Fi Zilal al-Quran — التكوير 81:1 – الطارق 86:17
Contents
- التكوير 81:1
- التكوير 81:2
- التكوير 81:3
- التكوير 81:4
- التكوير 81:5
- التكوير 81:6
- التكوير 81:7
- التكوير 81:8
- التكوير 81:9
- التكوير 81:10
- التكوير 81:11
- التكوير 81:12
- التكوير 81:13
- التكوير 81:14
- التكوير 81:15
- التكوير 81:16
- التكوير 81:17
- التكوير 81:18
- التكوير 81:19
- التكوير 81:20
- التكوير 81:21
- التكوير 81:22
- التكوير 81:23
- التكوير 81:24
- التكوير 81:25
- التكوير 81:26
- التكوير 81:27
- التكوير 81:28
- التكوير 81:29
- الانفطار 82:1
- الانفطار 82:2
- الانفطار 82:3
- الانفطار 82:4
- الانفطار 82:5
- الانفطار 82:6
- الانفطار 82:7
- الانفطار 82:8
- الانفطار 82:9
- الانفطار 82:10
- الانفطار 82:11
- الانفطار 82:12
- الانفطار 82:13
- الانفطار 82:14
- الانفطار 82:15
- الانفطار 82:16
- الانفطار 82:17
- الانفطار 82:18
- الانفطار 82:19
- المطففين 83:1
- المطففين 83:2
- المطففين 83:3
- المطففين 83:4
- المطففين 83:5
- المطففين 83:6
- المطففين 83:7
- المطففين 83:8
- المطففين 83:9
- المطففين 83:10
- المطففين 83:11
- المطففين 83:12
- المطففين 83:13
- المطففين 83:14
- المطففين 83:15
- المطففين 83:16
- المطففين 83:17
- المطففين 83:18
- المطففين 83:19
- المطففين 83:20
- المطففين 83:21
- المطففين 83:22
- المطففين 83:23
- المطففين 83:24
- المطففين 83:25
- المطففين 83:26
- المطففين 83:27
- المطففين 83:28
- المطففين 83:29
- المطففين 83:30
- المطففين 83:31
- المطففين 83:32
- المطففين 83:33
- المطففين 83:34
- المطففين 83:35
- المطففين 83:36
- الانشقاق 84:1
- الانشقاق 84:2
- الانشقاق 84:3
- الانشقاق 84:4
- الانشقاق 84:5
- الانشقاق 84:6
- الانشقاق 84:7
- الانشقاق 84:8
- الانشقاق 84:9
- الانشقاق 84:10
- الانشقاق 84:11
- الانشقاق 84:12
- الانشقاق 84:13
- الانشقاق 84:14
- الانشقاق 84:15
- الانشقاق 84:16
- الانشقاق 84:17
- الانشقاق 84:18
- الانشقاق 84:19
- الانشقاق 84:20
- الانشقاق 84:21
- الانشقاق 84:22
- الانشقاق 84:23
- الانشقاق 84:24
- الانشقاق 84:25
- البروج 85:1
- البروج 85:2
- البروج 85:3
- البروج 85:4
- البروج 85:5
- البروج 85:6
- البروج 85:7
- البروج 85:8
- البروج 85:9
- البروج 85:10
- البروج 85:11
- البروج 85:12
- البروج 85:13
- البروج 85:14
- البروج 85:15
- البروج 85:16
- البروج 85:17
- البروج 85:18
- البروج 85:19
- البروج 85:20
- البروج 85:21
- البروج 85:22
- الطارق 86:1
- الطارق 86:2
- الطارق 86:3
- الطارق 86:4
- الطارق 86:5
- الطارق 86:6
- الطارق 86:7
- الطارق 86:8
- الطارق 86:9
- الطارق 86:10
- الطارق 86:11
- الطارق 86:12
- الطارق 86:13
- الطارق 86:14
- الطارق 86:15
- الطارق 86:16
- الطارق 86:17
التكوير 81:1
یہ ایک منظر ہے جس میں اس پوری کائنات میں مکمل انقلاب کے نظارے کی عکاسی کی گئی ہے۔ تمام موجودات کے اندر انقلاب برپا ہے ، یہ انقلاب اجرام سماوی اور اس کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔ وحشی جانور اور خانگی جانور بھی اس سے متاثر ہیں ، نفس انسانی اور اس کی حرکات بدل چکی ہیں ، ہر نامعلوم حقیقت آنکھوں کے سامنے ہے اور ہر راز طشت ازبام ہوچکا ہے۔ اور انسان اپنی کمائی اور اپنے اس زادراہ کے سامنے کھڑا ہے اور حساب و کتاب شروع ہے اور حیران وپریشان ہے کہ اس کے ارد گرد ہر چیز اس عظیم طوفان کی زد میں آچکی ہے ، اور کائنات کا تمام نظام اتھل پتھل ہوچکا ہے۔
یہ عظیم کائناتی واقعات اس طرف اشارہ کررہے ہیں کہ یہ حسین و جمیل اور یہ عظیم کائنات اور اس کا نظام ، جس کی تمام حرکات موزوں اور مرتب ہیں ، جس کی شاخت نہایت ہی مستحکم ہے۔ اور جس کے اندر قائم کشش نہایت موزوں ہے اور جسے نہایت علیم و حکیم ہاتھوں نے بنایا ہے ، یہ پوری کائنات بکھر بکھر جائے گی ، اس کے اس مستحکم نظام کی بندش کھل جائے گی۔ جن قوتوں اور جن صفات کی وجہ سے یہ اس طرح چل رہی ہے ، یہ سب جاتی رہیں گی ، غرض یہ پورا موجودہ نظام درہم برہم ہوجائے گا اور پھر یہ کائنات اور اس کی مخلوقات ایک نئی زندگی پائیں گے۔ یہ نئی کائنات اور یہ نئی زندگی موجودہ خصوصیات سے مختلف ہوگی۔
یہی تصور ہے جو یہ سورت قلب ونظر میں بٹھانا چاہتی ہے تاکہ انسان سوچ لے اور انسانی شعور ان ظاہری اور عارضی مناظر سے ہٹ جائے۔ اگرچہ بادی النظر میں یہ بہت ہی مضبوط نظر آئیں اور ان حقائق کو اپنے اندر سمولے جو باقی رہنے والے ہیں۔ انسان اس ذات باری کات صور کرے جو باقی اور لازوال ہے اور وہ ذات اس وقت بھی باقی ہوگی جبکہ یہ پوری کائنات زائل ہوجائے گی اور عظیم حوادث اس کی شکل ہی بدل دیں گے۔ اس سورت کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس ظاہری اور عادی اور صرف نظر آنے والی کائنات کے دائرے سے نکل کر اس مطلق حقیقت اور ذات باری کے ساتھ جڑ جائے جو زمان ومکاں سے وراء ہے جو انسانی احساس اور تصور سے آگے ہے ، جو کسی دائرے اور حد کے اندر محدود نہیں ہے۔
یہ ہے وہ حقیقی شعور جو ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے۔ جب انسان ان عظیم انقلابی مناظر کو اس سورت میں دیکھتا ہے۔ اس مشاہدے سے گویا انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور اللہ کی عظمت کا شعور ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔
لیکن عملاً کیا ہوگا ؟ تو اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ ہمارا شعور اور ہمارا تصور بہت محدود ہے۔ آج ہم ان عظیم انقلابات کا پور اتصور نہیں کرسکتے۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اس زمین پر ایک عظیم زلزلہ برپا ہوگا۔ اور یہ زلزلہ ہر طرف تباہی مچا دے گا اور زمین کے اندر سے ایک ایسا ناقابل کنٹرول آتش فشانی کا عمل ہوگا اور زمین کے اوپر سیارے اور ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گریں گے اور سمندروں کا پانی طوفانی شکل اختیار کرلے گا اور یہ کو سورج کے اندر بھی آتش فشانی کا عمل ہوگا اور اس کے شعلے لاکھوں میلوں تک اٹھیں گے اور یہ مشاہدات انسان دیکھ بھی سکے گا۔
لیکن قیامت کے برپا ہونے کے وقت جو کائناتی انقلابات ہوں گے ، ہماری یہ سوچ یہ باتیں اور یہ مشاہدات ان کے مقابلے میں طفل تسلیاں ہیں۔ اگر ہمارے لئے ان کا سمجھنا ضروری ہے تو ہم صرف ایسی عبارات میں لاسکتے جو ان واقعات کا مجمل سا تصور پیش کریں کیونکہ اس کے سوا ہم اور کچھ بھی نہیں کرسکتے۔
اذا الشمس کورت (1:81) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا “۔ اس کا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ٹھنڈا ہوجائے گا اور اس کے اندر برپا اشتعال ختم ہوجائے گا۔ اس وقت سورج کے اندر جلن کا عمل شروع ہے اور اس سے جو شعلے اٹھ رہے ہیں ، وہ اس کے اردگرہزاروں میل تک بلند ہوتے ہیں۔ جب سورج گرہن ہوتا ہے تو اس وقت رصدگاہوں سے یہ عمل صاف نظر آتا ہے۔ اس کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ سورج کے اس جلنے کے عمل سے سورج پر موجود تمام مواد ایک اڑتے ہوئے گیس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور یہ گیس جلتی ہوئی سورج کی فضا میں بلند ہوتی ہے۔ یہ حالت اس طرح نہ رہے گی اور سورج اسی طرح ٹھنڈا ہوجائے گا۔ جس طرح ہماری یہ زمین ٹھنڈی ہوگئی ہے اور اس کے اوپر کوئی التہابی عمل نہیں ہے۔ اس کے سوا سورت کا اور مفہوم بھی ہوسکتا ہے جو ابھی تک ہمارے علم میں نہیں ہے۔ یہ عوامل کس طرح وجود میں آئیں گے ، ان کا علم اللہ ہی کو ہے۔
التكوير 81:2
واذا ........................ انکدرت (2:81) ” اور جب تارے بکھر جائیں گے “۔ یعنی اس بندش کے نظام سے باہر نکل آئیں گے جو اس کائنات کے نظام میں موجود ہے اور جس نے سب کو باہم باندھا ہوا ہے۔ اور یہ کہ ان کی روشنی ختم ہوجائے گی اور وہ تاریک ہوجائیں گے۔ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کن ستاروں کے ساتھ یہ حادثہ ہوگا۔ یہ تمام ستارے ہوں گے یا ستاروں کا ایک گروہ ہوگا جو ہمارے قریب ہے۔ مثلاً سورج کے قریبی ستاروں میں یہ عمل ہوگا یا ہماری کہکشاں میں یہ عمل ہوگا ، جس میں کروڑوں ستارے ہیں۔ یہ تمام ستاروں میں ہوگا جن کے مقامات ومدارات کا علم بھی اللہ کو ہے اور تعداد کا علم بھی اللہ کو ہے کیونکہ جہاں تک ہماری رصدگاہیں ہمارے مشاہدے کو پہنچاتی ہی ان سے آگے بھی بیشمار جہاں ہیں۔ ہمارا ایمان یہ ہے کہ ستارے بےنور ہوجائیں گے یا بکھر جائیں گے اور پوری حقیقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔
التكوير 81:3
واذا .................... سیرت (3:81) ” جب پہاڑ چلائے جائیں گے “۔ پہاڑوں کے چلائے جانے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ، پیس کر ہوا میں بکھیر دیا جائے گا جیسا کہ دوسری سورت میں ہے۔
ویسئلونک ............................ نسفا (105:20) ” تم سے یہ لوگ پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ دیں کہ تمہارا رب انہیں دھول بنا کر اڑادے گا “ اور دوسری جگہ ہے۔
وبست ............................ منبثا (6, 5:56) ” اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے “۔
وسیرت ........................ سرابا (20:78) ” اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔
ان سب آیات میں اس طرف اشارہ ہے کہ پہاڑوں کو ایک ایسا حادثہ پیش آئے گا ، جس سے ان کی مضبوطی ، ان کا باہم پیوست ہونا ، اور اپنی جگہ پر برقرار رہنا جاتا رہے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اس پورے عمل کا آغاز عملی زلزلہ سے ہو۔ اور اس زلزلہ کے بارے میں خود قرآن کریم تصریح کرتا ہے۔
اذا زلزلت ............................ اثقالھا (2, 1:99) ” جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی “۔ یہ سب واقعات قیامت کے طویل دن میں رونما ہوں گے۔
التكوير 81:4
واذا ................ عطلت (4:81) ” اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی “۔ العشار ، ان اونٹنیوں کو کہتے ہیں جو حاملہ ہوں اور حمل کے دس مہینے ہوچکے ہیں۔ عربوں کے نزدیک اس سے بہتر اور کوئی ملکیت نہ تھی۔ اس کی وہ بہت زیادہ دیکھ بھال کرتے تھے کیونکہ وہ قریب زمانے میں بچہ دینے والی ہوا کرتی تھی اور پھر دودھ دیتی اور اس کی افادیت قریب ہوتی۔ جس دن یہ عظیم انقلابات ہوں گے لوگ گھبراہٹ کے وجہ سے ایسے قیمتی مال کو بھی چھوڑ کر بھاگ نکلیں گے۔ کوئی بھی ایسے قیمتی مال کی طرف متوجہ نہ ہوگا۔ جس دور کے لوگوں سے قرآن مخاطب تھا ، خصوصاً عرب ، وہ ایسے مال کو ہرگز نہ چھوڑتے تھے الا یہ کہ ان پر کوئی عظیم مصیبت آجائے۔
التكوير 81:5
واذا .................... حشرت (5:81) ” اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیئے جائیں گے “۔ یہ وحوش جو انسانوں سے اور خود ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں۔ ایسے خوفزدہ ہوں گے اور اس طرح ایک جگہ جمع ہوجائیں گے بجائے پہاڑوں میں بکھرنے کے اور اپنے اپنے سوراخوں ، غاروں اور بلوں میں گھسنے کے ، جو ان کا معمول ہوتا ہے ، ایک جگہ جمع ہوں گے ، نہ ان کو انسانوں سے خوف ہوگا اور نہ ایک دوسرے سے۔ درندے اپنے شکار کو بھول جائیں گے ، ادھر ادھر بھاگتے پھریں گے اور اپنے غاروں میں پناہ نہ لیں گے جیسا کہ بالعموم وہ ایسے بلوں میں گھس جانے کے عادی ہوتے ہیں۔ نہ شکاری درندہ شکار کے پیچھے بھاگے گا اور یہ حالت اس لئے ہوگی کہ یہ سب درندے اور پرندے خوفزدہ ہوں گے اور یوں اپنی حاجت ہی چھوڑ دیں گے۔ اگر حیوانوں کی یہ حالت ہوگی تو انسانوں کا کیا کہنا ہے۔
التكوير 81:6
واذا ................ سجرت (6:81) ” اور جب سمندر بھرکا دیئے جائیں گے “۔ سجرت کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں۔ سمندروں کو پانی سے بھر دیا جائے گا ۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ سمندروں میں یہ پانی اس طرح آئے گا جس طرح بادلوں اور بارشوں کے طوفان زمین پر حملہ آور ہوئے ، جبکہ زمین سرد ہوئی اور اس کا چھلکا سخت ہوا۔ جس کا ذکر ہم نے سورة نازعات میں کیا یا یوں کہ زمین میں جب زلزلے پیدا ہوں گے اور آتش فشانی کا عمل ہوگا تو سمندر کے درمیان سے خشکی ختم ہوجائے گی اور سمندر ایک دوسرے کے اوپر چڑھ دوڑیں گے۔ یا اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ان میں آگ لگ جائے گی اور وہ پھٹ پڑیں گے جیسا کہ دوسری جگہ میں ہے۔
واذا .................... فجرت (3:82) ” اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے “۔ سمندروں کے پھٹنے کی عمل شکل یوں ہوسکتی ہے کہ پانی کے اجزاء ہائیڈروجن اور آکسیجن ایک جگہ جمع ہوجائیں یا ان کے اجزاء اس طرح پھٹ جائیں جس طرح ذرات اور ایٹم پھٹ جاتے ہیں۔ اور یہ شکل نہایت ہی ہولناک ہوگی ، جب یہ صورت ہوگی تو ایک ناقابل تصور آگ ان سمندروں میں شعلہ زن ہوجائے گی۔ ایک محدود تعداد میں اگر ایٹمی یا ہائیڈروجن کا دھماکہ ہوجائے تو اس سے بھی ایک ہولناک دھماکہ ہوتا ہے ، لیکن اگر تمام سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں تو انسان اس ہولناک دھماکے کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس سے کس قدر عظیم جہنم برپا ہوجائے گا۔
التكوير 81:7
واذا……………. زوجت ( 7:81) ” اور جب جانیں جوڑ دی جائیں گی “۔ اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ تمام روحیں ، اجسام کے ساتھ ملادی جائیں گی ، اور ان کو دوبارہ ملا کر از سر نو زندہ کردیا جائے گا اور یہ بھی احتمال ہے کہ معنی یہ ہو کہ لوگوں کے باہم متجانس گروپ بنا دیئے جائیں گے جیسا کہ دوسری جگہ آتا ہے۔
وکنتم……………. ثلثة (7:56) ” اور تم تین گروپ ہوگے “۔ یعنی مقربین الٰہی کا گروپ ، دائیں بازو والے اور بائیں بازو والے یا کسی اور اصول تقسیم کے مطابق لوگوں کو ملا دیا جائے گا۔
التكوير 81:8
واذا……………. زوجت ( 7:81) ” اور جب جانیں جوڑ دی جائیں گی “۔ اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ تمام روحیں ، اجسام کے ساتھ ملادی جائیں گی ، اور ان کو دوبارہ ملا کر از سر نو زندہ کردیا جائے گا اور یہ بھی احتمال ہے کہ معنی یہ ہو کہ لوگوں کے باہم متجانس گروپ بنا دیئے جائیں گے جیسا کہ دوسری جگہ آتا ہے۔
وکنتم……………. ثلثة (7:56) ” اور تم تین گروپ ہوگے “۔ یعنی مقربین الٰہی کا گروپ ، دائیں بازو والے اور بائیں بازو والے یا کسی اور اصول تقسیم کے مطابق لوگوں کو ملا دیا جائے گا۔
التكوير 81:9
واذا ........................ قتلت (9:81) ” اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کسی قصور میں ماری گئی “۔ دور جاہلیت میں انسانیت کی تذلیل اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ لوگوں میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا عام رواج تھا۔ یہ حرکت وہ دو وجوہات سے کرتے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اس بات کو عار سمجھتے تھے کہ ان کی لڑکیاں کسی کی بیوی یا لونڈیاں بنیں۔ دوسری وجہ یہ تھی وہ فقر اور غربت سے ڈرتے تھے۔ قرآن کریم نے اس عادت بد کو قلم بند کرکے دور جاہلیت کی اس برائی کو ہمیشہ کے لئے ریکارڈ کردیا۔ کیونکہ اسلام آیا ہی اس لئے تھا کہ عربوں اور پوری انسانیت کو اس پستی سے نکال دے۔ اور انسانیت کو ترقی اور رفعت عطا کرے۔ قرآن کہتا ہے۔
واذا بشر ................................ یحکمون (59-58:16) ” اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر سیاہی چھاجاتی ہے اور وہ بس خون کا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے۔ سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لے رہے یا مٹی میں دبادے۔ دیکھو کتنے برے حکم ہیں جو یہ خدا کے بارے میں لگاتے ہیں “۔ اور دوسری جگہ ہے۔
واذا بشر ............................ غیر مبین (18-17:43) ” اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کی یہ لوگ اس خدائے رحمن کی طرف نسبت کرتے ہیں ، اس کی ولادت کا مژدہ اگر جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھاجاتی ہے ، اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔ کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پائی جاتی ہے۔ اور بحث اور حجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کرسکتی “۔ اور تیسری جگہ یہ فرمایا :
ولا تقتلوا .................................... وایاکم (31:12) ” اور اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ، ہما نہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت ان کا قتل ایک بڑی خطا ہے “۔
یہ رسم عملاً نہایت سنگدلی سے پوری کی جاتی تھی۔ بیٹی کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔ ایک صورت یہ ہوتی کہ جب بچی چھ سال کی ہوجاتی تو باپ ماں سے کہتا کہ لڑکی تیار کرو ، میں اسے ماموں کے گھر لے جاتا ہوں۔ اس سے قبل وہ کسی خالی جگہ اس کے لئے کنواں کھود چکا ہوتا تھا۔ جب لڑکی کو لے جاکر کنویں پر پہنچا تو کہتا کہ کنویں میں دیکھو اور اسے کنویں میں گرا دیتا اور اوپر سے مٹی گرادیا۔ بعض اقوام میں رواج یہ ہوتا کہ جب کسی عورت کی ولادت کا وقت آتا تو اسے ایک گڑھے کے کنارے بٹھایا جاتا۔ اگر ولادت بیٹی کی ہوتی تو اسے گڑھے میں گرادیتی۔ اور اگر بیٹا ہوتا تو لے کر گھر آجاتی۔ اگر کوئی خاندان بیٹی کو زندہ درگور کرنے کا اردہ نہ کرتا تو اسے نہایت ہی بری حالت میں رکھا جاتا اور جب وہ اونٹ چرانے کے قابل ہوتی تو اسے اون یابالوں سے بنا ہوا کی جبہ پہنادیا جاتا اور دیہات میں بمیج دیا جاتا کہ اونٹ چرائے۔
جو لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور نہ کرتے اور ان سے اونٹ بھی نہ چرواتے تو وہ دوسرے ذرائع سے ان کو زندہ درگور رکھتے۔ جب بیچاری کسی کے نکاح میں آتی اور خاوند مرجاتا تو خاندان کا سرپرست آتا اور اس کے سر پر کپڑا ڈال دیتا۔ اس کے معنی یہ ہوتے کہ اس عورت کے ساتھ کوئی شخص نکاح نہیں کرسکتا۔ اگر اسے خود پسند آتی تو اس کے ساتھ شادی کرلیتا چاہے وہ اس شادی کو پسند کرتی یا نہ کرتی۔ اگر یہ اسے پسند نہ ہوتی تو بھی وہ اسے روکے رکھتا یہاں تک کہ مرجاتی اور یہ اس کی وراثت پاتا۔ الایہ کہ اپنا مال دے کر یہ عورت اپنے آپ کو آزاد کرالیتی۔ بعض لوگ ایسے تھے کہ عورت کو اس شرط پر طلاق کرتے تھے کہ وہ صرف اس جگہ نکاح کرے گی جہاں ان کی مرضی ہوگی الایہ کہ وہ فدیہ دے کر اس شرط کو ساقط کروادیتی۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ اگر خاوند مرجاتا تو بیوی کو خاندان کے چھوٹے بیٹوں کے لئے روک رکھتے۔ لڑکا بالغ ہوتا اور نکاح کرتا۔ اگر کسی کی سرپرستی میں یتیم لڑکی ہوتی تو وہ اسے نکاح کرنے نہ دیتا تاکہ اس کی سرپرستی ختم نہ ہوجائے اور اس لئے کہ اگر اس کی بیوی مرجائے تو یہ اس کے ساتھ نکاح کرلے۔ یا اپنی چھوٹی اولاد کے ساتھ نکاح کرلے۔ یہ کام وہ محض مالی لالچ میں کرتے۔ یا اگر لڑکی اچھی ہوتی تو اسے خوبصورتی کی وجہ سے روک لیتے۔
بہرحال جاہلیت کے زمانے میں عورت بیچاری کے یہ شب وروز تھے۔ جب اسلام آیا تو اس نے ان تمام عادات ورسومات کی سخت مذمت کی۔ اس نے لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی مذمت میں بہت مبالغہ کیا۔ اور یہ بتایا کہ قیامت کے میدان میں اٹھنے والے سوالات میں سے یہ ایک اہم سوال ہوگا۔ اور اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان ہولناک مناظر میں کیا ہے جن سے اس کائنات کا پورا نظام درہم برہم ہوگا ، گویا یہ بھی ایک ایسا حادثہ تھا جس سے عمرانی نظام درہم برہم ہوتا ہے۔ اگر زندہ درگور کی جانے والی لڑکی سے بھی باز پرس ہوگی کہ اس کے ساتھ یہ فعل کیوں ہوا ؟ تو جس شخص نے اس فعل شنیع کا ارتکاب کیا اس سے تو لازماً سوال ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی جاہلی نظام میں عورت عزت کا مقام حاصل نہیں کرسکتی تھی۔ اگر اسلامی شریعت نے اور اسلامی نظام زندگی نے جنس بشر کو کرامت اور عزت عطا نہ کی ہوتی۔ اور اس تکریم اور اعزاز میں مرد اور عورت کو برابر نہ کیا ہوتا ، اور یہ نہ کہا ہوتا کہ انسان کے اندر اللہ نے اپنی روح پھونکی تو عورت کو یہ اعزاز کبھی نصیب نہ ہوتا جو اسلام نے اسے عطا کیا ہے۔ عورت عزت وشرف کی زندگی صرف اسلامی نظام سے حاصل کرسکتی ہے۔ اس کے سوا کسی اور عامل اور زندگی سے اسے عزت وشرف نہیں مل سکتا۔ نہ کسی معاشرے سے مل سکتا ہے۔
اس طرح انسانیت کو جو ایک نیا جنم ملا وہ ان اقدار کی بدولت ممکن ہوا جو آسمانوں سے طے ہوکر آئی تھیں ، اس کے نتیجے کے طور پر اس دنیا میں عورت کو بھی انپا مقام ملا ۔ چناچہ عورت کی فطری ضعف کی وجہ سے ، اس کی مادی زندگی کی ضروریات ، اس کے خاوند پر رکھی گئی ہیں ، اس کی وجہ سے اس کی قدروقیمت اور ان کے وزن اور مقام میں کوئی کمی نہیں آتی ۔ اس لئے کہ اسلامی نظام میں مادی زندگی کی اس قدر اہمیت نہیں ہے۔ اسلامی نظام میں اصل وزن روحانی اقدار کا ہے جن کا تعلق اللہ سے ہے اور روحانی اقدار کے اعتبار سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔
جب وہ دلائل گنے جائیں کہ یہ دین اللہ کی طرف سے ہے اور جس ذات بابرکات نے یہ دین پیش کیا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں ، تو اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے ، وہ ان دلائل میں سرفہرست ہوگا۔ اس لئے کہ جس دور میں اسلام نے عورت کو یہ مقام دیا اس میں ایسی کوئی علامت ، کوئی تحریک یا کوئی سماجی مطالبہ اور ایسا نہ تھا کہ عورت کو یہ مقام دیاجانا چاہئے۔ نہ کوئی معاشی تحریک تھی اور نہ کوئی معاشرتی دباﺅ تھا کہ عورت کو یہ مقام دیا جائے ، یہ خالص اسلامی نظام تھا جس نے خالص وحی الٰہی کے تحت یہ کارنامہ سرانجام دیا۔ اسلام نے محض ربانی ہدایات کے مطابق عورت کو جاہلیت کی اس پستی سے نکال کر مقام بلند دیا اور اس کی زندگی کے حالات ہی بدل کر رکھ دیئے۔
التكوير 81:10
واذا ............ نشرت (10:81) ’ اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے “۔ صحف سے مراد نامہ اعمال ہے۔ نشر ہونے سے مراد یہ ہے کہ جب لوگوں کے اعمال نامے خفیہ نہ رہیں گے ، کھل کر سب لوگوں کے سامنے آجائیں گے اور نہ ناقابل فہم رہیں گے۔ اور ان کا یہ انکشاف ہی بدکاروں کے لئے سوہان روح ہوگا۔ کیونکہ کئی ایسی خفیہ برائیاں ہوں گی کہ اگر ان کا انکشاف ہو تو بدکار کے لئے سخت شرمندگی کا باعث ہوگا اور وہ پگھل کر رہ جائے لیکن اس کا کیا حال ہوگا کہ جب اس وقت اس کے تمام اعمال لوگوں کے سامنے ہوں گے۔
اعمال ناموں کا نشر ہونا اور رازوں کا کھل جانا بھی اس دن کی ہولناکی میں اضافہ کردے گا اور یہ دنیا کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب ہوگا کہ راز کھل جائیں گے اور لوگوں کے وہ پوشیدہ راز بھی ظاہر ہوں گے جو سینوں میں ہوں گے۔
التكوير 81:11
واذا ............ کشطت (11:81) ” اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا “۔ اعمال نامے تو زمین کے حالات پر مشتمل ہوں گے ، ان کے مقابلے میں آسمانوں کے حالات بھی کھل کر سامنے آجائیں گے ۔ لفظ آسمان کا پہلا مفہوم تو یہ ہے کہ ہمارے سروں پر جو نیلگوں پردہ ہے ، یہ ہٹ جائے گا۔ یہ کس طرح ہٹ جائے گا تو اس کی کیفیت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ بہرحال ہمارے سروں سر جو نیلا گنبد نظر آتا ہے یہ نظر نہ آئے گا اور کوئی اور ہی منظر ہوگا۔
التكوير 81:12
اور اب آخری منظر ، اس دن کے مناظر میں سے آخری منظر یوں ہوگا۔
واذا .................... ازلفت (13:81) ” اور جب جہنم دہکائی جائے گی ، اور جب جنت قریب لائی جائے گی “۔ یعنی جب جہنم میں آگ جلے گی اور اسے خوب دھکایا جائے گا اور اس کے شعلے زیادہ ہوں گے اور اس کا جوش و خروش اور حرارت زیادہ ہوجائے گی۔ یہ جہنم کہاں ہے اور کس طرح دھکائی جائے گی ؟ کیسا ایندھن استعمال ہوگا ، ہمارے پاس اس سلسلے میں صرف ایک آیت ہے۔
وقودھا ................ واحجارة (اس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے “۔ یہ حالت تو اس وقت کی ہوگی جب اہل جہنم کو اس کے اندر پھینک دیا جائے گا۔ اور جب جنت قریب کردی جائے گی ، اور جن لوگوں کو جنت میں داخل ہونا ہے ، یہ ان کے سامنے آجائے گی ، اور ان پر واضح ہوجائے گا کہ اب تو وہ بسہولت اس میں داخل ہوں گے تو ایسی صورت میں اسے ” مزلفہ “ کہا ججاتا ہے یعنی قریبہ اور اس حال میں کہ وہ تیار اور آراستہ ہے اور اب چند قدم لینے کی دیر ہے ، چند بےترتیب قدم بھی پہنچا سکتے ہیں۔
جب اس کائنات میں ، جب عالم اشیاء میں ، خواہ زندہ ہوں یا جمادات ہوں یا نباتات ، میں اس قدر انقلاب آجائے گا ، تو اب کسی کو کیا شک رہے گا کہ یہ مرحلہ آنے والا ہے ، ہر شخص کو یقینا اپنے اعمال یاد آجائیں گے ، وہ اعمال جو کسی نے اس دن کے لئے تیار کیے ، جو وہ لے کر آیا یا پیش کرنے کے لئے ، جو تیار کیے حساب اور جواب حساب کے لئے۔
التكوير 81:13
اور اب آخری منظر ، اس دن کے مناظر میں سے آخری منظر یوں ہوگا۔
واذا .................... ازلفت (13:81) ” اور جب جہنم دہکائی جائے گی ، اور جب جنت قریب لائی جائے گی “۔ یعنی جب جہنم میں آگ جلے گی اور اسے خوب دھکایا جائے گا اور اس کے شعلے زیادہ ہوں گے اور اس کا جوش و خروش اور حرارت زیادہ ہوجائے گی۔ یہ جہنم کہاں ہے اور کس طرح دھکائی جائے گی ؟ کیسا ایندھن استعمال ہوگا ، ہمارے پاس اس سلسلے میں صرف ایک آیت ہے۔
وقودھا ................ واحجارة (اس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے “۔ یہ حالت تو اس وقت کی ہوگی جب اہل جہنم کو اس کے اندر پھینک دیا جائے گا۔ اور جب جنت قریب کردی جائے گی ، اور جن لوگوں کو جنت میں داخل ہونا ہے ، یہ ان کے سامنے آجائے گی ، اور ان پر واضح ہوجائے گا کہ اب تو وہ بسہولت اس میں داخل ہوں گے تو ایسی صورت میں اسے ” مزلفہ “ کہا ججاتا ہے یعنی قریبہ اور اس حال میں کہ وہ تیار اور آراستہ ہے اور اب چند قدم لینے کی دیر ہے ، چند بےترتیب قدم بھی پہنچا سکتے ہیں۔
جب اس کائنات میں ، جب عالم اشیاء میں ، خواہ زندہ ہوں یا جمادات ہوں یا نباتات ، میں اس قدر انقلاب آجائے گا ، تو اب کسی کو کیا شک رہے گا کہ یہ مرحلہ آنے والا ہے ، ہر شخص کو یقینا اپنے اعمال یاد آجائیں گے ، وہ اعمال جو کسی نے اس دن کے لئے تیار کیے ، جو وہ لے کر آیا یا پیش کرنے کے لئے ، جو تیار کیے حساب اور جواب حساب کے لئے۔
التكوير 81:14
علمت .................... احضرت (14:81) ” اس وقت ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے “۔ اس خوفناک دن کے اندر ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ اس کے پاس کیا ہے اور اس کے ذمہ کیا ہے ، اس روز اس کو معلوم ہوجائے گا اور اس کی حالت یہ ہوگی کہ وہ کانپ رہا ہوگا اور اسے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اب وہ اپنے اعمال نامے میں کچھ بھی تغیر وتبدل نہیں کرسکتے گا۔ نہ اس میں کوئی زیادتی ہوگی اور نہ کمی ہوگی ، اسے یہ بات ایسے حالات میں معلوم ہوگی کہ وہ دنیا سے کٹ چکا ہوگا ، مستقبل کے بارے میں ان کے جو تصورات تھے ، وہ نہ رہے۔ وہ دنیا سے کٹ گئے اور دنیا ان سے دور ہوگئی۔ ہر شے متغیر ہوگئی اور ہر شے بدل سی گئی ہے۔ آج تو صرف ذات باری ہی قائم ودائم ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ لوگ اس دنیا ہی میں رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے تاکہ قیامت میں بدلتے ہوئے حالات میں بھی اللہ ان کے سامنے موجود ہوتا۔
ان موثر اشارات پر یہ پہلا پیرگراف ختم ہوتا ہے اور انسانی احساس کو گہرے شعور سے بھر دیتا ہے اور قیامت کے مناظر انسان کے ذہن میں بیٹھ جاتے ہیں اور انقلاب مکمل ہوتا ہے۔
اب دوسرا پیرگراف آتا ہے ، اس میں اس کائنات کے خوبصورت ترین مناظر کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ اس کے لئے نہایت ہی خوبصورت تصورات چنے گئے ہیں۔ وحی کیا ہے ، اس پر قسم ہے ، منصب رسالت اور وہ فرشتے کیسے ہیں جو اس کو لے کر آرہے ہیں اور اس قرآن کے مقابلے میں لوگوں کا جو رد عمل ہے وہ بھی دائرہ مشیت الٰہیہ میں ہے۔
التكوير 81:15
الخنس ۔ الجوار ۔ الکنس تینوں سے مراد ستارے ہیں۔ الخنس وہ ستارے جو اپنے دورہ فلکی میں پلٹتے ہیں ، الجوار جو چلتے ہیں اور الکنس ، جو چھپتے ہیں۔ انداز بیان کے استعارات ان ستاروں کو ہر نوں کی طرح زندگی کی خصوصیات بخش دیتے ہیں ، جو پلٹتی ہیں ، دوڑتی ہیں اور اپنے غار میں گھس جاتی ہیں۔ ایک طرف سے دوسری طرف لوٹ جاتی ہیں ، یہ ستارے گویا زندہ ہر توں کی طرح دوڑتے گھومتے اور زندہ نظر آتے ہیں۔ انداز تعبیر ان ستاروں کی حرکت کو ایک حسن رفتار عطا کردیتا ہے۔ اور ان کے ظہور میں بھی جمال نظر آتا ہے۔ اور فضا میں بھی اس کا جمال ہے ۔ چھپنا بھی خوبصورت اور نمودار ہونا بھی خوبصورت۔ دوڑنا بھی اچھا اور مڑنا بھی اچھا۔ پھر الفاظ بھی خوبصورت اور ان کا تلفظ بھی پر نغمہ اور پر ترنم اور خوبصورت۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔
التكوير 81:16
الخنس ۔ الجوار ۔ الکنس تینوں سے مراد ستارے ہیں۔ الخنس وہ ستارے جو اپنے دورہ فلکی میں پلٹتے ہیں ، الجوار جو چلتے ہیں اور الکنس ، جو چھپتے ہیں۔ انداز بیان کے استعارات ان ستاروں کو ہر نوں کی طرح زندگی کی خصوصیات بخش دیتے ہیں ، جو پلٹتی ہیں ، دوڑتی ہیں اور اپنے غار میں گھس جاتی ہیں۔ ایک طرف سے دوسری طرف لوٹ جاتی ہیں ، یہ ستارے گویا زندہ ہر توں کی طرح دوڑتے گھومتے اور زندہ نظر آتے ہیں۔ انداز تعبیر ان ستاروں کی حرکت کو ایک حسن رفتار عطا کردیتا ہے۔ اور ان کے ظہور میں بھی جمال نظر آتا ہے۔ اور فضا میں بھی اس کا جمال ہے ۔ چھپنا بھی خوبصورت اور نمودار ہونا بھی خوبصورت۔ دوڑنا بھی اچھا اور مڑنا بھی اچھا۔ پھر الفاظ بھی خوبصورت اور ان کا تلفظ بھی پر نغمہ اور پر ترنم اور خوبصورت۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔
التكوير 81:17
والیل .................... عسعس (17:81) ” اور رات کی جبکہ وہ تاریک ہوئی “۔ لیکن لفظ عسعس میں بھی مفہوم کی طرف اشارے ہیں۔ عس کے معنی اندھیرے میں ہاتھ پاﺅں کے ساتھ چلنے کے ہیں جبکہ آنکھوں سے کچھ نظر نہ آتا ہو ، گویا رات تاریکی میں چل رہی ہے۔ یہ نہایت ہی خوبصورت انداز گفتگو ہے۔
التكوير 81:18
والصبح اذا تنفس (18:81) ” اور صبح کی جبکہ اس نے سانس لیا “۔ بھی ایک زندہ بلکہ تابندہ انداز تعبیر ہے اور اس میں زیادہ اشاریت ہے۔ سپیدہ صبح گویا زندہ ہے اور سانس لے کر نمودار ہوتا ہے۔ روشنی گو صبح کی سانس ہے اور صبح کے وقت وحوش وطیور اور انسانوں کی حرکت اس کی علامت زندگی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں عربی زبان کے خوبصورت ترین اسالیب اظہار کے اندر سپیدہ صبح کی نموداری کے لئے کوئی ایسا خوبصورت فقرہ نہیں ہے۔ زندہ حساس دل صبح کو دیکھ کر یہ شعور اچھی طرح پالیتا ہے کہ یہ صبح سانس لے رہی ہے اور جب ایسا احساس دل پھر قرآن کی اس آیت کو پڑھتا ہے تو وہ یہی کہتا ہے کہ یہ بھی میرے دل میں تھی۔
جو شخص اسالیب کلام کو سمجھنے کا ذوق رکھتا ہے اور وہ اچھی منظر کشی اور تصویر کشی سے لطف اندوز ہوسکتا ہے ، وہ جب یہ آیت پڑھتا ہے۔
فلا اقسم ........................ اذا تنفس (15:81 تا 18) پس نہیں ، میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے والے اور چھپ جانے والے تاروں کی ، اور رات کی جبکہ وہ تاریک ہوئی اور صبح کی جبکہ اس نے سانس لیا “۔ تو اسے معلوم ہوگا کہ یہ عبارت شعور ومعافی اور انداز تعبیر کا ایک بڑا ذخیرہ اپنے اندررکھتی ہے اور جن کائناتی حقائق کی طرف اس میں اشارہ ہے وہ اسکے علاوہ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کائناتی حقائق کو ایک تیز احساس اور شعور کے ساتھ لیا گیا ہے۔
یہ کائناتی مناظر جن کو زندگی کا لباس پہنایا گیا ہے ۔ اور ایک زندہ اور خوبصورت اسلوب بیان کے ذریعہ ان کی روح انسانی روح کے ساتھ ملادی گئی ہے۔ یہ مناظر انسان کی روح پر اس کے حقیقی اسرارورموز کھولتے ہیں ، اور اس وقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ان سب چیزوں کے پیچھے کارفرما ہے۔ اور جس ایمانی حقیقت کی طرف بلایا جارہا ہے ، یہ مناظر اس کے زمزمہ خواں ہیں۔ اس کے بعد اس حقیقت کو نہایت ہی بہترین حالات میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ اسے یادرکھا جائے اور انسانی فطرت اس کا استقبال کرے۔
التكوير 81:19
انہ لقول ............................ امین (19:81 تا 21) ” یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغمبر کا قول ہے ، جو بڑی توانائی رکھتا ہے ، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے ، وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے ، وہ بااعتماد ہے “۔ یعنی یہ قرآن مجید جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ، خصوصاً یہ قیامت کی ہولناکیاں جو بیان کی جارہی ہیں ، یہ رسول مکرم کا قول ہے ، یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کا جو خدا کے فرستادہ ہیں اور جنہوں نے اس بات کو بحفاظت پہنچایا ہے اور گویا قرآن پہلے خدا کا قول ہے اور پھر جبرئیل (علیہ السلام) کا قول ہے کہ انہوں نے بطور پیغام الٰہی دہرایا ہے۔
اور یہ پیغام لانے والا ، جس کے ذمہ اس اہم پیغام کو آسمانوں سے نیچے پہنچانے کی ذمہ داری لگائی گئی وہ کیسی شخصیت ہے ؟ یہ اللہ کے ہاں نہایت مکرم ہے اور اللہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ نہایت ہی پختہ صلاحیتوں والا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے پیغام کو پہنچانے کے لئے جس فرشتے کی ذمہ داری تھی اسے اس بات کی ضرورت تھی کہ اسے اس کام کے لئے توفیق عطا ہو۔ اس کا اللہ کے ہاں مقام و مرتبہ بلند ہو اور عرش عظیم کے مالک کے ہاں وہ مکرم ہو اور مقرب ہو اور امین اور قابل اعتماد ہو ، جو بات اسے دی گئی اسے پوری طرح پہنچاتا بھی ہو اور پہنچا بھی سکتا ہو۔
ان کی صفات سے یہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہ کلام نہایت مہتم بالشان ہے۔ بلند مرتبہ اور اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر کس قدر مہربانی فرمائی ہے کہ انسان کی ہدایت کے لئے قرآن نازل کرنے کے لئے اس قسم کا پیغمبر مقرر کیا ہے جو نبی مختار تک یہ پیغام پہنچاتا ہے۔ یہ اس قدر عظیم مہربانی اور عنایت ہے کہ اگر انسان اس پغور کرے تو وہ پانی پانی ہوجائے کہ رب کائنات اسنان پر اس قدر کرم فرماتا ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں انسان مکرم ، اس پر آنے والا پیغام مکرم اور لانے والا فرشتہ مکرم ، اور جس نبی پر وہ آیا وہ نبی مختار مکرم ہے۔
یہ صفت تو اس پیغام لانے والے کی ہے جو اللہ کا کلام لایا اور نبی مختار کے حوالے کیا۔ اور اس رسول کا مقام ہے جو لوگوں کے پاس یہ پیغام لے کر آیا ہے تو وہ تو تمہارے ساتھی اور بھائی ہے۔ ایک طویل عرصہ تک تمہارے اندر رہا ہے لہٰذا یہ بات قابل تعجب ہے کہ جب وہ تمہارے پاس یہ کلام عالیشان لے کر آیا تو تم نے اس پر الزامات کی بوجھاڑ کردی۔ اور اس کے بارے میں تم نے مختلف رویے اختیار کرلیے حالانکہ وہ تمہارے ساتھی ہیں ، جس کے بارے میں تمہیں پوری پوری معلومات ہیں ، وہ تمہیں جو غیب کی باتیں بتاتے ہیں ان کے سلسلے میں وہ نہایت امین ہیں۔
التكوير 81:20
انہ لقول ............................ امین (19:81 تا 21) ” یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغمبر کا قول ہے ، جو بڑی توانائی رکھتا ہے ، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے ، وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے ، وہ بااعتماد ہے “۔ یعنی یہ قرآن مجید جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ، خصوصاً یہ قیامت کی ہولناکیاں جو بیان کی جارہی ہیں ، یہ رسول مکرم کا قول ہے ، یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کا جو خدا کے فرستادہ ہیں اور جنہوں نے اس بات کو بحفاظت پہنچایا ہے اور گویا قرآن پہلے خدا کا قول ہے اور پھر جبرئیل (علیہ السلام) کا قول ہے کہ انہوں نے بطور پیغام الٰہی دہرایا ہے۔
اور یہ پیغام لانے والا ، جس کے ذمہ اس اہم پیغام کو آسمانوں سے نیچے پہنچانے کی ذمہ داری لگائی گئی وہ کیسی شخصیت ہے ؟ یہ اللہ کے ہاں نہایت مکرم ہے اور اللہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ نہایت ہی پختہ صلاحیتوں والا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے پیغام کو پہنچانے کے لئے جس فرشتے کی ذمہ داری تھی اسے اس بات کی ضرورت تھی کہ اسے اس کام کے لئے توفیق عطا ہو۔ اس کا اللہ کے ہاں مقام و مرتبہ بلند ہو اور عرش عظیم کے مالک کے ہاں وہ مکرم ہو اور مقرب ہو اور امین اور قابل اعتماد ہو ، جو بات اسے دی گئی اسے پوری طرح پہنچاتا بھی ہو اور پہنچا بھی سکتا ہو۔
ان کی صفات سے یہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہ کلام نہایت مہتم بالشان ہے۔ بلند مرتبہ اور اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر کس قدر مہربانی فرمائی ہے کہ انسان کی ہدایت کے لئے قرآن نازل کرنے کے لئے اس قسم کا پیغمبر مقرر کیا ہے جو نبی مختار تک یہ پیغام پہنچاتا ہے۔ یہ اس قدر عظیم مہربانی اور عنایت ہے کہ اگر انسان اس پغور کرے تو وہ پانی پانی ہوجائے کہ رب کائنات اسنان پر اس قدر کرم فرماتا ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں انسان مکرم ، اس پر آنے والا پیغام مکرم اور لانے والا فرشتہ مکرم ، اور جس نبی پر وہ آیا وہ نبی مختار مکرم ہے۔
یہ صفت تو اس پیغام لانے والے کی ہے جو اللہ کا کلام لایا اور نبی مختار کے حوالے کیا۔ اور اس رسول کا مقام ہے جو لوگوں کے پاس یہ پیغام لے کر آیا ہے تو وہ تو تمہارے ساتھی اور بھائی ہے۔ ایک طویل عرصہ تک تمہارے اندر رہا ہے لہٰذا یہ بات قابل تعجب ہے کہ جب وہ تمہارے پاس یہ کلام عالیشان لے کر آیا تو تم نے اس پر الزامات کی بوجھاڑ کردی۔ اور اس کے بارے میں تم نے مختلف رویے اختیار کرلیے حالانکہ وہ تمہارے ساتھی ہیں ، جس کے بارے میں تمہیں پوری پوری معلومات ہیں ، وہ تمہیں جو غیب کی باتیں بتاتے ہیں ان کے سلسلے میں وہ نہایت امین ہیں۔
التكوير 81:21
انہ لقول ............................ امین (19:81 تا 21) ” یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغمبر کا قول ہے ، جو بڑی توانائی رکھتا ہے ، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے ، وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے ، وہ بااعتماد ہے “۔ یعنی یہ قرآن مجید جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ، خصوصاً یہ قیامت کی ہولناکیاں جو بیان کی جارہی ہیں ، یہ رسول مکرم کا قول ہے ، یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کا جو خدا کے فرستادہ ہیں اور جنہوں نے اس بات کو بحفاظت پہنچایا ہے اور گویا قرآن پہلے خدا کا قول ہے اور پھر جبرئیل (علیہ السلام) کا قول ہے کہ انہوں نے بطور پیغام الٰہی دہرایا ہے۔
اور یہ پیغام لانے والا ، جس کے ذمہ اس اہم پیغام کو آسمانوں سے نیچے پہنچانے کی ذمہ داری لگائی گئی وہ کیسی شخصیت ہے ؟ یہ اللہ کے ہاں نہایت مکرم ہے اور اللہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ نہایت ہی پختہ صلاحیتوں والا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے پیغام کو پہنچانے کے لئے جس فرشتے کی ذمہ داری تھی اسے اس بات کی ضرورت تھی کہ اسے اس کام کے لئے توفیق عطا ہو۔ اس کا اللہ کے ہاں مقام و مرتبہ بلند ہو اور عرش عظیم کے مالک کے ہاں وہ مکرم ہو اور مقرب ہو اور امین اور قابل اعتماد ہو ، جو بات اسے دی گئی اسے پوری طرح پہنچاتا بھی ہو اور پہنچا بھی سکتا ہو۔
ان کی صفات سے یہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہ کلام نہایت مہتم بالشان ہے۔ بلند مرتبہ اور اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر کس قدر مہربانی فرمائی ہے کہ انسان کی ہدایت کے لئے قرآن نازل کرنے کے لئے اس قسم کا پیغمبر مقرر کیا ہے جو نبی مختار تک یہ پیغام پہنچاتا ہے۔ یہ اس قدر عظیم مہربانی اور عنایت ہے کہ اگر انسان اس پغور کرے تو وہ پانی پانی ہوجائے کہ رب کائنات اسنان پر اس قدر کرم فرماتا ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں انسان مکرم ، اس پر آنے والا پیغام مکرم اور لانے والا فرشتہ مکرم ، اور جس نبی پر وہ آیا وہ نبی مختار مکرم ہے۔
یہ صفت تو اس پیغام لانے والے کی ہے جو اللہ کا کلام لایا اور نبی مختار کے حوالے کیا۔ اور اس رسول کا مقام ہے جو لوگوں کے پاس یہ پیغام لے کر آیا ہے تو وہ تو تمہارے ساتھی اور بھائی ہے۔ ایک طویل عرصہ تک تمہارے اندر رہا ہے لہٰذا یہ بات قابل تعجب ہے کہ جب وہ تمہارے پاس یہ کلام عالیشان لے کر آیا تو تم نے اس پر الزامات کی بوجھاڑ کردی۔ اور اس کے بارے میں تم نے مختلف رویے اختیار کرلیے حالانکہ وہ تمہارے ساتھی ہیں ، جس کے بارے میں تمہیں پوری پوری معلومات ہیں ، وہ تمہیں جو غیب کی باتیں بتاتے ہیں ان کے سلسلے میں وہ نہایت امین ہیں۔
التكوير 81:22
وما صاحبکم ................................ رب العلمین (22:81 تا 29) ” اور (اے اہل مکہ) تمہارا رفیق مجنون نہیں ہے ، اس نے اس پیغمبر کو روشن افق پر دیکھا ہے۔ اور وہ غیب (کے اس علم کو لوگوں تک پہنچانے) کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے۔ اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔ پھر تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو ؟ یہ تو سارے جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے ، تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے “۔ یہ لوگ نبی کریم کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے ، یہ بھی جانتے تھے کہ آپ انتہائی عقلمند آدمی ہیں ، سچے اور امین ہیں اور ثابت قدم اور راہ راست پر ہیں ، لیکن اس کے باوجود وہ کہتے تھے کہ آپ پاگل ہیں اور یہ کہ آپ جو باتیں فرماتے ہیں۔ آپ پر یہ شیطان القاء کرتا ہے۔ اور یہ باتیں وہ لوگ نبی کریم کے خلاف بطور سازش کرتے تھے جس کی تفصیلات کتب احادیث میں موجود ہیں اور بعض لوگ قرآن کریم کے کلام عالی سے مرعوب ہوکر ایسا کرتے تھے کہ کوئی انسان ایسا کلام پیش نہیں کرسکتا۔ نہ انہوں نے کسی انسان سے ایسا کلام سنا تھا۔ پھر ان کے اندر یہ تصور بھی تھا کہ ہر شاعر کے ساتھ ایک شیطان لگا ہوتا ہے اور وہ شاعروں پر یہ کلام القاء کرتا ہے اور ان کا یہ تصور بھی تھا کہ کاہنوں کے ساتھ بھی شیاطین لگتے ہوتے ہیں ، ان پر بھی وہ غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں۔ اور یہ بات بھی ان میں عام تھی کہ بعض اوقات شیطان بعض لوگوں کے ساتھ لگ جاتا ہے۔ اور ان کی زبان پر وہ اپنی بات کرتا ہے۔ لیکن اس کلام عالی شان کی سچی تاویل اور تعبیر کرنے کے لئے وہ بہرحال تیار نہ تھے کہ یہ کلام رب العالمین کی طرف سے ہے۔
چناچہ اس پیراگراف میں قرآن نے ان کو اس کائنات کی خوبصورتی کی طرف متوجہ کیا ، اس کائنات کے زندہ اور تابندہ مناظر پر غور کرنے کی دعوت دی اور اس کے ذریعہ ان کے ذہن میں یہ تصور بٹھایا کہ یہ قرآن بھی اس کائنات کی طرح ایک بدیع اور بےمثال کلام ہے۔ اور اس ذات کی طرف سے ہے جو اس کائنات کی خالق ہے۔ جس نے جس طرح اس کائنات میں جمال رکھا ہے اسی طرح قرآن میں بھی جمال رکھا ہے۔ جس کی کوئی مثال نہیں۔ چناچہ قرآن نے قرآن کے حامل فرشتے ، قرآن کے مبلغ رسول کی صفات بیان کیں کہ یہ رسول تو تمہارا ساتھی ہے ، تم اسے جانتے ہو۔ اس میں مجنون ہونے کی کوئی صفت نہیں ہے اور اس نے اپنی آنکھوں سے اس فرشتے کو دیکھا ہے ، جو اس پر کلام لایا ہے۔ اس وقت وہ فرشتہ افق پر چھایا ہوا تھا اور رسول کو حق الیقین تھا کہ یہ فرشتہ ہے ، فرستادہ رب العالمین ہے اور جو غیب کے علوم حضور پر آتے ہیں آپ نہایت امانت پے پہنچاتے ہیں۔ ان باتوں میں کوئی مشکوک بات نہیں ہے۔ خود تم نے بھی رسول اللہ سے کبھی کوئی غلط بات نہیں سنی۔
التكوير 81:23
وما صاحبکم ................................ رب العلمین (22:81 تا 29) ” اور (اے اہل مکہ) تمہارا رفیق مجنون نہیں ہے ، اس نے اس پیغمبر کو روشن افق پر دیکھا ہے۔ اور وہ غیب (کے اس علم کو لوگوں تک پہنچانے) کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے۔ اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔ پھر تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو ؟ یہ تو سارے جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے ، تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے “۔ یہ لوگ نبی کریم کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے ، یہ بھی جانتے تھے کہ آپ انتہائی عقلمند آدمی ہیں ، سچے اور امین ہیں اور ثابت قدم اور راہ راست پر ہیں ، لیکن اس کے باوجود وہ کہتے تھے کہ آپ پاگل ہیں اور یہ کہ آپ جو باتیں فرماتے ہیں۔ آپ پر یہ شیطان القاء کرتا ہے۔ اور یہ باتیں وہ لوگ نبی کریم کے خلاف بطور سازش کرتے تھے جس کی تفصیلات کتب احادیث میں موجود ہیں اور بعض لوگ قرآن کریم کے کلام عالی سے مرعوب ہوکر ایسا کرتے تھے کہ کوئی انسان ایسا کلام پیش نہیں کرسکتا۔ نہ انہوں نے کسی انسان سے ایسا کلام سنا تھا۔ پھر ان کے اندر یہ تصور بھی تھا کہ ہر شاعر کے ساتھ ایک شیطان لگا ہوتا ہے اور وہ شاعروں پر یہ کلام القاء کرتا ہے اور ان کا یہ تصور بھی تھا کہ کاہنوں کے ساتھ بھی شیاطین لگتے ہوتے ہیں ، ان پر بھی وہ غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں۔ اور یہ بات بھی ان میں عام تھی کہ بعض اوقات شیطان بعض لوگوں کے ساتھ لگ جاتا ہے۔ اور ان کی زبان پر وہ اپنی بات کرتا ہے۔ لیکن اس کلام عالی شان کی سچی تاویل اور تعبیر کرنے کے لئے وہ بہرحال تیار نہ تھے کہ یہ کلام رب العالمین کی طرف سے ہے۔
چناچہ اس پیراگراف میں قرآن نے ان کو اس کائنات کی خوبصورتی کی طرف متوجہ کیا ، اس کائنات کے زندہ اور تابندہ مناظر پر غور کرنے کی دعوت دی اور اس کے ذریعہ ان کے ذہن میں یہ تصور بٹھایا کہ یہ قرآن بھی اس کائنات کی طرح ایک بدیع اور بےمثال کلام ہے۔ اور اس ذات کی طرف سے ہے جو اس کائنات کی خالق ہے۔ جس نے جس طرح اس کائنات میں جمال رکھا ہے اسی طرح قرآن میں بھی جمال رکھا ہے۔ جس کی کوئی مثال نہیں۔ چناچہ قرآن نے قرآن کے حامل فرشتے ، قرآن کے مبلغ رسول کی صفات بیان کیں کہ یہ رسول تو تمہارا ساتھی ہے ، تم اسے جانتے ہو۔ اس میں مجنون ہونے کی کوئی صفت نہیں ہے اور اس نے اپنی آنکھوں سے اس فرشتے کو دیکھا ہے ، جو اس پر کلام لایا ہے۔ اس وقت وہ فرشتہ افق پر چھایا ہوا تھا اور رسول کو حق الیقین تھا کہ یہ فرشتہ ہے ، فرستادہ رب العالمین ہے اور جو غیب کے علوم حضور پر آتے ہیں آپ نہایت امانت پے پہنچاتے ہیں۔ ان باتوں میں کوئی مشکوک بات نہیں ہے۔ خود تم نے بھی رسول اللہ سے کبھی کوئی غلط بات نہیں سنی۔
التكوير 81:24
وما صاحبکم ................................ رب العلمین (22:81 تا 29) ” اور (اے اہل مکہ) تمہارا رفیق مجنون نہیں ہے ، اس نے اس پیغمبر کو روشن افق پر دیکھا ہے۔ اور وہ غیب (کے اس علم کو لوگوں تک پہنچانے) کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے۔ اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔ پھر تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو ؟ یہ تو سارے جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے ، تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے “۔ یہ لوگ نبی کریم کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے ، یہ بھی جانتے تھے کہ آپ انتہائی عقلمند آدمی ہیں ، سچے اور امین ہیں اور ثابت قدم اور راہ راست پر ہیں ، لیکن اس کے باوجود وہ کہتے تھے کہ آپ پاگل ہیں اور یہ کہ آپ جو باتیں فرماتے ہیں۔ آپ پر یہ شیطان القاء کرتا ہے۔ اور یہ باتیں وہ لوگ نبی کریم کے خلاف بطور سازش کرتے تھے جس کی تفصیلات کتب احادیث میں موجود ہیں اور بعض لوگ قرآن کریم کے کلام عالی سے مرعوب ہوکر ایسا کرتے تھے کہ کوئی انسان ایسا کلام پیش نہیں کرسکتا۔ نہ انہوں نے کسی انسان سے ایسا کلام سنا تھا۔ پھر ان کے اندر یہ تصور بھی تھا کہ ہر شاعر کے ساتھ ایک شیطان لگا ہوتا ہے اور وہ شاعروں پر یہ کلام القاء کرتا ہے اور ان کا یہ تصور بھی تھا کہ کاہنوں کے ساتھ بھی شیاطین لگتے ہوتے ہیں ، ان پر بھی وہ غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں۔ اور یہ بات بھی ان میں عام تھی کہ بعض اوقات شیطان بعض لوگوں کے ساتھ لگ جاتا ہے۔ اور ان کی زبان پر وہ اپنی بات کرتا ہے۔ لیکن اس کلام عالی شان کی سچی تاویل اور تعبیر کرنے کے لئے وہ بہرحال تیار نہ تھے کہ یہ کلام رب العالمین کی طرف سے ہے۔
چناچہ اس پیراگراف میں قرآن نے ان کو اس کائنات کی خوبصورتی کی طرف متوجہ کیا ، اس کائنات کے زندہ اور تابندہ مناظر پر غور کرنے کی دعوت دی اور اس کے ذریعہ ان کے ذہن میں یہ تصور بٹھایا کہ یہ قرآن بھی اس کائنات کی طرح ایک بدیع اور بےمثال کلام ہے۔ اور اس ذات کی طرف سے ہے جو اس کائنات کی خالق ہے۔ جس نے جس طرح اس کائنات میں جمال رکھا ہے اسی طرح قرآن میں بھی جمال رکھا ہے۔ جس کی کوئی مثال نہیں۔ چناچہ قرآن نے قرآن کے حامل فرشتے ، قرآن کے مبلغ رسول کی صفات بیان کیں کہ یہ رسول تو تمہارا ساتھی ہے ، تم اسے جانتے ہو۔ اس میں مجنون ہونے کی کوئی صفت نہیں ہے اور اس نے اپنی آنکھوں سے اس فرشتے کو دیکھا ہے ، جو اس پر کلام لایا ہے۔ اس وقت وہ فرشتہ افق پر چھایا ہوا تھا اور رسول کو حق الیقین تھا کہ یہ فرشتہ ہے ، فرستادہ رب العالمین ہے اور جو غیب کے علوم حضور پر آتے ہیں آپ نہایت امانت پے پہنچاتے ہیں۔ ان باتوں میں کوئی مشکوک بات نہیں ہے۔ خود تم نے بھی رسول اللہ سے کبھی کوئی غلط بات نہیں سنی۔
التكوير 81:25
وما ھو ............................ رجیم (25:81) ” اور یہ شیطان مردود کا قول نہیں ہے “۔ اس لئے کہ شیطان اس قسم کا سیدھا راستہ لوگوں کو نہیں بتلایا کرتا۔ اللہ تعالیٰ نہایت تنبیہہ کے انداز میں پوچھتے ہیں کہ تم کدھر جارہے ہو ؟
التكوير 81:26
فاین تذھبون (26:81) ” پھر تم کدھر چلے جارہے ہو ؟ “۔ تم کس قدر غلط فیصلہ کرتے ہو ، کس قدر بودی بات کرتے ہو ؟ حق سے منہ موڑ کر کدھر جارہے ہو ؟ حالانکہ حق اور سیدھا راستہ تمہارے سامنے ہے۔
التكوير 81:27
ان ھو ................ للعلمین (27:81) ” یہ تو سارے جہاں والوں کے لئے ایک نصیحت ہے “۔ یہ ایک یاد دہانی ہے اور ان کو بتاتی ہے کہ تمہارے وجود کی حقیقت کیا ہے ؟ تمہاری پیدائش کا مقصد کیا ہے ؟ تمہارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کا مقصد کیا ہے ؟ یہ دعوت تو ایک عالمی دعوت ہے۔ اگرچہ یہ دعوت اس وقت دشمنوں کے نرغے میں ہے لیکن یہ دراصل ایک عالمی تحریک ہے۔ یہ آیت اس بات پر شہادت ہے کہ دعوت اسلامی اپنے آغاز ہی سے ایک عالمی دعوت تھی۔
اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ ہدایت اور نصیحت ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اس کی طرف آگے بڑھنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ چونکہ اللہ نے تمہیں یہ سہولیات فراہم کردی ہیں ، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تم ارادہ کرلو اور اس راستے پر چل نکلو۔ اگر تم نہ چلو گے تو تم سے باز پرس ہوگی۔
التكوير 81:28
لمن شآئ .................... یستقیم (28:81) ” تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو سیدھے راستے پر چلنا چاہے “۔ یعنی جو وراہ ہدایت لینے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اللہ کی طرف چلنا چاہتا ہو۔ کیونکہ اس کلام کے بعد تو اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں رہتا کہ اللہ کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے۔ اس کلام اور تذکرہ کے بعد تو تمام عذرات ساقط ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کلام ایک صحیح اور سلیم دل پر راہ راست آشکارا کردیتا ہے۔ لہٰذا اب جو راہ راست سے انحراف کرے گا اس سے باز پرس ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ انفس وآفاق میں اشارات ایمان اور دلائل ہدایت اس قدر کثرت سے ہیں کہ ہر انسان بمشکل ان کے دائرہ اثر سے پانے آپ کو نکالتا ہے اور اس کے لئے اسے عمداً سعی کرنی پڑتی ہے۔ ہر انسان پر ان دلائل کا زبردست اثر ہر وقت قائم رہتا ہے۔ خصوصاً جو شخص قرآن پر غور و تدبر کرے اور قرآن کے نہایت موثر اسلوب کلام کو سمجھتا ہو ، اور جو لوگ بھی قرآن کو سنیں اور سمجھیں۔ وہ راہ حق سے انحراف عمداً کریں گے اور ان کے پاس کبھی بھی کوئی معقول عذر اور وجہ جواز نہ ہوگا۔
جب یہ بتا دیا گیا کہ تمام لوگوں کا راہ ہدایت پر آنا ممکن ہے اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ الہل نے ہر کسی کے لئے راہ حق پر چلنا آسان کردیا ہے ، تو اس مقام پر مناسب سمجھا گیا کہ لوگوں کی خواہش کے پس پردہ جو عظیم حقیقت کار فرما ہے ، وہ بھی انہیں صاف صاف بتادی جائے۔ وہ یہ کہ اگر وہ چاہیں بھی تو ، توفیق الٰہی کے بغیر راہ راست پر نہیں آسکتے۔
التكوير 81:29
وما تشآ ءون .................... رب العلمین (29:81) ” اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا الیہ کہ اللہ رب العالمین چاہے “۔ یہ اس لئے کہ وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کی مشیت اللہ کی وسیع تر مشیت سے آزاد اور جدا ہے ، جس کی طرف تمام امور لوٹتے ہیں ، اللہ کی طرف سے اختیار دیا جانا اور راہ ہدایت پانے کے لئے سہولت فراہم کرنا بھی اللہ کی عظیم مشیت کے اندر محدود ہے ، جس کے دائرے کے اندر وہ تمام امور محدود ہیں جو ہوچکے ہیں اور جو ہونے والے ہیں۔
یہ آیت اور اس قسم کی تمام دوسری آیات جن میں لوگوں کی مشیت کے متصلا بعد یہ کہا جاتا ہے کہ ہوتا وہی کچھ ہے جو اللہ چاہے۔ یہ اس لئے لائی جاتی ہیں کہ اللہ کی مشیت کی عمومیت اور ہمہ گیری کے بارے میں لوگوں کے تصورات کو درست کیا جائے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام امور اللہ کی مشیت کے دائرے میں ہیں۔ اور اللہ نے لوگوں کو جو آزادانہ اختیارات دیئے ہیں وہ اس کی وسیع تر مشیت کے دائرے کے اندر ہیں۔ مثلاً یوں کہ اللہ نے فرشتوں کو یہ توفیق دے دی ہے کہ وہ اللہ کے احکام کی تعمیل کریں۔ ان کو یہ اجازت بھی دے دی ہے کہ وہ ایسا کریں ، اور استطاعت بھی دے دی ہے کہ وہ ایسا کرسکیں تو یہ بھی اللہ کی مشیت کا ایک پہلو ہے کہ وہ دو راستوں میں سے جو راستہ چاہیں اختیار کریں اور یہ اختیار وہ تعلیم اور بیان کے بعد استعمال کریں۔
مومنین کو چاہئے کہ وہ اپنے عقیدے اور اپنے تصورات میں اس حقیقت کا اقرار کریں تاکہ ان کو معلوم ہو کہ اصل حقیقت کیا ہے ، وہ اللہ کی مشیت کبریٰ کو دیکھتے ہوئے اللہ ہی پر بھروسہ کریں ، اللہ کی توفیق کے طالب ہوں اور جو راہ اختیار کریں اور جو راہ ترک کریں اس میں قدرت الٰہیہ اور مشیت الٰہیہ ان کے سامنے ہو۔
الانفطار 82:1
اذا السمائ ........................ واخرت
گزشتہ سورت میں ہم نے ان آثار کی بات کی تھی جو ان مظاہر کو دیکھ کر انسانی احساس پر نمودار ہوتے تھے ، یہ مناظر اس عظیم انقلاب سے متعلق تھے جو دست قدرت اس کائنات میں برپاکردے گا ، اس کائنات کو اس طرح ہلا مارا جائے گا کہ کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہ رہے گی اور اس عظیم کائنات کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔ ہم نے وہاں یہ بھی بتایا تھا کہ ان آثار میں سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل اس پوری کائنات سے اٹھ جاتا ہے اور انسان اپنا تعلق اس خالق حقیقی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو باقی اور لازوال ہے ۔ جو اس وقت بھی باقی رہے گا جب یہ پوری کائنات ہلا ماری جائے گی۔ ان تمام انقلابات ، زلزلوں اور توڑپھوڑ کے عظیم عمل میں انسان کے لئے واحدجائے پناہ اس ذات کبریا کی درگاہ ہے جو ثابت ، برقرار اور اس قدر منظم ہے جسے خلود اور دوام حاصل ہے۔ اور یہ خلود اور دوام صرف اسی ذات کا خاصہ ہے۔
یہ اس عظیم کائناتی انقلاب کے جو پہلو لائے گئے ہیں ، ان میں سے ایک پہلو آسمان کا پھٹنا ہے۔ آسمان کے پھٹنے اور شق ہونے کا ذکر اور منظر قرآن مجید کے کئی مقامات پر پیش کیا گیا ہے۔ سورة رحمن میں ہے۔
فاذا انشقت ................ کالدھان (37:55) ” جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس طرح سرخ ہوگا جس طرح چمڑا سرخ ہوتا ہے “۔ اور سورة الحاقہ میں ہے :
وانشقت .................... واھیة (16:69) ” اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی بندش کھل جائے گی “۔ اور سورة انشقاق میں ہے :
اذا ........................ انشقت (1:84) ” جب آسمان پھٹ جائے گا “۔ اس مصیبت کے دن کی مشکلات اور حقائق میں سے ایک بڑی حقیقت یہ ہوگی کہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ آسمان کے پھٹنے کی تفصیلی کیفیت کیا ہوگی ؟ تو حقیقت یہ ہے کہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ نہ اس کی اصل حقیقت سے ہم خبردار ہیں۔ جو کچھ ہم کہہ سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ اس کائنات کی شکل و صورت میں ایک عظیم تغیر رونما ہوگا جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ موجودہ نظام درہم برہم ہوجائے گا اور اس کی موجودہ بندش کھل جائے گی جس نے اس کے تمام کر ات کو اس وقت اپنی جگہ باندھ کر رکھا ہے۔
یہاں اس عظیم فضا میں ستاروں کے بکھر جانے کا منظر بھی فضا کی ہولناکی میں شریک ہوجاتا ہے۔ اس وقت یہ ستارے اپنے اپنے مدار میں ایک خوفناک سرعت اور تیزی کے ساتھ گردش کررہے ہیں۔ لیکن اپنے اپنے مدار میں جکڑے ہوئے ہیں ، اور ایسا نہیں ہے کہ اس محیرالعقول وسیع فضا میں جدھر منہ ہو ، ادھر دوڑتے رہیں ، اور اگر یہ اس طرح بکھر جائیں جس طرح اس وقت ہوگا جب قیامت برپا ہوگی تو وہ اس نہایت مضبوط غیر مرئی نظام کی بندش سے چھوٹ جائیں ، جس نے ان کو جوڑ رکھا ہے ، تو یہ فضا میں اسی طرح پھرتے رہیں جس طرح ایک ذرہ فضا میں اڑتارہتا ہے۔
سمندروں کی ” تفجیر “ کا ایک مفہوم تو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بھر جائیں اور خشکی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں اور ایک عظیم طغیانی آجائے ، نیز اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پانی پھٹ جائے اور جن عناصر سے وہ مرکب ہے ، ان عناصر کی صورت اختیار کرلے۔ یعنی آکسیجن اور ہائیڈروجن۔ جس طرح پانی کی تشکیل سے قبل یہ ہائیڈروجن اور آکسیجن گیس کی شکل میں تھا۔ اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں عناصر بھی ایٹم اور ہائیڈروجن بم کی طرح پھٹ جائیں۔ اس کا تصور اب اچھی طرح کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایٹم اور ہائیڈروجن پھٹ جائیں تو اس کائنات کے اندر کیا کچھ ہوجائے گا جبکہ موجود ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اس دھماکے کے مقابلے میں محض کھلونے ہیں یا ” تفجیر “ کے کوئی اور معنی ہیں جو ابھی تک ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ عرض ایک عظیم ہولناک اور خوفناک صورت حالات ہوگی۔
قبروں کا کھلنا بھی ان حالات کی وجہ سے ہوگا یا مفہوم یہ ہوگا کہ اس طویل تبدیلی کے دوران حقیقتاً قبریں پھٹ پڑیں گی اور ان میں سے لوگوں کے جسم اٹھ کھڑے ہوں گے تاکہ یہ میدان حشر میں حساب و کتاب کے لئے چل پڑیں۔ اس آخری مفہوم کی تائید فقرہ مابعد سے بھی ہوتی ہے۔
الانفطار 82:2
اذا السمائ ........................ واخرت
گزشتہ سورت میں ہم نے ان آثار کی بات کی تھی جو ان مظاہر کو دیکھ کر انسانی احساس پر نمودار ہوتے تھے ، یہ مناظر اس عظیم انقلاب سے متعلق تھے جو دست قدرت اس کائنات میں برپاکردے گا ، اس کائنات کو اس طرح ہلا مارا جائے گا کہ کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہ رہے گی اور اس عظیم کائنات کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔ ہم نے وہاں یہ بھی بتایا تھا کہ ان آثار میں سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل اس پوری کائنات سے اٹھ جاتا ہے اور انسان اپنا تعلق اس خالق حقیقی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو باقی اور لازوال ہے ۔ جو اس وقت بھی باقی رہے گا جب یہ پوری کائنات ہلا ماری جائے گی۔ ان تمام انقلابات ، زلزلوں اور توڑپھوڑ کے عظیم عمل میں انسان کے لئے واحدجائے پناہ اس ذات کبریا کی درگاہ ہے جو ثابت ، برقرار اور اس قدر منظم ہے جسے خلود اور دوام حاصل ہے۔ اور یہ خلود اور دوام صرف اسی ذات کا خاصہ ہے۔
یہ اس عظیم کائناتی انقلاب کے جو پہلو لائے گئے ہیں ، ان میں سے ایک پہلو آسمان کا پھٹنا ہے۔ آسمان کے پھٹنے اور شق ہونے کا ذکر اور منظر قرآن مجید کے کئی مقامات پر پیش کیا گیا ہے۔ سورة رحمن میں ہے۔
فاذا انشقت ................ کالدھان (37:55) ” جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس طرح سرخ ہوگا جس طرح چمڑا سرخ ہوتا ہے “۔ اور سورة الحاقہ میں ہے :
وانشقت .................... واھیة (16:69) ” اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی بندش کھل جائے گی “۔ اور سورة انشقاق میں ہے :
اذا ........................ انشقت (1:84) ” جب آسمان پھٹ جائے گا “۔ اس مصیبت کے دن کی مشکلات اور حقائق میں سے ایک بڑی حقیقت یہ ہوگی کہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ آسمان کے پھٹنے کی تفصیلی کیفیت کیا ہوگی ؟ تو حقیقت یہ ہے کہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ نہ اس کی اصل حقیقت سے ہم خبردار ہیں۔ جو کچھ ہم کہہ سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ اس کائنات کی شکل و صورت میں ایک عظیم تغیر رونما ہوگا جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ موجودہ نظام درہم برہم ہوجائے گا اور اس کی موجودہ بندش کھل جائے گی جس نے اس کے تمام کر ات کو اس وقت اپنی جگہ باندھ کر رکھا ہے۔
یہاں اس عظیم فضا میں ستاروں کے بکھر جانے کا منظر بھی فضا کی ہولناکی میں شریک ہوجاتا ہے۔ اس وقت یہ ستارے اپنے اپنے مدار میں ایک خوفناک سرعت اور تیزی کے ساتھ گردش کررہے ہیں۔ لیکن اپنے اپنے مدار میں جکڑے ہوئے ہیں ، اور ایسا نہیں ہے کہ اس محیرالعقول وسیع فضا میں جدھر منہ ہو ، ادھر دوڑتے رہیں ، اور اگر یہ اس طرح بکھر جائیں جس طرح اس وقت ہوگا جب قیامت برپا ہوگی تو وہ اس نہایت مضبوط غیر مرئی نظام کی بندش سے چھوٹ جائیں ، جس نے ان کو جوڑ رکھا ہے ، تو یہ فضا میں اسی طرح پھرتے رہیں جس طرح ایک ذرہ فضا میں اڑتارہتا ہے۔
سمندروں کی ” تفجیر “ کا ایک مفہوم تو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بھر جائیں اور خشکی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں اور ایک عظیم طغیانی آجائے ، نیز اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پانی پھٹ جائے اور جن عناصر سے وہ مرکب ہے ، ان عناصر کی صورت اختیار کرلے۔ یعنی آکسیجن اور ہائیڈروجن۔ جس طرح پانی کی تشکیل سے قبل یہ ہائیڈروجن اور آکسیجن گیس کی شکل میں تھا۔ اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں عناصر بھی ایٹم اور ہائیڈروجن بم کی طرح پھٹ جائیں۔ اس کا تصور اب اچھی طرح کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایٹم اور ہائیڈروجن پھٹ جائیں تو اس کائنات کے اندر کیا کچھ ہوجائے گا جبکہ موجود ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اس دھماکے کے مقابلے میں محض کھلونے ہیں یا ” تفجیر “ کے کوئی اور معنی ہیں جو ابھی تک ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ عرض ایک عظیم ہولناک اور خوفناک صورت حالات ہوگی۔
قبروں کا کھلنا بھی ان حالات کی وجہ سے ہوگا یا مفہوم یہ ہوگا کہ اس طویل تبدیلی کے دوران حقیقتاً قبریں پھٹ پڑیں گی اور ان میں سے لوگوں کے جسم اٹھ کھڑے ہوں گے تاکہ یہ میدان حشر میں حساب و کتاب کے لئے چل پڑیں۔ اس آخری مفہوم کی تائید فقرہ مابعد سے بھی ہوتی ہے۔
الانفطار 82:3
اذا السمائ ........................ واخرت
گزشتہ سورت میں ہم نے ان آثار کی بات کی تھی جو ان مظاہر کو دیکھ کر انسانی احساس پر نمودار ہوتے تھے ، یہ مناظر اس عظیم انقلاب سے متعلق تھے جو دست قدرت اس کائنات میں برپاکردے گا ، اس کائنات کو اس طرح ہلا مارا جائے گا کہ کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہ رہے گی اور اس عظیم کائنات کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔ ہم نے وہاں یہ بھی بتایا تھا کہ ان آثار میں سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل اس پوری کائنات سے اٹھ جاتا ہے اور انسان اپنا تعلق اس خالق حقیقی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو باقی اور لازوال ہے ۔ جو اس وقت بھی باقی رہے گا جب یہ پوری کائنات ہلا ماری جائے گی۔ ان تمام انقلابات ، زلزلوں اور توڑپھوڑ کے عظیم عمل میں انسان کے لئے واحدجائے پناہ اس ذات کبریا کی درگاہ ہے جو ثابت ، برقرار اور اس قدر منظم ہے جسے خلود اور دوام حاصل ہے۔ اور یہ خلود اور دوام صرف اسی ذات کا خاصہ ہے۔
یہ اس عظیم کائناتی انقلاب کے جو پہلو لائے گئے ہیں ، ان میں سے ایک پہلو آسمان کا پھٹنا ہے۔ آسمان کے پھٹنے اور شق ہونے کا ذکر اور منظر قرآن مجید کے کئی مقامات پر پیش کیا گیا ہے۔ سورة رحمن میں ہے۔
فاذا انشقت ................ کالدھان (37:55) ” جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس طرح سرخ ہوگا جس طرح چمڑا سرخ ہوتا ہے “۔ اور سورة الحاقہ میں ہے :
وانشقت .................... واھیة (16:69) ” اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی بندش کھل جائے گی “۔ اور سورة انشقاق میں ہے :
اذا ........................ انشقت (1:84) ” جب آسمان پھٹ جائے گا “۔ اس مصیبت کے دن کی مشکلات اور حقائق میں سے ایک بڑی حقیقت یہ ہوگی کہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ آسمان کے پھٹنے کی تفصیلی کیفیت کیا ہوگی ؟ تو حقیقت یہ ہے کہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ نہ اس کی اصل حقیقت سے ہم خبردار ہیں۔ جو کچھ ہم کہہ سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ اس کائنات کی شکل و صورت میں ایک عظیم تغیر رونما ہوگا جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ موجودہ نظام درہم برہم ہوجائے گا اور اس کی موجودہ بندش کھل جائے گی جس نے اس کے تمام کر ات کو اس وقت اپنی جگہ باندھ کر رکھا ہے۔
یہاں اس عظیم فضا میں ستاروں کے بکھر جانے کا منظر بھی فضا کی ہولناکی میں شریک ہوجاتا ہے۔ اس وقت یہ ستارے اپنے اپنے مدار میں ایک خوفناک سرعت اور تیزی کے ساتھ گردش کررہے ہیں۔ لیکن اپنے اپنے مدار میں جکڑے ہوئے ہیں ، اور ایسا نہیں ہے کہ اس محیرالعقول وسیع فضا میں جدھر منہ ہو ، ادھر دوڑتے رہیں ، اور اگر یہ اس طرح بکھر جائیں جس طرح اس وقت ہوگا جب قیامت برپا ہوگی تو وہ اس نہایت مضبوط غیر مرئی نظام کی بندش سے چھوٹ جائیں ، جس نے ان کو جوڑ رکھا ہے ، تو یہ فضا میں اسی طرح پھرتے رہیں جس طرح ایک ذرہ فضا میں اڑتارہتا ہے۔
سمندروں کی ” تفجیر “ کا ایک مفہوم تو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بھر جائیں اور خشکی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں اور ایک عظیم طغیانی آجائے ، نیز اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پانی پھٹ جائے اور جن عناصر سے وہ مرکب ہے ، ان عناصر کی صورت اختیار کرلے۔ یعنی آکسیجن اور ہائیڈروجن۔ جس طرح پانی کی تشکیل سے قبل یہ ہائیڈروجن اور آکسیجن گیس کی شکل میں تھا۔ اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں عناصر بھی ایٹم اور ہائیڈروجن بم کی طرح پھٹ جائیں۔ اس کا تصور اب اچھی طرح کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایٹم اور ہائیڈروجن پھٹ جائیں تو اس کائنات کے اندر کیا کچھ ہوجائے گا جبکہ موجود ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اس دھماکے کے مقابلے میں محض کھلونے ہیں یا ” تفجیر “ کے کوئی اور معنی ہیں جو ابھی تک ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ عرض ایک عظیم ہولناک اور خوفناک صورت حالات ہوگی۔
قبروں کا کھلنا بھی ان حالات کی وجہ سے ہوگا یا مفہوم یہ ہوگا کہ اس طویل تبدیلی کے دوران حقیقتاً قبریں پھٹ پڑیں گی اور ان میں سے لوگوں کے جسم اٹھ کھڑے ہوں گے تاکہ یہ میدان حشر میں حساب و کتاب کے لئے چل پڑیں۔ اس آخری مفہوم کی تائید فقرہ مابعد سے بھی ہوتی ہے۔
الانفطار 82:4
اذا السمائ ........................ واخرت
گزشتہ سورت میں ہم نے ان آثار کی بات کی تھی جو ان مظاہر کو دیکھ کر انسانی احساس پر نمودار ہوتے تھے ، یہ مناظر اس عظیم انقلاب سے متعلق تھے جو دست قدرت اس کائنات میں برپاکردے گا ، اس کائنات کو اس طرح ہلا مارا جائے گا کہ کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہ رہے گی اور اس عظیم کائنات کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔ ہم نے وہاں یہ بھی بتایا تھا کہ ان آثار میں سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل اس پوری کائنات سے اٹھ جاتا ہے اور انسان اپنا تعلق اس خالق حقیقی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو باقی اور لازوال ہے ۔ جو اس وقت بھی باقی رہے گا جب یہ پوری کائنات ہلا ماری جائے گی۔ ان تمام انقلابات ، زلزلوں اور توڑپھوڑ کے عظیم عمل میں انسان کے لئے واحدجائے پناہ اس ذات کبریا کی درگاہ ہے جو ثابت ، برقرار اور اس قدر منظم ہے جسے خلود اور دوام حاصل ہے۔ اور یہ خلود اور دوام صرف اسی ذات کا خاصہ ہے۔
یہ اس عظیم کائناتی انقلاب کے جو پہلو لائے گئے ہیں ، ان میں سے ایک پہلو آسمان کا پھٹنا ہے۔ آسمان کے پھٹنے اور شق ہونے کا ذکر اور منظر قرآن مجید کے کئی مقامات پر پیش کیا گیا ہے۔ سورة رحمن میں ہے۔
فاذا انشقت ................ کالدھان (37:55) ” جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس طرح سرخ ہوگا جس طرح چمڑا سرخ ہوتا ہے “۔ اور سورة الحاقہ میں ہے :
وانشقت .................... واھیة (16:69) ” اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی بندش کھل جائے گی “۔ اور سورة انشقاق میں ہے :
اذا ........................ انشقت (1:84) ” جب آسمان پھٹ جائے گا “۔ اس مصیبت کے دن کی مشکلات اور حقائق میں سے ایک بڑی حقیقت یہ ہوگی کہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ آسمان کے پھٹنے کی تفصیلی کیفیت کیا ہوگی ؟ تو حقیقت یہ ہے کہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ نہ اس کی اصل حقیقت سے ہم خبردار ہیں۔ جو کچھ ہم کہہ سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ اس کائنات کی شکل و صورت میں ایک عظیم تغیر رونما ہوگا جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ موجودہ نظام درہم برہم ہوجائے گا اور اس کی موجودہ بندش کھل جائے گی جس نے اس کے تمام کر ات کو اس وقت اپنی جگہ باندھ کر رکھا ہے۔
یہاں اس عظیم فضا میں ستاروں کے بکھر جانے کا منظر بھی فضا کی ہولناکی میں شریک ہوجاتا ہے۔ اس وقت یہ ستارے اپنے اپنے مدار میں ایک خوفناک سرعت اور تیزی کے ساتھ گردش کررہے ہیں۔ لیکن اپنے اپنے مدار میں جکڑے ہوئے ہیں ، اور ایسا نہیں ہے کہ اس محیرالعقول وسیع فضا میں جدھر منہ ہو ، ادھر دوڑتے رہیں ، اور اگر یہ اس طرح بکھر جائیں جس طرح اس وقت ہوگا جب قیامت برپا ہوگی تو وہ اس نہایت مضبوط غیر مرئی نظام کی بندش سے چھوٹ جائیں ، جس نے ان کو جوڑ رکھا ہے ، تو یہ فضا میں اسی طرح پھرتے رہیں جس طرح ایک ذرہ فضا میں اڑتارہتا ہے۔
سمندروں کی ” تفجیر “ کا ایک مفہوم تو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بھر جائیں اور خشکی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں اور ایک عظیم طغیانی آجائے ، نیز اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پانی پھٹ جائے اور جن عناصر سے وہ مرکب ہے ، ان عناصر کی صورت اختیار کرلے۔ یعنی آکسیجن اور ہائیڈروجن۔ جس طرح پانی کی تشکیل سے قبل یہ ہائیڈروجن اور آکسیجن گیس کی شکل میں تھا۔ اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں عناصر بھی ایٹم اور ہائیڈروجن بم کی طرح پھٹ جائیں۔ اس کا تصور اب اچھی طرح کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایٹم اور ہائیڈروجن پھٹ جائیں تو اس کائنات کے اندر کیا کچھ ہوجائے گا جبکہ موجود ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اس دھماکے کے مقابلے میں محض کھلونے ہیں یا ” تفجیر “ کے کوئی اور معنی ہیں جو ابھی تک ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ عرض ایک عظیم ہولناک اور خوفناک صورت حالات ہوگی۔
قبروں کا کھلنا بھی ان حالات کی وجہ سے ہوگا یا مفہوم یہ ہوگا کہ اس طویل تبدیلی کے دوران حقیقتاً قبریں پھٹ پڑیں گی اور ان میں سے لوگوں کے جسم اٹھ کھڑے ہوں گے تاکہ یہ میدان حشر میں حساب و کتاب کے لئے چل پڑیں۔ اس آخری مفہوم کی تائید فقرہ مابعد سے بھی ہوتی ہے۔
الانفطار 82:5
علمت .................... واخرت (5:82) ” اس وقت ہر شخص کو اس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہوجائے گا “۔ یعنی جو پہلے کیا اور جو بعد میں کیا ، یا یہ کہ جو اس نے دنیا میں کیا اور جو اچھے اور برے آثار دنیا میں چھوڑے یا جو دنیا میں عیش کیا اور جو آخرت کے لئے ذخیرہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان عظیم حادثات اور انقلابات کے بعد ہر شخص اگلا پچھلا جان لے گا۔ یہ حادثات میں ہر حادثہ ہی خوفناک ہوگا۔
قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ملاحظہ کیجئے۔ کہا جاتا ہے۔
علمت نفس ” نفس یہ جان لے گا “۔ نفس سے یہاں مراد ہر نفس ہے لیکن ” ہر “ کو حذف کرنا بات کو نہایت نفیس اور خوبصورت بنا دیتا ہے۔ بات یہاں آکر ختم نہیں ہوجاتی کہ ہر ایک شخص اپنے تمام اعمال کا پورا پورا علم حاصل کرلے گا۔ بلکہ اس علم کے انسان پر شدید اثرات ہوں گے۔ جس طرح کہا جاتا ہے اچھا تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ اگرچہ آیت میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ کیا اثرات ہوں گے نفس پر۔ لیکن یہ ان عظیم کائناتی حادثات سے بھی سخت ہوں گے۔ انداز کلام سے اس مفہوم کا انعکاس ہوتا ہے۔
یہ تھا ایک ایسا مطلع جس نے انسانی احساس و شعور اور عقل وخرد کو یوں بیدار کردیا۔ اب اگلے پیرے میں انسان کی موجودہ حالت پر ایک تبصرہ آتا ہے کہ یہ انسان کس قدر غافل اور لاپرواہ ہے ، یہاں انداز عتاب نہایت ہمدردانہ ہے اور اس عتاب میں سرزنش اور جھڑکی کا پہلو درپردہ ہے۔ اور بظاہر بات اللہ کی عنایات پر تدبر کی گئی ہے۔ خصوصاً انسان کی موجودہ ، متوازن اور خوبصورت اور معتدل شکل و صورت میں پیدائش کو مدنظررکھتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ بات تھی کہ انسان کو موجودہ معتدل اور متوازن شکل و صورت اور جسم کے اعضاء سے فرو تر شکل دے دیتا لیکن اللہ نے اسے ایسی صورت دی کہ جو تکنیکی اور خوبصورتی دونوں اعتار سے بےمثال ہے۔ کیا انسان پر لازم نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں پر غور کرے اور شکر ادا کرے۔
الانفطار 82:6
یہاں انسان کو خطاب اس کی انسانیت کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ انسان میں صف انسانیت ہی وہ صفت ہے جو اسے ممتاز اور مکرم بناتی ہے۔ اور اپنی اس صفت کی وجہ سے انسان کو تمام دوسرے حیوانات اور زندہ مخلوقات پر برتری اور فضیلت حاصل ہے۔ اور جس کی وجہ سے انسان مقام بلند تک پہنچا ہے۔ اور اس پر اللہ کا فضل وکرم ہوا ہے۔
اس کے بعد نہایت ہی ہمدردانہ اور خوبصورت تنبیہہ اور عتاب آتا ہے۔ ذرا الفاظ دیکھئے :۔
ماغرک .................... الکریم (6:82) ” کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا ہے “۔ اے انسان ، ذرا غور کر ، تمہارا مربی ، تمہارا نگہباں تمہاری کس قدر عزت افزائی کرتا ہے۔ جس نے تمہیں انسانیت بخشی جس کی وجہ سے تم غور وفکر کرتے ہو ، بات کو سمجھتے ہو ، حیوانیت سے بلند ہوتے ہو ، آخر کیا چیز ہے جس نے تمہیں اپنے رب کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا ہے اور تم رب کے احکام میں تقصیرات اور کو تاہیاں کرتے ہو اور سستی کرتے ہو ، اللہ کے بارے میں گستاخیاں کرتے ہو ، جبکہ وہ نہایت ہی مہربان مربی ہے ، جس نے قدم قدم پر تم پر فضل وکرم کررکھا ہے ، جس کے کرموں اور انعامات میں سے بڑی نعمت اور کرم تمہاری یہ انسانیت ہے ، اور انسانیت کا خلاصہ یہ ہے کہ تم نیک وبد کی تمیز رکھتے ہو۔
اس کے بعد اس ربانی تکریم اور عزت افزائی کی تفصیلات دی جاتی ہیں۔ پہلے نہایت ہی موثر اشاراتی اور گہرے معانی پر مشتمل ایک مجمل پکار تھی اور عزت و تکریم کے خفیہ اشارے تھے اور پوشیدہ معانی تھے جو ایک آسمانی پکار اور محبت آمیز ندا میں مضمر تھے۔ اب تفصیلات ۔ تفصیلات میں انسان کی تخلیق ، اس کی موزونیت اور اس کے غایت درجہاعتدال کے حقائق لائے جاتے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو انسان کو کسی اور صورت میں بناسکتا تھا ، لیکن یہ محض اس کا فضل وکرم ہے کہ اس نے انسان کے لئے اس قدر خوبصورت شکل تجویز کی۔ اگر انسان صرف اپنی شکل و صورت اور جسمانی ساخت کی تکنیکی کمالات پر ہی غور کرے تو وہ اللہ کا شکر کرے ، مگر انسان نہ صرف یہ کہ شکر نہیں کرتا بلکہ وہ نہایت غرے کے ساتھ راہ غفلت پر سرپٹ دوڑ رہا ہے۔
ماغرک .................... فعدلک (7:82) ” اے انسان ! کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھے پیدا کیا ، تجھے تک سک سے درست کیا ، تجھے متناسب بنایا “۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے کہ اگر انسان کی انسانیت بیدار ہو ، اور اس کا قلب ونظر پاک ہو ، تو اس سے اس کی انسانیت کا ذرہ ذرہ جاگ اٹھے اور اس کا پورا وجود کانپ اٹھے اس لئے کہ انسان کا خالق اس کی سرزنش کررہا ہے۔ اپنے احسانات بتلا کر سرزنش کرتا ہے جبکہ انسان خواب غفلت میں مدہوش ہے ، پراز تقصیرات زندگی بسر کررہا ہے ، بلکہ وہ اپنے آقا اور مولا کے بارے میں سخت گستاخ ہے حالانکہ اس آقا نے اسے اس قدر پیاری ، متناسب اور معتدل شکل و صورت اور شخصیت دی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کو موجودہ خوبصورت ، معتدل اور متناسب شکل پر پیدا کرنا اور اس اتمام اعضا کا اچھی طرح اپنے وظائف کو پورا کرتے چلے جانا ایک ایسی حقیقت ہے جس پر طویل تدبر اور جدوجہد کی ضرورت ہے ، اور اس غور وفکر کے بعد پھر شکر بجا لانا فرض ہے۔ اور اس بات کی ضرورت ہے کہ انسان ایسے خالق کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے محبت رکھے اور اس کا احترام کرے۔ جس نے اس تخلیق کے ذریعے انسان کو مکرم بنایا ، اور یہ تکریم اور تفصیل اللہ کا محض فضل وکرم تھا ، اس لئے کہ اللہ اس بات پر قادر تھا کہ وہ انسان کو کسی بھی نئی شکل و صورت میں پیدا کرتا ، جس طرح چاہتا ، لیکن اللہ نے موجودہ خوبصورت پیاری اور معتدل اور متناسب شکل انسان کو عطا کی۔
حقیقت یہ کہ اپنی ساخت کے اعتبار سے انسان بےمثال ہے۔ اس کی شکل و صورت نہایت ہی موزوں ومعتدل ہے اور اس کی ساخت کے نقشے میں بیشمار عجائبات ہیں۔ خودانسان کو اللہ نے فہم وادراک کی جو قوت دی ہے اس کے جسم کے اندر موجود تکنیکی کمالات اور عجائبات اس کی قوت ادراک سے وراء ہیں۔ یہ تخلیق اس کائنات میں موجود دوسری تخلیقات سے بھی زیادہ عجیب ہے۔
خوبصورتی ، تناسب اور اعتدال انسان کے جسم سے بالکل عیاں ہیں ، خود انسان کو قوائے مدر کہ بھی اپنی جگہ عجائبات ہیں۔ انسانی نفسیات اور اس کی روحانی دنیا بھی عجیب تر ہے۔ اور نفسیاتی اور روحانی دنیا بھی اس کے جسمانی اعتدال اور تناسب کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
دور جدید میں لوگوں نے صرف انسان کی جسمانی ساخت پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں اور ان میں تفصیلات کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ انسانی ساخت کے اندر کیا کیا تکنیکی عجائبات ہیں۔ پورا مطالعہ پیش کرنا تو ممکن نہیں ہے بعض اشارات پر ہم یہاں اکتفا کریں گے۔
انسانی جسم کے اندر جو بڑے بڑے نظام ہیں ، مثلاً ہڈیوں کا نظام ، عضلات کا نظام ، جلد کا نظام ، ہاضمے کا نظام ، دوران خون کا نظام ، سانس کا نظام ، تناسل کا نظام ، شریانوں کا نظام ، اعصاب کا نظام ، پیشاب کا نظام ، اس کی قوت ذائقہ ، قوت شامہ اور سمع وبصر کی قوتیں یہ تمام نظام اگر وقت نظر سے دیکھے جائیں تو اپنی اپنی جگہ پر سب عجائبات ہیں۔ انسان نے آج تک جس قدر پیچیدہ سے پیچیدہ تکنیکی آلات ایجاد کیے ہیں وہ ان نظاموں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ انسان جب ان نظاموں پر غور کرتا ہے تو اس پر دہشت طاری ہوجاتی ہے اور وہ سکتے میں آجاتا ہے لیکن انسان ہے کہ اپنی ذات کے ان عظیم عجائبات سے صرف نظر کرلیتا ہے۔
سائنس کا ایک انگریزی جریدہ لکھتا ہے :” ہاتھ قدرت کے عجائبات میں سے ایک منفرد عجوبہ ہے۔ اسنانکے لئے ایسا آلہ ایجاد کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کسی کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ہاتھ کی طرح سادہ آلہ ایجاد کرے جس کے اندر وہ کمالات ہوں جو ہاتھ میں ہیں۔ انسان پڑھنے کے وقت کتاب کو ہاتھ سے پکڑتا ہے اور ہاتھ اسے آنکھ سے موزوں کرکے فاصل پر لے جاتے ہیں۔ یہ پوزیشن خود کار طریقے سے ہاتھ فورات طے کردیتے ہیں۔ اگر آپ کتاب کا ورق الٹنا چاہیں تو ہاتھ کی انگلی نہایت تکنیکی طریقے سے ورق پر رکھی جاتی ہے۔ اور تھوڑے سے دباﺅ سے ورق الٹ جاتا ہے۔ پھر قلم پکڑتے ہیں اور ہاتھ کے اعصاب خود بخود قلم کو چلاتے ہیں ، پھر یہ ہاتھ عجیب انداز سے انسانی ضرورت کے تمام ہتھیاروں اور اوزاروں کو استعمال کرتا ہے۔ چمچ ، چھری ، قلم اور دوسرے آلات خود بخود جس طرح ہم چاہیں ، ہاتھ کی گرفت میں آتے ہیں۔ یہ قدرتی آلہ 27 ہڈیوں اور 15 عضلات پر مشتمل ہے اور محیرالعقول ہے “۔ (اللہ اور جدید علم ، استاد عبدرازاق)
انسان کا کان اور اس کا جوف دراصل چار ہزار کے لگ بھگ نصف قوس کی کمانوں پر مشتمل ہے ، یہ کمانیں نہایت عمدگی سے بنائی گئی ہیں اور باہم دگر نہایت تکنیکی اعتبار سے مربوط ہیں۔ یہ موسیقی کے آلات کے مشابہ ہیں۔ اور یہ کمانیں ہر قسم کی آواز کو ایک عجیب انداز سے عقل اور دماغ کی طرف منتقل کرتی ہیں۔ بجلی کی کڑک کی سخت آواز ہو یا درختوں کی نہایت خوشگوار سرسراہٹ ہو ، کرخت آواز ہو یا آلات موسیقی کی خوشگوار آواز ہو ، یہ نصف قوس کے بیشمار نشیب و فراز جو کان کے اندر بنے ہوئے ہیں ، اس آواز کو من وعن دماغ تک پہنچاتے ہیں “۔
” آنکھ بھی ایک عجیب آلہ ہے ، روشنی کو اخذ کرنے والے تین کروڑ سے اوپر اعصاب کے سرے اس کے اندر موجود ہیں۔ پھر آنکھ کی حفاظت کے لئے پپوٹے اور اس کے اوپر پلکوں کا جنگلہ ہے۔ یہ نہایت خوبصورتی سے کسی بھی بیرونی چیز کو اندر آنے نہیں دیتے۔ اور خود کار طریقے سے حرکت میں رہتے ہیں۔ اور اجنبی چیزوں کو روکتے اور موڑتے ہیں۔ پلکوں کا سایہ دھوپ کی شدت کو بھی کم کرتا ہے اور پپوٹے خود کا طریقے سے آنکھ کو تر رکھتے ہیں۔ آنکھ کی صفائی کا نظام کس خوبصورتی سے کیا گیا ہے ، یہ سیال مادہ جسے آنسو کا نام دیا جاتا ہے یہ آنکھ کو ہر وقت صاف رکھتا ہے اور بہترین صفائی کرنے والا سیال ہے “۔ (علم ایمان کی دعوت دیتا ہے)
” چکھنے کا نظام انسان کی زبان میں رکھا گیا ہے۔ زبان کے لعاب دار پردے میں بیشمار چکھنے والے خلیے ہیں۔ یہ خلیے گھنڈیوں کی شکل میں ہیں۔ ان گھنڈیوں کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں۔ کچھ ریشہ دار ہوتی ہیں ، بعض محدب ہوتی ہیں اور بعض پھٹی ہوئی ہوتی ہیں۔ اور یہ خلیے زبان کے نگلنے اور چکھنے والے پٹھوں سے غذا حاصل کرتے ہیں۔ جب انسان کوئی چیز کھاتا ہے تو اس عمل سے چکھنے والے اعصاب متاثر ہوتے ہیں اور یہ اثرات دماغ تک جاتے ہیں اور یہ پورا نظام انسانی منہ کے ابتدائی حصہ میں تخلیق کیا گیا ہے تاکہ اگر انسان کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے تو اسے تھوک سکے۔ یوں منہ کے اندرہی انسان معلوم کرلیتا ہے کہ جو چیز کھائی جارہی ہے وہ تلخ ہے ، شیریں ہے ، گرم ہے ، سرد ہے ، نمکین ہے یا جلانے والی ہے۔ زبان کے اندر چکھنے کی تو ہزار گھنڈیاں ہیں اور پٹھوں کے ذریعہ دماغ کے ساتھ مربوط ہوتی ہیں ۔ ان کا حجم کیا ہے اور یہ کس طرح عمل کرتی ہیں ؟ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے “۔ (اللہ اور جدید سائنس)
” اور پھر اعصاب کا نظام جو پورے جسم میں پھیلا ہوا ہے ، یہ ایسے باریک ریشوں کا مرکب ہے جو جسم کے ہر طرف پہنچے ہوئے ہیں۔ جسم کے کونے کونے سے آگے یہ بڑے اعصاف سے جڑتے جاتے ہیں۔ اور اعصاب کے مرکزی نظام سے مربوط ہوتے ہیں۔ اگر جسم کا کوئی حصہ بھی کسی طرح متاثر ہو تو یہ نظام مرکزی نظام کو اطلاع دیتا ہے ، چاہے موسم کی معمولی سی تبدیلی کیوں نہ ہو۔ یہ نظام پورے جسم سے احساسات داغ تک پہنچاتا ہے اور دماغ اس تاثر کے بعد حکم صادر کرتا ہے اور یہ نظام نہایت ہی تیزی سے پیغام رسانی کا کام کرتا ہے۔ اس پیغام رسانی کی رفتار سو میٹر فی سیکنڈ ہے “۔
” نظام ہضم ایسا ہے جس طرح کوئی کیمیاوی لیبارٹری ہوتی ہے۔ کوئی چیز کھاتے ہی اس لیبارٹری میں ایک عجیب عمل شروع ہوتا ہے اور یہ فیکٹری ماسوائے معدے کے اس تھیلے کا سب کچھ چاٹ لیتی ہے۔ اور یہ عمل نہایت ہی حیرت انگیز طریقہ سے ہوتا ہے “۔
” اس لیبارٹری میں ہم انواع و اقسام کے کھانے داخل کرتے ہیں ، ہمارے سامنے یہ بات نہیں ہوتی کہ ان کے ساتھ یہ لیبارٹری کیا کرے گی اور نہ ہم سوچتے ہیں کہ یہ کھانے کس طرح ہضم ہوں گے۔ گوشت ، تلی ہوئی مچھلی اور دوسری خوراکیں کچھ پانی کے ساتھ اس لیبارٹری میں داخل کردیتے ہیں “۔ (اللہ اور جدید سائنس)
” کھانوں کے اس مجموعے سے یہ لیبارٹری نفع بخش چیزیں لے لیتی ہے کہ تنور میں یہ مختلف کھانے اس طرح ٹوٹتے پھوٹتے ہیں کہ ان کے تمام اجزاء تحلیل ہوجاتے ہیں۔ وہ فضلات کو نکال کر باقی چیزوں کی پروٹین کی شکل دیتی ہے تاکہ ہو جسم کے مختلف خلیات کے لئے غذا کا کام دیں۔ یہ نظام ہضم اس ملغوبے سے ضروری اجزاء کیلشیم ، گندھک ، آیوڈین ، لوہا اور بیشمار دوسرے اجزاء اخذ کرلیتا ہے اور اس بات کا پورا خیال رکھتا ہے کہ کوئی کارآمد جزضائع نہ ہو ، تاکہ ان سے ہر مون پیدا ہوں اور انسانی زندگی کے لئے تمام ضروری مواد بقدر ضرورت مہیا ہوتا رہے اور نہایت منظم طریقے سے ہوتا رہے۔ معدہ چربی اور دوسرے بعض اجزاء کا ذخیرہ بھی کرتا ہے تاکہ ہنگامی ضروریات کے وقت یہ مواد کام آسکے۔ اور یہ لیبارٹری یہ سب کام خود کار طریقے سے کرتی ہے اور انسان کو نہ اس کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے اور نہ کوئی کام کرنا پڑتا ہے۔ نہ انسان کو اس کے اسباب وعلل معلوم ہوتے ہیں۔ ہم بس اس کے اندر بیشمار چیزیں ڈال دیتے ہیں اور پھر یقین ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کو جاری رکھنے کے لئے معدہ خود بخود ضروری اشیاء اخذ کرے گا۔ اور سارے کام خود کرے گا۔
جب خوراک ، نظام ہضم کے ذریعے نئی شکل اختیار کرتی ہے تو معدہ ان کو جسم کے کھربوں خلیات تک ان کی خوراک کے طور پر پہنچاتا ہے۔ اس کرہ ارض پر پوری آبادی سے زیادہ خلیات خود ایک انسان کے جسم میں ہیں۔ اور ہر خلیہ الگ خوراک مانگتا ہے جسے فراہم کیا جاتا ہے۔ ہر خلیہ تک صرف اس کی ضرورت کی غذا پہنچتی ہے۔ اور یہ خلیات پھر اعضاء کی شکل اختیار کرتے ہیں مثلاً ہڈیاں ، ناخن ، کان ، آنکھیں ، دانت اور دوسرے اعضائ “۔
” پس معدہ ایک ایسی لیبارٹری ہے جو کسی بھی انسان تخلیق کردہ لیبارٹری سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اور اس کے ساتھ ترسیل کا ایک عجیب نظام ہے جو کسی بھی انسانی نظام ترسیل اور اخذ سے زیادہ ٹیکنیکل ہے۔ اور آج تک انسان نے ایسا پیچیدہ نظام نہ دیکھا ہے نہ ایجاد کیا ہے اور اس لیبارٹری کا نظام نہایت ضبط اور منصوبہ بندی سے کام کرتا ہے۔ (یہ تمام اقتباسات کتاب ” سائنس ایمان کی دعوت دیتی ہے “ سے لیے گئے ہیں) ۔
انسانی جسم کے اندر کام کرنے والے نظاموں کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا جاتا ہے۔ لیکن ان تمام نظاموں میں انسان کے ساتھ حیوانات بھی کسی نہ کسی طرح شریک ہیں۔ اگرچہ ان میں سے ہر نظام خواہ انسانوں میں ہو یا حیوانات میں ، اپنی جگہ معجز ہے۔ لیکن انسان کی عقلی ، فکری اور روحانی خصوصیات وہ ہیں جس میں یہ منفرد ہے اور یہ وہی خصوصیات ہیں جن کے بارے میں اللہ انسان کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ یہ اس پر اس کا احسان عظیم ہے۔
الانفطار 82:7
الذی ........................ فعدلک (7:82) ” جس نے تمہیں پیدا کیا ، تمہیں نک سک سے درشت کیا اور متناسب بنایا “۔ اور یہ خطاب یایھا الانسان سے شروع کیا۔
مثلاً انسان کی قوت مدرکہ جو عقل میں ہے ، ہم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے ، اس قدر جانتے کہ یہ ادراک قوت عقلیہ کے ذریعے ہوتا ہے اور قوت عقلیہ ہی آلہ ادراک ہے۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے ، ہم نے اسے جانتے ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ اس قوت کا عمل ادراک کس طرح کام کرتا ہے۔
ہماری معلومات اور مدرکات کس طرح دماغ میں رہتی ہیں ، ہم بس اس قدر فرض کرلیتے ہیں کہ نہایت ہی لطیف دماغی اور اعصابی ریشوں کے ذریعہ یہ معلومات اور مدرکات ذہن اور عقل میں منتقل ہوتی ہیں۔ لیکن عقل اسے کہاں سٹور کرتی ہے ؟ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ دماغ کے اندر ریکارڈ کرنے کا کوئی فیتو ہے تو پھر ساٹھ (60) سال کے لئے کئی ملین میٹر طویل فیتہ ونا چاہئے کہ وہ ساٹھ سالہ زندگی میں انسانی مشاہدات کو ریکارڈ کرے۔ ساٹھ سال کا ذکر ہم اس لئے کرتے ہیں کہ بالعموم اوسط عمر ساٹھ سال ہوتی ہے۔ ان ساٹھ سالوں میں انسان الفاظ ومعانی ، تاثرات اور شعور اور مناظر ومشاہد کے لاتعداد چیزیں اپنے دماغ میں ریکارڈ کرتا ہے۔
انفرادی الفاظ ومعانی پھر کس طرح مرکب ہوکر نتائج پیدا کرتے ہیں۔ انفرادی حادثات اور انفرادی تصاویر کس طرح کمپوز ہوکر علم اور کلچر پیدا کرتی ہیں۔ یہ ایک الگ دنیا ہے اور معلومات علوم اور اصول میں بدل جاتی ہیں۔ مدرکات اور ادراک کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور تجربات سے علم وسائنس وجود میں آتے ہیں۔ یہ اپنی جگہ دنیا کے عجائبات ہیں۔
یہ تو ہوئی انسان کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ، جو اس کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور اس کی وجہ سے انسان ممتاز ہے۔ لیکن انسان کی خصوصیات میں سے یہ کوئی بڑی خصوصیت نہیں ہے بلکہ انسان کے اندر اللہ کی روح سے جلا ہوا ایک چراغ بھی ہے جسے انسان روح کہا جاتا ہے ۔ انسان کی یہ روح انسان کو جمال کائنات کے ساتھ جوڑتی ہے اور یہی روح ہر انسان کو خالق کی روح سے مربوط کرتی ہے۔ اور انسان کو وہ لمحات نصیب کرتی ہے جن میں انسان حقیقت کبریٰ کے ساتھ جڑ جاتا ہے ، جو اپنی جگہ لامحدود ہے اور اس اتصال میں پھر انسان جمال حقیقت کبریٰ کی کچھ جھلکیاں پالیتا ہے۔
انسان اس روح کی حقیقت سے بھی بیخبر ہے۔ روح تو ایک بڑی چیز ہے ، انسان جن محسوسات کا ادراک کرتا ہے ، وہ تو ان کی حقیقت سے بھی بےبہرہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ روح ہی ہے جو اسے خوشی اور سعادت مندی کے وہ لمحات اور وہ جھلکیاں عطا کرتی ہے جن کی وجہ سے وہ اس زمین پر ہوتے ہوئے بھی عالم بالا سے مربوط ہوجاتا ہے۔ اور یوں وہ جنت کی ابدی زندگی کے لئے تیار ہوجاتا ہے اور وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ حقیقت کبریٰ کے جمال کو دیکھ سکے۔
یہ روح ، انسان کے لئے اللہ کا مخصوص تحفہ ہے۔ اور اس روح ہی کی وجہ سے انسان ، انسان قرار پایا ہے۔ اور اسی وجہ سے اللہ نے اسے یوں مخاطب کیا۔
یایھا الانسان اور پھر اسے اس قدر محبت آمیز سرزنش کی۔
ماغرک ................ الکریم (6:82) ” تجھے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے غرے میں ڈال دیا ہے “۔ یہ اللہ کی طرف سے انسان کے لئے براہ راست سرزنش ہے۔ اللہ بذات خود انسان کو پکارتا ہے اور انسان جب نظریں اٹھاتا ہے تو وہ اللہ کے سامنے ایک گنہگار ، غافل ، اللہ کے فضل وکرم کی قدر نہ کرنے والا ، بلکہ اللہ کے ہاں ایک گستاخ شخصیت کی صورت میں کھڑا نظر آتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اسے اپنی عظیم نعمت اور اپنے فضل وکرم سے آگاہ فرماتا ہے۔ اور اس کو اس کی ناقدری ، اور اس کی تقصیرات اور گستاخیوں سے مطلع فرماتا ہے۔
یہ ایک انسانی سرزنش ہے کہ اگر انسان میں احساس ہو تو وہ پانی پانی ہوجائے۔ اگر انسان اپنی انسانیت کے سر چشمے کو تلاش کرے ، اور اللہ کی اس اطلاع اور اللہ کی ذات پر غور کرے اور یہ دیکھے کہ وہ کس بادشاہ کے سامنے کھڑا ہے۔ اسے کس قدر عظیم ذات پکاررہی ہے ، اور اس کی سرزنش کررہی ہے اور اس پر یہ عتاب ہورہا ہے ، تو حقیقت یہ ہے کہ انسان پگھل کر رہ جائے۔ ذرا غور کرو۔
یایھا الانسان ................................ رکبک (6:82 تا 8) ” اے انسان ، کس چیز نے تجھے اپنے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا ، جس نے تجھے پیدا کیا ، تجھے نک سک سے درست کیا ، تجھے متناسب بنایا ، اور جس صورت میں چاہا ، تجھ کو جوڑ کر تیار کیا “۔
اب اگلے پیرے میں یہ بتایا ہے کہ انسان کیوں غافل ہوجاتا ہے اور اس سے تقصیرات کیوں سرزد ہوتی ہیں۔ ان کا اصل سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ قیامت کے دن کا یقین نہیں رکھتا۔ بتایا جاتا ہے کہ حساب و کتاب ایک حقیقت ہے اور اس کی کیفیات اور مناظر یوں ہوں گے۔ اور یہ کہ لوگوں کا انجام یکساں نہ ہوگا اور اس حقیقت کو نہایت تاکید کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
الانفطار 82:8
الذی ........................ فعدلک (7:82) ” جس نے تمہیں پیدا کیا ، تمہیں نک سک سے درشت کیا اور متناسب بنایا “۔ اور یہ خطاب یایھا الانسان سے شروع کیا۔
مثلاً انسان کی قوت مدرکہ جو عقل میں ہے ، ہم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے ، اس قدر جانتے کہ یہ ادراک قوت عقلیہ کے ذریعے ہوتا ہے اور قوت عقلیہ ہی آلہ ادراک ہے۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے ، ہم نے اسے جانتے ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ اس قوت کا عمل ادراک کس طرح کام کرتا ہے۔
ہماری معلومات اور مدرکات کس طرح دماغ میں رہتی ہیں ، ہم بس اس قدر فرض کرلیتے ہیں کہ نہایت ہی لطیف دماغی اور اعصابی ریشوں کے ذریعہ یہ معلومات اور مدرکات ذہن اور عقل میں منتقل ہوتی ہیں۔ لیکن عقل اسے کہاں سٹور کرتی ہے ؟ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ دماغ کے اندر ریکارڈ کرنے کا کوئی فیتو ہے تو پھر ساٹھ (60) سال کے لئے کئی ملین میٹر طویل فیتہ ونا چاہئے کہ وہ ساٹھ سالہ زندگی میں انسانی مشاہدات کو ریکارڈ کرے۔ ساٹھ سال کا ذکر ہم اس لئے کرتے ہیں کہ بالعموم اوسط عمر ساٹھ سال ہوتی ہے۔ ان ساٹھ سالوں میں انسان الفاظ ومعانی ، تاثرات اور شعور اور مناظر ومشاہد کے لاتعداد چیزیں اپنے دماغ میں ریکارڈ کرتا ہے۔
انفرادی الفاظ ومعانی پھر کس طرح مرکب ہوکر نتائج پیدا کرتے ہیں۔ انفرادی حادثات اور انفرادی تصاویر کس طرح کمپوز ہوکر علم اور کلچر پیدا کرتی ہیں۔ یہ ایک الگ دنیا ہے اور معلومات علوم اور اصول میں بدل جاتی ہیں۔ مدرکات اور ادراک کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور تجربات سے علم وسائنس وجود میں آتے ہیں۔ یہ اپنی جگہ دنیا کے عجائبات ہیں۔
یہ تو ہوئی انسان کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ، جو اس کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور اس کی وجہ سے انسان ممتاز ہے۔ لیکن انسان کی خصوصیات میں سے یہ کوئی بڑی خصوصیت نہیں ہے بلکہ انسان کے اندر اللہ کی روح سے جلا ہوا ایک چراغ بھی ہے جسے انسان روح کہا جاتا ہے ۔ انسان کی یہ روح انسان کو جمال کائنات کے ساتھ جوڑتی ہے اور یہی روح ہر انسان کو خالق کی روح سے مربوط کرتی ہے۔ اور انسان کو وہ لمحات نصیب کرتی ہے جن میں انسان حقیقت کبریٰ کے ساتھ جڑ جاتا ہے ، جو اپنی جگہ لامحدود ہے اور اس اتصال میں پھر انسان جمال حقیقت کبریٰ کی کچھ جھلکیاں پالیتا ہے۔
انسان اس روح کی حقیقت سے بھی بیخبر ہے۔ روح تو ایک بڑی چیز ہے ، انسان جن محسوسات کا ادراک کرتا ہے ، وہ تو ان کی حقیقت سے بھی بےبہرہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ روح ہی ہے جو اسے خوشی اور سعادت مندی کے وہ لمحات اور وہ جھلکیاں عطا کرتی ہے جن کی وجہ سے وہ اس زمین پر ہوتے ہوئے بھی عالم بالا سے مربوط ہوجاتا ہے۔ اور یوں وہ جنت کی ابدی زندگی کے لئے تیار ہوجاتا ہے اور وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ حقیقت کبریٰ کے جمال کو دیکھ سکے۔
یہ روح ، انسان کے لئے اللہ کا مخصوص تحفہ ہے۔ اور اس روح ہی کی وجہ سے انسان ، انسان قرار پایا ہے۔ اور اسی وجہ سے اللہ نے اسے یوں مخاطب کیا۔
یایھا الانسان اور پھر اسے اس قدر محبت آمیز سرزنش کی۔
ماغرک ................ الکریم (6:82) ” تجھے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے غرے میں ڈال دیا ہے “۔ یہ اللہ کی طرف سے انسان کے لئے براہ راست سرزنش ہے۔ اللہ بذات خود انسان کو پکارتا ہے اور انسان جب نظریں اٹھاتا ہے تو وہ اللہ کے سامنے ایک گنہگار ، غافل ، اللہ کے فضل وکرم کی قدر نہ کرنے والا ، بلکہ اللہ کے ہاں ایک گستاخ شخصیت کی صورت میں کھڑا نظر آتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اسے اپنی عظیم نعمت اور اپنے فضل وکرم سے آگاہ فرماتا ہے۔ اور اس کو اس کی ناقدری ، اور اس کی تقصیرات اور گستاخیوں سے مطلع فرماتا ہے۔
یہ ایک انسانی سرزنش ہے کہ اگر انسان میں احساس ہو تو وہ پانی پانی ہوجائے۔ اگر انسان اپنی انسانیت کے سر چشمے کو تلاش کرے ، اور اللہ کی اس اطلاع اور اللہ کی ذات پر غور کرے اور یہ دیکھے کہ وہ کس بادشاہ کے سامنے کھڑا ہے۔ اسے کس قدر عظیم ذات پکاررہی ہے ، اور اس کی سرزنش کررہی ہے اور اس پر یہ عتاب ہورہا ہے ، تو حقیقت یہ ہے کہ انسان پگھل کر رہ جائے۔ ذرا غور کرو۔
یایھا الانسان ................................ رکبک (6:82 تا 8) ” اے انسان ، کس چیز نے تجھے اپنے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا ، جس نے تجھے پیدا کیا ، تجھے نک سک سے درست کیا ، تجھے متناسب بنایا ، اور جس صورت میں چاہا ، تجھ کو جوڑ کر تیار کیا “۔
اب اگلے پیرے میں یہ بتایا ہے کہ انسان کیوں غافل ہوجاتا ہے اور اس سے تقصیرات کیوں سرزد ہوتی ہیں۔ ان کا اصل سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ قیامت کے دن کا یقین نہیں رکھتا۔ بتایا جاتا ہے کہ حساب و کتاب ایک حقیقت ہے اور اس کی کیفیات اور مناظر یوں ہوں گے۔ اور یہ کہ لوگوں کا انجام یکساں نہ ہوگا اور اس حقیقت کو نہایت تاکید کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
الانفطار 82:9
لفظ کلا بھی زجرو توبیخ کا لفظ ہے ، اس کے ذریعہ سرزنش کی جاتی ہے کہ تم جس حال میں ہو ، یہ درست نہیں ہے۔ تمہاری سوچ غلط ہے۔ اس کے ذریعے سابقہ موضوع سے بات کو دوسرے سے بات کو دوسرے موضوع اور نکتے کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔ ایک نئی بات سامنے لائی جاتی ہے اور یہ تاکید اور زور دار بات کرنے کا ایک انداز ہے۔ یہ انداز عتاب اور یاددہانی اور تصویر کشی سے الگ ہے۔
کلا بل ................ بالدین (9:82) ” ہرگز نہیں ! بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ جزا وسزا کو جھٹلاتے ہو “۔ تمہیں یہ یقین نہیں ہے کہ اس زندگی کا جواب بھی دینا ہے اور یہی ہے تمہاری غفلت کا حقیقی سبب۔ جس کی وجہ سے تم سے تقصیرات ہوتی ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص زندگی کی جوابدہی اور حساب و کتاب پر یقین نہ رکھتا ہو اور پھر وہ سیدھے راستے پر بھی چلتا ہو ، بھلائی بھی کرتا ہو ، اور اللہ کی اطاعت بھی کرتا ہو۔ بعض اوقات ، بعض لوگوں کے دل اس قدر صاف و شفاف ہوجاتے ہیں کہ وہ رب کی اطاعت صرف رب کی محبت کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اس وجہ سے نہیں کرتے کہ اللہ ان کو سزا دے گا یاجزاء دے گا ، اور ان کو کسی انعام کا کوئی لالچ ہی نہیں رہتا۔ لیکن ایسے لوگ بھی قیامت پر یقین رکھتے ہیں ، اللہ سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ ملاقات کے شائق ہوتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جس رب کے ساتھ انہیں محبت ہے اس کو دیکھیں۔ لیکن جب کوئی قیامت کی تکذیب کرتا ہے تو وہ آداب زندگی ، اطاعت رب اور نورانیت اور روحانیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس کے جسم کے اندر زندہ دل نہیں ہوتا ، اور اس کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے۔
تم لوگ روز جزاء کی تکذیب کرتے ہو لیکن تم دراصل قیامت کے دن کی طرف کشاں کشاں جارہے ہو ، تمہاری زندگی کا ریکارڈ تیار ہورہا ہے۔ کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا اور نہ ضبط کیے جانے سے چھوٹ سکتا ہے۔ نہ فرشتے بھولتے ہیں۔
الانفطار 82:10
وان علیکم ............................ تفعلون (10:82 تا 12) ” حالانکہ تم پر نگران مقرر ہیں ، ایسے معزز کاتب جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں “۔ یہ محافظ وہ روحانی مخلوقات ہیں جو فرشتوں سے ہیں۔ یہ ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں ، اس کی نگرانی کرتے ہیں ، اور جو اعمال وہ کرتا ہے اسے لکھتے ہیں ، ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کس طرح ریکارڈ تیار کرتے ہیں ، اللہ کی طرف سے ہم پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی کہ ہم اس کی تفصیلی کیفیات بھی جانیں۔ اللہ کو معلوم ہے کہ ہمارے اندر ان غیبی امور کے ادراک کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اور نہ اس میں ہمارا کوئی فائدہ ہے کہ ہم ریکارڈ کیے جانے کی کیفیت بھی جانیں۔ کیونکہ یہ علم ہمارے فرائض میں سے نہیں ہے اور نہ اس سے انسان کے مقصد تخلیق کا تعلق ہے۔ لہٰذا اس میں مشغول ہونے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جن کا انکشاف اللہ نے ہمارے سامنے نہیں کیا۔ ہمارے لئے صرف یہی شعور اور یقین دہانی ہے کہ انسان شتر بےمہار نہیں ہے۔ اور اللہ نے ایسے کارندے اس کے اوپر نگراں مقرر کردیئے ہیں ۔ جو اس کی ہر بات کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ جاگ اٹھے اور خوف کے مارے کانپ جائے اور اپنے مقصد زندگی کو پورا کرتے ہوئے آداب زندگی کو ملحوظ رکھے۔
اس سورت کی فضا اللہ کے انعامات اور اللہ کے فضل وکرم کی تھی ، اس لئے ان فرشتوں کی یہ صفت یہاں لائی گئی کہ وہ ” کرام “ ہیں قابل قدر اور صاحب منزلت ہیں۔ یہ اس لئے کہ انسان کو یہ خوف لاحق ہو کہ اس پر معززلوگ نگران ہیں۔ لہٰذا اسے ارتکاب جرائم وقبائح کے وقت شرم آنی چاہئے کیونکہ یہ بات انسان کی فطرت کا حصہ ہے کہ جب وہ شرفاء اور معزز لوگوں کے اندر بیٹھا ہو تو وہ قبیح حرکات نہیں کرتا ، متبذل الفاظ کا استعمال نہیں کرتا اور اپنی روش درست رکھتا ہے لیکن اگر انسان کو یہ شعور مل جائے کہ اللہ کے معزز فرستادہ اس کی باتوں کو نوٹ کررہے ہیں تو انسان بیشمار قباحتوں سے بچ سکتا ہے جو شرفاء کے ساتھ لاحق نہیں۔ قرآن کا یہ کمال ہے کہ وہ انسانی شعور کو زندہ وبیدارکھتا ہے اور تصور قیامت اور عقیدہ کاتبان الٰہی کے ذریعہ انسان کو اعلیٰ خیالات اور اعمال کے لئے پرجوش بناتا ہے۔
اس کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور برے لوگوں کے انجام کا ذکر کیا جاتا ہے کہ فرشتے اور اللہ کے معززنمائندے جو ریکارڈ تیار کرتے ہیں ، وہ بہت اہم ہے اور اس کی بناء پر دائمی سعادت یا دائمی شقاوت نصیب ہوگی۔
الانفطار 82:11
وان علیکم ............................ تفعلون (10:82 تا 12) ” حالانکہ تم پر نگران مقرر ہیں ، ایسے معزز کاتب جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں “۔ یہ محافظ وہ روحانی مخلوقات ہیں جو فرشتوں سے ہیں۔ یہ ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں ، اس کی نگرانی کرتے ہیں ، اور جو اعمال وہ کرتا ہے اسے لکھتے ہیں ، ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کس طرح ریکارڈ تیار کرتے ہیں ، اللہ کی طرف سے ہم پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی کہ ہم اس کی تفصیلی کیفیات بھی جانیں۔ اللہ کو معلوم ہے کہ ہمارے اندر ان غیبی امور کے ادراک کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اور نہ اس میں ہمارا کوئی فائدہ ہے کہ ہم ریکارڈ کیے جانے کی کیفیت بھی جانیں۔ کیونکہ یہ علم ہمارے فرائض میں سے نہیں ہے اور نہ اس سے انسان کے مقصد تخلیق کا تعلق ہے۔ لہٰذا اس میں مشغول ہونے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جن کا انکشاف اللہ نے ہمارے سامنے نہیں کیا۔ ہمارے لئے صرف یہی شعور اور یقین دہانی ہے کہ انسان شتر بےمہار نہیں ہے۔ اور اللہ نے ایسے کارندے اس کے اوپر نگراں مقرر کردیئے ہیں ۔ جو اس کی ہر بات کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ جاگ اٹھے اور خوف کے مارے کانپ جائے اور اپنے مقصد زندگی کو پورا کرتے ہوئے آداب زندگی کو ملحوظ رکھے۔
اس سورت کی فضا اللہ کے انعامات اور اللہ کے فضل وکرم کی تھی ، اس لئے ان فرشتوں کی یہ صفت یہاں لائی گئی کہ وہ ” کرام “ ہیں قابل قدر اور صاحب منزلت ہیں۔ یہ اس لئے کہ انسان کو یہ خوف لاحق ہو کہ اس پر معززلوگ نگران ہیں۔ لہٰذا اسے ارتکاب جرائم وقبائح کے وقت شرم آنی چاہئے کیونکہ یہ بات انسان کی فطرت کا حصہ ہے کہ جب وہ شرفاء اور معزز لوگوں کے اندر بیٹھا ہو تو وہ قبیح حرکات نہیں کرتا ، متبذل الفاظ کا استعمال نہیں کرتا اور اپنی روش درست رکھتا ہے لیکن اگر انسان کو یہ شعور مل جائے کہ اللہ کے معزز فرستادہ اس کی باتوں کو نوٹ کررہے ہیں تو انسان بیشمار قباحتوں سے بچ سکتا ہے جو شرفاء کے ساتھ لاحق نہیں۔ قرآن کا یہ کمال ہے کہ وہ انسانی شعور کو زندہ وبیدارکھتا ہے اور تصور قیامت اور عقیدہ کاتبان الٰہی کے ذریعہ انسان کو اعلیٰ خیالات اور اعمال کے لئے پرجوش بناتا ہے۔
اس کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور برے لوگوں کے انجام کا ذکر کیا جاتا ہے کہ فرشتے اور اللہ کے معززنمائندے جو ریکارڈ تیار کرتے ہیں ، وہ بہت اہم ہے اور اس کی بناء پر دائمی سعادت یا دائمی شقاوت نصیب ہوگی۔
الانفطار 82:12
وان علیکم ............................ تفعلون (10:82 تا 12) ” حالانکہ تم پر نگران مقرر ہیں ، ایسے معزز کاتب جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں “۔ یہ محافظ وہ روحانی مخلوقات ہیں جو فرشتوں سے ہیں۔ یہ ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں ، اس کی نگرانی کرتے ہیں ، اور جو اعمال وہ کرتا ہے اسے لکھتے ہیں ، ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کس طرح ریکارڈ تیار کرتے ہیں ، اللہ کی طرف سے ہم پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی کہ ہم اس کی تفصیلی کیفیات بھی جانیں۔ اللہ کو معلوم ہے کہ ہمارے اندر ان غیبی امور کے ادراک کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اور نہ اس میں ہمارا کوئی فائدہ ہے کہ ہم ریکارڈ کیے جانے کی کیفیت بھی جانیں۔ کیونکہ یہ علم ہمارے فرائض میں سے نہیں ہے اور نہ اس سے انسان کے مقصد تخلیق کا تعلق ہے۔ لہٰذا اس میں مشغول ہونے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جن کا انکشاف اللہ نے ہمارے سامنے نہیں کیا۔ ہمارے لئے صرف یہی شعور اور یقین دہانی ہے کہ انسان شتر بےمہار نہیں ہے۔ اور اللہ نے ایسے کارندے اس کے اوپر نگراں مقرر کردیئے ہیں ۔ جو اس کی ہر بات کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ جاگ اٹھے اور خوف کے مارے کانپ جائے اور اپنے مقصد زندگی کو پورا کرتے ہوئے آداب زندگی کو ملحوظ رکھے۔
اس سورت کی فضا اللہ کے انعامات اور اللہ کے فضل وکرم کی تھی ، اس لئے ان فرشتوں کی یہ صفت یہاں لائی گئی کہ وہ ” کرام “ ہیں قابل قدر اور صاحب منزلت ہیں۔ یہ اس لئے کہ انسان کو یہ خوف لاحق ہو کہ اس پر معززلوگ نگران ہیں۔ لہٰذا اسے ارتکاب جرائم وقبائح کے وقت شرم آنی چاہئے کیونکہ یہ بات انسان کی فطرت کا حصہ ہے کہ جب وہ شرفاء اور معزز لوگوں کے اندر بیٹھا ہو تو وہ قبیح حرکات نہیں کرتا ، متبذل الفاظ کا استعمال نہیں کرتا اور اپنی روش درست رکھتا ہے لیکن اگر انسان کو یہ شعور مل جائے کہ اللہ کے معزز فرستادہ اس کی باتوں کو نوٹ کررہے ہیں تو انسان بیشمار قباحتوں سے بچ سکتا ہے جو شرفاء کے ساتھ لاحق نہیں۔ قرآن کا یہ کمال ہے کہ وہ انسانی شعور کو زندہ وبیدارکھتا ہے اور تصور قیامت اور عقیدہ کاتبان الٰہی کے ذریعہ انسان کو اعلیٰ خیالات اور اعمال کے لئے پرجوش بناتا ہے۔
اس کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور برے لوگوں کے انجام کا ذکر کیا جاتا ہے کہ فرشتے اور اللہ کے معززنمائندے جو ریکارڈ تیار کرتے ہیں ، وہ بہت اہم ہے اور اس کی بناء پر دائمی سعادت یا دائمی شقاوت نصیب ہوگی۔
الانفطار 82:13
ان الابرار ............................ بغئبین (13:82 تا 16) ” یقینا نیک لوگ مزے میں ہوں گے اور بیشک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے۔ جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس سے ہرگز غائب نہ ہوسکیں گے “۔
لہٰذا یقین کرو کہ یہ انجام لازمی ہونے والا ہے۔ یہ طے شدہ انجام ہے کہ نیک لوگ جنت میں اور برے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے۔ بر ، ابرار کا واحد ہے۔ وہ شخص کہ نیکی اس کی عادت ثانیہ بن جائے۔ نیک کاموں میں وہ تمام کام شامل ہیں جو اچھے کام ہیں۔ اور نیکی کی یہ صفت انسانی شرافت کے ساتھ متناسب ہے۔ اس کے مقابلے کا لفظ بھی ایسا ہی ہے۔ فجار ، وہ گستاخ ، بےادب جو اثم ومعصیت کے کاموں میں بےدھڑک کود پڑتے ہیں۔ جہنم ان کے فسق وفجور کے لئے موزوں جگہ ہے ۔ مناسب جائے مقام ہے۔ ان کا حال کیا ہوگا ؟
الانفطار 82:14
ان الابرار ............................ بغئبین (13:82 تا 16) ” یقینا نیک لوگ مزے میں ہوں گے اور بیشک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے۔ جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس سے ہرگز غائب نہ ہوسکیں گے “۔
لہٰذا یقین کرو کہ یہ انجام لازمی ہونے والا ہے۔ یہ طے شدہ انجام ہے کہ نیک لوگ جنت میں اور برے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے۔ بر ، ابرار کا واحد ہے۔ وہ شخص کہ نیکی اس کی عادت ثانیہ بن جائے۔ نیک کاموں میں وہ تمام کام شامل ہیں جو اچھے کام ہیں۔ اور نیکی کی یہ صفت انسانی شرافت کے ساتھ متناسب ہے۔ اس کے مقابلے کا لفظ بھی ایسا ہی ہے۔ فجار ، وہ گستاخ ، بےادب جو اثم ومعصیت کے کاموں میں بےدھڑک کود پڑتے ہیں۔ جہنم ان کے فسق وفجور کے لئے موزوں جگہ ہے ۔ مناسب جائے مقام ہے۔ ان کا حال کیا ہوگا ؟
الانفطار 82:15
یصلونھا یوم الدین (15:82) ” جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے “۔ تو بطور تاکید مزیدیہ کہا جاتا ہے کہ وہاں مجرم مفرور نہ ہوسکیں گے۔
الانفطار 82:16
وماھم عنھا بغئبین (16:82) ” اور وہ اس سے ہرگز غائب نہ ہوسکیں گے “۔ نہ آغاز فیصلہ میں یہ غائب ہوں گے اور نہ معافی کے ذریعہ جہنم سے نکل سکیں گے۔ یوں ابرار اور فجار کی حالت ایک دوسرے کے عین بالمقابل اور متضاد ہوگی۔ جنت اور جہنم کے حالات بھی باہم متضاد اور بالمقابل ہوں گے۔ جبکہ اہل جہنم کے حالات اور دردو جہنم کو ذرا تفصیل سے بتایا گیا ہے۔
اصل موضوع یہ تھا کہ یہ لوگ قیامت کے حساب و کتاب کے منکر تھے اور تکذیب کرتے تھے۔ لہٰذا اس دن کے واقعات بیان کرنے کے بعداس دن کی ہولناکیوں اور خوفناکیوں کو دوبارہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس دن کو وہ مکمل طور پر بےبس ہوں گے۔ کسی کے لئے کوئی چارہ نہ ہوگا اور کسی جانب سے کوئی امداد ومعاونت نہ ملے گی اور یہ دن اس قدر خوفناک ہوگا کہ تمہیں اس کا کوئی علم ہی نہیں ہے۔ یہ بتاکر کہ تم اس دن کے ہول سے مکمل طور پر بیخبر ہو ، اس خوف کو زیادہ کردیا جاتا ہے جس طرح کہا جاتا ہے کہ عظیم مصیبت آنے والی ہے۔
الانفطار 82:17
قرآن کے انداز تعبیر میں کسی مصیبت کو مجہول اور نامعلوم کرکے بیان کرنا ، ایک عمومی انداز ہے۔ اس انداز سے اس کی خوفناکیوں میں خوب اضافہ ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ کہ انسانی تصور سے قیامت کی مصیبت ماوراء ہے۔ مصیبت اور خوف کا ہم جو بھی بھیانک تصور کرسکتے ہیں ، اس سے بھی وہ بڑھ کر ہے۔ پھر سوال کو دہرا کر اس خوفناکی میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے۔
سوال دہرانے کے بعد اس کے ایسے خدوخال بیان کردیئے جاتے ہیں جو اس کی خوفناکیوں کے ساتھ متناسب ہیں۔
الانفطار 82:18
قرآن کے انداز تعبیر میں کسی مصیبت کو مجہول اور نامعلوم کرکے بیان کرنا ، ایک عمومی انداز ہے۔ اس انداز سے اس کی خوفناکیوں میں خوب اضافہ ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ کہ انسانی تصور سے قیامت کی مصیبت ماوراء ہے۔ مصیبت اور خوف کا ہم جو بھی بھیانک تصور کرسکتے ہیں ، اس سے بھی وہ بڑھ کر ہے۔ پھر سوال کو دہرا کر اس خوفناکی میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے۔
سوال دہرانے کے بعد اس کے ایسے خدوخال بیان کردیئے جاتے ہیں جو اس کی خوفناکیوں کے ساتھ متناسب ہیں۔
الانفطار 82:19
یوم لا ................ شیئا (19:82) ” یہ وہ دن ہے جس میں کسی نفس کے لئے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا “۔ یعنی انسان مکمل طور پر عاجز ، لاچار اور بےبس ہوں گے۔ ہر شخص کو اپنی پڑی ہوئی ہوگی، وہ سب سے کٹ چکا ہوگا ، کوئی دوست و یار یاد نہ ہوگا۔
والامر ................ للہ (19:82) ” فیصلہ اس دن صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا “۔ یہ صرف اللہ کی منفرد ذات ہوگی اور دنیا وآخرت کے فیصلے اسی کے اختیار میں ہوتے ہیں ، لیکن اس دن یہ حقیقت عیاں ہوجائے گی۔ اگرچہ دنیا میں بعض لوگ اس حقیقت کے تصور سے غافل ہوتے ہیں اور غرے میں ہوتے ہی۔ لیکن قیامت میں یہ امر پوشیدہ نہ رہے گا۔ ہر کسی پر عیاں ہوگا۔ غافل ، متکبر اور برخود غلط سب ہی اسے دیکھ لیں گے۔
یہ سورت کا خوفناک اختتام ہے اور یہ اختتام سورت کے آغاز کے خوفناک انقلابات کائنات کے ساتھ مل کر ، انسانی سوچ ، انسانی احساسات کو گھیر لیتا ہے۔ یہ دونوں خوف اور ہلامارنے والے حالات انسان کو دہشت زدہ کردیتے ہیں۔ ان دونوں ہولناک حالات یعنی آغاز و انجام کے درمیان ایک پر محبت ، ہمدردانہ ملامت ہے جس سے ایک خاص انسان پانی پانی ہوجاتا ہے۔ یہ ہے سورت کا خاتمہ۔
المطففين 83:1
سورت کا آغاز ناپ تول میں ڈنڈی مارنے والوں پر تنقیدی حملے سے ہوتا ہے کہ ان ڈنڈی مارنے والوں (مطففین) کے لئے تباہی اور ہلاکت ہے۔ یہاں بطور فیصلہ یہ بات بتائی جارہی ہے کہ ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہو یا یہ ان کے حق میں بددعا ہو ، مطلب دونوں کا ایک ہی ہے کیونکہ اللہ کی جانب سے بددعا بھی ایک فیصلہ ہوتا ہے۔
المطففين 83:2
اگلی دو آیات میں مطففین کی تعریف کی گئی ہے کہ مطفف ، ڈنڈی مارنے والا کون ہوتا ہے۔
الذین اذا ........................ یخسرون (3-2:83) ” یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو گھاٹا دیتے ہیں “۔ جب وہ مشتری ہوں تو بہت ہشیاری سے پورا پورا لیتے ہیں اور اگر بیچنے والے ہوں تو کم دیتے ہیں۔
اس مکی سورت میں اس اہمیت کے ساتھ ناپ تول میں کمی کے مسئلہ پر بحث تعجب خیز ہے اور ایک خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ مکی سورتوں میں بالعموم کلی اور اصولی عقائد اور نظریات سے بحث کی گئی ہے۔ مثلاً توحید کا ثبوت ، اللہ کی بےقید مشیت ، عام مخلوق اور پوری کائنات پر اللہ کا کنٹرول ، وحی کی حقیقت اور نبوت کا منصب ، آخرت کی حقیقت اور حساب و کتاب اور عمومی انداز میں اخلاقی احساسات پیدا کرنا ، خصوصاً ایسے احساسات جن کا ان بنیادی عقائد ونظریات کی ساتھ خاص ربط اور تعلق ہو۔ رہی یہ بات کہ کسی اخلاقی مسئلہ پر خاص طور پر بحث کرنا تو یہ بات مکی سورتوں میں نہیں ہے مثلاً کم ناپنے اور کم تولنے کا مسئلہ ، اور دوسری معاملاتی بےقاعدگیاں۔ یہ تمام امور مدنی سورتوں میں آئے جبکہ اسلامی نظام حکومت قائم ہوگیا تھا اور اس نے معاشی ، معاشرتی اور سماجی مسائل کو حل کرنا شروع کیا تھا کیونکہ یہی انداز اسلامی منہاج کا عمومی انداز تھا۔
لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ یہ بتایا جائے کہ اس عمومی قاعدے سے ہٹ کر قرآن نے اس مسئلے کو کیوں لیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان چند اور مختصر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بعض وجوہات تھیں۔
ان آیات سے ایک بات قہ معلوم ہوتی ہے کہ جب اسلام آیا تو مکہ میں ناپ تول میں کمی کا ایک ظالمانہ نظام ایک خوفناک شکل میں موجود تھا۔ مکہ کے کبراء یہ کام کرتے تھے۔ ان لوگوں کا پورے عرب بلکہ شرق وغرب کی تجارت پر قبضہ تھا۔ اور یہ اکابر وسیع کاروبار کے مالک تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ذخیرہ اندوزی کا جال پھیلا رکھا تھا۔ یہ لوگ گرمیوں اور سردیوں کے سفر شام اور یمن کے ساحل کی طرف کرتے تھے اور انہوں نے مختلف مواقع پر تجاری میلے بھی منظم کر رکھے تھے۔ مثلاً حج کے موقعہ پر عکاظ کا بازار لگتا تھا جس میں وسیع تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی اور تاریخی سرگرمیاں بھی زوروں پر ہوتی تھیں۔ لوگ مفاخر اور اشعار بھی پڑھتے۔
آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں ان اکابر مجرمین کو سخت دھمکی دیتا ہے کہ تباہی تمہارے سر پر ہے۔ اسی طرح ان کے خلاف اعلان جنگ کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ برا کام کرنے والے لوگ اونچے طبقات کے لوگ تھے۔ اور ان کو ایسا معاشرتی مقام حاصل تھا کہ یہ لوگوں کو اس پر مجبور کرتے تھے کہ ان کو کم دیں۔ قرآن نے لفظ (یکتالون علی الناس) استعمال کیا جس میں لفظ ” علی “ برتری کے مفہوم میں ہے یعنی اپنی اونچی پوزیشن کی وجہ سے لوگوں پر کم ناپ وتول ٹھونستے تھے اور جب ان سے وہ کچھ لیتے تھے تو جبراً زیادہ لیتے تھے۔ اگر وہ پورا لیتے تو یہ بات قابل اعتراض نہ ہوتی اور اس کا ذکر ہی نہ کیا جاتا ۔ یعنی وہ جو چاہتے ، جبراً زیادہ لیتے تھے۔ اگر وہ پورا لیتے تو یہ بات قابل اعتراض نہ ہوتی اور اس کا ذکر ہی نہ کیا جاتا۔ یعنی وہ جو چاہتے ، جبراً لے لیتے۔ اور جب لوگوں کو دیتے تو اپنی سیاسی اور سماجی پوزیشن کی وجہ سے کم دیتے ۔ کیونکہ وہ لوگ اپنے حقوق پورے حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے اس لئے کہ ان کبراء کو سیاسی اور قبائلی برتری حاصل تھی اور معاشی برتری کی وجہ سے لوگ مجبور ہوتے تھے کہ ان کے اس ظلم پر راضی ہوں۔ یہ ذخیرہ اندوزی کرتے تھے اور پھر لوگوں کو مہنگا فروخت کرکے ان کو دیتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے تجارتی نظام کی خصوصیت ہے۔ غرض ایک واضح ظالمانہ نظام تطفیف مکہ میں کام کررہا تھا ، اس لئے اسے چیلنج کیا گیا۔
اس مکی معاشرہ میں دعوت اسلامی کے نہایت ہی ابتدائی ایام میں اس مسئلے کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کا مزاج کیا ہے ، نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین ایک مکمل نظام زندگی ہے اور زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے خواہ نظریاتی ہو یا عملی۔ اور اس نظام کی اٹھان گہرے اخلاقی اصولوں پر ہے جو اس نظام کے اندر نہایت ہی گہرائی میں رکھے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ان ابتدائی ایام ہی میں اس غلط روش کو ناپسند کیا کیونکہ باہم معاملات میں یہ کھلی بداخلاقی تھی۔ حالانکہ اس دور میں اسلام کو اجتماعی قیادت اور اختیارات حاصل نہ تھے ، نہ حکومت تھی اور نہ اسلامی شریعت نافذ تھی۔ لیکن اسلام نے اپنے مزاج کے عین مطابق اس برائی کے خلاف یہ آواز بلند کی۔ اور اعلان کردیا کہ ناپ تول میں ڈنڈی مارنے والوں کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے۔ جو لوگ یہ کام کرتے تھے وہ مکہ کے سردار ، برسر اقتدار اور بااختیار تھے۔ ان کو لوگوں پر روحانی سیادت حاصل تھی۔ اور یہ عقیدہ شرک کے محافظ تھے اور ان کو مکہ میں معاشی برتری بھی حاصل تھی۔ اسلام نے ان لوگوں کی قیادت وسیادت کے باوجود ان کے اس ظلم اور دھاندلی کے خلاف آواز بلند کی۔ اور غریب عوام کے حق میں آواز بلند کی جن کا استحصال کیا جارہا تھا اور یہ استحصال وہ ان مذہبی خیالات کی بنا پر کررہے تھے جو انہوں نے ان عوام کے ذہنوں پر بٹھا دیئے تھے۔ اسلام نے جو آواز اٹھائی وہ اسلام کی فطری آواز تھی۔ اسلامی نظام کے مزاج کے عین مطابق تھی ، اور یہ ایک ایسی آواز تھی جو سوئے ہوئے عوام کو جگارہی تھی اور تحریک اسلامی نے یہ آواز اس وقت اٹھائی جب اس کے ماننے والے اس وقت مکہ میں مقہور ومحصور تھے اور جن لوگوں کے خلاف یہ اٹھائی گئی وہ معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور ان کو معاشی ، دینی اور مالی برتری حاصل تھی۔
اس سے ہمیں ایک نہایت ہی حقیقت پسندانہ سبب ملتا ہے۔ اس بات کا کہ مشرکین مکہ اسلام اور دعوت اسلامی کے معاملے میں کیوں ایک ناقابل عبور رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگئے تھے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ جانتے تھے کہ یہ نیا نظریہ جو حضرت محمد ﷺ پیش فرما رہے ہیں۔ یہ فقط عقیدہ اور زبانی اقرار ہی نہیں ہے کہ اللہ ایک ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور بتوں اور مورتیوں کو چھوڑ کر فقط ایک خدا کی عبادت اور بندگی کرنا ہے۔ ایسا نہ تھا بلکہ وہ جانتے تھے کہ یہ عقیدہ اور نظریہ جاہلیت کی تمام بنیادو کو اکھاڑ کر پھینک رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے تمام مفادات بھی ختم ہورہے ہیں اور اس عقیدے سے ان کی عزت ، مقام اور اقتدار کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ اس نظام کا مزاج ہی دوئی قبول نہیں کرتا۔ یہ نظام ایسے سیکولر عناصر سے بھی نہیں ملتا جن کا ربط آسمانی ہدایات و تصورات سے نہ ہو ، اور یہ نظام اس تمام زمینی مواد کو ختم کرتا ہے جس کے اوپر جاہلیت کا نظام قائم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل مکہ نے اس نئے نظام کے خلاف چومکھی لڑائی شروع کردی اور یہ لڑائی نہ ہجرت سے قبل کے زمانے میں کبھی رکی اور نہ بعد کے زمانوں میں ، یہ کبھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ جنگ دراصل کلچر کی جنگ تھی۔ یہ لوگ ، اسلامی کلچر کے خلاف برسرپیکار تھے۔ یہ محض دینی نظریاتی جنگ نہ تھی۔
جو لوگ اسلامی نظام کے اقتدار کی راہ روک رہے ہیں۔ ان لوگوں نے ہر دور اور ہر مقام پر اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھا ہے۔ انہوں نے اسلامی نظام کے غلبے کے نتائج کو اچھی طرح جانا ہے تب ہی تو انہوں نے اسلامی نظام کے غلبے کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ لوگ جانتے تھے اور ہیں کہ ان کے باطل طور طریقے اور ان کے جابرانہ مفادات اور خود انی کی کھوئی قوت اور ان کی بےراہ روی ، غرض یہ سب چیزیں اسلام نظام کے غلبے کے نتیجے میں ختم ہونے والی ہیں کیونکہ یہ تو ایک سیدھا اور نہایت ہی شریفانہ نظام ہے۔
دوسرے لوگوں کے مقابلے میں یہ باغی اور سرکش اور ڈنڈی مارنے والے ، خواہ اس ڈنڈی مارنے اور ظلم کی جو صورت بھی ہو ، مالی ظلم ہو یا دوسرے حقوق وفرائض میں ظلم ہو ، یہ باغی اور سرکش دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اسلامی نظام سے زیادہ خائف رہتے ہیں کیونکہ یہ نہایت منصفانہ اور پاک وصاف نظام ہے۔ یہ نظام انسانی حقوق پر کوئی سودا بازی اور کوئی مداہنت قبول نہیں کرتا اور نہ نصافا نصف اور کچھ لو اور کچھ دو کا فیصلہ کرتا ہے۔
ہجرت سے قبل جن لوگوں نے عقبہ ثانیہ کی بیعت کی تھی۔ انہوں نے اسی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : ” اور مجھے عاصم ابن عمر ابن قتادہ نے بتایا کہ جب لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کے لئے جمع ہوئے تو اس موقعہ پر عباس ابن عبادہ ابن نضلہ انصاری ، بنی سالم ابن عوف کے فرد نے کہا : ” اے اہل خزرج ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم اس شخص کے ساتھ کس بات پر بیعت کررہے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا : ” ہاں ہم جانتے ہیں “۔ تو اس نے کہا : ” حقیقت یہ ہے کہ تم اور ہم اسودواحمر کے ساتھ لڑنے جارہے ہیں۔ اگر تمہاری رائے یہ ہے کہ جب ہمیں مالی تاوان لاحق ہوگا ، اور ہمارے شرفاء قتل ہوں گے اور ہم پھر اس کی حمایت سے دست بردار ہوجائیں گے تو ابھی سے اسے چھوڑ دو ، اگر بعد میں تم اسے چھوڑو گے تو دنیا وآخرت میں تباہ ہوجاﺅ گے اور اگر تم اس بات پر تل گئے ہو کہ مال لٹانا اور اثراف کا قتل ہونا ہمیں منظور ہے تو بیعت کرلو۔ خدا کی قسم ! یہ دنیا وآخرت سے بہتر ہیں “ تو بیعت کرنے والوں نے کہا کہ ” ہم مال لٹانے اور اثراف کے قتل پر بھی اسے ہی قبول کرتے ہیں “۔ اس پر اس شخص نے کہا : ” رسول خدا اس پر ہمیں کیا اجر ملے گا۔ اگر ہم نے یہ عہد پورا کردیا “ تو آپ نے فرمایا :” جنت “ تو انہوں نے کہا : ” لائیے ہاتھ “ آپ نے بھی ہاتھ بڑھایا اور لوگوں کی بیعت کی۔
غرض بیت عقبہ کرنے والوں نے بھی اس دین کے مزاج کو سمجھ لیا تھا اور کبرائے قریش نے بھی سمجھ لیا تھا کہ یہ دین تلوار کی دھار کی طرح عدل و انصاف کے اصولوں پر سیدھاقائم ہے۔ یہ زیادتی اور سرکشی کسی طرح بھی برداشت نہیں کرتا۔ نہ حد سے تجاوز اور بغاوت کو برداشت کرتا ہے اور نہ کبروغرور کو اور نہ یہ دین کے نام پر ظلم ، زیادتی اور دھوکہ بازی اور استحصال کو برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا ہر وہ شخص جو سرکش ہو ، باغی ہو ، متکبر ہو ، استحصالی ہو ، وہ اس دین ، اس کی دعوت اور اس کے داعیون کا دشمن ہوتا ہے۔
المطففين 83:3
اگلی دو آیات میں مطففین کی تعریف کی گئی ہے کہ مطفف ، ڈنڈی مارنے والا کون ہوتا ہے۔
الذین اذا ........................ یخسرون (3-2:83) ” یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو گھاٹا دیتے ہیں “۔ جب وہ مشتری ہوں تو بہت ہشیاری سے پورا پورا لیتے ہیں اور اگر بیچنے والے ہوں تو کم دیتے ہیں۔
اس مکی سورت میں اس اہمیت کے ساتھ ناپ تول میں کمی کے مسئلہ پر بحث تعجب خیز ہے اور ایک خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ مکی سورتوں میں بالعموم کلی اور اصولی عقائد اور نظریات سے بحث کی گئی ہے۔ مثلاً توحید کا ثبوت ، اللہ کی بےقید مشیت ، عام مخلوق اور پوری کائنات پر اللہ کا کنٹرول ، وحی کی حقیقت اور نبوت کا منصب ، آخرت کی حقیقت اور حساب و کتاب اور عمومی انداز میں اخلاقی احساسات پیدا کرنا ، خصوصاً ایسے احساسات جن کا ان بنیادی عقائد ونظریات کی ساتھ خاص ربط اور تعلق ہو۔ رہی یہ بات کہ کسی اخلاقی مسئلہ پر خاص طور پر بحث کرنا تو یہ بات مکی سورتوں میں نہیں ہے مثلاً کم ناپنے اور کم تولنے کا مسئلہ ، اور دوسری معاملاتی بےقاعدگیاں۔ یہ تمام امور مدنی سورتوں میں آئے جبکہ اسلامی نظام حکومت قائم ہوگیا تھا اور اس نے معاشی ، معاشرتی اور سماجی مسائل کو حل کرنا شروع کیا تھا کیونکہ یہی انداز اسلامی منہاج کا عمومی انداز تھا۔
لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ یہ بتایا جائے کہ اس عمومی قاعدے سے ہٹ کر قرآن نے اس مسئلے کو کیوں لیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان چند اور مختصر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بعض وجوہات تھیں۔
ان آیات سے ایک بات قہ معلوم ہوتی ہے کہ جب اسلام آیا تو مکہ میں ناپ تول میں کمی کا ایک ظالمانہ نظام ایک خوفناک شکل میں موجود تھا۔ مکہ کے کبراء یہ کام کرتے تھے۔ ان لوگوں کا پورے عرب بلکہ شرق وغرب کی تجارت پر قبضہ تھا۔ اور یہ اکابر وسیع کاروبار کے مالک تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ذخیرہ اندوزی کا جال پھیلا رکھا تھا۔ یہ لوگ گرمیوں اور سردیوں کے سفر شام اور یمن کے ساحل کی طرف کرتے تھے اور انہوں نے مختلف مواقع پر تجاری میلے بھی منظم کر رکھے تھے۔ مثلاً حج کے موقعہ پر عکاظ کا بازار لگتا تھا جس میں وسیع تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی اور تاریخی سرگرمیاں بھی زوروں پر ہوتی تھیں۔ لوگ مفاخر اور اشعار بھی پڑھتے۔
آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں ان اکابر مجرمین کو سخت دھمکی دیتا ہے کہ تباہی تمہارے سر پر ہے۔ اسی طرح ان کے خلاف اعلان جنگ کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ برا کام کرنے والے لوگ اونچے طبقات کے لوگ تھے۔ اور ان کو ایسا معاشرتی مقام حاصل تھا کہ یہ لوگوں کو اس پر مجبور کرتے تھے کہ ان کو کم دیں۔ قرآن نے لفظ (یکتالون علی الناس) استعمال کیا جس میں لفظ ” علی “ برتری کے مفہوم میں ہے یعنی اپنی اونچی پوزیشن کی وجہ سے لوگوں پر کم ناپ وتول ٹھونستے تھے اور جب ان سے وہ کچھ لیتے تھے تو جبراً زیادہ لیتے تھے۔ اگر وہ پورا لیتے تو یہ بات قابل اعتراض نہ ہوتی اور اس کا ذکر ہی نہ کیا جاتا ۔ یعنی وہ جو چاہتے ، جبراً زیادہ لیتے تھے۔ اگر وہ پورا لیتے تو یہ بات قابل اعتراض نہ ہوتی اور اس کا ذکر ہی نہ کیا جاتا۔ یعنی وہ جو چاہتے ، جبراً لے لیتے۔ اور جب لوگوں کو دیتے تو اپنی سیاسی اور سماجی پوزیشن کی وجہ سے کم دیتے ۔ کیونکہ وہ لوگ اپنے حقوق پورے حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے اس لئے کہ ان کبراء کو سیاسی اور قبائلی برتری حاصل تھی اور معاشی برتری کی وجہ سے لوگ مجبور ہوتے تھے کہ ان کے اس ظلم پر راضی ہوں۔ یہ ذخیرہ اندوزی کرتے تھے اور پھر لوگوں کو مہنگا فروخت کرکے ان کو دیتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے تجارتی نظام کی خصوصیت ہے۔ غرض ایک واضح ظالمانہ نظام تطفیف مکہ میں کام کررہا تھا ، اس لئے اسے چیلنج کیا گیا۔
اس مکی معاشرہ میں دعوت اسلامی کے نہایت ہی ابتدائی ایام میں اس مسئلے کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کا مزاج کیا ہے ، نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین ایک مکمل نظام زندگی ہے اور زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے خواہ نظریاتی ہو یا عملی۔ اور اس نظام کی اٹھان گہرے اخلاقی اصولوں پر ہے جو اس نظام کے اندر نہایت ہی گہرائی میں رکھے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ان ابتدائی ایام ہی میں اس غلط روش کو ناپسند کیا کیونکہ باہم معاملات میں یہ کھلی بداخلاقی تھی۔ حالانکہ اس دور میں اسلام کو اجتماعی قیادت اور اختیارات حاصل نہ تھے ، نہ حکومت تھی اور نہ اسلامی شریعت نافذ تھی۔ لیکن اسلام نے اپنے مزاج کے عین مطابق اس برائی کے خلاف یہ آواز بلند کی۔ اور اعلان کردیا کہ ناپ تول میں ڈنڈی مارنے والوں کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے۔ جو لوگ یہ کام کرتے تھے وہ مکہ کے سردار ، برسر اقتدار اور بااختیار تھے۔ ان کو لوگوں پر روحانی سیادت حاصل تھی۔ اور یہ عقیدہ شرک کے محافظ تھے اور ان کو مکہ میں معاشی برتری بھی حاصل تھی۔ اسلام نے ان لوگوں کی قیادت وسیادت کے باوجود ان کے اس ظلم اور دھاندلی کے خلاف آواز بلند کی۔ اور غریب عوام کے حق میں آواز بلند کی جن کا استحصال کیا جارہا تھا اور یہ استحصال وہ ان مذہبی خیالات کی بنا پر کررہے تھے جو انہوں نے ان عوام کے ذہنوں پر بٹھا دیئے تھے۔ اسلام نے جو آواز اٹھائی وہ اسلام کی فطری آواز تھی۔ اسلامی نظام کے مزاج کے عین مطابق تھی ، اور یہ ایک ایسی آواز تھی جو سوئے ہوئے عوام کو جگارہی تھی اور تحریک اسلامی نے یہ آواز اس وقت اٹھائی جب اس کے ماننے والے اس وقت مکہ میں مقہور ومحصور تھے اور جن لوگوں کے خلاف یہ اٹھائی گئی وہ معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور ان کو معاشی ، دینی اور مالی برتری حاصل تھی۔
اس سے ہمیں ایک نہایت ہی حقیقت پسندانہ سبب ملتا ہے۔ اس بات کا کہ مشرکین مکہ اسلام اور دعوت اسلامی کے معاملے میں کیوں ایک ناقابل عبور رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگئے تھے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ جانتے تھے کہ یہ نیا نظریہ جو حضرت محمد ﷺ پیش فرما رہے ہیں۔ یہ فقط عقیدہ اور زبانی اقرار ہی نہیں ہے کہ اللہ ایک ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور بتوں اور مورتیوں کو چھوڑ کر فقط ایک خدا کی عبادت اور بندگی کرنا ہے۔ ایسا نہ تھا بلکہ وہ جانتے تھے کہ یہ عقیدہ اور نظریہ جاہلیت کی تمام بنیادو کو اکھاڑ کر پھینک رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے تمام مفادات بھی ختم ہورہے ہیں اور اس عقیدے سے ان کی عزت ، مقام اور اقتدار کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ اس نظام کا مزاج ہی دوئی قبول نہیں کرتا۔ یہ نظام ایسے سیکولر عناصر سے بھی نہیں ملتا جن کا ربط آسمانی ہدایات و تصورات سے نہ ہو ، اور یہ نظام اس تمام زمینی مواد کو ختم کرتا ہے جس کے اوپر جاہلیت کا نظام قائم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل مکہ نے اس نئے نظام کے خلاف چومکھی لڑائی شروع کردی اور یہ لڑائی نہ ہجرت سے قبل کے زمانے میں کبھی رکی اور نہ بعد کے زمانوں میں ، یہ کبھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ جنگ دراصل کلچر کی جنگ تھی۔ یہ لوگ ، اسلامی کلچر کے خلاف برسرپیکار تھے۔ یہ محض دینی نظریاتی جنگ نہ تھی۔
جو لوگ اسلامی نظام کے اقتدار کی راہ روک رہے ہیں۔ ان لوگوں نے ہر دور اور ہر مقام پر اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھا ہے۔ انہوں نے اسلامی نظام کے غلبے کے نتائج کو اچھی طرح جانا ہے تب ہی تو انہوں نے اسلامی نظام کے غلبے کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ لوگ جانتے تھے اور ہیں کہ ان کے باطل طور طریقے اور ان کے جابرانہ مفادات اور خود انی کی کھوئی قوت اور ان کی بےراہ روی ، غرض یہ سب چیزیں اسلام نظام کے غلبے کے نتیجے میں ختم ہونے والی ہیں کیونکہ یہ تو ایک سیدھا اور نہایت ہی شریفانہ نظام ہے۔
دوسرے لوگوں کے مقابلے میں یہ باغی اور سرکش اور ڈنڈی مارنے والے ، خواہ اس ڈنڈی مارنے اور ظلم کی جو صورت بھی ہو ، مالی ظلم ہو یا دوسرے حقوق وفرائض میں ظلم ہو ، یہ باغی اور سرکش دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اسلامی نظام سے زیادہ خائف رہتے ہیں کیونکہ یہ نہایت منصفانہ اور پاک وصاف نظام ہے۔ یہ نظام انسانی حقوق پر کوئی سودا بازی اور کوئی مداہنت قبول نہیں کرتا اور نہ نصافا نصف اور کچھ لو اور کچھ دو کا فیصلہ کرتا ہے۔
ہجرت سے قبل جن لوگوں نے عقبہ ثانیہ کی بیعت کی تھی۔ انہوں نے اسی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : ” اور مجھے عاصم ابن عمر ابن قتادہ نے بتایا کہ جب لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کے لئے جمع ہوئے تو اس موقعہ پر عباس ابن عبادہ ابن نضلہ انصاری ، بنی سالم ابن عوف کے فرد نے کہا : ” اے اہل خزرج ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم اس شخص کے ساتھ کس بات پر بیعت کررہے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا : ” ہاں ہم جانتے ہیں “۔ تو اس نے کہا : ” حقیقت یہ ہے کہ تم اور ہم اسودواحمر کے ساتھ لڑنے جارہے ہیں۔ اگر تمہاری رائے یہ ہے کہ جب ہمیں مالی تاوان لاحق ہوگا ، اور ہمارے شرفاء قتل ہوں گے اور ہم پھر اس کی حمایت سے دست بردار ہوجائیں گے تو ابھی سے اسے چھوڑ دو ، اگر بعد میں تم اسے چھوڑو گے تو دنیا وآخرت میں تباہ ہوجاﺅ گے اور اگر تم اس بات پر تل گئے ہو کہ مال لٹانا اور اثراف کا قتل ہونا ہمیں منظور ہے تو بیعت کرلو۔ خدا کی قسم ! یہ دنیا وآخرت سے بہتر ہیں “ تو بیعت کرنے والوں نے کہا کہ ” ہم مال لٹانے اور اثراف کے قتل پر بھی اسے ہی قبول کرتے ہیں “۔ اس پر اس شخص نے کہا : ” رسول خدا اس پر ہمیں کیا اجر ملے گا۔ اگر ہم نے یہ عہد پورا کردیا “ تو آپ نے فرمایا :” جنت “ تو انہوں نے کہا : ” لائیے ہاتھ “ آپ نے بھی ہاتھ بڑھایا اور لوگوں کی بیعت کی۔
غرض بیت عقبہ کرنے والوں نے بھی اس دین کے مزاج کو سمجھ لیا تھا اور کبرائے قریش نے بھی سمجھ لیا تھا کہ یہ دین تلوار کی دھار کی طرح عدل و انصاف کے اصولوں پر سیدھاقائم ہے۔ یہ زیادتی اور سرکشی کسی طرح بھی برداشت نہیں کرتا۔ نہ حد سے تجاوز اور بغاوت کو برداشت کرتا ہے اور نہ کبروغرور کو اور نہ یہ دین کے نام پر ظلم ، زیادتی اور دھوکہ بازی اور استحصال کو برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا ہر وہ شخص جو سرکش ہو ، باغی ہو ، متکبر ہو ، استحصالی ہو ، وہ اس دین ، اس کی دعوت اور اس کے داعیون کا دشمن ہوتا ہے۔
المطففين 83:4
الا یظن ............................ العلمین (4:83 تا 6) ” کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ؟ اس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “۔ ان لوگوں کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ صرف یہ یقین کہ ہم نے ایک دن رب العالمین کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس دن رب العالمین کے سوا اور کوئی مختار نہ ہوگا ، اس کے سوا کوئی آقا نہ ہوگا۔ اور اس دن صرف اللہ کے فیصلے کا انتظار ہوگا۔ اور اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہ ہوگا۔ غرض صرف یہ ایک عقیدہ ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ وہ ڈنڈی مارنے کی اس گھناﺅنی حرکت سے باز آجاتے اور لوگوں کے مال باطل طریقے سے نہ کھاتے اور اپنے اقتدار کو بذریعہ ظلم نہ بناتے اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکے نہ ڈالتے۔ لیکن وہ ڈنڈی مارنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، گویا کہ ان کو یقین ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور یہ ایک عجیب طرز عمل ہے۔
اس سورت کے پہلے پیراگراف میں ان لوگوں کو مطففین کہا گیا یعنی ڈنڈی مارنے والے جبکہ دوسرے پیرے میں ان کو فجار کہا گیا ہے یعنی بدکار۔ یہاں ان کو بدکاروں کی صف میں شامل کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے شب وروز کیا ہیں ، اللہ کے نزدیک ان کا مقام کیا ہے ؟ اس زندگی میں یہ کیسے ہیں اور آخرت میں وہ کیسے ہوں گے اور کس قسم کے حالات ان کے انتظار میں ہیں۔
المطففين 83:5
الا یظن ............................ العلمین (4:83 تا 6) ” کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ؟ اس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “۔ ان لوگوں کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ صرف یہ یقین کہ ہم نے ایک دن رب العالمین کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس دن رب العالمین کے سوا اور کوئی مختار نہ ہوگا ، اس کے سوا کوئی آقا نہ ہوگا۔ اور اس دن صرف اللہ کے فیصلے کا انتظار ہوگا۔ اور اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہ ہوگا۔ غرض صرف یہ ایک عقیدہ ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ وہ ڈنڈی مارنے کی اس گھناﺅنی حرکت سے باز آجاتے اور لوگوں کے مال باطل طریقے سے نہ کھاتے اور اپنے اقتدار کو بذریعہ ظلم نہ بناتے اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکے نہ ڈالتے۔ لیکن وہ ڈنڈی مارنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، گویا کہ ان کو یقین ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور یہ ایک عجیب طرز عمل ہے۔
اس سورت کے پہلے پیراگراف میں ان لوگوں کو مطففین کہا گیا یعنی ڈنڈی مارنے والے جبکہ دوسرے پیرے میں ان کو فجار کہا گیا ہے یعنی بدکار۔ یہاں ان کو بدکاروں کی صف میں شامل کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے شب وروز کیا ہیں ، اللہ کے نزدیک ان کا مقام کیا ہے ؟ اس زندگی میں یہ کیسے ہیں اور آخرت میں وہ کیسے ہوں گے اور کس قسم کے حالات ان کے انتظار میں ہیں۔
المطففين 83:6
الا یظن ............................ العلمین (4:83 تا 6) ” کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ؟ اس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “۔ ان لوگوں کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ صرف یہ یقین کہ ہم نے ایک دن رب العالمین کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس دن رب العالمین کے سوا اور کوئی مختار نہ ہوگا ، اس کے سوا کوئی آقا نہ ہوگا۔ اور اس دن صرف اللہ کے فیصلے کا انتظار ہوگا۔ اور اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہ ہوگا۔ غرض صرف یہ ایک عقیدہ ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ وہ ڈنڈی مارنے کی اس گھناﺅنی حرکت سے باز آجاتے اور لوگوں کے مال باطل طریقے سے نہ کھاتے اور اپنے اقتدار کو بذریعہ ظلم نہ بناتے اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکے نہ ڈالتے۔ لیکن وہ ڈنڈی مارنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، گویا کہ ان کو یقین ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور یہ ایک عجیب طرز عمل ہے۔
اس سورت کے پہلے پیراگراف میں ان لوگوں کو مطففین کہا گیا یعنی ڈنڈی مارنے والے جبکہ دوسرے پیرے میں ان کو فجار کہا گیا ہے یعنی بدکار۔ یہاں ان کو بدکاروں کی صف میں شامل کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے شب وروز کیا ہیں ، اللہ کے نزدیک ان کا مقام کیا ہے ؟ اس زندگی میں یہ کیسے ہیں اور آخرت میں وہ کیسے ہوں گے اور کس قسم کے حالات ان کے انتظار میں ہیں۔
المطففين 83:7
ان لوگوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ یہ لوگ قیامت کے یوم عظیم میں اٹھائے جائیں گے۔ اسی لئے قرآن کریم نہایت سرزنش اور زجروتوبیخ کے انداز میں اس سے روکتا ہے اور نہایت تاکید کے ساتھ بتاتا ہے کہ ایک کتاب میں ان کے تمام اعمال ثبت کئے جارہے ہیں۔ اور اس بات کو زیادہ تاکیدی بنانے کے لئے یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کتاب کہاں رکھی ہوئی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جب ان فساق وفجار کے سامنے ، اس عظیم دن میں ان کی کتاب پیش کی جائے گی تو ان پر بڑی بربادی واقع ہوگی۔
کلا ان .................................... للمکذبین (7:83 تا 10) ” ہرگز نہیں ، یقینا بدکاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ قید خانے کا دفتر ؟ وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔ فجار ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اثم ومعصیت میں حدوں سے گزر جائیں ، خود لفظ فجار کی صوتی لہروں میں یہ مفہوم پوشیدہ ہے۔ ان کی کتاب سے مراد ان کا اعمال نامہ ہے۔ اس کی ماہیت اور کیفیت کا علم انسانوں کو نہیں ہے۔ یہ غیبی امور میں سے ہے اور اس کے بارے میں ہم صرف اتنی بات کرسکتے ہیں جو مخبر صادق نے ہمیں اطلاع دی ہو ۔ قرآن نے یہ کہا ہے کہ بدکاروں کے اعمال کا ایک دفتر ہے اور یہ سجین میں ہے۔ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ کسی بات کو خوفناک بنانے کے لئے ایک سوال کردیتا ہے۔
وما ادرک ما سجین (8:83) ” تمہیں کیا معلوم کہ سجین کیا ہے ؟ “ مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ یہ معاملہ تمہارے حد ادراک سے آگے اور دور ہے اور بہت عظیم ہے اور تمہارے دائرہ ادراک سے بڑا ہے۔ لیکن قرآن بہرحال اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ
ان کتب .................... سجین (7:83) ” فجار کا اعمال نامہ سجین میں ہے “۔ جو ایک متعین جگہ ہے۔ اگرچہ انسان کو معلوم نہیں ہے۔ اس طرح قارئین کو ایک یقینی اطلاح دی جارہی ہے کہ یہ اعمال نامہ تیار اور موجود ہے اور یہی یہاں مقصود ہے۔
کتب مرقوم (9:83) ” وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی “۔ اعمال نامہ کی تفصیلات کہ فجار کا یہ اعمال نامہ تیار شدہ ہے۔ اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ بس اس عظیم دن میں اسے کھولا جائے گا۔ اس لئے خیال کرو۔
المطففين 83:8
ان لوگوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ یہ لوگ قیامت کے یوم عظیم میں اٹھائے جائیں گے۔ اسی لئے قرآن کریم نہایت سرزنش اور زجروتوبیخ کے انداز میں اس سے روکتا ہے اور نہایت تاکید کے ساتھ بتاتا ہے کہ ایک کتاب میں ان کے تمام اعمال ثبت کئے جارہے ہیں۔ اور اس بات کو زیادہ تاکیدی بنانے کے لئے یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کتاب کہاں رکھی ہوئی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جب ان فساق وفجار کے سامنے ، اس عظیم دن میں ان کی کتاب پیش کی جائے گی تو ان پر بڑی بربادی واقع ہوگی۔
کلا ان .................................... للمکذبین (7:83 تا 10) ” ہرگز نہیں ، یقینا بدکاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ قید خانے کا دفتر ؟ وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔ فجار ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اثم ومعصیت میں حدوں سے گزر جائیں ، خود لفظ فجار کی صوتی لہروں میں یہ مفہوم پوشیدہ ہے۔ ان کی کتاب سے مراد ان کا اعمال نامہ ہے۔ اس کی ماہیت اور کیفیت کا علم انسانوں کو نہیں ہے۔ یہ غیبی امور میں سے ہے اور اس کے بارے میں ہم صرف اتنی بات کرسکتے ہیں جو مخبر صادق نے ہمیں اطلاع دی ہو ۔ قرآن نے یہ کہا ہے کہ بدکاروں کے اعمال کا ایک دفتر ہے اور یہ سجین میں ہے۔ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ کسی بات کو خوفناک بنانے کے لئے ایک سوال کردیتا ہے۔
وما ادرک ما سجین (8:83) ” تمہیں کیا معلوم کہ سجین کیا ہے ؟ “ مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ یہ معاملہ تمہارے حد ادراک سے آگے اور دور ہے اور بہت عظیم ہے اور تمہارے دائرہ ادراک سے بڑا ہے۔ لیکن قرآن بہرحال اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ
ان کتب .................... سجین (7:83) ” فجار کا اعمال نامہ سجین میں ہے “۔ جو ایک متعین جگہ ہے۔ اگرچہ انسان کو معلوم نہیں ہے۔ اس طرح قارئین کو ایک یقینی اطلاح دی جارہی ہے کہ یہ اعمال نامہ تیار اور موجود ہے اور یہی یہاں مقصود ہے۔
کتب مرقوم (9:83) ” وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی “۔ اعمال نامہ کی تفصیلات کہ فجار کا یہ اعمال نامہ تیار شدہ ہے۔ اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ بس اس عظیم دن میں اسے کھولا جائے گا۔ اس لئے خیال کرو۔
المطففين 83:9
ان لوگوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ یہ لوگ قیامت کے یوم عظیم میں اٹھائے جائیں گے۔ اسی لئے قرآن کریم نہایت سرزنش اور زجروتوبیخ کے انداز میں اس سے روکتا ہے اور نہایت تاکید کے ساتھ بتاتا ہے کہ ایک کتاب میں ان کے تمام اعمال ثبت کئے جارہے ہیں۔ اور اس بات کو زیادہ تاکیدی بنانے کے لئے یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کتاب کہاں رکھی ہوئی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جب ان فساق وفجار کے سامنے ، اس عظیم دن میں ان کی کتاب پیش کی جائے گی تو ان پر بڑی بربادی واقع ہوگی۔
کلا ان .................................... للمکذبین (7:83 تا 10) ” ہرگز نہیں ، یقینا بدکاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ قید خانے کا دفتر ؟ وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔ فجار ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اثم ومعصیت میں حدوں سے گزر جائیں ، خود لفظ فجار کی صوتی لہروں میں یہ مفہوم پوشیدہ ہے۔ ان کی کتاب سے مراد ان کا اعمال نامہ ہے۔ اس کی ماہیت اور کیفیت کا علم انسانوں کو نہیں ہے۔ یہ غیبی امور میں سے ہے اور اس کے بارے میں ہم صرف اتنی بات کرسکتے ہیں جو مخبر صادق نے ہمیں اطلاع دی ہو ۔ قرآن نے یہ کہا ہے کہ بدکاروں کے اعمال کا ایک دفتر ہے اور یہ سجین میں ہے۔ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ کسی بات کو خوفناک بنانے کے لئے ایک سوال کردیتا ہے۔
وما ادرک ما سجین (8:83) ” تمہیں کیا معلوم کہ سجین کیا ہے ؟ “ مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ یہ معاملہ تمہارے حد ادراک سے آگے اور دور ہے اور بہت عظیم ہے اور تمہارے دائرہ ادراک سے بڑا ہے۔ لیکن قرآن بہرحال اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ
ان کتب .................... سجین (7:83) ” فجار کا اعمال نامہ سجین میں ہے “۔ جو ایک متعین جگہ ہے۔ اگرچہ انسان کو معلوم نہیں ہے۔ اس طرح قارئین کو ایک یقینی اطلاح دی جارہی ہے کہ یہ اعمال نامہ تیار اور موجود ہے اور یہی یہاں مقصود ہے۔
کتب مرقوم (9:83) ” وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی “۔ اعمال نامہ کی تفصیلات کہ فجار کا یہ اعمال نامہ تیار شدہ ہے۔ اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ بس اس عظیم دن میں اسے کھولا جائے گا۔ اس لئے خیال کرو۔
المطففين 83:10
ویل یومئذ للمکذبین (10:83) ” اس دن مکذبین کے لئے بربادی ہے “۔ اور مکذبین کی تعریف بھی کردی جاتی ہے۔
المطففين 83:11
الذین ........................ الاولین (11:83 تا 13) ” اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے ، ” یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں “۔ یہ الزام وہ اس لئے دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں امم سابقہ کے قصے اور حالات برائے عبرت لائے گئے ہیں۔ اور ان کے ذریعہ اس کائنات میں چلنے والی سنت الٰہیہ کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ سنت ایک اٹل قانون کی طرح لوگوں کو گرفت میں لیتی ہے۔
اس دست درازی اور تکذیب کے بعد اب ایک سرزنش اور تنبیہہ آتی ہے اور یہ کلا سے شروع ہوتی ہے اور اس میں ان کی اس روش کی اصلی علت اور سبب بتایا جاتا ہے کہ وہ کیوں ظلم کرتے ہیں اور حق کو کو یں جھٹلاتے ہیں ؟ یہ کہ وہ غافل ہوگئے ہیں اور ان کے دل مسخ ہوکر زنگ آلود ہوگئے ہیں۔
المطففين 83:12
الذین ........................ الاولین (11:83 تا 13) ” اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے ، ” یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں “۔ یہ الزام وہ اس لئے دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں امم سابقہ کے قصے اور حالات برائے عبرت لائے گئے ہیں۔ اور ان کے ذریعہ اس کائنات میں چلنے والی سنت الٰہیہ کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ سنت ایک اٹل قانون کی طرح لوگوں کو گرفت میں لیتی ہے۔
اس دست درازی اور تکذیب کے بعد اب ایک سرزنش اور تنبیہہ آتی ہے اور یہ کلا سے شروع ہوتی ہے اور اس میں ان کی اس روش کی اصلی علت اور سبب بتایا جاتا ہے کہ وہ کیوں ظلم کرتے ہیں اور حق کو کو یں جھٹلاتے ہیں ؟ یہ کہ وہ غافل ہوگئے ہیں اور ان کے دل مسخ ہوکر زنگ آلود ہوگئے ہیں۔
المطففين 83:13
الذین ........................ الاولین (11:83 تا 13) ” اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے ، ” یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں “۔ یہ الزام وہ اس لئے دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں امم سابقہ کے قصے اور حالات برائے عبرت لائے گئے ہیں۔ اور ان کے ذریعہ اس کائنات میں چلنے والی سنت الٰہیہ کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ سنت ایک اٹل قانون کی طرح لوگوں کو گرفت میں لیتی ہے۔
اس دست درازی اور تکذیب کے بعد اب ایک سرزنش اور تنبیہہ آتی ہے اور یہ کلا سے شروع ہوتی ہے اور اس میں ان کی اس روش کی اصلی علت اور سبب بتایا جاتا ہے کہ وہ کیوں ظلم کرتے ہیں اور حق کو کو یں جھٹلاتے ہیں ؟ یہ کہ وہ غافل ہوگئے ہیں اور ان کے دل مسخ ہوکر زنگ آلود ہوگئے ہیں۔
المطففين 83:14
کلا بل ........................ یکسبون (14:83) ” ہرگز نہیں ، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے “۔ یعنی وہ جن گناہوں اور نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے ہیں انہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا ہے۔ اور جب کوئی شخص معصیت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا دل زنگ پکڑ کر سیاہ ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح اس پر ایک دبیز پردہ پڑجاتا ہے اور یہ دل نور سے چھپ جاتا ہے اور اس کا احساس دھیرے دھیرے ختم ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ احساس ہی ختم ہوجاتا ہے۔
امام ترمذی اور نسائی نے محمد ابن عملان سے انہوں نے قنقاع سے انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس سے اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے۔ اب اگر وہ توبہ کرے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ پھر گناہ کرے تو یہ سیاہی بڑھ جاتی ہے “۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ اور امام نسائی کے الفاظ یہ ہیں : ” جب انسان کسی غلطی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے۔ اگر اس نے برائی سے ہاتھ کھینچ لیا ، استغفار کیا اور توبہ کرلیا تو اس کا دل صیقل ہوجاتا ہے۔ اگر اس نے دوبارہ اس برائی کا ارتکاب کیا تو اس نقطے میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ سیاہی اسکے پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ یہ ہے وہ زنگ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
کلا بل ........................ یکسبون (14:83) ؟ ؟ ہرگز نہیں ، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں ” یہ گناہ پر گناہ ہے ، یہاں تک کہ دل اندھا ہوجاتا ہے اور پھر مرجاتا ہے “۔
یہ ہے تکذیب کرنے والوں کا حال اور یہ ہے ان کی تکذیب اور ان کے فسق وفجور کی علت۔ اب اس عظیم دن میں ان کے ہونے والے انجام کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ان کا اس عظیم دن میں جو انجام ہورہا ہے وہ ان کے فسق وفجور اور ان کی تکذیب کے حسب حال ہے۔
المطففين 83:15
کلا انھم ................................ تکذبون (15:83 تا 17) ” ہرگز نہیں ، بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے ، پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔
فسق وفجور اور گناہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ دنیا میں ان کے دل رب تعالیٰ کے احساس سے دور ہوگئے تھے اور گناہوں نے ان کی زندگی کو بےنور اور تاریک کردیا تھا ، وہ زندگی میں ایسی روش رکھتے تھے جس طرح اندھے ہوں۔ اب آخرت میں ان کا انجام بھی طبعی ہے اور ان کے حسب حال ہے۔ آخرت میں وہ دیدار رب کی عظیم نعمت سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ یہ ایک عظیم محرومی ہوگی۔ قیامت میں یہ نعمت صرف اس شخص کو نصیب ہوگی جس کی روح صاف اور شفاف ہوچکی ہو اور اس کی اس صفائی کی وجہ سے اس کے اور رب کے درمیان سب پردے دور ہوجائیں گے۔ سورة قیامت میں انہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔
وجوہ یومئذ ........................ ناظرہ ” کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ قیامت میں رب تعالیٰ سے حجاب ان کے لئے عذاب قیامت سے بھی بڑا عذاب ہوگا۔ تمام محرومیوں سے یہ بڑی محرومی ہوگی اور یہ کسی انسان کی انسانیت کا بدترین انجام ہوگا کہ اس کی انسانیت رب کریم کے ساتھ جاملنے اور اس تک پہنچ جانے سے محروم رہے۔ کیونکہ جب کوئی رب کریم تک پہنچنے سے محروم ہوجائے تو وہ اپنے انسانی خصائص کھو بیٹھتا ہے۔ اور اس حد تک گر جاتا ہے کہ وہ اب جہنم کے لائق اور مستحق ہوجاتا ہے۔
ثم انھم .................... الجحیم (16:83) ” پھر یہ جہنم میں پڑجائیں گے “۔ لیکن اس جہنم رسیدگی کے ساتھ ساتھ وہاں ان کی سرزنش بھی ہوگی اور یہ اس عذاب سے بھی زیادہ کڑوی ہوگی۔
ثم یقال .................... تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔
اب اس کے بعد صفحہ بالمقابل پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کا یہ مستقل انداز بیان ہے کہ وہ بالعموم اچھائی اور برائی دونوں کی تصویر کے دونوں رخ پیش کرتا ہے تاکہ حسن وقبح کے تقابل سے لوگ بات کو اچھی طرح سمجھیں اور حقیقت ان کے ذہن نشین ہوجائے اور اچھوں اور بروں دونوں کا انجام بھی سامنے آجائے۔
المطففين 83:16
کلا انھم ................................ تکذبون (15:83 تا 17) ” ہرگز نہیں ، بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے ، پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔
فسق وفجور اور گناہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ دنیا میں ان کے دل رب تعالیٰ کے احساس سے دور ہوگئے تھے اور گناہوں نے ان کی زندگی کو بےنور اور تاریک کردیا تھا ، وہ زندگی میں ایسی روش رکھتے تھے جس طرح اندھے ہوں۔ اب آخرت میں ان کا انجام بھی طبعی ہے اور ان کے حسب حال ہے۔ آخرت میں وہ دیدار رب کی عظیم نعمت سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ یہ ایک عظیم محرومی ہوگی۔ قیامت میں یہ نعمت صرف اس شخص کو نصیب ہوگی جس کی روح صاف اور شفاف ہوچکی ہو اور اس کی اس صفائی کی وجہ سے اس کے اور رب کے درمیان سب پردے دور ہوجائیں گے۔ سورة قیامت میں انہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔
وجوہ یومئذ ........................ ناظرہ ” کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ قیامت میں رب تعالیٰ سے حجاب ان کے لئے عذاب قیامت سے بھی بڑا عذاب ہوگا۔ تمام محرومیوں سے یہ بڑی محرومی ہوگی اور یہ کسی انسان کی انسانیت کا بدترین انجام ہوگا کہ اس کی انسانیت رب کریم کے ساتھ جاملنے اور اس تک پہنچ جانے سے محروم رہے۔ کیونکہ جب کوئی رب کریم تک پہنچنے سے محروم ہوجائے تو وہ اپنے انسانی خصائص کھو بیٹھتا ہے۔ اور اس حد تک گر جاتا ہے کہ وہ اب جہنم کے لائق اور مستحق ہوجاتا ہے۔
ثم انھم .................... الجحیم (16:83) ” پھر یہ جہنم میں پڑجائیں گے “۔ لیکن اس جہنم رسیدگی کے ساتھ ساتھ وہاں ان کی سرزنش بھی ہوگی اور یہ اس عذاب سے بھی زیادہ کڑوی ہوگی۔
ثم یقال .................... تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔
اب اس کے بعد صفحہ بالمقابل پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کا یہ مستقل انداز بیان ہے کہ وہ بالعموم اچھائی اور برائی دونوں کی تصویر کے دونوں رخ پیش کرتا ہے تاکہ حسن وقبح کے تقابل سے لوگ بات کو اچھی طرح سمجھیں اور حقیقت ان کے ذہن نشین ہوجائے اور اچھوں اور بروں دونوں کا انجام بھی سامنے آجائے۔
المطففين 83:17
کلا انھم ................................ تکذبون (15:83 تا 17) ” ہرگز نہیں ، بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے ، پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔
فسق وفجور اور گناہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ دنیا میں ان کے دل رب تعالیٰ کے احساس سے دور ہوگئے تھے اور گناہوں نے ان کی زندگی کو بےنور اور تاریک کردیا تھا ، وہ زندگی میں ایسی روش رکھتے تھے جس طرح اندھے ہوں۔ اب آخرت میں ان کا انجام بھی طبعی ہے اور ان کے حسب حال ہے۔ آخرت میں وہ دیدار رب کی عظیم نعمت سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ یہ ایک عظیم محرومی ہوگی۔ قیامت میں یہ نعمت صرف اس شخص کو نصیب ہوگی جس کی روح صاف اور شفاف ہوچکی ہو اور اس کی اس صفائی کی وجہ سے اس کے اور رب کے درمیان سب پردے دور ہوجائیں گے۔ سورة قیامت میں انہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔
وجوہ یومئذ ........................ ناظرہ ” کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ قیامت میں رب تعالیٰ سے حجاب ان کے لئے عذاب قیامت سے بھی بڑا عذاب ہوگا۔ تمام محرومیوں سے یہ بڑی محرومی ہوگی اور یہ کسی انسان کی انسانیت کا بدترین انجام ہوگا کہ اس کی انسانیت رب کریم کے ساتھ جاملنے اور اس تک پہنچ جانے سے محروم رہے۔ کیونکہ جب کوئی رب کریم تک پہنچنے سے محروم ہوجائے تو وہ اپنے انسانی خصائص کھو بیٹھتا ہے۔ اور اس حد تک گر جاتا ہے کہ وہ اب جہنم کے لائق اور مستحق ہوجاتا ہے۔
ثم انھم .................... الجحیم (16:83) ” پھر یہ جہنم میں پڑجائیں گے “۔ لیکن اس جہنم رسیدگی کے ساتھ ساتھ وہاں ان کی سرزنش بھی ہوگی اور یہ اس عذاب سے بھی زیادہ کڑوی ہوگی۔
ثم یقال .................... تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔
اب اس کے بعد صفحہ بالمقابل پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کا یہ مستقل انداز بیان ہے کہ وہ بالعموم اچھائی اور برائی دونوں کی تصویر کے دونوں رخ پیش کرتا ہے تاکہ حسن وقبح کے تقابل سے لوگ بات کو اچھی طرح سمجھیں اور حقیقت ان کے ذہن نشین ہوجائے اور اچھوں اور بروں دونوں کا انجام بھی سامنے آجائے۔
المطففين 83:18
اس پیراگراف کے آغاز میں لفظ کلا ” ہرگز نہیں “۔ زجروتوبیخ اور سرزنش کے لئے آیا ہے اور یہ زجر اس سے ماقبلی مذکور ہے۔
ثم یقال ........................ تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے “۔ اس پر بطور نتیجہ کہا ، ہرگز نہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بعد نیک لوگوں کا بیان شروع ہوتا ہے اور یہ مثبت اور تاکیدی انداز میں آتا ہے۔
جس طرح پہلے کہا گیا تھا کہ بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے تو یہاں کہا جارہا ہے کہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہے۔ اور ابرار ” نیکوکار “ وہ لوگ ہیں جو اطاعت کیش اور ہر نیک کام کرنے والے ہیں۔ یہ نافرمانوں اور حد سے گزرنے والوں کے بالمقابل یہاں لائے گئے ہیں۔
لفظ علیین سے علو اور بلندی کا مفہوم ذہن میں آتا ہے ، اور اس سے ہم یہ بات اخذ کرسکتے ہیں کہ سجین کے اندر انحطاط ، پستی اور گراﺅٹ کا مفہوم ہوگا۔ اور اس کے بعد سوال ایک خوفناک سوال آتا ہے جو بتاتا ہے کہ مخاطب کو معلوم نہیں ہے کہ علییون ہے کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ تم ان بلندیوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ مقام تمہارے حد ادراک سے ماوراء ہے۔
اس اشاراتی فضا سے نکل کر اب روئے سخن نیکوکاروں کے اعمال نامے کی طرف مڑ جاتا ہے تو وہ کیا ہے۔
المطففين 83:19
اس پیراگراف کے آغاز میں لفظ کلا ” ہرگز نہیں “۔ زجروتوبیخ اور سرزنش کے لئے آیا ہے اور یہ زجر اس سے ماقبلی مذکور ہے۔
ثم یقال ........................ تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے “۔ اس پر بطور نتیجہ کہا ، ہرگز نہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بعد نیک لوگوں کا بیان شروع ہوتا ہے اور یہ مثبت اور تاکیدی انداز میں آتا ہے۔
جس طرح پہلے کہا گیا تھا کہ بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے تو یہاں کہا جارہا ہے کہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہے۔ اور ابرار ” نیکوکار “ وہ لوگ ہیں جو اطاعت کیش اور ہر نیک کام کرنے والے ہیں۔ یہ نافرمانوں اور حد سے گزرنے والوں کے بالمقابل یہاں لائے گئے ہیں۔
لفظ علیین سے علو اور بلندی کا مفہوم ذہن میں آتا ہے ، اور اس سے ہم یہ بات اخذ کرسکتے ہیں کہ سجین کے اندر انحطاط ، پستی اور گراﺅٹ کا مفہوم ہوگا۔ اور اس کے بعد سوال ایک خوفناک سوال آتا ہے جو بتاتا ہے کہ مخاطب کو معلوم نہیں ہے کہ علییون ہے کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ تم ان بلندیوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ مقام تمہارے حد ادراک سے ماوراء ہے۔
اس اشاراتی فضا سے نکل کر اب روئے سخن نیکوکاروں کے اعمال نامے کی طرف مڑ جاتا ہے تو وہ کیا ہے۔
المطففين 83:20
کتب ............................ المقربون (21:80) ” ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں “۔ لکھی ہوئی (مرقوم) کے معنی ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ یہاں اس قدر اضافہ ہے کہ مقرب فرشتے اس کتاب کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ کتاب نہایت پاکیزہ ، نہایت قابل قدر ، نہایت بلند مرتبہ کتاب ہے جس پر اللہ کے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں اور اس کتاب میں چونکہ نہایت اعلیٰ اخلاق اور اعمال کا ذکر ہے۔ اس لئے یہ ان مقرب فرشتوں کے لئے متاع حیات ہے اور وہ ایسا لکھیں گے اس کتاب کی اس فضا کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ قابل قدر کتاب ہے۔
اس قابل قدر کتاب کے ذکر کے بعد اب خود ابرار کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس اچھے اعمال نامے کے مالک ہیں اور ان انعامات واکرامات کا ذکر کیا جاتا ہے جن میں وہ رہ رہے ہوں گے۔
المطففين 83:21
کتب ............................ المقربون (21:80) ” ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں “۔ لکھی ہوئی (مرقوم) کے معنی ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ یہاں اس قدر اضافہ ہے کہ مقرب فرشتے اس کتاب کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ کتاب نہایت پاکیزہ ، نہایت قابل قدر ، نہایت بلند مرتبہ کتاب ہے جس پر اللہ کے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں اور اس کتاب میں چونکہ نہایت اعلیٰ اخلاق اور اعمال کا ذکر ہے۔ اس لئے یہ ان مقرب فرشتوں کے لئے متاع حیات ہے اور وہ ایسا لکھیں گے اس کتاب کی اس فضا کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ قابل قدر کتاب ہے۔
اس قابل قدر کتاب کے ذکر کے بعد اب خود ابرار کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس اچھے اعمال نامے کے مالک ہیں اور ان انعامات واکرامات کا ذکر کیا جاتا ہے جن میں وہ رہ رہے ہوں گے۔
المطففين 83:22
ان الابرار ................ نعیم (22:83) ” بیشک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے “۔ یہ نعیم حجیم کے مقابلے میں ہے۔
المطففين 83:23
علی .................... ینظرون (23:83) ” اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کررہے ہوں گے “۔ یعنی نہایت ہی مکرم مقام پر ہوں گے۔ اور اس مقام پر یہ جہاں چاہیں گے ، سیر کرتے پھریں گے۔ ذلت و خواری کی وجہ سے ان کی نظریں سہمی ہوئی نہ ہوں گی۔ اور نہ تھک تھکا کر وہ آنکھیں بند کرلیں گے۔ یہ لوگ تختوں پر اور مسندوں پر بیٹھے ہوں گے اور نظارے کررہے ہوں گے جس طرح حجلہ عروسی پہ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔ عربوں کے نزدیک عیش و عشرت اور نعمت اور آرام کا یہ ارفع مقام ہوا کرتا تھا کہ کوئی حجلہ عروسی میں ہو ، اور اونچی اوانچی مسندوں پر آرام سے بیٹھا ہو کیونکہ بالعموم ایک عربی کی زندگی سخت مشقت کی زندگی ہوتی ہے۔ یہ تو دنیاوی زندگی کی ایک تمثیل ہے۔ آخرت میں جو صورت ہوگی وہ ناقابل تصور حد تک ارفع وبلند ہوگی۔ اور ان کے بلند سے بلند تصور سے بھی اعلیٰ وارفع ہوگی۔ اور زمین اور اس دنیا کے اونچے سے اونچے تصور اور تجربے سے بھی اونچی ہوگی۔
ان نعمتوں میں وہ جسمانی طور پر بھی نرم ونازک ہوں گے۔ اور ان کی اسی نزاکت اور نرمی اور خوشی اور خوشحالی کے اثرات ان کے چہرے سے ظاہر ہوں گے۔ اور ہر آدمی اس کا مشاہدہ کررہا ہوگا۔
المطففين 83:24
تعرف .................... النعیم (24:83) ” ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کروں گے “۔
المطففين 83:25
یسقون .................... مسک (25:83) ” ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہریں لگی ہوں گی “۔ رحیق ، خالص اور صاف شراب کو کہتے ہیں ، جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہوگی اور نہ کوئی کدورت ہوگی۔ شراب کی یہ صفت کہ وہ سر بند ہوگی اور اس کی مہر مشک سے بنی ہوئی ہوگی۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ وہ برتنوں میں ہوگی اور یہ برتن سربند اور مہرزدہ ہوں گے اور پینے کے وقت ان کو کھولا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت اہتمام اور صفائی سے اسے تیار کیا جائے گا اور مشک سے مہر کرنا ، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ صاف اور خوش ذائقہ ہوگی۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو ان اصطلاحات میں بتائے گئے ہیں جن کے ساتھ انسان اس دنیا میں مانوس ہے ، لیکن جب اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا ذوق اس دنیا کے ذوق سے آزاد ہوگا کیونکہ دنیا کا ذوق نہایت محدود ہے۔
المطففين 83:26
یسقون .................... مسک (25:83) ” ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہریں لگی ہوں گی “۔ رحیق ، خالص اور صاف شراب کو کہتے ہیں ، جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہوگی اور نہ کوئی کدورت ہوگی۔ شراب کی یہ صفت کہ وہ سر بند ہوگی اور اس کی مہر مشک سے بنی ہوئی ہوگی۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ وہ برتنوں میں ہوگی اور یہ برتن سربند اور مہرزدہ ہوں گے اور پینے کے وقت ان کو کھولا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت اہتمام اور صفائی سے اسے تیار کیا جائے گا اور مشک سے مہر کرنا ، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ صاف اور خوش ذائقہ ہوگی۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو ان اصطلاحات میں بتائے گئے ہیں جن کے ساتھ انسان اس دنیا میں مانوس ہے ، لیکن جب اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا ذوق اس دنیا کے ذوق سے آزاد ہوگا کیونکہ دنیا کا ذوق نہایت محدود ہے۔
المطففين 83:27
شراب کے وصف کا اختتام جو ان دو آیات میں ہوتا ہے۔
ومزاجہ .................... المقربون (28:83) ” اسی شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی ، یہ چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے “۔ اس اختتام سے پہلے ہی ، درمیان میں ایک اہم ہدایت دے دی جاتی ہے اور یہ ہدایت ہے۔
وفی ذلک .................... المتنافسون (26:83) ” جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں “۔ یہ ایک گہرا اشارہ ہے اور اس کے اندر ایک جہان معانی پوشیدہ ہے۔
یہ ڈنڈی مارنے والے ، جو لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے ہیں ، اور آخرت کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔ قیامت کے حساب و کتاب کی تکذیب کرتے ہیں ، اور ان کی بدکاری اور معصیت اور ظلم کی وجہ سے ان کے دلوں پر سیاہی چھاگئی ہے۔ یہ لوگ تو اس دنیا کے مال ومتاع میں ایک دوسرے کے ساتھ تنافس کرتے ہیں ، ان میں ہر شخص اس دنیا کے مال ومتاع میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے ، اور دنیا کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنا چاہتے ہے۔ اس لئے ظلم کرتا ہے اور فسق وفجور میں مبتلا ہے۔ اور اس زوال پذیر سازوسامان کے لئے مرمٹ رہا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کا مال ومنال اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کے بارے میں کوئی مقابلہ ہو ، مقابلہ اور بازی لے جانا اگر کوئی چاہتا بھی ہے تو چاہئے کہ وہ قیامت اور آخرت کے سازو سامان کے لئے کرے۔
وفی ذلک ........................ المتنافسون (26:83) ” جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس اخروی چیز کو حاصل کرنے کے لئے بازی لے جائیں “۔ کیونکہ یہی تو مطلوب مومن ہے۔ یہی وہ نصب العین ہے جس کی طرف وہ دوڑیں اور یہی وہ ٹارگٹ ہے جس کی طرف وہ سب سے آگے بڑھیں۔
دنیا کا سازو سامان ، جاہ مرتبہ جس قدر عظیم کیوں نہ ہو ، اعلیٰ وارفع کیوں نہ ہو۔ آخرت کے سازوسامان کے مقابلے میں حقیر اور بےقیمت ہے۔ یہ پوری دنیا اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی قیمت نہیں رکھتی۔ آخرت اللہ کے پیمانوں میں بھاری ہے۔ لہٰذا آخرت ہی ایک ایسی قیمت حقیقت ہے جس کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے بازی لے جانا مناسب ہے نہ کہ دنیا۔
یہ عجیب بات ہے کہ آخرت کے لئے مقابلہ کرنے والوں کی روحیں بہت بلند ہوجاتی ہیں جبکہ دنیا کے لئے مقابلہ کرنے والے باہم حسد ودشمنی کی وجہ سے گر جاتے ہیں۔ ان کی روح گر جاتی ہے اور جو لوگ آخرت کے لئے سعی اور مقابلہ کرتے ہیں اس کی وجہ سے یہ پوری دنیا بھی خیروبرکت سے معمور ہوجاتی ہے اور یہ سب کے لئے پاکیزہ جائے رہائش بن جاتی ہے۔ جبکہ مقابلہ اگر دنیاوی مقاصد کے لئے ہو تو بغض وعداوت پیدا ہوجاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو اس طرح نوچ کھاتے ہیں جس طرح حشرات الارض ایک دوسرے کو کھاتے ہیں اور نیک لوگوں کی زندگی تو اس ماحول میں سخت دشوار ہوتی ہے۔ ہر طرف سے ان کی ٹانگ کھینچی جاتی ہے اور ہر طرف سے ان کو نوچا جاتا ہے۔
یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ اگر ہم آخرت ہی کے لئے باہم مقابلہ اور مسابقت کریں تو یہ دنیا خراب اور برباد ہوجائے گی ، جیسا کہ بعض دنیا پرستوں کا خیال ہے۔ اسلام کا تصور یہ ہے کہ دنیا آخرت کے لئے ایک کھیت ہے۔ یہاں فصل کی بوائی ہوگی اور آخرت میں فصل کاٹی جائے گی۔ اصلاح وتقویٰ کے ساتھ اسلامی نظام زندگی کے مطابق اس دنیا کو آباد کرنا اور ترقی دینا ، اسلامی نظریہ خلافت ارضی کے مطابق ایک مومن کا مطلوب ومقصود ہے۔ اسلام اس دنیا کی ترقی کی راہ ہی سے آخرت کی ترقی کا قائل ہے۔ یہی اسلام کا نظریہ عبادت ہے کہ اس دنیا کی پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت کرنا ہی انسان کا مقصد تخلیق ہے۔
وما خلقت ........................ لیعبدون (ذاریات :56) ” اور میں نے جن وانس کو اس کے سوا کسی اور مقصد کے لئے نہیں پیدا کیا کہ وہ میری اطاعت کریں “۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے سورة ذرایات ، پارہ 27)
وفی ذلک .................... المتنافسون (26:83) ” جو لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس چیز میں بازی لے جائیں “۔ یہ ایک ایسی ہدایت ہے جو اس دنیا کے لوگوں کی نظریں اس کم قیمت اور حقیر زمین سے بلند کرکے آخرت پر مرکوز کراتی ہے۔ جبکہ عملاً وہ اسی دینا میں انسان کے منصب خلافت کو ادا کرتے ہوئے اس زمین کی تعمیروترقی میں بھی مصروف ہوتے ہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ مسلمان اس دنیا میں پائی جانے والی گندگی کی تطہیر میں بھی مصروف ہوتے ہیں اور اس گندگی سے دامن بھی بچاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کی زندگی بہت ہی مختصر ہے۔ اور آخرت کے جہاں میں انسان کی عمر طویل ہے۔ اور اس کی انتہا کا علم اللہ ہی کو ہے۔ پھر اس دنیا کا سازو سامان بھی محدود ہے۔ اور جنت کا سازو سامان اس قدر زیادہ اور لامحدود ہے کہ انسان کے حد ادراک سے ماوراء ہے۔ اس دنیا میں سازوسامان اور عیس و آرام کی سطح بھی معلوم اور محدود ہے جبکہ آخرت کا عیش و آرام لامحدود ہے۔ آخرت کا میدان بہت ہی وسیع اور دنیا کا میدان بہت ہی محدود ہے۔ دونوں کے مقاصد میں بھی بہت بڑا فرق ہے۔ دونوں کا نفع نقصان بھی بہت ہی مختلف ہے۔ اس لئے مقابلہ بھی مختلف ہے۔ اور حکم یہ ہے ۔ وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون (26:83) ” جو لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس چیز میں بازی لے جائیں “۔ یہاں ابرار اور نیکوکاروں کے انعامات اخروی کی تفصیلات ذرا طویل ہوگئیں اور یہ اس لئے بیان کی گئیں کہ مکہ کی سوسائٹی میں وہ فجار اور فساق کے ہاتھوں ظلم وستم کا شکار تھے ۔ ان کو اذیت دی جارہی تھی ، ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا تھا ، اور ان پر زیادتیاں ہورہی تھیں ، اس لئے ان انعامات کی بھی تفصیلات دی گئیں جو ان کے لئے تیار رکھی ہیں ، اور مذاق کے بدلے پھر کافروں کے ساتھ بھی مذاق ہوگا ، اس وقت وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ ابرار کو وہ انعامات پورے کے پورے مل گئے ہیں۔
المطففين 83:28
شراب کے وصف کا اختتام جو ان دو آیات میں ہوتا ہے۔
ومزاجہ .................... المقربون (28:83) ” اسی شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی ، یہ چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے “۔ اس اختتام سے پہلے ہی ، درمیان میں ایک اہم ہدایت دے دی جاتی ہے اور یہ ہدایت ہے۔
وفی ذلک .................... المتنافسون (26:83) ” جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں “۔ یہ ایک گہرا اشارہ ہے اور اس کے اندر ایک جہان معانی پوشیدہ ہے۔
یہ ڈنڈی مارنے والے ، جو لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے ہیں ، اور آخرت کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔ قیامت کے حساب و کتاب کی تکذیب کرتے ہیں ، اور ان کی بدکاری اور معصیت اور ظلم کی وجہ سے ان کے دلوں پر سیاہی چھاگئی ہے۔ یہ لوگ تو اس دنیا کے مال ومتاع میں ایک دوسرے کے ساتھ تنافس کرتے ہیں ، ان میں ہر شخص اس دنیا کے مال ومتاع میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے ، اور دنیا کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنا چاہتے ہے۔ اس لئے ظلم کرتا ہے اور فسق وفجور میں مبتلا ہے۔ اور اس زوال پذیر سازوسامان کے لئے مرمٹ رہا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کا مال ومنال اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کے بارے میں کوئی مقابلہ ہو ، مقابلہ اور بازی لے جانا اگر کوئی چاہتا بھی ہے تو چاہئے کہ وہ قیامت اور آخرت کے سازو سامان کے لئے کرے۔
وفی ذلک ........................ المتنافسون (26:83) ” جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس اخروی چیز کو حاصل کرنے کے لئے بازی لے جائیں “۔ کیونکہ یہی تو مطلوب مومن ہے۔ یہی وہ نصب العین ہے جس کی طرف وہ دوڑیں اور یہی وہ ٹارگٹ ہے جس کی طرف وہ سب سے آگے بڑھیں۔
دنیا کا سازو سامان ، جاہ مرتبہ جس قدر عظیم کیوں نہ ہو ، اعلیٰ وارفع کیوں نہ ہو۔ آخرت کے سازوسامان کے مقابلے میں حقیر اور بےقیمت ہے۔ یہ پوری دنیا اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی قیمت نہیں رکھتی۔ آخرت اللہ کے پیمانوں میں بھاری ہے۔ لہٰذا آخرت ہی ایک ایسی قیمت حقیقت ہے جس کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے بازی لے جانا مناسب ہے نہ کہ دنیا۔
یہ عجیب بات ہے کہ آخرت کے لئے مقابلہ کرنے والوں کی روحیں بہت بلند ہوجاتی ہیں جبکہ دنیا کے لئے مقابلہ کرنے والے باہم حسد ودشمنی کی وجہ سے گر جاتے ہیں۔ ان کی روح گر جاتی ہے اور جو لوگ آخرت کے لئے سعی اور مقابلہ کرتے ہیں اس کی وجہ سے یہ پوری دنیا بھی خیروبرکت سے معمور ہوجاتی ہے اور یہ سب کے لئے پاکیزہ جائے رہائش بن جاتی ہے۔ جبکہ مقابلہ اگر دنیاوی مقاصد کے لئے ہو تو بغض وعداوت پیدا ہوجاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو اس طرح نوچ کھاتے ہیں جس طرح حشرات الارض ایک دوسرے کو کھاتے ہیں اور نیک لوگوں کی زندگی تو اس ماحول میں سخت دشوار ہوتی ہے۔ ہر طرف سے ان کی ٹانگ کھینچی جاتی ہے اور ہر طرف سے ان کو نوچا جاتا ہے۔
یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ اگر ہم آخرت ہی کے لئے باہم مقابلہ اور مسابقت کریں تو یہ دنیا خراب اور برباد ہوجائے گی ، جیسا کہ بعض دنیا پرستوں کا خیال ہے۔ اسلام کا تصور یہ ہے کہ دنیا آخرت کے لئے ایک کھیت ہے۔ یہاں فصل کی بوائی ہوگی اور آخرت میں فصل کاٹی جائے گی۔ اصلاح وتقویٰ کے ساتھ اسلامی نظام زندگی کے مطابق اس دنیا کو آباد کرنا اور ترقی دینا ، اسلامی نظریہ خلافت ارضی کے مطابق ایک مومن کا مطلوب ومقصود ہے۔ اسلام اس دنیا کی ترقی کی راہ ہی سے آخرت کی ترقی کا قائل ہے۔ یہی اسلام کا نظریہ عبادت ہے کہ اس دنیا کی پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت کرنا ہی انسان کا مقصد تخلیق ہے۔
وما خلقت ........................ لیعبدون (ذاریات :56) ” اور میں نے جن وانس کو اس کے سوا کسی اور مقصد کے لئے نہیں پیدا کیا کہ وہ میری اطاعت کریں “۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے سورة ذرایات ، پارہ 27)
وفی ذلک .................... المتنافسون (26:83) ” جو لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس چیز میں بازی لے جائیں “۔ یہ ایک ایسی ہدایت ہے جو اس دنیا کے لوگوں کی نظریں اس کم قیمت اور حقیر زمین سے بلند کرکے آخرت پر مرکوز کراتی ہے۔ جبکہ عملاً وہ اسی دینا میں انسان کے منصب خلافت کو ادا کرتے ہوئے اس زمین کی تعمیروترقی میں بھی مصروف ہوتے ہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ مسلمان اس دنیا میں پائی جانے والی گندگی کی تطہیر میں بھی مصروف ہوتے ہیں اور اس گندگی سے دامن بھی بچاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کی زندگی بہت ہی مختصر ہے۔ اور آخرت کے جہاں میں انسان کی عمر طویل ہے۔ اور اس کی انتہا کا علم اللہ ہی کو ہے۔ پھر اس دنیا کا سازو سامان بھی محدود ہے۔ اور جنت کا سازو سامان اس قدر زیادہ اور لامحدود ہے کہ انسان کے حد ادراک سے ماوراء ہے۔ اس دنیا میں سازوسامان اور عیس و آرام کی سطح بھی معلوم اور محدود ہے جبکہ آخرت کا عیش و آرام لامحدود ہے۔ آخرت کا میدان بہت ہی وسیع اور دنیا کا میدان بہت ہی محدود ہے۔ دونوں کے مقاصد میں بھی بہت بڑا فرق ہے۔ دونوں کا نفع نقصان بھی بہت ہی مختلف ہے۔ اس لئے مقابلہ بھی مختلف ہے۔ اور حکم یہ ہے ۔ وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون (26:83) ” جو لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس چیز میں بازی لے جائیں “۔ یہاں ابرار اور نیکوکاروں کے انعامات اخروی کی تفصیلات ذرا طویل ہوگئیں اور یہ اس لئے بیان کی گئیں کہ مکہ کی سوسائٹی میں وہ فجار اور فساق کے ہاتھوں ظلم وستم کا شکار تھے ۔ ان کو اذیت دی جارہی تھی ، ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا تھا ، اور ان پر زیادتیاں ہورہی تھیں ، اس لئے ان انعامات کی بھی تفصیلات دی گئیں جو ان کے لئے تیار رکھی ہیں ، اور مذاق کے بدلے پھر کافروں کے ساتھ بھی مذاق ہوگا ، اس وقت وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ ابرار کو وہ انعامات پورے کے پورے مل گئے ہیں۔
المطففين 83:29
اہل ایمان کے ساتھ مجرموں کے استہزا کے مناظر ، ان کی جانب سے دست درازیوں اور زیادتیوں کے جو شاید قرآن نے یہاں قلم بند کیے ہیں خصوصاً ان کا یہ تبصرہ کہ مسلمان گمراہ لوگ ہیں ، یہ سب مناظر مکہ کی سوسائٹی کے عملی مناظر ہیں ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقامت دین کی ہر کسی تحریک کے کارکن انہی حالات اور نہی ریمارکس سے دو چار ہوتے ہیں۔ ہر دور اور ہر نسل میں یہی صورت حالات ہوا کرتی ہے۔ آج ہم اپنے دور کے حالات کو جب دیکھتے ہیں تو یہ نظر آتا کہ شاید یہ آیات ابھی ہمارے حسب حال اتری ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فساق وفجار کا مزاج ایک جیسا ہوتا ہے اور اہل حق کے مقابلے میں ان کا موقف بھی ہمیشہ ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ اس میں زمان ومکان کے فرق سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ان الذین ........................ یضحکون (29:83) ” مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے “۔ یہ ایسے ہی تھے ، اس ” تھے “ نے صدیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب یہ آخرت کی بات ہورہی ہے۔ یہ اپنی آنکھوں سے اہل جنت کی نعمتوں کو دیکھ رہے ہیں۔ یہاں آخرت میں ان کو ذرا یاد دلایا جارہا ہے کہ تم تو یہ رویہ رکھتے تھے۔ یاد ہے نا۔
یہ اہل ایمان سے بطور مذاق ہنستے تھے کہ یہ ہیں مومن۔ یہ ہیں ” صالح “۔ یہ ہیں ” صالحین “۔ یہ کیوں ہنستے تھے۔ یا تو اس لئے کہ یہ لوگ غریب اور فقیر تھے اور بات انقلاب کی کرتے تھے اور پہنے ہوئے ہوتے تھے چیتھڑے۔ یا اس لئے کہ ہر طرف سے ان پر مار پڑتی ہے۔ جیلوں میں ہیں ، اپنا دفاع بھی نہیں کرکستے۔ یا اس لئے کہ یہ لوگ ان کی حماقتوں میں شریک نہ ہوتے تھے۔ ان لوگوں کے ہاں یہ سب باتیں مضحکہ خیز تھیں۔ چناچہ وہ اہل ایمان پر طنز وتشنیع کے تیر برساتے تھے۔ ان کو اذیت دیتے تھے۔ ان پر تشدد کرتے تھے اور نہایت ہی رذالت اور گھٹیا انداز میں ان سے مذاق کرتے تھے۔ اس بات کا اہل ایمان پر برا اثر ہوتا تھا۔ اور ان کی تکلیف ہوتی تھی لیکن وہ صبر کرتے تھے۔ بلند اخلاقی اختیار کرتے تھے اور نہایت شائستگی سے بات کو ٹال دیتے تھے۔
المطففين 83:30
واذامرو .................... یتغامرون (30:83) ” جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر ان کی طرف اشارے کرتے تھے “۔ یعنی وہ آنکھوں سے اشارے کرتے تھے یا ہاتھوں سے اشارے کرتے تھے یا کوئی ایسی حرکت کرتے تھے جو ان کے درمیان مذاق اڑانے کے لئے متعارف تھی ۔ یہ ایسی گری ہوئی حرکت ہوتی جس سے ان کی گستاخی اور بےادبی کا اظہار ہوتا ، یہ حرکت تہذیب کے دائرے سے نکلی ہوئی ہوتی ، اور ایسی حرکات سے ان لوگوں کا مقصد یہ ہوتا کہ اہل اسلام کے دل ٹوٹ جائیں اور ان کو شرمندہ کیا جائے اور وہ اس تحریک کی کامیابی سے مایوس ہوجائیں ، اس لئے یہ لوگ اس طرح کے اشارے کرتے اور چھچھوری حرکات کرتے۔
المطففين 83:31
واذا ................ اھلھم (31:83) ” اور جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے “۔ یعنی مومنین کو ایذائیں دے کر اور ان کا مذاف اڑا کر جب وہ تھک جاتے تو اپنے گھروں کی طرف انقلبوا فکھین (31:83) ” تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے “۔ وہ اپنی ان حرکات پر خوش ہوتے ، اور نہایت مزے سے اتراتے ہوئے جاتے ، اور اپنی ان گھٹیا حرکات اور شرارتوں پر ان کو سخت مسرت ہوتی۔ حالانکہ اگر ان کا ضمیر زندہ ہوتا تو ان کو ملامت کرتا ، اور ان کو اپنے ان افعال پر ندامت ہوتی ، ان کو بالکل احساس نہ ہوتا کہ وہ کس قدر حقیر حرکت کررہے اور کس قدر گنداطرز عمل ہے ان کا۔ قلب ونظر کے مسخ ہونے اور ضمیر کے مرجانے کی یہ آخری حد ہے۔
المطففين 83:32
واذا .................................... لضالون (32:83) ” اور جب انہیں دیکھتے تھے تو کہتے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں “۔ اور یہ تو نہایت ہی تعجب خیز بات ہے کہ اب یہ لوگ ہدایت وضلالت کے موضوع پر بات کرنے لگے ہیں اور بزعم خود یہ اہل حق اور اہل ہدایت کو اہل ضلالت اور گمراہ کہتے ہیں ، اور نہایت وثوق اور تحقیر آمیز طریقے سے یہ تبصرہ کرتے ہیں۔
ان ھولاء لضالون (32:83) ” کہ یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں “۔
فسق وفجور کا یہ مزاج ہے کہ وہ ایک حد پر نہیں رکتا ، وہ کسی بات سے نہیں شرماتا ، کسی فعل پر ناد نہیں ہوتا۔ ان فساق وفجار کی طرف سے اہل ایمان جیسے معیاری لوگوں پر یہ الزام لگانا کہ وہ بہکے ہوئے ہیں ، اس بات کا ظاہر کرتا ہے کہ فساق وفجار کسی حد پر جاکر نہیں رکتے اور بےحیا ہوتے ہیں۔
قرآن کریم اہل ایمان کی جانب سے نہ مناظرہ کرتا ہے اور نہ مجادلہ۔ نہ وہ اس افترا کی تردید کرتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی ناسقانہ گھٹیا بات ہے جس کی طرف سنجیدہ التفات کی ضرورت ہی نہیں ہے لیکن قرآن کریم ان لوگوں کے ساتھ ایک سنجیدہ مذاق ضرور کرتا ہے جو ایک ایسے معاملے میں ٹانگ اڑاتے ہیں جس کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ان کا ہدایت وضلالت سے کیا کام ہے۔ اور مسلمانوں کی نگرانی پر ان کو کس نے مامور کیا۔
المطففين 83:33
وما ارسلوا .................... حفظین (33:83) ” حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے “۔ نہ مسلمانوں کے امور ان کے سپرد کیے گئے ہیں ، نہ یہ ان پر قیم ہیں ، نہ اہل ایمان کے حالات و کوائف ان سے پوچھے گئے ہیں ، لہٰذا ان کی جانب سے مسلمانوں پر یہ تبصرہ ایک بےتکی بات ہے۔
دنیا میں مجرمین اہل ایمان کے ساتھ جو برتاﺅ کرتے تھے ، اس کا منظر اب یہاں اس سنجیدہ مذاق کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے اور اب قیامت کے دن کا حاضر منظر پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھو اب جنت میں یہ اہل ایمان کس مزے میں ہیں۔
المطففين 83:34
فالیوم ........................ ینظرون (35:83) ” آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں ، مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں “۔ آج کا دن کیسا ہے کہ کفار دیدار ربانی جیسی نعمت سے محروم اور محجوب ہیں۔ اور اس محرومیت کا ان کو بےحد غم ہے ، اس کی وجہ سے ان کی انسانیت گرگئی اور وہ واصل جہنم ہوگئے اور اس جہنم رسیدگی پر مزید یہ کہ ان کی اہانت بھی ہوگی اور سرزنش بھی ہوگی۔
ھذا ................ تکذبون (17:83) ” وہ یہی ہے نا وہ چیز جس کی تم تکذیب کرتے تھے ؟ “ آج کا دن تو یوں ہے کہ اہل ایمان اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھے ہیں اور کفار کے حالات کا نظارہ کررہے ہیں اور دائمی نعمتوں میں مزے لے رہے ہیں ، سر بند خالص اور صاف شراب سے ان کی تواضع ہورہی ہے اور اس سر بند شراب پر مہر اور سیل مشک کی ہوگی اور اس کے اندر چشمہ تسنیم کے خوش ذائقہ پانی کا امتزاج ہوگا اور آج کفار کے حالات کو دیکھ کر اہل ایمان مسکرائیں گے۔
المطففين 83:35
فالیوم ........................ ینظرون (35:83) ” آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں ، مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں “۔ آج کا دن کیسا ہے کہ کفار دیدار ربانی جیسی نعمت سے محروم اور محجوب ہیں۔ اور اس محرومیت کا ان کو بےحد غم ہے ، اس کی وجہ سے ان کی انسانیت گرگئی اور وہ واصل جہنم ہوگئے اور اس جہنم رسیدگی پر مزید یہ کہ ان کی اہانت بھی ہوگی اور سرزنش بھی ہوگی۔
ھذا ................ تکذبون (17:83) ” وہ یہی ہے نا وہ چیز جس کی تم تکذیب کرتے تھے ؟ “ آج کا دن تو یوں ہے کہ اہل ایمان اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھے ہیں اور کفار کے حالات کا نظارہ کررہے ہیں اور دائمی نعمتوں میں مزے لے رہے ہیں ، سر بند خالص اور صاف شراب سے ان کی تواضع ہورہی ہے اور اس سر بند شراب پر مہر اور سیل مشک کی ہوگی اور اس کے اندر چشمہ تسنیم کے خوش ذائقہ پانی کا امتزاج ہوگا اور آج کفار کے حالات کو دیکھ کر اہل ایمان مسکرائیں گے۔
المطففين 83:36
ایک بار پھر قرآن نہایت سنجیدہ مزاح کرتا ہے۔
ھل ثوب .................... یفعلون (32:83) ” مل گیا نا کافروں کو ان حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے “۔ ہاں کیا ان کو بدلہ مل گیا ؟ وہ جو کچھ کرتے تھے اس کا ثواب مل گیا ؟ ان کو ثواب تو نہ ملا تھا۔ لفظ ثواب کا مفہوم تو حسن جزا ہے اور ان کو ہم ابھی جہنم میں چھوڑ کر آئے ہیں ، اور انہوں نے اپنے کیے کی سزا پالی ہے۔ تو یہ سزا گویا ان کے لئے ثواب ہے۔ لفظ ثوب استعمال کرکے قرآن کریم نے ان کے ساتھ ایسا مذاق کیا جس کی چبھن وہ دل کی گہرائی میں محسوس کرتے ہیں۔
اب ہم اس منظر کے سامنے قدرے کھڑے ہوتے ہیں ، جس کے مناظر حرکت سے بھرپور ہیں۔ یہ ان لوگوں کا منظر ہے جنہوں نے اس دنیا میں مسلمانوں اور تحریک اسلامی کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ اس سے قبل ابرار اور نیک لوگوں کی جزا کے بیان میں قرآن کریم نے قدرے طوالت سے کام لیا تھا ، اور ان کی عیش و عشرت کے مناظر میں طوالت سے کام لیا تھا۔ یہ طویل بیان اور تفصیلات تاثیر کے لحاظ سے اعلیٰ خوبیوں کا مالک تھا ، اور شعور اور نفسیاتی لحاظ سے مکہ کے مشکل حالات میں کام کرنے والے مسلمانوں کے لئے بہترین تسلی تھی۔ مکہ میں یہ مٹھی بھر مسلمان سخت مشکلات سے دوچار تھے۔ ان کو اذیت دی جارہی تھی اور ان پر قسم قسم کے تشدد ہورہے تھے اور ان باتوں کا ان پر بہرحال گہرا اثر ہوتا تھا۔ ان کی ضرورت تھی کہ ان کی ڈھارس بندھائی جائے اور ان کے حوصلوں کو بلند رکھا جائے اور ان کی مدد کی جائے۔
مشرکین کی طرف سے مسلمانوں کو جو اذیت دی جارہی تھی۔ اس کی یہ تفصیلات مسلمانوں کے لئے اہم تھی۔ ایک گونہ تسلی تھی کہ ان کا رب بہرحال دیکھ رہا ہے اور وہ ان تکالیف کو یونہی نہ چھوڑ دے گا۔ اگرچہ وقتی طور پر کافروں کو مہلت دی جارہی تھی اور یہ تصور کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اہل ایمان کے دلوں کی تسلی کے لئے کافی تھا ، اس سے اہل ایمان کے رحم مند مل ہوجاتے تھے کہ اللہ دیکھ رہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ مزاح کرنے والے کس طرح مزاح کررہے ہیں اور اہل مکہ ان کو کیا کیا اذیتیں دے رہے ہیں۔ اور ان کے آلام اور ان کی تکالیف سے کس طرح وہ لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یہ کمینے کس طرح گھٹیا پن کا مظاہرہ کررہے ہیں اور ان کو کوئی شرم بھی نہیں آتی لیکن اہل ایمان کا رب یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور قرآن میں اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ریکارڈ کررہا ہے۔ اس لئے کہ یہ صورت حالات اللہ کے ہاں اس قابل ہے کہ اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ریکارڈ کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اہل ایمان کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوگیا تو ان کے تمام غم اور آلام دور ہوگئے۔ تمام رنج والم ختم ہوگئے۔
پھر ان کا رب ان مجرموں کے ساتھ ایک سنجیدہ مذاق کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ جری مجرم اس مزاح کو محسوس نہ کریں کیونکہ ان کو فطرت مسخ ہوچکی ہے اور ان کے قلوب ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے زنگ آلود ہوچکے ہیں بلکہ سیاہ چکے ہیں لیکن اہل ایمان کے حساس دل اور خوف خدا سے کانپنے والے دل ، اس مزاح کو اہمیت دیتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں اور یہ ان کے دکھوں اور دردوں کے لئے سکون بخش دوا ہے اور اس سے ان کی خوشی ہوتی ہے۔
یہ مومن اس بات کو بھی اہمیت دیتے ہیں کہ ان کے رب کے ہاں ان کا ایک مقام ہے۔ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جنتوں میں ان کے لئے نعمتیں ہیں اور عالم بالا میں ، درگاہ الٰہی میں ان کے لئے بلند مرتبہ ومقام ہے اور عزت ہے۔ پھر وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان کے دشمنوں کا آخرت میں کیا حال ہے ؟ اور اللہ کے ہاں وہ ذلیل و خوار ہیں۔ بےوقعت ہیں اور ان مناظر قیامت میں ان کے لئے کیسا توہین آمیز عذاب ہے۔ یہ مناظر وہ دیکھتے ہیں اور ان سے وہ یہ یقین حاصل کرتے ہیں کہ قیامت میں ان کی حالت کیا ہوگی۔ اس وقت مسلمان قلیل تھے ، ان پر تشدد ہورہا تھا ، وہ کمزور تھے ، ان کے ساتھ مزاح ہورہا تھا اور وہ قلت تعداد کی وجہ سے اور کمزوری کے سبب ہر قسم کے مصائب جھیل رہے تھے ، چناچہ ان مناظر کے تاثرات اور یقین سے ان کی یہ تمام تلخیاں کم ہوجاتی تھیں اور دکھ اور درد کم ہوجاتے تھے۔ ان حالات اور مناظر اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والے یقین کی وجہ سے بعض اہل ایمان ان تلخیوں میں بھی شیرینی محسوس کرتے اور وہ محسوس کرتے تھے کہ ان کو وہ دنیا ہی میں حقیقتاً دیکھ رہے ہیں ، جن کا ان آیات میں ذکر ہے۔
لیکن سیرت صحابہ ؓ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ جس قدر اذیتیں جھیل رہے تھے اور جس قدر مجرمین ان پر تشدد کررہے تھے اور ان کے ساتھ گھٹیا مزاح کرتے تھے ان سب مشکلات کو وہ صرف ایک ہی نصب العین کے لئے برداشت کررہے تھے کہ ان کو جنت ملے گی اور ان کے مخالف کافروں کو جہنم ملے گی۔ اور اس دنیا میں ان دو گروہوں کے جو حالات ہیں وہ آخرت میں یکسر بدل جائیں گے۔ یہی وہ بات ہے جس کا اہل ایمان کے ساتھ حضور ﷺ نے وعدہ فرمایا تھا ، جنہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور جس راہ وہ اپنے مال اور اپنی جان کھپا رہے تھے۔
رہی یہ بات کہ اس دنیا میں بھی تمہیں غلبہ نصیب ہوگا۔ اور تم ملکوں کو فتح کرلوگے تو اس کا تذکرہ قرآن مجید میں مکی دور میں بہت ہی کم ملتا ہے۔ یعنی اس غرض کے لئے کہ اہل ایمان کو اس سے تسلی دی جائے اور ان کے حوصلے بڑھانے چاہئیں۔
اصل بات یہ ہے کہ مکہ میں قرآن مجید ایسے افراد تیار کررہا تھا جو وہ اس امانت اور اس نظریہ کی ذمہ داریوں کے اٹھانے کے قابل ہوجائیں اور یہ افراد اس قدر مضبوط ، اس قدر قوی ، اس قدر مخلص اور اس قدر باکردار ہوں کہ وہ اس دنیا کے تمام مفادات کو اس راہ میں قربان کردیں۔ اور ان کے پیش نظر صرف آخرت کی کامیابی ہو اور صرف اللہ کی رضامندی کے وہ طالب ہوں ایسے لوگ جو اس دنیا میں گزرنے والی پوری زندگی کو مصیبت اور مشقت میں کاٹنے کے لئے تیار ہوں۔ تشدد اور ظلم برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں ، ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے آمادہ ہوں اور اس جہاں میں وہ کسی اجر کے طالب نہ ہوں یہاں تک کہ وہ اس جہاں میں اسلامی انقلاب اور اسلام کے غلبے کے طلبگار بھی نہ ہوں ، اور ان کے دلوں میں یہ خواہش بھی نہ ہو کہ وہ برسراقتدار آجائیں ، قرآن کے پیش نظر ایک ایسی مخلص جماعت کی تیاری تھی۔
اور جب ایک ایسی جماعت تیار ہوگئی جس کے پیش نظر اس دنیا کے مختصر سفر کے اغراض ومقاصد میں سے کوئی مقصد نہ تھا ، الایہ کہ کوئی بات بغیر خواہش کے مل جائے اور ان کا نصب العین صرف جزائے اخروی کا حصول تھا ، اور جن کا عقیدہ یہ تھا کہ حق و باطل کا اصل فیصلہ آخرت میں ہوگا ، جب ایسی جماعت تیار ہوگئی اور اللہ نے جان لیا کہ یہ جماعت سچی ہے اور اس کی نیت خالص ہے اور اس نے جس مقصد کے لئے بیعت کی تھی ، اسے سچ کر دکھایا تو پھر اس دنیا میں بھی اس کی نصرت کے لئے اللہ کی مدد آگئی۔ اور یہ نصرت بھی اس لئے آئی تاکہ وہ دعوت اسلامی کی امانت کا حق ادا کرے ، اسلامی نظام حیات کا حق ادا کرے ، نہ ایسی جماعت کے ساتھ دنیا کے مفادات کا کوئی وعدہ کیا گیا تھا اور نہ اس جماعت کے دل میں دنیاوی مفاد کا کوئی تقاضا تھا کہ اسے یہ دیا جائے یا وہ ، یہ جماعت اس قدر مخلص ہوگئی تھی کہ اس کے پیش نظر رضائے الٰہی کے سوا کوئی اور مقصد نہ تھا۔ جن آیات میں اس کرہ ارض پر کامیابیوں کا ذکر ہے۔ یہ سب مدنی آیات ہیں اور مدنی حالات اس وقت پیدا ہوئے جب اہل ایمان کے دلوں میں ایسے حالات کی کوئی خواہش ہی نہ تھی نہ وہ ان کا انتظار کرتے تھے۔ یہ نصرت اس وقت آئی جب اللہ کی مشیت کا یہ تقاضا ہوا کہ اسلامی نظام حیات ایک عملی شکل میں دنیا اور زمین پر قائم ہوجائے اور اس وقت کے لوگ اور آنے والے لوگ عملاً اسلام کو دیکھ لیں۔ یہ نصرت اہل ایمان کی مشکلات ، مشقتوں اور اذیتوں اور قربانیوں پر بطور جزانہ تھی۔ بس یہ اللہ کا ایک فیصلہ تھا اور اس کی حکمت کو اب ہم سجھنے کی سعی کررہے ہیں۔ (1)
(1) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت سید قطب کے سامنے سید مودودی (رح) کا لٹریچر تھا ، اور ان کی یہ رائے مولانا ابوالحسن علی ندوی کے تبلیغی افکار پر مبنی ہے۔ تبلیغی حضرات یہی انداز رکھتے ہیں۔ فی ظلال القرآن کا پہلا ایڈیشن چار جلدوں میں تھا۔ جب انہوں نے اس پر نظر ثانی کی تو آٹھ جلدوں میں مفصل ایڈیشن شائع ہوا۔ یہ 1966 ۔ 67 ء کا ایڈیشن تھا۔ نظرثانی شدہ ایڈیشن میں سید قطب صاحب نے سید مودودی کے افکار کو سمیٹا اور مفصل حوالے بھی دیئے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کے پیش نظر کیا مکمل اسلامی انقلاب نظریہ تھا یا نہیں ، اس کی تفصیلات دیکھئے میری کتاب ” قرآن سیرت اور انقلاب “ جو قرآن مجید کا خلاصہ ہے اور 114 سورتوں کا خلاصہ ترتیب نزولی کے مطابق ہے اور اس میں نبی ﷺ کی سیرت کو بھی نہایت ہی احتیاط کے ساتھ لیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ جب صرف تین افراد مسلمان تھے ، حضرت اکرم ﷺ اور حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت علی ؓ تو اس وقت بھی حضور نے قیصر کسریٰ کو فتح کرنے کی بات کی تھی۔ (شیرازی)
الانشقاق 84:1
گزشتہ سورت میں ہم نے آسمان کے پھٹنے کی تشریح کی ہے۔ یہاں جو بات اضافی آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کام اللہ کی اطاعت میں ہوگا۔ اور یہ کہ وہ اس بات کا ذمہ دار اور مستحق ہے کہ ایسا کرے اور اللہ کے اس حق کو ادا کرے کیونکہ اللہ کا حق ہے کہ اس کے احکام کی اطاعت کی جائے۔
الانشقاق 84:2
واذنت ................ وحقت (2:84) ” اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے حق یہی ہے “۔ کہ اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرے۔ آسمان کی طرف سے ” اذن “ یعنی اعلان یا اجازت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ پھٹنے میں اللہ کے حکم کی تعمیل کرے گا اور حقت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے اوپر اللہ کا یہ حق واقع ہوگیا۔ اور اس نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ اس پر اللہ کا یہ حق ہے اور یہ بھی ایک طرح کا اظہار ہے۔ تسلیم اور اطاعت کا کہ یہ اللہ کا مسلمہ حق ہے آسمان پر۔
الانشقاق 84:3
واذا الارض مدت (3:84) ” اور جب زمین پھیلا دی جائے گی “۔ یہ بھی ایک جدید منظر اور مفہوم ہے۔ زمین کے پھیلنے اور اس کی لمبائی کا مفہوم کیا ہے ؟ یعنی وہ قوانین قدرت معطل ہوجائیں گے جو اس زمین کو کنٹرول کرتے ہیں اور جو اسے اس کی موجودہ شکل میں قائم رکھتے ہیں۔ یعنی موجودہ گول یا بیضوی شکل میں قائم رکھتے ہیں۔ انداز کلام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے اندر یہ تبدیلی باہر کے عوامل سے پیدا ہوگی کیونکہ اس کے لئے صیغہ مجہول استعمال ہوا ہے یعنی لفظ مدت۔
الانشقاق 84:4
والقت ............................ وتخلت (4:84) ” جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی “۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے کہ یہ زمنی گویا ایک زندہ اور صاحب ارادہ چیز ہے ، اور یہ وہ اپنے اندر کی چیزوں کو باہر پھینک کر خالی ہورہی ہے۔ کیونکہ اس کے اندر بہت کچھ ہے۔ مثلاً یہ مخلوقات جن کا گننا مشکل ہے ، جو صدیوں سے اس کے اندر دفن ہورہی ہیں اور نہ اس کے زمانے کا علم ہے اور نہ لوگوں کی تعداد کا۔ زمین کے پیٹ کے اندر جو معدنیات ، پانی اور دوسری چیزیں ہیں جن کا علم صرف اللہ کو ہوے ، سب باہر آجائیں گی۔ صدیوں سے یہ زمین ان چیزوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔ جب قیامت برپا ہوگی تو یہ سب چیزوں اور سب رازوں کو اگل دے گی۔
الانشقاق 84:5
واذنت ................ وحقت (5:84) ” اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لئے حق یہی ہے “۔ اذن کے معنی یہاں اطاعت رب کے ہیں اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرنے کے ہیں۔ جس طرح یہ تعبیر آسمان کے لئے بھی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ زمین اعتراف کررہی ہوگی ، اللہ کا اس پر حق ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرے۔ انداز بیان میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ گویا زمین ، آسمان ، ذی روح مخلوق ہیں۔ یہ اللہ کا حکم سنتے ہیں اور بالا رادہ تعمیل کرتے ہیں ، فوراً لبیک کہتے ہیں اور اس طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح ایک شخص اطاعت کا اقرار واعتراف کرتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ اس پر ایسا کرنا حق ہے اس لئے وہ سر تسلیم خم کرتا ہو اور بغیر جبر کے یہ کام کرتا ہو اور اس میں کوئی حیل وحجت نہ کرتا ہو۔
اگرچہ قیام قیامت کے دن اس کائنات میں ایک عظیم انقلاب ہوگا اور یہ اسی کا ایک منظر ہے ، لیکن یہاں جو تصویر کھینچی گئی ہے وہ پروقار اور دھیمی ہے۔ اور اس پر توازن اور خشوع کے گہرے سائے ہیں۔ جو تاثرات پردہ احساس پر قائم رہتے ہیں وہ اطاعت ، تسلیم ورضا ، خضوع وخشوع اور بغیر حیل وحجت اور بغیر قیل وقال اطاعت کیشی کے ہیں۔
چناچہ ایسی ہی فضا میں باری تعالیٰ کی جانب سے ایک پکار آتی ہے۔ اس میں انسان کو انسانیت کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ دکھا کر کہ دیکھو یہ پوری کائنات اور یہ ارض وسما کس طرح سراطاعت خم کیے ہوئے ہیں ، اور اللہ کی اطاعت کو اپنے اوپر حق سمجھتے ہیں۔
الانشقاق 84:6
یایھا الانسان (6:84) ” جس کو رب نے مہربان کرکے اس طرح بنایا ، جس کو اللہ نے پوری مخلوقات کے مقابلے میں انسانیت کی منفرت صفت دی۔ اس کو تو یہ چاہئے کہ یہ اپنے رب کی معرفت میں سب سے آگے ہو ، اور اس پوری کائنات اور ارض وسما کے مقابلے میں اللہ کے سامنے زیادہ سرتسلیم خم کرنے والاہو ، اللہ نے اس کے جسم میں اپنی روح پھونکی ، اسے یہ قوت دی اور یہ فہم دیا کہ وہ رب تک رسائی حاصل کرسکے اور اپنے نور کا دیا اس کی ذات میں جلایا ، اور اس کے اندر یہ تڑپ رکھی کہ وہ اللہ کے فیوض حاصل کرے ، اور ان کے ذریعہ روحانی پاکیزگی اختیار کرے اور لامحدود بلندیوں تک عروج حاصل کرے۔ اور اس کمال کی انتہاﺅں تک جاپہنچے جن تک انسان پہنچ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ انسانی ترقی اور کمال کے آفاق بہت وسیع ہیں۔
یایھا الانسان ................................ فملقیہ (6:84) ” اے انسان ! تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جارہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے “۔ اے انسان تو اپنا سفر حیات اس جہاں میں نہایت مشقت کے ساتھ طے کررہا ہے۔ اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے ، جدوجہد کررہا ہے ، سانس پھولی ہوئی ہے۔ راستہ دشوار ہے اور اس پر مشقت راستے کو طے کرکے تو پہنچنے والا کہاں ہے ؟ رب کی طرف مرجع ہے اور جائے پناہ درگاہ الٰہی ہی ہے اور تو اس تک اس جدوجہد اور مشقت کے بعد پہنچ رہا ہے۔
اے انسان ! تو اس جہاں میں اپنی ضروریات زندگی بھی بڑی جدوجہد سے مہیا کررہا ہے۔ اگر کسی کو جسمانی مشقت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تو فکر معاش اور ذہنی پریشانی ہر کسی کو ہوتی ہے۔ خوشحالی اور غریب دونوں فکر مند ضرور ہوتے ہیں۔ دونوں ہی مشقت کرتے ہیں۔ اگرچہ مشقت کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ ورنہ مشقت اور جدوجہد انسان کی زندگی کا جزو لاینفک ہے۔ لیکن سرمایہ دار اور نادار دونوں آخر کار اللہ کے ہاں جاپہنچتے ہیں۔
اے انسان ! اس زمین پر تو ہرگز حقیقی راحت نہ پاسکے گا۔ راحت اور آرام تو آخرت میں ہوں گے لیکن ان کے لئے جو سرتسلیم خم کرتے ہوئے احکام خداوندی کی اطاعت کرتے ہیں اور آخرت کے لئے کچھ کماتے ہیں۔ اس زمین کی مشقت ایک جیسی ہے۔ اگرچہ رنگ مختلف ہوں اور ذائقے الگ ہوں لیکن جب انسان رب تعالیٰ کے ہاں پہنچے گا تو وہاں انجام کا اختلاف حقیقی ہوگا۔ ایک فریق تو اس قدر مشقت میں ہوگا جس سے زمین کی مشقت بہت مختلف اور کم ہے اور دوسرا فریق اس قدر انعام پائے گا کہ ان کے مقابلے میں زمین کی تمام تھکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔ یوں محسوس ہوا کہ اس نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی ہی نہیں۔ اے انسان ! تجھے تو انسانیت کی صفت دے کر ممتاز کردیا گیا ہے۔ اپنے لئے وہ انجام اور وہ مقام چن لے جو تیری انسانیت کے شایان شان ہو ، جو اس صفت کے مناسب ہو جو اللہ نے تجھے دی ہے۔ وہ آرام اور وہ خوشی اور نعمت طلب کر جو آخرت میں ہے۔
اس پکار کے اندر ہی چونکہ انسانیت کے انجام کے لئے اشارہ تھا ، اس لئے متصلا یہ بات بھی بتا دی گئی کہ انسانیت اس پر مشقفت جدوجہد کے بعد دونوں انجاموں میں کس انجام تک پہنچے گا۔
الانشقاق 84:7
وہ لوگ جن کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، ان سے اللہ راضی ہوگا ، یہ ایک بخت ہوں گے ، ایمان دار اور نیکوکار ہوں گے ، اللہ ان سے راضی ہوجائے گا اور ان کی نجات کا فیصلہ ہوجائے گا۔ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ حساب ہوگا۔ اللہ کے کارندے زیادہ بازپرس نہیں کریں گے اور نہ حساب میں گہرائیوں تک جائیں گے۔ اس کی تصویر کشی احادیث رسول میں کی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان احادیث کو پڑھ لیاجائے تو مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے ساتھ حساب میں مناقشہ کیا گیا اسے ضرور سزا ہوگی۔ فرماتی ہیں میں نے کہا : اللہ نے نہیں کہا ” اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا “ ۔ تو آپ نے فرمایا : ” یہ کامیابی حساب سے نہیں ہوگی بلکہ صرف پیشی سے ہوگی ، قیامت میں صورت یہ ہوگی کہ جس سے حساب لیا گیا ، اس کو سزا ہوگئی “۔ (بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی)
حضرت عائشہ ؓ سے ایک دوسری روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ میں ایک نماز میں حضور اکرم سے سنا ” اے اللہ میرے ساتھ ہلکا حساب فرمانا “۔ جب حضور نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا کہ حضور ہلکا حساب کیا ہوتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ حساب کی کتاب کو دیکھ کر چشم پوشی کردی جائے اور جانے دیا جائے ۔ عائشہ ؓ اس دن جس سے پوچھ گچھ شروع ہوگئی وہ تو مارا گیا “۔ (احمد بشرط مسلم از عبداللہ ابن زبیر ؓ
غرض اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا ، اس کے ساتھ حساب یسیر ہوگا اور وہ نجات پاجائے گا۔
الانشقاق 84:8
وہ لوگ جن کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، ان سے اللہ راضی ہوگا ، یہ ایک بخت ہوں گے ، ایمان دار اور نیکوکار ہوں گے ، اللہ ان سے راضی ہوجائے گا اور ان کی نجات کا فیصلہ ہوجائے گا۔ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ حساب ہوگا۔ اللہ کے کارندے زیادہ بازپرس نہیں کریں گے اور نہ حساب میں گہرائیوں تک جائیں گے۔ اس کی تصویر کشی احادیث رسول میں کی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان احادیث کو پڑھ لیاجائے تو مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے ساتھ حساب میں مناقشہ کیا گیا اسے ضرور سزا ہوگی۔ فرماتی ہیں میں نے کہا : اللہ نے نہیں کہا ” اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا “ ۔ تو آپ نے فرمایا : ” یہ کامیابی حساب سے نہیں ہوگی بلکہ صرف پیشی سے ہوگی ، قیامت میں صورت یہ ہوگی کہ جس سے حساب لیا گیا ، اس کو سزا ہوگئی “۔ (بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی)
حضرت عائشہ ؓ سے ایک دوسری روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ میں ایک نماز میں حضور اکرم سے سنا ” اے اللہ میرے ساتھ ہلکا حساب فرمانا “۔ جب حضور نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا کہ حضور ہلکا حساب کیا ہوتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ حساب کی کتاب کو دیکھ کر چشم پوشی کردی جائے اور جانے دیا جائے ۔ عائشہ ؓ اس دن جس سے پوچھ گچھ شروع ہوگئی وہ تو مارا گیا “۔ (احمد بشرط مسلم از عبداللہ ابن زبیر ؓ
غرض اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا ، اس کے ساتھ حساب یسیر ہوگا اور وہ نجات پاجائے گا۔
الانشقاق 84:9
وینقلب .................... مسرورا (9:84) ” اور وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا “۔ یعنی ان لوگوں کی طرف جو اس سے پہلے جنت میں جاچکے ہوں گے۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں بھی ہم خیال لوگ آئے ہوں گے۔ اور ہر شخص اپنے صالح اہل و عیال اور دوستوں میں ہوگا۔ نجات پانے والے شخص کی تصویر کشی اسی طرح ہے کہ یہ یاروں ، دوستوں اور اپنے خاندان والوں کی طرف فرحاں و شاداں جارہا ہوگا اور اسے نجات اور ملاقات کی دوہری خوشی ہوگی اور پھر جنتوں میں۔
یہ تو تھی دائیں بازو والوں کی صورت حالات ، اس کے مقابلے میں بالکل ایک مختلف صورت حالات بھی ہے ان لوگوں کی جو پکڑے جائیں گے ، اپنے برے اعمال کی پاداش میں۔ یہ لوگ تو اپنا اعمال نامہ لینا بھی نہ چاہیں گے۔
الانشقاق 84:10
واما من .................................... سعیرا (10:84 تا 12) رہے وہ لوگجن کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جاپڑے گا “۔ ایسے مناظر کی تصویر کشی اس سے قبل قرآن کریم میں اس طرح کی گئی ہے کہ کامیاب ہونے والوں کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا اور اہل جہنم کا بائیں ہاتھ میں۔ لیکن یہاں کی تصویر ذرا مختلف ہے۔ یہاں تصویر میں نظر یوں آتا ہے کہ اہل جہنم کو ان کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا جارہا ہے۔ لہٰذا تصویر میں کوئی تضاد نہیں ہے بائیں ہاتھ میں پیچھے سے دیا جارہا ہے۔ یہ ایسے شخص کی تصویر ہے جو نامہ اعمال نہیں لینا چاہتا ہے ، وہ سامنا نہیں کرسکتا ، سخت پریشان وگریزاں ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ اعمال نامے ، دائیں ہاتھ میں دیئے جانے اور بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کی کیفیات سے واقف نہیں ہیں ۔ ہم صرف یہ سمجھتے ہیں کہ پہلے لوگ نجات پانے والے ہیں اور جنت میں جائیں گے اور دوسرے لوگ ناکام ونامراد ہونے والے ہیں اور جہنم میں جائیں گے اور ہلاک ہوں گے۔ اصل مقصود یہی بات ہے نہ یہ کہ کیفیت کیسی ہوگی۔ اور قرآن کریم نے جو شکل و صورت بیان کی ہے اس سے بہرحال انسان پر گہرے اثرات پڑے ہیں۔ اور انسان خوف کے مارے کانپ اٹھتا ہے۔ حقیقت احوال اللہ ہی کے علم میں ہے کہ یہ مراحل کس طرح طے ہوں گے۔
یہ بدبخت جس نے زمین پر بھی اپنی زندگی ان تھک جدوجہد میں گزاری اور تھک تھکا کر اللہ کے سامنے پہنچا لیکن معصیت اور نافرمانی میں اوبا ہوا ، گناہوں کے بوجھ سے لدا پھندا۔ اب یہاں آکر اپنے انجام کو جان لیتا ہے۔ انجام بد سے دوچار ہوتا ہے۔ اب جانتا ہے کہ اب تو اس کی نہ ختم ہونے والی مشقت شروع ہوگئی ، تو یہ بدبخت اب موت کو پکارتا ہے ، موت دائمی موت اور فنا کی استدعا کرتا ہے تاکہ وہ اس بدبختی سے بچ جائے جو سا پر آنے ہی والی ہے۔ یاد رہے کہ انسان موت کی آغوش میں پناہ اس وقت لیتا ہے جب وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی اور راہ نجات نہیں ہے۔ نہ کوئی جائے فرار ہے تو اس وقت موت اس کی آخری تمنا ہوتی ہے ، یہ مفہوم متنبی نے اس شعر میں سمودیا ہے۔
کفی بک داء ان تری الموت شافیا
وحسب المنایا ان یکن امانیا
” اس سے بڑی اور کیا ہوگی کہ تم موت کو شفا سمجھنے لگو اور یہ مشقت کافی ہے کہ موت آرزو بن جائے ( اور آئے نہیں) “۔
لہٰذا اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوگی ، اور اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی کہ وہ ویصلی سعیرا (12:84) ” اور بڑھکتی ہوئی آگ میں جاپڑے گا “۔ اور یہ شخص اب موت کی تمنا کرے گا جو کبھی پوری نہ ہوگی .... اب ذرا ایک جھلک اس شخص کے ماضی کی یہاں دکھادی جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ اس انجام تک پہنچا۔
الانشقاق 84:11
واما من .................................... سعیرا (10:84 تا 12) رہے وہ لوگجن کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جاپڑے گا “۔ ایسے مناظر کی تصویر کشی اس سے قبل قرآن کریم میں اس طرح کی گئی ہے کہ کامیاب ہونے والوں کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا اور اہل جہنم کا بائیں ہاتھ میں۔ لیکن یہاں کی تصویر ذرا مختلف ہے۔ یہاں تصویر میں نظر یوں آتا ہے کہ اہل جہنم کو ان کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا جارہا ہے۔ لہٰذا تصویر میں کوئی تضاد نہیں ہے بائیں ہاتھ میں پیچھے سے دیا جارہا ہے۔ یہ ایسے شخص کی تصویر ہے جو نامہ اعمال نہیں لینا چاہتا ہے ، وہ سامنا نہیں کرسکتا ، سخت پریشان وگریزاں ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ اعمال نامے ، دائیں ہاتھ میں دیئے جانے اور بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کی کیفیات سے واقف نہیں ہیں ۔ ہم صرف یہ سمجھتے ہیں کہ پہلے لوگ نجات پانے والے ہیں اور جنت میں جائیں گے اور دوسرے لوگ ناکام ونامراد ہونے والے ہیں اور جہنم میں جائیں گے اور ہلاک ہوں گے۔ اصل مقصود یہی بات ہے نہ یہ کہ کیفیت کیسی ہوگی۔ اور قرآن کریم نے جو شکل و صورت بیان کی ہے اس سے بہرحال انسان پر گہرے اثرات پڑے ہیں۔ اور انسان خوف کے مارے کانپ اٹھتا ہے۔ حقیقت احوال اللہ ہی کے علم میں ہے کہ یہ مراحل کس طرح طے ہوں گے۔
یہ بدبخت جس نے زمین پر بھی اپنی زندگی ان تھک جدوجہد میں گزاری اور تھک تھکا کر اللہ کے سامنے پہنچا لیکن معصیت اور نافرمانی میں اوبا ہوا ، گناہوں کے بوجھ سے لدا پھندا۔ اب یہاں آکر اپنے انجام کو جان لیتا ہے۔ انجام بد سے دوچار ہوتا ہے۔ اب جانتا ہے کہ اب تو اس کی نہ ختم ہونے والی مشقت شروع ہوگئی ، تو یہ بدبخت اب موت کو پکارتا ہے ، موت دائمی موت اور فنا کی استدعا کرتا ہے تاکہ وہ اس بدبختی سے بچ جائے جو سا پر آنے ہی والی ہے۔ یاد رہے کہ انسان موت کی آغوش میں پناہ اس وقت لیتا ہے جب وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی اور راہ نجات نہیں ہے۔ نہ کوئی جائے فرار ہے تو اس وقت موت اس کی آخری تمنا ہوتی ہے ، یہ مفہوم متنبی نے اس شعر میں سمودیا ہے۔
کفی بک داء ان تری الموت شافیا
وحسب المنایا ان یکن امانیا
” اس سے بڑی اور کیا ہوگی کہ تم موت کو شفا سمجھنے لگو اور یہ مشقت کافی ہے کہ موت آرزو بن جائے ( اور آئے نہیں) “۔
لہٰذا اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوگی ، اور اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی کہ وہ ویصلی سعیرا (12:84) ” اور بڑھکتی ہوئی آگ میں جاپڑے گا “۔ اور یہ شخص اب موت کی تمنا کرے گا جو کبھی پوری نہ ہوگی .... اب ذرا ایک جھلک اس شخص کے ماضی کی یہاں دکھادی جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ اس انجام تک پہنچا۔
الانشقاق 84:12
واما من .................................... سعیرا (10:84 تا 12) رہے وہ لوگجن کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جاپڑے گا “۔ ایسے مناظر کی تصویر کشی اس سے قبل قرآن کریم میں اس طرح کی گئی ہے کہ کامیاب ہونے والوں کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا اور اہل جہنم کا بائیں ہاتھ میں۔ لیکن یہاں کی تصویر ذرا مختلف ہے۔ یہاں تصویر میں نظر یوں آتا ہے کہ اہل جہنم کو ان کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا جارہا ہے۔ لہٰذا تصویر میں کوئی تضاد نہیں ہے بائیں ہاتھ میں پیچھے سے دیا جارہا ہے۔ یہ ایسے شخص کی تصویر ہے جو نامہ اعمال نہیں لینا چاہتا ہے ، وہ سامنا نہیں کرسکتا ، سخت پریشان وگریزاں ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ اعمال نامے ، دائیں ہاتھ میں دیئے جانے اور بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کی کیفیات سے واقف نہیں ہیں ۔ ہم صرف یہ سمجھتے ہیں کہ پہلے لوگ نجات پانے والے ہیں اور جنت میں جائیں گے اور دوسرے لوگ ناکام ونامراد ہونے والے ہیں اور جہنم میں جائیں گے اور ہلاک ہوں گے۔ اصل مقصود یہی بات ہے نہ یہ کہ کیفیت کیسی ہوگی۔ اور قرآن کریم نے جو شکل و صورت بیان کی ہے اس سے بہرحال انسان پر گہرے اثرات پڑے ہیں۔ اور انسان خوف کے مارے کانپ اٹھتا ہے۔ حقیقت احوال اللہ ہی کے علم میں ہے کہ یہ مراحل کس طرح طے ہوں گے۔
یہ بدبخت جس نے زمین پر بھی اپنی زندگی ان تھک جدوجہد میں گزاری اور تھک تھکا کر اللہ کے سامنے پہنچا لیکن معصیت اور نافرمانی میں اوبا ہوا ، گناہوں کے بوجھ سے لدا پھندا۔ اب یہاں آکر اپنے انجام کو جان لیتا ہے۔ انجام بد سے دوچار ہوتا ہے۔ اب جانتا ہے کہ اب تو اس کی نہ ختم ہونے والی مشقت شروع ہوگئی ، تو یہ بدبخت اب موت کو پکارتا ہے ، موت دائمی موت اور فنا کی استدعا کرتا ہے تاکہ وہ اس بدبختی سے بچ جائے جو سا پر آنے ہی والی ہے۔ یاد رہے کہ انسان موت کی آغوش میں پناہ اس وقت لیتا ہے جب وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی اور راہ نجات نہیں ہے۔ نہ کوئی جائے فرار ہے تو اس وقت موت اس کی آخری تمنا ہوتی ہے ، یہ مفہوم متنبی نے اس شعر میں سمودیا ہے۔
کفی بک داء ان تری الموت شافیا
وحسب المنایا ان یکن امانیا
” اس سے بڑی اور کیا ہوگی کہ تم موت کو شفا سمجھنے لگو اور یہ مشقت کافی ہے کہ موت آرزو بن جائے ( اور آئے نہیں) “۔
لہٰذا اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوگی ، اور اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی کہ وہ ویصلی سعیرا (12:84) ” اور بڑھکتی ہوئی آگ میں جاپڑے گا “۔ اور یہ شخص اب موت کی تمنا کرے گا جو کبھی پوری نہ ہوگی .... اب ذرا ایک جھلک اس شخص کے ماضی کی یہاں دکھادی جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ اس انجام تک پہنچا۔
الانشقاق 84:13
انہ کان .................... مسرور (13:84) ” وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا “۔ یہ حاضر وموجود کا فدائی تھا ، غلام تھا ، اور مستقبل سے غافل تھا۔ یہ اس بات سے لاپرواہ تھا کہ قیامت کے میدان میں اسے کیا پیش آنے والا ہے۔ یہ قیامت کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا اور نہ اس کے لئے کوئی تیاری کرتا تھا۔
الانشقاق 84:14
انہ کان ........................ یحور (14:84) ” وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا۔ اس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے “۔ یہ حالت تو اس کی دنیا میں تھی اور وہ تو چلی گئی۔ آج تو قرآن ہمیں قیامت کے میدان میں لے گیا ہے اور دنیا تو بیت گئی ہے اور یہاں حساب و کتاب ہورہا ہے اور قرآن انداز نے زمان ومکان کو لپیٹ کر رکھ دیا ہے۔
انہ طن .................... یحور (14:84) ” اس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے “۔ رب کی طرف پلٹ کر نہیں جانا ہے۔ اگر اس نے یہ سمجھا ہوتا کہ اللہ کے سامنے جانا ہے تو یہ اس حاضری کے لئے تو تیاری کرتا اور آخرت کو کچھ تو اہمیت دیتا لیکن اس کو یقین نہ تھا بلکہ ظن یہ تھا کہ قیامت ہی نہیں ہے۔
الانشقاق 84:15
بلی ان ................................ بہ بصیرا (15:84) ” پلٹنا کیسے نہ تھا ، اس کا رب اس کے کرتوت دیکھ رہا تھا “۔ اس کا ظن یہ تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہیں جانا ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا رب تو اس کے حالات سے باخبر تھا ، اس کی حقیقت کو گھیرے میں لیے ہوئے تھا ، اس کے تمام اقدامات ، اور تمام حرکات سے واقف تھا ، اللہ کو معلوم تھا کہ اس نے کس انجام تک پہنچنا ہے اور یہ کہ اللہ نے اس کو اس کے کیے کی سزا دینی تھی ، چناچہ ایسا ہی ہوا ، جب اللہ کے علم کے مطابق اس نے اپنی زندگی جہنم کے مطابق گزار دی ، اور اس نے ایسا ہی کرنا تھا۔
اس بدبخت کی تصویر کے بالمقابل ایک دوسرے شخص کی تصویر ہے جو نیک بخت ہے ، اگرچہ یہ اپنی دنیا کی محدود زندگی میں اپنے گھر والوں کے دائرے کے اندر ہی خوش وخرم تھا لیکن اس کی زندگی مجموعی طور پر کسی نہ کسی طرح پر مشقت تھی۔ اس کے مقابلے میں یہ نیک بخت اب آخرت میں اپنے اہل و عیال کی طرف خوش وخرم لوٹ رہا ہے۔ یہ دنیا کی زندگی تو مختصر اور محدود تھی لیکن اخروی زندگی طویل اور لامحدود ہے۔ یہ زندگی اب بےقید ہے ، خوشگوار ہے ، طویل ہے اور ہر قسم کی مشقت اور پریشانی اور تھکاوٹ سے خالی ہے۔
اب قارئین اس طویل اور گہرے سفر سے فارغ ہوتے ہیں۔ اس میں انہوں نے بےشکار مناظر دیکھے اور تاثرات لئے ، اب سیاق کلام انہیں اس کائنات کے ایسے لمحات میں لے جاتا ہے جن میں ان کی زندگی بسر ہورہی ہے۔ یہاں انسانوں کو اس کائنات کے وہ مناظر دکھائے جاتے ہیں جن میں خود حضرت انسان کا منظر بھی ہے یہ چیزیں اس بات پر گواہ ہیں کہ انسان اور اس کے گرد پھیلی ہوئی یہ کائنات ایک گہری تدبیر اور نہایت ہی باریک اندازے اور تقدیر کے مطابق چل رہی ہے اور اس دنیا کے اور انسان کے بدلتے ہوئے لمحات و حالات اس گہری تدبیر اور تقدیر کے نتیجے میں ہیں۔
الانشقاق 84:16
یہ چند مناظر ہیں ، قرآن کریم ان کی قسم کھا کر قلب انسانی کو ان کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ان پر غور کرو ، اس طرح انسانی دل و دماغ کو اشارات اور تاثرات سے بھر دیا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے یہ لمحات ایک خاص نوعیت رکھتے ہیں ، ان میں ایک طرف خشوع اور دھیما پن ہے اور دوسری طرف پر جلال ہیبت ہے۔ جس طرح سورت کا آغاز پر جلال دھیمے مناظر سے تھا ، یہ لمحات اور مناظر بھی ایسے ہی ہیں۔
شفق کا وقت وہ ہوتا ہے جس میں ہر چیز سہم جاتی ہے ، غروب کے بعد نفس انسانی پر بھی ایک گہری خاموشی اور خوف کے سائے پڑجاتے ہیں۔ انسانی سوچ ان کو الوداع کہتی ہے اور الوداع میں ہمیشہ خاموشی اور دکھ کے سائے ہوتے ہیں اور پھر رات کے خوفناک لمحات آتے ہیں ، جن میں اندھیروں کی وحشت ہوتی ہے۔ اور آخر کار رات کی تاریکیوں میں ہر چیز لپٹ کر خاموش ہوجاتی ہے ، اور ایک مہیب سکون کی فضا ہوتی ہے۔
الانشقاق 84:17
والیل وما وسق (17:84) ” اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے “۔ رات اور اس میں جو کچھ جمع ہوتا ہے ، اور جن چیزوں کو وہ اٹھالیتی ہے۔ نام لیے بغیر ہر معلوم ونامعلوم چیز جو رات کے پردے میں آجاتی ہے جو کچھ رات میں جمع ہوتا ہے ، جن چیزوں کو وہ سینے سے لگالیتی ہے۔ ان میں تمام چیزیں ، تمام زندہ مخلوق ، تمام جذبات اور تمام خفیہ جہان آجاتے ہیں۔ وہ تمام چیزیں جو زمین پر چلتی ہیں یا جو انسانی ضمیر میں خفیہ طور پر جاری وساری ہیں۔ غرض را ہوار خیال دور تک جاکر واپس ہوتا ہے اور انسانی فکر اور سوچ ان تمام مناظر کا احاطہ نہیں کرسکتی جو قرآن کے اس مختصر سے فقرے کا مدلول ہیں۔
والیل وما وسق (17:84) ” قسم ہے رات کی اور ان چیزوں کی جو وہ کچھ سمیٹ لیتی ہے “۔ جس سے انسانی شعور پر خضوع وخشوع اور خوفناک اور مہیب سکون کی حالت طاری ہوجاتی ہے اور یہ حالت شغق اور رات کے چھانے کی حالت سے ہم آہنگ ہے۔
الانشقاق 84:18
والقمر اذا تسق (18:84) ” اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ ماہ کامل بن جائے “۔ یہ بھی ایک دھیما اور سحر انگیز خوبصورت منظر ہے۔ چاند جن راتوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اور زمین پر اپنا ٹھنڈا ، دھیما اور فکر انگیز نور بکھیرتا ہے۔ خاموشی ، ٹھنڈے ماحول میں کیا ہی خوبصورت نظارہ ہوتا ہے۔ مادی اور ظاہری بھی اور معنوی اور فکری بھی۔ یہ ایک ایسا نظارہ اور سفر ہے جو شام ، شفق اور ات کے چھاجانے سے ہم آہنگ ہے ، اسی نظارے کے بنیادی عناصر جمال و جلال اور خضوع وخشوع اور خاموشی اور سکون ہیں۔
یہ عظیم کائناتی مناظر ، نہایت ہی خوبصورت ، نہایت ہی فکر انگیز ، اور نہایت مرعوب کن ، تیز رفتار جھلکیوں کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں اور انسانی قلب ونظر سے مخاطب ہوتے ہیں ، ان دلوں کو جو اس کائنات کی پکار کو نہیں سنتے۔ ان مناظر کی قسم اٹھائی جاتی ہے تاکہ انسانی قلب وضمیر پر اثر ہو اور وہ ان کی تروتازگی ، ان کی خوبصورتی اور ان کے اشارات اور ان کے اثرات کو قبول کرسکے اور اس ہاتھ کو دیکھ سکے جس نے اس کے خطوط کو متعین کیا ہے اور جو ان مناظر اور جھلکیوں کو پے درپے سامنے لاتا ہے ، ان جھلکیوں میں یہ مناظر بھی ہوتے ہیں اور لوگ بھی بدلتے ہیں اور ان کے حالات بھی بدلتے ہیں ، لیکن نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ان مناظر کو دیکھتے ہوئے بھی لوگ غافل ہیں۔
الانشقاق 84:19
لترکبن ........................ طبق (19:84) ” تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک مشکل حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے “۔ یعنی ایک صورت حال کے بعد دوسری صورت حال سے تمہیں دوچارہونا پڑے گا۔ جس طرح اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ یہاں ایک حال سے دوسرے حال کی تبدیلی کے لئے ” سواری “ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ عربی میں مشکلات سے دوچارہونے کے لئے معاملات ، خطرات ، حالات اور مشکلات پر سوار ہونے کا محاورہ عام ہے۔ کیا جاتا ہے۔
ان المضطر یر کب الصعب من الامور وھو عالم برکوبہ ” مشکلات میں گھرا ہوا شخص مشکلات پر سوار ہوجاتا ہے اور وہ اس بات کو جانتا ہے کہ وہ ان پر کس طرح سوار ہو یعنی قابو پائے “ تحریک اسلامی کو پیش آنے والے حالات ومشکلات ایک کے بعد ایک سخت ترین مراحل کی شکل میں آئیں گے۔ اور یہ حالات اللہ کی تقدیر اور مشیت کے مطابق آئیں گے جو اس راہ میں لوگوں کو چلاتی ہے ، اور دست قدرت ان کو ایک انتہا تک پہنچاتا ہے۔ جہاں سے دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ جس طرح شفق نمودار ہوتا ہے ، رات آتی ہے اور چھا جاتی ہے ، چاند نمودار ہوتا ہے اور ماہ کامل بن جاتا ہے یہاں تک انسان اس سفر کو طے کرکے اللہ تک پہنچ جائیں جیسا کہ سابقہ پیراگراف میں تصریح کی گئی۔ پے درپے ہم آہنگ پیراگراف اور فقرات کا آنا ، ایک مفہوم اور فکر سے دوسری سوچ اور معنی اخذ کرنے چلے جانا ، اور ایک نظارے سے دوسرے نظارے تک پہنچنا ، یہ قرآن کریم کا پر اعجاز اور انوکھا انداز ہے جس کی نقل اتارنا ممکن نہیں ہے۔
ان مناظر اور اشارات اور ان مشاہدات اور خوشگوار لمحات کی فضا ، جو اس پوری سورت میں یکے بعد دیگرے آئے۔ ان کے ذکر کے بعد اب ایک عقلمند انسان پر تعجب کیا جاتا ہے کہ ان دلائل ایمان کے باوجود وہ ایمان نہیں لاتا حالانکہ اس کائنات میں اور خودان کے نفوس میں وافر مقدار میں واضح دلائل موجود ہیں۔
الانشقاق 84:20
ہاں اس بات کے لئے ان کے پاس کوئی وجہ جواز نہیں ہے ، اس کائنات کے مناظر میں ، اور خود انسانوں کے نفوس میں اس قدر شواہد اور آثار ہیں کہ قلب انسانی جدھر بھی متوجہ ہو ، وہ اسے دعوت نظارہ دیتے ہیں جہاں بھی زندہ فکرہو ، یہ شواہد بڑھ چڑھ کر سامنے آتے ہیں۔ یہ آثار و شواہد اس قدر کثرت سے ہیں ، اس قدر قوی ہیں اور اس قدر گہرے ہیں کہ اگر کسی بشر کا دل ان کی طرف ذرا بھی ملتفت ہو ، متوجہ ہو تو وہ اسے گھیر لیتے ہیں۔ اگر وہ ان کی طرف کان دھرے ، متوجہ ہو اور ان کی بات سنے تو یہ شواہد ہر جگہ اس کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہیں اور بآواز بلند بھی بات کرتے ہیں۔
فمالھم .................... یسجدون (21:84) السجدة ” پھر ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جائے تو سجدہ نہیں کرتے “۔ قرآن ان کے ساتھ فطری زبان میں بات کرتا ہے ، اور انفس وآفاق میں جو دلائل فطرت اور اشارات ایمان پائے جاتے ہیں ان کے لئے ان کے دلوں کو کھولتا اور دلوں میں تقویٰ ، اطاعت اور خضوع وخشوع کے جذبات ابھارتا ہے اور یہی انسانی قلوب کے لئے سجدہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ کائنات بہت ہی خوبصورت ہے ، اس کے اندر ہر طرف اشارات قدرت ہیں ، اس کے اندر ایسی تجلیات اور ایسے انوار اور ایسے مناظر موجود ہیں جو قلب انسانی کو خضوع وخشوع کے جذبات سے بھردیتے ہیں۔
پھر یہ قرآن بھی خوبصورت اور اشاراتی ہے اور اس کے اندر بھی ایسے اشارات ، ایسے مناظر اور شواہد ہیں جو قلب ، بشری کا تعارف اس کائنات اور رب کائنات سے کراتے ہیں۔ اور انسان کے دل و دماغ میں اس عظیم کائنات کے عظیم حقائق ڈال کر اسے اس کائنات کے بزرگ و برتر خالق کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ کیا ہی شان ہے۔
فمالھم .................... یسجدون (21:84) السجدة ” پھر ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جائے تو سجدہ نہیں کرتے “۔
یہ حقیقت ہے کہ یہ ایک عجیب طرز عمل ہے۔ اور اس طرز عمل کے ذریعہ اب بات کا رخ اس عجیب مخلوق کی طرف مڑجاتا ہے ، یعنی کفار کی طرف اور بتایا جاتا رہے کہ کیا ہی برا انجام ان کے انتظار میں ہے۔
الانشقاق 84:21
ہاں اس بات کے لئے ان کے پاس کوئی وجہ جواز نہیں ہے ، اس کائنات کے مناظر میں ، اور خود انسانوں کے نفوس میں اس قدر شواہد اور آثار ہیں کہ قلب انسانی جدھر بھی متوجہ ہو ، وہ اسے دعوت نظارہ دیتے ہیں جہاں بھی زندہ فکرہو ، یہ شواہد بڑھ چڑھ کر سامنے آتے ہیں۔ یہ آثار و شواہد اس قدر کثرت سے ہیں ، اس قدر قوی ہیں اور اس قدر گہرے ہیں کہ اگر کسی بشر کا دل ان کی طرف ذرا بھی ملتفت ہو ، متوجہ ہو تو وہ اسے گھیر لیتے ہیں۔ اگر وہ ان کی طرف کان دھرے ، متوجہ ہو اور ان کی بات سنے تو یہ شواہد ہر جگہ اس کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہیں اور بآواز بلند بھی بات کرتے ہیں۔
فمالھم .................... یسجدون (21:84) السجدة ” پھر ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جائے تو سجدہ نہیں کرتے “۔ قرآن ان کے ساتھ فطری زبان میں بات کرتا ہے ، اور انفس وآفاق میں جو دلائل فطرت اور اشارات ایمان پائے جاتے ہیں ان کے لئے ان کے دلوں کو کھولتا اور دلوں میں تقویٰ ، اطاعت اور خضوع وخشوع کے جذبات ابھارتا ہے اور یہی انسانی قلوب کے لئے سجدہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ کائنات بہت ہی خوبصورت ہے ، اس کے اندر ہر طرف اشارات قدرت ہیں ، اس کے اندر ایسی تجلیات اور ایسے انوار اور ایسے مناظر موجود ہیں جو قلب انسانی کو خضوع وخشوع کے جذبات سے بھردیتے ہیں۔
پھر یہ قرآن بھی خوبصورت اور اشاراتی ہے اور اس کے اندر بھی ایسے اشارات ، ایسے مناظر اور شواہد ہیں جو قلب ، بشری کا تعارف اس کائنات اور رب کائنات سے کراتے ہیں۔ اور انسان کے دل و دماغ میں اس عظیم کائنات کے عظیم حقائق ڈال کر اسے اس کائنات کے بزرگ و برتر خالق کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ کیا ہی شان ہے۔
فمالھم .................... یسجدون (21:84) السجدة ” پھر ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جائے تو سجدہ نہیں کرتے “۔
یہ حقیقت ہے کہ یہ ایک عجیب طرز عمل ہے۔ اور اس طرز عمل کے ذریعہ اب بات کا رخ اس عجیب مخلوق کی طرف مڑجاتا ہے ، یعنی کفار کی طرف اور بتایا جاتا رہے کہ کیا ہی برا انجام ان کے انتظار میں ہے۔
الانشقاق 84:22
اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ تکذیب کرنے پر تل گئے ہیں ، جھٹلانا ان کا مزاج ثانی بن گیا ہے۔ تکذیب ان کی علامت ہے لیکن ان کے دلوں کے اندر جو بیماریاں ہیں اور جن کی وجہ سے انہوں نے تکذیب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔ یہ محض شرارت ہے اور برے مقاصد ہیں جو تکذیب کا سبب بن رہے ہیں۔
اب ان کی بات یہاں ختم ہوتی ہے اور روئے سخن براہ راست حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔
الانشقاق 84:23
اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ تکذیب کرنے پر تل گئے ہیں ، جھٹلانا ان کا مزاج ثانی بن گیا ہے۔ تکذیب ان کی علامت ہے لیکن ان کے دلوں کے اندر جو بیماریاں ہیں اور جن کی وجہ سے انہوں نے تکذیب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔ یہ محض شرارت ہے اور برے مقاصد ہیں جو تکذیب کا سبب بن رہے ہیں۔
اب ان کی بات یہاں ختم ہوتی ہے اور روئے سخن براہ راست حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔
الانشقاق 84:24
فبشرھم ............ الیم (24:84) ” لہٰذا ان کو درد ناک عذاب کی بشارت دے دو “۔ کیا ہی بری خوشخبری ہے جس میں کوئی مسرت نہیں ، جس کو پانے والا پسند ہی نہیں کرتا۔ نہ ایسی خوشخبری کا کوئی انتظار کرتا ہے۔ اور اہل ایمان جو تکذیب نہیں کرتے۔ ان کے لئے کیا کیا تیاریاں ہیں ؟ جو عمل صالح کے ذریعہ قیامت کی تیاریاں کرتے ہیں تو اسے تکذیب کرنے والوں کے انجام سے مستثنیٰ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔
الانشقاق 84:25
عربی زبان میں اسے استثنائے منقطع کیا جاتا ہے۔ اس لئے کہ کفار کو جو ناگوار اور سیاہ خوشخبری دی گئی ہے یا سیاہ وارنٹ دیا گیا ہے اس میں اہل ایمان کو شامل ہی نہ تھے ، لیکن اس استثنائی انداز سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کو مستثنیٰ کیا گیا وہ بہت ہی خوش قسمت ہیں۔
اور اجر غیر ممنون کیا ہے ، وہ جو ختم نہ ہو ہمیشہ باقی رہنے والا دائمی اجر۔ اس فیصلہ کن ضرت پر یہ سورت ختم ہوتی ہے۔ یہ ایک مختصر سورت ہے ، چند سطری لیکن وسیع اور فکر انگیز موضوعات بحث پیش کرتی ہے۔
البروج 85:1
واقعہ اصحاب الاخدود کی طرف آنے سے قبل سورت کا آغاز اس قسم سے ہوتا ہے ” قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی “۔” بروج “ سے مراد یا تو عظیم الجثہ اجرام فلکی ہیں ، گویا وہ آسمانوں کے عظیم الشان قلعے ہیں ، سورة ذاریات میں کہا گیا۔
والسماء .................... لموسعون (47:79) ” اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم بہت وسعت دینے والے ہیں “۔ اور سورة نازعات میں فرمایا :
ءانتم .................... بنھا (27:79) ” کیا تخلیق کے لحاظ سے تم مضبوط ہو یا آسمان جسے ہم نے بنایا “۔ اور یا بروج سے مراد وہ منزلیں ہیں جن کے اندر یہ اجرام گردش کرتے ہیں یعنی جب یہ اجرام اپنے ایک مدار کے اندر گردش کرتے ہیں اور اس سے سرموتجاوز نہیں کرسکتے اور بروج کے لفظ سے ان کی ضخامت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، یہاں اس سورت کی فضا پر ضخامت کا سایہ ڈالنا مقصود ہے۔
البروج 85:2
والیوم الموعود (2:85) ” اور قسم ہے اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے “۔ یہ وہ دن ہے جس میں دنیا کے اعمال اور واقعات کے فیصلے ہوں گے۔ اس دنیا میں جس نے جو کمایا ہوگا ، اس کی جزاء و سزا ہوگی۔ اور اس دن کو الیوم الموعود اس لئے کہا گیا کہ اس کے آنے کا اللہ نے وعدہ فرمایا تھا کہ اس دن حساب کے بعد جزاء وسزا ہوگی اور جن لوگوں پہ دنیا میں زیادتی ہوئی یا جنہوں نے کسی پر زیادتی کی اس دن تک اللہ نے ان کو مہلت دی اور یہ ایک عظیم دن ہوگا ، جس کا لوگوں کو انتظار ہے تاکہ وہ دیکھیں کہ اس کے اندر کیا فیصلے ہوتے ہیں۔
البروج 85:3
وشاھد ومشھود (3:85) ” اور دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کی “۔ اس دن لوگوں کے اعمال بھی پیش ہوں گے ، سب لوگ بھی پیش ہوں گے ، تو یہ سب مشہود ہوئے ، اور سب لوگ دیکھیں گے تو وہ شاہد بھی ہوئے ، اس دن ہر چیز پردے سے باہر آجائے گی اور ہر کسی کو نظر آئے گی۔
یہ عظیم اجرام فلکی والا آسمان ، اور یہ عظیم دن جس میں حساب و کتاب ہوگا اور سب شاہد اور مشہود جمع ہوں گے۔ ان کے ذکر سے جو فضا بنتی ہے۔ وہ اپنی عظمت ، اہمیت اور عظیم اجتماع کے لحاظ سے ، اس بات کے لئے مناسب ہے کہ اس میں اصحا بےالاخدود کا عظیم سانحہ بیان کیا جائے۔ یہ وسیع و عریض فضا گویا اس واقعہ کے بیان کے لئے اور اس حقیقت اور وزن دار بنانے کے لئے بنائی گئی یعنی قیامت کی فضا جو اس دنیا کی وسعتوں سے زیادہ وسیع ہے اور اس کی زندگی اور اس کا زمانہ اس دنیا کی محدود زندگ اور محدود زمانے سے زیادہ وسیع ہے۔
اس فضا کی تیاری کے بعد اور ایک وسیع میدان تیار کرنے کے بعد اب اس عظیم واقعہ کی طرف فقط سرسری اشاہ کیا جاتا ہے۔
البروج 85:4
اس کے بعد اخدود (گڑھوں) کی تشریح کی جاتی ہے کہ وہ کیا ہیں ؟ وہ آگ ہے بڑھکتی ہوئی ، دراصل انہوں نے زمین کے اندر گڑھے بنوائے تھے ان میں آگ جلائی تھی اور ان کو آگ سے بھر دیا تھا ، یوں گڑھوں کو دہکتی ہوئی آگ بنایا گیا۔ یعنی وہ گڑھے دہکتی ہوئی آگ سے بھرے ہوئے تھے۔
” گڑھوں والے قتل ہوئے “ وہ قتل ہونے اور اسی طرح جلائے جانے کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے جب یہ ظلم کیا تو وہ کیسے حالات میں تھے ؟
البروج 85:5
اس کے بعد اخدود (گڑھوں) کی تشریح کی جاتی ہے کہ وہ کیا ہیں ؟ وہ آگ ہے بڑھکتی ہوئی ، دراصل انہوں نے زمین کے اندر گڑھے بنوائے تھے ان میں آگ جلائی تھی اور ان کو آگ سے بھر دیا تھا ، یوں گڑھوں کو دہکتی ہوئی آگ بنایا گیا۔ یعنی وہ گڑھے دہکتی ہوئی آگ سے بھرے ہوئے تھے۔
” گڑھوں والے قتل ہوئے “ وہ قتل ہونے اور اسی طرح جلائے جانے کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے جب یہ ظلم کیا تو وہ کیسے حالات میں تھے ؟
البروج 85:6
اذھم ........................................ شھود (7:85) ” اس گڑھے میں بڑھکتی ہوئی آگ تھی جبکہ وہ اس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کررہے تھے اسے دیکھ رہے تھے “۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے کہ اس سے ان کا موقف اور انکا منظر اچھی طرح ظاہر ہورہا ہے۔ یہ لوگ آگ جلا رہے ہیں ، مومنین اور مومنات کو پکڑ پکڑ کر اس میں پھینک رہے ہیں اور ان کو کنارے پر بیٹھے جلتے دیکھ رہے ہیں۔ اس سنگدل کے فعل کو قریب سے دیکھ رہے ہیں ، سزا دہی کے طریقوں کا مشاہدہ بھی کررہے ہیں اور جوں جوں آگ ان کے اجسام کو کھاتی ہے ، یہ خوش ہورہے ہیں اور اس درد ناک منظر کو اپنے مشاہدے پر ثبت کررہے ہیں۔
اہل ایمان بےگناہ تھے ۔ ان کے ذمہ ان ظالموں کا کوئی قصاص نہ تھا۔
البروج 85:7
وما نفقموا .................................... شھید (9:85) ” اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور غالب ہے اور وہ کچھ بھی کرنا چاہے اس پر قادر ہے اور وہ الحمید ہے یعنی وہ ہر حال میں حمدوثنا کا مستحق ہے اور بذات خود محمود ہے۔ اگرچہ جاہل اور نادان لوگ اس کی حمدوثنا نہ کریں۔ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس پر ایمانلائیں اور صرف اس کی بندگی کریں اور زمین و آسمان کی بادشاہی اسی کی ہے۔ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور حاضروناظر ہے۔ اور وہ اس مخصوص واقعہ کو بھی دیکھ رہا ہے جو اہل ایمان کو پیش آیا کہ ان کو گڑھے میں پھینکا گیا۔ اس ایمان مفصل کے بیان سے اور اللہ کی شہادت سے ہر اس مومن کو تسلی ہوجاتی ہے جسے محض ایمان کی وجہ سے سرکشی اور جبار اذیت دیتے ہیں ۔ اللہ گواہ ہے اور شہادت کے لئے وہ کافی ہے۔
غرض ان مختصر آیات میں یہ قصہ ختم کردیا جاتا ہے ، لیکن ان لوگوں کا یہ فعل اور تشدد اس قدر ظالمانہ اور سنگدلانہ ہے کہ ہر قاری کا دل ان لوگوں کے خلاف نفرت اور کراہت سے بھرجاتا ہے اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ واقعہ کے اثرات ونتائج اللہ کے ہاں کیا ہوں گے۔ اللہ کے ہاں اس واقعہ کی اہمیت کیا ہوگی اور یہ ظالم اللہ کے ہاں کس غضب کے مستحق بن گئے ہیں۔ واقعہ تو اختصار کے ساتھ بیان ہوگیا لیکن انسانی سوچ میں یہ واقعہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ اللہ کے ہاں اس کے اثرات اور اس کا حساب و کتاب باقی موجود ہے۔
یہ قصہ ختم ہوگیا ، لیکن انسانی قلب اس عظیم کارنامے سے مرعوب ہوجاتا ہے کہ ایمان کٹھن آزمائش پر فتح پالیتا ہے ، نظر یہ زندگی پر ترجیح پاتا ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو زمین کی تمام دلچسپیوں اور جسم کی تمام خواہشات کو نظر انداز کردیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے ایک راہ یہ بھی تھی کہ ایمان کو چھوڑ کر زندگی کا سامان لے کر نکل جائیں ، لیکن ان کا یہ سودا کس قدر خسارے کا سودا ہوتا ، اس طرح پوری انسانیت گویا بار جاتی۔ وہ اعلیٰ انسانی قدروں کو قتل کردیتے۔ اب لوگوں کو نظریہ سے خالی زندگی حقیر نظر نہ آتی ، غلامی پر وہ راضی ہوجاتے اور لوگ اس قدر ذلیل ہوجاتے کہ جسمانی غلامی کے بعد وہ روحانی غلامی بھی قبول کرلیتے۔ لیکن یہ عظیم اقدار تھیں جن کو انہوں نے اس وقت بھی خرید اور نفع بخش سودا سمجھا جب وہ زمین پر زندہ تھے ، اور ان کو انہوں نے اس وقت بھی ترجیح دی جب ان کے جسم جل رہے تھے۔ یوں یہ روحانی قدریں فتح مند ہوتی ہیں اور یہ قدریں آگ کی بھٹی سے پاک ہوکر نکلتی ہیں۔ اس کے بعد رب کے ہاں ان کے لئے بھی اجر ہے اور ان کے دشمنوں کا بھی حساب ہوگا ، چناچہ کہا جاتا ہے۔
البروج 85:8
وما نفقموا .................................... شھید (9:85) ” اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور غالب ہے اور وہ کچھ بھی کرنا چاہے اس پر قادر ہے اور وہ الحمید ہے یعنی وہ ہر حال میں حمدوثنا کا مستحق ہے اور بذات خود محمود ہے۔ اگرچہ جاہل اور نادان لوگ اس کی حمدوثنا نہ کریں۔ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس پر ایمانلائیں اور صرف اس کی بندگی کریں اور زمین و آسمان کی بادشاہی اسی کی ہے۔ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور حاضروناظر ہے۔ اور وہ اس مخصوص واقعہ کو بھی دیکھ رہا ہے جو اہل ایمان کو پیش آیا کہ ان کو گڑھے میں پھینکا گیا۔ اس ایمان مفصل کے بیان سے اور اللہ کی شہادت سے ہر اس مومن کو تسلی ہوجاتی ہے جسے محض ایمان کی وجہ سے سرکشی اور جبار اذیت دیتے ہیں ۔ اللہ گواہ ہے اور شہادت کے لئے وہ کافی ہے۔
غرض ان مختصر آیات میں یہ قصہ ختم کردیا جاتا ہے ، لیکن ان لوگوں کا یہ فعل اور تشدد اس قدر ظالمانہ اور سنگدلانہ ہے کہ ہر قاری کا دل ان لوگوں کے خلاف نفرت اور کراہت سے بھرجاتا ہے اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ واقعہ کے اثرات ونتائج اللہ کے ہاں کیا ہوں گے۔ اللہ کے ہاں اس واقعہ کی اہمیت کیا ہوگی اور یہ ظالم اللہ کے ہاں کس غضب کے مستحق بن گئے ہیں۔ واقعہ تو اختصار کے ساتھ بیان ہوگیا لیکن انسانی سوچ میں یہ واقعہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ اللہ کے ہاں اس کے اثرات اور اس کا حساب و کتاب باقی موجود ہے۔
یہ قصہ ختم ہوگیا ، لیکن انسانی قلب اس عظیم کارنامے سے مرعوب ہوجاتا ہے کہ ایمان کٹھن آزمائش پر فتح پالیتا ہے ، نظر یہ زندگی پر ترجیح پاتا ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو زمین کی تمام دلچسپیوں اور جسم کی تمام خواہشات کو نظر انداز کردیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے ایک راہ یہ بھی تھی کہ ایمان کو چھوڑ کر زندگی کا سامان لے کر نکل جائیں ، لیکن ان کا یہ سودا کس قدر خسارے کا سودا ہوتا ، اس طرح پوری انسانیت گویا بار جاتی۔ وہ اعلیٰ انسانی قدروں کو قتل کردیتے۔ اب لوگوں کو نظریہ سے خالی زندگی حقیر نظر نہ آتی ، غلامی پر وہ راضی ہوجاتے اور لوگ اس قدر ذلیل ہوجاتے کہ جسمانی غلامی کے بعد وہ روحانی غلامی بھی قبول کرلیتے۔ لیکن یہ عظیم اقدار تھیں جن کو انہوں نے اس وقت بھی خرید اور نفع بخش سودا سمجھا جب وہ زمین پر زندہ تھے ، اور ان کو انہوں نے اس وقت بھی ترجیح دی جب ان کے جسم جل رہے تھے۔ یوں یہ روحانی قدریں فتح مند ہوتی ہیں اور یہ قدریں آگ کی بھٹی سے پاک ہوکر نکلتی ہیں۔ اس کے بعد رب کے ہاں ان کے لئے بھی اجر ہے اور ان کے دشمنوں کا بھی حساب ہوگا ، چناچہ کہا جاتا ہے۔
البروج 85:9
وما نفقموا .................................... شھید (9:85) ” اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور غالب ہے اور وہ کچھ بھی کرنا چاہے اس پر قادر ہے اور وہ الحمید ہے یعنی وہ ہر حال میں حمدوثنا کا مستحق ہے اور بذات خود محمود ہے۔ اگرچہ جاہل اور نادان لوگ اس کی حمدوثنا نہ کریں۔ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس پر ایمانلائیں اور صرف اس کی بندگی کریں اور زمین و آسمان کی بادشاہی اسی کی ہے۔ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور حاضروناظر ہے۔ اور وہ اس مخصوص واقعہ کو بھی دیکھ رہا ہے جو اہل ایمان کو پیش آیا کہ ان کو گڑھے میں پھینکا گیا۔ اس ایمان مفصل کے بیان سے اور اللہ کی شہادت سے ہر اس مومن کو تسلی ہوجاتی ہے جسے محض ایمان کی وجہ سے سرکشی اور جبار اذیت دیتے ہیں ۔ اللہ گواہ ہے اور شہادت کے لئے وہ کافی ہے۔
غرض ان مختصر آیات میں یہ قصہ ختم کردیا جاتا ہے ، لیکن ان لوگوں کا یہ فعل اور تشدد اس قدر ظالمانہ اور سنگدلانہ ہے کہ ہر قاری کا دل ان لوگوں کے خلاف نفرت اور کراہت سے بھرجاتا ہے اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ واقعہ کے اثرات ونتائج اللہ کے ہاں کیا ہوں گے۔ اللہ کے ہاں اس واقعہ کی اہمیت کیا ہوگی اور یہ ظالم اللہ کے ہاں کس غضب کے مستحق بن گئے ہیں۔ واقعہ تو اختصار کے ساتھ بیان ہوگیا لیکن انسانی سوچ میں یہ واقعہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ اللہ کے ہاں اس کے اثرات اور اس کا حساب و کتاب باقی موجود ہے۔
یہ قصہ ختم ہوگیا ، لیکن انسانی قلب اس عظیم کارنامے سے مرعوب ہوجاتا ہے کہ ایمان کٹھن آزمائش پر فتح پالیتا ہے ، نظر یہ زندگی پر ترجیح پاتا ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو زمین کی تمام دلچسپیوں اور جسم کی تمام خواہشات کو نظر انداز کردیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے ایک راہ یہ بھی تھی کہ ایمان کو چھوڑ کر زندگی کا سامان لے کر نکل جائیں ، لیکن ان کا یہ سودا کس قدر خسارے کا سودا ہوتا ، اس طرح پوری انسانیت گویا بار جاتی۔ وہ اعلیٰ انسانی قدروں کو قتل کردیتے۔ اب لوگوں کو نظریہ سے خالی زندگی حقیر نظر نہ آتی ، غلامی پر وہ راضی ہوجاتے اور لوگ اس قدر ذلیل ہوجاتے کہ جسمانی غلامی کے بعد وہ روحانی غلامی بھی قبول کرلیتے۔ لیکن یہ عظیم اقدار تھیں جن کو انہوں نے اس وقت بھی خرید اور نفع بخش سودا سمجھا جب وہ زمین پر زندہ تھے ، اور ان کو انہوں نے اس وقت بھی ترجیح دی جب ان کے جسم جل رہے تھے۔ یوں یہ روحانی قدریں فتح مند ہوتی ہیں اور یہ قدریں آگ کی بھٹی سے پاک ہوکر نکلتی ہیں۔ اس کے بعد رب کے ہاں ان کے لئے بھی اجر ہے اور ان کے دشمنوں کا بھی حساب ہوگا ، چناچہ کہا جاتا ہے۔
البروج 85:10
جو کچھ اس زمین پر ہوا ، وہ یہاں ختم نہیں ہوجاتا کہ جو ہونا تھا بس ہوچکا اور اس کے آثار بھی یہاں ختم ہوگئے۔ اس کے آثار باقی ہوتے ہیں۔ ہر کام کی سزا اور جزاء ہوتی ہے جس کے واقع ہونے پر ہی واقعہ ختم ہوتا ہے۔ اس لئے ان سرکشوں نے اہل ایمان کے ساتھ جو سلوک کیا اس کا نتیجہ ابھی نکلنے والا ہے۔ اور اللہ قیامت کے دن فیصلہ کرنے والا ہے۔
ان الذین ............................ والمومنت (10:85) ” جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پر ظلم کیا “۔ اور وہ اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتے رہے۔ ان کو کوئی شرمندگی لاحق نہ ہوئی۔
ثم لم ........................ الحریق (10:85) ” اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے یقینا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے جلائے جانے کی سزا ہے “۔ یہاں قرآن کریم نے حریق ، جلانے کی صراحت کی ہے ، معنی تو وہی ہے جو عذاب جہنم کا ہے لیکن لفظ حریق کو اس لئے لایا گیا ہے تاکہ اصحاب الاخدود کو دیئے جانے والی سزا کے بالمقابل یہاں بھی جلنے کا لفظ آجائے کیونکہ اہل ایمان کی سزا کے لئے حریق کا لفظ استعمال ہوا تھا لیکن دنیا کے جلنے اور آخرت کے جلنے میں بڑا فرق ہے۔ دونوں کے جلنے کی شدت اور مدت دونوں میں فرق ہے۔ دنیا میں جلانے والی آگ کو انسان جلاتے ہیں ، جبکہ آخرت کی آگ کو اللہ نے تیار کیا ہے۔ دنیا کی آگ تو چند لمحات تک جلاتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے لیکن آخرت کی آگ میں تو لاانتہا زمانوں تک جلتے رہیں گے۔ دنیا کے جلنے میں اللہ کی رضا پنہاں ہے اور اعلیٰ قدروں کی فتح ہے لیکن جب وہ آخرت میں جلیں گے تو اللہ کے دائمی عذاب اور غضب میں ہوں گے اور پستی ، گراوٹ اور مذمت ان کے ساتھ لازم ہوگی۔
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے وہ جنت میں ہوں گے اور وہاں اللہ کے انعامات انہیں میسر ہوں گے اور اللہ ان سے راضی ہوگا۔
البروج 85:11
ان الذین ................................ انھر (11:85) ”” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، یقینا ان کے لئے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی “۔ یہ ہے حقیقی نجات اور کامیابی۔
ذلک الفوزالکبیر (11:85) ” یہ ہے بڑی کامیابی “۔ فوز کے معنی نجات اور کامیابی کے ہیں۔ آخرت کے عذاب سے نجات پانا ہی بڑی کامیابی ہے اور باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ تو کامیابی پر کامیابی ہے۔ آخرت کے اس انجام پر اب یہ واقعہ مکمل ہوتا ہے اور یہی ہے حقیقی خاتمہ اور انجام دونوں فریقوں کے موقف کا۔ زمین میں جو واقعات ہوتے ہیں وہ حقیقی واقعات کا ایک حصہ ہوتے ہیں ، یہ تمام واقعہ نہیں ہوتے ، اس واقعہ پر آگے جو تبصرے آتے ہیں ان میں سے پہلا تبصرہ اسی غرض کے لئے ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں یہ حقیقت بٹھا دی جائے کہ واقعات دنیا ہی میں ختم نہیں ہوتے۔ اس دور میں ، جب یہ سورت نازل ہوئی مکہ مکرمہ میں مٹھی بھر مسلمان اس قسم کی مصیبتیں جھیل رہے تھے اسی طرح دنیا کے کسی زمان ومکان ہیں جو لوگ اسلام کے لئے کام کرتے ہیں اور ان پر تشدد ہوتا ہے تو ان کو بھی یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان فتنہ سامانیوں کا انجام قیامت میں سامنے آئے گا۔
البروج 85:12
یہاں اللہ کی پکڑ کو اس لئے شدید کہا گیا کہ اس زیر بحث واقعہ میں ان سرکشوں نے اہل ایمان کو جو سزا دی وہ ان کے خیال میں شدید سزا تھی۔ لوگوں کے خیال میں بھی شدید تھی لیکن یہاں کہا جاتا ہے کہ حقیقی پکڑ کر اللہ جبار وقہار کی پکڑ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے ، ان لوگوں کی سزا کیا سزا ہوگی جو زمین سے ایک ٹکڑے پر ایک محدود سا اقتدار رکھتے ہوں اور جو خود بھی ضعیف اور حقیر ہیں اور ان کا اقتدار بھی محدود وقت کے لئے ہے۔
یہ بات یہاں نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ قائل رب تعالیٰ اور مخاطب حضرت محمد ﷺ کے درمیان تعلق کے اظہار کے لئے (ربک) کا لفظ لایا گیا ہے۔ یہ تمہارا رب ہے جس کی ربوبیت کی طرف آپ کی نسبت ہے اور جس کی امداد اور نصرت پر آپ کو بھروسہ ہے۔ اور جب فساق وفجار اہل ایمان پر تشدد کررہے ہوں تو ایسے حالات میں اللہ کے ساتھ تعلق ہی اہم سازوسامان ہوتا ہے۔
البروج 85:13
اصولی طور پر ابتدا اور اعادہ حیات کا مفہوم ابتدائے حیات اور موت کے بعد قیامت میں حیات ثانی کے ساتھ مختص ہے۔ لیکن رات اور دن کے ہر لمحہ میں آغاز حیات اور اعادہ حیات کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ہر لمحہ آغاز حیات اور تخلیق حیات کا عمل جاری ہے۔ اللہ نے ایک ایسا نظام وضع کیا ہے جس کے ذریعہ حیات کا تسلسل قائم ہے۔ جو چیز ہوتی ہے اس کا اعادہ ہوتا رہتا ہے۔ اور یہ کائنات مسلسل نئی زندگی پاتی رہتی ہے۔ آغاز اور اعادہ کے اس مسلسل نظام میں اصحاب اخدود کا واقعہ بھی اپنے نتائج کے ساتھ گزر گیا۔ اللہ نے ایسا ہی طے کیا تھا ، جو ہوگیا اور ایسے ہی واقعات ہوتے رہیں گے۔ یہ واقعہ آغاز تھا جس کا اعادہ ہوگا ، یا اس قسم کے پہلے واقعات کا اعادہ تھا ، بہرحال اس دنیا میں واقعات کی ابتدا بھی ہوتی ہے اور اعادہ بھی ہوتا ہے اور یہ سب اللہ کی کتاب تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔
البروج 85:14
یہاں مغفرت کا تعلق اور ربط آیت ماقبل سے ہے۔
ثم لم یتوبوا (10:85) ” پھر اس سے تائب نہ ہوئے “۔ یہ اللہ کی بےپایاں رحمت اور اللہ کا فضل عظیم ہے۔ اور ایک کھلا دروازہ ہے اور یہ ہر واپس آنے والے اور ہر توبہ تائب ہونے والے کے لئے کھلا ہے۔ اگرچہ اس کا گناہ اور اس کی معصیت نہایت سخت ہو۔ لفظ ودود (محبت کرنے والا) کا تعلق اہل ایمان سے ہے جنہوں نے ہر چیز پر اپنے رب کو ترجیح دی۔ یہ وہ مقام محبت اور وہ مقام انس ہے جہاں تک اللہ کے خاص بندے ہی پہنچ سکتے ہیں۔ اس مقام تک اللہ صرف ان بندوں کو ترقی دیتا ہے ، جو اللہ کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہیں کہ ہر چیز پر ، محبوب سے محبوب چیز پر اللہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان بندوں کی صفت سے انسانی قلم قاصر ہے ، الایہ کہ کسی قلم کو اللہ طاقت دے۔ یہ مقام بلند جس تک ان مخصوص بندوں کو عروج نصیب ہوتا ہے ، یہ اللہ کی محبت اور سچی دوستی کا مقام ہے۔ رب اور بندے کے درمیان دوستی ! اور اللہ کی جانب سے اپنے محبوبوں اور مقربین کے ساتھ محبت کا مقام ! لہٰذا اس مرتبہ ومقام کے مقابلے میں اس زندگی کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو بہر حال ختم ہونے والی تھی ، اور اس مرتبہ ومقام کے مقابلے میں اس عذاب حریق کی بھی کوئی حیثیت نہیں جو بہرحال ایک محدود وقت کے لئے تھا ، یہ قربانیاں تو اللہ کی جانب سے محبت اور دوستی کے ایک لمحے کے برابر بھی نہیں ہیں۔
اس زمین میں جو لوگ کسی ایک شخص کے غلام ہوتے ہیں۔ اگر یہ مجازی مالک ان کی تعریف میں ایک کلمہ بھی کہہ دے اور اگر وہ دیکھ لیں کہ ان کے کسی فعل سے مال مجازی کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوگئے ہیں ، یہ غلام بہرحال غلام ہے اور وہ مالک مجازی بھی اللہ کا بندہ اور غلام ہے۔ لیکن اللہ کے خاص بندے جن کے ساتھ اللہ محبت کرتا ہے ، جن کے ساتھ محبت کرنے والا رب جلیل ہوتا ہے اور وہ عرش کا مالک ہوتا ہے ، جو بلند اور برتر ہے ، اور کریم ہوتا ہے تو ان بندے کی جان اگر جاتی ہے تو کچھ بھی نہیں ، اگر ان پر تشدد ہوتا ہے تو کچھ بھی نہیں۔ دنیا کی پوری زندگی میں اگر تشدد ہوتا رہے تو بھی اس لمحہ محبت پر وہ قربان ہے جو رب ودود کی طرف سے محبت کا لمحہ ہے جو عرش کا مالک ہے اور عظیم ہے۔
ذوالعرش المجید (15:85) ” عرش کا مالک ہے ، بزرگ اور برتر ہے “۔
البروج 85:15
یہاں مغفرت کا تعلق اور ربط آیت ماقبل سے ہے۔
ثم لم یتوبوا (10:85) ” پھر اس سے تائب نہ ہوئے “۔ یہ اللہ کی بےپایاں رحمت اور اللہ کا فضل عظیم ہے۔ اور ایک کھلا دروازہ ہے اور یہ ہر واپس آنے والے اور ہر توبہ تائب ہونے والے کے لئے کھلا ہے۔ اگرچہ اس کا گناہ اور اس کی معصیت نہایت سخت ہو۔ لفظ ودود (محبت کرنے والا) کا تعلق اہل ایمان سے ہے جنہوں نے ہر چیز پر اپنے رب کو ترجیح دی۔ یہ وہ مقام محبت اور وہ مقام انس ہے جہاں تک اللہ کے خاص بندے ہی پہنچ سکتے ہیں۔ اس مقام تک اللہ صرف ان بندوں کو ترقی دیتا ہے ، جو اللہ کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہیں کہ ہر چیز پر ، محبوب سے محبوب چیز پر اللہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان بندوں کی صفت سے انسانی قلم قاصر ہے ، الایہ کہ کسی قلم کو اللہ طاقت دے۔ یہ مقام بلند جس تک ان مخصوص بندوں کو عروج نصیب ہوتا ہے ، یہ اللہ کی محبت اور سچی دوستی کا مقام ہے۔ رب اور بندے کے درمیان دوستی ! اور اللہ کی جانب سے اپنے محبوبوں اور مقربین کے ساتھ محبت کا مقام ! لہٰذا اس مرتبہ ومقام کے مقابلے میں اس زندگی کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو بہر حال ختم ہونے والی تھی ، اور اس مرتبہ ومقام کے مقابلے میں اس عذاب حریق کی بھی کوئی حیثیت نہیں جو بہرحال ایک محدود وقت کے لئے تھا ، یہ قربانیاں تو اللہ کی جانب سے محبت اور دوستی کے ایک لمحے کے برابر بھی نہیں ہیں۔
اس زمین میں جو لوگ کسی ایک شخص کے غلام ہوتے ہیں۔ اگر یہ مجازی مالک ان کی تعریف میں ایک کلمہ بھی کہہ دے اور اگر وہ دیکھ لیں کہ ان کے کسی فعل سے مال مجازی کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوگئے ہیں ، یہ غلام بہرحال غلام ہے اور وہ مالک مجازی بھی اللہ کا بندہ اور غلام ہے۔ لیکن اللہ کے خاص بندے جن کے ساتھ اللہ محبت کرتا ہے ، جن کے ساتھ محبت کرنے والا رب جلیل ہوتا ہے اور وہ عرش کا مالک ہوتا ہے ، جو بلند اور برتر ہے ، اور کریم ہوتا ہے تو ان بندے کی جان اگر جاتی ہے تو کچھ بھی نہیں ، اگر ان پر تشدد ہوتا ہے تو کچھ بھی نہیں۔ دنیا کی پوری زندگی میں اگر تشدد ہوتا رہے تو بھی اس لمحہ محبت پر وہ قربان ہے جو رب ودود کی طرف سے محبت کا لمحہ ہے جو عرش کا مالک ہے اور عظیم ہے۔
ذوالعرش المجید (15:85) ” عرش کا مالک ہے ، بزرگ اور برتر ہے “۔
البروج 85:16
یہ اللہ کی وہ صفت ہے جو ہر وقت سامنے آتی رہتی ہے۔ مسلسل روبعمل رہتی ہے۔ اللہ جو کچھ چاہے ، کر ڈالنے والا ہے۔ اس کا ارادہ بےقید ہے ، جو چاہتا ہے اختیار کرلیتا ہے ، جو چاہتا ہے ، کرتا ہے ، اور یہ صفت دائمی اور ابدی ہے ، یہ اللہ کی صفت ہے۔
بعض اوقات اللہ چاہتا ہے کہ اس دنیا ہی میں اہل ایمان کو فتح نصیب ہو اور اس میں کوئی حکمت ہوتی ہے ، بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایمان کو عذاب پر ترجیح ملتی ہے۔ فانی جسم تو چلے جاتے ہیں ، لیکن ایمان باقی رہتا ہے اور اس میں بھی حکمت ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ جباروں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس میں حکمت ہوتی ہے اور بعض اوقات ایسے ہی دوسرے جباروں کو مہلت دیتا ہے اور اس میں بھی حکمت ہوتی ہے۔ اس کے سب کام اس کی تقدیر کے مطابق حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔
یہ اللہ کی حکمتیں ہیں ، اخدودوالوں نے اہل ایمان کو ہلاک کردیا ، اور ان کو مہلت ملی اور فرعون اور ثمود کو اللہ نے ہلاک کیا۔ یہ سب واقعات اللہ کا ارادہ مطلقہ اور اس کی حکمت اور تقدیر کے مطابق ہوئے۔ اور اللہ کا بےقیدارادہ اسی طرح اس پوری کائنات میں انہیں حکمت کے مطابق کام کرتا ہے۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ، کر گزرتا ہے ۔ اسی کا ایک نمونہ یوں ہے۔
البروج 85:17
یہ دو طویل قصوں کی طرف اشارہ ہے ، اس لئے فرعون اور قوم ثمود کی باتیں مخاطبین کو معلوم تھیں۔ قرآن کریم نے دونوں قصوں کو بار بار بیان کیا ہے۔ یہاں ان کو جنود اس لئے کہا گیا کہ وہ بہت ہی طاقتور تھے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کا قصہ کیا ہے اور تمہارے رب نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا ؟ اللہ تو جو چاہے کر گزرتا ہے۔
فرعون اور ثمود دونوں کے قصے اپنی نوعیت اور نتائج کے اعتبار سے مختلف تھے۔ فرعون کو تو اللہ نے معہ اپنے لشکرکے ، غرق کیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔ ان کو ایک عرصہ تک زمین کا اقتدار سونپا گیا تاکہ ان کے ذریعہ اللہ نے اپنی تقدیر کو ظاہر کرے اور اپنے ارادے پورے کرے۔ رہے ثمود تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی معیت میں ایک چھوٹی سی تعداد نے نجات پائی لیکن اس کے بعد اس تعداد کو زمین کا اقتدار نہ دیا گیا تھا ، صرف یہ ہوا کہ ان فاسقوں سے ان کو نجات ملی۔
یہ دونوں واقعات اللہ کے ارادہ مطلقہ اور اللہ کی بےقید مشیت کا نمونہ تھے۔ اور دعوت اسلامی کے دو نمونے تھے کہ ان کے دو نتائج میں سے کوئی نتیجہ نکلنے کا احتمال ہے۔ ہاں ایک تیسرا احتمال بھی ہے جو اصحاب اخدود کو پیش آیا۔ یہ واقعات مکہ میں کام کرنے والی مٹھی بھرتحریک اسلامی کو بتائے جارہے تھے کہ دعوت الی اللہ کو ان میں سے کوئی واقعہ پیش آسکتا ہے ، نہ صرف مکہ میں کام کرنے والے مسلمانوں کو یہ نقشہ دکھایا جارہا تھا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی۔
آخر میں پردہ احساس پر دو قومی ضربات لگائی جاتی ہیں ، دونوں میں ایک فیصلہ کن بات ہے اور آخری فیصلہ ہے۔
البروج 85:18
یہ دو طویل قصوں کی طرف اشارہ ہے ، اس لئے فرعون اور قوم ثمود کی باتیں مخاطبین کو معلوم تھیں۔ قرآن کریم نے دونوں قصوں کو بار بار بیان کیا ہے۔ یہاں ان کو جنود اس لئے کہا گیا کہ وہ بہت ہی طاقتور تھے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کا قصہ کیا ہے اور تمہارے رب نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا ؟ اللہ تو جو چاہے کر گزرتا ہے۔
فرعون اور ثمود دونوں کے قصے اپنی نوعیت اور نتائج کے اعتبار سے مختلف تھے۔ فرعون کو تو اللہ نے معہ اپنے لشکرکے ، غرق کیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔ ان کو ایک عرصہ تک زمین کا اقتدار سونپا گیا تاکہ ان کے ذریعہ اللہ نے اپنی تقدیر کو ظاہر کرے اور اپنے ارادے پورے کرے۔ رہے ثمود تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی معیت میں ایک چھوٹی سی تعداد نے نجات پائی لیکن اس کے بعد اس تعداد کو زمین کا اقتدار نہ دیا گیا تھا ، صرف یہ ہوا کہ ان فاسقوں سے ان کو نجات ملی۔
یہ دونوں واقعات اللہ کے ارادہ مطلقہ اور اللہ کی بےقید مشیت کا نمونہ تھے۔ اور دعوت اسلامی کے دو نمونے تھے کہ ان کے دو نتائج میں سے کوئی نتیجہ نکلنے کا احتمال ہے۔ ہاں ایک تیسرا احتمال بھی ہے جو اصحاب اخدود کو پیش آیا۔ یہ واقعات مکہ میں کام کرنے والی مٹھی بھرتحریک اسلامی کو بتائے جارہے تھے کہ دعوت الی اللہ کو ان میں سے کوئی واقعہ پیش آسکتا ہے ، نہ صرف مکہ میں کام کرنے والے مسلمانوں کو یہ نقشہ دکھایا جارہا تھا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی۔
آخر میں پردہ احساس پر دو قومی ضربات لگائی جاتی ہیں ، دونوں میں ایک فیصلہ کن بات ہے اور آخری فیصلہ ہے۔
البروج 85:19
ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ رات دن جھٹلاتے ہی رہتے ہیں ، حالانکہ اللہ نے انہیں گھیررکھا ہے اور اللہ کا قہر وغضب بھی انہیں گھیرے ہوئے رہے اور اللہ کا علم بھی۔ وہ تو ایسے ہیں جیسے ایک عام سیلابی طوفان میں چوہوں کا حال ہوتا ہے۔
البروج 85:20
ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ رات دن جھٹلاتے ہی رہتے ہیں ، حالانکہ اللہ نے انہیں گھیررکھا ہے اور اللہ کا قہر وغضب بھی انہیں گھیرے ہوئے رہے اور اللہ کا علم بھی۔ وہ تو ایسے ہیں جیسے ایک عام سیلابی طوفان میں چوہوں کا حال ہوتا ہے۔
البروج 85:21
مجید کے معنی ہیں بلند قابل قدر اور گہری اصلیت والا ، اللہ کے کلام کے علاوہ یہ صفات کس پر صادق آسکتی ہیں۔ یہ کلام لوح محفوظ میں ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ لوح محفوظ کی نوعیت کیسی ہوگی کیونکہ یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے۔ ہم تو وہ پر توجان سکتے ہیں جو اس تعبیر سے ذہن پر پڑتا ہے یا دل جو اشارہ قبول کرتے ہیں اور وہ اشارات یہ ہیں کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے۔ اور ہر معاملے میں اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔ تمام باتیں ختم ہوسکتی ہیں لیکن یہ محفوظ ہے۔ یہ بات تو واقعہ اخدود میں کہی گئی ہے لیکن تمام معاملات میں قرآن کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔
البروج 85:22
مجید کے معنی ہیں بلند قابل قدر اور گہری اصلیت والا ، اللہ کے کلام کے علاوہ یہ صفات کس پر صادق آسکتی ہیں۔ یہ کلام لوح محفوظ میں ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ لوح محفوظ کی نوعیت کیسی ہوگی کیونکہ یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے۔ ہم تو وہ پر توجان سکتے ہیں جو اس تعبیر سے ذہن پر پڑتا ہے یا دل جو اشارہ قبول کرتے ہیں اور وہ اشارات یہ ہیں کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے۔ اور ہر معاملے میں اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔ تمام باتیں ختم ہوسکتی ہیں لیکن یہ محفوظ ہے۔ یہ بات تو واقعہ اخدود میں کہی گئی ہے لیکن تمام معاملات میں قرآن کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔
الطارق 86:1
سورة الطارق ایک نظر میں
اس پارے کے ابتدائیہ میں ہم نے بتایا تھا کہ یہ سورت دراصل انسان کے خوابیدہ احساس پر پے درپے شدید ضربات ہیں ، شدید ترین ضربات اور ایسی بےساختہ چیخ و پکار پر مشتمل ہے ، جو کسی ایسے شخص کو جگانے کے لئے کی جاتی ہے جو غفلت کی نیند میں غرق ہو ، یہ ضربات اور ان کے ساتھ یہ بےساختہ آوازیں کچھ اس مضمون کی ہیں۔ اٹھو ، جاگو ، دیکھو ، توجہ کرو ، غور کرو ، گہری سوچ سے کام لو۔ آخر اس کارخانہ قدرت کا ایک چلانے والا ہے۔ اس کائنات کی پشت پر ایک حکیمانہ قوت کام کررہی ہے۔ یہ پوری کائنات ایک لگے بندھے ضابطے کے مطابق چل رہی ہے۔ دیکھو اس جہاں میں تمہارا امتحان ہورہا ہے۔ تم اپنے اقوال وافعال کے ذمہ دار ہو ، پوری زندگی کا حساب و کتاب تم نے پیش کرنا ہے۔ ایک شدید عذاب بھی تیار ہے اور ایک عظیم نعمتوں بھری جنت بھی موجود ہے جس کا ایک عظیم مملکت کی طرح نظام ہے۔
یہ سورت ان خصوصیات کا نمونہ ہے۔ اس کی ضربات میں اسی طرح شدت ہے جس طرح ان کے مناظر شدید ہیں۔ موسیقی کا انداز بھی شدید ہے۔ الفاظ کا ترنم بھی شدید ہے ، اور معنوی اشارات میں بھی شدت ہے۔ مثلا الطارق ، الثاقب ، الدافق ، الرجع اور الصدع کے الفاظ لفظی اور معنوی اور ترنم میں شدت رکھتے ہیں۔
معنوی سختی کا نمونہ یہ ہے کہ ہر نفس کی نگرانی ہورہی ہے۔
ان کل .................... حافظ (4:86) ” کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو “۔ اور قیامت کے دن ایسے شدید حالات ہوں گے کہ کسی کے پاس نہ کوئی اپنی طاقت ہوگی اور کوئی مددگار ہوگا۔
یوم تبلی ............................ ولا ناصر (10:86) ” جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی اس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا “۔ اور یہ قرآن کا آخری اور فیصلہ کن بات ہے۔
انہ لقول ........................ بالھزل (14:86) ” یہ ایک جچی تلی بات ہے یعنی مذاق نہیں ہے “۔ پھر اس سورة میں جو دھمکی دی گئی اس میں شدت اور سختی کا انداز شامل ہے۔
انھم ............................ رویدا (17:86)
” یہ لوگ کچھ چالیں چل رہے ہیں۔ میں بھی ایک چال چل رہا ہوں ، پس چھوڑ دو اے نبی ان کافروں کو ایک ذرا کی ذرا ان کے حال پر “۔
جس طرح ہم نے پارے کے مقدمہ میں کہا تھا اس میں وہ تمام موضوعات پائے جاتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک الٰہ ہے ، یہ کائنات ایک تدبیر اور تقدیر کے مطابق چل رہی ہے۔ یہ زندگی ایک آزمائش ہے ، انسان یہاں اپنے افعال واقوال کا ذمہ دار ہے اور ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ جہاں جزاء وسزا ہوگی وغیرہ وغیرہ۔
جن کائناتی مناظر کو پیش کیا گیا ہے اور جن نظریاتی مقاصد کو پیش کیا گیا ہے ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مطابقت ہے۔ اور اس کی تفصیلی فصاحت اس وقت ہوگی جب ہم قرآن کریم کی آیات بھی بحث کریں گے۔ اپنے انداز بیان کے اعتبار سے قرآن کی آیات بو بےمثال حسن رکھتی ہیں۔
الطارق 86:2
وما ادرک ................ الطارق (2:86) ” تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا (طارق) کیا ہے ؟ “۔ گویا وہ ایک ایسی چیز ہے کہ انسان ادرک سے ماوراء ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید خود اس کی تعریف اور وضاحت کرتا ہے کہ وہ النجم الثاقب (3:86) ” چمکتا ہوا تارا “ ہے اسے ثاقب اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی شعاعوں کے ذریعہ تاریکیوں کو پھاڑ کر اپنی روشنی زمین پر پھینکتا ہے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے ہر ستارہ نجم ثاقب ہے۔ اس آیت سے ہم معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ ستارہ کون سا ہے اور نہ اس تعین کی چنداں ضرورت ہے بلکہ اس سے مطلق ستارہ مراد لینا ہی بہتر ہے۔ اس طرح مفہوم یہ ہوگا ” قسم ہے آسمان کی اور اس کے اندر موجود چمکتے ہوئے ستاروں کی جو تاریکیوں کو پھاڑ کر روشنی پہنچاتے ہیں “ اور وہ اس روشنی کے ذریعہ اس پردہ تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوجاتے ہیں جو دوسری چیزوں کو چھپا لیتا ہے۔ اس مفہوم سے سورت کے اندر بیان ہونے والے حقائق اور مفاہیم کی طرف بھی اشارہ ہوگا جیسا کہ آگے تشریح میں آرہا ہے۔
جواب قسم یہ ہے کہ ہر نفس سے اوپر اللہ نے اپنے حکم سے ایک نگران مقرر کررکھا ہے۔
الطارق 86:3
وما ادرک ................ الطارق (2:86) ” تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا (طارق) کیا ہے ؟ “۔ گویا وہ ایک ایسی چیز ہے کہ انسان ادرک سے ماوراء ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید خود اس کی تعریف اور وضاحت کرتا ہے کہ وہ النجم الثاقب (3:86) ” چمکتا ہوا تارا “ ہے اسے ثاقب اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی شعاعوں کے ذریعہ تاریکیوں کو پھاڑ کر اپنی روشنی زمین پر پھینکتا ہے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے ہر ستارہ نجم ثاقب ہے۔ اس آیت سے ہم معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ ستارہ کون سا ہے اور نہ اس تعین کی چنداں ضرورت ہے بلکہ اس سے مطلق ستارہ مراد لینا ہی بہتر ہے۔ اس طرح مفہوم یہ ہوگا ” قسم ہے آسمان کی اور اس کے اندر موجود چمکتے ہوئے ستاروں کی جو تاریکیوں کو پھاڑ کر روشنی پہنچاتے ہیں “ اور وہ اس روشنی کے ذریعہ اس پردہ تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوجاتے ہیں جو دوسری چیزوں کو چھپا لیتا ہے۔ اس مفہوم سے سورت کے اندر بیان ہونے والے حقائق اور مفاہیم کی طرف بھی اشارہ ہوگا جیسا کہ آگے تشریح میں آرہا ہے۔
جواب قسم یہ ہے کہ ہر نفس سے اوپر اللہ نے اپنے حکم سے ایک نگران مقرر کررکھا ہے۔
الطارق 86:4
ان کل .................. حافظ (4:86) ” کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو “۔ جن الفاظ اور جس ترکیب میں یہ بات کہی گئی ہے وہ سخت تاکیدی اسلوب ہے۔ نفی و اثبات کہ کوئی نفس نہیں ہے مگر اس پر نگراں مقرر ہے۔ جو اس کی نگرانی بھی کرتا ہے اور اس کے اعمال کو بھی لکھتا ہے۔ اور یہ نگران اس کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اس کی تقرری اللہ کے حکم سے ہے۔ ان تمام باتوں کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا ہے کیونکہ تمام انسانی راز تمام انسانی افکار ، انسانی نفس کے اندر ہوتے ہیں اور یہ نفس ہی سزا وجزا کا ذمہ دار ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کو یونہی نہیں چھوڑ دیا گیا کہ شتر بےمہار کی طرح جہاں چاہیں گھومیں پھریں اور ان کا کوئی محافظ اور چرواہا نہ ہو ، اور ان کو زمین کی وادیوں میں بغیر نگراں کے چھوڑ دیا گیا ہو ، کہ جہاں چاہیں گھومیں اور جہاں چاہیں چریں اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو ، بلکہ انسانوں کے اعمال کو بڑی دقت کے ساتھ ریکارڈ کیا جارہا ہے اور یہ ریکارڈ ہر شخص کا براہ راست تیار ہورہا ہے اور نہایت صفائی کے ساتھ ہورہا ہے۔
یہ آیت اس بات اور خوفناک حقیقت کو سامنے لاتی ہے کہ انسان چاہے بظاہر اکیلا ہو ، اکیلا کسی وقت نہیں ہوتا ، جب دنیا میں کوئی بھی دیکھنے والا نہ ہو تو اللہ اور اللہ کا نمائندہ دیکھ رہا ہے اور ریکارڈ کررہا ہے ، اگر کوئی دنیاوی آنکھ اسے نہیں بھی دیکھ رہی اور کسی ستارے کی چمک بھی اس تک نہیں پہنچ رہی تو اللہ کی نظریں اس پر ہیں اور اللہ کا مقرر کردہ نگران ساتھ لگا ہوا ہے۔ اس طرح جس طرح نجم ثاقب کی روشنی تاریکیوں کو پھاڑ پہنچ جاتی ہے ۔ اسی طرح اللہ کی نگرانی میں بھی کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ اور اللہ کا مقرر کردہ نگران ساتھ لگا ہوا ہے۔ اس طرح جس طرح نجم ثاقب کی روشنی تاریکیوں کو پھاڑ پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ کی نگرانی میں بھی کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ اور اللہ کے کمالات یکساں ہیں ، وہ جس طرح آفاق میں کام کرتے ہیں اسی طرح انفس میں بھی کرتے ہیں۔
یہ چٹکی کے ذریعہ نفس انسانی کے احساس کو بیدار کرکے اسے کائنات سے جوڑ دیا گیا ، اب ایک دوسری چٹکی کے ذریعہ اللہ کی گہری تدبیر اور اٹل تقدیر کے بارے میں اس کے احساس کو بیدار کیا جاتا ہے۔ آسمانوں اور ستاروں کی قسم اٹھا کر اس گہری تدبیر کی طرف اشارہ تھا۔ اب بتایا جاتا ہے کہ انسان اور زمین اور ستاروں کی بات تو دور کی بات ہے یہ تمہارا نفس بھی کرشمہ قدرت ہے۔ خود انسان کی تخلیق ہی بتاتی ہے کہ یہ انسان شتر بےمہار نہیں ہے اور نہ خود رو ہے۔ اور نہ بےمقصد سلسلہ وجود وعدم ہے۔
الطارق 86:5
انسان کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے کیا بن گیا۔ ایک ایسے پانی سے پیدا کیا جو اچھل کر جسم انسانی سے نکلتا ہے اور یہ آتا کہاں سے ہے ، انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یہ پانی مرد کی ریڑھ کی ہڈیوں سے جمع ہوتا ہے۔ اور عورت کی سینے کی بالائی ہڈیوں سے نکلتا ہے اور اس پانی کا بننا اور اس کا یوں خارج ہونا اللہ کے رازوں میں سے ایک راز تھا جسے انسان ابھی تک نہیں جانتا تھا ، گزشتہ نصف صدی میں سائنس نے اپنے اسلوب تحقیق کے مطابق اس کے بعض پہلوﺅں سے پردہ اٹھایا اور معلوم ہوا کہ انسان کی پیٹھ کی ہیوں اور عورت کے سینے کی بلائی ہڈیوں کے اندر عورت کا مادہ منوبہ بنتا ہے اور یہ دونوں مواد جب ایک نہایت ہی محفوظ جگہ میں اکٹھے ہوتے ہیں تو پھر ان سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔
حقیقت ہے کہ انسان کی ابتدائی پیدائش اور آخری شکل تمام کے درمیان ایک طویل اور خوفناک سفر ہے۔ وہ پانی جو ریڑھ کی ہڈیوں اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے اس کے اور پھر ایک مکمل شکل و صورت کے انسان کے درمیان ایک طویل سفر ہے ، جو عقل بھی رکھتا ہے۔ وہ عضوی ، اعصابی ، عقلی اور نفسیاتی پیچیدہ ترکیب بھی رکھتا ہے۔ یہ سفر جو اچھلتا پانی طے کرکے ایک عاقل وبالغ انسان کی شکل اختیار کرلیتا ہے ، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے باہر ایک قوت ہے جو اس مائع پانی کو ایک سمت میں چلاتی ہے ، جبکہ ابتدائی حالت میں اس پانی کے اندر نہ قدرت ہے نہ کوئی ہیولا ہے ، یہ پانی یہ طویل سفر نہایت ہی عجیب و غریب انداز میں طے کرتا ہے اور اس انجام تک پہنچتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس پر ایک نگران مقرر ہے کہ وہ اس باریک نکتے کی نگرانی کرتا ہے جس کے اندر نہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس پر ایک نگران مقرر ہے کہ وہ اس باریک نکتے کی نگرانی کرتا ہے جس کے اندر نہ عقل ہے اور نہ اس کے اندر کوئی ہیولا نظر آتا ہے۔ نہ قوت ہے اور نہ ارادہ ہے اور اس نکتے کے اس طویل سفر میں مسلسل نگران رہتا ہے۔ اس نکتے کے اندر اس قدر عجائب ہیں کہ انسان اپنی شعوری زندگی کے آغاز سے انتہا تک اس قدر عجائب وغرائب نہیں دیکھ سکتا۔
یہ ایک نکتہ نہایت ہی باریک نکتہ ہوتا ہے اور یہ نہایت طاقتور خوردبین سے بھی بمشکل نظر آتا ہے۔ یہ پانی جب ایک بار مرد کی پشت سے اچھل کر نکلتا ہے تو اس کے اندر ایسے کروڑوں نکتے ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک نکتہ اپنے مقام تک پہنچتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اس نکتے کی کوئی شکل نہیں ہوتی اس کے اندر عقل نہیں ہوتی ، اس کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی ، اور کوئی ارادہ نہیں ہوتا ، اس وقت معلوم ہوجاتی ہے جب یہ نکتہ رحم مادر میں جاکر ٹھہرتا ہے اور پھر غذا کا متلاشی ہوتا ہے۔ اب دست قدرت اس کی رہنمائی یوں کرتا ہے کہ یہ نکتہ اپنے ارد گرد پائے جانے والے رحم مادر کی دیواروں کو کھانا شروع کردیتا ہے اور یہ رحم مادر کے اندر اپنے لئے خون کا ایک حوض بنا لیتا ہے۔ یہ خون اس کے لئے غذا کا کام کرتا ہے۔ جونہی اسے اطمینان ہوتا ہے کہ اس کی خوراک کا انتظام ہوگیا ہے۔ یہ ایک نئی کاروائی شروع کرتا ہے۔ اب یہ تقسیم در تقسیم ہونا شروع کرتا ہے۔ اور مسلسل تقسیم ہوتا رہتا ہے۔ یہ سادہ ، بےعقل اور بےشکل اور ضعیف وناتواں اور قوت و ارادے سے محروم خلیے کو معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کس طرف بڑھنا ہے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے قوت وا ارادہ سے نوازتا ہے کہ اسے کدھر جانا ہے اور کیا شکل اختیار کرنی ہے۔ دست قدرت اسے حکم دیتا ہے کہ وہ اس مسلسل تقسیم کے عمل سے پیدا ہونے والے خلیوں کو اس کام میں لگادے جس کے لئے انہیں پیدا کیا جارہا ہے۔ اس عمارت کے جس حصے کے لئے خلیے پیدا ہوتے ہیں وہ اس عضو کی طرف بڑھتے ہیں جبکہ جسم انسانی کی عمارت مجموعی اعتبار سے بےحد پیچیدہ عمارت ہے۔ تقسیم کے عمل سے پیدا ہونے والے یہ خلیے مسلسل چلتے ہیں اور ان اعضا کی شکل میں جمع ہوتے ہیں اور آخر کاء یہ عظیم ہیکل تیار ہوتا ہے۔ یہ خلیے انسان کے جسم کے اندر عضلاتی نظام تیار کرتے ہیں۔ پھر ان کا ایک گروپ اعضابی نظام تیار کرتا ہے۔ ان کا ایک گروپ شرائین کا جال بچھاتا ہے۔ یہ اور اس عمارت کے دوسرے پیچیدہ نظام تیار ہوتے ہیں لیکن یہ تعمیر وتشکیل کا عمل اس قدر سادہ نہیں ہے جس طرح سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کے اندر نہایت ہی گہری ٹیکنالوجی کام کرتی ہے۔ ہڈیوں میں سے ہر ہڈی ، عضلات میں سے ہر ایک عضلا اور اعصاب میں سے ہر ایک پٹھا ، کسی دوسری ہڈی ، پٹھے کے پوری طرح مشابہ اور یکساں نہیں ہے۔ کوئی پٹھا دوسرے اعصاب کے ساتھ یکساں نہیں ہے کیونکہ یہ عمارت بےحد پیچیدہ ہے۔ اس کی ساخت بھی نہایت عجیب ہے۔ ہر ایک کا فعل اور فریضہ الگ ہے۔ اس لئے ہر خلیہ معلم قدرت سے یہ بات سیکھتا ہے اور اخذ کرتا ہے کہ وہ کس مخصوص عضو کے لئے مخصوص ہے۔ اور اس نے اس عضو کے اندر پھر کیا ڈیوٹی سرانجام دینی ہے۔ اس لئے جسم کے اندر جو چھوٹے سے چھوٹا خلیہ بھی حرکت کرتا ہے ، معلم قدرت کی رہنمائی میں وہ اپنی راہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس نے کہاں جانا ہے اور اس کی ڈیوٹی کیا ہے اور اس نے کیا کرنا ہے۔ کوئی ایک خلیہ یا ان کا گروپ بھی کبھی اپنی راہ غلط نہیں کرتا۔ مثلاً جو خلیے آنکھ بناتے ہیں ، ان کو معلوم ہوتا ہے کہ آنکھ سر میں ہوتی ہے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ وہ پیٹ یا پاﺅں یا بازوﺅں میں آنکھیں بنائیں۔ حالانکہ اگر اللہ چاہے تو وہ پیٹ ، ہاتھ اور پاﺅں میں کسی جگہ آنکھ بنا دے۔ اگر آنکھ بناننے والا پہلا خلیہ ان مقامات کی طرف چلا جائے اور وہاں آنکھ بنادے تو وہ بناسکتا ہے لیکن جب آنکھ کا خلیہ سفر کرتا ہے تو وہ اسی مقام کی طرف سفر کرتا ہے جو اس کے لئے اس انسانی پیچیدہ ہیولا کے اندر مخصوص کردیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس خلیے کو یا ان خلیات کو یہ احکام کون دیتا ہے۔ کون ہے جس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آنکھ کو اس جگہ ہونا چاہئے اور اس جگہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ اللہ ہی حافظ و برتر ہے جو ان خلیات کی نگرانی کرتا ہے ، ان کو ہدایت دیتا ہے ، ان کو راہ بتاتا ہے اور ایسی تاریکیوں میں رہا بتاتا ہے جہاں الہل کے سوا کوئی اور راہ بنانے والا ہوتا ہی نہیں ہے۔
یہ تمام خلیے ، اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر اس فریم ورک کے اندر کام کرتے ہیں جو ان کے لئے ان خلیات کا مجموعی نظم طے کرتا ہے۔ اس مجموعی نظم میں اس عضو کی شکل بھی ہوتی ہے اور اس کے اندر وراثتی خصوصیات بھی ہوتی ہیں ، مثلاً اگر انسان کی آنکھ کے خلیات ہیں تو وہ ایک تو انسانی آنکھ بنائیں گے اور دوسرے یہ کہ اس آنکھ کے اندر اس انسان کے آباء و اجداد کی مخصوص شکل و صورت بھی محفوظ ہوگی۔ اس نقشے سے معمولی انحراف بھی اس عضو کے نظام کو خراب کردیتا ہے۔ تو سوال پھر یہی ہے کہ وہ ہستی کون ہے جس نے خلیات کو یہ قدرت دی اور ان کو ایسا منظم عمل کرنے کا طریقہ سکھایا۔ حالانکہ یہ ایک سادہ خلیہ ہوتا ہے اور اس میں عقل وادراک نہیں ہوتا۔ نہ قوت اور ارادہ ہوتا ہے۔ اس سوال کا سیدھا سادھا جواب یہی ہے کہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو ان خلیات کو وہ کچھ سکھاتا ہے کہ انسان نہ اس قسم کا نقشہ بناسکتا ہے۔ نہ ایک عضوتیار کرسکتا ہے۔ نہ ہاتھ ، نہ آنکھ ، نہ ان کا کوئی حصہ۔ اس کے برعکس ایک سادہ خلیہ یا خلیات کا مجموعہ یہ کام کر دکھاتا ہے ، جہ نہایت ہی عظیم اور پیچیدہ کام ہے۔
ایک خلیے سے انسان تک اس سفر کے اس سرسری جائزے کے اندر ایک جہاں ہے عجائبات اور انوکھی چیزوں کا ، یعنی اچھلتے پانی سے انسان بننے تک کے مراحل میں۔ اعضاء کا نظام ، ان عجائب کی تفصیلات بیان کرنے سے بھی ہم عاجز ہیں۔ اور نہ ظلال القرآن کے محدود صفحات میں یہ ممکن ہے لیکن یہ سب عجائبات اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ ایک خفیہ دست قدرت ہے جو ان خلیوں سے یہ کام کرواتا ہے۔ ان حقائق سے ایک تو وہ حقیقت ثابت ہوتی ہے جس پر آسمان اور الطارق کی قسم اٹھائی گئی ہے اور یہ قسم اور جواب قسم دوسری عظیم حقیقت کے لئے ایک تمہید ہے کہ تمام انسانوں نے ، اسی طرح ایک بار پھر خود کار انداز سے اپنی قبروں سے اٹھنا ہے لیکن اس دوسری حقیقت کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے جو قرآن کے اولین مخاطب تھے ، جن کے سامنے یہ سورت سب سے پہلے اتری تھی۔
الطارق 86:6
انسان کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے کیا بن گیا۔ ایک ایسے پانی سے پیدا کیا جو اچھل کر جسم انسانی سے نکلتا ہے اور یہ آتا کہاں سے ہے ، انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یہ پانی مرد کی ریڑھ کی ہڈیوں سے جمع ہوتا ہے۔ اور عورت کی سینے کی بالائی ہڈیوں سے نکلتا ہے اور اس پانی کا بننا اور اس کا یوں خارج ہونا اللہ کے رازوں میں سے ایک راز تھا جسے انسان ابھی تک نہیں جانتا تھا ، گزشتہ نصف صدی میں سائنس نے اپنے اسلوب تحقیق کے مطابق اس کے بعض پہلوﺅں سے پردہ اٹھایا اور معلوم ہوا کہ انسان کی پیٹھ کی ہیوں اور عورت کے سینے کی بلائی ہڈیوں کے اندر عورت کا مادہ منوبہ بنتا ہے اور یہ دونوں مواد جب ایک نہایت ہی محفوظ جگہ میں اکٹھے ہوتے ہیں تو پھر ان سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔
حقیقت ہے کہ انسان کی ابتدائی پیدائش اور آخری شکل تمام کے درمیان ایک طویل اور خوفناک سفر ہے۔ وہ پانی جو ریڑھ کی ہڈیوں اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے اس کے اور پھر ایک مکمل شکل و صورت کے انسان کے درمیان ایک طویل سفر ہے ، جو عقل بھی رکھتا ہے۔ وہ عضوی ، اعصابی ، عقلی اور نفسیاتی پیچیدہ ترکیب بھی رکھتا ہے۔ یہ سفر جو اچھلتا پانی طے کرکے ایک عاقل وبالغ انسان کی شکل اختیار کرلیتا ہے ، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے باہر ایک قوت ہے جو اس مائع پانی کو ایک سمت میں چلاتی ہے ، جبکہ ابتدائی حالت میں اس پانی کے اندر نہ قدرت ہے نہ کوئی ہیولا ہے ، یہ پانی یہ طویل سفر نہایت ہی عجیب و غریب انداز میں طے کرتا ہے اور اس انجام تک پہنچتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس پر ایک نگران مقرر ہے کہ وہ اس باریک نکتے کی نگرانی کرتا ہے جس کے اندر نہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس پر ایک نگران مقرر ہے کہ وہ اس باریک نکتے کی نگرانی کرتا ہے جس کے اندر نہ عقل ہے اور نہ اس کے اندر کوئی ہیولا نظر آتا ہے۔ نہ قوت ہے اور نہ ارادہ ہے اور اس نکتے کے اس طویل سفر میں مسلسل نگران رہتا ہے۔ اس نکتے کے اندر اس قدر عجائب ہیں کہ انسان اپنی شعوری زندگی کے آغاز سے انتہا تک اس قدر عجائب وغرائب نہیں دیکھ سکتا۔
یہ ایک نکتہ نہایت ہی باریک نکتہ ہوتا ہے اور یہ نہایت طاقتور خوردبین سے بھی بمشکل نظر آتا ہے۔ یہ پانی جب ایک بار مرد کی پشت سے اچھل کر نکلتا ہے تو اس کے اندر ایسے کروڑوں نکتے ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک نکتہ اپنے مقام تک پہنچتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اس نکتے کی کوئی شکل نہیں ہوتی اس کے اندر عقل نہیں ہوتی ، اس کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی ، اور کوئی ارادہ نہیں ہوتا ، اس وقت معلوم ہوجاتی ہے جب یہ نکتہ رحم مادر میں جاکر ٹھہرتا ہے اور پھر غذا کا متلاشی ہوتا ہے۔ اب دست قدرت اس کی رہنمائی یوں کرتا ہے کہ یہ نکتہ اپنے ارد گرد پائے جانے والے رحم مادر کی دیواروں کو کھانا شروع کردیتا ہے اور یہ رحم مادر کے اندر اپنے لئے خون کا ایک حوض بنا لیتا ہے۔ یہ خون اس کے لئے غذا کا کام کرتا ہے۔ جونہی اسے اطمینان ہوتا ہے کہ اس کی خوراک کا انتظام ہوگیا ہے۔ یہ ایک نئی کاروائی شروع کرتا ہے۔ اب یہ تقسیم در تقسیم ہونا شروع کرتا ہے۔ اور مسلسل تقسیم ہوتا رہتا ہے۔ یہ سادہ ، بےعقل اور بےشکل اور ضعیف وناتواں اور قوت و ارادے سے محروم خلیے کو معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کس طرف بڑھنا ہے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے قوت وا ارادہ سے نوازتا ہے کہ اسے کدھر جانا ہے اور کیا شکل اختیار کرنی ہے۔ دست قدرت اسے حکم دیتا ہے کہ وہ اس مسلسل تقسیم کے عمل سے پیدا ہونے والے خلیوں کو اس کام میں لگادے جس کے لئے انہیں پیدا کیا جارہا ہے۔ اس عمارت کے جس حصے کے لئے خلیے پیدا ہوتے ہیں وہ اس عضو کی طرف بڑھتے ہیں جبکہ جسم انسانی کی عمارت مجموعی اعتبار سے بےحد پیچیدہ عمارت ہے۔ تقسیم کے عمل سے پیدا ہونے والے یہ خلیے مسلسل چلتے ہیں اور ان اعضا کی شکل میں جمع ہوتے ہیں اور آخر کاء یہ عظیم ہیکل تیار ہوتا ہے۔ یہ خلیے انسان کے جسم کے اندر عضلاتی نظام تیار کرتے ہیں۔ پھر ان کا ایک گروپ اعضابی نظام تیار کرتا ہے۔ ان کا ایک گروپ شرائین کا جال بچھاتا ہے۔ یہ اور اس عمارت کے دوسرے پیچیدہ نظام تیار ہوتے ہیں لیکن یہ تعمیر وتشکیل کا عمل اس قدر سادہ نہیں ہے جس طرح سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کے اندر نہایت ہی گہری ٹیکنالوجی کام کرتی ہے۔ ہڈیوں میں سے ہر ہڈی ، عضلات میں سے ہر ایک عضلا اور اعصاب میں سے ہر ایک پٹھا ، کسی دوسری ہڈی ، پٹھے کے پوری طرح مشابہ اور یکساں نہیں ہے۔ کوئی پٹھا دوسرے اعصاب کے ساتھ یکساں نہیں ہے کیونکہ یہ عمارت بےحد پیچیدہ ہے۔ اس کی ساخت بھی نہایت عجیب ہے۔ ہر ایک کا فعل اور فریضہ الگ ہے۔ اس لئے ہر خلیہ معلم قدرت سے یہ بات سیکھتا ہے اور اخذ کرتا ہے کہ وہ کس مخصوص عضو کے لئے مخصوص ہے۔ اور اس نے اس عضو کے اندر پھر کیا ڈیوٹی سرانجام دینی ہے۔ اس لئے جسم کے اندر جو چھوٹے سے چھوٹا خلیہ بھی حرکت کرتا ہے ، معلم قدرت کی رہنمائی میں وہ اپنی راہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس نے کہاں جانا ہے اور اس کی ڈیوٹی کیا ہے اور اس نے کیا کرنا ہے۔ کوئی ایک خلیہ یا ان کا گروپ بھی کبھی اپنی راہ غلط نہیں کرتا۔ مثلاً جو خلیے آنکھ بناتے ہیں ، ان کو معلوم ہوتا ہے کہ آنکھ سر میں ہوتی ہے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ وہ پیٹ یا پاﺅں یا بازوﺅں میں آنکھیں بنائیں۔ حالانکہ اگر اللہ چاہے تو وہ پیٹ ، ہاتھ اور پاﺅں میں کسی جگہ آنکھ بنا دے۔ اگر آنکھ بناننے والا پہلا خلیہ ان مقامات کی طرف چلا جائے اور وہاں آنکھ بنادے تو وہ بناسکتا ہے لیکن جب آنکھ کا خلیہ سفر کرتا ہے تو وہ اسی مقام کی طرف سفر کرتا ہے جو اس کے لئے اس انسانی پیچیدہ ہیولا کے اندر مخصوص کردیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس خلیے کو یا ان خلیات کو یہ احکام کون دیتا ہے۔ کون ہے جس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آنکھ کو اس جگہ ہونا چاہئے اور اس جگہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ اللہ ہی حافظ و برتر ہے جو ان خلیات کی نگرانی کرتا ہے ، ان کو ہدایت دیتا ہے ، ان کو راہ بتاتا ہے اور ایسی تاریکیوں میں رہا بتاتا ہے جہاں الہل کے سوا کوئی اور راہ بنانے والا ہوتا ہی نہیں ہے۔
یہ تمام خلیے ، اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر اس فریم ورک کے اندر کام کرتے ہیں جو ان کے لئے ان خلیات کا مجموعی نظم طے کرتا ہے۔ اس مجموعی نظم میں اس عضو کی شکل بھی ہوتی ہے اور اس کے اندر وراثتی خصوصیات بھی ہوتی ہیں ، مثلاً اگر انسان کی آنکھ کے خلیات ہیں تو وہ ایک تو انسانی آنکھ بنائیں گے اور دوسرے یہ کہ اس آنکھ کے اندر اس انسان کے آباء و اجداد کی مخصوص شکل و صورت بھی محفوظ ہوگی۔ اس نقشے سے معمولی انحراف بھی اس عضو کے نظام کو خراب کردیتا ہے۔ تو سوال پھر یہی ہے کہ وہ ہستی کون ہے جس نے خلیات کو یہ قدرت دی اور ان کو ایسا منظم عمل کرنے کا طریقہ سکھایا۔ حالانکہ یہ ایک سادہ خلیہ ہوتا ہے اور اس میں عقل وادراک نہیں ہوتا۔ نہ قوت اور ارادہ ہوتا ہے۔ اس سوال کا سیدھا سادھا جواب یہی ہے کہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو ان خلیات کو وہ کچھ سکھاتا ہے کہ انسان نہ اس قسم کا نقشہ بناسکتا ہے۔ نہ ایک عضوتیار کرسکتا ہے۔ نہ ہاتھ ، نہ آنکھ ، نہ ان کا کوئی حصہ۔ اس کے برعکس ایک سادہ خلیہ یا خلیات کا مجموعہ یہ کام کر دکھاتا ہے ، جہ نہایت ہی عظیم اور پیچیدہ کام ہے۔
ایک خلیے سے انسان تک اس سفر کے اس سرسری جائزے کے اندر ایک جہاں ہے عجائبات اور انوکھی چیزوں کا ، یعنی اچھلتے پانی سے انسان بننے تک کے مراحل میں۔ اعضاء کا نظام ، ان عجائب کی تفصیلات بیان کرنے سے بھی ہم عاجز ہیں۔ اور نہ ظلال القرآن کے محدود صفحات میں یہ ممکن ہے لیکن یہ سب عجائبات اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ ایک خفیہ دست قدرت ہے جو ان خلیوں سے یہ کام کرواتا ہے۔ ان حقائق سے ایک تو وہ حقیقت ثابت ہوتی ہے جس پر آسمان اور الطارق کی قسم اٹھائی گئی ہے اور یہ قسم اور جواب قسم دوسری عظیم حقیقت کے لئے ایک تمہید ہے کہ تمام انسانوں نے ، اسی طرح ایک بار پھر خود کار انداز سے اپنی قبروں سے اٹھنا ہے لیکن اس دوسری حقیقت کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے جو قرآن کے اولین مخاطب تھے ، جن کے سامنے یہ سورت سب سے پہلے اتری تھی۔
الطارق 86:7
انسان کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے کیا بن گیا۔ ایک ایسے پانی سے پیدا کیا جو اچھل کر جسم انسانی سے نکلتا ہے اور یہ آتا کہاں سے ہے ، انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یہ پانی مرد کی ریڑھ کی ہڈیوں سے جمع ہوتا ہے۔ اور عورت کی سینے کی بالائی ہڈیوں سے نکلتا ہے اور اس پانی کا بننا اور اس کا یوں خارج ہونا اللہ کے رازوں میں سے ایک راز تھا جسے انسان ابھی تک نہیں جانتا تھا ، گزشتہ نصف صدی میں سائنس نے اپنے اسلوب تحقیق کے مطابق اس کے بعض پہلوﺅں سے پردہ اٹھایا اور معلوم ہوا کہ انسان کی پیٹھ کی ہیوں اور عورت کے سینے کی بلائی ہڈیوں کے اندر عورت کا مادہ منوبہ بنتا ہے اور یہ دونوں مواد جب ایک نہایت ہی محفوظ جگہ میں اکٹھے ہوتے ہیں تو پھر ان سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔
حقیقت ہے کہ انسان کی ابتدائی پیدائش اور آخری شکل تمام کے درمیان ایک طویل اور خوفناک سفر ہے۔ وہ پانی جو ریڑھ کی ہڈیوں اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے اس کے اور پھر ایک مکمل شکل و صورت کے انسان کے درمیان ایک طویل سفر ہے ، جو عقل بھی رکھتا ہے۔ وہ عضوی ، اعصابی ، عقلی اور نفسیاتی پیچیدہ ترکیب بھی رکھتا ہے۔ یہ سفر جو اچھلتا پانی طے کرکے ایک عاقل وبالغ انسان کی شکل اختیار کرلیتا ہے ، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے باہر ایک قوت ہے جو اس مائع پانی کو ایک سمت میں چلاتی ہے ، جبکہ ابتدائی حالت میں اس پانی کے اندر نہ قدرت ہے نہ کوئی ہیولا ہے ، یہ پانی یہ طویل سفر نہایت ہی عجیب و غریب انداز میں طے کرتا ہے اور اس انجام تک پہنچتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس پر ایک نگران مقرر ہے کہ وہ اس باریک نکتے کی نگرانی کرتا ہے جس کے اندر نہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس پر ایک نگران مقرر ہے کہ وہ اس باریک نکتے کی نگرانی کرتا ہے جس کے اندر نہ عقل ہے اور نہ اس کے اندر کوئی ہیولا نظر آتا ہے۔ نہ قوت ہے اور نہ ارادہ ہے اور اس نکتے کے اس طویل سفر میں مسلسل نگران رہتا ہے۔ اس نکتے کے اندر اس قدر عجائب ہیں کہ انسان اپنی شعوری زندگی کے آغاز سے انتہا تک اس قدر عجائب وغرائب نہیں دیکھ سکتا۔
یہ ایک نکتہ نہایت ہی باریک نکتہ ہوتا ہے اور یہ نہایت طاقتور خوردبین سے بھی بمشکل نظر آتا ہے۔ یہ پانی جب ایک بار مرد کی پشت سے اچھل کر نکلتا ہے تو اس کے اندر ایسے کروڑوں نکتے ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک نکتہ اپنے مقام تک پہنچتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اس نکتے کی کوئی شکل نہیں ہوتی اس کے اندر عقل نہیں ہوتی ، اس کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی ، اور کوئی ارادہ نہیں ہوتا ، اس وقت معلوم ہوجاتی ہے جب یہ نکتہ رحم مادر میں جاکر ٹھہرتا ہے اور پھر غذا کا متلاشی ہوتا ہے۔ اب دست قدرت اس کی رہنمائی یوں کرتا ہے کہ یہ نکتہ اپنے ارد گرد پائے جانے والے رحم مادر کی دیواروں کو کھانا شروع کردیتا ہے اور یہ رحم مادر کے اندر اپنے لئے خون کا ایک حوض بنا لیتا ہے۔ یہ خون اس کے لئے غذا کا کام کرتا ہے۔ جونہی اسے اطمینان ہوتا ہے کہ اس کی خوراک کا انتظام ہوگیا ہے۔ یہ ایک نئی کاروائی شروع کرتا ہے۔ اب یہ تقسیم در تقسیم ہونا شروع کرتا ہے۔ اور مسلسل تقسیم ہوتا رہتا ہے۔ یہ سادہ ، بےعقل اور بےشکل اور ضعیف وناتواں اور قوت و ارادے سے محروم خلیے کو معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کس طرف بڑھنا ہے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے قوت وا ارادہ سے نوازتا ہے کہ اسے کدھر جانا ہے اور کیا شکل اختیار کرنی ہے۔ دست قدرت اسے حکم دیتا ہے کہ وہ اس مسلسل تقسیم کے عمل سے پیدا ہونے والے خلیوں کو اس کام میں لگادے جس کے لئے انہیں پیدا کیا جارہا ہے۔ اس عمارت کے جس حصے کے لئے خلیے پیدا ہوتے ہیں وہ اس عضو کی طرف بڑھتے ہیں جبکہ جسم انسانی کی عمارت مجموعی اعتبار سے بےحد پیچیدہ عمارت ہے۔ تقسیم کے عمل سے پیدا ہونے والے یہ خلیے مسلسل چلتے ہیں اور ان اعضا کی شکل میں جمع ہوتے ہیں اور آخر کاء یہ عظیم ہیکل تیار ہوتا ہے۔ یہ خلیے انسان کے جسم کے اندر عضلاتی نظام تیار کرتے ہیں۔ پھر ان کا ایک گروپ اعضابی نظام تیار کرتا ہے۔ ان کا ایک گروپ شرائین کا جال بچھاتا ہے۔ یہ اور اس عمارت کے دوسرے پیچیدہ نظام تیار ہوتے ہیں لیکن یہ تعمیر وتشکیل کا عمل اس قدر سادہ نہیں ہے جس طرح سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کے اندر نہایت ہی گہری ٹیکنالوجی کام کرتی ہے۔ ہڈیوں میں سے ہر ہڈی ، عضلات میں سے ہر ایک عضلا اور اعصاب میں سے ہر ایک پٹھا ، کسی دوسری ہڈی ، پٹھے کے پوری طرح مشابہ اور یکساں نہیں ہے۔ کوئی پٹھا دوسرے اعصاب کے ساتھ یکساں نہیں ہے کیونکہ یہ عمارت بےحد پیچیدہ ہے۔ اس کی ساخت بھی نہایت عجیب ہے۔ ہر ایک کا فعل اور فریضہ الگ ہے۔ اس لئے ہر خلیہ معلم قدرت سے یہ بات سیکھتا ہے اور اخذ کرتا ہے کہ وہ کس مخصوص عضو کے لئے مخصوص ہے۔ اور اس نے اس عضو کے اندر پھر کیا ڈیوٹی سرانجام دینی ہے۔ اس لئے جسم کے اندر جو چھوٹے سے چھوٹا خلیہ بھی حرکت کرتا ہے ، معلم قدرت کی رہنمائی میں وہ اپنی راہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس نے کہاں جانا ہے اور اس کی ڈیوٹی کیا ہے اور اس نے کیا کرنا ہے۔ کوئی ایک خلیہ یا ان کا گروپ بھی کبھی اپنی راہ غلط نہیں کرتا۔ مثلاً جو خلیے آنکھ بناتے ہیں ، ان کو معلوم ہوتا ہے کہ آنکھ سر میں ہوتی ہے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ وہ پیٹ یا پاﺅں یا بازوﺅں میں آنکھیں بنائیں۔ حالانکہ اگر اللہ چاہے تو وہ پیٹ ، ہاتھ اور پاﺅں میں کسی جگہ آنکھ بنا دے۔ اگر آنکھ بناننے والا پہلا خلیہ ان مقامات کی طرف چلا جائے اور وہاں آنکھ بنادے تو وہ بناسکتا ہے لیکن جب آنکھ کا خلیہ سفر کرتا ہے تو وہ اسی مقام کی طرف سفر کرتا ہے جو اس کے لئے اس انسانی پیچیدہ ہیولا کے اندر مخصوص کردیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس خلیے کو یا ان خلیات کو یہ احکام کون دیتا ہے۔ کون ہے جس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آنکھ کو اس جگہ ہونا چاہئے اور اس جگہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ اللہ ہی حافظ و برتر ہے جو ان خلیات کی نگرانی کرتا ہے ، ان کو ہدایت دیتا ہے ، ان کو راہ بتاتا ہے اور ایسی تاریکیوں میں رہا بتاتا ہے جہاں الہل کے سوا کوئی اور راہ بنانے والا ہوتا ہی نہیں ہے۔
یہ تمام خلیے ، اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر اس فریم ورک کے اندر کام کرتے ہیں جو ان کے لئے ان خلیات کا مجموعی نظم طے کرتا ہے۔ اس مجموعی نظم میں اس عضو کی شکل بھی ہوتی ہے اور اس کے اندر وراثتی خصوصیات بھی ہوتی ہیں ، مثلاً اگر انسان کی آنکھ کے خلیات ہیں تو وہ ایک تو انسانی آنکھ بنائیں گے اور دوسرے یہ کہ اس آنکھ کے اندر اس انسان کے آباء و اجداد کی مخصوص شکل و صورت بھی محفوظ ہوگی۔ اس نقشے سے معمولی انحراف بھی اس عضو کے نظام کو خراب کردیتا ہے۔ تو سوال پھر یہی ہے کہ وہ ہستی کون ہے جس نے خلیات کو یہ قدرت دی اور ان کو ایسا منظم عمل کرنے کا طریقہ سکھایا۔ حالانکہ یہ ایک سادہ خلیہ ہوتا ہے اور اس میں عقل وادراک نہیں ہوتا۔ نہ قوت اور ارادہ ہوتا ہے۔ اس سوال کا سیدھا سادھا جواب یہی ہے کہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو ان خلیات کو وہ کچھ سکھاتا ہے کہ انسان نہ اس قسم کا نقشہ بناسکتا ہے۔ نہ ایک عضوتیار کرسکتا ہے۔ نہ ہاتھ ، نہ آنکھ ، نہ ان کا کوئی حصہ۔ اس کے برعکس ایک سادہ خلیہ یا خلیات کا مجموعہ یہ کام کر دکھاتا ہے ، جہ نہایت ہی عظیم اور پیچیدہ کام ہے۔
ایک خلیے سے انسان تک اس سفر کے اس سرسری جائزے کے اندر ایک جہاں ہے عجائبات اور انوکھی چیزوں کا ، یعنی اچھلتے پانی سے انسان بننے تک کے مراحل میں۔ اعضاء کا نظام ، ان عجائب کی تفصیلات بیان کرنے سے بھی ہم عاجز ہیں۔ اور نہ ظلال القرآن کے محدود صفحات میں یہ ممکن ہے لیکن یہ سب عجائبات اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ ایک خفیہ دست قدرت ہے جو ان خلیوں سے یہ کام کرواتا ہے۔ ان حقائق سے ایک تو وہ حقیقت ثابت ہوتی ہے جس پر آسمان اور الطارق کی قسم اٹھائی گئی ہے اور یہ قسم اور جواب قسم دوسری عظیم حقیقت کے لئے ایک تمہید ہے کہ تمام انسانوں نے ، اسی طرح ایک بار پھر خود کار انداز سے اپنی قبروں سے اٹھنا ہے لیکن اس دوسری حقیقت کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے جو قرآن کے اولین مخاطب تھے ، جن کے سامنے یہ سورت سب سے پہلے اتری تھی۔
الطارق 86:8
یہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی نگہداشت کی۔ لہٰذا اس پر قادر ہے کہ موت کے بعد اسے زندگی بخشے اور مرکر مٹی میں مل جانے کے بعد اسے حیات جدید دے۔ اللہ کی پہلی تخلیق جس کا اوپر ذکر ہوا ، یہ شہادت دے رہی ہے کہ وہ دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ پہلی زندگی اللہ کی تدبیر اور اللہ کی قدرت پر شاہد عادل ہے کیونکہ پہلی تخلیق میں نہایت حکیمانہ ٹیکنالوجی پوشیدہ ہے۔ اگر انسان کو دوبارہ زندہ کرنے اور حساب و کتاب لینے کو تسلیم نہ کیا جائے تو پہلی تخلیق کا پورا نظام عبث ہوجائے گا۔
الطارق 86:9
یوم تبلی السرآئر (9:86) ” جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی “۔ جب چھپے ہوئے راز کھلیں گے اور وہ پردے جن کی تہوں میں راز پوشیدہ ہوں گے ہٹ جائیں گے ، ان رازوں کی جانچ ہوگی وہ ظاہر اور کھلے ہوں گے اور راز نہ رہیں گے ، جس طرح چمکتا ہوا تارہ اندھیروں سے نمودار ہوتا ہے اور جس طرح نفس انسانی پردوں کے اندر ملفوف ہوتا ہے اور اس کا حافظ اس کی ہر بات جانتا ہے تو جس دن انسان کے پاس نہ قوت ہوگی اور نہ اس کا کوئی مددگار ہوگا ، اس دن سب کچھ سامنے آجائے گا۔
الطارق 86:10
فمالہ .................... ناصر (10:86) ” اس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا “۔ یعنی نہ ذاتی قوت ہوگی اور نہ خارج سے کوئی امداد ملے گی۔ اور کوئی بات پوشیدہ بھی نہ رہے گی اور انسان کی تمام کمزوریاں ظاہر ہوجائیں گی تو یہ بہت ہی سخت گھڑی ہوگی۔ ایسے حالات کا احساس انسان پر گہرا اثر ڈالتا ہے ، کہ یہ کائنات ، پھر نفس انسانی ، پھر تخلیق انسانی کے مختلف مدارج اور آخر کار قیامت کے دن انسان کی بےبسی کہ جب تمام راز کھل جائیں گے ، اور تمام قوتیں اور سہارے ختم ہوں گے۔
شاید اب بھی کسی قدر شک باقی رہ گیا ہے۔ نفس انسانی کے اندر کچھ خلجان موجود ہے اور بعض اوقات نہایت ہی موثر کلام اور اٹل دلائل کے بعد بھی انسان کے شبہات رہتے ہیں۔ اس لئے پھر تاکید قسموں کے بعد بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور یہاں بھی اس قرآن اور کائنات کے درمیان ربط پیدا کرکے بات کی جاتی ہے جس طرح آغاز سورت میں کیا گیا۔
الطارق 86:11
الرجع کے معنی ہیں لوٹنے کے ، آسمان بار بار بارش برساتا ہے اور الصدع کے معنی پھٹنے کے ہیں اور بارش کے بعد جب زمین سے نباتات اگتے ہیں تو وہ پھٹتی ہے اور اس سے پودے پھوٹتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں زندگی کی ایک قسم کا اظہار کرتی ہیں۔ یعنی نباتات اور ان کی پہلی زندگی کہ آسمانوں سے پانی برستا ہے اور پھر نباتات اگتے ہیں۔ یہ تمثیل اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے کہ نطفے کا پانی اچھل کر برسے ، اور آسمان کے بجائے ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلے اور رحم کے اندھیروں سے بچہ نمودار ہو۔ گویا ایک ہی زندگی ہے اور ایک ہی منظر ہے ، ایک ہی قسم کی حرکت ، ایک ہی نظام اور ایک ہی قسم کی تخلیق ہے اور دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں کا صانع ایک ہے۔ اور کوئی معقول انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا ہے کہ وہ ایسی کوئی تخلیق کرسکتا ہے اور ان تخلیقات کے ہم شکل کوئی مخلوق بناسکتا ہے۔
یہ منظر چمکتے ہوئے ستارے کے منظر کے بھی ہم رنگ ہے۔ ایسے ستارے کی روشنی بھی ظلمتوں کے پردے پھاڑ کر سامنے آتی ہے اور جس طرح یہ روشنی نمودار ہوتی ہے اس طرح چھپے ہوئے راز بھی نمودار ہوں گے گویا یہ مناظر بھی ہم رنگ ہیں۔ اور ان سے بھی ایک ہی صانع کی قدرت کا پتہ چلتا ہے۔
یہ دوکائناتی مخلوقات ہیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے یا کائناتی حادثات ہیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے آسمان جو بار بار بارش برساتا ہے اور زمین جو نباتات کے اگنے کی وجہ سے با ربار پھٹتی ہے۔ ان دونوں واقعات یا حادثات کا منظر ، اس منظر کے اندر پوشیدہ اشارات اور خود ان الفاظ صدع اور رجع کی قطعیت اور سختی اور پھر ان کے ساتھ اللہ کی قسم اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دوبارہ زندگی اور باز پرس قطعی بات ہے۔ مذاق نہیں ہے۔ یا یہ کہ یہ پورا قرآن مجید ایک قطعی بات کرتا ہے اور اس کے اندر کوئی بات محض بات کے لئے نہیں کی گئی۔ اس میں جو تصورات بیان کیے گئے ہیں وہ فیصلہ کن خیالات اور نظریات ہیں اور وہ حق اور سچائی ہیں جن کے اندر کوئی شبہ اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ آخری بات ہے ، اللہ کا آخری کلام ہے۔ اس کے بعد کوئی لکام نہیں ہے۔ اور اس کے حقائق میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اور زمین وآسماناس پر شاہدعادل ہیں خصوصاً بارش برسانے والا آسمان اور فصلیں اگانے والی زمین۔
ان حقائق کے بیان کے سایہ میں ، کہ تمام انسانوں کو اٹھایا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی ، روئے سخن حضور اکرم ﷺ اور اس مٹھی بھر جماعت کی طرف پھرجاتا ہے جو مکہ مکرمہ میں نہایت ہی کٹھن حالات سے گزر رہے تھے۔ اور ان کے خلاف اور ان کی دعوت اور تحریک کے خلاف رات دن کی سازشیں ہورہی تھیں۔ اور اس کام کے لئے یہ ہر وقت گھات میں بیٹھے رہتے تھے ، اور اسلامی تحریک کے مقابلے میں مختلف تدابیر اختیار کرتے تھے اور دعوت اسلامی کے پھیلنے کے راستے بند کرتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی جاتی ہے کہ آپ ثابت قدر رہیں اور ان لوگوں کی سازشوں کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ایک وقت تک یہ مخالفت ہوگی اور آخرکار کامیابی آپ کے قدم چومے گی ، اس دعوت کی قیادت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ صبر اور اطمینان سے کام جاری رکھیں۔ اللہ خود تدابیر اختیار کررہا ہے۔
الطارق 86:12
الرجع کے معنی ہیں لوٹنے کے ، آسمان بار بار بارش برساتا ہے اور الصدع کے معنی پھٹنے کے ہیں اور بارش کے بعد جب زمین سے نباتات اگتے ہیں تو وہ پھٹتی ہے اور اس سے پودے پھوٹتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں زندگی کی ایک قسم کا اظہار کرتی ہیں۔ یعنی نباتات اور ان کی پہلی زندگی کہ آسمانوں سے پانی برستا ہے اور پھر نباتات اگتے ہیں۔ یہ تمثیل اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے کہ نطفے کا پانی اچھل کر برسے ، اور آسمان کے بجائے ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلے اور رحم کے اندھیروں سے بچہ نمودار ہو۔ گویا ایک ہی زندگی ہے اور ایک ہی منظر ہے ، ایک ہی قسم کی حرکت ، ایک ہی نظام اور ایک ہی قسم کی تخلیق ہے اور دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں کا صانع ایک ہے۔ اور کوئی معقول انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا ہے کہ وہ ایسی کوئی تخلیق کرسکتا ہے اور ان تخلیقات کے ہم شکل کوئی مخلوق بناسکتا ہے۔
یہ منظر چمکتے ہوئے ستارے کے منظر کے بھی ہم رنگ ہے۔ ایسے ستارے کی روشنی بھی ظلمتوں کے پردے پھاڑ کر سامنے آتی ہے اور جس طرح یہ روشنی نمودار ہوتی ہے اس طرح چھپے ہوئے راز بھی نمودار ہوں گے گویا یہ مناظر بھی ہم رنگ ہیں۔ اور ان سے بھی ایک ہی صانع کی قدرت کا پتہ چلتا ہے۔
یہ دوکائناتی مخلوقات ہیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے یا کائناتی حادثات ہیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے آسمان جو بار بار بارش برساتا ہے اور زمین جو نباتات کے اگنے کی وجہ سے با ربار پھٹتی ہے۔ ان دونوں واقعات یا حادثات کا منظر ، اس منظر کے اندر پوشیدہ اشارات اور خود ان الفاظ صدع اور رجع کی قطعیت اور سختی اور پھر ان کے ساتھ اللہ کی قسم اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دوبارہ زندگی اور باز پرس قطعی بات ہے۔ مذاق نہیں ہے۔ یا یہ کہ یہ پورا قرآن مجید ایک قطعی بات کرتا ہے اور اس کے اندر کوئی بات محض بات کے لئے نہیں کی گئی۔ اس میں جو تصورات بیان کیے گئے ہیں وہ فیصلہ کن خیالات اور نظریات ہیں اور وہ حق اور سچائی ہیں جن کے اندر کوئی شبہ اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ آخری بات ہے ، اللہ کا آخری کلام ہے۔ اس کے بعد کوئی لکام نہیں ہے۔ اور اس کے حقائق میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اور زمین وآسماناس پر شاہدعادل ہیں خصوصاً بارش برسانے والا آسمان اور فصلیں اگانے والی زمین۔
ان حقائق کے بیان کے سایہ میں ، کہ تمام انسانوں کو اٹھایا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی ، روئے سخن حضور اکرم ﷺ اور اس مٹھی بھر جماعت کی طرف پھرجاتا ہے جو مکہ مکرمہ میں نہایت ہی کٹھن حالات سے گزر رہے تھے۔ اور ان کے خلاف اور ان کی دعوت اور تحریک کے خلاف رات دن کی سازشیں ہورہی تھیں۔ اور اس کام کے لئے یہ ہر وقت گھات میں بیٹھے رہتے تھے ، اور اسلامی تحریک کے مقابلے میں مختلف تدابیر اختیار کرتے تھے اور دعوت اسلامی کے پھیلنے کے راستے بند کرتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی جاتی ہے کہ آپ ثابت قدر رہیں اور ان لوگوں کی سازشوں کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ایک وقت تک یہ مخالفت ہوگی اور آخرکار کامیابی آپ کے قدم چومے گی ، اس دعوت کی قیادت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ صبر اور اطمینان سے کام جاری رکھیں۔ اللہ خود تدابیر اختیار کررہا ہے۔
الطارق 86:13
الرجع کے معنی ہیں لوٹنے کے ، آسمان بار بار بارش برساتا ہے اور الصدع کے معنی پھٹنے کے ہیں اور بارش کے بعد جب زمین سے نباتات اگتے ہیں تو وہ پھٹتی ہے اور اس سے پودے پھوٹتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں زندگی کی ایک قسم کا اظہار کرتی ہیں۔ یعنی نباتات اور ان کی پہلی زندگی کہ آسمانوں سے پانی برستا ہے اور پھر نباتات اگتے ہیں۔ یہ تمثیل اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے کہ نطفے کا پانی اچھل کر برسے ، اور آسمان کے بجائے ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلے اور رحم کے اندھیروں سے بچہ نمودار ہو۔ گویا ایک ہی زندگی ہے اور ایک ہی منظر ہے ، ایک ہی قسم کی حرکت ، ایک ہی نظام اور ایک ہی قسم کی تخلیق ہے اور دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں کا صانع ایک ہے۔ اور کوئی معقول انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا ہے کہ وہ ایسی کوئی تخلیق کرسکتا ہے اور ان تخلیقات کے ہم شکل کوئی مخلوق بناسکتا ہے۔
یہ منظر چمکتے ہوئے ستارے کے منظر کے بھی ہم رنگ ہے۔ ایسے ستارے کی روشنی بھی ظلمتوں کے پردے پھاڑ کر سامنے آتی ہے اور جس طرح یہ روشنی نمودار ہوتی ہے اس طرح چھپے ہوئے راز بھی نمودار ہوں گے گویا یہ مناظر بھی ہم رنگ ہیں۔ اور ان سے بھی ایک ہی صانع کی قدرت کا پتہ چلتا ہے۔
یہ دوکائناتی مخلوقات ہیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے یا کائناتی حادثات ہیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے آسمان جو بار بار بارش برساتا ہے اور زمین جو نباتات کے اگنے کی وجہ سے با ربار پھٹتی ہے۔ ان دونوں واقعات یا حادثات کا منظر ، اس منظر کے اندر پوشیدہ اشارات اور خود ان الفاظ صدع اور رجع کی قطعیت اور سختی اور پھر ان کے ساتھ اللہ کی قسم اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دوبارہ زندگی اور باز پرس قطعی بات ہے۔ مذاق نہیں ہے۔ یا یہ کہ یہ پورا قرآن مجید ایک قطعی بات کرتا ہے اور اس کے اندر کوئی بات محض بات کے لئے نہیں کی گئی۔ اس میں جو تصورات بیان کیے گئے ہیں وہ فیصلہ کن خیالات اور نظریات ہیں اور وہ حق اور سچائی ہیں جن کے اندر کوئی شبہ اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ آخری بات ہے ، اللہ کا آخری کلام ہے۔ اس کے بعد کوئی لکام نہیں ہے۔ اور اس کے حقائق میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اور زمین وآسماناس پر شاہدعادل ہیں خصوصاً بارش برسانے والا آسمان اور فصلیں اگانے والی زمین۔
ان حقائق کے بیان کے سایہ میں ، کہ تمام انسانوں کو اٹھایا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی ، روئے سخن حضور اکرم ﷺ اور اس مٹھی بھر جماعت کی طرف پھرجاتا ہے جو مکہ مکرمہ میں نہایت ہی کٹھن حالات سے گزر رہے تھے۔ اور ان کے خلاف اور ان کی دعوت اور تحریک کے خلاف رات دن کی سازشیں ہورہی تھیں۔ اور اس کام کے لئے یہ ہر وقت گھات میں بیٹھے رہتے تھے ، اور اسلامی تحریک کے مقابلے میں مختلف تدابیر اختیار کرتے تھے اور دعوت اسلامی کے پھیلنے کے راستے بند کرتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی جاتی ہے کہ آپ ثابت قدر رہیں اور ان لوگوں کی سازشوں کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ایک وقت تک یہ مخالفت ہوگی اور آخرکار کامیابی آپ کے قدم چومے گی ، اس دعوت کی قیادت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ صبر اور اطمینان سے کام جاری رکھیں۔ اللہ خود تدابیر اختیار کررہا ہے۔
الطارق 86:14
الرجع کے معنی ہیں لوٹنے کے ، آسمان بار بار بارش برساتا ہے اور الصدع کے معنی پھٹنے کے ہیں اور بارش کے بعد جب زمین سے نباتات اگتے ہیں تو وہ پھٹتی ہے اور اس سے پودے پھوٹتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں زندگی کی ایک قسم کا اظہار کرتی ہیں۔ یعنی نباتات اور ان کی پہلی زندگی کہ آسمانوں سے پانی برستا ہے اور پھر نباتات اگتے ہیں۔ یہ تمثیل اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے کہ نطفے کا پانی اچھل کر برسے ، اور آسمان کے بجائے ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلے اور رحم کے اندھیروں سے بچہ نمودار ہو۔ گویا ایک ہی زندگی ہے اور ایک ہی منظر ہے ، ایک ہی قسم کی حرکت ، ایک ہی نظام اور ایک ہی قسم کی تخلیق ہے اور دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں کا صانع ایک ہے۔ اور کوئی معقول انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا ہے کہ وہ ایسی کوئی تخلیق کرسکتا ہے اور ان تخلیقات کے ہم شکل کوئی مخلوق بناسکتا ہے۔
یہ منظر چمکتے ہوئے ستارے کے منظر کے بھی ہم رنگ ہے۔ ایسے ستارے کی روشنی بھی ظلمتوں کے پردے پھاڑ کر سامنے آتی ہے اور جس طرح یہ روشنی نمودار ہوتی ہے اس طرح چھپے ہوئے راز بھی نمودار ہوں گے گویا یہ مناظر بھی ہم رنگ ہیں۔ اور ان سے بھی ایک ہی صانع کی قدرت کا پتہ چلتا ہے۔
یہ دوکائناتی مخلوقات ہیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے یا کائناتی حادثات ہیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے آسمان جو بار بار بارش برساتا ہے اور زمین جو نباتات کے اگنے کی وجہ سے با ربار پھٹتی ہے۔ ان دونوں واقعات یا حادثات کا منظر ، اس منظر کے اندر پوشیدہ اشارات اور خود ان الفاظ صدع اور رجع کی قطعیت اور سختی اور پھر ان کے ساتھ اللہ کی قسم اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دوبارہ زندگی اور باز پرس قطعی بات ہے۔ مذاق نہیں ہے۔ یا یہ کہ یہ پورا قرآن مجید ایک قطعی بات کرتا ہے اور اس کے اندر کوئی بات محض بات کے لئے نہیں کی گئی۔ اس میں جو تصورات بیان کیے گئے ہیں وہ فیصلہ کن خیالات اور نظریات ہیں اور وہ حق اور سچائی ہیں جن کے اندر کوئی شبہ اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ آخری بات ہے ، اللہ کا آخری کلام ہے۔ اس کے بعد کوئی لکام نہیں ہے۔ اور اس کے حقائق میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اور زمین وآسماناس پر شاہدعادل ہیں خصوصاً بارش برسانے والا آسمان اور فصلیں اگانے والی زمین۔
ان حقائق کے بیان کے سایہ میں ، کہ تمام انسانوں کو اٹھایا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی ، روئے سخن حضور اکرم ﷺ اور اس مٹھی بھر جماعت کی طرف پھرجاتا ہے جو مکہ مکرمہ میں نہایت ہی کٹھن حالات سے گزر رہے تھے۔ اور ان کے خلاف اور ان کی دعوت اور تحریک کے خلاف رات دن کی سازشیں ہورہی تھیں۔ اور اس کام کے لئے یہ ہر وقت گھات میں بیٹھے رہتے تھے ، اور اسلامی تحریک کے مقابلے میں مختلف تدابیر اختیار کرتے تھے اور دعوت اسلامی کے پھیلنے کے راستے بند کرتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی جاتی ہے کہ آپ ثابت قدر رہیں اور ان لوگوں کی سازشوں کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ایک وقت تک یہ مخالفت ہوگی اور آخرکار کامیابی آپ کے قدم چومے گی ، اس دعوت کی قیادت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ صبر اور اطمینان سے کام جاری رکھیں۔ اللہ خود تدابیر اختیار کررہا ہے۔
الطارق 86:15
ان لوگوں کی حقیقت تو ہم نے بھی بتادی ہے ، یہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیے گئے ہیں جو والد کی پیٹھ اور والدہ کے سینے سے نکلتا ہے۔ ابتدائی طور پر اس پانی میں نہ طاقت تھی ، نہ قوت اور نہ ارادہ۔ نہ علم اور نہ ہدایت۔ ان لوگوں کو تودست قدرت اس طویل طریقے سے وجود میں لائی ہے اور ایک دن دوبارہ ان کو اسی طرح پیدا کیا جائے گا اور ان کے تمام راز کھل جائیں گے اور پھر اسی طرح بےبس اور بےکس ہوں گے۔ یہ لوگ اللہ کی تحریک کے خلاف سازشیں کررہے ہیں ؟ میں ان کا خالق ، ہدایت دینے والا ، حفاظت کرنے والا ، پیدا کرنے والا ، مارنے والا اور دوبارہ لوٹانے والا ہوں ، ان کو میں نے اس امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔ میں قادر اور قاہر ہوں اور آسمانوں پر چمکتے ستاروں کا پیدا کرنے والا ہوں۔ جس پانی سے وہ پیدا ہوئے ہیں اور اسے ایک بولنے اور سوچنے والا انسان بنایا ، اللہ ہی نے یہ آسمان بنایا ہے جو بارش برساتا ہے اور اس میں نباتات پیدا کرتا ہے۔ یہ کام کرنے والا میں ہوں اور میں بھی ان کی تدابیر کے مقابلے میں تدابیر کرتا ہوں۔
اب ایک طرف ان لوگوں کی سازشیں ہیں اور دوسری طرف اللہ کی تدابیر ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ، اس جنگ کا درحقیقت ایک ہی فریق ہے ، دوسرا فریق جو بظاہر نظر آتا ہے وہ محض مذاق کے لئے ہے۔
الطارق 86:16
ان لوگوں کی حقیقت تو ہم نے بھی بتادی ہے ، یہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیے گئے ہیں جو والد کی پیٹھ اور والدہ کے سینے سے نکلتا ہے۔ ابتدائی طور پر اس پانی میں نہ طاقت تھی ، نہ قوت اور نہ ارادہ۔ نہ علم اور نہ ہدایت۔ ان لوگوں کو تودست قدرت اس طویل طریقے سے وجود میں لائی ہے اور ایک دن دوبارہ ان کو اسی طرح پیدا کیا جائے گا اور ان کے تمام راز کھل جائیں گے اور پھر اسی طرح بےبس اور بےکس ہوں گے۔ یہ لوگ اللہ کی تحریک کے خلاف سازشیں کررہے ہیں ؟ میں ان کا خالق ، ہدایت دینے والا ، حفاظت کرنے والا ، پیدا کرنے والا ، مارنے والا اور دوبارہ لوٹانے والا ہوں ، ان کو میں نے اس امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔ میں قادر اور قاہر ہوں اور آسمانوں پر چمکتے ستاروں کا پیدا کرنے والا ہوں۔ جس پانی سے وہ پیدا ہوئے ہیں اور اسے ایک بولنے اور سوچنے والا انسان بنایا ، اللہ ہی نے یہ آسمان بنایا ہے جو بارش برساتا ہے اور اس میں نباتات پیدا کرتا ہے۔ یہ کام کرنے والا میں ہوں اور میں بھی ان کی تدابیر کے مقابلے میں تدابیر کرتا ہوں۔
اب ایک طرف ان لوگوں کی سازشیں ہیں اور دوسری طرف اللہ کی تدابیر ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ، اس جنگ کا درحقیقت ایک ہی فریق ہے ، دوسرا فریق جو بظاہر نظر آتا ہے وہ محض مذاق کے لئے ہے۔
الطارق 86:17
فمھل ................ رویدا (17:86) ” پس چھوڑ دو اے نبی ان کافروں کو ان کو تھوڑی سی مہلت دے دو “۔ جلدی نہ کرو ، اس معرکے کا انجام دور نہیں ہے۔ آپ نے اس معرکے کی حقیقت کو دیکھ لیا ہے ، ان لوگوں کو ذرا سی مہلت بھی ایک بڑی حکمت کے تحت دی جارہی ہے ، اور یہ مہلت قلیل ہی ہے۔ اگرچہ تمہاری پوری زندگی اس میں لگ جائے اس لئے انسانوں کو جو عمر اس دنیا کے لئے دی گئی ہے ، وہ تو قلیل ہی ہے۔
انداز تعبیر محبت بھرا ہے ، اللہ تعالیٰ رسول اللہ سے فرماتا ہے کہ آپ ان کو مہلت دے دیں۔
فمھل…………رویدا (17:86) ” آپ ان کافروں کو مہلت دے دیں ایک تھوڑے وقت کے لئے “۔ گویا نبی ﷺ کے ہاتھ میں ہیں۔ گویا مہلت دینا آپ کے اختیارات میں ہے حالانکہ درحقیقت رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے ، یہ ایک انداز محبت ہے۔ اور اس انداز سے حضور اکرم رحمت و شفقت کے جھونکے محسوس کرتے ہیں۔ اور آپ کی یہ خواہش کہ فوری کامیابی ہو ، اس فضا میں ڈوب جاتی ہے ، یوں اللہ آپ کے ارادے کو اپنے ارادے میں ملا دیتا ہے اور بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ اختیارات میں شریک ہی ، یوں آپ کے سامنے سے وہ پردے ہٹ جاتے ہیں اور آپ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں قطعی فیصلے ہوتے ہیں۔ گویا یہ کہا جارہا ہے کہ یہ اختیارات آپ کے ہاتھ میں ہیں لیکن آپ قدرے مہلت دے دیں۔ یہ انداز محبت ہے ۔ نہایت ہی لطیف انداز انس و محبت۔ ایسے انداز گفتگو سے وہ تمام کلفتیں دور ہوجاتی ہیں جو اس راہ میں آپ کو پیش آرہی تھیں۔ تمام تھکاوٹیں ، تمام مشکلات دور ہوجاتی ہیں ، مشکلات اور مشقتوں کے پہاڑ پگھل جاتے ہیں اور فضا پر انس و محبت کے سائے چھاجاتے ہیں۔