگو وہ مدہوسی اور حیرانی میں کریں گے کہ آیا وہ دوبارہ اسی زندگی میں آگئے ہیں۔ وہ حیران ہوں گے کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہونے کے باوجود کس طرح اندہ انسان بن گئے۔ نخرة (11:79) ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو اندر سے خالی ہوگئی ہوں اور ان کے اندر جب ہوا چلتی ہے تو سرسر کی آواز آرہی ہو۔ لیکن جب وہ ذرا ہوش میں آئیں گے اور ان کے حواس بحال ہوں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ وہ تو فی الواقعہ زندہ کردیئے گئے ہیں لیکن یہ تو اخروی زندگی ہے۔ اب ان کو اپنے خسارے اور نقصان کا اندازہ ہوجائے گا۔ اب ان کا تبصرہ یہ ہوگا۔

النازعات 79:12

قالوا .................... خاسرة (12:79) ” کہیں گے ” یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہے “۔ یہ ایک ایسی زندگی ہے جس کو انہوں نے کوئی اہمیت نہ دی۔ اس کے لئے کوئی توشہ انہوں نے جمع کرکے نہ بھیجا اور اب تو کمائی کی جگہ نہیں ہے لہٰذا خسارہ ہی خسارہ ان کا مقدر ہے۔ ایسے حالات میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ قیام قیامت کا یہ ہنگامہ عظیم بسہولت برپا کردیا جائے گا اور اس کی حقیقت تو بس اتنی ہی ہے۔

النازعات 79:13

فانما ........................ الساھرة (14:79) ” حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے “۔ الزجر کے معنی ہیں تیز آواز۔ یعنی الصیحة۔ لیکن یہاں الصیحة کی بجائے الزجرة کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ یہ لفظ اس ورت کی فضا اور ماحول کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ یہاں ماحول شدت اور سختی کا ہے۔ ساھرہ سفید اور چمکدار زمین کو کہتے ہیں۔ مراد میدان حشر ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ میدان کہاں ہوگا۔ اس کے بارے میں ہماری معلومات مخبر صادق کی فراہم کردہ معلومات تک محدود ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں ہم اس سے زیادہ کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے کیونکہ مخبر صادق کے علاوہ کوئی بات وثوق اور محفوظ طریقے سے نہیں کہی جاسکتی۔ اس ڈانٹ سے مراد ، مطابق نصوص قرآن وسنت ، دوسرا نفح صور ہے ، جس کے ہوتے ہی تمام لوگ اپنی اپنی جگہ اور اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے ، جو الفاظ اس کے لئے چنے گئے ہیں ، ان سے اس عمل کی سرعت معلوم ہوتی ہے کہ یہ عمل نہایت تیزی سے ہوگا۔ اس پوری سورت کے بیان کردہ واقعات سرعت اور خوف کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی سرعت اور خوف کی وجہ سے دلوں پر کپکپی اور جسموں پر لرزہ طاری ہوگا۔ اس سورت کی ہر حرکت ، ہر لمحہ اور ہر منظر اور فضا میں ہم آہنگی کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اب اگلے مرحلے میں تیزی ، حرکت اور خوف کی یہ فضا قدرے تھم جاتی ہے۔ کیونکہ اس میں قصہ موسیٰ وفرعون کی طرف مختصراً اشارات ہی۔ اس میں اس سرکشی کا انجام دکھایا گیا ہے ، اس لئے بیان میں قدرے سکون اور نرمی آجاتی ہے۔

النازعات 79:14

فانما ........................ الساھرة (14:79) ” حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے “۔ الزجر کے معنی ہیں تیز آواز۔ یعنی الصیحة۔ لیکن یہاں الصیحة کی بجائے الزجرة کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ یہ لفظ اس ورت کی فضا اور ماحول کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ یہاں ماحول شدت اور سختی کا ہے۔ ساھرہ سفید اور چمکدار زمین کو کہتے ہیں۔ مراد میدان حشر ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ میدان کہاں ہوگا۔ اس کے بارے میں ہماری معلومات مخبر صادق کی فراہم کردہ معلومات تک محدود ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں ہم اس سے زیادہ کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے کیونکہ مخبر صادق کے علاوہ کوئی بات وثوق اور محفوظ طریقے سے نہیں کہی جاسکتی۔ اس ڈانٹ سے مراد ، مطابق نصوص قرآن وسنت ، دوسرا نفح صور ہے ، جس کے ہوتے ہی تمام لوگ اپنی اپنی جگہ اور اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے ، جو الفاظ اس کے لئے چنے گئے ہیں ، ان سے اس عمل کی سرعت معلوم ہوتی ہے کہ یہ عمل نہایت تیزی سے ہوگا۔ اس پوری سورت کے بیان کردہ واقعات سرعت اور خوف کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی سرعت اور خوف کی وجہ سے دلوں پر کپکپی اور جسموں پر لرزہ طاری ہوگا۔ اس سورت کی ہر حرکت ، ہر لمحہ اور ہر منظر اور فضا میں ہم آہنگی کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اب اگلے مرحلے میں تیزی ، حرکت اور خوف کی یہ فضا قدرے تھم جاتی ہے۔ کیونکہ اس میں قصہ موسیٰ وفرعون کی طرف مختصراً اشارات ہی۔ اس میں اس سرکشی کا انجام دکھایا گیا ہے ، اس لئے بیان میں قدرے سکون اور نرمی آجاتی ہے۔

النازعات 79:15

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ قرآن کریم میں بار بار آیا ہے۔ اور اس کی بہت تفصیلات دی گئی ہیں۔ اس سے قبل کی سورتوں میں اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ ہر جگہ اس قصے کا حصہ آیا ہے۔ مختلف انداز اور مختلف اسلوب بیان میں آیا ہے۔ ہر جگہ قصے کا وہ حصہ اور اس انداز میں آیا ہے ، جس کی ضرورت ہو اور جو موضوع ومحل کے مناسب ہو۔ اس قصے کے بیان میں قرآن کریم کا اسلوب بیان اپنے عروج پر ہوتا ہے اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے کہ وہ قصے کو نہایت برمحل اور مناسب انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہاں یہ قصہ نہایت اختصار کے ساتھ آیا ہے ، اس کے مناظر جھلکیوں کی شکل میں بڑی تیزی سے گزرجاتے ہیں۔ کوہ طور کی وادی مقدس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا جاتا ہے۔ اور انہیں فرعون کی طرف تبلیغی مشن پر جانے کے احکامات دیئے جاتے ہیں اس کی سرکشی اور پھر دنیا وآخرت میں اس کے انجام بد اور اللہ کی گرفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں اس کا انجام اس سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے کیونکہ سورت کا بنیادی موضوع ہے حشرونشر اور حساب و کتاب ہے۔ چند مختصر آیات میں ، الف کے ساتھ طویل مد کے ترنم کے ساتھ اس قصے کی جھلکیاں بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتی ہیں۔ یوں اس کا انداز اور اس کا اثر اس سورت کے مزاج کے مطابق ہوجاتا ہے۔ ان مختصر آیات میں نہایت تیزی اور سرعت کے ساتھ اس قصے کے کئی پہلو دکھائے گئے ہیں۔ اس کا آغاز حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کرکے کیا جاتا ہے۔ ھل اتک ................ موسیٰ (15:79) ” کیا تمہیں موسیٰ کے قصے کی خبر پہنچی ہے ؟ “۔ یہ سوالیہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے تاکہ مخاطب پوری توجہ سے قصے کو سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہوجائے اور پوری طرح اخذ کرلے۔ اس کے بعد پھر واقعات کی تفصیلات آتی ہیں۔ اس قصے کو لفظ حدیث (بات) سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ قصہ دراصل ہے ہی موسیٰ اور رب کا مکالمہ۔ اس لئے لفظ حدیث لانا نہایت واقعیت پسندی ہے۔ چناچہ سوال و جواب اور رب کے ساتھ مناجات۔

النازعات 79:16

اذنادہ ........................ طوی (16:79) ” جب اس کے رب نے اسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا “۔ راجح قول یہ ہے کہ طویٰ وادی کا نام ہے ، جو شخص شمالی حجاز میں مدین کی طرف سے آئے ، یہ وادی طور کے دائیں جانب پڑتی ہے۔ یہ وقت جس میں اللہ کی جانب سے پکار آئی ، یہ ایک عظیم اور خوف زدہ کرنے والے لمحات ہیں اور عجیب کیفیات کا وقت ہوگا کہ اللہ جل شانہ بذات خود اپنے ایک بندے کو پکار رہا ہوگا اور سوچا جائے تو یہ ایک عظیم بات ہے۔ ان لمحات کی خوفناکیوں کے بیان سے انسانی الفاظ قاصر ہیں۔ اللہ کی عظیم بادشاہت اور حکومت کا یہ ایک راز ہے۔ نیز نفس انسانی کے رازوں میں سے بھی یہ ایک سربستہ رز ہے کہ اللہ نے انسانی نفس میں یہ قوت ودیعت کی اور اسے اس قابل بنایا کہ وہ ندائے جلیل کو سن سکے اور اس سے مفہوم اخذ کرسکے۔ یہ وہ آخری بات ہے جو اس مقام کی نسبت سے ہم کہہ سکتے ہیں۔ ورنہ مکالمہ الٰہی کے اس مقام اور اس کی کیفیت اور ماہیت کو سمجھنا انسان کے لئے نہایت ہی مشکل ہے۔ انسان کے لئے مناسب ہے کہ اس مقام کے کنارے پر ہی کھڑا رہے۔ اس وقت جب خود باری تعالیٰ انسان کو یہ قوت نہیں دے دیتا کہ وہ اس مقام کی کیفیات و تجلیات اور سوال و جواب کو سمجھ سکے اور اس کا شعور اور اس کی قوت مدرکہ اسے چکھ سکے۔ دوسرے مقامات پر اللہ اور کلیم اللہ کے درمیان ، اس مقام پر ہونے والے مکالموں کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں ، لیکن اس سورت میں چونکہ موضوع کے ارد گرد مختصر باتیں رکھنی مقصود ہیں اس لئے یہاں زور دار باتیں نہایت موثر انداز میں اور ایک جھلک کی صورت میں کی گئی ہیں۔ اس لئے یہاں بس چند کلمات کے بعد ہی ذکر کردیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ عظیم مشن سپرد کردیا گیا۔ پس آواز آئی اور حکم دے دیا گیا۔

النازعات 79:17

اذھب .................... فتخشیٰ (19:79) ” فرعون کے پاس جاوہ سرکش ہوگیا ہے ، اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “۔ اذھب .................... طغی (17:79) ”’ فرعون کے پاس جاﺅوہ سرکش ہوگیا ہے “۔ سرکشی ایسا گناہ ہے کہ اسے واقع ہی نہیں ہونا چاہئے اور اگر یہ سرزد ہوجائے تو اسے باقی نہیں رہنا چاہئے۔ یہ ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ اللہ سرکشی کو پسند نہیں کرتا ، سرکشی کے نتیجے میں بیشمار مکروہات جنم لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بلند ترین انبیاء میں سے ایک ممتاز نبی کو صرف اس لئے بھیجا کہ فرعون کی سرکشی کو مٹادے اور یہ ڈیوٹی اللہ نے ان کے ساتھ خود ہمکلام ہوکر لگائی۔ براہ راست یہ حکم دیا گیا اور یہ مشن ان کے سپرد کیا گیا تاکہ یہ ممتاز نمائندہ اس شر کو ختم کرے۔ اور دنیا سے اس فساد کو دور کرے ، یہ ایک نہایت ہی کریہہ فعل ہے کہ حکمرانوں میں سے کوئی سرکش اور ظالم ہو۔ اسی لئے اللہ نے بذات خود براہ راست یہ مشن اپنے ایک بندے کے سپرد کیا۔ اور حکم دیا کہ اس شخص کو اس حالت سے نکال کر انصاف کی راہوں پر لے آﺅ، اگر وہ نہ آئے تو اس پر دنیا وآخرت کی سزا اور عذاب نازل کرنے کا جواز پیدا ہو۔ اذھب ........................ طغی (17:79) ” فرعون کے پاس جاﺅ کہ وہ ظالم و سرکش ہوگیا ہے “۔ اس کے بعد اللہ اپنے بندے کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ اس سرکش اور ظالم کے دربار میں انہوں نے اپنا پیغام اور دعوت کس اسلوب میں پیش کرنی ہے۔ نہایت نرم ، پرکشش اور محبت بھرے انداز میں۔ شاید کہ وہ باز آجائے اور اس کے دل میں بات اترجائے۔ اور اللہ کے غضب اور عذاب سے بچ نکلے۔ فقل ھل .................... تزکی (18:79) ” کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے “۔ کیا تو اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ اس سرکشی اور ظلم کی گندگی سے نکل آئے۔ اور اللہ کی نافرمانیوں کو ترک کردے۔ کیا تو نماز ، دعا اور برکت کی راہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ واھدیک ................ فتخشی (19:79) ” اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “ کیا تیرے اندر یہ خواہش ہے کہ تو اپنے رب کے راستے کے نشیب و فراز سے واقفیت حاصل کرے۔ اگر تو رب کی راہوں پر چلے گا تو تیرے دل میں رب کا خوف پیدا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ظالم اور سرکش تب ہی بنتا ہے جب اپنے رب سے دور چلا جائے۔ راہ حق بھلا دے اور سنگدل ہوکر فساد اختیار کرے۔ اس طرح وہ آخر کار سرکشی اور ظلم کو اپناوطیرہ بنالیتا ہے۔ یہ بات تو اس وقت کی گئی ہے جب اللہ کی جانب سے آواز آئی اور یہ عظیم مشن حضرت موسیٰ کے سپرد کیا گیا اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے۔ تو انہوں نے یہی بات دہرائی جو اللہ نے سکھائی کہ ایسا کہو ، لیکن تبلیغ کے وقت کی جو منظر کشی کی گئی اس میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ویسا ہی کہا ہوگا جس طرح اللہ نے فرمایا کہ یوں کہو۔ لہٰذا سپردگی مشن کے وقت جو بات کہی گئی اسے یہاں حذف کردیا اور بات مختصر کردی اب یہاں آکر یہ منظر نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور آخری بات کہی جاتی ہے۔

النازعات 79:18

اذھب .................... فتخشیٰ (19:79) ” فرعون کے پاس جاوہ سرکش ہوگیا ہے ، اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “۔ اذھب .................... طغی (17:79) ”’ فرعون کے پاس جاﺅوہ سرکش ہوگیا ہے “۔ سرکشی ایسا گناہ ہے کہ اسے واقع ہی نہیں ہونا چاہئے اور اگر یہ سرزد ہوجائے تو اسے باقی نہیں رہنا چاہئے۔ یہ ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ اللہ سرکشی کو پسند نہیں کرتا ، سرکشی کے نتیجے میں بیشمار مکروہات جنم لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بلند ترین انبیاء میں سے ایک ممتاز نبی کو صرف اس لئے بھیجا کہ فرعون کی سرکشی کو مٹادے اور یہ ڈیوٹی اللہ نے ان کے ساتھ خود ہمکلام ہوکر لگائی۔ براہ راست یہ حکم دیا گیا اور یہ مشن ان کے سپرد کیا گیا تاکہ یہ ممتاز نمائندہ اس شر کو ختم کرے۔ اور دنیا سے اس فساد کو دور کرے ، یہ ایک نہایت ہی کریہہ فعل ہے کہ حکمرانوں میں سے کوئی سرکش اور ظالم ہو۔ اسی لئے اللہ نے بذات خود براہ راست یہ مشن اپنے ایک بندے کے سپرد کیا۔ اور حکم دیا کہ اس شخص کو اس حالت سے نکال کر انصاف کی راہوں پر لے آﺅ، اگر وہ نہ آئے تو اس پر دنیا وآخرت کی سزا اور عذاب نازل کرنے کا جواز پیدا ہو۔ اذھب ........................ طغی (17:79) ” فرعون کے پاس جاﺅ کہ وہ ظالم و سرکش ہوگیا ہے “۔ اس کے بعد اللہ اپنے بندے کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ اس سرکش اور ظالم کے دربار میں انہوں نے اپنا پیغام اور دعوت کس اسلوب میں پیش کرنی ہے۔ نہایت نرم ، پرکشش اور محبت بھرے انداز میں۔ شاید کہ وہ باز آجائے اور اس کے دل میں بات اترجائے۔ اور اللہ کے غضب اور عذاب سے بچ نکلے۔ فقل ھل .................... تزکی (18:79) ” کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے “۔ کیا تو اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ اس سرکشی اور ظلم کی گندگی سے نکل آئے۔ اور اللہ کی نافرمانیوں کو ترک کردے۔ کیا تو نماز ، دعا اور برکت کی راہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ واھدیک ................ فتخشی (19:79) ” اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “ کیا تیرے اندر یہ خواہش ہے کہ تو اپنے رب کے راستے کے نشیب و فراز سے واقفیت حاصل کرے۔ اگر تو رب کی راہوں پر چلے گا تو تیرے دل میں رب کا خوف پیدا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ظالم اور سرکش تب ہی بنتا ہے جب اپنے رب سے دور چلا جائے۔ راہ حق بھلا دے اور سنگدل ہوکر فساد اختیار کرے۔ اس طرح وہ آخر کار سرکشی اور ظلم کو اپناوطیرہ بنالیتا ہے۔ یہ بات تو اس وقت کی گئی ہے جب اللہ کی جانب سے آواز آئی اور یہ عظیم مشن حضرت موسیٰ کے سپرد کیا گیا اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے۔ تو انہوں نے یہی بات دہرائی جو اللہ نے سکھائی کہ ایسا کہو ، لیکن تبلیغ کے وقت کی جو منظر کشی کی گئی اس میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ویسا ہی کہا ہوگا جس طرح اللہ نے فرمایا کہ یوں کہو۔ لہٰذا سپردگی مشن کے وقت جو بات کہی گئی اسے یہاں حذف کردیا اور بات مختصر کردی اب یہاں آکر یہ منظر نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور آخری بات کہی جاتی ہے۔

النازعات 79:19

اذھب .................... فتخشیٰ (19:79) ” فرعون کے پاس جاوہ سرکش ہوگیا ہے ، اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “۔ اذھب .................... طغی (17:79) ”’ فرعون کے پاس جاﺅوہ سرکش ہوگیا ہے “۔ سرکشی ایسا گناہ ہے کہ اسے واقع ہی نہیں ہونا چاہئے اور اگر یہ سرزد ہوجائے تو اسے باقی نہیں رہنا چاہئے۔ یہ ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ اللہ سرکشی کو پسند نہیں کرتا ، سرکشی کے نتیجے میں بیشمار مکروہات جنم لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بلند ترین انبیاء میں سے ایک ممتاز نبی کو صرف اس لئے بھیجا کہ فرعون کی سرکشی کو مٹادے اور یہ ڈیوٹی اللہ نے ان کے ساتھ خود ہمکلام ہوکر لگائی۔ براہ راست یہ حکم دیا گیا اور یہ مشن ان کے سپرد کیا گیا تاکہ یہ ممتاز نمائندہ اس شر کو ختم کرے۔ اور دنیا سے اس فساد کو دور کرے ، یہ ایک نہایت ہی کریہہ فعل ہے کہ حکمرانوں میں سے کوئی سرکش اور ظالم ہو۔ اسی لئے اللہ نے بذات خود براہ راست یہ مشن اپنے ایک بندے کے سپرد کیا۔ اور حکم دیا کہ اس شخص کو اس حالت سے نکال کر انصاف کی راہوں پر لے آﺅ، اگر وہ نہ آئے تو اس پر دنیا وآخرت کی سزا اور عذاب نازل کرنے کا جواز پیدا ہو۔ اذھب ........................ طغی (17:79) ” فرعون کے پاس جاﺅ کہ وہ ظالم و سرکش ہوگیا ہے “۔ اس کے بعد اللہ اپنے بندے کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ اس سرکش اور ظالم کے دربار میں انہوں نے اپنا پیغام اور دعوت کس اسلوب میں پیش کرنی ہے۔ نہایت نرم ، پرکشش اور محبت بھرے انداز میں۔ شاید کہ وہ باز آجائے اور اس کے دل میں بات اترجائے۔ اور اللہ کے غضب اور عذاب سے بچ نکلے۔ فقل ھل .................... تزکی (18:79) ” کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے “۔ کیا تو اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ اس سرکشی اور ظلم کی گندگی سے نکل آئے۔ اور اللہ کی نافرمانیوں کو ترک کردے۔ کیا تو نماز ، دعا اور برکت کی راہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ واھدیک ................ فتخشی (19:79) ” اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “ کیا تیرے اندر یہ خواہش ہے کہ تو اپنے رب کے راستے کے نشیب و فراز سے واقفیت حاصل کرے۔ اگر تو رب کی راہوں پر چلے گا تو تیرے دل میں رب کا خوف پیدا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ظالم اور سرکش تب ہی بنتا ہے جب اپنے رب سے دور چلا جائے۔ راہ حق بھلا دے اور سنگدل ہوکر فساد اختیار کرے۔ اس طرح وہ آخر کار سرکشی اور ظلم کو اپناوطیرہ بنالیتا ہے۔ یہ بات تو اس وقت کی گئی ہے جب اللہ کی جانب سے آواز آئی اور یہ عظیم مشن حضرت موسیٰ کے سپرد کیا گیا اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے۔ تو انہوں نے یہی بات دہرائی جو اللہ نے سکھائی کہ ایسا کہو ، لیکن تبلیغ کے وقت کی جو منظر کشی کی گئی اس میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ویسا ہی کہا ہوگا جس طرح اللہ نے فرمایا کہ یوں کہو۔ لہٰذا سپردگی مشن کے وقت جو بات کہی گئی اسے یہاں حذف کردیا اور بات مختصر کردی اب یہاں آکر یہ منظر نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور آخری بات کہی جاتی ہے۔

النازعات 79:20

فارہ ................ وعصی (21:79) ” پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی دکھائی ، مگر اس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ بات پہنچادی جو پہنچائی تھی۔ اور اسی انداز میں اور اسی اسلوب میں پہنچادی جس میں ان کے رب نے ان کو حکم دیا تھا لیکن اس قسی القلب اور سرکش آدمی کے ہاں یہ اسلوب ، کامیاب نہ ہوا کیونکہ مرد نادان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہوا کرتا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عظیم معجزات پیش کیے ، عصا پیش کیا اور یدبیضا پیش کیا ، جیسا کہ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں۔ تو اس نے ” جھٹلایا اور نہ مانا “ یوں اختصار کے ساتھ یہ منظر تکذیب اور معصیت پر ختم ہوتا ہے۔ اب اسی اختصار کے ساتھ ایک دوسرا منظرسامنے آتا ہے۔ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی جگہ ہی چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ اور سحر اور سچائی کا مقابلہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا کبروغرور یہ کس طرح گوارا کرسکتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر آجائے اور حق کو قبول کرے۔

النازعات 79:21

فارہ ................ وعصی (21:79) ” پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی دکھائی ، مگر اس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ بات پہنچادی جو پہنچائی تھی۔ اور اسی انداز میں اور اسی اسلوب میں پہنچادی جس میں ان کے رب نے ان کو حکم دیا تھا لیکن اس قسی القلب اور سرکش آدمی کے ہاں یہ اسلوب ، کامیاب نہ ہوا کیونکہ مرد نادان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہوا کرتا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عظیم معجزات پیش کیے ، عصا پیش کیا اور یدبیضا پیش کیا ، جیسا کہ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں۔ تو اس نے ” جھٹلایا اور نہ مانا “ یوں اختصار کے ساتھ یہ منظر تکذیب اور معصیت پر ختم ہوتا ہے۔ اب اسی اختصار کے ساتھ ایک دوسرا منظرسامنے آتا ہے۔ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی جگہ ہی چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ اور سحر اور سچائی کا مقابلہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا کبروغرور یہ کس طرح گوارا کرسکتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر آجائے اور حق کو قبول کرے۔

النازعات 79:22

ثم ادبر ........................ الاعلی (24:79) ” پھر چال بازیاں کرنے کے لئے پلٹا اور لوگوں کو جمع کرکے اس نے پکار کر کہا ” میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں “۔ سیاق کلام میں یہاں اس سرکش کافر کی بات کو نہایت سرعت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور اس کی مساعی کی تفصیلات ، جادوگروں کا جمع کیا جانا ، اور مقابلہ آرائی کی تفصیلات کو یہاں حذف کردیا جاتا ہے۔ پس اتنا ہی کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کو چھوڑ کر چلا گیا۔ اپنی سعی اور تدبیریں کرتا رہا اور عوام کو بھی جمع کیا اور جادوگروں کو بھی جمع کرلایا۔ اور پس یہاں یہاں اس کی ایک ہی مکروہ اور گندی بات کو نقل کردی ، جو جہالت اور غزور اور سرکش سے اٹی پڑی ہے کہ ” میں ہوں تمہارا رب اعلیٰ “ نعوذ باللہ۔ یہ بات اس سرکش نے اس بل بوتے پر کہی کہ اسے یقین تھا کہ عوام تو جاہل ہیں اور انہوں نے اس بات پر لبیک کہنا ہے جو وہ کہہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کو عوام کی جہالت ، عوام کی ذلت اور عوام کی غیر مشروط اطاعت سخت دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ حالانکہ ہر سرکش اور ڈکٹیٹر تو دراصل ایک شخص ہوتا ہے۔ اس کے پاس نہ قوت ہوتی ہے اور نہ دلیل۔ بلکہ اس کی قوت اور دلیل یہی ہوتی ہے کہ ذلیل اور جاہل عوام اس کے سامنے بچھ جاتے ہیں وہ اپنے کاندھوں کو اس کے سامنے جھکاتے ہیں اور وہ ان پر سوار ہوجاتا ہے اور ان کی گردنیں لمبی ہوتی جاتی ہیں اور وہ ان میں رسی ڈال کر مزید کھینچتا رہتا ہے۔ لوگ اس کے سامنے سرجھکاتے ہیں اور وہ مزید سر بلند کرتا ہے۔ لوگ اس کے مقابلے میں اپنے حقوق اور اپنی عزت سے دست بردار ہوتے ہیں اور وہ مزید سرکش ہوتا رہتا ہے۔ عوام الناس یہ کام کیوں کرتے ہیں ، ایک طرف سے وہ دھوکے میں ہوتے رہیں اور دوسری جانب سے وہ ڈرتے ہیں۔ رہا ان کا خوف تو وہ محض وہم یا گمان پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ہر ڈکٹیٹر اور سرکش تو ایک فرد ہوتا ہے ، وہ ہزاروں اور لاکھوں عوام کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر اپنی انسانیت ، اپنی کرامت ، عزت نفس ، اپنی آزادیوں کا احساس ہو تو پھر ان ہزاروں اور لاکھوں عوام میں سے ایک شخص اس ڈکٹیٹر کے مقابلے کے لئے کافی ہوتا ہے لیکن یہ ڈکٹیٹر اور سرکش ان کو دھوکہ دیتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ وہ اختیارات کا سرچشمہ ہے۔ حالانکہ کسی قوم میں سے ایک فرد اٹھ کر کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ اور ڈکٹیٹر اور سرکش ہوں۔ اگر قوم بیدار ہو اور اسے نیک وبد کا علم ہو تو اس میں سے کبھی بھی سرکش ڈکٹیٹر پیدا نہیں ہوسکتا ، پھر جو امت اپنے حقیقی رب اعلیٰ سے واقف ہو تو اس کے اندر کوئی اس قسم کا فرعونی ڈکٹیٹر سر نہیں اٹھا سکتا۔ نیز اگر کوئی قوم یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے صرف رب واحد کی بندگی کرنی ہے اور اس رب کے سوا کوئی نہیں ہے کہ اسے نفع دے سکے یا نقصان۔ تو ایسی قوم میں کوئی مطلق العنان سر نہیں اٹھاسکتا۔ فرعون کو معلوم تھا کہ اس کی قوم غافل اور ذلیل ہے۔ اور اس کی رعیت کے لوگوں کے دل ذوق ایمان سے خالی ہیں۔ اس لئے اسے اس قدر جرات ہوگئی کہ وہ کہے۔

النازعات 79:23

ثم ادبر ........................ الاعلی (24:79) ” پھر چال بازیاں کرنے کے لئے پلٹا اور لوگوں کو جمع کرکے اس نے پکار کر کہا ” میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں “۔ سیاق کلام میں یہاں اس سرکش کافر کی بات کو نہایت سرعت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور اس کی مساعی کی تفصیلات ، جادوگروں کا جمع کیا جانا ، اور مقابلہ آرائی کی تفصیلات کو یہاں حذف کردیا جاتا ہے۔ پس اتنا ہی کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کو چھوڑ کر چلا گیا۔ اپنی سعی اور تدبیریں کرتا رہا اور عوام کو بھی جمع کیا اور جادوگروں کو بھی جمع کرلایا۔ اور پس یہاں یہاں اس کی ایک ہی مکروہ اور گندی بات کو نقل کردی ، جو جہالت اور غزور اور سرکش سے اٹی پڑی ہے کہ ” میں ہوں تمہارا رب اعلیٰ “ نعوذ باللہ۔ یہ بات اس سرکش نے اس بل بوتے پر کہی کہ اسے یقین تھا کہ عوام تو جاہل ہیں اور انہوں نے اس بات پر لبیک کہنا ہے جو وہ کہہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کو عوام کی جہالت ، عوام کی ذلت اور عوام کی غیر مشروط اطاعت سخت دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ حالانکہ ہر سرکش اور ڈکٹیٹر تو دراصل ایک شخص ہوتا ہے۔ اس کے پاس نہ قوت ہوتی ہے اور نہ دلیل۔ بلکہ اس کی قوت اور دلیل یہی ہوتی ہے کہ ذلیل اور جاہل عوام اس کے سامنے بچھ جاتے ہیں وہ اپنے کاندھوں کو اس کے سامنے جھکاتے ہیں اور وہ ان پر سوار ہوجاتا ہے اور ان کی گردنیں لمبی ہوتی جاتی ہیں اور وہ ان میں رسی ڈال کر مزید کھینچتا رہتا ہے۔ لوگ اس کے سامنے سرجھکاتے ہیں اور وہ مزید سر بلند کرتا ہے۔ لوگ اس کے مقابلے میں اپنے حقوق اور اپنی عزت سے دست بردار ہوتے ہیں اور وہ مزید سرکش ہوتا رہتا ہے۔ عوام الناس یہ کام کیوں کرتے ہیں ، ایک طرف سے وہ دھوکے میں ہوتے رہیں اور دوسری جانب سے وہ ڈرتے ہیں۔ رہا ان کا خوف تو وہ محض وہم یا گمان پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ہر ڈکٹیٹر اور سرکش تو ایک فرد ہوتا ہے ، وہ ہزاروں اور لاکھوں عوام کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر اپنی انسانیت ، اپنی کرامت ، عزت نفس ، اپنی آزادیوں کا احساس ہو تو پھر ان ہزاروں اور لاکھوں عوام میں سے ایک شخص اس ڈکٹیٹر کے مقابلے کے لئے کافی ہوتا ہے لیکن یہ ڈکٹیٹر اور سرکش ان کو دھوکہ دیتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ وہ اختیارات کا سرچشمہ ہے۔ حالانکہ کسی قوم میں سے ایک فرد اٹھ کر کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ اور ڈکٹیٹر اور سرکش ہوں۔ اگر قوم بیدار ہو اور اسے نیک وبد کا علم ہو تو اس میں سے کبھی بھی سرکش ڈکٹیٹر پیدا نہیں ہوسکتا ، پھر جو امت اپنے حقیقی رب اعلیٰ سے واقف ہو تو اس کے اندر کوئی اس قسم کا فرعونی ڈکٹیٹر سر نہیں اٹھا سکتا۔ نیز اگر کوئی قوم یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے صرف رب واحد کی بندگی کرنی ہے اور اس رب کے سوا کوئی نہیں ہے کہ اسے نفع دے سکے یا نقصان۔ تو ایسی قوم میں کوئی مطلق العنان سر نہیں اٹھاسکتا۔ فرعون کو معلوم تھا کہ اس کی قوم غافل اور ذلیل ہے۔ اور اس کی رعیت کے لوگوں کے دل ذوق ایمان سے خالی ہیں۔ اس لئے اسے اس قدر جرات ہوگئی کہ وہ کہے۔

النازعات 79:24

انا ربکم الاعلیٰ (24:79) ” میں ہی تمہارا رب اعلیٰ ہوں “۔ اگر اس کی قوم میں ایمان ہوتا ، عزت نفس ہوتی۔ وہ ایک آزاد قوم ہوتی اور ذی شعور قوم ہوتی تو اسے یہ بات کہنے کی جرات نہ ہوتی۔ کیونکہ وہ تو جانتا تھا کہ وہ تو دوسروں کی طرح ایک محتاج اور ضعیف بندہ ہے۔ وہ کوئی فوق الفطرت قوت نہیں رکھتا۔ اگر مکھی اور مچھر بھی اس سے کچھ لے بھاگے تو اس کی افواج اور وہ اسے نہیں پکڑ سکتے۔

النازعات 79:25

اس کفر ، سرکشی اور تکذیب اور گندی بات کے بعد اب اللہ کی عظیم قوتیں حرکت میں آتی ہیں۔ فاخذ ................ والاولی (25:79) ” آخر کار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں مبتلا کردیا “۔ یہاں آخرت کے عذاب کو دنیا کے عذاب پر مقدم کردیا گیا ، اس لئے کہ عذاب آخرت تو بہت ہی سخت اور شدید ہوگا۔ نافرمانوں اور سرکشوں کے لئے حقیقی عذاب تو عذاب آخرت ہوگا اور آخرت میں ایسے لوگ بڑی سختی اور بےرحمی سے پکڑے جائیں گے۔ پھر سورت کا موضوع ہی آخرت ہے۔ اس لئے عذاب آخرت کو مقدم کرنا ضروری ہوا۔ نیز لفظی ترنم اور قافیہ کے اعتبار سے بھی ” آخرت “ کو پہلے اور ” اولیٰ “ کو بعد میں ہونا چاہئے تھا ، یوں لفظی اور معنوی اعتبار سے الاخرة والاولی (25:79) ہم آہنگ ہوگئے۔ اس دنیا میں فرعون جس عذاب سے دو چار ہوا ، وہ بھی بڑا سخت تھا۔ رہا آرت کا عذاب تو وہ بہت ہی شدید اور سخت ہوگا۔ فرعون بڑی قوت والا تھا ، اور خاندانی عزت اور وقار کا مالک تھا۔ اسے اگر اس قدر شدید عذاب سے دوچار کیا گیا تو دوسرے کم درجے کے مکذبین ڈکٹیٹر اور سرکش بہرحال شدید ترین عذاب سے دو چار ہوں گے اور رہے مشرکین مکہ تو عالمی قوتوں میں تو ان کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ ان فی ........................ یخشیٰ (26:79) ” در حقیقت اس میں بڑی عبرت ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ جو شخص اللہ کی معرفت رکھتا ہے ، اللہ سے ڈرتا ہے ، وہی اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ فرعون کے واقعہ میں لوگوں کے لئے کیا کیا عبرتیں ہیں۔ رہا وہ شخص جس کے دل میں تقویٰ ، خوف اور خشیت ہی نہیں ہے۔ اس کے اور عبرت کے درمیان پردے حائل ہوگئے ہیں۔ اس کے اور نصیحت حاصل کرنے کے درمیان ایک دبیز پردہ حائل ہوجاتا ہے۔ آخر کار وہ انجام بد سے دوچار ہی نہیں ہوتا بلکہ انجام بد سے جاکر ٹکراتا ہے اور اللہ اس سے دنیا وآخرت میں انتقام لے لیتا ہے۔ پس ہر شخص کو اللہ ہی عبرت ، راہ راست اور اچھے انجام کے لئے وسائل فراہم کرتا ہے۔ ڈکٹیٹروں اور مادی وسیاسی قوت کے بل بوتے پر ظلم اور سرکشی کرنے والوں کے اس مطالعے اور نظارے کے بعد اب ذرا مشرکین مکہ کی طرف ، جن کو اپنی چھوٹی سی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا ، ان کے سامنے بعض عظیم کائناتی قوتیں پیش کی جاتی ہیں ، تاکہ وہ ذرا سمجھیں کہ ان ہولناکی کی کائناتی قوتوں کے سامنے ان کی قوت ہیچ ہے۔

النازعات 79:26

اس کفر ، سرکشی اور تکذیب اور گندی بات کے بعد اب اللہ کی عظیم قوتیں حرکت میں آتی ہیں۔ فاخذ ................ والاولی (25:79) ” آخر کار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں مبتلا کردیا “۔ یہاں آخرت کے عذاب کو دنیا کے عذاب پر مقدم کردیا گیا ، اس لئے کہ عذاب آخرت تو بہت ہی سخت اور شدید ہوگا۔ نافرمانوں اور سرکشوں کے لئے حقیقی عذاب تو عذاب آخرت ہوگا اور آخرت میں ایسے لوگ بڑی سختی اور بےرحمی سے پکڑے جائیں گے۔ پھر سورت کا موضوع ہی آخرت ہے۔ اس لئے عذاب آخرت کو مقدم کرنا ضروری ہوا۔ نیز لفظی ترنم اور قافیہ کے اعتبار سے بھی ” آخرت “ کو پہلے اور ” اولیٰ “ کو بعد میں ہونا چاہئے تھا ، یوں لفظی اور معنوی اعتبار سے الاخرة والاولی (25:79) ہم آہنگ ہوگئے۔ اس دنیا میں فرعون جس عذاب سے دو چار ہوا ، وہ بھی بڑا سخت تھا۔ رہا آرت کا عذاب تو وہ بہت ہی شدید اور سخت ہوگا۔ فرعون بڑی قوت والا تھا ، اور خاندانی عزت اور وقار کا مالک تھا۔ اسے اگر اس قدر شدید عذاب سے دوچار کیا گیا تو دوسرے کم درجے کے مکذبین ڈکٹیٹر اور سرکش بہرحال شدید ترین عذاب سے دو چار ہوں گے اور رہے مشرکین مکہ تو عالمی قوتوں میں تو ان کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ ان فی ........................ یخشیٰ (26:79) ” در حقیقت اس میں بڑی عبرت ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ جو شخص اللہ کی معرفت رکھتا ہے ، اللہ سے ڈرتا ہے ، وہی اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ فرعون کے واقعہ میں لوگوں کے لئے کیا کیا عبرتیں ہیں۔ رہا وہ شخص جس کے دل میں تقویٰ ، خوف اور خشیت ہی نہیں ہے۔ اس کے اور عبرت کے درمیان پردے حائل ہوگئے ہیں۔ اس کے اور نصیحت حاصل کرنے کے درمیان ایک دبیز پردہ حائل ہوجاتا ہے۔ آخر کار وہ انجام بد سے دوچار ہی نہیں ہوتا بلکہ انجام بد سے جاکر ٹکراتا ہے اور اللہ اس سے دنیا وآخرت میں انتقام لے لیتا ہے۔ پس ہر شخص کو اللہ ہی عبرت ، راہ راست اور اچھے انجام کے لئے وسائل فراہم کرتا ہے۔ ڈکٹیٹروں اور مادی وسیاسی قوت کے بل بوتے پر ظلم اور سرکشی کرنے والوں کے اس مطالعے اور نظارے کے بعد اب ذرا مشرکین مکہ کی طرف ، جن کو اپنی چھوٹی سی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا ، ان کے سامنے بعض عظیم کائناتی قوتیں پیش کی جاتی ہیں ، تاکہ وہ ذرا سمجھیں کہ ان ہولناکی کی کائناتی قوتوں کے سامنے ان کی قوت ہیچ ہے۔

النازعات 79:27

یہ ایسا استفہام ہے جس کا جواب ایک ہی ہے اور ناقابل انکار اور ناقابل بحث و مباحثہ ہے۔ ءانتم ................ السمائ (27:79) ” تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی “۔ یقینا آسمانوں کی تخلیق بہت بڑا اور مشکل کام ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں ہے۔ نہ بحث کی گنجائش ہے۔ لہٰذا تمہیں جو اللہ نے مختصر قوت دی ہے ، اس پر تمہیں اس قدر ناز کیوں ہے حالانکہ آسمان اور کائنات کی دوسری قوتیں تم سے قوی تر ہیں۔ یہ تو ہے اس سوال کا ایک پہلو ، لیکن اس کی ایک جہت اور بھی ہے ، وہ یہ کہ تم اپنے دوبارہ اٹھائے جانے کو ایک مشکل کام تصور کرتے ہو ، جبکہ آسمانوں کی تخلیق تمہاری تخلیق سے مشکل ہے ، حالانکہ حشر میں تمہاری تخلیق ابتدائی تخلیق نہ ہوگی بلکہ محض اعادہ اور جس ذات بابرکات نے آسمانوں اور جہانوں کی تخلیق کی ہے ، اس کے لئے تمہارا اعادہ زیادہ آسان ہے۔ آسمانوں کی تخلیق بلاریب ایک عظیم کام ہے۔ بنھا (27:79) ” اس نے اسے بنایا “۔ ہر عمارت قوت اور باہم سہارا لے کر قیام کی مظہرہوتی ہے۔ آسمانوں کا وسیع نظام بھی ایک عمارت کی طرح باہم بندھا ہوا ہے۔ اس کے ستارے اور سیارے ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں۔ کوئی چیز بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلتی۔ نہ اپنے مدار سے نکلتی ہے ، نہ گرتی ہے اور ٹکراتی ہے۔ گویا یہ بالائی کائنات ایک وسیع عمارت ہے ، جس کے تمام اعضاء باہم متماسک ہیں۔

النازعات 79:28

رفع ................ فسوھا (28:79) ” اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اس کا توازن قائم کیا “۔ سمک بلندی اور قدوقامت کو کہتے ہیں۔ آسمان بلند بھی ہے اور باہم جڑا ہوا بھی ہے اور اس کے اجزاء ایک دوسرے سے پیوست ہیں ۔ اسی کو فسوھا (28:79) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آسمانوں کے نظام پر ایک سرسری نظر ڈالنے اور ایک معمولی علم رکھنے والے کو بھی یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ آسمانوں کے نظام کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے۔ ان عظیم اجسام کو جو چیز باہم جوڑ کر رکھ رہی ہے اور ان کی حرکات واثرات کے درمیان جو چیزتنظیم پیدا کرتی ہے۔ اس کا اگر تفصیلی مطالعہ کیا جائے ، تو ان الفاظ کے معانی بہت گہرے اور وسیع ہوجاتے ہیں اور یہ نظام اس قدر محیرالعقول ہوجاتا ہے جس کے بارے میں انسان پہلے کچھ زیادہ نہ جانتے تھے۔ انسان ششدرہ رہ جاتا ہے اور مرعوب اور مبہوت ہوجاتا ہے اور سوائے اس کے کہ اس نظام کے پیچھے کام کرنے والی ایک عظیم قوت مدبرہ کو تسلیم کیا جائے۔ انسانوں کے لئے اس محیرالعقول عظیم اور وسیع و عریض نظام کی تشریح کے لئے کوئی اور راہ ہی نہیں ہے۔ بہرحال کسی نہ کسی مذہب اور دین کے مطابق الہہ العالمین کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

النازعات 79:29

واغطش ............ ضحھا (29:79) ” اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا “۔ اس انداز تعبیر میں لفظاً اور معنی شدت اور ترنم ہے۔ اور یہ انداز تعبیر اس سورت کی شدت اور قوت کے عین مطابق ہے۔ واغطش لیلھا (29:79) ” کے معنی ہیں رات کو سیاہ اور تاریک بنادیا۔ اور اخرج ضحھا (29:79) ” کے معنی ہیں ، دن کو روشن کیا۔ تاریکی اور روشنی کے لئے یہاں قرآن نے جو الفاظ چنے ہیں وہ سیاق کلام کے لئے بہت موزوں ہیں۔ روشنی اور تاریکی کا پے درپے آنا اور جانا ، رات کی تاریکی اور چاشت کی روشنی ہر شخص کا دیکھا ہوا منظر ہے۔ ہر دل اس سے متاثر ہوتا ہے۔ انسان بعض اوقات زیادہ مانوس ہونے کی وجہ سے گردش لیل ونہار سے وہ تاثر نہیں لیتا جو قرآن یہاں بیان کرتا ہے ، لیکن قرآن مجید کا یہ کمال ہے کہ وہ انسانی احساسات کو تیز کرتا ہے اور انسان بھولے بسرے نغمے گانے لگتا ہے اور یہ سب کچھ انسان کو بالکل جدید لگتا ہے۔ گویا ہر دن ایک نیا دن طلوع ہوتا ہے۔ کل وہ شعور اور وہ تاثر نہ تھا جو آج قرآن کو پڑھ کر انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ ان حقائق کے حوالے سے قرآن انسانی احساسات کو بیدار کرتا ہے اور جوں جوں کائنات کے ان مناظر اور حقائق کے بارے میں انسانی علم وسیع ہوتا ہے ، انسان کے تاثرات ، اس کی حیرانگی اور اس کی دہشت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

النازعات 79:30

والارض ........................ ارسھا (32:79) ” اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا ، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیئے “۔ دحوالارض کے معنی ہیں زمین کو تیار کرنا اور اس کے چھلکے کو بچھانا ہے۔ اس طرح کہ انسان اس کے اوپر چل بھی سکیں۔ اس کے اوپر جمع ہونے والی مٹی نباتات اگانے کے قابل ہو۔ اور اس کے اوپر پہاڑوں کا جمانا ، یہ سب امور اسی طرح انجام پائے کہ اللہ سطح زمین کو اس اس طرح سکون وقرار عطا کیا اور اس کے اوپر درجہ حرارت اس مقدار میں پیدا کیا کہ یہاں حیوانی اور نباتاتی زندگی ممکن ہوئی۔ اور اللہ نے زمین سے پانی نکالا ، چاہے اس سے مراد وہ پانی ہو جو چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا آسمانوں سے برستا ہے اور ندیوں کی صورت میں بہتا ہے۔ اور اللہ نے اس کے ذریعہ وہ تمام نباتات اگائے جس سے انسانی خوراک اور حیوانوں کی خوراک نکلی۔ بعض جانور براہ راست اس سے کھاتے ہیں اور بعض بالواسطہ۔ یہ سب انتظام اس وقت ہوا ، جب اللہ نے زمین و آسمان کا موجودہ نظام تعمیر کیا۔ رات اور دن کو پیدا کیا۔ زمین و آسمان کے بارے میں جدید نظریات اس آیت کے مفہوم کی مکمل تائید کرتے ہیں کہ زمین پر کئی سال گزرے اور اسی طرح گردش لیل ونہار کا نظام جاری رہا اور بعد میں وہ جاکر انسانی زندگی اور زراعت کے قابل بنی اور اس کا چھلکا سخت ہوا اور سکڑ کر پہاڑ نمودار ہوئے۔

النازعات 79:31

والارض ........................ ارسھا (32:79) ” اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا ، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیئے “۔ دحوالارض کے معنی ہیں زمین کو تیار کرنا اور اس کے چھلکے کو بچھانا ہے۔ اس طرح کہ انسان اس کے اوپر چل بھی سکیں۔ اس کے اوپر جمع ہونے والی مٹی نباتات اگانے کے قابل ہو۔ اور اس کے اوپر پہاڑوں کا جمانا ، یہ سب امور اسی طرح انجام پائے کہ اللہ سطح زمین کو اس اس طرح سکون وقرار عطا کیا اور اس کے اوپر درجہ حرارت اس مقدار میں پیدا کیا کہ یہاں حیوانی اور نباتاتی زندگی ممکن ہوئی۔ اور اللہ نے زمین سے پانی نکالا ، چاہے اس سے مراد وہ پانی ہو جو چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا آسمانوں سے برستا ہے اور ندیوں کی صورت میں بہتا ہے۔ اور اللہ نے اس کے ذریعہ وہ تمام نباتات اگائے جس سے انسانی خوراک اور حیوانوں کی خوراک نکلی۔ بعض جانور براہ راست اس سے کھاتے ہیں اور بعض بالواسطہ۔ یہ سب انتظام اس وقت ہوا ، جب اللہ نے زمین و آسمان کا موجودہ نظام تعمیر کیا۔ رات اور دن کو پیدا کیا۔ زمین و آسمان کے بارے میں جدید نظریات اس آیت کے مفہوم کی مکمل تائید کرتے ہیں کہ زمین پر کئی سال گزرے اور اسی طرح گردش لیل ونہار کا نظام جاری رہا اور بعد میں وہ جاکر انسانی زندگی اور زراعت کے قابل بنی اور اس کا چھلکا سخت ہوا اور سکڑ کر پہاڑ نمودار ہوئے۔

النازعات 79:32

والارض ........................ ارسھا (32:79) ” اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا ، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیئے “۔ دحوالارض کے معنی ہیں زمین کو تیار کرنا اور اس کے چھلکے کو بچھانا ہے۔ اس طرح کہ انسان اس کے اوپر چل بھی سکیں۔ اس کے اوپر جمع ہونے والی مٹی نباتات اگانے کے قابل ہو۔ اور اس کے اوپر پہاڑوں کا جمانا ، یہ سب امور اسی طرح انجام پائے کہ اللہ سطح زمین کو اس اس طرح سکون وقرار عطا کیا اور اس کے اوپر درجہ حرارت اس مقدار میں پیدا کیا کہ یہاں حیوانی اور نباتاتی زندگی ممکن ہوئی۔ اور اللہ نے زمین سے پانی نکالا ، چاہے اس سے مراد وہ پانی ہو جو چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا آسمانوں سے برستا ہے اور ندیوں کی صورت میں بہتا ہے۔ اور اللہ نے اس کے ذریعہ وہ تمام نباتات اگائے جس سے انسانی خوراک اور حیوانوں کی خوراک نکلی۔ بعض جانور براہ راست اس سے کھاتے ہیں اور بعض بالواسطہ۔ یہ سب انتظام اس وقت ہوا ، جب اللہ نے زمین و آسمان کا موجودہ نظام تعمیر کیا۔ رات اور دن کو پیدا کیا۔ زمین و آسمان کے بارے میں جدید نظریات اس آیت کے مفہوم کی مکمل تائید کرتے ہیں کہ زمین پر کئی سال گزرے اور اسی طرح گردش لیل ونہار کا نظام جاری رہا اور بعد میں وہ جاکر انسانی زندگی اور زراعت کے قابل بنی اور اس کا چھلکا سخت ہوا اور سکڑ کر پہاڑ نمودار ہوئے۔

النازعات 79:33

قرآن کریم اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ یہ سب نظام تمہاری خاطر کیا گیا۔ متاعا ................ لانعامکم (33:79) ” سامان زیست کے طور پر تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے “۔ اس سے دو باتوں کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ ایک یہ کہ اللہ نے اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے عظیم الشان تدابیر اختیار کی ہیں اور دوسرا یہ کہ اس نظام کے اندر ہر چیز ایک طے شدہ فارمولے کے مطابق نہایت صحیح اندازے سے بنائی گئی ہے۔ آسمانوں کو موجودہ شکل دینا ، زمین کو اس شکل و صورت میں تیار کرنا ، اور موجودہ نظام اتفاقاً پیدا نہیں ہوگیا۔ بلکہ پہلے سے مقدر اور مرتب تھا۔ اور اس کی ایک ایک چیز کو ایک حساب اور ایک اندازے سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی مقصد کو سامنے رکھ کر پیدا کیا گیا ہے کہ اس زمین پر حضرت انسان نے آکر بسنا ہے۔ اس کا وجود ، اس کی نشوونما ، اور اس کی ترقی کے لئے یہاں بیشمار سازگار حالات پیدا کیے گئے ہیں اور ان کو اس نظام کے بنیادی ڈھانچے اور نقشے کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ پورا نظام شمسی اس طرح بنایا گیا ہے اور اس زمین کے اندر تہ یہ امور علی الخصوص ملحوظ ہیں۔ قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ اصل حقائق کی طرف ایک مجمل اشارات کرتا ہے ، جن میں اصل بات اور حقیقت بھی آجاتی ہے اور ایک عام سے عام آدمی بھی قرآنی مفہوم کو پالیتا ہے۔ یہاں قرآن کریم نے جن سہولیات اور سازگار چیزوں کی طرف اشارہ کیا وہ آسمانوں کی تخلیق وتعمیر ، رات کا چھانا اور پرسکون ماحول ، دن کا ظہور ، اور دوڑ دھوپ ، زمین کا بچھانا اور سازگار بنانا ، پانی کا بہانا اور نباتات کا اگانا اور پہاڑوں کا جمانا اور انسانوں اور حیوانوں کے لئے سامان زیست فراہم کرنا ، ان اشارات سے ایک طرف تو اللہ کی تدبیر کی حکمت اور تخلیق کا حکیمانہ نظام نظر آتا ہے اور یہ حقائق وہ مظاہر ہیں جن کو ہر شخص دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ہر سطح اور ہر معاشرے کا انسان ان کو سمجھتا ہے۔ اور ان کے سمجھنے کے لئے کسی بڑے درجہ علم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ بس ایک انسان ہو ، جہاں بھی ہو ، جس زمانے میں ہو ، وہ ان اشارات کو سمجھتا ہے۔ لیکن اس عمومی سطح کے پس پشت اور گہرائی کے ساتھ اگر غور کیا جائے تو اس سطح کے نیچے عظیم حقائق ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ اس کائنات کی تخلیق کے منصوبے میں گہری منصوبہ بندی ہے ، اور اس کا نظام محض بخت واتفاق پر نہیں چل رہا ہے۔ اس کائنات کی حقیقت اس بات کی نفی کرتی ہے۔ کیونکہ محض اتفاقاً اس قدر حکیمانہ فارمولا بن جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ جو عجیب و غریب ہے اور جو نہایت حکیمانہ ہے۔ جس کہکشاں میں ہم رہتے ہیں جسے شمسی کہکشاں کہا جاتا ہے ، ہماری زمین اس کہکشاں کا ایک سیارہ ہے۔ اس کی تنظیم اور اس کا نظام گردش ایک عجیب نظام ہے جو اس جیسی کروڑوں کہکشانوں میں نہیں ہے۔ پھر یہزمین تو تمام سیاروں میں سے ایک منفرد انداز کا سیارہ ہے ، سورج سے اس کا فاصلہ ، اس کے فضائی حالات اور اس کی گردش ایسے ہیں کہ اسے انسانی زندگی کے اہل بناتے ہیں۔ آج تک انسان نے اس وسیع و عریض کائنات میں کوئی دوسرا سیارہ معلوم نہیں کیا جس میں ایسی ہی زندگی ہو ، اور جس کے اندر ہزاروں لاکھوں ایسے عوامل ہیں جو انسانی زندگی کے ممدود ومعاون ہوں۔ ” اس لئے کہ اسباب حیات ایک ایسے سیارے میں فراہم ہوتے ہیں جس کا حجم مناسب ہو ، جو سورج سے ایک مناسب دوری پر ہو۔ اور اس کے عناصر کی ترکیب ایسی ہو جس کے اندر زندہ حرکت میں آسکے “۔ ” سازگار حجم کا مناسب ہونا اس لئے ضروری ہے کیونکہ کسی سیارے کے اردگرد کی فضا کا دارومدار اس پر ہوتا ہے کہ اس سیارے کا حجم کتنا ہے اور اس میں جاذبیت کی قوت کس قدر ہے “۔ ” اور معتدل دوری اس لئے ضروری ہے کہ جو سیارے سورج کے زیادہ قریب ہیں۔ وہ اس قدر گرم ہوتے ہیں کہ ان میں اجسام کے اجزاء اپنی جگہ نہیں ٹھہر سکتے اور جو سیارے سورج سے بہت دور ہوتے ہیں وہ اس قدر سرد اور ٹھوس ہوتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی جسم پھل پھول نہیں سکتا “۔ ” پھر کسی سیارے کی ترکیب ایسے عناصر سے ہونا ضروری ہے جس کے اندر زندگی ممکن ہو اور پھل پھول سکے ، کیونکہ نباتات کے لئے اور حیوانات کے لئے وہ عناصر ضروری ہیں جو اس زمین میں رکھے گئے ہیں “۔ ” پھر زمین کو سورج سے اس قدر دور رکھا گیا ہے کہ اگر اس کا فاصلہ ذرا کم وبیش ہوجائے تو اس پر زندگی ممکن ہی نہ ہو۔ اور اس کی تفصیلات ہم اب اچھی طرح جانتے ہیں۔ آج تک ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس زمین کے علاوہ اور بھی کوئی سیارہ کسی سورج کے گرد ایسا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے افکار ، استاد عقاد ، ص 32) ۔ یہ حقائق کہ یہ کائنات ایک خاص نظم ، تدبیر اور منصوبے کے مطابق بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان کی ایک مخصوص حیثیت ہے۔ انسان کو اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے آمادہ کرتے ہیں کہ قیام قیامت ایک حقیقت ہے اور ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ انسان سے حساب و کتاب لیا جائے گا اور اس کے اعمال پر اسے جزاء وسزا دی جائے گی۔ اگر اس کائنات اور اس میں انسانی زندگی کی تخلیق ایک حکیمانہ انداز کے مطابق ہے تو پھر لازماً انسان اس نتیجے تک پہنچے گا کہ ایک دن اس زندگی کا خاتمہ ہوگا اور انسان اپنے اعمال کی جزاء وسزا سے دوچار ہوگا۔ یہ بات انتہائی غیر معقول ، اور غیر منصفانہ ہوگی اس زندگی کا خاتمہ ایسا ہی ہو کہ ظالم ، بدکار سزا پانے سے بچ جائیں اور مظلوم دنیا میں مشکلات جھیلنے کے بعد یونہی ختم کردیئے جائیں۔ اس قسم کے عقائد ونظریات اس حکمت ، اس منصوبہ بندی اور اس تدبیر کے خلاف ہیں جو اس کائنات کی تخلیق اور تعمیر میں عیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان حقائق کے بعد اب سورت کے مرکزی مضمون یعنی قیام قیامت کو لیا جاتا ہے یعنی وہ ہنگامہ عظیم جو برپا ہوگا اور پھر اس جہاں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس سے قبل ذہنوں کو اس عقیدے کے قبول کرنے کے لئے تیار کرلیا گیا تھا۔ ذہن قبولیت کے لئے تیار تھا۔ لہٰذا یہ ذکر نہایت ہی مناسب وقت میں ہوا۔

النازعات 79:34

دنیا کی یہ زندگی چند روزہ ہے اور اس کے لئے یہاں نہایت گہرائی اور حکمت سے نظام زندگی اور سامان حیات تیار کیا گیا ہے۔ اس کائنات کا نظام اور انسانی زندگی کے نظام کے درمیان گہراربط ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ چند روزہ متاع ہے اور ایک دن اسے ختم ہونا ہے۔ جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا تو اس زندگی کا نظام معطل ہوجائے گا۔ یہ چند روزہ زندگی ختم ہوگی۔ یہ عظیم کائنات ختم ہوگی۔ یہ بلندوبالا آسمان ، یہ بلند پہاڑ ، اور یہ وسیع و عریض زمین ، اور اس زمین کے اوپر برپا ہونے والی تمام کشمکش اور یہ سرگرمیاں سب کی سب ختم ہوجائیں گی کیونکہ یہ حادثہ بہت عظیم ہوگا اور بہت ہی عام ہوگا۔ یہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اب انسان کو یاد آئے گا کہ وہ کیا کچھ کرتا رہا ہے ، اب اسے اپنی تمام سرگرمیاں یاد آتی جائیں گی۔ زندگی کے واقعات یاد آتے جائیں گے۔ زندگی کی مصروفیات جنہوں نے انسان کو اس عظیم دن سے غافل کردیا تھا ، اب اسے سب کچھ یاد ہوگا ۔ لیکن اب اس کی یہ یادداشت اسے حسرت اور مایوسی کے سوا کچھ نے دے سکے گی۔ اب تو اس کے سامنے ایک دوسرا نقشہ ہوگا۔

النازعات 79:35

دنیا کی یہ زندگی چند روزہ ہے اور اس کے لئے یہاں نہایت گہرائی اور حکمت سے نظام زندگی اور سامان حیات تیار کیا گیا ہے۔ اس کائنات کا نظام اور انسانی زندگی کے نظام کے درمیان گہراربط ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ چند روزہ متاع ہے اور ایک دن اسے ختم ہونا ہے۔ جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا تو اس زندگی کا نظام معطل ہوجائے گا۔ یہ چند روزہ زندگی ختم ہوگی۔ یہ عظیم کائنات ختم ہوگی۔ یہ بلندوبالا آسمان ، یہ بلند پہاڑ ، اور یہ وسیع و عریض زمین ، اور اس زمین کے اوپر برپا ہونے والی تمام کشمکش اور یہ سرگرمیاں سب کی سب ختم ہوجائیں گی کیونکہ یہ حادثہ بہت عظیم ہوگا اور بہت ہی عام ہوگا۔ یہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اب انسان کو یاد آئے گا کہ وہ کیا کچھ کرتا رہا ہے ، اب اسے اپنی تمام سرگرمیاں یاد آتی جائیں گی۔ زندگی کے واقعات یاد آتے جائیں گے۔ زندگی کی مصروفیات جنہوں نے انسان کو اس عظیم دن سے غافل کردیا تھا ، اب اسے سب کچھ یاد ہوگا ۔ لیکن اب اس کی یہ یادداشت اسے حسرت اور مایوسی کے سوا کچھ نے دے سکے گی۔ اب تو اس کے سامنے ایک دوسرا نقشہ ہوگا۔

النازعات 79:36

وبرزت ................ یری (32:79) ” ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی “۔ اب یہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگی۔ ہر دیکھنے والا اسے دیکھ سکے گا۔ لفظ ” برزت “ میں لفظی تشدید اور معنوی تشدید دونوں ملحوظ ہیں ، اس لفظ کے ذریعہ ہر نظر کے سامنے منظر لایا گیا ہے اور پھر لفظ کا ترنم بھی۔ آج ہر کسی کا انجام مختلف ہوگا اور اللہ کا نظام کائنات اور نظام آزمائش اور پہلی زندگی کے مقاصد کھل کر سامنے آجائیں گے۔

النازعات 79:37

فاما ................................ الماوی (39:79) ” تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی ، دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی “۔ طغیان اور سرکشی کا مفہوم وسیع تر ہے ، یہ ہر اس شخص پر صادق آتا ہے جو حق اور ہدایت کی راہ سے متجاوز ہوتا ہے۔ اس کے حدود قوت اور جبر اور اقتدار اعلیٰ کے بل بوتے پر ظلم اور تجاوز کرنے والے سرکشوں سے زیادہ وسیع ہیں۔ ہر وہ شخص جو دنیا پرست ہے اور راہ ہدایت سے ادھر ادھر متجاوز ہوتا ہے۔ وہ باغی اور طاغی ہے جس کی بڑی صفت یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ آخرت کی جوابدہی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی فکر ہی انسان کے ضمیر اور اس کے عمل میں توازن پیدا کرتا ہے۔ اگر کوئی آخرت کو بھلا دے یا آخرت پر دنیا کو ترجیح دے تو اس کی قدروں اور پیمانوں کے درمیان خلل پڑجاتا ہے اور اس کے تمام پیمانے اور قدریں بدل جاتی ہیں۔ اس کا شعور اور طرز زندگی بدل جاتا ہے۔ چناچہ وہ باغی ، طاغی اور حدود سے تجاوز ہوکر ظلم کا ارتکاب کرتا ہے۔ چناچہ اس کا انجام یہ ہوتا ہے : ” دوزخ اس کا ٹھکانہ ہوتی ہے “۔ وہ دوزخ جو کھلی تھی اور حاضر تھی اور عظیم دن میں اس کو نمایاں کرکے رکھ دیا گیا تھا۔

النازعات 79:38

فاما ................................ الماوی (39:79) ” تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی ، دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی “۔ طغیان اور سرکشی کا مفہوم وسیع تر ہے ، یہ ہر اس شخص پر صادق آتا ہے جو حق اور ہدایت کی راہ سے متجاوز ہوتا ہے۔ اس کے حدود قوت اور جبر اور اقتدار اعلیٰ کے بل بوتے پر ظلم اور تجاوز کرنے والے سرکشوں سے زیادہ وسیع ہیں۔ ہر وہ شخص جو دنیا پرست ہے اور راہ ہدایت سے ادھر ادھر متجاوز ہوتا ہے۔ وہ باغی اور طاغی ہے جس کی بڑی صفت یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ آخرت کی جوابدہی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی فکر ہی انسان کے ضمیر اور اس کے عمل میں توازن پیدا کرتا ہے۔ اگر کوئی آخرت کو بھلا دے یا آخرت پر دنیا کو ترجیح دے تو اس کی قدروں اور پیمانوں کے درمیان خلل پڑجاتا ہے اور اس کے تمام پیمانے اور قدریں بدل جاتی ہیں۔ اس کا شعور اور طرز زندگی بدل جاتا ہے۔ چناچہ وہ باغی ، طاغی اور حدود سے تجاوز ہوکر ظلم کا ارتکاب کرتا ہے۔ چناچہ اس کا انجام یہ ہوتا ہے : ” دوزخ اس کا ٹھکانہ ہوتی ہے “۔ وہ دوزخ جو کھلی تھی اور حاضر تھی اور عظیم دن میں اس کو نمایاں کرکے رکھ دیا گیا تھا۔

النازعات 79:39

فاما ................................ الماوی (39:79) ” تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی ، دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی “۔ طغیان اور سرکشی کا مفہوم وسیع تر ہے ، یہ ہر اس شخص پر صادق آتا ہے جو حق اور ہدایت کی راہ سے متجاوز ہوتا ہے۔ اس کے حدود قوت اور جبر اور اقتدار اعلیٰ کے بل بوتے پر ظلم اور تجاوز کرنے والے سرکشوں سے زیادہ وسیع ہیں۔ ہر وہ شخص جو دنیا پرست ہے اور راہ ہدایت سے ادھر ادھر متجاوز ہوتا ہے۔ وہ باغی اور طاغی ہے جس کی بڑی صفت یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ آخرت کی جوابدہی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی فکر ہی انسان کے ضمیر اور اس کے عمل میں توازن پیدا کرتا ہے۔ اگر کوئی آخرت کو بھلا دے یا آخرت پر دنیا کو ترجیح دے تو اس کی قدروں اور پیمانوں کے درمیان خلل پڑجاتا ہے اور اس کے تمام پیمانے اور قدریں بدل جاتی ہیں۔ اس کا شعور اور طرز زندگی بدل جاتا ہے۔ چناچہ وہ باغی ، طاغی اور حدود سے تجاوز ہوکر ظلم کا ارتکاب کرتا ہے۔ چناچہ اس کا انجام یہ ہوتا ہے : ” دوزخ اس کا ٹھکانہ ہوتی ہے “۔ وہ دوزخ جو کھلی تھی اور حاضر تھی اور عظیم دن میں اس کو نمایاں کرکے رکھ دیا گیا تھا۔

النازعات 79:40

واما من .................... الماوی (41:79) ” اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے بازرکھا تھا ، جنت اس کا ٹھکانہ ہوگی۔ “ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے ، وہ کبھی بھی کسی معصیت کا ارتکاب نہیں کرتا۔ اگر کبھی بشری کمزوری سے اس سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو یہ خوف اسے ندامت اور استغفار پر مجبور کردیتا ہے اور وہ توبہ کرتا ہے اور اس طرح وہ اطاعت کے دائرے میں دوبارہ داخل ہوجاتا ہے۔ نفس کو خواہشات سے باز رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ انسان دائرہ اطاعت سے باہر نہ نکلے ، کیونکہ خواہشات نفسانیہ ہی انسانوں کو نافرمانی ، طغیانی اور سرکشی پر آمادہ کرتی ہیں۔ آزمائش اور شرکا راستہ ہی خواہشات نفسانیہ ہیں۔ شیطان انسان پر اسی راستہ سے حملہ آور ہوتا ہے۔ جہالت کا علاج بہت آسان ہے۔ لیکن جانتے بوجھتے خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرنا بہت بڑی مصیبت اور آزمائش ہوتی ہے۔ اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ خواہشات نفسانیہ کے دباﺅ کا مقابلہ صرف خشیت الٰہیہ سے کیا جاسکتا ہے۔ اللہ کے ڈر کے سوا کوئی ہتھیار اس دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ایک ہی آیت میں ان کو جمع کیا ہے۔ اور بات کون کررہا ہے ؟ وہ ذات جس نے نفس انسانی کو پیدا کیا ہے۔ بیماری بھی وہی بتاتا ہے اور علاج بھی۔ انسانی نفس کے نشیب و فراز سے اس کا خالق ہی باخبر ہے۔ اس ذات کو معلوم ہے کہ اس مخلوق میں کس جگہ کمزوریاں ہیں اور ان کا علاج کیا ہے ؟ ان خفیہ کمزوریوں کا تعاقب کس طرح کیا جاسکتا ہے اور اس کے کیا طریقے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس بات کا مکلف نہیں بنایا کہ اس کے نفس کے اندر خواہش ہی نہ ہو ، بلکہ اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ نفس کو روکے ، اس کو لگام دے ، اور خواہشات کو ذرا دبا کر رکھے۔ اور اس معاملے میں خدا خوفی سے استعانت حاصل کرکے کہ ایک دن اس نے رب جلیل کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اور اگر وہ نفس کی خواہشات پر کنٹرول کرے گا تو اس کا عوضانہ اسے جنت ملے گی اور یہ اس کا ٹھکانہ ہوگی۔

النازعات 79:41

فان ................ الماوی (41:79) ” جنت اس کا ٹھکانا ہوگی “۔ کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ نفس کے ساتھ جہاد ، جہاد اکبر ہے اور اس کی قیمت یہ ہے کہ یہ نفس سیدھا ہوکر بلند مقام و مرتبہ تک پہنچ جائے۔ انسان ، انسان تب ہوگا کہ وہ اس نہی پر عمل کرے۔ نفس کے خلاف جہاد کرے اور اس طرح گری ہوئی سطح سے اپنے آپ کو بلند کرے۔ انسان اس طرح انسان نہیں بن جاتا کہ وہ اپنے نفس کو خواہشات نفسانیہ کے حوالے کردے اور جہاں تک ممکن ہوسکے خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرے ، اور دلیل یہ دے کہ اللہ نے اس کی فطرت میں یہ خواہشات رکھ دی ہیں ، کیونکہ جس ذات نے نفس انسانی کے اندر خواہشات نفسانیہ کا وبال رکھا ہے ، اسی نے انسان کو یہ قوت بھی دی ہے کہ وہ را ہوار نفس کو لگام دے۔ اور حکم بھی دیا کہ نفس کی تمام خواہشات کی پیروی نہ کرو ، اس کے دائرہ جاذبیت اور دائرہ کشش سے اپنے آپ کو نکالو۔ اور اس کا صلہ بھی دینے کا اعلان کیا کہ تمہارا مستقل ٹھکانا جنت میں ہوگا ، اگر تم نفس کے خلاف جہاد کرکے فاتح ہوگئے اور بلندی اختیار کی تو جنت میں جاﺅ گے۔ ایک تو ہے انسانی آزادی جس کے ذریعہ اللہ نے اس انسان کو معزز بنایا ہے ، یہ ہے آزادی اس بات کی کہ انسان اپنے نفس پر فتح حاصل کرے۔ اور خواہشات نفس کی غلامی سے آزادی حاصل کرے۔ اور نفس کے ساتھایسا متوازن رویہ رکھے جو انسانی آزادی ، اختیار اور تقدیر کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ لیکن آج کل جس چیز کو انسانی آزادی کہا جاتا ہے وہ دراصل حیوانی آزادی ہے۔ اس میں ایک انسان اپنے نفس کی خواہشات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے ، غلام بن جاتا ہے۔ اور اس کی زمام اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے نفس کی خواہشات کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ایسی آزادیوں کی بات وہی لوگ کرتے ہیں جو شکست خوردہ ہوتے ہیں ، غلام ہوتے ہیں ، ہاں انہوں نے غلامی کے لباس پر آزادی کا عنوان درج کرلیا ہے اور جنوں کا نام خرد رکھ دیا ہے۔ پہلی آزادی سے متصف انسان ہی دراصل بلند ، ترقی یافتہ اور آزاد وبلند زندگی کا اہل ہوتا ہے ، جس کا مقام جنت الماویٰ میں ہے۔ دوسری آزادی سے متصف شخص دراصل گرا ہوا ہے ، خواہشات نفسانیہ کا غلام ہے اور ان کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہے۔ اور اس کا اصل مقام جہنم کی تہہ ہے جہاں انسانیت ختم ہوجاتی ہے اور یہ شخص درختوں اور پتھروں کی طرح جہنم کا ایندھن ہوگا۔ یہ پتھر ہے ، انسان نہیں ہے۔ اس دین میں گراؤٹ اور پسماندگی اور بلند ہونے اور ترقی یافتہ ہونے کا یہ معیار ہے جہاں چیزوں اور افعال کو حقیقی وزن دیا جاتا ہے۔

النازعات 79:42

اب اس سورت میں عقل وخرد کی تاروں پر ایک شدید چوٹ لگائی جاتی ہے جس سے ایک طویل نغمہ بلند ہوتا ہے۔ یسئلونک ................................ اوضحھا ہٹ دھرمی میں ڈوبے ہوئے مشرکین جب حضور اکرم ﷺ کی زبانی روز قیامت کی یہ ہولناکیاں سنتے اور قرآن میں قیامت کے برپا ہونے کے عظیم واقعات اور افراتفری اور ہنگامہ عظیم کی بات سنتے کہ وہ اں حساب و کتاب ہوگا اور جزاء وسزا ہوگی تو وہ فوراً سوال کردیتے۔ ایان مرسھا (42:79) ” آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی ؟ “۔ یہ تو تھا ان کا سوال۔

النازعات 79:43

جواب یہ ہے۔ فیم انت من ذکرھا (43:79) ” تمہارا کیا کام ہے کہ اس کا وقت بتاﺅ“۔ یہ ایسا جواب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑی عظیم بات ہوگی اور ایک عظیم حادثہ ہوگا اور ان لوگوں کا اس طرح سوال کرنا حماقت اور گھٹیا پن ہے۔ یہ بچگانہ سوال ہے اور اپنے حدود اور مقام سے آگے کی بات ہے۔ تو ان کو جواب دینے کے بجائے رسول اللہ کو جواب دیا جاتا ہے کہ ” تمہارا کیا کام کہ تم اس کا وقت بتاﺅ“۔ یہ تو اس سے بڑی چیز ہے کہ تم اس کے بارے میں پوچھو یا تم سے پوچھا جائے۔ اس کا وقت بتانا یا اس کا برپا کرنا میرے رب کا کام ہے ، میرا کام نہیں ہے۔

النازعات 79:44

الی ربک منتھھا (44:79) ” اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے “۔ اس کا معاملہ اللہ پر آکر رک جاتا ہے اسی کو اس کے برپا ہونے کے وقت کا علم ہے۔ اور وہی اس کا مجاز ہے۔

النازعات 79:45

انما ................ یخشھا (45:79) ” تم صرف خبردار کرنے والے ہو۔ ہر اس شخص کو جو اس کا خوف کرے “۔ تمہارا فریضہ بس یہی ہے۔ تمہارے حدود بھی یہاں تک ہیں کہ جو شخص قیامت سے ڈرتا ہے اس کو ڈرائیں ۔ یعنی ایسے لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن ہم نے خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یہ دن ضرور آتا ہے اور اس کے وقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ ہاں وقت بتانے کے بجائے اس کی ہولناکیوں اور ہنگامہ خیزیاں بتادی جاتی ہیں۔ اور جب وہ برپا ہوگی تو اس وقت انسان کا شعور کیا ہوگا اور احساسات کیسے ہوں گے۔ اس کی عظمت کا اندازہ اسی سے لگا لو کہ اس وقت تم اس پوری دنیاوی زندگی کے بارے میں ان تاثرات کا اظہار کرو گے۔

النازعات 79:46

کانھم .................... ضحھا (46:79) ” جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (دنیا میں یا حالت موت میں) یہ بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں “۔ اس کے بارے میں تمہارے تاثرات یوں ہوں گے کہ اس کی عظمت کو دیکھ کر تم پوری دنیا کو اور اپنی پوری عمروں کو اور اپنے سازوسامان کو یوں سمجھو گے کہ شاید صبح وشام کا ایک مختصر وقت تھا جو ہم نے دنیا میں بسر کیا۔ یہ دنیا جس کے لئے لوگ باہم لڑتے اور جھگڑتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ انہوں نے ہمہ گیر کشمکش برپا کی ہے۔ اس دنیا کے لوگ مرتے ہیں اور آخرت کی لازوال اور بےپناہ انعامات کو اس کی خاطر ترک کرتے ہیں اور اس مختصر مدت کے لئے عظیم جرائم اور مظالم کا ارتکاب کرتے ہیں ، نافرمانی کرتے ہیں ، سرکشیاں کرتے ہیں ، اور رات اور دن اس کی طلب میں غرق ہیں۔ یہ دنیا ان دنیاداروں کی نظروں میں اس قدر سمٹ اور سکڑ جائے گی کہ وہ کہیں گے کہ ہم تو صرف اتنا عرصہ رہے ہیں جس طرح صبح کے وقت کا ایک مختصر حصہ یا شام کا ایک حصہ۔ یہ ہے دنیا ، مختصر ، جلدی سے فنا ہونے والی ، حقیر وناپائیدار ، کم قیمت اور گھٹیا۔ کیا لوگ اس دنیا کے ایک مختصر وقت کے لئے جس کے بارے میں خود ان کا تاثر یہ ہگا کہ یہ ایک پورے دن کے برابر بھی نہیں ہے۔ بلکہ صبح وشام کے ایک پہر کے برابر ہے۔ ابدی زندگی اور اس کی نعمتوں کو ترک کررہے ہیں حالانکہ اس دنیا کی خواہشات بھی زائل ہونے والی خواہشات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک عظیم حماقت میں مبتلا ہے۔ کوئی ذی عقل اور چشم بینارکھنے والا انسان تو یہ فعل نہیں کرسکتا۔

عبس 80:1

یہ ہدایات جو اس متعین واقعہ کے حوالے سے دی گئی ہیں بہت ہی اہم ہدایات ہیں ، بادی النظر میں انسان ان کو پڑھ کر جو کچھ سمجھتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ یہ ایک معجزہ ہے ، یہ ایک حقیقت ہے جسے اس کرہ ارض پر ایک زندہ اور عملی حقیقت بنایا گیا ہے۔ یہ ایک عظیم معجزہ ہے۔ انسانی زندگی کو اس معجزے نے یکسر بدل دیا۔ اور یہ اسلام کا پہلا اور نمایاں معجزہ تھا۔ یہ ہدایات اگرچہ بظاہر ایک معمولی انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے آئی ہیں لیکن اس سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ قرآن کریم کا ایک ربانی انداز ہے کہ وہ ایک لامحدود اور نہایت ہی گہری اور تمام حقیقت ایک محدود اور ظاہری واقعہ کے ضمن میں بیان کردیتا ہے۔ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو جو حقیقت یہاں ان ہدایات میں ذہن نشین کرائی جارہی ہے اور اس کے نتیجے میں اسلامی معاشرے کے اندر جو عملی نتائج پیدا ہورہے ہیں وہ تو عین اسلام ہے۔ یہی اسلام ہے جو ہر آسمانی رسالت نے پیدا کیا ، اور اس کا پودا زمین کے اندر لگایا۔ یہ گہری حقیقت جو ان ہدایات کے ضمن میں بیان کی گئی ہے۔ محض یہ نہیں ہے کہ معاشرے کے افراد کے ساتھ برتاﺅ کس طرح ہو ، غرباء کے ساتھ کیا ہو اور امراء کے ساتھ کس طرح ہو ، جیسا کہ بظاہر اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت اس سے ذرا گہری ہے ، بہت بڑی ہے۔ وہ یہ ہے کہ معاملات کے وزن اور قدر کا اسلامی پیمانہ کیا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی قدریں اور پیمانے کہاں سے لینے ہیں۔ ان ہدایات کے ذریعہ جس حقیقت کو استقلال بخشا گیا ہے کہ لوگوں کو اپنی اقدار صرف آسمانی حوالوں سے اخذ کرنی ہیں۔ ان کے پیمانے آسمان سے متعین ہوکر آئیں ، زمین اور اہل زمین کے ہاں کیا کچھ رائج ہے۔ یہ اسلامی نظروں میں کچھ نہیں ہے ، اہل دنیا کی اقدار کیا ہیں۔ یہ اسلامی نگاہ میں غیر متعلق بات ہے۔ اب معلوم ہوگا کہ یہ تو ایک عظیم معاملہ ہے اور اس کرہ ارض پر اس معیار کو قائم کرنا مشکل کام ہے۔ زمین کے اوپر زمین کے لوگ وہ قدریں اور پیمانے آسمان سے اخذ کریں جن کے اوپر زمین اور اہل زمین کی کوئی چھاپ نہ ہو ، اور زمین کے رواج اور حوالوں سے وہ خالی ہوں یہ فی الحقیقت ایک عظیم امر ہے۔ ان ہدایات کی عظمت اور ان کی عملی مشکلات کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ہم انسان کی پیچیدہ عملی زندگی کا گہرا مطالعہ کریں اور یہ اندازہ کریں کہ انسانی نفس ، انسانی شعور پر ان کا دباﺅ کیا ہوتا ہے۔ انسان کے لئے واقعی حالات ، زندگی کے دباﺅ اور پریشر ، لوگوں کے خاندانی اور معاشی روابط کے بندھنوں سے نکلنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ انسان کی موروثی قدریں ، تاریخی روایات اور تمام دوسری قدریں جو اسے زمین کے ساتھ مضبوطی سے باندھ رہی ہوتی ہیں اور جن کا دباﺅ نفس انسانی پر بہت سخت ہوتا ہے۔ اور یہ معاملہ اس وقت بھی عظیم اور مشکل نظر آتا ہے ، جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ اس مسئلے پر سرور کونین کو بھی اللہ کی طرف سے ہدایات کی ضرورت پیش آئی بلکہ یہ ہدایات سخت عتاب کی شکل میں دی گئیں اور آپ کے طرز عمل پر بارگاہ رب العزت کی طرف سے تعجب کا اظہار کیا گیا۔ کسی معاملے کی عظمت اور اس کے مشکل الحصول ہونے کے لئے صرف یہ کہنا ہی کافی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو بھی اس کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت پیش آئی اور آپ کو ہدایت دی گئی اور تنبیہہ کی گئی کہ آپ کو یہ اعلیٰ معیار قائم کرنا ہے۔ یہ اس لئے کہ آپ کی عظمت ، آپ کی بلندی اور رفعت اس بات کی دلیل ہے کہ اگر آپ کو بھی اس معاملے کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے تو یہ معاملہ فی الواقع بہت عظیم اور یہ معیار مشکل الحصول ہے۔ یہ ہے اس معاملے کی اہمیت اور حقیقت ، جسے اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر ایک واقعہ اور حقیقت نفس الامری کے طور پر اس انفرادی واقعہ کی صورت میں ، ایک مثال ، معیار اور ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا تاکہ لوگ اس میزان اور معیار کے مطابق اپنا طرز عمل درست کریں۔ اور نبی ﷺ کے اسوہ ، نمونہ اور عملی زندگی سے اپنے لئے میزان اور معیار اخذ کریں۔ یوں یہ واقعہ اور یہ ہدف ایک عظیم ہدف بن جاتا ہے۔ قرآن وسنت دراصل وہ پیمانہ ہے جسے اللہ نے رسولوں کو عطا کیا ، ان پر نازل کیا تاکہ لوگ ان کے مطابق اپنے اعمال اور طرز عمل کو درست کریں ، اس سلسلے میں یہ میزان کیا ہے ؟ یہ ہے۔ ان اکرمکم ................ اتقکم ” تم میں سے معزز اللہ کے نزدیک ، وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے “۔ بس یہی وہ وزن ہے جس کے مطابق کسی کا پلڑا بھاری ہوگا اور کسی کا ہلکا ہوگا۔ اور یہ خالص آسمانی قدروقیمت ہے۔ آسمانی پیمانہ ہے اور اس کا زمین کے حالات وروایات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن لوگ تو اس زمین پر رہتے ہیں اور یہاں ان کے درمیان قسم قسم کے روابط ہیں۔ ہر رباطے کا ایک وزن ، ایک دباﺅ اور ایک کشش ہے۔ ان کی اقدار مختلف ہوتی ہیں۔ نسب ، قوت ، مال اور ان تینوں کی بنیاد پر قائم ہونے والے روابط ومفادات ، اقتصادی اور غیر اقتصادی روابط جن میں بعض لوگوں کے حالات دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ نسب ، مال اور قوت کے لحاظ سے اس زمین پر بعض لوگوں کا وزن زیادہ اور بعض کا کم ہوتا ہے۔ جب اسلام آتا ہے ، تو اس کا اعلان یہ ہوتا ہے۔ ان اکرمکم ........................ اتقکم ” تم میں سے معزز اللہ کے نزدیک ، وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے “۔ تو وہ ان تمام روابط ، اقدار اور تعلقات سے صرف نظر کرلیتا ہے۔ حالانکہ ان چیزوں کا ان کی عقلیت اور شعور پر دباﺅ ہوتا ہے۔ ان میں جاذبیت ہوتی ہے۔ انسانوں کے فہم و شعور میں اس کی گہری جڑیں ہوتی ہیں۔ اسلام ان تمام چیزوں کو بدل کر انسانوں کو آسمانی قدریں دیتا ہے اور یہ آسمانی قدریں اور پیمانے صرف ایک معیار کو تسلیم کرتے ہیں کہ جو متقی ہے وہ مکرم ہے اور بس۔ ایک واقعہ ، جزئی اور متعین واقعہ پیش آتا ہے اور اس کے ضمن میں یہ اصول اور یہ بنیادی قدر متعین ہوجاتی ہے کہ یہ آسمان سے نازل شدہ پیمانہ اور یہ قدر و قیمت آسمانوں سے مقرر ہوئی ہے۔ امت مسلمہ کا فریضہ یہ ہے کہ لوگ ہر اس چیز کو ترک کردیں جو لوگوں کے ہاں عرف اور متعارف ہو ، جو زمینی تصورات ، زمینی اقدار اور عرف پر مبنی ہو ، اور صرف ان قدروں اور پیمانوں کو اپنائیں جو آسمان سے نازل ہوں۔ ایک فقیر اور اندھا آتا ہے۔ نام عبداللہ ابن ام مکتوم ہے۔ یہ رسول اللہ کے ہاں آتا ہے تو آپ قریش کے سرداروں سے محوگفتگو ہیں۔ ان کو دعوت دین ہی دی جارہی ہے۔ عتبہ ، شیبہ ، یہ دونوں سردار ربیعہ کے مشہور بیٹے ہیں۔ ابوجہل (عمر ابن ہشام) امیہ ابن خلف ، ولید ابن مغیرہ اور عباس ابن عبدالمطلب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ حضور کو یہ امید ہے کہ ان لوگوں کا اسلام اس وقت تحریک کی مشہلات میں کمی کردے گا۔ کارکنوں پر مظالم ہورہے تھے اور یہ چند افراد اپنے مالی ، جانی اور سیاسی حیثیت کے تمام وسائل کو اسلام کی راہ روکنے کے کام میں جھونک رہے تھے۔ اور لوگوں کو اسلام کی راہ سے روک رہے تھے۔ اور وہ اسلام کے خلاف ہر سازش کررہے تھے کہ اسے مکہ کے اندر ہی منجمد کرکے رکھ دیں جبکہ دوسری اقوام مکہ سے باہر غیر جانب دار کھڑی تھیں اور باہر کی اقوام اس دعوت کو اس لئے قبول نہیں کررہی تھی کہ خود اہل مکہ اس کی راہ روکنے کے لئے کھڑے تھے۔ سخت مخالفت کررہے تھے ، اور اس وقت کے قبائل نظام میں اگر کوئی قبیلہ بھی کسی سردار کی بات کو مان کر نہیں دیتا تو اس کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ یہ فقیر اندھا شخص حضور ﷺ کے پاس آتا ہے اور حضور اکرم ﷺ ان اکابر قریش کے ساتھ مصروف ہیں۔ اپنے کسی ذاتی معاملے میں نہیں ، کسی ذاتی مفاد میں نہیں بلکہ دعوت اسلام کے کام اور مفاد میں مصروف گفتگو ہیں۔ اگر یہ لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو مکہ میں دعوت اسلامی کے راستے سے تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور اس کی راہ سے تمام نوکدار کانٹے چنے جاتے ہیں اور اسلام مکہ کے اردگرد کے علاقوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ کیونکہ ان اکابر کے اسلام لانے کے بعداسلام تیزی سے پھیل جاتا۔ یہ صاحب حضور اکرم ﷺ کے پاس اس حال میں آتے ہیں اور کہتے ہیں حضور مجھے اس علم میں سے کچھ پڑھائیے جو اللہ نے آپ کو دیا ہے۔ وہ بار بار اس بات کی تکرار کرتے ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ حضور مصروف ہیں تو حضور اکرم ﷺ ان کے ان فعل اور ان کی اس بات کو پسند نہیں کرتے اور آپ کے چہرے پر کراہت کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور یہ شخص ان آثار کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ آپ ترش روئی اختیار کرتے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں کیونکہ یہ شخص آپ کو ایک نہایت اہم معاملے سے روک رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس لئے اہم ہے کہ اگر یہ کام ہوجاتا تو دعوت اسلامی کو بہت فائدہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ کام آپ دین اسلام کے فائدے اور مدد کے لئے کررہے ہیں ، خالص دینی فائدے کے لئے۔ اسلام کی مصلحت کی خاطر اور اسلام کے پھیلانے کی چاہت کے جذبے سے۔ لیکن آسمانوں سے مداخلت ہوتی ہے۔ سا لئے مداخلت ہوتی ہے کہ اس موضوع پر فیصلہ کن بات کردی جائے تاکہ دعوت اسلامی کے طریق کار میں کچھ نشانات راہ رکھ دیئے جائیں اور وہ ترازو قائم کردیا جائے جس سر اسلامی نقطہ نظر سے اقدار کو تولا جائے گا۔ اور اس کے مقابلے میں تمام حالات اور تمام مقاصد ترک کردیئے جائیں گے یہاں تک کہ خود اللہ کے دین کی مصلحت کو بھی نظرانداز کردیا جائے گا۔ اگر چہ انسان اس معیار کے خلاف کسی چیز کو دعوت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہوں۔ بلکہ اگرچہ سید البشر ﷺ کسی ایسی چیز کو دعوت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہوں۔ چناچہ عالم بالا سے نبی کریم ﷺ کے لئے عتاب آتا ہے اور نبی کریم تو خلق عظیم کے مالک ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں لیکن یہ عتاب نہایت ہی شدید اسلوب میں آتا ہے۔ پورے قرآن میں اس قسم کے سخت عتاب کی یہ واحد مثال ہے جس میں لفظ کلا استعمال ہوا ہے جو سختی سے تردید کے لئے آتا ہے اور جھڑکی کے موقعہ پر استعمال ہوتا ہے اور یہ اس لئے کہ یہ میزان وہ ہے جس کے اوپر پورا دین قائم ہے۔ جس اسلوب اور انداز میں یہ عتاب فرمایا گیا ہے وہ ایک منفرد انداز ہے۔ انسانی اسلیب اس کی نقل یا ترجمانی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انسانی تحریر کی زبان کی کچھ حدود ہیں اور کچھ طریقے ہیں۔ انسانی اسلوب تحریر میں ایسے گرم اور سخت اشارات نہیں سموئے جاسکتے جو زندہ وتابندہ ہوں۔ یہ قرآن کریم کا اعجازی انداز گفتگو ہے جو اس قسم کے اشارے چند مختصر الفاظ میں کردے اور عتاب کی ایک جھلک سی دکھادے۔ ایسے انداز میں کہ گویا وہ نہایت ہی تیز تاثرات ہیں ، زندہ صورت میں ہیں ، مخصوص اثر اور انداز رکھتے ہیں۔ عبس .................... الاعمی (2:80) ” ترش رو ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا “۔ یہ گفتگو اس انداز کی ہے کہ گویا ایک غیر موجود اور غائب شخص کے بارے میں بات ہورہی ہے اور وہ مخاطب نہیں ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے ، بات اللہ کے نزدیک بڑی ناپسندیدہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے مناسب نہ سمجھا کہ اس کا تذکرہ اپنے نبی اور محبوب کو براہ راست خطاب کرکے کرے۔ یہ اس لئے کہ آپ اللہ کو بہت محبوب ہیں اور اللہ آپ کا اکرام فرماتا ہے اور براہ راست خطاب نہیں فرمارہا کہ تم نے ایسا کیا۔ کیونکہ بات بڑی ناپسندیدہ ہے۔ اس کے بعد بات کا انداز بدلتا ہے۔ اصل بات کا تذکرہ کیے بغیر آپ سے خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ اور خطاب بات کو یوں شروع کیا جاتا ہے۔

عبس 80:2

یہ ہدایات جو اس متعین واقعہ کے حوالے سے دی گئی ہیں بہت ہی اہم ہدایات ہیں ، بادی النظر میں انسان ان کو پڑھ کر جو کچھ سمجھتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ یہ ایک معجزہ ہے ، یہ ایک حقیقت ہے جسے اس کرہ ارض پر ایک زندہ اور عملی حقیقت بنایا گیا ہے۔ یہ ایک عظیم معجزہ ہے۔ انسانی زندگی کو اس معجزے نے یکسر بدل دیا۔ اور یہ اسلام کا پہلا اور نمایاں معجزہ تھا۔ یہ ہدایات اگرچہ بظاہر ایک معمولی انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے آئی ہیں لیکن اس سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ قرآن کریم کا ایک ربانی انداز ہے کہ وہ ایک لامحدود اور نہایت ہی گہری اور تمام حقیقت ایک محدود اور ظاہری واقعہ کے ضمن میں بیان کردیتا ہے۔ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو جو حقیقت یہاں ان ہدایات میں ذہن نشین کرائی جارہی ہے اور اس کے نتیجے میں اسلامی معاشرے کے اندر جو عملی نتائج پیدا ہورہے ہیں وہ تو عین اسلام ہے۔ یہی اسلام ہے جو ہر آسمانی رسالت نے پیدا کیا ، اور اس کا پودا زمین کے اندر لگایا۔ یہ گہری حقیقت جو ان ہدایات کے ضمن میں بیان کی گئی ہے۔ محض یہ نہیں ہے کہ معاشرے کے افراد کے ساتھ برتاﺅ کس طرح ہو ، غرباء کے ساتھ کیا ہو اور امراء کے ساتھ کس طرح ہو ، جیسا کہ بظاہر اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت اس سے ذرا گہری ہے ، بہت بڑی ہے۔ وہ یہ ہے کہ معاملات کے وزن اور قدر کا اسلامی پیمانہ کیا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی قدریں اور پیمانے کہاں سے لینے ہیں۔ ان ہدایات کے ذریعہ جس حقیقت کو استقلال بخشا گیا ہے کہ لوگوں کو اپنی اقدار صرف آسمانی حوالوں سے اخذ کرنی ہیں۔ ان کے پیمانے آسمان سے متعین ہوکر آئیں ، زمین اور اہل زمین کے ہاں کیا کچھ رائج ہے۔ یہ اسلامی نظروں میں کچھ نہیں ہے ، اہل دنیا کی اقدار کیا ہیں۔ یہ اسلامی نگاہ میں غیر متعلق بات ہے۔ اب معلوم ہوگا کہ یہ تو ایک عظیم معاملہ ہے اور اس کرہ ارض پر اس معیار کو قائم کرنا مشکل کام ہے۔ زمین کے اوپر زمین کے لوگ وہ قدریں اور پیمانے آسمان سے اخذ کریں جن کے اوپر زمین اور اہل زمین کی کوئی چھاپ نہ ہو ، اور زمین کے رواج اور حوالوں سے وہ خالی ہوں یہ فی الحقیقت ایک عظیم امر ہے۔ ان ہدایات کی عظمت اور ان کی عملی مشکلات کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ہم انسان کی پیچیدہ عملی زندگی کا گہرا مطالعہ کریں اور یہ اندازہ کریں کہ انسانی نفس ، انسانی شعور پر ان کا دباﺅ کیا ہوتا ہے۔ انسان کے لئے واقعی حالات ، زندگی کے دباﺅ اور پریشر ، لوگوں کے خاندانی اور معاشی روابط کے بندھنوں سے نکلنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ انسان کی موروثی قدریں ، تاریخی روایات اور تمام دوسری قدریں جو اسے زمین کے ساتھ مضبوطی سے باندھ رہی ہوتی ہیں اور جن کا دباﺅ نفس انسانی پر بہت سخت ہوتا ہے۔ اور یہ معاملہ اس وقت بھی عظیم اور مشکل نظر آتا ہے ، جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ اس مسئلے پر سرور کونین کو بھی اللہ کی طرف سے ہدایات کی ضرورت پیش آئی بلکہ یہ ہدایات سخت عتاب کی شکل میں دی گئیں اور آپ کے طرز عمل پر بارگاہ رب العزت کی طرف سے تعجب کا اظہار کیا گیا۔ کسی معاملے کی عظمت اور اس کے مشکل الحصول ہونے کے لئے صرف یہ کہنا ہی کافی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو بھی اس کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت پیش آئی اور آپ کو ہدایت دی گئی اور تنبیہہ کی گئی کہ آپ کو یہ اعلیٰ معیار قائم کرنا ہے۔ یہ اس لئے کہ آپ کی عظمت ، آپ کی بلندی اور رفعت اس بات کی دلیل ہے کہ اگر آپ کو بھی اس معاملے کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے تو یہ معاملہ فی الواقع بہت عظیم اور یہ معیار مشکل الحصول ہے۔ یہ ہے اس معاملے کی اہمیت اور حقیقت ، جسے اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر ایک واقعہ اور حقیقت نفس الامری کے طور پر اس انفرادی واقعہ کی صورت میں ، ایک مثال ، معیار اور ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا تاکہ لوگ اس میزان اور معیار کے مطابق اپنا طرز عمل درست کریں۔ اور نبی ﷺ کے اسوہ ، نمونہ اور عملی زندگی سے اپنے لئے میزان اور معیار اخذ کریں۔ یوں یہ واقعہ اور یہ ہدف ایک عظیم ہدف بن جاتا ہے۔ قرآن وسنت دراصل وہ پیمانہ ہے جسے اللہ نے رسولوں کو عطا کیا ، ان پر نازل کیا تاکہ لوگ ان کے مطابق اپنے اعمال اور طرز عمل کو درست کریں ، اس سلسلے میں یہ میزان کیا ہے ؟ یہ ہے۔ ان اکرمکم ................ اتقکم ” تم میں سے معزز اللہ کے نزدیک ، وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے “۔ بس یہی وہ وزن ہے جس کے مطابق کسی کا پلڑا بھاری ہوگا اور کسی کا ہلکا ہوگا۔ اور یہ خالص آسمانی قدروقیمت ہے۔ آسمانی پیمانہ ہے اور اس کا زمین کے حالات وروایات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن لوگ تو اس زمین پر رہتے ہیں اور یہاں ان کے درمیان قسم قسم کے روابط ہیں۔ ہر رباطے کا ایک وزن ، ایک دباﺅ اور ایک کشش ہے۔ ان کی اقدار مختلف ہوتی ہیں۔ نسب ، قوت ، مال اور ان تینوں کی بنیاد پر قائم ہونے والے روابط ومفادات ، اقتصادی اور غیر اقتصادی روابط جن میں بعض لوگوں کے حالات دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ نسب ، مال اور قوت کے لحاظ سے اس زمین پر بعض لوگوں کا وزن زیادہ اور بعض کا کم ہوتا ہے۔ جب اسلام آتا ہے ، تو اس کا اعلان یہ ہوتا ہے۔ ان اکرمکم ........................ اتقکم ” تم میں سے معزز اللہ کے نزدیک ، وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے “۔ تو وہ ان تمام روابط ، اقدار اور تعلقات سے صرف نظر کرلیتا ہے۔ حالانکہ ان چیزوں کا ان کی عقلیت اور شعور پر دباﺅ ہوتا ہے۔ ان میں جاذبیت ہوتی ہے۔ انسانوں کے فہم و شعور میں اس کی گہری جڑیں ہوتی ہیں۔ اسلام ان تمام چیزوں کو بدل کر انسانوں کو آسمانی قدریں دیتا ہے اور یہ آسمانی قدریں اور پیمانے صرف ایک معیار کو تسلیم کرتے ہیں کہ جو متقی ہے وہ مکرم ہے اور بس۔ ایک واقعہ ، جزئی اور متعین واقعہ پیش آتا ہے اور اس کے ضمن میں یہ اصول اور یہ بنیادی قدر متعین ہوجاتی ہے کہ یہ آسمان سے نازل شدہ پیمانہ اور یہ قدر و قیمت آسمانوں سے مقرر ہوئی ہے۔ امت مسلمہ کا فریضہ یہ ہے کہ لوگ ہر اس چیز کو ترک کردیں جو لوگوں کے ہاں عرف اور متعارف ہو ، جو زمینی تصورات ، زمینی اقدار اور عرف پر مبنی ہو ، اور صرف ان قدروں اور پیمانوں کو اپنائیں جو آسمان سے نازل ہوں۔ ایک فقیر اور اندھا آتا ہے۔ نام عبداللہ ابن ام مکتوم ہے۔ یہ رسول اللہ کے ہاں آتا ہے تو آپ قریش کے سرداروں سے محوگفتگو ہیں۔ ان کو دعوت دین ہی دی جارہی ہے۔ عتبہ ، شیبہ ، یہ دونوں سردار ربیعہ کے مشہور بیٹے ہیں۔ ابوجہل (عمر ابن ہشام) امیہ ابن خلف ، ولید ابن مغیرہ اور عباس ابن عبدالمطلب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ حضور کو یہ امید ہے کہ ان لوگوں کا اسلام اس وقت تحریک کی مشہلات میں کمی کردے گا۔ کارکنوں پر مظالم ہورہے تھے اور یہ چند افراد اپنے مالی ، جانی اور سیاسی حیثیت کے تمام وسائل کو اسلام کی راہ روکنے کے کام میں جھونک رہے تھے۔ اور لوگوں کو اسلام کی راہ سے روک رہے تھے۔ اور وہ اسلام کے خلاف ہر سازش کررہے تھے کہ اسے مکہ کے اندر ہی منجمد کرکے رکھ دیں جبکہ دوسری اقوام مکہ سے باہر غیر جانب دار کھڑی تھیں اور باہر کی اقوام اس دعوت کو اس لئے قبول نہیں کررہی تھی کہ خود اہل مکہ اس کی راہ روکنے کے لئے کھڑے تھے۔ سخت مخالفت کررہے تھے ، اور اس وقت کے قبائل نظام میں اگر کوئی قبیلہ بھی کسی سردار کی بات کو مان کر نہیں دیتا تو اس کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ یہ فقیر اندھا شخص حضور ﷺ کے پاس آتا ہے اور حضور اکرم ﷺ ان اکابر قریش کے ساتھ مصروف ہیں۔ اپنے کسی ذاتی معاملے میں نہیں ، کسی ذاتی مفاد میں نہیں بلکہ دعوت اسلام کے کام اور مفاد میں مصروف گفتگو ہیں۔ اگر یہ لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو مکہ میں دعوت اسلامی کے راستے سے تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور اس کی راہ سے تمام نوکدار کانٹے چنے جاتے ہیں اور اسلام مکہ کے اردگرد کے علاقوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ کیونکہ ان اکابر کے اسلام لانے کے بعداسلام تیزی سے پھیل جاتا۔ یہ صاحب حضور اکرم ﷺ کے پاس اس حال میں آتے ہیں اور کہتے ہیں حضور مجھے اس علم میں سے کچھ پڑھائیے جو اللہ نے آپ کو دیا ہے۔ وہ بار بار اس بات کی تکرار کرتے ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ حضور مصروف ہیں تو حضور اکرم ﷺ ان کے ان فعل اور ان کی اس بات کو پسند نہیں کرتے اور آپ کے چہرے پر کراہت کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور یہ شخص ان آثار کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ آپ ترش روئی اختیار کرتے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں کیونکہ یہ شخص آپ کو ایک نہایت اہم معاملے سے روک رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس لئے اہم ہے کہ اگر یہ کام ہوجاتا تو دعوت اسلامی کو بہت فائدہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ کام آپ دین اسلام کے فائدے اور مدد کے لئے کررہے ہیں ، خالص دینی فائدے کے لئے۔ اسلام کی مصلحت کی خاطر اور اسلام کے پھیلانے کی چاہت کے جذبے سے۔ لیکن آسمانوں سے مداخلت ہوتی ہے۔ سا لئے مداخلت ہوتی ہے کہ اس موضوع پر فیصلہ کن بات کردی جائے تاکہ دعوت اسلامی کے طریق کار میں کچھ نشانات راہ رکھ دیئے جائیں اور وہ ترازو قائم کردیا جائے جس سر اسلامی نقطہ نظر سے اقدار کو تولا جائے گا۔ اور اس کے مقابلے میں تمام حالات اور تمام مقاصد ترک کردیئے جائیں گے یہاں تک کہ خود اللہ کے دین کی مصلحت کو بھی نظرانداز کردیا جائے گا۔ اگر چہ انسان اس معیار کے خلاف کسی چیز کو دعوت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہوں۔ بلکہ اگرچہ سید البشر ﷺ کسی ایسی چیز کو دعوت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہوں۔ چناچہ عالم بالا سے نبی کریم ﷺ کے لئے عتاب آتا ہے اور نبی کریم تو خلق عظیم کے مالک ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں لیکن یہ عتاب نہایت ہی شدید اسلوب میں آتا ہے۔ پورے قرآن میں اس قسم کے سخت عتاب کی یہ واحد مثال ہے جس میں لفظ کلا استعمال ہوا ہے جو سختی سے تردید کے لئے آتا ہے اور جھڑکی کے موقعہ پر استعمال ہوتا ہے اور یہ اس لئے کہ یہ میزان وہ ہے جس کے اوپر پورا دین قائم ہے۔ جس اسلوب اور انداز میں یہ عتاب فرمایا گیا ہے وہ ایک منفرد انداز ہے۔ انسانی اسلیب اس کی نقل یا ترجمانی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انسانی تحریر کی زبان کی کچھ حدود ہیں اور کچھ طریقے ہیں۔ انسانی اسلوب تحریر میں ایسے گرم اور سخت اشارات نہیں سموئے جاسکتے جو زندہ وتابندہ ہوں۔ یہ قرآن کریم کا اعجازی انداز گفتگو ہے جو اس قسم کے اشارے چند مختصر الفاظ میں کردے اور عتاب کی ایک جھلک سی دکھادے۔ ایسے انداز میں کہ گویا وہ نہایت ہی تیز تاثرات ہیں ، زندہ صورت میں ہیں ، مخصوص اثر اور انداز رکھتے ہیں۔ عبس .................... الاعمی (2:80) ” ترش رو ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا “۔ یہ گفتگو اس انداز کی ہے کہ گویا ایک غیر موجود اور غائب شخص کے بارے میں بات ہورہی ہے اور وہ مخاطب نہیں ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے ، بات اللہ کے نزدیک بڑی ناپسندیدہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے مناسب نہ سمجھا کہ اس کا تذکرہ اپنے نبی اور محبوب کو براہ راست خطاب کرکے کرے۔ یہ اس لئے کہ آپ اللہ کو بہت محبوب ہیں اور اللہ آپ کا اکرام فرماتا ہے اور براہ راست خطاب نہیں فرمارہا کہ تم نے ایسا کیا۔ کیونکہ بات بڑی ناپسندیدہ ہے۔ اس کے بعد بات کا انداز بدلتا ہے۔ اصل بات کا تذکرہ کیے بغیر آپ سے خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ اور خطاب بات کو یوں شروع کیا جاتا ہے۔

عبس 80:3

وما یدریک ............ الذکری (4:80) ”” تمہیں کیا خبر ، شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لئے نافع ہو “۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ عظیم بھلائی وقوع پذیر ہوجائے ، یہ کہ یہ اندھا فقیر پاک وصاف ہوجائے جو نہایت شوق سے آپ کے پاس آیا ہے ، ہدایت چاہتا ہے اور جب آپ اس کو ہدایت دیں تو اس کے لئے نفع بخش ہوجائے اور اس کے دل میں نور ربانی روشن ہوجائے اور زمین پر وہ اس طرح ہوجائیں جس طرح منارہ نور ہوتا ہے۔ اگر ایک دل میں ایمان بیٹھ جائے اور پوری طرح بیٹھ جائے تو اللہ کے نزدیک یہ ایک عظیم کام ہے۔ اب اس عتاب کا لہجہ ذرا اور تیز ہوتا ہے۔ بات کے اندر بھی ذرا سختی آجاتی ہے۔ اور یہ اظہار شدید عتاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

عبس 80:4

وما یدریک ............ الذکری (4:80) ”” تمہیں کیا خبر ، شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لئے نافع ہو “۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ عظیم بھلائی وقوع پذیر ہوجائے ، یہ کہ یہ اندھا فقیر پاک وصاف ہوجائے جو نہایت شوق سے آپ کے پاس آیا ہے ، ہدایت چاہتا ہے اور جب آپ اس کو ہدایت دیں تو اس کے لئے نفع بخش ہوجائے اور اس کے دل میں نور ربانی روشن ہوجائے اور زمین پر وہ اس طرح ہوجائیں جس طرح منارہ نور ہوتا ہے۔ اگر ایک دل میں ایمان بیٹھ جائے اور پوری طرح بیٹھ جائے تو اللہ کے نزدیک یہ ایک عظیم کام ہے۔ اب اس عتاب کا لہجہ ذرا اور تیز ہوتا ہے۔ بات کے اندر بھی ذرا سختی آجاتی ہے۔ اور یہ اظہار شدید عتاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

عبس 80:5

اما من .................... عنہ لتھی (5:80 تا 10) ” جو شخص بےپروائی برتتا ہے اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو ، حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے ؟ اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور ڈر رہا ہوتا ہے ، اس سے تم بےرخی برتتے ہو “۔ یعنی جو آپ سے ، آپ کے دین سے ، آپ کے پاس موجود ہدایت ، بھلائی سے ، نور اور طہارت سے جو قرآن کریم کی شکل میں ہے ان سب خزانوں سے بےپروائی برتتا ہے تو ایسے شخص کو آپ اہمیت دیتے ہیں ، اس کی ہدایت کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ آپ اس کے درپے ہوتے ہیں اور وہ آپ سے منہ موڑارہا ہوتا ہے۔

عبس 80:6

اما من .................... عنہ لتھی (5:80 تا 10) ” جو شخص بےپروائی برتتا ہے اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو ، حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے ؟ اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور ڈر رہا ہوتا ہے ، اس سے تم بےرخی برتتے ہو “۔ یعنی جو آپ سے ، آپ کے دین سے ، آپ کے پاس موجود ہدایت ، بھلائی سے ، نور اور طہارت سے جو قرآن کریم کی شکل میں ہے ان سب خزانوں سے بےپروائی برتتا ہے تو ایسے شخص کو آپ اہمیت دیتے ہیں ، اس کی ہدایت کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ آپ اس کے درپے ہوتے ہیں اور وہ آپ سے منہ موڑارہا ہوتا ہے۔

عبس 80:7

وما ............ یزکی (7:80) اگر وہ پاکیزگی اختیار نہیں کرتا تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے “۔ اگر وہ اپنی موجودہ گندی حالت اور ناپاکی کو جاری ہی رکھنا چاہتا ہے تو آپ پر کیا ذمہ داری ہے۔ اس کے کرتوتوں کی باز پرس آپ سے نہ ہوگی۔ آپ نہ اس کے ذمہ دار ہیں ، نہ اس کا مواخذہ آپ سے ہوگا۔ اور وہ جو آپ کے پاس دوڑ کر آتا ہے۔

عبس 80:8

جاءک یسعی (8:80) نہایت مطیع فرمان ہوکر اور اللہ کی خشیت رکھتا ہے تو

عبس 80:9

جاءک یسعی (8:80) نہایت مطیع فرمان ہوکر اور اللہ کی خشیت رکھتا ہے تو

عبس 80:10

فانت ................ تلھی (10:80) ” آپ اس سے بےرخی برتتے ہیں “۔ یہ نہایت ہی شدید عتاب ہے تلہی کے معنی کسی شخص کو چھوڑ کر دوسری طرف مشغول ہونا۔ اب اس عتاب کا لہجہ ذرا اور سخت ہوجاتا ہے اور جھڑکی اور سختی سے تردید کے مقام تک قہنچ جاتا ہے۔ کلا ہرگز نہیں ، یہ ممکن نہیں ، یہ ایک ایسا انداز خطاب ہے جس پر غور کرنا چاہئے ، ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ اس کے بعد دعوت اسلامی کی حقیقت ، اس کی عظمت اور اس کی بلندی کو بیان کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسی دعوت ہے جو کسی کی محتاج نہیں ہے۔ اس کو کسی کی سند اور سہارے کی ضرورت نہیں ہے اور اس دعوت کی نظر میں وہی شخص قابل لحاظ ہے جو دعوت اسلامی کو صرف دعوت کی خاطر قبول کرتا ہے ، دنیا میں اس کے حالات اور اس کی حیثیت جو بھی ہو۔

عبس 80:11

انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے ہوں۔ یہ تو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اس کی برتری اور اس کی پاکیزگی کے قائل ہیں اور جو اس سے پاکیزگی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے معیار ، اللہ کا مقرر کردہ معیار۔ اسی میزان کے مطابق میں ہمیں لوگوں کے اور اپنے اعمال اور اپنی حیشایت کو وزن کرنا ہوگا۔ یہ اللہ کا حکم ہے ، اللہ کا کلام ہے۔ اور اس کے مقابلے میں کسی بات کا کوئی وزن ہی نہیں رہتا ، ہر فعل اور ہر حکم اس سے فروتر ہے۔ یہ حکم کہاں دیا گیا اور یہ واقعہ کہاں پیش آیا ؟ مکہ میں ، جبکہ دعوت اسلامی کا ہر طرف سے پیچھا کیا جارہا تھا ، مسلمان بہت ہی کم تعداد میں تھے۔ اور نبی ﷺ ان بااثر لوگوں کی طرف کسی ذاتی مقصد کے لئے بھی متوجہ نہ تھے۔ اور اس اندھے سے لاپروائی کسی ذاتی غرض کے لئے نہ تھی۔ حضور کے پیش نظر بھی صرف اور صرف دعوت اسلامی کا مفاد تھا لیکن اس دعوت کا ترازو یہ تھا۔ اس کی قدریں دوسری تھیں اس نے تو لوگوں کے لئے قدروں کا تعین کرنا تھا ، روایات کی تخلیق کرنی تھی ۔ یہ دعوت تب ہی کامیاب ، باوقار اور مضبوط ہوسکتی جب وہ ایسے پیمانے قائم کردیتی۔ یہ فقط ایک انفرادی واقعہ نہ تھا ، یہ ایک عظیم اصول تھا۔ نہ ایک معمولی اخلاقی برتاﺅ کا معاملہ تھا ، معاملہ یہ تھا کہ ایک اصولی اور دستوری مسئلہ درپیش تھا کہ لوگ نیک وبد کے پیمانے کہاں سے اخذ کریں۔ کیا زمین کے رسم و رواج سے یا آسمانی ہدایات سے ، زمینی اور عوامی زاویوں سے یا بارگاہ رب العزت سے ، جہاں سے یہ اصول وضع ہوا ہے۔ ان اکرمکم ................ انفسکم ” تم میں سے اللہ کے نزدیک معززوہ ہے جو تم میں سے متقی ہے “۔ اس دعوت اور اس تحریک میں وہی قابل لحاظ ہے جو اللہ کے نزدیک قابل لحاظ ہے۔ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے وہ ان عناصر سے محروم ہو جو لوگوں کے نزدیک وزن دار ہیں۔ جن مناظر کا لوگوں پر دباﺅ ہے اور جن کو دنیا والوں کے نزدیک اہم سمجھا جاتا ہے ، مثلاً نسب وحسب ، افرادی اور مالی قوت ، اور دوسری قابل لحاظ باتیں۔ اگر یہ چیزیں ایمان سے خالی ہوں اور ان کے ساتھ تقویٰ کا رنگ نہ ہو ، تو اس دعوت میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اس تحریک کے زاویہ سے اہم بات اور سب سے مقدم بات یہ ہے کہ ایک شخص اپنے حالات ایمان اور تقویٰ کے اعتبار سے درست کام کرے۔ اس واقعہ ، انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ اس عظیم حقیقت اور اس عظیم اصول کو ذہن نشین کرانا چاہتا تھا اور قرآنی انداز اصلاح اور تربیت کے عین مطابق ، جس میں ایک انفرادی واقعہ سے ایک عظیم اصول نکال کر لوگوں کے ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ یہ اصول پھر دستوری قاعدہ بن جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ان ہدایات اور اس عتاب سے بےحد متاثر ہوئی۔ آپ نے نہایت جوش و خروش سے ان ہدایات کو قبول کیا اور ان پر عمل کرکے اس اصول اور دستور کو اسلامی معاشرے میں نافذ کیا۔ اس نئی جماعت کی عمارت اس اصول پر استوار ہوئی کہ یہ اسلامی معاشرے کی خشت اول تھی۔ آپ کا پہلا فرض یہ قرار پایا کہ آپ اس واقعہ کو قرآن کی ایک سورت کے طور پر خود بیان کریں۔ یہ ایک عظیم بات تھی۔ یہ خدا کا رسول ہی کرسکتا تھا۔ جس پہلو سے بھی ہم اس پر غور کریں۔ انسان اپنی کمزوریوں کو چھپاتا ہے۔ یہ رسول خدا ہی تھے جنہوں نے اس عتاب الٰہی کا برملا اعلان فرمایا اور یہ اعلان بھی اس منفرد انداز میں فرمایا۔ اگر نبی کے سوا کوئی اور لیڈر ہوتا تو وہ اپنی غلطی کا احساس کرلیتا ، آئندہ احتیاط کرتا ، لیکن اللہ کے نبی کا مقام تو کچھ اور ہوتا ہے۔ منصب نبوت کے آفاق تو کچھ اور ہوتے ہیں ، بہت بلند اور بہت دور رس۔ یہ نبی ہی تھا جو نہایت ہی مشکل اور نازک حالات میں ، قریش کے ایک بااثر اور مقدر لوگوں کے سامنے اس اصول کا اعلان کردیں۔ جبکہ اس نئی دعوت کے مقابلے میں یہ بااثر لوگ اپنے مالی افرادی اور خاندانی عزت وجاہ کے سب وسائل لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ایک ایسے معاشرے میں جس میں حسب ونسب اور عزت وجاہ کے سوا کوئی اور قدر رائج نہ تھی ، اس میں بات صرف یہ ہوتی تھی۔ محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ، ابن ہاشم اور لوگ کہتے تھے۔ لولا انزل ................................ عظیم ” یہ قرآن دو گاﺅں کے کسی عظیم شخص پر کیوں نہیں اترا “۔ حضور ﷺ تو ان کے اندر صاحب نسب تھے ، لیکن رئیس نہ تھے اور وہ تو صرف جاہ واقتدار کے پجاری تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاشرے میں ایک نبی اور وحی الٰہی ہی اس قسم کا عظیم انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ زمین پر رہنے والا کوئی شخص اور دنیاوی ذہن سے سوچنے والا کوئی فرد ایسا انقلابی اقدام نہیں کرسکتا اور خصوصاً ایسے حالات اور ایسے وقت میں جن میں حضور اکرم ﷺ دعوت اسلامی کا کام کررہے تھے۔ یہ آسمانی قوت اور آسمانی ہدایت ہی تھی جس نے اس معاملے کو اس انداز پر چلایا ، یہ اصول نبی ﷺ کی ذات کے ذریعہ ان مشکل حالات میں نافذ کیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے اسے نافذ کیا ، نہایت جوش و خروش ، نہایت قوت اور مضبوطی کے ساتھ اس دستور کو اس نئی سوسائٹی کی بنیادوں کے اندر رکھ دیا اور یہ امت مسلمہ کی زندگی میں ایک طویل عرصہ تک قائم ودائم رہا۔ یہ دراصل انسانیت کے لئے ایک دوسرا جنم تھا۔ جس طرح ایک انسان فطرتاً پیدا ہوتا ہے ، بلکہ انسانیت کا یہ جنم دراصل زیادہ قیمتی تھا۔ اس طرح کہ انسانی سوسائٹی ، کسی سرزمین میں متعارف جاری وساری قدروں کو خیر باد کہہ دے اور ایسی قدروں کو اپنا لے جو بالکل نئی ہوں۔ آسمانوں سے نازل شدہ ہوں۔ نئے تصورات ، نئے نظریات آجائیں ، ان تصورات ، نظریات ، حالات اور عملی روابط اور رسم و رواج کو اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور لوگ ان سابقہ تصورات اور روابط کے دباﺅ سے یکلخت آزاد ہوجائیں اور ان کے اندر جدید تصورات اور جدید قدریں رچ بس جائیں۔ وہ ان کو خوب سمجھ لیں۔ سب کے سب ان کو تسلیم کریں۔ اور یہ عظیم انقلاب برپا ہوجائے۔ یہ جدید قدریں مسلم سوسائٹی کے ضمیر میں نمایاں ہوں۔ اس کے قوانین میں واضح ہوں ، تو فی الواقعہ یہ انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ یہ عظیم انقلاب تھا جس کے برپا کرنے کے لئے ذات محمدی کو بھی تنبیہہ اور ہدایت کی ضرورت پیش آئی اور یہ انقلاب ابتدائی دور کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک طویل عرصے تک نمایاں رہا۔ ہم جدید دور کے لوگ دراصل اس عظیم انقلاب اور انسانیت کے اس جدید جنم کو کماحقہ سمجھ نہیں پا رہے ، اس لئے کہ ہمنے اس دنیا اور اس زمین کی قدروں ، زمین کے روابط اور اس دنیا کی حیشلیت اور نظریات کو ترک کرکے اپنے آپ کو اسلام کے مطابق نہیں ڈھالا۔ ہم پر مادیت اور مادی قدروں اور دنیاوی تصورات کا اس قدر غلبہ ہے کہ ہمارے دور کے بعض جاہل جو تاریخ کا مادی فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ یہ سمجھنے لگے ہیں ، کہ عقائد و تصورات اور اعلیٰ قدریں اور علوم وفنون دراصل مادی حالات اور مادی اور معاشی قدروں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح تمام رسوم ورواجات اور اصول وقوانین جو اصل معاشی قدروں کی پیداوار ہوتے ہیں ، یہ لوگ بےحد جاہل ہیں اور یہ نفس انسانی کے نشیب و فراز سے بالکل ناواقف ہیں۔ بہرحال اسلام نے جو انقلاب رونما کیا وہ ایک معجزہ تھا اور انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ انسانیت کے اس نئے جنم کے بعد اور اس عظیم انقلاب کے بعد ، دنیا کی فضا پر یہ قدریں حاوی رہیں ، لیکن ایک عربی معاشرے میں ان کا حاوی ہونا اس قدر آسان نہ تھا ، نہ مسلمانوں کے نفوس پر ان کا حاوی ہونا کوئی سہل الحصول ٹارگٹ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اپنے ذاتی کمالات ، پھر ارادہ الٰہی ، پھر خدا کی طرف سے ہدایات وتصرفات اور پھر قرآن کریم کی ہدایات پر گرم جوشی سے عمل پیرا ہونے کے شوق کی وجہ سے ، ان عظیم اصولوں اور قدروں کو لوگوں کے شعور اور ضمیر میں بٹھایا ، ایک پودے کی طرح ان کے دلوں میں یہ نئی اخلاقیات اور قدریں کاشت کی گئیں ، پھر ان کی سخت نگہداشت کی گئی تاکہ ان کی جڑیں مضبوط ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی پر صدیاں گزر گئیں لیکن یہ قدریں اپنی جگہ جمی ہوئی ہیں حالن کہ ان صدیوں میں باد مخالف کے بڑے بڑے طوفان گزر گئے اور بیشمار عوامل ان قدروں کے خلاف کام کرتے رہے۔ اس واقعہ کے بعد حضور اکرم ﷺ کی جب بھی ابن ام مکتوم کی ملاقات ہوئی ، آپ ان کو ان کلمات کے ساتھ خوش آمدید کہتے۔” آئیے صاحب تمہاری وجہ سے مجھے اللہ جل شانہ نے سختی سے ٹوکا “۔ حضور اکرم ﷺ نے اس اندھے فقیر کو دو بار اپنی زندگی میں مدینے کا گورنر بنایا۔ عربی معاشرے میں کسی کو رشتہ دینا ، ایک بڑا احساس مسئلہ تھا۔ اس معاملے میں جہاں لڑی کی جاتی تھی ، ان لوگوں کے لئے سخت معیار تھا ، آپ نے اپنی پھوپھی زاد زینب بنت جحش اسدیہ کو اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے نکاح میں دلوایا تاکہ ان جاہلی قدروں پر ضرب لگائی جاسکے۔ اس سے قبل جب آپ کے مدینہ میں مواخات کا نظام قائم کیا تو اپنے چچا حمزہ کا بھائی اپنے اسی آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو بنادیا۔ اور حضرت بلال ابن رباح کو حضرت خالد ابن رویحہ الخثعمی کا بھائی بنادیا۔ حضرت زید کو غزوہ موتہ میں امیر بنایا۔ یہ اس غزوہ کے پہلے امیر تھے۔ اس کے بعد جعفر ابن ابوطالب کا نمبر تھا ، پھر عبداللہ ابن رواحہ انصاری کا۔ اس لشکر میں تین ہزار انصار اور مہاجرین تھے جن میں خالد ابن ولید بھی تھے۔ اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے حضور ﷺ خود نکلے۔ اس جنگ میں یہ تینوں شہید ہوگئے تھے۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ اور آپ کے آخری احکامات میں سے یہ حکم تھا کہ آپ نے حضرت اسامہ ابن زید کو رومیوں کے ساتھ جنگ کے لئے کمانڈر مقرر کیا۔ اس لشکر میں بیشمار انصار اور مہاجرین شامل تھے۔ ان میں حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمر ؓ جیسے لوگ بھی تھے جو آپ کے ساتھی اور وزیرومشیر تھے اور جو آپ کے بعد خلیفہ تھے۔ نیز حضرت سعد ابن وقاص بھی تھے جو آپ کے قریبی بھی تھے اور قریش میں سے قدیم الاسلام تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت اسامہ کی امارت پر تعجب کا اظہار بھی کیا ، کیونکہ وہ بالکل کم عمر نوجوان تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں ، ” حضور ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس پر اسامہ ابن زید کو امیر مقرر فرمایا ، بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو آپ نے کہا اگر تم اسامہ ابن زید کی امارت میں طعن کرتے ہو تو تم نے اس سے قبل ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا ، خدا کی قسم ! وہ امارت کے اہل تھا اور مجھے سب لوگوں میں نہایت محبوب تھا اور یہ بھی مجھے تمام لوگوں سے محبوب ہے “۔ (شیخین اور ترمذی) اور جب سلمان فارسی ؓ کے بارے میں بعض لوگوں نے نازیبا الفاظ کہے اور عربی اور فارسی کے حوالے سے بات کی۔ اور ان باتوں سے محدود عربی قومیت کی بو آتی تھی ، تو حضور اکرم ﷺ نے اس تصور پر بھی ایک فیصلہ کن ضرب لگائی اور فرمایا : ” سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے “۔ اور حضرت مسلمانوں کو آسمانی قدروں نے تمام گری ہوئی دنیاوی قدروں سے آگے بڑھا دیا اور وہ ایک لمحے میں آفاق سے بھی آگے بڑھ گئے اور محدود قومیت کی لکیریں مٹا دی گئیں جو عربوں کے نزدیک بہت اہم تھیں اور سلمان کو اہل بیت کا فرد قرار دیا (طبرانی وحاکم) ۔ جب حضرت ابوذر غفاری ؓ اور حضرت بلال ؓ کے درمیان تکرار ہوگئی اور حضرت ابوذر ؓ کی زبان سے یہ لفظ نکل گیا ” اے سیاہ فام عورت کے لڑکے “ تو اس پر حضور اکرم ﷺ شدیدطور پر غضب ناک ہوگئے اور اس بات کو حضرت ابوذر ؓ کے منہ پر مار دیا اور فرمایا : ” ابوذر پیمانے کو درست رکھو ، اسلام میں سفید عورت کے بیٹے کو سیاہ عورت کے بیٹے کے اوپر کوئی فضیلت نہیں ہے “۔ چناچہ آپ نے بات کو نہایت ہی ابتدائی جڑوں سے علیحدہ کردیا۔ اسلام ، اسلام ہے اور آسمانی قدروں پر مشتمل ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اس کی قدریں زمینی ہیں۔ (ابن مبارک) حضرت ابوذر ؓ کے حساس دل پر حضور اکرم ﷺ کی اس بات کا سخت اثر ہوا ، انہوں نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی اور قسم اٹھائی کہ وہ اس وقت تک اپنی پیشانی کو اوپر نہ اٹھائیں گے جب تک بلال ؓ اسے روند نہ ڈالیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک اس بری بات کا کفارہ یہی ہے۔ جس ترازو کے مطابق حضرت بلال ؓ کو اس قدروزن حاصل ہوا تھا ، وہ آسمانی ترازو تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بلال “ مجھے بتاﺅ کہ تم نے کون سا ایسا عمل کیا ہے جس پر تمہیں خدا کے ہاں بہت زیادہ اجر کی توقع ہے ؟ “ اس لئے کہ میں نے معراج کی رات ، جنت میں تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے “۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اسلام لانے کے بعد میں نے جب بھی مکمل پاکی اختیار کی ہے (وضو ، غسل) رات کو یا دن کو تو میں نے اس کے بعد نماز پڑھی ہے ، جس قدر اللہ نے میرے لئے مقدر کیے تھے ، بس وہ بات ہے جس سے میں امید کرتا ہوں کہ مجھے زیادہ ثواب ملے گا۔ (شیخین) حضور اکرم ﷺ عمار ابن یاسر کے بارے میں فرمایا کرتے تھے ، جب بھی انہوں نے حضور ﷺ سے ملاقات کی اجازت چاہی ، ” اسے اجازت دو ، یہ پاک اور پاکباز ہے “۔ (نسائی) اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا :” عمار سر سے پاﺅں تک ایمان سے پر ہے “۔ اور حضرت حذیفہ ؓ کے بارے میں فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں تمہارے اندر اب کتنا عرصہ رہوں گا ، لہٰذا ان دونوں کی پیروی کرو “۔ (حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی طرف اشارہ کیا) اور عمار کے طریقے پر چلو اور تمہیں جو بات ابن مسعود نے بتائی ، اس کی تصدیق کرنا “۔ (ترمذی) حضرت ابن مسعود کی حالت تو یہ تھی کہ جو لوگ مدینہ کے رہنے والے نہ تھے ، وہ آتے تو حضرت ابن مسعود کو نبی ﷺ کے گھرانے کا آدمی سمجھتے .... کیونکہ یہ اکثر آتے جاتے تھے اور بروقت حضور ﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔ (شیخین وترمذی) ایک آزاد کردہ غلام جلسیب ؓ تھے ، ان کے لئے حضور ﷺ خود ہی رشتہ تلاش فرماتے تھے۔ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ انصار میں سے کوئی عورت ان کے لئے مل جائے۔ ایک لڑکی کے بارے میں حضور ﷺ نے پیغام دیا ، اس کے والدین نے انکار کردیا تو اس لڑکی نے کہا ، کیا تم رسول اللہ ﷺ کی بات کو رد کررہے ہو ؟ اگر رسول اللہ ﷺ اس پر راضی ہیں تو مجھے اس شخص کے نکاح میں دے دو ۔ اس پر والدین راضی ہوگئے اور انہوں نے وہ لڑکی اسے نکاح کرکے دے دی۔ (احمد) یہ شخص اپنی اس شادی کے بعد جلدی پیش آنے والی کسی جنگ میں گم ہوگئے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک غزوہ میں شریک ہوئے۔ اللہ نے آپ کو فتح دی اور مال غنیمت بھی ملا۔ جنگ کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں فلاں فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں ، فلاں ، فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ کوئی اور شخص گم پارے ہو تو انہوں نے کہا نہیں اور تو کوئی گم نہیں ہے تو آپ نے فرمایا ہاں میں جلیسیب کو گم پاتا ہوں۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا ، یہ سات مقتولین کفار کے پاس پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان سات کو قتل کردیا تھا ، جس کے بعد انہوں نے اسے شہید کردیا تھا۔ آپ ان کی لاش کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا اس نے سات قتل کردیا۔ بعد میں انہوں نے اسے شہید کردیا۔ یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں بازوﺅں میں انہیں اٹھایا۔ حضور ﷺ کے بازوﺅں کے سوا ان کے لئے کوئی چارپائی نہ تھی۔ ان کے لئے قبر کھودی گئی اور انہیں قبر میں رکھ دیا گیا۔ راوی بےغسل کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم) اللہ کی ان ہدایات کے ذریعہ سے اور نبی ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کی وجہ سے ، انسانیت کو ایک نیا جنم ملا۔ اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں حسن وقبح کے اصول آسمان سے لئے جاتے تھے۔ یہ معاشرہ اسی زمین پر ہوتے ہوئے بھی زمین کی گری پڑی اقدار سے آزاد تھا۔ یہ تھا اسلام کا عظیم معجزہ۔ یہ ایک عظیم معجزہ تھا اور کوئی معجزہ خدا اور رسول ﷺ کے احکام کے بغیر صادر نہیں ہوسکتا۔ اس معجزے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ دین اللہ کا دین تھا اور جس ذات بابرکات نے یہ دین پیش کیا وہ اللہ کا رسول ﷺ تھا۔ اور اللہ کی ایک خاص تدبیر تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے پہلے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس کے والی اور خلیفہ المسلمین بنے۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے ساتھی حضرت عمر ؓ اس دین کے سربراہ بنے۔ یہ دوسرے خلیفہ دونوں میں سے اس نظام کو زیادہ سمجھنے والے تھے ، یہ زیادہ حضور اکرم ﷺ کی سنت پرچلنے والے تھے اور رسول سے محبت کرنے والے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت اور اطاعت کے میدان میں ان کے نقش قدم پرچلنے والے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت اسامہ کے بارے میں حضور ﷺ کے اصرار کو سمجھ لیا تھا۔ اس لئے انہوں نے منصب امارت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے یہی کام کیا۔ یہ لشکر حضور اکرم ﷺ نے تیار کیا تھا اور حضرت ابوبکر ؓ نے مدینہ کے باہر خود اسے الوداع کہا۔ اسامہ سوار تھے اور حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ المسلمین ان کی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ حضرت بسامہ کو حیا آگئی کہ وہ سوار ہوں اور بوڑھے خلیفہ پیدل ساتھ ساتھ جارہے ہوں۔ انہوں نے کہا : ” خلیفة المسلمین ، یا تو آپ سوار ہوں یا میں اترتا ہوں “۔ خلیفتہ المسلمین قسم اٹھاتے ہیں ” خدا کی قسم تم نہ اترو گے اور خدا کی قسم میں سوار بھی نہ ہوں گا ، کیا ہوجائے گا اگر میرے پاﺅں بھی اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں “۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے سوچا کہ آپ کو حضرت عمر ؓ کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کے کاندھوں پر خلافت کا بوجھ پڑچکا ہے لیکن عمر تو جیش اسامہ کے ایک سپاہی ہیں۔ اسامہ امیر ہیں۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ اسامہ سے اجازت طلب کی جائے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں ” اگر تم عمر ؓ کو ترک کرکے میری مدد کرسکتے ہو تو مناسب ہوگا “۔ ذرا الفاظ کو دیکھو ” اگر تم مناسب سمجھو تو حضرت عمر ؓ کو چھوڑ کر میری مدد کرو “۔ یہ ہیں وہ بلندیاں جن تک اسلام نے انسانوں کو پہنچا دیا۔ یہ معجزہ صرف اللہ کی مرضی سے ہوسکتا ہے اور ایک رسول ہی اسے سرانجام دے سکتے ہیں۔ زمانے کا پہیہ گھومتا ہے اور ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ خلیفہ ہیں اور وہ حضرت عمار ابن یاسر کو کوفہ کا حاکم مقرر کرتے ہیں۔ ایک وقت یوں بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے دفتر کے سامنے سہیل ابن عمرو ابن الحارث ابن ہشام اور ابو سفیان کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ قریش کے سرداروں کی ایک جماعت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور علماء کہلائے۔ حضرت عمر ؓ ان سے پہلے صہیب اور بلال کو اندر بلاتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ اسلام کے سابقون الاولون اور اہل بدر میں سے تھے۔ ابوسفیان کے نتھنے مارے غصے کے پھول جاتے ہیں اور سخت جذباتی انداز میں کہتے ہیں ” میں اپنی پوری زندگی میں ایسا دن نہیں دیکھا کہ ان غلاموں کو تو اندر بلایا جاتا ہے اور ہم دروازے پر چھوڑے جاتے ہیں “۔ اس کے ساتھی جنہوں نے حقیقت اسلام کو سمجھ لیا تھا اور ان کے شعور پر اسلام چھا گیا تھا ، ان سے کہا ” اے قوم تمہارے چہروں پر جو آثار نمودار ہیں ، میں دیکھ رہا ہوں۔ اگر تمہیں غصہ آرہا ہے تو یہ غصہ اپنے نفس سے اتارو ، ان لوگوں کو بھی اسلام کی طرف بلایا گیا اور تمہیں بھی بلایا گیا۔ انہوں نے فوراً لبیک کہا اور تم نے دیر لگادی۔ تم ذرا اس وقت کا خیال کرو کہ قیامت میں ان کو بلایا جائے اور تم وہاں بھی کھڑے کے کھڑے رہو (اسلام کا اجتماعی عدل) حضرت عمر ؓ اسامہ ابن زید کے لئے عبداللہ ابن عمر سے زیادہ الاوئنس مقرر فرماتے ہیں۔ حضرت عبداللہ اس کا راز پوچھتے ہیں حضرت عمر ؓ جواب دیتے ہیں ” بیٹے ، زید رسول اللہ ﷺ کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں تم سے زیادہ محبوب تھے۔ اس لئے میں نے رسول اللہ کی محبت کو اپنی محبت پر ترجیح دے دی “۔ حضرت عمر ؓ کو معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت آسمانی پیمانوں سے ناپی جاتی ہے۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت عمار ؓ ابن یاسر کو بھیجتے ہیں کہ وہ اسلام کے عظیم کمانڈر ، فاتح اور اعلیٰ خاندان کے فرد حضرت خالد بن ولید کے خلاف بعض شکایات کی تفتیش کریں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمار ؓ نے ان کو ان کی چادر سے باندھا اور بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کو خود ان کے عمامے سے باندھا گیا۔ یہاں تک کہ تفتیش ختم ہوگئی اور اس کے نتیجے وہ بےگناہ ثابت ہوگئے۔ اس کے بعد وہ انہیں کھولتے ہیں اور خوداپنے ہاتھ سے ان کے سر پر عمامہ باندھتے ہیں اور حضرت خالد ؓ کو اس پر کوئی غصہ نہیں آتا۔ اس لئے کہ حضرت عمار ؓ حضور اکرم ﷺ کے ساتھی ہیں اور ان سے پہلے اسلام لانے والے ہیں اور ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ ان کو معلوم تھا۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابوبکر ؓ کے بارے میں فرماتے تھے۔ یہ ہمارے سردار ہیں جنہوں نے ہمارے دوسرے سردار کو غلامی سے آزاد کرایا یعنی حضرت بلال کو جو امیہ ابن خلف کے مملوک تھے اور امیہ انہیں سخت اذیت دیتا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں خریدا اور آزاد کردیا۔ ان کے بارے میں حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بلال ؓ ہمارے سردار ہیں۔ یہ حضرت عمر ؓ ہی تھے کہ انہوں نے فرمایا اگر ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم موجود ہوتے تو میں انہیں خلیفہ بنا دیتا۔ حضرت عمر ؓ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ اور حضرت زبیر ؓ جیسے لوگوں کو بھی خلیفہ نہ بنایا۔ بلکہ چھ آدمیوں کی شوریٰ مقرر کی کہ ان میں سے کسی ایک کو مقرر کیا جائے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت عمار ؓ اور حسن ابن علی کو اہل کوفہ کی طرف بھیجتے ہیں۔ وہ ان سے درخواست کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ ان کا جو نزاع ہوگیا ہے اس میں وہ ان کا ساتھ دیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ” مجھے اچھی طرح علم ہے کہ حضرت عائشہ ؓ تمہارے نبی ﷺ کی بیوی ہیں ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، لیکن اللہ نے تمہیں اس امتحان میں ڈال دیا ہے کہ تم میری اطاعت کرتے ہو یا ان کی “۔ (بخاری) اس طرح حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ حضرت بلال ؓ یمن کے گورنر تھے۔ ابورویحہ خشعمی یمن کے ایک قبیلے میں شادی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کی سفارش کریں۔ حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں میں بلال ابن رباح ہوں اور یہ میرے بھائی ابو ردیحہ ہیں۔ یہ ایک ایسا شخص ہے کہ نہ اس کے اخلاق اچھے ہیں اور نہ یہ زیادہ دیندار ہے۔ تم چاہو تو اپنی لڑکی ان کے عقد میں دے دو اور نہ چاہو تو نہ دو “۔ حضرت بلال ؓ انہیں دھوکہ نہیں دیتے اور نہ اس کے معاملے میں کوئی بات چھپاتے ہیں ، اور نہ وہ اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ میں سفارشی ہوں۔ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہیں گے اللہ کے ہاں جوابدہ ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کس قدر شچے ہیں اور وہ یہ رشتہ دے دیتے ہیں۔ بس وہ یہ بات کافی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک صاحب نسب عرب ہیں اور ان کی سچی سفارش حضرت بلال ؓ حبشی کررہے ہیں۔ غرض یہ عظیم حقیقت اسلامی معاشرے میں عملاً قائم ہوگئی اور اس کے بعد ایک طویل زمانے تک قائم رہی۔ باوجود اس کے بعد کے زمانوں میں مسلمانوں کے اندر زوال اور تنزل کے بیشمار عوامل پیدا ہوگئے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے آزادذ کردہ غلام عکرمہ کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ جب عبداللہ ابن عمر کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے غلام نافع کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ انس ابن مالک کے ساتھ ابن سیرین کا ذکر ہوتا ہے ، اور ابوہریرہ کے ساتھ ان کے غلام عبدالرحمن ابن ہرمز کا ذکر ہوتا ہے ، بصرہ میں حسن بصری ، مکہ میں مجاہد ، عطا ابن ابی رباح اور طاﺅس ابن کیسان جیسے لوگ مشہور فقہاء تھے۔ عمر ابن عبدالعزیز کے زمانے میں ، مصر میں یزید ابن ابی حبیب مفتی اعظم مقرر ہوئے۔ یہ علقمہ کے سیاہ فام آزاد کردہ غلام تھے۔ یہ تھیں آسمانی اور اسلامی قدریں جنہوں نے انسانیت کو تقویٰ کی بنیاد پر اس قدر بلند کردیا ، اگرچہ دنیا کے اندر مقبول ترین اقدار میں سے کوئی خصوصیت ان کے اندر نہ تھی۔ نہ اپنی ذات کے اعتبار سے اور نہ ان کے ماحول کے اعتبار سے۔ یہ میزان اور یہ پیمانے دنیا میں ماضی قریب تک قائم رہے۔ ماضی قریب میں پوری دنیا پر دوبارہ جاہلیت چھاگئی۔ دنیا کا ایک حصہ امریکی جاہلیت کے زیر اثر آگیا جس میں انسانوں کی قیمت ڈالر کی شکل میں متعین ہونے لگی اور نصف مشرقی دنیا کی قیادت روسی جاہلیت کو حاصل ہوگئی اور اس میں انسان کی وقعت ایک پیداواری مشین کے سوا کچھ نہ تھی۔ رہی اسلامی دنیا تو اس پر وہی جداہلیت عربی قومیت کی جاہلیت چھاگبی جس کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کے لئے اسلام دنیا میں آیا تھا اور عملاً اسلام نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا تھا۔ آج عالم اسلام سے اس اعلیٰ معیار اور اعلیٰ قدر کو مٹا دیا گیا ہے اور عالم اسلام ایک ایسی جاہلیت کی تاریکیوں میں ڈوب گیا ہے ، جس کے اندر ایمان اور تقویٰ اعلیٰ قدر ہی نہیں ہے۔ ہاں عالم اسلام میں دعوت اسلامی اور احیاء اسلام کی تحریک جاری ہے۔ صرف اس تحریک پر امید ہے کہ یہ پوری دنیا کو جاہلیت سے نکال کر از سر نو آسمانی قدریں عطا کرے گی اور شاید ایک بار پھر انسانیت ایک نیا جنم لے جیسا کہ انسانیت کو آغاز اسلام کے دور میں نصیب ہوا۔ جس کی ایک جھلک اس سورت کی ابتدائی آیات میں دکھائی گئی ہے۔ یہ چند آیات ہیں لیکن نہایت ہی اہم اور سنگ میل اور فیصلہ کن ہیں۔ ایک مخصوص واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے سورت کے پہلے حصے میں اس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ، اس دوسرے حصے میں ، اس انسان کے رویہ پر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا ہے جو ایسے حقائق اور ایمان اور تقویٰ کی اس دعوت سے منہ موڑتا ہے ، اور دعوت اسلامی سے اپنے آپ کو برتر اور بالا سمجھتا ہے۔ یہ انسان اپنے اصل اور اپنی تخلیق کے حالات پر اگر غور کرتا تو ہرگز اعراض نہ کرتا۔ انسان یہ نہیں دیکھتا کہ اس پر اللہ کی کیا کیا عنایات ہیں۔ اس کی زندگی قدم قدم پر اللہ کے کنٹرول میں ہے ، دنیا اور آخرت میں یہ انسان دراصل ہر مرحلہ حیات میں اللہ کے اختیار میں ہے ، لیکن یہ اپنے خالق ، اپنے کفیل اور اپنے محاسب کے حقوق ادا نہیں کرتا اور نہ اس سے ڈرتا ہے۔

عبس 80:12

انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے ہوں۔ یہ تو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اس کی برتری اور اس کی پاکیزگی کے قائل ہیں اور جو اس سے پاکیزگی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے معیار ، اللہ کا مقرر کردہ معیار۔ اسی میزان کے مطابق میں ہمیں لوگوں کے اور اپنے اعمال اور اپنی حیشایت کو وزن کرنا ہوگا۔ یہ اللہ کا حکم ہے ، اللہ کا کلام ہے۔ اور اس کے مقابلے میں کسی بات کا کوئی وزن ہی نہیں رہتا ، ہر فعل اور ہر حکم اس سے فروتر ہے۔ یہ حکم کہاں دیا گیا اور یہ واقعہ کہاں پیش آیا ؟ مکہ میں ، جبکہ دعوت اسلامی کا ہر طرف سے پیچھا کیا جارہا تھا ، مسلمان بہت ہی کم تعداد میں تھے۔ اور نبی ﷺ ان بااثر لوگوں کی طرف کسی ذاتی مقصد کے لئے بھی متوجہ نہ تھے۔ اور اس اندھے سے لاپروائی کسی ذاتی غرض کے لئے نہ تھی۔ حضور کے پیش نظر بھی صرف اور صرف دعوت اسلامی کا مفاد تھا لیکن اس دعوت کا ترازو یہ تھا۔ اس کی قدریں دوسری تھیں اس نے تو لوگوں کے لئے قدروں کا تعین کرنا تھا ، روایات کی تخلیق کرنی تھی ۔ یہ دعوت تب ہی کامیاب ، باوقار اور مضبوط ہوسکتی جب وہ ایسے پیمانے قائم کردیتی۔ یہ فقط ایک انفرادی واقعہ نہ تھا ، یہ ایک عظیم اصول تھا۔ نہ ایک معمولی اخلاقی برتاﺅ کا معاملہ تھا ، معاملہ یہ تھا کہ ایک اصولی اور دستوری مسئلہ درپیش تھا کہ لوگ نیک وبد کے پیمانے کہاں سے اخذ کریں۔ کیا زمین کے رسم و رواج سے یا آسمانی ہدایات سے ، زمینی اور عوامی زاویوں سے یا بارگاہ رب العزت سے ، جہاں سے یہ اصول وضع ہوا ہے۔ ان اکرمکم ................ انفسکم ” تم میں سے اللہ کے نزدیک معززوہ ہے جو تم میں سے متقی ہے “۔ اس دعوت اور اس تحریک میں وہی قابل لحاظ ہے جو اللہ کے نزدیک قابل لحاظ ہے۔ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے وہ ان عناصر سے محروم ہو جو لوگوں کے نزدیک وزن دار ہیں۔ جن مناظر کا لوگوں پر دباﺅ ہے اور جن کو دنیا والوں کے نزدیک اہم سمجھا جاتا ہے ، مثلاً نسب وحسب ، افرادی اور مالی قوت ، اور دوسری قابل لحاظ باتیں۔ اگر یہ چیزیں ایمان سے خالی ہوں اور ان کے ساتھ تقویٰ کا رنگ نہ ہو ، تو اس دعوت میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اس تحریک کے زاویہ سے اہم بات اور سب سے مقدم بات یہ ہے کہ ایک شخص اپنے حالات ایمان اور تقویٰ کے اعتبار سے درست کام کرے۔ اس واقعہ ، انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ اس عظیم حقیقت اور اس عظیم اصول کو ذہن نشین کرانا چاہتا تھا اور قرآنی انداز اصلاح اور تربیت کے عین مطابق ، جس میں ایک انفرادی واقعہ سے ایک عظیم اصول نکال کر لوگوں کے ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ یہ اصول پھر دستوری قاعدہ بن جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ان ہدایات اور اس عتاب سے بےحد متاثر ہوئی۔ آپ نے نہایت جوش و خروش سے ان ہدایات کو قبول کیا اور ان پر عمل کرکے اس اصول اور دستور کو اسلامی معاشرے میں نافذ کیا۔ اس نئی جماعت کی عمارت اس اصول پر استوار ہوئی کہ یہ اسلامی معاشرے کی خشت اول تھی۔ آپ کا پہلا فرض یہ قرار پایا کہ آپ اس واقعہ کو قرآن کی ایک سورت کے طور پر خود بیان کریں۔ یہ ایک عظیم بات تھی۔ یہ خدا کا رسول ہی کرسکتا تھا۔ جس پہلو سے بھی ہم اس پر غور کریں۔ انسان اپنی کمزوریوں کو چھپاتا ہے۔ یہ رسول خدا ہی تھے جنہوں نے اس عتاب الٰہی کا برملا اعلان فرمایا اور یہ اعلان بھی اس منفرد انداز میں فرمایا۔ اگر نبی کے سوا کوئی اور لیڈر ہوتا تو وہ اپنی غلطی کا احساس کرلیتا ، آئندہ احتیاط کرتا ، لیکن اللہ کے نبی کا مقام تو کچھ اور ہوتا ہے۔ منصب نبوت کے آفاق تو کچھ اور ہوتے ہیں ، بہت بلند اور بہت دور رس۔ یہ نبی ہی تھا جو نہایت ہی مشکل اور نازک حالات میں ، قریش کے ایک بااثر اور مقدر لوگوں کے سامنے اس اصول کا اعلان کردیں۔ جبکہ اس نئی دعوت کے مقابلے میں یہ بااثر لوگ اپنے مالی افرادی اور خاندانی عزت وجاہ کے سب وسائل لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ایک ایسے معاشرے میں جس میں حسب ونسب اور عزت وجاہ کے سوا کوئی اور قدر رائج نہ تھی ، اس میں بات صرف یہ ہوتی تھی۔ محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ، ابن ہاشم اور لوگ کہتے تھے۔ لولا انزل ................................ عظیم ” یہ قرآن دو گاﺅں کے کسی عظیم شخص پر کیوں نہیں اترا “۔ حضور ﷺ تو ان کے اندر صاحب نسب تھے ، لیکن رئیس نہ تھے اور وہ تو صرف جاہ واقتدار کے پجاری تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاشرے میں ایک نبی اور وحی الٰہی ہی اس قسم کا عظیم انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ زمین پر رہنے والا کوئی شخص اور دنیاوی ذہن سے سوچنے والا کوئی فرد ایسا انقلابی اقدام نہیں کرسکتا اور خصوصاً ایسے حالات اور ایسے وقت میں جن میں حضور اکرم ﷺ دعوت اسلامی کا کام کررہے تھے۔ یہ آسمانی قوت اور آسمانی ہدایت ہی تھی جس نے اس معاملے کو اس انداز پر چلایا ، یہ اصول نبی ﷺ کی ذات کے ذریعہ ان مشکل حالات میں نافذ کیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے اسے نافذ کیا ، نہایت جوش و خروش ، نہایت قوت اور مضبوطی کے ساتھ اس دستور کو اس نئی سوسائٹی کی بنیادوں کے اندر رکھ دیا اور یہ امت مسلمہ کی زندگی میں ایک طویل عرصہ تک قائم ودائم رہا۔ یہ دراصل انسانیت کے لئے ایک دوسرا جنم تھا۔ جس طرح ایک انسان فطرتاً پیدا ہوتا ہے ، بلکہ انسانیت کا یہ جنم دراصل زیادہ قیمتی تھا۔ اس طرح کہ انسانی سوسائٹی ، کسی سرزمین میں متعارف جاری وساری قدروں کو خیر باد کہہ دے اور ایسی قدروں کو اپنا لے جو بالکل نئی ہوں۔ آسمانوں سے نازل شدہ ہوں۔ نئے تصورات ، نئے نظریات آجائیں ، ان تصورات ، نظریات ، حالات اور عملی روابط اور رسم و رواج کو اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور لوگ ان سابقہ تصورات اور روابط کے دباﺅ سے یکلخت آزاد ہوجائیں اور ان کے اندر جدید تصورات اور جدید قدریں رچ بس جائیں۔ وہ ان کو خوب سمجھ لیں۔ سب کے سب ان کو تسلیم کریں۔ اور یہ عظیم انقلاب برپا ہوجائے۔ یہ جدید قدریں مسلم سوسائٹی کے ضمیر میں نمایاں ہوں۔ اس کے قوانین میں واضح ہوں ، تو فی الواقعہ یہ انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ یہ عظیم انقلاب تھا جس کے برپا کرنے کے لئے ذات محمدی کو بھی تنبیہہ اور ہدایت کی ضرورت پیش آئی اور یہ انقلاب ابتدائی دور کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک طویل عرصے تک نمایاں رہا۔ ہم جدید دور کے لوگ دراصل اس عظیم انقلاب اور انسانیت کے اس جدید جنم کو کماحقہ سمجھ نہیں پا رہے ، اس لئے کہ ہمنے اس دنیا اور اس زمین کی قدروں ، زمین کے روابط اور اس دنیا کی حیشلیت اور نظریات کو ترک کرکے اپنے آپ کو اسلام کے مطابق نہیں ڈھالا۔ ہم پر مادیت اور مادی قدروں اور دنیاوی تصورات کا اس قدر غلبہ ہے کہ ہمارے دور کے بعض جاہل جو تاریخ کا مادی فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ یہ سمجھنے لگے ہیں ، کہ عقائد و تصورات اور اعلیٰ قدریں اور علوم وفنون دراصل مادی حالات اور مادی اور معاشی قدروں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح تمام رسوم ورواجات اور اصول وقوانین جو اصل معاشی قدروں کی پیداوار ہوتے ہیں ، یہ لوگ بےحد جاہل ہیں اور یہ نفس انسانی کے نشیب و فراز سے بالکل ناواقف ہیں۔ بہرحال اسلام نے جو انقلاب رونما کیا وہ ایک معجزہ تھا اور انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ انسانیت کے اس نئے جنم کے بعد اور اس عظیم انقلاب کے بعد ، دنیا کی فضا پر یہ قدریں حاوی رہیں ، لیکن ایک عربی معاشرے میں ان کا حاوی ہونا اس قدر آسان نہ تھا ، نہ مسلمانوں کے نفوس پر ان کا حاوی ہونا کوئی سہل الحصول ٹارگٹ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اپنے ذاتی کمالات ، پھر ارادہ الٰہی ، پھر خدا کی طرف سے ہدایات وتصرفات اور پھر قرآن کریم کی ہدایات پر گرم جوشی سے عمل پیرا ہونے کے شوق کی وجہ سے ، ان عظیم اصولوں اور قدروں کو لوگوں کے شعور اور ضمیر میں بٹھایا ، ایک پودے کی طرح ان کے دلوں میں یہ نئی اخلاقیات اور قدریں کاشت کی گئیں ، پھر ان کی سخت نگہداشت کی گئی تاکہ ان کی جڑیں مضبوط ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی پر صدیاں گزر گئیں لیکن یہ قدریں اپنی جگہ جمی ہوئی ہیں حالن کہ ان صدیوں میں باد مخالف کے بڑے بڑے طوفان گزر گئے اور بیشمار عوامل ان قدروں کے خلاف کام کرتے رہے۔ اس واقعہ کے بعد حضور اکرم ﷺ کی جب بھی ابن ام مکتوم کی ملاقات ہوئی ، آپ ان کو ان کلمات کے ساتھ خوش آمدید کہتے۔” آئیے صاحب تمہاری وجہ سے مجھے اللہ جل شانہ نے سختی سے ٹوکا “۔ حضور اکرم ﷺ نے اس اندھے فقیر کو دو بار اپنی زندگی میں مدینے کا گورنر بنایا۔ عربی معاشرے میں کسی کو رشتہ دینا ، ایک بڑا احساس مسئلہ تھا۔ اس معاملے میں جہاں لڑی کی جاتی تھی ، ان لوگوں کے لئے سخت معیار تھا ، آپ نے اپنی پھوپھی زاد زینب بنت جحش اسدیہ کو اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے نکاح میں دلوایا تاکہ ان جاہلی قدروں پر ضرب لگائی جاسکے۔ اس سے قبل جب آپ کے مدینہ میں مواخات کا نظام قائم کیا تو اپنے چچا حمزہ کا بھائی اپنے اسی آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو بنادیا۔ اور حضرت بلال ابن رباح کو حضرت خالد ابن رویحہ الخثعمی کا بھائی بنادیا۔ حضرت زید کو غزوہ موتہ میں امیر بنایا۔ یہ اس غزوہ کے پہلے امیر تھے۔ اس کے بعد جعفر ابن ابوطالب کا نمبر تھا ، پھر عبداللہ ابن رواحہ انصاری کا۔ اس لشکر میں تین ہزار انصار اور مہاجرین تھے جن میں خالد ابن ولید بھی تھے۔ اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے حضور ﷺ خود نکلے۔ اس جنگ میں یہ تینوں شہید ہوگئے تھے۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ اور آپ کے آخری احکامات میں سے یہ حکم تھا کہ آپ نے حضرت اسامہ ابن زید کو رومیوں کے ساتھ جنگ کے لئے کمانڈر مقرر کیا۔ اس لشکر میں بیشمار انصار اور مہاجرین شامل تھے۔ ان میں حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمر ؓ جیسے لوگ بھی تھے جو آپ کے ساتھی اور وزیرومشیر تھے اور جو آپ کے بعد خلیفہ تھے۔ نیز حضرت سعد ابن وقاص بھی تھے جو آپ کے قریبی بھی تھے اور قریش میں سے قدیم الاسلام تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت اسامہ کی امارت پر تعجب کا اظہار بھی کیا ، کیونکہ وہ بالکل کم عمر نوجوان تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں ، ” حضور ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس پر اسامہ ابن زید کو امیر مقرر فرمایا ، بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو آپ نے کہا اگر تم اسامہ ابن زید کی امارت میں طعن کرتے ہو تو تم نے اس سے قبل ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا ، خدا کی قسم ! وہ امارت کے اہل تھا اور مجھے سب لوگوں میں نہایت محبوب تھا اور یہ بھی مجھے تمام لوگوں سے محبوب ہے “۔ (شیخین اور ترمذی) اور جب سلمان فارسی ؓ کے بارے میں بعض لوگوں نے نازیبا الفاظ کہے اور عربی اور فارسی کے حوالے سے بات کی۔ اور ان باتوں سے محدود عربی قومیت کی بو آتی تھی ، تو حضور اکرم ﷺ نے اس تصور پر بھی ایک فیصلہ کن ضرب لگائی اور فرمایا : ” سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے “۔ اور حضرت مسلمانوں کو آسمانی قدروں نے تمام گری ہوئی دنیاوی قدروں سے آگے بڑھا دیا اور وہ ایک لمحے میں آفاق سے بھی آگے بڑھ گئے اور محدود قومیت کی لکیریں مٹا دی گئیں جو عربوں کے نزدیک بہت اہم تھیں اور سلمان کو اہل بیت کا فرد قرار دیا (طبرانی وحاکم) ۔ جب حضرت ابوذر غفاری ؓ اور حضرت بلال ؓ کے درمیان تکرار ہوگئی اور حضرت ابوذر ؓ کی زبان سے یہ لفظ نکل گیا ” اے سیاہ فام عورت کے لڑکے “ تو اس پر حضور اکرم ﷺ شدیدطور پر غضب ناک ہوگئے اور اس بات کو حضرت ابوذر ؓ کے منہ پر مار دیا اور فرمایا : ” ابوذر پیمانے کو درست رکھو ، اسلام میں سفید عورت کے بیٹے کو سیاہ عورت کے بیٹے کے اوپر کوئی فضیلت نہیں ہے “۔ چناچہ آپ نے بات کو نہایت ہی ابتدائی جڑوں سے علیحدہ کردیا۔ اسلام ، اسلام ہے اور آسمانی قدروں پر مشتمل ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اس کی قدریں زمینی ہیں۔ (ابن مبارک) حضرت ابوذر ؓ کے حساس دل پر حضور اکرم ﷺ کی اس بات کا سخت اثر ہوا ، انہوں نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی اور قسم اٹھائی کہ وہ اس وقت تک اپنی پیشانی کو اوپر نہ اٹھائیں گے جب تک بلال ؓ اسے روند نہ ڈالیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک اس بری بات کا کفارہ یہی ہے۔ جس ترازو کے مطابق حضرت بلال ؓ کو اس قدروزن حاصل ہوا تھا ، وہ آسمانی ترازو تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بلال “ مجھے بتاﺅ کہ تم نے کون سا ایسا عمل کیا ہے جس پر تمہیں خدا کے ہاں بہت زیادہ اجر کی توقع ہے ؟ “ اس لئے کہ میں نے معراج کی رات ، جنت میں تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے “۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اسلام لانے کے بعد میں نے جب بھی مکمل پاکی اختیار کی ہے (وضو ، غسل) رات کو یا دن کو تو میں نے اس کے بعد نماز پڑھی ہے ، جس قدر اللہ نے میرے لئے مقدر کیے تھے ، بس وہ بات ہے جس سے میں امید کرتا ہوں کہ مجھے زیادہ ثواب ملے گا۔ (شیخین) حضور اکرم ﷺ عمار ابن یاسر کے بارے میں فرمایا کرتے تھے ، جب بھی انہوں نے حضور ﷺ سے ملاقات کی اجازت چاہی ، ” اسے اجازت دو ، یہ پاک اور پاکباز ہے “۔ (نسائی) اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا :” عمار سر سے پاﺅں تک ایمان سے پر ہے “۔ اور حضرت حذیفہ ؓ کے بارے میں فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں تمہارے اندر اب کتنا عرصہ رہوں گا ، لہٰذا ان دونوں کی پیروی کرو “۔ (حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی طرف اشارہ کیا) اور عمار کے طریقے پر چلو اور تمہیں جو بات ابن مسعود نے بتائی ، اس کی تصدیق کرنا “۔ (ترمذی) حضرت ابن مسعود کی حالت تو یہ تھی کہ جو لوگ مدینہ کے رہنے والے نہ تھے ، وہ آتے تو حضرت ابن مسعود کو نبی ﷺ کے گھرانے کا آدمی سمجھتے .... کیونکہ یہ اکثر آتے جاتے تھے اور بروقت حضور ﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔ (شیخین وترمذی) ایک آزاد کردہ غلام جلسیب ؓ تھے ، ان کے لئے حضور ﷺ خود ہی رشتہ تلاش فرماتے تھے۔ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ انصار میں سے کوئی عورت ان کے لئے مل جائے۔ ایک لڑکی کے بارے میں حضور ﷺ نے پیغام دیا ، اس کے والدین نے انکار کردیا تو اس لڑکی نے کہا ، کیا تم رسول اللہ ﷺ کی بات کو رد کررہے ہو ؟ اگر رسول اللہ ﷺ اس پر راضی ہیں تو مجھے اس شخص کے نکاح میں دے دو ۔ اس پر والدین راضی ہوگئے اور انہوں نے وہ لڑکی اسے نکاح کرکے دے دی۔ (احمد) یہ شخص اپنی اس شادی کے بعد جلدی پیش آنے والی کسی جنگ میں گم ہوگئے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک غزوہ میں شریک ہوئے۔ اللہ نے آپ کو فتح دی اور مال غنیمت بھی ملا۔ جنگ کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں فلاں فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں ، فلاں ، فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ کوئی اور شخص گم پارے ہو تو انہوں نے کہا نہیں اور تو کوئی گم نہیں ہے تو آپ نے فرمایا ہاں میں جلیسیب کو گم پاتا ہوں۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا ، یہ سات مقتولین کفار کے پاس پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان سات کو قتل کردیا تھا ، جس کے بعد انہوں نے اسے شہید کردیا تھا۔ آپ ان کی لاش کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا اس نے سات قتل کردیا۔ بعد میں انہوں نے اسے شہید کردیا۔ یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں بازوﺅں میں انہیں اٹھایا۔ حضور ﷺ کے بازوﺅں کے سوا ان کے لئے کوئی چارپائی نہ تھی۔ ان کے لئے قبر کھودی گئی اور انہیں قبر میں رکھ دیا گیا۔ راوی بےغسل کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم) اللہ کی ان ہدایات کے ذریعہ سے اور نبی ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کی وجہ سے ، انسانیت کو ایک نیا جنم ملا۔ اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں حسن وقبح کے اصول آسمان سے لئے جاتے تھے۔ یہ معاشرہ اسی زمین پر ہوتے ہوئے بھی زمین کی گری پڑی اقدار سے آزاد تھا۔ یہ تھا اسلام کا عظیم معجزہ۔ یہ ایک عظیم معجزہ تھا اور کوئی معجزہ خدا اور رسول ﷺ کے احکام کے بغیر صادر نہیں ہوسکتا۔ اس معجزے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ دین اللہ کا دین تھا اور جس ذات بابرکات نے یہ دین پیش کیا وہ اللہ کا رسول ﷺ تھا۔ اور اللہ کی ایک خاص تدبیر تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے پہلے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس کے والی اور خلیفہ المسلمین بنے۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے ساتھی حضرت عمر ؓ اس دین کے سربراہ بنے۔ یہ دوسرے خلیفہ دونوں میں سے اس نظام کو زیادہ سمجھنے والے تھے ، یہ زیادہ حضور اکرم ﷺ کی سنت پرچلنے والے تھے اور رسول سے محبت کرنے والے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت اور اطاعت کے میدان میں ان کے نقش قدم پرچلنے والے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت اسامہ کے بارے میں حضور ﷺ کے اصرار کو سمجھ لیا تھا۔ اس لئے انہوں نے منصب امارت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے یہی کام کیا۔ یہ لشکر حضور اکرم ﷺ نے تیار کیا تھا اور حضرت ابوبکر ؓ نے مدینہ کے باہر خود اسے الوداع کہا۔ اسامہ سوار تھے اور حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ المسلمین ان کی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ حضرت بسامہ کو حیا آگئی کہ وہ سوار ہوں اور بوڑھے خلیفہ پیدل ساتھ ساتھ جارہے ہوں۔ انہوں نے کہا : ” خلیفة المسلمین ، یا تو آپ سوار ہوں یا میں اترتا ہوں “۔ خلیفتہ المسلمین قسم اٹھاتے ہیں ” خدا کی قسم تم نہ اترو گے اور خدا کی قسم میں سوار بھی نہ ہوں گا ، کیا ہوجائے گا اگر میرے پاﺅں بھی اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں “۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے سوچا کہ آپ کو حضرت عمر ؓ کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کے کاندھوں پر خلافت کا بوجھ پڑچکا ہے لیکن عمر تو جیش اسامہ کے ایک سپاہی ہیں۔ اسامہ امیر ہیں۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ اسامہ سے اجازت طلب کی جائے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں ” اگر تم عمر ؓ کو ترک کرکے میری مدد کرسکتے ہو تو مناسب ہوگا “۔ ذرا الفاظ کو دیکھو ” اگر تم مناسب سمجھو تو حضرت عمر ؓ کو چھوڑ کر میری مدد کرو “۔ یہ ہیں وہ بلندیاں جن تک اسلام نے انسانوں کو پہنچا دیا۔ یہ معجزہ صرف اللہ کی مرضی سے ہوسکتا ہے اور ایک رسول ہی اسے سرانجام دے سکتے ہیں۔ زمانے کا پہیہ گھومتا ہے اور ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ خلیفہ ہیں اور وہ حضرت عمار ابن یاسر کو کوفہ کا حاکم مقرر کرتے ہیں۔ ایک وقت یوں بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے دفتر کے سامنے سہیل ابن عمرو ابن الحارث ابن ہشام اور ابو سفیان کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ قریش کے سرداروں کی ایک جماعت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور علماء کہلائے۔ حضرت عمر ؓ ان سے پہلے صہیب اور بلال کو اندر بلاتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ اسلام کے سابقون الاولون اور اہل بدر میں سے تھے۔ ابوسفیان کے نتھنے مارے غصے کے پھول جاتے ہیں اور سخت جذباتی انداز میں کہتے ہیں ” میں اپنی پوری زندگی میں ایسا دن نہیں دیکھا کہ ان غلاموں کو تو اندر بلایا جاتا ہے اور ہم دروازے پر چھوڑے جاتے ہیں “۔ اس کے ساتھی جنہوں نے حقیقت اسلام کو سمجھ لیا تھا اور ان کے شعور پر اسلام چھا گیا تھا ، ان سے کہا ” اے قوم تمہارے چہروں پر جو آثار نمودار ہیں ، میں دیکھ رہا ہوں۔ اگر تمہیں غصہ آرہا ہے تو یہ غصہ اپنے نفس سے اتارو ، ان لوگوں کو بھی اسلام کی طرف بلایا گیا اور تمہیں بھی بلایا گیا۔ انہوں نے فوراً لبیک کہا اور تم نے دیر لگادی۔ تم ذرا اس وقت کا خیال کرو کہ قیامت میں ان کو بلایا جائے اور تم وہاں بھی کھڑے کے کھڑے رہو (اسلام کا اجتماعی عدل) حضرت عمر ؓ اسامہ ابن زید کے لئے عبداللہ ابن عمر سے زیادہ الاوئنس مقرر فرماتے ہیں۔ حضرت عبداللہ اس کا راز پوچھتے ہیں حضرت عمر ؓ جواب دیتے ہیں ” بیٹے ، زید رسول اللہ ﷺ کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں تم سے زیادہ محبوب تھے۔ اس لئے میں نے رسول اللہ کی محبت کو اپنی محبت پر ترجیح دے دی “۔ حضرت عمر ؓ کو معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت آسمانی پیمانوں سے ناپی جاتی ہے۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت عمار ؓ ابن یاسر کو بھیجتے ہیں کہ وہ اسلام کے عظیم کمانڈر ، فاتح اور اعلیٰ خاندان کے فرد حضرت خالد بن ولید کے خلاف بعض شکایات کی تفتیش کریں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمار ؓ نے ان کو ان کی چادر سے باندھا اور بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کو خود ان کے عمامے سے باندھا گیا۔ یہاں تک کہ تفتیش ختم ہوگئی اور اس کے نتیجے وہ بےگناہ ثابت ہوگئے۔ اس کے بعد وہ انہیں کھولتے ہیں اور خوداپنے ہاتھ سے ان کے سر پر عمامہ باندھتے ہیں اور حضرت خالد ؓ کو اس پر کوئی غصہ نہیں آتا۔ اس لئے کہ حضرت عمار ؓ حضور اکرم ﷺ کے ساتھی ہیں اور ان سے پہلے اسلام لانے والے ہیں اور ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ ان کو معلوم تھا۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابوبکر ؓ کے بارے میں فرماتے تھے۔ یہ ہمارے سردار ہیں جنہوں نے ہمارے دوسرے سردار کو غلامی سے آزاد کرایا یعنی حضرت بلال کو جو امیہ ابن خلف کے مملوک تھے اور امیہ انہیں سخت اذیت دیتا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں خریدا اور آزاد کردیا۔ ان کے بارے میں حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بلال ؓ ہمارے سردار ہیں۔ یہ حضرت عمر ؓ ہی تھے کہ انہوں نے فرمایا اگر ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم موجود ہوتے تو میں انہیں خلیفہ بنا دیتا۔ حضرت عمر ؓ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ اور حضرت زبیر ؓ جیسے لوگوں کو بھی خلیفہ نہ بنایا۔ بلکہ چھ آدمیوں کی شوریٰ مقرر کی کہ ان میں سے کسی ایک کو مقرر کیا جائے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت عمار ؓ اور حسن ابن علی کو اہل کوفہ کی طرف بھیجتے ہیں۔ وہ ان سے درخواست کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ ان کا جو نزاع ہوگیا ہے اس میں وہ ان کا ساتھ دیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ” مجھے اچھی طرح علم ہے کہ حضرت عائشہ ؓ تمہارے نبی ﷺ کی بیوی ہیں ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، لیکن اللہ نے تمہیں اس امتحان میں ڈال دیا ہے کہ تم میری اطاعت کرتے ہو یا ان کی “۔ (بخاری) اس طرح حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ حضرت بلال ؓ یمن کے گورنر تھے۔ ابورویحہ خشعمی یمن کے ایک قبیلے میں شادی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کی سفارش کریں۔ حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں میں بلال ابن رباح ہوں اور یہ میرے بھائی ابو ردیحہ ہیں۔ یہ ایک ایسا شخص ہے کہ نہ اس کے اخلاق اچھے ہیں اور نہ یہ زیادہ دیندار ہے۔ تم چاہو تو اپنی لڑکی ان کے عقد میں دے دو اور نہ چاہو تو نہ دو “۔ حضرت بلال ؓ انہیں دھوکہ نہیں دیتے اور نہ اس کے معاملے میں کوئی بات چھپاتے ہیں ، اور نہ وہ اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ میں سفارشی ہوں۔ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہیں گے اللہ کے ہاں جوابدہ ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کس قدر شچے ہیں اور وہ یہ رشتہ دے دیتے ہیں۔ بس وہ یہ بات کافی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک صاحب نسب عرب ہیں اور ان کی سچی سفارش حضرت بلال ؓ حبشی کررہے ہیں۔ غرض یہ عظیم حقیقت اسلامی معاشرے میں عملاً قائم ہوگئی اور اس کے بعد ایک طویل زمانے تک قائم رہی۔ باوجود اس کے بعد کے زمانوں میں مسلمانوں کے اندر زوال اور تنزل کے بیشمار عوامل پیدا ہوگئے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے آزادذ کردہ غلام عکرمہ کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ جب عبداللہ ابن عمر کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے غلام نافع کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ انس ابن مالک کے ساتھ ابن سیرین کا ذکر ہوتا ہے ، اور ابوہریرہ کے ساتھ ان کے غلام عبدالرحمن ابن ہرمز کا ذکر ہوتا ہے ، بصرہ میں حسن بصری ، مکہ میں مجاہد ، عطا ابن ابی رباح اور طاﺅس ابن کیسان جیسے لوگ مشہور فقہاء تھے۔ عمر ابن عبدالعزیز کے زمانے میں ، مصر میں یزید ابن ابی حبیب مفتی اعظم مقرر ہوئے۔ یہ علقمہ کے سیاہ فام آزاد کردہ غلام تھے۔ یہ تھیں آسمانی اور اسلامی قدریں جنہوں نے انسانیت کو تقویٰ کی بنیاد پر اس قدر بلند کردیا ، اگرچہ دنیا کے اندر مقبول ترین اقدار میں سے کوئی خصوصیت ان کے اندر نہ تھی۔ نہ اپنی ذات کے اعتبار سے اور نہ ان کے ماحول کے اعتبار سے۔ یہ میزان اور یہ پیمانے دنیا میں ماضی قریب تک قائم رہے۔ ماضی قریب میں پوری دنیا پر دوبارہ جاہلیت چھاگئی۔ دنیا کا ایک حصہ امریکی جاہلیت کے زیر اثر آگیا جس میں انسانوں کی قیمت ڈالر کی شکل میں متعین ہونے لگی اور نصف مشرقی دنیا کی قیادت روسی جاہلیت کو حاصل ہوگئی اور اس میں انسان کی وقعت ایک پیداواری مشین کے سوا کچھ نہ تھی۔ رہی اسلامی دنیا تو اس پر وہی جداہلیت عربی قومیت کی جاہلیت چھاگبی جس کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کے لئے اسلام دنیا میں آیا تھا اور عملاً اسلام نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا تھا۔ آج عالم اسلام سے اس اعلیٰ معیار اور اعلیٰ قدر کو مٹا دیا گیا ہے اور عالم اسلام ایک ایسی جاہلیت کی تاریکیوں میں ڈوب گیا ہے ، جس کے اندر ایمان اور تقویٰ اعلیٰ قدر ہی نہیں ہے۔ ہاں عالم اسلام میں دعوت اسلامی اور احیاء اسلام کی تحریک جاری ہے۔ صرف اس تحریک پر امید ہے کہ یہ پوری دنیا کو جاہلیت سے نکال کر از سر نو آسمانی قدریں عطا کرے گی اور شاید ایک بار پھر انسانیت ایک نیا جنم لے جیسا کہ انسانیت کو آغاز اسلام کے دور میں نصیب ہوا۔ جس کی ایک جھلک اس سورت کی ابتدائی آیات میں دکھائی گئی ہے۔ یہ چند آیات ہیں لیکن نہایت ہی اہم اور سنگ میل اور فیصلہ کن ہیں۔ ایک مخصوص واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے سورت کے پہلے حصے میں اس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ، اس دوسرے حصے میں ، اس انسان کے رویہ پر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا ہے جو ایسے حقائق اور ایمان اور تقویٰ کی اس دعوت سے منہ موڑتا ہے ، اور دعوت اسلامی سے اپنے آپ کو برتر اور بالا سمجھتا ہے۔ یہ انسان اپنے اصل اور اپنی تخلیق کے حالات پر اگر غور کرتا تو ہرگز اعراض نہ کرتا۔ انسان یہ نہیں دیکھتا کہ اس پر اللہ کی کیا کیا عنایات ہیں۔ اس کی زندگی قدم قدم پر اللہ کے کنٹرول میں ہے ، دنیا اور آخرت میں یہ انسان دراصل ہر مرحلہ حیات میں اللہ کے اختیار میں ہے ، لیکن یہ اپنے خالق ، اپنے کفیل اور اپنے محاسب کے حقوق ادا نہیں کرتا اور نہ اس سے ڈرتا ہے۔

عبس 80:13

انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے ہوں۔ یہ تو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اس کی برتری اور اس کی پاکیزگی کے قائل ہیں اور جو اس سے پاکیزگی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے معیار ، اللہ کا مقرر کردہ معیار۔ اسی میزان کے مطابق میں ہمیں لوگوں کے اور اپنے اعمال اور اپنی حیشایت کو وزن کرنا ہوگا۔ یہ اللہ کا حکم ہے ، اللہ کا کلام ہے۔ اور اس کے مقابلے میں کسی بات کا کوئی وزن ہی نہیں رہتا ، ہر فعل اور ہر حکم اس سے فروتر ہے۔ یہ حکم کہاں دیا گیا اور یہ واقعہ کہاں پیش آیا ؟ مکہ میں ، جبکہ دعوت اسلامی کا ہر طرف سے پیچھا کیا جارہا تھا ، مسلمان بہت ہی کم تعداد میں تھے۔ اور نبی ﷺ ان بااثر لوگوں کی طرف کسی ذاتی مقصد کے لئے بھی متوجہ نہ تھے۔ اور اس اندھے سے لاپروائی کسی ذاتی غرض کے لئے نہ تھی۔ حضور کے پیش نظر بھی صرف اور صرف دعوت اسلامی کا مفاد تھا لیکن اس دعوت کا ترازو یہ تھا۔ اس کی قدریں دوسری تھیں اس نے تو لوگوں کے لئے قدروں کا تعین کرنا تھا ، روایات کی تخلیق کرنی تھی ۔ یہ دعوت تب ہی کامیاب ، باوقار اور مضبوط ہوسکتی جب وہ ایسے پیمانے قائم کردیتی۔ یہ فقط ایک انفرادی واقعہ نہ تھا ، یہ ایک عظیم اصول تھا۔ نہ ایک معمولی اخلاقی برتاﺅ کا معاملہ تھا ، معاملہ یہ تھا کہ ایک اصولی اور دستوری مسئلہ درپیش تھا کہ لوگ نیک وبد کے پیمانے کہاں سے اخذ کریں۔ کیا زمین کے رسم و رواج سے یا آسمانی ہدایات سے ، زمینی اور عوامی زاویوں سے یا بارگاہ رب العزت سے ، جہاں سے یہ اصول وضع ہوا ہے۔ ان اکرمکم ................ انفسکم ” تم میں سے اللہ کے نزدیک معززوہ ہے جو تم میں سے متقی ہے “۔ اس دعوت اور اس تحریک میں وہی قابل لحاظ ہے جو اللہ کے نزدیک قابل لحاظ ہے۔ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے وہ ان عناصر سے محروم ہو جو لوگوں کے نزدیک وزن دار ہیں۔ جن مناظر کا لوگوں پر دباﺅ ہے اور جن کو دنیا والوں کے نزدیک اہم سمجھا جاتا ہے ، مثلاً نسب وحسب ، افرادی اور مالی قوت ، اور دوسری قابل لحاظ باتیں۔ اگر یہ چیزیں ایمان سے خالی ہوں اور ان کے ساتھ تقویٰ کا رنگ نہ ہو ، تو اس دعوت میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اس تحریک کے زاویہ سے اہم بات اور سب سے مقدم بات یہ ہے کہ ایک شخص اپنے حالات ایمان اور تقویٰ کے اعتبار سے درست کام کرے۔ اس واقعہ ، انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ اس عظیم حقیقت اور اس عظیم اصول کو ذہن نشین کرانا چاہتا تھا اور قرآنی انداز اصلاح اور تربیت کے عین مطابق ، جس میں ایک انفرادی واقعہ سے ایک عظیم اصول نکال کر لوگوں کے ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ یہ اصول پھر دستوری قاعدہ بن جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ان ہدایات اور اس عتاب سے بےحد متاثر ہوئی۔ آپ نے نہایت جوش و خروش سے ان ہدایات کو قبول کیا اور ان پر عمل کرکے اس اصول اور دستور کو اسلامی معاشرے میں نافذ کیا۔ اس نئی جماعت کی عمارت اس اصول پر استوار ہوئی کہ یہ اسلامی معاشرے کی خشت اول تھی۔ آپ کا پہلا فرض یہ قرار پایا کہ آپ اس واقعہ کو قرآن کی ایک سورت کے طور پر خود بیان کریں۔ یہ ایک عظیم بات تھی۔ یہ خدا کا رسول ہی کرسکتا تھا۔ جس پہلو سے بھی ہم اس پر غور کریں۔ انسان اپنی کمزوریوں کو چھپاتا ہے۔ یہ رسول خدا ہی تھے جنہوں نے اس عتاب الٰہی کا برملا اعلان فرمایا اور یہ اعلان بھی اس منفرد انداز میں فرمایا۔ اگر نبی کے سوا کوئی اور لیڈر ہوتا تو وہ اپنی غلطی کا احساس کرلیتا ، آئندہ احتیاط کرتا ، لیکن اللہ کے نبی کا مقام تو کچھ اور ہوتا ہے۔ منصب نبوت کے آفاق تو کچھ اور ہوتے ہیں ، بہت بلند اور بہت دور رس۔ یہ نبی ہی تھا جو نہایت ہی مشکل اور نازک حالات میں ، قریش کے ایک بااثر اور مقدر لوگوں کے سامنے اس اصول کا اعلان کردیں۔ جبکہ اس نئی دعوت کے مقابلے میں یہ بااثر لوگ اپنے مالی افرادی اور خاندانی عزت وجاہ کے سب وسائل لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ایک ایسے معاشرے میں جس میں حسب ونسب اور عزت وجاہ کے سوا کوئی اور قدر رائج نہ تھی ، اس میں بات صرف یہ ہوتی تھی۔ محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ، ابن ہاشم اور لوگ کہتے تھے۔ لولا انزل ................................ عظیم ” یہ قرآن دو گاﺅں کے کسی عظیم شخص پر کیوں نہیں اترا “۔ حضور ﷺ تو ان کے اندر صاحب نسب تھے ، لیکن رئیس نہ تھے اور وہ تو صرف جاہ واقتدار کے پجاری تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاشرے میں ایک نبی اور وحی الٰہی ہی اس قسم کا عظیم انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ زمین پر رہنے والا کوئی شخص اور دنیاوی ذہن سے سوچنے والا کوئی فرد ایسا انقلابی اقدام نہیں کرسکتا اور خصوصاً ایسے حالات اور ایسے وقت میں جن میں حضور اکرم ﷺ دعوت اسلامی کا کام کررہے تھے۔ یہ آسمانی قوت اور آسمانی ہدایت ہی تھی جس نے اس معاملے کو اس انداز پر چلایا ، یہ اصول نبی ﷺ کی ذات کے ذریعہ ان مشکل حالات میں نافذ کیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے اسے نافذ کیا ، نہایت جوش و خروش ، نہایت قوت اور مضبوطی کے ساتھ اس دستور کو اس نئی سوسائٹی کی بنیادوں کے اندر رکھ دیا اور یہ امت مسلمہ کی زندگی میں ایک طویل عرصہ تک قائم ودائم رہا۔ یہ دراصل انسانیت کے لئے ایک دوسرا جنم تھا۔ جس طرح ایک انسان فطرتاً پیدا ہوتا ہے ، بلکہ انسانیت کا یہ جنم دراصل زیادہ قیمتی تھا۔ اس طرح کہ انسانی سوسائٹی ، کسی سرزمین میں متعارف جاری وساری قدروں کو خیر باد کہہ دے اور ایسی قدروں کو اپنا لے جو بالکل نئی ہوں۔ آسمانوں سے نازل شدہ ہوں۔ نئے تصورات ، نئے نظریات آجائیں ، ان تصورات ، نظریات ، حالات اور عملی روابط اور رسم و رواج کو اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور لوگ ان سابقہ تصورات اور روابط کے دباﺅ سے یکلخت آزاد ہوجائیں اور ان کے اندر جدید تصورات اور جدید قدریں رچ بس جائیں۔ وہ ان کو خوب سمجھ لیں۔ سب کے سب ان کو تسلیم کریں۔ اور یہ عظیم انقلاب برپا ہوجائے۔ یہ جدید قدریں مسلم سوسائٹی کے ضمیر میں نمایاں ہوں۔ اس کے قوانین میں واضح ہوں ، تو فی الواقعہ یہ انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ یہ عظیم انقلاب تھا جس کے برپا کرنے کے لئے ذات محمدی کو بھی تنبیہہ اور ہدایت کی ضرورت پیش آئی اور یہ انقلاب ابتدائی دور کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک طویل عرصے تک نمایاں رہا۔ ہم جدید دور کے لوگ دراصل اس عظیم انقلاب اور انسانیت کے اس جدید جنم کو کماحقہ سمجھ نہیں پا رہے ، اس لئے کہ ہمنے اس دنیا اور اس زمین کی قدروں ، زمین کے روابط اور اس دنیا کی حیشلیت اور نظریات کو ترک کرکے اپنے آپ کو اسلام کے مطابق نہیں ڈھالا۔ ہم پر مادیت اور مادی قدروں اور دنیاوی تصورات کا اس قدر غلبہ ہے کہ ہمارے دور کے بعض جاہل جو تاریخ کا مادی فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ یہ سمجھنے لگے ہیں ، کہ عقائد و تصورات اور اعلیٰ قدریں اور علوم وفنون دراصل مادی حالات اور مادی اور معاشی قدروں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح تمام رسوم ورواجات اور اصول وقوانین جو اصل معاشی قدروں کی پیداوار ہوتے ہیں ، یہ لوگ بےحد جاہل ہیں اور یہ نفس انسانی کے نشیب و فراز سے بالکل ناواقف ہیں۔ بہرحال اسلام نے جو انقلاب رونما کیا وہ ایک معجزہ تھا اور انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ انسانیت کے اس نئے جنم کے بعد اور اس عظیم انقلاب کے بعد ، دنیا کی فضا پر یہ قدریں حاوی رہیں ، لیکن ایک عربی معاشرے میں ان کا حاوی ہونا اس قدر آسان نہ تھا ، نہ مسلمانوں کے نفوس پر ان کا حاوی ہونا کوئی سہل الحصول ٹارگٹ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اپنے ذاتی کمالات ، پھر ارادہ الٰہی ، پھر خدا کی طرف سے ہدایات وتصرفات اور پھر قرآن کریم کی ہدایات پر گرم جوشی سے عمل پیرا ہونے کے شوق کی وجہ سے ، ان عظیم اصولوں اور قدروں کو لوگوں کے شعور اور ضمیر میں بٹھایا ، ایک پودے کی طرح ان کے دلوں میں یہ نئی اخلاقیات اور قدریں کاشت کی گئیں ، پھر ان کی سخت نگہداشت کی گئی تاکہ ان کی جڑیں مضبوط ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی پر صدیاں گزر گئیں لیکن یہ قدریں اپنی جگہ جمی ہوئی ہیں حالن کہ ان صدیوں میں باد مخالف کے بڑے بڑے طوفان گزر گئے اور بیشمار عوامل ان قدروں کے خلاف کام کرتے رہے۔ اس واقعہ کے بعد حضور اکرم ﷺ کی جب بھی ابن ام مکتوم کی ملاقات ہوئی ، آپ ان کو ان کلمات کے ساتھ خوش آمدید کہتے۔” آئیے صاحب تمہاری وجہ سے مجھے اللہ جل شانہ نے سختی سے ٹوکا “۔ حضور اکرم ﷺ نے اس اندھے فقیر کو دو بار اپنی زندگی میں مدینے کا گورنر بنایا۔ عربی معاشرے میں کسی کو رشتہ دینا ، ایک بڑا احساس مسئلہ تھا۔ اس معاملے میں جہاں لڑی کی جاتی تھی ، ان لوگوں کے لئے سخت معیار تھا ، آپ نے اپنی پھوپھی زاد زینب بنت جحش اسدیہ کو اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے نکاح میں دلوایا تاکہ ان جاہلی قدروں پر ضرب لگائی جاسکے۔ اس سے قبل جب آپ کے مدینہ میں مواخات کا نظام قائم کیا تو اپنے چچا حمزہ کا بھائی اپنے اسی آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو بنادیا۔ اور حضرت بلال ابن رباح کو حضرت خالد ابن رویحہ الخثعمی کا بھائی بنادیا۔ حضرت زید کو غزوہ موتہ میں امیر بنایا۔ یہ اس غزوہ کے پہلے امیر تھے۔ اس کے بعد جعفر ابن ابوطالب کا نمبر تھا ، پھر عبداللہ ابن رواحہ انصاری کا۔ اس لشکر میں تین ہزار انصار اور مہاجرین تھے جن میں خالد ابن ولید بھی تھے۔ اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے حضور ﷺ خود نکلے۔ اس جنگ میں یہ تینوں شہید ہوگئے تھے۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ اور آپ کے آخری احکامات میں سے یہ حکم تھا کہ آپ نے حضرت اسامہ ابن زید کو رومیوں کے ساتھ جنگ کے لئے کمانڈر مقرر کیا۔ اس لشکر میں بیشمار انصار اور مہاجرین شامل تھے۔ ان میں حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمر ؓ جیسے لوگ بھی تھے جو آپ کے ساتھی اور وزیرومشیر تھے اور جو آپ کے بعد خلیفہ تھے۔ نیز حضرت سعد ابن وقاص بھی تھے جو آپ کے قریبی بھی تھے اور قریش میں سے قدیم الاسلام تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت اسامہ کی امارت پر تعجب کا اظہار بھی کیا ، کیونکہ وہ بالکل کم عمر نوجوان تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں ، ” حضور ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس پر اسامہ ابن زید کو امیر مقرر فرمایا ، بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو آپ نے کہا اگر تم اسامہ ابن زید کی امارت میں طعن کرتے ہو تو تم نے اس سے قبل ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا ، خدا کی قسم ! وہ امارت کے اہل تھا اور مجھے سب لوگوں میں نہایت محبوب تھا اور یہ بھی مجھے تمام لوگوں سے محبوب ہے “۔ (شیخین اور ترمذی) اور جب سلمان فارسی ؓ کے بارے میں بعض لوگوں نے نازیبا الفاظ کہے اور عربی اور فارسی کے حوالے سے بات کی۔ اور ان باتوں سے محدود عربی قومیت کی بو آتی تھی ، تو حضور اکرم ﷺ نے اس تصور پر بھی ایک فیصلہ کن ضرب لگائی اور فرمایا : ” سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے “۔ اور حضرت مسلمانوں کو آسمانی قدروں نے تمام گری ہوئی دنیاوی قدروں سے آگے بڑھا دیا اور وہ ایک لمحے میں آفاق سے بھی آگے بڑھ گئے اور محدود قومیت کی لکیریں مٹا دی گئیں جو عربوں کے نزدیک بہت اہم تھیں اور سلمان کو اہل بیت کا فرد قرار دیا (طبرانی وحاکم) ۔ جب حضرت ابوذر غفاری ؓ اور حضرت بلال ؓ کے درمیان تکرار ہوگئی اور حضرت ابوذر ؓ کی زبان سے یہ لفظ نکل گیا ” اے سیاہ فام عورت کے لڑکے “ تو اس پر حضور اکرم ﷺ شدیدطور پر غضب ناک ہوگئے اور اس بات کو حضرت ابوذر ؓ کے منہ پر مار دیا اور فرمایا : ” ابوذر پیمانے کو درست رکھو ، اسلام میں سفید عورت کے بیٹے کو سیاہ عورت کے بیٹے کے اوپر کوئی فضیلت نہیں ہے “۔ چناچہ آپ نے بات کو نہایت ہی ابتدائی جڑوں سے علیحدہ کردیا۔ اسلام ، اسلام ہے اور آسمانی قدروں پر مشتمل ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اس کی قدریں زمینی ہیں۔ (ابن مبارک) حضرت ابوذر ؓ کے حساس دل پر حضور اکرم ﷺ کی اس بات کا سخت اثر ہوا ، انہوں نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی اور قسم اٹھائی کہ وہ اس وقت تک اپنی پیشانی کو اوپر نہ اٹھائیں گے جب تک بلال ؓ اسے روند نہ ڈالیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک اس بری بات کا کفارہ یہی ہے۔ جس ترازو کے مطابق حضرت بلال ؓ کو اس قدروزن حاصل ہوا تھا ، وہ آسمانی ترازو تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بلال “ مجھے بتاﺅ کہ تم نے کون سا ایسا عمل کیا ہے جس پر تمہیں خدا کے ہاں بہت زیادہ اجر کی توقع ہے ؟ “ اس لئے کہ میں نے معراج کی رات ، جنت میں تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے “۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اسلام لانے کے بعد میں نے جب بھی مکمل پاکی اختیار کی ہے (وضو ، غسل) رات کو یا دن کو تو میں نے اس کے بعد نماز پڑھی ہے ، جس قدر اللہ نے میرے لئے مقدر کیے تھے ، بس وہ بات ہے جس سے میں امید کرتا ہوں کہ مجھے زیادہ ثواب ملے گا۔ (شیخین) حضور اکرم ﷺ عمار ابن یاسر کے بارے میں فرمایا کرتے تھے ، جب بھی انہوں نے حضور ﷺ سے ملاقات کی اجازت چاہی ، ” اسے اجازت دو ، یہ پاک اور پاکباز ہے “۔ (نسائی) اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا :” عمار سر سے پاﺅں تک ایمان سے پر ہے “۔ اور حضرت حذیفہ ؓ کے بارے میں فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں تمہارے اندر اب کتنا عرصہ رہوں گا ، لہٰذا ان دونوں کی پیروی کرو “۔ (حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی طرف اشارہ کیا) اور عمار کے طریقے پر چلو اور تمہیں جو بات ابن مسعود نے بتائی ، اس کی تصدیق کرنا “۔ (ترمذی) حضرت ابن مسعود کی حالت تو یہ تھی کہ جو لوگ مدینہ کے رہنے والے نہ تھے ، وہ آتے تو حضرت ابن مسعود کو نبی ﷺ کے گھرانے کا آدمی سمجھتے .... کیونکہ یہ اکثر آتے جاتے تھے اور بروقت حضور ﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔ (شیخین وترمذی) ایک آزاد کردہ غلام جلسیب ؓ تھے ، ان کے لئے حضور ﷺ خود ہی رشتہ تلاش فرماتے تھے۔ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ انصار میں سے کوئی عورت ان کے لئے مل جائے۔ ایک لڑکی کے بارے میں حضور ﷺ نے پیغام دیا ، اس کے والدین نے انکار کردیا تو اس لڑکی نے کہا ، کیا تم رسول اللہ ﷺ کی بات کو رد کررہے ہو ؟ اگر رسول اللہ ﷺ اس پر راضی ہیں تو مجھے اس شخص کے نکاح میں دے دو ۔ اس پر والدین راضی ہوگئے اور انہوں نے وہ لڑکی اسے نکاح کرکے دے دی۔ (احمد) یہ شخص اپنی اس شادی کے بعد جلدی پیش آنے والی کسی جنگ میں گم ہوگئے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک غزوہ میں شریک ہوئے۔ اللہ نے آپ کو فتح دی اور مال غنیمت بھی ملا۔ جنگ کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں فلاں فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں ، فلاں ، فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ کوئی اور شخص گم پارے ہو تو انہوں نے کہا نہیں اور تو کوئی گم نہیں ہے تو آپ نے فرمایا ہاں میں جلیسیب کو گم پاتا ہوں۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا ، یہ سات مقتولین کفار کے پاس پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان سات کو قتل کردیا تھا ، جس کے بعد انہوں نے اسے شہید کردیا تھا۔ آپ ان کی لاش کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا اس نے سات قتل کردیا۔ بعد میں انہوں نے اسے شہید کردیا۔ یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں بازوﺅں میں انہیں اٹھایا۔ حضور ﷺ کے بازوﺅں کے سوا ان کے لئے کوئی چارپائی نہ تھی۔ ان کے لئے قبر کھودی گئی اور انہیں قبر میں رکھ دیا گیا۔ راوی بےغسل کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم) اللہ کی ان ہدایات کے ذریعہ سے اور نبی ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کی وجہ سے ، انسانیت کو ایک نیا جنم ملا۔ اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں حسن وقبح کے اصول آسمان سے لئے جاتے تھے۔ یہ معاشرہ اسی زمین پر ہوتے ہوئے بھی زمین کی گری پڑی اقدار سے آزاد تھا۔ یہ تھا اسلام کا عظیم معجزہ۔ یہ ایک عظیم معجزہ تھا اور کوئی معجزہ خدا اور رسول ﷺ کے احکام کے بغیر صادر نہیں ہوسکتا۔ اس معجزے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ دین اللہ کا دین تھا اور جس ذات بابرکات نے یہ دین پیش کیا وہ اللہ کا رسول ﷺ تھا۔ اور اللہ کی ایک خاص تدبیر تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے پہلے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس کے والی اور خلیفہ المسلمین بنے۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے ساتھی حضرت عمر ؓ اس دین کے سربراہ بنے۔ یہ دوسرے خلیفہ دونوں میں سے اس نظام کو زیادہ سمجھنے والے تھے ، یہ زیادہ حضور اکرم ﷺ کی سنت پرچلنے والے تھے اور رسول سے محبت کرنے والے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت اور اطاعت کے میدان میں ان کے نقش قدم پرچلنے والے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت اسامہ کے بارے میں حضور ﷺ کے اصرار کو سمجھ لیا تھا۔ اس لئے انہوں نے منصب امارت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے یہی کام کیا۔ یہ لشکر حضور اکرم ﷺ نے تیار کیا تھا اور حضرت ابوبکر ؓ نے مدینہ کے باہر خود اسے الوداع کہا۔ اسامہ سوار تھے اور حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ المسلمین ان کی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ حضرت بسامہ کو حیا آگئی کہ وہ سوار ہوں اور بوڑھے خلیفہ پیدل ساتھ ساتھ جارہے ہوں۔ انہوں نے کہا : ” خلیفة المسلمین ، یا تو آپ سوار ہوں یا میں اترتا ہوں “۔ خلیفتہ المسلمین قسم اٹھاتے ہیں ” خدا کی قسم تم نہ اترو گے اور خدا کی قسم میں سوار بھی نہ ہوں گا ، کیا ہوجائے گا اگر میرے پاﺅں بھی اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں “۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے سوچا کہ آپ کو حضرت عمر ؓ کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کے کاندھوں پر خلافت کا بوجھ پڑچکا ہے لیکن عمر تو جیش اسامہ کے ایک سپاہی ہیں۔ اسامہ امیر ہیں۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ اسامہ سے اجازت طلب کی جائے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں ” اگر تم عمر ؓ کو ترک کرکے میری مدد کرسکتے ہو تو مناسب ہوگا “۔ ذرا الفاظ کو دیکھو ” اگر تم مناسب سمجھو تو حضرت عمر ؓ کو چھوڑ کر میری مدد کرو “۔ یہ ہیں وہ بلندیاں جن تک اسلام نے انسانوں کو پہنچا دیا۔ یہ معجزہ صرف اللہ کی مرضی سے ہوسکتا ہے اور ایک رسول ہی اسے سرانجام دے سکتے ہیں۔ زمانے کا پہیہ گھومتا ہے اور ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ خلیفہ ہیں اور وہ حضرت عمار ابن یاسر کو کوفہ کا حاکم مقرر کرتے ہیں۔ ایک وقت یوں بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے دفتر کے سامنے سہیل ابن عمرو ابن الحارث ابن ہشام اور ابو سفیان کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ قریش کے سرداروں کی ایک جماعت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور علماء کہلائے۔ حضرت عمر ؓ ان سے پہلے صہیب اور بلال کو اندر بلاتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ اسلام کے سابقون الاولون اور اہل بدر میں سے تھے۔ ابوسفیان کے نتھنے مارے غصے کے پھول جاتے ہیں اور سخت جذباتی انداز میں کہتے ہیں ” میں اپنی پوری زندگی میں ایسا دن نہیں دیکھا کہ ان غلاموں کو تو اندر بلایا جاتا ہے اور ہم دروازے پر چھوڑے جاتے ہیں “۔ اس کے ساتھی جنہوں نے حقیقت اسلام کو سمجھ لیا تھا اور ان کے شعور پر اسلام چھا گیا تھا ، ان سے کہا ” اے قوم تمہارے چہروں پر جو آثار نمودار ہیں ، میں دیکھ رہا ہوں۔ اگر تمہیں غصہ آرہا ہے تو یہ غصہ اپنے نفس سے اتارو ، ان لوگوں کو بھی اسلام کی طرف بلایا گیا اور تمہیں بھی بلایا گیا۔ انہوں نے فوراً لبیک کہا اور تم نے دیر لگادی۔ تم ذرا اس وقت کا خیال کرو کہ قیامت میں ان کو بلایا جائے اور تم وہاں بھی کھڑے کے کھڑے رہو (اسلام کا اجتماعی عدل) حضرت عمر ؓ اسامہ ابن زید کے لئے عبداللہ ابن عمر سے زیادہ الاوئنس مقرر فرماتے ہیں۔ حضرت عبداللہ اس کا راز پوچھتے ہیں حضرت عمر ؓ جواب دیتے ہیں ” بیٹے ، زید رسول اللہ ﷺ کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں تم سے زیادہ محبوب تھے۔ اس لئے میں نے رسول اللہ کی محبت کو اپنی محبت پر ترجیح دے دی “۔ حضرت عمر ؓ کو معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت آسمانی پیمانوں سے ناپی جاتی ہے۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت عمار ؓ ابن یاسر کو بھیجتے ہیں کہ وہ اسلام کے عظیم کمانڈر ، فاتح اور اعلیٰ خاندان کے فرد حضرت خالد بن ولید کے خلاف بعض شکایات کی تفتیش کریں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمار ؓ نے ان کو ان کی چادر سے باندھا اور بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کو خود ان کے عمامے سے باندھا گیا۔ یہاں تک کہ تفتیش ختم ہوگئی اور اس کے نتیجے وہ بےگناہ ثابت ہوگئے۔ اس کے بعد وہ انہیں کھولتے ہیں اور خوداپنے ہاتھ سے ان کے سر پر عمامہ باندھتے ہیں اور حضرت خالد ؓ کو اس پر کوئی غصہ نہیں آتا۔ اس لئے کہ حضرت عمار ؓ حضور اکرم ﷺ کے ساتھی ہیں اور ان سے پہلے اسلام لانے والے ہیں اور ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ ان کو معلوم تھا۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابوبکر ؓ کے بارے میں فرماتے تھے۔ یہ ہمارے سردار ہیں جنہوں نے ہمارے دوسرے سردار کو غلامی سے آزاد کرایا یعنی حضرت بلال کو جو امیہ ابن خلف کے مملوک تھے اور امیہ انہیں سخت اذیت دیتا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں خریدا اور آزاد کردیا۔ ان کے بارے میں حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بلال ؓ ہمارے سردار ہیں۔ یہ حضرت عمر ؓ ہی تھے کہ انہوں نے فرمایا اگر ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم موجود ہوتے تو میں انہیں خلیفہ بنا دیتا۔ حضرت عمر ؓ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ اور حضرت زبیر ؓ جیسے لوگوں کو بھی خلیفہ نہ بنایا۔ بلکہ چھ آدمیوں کی شوریٰ مقرر کی کہ ان میں سے کسی ایک کو مقرر کیا جائے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت عمار ؓ اور حسن ابن علی کو اہل کوفہ کی طرف بھیجتے ہیں۔ وہ ان سے درخواست کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ ان کا جو نزاع ہوگیا ہے اس میں وہ ان کا ساتھ دیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ” مجھے اچھی طرح علم ہے کہ حضرت عائشہ ؓ تمہارے نبی ﷺ کی بیوی ہیں ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، لیکن اللہ نے تمہیں اس امتحان میں ڈال دیا ہے کہ تم میری اطاعت کرتے ہو یا ان کی “۔ (بخاری) اس طرح حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ حضرت بلال ؓ یمن کے گورنر تھے۔ ابورویحہ خشعمی یمن کے ایک قبیلے میں شادی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کی سفارش کریں۔ حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں میں بلال ابن رباح ہوں اور یہ میرے بھائی ابو ردیحہ ہیں۔ یہ ایک ایسا شخص ہے کہ نہ اس کے اخلاق اچھے ہیں اور نہ یہ زیادہ دیندار ہے۔ تم چاہو تو اپنی لڑکی ان کے عقد میں دے دو اور نہ چاہو تو نہ دو “۔ حضرت بلال ؓ انہیں دھوکہ نہیں دیتے اور نہ اس کے معاملے میں کوئی بات چھپاتے ہیں ، اور نہ وہ اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ میں سفارشی ہوں۔ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہیں گے اللہ کے ہاں جوابدہ ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کس قدر شچے ہیں اور وہ یہ رشتہ دے دیتے ہیں۔ بس وہ یہ بات کافی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک صاحب نسب عرب ہیں اور ان کی سچی سفارش حضرت بلال ؓ حبشی کررہے ہیں۔ غرض یہ عظیم حقیقت اسلامی معاشرے میں عملاً قائم ہوگئی اور اس کے بعد ایک طویل زمانے تک قائم رہی۔ باوجود اس کے بعد کے زمانوں میں مسلمانوں کے اندر زوال اور تنزل کے بیشمار عوامل پیدا ہوگئے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے آزادذ کردہ غلام عکرمہ کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ جب عبداللہ ابن عمر کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے غلام نافع کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ انس ابن مالک کے ساتھ ابن سیرین کا ذکر ہوتا ہے ، اور ابوہریرہ کے ساتھ ان کے غلام عبدالرحمن ابن ہرمز کا ذکر ہوتا ہے ، بصرہ میں حسن بصری ، مکہ میں مجاہد ، عطا ابن ابی رباح اور طاﺅس ابن کیسان جیسے لوگ مشہور فقہاء تھے۔ عمر ابن عبدالعزیز کے زمانے میں ، مصر میں یزید ابن ابی حبیب مفتی اعظم مقرر ہوئے۔ یہ علقمہ کے سیاہ فام آزاد کردہ غلام تھے۔ یہ تھیں آسمانی اور اسلامی قدریں جنہوں نے انسانیت کو تقویٰ کی بنیاد پر اس قدر بلند کردیا ، اگرچہ دنیا کے اندر مقبول ترین اقدار میں سے کوئی خصوصیت ان کے اندر نہ تھی۔ نہ اپنی ذات کے اعتبار سے اور نہ ان کے ماحول کے اعتبار سے۔ یہ میزان اور یہ پیمانے دنیا میں ماضی قریب تک قائم رہے۔ ماضی قریب میں پوری دنیا پر دوبارہ جاہلیت چھاگئی۔ دنیا کا ایک حصہ امریکی جاہلیت کے زیر اثر آگیا جس میں انسانوں کی قیمت ڈالر کی شکل میں متعین ہونے لگی اور نصف مشرقی دنیا کی قیادت روسی جاہلیت کو حاصل ہوگئی اور اس میں انسان کی وقعت ایک پیداواری مشین کے سوا کچھ نہ تھی۔ رہی اسلامی دنیا تو اس پر وہی جداہلیت عربی قومیت کی جاہلیت چھاگبی جس کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کے لئے اسلام دنیا میں آیا تھا اور عملاً اسلام نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا تھا۔ آج عالم اسلام سے اس اعلیٰ معیار اور اعلیٰ قدر کو مٹا دیا گیا ہے اور عالم اسلام ایک ایسی جاہلیت کی تاریکیوں میں ڈوب گیا ہے ، جس کے اندر ایمان اور تقویٰ اعلیٰ قدر ہی نہیں ہے۔ ہاں عالم اسلام میں دعوت اسلامی اور احیاء اسلام کی تحریک جاری ہے۔ صرف اس تحریک پر امید ہے کہ یہ پوری دنیا کو جاہلیت سے نکال کر از سر نو آسمانی قدریں عطا کرے گی اور شاید ایک بار پھر انسانیت ایک نیا جنم لے جیسا کہ انسانیت کو آغاز اسلام کے دور میں نصیب ہوا۔ جس کی ایک جھلک اس سورت کی ابتدائی آیات میں دکھائی گئی ہے۔ یہ چند آیات ہیں لیکن نہایت ہی اہم اور سنگ میل اور فیصلہ کن ہیں۔ ایک مخصوص واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے سورت کے پہلے حصے میں اس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ، اس دوسرے حصے میں ، اس انسان کے رویہ پر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا ہے جو ایسے حقائق اور ایمان اور تقویٰ کی اس دعوت سے منہ موڑتا ہے ، اور دعوت اسلامی سے اپنے آپ کو برتر اور بالا سمجھتا ہے۔ یہ انسان اپنے اصل اور اپنی تخلیق کے حالات پر اگر غور کرتا تو ہرگز اعراض نہ کرتا۔ انسان یہ نہیں دیکھتا کہ اس پر اللہ کی کیا کیا عنایات ہیں۔ اس کی زندگی قدم قدم پر اللہ کے کنٹرول میں ہے ، دنیا اور آخرت میں یہ انسان دراصل ہر مرحلہ حیات میں اللہ کے اختیار میں ہے ، لیکن یہ اپنے خالق ، اپنے کفیل اور اپنے محاسب کے حقوق ادا نہیں کرتا اور نہ اس سے ڈرتا ہے۔

عبس 80:14

انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے ہوں۔ یہ تو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اس کی برتری اور اس کی پاکیزگی کے قائل ہیں اور جو اس سے پاکیزگی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے معیار ، اللہ کا مقرر کردہ معیار۔ اسی میزان کے مطابق میں ہمیں لوگوں کے اور اپنے اعمال اور اپنی حیشایت کو وزن کرنا ہوگا۔ یہ اللہ کا حکم ہے ، اللہ کا کلام ہے۔ اور اس کے مقابلے میں کسی بات کا کوئی وزن ہی نہیں رہتا ، ہر فعل اور ہر حکم اس سے فروتر ہے۔ یہ حکم کہاں دیا گیا اور یہ واقعہ کہاں پیش آیا ؟ مکہ میں ، جبکہ دعوت اسلامی کا ہر طرف سے پیچھا کیا جارہا تھا ، مسلمان بہت ہی کم تعداد میں تھے۔ اور نبی ﷺ ان بااثر لوگوں کی طرف کسی ذاتی مقصد کے لئے بھی متوجہ نہ تھے۔ اور اس اندھے سے لاپروائی کسی ذاتی غرض کے لئے نہ تھی۔ حضور کے پیش نظر بھی صرف اور صرف دعوت اسلامی کا مفاد تھا لیکن اس دعوت کا ترازو یہ تھا۔ اس کی قدریں دوسری تھیں اس نے تو لوگوں کے لئے قدروں کا تعین کرنا تھا ، روایات کی تخلیق کرنی تھی ۔ یہ دعوت تب ہی کامیاب ، باوقار اور مضبوط ہوسکتی جب وہ ایسے پیمانے قائم کردیتی۔ یہ فقط ایک انفرادی واقعہ نہ تھا ، یہ ایک عظیم اصول تھا۔ نہ ایک معمولی اخلاقی برتاﺅ کا معاملہ تھا ، معاملہ یہ تھا کہ ایک اصولی اور دستوری مسئلہ درپیش تھا کہ لوگ نیک وبد کے پیمانے کہاں سے اخذ کریں۔ کیا زمین کے رسم و رواج سے یا آسمانی ہدایات سے ، زمینی اور عوامی زاویوں سے یا بارگاہ رب العزت سے ، جہاں سے یہ اصول وضع ہوا ہے۔ ان اکرمکم ................ انفسکم ” تم میں سے اللہ کے نزدیک معززوہ ہے جو تم میں سے متقی ہے “۔ اس دعوت اور اس تحریک میں وہی قابل لحاظ ہے جو اللہ کے نزدیک قابل لحاظ ہے۔ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے وہ ان عناصر سے محروم ہو جو لوگوں کے نزدیک وزن دار ہیں۔ جن مناظر کا لوگوں پر دباﺅ ہے اور جن کو دنیا والوں کے نزدیک اہم سمجھا جاتا ہے ، مثلاً نسب وحسب ، افرادی اور مالی قوت ، اور دوسری قابل لحاظ باتیں۔ اگر یہ چیزیں ایمان سے خالی ہوں اور ان کے ساتھ تقویٰ کا رنگ نہ ہو ، تو اس دعوت میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اس تحریک کے زاویہ سے اہم بات اور سب سے مقدم بات یہ ہے کہ ایک شخص اپنے حالات ایمان اور تقویٰ کے اعتبار سے درست کام کرے۔ اس واقعہ ، انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ اس عظیم حقیقت اور اس عظیم اصول کو ذہن نشین کرانا چاہتا تھا اور قرآنی انداز اصلاح اور تربیت کے عین مطابق ، جس میں ایک انفرادی واقعہ سے ایک عظیم اصول نکال کر لوگوں کے ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ یہ اصول پھر دستوری قاعدہ بن جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ان ہدایات اور اس عتاب سے بےحد متاثر ہوئی۔ آپ نے نہایت جوش و خروش سے ان ہدایات کو قبول کیا اور ان پر عمل کرکے اس اصول اور دستور کو اسلامی معاشرے میں نافذ کیا۔ اس نئی جماعت کی عمارت اس اصول پر استوار ہوئی کہ یہ اسلامی معاشرے کی خشت اول تھی۔ آپ کا پہلا فرض یہ قرار پایا کہ آپ اس واقعہ کو قرآن کی ایک سورت کے طور پر خود بیان کریں۔ یہ ایک عظیم بات تھی۔ یہ خدا کا رسول ہی کرسکتا تھا۔ جس پہلو سے بھی ہم اس پر غور کریں۔ انسان اپنی کمزوریوں کو چھپاتا ہے۔ یہ رسول خدا ہی تھے جنہوں نے اس عتاب الٰہی کا برملا اعلان فرمایا اور یہ اعلان بھی اس منفرد انداز میں فرمایا۔ اگر نبی کے سوا کوئی اور لیڈر ہوتا تو وہ اپنی غلطی کا احساس کرلیتا ، آئندہ احتیاط کرتا ، لیکن اللہ کے نبی کا مقام تو کچھ اور ہوتا ہے۔ منصب نبوت کے آفاق تو کچھ اور ہوتے ہیں ، بہت بلند اور بہت دور رس۔ یہ نبی ہی تھا جو نہایت ہی مشکل اور نازک حالات میں ، قریش کے ایک بااثر اور مقدر لوگوں کے سامنے اس اصول کا اعلان کردیں۔ جبکہ اس نئی دعوت کے مقابلے میں یہ بااثر لوگ اپنے مالی افرادی اور خاندانی عزت وجاہ کے سب وسائل لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ایک ایسے معاشرے میں جس میں حسب ونسب اور عزت وجاہ کے سوا کوئی اور قدر رائج نہ تھی ، اس میں بات صرف یہ ہوتی تھی۔ محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ، ابن ہاشم اور لوگ کہتے تھے۔ لولا انزل ................................ عظیم ” یہ قرآن دو گاﺅں کے کسی عظیم شخص پر کیوں نہیں اترا “۔ حضور ﷺ تو ان کے اندر صاحب نسب تھے ، لیکن رئیس نہ تھے اور وہ تو صرف جاہ واقتدار کے پجاری تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاشرے میں ایک نبی اور وحی الٰہی ہی اس قسم کا عظیم انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ زمین پر رہنے والا کوئی شخص اور دنیاوی ذہن سے سوچنے والا کوئی فرد ایسا انقلابی اقدام نہیں کرسکتا اور خصوصاً ایسے حالات اور ایسے وقت میں جن میں حضور اکرم ﷺ دعوت اسلامی کا کام کررہے تھے۔ یہ آسمانی قوت اور آسمانی ہدایت ہی تھی جس نے اس معاملے کو اس انداز پر چلایا ، یہ اصول نبی ﷺ کی ذات کے ذریعہ ان مشکل حالات میں نافذ کیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے اسے نافذ کیا ، نہایت جوش و خروش ، نہایت قوت اور مضبوطی کے ساتھ اس دستور کو اس نئی سوسائٹی کی بنیادوں کے اندر رکھ دیا اور یہ امت مسلمہ کی زندگی میں ایک طویل عرصہ تک قائم ودائم رہا۔ یہ دراصل انسانیت کے لئے ایک دوسرا جنم تھا۔ جس طرح ایک انسان فطرتاً پیدا ہوتا ہے ، بلکہ انسانیت کا یہ جنم دراصل زیادہ قیمتی تھا۔ اس طرح کہ انسانی سوسائٹی ، کسی سرزمین میں متعارف جاری وساری قدروں کو خیر باد کہہ دے اور ایسی قدروں کو اپنا لے جو بالکل نئی ہوں۔ آسمانوں سے نازل شدہ ہوں۔ نئے تصورات ، نئے نظریات آجائیں ، ان تصورات ، نظریات ، حالات اور عملی روابط اور رسم و رواج کو اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور لوگ ان سابقہ تصورات اور روابط کے دباﺅ سے یکلخت آزاد ہوجائیں اور ان کے اندر جدید تصورات اور جدید قدریں رچ بس جائیں۔ وہ ان کو خوب سمجھ لیں۔ سب کے سب ان کو تسلیم کریں۔ اور یہ عظیم انقلاب برپا ہوجائے۔ یہ جدید قدریں مسلم سوسائٹی کے ضمیر میں نمایاں ہوں۔ اس کے قوانین میں واضح ہوں ، تو فی الواقعہ یہ انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ یہ عظیم انقلاب تھا جس کے برپا کرنے کے لئے ذات محمدی کو بھی تنبیہہ اور ہدایت کی ضرورت پیش آئی اور یہ انقلاب ابتدائی دور کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک طویل عرصے تک نمایاں رہا۔ ہم جدید دور کے لوگ دراصل اس عظیم انقلاب اور انسانیت کے اس جدید جنم کو کماحقہ سمجھ نہیں پا رہے ، اس لئے کہ ہمنے اس دنیا اور اس زمین کی قدروں ، زمین کے روابط اور اس دنیا کی حیشلیت اور نظریات کو ترک کرکے اپنے آپ کو اسلام کے مطابق نہیں ڈھالا۔ ہم پر مادیت اور مادی قدروں اور دنیاوی تصورات کا اس قدر غلبہ ہے کہ ہمارے دور کے بعض جاہل جو تاریخ کا مادی فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ یہ سمجھنے لگے ہیں ، کہ عقائد و تصورات اور اعلیٰ قدریں اور علوم وفنون دراصل مادی حالات اور مادی اور معاشی قدروں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح تمام رسوم ورواجات اور اصول وقوانین جو اصل معاشی قدروں کی پیداوار ہوتے ہیں ، یہ لوگ بےحد جاہل ہیں اور یہ نفس انسانی کے نشیب و فراز سے بالکل ناواقف ہیں۔ بہرحال اسلام نے جو انقلاب رونما کیا وہ ایک معجزہ تھا اور انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ انسانیت کے اس نئے جنم کے بعد اور اس عظیم انقلاب کے بعد ، دنیا کی فضا پر یہ قدریں حاوی رہیں ، لیکن ایک عربی معاشرے میں ان کا حاوی ہونا اس قدر آسان نہ تھا ، نہ مسلمانوں کے نفوس پر ان کا حاوی ہونا کوئی سہل الحصول ٹارگٹ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اپنے ذاتی کمالات ، پھر ارادہ الٰہی ، پھر خدا کی طرف سے ہدایات وتصرفات اور پھر قرآن کریم کی ہدایات پر گرم جوشی سے عمل پیرا ہونے کے شوق کی وجہ سے ، ان عظیم اصولوں اور قدروں کو لوگوں کے شعور اور ضمیر میں بٹھایا ، ایک پودے کی طرح ان کے دلوں میں یہ نئی اخلاقیات اور قدریں کاشت کی گئیں ، پھر ان کی سخت نگہداشت کی گئی تاکہ ان کی جڑیں مضبوط ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی پر صدیاں گزر گئیں لیکن یہ قدریں اپنی جگہ جمی ہوئی ہیں حالن کہ ان صدیوں میں باد مخالف کے بڑے بڑے طوفان گزر گئے اور بیشمار عوامل ان قدروں کے خلاف کام کرتے رہے۔ اس واقعہ کے بعد حضور اکرم ﷺ کی جب بھی ابن ام مکتوم کی ملاقات ہوئی ، آپ ان کو ان کلمات کے ساتھ خوش آمدید کہتے۔” آئیے صاحب تمہاری وجہ سے مجھے اللہ جل شانہ نے سختی سے ٹوکا “۔ حضور اکرم ﷺ نے اس اندھے فقیر کو دو بار اپنی زندگی میں مدینے کا گورنر بنایا۔ عربی معاشرے میں کسی کو رشتہ دینا ، ایک بڑا احساس مسئلہ تھا۔ اس معاملے میں جہاں لڑی کی جاتی تھی ، ان لوگوں کے لئے سخت معیار تھا ، آپ نے اپنی پھوپھی زاد زینب بنت جحش اسدیہ کو اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے نکاح میں دلوایا تاکہ ان جاہلی قدروں پر ضرب لگائی جاسکے۔ اس سے قبل جب آپ کے مدینہ میں مواخات کا نظام قائم کیا تو اپنے چچا حمزہ کا بھائی اپنے اسی آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو بنادیا۔ اور حضرت بلال ابن رباح کو حضرت خالد ابن رویحہ الخثعمی کا بھائی بنادیا۔ حضرت زید کو غزوہ موتہ میں امیر بنایا۔ یہ اس غزوہ کے پہلے امیر تھے۔ اس کے بعد جعفر ابن ابوطالب کا نمبر تھا ، پھر عبداللہ ابن رواحہ انصاری کا۔ اس لشکر میں تین ہزار انصار اور مہاجرین تھے جن میں خالد ابن ولید بھی تھے۔ اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے حضور ﷺ خود نکلے۔ اس جنگ میں یہ تینوں شہید ہوگئے تھے۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ اور آپ کے آخری احکامات میں سے یہ حکم تھا کہ آپ نے حضرت اسامہ ابن زید کو رومیوں کے ساتھ جنگ کے لئے کمانڈر مقرر کیا۔ اس لشکر میں بیشمار انصار اور مہاجرین شامل تھے۔ ان میں حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمر ؓ جیسے لوگ بھی تھے جو آپ کے ساتھی اور وزیرومشیر تھے اور جو آپ کے بعد خلیفہ تھے۔ نیز حضرت سعد ابن وقاص بھی تھے جو آپ کے قریبی بھی تھے اور قریش میں سے قدیم الاسلام تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت اسامہ کی امارت پر تعجب کا اظہار بھی کیا ، کیونکہ وہ بالکل کم عمر نوجوان تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں ، ” حضور ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس پر اسامہ ابن زید کو امیر مقرر فرمایا ، بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو آپ نے کہا اگر تم اسامہ ابن زید کی امارت میں طعن کرتے ہو تو تم نے اس سے قبل ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا ، خدا کی قسم ! وہ امارت کے اہل تھا اور مجھے سب لوگوں میں نہایت محبوب تھا اور یہ بھی مجھے تمام لوگوں سے محبوب ہے “۔ (شیخین اور ترمذی) اور جب سلمان فارسی ؓ کے بارے میں بعض لوگوں نے نازیبا الفاظ کہے اور عربی اور فارسی کے حوالے سے بات کی۔ اور ان باتوں سے محدود عربی قومیت کی بو آتی تھی ، تو حضور اکرم ﷺ نے اس تصور پر بھی ایک فیصلہ کن ضرب لگائی اور فرمایا : ” سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے “۔ اور حضرت مسلمانوں کو آسمانی قدروں نے تمام گری ہوئی دنیاوی قدروں سے آگے بڑھا دیا اور وہ ایک لمحے میں آفاق سے بھی آگے بڑھ گئے اور محدود قومیت کی لکیریں مٹا دی گئیں جو عربوں کے نزدیک بہت اہم تھیں اور سلمان کو اہل بیت کا فرد قرار دیا (طبرانی وحاکم) ۔ جب حضرت ابوذر غفاری ؓ اور حضرت بلال ؓ کے درمیان تکرار ہوگئی اور حضرت ابوذر ؓ کی زبان سے یہ لفظ نکل گیا ” اے سیاہ فام عورت کے لڑکے “ تو اس پر حضور اکرم ﷺ شدیدطور پر غضب ناک ہوگئے اور اس بات کو حضرت ابوذر ؓ کے منہ پر مار دیا اور فرمایا : ” ابوذر پیمانے کو درست رکھو ، اسلام میں سفید عورت کے بیٹے کو سیاہ عورت کے بیٹے کے اوپر کوئی فضیلت نہیں ہے “۔ چناچہ آپ نے بات کو نہایت ہی ابتدائی جڑوں سے علیحدہ کردیا۔ اسلام ، اسلام ہے اور آسمانی قدروں پر مشتمل ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اس کی قدریں زمینی ہیں۔ (ابن مبارک) حضرت ابوذر ؓ کے حساس دل پر حضور اکرم ﷺ کی اس بات کا سخت اثر ہوا ، انہوں نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی اور قسم اٹھائی کہ وہ اس وقت تک اپنی پیشانی کو اوپر نہ اٹھائیں گے جب تک بلال ؓ اسے روند نہ ڈالیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک اس بری بات کا کفارہ یہی ہے۔ جس ترازو کے مطابق حضرت بلال ؓ کو اس قدروزن حاصل ہوا تھا ، وہ آسمانی ترازو تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بلال “ مجھے بتاﺅ کہ تم نے کون سا ایسا عمل کیا ہے جس پر تمہیں خدا کے ہاں بہت زیادہ اجر کی توقع ہے ؟ “ اس لئے کہ میں نے معراج کی رات ، جنت میں تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے “۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اسلام لانے کے بعد میں نے جب بھی مکمل پاکی اختیار کی ہے (وضو ، غسل) رات کو یا دن کو تو میں نے اس کے بعد نماز پڑھی ہے ، جس قدر اللہ نے میرے لئے مقدر کیے تھے ، بس وہ بات ہے جس سے میں امید کرتا ہوں کہ مجھے زیادہ ثواب ملے گا۔ (شیخین) حضور اکرم ﷺ عمار ابن یاسر کے بارے میں فرمایا کرتے تھے ، جب بھی انہوں نے حضور ﷺ سے ملاقات کی اجازت چاہی ، ” اسے اجازت دو ، یہ پاک اور پاکباز ہے “۔ (نسائی) اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا :” عمار سر سے پاﺅں تک ایمان سے پر ہے “۔ اور حضرت حذیفہ ؓ کے بارے میں فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں تمہارے اندر اب کتنا عرصہ رہوں گا ، لہٰذا ان دونوں کی پیروی کرو “۔ (حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی طرف اشارہ کیا) اور عمار کے طریقے پر چلو اور تمہیں جو بات ابن مسعود نے بتائی ، اس کی تصدیق کرنا “۔ (ترمذی) حضرت ابن مسعود کی حالت تو یہ تھی کہ جو لوگ مدینہ کے رہنے والے نہ تھے ، وہ آتے تو حضرت ابن مسعود کو نبی ﷺ کے گھرانے کا آدمی سمجھتے .... کیونکہ یہ اکثر آتے جاتے تھے اور بروقت حضور ﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔ (شیخین وترمذی) ایک آزاد کردہ غلام جلسیب ؓ تھے ، ان کے لئے حضور ﷺ خود ہی رشتہ تلاش فرماتے تھے۔ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ انصار میں سے کوئی عورت ان کے لئے مل جائے۔ ایک لڑکی کے بارے میں حضور ﷺ نے پیغام دیا ، اس کے والدین نے انکار کردیا تو اس لڑکی نے کہا ، کیا تم رسول اللہ ﷺ کی بات کو رد کررہے ہو ؟ اگر رسول اللہ ﷺ اس پر راضی ہیں تو مجھے اس شخص کے نکاح میں دے دو ۔ اس پر والدین راضی ہوگئے اور انہوں نے وہ لڑکی اسے نکاح کرکے دے دی۔ (احمد) یہ شخص اپنی اس شادی کے بعد جلدی پیش آنے والی کسی جنگ میں گم ہوگئے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک غزوہ میں شریک ہوئے۔ اللہ نے آپ کو فتح دی اور مال غنیمت بھی ملا۔ جنگ کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں فلاں فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں ، فلاں ، فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ کوئی اور شخص گم پارے ہو تو انہوں نے کہا نہیں اور تو کوئی گم نہیں ہے تو آپ نے فرمایا ہاں میں جلیسیب کو گم پاتا ہوں۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا ، یہ سات مقتولین کفار کے پاس پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان سات کو قتل کردیا تھا ، جس کے بعد انہوں نے اسے شہید کردیا تھا۔ آپ ان کی لاش کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا اس نے سات قتل کردیا۔ بعد میں انہوں نے اسے شہید کردیا۔ یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں بازوﺅں میں انہیں اٹھایا۔ حضور ﷺ کے بازوﺅں کے سوا ان کے لئے کوئی چارپائی نہ تھی۔ ان کے لئے قبر کھودی گئی اور انہیں قبر میں رکھ دیا گیا۔ راوی بےغسل کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم) اللہ کی ان ہدایات کے ذریعہ سے اور نبی ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کی وجہ سے ، انسانیت کو ایک نیا جنم ملا۔ اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں حسن وقبح کے اصول آسمان سے لئے جاتے تھے۔ یہ معاشرہ اسی زمین پر ہوتے ہوئے بھی زمین کی گری پڑی اقدار سے آزاد تھا۔ یہ تھا اسلام کا عظیم معجزہ۔ یہ ایک عظیم معجزہ تھا اور کوئی معجزہ خدا اور رسول ﷺ کے احکام کے بغیر صادر نہیں ہوسکتا۔ اس معجزے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ دین اللہ کا دین تھا اور جس ذات بابرکات نے یہ دین پیش کیا وہ اللہ کا رسول ﷺ تھا۔ اور اللہ کی ایک خاص تدبیر تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے پہلے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس کے والی اور خلیفہ المسلمین بنے۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے ساتھی حضرت عمر ؓ اس دین کے سربراہ بنے۔ یہ دوسرے خلیفہ دونوں میں سے اس نظام کو زیادہ سمجھنے والے تھے ، یہ زیادہ حضور اکرم ﷺ کی سنت پرچلنے والے تھے اور رسول سے محبت کرنے والے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت اور اطاعت کے میدان میں ان کے نقش قدم پرچلنے والے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت اسامہ کے بارے میں حضور ﷺ کے اصرار کو سمجھ لیا تھا۔ اس لئے انہوں نے منصب امارت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے یہی کام کیا۔ یہ لشکر حضور اکرم ﷺ نے تیار کیا تھا اور حضرت ابوبکر ؓ نے مدینہ کے باہر خود اسے الوداع کہا۔ اسامہ سوار تھے اور حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ المسلمین ان کی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ حضرت بسامہ کو حیا آگئی کہ وہ سوار ہوں اور بوڑھے خلیفہ پیدل ساتھ ساتھ جارہے ہوں۔ انہوں نے کہا : ” خلیفة المسلمین ، یا تو آپ سوار ہوں یا میں اترتا ہوں “۔ خلیفتہ المسلمین قسم اٹھاتے ہیں ” خدا کی قسم تم نہ اترو گے اور خدا کی قسم میں سوار بھی نہ ہوں گا ، کیا ہوجائے گا اگر میرے پاﺅں بھی اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں “۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے سوچا کہ آپ کو حضرت عمر ؓ کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کے کاندھوں پر خلافت کا بوجھ پڑچکا ہے لیکن عمر تو جیش اسامہ کے ایک سپاہی ہیں۔ اسامہ امیر ہیں۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ اسامہ سے اجازت طلب کی جائے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں ” اگر تم عمر ؓ کو ترک کرکے میری مدد کرسکتے ہو تو مناسب ہوگا “۔ ذرا الفاظ کو دیکھو ” اگر تم مناسب سمجھو تو حضرت عمر ؓ کو چھوڑ کر میری مدد کرو “۔ یہ ہیں وہ بلندیاں جن تک اسلام نے انسانوں کو پہنچا دیا۔ یہ معجزہ صرف اللہ کی مرضی سے ہوسکتا ہے اور ایک رسول ہی اسے سرانجام دے سکتے ہیں۔ زمانے کا پہیہ گھومتا ہے اور ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ خلیفہ ہیں اور وہ حضرت عمار ابن یاسر کو کوفہ کا حاکم مقرر کرتے ہیں۔ ایک وقت یوں بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے دفتر کے سامنے سہیل ابن عمرو ابن الحارث ابن ہشام اور ابو سفیان کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ قریش کے سرداروں کی ایک جماعت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور علماء کہلائے۔ حضرت عمر ؓ ان سے پہلے صہیب اور بلال کو اندر بلاتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ اسلام کے سابقون الاولون اور اہل بدر میں سے تھے۔ ابوسفیان کے نتھنے مارے غصے کے پھول جاتے ہیں اور سخت جذباتی انداز میں کہتے ہیں ” میں اپنی پوری زندگی میں ایسا دن نہیں دیکھا کہ ان غلاموں کو تو اندر بلایا جاتا ہے اور ہم دروازے پر چھوڑے جاتے ہیں “۔ اس کے ساتھی جنہوں نے حقیقت اسلام کو سمجھ لیا تھا اور ان کے شعور پر اسلام چھا گیا تھا ، ان سے کہا ” اے قوم تمہارے چہروں پر جو آثار نمودار ہیں ، میں دیکھ رہا ہوں۔ اگر تمہیں غصہ آرہا ہے تو یہ غصہ اپنے نفس سے اتارو ، ان لوگوں کو بھی اسلام کی طرف بلایا گیا اور تمہیں بھی بلایا گیا۔ انہوں نے فوراً لبیک کہا اور تم نے دیر لگادی۔ تم ذرا اس وقت کا خیال کرو کہ قیامت میں ان کو بلایا جائے اور تم وہاں بھی کھڑے کے کھڑے رہو (اسلام کا اجتماعی عدل) حضرت عمر ؓ اسامہ ابن زید کے لئے عبداللہ ابن عمر سے زیادہ الاوئنس مقرر فرماتے ہیں۔ حضرت عبداللہ اس کا راز پوچھتے ہیں حضرت عمر ؓ جواب دیتے ہیں ” بیٹے ، زید رسول اللہ ﷺ کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں تم سے زیادہ محبوب تھے۔ اس لئے میں نے رسول اللہ کی محبت کو اپنی محبت پر ترجیح دے دی “۔ حضرت عمر ؓ کو معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت آسمانی پیمانوں سے ناپی جاتی ہے۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت عمار ؓ ابن یاسر کو بھیجتے ہیں کہ وہ اسلام کے عظیم کمانڈر ، فاتح اور اعلیٰ خاندان کے فرد حضرت خالد بن ولید کے خلاف بعض شکایات کی تفتیش کریں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمار ؓ نے ان کو ان کی چادر سے باندھا اور بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کو خود ان کے عمامے سے باندھا گیا۔ یہاں تک کہ تفتیش ختم ہوگئی اور اس کے نتیجے وہ بےگناہ ثابت ہوگئے۔ اس کے بعد وہ انہیں کھولتے ہیں اور خوداپنے ہاتھ سے ان کے سر پر عمامہ باندھتے ہیں اور حضرت خالد ؓ کو اس پر کوئی غصہ نہیں آتا۔ اس لئے کہ حضرت عمار ؓ حضور اکرم ﷺ کے ساتھی ہیں اور ان سے پہلے اسلام لانے والے ہیں اور ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ ان کو معلوم تھا۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابوبکر ؓ کے بارے میں فرماتے تھے۔ یہ ہمارے سردار ہیں جنہوں نے ہمارے دوسرے سردار کو غلامی سے آزاد کرایا یعنی حضرت بلال کو جو امیہ ابن خلف کے مملوک تھے اور امیہ انہیں سخت اذیت دیتا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں خریدا اور آزاد کردیا۔ ان کے بارے میں حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بلال ؓ ہمارے سردار ہیں۔ یہ حضرت عمر ؓ ہی تھے کہ انہوں نے فرمایا اگر ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم موجود ہوتے تو میں انہیں خلیفہ بنا دیتا۔ حضرت عمر ؓ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ اور حضرت زبیر ؓ جیسے لوگوں کو بھی خلیفہ نہ بنایا۔ بلکہ چھ آدمیوں کی شوریٰ مقرر کی کہ ان میں سے کسی ایک کو مقرر کیا جائے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت عمار ؓ اور حسن ابن علی کو اہل کوفہ کی طرف بھیجتے ہیں۔ وہ ان سے درخواست کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ ان کا جو نزاع ہوگیا ہے اس میں وہ ان کا ساتھ دیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ” مجھے اچھی طرح علم ہے کہ حضرت عائشہ ؓ تمہارے نبی ﷺ کی بیوی ہیں ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، لیکن اللہ نے تمہیں اس امتحان میں ڈال دیا ہے کہ تم میری اطاعت کرتے ہو یا ان کی “۔ (بخاری) اس طرح حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ حضرت بلال ؓ یمن کے گورنر تھے۔ ابورویحہ خشعمی یمن کے ایک قبیلے میں شادی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کی سفارش کریں۔ حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں میں بلال ابن رباح ہوں اور یہ میرے بھائی ابو ردیحہ ہیں۔ یہ ایک ایسا شخص ہے کہ نہ اس کے اخلاق اچھے ہیں اور نہ یہ زیادہ دیندار ہے۔ تم چاہو تو اپنی لڑکی ان کے عقد میں دے دو اور نہ چاہو تو نہ دو “۔ حضرت بلال ؓ انہیں دھوکہ نہیں دیتے اور نہ اس کے معاملے میں کوئی بات چھپاتے ہیں ، اور نہ وہ اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ میں سفارشی ہوں۔ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہیں گے اللہ کے ہاں جوابدہ ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کس قدر شچے ہیں اور وہ یہ رشتہ دے دیتے ہیں۔ بس وہ یہ بات کافی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک صاحب نسب عرب ہیں اور ان کی سچی سفارش حضرت بلال ؓ حبشی کررہے ہیں۔ غرض یہ عظیم حقیقت اسلامی معاشرے میں عملاً قائم ہوگئی اور اس کے بعد ایک طویل زمانے تک قائم رہی۔ باوجود اس کے بعد کے زمانوں میں مسلمانوں کے اندر زوال اور تنزل کے بیشمار عوامل پیدا ہوگئے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے آزادذ کردہ غلام عکرمہ کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ جب عبداللہ ابن عمر کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے غلام نافع کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ انس ابن مالک کے ساتھ ابن سیرین کا ذکر ہوتا ہے ، اور ابوہریرہ کے ساتھ ان کے غلام عبدالرحمن ابن ہرمز کا ذکر ہوتا ہے ، بصرہ میں حسن بصری ، مکہ میں مجاہد ، عطا ابن ابی رباح اور طاﺅس ابن کیسان جیسے لوگ مشہور فقہاء تھے۔ عمر ابن عبدالعزیز کے زمانے میں ، مصر میں یزید ابن ابی حبیب مفتی اعظم مقرر ہوئے۔ یہ علقمہ کے سیاہ فام آزاد کردہ غلام تھے۔ یہ تھیں آسمانی اور اسلامی قدریں جنہوں نے انسانیت کو تقویٰ کی بنیاد پر اس قدر بلند کردیا ، اگرچہ دنیا کے اندر مقبول ترین اقدار میں سے کوئی خصوصیت ان کے اندر نہ تھی۔ نہ اپنی ذات کے اعتبار سے اور نہ ان کے ماحول کے اعتبار سے۔ یہ میزان اور یہ پیمانے دنیا میں ماضی قریب تک قائم رہے۔ ماضی قریب میں پوری دنیا پر دوبارہ جاہلیت چھاگئی۔ دنیا کا ایک حصہ امریکی جاہلیت کے زیر اثر آگیا جس میں انسانوں کی قیمت ڈالر کی شکل میں متعین ہونے لگی اور نصف مشرقی دنیا کی قیادت روسی جاہلیت کو حاصل ہوگئی اور اس میں انسان کی وقعت ایک پیداواری مشین کے سوا کچھ نہ تھی۔ رہی اسلامی دنیا تو اس پر وہی جداہلیت عربی قومیت کی جاہلیت چھاگبی جس کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کے لئے اسلام دنیا میں آیا تھا اور عملاً اسلام نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا تھا۔ آج عالم اسلام سے اس اعلیٰ معیار اور اعلیٰ قدر کو مٹا دیا گیا ہے اور عالم اسلام ایک ایسی جاہلیت کی تاریکیوں میں ڈوب گیا ہے ، جس کے اندر ایمان اور تقویٰ اعلیٰ قدر ہی نہیں ہے۔ ہاں عالم اسلام میں دعوت اسلامی اور احیاء اسلام کی تحریک جاری ہے۔ صرف اس تحریک پر امید ہے کہ یہ پوری دنیا کو جاہلیت سے نکال کر از سر نو آسمانی قدریں عطا کرے گی اور شاید ایک بار پھر انسانیت ایک نیا جنم لے جیسا کہ انسانیت کو آغاز اسلام کے دور میں نصیب ہوا۔ جس کی ایک جھلک اس سورت کی ابتدائی آیات میں دکھائی گئی ہے۔ یہ چند آیات ہیں لیکن نہایت ہی اہم اور سنگ میل اور فیصلہ کن ہیں۔ ایک مخصوص واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے سورت کے پہلے حصے میں اس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ، اس دوسرے حصے میں ، اس انسان کے رویہ پر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا ہے جو ایسے حقائق اور ایمان اور تقویٰ کی اس دعوت سے منہ موڑتا ہے ، اور دعوت اسلامی سے اپنے آپ کو برتر اور بالا سمجھتا ہے۔ یہ انسان اپنے اصل اور اپنی تخلیق کے حالات پر اگر غور کرتا تو ہرگز اعراض نہ کرتا۔ انسان یہ نہیں دیکھتا کہ اس پر اللہ کی کیا کیا عنایات ہیں۔ اس کی زندگی قدم قدم پر اللہ کے کنٹرول میں ہے ، دنیا اور آخرت میں یہ انسان دراصل ہر مرحلہ حیات میں اللہ کے اختیار میں ہے ، لیکن یہ اپنے خالق ، اپنے کفیل اور اپنے محاسب کے حقوق ادا نہیں کرتا اور نہ اس سے ڈرتا ہے۔

عبس 80:15

انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے ہوں۔ یہ تو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اس کی برتری اور اس کی پاکیزگی کے قائل ہیں اور جو اس سے پاکیزگی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے معیار ، اللہ کا مقرر کردہ معیار۔ اسی میزان کے مطابق میں ہمیں لوگوں کے اور اپنے اعمال اور اپنی حیشایت کو وزن کرنا ہوگا۔ یہ اللہ کا حکم ہے ، اللہ کا کلام ہے۔ اور اس کے مقابلے میں کسی بات کا کوئی وزن ہی نہیں رہتا ، ہر فعل اور ہر حکم اس سے فروتر ہے۔ یہ حکم کہاں دیا گیا اور یہ واقعہ کہاں پیش آیا ؟ مکہ میں ، جبکہ دعوت اسلامی کا ہر طرف سے پیچھا کیا جارہا تھا ، مسلمان بہت ہی کم تعداد میں تھے۔ اور نبی ﷺ ان بااثر لوگوں کی طرف کسی ذاتی مقصد کے لئے بھی متوجہ نہ تھے۔ اور اس اندھے سے لاپروائی کسی ذاتی غرض کے لئے نہ تھی۔ حضور کے پیش نظر بھی صرف اور صرف دعوت اسلامی کا مفاد تھا لیکن اس دعوت کا ترازو یہ تھا۔ اس کی قدریں دوسری تھیں اس نے تو لوگوں کے لئے قدروں کا تعین کرنا تھا ، روایات کی تخلیق کرنی تھی ۔ یہ دعوت تب ہی کامیاب ، باوقار اور مضبوط ہوسکتی جب وہ ایسے پیمانے قائم کردیتی۔ یہ فقط ایک انفرادی واقعہ نہ تھا ، یہ ایک عظیم اصول تھا۔ نہ ایک معمولی اخلاقی برتاﺅ کا معاملہ تھا ، معاملہ یہ تھا کہ ایک اصولی اور دستوری مسئلہ درپیش تھا کہ لوگ نیک وبد کے پیمانے کہاں سے اخذ کریں۔ کیا زمین کے رسم و رواج سے یا آسمانی ہدایات سے ، زمینی اور عوامی زاویوں سے یا بارگاہ رب العزت سے ، جہاں سے یہ اصول وضع ہوا ہے۔ ان اکرمکم ................ انفسکم ” تم میں سے اللہ کے نزدیک معززوہ ہے جو تم میں سے متقی ہے “۔ اس دعوت اور اس تحریک میں وہی قابل لحاظ ہے جو اللہ کے نزدیک قابل لحاظ ہے۔ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے وہ ان عناصر سے محروم ہو جو لوگوں کے نزدیک وزن دار ہیں۔ جن مناظر کا لوگوں پر دباﺅ ہے اور جن کو دنیا والوں کے نزدیک اہم سمجھا جاتا ہے ، مثلاً نسب وحسب ، افرادی اور مالی قوت ، اور دوسری قابل لحاظ باتیں۔ اگر یہ چیزیں ایمان سے خالی ہوں اور ان کے ساتھ تقویٰ کا رنگ نہ ہو ، تو اس دعوت میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اس تحریک کے زاویہ سے اہم بات اور سب سے مقدم بات یہ ہے کہ ایک شخص اپنے حالات ایمان اور تقویٰ کے اعتبار سے درست کام کرے۔ اس واقعہ ، انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ اس عظیم حقیقت اور اس عظیم اصول کو ذہن نشین کرانا چاہتا تھا اور قرآنی انداز اصلاح اور تربیت کے عین مطابق ، جس میں ایک انفرادی واقعہ سے ایک عظیم اصول نکال کر لوگوں کے ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ یہ اصول پھر دستوری قاعدہ بن جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ان ہدایات اور اس عتاب سے بےحد متاثر ہوئی۔ آپ نے نہایت جوش و خروش سے ان ہدایات کو قبول کیا اور ان پر عمل کرکے اس اصول اور دستور کو اسلامی معاشرے میں نافذ کیا۔ اس نئی جماعت کی عمارت اس اصول پر استوار ہوئی کہ یہ اسلامی معاشرے کی خشت اول تھی۔ آپ کا پہلا فرض یہ قرار پایا کہ آپ اس واقعہ کو قرآن کی ایک سورت کے طور پر خود بیان کریں۔ یہ ایک عظیم بات تھی۔ یہ خدا کا رسول ہی کرسکتا تھا۔ جس پہلو سے بھی ہم اس پر غور کریں۔ انسان اپنی کمزوریوں کو چھپاتا ہے۔ یہ رسول خدا ہی تھے جنہوں نے اس عتاب الٰہی کا برملا اعلان فرمایا اور یہ اعلان بھی اس منفرد انداز میں فرمایا۔ اگر نبی کے سوا کوئی اور لیڈر ہوتا تو وہ اپنی غلطی کا احساس کرلیتا ، آئندہ احتیاط کرتا ، لیکن اللہ کے نبی کا مقام تو کچھ اور ہوتا ہے۔ منصب نبوت کے آفاق تو کچھ اور ہوتے ہیں ، بہت بلند اور بہت دور رس۔ یہ نبی ہی تھا جو نہایت ہی مشکل اور نازک حالات میں ، قریش کے ایک بااثر اور مقدر لوگوں کے سامنے اس اصول کا اعلان کردیں۔ جبکہ اس نئی دعوت کے مقابلے میں یہ بااثر لوگ اپنے مالی افرادی اور خاندانی عزت وجاہ کے سب وسائل لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ایک ایسے معاشرے میں جس میں حسب ونسب اور عزت وجاہ کے سوا کوئی اور قدر رائج نہ تھی ، اس میں بات صرف یہ ہوتی تھی۔ محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ، ابن ہاشم اور لوگ کہتے تھے۔ لولا انزل ................................ عظیم ” یہ قرآن دو گاﺅں کے کسی عظیم شخص پر کیوں نہیں اترا “۔ حضور ﷺ تو ان کے اندر صاحب نسب تھے ، لیکن رئیس نہ تھے اور وہ تو صرف جاہ واقتدار کے پجاری تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاشرے میں ایک نبی اور وحی الٰہی ہی اس قسم کا عظیم انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ زمین پر رہنے والا کوئی شخص اور دنیاوی ذہن سے سوچنے والا کوئی فرد ایسا انقلابی اقدام نہیں کرسکتا اور خصوصاً ایسے حالات اور ایسے وقت میں جن میں حضور اکرم ﷺ دعوت اسلامی کا کام کررہے تھے۔ یہ آسمانی قوت اور آسمانی ہدایت ہی تھی جس نے اس معاملے کو اس انداز پر چلایا ، یہ اصول نبی ﷺ کی ذات کے ذریعہ ان مشکل حالات میں نافذ کیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے اسے نافذ کیا ، نہایت جوش و خروش ، نہایت قوت اور مضبوطی کے ساتھ اس دستور کو اس نئی سوسائٹی کی بنیادوں کے اندر رکھ دیا اور یہ امت مسلمہ کی زندگی میں ایک طویل عرصہ تک قائم ودائم رہا۔ یہ دراصل انسانیت کے لئے ایک دوسرا جنم تھا۔ جس طرح ایک انسان فطرتاً پیدا ہوتا ہے ، بلکہ انسانیت کا یہ جنم دراصل زیادہ قیمتی تھا۔ اس طرح کہ انسانی سوسائٹی ، کسی سرزمین میں متعارف جاری وساری قدروں کو خیر باد کہہ دے اور ایسی قدروں کو اپنا لے جو بالکل نئی ہوں۔ آسمانوں سے نازل شدہ ہوں۔ نئے تصورات ، نئے نظریات آجائیں ، ان تصورات ، نظریات ، حالات اور عملی روابط اور رسم و رواج کو اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور لوگ ان سابقہ تصورات اور روابط کے دباﺅ سے یکلخت آزاد ہوجائیں اور ان کے اندر جدید تصورات اور جدید قدریں رچ بس جائیں۔ وہ ان کو خوب سمجھ لیں۔ سب کے سب ان کو تسلیم کریں۔ اور یہ عظیم انقلاب برپا ہوجائے۔ یہ جدید قدریں مسلم سوسائٹی کے ضمیر میں نمایاں ہوں۔ اس کے قوانین میں واضح ہوں ، تو فی الواقعہ یہ انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ یہ عظیم انقلاب تھا جس کے برپا کرنے کے لئے ذات محمدی کو بھی تنبیہہ اور ہدایت کی ضرورت پیش آئی اور یہ انقلاب ابتدائی دور کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک طویل عرصے تک نمایاں رہا۔ ہم جدید دور کے لوگ دراصل اس عظیم انقلاب اور انسانیت کے اس جدید جنم کو کماحقہ سمجھ نہیں پا رہے ، اس لئے کہ ہمنے اس دنیا اور اس زمین کی قدروں ، زمین کے روابط اور اس دنیا کی حیشلیت اور نظریات کو ترک کرکے اپنے آپ کو اسلام کے مطابق نہیں ڈھالا۔ ہم پر مادیت اور مادی قدروں اور دنیاوی تصورات کا اس قدر غلبہ ہے کہ ہمارے دور کے بعض جاہل جو تاریخ کا مادی فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ یہ سمجھنے لگے ہیں ، کہ عقائد و تصورات اور اعلیٰ قدریں اور علوم وفنون دراصل مادی حالات اور مادی اور معاشی قدروں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح تمام رسوم ورواجات اور اصول وقوانین جو اصل معاشی قدروں کی پیداوار ہوتے ہیں ، یہ لوگ بےحد جاہل ہیں اور یہ نفس انسانی کے نشیب و فراز سے بالکل ناواقف ہیں۔ بہرحال اسلام نے جو انقلاب رونما کیا وہ ایک معجزہ تھا اور انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ انسانیت کے اس نئے جنم کے بعد اور اس عظیم انقلاب کے بعد ، دنیا کی فضا پر یہ قدریں حاوی رہیں ، لیکن ایک عربی معاشرے میں ان کا حاوی ہونا اس قدر آسان نہ تھا ، نہ مسلمانوں کے نفوس پر ان کا حاوی ہونا کوئی سہل الحصول ٹارگٹ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اپنے ذاتی کمالات ، پھر ارادہ الٰہی ، پھر خدا کی طرف سے ہدایات وتصرفات اور پھر قرآن کریم کی ہدایات پر گرم جوشی سے عمل پیرا ہونے کے شوق کی وجہ سے ، ان عظیم اصولوں اور قدروں کو لوگوں کے شعور اور ضمیر میں بٹھایا ، ایک پودے کی طرح ان کے دلوں میں یہ نئی اخلاقیات اور قدریں کاشت کی گئیں ، پھر ان کی سخت نگہداشت کی گئی تاکہ ان کی جڑیں مضبوط ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی پر صدیاں گزر گئیں لیکن یہ قدریں اپنی جگہ جمی ہوئی ہیں حالن کہ ان صدیوں میں باد مخالف کے بڑے بڑے طوفان گزر گئے اور بیشمار عوامل ان قدروں کے خلاف کام کرتے رہے۔ اس واقعہ کے بعد حضور اکرم ﷺ کی جب بھی ابن ام مکتوم کی ملاقات ہوئی ، آپ ان کو ان کلمات کے ساتھ خوش آمدید کہتے۔” آئیے صاحب تمہاری وجہ سے مجھے اللہ جل شانہ نے سختی سے ٹوکا “۔ حضور اکرم ﷺ نے اس اندھے فقیر کو دو بار اپنی زندگی میں مدینے کا گورنر بنایا۔ عربی معاشرے میں کسی کو رشتہ دینا ، ایک بڑا احساس مسئلہ تھا۔ اس معاملے میں جہاں لڑی کی جاتی تھی ، ان لوگوں کے لئے سخت معیار تھا ، آپ نے اپنی پھوپھی زاد زینب بنت جحش اسدیہ کو اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے نکاح میں دلوایا تاکہ ان جاہلی قدروں پر ضرب لگائی جاسکے۔ اس سے قبل جب آپ کے مدینہ میں مواخات کا نظام قائم کیا تو اپنے چچا حمزہ کا بھائی اپنے اسی آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو بنادیا۔ اور حضرت بلال ابن رباح کو حضرت خالد ابن رویحہ الخثعمی کا بھائی بنادیا۔ حضرت زید کو غزوہ موتہ میں امیر بنایا۔ یہ اس غزوہ کے پہلے امیر تھے۔ اس کے بعد جعفر ابن ابوطالب کا نمبر تھا ، پھر عبداللہ ابن رواحہ انصاری کا۔ اس لشکر میں تین ہزار انصار اور مہاجرین تھے جن میں خالد ابن ولید بھی تھے۔ اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے حضور ﷺ خود نکلے۔ اس جنگ میں یہ تینوں شہید ہوگئے تھے۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ اور آپ کے آخری احکامات میں سے یہ حکم تھا کہ آپ نے حضرت اسامہ ابن زید کو رومیوں کے ساتھ جنگ کے لئے کمانڈر مقرر کیا۔ اس لشکر میں بیشمار انصار اور مہاجرین شامل تھے۔ ان میں حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمر ؓ جیسے لوگ بھی تھے جو آپ کے ساتھی اور وزیرومشیر تھے اور جو آپ کے بعد خلیفہ تھے۔ نیز حضرت سعد ابن وقاص بھی تھے جو آپ کے قریبی بھی تھے اور قریش میں سے قدیم الاسلام تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت اسامہ کی امارت پر تعجب کا اظہار بھی کیا ، کیونکہ وہ بالکل کم عمر نوجوان تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں ، ” حضور ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس پر اسامہ ابن زید کو امیر مقرر فرمایا ، بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو آپ نے کہا اگر تم اسامہ ابن زید کی امارت میں طعن کرتے ہو تو تم نے اس سے قبل ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا ، خدا کی قسم ! وہ امارت کے اہل تھا اور مجھے سب لوگوں میں نہایت محبوب تھا اور یہ بھی مجھے تمام لوگوں سے محبوب ہے “۔ (شیخین اور ترمذی) اور جب سلمان فارسی ؓ کے بارے میں بعض لوگوں نے نازیبا الفاظ کہے اور عربی اور فارسی کے حوالے سے بات کی۔ اور ان باتوں سے محدود عربی قومیت کی بو آتی تھی ، تو حضور اکرم ﷺ نے اس تصور پر بھی ایک فیصلہ کن ضرب لگائی اور فرمایا : ” سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے “۔ اور حضرت مسلمانوں کو آسمانی قدروں نے تمام گری ہوئی دنیاوی قدروں سے آگے بڑھا دیا اور وہ ایک لمحے میں آفاق سے بھی آگے بڑھ گئے اور محدود قومیت کی لکیریں مٹا دی گئیں جو عربوں کے نزدیک بہت اہم تھیں اور سلمان کو اہل بیت کا فرد قرار دیا (طبرانی وحاکم) ۔ جب حضرت ابوذر غفاری ؓ اور حضرت بلال ؓ کے درمیان تکرار ہوگئی اور حضرت ابوذر ؓ کی زبان سے یہ لفظ نکل گیا ” اے سیاہ فام عورت کے لڑکے “ تو اس پر حضور اکرم ﷺ شدیدطور پر غضب ناک ہوگئے اور اس بات کو حضرت ابوذر ؓ کے منہ پر مار دیا اور فرمایا : ” ابوذر پیمانے کو درست رکھو ، اسلام میں سفید عورت کے بیٹے کو سیاہ عورت کے بیٹے کے اوپر کوئی فضیلت نہیں ہے “۔ چناچہ آپ نے بات کو نہایت ہی ابتدائی جڑوں سے علیحدہ کردیا۔ اسلام ، اسلام ہے اور آسمانی قدروں پر مشتمل ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اس کی قدریں زمینی ہیں۔ (ابن مبارک) حضرت ابوذر ؓ کے حساس دل پر حضور اکرم ﷺ کی اس بات کا سخت اثر ہوا ، انہوں نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی اور قسم اٹھائی کہ وہ اس وقت تک اپنی پیشانی کو اوپر نہ اٹھائیں گے جب تک بلال ؓ اسے روند نہ ڈالیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک اس بری بات کا کفارہ یہی ہے۔ جس ترازو کے مطابق حضرت بلال ؓ کو اس قدروزن حاصل ہوا تھا ، وہ آسمانی ترازو تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بلال “ مجھے بتاﺅ کہ تم نے کون سا ایسا عمل کیا ہے جس پر تمہیں خدا کے ہاں بہت زیادہ اجر کی توقع ہے ؟ “ اس لئے کہ میں نے معراج کی رات ، جنت میں تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے “۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اسلام لانے کے بعد میں نے جب بھی مکمل پاکی اختیار کی ہے (وضو ، غسل) رات کو یا دن کو تو میں نے اس کے بعد نماز پڑھی ہے ، جس قدر اللہ نے میرے لئے مقدر کیے تھے ، بس وہ بات ہے جس سے میں امید کرتا ہوں کہ مجھے زیادہ ثواب ملے گا۔ (شیخین) حضور اکرم ﷺ عمار ابن یاسر کے بارے میں فرمایا کرتے تھے ، جب بھی انہوں نے حضور ﷺ سے ملاقات کی اجازت چاہی ، ” اسے اجازت دو ، یہ پاک اور پاکباز ہے “۔ (نسائی) اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا :” عمار سر سے پاﺅں تک ایمان سے پر ہے “۔ اور حضرت حذیفہ ؓ کے بارے میں فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں تمہارے اندر اب کتنا عرصہ رہوں گا ، لہٰذا ان دونوں کی پیروی کرو “۔ (حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی طرف اشارہ کیا) اور عمار کے طریقے پر چلو اور تمہیں جو بات ابن مسعود نے بتائی ، اس کی تصدیق کرنا “۔ (ترمذی) حضرت ابن مسعود کی حالت تو یہ تھی کہ جو لوگ مدینہ کے رہنے والے نہ تھے ، وہ آتے تو حضرت ابن مسعود کو نبی ﷺ کے گھرانے کا آدمی سمجھتے .... کیونکہ یہ اکثر آتے جاتے تھے اور بروقت حضور ﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔ (شیخین وترمذی) ایک آزاد کردہ غلام جلسیب ؓ تھے ، ان کے لئے حضور ﷺ خود ہی رشتہ تلاش فرماتے تھے۔ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ انصار میں سے کوئی عورت ان کے لئے مل جائے۔ ایک لڑکی کے بارے میں حضور ﷺ نے پیغام دیا ، اس کے والدین نے انکار کردیا تو اس لڑکی نے کہا ، کیا تم رسول اللہ ﷺ کی بات کو رد کررہے ہو ؟ اگر رسول اللہ ﷺ اس پر راضی ہیں تو مجھے اس شخص کے نکاح میں دے دو ۔ اس پر والدین راضی ہوگئے اور انہوں نے وہ لڑکی اسے نکاح کرکے دے دی۔ (احمد) یہ شخص اپنی اس شادی کے بعد جلدی پیش آنے والی کسی جنگ میں گم ہوگئے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک غزوہ میں شریک ہوئے۔ اللہ نے آپ کو فتح دی اور مال غنیمت بھی ملا۔ جنگ کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں فلاں فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں ، فلاں ، فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ کوئی اور شخص گم پارے ہو تو انہوں نے کہا نہیں اور تو کوئی گم نہیں ہے تو آپ نے فرمایا ہاں میں جلیسیب کو گم پاتا ہوں۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا ، یہ سات مقتولین کفار کے پاس پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان سات کو قتل کردیا تھا ، جس کے بعد انہوں نے اسے شہید کردیا تھا۔ آپ ان کی لاش کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا اس نے سات قتل کردیا۔ بعد میں انہوں نے اسے شہید کردیا۔ یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں بازوﺅں میں انہیں اٹھایا۔ حضور ﷺ کے بازوﺅں کے سوا ان کے لئے کوئی چارپائی نہ تھی۔ ان کے لئے قبر کھودی گئی اور انہیں قبر میں رکھ دیا گیا۔ راوی بےغسل کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم) اللہ کی ان ہدایات کے ذریعہ سے اور نبی ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کی وجہ سے ، انسانیت کو ایک نیا جنم ملا۔ اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں حسن وقبح کے اصول آسمان سے لئے جاتے تھے۔ یہ معاشرہ اسی زمین پر ہوتے ہوئے بھی زمین کی گری پڑی اقدار سے آزاد تھا۔ یہ تھا اسلام کا عظیم معجزہ۔ یہ ایک عظیم معجزہ تھا اور کوئی معجزہ خدا اور رسول ﷺ کے احکام کے بغیر صادر نہیں ہوسکتا۔ اس معجزے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ دین اللہ کا دین تھا اور جس ذات بابرکات نے یہ دین پیش کیا وہ اللہ کا رسول ﷺ تھا۔ اور اللہ کی ایک خاص تدبیر تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے پہلے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس کے والی اور خلیفہ المسلمین بنے۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے ساتھی حضرت عمر ؓ اس دین کے سربراہ بنے۔ یہ دوسرے خلیفہ دونوں میں سے اس نظام کو زیادہ سمجھنے والے تھے ، یہ زیادہ حضور اکرم ﷺ کی سنت پرچلنے والے تھے اور رسول سے محبت کرنے والے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت اور اطاعت کے میدان میں ان کے نقش قدم پرچلنے والے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت اسامہ کے بارے میں حضور ﷺ کے اصرار کو سمجھ لیا تھا۔ اس لئے انہوں نے منصب امارت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے یہی کام کیا۔ یہ لشکر حضور اکرم ﷺ نے تیار کیا تھا اور حضرت ابوبکر ؓ نے مدینہ کے باہر خود اسے الوداع کہا۔ اسامہ سوار تھے اور حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ المسلمین ان کی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ حضرت بسامہ کو حیا آگئی کہ وہ سوار ہوں اور بوڑھے خلیفہ پیدل ساتھ ساتھ جارہے ہوں۔ انہوں نے کہا : ” خلیفة المسلمین ، یا تو آپ سوار ہوں یا میں اترتا ہوں “۔ خلیفتہ المسلمین قسم اٹھاتے ہیں ” خدا کی قسم تم نہ اترو گے اور خدا کی قسم میں سوار بھی نہ ہوں گا ، کیا ہوجائے گا اگر میرے پاﺅں بھی اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں “۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے سوچا کہ آپ کو حضرت عمر ؓ کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کے کاندھوں پر خلافت کا بوجھ پڑچکا ہے لیکن عمر تو جیش اسامہ کے ایک سپاہی ہیں۔ اسامہ امیر ہیں۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ اسامہ سے اجازت طلب کی جائے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں ” اگر تم عمر ؓ کو ترک کرکے میری مدد کرسکتے ہو تو مناسب ہوگا “۔ ذرا الفاظ کو دیکھو ” اگر تم مناسب سمجھو تو حضرت عمر ؓ کو چھوڑ کر میری مدد کرو “۔ یہ ہیں وہ بلندیاں جن تک اسلام نے انسانوں کو پہنچا دیا۔ یہ معجزہ صرف اللہ کی مرضی سے ہوسکتا ہے اور ایک رسول ہی اسے سرانجام دے سکتے ہیں۔ زمانے کا پہیہ گھومتا ہے اور ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ خلیفہ ہیں اور وہ حضرت عمار ابن یاسر کو کوفہ کا حاکم مقرر کرتے ہیں۔ ایک وقت یوں بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے دفتر کے سامنے سہیل ابن عمرو ابن الحارث ابن ہشام اور ابو سفیان کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ قریش کے سرداروں کی ایک جماعت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور علماء کہلائے۔ حضرت عمر ؓ ان سے پہلے صہیب اور بلال کو اندر بلاتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ اسلام کے سابقون الاولون اور اہل بدر میں سے تھے۔ ابوسفیان کے نتھنے مارے غصے کے پھول جاتے ہیں اور سخت جذباتی انداز میں کہتے ہیں ” میں اپنی پوری زندگی میں ایسا دن نہیں دیکھا کہ ان غلاموں کو تو اندر بلایا جاتا ہے اور ہم دروازے پر چھوڑے جاتے ہیں “۔ اس کے ساتھی جنہوں نے حقیقت اسلام کو سمجھ لیا تھا اور ان کے شعور پر اسلام چھا گیا تھا ، ان سے کہا ” اے قوم تمہارے چہروں پر جو آثار نمودار ہیں ، میں دیکھ رہا ہوں۔ اگر تمہیں غصہ آرہا ہے تو یہ غصہ اپنے نفس سے اتارو ، ان لوگوں کو بھی اسلام کی طرف بلایا گیا اور تمہیں بھی بلایا گیا۔ انہوں نے فوراً لبیک کہا اور تم نے دیر لگادی۔ تم ذرا اس وقت کا خیال کرو کہ قیامت میں ان کو بلایا جائے اور تم وہاں بھی کھڑے کے کھڑے رہو (اسلام کا اجتماعی عدل) حضرت عمر ؓ اسامہ ابن زید کے لئے عبداللہ ابن عمر سے زیادہ الاوئنس مقرر فرماتے ہیں۔ حضرت عبداللہ اس کا راز پوچھتے ہیں حضرت عمر ؓ جواب دیتے ہیں ” بیٹے ، زید رسول اللہ ﷺ کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں تم سے زیادہ محبوب تھے۔ اس لئے میں نے رسول اللہ کی محبت کو اپنی محبت پر ترجیح دے دی “۔ حضرت عمر ؓ کو معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت آسمانی پیمانوں سے ناپی جاتی ہے۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت عمار ؓ ابن یاسر کو بھیجتے ہیں کہ وہ اسلام کے عظیم کمانڈر ، فاتح اور اعلیٰ خاندان کے فرد حضرت خالد بن ولید کے خلاف بعض شکایات کی تفتیش کریں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمار ؓ نے ان کو ان کی چادر سے باندھا اور بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کو خود ان کے عمامے سے باندھا گیا۔ یہاں تک کہ تفتیش ختم ہوگئی اور اس کے نتیجے وہ بےگناہ ثابت ہوگئے۔ اس کے بعد وہ انہیں کھولتے ہیں اور خوداپنے ہاتھ سے ان کے سر پر عمامہ باندھتے ہیں اور حضرت خالد ؓ کو اس پر کوئی غصہ نہیں آتا۔ اس لئے کہ حضرت عمار ؓ حضور اکرم ﷺ کے ساتھی ہیں اور ان سے پہلے اسلام لانے والے ہیں اور ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ ان کو معلوم تھا۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابوبکر ؓ کے بارے میں فرماتے تھے۔ یہ ہمارے سردار ہیں جنہوں نے ہمارے دوسرے سردار کو غلامی سے آزاد کرایا یعنی حضرت بلال کو جو امیہ ابن خلف کے مملوک تھے اور امیہ انہیں سخت اذیت دیتا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں خریدا اور آزاد کردیا۔ ان کے بارے میں حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بلال ؓ ہمارے سردار ہیں۔ یہ حضرت عمر ؓ ہی تھے کہ انہوں نے فرمایا اگر ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم موجود ہوتے تو میں انہیں خلیفہ بنا دیتا۔ حضرت عمر ؓ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ اور حضرت زبیر ؓ جیسے لوگوں کو بھی خلیفہ نہ بنایا۔ بلکہ چھ آدمیوں کی شوریٰ مقرر کی کہ ان میں سے کسی ایک کو مقرر کیا جائے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت عمار ؓ اور حسن ابن علی کو اہل کوفہ کی طرف بھیجتے ہیں۔ وہ ان سے درخواست کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ ان کا جو نزاع ہوگیا ہے اس میں وہ ان کا ساتھ دیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ” مجھے اچھی طرح علم ہے کہ حضرت عائشہ ؓ تمہارے نبی ﷺ کی بیوی ہیں ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، لیکن اللہ نے تمہیں اس امتحان میں ڈال دیا ہے کہ تم میری اطاعت کرتے ہو یا ان کی “۔ (بخاری) اس طرح حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ حضرت بلال ؓ یمن کے گورنر تھے۔ ابورویحہ خشعمی یمن کے ایک قبیلے میں شادی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کی سفارش کریں۔ حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں میں بلال ابن رباح ہوں اور یہ میرے بھائی ابو ردیحہ ہیں۔ یہ ایک ایسا شخص ہے کہ نہ اس کے اخلاق اچھے ہیں اور نہ یہ زیادہ دیندار ہے۔ تم چاہو تو اپنی لڑکی ان کے عقد میں دے دو اور نہ چاہو تو نہ دو “۔ حضرت بلال ؓ انہیں دھوکہ نہیں دیتے اور نہ اس کے معاملے میں کوئی بات چھپاتے ہیں ، اور نہ وہ اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ میں سفارشی ہوں۔ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہیں گے اللہ کے ہاں جوابدہ ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کس قدر شچے ہیں اور وہ یہ رشتہ دے دیتے ہیں۔ بس وہ یہ بات کافی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک صاحب نسب عرب ہیں اور ان کی سچی سفارش حضرت بلال ؓ حبشی کررہے ہیں۔ غرض یہ عظیم حقیقت اسلامی معاشرے میں عملاً قائم ہوگئی اور اس کے بعد ایک طویل زمانے تک قائم رہی۔ باوجود اس کے بعد کے زمانوں میں مسلمانوں کے اندر زوال اور تنزل کے بیشمار عوامل پیدا ہوگئے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے آزادذ کردہ غلام عکرمہ کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ جب عبداللہ ابن عمر کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے غلام نافع کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ انس ابن مالک کے ساتھ ابن سیرین کا ذکر ہوتا ہے ، اور ابوہریرہ کے ساتھ ان کے غلام عبدالرحمن ابن ہرمز کا ذکر ہوتا ہے ، بصرہ میں حسن بصری ، مکہ میں مجاہد ، عطا ابن ابی رباح اور طاﺅس ابن کیسان جیسے لوگ مشہور فقہاء تھے۔ عمر ابن عبدالعزیز کے زمانے میں ، مصر میں یزید ابن ابی حبیب مفتی اعظم مقرر ہوئے۔ یہ علقمہ کے سیاہ فام آزاد کردہ غلام تھے۔ یہ تھیں آسمانی اور اسلامی قدریں جنہوں نے انسانیت کو تقویٰ کی بنیاد پر اس قدر بلند کردیا ، اگرچہ دنیا کے اندر مقبول ترین اقدار میں سے کوئی خصوصیت ان کے اندر نہ تھی۔ نہ اپنی ذات کے اعتبار سے اور نہ ان کے ماحول کے اعتبار سے۔ یہ میزان اور یہ پیمانے دنیا میں ماضی قریب تک قائم رہے۔ ماضی قریب میں پوری دنیا پر دوبارہ جاہلیت چھاگئی۔ دنیا کا ایک حصہ امریکی جاہلیت کے زیر اثر آگیا جس میں انسانوں کی قیمت ڈالر کی شکل میں متعین ہونے لگی اور نصف مشرقی دنیا کی قیادت روسی جاہلیت کو حاصل ہوگئی اور اس میں انسان کی وقعت ایک پیداواری مشین کے سوا کچھ نہ تھی۔ رہی اسلامی دنیا تو اس پر وہی جداہلیت عربی قومیت کی جاہلیت چھاگبی جس کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کے لئے اسلام دنیا میں آیا تھا اور عملاً اسلام نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا تھا۔ آج عالم اسلام سے اس اعلیٰ معیار اور اعلیٰ قدر کو مٹا دیا گیا ہے اور عالم اسلام ایک ایسی جاہلیت کی تاریکیوں میں ڈوب گیا ہے ، جس کے اندر ایمان اور تقویٰ اعلیٰ قدر ہی نہیں ہے۔ ہاں عالم اسلام میں دعوت اسلامی اور احیاء اسلام کی تحریک جاری ہے۔ صرف اس تحریک پر امید ہے کہ یہ پوری دنیا کو جاہلیت سے نکال کر از سر نو آسمانی قدریں عطا کرے گی اور شاید ایک بار پھر انسانیت ایک نیا جنم لے جیسا کہ انسانیت کو آغاز اسلام کے دور میں نصیب ہوا۔ جس کی ایک جھلک اس سورت کی ابتدائی آیات میں دکھائی گئی ہے۔ یہ چند آیات ہیں لیکن نہایت ہی اہم اور سنگ میل اور فیصلہ کن ہیں۔ ایک مخصوص واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے سورت کے پہلے حصے میں اس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ، اس دوسرے حصے میں ، اس انسان کے رویہ پر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا ہے جو ایسے حقائق اور ایمان اور تقویٰ کی اس دعوت سے منہ موڑتا ہے ، اور دعوت اسلامی سے اپنے آپ کو برتر اور بالا سمجھتا ہے۔ یہ انسان اپنے اصل اور اپنی تخلیق کے حالات پر اگر غور کرتا تو ہرگز اعراض نہ کرتا۔ انسان یہ نہیں دیکھتا کہ اس پر اللہ کی کیا کیا عنایات ہیں۔ اس کی زندگی قدم قدم پر اللہ کے کنٹرول میں ہے ، دنیا اور آخرت میں یہ انسان دراصل ہر مرحلہ حیات میں اللہ کے اختیار میں ہے ، لیکن یہ اپنے خالق ، اپنے کفیل اور اپنے محاسب کے حقوق ادا نہیں کرتا اور نہ اس سے ڈرتا ہے۔

عبس 80:16

انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے ہوں۔ یہ تو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اس کی برتری اور اس کی پاکیزگی کے قائل ہیں اور جو اس سے پاکیزگی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے معیار ، اللہ کا مقرر کردہ معیار۔ اسی میزان کے مطابق میں ہمیں لوگوں کے اور اپنے اعمال اور اپنی حیشایت کو وزن کرنا ہوگا۔ یہ اللہ کا حکم ہے ، اللہ کا کلام ہے۔ اور اس کے مقابلے میں کسی بات کا کوئی وزن ہی نہیں رہتا ، ہر فعل اور ہر حکم اس سے فروتر ہے۔ یہ حکم کہاں دیا گیا اور یہ واقعہ کہاں پیش آیا ؟ مکہ میں ، جبکہ دعوت اسلامی کا ہر طرف سے پیچھا کیا جارہا تھا ، مسلمان بہت ہی کم تعداد میں تھے۔ اور نبی ﷺ ان بااثر لوگوں کی طرف کسی ذاتی مقصد کے لئے بھی متوجہ نہ تھے۔ اور اس اندھے سے لاپروائی کسی ذاتی غرض کے لئے نہ تھی۔ حضور کے پیش نظر بھی صرف اور صرف دعوت اسلامی کا مفاد تھا لیکن اس دعوت کا ترازو یہ تھا۔ اس کی قدریں دوسری تھیں اس نے تو لوگوں کے لئے قدروں کا تعین کرنا تھا ، روایات کی تخلیق کرنی تھی ۔ یہ دعوت تب ہی کامیاب ، باوقار اور مضبوط ہوسکتی جب وہ ایسے پیمانے قائم کردیتی۔ یہ فقط ایک انفرادی واقعہ نہ تھا ، یہ ایک عظیم اصول تھا۔ نہ ایک معمولی اخلاقی برتاﺅ کا معاملہ تھا ، معاملہ یہ تھا کہ ایک اصولی اور دستوری مسئلہ درپیش تھا کہ لوگ نیک وبد کے پیمانے کہاں سے اخذ کریں۔ کیا زمین کے رسم و رواج سے یا آسمانی ہدایات سے ، زمینی اور عوامی زاویوں سے یا بارگاہ رب العزت سے ، جہاں سے یہ اصول وضع ہوا ہے۔ ان اکرمکم ................ انفسکم ” تم میں سے اللہ کے نزدیک معززوہ ہے جو تم میں سے متقی ہے “۔ اس دعوت اور اس تحریک میں وہی قابل لحاظ ہے جو اللہ کے نزدیک قابل لحاظ ہے۔ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے وہ ان عناصر سے محروم ہو جو لوگوں کے نزدیک وزن دار ہیں۔ جن مناظر کا لوگوں پر دباﺅ ہے اور جن کو دنیا والوں کے نزدیک اہم سمجھا جاتا ہے ، مثلاً نسب وحسب ، افرادی اور مالی قوت ، اور دوسری قابل لحاظ باتیں۔ اگر یہ چیزیں ایمان سے خالی ہوں اور ان کے ساتھ تقویٰ کا رنگ نہ ہو ، تو اس دعوت میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اس تحریک کے زاویہ سے اہم بات اور سب سے مقدم بات یہ ہے کہ ایک شخص اپنے حالات ایمان اور تقویٰ کے اعتبار سے درست کام کرے۔ اس واقعہ ، انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ اس عظیم حقیقت اور اس عظیم اصول کو ذہن نشین کرانا چاہتا تھا اور قرآنی انداز اصلاح اور تربیت کے عین مطابق ، جس میں ایک انفرادی واقعہ سے ایک عظیم اصول نکال کر لوگوں کے ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ یہ اصول پھر دستوری قاعدہ بن جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ان ہدایات اور اس عتاب سے بےحد متاثر ہوئی۔ آپ نے نہایت جوش و خروش سے ان ہدایات کو قبول کیا اور ان پر عمل کرکے اس اصول اور دستور کو اسلامی معاشرے میں نافذ کیا۔ اس نئی جماعت کی عمارت اس اصول پر استوار ہوئی کہ یہ اسلامی معاشرے کی خشت اول تھی۔ آپ کا پہلا فرض یہ قرار پایا کہ آپ اس واقعہ کو قرآن کی ایک سورت کے طور پر خود بیان کریں۔ یہ ایک عظیم بات تھی۔ یہ خدا کا رسول ہی کرسکتا تھا۔ جس پہلو سے بھی ہم اس پر غور کریں۔ انسان اپنی کمزوریوں کو چھپاتا ہے۔ یہ رسول خدا ہی تھے جنہوں نے اس عتاب الٰہی کا برملا اعلان فرمایا اور یہ اعلان بھی اس منفرد انداز میں فرمایا۔ اگر نبی کے سوا کوئی اور لیڈر ہوتا تو وہ اپنی غلطی کا احساس کرلیتا ، آئندہ احتیاط کرتا ، لیکن اللہ کے نبی کا مقام تو کچھ اور ہوتا ہے۔ منصب نبوت کے آفاق تو کچھ اور ہوتے ہیں ، بہت بلند اور بہت دور رس۔ یہ نبی ہی تھا جو نہایت ہی مشکل اور نازک حالات میں ، قریش کے ایک بااثر اور مقدر لوگوں کے سامنے اس اصول کا اعلان کردیں۔ جبکہ اس نئی دعوت کے مقابلے میں یہ بااثر لوگ اپنے مالی افرادی اور خاندانی عزت وجاہ کے سب وسائل لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ایک ایسے معاشرے میں جس میں حسب ونسب اور عزت وجاہ کے سوا کوئی اور قدر رائج نہ تھی ، اس میں بات صرف یہ ہوتی تھی۔ محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ، ابن ہاشم اور لوگ کہتے تھے۔ لولا انزل ................................ عظیم ” یہ قرآن دو گاﺅں کے کسی عظیم شخص پر کیوں نہیں اترا “۔ حضور ﷺ تو ان کے اندر صاحب نسب تھے ، لیکن رئیس نہ تھے اور وہ تو صرف جاہ واقتدار کے پجاری تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاشرے میں ایک نبی اور وحی الٰہی ہی اس قسم کا عظیم انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ زمین پر رہنے والا کوئی شخص اور دنیاوی ذہن سے سوچنے والا کوئی فرد ایسا انقلابی اقدام نہیں کرسکتا اور خصوصاً ایسے حالات اور ایسے وقت میں جن میں حضور اکرم ﷺ دعوت اسلامی کا کام کررہے تھے۔ یہ آسمانی قوت اور آسمانی ہدایت ہی تھی جس نے اس معاملے کو اس انداز پر چلایا ، یہ اصول نبی ﷺ کی ذات کے ذریعہ ان مشکل حالات میں نافذ کیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے اسے نافذ کیا ، نہایت جوش و خروش ، نہایت قوت اور مضبوطی کے ساتھ اس دستور کو اس نئی سوسائٹی کی بنیادوں کے اندر رکھ دیا اور یہ امت مسلمہ کی زندگی میں ایک طویل عرصہ تک قائم ودائم رہا۔ یہ دراصل انسانیت کے لئے ایک دوسرا جنم تھا۔ جس طرح ایک انسان فطرتاً پیدا ہوتا ہے ، بلکہ انسانیت کا یہ جنم دراصل زیادہ قیمتی تھا۔ اس طرح کہ انسانی سوسائٹی ، کسی سرزمین میں متعارف جاری وساری قدروں کو خیر باد کہہ دے اور ایسی قدروں کو اپنا لے جو بالکل نئی ہوں۔ آسمانوں سے نازل شدہ ہوں۔ نئے تصورات ، نئے نظریات آجائیں ، ان تصورات ، نظریات ، حالات اور عملی روابط اور رسم و رواج کو اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور لوگ ان سابقہ تصورات اور روابط کے دباﺅ سے یکلخت آزاد ہوجائیں اور ان کے اندر جدید تصورات اور جدید قدریں رچ بس جائیں۔ وہ ان کو خوب سمجھ لیں۔ سب کے سب ان کو تسلیم کریں۔ اور یہ عظیم انقلاب برپا ہوجائے۔ یہ جدید قدریں مسلم سوسائٹی کے ضمیر میں نمایاں ہوں۔ اس کے قوانین میں واضح ہوں ، تو فی الواقعہ یہ انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ یہ عظیم انقلاب تھا جس کے برپا کرنے کے لئے ذات محمدی کو بھی تنبیہہ اور ہدایت کی ضرورت پیش آئی اور یہ انقلاب ابتدائی دور کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک طویل عرصے تک نمایاں رہا۔ ہم جدید دور کے لوگ دراصل اس عظیم انقلاب اور انسانیت کے اس جدید جنم کو کماحقہ سمجھ نہیں پا رہے ، اس لئے کہ ہمنے اس دنیا اور اس زمین کی قدروں ، زمین کے روابط اور اس دنیا کی حیشلیت اور نظریات کو ترک کرکے اپنے آپ کو اسلام کے مطابق نہیں ڈھالا۔ ہم پر مادیت اور مادی قدروں اور دنیاوی تصورات کا اس قدر غلبہ ہے کہ ہمارے دور کے بعض جاہل جو تاریخ کا مادی فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ یہ سمجھنے لگے ہیں ، کہ عقائد و تصورات اور اعلیٰ قدریں اور علوم وفنون دراصل مادی حالات اور مادی اور معاشی قدروں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح تمام رسوم ورواجات اور اصول وقوانین جو اصل معاشی قدروں کی پیداوار ہوتے ہیں ، یہ لوگ بےحد جاہل ہیں اور یہ نفس انسانی کے نشیب و فراز سے بالکل ناواقف ہیں۔ بہرحال اسلام نے جو انقلاب رونما کیا وہ ایک معجزہ تھا اور انسانوں کے لئے ایک نیا جنم تھا۔ انسانیت کے اس نئے جنم کے بعد اور اس عظیم انقلاب کے بعد ، دنیا کی فضا پر یہ قدریں حاوی رہیں ، لیکن ایک عربی معاشرے میں ان کا حاوی ہونا اس قدر آسان نہ تھا ، نہ مسلمانوں کے نفوس پر ان کا حاوی ہونا کوئی سہل الحصول ٹارگٹ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اپنے ذاتی کمالات ، پھر ارادہ الٰہی ، پھر خدا کی طرف سے ہدایات وتصرفات اور پھر قرآن کریم کی ہدایات پر گرم جوشی سے عمل پیرا ہونے کے شوق کی وجہ سے ، ان عظیم اصولوں اور قدروں کو لوگوں کے شعور اور ضمیر میں بٹھایا ، ایک پودے کی طرح ان کے دلوں میں یہ نئی اخلاقیات اور قدریں کاشت کی گئیں ، پھر ان کی سخت نگہداشت کی گئی تاکہ ان کی جڑیں مضبوط ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی پر صدیاں گزر گئیں لیکن یہ قدریں اپنی جگہ جمی ہوئی ہیں حالن کہ ان صدیوں میں باد مخالف کے بڑے بڑے طوفان گزر گئے اور بیشمار عوامل ان قدروں کے خلاف کام کرتے رہے۔ اس واقعہ کے بعد حضور اکرم ﷺ کی جب بھی ابن ام مکتوم کی ملاقات ہوئی ، آپ ان کو ان کلمات کے ساتھ خوش آمدید کہتے۔” آئیے صاحب تمہاری وجہ سے مجھے اللہ جل شانہ نے سختی سے ٹوکا “۔ حضور اکرم ﷺ نے اس اندھے فقیر کو دو بار اپنی زندگی میں مدینے کا گورنر بنایا۔ عربی معاشرے میں کسی کو رشتہ دینا ، ایک بڑا احساس مسئلہ تھا۔ اس معاملے میں جہاں لڑی کی جاتی تھی ، ان لوگوں کے لئے سخت معیار تھا ، آپ نے اپنی پھوپھی زاد زینب بنت جحش اسدیہ کو اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے نکاح میں دلوایا تاکہ ان جاہلی قدروں پر ضرب لگائی جاسکے۔ اس سے قبل جب آپ کے مدینہ میں مواخات کا نظام قائم کیا تو اپنے چچا حمزہ کا بھائی اپنے اسی آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو بنادیا۔ اور حضرت بلال ابن رباح کو حضرت خالد ابن رویحہ الخثعمی کا بھائی بنادیا۔ حضرت زید کو غزوہ موتہ میں امیر بنایا۔ یہ اس غزوہ کے پہلے امیر تھے۔ اس کے بعد جعفر ابن ابوطالب کا نمبر تھا ، پھر عبداللہ ابن رواحہ انصاری کا۔ اس لشکر میں تین ہزار انصار اور مہاجرین تھے جن میں خالد ابن ولید بھی تھے۔ اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے حضور ﷺ خود نکلے۔ اس جنگ میں یہ تینوں شہید ہوگئے تھے۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ اور آپ کے آخری احکامات میں سے یہ حکم تھا کہ آپ نے حضرت اسامہ ابن زید کو رومیوں کے ساتھ جنگ کے لئے کمانڈر مقرر کیا۔ اس لشکر میں بیشمار انصار اور مہاجرین شامل تھے۔ ان میں حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمر ؓ جیسے لوگ بھی تھے جو آپ کے ساتھی اور وزیرومشیر تھے اور جو آپ کے بعد خلیفہ تھے۔ نیز حضرت سعد ابن وقاص بھی تھے جو آپ کے قریبی بھی تھے اور قریش میں سے قدیم الاسلام تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت اسامہ کی امارت پر تعجب کا اظہار بھی کیا ، کیونکہ وہ بالکل کم عمر نوجوان تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں ، ” حضور ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس پر اسامہ ابن زید کو امیر مقرر فرمایا ، بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو آپ نے کہا اگر تم اسامہ ابن زید کی امارت میں طعن کرتے ہو تو تم نے اس سے قبل ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا ، خدا کی قسم ! وہ امارت کے اہل تھا اور مجھے سب لوگوں میں نہایت محبوب تھا اور یہ بھی مجھے تمام لوگوں سے محبوب ہے “۔ (شیخین اور ترمذی) اور جب سلمان فارسی ؓ کے بارے میں بعض لوگوں نے نازیبا الفاظ کہے اور عربی اور فارسی کے حوالے سے بات کی۔ اور ان باتوں سے محدود عربی قومیت کی بو آتی تھی ، تو حضور اکرم ﷺ نے اس تصور پر بھی ایک فیصلہ کن ضرب لگائی اور فرمایا : ” سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے “۔ اور حضرت مسلمانوں کو آسمانی قدروں نے تمام گری ہوئی دنیاوی قدروں سے آگے بڑھا دیا اور وہ ایک لمحے میں آفاق سے بھی آگے بڑھ گئے اور محدود قومیت کی لکیریں مٹا دی گئیں جو عربوں کے نزدیک بہت اہم تھیں اور سلمان کو اہل بیت کا فرد قرار دیا (طبرانی وحاکم) ۔ جب حضرت ابوذر غفاری ؓ اور حضرت بلال ؓ کے درمیان تکرار ہوگئی اور حضرت ابوذر ؓ کی زبان سے یہ لفظ نکل گیا ” اے سیاہ فام عورت کے لڑکے “ تو اس پر حضور اکرم ﷺ شدیدطور پر غضب ناک ہوگئے اور اس بات کو حضرت ابوذر ؓ کے منہ پر مار دیا اور فرمایا : ” ابوذر پیمانے کو درست رکھو ، اسلام میں سفید عورت کے بیٹے کو سیاہ عورت کے بیٹے کے اوپر کوئی فضیلت نہیں ہے “۔ چناچہ آپ نے بات کو نہایت ہی ابتدائی جڑوں سے علیحدہ کردیا۔ اسلام ، اسلام ہے اور آسمانی قدروں پر مشتمل ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اس کی قدریں زمینی ہیں۔ (ابن مبارک) حضرت ابوذر ؓ کے حساس دل پر حضور اکرم ﷺ کی اس بات کا سخت اثر ہوا ، انہوں نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی اور قسم اٹھائی کہ وہ اس وقت تک اپنی پیشانی کو اوپر نہ اٹھائیں گے جب تک بلال ؓ اسے روند نہ ڈالیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک اس بری بات کا کفارہ یہی ہے۔ جس ترازو کے مطابق حضرت بلال ؓ کو اس قدروزن حاصل ہوا تھا ، وہ آسمانی ترازو تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بلال “ مجھے بتاﺅ کہ تم نے کون سا ایسا عمل کیا ہے جس پر تمہیں خدا کے ہاں بہت زیادہ اجر کی توقع ہے ؟ “ اس لئے کہ میں نے معراج کی رات ، جنت میں تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے “۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اسلام لانے کے بعد میں نے جب بھی مکمل پاکی اختیار کی ہے (وضو ، غسل) رات کو یا دن کو تو میں نے اس کے بعد نماز پڑھی ہے ، جس قدر اللہ نے میرے لئے مقدر کیے تھے ، بس وہ بات ہے جس سے میں امید کرتا ہوں کہ مجھے زیادہ ثواب ملے گا۔ (شیخین) حضور اکرم ﷺ عمار ابن یاسر کے بارے میں فرمایا کرتے تھے ، جب بھی انہوں نے حضور ﷺ سے ملاقات کی اجازت چاہی ، ” اسے اجازت دو ، یہ پاک اور پاکباز ہے “۔ (نسائی) اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا :” عمار سر سے پاﺅں تک ایمان سے پر ہے “۔ اور حضرت حذیفہ ؓ کے بارے میں فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں تمہارے اندر اب کتنا عرصہ رہوں گا ، لہٰذا ان دونوں کی پیروی کرو “۔ (حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی طرف اشارہ کیا) اور عمار کے طریقے پر چلو اور تمہیں جو بات ابن مسعود نے بتائی ، اس کی تصدیق کرنا “۔ (ترمذی) حضرت ابن مسعود کی حالت تو یہ تھی کہ جو لوگ مدینہ کے رہنے والے نہ تھے ، وہ آتے تو حضرت ابن مسعود کو نبی ﷺ کے گھرانے کا آدمی سمجھتے .... کیونکہ یہ اکثر آتے جاتے تھے اور بروقت حضور ﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔ (شیخین وترمذی) ایک آزاد کردہ غلام جلسیب ؓ تھے ، ان کے لئے حضور ﷺ خود ہی رشتہ تلاش فرماتے تھے۔ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ انصار میں سے کوئی عورت ان کے لئے مل جائے۔ ایک لڑکی کے بارے میں حضور ﷺ نے پیغام دیا ، اس کے والدین نے انکار کردیا تو اس لڑکی نے کہا ، کیا تم رسول اللہ ﷺ کی بات کو رد کررہے ہو ؟ اگر رسول اللہ ﷺ اس پر راضی ہیں تو مجھے اس شخص کے نکاح میں دے دو ۔ اس پر والدین راضی ہوگئے اور انہوں نے وہ لڑکی اسے نکاح کرکے دے دی۔ (احمد) یہ شخص اپنی اس شادی کے بعد جلدی پیش آنے والی کسی جنگ میں گم ہوگئے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک غزوہ میں شریک ہوئے۔ اللہ نے آپ کو فتح دی اور مال غنیمت بھی ملا۔ جنگ کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں فلاں فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو ، تو لوگوں نے کہا ہاں ، فلاں ، فلاں اور فلاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ کوئی اور شخص گم پارے ہو تو انہوں نے کہا نہیں اور تو کوئی گم نہیں ہے تو آپ نے فرمایا ہاں میں جلیسیب کو گم پاتا ہوں۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا ، یہ سات مقتولین کفار کے پاس پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان سات کو قتل کردیا تھا ، جس کے بعد انہوں نے اسے شہید کردیا تھا۔ آپ ان کی لاش کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا اس نے سات قتل کردیا۔ بعد میں انہوں نے اسے شہید کردیا۔ یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں بازوﺅں میں انہیں اٹھایا۔ حضور ﷺ کے بازوﺅں کے سوا ان کے لئے کوئی چارپائی نہ تھی۔ ان کے لئے قبر کھودی گئی اور انہیں قبر میں رکھ دیا گیا۔ راوی بےغسل کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم) اللہ کی ان ہدایات کے ذریعہ سے اور نبی ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کی وجہ سے ، انسانیت کو ایک نیا جنم ملا۔ اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں حسن وقبح کے اصول آسمان سے لئے جاتے تھے۔ یہ معاشرہ اسی زمین پر ہوتے ہوئے بھی زمین کی گری پڑی اقدار سے آزاد تھا۔ یہ تھا اسلام کا عظیم معجزہ۔ یہ ایک عظیم معجزہ تھا اور کوئی معجزہ خدا اور رسول ﷺ کے احکام کے بغیر صادر نہیں ہوسکتا۔ اس معجزے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ دین اللہ کا دین تھا اور جس ذات بابرکات نے یہ دین پیش کیا وہ اللہ کا رسول ﷺ تھا۔ اور اللہ کی ایک خاص تدبیر تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے پہلے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس کے والی اور خلیفہ المسلمین بنے۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے ساتھی حضرت عمر ؓ اس دین کے سربراہ بنے۔ یہ دوسرے خلیفہ دونوں میں سے اس نظام کو زیادہ سمجھنے والے تھے ، یہ زیادہ حضور اکرم ﷺ کی سنت پرچلنے والے تھے اور رسول سے محبت کرنے والے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت اور اطاعت کے میدان میں ان کے نقش قدم پرچلنے والے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت اسامہ کے بارے میں حضور ﷺ کے اصرار کو سمجھ لیا تھا۔ اس لئے انہوں نے منصب امارت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے یہی کام کیا۔ یہ لشکر حضور اکرم ﷺ نے تیار کیا تھا اور حضرت ابوبکر ؓ نے مدینہ کے باہر خود اسے الوداع کہا۔ اسامہ سوار تھے اور حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ المسلمین ان کی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ حضرت بسامہ کو حیا آگئی کہ وہ سوار ہوں اور بوڑھے خلیفہ پیدل ساتھ ساتھ جارہے ہوں۔ انہوں نے کہا : ” خلیفة المسلمین ، یا تو آپ سوار ہوں یا میں اترتا ہوں “۔ خلیفتہ المسلمین قسم اٹھاتے ہیں ” خدا کی قسم تم نہ اترو گے اور خدا کی قسم میں سوار بھی نہ ہوں گا ، کیا ہوجائے گا اگر میرے پاﺅں بھی اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں “۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے سوچا کہ آپ کو حضرت عمر ؓ کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کے کاندھوں پر خلافت کا بوجھ پڑچکا ہے لیکن عمر تو جیش اسامہ کے ایک سپاہی ہیں۔ اسامہ امیر ہیں۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ اسامہ سے اجازت طلب کی جائے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں ” اگر تم عمر ؓ کو ترک کرکے میری مدد کرسکتے ہو تو مناسب ہوگا “۔ ذرا الفاظ کو دیکھو ” اگر تم مناسب سمجھو تو حضرت عمر ؓ کو چھوڑ کر میری مدد کرو “۔ یہ ہیں وہ بلندیاں جن تک اسلام نے انسانوں کو پہنچا دیا۔ یہ معجزہ صرف اللہ کی مرضی سے ہوسکتا ہے اور ایک رسول ہی اسے سرانجام دے سکتے ہیں۔ زمانے کا پہیہ گھومتا ہے اور ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ خلیفہ ہیں اور وہ حضرت عمار ابن یاسر کو کوفہ کا حاکم مقرر کرتے ہیں۔ ایک وقت یوں بھی آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے دفتر کے سامنے سہیل ابن عمرو ابن الحارث ابن ہشام اور ابو سفیان کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ قریش کے سرداروں کی ایک جماعت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور علماء کہلائے۔ حضرت عمر ؓ ان سے پہلے صہیب اور بلال کو اندر بلاتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ اسلام کے سابقون الاولون اور اہل بدر میں سے تھے۔ ابوسفیان کے نتھنے مارے غصے کے پھول جاتے ہیں اور سخت جذباتی انداز میں کہتے ہیں ” میں اپنی پوری زندگی میں ایسا دن نہیں دیکھا کہ ان غلاموں کو تو اندر بلایا جاتا ہے اور ہم دروازے پر چھوڑے جاتے ہیں “۔ اس کے ساتھی جنہوں نے حقیقت اسلام کو سمجھ لیا تھا اور ان کے شعور پر اسلام چھا گیا تھا ، ان سے کہا ” اے قوم تمہارے چہروں پر جو آثار نمودار ہیں ، میں دیکھ رہا ہوں۔ اگر تمہیں غصہ آرہا ہے تو یہ غصہ اپنے نفس سے اتارو ، ان لوگوں کو بھی اسلام کی طرف بلایا گیا اور تمہیں بھی بلایا گیا۔ انہوں نے فوراً لبیک کہا اور تم نے دیر لگادی۔ تم ذرا اس وقت کا خیال کرو کہ قیامت میں ان کو بلایا جائے اور تم وہاں بھی کھڑے کے کھڑے رہو (اسلام کا اجتماعی عدل) حضرت عمر ؓ اسامہ ابن زید کے لئے عبداللہ ابن عمر سے زیادہ الاوئنس مقرر فرماتے ہیں۔ حضرت عبداللہ اس کا راز پوچھتے ہیں حضرت عمر ؓ جواب دیتے ہیں ” بیٹے ، زید رسول اللہ ﷺ کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں تم سے زیادہ محبوب تھے۔ اس لئے میں نے رسول اللہ کی محبت کو اپنی محبت پر ترجیح دے دی “۔ حضرت عمر ؓ کو معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت آسمانی پیمانوں سے ناپی جاتی ہے۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت عمار ؓ ابن یاسر کو بھیجتے ہیں کہ وہ اسلام کے عظیم کمانڈر ، فاتح اور اعلیٰ خاندان کے فرد حضرت خالد بن ولید کے خلاف بعض شکایات کی تفتیش کریں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمار ؓ نے ان کو ان کی چادر سے باندھا اور بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کو خود ان کے عمامے سے باندھا گیا۔ یہاں تک کہ تفتیش ختم ہوگئی اور اس کے نتیجے وہ بےگناہ ثابت ہوگئے۔ اس کے بعد وہ انہیں کھولتے ہیں اور خوداپنے ہاتھ سے ان کے سر پر عمامہ باندھتے ہیں اور حضرت خالد ؓ کو اس پر کوئی غصہ نہیں آتا۔ اس لئے کہ حضرت عمار ؓ حضور اکرم ﷺ کے ساتھی ہیں اور ان سے پہلے اسلام لانے والے ہیں اور ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ ان کو معلوم تھا۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابوبکر ؓ کے بارے میں فرماتے تھے۔ یہ ہمارے سردار ہیں جنہوں نے ہمارے دوسرے سردار کو غلامی سے آزاد کرایا یعنی حضرت بلال کو جو امیہ ابن خلف کے مملوک تھے اور امیہ انہیں سخت اذیت دیتا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں خریدا اور آزاد کردیا۔ ان کے بارے میں حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بلال ؓ ہمارے سردار ہیں۔ یہ حضرت عمر ؓ ہی تھے کہ انہوں نے فرمایا اگر ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم موجود ہوتے تو میں انہیں خلیفہ بنا دیتا۔ حضرت عمر ؓ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ اور حضرت زبیر ؓ جیسے لوگوں کو بھی خلیفہ نہ بنایا۔ بلکہ چھ آدمیوں کی شوریٰ مقرر کی کہ ان میں سے کسی ایک کو مقرر کیا جائے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت عمار ؓ اور حسن ابن علی کو اہل کوفہ کی طرف بھیجتے ہیں۔ وہ ان سے درخواست کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ ان کا جو نزاع ہوگیا ہے اس میں وہ ان کا ساتھ دیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ” مجھے اچھی طرح علم ہے کہ حضرت عائشہ ؓ تمہارے نبی ﷺ کی بیوی ہیں ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، لیکن اللہ نے تمہیں اس امتحان میں ڈال دیا ہے کہ تم میری اطاعت کرتے ہو یا ان کی “۔ (بخاری) اس طرح حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ حضرت بلال ؓ یمن کے گورنر تھے۔ ابورویحہ خشعمی یمن کے ایک قبیلے میں شادی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کی سفارش کریں۔ حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں میں بلال ابن رباح ہوں اور یہ میرے بھائی ابو ردیحہ ہیں۔ یہ ایک ایسا شخص ہے کہ نہ اس کے اخلاق اچھے ہیں اور نہ یہ زیادہ دیندار ہے۔ تم چاہو تو اپنی لڑکی ان کے عقد میں دے دو اور نہ چاہو تو نہ دو “۔ حضرت بلال ؓ انہیں دھوکہ نہیں دیتے اور نہ اس کے معاملے میں کوئی بات چھپاتے ہیں ، اور نہ وہ اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ میں سفارشی ہوں۔ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہیں گے اللہ کے ہاں جوابدہ ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کس قدر شچے ہیں اور وہ یہ رشتہ دے دیتے ہیں۔ بس وہ یہ بات کافی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک صاحب نسب عرب ہیں اور ان کی سچی سفارش حضرت بلال ؓ حبشی کررہے ہیں۔ غرض یہ عظیم حقیقت اسلامی معاشرے میں عملاً قائم ہوگئی اور اس کے بعد ایک طویل زمانے تک قائم رہی۔ باوجود اس کے بعد کے زمانوں میں مسلمانوں کے اندر زوال اور تنزل کے بیشمار عوامل پیدا ہوگئے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے آزادذ کردہ غلام عکرمہ کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ جب عبداللہ ابن عمر کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ ان کے غلام نافع کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ انس ابن مالک کے ساتھ ابن سیرین کا ذکر ہوتا ہے ، اور ابوہریرہ کے ساتھ ان کے غلام عبدالرحمن ابن ہرمز کا ذکر ہوتا ہے ، بصرہ میں حسن بصری ، مکہ میں مجاہد ، عطا ابن ابی رباح اور طاﺅس ابن کیسان جیسے لوگ مشہور فقہاء تھے۔ عمر ابن عبدالعزیز کے زمانے میں ، مصر میں یزید ابن ابی حبیب مفتی اعظم مقرر ہوئے۔ یہ علقمہ کے سیاہ فام آزاد کردہ غلام تھے۔ یہ تھیں آسمانی اور اسلامی قدریں جنہوں نے انسانیت کو تقویٰ کی بنیاد پر اس قدر بلند کردیا ، اگرچہ دنیا کے اندر مقبول ترین اقدار میں سے کوئی خصوصیت ان کے اندر نہ تھی۔ نہ اپنی ذات کے اعتبار سے اور نہ ان کے ماحول کے اعتبار سے۔ یہ میزان اور یہ پیمانے دنیا میں ماضی قریب تک قائم رہے۔ ماضی قریب میں پوری دنیا پر دوبارہ جاہلیت چھاگئی۔ دنیا کا ایک حصہ امریکی جاہلیت کے زیر اثر آگیا جس میں انسانوں کی قیمت ڈالر کی شکل میں متعین ہونے لگی اور نصف مشرقی دنیا کی قیادت روسی جاہلیت کو حاصل ہوگئی اور اس میں انسان کی وقعت ایک پیداواری مشین کے سوا کچھ نہ تھی۔ رہی اسلامی دنیا تو اس پر وہی جداہلیت عربی قومیت کی جاہلیت چھاگبی جس کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کے لئے اسلام دنیا میں آیا تھا اور عملاً اسلام نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا تھا۔ آج عالم اسلام سے اس اعلیٰ معیار اور اعلیٰ قدر کو مٹا دیا گیا ہے اور عالم اسلام ایک ایسی جاہلیت کی تاریکیوں میں ڈوب گیا ہے ، جس کے اندر ایمان اور تقویٰ اعلیٰ قدر ہی نہیں ہے۔ ہاں عالم اسلام میں دعوت اسلامی اور احیاء اسلام کی تحریک جاری ہے۔ صرف اس تحریک پر امید ہے کہ یہ پوری دنیا کو جاہلیت سے نکال کر از سر نو آسمانی قدریں عطا کرے گی اور شاید ایک بار پھر انسانیت ایک نیا جنم لے جیسا کہ انسانیت کو آغاز اسلام کے دور میں نصیب ہوا۔ جس کی ایک جھلک اس سورت کی ابتدائی آیات میں دکھائی گئی ہے۔ یہ چند آیات ہیں لیکن نہایت ہی اہم اور سنگ میل اور فیصلہ کن ہیں۔ ایک مخصوص واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے سورت کے پہلے حصے میں اس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ، اس دوسرے حصے میں ، اس انسان کے رویہ پر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا ہے جو ایسے حقائق اور ایمان اور تقویٰ کی اس دعوت سے منہ موڑتا ہے ، اور دعوت اسلامی سے اپنے آپ کو برتر اور بالا سمجھتا ہے۔ یہ انسان اپنے اصل اور اپنی تخلیق کے حالات پر اگر غور کرتا تو ہرگز اعراض نہ کرتا۔ انسان یہ نہیں دیکھتا کہ اس پر اللہ کی کیا کیا عنایات ہیں۔ اس کی زندگی قدم قدم پر اللہ کے کنٹرول میں ہے ، دنیا اور آخرت میں یہ انسان دراصل ہر مرحلہ حیات میں اللہ کے اختیار میں ہے ، لیکن یہ اپنے خالق ، اپنے کفیل اور اپنے محاسب کے حقوق ادا نہیں کرتا اور نہ اس سے ڈرتا ہے۔

عبس 80:17

قتل الانسان (17:80) ” انسان قتل ہو “۔ کیونکہ وہ اپنے ان قابل تعجب اعمال کی وجہ سے اس بات کا مستحق ہے کہ اسے قتل کردیا جائے۔ یہ سرزنش اور طعن وتشنیع کا ایک انداز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جو کچھ کررہا ہے وہ اس قدر برا ہے کہ اگر اس پر اسے سزائے موت دے دی جائے تو قابل تعجب نہ ہوگی۔ ما اکفرہ (17:80) ” کس قدر ناشکرا ہے “۔ وہ کفر ، انکار میں بہت شدید ہے ، اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا تو اپنے خالق کا شکرادا کرتا۔ دنیا میں تواضع اختیار کرتا اور آخرت کا خیال رکھتا۔ یہ انسان کس بات پر مست ہے۔ اپنے آپ کو بےپرواہ سمجھتا ہے ، اور ہدایت سے منہ موڑتا ہے۔ ذرا اپنی اصلیت اور آغاز وجود کے حالات پر تو غور کرے۔

عبس 80:18

من ................ خلقہ (18:80) ” کس چیز سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے “۔ اس کی اصلیت تو نہایت معمولی ، متواضع اور حقیر ہے۔ اور یہ اللہ کا فضل وکرم ہی ہے جس نے اپنی تقدیر اور تدبیر سے اس جرثومے سے انسان بنایا ہے۔

عبس 80:19

من نطفة ................ فقدرہ (19:80) ” نطفہ کی ایک بوند سے۔ اللہ نے اسے پیدا کیا ، پھر اس کی تقدیر مقرر کی “۔ یعنی ایک ایسے نطفے سے جس کی کوئی قیمت نہیں ہے اور اس اصل جرثومے سے جس کے اندر کوئی قوت نہیں ، وہ خود نہ آسکتا تھا ، یہ تو خالق تھا جس نے اس کا آنا مقدر کیا۔ پھر اس کی صنعت اور تخلیق میں مضبوطی پیدا کی۔ پھر اسے ایک تندرست و توانا مخلوق بنایا اور اسے تمام مخلوقات پر ترجیح دی اور مکرم بنایا ، اور اس حقیر جرثومے کو اس زمین پر مختار ٹھہرایا۔

عبس 80:20

ثم ................ یسرہ (20:80) ” پھر اس کے لئے راہ میسر کی “۔ زندگی کی راہ یا ہدایت کی راہ ۔ زندگی کی راہ یا ہدایت کی راہوں پر چلنے کے لئے اس کے اندر استعداد اور صلاحتیں ودیعت فرمائیں۔ اور جب زندگی کا یہ سفر ختم ہوا تو یہ انسان بھی اس انجام تک جاپہنچا جس تک تمام زندہ مخلوق کو پہنچنا ہے۔ اس انجام تک پہنچنے سے رکنا اس کے اختیار میں نہیں ہے اور اس انجام سے کوئی راہ فرار نہیں ہے۔

عبس 80:21

ثم ................ فاقبرہ (21:80) ” پھرا سے موت دی اور قبر میں پہنچایا “۔ لہٰذا جس طرح اس کا آنا اللہ کے امر سے ہے ، اس کا یہ انجام بھی اللہ کے امر سے ہے۔ اللہ نے جب چاہا اسے زندگی میں لے آیا اور جب چاہا زندگی کا سلسلہ ختم کردیا۔ اور قبر کے پیٹ میں رکھوادیا۔ یہ قبر بھی اس کے لئے اس کی شرافت کی خاطر اور اس پر مہربانی کرتے ہوئے مقرر کی۔ یوں نہ چھوڑا کہ جہاں مرجائے ، وہیں چھوڑ دیا جائے اور جانور اسے نوچتے رہیں۔ انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی کہ مردہ انسانوں کی لاش کو قبر میں چھپایا جائے۔ یہ بھی اللہ کی تدبیر اور تقدیر اور احکام کا ایک حصہ ہے کہ مردوں کو دفن کیا جائے۔ اور جب اللہ کی مشیت کے مطابق باز پرس کا وقت آپہنچے گا تو اسے دوبارہ زمین سے اٹھا دیا جائے گا اور یہ بھی اللہ کے حکم سے ہوگا۔

عبس 80:22

ثم اذا ............ انشرہ (22:80) ” اور پھر جب چاہے اسے دوبارہ اٹھا کر کھڑا کردے “۔ کیونکہ وہ یونہی بےکار چھوڑا جانے والا نہیں ہے اور نہ بغیر حساب و کتاب کے اسے یونہی زمین کا حصہ بنادیا جائے گا۔ لہٰذا ذرا غور کرو کہ یہ انسان اسی حساب و کتاب کے لئے کچھ تیاری کررہا ہے دیکھو کہ یہ انسان اسی حساب و کتاب کے لئے کچھ تیاری کررہا ہے یا نہیں۔

عبس 80:23

کلا ............ ما امرہ (23:80) ” ہرگز نہیں ، اس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا “۔ بات مطلق انسان کی ہورہی ہے ، تمام افراد انسان کی بہر دور کے انسان اللہ کے احکام بجا لانے میں کوتاہی کرتے ہیں ، اپنی پوری زندگی میں ان کی روش یہی ہوتی ہے۔ ” لما “ سے اس مفہوم کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ ہرگز نہیں ، انسان ہر صورت میں قصور وار ہے ، یہ اپنے فرائض ادا نہیں کرتا ، وہ اپنی اصلیت اور حقیقت کو بھی پیش نظر نہیں رکھتا ، حالانکہ یہ بات ہر وقت اس کے پیش نظر ہونی چاہیے۔ نیز وہ اپنے خالق ، اپنے ہادی اور اپنے کفیل کا حق شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور اس زندگی کا مختصر سا سفر اس طرح نہیں طے کرتا کہ اس کے اقدامات آخرت کو پیش نظر رکھ کر ہوں۔ مجموعی طور پر انسان کی حالت ایسی ہی ہے کہ اکثریت نافرمان ، ناشکری ، ہدایت سے بےنیاز اور متکبر ہے۔ اب جدید پیراگراف آتا ہے۔ سابقہ پیراگراف میں انسان کی پیدائش کی بات رکھی گئی تھی ، اب کہا جاتا ہے کہ یہ انسان ذرا اپنی اور اپنے مویشیوں کی خوراک پر تو غور کرے۔ اس دنیا کی زندگی اور سفر میں اللہ نے انسان اور اس کے مویشیوں کے لئے کیا انتظام فرمایا۔ انسان کے غور کے لئے یہ ایک ہی چیزکافی ہے جو اللہ نے اس کے لئے فراہم کی ہے۔

عبس 80:24

یہ ہے قصہ انسان اور اس کے مویشیوں کی خوراک کا ، جس کی تیاری کے تمام مراحل مختصر ، یہاں بیان کردیئے گئے ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ وہ ان پر غور کرے۔ کیا ان انتظامات میں خود اس کا اپنا بھی کوئی دخل ہے۔ کیا یہ سب کچھ اس کی تدبیر سے ہورہا ہے۔ جس ذات باری نے اسے پیدا کیا اور اس دنیا اور زمین پر لاکر کھڑا کردیا۔ یہ وہی ذات ہے جس نے یہ تمام انتظامات کیے۔ فلینظر ................ طعامہ (24:80) ” پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے “۔ یہ نظام خوراک براہ راست اس کے ساتھ متعلق ہے ، اس کے قریب ہے ، اس کے ساتھ لازم وملزوم ہے ، اسے چاہئے کہ وہ اس حاضر وموجود اور لازم ومکرر نظام پر غور کرے۔ اس کا قصہ اور اس کی کہانی کس قدر عجیب ہے اور کس قدر آسان ہے۔ یہ کام چونکہ بسہولت ہوتا رہتا ہے اس لئے اس کے اندر جو عجائب و کمالات ہیں وہ نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ درحقیقت یہ نظام رزق بھی ایسا ہی معجزہ ہے جس طرح انسان کی تخلیق ایک معجزہ ہے۔ جس طرح تخلیق میں ہر مرحلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح اس نظام رزق کا ہر مرحلہ بھی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔

عبس 80:25

انا ............ صبا (25:80) ” ہم نے خوب پانی لنڈھایا “۔ پانی کا بارش کی صورت میں گرایا جانا ایک ایسا عمل ہے ، جس سے ہر دور کا انسان واقف تھا۔ علم و تجربہ کے ابتدائی اور انتہائی مراحل کے انسان اس سے واقف تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے جو انسان ، ہر انسان کے سامنے پیش کی جاتی ہے لیکن جب انسان نے ترقی کرلی تو اسے معلوم ہوا کہ اس آیت کے مفہوم میں کیا کیا وسعتیں ہیں۔ آج کل کے ماہرین ماحولیات اس زمین کے اوپر پانی کے اس اجتماع کے بارے میں جو مفروضے پیش کرتے ہیں ، ان میں سے قریب ترین یہ ہے کہ یہ پانی ہمارے اوپر فضا میں تھا اور یہ بارش کی شکل میں زمین پر گرا اور سمندروں کی شکل اختیار کرگیا۔ دور حاضر کے سائنس دانوں میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے : ” اگر اس بات کو درست مان لیا جائے کہ سورج سے جدا ہونے کے وقت زمین کا درجہ حرارت یا زمین کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 12000 ڈگری تھا تو یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ اس وقت تمام عناصر ایک دوسرے سے الگ تھے اور کسی کیمیاوی ترکیب کا امکان ہی نہ تھا۔ پھر کرہ ارض اور اس کے اجزائے ترکیبی بتدریج ٹھنڈے ہوگئے اور اس طرح مختلف کیمیاوی مرکبات وجود میں آئے۔ اور اس دنیا کا ملبہ وجود میں آیا جسے ہم جانتے ہیں۔ آکسیجن اور ہائیڈروجن اس وقت تک مل نہیں سکتے جب درجہ حرارت 4000 ہزار فارن ہیٹ تک نہ آجائے۔ یوں جب درجہ حرارت 4000 ہزار فارن ہیٹ تک آیا تو یہ اجزاء مرکب ہوگئے اور پانی وجود میں آیا جس کے بارے میں جدید سائنس نے معلوم کرلیا ہے کہ وہ کرہ ہوائی کی شکل میں تھا اور سمندر کا پانی زمین پر نہ تھا بلکہ ہوا کی شکل میں تھا۔ اور تمام دوسرے عناصر بھی مفرد تھے۔ ان کی ترکیب عمل میں نہ آئی تھی۔ یہ عناصر گیسوں کی شکل میں تھے۔ جب کرہ ہوئی میں پانی تیار ہوا تو وہ زمین پر گرنے لگا لیکن یہ بارش جوں جوں زمین کے قریب آتی ، زیادہ حرارت کی وجہ سے پھر گیس بن کر فضا میں اٹھ جاتی۔ کیونکہ زمین کا درجہ حرارت اس سے بھی زیادہ تھا جتنا ہزارہا میل بالائی فضاﺅں میں تھا۔ بالآخر جب زمین بتدریج ٹھنڈی ہوتی گئی تو بارشوں کا یہ طوفان زمین کے قریب پہنچ گیا اور گرمی کی وجہ سے دوبارہ بھاپ بن کر اٹھتا رہا۔ آخر کار اس عظیم طوفان نے زمین کی سطح کو ٹھنڈا کرکے ، یہ عظیم سمندر جو فضاﺅں میں تھے ، زمین پر اتاردیئے۔ یہ طوفان کس قدر عظیم تھے ان کا تصور بھی مشکل ہے “۔ (علم ایمان کی طرح ہوتا ہے ، ترجمہ ڈاکٹر محمود صالح فلکی) ہم ان مفرضوں اور نظریات کو مفروضے ہی مانتے ہیں اور قرآن کو ان کے ساتھ محدود نہیں کرتے لیکن یہ نظریات قرآن کے مفہوم کو وسیع کردیتے ہیں اور اسے ہمارے فہم وادراک کے قریب لے آتے ہیں۔ یہ دراصل پانی انڈیلنے کی سائنسی تاریخ ہے۔ یہ نظریات بہرحال نظریات ہیں۔ درست بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ پانی کے زمین پر آنے کے کچھ دوسرے نظریات بھی وجود میں آجائیں کیونکہ قرآن ہر دور اور ہر معیار علم کے انسانوں سے مخاطب ہوتا ہے۔ اور یہی قرآن کا اعجاز ہے کہ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے میں نے ہی سمجھا ہے۔ یہ تھا طعام کا ابتدائی حصہ۔ انا .................... صبا (25:80) ” ہم نے خوب پانی لنڈھایا “۔ کیا انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ اس پانی کی تخلیق میں اس کا کوئی بھی دخل ہے۔ یا اس کی پیدائش کی ہسٹری میں ان کا دخل ہے یا انسانوں نے کسی تدبیر سے یہ سمندر زمین پر انڈیل دیئے تاکہ وہ اپنے طعام کا انتظام کریں۔

عبس 80:26

ثم ............ شقا (26:80) ” پھر ہم نے زمین کو عجیب طرح پھاڑا “۔ پانی نے انڈیلنے کے بعد یہ تیسرا مرحلہ ہے۔ یہ بات بالکل ابتدائی اور پتھر کے دور کے انسان کی سمجھ میں بھی آتی تھی جو دیکھتا تھا کہ پانی آسمانوں سے برس رہا ہے اور یہ خدا کی قدرت سے برس رہا ہے اور اس میں انسان کی تدبیر اور تقدیر کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ دیکھ رہا تھا کہ یہ زمین کو پھاڑ کر اس کی مٹی میں جذب ہوتا تھا ، یا وہ دیکھتا تھا کہ زمین کی مٹی اللہ کی قدرت سے شق ہونا ہوتی ہے۔ اس سے نباتات نکلتے ہیں اور فضا میں بلند ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ نباتات ؟ ؟ ؟ ؟ صفحہ نمبر 839؟ ؟ ؟ ؟ اور زمین نہایت بھاری اور مضبوط ہوتی ہے لیکن یہ دست قدرت ہی ہے جو اس مضبوطزمین کو شق کرکے اس کے اندر سے نرم ونازک پودے کو نکالنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ بھی ایک معجزہ ہے جسے ہر انسان دیکھتا ہے جو پودے اور مٹی کا مشاہدہ رکھتا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کے اندر ایک خفیہ قوت کام کررہی ہے اور یہ نہایت ہی مہربان قوت ہے۔ لیکن اس ابتدائی مفہوم کے بعد جو علوم آگے پڑھتے ہیں تو آیت کے مفہوم ومدلول کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔ اور زمین کے شق ہونے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ پودوں کی پرورش کے لئے سازگار بنادی گئی ہے۔ جیسا کہ سابقہ نظریہ میں ہم نے بتایا کہ زمین کے اوپر پانی کے ہولناک طوفان آئے۔ جن کے نتیجے میں زمین کے چھلکے کی چٹانیں ٹوٹ پھوٹ کر بہہ نکلیں اور ہموار میدان وجود میں آئے ، جس کے اندر ایسی مٹی جمع ہوگئی جو قابل زراعت ہے ۔ یہ مفہوم بھی اس آیت میں داخل ہے۔ ثم ............................ شقا (26:80) ” پھر ہم نے زمین کو پھاڑا “۔ کی آیت۔ انا صببنا .................................... صبا (25:80) ” ہم نے پانی لنڈھایا “ کے بعد آتی ہے۔ اس سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ زمین کا شق ہونا پانی کے بعد ہوا۔ بہرحال ان آیات کا یہ مفہوم ہو یا کوئی تیسرا مفہوم ہو ، بہرحال تحقیق کے تیسرے مرحلے میں نباتات کی تخلیق کا ذکر ہے اور بظاہر ان نباتات کی طرف اشارہ کیا گیا جو انسانوں اور انسانوں کے کام آنے والے مویشیوں کے لئے چارہ کا کام کرتے ہیں اور جن کو ابتدائی انسان بھی اچھی طرح سمجھتا تھا۔

عبس 80:27

فانبتنا ............ حبا (27:80) ” پھر اس میں غلے اگائے “۔ اس سے تمام نباتات مراد ہیں۔ جن کو انسان کسی نہ کسی صورت میں استعمال کرتے ہیں اور جن کو مویشی کسی نہ کسی صورت میں اپنی غذا بناتے ہیں۔

عبس 80:28

وعنبا وقضبا (28:80) ” انگور اور ترکاریاں “۔ انگور تو مشہور ہیں۔ قصب ان سبزیوں کو کہا جاتا ہے جو سبزی کے طور پر کھائی جاتی ہیں۔ اور ان کو بار بار کاٹا اور چنا جاتا ہے۔

عبس 80:29

وزیتونا ............................ فاکھة وابا (31:80) ” اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے باغ اور طرح طرح کے پھل اور چارے “۔ زیتون اور کھجور کے درخت مشہور ہیں اور حدائق حدیقہ کی جمع ہے ، یہ اس ثمردار باغ کو کہا جاتا ہے جو دیواروں کے اندر گھرا ہوا ہو اور غلبا غلباء کی جمع ہے ، یعنی ایسے باغات جن کے درخت گھنے ہوں اور جن کی شاخیں ایک دوسرے کے اندر گھس گئی ہوں۔

عبس 80:30

وزیتونا ............................ فاکھة وابا (31:80) ” اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے باغ اور طرح طرح کے پھل اور چارے “۔ زیتون اور کھجور کے درخت مشہور ہیں اور حدائق حدیقہ کی جمع ہے ، یہ اس ثمردار باغ کو کہا جاتا ہے جو دیواروں کے اندر گھرا ہوا ہو اور غلبا غلباء کی جمع ہے ، یعنی ایسے باغات جن کے درخت گھنے ہوں اور جن کی شاخیں ایک دوسرے کے اندر گھس گئی ہوں۔

عبس 80:31

فاکھة وہ میوہ جو باغات اسے حاصل ہو۔ ابا (31:80) کا مفہوم غالباً وہ جسے انسان چارے کے لئے کاشت ونگہداشت کریں۔ اس کے مفہوم کے بارے میں حضرت عمر ؓ سے پوچھا گیا۔ انہوں نے اس کے بارے میں اپنے آپ کو ملامت کیا تھا جیسا کہ سورة نازعات میں گزر گیا ہے۔ یہ تو تھا انسان کے طعام کا قصہ ، اور انسانی طعام کی تمام ضروریات صرف اللہ فراہم کرتا ہے اور اس میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس میں انسان کا کوئی دخل نہیں بلکہ انسان دخیل ہونے کا مدعی ہی نہیں ہے کہ وہ اس کے مختلف مراحل میں سے کسی مرحلے میں دخیل ہے۔ یہاں تک کہ زمین کے اندر وہ جو بیج بوتا ہے اس کی نشوونما میں بھی وہ دخیل نہیں ہے۔ نہ انسان نے بیج پیدا کیا اور نہ ایجاد کیا ہے ۔ ابتدائی طور پر یہ حیوانات کس طرح ایجاد ہوئے ، یہ ایک معجزہ ہے۔ اور انسان تصور اور ادراک سے وراء ہے۔ یہ مٹی انسان کے سامنے ہے اور ایک ہے ، اور ہر دانہ ایک ہی زمین میں اور باہم متصل قطعات میں اپنے اپنے پھل اور پھول لاتا ہے جبکہ ایک ہی پانی اور دوسرے عناصر اسے غذا دیتے ہیں لیکن یہ درست قدرت ہی کا کام ہے کہ پودے اور پھل مختلف ہوتے ہیں۔ اور ان پودوں اور پھلوں سے آگے جو بیج پیدا ہوتے ہیں ان میں ” ماں بیج “ کے تمام خصائص موجود ہوتے ہیں۔ یہ باتیں اور یہ ٹیکنالوجی انسان سے مخفی ہے۔ اس کا راز کوئی نہیں جانتا ، نہ اس میں کوئی فیصلہ کرسکتا ہے ، اور نہ اس سے کوئی مشورہ لیا جاتا ہے۔ بہرحال دست قدرت نے جو کچھ کیا وہ یہ ہے اور

عبس 80:32

متاعا ................ مکم (32:80) ” تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے سامان زیست کے طور پر “۔ ایک مقررہ وقت تک ۔ اور جب یہ دنیا ختم ہوگی تو یہ سامان زیست بھی ختم ہوگا کیونکہ اللہ نے اسے متاع حیات کے طور پر بنایا ہے۔ اس کے بعد پھر ایک دوسرا عظیم واقعہ ہوگا۔ وہ کیا ہوگا ؟ انسان کو چاہئے کہ اس کے واقع ہونے سے قبل ہی اس کے بارے میں غور کرے۔

عبس 80:33

یہ دنیا کے سازو سامان کا خاتمہ ہے۔ یہ اللہ کی طویل اسکیم ، اور ایک کلی اور جامع تدبیر کے ساتھ موافق ہے ، جس کے مطابق اللہ نے انسان کو مرحلہ وار پیدا کیا اور اس اسکیم کے مطابق آگے بڑھایا اور یوں آغاز کے عین مطابق اس کا خاتمہ ہوا۔ یہ آخری منظر ابتدائی منظر کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں ایک شخص دوڑتا ہوا آیا ، اس کا پیمانہ خوف خدا سے لبریز تھا اور اس کے مقابلے میں ایک شخص تھا جو لاپرواہ اور ہدایت سے منہ موڑنے والا تھا۔ یہ دونوں کردار اللہ کے پیمانوں میں جو مقام رکھتے تھے اور یہ دونوں کا انجام ہے سورت کا آخر میں : الصاخة ایک ایسا لفظ ہے جو معنی کے ساتھ ساتھ آواز بھی سخت وکرخت رکھتا ہے۔ قریب ہے کہ کان کے پردے ہی پھٹ جائیں ۔ یہ لفظ اپنے زور تلفظ سے ہوا کو پھاڑتا ہے۔ اور کانوں میں آکر پیوست ہوجاتا ہے۔ یہ لفظ اپنے اس کرخت تلفظ کے ذریعہ اگلے منظر کی راہ ہموار کرتا ہے ، اگلا منظر کیا ہے۔ یہ منظر ایسا ہے جس میں انسان اپنے عزیز ترین تعلق داروں کو چھوڑ کر بھاگتے نظر آتے ہیں۔

عبس 80:34

یوم یفر ........................ وبنیہ (34:80 تا 36) اس روز آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا “۔ یہی لوگ تھے کہ دنیا میں ان کے یہ روابط کسی حال میں بھی نہ ٹوٹتے تھے لیکن پس ایک سخت وکرخت چیخ ہوگی اور یہ تمام روابط ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور یہ تمام تعلقات کٹ جائیں گے۔ اس منظر میں خوف محض نفسیاتی خوف ہے۔ نفس انسانی پر جزع فزع کی حالت طاری ہوگی اور یہ انسان اپنے مقام اور ماحول سے جدا ہوجائے گا۔ بس وہ اپنی ہی سوچے گا۔ اس کے سامنے پریشانیوں اور خود اپنے مسائل کا انبار ہوگا۔ وہ اپنے سوا کسی کے لئے کچھ کرنے کے اہل نہ ہوگا نہ وقت اور قوت ہوگی۔

عبس 80:35

یوم یفر ........................ وبنیہ (34:80 تا 36) اس روز آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا “۔ یہی لوگ تھے کہ دنیا میں ان کے یہ روابط کسی حال میں بھی نہ ٹوٹتے تھے لیکن پس ایک سخت وکرخت چیخ ہوگی اور یہ تمام روابط ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور یہ تمام تعلقات کٹ جائیں گے۔ اس منظر میں خوف محض نفسیاتی خوف ہے۔ نفس انسانی پر جزع فزع کی حالت طاری ہوگی اور یہ انسان اپنے مقام اور ماحول سے جدا ہوجائے گا۔ بس وہ اپنی ہی سوچے گا۔ اس کے سامنے پریشانیوں اور خود اپنے مسائل کا انبار ہوگا۔ وہ اپنے سوا کسی کے لئے کچھ کرنے کے اہل نہ ہوگا نہ وقت اور قوت ہوگی۔

عبس 80:36

یوم یفر ........................ وبنیہ (34:80 تا 36) اس روز آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا “۔ یہی لوگ تھے کہ دنیا میں ان کے یہ روابط کسی حال میں بھی نہ ٹوٹتے تھے لیکن پس ایک سخت وکرخت چیخ ہوگی اور یہ تمام روابط ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور یہ تمام تعلقات کٹ جائیں گے۔ اس منظر میں خوف محض نفسیاتی خوف ہے۔ نفس انسانی پر جزع فزع کی حالت طاری ہوگی اور یہ انسان اپنے مقام اور ماحول سے جدا ہوجائے گا۔ بس وہ اپنی ہی سوچے گا۔ اس کے سامنے پریشانیوں اور خود اپنے مسائل کا انبار ہوگا۔ وہ اپنے سوا کسی کے لئے کچھ کرنے کے اہل نہ ہوگا نہ وقت اور قوت ہوگی۔

عبس 80:37

لکل .................... یغنیہ (37:80) ” ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا “۔ ان عبارات وکلمات کی تہہ میں غم واندوہ کے گہرے سائے ہیں۔ پریشانیوں کی اس سے زیادہ بہتر تعبیر ممکن ہی نہیں ہے۔ احساس وضمیر دونوں کے بوجھ کو یہ عبارت کیا خوب ظاہر کرتی ہے۔ لکل ........................ یغنیہ (37:80) ” ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا “۔ (اقتباسات ازماھی القیامتہ) یہ ہوگی حالت اس دن تمام لوگوں کی جب یہ آواز برپا ہوگی اور یہ ایسی سخت اور کرخت آواز ہوگی کہ کان بہرے ہوجائیں گے ۔ اس روزمومنین کا کیا حال ہوگا اور کافروں کا کیا حال ہوگا ؟ اس روز تو سب کو اللہ کے پیمانوں سے ناپا جائے گا اور اللہ کے ترازو سے تولا جائے گا۔

عبس 80:38

وجوہ ................................ مستبشرة (39) ” کچھ چہرے اس روز دمک رہے ہوں گے ، ہشاش بشاش اور خوش وخرم ہوں گے “۔ یہ چہرے روشن چہرے ہوں گے ، ان سے نور برس رہا ہوگا ، خوش ہوں گے ، ہنس رہے ہوں گے ، اپنے رب سے امیدیں وابستہ کیے ہوں گے ، وہ مطمئن ہوں گے کہ ان کا رب ان سے راضی ہے ، یہ اس سخت ہولناک آواز کے خوف سے نجات پاچکے ہوں گے۔ یہ آواز تو ایسی ہوگی کہ سنتے ہی سب خوشیاں کافور ہوجائیں گی لیکن ان کو چونکہ ان کا انجام بتا دیا جائے گا اس لئے وہ ان ہولناکیوں کے باوجود خوش وخرم اور مطمئن ہوں گے۔

عبس 80:39

وجوہ ................................ مستبشرة (39) ” کچھ چہرے اس روز دمک رہے ہوں گے ، ہشاش بشاش اور خوش وخرم ہوں گے “۔ یہ چہرے روشن چہرے ہوں گے ، ان سے نور برس رہا ہوگا ، خوش ہوں گے ، ہنس رہے ہوں گے ، اپنے رب سے امیدیں وابستہ کیے ہوں گے ، وہ مطمئن ہوں گے کہ ان کا رب ان سے راضی ہے ، یہ اس سخت ہولناک آواز کے خوف سے نجات پاچکے ہوں گے۔ یہ آواز تو ایسی ہوگی کہ سنتے ہی سب خوشیاں کافور ہوجائیں گی لیکن ان کو چونکہ ان کا انجام بتا دیا جائے گا اس لئے وہ ان ہولناکیوں کے باوجود خوش وخرم اور مطمئن ہوں گے۔

عبس 80:40

ووجوہ ........................ الفجرة (40:80 تا 42) ” اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑارہی ہوگی اور کلونس چھائی ہوئی ہوگی۔ یہی کافروفاجر لوگ ہوں گے “۔ یہ غبار حزن وملال کا غبار ہوگا ، اور حسرت ویاس کا غبار ہوگا۔ اور ذلت اور پریشانی کی وجہ سے چہروں پر سیاہی ہوگی۔ ان کو معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے کیا کمایا ہے ، لہٰذا ان کو یقین ہوجائے گا کہ ان کا انجام کیا ہے۔

عبس 80:41

ووجوہ ........................ الفجرة (40:80 تا 42) ” اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑارہی ہوگی اور کلونس چھائی ہوئی ہوگی۔ یہی کافروفاجر لوگ ہوں گے “۔ یہ غبار حزن وملال کا غبار ہوگا ، اور حسرت ویاس کا غبار ہوگا۔ اور ذلت اور پریشانی کی وجہ سے چہروں پر سیاہی ہوگی۔ ان کو معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے کیا کمایا ہے ، لہٰذا ان کو یقین ہوجائے گا کہ ان کا انجام کیا ہے۔

عبس 80:42

اولئک ............................ الفجرة (42:80) ” یہ کافر اور فاجر لوگ ہوں گے “۔ جو اللہ اور اس کی رسالتوں پر ایمان نہیں لائے۔ جنہوں نے اللہ کی حدود کو توڑا۔ یہ دو قسم کے چہرے ہوں گے اور دونوں چہروں کے اندر دو قسم کے لوگوں کا انجام اس طرح دکھایا گیا ہے جس طرح کوئی شیشے میں اپنا چہرہ دیکھتا ہے ۔ چہروں کے خدوخال الفاظ وعبارات میں اس طرح قلم بند کیے گئے ہیں کہ گویا ریل پر چلتے ہوئے چہرے صاف صاف نظر آتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کا زور دار انداز بیان اور ادبی ٹچ۔ اس انجام سے سورت کا آغاز اور انجام بھی باہم ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔ آغاز میں اسلامی قدروں کا ذکر تھا ، اور انجام میں اسلامی پیمانوں اور اسلامی ترازو کے مطابق لوگوں کا انجام بتایا گیا ہے۔ چناچہ اس نہایت ہی مختصر سی سورت میں عظیم حقائق لائے گئے ہیں۔ بہترین مناظر پیش کیے گئے اور بہترین ہدایات واشارات دئیے گئے ہیں اور یہ سورت اپنے خوبصورت انداز بیان کے ساتھ ، اپنے مقاصد کو نہایت خوبصورتی سے ادا کرتی ہے۔